توہین رسالت ﷺ کے مرتکبین کے خلاف سیشن کورٹس کے یادگار فیصلے · محمد متین خالد
Session Courts kay Yadgar Faislay
PDF 1

قرآن وسنت کی روشنی میں

تعزیرات پاکستان کے تحت

توہین رسالتﷺ کے مرتکبین

کے خلاف سیشن کورٹس

کے یادگار فیصلے

ترتیب وتحقیق

محمد متین خالد

صفحہ 1

بسم الله الرحمن الرحيم

توہین رسالت ﷺ کے مرتکبین

کے خلاف سیشن کورٹس

کے یادگار فیصلے

صفحہ 2

”دلائل و براہین سے مزین یہ فیصلے عدل و انصاف کی دنیا میں ایک درخشندہ سنگ میل کی علامت ہیں۔ ان فیصلوں سے تحفظ ناموس رسالتﷺ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں اور محبت رسولﷺ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قانون توہین رسالتﷺ سے متعلق ان تمام غلط فہمیوں اور اعتراضات کا ازالہ ہوگا جنہیں عیسائی اور قادیانی کئی دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلا رہے ہیں اور جن کی اندھی تقلید میں مخالفت برائے مخالفت کے پیروکار قانون شکن سیکولر فاشسٹ، ڈالرائزڈ این جی اوز اور اسلام بیزار نام نہاد دانشور بھی سُر سے سُر ملاتے نظر آتے ہیں۔ یہ عدالتی فیصلے ججوں، سیاستدانوں، آئین شناسوں، وکیلوں، صحافیوں، دانشوروں، علما اور طالب علموں کے لیے ایک رہنما دستاویز کا کام دیں گے۔ ان فیصلوں کا ایک ایک لفظ پڑھنے والوں کی شریانوں میں دوڑنے والے خون کی ایک ایک بوند میں حیات ابدی کا شعلہ بیدار کرتا ہے۔“

صفحہ 3

توہین رسالتﷺ کے مرتکبین

کے خلاف سیشن کورٹس

کے یادگار فیصلے

محمد متین خالد

مرکز سراجیہ ختمِ نبوّت لائیرز فورم

گلی نمبر 4، اکرم پارک غالب مارکیٹ گلبرگ III لاہور

Tel: 042 35877456 Cell: 0321 7044744

Email: markazsirajia@hotmail.com

www.endofprophethood.com

www.knlawyers.org

صفحہ 4

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب توہین رسالتﷺ کے مرتکبین کے خلاف سیشن کورٹس کے یادگار فیصلے مصنف محمد متین خالد ناشر مرکز سراجیہ ختم نبوت لائیرز فورم مطبع جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سرورق حافظ طاہر سعید کمپوزنگ ظفر اقبال سن اشاعت 2015ء قیمت 1000/- روپے

مرکز سراجیہ ختم نبوت لائیرز فورم گلی نمبر 4، اکرم پارک غالب مارکیٹ گلبرگ III لاہور Tel: 042 35877456 Cell: 0321 7044744 Email: markazsirajia@hotmail.com www.endofprophethood.com www.knlawyers.org

صفحہ 5

ترتیب عنوانات

حرف سپاس 21

سرکار بنام گل مسیح، نومبر 1992ء

سرکار بنام محمد ارشد جاوید، فروری 1993ء

سرکار بنام سلامت مسیح وغیرہ، فروری 1995ء

سرکار بنام ایوب مسیح، اپریل 1998ء

صفحہ 6

سرکار بنام محمد اسحاق ، مارچ 1999ء

سرکار بنام عبدالرحمان ، ستمبر 1999ء

سرکار بنام ریاض احمد گوہر شاہی ، مارچ 2000ء

سرکار بنام یوسف علی ، اگست 2000ء

سرکار بنام پیر ظہور احمد ، مارچ 2001ء

سرکار بنام ڈاکٹر محمد یونس شیخ ، اگست 2001ء

سرکار بنام انور کینتھ ، جولائی 2002ء

سرکار بنام وجیہ الحسن ، جولائی 2002ء

سرکار بنام رانجھا مسیح ، اپریل 2003ء

سرکار بنام مولوی طاہر عاصم ، جون 2003ء

صفحہ 7

سرکار بنام منور محسن وغیرہ، جولائی 2003ء

سرکار بنام بشیر احمد، اگست 2003ء

سرکار بنام یونس مسیح، مئی 2007ء

سرکار بنام شفیق، جون 2008ء

سرکار بنام لیاقت علی وغیرہ، مارچ 2009ء

سرکار بنام قمر ڈیوڈ ولد ڈیوڈ تھامس، فروری 2010ء

سرکار بنام آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح، نومبر 2010ء

سرکار بنام عبدالستار، جون 2011ء

سرکار بنام محمد محبوب عرف موبا ، نومبر 2011ء

سرکار بنام محمد اسحاق، جنوری 2012ء

صفحہ 8

سرکار بنام منظر الحق شاہجہان ایس ایچ او راجہ جنگ، مارچ، 2012ء

سرکار بنام محمد اقبال وغیرہ ، اکتوبر 2012ء

سرکار بنام سجاد مسیح ، جولائی 2013ء

سرکار بنام عثمان رشید، اکتوبر 2013ء

سرکار بنام امام علی ، دسمبر 2013ء

سرکار بنام اعجاز احمد وغیرہ ، دسمبر 2013ء

سرکار بنام محمد اصغر، جنوری 2014ء

سرکار بنام ساون مسیح عرف بودی، مارچ 2014ء

سرکار بنام شفقت مسیح، شگفتہ کوثر مسیح، اپریل 2014ء

سرکار بنام ذوالفقار علی ، جولائی 2014ء

صفحہ 9

سرکار بنام عبدالشکور وغیرہ، مارچ 2015ء 947

محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ بنام حکومت پاکستان اکتوبر 1990 975

الیاس مسیح مونم ایڈووکیٹ بنام حکومت پاکستان دسمبر 2013ء 1007

عبدالرحمان بنام سرکار، جنوری 2001ء 1015

لاہور ہائی کورٹ، بشیر احمد بنام سرکار، ستمبر 2004ء 1023

لاہور ہائی کورٹ، آسیہ مسیح بنام سرکار، اکتوبر 2014ء 1041

لاہور ہائی کورٹ، لیاقت علی بنام سرکار، ستمبر 2015ء 1055

اکرم عربی بنام سرکار، 12 فروری 1989ء 1069

۞.......۞.......۞

صفحہ 10
صفحہ 11

انتساب

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: ’’اچھا دوست ہاتھ اور آنکھ کی مانند ہوتا ہے۔ ہاتھ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو آنکھ روتی ہے اور جب آنکھ روتی ہے تو ہاتھ آنسو صاف کرتا ہے۔‘‘ یہ خوبصورت فرمان برادر گرامی جناب محمد جاوید چودھری پر سو فیصد منطبق ہوتا ہے۔ وہ جہاں ایماندار، مخلص، بے لوث، ہمدرد اور غم گسار ہیں، وہیں ان میں خوف خدا، محبت رسول ﷺ اور خدمتِ خلق کا جذبہ بے پایاں ہے۔ ماں کی عظمت و رفعت پر ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’ماما زندہ باد‘‘ نے جہاں اُن کی عزت و شہرت کو چار چاند لگائے ہیں، وہیں بے شمار راہ گم کردہ لوگوں کو ماں کی خدمت پر مامور بھی کر دیا ہے۔ اِس سلسلہ میں اُن کی یہ کاوش ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ میں اس کتاب کا انتساب اس مسحور کن شخصیت کے نام کرتے ہوئے انتہائی دلی خوشی اور مسرت محسوس کر رہا ہوں:

؎ مجھ کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے
صفحہ 12
صفحہ 13

نفیر قلم

تحفظ ناموس رسالت ﷺ میرا نہایت پسندیدہ موضوع ہے۔ اس موضوع پر میری کئی ایک کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ چند سال پہلے میری کتاب ”فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے“ شائع ہوئی تھی جس میں اعلیٰ عدالتوں (ہائی کورٹس، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان) نے قادیانیت کے خلاف جو فیصلے صادر فرمائے تھے، میں نے وہ تمام فیصلہ جات (اردو، انگریزی) کتابی صورت میں جمع کر دیے۔ جس سے ہر خاص و عام نے خوب استفادہ کیا۔ اس کتاب کی اشاعت سے قادیانیوں کے ان تمام شکوک شبہات کا ازالہ ہو گیا جو وہ سادہ لوح عوام میں پھیلاتے تھے۔ ان میں ایک یہ بھی تھا کہ انہیں اپنے عقائد کی تبلیغ و تشہیر کی مکمل اجازت اور آزادی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلہ میں لکھا:

”یہ بات قابل غور ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے قوانین، ایسے الفاظ اور جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معنی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لیے استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی نظریاتی ریاست میں قادیانی جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے اسے تحفظ فراہم کرنے کو تیار ہو۔ قادیانی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کی انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات کو ان گستاخ غیر مسلموں (مرزا قادیانی اور اس کے خلیفوں) کے ناموں کے ساتھ چسپاں کرنے میں آزاد ہوں، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنے عظیم مشاہیر کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس قادیانیوں کی

صفحہ 14

طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلامی کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ ( قادیانیت ) دھوکا دہی اور فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر قادیانی دوسروں کو دھوکا دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے مذہب کے لیے نئے القابات وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے؟ اس صورت میں اس کے معانی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پاسکتا بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں، انہوں نے مسلمانوں یا دوسروں لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔

قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جبکہ دھوکا دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور اس عمل سے روکنا کسی کے حقوق یا آزادی کو سلب کرنے کا سبب نہیں بنتا .............................. ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر دھرموں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پُر امن طور پر مناتے ہیں ........... بہر حال قادیانیوں پر لازم ہے کہ وہ آئین و قانون کا احترام کریں اور انہیں اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی یا توہین نہیں کرنی چاہیے نہ ان کے مخصوص خطابات، القابات و اصطلاحات استعمال کرنے چاہئیں۔ نیز مخصوص نام مثلاً مسجد اور مذہبی عمل مثلاً اذان وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور لوگوں کو عقیدہ کے بارے میں گمراہ نہ کیا جائے یا دھوکا نہ دیا جائے۔

ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (صحیح بخاری)

صفحہ 15

کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ’’ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ”رشدی“ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ اگر قادیانیوں کو سرعام جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں، حقیقتاً ماضی میں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا۔ ردعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ﷺ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار 1718 SCMR 1993ء)

پھر مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ قانون توہین رسالت ﷺ (تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C) کے تحت گستاخان رسولؐ کے خلاف سیشن کورٹس کے ایسے تمام فیصلے کتابی صورت میں اکٹھے کر دیے جائیں جس میں عدالتوں نے ملزمان کو سزا دی۔ یہ ایک اعصاب شکن جانگسل مرحلہ تھا جہاں قدم بقدم مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر مقصد عظیم نہ ہوتا تو شاید میں ہمت ہار جاتا۔ ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں 30، 35 سال پرانے مقدمات کے فیصلوں کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ بے حد محنت اور کوشش کے

صفحہ 16

بعد ان کا حصول ممکن ہوا۔ پھر ان کا ترجمہ اور پروف ریڈنگ بھی جان جوکھوں کا کام تھا کیونکہ اصل فیصلوں کا جس صحت اور احتیاط کے ساتھ ترجمہ کیا گیا، قانونی و آئینی اصطلاحات کی روح برقرار رکھی گئی اور آسان سلیس زبان استعمال کی گئی، یہی اس کتاب کی خوبی ہے۔ ان یادگار فیصلوں کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ آئینی، قانونی اور شرعی دلائل و براہین سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت فکر انگیز اور تاثیر خیز بھی ہیں۔ دلچسپی کا یہ عالم ہے جب ایک آدمی ان فیصلوں کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو اسے ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تین سال کی شب و روز مسلسل محنت اور دقت نظر کے بعد یہ دستاویز تیار ہوئی جس پر میں اللہ رب العزت کے حضور سربسجود ہوں جس کے کرم اور توفیق سے یہ کچھ ممکن ہوا۔

”توہین رسالت ﷺ کے مرتکبین کے خلاف سیشن کورٹ کے یادگار فیصلے“ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اجلی تاریخ کے روشن ماتھے پر جگمگاتے جھومر کی مثال ہیں...... گستاخانِ رسولؐ کے لیے شمشیر بے نیام کا تشخص رکھتے ہیں...... مظہر ہیں اس حقیقت کے، کہ ماتحت عدلیہ کے افق پر ابھی حق و انصاف کے ستارے ضوفشاں ہیں...... استعارا ہیں کہ ہماری عدالتیں طاغوتی استعمار اور عالمی ابلیسی سامراج کے دباؤ سے آزاد ہیں...... اشارا ہیں کہ محبت رسول ﷺ ہمارے فاضل جج صاحبان کے دلوں کی دھڑکنوں میں زمزمہ پیرا ہے...... اس امر کی بین برہان ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C گستاخانِ رسولؐ کی ہرزہ سرائیوں کی راہ میں ایک ناقابل تسخیر چٹان کی حیثیت رکھتے ہیں...... آزاد عدلیہ میں غلامی رسول ﷺ پر نازاں جج صاحبان کے بے پایاں، بیکراں اور بے کنار جرأتوں، حوصلوں اور ولولوں کی مشکبار داستان کا تاباں عنوان ہیں...... جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ ہماری وکلا برادری زر پرستی اور مادہ پرستی کے اس دور میں بھی محبت رسول ﷺ کو اپنا سب سے بڑا اثاثہ اور قابل فخر سرمایہ یقین کرتی ہے۔

دلائل و براہین سے مزین یہ فیصلے عدل و انصاف کی دنیا میں ایک درخشندہ سنگ میل کی علامت ہیں۔ ان فیصلوں سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں اور محبت رسول ﷺ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قانون توہین رسالت ﷺ سے متعلق ان تمام غلط فہمیوں اور اعتراضات کا ازالہ ہوگا جنہیں عیسائی اور قادیانی کئی دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلا رہے ہیں اور جن کی اندھی تقلید میں مخالفت برائے مخالفت کے پیروکار قانون شکن سیکولر فاشسٹ، ڈالرائزڈ این جی اوز اور

صفحہ 17

اسلام بیزار نام نہاد دانشور بھی سُر سے سُر ملاتے نظر آتے ہیں۔ یہ عدالتی فیصلے ججوں، سیاستدانوں، آئین شناسوں، وکیلوں، صحافیوں، دانشوروں، علما اور طالب علموں کے لیے ایک رہنما دستاویز کا کام دیں گے۔ ان فیصلوں کا ایک ایک لفظ پڑھنے والوں کی شریانوں میں دوڑنے والے خون کی ایک ایک بوند میں حیات ابدی کا شعلہ بیدار کرتا ہے۔

ویل ڈن جج صاحبان...... ویل ڈن...... پوری ملت اسلامیہ کو آپ پر فخر ہے...... ہر مسلمان آپ کے لیے دعا گو ہے...... آغا شورش کاشمیریؒ نے آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

مسند انصاف پر اسلاف کی تصویر ہیں
آپ گویا بتکدے میں نعرۂ تکبیر ہیں
آپ کو لات و ہبل ہرگز ڈرا سکتے نہیں
آپ کا پرچم، سیہ باطن جھکا سکتے نہیں
آپ کو فانی خداؤں سے بھلا کیا واسطہ؟
اونے پونے رہنماؤں سے بھلا کیا واسطہ؟
آپ نے بالا کیا ہے حرمت قانون کو
آپ ہی نے تازگی بخشی وطن کے خون کو
آپ کے دم خم سے ہے انصاف کا حسن و جمال
ورنہ اس دنیا میں ناداروں کا جینا تھا محال

آخر میں محترم جج صاحبان کے لیے ایک ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے جس کا مطالعہ اُن کے ایمان و ایقان کو ایک نئی جلا بخشے گا۔

24 جولائی 1926ء کو احمد پور شرقیہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بہاولپور جناب منشی محمد اکبر خاںؒ کی عدالت میں ایک مقدمہ دائر ہوا جس میں ایک مسلمان خاتون غلام عائشہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اُس کے خاوند عبدالرزاق نے دین اسلام چھوڑ کر قادیانی مذہب اختیار کر لیا ہے، چونکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم ہیں، اِس لیے اُس کا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔ کئی سالوں تک اِس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ چنانچہ 7 فروری 1935ء کو محترم جج صاحب نے اِس تاریخی مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو

صفحہ 18

خارج از اسلام اور مسلمان خاتون کے ساتھ عبدالرزاق قادیانی کے نکاح کو فسخ قرار دے دیا۔ اس فیصلہ کے کچھ عرصہ بعد محترم جج صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد میر عبدالجمیل صاحب سابق سیشن جج جو میر سراج الدین صاحب ریٹائرڈ چیف جسٹس کے صاحبزادے ہیں اور آج کل ہجرت فرما کر حضور رسالت مآبﷺ کے قرب میں باب جبریل کے بالمقابل ایک مدرسہ میں خلوت نشین ہیں۔ انہوں نے محترم جج محمد اکبر صاحبؒ کو اپنے ایک خواب میں جنت الفردوس میں دیکھا۔ پہلے ان کو کئی عالی شان محلات دکھائے گئے۔ اس کے بعد ایک نہایت ہی خوبصورت محل میں ایک عالیشان تخت پر جج محمد اکبر صاحبؒ بیٹھے دکھائے گئے۔ جب میر عبدالجمیل صاحب نے ان سے سوال کیا کہ یہ بلند درجات آپ کو کیسے نصیب ہوئے تو محترم جج محمد اکبر صاحبؒ نے یہ جواب دیا کہ یہ انعامات مجھے تحفظ ختم نبوتﷺ کی حفاظت میں اس خدمت کے عوض ملے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فیصلہ بہاولپور کی صورت میں لی اور یہ جتنے محلات آپ نے دیکھے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر مجھے دیئے ہیں کہ فی الحال یہ لے لو، تمہارا مکمل انعام روز قیامت ملے گا۔ یہ بیان فرماتے ہوئے میر صاحب کی ریش مبارک شدت گریہ سے تر ہوچکی تھی۔ (مقابیس المجالس، ملفوظات حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ۔ صفحہ 53 تا 54)

مجاہد تحفظ ناموس رسالت برادر عزیز جناب محمد فرقان کی مسلسل تحریک اور حوصلہ افزائی نے میرے جذبوں کو ولولۂ تازہ عطا کیا۔ عزیزی مدثر حسین چودھری اور جناب محمد طیب قریشی ایڈووکیٹ نے ہر مرحلہ پر اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ مجاہد ختم نبوت جناب اسد اللہ ساقی کی بھرپور معاونت ہمیشہ یاد رہے گی۔ معروف مترجم جناب ریاض محمود انجم اور مجاہد ختم نبوت جناب تیسیر علی نے زیر نظر فیصلوں کو اُردو قالب میں ڈھالا۔ جناب محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے ان تراجم پر عمیق نظر ثانی کی۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے!

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالتﷺ محمد متین خالد mateenkh@gmail.com

صفحہ 19

ایک اہم کتاب

تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے جس کی ادائیگی وہ اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کی پرواہ کیے بغیر بڑے فخر و انبساط اور جذبہ ایمانی سے ادا کرتا ہے کیونکہ وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ اس سلسلہ میں اگر اس نے کسی تساہل، مصلحت، چشم پوشی یا مسلکی تعصب سے کام لیا تو وہ اپنے قیمتی ایمان سے محروم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے تو مولانا ظفر علی خاںؒ نے کہا تھا:

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلمان ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

برادر عزیز جناب محمد متین خالد کا شمار ان خوش نصیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کو کئی جہتوں سے بیان کیا ہے۔ وہ ایک اچھے مقرر اور مصنف کی حیثیت سے دینی حلقوں میں اپنی یگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس میدان میں ان کی حیثیت بلحاظ تبحر علمی و ادبی کسی سے کم نہیں۔ انہوں نے مسلمانوں میں تحفظ ختم نبوت ﷺ کے ذریعے محبت رسول ﷺ کے جو چراغ روشن کیے، اس کی روشنی سے ہمیشہ استفادہ کیا جائے گا۔ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے موضوعات پر ان کی 50 سے زائد کتب شائع ہو کر ہر خاص و عام سے داد تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ خالد صاحب کی کتابیں محبت رسول ﷺ، دینی غیرت و حمیت، دلائل و براہین، عام فہم اسلوب، فکر انگیز معلومات، محققانہ ژرف نگاہی، عالمانہ سنجیدگی اور ذوق انتقاد سے بھرپور ہوتی ہیں۔ دوران مطالعہ ہر مکتبہ فکر کے افراد ان علمی چشموں سے اپنی پیاس بجھاتے اور اپنے دل و دماغ میں ایک ایمانی حرارت محسوس کرتے ہیں۔

صفحہ 20

زیر نظر کتاب ”توہین رسالت ﷺ کے مرتکبین کے خلاف سیشن کورٹس کے یادگار فیصلے“ اس سلسلہ کی تازہ کڑی ہے۔ گستاخان رسول کے خلاف سیشن کورٹس کے ان فیصلوں کی اشاعت وقت کی اہم ترین ضرورت تھی جسے بروقت پورا کیا گیا۔ کئی سالوں کی محنت کے بعد ان بیش بہا اہم فیصلوں کو منظر عام پر لانے، محفوظ کرنے اور نہایت احسن طریقے سے پیش کرنے پر جناب محمد متین خالد، تمام مسلمانوں کی طرف سے ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں۔ ان یادگار فیصلوں کی تدوین سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ ان فیصلوں میں مشکل قانونی اصطلاحات اور پیچیدہ موشگافیوں کے باوجود جذب و کشش کا ایسا سامان ہے کہ قاری کتاب پڑھتے ہوئے بور نہیں ہوتا۔ ایسی خوبصورت کتاب کی اشاعت پر میں انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس کتاب کو ہر شعبۂ زندگی بالخصوص دینی اور قانونی حلقوں میں خوب پذیرائی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمائے۔ (آمین)

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر چودھری اشتیاق احمد خاں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان صدر لاہور بار ایسوسی ایشن لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 21

حرفِ سپاس

شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، جناب صاحبزادہ خواجہ رشید احمد مدظلہٗ (مہتمم مرکز سراجیہ، گلبرگ لاہور)، جناب مولانا عزیز الرحمان ثانی، جناب وقار احمد، جناب عامر خورشید، جناب جبار مرزا، جناب محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ، جناب عبدالرؤف، جناب پروفیسر محمد اقبال جاوید، جناب پروفیسر جمیل احمد عدیل، جناب محمد فرقان، جناب قاضی محمد اسد (سرگودھا)، جناب اسد اللہ ساقی (جڑانوالہ)، محترمہ حنا سکندر صاحبہ (فیصل ٹاؤن لاہور)، جناب محمد جاوید چودھری (دین موٹرز)، جناب چودھری محمد بشیر زرگر (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب)، جناب میاں محمد ظفر عباس، جناب حبیب احمد عابد، جناب چودھری نصیب الٰہی گجر، جناب چودھری منظور احمد، جناب محمد شاہین پرواز، جناب ملک محمد سرور، جناب محمد عباس بٹ، جناب چودھری محمد نصر اللہ زرگر، جناب محمد افتخار احمد، جناب اللہ دتہ اور جناب چودھری نذیر احمد کا بے حد شکریہ جنہوں نے کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں بے حد تعاون کیا اور اسے خوب سے خوب تر بنانے کے لیے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ میں ان حضرات کی ہر مرحلہ زندگی میں کامیابی کے لیے دعا گو ہوں!

صفحہ 22
صفحہ 23

چند ضروری گذارشات

رسالتﷺ کے کلمات / الفاظ درج کیے ہیں۔ انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر یہ ایک قانونی، عدالتی اور ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر ملزم کا جرم واضح نہیں ہوتا۔ یہ الفاظ، جملے اور عبارات اس قدر دل آزار اور اہانت آمیز ہیں کہ کوئی مسلمان انہیں پڑھنے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ میں ایک ادنیٰ اور گنہگار مسلمان ہوں۔ ان عبارات کو پڑھنے کے بعد کئی مرتبہ روتا رہا، استغفار کرتا رہا اور درود شریف پڑھتا رہا۔ میں نے زیر نظر فیصلوں میں سے ایسے تمام گستاخانہ کلمات حذف کر دیے ہیں۔ اگر کسی صاحب نے انہیں دیکھنا ہو تو براہ کرم اصل فیصلوں کی طرف رجوع کریں۔

ہے۔ میں نے ان آیات کا ترجمہ شہرہ آفاق تفسیر ”ضیاء القرآن“ از ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ سے لیا ہے تاکہ کوئی اعتراض نہ رہے۔

اس لیے اس کی پروف ریڈنگ کو بہتر بنایا گیا ہے، پھر بھی غلطی کا امکان ہے۔ اگر کسی جگہ کسی قاری کو غلطی نظر آئے تو براہ کرم مصنف کو ضرور مطلع کرے۔ ان شاء اللہ آئندہ کے ایڈیشن میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔

کتاب کی اشاعت کے بارے بار بار استفسار کرتے رہے۔ میں ان سب دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔

آزار عبارت (اگر کوئی ہے) پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!

محمد متین خالد

صفحہ 24
صفحہ 25

مرکز سراجیہ ختم نبوت لائرز فورم

سرپرست اعلیٰ: مولانا خواجہ رشید احمد مدظلہ چیئرمین: رائے بشیر احمد، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان سینئر نائب چیئرمین: چوہدری اشتیاق احمد خان، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نائب چیئرمین: قاسم بشیر چوہدری، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ صدر: محمود الحسن بھٹی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سینئر نائب صدر: محمد ہاشم تہامی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نائب صدر: محمد منصور، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ جنرل سیکرٹری: محمد نوید شاہین، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سیکرٹری نشر و اشاعت: محمد شکیل غوری، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ مجلس عاملہ: چوہدری محمد فیاض نذیر، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ محمد شفیق اعوان، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ مہر محمد تنویر، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ محمد علی بلوچ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ زاہد حسین منہاس، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

۞.......۞.......۞

صفحہ 26
صفحہ 27

توہین رسالتﷺ کے مرتکبین

کے خلاف سیشن کورٹس

کے یادگار فیصلے

صفحہ 28
صفحہ 29

جناب طالب حسین بلوچ ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا

سرکار بنام گل مسیح، نومبر 1992ء

صفحہ 30
صفحہ 31

دل کی بات

10 دسمبر 1991ء کو ضلع سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں چک نمبر 46 شمالی کے رہائشی گل مسیح نے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ جملے ادا کیے جس پر اس کے خلاف 13 دسمبر 1991ء کو تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ واقعات کے مطابق مدعی مقدمہ ساجد حسین اور ملزم گل مسیح ایک ہی محلّہ میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ گل مسیح کے گھر کے باہر کافی پانی جمع تھا۔ ساجد حسین نے گل مسیح سے اس کی بابت پوچھا تو گل مسیح نے کہا کہ پانی کی ٹونٹی خراب ہے جس کی وجہ سے پانی باہر گلی میں آ رہا ہے۔ اس پر ساجد حسین نے کہا کہ آپ کسی پلمبر کو بلا کر ٹونٹی ٹھیک کروالیں۔ چنانچہ پلمبر آیا اور ٹونٹی ٹھیک کر کے چلا گیا۔ ایک دن بعد ساجد حسین نے دیکھا کہ پانی مسلسل گل مسیح کے گھر سے باہر گلی میں آ رہا ہے۔ اس نے اس بارے میں پھر استفسار کیا جس پر گل مسیح نے کہا کہ اس نے پلمبر کو بلایا تھا، اس نے اس سے 35 روپے بھی لیے اور ٹونٹی بھی پوری طرح ٹھیک نہیں کی۔ اس پر اس نے پلمبر سمیت تمام مسلمانوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے دین اسلام اور حضور نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ ادا کرنے شروع کر دیے۔ ممکن ہے کہ مسلمان پلمبر نے ٹونٹی کو صحیح طریقے سے درست نہ کیا ہو اور پیسے پورے لے لیے ہوں اور یوں اس نے بد دیانتی کا مظاہرہ کیا ہو لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ایک مسلمان کی غلطی سے کوئی شخص مسلمانوں کی مقدس ترین ہستیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دے۔ چنانچہ گل مسیح کی اس ناپاک جسارت پر مدعی ساجد حسین نے اس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ ملزم کو عدالت میں صفائی کا پورا پورا موقع فراہم کیا گیا۔ تقریباً ایک سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ گل مسیح کے خلاف رسول کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم

صفحہ 32

اجمعین کی شان میں غلیظ زبان استعمال کرنے اور ان کی ذات پاک پر کیچڑ اچھالنے کا جرم ثابت ہوگیا۔ 2 نومبر 1992ء کو ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا جناب خاں طالب حسین بلوچ نے شاتم رسولؐ، گل مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنایا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب سے تعزیرات پاکستان میں گستاخ رسولؐ کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی ہے، اس کے بعد سے ملک بھر میں یہ پہلا مقدمہ تھا جس میں کسی شاتم رسولؐ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔

اس قانونی فیصلہ کے خلاف عیسائیوں نے پوری دنیا میں احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان میں مغربی سفارت کار شاتم رسول کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے۔ قانونی بالادستی کی دہائی دینے والوں نے قانون توہین رسالتﷺ کو ختم کرنے اور مجرم گل مسیح کی رہائی کا غیر قانونی اور غیر آئینی مطالبہ شروع کر دیا۔ دوسری طرف بین الاقوامی طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے انسانی حقوق کے نام پر پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر اور امکان تھا۔ نومبر 1994ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فلک شیر اور جسٹس راؤ نعیم ہاشم خاں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے توہین رسالتﷺ کے مقدمہ میں ملوث گل مسیح کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کر دیا۔ گل مسیح کی طرف سے عابد حسن منٹو، چودھری نعیم شاکر اور عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹس پیش ہوئے جبکہ حکومت کی طرف سے سلمان اعوان ایڈووکیٹ اور مدعی کی طرف سے جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

ہائی کورٹ نے ثبوت جرم کے لیے مستند اور ناقابل تردید شہادتوں کو نظر انداز کر کے رہائی کے لیے اس بات کو کافی اور وزنی قرار دیا کہ مجرم ڈیڑھ گھنٹے تک توہین رسالتﷺ کا ارتکاب کرتا رہا اور اس کے خلاف کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لہٰذا مجرم سزائے موت کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 3 جنوری 1994ء کو گل مسیح حکومتی پروٹوکول میں پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے فرینکفرٹ جرمنی روانہ ہوگیا جہاں اسے سیاسی پناہ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ مراعات سے نوازا گیا۔

22 سال بعد سیشن کورٹ کے اس فیصلہ کی نقل حاصل کرنا بے حد مشکل اور جانگسل مرحلہ تھا۔ اس سلسلہ میں مجاہدین ختم نبوت جناب قاضی محمد اسد اور جناب جمال

صفحہ 33

ندیم فانی کی کاوشیں قابل صد ستائش ہیں۔ اگر یہ حضرات کوشش نہ کرتے تو شاید یہ فیصلہ اس کتاب میں شامل نہ ہوتا۔ میں ان دونوں حضرات کا تہ دل سے شکرگزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالتﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 34

بعدالت جناب خان طالب حسین بلوچ ایڈیشنل سیشن جج، سرگودھا

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 6/1992 سیشن مقدمہ نمبر : 186/1992 ایف آئی آر نمبر : Ex.P.A/1 بتاریخ 13 دسمبر 1991ء پولیس سٹیشن : سیٹلائٹ ٹاؤن، سرگودھا بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295/C

سرکار

بنام

گل مسیح ولد دولت مسیح، ذات عیسائی، ساکن چک نمبر B-46، سرگودھا شہر (ملزم)

وکیل منجانب مدعی: شیخ جہانگیر سرور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ تاریخ فیصلہ: 2 نومبر 1992ء

صفحہ 35

فیصلہ

جناب خان طالب حسین بلوچ ایڈیشنل سیشن جج، سرگودھا

مقدمہ کی سماعت کے لیے بھیجا گیا کہ 10-12-1991 کو صبح 9 بجے، چک نمبر 46.N.B کی حدود میں گواہان کی موجودگی میں اس نے نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے اور نبی اکرم ﷺ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے مقدس نام کی بے حرمتی کی۔

سرگودھا ہے جو پولیس سٹیشن، سیٹلائٹ ٹاؤن، سرگودھا سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مدعی کی طرف سے ایس پی کو پیش کردہ ایک درخواست کی بنیاد پر محمد رفیق اے ایس آئی نے 13-12-1991 کو بعد دوپہر 3.20 بجے ایف آئی آر (Ex.P.A/1) درج کی جسے مناسب قانونی کارروائی کے لیے پولیس سٹیشن بھجوا دیا گیا۔

صبح 9 بجے، وہ اپنے ہمسائے محمد ریاض کے گھر سے واپسی پر سڑک پر سے گزر رہا تھا جب ملزم، گل مسیح اور اس کا بھائی، بشیر مسیح، اسے سڑک پر ملے۔ مدعی نے ان سے استفسار کیا کہ کیا پانی کی ٹونٹی مرمت ہو گئی ہے جس پر گل مسیح نے کہا کہ پلمبر نے 35/- روپے وصول کر لیے لیکن اس نے پانی کی ٹونٹی مرمت نہیں کی۔ پھر اس نے مبینہ طور پر محلہ کے تمام رہائشیوں بلکہ تمام

صفحہ 36

مسلمانوں کو عمومی طور پر طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا اور انہیں بے ایمان اور بے کردار کہا۔ پھر اس نے مولانا عبدالوہاب، مذہبی رہنما اور چک نمبر 46 کے مولانا نذیر کے متعلق بات کی اور کہا کہ وہ عادی زنا کار ہیں اور ان کا کوئی کردار نہیں؛ پھر اس نے پاکستان کو اپنی طرف سے تحقیر کا نشانہ بنایا اور پھر علما اور صحابہ کرامؓ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے؛ پھر اس نے امریکی اور برطانوی عوام کی تعریف کی؛ پھر اس نے تبلیغ کرنے کے انداز میں کہا کہ تمام نبی گناہ گار ہیں اور صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی پاک اور نیک ہیں؛ اس نے اعلان کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام انتہائی گناہ گار ہیں؛ پھر اس نے (نعوذ باللہ) حضرت محمد (ﷺ) کے مقدس نام کی توہین اور بے حرمتی کی اور کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) نے ........................................................................... ملزم نے خاص طور پر طنزیہ انداز میں حضرت عائشہ صدیقہؓ (ام المومنین) کے متعلق رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ........................................................................... پھر اس نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) اور حضرت عائشہ صدیقہؓ (ام المومنین) ........................................................................... پھر ملزم نے حضرت محمدﷺ، خلفائے راشدینؓ، ام المومنینؓ، علمائے کرام اور پاکستان کی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے ذریعے بے حرمتی اور توہین کی جبکہ اس کے شریک ملزم بشیر مسیح نے اس کی تائید کی۔ یہ بھی کہا گیا کہ گواہان استغاثہ غلام حسین ولد محمد حسین اور محمد صفدر ولد محمد عالم بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے بھی یہ الفاظ سنے اور ملزم کو روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

نمبر 5 نے 13-12-1991 کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت دو گواہان کے بیان قلمبند کیے۔ اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ (Ex.P.B) تیار کیا جس پر اس کی رائے اور دستخط ثبت ہیں۔ 14-12-1991 کو اس نے گل مسیح اور بشیر مسیح کو مقدمہ ہذا میں گرفتار کیا۔ محمد رفیق، اے ایس آئی نے بھی جزوی طور پر اس مقدمہ کی تفتیش کی اور بشیر مسیح کو بے گناہ قرار دیا۔ سید فرید حسین، انسپکٹر، گواہ استغاثہ نمبر 6 نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی اور بشیر مسیح کو بے گناہ قرار دیا جبکہ اس نے گل مسیح کے خلاف چالان داخل کیا۔ بشیر مسیح کو تفتیش کی بنیاد پر بری کر دیا گیا اور صرف گل مسیح ہی مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 1 محمد صفدر، اس وقوعہ کا عینی شاہد

صفحہ 37

ہے ۔ اس کے مطابق اس کی موجودگی میں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔ اس کے بیان کو مخاصمانہ قرار دیا گیا اور فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اس پر جرح کی ۔ اسی طرح ایک اور عینی شاہد گواہ استغاثہ نمبر 2 غلام حسین نے بیان کیا کہ ملزم نے اس کی موجودگی میں حضرت محمد ﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ (ام المومنین) کے خلاف کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے ۔ اسے بھی فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی درخواست پر مخاصمانہ قرار دیا گیا اور اس پر جرح کی گئی ۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 ساجد حسین ، مدعی کے علاوہ وقوعہ کا عینی شاہد بھی ہے ۔ اس نے استغاثہ کے مقدمہ کی تائید کی اور اس نے اپنی درخواست میں بیان کردہ موقف کی دوبارہ تائید کی اور اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ۔

سے انکار کیا ۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں چلایا جا رہا ہے اور کیا وجہ ہے کہ گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف گواہی دی، اس نے مندرجہ ذیل جواب دیا:

”صفدر حسین اور غلام حسین، گواہان استغاثہ نے عدالت ہذا میں استغاثہ کی کہانی کی مکمل تردید کی ہے۔ ہمارے گاؤں کے ایک سابقہ ایم ۔ این ۔ اے ملک محمد اسلم کچھیلا اور موجودہ کونسلر کو ہمارے خاندان سے پرانی پرخاش ہے کیونکہ اس سے پہلے میرا بھائی عزیز مسیح ، اقلیتی نشستوں پر دو دفعہ کونسلر رہ چکا ہے اور ان دنوں اس نے محمد اسلم کچھیلا کی خواہشات کے مطابق عمل نہیں کیا۔ محمد اسلم کچھیلا، انجمن سپاہ صحابہ سرگودھا کا ”سرپرست“ ہے جبکہ مدعی، ساجد حسین بھی اس کا ایک رکن ہے۔ پانی کی ٹونٹی کے معاملے پر مدعی، ساجد حسین کے ساتھ میرا جھگڑا تھا جبکہ محمد اسلم کچھیلا نے اپنے پرانے عناد کے باعث ساجد حسین مدعی کو ایک ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا اور پھر میرے اور میرے بھائی بشیر مسیح کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ گھڑ لیا۔ میں نے نبی اکرم (ﷺ) یا پھر کسی پیغمبر یا علما یا مولویوں کے خلاف کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال نہیں کیے اور حتیٰ کہ اس بارے میں سوچا بھی نہیں۔ میں نے اپنے دفاع میں بہت سے لوگوں کو پیش کیا جنہوں نے استغاثہ کے الزامات کے خلاف تحریری بیانات حلفی پیش کیے لیکن پولیس نے سپاہ صحابہ کے مولانا حضرات کے دباؤ پر غلط طور پر میرا چالان کیا۔“

اس نے اپنے خلاف الزامات کی تردید میں زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، کوئی بیان حلفی نہیں دیا اور نہ ہی کوئی ثبوت یا گواہی پیش کی ۔

صفحہ 38

گواہان محمد صفدر اور غلام حسین نے استغاثہ کے مقدمہ کی تائید نہیں کی اور صرف مدعی ساجد حسین ہی کا واحد بیان ہے جس کی کوئی قابل مواخذہ ذریعے سے تائید نہیں ہوئی جو متذکرہ گواہ کی گواہی میں شروع ہی سے موجود نقص کے باعث قابل یقین نہیں۔ فاضل وکیل کے مطابق، ملزم کو ایک سیاستدان محمد اسلم کھیلا کے ایما پر غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے کیونکہ عزیز مسیح ، ملزم کا بھائی ، جو کونسلر بھی رہ چکا ہے ، نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں محمد اسلم کھیلا کی مخالفت کی تھی اور محمد اسلم کھیلا کے علاوہ سپاہ صحابہ کے عہدیداران کے اثر و رسوخ کی بنا پر ملزم کو غلط طور پر پھنسایا گیا اور اس کا چالان کیا گیا۔ اس کے برعکس ، فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی اور مدعی کے فاضل وکیل نے ( وکیل صفائی کے ) ان دلائل پر جرح کی ہے۔ یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ محمد اسلم کھیلا ، دوران تفتیش، مقدمہ درج ہونے اور چالان ہونے کے بعد کسی بھی مرحلے پر ایک بار بھی منظر عام پر نہیں آیا۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کی الگ الگ نشستیں ہیں ، اس لیے ، محمد اسلم کھیلا کے حوالے سے عزیز مسیح کی طرف سے مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نہیں کی ، اس لیے انہیں مخاصمانہ قرار دیا گیا اور ان پر جرح کی گئی۔ یہ مدعی ، ساجد حسین ، گواہ استغاثہ نمبر 3 کا واحد بیان ہی ہے ۔ دراصل ، اس بیان کی حقیقی اہمیت کا تجزیہ کرنا مقصود ہے۔ ملزم کے فاضل وکیل نے دوران جرح اس گواہ کے بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں اس نے بتایا کہ وقوعہ کے پہلے دن وہ دوپہر 12 بجے پولیس سٹیشن پہنچا لیکن وہ کسی بھی پولیس افسر کو وقوعہ کے متعلق بتانے سے قاصر رہا اور واپس اپنے گھر آگیا اور دوسرے دن وہ گاؤں کی مسجد کے امام مسجد ، محمد سعید عابد ، کے ساتھ پولیس سٹیشن سرگودھا گیا اور ایس ایس پی کو معاملے کے متعلق زبانی بتایا جس نے انہیں ایک تحریری درخواست دینے کو کہا لیکن وہ دونوں گاؤں واپس آگئے اور نماز ظہر کے وقت مسجد میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مشاورت کی اور تیسرے دن ، یعنی 1991-12-12 کو مقدمہ درج کیا گیا۔ فاضل وکیل کے مطابق ، یہ ریکارڈ کے مطابق نہیں کیونکہ مسل مقدمہ کے مطابق ، مقدمہ کا اندراج 1991-12-13 کو ہوا۔ یہ بھی

صفحہ 39

کہا گیا کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے بیان کیا کہ اس نے پولیس سٹیشن میں جو بیان دیا، اس کی بنیاد پر ایف آئی آر قلمبند کی گئی جہاں ریکارڈ کے مطابق تحریری درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ کے اندراج کے متعلق مدعی کی طرف سے بیان کیا گیا ایک دن کا فرق، اس قدر اہمیت کا حامل نہیں اور وقوعہ کے بعد کتنے روز بعد مقدمہ درج کرایا گیا، اس کے متعلق غلطی، مقدمہ کے حقائق پر کوئی اثر مرتب نہیں کرتی۔ جب مدعی کی طرف سے تحریری درخواست پیش کی گئی تو اس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ جھوٹا مقدمہ درج کروانے کے ضمن میں مدعی اور ملزم کے درمیان کوئی پس منظر یا دشمنی نہیں۔ یہ مقدمہ محض ملزم سے ہی متعلق ہے اور وقوعہ دن دہاڑے پیش آیا، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملزم کو اس مقدمے میں وقوعہ اور مقدمے کے اندراج کے دوران وقت میں سوچے سمجھے منصوبے اور مشاورت کے بعد اس مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ محمد اسلم کھچیلا اور ملزم کے بھائی عزیز مسیح کے درمیان سیاسی مخاصمت ریکارڈ پر نہیں لائی گئی کہ اگر محمد اسلم کھچیلا، چیئرمین کے نشست کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہا ہوتا جس کے لیے اسے ایک مسیحی اور اقلیتی کونسلر، عزیز مسیح کے ووٹ کی ضرورت ہوتی۔ یہ محض الزام ہے کہ عزیز مسیح نے کونسلر کی حیثیت سے محمد اسلم کھچیلا کی بطور کونسلر مخالفت کی ہے کیونکہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ انتخابی فہرستیں ہوتی ہیں۔ عدالت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ دوران تفتیش کسی بھی مرحلے پر محمد اسلم کھچیلا ، مقدمہ ہذا کے سلسلے میں پولیس کے روبرو پیش ہوا۔ دوبارہ اس امر کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ کیا وجہ ہے کہ محمد اسلم کھچیلا نے اپنے مخالف عزیز مسیح کے بجائے ملزم کو مقدمہ ہذا میں ملوث کیا۔ آخری دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ اپنے ذاتی انتقام کی خاطر ایک مسلمان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے لیکن وہ نبی اکرم ﷺ کے مقدس نام کی اس طرح مسلسل بے حرمتی کی قیمت پر ذاتی انتقام تک نہیں جاسکتا، جس طرح کے گستاخانہ، اہانت آمیز اور بے حرمتی پر مشتمل الفاظ ملزم نے کہے۔

بے گناہ ثابت ہوا اور اسی وجہ سے اسے بری کر دیا گیا لیکن یہ حقیقت، بہت سی وجوہ کے باعث گل مسیح کے متعلق یہ یقین نہ کرنے کے لیے کافی نہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ مدعی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ بشیر مسیح نے بھی نبی اکرم ﷺ کے خلاف کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اسے اس لیے ملوث کیا گیا کہ وہ جائے وقوعہ پر اپنے بھائی کے ساتھ موجود تھا۔ مقدمہ ہذا کی

صفحہ 40

تفتیش کے دوران مدعی اپنے پہلے بیان پر قائم رہا اور کسی بھی مرحلے پر اس نے بشیر مسیح کے متعلق لچک نہیں دکھائی۔ اس ضمن میں ڈی ایس پی کے روبرو اسے اس کا یہ بیان (EX.DA) دکھایا گیا جس کے متعلق اس نے انکار کیا کہ اس نے دیا۔ عیسائی برادری سے منسلک بہت سے لوگ پولیس کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ اگرچہ بشیر مسیح جائے وقوعہ پر موجود تھا، لیکن اس نے نبی اکرم (ﷺ) کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔ ان بیانات پر پولیس نے یقین کرلیا، اس لیے انہوں نے بشیر مسیح کو بے گناہ اور گل مسیح کو قصور وار قرار دیا۔ بشیر مسیح کے دفاع میں گواہان استغاثہ نے جو مؤقف اختیار کیا، وہ بشیر مسیح کے خلاف مدعی کے الزامات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس نے یہ بھی کہا گیا کہ بشیر مسیح، اپنے بھائی گل مسیح کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود تھا جب اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اس معاملے پر مدعی کے بیان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ سچا اور صادق معلوم ہوتا ہے جس کی تصدیق درکار نہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 کے بیان میں کوئی اندرونی نقص بھی موجود نہیں۔ ملزم کو مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کرنے کے لیے گواہ استغاثہ ساجد حسین کی ملزم کے ساتھ کوئی پرانی پرخاش اور مخاصمت بھی موجود نہیں۔ ساجد حسین، گواہ استغاثہ، 21 سال کی عمر کا ایک نوجوان شخص ہے جو (کالج میں) چوتھے سال کا طالب علم ہے، جس کی ڈاڑھی ہے اور وہ اپنے حلیہ سے سچا اور پکا مسلمان نظر آتا ہے اور میرے پاس اس پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ موقف کہ مولانا حضرات کمرہ عدالت کے علاوہ کمرہ عدالت کے باہر بھی دکھائی دیے اور مولانا حضرات، پولیس کے روبرو پیش ہوئے، اس سے ملزم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ مقدمہ مذہبی نوعیت کا حامل تھا اور ملزم نے نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہتے ہوئے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہر مسلمان محبت کرتا ہے اور ان کے نزدیک نبی اکرم ﷺ ایسی عزت وتوقیر کے حامل ہیں جس کی کوئی نظیر نہیں۔ جنہوں ﷺ نے انسانیت کو سیدھا راستہ دکھایا اور اللہ تعالیٰ اور کائنات کے متعلق ہمیں آگاہ کیا، اس لیے مقدمہ ہذا اور اس کی تفتیش میں ہر مسلمان کی دلچسپی فطری تھی۔ ملزم نے کوئی بیان حلفی نہیں دیا اور اس نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اپنا کوئی بیان قلمبند بھی نہیں کرایا۔ وہ اپنے دفاع میں اپنے گاؤں کے کسی شخص

صفحہ 41

پر جرح کرنے میں بھی ناکام رہا۔ حتیٰ کہ صفائی کے گواہان، جو بشیر مسیح کے لیے پولیس کے روبرو پیش ہوئے، نے بھی واضح انداز میں اس امر سے انکار کیا کہ گل مسیح نے الزام کے مطابق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔ میرے نکتہ نظر کے مطابق، استغاثہ، کسی شک وشبہ کے بغیر ملزم کا جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ مجھے ملزم کے حق میں سزا میں تخفیف کا جواز پیدا کرنے والے حالات نظر نہیں آتے اور نہ ایسے کچھ حالات کے متعلق مجھے بتایا گیا، اس لیے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ملزم کو مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسے سزائے موت دی جاتی ہے، اسے پانچ لاکھ روپیہ جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے دو سال قید بامشقت بھگتنی ہوگی اور اسے موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم، سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ، لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی۔ مجرم کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف 7 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اس فیصلے کی نقل بلا قیمت مجرم کو مہیا کر دی گئی ہے۔ قانون کے مطابق مقدمہ ہذا کا ریکارڈ معزز عدالت عالیہ، لاہور کو بھیجا جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ خان طالب حسین بلوچ 2 نومبر 1992ء ایڈیشنل سیشن جج، سرگودھا

۞.......۞.......۞

صفحہ 42
صفحہ 43

جناب فیض ربانی خاں سیال ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور

سرکار بنام محمد ارشد جاوید، فروری 1993ء

صفحہ 44
صفحہ 45

دل کی بات

فروری 1989ء میں ملعون سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف بہاولپور میں ایک بڑا جلوس نکالا گیا۔ جب یہ جلوس ایس ای کالج چوک پہنچا تو اچانک ایک شخص ارشد جاوید جلوس کے سامنے آیا اور ہاتھ بلند کر کے اسے روک دیا۔ اس نے زور زور سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ”وہ بذات خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے (نعوذ باللہ)، اس کا کوئی باپ نہیں، قیامت 21 فروری 1989ء کو وقوع پذیر ہو گی۔“ اس نے مزید کہا کہ وہ حال ہی میں برطانیہ سے آیا ہے، اس کی ملاقات سلمان رشدی سے ہوئی ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات“ میں درج تمام باتیں درست ہیں (نعوذ باللہ)۔ اس پر جلوس کے شرکاء میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر کے تھانہ سول لائنز بہاولپور میں اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 295-A، 295-C اور 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت کے کئی ماہ بعد ملزم کے بھائی نے عدالت میں درخواست دی کہ اس کے بھائی ملزم ارشد جاوید کا دماغی توازن درست نہیں، اس لیے اس امر کی بھی تفتیش کی جائے۔ چنانچہ ملزم کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا اور بعد ازاں بورڈ آف سرٹیفکیشن کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کی طرف سے ملزم کو مقدمہ کا سامنا کرنے کا اہل قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ ملزم عدالت میں اس قسم کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا کہ اندراج مقدمہ سے قبل وہ کسی پاگل پن کا شکار تھا یا اس سلسلہ میں اس نے کبھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ کیا ہو۔

تقریباً 4 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ اس طویل عرصہ میں ملزم نے اپنے فعل پر کسی پشیمانی یا ندامت کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہ اپنے دفاع میں یہ کہتا رہا کہ وہ تو اس سلسلہ میں محض ایک تقریر کر رہا تھا۔ مستند شواہد اور گواہیوں کی موجودگی میں جرم ثابت ہونے پر فروری 1993ء میں عزت مآب جناب فیض ربانی خاں سیال ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور نے

صفحہ 46

ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت موت کی سزا سنائی ۔ محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں توہین رسالت ﷺ کی سزا موت پر سیر حاصل بحث کی جس سے فیصلہ کی جامعیت اور افادیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ اس پر جج صاحب بے حد مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اس فیصلہ کی نقل بے پناہ صلاحیتوں کے مالک جناب محمد عمران ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے فراہم کی جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر مرحلہ زندگی میں کامیاب و کامران فرمائے ۔ (آمین)

خاک پائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 47

بعدالت جناب فیض ربانی خاں سیال، ایڈیشنل سیشن جج، بہاولپور

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 38/1991 سیشن مقدمہ نمبر : 12/1991 ایف آئی آر نمبر : 40/1989 بتاریخ 14 فروری 1989ء پولیس سٹیشن : سول لائنز، بہاولپور بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C 16 ایم پی او

سرکار

بنام

محمد ارشد جاوید ولد عبدالستار، ذات ارائیں، ساکن، چک نمبر 13/BC، بغدادالجدید، بہاولپور

(ملزم)

وکیل منجانب مدعی: حق نواز قمر سینئر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ

تاریخ فیصلہ: 9 فروری 1993ء

صفحہ 48

فیصلہ

جناب فیض ربانی خاں سیال، ایڈیشنل سیشن جج، بہاولپور

سول لائنز پولیس بہاولپور نے ملزم محمد ارشد جاوید ولد عبدالستار کو بمطابق ایف آئی آر نمبر 40/1989 مورخہ 1989-02-14، زیر دفعہ 16 ایم پی او اور مع دفعہ 295-A، 295-C تعزیرات پاکستان پولیس سٹیشن سول لائنز بہاولپور مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیے عدالت ہذا میں بھیجا۔

بہاولپور، مع دو پولیس کانسٹیبلوں، راؤ صابر علی طالب علم اکنامکس ڈیپارٹمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور محمد ابراہیم ولد حاجی غلام سرور، ایس ای کالج چوک بہاولپور میں موجود تھے جو فرید گیٹ کی طرف سے آنے والے اور اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور کی طرف بڑھنے والے جلوس کی نگرانی اور اس کے انتظام کے لیے موجود تھے جو سلمان رشدی کی (متنازعہ کتاب) ”شیطانی آیات“ کی مذمت کرنے کے لیے نکالا گیا تھا۔

وہاں موجود ملزم محمد ارشد جاوید اچانک جلوس کے سامنے نمودار ہوا اور ہاتھ بلند کر کے اسے روک دیا۔ اس نے چلانا شروع کر دیا کہ وہ بذات خود، ”حضرت عیسیٰ“ ہے اور اس کا کوئی باپ نہیں اور قیامت 1989-02-21 کو واقع ہوگی۔ اس نے دوبارہ چلا چلا کر یہ کہنا شروع کیا کہ سلمان رشدی کی طرف سے تحریر کردہ ”شیطانی آیات“ درست ہے۔ اس کے بعد عوام کے مذہبی جذبات مشتعل ہو گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ ہذا میں اسے جیل بھیج

صفحہ 49

دیا گیا۔ چالان مکمل ہونے پر اسے سماعت کے لیے عدالت میں بھیج دیا گیا۔

تقسیم کے بعد اور فرد جرم عائد کرنے سے قبل، محمد افضل، ملزم محمد ارشد جاوید کے حقیقی بھائی نے ایک درخواست دی کہ اس کے بھائی ملزم محمد ارشد جاوید کا دماغی توازن درست نہیں، اس لیے زیر دفعہ 465 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت عدالت کے اطمینان کے لیے اس امر کی تفتیش کی جائے۔ اس پر معزز فاضل جج بہاولپور نے ملزم سے اس کی ابتدائی زندگی کے متعلق کئی سوالات کیے۔ چونکہ اس نے درست جوابات دیے اور ماضی کے واقعات کا درست احوال بیان کیا، اسے دماغی لحاظ سے درست قرار دیا گیا۔ لیکن انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی خاطر ملزم کو بی وی ہسپتال بہاولپور میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تا کہ ایک ماہر نفسیات اس کا معائنہ کرے۔ یوں ڈاکٹر صلاح الدین بابر نے اس کا معائنہ کیا۔ متذکرہ بالا ڈاکٹر، عدالت کے روبرو پیش ہوا اور اپنی رپورٹ نمبر 13096 مورخہ 1989-07-03، (Ex.C-1) کی تصدیق کی جس میں متذکرہ ملزم میں مالیخولیا ایک شدید مرض (مزاج کی ہیجانی کیفیت ، بولنے کے لیے دباؤ، بہت زیادہ توانائی اور خدا کے ساتھ توانا تعلقات) کی مخصوص علامات پائی گئیں۔ ڈاکٹر کی رائے کے مطابق، ملزم میں پاگل پن پایا گیا۔ اس وقت کے معزز فاضل سیشن جج بہاولپور، ابھی بھی اس رائے سے متفق نہیں تھے اور ملزم کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ہسپتال ملتان کے پاس مزید طبی معائنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ بعدازاں، نشتر ہسپتال سے ملزم کو کیمپ جیل، لاہور بھیج دیا گیا جہاں گورنمنٹ مینٹل ہسپتال کے ڈاکٹر اصغر علی کو ملزم کے طبی معائنے کے لیے مقرر کیا گیا۔ متذکرہ ڈاکٹر نے مورخہ 1989-11-16 کو ملزم کا معائنہ کیا اور استدعا کی کہ ملزم کی مسلسل نگرانی اور جائزے کے لیے اسے ڈسٹرکٹ کیمپ جیل، لاہور منتقل کیا جائے۔ متذکرہ درخواست پر عمل کرنے اور اسے مورخہ 1990-11-03 کو بورڈ آف سرٹیفیکیشن کے روبرو پیش کرنے کے بعد، یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملزم، خفیف سے پاگل پن میں مبتلا ہے اور مقدمہ چلائے جانے کا اہل نہیں۔ یوں اس کا علاج کیا گیا اور میڈیکل رپورٹ نمبر 27 مورخہ 1991-06-30 کے مطابق اسے بورڈ آف سرٹیفیکیشن کی طرف سے مقدمہ چلائے جانے کا اہل قرار دیا گیا جس کے سربراہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، پنجاب لاہور تھے۔

صفحہ 50

ملزم نے خود کو بے قصور قرار دیا۔

5- استغاثہ نے اپنے مقدمہ کے حق میں محمد سعید، ایس آئی (گواہ استغاثہ نمبر 1)، محمد ابرہیم (گواہ استغاثہ نمبر 2)، محمد سرور، ایس ایچ او (گواہ استغاثہ نمبر 5) اور راؤ صابر علی (گواہ استغاثہ نمبر 4) پر جرح کی اور اپنی گواہی بند کر دی۔

6- زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ملزم پر جرح کی گئی۔ سوال نمبر 5 کے جواب میں کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں بنایا گیا اور گواہان استغاثہ نے کیوں اس کے خلاف گواہی دی، اس نے جواب دیا کہ اسے مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ اس نے محض تقریر کی تھی۔ اس نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بیان حلفی دینے سے انکار کر دیا اور اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

7- صاف بات تو یہ ہے کہ فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی جس کی معاونت حق نواز قمر، سینئر ایڈووکیٹ نے کی، نے راؤ صابر علی (گواہ استغاثہ نمبر 4) کے بیان کا حوالہ دیا اور اسے وقوعہ کا انتہائی آزاد گواہ قرار دیا۔ وہ اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا۔ وہ جلوس میں شریک تھا۔ یہ جلوس، سلمان رشدی کی تصنیف، شیطانی آیات، کے خلاف احتجاج کے لیے نکالا گیا تھا۔ اچانک، ایک شخص نے جلوس کو روک دیا جو بعد میں محمد ارشد جاوید پایا گیا جو عدالت میں حاضر ہے، وہ چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ وہ بذات خود ”حضرت عیسیٰ“ ہے، یہ کہ وہ حال ہی میں انگلستان سے واپس آیا ہے۔ اس نے سلمان رشدی سے ملاقات کی تھی اور اس کی کتاب ’شیطانی آیات‘ کا مطالعہ کیا تھا، اس میں سلمان رشدی نے جو کچھ تحریر کیا، وہ سب درست ہے۔ آخر میں ملزم نے چلا چلا کر کہا کہ یوم حشر ایک خاص تاریخ کو واقع ہوگا۔ ملزم کی طرف سے اس طرح شور مچانے اور چلا چلا کر بولنے سے بطور مسلمان، جلوس کے شرکاء کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ ملزم کو فوراً ہی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ اس گواہ کا بیان، محمد سرور، ایس آئی / ایس ایچ او (گواہ استغاثہ نمبر 5) کی مکمل تائید کرتا ہے۔ لہٰذا، استغاثہ کے مطابق، اس کا مقدمہ ثابت ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس، فاضل وکیل صفائی نے محمد ابراہیم (گواہ استغاثہ نمبر 2) کے بیان کا حوالہ دیا جو اپنے بیان سے منحرف ہو گیا تھا اور کہا کہ عوام الناس میں ایک آزاد گواہ ہونے کی حیثیت سے اس گواہ کو اہمیت دی جائے اور اس کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔ مزید برآں، فاضل

صفحہ 51

وکیل صفائی نے ڈاکٹر صلاح الدین بابر کی طرف سے دی گئی میڈیکل رپورٹ کے علاوہ بورڈ آف سرٹیفکیشن لاہور پر زور دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم کا دماغی توازن درست نہیں۔ فاضل وکیل صفائی نے خیر محمد، ایڈووکیٹ بہاولپور (اگرچہ یہ بیان حلفی، ریکارڈ پر مناسب انداز میں پیش نہیں کیا گیا لیکن اسے زیر غور لانے کی استدعا کی گئی) کا ایک بیان حلفی بھی پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ملزم اور اس کے افراد خانہ کو ذاتی طور پر جانتا ہے۔ متذکرہ ایڈووکیٹ کے مطابق، ملزم کی ماں کا دادا، جس کا نام، بابا احمد تھا، ایک پاگل شخص تھا۔ اس کی بیوی بھی پاگل تھی اور اسی طرح، ملزم کے اکثر افراد خانہ کا بھی دماغی توازن خراب تھا۔ اس لیے فاضل وکیل صفائی کے مطابق، ملزم، وراثتی طور پر دماغی مرض میں مبتلا ہے۔

یہ طے شدہ امر ہے کہ وقوعہ کے دنوں میں، تمام اسلامی دنیا 'لعین' سلمان رشدی کی تصنیف کردہ گستاخانہ کتاب "شیطانی آیات" کے خلاف سراپا احتجاج تھی۔ اس تناظر میں، اہل بہاولپور نے بھی سلمان رشدی کی مذمت میں جلوس نکالا تھا جس کی سربراہی، طلبہ کی مقامی تنظیم کا سربراہ، راؤ صابر علی کر رہا تھا۔ اس سے قبل ملزم اسے نہیں جانتا تھا اور نہ بعد میں اس کے متعلق جانتا تھا۔ راؤ صابر علی (گواہ استغاثہ نمبر 4) کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی اور عداوت نہیں تھی۔ جلوس کے سامنے ملزم نے جو بات کی، اس نے من وعن وہی بیان کر دیا۔ اس پر مفصل جرح کی گئی لیکن کوئی ایسی چیز سامنے نہ آسکی جو ملزم کے لیے مددگار ہوسکتی تھی۔ اس نے بتایا کہ ملزم نے چلا چلا کر کہا کہ وہ "حضرت عیسیٰ" ہے اور اس کا باپ نہیں۔ اس نے چلاتے ہوئے مزید کہا کہ اس نے مکروہ کتاب "شیطانی آیات" کا مطالعہ کیا ہے اور جو کچھ اس میں لکھا ہے، وہ (نعوذباللہ) درست ہے۔ گواہ نے مزید بتایا کہ وہ ملزم کے نزدیک کھڑا تھا اور اس نے صاف طور پر ملزم کو یہ الفاظ بولتے ہوئے سنا۔ راؤ صابر علی (گواہ استغاثہ نمبر 4) کے بیان کی مکمل تائید محمد سرور ایس آئی (گواہ استغاثہ نمبر 3) کے بیان سے ہوتی ہے۔ مورخہ 14-02-1989 کو یہ پولیس افسر، جلوس کی نگرانی کرنے اور اسے پرامن رکھنے کے لیے اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ایس۔ ای۔ کالج چوک میں ملزم اچانک جلوس کے سامنے آگیا اور جلوس کی طرف منہ کر کے چلا چلا کر بولنے لگا۔ اس گواہ کی ملزم کے ساتھ کوئی پرانی دشمنی نہ تھی جس نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ، انگلینڈ میں بسر کیا تھا۔

صفحہ 52

مزید برآں ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی کہ جس کے باعث یہ ظاہر ہو سکے کہ پولیس کی طرف سے یہ کام کروایا گیا ہے۔ اس لیے میرے پاس ملزم کے خلاف ان کے بیانات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

نے استغاثہ کی تائید نہیں کی، بھی زیر غور لایا جائے۔ یہ گواہ اپنے بیان سے منحرف ہو گیا تھا اور اسے منحرف قرار دیا گیا تھا۔ اس گواہ کی شہادت، جسے منحرف قرار دیا گیا تھا، کسی فریق کو فائدہ نہیں پہنچاتی۔ تاہم اگر اس کی شہادت مسترد بھی کر دی جاتی ہے تو دو آزاد گواہ اور بھی ہیں جن کے متعلق پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر ملزم کے خلاف گواہی دی اور ان کا بیان قابل اعتبار ہے۔ اس لیے، محمد ابراہیم (گواہ استغاثہ نمبر 2) کا بیان ملزم کی کوئی مدد نہیں کرتا۔

ملزم نے اختیار کیا۔ یہ موقف پہلی بار مورخہ 1989-06-27 یعنی مقدمہ کے اندراج کے ساڑھے چار ماہ بعد، سامنے آیا جب محمد افضل، ملزم کے ایک بھائی نے اس ضمن میں درخواست دی کہ زیر دفعہ 465 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اس امر کی تفتیش کی جائے۔ جس پر اس وقت کے سیشن جج بہاولپور نے اس کے ماضی کے متعلق ملزم سے بہت سے سوالات پوچھے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ملزم عام خصوصیات کا حامل شخص ہے۔ فاضل وکیل کی طرف سے ڈاکٹر صلاح الدین بابر کی رپورٹوں کے علاوہ بورڈ آف سرٹیفیکیشن کی رپورٹ پر بہت زور دیا گیا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ملزم میں مالیخولیا اور ہلکے پاگل پن کی خاص علامات موجود ہیں۔ لیکن ریکارڈ پر کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں کہ اس وقت ملزم، اس قسم کے مرض میں مبتلا تھا جب اس نے شان رسول ﷺ کی توہین کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ جب اسے ڈاکٹروں کی طرف سے طبی طور پر تندرست قرار دیا گیا، اس وقت اسے مقدمہ چلائے جانے کا اہل قرار دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اس وقت اسے یہ مرض لاحق بھی تھا تو بھی اس کا یہ مرض مستقل نہیں۔ اس طرح، مورخہ 1989-02-14 کو اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا اور موقع پر ہی اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے مورخہ 1989-06-21 کو ضمانت کے لیے درخواست دی۔ اپنی اس درخواست میں اس نے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ وہ وقوعہ کے وقت دماغی طور پر تندرست نہیں تھا۔ اس کی صفائی میں اس کی طرف سے صرف یہی موقف سامنے آیا کہ گھریلو

صفحہ 53

پریشانیوں کے باعث وہ اپنے ذہن پر قابو نہ رکھ سکا۔ واضح طور پر پاگل پن کا موقف بعد میں اپنایا گیا۔ اس لیے، میری پختہ رائے کے مطابق، ملزم کا یہ موقف اس کے حق میں نہیں۔

اقتباسات کا مطالعہ کیا جو ہفت روزہ ”تکبیر“ میں دیے گئے تھے۔ کسی بھی امتی (حضرت محمدﷺ کے پیروکار) کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس کے اثرات کو برداشت کر سکے۔ اس کی مذمت کرنے کے لیے مناسب الفاظ اور قوت موجود ہی نہیں۔ ملزم نے جلوس اور متذکرہ بالا دو آزاد گواہوں کی موجودگی میں خاص طور پر وہ کہا جو ’لعین‘ سلمان رشدی نے اس کتاب میں لکھا تھا کہ یہ (نعوذ باللہ) درست ہے۔ یہ شان رسولﷺ کی توہین کی واضح کوشش تھی۔

ظاہر نہیں کی۔ اس پر تقریباً چار برس، مقدمہ چلتا رہا۔ اس دوران لاہور میں اس کا زیادہ تر وقت طبی علاج میں گزرا۔ اگر اس پر غلط طور پر فرد جرم عائد کی گئی تھی تو اسے معاملات حل کرنے کے لیے بہت سے مواقع دیے گئے تھے کہ جس طرح ایک مسلمان اپنے شدید غصے کا اظہار کرتا۔ لیکن اس نے ایسے کسی بھی تاثر کا کبھی اظہار نہیں کیا۔ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے بیان میں اس نے ایک سوال کے جواب میں کہا ”مجھے سوال نمبر 2 کے متعلق کچھ یاد نہیں“ کہ کیا مورخہ 1989-02-14 کو اس نے ”حضرت عیسیٰؑ“ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’لعین‘ سلمان رشدی نے (حضور نبی کریمﷺ کی بے حرمتی کے حوالہ سے) درست کتاب لکھی تھی۔ ایک اور سوال نمبر 5 کے جواب میں کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں بنایا گیا اور گواہان استغاثہ نے کیوں اس کے خلاف گواہی دی، اس نے جواب دیا کہ اسے مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے اور اس نے تو محض ایک تقریر کی تھی۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا وہ (اپنی صفائی میں) کچھ کہنا چاہتا ہے، اس نے محض یہ کہا کہ وہ بے گناہ ہے۔ اس نے نہ تو اپنے دفاع اور نہ ہی اپنے دماغی عدم توازن کے متعلق کوئی صفائی پیش کی اور نہ ہی اس نے کوئی شرمندگی اور ندامت ظاہر کی۔ ۔ فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے دلائل کے دوران کچھ کتابچے اور خطوط پیش کیے جنہیں مبینہ طور پر اس وقت تقسیم کیا گیا اور لکھا گیا تھا جب وہ انگلینڈ میں تھا۔ یہ کتابچے، پولیس فائل سے لف پائے گئے اور تفتیش کے موقع پر تفتیشی افسر نے انہیں حاصل کیا۔ ان کتابچوں میں حضرت عیسیٰ اور اسلام کے دیگر عقائد کے

صفحہ 54

خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز باتیں لکھی گئی تھیں لیکن بہر حال، چونکہ یہ متذکرہ دستاویزات، ریکارڈ کا حصہ نہیں تھیں، اس لیے ان پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تاہم، اس صورت حال کے باعث ملزم کے سابقہ رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔

1991ء ایف ایس سی 10 نے اس قسم کی غلطیوں کی تین اقسام کی نشاندہی کی ۔

پیش بینی شامل ہو۔

ہے جو مجرمانہ نیت یا پیش بینی سے متضاد ہے ایسی خطاکاریوں میں غلطی جیسا دفاعی موقف صرف مجرمانہ ذہن کی نفی کرے گا اگر غلطی بذات خود غفلت نہ ہو۔

نیت یا قابل مواخذہ غفلت کو ذمہ داری کی لازمی شرط تصور کیا جائے گا۔ یہاں اس قسم کے دفاعی موقف جیسے غلطی سے کسی فعل کا سرزد ہونا قابل قبول نہیں۔

انجام سے بے پروا غلطی کے زمرے میں آتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی توہین، ایک دانستہ اور ناعاقبت اندیش غلطی ہے جس میں انسان کی غلطی، دانستہ، ایک مقصد کے تحت یا کم از کم سوچی سمجھی غلطی کے زمرے میں شامل ہے جس کے لیے ”حد“ کی سزا جاری ہو سکتی ہے اور ملزم سزائے موت کا حقدار ہو سکتا ہے۔ مقدمہ ہذا میں، ملزم کو اپنی طرف سے وضاحت کرنے کے لیے کئی مواقع فراہم کیے گئے لیکن اس نے کسی پشیمانی یا ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ میں، فقہ حنفی کے معروف فقیہ حضرت علامہ محی الدینؒ کی رائے کے باعث اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ کی توہین کے حوالے سے فیصلہ دینے سے قبل حکمران یا جج کو حالات اور توہین کے مرتکب فرد کے عمومی رویے کے متعلق جائزہ لینا چاہیے۔ (احکام المرتد، نعمان عبدالرزاق، سمرقندی، صفحہ 109)۔

بیان نہیں کیا جا سکتا۔ نبی اکرم ﷺ کی شان، اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور اس کا ارشاد اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں کیا ہے۔ جناب محمد حق نواز قمر، سینئر ایڈووکیٹ نے مجھے سورہ نسا کی

صفحہ 55

آیات 64 ، 65 اور سورہ الاحزاب کی آیات 22 تا 36 پڑھنے کا اعزاز بخشا جن میں شانِ رسول بطور حکمران ، بطور شارع ، بطور جج اور بطور فقیہ بیان ہوئی ہیں۔ فاضل وکیل نے مجھے سورہ البقرہ کی آیت 98 پڑھنے کو کہا جس میں کہا گیا ہے:

و میکائیلؑ کا تو اللہ بھی دشمن ہے (ان) کافروں کا۔‘‘

اسی طرح سورہ البقرہ، آیت 104 میں کہا گیا ہے:

کرو ’’راعنا‘‘ بلکہ کہو ’’انظرنا‘‘ اور (ان کی بات پہلے ہی) غور سے سنا کرو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

یہودی، مذہبِ اسلام کی برائی کے لیے راعنا کو راعینا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ لفظ راعنا کے اچھے اور برے دو معنی ہیں۔ اچھا مفہوم ’’ہم پر مہربانی فرمائیں اور ہماری طرف توجہ فرمائیں‘‘ ہے جبکہ برا مفہوم (جیسا کہ یہودی کہتے تھے) راعینا ہے جس کا مطلب ’اوہ، ہمارے گڈریئے‘ ہے۔ یہودی یہ لفظ، نبی اکرمﷺ کی توہین کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس لیے یہ ایک ایسا طنز ہے جو نبی اکرمﷺ کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو یہ لفظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا تاکہ اس کے تمام معنوں سے احتراز کیا جا سکے جن کے باعث نبی اکرمﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔

مقدمے (10 PLD 1991 FSC) کے ضمن میں کیا گیا تھا، استفادہ کیا ہے جس میں مولانا سبحان محمود نے قرآن مجید کی آیات 65:9 اور 66 ' 57:33 ' 2:49 ' 217:2 ' 75:5 ' 1:39 اور 65 ' 28:47 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کچھ احادیث اور فقہی آراء بیان کیں جن میں شاتم کو مرتد تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید اس حدیث پر اعتماد کیا جو ابو قلابہؓ سے مروی ہے جس میں شاتم کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے قاضی عیاضؒ سے مروی حدیث پر بھی اعتماد کیا کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا ’’ہلاک کر دو اس شخص کو جو پیغمبر کو گالی دے اور اسے درّے لگاؤ جو ان کے اصحاب کو گالی دے۔‘‘ انہوں نے ان احادیث پر بھی اعتماد کیا جن کے مطابق رسول پاکﷺ نے شاتم کو سزائے موت دی۔ اسی طرح ابنِ تیمیہؒ نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ’’آیات 62:9 سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کی توہین، اللہ اور اس کے نبی کی

صفحہ 56

مخالفت (مماحاة ۔ مشاقہ) ہے۔“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول از ابن تیمیہؒ صفحات 20، 21) مندرجہ بالا احادیث اور آیاتِ قرآنی کی روشنی میں، ایک شاتم رسول، سزائے موت کا مستحق ہے۔

مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے ’لعین‘ سلمان رشدی کی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، اسے درست (نعوذ باللہ) کہتے ہوئے نبی اکرمﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی۔ اس نے بلند آواز سے یہ بھی کہا کہ اس نے متذکرہ بالا کتاب پڑھی ہے جو بلاشبہ نبی اکرمﷺ کے بارے میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل ہے۔ دو آزاد گواہان پر جرح کے ذریعے استغاثہ نے ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کر دیا ہے۔ اس لیے، میں زیر دفعہ 16 ایم پی او، اسے مجرم قرار دیتا ہوں اور اسے تین سال قید بامشقت دی جاتی ہے، نیز میں زیردفعہ 295-C تعزیراتِ پاکستان، ملزم کو سزائے موت دیتا ہوں۔ ملزم کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالتِ عالیہ، لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی۔ ملزم، سات ایام کے اندر اس سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے اور اسے اس فیصلے کی نقل مفت فراہم کی جائے گی۔ ملزم اس وقت تحویل میں ہے۔ اسے وارنٹ کے تحت جیل بھجوایا جائے۔

فوجداری میں شامل قدغن کے باعث حذف کیا جاتا ہے۔

فقیہ کی حیثیت سے عدالت کو قابل قدر معاونت فراہم کی۔

دستخط: تاریخ فیصلہ فیض ربانی خاں سیال 9 فروری 1993ء ایڈیشنل سیشن جج، بہاولپور

۞.......۞.......۞

صفحہ 57

جناب محمد مجاہد حسین ایڈیشنل سیشن جج لاہور

سرکار بنام سلامت مسیح وغیرہ، فروری 1995ء

صفحہ 58
صفحہ 59

دل کی بات

بدقسمتی سے پاکستان کی سرزمین گستاخان رسول ﷺ کے لیے بے حد زرخیز ثابت ہوئی ہے جہاں وہ اپنے خبث باطن کا اظہار بھر پور اور آزادانہ طریقے سے کرتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ انہیں حکومتی حوصلہ افزائی اور سر پرستی بھی حاصل رہتی ہے۔

گوجرنوالہ کے مشہور ترین توہین رسالتؐ کیس کی ابتدا 1993ء میں اس وقت شروع ہوئی جب اس کیس کا ایک اہم ملزم رحمت مسیح ولد نانک مسیح جو سابق رکن صوبائی اسمبلی اعظم چیمہ کے داماد اشرف دوہتڑ کے ہاں نوکر تھا، نے تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں پھوکر پور میں مسلمانوں کی مسجد کے عین سامنے چرچ قائم کر کے تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں۔ گاؤں والے رحمت کے عیسائی ہونے کے باوجود اس کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے تھے، لیکن یہ بدطینت انسان ہمیشہ فتنہ پرور ذہنیت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ ممکن ہے اسے عیسائیت کے خفیہ اسلام دشمن مشنوں کی مکمل سپورٹ اور پشت پناہی حاصل ہو کیونکہ وہ گاؤں میں عیسائی مشن کا سربراہ تھا اور دوسرے افراد کی نسبت عیسائیت پر بھر پور معلومات رکھتا تھا۔

ملزم رحمت مسیح نماز فجر کے وقت گرجا گھر کی گھنٹی زور زور سے بجاتا اور اس کے ساتھی لاؤڈ سپیکر پر اونچی آواز میں عیسائی تعلیمات پر مبنی گانے گاتے جس سے مسجد میں مصروف عبادت مسلمانوں کو اکثر پریشانی کا سامنا اور تکلیف اٹھانا پڑتی اور بعض اوقات رحمت مسیح، لاؤڈ سپیکر پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا اور دوران تبلیغ حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا، قرآن مجید کا مذاق اڑاتا اور مسلمانوں کو عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دیتا۔ رحمت مسیح کو گاؤں کے سرکردہ لوگوں نے کئی دفعہ پیار سے سمجھایا، مگر وہ باز نہ آیا۔ بالآخر معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ لڑائی جھگڑے بھی ہوئے اور ایک دفعہ گاؤں کے معززین کے ہمراہ تھانہ میں صلح بھی ہوئی اور دوسری بار علاقہ مجسٹریٹ تک بات پہنچی اور انہوں نے رحمت مسیح کے

صفحہ 60

تحریری معذرت نامہ پر معاملہ نمٹا دیا۔ یہ تحریری معذرت نامہ 7 جولائی 1992ء کا تحریر کردہ ہے۔ کچھ عرصہ بعد رحمت مسیح نے پھر شرارتیں کرنا شروع کردیں۔ اب گاؤں میں قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کے کئی واقعات ہوئے۔ جن کے بارے میں گاؤں کے مسلمانوں کا پکا یقین تھا کہ رحمت مسیح اس قسم کے واقعات کا مرتکب ہے۔ گاؤں والوں نے رحمت مسیح کی ان مذموم سازشوں کی سرکوبی کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس پر رحمت مسیح گاؤں چھوڑ کر دوسرے قریبی گاؤں رتہ دوہتڑاں چلا آیا اور کچھ عرصہ بعد یہاں بھی وہی مذموم سرگرمیاں شروع کر دیں جو اس نے گاؤں پھوکر پور میں شروع کی تھیں۔ رتہ دوہتڑاں وہی گاؤں ہے جہاں مشہور زمانہ ”مقدمہ توہین رسالت“ نے جنم لیا۔ رحمت مسیح نے آتے ہی گاؤں کے نوجوان عیسائی سلامت مسیح کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ اس کے ذہن میں یہ ڈالا کہ تم زندہ ہی مر گئے ہو کہ مسلمانوں کا مولوی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق درس دیتا ہے اور ان کو اللہ کا بندہ کہتا ہے اور تم بالکل خاموش بیٹھے ہو۔ اس طرح رحمت مسیح نے ایک دوسرے شخص منظور مسیح کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور اپنی سازشوں کا آغاز کر دیا۔ اس گاؤں کی جامع مسجد کی لیٹرینوں میں مئی 1993ء کے دوران ایسی پرچیاں ملنا شروع ہوئیں جن پر نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ جملے لکھے ہوتے۔ پرچیاں مسجد کی لٹرینوں میں پھینک دی جاتیں اور پھینکنے والوں کا پتہ نہ چلتا۔ تھوڑے عرصہ بعد مسجد کی لٹرین کی اندرونی دیواروں پر حضور نبی کریمﷺ کے خلاف توہین آمیز کلمات لکھے پائے گئے۔ ایسے ہی گستاخانہ الفاظ مقامی سکول کی دیواروں پر بھی لکھے نظر آئے۔ مزید چند روز بعد گاؤں کی اسی مسجد میں ایک پوسٹر جس پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ساتھ نہایت اہانت آمیز غلیظ کلمات لکھے ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال سے جاری تھا۔ گاؤں کے لوگ پریشان ہو گئے۔ گاؤں والوں نے ٹوہ لگانا شروع کی لیکن گاؤں والوں کو ابھی تک کسی مجرم کا سراغ نہ ملا تھا۔ کیونکہ مجرم یہ کام اس ہوشیاری سے کرتے کہ کسی کو پتہ نہ چلتا تھا کہ یہ حرکت کون کر رہا ہے اور کب کرتا ہے؟ سب گاؤں والے خصوصاً مولوی فضل حق صاحب خصوصی طور پر پریشان تھے جو کہ گاؤں کی جامع مسجد کے امام اور خطیب بھی تھے۔ 9 مئی 1993ء کا واقعہ ہے کہ نماز عصر کے بعد مولوی فضل حق، محمد اکرم اور محمد بخش نمبردار کے ہمراہ مسجد سے نکلے تو انہوں نے رحمت مسیح، سلامت مسیح اور منظور مسیح کو مسجد کی بیرونی پلستر شدہ سیمنٹڈ دیوار پر اینٹ کے روڑے کی مدد سے

صفحہ 61

حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات لکھتے ہوئے دیکھا۔ حافظ فضل حق اور ان کے رفقا نے ملزموں کو پکڑنے کی کوشش کی۔ رحمت مسیح بھاگ گیا اور دوسرے دونوں ملزم پکڑے گئے۔ ان کے پاس اس قسم کی درجنوں پرچیاں برآمد ہوئیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ مسجد کی دیوار پر شان رسالت ﷺ کے خلاف غلیظ کلمات کو کپڑے کی مدد سے مٹا دیا گیا۔ ملزمان کو تھانہ لے جایا گیا، پولیس نے انہیں حوالات میں بند کر دیا لیکن مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ بڑی تگ و دو کے بعد مقدمہ درج ہوا۔ سیشن کورٹ میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ مکمل عدالتی طریق کار کے بعد جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ اس پر امریکہ اور یورپ میں کھلبلی مچ گئی۔ مغربی میڈیا نے چیخ چیخ کر دہائی دی کہ پاکستان میں عیسائیوں کو آزادی اظہار کے جرم میں سزا سنا دی گئی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں ملزمان کے دفاع میں پورے لاؤ لشکر کے ساتھ میدان میں آگئیں۔ انہی دنوں محترمہ بے نظیر بھٹو جو امریکہ جا رہی تھیں، اس مسئلہ پر نہایت غم غصہ کا اظہار کیا اور کہا:

ہیں اور عدالت کے فیصلہ پر انہیں حیرت بھی ہوئی ہے اور دکھ بھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہیں۔“ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، روزنامہ ”جنگ“ لاہور، 14 فروری 1995ء)

لہٰذا بے نظیر بھٹو کی خواہش اور حکم پر حکومت نے ملزمان کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کیے گئے جسٹس عارف اقبال بھٹی اور جسٹس چودھری خورشید احمد نے کی جنہیں چیف جسٹس الیاس نے ایک منصوبے کے تحت نامزد کیا۔ ان دونوں ججوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ اس کے سابقہ سرگرم راہنما رہ چکے تھے۔ جسٹس عارف اقبال بھٹی نے تو باقاعدہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا اور وہ پیپلز ورکس پروگرام کے انچارج بھی رہے۔ دینی حلقوں کی طرف سے بڑی شدت کے ساتھ یہ مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ دونوں ججوں کو اس کیس کی سماعت سے روک دیا جائے اور اس بین الاقوامی شہرت یافتہ کیس کی سماعت کے لیے غیر جانبدار اور اچھی شہرت کے مالک سینئر ججوں پر مشتمل فل بنچ تشکیل دیا جائے مگر حکومت نے نہ صرف یہ مطالبہ مسترد کر دیا بلکہ ملزمان کی پوری طرح سرپرستی کی۔

صفحہ 62

ان مذکورہ ججوں کو حکومت کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہر صورت میں ملزمان کو بری کریں۔ عدلیہ کی تاریخ میں اس بات کی مثال نہیں ملتی کہ نہ صرف اس کیس کی تیز ترین سماعت کی گئی بلکہ تماشا یہ ہوا کہ استغاثہ کے وکلا کو سنا تک نہیں گیا۔ بہر حال چند دنوں کی ”اندھا دھند“ سماعت کے بعد مجرمین توہین رسالتﷺ کو ”باعزت“ بری کردیا گیا جبکہ عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

ہیں کہ ملک دشمن عناصر مختلف مذاہب کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکا کر نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس طرف فوری توجہ دے گی اور اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کرے گی۔“ (1995 PCr.L J 811)

لیکن آج تک نہ تو اس کیس کی از سر نو تفتیش ہوئی نہ ہی اصل مجرم تلاش کیے گئے اور نہ ہی ملک دشمن عناصر کے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا گیا اور نہ ہی حکومت نے اس طرف توجہ دی بلکہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے ملزمان کو وی آئی پی کا درجہ دے کر پورے پروٹوکول کے ساتھ بیرون ملک روانہ کر دیا جس سے تمام گستاخان رسولﷺ کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوئی بلکہ انہیں اس ناپاک کام کی شہ بھی ملی۔

سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ نے احتساب بنچ کے بعض فیصلوں کے خلاف بے نظیر بھٹو کی ایک اپیل کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے تھے:

کاش سپریم کورٹ کے یہ تاریخی ریمارکس توہین رسالتﷺ کیس کی سماعت کرنے والے ججوں کے پیش نظر رہتے۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر پر سرکاری خزانہ کی لوٹ مار کے مقدمات قائم ہوئے تو انہیں ”خدا“ یاد آیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بنچ میں اپنے خلاف کرپشن کے ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے کہا: ”جو جج حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر وابستہ رہے ہیں، ان کے روبرو ہمارے مقدمات نہیں لگائے جانے چاہئیں۔“ (روزنامہ ”دن“ لاہور، 3 جون 1998ء)

ایک اور موقع پر انہوں نے عدلیہ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا:

صفحہ 63

کیس جاتا ہے، وہ حکومت کا حامی نظر آتا ہے“۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور، 23 جون 1998ء)

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت جانبدار ججوں سے کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس جناب اجمل میاں سے اپیل کی کہ ان کیسوں کو غیر جانبدار ججوں کو دیا جائے۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور، 20 اکتوبر 1998ء) اسے کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو

سب سے قابل افسوس اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بین الاقوامی حساس کیس کی سماعت کے دوران مغربی ممالک کے نمائندہ افراد، صحافی، بشپ، حقوق انسانی کے راہنما، سیکولر اور عیسائی مذہبی، سیاسی راہنما عدالت کے اندر اور باہر بے حد متحرک رہے۔ لیکن مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی راہنما صرف اخبارات میں محض خالی بیان دینے تک محدود رہے۔

میرے خیال میں دونوں جج صاحبان نے دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کا سنہری موقع گنوا دیا۔ شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا کیس گنہگار امتیوں کے پاس آیا تھا۔ یہ کوئی دنیاوی کیس نہ تھا جس میں انگریزی قانون کی موشگافیوں کا سہارا لے کر ملزم کی حمایت کی جاتی بلکہ یہ تو خالصتاً حصول شفاعت محمدی ﷺ کا کیس تھا جس کے مقابلہ میں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی سفارشوں اور خواہشوں کو جوتی کی نوک پر رکھ دیا جاتا ہے۔ انسان اس باسعادت امتحان میں سب کچھ ہار کر بھی جیت جاتا ہے۔

توہین رسالت ﷺ کے سلسلہ میں ایک مشہور واقعہ متھرا کے مالدار برہمن کا ہے جسے شان رسالت ﷺ میں توہین کا مجرم پایا گیا اور مغل شہنشاہیت کے چیف جسٹس شیخ عبدالغنی (قاضی القضاۃ) نے اسے موت کی سزا سنائی۔ مغل شہنشاہ اکبر نے اپنی حسین و جمیل ہندو مہارانیوں کے پرزور اصرار اور خوشامدی ”جیالے“ درباریوں کے اکسانے اور احتجاج پر متھرا کے وی آئی پی برہمن کی زندگی بچانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن عدلیہ نے اکبر کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہاں تمام کاروبار حکومت دین الٰہی کے نام سے سیکولر خطوط پر چل رہا تھا لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہمارے مذکورہ جسٹس صاحبان نے تو اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔ مگر افسوس! وہ اس کا بھی پاس نہ کر سکے۔

صفحہ 64

میں یہاں خصوصی طور پر ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد مجاہد حسین کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے نامساعد حالات، بے پناہ حکومتی دباؤ، پرکشش لالچ و ترغیب، خوف اور دھمکیوں کے باوجود حق و انصاف پر مبنی فیصلہ سنا کر قرون اولیٰ کے قاضیوں کی یاد تازہ کردی۔ انہیں اس فیصلہ کی پاداش میں جن جانگسل مرحلوں سے گزرنا پڑا، وہ ایک الگ داستان ہے۔ ان کا اسلام پر غیر متزلزل ایمان، عقائد پر ثابت قدمی اور حصول شفاعت محمدی ﷺ کی بے پناہ خواہش و بے قراری قابل صد رشک ہے۔ زندہ باد مجاہد حسین....... زندہ باد۔

اسی طرح جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ، جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ اور جناب خواجہ ابرار مجال ایڈووکیٹ کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں جنہوں نے اس کیس کو محبت رسول ﷺ میں سرشار ہو کر لڑا، امت مسلمہ ہمیشہ ان پر فخر کرتی رہے گی۔

سیشن کورٹ کے اس فیصلہ کے حصول کے لیے مجاہد ختم نبوت جناب محمد طیب قریشی، حافظ محمد ثاقب (گوجرانوالہ) اور جناب رضوان الرحمٰن رضی نے بھرپور کوششیں کیں۔ میں ان سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 65

بعدالت جناب محمد مجاہد حسین صاحب ایڈیشنل سیشن جج لاہور

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 56/1993 بتاریخ 11 مئی 1993ء پولیس سٹیشن : کوٹ لدھا۔ تحصیل و ضلع گوجرانوالہ بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 298-A,295-C

سرکار

بنام

(ملزمان)

وکیل منجانب مدعی رشید مرتضی قریشی ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ) وکیل منجانب سرکار: رانا محمد یاسین ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی وکیل منجانب ملزم: عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ)

تاریخ فیصلہ: 9 فروری 1995ء

صفحہ 66

فیصلہ

جناب محمد مجاہد حسین ایڈیشنل سیشن جج لاہور

اور 298 اے زیر دفعہ 34 تعزیرات پاکستان ایک ایف آئی آر نمبر 56 جو مورخہ 11 مئی 1993ء کو درج ہوئی تھی، جس کے نتیجہ میں یہ مقدمہ سماعت کے لیے میرے پاس بھیجا گیا۔

میں جاری تھی کہ ملزم سلامت مسیح نے عدالت عالیہ لاہور میں درخواست دائر کی کہ اس مقدمے کو لاہور منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ عدالت عالیہ لاہور کے جج جناب جسٹس خضر حیات نے 12 جنوری 1994ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے یہ تفتیش سیشن جج لاہور کو منتقل کر دی اور تب سیشن جج لاہور جناب عبدالحفیظ چیمہ (جو کہ اب ہائی کورٹ کے جج بن چکے ہیں) کی عدالت میں مورخہ یکم مارچ 1994ء کو موجودہ ملزمان اور آنجہانی منظور مسیح کے خلاف فرد جرم عائد کر دی لیکن مورخہ 5 اکتوبر 1994ء کو فاضل سیشن جج لاہور نے عدالت عالیہ سے درخواست کی کہ اس مقدمے کو کسی اور عدالت میں منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ مورخہ 28 نومبر 1994ء کو عدالت عالیہ لاہور کے جج جناب جسٹس شیخ اعجاز نثار نے اس مقدمے کو موجودہ عدالت میں بھیج دیا۔

تاریخ میں آرڈر شیٹ میں دیا گیا ہے چنانچہ اب مذکورہ دو ملزمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہو گی۔

صفحہ 67

مظفر الدین کی جانب سے دی گئی ہے، کے مطابق وہ رتہ دوہتڑہ کی مسجد کے خطیب اور امام ہیں۔ مقدمے کے اندراج کے ایک سال پہلے مسجد کے بیت الخلا کی دیواروں پر حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں کچھ گستاخانہ الفاظ تحریر پائے گئے۔ کچھ مدت کے بعد مسجد کے دروازے کے نزدیک کاغذات کے ایسے ٹکڑے ملے جن پر حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ تحریر تھے۔ اسی نوع کے کچھ کاغذات چند روز بعد اسی مسجد میں سے ملے اور پھر مزید چند روز بعد گاؤں کی ایک دوسری مسجد میں ایک پوسٹر نما کاغذ پھینکا گیا جس پر کلمہ طیبہ کے ساتھ انتہائی اہانت اور توہین آمیز کلمات لکھے ہوئے تھے۔ مورخہ 9 مئی 1993ء کو شام کے وقت ملزم سلامت مسیح ، رحمت مسیح اور منظور مسیح (آنجہانی) کو جامع مسجد کی دیوار پر پتھر کے ساتھ توہین آمیز الفاظ تحریر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ درخواست گزار نے گواہ استغاثہ محمد اکرم اور محمد بخش نمبردار کے ہمراہ ملزموں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے۔ مدعی اور گواہوں نے تمام ایسے الفاظ کو مسجد کی دیوار پر سے مٹا دیا اور اب وہ کاغذات جن پر یہ الفاظ تحریر تھے اور جو اس وقت تک محفوظ تھے، پولیس کے حوالے کر دیے گئے۔ چنانچہ ایس ایچ او تھانہ کوٹ لدھا، امان اللہ خان نے ایف آئی آر تحریر کی۔ ایس ایچ او مذکورہ جائے وقوعہ پر خود گیا۔ اس نے موقعہ کا ملاحظہ کیا اور بغیر کسی سکیل کے محض اندازے سے ایک غیر محتاط نقشہ تیار کیا۔ حافظ فضل حق نے کاغذ کے ٹکڑے، جن پر توہین رسالت ﷺ پر مبنی تحریر تھی، اس کے حوالے کیے جنہیں قبضے میں لے کر اس نے ایک میمو تیار کیا جس پر اس نے اپنے دستخط کیے۔ اس نے مدعی کا بیان زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری درج کیا۔ اس نے 11 مئی 1993ء کو سلامت مسیح اور آنجہانی منظور مسیح جبکہ رحمت مسیح کو 13 مئی 1993ء کو گرفتار کیا اور تحقیقات مکمل کر کے ان کا چالان پیش کر دیا گیا۔ پھر تفتیشی آفیسر نے یہ مقدمہ محرر کے حوالے کر دیا تا کہ وہ اسے اپنے قبضے میں محفوظ رکھ سکے۔

وار ثابت نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے استغاثہ کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے دعوے کی حمایت میں گواہی فراہم کرے۔

اور اس امر کا اظہار کیا کہ وہ نامساعد حالات کی وجہ سے مقدمے کو جاری نہیں رکھ سکیں گے

صفحہ 68

کیونکہ ایسا کرنے میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی کی استدعا پر انہیں گواہ پر جرح کی اجازت دی گئی۔ دوران جرح گواہ نے تسلیم کیا کہ اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی درخواست وہی ہے جو اس نے مقدمے کے اندراج کے وقت مقامی تھانہ میں دی تھی اور جس پر اس کے دستخط بھی ثبت تھے۔ اس نے کہا کہ اس پر ایک قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہوسکتا ہے لیکن اس نے وکیل صفائی کے استفسار کے جواب میں کہا کہ اس کو ملزموں کی طرف سے جان کا خطرہ نہیں ہے۔

اور حافظ محمد فضل حق کے ہمراہ مسجد سے باہر آئے تو سلامت مسیح پتھر کے ساتھ دیوار پر کچھ لکھ رہا تھا۔ رحمت مسیح اور مقتول منظور مسیح بھی وہاں کھڑے تھے۔ اس نے تقدس کے پیش نظر ان الفاظ کو دہرانے سے انکار کر دیا۔ ملزم چونکہ جنوب کی طرف بھاگ گیا، اس لیے پکڑا نہ جا سکا۔ اس نے مزید کہا کہ کچھ نامعلوم افراد مسجد کے غسل خانوں میں کچھ الفاظ لکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی چٹیں مسلسل پھینک رہے تھے اور چونکہ وہ ایسا کرنے والوں کے بارے میں نہیں جانتے تھے، اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہ کر سکے۔ فضل حق نے مزید الزام لگایا کہ منظور مسیح (آنجہانی) نے ایک دن امام مسجد حافظ فضل حق کو حضرت عیسیٰؑ پر لیکچر دینے کی کوشش کی۔ اس نے یہ بھی تصدیق کی کہ چونکہ چٹیں انہوں نے اپنی تحویل میں لے لی تھیں، اس لیے وہ تحقیقاتی آفیسر کے سامنے پیش کر دی گئی تھیں اور برآمدگی کی دستاویزات پر اس کے اور محمد بخش کے دستخط ہیں۔

وکیل صفائی کی جرح کے دوران اس نے کہا کہ وہ انڈر میٹرک ہے اور منظور مسیح کو جانتا ہے۔ اس نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اس کے والد کا منظور مسیح کے والد کے ساتھ شیشم کے درختوں کی چوری کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس کے دادا کے ملزم سلامت مسیح کے دادا سے اختلافات ہوئے تھے۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ سلامت مسیح کے دادا نے اس کے دادا کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بہر حال اس نے تسلیم کیا کہ منظور مسیح قتل ہو چکا ہے۔ اس نے اس امر کو بھی تسلیم کیا کہ حافظ محمد فضل حق اور ماسٹر عنایت بھی اس مقدمے میں اس کے ساتھ فریق تھے۔ ماسٹر عنایت اس کے استاد تھے لیکن ایک اور شخص، شریف اس کا رشتہ دار نہ تھا۔ اس نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار

صفحہ 69

کیا کہ ماسٹر عنایت کے بیٹے کی شادی ہوئی تھی یا کہ نہیں۔ بہر حال اس کے بھائی کی شادی ہوئی، بعد میں طلاق ہوگئی۔ اس نے جرح کے دوران مزید بتایا کہ فاروق احمد اس کے باپ کے ماموں کا بیٹا ہے۔ اس نے اس امر کو بھی درست قرار دیا کہ آنجہانی منظور مسیح نے ان کے کھیتوں میں پانی کا کھال نکالا تھا لیکن اس امر سے انکار کیا کہ ان کے منظور مسیح کے ساتھ اس مقدمے سے پہلے کسی اور وجہ سے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ مجاہد کا باپ ارشد ان کی برادری میں سے ہے لیکن اس نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ سلامت مسیح کے اس کے کزن کے ساتھ کبوتروں کے مسئلے پر اختلافات ہوئے تھے۔ اس نے مجاہد کی عمر 14، 15 سال بتائی۔ اس نے کہا کہ اس نے وہ چٹیں جن پر توہین رسالت ﷺ کے الفاظ تحریر تھے، پہلی دفعہ 11 مئی 1993ء کو دیکھیں۔ وکیل صفائی کے سوال پر کہ ان چٹوں پر کیا چیز قابل اعتراض تھی؟ اس نے کہا کہ وہ ان کو دہرانے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت قابل اعتراض مواد کو پھاڑ دیا تھا لیکن جب فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اس کو کلمہ طیبہ والا پوسٹر دکھایا تو اس نے کہا کہ قابل اعتراض فقرات کلمہ طیبہ کے آخری حصے پر لکھے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا یہ تقریباً 4، 5 بجے کا وقت تھا جب وہ نماز عصر ادا کرنے مسجد گیا اور نماز ادا کر کے مسجد سے باہر نکلا۔ اس نے کہا کہ وہ وقوعہ کے روز دوپہر بارہ بجے کھیتوں سے واپس آ گیا تھا اور بعد ازاں ظہر کی نماز بھی مسجد میں جا کر ادا کی تھی اور وقوعہ کے روز وہ سورج غروب ہونے کے بعد اپنے گھر پہنچا تھا۔ بہرحال اس نے کہا کہ چونکہ وہ جاٹ ہے، اس لیے درست وقت نہیں بتا سکتا۔ گواہ نے جرح کے دوران مزید کہا کہ وقوعہ 9 مئی 1993ء کو ہوا جبکہ وہ تھانے رپٹ درج کروانے 11 مئی 1993ء کو 8 بجے پہنچا۔ اس نے مولوی فضل حق اور محمد بخش نمبردار کے ہمراہ مسجد کی دیوار پر لکھے الفاظ پڑھے لیکن وہ تقدس کے پیش نظر ان کو دہرانے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ اس نے مزید کہا کہ مولوی فضل حق نے وہ الفاظ مسجد کی دیوار پر سے صاف کر ڈالے۔ وہ فقرے پانچ چھ الفاظ پر مشتمل تھے اور وہ کپڑے کا لفافہ جس سے وہ الفاظ صاف کیے گئے، وہ تفتیشی آفیسر کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ وہ یہ الزام صرف اس وجہ سے لگا رہا ہے کیونکہ اس کے رشتہ دار مجاہد کا کبوتروں کے مسئلے پر سلامت مسیح سے جھگڑا ہوا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ ان کی منظور مسیح (مقتول) کے ساتھ کوئی پرانی دشمنی ہے۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ وہ مولوی فضل حق اور ماسٹر

صفحہ 70

عنایت کے کہنے پر غلط الزام لگا رہا ہے۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ مولوی فضل حق مدعی نے موجودہ مقدمہ کی پیروی کے لیے کوئی چندہ اکٹھا کیا تھا۔

حافظ محمد فضل حق اور حاجی محمد اکرم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب وہ مسجد سے باہر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ رحمت مسیح، سلامت مسیح اور منظور مسیح (مقتول) دیوار پر پتھر سے کچھ لکھ رہے تھے۔ اس نے کہا کہ وہ ان الفاظ کو بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتا جو ملزموں نے دیوار پر لکھے۔ اس نے مزید کہا کہ ملزمان انہیں دیکھ کر بھاگ گئے۔ مولوی فضل حق نے متعلقہ کاغذ کی چٹیں (ثبوت) اس کے سامنے پولیس کے سامنے پیش کیں اور ان کاغذات کی وصولی کی دستاویزات پر اسی کے دستخط ہیں۔

جرح کے دوران اس نے بتایا کہ یہ سارا مواد پہلی مرتبہ اس نے اس وقت دیکھا جب یہ تھانہ میں پولیس آفیسر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے قابل اعتراض مواد پڑھنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ ان کو نہیں پڑھ سکتا۔ اس نے جرح کے دوران مزید کہا کہ پولیس نے اس طرح کے تمام کاغذات کا اس کے سامنے پارسل بنایا۔ اس نے کہا کہ وہ وقوعہ سے ایک گھنٹہ قبل مسجد میں گیا لیکن وہ صحیح وقت بتانے سے قاصر ہے۔ اس نے کہا کہ وقوعہ شام کو ہوا جبکہ وہ مسجد سے اپنے گھر کو جا چکا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ملزمان جنوب کی سمت بھاگے تھے۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وقوعہ کے بعد سے وہ ایک دفعہ بھی ملزمان کو نہیں ملا۔ گواہ نے کہا کہ ملزمان ایک مخصوص طبقہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نے کہا کہ نہ تو اس کے بیٹے کا منظور مسیح سے اور نہ ہی منظور مسیح کا اس کے بیٹے سے کوئی جھگڑا ہوا تھا اور نہ ہی اس نے سلامت مسیح اور مجاہد کے کسی اس طرح کے تنازعے کے بارے میں سنا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ منظور مسیح اور سلامت مسیح (ملزمان) کو پولیس نے کہاں سے گرفتار کیا۔ اس نے مزید کہا کہ انہوں نے وقوعے کے بعد ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ گواہ نے مزید کہا کہ ماسٹر عنایت کا گاؤں میں کوئی رشتہ دار نہ تھا اور وہ کافی عرصہ سے گاؤں میں دیکھا بھی نہیں گیا تھا۔ اس نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے اس قسم کا کوئی اور واقعہ اس واقعے کے بعد نہیں سنا اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی اور واقعہ ان کے گاؤں کے سکول میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ گواہ نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ چھ اور لوگوں کو اسی طرح کے الزام میں گرفتار کیا گیا

صفحہ 71

تھا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے کبھی نہیں سنا کہ منظور مسیح نے مولوی فضل حق کے ساتھ مذہبی معاملات پر کوئی گفتگو کی ہو۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ رحمت مسیح نے عیسائیوں سے ماسٹر عنایت کے خلاف محکمہ تعلیم کو ایک درخواست دینے کے لیے اس پر دستخط کرائے تھے کیونکہ ماسٹر عنایت نے عیسائیوں کے بچوں کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ رحمت مسیح نے کوئی الیکشن لڑا تھا۔ اس درخواست گزار اور گواہوں نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ انہوں نے کبوتروں کے مسئلے پر سلامت مسیح کی دھنائی کی تھی۔ انہوں نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس مقدمے کے ذریعے انہوں نے گاؤں کے عیسائی طبقے کے خلاف کوئی سازش کی۔ انہوں نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ چونکہ رحمت مسیح نے گاؤں کے چرچ میں لاؤڈ سپیکر لگایا تھا، اس لیے یہ مقدمہ اس کو سزا دینے کے لیے گھڑا گیا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ ان لوگوں نے اس مقدمے کی پیروی کے لیے چندہ اکٹھا کیا بلکہ وضاحت کی کہ وہ اس مقدمے میں گواہ کے طور پر پیش ہونے کے لیے خود اپنے خرچ پر موجودہ عدالت میں حاضر ہوا ہے۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس معاملے کی ابتداء سے قبل ان کے گاؤں کے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی تنازعہ ہوا تھا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سلامت مسیح (ملزم) ان پڑھ ہے کیونکہ وہ اسے عرصہ دراز سے جانتا ہے۔

اس نے وکیل صفائی کی جرح کے دوران بتایا کہ اس نے چند الفاظ دیوار پر لکھے دیکھے تھے جو بعد میں صاف کر دیے گئے تھے۔ وہ الفاظ پڑھے نہیں جاسکتے تھے۔ اس نے کہا کہ اسے رحمت مسیح کی طرف سے چرچ میں لگائے جانے والے لاؤڈ سپیکر کی تنصیب کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ اس نے ملزم کا نمونہ تحریر حاصل نہیں کیا تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ لوگ سخت اشتعال میں تھے، اس لیے وہ ملزمان کو ان کی جانوں کو درپیش خطرے کے پیش نظر تھانہ میں لے آیا۔ اس نے مزید کہا کہ اسے مولوی فضل حق کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی کہ منظور مسیح یا دیگر ملزمان اس کے ساتھ کسی قسم کی بحث میں الجھے تھے۔ اس نے کہا کہ اس نے سلامت مسیح اور منظور مسیح (مقتول) کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا۔ رحمت مسیح کو ایک ایم پی اے عادل شریف گل نے خود ایس ایس پی گوجرانوالہ کے سامنے پیش کیا۔

صفحہ 72

ملزم کا بیان ریکارڈ کیا گیا جس نے اس امر سے انکار کیا کہ اس نے گواہوں کے بیانات کے مطابق چند الفاظ یا فقرے اپنے گاؤں کی جامع مسجد کی دیوار پر تحریر کیے تھے جو کہ یہ لوگ تقدس کی وجہ سے بیان نہ کر پاتے ہوں۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ دستاویزات نمبر 1 اور 2 اس نے اور اس کے شریک ملزمان نے مل کر تیار کی تھیں جن میں نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے متعلق شرانگیز باتیں تحریر تھیں بلکہ اس نے کہا کہ وہ بالکل ان پڑھ ہے اور اس امر کا خدشہ ظاہر کیا کہ یہ دستاویزات گواہوں نے خود تیار کی ہیں۔ ایک خصوصی سوال کے جواب میں کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف ہی کیوں درج کیا گیا اور تمام گواہوں نے اس کے خلاف ہی الزام کا اعادہ کیوں کیا ہے؟ اس نے کہا کہ ایک گواہ محمد اکرم کے بھتیجے ارشد کے بیٹے مجاہد کے ساتھ اس کا کچھ روز قبل جھگڑا ہوا تھا۔ اگلے دن جب وہ کھیتوں سے واپس آیا تو اسی گاؤں کے پچاس ساٹھ مسلمان آئے۔ انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کے خاندان کو یا اسے کچھ نہیں بتایا۔ انہوں نے گاؤں کے سکول میں اسے مارا۔ محمد بخش نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے اس جرم کا اعتراف نہ کیا تو وہ اسے جان سے مار ڈالے گا اور جب اس نے چارپائی پر بیٹھنے کی کوشش کی تو محمد بخش نے اسے زمین پر بیٹھنے کو کہا اور اسے ”چوڑا“ کہہ کر پکارا۔ انہوں نے اسے یہ دھمکی بھی دی کہ عیسائیوں میں سے جو بھی ان کے رستہ میں آیا، اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا۔ اس کے والدین اسے چھڑوانے کے لیے آئے اور ملزمان سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ جھگڑا نہیں کریں گے۔ ان کے والدین نے اس ضمن میں قسم بھی دینے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے قسم لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تم ”چوڑھے“ ہو اور قابل اعتماد نہیں ہو۔ اس کا چچا وہاں آیا اور اس نے کہا کہ وہ مسلمانوں کا احترام کرتے ہیں اور مذہبی معاملات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ ”بدھو“ ہیں۔ وہاں پر موجود لوگوں نے اس کی ماں کو بھی مارا اور اس کو گھر بھیج دیا۔ حاجی اکرم نے اس کے باپ سے کہا کہ چونکہ اس کے باپ نے شیشم کے درختوں کی چوری میں اس کے باپ کو گوجرانوالہ میں ایک مقدمے میں ملوث کیا تھا، اس لیے وہ اس کا بدلہ موجودہ نسل سے لے گا۔ ملزم نے دوسرے ملزم رحمت مسیح کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری سے انکار کیا اور کہا کہ اس نے پہلی مرتبہ اس کو تھانے کی حوالات میں دیکھا تھا۔ بہر حال ملزم سلامت مسیح نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جھٹلانے کے لیے کوئی گواہی پیش کرنے سے انکار کر دیا جو کہ استغاثہ نے اس کے خلاف زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ

صفحہ 73

فوجداری عائد کیے تھے۔

اس الزام سے کہ اس نے مسجد کی دیوار پر کوئی قابل اعتراض الفاظ تحریر کیے تھے۔ لیکن ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ ماسٹر عنایت کوٹ لدھا میں رہتا ہے جو ”پھوکر“ گاؤں سے صرف چار ایکڑ دور واقع ہے، اس نے عیسائیوں کے بچوں کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ ملزم نے عیسائی طبقے کے لوگوں کے دستخط ایک درخواست پر حاصل کیے اور ماسٹر عنایت کے خلاف یہ درخواست تعلیم کے اعلیٰ حکام کو دے دی جس پر (ماسٹر نے) اسے وقت آنے پر سبق سکھانے کی دھمکی دی۔ اس نے کہا کہ اس نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سے اجازت نامہ حاصل کر کے چرچ کے اندر ایک لاؤڈ سپیکر بھی لگایا تھا۔ اس نے اس ضمن میں اپنے گاؤں کے معززین مولوی محمد رشید اور شاہ محمد سے بھی بات کی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ اذان اور نماز کے اوقات میں یہ سپیکر استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن ماسٹر عنایت نے اس سپیکر کی تنصیب کی اس بنا پر مخالفت کی کہ سپیکر کی آواز سے اس کے سکول میں پڑھنے والے بچے ڈسٹرب ہوں گے۔ اس پر اس نے سپیکر اتار کر صندوق میں سنبھال لیا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ اللہ کی عبادت کے لیے اسے اس سپیکر کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ سلامت مسیح اس کا رشتہ دار یا واقف کار ہے۔ اس نے کہا کہ اسے اس مقدمے کے متعلق اپنے بھائی سے اس وقت پتہ چلا جب وہ اس کو ملنے گوجرانوالہ گیا۔ اس کے بھائی نے بتایا کہ ان کو غلط طور پر اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور لوگ ان کی خواتین کی بے حرمتی کرنے اور ان کے گھروں کو آگ لگانے کے لیے تلے بیٹھے تھے۔ چنانچہ اس نے خود ہی عادل شریف ایم پی اے سے رابطہ کیا جس نے اس کو ایس ایس پی گوجرانوالہ کے سامنے پیش کیا۔ جہاں سے اسے براہ راست جیل بھیج دیا گیا۔ اس نے کہا کہ وہ مسلمانوں اور دیگر تمام مذاہب کے لوگوں کا احترام کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ ماسٹر عنایت نے حبیب اللہ، محمد صادق ولد رحیم بخش، محمد اکرم، محمد صادق ولد اللہ بخش اور خادم حسین جو کہ کوٹ لدھا کے رہائشی ہیں، پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا۔ گاؤں پھوکر کے محمد صادق ولد رحیم بخش، محمد صادق ولد اللہ بخش اور حبیب اللہ ولد مولوی محمد رشید اس گروپ کے لیے لوگوں سے چندہ بھی اکٹھا کرتے رہے ہیں اور انہوں نے ہی ان پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں ان کا شریک ملزم منظور مسیح قتل اور وہ زخمی ہو گئے۔ اس نے اپنے دفاع میں کوئی گواہی پیش

صفحہ 74

کرنے یا خود استغاثہ کی طرف سے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری لگائے گئے الزامات سے انکار کیا۔

خلاف درج کیا گیا مقدمہ مکمل طور پر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ اس نے کہا کہ مقدمے کے اندراج میں خاطر خواہ تاخیر کا کوئی تسلی بخش جواز پیش نہیں کیا جا سکا۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ گواہوں کے بیانات میں واضح اختلافات پایا جاتا ہے کیونکہ ایک مسلمان کے طور پر وہ اس امر سے لاعلم ہیں کہ وقوعہ کے روز نماز عصر کے کیا اوقات ہوتے ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ گواہ نمبر 1 اپنے بیان سے پیچھے ہٹا ہے۔ اس لیے اس کی گواہی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کہا اور بہت سے مقدمات صرف اس نوع کی گواہیوں کی بناء پر قائم کیے گئے۔ اس نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر مدعی اور گواہ استغاثہ نمبر 1 کو اپنی جان کے خطرے کا خدشہ ملزموں کی طرف سے نہیں ہے جو کہ اس نے عدالت میں اپنے بیان کے دوران بھی تسلیم کیا ہے تو پھر اسے ان عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے جن کی طرف سے اس کی جان کو خطرہ ہے۔ دراصل وہ ایک جھوٹا آدمی ہے جس نے دستاویز نمبر 1 اور 2 مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ سستے طریقے سے کھیلنے کے لیے خود تیار کی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ایک خود ساختہ کہانی کے ذریعہ ان کو پھنسانے کے لیے نبی پاک (ﷺ) کے متعلق یہ مواد تخلیق کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گواہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ کس مقدس شخصیت کے متعلق وہ توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ تحریر کیے تھے۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے کاغذ پر انتہائی واضح الفاظ میں لکھا گیا کلمہ طیبہ بھی پڑھنے سے انکار کر دیا جس کا مطلب ہے کہ وہ اس عبارت سے بھی بالکل آگاہ نہیں تھے جو مسجد کی دیواروں پر یا کلمہ طیبہ کے درمیان اس پوسٹر پر لکھی گئی۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ملزم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نہ صرف اسلام بلکہ دوسرے تمام مذاہب کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح عیسائیت کا۔ مزید برآں نہ ہی وہ پتھر جس سے گستاخانہ الفاظ تحریر کیے گئے تھے اور نہ ہی وہ صافہ (کپڑا) جس سے ان کو صاف کیا گیا، عدالت میں پیش کیے جا سکے۔ استغاثہ کے گواہ نمبر 1 نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم جنوب کی طرف بھاگ گیا جبکہ نقشہ کے مطابق جنوب کی طرف کوئی راستہ ہی نہیں۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ سلامت مسیح کی عمر صرف 13 سال ہے جبکہ گواہ استغاثہ نے کہا کہ وہ اسے تقسیم ہند سے

صفحہ 75

جانتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ چونکہ استغاثہ ملزموں کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں کرسکا ہے، اس لیے وہ اس امر کے حق دار ہیں کہ ملزموں کو اس الزام سے باعزت بری کر دیا جائے۔

کہا کہ استغاثہ بغیر کسی شک وشبے کے اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نبی اکرم ﷺ سے اپنے انتہائی احترام اور لگاؤ کا معاملہ تھا جس کی وجہ سے گواہان استغاثہ نے ان الفاظ کو دہرانے سے انکار کیا جو ملزموں نے مسجد کی دیوار پر تحریر کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان صرف ذاتی دشمنی اور انا کی تسکین کے لیے حضرت محمد ﷺ کی ذات کے متعلق اس قسم کی کوئی دستاویز خود بنانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ گواہ نمبر 1 نے استغاثہ کے واقعات کی ہر پہلو سے تصدیق کی، اس لیے ان کو ایسا گواہ قرار نہیں دیا جاسکتا جو اپنی گواہی سے منحرف ہوا ہو یا پیچھے ہٹا ہو۔ یہ بھی کہا گیا کہ دستاویز نمبر 1 اور 2 جس میں حضرت محمد ﷺ کی ذات کے متعلق نازیبا اور توہین آمیز کلمات درج ہیں اور استغاثہ کی طرف سے مہیا کردہ مواد ملزموں کو جرم کے ساتھ وابستگی کا مکمل ثبوت فراہم کرتا ہے اور ملزموں کو سزا کا مستحق ثابت کرتا ہے۔

گواہی میں اپنی جان کو درپیش خطرے کے خدشے کا اظہار کیا لیکن اس نے وقوعہ کے متعلق استغاثہ کے دعوؤں سے اختلاف نہیں کیا اور جب اس کو وہ کاغذات دیے گئے جن پر نازیبا کلمات تحریر تھے تو اس نے ان کاغذات کو نہ صرف پہچان لیا بلکہ ان کے مندرجات کی بھی تصدیق کی اور درخواست پر بھی اپنے دستخطوں کے ثبت ہونے کے بارے میں استفسار پر مثبت جواب دیا۔ اس نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ وقوعہ بہرحال ہوا تھا۔ اس کا اس امر سے انکار کہ اس کو ملزموں کی طرف سے جان کا کوئی خطرہ ہے، بھی کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا۔ اس کی گواہی کے مستند ہونے کے بارے میں کوئی دوسرا لفظ نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے بارے میں اس شک کا اظہار تو یہ ہوسکتا ہے کہ آیا وہ اس وقت غلط بیان دے رہا تھا جب وہ تفتیشی آفیسر کے سامنے تھا یا اس وقت جب جرح کے دوران عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا

صفحہ 76

رہا تھا۔ لیکن دونوں صورتوں میں اس نے نہ تو ملزم سے کوئی رعایت کی ہے اور نہ ہی اس متعلقہ مواد سے کوئی اختلاف کیا ہے جو درخواست کی تصدیق میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اس نے اپنی درخواست، جو وہ پہلے ہی تھانے کو دے چکا ہے، کی تصدیق کی ہے۔ اس لیے اس مقدمے کو نپٹاتے وقت درخواست کے تمام مندرجات پر غور کیا جانا ضروری ہے۔

دوسرے یہ کہ گواہ محمد اکرم نے استغاثہ کی تفصیلات کی مکمل تصدیق کی ہے۔ اگر چہ گواہان استغاثہ نمبر 2 اور 3 نے الفاظ کو جو مسجد کی دیوار پر تحریر کیے گئے تھے اور یا پھر دستاویزات نمبر 1 اور 2 پر پائے گئے، کو دہرانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا ایمان اور نبی کریم ﷺ کی ذات سے ان کی محبت اور لگاؤ انہیں اس امر کی اجازت نہیں دیتا۔ فاضل وکیل صفائی نے جرح کے دوران، ان سے یہ بات منوانے کی کوششیں کی کہ گواہوں اور ملزموں کے درمیان کوئی پرانی دشمنی تھی۔ گواہوں نے نہ صرف اس الزام سے انکار کیا بلکہ گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد اکرم نے تو خود ہی یہ بھی بتایا کہ اگر چہ منظور مسیح نے ان کے کھیتوں کی زمین میں سے پانی کا ”کھال“ نکالا تھا لیکن اس وقوعے سے پہلے ان کا ان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ تب وکیل صفائی نے پوچھا کہ کیا ان کی برادری کے ایک آدمی ارشد کا بیٹا مجاہد کبوتروں کے تنازعے پر ملزم سلامت مسیح سے جھگڑا تھا تو انہوں نے مکمل طور پر انکار کر دیا۔ فاضل وکیل صفائی نے اس امر کا پورا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی کہ گواہ استغاثہ نمبر 2 نے نازیبا کلمات کو دہرانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ قابل اعتراض مواد کو پھاڑ دیا گیا تھا جو کہ صحیح حالت میں سیل شدہ دستاویزات کی شکل میں دستیاب ہے۔ بلاشک و شبہ کلمہ طیبہ جو کہ دستاویز نمبر 1 پر لکھا ہوا ہے، کے اوپر بہت شدید توہین آمیز کلمات لکھے ہوئے ہیں اور اسی طرح کے کلمات اس حصے پر بھی ہیں جو دستاویز نمبر 1 سے علیحدہ کر دیا گیا لیکن دستاویز نمبر 2 کی صورت میں دستیاب ہے۔ اسی طرح محمد بخش نمبر دار سے جب وکیل صفائی نے پوچھا کہ کیا انہوں نے ملزم سلامت مسیح کو صرف اسی وجہ سے مارا کہ اس نے مجاہد کے ساتھ کبوتروں کے مسئلے پر تنازعہ کیا تھا اور ملزم رحمت مسیح نے چرچ میں لاؤڈ سپیکر نصب کیا تھا تو انہوں نے اس سے انکار کیا۔ اسی طریقے سے جس طرح کہ اوپر ذکر آیا ہے ملزمان کا ماسٹر عنایت اور مجاہد کے ساتھ تنازعہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور سلامت کو سکول میں بند کر کے پھینٹی لگانے اور اس کے خلاف توہین رسالتؐ کے الزام میں مقدمہ درج کرانے کا تعلق بھی دونوں کے بزرگوں کے درمیان شیشم

صفحہ 77

کے درختوں کے چوری کے سلسلہ میں مقدمہ بازی سے جوڑا گیا۔ یہ اتنے جھوٹے معاملات اور نکات ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان اس قدر گر سکتا ہے کہ نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے متعلق اس قدر توہین آمیز اور نازیبا الفاظ پر مشتمل مواد تیار کرنے کی جسارت کر سکے۔ گواہوں کے مجموعی مشاہدے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دراصل ملزم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق نازیبا الفاظ مسجد کی دیوار پر تحریر کر کے ان کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کی جسارت کی۔ اس امر کی تصدیق تفتیشی آفیسر امان اللہ خان کے اس بیان سے بھی ہو جاتی ہے، جو اس نے گواہ استغاثہ نمبر 4 کے طور پر عدالت میں حاضر ہو کر دیا اور کہا کہ حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کے متعلق الفاظ دیواروں پر لکھے ہوئے تھے جنہیں بعد ازاں کپڑے کے صافے سے صاف کیا گیا تھا اور دوسرے گواہوں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی کہ الفاظ صافے سے صاف کر دیے گئے تھے۔ اگر وہ پتھر یا اینٹ کا ٹکڑا اور وہ صافا جس سے یہ الفاظ صاف کیے گئے، قبضے میں نہیں لیا جا سکا تو اس سے استغاثہ کا نکتہ نظر کسی طور پر بھی متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اینٹ یا پتھر کی فراہمی اور صافے کی دستیابی کوئی اتنی بڑی گواہی نہیں کہ اس کا مجموعی مقدمے پر بہت زیادہ فرق پڑے۔

مختلف حقائق کو متعارف کرایا جو اس سے قبل جرح کے دوران بھی منظر عام پر نہیں لائے جاسکے تھے۔ اس طرح کے مقدمات میں کم از کم ملزم کو خود بھی (زیر دفعہ 340(2) ضابطہ فوجداری) یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ عدالت میں بتا سکے کہ اس نے گواہی سے متعلقہ دستاویزات خود تیار نہیں کیں بلکہ یہ غلط طور پر تیار کی گئی ہیں۔ نہ تو اس نے ایسا گواہان استغاثہ کی طرف سے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کیا اور نہ ہی وکیل صفائی نے اس ضمن میں اس سے سوال کرنا پسند کیا کہ آیا ملزموں نے یہ دونوں کاغذ تیار کیے تھے یا نہیں۔ میں فاضل وکیل مستغیث کی اس بات سے متفق ہوں کہ کوئی بھی مسلمان حضور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ذاتی انتقام کی حس کی تسکین کے لیے اس قسم کا ثبوت گھڑنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ وہ بحث جو منظور مسیح، گواہ استغاثہ نمبر 1 کے ساتھ کر رہا تھا جب وہ یسوع مسیح کے متعلق لیکچر دے رہا تھا، کے باعث بھی کچھ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یسوع مسیح، بجا طور پر اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ایک برگزیدہ پیغمبر ہیں اور جس طرح عیسائی، یسوع مسیح کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح

صفحہ 78

مسلمانوں کو بھی ان کا احترام کرنا چاہیے۔

نہیں کرتیں لیکن ملزم کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 کا بیان جس نے (Ex.P1) کے الفاظ پڑھنے حتیٰ کہ انہیں اپنانے سے انکار کر دیا، اس کی اعتباریت کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کرتا کیونکہ گستاخانہ اور اہانت آمیز مواد (Ex.P.1) پر لکھا گیا تھا جسے پھاڑ دیا گیا اور جسے تفتیشی افسر نے سربمہر کر دیا اور مسل مقدمہ میں (P.2) کی حیثیت سے دستیاب ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے نزدیک، نبی اکرمﷺ انتہائی قابل احترام ہیں، جن کے لیے اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی، نیز مسلمان اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق سوچنے یا ایسے الفاظ کے متعلق شائبہ تک گوارا نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ پولیس کی مسل مقدمہ میں بھی جبکہ اس مواد کو تحویل میں لیا جا رہا تھا، تفتیشی افسر نے ریکوری میمو پر اس مواد کو دوبارہ لکھنے سے انکار کر دیا کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے وہ اسے دوبارہ نہیں لکھ سکتا۔

لیا جسے مدعی کے فاضل وکیل نے ریکارڈ میں شامل کیا تھا، جس کے مطابق وہ سکول میں تیسری جماعت تک پڑھتا رہا تھا۔ ممکن ہے کہ ملزمان نے اپنے انگوٹھوں کے نشانات ان بیانات پر ثبت کیے ہوں جو زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری دیے گئے تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ ان پڑھ ہیں۔ خاص طور پر سلامت مسیح نے بیان میں کہا کہ وہ ان پڑھ ہے جبکہ دوسرے ملزم رحمت مسیح نے ایسا دعویٰ نہیں کیا، کیونکہ سکول چھوڑنے کے سرٹیفیکیٹ سے ملزم کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ان پڑھ ہے اور ایسے کاغذات تیار نہیں کر سکتا کیونکہ اردو زبان جس میں یہ جسارت کی گئی، ہمارے تعلیمی اداروں میں پہلی جماعت سے پڑھائی جارہی ہے۔

کامیاب رہا ہے۔ لہٰذا زیر دفعہ 295 سی (جسے 34 پی پی سی کے ساتھ پڑھا جائے گا) کے تحت ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے۔

صاحبزادی) اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں بھی گستاخانہ مواد تھا، جس میں ان کی ذات پر حملے کیے گئے تھے۔ اس کے متعلق ملزموں نے اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی

صفحہ 79

نہیں کہا۔ اس لیے ان کے خلاف زیر دفعہ 298 اے (جسے دفعہ 34 پی پی سی کے ساتھ پڑھا جائے گا) بھی الزام ثابت ہو جاتا ہے۔

چنانچہ میں مندرجہ بالا تمام مباحث کے نتیجہ میں ملزم سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو پہلے جرم 295 سی تعزیرات پاکستان کے تحت موت کی سزا اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتا ہوں۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں دو سال قید بامشقت بھگتنا ہو گی۔ علاوہ ازیں ان ملزمان کو دوسرے جرم 298 اے تعزیرات پاکستان کے تحت بھی سزا سناتے ہوئے مزید دو سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتا ہوں۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں چھ ماہ قید بامشقت بھگتنا ہو گی۔ ملزمان جو ضمانت پر رہا تھے، عدالت میں موجود ہیں۔ ان کے ضمانتی مچلکے برخواست کیے جاتے ہیں۔ ان کو گرفتار کر لیا جائے اور ان کو جیل پہنچا دیا جائے تا کہ وہ وہاں اپنی سزا بھگت سکیں۔

سات دن کے اندر میرے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

دستخط: تاریخ فیصلہ محمد مجاہد حسین 9 فروری 1995ء ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

صفحہ 80
صفحہ 81

جناب عبدالغفار خاں ایڈیشنل سیشن جج ساہیوال

سرکار بنام ایوب مسیح، اپریل 1998ء

صفحہ 82
صفحہ 83

دل کی بات

14 اکتوبر 1996ء کو چک نمبر 353 ای بی میں ایک مسلمان محمد اکرم اور دیگر افراد کی موجودگی میں ایوب مسیح، حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور سنگین نوعیت کی توہین کا مرتکب ہوا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ سیشن جج پاک پتن کی عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو ایک فریق نے اعتراض کیا جس پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مقدمہ سیشن جج ساہیوال کی عدالت میں ٹرانسفر کر دیا۔ سیشن کورٹ میں ملزم فریق نے فائرنگ کر کے ملزم کو ہلاک کرنے کی سازش کا ڈرامہ رچایا جس پر سیشن جج ساہیوال کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے مقدمہ کی سماعت جیل کے اندر کرنے کی ہدایت کی۔ مدعی فریق کی طرف سے چار گواہ پیش کیے گئے جبکہ ملزم پارٹی نے صفائی کے لیے دو عیسائی گواہ پیش کیے۔ مدعی فریق کی پیروی جناب افتخار خاور ایڈووکیٹ ممبر پنجاب بار کونسل نے کی جبکہ ملزم کی طرف سے محمد حنیف ڈوگر ایڈووکیٹ فیصل آباد پیش ہوئے۔ مستند شہادتوں اور گواہوں کی موجودگی میں 27 اپریل 1998ء کو سیشن جج جناب عبدالغفار خاں نے توہین رسالت کے مجرم ایوب مسیح کو سزائے موت سنائی۔

کیتھولک چرچ ساہیوال میں ایوب مسیح کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف ایک احتجاجی اجتماع ہوا جس میں فیصل آباد کیتھولک چرچ کے بشپ ڈاکٹر جان جوزف بھی شامل ہوئے۔ جلسہ کے اختتام پر وہ پادری یعقوب کے ہمراہ سیشن کورٹ پہنچے جہاں رائفل نکال کر خود کو کنپٹی پر گولی مار لی جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔ اس خبر کو سنتے ہی سینکڑوں عیسائی اکٹھے ہو گئے اور بشپ کی لاش سڑک پر رکھ کر ڈسٹرکٹ کورٹ کے ارد گرد کی سڑکوں کو بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے سیشن جج کے گھر کا محاصرہ اور گھیراؤ کر کے نعرے بازی کی اور ان کے مکان پر پتھراؤ کیا۔ بشپ جان جوزف، پاپائے روم پوپ جان پال دوم

صفحہ 84

کے پاکستان میں سب سے زیادہ قریبی مذہبی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ جسٹس اینڈ پیس کمیشن اور کاریتاس کے علاوہ بشپ کانفرنس پاکستان کے بھی چیئرمین تھے۔ اس حوالے سے انہیں پوپ کا نمائندہ برائے پاکستان بھی سمجھا جاتا تھا۔

بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے آبائی شہر فیصل آباد روانہ کر دی گئی جہاں مشتعل عیسائیوں نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس پر پتھراؤ کر کے مجسٹریٹ، اے ایس پی اور پولیس کے درجنوں اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔ اقلیتی ایم این اے پیٹر جان سہوترا اور ایم پی اے مائیکل جان کی آمد پر بشپ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ اس موقع پر وہاں سینکڑوں عیسائی موجود تھے جنہوں نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔ جنازے کے بعد عیسائیوں میں لاش دفن کرنے کا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ ایک گروہ کا مطالبہ تھا کہ لاش فیصل آباد بشپ ہاؤس میں دفن کی جائے جبکہ ورثاء چاہتے تھے کہ خوش پور میں تدفین ہو۔ ساہیوال کے مشتعل عیسائیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساہیوال کے نوجوان کے لیے جان دی ہے، اس لیے وہ لاش ساہیوال لے کر جائیں گے۔ بعد ازاں لاش کو جلوس کی شکل میں بشپ ہاؤس لے جایا گیا، جہاں مظاہرین نے جگہ جگہ توڑ پھوڑ کی۔ جلوس جب جی ٹی ایس چوک پہنچا تو پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر مظاہرین، پولیس سے الجھ پڑے۔ تاہم ایس ایس پی اور ڈی سی کے سمجھانے پر لاش بشپ ہاؤس لے جائی گئی جہاں پہنچ کر عیسائی پھر مشتعل ہو گئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے دو مجسٹریٹ ملک صلاح الدین، مشارق جمال خاں اور اے ایس پی سمیت درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

دوسری طرف بشپ جان جوزف کی خودکشی کی تفتیش نیا رخ اختیار کرگئی۔ تفتیشی ایجنسیوں کے روبرو سیشن کورٹ کے چوکیدار محمد شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کی رات تقریباً دس بجے وہ سیشن جج کی عدالت کے باہر پہرے پر موجود تھا کہ ایک گاڑی گیٹ سے تھوڑا پیچھے رکی جس میں سے ایک شخص کو سیشن کورٹ کے باہر پھینکا گیا اور اس کے بعد گولی چلنے کی آواز آئی تو اس نے گرے ہوئے شخص کے قریب دو افراد کو کھڑے دیکھا۔ اس پر اس نے اپنے حکام کو صورت حال سے آگاہ کیا کہ کوئی دہشت گرد کسی کو مار کر عدالت کے گیٹ پر پھینک گئے ہیں۔ سیشن جج ساہیوال نے ایس ایس پی ساہیوال کو اطلاع دی جو فوری طور پر موقعہ

صفحہ 85

واردات پر پہنچے۔ تفتیشی ٹیموں نے توہین رسالت کے مرتکب مجرم ایوب مسیح کی امداد کے لیے بیرون ملک سے 15 لاکھ ڈالر پاکستان منتقل کیے جانے کا سراغ لگایا۔ تفصیلات کے مطابق جب 14 اکتوبر 1996ء کو محمد اکرم مدعی نے ایوب مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروایا تو بیرون ملک سے بشپ ڈاکٹر جان جوزف کو ایک بیرونی ملک نے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں پندرہ لاکھ ڈالر کی کثیر رقم فراہم کی جو ان کے فیصل آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ اس کیس کے اخراجات کے لیے ساہیوال کے پادری یعقوب کو مقرر کر کے ایک کثیر رقم فراہم کی گئی۔ جب ایوب مسیح کو سزائے موت سنائی گئی تو ڈاکٹر جان جوزف اور فادر یعقوب کے درمیان اخراجات کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق رقوم دونوں میں وجہ عناد تھی اور اخراجات کے مسئلہ پر ڈاکٹر جان جوزف اور ان کے ساتھیوں میں جھگڑا بھی ہو چکا تھا۔ دوسری طرف ذرائع کا کہنا تھا کہ بشپ جان جوزف کاروباری طور پر بہت پریشان رہتے تھے۔ ان کی ستیانہ روڈ فیصل آباد میں ”ناصر گارمنٹس“ کے نام سے ایک بڑی فیکٹری تھی جہاں سے تیار کردہ مال بیرون ملک بھی جاتا تھا۔ یہ فیکٹری چند سالوں سے مسلسل خسارے میں جا رہی تھی۔ مزید برآں انہوں نے سینکڑوں لوگوں سے امریکہ کا ویزا لگوانے کی خاطر بھاری رقوم حاصل کی ہوئی تھیں۔ اس سلسلہ میں ان کا کئی لوگوں سے متعدد مرتبہ جھگڑا بھی ہوا اور معاملہ تھانہ تک بھی گیا۔ ایک مرتبہ مقامی صوبائی وزیر نے بھی انہیں ان رقوم کی واپسی کے لیے کہا تھا۔ متاثرہ لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں ثبوت کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس کو خطوط لکھے مگر بشپ کے اثر و رسوخ کی بناء پر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کاش ان تمام باتوں کی تحقیقات کے لیے کوئی ٹربیونل قائم ہوتا کہ قانون توہین رسالت ﷺ کے خلاف ہونے والی تمام سازشیں طشت از بام ہو جائیں۔

؎ بڑا مزا ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کر دے

اس فیصلہ کی کاپی مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل جناب عبدالطیف خالد چیمہ نے بڑی کوششوں کے بعد فراہم کی جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد

صفحہ 86

لاہور ۞........۞........۞

بعدالت جناب عبدالغفار خاں ، ایڈیشنل سیشن جج، ساہیوال

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 314/S.J، سال 1997ء سیشن مقدمہ نمبر : 05/S.J، سال 1998ء ایف آئی آر نمبر : 505/96 بتاریخ 14 اکتوبر 1996ء پولیس سٹیشن : صدر، عارف والا، ضلع پاکپتن شریف بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان C-295

سرکار

بنام

ایوب مسیح ولد عنایت مسیح، ذات عیسائی، عمر 25 برس، ساکن چک نمبر 353/E.B، پولیس سٹیشن صدر تحصیل عارف والا ضلع پاکپتن شریف (ملزم)

وکیل منجانب مدعی: چودھری محمد افتخار الحق خاور ایڈووکیٹ وکیل منجانب سرکار: چودھری منظور احمد ایڈووکیٹ ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی وکیل منجانب ملزم: حنیف ڈوگر ایڈووکیٹ

صفحہ 87

تاریخ فیصلہ: 27 اپریل 1998ء

فیصلہ

جناب عبدالغفار خان، ایڈیشنل سیشن جج، ساہیوال

ایوب مسیح ولد عنایت مسیح، ذات عیسائی، عمر 25 برس، ساکن چک نمبر 353/E.B، پولیس سٹیشن صدر تحصیل عارف والا ضلع پاکپتن شریف کو بجرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، بمطابق ایف آئی آر نمبر 505 مورخہ 14-10-1996، مندرج پولیس سٹیشن صدر عارف والا ضلع پاکپتن شریف پر مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت ہذا میں پیش کیا گیا۔

2- ایف آئی آر (Ex.PA/1) میں بیان کیے گئے گواہ استغاثہ نمبر 1 محمد اکرم کے مطابق استغاثہ کا موقف یہ ہے کہ وہ چک نمبر 353/E.B، کا رہائشی ہے۔ یہ کہ مورخہ 14-10-1996 کو تقریباً 3.00 بجے سہ پہر ایوب مسیح ولد عنایت مسیح، ساکن چک نمبر 353/E.B حکیم ماچھی کے گھر کے سامنے گلی میں بیٹھا تھا، جب محض اتفاق سے وہ، ذوالفقار ولد محمد ارشاد بھٹی اور محمد اکرم ولد محمد شریف ذات ارائیں، وہاں پہنچے جنہیں ایوب مسیح نے بتایا کہ اس (ایوب مسیح) کا مذہب صحیح ہے جبکہ مدعی ذوالفقار اور اشرف کا مذہب غلط ہے اور وہ ایک غلط مذہب کے پیروکار ہیں۔ ایوب مسیح نے مزید کہا کہ تمہارے چچا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین بالکل غلط ہے۔ مزید مدعی اور گواہان استغاثہ کو کہا کہ وہ سلمان رشدی کی تحریر کردہ کتاب کا مطالعہ کریں جس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بے نقاب کر دیا اور ایوب مسیح نے مزید نہایت قابل اعتراض الفاظ بولے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتبے کے حوالے سے گستاخانہ اور اہانت آمیز تھے۔ پھر مدعی کے علاوہ گواہان استغاثہ سے کہا کہ وہ اس

صفحہ 88

کے ساتھ کراچی چلیں، تاکہ ایوب مسیح، مدعی اور گواہانِ استغاثہ کو سلمان رشدی کی کتاب کا مطالعہ کروائے تاکہ مدعی اور گواہانِ استغاثہ کو علم ہو جائے کہ ان کے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) جن کی ان کے دل میں بہت عزت ہے، کا مذہب جھوٹا ہے۔ ایوب مسیح نے مدعی کے مذہب کی خرابیاں بیان کیں جبکہ گواہانِ استغاثہ نے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیں۔ اس موقع پر ایوب مسیح کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا درست نام لیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا بلکہ ایوب مسیح کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) جن کی پیروی مدعی اور گواہانِ استغاثہ بھر پور عزت و احترام کے ساتھ کرتے ہیں، جھوٹے نبی تھے (نعوذ باللہ)، جس کے باعث مدعی مشتعل ہوگیا اور وہ ایوب مسیح سے دست و گریباں ہو گیا لیکن گواہانِ استغاثہ ذوالفقار اور اکرم نے ان دونوں کو علیحدہ کردیا اور پھر مدعی ، گواہانِ استغاثہ کے ساتھ ، ایوب مسیح کو پولیس سٹیشن لے گیا اور راستے میں ان کی ملاقات عبدالستار ایس آئی سے ہوئی جس کے سپرد ایوب مسیح کو کر دیا گیا۔

( C ) 265 مجموعہ ضابطہ فوجداری، دستاویز کی فراہمی کے بعد، ملزم کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کا مرتکب ٹھہرایا، جس پر اس نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور قانون کے مطابق مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

ذیل ہے:

ہوئے شکایت /درخواست (Ex.PA) کے مندرجات کا اعادہ کیا۔

کو جانتا ہے۔ تقریباً ایک سال اور دوماہ قبل، تقریباً 3.00 بجے سہ پہر وہ ، سلطان کے بیٹے محمد اکرم (مدعی) کے ہمراہ، حکیم ماچھی کے گھر کے سامنے گلی میں بیٹھا تھا۔ نیز ملزم، ایوب مسیح بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔ ایوب مسیح نے کہا کہ اس کا مذہب سچا ہے جبکہ گواہانِ استغاثہ کا مذہب غلط اور جھوٹا ہے۔ اس نے کہا کہ گواہانِ استغاثہ، ایک غلط نبی کی پیروی کر رہے ہیں اور انہیں کہا کہ وہ سلمان رشدی کی کتاب کا مطالعہ کریں جس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)

صفحہ 89

کو بے نقاب کر دیا۔ ایوب مسیح نے گواہان استغاثہ سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ کراچی چلیں تاکہ وہ سلمان رشدی کی کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔ ایوب مسیح نے کہا کہ وہ گواہان استغاثہ کے مذہب کی خرابیاں بیان کرنے کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر ایوب مسیح کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا درست نام نہ لیتے ہوئے دیکھا گیا، بلکہ ایوب مسیح کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا پاک نام، ”چچا محمد“ کے طور پر لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایوب مسیح نے کہا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) جھوٹے تھے۔ ملزم ایوب مسیح کی طرف سے انتہائی قابل اعتراض اور گستاخانہ الفاظ نے محمد اکرم (مدعی) کو مشتعل کر دیا جس نے ملزم ایوب مسیح کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس نے ایوب مسیح اور مدعی اکرم کو علیحدہ کر دیا اور پھر ایوب مسیح کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

کو جب وہ بطور ایم ایچ سی، پولیس سٹیشن صدر عارف والا، تعینات تھا، اسی دن، شکایت/ درخواست (Ex.PA) وصول ہونے پر، اس نے درخواست کے مطابق رسمی ایف آئی آر (Ex.PA/1) درج کی، جو اس کی لکھائی میں تھی اور اس پر اس کے دستخط ثبت تھے۔

پولیس سٹیشن صدر، عارف والا میں تعینات تھا۔ اس دن تقریباً 10.00 بجے رات وہ چوک عارف والا، بورے والا روڈ، پر گشت کی ڈیوٹی پر تھا جب مدعی محمد اکرم ملزم ایوب مسیح کے علاوہ گواہان استغاثہ اور معززین کے ہمراہ اس کے روبرو پیش ہوا۔ اس نے مدعی محمد اکرم کا بیان (Ex.PA) قلمبند کیا جس نے اپنی طرف سے اس پر تصدیقی دستخط ثبت کیے۔ اس نے مدعی کی شکایت/ درخواست، (Ex.PA)، مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس سٹیشن بھجوا دی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے اور معززین سے معاملہ کے حقائق دریافت کیے۔ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور جائے وقوعہ کی طرف جانے کے بعد، نقشہ (Ex.PB) تیار کیا اور گاؤں میں مبینہ وقوعہ کے متعلق استفسار کیا۔ اس نے ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد، اس نے ملزم کا چالان کیا اور راجہ بنارس، ڈی ایس پی عارف والا نے اس کی تفتیش کی تصدیق کی۔

صفحہ 90

دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کے بیان کے دوران اس کے روبرو پیش کیے گئے لیکن ملزم نے ان حقائق کی صحت سے انکار کر دیا۔ جب ملزم سے پوچھا گیا کہ گواہان استغاثہ نے کیوں اس کے خلاف گواہی دی اور اپنے خلاف مقدمہ کے متعلق وہ کیا کہنا چاہتا ہے، تو اس نے یوں بیان کیا:

”حاجی عبد العزیز، جس کی زمین پر میرا والد بطور مزارع، کاشت کرتا ہے اور مدعی محمد اکرم کی ذاتی ایما پر اپنے ذاتی مفادات کے لیے، اس مقدمہ کے اندراج کے بعد احاطہ، 9 مرلہ، اپنے قبضہ میں لے لیا جو میرے والد کے پاس تھا اور اسے اپنے نام الاٹ کرالیا۔“

”میرے والد نے اس قبضے کے علاوہ ان 16 خاندانوں کے قبضے میں موجود احاطوں اور ان کی الاٹمنٹ کے لیے وزیر اعظم کو درخواست دی جو عیسائی ہیں یا سات مرلہ سکیم کے لیے مختص ہیں۔ میں کراچی سے واپس آیا اور درخواست کو سنجیدگی کے ساتھ دائر کیا جس پر عبدالعزیز اور دیگر معززین بشمول گواہان استغاثہ ناراض ہو گئے اور اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد کے لیے میرے خلاف جھوٹا مقدمہ گھڑ لیا اور اس طرح، زرعی زمین سے تین خاندانوں اور رہائشی احاطوں سے 16 خاندانوں کو بے دخل کر دینے میں کامیاب ہو گئے۔“

”میں نے گورنمنٹ ایم۔سی۔ہائی سکول عارف والہ میں ایک مضمون کی حیثیت سے میٹرک تک ”دینیات“ پڑھی اور سال 1996ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مجھے ابھی تک تین کلمے، سورہ فاتحہ اور سورہ احد زبانی یاد ہیں۔ عقیدے کے لحاظ سے میرا مذہب عیسائیت ہے لیکن میں نے اپنے نصاب میں اسلامیات پڑھی۔ میں، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتہائی احترام کرتا ہوں جس قدر احترام ان (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیروکار کرتے ہیں اور چونکہ میری تربیت پہلی سے دسویں جماعت تک مذہبی سکول میں ہوئی ہے۔ اس لیے میں اس قسم کے الفاظ بولنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کا گمان کر سکتا ہوں۔ میٹرک کرنے کے بعد میں اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ سکا اور ایک راج معمار کا پیشہ اختیار کیا۔ میں کبھی بھی کسی مذہبی تنازع میں ملوث نہیں ہوا اور نہ ہی میں نے کبھی عیسائیت کی تبلیغ کی ہے اور نہ کسی قسم کے مذہبی جلسے میں شرکت کی۔ یہ مقدمہ میرے خلاف اس لیے گھڑا گیا ہے کیونکہ میں اپنے خاندان میں واحد خواندہ شخص ہوں۔ یہ مقدمہ میرے خلاف گھڑا گیا اور حاجی عبدالعزیز اور اس کے رشتہ

صفحہ 91

دار ظفر سلیم، جو محکمہ پولیس میں ہے، کے اثر ورسوخ کے باعث درج کرایا گیا اور مقدمہ کے اندراج کے ضمن میں اس نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا ہے۔ مجھے اس مقدمہ کے متعلق ساہیوال جیل میں دوسرے دن معلوم ہوا جب سپرنٹنڈنٹ جیل نے مجھے ایڈیشنل سیشن جج، عارف والا کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت کی اگلی تاریخ کے متعلق مطلع کیا۔

مجھے پولیس کے سامنے اپنا موقف بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ ہی میری موجودگی میں کوئی تفتیش کی گئی۔ میرے مقدمہ میں پولیس رولز کے علاوہ انصاف اور فوجداری قوانین کے اصولوں کی مکمل طور پر خلاف ورزی کی گئی۔ اس جھوٹے مقدمہ کے باعث مجھے اپنے رشتہ داروں سے بھی باقاعدگی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور میری زندگی اذیت ناک بنادی گئی ہے۔ میرا خاندان 10 افراد پر مشتمل ہے اور عیسائیوں کے 16 خاندان، 60 افراد پر مشتمل ہیں جنہیں گاؤں 353/E.B سے نکال دیا گیا اور تقریباً ہم سب اذیت ناک زندگی بسر کر رہے ہیں اور مقدمہ ہذا کے باعث ہم میں سے کسی کو بھی واپس گاؤں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہمیں اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا اور میرے خاندان اور دیگر خاندانوں کو اس مقدمہ کے باعث پریشانی اور اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔

اس جرم کی سنگینی اور حالات کی حساسیت سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا گیا ہے اور گواہان استغاثہ اپنی چھریاں تیز کرتے ہوئے اس مقدمہ میں مجھے ملوث کرنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ میں بے گناہ اور قانون پسند شہری ہوں۔ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے پیروکاروں کے علاوہ مسلمانوں کی دل سے عزت کرتا ہوں۔ میرے مذہب اور میرے عقیدے نے مجھے تمام پیغمبروں کی عزت کرنے اور ان سے محبت کرنے کا سبق سکھایا۔ ہم اپنے عقیدے کے لحاظ سے امن قائم کرنے والے ہیں، امن اور رواداری پسند ہیں۔

سے میرے والد اور دیگر خاندانوں نے اس علاقے میں رہنا شروع کیا۔ میرا کسی بھی فوجداری جرم میں کبھی چالان نہیں ہوا اور نہ ہی میں کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہوا جسے غیر اخلاقی یا مذہب کے لحاظ سے گستاخانہ اور اہانت آمیز کہا جائے۔

محمد اکرم (مدعی) کے بیان کے 9 صفحات، گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد ذوالفقار کے بیان کے

صفحہ 92

4 صفحات اور گواہ استغاثہ نمبر 4 عبدالستار ایس آئی/تفتیشی افسر کے بیان کے دو صفحات پر پھیلی ہوئی تھی، ملزم ایوب مسیح نے وقوعہ سے انکار نہیں کیا جو اس کی طرف سے گواہان استغاثہ پر جرح کے دوران ظاہر ہوا، جہاں مختلف طریقوں کے ذریعے مسلسل تجاویز، وقوعہ کے متعلق گواہان استغاثہ کے سامنے رکھی گئیں۔ ملزم نے، مدعی اور گواہان استغاثہ کے مذہب کو غیر ضروری طور پر برا بھلا کہنے کے ذریعے مشتعل کرنے کی شکل میں گستاخانہ اور اہانت آمیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار نہیں کیا جس کے دوران اس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اسم مبارک اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتبے کے متعلق انتہائی قابل اعتراض اور گستاخانہ الفاظ کہے۔ مزید برآں ملزم کی طرف سے مدعی اور گواہان استغاثہ کو اپنے ساتھ کراچی جانے پر مجبور کرنے کہ سلمان رشدی کی گستاخانہ اور اہانت آمیز کتاب کا مطالعہ کیا جائے، کا بھی ملزم کی طرف سے انکار نہیں کیا گیا۔

ابتدائی قابل اعتراض بیان سے کسی قدر انحراف کیا لیکن ابھی تک اس نے عدالت ہذا کے روبرو، زیر دفعہ 265(K) مجموعہ ضابطہ فوجداری، مورخہ 09-10-1997 کو درخواست کے فیصلہ تک، نیز Crl.Miscellaneous No.56-Q of 1997، ہائی کورٹ کے روبرو، کچھ نہیں کہا۔ ملزم ایوب مسیح نے الزام سے انکار نہیں کیا بلکہ اس کا اصرار رہا ہے کہ ایف آئی آر (Ex.PA/1) کے مندرجات، بظاہر، جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس وقت تک، معزز عدالت عالیہ، جو حکم نامہ مورخہ 09-10-1997 کے باعث کالعدم/منسوخ ہوا، ملزم ایوب مسیح کے متعلق محسوس ہوا کہ ملزم مسلسل انکار کر رہا ہے کہ ایف آئی آر (Ex.PA/1)، اس کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے لیے دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے زمرے میں نہیں آتی۔ چنانچہ اس وقت تک عدالت عالیہ کے روبرو، ملزم ایوب مسیح نے ایف آئی آر (Ex.PA/1) کے مندرجات سے انکار نہیں کیا۔ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اس کے بیان میں اس کا متذکرہ موقف، دھوکا دینے کے علاوہ کچھ نہیں اور خود کو بچانے کے لیے ایک شاطرانہ اور فریب کاری پر مشتمل ایک ایسا فعل ہے جسے قابل غور نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

صفحہ 93

صوبہ مسیح اور گواہ صفائی نمبر 3 ولایت مسیح پر جرح کی گئی جن کے بیانات مندرجہ ذیل ہیں:

353/E.B کے علاقے میں مورخہ 1997-01-01 سے تعینات ہے اور اس وقت سے سات مرلہ سکیم کی عیسائیوں کو الاٹمنٹ کے بارے میں کبھی کوئی خط یا رپورٹ کے لیے درخواست موصول نہیں ہوئی۔ عدالت ہذا کے ذریعے ریکارڈ طلب کرنے کے لیے ملزم ایوب مسیح کی درخواست موصول ہونے پر اس نے عیسائیوں کی کوئی سات مرلہ سکیم کی الاٹمنٹ کے متعلق کسی درخواست خط کا سراغ لگانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن اس گاؤں میں اسے عیسائیوں کے لیے سات مرلہ سکیم کے متعلق کوئی علم نہ ہوسکا۔ چک نمبر 353/E.B کی رہائشی جمعبندی برائے 72-1971، کے مطابق، کسی بھی عیسائی الاٹی قابض کا اندراج نہیں۔ اس گاؤں میں Moeens کے 30 احاطے تھے۔ احاطہ نمبر 68، ابراہیم ولد روشن دین ذات ترکھان کے نام، احاطہ نمبر 67، عبدالغنی ولد اللہ بخش، ذات دھوبی کے نام، احاطہ نمبر 66، قمر دین ولد نبی بخش ذات مغل لوہار کے نام، احاطہ نمبر 65 محمد شریف ولد رحمت اللہ ذات حجام کے نام، احاطہ نمبر 64، غلام محمد ولد ملنگ ذات فقیر چوکیدار کے نام الاٹ تھا۔ احاطہ نمبر 74، رحمت علی ولد ابراہیم ذات ارائیں کرایہ دار اور احاطہ نمبر 89، فقیر محمد ولد رحمت اللہ ذات جولاہا کو الاٹ ہے۔ 72-1971 میں 23 احاطے خالی تھے۔ 96-1995ء کی جمع بندی کے مطابق، کوئی بھی احاطہ الاٹمنٹ کے لیے دستیاب نہیں کیونکہ تمام احاطے، سرکاری زمین پر قابضین کے غیر قانونی قبضے میں تھے۔ گواہ نے نقل (Ex.DB) مہیا کی کہ عبدالغنی دھوبی، احاطہ نمبر 67 کا غیر قانونی قابض تھا۔ خیر دین ، ذات ارائیں کاہلاں کے بیٹے محمد نسیم اور محمد سلیم، احاطہ 8/2 کے مالک تھے۔ گواہ نے ایک نقل (Ex.DC) مہیا کی۔ 72-1971 میں احاطہ نمبر 76، کسی بھی Moeen کو الاٹ نہیں کیا گیا۔ محمد طفیل ولد غلام محمد، ذات وٹو اور عنایت ولد جیون مسیح، احاطہ نمبر 76 کے غیر قانونی قابض تھے۔ احاطہ نمبر 76، محمد اکرم ولد محمد سلطان ذات موچی کو مورخہ 1997-02-26 کو سی۔اے نے الاٹ کیا اور مورخہ 1997-05-31 کو اس کے نام انتقال درج کرلیا گیا۔ ریونیو بورڈ میں اندراج کے وقت احاطہ نمبر 76 کا مالک محمد اکرم تھا لیکن محمد اکرم کی طرف سے قبضہ میں لینے کی کسی بھی کارروائی کا ذکر نہیں تھا کیونکہ یہ ریکارڈ طلب نہیں کیا گیا اور یہی حالت انتقال نمبر 76 کی کارروائی کی بھی تھی۔ احاطہ

صفحہ 94

نمبر 47، حاجی عبدالعزیز کے نہیں بلکہ گجر برادرز کی ملکیت میں تھا اور گجر وہاں خود ہی کاشت کاری کرتے تھے۔ دلاور مسیح، احاطہ نمبر 17 کا کاشتکار تھا جو (Ex.DE) سے ظاہر ہوتا ہے جسے گواہ نے مہیا کیا۔ استغاثہ نے بتایا ہے کہ چک نمبر E.B/353 میں پانچ یا سات مرلہ جناح سکیم کبھی بھی متعارف نہیں کرائی گئی۔

15- صوبہ مسیح ، جس نے اعتراف کیا کہ ایوب مسیح کی صفائی میں نہ تو کبھی کسی مجاز ادارے کے روبرو پیش ہوا ، نہ ہی اس نے اپنی یا اپنے بیٹے کی اس گاؤں سے بیدخلی کے متعلق کسی بھی سول مقدمے یا فوجداری مقدمے بشمول ، معزز عدالت عالیہ کے ذریعے کوئی شکایت کی ،اس لیے اس کی درخواست جس کی میعاد 1998-03-30 کو پوری ہوگئی، قابل غور نہیں۔ یہ کہ اسے معلوم ہوا کہ محمد اکرم ولد محمد سلطان ذات موچی ،اکرام ارائیں ولد شریف اور ذوالفقار بھٹو نامی تین لڑکے، ایوب مسیح کو Excavation of watercourse کے لیے لے گئے۔ اس گواہ نے نہایت ہی واضح انداز میں اعتراف کیا ہے کہ مورخہ 1998-03-30 کو اس نے پہلی بار صرف یہ بیان دیا کہ ایوب مسیح کے خلاف مقدمہ کے علاوہ گواہان استغاثہ کے بیانات بھی جھوٹے ہیں۔ گواہ اس ضمن میں کوئی ریکارڈ یا دستاویزی ثبوت نہ پیش کرسکا کہ ایوب مسیح کو کبھی اس نے یا گاؤں کے دیگر عیسائیوں نے ، عیسائیوں کی طرف سے کوئی رہائشی کالونی کی درخواست کے لیے کوشش کے لیے مختار بنایا تھا۔ گواہ کا قومی شناختی کارڈ نمبر 107395-26-337، گواہ کی رہائش بمقام دل سنگھ پولیس سٹیشن ملکہ ہند تحصیل پاکپتن شریف ضلع ساہیوال ظاہر کرتا ہے جو 1976-09-17 کو جاری ہوا اور یہ شناختی کارڈ گواہ کی رہائش چک نمبر E.B/353 ظاہر کرتا ہے۔ گواہ نے اس کا انتہائی واضح طور پر اعتراف کیا کہ ایوب مسیح کا ایڈووکیٹ اور رشتہ دار، اسے ایوب مسیح کے لیے گواہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے عدالت لائے۔

16- صفائی کے گواہ کی حیثیت سے پیش ہوتے ہوئے ولایت مسیح نے بتایا کہ وقوعہ کے وقت وہ چک نمبر E.B/353 میں رہائش پذیر تھا۔ اس لیے جب گواہ کو وقوعہ پر موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے پایا گیا اور اس لیے، اسے یہ بھی بتاتے ہوئے پایا گیا کہ وقوعہ کے روز ، وہ اور صوبہ مسیح نے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے اکرم ، ذوالفقار اور ایک اور اکرم ، گواہان استغاثہ کو دیکھا کہ وہ ایوب مسیح کو نہر سے ’بھل‘ نکالنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کا مزید بیان کہ ایوب مسیح سچا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ جھوٹا ہے، قابل غور نہیں جبکہ اس کے بیان میں کوئی

صفحہ 95

مطابقت نہیں اور گواہ صفائی نمبر 2، صوبہ مسیح کا بیان گھڑا ہوا اور جھوٹا ہے۔ گواہ کا مزید بیان کہ ملزم، ایوب مسیح کے خلاف مقدمہ ہذا، زمین کے تنازع کے باعث ہے، اور مقدمہ ہذا کے باعث اکرم نے ان کی جائیداد ہتھیا لی، بھی ملزم کے دفاع کے لحاظ سے قابل غور نہیں۔ گواہ نے نہایت واضح انداز میں اعتراف کیا ہے کہ ”یہ درست ہے کہ پہلی دفعہ، صرف آج، میں بطور گواہ صفائی پیش ہو رہا ہوں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ میں یہ بیان دے رہا ہوں کہ ایوب مسیح نے جرم نہیں کیا۔ یہ درست ہے کہ ملزم ایوب مسیح کے سگے ماموں ہونے کے باوجود، میں کسی بھی مجاز ادارے/عدالت/فورم کے روبرو ملزم، ایوب مسیح کے دفاع میں کبھی بھی پیش نہیں ہوا۔ گواہ نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ، وقوعہ ہذا سے قبل، کسی مسلمان نے کبھی بھی کسی عیسائی کے خلاف مقدمہ نہیں کیا اور کسی بھی مسلمان نے کسی بھی طرح کسی بھی عیسائی کو پریشان نہیں کیا۔

ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر (1/Ex.PA) جو ابتدائی طور پر زیر دفعہ 298-A تعزیرات پاکستان درج ہوئی اور تفتیشی افسر، عبدالستار، گواہ استغاثہ نمبر 4 کی طرف سے ناروا اضافہ کرتے ہوئے اس دفعہ کو 295-C تعزیرات پاکستان میں تبدیل کر دیا گیا جو اس کی دوسری طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔ بجرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، عبدالستار، گواہ استغاثہ نمبر 4 کی طرف سے ملزم ایوب مسیح کی گرفتاری، قانون کے مطابق نامناسب ہے بلکہ اس جرم کی تفتیش کرنے کا اسے اختیار حاصل نہ تھا۔ نیز عبدالستار، گواہِ استغاثہ نمبر 4 کی طرف سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ملزم ایوب مسیح کا چالان، براہ راست سیشن کورٹ میں بھیجنے کا عمل بھی قانون کے مطابق نہیں۔ مزید یہ دلیل دی گئی کہ جب زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت رپورٹوں میں نہ تو ایس ایچ او عارف والا کا گواہِ استغاثہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور نہ ہی ڈی ایس پی سرکل، کا گواہِ استغاثہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے جس نے ایوب مسیح کے خلاف جرم کی نوعیت تبدیل کی جس کے باعث زیر دفعہ 295(A) تعزیرات پاکستان اور زیر دفعہ 298(A) تعزیرات پاکستان ملزم ایوب مسیح کی گرفتاری ممکن نہیں تھی۔ دفعہ 196 اور دفعہ 196-B، مجموعہ ضابطہ فوجداری، کے مطابق ، مورخہ 08-01-1998 کو ملزم ایوب مسیح کے خلاف الزام، قابل ثبوت نہیں ہے کیونکہ چارج

صفحہ 96

شیٹ میں، لفظ ”بے حرمتی“ کے بجائے لفظ ”توہین آمیز“ استعمال کیا گیا ہے۔ مزید دلیل دی گئی کہ جب رپورٹ میں ملزم کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے لیے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، کسی جرم کا ذکر نہیں۔ اگرچہ اپنی کتاب میں رشدی کی طرف سے کہے گئے الفاظ بلاشبہ توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایف آئی آر (Ex.PA/1) کے مندرجات، جب زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان جرم کو متشکل نہیں کرتے، حتیٰ کہ سورہ النساء کی آیات 105 تا 111، زیر دفعہ کی روح کے مطابق بھی جرم کو متشکل نہیں کیا جا سکتا تو پھر ملزم ایوب مسیح کے خلاف مقدمہ ہذا، درج کیے جانے کے بعد، ملزم کے خلاف شکایت احاطے کی الاٹمنٹ اپنے نام حاصل کرنے کے لیے ہو، اور اگر ایف آئی آر (Ex.PA/1) کے تمام مندرجات کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس صورت میں بھی ایوب مسیح کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان نہیں بلکہ زیر دفعہ 295(A) تعزیرات پاکستان، جرم کا مرتکب ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ملزم کے فاضل وکیل نے اپنی دلیل کی بنیاد، سورہ البقرہ، پارہ 1، آیت نمبر 104 کے علاوہ سورہ الحجرات کو بنایا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ (Ex.PA/1) کے مندرجات، ملزم کے خلاف زیر دفعہ C-295 کا جرم متشکل نہیں کرتے۔

19- چودھری منظور احمد، فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی جن کی معاونت چودھری محمد افتخار الحق خاور ایڈووکیٹ، مدعی کے فاضل وکیل نے کی، نے موقف پیش کیا کہ شکایت/درخواست (Ex.PA) کی ظاہری اہمیت کے مطابق، عبدالستار، گواہ استغاثہ نمبر 4، مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 157، 156(2) اور 537 کے تحت ایوب مسیح کے خلاف تفتیش کرنے کا مناسب طور پر اہل تھا۔ پولیس نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ درخواست (Ex.PA)، جرم زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کو سامنے لاتی ہے جس کا مرتکب، ملزم ایوب مسیح ہے، اسے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، گرفتار کرنے کے علاوہ پولیس کے کاغذات میں دفعہ 298-A یا 295-A کو C-295 تعزیرات پاکستان میں تبدیل کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔

20- چودھری محمد افتخار الحق خاور ایڈووکیٹ، جس کی معاونت چودھری منظور احمد فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی برائے سرکار نے کی، نے ( ہائی کورٹ ملتان بنچ میں دائر کی جانے والی درخواست) Crl.Misc No.56/Q/97 بعنوان ایوب مسیح بنام سرکار اور مدعی محمد اکرام کی نقل پیش کی تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ہائی کورٹ ملتان بنچ نے مورخہ 20-04-1998

صفحہ 97

کو ملزم ایوب مسیح کی طرف سے اپنی درخواست Crl. Misc. No /56/Q/97 واپس لیے جانے کی بنیاد پر مسترد کر دی تھی۔ ملزم نے درخواست (Ex.PA) کے مندرجات اور اپنی گرفتاری کا کبھی انکار نہیں کیا۔ اگر یہ سب قانون کے مطابق نہیں تھا تو ملزم ایوب مسیح، نہایت آسانی سے اپنی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے معزز عدالت عالیہ کے روبرو درخواست دائر کر سکتا تھا۔ خود، ملزم نے اپنی زبان میں بیان دینے کو ترجیح نہیں دی اور اس نے اپنے فاضل وکیل کے ذریعے زیردفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بیان دیا جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ وہ عیسائیت کی تبلیغ نہیں کرتا اور وہ زیردفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، حلفیہ بیان نہیں دینا چاہتا کیونکہ مقدس عیسائیت کے تحت قسمیہ بیان ممنوع ہے۔ اس موقف کے ذریعے یہ بھی طے ہو گیا کہ ملزم حضرت یسوع مسیح پر ایمان نہیں رکھتا اور ریکارڈ پر یہ بھی موجود نہیں کہ مدعی محمد اکرم گواہ استغاثہ نمبر 1، ایک اہل گواہ نہیں مزید برآں، ”تزکیۃ الشہود“ کے معیار کے مطابق محمد اکرم کے جرح کا انداز، صفحہ نمبر 2 پر اس کے بیان کے بعد، اس لحاظ سے یہ درست تھا کہ عیسائیوں نے اپنی مرضی سے اپنے رہائشی مقامات چھوڑ دیے، یوں نہ صرف زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان، ملزم کا جرم ثابت ہو جاتا ہے بلکہ ایک تخریب کار کی حیثیت سے اس کا فعل بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ مدعی محمد اکرم پر بطور گواہ استغاثہ نمبر 1، جرح کے وقت، محمد اکرم، مدعی نے احاطہ کی کبھی اپنے نام مبینہ الاٹمنٹ نہیں دیکھی۔ اگر بعد ازاں یہ درست ثابت ہوتا ہے تو پھر بھی ملزم کی طرف سے یہ جھوٹ نہیں بولا جاسکتا کہ وہ اس امر کا ذکر کرے کہ کوئی رہائشی احاطہ حاصل کرنے کی خاطر مدعی محمد اکرم گواہ استغاثہ نمبر 1، نے ملزم کو توہین رسالت کے مقدمے میں پھنسایا۔ مدعی محمد اکرم نے بطور گواہ استغاثہ نمبر 1 پیش ہوتے ہوئے جس کا بیان صفحہ نمبر 5 پر ہے، نے بیان کیا کہ وہ حاجی عبدالعزیز کے ہاں نہیں جاتا تھا جسے کسی ڈی ۔ آئی ۔ جی ، ظفر سلیم کا رشتہ دار کہا جاتا ہے جو درحقیقت نہ تو اس کا رشتہ دار ہے اور نہ ہی وہ کبھی ملک میں محکمہ پولیس میں کوئی ڈی آئی جی رہا ہے۔ اس کے ذریعے ملزم کے اس مبہم موقف کو جھوٹا ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مدعی، ملزم کو توہین رسالت کے مقدمے میں ملوث کرنے سے روک سکتا تھا، جبکہ ملزم کا موقف دیگر گواہان استغاثہ کے موقف کے عین مطابق پایا گیا جس کا موقف ”تزکیۃ الشہود“ کے معیار کے مطابق بھی پایا گیا۔

صفحہ 98

تعلق ہے، استغاثہ نے (Ex.PB) پر انحصار کرتے ہوئے بیان کیا کہ مدعی کا زبانی بیان، جو قانون شہادت کے مطابق ایک جائز اور اہل گواہ ہے، جس کے بیان کی دیگر گواہان استغاثہ کی بیانات سے تائید ہوتی ہے اور جس کا بیان ، تزکیۃ الشہود کے معیار کے مطابق ہے۔اس طرح اگر پولیس نے پولیس رولز کے مطابق اپنی سمجھ کے مطابق (Ex.PB) کے علاوہ، جائے وقوعہ کا نقشہ تیار نہیں کیا تو پھر صفائی کی طرف سے گواہی پیش کرتے وقت سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مقدمہ ہذا میں جائے وقوعہ کی عدم تیاری، استغاثہ کے نزدیک اہم قرار نہیں دی جاسکتی۔

کیوں مقدمہ دائر کیا اور پورا گاؤں یا مسلمانوں یا عیسائیوں یا مدعی کے گاؤں کی طرف سے مدعی کے مقدمہ کے خلاف یا ملزم کے حق میں کوئی بھی پیش نہیں ہوا، اس سے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ملزم ایوب مسیح کا جرم ثابت ہوتا ہے۔

سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پیغمبر پر یقین نہیں رکھتا، اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی دوسرے پیغمبر کا پیروکار ہوگا اور اس قسم کا شخص، زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، قابل سزا ہے۔

کے روبرو نہیں چلایا گیا۔ میری پختہ رائے یہ ہے کہ مقدمہ ہذا کے حقائق اور حالات کے مطابق، زیر دفعات 157، 156(2)، 537 اور 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ ہذا کا چالان پیش ہونے تک مجھے ملزم کی گرفتاری اور مقدمہ ہذا کی تفتیش میں کوئی چیز خلاف قانون نظر نہیں آتی۔ ملزم کے فاضل وکیل کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ (Ex.PA) کے مندرجات دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت نہیں بلکہ دفعہ 295(A) تعزیرات پاکستان، جرم متشکل ہوا، جبکہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مقدمہ برائے جرم، گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے استعمال کے لیے ہے۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ”گستاخانہ الفاظ“ کے استعمال سے مراد کی وضاحت کی گئی ہے۔ دفعہ ہذا میں، جس میں لفظ ”بے حرمتی“ کا بھی ذکر ہے، جب یہ لفظ وسیع معنی میں استعمال نہ ہو تو پھر ”گستاخانہ الفاظ“ کی وسعت، اس دفعہ میں مذکور تمام غیر مطلوبہ مراحل کی آخری حد ہے، مجھے ملزم کے فاضل وکیل کی

صفحہ 99

اس دلیل میں کوئی وزن نظر نہیں آتا، یوں فاضل وکیل صفائی کی دلیل مسترد کی جاتی ہے۔

خالص یا مکمل چیز کو آلودہ کر دیا جائے، کسی کی بنیاد ختم کر دی جائے ، واضح طور پر ابہام پیدا کیا جائے، گندا کیا جائے، تقدس یا متبرک حیثیت کو داغدار کیا جائے؛ بے ادبی کرنا، ناپاک کرنا، عزت سے کھیلنا، بے عزت کرنا، بذریعہ الفاظ زبانی تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلا واسطہ، بہتان تراشی یا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاک نام کی بے حرمتی، دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، جرم متصور ہوگا۔

آور ہونے کے باعث قابل سزا ہو، انسانی حقوق کے حمایتیوں کا ذکر نہ کیا جائے، حتیٰ کہ عمومی دانائی کی معمولی فنا پذیری، کبھی بھی جرم، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کا دفاع نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کی قانونی روح کے مطابق بھی اس جرم کی تیاری کے متعلق علم ہوجائے۔ توہین رسالت کے قانون کا نفاذ، جب عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہو؛ الہامی مذاہب پر ایمان، جبکہ اس کے نفاذ کی مخالفت، ناگزیر طور پر، عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان عدم آہنگی کا باعث ہو۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اسلام اور عیسائیت تمام الہامی مذاہب، انسانوں کے درمیان، پیار، محبت اور امن کے فروغ کے علمبردار ہیں لیکن یہ صرف قرآن پاک کی سورہ الانعام کی آیت 108 ہی ہے جو نہایت ہی بخوبی انداز میں یہ کہتے ہوئے پیار، محبت کے فروغ اور معاشرے کے امن کو محفوظ بنانے کی علمبردار ہے کہ اسلام کے عقائد کے مطابق نہ صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کی بے حرمتی بلکہ یسوع مسیح کے اسم مبارک کی بے حرمتی بھی جرم ہے جو مندرجہ ذیل ہے:

وہ بھی برا بھلا کہنے لگیں اللہ کو زیادتی کرتے ہوئے جہالت سے۔ یونہی آراستہ کر دیا ہے ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل پھر اپنے رب کی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے انہوں نے۔ پھر وہ انہیں بتائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔“

(الانعام:108)

صفحہ 100

تعلیمات اور خطبات کا مذہب نہیں بلکہ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔

آئین 1973ء کی شق نمبر 2 کے مطابق، دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کی آئینی شقوں کے مطابق جو قرآن مجید کی سورہ الانعام کی آیت 108 کے مطابق ہے، دفعہ 295 اور دفعہ 295(A) تعزیرات پاکستان کی شقوں کے عین مطابق ہے جو یوں ہے:

295: کسی بھی طبقے کے مذہب کی توہین کرنے کی خاطر عبادت گاہ کو نقصان

پہنچانے یا بے حرمتی عمل کرنے کا عمل

توہین کرنے کی خاطر تباہ کرتا ہے، اسے نقصان پہنچاتا ہے یا اس کی بے حرمتی کرتا ہے یا کسی ایسی چیز کو تباہ کرتا ہے، اسے نقصان پہنچاتا ہے یا اس کی بے حرمتی کرتا ہے کہ یہ طبقہ یا شخص، اس نقصان یا بے حرمتی کو اپنے مذہب کی توہین سمجھتا ہے، اسے قید کی سزا دی جائے گی یا پھر اسے زیادہ سے زیادہ دو برس قید کی سزا دی جائے گی یا پھر جرمانہ کیا جائے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔“

295-A: کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کے ذریعے، کسی طبقے

کے مذہبی احساسات کو دانستہ اور خبیث کارروائیوں کے ذریعے مشتعل کرنے کا عمل

شہریوں کے کسی بھی طبقے کے مذہبی احساسات کو دانستہ اور خبیث افعال کے باعث مشتعل کرتا ہے یا اس طبقے کے مذہبی عقائد کی توہین کرتا ہے یا توہین کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے اس عرصے کی قید کی سزا دی جائے گی یا پھر اس مدت کے لیے قید کی سزا دی جائے گی جو دس برس تک ہو سکتی ہے، یا پھر جرمانہ عائد ہو گا یا پھر دونوں سزائیں دی جائیں گی۔“

295-C: حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا استعمال:

بہتان تراشی کرے یا رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت دی جائے گی یا عمر قید دی جائے گی اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔“

صفحہ 101

خارج کرنے کے لیے درخواست دینے تک، سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اس کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر ہائی کورٹ لاہور، ملتان بینچ نے 1998-04-20 کو مسترد کرتے ہوئے خارج کر دی۔ ایوب مسیح کا خبیثانہ رویہ اور طرزعمل، جس سے اس کا اس حد تک منافقانہ رویہ اور طرزعمل ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنے ہی دین اور مذہب کی تبلیغ سے انکار کیا ہے۔ ایوب مسیح نے محمد اکرم، گواہ استغاثہ نمبر 1 کے سامنے 17 ، 18 مرتبہ محمد ذوالفقار، گواہ استغاثہ نمبر 2 کے روبرو 7 مرتبہ اور عبدالستار، گواہ استغاثہ نمبر 4 مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر کے سامنے 2 ، 3 مرتبہ مبینہ وقوعہ کا اعتراف بھی کیا ہے جس کے باعث یہ امر واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے پاک اور اعلیٰ وارفع نام کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا ہے۔

31- ایوب مسیح اپنے طے شدہ جرم سے منحرف نہیں ہو سکتا جب اس نے زیر دفعہ 340(C) مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنی صفائی میں پیش ہونے سے یہ جھوٹ بولتے ہوئے انکار کر دیا کہ عیسائیت میں حلفیہ بیان ممنوع ہے۔ ایوب مسیح کی طرف سے منافقانہ اور منحرفانہ رویہ بھی اس کے عقیدے کی سطح کا اظہار کرتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ایوب مسیح، اپنی پُروقار محنت کے ذریعے شفاف وقانونی سماعت کے لیے اپنا توانائیاں وقف کر دیتا، وہ عیسائیت کے ساتھ وابستگی کے ذریعے قلابازی کھاتے ہوئے، دھوکہ دہی میں ملوث ہوتے ہوئے عیسائیوں کی ہمدردی حاصل کر کے افراتفری پر مشتمل صورت حال تخلیق کرتا ہوا پایا گیا۔ ایوب مسیح، جس نے اپنے خلاف ایف آئی آر (Ex.PA/1) کے مندرجات سے کبھی انکار نہیں کیا کہ اس نے مسلمانوں کے متعلق بات نہیں کی، حتیٰ کہ عیسائیت کے متعلق بھی بات نہیں کی جو توہین رسالتؐ کے قانون کے نفاذ کے پرجوش حامی ہیں، وہ بھی ایوب مسیح کے رویے کی مذمت کریں گے جس کے باعث دو الہامی مذاہب کے درمیان غیر ضروری اور ناجائز غیر ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔

32- ایوب مسیح، اپنی درخواست پر زور دینے کے بجائے، غیر ضروری طور پر اسے کراچی لے جا کر سلمان رشدی کی توہین رسالتﷺ پر مبنی کتاب پڑھنے پر مجبور کرتا رہا۔ ملزم، ایوب مسیح کا باپ، سرکاری احاطے پر قابض ہوتے ہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حاجی عبدالعزیز کے پاس بطور مزارع کام کرتے ہوئے، یہ حیرانی ہوتی ہے کہ کس طرح اور کیوں، حاجی عبدالعزیز، ایوب مسیح کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کا متحمل ہو سکتا تھا اور ایوب مسیح کا باپ، جس کا دیگر عیسائیوں کے احاطوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور دیگر عیسائیوں نے جنہوں

صفحہ 102

نے گاؤں سے اپنی مبینہ بے دخلی کے ضمن میں کبھی استثنیٰ حاصل نہیں کیا، جو درحقیقت غلط ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں ظفر سلیم نامی، ڈی آئی جی کا کوئی وجود نہیں، اس لیے ایوب مسیح کا موقف قطعی طور پر مبہم ہے کہ ظفر سلیم، ڈی آئی جی، نے اسے اس مقدمہ میں پھنسایا۔

بولے گئے الفاظ کے لحاظ سے، مجھ پر لازم تھا کہ میں ایوب مسیح کو کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کروں۔۔۔۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہمارے درمیان بحث، رشدی کی کتاب کے نام کے حوالے کے باعث تھی۔۔ ہمارے گاؤں میں موجودہ وقوعہ سے قبل، اس قسم کا واقعہ کبھی رونما نہیں ہوا۔۔۔۔۔ میں نے اس قسم کے الفاظ کبھی نہیں سنے۔۔۔ جو پاکستان، خاص طور پر میرے گاؤں کے کسی دوسرے عیسائی نے مبینہ طور پر کہے ہوں۔ کسی بھی عیسائی کو، کسی مسلمان کے ساتھ کسی بھی قسم کی مذہبی مخاصمت نہیں۔ اور محمد ذوالفقار کا بیان، گواہ استغاثہ نمبر 2، ”عیسائی یہ درخواست کرتے رہے کہ ایوب مسیح کو پیش کیا جائے، نہ صرف ایوب مسیح کے ناقابل معافی جرم کو متشکل کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعے عیسائیت اور اسلام کے الہامی مذاہب کے درمیان، ہم آہنگی کی موجودگی بھی ثابت ہوتی ہے۔ مقدمہ ہذا کے گواہ استغاثہ تفتیشی افسر، عبدالستار سے یہ استفسار کہ اس کے علاوہ اس کے دیگر سینئر افسران، ایوب مسیح کے خلاف، تفتیش کرنے کے اہل نہیں تھے اور ایوب مسیح، جس نے مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر، عبدالستار سے کبھی نہیں کہا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اور ارفع نام کی بے حرمتی کرنے کے لیے انتہائی قابل اعتراض اور ناقابل معافی الفاظ نہیں کہے، سے بھی ایوب مسیح کے جرم کی سنگین نوعیت ثابت ہوتی ہے۔ اس قسم کا کوئی ثبوت میسر نہیں کہ مدعی کے علاوہ، کسی شخص نے ملزم کے ساتھ جھگڑا کیا ہو جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مدعی نے قانون کے مطابق ملزم کے خلاف کارروائی کی۔ چونکہ اس ثبوت کا کوئی سراغ موجود نہیں کہ چھ بھائیوں میں سے کوئی، یا ملزم کے دیگر رشتہ دار، مقدمہ ہذا میں ملوث ہیں جو استغاثہ کو موقف کو مزید تقویت بخشتا ہے۔ ایوب مسیح نے تمام گواہانِ استغاثہ کے علاوہ عبدالستار، ایس آئی / گواہ استغاثہ نمبر 4 / تفتیشی افسر کو کہنے کے برعکس پاکستان میں ظفر سلیم نامی کوئی ڈی۔آئی۔جی، موجود نہیں کہ وہ ایوب مسیح کے والد کے زمیندار کا رشتہ دار تھا اور اس نے ایوب مسیح کو توہین رسالت کے مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کیا، جس کے باعث ایوب مسیح کا جرم واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے۔

صفحہ 103

باعث نہ صرف یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ایوب مسیح جھوٹا ہے بلکہ الہامی مذہب، عیسائیت پر ایوب مسیح کے ایمان کے متعلق بھی شک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ مجھے یہ امر لازمی طور پر ریکارڈ پر لانا چاہیے کہ بدقسمتی سے ایوب مسیح کا عیسائیت پر بے اعتقادی کا ایک منفرد معاملہ ہے اور وہ بلاشبہ عیسائیت کے پاک نام پر تہمت ہے۔

نہیں، کے ذریعے بھی خود کو بچانے کے لیے ایوب مسیح کا بیان بھی جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کے لیے پیش نہیں ہوگا، کیونکہ عیسائیت میں بیان حلفی کی ممانعت ہے۔

کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی، یہ ہے کہ انہیں (چن چن کر) قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مختلف طرفوں سے یا جلاوطن کر دیئے جائیں یہ تو ان کے لیے رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں (اس سے بھی) بڑی

سزا ہے“۔ (المائدہ: 33)

ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں بعض رسولوں پر اور ہم کفر کرتے ہیں بعض کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ اختیار کرلیں کفر و ایمان کے درمیان کوئی (تیسری) راہ۔ یہی لوگ کافر ہیں حقیقت میں اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں

کے لیے عذاب رسوا کرنے والا۔ (النساء: 151-150)

کرنے والوں کو“۔ (القصص: 77)

آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“۔ (الاحزاب: 6)

ملکی قانون کے مطابق اور استغاثہ اور صفائی کی مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں، بدقسمتی سے ایوب مسیح کے متعلق مکمل طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ وہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات

صفحہ 104

پاکستان، ایک تخریب کار کی حیثیت سے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے پُرامن علاقے میں فساد اور انتشار پھیلایا جائے۔

98 کے مطابق

قرآن آپ کے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے (یہ) تصدیق کرنے والا ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے اتریں اور سراپا ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لیے۔ جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیلؑ و میکائیلؑ کا تو اللہ بھی دشمن ہے (ان) کافروں کا۔“ (البقرہ: 97، 98)

اسے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔

295-C تعزیرات پاکستان، ملزم، ایوب مسیح کے جرم کو مکمل طور پر ثابت کردیا ہے۔ اس لیے، ملزم ایوب مسیح کو سزائے موت کے علاوہ ایک لاکھ روپیہ کا جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ، لاہور سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ معزز عدالت عالیہ، لاہور کی طرف سے سزائے موت کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں اگر وہ جرمانہ کی رقم ادا نہیں کرتا تو ایوب مسیح کو مزید دو سال قید مشقت بھگتنا ہوگی۔

دستخط: تاریخ فیصلہ عبدالغفار خاں 27 اپریل 1998ء سیشن جج بر سنٹرل جیل کیمپ، ساہیوال

۞.......۞.......۞

صفحہ 105

جناب بی اے فخری جج خصوصی عدالت

انسداد دہشت گردی ڈیرہ غازی خان

سرکار بنام محمد اسحاق ، مارچ 1999ء

صفحہ 106
صفحہ 107

دل کی بات

چلّوں اور ریاضتوں کے نام پر انجمن سرفروشان اسلام (فرقہ گوہر شاہیہ) کے بانی ریاض گوہر شاہی نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جن گمراہ کن عقائد ونظریات کا پرچار لوگوں میں عام کرنا شروع کیا، وہ اسلام کے سراسر منافی اور اخلاقی اقدار سے گرے ہوئے ہیں، جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ، اس کے حبیب مکرم ﷺ، انبیا کرام علیہم السلام اور اولیاء کرامؒ کی شان میں حد درجہ گستاخیاں کی گئی ہیں، نیز قرآن مجید کے مکمل ہونے کا انکار، امام مہدی ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ظاہری ملاقات کے دعاوی باطلہ بھی شامل ہیں۔ اس نے چاند، سورج اور حجر اسود میں اپنی تصاویر نظر آنے کا بھی دعویٰ کیا۔ گوہر شاہی ایک بدکردار آدمی تھا جس کی فحاشی اور بدکاری کے متعدد واقعات اخبارات ورسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔ مذہب کے نام پر وہ عقیدت مند نوجوان لڑکیوں کی عزتوں کو تار تار کرکے اپنی شیطانی ہوس کی آگ بجھاتا رہا۔ اس کے مریدین اسے بھی روحانیت کا نام دے کر معاملہ رفع دفع کردیتے۔ 1999ء میں وہ ایسے ہی ایک مجرمانہ فعل کے نتیجہ میں امریکہ میں گرفتار ہوا اور وہیں جہنم واصل ہوا۔

دسمبر 1998ء میں گوہر شاہی فتنہ کے کچھ افراد نے تھانہ رنگ پور ضلع مظفرگڑھ کی حدود میں پر پرزے نکالے، گوہر شاہی نظریات کی اشاعت کے لیے حرکت کی اور کلمہ طیبہ کی تحریف پر مشتمل ایک اسٹیکر تقسیم کیا۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے دارالمبلغین سے فارغ ہونے والے ایک نوجوان حافظ محمد اقبال، جو وہاں کے رہنے والے تھے، نے اس فتنہ کے سدباب کی کوشش کی۔ انہوں نے مقدمہ کے لیے اس واقعہ کے خلاف تھانہ میں درخواست دی۔ حافظ محمد اقبال صاحب کی درخواست لیگل ایڈوائزر کو بھجوا دی گئی۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-A کے تحت مقدمہ کے

صفحہ 108

اندراج کی سفارش کی۔ جس پر ملزم کے خلاف تھانہ رنگ پور میں مقدمہ درج ہوا۔ ملزم گرفتار ہوا۔ اس کی نشاندہی پر فتنہ گوہر شاہی سے متعلقہ گستاخانہ اور دل آزار لٹریچر، اسٹیکر، آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں برآمد ہوئیں۔ رنگ پور کے مسلمانوں نے بھر پور دینی غیرت کا مظاہرہ کر کے کیس کے لیے شب و روز محنت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ نے ان کی قانونی معاونت کی۔ ڈیرہ غازی خان کی دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں کیس پیش ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب نے اپنے رفقاء سمیت اس کیس کے لیے جانگسل محنت کی۔ ڈیرہ غازی خان کے معروف قانون دان وکیل ختم نبوت جناب ملک محمد حسین صاحب کی اس کیس کے لیے خدمات حاصل کی گئیں۔ انہوں نے عدالت سے اجازت لے کر ملزم سے خصوصی ملاقات کی، اس پر اسلامی تعلیمات پیش کیں، اس کی راہنمائی کی، اسے تبلیغ کر کے گوہر شاہی نظریات کا بطلان اس پر واضح کیا لیکن ملزم اتنا جنونی تھا کہ وہ بدستور ان کفریہ نظریات پر ڈٹا رہا۔ مجبوراً کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ ڈیرہ غازی خان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج جناب بی اے فخری نے قابل فخر فیصلہ دیا۔ فتنہ گوہر شاہی کے خلاف باقاعدہ یہ پہلا تاریخی فیصلہ ہے۔ وکیل ختم نبوت جناب ملک محمد حسین صاحب نے اس کا ترجمہ کیا جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 109

بعدالت جناب بی اے فخری جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی

ایکٹ 1997ء حکومت پاکستان ڈیرہ غازی خان

ابتدائی معلومات

اینٹی ٹیررسٹ سیشن کورٹ

مقدمہ نمبر : 6/98 ایف آئی آر نمبر : 128/1998 بتاریخ 27 جنوری 1999ء پولیس سٹیشن : رنگ پور ضلع مظفر گڑھ بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295/A

سرکار

بنام

محمد اسحاق ولد کرم خاں ذات کھیترا سکنہ بہرام پور تھانہ رنگ پور ضلع مظفر گڑھ

(ملزم)

وکیل منجانب مدعی: ملک محمد حسین ایڈووکیٹ وکلا منجانب سرکار: محمود اسحاق شیخ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی رانا محمد یاسین ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی وکیل منجانب ملزم: ناصر حسین چودھری ایڈووکیٹ

صفحہ 110

تاریخ فیصلہ: 17 مارچ 1999ء

فیصلہ

جناب بی اے فخری جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی، ڈیرہ غازی خان

استغاثہ کے مطابق مورخہ 1998-12-02 کو اہالیان رنگ پور نے بذریعہ حافظ محمد اقبال مدعی ایک درخواست ایس ایچ او تھانہ رنگ پور ضلع مظفر گڑھ کو پیش کی۔ وہ درخواست برائے قانونی رائے ڈی ایس پی لیگل کو بھجوائی گئی جس نے یہ رائے دی کہ یہ کیس تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کے زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ یہ مقدمہ ایف آئی آر (Ex.PB/1) کی صورت میں درج کیا گیا۔

ملزم جس کا نام محمد اسحق ہے، کو اس مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے خلاف الزام ہے کہ یہ شخص ایسا تحریری مواد تقسیم کر رہا تھا جو خوفناک حد تک غلیظ، توہین آمیز اور مسلمانوں کے خلاف تھا اور اسلام کی نص کے بھی خلاف تھا اور اس قسم کا مواد ملزم سے برآمد (پکڑا گیا) ہوا اور اسی طرح کا مواد اس کے قائم کردہ دفتر واقع رنگ پورہ سے برآمد ہوا۔ وہ جگہ جہاں ملزم گستاخانہ مواد تقسیم کر رہا تھا، وہ گورنمنٹ ہائی اسکول رنگ پور اور اس کے ساتھ ہی محمد شفیع کا ٹیوب ویل ہے۔ اس (ملزم) سے اس قسم کا لٹریچر، کتابچے، اسٹیکر، ویڈیو کیسٹ اور ریاض احمد گوہر شاہی کی تصاویر مختلف قسم کے بورڈز اور بینرز برآمد ہوئے۔

اس مقدمہ میں ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/A کے تحت چالان کیا گیا جو مورخہ 27 جنوری 1999ء کو اس عدالت میں پیش کیا گیا۔ 3 فروری 1999ء کو ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265/C کے تحت فوجداری نقول فراہم کی گئیں۔ پھر ملزم پر فرد

صفحہ 111

جرم عائد کی گئی جو زیر دفعہ 295 اے تعزیرات پاکستان اور دفعہ ”8“ قانون انسداد دہشت گردی عائد ہوئی جس کا ملزم نے انکار کیا۔ تب مقدمہ کی سماعت استغاثہ کی شہادتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ استغاثہ نے اپنے موقف کی تائید میں چھ گواہان پیش کیے۔

15 مارچ 1999ء کو وکیل استغاثہ نے روزنامہ ”جرأت“ کراچی کی اشاعت مورخہ 1999-02-24 اور روزنامہ ”نوائے وقت“ ملتان کی اشاعت مورخہ 11-03-1999 کے اخباری تراشے پیش کیے۔

گواہ استغاثہ نمبر 1 حافظ محمد اقبال ہے جو رنگ پور ضلع مظفر گڑھ کا امام مسجد ہے۔ اس نے عدالت میں اپنی شہادت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مورخہ 1998-12-02 کو تقریباً دو اڑھائی بجے بعد دوپہر وہ محمد شفیع کے ٹیوب ویل پر موجود تھا۔ اس نے دیکھا کہ ملزم اسحق پوسٹر (EX.PA) تقسیم کر رہا تھا۔ یہ پوسٹر جو ایک اسٹیکر تھا، اس پر کلمہ طیبہ اس طرح شائع ہوا تھا:

”لا الہ ریاض احمد گوہر شاہی“

اور اگر لفظ ریاض احمد گوہر شاہی اس میں سے حذف کر دیا جائے تو لفظ اللہ مکمل نہیں رہتا جو کہ کفر ہے اور کلمہ طیبہ کی مخالفت بھی۔ اس اسٹیکر (P-1 EX.PA) میں گوہر شاہی کی تصویر چاند میں دکھائی گئی تھی۔ ریاض احمد گوہر شاہی نے اس تصویر میں اپنے آپ کو سورج میں ظاہر کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ریاض احمد گوہر شاہی ”حجر اسود“ میں دکھایا گیا ہے۔ مزید اس نے اپنے آپ کو فضا (خلاء) میں ظاہر کیا۔ متذکرہ اسٹیکر میں چاند پر ریاض احمد گوہر شاہی کا کلمہ:

”لا الہ ریاض احمد گوہر شاہی“ ظاہر کیا گیا ہے۔

ایک شعر جو اس اسٹیکر کے اوپر سامنے تحریر ہے، اس نے صاف ظاہر کر دیا ہے کہ گوہر شاہی پوشیدہ مقام میں سے اب ظاہر ہوا ہے۔ گواہ نے مزید بیان کیا کہ اس (گواہ) نے احتجاج کیا اور ملزم اسحق کو متذکرہ بالا اسٹیکر تقسیم کرنے سے روکا لیکن ملزم نے اصرار کیا کہ ریاض احمد گوہر شاہی اس (ملزم) کا نبی ہے اور وہ (ملزم) اس کے لیے اپنی جان تک دینے کے لیے تیار ہے۔ اور کوئی شخص اس (ملزم) کو اس اسٹیکر پر چھپا ہوا پیغام تقسیم کرنے سے نہیں روک سکتا۔ گواہ نے بتایا کہ دوسرے لوگ جن میں ڈاکٹر ملازم حسین اور محسن مشتاق شامل ہیں، نے بھی ملزم کو لٹریچر، اسٹیکر تقسیم اور چسپاں کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر ایک درخواست (EX-PB) تحریر کی گئی جس پر میں نے دستخط کیے۔ اہالیان رنگ پور کے مطالبے پر ایس ایچ

صفحہ 112

او تھانہ رنگ پور کو پیش کی گئی۔

پھر 1998-12-06 کو ایس ایچ او نے مجھے اور خواجہ مشتاق، چودھری الطاف، ملک فرید، حاجی محمد یار اور عاشق وغیرہ کو بلایا اور ملزم ہمیں رنگ پور چوک میں واقع اپنے دفتر لے گیا۔ ملزم ہتھکڑی لگے ہوئے پولیس کی حراست میں تھا۔ اس (ملزم) نے اپنے دفتر کا دروازہ کھولا، لائٹ جلائی اور وہاں سے مندرجہ ذیل کتابیں اور لٹریچر برآمد کرایا۔

کتاب تعداد روشناس 5 مینارۂ نور 15 روحانی سفر 9 تریاق قلب 10 یادگار لمحات 2 نور ہدایت 1 تصویر حضرت عیسیٰ 1

اسٹیکر (پی 14) تعداد 8، ویڈیو کیسٹ (پی 15) تعداد 8 ہینڈ بل (پی 17) تعداد 50، فوٹو ریاض احمد گوہر شاہی (پی 18) تعداد 40، تین بینرز اور آٹھ مختلف تصاویر اور سٹکرز برآمد ہوئے۔

مندرجہ بالا تمام چیزیں پولیس نے بذریعہ فرد مقبوضگی (EX P-C) اس (مدعی) اور دیگر گواہان کی موجودگی میں قبضہ میں لے لیں اور انہوں نے فرد پر دستخط کیے۔ اگلا گواہ ملازم حسین جو بطور گواہ استغاثہ نمبر 2 کی حیثیت سے پیش ہوا۔ اس نے اپنے شہادتی بیان میں کہا کہ وقوعہ کے روز ملزم، محمد شفیع کے ٹیوب ویل کے نزدیک اسٹیکر تقسیم کر رہا تھا جو سخت قابل اعتراض تھے۔ ان پر کلمہ اس طرح چھپا ہوا تھا ”لا الہ ریاض احمد گوہر شاہی“ وہ (گواہ) ان کو پڑھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور اس لٹریچر سے بحیثیت مسلمان ہونے کے اس (گواہ) کے جذبات شدید مجروح ہوئے۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 محسن مشتاق ہے۔ اس گواہ نے بھی استغاثہ کے مؤقف کی مکمل تائید کی۔ گواہ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملزم اسحق اسٹیکر تقسیم کر رہا تھا۔ جس پر ”لا الہ ریاض احمد گوہر شاہی“ چھپا ہوا تھا اور الفاظ محمد رسول اللہ تحریر نہیں تھے۔ ”محمد

صفحہ 113

رسول اللہ‘‘ کے بجائے ”ریاض احمد گوہر شاہی“ لکھا ہوا تھا۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 خواجہ مشتاق احمد نے کہا کہ وہ چوک رنگ پور کے نزدیک اسحق کے دفتر کے قریب موجود تھا کہ پولیس ملزم کو لے آئی۔ وہ (ملزم) اس وقت ہتھکڑی میں تھا۔ اس (ملزم) نے دروازہ کھولا، لائٹ جلائی، لکڑی کی الماری کھولی، اس میں کتب ”روحانی سفر“ (P.9)، ”روشناس“ (P.7)، ”تحفۃ المجالس“، ”تریاق قلب“ (P.18) اور اسی طرح دوسری کتابیں پولیس کے حوالے کیں۔ ملزم نے بہت سارے اسٹیکر جن پر ”لا الہ ریاض احمد گوہر شاہی“ چھپا ہوا تھا اور 8، 9 ویڈیو کیسٹیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصاویر اور پمفلٹ بھی پولیس کو پیش کیے۔ ایس ایچ او نے کمرے میں تمام چیزوں کی فہرست بنائی اور ریکوری میمو کے تحت ان تمام اشیاء کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس نے اس میمو پر دیگر گواہوں کے علاوہ گواہ کے طور پر خود اپنے دستخط بھی کیے۔

عبدالرحیم حوالدار محرر نمبر 280 گواہ استغاثہ نمبر 5 کی حیثیت سے پیش ہوا جس نے اس کیس کی FIR جو ڈی ایس پی قانونی کو بھیجی گئی، درج کی۔ فتح محمد خان سب انسپکٹر گواہ استغاثہ نمبر 6 کی حیثیت سے پیش ہوا جس نے مقدمہ کی تفتیش کی۔ اس نے بیان کیا کہ مورخہ 02-12-1998 کو وہ بطور ایس ایچ او تھانہ رنگ پور تعینات تھا۔ متذکرہ تاریخ کو حافظ محمد اقبال گواہ استغاثہ نمبر 1 نے درخواست (شکایت) (EX.PB) اور اسٹیکر (EX.PA) مجھے پیش کیے۔ اس کے بعد میں نے روزنامچہ واقعاتی میں رپٹ درج کی۔ ڈی ایس پی لیگل کی قانونی رائے حاصل کرنے کے لیے رپورٹ مرتب کی۔ مورخہ 4/12/1998 کو ڈی ایس پی لیگل کی رائے موصول ہوئی۔ اللہ دتہ سب انسپکٹر ایڈیشنل ایس ایچ او تھانہ رنگ پور نے تین گواہان استغاثہ کے بیانات تحریر کیے۔ جن کے نام حافظ محمد اقبال گواہ نمبر 1 (مدعی) ملازم حسین اور محسن مشتاق ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ (گواہ) متذکرہ بالا سب انسپکٹر کی تحریر کو بھی شناخت کرتا ہے جو اس نے تحریر کی اور دستخط کیے۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ وہ گواہان استغاثہ کے بیانات پر ان کے دستخطوں اور اس سے متعلقہ ضمنیات وغیرہ کو بھی پہچانتا ہے۔

گواہ نے مزید کہا کہ مورخہ 6/12/98 کو اس نے تفتیش کا آغاز کیا، جائے وقوعہ پر خود جا کر ملاحظہ موقع کیا، نقشہ موقع (EX.PD) تیار کیا۔ اس نے نقشہ جائے برآمدگی بھی تیار کیا۔ گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو حوالات جوڈیشل بھیجا گیا۔

فاضل وکیل صفائی نے تمام گواہان استغاثہ پر طویل جرح کی اور مؤقف اختیار کیا

صفحہ 114

کہ ملزم سے کوئی قابل اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا اور لٹریچر جس کی برآمدگی ملزم سے دکھلائی گئی ہے، جعلی ہے اور ملزم کو محض گواہان سے مذہبی اختلافات کی بنیاد پر ملوث کیا گیا ہے۔ ملزم اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ جبکہ مدعی اور گواہان استغاثہ دیو بندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملزم کا بیان مجموعہ ضابطہ فوجداری 342 کے تحت قلمبند ہوا جس میں اس نے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ نیز اس نے اپنے آپ کو بے گناہ ظاہر کیا۔ ملزم نے اپنی صفائی میں دو گواہ پیش کیے۔ جن میں سے گواہ صفائی نمبر 1 محمد عظیم نے بیان کیا کہ مورخہ 4/12/98 کو ملزم الحق اپنے کھیت کو پانی لگاتا رہا۔ اس کا بھائی احسان احمد (گواہ) اس کے پاس آیا اور کہا کہ وہ پولیس کو مطلوب ہے۔ وہ (ملزم) پولیس کے پاس گیا تو پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ گواہ نے کہا کہ وہ اس (ملزم) کے پیچھے تھانہ گیا اور ایس ایچ او فتح محمد نامی سے التجا کی کہ ملزم بے گناہ ہے، اس کو چھوڑ دیں۔ ایس ایچ او نے اسے ہدایت کی کہ مدعی مقدمہ کو قائل کر لے۔ اس (گواہ) نے ایس ایچ او سے کہا کہ معاملہ کو قرآن پر طے کریں۔ ایس ایچ او نے اس (گواہ) سے کہا کہ بیس ہزار روپے رشوت دے تب وہ ملزم کو رہا کرے گا۔ اس نے مزید کہا کہ ملزم اس کا چچا زاد بھائی اور بہنوئی ہے اور وہ بے گناہ ہے۔ گواہ نے مزید بیان کیا کہ ملزم ریاض احمد گوہر شاہی کا پیرو کار ہے۔ گواہ صفائی نمبر 2 محمد امین نے بیان کیا کہ تین چار ماہ قبل تقریباً چار، پانچ بجے شام وہ ہوٹل پر موجود تھا۔ اس کا (چائے کا) ہوٹل شفیع والا ٹیوب ویل کے ساتھ ہے جو رنگ پور سے تین چار کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے ایسا کوئی وقوعہ نہیں دیکھا جیسا کہ وہاں بجلی نہیں ہے، اس لیے گواہ نے دوپہر ہی کو اپنا چائے خانہ بند کر دیا تھا۔

ملزم نے گواہی کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر ضابطہ فوجداری کی دفعہ (2)340 کے تحت اپنی صفائی میں بیان دینا پسند نہیں کیا۔ وکیل صفائی نے ملزم کی جانب سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی آفیسر کی جانب سے تیار شدہ نقشہ غلط ہے۔ کیونکہ اس نقشہ میں ٹیوب ویل شفیع والا ظاہر نہیں کیا گیا۔ ملزم کو مدعی اور گواہان نے محض فرقہ وارانہ اختلافات کی بنیاد پر ملوث کیا ہے۔ کیونکہ ملزم اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ جبکہ مدعی اور گواہان دیو بندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملزم نے کوئی اسٹیکر تقسیم نہیں کیا اور نہ ہی اس نے گوہر شاہی کے نظریات کا پرچار کیا۔ وقوعہ کی جگہ سے کوئی آزاد گواہ، استغاثہ نے پیش نہیں کیا۔ تفتیشی آفیسر نے ضابطہ

صفحہ 115

فوجداری کی دفعہ 103 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جائے برآمدگی کا کوئی گواہ نہیں رکھا، جہاں سے لٹریچر اور دوسری چیزیں ملزم کے قبضہ سے اس کے دفتر سے قبضہ میں لیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا ہے اور ملزم بے گناہ ہے۔ آخر میں گواہ صفائی نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کے گواہان نمبر 1 اور نمبر 2 نے ملزم کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ فاضل وکیل نے صفائی میں کچھ دستاویزات بھی پیش کیں۔ ان میں سے ایک روزنامہ ”امت کراچی“ میں ایک خبر کی فوٹو کاپی دوسرا مورخہ 1/3/1997 انچارج شعبہ نشر و اشاعت انجمن سر فروشان اسلام ضلع مظفر گڑھ کی طرف سے جاری شدہ ایک خط منی آرڈر وصولی کی رسیدیں بتاریخ 26/8/1998 اور 4/9/1998 جن پر یہ نمبر DB, DB1, DB/3 DB/4 لگائے گئے۔ اس پر پراسیکیوٹر کے اعتراض داخل کیے گئے، اس طرح شہادت صفائی کا اختتام ہوا۔

اس کے برعکس فاضل اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی جن کی معاونت ملک محمد حسین ایڈووکیٹ کونسل مدعی نے کی، نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیکر (EX-PA) سے صاف ظاہر ہے کہ گوہر شاہی کی نیت دعویٰ نبوت کی ہے۔ اس نے اس اسٹیکر پر لا الہ کے آگے اپنا نام ریاض احمد گوہر شاہی چھپوایا۔ بجائے اس کے کہ اس اسٹیکر پر ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ شائع ہوتا، اس اسٹیکر پر ”لا الہ ریاض احمد گوہر شاہی“ پرنٹ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاض احمد گوہر شاہی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نبی ظاہر کر رہا ہے۔۔ متذکرہ اسٹیکر صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ ریاض احمد گوہر شاہی اپنے آپ کو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ غلام احمد قادیانی نے کلمہ طیبہ میں اپنا نام شامل کرنے کی جرأت نہیں کی جس کو پوری دنیائے اسلام نے کافر قرار دیا ہے۔ لیکن ریاض احمد گوہر شاہی نے اپنے آپ کو متذکرہ اسٹیکر میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریاض احمد گوہر شاہی نے اس اسٹیکر کے ذریعہ اپنے آپ کو چاند، سورج اور اس قسم کی چیزوں میں ظاہر کیا۔ مزید کہا کہ یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ چاند اور سورج میں کس طرح پہنچ گیا ہے اور پھر حجر اسود میں۔ جبکہ اللہ کے آخری پیغمبر اور رسول ﷺ بھی معراج النبی کے موقع پر براق پر تشریف لے گئے۔ اس طرح ریاض احمد گوہر شاہی نے اپنے آپ کو دیگر انبیاء سے بھی برتر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے (نعوذ باللہ)۔ انہوں نے تمام کتب اور لٹریچر جو ملزم الحق کے دفتر سے برآمد ہوا، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاض احمد گوہر شاہی کا لٹریچر قابل اعتراض، توہین آمیز اور غلط مواد اور اسلام کی صریح نص

صفحہ 116

کے بھی خلاف ہے۔ شہادت صفائی جو ملزم کے دفاع میں پیش کی گئی، وہ کوئی مدد نہیں کرتی۔ ایک گواہ صفائی ملزم کا چچا زاد اور بہنوئی ہے جبکہ گواہ صفائی نمبر 2 کا جہاں تک تعلق ہے، اس نے کوئی چیز ملزم کے دفاع میں پیش نہیں کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل تفصیل سے سنے اور ریکارڈ کو بھی بغور ملاحظہ کیا۔ بالخصوص لٹریچر، ویڈیو کیسٹ، سمعی کیسٹ، اسٹیکر وغیرہ جو اس کے دفتر سے جو اس نے گوہر شاہی کے غیر اسلامی، توہین آمیز، غلط نظریات اور افکار کو پھیلانے کے لیے کھولا ہوا ہے، ملزم کے قبضہ سے برآمد ہوئے۔ وہ اہم ترین گواہان مقدمہ جو اس کیس کی گہرائی تک گئے ہیں، وہ گواہ استغاثہ نمبر 1 حافظ محمد اقبال (مدعی)، گواہ استغاثہ نمبر 2 ملازم حسین اور گواہ استغاثہ نمبر 3 محسن مشتاق جو کہ چشم دید گواہان ہیں۔ علاوہ ازیں گواہ استغاثہ نمبر 4 خواجہ مشتاق احمد جو اس قابل اعتراض اور خلاف اسلام لٹریچر، ویڈیو کیسٹ، آڈیو کیسٹ اور اسٹیکرز وغیرہ کی برآمدگی کا گواہ ہے۔ تمام مندرجہ بالا گواہان نے استغاثہ کے مؤقف کو ہر قانونی پہلو سے تقویت دی ہے۔ ان کی شہادت ایک دوسرے کی بھی تائید کرتی ہے اور یہ بات کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ثابت ہے کہ ملزم نے جرائم قانون دہشت گردی کی دفعہ 8 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کا ارتکاب کیا ہے۔ علاوہ ازیں ملزم کی جانب سے پیش کردہ صفائی، ملزم کے مؤقف کی کوئی امداد نہ کر سکی۔ گواہ صفائی نمبر 1 ملزم کا چچا زاد بھائی اور بہنوئی ہے اور ایک ہی گھر میں ملزم کے ساتھ رہائش رکھتا ہے۔ وہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مؤقف اور ثبوت کی تردید میں کچھ نہیں کہہ سکا۔ اس کے علاوہ صفائی کے گواہ نمبر 2 نے ایک لفظ بھی ملزم کے حق میں نہیں کہا۔ ملزم نے قانون انسداد دہشت گردی کی دفعہ 8 کا ارتکاب جرم کیا جو خلاف اسلام، غلط اور توہین آمیز ہے۔ اور اس قسم کا مواد شہادت استغاثہ میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ ملزم اس قسم کے عقائد کو پھیلانے کے لیے دفتر چلا رہا تھا۔ مزید برآں ملزم نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیان میں کہا کہ وہ (ملزم) ریاض احمد گوہر شاہی کا پیروکار ہے۔ اسٹیکر (EX.PA) غیر اسلامی، جذبات کو مجروح کرنے والا اور اسلام کی نظر میں قابل اعتراض ہے۔ پس محمد اسحق کو ارتکاب جرم دفعہ 8 قانون انسداد دہشت گردی میں سات سال قید با مشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں چھ ماہ قید محض بھگتنی ہوگی۔ ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے دس سال قید با مشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی

صفحہ 117

سزا سنائی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں چھ ماہ قید محض بھگتنی ہوگی۔ ملزم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ میعاد اپیل 7 یوم ہے۔ مال مقدمہ اپیل و نگرانی کی معیاد گزرنے کے بعد ضبط سمجھی جائے گی۔ ہر دو سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی۔ دفعہ 382 ب ضابطہ فوجداری کی رعایت ملزم کو دی جاتی ہے۔ فیصلہ کی نقل ملزم اور مقدمہ کے پراسیکیوٹر کو بلا قیمت فراہم کی گئی ہے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ بی اے فخری 17 مارچ 1999ء جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی ڈیرہ غازی خان ڈویژن

۞ ..... ۞ ..... ۞

صفحہ 118
صفحہ 119

جناب وامق جاوید صاحب، ایڈیشنل سیشن جج، سرگودھا

سرکار بنام عبدالرحمان، ستمبر 1999ء

صفحہ 120
صفحہ 121

دل کی بات

مختصراً اس مقدمہ کے حالات اس طرح ہیں کہ جون 1996ء میں سلمان ٹاؤن مجاہد کالونی سرگودھا کے عبدالرحمن نامی شخص نے نہ صرف قرآن مجید کی بے حرمتی کی بلکہ صحابہ کرامؓ سمیت اہل بیت عظامؓ کے متعلق بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی۔ اس پر علاقہ بھر میں اشتعال پھیل گیا۔ قریب تھا کہ علاقہ میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی۔ چنانچہ 23 جون 1996ء کو محمد بدر عالم کی درخواست پر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C، 295-B اور 298-A کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا۔

تقریباً تین سال سے زائد عرصہ تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ اہم بات یہ ہے کہ ملزم کی بیوی سمیت کوئی رشتہ دار یا محلے دار ملزم کی صفائی میں پولیس یا عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ یہ حقیقت ملزم کے ارتکاب جرم کو مزید تقویت دیتی ہے۔ چنانچہ مستند شہادتوں اور گواہوں پر جرح کے بعد جرم ثابت ہونے پر ستمبر 1999ء میں محترم وامق جاوید صاحب ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا نے ملزم کو سزائے عمر قید سنائی۔ محترم جج صاحب کا یہ فیصلہ مختصر مگر جامع اور دو ٹوک ہے۔ ملزم عبدالرحمن نے اس فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ 16 جنوری 2001ء کو جناب جسٹس خواجہ محمد شریف نے ملزم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس کتاب کے آخر میں یہ فیصلہ بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر گرانقدر خدمات انجام دینے والے مجاہد ختم نبوت جناب محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے زیر نظر فیصلہ کی نقل مہیا کی جس پر وہ نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 122

۞......۞......۞

بعدالت جناب وامق جاوید صاحب، ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 06/1999 سیشن مقدمہ نمبر 09/1999 ایف آئی آر نمبر : 173/1996 مورخہ 23 جون 1996ء پولیس سٹیشن : اربن ایریا، سرگودھا بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-B، 295-C، 298-A

سرکار

بنام

عبدالرحمٰن ولد الٰہی بخش، ذات کھوکھر، ساکن، سلطان ٹاؤن، مجاہد کالونی، سرگودھا (ملزم)

وکلا منجانب ملزم: اسلم باجوہ ایڈووکیٹ، مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ، نصراللہ بھٹی ایڈووکیٹ

وکلا منجانب مدعی: شیخ جہانگیر سرور ایڈووکیٹ، میاں محمد دین شاد ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 23 ستمبر 1999ء

صفحہ 123

فیصلہ

جناب وامق جاوید صاحب، ایڈیشنل سیشن جج، سرگودھا

295-C اور 298-A تعزیرات پاکستان بمطابق ایف آئی آر نمبر 173 مورخہ 23-06-1996 کے تحت ملزم عبدالرحمٰن کو عدالت ہذا میں مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے بھیجا گیا۔

پولیس اسٹیشن، اربن ایریا، سرگودھا کے ایس ایچ او کے روبرو ایک درخواست پیش کی کہ وہ بلاک نمبر 11، سرگودھا کا رہائشی اور کنسلٹیشن کمیٹی، المجاہد ویلفیئر سوسائٹی سرگودھا کا رکن ہے اور آج مورخہ 1996-06-23 کو وہ اپنے دفتر واقع رحمان پورہ میں بیٹھا تھا کہ فضل عباس ولد احمد علی، عمر حیات ولد اللہ دین، رحمت خان ولد محمد خان، صاحب خان ولد صالح محمد، خوشی محمد ولد احمد اپنے 25، 30 ساتھیوں کے ساتھ میرے پاس آئے اور بتایا کہ عبدالرحمٰن ولد الٰہی بخش نے مورخہ 1996-06-20 کو قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ اس کے علاوہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہدایت یافتہ خلفاء کے متعلق تین دفعہ ناشائستہ زبان استعمال کی۔ اس حقیقت کے بہت سے گواہ ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اقبال شاہ جو اس کا ”مرشد“ ہے، وہ اسے مختلف قسم کے علم سکھاتا ہے اور وہ یہ سب کچھ اس کے ایما پر کر رہا ہے۔ مزید یہ کہا گیا کہ جب سے ملزم نے قرآن پاک کو گرانے کے ذریعے دین اسلام کی تضحیک اور اسلامی احکامات

صفحہ 124

وتعلیمات کی بے حرمتی کی، انہیں ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنی تھی ورنہ علاقے کے لوگ مشتعل ہو جاتے۔

05-04-1997 کو زیر دفعہ 265-C مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کو بیان اور دستاویزات کی مطلوبہ نقول فراہم کر دی گئیں۔ بعدازاں، مورخہ 25-05-1999 کو ملزم کے خلاف زیر دفعہ 295-B، 295-C اور 298-A، تعزیرات پاکستان، باقاعدہ طور پر فرد جرم عائد کی گئی جس پر ملزم نے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔ ملزم کی طرف سے وکیل کرنے کی عدم صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا، اس لیے، سرکاری خرچ پر ادریس نصیر ایڈووکیٹ کو ملزم کا وکیل مقرر کیا گیا۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے مدعی کی تحریری درخواست پر خوشی محمد، فضل عباس، غلام سکینہ، جمال الدین اور محمد یوسف، گواہان استغاثہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں پیش نہیں کیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 1، حافظ اللہ دتہ ولد عنایت خان ہے جس نے بتایا کہ مورخہ 20-06-1996 کو وہ اپنے گھر میں موجود تھا جب جندن بی بی آئی اور اسے بتایا کہ ملزم عبدالرحمن، قرآن پاک کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ وہ باہر گیا اور دیکھا کہ ملزم قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی اور اسے ناپاک کر رہا ہے۔ قرآن پاک زمین پر پڑا تھا اور جوتوں کا ایک جوڑا بھی وہاں موجود تھا۔ (نعوذ باللہ) اس نے قرآن پاک کو اپنی تحویل میں لے لیا جس کے دو یا تین صفحات پھٹے ہوئے تھے۔ اسے اور دیگر افراد کو دیکھنے پر، ملزم، جائے وقوعہ سے بھاگ گیا۔ اس نے مزید کہا کہ اس وقوعہ سے قبل، ملزم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ہدایت یافتہ خلفاءؓ اور اہل بیتؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی اور اس نے یہ تمام وقوعہ دیکھا۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، صاحب خان ولد صالح محمد ہے۔ اس نے بیان کیا کہ وہ سلطان ٹاؤن، سرگودھا کا رہائشی ہے۔ ملزم عبدالرحمن اس کا ہمسایہ ہے۔ وہ اپنے عم زاد کے گھر رہتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھا اور جندن بی بی نے اسے وقوعہ کے متعلق بتایا۔ جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے اسے بتایا کہ ملزم نے قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی کی۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے وقوعہ نہیں دیکھا۔ اس گواہ کو

صفحہ 125

فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی درخواست پر منحرف قرار دے دیا گیا اور اس گواہ پر فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے جرح کی۔ تاہم، اس نے فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی جانب سے پیش کردہ تمام باتوں کی تردید کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 3، عمر حیات ولد اللہ دین ہے۔ اس نے بتایا کہ مورخہ 20-06-1996 کو وہ اپنے گھر میں موجود نہیں تھا اور جب وہ واپس آیا، اس نے بہت سے لوگ دیکھے جو ملزم کے گھر کے باہر جمع تھے۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ عبدالرحمٰن نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ تاہم، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ہدایت یافتہ خلفا اور اہل بیت کے متعلق ملزم کی طرف سے استعمال کی گئی ناشائستہ اور غلیظ زبان سنی۔ پولیس نے بمطابق ریکوری میمو نمبر Ex-P/A، قرآن پاک کے پھٹے ہوئے حصے اپنی تحویل میں لے لیے جس کی اس گواہ نے تصدیق کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 4، جندن بی بی زوجہ عامر خان ہے۔ اس نے بتایا کہ تقریباً تین سال قبل، وہ ملزم کے گھر کے عقب میں بکریاں چرا رہی تھی کہ ملزم کی بیوی زرینہ نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند عبدالرحمٰن ، قرآن پاک کی بے حرمتی کر رہا ہے جس پر اس نے شور و غوغا شروع کر دیا اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ اس نے دیکھا کہ قرآن پاک زمین پر پڑا ہوا ہے اور اس پر ایک ڈنڈا اور جوتوں کے دو جوڑے پڑے ہیں۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ہدایت یافتہ خلفاء اور اہل بیت کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان بھی سنی جو ملزم استعمال کر رہا تھا۔

گواہ استغاثہ نمبر 5، میاں محمد ولد صاحب خان ہے۔ اس نے بتایا کہ تقریباً تین سال قبل، ملزم عبدالرحمٰن ، اس کے باپ کے گھر کرایہ دار تھا، تقریباً دس سے بارہ مرتبہ اس نے سنا کہ ملزم عبدالرحمٰن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کر رہا ہے، جس پر گواہ استغاثہ نے اسے گھر خالی کرنے کو کہا۔ اس نے یہ حقیقت اپنے بھائی حیات کو بھی بتائی جس نے دعویٰ کیا کہ وہ ملزم سے گھر خالی کروا لے گا۔

گواہ استغاثہ نمبر 6، نے بتایا کہ تقریباً تین سال قبل، وہ سلطان کالونی جا رہا تھا، جب وہ سلطان ٹاؤن کے نزدیک پہنچا، اس نے دیکھا کہ مسجد کے عقب میں کھڑا ملزم عبدالرحمٰن، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اہل بیت کے متعلق بھی گستاخانہ اور اہانت

صفحہ 126

آمیز زبان استعمال کر رہا ہے۔ گواہ استغاثہ نے اسے بلایا اور کہا کہ اگر اس نے یہ الفاظ دوبارہ دہرائے تو وہ اسے گولی مار دے گا جس پر وہ فرار ہو گیا۔ تقریباً دس پندرہ دن بعد لوگوں نے اسے بتایا کہ ملزم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 7، بدر عالم، مقدمہ کے مدعی نے بیان کیا کہ مورخہ 20-06-1996 کو فضل عباس (اس پر جرح نہیں کی گئی)، ایک سو افراد کے ساتھ اس کے دفتر آیا اور شکایت کی کہ ملزم عبدالرحمن، قرآن پاک کے مقدس نسخے کی بے حرمتی کر رہا ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر مقدس ہستیوں کے متعلق ناشائستہ اور غلیظ زبان استعمال کر رہا ہے۔ گواہ استغاثہ نے ایک ایف آئی آر (Ex.PB) درج کروائی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کو مجبور کیا تاکہ علاقے کے لوگوں کو مشتعل ہونے سے باز رکھا جاسکے۔

گواہ استغاثہ نمبر 8، اعجاز الحق 1180 MHC، پولیس سٹیشن صدر، سرگودھا ہے۔ اس نے درخواست (1/Ex-PB) کی بنیاد پر ایف آئی آر (Ex.PB) درج کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 9، ذوالفقار علی ایس آئی، پولیس سٹیشن، بھاگٹانوالہ، ضلع سرگودھا، ہے۔ اس نے بتایا کہ جون 1996ء میں وہ پولیس سٹیشن اربن ایریا میں تعینات تھا اور اس مقدمہ کی تفتیش کی جو اسے 24-06-1996 کو تفویض کی گئی تھی۔ وہ جائے وقوعہ گیا اور اس کا معائنہ کیا اور نقشہ (Ex-PC) تیار کیا، اور یہ کہ اس پر حواشی اور اس کی ڈرائنگ، اس کے ہاتھ سے بنائی گئی اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ یہ کہ اسی دن، بمطابق ریکوری میمو (Ex-PA)، اس نے ملزم عبدالرحمن کے گھر سے قرآن پاک کے پھٹے ہوئے ٹکڑے اپنی تحویل میں لے لیے جو فرش پر پڑے ہوئے تھے۔ اس نے مورخہ 25-06-1996 کو گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے اور اس نے ملزم عبدالرحمن کو گرفتار کیا۔ یہ کہ مورخہ 30-06-1996 اور پھر مورخہ 01-07-1996 کو اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات دوبارہ قلمبند کیے۔ باقاعدہ تفتیش مکمل کرنے کے بعد، اس نے ملزم عبدالرحمن کو قصور وار پایا اور اس کا چالان عدالت میں بھیج دیا۔

فوجداری، ملزم عبدالرحمن کا بیان قلمبند کیا گیا جس میں اس نے اپنی صفائی میں کہا کہ گواہان استغاثہ اس سے رہائشی گھر خالی کروانا چاہتے ہیں۔ اس نے ایف آئی آر میں درج اور گواہان

صفحہ 127

استغاثہ کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی۔ اس نے استغاثہ کی طرف سے عائد کردہ الزام کی صفائی میں زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیان حلفی نہیں دیا اور نہ ہی اپنی صفائی میں کوئی گواہ پیش کیا۔

بیان قلمبند کرنے کے بعد، فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اپنے مقدمے کے حق میں دلائل کا آغاز کیا۔

دلائل سماعت کیے۔ فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ 9 گواہان استغاثہ کو اس لیے پیش کیا گیا تاکہ ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کیا جاسکے، تمام گواہان نے بتایا کہ ملزم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہدایت یافتہ خلفاء اور اہل بیت کے خلاف ناشائستہ اور غلیظ زبان استعمال کی، اس لیے استغاثہ کسی شک وشبہ کے بغیر، ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

آر کے اندراج سے قبل متعلقہ مجاز اتھارٹی سے اجازت حاصل نہیں کی گئی؛ یہ کہ مدعی، چشم دید گواہ نہیں ہے؛ یہ کہ ملزم کو اس مقدمے میں پھنسایا گیا ہے کیونکہ اس کا مالک مکان، اس سے مکان خالی کروانا چاہتا تھا؛ یہ کہ ملزم بے گناہ ہے اور اس قسم کے ناشائستہ فعل کے مرتکب ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا؛ یہ کہ استغاثہ کی گواہی درست نہیں اور مفاد پرستی پر مبنی ہے؛ یہ کہ قرآن پاک کی مسلسل تلاوت کے باعث اس کے حصے بخرے ہوگئے؛ یہ کہ استغاثہ کی طرف سے عائد کردہ الزام کے برعکس، جائے وقوعہ سے کوئی جوتے برآمد نہیں کیے گئے۔

استغاثہ نمبر 3، گواہ استغاثہ نمبر 5 اور گواہ استغاثہ نمبر 6 جائے وقوعہ کے عینی شاہد ہیں۔ جبکہ گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 4 نے سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر بیانات دیے۔ گواہ استغاثہ نمبر 7، مقدمہ ہذا کا مدعی ہے لیکن وہ چشم دید گواہ نہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 8، ایف آئی آر (Ex-PB) کا تحریر کنندہ ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 9، تفتیشی افسر ہے۔ چار چشم دید گواہان کے صاف اور واضح بیانات کے ذریعے یہ ظاہر ہوگیا کہ ان کے بیانات سے ملزم، مبینہ وقوعہ میں

صفحہ 128

مکمل طور پر ملوث ہے اور استغاثہ کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان کی متفقہ رائے ہے کہ ملزم نے قرآن پاک، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ہدایت یافتہ خلفاءؓ اور اہل بیتؓ جیسی اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کی بے حرمتی کی۔ ملزم، گواہان استغاثہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی دشمنی اور عناد ثابت نہ کر سکا۔ ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے بیان میں صرف یہ کہا کہ وہ اس سے اپنا مکان خالی کروانا چاہتے ہیں۔ تاہم، صرف ایک چشم دید گواہ، میاں محمد، گواہ استغاثہ نمبر 5، کو ملزم کے مالک مکان کا بیٹا بتایا گیا ہے۔ اگر اس کی گواہی پر غور نہ بھی کیا جائے، بقیہ تین چشم دید گواہوں کا گواہ استغاثہ نمبر 5 کے والد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ملزم کے ساتھ ان کی کوئی دشمنی ہے۔ گواہان استغاثہ نمبر 2 اور 4 نے بھی استغاثہ کے مقدمے کی توثیق کی، اس لیے، ملزم کی طرف سے پیش کیا گیا بیان معقول نہیں بلکہ کمزور ہے اور بعد میں سوچ سمجھ کر دیا گیا ہے۔ عام طور پر اگر کسی کو کسی کے ساتھ پرخاش بھی ہو تو کوئی کسی کو اس قسم کے مقدمے میں ملوث نہیں کر سکتا کہ جہاں اس کے اپنے دین (اللہ معاف کرے) کے وقار اور عزت کا معاملہ ہو۔

پایا اور اس کا چالان کر کے عدالت میں پیش کیا جبکہ کسی بھی مرحلے پر ملزم کی طرف سے تفتیش پر کوئی بھی اعتراض نہیں کیا گیا۔ اس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے فرش پر پڑے ہوئے قرآن مجید کے پھٹے ہوئے اوراق کو اپنی تحویل میں لیا۔ یہ بھی کہ ملزم کو مقدمہ ہذا میں ملوث کرنے کے لیے گواہ کا کوئی غلط مقصد نہیں تھا۔

مقصد یہ ہے کہ مالک مکان ، ملزم سے مکان خالی کروانا چاہتا ہے، اس کے متعلق مندرجہ بالا پیروں میں بحث ہو چکی ہے۔ یہ موقف کہ مسلسل تلاوت کے باعث قرآن پاک کے حصے بخرے ہو گئے ، اس کے خلاف بھر پور گواہی کی موجودگی میں اس موقف کی کوئی بنیاد نہیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 9 ، تفتیشی افسر کا بیان بھی انتہائی اہم ہے جس نے بتایا کہ اس نے فرش پر پڑے ہوئے قرآن پاک کے پھٹے ہوئے ٹکڑے اپنی تحویل میں لے لیے لیکن اس پہلو کے لحاظ سے اس پر جرح نہیں کی گئی۔ ملزم کے فاضل وکیل کی جانب سے دیگر گواہان استغاثہ کی اعتباریت پر بھی جرح کے دوران کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکا یا ان کی اعتباریت کو غلط

صفحہ 129

ثابت نہیں کیا جاسکا۔ اس کے برعکس، وہ علاقے سے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کی صفائی میں ایک بھی گواہ پیش کرنے کے قابل نہیں ہوسکا۔ حتیٰ کہ اس کی بیوی اور دیگر قریبی رشتہ دار، اس کے بے گناہی ثابت کرنے کے لیے سامنے نہیں آئے۔ یہ حقیقت، صفائی کے موقف کی سچائی کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ اس کے خلاف ایک مخالف نتیجہ آسانی سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس، تمام گواہان استغاثہ غیر جانبدار ہیں اور ان کا کوئی مفاد نہیں اور دوران جرح ان کے منہ سے ملزم کے حق میں کوئی بھی چیز اگلوائی نہیں جاسکی۔

لیے ملزم اپنے لیے کسی بھی غلط مقصد کو ثابت نہ کرسکا۔ جیسا کہ اوپر گفتگو کی گئی، ملزم کی طرف سے پیش کی گئی صفائی معقول نوعیت کی نہیں تھی۔ ملزم پر انتہائی قابل نفرت اور مکروہ فعل کا مرتکب ہونے کا الزام ہے جو نہ صرف مروجہ قانون کے تحت قابل سزا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا بھی باعث ہے جس کی طرف سے قرآن پاک میں جگہ جگہ ذکر کیا گیا ہے اور اس کے متعلق یہاں بحث ضروری نہیں۔ مندرجہ بالا حقائق کے احوال کی روشنی میں، میری یہ پختہ رائے ہے کہ استغاثہ مندرجہ بالا قانونی شقوں کے تحت، ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

دیتا ہوں، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، ملزم کو عمر قید کی سزا دیتا ہوں نیز اس پر دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی، نیز زیر دفعہ A-298 تعزیرات پاکستان، اسے تین برس کی قید بھگتنا ہوگی۔ تمام سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔ ملزم کو دفعہ B-382 مجموعہ ضابطہ فوجداری کا فائدہ دیا جائے گا۔ ملزم اس وقت تحویل میں ہے اور اسے اپنی سزا بھگتنے کے لیے جیل بھیجا جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ وامق جاوید 23 ستمبر 1999ء ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا

صفحہ 130

۞......۞......۞

صفحہ 131

جناب عبدالغفور میمن جج خصوصی عدالت

انسداد دہشت گردی میرپور خاص

سرکار بنام ریاض احمد گوہر شاہی، مارچ 2000ء

صفحہ 132
صفحہ 133

دل کی بات

دین اسلام، اس وقت سازشوں کی زد میں ہے۔ گرہ در گرہ اور پیچ در پیچ سازشیں۔ دین فطرت کے خلاف سازشوں کا سلسلہ صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے کئی روپ اور بہروپ ہیں۔ بالخصوص گزشتہ اڑھائی سو سال کے دوران تاج برطانیہ نے اپنی بساط سیاست پر ہمہ رنگ کئی مہرے سجائے۔ ان میں فتنہ انکار ختم نبوت اور فتویٰ تنسیخ جہاد قابل ذکر ہیں۔ ایران میں بہائی اور ہندوستان میں قادیانی تحریک ان سازشوں کا ایک باب ہے۔ انگریزی اقتدار کے زیر سایہ ہر اسلامی ملک میں کسی نہ کسی سیاسی ضرورت کے تحت کوئی نہ کوئی جال پھیلایا اور بچھایا گیا۔ ان میں کئی خوش رنگ اور بظاہر نیک نام تحریکیں بھی شامل ہیں۔ یہ فہرست خاصی طویل ہے اور ناقابل بیان بھی۔ تصوف دشمنی اور تصوف دوستی کے پردے میں روا رکھی جانے والی سازشوں کی ایک علیحدہ کہانی ہے۔ جہالت پیشہ متصوفین، وقتاً فوقتاً دعویٰ مہدویت کی طرف بھی راجع ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہ سادہ لوح اور کم علم عقیدت مندوں کی وفاؤں کا مرکز ومحور ٹھہرنا نیز دین کی چادر میں دنیا چھپانا چاہتے ہیں۔

باطل قوتوں نے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ تاریخی، جغرافیائی، نسلی، سیاسی، معاشی، تہذیبی اور معاشرتی طور پر تباہ کرنے کے علاوہ فکری و نظری لحاظ سے بھی بانجھ رکھنے کی منصوبہ بندی۔ آخرالذکر منصوبے کی تازہ کڑی ریاض گوہر شاہی تھا۔ پرانے انداز میں بالکل نیا فتنہ! صوفیانہ لباس میں جہالت کا برملا فروغ۔ ابتداء میں مسیلمۂ پنجاب، مرزا غلام قادیانی کا انداز بھی ہو بہو یہی تھا۔ گویا کہ گوہر شاہی اپنے پیش منظر کی نسبت سے شعوری ولاشعوری طور پر اس کا ہی جانشین ہے۔

زیر نظر مقدمہ میں گوہر شاہی کا گستاخانہ انٹرویو محض ایک نمونہ ہے، وگرنہ اس کا لٹریچر گمراہی و بدعقیدگی کا ایک قابل نفرت مجموعہ ہے۔ گوہر شاہی نے ’’انجمن سرفروشان اسلام‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی تھی جو اب بھی ہے۔ اس کے زیر سرپرستی حیدرآباد، سندھ سے

صفحہ 134

پندرہ روزہ ”صدائے سرفروش“ بھی شائع ہوتا ہے۔ اس پرچہ کا متن اور سرخیاں کسی گہری سازش کا پتہ دیتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اب تو اس تنظیم کے مکروہ خیالات، باطل نظریات اور احمقانہ بیانات کو انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا، اسے بڑے منظم اور خطرناک طریقے سے آہستہ آہستہ آگے بڑھانے پر ادھار کھائے بیٹھا ہے۔

”صدائے سرفروش“ میں ریاض گوہر شاہی کے بارے میں سیدی و مرشدی امام زمانہ، مسیحائے عالم اور مردہ دلوں کے مسیحا کے الفاظ تو جابجا لکھے ہوتے ہیں۔ ایک اشتہار کی عبارت میں ہے کہ ہم ان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ جن کی شبیہ مبارک چاند، سورج کے بعد اب حجر اسود کی زینت بن چکی ہے۔ مونو گرام کے ساتھ دوسری جگہ اسی انداز میں لکھا گیا ہے کہ عالم انسانیت کو امام مہدی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی آمد مبارک ہو۔ مزید برآں یہ کہ ایک اور جگہ سے ”امت مسلمہ کا آخری قائد“ تک کہہ دیا گیا ہے۔ گوہر شاہی حلقے کی طرف سے باقاعدہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی شباہت چاند پر دکھائی دے رہی ہے اور یہ کہ ان کا عکس خانہ کعبہ کے کونے میں حجر اسود پر واضح دکھائی دیتا ہے۔ قبل ازیں گوہر شاہی نے خود یہ انکشاف کیا تھا کہ اس کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے باضابطہ ملاقات ہوچکی ہے۔ اس بارے میں اس کا مندرجہ ذیل بیان مشتہر ہوا: ”اس سال امریکہ کے دورے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہم سے ظاہر میں ملاقات فرمائی ہے۔ اس ملاقات میں راز و نیاز کی باتیں ہوئیں، انہیں ابھی بتانے کا حکم نہیں ہے۔ یہ ملاقات 19 مئی 1997ء کو میکسیکو کے شہر طاؤس کے ایک مقامی ہوٹل میں رات کے وقت ہوئی۔“

مرحلہ اول میں یہ گستاخ مرزا قادیانی کی طرح کھل کر کوئی بات نہیں کہتا تھا۔ جب بھی پوچھا گیا تو گول مول انداز میں انکار ہی کیا، مگر بعد میں معاملہ مکمل طور پر صاف ہوگیا کہ اس نے واضح الفاظ میں امام مہدی ہونے کا دعویٰ داغ دیا۔ اس کے عقیدت مندوں کی جماعت نے جو لندن میں ”ریاض گوہر شاہی انٹرنیشنل تنظیم“ کے نام سے کام کر رہی ہے، اس کی زندگی میں یہ اعلان کیا تھا کہ ریاض گوہر شاہی کی ہدایت پر ان کے پیروکار اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ انہوں نے گوہر شاہی کی پشت پر مہدیت کی مہر کا خود مشاہدہ کیا ہے اور وہ امام مہدی ہیں۔ بناء بریں ان کی تنظیم نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا کہ حجر اسود پر ریاض گوہر شاہی کی شبیہ نظر آتی تھی، جس پر سعودی حکومت نے رنگ پھیر دیا ہے۔ اس لیے گزشتہ سال جس نے بھی حج کیا، وہ حجر اسود کو بلا واسطہ بوسہ نہیں

صفحہ 135

دے سکا اور اس وجہ سے گزشتہ سال کسی کا بھی حج قبول نہیں ہوا۔

گوہر شاہی کے بارے میں یہ بات کئی لحاظ سے لائق توجہ ہے کہ حکومت برطانیہ نے لندن میں اس کے دورہ کے موقع پر اسے باقاعدہ سیکیورٹی مہیا کی اور اسے دنیا کی ایک اہم اور تاریخ ساز شخصیت تسلیم کیا۔ نیز میڈیا میں خوب خوب کوریج دی گئی۔ خفیہ گوشے بے نقاب ہوتے اور اسلام کے خلاف یہود ونصاریٰ کی ایک اور بین الاقوامی سازش کا پتہ دیتے ہیں۔

گوہر شاہی ایک مدت سے اپنے ”کھیل“ کے لیے ماحول سازگار بنانے کے چکر میں لگا ہوا تھا۔ ابتداءً دعویٰ کیا گیا ”اب مہدی علیہ السلام آئیں گے اور پھر عیسیٰ علیہ السلام ان سے بیعت ہوں گے اور ان کو اللہ کا ذکر مل جائے گا“۔ اس کے ساتھ ہی ایک عجیب وغریب دعویٰ مشتہر کیا گیا۔ ”چونکہ چاند پر سحر (جادو) نہیں چل سکتا، اس لیے امام مہدی کی شبیہہ چاند اور سورج پر دیکھی جائے گی۔ اس سے اگلے سال مزید کہا گیا کہ لوگ اگر ہمیں امام مہدی کہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا عقیدہ ہے۔ اصل میں جس کو جتنا فیض ملتا ہے، وہ ہمیں اتنا ہی سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ تو ہمیں اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں۔ ہم انہیں اس لیے کچھ نہیں کہتے کہ ان کا عقیدہ جتنا ہماری طرف زیادہ ہوگا، ان کے لیے بہتر ہوگا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ان کے جوہر مزید کھلے اور یہ مضمون نئے ڈھنگ میں باندھا گیا ”حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لا چکے ہیں اور پاکستان کی ایک دینی تنظیم کے سربراہ ہیں“۔

ریاض احمد گوہر شاہی انٹرنیشنل کی ایک ویب سائٹ صوفی انسٹی ٹیوٹ امریکہ کے نام سے موسوم ہے۔ اس پر گوہر شاہی کے باطل افکار و مذموم نظریات کا بڑی شدت کے ساتھ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ وہ اسے ”محبت کا پیغمبر“ قرار دیتے ہیں۔ مذکورہ ویب سائٹ پر گوہر شاہی کے لیے خدمات سرانجام دینے والے بھرپور انداز میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے پاس آنے والے ہر شخص کے دل کا حال جانتا ہے۔ بے سکونی کی کیفیت سے دوچار اور زندگی سے بیزار نسل نو کے لیے فکری سطح پر یہ ایک انتہائی خطرناک ہتھیار ہے جو مکمل طور سے دشمنان اسلام کے ہاتھ میں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ گوہر شاہی کی انجمن کا مزاج فتنہ قادیانیت کی مناسبت سے متشکل ہوتا ہے۔ قادیان کے خانہ ساز نبی کے بھی ابتداء میں یہی اطوار ہوا کرتے تھے۔ فتنہ گوہر شاہیہ قادیانیوں کی ہی ایک جدید شاخ ہے۔ ریاض گوہر شاہی ایک جگہ بقلم خود تحریر کر چکا ہے کہ ایک وقت میں اس پر مرزائیت کا اثر اور غلبہ ہو گیا تھا۔

گوہر شاہی کی تحریر وتقریر کا لفظ لفظ مبنی بر جہالت، سطر سطر اذیت ناک اور ایک ایک

صفحہ 136

صفحہ زہر میں بجھا ہوا ہے۔ گویا کہ یہ توہین رسول ﷺ اور توہین قرآن کا ایک ناپاک دفتر ہے۔

زیر نظر فیصلہ جھوٹے مدعی مہدویت ریاض گوہر شاہی کے خلاف ہے جو جناب عبدالغفور میمن جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی میرپور خاص نے مارچ میں سنایا۔ مئی 1999ء میں سندھ کے مختلف اخبارات میں ملعون ریاض گوہر شاہی کا ایک متنازعہ انٹرویو شائع ہوا جس میں اس نے دین اسلام، اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن کے متعلق نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز باتیں کیں جس سے مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے رہنما علامہ احمد میاں حمادی نے ریاض احمد گوہر شاہی کے خلاف توہین رسالت ﷺ اور توہین قرآن کا ارتکاب کرنے پر مقامی تھانہ میں مقدمہ درج کروا دیا۔ 10 ماہ تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ استغاثہ کی طرف سے گواہان نے مصدقہ شواہد اور ناقابل تردید ثبوت پیش کیے گئے۔ وکلائے صفائی کی طرف سے ان پر جرح کی گئی۔ معزز جج صاحب نے تمام گواہوں اور مقدمہ کے ریکارڈ کا مفصل جائزہ لینے کے بعد ملزم ریاض گوہر شاہی کو سزائے عمر قید سنائی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم ریاض گوہر شاہی توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا ہے چونکہ وہ مفرور ہے، اس لیے ملزم کی غیر موجودگی میں اسے سزائے موت سنائی نہیں جاسکتی۔ محترم جج صاحب کا یہ فیصلہ ”فتنہ گوہر شاہیت“ کی سرکوبی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس پر محترم جج صاحب نہایت مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اس مقدمہ کے حصول کے لیے قصور کے مجاہد ختم نبوت جناب اللہ دتہ مجاہد کی کاوشیں قابل صد ستائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 137

بعدالت جناب عبدالغفور میمن جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی

ایکٹ 1997ء حکومت پاکستان میرپور خاص

ابتدائی معلومات

مقدمہ نمبر : 108/99 ایف آئی آر نمبر : 108/99 بتاریخ 20 مئی 1999ء پولیس سٹیشن : میرپور خاص بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-B، 295-C

سرکار

بنام

ریاض احمد گوہر شاہی ولد فضل احمد، ذات مغل، سکنہ خدا کی بستی کوٹری (مفرور) (ملزم)

وکیل منجانب سرکار: انور جمال ایڈووکیٹ وکیل منجانب ملزم: نظام الدین پیرزادہ ایڈووکیٹ

صفحہ 138

تاریخ فیصلہ: 11 مارچ 2000ء

فیصلہ

جناب عبدالغفور میمن جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی میرپورخاص

مندرجہ بالا ملزم (ریاض احمد گوہر شاہی) نے اپنے خلاف جرائم زیر دفعہ 295۔اے، بی، سی تعزیرات پاکستان، زیر دفعہ 8 انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء اور زیر دفعہ 6۔ب انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر نمبر 108/99 کی بناء پر کارروائی کا سامنا کیا۔

اس مقدمہ کے واقعات یہ ہیں کہ مدعی علامہ احمد میاں حمادی نے 20 مئی 1999ء بوقت دوپہر ساڑھے بارہ بجے پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم میں ایف آئی آر درج کروائی جس کے مطابق وہ ایف آئی آر میں دیئے گئے پتے پر سکونت رکھتے ہیں اور مسجد ختم نبوت کے خطیب اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے صوبائی کنویز ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق مورخہ 8 دسمبر 1998ء کو بوقت نو بج کر دس منٹ پر صبح، مدعی اپنے دفتر میں موجود تھا، اس نے کسی کو روزنامہ ”امت“ کراچی اور روزنامہ ”کاوش“ حیدرآباد خریدنے کے لیے بھیجا، جس میں اس نے ریاض احمد گوہر شاہی کا انٹرویو پڑھا جس میں ریاض احمد گوہر شاہی نے کہا کہ:

شاہی لکھا ہے، کی تصدیق کی اور کہا کہ اس چھپائی یا اشاعت میں کوئی مضائقہ نہیں“۔

صفحہ 139

بارے میں اپنے مریدوں کے حوالے سے کہا کہ (الف) کا مطلب ”اللہ“ (لام) کا مطلب ”لا الہ الا اللہ“ اور (ر) ”ریاض احمد“ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

میں حجر اسود پر نمودار ہوئی ہے، اور ریاض احمد نے اس کی کوئی تردید نہیں کی۔“

رسول پاک کے دوران جہاد استعمال ہونے والے قیمتی گھوڑوں کے مشابہ قرار دیا ہے اور اس کو درست کہا ہے۔“

عبادت قرار دیا ہے۔ اور غیر اسلامی چیزوں کو اہمیت دی ہے اور بنیادی اسلامی ارکان کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے توہین رسالت ﷺ اور توہین قرآن پاک کی ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ مدعی کے مطابق اس نے صوبائی ایڈمنسٹریشن کو قانونی اقدام کے لیے درخواست دی اور ان الزامات کے ثبوت میں ویڈیو اور آڈیو کیسٹ پیش کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ ایف آئی آر نمبر 108/99 پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ زیر دفعہ 295 اے، بی، سی تعزیرات پاکستان اور زیر دفعہ 8 انسداد دہشت گردی ایکٹ کے طور پر درج کی گئی۔ تفتیش کے دوران ملزم کو گرفتار نہ کیا جا سکا، لہٰذا اس کو چالان میں جو کہ اس عدالت میں پیش کیا گیا، مفرور دکھایا گیا۔

چونکہ ملزم کو چالان میں مفرور رکھا گیا ہے، اس لیے مختلف تاریخوں میں اس کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے، مگر ان میں سے کسی کی بھی تعمیل نہ ہو سکی اور بالآخر عدالتی سمن رساں ایس ایچ او پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملزم اپنی گرفتاری کے خطرے کی وجہ سے ملک سے فرار ہو گیا اور امریکہ چلا گیا اور یہ کہ اس کی گرفتاری کے امکانات نہیں۔ اس عدالتی سمن رساں کا حلفیہ بیان قلمبند کرنے کا حکم دیا گیا جو کہ قلمبند کیا گیا۔ بعد ازاں حلفیہ بیان کی بنیاد پر مورخہ 20 جنوری 2000ء کو ایک حکم جاری کیا گیا، جس کے تحت ملزم کی غیر حاضری میں کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 512 کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 19(10) کے تحت کیا گیا، اس شرط

صفحہ 140

کے تحت کہ اخبارات جن میں سے ایک اردو کا ہو، میں اعلان شائع کیا جائے۔ لہٰذا ضروری اشتہارات روزنامہ ”ڈان“ مورخہ 24 جنوری 2000ء، روزنامہ ”جسارت“ مورخہ 25 جنوری 2000ء اور سندھی روزنامہ ”سندھ“ مورخہ 23 جنوری 2000ء میں شائع کیے گئے مگر اس کے باوجود ملزم سات یوم کے اندر عدالت میں حاضر نہ ہوا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس تاریخ کو چالان پیش کیا گیا یعنی مورخہ 2 اگست 1999ء کو جناب نثار احمد درانی ایڈووکیٹ نے ملزم کی طرف سے وکالت نامہ داخل کیا اور متفرق درخواست داخل کی جس میں صحیح حالات اور واقعات جو کہ درخواست میں دیئے گئے تھے، کو مدنظر رکھتے ہوئے، صحیح اور قانونی حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔ اس درخواست کا نوٹس معزز وکیل استغاثہ کو دیا گیا، مگر ملزم کو حکم دیا گیا کہ وہ پہلے عدالت کے سامنے پیش ہو، یہ درخواست فیصلہ طلب ہے، اور جناب نثار احمد درانی ایڈووکیٹ اس کے ساتھ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ بالآخر جب سرکاری خرچ پر وکیل رکھا گیا تو اس درخواست پر یکم مارچ 2000ء کو لاحاصل ہونے کی بناء پر خارج کرنے کا حکم جاری کیا گیا، کیونکہ ملزم کی درخواست رو برو عدالت عالیہ سندھ عدم تعمیل کی وجہ سے خارج کر دی گئی تھی۔ معزز عدالت عالیہ سندھ کا حکم فاضل وکیل استغاثہ نے اس عدالت میں پیش کیا، جس کی ایک نقل اس عدالت کے حکم پر مورخہ یکم مارچ 2000ء کے ساتھ منسلک ہے۔

عدالت نے سرکار کے خرچے پر جناب نظام الدین پیر زادہ کو ملزم کا دفاع کرنے کے لیے مقرر کیا۔ اس عدالت نے ملزم کے خلاف چالان زیر دفعہ 295 اے، بی اور سی تعزیرات پاکستان اور دفعہ 8 تعزیرات پاکستان جو کہ زیر دفعہ 9 انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مستوجب سزا ہے اور زیر دفعہ 6 (ب) جو کہ دفعہ 7 انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مستوجب سزا ہے، پیش کیا۔ چونکہ ملزم مفرور ہے، اس لیے متعلقہ فارم میں ”عذر“ کے خانے میں یہ کہا گیا کہ: تصور کیا جائے گا کہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ اس سے قبل میں نے عدالت کے پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر زیر دفعہ 16 انسداد دہشت گردی ایکٹ مطلوبہ حلف اٹھایا۔

استغاثہ نے مستغیث کی جانب سے گواہی ریکارڈ کرنے سے قبل ایک درخواست ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 کے تحت دائر کی جس میں سول جج اور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ ٹنڈو

صفحہ 141

آدم کو بوجہ ان کا بیان اہم ہونے کے، اور مستغیث کا نام گواہوں کی فہرست میں نہ ہونے کے طلب کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

وکیل دفاع کی طرف سے عدم اعتراض کے بموجب اس درخواست کو منظور کیا گیا، بعد ازاں استغاثہ نے اپنا کیس پایہ ثبوت کو پہنچانے کے لیے مستغیث علامہ احمد میاں حمادی کو بطور گواہ پیش کیا۔ اس گواہ نے ایف آئی آر، اجازت نامہ از ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سانگھڑ زیر دفعہ 196 ضابطہ فوجداری، روزنامہ ”امت“ (اصل)، سندھی روزنامہ ”کاؤش“ (اصل) اور ایک کتاب جس کا نام ”گوہر حق کی آواز“ تھا، پیش کی جس کا نام سبز مارکر سے کتاب کے سامنے والے صفحہ پر لکھا ہوا تھا۔ استغاثہ نے ایک اور درخواست ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت دائر کی جس میں ڈی ایس پی ٹنڈو آدم شوکت علی کھتیان کو طلب کرنے کی استدعا کی گئی تھی، جنہوں نے ویڈیو کیسٹ ریکارڈ کی تھی، جن کا نام چالان میں نہیں تھا۔ یہ درخواست بھی وکیل دفاع کے عدم اعتراض کے باعث قبول کی گئی۔ بعد ازاں، استغاثہ نے ایک بیان داخل کیا جس کے ذریعے استغاثہ نے گواہ یار محمد کا نام ترک کر دیا۔

اس کے بعد استغاثہ نے گواہان استغاثہ گلزار احمد، محمد اظفر، عبدالحفیظ عابد، جس نے اسٹیکر پیش کیا، کو عدالت میں گواہی کے لیے پیش کیا۔ اس کے بعد محمد ناصر کو پیش کیا گیا جس نے روزنامہ امت، پبلک، انتخاب، پرچم، احتساب، جرأت، سندھو، عبرت، سچ، پھکار اور پندرہ روزہ صدائے سرفروش کی کٹنگ کی فوٹو کاپیاں پیش کیں۔ اس کے بعد استغاثہ نے مشیر شفیق کو گواہی کے لیے پیش کیا، اس نے جائے واردات کا مشیر نامہ اور اخبارات، اسٹیکر، میگزین ”شہادت“ کے صفحہ نمبر 20 کی فوٹو کاپی اور ایک پوسٹر کا مشیر نامہ پیش کیا۔ اس مشیر نے ملزم کے ویڈیو کیسٹ کی برآمدگی کا مشیر نامہ بھی پیش کیا۔ مشیر نے اپنا قومی شناختی کارڈ بھی پیش کیا جس کی نقل لے کر اصل کو واپس کر دیا گیا۔

اس کے بعد اے ایس آئی محمد اسحاق، جس نے ایف آئی آر لکھی تھی اور 161 کے تحت گواہان کا بیان لکھا تھا، کی گواہی قلمبند کی گئی، اس نے اپنی درخواست بنام ایس ڈی پی او ٹنڈو آدم برائے طلبی اجازت روانگی برائے دادو، جہاں ملزم رہائش پذیر ہے اور اجازت جو کہ اس درخواست پر دی گئی تھی، پیش کی۔ بعد ازاں سول جج اور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ ٹنڈو آدم جناب عبدالحئی میمن کو پیش کیا گیا، جنہوں نے استغاثہ کے گواہان عبدالحفیظ عابد، ناصر، محمد اظفر

صفحہ 142

اور گلزار کا بیان زیر دفعہ 164، ضابطہ فوجداری قلمبند کرنے کے لیے ایس ایچ او کی درخواست پیش کی۔ انہوں نے مندرجہ بالا گواہان کے بیانات زیر دفعہ 164 ضابطہ فوجداری بمعہ ان کے شناختی کارڈ کی نقول کے پیش کیے۔ اس کے بعد سب انسپکٹر عظیم رندھاوا پولیس اسٹیشن منگلی کو پیش کیا گیا جس نے کیس کی کچھ تفتیش کی تھی، اس نے چند اخبارات کے تراشے اور سرفروش پبلی کیشنز کی کتاب یادگار لمحات ”گوہر“ اور ”روحانی سفر“ نامی کتابوں کے کچھ صفحات کی نقول اور ان کتابوں کی ریکوری کا مشیر نامہ پیش کیا۔ اس گواہ نے اسلامک نیشنل نامی کتابچہ، مستغیث کا خط بنام اے ایس پی، اخبار کے تراشوں کی برآمدگی کا مشیر نامہ، ویڈیو کیسٹ، اور روزنامہ جرأت کی نقل پیش کی۔ آخر میں استغاثہ نے پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم کے ایس ایچ او انسپکٹر خالد مگر کو گواہی کے لیے پیش کیا، جس نے روزنامہ ”امت“ کی نقل کا تصدیق نامہ پیش کیا۔ استغاثہ نے گواہ شوکت علی کھتیان کو پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں استغاثہ نے درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ویڈیو کیسٹ کورٹ میں دکھائی جائے، جس کے لیے استغاثہ نے تمام انتظامات کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد یہ درخواست قبول کی گئی اور ویڈیو کیسٹ مورخہ 8 مارچ 2000ء کو دیکھنے کا حکم ہوا، جو کہ وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی کی موجودگی میں دیکھی گئی۔

اس سے قبل مورخہ 7 مارچ 2000ء کو وکیل صفائی نے ایک بیان داخل کیا کہ ملزم مفرور ہے اور اس کی رہائش کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اس لیے اس کا بیان زیر دفعہ 342 ضابطہ فوجداری قلمبند نہ کیا جا سکا اور یہ کہ اس کے نمائندے کو گواہی دینے کی اجازت دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی فاضل وکیل نے ایک درخواست زیر دفعہ 540 ضابطہ فوجداری دائر کی جس میں ملزم کے نمائندے شبیر احمد کو بلانے کی درخواست کی کہ اس کی گواہی کیس کا منصفانہ فیصلہ کرنے کے لیے اشد ضروری ہے۔ گو کہ وکیل استغاثہ نے اس درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا مگر عدالت نے ریکارڈ کی چھان پھٹک کے بعد فیصلہ کیا کہ ملزم جان بوجھ کر غیر حاضر رہا، مفرور ہے یا پھر کم از کم وہ کیس کا سامنا کرنے سے احتراز کر رہا ہے اور یہ کہ ملزم کو کیس کے بارے میں معلوم ہے جیسا کہ اس کی پچھلی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے جو کہ اس نے وکیل یوسف لغاری کے ذریعہ داخل کی تھی۔ لہٰذا اس کے نمائندے کو ملزم کے گواہ کی حیثیت سے گواہی دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مگر انصاف کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے، مذکورہ

صفحہ 143

نمائندے کو بحیثیت عدالتی گواہ پیش ہونے کی اجازت دے دی گئی۔

بعد ازاں شبیر احمد کو عدالتی گواہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ اس گواہ نے قرآن مجید کا ایک نسخہ، کتاب مشکوٰۃ شریف، شمائل ترمذی، انجمن سرفروشان اسلام کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، اس کے اہداف اور نظریات کی نقل، روزنامہ ”امت“ مورخہ 3 دسمبر 1998ء اور 19 جولائی 1997ء روزنامہ ”جرأت“ سندھو، سچ، عبرت، بختاور، پندرہ روزہ صدائے سرفروش کے اصل تراشے اور اخبارات پرچم، جرأت، انتخاب کے تراشوں کی نقول اور روزنامہ ”پبلک“ کے اصل تراشے پیش کیے۔ اس نے آئی جی سندھ کو دی گئی درخواست کی کاپی بھی پیش کی۔ پھر ڈپٹی کمشنر میر پور خاص کے نام درخواست اور اس پر صادر کیے گئے احکامات، ہائی کورٹ کے نوٹس کی کاپی، ٹی سی ایس کی رسید، کمشنر میر پور خاص کے معاملات کا تبصرہ اور ہائی کورٹ سرکٹ بنچ کا حکم پیش کیا۔

چونکہ ملزم مفرور ہے اور نہ ہی اس کا اپنے کیس کے بارے میں حلفیہ بیان قلمبند کیا گیا ہے، نہ ہی کوئی گواہ ان کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، اس وجہ سے ویڈیو کیسٹ دیکھنے کے بعد حتمی دلائل سنے گئے۔

مندرجہ ذیل نکات توجہ طلب ہیں:

ہوئی ہے، میں کہا ہے کہ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سکھاتے ہیں، وہی وہ لوگوں کو بتاتے ہیں اور یہ کہ وہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کرتے رہتے ہیں اور محمد رسول اللہ کی جگہ جو ”ریاض احمد گوہر شاہی“ اسٹیکر میں لکھا ہوا ہے وہ کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، اور اپنے مریدوں کے ذریعے اپنے آپ کو امام مہدی کہلوایا اور دعویٰ کیا کہ اس کی شبیہ، تصویر حجر اسود میں نمودار ہوئی ہے اور اس نے پرتعیش کاروں میں نوجوان لڑکیوں کے ہمراہ اپنے سفر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد کے دوران نایاب گھوڑوں سے تشبیہ دی ہے اور نماز اور روزوں کو ظاہری عبادت سے تشبیہ دی ہے اور ان عبادات کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں؟

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، قرآن شریف اور حجر اسود کی شان میں گستاخی کی ہے؟

صفحہ 144

میں آتا ہے؟

میں نے جناب انور کمال فاضل وکیل استغاثہ اور جناب نظام الدین پیرزادہ، فاضل وکیل صفائی سرکار کی طرف سے دلائل کو سنا۔

فاضل وکیل استغاثہ نے 472 ایس سی ایم آر 1995ء، پی ایل ڈی 15، 1994 ایم ایل ڈی، 812 پی سی آر ایل جے، 1995 اور 10 ایس سی ایم آر، 1991 پی ایل ڈی پر انحصار کیا جبکہ وکیل صفائی نے 782 ایس سی ایم آر 1981ء پر انحصار کیا۔ میں نے کیس کی فائل کا تفصیل سے معائنہ کیا ہے اور شہادتوں کا بھی جو کہ قلمبند کی گئی ہیں، مندرجہ بالا نکات پر میری عدالت کی تجویز مندرجہ ذیل ہے:

دس سال قید با مشقت کی سزا اور پانچ ہزار روپے جرمانہ، عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید 6 ماہ قید، ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 بی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت ملزم کو سزائے موت اس لیے نہیں دی جا رہی کہ کیس کو ملزم کی غیر حاضری میں چلایا گیا ہے۔ ملزم کو سات سال قید با مشقت اور تیرہ ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی دی جاتی ہے اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں 8 ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔ ملزم کو زیر دفعہ 6 (ب) انسداد دہشت گردی ایکٹ جو کہ زیر دفعہ 7 (ب) مذکورہ ایکٹ قابل سزا ہے، عمر قید

صفحہ 145

اور پچاس ہزار روپے سزا دی جاتی ہے اور بصورت عدم ادائیگی مزید ایک سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔ سزائے قید علیحدہ علیحدہ یکے بعد دیگرے نافذ العمل ہوں گی۔

وجوہات: مندرجہ بالا نتائج کے لیے مندرجہ ذیل ہیں:

نکات 1 اور 2:

ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف درج کیے گئے الزامات کے سلسلے میں مستغیث نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں ایف آئی آر میں درج الزامات کی تصدیق کی ہے۔ اپنی گواہی میں اس نے کہا کہ وہ محکمہ اوقاف کے ضلعی خطیب اور جامع مسجد ٹنڈو آدم کے خطیب ہیں۔ وہ مجلس عمل ختم نبوت کے صوبائی کنوینز بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی گواہی میں کہا کہ انہوں نے مورخہ 8 دسمبر 1998ء کو دو اخبارات روزنامہ ”امت“ اور روزنامہ ”کاوش“ خریدے جبکہ یار محمد، اظفر، گلزار اور ایک دو دوسرے اشخاص ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جبکہ وقت تقریباً 9 بجے یا سوا نو بجے کا تھا۔ دونوں اخبارات میں ریاض احمد گوہر شاہی کا انٹرویو چھپا تھا۔ انہوں نے انٹرویو پڑھنے کے بعد اخبار اپنے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی پڑھنے کو دیا۔ انہوں نے انٹرویو میں شامل قابل اعتراض حصوں کی نقل بھی دی جو کہ ایف آئی آر میں درج ہے اور یہ کہ انٹرویو پڑھنے سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کے قابل اعتراض انٹرویو کے سلسلے میں انہوں نے ایک درخواست ایس ایچ او پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم اور ایس ایس پی سانگھڑ کو دی اور اسی طرح کی درخواست ڈی سی سانگھڑ اور ہوم سیکرٹری کو بھی دی جس میں اجازت طلب کی گئی تھی کہ ملزم کے خلاف ایف آئی آر زیر دفعہ 295 اے تعزیرات پاکستان اور دفعہ 8 انسداد دہشت گردی ایکٹ درج کی جائے۔ بعد ازاں اجازت ملنے پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سانگھڑ کے اجازت نامہ کو عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر وکیل صفائی نے اعتراض کیا کہ یہ مواد مستغیث نے اپنی جیب سے پیش کیا ہے، لہٰذا گواہی میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس اعتراض کا فیصلہ آخری مباحثے کے وقت طے کرنے کا حکم دیا گیا۔ مگر آخری مباحثہ کے وقت انہوں نے اس اعتراض کے بارے میں دلائل نہیں دیئے۔ لہٰذا یہ تصور کیا گیا کہ انہوں نے اپنے اعتراض پر زور نہیں دیا۔ مستغیث نے روزنامہ امت 8 دسمبر 1998ء کی نقل پیش کی، اور ساتھ ہی روزنامہ کاوش

صفحہ 146

کی بھی اسی تاریخ کی نقل پیش کی۔ جرح کے وقت اس کی گواہی منتشر نہیں تھی۔ اس مقدمے میں گواہان استغاثہ عبدالحفیظ، عابد اور محمد ناصر اہم گواہان ہیں۔

عبدالحفیظ عابد نے اپنی گواہی میں کہا کہ وہ این این آئی کے بیورو چیف ہیں اور روزنامہ ”امت“ کے حیدرآباد کے لیے بیورو چیف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہ دسمبر میں ایک اسٹیکر ریاض احمد گوہر شاہی کا ملا جو کہ انہوں نے روزنامہ ”امت“ میں شائع کیا۔ اس اسٹیکر میں ریاض احمد گوہر شاہی کی شبیہ چاند، سورج اور حجر اسود میں دکھائی گئی، اس پر کلمہ طیبہ بھی لکھا ہوا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ”ریاض احمد گوہر شاہی“ لکھا ہوا تھا، گواہ نے مزید کہا کہ اس اسٹیکر کی اشاعت کے بعد انجمن سرفروشان اسلام، جو کہ ریاض احمد گوہر شاہی کی تنظیم ہے، کا ایک وفد ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ چونکہ انہیں (یعنی گواہ کو) ریاض احمد گوہر شاہی کے متعلق کچھ غلط فہمیاں ہیں، لہٰذا وہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے گواہ مذکورہ کو ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

یہ پریس کانفرنس مورخہ 7 دسمبر 1998ء کو آستانہ گوہر شاہی خدا کی بستی کوٹری میں ہوئی۔ گواہ نے نمائندہ امت ناصر شیخ اور این این آئی کے نمائندے عابد لاکھڑ کو پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا، جنہوں نے پریس کانفرنس کی روئیداد کو کیسٹ میں اور قلم کے ذریعے نوٹ کیا۔

گواہ نے کہا کہ پریس کانفرنس کی روئیداد کے نوٹس اور کیسٹ ملنے پر انہوں نے انٹرویو کے بارے میں مواد اکٹھا کیا اور اس کو این این آئی کے ذریعے دوسرے اخبارات کے علاوہ اپنے اخبار روزنامہ امت میں بھی شائع کیا۔ گواہ نے کہا کہ پریس کانفرنس کی روئیداد کی اشاعت کے بعد مولانا احمد میاں حمادی نے ان سے رابطہ کیا اور دریافت کیا کہ کیا وہ اس انٹرویو کی حقانیت کا اقرار شائع کرنے کو تیار ہیں؟ بعد ازاں وہ ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن گئے، جہاں پر گواہ کا بیان لیا گیا جس میں انہوں نے اخبار میں شائع شدہ پریس کانفرنس کے بارے میں حقائق کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد ایک پولیس آفیسر ان کو کورٹ لے کر گیا، جہاں پر ان کا بیان لیا گیا، انہوں نے اقرار کیا کہ روزنامہ امت اور روزنامہ کاوش وہی ہیں جن میں انٹرویو چھپا تھا۔ گواہ نے اسٹیکر بھی عدالت کے روبرو پیش کیا، جرح کے دوران گواہ کے بیان سے کسی قسم کا تضاد ظاہر نہ ہوسکا۔

جہاں تک گواہ محمد ناصر کا تعلق ہے، اس نے اپنی گواہی میں کہا کہ وہ روزنامہ امت

صفحہ 147

حیدرآباد کے لیے رپورٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مورخہ 7 دسمبر 1998ء کو دوپہر 12 بجے انجمن سرفروشان اسلام کے کچھ نمائندوں نے اخبارات کے رپورٹرز کو پریس کلب سے اپنی گاڑیوں میں کوٹری پہنچایا، جہاں پر ان کو مدرسہ، مسجد اور مسافر خانے کا دورہ کرایا۔ گواہ نے کہا کہ مرکزی داخلی دروازے پر ایک اسٹیکر نمایاں تھا ”لا الہ الا اللہ“ کے بعد ”ریاض احمد گوہر شاہی“ لکھا ہوا تھا اور اس کی شبیہ اسٹیکر کے چاروں کونوں میں چاند، سورج اور حجر اسود میں دکھائی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کو ریاض احمد گوہر شاہی کے آستانے پر لے جایا گیا جہاں پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا اور اس نے نوٹس لیے۔ یہ نوٹس گواہ نے اپنے بیورو چیف کو اشاعت کے لیے فراہم کیے۔ اس کے بعد مورخہ 28 دسمبر 1998ء کو وہ پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم گئے جہاں ان کا بیان ہوا۔ بعد ازاں ان کو مجسٹریٹ درجہ اول کے پاس لے جایا گیا، جہاں ان کا بیان زیر دفعہ 164، ضابطہ فوجداری ریکارڈ ہوا۔ اسٹیکر کے بارے میں انہوں نے تصدیق کی کہ یہ وہی ہے جو انہوں نے دیکھا تھا۔ جرح کے دوران ان کے بیان میں بھی کسی قسم کا فرق نہ آیا، لیکن صرف جرح کے دوران انہوں نے کہا کہ مستغیث مولانا حمادی مجسٹریٹ کے ساتھ تقریباً 20 منٹ رک رہے، جب دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ان کا بیان قلمبند ہو رہا تھا۔

فاضل وکیل صفائی نے میری توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ مولانا حمادی کس قدر اثر و رسوخ کے حامل ہیں اور یہ کہ بیانات زیر دفعہ 164 صرف ان کے اثر و رسوخ کے تحت قلمبند کیے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں، میں اتنا کہوں گا کہ اگر وکیل صفائی کے بیان کو درست تسلیم کیا جائے اور بیانات زیر دفعہ 164 کو رد کر دیا جائے اور شہادت سے نکال دیا جائے، تب بھی ان دو گواہان کی شہادت، ان کے دفعہ 164 کے بیانات کے بغیر کافی شہادت ہے۔ ان گواہان پر جرح کے دوران یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی ہے کہ ان گواہان کو سرے سے سول جج اور مجسٹریٹ درجہ اول کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا۔

مندرجہ بالا گواہان عبدالحفیظ عابد اور محمد ناصر کے علاوہ، گواہان استغاثہ گلزار احمد اور اظفر کی گواہی بھی موجود ہے۔ ان دونوں نے اپنی گواہی میں کہا ہے کہ وہ جامع مسجد ٹنڈو آدم میں موجود تھے جہاں پر مستغیث اور دوسرے بھی موجود تھے، اور یہ کہ وقت تقریباً صبح 9 بج کر دس منٹ کا تھا اور یہ کہ روزنامہ ”کاوش“ حیدرآباد، روزنامہ ”امت“ کراچی خریدے گئے تھے جو کہ انہوں نے پڑھے، جس میں ریاض احمد گوہر شاہی کا انٹرویو شائع ہوا تھا۔ انہوں نے انٹرویو کے

صفحہ 148

اقتباسات دیئے، جس کے سلسلے میں ریاض احمد گوہر شاہی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے اور ایف آئی آر اور دعوے کی تصدیق کی ہے۔ ان دونوں نے کہا کہ انٹرویو کی وجہ سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ان دو گواہان کی گواہی میں بھی جرح کے ذریعے کوئی فرق پیدا نہ کیا جا سکا۔

اس کیس میں استغاثہ نے محمد شفقت کو بھی پیش کیا جس نے جائے واردات کے مشیر نامے ، روزنامہ ”امت“ مورخہ 8 دسمبر 1998ء کی کٹنگ، مذکورہ اسٹیکر اور دوسرے کاغذات کی برآمدگی کی تصدیق کی۔ مشیر نے کہا کہ 15 جولائی 99ء کو مولانا حمادی نے تین ویڈیو کیسٹ ایس ایچ او ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن کے روبرو ان کی موجودگی میں پیش کیے اور مشیر نامہ تیار کیا گیا، جس پر اس نے دستخط کیے، انہوں نے مشیر نامے کی تصدیق کی۔ گواہ نے تین ویڈیو کیسٹ، روزنامہ ”امت“ کی کٹنگ اور دوسری برآمد کی گئی اشیاء کی تصدیق کی۔

عملہ تفتیش کی جانب سے اے ایس آئی محمد اسحق، جس نے ایف آئی آر، بیانات زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری، مشیر نامہ جائے واردات، اخبارات، اسٹیکر اور دوسری اشیاء کی برآمدگی کی اور اس کیس کی کچھ تفتیش کی ہے، پر جرح ہوئی۔ اس گواہ نے تصدیق کی کہ مشیر نامے اس نے تیار کیے ہیں اور اشیاء درج شدہ کو اس نے برآمد کیا ہے۔

اس گواہ کی شہادت کو بھی وکیل صفائی دوران جرح کمزور نہ کر سکا۔

جناب عبدالحئی سول جج و مجسٹریٹ درجہ اول کو بھی پیش کیا گیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ گواہان کے بیانات زیر دفعہ 164 انہوں نے قلمبند کیے تھے، ملزم کے حق میں کوئی قابل ذکر بیان ان سے اخذ نہ کیا جا سکا۔ وکیل صفائی نے صرف بیانات زیر دفعہ 164 کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں یہ بات سامنے لائی گئی کہ ایس ایچ او کے خط بنام سول جج برائے قلمبندی بیان زیر دفعہ 164 پر جج کے حکم کے نیچے مہر موجود نہیں۔ مگر چونکہ مذکورہ خط کورٹ کی فائل سے تیار کیا گیا ہے، جو کہ روزمرہ کے معمولات کا حصہ ہے، لہذا اس پر عدالت کی مہر کی ضرورت نہیں۔

سب انسپکٹر محمد عظیم جو کہ اس وقت پولیس اسٹیشن مانگلی کے ایس ایچ او تھے اور انہوں نے اس کیس کی کچھ تفتیش کی تھی، اس گواہ نے اپنی کارروائی کے بارے میں شہادت قلمبند کروائی جس کو جرح کے دوران کمزور نہ کیا جا سکا۔

گواہ استغاثہ خالد منگڑا ایس ایچ او پولیس اسٹیشن ٹنڈو آدم نے اپنی گواہی میں کہا کہ

صفحہ 149

انہوں نے تین ویڈیو کیسٹ مشیر نامے کے تحت وصول کیے اور تصدیق کی کہ مشیر نامے پر ان کے دستخط ہیں۔

اس کیس میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں جانب سے فوٹو کاپیاں پیش کی گئیں اور دونوں جانب سے ان فوٹو کاپیوں کی قبولیت پر اعتراض کیا گیا۔ وکیل سرکار نے وکیل صفائی کے اعتراض پر کہا کہ فوٹو کاپیاں گواہی میں قابل قبول ہیں کیونکہ مشینی ذریعے سے حاصل کی گئی ہیں۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ایک طرف وہ فوٹو کاپیوں پر اعتراض کرتے ہیں اور دوسری طرف فوٹو کاپیوں کو جو کہ مشینی عمل کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں، قابل قبول کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ فوٹو کاپیاں اس وقت تک قابل قبول نہیں، جب تک اصل پیش نہ کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر وجہ نہ بیان کی جائے۔ لہٰذا دونوں طرف سے پیش کی گئی فوٹو کاپیاں نظر انداز کی جاتی ہیں۔

فاضل وکیل صفائی نے یہ نکتہ اٹھایا کہ 1981 SCMR 734 کے تحت اخبارات کی خبر گواہی میں شامل نہیں، لہٰذا اقتباسات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ مگر میں اس سے متفق نہیں کیونکہ قانون اب بدل چکا ہے اور 1995 PCr. L J میں یہ کہا گیا ہے کہ اخبارات کی رپورٹ، اگر رپورٹر ان کی تصدیق کریں، قابل قبول ہیں، اس کیس میں چونکہ عبدالحفیظ عابد بیورو چیف این این آئی اور روزنامہ ”امت“ کراچی اور اسی طرح محمد ناصر شیخ روزنامہ ”امت“ کراچی کے رپورٹر کو پیش کیا گیا، جنہوں نے مذکورہ خبر کی تصدیق کی، لہٰذا وکیل صفائی کے اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں۔

اس کیس میں دونوں جانب سے کچھ کتابیں پیش کی گئی، مستغیث نے ایک کتاب پیش کی جبکہ عدالت کے گواہ شبیر احمد نے جو کہ اپنے بیان کے تحت ملزم کا نمائندہ ہے، ملزم کے دفاع میں قرآن مجید، مشکوٰۃ شریف، شمائل ترمذی پیش کی۔ مشکوٰۃ شریف اور شمائل ترمذی کو ناشر یا مصنف کی جانب سے تصدیق کی عدم موجودگی میں زیر غور نہیں لاسکتا۔ عدالت صرف کتب قوانین، نوٹیفکیشن، کیلنڈر اور قرآن شریف کا نوٹس لے سکتی ہے، مگر مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر ان کتابوں کا نوٹس نہیں لے سکتی۔ جہاں تک قرآن شریف کا تعلق ہے، اسے عدالتی گواہ شبیر احمد نے پیش کیا ہے مگر اس نے صرف اتنا کہا ہے کہ ملزم ریاض احمد گوہر شاہی اس قرآن شریف اور احادیث کی روشنی میں تعلیم دیتا ہے، مگر اس نے کسی آیت یا سپارے کا ذکر نہیں کیا۔

صفحہ 150

فاضل وکیل صفائی نے اپنے بیان میں گواہ استغاثہ گلزار احمد، محمد اظفر، عبدالحفیظ عابد، محمد ناصر سے کیے گئے سوالات کی طرف اشارہ کیا۔ پہلے انہوں نے یہ کہا کہ گلزار احمد اور محمد اظفر کے دستخط جو کہ ان کے بیانات زیر دفعہ 164 پر ہیں اور جو کہ ان کے شناختی کارڈ پر ہیں، ان میں فرق ہے، اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ مذکورہ اشخاص سول جج اور مجسٹریٹ درجہ اول کے روبرو اپنا بیان زیر دفعہ 164 ضابطہ فوجداری قلمبند کرانے حاضر نہیں ہوئے، مگر بیانات زیر دفعہ 164 اور شناختی کارڈ ملاحظہ کرنے کے بعد میرے خیال میں مذکورہ افراد کے دستخطوں میں کوئی فرق نہیں۔ فاضل وکیل صفائی نے کہا کہ گواہان عبدالحفیظ عابد، محمد ناصر نے اپنے بیانات میں اضافہ کیا ہے اور کچھ واقعات جو کہ انہوں نے اپنی شہادت میں قلمبند کرائے ہیں ان کا ذکر ان کے بیانات زیر دفعہ 164 میں اور زیر دفعہ 161 میں موجود نہیں ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ اعتراض ان کی شہادت کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں۔

PLD 1999 S.C 1444 میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی کمزور بات کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ اس کو زیادہ سے زیادہ وضاحتی بیان کہا جا سکتا ہے، مگر بیان میں بہتری نہیں کہا جا سکتا جس کو قانون میں ترقی کے بعد رد نہیں کیا جا سکتا۔

میرے سامنے یہ بھی کہا گیا ہے کہ گواہان استغاثہ گلزار، اظفر، عبدالحفیظ عابد اور محمد ناصر شیخ کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اسلام اور مذہب کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، لہٰذا ان کا کہنا کہ ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں یا یہ کہ ملزم کا عمل قابل اعتراض ہے، اس کو زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔ میں فاضل وکیل صفائی سے اس بناء پر متفق نہیں کہ کم از کم ان گواہان کو دین اور اسلام کے بارے میں عام معلومات ہیں اور اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ان کے جذبات مجروح ہوئے اور یہ کہ ملزم کا عمل قابل اعتراض ہے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن سے ایس ایچ او مانگلی کو منتقلی کے بعد مستغیث نے تین ویڈیو کیسٹ پیش کیں، اور یہ کہ جب تفتیش ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن سے لے کر ایس ایچ او مانگلی کے سپرد کی جا چکی تھی ”اس قسم کی برآمدگی نہیں کی جا سکتی تھی“۔ چونکہ یہ اعتراض بھی تکنیکی نوعیت کا ہے لہٰذا PLD. 1999. S.C. 1444 کو مدنظر رکھتے ہوئے رد کیا جاتا ہے، بصورت دیگر بھی ایف آئی آر ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی اور ایس ایچ او ٹنڈو آدم نے ہی کیس کا چالان پیش کیا تھا۔ وکیل صفائی، موجودہ

صفحہ 151

کارروائی کے قانونی جواز کو زیر بحث لائے ہیں کہ اجازت زیر دفعہ 196 ضابطہ فوجداری غیر قانونی ہے اور یہ کہ مستغیث نے جامع مسجد کا خطیب ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور یہ کہ اجازت نامہ صرف جرم زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان کے لیے عطا کیا گیا، لہٰذا بعد کی تمام کارروائی باطل اور غیر قانونی ہے۔

فاضل وکیل سرکار نے اس سلسلے میں دفعہ 196 ضابطہ فوجداری کی طرف توجہ مبذول کرائی جو کہ واضح الفاظ میں کہتی ہے کہ ایسی اجازت صرف جرم زیر دفعہ 295-A کے لیے دی جاسکتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اجازت نامے کے نیچے سیریل نمبر 3 پر مستغیث کے نام کے بعد ان کو ضلعی خطیب جامع مسجد دکھایا گیا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اجازت نامہ نہیں دے سکتا چونکہ تفویض شدہ اختیارات مزید کسی کو تفویض نہیں کیے جاسکتے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ صرف ہوم سیکرٹری جس کو حکومت سندھ نے اختیار تفویض کیا تھا، اجازت دے سکتا تھا، جیسا کہ مستغیث نے کہا ہے کہ پہلے وہ ہوم سیکرٹری کے پاس گئے اور اس کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس، جس نے ان کی عرض سننے کے بعد اجازت نامہ دیا، مگر فاضل وکیل نے اس نوٹیفکیشن کو جس کا ذکر اجازت نامہ میں ہے اور جس کے تحت اجازت دی گئی ہے، نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ کا نمائندہ آئین کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہے۔ اس لیے فاضل وکیل کے دلائل میں کوئی زور نہیں ہے۔

لہٰذا مستغیث کو حق حاصل ہے کہ وہ استغاثہ دائر کرے اور مزید یہ کہ جرم زیر دفعہ 295-B اور 295-C تعزیرات پاکستان کے لیے سیکشن 196 کے تحت اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

جرح کے دوران، وکیل صفائی نے مستغیث کی دینی اسلامی معلومات کو جانچنے کی کوشش کی اور دلائل کے دوران فاضل وکیل صفائی نے کہا کہ قرآن مجید کی سورہ نمبر 10، 11، 12، 14 اور 15 کے بارے میں مستغیث نے لاعلمی ظاہر کی ہے، لہٰذا ان کو دینی علم نہیں ہے، لہٰذا وہ کس طرح ملزم کے خلاف استغاثہ دائر کر سکتے ہیں؟ مگر وکیل صفائی نے خود مشیر شفیق کی جرح کے دوران یہ کہا ہے کہ مستغیث ایک عالم ہے۔

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ یہ کیس مستغیث اور ملزم کے مابین رقابت و دشمنی کا نتیجہ ہے اور یہ کہ مستغیث ملزم کے خون کا پیاسا ہے، اس لیے ایف آئی آر ایک طے شدہ معاملہ

صفحہ 152

ہے جو کہ بدنیتی کی وجہ سے دو ہفتے کی تاخیر سے درج کی گئی تھی جبکہ اجازت نامہ 13 اپریل 1999ء کومل گیا تھا، یہ درست ہے کہ اجازت نامہ 13 اپریل 1999ء کومل گیا تھا اور ایف آئی آر 2 مئی 1999ء کو یعنی دو ہفتے کی تاخیر کے بعد درج کی گئی تھی لیکن فاضل وکیل صفائی نے مستغیث اور ملزم کے مابین دشمنی کی کوئی مثال بطور نمونہ پیش نہیں کی۔

ان حالات میں یہ ممکن ہے کہ چونکہ کیس کا تعلق دینی معاملات سے تھا لہٰذا ممکن ہے کہ پولیس اور انتظامیہ ایف آئی آر درج کرنے سے احتراز کر رہی ہو۔ وکیل صفائی کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ ایسا کوئی واقعہ ظہور پذیر نہیں ہوا، اس لیے ضلع دادو کی انتظامیہ نے مدعی کی درخواست کو داخل دفتر کر دیا اور کوئی کیس درج نہیں کیا، مگر فاضل وکیل نے ایسا کوئی حکم کہ مدعی کی درخواست کو داخل دفتر کر دیا جائے، پیش نہیں کیا۔

اس کیس کا ایک اہم پہلو ویڈیو کیسٹ ہیں، یہ ویڈیو کیسٹ وکیل سرکار اور وکیل صفائی کی موجودگی میں کمرہ عدالت میں دیکھے گئے تھے اور اس دوران عدالت کے استفسار پر وکیل صفائی نے انکار نہیں کیا کہ تمام ویڈیو کیسٹ کا تعلق ریاض احمد گوہر شاہی (ملزم) سے ہے۔ ویڈیو کیسٹ زیر عنوان ”ریاض احمد گوہر شاہی سے سوال و جواب“ میں ملزم نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے کمپیوٹر پر رپورٹ کے مطابق ملزم کی تصویر چاند پر نمودار ہوئی ہے اور اس نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر وہ غلط ہو تو حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے۔ لیکن کسی نے اس کے خلاف کارروائی نہ کی۔ اس کیسٹ میں اس نے کہا کہ قرآن شریف کے 40 سپارے ہیں۔ ملزم نے ”الم“ اور ”الر“ کے بارے میں کوئی جواب دینے سے اجتناب کیا۔ اسی کیسٹ میں حجر اسود میں اپنی تصویر کے بارے میں ملزم نے ایک سوال کے جواب میں کہا اگر حجر اسود کو الٹا کر کے دیکھا جائے تو ایک تصویر نظر آتی ہے اور یہ کہ وقت بتائے گا کہ یہ تصویر کس کی ہے اور یہ کہ اس کا کھوج کمپیوٹر کے ذریعے لگایا جائے لیکن اس نے الزامات کا واضح اور صاف انکار نہیں کیا۔ آخری کیسٹ میں جبکہ ملزم امریکہ میں صوفی ازم کی تعلیم دے رہا ہے، خواتین اور مرد دائرے میں ایک قسم کا رقص کر رہے ہیں، مردوں نے عورتوں کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھے اور ”اللہ، اللہ“ کہہ رہے تھے جبکہ گوہر شاہی درمیان میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ کیسٹ کا یہ حصہ عدالتی گواہ شبیر احمد کے اس بیان کو جھٹلاتا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ملزم نے سخت پردہ کا حکم دیا ہے اور یہ کہ کوئی عورت بغیر پردہ اس کے سامنے حاضر نہیں

صفحہ 153

ہو سکتی اور یہ کہ عورت صرف پردہ کے پیچھے سے ہی کوئی مسئلہ پوچھ سکتی ہے، کیسٹ کے اس حصہ میں گٹار بھی بجتا ہوا سنایا گیا ہے۔

اپنی تصویر کے چاند اور حجر اسود میں نمودار ہونے کے بارے میں ملزم کے دعویٰ کا پچھلے تقریباً سو سال میں کسی شخص یا ادارے نے مذہبی ہو یا غیر مذہبی کبھی اظہار نہیں کیا۔ صرف ملزم ہی ایسا کر رہا ہے۔ لہٰذا ملزم کے اس دعویٰ نے یقینی طور پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ بلا شک و شبہ انسان چاند پر پہنچ گیا ہے مگر ملزم کا دعویٰ اس سے مختلف ہے، وہ اپنے آپ کو ایک بزرگ ہستی کی شکل میں پیش کر رہا ہے اور اپنے آپ کو اسلام کی عظیم شخصیتوں کے برابر کھڑا کر رہا ہے، جبکہ وہ کہتا ہے کہ وہ امام مہدی نہیں ہے، لہٰذا اس کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو ان کے طے شدہ اسلامی اصولوں سے بھٹکا دے، اس لیے مستغیث نے صحیح کہا ہے کہ اس کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ خصوصاً جبکہ اس (ملزم) نے اپنی پرتعیش موٹر کاروں کو حضور علیہ السلام کے گھوڑوں سے تشبیہہ دی ہے، اور خصوصاً جبکہ وہ کہتا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی اور کیسٹ میں اس کے اپنے بیان کے بموجب حضور علیہ السلام اس کے قریب آئے۔ اس کیسٹ کے ذریعے حجر اسود میں تصویر نظر آنے کا الزام بھی پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے۔

جہاں تک اسٹیکر کا تعلق ہے جس پر ”محمد رسول اللہ“ کی جگہ ”ریاض احمد گوہر شاہی“ لکھا ہوا ہے، گواہ محمد ناصر شیخ نے کہا ہے کہ اس قسم کے اسٹیکر ملزم کے مدرسہ اور مسجد میں لگے ہوئے تھے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ اسٹیکر ملزم کی تخلیق اور پیداوار ہیں۔ خاص طور پر کیسٹ میں اس نے ”الم“ اور ”الر“ کے بارے میں جوابات دینے سے پہلو تہی کی ہے۔

گو کہ گواہ استغاثہ عبدالحفیظ عابد نے اعتراف کیا ہے کہ ملزم کے تردیدی بیان مختلف اخبارات میں شائع ہوئے ہیں مگر مندرجہ بالا کی موجودگی میں ان بیانات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے کوشش کی ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ کوئی ہنگامہ اور بلوہ وغیرہ نہیں ہوا، لہٰذا کوئی بھی مجروح نہیں ہوا، لہٰذا کیس جھوٹا ہے، مگر کم از کم اخبارات، استغاثہ کے گواہان عبدالحفیظ عابد اور محمد ناصر شیخ کے بیانات اور ویڈیو کیسٹ تو موجود ہیں۔

اسی طرح مدعی کے بیانات اور ملزم کے قابل اعتراض بیان پایہ ثبوت کو پہنچتے ہیں۔ کیس صرف اس لیے جھوٹا نہیں ہو سکتا کہ کوئی ہنگامہ اور بلوہ نہیں ہوا۔

وکیل صفائی نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ دو مذہبی گروہوں میں مذہبی تنازع کا

صفحہ 154

معاملہ ہے، لہٰذا قانون اور آئین کے تحت اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مجھے قانون یا آئین کی شق نہیں بتائی۔

وکیل صفائی نے استغاثہ کے گواہان عبدالحفیظ عابد اور محمد ناصر شیخ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ملزم سے کمپیوٹر کا مطالبہ کیا تھا اور ملزم کے انکار پر انہوں نے غلط خبر کو ملزم سے منسوب کر کے شائع کیا ہے، مگر یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اخبارات نے، خصوصی طور پر وہ اخبارات جو کہ عدالتی گواہ شبیر احمد نے پیش کیے ہیں، جن میں ملزم نے تردیدی بیانات شائع کیے ہیں، کسی بھی جگہ گواہان عبدالحفیظ عابد اور محمد ناصر شیخ پر اس قسم کے الزامات عائد نہیں کیے ہیں۔ حالانکہ اخبارات جو کہ شبیر احمد نے پیش کیے ہیں، شہادت میں قبول نہیں کیے گئے، جن میں سے کچھ فوٹو کاپی تھے، مگر ناقابل قبول دستاویزات کا بھی اس قسم کے موضوع پر موازنہ کے لیے نوٹس لیا جا سکتا ہے۔

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ یہ کیس ملزم اور مدعی کے مابین مذہبی چپقلش کا نتیجہ ہے، لہٰذا جماعت اسلامی جو کہتی ہے کہ : ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ شیعہ جو کہتے ہیں کہ: ”حضرت علی خدا ہیں“ اور پیر پگارا کے پیرو کار جو کہ ”بھیج پگارا“ کا نعرہ لگاتے ہیں، کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا گیا، جبکہ مدعی نے جرح کے دوران یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کوئی بھی تعلیمات اسلام جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتائی ہیں، پر عمل کرے گا، اس کو بشارت اور زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتی ہے۔

اس نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ بشارت یا زیارت کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو ہدایت بھی دے سکتے ہیں، بجز ملزم کے چونکہ اس کا چال چلن قرآن اور سنت کی ہدایت کے مطابق نہیں ہے۔

میں مندرجہ بالا حصہ پر اس فیصلے میں کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس کے علاوہ چاند اور حجر اسود میں تصویر نظر آنے کے الزام اور اسٹیکر میں ”محمد رسول اللہ“ کی جگہ ”ریاض احمد گوہر شاہی“ کے الفاظ جو کہ پایہ ثبوت کو پہنچ چکے ہیں، کے سوا کسی اور الزام پر بحث نہیں کروں گا۔ نعروں اور دیگر الزامات کے بارے میں میرا خیال ہے کہ کافی بحث و تمحیص کی ضرورت ہے جس کا نہ یہاں موقع ہے اور نہ وقت، اور دینی امور کے بارے میں ماہرین کی آراء کی بھی ضرورت ہے۔

آخر میں ضمانت کا حکم جو کہ عدالتی گواہ شبیر احمد نے پیش کیا ہے، کو اس لیے زیر غور

صفحہ 155

نہیں لایا جا رہا چونکہ یہ نقل ہے اور مقدمہ کی اصل کاپی نہیں ہے، بلکہ یہ حکم بھی جداگانہ حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا تعلق سٹی پولیس اسٹیشن حیدرآباد سے ہے اور ضمانتی حکم میں ایف آئی آر کے حقائق نہیں دیئے گئے۔

مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اور وکیل سرکار کی طرف سے جو عدالتی نظائر پیش کیے گئے، ملزم نے مندرجہ بالا اعمال جان بوجھ کر کئے تھے، اور یہ کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف نکتہ نمبر 1 اور نکتہ نمبر 2 پر اب یہ کیس پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف نکتہ نمبر 1 کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ نکتہ نمبر 2 پر میرا جواب اقرار میں ہے۔

نکتہ نمبر 3:

نکات اول اور دوم پر مقدمہ بالا بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مدعی کی شہادت کے ساتھ ساتھ گواہان گلزار، اظفر، عبدالحفیظ اور محمد ناصر شیخ کی گواہیوں کی موجودگی میں یہ عیاں ہے کہ ملزم کے افعال سے توہین رسالت ﷺ، توہین قرآن، توہین حجر اسود اور وکیل صفائی کے استدلال کہ ہنگامے پھوٹ پڑنے چاہیے تھے، ملزم اپنے افعال کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانا چاہتا تھا اور چونکہ اندریں حالات مذہبی منافرت پھیلنے کا اندیشہ ہے، لہٰذا میرا جواب نکتہ نمبر 3 پر بھی اقرار میں ہے۔

نکتہ نمبر 4:

مندرجہ بالا شہادت از مدعی، گواہان استغاثہ گلزار، اظفر، عبدالحفیظ عابد اور محمد ناصر شیخ سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ لوگوں میں مذہبی عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے، لہٰذا میرا جواب نکتہ 4 پر بھی اقرار میں ہے۔

نکتہ نمبر 5:

نکات نمبر 1 تا 4 پر میرے جوابات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملزم گوہر شاہی کو زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید 6 سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔ ملزم کو زیر دفعہ 295-B مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، ملزم کو

صفحہ 156

دفعہ 295-B کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ملزم کو 12 ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔ ملزم کو زیر دفعہ 295-C موت کی سزا اس لیے نہیں دی جا رہی کیونکہ عدالتی کارروائی اس کی غیر حاضری میں ہوئی ہے۔

ملزم کو زیر دفعہ 8 انسداد دہشت گردی ایکٹ جو کہ قابل سزا ہے، زیر دفعہ 9 انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 7 سال قید کی سزا اور پندرہ ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید 8 ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔

ملزم کو زیر دفعہ 6 (ب) انسداد دہشت گردی ایکٹ مجرم گردانتے ہوئے زیر دفعہ 7 کے تحت عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مجرم کو مزید 1 ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔ مجرم کی سزائیں علیحدہ علیحدہ ایک کے بعد ایک شروع ہوں گی۔ مجرم مفرور ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جائیں۔ اس فیصلہ کی ایک نقل ایس ایچ او ٹنڈو آدم کو ارسال کی جائے تاکہ وہ ملزم کو گرفتار کر کے سزا بھگتنے کے لیے سینٹرل جیل حیدرآباد کے حوالے کرے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ عبدالغفور میمن 11 مارچ 2000ء جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی میر پور خاص

۞......۞......۞

صفحہ 157

جناب میاں محمد جہانگیر سیشن جج لاہور

سرکار بنام یوسف علی ، اگست 2000ء

صفحہ 158
صفحہ 159

دل کی بات

فتنہ قادیانیت کے بعد مختلف لوگوں کی طرف سے ہونے والے نبوت کے دعوے اس لیے زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے کہ امت مسلمہ نے اس فتنے کی یورش و یلغار کا مقابلہ نہایت ولولہ خیزی سے کیا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں اسلامی اقدار اور مسلم شناخت کے حوالے سے مجموعی طور پر پیدا ہونے والے اضمحلال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی دین فروشوں نے نئے سرے سے سر ابھارا۔ ان میں سے ایک یوسف کذاب تھا جس نے ابتدا میں خود کو مرشد کامل، مرد کامل، حضرت امام وقت، اللہ تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کا نائب و سفیر بنا کر پیش کیا اور برسر عام خود کو حضرت محمدﷺ کا تسلسل قرار دیا۔ یوسف کذاب نے اپنی ذاتی ڈائری میں خود کو مرد کامل اور حضرت محمدﷺ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:

”محمد ہمیشہ جسمانی طور پر موجود رہے ہیں، ان کے جسمانی وجود کی ظاہری وفات کے بعد یہ واپس محمد مصطفیٰﷺ کے حقیقی جسم میں چلے گئے۔ اس طرح نور واپس اپنی اصل کی طرف گیا۔ اس کے فوراً بعد محمدﷺ کے جسمانی وجود کا نور چند منتخب بندوں پر نازل ہوتا رہا جو اپنے وقت کے نبی، رسول اور مرد کامل کہلائے.......... اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ محمد جسمانی طور پر اب تک زندہ ہیں، جن کی پہلی شکل خود آدم تھے اور موجودہ شکل محمد یوسف علی ہے“۔ (نعوذ باللہ)

اس ناپاک دعوے سے قبل یوسف علی نے اپنے معتقدین کے حلقے میں خود کو مردِ کامل اور رسول کا نائب و سفیر باور کرایا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے ایک کتاب ”مرد کامل کا وصیت نامہ“ تحریر کی لیکن اس کتاب کے مندرجات پر ممکنہ اعتراضات اور شدید ردّعمل کے خوف سے اس نے بطور مصنف اپنا نام تحریر کرنے کے بجائے صرف ”صاحب تحریر مرد کامل“ لکھ دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف یوسف علی کے مخصوص عقیدت مندوں کے علم میں تھا کہ مرد کامل سے مراد کون ہے؟ اور یہ کتاب کس نے تحریر کی ہے؟ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ ”پاکستان“ میں شائع ہونے

صفحہ 160

والا کالم ”تعمیر ملت“ میں یوسف علی، ابوالحسنین کے نام سے لکھتا تھا۔ دراصل حسنین اس کے ایک بیٹے کا نام ہے جس کی مناسبت سے وہ اپنا پورا نام ”ابوالحسنین محمد یوسف علی“ تحریر کرتا تھا۔ اس نے یہی نام اپنی ایک کتاب ”خلافت علیٰ منہاج النبوۃ“ میں بھی بطور مصنف تحریر کیا۔

اس کے ابتدائی حالات اور اٹھان کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق یوسف کذاب فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک شخص وزیر علی کے گھر پیدا ہوا۔ اس کے دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ یہ سب سے بڑا تھا۔ اس کے ایک بھائی ناصر نصر اللہ وحید نے آج سے دس بارہ سال قبل سعودی عرب میں زہر ملی چیز کھا کر خودکشی کر لی تھی۔ ناصر کا سب سے قابل اعتماد اور عزیز دوست محمود جو ملتان روڈ پر آج کل ایک کارخانہ چلا رہا ہے مگر ان دنوں سعودی عرب میں ناصر نصر اللہ وحید کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا، اس نے خودکشی کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چھٹی پر پاکستان آیا ہوا تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ ناصر نے غلطی سے کوئی زہریلی چیز کھالی ہے اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ محمود نے بتایا کہ وہ اپنی چھٹی مختصر کر کے واپس سعودیہ پہنچا اور ہسپتال میں ناصر سے ملاقات کی تو ناصر نصر اللہ وحید نے بتایا کہ ایک روز اس کی طبیعت خراب ہوگئی تو وہ چھٹی لے کر گھر چلا گیا۔ وہاں دروازوں کو مقفل کرنے کا رواج کم ہی ہوتا ہے۔ ناصر جب گھر میں داخل ہوا تو اس نے اپنے بڑے بھائی یوسف علی کو جو ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ لیا۔ اس نے آہنی راڈ لے کر بیوی کو مارنے کی کوشش کی تو بیوی نے کھل کر یوسف کا ساتھ دیا۔ پھر دونوں نے مل کر اسے زد و کوب کیا اور اس کی بیوی کوثر نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ میرا یوسف سے تعلق ہے، جس پر ناصر نصر اللہ وحید نے زہر کھا لیا۔ ڈاکٹر نے اسے لاعلاج قرار دے دیا اور وہ پاکستان آ کر دوران علاج انتقال کر گیا۔ یوسف علی فوج کا کمیشنڈ آفیسر تھا اور کیپٹن کے عہدہ پر ہی اس نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی پھر وہ سعودی عرب چلا گیا مگر سعودی عرب جانے سے قبل اس نے ایم اے اسلامیات کیا اور پاکستان کے مختلف دینی اداروں سے مستفید ہونے کے بعد وہ ایران بھی گیا اور دینی تعلیم حاصل کی۔ یوسف علی کی شادی طیبہ نامی ایک خاتون سے ہوئی جو گلبرگ گرلز کالج لاہور میں لیکچرار تھی۔ اس کی بیٹی فاطمہ ڈاکٹر ہے جبکہ ایک بیٹا حسنین انجینئر جبکہ حسن بھی ملازمت کرتا ہے۔ کئی سال تک یوسف علی جدہ میں مقیم رہا۔ اس کی بظاہر کوئی ڈیوٹی نہ تھی۔ وہ ترکی کے کسی ادارے کا ملازم تھا مگر سعودی عرب میں ہی مقیم تھا۔ کوئی کام نہ کرتا مگر اسے ہر ماہ تنخواہ مل جاتی تھی۔ سعودی عرب

صفحہ 161

میں وہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک کے گھر میں مہمانوں کے خدمت گزار کی حیثیت سے مقیم رہا مگر اس دوران اس نے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک کے دنیا بھر کے آنے والے مہمانوں سے ورلڈ اسمبلی کے نام پر پیسے بٹورنے کا کام شروع کر دیا اور خود کو ورلڈ اسمبلی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے متعارف کرواتا رہا۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک کو جب یوسف علی کی اس لوٹ مار کا علم ہوا تو انہوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ پھر وہ مدینہ شریف میں ہی کسی اور جگہ کرائے پر رہنے لگا۔

1988ء میں ایک دن رات کے وقت روزہ رسول ﷺ پر وہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک سے ملا اور انہیں کہنے لگا کہ ابھی ابھی نبی کریم ﷺ میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ یوسف علی پاکستان چلے جاؤ۔ اچھے لوگوں کو جمع کرو۔ 1992ء میں پاکستان میں مکمل اسلامی انقلاب آئے گا اور حضور ﷺ خود اس انقلاب کی نگرانی کریں گے۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک، یوسف علی کی کذب بیانی سے سیخ پا ہوگئے اور انہوں نے اسے مسجد نبوی ﷺ سے باہر جانے کا حکم دیا۔ 1988ء کے آخری ایام میں یوسف علی پاکستان آ گیا اور جی او آر گلبرگ کے ایک سرکاری گھر میں جس کا نمبر 15 سی تھا۔ اس نے قرآن مجید کو سمجھانے کے لیے مجلسوں کا اہتمام شروع کیا اور بعض اخبارات و رسائل کو مختلف دینی موضوعات پر مضمون لکھ کر بھیجنا شروع کردیئے۔ پہلے یوسف علی کے نام سے لکھتا رہا، پھر اس نے اپنا نام تخلص ابوالحسنین رکھ لیا۔

1992ء میں اس نے روزنامہ پاکستان میں ”تعمیر ملت“ کے نام سے دینی کالم لکھنا شروع کیا۔ اس کالم میں اکثر اوقات یہ نبی کریم ﷺ کی شان مختلف طریقوں سے بیان کرتا اور کچھ اس انداز میں تحریر کرتا کہ پڑھنے والے کو تشنگی رہ جاتی اور وہ مزید وضاحت مانگتا۔ اسی وضاحت کے چکر میں بعض لوگ یوسف علی سے رابطہ کرتے تو وہ انہیں اپنے گھر واقع جی او آر میں دعوت دیتا کہ وہاں آئیں اور دین سیکھیں۔ اپنی محافل میں وہ واشگاف الفاظ میں پاکستان کے تمام مکاتب فکر علماء کرام پر کڑی تنقید کرتا اور ان کی تضحیک کرتا۔ انہیں جاہل، کم علم اور دین کے دشمن قرار دیتا۔ واضح طور پر کہتا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایسا شخص موجود نہیں جو قرآن مجید کو سمجھ سکا ہو اور رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کو جان چکا ہو۔ پھر یوسف علی نے شادمان کی مسجد میں خطبہ جمعہ شروع کر دیا مگر وہاں بھی بعض اوقات ذومعنی اور قابل اعتراض جملے اپنی تقریر کے دوران ادا کرتا جس پر اسے شادمان کی مسجد سے ہٹا دیا گیا۔ پھر اس نے ملتان روڈ پر مسجد بیت الرضا کا انتخاب کیا اور ڈیفنس میں کوٹھی خرید کر شفٹ ہوگیا۔ اس مسجد سے ملحقہ دربار کے گدی نشین سید محمد یوسف رضا اس کو جمعہ کی نماز کے لیے بلاتے اور 500

صفحہ 162

روپے فی نماز جمعہ کے حساب معاوضہ دیتے۔ نماز جمعہ کے بعد اس نے یہیں پر محفل لگانا شروع کر دی جس میں بڑے بڑے آفیسر، ریٹائرڈ جرنیل اور مشہور تاجر اپنی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ شریک ہونے لگے۔ شان رسول ﷺ بیان کرتے کرتے یہ لوگوں کو بشارت دینے لگا کہ آپ اس وقت تک انتقال نہیں کریں گے جب تک آپ رسول کریم ﷺ سے باقاعدہ ملاقات نہیں کرلیں گے۔ لوگ یہ سن کر اور بھی خوش ہوتے اور اس پر نچھاور ہوتے۔ پھر یہ مختلف لوگوں سے ان کی حیثیت کے مطابق مختلف قسم کے مطالبات کرتا۔ پھر حاضرین میں سے جو دیدار رسول ﷺ کا سب سے زیادہ جذباتی ہو کر اظہار کرتا، اسے پہلے پہل درود شریف پڑھنے کو کہا جاتا اور پھر پیغام دیا جاتا کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے تمہاری حضور اکرم ﷺ سے ملاقات کا وقت طے ہو گیا ہے۔ پھر وہ اسے مختلف قسم کی نصیحتیں کرتا کہ ادب سے رہنا، درود شریف پڑھنا، کوئی گستاخانہ بات زبان پہ مت لانا، ذہن سے ہر قسم کے وسوسے نکال دینا۔ ملاقات کے بعد رسول ﷺ کے تقاضوں کو پورا کرنا، ملاقات کے لیے یہ تین شرائط رکھتا اور کہتا کہ صرف تین قسم کے لوگ حضور ﷺ کا دیدار کر سکتے ہیں۔

تمام لوگ تیسری شرط پر ہی پورے اترتے کیونکہ پہلی دو شرطوں پر پورا اترنا ناممکن ہے۔ پھر یہ لوگوں سے مختلف قسم کے مطالبات کرتا اور کہتا کہ یہ آپ کا ٹیسٹ ہے۔ کسی سے گاڑی مانگ لیتا اور کسی سے اس کے گھر کی رجسٹری۔ کسی سے اس کا کاروبار مانگ لیتا تو کسی کے سامنے یہ شرط رکھی جاتی کہ تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینا ہو گی۔ پھر اس شخص کا ردعمل دیکھ کر قدرے توقف کے بعد کہتا مگر طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں۔ مصطفوی ﷺ خاندان میں شامل ہونے کے بعد آپ اپنی اہلیہ کو بھی شامل کر لیں اور دوبارہ نکاح پڑھ لیں۔ حب رسول ﷺ سے سرشار پروانے حضور ﷺ کے دیدار کے لالچ میں اس بے غیرت کے سامنے اپنا سب کچھ قربان کرتے رہے۔ جب یہ ملعون دیکھ لیتا کہ لوہا گرم ہے تو اچانک اسے علیحدہ ایک کمرے لے جا کر کہتا کہ ”انا محمد“ آنکھیں کھولو، میں ہی محمد ہوں (نعوذ باللہ)، تو سننے والا ہکا بکا رہ جاتا، کوئی خاموشی سے واپس چلا آتا، کوئی کتابوں سے رجوع کرتا اور کوئی علماء کرام سے فتویٰ لینا شروع کر دیتا کہ کیا رسول ﷺ کی دوبارہ آمد ہو سکتی ہے؟ اس طرح دیدار کرنے والے آہستہ آہستہ

صفحہ 163

ٹوٹتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے والے بدکردار شخص کو گستاخی رسولؐ کے جرم میں اتنی رسوائی دی کہ خیبر سے کراچی تک کذاب یوسف کا نام نفرت کی علامت بن گیا۔ یوسف کذاب عام طور پر ملتان روڈ چوک یتیم خانہ سے مڑنے والی اگلی گلی کے بائیں طرف واقع ”بیت الرضا مسجد“ میں چنیدہ لوگوں کی محفل سے خطاب کرتا۔ اس خطاب کی باقاعدہ ویڈیو فلمیں بنائی جاتیں۔ 28 فروری 1997ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے اس نے خود کو پہلے انسان کامل، پھر امام وقت اور بعد میں نعوذ باللہ حضورﷺ کا تسلسل اور اپنے اہل خانہ کو اہل بیت اور معتقدین کو اصحاب رسول سے تشبیہ دی۔ 29 مارچ 1997ء کو لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تھانہ ملت پارک لاہور میں یوسف کذاب کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی جس میں اس پر دیگر سنگین الزامات کے علاوہ توہین رسالت ﷺ کے ارتکاب کا الزام بھی لگایا گیا۔ کذاب یوسف کی وہ تقریر جس میں اس نے توہین رسالت ﷺ کی تھی، اس کی ویڈیو اور آڈیو کیسٹ تھانہ ملت پارک کو فراہم کی گئی جس پر کذاب یوسف کے خلاف 295 سی کے علاوہ 11 دفعات کے تحت 29 مارچ 1997ء کو مقدمہ درج کر لیا گیا اور اسے گرفتار کر کے تفتیش کی گئی۔ ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد کذاب یوسف کو ساہیوال جیل بھجوایا گیا۔ اس کا مقدمہ سپیشل کورٹ کو بھیجا گیا۔ تاہم کذاب یوسف کے ساتھیوں نے مقدمہ نہ چلنے دیا اور فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ سوا دو سال تک کذاب یوسف کی ضمانت کی 13 درخواستیں لوئر کورٹ اور سیشن کورٹ کے علاوہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں، جنہیں وقفے وقفے سے واپس لے کر تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔ بالآخر جسٹس راشد عزیز خان نے ہائی کورٹ سے کذاب یوسف کو اس بنا پر ضمانت پر رہا کر دیا کہ سوا دو سال تک مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوسکی۔

یہاں ایک فکر انگیز واقعہ کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ ملزم کے خلاف عدالت میں اس کی اپنی کتب، تقاریر کی آڈیو کیسٹس اور ویڈیو کیسٹس بھی پیش کی گئیں جن کی بنیاد پر موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا ہے اور سزائے موت کا مستحق ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔ ملزم کی طرف سے سلیم اے رحمان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل یاسمین سہگل نے ضمانت کی حمایت کی اور کہا کہ ملزم کی ضمانت قبول کر لی جائے۔ چیف جسٹس جناب جسٹس راشد عزیز خان نے سرکاری وکیل کی اس بات پر حیرت کا

صفحہ 164

اظہار کیا اور استفسار کیا کہ آپ کو کس نے کہا ہے کہ یہ بیان دیں؟ آپ سے تو ضمانت کی مخالفت کی توقع تھی۔ اس پر سرکاری وکیل نے چیف جسٹس کو برجستہ جواب دیا کہ جناب والا آپ کے کہنے پر .......... چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ جس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل یاسمین سہگل نے کہا کہ سوری می لارڈ، دراصل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مجھے کہا تھا کہ درخواست ضمانت کی مخالفت نہ کی جائے۔ (کیونکہ امریکہ کی طرف سے یہی ہدایت تھی) اس پر جناب چیف جسٹس نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ (روزنامہ جنگ لاہور 5 جون، 1999ء)

تقریبا سوا تین سال تک اس اہم مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ اس مقدمہ میں استغاثہ کی طرف سے جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ان کے معاونین غلام مصطفیٰ چودھری، ایم اقبال چیمہ اور سردار احمد خاں ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ ملزم کی طرف سے سلیم عبدالرحمٰن اور رخسانہ لون ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ مستند شہادتوں اور ناقابل تردید گواہیوں کی موجودگی میں محترم میاں محمد جہانگیر سیشن جج لاہور نے ملزم کو پھانسی کی سزا کے علاوہ مجموعی طور پر 35 سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا جبکہ بارہ لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے مزید 22 ماہ قید کا حکم بھی دیا گیا۔

اس فیصلہ کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور مصنف کتب کثیرہ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکز سراجیہ لاہور کے جناب وقار احمد، جناب عامر خورشید اور جناب ہاشم جاوید نے بے حد تعاون کیا جس پر وہ خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالٰی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ

محمد متین خالد

لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 165

بعدالت جناب میاں محمد جہانگیر سیشن جج لاہور

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 60/1998 سیشن ٹرائل نمبر : 3/2000 ایف آئی آر نمبر : 70/97 بتاریخ 29 مارچ 1997ء پولیس سٹیشن : ملت پارک، لاہور بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295/C, 295/A 298، 298/A، 505 پارٹ II، 508، 420، 406، حدود آرڈیننس نمبر VII مجریہ 1979ء کی دفعہ 10 متعلقہ زنا

سرکار

بنام

محمد یوسف علی ولد وزیر علی قوم راجپوت سکنہ کوٹھی نمبر 218/Q ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی، لاہور (ملزم)

وکلا منجانب مستغیث: محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محمد اقبال چیمہ ایڈووکیٹ چودھری غلام مصطفیٰ ایڈووکیٹ

وکیل منجانب سرکار: رانا اسلم اویس ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی

وکلا منجانب ملزم: سلیم عبد الرحمٰن ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مس رخسانہ لون ایڈووکیٹ

صفحہ 166

تاریخ فیصلہ: 5 اگست 2000ء

فیصلہ

جناب میاں محمد جہانگیر سیشن جج لاہور

فریقین کی شہادتیں زبانی نوعیت کی ہیں جو لفظ بہ لفظ دہرائی جا رہی ہیں تاکہ فیصلے کا قاری یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہ کرے کہ کن شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔

298، 298 اے، 505 پارٹ II، 508، 420، 406، تعزیرات پاکستان، حدود آرڈیننس نمبر VII مجریہ 1979ء کی دفعہ 10 متعلقہ زنا کے تحت مقدمے کی سماعت کیلئے بھیجا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے زبانی و تحریری الفاظ اور آڈیو ویڈیو کیسٹوں کے ذریعے اپنی مشابہت ظاہر کرتا ہے اور اس نے خود کو ”انا محمد“ اور حضور نبی کریم ”حضرت محمد کا تسلسل“ ظاہر کیا ہے اور اپنے اہل خانہ کے لیے اہل بیت، اپنے پیروکاروں کے لیے اصحاب رسول ہونے کا اعلان کیا ہے اور اس نے مذکورہ خیالات کا اظہار چوک یتیم خانہ لاہور میں واقع مسجد بیت الرضا میں نماز جمعہ کے خطبے کے اجتماع میں 28 فروری 1997ء کو کیا ہے جو تھانہ ملت پارک کی حدود میں واقع ہے۔ اس طرح اس نے دھوکے اور اپنی جعلی شناخت کے ذریعے معصوم لڑکیوں کے ساتھ زنا کی عمومی کوشش کی اور جبراً بھاری رقوم وصول کیں۔

دفعہ 295 سی، 295 اے، 298، 298 اے، 505 پارٹ II، 508، 420،

صفحہ 167

406 پی پی سی اور حدود آرڈی نینس کی دفعہ 18 زنا سے متعلق دفعہ 10 کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی جس سے ملزم نے انکار کیا اور مقدمے کی سماعت پر زور دیا۔ بہر حال الزامات اپنی اصل شکل میں درج ذیل ہیں۔ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 70/97 مورخہ 29-3-1997 زیر دفعات 295 سی، 295 اے، 298، 298 اے، 505 پارٹ II، 508، 420، 406 تعزیرات پاکستان اور نفاذ حدود آرڈی نینس کی دفعہ 10 جسے دفعہ 18 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

فرد جرم: میں میاں محمد جہانگیر سیشن جج لاہور تم پر درج ذیل الزامات کے تحت فرد جرم عائد کرتا ہوں

”محمد یوسف علی ولد وزیر علی قوم راجپوت سکنہ کوٹھی نمبر Q-218۔ ڈیفنس سوسائٹی لاہور، پر الزامات درج ذیل ہیں۔

”تم نے بار بار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے زبانی و تحریری الفاظ میں اور سمعی و بصری کیسٹوں کے ذریعے اپنی مشابہت ظاہر کرتے ہوئے خود کو ’انا محمد‘ اور حضور نبی کریم حضرت ’محمدؐ کا تسلسل‘ قرار دیا۔ اپنے اہل خانہ کو اہل بیتؓ اور اپنے پیروکاروں کو اصحاب رسولؐ کا نام دیا ہے اور چوک یتیم خانہ لاہور کے تھانہ ملت پارک کی حدود میں واقع مسجد بیت الرضا میں 28 فروری 1997ء کو اپنے عزائم اور خیالات کا اظہار کیا کہ تم حضرت محمد ﷺ کا تسلسل ہو۔ اس طرح تم نے دھوکہ دہی سے یہ تاثر دیکر معصوم لڑکیوں سے عمومی طور پر زنا کے ارتکاب کی کوشش کی اس طرح تم نے دفعات 295 سی، 295 اے، 298، 298 اے، 505 پارٹ II، 508، 420، 406 تعزیرات پاکستان اور حدود آرڈی نینس کی زنا کی دفعہ 10 دفعہ 18 کے تحت قابل سزا جرم کا ارتکاب کیا۔“

3-2-2000: تصدیق کی جاتی ہے کہ ملزم کو الزامات پڑھ کر سنائے گئے اور ان کی وضاحت کی گئی۔ اس کا بیان قلمبند کیا جانا چاہیے۔

03-02-2000: بیان ملزم محمد یوسف علی بلا حلف

سوال نمبر 1۔ کیا تم نے الزامات سن اور سمجھ لیے ہیں؟

جواب: ہاں

سوال نمبر 2۔ کیا تم اپنے خلاف لگائے جانیوالے الزامات تسلیم کرتے ہو؟

صفحہ 168

جواب: نہیں سوال نمبر 3۔ کیا تم اپنے دفاع میں شہادت پیش کرو گے؟ جواب: ہاں اگر ضروری ہوا۔ کارروائی مقدمہ مورخہ 3-2-2000

مستغیث محمد اسماعیل شجاع آبادی سیکرٹری جنرل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور دفتر کے بیان میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ملزم محمد یوسف علی سکنہ ڈیفنس ایریا ایک چالباز اور دھوکے باز شخص ہے جو اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی تحریری ڈائری اور تقریر کی کیسٹوں سے جو مستغیث کے پاس دستیاب ہیں، لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ یہ کہ محمد یوسف علی نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے اپنی مشابہت اور اس زمانے کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے اہل خانہ کو اہل بیت اور اپنے گمراہ پیروکار، معتقدین کو اصحاب رسول قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں ۔ ملزم نے کنواری اور شادی شدہ لڑکیوں سے زنا کے ارتکاب کی کوشش کی ہے۔ اس نے اپنے اندھے پیروکاروں سے نذر نذرانہ اور تحائف کی شکل میں لاکھوں روپے وصول کئے جن کے عینی شاہد موجود ہیں ۔ ملزم کی ایک ڈائری جس میں اس نے حضور نبی کریمﷺ کے نام کی بے حرمتی کی ہے، بھی دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تقریروں کے کیسٹ اور اس کی ڈائری کے اوراق حضور نبی کریمﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کا الزام اور ملزم محمد یوسف علی کے خلاف درج مقدمے کے بارے میں حقائق پیش کیے جائیں گے۔ مزید برآں ملزم نے 28 فروری 1997ء کو چوک یتیم خانہ کے قریب واقع مسجد بیت الرضا کے جمعہ کے خطبہ میں ایسے گستاخانہ خیالات کا اظہار کیا، اس لیے اس شکایت کی بنیاد پر تھانہ ملت پارک لاہور میں 29-3-97 کو مذکورہ مقدمہ درج کیا گیا اور سب انسپکٹر ریاض احمد نے رسمی ایف آئی آر ایگزیبٹ پی سی ون درج کی۔

تفتیش کی تو اس کے سامنے ایک آڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 1، ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 اور ڈائری ایگزیبٹ پی 3 / ایک تا بائیس صفحات شکایت کنندہ نے مولانا ظفر اللہ شفیق اور میاں عبدالغفار کی موجودگی میں پیش کیے جو اس نے ریکوری میمو، ایگزیبٹ پی ڈی کے ذریعے اپنی

صفحہ 169

تحویل میں لے لیے۔ اس کے بعد اس نے محمد اسماعیل شجاع آبادی اور استغاثے کے دوسرے گواہوں کے ضمنی بیانات قلمبند کیے۔ پھر وہ مستغیث کے ہمراہ چوک یتیم خانہ لاہور پر واقع مسجد بیت الرضا گیا اور موقعہ کا معائنہ کر کے نقشہ موقع ایگزیبٹ پی جی تیار کیا۔ موقعہ کے معائنہ کے دوران اس نے استغاثے کے گواہوں ممتاز اعوان، میاں محمد اویس، محمد افضل اور شوکت علی کے بیانات قلمبند کئے۔ آڈیو کیسٹ سننے کے بعد اس نے اس کا متن مورخہ 30-3-97 کی ڈائری میں درج کیا۔ اس کے بعد اس نے اس کا متن ایگزیبٹ پی 10 / ایک تا دس وقار سب انسپکٹر سپیشل برانچ کے ذریعے تیار کرایا۔ 7 اپریل 1997 کو تفتیش اس سے کسی دوسرے افسر کو منتقل کر دی گئی۔ تفتیش مکمل کرنے کے بعد اس کی رائے تھی کہ یوسف نے خود حضرت محمدؐ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے ساتھیوں کو اصحاب رسول قرار دیا ہے۔ وہ یوسف کو گرفتار نہ کر سکا کیونکہ ملزم چوہنگ سب جیل میں بند تھا جس پر اس نے ضمنی درج کی کہ عدالت مجاز سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ملزم یوسف کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔

انسپکٹر محمد نواز نے ملزم یوسف علی کو اس کے سامنے پیش کیا۔ یوسف علی کو شامل تفتیش کیا گیا۔ پوچھ گچھ کے دوران یوسف نے کوئی بیان دینے سے انکار کر دیا تاہم اس نے اپنی حفاظت کے بارے میں کہا، کیونکہ وہ اپنی زندگی کو خطرہ محسوس کر رہا تھا۔ یوسف علی کو تھانہ مسلم ٹاؤن میں رکھا گیا جہاں اسے زندگی کی جملہ سہولتیں مہیا کی گئیں۔ فائل کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے آڈیو ویڈیو کیسٹوں کا ٹرانسکرپٹ دیکھا۔ 10 اپریل 1997 کو ملزم یوسف علی کو شامل تفتیش کیا گیا۔ یوسف علی کا بیان قلمبند کرنے اور آڈیو کیسٹیں سننے اور ویڈیو کیسٹیں دیکھنے کے بعد ریکارڈ پر کافی مواد آچکا تھا۔ نتیجتاً ملزم یوسف کو اس مقدمے میں گرفتار کر کے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ 14 اپریل 1997ء کو جب خوشی محمد سب انسپکٹر تھانہ مسلم ٹاؤن لاہور میں موجود تھا، اس نے استغاثے کے گواہوں ساجد منیر ڈار اور سہیل احمد کے بیان قلمبند کئے۔ 16 اپریل 1997ء کو اسے جریدہ تکبیر ایگزیبٹ نمبر 13 پی 9 / 52-1 بحوالہ خط نمبر 1694 ڈی ایس پی لیگل مورخہ 1997-4-14 مل گیا۔ 17 اپریل 1997ء کو اس نے عبدالغفار ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ ”خبریں“ لاہور کا بیان اس وقت قلمبند کیا جب وہ تھانہ ملت پارک میں پیش ہوا۔ 18 اپریل 1997ء کو گواہ استغاثہ اطہر اقبال تفتیشی سب انسپکٹر کے سامنے پیش ہوا اور

صفحہ 170

اس نے ویڈیو کیسٹ ایگزہیبٹ پی 5 پیش کی۔ جو تفتیشی افسر نے میمو ایگزہیبٹ پی ای کے ذریعے قبضے میں لے لی جس کی تصدیق استغاثے کے گواہ اطہر اور دوسروں نے کی۔ اس نے سعید ظفر اور امانت علی کانسٹیبلوں کے بیانات قلمبند کئے۔ اس نے اطہر اقبال کا بیان بھی قلمبند کیا۔ اس نے دونوں ویڈیوز کا جیسا کہ ضمنی میں اوپر ذکر ہے، ٹرانسکرپٹ ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد اس نے آڈیو ویڈیو کیسٹوں کا متن گواہ استغاثہ محمد سرور سے کمپیوٹر کے ذریعہ کروایا جو فائل کے ساتھ پی 10/10-1 اور پی 11/10-1 اور پی 12/19-1 کے ساتھ لف ہے۔

لیے ٹرانسکرپٹ بھی شہادت میں قابل تسلیم نہیں۔

اس لیے یہ بھی قابل تسلیم نہیں۔ اس بنا پر انہیں شہادت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

ان اعتراضات کا حتمی دلائل کے موقع پر جائزہ لیا جائے گا، بیان جاری رہے۔

پھر 19اپریل 1997 کو خوشی محمد سب انسپکٹر نے ایس ایس پی لاہور سے کراچی جانے کیلئے اجازت حاصل کی۔ درخواست ایگزہیبٹ پی 1 اس کی تحریر ہے اور اس پر اس کے دستخط ہیں۔ وہ رات کی پرواز سے کراچی پہنچا۔ وہاں پہنچ کر اس نے رانا محمد اکرم، بریگیڈیئر محمد اسلم، عاطف صدیقی، محمد یوسف، ارشد نعمان اور محمد علی ابو بکر کے بیانات قلمبند کئے۔ پھر وہ لاہور آ گیا۔ کراچی میں قیام کے دوران اس نے محمد علی طیب، محمد حسین لاکھانی اور ایک دوسرے شخص کا بیان بھی قلمبند کیا۔ اس نے ہفت روزہ جریدہ تکبیر کے مدیر طاہر سے بھی رابطہ کیا جس نے بیان دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اصل ڈائری سب انسپکٹر کو نہیں دے گا۔ طاہر نے کہا کہ تکبیر میں اس نے جو کچھ بھی لکھا ہے، اسے ہی اس کا بیان سمجھا جائے۔ سب انسپکٹر نے میگزین پی 13/52-1، وصول کیا جو فائل مقدمہ کے ساتھ لف ہے۔

کیسٹ میں اپنی آواز تسلیم کی۔ ملزم سے موازنے کیلئے اپنی آواز ریکارڈ کرانے کو کہا گیا لیکن اس نے آواز ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا۔ 24اپریل 1997 کو ایس پی صدر میجر (ر) مبشر اللہ نے استغاثے کے گواہ آڈیو و ویڈیو کیسٹ اور ملزم کو فائل مقدمہ سمیت مذکورہ تاریخ

صفحہ 171

کو پیش کئے جانے کو کہا۔ ایس پی صدر نے استغاثے کے گواہوں اور ملزم سے سوالات کئے۔ لیکن ملزم یوسف نے بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ ایس پی صدر نے آڈیو کیسٹ سنے، ویڈیو کیسٹ بھی دیکھے جس کے بعد ایس پی نے چالان پیش کئے جانے کی ہدایت کی جس پر ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت کیلئے چالان پیش کر دیا گیا۔ فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد استغاثہ نے مجموعی طور پر 14 گواہ پیش کئے۔ ان کے بیانات لفظ بہ لفظ درج ذیل ہیں۔

بیان گواہ استغاثہ نمبر 1 بریگیڈیئر (ر) محمد اسلم ملک

گواہ استغاثہ نمبر 1: ڈاکٹر محمد اسلم ملک ولد ملک نیاز علی ذات ملک پیشہ ڈاکٹر (بریگیڈیئر) ریٹائرڈ سکنہ 10-G عسکری اپارٹمنٹس چودھری خلیق الزماں روڈ کراچی حلفاً بیان کرتا ہوں ۔

میں اس مقدمے کے ملزم یوسف کو 1988 یا 1989 سے جانتا ہوں ۔ میری اس سے ملاقات اپنے دوست عبدالواحد کے مکان نمبر 3 واقع ڈی سیکٹر 9 کلفٹن کراچی میں 1988 میں ہوئی ۔ میرے دوست عبدالواحد نے مجھے بتایا کہ ایک مذہبی شخص ان کے گھر آ رہا ہے جو نماز مغرب کے بعد دین کے بارے میں بیان کرے گا۔ ملزم یوسف میرے دوست کے گھر آیا ۔ ملزم نے سورۃ اخلاص کی تفسیر بیان کی جو مجھے اچھی لگی ۔ چار پانچ ماہ بعد میرے دوست نے پھر مجھے محفل میں شرکت کیلئے کہا۔ میں نماز مغرب کے بعد محفل میں شریک ہوا۔ ملزم یوسف نے حضور نبی کریمﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور پھر جب بھی ملزم میرے دوست کے گھر آیا، مجھے محفلوں میں شرکت کیلئے بلایا گیا۔ 1995 میں ملزم یوسف نے نماز مغرب کے بعد میرے دوست کے گھر اکیلے مجھ سے ملاقات کی اور پوچھا کہ اگر مجھ پر حقیقت منکشف کر دی جائے تو میں اس سلسلے میں کس قدر قربانی دے سکتا ہوں ۔ میں کسی حد تک متذبذب تھا۔ ملزم یوسف نے مجھ سے دو لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے کہا، میں نے کہا میں اس کا انتظام نہیں کر سکتا۔ بہرحال میں نے معاملہ التواء میں ڈال دیا۔ پھر 1995 کے آخر میں ملزم یوسف نے اپنی خواہش پر عمل درآمد کی ہدایت کی ۔ مجھے یہ ہدایت نماز مغرب کے بعد اپنے دوست عبدالواحد کے گھر کی گئی۔ میں نے جواب دیا کہ میں اس کی آئندہ آمد کے موقع پر اس کا انتظام کرونگا۔ دسمبر 1995 میں ملزم یوسف میرے دوست کے گھر آیا جسے میں نے

صفحہ 172

بتایا کہ میں نے دو لاکھ روپے کا انتظام کر لیا ہے۔ اس پر ملزم یوسف دوسرے دن نماز کے بعد میرے گھر آیا۔ میں نے اسے دو لاکھ روپے ادا کر دئیے۔ پھر اگلے جمعے ملزم یوسف نے اپنے مرید کے ہمراہ عسکری اپارٹمنٹ میں واقع ہماری مسجد میں نماز جمعہ میں شرکت کی۔ نماز جمعہ کے بعد ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میرے گھر آیا جہاں تھوڑی دیر بعد اس نے مجھ پر حقیقت منکشف کئے جانے کو کہا۔ پھر کھڑے ہو کر اس نے ”انا محمد“ کہا جس پر مجھے بہت حیرت ہوئی کیونکہ کوئی اپنے بارے میں حضرت محمدﷺ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا جبکہ حضرت محمدﷺ مدینہ میں ہیں۔ میں نے تاثر لیا کہ یہ شخص اپنے محمد ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ میری حیرت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ملزم یوسف کے ساتھیوں نے میرے گلے میں ہار ڈال دئیے، اس کے بعد ملاقات ختم ہو گئی۔ ملزم یوسف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میرے گھر سے چلا گیا۔ ملزم یوسف، اس کے ساتھیوں اور میرے علاوہ اس ملاقات میں کوئی دوسرا موجود نہیں تھا۔ اس کی میرے گھر سے روانگی کے بعد میں نے یہ سوچا کہ آیا مجھے اس قسم کی ملاقاتیں جاری رکھنی چاہئیں یا نہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ملزم یوسف سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔

چند ماہ بعد مغرب کے بعد میں اپنے دوست کے گھر موجود تھا۔ کموڈور ریٹائرڈ یوسف صدیقی بھی شریک محفل تھے۔ کموڈور یوسف نے ملزم یوسف سے استفسار کیا ”حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سے آپ مختلف وقتوں میں پیغمبر کی حیثیت سے ظاہر ہوتے رہے ہیں چودہ سو سال قبل بھی آپ کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد سے آپ اولیاء کرام کی صورت میں آتے رہے ۔ چودہ سو سال پہلے اور آج میں کیا فرق ہے، کون سا وقت زیادہ باوقار اور پرشکوہ تھا۔ جواب میں ملزم یوسف نے کہا کہ چودہ سو سال قبل کا زمانہ پرشکوہ تھا لیکن اب شکوہ وعظمت بے مثال ہے کیونکہ اس وقت یہ ”ڈیوٹی“ تھی اور اب یہ ”بیوٹی“ ہے۔

اس مرحلے پر فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی نے کہا کہ گواہ کی باقی ماندہ شہادت ملزم کی موجودگی میں قلمبند کی جائے اور گواہ استغاثہ کو اگلی تاریخ کیلئے پابند کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی کی طرف سے مذکورہ اجازت کی استدعا کئے جانے سے قبل گواہ نے کہا کہ اس کا بیان مکمل ہو چکا ہے تاہم اس کے باوجود ڈسٹرکٹ اٹارنی اس سے سوال کر سکتے ہیں۔ مزید برآں جرح بھی ہونا ہے۔ اس لیے گواہ کو آئندہ تاریخ پر حاضری کیلئے پابند کیا جاتا ہے۔

کارروائی مقدمہ مورخہ 2000-3-2

صفحہ 173

28-3-2000 گواہ استغاثہ نمبر 1 ڈاکٹر محمد اسلم ملک نے دوبارہ حلفاً بیان کیا کہ ملزم یوسف آج موجود ہے جس نے اپنے لیے ”انا محمد“ کا لفظ استعمال کیا اور دوسری باتیں کہیں جو میں نے گزشتہ تاریخ سماعت پر بیان کی تھیں۔ میں ملزم کی شناخت کرتا ہوں۔ میں ملزم یوسف کے ساتھ جو عدالت میں موجود ہے، ملتا رہا ہوں، میں بعد میں بھی ملزم یوسف سے صرف اس لیے ملتا رہا ہوں کہ اس کے پس منظر میں کارفرما عنصر کا سراغ لگا سکوں۔

جرح سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی۔ گواہ کو پابند کیا گیا۔ مقدمہ آج دوبارہ دو بجے پیش ہو۔

کارروائی مقدمہ مورخہ 2000-3-28 گواہ استغاثہ نمبر 1 ڈاکٹر محمد اسلم ملک حلفاً بیان کرونگا۔

جرح وکیل صفائی سلیم عبدالرحمان

یہ درست ہے کہ انگریزی کے لفظ (Liar) لائر، عربی لفظ کذاب کے مترادف ہے۔ یہ درست نہیں کہ میں نے پاکستان آرمی میں کبھی بریگیڈیئر کی حیثیت سے خدمات سرانجام نہیں دیں۔ میں نے بحریہ میں خدمات سرانجام دیں لیکن بری فوج میں میرا عہدہ بریگیڈیئر کا تھا۔ مجھے آرمی سے بریگیڈیئر کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ دی گئی۔ یہ درست ہے کہ میں نے پاک بحریہ میں کموڈور کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا پاک بحریہ میں کموڈور پاک آرمی کے بریگیڈیئر کا ہم مرتبہ ہے۔ میں نے ریڈیالوجی کے شعبہ میں سپیشلائزیشن کی ہے۔ اگر کسی مریض کے بارے میں میرا یہ تاثر ہو کہ اس کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے تو میں اسے ڈاکٹر یا سپیشلسٹ کے پاس بھیجوں گا جو ایکسرے کا ماہر ہے۔ یہ درست ہے کہ ایکسرے دیکھنے کے بعد میں اپنے قیاس کی تصدیق کرونگا کہ آیا ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے یا نہیں۔ میری یادداشت پہلے سے ہی اچھی ہے کیونکہ میں اب بھی ہسپتال میں کام کر رہا ہوں۔ میرا بیان پولیس نے قلمبند کیا ہے ۔ بیان کراچی میں 97-4-20 کو شام کے وقت محمد اکرم رانا کے گھر میں قلمبند کیا گیا۔ میرا بیان قلمبند کئے جانے کے وقت کوئی موجود نہیں تھا۔ نعمان الٰہی‘ محمد اکرم‘ یوسف صدیقی‘ محمد ارشد اور محمد علی ابوبکر، محمد اکرم رانا کے گھر موجود تھے لیکن وہ میرا بیان قلمبند کئے جانے کے وقت موجود نہیں تھے۔ مجھے اپنا بیان قلمبند کئے جانے کے بارے ٹیلی فون پر محمد اکرم رانا نے مطلع کیا تھا۔ سب انسپکٹر خوشی محمد نے میرا بیان قلمبند کیا تھا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میرا بیان قلمبند کئے جانے کے موقع پر استغاثے کے گواہوں کی موجودگی میں

صفحہ 174

انتظامات کئے۔ پولیس نے مجھے بتایا کہ میرا بیان لاہور میں یوسف کے خلاف درج ایک مقدمے کے سلسلے میں قلمبند کرنا مطلوب ہے۔ مجھے مقدمے کی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ سازش کے نتیجے میں، میں نے دوسروں کو مقدمے میں گواہ بننے کی ترغیب دی۔ میں اکرم رانا کو 1992 سے جانتا ہوں۔ کموڈور مسٹر صدیقی سے میری واقفیت 1988 سے ہے۔ نعمان الٰہی سے میری شناسائی 1993 سے ہے۔ یہ درست ہے کہ نعمان الٰہی اور اکرم رانا میرے مرید ہیں، یہ درست ہے کہ میں ان کا مرشد ہوں، یہ ضروری نہیں کہ مرید مرشد کی اطاعت کرے، مرشد اور مرید کے درمیان تعلق راہنمائی کا ہے۔ سوائے ان افراد کے جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ استغاثے کا کوئی دوسرا گواہ میرا مرید نہیں ہے۔ یہ درست نہیں کہ مذکورہ گواہوں کو بلانے اور انہیں گواہ مقدمہ بنانے کیلئے میں نے روحانی تصرف کیا۔ انہیں گواہ مقدمہ بنانے کیلئے کسی روحانی تصرف کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مذکورہ افراد کا اس مقدمے میں گواہ بننا ان کا اپنا مسئلہ اور خیالات کے مطابق ہے میں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت اپنے بیان میں دولاکھ روپے کی رقم کی ملزم کو ادائیگی کا یقیناً ذکر کیا تھا۔ جب ایگزیبٹ ڈی اے کے حوالے سے موازنہ کیا گیا کہ اس میں دو لاکھ روپے کی ادائیگی یا اس کی بات کا کوئی ذکر نہیں تو گواہ نے کہا مجھے یاد نہیں۔ میں نے پولیس کے سامنے کہا تھا کہ ملزم یوسف نے خود کو امام وقت قرار دیا تھا۔ عبدالواحد کے خاندان سے میری ملاقات اگست 1996 میں ان کے گھر پر ہوئی۔ عبدالواحد سے میرا کوئی بالواسطہ یا بلا واسطہ رابطہ نہیں تھا۔ 1996 کے بعد وہ کبھی میرے گھر نہیں آیا۔ مجھے یاد ہے کہ کموڈور یوسف صدیقی دوسروں کے علاوہ ملزم یوسف کی طرف سے ”انا محمد“ کہہ کر اپنے محمد ہونے کا اعلان کئے جانے کے موقع پر موجود تھا۔ اس موقع پر فاضل وکیل صفائی نے بتایا کہ اس نے لفظ ”کہا“ استعمال کیا ہے ”اعلان“ نہیں۔ اس اعتراض پر حتمی جرح کے موقع پر غور کیا جائے گا‘ بیان جاری رہے۔

جرح وکیل صفائی:

مجھے مقدمے کے اندراج کے بارے میں 20 اپریل 1997 کو معلوم ہوا۔ جب سب انسپکٹر خوشی محمد میرا بیان قلمبند کرنے کیلئے آیا۔ میرا پہلا جواب اس سوال کے جواب میں تھا کہ مجھے 20 اپریل 1997 کو مقدمے کے اندراج کا علم ہوا۔ اس سے پہلے نہیں۔ میں نے

صفحہ 175

کسی اخبار میں 20 اپریل 1997 سے قبل مقدمے کے اندراج کے بارے میں نہیں پڑھا۔ میں روزانہ اخبار نوائے وقت کراچی پڑھتا ہوں‘ کوئی دوسرا اخبار نہیں پڑھتا۔ مجھے یاد نہیں میں نے 20 اپریل 1997 کے بعد کسی اخبار میں مقدمے کی کارروائی کے بارے میں پڑھا ہو۔ میں نے مقدمے کے مستغیث اسماعیل شجاع آبادی سے 20 اپریل 1997 سے دو یا تین ماہ بعد لاہور میں ملاقات کی۔

یہ غلط ہے کہ میں ان سے مقدمے کے اندراج سے قبل ملا تھا۔ میں گزشتہ دس سال سے کبھی ملتان نہیں گیا۔ میں نے لاہور میں مستغیث سے معلوم کرنے کیلئے کہ کیا ہو رہا ہے اور مقدمے کی کیا صورت حال ہے، ملاقات کی تھی۔ میں نے مذکورہ تاریخ کے بعد مستغیث سے ملاقات کی تھی۔ دوسری بار مستغیث سے اس وقت ملا جب ملزم کی ضمانت کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ میں کارروائی زیر غور تھی۔ میری مستغیث سے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ملاقات ہوئی۔ یہ درست نہیں کہ میں مستغیث کے ہمراہ اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں موجود تھا جب درخواست ضمانت پر بحث ہو رہی تھی۔ میں اپنے بارے میں دعویٰ نہیں کرتا کہ میں مذہب سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ میں نے مذہب اسلام پر دو کتابیں لکھی ہیں، ان کے نام ”شان حضورؐ بہ زبان حق“ اور ”عظمت قرآن بہ فرمان رحمان“ ہیں۔ میں اس بارے میں کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتا کہ اسلامی قانون یا برطانوی قانون کے مطابق ایک ملزم کو مقدمے سے قبل بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر استغاثہ کے وکیل مسٹر اسماعیل قریشی نے اعتراض کیا کہ گواہ سے قانون کے بارے میں اس کا علم جاننے کیلئے ایسے سوالات نہیں پوچھے جا سکتے۔ اس اعتراض کا بھی حتمی دلائل کے مرحلے پر جائزہ لیا جائے گا۔ عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہے‘ گواہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا جاتا ہے۔

29-3-2000: گواہ استغاثہ نمبر 1 ڈاکٹر محمد اسلم دوبارہ حلفاً بیان کرتا ہے۔

جرح وکیل صفائی:

مجھے یاد نہیں کہ کب ملزم یوسف کو مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ مجھے وہ مہینہ بھی یاد نہیں جس میں اسے گرفتار کیا گیا۔ جب میرا بیان قلمبند کیا گیا تو مجھے پتہ چلا کہ ملزم یوسف کو اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مجھے ابوبکر کے ذریعے معلوم ہوا کہ ملزم یوسف ایک ڈائری

صفحہ 176

رکھتا تھا۔ میں نے اس ڈائری کی فوٹو کاپیاں دیکھی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ ہفت روزہ تکبیر کراچی سے شائع ہوتا ہے۔ میں اس جریدے کے رپورٹر طاہر کو جانتا ہوں، وہ میرے پاس آیا تھا۔ میں نے اس کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ آیا طاہر اس مقدمے میں گواہ ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ ملزم یوسف نے خود کو ”انا محمد“ کہہ کر اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے طاہر کے سامنے ان خیالات کا اظہار کیا تھا۔ مجھے اس کی تفصیل یاد نہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا پہلی بار ملزم کے خلاف الزامات تکبیر میں شائع ہوئے تھے۔ تاہم یہ تکبیر میں شائع ہوئے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ملزم یوسف کے خلاف الزامات ہماری تحریک پر شائع ہوئے ۔ یہ درست ہے کہ تصویریں جریدے میں شائع ہوئیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ جریدے میں شائع ہونیوالی تصویریں میں نے مہیا کی تھیں۔ میں میگزین کا وہ ایڈیشن نہیں بتا سکتا جس میں تصویریں شائع ہوئیں، تاہم مجھے یاد ہے کہ میگزین اپریل کے مہینے کا تھا۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ یہ ایڈیشن اپریل کے شروع میں شائع ہوا یا آخر میں‘ یہ کہنا درست نہیں کہ میری یادداشت درست نہیں۔ یہ درست ہے کہ کتاب ”عظمت قرآن بہ فرمان رحمان“ ”بشر اور انسان“ ایگزیبٹ ڈی بی بحیثیت مصنف میری لکھی ہوئی ہیں۔ مسلمان کا مطلب ایسا شخص ہے جو کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتا ہو۔ یہ درست ہے کہ کتاب کا ایک انتساب ہے۔ یہ کتاب فیصل آباد میں شائع ہوئی، اس کا ایڈیشن جنوری 1996 میں مجھے ملا۔ میری ملزم یوسف سے ملاقات آخری مرتبہ اگست 1998 میں عبدالواحد کے مکان پر اس کی موجودگی میں ہوئی۔ یہ درست نہیں کہ میں ملزم یوسف کا مرید ہوا تھا، میں اچھرہ لاہور سے صوفی غلام رسول کا مرید ہوں جو وصال کر چکے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ملزم یوسف نے کس کی بیعت کی تھی۔ یہ درست ہے کہ کتاب کے انتساب میں یوسف کیلئے جو عدالت میں موجود ہے، میں نے لفظ ابوالحسن استعمال کیا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا ”میں نے کتاب اور اس کا انتساب اشاعت کیلئے ستمبر 1995 میں بھیجا تھا۔ چھپنے کے بعد کتاب جنوری 1996 میں میرے پاس آئی۔ جب میں نے کتاب لکھی یا اس کا مسودہ اشاعت کے لیے بھیجا‘ اس وقت ملزم یوسف کی اصلیت مجھ پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ میں نے ناشر سے کتاب کا انتساب یا مذکورہ مخصوص لفظ حذف کرنے کو نہیں کہا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس کیس کی وجہ یہ ہے کہ ملزم یوسف کے اعلان کے بعد میں نے محض اس عنصر کی حقیقت جاننے کے لیے جس کی بنیاد پر اس

صفحہ 177

نے اپنے محمد ہونے کا اعلان کیا تھا، اس کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی تھی۔ کتاب کے انتساب میں جن الفاظ کا حوالہ دیا گیا ہے، میں نے انہیں حذف کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ بعد کے ایڈیشنوں میں الفاظ جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے، استعمال نہیں کیے گئے حتی کہ وہ الفاظ بھی جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے، بعد کے کسی ایڈیشن میں کبھی نہیں لکھے گئے۔ بعد میں ملزم یوسف نے انتساب کے الفاظ ”مجھے کیا کیا عطا کیا گیا بلکہ کیا نہیں عطا کیا گیا“ شامل کرائے۔ چونکہ میں نے اس کی تعریف میں اس کے کہنے پر انتساب کے الفاظ لکھے تھے کیونکہ میں اس کے ساتھ تھا۔ کتاب ایگزیبٹ ڈی بی ملزم یوسف کے کہنے پر نہیں لکھی گئی۔ میں نے سنا ہے کہ مرید بالعموم اپنے مرشد کو تحائف دیتے ہیں اور یہ غلط ہے کہ میں نے ملزم یوسف کو دو لاکھ روپے بطور نذرانہ پیش کئے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ یہ رقم مجھ سے جبر کے تحت وصول کی گئی۔ یہ درست ہے میں نے یہ رقم مذکورہ طریقے سے بندوق کی نوک پر ادا نہیں کی۔ میری مالی حالت مستحکم ہے۔

یہ درست ہے کہ ملزم یوسف کی جانب سے کی جانیوالی بعض تردیدیں نوائے وقت کے 24، 26، 27 اور 29 تاریخ کے 1997 کے ایڈیشنوں میں شائع ہوئیں جو میں نے پڑھیں۔

گواہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا جاتا ہے۔

30-3-2000: گواہ استغاثہ نمبر 1 ڈاکٹر محمد اسلم تجدید حلف کے ساتھ

جرح وکیل صفائی مسٹر سلیم عبدالرحمان:

اس مرحلے پر فاضل وکیل صفائی، گواہ سے روزنامہ نوائے وقت مورخہ 97-3-26 میں شائع ہونیوالی ایک خبر کے حوالے سے سوال کرنا چاہتے ہیں۔ فاضل وکیل صفائی ایک تصدیق شدہ دستاویز کی فوٹوسٹیٹ نقل یہ کہہ کر پیش کر رہے ہیں کہ دستاویز کی اصل ان کے پاس ہے لیکن وہ اصل مہیا نہیں کر سکتے۔ اس دستاویز کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی کی بنیاد پر گواہ سے سوال نہیں کر سکتے جب تک اصل مہیا نہ کر دی جائے۔ اگر وکیل صفائی چاہیں تو روزنامہ نوائے وقت سے متعلقہ ریکارڈ طلب کر سکتے ہیں۔ اس مرحلے پر سوال اس وقت تک کیلئے ملتوی کیا جاتا ہے۔

جرح وکیل صفائی مسٹر سلیم عبدالرحمان:

میں ملزم یوسف کے ساتھ ان ملاقاتوں کی تعداد نہیں جانتا جو میں نے دسمبر 1995 کے بعد یا اگست 1996 سے قبل اس کے ساتھ کیں۔ ممکن ہے پانچ یا چھ نشستوں میں

صفحہ 178

شریک ہوا ہوں۔ مجھے اس دوران ان نشستوں میں زیر بحث آنیوالے مخصوص موضوع یاد نہیں۔ تاہم ان نشستوں میں قرآن حکیم کے متعلق بعض موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان نشستوں میں قمار بازی، مے نوشی اور زنا کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ پھر کہا میں پہلے ہی ان قابل اعتراض موضوعات کے بارے میں بتاچکا ہوں جن پر ملزم یوسف نے بات کی تھی۔ میں ملزم کے ذہن میں موجود لفظ تجسس کے معنی نہیں جانتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تجسس کا مطلب اصلاح حاصل کرنا ہے۔ ملزم نے اگست 1996 سے 20 اپریل 1997 کے درمیان جو دعوے اور اعلانات کئے، میں نے ان کی نشاندہی نہیں کی۔ کیونکہ میں قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اور یہ کہ میں نے ملزم کے کھلے عام اعلانات کی بھی نشاندہی نہیں کی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میری خاموشی دانستہ تھی۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ میں نے دفعہ 161 کے تحت اپنے بیان میں دانستہ طور پر ماہ دسمبر 1995 کا ذکر نہیں کیا۔ ملزم یوسف میرے ساتھ اپنے تعلق سے آٹھ نو سال میں نارمل دکھائی دیتا تھا۔ ملزم یوسف کے ساتھ آٹھ نو سال کے دوران میرے تعلقات معمول کے اور اچھے تھے۔ ملزم یوسف کی جانب سے ”انا محمد“ کا اعلان اپنی وضاحت خود ہے۔ اس لیے اس کی جانب سے اس بارے میں مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ درست نہیں کہ ملزم نے انا محمد بن عبداللہ نہیں کہا۔ تاہم اس نے انا محمد ہونے کا اعلان کیا۔

وکیل صفائی نے جس انداز میں ”انا محمد“ کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذاق کر رہا ہے لیکن جب ملزم نے اپنے لیے ”انا محمد“ ہونے کا اعلان کیا تو اس کا انداز اور طور طریقہ ایسا تھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ سچے پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ تاثر ہمیشہ تاثر ہوتا ہے لیکن یہ تصدیق شدہ کوئی چیز ہے۔ یہ درست نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا تاثر دیتا ہے یا جیسے تاثر دیا جا رہا ہو پھر کہا ملزم کی جانب سے دیا جانیوالا تاثر سو فیصد درست اور مصدقہ تھا۔

میں نے مولانا عبدالرحمان اشرفی کی تحریر کردہ کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ میں نے مولانا عبدالستار نیازی کی طرف سے اس مقدمے کے بارے میں دیئے جانیوالے بیانات پڑھے ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں روزنامہ نوائے وقت کے لاہور ایڈیشن میں 9 جولائی 1997 کو شائع ہونیوالا مولانا عبدالستار نیازی کا اخباری بیان پڑھا ہے، میں نے مولانا عبدالستار نیازی کا نام بحیثیت رکن قومی اسمبلی سنا ہے۔ پھر کہا عالم دین کی حیثیت سے میرا ان

صفحہ 179

سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے مقدمے کی ایف آئی آر نہیں پڑھی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ملزم یوسف نے میرے ساتھ ملاقاتوں میں حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ اپنی گہری محبت اور وابستگی کا اظہار کیا تھا۔ پھر کہا کہ ملزم نے حضرت محمد عربی ﷺ کے بجائے کسی اور سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ محمد عربی ﷺ سے مراد مکہ میں پیدا ہونے والے جو ہجرت کے بعد مدینے چلے گئے۔ ملزم نے مجھ سے اپنی ملاقاتوں کے دوران حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں کہا۔ ان نشستوں میں باقاعدگی سے درود شریف نہیں پڑھا گیا۔ یہ درست ہے کہ اللہ باطن (اندر کی حالت) جانتا ہے۔ یہ صلاحیت اللہ کی جانب سے کسی کو عطا کی جاسکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ میں مذکورہ افراد میں سے نہیں۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے میری امامت میں میرے پیچھے اپنے ”انا محمد“ ہونے کے اعلان سے قبل نماز پڑھی۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی پیغمبر کسی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھے لیکن یہ میرے علم میں نہیں، یہ درست ہے کہ اگر اسماعیل شجاع آبادی نے مقدمہ درج نہ کرایا ہوتا تو میں یہ مقدمہ درج نہ کرواتا۔ یہ درست ہے کہ میں نے اس مقدمے کو محض ختم نبوت کے پلیٹ فارم کی حیثیت سے استعمال کیا۔ یہ درست ہے کہ میرا تعلق نقشبندی اور قادری سلسلے کے مکاتب فکر سے ہے۔ گواہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا گیا۔

5-4-2000 گواہ استغاثہ نمبر ایک ڈاکٹر محمد اسلم حلفاً بیان کرتا ہے

جرح فاضل وکیل صفائی

میں نے پولیس کے سامنے یہ نہیں کہا کہ ملزم یوسف کی طرف سے ”انا محمد“ کے اعلان کے باوجود میرا ملزم سے رابطہ رہا۔ میں نے پولیس کو دسمبر 1995 کے بارے میں نہیں بتایا جس میں ملزم یوسف نے خود کو ”انا محمد“ کہا تھا، یہ درست ہے کہ میں نے پولیس سے مقدمے کی نوعیت اور میرا بیان قلمبند کئے جانے کی وجہ کے بارے میں پوچھا تھا۔ پولیس نے مجھے بتایا کہ ملزم یوسف نے اپنے ”انا محمد“ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے مجھے اس ضمن میں کچھ میرے علم میں ہونے کے بارے میں پوچھا، پولیس نے مجھے اس مقدمے کے مستغیث کے بارے میں بھی بتایا۔ یہ درست نہیں کہ میں نے اس مقدمے کی کارروائی میں بے حد دلچسپی لی۔ جب مستغیث کے وکیل مسٹر اسماعیل قریشی کے طلب کئے جانے پر میں ہائیکورٹ میں آیا تو میں نے ملزم یوسف کے دعوے کے بارے میں اخبارات میں پڑھا تھا کہ

صفحہ 180

ختم نبوت پر یقین رکھتا ہے۔ بہر حال مجھے ملزم یوسف کی طرف سے استعمال کئے جانے والے اصل فقرے یاد نہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ ملزم یوسف نے اپنے دعوے میں کلمہ طیبہ استعمال کیا‘ مجھے صرف ملزم یوسف کے دعوے کا مفہوم یاد ہے۔ ملزم یوسف کی تردید کہ اس کے دعوے اور اعلان کا مفہوم یہ تھا کہ اس نے اپنے ”انا محمد“ ہونے کا کبھی اعلان نہیں کیا لیکن میں اس اعلان سے مطمئن نہیں تھا کیونکہ اس نے مذکورہ اعلان میری موجودگی میں کیا تھا۔ میں نے سنا تھا کہ اس کے اپنے ”انا محمد“ ہونے کے اعلان پر خاصا شور شرابا ہوا تھا۔ اس لیے اس نے اخبار میں اعلان کی ضرورت محسوس کی۔ میں لاہور میں اپنے مریدوں کے اجلاس نہیں بلاتا لیکن لاہور میں اپنے مرشد کے عرس میں شریک ہوتا ہوں۔ لاہور میں بھی میرے کچھ مرید ہیں۔ میں ساجد نامی کسی شخص کو نہیں جانتا۔ میں سہیل ضیا کو جانتا ہوں لیکن وہ میرا مرید نہیں ہے۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ سہیل ضیا اس مقدمے میں گواہ ہے۔ میں نے پولیس سے یہ نہیں پوچھا کہ اسے میرا نام کس نے دیا ہے پھر کہا کہ اکرم رانا نے میرا نام دیا تھا۔ میں یہ جاننا ضروری نہیں سمجھتا کہ پولیس کو میرا نام کس نے دیا تھا۔ نعمان‘ رانا اکرم کا داماد ہے مجھے معلوم نہیں کہ پولیس ملازم ایک رات رانا اکرم کے ساتھ ٹھہرے۔ اگر کوئی میرے سامنے کلمہ طیبہ پڑھتا ہے، میں اس کی حقیقت کا جائزہ لوں گا اور سب سے پہلے اس شخص کی شخصیت پر غور کرونگا۔ کسی نئے شخص کے اندازے کے بارے میں میرا اصول اس شخص سے مختلف ہوگا جسے میں گزشتہ کئی سالوں سے جانتا ہوں۔ میں نئے شخص کے ضمن میں پہلے اس کے کلمہ طیبہ پڑھنے کا انداز دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے یہ نہیں پڑھا کہ جو بھی شخص کلمہ طیبہ پڑھتا ہے وہ صحیح طور پر مسلمان ہے۔ یہ درست نہیں کہ میرا جواب صحیح بخاری شریف کی پہلی حدیث کے منافی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ عدالت میں ملزم یوسف کی طرف سے ”انا محمد“ کے اعلان کے بعد میرا اس سے تعلق رکھنے کی حد تک بیان بعد کی سوچ اور من گھڑت کہانی ہے۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ملزم یوسف سے میرا اختلاف دسمبر 1996 میں شروع ہوا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے عدالت میں غلط بیانی کی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ملزم یوسف کی طرف سے ”انا محمد“ ہونے کا اعلان میرے خیال میں جرم نہیں۔ پھر کہا میرے خیال میں اس نے غلط بات کہی تھی لیکن مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ اس کا کہنا پاکستان کے ضابطہ فوجداری کے تحت جرم ہے۔ میں نے سنا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو بھی (حضرت محمد ﷺ) کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا،

صفحہ 181

وہ مردود ہے۔ وہ شخص بھی مردود ہے جو غلط الزامات عائد کرے گا۔ یہ بات میرے علم میں ہے کہ ملزم یوسف نے بعض کتابیں لکھی ہیں۔ یہ بات بھی میرے علم میں ہے کہ ملزم یوسف نے اخبار پاکستان میں بہت سے مضامین لکھے ہیں۔ میں نے یہ تمام مضامین نہیں پڑھے۔ میں نے ملزم محمد یوسف کے اس مضمون سے اختلاف کیا ہے جو اس نے اخبار میں امام وقت کے بارے میں لکھا ہے۔ پھر رضا کارانہ طور پر کہا کہ ایسے مضامین سے عدالت میں میرے موقف کو تقویت پہنچی ہے کہ ملزم یوسف نے ان مضامین میں بالواسطہ طور پر خود کو امام وقت قرار دے کر انہیں اخبار میں شائع کرایا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے ان مضامین میں اپنے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ملزم یوسف سے میری آٹھ نو سالہ شناسائی کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ وہ مسلح افواج میں بھی رہا لیکن میں اس کے حالات زندگی کا پس منظر نہیں جان سکا۔ میں نے 26 مارچ 1997 کے روزنامہ نوائے وقت کے اخباری تراشے دیکھے ہیں جن کی مصدقہ کاپی ایگزیبٹ ڈی سی ہے۔

نوٹ: مذکورہ سوال کے ضمن میں ملزم نے اپنے وکیل کے ذریعے اخبار کا اصل ریکارڈ طلب کیے جانے سے متعلق ایک درخواست پیش کی۔ فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی، درخواست گزار کے وکیل کی اس بات پر متفق ہیں کہ اخبار کا اصل ریکارڈ طلب کئے جانے سے اس مقدمے کی کارروائی میں خاصی تاخیر ہوسکتی ہے۔ اس لیے وکیل صفائی کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اخباری تراشوں کی مصدقہ نقل پیش کرکے سوال پوچھ سکے۔ اس لیے وکیل صفائی کو سوال پوچھنے کی اجازت دی جاتی ہے اور درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

جرح وکیل صفائی:

میری اطلاع کے مطابق ایگزیبٹ ڈی اے مکمل طور پر اخبار نوائے وقت کراچی میں شائع نہیں کی گئی۔ میں نوائے وقت کراچی میں شائع ہونیوالی خبر اور اخباری تراشے ایگزیبٹ ڈی سی کے درمیان فرق کی وضاحت نہیں کرسکتا۔ پھر کہا اخباری تراشوں ایگزیبٹ ڈی ڈی کے درست ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے ملزم کی گرفتاری کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر کوئی حضور نبی کریم کے بارے میں محمد عربی کہتا ہے تو وہ حضور نبی کریم حضرت محمدؐ کو مکہ مدینہ تک محدود کر رہا ہے اور یہ توہین رسالت

صفحہ 182

کے مترادف ہے۔ یہ درست ہے کہ نقشبندی، قادری مسلک سے تعلق رکھتا ہوں، میرا تعلق اہل سنت مکتب فکر سے ہے۔ میں نے حضرت عبدالقادر جیلانی کی کتاب ”سیکرٹس آف سیکرٹس (سرالاسرار)“ نہیں پڑھی جو شیخ توسن، بیرک، الجوراہی، الحلوقتی نے مرتب کی ہے۔ گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔ 7-4-2000 گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم حلفاً

جرح وکیل صفائی:

ملزم نے ”بیوٹی“ اور ”ڈیوٹی“ کے جو الفاظ استعمال کئے ہیں، وہ اپنی وضاحت آپ ہیں۔ میں نے علامہ اقبال کی لکھی ہوئی کتابیں مکمل طور پر نہیں پڑھیں۔ میری تاریخ پیدائش 27 جنوری 1929 ہے۔ میں نے سورۃ اعراف پڑھی ہے۔ میں نے قرآن حکیم بھی پورا پڑھا ہے، مجھے دسمبر 1995 سے قبل کسی نے نہیں بتایا کہ ملزم یوسف نے اپنے ”انا محمدؐ“ ہونے کا اعلان کیا ہو۔ یہ درست ہے کہ ملزم نے ”انا نبی“ نہیں کہا تھا۔ میں ﷺ کا ترجمہ جانتا ہوں جو یوں ہے ”ان پر اور ان کی اولاد پر صلوٰۃ ہو“ ”ان پر“ کا مطلب خود حضرت محمد ﷺ ہیں۔ ہمارے پیغمبر کے ننانوے نام ہیں۔ حضور ﷺ کے تمام نام بالخصوص اول آخر، ظاہر، باطن زبانی طور پر نہیں جانتا۔ اول آخر، ظاہر باطن اللہ کے صفاتی نام ہیں۔ میں حسین بن منصور حلاج کا نام نہیں جانتا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے عدالت میں غلط بیان دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ میں اہلسنت ہوں۔ میں حضرت محمد ﷺ کے لیے یا رسول اللہ کہتا ہوں۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ملزم یوسف کے خلاف پرانی دشمنی کی بنا پر بیان دیا ہے۔ ملزم یوسف کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس نے اٹھ کر کہا ”انا محمدؐ“ اس طرح اس نے اپنے ”پیغمبر ہونے کا اعلان کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد اکرم رانا

20-4-2000 گواہ استغاثہ نمبر 2: بیان محمد اکرم رانا ولد رانا محمد طفیل ذات راجپوت منیجر فارما سوٹیکل کمپنی کراچی رہائشی 3 بی تھرڈ ایسٹ سٹریٹ فیز 1 ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی حلفاً بیان کیا: میں ملزم یوسف علی کو جو عدالت میں موجود ہے، جانتا ہوں۔ میری اس سے ملاقات 1994 میں عبدالواحد کے گھر کراچی میں ہوئی۔ ملزم یوسف علی نے عبدالواحد کے گھر ایک

صفحہ 183

تقریر کی جس میں قرآن پاک کی تلاوت بھی شامل تھی۔ دوران تلاوت اس نے کہا حضور نبی کریم ﷺ آج بھی دنیا میں موجود ہیں اور انسان کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ عبدالواحد کے گھر میں کسی کے سوال پوچھے جانے پر کہ ہمارے پیغمبر ﷺ نے بہت سادہ زندگی بسر کی، ملزم یوسف علی نے کہا کہ چودہ سو برس قبل روایات پرانی تھیں، اب روایات جدید ہیں۔ مزید یہ کہ شکوہ نمودونمائش آج کی ضرورت بن گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں جدید زندگی آج کی ضرورت ہے۔ یہ محفل جنوری یا فروری 1994 میں ہوئی۔ ملزم یوسف نے کہا کہ اگر کوئی دیکھ سکتا ہے، اگر کوئی پہچان سکتا ہے تو ہمارے درمیان حضور نبی کریم کو پہچان لے اس کے بعد محفل ختم ہوگئی۔

دوسری نشست ستمبر 1995 میں ہوئی۔ میں نے یوسف علی سے ایک سوال پوچھا کہ آیا وہ قرآن مقدس کی تفسیر یا تفہیم لکھ رہا ہے جس کا جواب اس نے اثبات میں دیا۔ میں نے اس کی تحریر کردہ تفسیر اور تفہیم کی ایک کاپی طلب کی جس پر اس نے پوچھا کہ میں اس کی کیا قیمت ادا کر سکتا ہوں۔ میں یہ جواب سن کر حیران ہوا کہ قرآن شریف کی کیا قیمت ہو سکتی ہے؟ بہر حال میں نے کہا میں یہ کتاب حاصل کرنے کیلئے ایک لاکھ روپے ادا کر سکتا ہوں۔ اس کے بعد یہ نشست ختم ہوگئی۔ مجھے ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے بار بار پیغام ملتے رہے لیکن میں ادائیگی نہیں کر سکا۔ پھر ایک بار میں نومبر 1995 میں یوسف علی کے شادمان لاہور میں واقع گھر میں شام کے وقت اس سے ملنے گیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد جا رہا ہے۔ مجھے لاہور کے ہوائی اڈے پر اس کے ہمراہ جانے کو کہا گیا۔ گاڑی جس میں یوسف علی کے دوسرے ساتھی بھی سوار تھے، یوسف علی نے ایک لاکھ روپے کی رقم کا مطالبہ کم کر کے پچاس ہزار روپے کر دیا۔ وقت گزرتا رہا، میں پچاس ہزار روپے کی رقم نقد ادائیگی نہ کر سکا۔ پھر جب مجھے اپریل 1996 میں حج پر جانا تھا۔ مجھے رقم کی ادائیگی کیلئے پیغام بھیجا، میں نے پچیس ہزار روپے یوسف علی کو ادا کر دیئے جس پر اس نے کہا کہ تم اللہ جل شانہ کے بہت قریب آگئے ہو۔ اس لیے میں تمہاری موجودگی میں ایک حقیقت کا انکشاف کرتا ہوں۔ اس نشست میں عبدالواحد کے کلفٹن کراچی والے گھر میں بہت سے دوسرے لوگ بھی موجود تھے۔ یوسف علی مجھے دوسرے ملحقہ کمرے میں لے گیا۔ دونوں کمروں کا درمیانی دروازہ کھلا رہا۔ اس نے مجھے آنکھیں بند کرنے کو کہا جس پر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس نے مجھے درود شریف پڑھنے کو

صفحہ 184

کہا، میں نے درود شریف پڑھا۔ اس کے بعد یوسف علی نے مجھے آنکھیں کھولنے کو کہا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے کچھ دیکھا ہے، میں نے کہا میں نے کچھ نہیں دیکھا ہے۔ اس پر ملزم یوسف علی نے مجھے سینے سے لگایا اور کہا بسم اللہ میں ”محمد مصطفیٰ“ ہوں اس نے مزید کہا میں نے یہ حقیقت چھپائے رکھی۔ تم بھی اس حقیقت کو مخفی رکھو۔ یہی ”تفہیم قرآن“ ”تفسیر قرآن“ ”زندہ قرآن“ اور ”نور قرآن“ ہے۔ یہ سن کر مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے یوسف علی کے ادا کردہ الفاظ اور فقروں نے مجھے ہپناٹائز (عمل تنویم کے ذریعے بے سدھ) کر دیا ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے دوہری مصیبت اور آفت سے باہر نکلنا ہوگا۔ اس پر میں نے علماء سے مشورہ کیا، علماء کو مذکورہ بیان بتایا جس پر علماء نے مجھے کہا کہ مذکورہ شخص واجب القتل ہے۔

جرح مسٹر سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی:

1994 میں منعقد ہونیوالی محفل میں پہنچنے سے قبل میرا ملزم یوسف علی سے تعارف تھا کیونکہ میں دوسرے علماء کرام کو سنتا تھا، اس لیے میں ملزم یوسف کو بھی دوسرے علماء کی طرح سننے گیا۔ مجھے اکرم شیخ نامی ایک شخص نے ملزم یوسف علی کے بارے میں متعارف کرایا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا یوسف علی کراچی میں مشہور تھا کیونکہ وہ جم خانہ بھی آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ جم خانہ کلب کراچی میں ملزم یوسف علی کی تقریر سنی تھی، اس کی تقریر کا عنوان قرآن حکیم تھا۔ یہ درست ہے کہ میں بریگیڈیئر اسلم گواہ استغاثہ نمبر ایک کا مرید ہوں۔ میرے پیر نے ملزم یوسف علی کی طرف سے کی جانیوالی قابل اعتراض تقریر کے بارے میں مجھے نہیں بتایا تھا۔ پھر کہا کہ میں نے انہیں ملزم یوسف کی قابل اعتراض تقریر کے بارے میں بتایا تھا کہ ملزم نے کہا تھا کہ میں ”محمد مصطفیٰ“ ہوں۔ میں نے فوری طور پر اپنے پیر کو بتایا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی اس مسئلے کی نشاندہی کر رہا ہوں۔ مزید یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کس قسم کا فریب کیا جا رہا ہے۔ میں گریجویٹ ہوں۔ میں تمام اخبارات پڑھتا ہوں۔ مجھے ملزم یوسف علی کے خلاف مقدمے کے اندراج کا علم اپریل 1997 میں ہوا۔ میں نے مقدمے کے اندراج کے بارے میں خبر اخبار میں پڑھی۔ میں نے یوسف علی کی گرفتاری کے بارے میں بھی اخبار میں پڑھا۔ میری اس مقدمے کے مستغیث سے ملاقات ہوئی ہے۔ مقدمے کے اندراج کے بعد میری مستغیث سے ملاقات ہوئی چونکہ مجھے اس مقدمے کے حقائق کے بارے میں تشویش

صفحہ 185

تھی۔ اس لیے میں مارچ 1997 کے آخر میں مستغیث سے ملا۔ مارچ 1997 کے بعد سے مستغیث سے ملتا رہا ہوں۔ گواہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا گیا۔

21-4-2000: بیان گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد اکرم رانا حلفاً بیان کیا:

جرح فاضل وکیل صفائی :

یہ درست ہے کہ میں مسلمان ہوں۔

نوٹ: وکیل صفائی کے ایک سوال کے جواب میں گواہ نے پانچوں کلمے سنائے‘ وہ چھٹا کلمہ مکمل درستگی سے نہیں سنا سکا۔

جرح فاضل وکیل صفائی :

یہ کہنا درست نہیں کہ میں وضو کی چار شرائط نہیں جانتا۔ میں چاروں شرائط کے نام نہیں جانتا، تاہم وضو کا طریقہ جانتا ہوں۔

نوٹ: فاضل وکیل صفائی کے سوال پر گواہ نے شروع سے آخر تک وضو کا طریقہ کار بتایا۔

جرح فاضل وکیل صفائی :

دفعہ 161 کے تحت پولیس نے میرا بیان قلمبند کیا ہے۔ میں نے پولیس کو مقدمے کے ساتھ اپنی ملاقات کا مہینہ اور سال بتایا۔ جب اس کا ایگزیبٹ ڈی ڈی سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ایسا درج نہیں تھا۔ میں نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ اکرم شیخ نے ملزم کے ساتھ ملاقات کا انتظام کیا ۔ میں نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ میں ملزم یوسف سے اس کے مکان واقع شادمان لاہور میں ملا تھا۔ میں نے پولیس کو بتایا کہ جب ملزم یوسف نے اپنے ”محمد مصطفیٰ“ ہونے کا دعویٰ کیا تو بریگیڈیئر اسلم محفل میں موجود تھے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ وہ مجھ سے دور تھے۔ میں نے پولیس کو بتایا کہ میں دوسرے کمرے میں موجود تھا، درمیانی دروازہ کھلا تھا۔ جب ایگزیبٹ ڈی ڈی سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ایسا درج نہیں تھا۔ پولیس نے کراچی میں میرے گھر میں میرا بیان قلمبند کیا اور یہ بیان 20-4-1997 کو قلمبند کیا گیا۔ میرا بیان بریگیڈیئر اسلم، کموڈور یوسف صدیقی، نعمان الٰہی، علی ابوبکر اور کیپٹن محمد ارشد کی موجودگی میں قلمبند کیا گیا۔ میں نے ٹیلی فون کے ذریعے انہیں اپنے گھر بلایا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ بریگیڈیئر اسلم وغیرہ کے علاوہ حاجی محمد حنیف، محمد حسین لاکھانی اور عاطف صدیقی بھی

صفحہ 186

موجود تھے۔ پولیس نے مجھے بریگیڈیئر اسلم وغیرہ کا بیان قلمبند کئے جانے کے بارے میں بھی بتایا۔ اس لیے میں نے انہیں اپنے گھر بلایا۔ ان کے ٹیلی فون نمبر پہلے سے میرے پاس تھے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ سازش کے تحت سب پہلے سے وہاں موجود تھے۔

پولیس نے مجھے بتایا کہ ملزم یوسف کے خلاف خود کو ’رسول اللہ‘ کہلوانے پر مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ضمن میں ہمارے بیانات قلمبند کرنا ہیں۔ میں مقدمے کے گواہ استغاثہ ساجد منیر ڈار کو جانتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس نے میرا نام پولیس کو دیا۔ میں نے پولیس سے یہ نہیں پوچھا کہ اتنے گواہ کہاں سے حاصل کئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے ملزم یوسف کی اہلیہ طیبہ یوسف علی سے 2 فروری 1997 کو کراچی سے لاہور ٹیلی فون پر بات کی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے نہ صرف ملزم یوسف علی کی اہلیہ سے ٹیلی فون پر بات کی بلکہ دو مرتبہ ملزم یوسف علی کی بیٹی سے بھی بات کرنے کی کوشش کی۔ یہ غلط ہے کہ کوئی روحانی طاقت تھی جس نے میرے عزائم ناکام بنائے۔ یہ درست ہے کہ مقدمے کا گواہ استغاثہ نعمان علی میرا داماد ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اسلم شیخ میرے داماد کے والد ہیں۔ میں 1992 میں اپنے مرشد کا مرید ہوا۔ میرا داماد بھی بریگیڈیئر اسلم کا مرید ہے۔ یہ غلط ہے کہ دسمبر 1995 میں بریگیڈیئر اسلم نے مجھے بتایا کہ ملزم یوسف نے خود کو ”انا محمد“ کہا تھا پھر رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے فی الحقیقت اپریل 1996 میں بریگیڈیئر اسلم کو ملزم یوسف کے ایسے دعوے کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد ہم نے تبادلہ خیالات کیا اور انہوں نے بتایا کہ یہ پہلے بھی ان کے علم میں ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فراڈ کیا جا رہا ہو۔ میرے علاوہ ملزم یوسف نے یوسف صدیقی، کموڈور بریگیڈیئر اسلم، نعمان الٰہی، سہیل رضا، ساجد میر ڈار اور کیپٹن ارشد وغیرہ کی موجودگی میں بھی خود کو ”رسول اللہ“ کہا۔

میں اپریل 1996 میں فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے گیا، جب واپس آیا تو جولائی تا ستمبر لوگوں نے مجھ سے رابطہ کر کے پوچھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ کیونکہ ملزم یوسف کی جانب سے اپنے ”رسول اللہ“ ہونے کے اعلان کا سانحہ انہیں بھی پیش آیا تھا۔ اس کے بعد ملزم یوسف کے دعوے کے بارے میں اخبارات میں بھی چھپنا شروع ہوگیا۔ بعض اخباری رپورٹروں نے بھی مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں گواہ استغاثہ ساجد منیر ڈار کو نہیں جانتا، سہیل اور ساجد میر لاہور کے رہائشی ہیں۔ اخبارات میں معاملے کی اشاعت کے بعد میں

صفحہ 187

ان سے ملتا رہا ہوں۔ میں نے ملزم یوسف کی طرف سے مارچ اور اپریل 1997 کے درمیان اس کے ”رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ بھی اخبارات میں پڑھا۔ میں نے ملزم یوسف کی جانب سے روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے کی تردید بھی پڑھی۔ یہ درست ہے کہ میں نے روزنامہ نوائے وقت کا اخباری تراشہ ایگزیبٹ ڈی سی پڑھا ہے۔ جنوری 1994 میں جب ملزم یوسف سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ پھر کہا 1994 کے شروع میں۔ تو اس نے کہا تھا کہ حضرت محمدﷺ اس محفل میں موجود ہیں، اگر کسی میں دیکھنے کی طاقت ہے تو دیکھ سکتا ہے، سونگھ سکتا ہے اور شناخت کر سکتا ہے۔ مجھے ملزم یوسف کی یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس کے بعد میں ملزم یوسف سے لاہور اور کراچی میں ستمبر 1993 سے قبل 15 یا 16 بار ملا ہوں۔ ملزم یوسف نے ان نشستوں میں بھی نہایت قابل اعتراض باتیں کیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ بالواسطہ انداز میں چونکہ یہ سب کچھ ضروری تھا، اس لیے میں نے یہ ساری باتیں پولیس کو اپنے بیان میں نہیں بتائیں۔ میں ان نشستوں میں قرآن سیکھنے کے لیے شریک ہوتا تھا، قرآن فہمی تو نہیں ہوئی لیکن ملزم یوسف نے انتہائی قابل اعتراض جملے ادا کئے۔ گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

24-4-2000 گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد اکرم رانا حلفاً بیان کیا۔

جرح فاضل وکیل صفائی:

میں نہیں جانتا کہ آیا مقدمے کے اندراج کے بارے میں اخبار میں دوسرے دن چھپا تھا۔ مجھے دو تین دن کے اندر ملزم کی گرفتاری کے بارے میں معلوم ہوا جب پولیس نے مجھے طلب کیا۔ میں نے پولیس کے روبرو بیان دیا۔ اگر پولیس میرا بیان قلمبند نہ کرنا چاہتی تو بھی میں اپنا بیان قلمبند کرانے پر اصرار کرتا یا میں نے عدالت میں اس پر احتجاج کیا ہوتا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے اپنا بیان بعد میں قلمبند کروایا۔ چونکہ میں بھی چاہتا تھا کہ عینی گواہوں کے بیانات میری نگرانی میں پہلے قلمبند ہونا چاہئیں۔ پھر کہا ہر شخص بیان قلمبند کرانے کو تیار تھا۔ پہلے اخبارات اور تکبیر کو اپنے بیان کے بارے میں انٹرویو دیا تھا جو 22 اپریل 1997 کو شائع ہوا۔ پھر کہا ایسا اخبارات کی طرف سے مجھ سے رابطہ کرنے پر کیا گیا۔

یہ درست ہے کہ ایک عالم دین جو قرآن کا مکمل علم رکھتا ہو، قرآن حکیم پڑھا سکتا

صفحہ 188

ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ملزم عالم دین ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا میرے خیال میں ملزم نے جعل سازی سے کام لیا۔ ستمبر 1995 سے قبل کی محفل میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی ورنہ کوئی ایسی محفل میں نہ جاتا۔ ستمبر 1995 سے قبل تمام محفلوں کا انتظام لاہور یا کراچی میں کیا گیا، چار پانچ محفلیں عبدالواحد کے گھر پر منعقد ہوئیں۔ یہ درست نہیں کہ میں عبدالواحد کے گھر نہیں گیا۔ میں کراچی میں عبدالواحد کے گھر کا محل وقوع بتا سکتا ہوں۔ میں عمومی فہم و فراست والا آدمی ہوں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں معقول سمجھ اور شعور والا ہوں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں ملزم کی سوچ نہیں سمجھ سکا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ جب چند نشستوں میں ملزم بے نقاب ہوگیا تو میں جان گیا کہ وہ کیا ہے؟ میں نہیں جانتا کہ ملزم یوسف علی چوک یتیم خانہ لاہور کی جامع مسجد بیت الرضا میں ہر جمعہ خطبہ دیتا تھا۔ پھر کہا ایک مرتبہ میں ملزم یوسف کے ساتھ مسجد گیا تھا‘ ملزم مجھے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ستمبر 1995 سے نومبر 1995 کے دوران میری ملزم یوسف سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ چونکہ مجھ سے ان دو ملاقاتوں کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔ میں نے صرف ان ملاقاتوں کے بارے میں انکشاف کیا جن کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ میں ستمبر اور نومبر 1995 کے درمیان ہونیوالی دو محفلوں کے بارے میں نہیں بتا سکا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ محفلیں کہاں ہوئی تھیں۔ یہ لاہور اور کراچی میں ہو سکتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ملزم نے ان ملاقاتوں میں قابل اعتراض‘ قابل قبول یا نا قابل اعتراض باتیں کی تھیں جو اردو میں یوں ہیں۔

’’اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کیلئے اور اس شخصیت میں دوسری شخصیت کا عکس ثابت کرنے کیلئے انسان ہونے کی وضاحت کرینگے۔ انسان کو انسان کامل کا پرتو ہونے کا شائبہ دیں گے۔ انسان کو عبد بتاتے ہیں پھر عباد بتاتے ہیں پھر عباد میں سے یکتا عباد بناتے ہیں اور پھر یکتا محبوب ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ کے‘ پھر اسی کی تشبیہہ کیلئے امام وقت اور مرد کامل فرد وحید‘ محبوب الوحید اور محبوب حقیقی بنتے ہیں۔ امام وقت کے علاوہ قرآن کی تفسیر کوئی نہیں جان سکتا۔ قرآن کی اعلیٰ ترین تفسیریں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ اصحاب کرام‘ آئمہ اہل بیت اور جاری وساری امام وقت ہیں۔ یہ قرآن ناطق بھی ہیں۔ اعلیٰ ترین تفسیریں بھی ہیں اور زندہ قرآن بھی۔ قرآن کی تلاوت دراصل اپنے آپ کی

صفحہ 189

تلاوت ہے اور کسی کو یہ تلاوت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک ان کو دیکھ نہ لے جن کا یہ بیان ہے جن کا یہ کلام ہے۔ جب کسی کو چہرہ رسول ﷺ نصیب ہو جائے گا، ان کو قرآن عطا ہو جائیگا۔ امام وقت درحقیقت مرد کامل کا دوسرا نام ہے۔ ہمیں (اللہ تعالیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) خلوت خاص میں یہ پیغام ملا کہ ہم متقین کے امام بننے کی دعا کریں یا ہمیں یہ سلیقہ سکھایا گیا کہ ہم متقین کے امام بننے کی دعا کریں۔ امام وقت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حضرت آدم پہلے امام وقت، مرد کامل آغاز وقت سے ہیں اور یہ آج بھی جاری اور ساری حقیقت ہے۔ امام وقت اس خوش نصیب ترین لباس کا ٹائٹل ہے جسے اللہ تعالیٰ کبریائی کے اظہار اور مصطفائی کا شاہکار بنا کر اپنا محبوب بنالیں۔ ہمیں یہ بشارت ہوئی ہے کہ بہت جلد مسلمانوں کی عظمت بحال ہونیوالی ہے۔ وہ وقت آنیوالا ہے جب پاکستان کی ہاں یا نہ میں دنیائے وقت کے فیصلے ہوا کرینگے ۔ خوش قسمت لوگ اس کا وسیلہ بنیں گے اور رکاوٹ بننے والے تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ حقیقی امامت تو ہمیں حاصل ہے۔ ظاہری سربراہی کی ہم انسانوں کو ضرورت ہے۔ آپ میں سے کون ہے جو عملاً ثابت کر سکے کہ اسے محبوب حقیقی اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ کیا ماں باپ اپنے بچوں کو، بچے اپنے ماں باپ کو، بیوی شوہر کو اور مالدار اپنے مال کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ جو انسان ان سب چیزوں کو قربان کر دے گا، وہ کامل نیکی کی معراج حاصل کرے گا۔ کیا آپ محبوب حقیقی کو ملنا چاہتے ہیں، وہ آپ سے ضرور ملیں گے۔ کیا آپ کو محبوب حقیقی کے ساتھ خلوت خاص نصیب ہوئی‘ اس کے بغیر پیار اور اس کا اظہار کیسے ہوگا۔ محبوب حقیقی کے ساتھ پیار کیا ہے؟ محبوب حقیقی کے ساتھ پیار اپنی ذات کے ساتھ پیار نہیں جو پیار محبوب حقیقی کی مرضی سے نہ ہوگا، وہ پیار نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے کہ مرشد کے ساتھ وابستگی ہو تو وارفتگی بھی ہو۔ ’’اپنی مرضی ختم، مرشد کی مرضی شروع‘‘ جس نے مرشد کے ساتھ وابستگی حاصل کی اور وارفتگی نہ دکھائی، وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ کیا آپ محبوب حقیقی کے ساتھ وابستہ ہونا چاہتے ہیں‘ کیا آپ ماں باپ‘ بیوی‘ بچے‘ مال ودولت اس پر قربان کرنا چاہتے ہیں‘ اس مرحلہ پر عملی مظاہرہ بھی ہوتا تھا اور محفل میں سے کوئی اٹھتا، گاڑی کی چابیاں پیش کر دیتا اور بیگمات بھی پیش کر دیتے تھے کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزیں اللہ ہی کو دینے سے گریز کر رہے ہو۔ اگر یہ چیزیں تم

صفحہ 190

سے چھین لی جائیں اور اگر تمہارے بیوی بچے مرجائیں تو کیا کرلو گے۔ اس سے پہلے کہ خود انتقال کرجاؤ، محبوب حقیقی کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کے محبوب حقیقی کے ساتھ خلوت خاص کا مزہ اٹھائیں۔ کیا ان سب چیزوں کو آپ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تن دھن من لٹانے کو تیار ہیں تو ہجرت کر آئیں، پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ کسی قسم کے پچھتاوے میں مبتلا نہ ہوں۔ ابھی ایک پل میں محبوب حقیقی آپ سے ملنے کو تیار ہے۔ جن صاحبان نصیب کو دیدار رسولﷺ نصیب ہوچکا، انفاق فی سبیل اللہ اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ ان کے لیے مقرر کردیں، باقی صاحبان اپنے پاس جمع کررکھیں اور جب صحبت رسولﷺ نصیب ہوجائے، ان کو یہ تحفہ پیش کردیں۔‘‘ گواہ کو آج دو بجے دن کا پابند کیا جاتا ہے 24-4-2000: بیان گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد اکرم رانا حلفاً بیان کرتا ہے۔

جرح وکیل صفائی سلیم عبدالرحمان:

یہ کہنا درست نہیں کہ چابیاں اور بیویاں پیش کرنے کے علاوہ ملزم یوسف کی باقی تقریر قابل اعتراض نہیں تھی۔ ملزم یوسف کی پوری تقریر قابل اعتراض تھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا یہ سب دھوکہ تھا، چابیاں اور بیویاں پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ملزم یوسف سامعین کو اس طریقے سے تیار کررہا تھا کہ وہ اپنی کاروں کی چابیاں اور بیویاں اس کے حوالے کرنے پر تیار ہوجائیں، یعنی اپنی ہر چیز سے دستبردار ہوجائیں۔ ایک شخص محمد عارف نے میری موجودگی میں اپنی بیوی پیش کی۔ اس کی بیوی اس وقت موقع پر موجود تھی۔ میں اس کی بیوی کا نام نہیں جانتا۔ عارف گلشن اقبال کراچی کا رہائشی ہے۔ سہیل ضیا اور یوسف صدیقی نے اپنی کاروں کی چابیاں پیش کیں۔ جب عارف نے اپنی بیوی ملزم یوسف کے سامنے پیش کی تو ملزم یوسف نے کہا ’’میں تمہارا تحفہ قبول کرتا ہوں‘‘۔

گواہ نے پھر کہا لاہور میں ایک شخص محمد رضا نے بھی ایسا ہی عمل کیا، میں اس کا ایڈریس نہیں جانتا۔ محمد رضا کی بیوی کا نام بھی نہیں جانتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے سوچ سمجھ کر ایک گندی کہانی گھڑی ہے، میں نے یہ حقائق آج عدالت کے سامنے بیان کئے ہیں کیونکہ بحث کی بنا پر یہ بیان کرنا پڑے ہیں۔ میں نے یہ حقائق قبل ازیں کسی جگہ بیان نہیں کئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اوپر بیان کردہ نام فرضی ہیں۔ پھر کہا دونوں افراد دستیاب ہیں۔ میرے پاس

صفحہ 191

ان کے ایڈریس نہیں، ان کی بیویاں میرے علاوہ چالیس پچاس افراد کی موجودگی میں موجود تھیں۔ یہ پیشکشیں بریگیڈیئر اسلم، یوسف صدیقی، محمد علی ابوبکر، کیپٹن ارشد، نعمان الٰہی اور اسلم شیخ کی موجودگی میں کی گئیں۔ سوائے اسلم شیخ کے باقی تمام افراد اس مقدمے میں استغاثے کے گواہ ہیں۔ میری ملزم یوسف سے ملاقات اپریل 1996 میں بھی ہوئی ۔ یہ ملاقات کراچی میں ہوئی۔ میں عدالت عالیہ کی تمام کارروائی کے موقع پر موجود تھا۔ یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ میں ہونیوالی کارروائی میں، میں بھی موجود ہوتا تھا۔ یہ درست ہے کہ میں مقدمے کی کارروائی میں دلچسپی لیتا رہا ہوں کیونکہ اس سے زیادہ دلچسپ اور کوئی مقدمہ نہیں ہوسکتا۔ میں نے مولانا عبدالستار خان نیازی کا نام سنا ہے۔ میں نے مولانا عبدالستار خان نیازی کی جانب سے شائع کرائی جانیوالی تردید پڑھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے کوئی جرم نہیں کیا پھر رضا کارانہ طور پر کہا کہ دوسرے دن مولانا عبدالستار نیازی کا وضاحتی بیان اخبار میں شائع ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی نے ان سے غلط بیانی کی تھی جس کی بنا پر وہ گمراہ ہوگئے تھے۔ غالباً روزنامہ ”خبریں“ میں یہ تردید شائع ہوئی۔ یہ درست ہے کہ میں نے روزنامہ نوائے وقت میں 1997-7-9 کو شائع ہونیوالی خبر کا اخباری تراشہ ایگزیبٹ ڈی ای پڑھا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ تردیدی ایگزیبٹ پی اے 1997-7-10 کو روز نامہ ”خبریں“ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد مولانا غلام سرور قادری نے روزنامہ ”خبریں“ میں ایک اور تردید 1997-07-12 ایگزیبٹ کی بھی شائع کرائی۔ میں نہیں کہہ سکتا کوئی تردید جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ ”خبریں“ کے علاوہ کسی دوسرے اخبار میں شائع ہوئی ہے۔ یہ غلط ہے کہ میرے خاندان کے لوگ شیزو فینوریا (Schezophenoria) کے مرض میں مبتلا ہیں۔ پھر رضا کارانہ طور پر کہا صرف میرا ایک بیٹا ذہنی مریض ہے۔ یہ غلط ہے کہ میرے خاندان کے دوسرے لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس شخص کو جو خود کو پیغمبر کہلوانے کا دعویدار ہو، اسے پاگل سمجھا جانا چاہیے۔ اس کے بارے میں مشورہ کیا جانا چاہیے کہ اسے قتل کر دیا جائے یا اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرایا جائے۔ پھر رضا کارانہ طور پر کہا میں نے قانونی راستہ اختیار کیا میں قانونی طریق کار میں ملزم کے خلاف گواہ بن گیا۔ اگر یہ مقدمہ درج نہ ہوا ہوتا اور یہ مقدمہ 1999ء میں درج ہوتا تو میں اتنا لمبا انتظار نہ کر پاتا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں اس مقدمے میں دشمنی کی بنا پر گواہ بنا۔ یہ درست

صفحہ 192

ہے کہ ملزم یوسف نے اپریل 1996ء میں بڑے جرم کا اعتراف کیا۔ اگر کوئی شخص میری موجودگی میں ”نعوذ باللہ“ قرآن مقدس زمین پر پھینک کر اس کی بے حرمتی کرتا ہے تو مجھے لازمی طور پر قرآن مقدس کو اٹھا کر چومنا چاہیے اور استغفر اللہ کہنا چاہیے۔ مزید برآں میں لازمی طور پر اس شخص کے لیے غلیظ آدمی کا لفظ استعمال کروں گا اور کہوں گا تم نے کیا کیا؟ اگر کوئی شخص اپنے حضور نبی کریم ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو میں اس شخص کو تھانے لے جاؤں گا۔ یہ درست ہے کہ جب ملزم یوسف نے اپنے حضور نبی کریم ہونے کا دعویٰ کیا، میں اسے تھانے نہیں لے گیا پھر رضا کارانہ طور پر کہا کہ ملزم یوسف کے خلاف میرا تنہا اس کے پیغمبر ہونے کے دعوے کا گواہ ہونا کافی نہیں۔

ملزم یوسف کی پیغمبری کے دعوے پر میں نے علماء کرام سے جن میں مولانا یوسف لدھیانوی، جسٹس تقی عثمانی، مولانا اکرم، مولانا ریاض حسین اور مولانا عبید اللہ سے فتویٰ حاصل کیا۔ یہ فتوے زبانی تھے۔ پھر کہا مولانا یوسف لدھیانوی نے تحریری فتویٰ دیا تھا۔ میں نے یہ فتوے جولائی تا دسمبر 1996ء کے دوران یا اس سے آگے مارچ 1997ء تک حاصل کیے۔ ان تمام علماء کا تعلق اہلسنت والجماعت کے مکتبہ فکر سے ہے۔ یہ فتوے میں نے اپنے خیالات کی تائید و توسیع کے لیے حاصل کیے۔ اس لیے بھی کہ دوسری رائے حاصل کی جا سکے یہ کہنا غلط ہے کہ میں اپنے مرشد بریگیڈیئر اسلم کی ہدایت پر بطور گواہ پیش ہوا ہوں۔ یہ درست ہے کہ جدید دور میں تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ درست نہیں کہ میں نے دشمنی کی بنا پر غلط بیانی کی ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسماعیل شجاع آبادی مدعی مقدمہ

بیان محمد اسماعیل شجاع آبادی ولد عبدالخالق ذات جٹ وریا عمر 45 سال پیشہ دکانداری ساکن مسلم ٹاؤن -5 حسین سٹریٹ لاہور حلفاً بیان کرتا ہوں۔ میں مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور دفتر کا جنرل سیکرٹری ہوں۔ ملزم یوسف علی جو ڈیفنس لاہور کا رہائشی ہے، نے اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے خود کو حضرت محمد ﷺ حضور نبی کریم ہونے کے تسلسل اور ان کے ساتھ مشابہت کا بھی دعویٰ کیا اس دور کے اپنے محمد الرسول اللہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اس نے اپنے اہل خاندان کو اہل بیتؓ اور اپنے معتقدین کو اصحابؓ رسول کہا جس پر مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا کیونکہ ان کے جذبات مجروح ہوئے تھے۔ ملزم نے عورتوں کے ساتھ زنا کے ارتکاب کی کوشش کی۔ اس نے اپنے معتقدین سے لاکھوں روپے وصول کیے۔ اس نے حضور

صفحہ 193

نبی کریم ﷺ کی توہین کی۔ اس نے اپنے مذکورہ خیالات کا اظہار 1997-2-28 کو چوک یتیم خانہ لاہور میں بیت الرضا میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ ایس ایس پی لاہور کو میری طرف سے دی جانیوالی درخواست ایگزیبٹ پی سی پر یہ مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد میں نے پولیس کے روبرو ایک سمعی (آڈیو) اور ایک بصری (ویڈیو) کیسٹ پیش کیا۔

نوٹ: اس مرحلے پر سر بمہر پارسل کھولا گیا۔ آڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 اور ویڈیو کیسٹ پی 2 (2-1) عدالت میں موجود ہیں جو میں نے پولیس کو پیش کیے تھے۔ میں نے ملزم یوسف کی ڈائری کے 22 صفحات بھی جن کا ایگزیبٹ پی 3 (22-1) ہے، پیش کیے۔ مذکورہ اشیاء بذریعہ فرد مقبوضگی میمو ایگزیبٹ پی ڈی جن کی میں نے تصدیق کی، قبضہ میں لی گئیں۔ اس مرحلے پر فاضل وکیل صفائی نے بعض اعتراضات کیے جو درج ذیل ہیں۔

شہادت پیش کرنے سے قبل سماعت کرنے والی عدالت سے اجازت حاصل کی جائے جو میکانکی آلات یا کسی دوسرے طریقے سے حاصل کی گئی ہو۔

عدالت نے یہ شہادت پیش کرنے کی اجازت دی ہے اس لیے قانون شہادت کے حکم کے آرٹیکل 164 کی پیشگی شرائط اور تقاضے پورے کیے بغیر ایسی شہادت پیش نہیں کی جاسکتی۔

کیسٹوں اور مبینہ طور پر ملزم یوسف کی تحریر کردہ ڈائری کی نقول پیش نہیں کیں۔

انہیں شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

اس مرحلے پر فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی کا موقف ہے کہ عدالت میں ایگزیبٹ پی 1 (2-1) کی صورت میں جو ویڈیو کیسٹ دی گئی ہے، وہ فی الحقیقت دو آزاد (انڈیپنڈنٹ) ویڈیو کیسٹیں ہیں جن میں سے ایک مستغیث نے پولیس کو پیش کی جبکہ دوسری کیسٹ گواہ استغاثہ اطہر اقبال نے پولیس کو پیش کی، اس لیے اطہر اقبال کی پیش کردہ ویڈیو کیسٹ کو مستغیث کے بیان سے خارج کیا گیا کیونکہ گواہ استغاثہ اطہر اقبال کی پیش کردہ ویڈیو کیسٹ

صفحہ 194

کی فرد مقبوضگی الگ سے تیار کی گئی ہے۔ اس مرحلے پر پارسل دوبارہ سر بمہر کر دیا گیا۔ گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

28-4-2000 گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسماعیل شجاع آبادی حلفاً بیان کرتا ہے: کہ میں نے ایک آڈیو کیسٹ ایک ویڈیو کیسٹ اور ملزم کی ڈائری کے صفحات کی 22 فوٹو سٹیٹ پیش کیں۔ آڈیو کیسٹ کا ایگزیبٹ پی 1 ہے جبکہ ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 میں غلطی سے دو ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2(2-1) کہہ گیا۔ فی الحقیقت میں نے ایک ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2‘ ایک درخواست‘ ایگزیبٹ پی سی ڈائری کے ایک صفحہ کی فوٹو کاپی پیش کی تھی۔ ایگزیبٹ پی 4 بھی میری پیش کردہ تھی۔

اس مرحلے پر فاضل وکیل صفائی نے اعتراض کیا کیونکہ دستاویز ایگزیبٹ پی 4 ایک فوٹو سٹیٹ ہے اس لیے بطور شہادت قابل تسلیم نہیں ہے اس اعتراض کا حتمی دلائل کے موقع پر جائزہ لیا جائے گا۔

جرح وکیل صفائی مسٹر سلیم عبدالرحمٰن:

میں نے اس مقدمہ کی ایف آئی آر پڑھی ہے۔ میں نے اپنے بیان میں ایگزیبٹ پی سی کا رسمی ایف آئی آر پی سی 1 سے موازنہ نہیں کیا۔ چونکہ میں نے ایگزیبٹ کا رسمی ایف آئی آر پی سی سے موازنہ نہیں کیا، اس لیے میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا رسمی ایف آئی آر میری شکایت ایگزیبٹ پی سی کے مطابق ہے۔ یہاں ایگزیبٹ پی سی 1 کی حد تک یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے کبھی میری موجودگی میں پیغمبر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ درست ہے کہ ایگزیبٹ پی سی میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ میری موجودگی میں نہیں لگائے گئے۔ مجھے اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ درست ہے کہ شریعت اور ملکی قانون کے مطابق غلط الزام بہتان ہے۔ بہتان سے مراد ایسے الزامات ہیں جن کا کوئی وجود نہ ہو۔ یہ درست ہے کہ میں کبھی ملزم یوسف سے نہیں ملا۔ یہ درست ہے کہ میں نے ملزم یوسف کو اپنی درخواست ایگزیبٹ پی سی میں دغا باز لکھا ہے۔ میں گواہ استغاثہ بریگیڈیئر اسلم سے پہلی مرتبہ جون یا جولائی 1997ء میں ملا۔ گواہ استغاثہ رانا اکرم سے پہلی بار میری ملاقات اپریل 1997ء میں ہوئی۔ اس کا انتظام اپریل 1997ء کے پہلے ہفتے میں کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ از روئے شریعت کسی شخص کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک کہ اس پر الزام ثابت نہ ہو جائے۔ میں

صفحہ 195

نے کسی جگہ یہ نہیں پڑھا کہ کسی کے خلاف غلط الزام لگانے والے کو مردود قرار دیا گیا ہو۔ پھر رضا کارانہ طور پر کہا ایسا شخص دجال اور کاذب ہے۔ قرآن حکیم کے سورۃ بقرہ میں مسلمان کی جو تعریف کی گئی ہے وہ وہی ہے جو ہمارے آئین میں ہے۔ میں اردو میں بھی لفظ مسلمان کی تعریف کر سکتا ہوں کہ اسے کلمہ طیبہ پر یقین ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ میں نے اور دوسروں نے حکومت پاکستان سے ملزم یوسف کو پھانسی پر لٹکائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ میرے اپنے خیال کے مطابق ملزم یوسف کے خلاف الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ میں نے آج تک ملزم یوسف کو نہیں سنا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کے ذریعے سے سنا ہے۔ میں نے اپنے بیان میں دھوکے باز مکار اور دغا باز کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ملزم یوسف نے اخبار میں ایک تردیدی بیان شائع کرایا ہے، یہ قابل محسوس نہیں۔ یہ درست ہے کہ ایگزیبٹ ڈی سی یوسف کا وہی تردیدی بیان ہے پھر رضا کارانہ طور پر کہا جو شخص خود کو غلط طور پر پیغمبر کہلواتا ہے، وہ عوام الناس میں اپنے دعوے کی تردید کرتا ہے لیکن اپنے پیروکاروں میں اس کا دعویٰ برقرار رہتا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ کسی ملا نے کسی ولی اللہ کے خلاف اس نوع کا الزام عائد کیا ہو۔

استغاثے کے گواہوں محمد نواز اعوان اور میاں محمد اویس نے مجھے آڈیو کیسٹس مہیا کیں۔ یہ آڈیو کیسٹ مجھے مارچ 1997ء کے وسط میں گواہوں نے یہ کہہ کر دیں کہ یہ ملزم یوسف کی طرف سے دیئے گئے خطبے سے متعلق ہیں۔ یہ خطبہ جمعہ 28-2-1997 کو دیا گیا۔ میں ان گواہوں کو پہلے سے جانتا ہوں۔ دونوں کیسٹیں بھی مجھے مذکورہ گواہوں نے مہیا کیں۔ ویڈیو کیسٹ بھی مجھے مارچ 1997ء کے وسط میں دی گئیں۔ ویڈیو کیسٹ میں تقریر کی تاریخ مجھے معلوم نہیں۔ میں نے آڈیو کیسٹ سنی اور ویڈیو کیسٹ دیکھی۔ میں نے بعض نکات نوٹ کیے۔ میں نے ایک دوسرے شخص کا وی سی آر اور ٹیلیویژن حاصل کیا۔ میں نے آڈیو کیسٹ تنہا سنا لیکن میں نے ویڈیو کیسٹ اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ دیکھی۔ ان کے نام قاری محمد رمضان، مولانا عزیز الرحمٰن، قاری محمد علی ہیں۔ ممتاز اعوان اور میاں محمد اویس نے مجھے ویڈیو کیسٹوں کی نمائش کے موقع پر بتایا کہ ویڈیو ملزم یوسف کی ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا تقریر کے وقت وہ موقع پر موجود تھے لیکن ویڈیو کیسٹ انھوں نے تیار نہیں کی۔ میں نے یہ نہیں پوچھا کہ ویڈیو کیسٹ کس نے تیار کیں۔ میں یہ نہیں جانتا کہ آیا

صفحہ 196

ویڈیو کیسٹ کسی پولیس افسر یا کسی دوسرے ایجنسی کے افسر نے تیار کیں۔ جہاں تک آڈیو کیسٹ کا تعلق ہے، ممتاز اعوان اور میاں محمد اویس نے مجھے بتایا کہ آڈیو کیسٹوں میں آواز ملزم یوسف کی ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ ایگز ہیبٹ پی سی کے ساتھ پیش کیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا آڈیو اور ویڈیو کیسٹ میں نے ایس ایس پی کو پیش کیے تھے۔ میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ تفتیشی افسر کو 1997-3-29 کو پیش کیے تھے۔ یہ درست ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ 97-3-29 تک میری تحویل میں رہے۔ میں نے آڈیو کیسٹ سننے اور ویڈیو کیسٹ دیکھنے کے بعد ملزم یوسف علی کا موقف معلوم نہیں کیا۔ پھر رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس کا موقف واضح ہے۔ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ سننے اور دیکھنے کے بعد بہت سے افراد نے ملزم یوسف سے اس کی رائے اور خیالات دریافت کیے تھے اور اس نے اسی رائے اور خیالات کا اظہار کیا جیسا کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں کہا گیا ہے۔ اس لیے میں نے اس کا موقف جاننے کو ترجیح نہیں دی

میاں عبدالغفار کا بیان روزنامہ ”خبریں“ میں شائع ہوا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ملزم یوسف سے وضاحت کے لیے رابطہ کیا تھا۔ میں نے میاں عبدالغفار سے اس نکتے پر بات کی اور اخبار میں بھی یہی پڑھا ہے۔ میاں غفار عالم دین نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا وہ صحافی ہیں اور ملزم یوسف سے وضاحت حاصل کرنے کے بعد مزید وضاحت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ گواہ کو آئندہ تاریخ کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

28-4-2000 کو ایک عدالتی گواہ کا بیان بھی قلمبند کیا گیا ہے جو لفظ بلفظ درج ذیل ہے:

عدالتی گواہ نمبر 1۔

خوشی محمد سب انسپکٹر پولیس لائن حلفاً بیان کرتا ہوں: میں نے اس عدالت کے حکم کی تعمیل میں آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کی مثنے (Duplicate) کاپی وصول کی اور یہ مثنے کاپی اور اصل آج عدالت میں پیش کر دیئے ہیں۔ مثنے کاپی مکمل طور پر آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کی اصل کے مطابق ہے۔

8-5-2000: گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسماعیل شجاع آبادی: حلفاً بیان کیا۔ یہ درست ہے کہ آڈیو کیسٹ کی سماعت کے دوران میں عدالت میں موجود تھا۔

صفحہ 197

آڈیو کیسٹ کی کاپی تفتیشی افسر نے عدالت کے حکم پر فراہم کی تھی۔ میں نے آڈیو کیسٹ کی ایک نقل پولیس کو اصل کیسٹ پیش کرنے سے قبل ذاتی استعمال کے لیے تیار کرائی تھی۔ کوئی دوسری کاپی تیار نہیں کرائی گئی تھی۔ ممتاز اور اویس نے مجھے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ مہیا کیے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اسے بیت الرضا مسجد سے لائے ہیں۔ آڈیو کیسٹ مورخہ 28-2-2000 کے خطبہ جمعہ سے متعلق ہے، چونکہ میں موقع پر موجود نہیں تھا۔ اس لیے میں نے پولیس کو جو ویڈیو کیسٹ پیش کی تھیں، میں ان سے متعلق تاریخیں نہیں جانتا۔ ممکن ہے ویڈیو کیسٹ ایک سال یا ڈیڑھ سال پرانی ہوں۔ پولیس نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کا ٹرانسکرپٹ بھی تیار کیا تھا۔ میں نے وہ ٹرانسکرپٹ پڑھے ہیں۔ میں نے ٹرانسکرپٹ کی نقل پولیس سے حاصل کی۔ مجھے وہ تاریخیں یاد نہیں جن پر میں نے پولیس سے ٹرانسکرپٹ حاصل کیے۔ یہ درست ہے کہ آڈیو کیسٹ سننے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا تعلق ربیع الاول کے مہینے کے کسی خطبے سے ہے۔ میں اسلامی کیلنڈر کے مہینوں کے نام بتا سکتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ شوال کے مہینے سے پہلے آتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ 1997-2-28 کو 19 شوال 1417ھ تھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا ویڈیو کیسٹ میں ایک خطبہ ربیع الاول کا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملزم کی تقریر کے موقع پر بہت سے لوگ جو وہاں بیٹھے تھے، اللہ اکبر اور نعرہ رسالت لگا رہے تھے۔ ویڈیو کیسٹ میں یا آڈیو کیسٹ میں یا ٹرانسکرپٹ میں یا اخبار میں ملزم کی تقریر سن کر مجھ سمیت مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ یہ غلط ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ دکھا کر میں نے ملزم یوسف کے خلاف عوام الناس کے جذبات بھڑکائے۔ مجھے ملزم یوسف کے پیروکاروں سے علم ہوا کہ ڈائری کے اوراق ملزم یوسف نے لکھے ہیں۔ ان میں رانا اکرم، سہیل ضیا، نعمان الٰہی اور ملزم یوسف کے دوسرے پیروکار شامل تھے۔ سہیل ضیا پہلا آدمی تھا جس نے مجھے بتایا کہ ڈائری کے اوراق ملزم یوسف کے تحریر کردہ ہیں۔ سہیل ضیا سے ملاقات سے قبل میں نے جریدہ تکبیر پڑھا تھا۔ جس میں ڈائری کے صفحات کا عکس شائع ہوا تھا۔ یہ درست ہے کہ مقدمے کے اندراج سے قبل ملزم کی مجھ سے کوئی خط و کتابت نہیں تھی۔

گواہ استغاثہ کو آج شام 2 بجے کا پابند کیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسماعیل شجاع آبادی حلفاً بیان کرتا ہے: میں نے پولیس سے ٹرانسکرپٹ مانگا تھا۔ کراچی میں ہماری مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر نے جریدہ تکبیر کے دفتر

صفحہ 198

سے ڈائری کے صفحات حاصل کیے تھے۔ ڈائری کے یہ صفحات 1997-3-23 اور 29-3-1997 کے تکبیر جریدہ میں شائع ہوئے تھے۔ استغاثے میں استعمال کیے جانے والے فقرے کیسٹوں میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ شکایت میں پی سی کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد میں ہوں کوئی اور نہیں میں نے شکایت میں لفظ چشم دید استعمال کیا تھا۔

ایگزیبٹ پی سی سے مراد وہ افراد ہیں جن سے ملزم یوسف تحائف‘ نذر اور نذرانے وصول کرتا تھا۔ ان میں سے ایک اکرم رانا ہے دوسرے سہیل ضیا اور اطہر اقبال وغیرہ ہیں۔ مجھے مذکورہ بالا حقائق کے بارے میں سہیل ضیا اور اطہر اقبال نے مقدمے کے اندراج سے قبل بتایا۔ ایسے ہی حقائق رانا اکرم میرے علم میں لائے۔ مقدمے کے اندراج سے قبل دو چشم دید گواہوں سہیل ضیا اور اطہر اقبال کے نام میرے علم میں تھے۔ میں نے اپنی شکایت کی ایگزیبٹ پی سی میں مختصر تفصیل مہیا کی۔ اپنی درخواست ایگزیبٹ پی سی میں میرے لیے حقائق کی تفصیل مہیا کرنا ضروری نہیں تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے دانستہ اپنی شکایت ایگزیبٹ پی سی میں عینی گواہوں کے ناموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ کسی کو بھی میں اس مقدمے میں عینی گواہ کی حیثیت سے متعارف کرا سکتا تھا۔ مجھے آڈیو‘ ویڈیو کیسٹوں سے علم ہوا کہ ملزم یوسف اپنے اہل خانہ کو اہل بیت اور اپنے پیروکاروں کو صحابی کہتا ہے۔ میں ٹرانسکرپٹ دیکھ کر ملزم کی طرف سے اپنے اہل و عیال اور پیروکاروں کے بارے میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کے بارے میں بتا سکتا ہوں۔ مجھے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کا وہ حصہ یاد نہیں جس میں ملزم یوسف نے اپنے کنبہ کے لیے اہل بیت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے چند روز قبل عدالت میں آڈیو کیسٹ سنا اور ویڈیو کیسٹ دیکھا تھا،ممکن ہے میری یادداشت کسی حد تک کم ہو۔ یہ درست ہے نہ ہی آڈیو کیسٹ اور نہ ہی ٹرانسکرپٹ میں کسی جگہ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورتوں سے ملزم یوسف کے زنا کا کوئی حوالہ ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا مجھے خواتین کی جانب سے کئی ٹیلیفون کالیں موصول ہوئیں حتیٰ کہ دو عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے کہا کہ ملزم یوسف نے ان کے ساتھ زنا کے ارتکاب کی کوشش کی تھی۔ اپنا مستقبل بچانے کے لیے ان عورتوں نے مجھے اپنے نام نہیں بتائے۔ یہ درست نہیں کہ ملزم یوسف نے زنا کے ارتکاب کی کوئی کوشش نہیں کی۔ میں نے خواتین کا موقف تسلیم کیا کیونکہ اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں تھی میں نے ٹیلیفون پر اور خواتین سے جو میرے پاس آئی تھیں، ان کے دعوے

صفحہ 199

سنے۔ یہ غلط ہے کہ ملزم یوسف نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ میں ”میرے صحابی“ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ پھر کہا ملزم یوسف نے آڈیو ویڈیو کیسٹوں میں اپنی تقریروں میں کہا ’یہاں ایک سو صحابی موجود ہیں۔ اس نے لفظ صحابی کی تعریف بھی بتائی۔ ملزم یوسف نے بالواسطہ طور پر اپنی تقریروں میں اپنے ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کر کے اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور اس نے کہا ”واعلموا ان فیکم رسول اللہ“ ملزم نے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کیا۔ ملزم یوسف نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ وہ حضور نبی کریمؐ کا تسلسل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو پیغمبر کہہ رہا ہو، اسے اپنے دعوے کی وجہ خود بیان کرنی چاہیے۔ میں اس کی وجہ کیوں بتاؤں؟ یہ درست ہے کہ ملزم نے ایک خطبے میں سیاہ پگڑی اور دوسرے میں سبز پگڑی باندھ رکھی تھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ویڈیو کیسٹ میں تین چار خطبے ریکارڈ ہیں۔ گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

9-5-2000: گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسماعیل شجاع آبادی:

حلفاً بیان کرتا ہے کہ ایک خطبے کے اختتام پر ملزم یوسف کو سبز رنگ کی پگڑی باندھے دکھایا گیا ہے اور دوسرے خطبے کے آغاز میں اس کی پگڑی سیاہ رنگ کی دکھائی گئی ہے۔ یہ غلط ہے کہ دونوں خطبے مختلف ٹوٹے جوڑ کر انہیں تیار کر کے پولیس کو دیئے گئے۔ پھر کہا ویڈیو کیسٹ میں مختلف خطبات ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ویڈیو کیسٹوں میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کی آوازوں میں بہت فرق ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ویڈیو کیسٹ میں کافی شکنیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ علمائے دین کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی کی طرف سے کہے ہوئے کسی فقرے کی اس شخص کی جانب سے کی جانے والی وضاحت پر غور کیا جائے گا کسی دوسرے شخص کی وضاحت پر غور نہیں کیا جائے گا۔ جس نے وہ مکالمہ سنا ہو۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ سیاق و سباق کے حوالے سے وضاحت دیکھی جائے گی۔ یہ درست ہے کہ جھوٹا الزام اسلام میں گناہ کبیرہ ہے۔ جھوٹے الزام کا مقصد یہ ہے کہ کسی شخص کے خلاف ایسا الزام لگایا جائے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ میں مسجد بیت الرضا گیا ہوں۔ یہ درست ہے کہ وہاں کئی لاؤڈ سپیکر نصب ہیں، یہ بھی درست ہے کہ مسجد بیت الرضا مکانوں اور دکانوں میں گھری ہوئی ہے۔ میں نے 3 مارچ 1997 سے پہلے کسی اخبار میں ملزم یوسف کے بارے میں نہیں پڑھا۔ میں نے ملزم کے بارے میں پہلی بار کراچی میں 16 مارچ 1997 کے

صفحہ 200

روزنامہ امت میں پڑھا۔ یہ درست ہے کہ عبدالغفار روزنامہ ”خبریں“ کا رپورٹر ہے۔ یہ غلط ہے کہ میاں غفار رپورٹر میرے پاس ایڈیٹر روزنامہ ”خبریں“ ضیا شاہد کا پیغام لیکر آیا کہ اس مقدمے کو چلانا ہے۔ میں ضیا شاہد سے ان کے دفتر میں ملا ہوں۔ ممکن ہے آڈیو، ویڈیو کیسٹیں ضیا شاہد کے دفتر میں چلائی گئی ہوں لیکن میں ایسے موقع پر موجود نہیں تھا۔ عبدالغفار نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ ضیا شاہد نے ملزم سے تین کروڑ روپے طلب کئے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ ضیا شاہد نے مجھے اس مقدمے کی پیروی کیلئے خاطر خواہ رقم ادا کی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں اس مقدمے میں اپنی پارٹی کے سربراہوں سے صلاح مشورے کے بعد ان کی ہدایت پر مستغیث بنا ہوں۔ ہمارا بنیادی مسئلہ حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے حرمتی کو روکنا ہے۔ لیکن باقی الزامات بھی درست ہیں۔ یہ درست ہے کہ روزنامہ خبریں کی طرح دوسرے اخبارات نے اس مقدمے کے بارے میں دلچسپی نہیں لی۔ رضا کارانہ طور پر کہا اس مقدمے کے موضوع کے بارے میں خبریں دوسرے اخبارات میں بھی شائع ہوئیں۔ مجھے وہ تاریخیں یاد نہیں جن میں روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت میں اس مقدمے کے بارے میں خبریں شائع ہوئیں۔ یہ درست ہے کہ مجھے ملزم یوسف کی طرف سے روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونیوالی تردیدیں پسند نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا ایسے افراد اس وقت اپنے دعوے کی تردید کرتے ہیں، جب وہ پکڑ میں آتے ہیں لیکن جب ان پر شکنجہ اور گرفت ڈھیلی ہو جاتی ہے، وہ دوبارہ اپنے جعلی دعوے لے اٹھتے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔ مجھے ملزم یوسف کے مکان کا نام ”جنت طیبہ“ ہونا اچھا نہیں لگا۔ رضا کارانہ طور پر کہا قادیانیوں کے مرزا کا بھی یہی انداز تھا، وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد اقصیٰ کہلواتا تھا۔ مجھے ملزم یوسف کی والدہ کا نام یاد نہیں تاہم ملزم یوسف کی بیوی کا نام جانتا ہوں جو طیبہ یوسف علی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں یہ نام اس لیے جانتا ہوں کہ اس نے میرے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ مجھے ملزم یوسف کے گھر کا نام ”جنت طیبہ“ ہونے پر اعتراض ہے۔ اس وضاحت کے باوجود کہ ملزم کی بیوی کا نام طیبہ اور اس کی والدہ کا نام جنت ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا جو بھی اپنی ذات کیلئے اسلامی اصطلاحات استعمال کرتا ہے، وہ ہمارے لیے قابل اعتراض ہے۔ میں اپنے لیے لفظ مولانا استعمال نہیں کرتا لیکن میرے دوست مجھے مولانا کہتے ہیں۔ اگر میرے نام کے ساتھ مولانا لکھا جائے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ قرآن حکیم میں کسی کیلئے مولانا کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔

صفحہ 201

قرآن میں لفظ ’انت مولانا‘ استعمال ہوا ہے۔ ان الفاظ کا مطلب اور اس سے مراد اللہ رب العزت ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے پیغمبر ﷺ اور صحابہؓ نے اپنے لیے لفظ مولانا استعمال نہیں کیا۔ خود رضا کارانہ طور پر کہا کہ اب ان دنوں لفظ مولانا‘ سیدین‘ ملا اور امام علمائے دین کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا جاتا ہے۔

11-5-2000 گواہ استغاثہ محمد اسماعیل شجاع آبادی حلفاً بیان کرتا ہے:

جرح مسٹر سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی:

مجھے نوائے وقت اور روزنامہ جنگ میں ملزم یوسف کی تردید پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اشاعت اخبار کا کاروبار ہے۔ بالخصوص اشتہارات کی اشاعت اخبار کا کاروباری معاملہ ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کسی اخبار میں یہ شائع کرایا ہو کہ روزنامہ نوائے وقت یا جنگ میں ملزم یوسف علی کی تردید کی اشاعت مجھے اچھی نہیں لگی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ یہ تردید غیر اہم ہے۔ میں نے گواہ استغاثہ اطہر اقبال کی پولیس کو دی گئی ویڈیو کیسٹ نہیں دیکھی۔ میں نے یہ پولیس کو دیئے جانے کے بعد بھی نہیں دیکھی۔ پولیس نے یہ ویڈیو کیسٹ میری موجودگی میں سربمہر کی تھی، تاہم ٹرانسکرپٹ میں نے تیار نہیں کیا تھا۔ میں نے ویڈیو کیسٹ پولیس کی موجودگی میں 24-4-1997 کو دیکھی۔ میں نہیں جانتا کہ ضیا شاہد نے ویڈیو فلم کہاں سے حاصل کی‘ میں نہیں جانتا کہ میرے علاوہ کسی اور کے پاس بھی وہ ویڈیو کیسٹیں تھیں جو میں نے پولیس کو دیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ تیار کئے جانیوالے ٹرانسکرپٹ اور ویڈیو میں کافی فرق ہے۔ یہ درست ہے کہ باطن کا بہترین حال اللہ ہی جانتا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا فتویٰ ظاہر پر لگایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کسی کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات تصدیق کئے بغیر آگے بیان کردے۔ یہ بھی درست ہے کہ جو شخص کسی پر جھوٹا الزام عائد کرے، اس کی شہادت قابل قبول نہیں۔ یہ درست ہے کہ جو بھی شخص اسلامی شعائر یا فرمان الٰہی کی خلاف ورزی کرے، اسے مردود کہا جاتا ہے۔ میں مسلمان ہوں اور میرا تعلق اہل سنت والجماعت مکتب فکر سے ہے۔ جب میں حضور نبی کریمﷺ کے روضہ اقدسؐ پر حاضر ہوتا ہوں تو میں یا رسول اللہ کہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ جب بھی آڈیو یا ویڈیو کیسٹ میں سرور کائنات ؐ کا نام آئے تو ﷺ کہا جانا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ حضرت محمدﷺ کو خواب

صفحہ 202

میں دیکھا جاسکتا ہے، جاگتے ہوئے (بیداری میں) نہیں۔ توہین رسالت سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بولے گئے اور لکھے گئے الفاظ کے ذریعے بے ادبی اور بے حرمتی کرنا ہے۔ میں مولانا عبدالستار خان نیازی کو جانتا ہوں۔ میں نے ان کے عالم دین ہونے کی سند نہیں دیکھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے راہنما ہیں، وہ ایک دینی عالم ہیں۔ میں نے مولانا عبدالستار نیازی کا بیان پڑھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ملزم یوسف نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا اس موضوع پر مولانا عبدالستار نیازی کے دو بیانات ہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا یہ درست ہے کہ دوسرا بیان جو کہ روزنامہ ”خبریں“ نے شائع کیا ہے، مولانا عبدالستار نیازی نے اس بیان میں کہا ہے کہ انہیں تصویر کا ایک رخ دکھایا گیا تھا جس کی بنا پر انہوں نے پہلا بیان دیا تھا۔ حقیقی، اصل اور تسلیم شدہ جماعت تحریک عالمی ختم نبوت ہے۔ لیکن بہت سی دوسری چھوٹی جماعتیں بھی ہیں جو ختم نبوت کا لفظ استعمال کرتی ہیں مثلا پاسبان ختم نبوت اور فدائین ختم نبوت وغیرہ ہیں۔ میں ذاتی حیثیت میں توہین رسالت کے کسی دوسرے مقدمے میں مستغیث نہیں۔ میں یہ مقدمہ اپنی جماعت کی ہدایت پر اور ایک مسلمان کی حیثیت سے لڑ رہا ہوں۔ میری اس مقدمے میں ذاتی دلچسپی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ میری معلومات کا واحد ذریعہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ ہیں۔ پھر کہا شہادتیں بھی میری معلومات کا ذریعہ ہیں۔ میرا انحصار چار باتوں پر ہے۔ خود کہا آڈیو ویڈیو ڈائری کے اوراق اور عینی گواہ۔ میں نہیں جانتا کہ آج کل میکانکی طور پر آڈیو ویڈیو کیسٹوں میں ردو بدل کیا جاسکتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کوئی فنکار کسی دوسرے کی آواز کی نقل کر سکتا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پولیس اور عدالت کے روبرو میرا بیان جذباتیت پر مشتمل ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں پولیس کے دباؤ پر مقدمے کا مستغیث بنا۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے مقدمے کا مستغیث بنا۔

بیان گواہ استغاثہ نمبر 4

حافظ محمد ممتاز اعوان

حافظ محمد ممتاز اعوان ولد غلام محمد ذات اعوان پیشہ کاروبار ساکن شام نگر روڈ چوبرجی چوک لاہور حلفاً بیان کرتا ہوں:

28-2-1997 کو میں اور میرا ساتھی محمد اویس جمعہ کی نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد بیت الرضا گئے، یہ مسجد چوک یتیم خانہ پر واقع ہے۔ ملزم یوسف نے جو عدالت میں موجود

صفحہ 203

ہے ۔ خطبہ جمعہ کے بعد تقریر کی۔ اس کی تقریر میں حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی بے ادبی اور بے حرمتی کی گئی تھی‘ اس طرح اس نے اعلان کیا کہ محفل میں موجود سو افراد ’صحابہ رسول‘ ہیں۔ اس نے دو افراد زید زمان اور عبدالواحد کے ”صحابی“ ہونے کا اعلان کیا اور اپنا تعارف حضور نبی کریم کی حیثیت سے کرایا۔ بازار سے ملزم یوسف علی کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں خریدنے کے بعد میں نے یہ اسماعیل شجاع آبادی کو دیں جو مقدمے کے مستغیث ہیں۔ میں نے آڈیو کیسٹ سنی ہے اور ویڈیو کیسٹ دیکھی ہے۔ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ ملزم یوسف علی کی ہے۔

جرح محمد سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی:

میری تعلیم مڈل تک ہے‘ مزید برآں میں حافظ قرآن ہوں‘ پولیس کے پاس میرا بیان قلمبند کیا گیا۔ میں نے اپنے بیان پر دستخط نہیں کئے نہ ہی انگوٹھا لگایا۔ میرا بیان مسجد بیت الرضا میں 1997-3-29 کو 9 بجے رات قلمبند کیا گیا۔ اس سے دو روز قبل اسماعیل شجاع آبادی نے ہمیں مسجد بیت الرضا پہنچنے کو کہا تھا کیونکہ تفتیشی افسر نے مقدمے کی تفتیش کیلئے وہاں آنا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ 1997-2-28 کو چھٹی تھی۔ میرے کاروبار کی جگہ اردو بازار کے قریب واقع ہے۔ میں نے 1997-2-28 کو کاروبار نہیں کیا کیونکہ اس دن میرے لیے چھٹی تھی۔ اس سے پہلے اتوار کو بھی میں نے چھٹی نہیں کی تھی۔ میں نے اتوار کو جب حکومت نے چھٹی کا اعلان کیا تھا، کام کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ میرا مکان مسجد بیت الرضا سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ درست ہے کہ مسجد بیت اتحاد بین المومنین میں نمازِ جمعہ بھی ادا ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ میرے گھر اور مسجد بیت الرضا کے درمیان پانچ چھ مساجد واقع ہیں۔ میں نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ میں نے بازار میں کہاں سے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ خریدے تھے۔ میں نے پولیس کو بتایا تھا کہ میں نے یہ کیسٹ اسماعیل شجاع آبادی کے حوالے کر دیئے تھے۔ جب ایگزیبٹ ڈی ایف سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ریکارڈ پر ایسا نہیں تھا۔ جامع مسجد بیت الرضا کے خطیب یوسف رضا نے مسجد میں ملزم یوسف علی کا تعارف کرایا تھا۔ انہوں نے خود تقریر نہیں کی تھی۔ خطیب یوسف رضا نے ملزم یوسف کا تعارف ”میرے پیرو مرشد“ کہہ کر کرایا تھا۔ میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کی مثنیٰ (Duplicate) کاپی تیار نہیں کرائی۔ میں نے مستغیث کے ہمراہ آڈیو کیسٹ سنے اور ویڈیو کیسٹ دیکھے تھے۔ خطیب

صفحہ 204

یوسف رضا کی طرف سے ملزم یوسف علی کا کرایا جانیوالا تعارف آڈیو کیسٹ میں موجود نہیں ۔ 28-2-1997 کو ویڈیو کیسٹ بھی تیار کی جارہی تھی ۔ میں 1997-2-28 کی ویڈیو کیسٹ حاصل نہیں کرسکا۔ ملزم یوسف علی نے دو افراد کا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے ’’اصحاب رسول‘‘ کی حیثیت سے ذکر کیا تھا۔ اس نے انہیں اپنا صحابی نہیں کہا ۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ملزم یوسف نے کہا تھا کہ صحابی ایسا شخص ہے جس نے حضور نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور جس نے اپنا وقت ایمان کی حالت میں رسالت مآب ﷺ کی صحبت میں گزارا ہو۔ جب ملزم یوسف نے دو افراد کے بارے میں ’’اصحاب رسول‘‘ کے الفاظ استعمال کیے، اس وقت کم از کم 100 افراد مسجد میں موجود تھے۔

کیونکہ ملزم یوسف کی تقریر سننے کے بعد میں نے نماز جمعہ اس مسجد میں ادا نہیں کی اس لیے میں نماز جمعہ کے موقع پر مسجد میں موجود افراد کی تعداد نہیں جانتا۔ میں تقریباً پونے دو بجے اس وقت مسجد سے چلا گیا جب ملزم یوسف نے محمد ابو بکر کی خدمات اور مہربانیوں کو سراہا اور کہا کہ وہ اس کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ میں نے پولیس کو بتایا کہ ملزم یوسف کی جانب سے محمد ابو بکر کو بلائے جانے پر میں مسجد سے چلا گیا تھا۔ یہ حقیقت آڈیو کیسٹ میں واضح ہے۔ میں نے آڈیو کیسٹ دوسرے جمعہ ایک سٹال سے خریدا جسے ملزم یوسف کا ایک مرید اقبال بٹ چلا رہا تھا۔ یہ درست ہے کہ مسجد میں بہت سے لاؤڈ سپیکر نصب ہیں اور مسجد بیت الرضا گنجان آباد علاقے میں واقع ہے۔ آڈیو کیسٹ کا دورانیہ تقریباً پینتالیس منٹ کا ہے جب ملزم یوسف نے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف بات کی، میں نے اعتراض نہیں کیا۔ سامعین میں سے کسی نے ملزم یوسف کی تقریر کے بارے میں اعتراض نہیں کیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا بیشتر سامعین ملزم یوسف کے مرید تھے۔ یہ درست ہے کہ زیادہ تر نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت کے نعرے بلند کئے جارہے تھے۔ میرا تعلق حنفی مکتب فکر سے ہے اور اہلسنّت ہونے کی بنا پر میں دیوبندی یا بریلوی ہونے پر یقین نہیں رکھتا کیونکہ یہ مکاتب فکر ہیں اور یہ القاب برطانیہ کے دیئے ہوئے ہیں۔ میں مجلس ختم نبوت کا باقاعدہ رکن ہوں۔ میں مقدمے کے مستغیث کو دس بارہ سال سے جانتا ہوں، میں میاں محمد اویس کو گزشتہ آٹھ دس سال سے جانتا ہوں۔ جب ملزم تقریر کر رہا تھا تو وہ میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ درست ہے کہ میں نے ملزم یوسف کی تقریر کو انتہائی اشتعال انگیز

صفحہ 205

محسوس کیا۔ میں نے خود پولیس کو ملزم یوسف کی تقریر کے اشتعال انگیز ہونے کے بارے میں 28-2-1997 اور 29-3-1997 کے درمیان نہیں بتایا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس دوران مستغیث نے مجھے بلایا تھا۔ یہ درست ہے کہ 1997-2-28 سے قبل میں نے مسجد بیت الرضا میں نماز جمعہ ادا نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ میں نے مستغیث کے کہنے پر اس مقدمے میں گواہی دی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے مسجد بیت الرضا میں نماز جمعہ نہیں پڑھی۔ ملزم یوسف نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ میں نے مارچ کے وسط میں اسماعیل شجاع آبادی کو آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں مہیا کیں۔ آڈیو کیسٹ سننے اور ویڈیو کیسٹ دیکھنے کے موقع پر اسماعیل شجاع آبادی، میاں محمد اویس، قاری محمد علی، محمد رمضان اور مولانا عزیز الرحمان موجود تھے۔ پھر کہا ہم نے مذکورہ افراد کی موجودگی میں صرف ویڈیو کیسٹ دیکھی۔ اگر اسماعیل شجاع آبادی مقدمہ درج نہ کراتے تو میں مقدمہ درج کراتا کیونکہ میں نے اس کے بارے میں تہیہ کر لیا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مذہبی علم نہ ہونے کی بنا پر ملزم یوسف کے خلاف اس لیے مقدمہ درج نہیں کرایا کہ میں ملزم یوسف کی تقریر سمجھ نہیں سکا تھا۔ خریداری کے بعد آڈیو اور ویڈیو کیسٹ میاں اویس کے پاس رہے۔ یہ غلط ہے کہ آج میں نے غلط بیان دیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 5 میاں محمد اویس

گواہ استغاثہ نمبر 5 میاں محمد اویس ولد میاں محمد شفیق پیشہ کاشتکاری ذات ارائیں ساکن 54-سی گلبرگ III لاہور حلفاً بیان کرتا ہوں:

28-2-1997 کو میں اور ممتاز اعوان نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد بیت الرضا گئے۔ ملزم یوسف علی مسجد میں موجود تھا۔ اس نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اس وقت محفل میں 100 صحابی موجود ہیں۔ اس نے وضاحت بھی کی کہ صحابی وہ ہے جس نے حالت ایمان میں حضرت محمدﷺ کو دیکھا ہو۔

اس نے دو افراد جن کے نام زید زمان اور عبد الواحد تھے، کو آگے بلایا اور ان کا تعارف ”صحابی رسولؐ“ کی حیثیت سے کرایا۔ دونوں افراد آگے آئے اور مختصر وقت کے لیے تقریر کرتے ہوئے اپنے انتہائی خوش نصیب ہونے پر شکریہ ادا کیا۔ اپنی تقریر کے دوران ملزم یوسف نے اپنے رسول اللہ (استغفر اللہ) ہونے کا اعلان کیا۔ آج ملزم یوسف کو عدالت میں

صفحہ 206

موجود دیکھا ہے۔ یہ وہی محمد یوسف ہے جس نے مذکورہ تقریر کی تھی۔

جرح سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی:

میں نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا تھا کہ ملزم ڈیفنس ایریا کا رہائشی ہے۔ یہ بات مجھے اسماعیل شجاع آبادی نے اس وقت بتائی جب میں ان کے پاس گیا تھا۔ میں نے شجاع آبادی کو ملزم یوسف کی مسجد بیت الرضا کی تقریر کے بارے میں بتایا جس پر اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ وہ ملزم یوسف کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ میں اسماعیل شجاع آبادی کو آٹھ دس سال سے جانتا ہوں۔ جب میں نے ملزم یوسف کی تقریر سنی تھی، اسی دن مستغیث اسماعیل شجاع آبادی سے ملا تھا۔ جب میں اسماعیل شجاع آبادی سے ملا تو اس نے کہا کہ وہ ملزم کے خلاف کوئی کارروائی کر رہا ہے۔ میں نے اور ممتاز اعوان استغاثہ نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں خرید کر مستغیث اسماعیل شجاع آبادی کو دے دیں۔ میں نے اسماعیل شجاع آبادی کو آڈیو اور ویڈیو کیسٹ ملزم یوسف کی تقریر سننے کے ایک ہفتے بعد مہیا کیں۔ میں نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ آڈیو ویڈیو کیسٹوں کی خریداری کے بعد میں نے اسماعیل شجاع آبادی مستغیث کو دیئے۔ ہم نے ملزم یوسف کی تقریر کے چار یا پانچ دن بعد آڈیو کیسٹ سنے اور ویڈیو کیسٹ دیکھے، پھر کہا مجھے صحیح مدت یاد نہیں۔ پولیس نے میرا بیان 1997-3-29 کو نماز عشاء کے بعد مسجد بیت الرضا میں ساڑھے نو بجے رات قلمبند کیا۔ یہ درست ہے کہ میری رہائش اور مسجد بیت الرضا کے درمیان آٹھ دس کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ درست ہے کہ راستے میں سات آٹھ مساجد واقع ہیں جہاں نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہیں۔ 1997-2-28 کو عام تعطیل تھی۔ میری اپنی زمین ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے میں واقع ہے۔ ملزم کی تقریر کا دورانیہ تقریباً پینتالیس منٹ تھا۔ مجھے مستغیث اسماعیل شجاع آبادی کے ذریعے معلوم ہوا کہ مقدمہ 1997-3-29 کو درج کیا گیا تھا۔ مستغیث نے مجھے بھی بیان دینے کو کہا۔ ملزم یوسف کی تقریر سے قبل ایک شخص یوسف رضا نے جسے میں نہیں جانتا (غالباً وہ مولوی ہے)، تقریر کی تھی۔ میں یوسف رضا کا نام پہلے سے جانتا تھا کیونکہ میرے چچا حکیم ذوالقرنین مسجد بیت الرضا کے قریب ایک گلی میں رہتے ہیں۔ انہوں نے مجھے یوسف رضا کا نام بتایا تھا۔ 1997-2-28 کو میرے چچا حکیم ذوالقرنین بھی مسجد میں موجود تھے۔ ملزم یوسف کی تقریر کے موقع پر وہاں تقریباً ایک سو

صفحہ 207

افراد موجود تھے تاہم میرے اندازے کے مطابق چار سے پانچ سو افراد مسجد کے اندر اور باہر ملزم کی تقریر کے وقت موجود تھے۔ ملزم نے دو افراد کو اپنے صحابی نہیں کہا تھا بلکہ انہیں ”صحابی رسول“ قرار دیا تھا۔ میں نے 1997-2-28 سے قبل مسجد بیت الرضا میں نماز جمعہ ادا نہیں کی۔ میں مسجد ختم نبوت کا باقاعدہ رکن نہیں ہوں۔ یہ درست ہے مسجد بیت الرضا میں جمعہ کے وقت لاؤڈ سپیکر نصب تھے۔ میں نہیں جانتا کہ مسجد میں موجود چار پانچ سو افراد ملزم یوسف کی تقریر سن رہے تھے۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف کی 1997-2-28 کو مسجد بیت الرضا میں اس کی تقریر میں حضور نبی کریمﷺ کے نام کی توہین اور بے حرمتی کے موقع پر میں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ کسی دوسرے نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ مجھے اس ضمن میں درست طور پر یاد نہیں۔ میرا تعلق اہلسنت مکتب فکر سے ہے۔ میں نہ دیوبندی ہوں نہ بریلوی ہوں۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنا بیان مستغیث کے کہنے پر دیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ جو کچھ میں نے سنا اور دیکھا، میں نے عدالت میں بیان کردیا۔ میں نے بھی تھانہ ملت پارک میں ملزم یوسف علی کے خلاف اعتراض کی شکل میں درخواست دی تھی لیکن مجھے صحیح تاریخ یاد نہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے آج غلط بیانی کی ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں کہ میں نے 1997-2-28 کو مسجد بیت الرضا میں نماز جمعہ ادا نہیں کی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ملزم یوسف کی تقریر سننے کے بعد مجھے یقین تھا کہ ملزم کی امامت میں میری نماز قبول نہیں ہوگی، اس لیے میں نے 1997-2-28 کو اپنی نماز جمعہ نہیں پڑھی۔

گواہ استغاثہ نمبر 6 میاں اطہر اقبال

گواہ استغاثہ نمبر 6 میاں اطہر اقبال ولد ظفر اقبال ذات ارائیں پیشہ آر سی سی پائپ فیکٹری ساکن کینال ویو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور حلفاً بیان کیا:

نوٹ: گواہ کا بیان قلمبند کئے جانے سے قبل پارسل میں سربمہر ویڈیو کیسٹ کی مہریں کھولی جاچکی تھیں۔

18-4-1997 کو میں اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہوا۔ میں نے ویڈیو کیسٹیں ایگزبٹ پی فائیو تفتیشی افسر کو پیش کیں جو ریکوری میمو ایگزبٹ پی ای کے ذریعے قبضے میں لی گئیں۔ اس مرحلے پر فاضل وکیل صفائی نے اعتراض کیا کہ قانون شہادت کے

صفحہ 208

آرڈر کے آرٹیکل 164 کے تحت قانون کی یہ لازمی شق ہے کہ میکانکی حالات یا کسی ایسے دوسرے طریقے سے حاصل کی جانیوالی شہادت قابل تسلیم نہیں اور ایسی شہادت پیش کرنے سے قبل استغاثے کیلئے لازم ہے کہ ویڈیوکیسٹ وغیرہ کے بارے میں مقدمہ سماعت کرنیوالی عدالت سے پیشگی اجازت حاصل کرے۔ وکیل صفائی کی طرف سے اٹھائے جانیوالے اعتراض کا حتمی دلائل کے موقع پر جائزہ لیا جائے گا۔

جرح محمد سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی:

میں نے پولیس کو ویڈیو کیسٹ دیئے جانے سے قبل خود اکیلے اور پھر احباب کالونی کے قاری عزیز کی موجودگی میں دیکھی۔ میں نے اکیلے ویڈیو کیسٹ 1997-3-18 کو دیکھی تھی۔ میرا پاسبان ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اپنی مذہبی جماعت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ میں نے ویڈیو کیسٹ پولیس کے سپرد کرتے ہوئے اپنے پاس اس کی کوئی نقل نہیں رکھی۔ تفتیشی افسر نے ویڈیو کیسٹ ایک سربمہر پارسل میں بنائی تھی اور اس لمحے یہ ویڈیو کیسٹ اکیلی تھی۔ میں نے ویڈیو کیسٹ ایک شخص اقبال بٹ سے حاصل کی تھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس کی ادائیگی میرے دوست ابرار نے کی تھی جس نے اقبال بٹ کا تعارف کرایا تھا۔ میں نے ویڈیو کیسٹ کا پولیس کی طرف سے تیار کیا جانیوالا ٹرانسکرپٹ نہیں پڑھا۔ یہ درست نہیں کہ ملزم یوسف کو اس کیسٹ میں سیاہ اور سبز رنگ کی پگڑی پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ملزم یوسف نے صرف سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ یہ کہ ویڈیو دو خطبات پر مشتمل ہے۔ میں نے ملزم یوسف کی ایک اور ویڈیو مئی 1997 میں دیکھی تھی۔ میں نے یہ کیسٹ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دیکھی تھی۔ میں نے یہ کیسٹ سہیل ضیاء سے حاصل کی تھی جو میرا عم زاد اور ملزم یوسف کا مرید ہے۔ یہ درست ہے کہ سہیل ضیاء بھی اس مقدمے میں گواہ ہے۔

میں نے مئی 1997 میں دوسری کیسٹ محض عمومی طور پر دیکھی تھی۔ چونکہ میرے خاندان کے لوگ اس مسئلے پر بحث کر رہے تھے۔ فوری مقدمے کا اندراج تھانہ ملت پارک میں میری موجودگی میں 1997-3-29 کو ہوا۔ مقدمہ تقریباً چھ بجے شام درج ہوا۔ میں اس مقدمے میں استغاثے کے گواہ ممتاز اعوان کو کبھی نہیں جانتا تھا تاہم ساجد منیر ڈار کو میں گزشتہ چھ سات سال سے جانتا تھا۔ میں نے رضا کارانہ طور پر ویڈیو کیسٹ پولیس کے روبرو پیش

صفحہ 209

کی۔ میں اس مقدمے کے مستغیث اسماعیل شجاع آبادی سے ملا تھا۔ میری یہ ملاقات 23 اور 24 مارچ 1997 کو ہوئی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا استغاثے کے گواہ کی حیثیت سے میرا نام روزنامہ ”خبریں“ میں شائع ہوا تھا۔ میں نے اخبار میں اشاعت کیلئے اپنا نام نہیں دیا تھا۔

مجھے میاں عبدالغفار صحافی ”خبریں“ کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب انہوں نے اس مقدمے کے بارے میں خبر شائع کی۔ میں اسماعیل شجاع آبادی سے مقدمے کے اندراج سے قبل ایک مرتبہ ملا تھا۔ میں ان سے اکثر و بیشتر ملتا رہا ہوں۔ دوسری مرتبہ میری ملاقات تھانے میں 1997-3-29 کو ہوئی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں اس مقدمے میں مستغیث کے کہنے پر بطور گواہ پیش ہوا ہوں۔ میں نے اخبار میں مقدمے کے اندراج کے بارے میں نہیں پڑھا۔ ویڈیو کیسٹ دوبارہ سر بمہر کر دی گئی ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد علی ابوبکر

گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد علی ابوبکر ولد محمد ابوبکر عمر 51 سال پیشہ کاروبار ذات میمن ساکن 97/1 خیابان بحریہ فیز 5 ڈیفنس کراچی حلفاً بیان کیا:

میں ملزم یوسف کو جو عدالت میں موجود ہے، جانتا اور پہچانتا ہوں۔ غالباً جون 1994 میں میرے ایک رشتہ دار رضوان نے مجھے بتایا کہ میرے قرآن کے علم کی بنیاد، معمولی علم پر ہو سکتی ہے۔ اس لیے اگر مجھے قرآن حکیم سیکھنا ہے تو مجھے ملزم ابوالحسنین محمد یوسف علی سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اس طرح جون 1994 میں رضوان نے ملزم یوسف علی سے میری ملاقات کا انتظام کیا۔ میں ملزم یوسف علی کے علم سے بے حد متاثر ہوا۔ پہلی ملاقات کا انتظام عبدالواحد کے گھر پر کیا گیا۔ جب میری ملزم سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ جب تک میں حضور نبی کریمﷺ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں، مجھے موت نہیں آئے گی۔ مجھے کثرت سے درود شریف پڑھنے کی ہدایت کی گئی۔ میں اس کے بعد ملزم یوسف سے عبدالواحد کے گھر پر ملتا رہا۔ ملزم یوسف نے مجھے ابوبکر صدیق کا نام دیا۔ جب میں اہل وعیال کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے جا رہا تھا، ملزم یوسف میرے گھر آیا اور مجھے کہا کہ عمرے کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں‘ وہ یہاں عمرے کا انتظام کر سکتا ہے۔ ملزم نے کہا مکان وہاں ہے اور مکین یہاں ہے جس پر میں ناراض ہوا اور اس نے مجھے عمرے کی ادائیگی کی اجازت دیدی۔ جب میں عمرے سے واپس آیا ملزم یوسف نے مجھ سے میری حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات کے بارے میں باتیں

صفحہ 210

شروع کردیں اور کہا کہ میری طرف سے اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ بڑی دستبرداری کیا ہوسکتی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ وہ جو بھی چاہے۔ اس کے بعد ملزم نے میرے گھر میں مجھے ایک کمرہ سجانے کو کہا۔ جب میں نے کمرہ سجا لیا، ملزم یوسف لاہور سے کراچی آیا، اس نے کمرہ پسند کیا اور کہا یہ ”غار حرا“ ہے۔ کمرے کا فرنیچر سیاہ اور سبز رنگ کا تھا۔ ملزم یوسف اس کے بعد لاہور واپس چلا گیا۔ اس کے بعد جب وہ کراچی آیا، اس نے کچھ عرصہ میرے سجائے ہوئے کمرہ میں قیام کیا۔ ملزم یوسف عبدالواحد کے گھر رہائش رکھا کرتا تھا۔ جب وہ میرے گھر آیا اس نے کہا کہ وہ میری حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کا انتظام کرے گا۔

اس نے مجھے میرے گھر کے ایک کمرے میں بلایا اور مجھے آنکھیں بند کرنے کو کہا۔ مزید اس نے مجھے درود شریف پڑھنے کو کہا۔ جب میں نے درود شریف پڑھنا شروع کیا تو اس نے مجھے آنکھیں کھولنے کو کہا۔ جب میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اچانک اس نے مجھے چمٹا مار لیا اور کہا وہ ”محمد“ ہے لیکن میں نے رونا شروع کر دیا۔ اس نے مجھے جپھے میں جکڑے رکھا۔ جب اس نے مجھے چھوڑا، مجھ پر کپکپی طاری تھی اور میں پسینے میں شرابور تھا۔ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ کیا ہوا۔ اس کے بعد میں کمرے سے باہر آ گیا۔ ملزم یوسف کے پیروکار کمرے سے باہر بیٹھے تھے۔ انہوں نے مجھے حضور نبی کریم ﷺ سے جسمانی ملاقات پر مبارکباد دی جیسا کہ ملزم یوسف حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی پہلے باتیں کرتا تھا۔ اس کے بعد جب ملزم لاہور سے کراچی آیا اس نے عبدالواحد کے گھر پر قیام کیا جہاں ملزم یوسف نے مجھ سے مکان کی خریداری کیلئے پچاس لاکھ روپے طلب کئے جو میں نے ملزم یوسف کو ادا کر دیئے۔ میں نے ملزم یوسف کو 24 لاکھ روپے بینک کے ذریعے ادا کیے، باقی ماندہ رقم کا انتظام بھی میں نے اپنے دوستوں کے ذریعے کر کے ادائیگی کر دی۔ میں ڈیمانڈ ڈرافٹ، 3 لاکھ، 5 لاکھ، اڑھائی لاکھ اور دو لاکھ کی ادائیگی کی فوٹو کاپیاں مارک اے تا ڈی پیش کرتا ہوں۔

میں اصل رسید چوبیس لاکھ دو ہزار چار سو دس روپے پچاس پیسے کی ڈالر انکیشمنٹ کیلئے ایگزیبٹ پی پیش کرتا ہوں۔ بیس ہزار نو سو دس روپے مالیت کے ڈالروں کے ضمن میں فوٹو کاپی مارک بی پیش کرتا ہوں۔ ملزم یوسف نے مجھ سے ایئر کنڈیشنر کا مطالبہ کیا جو میں نے مارکیٹ سے خریدا جس کی رسید مارک ای ہے۔ ایئر کنڈیشنر عبدالواحد کے گھر ملزم یوسف کے کمرے میں لگایا گیا۔ اس کے بعد ملزم یوسف نے کراچی سے قالین خریدا جس کی میں نے

صفحہ 211

ادائیگی مبلغ گیارہ ہزار روپے کی جس کی رسید مارک جی ہے۔ میں سٹی بینک کا اصل خط ایگزیبٹ پی 7 بھی پیش کرتا ہوں۔ میں نے ملزم یوسف کے کمرے کیلئے فرنیچر بھی خریدا۔ ملزم یوسف یہ فرنیچر لاہور لے گیا۔ میں نے یہ فرنیچر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار روپے میں خریدا تھا۔ اس کے بعد ملزم یوسف نے پردے وغیرہ کراچی سے خریدے۔ اس کیلئے میں نے 53 ہزار کی ادائیگی کی۔ میں نے مجموعی طور پر 67 لاکھ روپے کی ادائیگی کی۔

ملزم نے مذکورہ رقم میں سے 24 لاکھ روپے سٹی بینک کے ذریعے واپس کئے۔ جب میں نے باقی رقم کا مطالبہ کیا تو ملزم نے کہا کہ ابھی تک اسے مدینے سے رقم موصول نہیں ہوئی، جونہی رقم ملے گی وہ ادائیگی کردے گا۔ اس کے بعد ملزم گرفتار ہوگیا اور اس کے بعد سے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ میرے پاس میرے قبضے میں ملزم یوسف کی ایک ڈائری تھی، میں نے دانستہ طور پر پولیس کو پیش نہیں کی۔ اگر میں پہلے یہ ڈائری پولیس کو پیش کرتا تو آج میں زندہ نہ ہوتا۔ اب میں ڈائری پی 8(116-1) پیش کرتا ہوں جس کا مطلب ہے کہ یہ ڈائری 116 صفحات پر مشتمل ہے۔ ملزم نے یہ ڈائری میرے حوالے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈائری پڑھنے کے بعد میں اس پر بھروسہ کرونگا۔ ملزم یوسف کی گرفتاری سے قبل ایک مرتبہ میری اس سے ملاقات عبدالواحد کے گھر قوالی کی مجلس میں ہوئی۔ ملزم یوسف نے ملاقات کے شروع میں قوالوں تک کی موجودگی میں کہا کہ جب تک مجلس کے ارکان حضرت محمد ﷺ کو نہ دیکھ لیں، ان میں سے کوئی نہیں مرے گا۔

اس کے بعد ایک مرتبہ جب میں محفل نعت خوانی میں شرکت کے لیے جارہا تھا تو اس وقت ملزم یوسف نے مجھ سے کہا کہ جس شخص کے لیے میں محفل نعت خوانی میں شرکت کے لیے جارہا ہوں، وہ یہاں بیٹھا ہے اور یہ کہ میں کس کیلئے محفل نعت خوانی میں شرکت کیلئے جارہا ہوں۔ ہر موقع پر ملزم یوسف اپنے آپ کو ”محمد“ اس انداز میں ظاہر کرتا رہا جیسے وہ اپنے حضور نبی کریم ﷺ ہونے کا دعویدار ہو اور جب میں مجلس نعت خوانی میں شرکت کے بعد واپس آیا ملزم یوسف نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا، وہ اپنے حکم کی خلاف ورزی پر مجھ سے بے حد ناراض تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ چونکہ میں نے اس کی حکم عدولی کی ہے، اس لیے مجھ پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ 28 فروری کو ملزم یوسف کی بیٹی کی شادی شام کے وقت تھی اور صبح ملزم یوسف نے مسجد بیت الرضا میں ورلڈ اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا۔ مسجد بیت الرضا میں ہونے

صفحہ 212

والے ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے دعوت نامہ مارک ”ایچ“ دیا گیا۔ میں نے یہ دعوت نامہ تکبیر نامی ایک جریدے سے حاصل کیا۔ مجھے یہ دعوت نامہ ملا تھا لیکن یہ کورا تھا اور میں نے وہی دعوت نامہ جریدہ تکبیر کو دے دیا۔ میں نے اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں آڈیو اور ویڈیو کیسٹ تیار کی گئی تھی۔ ملزم یوسف نے مسجد میں موجود اپنے ایک سو صحابیوں کا تعارف کرایا۔ ملزم نے عبدالواحد اور زید زمان کا اپنے صحابیوں کی حیثیت سے تعارف کرایا۔ ان لوگوں نے بھی وہاں تقریریں کیں۔

ملزم یوسف نے اپنی تقریر میں اس بات کی وضاحت کی کہ اس نے ورلڈ اسمبلی کیلئے مسجد بیت الرضا کا انتخاب کیوں کیا ہے؟ اور اس نے ”مسجد نبویﷺ“ یا ”مسجد حرام“ کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ اس نے کہا مسجد بیت الرضا کا انتخاب اس طرح کیا گیا جس طرح اللہ رب العزت نے ”غار حرا“ کا انتخاب کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے کہا بعض سورتیں، بعض آیات حتیٰ کہ قرآن یہاں موجود ہے۔

اس نے مزید کہا کہ حضورﷺ ڈیوٹی پر نہیں بلکہ ان کی عطا ہے کہ ایک رسول ہم سے مخاطب ہے۔ اس کے بعد ملزم یوسف نے میرا تعارف کرایا اور کہا کہ جس طرح حضور نبی کریمﷺ نے جن کی خدمات قبول فرمائیں، وہ ابوبکر تھے جس کا نام محمد علی ابو بکر ہے۔ میں تیسری یا چوتھی قطار میں بیٹھا تھا، مجھے وہاں سے اٹھا کر ورلڈ اسمبلی میں متعارف کرایا گیا۔ مجھے منبر کے قریب لاتے ہوئے ملزم یوسف علی نے میرے بارے میں کہا کہ پہلے میں ابو بکر تھا، اب میں محمد علی ابو بکر ہوں اور جب مجھے ابو بکر کہا جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں صحابی تھا اور اب میں صرف محمد علی ابو بکر ہوں۔ شادی میں شرکت کے بعد میں کراچی واپس آ گیا۔ میں بعض نکات نوٹ کر کے اپنے ساتھ لایا تھا جن کے بارے میں اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور علماء سے جن میں محمد رفیق عثمانی، مفتی دارالعلوم کورنگی کراچی بھی شامل تھے، تبادلہ خیال کیا۔

میں نے مولانا یوسف لدھیانوی سے بھی بات کی۔ وہ بھی مجھ سے بہت زیادہ ناراض ہوئے اور کہا کہ پہلے میں اپنے ایمان کو ٹھیک کروں۔ اس کے بعد مجھے مولانا سے ملنا چاہیے۔ جو کچھ میں نے نوٹ کیا تھا، تمام باتیں ملزم یوسف کی کہی ہوئی تھیں۔ پولیس نے میرا بیان ریکارڈ کیا۔ اس مرحلے پر وکیل صفائی نے اعتراض کیا کہ گواہ استغاثہ کی طرف سے پیش کی جانیوالی تمام اشیاء جیسا کہ مارکڈ اور ایگزیبٹڈ ہیں، قانون شہادت کے حکم کے تحت قابل

صفحہ 213

تسلیم نہیں، اس لیے انہیں ہر قسم کے جائزے سے حذف کیا جائے۔ مزید برآں وکیل صفائی کو گواہ استغاثہ کی طرف سے پیش کی جانیوالی مذکورہ دستاویزات کی موجودگی کا کوئی علم نہیں تھا۔

جرح محمد سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی: گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

27-5-2000 محمد علی ابوبکر تجدید حلف کے ساتھ جرح فاضل وکیل صفائی:

میں جانتا ہوں کہ عدالت میں غلط بیانی جرم ہے۔ میری کمپنی نے میرے خلاف خورد برد کے الزام میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ یہ درست ہے کہ مقدمہ کی ایف آئی آر جس کی فوٹو کاپی ایگزیبٹ ڈی جی ہے، میرے خلاف درج تھی۔ یہ درست ہے کہ میں مذکورہ مقدمے میں ضمانت پر ہوں، یہ درست ہے کہ مقدمے کی سماعت سے میرا منافع روک دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ کمپنی کا ڈائریکٹر فاروق سومار میرا قریبی رشتہ دار ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے کمپنی میں تقریباً ستائیس برس کام کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ میری بیٹی کا نام لبنیٰ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اس کے شوہر کا نام سہیل ہے۔ یہ درست ہے کہ میری بیٹی اور داماد ملزم یوسف کے مرید ہیں۔ میری بیٹی لبنیٰ کی سوچ میرے خیال کے مطابق درست اور صحیح نہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے اپنی بیٹی لبنیٰ کو اڑھائی برس حبس (قید) میں رکھا۔ یہ درست نہیں کہ غیر قانونی طور پر قید رکھے جانے کی کوئی رپورٹ کراچی کے سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے پاس درج ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو بیلف کے چھاپے کے خوف سے کسی دوسری رہائش گاہ میں منتقل کیا۔ یہ درست نہیں کہ میری بیٹی وہاں سے اپنے خاوند کے گھر چلی گئی۔ رضا کارانہ طور پر کہا میری بیٹی میرے گھر سے شوہر کے گھر گئی تھی۔ میری بیٹی لبنیٰ تقریباً ایک سال میرے پاس رہی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنی بیٹی پر طلاق حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو مشورہ دیتا رہا کہ ملزم یوسف کی طرف سے ’’رسول اللہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کفر ہے اور اسے ملزم یوسف کی اتباع سے باز آنا چاہیے لیکن اس نے جواب دیا کہ (پاپا) آپ ملزم یوسف کو سمجھ نہیں سکے۔ یہ درست ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کے اس طرز عمل کیلئے ملزم یوسف کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جب میں نے فاروق ٹیکسٹائل ملز چھوڑی، میری آخری تنخواہ 60 ہزار روپے تھی۔ میری ملزم یوسف سے ملاقات جنوری 1997 میں ہوئی۔ ملزم یوسف سے پہلی ملاقات جون 1994 میں ہوئی تھی۔ ملزم یوسف نے پہلی ملاقات میں ’’عہد الست‘‘ پر

صفحہ 214

بات کی۔ اس کی بات خاصی اثر انگیز تھی۔ ملزم کی جانب سے مجھے ابوبکر صدیق کہے جانے کو میں اہمیت نہیں دیتا تھا۔ اس نے مجھے اس نام سے جون یا اس کے قریب 1995 میں پکارا۔ مجھے اس نام سے عبدالواحد کے گھر بریگیڈیئر سلیم، بریگیڈیئر اسلم، ملک یوسف صدیقی، سہیل کاشف، عارف رضوان اور بہت سے دوسروں کی موجودگی میں پکارا گیا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد میں نے پولیس کے روبرو دو بیان دیئے۔ میرا پہلا بیان 20-4-1997 کو قلمبند کیا گیا کہ جب ملزم یوسف نے مجھے ابوبکر صدیق کہہ کر پکارا۔ بریگیڈیئر اسلم وغیرہ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے، عبدالواحد کے گھر موجود تھے۔ 20-4-1997 کو میرا بیان گواہ استغاثہ رانا اکرم کے گھر قلمبند کیا گیا۔ جن افراد کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر لوگ جن میں بریگیڈیئر اسلم، نعمان یوسف صدیقی اور رانا اکرم شامل ہیں۔ 20-4-1997 کو میرا بیان قلمبند کئے جانے کے موقع پر موجود تھے۔ پھر کہا یوسف صدیقی ملاقات کے موقع پر موجود نہیں تھا۔ مجھے رانا اکرم نے پولیس کی آمد کی اطلاع دی اور پوچھا کہ کیا میں نے بیان قلمبند کرانا ہے؟ میں رانا اکرم کے گھر رات آٹھ نو بجے بیان دینے پہنچا۔ مجھے پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم یوسف کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پوچھا تھا کہ مقدمے کے بارے میں میرے پاس کیا کیا معلومات ہیں؟ جریدہ تکبیر کے طاہر نے مجھے 11-4-1997 کو مقدمے کے اندراج کے بارے میں بتایا تھا۔ میں نے پولیس کو 28-2-1997 کو ملزم یوسف کی جانب سے دعوت نامہ بھیجے جانے کے بارے میں بتایا۔ جب اس کا ایگزیبٹ ڈی ایچ موازنہ کیا گیا تو اس میں 28-2-1997 کے دعوت نامے کا ذکر نہیں تھا۔ میں نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ اجلاس مسجد بیت الرضا میں منعقد ہوا۔ ملزم یوسف نے مجھے ٹیلی فون پر اپنی بیٹی کی شادی اور ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے بھی بلایا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ سہیل اور لبنیٰ نے میرے پاس آ کر مجھے لازمی طور پر شادی میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی۔ تفتیشی افسر کے ہمراہ ایک اور پولیس والا بھی تھا، میں اس کا نام نہیں جانتا۔ میں نے پولیس کو اپنے بیان کی تفصیلات کے بارے میں بتایا تھا لیکن پولیس افسر نے مجھے ہدایت کی کہ میں تفصیلی بیان عدالت میں دوں۔ میں نے پولیس کو، ملزم کو رقم ادھار دیئے جانے کے بارے میں بتایا تھا لیکن میں نے تفصیل نہیں بتائی تھی۔

رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس وقت تفصیلات میرے پاس دستیاب نہیں تھیں۔ میں نے پولیس کو وہ دستاویزات مہیا نہیں کیں جو میں نے عدالت میں مہیا کیں۔ یہ غلط ہے کہ

صفحہ 215

دستاویزات پولیس کو بیان قلمبند کراتے وقت میرے قبضے میں نہیں تھیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ یہ دستاویزات اور رسیدیں اس وقت میرے گھر پر ہی تھیں۔ میں نے پولیس کو یہ دستاویزات اور رسیدیں بعد میں حوالے کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی تھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا چونکہ مجھے دستاویزات اور رسیدیں عدالت میں پیش کرنے کو کہا گیا تھا، اس لیے میں نے دستاویزات اپنے پاس رکھیں۔ میں نے دستاویزات اور رسید 1997-4-22 کو بھی پیش نہیں کی تھیں۔ میں نے پولیس کو ملزم یوسف کی طرف سے 1997-2-28 کو کی جانیوالی تقریر کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ بھی بتایا تھا کہ میں نے مذکورہ تاریخ پر اجلاس میں شرکت کی تھی۔ جب ایگزیبٹ ڈی ایچ سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ریکارڈ میں ایسا نہیں تھا۔ جون 1994 سے جنوری 1997 کے دوران ممکن ہے میں ملزم یوسف سے بارہ پندرہ بار ملا ہوں گا۔ رضا کارانہ طور پر کہا اس دوران ملزم یوسف میرے گھر میں رہنے لگا تھا۔ میں نے پولیس کو 20-4-1997 کو بتایا تھا کہ 1997-2-28 کا اجلاس مسجد بیت الرضا میں ہوا تھا جب اس کا ایگزیبٹ ڈی ایچ سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ایسا درج نہیں تھا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا ڈائری ایگزیبٹ 116/8-1 ملزم یوسف کی اپنی تحریر میں نہیں ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ مجھے ملزم یوسف نے دی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا 1997-4-2 کو میں نے جریدہ تکبیر کے دفتر ٹیلی فون کیا۔ ملزم یوسف نے یہ ڈائری ایگزیبٹ 166/8 یکم دسمبر 1996 کو پڑھنے کیلئے دی تھی۔ تکبیر کے طاہر نے مجھ سے ڈائری لے لی لیکن میں نے بعد میں اس سے یہ ڈائری جولائی یا اگست 1997 میں واپس لے لی۔ کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ ڈائری ملزم یوسف کے اپنے ہاتھ کی تحریر ہے۔ یہ درست ہے کہ ڈائری میں کسی کا نام اور کوائف نہیں دیئے گئے۔ محفل میلاد میرے ماموں کے گھر 1996 میں ہوئی جب ملزم یوسف نے مجھے اس میں شرکت سے روکا۔ یہ درست ہے کہ میں بھی ملزم یوسف کا مرید تھا۔ یہ غلط ہے کہ ان دنوں میں بریگیڈیئر اسلم کا مرید ہوں۔ عبدالواحد کے گھر قوالی کا اہتمام 1995 کے آخر یا 1996 کے اوائل میں کیا گیا تھا۔ یہ نومبر 1994 میں اس وقت ہوا جب میں عمرے کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے آیا۔ مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ جب ملزم یوسف نے کہا ”مکان وہاں ہے لیکن مکین یہاں ہے“

میں نے ملزم یوسف کی طرف سے کہے جانیوالے فقرے کو غیر شرعی محسوس کیا۔ ملزم

صفحہ 216

یوسف نے یہ فقرہ مارچ‘ اپریل 1995 میں کہا جب میں عمرے کی ادائیگی کے بعد واپس آیا۔ لاہور میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں۔ یہ درست نہیں کہ میں لاہور گاہے بگاہے آتا ہوں۔ میں نے پولیس کو ملزم یوسف کے گاہے بگاہے کراچی آنے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ میں نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ ملزم یوسف میرے یا عبدالواحد کے مکان میں قیام پذیر رہا تھا۔ میں نے اپنے بیان میں ملزم یوسف کو اپنی طرف سے دی جانیوالی مجموعی رقم نہیں بتائی۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے ملزم یوسف کو دی جانیوالی نقد رقم کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ درست ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ پی 7 پر میرے دستخط نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا یہ دستاویز کمپیوٹرائزڈ ہے۔ یہ درست ہے کہ مارک ای میں اس شخص کا نام جس نے ڈالر انکیش کرائے تھے، موجود نہیں۔ یہ درست ہے کہ جس شخص کے حق میں ڈالر بھنائے گئے، اس کا نام دستاویز میں موجود نہیں۔ میں نے ملزم یوسف کیلئے ایئر کنڈیشنر 1995 کے اوائل میں خریدا تاہم مجھے ایئر کنڈیشنر کی خریداری کا صحیح مہینہ یاد نہیں۔ میں نے ملزم یوسف سے اپنی پہلی ملاقات کے بعد جو جون 1994 میں ہوئی، ایئر کنڈیشنر خریدا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ چونکہ میں ملزم یوسف سے ملتا تھا، اس لیے اس نے مجھ سے ایئر کنڈیشنر کا مطالبہ کیا تھا لیکن مجھے صحیح مہینہ یا تاریخ یاد نہیں۔

یہ درست نہیں کہ ملزم یوسف پے آرڈر یا ڈرافٹ وغیرہ بنوانے کیلئے مجھے رقم دیا کرتا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا ملزم یوسف مجھ سے روپے لیا کرتا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ دستاویز مارک اے تا ڈی اس سے متعلق ہیں جن کے بنانے اور جاری کرنے کیلئے ملزم یوسف نے مجھے رقم دی تھی۔ ملزم یوسف ورلڈ اسمبلی کے لفظ کے معنی کی اس انداز میں تشریح کرتا تھا جیسے کہ مدینہ منورہ میں قائم کی جا رہی ہو اور وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ صدر‘ جرنیلوں‘ سفیروں جیسی اعلیٰ شخصیات اس کے رکن ہیں۔ میں نے اخبارات میں مولانا عبدالستار خان نیازی کا بیان پڑھا ہے جس میں انہوں نے ملزم یوسف کے خیالات کی تصدیق کی ہے لیکن مولانا نیازی نے پھر اپنے پہلے بیان کی تردید کردی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں غلط کہا گیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ مولانا عبدالستار نیازی کا پہلا بیان تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ صرف روزنامہ جنگ اور امت میرے گھر آتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آیا صرف روزنامہ ”خبریں“ نے مولانا عبدالستار نیازی کا دوسرا بیان شائع کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے پہلے بیان کا موقف رد کیا تھا۔ میں نے مولانا عبدالستار نیازی کا دوسرا بیان جنگ یا امت میں پڑھا ہے۔

صفحہ 217

میں نے ملزم یوسف کا تردیدی بیان روزنامہ جنگ میں پڑھا ہے جس میں اس نے اپنا تردیدی بیان جاری کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ میں نے بیان ایگزیبٹ ڈی سی پڑھا ہے۔ اس مرحلے پر گواہ کو آج کے لیے پابند کیا گیا۔

محمد ابوبکر علی حلفاً بیان کرتا ہے۔ جرح مسٹر سلیم عبدالرحمان وکیل صفائی:

میں نومبر 1994 میں عمرے کیلئے گیا، میں نے پولیس کو بتایا تھا کہ میں نومبر 1994 میں عمرے کیلئے گیا تھا۔ جب ایگزیبٹ ڈی ایچ سے موازنہ کیا گیا تو وہاں یہ بات ریکارڈ پر نہیں تھی۔ میں 15 دن بعد واپس آ گیا۔ میں نے عمرے کی ادائیگی کیلئے ملزم یوسف سے اجازت نہیں لی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ عمرے کی ادائیگی کی کیا ضرورت ہے؟ عمرہ یہاں ہوسکتا ہے اور کہا کہ ”مدینے میں مکان ہے اور مکین یہاں ہے“ میں ملزم سے مارچ یا اپریل 1995 میں یہ مکالمے سن کر نہایت حیران ہوا۔ میری جانب سے عمرے کی ادائیگی کے بعد ملزم یوسف نے کہا کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ سے میری ملاقات کا انتظام کرائے گا۔ ملزم یوسف کہا کرتا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ظہور متوقع ہے اور وہ سرور کائنات ﷺ سے ملاقات کا انتظام کرسکتا ہے جس پر میں نے پوچھا ایسا کس طرح ممکن ہے؟ اس لیے میں بے حد حیران ہوا۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ ایسا کیونکر ممکن ہے؟ ملزم یوسف کی جانب سے اس کے حضور نبی کریم ﷺ ہونے کا دعویٰ مجھے انتہائی قابل اعتراض اور برا لگا۔ جب ملزم یوسف نے اپنے حضور نبی کریمؐ ہونے کا دعویٰ کیا میں بہت حیران ہوا، مجھ پر کپکپی طاری تھی اور میرے پسینے چھوٹ رہے تھے، میں نے ملزم یوسف سے اس کے دعوے کے بارے میں پوچھا چونکہ بعض اوقات وہ خود کو ”لباس“ اور بعض اوقات ”مشابہہ“ بیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا نزول متوقع ہے۔ ملزم یوسف غیر معمولی ذہین ہے وہ میرے جیسے عام آدمی پر حاوی ہوسکتا ہے اور میں اسی بناء پر اس سے لوٹا گیا۔ عدالت کے سوال پر گواہ نے کہا کہ اس کے خلاف فوجداری مقدمہ منیر انصاری نے درج کرایا جو عبدالواحد کا دوست ہے اور عبدالواحد ملزم یوسف کا مرید ہے اور یہ کہ مقدمے کے اندراج کے وقت گواہ استغاثہ امریکہ میں تھا۔

وکیل صفائی:

یہ درست ہے کہ جب میرے خلاف مقدمہ درج ہوا تو منیر انصاری، فاروق

صفحہ 218

ٹیکسٹائل ملز کا ڈائریکٹر تھا۔ یہ درست ہے کہ میں نے 1997-4-2 سے قبل تھانے میں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی۔ ہر ملاقات میں ملزم یوسف خود کو ”رسول اللہ“ کی حیثیت سے ظاہر کرتا، ہر ملاقات میں ملزم یوسف اپنی تقریر میں ایسے مکالمے استعمال کرتا جن کا سمجھنا عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہے۔ ان مکالموں میں وہ خود کو حضور نبی کریم ﷺ ظاہر کرتا۔ ملزم یوسف کی تقریریں سننے اور اس کے دعوؤں کے بعد میں بے حد پریشان تھا اور یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟ اس طرح میں ذہنی کشمکش میں گھر گیا جس کی بنا پر خوف کے تحت خاموش رہا اور یوسف کی باتیں مانتا رہا۔ ملزم یوسف کا جو بھی حکم ہوتا، اسے بجا لاتا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ملزم یوسف نے حضور نبی کریمؐ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ جب ملزم یوسف نے حضور نبی کریمؐ ہونے کا دعویٰ کیا، وہ اس وقت اپنے حضرت محمدؐ ہونے کا اعلان کر رہا تھا۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف یہ کہا کرتا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا نزول متوقع ہے۔

میں اس مقدمے کے مستغیث اسماعیل شجاع آبادی سے 1997-6-22 کو ملا جب پولیس نے مجھے بلایا۔ اگر مقدمے کے مستغیث نے مقدمہ درج نہ کرایا ہوتا تو میں خود مقدمہ درج کراتا۔ ملزم یوسف کی لاہور میں ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں 1997-2-28 کو شرکت کے بعد میرے پاس ایسا کافی مواد تھا جس کی بنیاد پر میں مقدمہ درج کرا سکتا تھا تاہم 1997-2-28 سے قبل میرے پاس خاطر خواہ مواد نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ میں نے 1997-2-28 سے 1997-4-20 کے دوران مقدمہ درج نہیں کرایا اور نہ ہی کوئی درخواست دی۔ میں نے کبھی اپنی بیٹی یا داماد سے نہیں کہا کہ اگر ملزم بری ہو گیا تو میں ملزم کے ساتھ پھر شامل ہو جاؤں گا۔ یہ غلط ہے کہ میں اب بھی ملزم یوسف کا مرید ہوں۔ یہ درست ہے کہ میں نے 1997-2-28 کو ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد ملزم یوسف سے بیعت فسخ کر دی ہے۔ مجھے تصوف، معرفت اور حقیقت قرآن کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے ملزم یوسف کے خلاف پولیس کو یا عدالت میں سازش کے تحت بیان دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے عبدالواحد اور زید زمان کو ”اصحاب رسول“ کہا، اپنے صحابی نہیں کہا۔ رانا اکرم مجھ سے 1995 کو عبدالواحد کے گھر ملا۔ بریگیڈیئر اسلم سے میری ملاقات جون 1994 میں ہوئی۔ اب میری رانا اکرم گواہ استغاثہ سے دوستی ہے۔ یہ کہنا

صفحہ 219

غلط ہے کہ میں ذاتی عناد‘ بغض یا مخالفت کی بنا پر گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا۔

گواہ استغاثہ نمبر 8 سعید ظفر کانسٹیبل تھانہ ملت پارک

گواہ استغاثہ نمبر 8 سعید ظفر کانسٹیبل نمبر 10223 تھانہ ملت پارک لاہور حلفاً بیان کیا: 18-4-1997 کو میں تھانہ ملت پارک لاہور میں متعین تھا۔ میں اور کانسٹیل عظمت علی اس مقدمے کی تفتیش میں شامل تھے۔ گواہ استغاثہ اطہر اقبال ولد ظفر اقبال نے ایک ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 5 پیش کی جو ریکوری میمو ایگزیبٹ پی ای کے ذریعے جس کی میں نے تصدیق کی، قبضے میں لی گئی۔

جرح مس رخسانہ لون وکیل صفائی :

ویڈیو کیسٹ تقریباً دس بجے دن پیش کی گئی۔ سب انسپکٹر ملک خوشی محمد اس مقدمے کا تفتیشی افسر تھا۔ ویڈیو کیسٹ میری موجودگی میں سربمہر نہیں کی گئی۔ اطہر اقبال نے صرف ایک ویڈیو کیسٹ پیش کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 9 : میاں غفار احمد ولد میاں محمد سلیم ذات ارائیں عمر

38 سال حال ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ ”خبریں“ ملتان۔ حلفاً بیان کیا :

میں عدالت میں موجود ملزم یوسف کو جانتا ہوں۔ مورخہ 97-03-29 کو بوقت 10 تا ساڑھے دس بجے رات مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (گواہ استغاثہ) نے میری موجودگی میں تھانہ ملت پارک لاہور میں ایک ویڈیو کیسٹ، ایک آڈیو کیسٹ اور 22 صفحات پر مشتمل ڈائری پیش کی جسے ریاض احمد ایس آئی نے بذریعہ ریکوری میمو اپنے قبضہ میں لے لیا جس کی میں نے تصدیق کی۔ مورخہ 1997-4-14 کو میں خوشی محمد ایس ایچ او تھانہ ملت پارک لاہور کے پاس شامل تفتیش ہوا۔

میں نے جریدہ ”تکبیر“ سے ملزم یوسف کذاب جس نے اپنے ”انا محمدؐ، جس کا مطلب ”میں محمدؐ ہوں“ ہونے کا دعویٰ کیا تھا‘ کافی مواد حاصل کر لیا تھا۔ مجھے رسالہ ”تکبیر“ کے ذریعے معلوم ہوا کہ ملزم یوسف اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے بعد میں نے ملزم یوسف سے 1997-3-21 کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ ملزم لاہور میں موجود تھا جب کہ میں بھی لاہور ہی میں تھا۔ روزنامہ ”خبریں“ لاہور کے ڈپٹی ایڈیٹر اور انسپکشن ٹیم کے انچارج کی

صفحہ 220

حیثیت سے میں ملزم یوسف سے اس کے گھر واقع 218/Q بلاک ڈیفنس لاہور میں 22-3-1997 کو دو بجے دن ملا۔ میں ملزم یوسف کے گھر تقریباً ایک گھنٹہ رہا۔ اس ملاقات سے قبل میں نے ویڈیو کیسٹ دیکھی تھی اور آڈیو کیسٹ سنی تھی۔ میں نے مذکورہ ڈائری کے اواراق بھی دیکھے اور پڑھے تھے۔

ملزم یوسف نے بات چیت کے دوران کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ”خلافت عظمیٰ“ عطا کی ہے۔ میں نے لفظ ”خلافت عظمیٰ“ کی وضاحت کیے جانے کو کہا جس پر ملزم نے میری تعلیمی حیثیت پوچھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے ماس کمیونیکیشن (ابلاغیات) میں ایم اے کیا ہے۔ جس پر اس نے کہا کہ دنیاوی تعلیم نہیں، میں نے تمہاری دینی تعلیم کے بارے میں پوچھا ہے۔ جس پر میں نے بتایا کہ مسلمان کی حیثیت سے میں نے قرآن پڑھا ہے۔ جس پر اس نے لفظ ”خلافت عظمیٰ“ کے معنی کی وضاحت کی۔ اس نے مجھے بتایا کہ سب سے پہلے ”خلافت عظمیٰ“ حضرت آدمؑ کو عطا کی گئی۔ ان کے بعد یہ تمام پیغمبروں کے لیے جاری رہی اور پھر حضرت محمدﷺ تک پہنچی۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور اب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ”خلافت عظمیٰ“ میرے پاس ہے۔ مجھے لاہور اور کراچی کی بعض خواتین کے بارے میں معلوم ہوا تھا جنہیں ملزم یوسف نے ازواج مطہرات قرار دیا تھا۔ اس لیے میں نے اس بارے میں ملزم یوسف سے پوچھا جس پر اس نے اپنی میز کی دراز کھولی اور ایک فائل نکال کر میز پر رکھی اور کہا کہ یہ کراچی، لاہور، اسلام آباد کے سینئر ڈاکٹروں کی رپورٹیں ہیں جن کے مطابق میں جنسی طور پر فٹ نہیں ہوں اور کہا کہ جب اسے خلافت عظمیٰ عطا ہوئی تو اس میں مباشرت کرنے کی صلاحیت ختم ہوگئی تھی۔ اس نے مزید بتایا کہ جب یہ صلاحیت ختم ہوئی تو وہ 41 سال کا تھا۔ اس نے مزید بتایا کہ ایسا 9 ربیع الاول کو ہوا۔ یہ کہ اس کی تاریخ پیدائش بھی 9 ربیع الاول ہے۔ مزید یہ کہ اسے 9 ربیع الاول ہی کو ”خلافت عظمیٰ“ عطا کی گئی۔ میں نے ”ازواج مطہرات “ کے بارے میں اپنا سوال دہرایا جس پر اس نے ایک کتاب لا کر میز پر رکھ دی۔ کتاب کا نام ”مرد کامل“ تھا۔ میں نے کتاب نہ پڑھی اور اپنے سوال کا براہ راست جواب پوچھا۔ اس نے کہا کہ وہ لاہور اور کراچی سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین سے کبھی نہیں ملا۔ تاہم ممکن ہے کہ یہ خواتین اس سے ملی ہوں۔ میں اس کی تردید نہیں کرتا۔ اس لیے کہ یہ خواتین اپنے موقف میں درست ہیں اور میں اپنے موقف میں صحیح ہوں۔ میں نے اس ضمن میں کچھ وضاحت چاہی جس

صفحہ 221

پر اس نے کہا اللہ تعالیٰ اپنے نیک لوگوں کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ اپنی صوابدید کے مطابق دنیا میں حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت معین الدین چشتیؒ اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ یا حضرت محمدﷺ یا میری شکل میں آ سکتا ہے۔ یہ بات چیت میرے اور ملزم یوسف کے درمیان تھی‘ جو عدالت میں موجود ہے۔ میں روزنامہ ”خبریں“ لاہور میں اس کی یہ بات چیت شائع کرتا رہا ہوں اور میں نے اپنے بیان میں پولیس کو بھی بتا دیا ہے۔

جرح مسٹر سلیم عبدالرحمن‘ وکیل صفائی

میں مذکورہ تاریخ پر دس بجے رات تھانے پہنچا۔ میں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر ٹیلی فون کیا تھا جس پر مجھے معلوم ہوا کہ مولانا اسماعیل شجاع آبادی تھانہ ملت پارک گئے ہیں۔ اس لیے میں بھی تھانے گیا۔ میرے تھانہ پہنچنے سے قبل ہی فوری مقدمہ درج ہو گیا تھا۔ میں تھانہ پہنچنے سے قبل گواہ استغاثہ اسماعیل شجاع آبادی سے مل چکا تھا۔ میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میری مولانا شجاع آبادی سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ غالباً یہ مارچ میں تھی۔ کیونکہ ریکوری کی کارروائی میری موجودگی میں ہوئی تھی۔ اس لیے میں نے فرد مقبوضگی پر دستخط کیے۔ پولیس نے میری موجودگی میں پارسل سربمہر کر دیا تھا۔ ویڈیو کیسٹ کا رنگ سیاہ تھا، وہاں آڈیو کیسٹ اور ڈائری کے بائیس اوراق بھی تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا یہ تمام اشیاء ایک پارسل میں رکھی گئیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے تھانے میں کتنے صفحات پر دستخط کیے۔ میری یادداشت اچھی ہے، مجھے اپنے اور ملزم یوسف کے درمیان 1997-3-22 کو ہونے والی بات چیت اچھی طرح یاد ہے۔ تھانے آمد سے قبل میری ملزم یوسف کے ساتھ بات چیت میرے ذہن میں تھی یہ کوئی عام اور سادہ مقدمہ نہیں تھا۔ ملزم یوسف کی جانب سے پیغمبری کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس لیے میں دینی علماء سے اس مسئلے پر صلاح مشورہ کرتا رہا تھا۔

میں نے ویڈیو کیسٹ وغیرہ قبضے میں لیے جانے کے دن بات چیت کے بارے میں نہیں بتایا۔ میں نے ویڈیو کیسٹ اپنے گھر اور اپنے دفتر میں بھی دیکھے تھے۔ میں نے آڈیو کیسٹ اپنے گھر اور اپنی کار میں بھی سنا۔ آڈیو کیسٹ میرے دفتر میں سب لوگوں نے سنا۔ جب میرے دفتر میں آڈیو کیسٹ سنا گیا تو مستغیث وہاں موجود نہیں تھا۔ آڈیو کیسٹ سنے جانے کے موقع پر پبلک کا کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔ میں 1992ء سے روزنامہ ”خبریں“ کا

صفحہ 222

ملازم ہوں۔ ”خبریں“ کی شہرت بھی بہت اچھی ہے۔ اسی طرح چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کی شہرت بھی بہت اچھی ہے۔ یہ غلط ہے کہ بہت سے صحافیوں نے ضیا شاہد کی اچھی شہرت نہ ہونے کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔ یہ درست ہے کہ صحافت ایک مقدس کام ہے۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ اس مقدس پیشے کا غلط استعمال غلیظ چیز ہے۔ میں کبھی اس پیشے کے غلط استعمال میں ملوث نہیں ہوا۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی روزنامہ ”خبریں“ نے ملزم یوسف کے خلاف زنا کے ارتکاب کا الزام لگایا ہو۔ رضا کارانہ طور پر کہا ہم نے جو کچھ سنا، وہ شائع کیا۔ ملزم یوسف کے بارے میں پہلی خبر میں نے 1997-3-23 کو شائع کی۔ مجھے اس خبر کی سرخی ”فوجی بھگوڑا پٹڑی سے اتر گیا“ کی حد تک یاد ہے۔ میں نے جو سنا، اخبار میں چھاپ دیا۔ اخبار کو جو بھی بیان دیا جاتا ہے، وہ اخبار میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ صحافت کے لیے یہ اچھا ہے کہ اس کی تصدیق کر لی جائے۔

ملزم یوسف سے متعلق اس مقدمے کی 95 فیصد خبریں میں نے شائع کیں۔ خواتین کے ناموں کا خبر میں ذکر نہیں، صرف نام کا پہلا لفظ مثلاً (م)‘ (ت) اور (ز) لکھے گئے ہیں۔ میں ان خواتین کے نام بتا سکتا ہوں جن کے لیے (م)‘ (ت) اور (ز) کے الفاظ استعمال کیے گئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ صحافت کے حوالے سے میری جانب سے خبروں میں خواتین کے ناموں کا شائع نہ کرنا کوئی بری بات تھی۔ آداب صحافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، میں نے خبر میں خواتین کے نام نہیں چھاپے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ہم عموماً خواتین کے پورے نام شائع نہیں کرتے۔ میں نہیں جانتا کہ ہماری جانب سے اخبار میں کوئی ایسا الزام شائع ہوا ہو کہ ملزم یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو قتل کیا۔ مجھے یاد نہیں کہ ہم نے اخبار میں چھاپا کہ ملزم یوسف نے اپنے بھائی کو زہر دے کر ہلاک کیا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں ضیا شاہد کا پیغام لے کر ملزم یوسف کے پاس گیا، یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ملزم یوسف سے 3 کروڑ روپے طلب کیے گئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ملزم یوسف نے اس رقم کی ادائیگی سے انکار کیا۔ جس پر ہم نے اخبار میں ”خبریں“ شائع کر کے اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ میں کبھی گواہ استغاثہ اسماعیل شجاع آبادی کے پاس ضیا شاہد کا پیغام لے کر نہیں گیا۔ گواہ استغاثہ اسماعیل شجاع آبادی ممکن ہے خود ضیا شاہد سے ملا ہو، میں ملاقاتوں کی تعداد نہیں بتا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ”خبریں“ میں جس قسم کی خبریں شائع ہوتی ہیں، وہ روزنامہ ”نوائے وقت“ اور ”جنگ“ میں نہیں چھپتیں۔ میں ریکارڈ

صفحہ 223

لے کر تاریخیں بتا سکتا ہوں۔

میں نے اپنا بیان 1997-4-17 کو تھانہ ملت پارک میں دیا۔ کیونکہ روزنامہ ”خبریں“ میں 1997-3-23 سے خبریں شائع ہورہی تھیں۔ اس لیے پولیس نے مجھے بلایا۔ یہ بات پولیس کے علم میں تھی کہ میں مقدمے کا گواہ ہوسکتا ہوں۔ میں نے بات چیت رسالہ ”تکبیر“ کے حوالے سے شروع کی اور ”خلافت عظمیٰ“ کے لفظ سے فقرہ شروع کیا۔ جب میں نے ملزم یوسف سے اس کے ”حضور نبی کریم“ ہونے کے دعوے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ وہ ”خلافت عظمیٰ“ کا دعویدار ہے۔ ملزم یوسف نے اس بات کی تردید نہیں کی تھی کہ وہ نبوت کا دعویدار نہیں۔ تاہم اس کی بات کا محور ”خلافت عظمیٰ“ رہی۔ میں ”خلافت عظمیٰ“ اور نبوت کے دعوے کے درمیان فرق کی تفصیلات نہیں جانتا۔ ملزم یوسف نے میرے سامنے یہ نہیں کہا کہ وہ ”پیغمبر“ ہے۔ اس نے میری موجودگی میں ”خلافت عظمیٰ“ کی وضاحت کی تھی اور ”خبریں“ میں بھی ایسا ہی شائع ہوا تھا۔

میں نے 1997-4-17 کوہفت روزہ ”تکبیر“ میں شائع ہونے والے حقائق کے حوالے سے پولیس کو اپنے بیان میں کوئی بات نہیں کہی۔ رضا کارانہ طور پر کہا پولیس کے سامنے میرا مختصر بیان ریکارڈ کیا گیا۔ میں نے پولیس کو بتایا کہ میں نے ملزم یوسف سے 21-3-1997 کو رابطہ کیا، میری اس سے ملاقات 1997-3-22 کو ہوئی جب ایگزیبٹ ڈی 1 سے موازنہ کیا گیا تو وہاں یہ بات ریکارڈ پر نہ تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے پولیس کو بتایا ہو کہ میں نے آڈیو کیسٹ سنے اور ویڈیو کیسٹ دیکھے ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے پولیس کو بتایا ہو کہ میں ملزم یوسف سے اس کے گھر پر ایک گھنٹے تک ملا ہوں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے پولیس کو بتایا ہو کہ ”خلافت عظمیٰ“ سے متعلق سوال پر ملزم یوسف نے مجھ سے میری تعلیم پوچھی۔ یہ درست ہے کہ میں نے اخبار میں یہ شائع کیا کہ بائیس صفحات پر مشتمل ڈائری کی رو سے ملزم یوسف نے اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ میں نے سنا ہے کہ ڈائری ایگزیبٹ پی 8 ملزم یوسف کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔

میں 12 جون 1997ء سے روزنامہ ”خبریں“ ملتان کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہوں۔ یہ درست ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا صدر دفتر ملتان میں واقع ہے۔ میں کبھی مذکورہ دفتر نہیں گیا۔ اگر مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر جانے کے بارے میں ملتان کے اخبار میں شائع ہوا ہے

صفحہ 224

تو یہ غلط ہے۔ میں مستغیث کی تحریک پر ملزم یوسف کے پاس نہیں گیا۔ میں نے مولانا عبدالستار نیازی کا تردیدی بیان پڑھا ہے جو مولانا نے ”خبریں“ سمیت کئی اخبارات میں شائع کرایا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے مولانا عبدالستار نیازی سے وضاحت حاصل کی ۔ اسے میں نے اخبار میں شائع کیا۔ یہ درست ہے کہ وضاحت صرف روزنامہ ”خبریں“ میں شائع ہوئی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کیونکہ میں نے مولانا سے رابطہ کیا تھا، اس لیے وضاحت صرف روزنامہ ”خبریں“ میں شائع ہوئی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مولانا عبدالستار نیازی سے رابطہ نہیں کیا تھا اور میں نے اپنے طور پر وضاحت اخبار میں شائع کردی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد پال خواجہ نے مجھے ملزم یوسف کے خلاف میڈیا ٹرائل شروع کرنے سے روکے جانے کے بارے میں کوئی حکم دیا تھا۔

یہ درست ہے کہ ملزم یوسف کو ابھی تک سزا نہیں ملی۔ یہ درست ہے کہ میں آج تک ملزم یوسف کے نام کے ساتھ کذاب لکھتا ہوں۔ کذاب سے مراد ایسا شخص ہے جو جھوٹ بولتا ہو۔ یہ غلط ہے کہ ملزم یوسف نے میری موجودگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ کیونکہ میری ملزم یوسف سے ملاقات ایک گھنٹے کی تھی، اس لیے میں جانتا ہوں کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ یہ درست ہے کہ اس بنیاد پر میں ملزم یوسف کے نام کے ساتھ لفظ کذاب لکھتا ہوں۔ میں نے ملزم یوسف کی ولادت 9 ربیع الاول کو ہونے کے بارے میں پولیس کو نہیں بتایا۔ ملزم یوسف نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت بابا فرید صاحبؒ اور حضور نبی کریمﷺ جیسی صورتوں میں دنیا میں آتا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا تاہم میں نے ملزم کی جانب سے بولے جانے والے ایسے حقائق اخبار میں شائع کیے تھے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے تین کروڑ روپے کی بلیک میلنگ کی رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر غلط بیان دیا ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 10 وقار الحق سب انسپکٹر

گواہ استغاثہ نمبر 10 وقار الحق، سب انسپکٹر اردو سٹینو گرافر سپیشل برانچ پنجاب لاہور حلفاً بیان کیا۔

1997ء میں ملک ریاض سب انسپکٹر تھانہ ملت پارک میرے گھر واقع وحدت کالونی لاہور آیا اس نے مجھے دو آڈیو کیسٹ ڈکٹیشن (املاء) کے لیے دیئے۔ میں نے کیسٹ دو بار سنے۔ اس کے بعد میں نے رف نوٹس لیے اور تحریر کا صاف پرنٹ تیار کرنے کے بعد اسے

صفحہ 225

سب انسپکٹر ریاض کے سپرد کر دیا۔

جرح وکیل صفائی

آڈیو کیسٹ جب مجھے ملے وہ سربمہر تھے۔ میں نے سربمہر پارسل ریاض کی موجودگی میں کھولے ۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے آڈیو کیسٹ سربمہر پارسل میں ریاض کو واپس کیے یا کھلی شکل میں۔ اس نے مجھے ان کیسٹوں کی ڈکٹیشن (املاء) کے لیے کسی عدالت کا کوئی حکم نہیں دکھایا۔ رضا کارانہ طور پر کہا یہ میرے فرائض کا حصہ ہے۔ یہ درست ہے کہ مہر توڑنے کا کوئی حکم نہیں تھا۔ اس مرحلہ پر فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی نے گواہ کا بیان دوبارہ قلمبند کیے جانے کے لیے کہا کیونکہ اس کے بیان سے کچھ ابہام پیدا ہوا تھا۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی کا ری ایگزامینشن :

ریاض سب انسپکٹر نے مجھے ویڈیو کیسٹ کی جو وہ اپنے ہمراہ لایا تھا ڈکٹیشن (املاء) کے لیے کہا میں نے ویڈیو کیسٹ اسے ان ریمارکس کے ساتھ لوٹا دیئے کہ میں صرف آڈیو کیسٹ کی املاء کا ماہر ہوں۔

وکیل صفائی

کچھ نہیں پوچھا، موقع دیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 11 محمد سرور

گواہ استغاثہ نمبر 11 محمد سرور ولد محمد یوسف، پیشہ کمپوزنگ (نجی طور پر) ساکن مکان نمبر 626 سٹریٹ نمبر 55 کوتوالی محلہ صدر بازار لاہور کینٹ حلفاً بیان کیا۔

اپریل 1997ء میں بعض پولیس افسر میرے پاس آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کی کمپوزنگ کے لیے آئے جس پر میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کی کمپوزنگ کی۔

جرح وکیل صفائی

میں نے کمپوزنگ کا پیشہ 1994ء میں شروع کیا۔ میں محکمہ پولیس کا ملازم نہیں ہوں۔ میں نے کیسٹوں کا متن ہاتھ سے ترتیب دیا۔ میں نے ایک آڈیو اور دو ویڈیو کیسٹ کمپوز کیے ۔ میں نے پولیس کی جانب سے دیا جانے والا کام پہلی بار کمپوز کیا۔ میں پولیس افسروں کے نام نہیں جانتا جو اس کام کے لیے چار بجے شام آئے تھے۔ ایک پولیس افسر

صفحہ 226

میرے پاس کمپوزنگ کے لیے آیا۔ پولیس نے میرا بیان 22 جون 1997ء کو قلمبند کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 12 ساجد منیر ڈار

ساجد منیر ڈار ولد نذیر احمد ڈار‘ ذات کشمیری‘ سرکاری ملازم ساکن 43/C۔ وحدت روڈ لاہور۔ حلفاً بیان کیا۔

میں عدالت میں موجود ملزم یوسف کو جانتا ہوں۔ میرے دوست سہیل ضیا نے مجھے ملزم سے متعارف کرایا تھا۔ میں ملزم سے مسجد بیت الرضا میں جو چوک یتیم خانہ میں واقع ہے‘ ملتا رہا ہوں۔ دسمبر 1995ء میں نماز جمعہ کے بعد میں مسجد سے ملحق حجرہ میں ملزم یوسف سے ملا۔ ملزم یوسف نے مجھ سے کہا کہ اگر وہ حضور نبی کریمﷺ سے میری ملاقات کرا دے تو آیا اس کی میرے نزدیک کوئی قیمت ہوگی یا نہیں؟۔ میں نے اس کا جواب اثبات میں دیا۔ اس نے کہا جب تک پیغمبرﷺ سے میری ملاقات نہ ہوجائے، مجھے موت نہیں آئے گی۔ ملاقات کی صورت میں میرے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ میں جہنم میں نہیں جاؤں گا اور یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا۔ اس نے مجھے اپنی سونے کی انگوٹھی دیئے جانے کو کہا اور مجھے اگلے روز ڈیفنس لاہور میں واقع اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میں اگلے دن اپنے دوست سہیل ضیا کے ساتھ شام کو ملزم یوسف کے گھر گیا۔ ملزم نے اپنے گھر میں ایک خاص حجرہ بنا رکھا تھا۔ وہ مجھے اکیلے اس حجرے میں لے گیا۔ جب کہ بہت سے دوسرے افراد مین ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ ملزم یوسف نے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں جو ’’حضور نبی کریمﷺ‘‘ سے ملنے جا رہا ہوں۔ اس نے مزید کہا کہ وہ ’’محمدﷺ‘‘ ہے۔ اس کے بعد وہ مجھ سے بغلگیر ہوا۔ اس نے کہا کہ ’’محمد‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ (یوسف) پیغمبر ہے۔ اس طرح ملزم یوسف نے جو عدالت میں موجود ہے، اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایسا کئی مرتبہ کراچی کے لوگوں بالخصوص رانا اکرم وغیرہ کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ پولیس نے میرا بیان قلمبند کیا۔

جرح وکیل صفائی:

پولیس نے میرا بیان 14-4-1997 کو قلمبند کیا۔ میں نے اپنے بیان پر دستخط نہیں کیے۔ میں خود تھانے گیا تھا۔ جب مجھے دوست نے بتایا کہ ملزم یوسف کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ میں آٹھ، نو بجے شام تھانے گیا۔ میں تین یا چار مرتبہ ملزم

صفحہ 227

یوسف کے گھر واقع ڈیفنس گیا۔ اس مکان کا نمبر 218/Q تھا اور یہ ایک بڑا مکان تھا۔ مجھے مکان کے گیٹ کا رنگ یاد نہیں۔ مکان کا بیرونی رنگ اینٹ جیسا تھا۔ میں ملزم یوسف کے ساتھ کراچی نہیں گیا۔ میں ملزم کے ساتھ کبھی کراچی نہیں گیا۔ میں نے پولیس کے سامنے یہ نہیں کہا کہ میں ملزم یوسف کے ہمراہ کراچی گیا ہوں۔ جب ایگزیبٹ ڈی سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ایسا اندراج تھا۔ میں ملزم سے چھ، سات مرتبہ ملا ہوں۔ میں نے ملزم کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بارے میں اخبار میں پڑھا۔ میں نے اخبار میں ملزم کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بارے میں مارچ 1997ء میں پڑھا۔ جب میں تھانے گیا، سہیل ضیا بھی میرے ہمراہ تھا۔ سہیل ضیا کے والد کا نام امین ضیا ہے۔ میں رانا اکرم کے والد کا نام نہیں جانتا۔ اسی طرح میں بریگیڈیئر اکرم کے والد کا نام بھی نہیں جانتا۔ مزید یہ کہ میں ارشد کے والد کا نام نہیں جانتا۔ اسی طرح میں گواہ استغاثہ نعمان الہی کے والد کا نام بھی نہیں جانتا۔ میں گواہوں کی رہائش گاہیں بھی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ میں نے استغاثہ کے گواہوں کے بارے میں تفصیلات مہیا نہیں کیں۔ جب ایگزیبٹ ڈی آئی سے موازنہ کیا گیا تو وہاں ایسا اندراج تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ پولیس افسر نے خود گواہوں کے کچھ کوائف اپنے طور پر میرے بیان میں لکھ دیئے۔ میں گواہ استغاثہ رانا اکرم کو جانتا ہوں، میں گواہ استغاثہ نعمان علی کو نہیں جانتا، میں گواہ استغاثہ اطہر اقبال کو جانتا ہوں۔ اطہر اقبال اور سہیل ضیا آپس میں رشتہ دار ہیں۔ میں گواہ استغاثہ اطہر اقبال کو گزشتہ چھ سات سال سے جانتا ہوں۔

ملزم یوسف کے مکان کا نام ”جنت طیبہ“ ہے۔ جب میں ملزم یوسف کے گھر گیا تو مجھے اس مکان کا نام قابل اعتراض نہیں لگا۔ لیکن اب میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ نام کسی حد تک قابل اعتراض ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ نام قابل اعتراض ہے۔ فی الحقیقت میں اس نام کو درست نہیں سمجھتا۔ میں اس نام کے قابل اعتراض ہونے کی اسلامی وجوہات نہیں بتا سکتا۔ میں مسجد بیت الرضا میں 1996ء سے چار پانچ مرتبہ نماز پڑھتا رہا۔ کیونکہ میری ملزم یوسف سے 1995ء کے آخر میں ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے پولیس کو بتایا تھا کہ میں ملزم یوسف کے مذہبی علم سے بہت متاثر ہوا۔ مجھے وہ تاریخ یاد نہیں، جب ملزم یوسف نے اپنے ”انا محمدؐ“ ہونے کا اعلان کیا۔ ممکن ہے ایسا 1996ء کے وقت میں ہوا ہو۔ جب ملزم نے اپنے ”انا محمدؐ“ ہونے کا دعویٰ کیا تو مجھے انتہائی دکھ ہوا۔ میرے نزدیک یہ بڑا کفر ہے۔

صفحہ 228

آخری بار میری ملزم یوسف سے ملاقات اپریل 1996ء میں ہوئی۔ ملزم یوسف کی جانب سے اس کے ”انا محمد“ ہونے کا اعلان مجھے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف لگا۔ میں نے خود مقدمہ درج نہیں کرایا کیونکہ میرے پاس اس بارے میں خاطر خواہ شہادت نہیں تھی۔ خاطر خواہ شہادت سے میری مراد تائیدی شہادت ہے۔ میری گواہ استغاثہ رانا اکرم سے پہلی مرتبہ سہیل ضیا کے مکان میں مارچ 1997ء میں ملاقات ہوئی۔ سہیل ضیا نے مجھے رانا اکرم سے متعارف کرایا۔ میری گواہ استغاثہ بریگیڈیئر اسلم سے عدالت میں ملاقات ہوئی۔ سہیل ضیا نے ان سے میرا تعارف کرایا۔ پھر رانا اکرم نے مجھے بریگیڈیئر اسلم گواہ استغاثہ کے بارے میں بتایا۔ میری رانا اکرم سے لاہور میں کئی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ میری رہائش وحدت روڈ پر واقع ہے۔ مسجد بیت الرضا کا فاصلہ میرے گھر سے سات‘ آٹھ کلو میٹر ہوسکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ راستے میں کئی مساجد آتی ہیں۔ جب ملزم یوسف نے اپنے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ کیا تو میں اور وہ اکیلے تھے۔ میں ملزم یوسف کے کسی مرید کا نام نہیں بتا سکتا جو مین ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے آج غلط بیانی کی ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میری ملزم یوسف سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اخبار میں اس کی تصویر دیکھ کر میں اسماعیل شجاع آبادی سے ملا۔ میری اسماعیل شجاع آباد ی سے ملاقات میجر مبشر اللہ ایس پی کے دفتر میں 24-4-1997 میں ہوئی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں رانا اکرم گواہ استغاثہ کے کہنے پر اس مقدمے میں گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ اس مقدمے یا وقوعہ سے دو‘ تین سال پہلے سے ملزم یوسف مسجد بیت الرضا میں جمعہ کی تقریر کر رہا تھا۔ میری گواہ استغاثہ سہیل ضیا سے گزشتہ سولہ‘ سترہ سال سے دوستی ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 13 ریاض احمد

بیان ریاض احمد‘ سب انسپکٹر سی آئی اے صدر ڈویژن لاہور‘ حلفاً بیان کیا۔

29-3-1997 کو میں تھانہ ملت پارک لاہور میں متعین تھا۔ تقریباً پونے دس بجے رات مذکورہ تاریخ پر درخواست ایگزیبٹ پی سی اسماعیل شجاع آبادی کی جانب سے موصول ہوئی۔ درخواست ایگزیبٹ پی سی و ڈی ایس پی لیگل کی قانونی رائے جس کی منظوری ایس پی سے ایگزیبٹ پی ایف کے ذریعے ہوئی تھی‘ موصول ہوئی۔ جس کی بنیاد پر میں نے رسمی ایف آئی آر ایگزیبٹ پی سی 1 درج کی۔ میں نے ایف آئی آر اپنی جانب سے کسی

صفحہ 229

اضافے یا ترمیم کے بغیر درج کی۔ مقدمے کے اندراج کے بعد اسماعیل شجاع آبادی نے میرے روبرو ایک آڈیو کیسٹ پی 1 اور ایک ویڈیو کیسٹ پی 2 اور ڈائری پی 3 / 22-1 کے بائیس صفحات پیش کیے جو میں نے مولانا ظفر اللہ شفیق اور میاں عبدالغفار کی موجودگی میں بذریعہ فرد مقبوضگی ایگزیبیٹ پی ڈی جو میں نے تیار کی تھی اور جس پر میں نے دستخط کیے تھے‘ اپنے قبضے میں لے لی۔ میں نے اسماعیل شجاع آبادی کا ضمنی بیان قلمبند کیا اور استغاثہ کے گواہوں کے مزید بیانات بھی قلمبند کیے۔

اس کے بعد مستغیث اسماعیل شجاع آبادی کے ہمراہ موقع پر جو مسجد بیت الرضا کے نام سے معروف ہے اور چوک یتیم خانہ پر واقع ہے‘ گیا۔ میں نے موقع کا معائنہ کیا اور اس کا رف خاکہ ایگزیبیٹ پی جی تیار کیا۔ معائنے کے دوران استغاثہ کے چار گواہ جن کے نام ممتاز اعوان‘ میاں محمد اویس‘ محمد افضل اور شوکت علی ہیں‘ میرے سامنے پیش ہوئے۔ میں نے ان کے بیانات زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کیے۔ آڈیو کیسٹ سننے کے بعد میں نے آڈیو کیسٹ پی 1 کا ٹرانسکرپٹ مورخہ 1997-3-3 کو ضمنی میں اندراج کیا۔ میں نے ٹرانسکرپٹ سپیشل برانچ کے سب انسپکٹر وقار کے ذریعے 1997-4-7 کو تیار کرایا تھا۔ مجھ سے تفتیش ایک دوسرے افسر کو تبدیل کر دی گئی۔ میری تفتیش کے بعد میری رائے تھی کہ ملزم یوسف نے اپنے ”پیغمبر“ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے ساتھیوں کو ”اصحاب رسول“ قرار دیا۔ میں نے اسے گرفتار کرنا تھا لیکن مجھے معلوم ہوا کہ وہ چوہنگ سب جیل میں بند ہے۔ میں نے ضمنی میں لکھا کہ عدالت مجاز سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ملزم یوسف کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔

جرح وکیل صفائی:

میں نے بہت سے مقدمات کی تفتیش کی ہے۔ تفتیش کا مقصد مواد حاصل کر کے اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر کوئی شہادت صفائی میں بھی پیش کی جائے تو وہ بھی عدالت میں پیش کی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایگزیبیٹ جی میں‘ میں نے تقریر کی تاریخ 28-2-1996 لکھی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا صحیح تاریخ 1997-2-28 ہے یہ تاریخ مجھ سے غلطی سے لکھی گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ میں نے ملزم یوسف کے نام کے ساتھ کذاب لکھا ہے۔ کذاب کا مطلب جھوٹا ہے۔ ایف آئی آر کے مندرجات سے میرے ذہن نے یہ تاثر لیا

صفحہ 230

کہ ملزم جھوٹا ہے۔ اس لیے میں نے اس کے نام کے ساتھ کذاب یعنی یوسف کذاب لکھا۔ میں نے ایگزیبٹ پی جی کا استغاثہ کے گواہوں کے بیان قلمبند کرنے سے قبل رف خاکہ تیار کیا تھا۔ جب میں مسجد بیت الرضا گیا تو مسجد کا جانشین یوسف رضا وہاں موجود نہیں تھا۔ یہ غلط ہے کہ یوسف رضا وہاں موجود تھا اور اس نے ملزم یوسف کے حق میں بات کی۔ رسمی ایف آئی آر کے اندراج سے قبل مقدمے کا مستغیث (مدعی) میرے پاس تھانے نہیں آیا۔

جب میں ایف آئی آر درج کر رہا تھا تو مستغیث گواہوں کے ہمراہ تھانے آیا۔ جبکہ مجھے شکایت ایگزیبٹ پی سی ڈاک کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔ مستغیث مقدمہ کی پیروی کر رہا تھا۔ اس لیے یہ بات اس کے علم میں تھی کہ مقدمے کی رسمی ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کی جارہی ہے۔ عبدالغفار اور مولانا ظفر اللہ شفیق مستغیث کے ہمراہ تھانے آئے۔ مجھے اونچا سنتا ہے، یہ درست نہیں کہ اونچا سننے والا شخص کسی حقیقت میں غلطی کر سکتا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا، ایسا شخص حقائق کی تصدیق کر سکتا ہے۔ میں نے آڈیو کیسٹ سنی تھی۔ میں نے سب انسپکٹر وقار کے ذریعے اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کرایا چونکہ ویڈیو کیسٹ مستغیث نے اس موقف کے ساتھ مجھے پیش کی تھی کہ اس میں ملزم یوسف کی آواز ہے، اس لیے یہ میرے علم میں تھا کہ آڈیو کیسٹ میں ملزم یوسف کی آواز ہے۔ ملزم یوسف نے آڈیو کیسٹ میں اپنی تقریر درج ذیل الفاظ سے شروع کی۔

’’کائنات کے مسلمانو! اے خوش نصیبو! آج یہاں پر نور کی کرنیں نچھاور کرنی ہیں۔ یہاں اس محفل میں کم از کم 100 صحابی موجود ہیں۔ صحابی وہی ہوتا ہے ناں جس نے اپنی زندگی میں حضرت محمد ﷺ کو دیکھ کر ایمان لایا ہو اور اسی محفل میں رسول بھی موجود ہیں۔ ہیں ناں۔ پھر دوران تقریر ملزم یوسف علی نے دو اشخاص کو یہ کہہ کر جن کے تعارف زید زمان اور عبدالواحد کرائے، ان کو بطور صحابی پیش کیا۔ گویا ملزم یوسف کی تقریر ایسے محسوس ہو رہی تھی کہ نعوذ باللہ یہ شخص اپنے آپ کو رسول پاک ﷺ سے تشبیہ دے رہا ہے اور ان دو اشخاص کو بطور صحابی پیش کر دیا ہے۔‘‘

جرح وکیل صفائی:

میں نہیں جانتا کہ ملزم یوسف نے اپنی تقریر سے قبل قرآن کی کئی آیات تلاوت کی

صفحہ 231

تھیں۔ کیونکہ میں نے آڈیو کیسٹ اس فقرے سے سنا جس کا میں نے اوپر ذکر اردو میں کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے اپنی تقریر کے دوران کئی آیات تلاوت کیں۔ یہ درست ہے کہ جب بھی ”حضور نبی کریم“ کا نام تقریر میں آیا صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا۔ مجھے آڈیو کیسٹ میں ملزم یوسف کی ریکارڈ شدہ پوری تقریر یاد نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ جب آڈیو کیسٹ کی ایک سائیڈ ختم ہوئی، ایک جانب کا آخری فقرہ دوسری جانب کے شروع میں دہرایا گیا ہے۔ میں نے ڈائری کے بائیس صفحات جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے، مقدمے کی فائل میں لگا دیئے تھے۔ میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ سر بمہر نہیں کیے تھے۔ میرے اندازے کے مطابق اس مقدمے کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں مال مقدمہ ہیں۔ جب تک تفتیش میرے پاس رہی، میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ سر بمہر نہیں کیے تھے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں دونوں جانب کی آوازیں مختلف ہیں۔ میں رات تقریباً دس بج کر 45 منٹ پر مسجد بیت الرضا پہنچا۔ میں نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات تقریباً 11 بجکر 5 منٹ پر موقع پر قلمبند کیے۔ مجھے یاد نہیں کہ موقع پر پہلے کس کا بیان قلمبند کیا گیا۔ ہم تقریباً 11:40 پر واپس تھانے کی جانب روانہ ہوئے۔ مجھے ملزم یوسف کی تحریر کردہ ڈائری کے صفحات دیئے گئے۔ کیونکہ تفتیش منتقل کردی گئی تھی۔ اس لیے میں ان کی تصدیق نہیں کر سکا۔ میں نے اور وقار سب انسپکٹر نے ویڈیو کیسٹ دیکھے تھے۔ میں نے ویڈیو کیسٹ صرف ایک مرتبہ دیکھے۔ ویڈیو کیسٹ اسی دن دیکھنے اور آڈیو کیسٹ سننے کے بعد تقریباً 11:55 پر میں فارغ تھا۔ جس وقت ہم نے ٹرانسکرپٹ کی تحریر ختم کردی تھی۔ مجھے وہ وقت صحیح طور پر یاد نہیں جو ویڈیو کیسٹ دیکھنے میں لگا۔ بہرحال یہ دس منٹ سے زائد تھا۔ لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک گھنٹے سے کم تھا۔ میں نے کسی ضمنی میں اپنے ویڈیو کیسٹ دیکھنے کے بارے میں نہیں لکھا۔

اسماعیل شجاع آبادی کے علاوہ کسی اور نے ملزم یوسف کے خلاف کوئی شکایت میرے روبرو پیش نہیں کی۔ چونکہ میں نے ملزم یوسف کو گرفتار نہیں کیا تھا۔ اس لیے میں اس سے کوئی چیز برآمد نہیں کر سکا۔ ایگزیبٹ پی ڈی میرا تحریری اور دستخطی ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے لفظ کذاب کا ملزم یوسف کے نام کے ساتھ دستاویز میں اضافہ کیا۔ یہ درست ہے کہ جس کسی نے بھی تقریر کی، وہ ویڈیو کیسٹ میں ریکارڈ شدہ ہے۔ اس نے اس تقریر میں لفظ میرے صحابی استعمال نہیں کیا۔ یہ درست ہے میمو ایگزیبٹ پی بی میں یہ لفظ دو بار لکھا گیا ہے۔

صفحہ 232

اسی گواہ نے میرے سامنے جو کچھ بھی کہا۔ میں نے درست طور پر اس کا اندراج کیا اور کسی گواہ نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مقدمے کے حقائق کسی دوسرے گواہ کے علم میں ہیں۔ میں اس مقدمے کی تفتیش کے لیے کراچی نہیں گیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ مقدمہ پیچیدہ نوعیت کا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ چونکہ مقدمہ پیچیدہ نوعیت کا تھا اور میرے اندر اتنی صلاحیت نہیں تھی، اس لیے مقدمے کی تفتیش تبدیل کی گئی۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے مقدمے کی تفتیش اعلیٰ حکام کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایس ایچ او کے حوالے کردی۔ میں نے ہر گواہ کا بیان درست طور پر ریکارڈ کیا۔ یہ درست ہے کہ میں نے کسی گواہ کو مختصر بیان دینے کی ہدایت نہیں کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 14 خوشی محمد ایس ایچ او تھانہ ملت پارک لاہور

گواہ استغاثہ نمبر 14 بیان خوشی محمد سب انسپکٹر حال پولیس لائن قلعہ گوجر سنگھ لاہور

حلفاً بیان کیا:

مورخہ 5-4-1997 کو میں تھانہ ملت پارک میں متعین تھا۔ 7-4-1997 مقدمہ نمبر 70 جس کی ایف آئی آر ملزم یوسف کے خلاف درج تھی، کی تفتیش میرے سپرد کی گئی۔ 9-4-1997 کو سب انسپکٹر نواز نے ملزم یوسف علی کو میرے روبرو پیش کیا اور ملزم یوسف علی کو اس مقدمے میں شامل تفتیش کر لیا گیا۔ ملزم یوسف علی نے بیان دینے سے انکار کر دیا اور اپنی حفاظت کئے جانے کی درخواست کی کیونکہ بقول اس کے اس کی جان کو خطرہ تھا۔ ملزم کو حفاظتی وجوہ کی بنا پر تھانہ مسلم ٹاؤن میں رکھا گیا۔ ملزم یوسف علی کو زندگی کی جملہ سہولتیں مہیا کی گئیں۔ میں نے فائل کا معائنہ کیا۔ میں نے اس کے نتیجے میں آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کے ٹرانسکرپٹ کا 10-4-1997 کو جائزہ لیا۔ ملزم یوسف کو مقدمے کی تفتیش میں شامل کیا گیا۔ ملزم نے بیان قلمبند کرایا۔ ملزم کا بیان قلمبند کرنے اور آڈیو ویڈیو کیسٹ سننے اور دیکھنے کے بعد ریکارڈ پر خاصا مواد آ چکا تھا جس پر ملزم یوسف علی کو اس مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا اور ملزم یوسف کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے اسے تھانہ مسلم ٹاؤن کے حوالات میں رکھا گیا۔

14-4-1997 کو میں تھانہ مسلم ٹاؤن میں اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں موجود تھا۔ میں نے استغاثے کے گواہوں ساجد منیر ڈار اور سہیل احمد کے بیانات قلمبند کئے۔ 16-4-1997 کو مجھے تکبیر نامی رسالہ نمبر 13 پی 9 / 52-1 بذریعہ مراسلہ نمبر 1694 ڈی

صفحہ 233

ایس پی لیگل محررہ مورخہ 1997-4-14 ایگزیبٹ پی ایچ ملا جو میں نے مقدمے کی فائل کے ساتھ 1997-4-17 کو منسلک کر دیا۔ میں نے میاں عبدالغفار ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ ”خبریں“ لاہور کا بیان 1997-4-17 کو اس وقت قلمبند کیا جب وہ میرے روبرو تھانہ ملت پارک میں پیش ہوئے جب میں نے گواہ استغاثہ عبدالغفار کا بیان قلمبند کیا۔ اس وقت وہ لاہور میں متعین تھے۔ عبدالغفار 1997-4-18 کو تفتیش میں شریک ہوئے۔ گواہ استغاثہ اطہر اقبال نے میرے روبرو پیش ہو کر ویڈیو کیسٹ پی 5 پیش کی۔ جو میں نے بذریعہ ایگزیبٹ پی ای اپنی تحویل میں لے لی۔ جس کی تصدیق گواہ استغاثہ اطہر اور دوسرے نے کی۔ میں نے سعید ظفر اور امانت علی کانسٹیبلوں کے بیانات قلمبند کئے۔ میں نے اطہر اقبال کا بیان بھی قلمبند کیا، میں نے دونوں مذکورہ ویڈیوز کے ٹرانسکرپٹ کا ضمنی میں اندراج کیا اور میں نے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کا ترجمہ گواہ استغاثہ محمد سرور سے کمپیوٹر کے ذریعے کرایا جو فائل کے ساتھ پی 10/10-1 پی 11/10-1 اور پی 11/11-1 شامل ہیں۔

اس مرحلے پر فاضل وکیل نے درج ذیل اعتراضات کئے۔

لیے ٹرانسکرپٹ بھی بطور شہادت تسلیم نہیں کئے جاسکتے۔

موازنہ نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ قابل تسلیم نہیں ہیں اور انہیں شہادت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

اس اعتراض کا قطعی دلائل کے موقع پر جائزہ لیا جائے گا۔ بیان جاری ہے۔

پھر 1997-4-19 کو میں نے ایس ایس پی سے کراچی جانے کی اجازت طلب کی۔ درخواست ایگزیبٹ پی 1 میری تحریر اور دستخطی ہے۔ میں پرواز کے ذریعے کراچی پہنچا۔ کراچی پہنچنے کے بعد میں نے رانا محمد اکرم، بریگیڈیئر محمد اسلم، عارف صدیقی، محمد یوسف، ارشد، نعمان اور محمد علی ابوبکر کے بیانات قلمبند کیے۔ پھر میں واپس لاہور آگیا۔

کراچی میں قیام کے دوران میں نے محمد حنیف طیب محمد حسین لاکھانی اور ایک دوسرے شخص کا بیان بھی قلمبند کیا جس کا نام فی الوقت مجھے یاد نہیں۔ میں نے ہفت روزہ جریدے تکبیر کے محمد طاہر سے رابطہ کیا تھا لیکن اس نے بیان دینے سے انکار کر دیا اور بتایا کہ وہ

صفحہ 234

اصل ڈائری نہیں دے گا اور یہ کہ اس نے جو کچھ میگزین میں لکھا ہے۔ اسے ہی اس کا بیان سمجھا جائے۔ میں نے میگزین پی 13 / 52-1 حاصل کیا اور اسے فائل کے ساتھ منسلک کر دیا۔ 23-4-1997 کو ملزم یوسف علی کو آڈیو کیسٹ سنوائی گئی اور ملزم نے آڈیو کیسٹوں میں اپنی آواز تسلیم کی۔ اسے تقابلی جائزے (موازنے) کے لیے اپنی آواز ریکارڈ کرانے کو کہا گیا لیکن اس نے اپنی آواز ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا۔ 24-4-1997 کو ایس پی صدر نے استغاثے کے گواہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور ملزم کو فائل مقدمہ کے ساتھ پیش کئے جانے کی ہدایت کی۔ مذکورہ تاریخ پر ایس پی صدر نے استغاثے کے گواہوں اور ملزم یوسف علی سے تفتیش کی لیکن ملزم یوسف علی نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ ایس پی نے آڈیو کیسٹ سنے اور ویڈیو کیسٹ دیکھے جس کے بعد ایس پی صدر نے مجھے چالان عدالت میں پیش کئے جانے کی ہدایت کی۔ جس پر میں نے ملزم کے خلاف چالان مقدمے کی سماعت کیلئے پیش کر دیا۔

گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 14 خوشی محمد سب انسپکٹر :

جرح فاضل وکیل صفائی :

یہ درست ہے کہ اس مقدمے میں حضور نبی کریمﷺ ہونے کے دعوے کے ضمن میں مذہبی تنازع ہے۔ میں میٹرک ہوں، لیکن میری مذہبی تعلیم کم ہے۔ عشاء کی نماز کی رکعتیں 17 ہیں۔ 6 میں سے دو کلمے سنا سکتا ہوں۔ 8-4-1997 کو پہلے تفتیشی افسر نے مجھے بتایا کہ ملزم کو تحفظ امن عامہ آرڈر کے تحت نظر بند رکھا گیا ہے، اس لیے میں اسے 8-4-1997 کو گرفتار نہیں کر سکا۔ یہ بات میرے علم میں لائی گئی کہ ملزم یوسف سب جیل چوہنگ میں ہے۔ میں نے 8-4-1997 کو اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ یہ غلط ہے کہ 8-4-1997 کو نظر بندی کا حکم واپس لے لیا گیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ یہ حکم 9-4-1997 کو واپس لیا گیا۔ مجھے اعلیٰ حکام کے ذریعے معلوم ہوا کہ ملزم یوسف کو 9-4-1997 کو رہا کیا جا رہا ہے۔ یہ غلط ہے کہ ملزم یوسف کو 8-4-1997 کو رہا کیا گیا۔ ملزم یوسف کو 9-4-1997 کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ 5-4-1997 کو تھانہ ملت پارک میں میری تقرری بطور ایس ایچ او ہوئی۔ جب میں پولیس سٹیشن ملت پارک تعینات ہوا تو سب

صفحہ 235

انسپکٹر ریاض احمد میرے ماتحت تھا۔

یہ درست ہے کہ میں نے سب انسپکٹر ریاض احمد کی لکھی ہوئی ضمنیاں دیکھی تھیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ جب ریاض احمد سب انسپکٹر نے ٹرانسکرپٹ تیار کرایا اس وقت سپیشل برانچ کا سب انسپکٹر وقار احمد موجود تھا۔ ریاض احمد سب انسپکٹر نے ایف آئی آر کے اندراج، دفعہ 161 کے تحت بیانات قلمبند کئے جانے، موقع کے معائنے، آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کے قبضے میں لیے جانے اور ریکوری میمو تیار کئے جانے تک مقدمے کی تفتیش کی لیکن وہ ملزم کو گرفتار نہیں کر سکا تھا۔ کیونکہ ملزم تحفظ امن عامہ آرڈی نینس کے تحت نظر بند تھا۔ ملزم یوسف کو میرے روبرو 1997-4-9 کی شام کو اکبر نواز سب انسپکٹر نے پیش کیا۔ میں نے ملزم یوسف کا جسمانی ریمانڈ 1997-4-10 کو حاصل کیا۔ میں نے ضابطہ فوجداری کا جائزہ لیا۔ میں نے ملزم یوسف کو قانون کے مطابق 1997-4-10 کو گرفتار کیا۔ میں لاہور ہائی کورٹ کے جج عزت مآب مسٹر جسٹس خالد پال خواجہ کی عدالت میں پیش ہوا تھا لیکن مجھے تاریخ یاد نہیں۔ میں تقریباً سوا نو بجے پیش ہوا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا فاضل جج نے روزنامہ ”خبریں“ کو ملزم کے میڈیا ٹرائل سے روکا تھا۔ میں نے ملزم یوسف کا بیان 1997-4-10 کو قلمبند کیا۔

میں نہیں جانتا کہ ملزم یوسف نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اس نے اپنے گھر کا نام ”جنت طیبہ“ کیوں منتخب کیا۔ ضمنی کو دیکھنے کے بعد گواہ نے کہا ملزم نے بتایا تھا کہ جنت اس کی والدہ کا اور طیبہ اس کی بیوی کا نام ہے۔ اس نے مزید بتایا تھا کہ ڈائری کے بائیس صفحات ایگزیبٹ پی 1-3/22 اس کے تحریر کردہ نہیں ہیں۔ جب میں نے ملزم یوسف سے اس کے پیغمبر ہونے کے دعوے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا اسے یاد نہیں، ممکن ہے اس نے ایسا جذباتی (جذب و مستی) میں ہونے کی بنا پر کہا ہو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ملزم یوسف نے میرے سامنے یا مجھ سے پہلے کے تفتیشی افسر کے سامنے یہ کہا ہو کہ اس کا حضور نبی کریم ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے پیغمبر ہونے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا اور یہ کہ وہ اپنے آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کی جوتیوں سے بھی کم تر سمجھتا ہے اور یہ کہ کسی شخص کا پیغمبری کا دعویٰ جھوٹا ہے اور ایسا دعویٰ کرنیوالا شخص مردود ہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کے خیال میں جو بھی حضور نبی کریم ﷺ کی حیثیت سے انکار کرتا ہے، وہ کافر ہے۔ جب ملزم یوسف سے پوچھ گچھ کی جارہی تھی تو میں اور میرے

صفحہ 236

دوسرے کانسٹیبل کمرے میں موجود تھے۔

میں نے ملزم یوسف کے بیان کے بارے میں ایس پی صدر کو بتا دیا تھا لیکن مجھے اس کی تاریخ یاد نہیں۔ میں نے ملزم یوسف سے 11-4-1997 کو پوچھ گچھ کی تھی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ملزم یوسف کی اس مقدمہ میں 10-4-1997 کو اس کے بیان کے باوجود گرفتاری بلا جواز ہے۔ ملزم یوسف نے اپنے سابقہ بیانوں کی تائید کی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ ہونٹوں اور ہاتھوں کی بیماری ”ڈسٹونیا“ (جوڑوں کے درد) کا مریض ہے اور یہ کہ مذکورہ ڈائری اس کی تحریر کردہ نہیں۔ لیکن اسے یہ کسی مرید نے تحفے میں دی تھی اور یہ کہ تلاش کے بعد وہ اسے پیش کر دے گا۔

گواہ استغاثہ کو آئندہ تاریخ کیلئے پابند کیا جاتا ہے۔

گواہ استغاثہ خوشی محمد سب انسپکٹر حلفاً بیان کیا:

جرح وکیل صفائی:

ان دنوں میں پولیس لائن میں متعین ہوں۔ یہ درست ہے کہ قبل ازیں میں تھانہ مانگا میں متعین تھا۔ یہ غلط ہے کہ میرے خلاف بعض انکوائریاں زیر غور ہیں۔ یہ غلط ہے کہ ڈیڑھ برس قبل میرے خلاف ایک انکوائری ہو رہی تھی۔ یہ غلط ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس خالد پال خواجہ کے روبرو زیر سماعت مقدمے کی کارروائی سننے کیلئے عدالت میں گواہ استغاثہ رانا اکرم موجود تھا۔ میں نے مذکورہ مقدمے کی سماعت کے دوران بریگیڈئر اسلم کو نہیں دیکھا۔ یہ بات میرے علم میں ہے کہ عدالت کے روبرو جھوٹ بولنا جرم ہے میں نے دوسرے ملازمین کی موجودگی میں آڈیو کیسٹ 10-4-1997 کو سنے تھے۔ یہ بات میرے علم میں تھی کہ آڈیو کیسٹ میں آواز ملزم یوسف کی تھی، میں نے ملزم یوسف کی موجودگی میں آڈیو کیسٹ سنا تھا۔ چونکہ میں نے خود آڈیو کیسٹ سنا تھا، اس لیے یہ بات میرے علم میں تھی کہ آواز ملزم یوسف کی ہے۔ اس لیے مجھے یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ آواز ملزم یوسف کی ہے۔ 1997-4-10 سے قبل میں نے آڈیو کیسٹ کا ٹرانسکرپٹ پڑھا تھا، میں نے 10-4-1997 سے قبل ملزم یوسف کی تقریر کا خطبہ نہیں سنا تھا۔

10-4-1997 کو ملزم یوسف کے بیان میں کچھ قابل اعتراض باتیں تھیں۔

صفحہ 237

رضا کارانہ طور پر کہا ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے مسجد بیت الرضا میں قابل اعتراض بیان کیا تھا۔ مجھے ملزم کی گرفتاری کیلئے فائل سے خاطر خواہ مواد مل گیا تھا۔ میں نے ملزم یوسف کو 1997-4-10 کو بیان قلمبند کرنے کے بعد گرفتار کر لیا، بعد میں جب بھی ملزم یوسف سے پوچھ گچھ کی گئی، بعض دفعہ اس نے اپنے سابقہ بیان کی تائید کی۔ بعض اوقات اس نے اس سے انکار کیا۔ ملزم یوسف نے 1997-4-11 کے اپنے بیان میں یہ نہیں کہا تھا کہ نبی کا منکر کافر ہے۔ اپنے ذہن پر زور دینے کے بعد گواہ نے یوں کہا: یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے کہا کہ اس نے پیغمبر اسلامﷺ کی توہین یا اپنی کسی تقریر میں صحابی کی شان میں گستاخی نہیں کی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ملزم نے یہ بیان اپنی صفائی میں دیا جبکہ آڈیو ویڈیو کیسٹوں میں ایسا مواد موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے یہ بھی کہا کہ اس نے پیغمبرﷺ کے ساتھ اپنے مشابہت کے بارے میں کبھی نہیں کہا لیکن یہ بیان بھی اس نے اپنی صفائی میں دیا تھا۔ ملزم یوسف نے 1997-4-11 کو میرے سامنے یہ نہیں کہا کہ اس نے ڈائری ایگزیبٹ پی 3/11-1 نہیں پڑھی۔ یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے 1997-4-12 کو کہا کہ وہ خود کو حضور نبی کریمﷺ کی جوتیوں کی خاک سے بھی کم سمجھتا ہے لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ اسے حضور نبی کریمﷺ کا دیدار نصیب ہوا۔ میں نہیں جانتا کہ مجھ سے پہلے تفتیشی افسر نے شہادتیں یا بیان صرف روزنامہ ”خبریں“ میں شائع کرایا۔ میں 1997-4-20 کو پی آئی اے کی رات ایک بجے کی پرواز سے کراچی گیا، میں نے ٹکٹ خود خریدا۔ یہ صرف ایک طرف کیلئے تھا جبکہ لاہور واپسی کیلئے بھی ٹکٹ میں نے خود خریدا۔ 1997-4-20 کو ٹکٹوں کی خریداری پر 4800 روپے خرچ ہوئے۔ میری تنخواہ پانچ ہزار روپے ماہانہ ہے۔

میں نے ”خبریں“ کے میاں غفار کا بیان 1997-4-17 کو قلمبند کیا۔ یہ غلط ہے کہ 1997-3-29 کو میاں غفار نے پہلے تفتیشی افسر کے سامنے بیان دیا تھا۔ یہ درست ہے کہ ساجد منیر ڈار نے مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے گواہوں کے کوائف بتائے تھے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ سہیل نے بھی گواہوں کے کوائف بتائے تھے۔ میں نے ساجد منیر ڈار کا بیان 1997-4-14 کو قلمبند کیا۔ ساجد منیر ڈار نے میرے روبرو کہا تھا کہ وہ ملزم یوسف کے ہمراہ جاتا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ گواہ استغاثہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 116 کے تحت جو بھی بیان دیا، میں نے اسے کسی ترمیم اور اضافے کے بغیر درج کیا۔ یہ درست ہے کہ

صفحہ 238

ساجد منیر ڈار کے بیان کو درست سمجھتے ہوئے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت استغاثے کے گواہوں کے بیان قلمبند کرنے کراچی گیا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ سہیل ضیا نے کراچی میں مجھے استغاثے کے گواہوں کے بیان اور پتے بھی دیئے تھے۔ میں 20-4-1997 کو ساڑھے تین بجے رات کراچی پہنچا۔ یہ غلط ہے کہ گواہ استغاثہ رانا اکرم مجھے ہوائی اڈے پر ملنے آیا۔ میں اکیلا کراچی گیا تھا اور 45-4 یا پانچ بجے شام گواہ استغاثہ رانا اکرم کے گھر پہنچا۔ میں سیدھا رانا اکرم کے گھر نہیں گیا۔ میں پہلے ایک دوست کے گھر گیا جو ٹرک اڈے کا مالک ہے۔ میں ہوائی اڈے اور ٹرک سٹینڈ کے درمیان فاصلہ نہیں بتا سکتا۔ میں ایک رکشہ میں ٹرک سٹینڈ پر گیا اور ٹرک سٹینڈ سے میں نے گواہ استغاثہ رانا اکرم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ میں نے لاہور میں سہیل ضیاء سے گواہ استغاثہ رانا اکرم کا ٹیلی فون نمبر لیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا گواہ استغاثہ رانا اکرم کی رہائش لاہور میں ہے۔ جب میں رانا اکرم کے گھر پہنچا تو اکیلا رانا اکرم سے ملا۔ یہ درست ہے کہ میں نے رانا اکرم کے گھر گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ ممکن ہے گواہوں نے رانا اکرم سے رابطہ کیا ہو یا اخبار میں کراچی میں میرے دستیاب ہونے کے بارے میں پڑھا ہو۔ میں نے کوئی اخبار نہیں پڑھا جس میں کراچی میں میری آمد کے بارے میں چھپا ہو۔ میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس احسان الحق چودھری کی عدالت میں درخواست ضمانت کے سلسلے میں شریک ہوا تھا۔ میں نے وہاں رانا اکرم کو نہیں دیکھا۔ میری استغاثے کے گواہوں بریگیڈیئر اسلم اور رانا اکرم سے عدالتی کارروائی کے دوران ملاقات نہیں ہوئی۔ میں نے کراچی میں سات گواہوں جن کے نام رانا اکرم، بریگیڈیئر محمد اسلم، محمد علی ابوبکر، محمد یوسف، نعمان، ارشد ہیں، کے بیانات قلمبند کئے۔

میں نے ان کے بیانات رات کو تقریباً 55-11 پر مکمل کئے۔ میں نے اپنے سینئر افسروں کے ساتھ مراسلت میں اپنے کراچی سفر کا ذکر نہیں کیا تھا۔ مجھے اعلیٰ افسروں نے فوری طور پر کراچی جانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ غلط ہے کہ کراچی میں گواہ استغاثہ رانا اکرم کا بیان شروع کرنے سے قبل میں لاہور ہی میں پہلے اس سے کئی بار ملا تھا۔ یہ غلط ہے کہ تفتیش مجھے منتقل ہونے کے فوراً بعد رانا اکرم فوری طور پر میرے پاس تھانے آیا۔ یہ غلط ہے کہ اس نے مجھے کراچی میں گواہوں کے پتے مہیا کئے۔ میں کراچی سے رات تقریباً 12 بجے روانہ ہوا۔ میں نے گواہ استغاثہ رانا اکرم کے گھر کھانا نہیں کھایا۔ یہ درست ہے کہ کراچی میں تمام گواہوں

صفحہ 239

نے اپنے بیانوں میں ایک شخص عبدالواحد کا ذکر کیا۔ عدالت کی اجازت سے پولیس فائل سے اپنی یادداشت تازہ کرنے کے بعد گواہ نے کہا کہ تمام گواہوں کی ملزم یوسف سے ملاقات عبدالواحد کے مکان پر ہوئی۔

جرح وکیل صفائی:

میرے خیال میں عبدالواحد اس مقدمے میں لازمی گواہ نہیں۔ وہ بھی دوسروں کی طرح میرے سامنے بطور گواہ پیش ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ میں نے عبدالواحد سے رابطے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے جو تفتیش کی ہے وہ جھوٹی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے ہر کسی کو اپنے سامنے پیش کرنے کا موقع دیا۔ میں نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ یہ تھا کہ میں نے فریقین کو اپنے گواہ میرے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن میں نے اس حقیقت کا ذکر ضمنی میں نہیں کیا۔ کسی نے میرے سامنے ملزم کے خلاف درخواست پیش نہیں کی۔ طاہر نے جریدہ ”تکبیر“ ایک شخص کے ذریعے بھجوایا تھا، میں اس شخص کا نام نہیں جانتا۔ میں نے اس شخص کا بیان قلمبند نہیں کیا نہ ہی میں نے ضمنی میں اس کا حوالہ دیا۔ مجھے یاد نہیں کہ 20-4-1997 کو تعطیل تھی۔ میں نے ویڈیو کیسٹ دوسرے پولیس ملازمین کی موجودگی میں دیکھا۔ میں نہیں جانتا کہ ہمارے پولیس کے محکمے میں کوئی شعبہ ایسا بھی ہے جو آڈیو یا ویڈیو کیسٹوں کے ٹرانسکرپٹ تیار کرتا ہو یا انہیں کمپیوٹرائز کرتا ہو۔ سب انسپکٹر وقار سپیشل برانچ لاہور میں متعین ہے۔ سب انسپکٹر وقار سپیشل برانچ میں ہے اور اسے اردو ترجمے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ اردو شارٹ ہینڈ اور اردو ٹائپنگ کا ماہر ہے۔

ریاض سب انسپکٹر نے صرف آڈیو کیسٹ کا ٹرانسکرپٹ تیار کیا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا یہ کمپیوٹر پر بھی تیار کیا گیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے ایک نجی شخص محمد سرور گواہ استغاثہ سے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کمپیوٹرائزڈ کروائے۔ سب انسپکٹر وقار نے صرف آڈیو کیسٹ سننے کے بعد اس کا اردو ترجمہ کیا تھا۔ آڈیو کیسٹ میں اردو زبان استعمال کی گئی ہے۔ میں نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اسد امین کے ذریعے مسجد بیت الرضا کے سجادہ نشین یوسف رضا کو طلب کیا لیکن یوسف رضا روپوش ہوگیا۔ میں نے تھانے کے ایس ایچ او کی حیثیت سے کئی مرتبہ یوسف رضا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ دستیاب نہیں ہوا۔ میں نے صرف ایک مرتبہ یوسف رضا کو دستیاب نہ ہونے کا اس وقت حوالہ دیا جب میں نے اسے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اسد امین کے

صفحہ 240

ذریعے بلوایا تھا۔ لیکن میں نے کسی وقت بھی یہ نہیں کہا کہ یوسف رضا دستیاب نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آیا یوسف رضا 1997-3-29 کو اس وقت مسجد میں دستیاب تھا جب سب انسپکٹر ریاض نے موقع کا معائنہ کیا۔ آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں مقدمے کی پراپرٹی ہیں۔

ایس پی کی جانب سے 1997-4-24 کو دیکھے جانے کے بعد آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں سر بمہر کر دی گئی تھیں۔ اس سے قبل یہ کیسٹ تھانے کے محرر کے پاس رہیں۔ چونکہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ مال مقدمہ تھے، اس لیے مختلف مواقع پر مختلف افسروں کی جانب سے انہیں دیکھا جانا تھا اور اس صورت حال کی بنا پر یہ ضروری نہیں تھا کہ ہیروئن کے مقدمات کی طرح انہیں فوری طور پر سر بمہر کر دیا جائے۔ مجھ یاد نہیں کہ آیا ویڈیو اور آڈیو کیسٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر سے اعتراض کے بعد 1997-6-22 کو سر بمہر کئے گئے۔ یہ درست ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت پہلی رپورٹ 1997-5-6 کو تیار کی گئی ۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی نے 1997-6-22 کو 17 اعتراضات لگائے۔ یہ درست ہے کہ میں نے 22-6-1997 کو چار گواہوں کے بیان قلمبند کئے اور ان میں محمد سرور اور سب انسپکٹر وقار بھی گواہ تھے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مقدمے کی تفتیش جانبدارانہ کی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں نے غیر منصفانہ تفتیش گواہ استغاثہ بریگیڈیئر اسلم کی تحریک پر کی ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے صفائی کی شہادتیں حاصل کرنے کی کوئی کوششیں نہیں کیں۔

کے باقی ماندہ گواہ ترک کر دیئے اور استغاثے کا مقدمہ بھی مکمل کر لیا۔

قلمبند کیا گیا۔ جس سے مراد ہے کہ اس کے بیان میں اس کے خلاف تمام الزامی حالات بتائے جائیں تا ہم ناواقفوں کیلئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 دوبارہ یوں بیان کی جاتی ہے۔

دفعہ 342 ضابطہ فوجداری (ملزم سے بیان لینے کا اختیار)

انکوائری یا سماعت کے موقع پر عدالت ملزم کو پہلے سے تنبیہ کئے بغیر اس سے ایسے سوالات کرے جو عدالت ضروری سمجھتی ہو مذکورہ مقاصد کیلئے عدالت اس سے استغاثے کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد اور اس سے صفائی طلب کئے جانے سے قبل مقدمے کے بارے میں

صفحہ 241

عمومی استفسار کرے گی۔

مستوجب نہیں ہوگا۔ تاہم عدالت اس انکار یا اس کے جوابات سے مناسب نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔

کے خلاف کسی دوسری انکوائری یا مقدمے میں یا کسی جرم میں جن کا ان جوابات سے ارتکاب ہونا پایا جائے بطور شہادت استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

بیان ملزم محمد یوسف علی (کذاب)

بیان ملزم زیر دفعہ 342 ضابطہ فوجداری لفظ بہ لفظ درج ذیل ہے۔

بیان محمد یوسف علی ولد وزیر علی ذات راجپوت سکنہ کوٹھی نمبر Q-218 ڈیفنس سوسائٹی لاہور زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری

سوال نمبر 1: کیا تم نے اس مقدمے میں اپنی اور اپنے وکلا کی موجودگی میں استغاثے کی طرف سے پیش کی جانیوالی شہادت سن اور سمجھ لی ہے؟

جواب: ہاں۔

سوال نمبر 2: کیا یہ درست ہے کہ کلفٹن کراچی کے مکان نمبر 3 ڈی سیکٹر 9 کا رہائشی عبدالواحد تمہارا مرید ہے؟

جواب: عبدالواحد اللہ کا مرید ہے، تاہم وہ میرا دوست ہے۔

سوال نمبر 3: کیا یہ درست ہے کہ ڈاکٹر محمد اسلم ملک گواہ استغاثہ مذکور عبدالواحد کا دوست ہے؟

جواب: ڈاکٹر اسلم ملک کی عبدالواحد مذکور سے محض واقفیت ہے۔

سوال نمبر 4: کیا یہ درست ہے کہ 1998 میں عبدالواحد نے ڈاکٹر محمد اسلم کو بتایا کہ ایک مذہبی شخص اس کے گھر آرہا ہے جو مذہب کے بارے میں بیان کرے گا؟

جواب: مجھے معلوم نہیں۔

بیان کا باقی حصہ آئندہ تاریخ پر قلمبند کیا جائے گا

تصدیق کی جاتی ہے کہ ملزم کا مذکورہ بیان میری موجودگی اور سماعت میں

صفحہ 242

ریکارڈ کیا گیا۔ مزید یہ کہ یہ اس کی جانب سے دیئے جانیوالے بیان کی مکمل اور صحیح روداد ہے۔2014-07-12

13-7-2000: بیان محمد یوسف علی ولد وزیر علی ذات راجپوت ساکن کوٹھی نمبر 218۔ کیو ڈیفنس سوسائٹی لاہور زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری۔

سوال نمبر 5: کیا یہ درست ہے کہ تم نے نماز مغرب کے بعد ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ اور دوسروں کی موجودگی میں سورۃ اخلاص کے بارے میں اظہار خیال کیا؟

جواب: مجھے یاد نہیں۔

سوال نمبر 6: کیا یہ درست ہے کہ مذکورہ اجلاس کے چار پانچ ماہ بعد تم پھر عبدالواحد کے گھر گئے اور تم نے گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم کو بھی بلوایا اور تم نے حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی؟

جواب: میں حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کے پہلوؤں پر وعظ کیا کرتا تھا اور عبدالواحد کے مکان پر قرآن حکیم کے بارے میں بیان کرتا تھا۔

سوال نمبر 7: کیا یہ درست ہے کہ ڈاکٹر محمد اسلم تم سے مذکورہ عبدالواحد کے گھر اکثر و بیشتر ملتے رہے؟

جواب: درست ہے۔

سوال نمبر 8: کیا یہ درست ہے کہ 1995 میں نماز مغرب کے بعد تم نے ڈاکٹر محمد اسلم سے ملاقات کی اور تم نے کہا کہ ڈاکٹر محمد اسلم گواہ مذکور تمہاری جانب سے حقیقت منکشف کئے جانے پر کیا قربانی دے سکتا ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 9: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم کو دو لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے کہا اور جواب میں ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ نے انکار کر دیا؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 10: کیا یہ درست ہے کہ تم نے 1995 میں دوبارہ گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم سے اس وقت رقم طلب کی جب وہ عبدالواحد کے گھر میں تھا اور جواب میں ڈاکٹر اسلم نے ادائیگی کا وعدہ کیا؟

جواب: یہ بالکل غلط ہے۔

صفحہ 243

سوال نمبر 11: کیا یہ درست ہے کہ دسمبر 1995 میں تم عبدالواحد کے گھر گئے جس کو ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ نے بتایا کہ اس نے دو لاکھ روپے کا انتظام کرلیا ہے جس پر تم دوسرے دن گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم کے گھر گئے جہاں ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ نے تمہیں دو لاکھ روپے کی رقم کی ادائیگی کردی؟

جواب: یہ من گھڑت کہانی ہے اور مکمل طور پر غلط ہے۔

سوال نمبر 12: کیا یہ درست ہے کہ اس کے بعد آئندہ جمعہ کو تم نے اپنے دوسرے مریدوں کے ساتھ اس مسجد میں جس میں ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ نماز جمعہ پڑھتا تھا، نماز جمعہ میں شرکت کی جو عسکری اپارٹمنٹ کراچی میں واقع ہے جس میں گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم کی رہائش ہے؟

جواب: بعض اوقات میں یقیناً مذکورہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کرتا تھا، مجھے مخصوص وقت اور تاریخیں یاد نہیں۔

سوال نمبر 13: کیا یہ درست ہے کہ اس دن نماز جمعہ کے بعد تم ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ کے گھر اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ آئے اور تھوڑی دیر صوفے پر بیٹھے ۔ مذکورہ گواہ استغاثہ سے حقیقت کا انکشاف کرنے کا کہہ کر صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور تم نے کہا ”انا محمد“؟

جواب: استغاثے کی جانب سے ریکارڈ پر لائی جانیوالی یہ شہادت تہمت اور بہتان ہے جس کے خلاف میں بحیثیت مسلمان احتجاج کرتا ہوں اس لیے یہ قطعی طور پر غلط ہے۔

سوال نمبر 14: کیا یہ درست ہے کہ تمہاری طرف سے کئے جانیوالے دعوے پر ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ حیران و پریشان ہوا اور تمہارے ساتھیوں نے گواہ استغاثہ کے گلے میں اسے حضور نبی کریم ﷺ (نعوذ باللہ ) سے ملاقات ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے ہار ڈالے اس کے بعد تم مذکورہ گھر سے چلے گئے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 15: کیا یہ درست ہے کہ چند ماہ بعد کموڈور (ر) یوسف صدیق نے ڈاکٹر محمد اسلم کی موجودگی میں تم سے استفسار کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے بعد مختلف اوقات میں پیغمبروں کے ظہور اور چودہ سو برس قبل کے ظہور میں اور اب میں کیا فرق ہے؟ مزید یہ کہ کون سا زیادہ باوقار اور پرشکوہ ہے؟ جس پر تم نے جواب دیا کہ چودہ سو برس قبل کا عرصہ شاندار تھا لیکن اب شان بے مثال ہے مزید یہ کہ اس وقت ڈیوٹی تھی لیکن اب یہ بیوٹی ہے؟

صفحہ 244

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 16: کیا یہ درست ہے کہ تم نے اپنے حضرت محمدؐ ہونے کا دعویٰ کر کے حضور نبی کریمﷺ کے نام کی بے حرمتی کی؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔ فی الحقیقت میں اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریمﷺ سے پناہ کا طلب گار ہوں۔

سوال نمبر 17: کیا یہ درست ہے کہ تم عبدالواحد کے گھر 1994 میں رانا محمد اکرم گواہ استغاثہ سے ملے اور تم نے ایک تقریر کی کہ حضور نبی کریمﷺ آج بھی انسانی شکل میں دنیا میں موجود ہیں؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔ فی الحقیقت گواہ استغاثہ رانا محمد اکرم کو کبھی عبدالواحد کے گھر میرے جلسوں میں مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی کبھی اسے آنے کی اجازت دی گئی۔

سوال نمبر 18: کیا یہ درست ہے کہ تم اپنے محمدﷺ ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے جس پر تم سے پوچھا گیا کہ حضور نبی کریمﷺ کی زندگی سادہ تھی اور تم نے کہا چودہ سو برس قبل روایات پرانی تھیں اور اب روایات جدید ہیں اور یہ کہ گلیمر اور نمود و نمائش آج کی ضرورت بن چکا ہے۔ تم نے یہ الفاظ جنوری یا فروری 1994 میں عبدالواحد کے گھر میں کہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے مجھے حیرانی ہے کہ کوئی شخص ایسا سوچ نہیں سکتا اور نہ ہی اس طرح کی بات کہہ سکتا ہے۔

سوال نمبر 19: کیا یہ درست ہے کہ تم نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی دیکھ سکتا ہے اور اگر کوئی حضور نبی کریمﷺ کو پہچان سکتا ہے؟ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 20: کیا یہ درست ہے کہ ستمبر 1995 میں گواہ استغاثہ محمد اکرم رانا نے تم سے پوچھا کہ آیا تم قرآن حکیم کی تفسیر یا تفہیم لکھ رہے ہو۔ اس نے تم سے اس کی ایک کاپی دینے کی درخواست کی جس پر تم نے گواہ استغاثہ سے پوچھا کہ وہ اس کی کیا قیمت دے سکتا ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط اور فی الحقیقت من گھڑت ہے۔

سوال نمبر 21: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد اکرم رانا سے اس تفسیر کے لیے ایک لاکھ روپے طلب کئے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

صفحہ 245

سوال نمبر 22: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ رانا اکرم کو اس رقم کی ادائیگی کے لیے پیغام بھیجا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 23: کیا یہ درست ہے کہ تم نے رفقاء کی موجودگی میں ایک لاکھ روپے کی رقم کم کر کے اس وقت پچاس ہزار روپے کر دی جب تم اسلام آباد جانے کیلئے لاہور ہوائی اڈے کے راستے میں تھے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 24: کیا یہ درست ہے کہ رانا اکرم گواہ استغاثہ 1996 میں حج پر جارہا تھا۔ تمہارے مطالبے پر تمہیں پچیس ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 25: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ رانا اکرم سے پچیس ہزار روپے وصول کرنے کے بعد اس سے کہا کہ گواہ استغاثہ رانا اکرم، اللہ تعالیٰ کے بہت قریب آ گیا ہے اور تم اس پر حقیقت منکشف کر سکتے ہو اور یہ کہ تم گواہ استغاثہ رانا اکرم کو کلفٹن کراچی پر واقع عبدالواحد کے گھر کے ایک کمرے میں لے گئے اور تم نے گواہ استغاثہ کو آنکھیں بند کر کے درود شریف پڑھنے کو کہا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 26: کیا یہ درست ہے کہ رانا اکرم گواہ استغاثہ نے درود شریف پڑھا اور تم نے اسے آنکھیں کھولنے کو کہا اور پوچھا کہ آیا اس نے کچھ دیکھا جس پر گواہ استغاثہ نے کہا کہ اس نے کچھ نہیں دیکھا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 27: کیا یہ درست ہے کہ اس کے بعد تم گواہ استغاثہ رانا محمد اکرم سے بغل گیر ہوئے اور تم نے کہا کہ تم ہی محمدﷺ ہو اور تم نے گواہ استغاثہ سے کہا کہ وہ اس حقیقت کو چھپائے رکھے اور اس نے اسے چھپائے رکھا جیسے کہ تم تفسیر قرآن، تفہیم قرآن، نور قرآن اور زندہ قرآن ہو؟

جواب: یہ غلط ہے۔

صفحہ 246

سوال نمبر 28: کیا یہ درست ہے کہ 28-2-1997 کو گواہ استغاثہ حافظ محمد ممتاز اعوان اور میاں محمد اویس چوک یتیم خانہ لاہور پر واقع مسجد بیت الرضا میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے گئے جہاں تم نے حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی بے حرمتی کی اور تم نے وہاں موجود ایک سو افراد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا اور اپنے آپ کو پیغمبرﷺ کی حیثیت سے متعارف کرایا؟

جواب: یہ غلط ہے میں حضور نبی کریم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، میں کسی بھی طرح سے صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کا تصور نہیں کر سکتا کیونکہ میں سچا مسلمان ہوں، الحمدللہ!

سوال نمبر 29: کیا یہ درست ہے کہ تمہاری تقریروں کی ویڈیو کیسٹ اور آڈیو کیسٹ (پی 1) 28-2-1997 کو مذکورہ مسجد میں تیار کی گئی؟

جواب: یہ غلط ہے میں کسی کو اپنی آڈیو (سمعی) کیسٹ تیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ تاہم میرے کئی خطبات کی ویڈیو (بصری) کیسٹیں تیار کی گئیں۔

سوال نمبر 31: کیا یہ درست ہے کہ گواہ استغاثہ میاں محمد اویس اور حافظ ممتاز مذکورہ اجتماع میں موجود تھے جس میں تم نے اپنے پیغمبرﷺ ہونے کا دعویٰ کیا اور وہاں بیٹھے دو افراد میں سے تم نے اپنے دو مریدوں زید زمان اور عبدالواحد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا اور اس طرح تم نے پیغمبرﷺ اور صحابہ کرامؓ کے ناموں کی بے حرمتی کی؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے فی الحقیقت میں استغاثے کے مذکورہ گواہوں کو نہیں جانتا یہاں تک کہ میں نے استغاثے کے گواہوں میاں محمد اویس اور حافظ ممتاز اعوان کے نام پہلی بار سنے ہیں۔

سوال نمبر 32: کیا یہ درست ہے کہ 29-3-1997 کو محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ایک ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 اور آڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 1 پیش کیں جو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیں؟

جواب: میں نہیں جانتا۔

سوال نمبر 33: کیا یہ درست ہے کہ 18-4-1997 کو اطہر اقبال نے ایک ویڈیو کیسٹ پی 5 پیش کی جو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لی؟

جواب: مجھے معلوم نہیں۔

سوال نمبر 34: کیا یہ درست ہے کہ گواہ استغاثہ میاں غفار احمد تم سے تمہارے مکان واقع

صفحہ 247

218۔ کیو ڈیفنس لاہور میں 1997-3-22 کو دو بجے دن ملے اور تم نے دعویٰ کیا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے خلافت عظمیٰ عطا کی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کو خلافت عظمیٰ عطا کی گئی تھی جو تمام پیغمبروں میں جاری رہی اور اب حضور نبی کریم حضرت محمدﷺ کی خلافت عظمیٰ تمہارے پاس ہے اور اس طرح تم نے اپنے پیغمبرﷺ ہونے کا دعویٰ کیا؟ جواب: یہ اس حد تک درست ہے کہ گواہ استغاثہ میاں غفار نے ایک مرتبہ مجھ سے میرے گھر پر ملاقات کی تھی لیکن مذکورہ سوال کا بعد کا حصہ سراسر غلط ہے اور فی الحقیقت اس نے مجھ سے بلیک میل نہ کرنے کے لیے تین کروڑ روپے مانگے تھے اور فی الحقیقت یہ چیف ایڈیٹر ”خبریں“ ضیا شاہد کا پیغام تھا۔

سوال نمبر 35: کیا یہ درست ہے کہ سہیل ضیا صرف تمہارا مرید ہے؟ جواب: یہ سراسر غلط ہے فی الحقیقت میں نے اس کا نام آج سنا ہے۔

سوال نمبر 36: کیا یہ درست ہے کہ مستغیث کی جانب سے فراہم کیا جانیوالا آڈیو کیسٹ پی 1 چوک یتیم خانہ پر واقع مسجد بیت الرضا میں 1997-2-28 کے تمہارے خطبہ جمعہ سے متعلق ہے؟ جواب: مجھے علم نہیں۔

سوال نمبر 37: کیا یہ درست ہے کہ تم نے آڈیو کیسٹ پی 1 میں ریکارڈ شدہ اپنی تقریر میں قرآن حکیم کے تمام تراجم کو غلط اور ناقص قرار دیا ہے؟ جواب: یہ درست نہیں فی الحقیقت یہ مسئلہ مناسب فورم پر تفصیلی بحث کا ہے۔

سوال نمبر 39: کیا یہ درست ہے کہ رضوان نامی ایک شخص نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر کے ساتھ جون 1997 میں عبدالواحد کے گھر تمہاری ملاقات کا اہتمام کیا؟ جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 40: کیا یہ درست ہے کہ تم نے محمد علی ابوبکر کو ابوبکر صدیق کہا؟ جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 41: کیا یہ درست ہے کہ تم نے محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ سے یہ کہا کہ عمرے کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں، مزید یہ کہ تم یہاں عمرے کا انتظام کر سکتے ہو؟ جواب: یہ غلط ہے۔ میں خواب میں بھی ایسا کہنے کا تصور نہیں کر سکتا۔

سوال نمبر 42: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے کہا کہ مکان وہاں ہے

صفحہ 248

اور مکین یہاں ہے جس وہ ناراض ہو گیا اس کے بعد تم نے اسے عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے کی اجازت دیدی؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 43: کیا یہ درست ہے کہ محمد علی ابو بکر گواہ استغاثہ کبھی تمہارا مرید تھا؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 44: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر سے کہا کہ تم اس کی حضورﷺ سے ملاقات کا انتظام کر سکتے ہو؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 45: کیا یہ درست ہے کہ تم نے محمد علی ابو بکر سے سرکار دو عالمﷺ سے اس کی ملاقات کیلئے مکمل سپردگی اور سب کچھ نچھاور کر دینے کا وعدہ لیا تھا اور اس نے جواب دیا تھا کہ جو بھی تمہاری خواہش ہو، وہ حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات کیلئے ہر چیز سے دستبردار ہو سکتا ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 46: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر کو اپنے مکان میں ایک کمرہ سجانے کو کہا کہ تم جب بھی لاہور سے کراچی آؤ، وہاں قیام کرو گے اس کے بعد تم نے اس کمرے کو ’’غارِ حرا‘‘ قرار دیا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 47: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر سے کہا کہ تم نے پیغمبرﷺ سے اس کی ملاقات کا انتظام کیا ہے اور اس کیلئے تم نے مذکورہ گواہ استغاثہ کو اس کے مکان کے مذکورہ کمرے میں بلایا، اسے اپنی آنکھیں بند کرنے اور درود شریف پڑھنے کو کہا اور جب اس نے درود شریف پڑھنا شروع کیا تم نے اسے آنکھیں کھولنے کو کہا اور جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تم نے بالکل اچانک اسے اپنے جپھے میں لے لیا اور اعلان کیا کہ تم ہی ’’محمدﷺ‘‘ ہو جس پر گواہ نے رونا شروع کر دیا تم نے اسے اپنے جپھے میں جکڑے رکھا اور مذکورہ گواہ کانپتے ہوئے کمرے سے باہر آیا جس پر تمہارے پیروکاروں نے جو کمرے سے باہر بیٹھے تھے مذکورہ گواہ استغاثہ کو پیغمبرﷺ سے اس کی جسمانی ملاقات پر مبارک باد دی؟

جواب: شہادت کا یہ حصہ بہتان اور تہمت ہونے کی بنا پر بالکل غلط ہے۔

صفحہ 249

سوال نمبر 48: کیا یہ درست ہے کہ تم نے عبدالواحد کے گھر بیٹھ کر مذکورہ ابوبکر گواہ استغاثہ سے مکان کی خریداری کے نام پر پچاس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور یہ رقم تمہیں ادا کر دی گئی؟

جواب: میں نے اس گواہ سے اپنے گھر کی خریداری کیلئے کسی رقم کا مطالبہ نہیں کیا۔

سوال نمبر 49: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے ایک ایئر کنڈیشنر کا مطالبہ کیا جو اس نے بازار سے خریدا اور تم نے یہ ایئر کنڈیشنر عبدالواحد کے گھر تمہارے لیے مختص اپنے کمرے میں لگوا لیا اور تم نے کراچی سے قالین بھی خریدا جس کیلئے مذکورہ گواہ استغاثہ نے گیارہ ہزار روپے ادا کئے اور گواہ استغاثہ نے تمہارے اس کمرے کیلئے فرنیچر بھی خریدا جس کیلئے تم نے کراچی میں اپنے قیام کے دوران مذکورہ گواہ استغاثہ کے گھر میں ہدایت کی تھی اور تم یہ فرنیچر لاہور لے آئے اور یہ فرنیچر گواہ استغاثہ نے خریدا تھا جس کیلئے گواہ استغاثہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم ادا کی تھی، مذکورہ کے علاوہ تم نے کراچی سے پردے بھی خریدے جس کیلئے گواہ استغاثہ نے 53 ہزار روپے کی ادائیگی کی اور اس طرح گواہ استغاثہ نے تمہیں 67 لاکھ روپے ادا کئے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے میں نے اس گواہ استغاثہ سے یا کسی دوسرے سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

سوال نمبر 50: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز مارک اے مبلغ تین لاکھ روپے کے ڈیمانڈ ڈرافٹ سے متعلق ہے جس کی تفصیلات دستاویز میں دی گئی ہیں جس کی ادائیگی محمد ابوبکر نے تمہیں کی؟

جواب: یہ غلط ہے۔ فی الحقیقت میں محمد علی ابوبکر کو اپنے لیے ڈیمانڈ ڈرافٹ بنانے کی غرض سے رقم دیتا تھا۔

سوال نمبر 51: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز مارک بی مبلغ پانچ لاکھ روپے سے متعلق ہے جو گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے تمہیں ادا کئے؟

جواب: میرا جواب وہی ہے جو میں اوپر دے چکا ہوں۔

سوال نمبر 52: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز مارک سی مبلغ دو لاکھ پچاس ہزار روپے کی ادائیگی سے متعلق ہے جو گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے تمہیں ادا کئے؟

جواب: میرا جواب وہی ہے جو میں اوپر دے چکا ہوں۔

سوال نمبر 53: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز مارک ڈی مبلغ دو لاکھ روپے کے ڈیمانڈ ڈرافٹ

صفحہ 250

سے متعلق ہے جو گواہ استغاثہ نے مسز طیبہ یوسف علی کو جو تمہاری بیوی ہے، ادا کیے؟

جواب: میرا جواب وہی ہے جو میں اوپر دے چکا ہوں۔

سوال نمبر 54: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز مارک ای ڈالروں سے متعلق ہے جو محمد علی ابوبکر نے تمہیں مبلغ بیس ہزار نو سو پچاس روپے کی ادائیگی کیلئے کیش کروائے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 55: کیا یہ درست ہے کہ رسید مارک ایف ایئر کنڈیشنر کی خریداری سے متعلق ہے جو گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے تمہارے لیے خریدا لیکن اس کی رسید عبدالواحد کے نام ہے تاہم ایئر کنڈیشنر تمہارے حوالے کیا گیا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 56: کیا یہ درست ہے کہ رسید مارک جی قالینوں کے بارے میں ہے جو محمد علی ابوبکر نے تمہارے لیے خریدے تھے اور قالین تمہیں دیئے گئے؟

جواب: یہ غلط ہے فی الحقیقت یہ تمام چیزیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، میرے لیے میرے گھر میں تنصیب کیلئے خریدی گئیں۔

سوال نمبر 57: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ پی 6 چوبیس لاکھ دو ہزار چار سو دس روپے پچاس پیسے کی رقم کی تمہاری جانب سے محمد علی ابوبکر کو انتہائی ضرورت میں ہونے کی بنا پر اس کے مطالبے پر واپسی سے متعلق ہے اور تم نے باقی رقم بھی مدینہ سے موصول ہونے پر واپس کرنے کا وعدہ کیا؟

جواب: یہ غلط ہے میں نے محمد علی ابوبکر سے چوبیس لاکھ روپے کا قرض حسنہ لیا تھا جب میں اس کی ادائیگی کے قابل ہوا تو میں نے رضا کارانہ طور پر رقم واپس کردی، باقی غلط ہے۔

سوال نمبر 58: کیا یہ درست ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ پی 7 گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر کی جانب سے تمہیں چوبیس لاکھ دس ہزار روپے کی رقم کی ادائیگی سے متعلق ہے؟

جواب: یہ غلط ہے۔ میں نے یہ رقم واپس کردی تھی، میرا جواب وہی ہے جو میں پہلے دے چکا ہوں۔

سوال نمبر 59: کیا یہ درست ہے کہ تم نے ڈائری ایگزیبٹ پی 8 (116-1) محمد علی ابوبکر کو یہ کہتے ہوئے دی کہ اس کو پڑھنے کے بعد وہ تم پر بھروسہ کرے گا؟

صفحہ 251

جواب: یہ بالکل غلط ہے۔

سوال نمبر 60: کیا ڈائری ایگزیبٹ پی 8(116-1) تمہاری ہے؟

جواب: یہ غلط ہے، میں نے ڈائری دیکھی تک نہیں۔

سوال نمبر 61: کیا یہ درست ہے کہ عبدالواحد کے گھر ہونیوالی قوالی کی مجلس میں تم نے کہا کہ جب تک مجلس کے شرکاء حضور نبی کریم ﷺ کا دیدار نہ کر لیں، کسی کو موت نہیں آئے گی؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 62: کیا یہ درست ہے کہ تم نے محمد علی ابو بکر سے جب وہ محفل نعت میں شرکت کیلئے جا رہا تھا کہا کہ جس شخص کیلئے گواہ استغاثہ وہاں جا رہا ہے، وہ یہاں بیٹھا ہے اور تم نے اسے مذکورہ محفل نعت میں شریک ہونے سے روکا اور گواہ استغاثہ نے تمہاری بات نہ مانی اور محفل نعت خوانی میں شرکت کیلئے چلا گیا۔ جب گواہ استغاثہ محفل نعت میں شرکت کے بعد واپس آیا تم نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔ تم گواہ استغاثہ سے اپنی حکم عدولی پر بہت ناراض تھے اور تم نے کہا کہ چونکہ گواہ استغاثہ نے تمہارے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوگا! اور اس طرح تم نے حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی بے حرمتی کی؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے، میں اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے نام کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

سوال نمبر 63: کیا یہ درست ہے کہ تم نے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر کو 1997-2-28 کو اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب اور چوک یتیم خانہ لاہور پر واقع مسجد بیت الرضا میں منعقد ہونیوالی ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا؟

جواب: اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کی حد تک درست ہے، باقی غلط ہے۔

سوال نمبر 64: کیا یہ درست ہے کہ گواہ استغاثہ نے 1997-2-28 کو چوک یتیم خانہ لاہور میں واقع مسجد بیت الرضا میں ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی؟

جواب: یہ غلط ہے کہ اس نے ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔ تاہم وہ نماز جمعہ میں شریک ہوا۔

سوال نمبر 65: کیا یہ درست ہے کہ تم نے ورلڈ اسمبلی کا اجلاس 1997-2-28 کو چوک یتیم خانہ لاہور میں واقع مسجد بیت الرضا میں طلب کیا اور تم نے دعوت نامے جاری کئے اور فوٹو سٹیٹ کاپی (مارک ایچ) اس دعوت نامے کی ہے جو تم نے محمد علی ابو بکر کو دیا تھا؟

صفحہ 252

جواب: یہ غلط ہے، میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر کو کوئی دعوت نامہ نہیں دیا۔

سوال نمبر 67: کیا یہ درست ہے کہ تم نے 1997-2-28 کو چوک یتیم خانہ لاہور پر واقع مسجد بیت الرضا میں خطبہ (تقریر) دیا اور وہاں موجود سو افراد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا اور تم نے عبدالواحد اور زید زمان کو اپنے صحابی کی حیثیت سے متعارف کرایا اور ان دونوں افراد نے کسی حد تک خود بھی تقریریں کیں؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 68: کیا یہ درست ہے کہ تم نے اس اجلاس میں کہا کہ پیغمبرﷺ ڈیوٹی پر نہیں بلکہ ان کی عطا پر ایک رسول تم سے مخاطب ہے اور اس کے بعد اس اجلاس میں تم نے محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ کا تعارف کرایا اور کہا کہ پیغمبرﷺ نے اگر کسی کی خدمات قبول کی تھیں تو وہ محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ ہے اور تم مذکورہ گواہ استغاثہ کو جو تیسری یا چوتھی صف میں بیٹھا تھا منبر کے قریب لائے اور کہا کہ مذکورہ گواہ استغاثہ نے تمہاری سب سے پہلے خدمت کی۔ وہ ابوبکر تھا اور اب وہ محمد علی ابوبکر ہے اور پھر تم نے گواہ استغاثہ کو ابوبکر صدیق کہہ کر پکارا جس کا مطلب ہے کہ گواہ استغاثہ تمہارا صحابی ہے؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 69: کیا یہ درست ہے کہ دسمبر 1995 میں نماز جمعہ کے بعد چوک یتیم خانہ لاہور میں واقع مسجد بیت الرضا سے ملحق حجرے میں سہیل ضیا نے تم سے منیر ڈار گواہ استغاثہ کا تعارف کرایا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 70: کیا یہ درست ہے کہ تم نے مذکور گواہ استغاثہ سے کہا کہ اگر تم اس کی پیغمبرﷺ سے ملاقات کا انتظام کر دو۔ آیا گواہ استغاثہ کے پاس اس کی کوئی قیمت ہے یا نہیں۔ جس پر گواہ استغاثہ نے اثبات میں جواب دیا جس پر تم نے گواہ استغاثہ سے کہا کہ جب تک اسکی پیغمبرﷺ سے ملاقات نہ ہو جائے وہ نہیں مرے گا۔ مزید برآں حضورﷺ سے ملاقات کی صورت میں اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ جنت میں جائے گا اور تم نے گواہ استغاثہ سے اس کی سنہری زنجیر اور انگوٹھی دینے کو کہا جو گواہ استغاثہ نے تمہیں دیدی؟

صفحہ 253

جواب: یہ غلط ہے، یہ مجھ پر بہتان اور تہمت ہے۔

سوال نمبر 71: کیا یہ درست ہے کہ اس ملاقات کے اگلے دن تم نے گواہ استغاثہ ساجد منیر ڈار کو اپنے گھر 218۔ کیو ڈیفنس لاہور بلوایا اور تم مذکورہ گواہ استغاثہ کو اکیلے اپنے گھر میں قائم حجرے میں لے گئے جبکہ بہت سے دوسرے افراد مین ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے؟

جواب: یہ غلط ہے، فی الحقیقت میں نے گواہ استغاثہ ساجد منیر ڈار کو پہلی مرتبہ عدالت میں دیکھا ہے۔

سوال نمبر 72: کیا یہ درست ہے کہ مذکورہ حجرے میں موجودگی کے دوران تم نے کہا کہ گواہ استغاثہ خوش نصیب ہے جسے حضورﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا ہے اس کے بعد تم نے گواہ استغاثہ سے کہا کہ تم خود ”محمدﷺ“ ہو اس کے بعد تم نے اسے سینے سے لگا لیا؟

جواب: یہ درست نہیں ہے۔

سوال نمبر 73: کیا یہ درست ہے کہ ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 5 میں ریکارڈ شدہ تقریر کے دوران تم نے اپنے آپ کو ”رسول اللہﷺ“ کہا اور کہا ”واعلموا ان فیکم رسول اللہ“؟

جواب: یہ درست نہیں۔

سوال نمبر 74: کیا یہ درست ہے کہ ویڈیو کیسٹ پی 2 میں تم نے لوگوں سے اپنے بارے میں پوچھا کہ آیا وہ تم پر یقین کرتے ہیں کیونکہ تم حضورﷺ سے مشابہت اور یکسانیت رکھتے ہو؟

جواب: یہ درست نہیں۔

سوال نمبر 75: کیا یہ درست ہے کہ تم نے ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 میں ریکارڈ شدہ تقریر میں لوگوں کو دعوت دی کہ وہ تمہیں سرور کائناتﷺ کی مانند مقدس اور ان سے مشابہہ سمجھیں اور اگر انہیں اپنے کنبوں‘ اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کی مخالفت کرنا پڑے حتیٰ کہ اس یقین کیلئے انہیں قتل بھی کرنا پڑے تو تمہیں ”بدر و حنین“ اور ”کربلا“ کو دہرانا ہے اور تم پر اسی طرح ایمان لانا ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 76: کیا یہ درست ہے کہ تم نے میاں غفار گواہ استغاثہ کو جب اس نے تمہارے مکان 218۔ کیو واقع ڈیفنس لاہور میں تم سے ملاقات کی‘ بتایا کہ حضور نبی کریمﷺ کی تاریخ پیدائش 9 ربیع الاول ہے اور یہ کہ 12 ربیع الاول حضورﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش نہیں؟

صفحہ 254

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 77: کیا یہ درست ہے کہ تم نے ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 5 میں ریکارڈ شدہ اپنی تقریر میں کہا کہ 12 ربیع الاول حضرت محمد ﷺ کی تاریخ پیدائش نہیں بلکہ حضور ﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش 9 ربیع الاول ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 78: کیا یہ درست ہے کہ خوشی محمد ایس ایچ او نے تمہیں ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 اور ایگزیبٹ پی 5 اور آڈیو کیسٹ پی 1 سے موازنے کیلئے اپنی آواز ریکارڈ کرانے کو کہا لیکن تم نے اپنی آواز ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 79: یہ بات شہادت میں موجود ہے کہ مستغیث محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تفتیشی افسر کے روبرو تمہاری ڈائری کے 22 صفحات ایگزیبٹ پی 3 / 22-1 پیش کئے، تمہیں اس بارے میں کیا کہنا ہے؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 80: کیا ڈائری ایگزیبٹ پی 8 / 116-1 تمہاری ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 81: کیا یہ درست ہے کہ مستغیث نے تمہاری ڈائری کا ایک ورق ایگزیبٹ پی 4 پولیس کو پیش کیا؟

جواب: یہ غلط ہے۔

سوال نمبر 82: کیا یہ درست ہے جیسا کہ ہفت روزہ تکبیر کراچی ایگزیبٹ (پی 9 / 52-1) رپورٹ کیا گیا ہے کہ تم نے اپنے پیروکاروں اور مریدوں کو مصیبت اور ابتلا کی صورت میں ایمان کی آزمائش کے طور پر اپنے آپ پر درود شریف پڑھنے کی اپیل کی؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 84: کیا یہ درست ہے کہ ویڈیو کیسٹ پی 5 میں ریکارڈ شدہ تمہاری تقریر جو گواہ استغاثہ اطہر اقبال نے پولیس کو پیش کیا، ایگزیبٹ پی 11 / (10-1) میں تمہاری ویڈیو کیسٹ ایگزیبٹ پی 2 میں ریکارڈ شدہ تمہاری تقریر کا ٹرانسکرپٹ ہے جو مستغیث نے تفتیشی افسر کے

صفحہ 255

روبرو پیش کیا؟

جواب: میں اپنے وکیل سے مشورے کے بعد اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔

سوال نمبر 85: کیا یہ درست ہے کہ ٹرانسکرپٹ ایگزیبٹ پی 12/ (19-1) تمہاری ویڈیو کیسٹ پی 5 میں ریکارڈ شدہ تقریر ہے جو گواہ استغاثہ اطہر اقبال نے پولیس کو پیش کی؟

جواب: میں اپنے وکیل سے مشورے کے بعد اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔

سوال نمبر 86: کیا یہ درست ہے کہ تم نے اپنے حضور نبی کریم ﷺ کا تسلسل ہونے کا دعویٰ کیا جیسا کہ ہفت روزہ تکبیر کراچی ایگزیبٹ پی 13/ (52-1) میں رپورٹ کیا گیا ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے، میں اس قسم کا کوئی کام کیے جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

سوال نمبر 87: کیا یہ درست ہے کہ تم نے اپنے پیروکاروں سے نیک مقصد کیلئے جو ہفت روزہ تکبیر ایگزیبٹ پی 9/ (52-1) میں رپورٹ کیا گیا ہے‘ ان کی بیویوں کی قربانی دیئے جانے کی اپیل کی؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے، میری منکوحہ بیوی کے سوا تمام عورتیں میری بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔

سوال نمبر 88: کیا یہ درست ہے کہ جیسا کہ ویڈیو کیسٹ پی 2 میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے بول رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم میں حلول ہونے کے بعد بول رہا ہے اور تم نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمہارے لبوں سے نکلی ہوئی آواز ”حقیقی کتاب“ ہے یعنی اس سے مراد ’الکتاب‘ اور ’قرآن شریف‘ ہے؟

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔

سوال نمبر 89: تمہارے خلاف یہ مقدمہ کیوں ہے؟ اور استغاثے کے گواہوں نے تمہارے خلاف بیان کیوں دیئے ہیں؟

جواب: یہ مقدمہ حسد، طمع، لالچ، بغض اور مذہبی علم، صوفی ازم سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ میں نے ایف آئی آر کے اندراج سے قبل ہی اخباری بیانات کے ذریعے پوری دنیا پر اپنے خیالات واضح کر دیئے تھے۔ میں نے جن میں ”لا اله الا الله محمد رسول الله “کہا اور یہ بھی کہا کہ پیغمبری کا دعویدار مردود ہے اور وہ شخص بھی ایسا ہی ہے جو ایسے غلط الزامات عائد کرتا ہے۔ آج بھی جناب والا میرا موقف وہی ہے۔ میں نے براہ راست اور اپنے وکیلوں کے ذریعے عدالت میں پیغامات دیئے کہ اگر کسی قسم کی غلط فہمی ہو، ہمیں مل بیٹھ کر نہایت خیر سگالی کے

صفحہ 256

جذبے سے اور جائز طریقے سے اپنے اختلافات طے کرنے چاہئیں لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر جن کے بارے وہی بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کبھی میری پیشکش قبول نہیں کی اور ہمیں کبھی تبادلہ خیالات کا موقع نہیں ملا۔ یہاں تک کہ مجھے اپنے گھر کا نام ”جنت طیبہ“ رکھنے پر کاذب قرار دیدیا گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جنت میری ماں اور طیبہ میری بیوی کا نام ہے۔ اس کے باوجود یہ لوگ مجھے ریگل چوک میں پھانسی پر لٹکانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک اس مقدمے کے پہلو کا تعلق ہے، یہ مثال یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ مستغیث یا گواہ کس قسم کا علم رکھتے ہیں۔ میں تصوف کا نہایت ادنیٰ طالب علم ہوں۔ جب میں زیر تفتیش تھا، میں نے ان تمام سوالات کے جوابات پوری طرح دے دیئے تھے۔ میں نے وہاں کہا تھا کہ ”میں تو حضورﷺ کے جوتوں کی خاک کے برابر بھی نہیں“۔ آج بھی میں یہی کہتا ہوں۔ وضاحت دینے کا میرا مقصد صرف مقدمے کے حوالے سے نہیں۔ میں پھر پیشکش کر سکتا ہوں کہ ہم مل بیٹھیں، اگر اس میں مجھے غلط ثابت کر دو تو مجھے موت کی سزا دی جائے اور اگر اس کے برعکس تم نے کوئی غلط کام کیا ہو تو تمہیں بھی اس کی سزا کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ بہت سے گواہ جن سے میں ماضی میں کبھی نہیں ملا لیکن وہ بلیک میلنگ کیلئے مجموعی سازش کے تحت میرے خلاف بدنیتی سے اور مذموم مقاصد کے حصول کیلئے لائے گئے۔

سوال نمبر 90: کیا تمہیں کچھ اور کہنا ہے؟

جواب: قرآن حکیم کے مطابق شہید زندہ ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو اس کا ادراک اور شعور ہے۔ اولیائے کرام، پیغمبر اور اللہ کے دوست کہیں زیادہ ارفع ہیں اور مسجد نبویﷺ میں تمام پیغمبروں کا حضور خاتم النبیین سیدنا محمدﷺ کی امامت میں نماز کی ادائیگی کیلئے ظہور اس کا ثبوت ہے۔ میرے نزدیک میرے آقا حضرت محمدﷺ، خلفائے راشدینؓ، بارہ امامؒ، اہل بیتؒ، فقہ کے چار امامؒ، حضرت غوث الاعظمؒ، حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت امام بریؒ اور میرے سلسلے کے تمام مشائخ زندہ ہیں اور بہت سے سینئر شیوخ، عظیم اور عظیم ترینوں کی موجودگی میں کس طرح یہ ادنیٰ خادم ان تمام الزامات کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ قادر مطلق کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میرا زور لفظ ”ہیں“ پر ہے۔ وہ خاتم النبیینؐ ہیں، دلوں کی روشنی اور قیامت تک کے لیے راہنمائی ہیں۔ اس لیے میں خواب میں بھی اس قسم کے جرم اور اس کے ارتکاب کے بارے میں نہیں سوچ سکتا جس کا مجھ پر الزام لگایا گیا ہے۔ میں

صفحہ 257

اسی حالت میں یہ بھی تصور نہیں کرسکتا کہ ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے خلاف اس قسم کے الزامات عائد کرسکتا ہے۔ اس لیے میں اس مقدمے میں بے گناہ ہوں۔

سوال نمبر 91: کیا تم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 340 (2) کے تحت اپنے خلاف عائد الزامات کو غلط ثابت کرنے کیلئے اپنا بیان قلمبند کرواؤ گے؟

جواب: ہاں۔

سوال نمبر 92: کیا تم صفائی کی شہادتیں پیش کرو گے؟

جواب: ہاں۔

تصدیق کی جاتی ہے کہ ملزم کا مذکورہ بیان میری موجودگی اور سماعت میں قلمبند کیا گیا اور مزید یہ کہ یہ ملزم کے مکمل اور صحیح بیان پر مشتمل ہے۔

دستخط سیشن جج 13-7-2000

13۔ ناواقفوں کی سہولت اور اس کا بیان دوبارہ حلف پر لینے کیلئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 340(2) حسب ذیل بیان کی جارہی ہے۔

دفعہ 340 (2) مجموعہ ضابطہ فوجداری

’’کوئی شخص جس پر فوجداری عدالت میں کسی جرم کا الزام ہو یا جس کے خلاف کارروائی اس ضابطہ کے تحت کسی ایسی عدالت میں شروع ہو اگر وہ جرم تسلیم نہ کرے تو اپنے خلاف یا کسی دوسرے کے خلاف الزامات کو غلط ثابت کرنے کیلئے جس پر اس کے ساتھ الزامات ہوں یا جس کے خلاف اس کے ساتھ مقدمے کی کارروائی جاری ہو، حلف پر بیان (گواہی) دے گا۔ بشرطیکہ اسے نہ پوچھا جائے اور اگر پوچھا جائے تو اس سے کسی ایسے سوال کے جواب کی توقع نہیں کی جائے گی جس سے اس کا اظہار ہوتا ہو کہ اس نے کوئی جرم کیا یا اسے سزا ہوئی ہو ماسوائے اس جرم کے جس کا کہ اس پر الزام ہو یا جس پر اس کے خلاف مقدمے کی سماعت کی جارہی ہو یا وہ برے کردار کا حامل ہو۔ تاوقتیکہ

شہادت میں اس بات کے اظہار کے لیے قابل تسلیم ہو کہ وہ اس جرم کا مرتکب ہے جس کا اس پر الزام ہے یا یہ کہ جس کیلئے اس کے خلاف مقدمہ زیرسماعت ہو۔ یا

صفحہ 258

نظریئے سے سوال پوچھے ہوں کہ اس کے اچھے کردار کا تعین ہو سکے یا خود اس نے اپنے اچھے کردار کی گواہی دی ہو۔ یا

3۔ اس نے ایسے دوسرے شخص کے خلاف بیان دیا ہو جس پر ایسا ہی الزام ہو اور اس الزام میں اس کے خلاف مقدمہ زیر غور ہو۔‘‘

14۔ باالفاظ دیگر اس کا مطلب ہے کہ یہ ملزم کا حلف پر بیان ہے جو استغاثہ کی جانب سے جرح کے تابع ہے۔ بہر حال لفظ بہ لفظ درج ذیل ہے۔

بیان محمد یوسف علی ولد وزیر علی ذات راجپوت زیر دفعہ 340 (2) ضابطہ

فوجداری حلفاً بیان کیا :

مذہب اسلام پر میرا ایمان حضرت ابوبکر صدیقؓ ، اہل بیت رسولؐ ، حضرت غوث الاعظمؒ اور حضرت داتا گنج بخشؒ کی مانند ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میرا تعلق اہل سنت مکتب فکر سے ہے۔ ’’میرا مشن مختصراً انسانی ارتقا (احسن و تقویم) کے ذریعے ’’عالمی امن‘‘ ہے جو مجھے حضرت محمدﷺ نے تفصیل سے عطا کیا ہے‘‘۔ میرا مشن قرآن حکیم کی ’’سورۃ صف‘‘ کے مطابق ہے۔ دنیا کی صورت ایسی ہے کہ لوگ چند ایک کے سوا حضرت محمدﷺ کے نور کو زبانی، تحریری وعملی کوششوں کے ذریعے بجھانے کی بہت کوشش کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا نور برقرار رکھتا ہے۔ وہ اپنا نور برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس کا نور برقرار رہے گا۔ ثبوت یہ ہے کہ وہ ’’ذاتِ حق‘‘ ہے جس نے اپنے رسولؐ کو مکمل راہنمائی کے ساتھ بھیجا، وہ اس مجموعی غلط سوچ اور اس راہنمائی سے آگے جاسکتا ہے۔ کافر کتنی ہی مخالفت کیوں نہ کرتے رہیں۔ مشرک کتنا ہی فساد کیوں نہ پھیلائیں، ایسا ہی طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اے ایمان والو! آؤ میں تمہیں ایک بہت اچھی تجارت کی جگہ بلاتا ہوں۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 256 کے مطابق اپنے ایمان کو اللہ کے مطابق صحیح بناؤ تم محمدﷺ تک حقیقتاً پہنچ جاؤ گے اس لیے تم اللہ کی راہ میں دل جمعی کے ساتھ کوشش کرو تمہارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور تم سے وعدہ ہے جنت میں داخلے اور طیب اقامت گاہوں کا‘ اور میں تمہیں اس عظیم کامیابی کا یقین دلاتا ہوں۔ اس دنیا کی حالت سے نہ گھبراؤ کیونکہ اصول ایک ہے جس نے اپنی شخصیت کو تقدس اور عظمت دی اور اس کے بعد کی زندگی (ابدی زندگی) کیلئے خود کو کامیاب کیا‘ وہ اپنے بارے میں

صفحہ 259

دنیا کا احیا کر سکتا ہے۔ ایک بار جب تم اس انتہا معراج کو یعنی (قدم محمدیؐ) کو پہنچ جاتے ہو‘ اللہ کی مدد تمہاری ہوگی اور تمہیں بڑی فتح و کامیابی سے نوازا جائے گا۔ میرے مشن کا عنوان ”حقیقت محمدیہؐ“ ہے جسے غیر مسلم عام طور پر ورلڈ اسمبلی اور امن اور احیائے اسلام کے نام سے جانتے ہیں۔

ہم حضور رحمت العالمین ﷺ کا عکس اور انہیں پوری انسانیت کیلئے پیش کر رہے ہیں۔ ہماری دعوت یہ ہے کہ ہم کسی کے عقائد اور ایمان پر نکتہ چینی نہیں کرینگے۔ نہ اسے پریشان کرینگے۔ بلکہ ہم لوگوں کو ان کے پیغمبروں کے اصولوں، اساتذہ اور رہنماؤں کے مطابق زندگی گزارنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ جب کوئی شخص اپنے عقیدے اور یقین پر اس کی روح کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے، یہ بات یقینی ہے کہ اسلام کی کشش اسے متوجہ کرے گی کیونکہ کسی انسان کی کامیابی اپنی اصلیت کی جانب رجوع کرنے میں ہے جو احسن و تقویم ہے اور ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اسلام قبول نہ کرے، ہمیں لازماً یہ وضاحت کرنا چاہیے کہ اسلام کیا ہے؟ اسلام اللہ سبحان و تعالیٰ اور بندے کے درمیان ملاقات ہے جیسا کہ وہ ہے‘ اس سے میری مراد یہ ہے کہ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے خود کو تصور کیا نہ کہ خود کو ظاہر اور واضح کیا اور جب میں آدمی کی بات کرتا ہوں تو اس سے میری مراد اس کا اپنی حقیقت کے مطابق ”نفس“ یعنی حقیقی آدمی ہونا جس کا مطلب پاکیزہ اور مطہر آدمی ہے۔ (بحوالہ سورۃ دہر آیت نمبر 111، سورۃ الاعراف آیت نمبر 11) ہم انسان کو اسفلا سافلین سے احسن و تقویم تک اس طرح لے آتے ہیں۔

حوالہ کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخشؒ صفحہ 651 دسواں ایڈیشن جنوری 1968ء جیسا کہ مولانا فیروز الدین نے ترجمہ کیا ہے۔ یہاں ہم ایک مثال کا حوالہ دیتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ کسی عمارت کی تعمیر کیلئے ہمیں مختلف قسم کا سامان درکار ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اچھی کھڑکیاں بناتے ہیں بعض دوسرا تعمیراتی سامان بناتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں یقین ہے کہ دنیائے اسلام کی تمام تنظیمیں اور جماعتیں اتنی ہی مخلص اور قابل احترام ہیں جتنی کہ دوسری۔ مثلاً جب میں عشق محمدﷺ کی بات کروں تو میں صوفیائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا پسند کروں گا اور جب مجھے

صفحہ 260

اسلام کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی تو میں جماعت اسلامی والوں کے پاس جانا پسند کروں گا، جب مجھے نعتیں سننا ہونگی تو میں بریلویوں کی محفل میں جانا پسند کرونگا اور جب مجھے اہل بیت کے بارے میں وعظ سننا ہوگا تو میں شیعوں کے پاس جانے کو ترجیح دوں گا اور جب مجھے اجنبی رومانیت اور غیر معمولی کارکردگی درکار ہوگی تو میں دیوبند کا طالب علم ہوں گا۔ اگر مجھے توحید کی بات کرنا ہے تو میں اہل حدیث سے راہنمائی لوں گا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے پاس اچھا جزوی علم ہے، مکمل علم نہیں، مکمل علم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدم کے نیچے ہے۔

جاتی ہے، جب انسان عبادت کی معراج پر پہنچ جاتا ہے تو اسے تقویٰ کی نعمت سے سرفراز کیا جاتا ہے حوالہ سورۃ بقرہ آیت نمبر 21۔

احسن وتقویم کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور یہی حقیقی آغاز ہے۔

نوٹ: کوئی شخص کتنا ہی متقی کیوں نہ ہو، اگر اس کا تعلق کسی ایک فقہ سے ہے تو اس کا ہمارے پیغمبر ﷺ سے براہ راست تعلق نہیں ہو سکتا، اس کا ثبوت ”سورۃ الانعام“ کی آیت نمبر 159 ہے۔ تاہم ہمارے پیغمبر اپنی شفقت سے اس پر بالواسطہ طور پر کرم کر سکتے ہیں۔ ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ از محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ صفحہ 28 اور صفحہ 84۔ یہاں میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ دنیا کے راہنما خواہ وہ مادی دنیا ہو، طبعی دنیا ہو یا مابعدالطبیعاتی دنیا ہو صرف اور صرف محمد ﷺ ہی دنیا کے قائد ہو سکتے ہیں کوئی بھی دوسرا شخص کسی بھی حیثیت میں قائد نہیں ہو سکتا۔ الحمد اللہ اس کمپیوٹر ڈسک میں کوئی فلم یا گیت نہیں لیکن اس کمپیوٹر ڈسک کا نام علیم ہے اور یہ کمپیوٹر ڈسک قرآن حکیم، اس کے ترجمے، صحاح ستہ اور اسلامی فقہ پر مشتمل ہے۔ اگر کسی عام عالم سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ ڈسک اپنے مندرجات کمپیوٹر پر واضح کر سکتی ہے بالفاظ دیگر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اے انسانو! انسانی خواہشات کے تحت حقیقت کا مطالعہ نہ کرو جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر

صفحہ 261

تمام حقائق ایک سادہ ٹکڑے (کمپیوٹر ڈسک) میں ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں تو انسانی جسم میں ہر چیز کو کیوں محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق یہ واضح کیا گیا ہے کہ قرآن حکیم انسان کے اندر (ڈی این اے) میں ریکارڈ شدہ ہے اور یہاں ہم نے خود کو علامہ اقبال کے حوالے تک محدود رکھا ہے۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

کوئی بھی چیز اگر فاصلے سے دیکھی جائے یا اسے تفاخر سے دیکھا جائے، پست نظر آتی ہے جب تصورات واضح ہوں یہ متحد ہوتے ہیں اور جب یہ متحد ہوتے ہیں تو یہ تصور کی انتہا اور بلندیوں کو چھوتے ہیں جو انسانی ارتقا (معراج انسانی) کی اصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شفقت (معراج) حضرت محمد ﷺ کی معراج اور انسانی بلندی قدم محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ تزکیہ کے بغیر علم ہلاکت ہے، علم اس وقت علم ہے جب عملاً نافذ ہو، بصورت دیگر یہ اطلاع ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کا راز ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کا بھید ہے۔ یہاں اس عدالت میں قرآن، حدیث اور دوسری کتابیں دستیاب ہیں اور ہر شخص ان کتابوں کا مناسب احترام کرتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں ایک کمپیوٹر ڈسک ہے، نکتہ یہ ہے کہ آیا اس کمپیوٹر ڈسک کا احترام کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ یہ شعور کے علم (علم آگہی) سے متعلق ہے۔ اللہ نے انسان کو اس دنیا میں بھیجا، ہر انسان اپنی حقیقت کے مطابق ہونے کی بنا پر احسن وتقویم ہے۔ اسفل السافلین کے حوالے سے اس کا تصور غیر حقیقی ہے۔ جب کوئی شخص غیر حقیقی اور خیالی تصورات میں گھرا ہو تو وہ دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ احسن وتقویم کی شناخت یہ ہے کہ وہ پوری دنیا کیلئے حضرت محمد ﷺ کا نمائندہ بنے گا۔ انسانی حقیقت ہی دنیا کی حقیقت ہے اور حقیقت قرآن ہے اور حقیقتوں کی حقیقت ”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں ”نہیں الہ سوائے اللہ کے، محمد رسول اللہ ہیں“ اس مقدس کلمے کے سات الفاظ ہیں۔ اگر کسی کو کسی زبان میں اس کلمے کا ترجمہ کرنا ہے تو اسے سات الفاظ تک ہی محدود رہنا ہوگا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے یا اسے کلمہ مرشد کامل سے پڑھنا ہوگا جیسا کہ کلمہ کسی عاشق نے اس طرح بیان کیا ہے۔

”کلمہ یار پڑھایا ہو
میں سدا سہاگن ہوئی ہو“
صفحہ 262

سہاگن عاشقوں کا خفیہ لفظ ہے جو سورۃ فجر کی آیت نمبر 27 اور 28 کا ترجمہ ہے۔

نوٹ: جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ کہیں گے کہ ”نفس مطمئنہ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو مونث ( تانیث ) ہے اور مثال یہ دی گئی ہے کہ عاشق جب عشق کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ( عبد ) اور حضور ﷺ کا غلام بن جاتا ہے اور وہ حضور ﷺ کے حضور حاضری دیتا ہے اس حالت میں اس کی کوئی خواہش ، کوئی طلب نہیں ہوتی۔ فی الحقیقت وہ کچھ نہیں ہوتا محض سادگی سے حاضر ہوتا ہے۔ ”میں“ کی موجودگی گناہِ کبیرہ ہے، باقی تمام گناہ اس سے کم تر ہیں۔

میں ، میں ، میں بکری کرتی رہی اور اس کی کھال اتار دی گئی ، ”میں نہ“ ، ”میں نہ“ ، ”میں نہ“ بولی تو دل کو بھا گئی ، اسے قبول کیا گیا۔ میں نہ ہی حقیقی قربانی ہے۔ جیسا کہ حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا ہے جو درج ذیل ہے۔

”جے کر دین علم وچ ہوندا
تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ہو
اٹھاراں ہزار جو عالم آیا
اوہ اگے حسینؓ دے مُردے ہو
جے کچھ ملاحظہ سرور (ﷺ) دا کر دے
تاں خیمے، تمبو کیوں سڑ دے ہو
جے کر مندے بیعت رسولیؐ
تاں پانی کیوں بند کر دے ہو
پر صادق دین تنہاں دے باہو
جو سر قربانی کر دے ہو“

جہاں تک محمد یوسف علی کا بحیثیت انسان اور شخصیت تعلق ہے اس کے ساتھ جو بھی ظلم روا رکھا گیا ، وہ اسے حضرت محمدﷺ کے نام پر معاف کرتا ہے، اس نے کبھی انتقام کے بارے میں نہیں سوچا نہ ہی اس نے کبھی بدلہ لیا ہے اور نہ ہی وہ بدلہ لے گا۔ میری اپنے تمام دوستوں کو نصیحت ہے کہ دنیا میں بدلہ لینے کی بات کرنا تو دور کی بات ہے۔ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی لفظ ایسا بولا جانا چاہیے جس سے بدلے کا تاثر ملتا ہو۔ میری کارکردگی

صفحہ 263

کا حاصل درج ذیل ہے۔

جیوندیاں مر رہناں ہووے
تاں ولیس فقیراں بہیئے ہو
جے کوئی سٹے گوڑڑ کوڑا
وانگ اروڑی سہیئے ہو
جے کوئی کڈھے گاہلاں مہنے
اُس نوں جی جی کہیئے ہو
گلا اُلا ہماں بھنڈی خواری
یار دے پاروں سہیئے ہو
قادر دے ہتھ ڈور اساڈی باہو
جیوں رکھے تیوں رہیئے ہو

علاوہ ازیں میرے خیال میں حضرت داتا گنج بخشؒ کی نصیحت کشف المحجوب کے دسویں ایڈیشن جنوری 1968ء کے صفحہ 624 پر یوں درج ہے۔

”یہ کہ جس طریقے سے مشائخ طریقت نے تہمت اور بہتان کو پسند فرمایا ہے، اس سے انسان عجیب باتوں‘ تفاخر اور خودستائی سے محفوظ ہوجاتا ہے اور جس کی محبت میں طاقت‘ استحکام اور شفقت بھی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ وہ انہیں لوگوں کی نظروں میں بے عزت اور ناپسندیدہ بھی کردیتا ہے اور پیغمبرﷺ کی زندگی اس ضمن میں ایک مثال ہے“

الحمدللہ کہ اللہ جل شانہ کے فضل سے ہماری تعلیم، تربیت، تزکیہ بلاواسطہ حضرت محمدﷺ اور بالواسطہ اس سلسلے کے مشائخ نے کیا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی زندگی اور تمام کتابوں میں ہے جو درج ذیل ہیں۔

حضرت مولانا مفتی عبدالشکور ترمذی انچارج مدرسہ عربیہ حقانیہ ساہیوال ضلع سرگودھا۔

جناح روڈ کراچی۔

الحمدللہ ہم پر تمام الزامات اللہ رب العزت اور حضرت محمدﷺ کی موجودگی میں جو اس کے گواہ ہیں، جھوٹے اور بہتان ہیں اور لاعلمی کا نتیجہ ہیں اور یہ سب کچھ ابلیسی یلغار کا نتیجہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی کبریائی، دین حق کیلئے اور اللہ رب العزت کی خوشنودی کیلئے اس کی کچھ

صفحہ 264

وضاحت مختصراً بیان کرتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کسی کا عیب اس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے، ہم اپنی جان قربان کر سکتے ہیں لیکن کسی کے عیب کی نشاندہی نہیں کرینگے۔ یہاں قرآن کے کئی نسخے دستیاب ہیں اور ہمارے حوالوں کی کسی حوالے سے تصدیق کی جاسکتی ہے ہم نے ”سورۃ نور“ الگ سے حاصل کی ہے اس لیے ہم یہ کتاب سورۃ نور کے حوالے کے طور پر پیش کریں گے۔ سورۃ نور کی آیت 12، 13 اور اس کا حاشیہ نمبر 19 بھی پڑھا جائے جو ضیاء القرآن کے ترجمہ اور پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تفسیر میں درج ہے جسے ضیاء القرآن پبلشرز الکریم مارکیٹ اردو بازار نے شائع کیا ہے۔

جناب والا! واللہ، واللہ، واللہ، واللہ، واللہ میری منکوحہ بیوی کے سوا تمام عورتیں میرے لیے ماں اور بہن کی حیثیت رکھتی ہیں الحمد للہ۔ صہراً اور نسباً ہم پر اللہ کی نعمتوں کی فراوانی اور افراط ہے۔ اللہ کے فضل سے ہم ہمیشہ دینے کی پوزیشن میں رہے ہیں اور اب بھی لوگ ہمارے دین دار (مقروض) ہیں۔ تمام افراد جنہوں نے ہمیں تحائف دینے کا حوالہ دیا، ہم نے وہ تحائف سورۃ توبہ کی آیت 103 کو ملحوظ رکھتے ہوئے قبول کرنے کے بعد دوسروں میں تقسیم کر دئیے اور اللہ تعالیٰ اس کا گواہ ہے کہ ہمارے اہل خانہ کے کسی فرد نے انہیں استعمال نہیں کیا ہے۔ تحائف کا کیا معاملہ ہے۔ ہم صحیح بخاری شریف کے حوالے سے جلد دوم مترجم ڈاکٹر محمد محسن خاں اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ دوسرا ایڈیشن جیسا کہ 1976ء میں ترمیم کیا گیا، کے صفحہ 178 کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس کی فوٹو کاپی پیش کی گئی اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جو بھی تحفہ دینے کے بعد اس کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے وہ اس کتے کی مانند ہے جو قے کرنے کے بعد اسے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہمارے خلاف جو طوفان شروع ہوا، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ہماری یہ باتیں پسند نہیں کرتے تھے کہ قرآن حکیم کے تراجم درست نہیں، ہم اس کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

تمہید: پیغمبرﷺ سے انسانی رابطے کے دو طریقے ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ رابطہ ممکن ہے ۔ پہلا طریقہ بلاواسطہ ہے یعنی بالترتیب صحابہ کرامؓ، تابعینؒ تبع تابعینؒ اور دوسرا طریقہ بالواسطہ ہے جس کا خلاصہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ایڈووکیٹ محمد اسماعیل قریشی کی تحریر کردہ کتاب ناموس رسالتﷺ اور قانون توہین رسالتﷺ میں صفحہ 28 پر

صفحہ 265

ان کا بیان کردہ خواب ہے۔ محبت کا یہ رابطہ ایک سے دوسرے تک مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوتی ۔

ایک عشق مصطفیٰ (ﷺ) ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان سراب میں

نوٹ: یہاں کسی کے حکم پر لفظ ”خراب“ کو لفظ ”سراب“ سے بدل دیا گیا ہے اور یہ ادبی بددیانتی ہے۔

نوٹ: کوئی شخص خواہ اس کے قبضے میں پوری دنیا ہی کیوں نہ ہو؟ پوری دنیا کا عارضی مالک ہے‘ پوری دنیا بھی اس کے پاس ہو لیکن وہ دین نہ رکھتا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔

اگر کسی کو دین اسلام کا پورا علم ہے تو وہ بظاہر عالم نظر آئے گا لیکن اگر کسی کو حضورﷺ سے محبت نہیں تو اس کے پاس کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر مغرب اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں بڑے بڑے عالم (سکالر) ہیں جو اسلامیات پر لیکچر دیتے ہیں لیکن چونکہ انہیں سرور کائناتﷺ سے کوئی محبت نہیں، اس لیے انہیں مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ دنیا میں ابلیس کے ہونے سے قبل کوئی انسان نہیں تھا جس نے عبادت کی ہو، ابلیس نے جو عبادت کی، اسے درج ذیل میں واضح کیا جاسکتا ہے۔

”گیا، ابلیس مارا ایک سجدے کے نہ کرنے پر
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا؟“

عدالت کا قیمتی وقت بچانے کیلئے ہم ان آیات کا حوالہ دیں گے جن کا ترجمہ گستاخانہ ہے اور غلط ہے جو یہ ہے:

قرآن کے کسی بھی ترجمے میں لفظ (عروت الوثقی) کا صحیح طور پر ترجمہ نہیں کیا گیا اب ہم اللہ تعالیٰ اور پیغمبرﷺ کے واسطے سے صحیح ترجمہ متعارف کراتے ہیں۔

”عروت الوثقی“ کا مطلب حضرت محمدﷺ ہیں۔

ثبوت نمبر 1۔ پیغمبرﷺ کا یہ نام مسجد نبوی میں اس کے دائیں جانب کی آخری

صفحہ 266

(تازہ ترین) محراب پر لکھا گیا ہے۔ ثبوت نمبر 2۔ روح القدس سے مراد بھی حضرت محمدﷺ ہیں۔ یہ نام بھی مسجد نبویﷺ کی بائیں جانب کی محراب میں لکھا گیا ہے اور ثبوت نمبر 2 صوفی برکت علی سالار والے کی اسمائے نبی کریمﷺ کے نام سے لکھی گئی کتاب اور سورۃ قیامت آیت نمبر 16 اور سورۃ والضحیٰ آیت نمبر 7 ہیں اور اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے نکات کی ہم کسی بھی لمحے وضاحت کر سکتے ہیں۔

سورۃ احزاب آیت نمبر 72 لفظ ”ظلوماً جہولاً“ انتہائی توہین آمیز ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ قصص کی آیت نمبر 76 کے حوالے سے کسی نے ہم سے پوچھا کہ اس آیت کے حوالے سے استغفراللہ حضرت محمدﷺ کسی کو راہنمائی پیش نہ کریں اور حضرت محمدﷺ کے نام پر اور حضورﷺ کا یہ فرمان کہ ہماری جانیں قربان اور ہم اچانک ”سورۃ شوریٰ“ کی آیت نمبر 52 کے مطابق اسے جواب دیتے ہیں کہ حضور نبی کریمؐ کسی کی راہنمائی کرنا پسند کرتے ہیں جس پر اس شخص نے ایک اور سوال کیا کہ قرآن حکیم کی آیات میں اختلاف ہے جس پر ہم نے الحمدللہ جواب دیا کہ قرآن حکیم کی آیات میں کوئی فرق نہیں اور اسکا ثبوت ”سورۃ النساء“ کی آیت نمبر 82 ہے اور یہ انسانی شعور کی شرارت ہے اور فی الحقیقت فرد اپنی پسند کے مطابق قرآن حکیم سے راہنمائی کا متمنی ہوتا ہے اور اپنے آپ کو تزکیے سے محروم رکھ کر اور انسانی خواہش کو ملوث کر کے اندھا ہو جاتا ہے اور اسکا اعلان قرآن حکیم کی ”سورۃ بقرہ“ کی آیت 26 میں کیا گیا ہے۔

در سخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل
ہر دیدن میل دارد، در سخن بینی مرا

محمد یوسف علی کی والدہ روحانی طور پر میاں شیر محمدؒ اور اس کے والد وزیر علیؒ حاکم علی قادریؒ سے وابستہ رہے۔ جو بھی ہم مزید کہنا چاہتے ہیں (اللہ ہمیں معاف رکھے)۔ میرا دعویٰ نہیں یہ کسی کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ کاغذ محض ایک کاغذ ہے، اس پر اپنے طور پر جو کچھ بھی لکھا ہو، اسے اسی نام سے پکارا جائے گا۔ اگر اس پر قرآن چھپا ہوا ہے تو یہ قرآن کہلائے گا‘ کاغذ خود قرآن نہیں لیکن اسے قرآن چھاپے دیئے جانے کی بنا پر قرآن کہا جائے گا۔ اسی طرح ہم یہ تلقین کرتے ہیں کہ یوسف کے اپنے اندر کوئی خصوصیت نہیں۔ اس دنیا میں جب کسی کو

صفحہ 267

کوئی عہدہ دے دیا جاتا ہے، اس سے قبل اسے اس پر اعتماد ہوتا ہے، اسی طرح جو کچھ بھی ہمیں عطا ہوا، ہمیں اس پر یقین ہے۔ الحمد للہ یوسف علی کی پیدائش سے قبل اس کے والدین‘ ان کے مرشد اور حضور نبی کریم ﷺ نے خود یہ نوید مسرت دی کہ ہمارا پیغمبرﷺ سے بذریعہ خواب مشاہدہ اور تخمینہ (اندازہ) رابطہ ہے۔ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے اور یہ قابل اعتراض نہیں اور نہ دوسروں کیلئے حجت ہے۔ ہم اس حقیقت کا اس لیے ذکر کر رہے ہیں کہ ہماری گفتگو کی وہی اصطلاحات ہیں جو ہمیں حضرت محمدﷺ سے ملی ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ اہل بیت بالعموم اپنے اہل وعیال کیلئے استعمال ہوتا ہے اور سرکارﷺ کے اہل بیت کیلئے اہل بیت رسولﷺ کا لفظ مخصوص ہے۔ اہل بیت کسی بھی شخص کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے مثلاً ”سورۃ رعد“ آیت 73 ، ”سورۃ احزاب“ آیت 21 ۔ تمام مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کی رو سے پیغمبرﷺ ہی وہ قطعی اور حتمی معیار ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ ہیں۔

ثبوت: تفسیر قرآن حکیم علامہ شبیر عثمانی سورۃ الاعراف آیت نمبر 158 حاشیہ نمبر 8 ترجمہ شیخ محمود الحسن شائع شدہ مدینہ منورہ۔

ہمیں جو کچھ بھی تعلیم دی گئی ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمیں حضرت محمدﷺ کے مثل ہونا چاہیے۔ اگر کوئی حضور نبی کریمﷺ جیسا ہے تو وہ گستاخ یا توہین آمیز نہیں اگر کوئی حضورﷺ جیسا نہیں تو وہ گستاخ ہے اور اس نوید ومسرت کی بنا پر ہمارا نام محمدﷺ تجویز ہوا اور بعد میں بزرگوں اور علماء کی راہنمائی کی بنا پر کہ یہ پاکستانی معاشرے میں مشکلات کا سبب ہوگا، اس لیے یوسف علی کے الفاظ نام محمد میں شامل کر دیئے گئے۔ اس کا حوالہ مدارج نبوت پارٹ 1 میں صفحہ 246 پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی عزت اور اختیار کی قسم کھا کر حکم دیا ہے کہ کسی ایسے شخص کو سزا نہیں دے گا جس کا نام حضرت محمدﷺ حضور نبی کریمﷺ کے نام پر ہوگا۔ کسی کا حضور نبی کریمﷺ کے نام پر نام رکھنا مفید ہے اس طرح وہ اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں ایک طرح کی حفاظت میں آجاتا ہے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جس کا نام محمد ہوگا، حضور نبی کریمﷺ اس کیلئے جنت کی سفارش کرینگے اور اسے جنت میں داخل کرائیں گے۔ ایک دوسری جگہ کہا گیا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا نام محمد یا احمد ہے، اسے جہنم میں نہیں بھیجا جائے گا۔ ہم ترکی اور سعودی عرب میں بعض چوکیوں پر متعین رہے ہیں۔ وہاں لوگ ہمیں نام کے

صفحہ 268

پہلے حصے ”کنیت“ سے پکارا کرتے تھے۔ ہم میں سے اگر کوئی مدینہ منورہ جاتا ہے۔ وہ تمہیں اوئے کہہ کر متوجہ نہیں کرینگے بلکہ تمہیں محمد کے نام سے پکاریں گے۔ یہ نام دنیا کا حسین ترین نام ہے۔ کسی کا یہ نام رکھنا یا خود کو اس نام سے بلانا توہین آمیز نہیں، صرف سیدنا محمد بن عبداللہ ہی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کسی کی بیان کردہ ان کی سیرت طیبہ کی حیثیت سات سمندروں میں سے ایک قطرے کی سی ہے۔ علاوہ ازیں کوئی بھی حضور ﷺ کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ سے زیادہ نہیں جانتا۔ وہ ان کی فکر اور تعارف ہیں۔

”انفس آفاق کی وحدت کے بغیر توحید نہیں“

اگر ہم قرآن کی سورۃ سجدہ آیت نمبر 53 کا مطالعہ کرتے ہیں اور الفاظ ”انفس“ اور ”آفاق“ پر غور کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سچائی حق ہے اور حق سچائی ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق انسانی ذہن جو کچھ بھی ہے، اس کی رسائی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ نوری سال سے آگے ہے اور اس کا خلاصہ علامہ اقبال کی نظم میں بھی دیا گیا ہے۔

”خودی ہے مردہ تو مانند کاہ پیش نسیم
خودی ہے زندہ تو سلطان جملہ موجودات
مقام بندہ مومن کا ہے ورائے سپہر
زمیں سے تابہ ثریا تمام لات و منات
حریم ذات ہے اس کا نشیمن ابدی
نہ تیرہ خاک لحد ہے نہ جلوہ گاہ صفات“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں بڑی حد تک محمدیؐ ہونے کے شرف سے نوازا ہے جیسا کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تحریر میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ سرور کائنات ﷺ کے توسط سے ہمیں اس دنیا کی بہترین مخلوق بنایا گیا ، ہمیں حضور اکرم ﷺ کی اطاعت اور پیروی کی نعمت سے نوازا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آئینہ بنا دیا گیا ہے اور ہر انسان کیلئے یہ ممکن بنا دیا گیا ہے۔ یہاں ہم تین فنی اصطلاحات کی تشریح مناسب سمجھتے ہیں۔

(I) ابلیسیت

اس کا کام انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھنا ہے اور ہر شخص اس کا نشانہ ہے سوائے

صفحہ 269

ان مخلصوں کے جن کا حوالہ ”سورۃ ص“ آیت نمبر 83 ہے اور اس کے دوسرے معانی درج ذیل ہیں۔

”وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

باقی تفسیر کلیات اقبال، ابلیس کی مجلس شوریٰ فرعونیت صدقہ میں ہوں باقی کچھ نہیں غرور ہے“

(II) محمدیت:

جس طرح حضرت محمدﷺ پیغمبریت کی انتہا پر ہیں، اسی طرح ان کے پیروکار بھی انسانیت کی انتہا پر پہنچ سکتے ہیں۔ انسانیت کی یہ انتہا یہ ہے کہ الحمد للہ حضور نبی کریمﷺ اور ان کے درمیان کوئی راز نہ ہو۔ ہمیں بھی حضرت محمدﷺ کی مہربانیوں سے وہی اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اللہ کے سب سے بڑے خلیفہ حضرت محمدﷺ ہیں۔ تمام پیغمبروں کو نور سے روشنی ملی جو حضور نبی کریمﷺ کی آمد سے قبل زمین پر آیا لیکن انہیں نبی یا رسول کہا گیا لیکن حضرت محمدﷺ تمام زمانوں کیلئے سورج کی مثل ہیں۔ چھوٹے ٹکڑوں نے سرور کائناتﷺ کے نور سے روشنی پائی اور ستارے کہلائے۔ چاند چودھویں کا ہو یا پہلی کا، سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح کوئی بھی شخص جو مقرر ہے یا عالم وہ حضور نبی کریمﷺ کے نور کی بنا پر ہے اور اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

”کیا شان احمدی کا چمن میں ظہور ہے
ہر گل میں ہر شجر میں محمدؐ کا نور ہے“

اصل حیثیت سورۃ ص کی آیت 78 کے مطابق ہے۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جو حضرت محمدﷺ کا خلیفہ ہے اسے حضور نبی کریمﷺ کا نائب ہونا چاہیے جس کا رابطہ حضرت محمدﷺ سے تھا۔ میرے خدا یہ حیثیت ہونی چاہیے اور اسی اصول کی بنیاد پر ہمیں حضور نبی کریمﷺ کی خلافت سے نوازا گیا۔

الحمد للہ یہ ”اعزاز فیض“، ”اعتراف نعمت“ ہے اور یہ کسی نوع کا اعلان نہیں۔ حوالہ سورۃ والضحیٰ آیت نمبر 11 سنت کے تحت ہم نے اسی کا اظہار کیا ہے جیسا کہ فریضہ ہمیں ایک

صفحہ 270

بڑے مشن کے تحت سونپا گیا ہے جس کے لیے ہمیں اشارہ دیا گیا ہے اور ہم اس کا تعارف پیش کرتے ہیں۔ فی الحقیقت یہ ایک نعمت ہے (استغفراللہ) پیغمبری کا دعویٰ کہاں ہے؟ کیا ہم نے کوئی کتاب متعارف کرائی؟ کیا ہم نے کوئی نیا مذہب رائج کیا ہے؟ کیا ہم نے نمازوں میں تبدیلی کی ہے؟ کیا ہم نے دین میں تبدیلی کی ہے؟ بلکہ فی الحقیقت یوسف ایک غریب آدمی ہے اور کچھ نہیں۔ اسے ایک لمحے کے لیے چھوڑ دیا جائے اور ہمیں تم سے کچھ پوچھنا چاہیے۔

کیا سید عثمان غنیؓ یعنی ’’ذوالنورین‘‘ خلیفۃ الرسولؐ نہیں پھر ان کی کیوں مخالفت کی گئی؟ انہیں کیوں قتل کیا گیا؟ اور ایسے کاموں کے مجرم کیا مسلمان نہیں تھے؟ کیا حضرت علیؓ حضور اکرمؐ کی پیاری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کے شوہر نہیں تھے جنہیں نہایت احترام اور شان عطا کی گئی جس کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا ’’جس کے وہ مولا ہیں، علیؓ بھی اس کا مولا ہے‘‘ وہ کون تھے جنہوں نے حضرت علیؓ کی مخالفت کی تھی؟ کس نے انہیں قتل کیا؟ اور حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے کیا سلوک روا رکھا گیا؟ سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون تھا اور یہ کہ آیا حضورؐ نے امام حسینؓ کے جنت کے نوجوانوں کا سردار ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا؟ بہر حال اس کا خلاصہ یہ ہے۔

’’کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است‘‘

کوئی بھی تعلق جو ہم حضور اکرم ﷺ کے ساتھ رکھتے ہیں، الحمدللہ ہمیں معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں قرآن کی حقیقت کی صورت میں خلافت کا تحفہ عطا کیا ہے۔ ہمیں مذہبی علم سے نوازا گیا ہے، ہمیں مسائل کا حل بتایا گیا ہے جن کا تعلق صرف پاکستان ہی سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے ہے۔ ہماری ڈیوٹی زیادہ تر روحانی ہے اور بعض خاص لوگ اور بعض ادبی چیزیں بھی بتائی گئی ہیں۔

ہم غیر معروف تھے، کس نے ہمیں متعارف کرایا۔ ہمارے خلاف الزام، ہم نے کیا کہا ہے۔ ’’انا محمد‘‘ اور جب یہ الزام لگایا، اسے اخبار میں شائع کر دیا گیا اور بولنے و تحریر میں بھی ’’انا محمد‘‘ آگیا۔ اے اللہ کے بندو براہ کرم ’’انا محمد ﷺ‘‘ اور انا محمد کے درمیان فرق کرو۔ ہم نے خود کو ’’انا محمد‘‘ کے نام سے نہیں پکارا، ہم ’’انا محمد ﷺ‘‘ کیونکر کہہ سکتے ہیں۔ اگر کوئی الزام لگاتا ہے کہ محمد یوسف علی نے سورج کو آسمان سے توڑنے کے بعد اپنے ڈرائنگ روم میں سجا لیا ہے تو کیا یہ قابل یقین ہوگا؟ ابلیس، حضور ﷺ کی شکل میں خواب یا بیداری کی حالت

صفحہ 271

میں نہیں آ سکتا۔ سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوا کوئی بھی اپنے بارے میں ”انا محمد“ نہیں کہہ سکتا۔ اس معزز عدالت میں موجود افراد کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا کوئی مسلمان اپنے آپ کو ”انا محمد“ کہلانے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ یہ اللہ کا انتظام ہے کہ کوئی بھی اپنی ڈیمانڈ پر اپنے لیے ”انا محمد“ کا لفظ زبان پر لانے کی جرات نہیں کر سکتا اور یہ زبان کی انتہا (معراج) ہے کہ وہ محبوب رب العالمین پر درود شریف پڑھے۔ حوالہ سورۃ بقرہ آیت نمبر 14: اور اس کی خوبصورت مثال محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی کتاب ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ“ کے صفحہ 97 پر دی ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کے بارے میں ایک بھی غیر مناسب لفظ استعمال نہیں کیا اور یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی حیثیت کسی اور کو دے۔ جس طرح اللہ ایک ہے، اسی طرح حضرت محمدؐ بھی ایک ہیں اور اس کا مطلب درج ذیل ہے۔

”بس اتنے پر ہوا ہنگامہ دار و رسن برپا
کہ کیسے آغوش میں آئینہ کہوں، مہر درخشاں کو“

میرے پیارے مسلمانو! یاد رکھو کہ بشر محض ایک کٹھ پتلی ہے اور فاعل حقیقی اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ اگر وہ نفس امارہ یا نفس لوامہ کا شکار ہوتا ہے تو ابلیس کو اسے شکار بنانے کی کھلی آزادی ہوگی۔ اگر وہ احسن تقویم ہے تو حضرت محمد ﷺ کا آلہ کار ہے اور ہم محض حضرت محمد ﷺ کے آلہ کار ہیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

”کہاں کا علم، میرا دین کیا، عقیدت کیا
جہاں ہو ہوا میں، میری حقیقت کیا
جمال خانہ ہستی کی اک صورت پر
تمام عمر لگادی تو اس میں حیرت کیا
میری زندگی کی ابتدا میری زندگی کا
تسلسل الحمدللہ عشق محمدؐ ہے“

میری دعا یہ ہے کہ میری دنیاوی زندگی حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی پر ختم ہو اور ہماری زندگی کا مقصد بندگی اور تابندگی ہے اور ہم حضرت محمد ﷺ کی طرح سب کچھ کر سکتے ہیں۔

”سفر صاحب منزل سب کچھ محمد ﷺ
صفحہ 272
یہ کائنات ساری دربار محمدﷺ

جو بھی حضرت محمدﷺ کی صحبت حالت ایمان میں اختیار کرے، اگر وہ صحابی نہیں تو اور کیا ہے؟ حضور نبی کریمﷺ کا ساتھی ہونے سے میری مراد محمد بن عبداللہ محمد رسول اللہﷺ کے ساتھی ہیں۔ محفوظ احتیاط سے لفظ صحابی اہل بیت کے قائدین کے ساتھیوں کیلئے ہی استعمال کیا گیا۔ اسی طرح حضرت غوث اعظمؒ نے بھی اسی انداز میں استعمال کیا۔ صحابی کا مطلب کچھ اور ہے اور صحابی رسولؐ سے مراد کچھ اور۔ آج حضرت عیسی علیہ السلام کے کتنے ساتھی دنیا میں ہیں، جب وہ زندہ تھے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ حوالہ ”بائبل مقدس“ آکسفورڈ ایڈیشن صفحہ 934 پر ہے۔

یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ وقت کے پیغمبر کو اس کی حیثیت سے محروم رکھا گیا‘ اسے مختلف طریقوں سے تنگ کیا گیا اور ماضی کے پیغمبروں کی تعریف کی گئی۔ وہ شخص جسے پیغمبرﷺ کی خلافت سے سرفراز کیا گیا وہ ایک جگہ تو بہت سی چیزوں سے نوازا جاتا ہے جبکہ دوسری جگہ حضور نبی کریمﷺ کی تقلید کرتے ہوئے اسے بہت مصیبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ محمد یوسف علی نے کسی بھی طرح خود کو نبی‘ رسول یا رسول اللہ نہیں کہا۔ دنیا کی جس شخصیت نے ہماری راہنمائی کی ہے یعنی نسبت محمدیہﷺ ہے جو ہمارے پاس ہے اور جس نے ہمیں بہت طاقت اور تحفظ دیا ہے۔ یہ کوئی اعلان نہیں بلکہ ہدیہ تشکر ہے۔ یہ کہ ہمارا کوئی عمل سنت کے منافی نہیں، بہت سے ایسے راز ہیں جن سے ہم پردہ نہیں اٹھا سکتے۔

ہماری ڈیوٹی نہ صرف یہ مقدمہ جیتنا ہے بلکہ ہماری ڈیوٹی کلمتہ اللہ کہنا اور انسانیت کی خدمت کرنا بھی ہے۔ تخت یا تختہ ہم کسی چیز کی بھیک نہیں مانگتے۔ موت ہمارے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ یہ جسم کی قید سے رہائی اور حقیقی گھر کو واپسی ہے لیکن ہم اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ میرے پیارو! اس قسم کا تنازع کھڑا کرنے سے قبل سورۃ نور کے آخری رکوع کے مطابق کیا پیغمبرﷺ سے اجازت طلب کی گئی تھی؟ اگر تم اچھی رائے سے دیکھو تو یہ مقدمہ بھی انجام کو پہنچ جائے گا۔ کیا سورۃ حجرات میں یہ حکم اور فیصلہ نہیں کہ برا سوچنا گناہ عظیم ہے۔ ہم نے ”عروت الوثقیٰ“ کی تعریف واضح کردی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ حضرت محمدﷺ ہیں۔ معزز عدالت کی اجازت سے ہم خطبات ختم نبوت حصہ سوم از مولانا محمد اسماعیل

صفحہ 273

شجاع آبادی جو مقدمے کا مستغیث ہے، کی کتاب کے پیش لفظ اور دوسرے نشانوں کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ اس کے دیباچے میں لکھا ہے کہ خلافت رسول بلافصل جو حضرت ابوبکر صدیقؓ سے شروع ہو رہی ہے (خواجہ خواجگان خان محمد) اللہ تعالیٰ حضرت محمدؐ کے صدقے ہمیں حقیقی نمائندے کی نعمتیں عطا کرتے ہیں۔ شر کیا ہے؟ اس کا بھی شعور دیتے ہیں اور اس سے خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ رکھے، اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کی آگ سے بچائے، پانی کے عذاب سے محفوظ رکھے، ہمارے ملک کی سرحدیں محفوظ رکھے، مسلمانوں کو ایک قوم کے سانچے میں ڈھال دے، نفرت کی بجائے ہمیں ایک دوسرے سے محبت کی تعلیم دے، نور توحید میں محبت دے اور رسالت کی روشنی سے محبت دے اور قرآن کے طریقے سے محبت دے، سنت کے راز سے محبت دے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم ڈاکٹر محمد اقبال کے درج ذیل اشعار کی روح کے مطابق عمل کریں۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے

الحمد للہ رب العالمین الصلوٰة والسلام علی خاتم النبیین الصلوٰة والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰة والسلام علیک یا حبیب اللہ الصلوٰة والسلام علیک یا محمد رسول اللہﷺ

اس مرحلے پر عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔

18-7-2000: بیان ملزم یوسف علی حلفاً:

میں دستاویزات ایگزیبٹ ڈی ایل ایگزیبٹ ڈی ایم اور ایگزیبٹ ڈی این ایگزیبٹ ڈی او ایگزیبٹ ڈی پی ایگزیبٹ ڈی کیو ایگزیبٹ ڈی آر ایگزیبٹ ڈی ایس ایگزیبٹ ڈی ٹی ایگزیبٹ ڈی یو ایگزیبٹ ڈی وی ایگزیبٹ ڈی ڈبلیو ایگزیبٹ ڈی ایکس ایگزیبٹ ڈی وائی ایگزیبٹ ڈی زیڈ ایگزیبٹ ڈی /اے اے ایگزیبٹ ڈی /بی بی ایگزیبٹ ڈی /ڈی ڈی ایگزیبٹ ڈی /ایف ایف ایگزیبٹ ڈی /جی جی اور ایگزیبٹ ڈی /ایچ ایچ پیش کرتا ہوں۔

جرح فاضل وکیل مستغیث:

صفحہ 274

الحمدللہ یہ درست ہے کہ میں مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہا ہوں۔ میں وہاں 5 جولائی 1977ء سے وقفے وقفے سے مقیم رہا۔ میں نے پاکستان میں اپنے اہل خانہ کے سوا کسی کو کوئی خط نہیں لکھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں اپنے آپ کو پاکستان میں اور مدینہ منورہ میں بھی علی یوسف اور فقیر کے طور پر پیش کرتا رہا ہوں ۔ یہ درست ہے کہ ایگز ہیبٹ ڈی کیو جس کا عنوان ”تعلق“ ہے میری تحریر کردہ ہے۔ یہ درست ہے کہ میرا نام ابوالحسنین محمد یوسف علی کتاب پر لکھا ہوا ہے۔

رضا کارانہ طور پر کہا علی میرا نام ہے اور میں نے محض مسعود رضا کے بارے میں سنا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میرے سامعین ہزاروں کی تعداد میں ہیں، میں نہیں کہہ سکتا کہ ”علی نامہ“ نامی کتاب مجھے سید علی رضا نے پیش کی۔ میں اپنی محفلوں میں درود پڑھتا رہا ہوں، جو یہ ہے۔

”الحمدللہ رب العالمین صلی اللہ علی النبی الامی واصحابہ وسلم، اللہم صلی وسلم وبارک علی سیدنا محمد و آلہ بقدر حسنہ وجمالہ“

رضا کارانہ طور پر کہا کہ درود ابراہیمی پڑھنا تمام مسلمانوں کیلئے لازم ہے لیکن مسلمان حضور نبی کریم ﷺ پر دوسرے درود بھی بھیجتے رہے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ میں نے کتاب ”علی نامہ“ کے 1995 میں شائع ہونے والے ایڈیشن کا پیش لفظ لکھا۔ یہ غلط ہے کہ یہ کتاب 12 ربیع الثانی 1415ھ کو شائع ہوئی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے دیباچے کے آخر میں اپنا نام فقیر لکھا۔ میں نے سید مسعود رضا کی لکھی ہوئی کتاب ”علی نامہ“ ایگزیبٹ پی 14 نہیں پڑھی۔ میرے کوئی پیروکار یا مرید نہیں نہ ہی میں ”محبوب الوحید“، ”امام الوقت“، ”انسان کامل“ کے پرتو کی حیثیت سے اپنے پیروکاروں میں معروف ہوں۔ یہ غلط ہے کہ میرے پیروکار مجھے ”سید موجودات“ کہہ کر پکارتے ہیں اور یہ غلط ہے کہ کتاب ”علی نامہ“ کا انتساب مجھ سے کیا گیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میرے سامعین افراط میں ہیں۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ مجھے کن الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ کسی نے مجھے ان ناموں سے جن کا اوپر ذکر ہے، مجھے میری موجودگی میں نہیں پکارا اور نہ ہی مجھے کسی کو روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ درست ہے کہ میں تعمیر ملت کے نام سے آرٹیکل لکھتا رہا ہوں۔ چند مستثنیات کے سوا میں نے امام وقت

صفحہ 275

کے عنوان سے تعمیر ملت میں مضامین لکھے ہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ 1994 تک ہر مضمون میرے ہاتھ کا لکھا ہوتا تھا، اس کے بعد اپنے ہاتھ میں درد کی بنا پر میں نے اپنے دوستوں سے میرے مضامین لکھنے کو کہا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ”سید موجودات“ ”امام وقت کے نام سے رسالہ تعمیر ملت میں 1995-12-15 کو مضمون لکھا ۔ رضا کارانہ طور پر کہا آرٹیکل میں نے لکھوایا تھا‘ میں اپنے اس دوست کا نام نہیں بتا سکتا جسے میں نے مذکورہ مضمون کی املا کرائی تھی اور یہ کہ کس نے میگزین میں شائع کرایا۔ یہ ممکن ہے کہ میرے مضمون میں تحریر شاعری ”علی نامہ“ جیسی ہو۔ رضا کارانہ طور پر کہا ممکن ہے میری شاعری ”علی نامہ“ میں درج کر دی گئی ہو۔

میں حضرت عبدالوحید میر ساجد کو نہیں جانتا۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے ان کے بارے میں سنا ہے ۔ میں نے ان کی تصنیف ”بانگ قلندری“ نامی کتاب پڑھی ہے۔ یہ درست ہے کہ انتساب ایگزیبٹ پی 15 کتاب ”بانگ قلندری“ ایگزیبٹ پی 16 میں درج ہے ۔ میں نے آرٹیکل ”تحسین حسن شان“ ایگزیبٹ پی 17 کتاب ایگزیبٹ پی 16 میں نہیں لکھا۔ مذکورہ درود بھی کتاب ایگزیبٹ پی 16 میں تحریر ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں اپنی مجالس میں درج ذیل درود پڑھتا رہا ہوں ۔

الحمدللہ رب العالمین صلی اللہ علی النبی الامی والہ وسلم اللہم صلی علی وسلم وبارک علی سیدنا محمد والہ بقدر حسن جمالہ“

میں شب معراج 27 رجب المرجب 1413ھ کو اپنے بھر پور علم کے مطابق پاکستان میں ہی تھا۔ یہ غلط ہے کہ آرٹیکل ایگزیبٹ پی 17 کے تحت ایڈریس میرا ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتاب ایگزیبٹ پی 16 میں درج شاعری وہی ہے جو ”علی نامہ“ ایگزیبٹ پی 16 میں ہے میں نے شعر ایگزیبٹ پی 18 کئی بار پڑھا ہے جو یہ ہے۔

”آپ کو جب بھی دیکھا ہے عالم نو میں دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا آپ کی شناسائی کا“

یہ درست ہے کہ میں نے مذکورہ شعر کا جریدہ تعمیر ملت میں شائع ہونیوالے اپنے آرٹیکل میں حوالہ دیا ہے۔ جب میں 1993 میں پاکستان آیا۔ مجھے کتاب ایگزیبٹ پی

صفحہ 276

16 دکھائی گئی لیکن میں اس کی تحریر نہیں سمجھ سکا کیونکہ مجھے اردو کم ہی آتی ہے۔ میں جڑانوالہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ میری تاریخ پیدائش سرکاری طور پر یکم اگست 1949 درج ہے لیکن مجھے اپنی صحیح تاریخ پیدائش یاد نہیں ہے۔ میں نے اپنی تعلیم جڑانوالہ سے نزدیک ایک سکول میں شروع کی۔ میں نے میٹریکولیشن جڑانوالہ کے ایک سکول سے کی۔ میں شعبان کے مہینے میں پیدا ہوا۔ میں نے اپنی تاریخ پیدائش کبھی 9 ربیع الاول نہیں بتائی۔ حضور نبی کریمؐ حضرت محمد مصطفیٰؐ کی تاریخ پیدائش 12 ربیع الاول اور 9 ربیع الاول بتائی جاتی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ تاریخ کے بارے میں میرا اختلاف ہے۔ میرا خیال ہے کہ دونوں درست ہو سکتی ہیں یا درست نہیں۔

اس مرحلے پر عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔

19-7-2000 بیان ملزم یوسف علی تجدید حلف کے ساتھ:

میں نے جڑانوالہ کے ایک سکول میں پرائمری تعلیم حاصل کی۔ ہم گاؤں سے شہر جڑانوالہ منتقل ہو گئے تھے۔ یکم اگست 1949ء پرائمری سکول میں پیش کئے جانے والے داخلہ فارم میں درج تاریخ پیدائش تھی۔ یہ فارم میرے بزرگوں نے پر کیا تھا۔ سکول میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ میں سائنس کا طالب علم تھا، اس لیے اردو اختیاری مضمون تھا، عربی بھی آپشنل مضمون کی حیثیت سے شامل تھی۔ شاعروں کی ابتدائی شاعری بشمول علامہ اقبال کی شاعری اردو کے مضمون میں شامل تھی۔ مجھے دوسرے شاعر یاد نہیں۔ میٹرک کے بعد میں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ میں نے بی اے آنرز پارٹ ون تک گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔

اس کے بعد میں پاک بری فوج میں بھرتی ہو گیا، پھر کہا دفاعی سروسز میں شامل ہو گیا۔ میں نے 1963 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1966 میں ڈیفنس سروسز میں شامل ہو گیا۔ میں نے 1965 میں انٹرمیڈیٹ ایف اے کا امتحان پاس کیا اور میں نے 1966 کے آخر میں بی اے آنر پارٹ ون پاس کیا۔ ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔ پھر پروفیسر رفیق گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بنے۔ سائیکالوجی اسلامک سٹڈیز، انگریزی لازمی، عربی آپشنل ایف اے میں میرے مضامین تھے۔ میں نے بی اے آنر پارٹ

صفحہ 277

ون سائیکالوجی میں کیا تھا۔ میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹ حتیٰ کہ پاسپورٹ اور ویزا وغیرہ سے بھی اس وقت محروم ہو گیا جب میرے گھر کو آگ لگائے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ میرا سامان ادھر ادھر بکھرا پڑا تھا، اس لیے مجھے یاد نہیں کہ میری مذکورہ اشیا کہاں پڑی تھیں۔ پھر کہا اپریل 1997 میں میرے گھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ یہ محض ایک کوشش تھی جس کی بنا پر میرا کنبہ مختلف مقامات پر منتقل ہو گیا۔ میرے خاندان نے میری گھریلو اشیا بشمول مذکورہ دستاویزات منتقل کر دیں۔ میں نے اپنے گھر کو آگ لگائے جانے کے بارے میں پولیس کے پاس رپورٹ درج نہیں کرائی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ کیونکہ میں جیل میں تھا، اس لیے رپورٹ درج نہیں کرا سکا تاہم اس واقعے کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی اور جب جیل حکام نے پوچھا تو میں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی دشمنی ہے تو یہ مجھ سے ہونی چاہیے نہ کہ میرے خاندان سے۔ لیکن اسے اہل محمدﷺ کے خاندان تک نہیں جانا چاہیے۔

جب پہلی بار میرے گھر کو آگ لگانے کا واقعہ پیش آیا تو میں جیل میں تھا لیکن میری بیوی سمیت میرے اہل خانہ گھر میں موجود تھے۔ میری بیوی تعلیم یافتہ ہے کیونکہ اب میرے پاس کوئی گھر نہیں، اس لیے میں نہیں جانتا کہ میرے گھر کا سامان کہاں پڑا ہے؟ اس وقت بھی میں مختلف مقامات پر اپنے دوستوں کے پاس رہائش پذیر ہوں۔ میرا لاہور میں کوئی ذاتی گھر نہیں۔ یہ درست ہے کہ میں 15 سی جی او آر شادمان لاہور میں مقیم رہا۔ میں نے عبدالوحید میر ساجد کو اپنی کتاب ایگزیبٹ پی 16 میں اپنی رہائش گاہ کا پتہ استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ میں عبدالوحید میر ساجد مصنف کتاب ایگزیبٹ پی 16 سے ملتا رہا ہوں۔

میں نے امجد شریف قاضی کے بارے میں سنا ہے۔ 105 ایم گلبرگ III لاہور کا پتہ جیسا کہ دیا گیا ہے میری رہائش نہیں۔ میں نے کبھی مسٹر امجد سلیم قاضی کو عثمان غنی کہہ کر نہیں پکارا۔ گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر ممکن ہے، مسٹر امجد شریف قاضی کے گھر ورلڈ اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے موقع پر اپنے تعلقات کی بنا پر قیام پذیر ہوا ہو۔ یہ غلط ہے کہ کتاب ”علی نامہ“ ایگزیبٹ پی 14 کا مصنف مسٹر مسعود رضا میرے ساتھیوں میں سے ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا وہ سامعین میں سے ہے۔ میں مسعود رضا کی شادی میں 95-12-26 کو شریک ہوا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا امجد شریف قاضی گروپ کیپٹن امجد علی، اطہر اقبال، سہیل ضیا اور یوسف رضا شادی کی اس تقریب میں موجود تھے۔ میں گروپ کیپٹن امجد علی کو ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ میں نے

صفحہ 278

نظم اے تا اے کا حصہ ہونے اور ایگزیبٹ پی 9 کی نظم بی تا بی کے جزو ہونے کے طور پر جو سید مسعود رضا نے اپنی کتاب ”علی نامہ“ میں لکھی ہے، سنی ہے۔ میں نے مذکورہ نظم پڑھی ہے اس نظم میں ایک بھی لفظ قابل اعتراض نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں اپنے موقف کی تائید میں صفحہ 175 کتاب بعنوان ”خطبات ختم نبوت“ ایگزیبٹ ڈی ایچ مصنف مولانا اسماعیل شجاع آبادی مستغیث مقدمہ زیر سماعت کے جزو سی تا سی کا حوالہ دیتا ہوں اور یہ کہ جتنی بھی محبت اور شفقت کا حضور نبی کریم ﷺ سے اظہار کیا گیا ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ مزید برآں میں حصہ ڈی تا ڈی صفحہ 35 کتاب ”المدد“ ایگزیبٹ ڈی / جے جے مصنف مولانا اشرف علی تھانوی اور صفحہ 87 ای تا ای کتاب بعنوان ”خون کے آنسو“ ایگزیبٹ ڈی کے کے مصنف علامہ مشتاق احمد پیش کرتا ہوں۔

اس مرحلے پر مستغیث کے فاضل وکیل نے اعتراض کیا کہ مذکورہ دستاویز (کتابیں) کو اس وقت جب ملزم کا بیان قلمبند کیا جارہا ہو، ایگزیبٹ نہیں کیا جاسکتا۔

اس اعتراض کا دلائل کے موقع پر جائزہ لیا جائے گا۔ بہر حال مستغیث کے وکیل کو وقت دیا جائے گا کہ وہ ملزم پر جرح کر سکے۔

جرح وکیل مستغیث

میں نے سید مسعود رضا کی کتاب ”علی نامہ“ کی نظم کا حصہ ایف تا ایف ابھی عدالت میں پڑھا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ میں نے کتاب ”علی نامہ“ کی نظم جیسا کے اوپر ذکر کیا گیا ہے کا حصہ جی تا جی ابھی عدالت میں پڑھا ہے۔ دونوں نظمیں ایف تا ایف اور جی تا جی بظاہر قابل اعتراض ہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میرا جواب ایک شعر کی صورت میں جو یوں ہے درج کیا جائے۔

نظر کرم تو ایک تھی، ظرف کے اختلاف سے
کوئی درست ہوگیا، کوئی خراب ہوگیا

میں اس شعر کے شاعر کا نام نہیں جانتا۔ میں مولانا اشرف علی تھانوی کو نہیں جانتا تاہم میں نے ان کے کچھ مضامین پڑھے ہیں۔ میں ذاتی طور پر مولانا احمد رضا خان بریلوی کو نہیں جانتا۔ میں مذہب پر یقین نہیں رکھتا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں دین اسلام پر کاربند

صفحہ 279

ہوں۔ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ میں حضرت غوثِ اعظمؒ کا پیروکار ہوں۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں صرف حضرت محمدﷺ کا پیروکار ہوں۔ میرا یقین ہے کہ حضرت غوث اعظمؒ کا مذہب درست ہے، پھر کہا مذہب کی جگہ لفظ دین لکھا جائے۔

میرا باپ جوہری (جیولر) اور کاشتکار تھا۔ پہلے اس کی جوہری کی دکان لاہور میں تھی پھر وہ جڑانوالہ منتقل ہوگیا۔ میرا باپ جائیداد کا مالک تھا جس کی تفصیل مجھے معلوم نہیں لیکن اس نے یہ جائیداد اس وقت تقسیم کردی تھی جب میں بچہ تھا۔ ہمارے باپ نے ہمارے لیے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی سوائے ایک مکان کے جو ایک بہن کو دیا گیا ۔ میں ڈیفنس سروسز میں 1966ء میں شامل ہوا اور 1977 تک رہا۔ میرا آخری عہدہ ڈیفنس سروسز میں ایک کیپٹن کا تھا۔ میری آمدنی کا ذریعہ کیپٹن کی تنخواہ تھی لیکن اس وقت مجھے اس بارے میں کوئی تفصیل یاد نہیں۔ آمدنی کا ایک دوسرا ذریعہ میری بیوی کو وراثت میں ملنے والی جائیداد تھی۔ ڈیفنس میں 218۔ کیو نمبر کی رہائش نہ میری ملکیت ہے نہ میری بیوی کی۔ تاہم میں وہاں رہائش پذیر رہا ہوں۔ یہ غلط ہے کہ مجھے ڈیفنس سروسز سے برطرف کیا گیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے استعفیٰ دیا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مجھے سنگین الزامات کی بنا پر ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔ کیپٹن کی حیثیت سے ڈیفنس سروسز میں میرا نمبر پی ایس ایس 11741 تھا۔

رضا کارانہ طور پر کہا کہ ڈیفنس سروسز کے ریکارڈ میں میرا نام یوسف علی ندیم تھا۔ یہ جنت طیبہ نامی مکان 218۔ کیو ڈیفنس میں واقع ہے۔ یہ غلط ہے کہ یہ مکان گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے خرید کر دیا تھا۔ یہ درست ہے کہ مذکورہ مکان فروخت کیا جا چکا ہے۔ میں نے یہ مکان فروخت نہیں کیا‘ یہ مکان اس کے مالک نے فروخت کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس مکان کی مالک میری بیوی تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں 3 جنوری کو کہاں تھا۔ جہاں تک ڈرافٹ اے مالیتی تین لاکھ روپے کا تعلق ہے، اس کی رقم میری تھی لیکن یہ ڈرافٹ محمد علی ابوبکر نے بھیجا تھا۔ جہاں تک دوسرے ڈرافٹ مارک بی مالیتی مبلغ پانچ لاکھ روپے کا تعلق ہے۔ میرا جواب وہی ہے کہ رقم میری تھی لیکن یہ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے کراچی سے لاہور بھیجا تھا۔ جہاں تک ڈرافٹ مارک سی کا تعلق ہے میرا جواب وہی ہے کہ رقم میری تھی لیکن ڈرافٹ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے کراچی سے لاہور بھیجا تھا۔ ڈرافٹ مارک ڈی میں بھی میرا جواب وہی ہے کہ رقم میری تھی لیکن یہ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے بھجوایا تھا۔ یہ غلط ہے کہ مبلغ 20950 روپے

صفحہ 280

کی مالیت کے ڈالر محمد علی ابوبکر نے بھجوائے تھے اور اس نے مجھے یہ رقم کراچی میں ادا کی تھی۔ یہ درست ہے کہ ایئر کنڈیشنر جس کی رسید مارک ایف ریکارڈ پر ہے، مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ایئر کنڈیشنر اس رقم سے خریدا گیا جو میں نے محمد علی ابوبکر کو تحفے کے طور پر دی تھی۔

مختصر وقفے کے بعد گیارہ بجے دن پیش ہو۔

19-7-2000 بیان ملزم یوسف علی حلفاً:

مجھے یاد نہیں کہ میری بیوی نے مکان کی فروخت کی کیا قیمت وصول کی۔ میرے والدین نے میرے لیے محمد کا نام منتخب کیا لیکن بعد میں مجھے محمد یوسف علی کہا جانے لگا۔ سکول کے سرٹیفکیٹ میں یوسف علی لکھا گیا۔ کالج کے داخلہ فارم میں میرا نام یوسف علی ندیم لکھا گیا۔ اسی طرح ملازمت کے ریکارڈ میں میرا نام یوسف علی ندیم لکھا ہے۔ یہ غلط ہے کہ ڈیفنس سروسز کے ریکارڈ میں میرا کوئی استعفیٰ موجود نہیں۔ میرے والد ذات کے اعتبار سے راجپوت تھے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ سید راجپوت تھے کیونکہ مجھے مدینہ منورہ میں مرشد کہا جاتا تھا۔ اس لیے میں نے ملازمت سے استعفیٰ دیدیا۔ میں نے استعفیٰ کی درخواست میں اس حقیقت کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے اپنی درخواست میں لکھا کہ مجھے اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق کام کرنا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ”بہترین زہد، زہد کو چھپانا ہے۔ حضور پاکﷺ کے معاملات میرے ذاتی تھے جو کہ میں تحریر میں نہیں لاسکتا“

میں نے ایک مرتبہ کے سوا اپنے لیے فقیر کا لفظ تحریر نہیں کیا۔ میری پاکستان کے مرحوم صدر ضیاء الحق سے مسٹر جسٹس کیکاؤس کی موجودگی میں ملاقات ہوئی تھی۔ پھر کہا کہ ضیاء الحق سے ملاقات اکیلے میں تھی، بعد میں جب میں مسٹر جسٹس کیکاؤس، قدرت اللہ شہاب، نذیر احمد ایڈووکیٹ، فقیر عبدالمنان سابق پرنسپل سیکرٹری قائد اعظم سے ملا۔ چونکہ میں سب سے کم عمر تھا اس لیے میں نے اپنی انکساری کے اظہار کیلئے خود کو فقیر محمد یوسف علی کہلوایا۔ میں نے کسی جگہ اپنے آپ کو فقیر کہا نہ لکھوایا۔ یہ درست ہے کہ میں نے اپنے آپ کو اس عدالت میں کئی جگہ مسکین و فقیر کہا۔ رضا کارانہ طور پر کہا

”حضور نبی کریمﷺ کی سنت مبارکہ پر چلتے ہوئے الفقر فخری اپنی عاجزی اور مسکینی ظاہر کرنے کیلئے کوئی بات کرنا الگ ہے اور اپنا نام الگ ہے“

صفحہ 281

یہ درست ہے کہ میں نے اس عدالت کے سامنے یہ کہا ہے کہ یہ فقیر اپنا فرض سرانجام دے رہا ہے ۔ یہ درست ہے کہ میں نے اس عدالت کو لکھے گئے خط ایگزیبٹ ڈی ایم میں اپنے آپ کو کئی بار فقیر لکھا ہے ۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو خود رضا کارانہ طور پر اپنی سپردگی کے اظہار کیلئے خود کو فقیر لکھتے ہیں ۔ میرا بیان کہ میں نے ایک مرتبہ کے سوا خود کو فقیر نہیں لکھا اور یہ کہ میں نے اس عدالت کی دستاویز اور بیان میں بار بار اپنے آپ کو فقیر لکھا ہے اور کہا ہے دونوں درست ہیں کیونکہ دونوں کے معانی مختلف ہیں ۔

رضا کارانہ طور پر کہا کہ سورۃ حج آیت نمبر 78 کے مطابق ہر مسلمان کو خود کو حضور نبی کریمﷺ کا ان کی تصدیق کی شرط کے ساتھ خلیفہ ثابت کرنا چاہیے ۔ یہ درست ہے کہ حصہ ایم تا ایم دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کا لازمی حصہ ہے ۔ یہ شہادت ہمیں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ نے عطا کی ہے اور یہ شہادت دوسرے اولیائے کرام نے بھی دی ہے ۔ تمام اولیا کرام زندہ ہیں اور یہ شہادت انہوں نے دی ہے۔

میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ شہادت اولیا کرام نے ہمارے حضرت محمدﷺ کے کہنے پر دی ہے یا نہیں ۔ حصہ این تا این جیسا کہ دستاویز ڈی ایل میں دیا گیا ہے الحمداللہ درست ہے اور یہ میرے لیے ہے ۔ میں انگریزی، اردو، پنجابی اور تھوڑی بہت عربی فارسی اور محبت کی زبان جانتا ہوں ۔ محبت کی زبان یعنی محبت اور شفقت ہے ، اگر وہ کسی کو حضرت محمدﷺ کی جانب سے عطا ہو۔ یہ درست ہے کہ نہ میں فلسفہ، نفسیات، جدید علوم اور دوسرے مضامین میں ماہر ہوں۔ نہ ہی یہ مضامین میں نے کتابوں سے پڑھے ہیں سوائے اس کے کہ مجھے حضور نبی کریمﷺ نے پڑھایا ہے اور ہم آئینے کی مانند ہیں جیسا کہ کتاب بعنوان ”ختم نبوت“ ایگزیبٹ ڈی / گیارہ مرتبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے صفحہ 175 پر حوالہ دیا گیا ہے جس سے میری مراد درج ذیل ہے۔

”سورج آئینہ جلال محمدؐ
چاند آئینہ جمال محمدؐ
فلک سائبان جہاں
خاطر حجرہ انتقال محمدؐ
ممکن ہے کہ انسان بنے
صفحہ 282

آئینہ کمال محمدؐ، حضور نبی کریم ﷺ کی جانب سے ”انا مدینتہ العلم وعلی بابہا“ ہونے کا اعلان حدیث کا حصہ ہے جو درست ہے۔ میں نے فلسفے میں کتاب ”احکامات الاشراق“ نہیں پڑھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ آئینے کا کوئی اپنا علم نہیں۔ آئینہ محض عکس ظاہر کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ میں یورپ میں مقیم رہا ہوں ۔ میں نے ”ایورر“ کا نام نہیں سنا۔ سپریم وزڈم (عقل ارفع) کا مطلب جیسا کہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل میں استعمال ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ میں کچھ نہیں۔ میں نے کتاب ”کتاب التواسین“ نہیں پڑھی۔ یہ درست ہو سکتا ہے کہ میں نے محض اتفاقاً اس عدالت کے روبرو اپنے بیان میں اس کتاب کا حوالہ دے دیا ہو۔ میں ڈاکٹر ”مائی سینو“ کو نہیں جانتا۔ میں حسن ابن منصور کو مکمل طور پر نہیں جانتا لیکن میں نے ان کے بارے میں سنا ہے ۔ میں نے سنا ہے کہ حسن ابن منصور کو ”حلاج“ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ غلط ہے کہ اسے پھانسی دی گئی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس کے جسم کے ٹکڑے کئے گئے اور اس طرح اسے ہلاک کیا گیا۔

میں نے اپنے لیے اہل بیت کا لفظ نہیں لکھوایا لیکن میں ایسا چاہتا ہوں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ متقی اہل رسولؐ ہیں۔ تقویٰ کی تعریف سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 3 اور 4 میں درج ہے۔ متقی کا مطلب بھی سورۃ بقرہ کی آیات میں جن کا میں نے حوالہ دیا ہے، بتا دیا گیا ہے ۔ اہل رسولؐ اور اہل بیت کے درمیان فرق حضور نبی کریمؐ کے درمیان فرق ہے ۔ حضور نبی کریمؐ کے بچے آل محمدؐ ہیں جبکہ آل رسولؐ کا مطلب متقی لوگ ہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے کہا ہے کہ صحابہ سے میری مراد ساتھی ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ اہل خانہ کو اہل بیت کہا جا سکتا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اہل بیت مختلف اصطلاح ہے ۔ یہ درست ہے کہ میرا پیدائشی نام محمد تھا لیکن بعد میں میرے والدین نے میرا نام سکول کے داخلہ فارم میں یوسف علی لکھوا دیا اور کالج میں ایسا رہا۔ یوسف علی ندیم کی حیثیت سے میرا نام نویں جماعت میں لکھا گیا چونکہ مذکورہ نام کو تبدیل کرنا مشکل تھا، اس لیے یوسف علی ندیم کا نام میرے سروس ریکارڈ میں لکھا گیا ۔ جیسے ہی میں نے ملازمت چھوڑی میں نے اپنا نام محمد یوسف علی کر لیا۔ یہ درست ہے کہ میرا نام محمد یوسف علی ندیم کالج میں لکھا جاتا رہا۔ لفظ ندیم کا میرے نام کے ساتھ اضافہ نویں جماعت سے کیا گیا۔ میٹرک کے سرٹیفکیٹ میں میرا نام محمد یوسف علی ندیم ہے جبکہ پرائمری سرٹیفکیٹ میں

صفحہ 283

یہ نام یوسف علی لکھا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص محمد جس کے نام کا حصہ ہو، اپنے نام کا حصہ محمد ہونے کی بنا پر لفظ محمد ﷺ نہیں لکھ سکتا۔ یہ درست ہے کہ میں نے دستاویز ڈی ایل اور ڈی ایم میں اپنا نام محمد یوسف علی لکھا ہے۔

اس مرحلے پر یہ بات متنازع ہے کہ آیا دستاویز ڈی ایل اور ڈی ایم میں محمد کے نام پر ﷺ کے نام کا مخفف ”ؐ“ (ص) مٹانے کے لیے فلوئیڈ استعمال ہوا ہے۔ اس پر فاضل وکیل صفائی نے اپنے قبضے میں موجود اصل دستاویزات دکھائی ہیں لیکن بڑا کر کے دکھائے جانیوالے آئینے سے احتیاط کے ساتھ دیکھے جانے سے فلوئیڈ کے استعمال کا تاثر ملتا ہے تاہم اس تنازع کا فیصلہ بعد میں دلائل کے موقع پر ہوگا اور جو بھی اصل دستاویزات ہیں، وہ ملزم کے پاس ہی رہیں گی کیونکہ یہ آخری تاریخ پر پیش نہیں کی گئیں۔

فاضل وکیل صفائی کی درخواست پر یہ بات ریکارڈ پر لائی جا رہی ہے کہ گزشتہ تاریخ پر ایگزیبٹ ڈی ایل اور ڈی ایم فاضل وکیل صفائی کو واپس کر دی گئی تھیں۔

ملزم کی باقی شہادت آئندہ تاریخ پر قلمبند کی جائے گی۔

بیان ملزم یوسف علی حلفاً بیان کیا:

حضرت عبداللہ غازیؒ کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ تمام اولیائے کرام نے اس سرٹیفکیٹ ایگزیبٹ ڈی ایل کی تصدیق کی ہے۔ بظاہر اور جسمانی طور پر حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ وفات پا چکے ہیں۔ یہ سرٹیفکیٹ بظاہر اور جسمانی طور پر حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ سے منتقل کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا مزار کراچی میں ہے۔ مجھے حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے وصال کی تاریخ اور زمانہ یاد نہیں۔ اس اطلاع سے قبل جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے مجھے علم نہیں تھا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ تصوف کے کس سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ نے مجھے سرٹیفکیٹ ایگزیبٹ ڈی ایل کے مندرجات کے بارے میں بالواسطہ طور پر بتایا۔ یہ میرا روحانی تجربہ تھا اور میں وصول کرنیوالی جانب تھا۔ میں نے سرٹیفکیٹ ایگزیبٹ ڈی ایل براہ راست حضور نبی کریمﷺ سے وصول کیا لیکن بالواسطہ طور پر حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے ذریعے تمام اولیائے کرام نے اس سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ یہ سرٹیفکیٹ روحانی طور پر موصول ہوا۔ میں اس بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل روحانی طور پر ملا تھا اور میں اس کی تفصیل

صفحہ 284

نہیں بتا سکتا کہ آیا یہ ٹائپ شدہ تھا یا بغیر ٹائپ کے تھا۔ یہ درست ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کمپیوٹرائزڈ ٹائپ شدہ دستاویز ہے۔ میں نے یہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل اسلام آباد سے کمپیوٹرائزڈ ٹائپ کرائی۔ یہ درست ہے کہ کمپیوٹر کو جو بھی فیڈ کر دیا جاتا ہے، وہ دستاویز کی صورت میں باہر آ جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کمپیوٹر (میں مواد) کی فیڈنگ اور دستاویز میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اگر اس میں تبدیلی کر دی جائے۔ یقیناً حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ امام اولیاء کی رائے کی تصدیق اس کی توثیق میں شامل کی جائے گی۔ جیسا کہ میں نے وضاحت کی ہے کہ مجھے تمام اولیائے کرام کی جانب سے اس کی تصدیق کے بارے میں بتایا گیا تھا اس لیے حضرت جنید بغدادیؒ، سید طائفہ کی تصدیق بھی اس میں شامل ہے۔

مجھے صوفیا کے سلسلے کے نظام سے واقفیت نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ چونکہ میں نے براہ راست تربیت حضرت محمدﷺ سے حاصل کی ہے، اس لیے میرا اولیائے کرام سے کوئی رابطہ نہیں۔ یہ درست ہے کہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو خلافت عطا کی گئی۔ رضا کارانہ طور پر کہا حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پیغمبروں کو عطا کی جانیوالی خلافت حضور نبی کریم حضور محمد نبی الامیﷺ کی خلافت تھی۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد خلافت خلفائے راشدین کے پاس چلی گئی۔ سب سے پہلے یہ خلافت حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ملی۔ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ملنے والی خلافت کی تفصیلات نہیں جانتا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت ملنے کے بعد خود کو خلیفۃ الرسول کہلوایا۔ میں اس خطبے کی تفصیل نہیں جانتا جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسجد نبوی میں دیا تھا۔

رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں تمام خلفائے راشدین کو تسلیم کرتا ہوں۔ ان کی پیروی کا میرا طریقہ قرآن حکیم اور حضور نبی کریمﷺ کے ذریعے ہے، اس لیے میں خود کو تاریخی اختلافات میں ملوث نہیں کرتا۔ یہ درست ہے کہ قرآن اور حضور نبی کریمﷺ کے بعد ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ خلفائے راشدین کی پیروی کرے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ جب میں نوجوان تھا، میں نے محسوس کیا کہ سوچ میں بہت سے اختلافات ہیں، اس لیے میں نہیں سمجھ سکا کہ کس مکتب فکر کی پابندی کی جائے؟ اس لیے میں نے حضور نبی کریمﷺ کے سامنے دعا کی کہ وہ راہنمائی کریں۔ اس راہنمائی کا معاملہ یا تو زہد ہے یا عشق ہے۔ جہاں تک زہد کا تعلق ہے، اس کا مطلب ہر سیڑھی سے گزر کر اوپر پہنچنا ہے۔ اور جہاں تک عشق کا تعلق ہے،

صفحہ 285

اس کا مطلب براہ راست والا ہے۔ اس لیے میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عشق کا راستہ اختیار کیا ہے اور اپنے نظریات کو دوبارہ بیان کرنے کیلئے میں مکتوب امام ربانی ایگزیبٹ ڈی ایل ایل کے صفحات 86، 87 پر انحصار کرتا ہوں جو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے لکھے ہوئے ہیں۔ زہد کا بالواسطہ طریقہ ”سورۃ العنکبوت“ کی آیت 69 ہے اور عشق کا طریقہ ”سورۃ الشوریٰ“ کی آیت 13 سے ثابت ہوتا ہے۔ میں نے کتاب ایگزیبٹ ڈی ایل ایل نہیں پڑھی لیکن میں نے اس میں سے اپنے موقف کیلئے حوالے تلاش کئے ہیں۔ میں وحدت الشہود کا فلسفہ نہیں جانتا۔ جیسا کہ کتاب ایگزیبٹ ڈی ایل ایل میں بتایا گیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے خود کو قرآن اور سنت میں واضح کی جانیوالی اصطلاحات تک محدود رکھا ہے۔ یہ غلط ہے کہ تمام علمائے کرام کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں اور یہ کہ تمام صوفیائے کرام کو تصوف کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان دیتے ہوئے میں نے خود کو ایک مولوی تک محدود رکھا جس نے یہ مقدمہ درج کرایا ہے۔ یہ درست ہے کہ تصوف شریعت کے تابع ہے۔ یہ درست ہے کہ شریعت کا ذریعہ قرآن اور سنت ہے۔ یہ درست ہے کہ شریعت محمدیؐ کی اتباع کے بغیر کوئی شخص سرور کائنات ﷺ کی محبت اور شفقت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ قرآن کے بعد حدیث رسولؐ شریعت کا ذریعہ ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر کوئی قرآن و حدیث سے تجاوز کرتا ہے تو اسے شریعت نہیں کہا جاسکتا۔ میں دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کے لکھنے والے کا نام نہیں جانتا۔ تاہم میں جانتا ہوں کہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کس نے ٹائپ کی لیکن میں اس کا نام نہیں بتاسکتا۔ یہ غلط ہے کہ چونکہ میں اس شخص کا نام نہیں جانتا کہ جس نے دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل ٹائپ کی ہے، اس لیے میں اس کا نام نہیں بتارہا۔ میں نے دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل اپنی مجلس کے کسی سامع کو نہیں دکھائی۔

مجھے یہ دستاویز تقریباً چالیس روز قبل ٹائپ شدہ شکل میں ملی ہے۔ میں نے یہ دستاویز عدالت کو مطمئن کرنے کے لیے اس کے روبرو پیش کر دی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ روحانی خلافت مجھے حضور نبی کریم ﷺ نے 1991-08-29ء کو عطا کی۔

دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل مجھے 1991 میں نہیں دی گئی۔ میری کوئی ذاتی لائبریری نہیں۔ کتابیں جو عدالت میں پیش کی جارہی ہیں وہ بازار میں دستیاب ہیں اور یہ کہ میں نے اپنے دوستوں سے بھی اکٹھی کی ہیں۔ ”تعلق“ نامی کتاب میری لکھی ہوئی ہے۔ میں ”مرد

صفحہ 286

کامل‘‘ اور ’’وصیت نامہ‘‘ نامی کتاب کے ناشر اشرف علی کو نہیں جانتا۔ میں نے کتاب ’’مرد کامل‘‘ ایگزیبٹ 20 نہیں پڑھی۔ میں نے اپنا استعفیٰ حضور نبی کریم ﷺ کی ہدایت اور راہنمائی کے مطابق پیش کیا۔ میں نے اپنا نام محمد یوسف علی 5 جولائی 1977 کے بعد تقاضے پورے کرنے کے بعد لکھنا شروع کیا۔ یہ درست ہے کہ ’’تعلق‘‘ نامی کتاب 1984 میں شائع ہوئی۔ یہ درست ہے کہ ’’تعلق‘‘ نامی کتاب ایگزیبٹ پی 21 میں، میں نے اپنا نام صرف علی لکھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں اپنے پورے نام کا کوئی بھی حصہ لکھ سکتا ہوں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کتاب کے پہلے صفحہ (سرورق) پر میرا پورا نام محمد یوسف لکھا ہوا ہے۔ میں اپنے نام کا لفظ علی صرف قلمی دوستی میں یا نظمیں لکھتے وقت استعمال کرتا ہوں۔ فی الحقیقت علی میرا قلمی نام ہے۔

باقی ماندہ شہادت آج 2 بجے قلمبند کی جائے گی۔

بیان ملزم محمد یوسف علی تجدید حلف کے ساتھ:

جرح فاضل وکیل مستغیث:

میں صحاح ستہ کو جانتا ہوں جو تعداد میں چھ ہیں۔ صحیح بخاری شریف، صحیح مسلم شریف، موطا امام مالک، مسند امام احمد بن حنبل، ابوداؤد اور ترمذی شریف۔ میں نے صحاح ستہ کے بارے میں بتایا ہے جو میرے علم میں ہیں۔ میں نے اس انداز میں حدیث کا مطالعہ نہیں کیا جس انداز میں مجھ سے فاضل وکیل مستغیث نے سوال کیا ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ موطا امام مالک صحاح ستہ میں شامل ہے یا نہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ مجھے احادیث جمع کرنے کے تمام طریقوں کا احترام ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے وہ احادیث پڑھی ہیں جن کے بارے میں وکیل استغاثہ نے پوچھا ہے جو درج ذیل ہیں۔

میں نے اپنے بیان میں جن احادیث کا حوالہ دیا ہے، ان کا ذکر صحاح ستہ میں نہیں۔ یہ درست ہے کہ صحاح ستہ تمام مکاتب فکر کی جانب سے صحیح اور درست تسلیم کی جاتی ہیں۔ ’’تعلق‘‘ نامی کتاب ایگزیبٹ پی 21 میں جو حصہ ایچ تا ایچ ہے، میری تحریر ہے جو یہ ہے۔

’’ذات سے کائنات تک پہنچتی نیابت اور معراج کا اصلی، حقیقی اور فطری تقاضہ‘‘

یہ درست ہے کہ میری کتاب ’’تعلق‘‘ میں علامہ اقبال کی ایک رباعی حصہ آئی تا

صفحہ 287

آئی لکھی گئی ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے یہ کسی سے لکھوائی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا مجھے یہ پسند تھی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں اس ضمن میں سورہ احزاب آیت 21 کا حوالہ دیتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ کتاب کا دیباچہ پی 21 اس جیسا ہے جیسا کہ کتاب ”مرد کامل‘ پی 20 کا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا میرا کتاب ”مرد کامل‘ کی صفائی سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس میں جو کچھ بھی لکھا ہے، میری کتاب ”تعلق‘ کے مطابق ہے۔ میں اسے قبول کرتا ہوں۔

یہ درست ہے کہ مضامین ایگزیبٹ پی 22 ، پی 23، پی 24 میں نے روزنامہ پاکستان میں چھپوائے لیکن یہ ایک فوٹوسٹیٹ مشین سے چھاپے گئے جس کی بنا پر ان مضامین میں کچھ اضافے ہیں جو میرے نہیں۔ حصہ اے تا اے، بی تا بی، سی تا سی میرے وکیل کے ایگزیبٹ پی 22 ، پی 23، پی 24 جن پر میرے دستخط ہیں، میرے نہیں۔ اس لیے یہ مبالغہ آمیز ہیں اور یہ کہ کالم نمبر 3 ایگزیبٹ پی 22 ، پی 23، پی 24 سے غائب ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کتاب ”تعلق‘ میں لکھا، وہ 1984 میں چھپ گیا۔ یہ وہ علم ہے جو حضور نبی کریمﷺ نے دیا تھا۔ میں ایسا نہیں سمجھتا کہ مجھے اردو فارسی زبانوں پر 1984 میں عبور تھا۔ میں ذاتی حیثیت میں اس شاعری کا مطلب سمجھتا ہوں جو میری کتاب ”تعلق‘ میں درج ہے۔ مستغیث کے وکیل نے جو بھی درود شریف بتائے ہیں، درست ہیں۔ انہیں پڑھنے کے بعد میرے ساتھ کیا گناہ رہ گیا؟ فاضل وکیل مستغیث نے جو درود شریف پڑھے ہیں، وہ گناہوں کی معافی کیلئے کسی بھی لمحے پڑھے، بیان کئے اور سنے جاسکتے ہیں اور انہیں پیش کرنے کیلئے کوئی طریقہ یا وقت مقرر نہیں۔ اللہ کے فضل و کرم اور حضرت محمدﷺ کی شفقت ومہربانی کیلئے درود شریف کسی بھی لمحے پڑھا جا سکتا ہے۔ بقدر حسنہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر بھی حسن ہے، وہ پیغمبرﷺ کے لیے ہے اور دنیا میں ہر قسم کا حسن ونور پیغمبرﷺ کی بنا پر ہے اور حضور نبی کریمؐ کا حسن ونور کمال و جمال بیان کی صلاحیت سے ماورا ہے۔

عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہے، باقی ماندہ شہادت دوسرے دن ریکارڈ کی جائے گی۔

21-7-2000 بیان ملزم یوسف علی حلفاً:

جرح فاضل وکیل مستغیث :

الف ، لام ، میم قرآن حکیم کے حروف مقطعات ہیں۔ قرآن میں چودہ حروف مقطعات ہیں، کسی حوالے کے بغیر کہہ سکتا ہوں کہ یہ حروف مقطعات اللہ تعالیٰ اور حضور اکرمﷺ کے

صفحہ 288

درمیان راز ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آیا حضرت ابن عباسؓ نے ان حروف مقطعات کے معانی بیان کیے تھے۔ رضا کارانہ طور پر کہا سب سے پہلے قرآن حکیم اور اہل بیتؓ کی پیروی میری ترجیح ہے لیکن میں ان لوگوں کا بڑا احترام اور عزت کرتا ہوں جو قرآن وسنت کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے کہا ہے کہ ”میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک قرآن اور دوسری سنت“ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل میرا لیٹر پیڈ ہے اس کے بالائی حصے پر ایک جانب لفظ محمدؐ پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی مہر نہیں لیکن یہ حضور نبی کریمﷺ کا اسم مبارک ہے۔

نوٹ: ملزم نے مذکورہ جواب اپنے وکیل کی کچھ مداخلت پر دیا ہے۔ انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ جب ملزم جو خود اہل ہے جواب دے رہا ہو، وہ خاموش رہیں۔

جرح فاضل وکیل مستغیث:

میں 1977 سے 1993ء تک وقفے وقفے سے مدینہ منورہ رہا۔ مجھے یورپ امریکہ بھی جانا پڑا۔ مجھے علم نہیں کہ عربی اہل جنت کی زبان ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ اولیائے کرام کو عربی کا علم ہونا چاہیے۔ میں اپنے اس نظریے کی تائید میں حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی کتاب ”سرالاسرار“ کے صفحہ 13 کا حوالہ دیتا ہوں۔ ایگزیبٹ ڈی ایم ایم مذکورہ کتاب کے صفحات 13، 14، 15، 16 اور 17 کی فوٹو کاپی ہے ۔ یہ درست ہے کہ مذکورہ کتاب حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی لکھی ہوئی نہیں۔ کسی شخص ”شیخ طوسن بیرک الجراحی حلوتی“ کی کتاب کا ترجمہ ہے۔ یہ غلط ہے کہ ”سیکرٹ آف سیکرٹس“ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی لکھی ہوئی کتاب کا ترجمہ نہیں۔ ”سیکرٹ آف سیکرٹس“ کے عنوان سے کتاب کا ترجمہ ہے۔

نوٹ: کتاب کے سرورق پر ترجمے کی بجائے لفظ تشریح از شیخ طوسن بیرک الجراحی حلوتی لکھا ہوا ہے۔

جرح فاضل وکیل مستغیث:

یہ درست ہے کہ صفحات ایگزیبٹ 13`14`15`16 اور 17 میں جیسا کہ اوپر ذکر ہے کہ عربی زبان کا جاننا اولیائے کرام کے لیے ضروری نہیں۔ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے، اس لیے میں نہیں بتا سکتا کہ مجھے حضور نبی کریمﷺ سے روحانی پیغامات عربی میں موصول ہوتے رہے یا انگریزی میں۔ یہ بھی میرا ذاتی معاملہ ہے کہ اولیائے کرام نے کس زبان میں مجھے اپنے

صفحہ 289

پیغامات دیئے۔ اس لیے میں زبان نہیں بتا سکتا۔ جہاں تک زبان کا تعلق ہے میں ایگزیبٹ ایل ایل کے حصے ”ایم تا ایم“ کی تصدیق کی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ اسی طرح وہ زبان بھی نہیں بتا سکتا جس میں مجھے ایگزیبٹ ڈی ایل کے حصہ ”این تا این“ کے بارے میں پیغام موصول ہوا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں دوسری زبانوں کی نسبت انگریزی بہتر سمجھتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کے حصے ”کے تا کے“ کے بالائی حصہ میں جو پیغام درج ہے، میرا ہے اور میری کمیٹی کا ہے، میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ یہ درست ہے کہ میں لفظ Amplitude کا جو دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کے حصہ ”کے تا کے“ میں استعمال ہوا ہے، کے معانی Amplitude کے طور پر جانتا ہوں۔ میں لفظ Resurrect جو حصہ ”کے تا کے“ میں استعمال کیا گیا ہے، کے معانی انگریزی میں Resurrect کے طور پر جانتا ہوں۔

میں لفظ Resurrect کے معانی موت کے بعد اٹھانا کے بارے میں نہیں جانتا۔ میں لغوی معانی رد نہیں کر سکتا۔ اس لفظ Resurrect کے میرے ذہن میں معانی سورۃ یٰسین کی آیت نمبر 17 والے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ میں نہ ہی انگریزی جانتا ہوں نہ اردو نہ عربی نہ پنجابی۔ ایگزیبٹ ڈی ایل ایک بنائی ہوئی من گھڑت دستاویز ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ایگزیبٹ ڈی ایل محض اس لیے بنایا کہ معصوم افراد سے اور ان سے جن کا مذہب کے بارے میں علم بہت محدود ہو، رقوم بٹوری جاسکیں۔ یہ غلط ہے کہ اس دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کا ڈھونگ رچا کر میں نے معصوم لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے محمد علی ابو بکر‘ بریگیڈیئر محمد اسلم‘ رانا محمد اکرم‘ ساجد منیر ڈار اور دوسروں سے رقوم وصولی۔ میں نے ماضی میں خود کو کبھی امام کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔ یہ غلط ہے کہ میں خود کو امام وقت کہلواتا تھا۔ لفظ امام ایگزیبٹ ڈی ایل میں میری جانب سے نہیں لکھا گیا، یہ لفظ مجھے حضور نبی کریمﷺ نے عطا کیا ہے۔ میں نے کبھی خود اپنے خلیفہ اعظم ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا کیا تو میں نے اپنے نام کے ساتھ ابوالحسنین لکھنا شروع کر دیا کیونکہ میرے بیٹے کا نام حسنین تھا۔ یہ درست ہے کہ لفظ حسنین جمع ہے جو حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

یہ غلط ہے کہ میں نے ورلڈ اسمبلی بنائی۔ ورلڈ اسمبلی کی آئین سازی تسلیم کرتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ میرا نام ابوالحسن محمد یوسف علی دستاویز ایگزیبٹ ڈی این پر ورلڈ اسمبلی برائے

صفحہ 290

مسلم اتحاد پر چھپا ہوا ہے، لیکن یہ میں نے نہیں لکھا اور نہ ہی چھاپا تاہم میں دستاویز ایگزیبٹ ڈی این کو تسلیم کرتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ پوری تقریر جیسا کہ ایگزیبٹ ڈی این میں دی گئی ہے لفظ بہ لفظ میری ہے۔ ماسوائے عربی حصے کے جو حضرت صوفی برکت علی آف سالار والے کا لکھا ہوا ہے۔ میں نے استغاثے کے گواہوں سے کربلا جیسی قربانی پیش کرنے کو نہیں کہا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ جب میں نے تقریر کی جو ایگزیبٹ ڈی این میں ہے تو وہاں استغاثے کے گواہوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مجھے ورلڈ اسمبلی کا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا ہے۔ میں ورلڈ اسمبلی کے ارکان کی تعداد نہیں بتا سکتا ۔ ورلڈ اسمبلی کا منشور دستاویز ایگزیبٹ ڈی این میں دیا گیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ورلڈ اسمبلی سلسلہ حقیقت محمدیہ کا جدید نام ہے۔ یہ غلط ہے کہ ورلڈ اسمبلی کے ذریعے میں خلافت عظمیٰ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ خلافت زندہ ہے۔ یہ درست ہے کہ میں خلافت علیٰ منہاج النبوہ کا احیا چاہتا ہوں۔ منہاج النبوہ کا مطلب حضور نبی کریم ﷺ کی مکمل اتباع ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے منہاج پر ان دنوں خلافت قائم کی اور اب بھی حضور نبی کریم ﷺ وہی خلافت قائم کرینگے۔ میں کچھ نہیں ہوں۔

یہ درست ہے کہ خلافت راشدہ بھی منہاج النبوہ پر تھی۔ میں اسمبلی کے ارکان کی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ یہ غلط ہے کہ ایسا ظاہر کیا گیا ہے کہ سربراہان مملکت اور اعلیٰ شخصیات اس تنظیم کی رکن ہیں۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ورلڈ اسمبلی کی مجلس شوریٰ بلائی ہے۔ میں نے اس بارے میں اپنے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم بعد میں رہنمائی پر میں نے یہ خیال ترک کر دیا۔ یہ درست ہے کہ دستاویز مارک ون میں میں نے اپنی درخواست زیر دفعہ 265 ضابطہ فوجداری مورخہ 1999-9-24 ایگزیبٹ پی 25 کے ساتھ منسلک کی تھی۔ دعوت نامہ مارک ایچ میرا جاری کردہ نہیں۔ یہ درست ہے کہ مارک ایچ اور کتاب پی 21 میں کلمہ طیبہ کا مونو گرام ایک ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے یہ مونو گرام روزنامہ ”امروز“ کے حافظ محمد یوسف سدیدی سے حاصل کیا تھا اور کوئی بھی شخص اسے حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری حیثیتوں کے علاوہ میرا بطور سفیر بھی تقرر کیا گیا۔ بطور سفیر میری تقرری سعودی عرب کی عالمی تنظیم نے کی۔ میں اس تنظیم کی تفصیلات اپنے حلف اور ان سے کئے گئے وعدے کی بنا پر نہیں بتا سکتا۔ میں ملک ”ٹی ایف ایس کے“ ترکش فیڈرل فیڈریٹڈ سٹیٹس آف کردزز کے لیے سفیر تھا۔

باقی ماندہ بیان آئندہ تاریخ پر قلمبند کیا جائے گا۔

صفحہ 291

24-7-2000 بیان محمد یوسف علی تجدید حلف کے ساتھ :

جرح فاضل وکیل مستغیث :

یہ غلط ہے کہ فاضل عدالت کے سامنے میرا پیش کردہ خاکہ (پروفائل) مارک ون اور ایگزیبٹ پی 26 مختلف ہیں کیونکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ سوائے اس کے ایک اضافہ کلمہ طیبہ عربی میں ہے۔ یہ درست ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے روبرو پیش کئے جانیوالا پروفائل تین صفحات پر مشتمل ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ٹائپ کے فاصلے کے سوا اس میں کوئی فرق نہیں۔ یہ درست ہے کہ سفیر ایک ریاست کی جانب سے دوسری ریاست کیلئے مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت سعودی عربیہ نے مجھے قبرص کیلئے سفیر مقرر نہیں کیا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا یہ تقرری سیاسی حیثیت میں نہیں تھی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے یہ تاثر دیا کہ مجھے حکومت سعودی عرب نے سفیر مقرر کیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا مجھے مسلم امہ نے سفیر مقرر کیا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے ان تمام متعلقین سے رابطہ کیا تھا جن کے متعلقہ اتھارٹی سے روابط ہیں۔ جونہی مجھے کوئی ثبوت ملا، میں اسے عدالت کے سامنے پیش کردوں گا۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میں سعودی عرب میں اس ورلڈ آرگنائزیشن کا نام نہیں بتا سکتا جس نے مجھے سفیر مقرر کیا۔

یہ درست ہے کہ سورۃ بقرہ آیت نمبر 283 میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ معاہدوں کے بارے میں شہادتیں نہیں چھپائی جائیں گی۔ اگر چھپانے کی کوئی کارروائی کرے تو ایسا کرنا اس شخص کی جانب گناہ ہوگا۔ یہ درست ہے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 140 میں عمومی شہادت چھپانے کی مذمت کی گئی ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ اس آیت کا جوہر یہ ہے کہ شہادت حق چھپائی نہیں جائے گی۔ یہ درست ہے کہ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کیا ہے۔ میں نے یہ درست کہا تھا کہ میں نے بی اے آنرز پارٹ ون سائیکالوجی میں کیا تھا۔ مجھے وہ سال یاد نہیں جس میں میں نے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ میں تلاش کے بعد اپنا سرٹیفکیٹ پیش کرچکا ہوں۔ اس میں بی اے آنرز کرنے کا ذکر کیا تھا جب میں فوج میں شامل ہوا تھا۔ میں نے تعلیم جاری رکھی اس لیے میں نے بعد میں ایم اے اسلامیات کر لیا ہے۔

میں نے ایم اے 1978 سے قبل کیا ہے۔ میں نے تفسیر قرآن بالقرآن حضور نبی کریم ﷺ سے سیکھی اور تفسیر قرآن بالسنہ مختلف اساتذہ سے جن میں اہل بیت رسول ﷺ بھی

صفحہ 292

شامل ہیں، پڑھی۔ میں مدینہ شریف کے ایک رہائشی شخص محمد اکمل کے ساتھ کاروبار کرتا ہوں۔ میرا کاروبار کپڑے کا ہے اور میں نے کاروبار میں تقریباً پچیس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ جو بھی شخص مجھے امریکہ یا برطانیہ آنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ مجھے میرے سفر کیلئے ٹکٹ بھیجتا ہے۔ مجلس شوریٰ میں ٹیکنو کریسی کا مضمون اسلامی علم، بین الاقوامی امور اور قرآن حکیم کی اطلاق کا مطالعہ ہے۔ یہی جدید تقاضوں کے مطابق قرآن حکیم کی حقیقت ہے۔ میں نے تمام مذاہب کا سورۃ کافرون کی تفسیر کی حیثیت سے مطالعہ کیا ہے۔ میں نے سورۃ کافرون کی تفسیر کے مطابق بدھ مت اور ہندومت کا مطالعہ کیا ہے۔ میں ہندومت میں اس شخص کا نام نہیں جانتا جس نے اپنے مذہب میں صوفی ازم رائج کیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نے ہندومت کا سورۃ کافرون کے مطابق مطالعہ کیا ہے۔ یہودیت میں بالادست عنصر قانون ہے جبکہ عیسائیت میں خدا سے محبت کے عنصر کو ترجیح حاصل ہے۔ جہاں تک مذہب اسلام کا تعلق ہے، اس میں غالب عنصر، اللہ اور رسول ﷺ کی محبت اور اطاعت دونوں ہیں۔ یہ جزوی طور پر درست ہے کہ یہودیت کی بنیاد نسل پرستی پر ہے جبکہ اسلام کی بنیاد انسانیت پر ہے۔

یہ غلط ہے کہ صرف مسلمان نوجوانوں کی ورلڈ اسمبلی اور رابطہ عالم اسلامی ہی سعودی عرب کی دو تنظیمیں ہیں۔ سعودی عرب میں تیسری تنظیم دارالافتاء ہے اور بھی دوسری تنظیمیں ہیں جن کے نام فی الوقت مجھے یاد نہیں۔ یہ درست ہے کہ فضیلت الشیخ عبدالعزیز بن باز اسی دارالافتاء کے سربراہ ہیں۔ یہ دارالافتاء سے متعلق ہے۔ یہ ایک تنظیم نہیں بلکہ مذہبی جانب حکومتی محکمے کا ایک شعبہ ہے۔ میں ڈاکٹر احمد محمد توتونجی کو کسی حد تک جانتا ہوں لیکن میں ان کا چیلہ نہیں۔ میں ڈاکٹر مانشی الجوہانی کو نہیں جانتا۔ میں نہیں جانتا کہ ڈاکٹر مانشی جوہانی ورلڈ یوتھ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل ہیں اور اس وقت سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور میں ایک نہایت اعلیٰ و اہم عہدے پر فائز ہیں۔ یہ درست ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ پی 27 کے مطابق ڈاکٹر مانشی الجوہانی مسلم یوتھ کی ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا میں نہیں جانتا کہ مولانا ابوالحسن ندوی اپنی کتابوں کے ذریعے میرے بالواسطہ استاد ہیں۔ میں ان کی کتاب ”تاریخ دعوت و عزیمت“ کا حوالہ دے سکتا ہوں۔ یہ کتاب بعض عظیم مجاہدوں، عظیم شخصیات اور عظیم علماء کے بارے میں ہے جنہوں نے اسلامی کام کیا۔ یہ غلط ہے کہ مولانا مودودی صاحب قرآن حکیم کی تعلیم میں میرے براہ راست استاد ہیں تاہم وہ اسلامی تحریکوں کے

صفحہ 293

بارے میں براہ راست استاد ہیں۔

یہ درست ہے کہ مولانا مودودی صاحب اسلامی حکومت کے موضوع پر میرے استاد ہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے پروفائل میں ذکر کیا ہے کہ جنرل ضیا الحق میرے براہ راست استاد تھے۔ وہ تحمل، بردباری اور غریب لوگوں کی عزت ومہمان نوازی کے معاملے میں میرے استاد تھے۔ میں علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کو ان کی تعلیمات، ان کے نظریات، افکار اور فلسفے کی بنا پر جانتا ہوں لیکن یہ سب ان کی کتابوں کے واسطے سے ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ ان کی کتاب ”کلیات اقبال اردو“ اور ”کلیات اقبال فارسی“ کے ذریعے جانتا ہوں۔ بعض ان حصوں اور مواد کے ذریعے نہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ میں نے ان کے چھ خطبات کا مطالعہ نہیں کیا۔ علامہ اقبال کی کلیات سے باہر کی شاعری کے بارے میں مجھ سے پوچھا جائے تو مکمل اور درست طور پر میں نے نہیں پڑھی۔ اس لیے میں اس کے معانی نہیں بتا سکتا۔ میں علامہ اقبال کی شاعری کے درج ذیل حصے کے معانی نہیں بتا سکتا۔

”ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات“

رضا کارانہ طور پر کہا اگر میں حضور نبی کریمﷺ کے حوالے کے مطالعے تک محدود رہوں تو میں علامہ اقبال کے فلسفہ خودی سے پوری طرح متفق ہوں۔ جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے خودی فلسفہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ جب علامہ اقبال خودی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو وہ درست ہوں گے اور وہ صوفی بھی جو اپنی بے خودی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ جب صوفیائے کرام خودی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد اسفل سافلین سورۃ التین کی آیت نمبر 5 ہے اور جب اقبال بے خودی کے بارے میں بات کرتا ہے تو اس کا مطلب احسن و تقویم آیت نمبر 4 ہے۔ میں نے حسین بن منصور حلاج کی تصنیف ”تواسین“ نہیں پڑھی۔ چند افراد (نوجوان) جو میرے ساتھ روزانہ عدالت میں آتے ہیں، ان کا براہ راست ورلڈ اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم وہ میرے ساتھ محبت کی بنا پر آتے ہیں۔ میں نے کتاب ”سیکرٹ آف سیکرٹس“ (اصل) نہیں پڑھی۔ جس کا عربی نام ”سر الاسرار“ ہے۔ میں نے کتاب ”سر الاسرار“ کا مطالعہ انگریزی میں کیا ہے جو حضرت غوث اعظمؒ کی لکھی ہوئی ہے۔ غوثیات

صفحہ 294

الطالبین کے بعض حصوں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ یہ کتاب شریعت کے عمومی موضوعات کے متعلق ہے۔ مجھے حضرت غوثِ اعظمؒ کی لکھی ہوئی دوسری کتاب کے بارے میں یاد نہیں۔ میں نے کتاب ”فتوح الغیب“ کا مطالعہ نہیں کیا۔ میں مصنف عبدالماجد دریا آبادی سے متفق نہیں۔ میں حضرت غوثِ اعظمؒ کی لکھی ہوئی کتاب ”سر الاسرار“ پر یقین رکھتا ہوں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ فاضل وکیل مستغیث نے مجھ سے جو سوالات کئے ہیں، میں نے ان کے جواب میں جن سورتوں کا حوالہ دیا ہے، وہ سوالوں سے متعلق نہیں۔

میرا فرقہ ملامتیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آیا ”سرمد“ کا تعلق فرقہ ملامتیہ سے تھا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا ”سرمد“ ایک ہندو لڑکے کی محبت میں مبتلا تھا اور اسے دہلی سے کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد سے وہ ”من خدا۔ من خدا اور من خدا“ ہونے کا اعلان کرتا رہا اور یہ کہ اسے اورنگزیب کے سامنے پیش کیا گیا اور اسے یہ الفاظ کہنے پر سزائے موت دیدی گئی۔

میں سہروردی مسلک کے دو دھڑوں کے بارے میں نہیں جانتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ آیا سہروردی مسلک کے شیخ شہاب الدین مقتول کو اللہ اور اسلام کے بارے میں گستاخانہ کلمات استعمال کرنے پر تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ میں شیخ شہاب الدین سہروردی کے سوا جو سلسلہ سہروردیہ کے بانی ہیں، کوئی دوسرا نام نہیں جانتا۔

میں تقابلی جائزے کیلئے عدالت کے روبرو اپنی تقریر ریکارڈ کرانے کو تیار ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ ڈی این اے جس کا میں نے اپنے بیان میں حوالہ دیا ہے، کن الفاظ کا مخفف ہے؟ میں مستغیث کے وکیل کیلئے ڈی این اے کی وضاحت کیلئے تیار ہوں۔ ڈی این اے غالباً ڈی آکسی زیو وو نیولک ایسڈ ہے۔ مجھے سائنسدان اور سائنسدانوں کے گروپ کا نام یاد نہیں جن کا دعویٰ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قرآن حکیم ڈی این اے میں ریکارڈ شدہ ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے امریکہ میں انٹرنیٹ پر یہ پڑھا ہے۔ میں اس ضمن میں دستاویز پیش کر سکتا ہوں۔ میں سورۃ رحمٰن کی آیت 1، 2، 3 اور علامہ اقبال کا جیسا کہ میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں، حوالہ بھی دیتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ ڈی، این، اے ایک ٹیسٹ ہے جس کے نتیجے میں انکار کی صورت میں خون کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ سیتا وائٹ اور عمران خان کے معاملے میں ہوا تھا۔ رضا کارانہ طور پر کہا یہ بھی حقیقت ہے کہ جب حضرت

صفحہ 295

امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے ، ان کا سر نیزے پر لٹکایا گیا، خون کا ہر قطرہ تلاوت قرآن جسے ناطق قرآن کہا جاتا ہے، کر رہا تھا۔ میرے خیال میں زیارت کوئی اور چیز ہے اور دیکھنا کچھ اور، اس لیے حضور نبی کریمﷺ کو ابو جہل نے بھی دیکھا اور حضرت ابو بکر صدیق نے بھی دیکھا۔ میرے خیال میں جس شخص نے حضرت محمدﷺ کی زیارت کی وہ خود کو کسی گناہ میں ملوث نہیں کر سکتا اور وہ محفوظ ہے۔ اس لیے میں نہیں جانتا کہ سرمد اور حلاج نے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا تھا۔ میں نے ”ہیومن جینون پراجیکٹ“ کے نام منسوب کردہ سائنس دانوں کے گروپ کی ”حیات“ کے بارے میں کتاب نہیں پڑھی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا انہوں نے پوری دنیا کی ”جینز“ بدل دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا انسانی فطرت تبدیل نہیں کی جاسکتی اور میں سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 84 کا حوالہ دیتا ہوں۔ میں نے کتاب ایگزیبٹ ڈی آر جو میں نے پیش کی ہے، مکمل طور پر نہیں پڑھی۔ ڈائری ایگزیبٹ پی 1-116/8 میری نہیں اور نہ ہی یہ میری لکھی ہوئی ہے نہ ہی میں اس بات سے متفق ہوں۔

یہ درست نہیں کہ ڈائری ایگزیبٹ پی 1-116/8 میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے، وہ میں نے مذکورہ ڈائری میں لکھوایا ہے اور میں نے اسے اپنے پیروکاروں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہ غلط ہے کہ اس ڈائری ایگزیبٹ پی 1-116/8 کے مندرجات کا حوالہ ”تعمیر ملت“، ”پاکستان“ میں لکھے گئے کالموں میں ملتا ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ڈائری پی 1-116/8 کے مندرجات استغاثے کے گواہوں کے سامنے بولے۔ میں نہیں جانتا کہ آیا کتاب ”سیکرٹ آف سیکرٹس“ کے بعض حصے ڈائری پی 1-116/8 میں شامل کئے گئے ہیں۔

یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ اسلم کی موجودگی میں اپنے لیے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ کہ میرے پیروکاروں نے جو وہاں موجود تھے، اسے ہار پہنائے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے استغاثے کے گواہوں کے سامنے کہا کہ پیغمبرﷺ ”ڈیوٹی“ پر تھے اور یہ کہ میں ”بیوٹی“ پر ہوں۔ لفظ بقدر حسنہ جمالہ خوبصورت الفاظ ہیں، ان کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ اکرم سے کہا کہ حضور نبی کریمﷺ کی زندگی سادہ تھی ۔ اس سوال پر میں نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے روایت پرانی تھی اور اب روایت جدید ہے اور یہ کہ گلیمر، نمود و نمائش وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ میں نے یہ الفاظ عبدالواحد کے گھر پر کہے نہ ہی گواہ استغاثہ اکرم وہاں آیا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ کی

صفحہ 296

موجودگی میں کموڈور یوسف علی صدیقی کے سوال پر کہ تم حضرت آدم علیہ السلام سے مختلف اوقات میں آنیوالے پیغمبروں اور چودہ سو برس قبل بھی ظاہر ہوئے، اس لیے چودہ سو سال کی شان اور آج میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے زیادہ پر شکوہ کون سا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ چودہ سو برس قبل کا زمانہ شاندار تھا لیکن آج کی شان بے مثال ہے اور میں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت یہ ”ڈیوٹی“ تھی اور اب یہ ”بیوٹی“ پر ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ڈائری ایگزبیٹ پی 18 / 116-1 میں صفحہ 37 پر رسول اللہ یا مرد کامل اللہ سبحان تعالیٰ کا مکمل اظہار ہے اور پیغمبر ﷺ کی جسمانی شخصیت انسانی تصور سے ماورا ہے اور تمام موجودات، اجسام حضرت محمد ﷺ کی بنا پر تخلیق کئے گئے۔ وہ ہر وقت دنیا میں موجود ہیں ان کا ظاہری نام مختلف ہو سکتا ہے لیکن وہ ہمیشہ محمد ﷺ ہوتے ہیں۔ آدم علیہ السلام ہوں، نوح علیہ السلام ہوں، ابراہیم علیہ السلام ہوں، عیسیٰ علیہ السلام ہوں، موسیٰ علیہ السلام ہوں، لیکن ان میں سے ہر محمدؐ ہے پھر محمد بن عبداللہ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ تمام ظاہری نام یکجا ہوگئے۔ پھر ابو بکرؓ پھر عثمانؓ، پھر علیؓ، بارہ امامؑ، غوث اعظم عبدالقادر جیلانیؒ، فریدؒ، مجدد الف ثانیؒ اور محمد یوسف علی مرد کامل مختلف ہونے کے باوجود حقیقت میں حضرت محمد ﷺ کی پر عظمت شکل ہیں۔ یہ الفاظ نہ میرے ہیں اور نہ ہی میرے لکھے ہوئے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ میں گواہ استغاثہ محمد اسلم سے ذاتی طور پر عبدالواحد کے گھر ملتا رہا ہوں تاہم میں نے اسے دیکھا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ 1995 میں میں گواہ استغاثہ ڈاکٹر اسلم سے عبدالواحد کے گھر نماز مغرب کے بعد ملا اور میں نے اس سے پوچھا کہ وہ حقیقت کے انکشاف کی کیا قیمت ادا کر سکتا ہے؟ یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ ڈاکٹر اسلم سے دو لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے کہا اور جواباً ڈاکٹر محمد اسلم نے انکار کر دیا۔

باقی بیان آئندہ روز قلمبند کیا جائے گا۔

25-7-2000 بیان ملزم یوسف علی حلفاً:

جرح وکیل مستغیث:

یہ کہ میں سعودی عرب کی تنظیم کا قونصل جنرل رہا۔ یہ درست ہے کہ فوٹو کاپی ایگزبیٹ پی 28 میرے حق میں جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل نے جاری کی تھی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ دستاویز ایگزبیٹ پی 28 جعلی ہے۔

یہ غلط ہے کہ میں دسمبر 1995 میں عبدالواحد کے گھر گیا جہاں ڈاکٹر محمد اسلم نے

صفحہ 297

میرے مطالبے پر دو لاکھ روپے کا انتظام کئے جانے کے بارے میں بتایا۔ یہ غلط ہے کہ دوسرے دن میں گواہ استغاثہ محمد اسلم کے گھر گیا جہاں گواہ استغاثہ محمد اسلم نے مجھے دو لاکھ روپے کی رقم ادا کی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگلے جمعے میں نے نماز جمعہ اس علاقے کی مسجد میں ادا کی جس میں گواہ استغاثہ محمد اسلم کا گھر واقع ہے۔ یہ غلط ہے کہ اس روز نماز جمعہ کے بعد میں اپنے پیروکاروں کے ہمراہ گواہ استغاثہ محمد اسلم کے گھر آیا جہاں میں نے وعدے کے مطابق حقیقت منکشف کرنے کی پیشکش کی اور پھر میں نے کھڑے ہو کر اپنے لیے ”انا محمد“ کہا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ جب میں نے ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ سے ایسا کہا، وہ حیران ہوا لیکن میرے ساتھیوں نے اس (گواہ استغاثہ) کی گردن میں اسے حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کے شرف پر مبارک باد دینے کیلئے ہار ڈال دیئے اور اس کے بعد میں مکان سے چلا گیا۔ یہ غلط ہے کہ چند ماہ بعد کموڈور یوسف صدیقی نے مجھ سے گواہ استغاثہ ڈاکٹر محمد اسلم کی موجودگی میں سوال کیا کہ تم حضرت آدم علیہ السلام سے اور ان کے بعد مختلف زمانوں کے پیغمبروں کی صورت میں ظاہر ہوتے رہے ہو اور چودہ سو برس قبل بھی تمہارا ظہور ہوا۔ چودہ سو برس پہلے اور آج کی عظمت وشکوہ میں کیا فرق ہے؟ اور دونوں میں کون سا زمانہ زیادہ پروقار اور پرشکوہ تھا؟ جس پر میں نے جواب دیا کہ چودہ سو سال قبل کا زمانہ شاندار اور پرشکوہ تھا لیکن اب شکوہ وعظمت بے مثال ہے اور یہ کہ میں نے کہا کہ اس وقت یہ ”ڈیوٹی“ تھی لیکن اب یہ ”بیوٹی“ ہے۔

یہ غلط ہے کہ اس طرح میں نے حضور نبی کریمؐ کے نام کی بے حرمتی کی ۔ یہ درست ہے کہ میری گواہ استغاثہ سے ملاقات ہوئی۔ تاہم یہ غلط ہے کہ میں اس سے 1994 میں عبدالواحد کے گھر ملا اور میں نے تقریر کی کہ حضور نبی کریمؐ دنیا میں آج بھی انسانی شکل میں موجود ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے خود کو محمد کہا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے اپنی ایسی کسی تقریر میں یہ کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی سادہ تھی اور اب روایات جدید ہیں اور اس وقت روایات پرانی تھیں اور یہ کہ گلیمر اور نمودونمائش آج کی ضرورت ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں نے یہ باتیں جنوری، فروری 1994 میں عبدالواحد کے گھر میں کہیں۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں نے کہا اگر کوئی دیکھ سکتا ہے اگر کوئی حضور نبی کریم ﷺ کو پہچان سکتا ہے وہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے رانا محمد اکرم گواہ استغاثہ کی موجودگی میں عبدالواحد کے گھر میں باتیں کی تھیں۔ ان سے حضور نبی کریم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی ہوئی۔ یہ کہنا

صفحہ 298

غلط ہے کہ ستمبر 1995 میں گواہ استغاثہ رانا محمد اکرم نے مجھ سے پوچھا کہ آیا میں قرآن کی تفسیر یا تفہیم لکھ رہا ہوں اور اس نے مجھے اس کی ایک کاپی دیئے جانے کی درخواست کی جس پر میں نے گواہ استغاثہ سے پوچھا کہ وہ اس کے لیے کیا قیمت ادا کر سکتا ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ رانا محمد اکرم سے اس تفسیر کیلئے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔

میں امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مقامات کے فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) دورے کرتا رہا ہوں۔ میں ان ملکوں کے دورے قرآن حکیم سکھانے کیلئے کرتا رہا ہوں۔ میں نے کسی تنظیم کے بارے میں یہ نہیں کہا جس نے مجھے بیرونی ملکوں کے دورے کی دعوت دی ہو۔ میرا خاندان اور میرے دوست مجھے بیرونی ملکوں میں مدعو کرتے رہے۔ 1996 میں ڈاکٹر نصیر اختر (قادیانی) نے مجھے واشنگٹن اپنی ذاتی حیثیت میں اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن آف امریکہ کی کانفرنس میں شرکت کیلئے مدعو کیا، یہ دعوت مجھے ٹیلی فون پر دی گئی۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں جانتا اور نہ میں اسے جاننا چاہتا ہوں۔ میں قادیانی جماعت کے دو دھڑوں کے بارے میں نہیں جانتا جو قادیانی اور لاہوری گروپ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

یہ کہنا غلط ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کے صرف 99 نام ہیں بلکہ 99 سے زائد ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ بھی 99 سے زائد ہیں لیکن انہیں 99 ناموں میں تلخیص کر دیا گیا ہے۔ میں حضور نبی کریمؐ کے نام بیان کر سکتا ہوں۔

نوٹ: ہدایت پر ملزم یوسف علی نے حضور نبی کریمﷺ کے سترہ نام تسلسل کے ساتھ بتائے اور کہا کہ حضور نبی کریمﷺ کے مزید نام بھی ہیں۔

جرح وکیل استغاثہ:

ملزم کی باقی ماندہ شہادت آئندہ تاریخ پر قلمبند کی جائے گی۔

26-7-2000 بیان ملزم یوسف علی حلفاً:

جرح وکیل مستغیث:

یہ غلط ہے کہ میں نے لاہور کے ہوائی اڈے پر جاتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی موجودگی میں ایک لاکھ روپے کی رقم کم کر دی۔ یہ اس حد تک درست ہے کہ میرے دوستوں نے مجھے بتایا تھا کہ رانا اکرم حج پر جا رہا ہے۔ لیکن یہ غلط ہے کہ میں نے اس گواہ استغاثہ سے

صفحہ 299

پچیس ہزار روپے طلب کئے ۔ یہ غلط ہے کہ رانا اکرم گواہ استغاثہ سے پچیس ہزار روپے کی وصولی کے بعد میں نے اس سے کہا کہ رانا اکرم اللہ تعالیٰ کے بہت قریب آگیا ہے اور میں اس پر حقیقت منکشف کرسکتا ہوں اور یہ کہ گواہ استغاثہ کو عبدالواحد کے کلفٹن کراچی میں واقع گھر کے ایک دوسرے کمرے میں لے گیا۔ میں نے گواہ استغاثہ محمد اکرم سے آنکھیں بند کرنے اور درود شریف پڑھنے کو کہا اور گواہ استغاثہ رانا اکرم نے درود شریف پڑھا اور پھر میں نے اسے آنکھیں کھولنے کو کہا اور پوچھا کیا اس نے کچھ دیکھا ہے جس پر گواہ استغاثہ نے کہا کہ اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں رانا اکرم گواہ استغاثہ سے لپٹ گیا اور دعویٰ کیا کہ میں ’’محمد مصطفیٰ ﷺ‘‘ ہوں اور گواہ استغاثہ سے کہا کہ وہ بھی اسی طرح اس حقیقت کو مخفی رکھیں جس طرح کہ میں نے خود کو چھپائے رکھا ہے۔ اس طرح میں نے کہا کہ یہ تفسیر قرآن، تفہیم قرآن، نورالقرآن اور زندہ قرآن ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے خود کو حضور نبی کریم ﷺ کہلوا کر استغاثے کے گواہوں سمیت مختلف لوگوں سے روپیہ لوٹا اور اس طرح میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی اور تحریم کا مرتکب ہوا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ 1997-2-28 کو حافظ ممتاز اعوان اور میاں محمد اویس گواہان استغاثہ مسجد بیت الرضا واقع چوک یتیم خانہ لاہور میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے گئے اور وہاں میں نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور مسجد میں موجود سینکڑوں افراد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا اور اپنے آپ کو اپنی تقریر میں حضور نبی کریم ﷺ کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میاں محمد اویس اور حافظ ممتاز گواہان استغاثہ مذکورہ اجتماع میں موجود تھے اور میں نے جس اجتماع میں اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، وہاں بیٹھے افراد میں سے اپنے مریدوں زید زمان اور عبدالواحد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا اور اس طرح میں نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور صحابہ کرامؓ کی بے ادبی کی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے 1997-2-28 کو چوک یتیم خانہ پر واقع مسجد بیت الرضا میں حافظ ممتاز اور میاں اویس کی نماز جمعہ کے موقع پر موجودگی میں اعلان کیا کہ رسالت مآب ﷺ مسجد میں موجود ہیں اور سو افراد صحابی ہیں۔ اس طرح میں نے رسالت مآب ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی توہین کی۔

یہ اس حد تک درست ہے کہ میاں غفار گواہ استغاثہ مجھ سے میرے گھر واقع 218 کیو ڈیفنس لاہور میں 2 بجے دوپہر 1997-3-22 کو ملے تھے۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے کہا کہ مجھے خلافت عظمیٰ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور یہ کہ خلافت عظمیٰ حضرت آدم

صفحہ 300

علیہ السلام کو دی گئی تھی پھر یہ تمام پیغمبروں میں جاری رہی اور اب حضور نبی کریم ﷺ کی خلافت عظمیٰ میرے پاس ہے اور اس طرح میں نے حضور نبی کریم ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا اور اس طرح میں نے حضور نبی کریم ﷺ کی بے حرمتی کی ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے اپنی تقریروں میں وقتاً فوقتاً قرآن حکیم کے تراجم کو غلط‘ ناقص اور شرانگیز قرار دیا ہے اور اس طرح میں نے قرآن مقدس کی بے حرمتی کی ۔ یہ قطعی طور پر غلط ہے کہ رضوان نامی شخص نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے جون 1997 میں عبدالواحد کے گھر پر میری ملاقات کا انتظام کیا اور میں نے محمد علی ابوبکر کو ”ابوبکر صدیق“ کہا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ سے کہا کہ عمرہ کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں‘ میں عمرے کا یہاں انتظام کر سکتا ہوں ۔ مزید یہ کہ میں نے محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ سے کہا کہ ”مکان وہاں ہے اور مکین یہاں ہے“ جس پر مذکورہ گواہ استغاثہ ناراض ہو گیا اور اس کے بعد میں نے اسے عمرے کی ادائیگی کی اجازت دیدی۔

یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے کہا کہ میں اس کی حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کا انتظام کر سکتا ہوں اور میں نے محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ سے حضرت محمد ﷺ سے ملاقات کی غرض سے اس کی مکمل سپردگی کا وعدہ لیا تھا اور گواہ استغاثہ نے جواب دیا تھا کہ میں جو بھی چاہوں گا، وہ اس سے حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کے لیے میرے حق میں دستبردار ہو جائے گا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے اپنے گھر میں میرے لیے ایک کمرہ سجانے کو کہا کہ جب میں لاہور سے کراچی آؤں، میں وہاں قیام کرونگا اور اس کے بعد میں نے مذکورہ کمرے کا نام ”غار حرا“ ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے میرے قیام کیلئے اپنے گھر میں کمرہ سجانے کو کہا اور میں نے اس کمرے کے ”غار حرا“ ہونے کا اعلان کر کے دانستہ طور پر شرانگیزی کی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے اور میں نے اس ضمن میں گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے کہا کہ میں اس کی حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کا انتظام کر سکتا ہوں اور میں نے مذکورہ گواہ استغاثہ کو گھر کے اندر گھر کے مذکورہ کمرے میں بلایا۔ اسے آنکھیں بند کر کے درود شریف پڑھنے کو کہا جب اس نے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے آنکھیں کھولنے کو کہا اور میں نے اسے اپنے جپھے میں لے لیا اور اعلان کیا کہ میں ہی ”محمد“ ہوں جس پر گواہ استغاثہ نے رونا شروع کر دیا، میں نے اسے دبوچے رکھا اور مذکورہ گواہ استغاثہ کانپتے ہوئے کمرے سے باہر آیا جس پر

صفحہ 301

میرے پیروکاروں نے جو کمرے سے باہر بیٹھے ہوئے تھے، مذکورہ گواہ استغاثہ کو حضور نبی کریم ﷺ سے اس کی جسمانی ملاقات پر مبارک باد دی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے اپنے حضور نبی کریم ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا اور اس طرح میں نے حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی توہین و بے حرمتی کی۔

یہ کہنا غلط ہے کہ عبدالواحد کے گھر میں بیٹھ کر میں نے مذکورہ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے اپنے لیے مکان کی خریداری کا ڈھونگ رچا کر پچاس لاکھ روپے طلب کئے جو گواہ استغاثہ نے مجھے ادا کر دئیے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر سے ایک ایئر کنڈیشنر طلب کیا جو اس نے بازار سے خریدا اور میں نے اسے عبدالواحد کے گھر میں اپنے لیے مختص کمرے میں لگوا لیا اور یہ کہ میں نے کراچی سے قالین خریدا جس کے مذکورہ گواہ استغاثہ نے ایک لاکھ دس ہزار روپے ادا کئے اور گواہ استغاثہ نے میرے کمرے کیلئے فرنیچر خریدا جس کیلئے میں نے گواہ استغاثہ کو کراچی میں اپنے قیام کے دوران ہدایت کی تھی۔ میں یہ فرنیچر لاہور لے آیا، یہ فرنیچر گواہ استغاثہ نے خریدا تھا اور اس کیلئے مبلغ ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی اس طرح میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر سے بھاری رقم بٹوری۔ یہ غلط ہے کہ دستاویز مارک ای ان ڈالروں کے بھنائے جانے سے متعلق ہے جن کی رقم گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے مبلغ بیس ہزار نو سو پچاس روپے مجھے ادا کی۔ یہ غلط ہے کہ رسید مارک جی ان قالینوں کی خریداری سے متعلق ہے جو گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے میرے لیے خریدے اور یہ قالین میرے سپرد کئے گئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مختلف مواقع پر محمد علی ابو بکر سے مختلف بہانوں سے ڈیمانڈ ڈرافٹوں کے ذریعے بھاری رقوم بٹوریں۔ یہ غلط ہے کہ دستاویز ایگزیبٹ پی 6 مبلغ چوبیس لاکھ دو ہزار چار سو دس روپے پچاس پیسے کی واپسی کے متعلق ہے جو میں نے محمد علی ابوبکر کو اس کی جانب سے طلب کئے جانے پر دئیے اور میں نے بقایا رقم بھی مدینہ سے موصول ہوتے ہی ادا کرنے کا وعدہ کیا ۔ یہ درست ہے کہ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے مجھے مبلغ چوبیس لاکھ دس ہزار روپے قرض حسنہ کے طور پر دیئے تھے ۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ رقم میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر کو خود واپس کر دی تھی ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مذکورہ رقم گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر کو واپس ادا کرتے ہوئے میں نے اپنے اور محمد علی ابوبکر کے درمیان مذکورہ تمام لین دین تسلیم کیا تھا۔

یہ غلط ہے کہ میں نے عبدالواحد کے گھر منعقد ہونے والی محفل قوالی میں کہا تھا کہ

صفحہ 302

جب تک مجلس کے ارکان حضور نبی کریم ﷺ کو نہ دیکھ لیں، انہیں موت نہیں آئے گی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر سے جب وہ مجلس نعت میں شرکت کیلئے جارہا تھا کہا کہ گواہ استغاثہ جس شخص کیلئے جارہا ہے، وہ یہاں بیٹھا ہے اور اسے مجلس نعت میں شرکت سے روک دیا تھا لیکن گواہ استغاثہ نے میری نصیحت پر کان نہ دھرا اور مجلس نعت میں شرکت کیلئے چلا گیا اور جب گواہ استغاثہ مجلس نعت میں شرکت کے بعد واپس آیا تو میں نے اسے اپنے کمرے میں بلوایا ۔ میں گواہ استغاثہ سے بہت ناراض تھا اور میں نے حکم عدولی پر کہا کہ چونکہ گواہ استغاثہ نے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے وہ عذاب الہی میں مبتلا ہوگا اور اس طرح میں نے حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی بے حرمتی کی۔

یہ درست ہے کہ محمد علی ابو بکر نے 1997-2-28 کو میری بیٹی کی شادی میں شرکت کی لیکن میں نے اسے مدعو نہیں کیا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ورلڈ اسمبلی کے چوک یتیم خانہ لاہور پر واقع مسجد بیت الرضا میں منعقد ہونیوالے اجلاس میں گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر کو مدعو کیا گیا تھا۔ 1997-2-28 کو میں نے اپنے پیروکاروں کو ورلڈ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مسجد بیت الرضا میں طلب کیا تھا اور دعوت نامے بھی جن کی فوٹو کاپی مارک ایچ موجود ہے، جاری کیے تھے۔ یہ غلط ہے کہ 1997-2-28 کو میں نے مسجد بیت الرضا میں اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ میں نے مسجد نبویٰ یا مسجد حرام کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ اور میں نے وضاحت کی کہ میں نے مسجد بیت الرضا کا انتخاب اسی طرح کیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے غار حرا کا انتخاب کیا تھا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ قرآن حکیم کی بعض سورتیں، آیات حتیٰ کہ قرآن حکیم یہاں موجود ہیں۔ یہ غلط ہے کہ مسجد بیت الرضا میں ورلڈ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ ڈیوٹی پر نہیں لیکن یہ ان کی عطا ہے کہ ایک ”رسول“ تم سے مخاطب ہے۔ اور اس طرح میں نے حضور نبی کریم ﷺ کے نام کی توہین کی۔ یہ کہنا مزید غلط ہے کہ میں نے تیسری یا چوتھی قطار سے گواہ استغاثہ محمد علی ابو بکر کو بلوایا اور اس کا تعارف اپنے صحابی کی حیثیت سے کرایا اور اس طرح میں نے صحابہ کرام کے مقدس نام کی تکذیب کی۔

یہ غلط ہے کہ دسمبر 1995 میں مسجد بیت الرضا واقع چوک یتیم خانہ سے ملحق حجرے میں نماز جمعہ کے بعد سہیل ضیا نے گواہ استغاثہ ساجد منیر ڈار سے میرا تعارف کرایا اور سہیل ضیا میرا مرید تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے منیر ڈار سے کہا کہ اگر میں اس کی پیغمبر ﷺ سے

صفحہ 303

ملاقات کا انتظام کردوں تو کیا گواہ اس کی قیمت دے سکتا ہے یا نہیں ۔ جس پر گواہ استغاثہ نے اثبات میں جواب دیا اور مذکورہ گواہ استغاثہ سے کہا کہ جب تک اس کی حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات نہیں ہو جاتی، اسے موت نہیں آئے گی۔ مزید برآں ملاقات کی صورت میں گواہ استغاثہ کے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا اور وہ جنت میں داخل ہوگا اور میں نے گواہ استغاثہ کو اپنی سونے کی زنجیر اور انگوٹھی میرے حوالے کئے جانے کو کہا جو گواہ استغاثہ نے مجھے دیدی۔ یہ غلط ہے کہ مذکورہ ملاقات کے دوسرے دن میں نے گواہ استغاثہ ساجد منیر ڈار کو اپنے گھر 218 کیو واقع ڈیفنس لاہور میں مدعو کیا اور مذکورہ گواہ استغاثہ سہیل ضیا کے ہمراہ میرے گھر آیا اور میں مذکورہ گواہ استغاثہ کو مذکورہ گھر میں قائم اپنے حجرے میں لے گیا جبکہ بہت سے دوسرے لوگ مین ڈرائنگ ہال میں بیٹھے تھے ۔ یہ غلط ہے کہ حجرے میں موجودگی کے دوران میں نے گواہ استغاثہ سے کہا کہ وہ خوش نصیب ہے کہ وہ حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات کرنے جا رہا ہے اور اس کے بعد میں نے گواہ استغاثہ سے کہا کہ میں ہی محمدﷺ ہوں اور پھر میں اس سے بغل گیر ہو گیا اور اس طرح میں نے حضور نبی کریمﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کی ۔ یہ غلط ہے کہ میں اپنی تقریر کے دوران خود کو رسول اللہ کہتا رہا۔

(واعلموا ان فيكم رسول الله)

یہ غلط ہے کہ میں نے مذکورہ آیت گواہ استغاثہ کے سامنے تلاوت کی کہ وہ مجھ پر ایمان لائے کہ میں حضور نبی کریمﷺ سے مشابہت اور یکسانیت رکھتا ہوں ۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں لوگوں کو دعوت دی کہ مجھے پارسا اور حضرت محمدﷺ سے مشابہہ سمجھیں اور اگر انہوں نے میری مخالفت کی تو انہیں تمام سہولتوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ ان کی بیویاں اور بچے انہیں خود اپنے ایمان کا ثبوت دینے کیلئے قتل کرنا پڑیں گے اور یہ کہ انہیں بدر و حنین کو دہرانا ہے اور کربلا کو دہرانا ہے اور مجھ پر اس طریقے سے ایمان لانا ہے ۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے گواہ استغاثہ میاں عبدالغفار کو جب میں اس سے اپنے گھر 22 مارچ 97ء کو ملا تھا، بتایا تھا کہ 9 ربیع الاول ہی میری تاریخ پیدائش ہے اور یہی حضور نبی کریمﷺ کی تاریخ پیدائش ہے ۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنے پیروکاروں کو مصیبت اور آزمائش کے مرحلے میں ان کے ایمان کی آزمائش کے لیے مجھ پر درود بھیجنے کی تلقین کی جیسا کہ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی ایگزیبٹ پی 1/151-1 میں رپورٹ کیا گیا ہے۔

یہ غلط ہے کہ میں نے خود کو حضور نبی کریمﷺ کا تسلسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے جیسا

صفحہ 304

کہ ہفت روزہ تکبیر ایگزیبٹ پی 13 / 52-1 میں ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے اپنے پیروکاروں اور مریدوں سے اس نیک نصب العین کیلئے اپنی بیویاں قربان کرنے کو کہا جیسا کہ ہفت روزہ تکبیر کراچی ایگزیبٹ پی 1 / 152-1 میں کہا گیا ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے سے بول رہا ہے جس کا تعلق محض اللہ اور حضور نبی کریم ﷺ کے پیغام سے ہے اور یہ اعلان کیا کہ میرے ہونٹوں کی آواز ہی حقیقی کتاب ہے جس سے مراد الکتاب یعنی قرآن شریف ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے سے مخاطب ہے اور میرے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہی حقیقی کتاب ہیں جو الکتاب اور قرآن مقدس ہے اور اس طرح میں نے قرآن مقدس کی توہین کی۔ یہ غلط ہے کہ میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کے بارے میں کسی قسم کی عداوت، حسد، بغض، طمع اور لالچ رکھتا تھا۔ یہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میرا مذکورہ بیان غلط اور بعد کی سوچ ہے اور اس کا مقصد محض خود کو قانونی سزا سے بچانا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے فرد جرم میں اپنے آپ پر لگائے گئے تمام جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

یہ درست ہے کہ استغاثے کے گواہوں نے مجھے اس مقدمے میں ملوث کرنے کیلئے ختم نبوت کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں لیکن استغاثے کے گواہوں کو شیطان (جو میرا واحد دشمن ہے) استعمال کر رہا ہے۔ میرا ڈاکٹر اسلم گواہ استغاثہ سے کوئی جھگڑا نہیں، ممکن ہے اسے مجھ سے خار ہو اور یہ میرا خیال اور تصور ہے۔

یہ درست ہے کہ میرے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید میں نے نوائے وقت، جنگ اور پاکستان میں شائع کرائی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے توہین رسالت ﷺ کے جرم سے اپنی گردن بچانے کیلئے ایسا کیا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے مرد کامل امام وقت، انسان کامل یا رسول اللہ ہونے اور بالآخر محمد ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنے پیغمبر، مرد کامل، رسول اللہ، انسان کامل ہونے اور حضور نبی کریمؐ سے اپنی مشابہت کا لوگوں کے سامنے ڈرامہ رچایا اور اس مکر، دھوکے وجعل سازی کی بنیاد پر دستاویزات اور تقریروں کے ذریعے معصوم اور لاعلم لوگوں سے بھاری رقوم بٹوریں۔ یہ غلط ہے کہ میں نے اپنے دعوے کے سلسلے میں مرزا غلام احمد قادیانی کا طریقہ کار اور راستہ اختیار کیا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ابوبکر کے ملکیہ چوبیس لاکھ

صفحہ 305

روپے کی اپنے بیان کردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کی۔ یہ غلط ہے کہ اخباری تراشہ ایگزیبٹ پی 29 میں نے روزنامہ پاکستان میں شائع کرایا۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ کیونکہ اخبار نے اسے میرے نام سے شائع کیا ہے اس لیے میں اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ اخباری تراشہ ایگزیبٹ پی 30 روزنامہ پاکستان میں 1997-3-5 کو شائع ہوا یہ میرا ہے۔ یہ درست ہے کہ اخباری تراشہ پی 31 مورخہ 1997-3-6 میرا ہے۔ یہ درست ہے کہ روزنامہ پاکستان کا اخباری تراشہ ایگزیبٹ پی 32 مورخہ 1997-3-7 بھی میرا ہے۔ یہ درست ہے کہ روزنامہ پاکستان کا اخباری تراشہ پی 33 مورخہ 1997-3-12 میرا ہے۔ یہ درست ہے کہ روزنامہ پاکستان کا اخباری تراشہ ایگزیبٹ پی 34 مورخہ 1997-3-18 میرا ہے۔

نوٹ: اصل اخبار دیکھنے کے بعد وکیل مستغیث کو واپس کر دیئے گئے جیسے اور جب بھی ضرورت پڑی وہ انہیں عدالت میں پیش کرینگے۔

جرح فاضل وکیل مستغیث:

میں نہیں جانتا کہ مذکورہ اخباری تراشوں کو کتاب ”مرد کامل کا وصیت نامہ“ نامی کتاب ایگزیبٹ پی 20 میں دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب میری لکھی اور ترتیب دی ہوئی ہے اور مذکورہ اخباری تراشے جو میرے مضامین پر مشتمل تھے، دوبارہ شائع کر دیئے گئے۔ اس لیے کتاب کا ایڈیشن 1993 کا ہے جبکہ مذکورہ اخباری تراشے 1993 سے قبل یا 1992 کے بعد شائع کئے گئے اور میرے مضامین روزنامہ پاکستان میں شائع ہوئے۔

عدالت کے سوالات:

یہ درست ہے کہ ویڈیو کیسٹ مارک جے میں نے عدالت میں پیش کی۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ اگر فریقین کے وکلا اور عدالت خود اسے دیکھے۔

اس مرحلے پر استغاثے کے فاضل وکیل مسٹر ایم اقبال چیمہ نے وی سی آر اور ٹیلی ویژن کا انتظام کیا ہے۔ اس فلم کو زیر دستخطی کے چیمبر میں دکھایا جائے۔

ویڈیو فلم (مارک جے) دکھائے جانے کے بعد میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ویڈیو مارک جے میں میرا ریکارڈ شدہ انٹرویو جہاں تک آواز اور تصاویر کا تعلق ہے، شروع سے آخر تک میرے ہیں۔ میں استغاثے کی جانب سے پیش کی جانیوالی آڈیو ویڈیو کیسٹ دیکھنا

صفحہ 306

نہیں چاہتا تاہم مجھے ان کیسٹوں کی نقول مل چکی ہیں۔

جرح فاضل وکیل مستغیث:

ویڈیو فلم (مارک جے) کا انٹرویو مورخہ 8 فروری 2000ء کو ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرویو لینے والے امریکہ سے آئے تھے۔ پھر کہا کہ وہ لوگ امریکہ اور برطانیہ کی نمائندگی کر رہے تھے لیکن سلامتی اور حفاظتی وجوہ کی بنا پر میں ان کے نام نہیں بتا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ انٹرویو (مارک جے) بعد کی سوچ ہے اور اس کا مقصد صرف استغاثے کے مقدمے کی نفی کرنا ہے۔

بیان ملزم محمد یوسف بلا حلف :

دستاویز ایگزیبٹ ڈی این این ایگزیبٹ ڈی پی پی ایگزیبٹ ڈی کیو کیو، ایگزیبٹ ڈی آر آر، ایگزیبٹ ڈی ایس ایس، ایگزیبٹ ڈی ٹی ٹی، ایگزیبٹ ڈی یو یو، ایگزیبٹ ڈی وی وی، ایگزیبٹ ڈی ڈبلیو ڈبلیو، ایگزیبٹ ڈی ایکس ایکس، ایگزیبٹ ڈی وائی وائی، ایگزیبٹ ڈی زیڈ زیڈ، ایگزیبٹ ڈی اے اے اے، ایگزیبٹ ڈی بی بی بی، ایگزیبٹ ڈی سی سی، ایگزیبٹ ڈی ڈی ڈی ڈی، ایگزیبٹ ڈی ای ای ای، ایگزیبٹ ڈی ایف ایف ایف، ایگزیبٹ ڈی جی جی جی، ایگزیبٹ ڈی ایچ ایچ ایچ، ایگزیبٹ ڈی آئی آئی آئی، ایگزیبٹ ڈی جے جے جے، 1-6 کی فوٹو کاپیاں پیش کرنے کے بعد میں اپنی صفائی کی شہادت ختم کرتا ہوں۔

اس مرحلے پر فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی اور مستغیث کے وکیل نے اعتراض کیا کہ ملزم کی طرف سے پیش کی جانے والی مذکورہ دستاویزات دھوکے اور جعل سازی کی پیداوار ہیں اور چونکہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی وی وی ایک فوٹو کاپی ہے، اس لیے یہ شہادت میں قابل قبول نہیں۔ ان اعتراضات کا حتمی دلائل کے موقع پر جائزہ لیا جائے گا۔ اصل دستاویزات پڑھ کر ملزم کو واپس کر دی گئیں۔

شہادتیں ختم کر دیں۔

مقدمے کے فیصلے کے لیے اہم ہے۔ اس دستاویز کے مندرجات ذیل میں دیئے جا رہے ہیں۔

صفحہ 307

(ایک صفحہ چھوڑنا ہے)

صفحہ 308

اٹارنی جن کی مدد مسٹر محمد اسماعیل قریشی، مسٹر اقبال چیمہ اور مسٹر غلام مصطفیٰ چودھری، فاضل وکلا برائے مستغیث اور مسٹر سلیم عبدالرحمان اور مس رخسانہ لون، فاضل وکلا برائے محمد یوسف ملزم کو سنا۔ میرے سامنے جو ریکارڈ پیش کیا گیا میں نے اس کی چھان پھٹک کی۔

استغاثے کا پورا مقدمہ پڑھنے کے بعد بنیادی طور پر یہ دلائل دیئے کہ ایک حساس مقدمے میں محض ایف آئی آر درج کرانے میں تاخیر استغاثے کا مقدمہ مسترد کئے جانے کا جواز نہیں بنتی۔ مزید یہ کہ استغاثے کی آڈیو و ویڈیو کیسٹوں اور ٹرانسکرپٹ کی صورت میں شہادتیں قانون شہادت، آرڈر کے آرٹیکل 164 کی دفعات کو ملحوظ رکھتے ہوئے قابل تسلیم و پذیرائی ہیں اور

اس مقدمے میں ویڈیو کیسٹ فاضل وکیل صفائی نے بھی دیکھے اور اس نے ویڈیو کیسٹ میں آواز وتصویروں کی مکمل طور پر تصدیق کی اور اب جب ملزم نے ایک ویڈیو کیسٹ مارک جے خود عدالت کو مہیا کردی ہے تو یہ ملزم کی جانب سے تقابلی جائزے سے انکار کے باوجود اس مقصد کیلئے دستیاب ہے۔ اور موازنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ملزم کی پیش کردہ کیسٹ میں آوازیں اور تصویریں وہی ہیں جو استغاثے کی پیش کردہ آڈیو ویڈیو کیسٹوں میں ہیں، اس لیے استغاثے کی شہادتوں زبانی و دستاویزی کی بنا پر ملزم کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔ فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی نے مزید کہا کہ

ملزم یوسف نے اپنے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے ہمارے پیغمبرﷺ کی طرح ہونے کا دعویٰ کیا۔ فی الحقیقت ملزم نے واردات کا وہی طریقہ اختیار کیا جو مرزا غلام احمد قادیانی نے مذہب اسلام کا خود کو انتہائی وفادار ظاہر کر کے اختیار کیا تھا اور جب اس کے چند پیروکار ہوگئے تو اس نے اپنی پٹڑی بدل لی اور اس کے بعد اپنے لیے مسیح موعود، ولی اللہ اور پیغمبر ہونے کا دعویٰ کردیا۔ ملزم یوسف مخصوص الزامات جیسا کہ الزامات میں واضح ہے، کا جواب اپنے وکیل کے ذریعے واضح انداز میں دینے میں ناکام رہا ہے۔ اس کا اپنے حق میں کوئی ایک گواہ کو بھی جرح کیلئے پیش کرنے میں ناکام رہنا مقدمے کے حقائق کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

صفحہ 309

درج ذیل مقدمات شامل ہیں‘ اپنے دلائل کی تائید میں حوالہ دیا۔ پی ایل ڈی 1985 کراچی 229‘ پی ایل ڈی 1984 لاہور 484‘ 1997 ایس سی ایم آر ۔632‘ پی ایل ڈی 1991 ایف ایس سی ۔10 صفحات 26‘ پی ایل ڈی 1994 لاہور 485‘ 488‘ 491‘ 505‘ 509‘ 514‘ 1971‘ پی سی آر ایل ۔602-1 لاہور 1987‘ پی سی آر ایل جے 1204 لاہور‘ اے آئی آر 1936 پشاور 106‘ پی ایل جے 1990‘ سی آر ایل مقدمات کراچی 340‘ 1995‘ پی سی آر ایل جے 459 پشاور‘ آل انگلینڈ لاء رپورٹس 1965 صفحات 464‘ 1995‘ ایم ایل ڈی 1486 لاہور‘ پی ایل ڈی 1985 کراچی 229 کتاب بعنوان ’’خطبات ختم نبوت‘‘ مصنف مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (متنبی کذاب اور توہین انبیاء ) صفحہ 249 کتاب عنوان ’’مجموعہ الہامات تذکرہ حضرت مسیح موعودؑ‘‘ مصنف جلال الدین شمس صفحات 102، 276، 396 اور 620، بلیک لاز ڈکشنری صفحہ 311، (کاروبریٹنگ ایویڈینس) لاز لیکسیکون صفحہ 538، (کورکٹینس آف آرڈر) صحیح البخاری راوی ابوہریرہؓ، حدیث 9.122، کتاب ’’سرالاسرار‘‘ تحریر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ صفحہ 223 اور کتاب عنوان ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ تحریر پروفیسر محمد الیاس برنی صفحات 253، 258، 260، 265 اور 267۔

سے پیش کئے جانے والے دلائل کی مخالفت کی اور کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے جس کی استغاثے کی جانب سے وضاحت نہیں کی گئی مزید یہ کہ استغاثے کی شہادتیں قابل انحصار نہیں۔ یہ کہ ویڈیو کیسٹ اور ان کے ٹرانسکرپٹ فرضی اور جعلی دستاویز ہیں۔ مزید برآں قانون شہادت کے حکم آرٹیکل 164 کی دفعات کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہادت کا یہ حصہ قابل ادخال نہیں۔ مزید یہ کہ ڈائری کے صفحات فوٹو کاپیاں ہیں، اس لیے ماہر تحریر یا ان کے مصنف کی غیر موجودگی میں شہادت کا یہ حصہ قابل انحصار نہیں۔ رسالہ تکبیر ریکارڈ پر لایا گیا ہے لیکن اس کے لکھنے والے کو پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے ہر مرحلے پر استغاثے کی شہادت مشکوک ہے۔ استغاثے کے گواہوں کے بیانات میں ترامیم واضافے ہیں اور وہ دشمنی، رقابت اور لالچ کی بنا پر ملزم کے خلاف پیش ہوئے ہیں۔ اس بنا پر ملزم شک کا

صفحہ 310

فائدہ دیئے جانے کا مستحق ہے۔ انہوں نے صفائی کے موقف کا جیسا کہ ملزم کے بیان سے ظاہر ہے اور دستاویزی شہادتوں پر بھی روشنی ڈالی اور درج ذیل رپورٹڈ مقدمات کا حوالہ دیا۔ 1995 ایم ایل ڈی 1485، اے آئی آر 1964 ایس سی 72، 1987 ایم ایل ڈی 2425، پی ایل ڈی 1984 لاہور 67، پی ایل ڈی 1998 ایس سی 109، 1974 پی ایل ڈی لاہور 452، پی ایل ڈی 1979 (ایس سی) اے جے کے 78، پی ایل ڈی 1970 ایس سی 10، پی ایل ڈی 1964 ایس سی 81، پی ایل ڈی 1996 لاہور 406، 1996 پی سی آر ایل جے 1076، 1993 ایس سی 1405، اے آئی آر 1951 کلکتہ 123 اور 581، 1993 ایس سی ایم آر 153، 1995 ایم ایل ڈی 667، پی ایل ڈی 1991 ایف ایس سی 10، 1983 پی سی آر ایل جے 823، پی ایل ڈی 1963 ایس سی 17، پی ایل ڈی 1963 کراچی 76، 1974 پی سی آر ایل جے 400، پی ایل ڈی 1964 ایس سی 26، 1993 ایس سی ایم آر 550، 1989 پی سی آر ایل جے 1956، پی ایل ڈی 1994 لاہور 485 اور پی ایل ڈی 1964 ایس سی 26۔

21۔ ملزم نے اپنے وکیل کے ذریعے کتابوں کا بھی حوالہ دیا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ زیارت نبی بحالت بیداری مصنف سید محمد عبدالمجید صدیقی ایڈووکیٹ صفحہ 6 اور 52 (2) آب حیات مصنف مولانا محمد قاسم نانوتوی صفحہ 2 (3) ارمغان شاہ ولی اللہ مصنف پروفیسر محمد سرور صفحہ 281 (4) ذکر جمیل مصنف مولانا محمد شفیع اوکاڑوی صفحات 105 اور 111 (5) مدارج النبوت مصنف حضرت علامہ شیخ عبدالحق صفحات 54، 781، 788، 1050، 1052، 1057، 1058، 1063، 1067، 1071، 1072، 1074، 1076 اور 1077۔ (6) سر دلبراں مصنفہ حضرت شاہ سید محمد ذوقیؒ صفحات 37، 39، 73، 75 اور 293 (7) مکتوبات امام ربانی مصنفہ حضرت مجدد الف ثانیؒ اردو ترجمہ از مولانا محمد سعید احمد نقشبندی صفحات 524، 548 اور 622 (8) مظہر جمال مصطفیٰ مصنفہ صوفی سید نصیر الدین ہاشمی صفحات الف، 51، 145، 162 (9) شریعت و طریقت مصنفہ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ صفحات 117، 354، 368 اور 420 (10) گنجینہ درود شریف مصنفہ محمد اسلم نقشبندی صفحہ 197، (11) الامداد مصنفہ محمد رفیق احمد ایڈووکیٹ ڈی جے جے صفحہ 35

صفحہ 311

(12) خطبات ختم نبوت مصنفہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صفحہ 175 (13) مکتوبات امام ربانی مصنفہ حضرت مجدد الف ثانیؒ اردو ترجمہ مولانا محمد سعید احمد نقشبندی صفحات 87، 95، 117، 141 اور 162 (14) خون کے آنسو مصنفہ حکیم مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی صفحہ 87 (15) خزینہ معرفت مصنفہ حضرت محمد ابراہیم قصوری صفحات 3، 347، 388 اور 392 (16) مکتوبات امام ربانی مصنفہ حضرت مجدد الف ثانیؒ اردو ترجمہ مولانا محمد سعید احمد نقشبندی صفحات 5، 63، 87، 141، 144 اور 148 (17) الرحیق المختوم مصنفہ مولانا صفی الرحمان مبارک پوری صفحات 83 اور 616 (18) سیرت غوث اعظمؒ مصنفہ حضرت عبدالرحیم خاں قادری صفحات 63 اور 199 (19) روضۃ القیومیہ مصنفہ حضرت خواجہ محمد احسان صفحات 171، 173، 175، 178 اور 288 (20) قصر عرفان مصنفہ شیخ مولوی احمد علی چشتی صفحات 14، 54 اور 58 (21) مکتوبات امام ربانی مصنفہ حضرت مجدد الف ثانیؒ اردو ترجمہ حضرت محمد سعید احمد صفحات 42، 44، 104 اور 113 (22) تعبیر الرؤیا مصنفہ علامہ ابن سیرین صفحہ 78 (23) صحیح بخاری ترجمہ حضرت محمد وحید الزمان صفحات 80 اور 82۔

ایمان قرآن حکیم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی خدا (عبادت اور اطاعت کے قابل) نہیں سوائے ایک اللہ کے اور حضرت محمد ﷺ اس کے پیغمبر ہیں۔ فی الحقیقت قرآن کے معنی بالفرض دیگر ایک اعتراف ہے جو اسلام کا ابلاغ کرتا ہے لیکن اگر کوئی اس اعتراف کو میکانکی طور پر‘ چالاکی کے انداز میں یا کسی چیز کو اپنی جانب سے ظاہر کر کے دہراتا ہے، اسے مسلمان نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ اعتراف دو حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ لا الہ الا اللہ ہے جو اللہ کی توحید کی تصدیق ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی دوسرا عبادت اور اطاعت کے قابل نہیں۔ فی الحقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی حقیقی بادشاہ (سچا بادشاہ) ہے جس کے اسمائے حسنیٰ درج ذیل ہیں۔

اللہ، الرحمٰن، الرحیم، الملک، القدوس، السلام، المومن، المہیمن، العزیز، الجبار، المتکبر، الخالق، الباری، المصور، الغفار، القہار، الوہاب، الرزاق، الفتاح، العلیم، القابض، الباسط، الخافض، الرافع، المعز، المذل، السمیع، البصیر، الحکم، العدل، اللطیف، الخبیر، الحلیم، العظیم، الغفور، الشکور، العلی، الکبیر، الحفیظ، المقیت، الحسیب، الجلیل، الکریم، الرقیب، المجیب، الواسع، الحکیم، الودود، المجید،

صفحہ 312

الباعث، الشہید، الحق، الوکیل، القوی، المتین، الولی، الحمید، المحیی، الممیت، الحی، القیوم، الواجد، الماجد ، الواحد، الاحد، الصمد، القادر، المقتدر، المقدم، الموخر، الاول، الآخر، الظاہر، الباطن، الوالی، المتعالی، البر، التواب، المنتقم، العفو، الرؤف، مالک الملک، ذوالجلال والاکرام، المقسط، الجامع، الغنی، المغنی، المانع، الضار، النافع، النور، الہادی، البدیع، الباقی، الوارث، الرشید، الصبور، رب العالمین، مالک یوم الدین، التقویم، الموخر۔

کلمے کا دوسرا حصہ محمد رسول اللہ پر مشتمل ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اس لیے محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی رہنمائی کیلئے تخلیق کیا اور انہوں نے جو کچھ سکھایا یا جو تبلیغ کی مثلاً قرآن حکیم کے تقدس کی، فرشتوں کی موجودگی کی، یوم آخرت پر یقین کی، موت بعد حیات کی، فیصلے کے دن کی، جنت اور جہنم میں لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق بھیجے جانے کی سو فیصد سچی اور مصدقہ ہیں۔ اللہ نے بہت سی تصویریں بنائیں ۔ بالفرض دیگر قوموں اور معاشرے کیلئے اپنے پیغمبر بھیجے لیکن آخری تصویر حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے محبوب خدا قرار دیا جن کے نام درج ذیل ہیں۔

محمد، احمد، حامد، محمود، قاسم، عاقب، فاتح، شاہد، حاشر، رشید، مشہود، بشیر، نذیر، داع، شاف، ہاد، مہد، ماح، منج، ناہ، رسول، نبی، امی، تہامی، ہاشمی، ابطحی، عزیز، حریص علیکم، رؤف، رحیم، طہٰ، مجتبیٰ، طس، مرتضیٰ، حم، مصطفیٰ، یٰس، اولیٰ، مزمل، ولی، مدثر، متین، مصدق، طیب، ناصر، منصور، مصباح، امر، حجازی، نزاری، قرشی، مضری، نبی التوبہ، حافظ، کامل، شفیع، مومن، صادق، امین، عبداللہ، کلیم اللہ، حبیب اللہ، نجی اللہ، صفی اللہ، خاتم الانبیاء، حسیب، مجیب، شکور، مقتصد، رسول الرحمۃ، قوی، حفی، مامون، معلوم، حق، مبین، مطیع، رسول الراحۃ، اول، آخر، ظاہر، باطن، نبی الرحمۃ، یتیم، کریم، حکیم، خاتم الرسل، سید، سراج، منیر، محرم، مکرم، مبشر، مذکر، مطہر، قریب، خلیل، مدعو، جواد، خاتم، عادل، شہیر، شہید، رسول الملاحم ۔

اللہ نے اپنے پیارے پیغمبر ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔ سورہ احزاب آیت نمبر 40 کا حوالہ دیا جاتا ہے جو یوں ہے۔ ”نہیں ہے محمد (ﷺ) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں“

اللہ خود اور اس کے فرشتے حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو

صفحہ 313

حکم دیا ہے کہ وہ بھی حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجیں۔ اس بارے میں سورہ احزاب کی آیت نمبر 56 کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کا ترجمہ یوں ہے:

”بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی مکرم پر، اے ایمان والو! تم بھی آپ (ﷺ) پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب ومحبت سے) سلام عرض کیا کرو“

لیے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی ان کے بعد پیغمبر ہونے یا ان کے ساتھ مشابہت یا نبوت کے تسلسل کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ مسیلمہ کذاب ہے یا مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ وہ اللہ کا پیغمبر نہیں ہوسکتا بلکہ وہ کافر و مرتد ہے اور پاکستان کے قانون کے تحت مستوجب سزا ہے۔

مسلمانوں کو حضور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ حوالہ سورہ احزاب آیت نمبر 56 جو یوں ہے۔

”بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی مکرم پر، اے ایمان والو! تم بھی آپ (ﷺ) پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب ومحبت سے) سلام عرض کیا کرو“

ہے اور پھر اگر کوئی شخص اسلام کے بارے میں اپنے علم کے بل بوتے پر اللہ رب العزت اور حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کر کے پٹڑی سے اتر جاتا ہے اور اپنے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہوگا کہ اللہ رب العزت اس شخص کیلئے اپنی رحمتیں نازل فرمائے؟ یقیناً نہیں۔ سورہ احزاب کی منشا کے مطابق درود شریف صرف حضور نبی کریم ﷺ ہی کیلئے مخصوص ہے اور منطقی استدلال یہ واضح کرنے کیلئے کافی ہے کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے بعد کسی بھی صورت میں کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی طرح کوئی پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ اللہ رب العزت نے ہمارے پیغمبر کو جو اعلیٰ ترین اعزاز مرحمت فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے ذکر کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کا ذکر لازم قرار دے دیا ہے اور تب کہیں جا کر کلمہ مکمل ہوتا ہے۔

ہونے کا دعویٰ کرتا ہو اور خود کو حضرت محمد ﷺ سے مقابلے کیلئے آگے لایا ہو تو کیا اللہ رب

صفحہ 314

العزت اور فرشتے ایسے شخص پر بھی اپنی رحمتیں اور درود بھیجیں گے؟ یہ ناممکن ہے۔ فی الحقیقت ایسا شخص مرتد اور کافر ہے۔

اللہ رب العزت کے وقار کو مجروح کر رہا ہو۔ اسکی آیات اور اس کے پیغمبر کو جھٹلا رہا ہو۔ ایسے شخص کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی اور اسے تعزیری قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔

سے تو محض (دل لگی) بات اور مذاق (ہنسی) کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے اگر کوئی شخص آج کل ایسی دستاویز پیش کرے اور دعویٰ کرے اور کہے کہ اسے یہ دستاویز حضور نبی کریمﷺ کی جانب سے بھیجی گئی ہے اور اس کی توثیق تمام اولیائے کرام نے کی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے خود کو بات (دل لگی) اور مذاق (ہنسی) میں ملوث کیا ہے اور ایسا شخص یقینی طور پر کافر و مرتد ہے۔ اس کا حوالہ سورہ توبہ کی آیات نمبر 65 اور 66 میں دیا گیا ہے۔

اپنے اہل خانہ کو اہل بیت اور اپنے پیروکاروں کو اصحاب رسول کہا۔ باقی الزامات سے قطع نظر کہ اس مقدمے سے لوگوں کے مذہبی جذبات وسیع پیمانے پر مجروح ہوئے یہ کوئی ایسا مقدمہ نہیں کہ خاندان کے لوگ جسمانی طور پر زخمی ہوئے یا ٹریفک کا کوئی حادثہ پیش آیا اور ان کے بیانات کا جائزہ لیا جاتا تاکہ ان کی ایک دوسرے سے مطابقت تلاش کی جاسکے۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں ایک گواہ کے بیان کا تجزیہ خود اس کے اپنے بیان کی روشنی میں ہونا ہے خواہ یہ بیان دوسروں سے مطابقت رکھتا ہو یا نہ۔ اس بنا پر کہ دو یا تین گواہ کراچی کے رہنے والے ہیں جبکہ باقی لاہور کے رہائشی ہیں اور مذہبی معاملے کی بنا پر وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے جس کی بنا پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نامی مذہبی جماعت نے یہ مسئلہ اٹھایا جس کی تاریخ اللہ رب العزت کے نام اور حضور نبی کریمﷺ کی محبت میں قربانیوں سے بھر پور ہے اور فی الحقیقت اس جماعت سے متعلق مذہبی علماء خواہ وہ وکیل ہوں یا کچھ اور' ان کی کوششوں اور جدوجہد پاکستان کی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 295 سی میں تبدیلی لائے جانے کا سبب بنی اور یہ مقدمہ اسی جماعت کے نمائندے محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ذریعے لایا گیا ہے۔ میرے خیال میں گواہ کے بیان کی تصدیق اور اس کے قابل بھروسہ ہونے کے بارے

صفحہ 315

میں اس کے حالات کی روشنی میں ہی جائزہ لینا ہوگا کیونکہ تعزیر وسزا تو صرف ایک سچے گواہ کی شہادت پر بھی دی جاسکتی ہے۔ قانون گواہوں کی تعداد کی بجائے شہادت کی کوالٹی کا متقاضی ہے۔ میں اس ضمن میں اپنی بات یوں واضح کروں گا کہ اگر کچھ ڈاکوؤں نے جنگل کے ایک کونے میں ایک شخص کو لوٹا ہو تو دوسرے کونے میں واردات کی تائیدی شہادت کہاں سے آئے گی؟ اس لیے حالات کے مطابق متاثرہ شخص کی بتائی ہوئی تفصیلات ہی کو یا تو قبول کرنا ہو گا یا انہیں مسترد کرنا ہوگا۔

32۔ یہاں اس مقدمے میں ایسا کوئی تنازع نہیں کہ ملزم یوسف علی کو ولی‘ ابدال‘ قیوم یا قطب قرار دیا جانا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کی جانب سے حوالے کے طور پر بتائی گئی بعض کتابیں مثلاً سیکرٹ آف سیکرٹس زیر غور لائی جاسکتی تھیں۔ دوسری صورت میں یوں بھی اس نے جن کتابوں کا حوالہ دیا ہے وہ موضوع سے متعلق نہیں اور نہ ہی وہ قرآن حکیم سے بالاتر ہیں جو قانون اور علم کا اعلیٰ ترین ذریعہ ہے۔

33۔ اب یہ پہلو قابل غور ہے کہ آیا سب سے پہلے استغاثے کا مقدمہ لیا جائے یا شہادتوں کی بنیاد پر پہلے ملزم کا موقف لیا جائے اور رسمی طور پر استغاثے کو اپنا مقدمہ ثابت کرنا ہے لیکن یہاں میں ملزم کی شخصیت کے جائزے کیلئے اس کے بیان کے جائزے کو ترجیح دوں گا۔

34۔ ملزم نے اپنے حلفی بیان میں کہا ہے کہ مذہب پر اس کا ایمان حضرت ابوبکر صدیقؓ‘ اہل بیتؓ اور اولیائے کرامؒ جیسا ہے اور اس کا مشن انسانی کمال (احسن تقویم) کے ذریعے عالمی امن ہے جسے ورلڈ اسمبلی فار امن اور احیائے اسلام کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے مزید کہا ہے کہ جب وہ عشق محمدﷺ کی بات کرتا ہے تو وہ صوفیائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا پسند کرے گا۔ جب اسے اسلام کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی وہ جماعت اسلامی کیمپ میں جانا پسند کرے گا۔ جب اسے نعتیں سننا ہوں گی، تو وہ بریلویوں کی محفل میں جانا پسند کرے گا۔ جب اسے اہل بیتؓ کے بارے میں اچھا وعظ سننا ہوگا تو وہ شیعوں کے پاس جانے کو ترجیح دے گا اور غیر معمولی کارکردگی کیلئے اسے دیو بند کا طالب علم بننا ہوگا۔ اگر اسے توحید کی بات کرنا ہے تو وہ اہل حدیث کے کیمپ میں جائے گا۔ بالفاظ دیگر تمام مسلمانوں کے پاس اچھا علم جزوی طور پر ہے۔ کسی کے پاس مکمل علم نہیں۔ مکمل علم حضرت محمدﷺ کے قدموں کے نیچے ہے۔ اس نے اپنے موقف کی تائید میں بہت سی سورتوں کا حوالہ دیا ہے۔ اگر

صفحہ 316

اس کے بیان کا جیسا کہ اوپر حوالہ دیا گیا ہے قرآن حکیم کے حوالوں اور کتاب قانون توہین رسالتﷺ مصنفہ محمد اسماعیل شجاع آبادی کی کتاب کے صفحہ 28 کے حوالوں کے باوجود گہرائی میں جائزہ لیا جائے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کی تمام سورتیں سچی ہیں لیکن اس کے بیان کا مقصد مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی یہ کہہ کر مذمت کرنا ہے کہ ہر مکتب فکر کے پاس جزوی علم ہے۔

فی الحقیقت ملزم کا مشن اس موقف کے ذریعے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا ہے کہ وہ ہر جگہ ہے۔ جبکہ حقیقی صورت یہ ہے کہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا مسلمان جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، اس پر ایمان رکھتا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ جب مسلمان کا یہ ایمان ہو تو مختلف مکاتب فکر کی مذمت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ ایسی بات کو یہ کہہ کر برا تسلیم کرتا ہے کہ کسی کے عیب اس کی غیر موجودگی میں بتانا غیبت اور چغلی ہے، اس لیے وہ کسی کی خامی نہیں بتائے گا۔ وہ بالواسطہ طور پر یہ کہہ کر مختلف مکاتب فکر کی مذمت کر رہا ہے کہ اگر اسے نعت سننا ہے تو وہ بریلویوں کی محفل میں بیٹھنا پسند کرے گا۔ ایسا ہی معاملہ اہل حدیث اور جماعت اسلامی والوں سے ہے۔ اس نے قرآن حکیم کے تمام تراجم پر نکتہ چینی کی ہے کہ قرآن حکیم کے تمام تراجم غلط اور ناقص ہیں لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے قرآن حکیم کا صحیح ترجمہ لکھا ہے۔ جب اس سے اس کے عربی سے متعلق علم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ وہ کسی حد تک عربی جانتا ہے۔ مزید آگے بڑھ کر اس نے بتایا کہ اس کی پیدائش سے قبل اس کے والدین کے مرشد اور حضور نبی کریمﷺ نے یہ خوشخبری دی تھی کہ اس کا حضور نبی کریم سے خوابوں اور مشاہدے کے ذریعے رابطہ ہے اور گو کہ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ تاہم اس کے مطابق یہ دوسروں کے لیے قابل اعتراض نہیں اور اس نے اس حقیقت کا ذکر اس بنا پر کیا کہ اس کی بات چیت میں تمام اصطلاحات وہی ہیں جو اسے حضور نبی کریمﷺ سے ملی ہیں۔ مثال کے طور پر عربی میں اہل بیت بالعموم استعمال ہوتا ہے اور اہل بیت رسول کا نام مخصوص ہے۔ اس لیے اہل بیت کا لفظ کسی کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہ اسے حضور نبی کریمﷺ کی مثال کے مطابق ہونا چاہیے اور اگر کوئی حضور نبی کریمﷺ جیسا ہے تو یہ بے حرمتی اور توہین آمیز نہیں اور اگر کوئی پیغمبر اسلامﷺ کے مطابق نہیں تو یہ توہین آمیز ہے اور اس بنا پر خوشخبری اور خوشی کے طور پر اس کا نام ”محمد“ تجویز کیا گیا لیکن بعد

صفحہ 317

میں بڑوں اور علماء کی رہنمائی پر کہ یہ نام پاکستانی معاشرے میں مشکلات کا سبب بنے گا، اسی لیے یوسف علی کے الفاظ نام محمد میں شامل کر دیئے گئے۔ اس کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے اپنی پیدائش خدا کے پیغمبر ﷺ جیسی بتانا چاہی۔

مزید برآں یہ ظاہر کرنے کیلئے ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ اس طرح بقول اس کے کہ اگر وہ حضرت محمد ﷺ ہے تو وہ گستاخ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کوئی حضور نبی کریم ﷺ جیسا ہونے کا دعویٰ کیونکر کر سکتا ہے؟ جبکہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کے ادنیٰ غلام ہیں۔ اس نے یوسف علی کا نام اپنے نام محمد میں اضافہ کر لیا۔ اپنے اس موقف کے بعد کہ پاکستان کی تہذیب و معاشرہ محمد کا مفرد نام قبول نہیں کرتا، اس کا یہ موقف تسلیم نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اگر ایسا نیک نیتی سے ہے اور کسی شخص کا نام محض محمد تجویز کیا جاتا ہے تو کوئی اس پر احتجاج نہیں کرے گا لیکن اگر محمد کا نام حضرت محمد ﷺ جیسا ظاہر کرنے کیلئے تجویز کیا گیا ہے تو یہ سادہ نام محمد انتہائی قابل اعتراض ہے۔ اس نے مزید کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ نبوت کی انتہا ہیں۔ اسی طرح ان کے پیروکار بھی انسانیت کی انتہا کو پہنچ سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ محبت کتنی ہی انتہا کو کیوں نہ پہنچ جائے۔

ہر کسی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح ایک حیوان، انسان نہیں بن سکتا، اسی طرح اب کوئی انسان اللہ کا پیغمبر نہیں بن سکتا اور اللہ کے تمام پیغمبر حضرت محمد ﷺ نہیں بن سکتے۔ جہاں تک بھیدوں کا تعلق ہے، یہ بات اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ محبوب خدا محب ہے اور حضور نبی کریم حبیب‘ اس لیے محب اور حبیب کے درمیان کوئی راز نہیں۔ یہ غلط ہے کہ اللہ اور اس کے پیغمبر کے درمیان کوئی راز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ملزم کا یہ بیان مذہبی نقطہ نظر سے قابل اعتراض ہے اس کے علاوہ وہ خود کسی دلیل یا ثبوت کے بغیر حضور نبی کریم ﷺ کا خلیفہ ہونے کا دعویٰ محض ایک دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل کی بنیاد پر کرتا ہے جو کمپیوٹرائزڈ/ ٹائپ شدہ ہے اور اسے اس مقدمے کی سماعت کے دوران محض چالیس روز قبل دی گئی۔

یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم عقل یا شعور نہیں رکھتا۔ فی الحقیقت اس کی عقل پرکھنے کیلئے اس کے بیان کا استغاثے کے مقدمے سے پہلے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت کیلئے کہ کس نے اور کب لفظ صحابی استعمال کیا۔ ملزم کے مطابق صحابی ایسا شخص ہے جسے حالت ایمان میں حضور نبی کریم ﷺ کی صحبت میسر آئی ہو۔

صفحہ 318

اگر وہ صحابی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس نے کہا کہ صحابی سے مراد محمد بن عبداللہ، رسول اللہﷺ کا ساتھی ہے تاہم پیشگی احتیاط کے ساتھ صحابی کا لفظ اہل بیت کے رہنماؤں کے ساتھیوں کیلئے بھی استعمال ہوا ہے، اسی طرح حضرت غوث الاعظمؒ نے بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ درست نہیں کہ ہم بالعموم اپنے دوستوں کو ساتھی نہیں کہتے اور صحابی کا مطلب کچھ اور ہے اور اصحاب رسول کا مطلب کچھ اور ہے۔ اس کی جانب سے دی گئی یہ وضاحت خود ذومعنی ہے اور فی الحقیقت اس نے اپنے دو ساتھیوں کو صحابی کہنے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی سچا مسلمان ہے تو اسے ایسی اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے جو دوسروں کو انتشار میں مبتلا کر دے۔ جرح کے دوران اس نے کہا کہ وہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا ”علی نامہ“ کتاب اسے سید مسعود رضا نے پیش کی تھی۔ اگر یہ کتاب ”علی نامہ“ پی 14 پڑھی جائے تو اس میں بہت سی چیزیں قابل اعتراض نظر آئیں گی۔ مثال کے طور پر نظم پی 9 ”انہی پر وار دے اپنی جوانی“ حصہ اے تا اے اور بی تا بی انتہائی قابل اعتراض ہیں۔

کیونکہ ان الفاظ پر جن سے یوسف علی کو مخاطب کیا گیا ہے، ص برائے صلی اللہ علیہ وسلم لکھا گیا ہے۔ فی الحقیقت وہ اس کتاب کے پیش کئے جانے کی تردید نہیں کر سکتا اور اس بارے میں اس کی جانب سے لاعلمی کا اظہار معنی خیز ہے کیونکہ وہ مذکورہ کتاب کے مصنف سید موسیٰ رضا کو یقینی اور اعترافی طور پر جانتا ہے۔ آخر میں اس نے اس ضمن میں کہا ہے کہ اس کے سامعین کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے اس کا ان الفاظ سے کوئی تعلق نہیں جس سے انہوں نے اسے مخاطب کیا ہے۔ اس کی جانب سے دی جانیوالی یہ وضاحت انتہائی قابل اعتراض ہے جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر کوئی اس کے نام پر صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ص ڈال دے تو وہ تسلیم اور قبول کرے گا۔ فی الحقیقت اسے کہنا چاہیے تھا کہ وہ ان افراد کو مسترد کرتا ہے اور ان کی مذمت کرتا ہے لیکن اس نے ابھی تک عدالت میں بھی اس بارے میں بیان دینے کے باوجود ایسا نہیں کہا۔ بہرحال اس نے بعد میں جرح کے دوران تسلیم کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ اس کی شاعری ”علی نامہ“ میں شامل کر دی گئی ہو۔ اس طرح اس نے بالواسطہ طور پر کتاب ”علی نامہ“ ایگزیبٹ پی 14 کے بارے میں علم ہونا تسلیم کر لیا ہے، اسی طرح اس نے کتاب بعنوان ”بانگ قلندری“ ایگزیبٹ پی 16 کے بارے میں بھی لاعلمی کا اظہار کیا اور اس کتاب پی 16 میں درج شاعری کے بارے میں اپنی لاعلمی ظاہر کی جو وہی ہے جو کتاب ”علی نامہ“ میں دی گئی ہے۔

صفحہ 319

فی الحقیقت یہ بات واضح کرتی ہے کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس کی پیدائش جڑانوالہ کے کس گاؤں میں ہوئی تو اس نے کہا کہ اسے اس گاؤں کا نام یاد نہیں۔ اس نے سرکاری طور پر درج اپنی تاریخ پیدائش یکم اگست 1949 بتائی۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پرائمری تعلیم جڑانوالہ کے ایک سکول سے شروع کی۔ میٹریکولیشن جڑانوالہ کے ایک سکول سے کیا اور یہ کہ وہ شوال میں پیدا ہوا اور اس نے اپنی تاریخ پیدائش کبھی 9 ربیع الاول نہیں بتائی اور حضور نبی کریم کی تاریخ پیدائش 12 ربیع الاول اور 9 ربیع الاول بتائی اور اس نے بتایا کہ اسے اس پر اختلاف ہے لیکن بعد میں کہا کہ دونوں درست یا غلط ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ اگر ویڈیو کیسٹ دیکھی جاتی ہے تو اس میں ملزم نے حضور نبی کریمﷺ کی تاریخ پیدائش 9 ربیع الاول بتائی ہے۔

فی الحقیقت اس نے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ آیا وہ محض راجپوت ہے یا کچھ اور۔ جرح کے دوران اس نے بتایا کہ عربی بھی آپشنل مضمون کی حیثیت سے شامل تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے عربی زبان کے بارے میں کوئی تفصیلی علم نہیں پھر وہ کیونکر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ماضی میں کئے گئے قرآن حکیم کے تراجم درست نہیں؟ فی الحقیقت یہ قرآن حکیم پر حملہ ہے اور اس کا مقصد عوام الناس کو ایک دوسرے زاویے اور طریقے کی جانب موڑنا ہے جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا تھا جو پہلے اسلام کا نہایت وفادار رہا لیکن بعد میں جب اس کے بعض پیروکار اس کے ساتھ ہو گئے تو وہ بدل گیا۔

ملزم نے اپنی شخصیت کو چھپانے کے لیے جرح میں مزید کہا کہ اس کی تعلیمی اسناد، پاسپورٹ اور ویزا وغیرہ گم ہو گئے ہیں کیونکہ اس کے گھر کو آگ لگائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں اس کا سامان ادھر ادھر بکھرا ہوا ہے، اس لیے اسے یاد نہیں کہ اس کی تعلیمی اسناد کہاں پڑی ہیں؟ آتشزدگی کی وضاحت کرتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ محض اپریل 1997ء میں کی جانیوالی ایک کوشش تھی، اسی لیے اس کے اہل خانہ مختلف مقامات پر منتقل ہو گئے۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے اس واقعہ کی پولیس کے پاس رپورٹ نہیں کرائی۔ یہاں بھی اس نے اپنی تعلیمی اہلیت کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ فیصلے کی فائل کے صفحہ 27 پر درج کی جانیوالی جرح سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اس نے مسعود رضا کی شادی میں 26-12-1992 کو شرکت کی تھی۔ جس نے کتاب ”علی نامہ“ لکھی اس لیے یہ بات حیرت

صفحہ 320

انگیز ہے کہ اسے کتاب کے بارے میں علم نہیں تھا تاہم بعد کے مرحلے پر اس نے کہا کہ اس نے نظم کا حصہ اے تا اے اور بی تا بی نظم پی 19 کا حصہ ہونے کے طور پر سنی ہے جو مسعود علی رضا کی لکھی ہوئی کتاب ”علی نامہ“ میں شامل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اپنے بیان کو کس طرح توڑا موڑا جاسکتا ہے۔ ”علی نامہ“ کے موضوع پر اس نے مزید آگے جا کر تسلیم کیا کہ نظم ایف تا ایف اور جی تا جی بظاہر قابل اعتراض ہیں اور اس نے شعر سنا کر اپنی حیثیت کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔

جان من بھی ہے
یوسف بھی ہے علی بھی ہے اور گل بدن بھی ہے
ہے جسم بھی اور جان بھی اور جان من بھی ہے
مرتے ہیں رشک سے بت کافر ادا تمام
حسن ازل کا یار میں وہ بانکپن بھی ہے
ہے سرو قد لالہ فام سرتاپا بہار
زہرہ جبیں کے جام میں رنگ چمن بھی ہے
اک نشہ بے نام وہ اک سکر کا عالم
جام سفال میں میرے ناب کہن بھی ہے
آزاد دو جہاں سہی مسعود آشنا
آغوش یار ہے جہاں اپنا وطن بھی ہے
اک علی نے سارا عالم یوسفستاں کردیا
ہستی موہوم کو بھی نذر جاناں کردیا
حسن خود آراء تھا اب تک طور پر جلوہ نما
آپ نے اے جان من اس کو بھی عریاں کردیا
دشت وحشت میں جو مرجھائے ہوئے کچھ پھول تھے
صفحہ 321
نقش پائے ناز نے ان کو بھی خندہ کردیا
کتنا سونا یہ قفس تھا ان کی یادوں میں مگر
پیکر خاکی کو بھی رشک گلستاں کردیا
اپنی بے رنگی پر ان کو ناز تھا لیکن رضا
ہم نے ہر ایک رنگ میں ان کو نمایاں کردیا

کی دکان لاہور میں تھی پھر اس کا باپ جڑانوالہ منتقل ہوگیا اور یہ کہ اس کا باپ جائیداد کا مالک تھا جس کی تفصیلات اسے معلوم نہیں لیکن اس کے باپ نے جائیداد تقسیم کردی تھی جب وہ بچہ تھا اور اس کے باپ نے ان کے لیے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی سوائے ایک مکان کے جو اس کی ایک بہن کو دے دیا گیا۔ اپنی ملازمت کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ ڈیفنس فورسز میں 1966 میں شامل ہوا اور اس میں 1977 تک رہا۔ مسلح افواج میں اس کا آخری عہدہ کیپٹن کا تھا، اس لیے اس کی آمدنی کا ذریعہ کیپٹن کے عہدے کی تنخواہ تھی اور آمدنی کا دوسرا ذریعہ اس کی بیوی کو وراثت میں ملنے والی جائیداد تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نے فوج سے استعفیٰ دیا، اس کے پاس کوئی بڑی رقم نہیں تھی جس سے وہ کسی قسم کا کاروبار کرتا لیکن اس کے اپنے حلفی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے مدینہ منورہ میں کپڑے کے کاروبار میں 24 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ ڈیفنس لاہور میں اپنے مکان نمبر 218/Q میں اپنی رہائش کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ اس کی اور نہ اس کی بیوی کی ملکیت ہے لیکن وہ وہاں رہائش پذیر رہا۔ سروس ریکارڈ میں درج اپنے نام کے بارے میں اس نے بتایا کہ وہ یوسف علی ندیم ہے اور مکان 218/Q واقع ڈیفنس لاہور کا نام جنت طیبہ ہے اور بعد میں اس نے تسلیم کیا کہ اس مکان کی مالکہ اس کی بیوی تھی۔ اس کے بیان کے اس حصے سے دو باتیں واضح ہیں۔ پہلی یہ کہ اس نے اپنے نام یوسف علی سے محمد کا نام نکال دیا اور اپنے نام میں ندیم کا اضافہ کرکے یوسف علی ندیم بن گیا۔

فی الحقیقت اسے اپنے تخلص قلمی نام ندیم سے پیار تھا جو ایک فلمی اداکار کا نام ہے۔ غالباً یہ عمل اس سے جوانی کی عمر میں سرزد ہوا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پہلے اس نے مکان کا

صفحہ 322

مالک ہونے کی تردید کی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے لیکن بعد میں کہا کہ مکان اس کی بیوی کی ملکیت تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم متضاد باتیں کرنے کا عادی ہے۔

36۔ اب استغاثے کے گواہ اور اس کے درمیان روپے کی گردش کا معاملہ ہے۔ اس طریقے سے جب وہ کہتا ہے کہ جہاں تک ڈرافٹ مارک اے مالیتی تین لاکھ روپے کا تعلق ہے، یہ رقم اس کی تھی لیکن اس کا ڈرافٹ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے بھیجا۔ اسی طرح ڈرافٹ مارک بی مالیتی پانچ لاکھ روپے رقم اس کی تھی، تاہم ڈرافٹ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے کراچی سے لاہور بھیجا۔ جہاں تک ڈرافٹ مارک سی کا تعلق ہے، اس نے مزید کہا کہ یہ رقم میری تھی لیکن یہ گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے کراچی سے لاہور بھیجا اور ڈرافٹ مارک بی کے معاملے میں اس نے کہا کہ یہ رقم اس کی تھی لیکن اسے گواہ استغاثہ محمد علی ابوبکر نے بھیجا۔ اس کے بیان کا یہ حصہ بھی اس بنا پر معنی خیز ہے کہ مخصوص رقم مخصوص شخص کی جانب سے کراچی سے لاہور بھجوائی جاتی رہی ہے لیکن ملزم یوسف علی کا کسی شہادت کے بغیر دعویٰ ہے کہ یہ رقم اس کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے۔

37۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ ایئر کنڈیشنر جو بذریعہ مارک ایف خریدا گیا، اسے بطور تحفہ دیا گیا اور پھر رضا کارانہ طور پر کہتا ہے کہ ایئر کنڈیشنر اس کی اپنی رقم سے خریدا گیا تھا جو اس نے محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ کو بطور تحفہ دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس فقرے سے اس کا کیا مطلب ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ محمد علی ابوبکر گواہ استغاثہ نے ایئر کنڈیشنر خرید کر اسے دیا اور اس نے اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی۔

38۔ اپنے آپ کو بزرگ، مقدس اور نہایت پاکیزہ ثابت کرنے کے لیے اس نے کہا کہ چونکہ مرشد نے اسے مدینہ منورہ بلایا تھا، اس لیے اس نے ملازمت سے استعفیٰ دیدیا لیکن اسی لمحے وہ تسلیم کرتا ہے کہ اس نے اس حقیقت کا اپنے استعفیٰ کی درخواست میں ذکر نہیں کیا۔ ریکارڈ پر یہ بات ہمیں اس بات پر یقین کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس میں حقائق کو چھپانے کا رجحان ہے۔

39۔ اپنے لیے لفظ فقیر کے استعمال کے متعلق وہ کہتا ہے کہ اس نے اپنے لیے سوائے ایک دفعہ کے کبھی لفظ فقیر استعمال نہیں کیا لیکن بعد میں اس نے موقف کی تصدیق کی کہ اس نے کبھی خود کو کسی کا فقیر نہیں کہا اور نہ ہی ایسا لکھا لیکن اسی لمحے اس نے اعتراف کیا کہ اس نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں خود کو فقیر اور مسکین کہا ہے۔ اس نے رضا کارانہ طور پر عدالت

صفحہ 323

کے روبرو کہا کہ یہ فقیر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔ اس نے تسلیم کیا کہ اس نے عدالت کو لکھے گئے خط ایگزیبٹ ڈی ایم میں اپنے لیے لفظ فقیر کئی مرتبہ لکھا ہے اور رضا کارانہ طور پر کہا کہ بہت سے لوگ جو اپنے نام کے ساتھ فقیر لکھتے ہیں لیکن یہ لقب قابل اعتراض ہے۔ جب یہ بامعنی بن جائے اور اسے عادی مجرموں کے سے انداز میں لکھا جائے۔ یہاں دستاویز ایگزیبٹ ڈی وائی وائی کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جس کے مطابق وہ اپنے نام کے ساتھ ہز ایکسی لینسی کے الفاظ لکھ کر خوش ہوتا ہے جو انگریزی میں تازہ ترین ٹائپنگ مشین کے ذریعے لکھا گیا ہے یا انگریزی میں یہ ٹائپنگ کمپیوٹرائزڈ ہے جبکہ اس کی تصویر مسٹر جسٹس ریٹائرڈ محمد افضل چیمہ کے ساتھ اس وقت کی ہے جب وہ سپریم کورٹ کے جج تھے۔ جب کمپیوٹر یا جدید ترین مشین نہیں تھی۔ اس سے قطع نظر بھی دستاویز ڈی وائی وائی معنی خیز ہے اور خود ساختہ معلوم ہوتی ہے۔ مزید برآں اپنے لیے خود گواہ کے طور پر پیش ہو کر اس نے اپنے لیے بار بار ہم اور ہمارے کے الفاظ استعمال کئے۔ ایسا شخص کیونکر فقیر کہلا سکتا ہے۔

کے اظہار کیلئے ہے، اس نے اس دستاویز میں کہا ہے کہ یہ پیغمبر اسلامﷺ کی جانب سے اسے عطا کردہ روحانی پہلو کا سرٹیفکیٹ ہے جیسے حضور نبی کریمﷺ اس نوعیت کے روحانی سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ اس نے تسلیم کیا کہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل میں فقرہ خلیفہ اعظم حضور سیدنا محمدﷺ کے خلیفہ اعظم حضرت امام الشیخ ابواے ایچ محمد یوسف علی اسے حضور نبی کریم نے عطا کیا ہے۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ سورہ حج کی آیت 78 کے مطابق ہر شخص کو اپنی تمام تر کوشش کے ساتھ خود کو حضور نبی کریمﷺ کا خلیفہ ثابت کرنا چاہیے اور یہ حضورﷺ کی توثیق کے تابع ہے۔ اس نے مزید کہا کہ حصہ ایم تا ایم ایگزیبٹ ڈی ایل کا جزو لاینفک ہے اور اس نے یہ شہادت حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ نے عطا کی ہے اور یہ شہادت دوسرے اولیائے کرام نے بھی دی ہے۔ تمام اولیائے کرام زندہ ہیں اور یہ شہادت انہوں نے دی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ نہیں کہہ سکتا یہ شہادت اولیائے کرام نے حضرت محمدﷺ کے حکم پر دی ہے یا نہیں۔ حصہ این تا این الحمد اللہ درست ہے اور یہ اس کے لیے ہے۔ مزید یہ کہ وہ انگریزی‘ اردو‘ پنجابی‘ تھوڑی عربی‘ تھوڑی فارسی اور محبت کی زبان جانتا ہے۔ اس نے جرح کے دوران مزید بتایا کہ اسے حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے ذریعے معلوم ہوا کہ تمام اولیائے کرام نے اس

صفحہ 324

سٹیفکیٹ ڈی ایل کی توثیق کی ہے۔ اس نے کہا کہ اسے یہ سٹیفکیٹ براہ راست پیغمبر اسلامﷺ سے ملا لیکن بالواسطہ طور پر اس کی توثیق اولیائے کرام نے حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ سے کی۔ رضا کارانہ طور پر کہا کہ یہ سٹیفکیٹ روحانی ہے لیکن وہ اس کی تفصیلات نہیں بتا سکتا کہ آیا یہ اسے دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل ٹائپ شدہ یا غیر ٹائپ شدہ حالت میں ملی۔ اس نے تسلیم کیا کہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل ایک کمپیوٹرائزڈ اور ٹائپ شدہ دستاویز ہے اور اس نے یہ دستاویز ایگزیبٹ ڈی ایل اسلام آباد سے کمپیوٹرائزڈ ٹائپ کرایا۔

اس نے کہا وہ نہیں بتا سکتا کہ آیا اسے حضور نبی کریمﷺ سے عربی یا انگریزی میں روحانی پیغامات ملتے رہے ہیں۔ یہ اسکا ذاتی معاملہ ہے کہ اسے اولیائے کرام نے کس زبان میں اپنا پیغام دیا، وہ زبان نہیں بتا سکتا۔ حتیٰ کہ توثیق شدہ حصے ایم تا ایم اور دستاویز ڈی ایل کی تفصیل جہاں تک زبان کا تعلق ہے نہیں بتا سکتا۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ دستاویز ڈی ایل کے جزو این تا این والے حصے کا پیغام اسے کس زبان میں موصول ہوا تاہم اس نے تسلیم کیا کہ دستاویز ڈی ایل کے بالائی حصہ جے تا جے میں درج پیغام اس کا اور اس کی کمیٹی کا ہے اور وہ اس کا ذمہ دار ہے ۔ جب اس سے لفظ Amplitude کے معنی پوچھے گئے تو اس نے کہا کہ لفظ Amplitude کے معنی Amplitude ہیں اور لفظ Resurrect کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا انگریزی میں Resurrect ہے۔ تاہم اس نے اس بات کی تردید کی کہ اس نے یہ دستاویز خود تیار کی ہے تاکہ لوگوں سے روپیہ بٹور سکے۔ اب یہ بات قابل غور ہے کہ یہ دستاویز کیا ہے؟ اس کے قابل ادخال ہونے سے قطع نظر کیونکہ یہ دستاویز خود اس نے پیش کی ہے، اس نے اس کے قابل ادخال ہونے کا یقین کرتے ہوئے کس بنا پر یہ دستاویز پیش کی ہے؟ میرے ذہن میں سوال یہ ہے کہ مذکورہ بیان کی روشنی میں شہادت کے حصے کی اس دستاویز کے بارے میں کیا تائید ہے اور اس دستاویز کی کیا حیثیت ہے۔ ریکارڈ پر اس بات کا یقین کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ یہ دستاویز درست ہے۔

یہ بات نہایت حیرت انگیز ہے کہ نام اے ایچ محمد یوسف علی میں کئی جگہ لفظ ”ڈ“ پر فلوئڈ استعمال کیا گیا ہے اور اگر اس دستاویز کو بڑا کر کے دکھائے جانیوالے آئینے سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر مرحلے پر جہاں محمد یوسف علی کے نام سے پہلے لفظ ”ڈ“ استعمال ہوا تھا اسے فلوئڈ سے چھپا دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ نہایت حیران کن ہے کہ حضور نبی

صفحہ 325

کریم ﷺ کا پیغام اسے دور جدید کے فلوئڈ کے ساتھ موصول ہوا۔ فی الحقیقت یہ دستاویز قرآن حکیم کی سورہ توبہ کی آیت 65 اور 66 کی رو کے حوالے سے مضحکہ خیز ہے جس کا ترجمہ یوں ہے۔

آیت 65 ”اور اگر آپ (ﷺ) دریافت فرمائیں ان سے تو کہیں گے بس ہم تو صرف دل لگی اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ آپ (ﷺ) فرمائیے (گستاخو!) کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم مذاق کیا کرتے تھے؟“

آیت 66 ”(اب) بہانے مت بناؤ۔ تم کافر ہو چکے (اظہار) ایمان کے بعد اگر ہم معاف بھی کر دیں ایک گروہ کو تم میں سے تو عذاب دیں گے دوسرے گروہ کو کیونکہ وہی (اصلی) مجرم تھے۔“

42۔ اس کے حلفی بیان میں بہت سے چیزیں ہیں۔ مثلاً امام وقت، ورلڈ اسمبلی، مرد کامل، سفیر، سر اسرار، اس کے کالم تعمیر ملت روزنامہ پاکستان میں چھپتے رہے۔ قرض حسنہ بالفاظ دیگر لوگوں سے رقمیں بٹورنے کا جواز لیکن میں ان سب موضوعات کو زیرغور لائے بغیر چھوڑتا ہوں کیونکہ اس کو من وعن بیان میں پہلے ہی دہرایا جاچکا ہے اور اگر اس فیصلے کا کوئی قاری ملزم یوسف کے بارے میں مزید کچھ جاننا چاہے تو اسے اس کا حلفاً عدالت کے روبرو دیا جانیوالا بیان پورا پڑھنا چاہیے۔

43۔ اب اگر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان کا جائزہ لیا جائے جیسا کہ اوپر دیا جاچکا ہے تو ایسا نظر آئے گا کہ ملزم نے اپنے وکیل کے مشورے سے بعض نہایت اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ مثلاً جب اس سے آڈیو کیسٹ پی ون اور ویڈیو کیسٹ پی ٹو کے بارے میں جس میں اس کی اپنی تقریریں ہیں، پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کے وکیل نے اسے اس سوال کا جواب دینے سے منع کیا ہے۔ اس نوعیت کی اور بہت سی مثالیں ہیں جہاں ملزم یوسف نے ٹھوس سوالوں کا جواب دینے سے انکار کیا۔

یہاں اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ اس بارے میں قانونی پوزیشن کیا ہے؟ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کا تقاضا ہے کہ اس کے خلاف شہادت میں آنیوالے واقعات کے بارے میں کسی پیشگی اطلاع یا تنبیہہ کے بغیر پوچھا جاتا ہے اور اس سے عدالت کی جانب سے سوالات کر کے اپنی پوزیشن واضح کرنے کو کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کے خلاف جو شہادت آئی ہے، وہ اسے اس کے سامنے بتادی جاتی ہے۔ اب اگر ملزم کسی سوال کا جواب نہیں دیتا تو یقیناً اس کا یہ مطلب ہوگا کہ استغاثہ اس کے خلاف شہادت کا جو حصہ ریکارڈ

صفحہ 326

پر لایا ہے، وہ اسے تسلیم کرتا ہے۔ یہاں مجھے اس اصول کا ذکر بھی کرنا چاہیے کہ اگر ملزم کا دفعہ 342 ضابطہ فوجداری کے تحت بیان زیر غور لانا ہے تو اسے یا تو مجموعی طور پر قبول کرنا ہوگا یا مجموعی طور پر اسے مسترد کرنا ہوگا لیکن اس کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان فوجداری مقدمات کی سماعت میں ایک نئی مثال ہے کہ ملزم نے اپنے وکیل سے مشورے کے بعد شہادت کے نہایت اہم حصوں کے بارے میں جوابات نہیں دیئے۔ اس لیے شہادت کے ان حصوں کا ملزم کی جانب سے تسلیم شدہ ہونا متصور ہوگا اور یہاں میں لازمی طور پر حوالہ دوں گا کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ شہادت کے طور پر پیش کئے جانے کی اجازت ہے۔ ملزم یوسف کے بیان کا یہ تجزیہ اس بات پر یقین کرنے پر مجبور کرتا ہے وہ فنکار اور اداکار ہے۔

44۔ یہاں ملزم کے طرز عمل کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے جیسا کہ عدالت نے محسوس کیا۔ ایک مرحلے پر جب استغاثے کے گواہوں پر فاضل وکیل کی جانب سے جرح جاری تھی تو ملزم یوسف نے مداخلت کر کے اپنے وکیل کو اس انداز میں قرآن حکیم دینے کی کوشش کی جیسے وہ قرآن حکیم کو پھینک رہا ہو جبکہ وکیل صفائی کا رویہ ایک مرحلے پر ایسا تھا کہ ایک دوسرے گواہ استغاثہ پر جرح کے دوران اس نے ان الفاظ میں اپنا سوال کیا۔ ”اگر قرآن کو زمین پر پٹخ دیا جائے“

45۔ فاضل وکیل صفائی کی جانب سے یہ سوال اس کی اپنی اصطلاح نہیں تھی لیکن اگر آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں دیکھی جائیں تو نظر آئیگا کہ ملزم یوسف نے جو اپنے ہاتھ میں قرآن لیے ہوئے تھا، ایسا ہی عمل دہرایا جس کا مطلب یہی ہے کہ ملزم یوسف کا رویہ اس بات پر یقین کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اسے قرآن حکیم کا کوئی احترام نہیں اور اس کی جانب سے قرآن کا احترام کرنے یا بزرگ یا مقدس ہونے اور عالم دین ہونا محض ایک ڈھونگ ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ تمام مواد بنیادی طور پر ملزم کے گواہ کی حیثیت سے ریکارڈ شدہ بیان سے لیا گیا ہے اس لیے یہ شہادت میں جائز ہے اور اس سے مطلوبہ نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

46۔ اب استغاثے کے موقف کا فاضل وکیل صفائی کی جانب سے پیش کئے جانیوالے دلائل کی روشنی میں تجزیہ کیا جاتا ہے۔

47۔ سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا جانا چاہیے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے اثرات کیا ہیں؟ مقدمے کا اندراج، شکایت ایگزیبٹ پی سی مورخہ 1997-7-26

صفحہ 327

کی بنیاد پر ہوا جو سیکرٹری جنرل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور شاخ کے محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاہور سے کی تھی۔ ایس ایس پی نے ڈی ایس پی لیگل کو اپنے حکم مورخہ 1997-03-28 کو جائزہ لے کر فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کو کہا جبکہ رسمی ایف آئی آر ایگزیبٹ پی سی ون 1997-03-29 کو درج ہوئی۔ اگر درخواست پی سی کے مندرجات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ اس مقدمے کا مستغیث چشم دید گواہ نہیں لیکن اس کے پاس ملزم یوسف کی تقریروں پر مشتمل کیسٹوں، ملزم کی ڈائری اور 28-02-1997 کے چوک یتیم خانہ لاہور پر واقع مسجد بیت الرضا میں ملزم کے جمعہ کے خطبے کے مخصوص واقعے کے حوالے سے کچھ شہادت موجود ہے جبکہ استغاثے کے گواہان جو بعد میں اکٹھے کئے گئے، نے اپنے ساتھ ہونیوالے دھوکے کے واقعات کی کہانیاں بیان کیں جو زیادہ تر کراچی میں عبدالواحد نامی ایک شخص کے گھر اور لاہور میں ہوئے تھے۔ یقیناً دھوکہ دیئے جانے کے واقعات مختلف تاریخوں کے ہیں۔ مزید یہ کہ درخواست ایگزیبٹ پی سی دیئے جانے کے بعد رسمی ایف آئی آر 1997-03-29 کو درج کی گئی، اس لیے یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ ایسے حساس مقدمے جس میں ملزم کے خلاف الزام تھا کہ اس نے پیغمبر ہونے یا حضرت محمدﷺ جیسا ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاخیر کیوں ہوئی؟ اگر استغاثے کی شہادت کا احتیاط سے جائزہ لیا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ ہر گواہ کو وقفے وقفے سے دھوکہ دیئے جانے کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سب کچھ اسلامی عقیدے کے مطابق کئے جانے والے وعظ میں ہوتا رہا اور یا پھر جب حضرت محمدﷺ کی زیارت کرانے کی پیشکش کی گئی۔ میرے خیال میں ہر مسلمان کو اس چھتری (Umbrella) سے دھوکہ دیا جاسکتا ہے تاہم ایک مرحلہ آتا ہے جب عقل غالب آتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو متاثرہ شخص لٹ چکا ہوتا ہے، اس لیے ایسے حساس مقدمات میں تاخیر ہونا لازم ہے کیونکہ ایسا مقدمہ فوری طور پر درج نہیں ہوتا۔ ایس ایس پی کو درخواست دیئے جانے کے بعد یہ درخواست ڈی ایس پی لیگل کے پاس اس کی رائے معلوم کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہے اور اس کے بعد مقدمہ درج ہوتا ہے۔ یوں بھی شہادت اکٹھی کرنا ہوتی ہے اور ایسے حالات میں بہترین چیز فریقین کی شہادتوں کا آزادانہ طور پر اندازہ لگانا ہوتا ہے۔

صفحہ 328

جانے والے اعتراضات کی روشنی میں شہادت کا کون سا حصہ قابل ادخال نہیں۔ اس نے اعتراض کیا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ قانون شہادت کے آرٹیکل 164 کی دفعات کی روشنی میں قابل ادخال نہیں۔ دونوں فریقین نے اپنے موقف کی تائید میں اس قانونی تنازع سے متعلق مقدمات کا حوالہ دیا ہے۔ جہاں تک قانون شہادت کے آرٹیکل 164 کا تعلق ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ اگر عدالت مناسب سمجھے تو کسی بھی ایسی شہادت کو پیش کئے جانے کی اجازت دے سکتی ہے جو جدید تکنیکی یا آلات کے ذریعے دستیاب ہوئی ہو۔ فاضل وکیل صفائی کی جانب سے اٹھایا جانیوالا اعتراض یہ تھا کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ بنانیوالے پیش نہیں کئے گئے۔ مزید برآں پولیس کی جانب سے تیار کئے جانے والے ٹرانسکرپٹ (املاء) کے ساتھ اصلیت منسلک نہیں کی جاسکتی اور یہ کہ آڈیو ویڈیو کیسٹوں میں تبدیلی یا ردو بدل ہوا ہے۔ اس ضمن میں جس بات کا ذکر کیا جانا چاہیے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں ملزم کو مہیا کی گئیں حتی کہ اس کے وکیل نے بھی زیر دستخطی کے چیمبر میں ویڈیو کیسٹ دیکھے اور اس کے منہ سے از خود یہ الفاظ نکلے کہ ملزم مکمل طور پر اس کا ذمہ دار ہے لیکن بعد میں وہ اس ضمن میں پریشان تھا اور اس نے آڈیو و ویڈیو کیسٹوں میں ملزم کی آواز اور تصویروں کی تردید کی۔ اس وقت بھی جب ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان قلمبند کیا جارہا تھا، فاضل وکیل صفائی نے ملزم کو سوال کا جواب نہ دینے کی ہدایت کی اور ایک مرحلے پر جب ملزم کا بیان قلمبند کیا جارہا تھا تو اس نے خود غالباً غیر ملکیوں کے ساتھ اپنے انٹرویو پر مشتمل ایک ویڈیو کیسٹ عدالت میں پیش کردیا۔ اب اگر ملزم کی جانب سے مہیا کئے جانے والے آڈیو کیسٹ مارک جے اور ویڈیو کیسٹ پی 2 اور پی 5 اور آڈیو کیسٹ پی 1 کو دیکھا جائے اور سنا جائے تو یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں ملزم کی آواز وہی ہے اور فوٹو بھی ملزم یوسف ہی کی ہے جس کا اوپر ذکر ہے۔

فی الحقیقت ملزم یوسف نے خود ویڈیو کیسٹ پیش کر کے عدالت کو استغاثے کی طرف سے پیش کئے جانے والے کیسٹوں سے موازنے کا موقع مہیا کر دیا ہے جس کی کہ عدالت خود مجاز ہے۔ میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں تبدیلی اور ردو بدل کا امکان ہو سکتا ہے کیونکہ بعض ایسے ماہر افراد موجود ہیں جو آسانی سے دوسرے شخص کی آواز بنا سکتے ہیں لیکن یہاں فوری موازنے سے ظاہر ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں بولا جانیوالا ایک ایک لفظ جیسا کہ مذکور ہے ملزم یوسف کا ہے اور اس کی فوٹو گرافی

صفحہ 329

کے بارے میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ اگر گواہ استغاثہ پی ڈبلیو 3 پر جرح کا جائزہ لیا جائے تو ایسا نظر آتا ہے کہ اسے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں ردوبدل اور تبدیلی کی جانب متوجہ کیا گیا تھا لیکن فاضل وکیل صفائی کسی ردوبدل یا کسی مخصوص تبدیلی کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے جس کی جانب گواہ استغاثہ کی توجہ دلائی جاتی۔ اگر اس نوع کی عمومی تجاویز دینا تھی تو فاضل وکیل صفائی کو چاہیے تھا کہ وہ ان حصوں کی نشاندہی کرتا جہاں آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ ملزم کو بھی آڈیو اور ویڈیو کیسٹ مہیا کئے گئے لیکن اس کے باوجود فاضل وکیل صفائی تبدیلی کی نوعیت کی نشاندہی میں ناکام رہے، اس لیے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ اور ملزم کی جانب سے پیش کیا جانیوالا آڈیو کیسٹ شہادت میں قابل ادخال و پذیرائی تصور کیا جائے گا۔

49۔ یہاں اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ مذکورہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کی حیثیت اور اہمیت کیا ہے۔ عدالت نے یہ دستاویز دیکھی ہیں اور فریقین کے وکلا نے بھی بشمول مستغیث گواہ استغاثہ 3 اور تفتیشی افسروں نے بھی انہیں دیکھا ہے، اگر ان آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں اور ان کے ٹرانسکرپٹ کو دیکھا اور سنا جائے تو یہ بات نظر آئے گی کہ ملزم یوسف نے اپنی تقریر میں کئی ایسے الفاظ کہے کہ ان سے واضح طور پر حضور نبی کریمﷺ، اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کی بے حرمتی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ملزم نے قرآن حکیم کے بارے میں بھی توہین آمیز بات کی۔ مثال کے طور پر آڈیو کیسٹ پی 1 کا ٹرانسکرپٹ ایگزیبٹ پی 10 یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے عبدالواحد اور زید زمان کے صحابی رسولؐ ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے سامعین میں کم از کم سو افراد کے اصحاب رسول ہونے کا بھی اعلان کیا۔ مسجد بیت الرضا کا غار حرا سے موازنہ کیا۔ قرآن حکیم کے تراجم ناقص اور غلط ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ جب مشابہت محمدﷺ سے ہو تو اسے رسول کہا جائے گا اور یہ کہ اگر تم رسول اللہ کو قائل کر لو تو اللہ رب العزت بھی قائل ہو جائے گا۔ اگر مشابہت تمہارے ساتھ ہو تو تمہیں صرف اس کو قائل کرنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو حضرت محمدؐ کی حیثیت سے اور اپنے سامعین کو صحابی رسولؐ کی حیثیت سے ظاہر کیا۔ اس ٹرانسکرپٹ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اس نے اپنی بیٹی فاطمہ کا ذو معنی الفاظ میں ذکر کیا۔ اس نے محمد علی ابو بکر کے صحابی ہونے کا اعلان کیا اور اڑھائی سال کے سلیمان نامی ایک بچے کے بھی صحابی ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس نے کھلی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ یہ بچہ مبینہ طور پر صحابی رسول عبدالواحد کا پوتا ہے۔ اس نے مزید اعلان کیا

صفحہ 330

کہ 9 ربیع الاول حضور نبی کریم ﷺ کی تاریخ پیدائش ہے 12 ربیع الاول نہیں بلکہ یہ تاریخ 9 ربیع الاول ہے جبکہ اس حقیقت سے متعلق اس کے بیان حلفی میں ٹھہراؤ نہیں اور اگر ٹرانسکرپٹ پی 10 اور پی 11 کو ملحوظ رکھا جائے اور ویڈیو فلمیں دیکھی جائیں تو نظر آئیگا کہ اس نے ایسے الفاظ کہے جو پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی مختلف دفعات 295 سی‘ 295 اے، 298 اور 298 اے کی خلاف ورزی ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے دفعہ 295 سی کی بھی مضحکہ خیز انداز میں یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اگر توہین رسالت کا مقدمہ درج کرنا مقصود ہے تو اسے حضور نبی کریم ﷺ کی اجازت سے درج ہونا چاہیے۔ ایک مرحلے پر اس نے کہا کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کا آئینہ ہے جبکہ عکاس کوئی اور ہے۔ یہ حقائق خود ملزم کی جانب سے مہیا کئے جانیوالے ویڈیو کیسٹ میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں اور ایک مرحلے پر تو وہ یہاں تک چلا گیا کہ اس نے یہ تک کہہ دیا کہ قرآن حکیم کی بعض آیات شرانگیز ہیں اور یہ حقیقت ویڈیو کیسٹ پی 2 کے ٹرانسکرپٹ پی 11 میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ اس طرح یہ دستاویزات واضح طور پر ملزم یوسف کی جانب سے مذکورہ جرم کا ارتکاب ثابت کرتی ہیں۔

50۔ اب ریکارڈ پر موجود باقی زبانی شہادت مع متعلقہ دستاویزات اور فاضل وکیل کے اعتراضات کو اگر کوئی ہیں، زیر بحث لانے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

51۔ ڈاکٹر محمد اسلم گواہ استغاثہ 1 نے ملزم کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے مزید کہا کہ 1995 میں ملزم یوسف نے اس کے ساتھ عبدالواحد کے گھر ملاقات کے دوران نماز مغرب کے بعد اس سے پوچھا کہ وہ حقیقت منکشف کئے جانے پر کیا قربانی دے سکتا ہے؟ وہ متذبذب تھا۔ ملزم یوسف نے اسے دو لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے کہا لیکن اس نے جواب دیا کہ وہ اس رقم کا انتظام نہیں کر سکتا اور پھر 1995 کے آخر میں ملزم یوسف نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق عمل کرے جس کے بعد اس نے انتظام کرنے کا وعدہ کیا اور دسمبر 1995 میں اس نے ملزم یوسف کو بتایا کہ اس نے دو لاکھ روپے کا انتظام کر لیا ہے جس پر ملزم اس کے گھر آیا اور اس نے مذکورہ رقم ادا کردی۔ آئندہ جمعہ ملزم یوسف نے اپنے مریدوں کے ہمراہ عسکری اپارٹمنٹ میں واقع مسجد میں نماز جمعہ میں شرکت کی اور نماز جمعہ کے بعد ملزم یوسف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کے گھر آیا جہاں چند لمحے بعد ملزم یوسف نے انکشاف حقیقت کے بارے میں کہا اور پھر ملزم یوسف نے کھڑے

صفحہ 331

ہو کر ”انا محمد“ کہا جس پر وہ ششدر رہ گیا کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے محمد ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا جو مدینہ منورہ میں ہیں۔ اس نے یہ تاثر دیا جیسے وہ اپنے لیے محمد ہونے کا دعویٰ کر رہا ہو۔ ابھی وہ اسی مخمصے میں تھا کہ ملزم یوسف کے ساتھیوں نے اس کے گلے میں ہار ڈال دیئے۔ ملاقات کے بعد ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چلا گیا اس کی روانگی کے بعد اس نے ملزم یوسف سے ملاقاتیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور پھر چند ماہ بعد جب وہ عبدالواحد کے گھر کموڈور ریٹائرڈ یوسف صدیقی کے ہمراہ موجود تھا کموڈور یوسف صدیقی نے ملزم یوسف سے ایک سوال پوچھا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپ مختلف اوقات میں پیغمبر کی حیثیت سے ظاہر ہوتے رہے‘ آپ چودہ سو برس قبل بھی ظاہر ہوئے اور اس کے بعد آپ بزرگوں اور اولیائے کرام کی حیثیت سے آئے اور یہ کہ چودہ سو برس پہلے اور اب میں کیا فرق ہے؟ اور دونوں میں سے کون سا زمانہ باوقار اور پر عظمت ہے؟ اور اس کے جواب میں ملزم یوسف نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے کا زمانہ شاندار تھا لیکن اب شان و عظمت بے مثال ہے اور یہ کہ اس وقت ”ڈیوٹی“ تھی اور اب ”بیوٹی“ ہے۔

52۔ اس طرح یہ واضح ہے کہ ملزم یوسف نے اس گواہ کی موجودگی میں اپنے لیے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ کر کے حضور نبی کریم ﷺ سے مشابہہ بننے اور ہونے کی کوشش کی۔ وکیل صفائی نے اس پر مختلف پہلوؤں سے لمبی جرح کی جو گواہ کی تحریر کردہ ایک کتاب پر جا پہنچی لیکن اس سے ایسا نظر آتا ہے کہ جرح میں اس کے بیان کے اس حصے کے بارے میں کوئی مخصوص تجویز نہیں دی گئی جس کا مطلب ہے کہ اس گواہ کی جانب سے کہی ہوئی ہر بات درست تسلیم کر لی گئی ہے۔ ایک مرحلے پر یہ تک کہلوانے کی کوشش کی گئی کہ ملزم یوسف نے حضور نبی کریم ﷺ سے اپنی گہری محبت اور وابستگی کا اظہار کیا تھا لیکن گواہ نے اس بات کو رد کر دیا اور کہا کہ ملزم یوسف نے محمد عربی ﷺ کی بجائے کسی اور سے اپنی محبت ظاہر کی تھی۔ گواہ سے یہ بھی کہلوانے کی کوشش کی گئی کہ اس نے ذاتی دشمنی کی بنا پر بیان دیا ہے لیکن اس کو دشمنی کی نوعیت کی تجویز نہیں دی گئی اور اس مرحلے پر گواہ نے وضاحت کی کہ ملزم یوسف کرسی پر بیٹھا تھا‘ اس نے کرسی سے کھڑے ہو کر خود کو ”انا محمد“ کہا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں فاضل وکیل صفائی کو یہ تجویز دینی چاہیے تھی کہ ملزم یوسف علی نے اپنے ”انا محمد“ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس تجویز کی غیر موجودگی میں یہ بات طے ہے کہ ملزم یوسف نے گواہ کی موجودگی میں اپنے حضور نبی کریم ہونے کا دعویٰ کیا۔

صفحہ 332

اجلاس کے دوران ملزم یوسف نے کہا کہ حضور نبی کریمﷺ آج بھی انسانی شکل میں ہم میں موجود ہیں اور عبدالواحد کے گھر کسی کی جانب سے یہ سوال پوچھے جانے پر کہ ہمارے پیغمبرﷺ نے نہایت سادہ زندگی بسر کی‘ ملزم یوسف نے جواب دیا کہ چودہ سو برس قبل روایت پرانی تھی اور اب روایات جدید ہیں اور شکوہ ونمود ونمائش آج کی ضرورت ہیں۔ ملزم یوسف نے مزید کہا اگر کوئی دیکھ سکتا ہے، وہ دیکھ لے۔ اگر کوئی پہچان سکتا ہے تو وہ پہچان لے کہ حضور نبی کریم ان کے درمیان موجود ہے۔ دوسری ملاقات میں قرآن حکیم کی تفسیر یا تفہیم لکھے جانے سے متعلق ایک سوال پر ملزم یوسف نے اس کی قیمت کا مطالبہ کیا اور اس نے کتاب حاصل کرنے کیلئے ایک لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا اس کے بعد اسے ادائیگی کے بارے میں پیغامات ملنا شروع ہو گئے اور جب ادائیگی نہ کی گئی ملزم یوسف نے اپنا مطالبہ ایک لاکھ روپے سے کم کر کے پچاس ہزار روپے کر دیا اور جب گواہ کو حج پر جانا تھا، اس نے ملزم یوسف کو پچیس ہزار روپے ادا کئے جس پر اس نے گواہ سے کہا کہ وہ اللہ رب العزت کے بہت قریب آگیا ہے۔ اس لیے اس نے اس کی موجودگی میں ایک حقیقت منکشف کی اور اس لمحے بہت سے دوسرے لوگ عبدالواحد کے گھر ہونیوالے اجلاس میں موجود تھے لیکن ملزم یوسف اسے ایک دوسرے ملحقہ کمرے میں لے گیا جبکہ درمیانی دروازہ کھلا رہا۔ اس نے گواہ کو اپنی آنکھیں بند کرنے کو کہا جس پر اس نے اپنے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے بعد ملزم نے اسے درود شریف پڑھنے کو کہا جس پر اس نے درود شریف پڑھا اور اس کے بعد اسے آنکھیں کھولنے کو کہا گیا اور اس سے پوچھا کہ آیا اس نے کچھ دیکھا ہے۔ ملزم نے اسے چھوا اور کہا ”بسم اللہ وہ محمد مصطفیٰ ہے“ اور ملزم یوسف نے مزید کہا کہ اس نے حقیقت چھپائے رکھی تھی۔ گواہ کو بھی اس حقیت کو چھپانا ہوگا اور یہ کہ یہی تفہیم قرآن‘ تفسیر قرآن‘ زندہ قرآن اور نور قرآن ہے اور ایسا سن کر گواہ نے محسوس کیا کہ وہ ملزم یوسف کی جانب سے بولے گئے الفاظ سے ”ہپناٹائز“ ہو گیا ہو جب وہ اس کیفیت سے باہر آیا اس نے علماء سے مشورہ کیا اور انہیں مذکورہ بیان اور صورت حال بتائی جس پر علماء نے بتایا کہ متعلقہ شخص واجب القتل ہے۔

دی گئی اس طرح کہ اس نے ملزم یوسف علی کی بیوی طیبہ یوسف علی سے 2-2-1997 کو

صفحہ 333

کراچی سے لاہور ٹیلی فون پر بات کی اور نہ صرف یہ کہ ٹیلی فون پر ملزم یوسف کی بیوی سے بات کی بلکہ اس نے دو مرتبہ ملزم یوسف کی بیٹی کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی، تاہم گواہ نے یہ خیال مسترد کر دیا۔

اس نے مزید کہا کہ یہ کوئی روحانی طاقت تھی جس نے اس کے عزائم ناکام بنا دیئے۔ جرح کے دوران اس کے داماد کے حوالے بھی دیئے گئے لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود گواہ کو اس کے بیان سے نہیں ہٹایا جاسکا اور اس کے بیان کا کوئی حصہ جرح سے بھی کمزور نہیں کیا جاسکا حتیٰ کہ ملزم یوسف کی اردو میں تقریر جس کی تفصیل اوپر دی گئی ہے کے باوجود اس کا پورا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ اس کے ملزم یوسف کے ساتھ تعلقات تھے۔ ملزم یوسف نے مسلمان کی حیثیت سے اس کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھا کر اسے لوٹا اور جب رقم کی واپسی کا مطالبہ ہوا تو ملزم بھڑک اٹھا۔ اس گواہ پر کی جانیوالی جرح سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ایک نہایت حساس سوال پوچھا گیا جو کچھ اس انداز سے تھا کہ ”اگر کوئی قرآن حکیم کو زمین پر پٹخ دے“ جس پر گواہ نے جواب دیا کہ وہ قرآن حکیم کو اٹھائے گا اور بوسہ دے گا۔ یہ سوال پوچھتے ہوئے فاضل وکیل نے لفظ پٹخ استعمال کیا اور یہ وکیل کا اپنا لفظ نہیں تھا بلکہ ملزم یوسف نے اپنے وکیل کو اس لفظ کے استعمال کے لیے کہا تھا۔ اس طرح اس گواہ کے پورے بیان کے جائزے کے بعد یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ملزم یوسف نے خود کو اس گواہ کی موجودگی میں حضور نبی کریم ﷺ کی حیثیت سے ظاہر کیا۔

55- محمد اسماعیل شجاع آبادی گواہ استغاثہ نمبر 3 اس مقدمے میں مستغیث ہے۔ وہ 28-2-1997 کے کسی واقعہ کا چشم دید گواہ نہیں جس کا تذکرہ درخواست ایگزیبٹ پی سی میں کیا گیا ہے۔ فی الحقیقت وہ ایک مذہبی جماعت کا نمائندہ ہے جو اس مقدمے کی پیروی کیلئے آگے آیا جس سے ملک بھر میں مسلم معاشرے کے مذہبی جذبات مشتعل ہو رہے تھے جس نے پولیس کے روبرو آڈیو اور ویڈیو کیسٹ پیش کئے۔ فاضل وکیل صفائی نے اس پر تفصیلی جرح کی اور جرح کے دوران یہ تجویز دی گئی کہ آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن اس نے یہ سب کچھ مسترد کردیا۔ ملزم یوسف کی تربیت کا جائزہ لیا گیا اور اس پر تفصیلی جرح کی گئی کہ اسے آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کے ایک تماشائی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا ورنہ اس نے محض یہ دستاویز پیش کی تھیں اور جب اس نے مزید کہا کہ اس نے آڈیو کیسٹ سنے اور

صفحہ 334

ویڈیو کیسٹ دیکھے ہیں تو اس کے بیان کی اہمیت اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے ملزم کی قابل اعتراض تقریر کے حصے بشمول وعظ مورخہ 1997-2-28 جو ملزم نے مسجد بیت الرضا میں کیا تھا، بھی سنے ہیں۔ اس لیے اس نوع کی جرح کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ موقع کا گواہ نہیں۔ فی الحقیقت اس کی گواہی آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں میں بولے گئے اور ٹرانسکرپٹ کے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرتی ہے اس لیے اس کی شہادت سے جسے چشم دید گواہ کی حیثیت حاصل ہے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم نے مذکورہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

56۔ حافظ محمد ممتاز اعوان گواہ استغاثہ نمبر 4 ایسا گواہ ہے جس نے 1997-2-28 کو مسجد بیت الرضا میں اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں ملزم یوسف نے تقریر کی تھی جو حضور نبی کریمﷺ کی توہین کے مترادف ہے۔ ملزم نے اعلان کیا کہ یہاں موجود سو افراد اصحاب رسولؐ ہیں۔ اس نے عبدالواحد اور زید زمان نامی دو افراد کا تعارف صحابی کی حیثیت سے اور اپنا تعارف حضور نبی کریم کی حیثیت سے کرایا اور اس گواہ نے گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسماعیل شجاع آبادی کو آڈیو اور ویڈیو کیسٹ مہیا کئے اور کہا کہ اس نے آڈیو کیسٹ سنے اور ویڈیو کیسٹ دیکھے ہیں اور یہ کہ وہ ملزم یوسف کے ہیں۔ اس گواہ کو بھی طویل جرح کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے کہا کہ سامعین میں سے کسی نے بھی ملزم یوسف کی تقریر پر اعتراض نہیں کیا اور اگر جرح کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات نظر آئے گی کہ یہ گواہ ملزم یوسف کے بارے میں دشمنی یا عناد نہیں رکھتا اور جو کچھ بھی اس نے کہا، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزم یوسف نے حضور نبی کریمﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کی۔ ایک سو سامعین کو صحابی رسول قرار دیا اور دو افراد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی بنا پر قابل مذمت ہے۔

57۔ گواہ استغاثہ نمبر 5 میاں محمد اویس نے بھی گواہ استغاثہ نمبر 4 ممتاز اعوان کے ہمراہ 28-2-1997 کو مسجد بیت الرضا میں اجلاس میں شرکت کی۔ اس کا بیان بھی گواہ استغاثہ حافظ ممتاز اعوان کے بیان جیسا ہے۔ اسے بھی جرح کا سامنا کرنا پڑا لیکن اسے اپنے بیان سے نہیں ہٹایا جا سکا اس طرح اس کے بیان سے مسجد بیت الرضا میں 1997-2-28 کو ملزم یوسف کی جانب سے جرائم کا ارتکاب ہونا ثابت پایا جاتا ہے جو ملزم نے انتہائی قابل اعتراض تقریروں کے ذریعے کئے اور جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔

58۔ گواہ استغاثہ نمبر 6 اطہر اقبال نے پولیس کے روبرو ویڈیو کیسٹ پی 5 پیش کیا۔

صفحہ 335

اس کا موقف تھا کہ اس نے ویڈیو کیسٹ دیکھا ہے، اسے بھی جرح کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کا بیان جھٹلایا نہیں جاسکا۔ ویڈیو کیسٹ پی 5 ملزم یوسف کی تقریر لفظ بہ لفظ ہونا ثابت ہو چکی ہے اس لیے اس گواہ کا بیان قابل انحصار ہے۔

59۔ اب گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد علی ابو بکر کا بیان قابل غور ہے۔ اس کے بیان کی تفصیلات پر پہلے ہی بحث کی جاچکی ہے لیکن پھر بھی بحث کیلئے اس بات کا اس انداز میں ذکر ہونا چاہیے کہ ملزم یوسف نے اسے بتایا کہ جب تک وہ حضور نبی کریمﷺ کو نہ دیکھے، اسے موت نہیں آئے گی اور پھر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنے کی ہدایت کی گئی۔

اس کے بعد عبدالواحد کے گھر ایک ملاقات میں ملزم نے اسے ابوبکر صدیقؓ کہہ کر پکارا اور پھر ملزم یوسف ایسے وقت گواہ استغاثہ کے گھر آیا جب وہ عمرے کی ادائیگی کیلئے جارہا تھا۔ ملزم یوسف وہاں آیا اور کہا کہ عمرے کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں اور وہ عمرے کا یہاں انتظام کرسکتا ہے اور ملزم یوسف نے کہا ”مکان وہاں ہے لیکن مکین یہاں ہے“ تاہم گواہ عمرے کی ادائیگی کیلئے چلا گیا اور جب وہ واپس آیا تو ملزم نے اس سے حضور نبی کریمﷺ کے بارے میں باتیں شروع کردیں اور ملزم یوسف نے اس سے پوچھا کہ اس کی جانب سے حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات کیلئے بڑی سے بڑی دستبرداری اور قربانی کیا ہوسکتی ہے؟ جس پر اس نے جواب دیا کہ جو بھی ملزم یوسف چاہے۔ پھر ملزم یوسف نے اسے اپنے گھر میں ایک کمرے کا انتظام کرنے اور اسے سجانے کی ہدایت کی اور جب اس نے کمرہ سجالیا تو ملزم یوسف لاہور سے کراچی آیا اور اس کمرے کو ”غار حرا“ کا نام دیا۔ اسکے بعد ملزم یوسف جب بھی کراچی آیا، اس نے اس کمرے میں قیام کیا۔

ایک ملاقات میں ملزم یوسف نے اسے اپنی آنکھیں بند کرنے اور درود شریف پڑھنے کو کہا اور پھر ملزم نے اسے آنکھیں کھولنے کو کہا جب اس نے آنکھیں کھولیں۔ ملزم یوسف نے اچانک اسے اپنے جپھے میں لے لیا اور کہا کہ وہ خود محمد ہے جس پر اس نے رونا شروع کر دیا لیکن ملزم یوسف نے اسے اپنے جپھے میں رکھا اور جب اسے جپھے سے آزاد کیا گیا تو وہ کپکپی محسوس کر رہا تھا اور پسینے سے شرابور تھا۔ وہ نہیں سمجھ سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ تاہم گواہ کمرے سے باہر آ گیا اور ملزم یوسف کے پیروکاروں نے جو کمرے سے باہر بیٹھے تھے۔ اسے حضور نبی کریمﷺ سے اس کی وجودی ملاقات پر مبارک باد دی جیسا کہ ملزم یوسف حضور

صفحہ 336

نبی کریم ﷺ کی حیثیت سے اس سے مخاطب رہا ہو۔

اس کے بعد مکان کی خریداری کے نام پر ملزم یوسف نے پچاس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ ملزم یوسف کو اس طرح یہ رقم ادا کی گئی۔ چوبیس لاکھ روپے بینکوں کے ذریعے ادا کئے گئے اور باقی رقم کا انتظام دوستوں کے ذریعے کیا گیا۔ اس نے رقم کی ادائیگی کے بارے میں اور ایئر کنڈیشنر اور قالین کی خریداری اور ڈالروں کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کئے جانے کے متعلق دستاویزات پیش کیں۔ مذکورہ ملزم یوسف کی ڈائری پی 116-1/8 جو ایک سوسولہ صفحات پر مشتمل ہے، بھی پیش کی۔ ملزم یوسف نے یہ ڈائری اسے دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس ڈائری کے مطالعے کے بعد وہ ملزم یوسف پر بھروسہ کرے گا اور جب ایک مرتبہ وہ محفل نعت میں شرکت کیلئے جارہا تھا تو ملزم یوسف نے اس سے کہا کہ وہ جس شخص کیلئے محفل نعت خوانی میں شرکت کیلئے جارہا ہے، وہ وہاں بیٹھا ہے، اس لیے وہ کس کیلئے محفل نعت میں شرکت کیلئے جارہا ہے۔ ملزم نے یہ الفاظ اس انداز میں کہے جیسے وہ اپنے حضور نبی کریم ہونے کا دعویٰ کر رہا ہو اور اس کے بعد ملزم یوسف نے مسجد بیت الرضا میں ورلڈ اسمبلی کا اجلاس طلب کیا اور اسے دعوتی کارڈ مارک ایچ تکبیر نامی ایک جریدے کی انتظامیہ سے موصول ہوا جب اس نے 1997-2-28 کو مسجد بیت الرضا میں اسمبلی میں شرکت کی جہاں آڈیو و ویڈیو کیسٹ تیار کی گئیں۔

ملزم یوسف نے مسجد میں اپنے ایک سو صحابیوں کی موجودگی کا ذکر کیا اور اس نے دو افراد عبدالواحد اور زید زمان کا اپنے صحابی کی حیثیت سے تعارف کرایا۔ ان دو افراد نے کسی حد تک تقریریں کیں۔ ملزم یوسف نے اپنی تقریر میں اس بات کی وضاحت کی کہ اس نے مسجد بیت الرضا کو ورلڈ اسمبلی کیلئے کیوں چنا ہے؟ مسجد نبویٰ اور مسجد حرام کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ اور مسجد بیت الرضا کو کیوں منتخب کیا ہے؟ اس نے وضاحت کی کہ ایسا اس طرح ہوا ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے غار حرا کا انتخاب کیا تھا۔ ملزم یوسف نے کہا کہ بعض سورتیں، بعض آیات اور قرآن تک یہاں موجود ہے اور مزید کہا کہ حضور ﷺ ”ڈیوٹی“ پر نہیں لیکن ان کی عطا ہے کہ ایک رسول تم سے مخاطب ہے

جس کے بعد ملزم یوسف نے اپنا تعارف کرایا کہ اگر حضور نبی کریم ﷺ نے کسی شخص کی خدمت قبول کی تو وہ ابوبکرؓ تھے اور اس کا نام اب محمد علی ابوبکر ہے اور جب وہ تیسری یا چوتھی قطار میں بیٹھا تھا، اسے وہاں سے آگے بلوایا گیا اور منبر کے قریب لاکر اس کا ورلڈ اسمبلی

صفحہ 337

سے اس انداز میں تعارف کرایا گیا کہ اس نے ملزم یوسف کی خدمت کی ہے اور یہ کہ وہ ابوبکر تھا اب محمد علی ابوبکر ہے اور جب اسے ابوبکر کہا گیا تو اس کا مطلب تھا کہ وہ صحابی ہے تاہم وہ شادی میں شرکت کے بعد کراچی واپس چلا گیا اور اس نے علماء سے رابطہ کیا۔ اس گواہ نے بھی مختلف پہلوؤں کے بارے میں بشمول ادائیگی کی رسیدوں‘ ڈائری پی 8 / 116-1 کے بارے میں طویل جرح کا سامنا کیا۔ اگر اس پر کئے جانے والی جرح کا احتیاط سے جائزہ لیا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ اس کے خلاف اس فرم کی جانب سے جس میں وہ کام کرتا تھا، ایف آئی آر کے اندراج کے سوا اور کچھ سامنے نہیں لایا جا سکا۔ محض ایک ایف آئی آر کا اندراج جس کے مقدمے کی بھی سماعت نہ ہوئی ہو اور جو بغیر کسی نتیجے کے ہو‘ گواہ کے بیان کو رد کئے جانے کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جہاں تک ڈائری مذکور کا تعلق ہے یہ استغاثے کا مقدمہ نہیں کہ یہ ملزم کی لکھی ہوئی ہے۔ اس لیے اس ڈائری پر کوئی اعتراض بے بنیاد ہے۔ ڈائری پیش کئے جانے کا مقصد ملزم کے رجحان کا اظہار تھا جو وہ اپنے پیروکاروں کو اس بات کا یقین دلانے کیلئے اختیار کئے ہوئے تھا کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ ہے اور میرے خیال میں ملزم یوسف کے اس مقصد کی عکاسی کیلئے محمد علی ابوبکر کا بیان‘ ویڈیو اور آڈیو کیسٹیں کافی ہیں۔ ملزم کے بارے میں گواہ کو معاندانہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔

60۔ گواہ استغاثہ نمبر 9 میاں غفار احمد ایگزہیبٹ پی ڈی کی فرد مقبوضگی کا گواہ ہے جس کے نتیجے میں ڈائری پی 3 / 22-1 آڈیو کیسٹ پی 1 اور وڈیو کیسٹ پی 5 سب انسپکٹر ریاض نے قبضے میں لی۔ اس نے اس مقدمے کی تفتیش میں مزید حصہ لیا اور روزنامہ خبریں لاہور کے ڈپٹی ایڈیٹر کی حیثیت سے ملزم یوسف کے خلاف مواد جس میں اس نے ”انا محمد“ ہونے کا اعلان کیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محمد ہے جریدہ تکبیر سے اکٹھا کیا۔ اسے جریدہ تکبیر سے معلوم ہوا کہ ملزم یوسف اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے نتیجتاً اس نے 1997-3-21 کو ملزم یوسف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور وہ ملزم محمد یوسف سے 1997-3-22 کو اس کے گھر میں ملا۔ ملاقات سے قبل اس نے وڈیو کیسٹ دیکھی اور آڈیو کیسٹ بھی سنی تھی اور ڈائری کے صفحات کا بھی مطالعہ کیا تھا۔

اس نے بتایا کہ ملزم یوسف نے بات چیت کے دوران کہا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے خلافت عظمیٰ عطا کی گئی ہے۔ جب گواہ نے ملزم سے لفظ خلافت عظمیٰ کی وضاحت

صفحہ 338

کرنے کو کہا تو ملزم نے اس سے اس کی تعلیم پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ اس نے ابلاغ عامہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے جس پر ملزم یوسف نے کہا کہ یہ اس کی دنیاوی تعلیم ہے اسے اپنی دینی تعلیم کے بارے میں بتانا چاہیے جس پر گواہ نے کہا کہ اس نے قرآن شریف پڑھا ہے جس پر ملزم نے وضاحت کی کہ لفظ خلافت عظمیٰ پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی اور پھر وہ تمام پیغمبروں کے پاس رہی اور پھر حضرت محمدﷺ تک پہنچی ۔ یہ تسلسل اب بھی جاری ہے اور خلافت عظمیٰ اب اس کے پاس ہے جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے ۔

اس گواہ کو معلوم ہوا کہ ملزم یوسف لاہور اور کراچی سے تعلق رکھنے والی بعض خواتین کو ازواج مطہرات کا درجہ دیتا ہے اور جب اس نے اس حقیقت کے بارے میں معلوم کیا تو ملزم نے کہا کہ وہ جنسی طور پر فٹ نہیں اور جب یہ صلاحیت ختم ہوئی اس کی عمر تقریباً اکتالیس برس تھی ۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کی تاریخ پیدائش 9 ربیع الاول ہے اور 9 ربیع الاول ہی کو اسے خلافت عظمیٰ عطا کی گئی اور جب میاں غفار نے ازواج مطہرات کے بارے میں اپنا سوال دہرایا تو ملزم مرد کامل کے عنوان سے ایک کتاب لے آیا لیکن اس نے ملزم سے اپنے سوال کا براہ راست جواب چاہا تو ملزم نے کہا کہ وہ ان خواتین سے کبھی نہیں ملا تاہم ممکن ہے کہ یہ خواتین اس سے ملی ہوں لیکن وہ انہیں رد نہیں کرتا۔ اس لیے وہ اپنے موقف میں درست ہیں اور میں اپنے موقف میں درست ہوں اور جب اس نے مزید وضاحت چاہی تو اس نے کہا اللہ تعالیٰ دنیا میں حضرت داتا گنج بخشؒ جیسے‘ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ جیسے اور حضرت محمد ﷺ کے چہروں کی شکل میں یا خود اس کی اپنی شکل (محمد یوسف) میں دنیا میں آتا رہتا ہے اور جب کہ یہ بات گواہ اور ملزم یوسف کے درمیان تھی اور وہ اس بات چیت کو روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں شائع کرتا رہا اور اس نے یہ حقیقت اپنے بیان میں پولیس کو بتائی ۔

اس گواہ کے بیان کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے بیان کی تائید دستاویز ڈی ایل سے ہوتی ہے جو خود ملزم یوسف نے ریکارڈ کے لیے پیش کی ہے جس کے ذریعے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ خلافت عظمیٰ کی دستاویز ہے جو اسے حضرت محمدﷺ نے خود عطا کی ہے، اس لیے ان حالات میں گواہ پر مزید کسی جرح کے جائزے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ اس گواہ کا سارا بیان یا پہلے گواہوں کی تفصیلات جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے قابل بھروسہ ہیں اور یہ طے شدہ

صفحہ 339

حقیقت ہے کہ ملزم نے خود کو ایسا ظاہر کیا جو وہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے نہیں کر سکتا۔

اور اس نے آڈیو کیسٹ دو مرتبہ سننے کے بعد رف نوٹس لیے اور املا کا دوسرا پرنٹ (نقش) تیار کرنے کے بعد اسے ریاض احمد سب انسپکٹر کے حوالے کر دیا۔ فاضل وکیل صفائی نے اس گواہ پر جرح کی لیکن یہاں اس بات کا ذکر کیا جانا چاہیے کہ چونکہ موازنے کے بعد آڈیو کیسٹ ملزم یوسف کی ثابت ہو چکی ہیں اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیسٹ کی ڈکٹیشن (املا) کے بعد کیسٹ غیر سر بمہر حالت میں واپس کی گئی یا اس بارے میں عدالت کا حکم حاصل نہیں کیا گیا چونکہ اس لمحے یہ مقدمہ تفتیش کے مرحلے میں تھا فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اس گواہ کو ’ری ایگزامن‘ کیا اور اس لمحے اس نے کہا کہ اسے وڈیو کیسٹ کی ڈکٹیشن (املا) کیلئے کہا گیا تھا لیکن یہ کہہ کر اس نے ویڈیو کیسٹ واپس کر دی کہ وہ صرف آڈیو کیسٹ کی ڈکٹیشن (املا) کا ماہر ہے۔

پولیس لائی تھی۔

کریم ﷺ سے ملاقات کرانے کی پیشکش کی اور کہا کہ جب تک اس کی پیغمبر اسلامؐ سے ملاقات نہیں ہوگی اسے موت نہیں آئے گی اور ملاقات کی صورت میں اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور وہ دوزخ میں نہیں جائے گا اور وہ جنت میں جائے گا۔ نتیجتاً ملزم یوسف نے گواہ کو اس کی سونے کی زنجیر اور انگوٹھی اس کے حوالے کئے جانے کو کہا جو اس نے ملزم یوسف کو دیدی۔ ملزم یوسف نے اسے دوسرے دن اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔

گواہ ملزم کے گھر اپنے دوست سہیل ضیا کے ہمراہ شام کے وقت گیا، ملزم یوسف جس نے اپنے گھر میں ایک مخصوص حجرہ قائم کر رکھا تھا، ملزم تنہا اسے وہاں لے گیا جبکہ بہت سے دوسرے لوگ مین ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حجرے میں موجودگی کے دوران ملزم یوسف نے کہا کہ وہ خوش نصیب ہے کیونکہ اس کی ملاقات حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے ہونیوالی ہے۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ وہ ہی محمد ہے، ساتھ ہی وہ اس سے بغل گیر ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ اس کے مطابق محمد کا مطلب یہ ہے کہ وہی حضور نبی کریم ﷺ ہے اور یہ دعویٰ

صفحہ 340

ملزم یوسف نے کیا‘ بعد میں اسے معلوم ہوا کہ ایسے بہت سے واقعات کراچی میں دوسرے لوگوں کے ساتھ بالخصوص رانا اکرم کے ساتھ بھی پیش آ چکے ہیں۔ اگر گواہ کے بیان کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی ملزم یوسف کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ یہ تجویز دی گئی کہ وہ گواہ استغاثہ رانا اکرم کی تحریک پر بطور گواہ پیش ہوا ہے لیکن اس سے مخصوص طور پر اس کے بیان کے اس حصے کے بارے میں نہیں پوچھا گیا جو ملزم یوسف کے خلاف ہے اور یہ گواہ کی جانب سے پیش کئے جانے والے حقائق کو تسلیم کئے جانے کے مترادف ہے۔

کی گئی تفتیش پر پہلے بحث ہو چکی ہے۔ جرح کے دوران جب اس کا ملزم یوسف کی آواز ہونے کے بارے میں دعویٰ تھا تو فاضل وکیل صفائی کی ہدایت پر مذکورہ ملزم یوسف کی تقریر کا ایک حصہ ریکارڈ پر لایا جس کا مطلب یہ تھا کہ اب وہ محض تفتیشی افسر نہیں تھا بلکہ وہ آڈیو کا ایک سامع تھا اور اس طرح اس کا بیان کافی اہمیت رکھتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے اس پر جرح کی لیکن استغاثے کی شہادتوں پر یقین نہ کرنے کے بارے میں کوئی چیز سامنے نہیں لائی جا سکی۔

اس کی جانب سے کی جانیوالی تفتیش پہلے ہی زیر بحث لائی جا چکی ہے اسے بھی طویل جرح کا سامنا کرنا پڑا لیکن معمولی تضاد کے سوا جو استغاثے کے مقدمے کیلئے مہلک نہیں استغاثے کا موقف ہلایا نہیں جا سکا۔

کیا جا چکا ہے یہ بات مسلم ہے کہ استغاثے نے ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کر دیا ہے۔

جائزہ لیا گیا۔ اب یہ سوال قابل غور ہے کہ صفائی کا موقف کیا ہے؟ اس کا صفائی کا موقف یہ ہے کہ اس نے کبھی پیغمبر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اسکا دعویٰ خلافت عظمیٰ کا ہے جو اسے حضور نبی کریمﷺ نے دستاویز ڈی ایل کے ذریعے عطا کی ہے جو مقدمے کی سماعت کے دوران اسے چالیس روز قبل موصول ہوئی۔ سوال اس بات کے تعلق کا ہے کہ اس بات کا یقین کرنے کی کون سی شہادت لائی گئی ہے کہ اسے فی الحقیقت خلافت عظمیٰ عطا کی گئی ہے۔ ریکارڈ پر ایسی کوئی شہادت موجود نہیں اور فی الحقیقت یہ دستاویز گواہ استغاثہ نمبر 9 میاں غفار احمد کے اس

صفحہ 341

بیان کی تائید کرتی ہے جس کے سامنے ملزم یوسف نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے خلافت عظمیٰ عطا کئے جانے کا دعویٰ کیا تھا، اس لیے اسکا صفائی کا موقف ان کتابوں کے مطالعے کے بعد جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، بعد کی سوچ ہے تاکہ اس کی چمڑی بچائی جاسکے۔ فی الحقیقت یہ اس کی جانب سے رائے عامہ کی توجہ دوسری جانب مبذول کرائے جانے کی دوسری کوشش ہے۔

پیش کیں۔ یہ دستاویز پیش نہیں کی گئیں بلکہ غلطی سے ان کے نمبر کا بیان میں ذکر کر دیا گیا تاہم میری نظر میں یہ دستاویز استغاثے کے موقف کی نفی کرنے کیلئے کافی نہیں کیونکہ اس کے خلاف الزامات حضور نبی کریم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے، اپنے پیروکاروں کو اصحاب رسول کہلوانے، اپنے اہل خانہ کو اہل بیت قرار دینے اور قرآن حکیم کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کرنے اور عامتہ الناس میں حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقاتیں کرانے سے متعلق بیان دینے کے بارے میں ہیں تاکہ عوام الناس کو اس بات کا یقین دلایا جا سکے کہ اگر اس کے احکامات نہ مانے گئے تو وہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔ اس پر استغاثے کے گواہوں سے ان کے مذہبی جذبات بھڑکا کر روپیہ بٹورنے اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے الزامات ہیں تاہم زنا کے اقدام کے بارے میں قائل کرنیوالی کوئی شہادت نہیں۔

خلاف اپنے الزامات تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 سی، 295 اے، 298، 298 اے، 505 پارٹ II، 508، 406، 420 کے تحت کسی شک وشبے کے بغیر ثابت کر دیئے ہیں۔

اس لیے ملزم سے کسی قسم کا نرم رویہ اختیار کیے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ملزم کے بارے میں اس کا اقرار اور مرتد ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں کسی قسم کی توبہ کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔

1۔ زیر دفعہ 295 سی تعزیرات پاکستان

ملزم کو مجرم قرار دیکر سزائے موت اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے عدم ادائیگی جرمانے کی صورت میں چھ ماہ مزید قید ہوگی۔ اسے گردن میں پھندا ڈال کر اس

صفحہ 342

وقت تک لٹکایا جائے جب تک وہ مر نہ جائے ۔ یہ سزا لاہور ہائی کورٹ کی توثیق کے تابع ہے اور اس بارے میں ریفرنس فوری طور پر بھیجا جائے گا۔

2۔ زیر دفعہ 295 اے تعزیرات پاکستان

مجرم قرار دے کر دس سال قید بامشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

3۔ زیر دفعہ 298 تعزیرات پاکستان

مجرم قرار دے کر ایک سال قید بامشقت اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے عدم ادائیگی جرمانہ مزید ایک ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

4۔ زیر دفعہ 298 اے تعزیرات پاکستان

مجرم قرار دے کر تین سال قید بامشقت اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے عدم ادائیگی جرمانہ مزید دو ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

5۔ زیر دفعہ 505 (2) تعزیرات پاکستان

مجرم قرار دے کر سات سال قید بامشقت اور 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے عدم ادائیگی جرمانہ مزید تین ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

6۔ زیر دفعہ 420 تعزیرات پاکستان

مجرم قرار دے کر سات سال قید بامشقت اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے عدم ادائیگی جرمانہ مزید دو ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

7۔ زیر دفعہ 406 تعزیرات پاکستان

مجرم قرار دے کر سات سال قید بامشقت اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے، عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید دو ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

مذکورہ بالا تمام سزائیں یکے بعد دیگرے شروع ہوں گی کیونکہ مرتد ہونے کی بنا پر عدالت کسی قسم کی نرمی اور رعایت کی روادار نہیں اور نہ ہی اسلام میں اس کی اجازت ہے۔ مجرم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 بی سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

صفحہ 343

2 پر مشتمل ہے، اپیل اور نظر ثانی (جو بھی صورت ہو) کے فیصلے کے بعد ضابطے کے مطابق ڈسپوز آف کیا جائے گا۔

اسے بتا دیا گیا ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپیل کر سکتا ہے۔

فائل تکمیل کے بعد فوراً ریکارڈ روم کے حوالے ہو گی۔ فیصلہ سنایا گیا۔

دستخط: تاریخ فیصلہ میاں محمد جہانگیر 5 اگست 2000 سیشن جج لاہور

صفحہ 344
صفحہ 345

جناب عبدالکریم لنگاہ، ایڈیشنل سیشن جج، جہلم

سرکار بنام پیر ظہور احمد، مارچ 2001ء

صفحہ 346
صفحہ 347

دل کی بات

غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنے علمی و اصلاحی کارناموں اور روحانی کمالات کی وجہ سے آسمان تصوف کے روشن ستارے ہیں۔ آپؒ حنبلی عالم، سلسلہ قادریہ کے بانی، معروف ترین روحانی پیشوا اور عظیم صوفی بزرگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قدر عزت و منزلت سے نوازا کہ پوری دنیا میں ان کے لاکھوں عقیدت مند موجود ہیں۔ آپ کی شہرہ آفاق تصنیف ’’غنیۃ الطالبین‘‘ فیوض و برکات کا خزانہ ہے۔ آپ کے اقوال رشد و ہدایت کا نمونہ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

شریعت کا عالم ہو۔ دوسرے علم حقیقت جانتا ہو۔ تیسرے اپنے پاس آنے والوں کے ساتھ عمدگی اور خندہ پیشانی سے برتاؤ کرتا ہو۔ چوتھے غربا اور بے حیثیت آدمیوں کے ساتھ قولاً اور فعلاً عاجزی اور انکساری سے پیش آتا ہو۔ پانچویں یہ کہ مسافروں کو کھانا کھلاتا ہو اور خود ریا، حسد، طمع، خود بینی، غفلت اور عیش طلبی سے پاک ہو۔

پرہیز کرو۔

برا ہو جاہل اور نام نہاد پیروں کا جنہوں نے اپنی جھوٹی عقیدت کے غلو میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اللہ تعالیٰ کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ صحابی تو

صفحہ 348

دور کی بات، تابعی بھی نہیں چہ جائیکہ ان کو اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ کا درجہ دے دیا جائے۔ جو نا عاقبت اندیش ایسا کرتے ہیں، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی توہین کے ساتھ ساتھ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی اہانت کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: ”میں حضرت معاویہؓ کے راستے میں بیٹھا ہوں، سامنے ان کی سواری آجائے اور ان کے گھوڑے کے پیروں کی دھول اڑ کر مجھ پر پڑ جائے تو میں سمجھوں گا کہ یہی میری نجات کا وسیلہ ہے۔“

زیر نظر مقدمہ کی تفصیلات اس طرح ہیں کہ سوہاوہ ضلع جہلم کے ایک نام نہاد پیر ظہور احمد نے ایک متنازعہ کتابچہ ”فیضان قلندر“ شائع کیا جس میں کلمہ طیبہ تبدیل کرتے ہوئے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اللہ تعالیٰ کا درجہ دے دیا۔ یعنی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بجائے لا الہ الا اللہ عبدالقادر شیئا للہ لکھنا، پڑھنا اور عمل کرنا شروع کردیا۔ اس سے زیادہ اسلام کے ساتھ اور کیا زیادتی ہوسکتی ہے؟ حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

چنانچہ اس پر وہاں کے رہائشی راجہ محمد وحید، عبدالصبور ہاشمی اور ملک فدا حسین نے مشترکہ طور پر ملزم کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے ایک درخواست مقامی پولیس سٹیشن دی جس پر ڈی ایس پی لیگل سے قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد 26 اگست 2000ء ملزم پیر ظہور احمد کے خلاف قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ اس مقدمہ کی ایک اہم بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مدعیان مقدمہ کی طرف سے جب تھانہ سوہاوہ میں ملزم کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی گئی تو اس کے ساتھ متنازعہ کتابچہ ”فیضان قلندر“ کی اصل کاپی بھی لف کی گئی تھی جس پر مصنف کے طور پر ملزم کا نام اور اس کا ایڈریس بھی درج تھا مگر بعد میں پولیس کی ملی بھگت سے مسل مقدمہ سے اصل متنازعہ کتابچہ غائب کرکے فوٹوسٹیٹ کے چند کاغذات لگا دیئے گئے تاکہ بنیادی شواہد غائب کرکے ملزم کو بچایا جائے لیکن وہ اس سازش میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے۔ تقریباً 6 ماہ تک یہ مقدمہ عدالت میں زیرسماعت رہا۔ مارچ 2011ء میں عزت مآب جناب عبدالکریم لنگاہ ایڈیشنل سیشن جج جہلم نے ناقابل تردید دستاویزات اور مستند گواہوں کی موجودگی میں ملزم کے خلاف جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ملزم کو سزائے موت سنائی۔

صفحہ 349

محترم جج صاحب کا یہ فیصلہ قرآن وحدیث کی روشنی میں نہایت علمی اور جامع ہے جسے ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس فیصلہ کی نقل تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ہمہ وقت سرگرم اور دینی غیرت وحمیت سے سرشار جناب ملک خالد مسعود ایڈووکیٹ (تلہ گنگ) نے فراہم کی جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ
محمد متین خالد
لاہور
۞.......۞.......۞
صفحہ 350

بعدالت جناب عبدالکریم لنگاہ، ایڈیشنل سیشن جج، جہلم

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 113 مورخہ 2000-08-26 پولیس سٹیشن : سوہاوہ، ضلع جہلم بجرم : زیر دفعہ 295-C, 298 تعزیرات پاکستان

سرکار

بنام

پیر ظہور احمد ولد حاجی محمد سلیمان، ذات مغل، ساکن ڈھوک الف، سوہاوہ، پولیس سٹیشن سوہاوہ، ضلع جہلم (ملزم)

وکیل منجانب مدعی: عبادالرحمن لودھی ایڈووکیٹ وکیل منجانب ملزم: ڈاکٹر محمد اسلام خاکی ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 12 مارچ، 2001

صفحہ 351

فیصلہ

جناب عبدالکریم لنگاہ، ایڈیشنل سیشن جج، جہلم

یہ معلوم ہونے پر کہ ”فیضان قلندر“ نامی ایک کتابچے کو جاری اور شائع کیا گیا جسے مبینہ طور پر پیر ظہور احمد، ملزم، سے منسوب کیا گیا، جس میں حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ، صفحہ نمبر 4 کے شمار نمبر 8 میں موجود ہونے کے علاوہ مندرجات نمبر 20 تا 23 کے مطابق اللہ تعالیٰ کا درجہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو دیا گیا، مدعیان، راجہ محمد وحید، عبدالصبور ہاشمی اور ملک فدا حسین، ساکن سوہاوہ، نے اپنی شکایت (Ex.P.A) کے مطابق مقامی پولیس کو مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دی۔ ڈی ایس پی (لیگل)، جہلم سے قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد، مقدمہ ہٰذا، مورخہ 2000-08-26 کو پولیس سٹیشن، سوہاوہ، ضلع جہلم میں درج کر لیا گیا۔

مورخہ 2000-01-27 کو باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی جو یوں ہے:

”یہ کہ مورخہ 2000-08-19 کو پولیس سٹیشن، سوہاوہ کے علاقہ میں تم نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف تبلیغ کرتے ہوئے ”فیضان قلندر“ نامی کتابچہ شائع کیا جس کے صفحہ 4، پیرا نمبر 8، میں تم نے کلمہ طیبہ تبدیل کر دیا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے، اس لیے تم نے عدالت ہٰذا کے اختیارِ سماعت کے اندر قابلِ سزا جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا ارتکاب کیا ہے۔“

ملزم کی طرف سے صحتِ جرم کا انکار کرنے پر، جرم ثابت کرنے کے لیے استغاثہ کو

صفحہ 352

گواہی پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔

طرف سے ایک کتابچہ کی اشاعت کے متعلق بتایا؛ اپریل 2000ء کے وسط میں اس نے قاری محمد امین، سید احمد شاہ، خطیب مرکزی جامع مسجد سوہاوہ جیسے فقیہوں/علماء سے مشورہ کیا جنہوں نے اسے مطلع کیا کہ یہ کتابچہ، حضور نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے توہین آمیز ہے۔ بعدازاں، اس نے ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، سوہاوہ کے روبرو ایک درخواست پیش کی جس نے ملزم کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی، جس پر وہ ایس پی، جہلم کے روبرو پیش ہوا اور مورخہ 19-08-2000 کو اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک تحریری درخواست پیش کی۔ اس کی تصدیق، عبدالصبور ہاشمی اور ملک فدا حسین، گواہان استغاثہ نے کی، جسے اس نے قانونی رائے کے لیے ڈی ایس پی (لیگل) کے پاس بھجوا دیا۔ بعدازاں، مقدمہ کی کارروائی میں ملوث، ملزم کے خلاف یہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔

جب اس پر جرح کی گئی تو اس نے قیصر ہمایوں ثقلین کی طرف سے کتابچے کی وصولی کے متعلق وضاحت سے بیان کیا؛ یہ کتابچہ اس کی نظروں میں مورخہ 2000-04-15/16 کو بوقت تقریباً 3، 4 بجے سہ پہر آیا۔ عبدالصبور ہاشمی، ملک فدا حسین اور کچھ دیگر افراد، مسجد میں موجود تھے جہاں وہ متنازع کتابچے کے حوالے سے گیا تھا؛ قیصر ہمایوں ثقلین نے وہاں کتابچہ لے لیا۔ تقریباً ایک ماہ بعد، اس کی طرف سے ایس ایچ او کے روبرو درخواست پیش کی گئی؛ دریں اثنا اس نے تین چار افراد سے مشورہ کیا۔ پہلی دفعہ، وہ اور قاری محمد امین، موجود تھے اور وہاں کوئی دوسرا موجود نہ تھا۔ چار پانچ دن بعد، اس نے سعید احمد شاہ سے ملاقات کی جو خطیب ہے؛ ایک اور خطیب سے بھی اس نے ملاقات کی۔ ان تمام کی رائے تھی کہ ملزم، توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوا تھا۔ اس نے متذکرہ تینوں افراد سے تحریری شکل میں کوئی بھی فتویٰ حاصل نہیں کیا، جو مسلک کے لحاظ سے سنی ہیں۔ اس کی رائے میں قاری محمد امین اور سید احمد شاہ، ایم۔اے۔ اسلامیات تھے اور وہ پیشے کے لحاظ سے مفتی نہیں ہیں۔ وہ نہ تو کتابچہ کے مندرجات کی تصدیق کے لیے پیر ظہور احمد کے پاس گیا جو اس میں شائع کیے گئے تھے اور نہ ہی اسے اس کی طرف سے اس کتابچہ کی اشاعت کے متعلق کوئی اطلاع موصول ہوئی۔ اس نے ان تینوں افراد کی جانب سے، متذکرہ کتابچہ کی اشاعت کی تصدیق کرنے کے لیے طلبی کے

صفحہ 353

متعلق لاعلمی کا اظہار کیا۔ ملزم کا ڈیرہ، ان کے بیٹھنے کی جگہ سے تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ مدرسہ دارالعلوم رحمانیہ رضویہ سوہاوہ، کا ایک رکن ہے۔ صبور ہاشمی ، متذکرہ کمیٹی کا بھی رکن ہے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ ملزم اور متذکرہ مدرسہ کے ارکان کے درمیان دشمنی تھی۔ کتابچہ کا مطالعہ کرنے کے ذریعے معلوم ہوا کہ لا اله الا الله عبدالقادر شيئا للّه جیسے الفاظ جو اس کتابچہ میں موجود تھے، گستاخانہ اور اہانت آمیز ہیں۔ وہ کتابچہ ، جو اسے دیا گیا، سبز رنگ میں تھا۔ کلمہ طیبہ کو (Ex.P.B) کے شمار نمبر 8 پر تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان، ذکرِ پاک، ہے۔ اس پر ملزم کی کوئی مہر نہیں۔ ملزم کے دستخط بھی اس پر موجود نہیں۔ اس نے اعتراف کیا کہ پہلا کلمہ طیبہ، کتابچہ (Ex.P.B) میں لکھا گیا ہے جسے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ کتابچہ (Ex.P.B)، وہ نہیں ہے جو مقدمہ کی کارروائی میں ملوث ملزم نے شائع کیا۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ملزم نے کوئی بھی مواد شائع نہیں کیا جبکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے حضور نبی اکرم ﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ اس نے ملزم سے مذہبی اور فرقہ ورانہ دشمنی کی بنا پر اس کے خلاف گواہی دی۔

تین افراد سمیت ملزم کے ڈیرے پر گیا جہاں ایک کتابچہ اسے دیا گیا جو وہی کتابچہ (Ex.P.B) نہیں تھا؛ یہ کہ اسے اسلام کے متعلق بہت کم علم ہے، اس لیے، اس نے یہ کتابچہ قاری محمد سعید سیالوی کو دے دیا جس نے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کچھ حد تک توہین آمیز پایا اور وہ مقدمہ ہذا میں اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ دفاع کو اس پر جرح کرنے کا موقع دیا گیا لیکن دفاع کی طرف سے اس پر کوئی جرح نہیں گئی۔

اسے یہ کتابچہ دیا جو شرکیہ کلمات کے علاوہ حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے بجائے شیخ عبد القادر جیلانیؒ کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایس ایچ او کے روبرو ایک درخواست پیش کی لیکن ناکامی کے بعد وہ ایس پی جہلم کے پاس پہنچے اور اس کے روبرو ایک درخواست (Ex.P.A) پیش کی جو اس کی تحریر میں تھی اور اس پر اس کے دستخط بھی ثبت تھے۔

صفحہ 354

مورخہ 2000-08-27 کو ایک پاسپورٹ (P.1) ، ایک مہر (P.2) ، رسالہ (P.3) ، کتابچہ (P.B) چھ صفحات، اس کی تصدیق کے ساتھ بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.C)، پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیے۔ ملک فدا حسین اور حاجی محمد حنیف نے بھی اس کی تصدیق کی۔

خود پر دوران جرح ، اس نے اس شخص کے متعلق لاعلمی ظاہر کی جس نے اسے متذکرہ کتابچہ فراہم کیا تھا۔ قیصر ہمایوں ، گواہ استغاثہ ، نے اسے وہ کتابچہ نہیں دیا جو گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھا۔ کتابچہ ، جو درخواست کے ساتھ لف تھا، سبز رنگ کا تھا اور اصلی چھپی ہوئی شکل میں تھا۔ یہ فوٹوسٹیٹ نقل نہیں تھی۔ یہ جزوی طور پر سبز رنگ میں تھا۔ اس کی سرخیاں سبز رنگ میں تھیں۔ متذکرہ شکایت (درخواست) پر کوئی سبز پرچیاں نہیں لگائی گئی تھیں۔ کتابچے میں تحریر کردہ الفاظ ، انہوں نے اپنی درخواست میں دہرائے تھے۔ اس نے تسلیم کیا کہ کتابچے (Ex.P.B) پر کچھ چپکایا گیا تھا جبکہ فوٹوسٹیٹ نقول لگائی گئی ہیں۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے (P.B) پر یہ لگائیں۔ وہ، راجہ وحید اور ملک فدا حسین، ایس پی جہلم کے پاس گئے ۔ کتابچے کے حوالے سے اسے قاری نے بلایا تھا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ قاری کے پاس موجود کتابچہ، اس کے پاس کتابچے سے مختلف تھا۔ قاری کے پاس کتابچے پر ملزم کی مہر اور دستخط ثبت تھے۔ وہ کتابچہ، جو اس کی تحویل میں تھا، اس پر ملزم کے دستخط اور مہر موجود نہ تھی۔ کتابچے کی دو اطراف تھیں اور اس کے چھ صفحات تھے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ، چپکائی گئی شکل میں کتابچہ، کے صرف دو صفحات تھے۔ دونوں کتابچے ، اصلی چھپی ہوئی شکل کے تھے۔ قاری کا کتابچہ اس درخواست کے ساتھ لف تھا جو اس نے ایس پی جہلم کے روبرو پیش کی تھی۔ اس کا کتابچہ ، درخواست (P.A) کے ساتھ لف نہیں تھا۔ مدرسہ رحمانیہ کا انتظام قاری محمد امین کے ہاتھ میں ہے۔ وہ راجہ وحید کے ساتھ شاہ صاحب کی جامع مسجد گیا تھا۔ قاری کے پاس موجود کتابچہ الگ نہیں تھا۔ یہ ایک واحد اکائی کی صورت میں تھا۔ اس نے یہ تسلیم کیا کہ وہ مدرسہ جامع رحمانیہ رضویہ کی کمیٹی کا ایک رکن ہے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ قاری محمد امین اور ملزم کے درمیان مذہبی چپقلش موجود ہے۔ قاری نے انہیں حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف توہین آمیز تحریر کے متعلق مطلع کیا، جس کے متعلق کچھ دیگر فقہا کے ساتھ مشاورت مطلوب تھی۔ انہوں نے درخواست (Ex.P.A)

صفحہ 355

دینے سے قبل تین فقہا سے مشاورت کی۔ ان میں سے ایک سعید احمد شاہ تھا جبکہ دیگر دو کے نام اس کے ذہن میں نہیں۔ راجہ وحید اور ملک فدا، گواہان استغاثہ، اس کے ساتھ تھے۔ اس نے اس وقت کتابچے کی ان کے پاس دستیابی کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے مذہبی اور فرقہ ورانہ اختلاف اور چپقلش کے باعث جھوٹی گواہی دی۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ کتابچہ (Ex.P.B)، ملزم کی طرف سے شائع نہیں کیا گیا۔

مورخہ 15-02-2001 کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے فاضل ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے ترک کر دیا۔

میں بطور ایس ایچ اور انسپکٹر، تعینات تھا جب اسے ایک درخواست (Ex.P.A) موصول ہوئی جو ایس پی جہلم کی طرف سے مقدمہ کے اندراج کے لئے بھیجی گئی تھی۔ ڈی ایس پی (لیگل)، جہلم کی قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد، مقدمہ زیر ایف آئی آر (Ex.P.A/1)، اس نے درج کر لیا۔ اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی؛ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور بغیر کسی پیمائش کے جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.P.D) بھی اس نے تیار کیا۔ رسالہ (P.3)، پاسپورٹ (P.1)، مہر (P.2)، کتابچہ ”فیضان قلندر“ کا اصلی چھپا ہوا نسخہ (P.4)، درود غوثیہ (P.5)، اس نے بمطابق ریکوری میمو (P.C) اپنی تحویل میں لے لیا جس پر گواہان استغاثہ نے دستخط کیے۔ اس نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور گواہان استغاثہ کے بیانات بھی اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قلمبند کئے، نیز اس نے ملزم کا چالان کر دیا۔

خود پر دوران جرح، اس نے ایک ایسے شخص کی موت کے متعلق بتایا جس نے کتابچہ شائع کیا تھا؛ کتابچے پر پرنٹر کا نام موجود نہیں؛ کتابچے پر پرنٹر ہاؤس کا نام بھی درج نہیں۔ کتابچے پر چھاپنے والے کا نام بھی نہیں۔ اس نے اندراج مقدمہ سے قبل، (Ex.P.A) کے تحت اپنے روبرو کسی بھی درخواست پیش ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کتابچہ (P.B)، اس کی طرف سے وصولی سے پہلے ہی شکایت کے ساتھ لف تھا جو (Ex.P.B)، (چھ صفحات) ہے۔ مسل کی اس کی تحویل میں رہنے کے دوران متذکرہ کتابچے کے ساتھ کسی نے بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔ اس نے جو ریکارڈ عدالت کے روبرو پیش کیا، 14

صفحہ 356

صفحات پر مشتمل تھا۔ اس نے دوبارہ کہا کہ کتابچہ (P.B) ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد اس نے ملزم کے ڈیرے سے اپنی تحویل میں لیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ریکارڈ میں صرف ایک صفحہ موجود نہیں تھا جو (Ex.P.A/2) ہے۔ ”فیضان قلندر“ (Ex.P.A/2)، اس نے درخواست (P.A) کے ساتھ وصول کیا۔ اس نے تسلیم کیا کہ (Ex.P.A/1)، ایک فوٹوسٹیٹ ہے جس پر ملزم کے دستخط موجود نہیں۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ (Ex.P.A/2) پر ملزم کی مہر موجود نہیں۔ جب جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اصلی مہر موجود نہیں بلکہ ایک فوٹو کاپی ہے۔ شکایت/درخواست، ڈی ایس پی (لیگل) کے پاس بھجوائی گئی، اور اس کی رائے وصول ہونے پر، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ رائے کے لیے اس نے کسی دوسرے شخص سے مشاورت نہیں کی۔ اس نے تسلیم کیا کہ الفاظ ”توہین رسالت“ ایک خاص لفظ ہے جن کا ڈی ایس پی لیگل نے ذکر نہیں کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ رپورٹ میں اس نے قانون کی دفعات کا ذکر کیا ہے۔ اس نے اس امر سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا کہ ”کلمہ“ میں تحریف کے باعث نبی اکرم ﷺ کی توہین، دفعہ 295-C کی حدود میں آتی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے اس مقصد کی خاطر، ڈی ایس پی (لیگل) سے اس کی ماہرانہ رائے کے متعلق استفسار کیا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کتابچے (P.A/2) میں ذکرِ پاک کا ذکر جلی حروف سے کیا گیا ہے جبکہ کلمہ میں مبینہ طور پر تحریف کی گئی ہے۔ اس نے تسلیم کیا کہ درست کلمہ بھی اس پر لکھا گیا ہے۔ اس نے اس وجہ کے باعث یہ مقدمہ، اصلاح کے لیے واپس نہیں بھیجا کہ محکمہ کے لیے ڈی ایس پی (لیگل) کی رائے حتمی تھی۔ اس کی کوئی ذاتی رائے نہیں کہ کیا دفعہ 295-C، غلط یا درست طور پر ڈی ایس پی (لیگل) کی طرف سے تحریر کی گئی جو پیشے کے لحاظ سے مفتی نہیں تھا۔ ڈی ایس پی (لیگل) کی طرف سے ملزم کے خلاف کلمہ کی تحریف کے علاوہ کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے مقدمہ ہذا کا اندراج، ڈی ایس پی (لیگل) کی طرف سے موصول شدہ رائے کی بنیاد پر کیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ آبادی میں مذہبی چپقلش موجود تھی۔ اس نے موجودہ وقوعہ سے پہلے اس قسم کے الزامات عائد کرنے کے متعلق لاعلمی ظاہر کی۔ اس نے اس بات کی تردید کی کہ اس نے جھوٹی گواہی دی ہے۔

(Ex.P.A) کے متعلق بتایا جو اسے ایس ایس پی جہلم کی طرف سے قانونی رائے کے متعلق

صفحہ 357

موصول ہوئی تھی، درخواست کے ساتھ کتابچہ اور فتویٰ (Ex.P.E) لف تھا جس کی بنیاد پر اس نے یہ رائے قائم کی کہ اندریں حالات، ملزم کی طرف سے جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا ارتکاب کیا گیا۔ اس کی رپورٹ (Ex.P.F) پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔

خود پر دوران جرح، اس نے بتایا کہ درخواست، ایس ایس پی، جہلم نے براہ راست اسے بھجوائی تھی جس کے ساتھ صرف کتابچہ (Ex.P.B) لف تھا۔ فتویٰ، متذکرہ درخواست کے ساتھ لف تھا۔ پھر اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ فتویٰ، (Ex.P.E)، درخواست کے ساتھ لف نہیں تھا۔ جب پہلی بار، ایس پی کے دفتر سے درخواست اسے موصول ہوئی تھی۔ فتویٰ اس نے نہیں بلکہ تفتیشی افسر نے حاصل کیا تھا۔ اس نے اس ضمن میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ کس تاریخ کو اسے فتویٰ موصول ہوا تھا۔ درخواست اور کتابچے کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد، اس نے اپنی یہ رائے قائم کی کہ نبی اکرم ﷺ کی توہین کا ارتکاب ہوا۔ کتابچے میں موجود توہین آمیز مواد یوں تھا: لا الہ الا اللہ عبدالقادر شیئا للہ، جو ذکر پاک سلسلہ قلندری کی سرخی کے تحت ہے جو مندرجات کے سلسلہ نمبر 8 پر ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ خاص الفاظ ”کلمہ“ وہاں نہیں لکھا ہوا تھا۔ اس نے قرآن پاک پڑھا ہوا ہے۔ اس نے عربی متن کا اردو میں ترجمہ کرنے کی اپنی عدم صلاحیت کا اظہار کیا۔ وہ مفتی نہیں۔ اسے اسلام کے عقائد کے متعلق علم ہے؛ فاضل وکیل صفائی کے کہنے کے مطابق وہ تیسرا کلمہ پڑھ سکتا ہے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کی رائے قانونی نہیں اور وہ مقدمہ ہذا کے متعلق اپنی رائے نہیں دے سکتا۔ جو الفاظ شیئا للہ کے طور پر سامنے آئے ہیں، دوستی کے معنی دیتے ہیں اور ان کا مفہوم اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ عبدالقادر، اللہ تعالیٰ کا ایک دشمن ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ ان تحریروں میں عبدالقادر جیلانی کو نبی اکرم ﷺ کے درجے، بطور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر، لکھا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس ضمن میں اسلامی مہارت ضروری ہے تاکہ ایک ماہر اپنی رائے کا اظہار کر سکے اور وہ اسلامی قانون کا ایک بڑا عالم نہیں ہے، اس لیے اس نے بھی فتویٰ (Ex.P.E) پر انحصار کیا۔ اس نے مشاورت کرنے اور فتویٰ (Ex.P.E) کے مندرجات پڑھنے کے بعد اپنی رائے پیش کی۔ اس نے ملزم سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا اس نے یہ کتابچہ شائع کیا یا نہیں کیونکہ یہ اس کے دائرہ کار میں تھا۔ اس نے تفتیشی افسر سے یہ نہیں استفسار کیا کہ کیا اس نے کتابچہ (Ex.P.E) کی اشاعت کے متعلق

صفحہ 358

ملزم سے تفتیش کی۔ (Ex.P.B) وہی کتابچہ ہے جو اس کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ یہ کتابچہ، ایس پی، جہلم کی طرف سے درخواست (Ex.P.A) پیش کرتے وقت صرف دو اوراق پر مشتمل تھا۔ متذکرہ اوراق، سبز رنگ کے جلی حروف میں چھپے ہوئے ہیں۔ وہ یہ نہ بتا سکا کہ کیا کتابچہ ٹکڑوں میں تھا یا ایک ہی واحد کاغذ پر مشتمل تھا؛ جسے تہہ کیا گیا تھا۔ یہ اپنی اصلی شکل میں تھا اور شائع شدہ تھا۔ اس نے لاعلمی ظاہر کی کہ کیا اس پر ملزم کے دستخط اور مہر ثبت تھی؟ کتابچہ (Ex.P.B) پر ملزم کے دستخط اور مہر ثبت نہیں۔ اس پر چھپا ہوا کاغذ نہیں لگا ہوا تھا۔ اسے (Ex.P.B) دکھایا گیا جس پر کاغذ چسپاں کیا گیا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ بہت ہی خاص الفاظ ”توہین رسالت“، فتویٰ (Ex.P.E) پر موجود نہیں۔ اس نے بتایا کہ وہاں لکھا ہوا تھا کہ ”اللہ جل شانہ کی شان میں صریح گستاخی کی اور اہل اسلام کے جذبات کو سخت مجروح کیا ہے بلکہ درحقیقت، غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی بھی توہین کی ہے۔“

اس نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 کو دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان کے ساتھ پڑھا جائے۔ اس نے اعتراف کیا کہ دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا تعلق حضور نبی اکرم ﷺ کی توہین سے ہے اور اس کا کسی بھی دیگر امر سے نہیں۔ اس نے اعتراف کیا کہ مفتی نے فتویٰ (Ex.PE) میں خاص طور پر ذکر نہیں کیا کہ کلمہ میں تحریف کی گئی ہے۔ اس نے اپنی رائے میں کہا تھا کہ ملزم نے کلمہ میں تحریف کی۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ مدعی پارٹی کے ساتھ مل کر اس نے غلط رائے دی اور اس نے دباؤ کے تحت رائے دی۔ اس نے اپنی رائے قائم کرتے ہوئے فتویٰ (Ex.P.E) کو بالکل ہی نظر انداز نہیں کیا۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ جرم زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان، صرف فتویٰ (Ex.P.E) پر غور کرنے کے ذریعے ہی متشکل کیا گیا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس نے اصلی کتابچہ، مدعی پارٹی کی ملی بھگت سے ریکارڈ میں سے غائب کر دیا کیونکہ متذکرہ کتابچہ میں ذکر ”لا اله الا الله عبدالقادر شيئا لله، ایک ہی سطر میں نہیں لکھا گیا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ عبدالقادر شيئا لله کلمہ اور ذکر کا تشکیلی اور لازم وملزوم حصہ نہیں تھا۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ اس نے مدعی پارٹی کے ساتھ اپنی ملی بھگت کی وجہ سے ملزم سے کتابچہ کی اشاعت کے متعلق نہیں پوچھا تھا۔ اس نے نہ تو اسلامی نظریاتی کونسل اور نہ ہی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا حوالہ دیا۔ اس کی رائے میں، کتابچہ (Ex.P.B) میں

صفحہ 359

شرک سے متعلق بہت سا مواد موجود ہے۔ اس کی رائے اس قدر کافی نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کو غیر مسلم یا مشرک قرار دیا جائے۔ وہ اعتراف کرتا ہے وہ اپنی تشکیل کردہ رائے کا پابند ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس نے اس ضمن میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس ملک میں ایک فرقے کی طرف سے دوسرے فرقے پر اکثر ہی الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی؛ اور مسل میں موجود کتابچہ، ملزم کی ملکیت نہیں۔ اس نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ (Ex.P.B)، ملزم کی طرف سے شائع نہیں کیا گیا۔

”فیضانِ قلندر“ کی طباعت سے انکار کیا جس میں نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ الفاظ، صفحہ 3، مندرجات نمبر 20، 21، 22 اور 23 اور صفحہ 4، پر مندرجات نمبر 5، 6، 7 اور 8 پر موجود تھے۔ اس نے انکار کیا کہ کتابچہ (P.4) یا تو اس کی ملکیت ہے یا اسے پولیس نے اس سے برآمد کیا ہے۔ تاہم اس نے یہ اعتراف کیا کہ پاسپورٹ (P.1)، مہر (P.2) اور رسالہ بعنوان، ختم شریف غوثیہ (P.3) اس کی ملکیت ہیں۔ اس اہم سوال کے جواب میں کہ کیا وجہ ہے کہ اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور کیا وجہ ہے کہ گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف گواہی دی، اس نے یوں جواب دیا:

”مدعی پارٹی اور جامعہ رحمانیہ رضویہ کے مولوی محمد دین سیالوی کی مجھ سے سیاسی دشمنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے جھوٹے طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کردیا۔“

تاہم، اپنی بے گناہی کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کو غلط ثابت کرنے کی خاطر زیردفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، بیان حلفی کے ذریعے وہ اپنا بیان قلمبند کرانے پر رضامند ہوگیا۔ کیا، وہ کچھ کہنا چاہتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں اس نے مندرجہ ذیل جواب دیا:

”میں بے گناہ ہوں۔ میں نے دکھایا گیا کتابچہ شائع نہیں کیا۔ یہ مدعی پارٹی کی طرف سے پولیس سے ملی بھگت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ میں مسلمان ہوں اور نبی اکرم ﷺ کی توہین کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کا بیان دینے یا نبی اکرم ﷺ یا کسی بھی مذہبی شخصیت کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ میرے شائع کردہ لٹریچر میں کسی بھی مقدس شخصیت کے متعلق کوئی بھی اہانت آمیز الفاظ یا شرکیہ یا کفریہ

صفحہ 360

الفاظ موجود نہیں یا پھر کوئی ایسی چیز بھی موجود نہیں جس کے باعث مسلمانوں یا کسی بھی دیگر شخص کے احساسات مجروح ہوں۔ مجھے اسلام کے تمام عقائد پر ایمان ہے اور میں ایک عملی مسلمان ہوں۔ ہم کلمہ یا ذکر کے ایک حصہ کے طور پر نہ تو عبدالقادر شیئا للہ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی لکھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں۔ پاکستان میں مختلف فرقے، فتویٰ کے ذریعے ایک دوسرے کو مشرک، کافر ٹھہراتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس قسم کی فرقہ وارانہ یا تعصب آمیز سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے۔ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو قانون یا شریعت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی ہو‘۔

فعال انداز میں کی، نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کی کارروائی میں ملوث، ملزم نے اپنے تفصیلی پتا کے تحت (متنازعہ) کتابچہ شائع کیا؛ یہ کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے متعلق بھرپور انداز میں وضاحت کر دی گئی کیونکہ تفتیشی افسر نے ایک ماہرانہ رائے حاصل کی اور مدعی نے بھی بذات خود، قابل اعتراض مواد کے متعلق دیگر ماہرین سے مشاورت کی۔ مقدمہ ہذا میں صفائی نے تین مختلف موقف اختیار کیے ہیں۔ اس نے کہا کہ مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کرتے ہوئے، ملزم نے نبی اکرم ﷺ کے بجائے عبدالقادر جیلانیؒ کا نام استعمال کرنے کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی دانستہ توہین کی جبکہ پہلے ” کلمہ“ میں بھی تحریف کی۔ شمار نمبر 20، 21، 22 اور 23 پر موجود مندرجات بھی شرک کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ مواد، اسلام کی تعلیمات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ محض بدنیتی اور خباثت کی بنیاد پر کیا گیا، اس لیے، ملزم، جس پر مقدمہ چل رہا ہے، کسی بھی رعایت کا مستحق نہیں۔ اسلامی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے ان افراد کی مثالیں بتائیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی توہین کی اور اس جرم کی پاداش میں انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجرم کی ”توبہ“ بھی اس کے لیے مفید ثابت نہیں ہوتی۔ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کے ارتکاب کے بعد ملزم کی معافی ممکن نہیں۔

میری توجہ دلاتے ہوئے اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ دونوں گواہان کے درمیان مرکزی نقطے

صفحہ 361

کے لحاظ سے مکمل ہم آہنگی ہے؛ اور یہ بھی کہ ملزم کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے ان کی گواہی پر بے خوف وخطر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ قابل اعتراض مواد پر مبنی کتابچہ، ان کے ہاتھ لگا اور مطلوبہ مشاورت کے بعد وہ یہ معاملہ ایس ایچ او، پولیس سٹیشن سوہاوہ کے علم میں لے کر آئے لیکن اس کی طرف سے کسی بھی کارروائی کی عدم موجودگی میں وہ ایس ایس پی جہلم، کے پاس آئے اور اس کے روبرو شکایت/درخواست (Ex.P.A) پیش کی۔ ڈی ایس پی (لیگل) سے قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد، زیر کارروائی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پاسپورٹ (P.1)، مہر (P.2)، رسالہ (P.3) اور کتابچہ (P.4) کے ساتھ درود غوثیہ برائے حاجت (P.5)، ملزم زیر کارروائی، کے قبضہ سے پولیس نے برآمد کیے اور بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.C) انہیں تحویل میں لے لیا گیا۔ ملزم سے ان اشیاء کی برآمدگی نے استغاثہ کے موقف کی بھر پور تائید کر دی ہے۔

گئی۔ عبدالرشید، انسپکٹر/ایس ایچ او نے بمطابق ایف آئی آر (Ex.P.A/1) مقدمہ درج کیا، اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کسی پیمائش کے بغیر جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.P.D) تیار کیا۔ مزید برآں، رسالہ (P.3)، پاسپورٹ (P.1)، مہر (P.2)، کتابچہ ”فیضانِ قلندر“ کا اصل طبع شدہ نسخہ (P.4) اور درود غوثیہ (P.5)، بمطابق میمو (Ex.P.C) اپنی تحویل میں لے لیے، نیز اس میمو پر گواہان استغاثہ کے دستخط بھی ثبت تھے۔

ہو چکا ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ کتابچے کو ملزم نے ایک ایسے شخص سے طبع کرایا جو دورانِ تفتیش، مقدمہ کے اندراج سے پندرہ دن قبل، فوت ہو گیا تھا۔

PLD 1991 FSC 10، پر انحصار کرتے ہوئے، اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ نے اپنا مقدمہ ثابت کر دیا ہے اور یوں ملزم، زیر کارروائی، سزائے موت کا مستحق ہے۔

(Ex.P.A/2) میں موجود قابل اعتراض مواد کی طرف میری توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسے

صفحہ 362

ملزم کے خلاف ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ نہ تو پرنٹر کو پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی پبلشنگ ہاؤس کا اتاپتا ہے جہاں سے اسے چھپوایا گیا اور شائع کیا گیا۔ وہ فرد جسے مقدمہ کا سامنا کرتے ہوئے ملزم نے کتابچہ دیا، نے گواہ استغاثہ نمبر 2 کی حیثیت سے پیش ہوتے ہوئے ملزم، جو مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے، کے خلاف کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے اسے اس جرم میں ملوث کیا جا سکے، اس لیے، استغاثہ کا مقدمہ قطعی طور پر بے بنیاد ہے۔ ایس ایچ او تفتیشی افسر کو اسلام کے متعلق مناسب علم نہیں، اس لیے، ملزم جو مقدمہ کا سامنا کر رہا ہے، کو مجرم ثابت کرنے کے لیے اس کی گواہی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ڈی ایس پی (لیگل)، استغاثہ گواہ نمبر 5، نے نہ تو اسلامیہ یونیورسٹی اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد سے ماہرانہ رائے طلب کی۔ وہ اس قابل نہیں تھا کہ وہ مقدمہ کا سامنا کرنے والے ملزم کے خلاف بہتر رائے دے سکے۔ صفائی کے فاضل وکیل نے PLD 1986 Karachi 574,1998 MLD 1592،PLD 1977 Lahore 267, PLD 1987 Lahore 208, PLD 1980 Lahore 20, 1987 CLC 1159, 1989 PLD 136 اور PLD 1977 Lahore 663 پر انحصار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ دستاویز، جو بخوبی طور پر ثابت نہ کی گئی ہو، اسے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا خواہ اسے دوسری طرف سے بغیر اعتراض کے پیش کیا گیا ہو، دستاویزی ثبوت کی قبولیت ایک چیز ہے اور اس کی مستند حیثیت اور اعتباریت دوسری چیز ہے۔ ثبوت کے طور پر دستاویز کی قبولیت سے مراد یہ نہیں کہ اس قسم کی دستاویز کے مندرجات بھی قبول کیے گئے۔ اصل دستاویز کی فوٹوسٹیٹ کاپی، جسے نہ تو اصلی دستاویز پیش کرنے کے ذریعے ثابت کیا گیا ہو، یا پھر عدالت کے روبرو، ایک تصدیق شدہ نقل پیش کرنے کے ذریعے ثابت کیا گیا ہو، اسے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

نے کہا کہ (Ex.P.A/2) میں شامل مندرجات نمبر 20، 21، 22 اور 23، متذکرہ شقوں کی حدود میں نہیں آتے۔ سب سے بڑھ کر متذکرہ شمار نمبروں میں شامل تحریروں کو ”شرک“ کہا جا سکتا ہے اور ”مشرک“ کے لیے کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی۔

صفحہ 363

کراتے ہوئے، اس نے مزید کہا کہ اسے حضور نبی اکرم ﷺ کی توہین قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی نہیں کی گئی ہے۔ اسے ’کلمہ‘ کے پہلے حصے کو پڑھنے کے بعد ایک وقفہ کے بعد پڑھا جاتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اگر اسے گستاخانہ الفاظ کہا جائے، تو پھر ملک میں مسلمانوں کے بہت سے افعال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مقدمہ 1992 P.Cr. L J 2346، جس پر فاضل مستغیث نے انحصار کیا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے کہا کہ مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کرنے والے ملزم پر یہ مثال منطبق نہیں ہوتی۔ وہ ملزم، جو مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے، قادیانی نہیں بلکہ مسلمان ہے۔ اس لیے یہ ”قیاس مع الفارق“ ہوگا جسے اگر مجموعی طور پر مدنظر رکھا جائے تو یہ مقدمہ ہذا پر منطبق نہیں ہوتا۔ ملزم کی طرف سے کتابچہ بعنوان ”فیضان قلندر“ شائع کرنے میں بدنیتی کا تعین کرنے کے لیے کوئی پیمانہ نہیں۔ ’السب‘، ’شتم‘ اور ’کفر‘ کی اصطلاح میں کوئی فرق نہیں۔

18- مدعی کی طرف سے بدنیتی پر مشتمل ملزم کو جھوٹے طور پر مقدمہ میں ملوث کرنے کے ضمن میں اس نے یہ واضح کیا کہ راجہ محمد وحید، گواہ استغاثہ نمبر 1 اور عبدالصبور ہاشمی، گواہ استغاثہ نمبر 3، مدرسہ دارالعلوم جامع رضویہ رحمانیہ، سوہاوہ، کے فعال اراکین ہیں جو مقدمہ کی کارروائی میں ملوث ملزم کا حریف دھڑا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ ہذا درج کرنے کے ذریعے اسے بدنام کرنا چاہتا ہے۔

19- اس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ غفور الرحیم جیسے استعمال کردہ الفاظ، حضور نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے گستاخانہ اور اہانت آمیز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذات خود قرآن مجید کی سورہ نمبر 48 کی آیت نمبر 29 میں مسلمانوں کو رحماء بینهم (الفتح:29) قرار دیا۔ مہربانی اور نوازش کی خصوصیت، ایک عطا کردہ خصوصیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیروکاروں کو ودیعت کی۔ اس لیے اسے حضور نبی اکرم ﷺ کے لیے گستاخانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ”رحمت اللعالمین“ قرار دیا۔ اس نے مزید کہا کہ عدالت، کفر اور شرک کے تعین کی مجاز نہیں۔ شرک کو نہ تو آئین کے تحت قابل سزا بنایا گیا ہے اور نہ ہی تعزیرات پاکستان کے تحت اسے قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ لکھے گئے الفاظ، عبدالقادر شیئا للہ، کسی نہایت ہی قیمتی قدر و قیمت کی حامل چیز کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ کا تحفہ سمجھا جاتا ہے اور اسے وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ”کلمہ“ کی تحریف

صفحہ 364

نہیں ہوئی ہے۔

کہ استغاثہ، ملزم جو مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے، کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے ، اس لیے رہائی کا مستحق ہے۔

جناب عبدالرحمن لودھی، ایڈووکیٹ نے کی اور صفائی کے فاضل وکیل، ڈاکٹر محمد اسلام خاکی، کے دلائل سننے کے بعد، عدالت ہذا کی رائے یہ ہے کہ کتابچہ، (Ex.P.B)، بذات خود ملزم کی طرف سے شائع کیا گیا جو راجہ محمد وحید، گواہ استغاثہ نمبر 1، پر دورانِ جرح، گواہی کے ذریعے ظاہر ہوا۔ اس لیے، صفائی کا فاضل وکیل یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے غلط اور غیر قانونی طور پر استغاثہ کی گواہی میں لایا گیا۔ تاہم، جہاں تک ملزم کی طرف سے اس کتابچے کے اصل ہونے اور طباعت کا تعلق ہے، بلاخوف وخطر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسے استغاثہ نے عبدالرشید، ایس ایچ او اور گواہ استغاثہ نمبر 4 اور غلام صفدر، ڈی ایس پی (لیگل)، گواہ استغاثہ نمبر 5، کی گواہی کے ذریعے ثابت کر دیا ہے۔ مزید برآں، دیگر واقعاتی شہادتوں کے علاوہ، ملزم کی گستاخانہ طباعت سے منسوبیت کا اظہار، راجہ عبدالوحید، گواہ استغاثہ نمبر 1، قیصر ہمایوں ثقلین، گواہ استغاثہ نمبر 2 اور عبدالصبور ہاشمی، گواہ استغاثہ نمبر 3 کی گواہی سے بخوبی ہو جاتا ہے۔

غلام صفدر، گواہ استغاثہ نمبر 5 نے اپنی اس رپورٹ کی بخوبی تائید کی جو اس نے فتویٰ (Ex.P.B) کی بنیاد پر تیار کی تھی، اور یہ (Ex.P.F) ہے، اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ اس کی رپورٹ (Ex.P.F) یوں ہے: میں نے راجہ عبدالوحید، عبدالصبور ہاشمی اور ملک فدا حسین، ساکن، سوہاوہ، کی طرف سے پیش کردہ درخواست کے مندرجات کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے درخواست کے ساتھ لف کتابچے کا بھی جائزہ لیا ہے۔ بخوبی غور وفکر کے بعد، پیر ظہور بادشاہ کا یہ فعل، دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان مع دفعہ 298 تعزیرات پاکستان) کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کے بجائے کلمہ طیبہ میں عبدالقادر جیلانیؒ کا نام شامل کرنے کے ذریعے ’’کلمہ طیبہ‘‘ میں تحریف کی ہے۔ اس لیے یہ روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ متذکرہ گواہ نے وہ کتابچہ دیکھا جس میں مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کرنے والے ملزم نے کلمہ طیبہ میں تحریف کی۔

صفحہ 365

اصلی فتویٰ (Ex.P.E) میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مفتی محمود حسین نے کتابچہ بعنوان ”فیضانِ قلندر“ دیکھا جس میں عبدالقادر جیلانی، غوثِ پاکؒ کو اللہ تعالیٰ کی صفات معنون کی گئی ہیں جو غفور رحیم، العلی العظیم، حی القیوم، الله الصمد ہیں اور جو شمار نمبر 20، 22 اور 23 پر درج ہیں۔ اس دستاویز کے ذریعے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کتابچہ، بعنوان، ”فیضانِ قلندر“ کی موجودگی اور آستانہ قلندریہ گلشن بغداد شریف، سوہاوہ، ضلع جہلم سے شائع کردہ ہے جس کے متعلق یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ مقدمہ کی کارروائی میں ملوث ملزم کا پتا ہے، اور اس امر کی تائید، مقدمہ کی کارروائی میں ملوث ملزم کی مہر سے بھی ہو جاتی ہے جس کی زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کے معائنے کے دوران پولیس کی طرف سے برآمدگی بھی تسلیم کی گئی۔

نہیں کہا جاسکتا کہ کتابچہ بعنوان ”فیضانِ قلندر“ کی حیثیت موجود نہیں یا پھر استغاثہ، گستاخانہ کتابچہ کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

معیت میں ملزم کے ڈیرے گیا اور متذکرہ ڈیرے پر اسے یہ کتابچہ دیا گیا۔ تاہم، اس نے کہا ہے کہ کتابچہ، (Ex.P..B)، وہ نہیں جو اسے دیا گیا تھا۔ اس نے درست طور پر کہا ہے کہ چونکہ متذکرہ کتابچہ ٹکڑوں میں ہے اور اسے کاغذ پر چسپاں کیا گیا ہے۔ درحقیقت، یہ کتابچہ، ایک اکائی کی شکل میں تھا اور اسے استغاثہ نے پیش کیا اور یہ (Ex.P.A/2) ہے۔ صفائی کے فاضل وکیل نے اس پر قطعی جرح نہیں کی اور نہ ہی صفائی کے فاضل وکیل نے اس حوالے سے اس کے روبرو کوئی سوال یا بات کی کہ مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کرتے ہوئے ملزم کے ڈیرے سے کوئی کتابچہ اس کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ایک خاص نکتے کے لحاظ سے ایک گواہ پر جرح کرنے میں ناکامی سے اس کا اعتراف صاف طور پر سامنے آتا ہے۔ اس لیے، بلاخوف و خطر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کم از کم ایک کتابچہ تو گواہ، قیصر ہمایوں ثقلین، گواہ استغاثہ نمبر 2 کو دیا گیا اور اس نے متذکرہ کتابچہ، قاری امین سیالوی کے حوالے کیا تھا جس نے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف کچھ حد تک اہانت آمیز پایا۔

اس لیے اندریں حالات، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اہانت آمیز کتابچے کا کہیں وجود نہ تھا یا استغاثہ اس امر کو آزاد اور قابل اعتماد گواہان کے ذریعے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

صفحہ 366

-24 واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ کتابچہ، اس وقت راجہ محمد وحید گواہ استغاثہ نمبر 1 کے حوالے کیا گیا جب وہ عبدالصبور ہاشمی، ملک فدا حسین اور قاری محمد امین کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا جہاں قیصر ہمایوں ثقلین آیا اور اسے وہاں اہانت آمیز کتابچہ ملا۔ بخوبی مشاورت کے بعد راجہ محمد وحید، گواہ استغاثہ نمبر 1 کو مطلع کیا گیا کہ متذکرہ مواد نبی اکرم ﷺ کے خلاف اہانت آمیز ہے اور مقدمہ کا سامنا کرنے والے ملزم نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا ہے، اس لیے وہ ایس ایچ او کے پاس گیا، لیکن اسے یہاں سے ناکامی ہوئی، تو پھر مقدمہ کے اندراج کے لیے وہ ایس ایس پی، جہلم کے پاس گیا۔ متذکرہ کتابچہ، مدعی نے اپنی درخواست کے ساتھ لف کیا ہوا تھا اور اپنی قانونی رائے دیتے وقت ڈی ایس پی (لیگل)، گواہ استغاثہ نمبر 5 نے اسے بخوبی دیکھا تھا۔

-25 عبدالصبور ہاشمی، گواہ استغاثہ نمبر 3، کا موقف، پاسپورٹ (P.1) اور مہر (P.2) کی برآمدگی کے حوالے سے، استغاثہ کی تائید کرتا ہے جس میں ملزم، جو مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے، کا پتا وہی ہے جو (Ex.P.A/2) میں درج ہے۔ اس گواہ نے بھی استغاثہ کے اس موقف کی تائید کی کہ کتابچہ، شرکیہ کلمات اور حضور نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے گستاخانہ الفاظ پر مشتمل تھا۔ اس کتابچہ میں کلمہ طیبہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کے بجائے عبدالقادر جیلانی کا نام دیا گیا تھا۔

اندریں حالات، صفائی کا فاضل وکیل، پہلی دی ہوئی مثالوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔ مقدمہ ہذا کے واقعات اور حقائق، ان مثالوں (فیصلوں) سے مختلف ہیں جن پر صفائی کے فاضل وکیل نے انحصار کیا تھا۔ اگر کتابچہ (Ex.P.B) اور (Ex.P.A/2) کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور انہیں ایک طرف رکھ دیا جائے تو پھر بھی غلام صفدر، ڈی ایس پی (لیگل)، گواہ استغاثہ نمبر 5 کی گواہی، کتابچے کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے جو گستاخانہ الفاظ اور شرکیہ کلمات پر مشتمل تھا۔ اس نے رپورٹ (Ex.P.F) کے فتویٰ (Ex.P.E) کی بھی بھر پور تائید کی ہے جس میں کلمہ طیبہ کی تحریف اور شرکیہ کلمات کی موجودگی بغیر کسی شک وشبہ کے ثابت ہو چکی ہے۔ اس گواہ نے قابل اعتراض کتابچہ خود دیکھا اور بعد ازاں اپنی رائے دی۔

استغاثہ نے نہایت کامیابی سے اس کتابچے کی موجودگی (Ex.P.A/2) ثابت کر

صفحہ 367

دی جو ملزم نے اپنے سوہاوہ کے پتے کے تحت شائع کیا۔

شامل شقیں، ملزم (جو مقدمہ کا سامنا کر رہا ہے) کے خلاف مقدمہ ہٰذا پر منطبق نہیں ہوتیں اور شرکیہ کلمات شائع کرنے پر ملزم (جو مقدمہ کا سامنا کر رہا ہے) کے خلاف عدالت کوئی تعزیری کارروائی نہیں کر سکتی اور یہ کہ ملک کے قانون کے مطابق یہ قابل سزا نہیں۔ اس ضمن میں آئین کے علاوہ تعزیرات پاکستان، ان سرگرمیوں اور کارروائیوں کے متعلق خاموش ہیں؛ تاہم اس ضمن میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے اور یوں رائے کا اظہار کیا گیا ہے:

داغ لگانا“ سے منسوب ہے۔ اس ضمن میں Black Law Dictionary، پانچواں ایڈیشن، شائع کردہ، سینٹ، پال مل، ویسٹ پبلشنگ کمپنی 1979، کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

ذکر، نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز نوعیت کا حامل ہے یا نہیں؛ اس لیے، شیئا اللہ کے معنی کا تعین ضروری ہے۔ لفظ شیئا سے مراد وہ چیز ہے جس کا تعلق کسی معلومات، آگہی اور علم سے ہو۔ المعجم الوسیط، حصہ اول، شائع کردہ المکتبہ العلمیہ ظہران میں اسے مایتصور ویخبر عنہ الموجود کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مصباح اللغات، شائع کردہ اسلامی اکیڈیمی لاہور، میں لفظ الشیئا للہ کا مفہوم مقدر کرنا کے طور پر دیے گئے ہیں۔ ترتیب القاموس، المحیط علی طریقہ المصباح المنیر واساس البلاغہ، شائع کردہ دار اللباز، مکہ المکرمہ، میں لفظ شیئا کا مفہوم اعدوہ شیئا کے طور پر دیا گیا ہے، اس لیے، یہ شیء کا استخراج ہے جس کا مفہوم ارادہ ہے۔

شیئا للہ کے لفظ کے استعمال کے طرف جب آئیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا خان بریلویؒ کے مریدوں میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ مندرجہ ذیل الفاظ پڑھا کرتے تھے: یا ظل الہ شیخ عبدالقادر ... شیئا للہ شیخ عبدالقادر ۔ اس ضمن میں حدائق بخشش کے اردو ترجمے کا حوالہ دیا جاتا ہے جسے اسلامی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور نے شائع کیا ہے۔ متذکرہ کتاب کے دوسرے حصے میں، صفحہ 54 پر اس کا یوں ترجمہ کیا گیا ہے: اے ظل الہ شیخ عبدالقادر ۔۔۔ اے بندہ پناہ شیخ عبدالقادر ۔ اس لیے یہ واضح ہے کہ لفظ شیئا للہ، کے عمومی

صفحہ 368

مفہوم کی نسبت اس کا ایک خاص مفہوم موجود ہے جس طرح پہلے کہا گیا ہے۔ الفاظ شیئا للہ، کے معنی بندہ پناہ ہوئے نہ کہ دوست یا پھر خدا کی کوئی چیز یا خدا کے لیے کوئی چیز۔ الفاظ، بندہ پناہ، ایک ایسی ذات کو کہتے ہیں جو لوگوں /غلاموں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لوگوں کو تحفظ کرنا اور خاص طور پر مسلمانوں میں، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک خصوصیت ہے لیکن موجودہ معاملے میں، اسے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے منسوب کیا گیا ہے اور انہیں شیئا للہ کہا گیا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خصوصیت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیخ عبدالقادر کو اس خوبی کے باعث عطا کی گئی، انہیں ایک برتری عطا کی گئی کہ دوسرے لوگ ان کی اطاعت کریں۔ ہم شیطان سے کسی اور کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے عقیدے کی بنیاد ہے۔

ملزم (جو مقدمہ کی کارروائی میں ملوث ہے) اور اس کے مریدین کی طرف سے کلمہ پڑھنے اور اس کو ادا کرنے سے معلوم ہوا کہ کلمہ کے پہلے حصے اور دوسرے حصے کے درمیان وقفہ دیتے ہیں کیونکہ الفاظ شیئا للہ کے معنی وہی رہتے ہیں۔ اس طرح بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جس طرح پہلا کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اس لیے بلاخوف وخطر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ملزم، جس پر مقدمہ کی کارروائی ہو رہی ہے، نے مسلمانوں کے دین میں ایک نئی چیز متعارف کرائی جو بلاشبہ، امام احمد رضا نے مندرجہ بالا شعر میں بھی نہیں متعارف کرائی تھی اور اسے اب البدعہ فی الدین کہا جا سکتا ہے اور یوں اس کے باعث حضرت محمدﷺ کی بطور اللہ کے پیغمبر کی تکذیب ہوتی ہے اور جو شخص اسلام کے کسی بھی رکن سے انکار کرتا ہے، اسے عین اسی طرح مرتد کہا جاتا ہے جس طرح اس شخص کو مرتد کہا گیا تھا جس نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس ضمن میں حدیث نمبر 1716 کا حوالہ دیا جاتا ہے جو کتاب الدیات کے باب 962 اور صفحہ نمبر 606 پر موجود ہے۔ یہ صحیح البخاری کا چوتھا حصہ ہے جسے دارالقلم، بیروت

صفحہ 369

، لبنان نے شائع کیا۔

”المارق“، ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے مذہب چھوڑ دیا ہو اور اپنے دین سے منہ پھیر لیا ہو۔ اس لیے، اس کا خون معاف نہیں کیا جائے گا۔ انگریزی زبان میں مرتد کا مترادف Renegade ہے۔ بہرحال، مرتد کے بارے میں اس کی توبہ کا سوال کیا جا سکتا ہے اور اس کی طرف سے توبہ کی عدم موجودگی میں، اسے موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے۔

جہاں تک موجودہ معاملے کا تعلق ہے، ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، خود پر جرح کے دوران بتایا کہ اس نے جو کچھ لکھا، اس میں کوئی اہانت آمیز مواد موجود نہیں تھا۔ اس نے توبہ یا شرمندگی کے اظہار کے بجائے، متذکرہ مواد پر اصرار کیا۔ اگر اس کا مواد کتابچے (Ex.P.A/2) اور (Ex.P.B) سے مختلف ہوتا، تو پھر ہمیں استغاثہ کے موقف کے استرداد کے لیے اسے ہی عدالت کے روبرو پیش کرنا تھا جو مندرجہ بالا بحث کے ذریعے پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے۔

پاکستان، قابل سزا بنایا گیا ہے۔ اس کی ضرورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گستاخانہ الفاظ بالواسطہ کسی سے عین اسی طرح منسوب کیے جاتے ہیں جس طرح (حدیث قدسی میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یؤذینی ابن آدم یسب الدھر وانا الدھر بیدی الامر اقلب اللیل والنھار“۔ اس ضمن میں، میں نے اس حدیث کا ذکر کیا جس کا شمار نمبر 1253 ہے اور جو صحیح البخاری، شائع کردہ، دارالقلم، بیروت، کی کتاب التفسیر کے باب نمبر 475 میں درج ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے دوسری مثال (حدیث قدسی میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”قال الله تعالیٰ: کذبنی ابن آدم، ولم یکن لہ ذلک، وشتمنی ولم یکن لہ ذلک۔ فاما تکذیبہ ایای، فقولہ: لن یعیدنی کمابدانی، ولیس اول الخلق باھون علی من اعادتہ۔ واما شتمہ ایای، فقولہ: اتخذ الله ولدا، وانا الاحد الصمد، لم الد ولم اولد، ولم یکن لی کفوا احد“ وقال سبحانہ: (لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلاثہ۔ (المائدہ:73))“

اس ضمن میں ایک حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کا نمبر 1357 ہے جو صحیح البخاری، شائع کردہ دارالقلم، بیروت، کی کتاب بدالخلق، کے باب نمبر II اور باب نمبر 878 پر درج ہے، نیز الصارم المسلول علی شاتم الرسولﷺ، ابن تیمیہؒ صفحہ 54، شائع کردہ نشر السنہ، ملتان ہے۔ ، ملتان ہے۔

صفحہ 370

کی طرف آتے ہوئے، یہ دیکھا گیا ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں:

رسول ہیں۔

”بندگی کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے اور حضرت محمد، اللہ کے رسول ہیں، کے تین پہلو A، B اور C ہیں:

حاکم، اللہ جل شانہ کے ساتھ چار نکات پر عہد و پیمان کرتے ہیں:

پہلا نکتہ: اپنے دل سے یہ اعتراف کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اس لیے آپ یہ کہتے ہیں:”میں شہادت دیتا ہوں کہ ستاروں، سیاروں، سورج، چاند، آسمانوں، زمینوں اور زندگی کی تمام معلوم اور نامعلوم صورتوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ اپنے تمام امور کا ناظم اور منصوبہ ساز ہے۔ یہ وہی ہے جو زندگی و موت عطا کرتا ہے اور وہ (صرف اللہ تعالیٰ) ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور سلامتی عطا کرنے والا ہے۔“ اور آپ کا یہ اعتراف، ”اللہ تعالیٰ کی وحدانیت“ کا اعتراف ہے۔

دوسرا نکتہ: اپنے دل سے اعتراف کہ آپ یہ کہتے ہیں: ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔“ عربی زبان میں لفظ ”عبادت“ کے بہت سے مفہوم ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قسم کی بندگی کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسری ذات، (خواہ یہ فرشتہ ہو، پیغمبر ہو، نبی، یسوع مسیح، مریم کا بیٹا ہو، عزرائیل ہو، ولی ہو، بت ہو، سورج ہو، چاند ہو اور ہر قسم کی مصنوعی چیزیں اور دیوتا) عبادت کے لائق نہیں۔ اس لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو، صرف اللہ تعالیٰ ہی سے دعا مانگو، صرف اللہ ہی سے مدد طلب کرو، صرف اللہ ہی کی قسم کھاؤ، صرف اللہ

صفحہ 371

ہی کے لیے قربانی دو۔۔ وغیرہ وغیرہ، باالفاظ دیگر، صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی جو کچھ تمہیں حکم فرمائیں، وہی کرو (جو کچھ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں حکم دیا گیا)۔ اور اس چیز سے باز آ جاؤ جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا، یہ سب بندگی اور عبادت کے زمرے میں شامل ہے۔ اور اسے ایک اللہ کی عبادت کہتے ہیں اور اے انسان، صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کر۔

تیسرا نکتہ: اپنے سے اعتراف کہ آپ یہ کہتے ہیں: ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں اپنے ساتھ جو نام اور کامل خصوصیات منسوب کی ہیں یا پھر اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو یہ کہتے ہوئے نام اور خصوصیات ودیعت کیں: ”میں تصدیق کرتا ہوں کہ وہ تمام (نام اور خصوصیات)، بغیر معنی کی تبدیلی یا انہیں مکمل طور نظر انداز کیے بغیر، یا دوسروں کے ساتھ مشابہت پیدا کیے بغیر، اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔“ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا، ’ایک کمزور مسلمان کی نسبت ایک سچا مسلمان، اللہ کے نزدیک کہیں بہتر اور پیارا ہے لیکن دونوں ہی اچھے ہیں (اس لیے وہ چیز تلاش کرو جو تمہارے فائدے میں ہے اور اللہ پر بھروسا کرو لیکن سستی نہ دکھاؤ‘)۔

اور پھر آخری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اس کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔

سیدنا حضرت ابوذر غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا اور تم پر بھی حرام کیا، پس تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جس کو میں راہ بتلاؤں پس تم مجھ سے راہنمائی طلب کرو میں تمہاری راہنمائی کروں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے کپڑا مانگو میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم میرا نقصان نہیں کر سکتے اور نہ مجھے فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اگر اول سے آخر تک سب انسان اور جنات، سب ایسے ہو جائیں جیسے تم میں بڑا پرہیز گار شخص ہو تو میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا اور اول سے آخر تک سب انسان اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تم میں سے سب سے بڑا بدکار شخص ہو تو میری سلطنت میں سے کچھ کم نہ ہوگا۔

صفحہ 372

اے میرے بندو ! اول سے آخر تک سب انسان اور جنات ، سب ایک میدان میں کھڑے ہوں ، پھر مجھ سے مانگنا شروع کریں اور میں ہر ایک کو جو وہ مانگے دے دوں ، تب بھی میرے پاس جو کچھ ہے وہ کم نہ ہوگا مگر اتنا جیسے دریا میں سوئی ڈبو کر نکال لو ( تو دریا کا پانی جتنا کم ہو جاتا ہے اتنا بھی میرا خزانہ کم نہ ہوگا ، اس لئے کہ دریا کتنا ہی بڑا ہو آخر محدود ہے اور میرا خزانہ بے انتہا ہے ۔ پس یہ صرف مثال ہے ) ۔ اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو تمہارے لئے شمار کرتا رہتا ہوں ، پھر تمہیں ان اعمال کا پورا بدلہ دوں گا ۔ پس جو شخص بہتر بدلہ پائے تو چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے ( کہ اس کی کمائی بیکار نہ گئی ) اور جو برا بدلہ پائے تو اپنے تئیں برا سمجھے (کہ اس نے جیسا کیا ویسا پایا ) ۔ سعید نے کہا کہ ابو ادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑتے ۔‘‘ یہ حدیث قدسی مسلم شریف میں بیان کی گئی ہے۔

قرآن پاک میں یہ حکم فرمایا گیا ہے:

”وقال ربكم ادعونی استجب لكم“ (المومن: 60)

ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘

”قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا“ (بنی اسرائیل: 56)

ترجمہ: ”(انہیں) کہیے اب بلاؤ ان کو جنہیں تم گمان کیا کرتے تھے (کہ یہ خدا ہیں ) اللہ تعالیٰ کے سوا۔ وہ تو قدرت نہیں رکھتے کہ تکلیف دور کرسکیں تم سے اور نہ ہی وہ (اسے) بدل سکتے ہیں ۔‘‘

”فادعوا الله مخلصين له الدين ولو كره الكفرون .“ (المومن: 14)

ترجمہ: ”تو عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین کو اگر چہ ناپسند کریں کفار ۔‘‘

”ولله الاسماء الحسنى فادعوه بها وذروا الذين يلحدون فی اسمائه ط سيجزون ما کانوا یعملون“ (الاعراف: 180)

ترجمہ: ”اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے سو پکارو اسے انہیں ناموں سے، اور چھوڑ دو انہیں جو کجروی کرتے ہیں اس کے ناموں میں ، انہیں سزا دی جائے گی جو کچھ وہ

صفحہ 373

کیا کرتے تھے۔"

ہے) نے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم ﷺ کے درجوں کا انکار کرتے ہوئے اس پر شیخ عبدالقادر جیلانی کو فائز کر دیا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم ﷺ کے لیے مخصوص خصوصیات (صفحہ الموصوفہ) کو شیخ عبدالقادر جیلانی کے لیے مخصوص کر دیا اور اس کا یہ عمل دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ وہی کچھ فرماتے اور کرتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توہین، حضور نبی اکرم ﷺ کی توہین ہے۔

معاملہ، قادیانیوں کے مانند ہے جس کا ذکر 1992 P Cr L J.2346 میں کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ قادیانی مسلمانوں کے مانند کلمہ پڑھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ، اللہ کے پیغمبر ہیں۔ لیکن ان کی نیت درست نہیں۔ اس لیے انہیں قصور وار سمجھا جاتا ہے۔ (کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی ”محمد رسول اللہ“ ہے اس لیے جب وہ کلمہ پڑھتے ہیں تو ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔ اس لیے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ ”ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718“ میں لکھا کہ اگر کوئی قادیانی کلمہ پڑھے یا لکھے یا اس کی نمائش کرے تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج ہوگا)، جہاں تک موجودہ معاملے کا تعلق ہے، ملزم (جو مقدمہ کی کارروائی میں ملوث ہے) نے کلمہ میں اللہ کے رسول کی حیثیت سے حضرت محمد ﷺ کا نام حذف کر دیا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے بجائے شیخ عبدالقادر جیلانی کا نام شامل کر دیا۔ اس لیے متذکرہ فعل کا وہ ذمہ دار ہے۔ اگرچہ اس کی نیت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر سمجھتا ہو۔ ملزم (مقدمہ کی کارروائی میں ملوث) کی طرف سے جرم کی نوعیت کا تعین کرتے ہوئے اس نے جو الفاظ استعمال کیے، انہیں خاص طور پر ذہن میں رکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب“ (الاحزاب: 57)

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

صفحہ 374

”ہر چیز جو رسول پاک ﷺ کی ایذا کا سبب بن جائے‘ خواہ وہ مختلف معنی کے حامل الفاظ کے حوالہ سے ہو یا ایسے عمل سے جو آپ کی اذیت کے تحت آتا ہے۔“

(الجامع الاحکام جلد 14 صفحہ 238) اس آیت کی مزید تشریح کی گئی ہے:

”اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینے کا مطلب‘ دراصل صرف رسول کو اذیت دینا ہے اور اللہ کا ذکر صرف عظمت اور سرفرازی کے لیے ہے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ رسول کو اذیت دینا‘ دراصل اللہ کو اذیت دینا ہے۔“

اس لیے، میری رائے یہ ہے کہ اللہ کو اذیت دینے کے فعل کو دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے دائرے کے اندر رہ کر دیکھنا چاہیے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے متعلق بخوبی وضاحت کر دی گئی ہے اور اس کے لیے ایک جائز وجہ موجود ہے۔ مدعی نے ایس ایچ او سے رابطہ کیا اور ناکامی پر وہ ایس ایس پی جہلم کے پاس گیا اور اس کے روبرو درخواست (Ex.P.A) پیش کی جسے ڈی ایس پی (لیگل) کے پاس قانونی رائے کے لیے بھجوا دیا گیا، اور قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد مقدمہ ہے، اس لیے، مقدمہ کے اندراج میں مبینہ تاخیر، استغاثہ کے نزدیک اہم نہیں۔

پیمانہ نہیں، اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی نیت تو صاف سامنے ہے۔ کتابچہ، ملزم (جس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے) کے پتے کے ساتھ چھپوایا گیا۔ اس کی طباعت کے لیے کچھ طریقے تو اختیار کرنے تھے اور وقت تو صرف ہونا ہی تھا۔ اس کی طباعت اور اشاعت فوراً ہی نہیں ہوئی۔ اس لیے، ملزم کی نیت یہ تھی کہ اس قابل اعتراض کتابچے کو طبع کیا جائے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ الفاظ ”دانستہ“، تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 میں موجود نہیں، اس لیے، یہ جرم کا ایک لازمی حصہ متشکل نہیں پاتا۔

آزمائش میں پورا اترے ہیں اور استغاثہ نے بلاشک وشبہ، ملزم (زیر مقدمہ) کے خلاف اپنا مقدمہ کامیابی سے ثابت کر دیا ہے۔ ملزم کو جرم میں ملوث کرنے پر مبنی گواہی کی بنیاد پر

صفحہ 375

پراسیکیوٹر کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے؛ قرآن مجید اور احادیث میں مذکور اللہ تعالیٰ کے احکامات اور راہنما نکات، جنہیں اعلیٰ عدالتوں نے مدنظر رکھا، میرے خیال میں الزام ثابت ہو چکا ہے اور ملزم زیر مقدمہ پیر ظہور احمد کو بلاشک وشبہ، حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ الفاظ کہنے پر اسے قصور وار پایا گیا ہے اور میں زیر دفعہ 295-C، اسے مجرم ٹھہراتا ہوں اور ملزم پیر ظہور احمد کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، سزائے موت دیتا ہوں۔ تاہم سزائے موت پر عمل درآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی جس کے لیے یہ مقدمہ معزز عدالت عالیہ کو بھجوایا جائے گا۔ اسے اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ گستاخانہ مواد بحق سرکار ضبط کر لیا جائے۔ اس فیصلے کی نقل، ملزم کو مفت فراہم کی گئی ہے جسے مطلع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے تو وہ اس فیصلے کے خلاف آج سے سات یوم کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔

اس فیصلے کی ایک نقل، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، جہلم کو دفعہ 373 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بھجوائی جائے گی۔ قانون کے مطابق ملزم کو دی گئی سزا بھگتنے کے لیے اسے جیل بھجوایا جائے۔

دستخط: عبدالکریم لنگاہ ایڈیشنل سیشن جج جہلم

تاریخ فیصلہ 12 مارچ، 2001ء

۞......۞......۞

صفحہ 376
صفحہ 377

جناب صفدر حسین ملک ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد

سرکار بنام ڈاکٹر محمد یونس شیخ، اگست 2001ء

صفحہ 378
صفحہ 379

دل کی بات

پروفیسر ڈاکٹر یونس شیخ بنیادی طور پر افسانہ نویس اور انشائیہ پرداز تھا۔ وہ حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد اور راولپنڈی کے اجلاسوں میں شرکت کرتا جہاں وہ عجیب و غریب خیالات کا اظہار کرتا۔ اس کے نظریات سیکولر اور اسلام مخالف تھے۔ وہ باقاعدہ طور پر اسلام سے الرجک رہتا، جس سے حلقہ کے اکثر لوگ بھی اس سے برگشتہ تھے۔ پہلے پہل وہ اپنے آپ کو ترقی پسند کے طور پر پیش کرتا رہا، پھر Humanist کہلوانے لگا۔ اس نے Humanist Movement کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی۔ اپنے ہیومنزم پرچار کے دوران وہ معاشرے کے مختلف افراد خصوصاً ادیبوں کے گھروں میں خط بھجواتا رہتا اور مختلف معاشرتی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتا رہا۔ اس کے خیالات اپنی نوعیت میں تضحیک آمیز ہونے کے باعث نظر انداز کر دیئے جاتے۔ بہر حال کچھ ادیبوں نے اس کی ”مخصوص سرگرمیوں“ کا نوٹس ضرور لیا تھا۔

یونس شیخ کیپیٹل ہومیوپیتھک میڈیکل کالج اسلام آباد سے بھی بطور لیکچرار وابستہ رہا۔ اسی کالج میں اس نے 2 اکتوبر 2000ء کو دوران لیکچر محسن انسانیت، فخر موجودات، رحمت عالم حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں بدترین گستاخی کی اور توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ٹھہرا۔ ملزم کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے امیر مولانا عبدالرؤف نے تھانہ مارگلہ اسلام آباد میں ایف آئی آر درج کروائی جس پر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

توہین رسالت کا یہ مشہور مقدمہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قائم کیمپ کورٹ میں تقریباً 10 ماہ جاری رہا جس میں ملزم یونس شیخ کو سزائے موت دی گئی۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی جس کی عدم ادائیگی پر وہ مزید 6 ماہ قید سخت بھگتے گا۔ ایڈیشنل سیشن جج صفدر حسین ملک کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب

صفحہ 380

سے ملزم کے خلاف 7 گواہان پیش ہوئے۔ ملزم کو اپیل کے لیے 7 روز کا وقت دیا گیا۔ دریں اثناء یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ ڈاکٹر یونس نے اڈیالہ جیل میں قید کے دوران شروع شروع میں اخبارات کو خطوط لکھے۔ ان خطوط میں دعویٰ کیا کہ وہ بے قصور ہے۔ اس کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ آٹھ ماہ ہی گزرے تھے کہ ڈاکٹر یونس نے جیل میں ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ جس پر اس کی بیرک کی نگرانی سخت کر دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر اسے ”باعزت“ بری کر دیا گیا۔ ملعون ڈاکٹر یونس آج کل کینیڈا میں مقیم حسب معمول اپنی اسلام دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

اس مقدمہ کی فوٹو کاپی گستاخان رسول کے خلاف اپنی زندگی وقف کر دینے والے مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا قاری عبدالوحید قاسمی صاحب مدظلہ نے فراہم کی جس وہ انتہائی شکریہ کے مستحق ہیں۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 381

بعدالت جناب صفدر حسین ملک ایڈیشنل سیشن جج، اسلام آباد

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 96/2001 ایف آئی آر نمبر : 332 بتاریخ 4 اکتوبر، 2000ء پولیس سٹیشن : مارگلہ، اسلام آباد بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-C

سرکار

بنام

ڈاکٹر یونس شیخ ولد سردار محمد شیخ، ذات شیخ، ساکن: مکان نمبر-F/69، پاور ہاؤس روڈ، نور محلہ چشتیاں، ضلع بہاولنگر حال مقیم مکان نمبر 203، گلی نمبر 74، سیکٹر G-9/3، اسلام آباد (ملزم)

وکلا منجانب مدعی: فضل الرحمٰن ایڈووکیٹ، قاری عبدالرشید ایڈووکیٹ وکلا منجانب ملزم: محمد حسین چوٹیا ایڈووکیٹ، محمد اسلم خاکی ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 18 اگست 2001ء

صفحہ 382

فیصلہ

جناب صفدر حسین ملک ایڈیشنل سیشن جج، اسلام آباد

مذکورہ بالا ملزم ڈاکٹر یونس شیخ کے خلاف پولیس سٹیشن مارگلہ، اسلام آباد میں مورخہ 04-10-2000 کو درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 332، زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، کا چالان پولیس نے مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت ہذا میں پیش کیا۔

تحفظ ختم نبوت اسلام آباد مولانا عبدالرؤف کی تحریری درخواست پر درج کیا گیا۔ درخواست میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق مورخہ 03-10-2000 کو مدعی مولانا عبدالرؤف، قاری عبدالوحید قاسمی اور مفتی خالد میر کے ہمراہ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ محمد اصغر خان آفریدی وہاں آیا اور ایک درخواست کی فوٹو کاپی پیش کی جس پر 11 لوگوں کے دستخط تھے اور زبانی بتایا کہ یہ سب کیپیٹل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج G-9 مرکز اسلام آباد میں کورس کر رہے تھے۔ 02-10-2000 کو ملزم پروفیسر ڈاکٹر یونس شیخ، کلاس روم میں حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں گستاخانہ الفاظ استعمال کر کے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت جرم توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا۔ اس (محمد اصغر خان آفریدی) کے مطابق ملزم ڈاکٹر پروفیسر یونس شیخ نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ چالیس سال کی عمر تک غیر مسلم تھے اور آپ ﷺ کا چالیس سال کی عمر تک ختنہ نہ ہوا تھا۔ 25 سال کی عمر میں آپ ﷺ کا جو نکاح ہوا تھا، اس وقت آپ ﷺ نہ تو مسلمان تھے اور نہ ہی پیغمبر تھے اور نہ ہی

صفحہ 383

نکاح ہوا تھا اور آپ ﷺ نے چالیس سال کی عمر تک نہ بت پرستی کی اور آپ ﷺ کے والدین غیر مسلم تھے۔ مستغیث کے بیان کے مطابق اس کو یہ درخواست پڑھ کر بہت دکھ ہوا اور اس نے مجلس کا اجلاس طلب کیا اور اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔ اس درخواست پر مولانا عبدالرؤف مستغیث کے علاوہ قاری عبدالوحید قاسمی اور مفتی خالد میر کے دستخط ہیں۔ سب انسپکٹر صفدر حسین تھانہ مارگلہ نے ملزم کے خلاف زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان مقدمہ درج کیا اور تفتیش کی۔ اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا۔ اس نے گواہان کے بیانات قلمبند کیے، تفتیش مکمل کی اور ملزم کا چالان تیار کیا۔

ملزم کے خلاف رسمی فرد جرم عائد کر دی گئی۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔ اس نے اپنے ہاتھ کی لکھائی میں ایک علیحدہ بیان مندرجہ ذیل الفاظ میں پیش کیا:

’’میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں، میرا مسلک اہل سنت و الجماعت ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس، رسالت و ختم نبوت، قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابوں کا تقدس، آل رسول ﷺ ، صحابہ رسول ﷺ و ازواج مطہرات کی عزت، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور بزرگان دین کا احترام میرا ایمان ہے اور یہ کہ میں پاکستان کا وفادار اور قانون کا فرمانبردار شہری ہوں اور میں کسی مذہبی گستاخی کا گمان بھی نہیں کر سکتا اور میرا جینا مرنا اللہ تعالیٰ کے حبیب رسول کریم ﷺ کی عظمت اور عزت کے صدقے ہے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کا جب بھی ذکر کیا ہے، تو ان ﷺ کی عظمت بیان کرنے کے لیے کیا ہے کہ ہم سب مسلمان رسول کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور ان ﷺ کی سنت اور حدیث شریف سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ میں نے رسول کریم ﷺ کا ذکر خیر کرتے ہوئے نہایت ہی نیک نیتی ، ذمہ داری ، توجہ اور احتیاط سے بیان لکھا ہے۔ مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان لگائے گئے الزامات میں سے میں نے کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ میں بے گناہ ہوں۔‘‘

اختر، گواہ استغاثہ نمبر 3 ڈاکٹر ملک طاہر علی، گواہ استغاثہ نمبر 4 ماجد منیر، گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد

صفحہ 384

اصغر خان، گواہ استغاثہ نمبر 6 سردار حسین ایس آئی اور گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد اشرف ایس آئی پر جرح کی ۔ اظہر اقبال، ذوالفقار علی، عبدالجمیل، محمد نعیم، سید بلال عظمت، ناصر بشیر اور کانسٹیبل خضر حیات کی گواہی کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے ترک کر دیا گیا ۔

G-9/1 اور جامع العلوم شرعیہ راولپنڈی میں مدرس ہوں ۔ وہ تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے امیر ہیں ۔ مورخہ 3-10-2000 کو وہ اپنے دفتر واقع G-6/3 میں موجود تھے ۔ قاری عبدالوحید قاسمی اور مفتی خالد میر بھی اس کے ساتھ موجود تھے ۔ محمد اصغر آفریدی گواہ ان کے پاس آیا اور اس نے ایک درخواست پیش کی جس پر کئی افراد کے دستخط موجود تھے ۔ اس (درخواست) میں ملزم کی طرف سے حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف ادا کیے جانے والے توہین آمیز کلمات شامل تھے ۔ درخواست کے مندرجات پر اس نکتہ نظر سے خوب غور کیا گیا کہ کیا اس میں بیان کیے گئے مندرجات گستاخانہ تو نہیں ۔ چنانچہ وہ سب اس بات پر متفق ہوئے کہ درخواست میں بیان کیے گئے کلمات حضور ﷺ کے مقدس نام کے خلاف گستاخی اور اہانت ہے ۔ وہ تینوں، پولیس سٹیشن مارگلہ، اسلام آباد گئے جہاں انہوں نے ایس ایچ او کو درخواست (EX.P.B) پیش کی ۔ اس درخواست پر اس کے، خالد میر اور عبدالوحید قاسمی کے دستخط ثبت ہیں ۔

”میں، ملزم ڈاکٹر یونس کو اپنے کالج کیپیٹل ہومیو پیتھک کالج کے ایک پروفیسر کی حیثیت سے جانتا ہوں ۔ مورخہ 02-10-2000 کو ملزم ڈاکٹر یونس نے سیکنڈ ایئر کی ہماری کلاس کو پڑھایا ۔ یہ فزیالوجی پر لیکچر تھا ۔ اس نے دوران لیکچر یہ کہا کہ نبی اکرم ﷺ 40 سال کی عمر میں پیغمبر بنے تھے اور 40 سال کی عمر سے پہلے آپ ﷺ کے والدین مسلمان نہیں تھے ۔ ملزم نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے 25 برس کی عمر میں شادی کی اور آپ ﷺ اس وقت مسلمان نہیں تھے اور اس وقت نکاح بھی نہیں تھا ۔ ملزم نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ زیر ناف اور بغلوں کے بال نہیں اتارتے تھے اور نہ ہی آپ ﷺ کا ختنہ ہوا تھا ۔ اس پر میں اور دیگر طلبہ نے کہا کہ آپ درست نہیں کہہ رہے ۔ لیکن اس نے اصرار کیا کہ سچ تو یہی ہے ۔ اس نے ہمیں ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا ۔ کلاس کا پیریڈ ختم ہونے کے بعد ملزم چلا گیا ۔ ہم نے کالج کے پرنسپل کے نام درخواست لکھی جس پر میں اور دیگر طلبہ نے دستخط کیے ۔ میں نے اس درخواست

صفحہ 385

کی ایک نقل پرنسپل کو دی اور دوسری نقل، ختم نبوت کے دفتر لے گیا جہاں چھ، سات علما کرام بیٹھے تھے۔ میں نے یہ درخواست ختم نبوت کے دفتر میں مورخہ 2000-10-03 کو 4:45 بجے بعد از دوپہر دی۔“

جرح، اس کا بیان بھی قابل ذکر ہے۔ اس نے یوں بیان کیا:

”میں، عدالت میں حاضر ملزم شیخ یونس کو جانتا ہوں۔ میں کیپیٹل ہومیو پیتھک کالج، مرکز G-9، اسلام آباد میں پڑھتا تھا۔ میرا رول نمبر 1920 تھا۔ ملزم ڈاکٹر یونس ہمیں فزیالوجی پڑھاتا تھا۔ مورخہ 2000-10-02 کو وہ کلاس میں لیکچر دے رہا تھا۔ دورانِ لیکچر اس نے نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اس نے کہا کہ نبی اکرمﷺ 40 برس کی عمر سے قبل غیر مسلم تھے اور آپﷺ کے والدین بھی غیر مسلم تھے اور وہ 40 برس کی عمر میں پیغمبر بنے۔ اس نے مزید کہا کہ آپﷺ کی شادی 25 برس کی عمر میں ہوئی اور یہ نکاح اسلامی نہیں تھا اور اس طرح ان کا نکاح ہی نہیں ہوا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ نبی اکرمﷺ کے ”ختنے“ نہیں ہوئے تھے اور آپ نے 40 برس کی عمر سے قبل اپنے زیر ناف بال نہیں اتارے تھے۔ ہم اصغر آفریدی، بلال احمد، ماجد منیر، اظہر اقبال، نعیم، ذوالفقار وغیرہ 9 طلبہ تھے۔ ہم نے درخواست (Ex.P.A) لکھی جس پر میرے دستخط ثبت ہیں۔ ہم نے یہ درخواست اپنے کمرہ جماعت میں لکھی۔ ہم پرنسپل کے پاس گئے لیکن وہ اپنی نشست پر نہیں تھے۔ پھر میں اپنے گھر چلا گیا۔“

برائے سال 2000/2001، کلاس سیکنڈ ایئر پیش کیا۔ اس نے بیان کیا کہ دورانِ تفتیش، اس نے اصلی رجسٹر مع اقتباس کی فوٹو کاپی (Ex.P.C/1-3) تفتیشی افسر کو پیش کی جو بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.D) تحویل میں لے لی گئی جس پر اس نے دستخط کیے۔ اصلی رجسٹر معائنے کے بعد واپس کر دیا گیا۔ اس میں اکتوبر 2001ء درج نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ رجسٹر میں یہ درج تھا کہ یہ اکتوبر 2000ء کے متعلق ہے۔ گواہ نے اکتوبر 2000 فوٹو کاپی پر درج کیا۔

کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے جانے کے ضمن میں استغاثہ کے موقف کی تائید

صفحہ 386

کی ہے۔ گواہ نے اپنا رول نمبر 2024 دیا ہے اور کہا ہے کہ درخواست (Ex.P.A) پر اس کے دستخط ہیں اور دوران تفتیش وہ پولیس کے روبرو پیش ہوا۔

04-10-2000 کو مولانا عبدالرؤف نے اس کے روبرو درخواست (Ex.P.B) پیش کی جس کی بنیاد پر اس نے ایف آئی آر (Ex.P.B/1) تیار کی جو اس کی لکھائی میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ وہ جائے وقوعہ پر گیا اور راستے میں ملزم اسے ملا جس پر اس نے مقدمہ ہذا میں اسے گرفتار کر لیا اور اسے 05-10-2000 کو جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا۔ اس نے 05-10-2000 کو جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور اس کا نقشہ تیار کیا (جائے وقوعہ کا نقشہ مسل مقدمہ میں موجود نہیں تھا)۔ مورخہ 06-10-2000 کو اس نے رجسٹر حاضری کا تصدیق شدہ اقتباس (Ex.P.C/1-3)، کالج کے ایڈمن افسر ملک طاہر علی سے حاصل کیا۔ اس نے مذکورہ اقتباس کو بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.D) تحویل میں لے لیا اور اس کا بیان قلمبند کیا۔ اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے، تفتیش مکمل کی اور ملزم کا چالان تیار کیا۔

کو وہ پولیس سٹیشن مارگلہ، اسلام آباد میں تعینات تھا۔ مقدمہ ہذا کا چالان اس اعتراض کے ساتھ واپس کر دیا گیا کہ مدعی کی اصلی درخواست، مسل مقدمہ میں موجود نہیں۔ مورخہ 24-03-2001 کو اس نے درخواست (Ex.P.A) حاصل کی اور اسے ریکارڈ میں رکھ دیا اور اس نے ایک گواہ استغاثہ کا بیان قلمبند کیا۔

پیش ہونے کے حوالے سے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم پر جرح کی گئی۔ اس نے صحت جرم سے انکار کیا اور موقف اختیار کیا کہ مورخہ 02-10-2000 کو اس نے سیکنڈ ایئر کلاس کے مرد طلبہ کا پہلا پیریڈ 9.30 تا 10.10 بجے صبح لیا۔ اس نے اسی دن دوسرا لیکچر، تھرڈ ایئر کلاس کی مرد و خواتین کی مشترکہ کلاس کو کینسر کے موضوع پر 10.30 تا 11.15 بجے صبح دیا۔ اس نے تیسرا لیکچر، سیکنڈ ایئر کی طالبات کو نیوٹریشن کے موضوع پر 11.20 تا 12 بجے دوپہر دیا۔ اس دن اس کا کوئی اور لیکچر نہیں تھا۔ اس نے 10.10 تا 1.00 بجے دوپہر

صفحہ 387

تک مرد طلبہ کو کوئی لیکچر نہیں دیا۔ اس نے اپنے لیکچر ٹائم ٹیبل کے مطابق دیے جو اسے پرنسپل اور نائب پرنسپل کی طرف سے ڈاکٹر ملک طاہر علی، ایڈمن آفیسر نے دیا۔ مورخہ 03-10-2000 کو اسے بغیر کوئی وجہ بتائے، ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ اس نے مورخہ 2000-10-02 کو نبی اکرمﷺ کے خلاف کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں بولے۔ وہ اس قسم کے الفاظ بولنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ دوران تفتیش، اس کی جانب سے درخواست کیے جانے کے باوجود، پولیس نے اس کا موقف قلمبند نہیں کیا جس پر اس نے معزز ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں پولیس کو اس کا موقف قلمبند کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں، اس کا موقف ریکارڈ پر لایا گیا جو ایک بیان حلفی کی شکل میں تھا۔ یہ بیان زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری رپورٹ میں شامل کیا گیا۔ وہ سُنی مسلمان ہے اور اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔ اس کا تعلق ایک مذہبی خاندان سے ہے۔ اس کے والد نے 12 حج کیے جبکہ اس کی والدہ نے 11 حج ادا کیے۔ اس کا والد حافظ قرآن تھا اور اس کی ڈاڑھی تھی۔ مورخہ 2000-10-02 کو نہ تو محمد اصغر خان آفریدی اور نہ ہی سیکنڈ ایئر کلاس کے اکثر لڑکے، اس کی سیکنڈ ایئر کلاس میں موجود تھے جو 9.30 تا 10.10 صبح لی گئی۔ اس نے کلاس میں موضوع کے علاوہ کوئی بات نہیں کی۔ گواہی میں یہ بتایا گیا کہ محمد اصغر خان آفریدی نے یہ درخواست اپنے فلیٹ پر مورخہ 2000-10-03 کو رات کو لکھی۔ ملزم نے تحریری جواب (Ex.D.J) کے علاوہ درخواست (Ex.D.G)، ٹائم ٹیبل (Ex.D.G/1) اور چٹھی کی نقل (Ex.D.H) بھی پیش کی۔

حیثیت سے دوبارہ جرح کی گئی۔ وہ ٹائم ٹیبل اور اس کی تصدیق شدہ نقل (Ex.D.G/1) لے کر پیش ہوا۔ اس نے متعلقہ رجسٹر کی نقل (Ex.D.H) کی بھی تصدیق کی جس میں ملزم کی ملازمت سے برخاستگی کی تاریخ بھی بالترتیب 2000-10-03 بھی موجود تھی۔

کے متعلق ملزم پر دوبارہ جرح کی گئی۔ اس نے بیان کیا ہے کہ آخری پیریڈ دوپہر بارہ بجے تک ختم ہو چکا تھا۔ جو ٹائم ٹیبل اسے دیا گیا، اسے نائب پرنسپل نے نہیں بلکہ ایڈمن افسر نے تیار کیا تھا۔ ٹائم ٹیبل (Ex.D.G/1) وہی ہے جو اسے دیا گیا تھا۔ ٹائم ٹیبل کے مطابق اس نے

صفحہ 388

10.10 تا 11.30 بجے صبح لیکچر دیا تھا۔ طلبہ کی حاضری ایڈمن افسر نے نہیں بلکہ متعلقہ استاد نے لگائی۔ وہ آخری پیریڈ کے بعد دوپہر بارہ بجے نیشنل لائبریری، اسلام آباد جایا کرتا تھا اور آخری پیریڈ کے بعد کالج میں کبھی نہیں ٹھہرا کرتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے طلبہ کے خلاف پرنسپل کو شکایت کی جو ادارے کا سربراہ ہے۔ اس نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، نہ تو اپنی صفائی میں گواہی پیش کی اور نہ ہی اپنا کوئی بیان دیا۔

ہوئے کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی، گواہ استغاثہ نمبر 2 نوید اختر اور گواہ استغاثہ نمبر 4 ماجد منیر کی گواہی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزم، جو کیپیٹل ہومیو پیتھک کالج میں پروفیسر تھا، نے مورخہ 2000-10-02 کو کالج کی سیکنڈ ایئر کی کلاس میں متذکرہ بالا گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ تمام گواہان، کالج کے طلبہ ہیں۔ انہیں ملزم سے کوئی رنجش نہیں۔ متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ، دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان کے زمرے میں آتے ہیں۔ دورانِ تفتیش، ملزم نے عدالت عالیہ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں شکایت کی گئی کہ اس کا موقف ریکارڈ پر نہیں لایا گیا جس پر معزز عدالت عالیہ لاہور، راولپنڈی بنچ کی ہدایت پر تفتیشی افسر نے ملزم سے جوڈیشل لاک اپ میں ملاقات کی جہاں ملزم نے اپنی لکھائی میں اپنا موقف بیان حلفی کی صورت میں پیش کیا جس میں بالواسطہ، صرف طبی موضوع پر ہی لیکچر دینے کا اعتراف کیا گیا۔ وہ اپنا موقف تبدیل کرتا رہا ہے۔ گواہان کے بیانات میں موجود خفیف سی عدم مطابقتیں، استغاثہ کے اس مقدمہ پر کوئی ٹھوس اثر مرتب نہیں کرتیں۔ چنانچہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ مکمل طور پر ثابت کر دیا ہے۔

دوبارہ پڑھا۔ اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات کے متعلق چند غلطیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ وقوعہ کی تاریخ اور وقت کے متعلق استغاثہ کی گواہی میں فرق ہے۔ استغاثہ کی گواہی میں تسلی بخش طریقے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا یہ درخواست (Ex.P.A) تھی جسے گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پاس لے کر گیا تھا یا پھر یہ فوٹو کاپی تھی۔ استغاثہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ درخواست (Ex.P.A) کہاں اور کب لکھی گئی۔ محمد اصغر خان آفریدی، گواہِ استغاثہ، مرکزی گواہ ہے لیکن وہ مورخہ 2000-10-02 کو کالج میں موجود نہ

صفحہ 389

تھا ۔ حاضری رجسٹر پر اس کی حاضری نہیں لگی ہوئی تھی ۔ استغاثہ کے مطابق ، وقوعہ دوپہر بارہ بجے پیش آیا جبکہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ، ملزم اس وقت سیکنڈ ایئر کلاس میں موجود نہ تھا ۔ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی ، دفتر خارجہ کا ملازم تھا ۔ اسے بھی ملزم کے خلاف رنجش تھی کیونکہ اس کی غیر حاضری کے باعث اس نے اسے تنبیہ کی تھی ۔ دفتر خارجہ کو بھی ملزم کے خلاف اس پریس کانفرنس کے باعث رنجش تھی جس سے ایک سینئر افسر نے خطاب کیا تھا اور جس میں ملزم نے ایک خاص موقف اختیار کیا تھا ۔ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی ، کو مقدمہ ہذا میں ملوث کرنے کے لیے بطور آلہ کار استعمال کیا گیا ۔ استغاثہ، کسی بھی معقول شک کے بغیر اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ ملزم کے فاضل وکیل نے بہت سے حوالے دیے اور موقف اختیار کیا کہ اگر برائے دلیل یہ مان بھی لیا جائے کہ متذکرہ الفاظ ، ملزم کی طرف سے کہے گئے ، وہ پھر بھی C-295 تعزیرات پاکستان کے زمرے میں نہیں آتے ۔ ملزم نے جیل میں سے لکھی گئی اس تحریری وضاحت کا اقرار کیا جس میں اس نے اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کا انکار کیا لیکن یہ موقف اختیار کیا کہ (ملزم کی طرف سے ادا کیے گئے گستاخانہ) الفاظ میں مذکور حقائق ، بہت سی قرآنی آیات اور نبی اکرم ﷺ کی فرمودات میں موجود ہیں ۔

مطابق کیا ملزم نے کلاس میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے ، دوسرے یہ کہ ، کیا متذکرہ الفاظ زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے زمرے میں آتے ہیں ۔ استغاثہ نے یہ ثابت کرنے کی خاطر کہ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے ، گواہ استغاثہ نمبر 1 مولانا عبدالرؤف ، گواہ استغاثہ نمبر 2 نوید اختر ، گواہ استغاثہ نمبر 4 ماجد منیر اور گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی کی گواہی پر انحصار کیا ہے ۔ گواہ استغاثہ نمبر 1 مولانا عبدالرؤف کی گواہی براہ راست نوعیت کی نہیں ہے ۔ اس کے موقف کے مطابق ، مورخہ 2000-10-03 کو وہ اپنے دفتر میں ، مولانا عبدالوحید قاسمی اور خالد میر کے ساتھ موجود تھا جب گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی ان کے پاس درخواست (Ex.P.A) لے کر آیا جس پر بہت سے افراد کے دستخط موجود تھے ۔ انہوں نے یہ غور کرنے کے لیے اجلاس بلایا کہ کیا یہ مندرجات گستاخانہ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کر دینے والے ہیں ۔ ان کا یہ متفقہ نظریہ تھا کہ یہ مندرجات ، نبی اکرم ﷺ کے مقدس نام کے لیے گستاخانہ اور اہانت آمیز ہیں ۔ وہ تمام

صفحہ 390

حضرات، درخواست (Ex.P.B) لے کر پولیس سٹیشن گئے۔ یہاں یہ ذکر کیا جاسکتا ہے کہ درخواست (Ex.P.A) میں 2000-10-02 کے وقوعہ کا کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کا تعلق، ملزم کے اس رویے سے ہے جو اس نے اس کالج میں ملازمت حاصل کرنے کے بعد اپنایا۔ درخواست (Ex.P.B) میں، یہ بیان کیا گیا کہ محمد اصغر خان آفریدی نے زبانی طور پر علما کو بتایا کہ مورخہ 2000-10-02 کو، ملزم نے متذکرہ (گستاخانہ) الفاظ کلاس میں بولے۔ مولانا عبدالرؤف نے ان کے سامنے گواہ محمد اصغر خان آفریدی کے اس زبانی بیان کا ذکر نہیں کیا اور اپنے بیان کو محض درخواست (Ex.P.A) تک محدود رکھا لیکن دوران جرح، اس نے یہ جواب دیتے ہوئے ایک سوال کی وضاحت کی کہ وقوعہ کی تاریخ 2000-10-02 تھی اور محمد اصغر خان آفریدی، نے اسے زبانی بتایا کہ وقوعہ، مورخہ 2000-10-02 کو پیش آیا جس پر اس نے یہ تاریخ اپنی درخواست (Ex.P.B) میں لکھی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ محمد اصغر خان آفریدی نے اس کے روبرو، اس درخواست کی فوٹو کاپی پیش کی جس پر 11 افراد کے دستخط تھے اور کہا کہ متذکرہ فوٹو کاپی اب بھی اس کے پاس موجود ہے۔ اصلی درخواست، بعد ازاں، محمد اصغر خان آفریدی لے کر آیا جیسا کہ اس نے بتایا۔ اس کے بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو درخواست طلبہ لے کر آئے تھے، وہ ملزم کے خلاف عمومی الزامات پر مشتمل تھی۔ محمد اصغر خان آفریدی نے مدعی، مولانا عبدالرؤف کو مورخہ 2000-10-02 کے حقیقی وقوعہ کے متعلق زبانی بتایا جو درخواست (Ex.P.B) میں پیش کیا گیا جو مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس سٹیشن پیش کی گئی۔ محمد اصغر خان آفریدی اور دیگر طلبہ کو اس قانون کے متعلق علم نہیں تھا اور ان سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ کمرہ جماعت میں تیار کردہ درخواست میں تمام تفصیل کا ذکر کرتے۔ تاہم، محمد اصغر خان آفریدی نے 2000-10-02 کی تفصیل، مولانا عبدالرؤف اور دیگر علماء کے روبرو بیان کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 نوید اختر ، گواہ استغاثہ نمبر 4 ماجد منیر اور گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی نے بیان حلفی کے تحت کہا کہ ملزم نے کمرہ جماعت میں مورخہ 2000-10-02 کو متذکرہ الفاظ کہے۔ وقوعہ کے واقع ہونے کی تاریخ کے متعلق کچھ عدم موافقتیں ہیں جن کے متعلق بعد میں گفتگو کی جائے گی لیکن ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد نہیں جس کے باعث یہ کہا جائے کہ ملزم کے خلاف ان کے دل میں کوئی پرخاش یا مخاصمت ہے، جو ان کا استاد تھا، اس قسم کے سنگین اور وحشیانہ مقدمہ میں اسے غلط طور پر ملوث کیا جائے۔ یہ ظاہر

صفحہ 391

کرنے کے لیے کہ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی نے دفتر خارجہ کے لیے کام کیا اور اسے ملزم سے اس لیے رنجش ہے کہ اس نے لیکچر کے دوران غیر حاضری پر اسے (گواہ کو) تنبیہہ کی، اس لیے اس کے سامنے کچھ تجاویز رکھی گئیں۔ اس نے ان تجاویز سے انکار کیا۔ ملزم نے یہ موقف پیش کیا کہ اس نے فارن آفس میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی جس کی صدارت ایک بریگیڈئیر نے کی تھی۔ اس کانفرنس میں اس (ملزم) نے فارن آفس کے نمائندہ پر سوالات کیے تھے جس پر اسے دکھ ہوا تھا اور اس نے ملزم کو دھمکیاں دیں۔ ملزم نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ محمد اصغر خان آفریدی کو مقدمہ ہذا میں ملوث کرنے کے لیے بطور آلہ کار استعمال کیا گیا۔ اس بات کا ذکر، ملزم کے تحریری بیان (Ex.D.J) کے پیرا نمبر 8 میں موجود ہے۔ ملزم کے فاضل وکیل نے ایک اخباری تراشے مورخہ 2000-10-01 کی نقل پیش کی جس سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹریک ٹو سفارت کاری کا اظہار ہوتا ہے جس کی صدارت بریگیڈئیر(ر) شوکت قادر نے کی لیکن اس اخباری تراشے میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اس میں ملزم نے شرکت کی۔ اس کے باوجود بھی، یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ دفتر خارجہ اس قسم کی من گھڑت کہانی بنائے گا جس میں نبی اکرمﷺ کے مقدس نام کو ملوث کیا جائے گا۔ ملزم کے خلاف کوئی اور مقدمہ تو بنایا جاسکتا تھا۔ قطع نظر اس کے، اگر ہم اس نکتے پر محمد اصغر خان آفریدی کی گواہی کو نظر انداز کر دیں اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھیں کہ مورخہ 2000-10-02 کو حاضری رجسٹر میں اس کی حاضری نہیں لگی ہوئی تو گواہ استغاثہ نمبر 4 ماجد منیر اور گواہ استغاثہ نمبر 2 نوید اختر کی گواہی کو مسترد کرنے کے لیے کوئی جواز موجود نہیں جن کے خلاف کوئی الزام نہیں اور جن کی حاضری بھی مورخہ 02-10-2000 کے حاضری رجسٹر میں لگی ہوئی ہے۔

خان آفریدی کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ تاریخ 2000-10-03 کا ذکر درخواست (Ex.P.B) میں بھی موجود ہے لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریخیں گھبراہٹ کے عالم میں لکھی گئیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 نوید اختر، گواہ استغاثہ نمبر 4 ماجد منیر اور گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی کی طرف سے یہ واضح طور پر بتایا گیا کہ وقوعہ مورخہ 2000-10-02 کو کمرۂ جماعت میں پیش آیا اور یہی تاریخ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی نے مولانا

صفحہ 392

عبدالرؤف کو اس وقت زبانی بتائی جب اس نے مع اپنی درخواست کی فوٹو کاپی کے، مولانا سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

استغاثہ نمبر 1 مولانا عبدالرؤف نے بتایا کہ درخواست (Ex.P.A) اس کے پاس لائی گئی۔ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی بھی بتاتا ہے کہ اس نے درخواست (Ex.P.A) ختم نبوت کے دفتر میں پیش کی۔ (Ex.P.B) سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد اصغر خان آفریدی، درخواست کی فوٹو کاپی لے کر گیا۔ مولانا عبدالرؤف نے دوران جرح وضاحت پیش کی کہ اس نے فوٹو کاپی پر کوئی کارروائی نہ کی اور یہ (درخواست) بعد ازاں، محمد اصغر خان آفریدی لے کر آیا جو پرنسپل کے نام لکھی گئی تھی۔ گواہ استغاثہ نمبر 5 محمد اصغر خان آفریدی اور دیگر گواہانِ استغاثہ نے بتایا کہ پرنسپل کے نام لکھی گئی درخواست پرنسپل کو پیش نہ کی جاسکی کیونکہ اس کا دفتر بند تھا۔ مولانا عبدالرؤف نے بتایا کہ جو فوٹو کاپی اسے محمد اصغر خان آفریدی نے دی تھی، وہ ابھی تک اس کے پاس موجود ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فوٹو کاپی اور درخواست، اس نے اپنے پاس رکھیں اور صرف درخواست (Ex.P.B) ہی پولیس کو پیش کی گئی۔ اس حقیقت کی تائید گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد اشرف ایس آئی کی گواہی سے بھی ہوتی ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ چالان اس اعتراض کے ساتھ واپس کر دیا گیا تھا کہ اصلی درخواست مسل مقدمہ سے منسلک نہیں تھی، اور یہ کہ اس نے درخواست (Ex.P.A) حاصل کی اور اسے مسل مقدمہ میں شامل کر دیا۔ اس نے دوران جرح بتایا کہ درخواست (Ex.P.A)، مدعی مولانا عبدالرؤف کی طرف سے لائی گئی۔ لہٰذا اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اگرچہ اصلی درخواست، مولانا عبدالرؤف کو محمد اصغر خان آفریدی کی طرف سے نہیں دی گئی، اور صرف فوٹو کاپی ہی دی گئی لیکن اصلی درخواست، محمد اصغر خان آفریدی نے مولانا عبدالرؤف کو دی جو بعد ازاں، اس نے دونوں درخواستیں اپنے پاس رکھ لیں اور اصلی درخواست، محمد اشرف ایس آئی کے روبرو پیش کی جس کا اس نے مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے مقدمہ ہذا کی تفتیش گواہ استغاثہ نمبر 6 سردار حسین ایس آئی نے کی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس سنگین مقدمہ کی تفتیش کے لیے کوئی زحمت گوارہ نہیں کی۔ اس نے دوران تفتیش، اصلی درخواست حاصل کرنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ اس کے بجائے، وہ محمد اصغر خان آفریدی کا بیان بار بار قلمبند کرتا رہا تاکہ وقوعہ کی

صفحہ 393

تاریخ بدلی جاسکے۔ محمد اصغر خان آفریدی نے ان بیانات سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم، مولانا عبدالرؤف نے یہ وضاحت کی کہ یہ درخواست (Ex.P.A) تھی جو اس کے روبرو پیش کی گئی۔ گواہ ایک قابل احترام شخص ہے اور یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اسے درخواست (Ex.P.A) پیش کیے جانے کے متعلق ایک جھوٹی کہانی کی تائید کرے گا۔

ٹھوس اہمیت نہیں ہے۔ گواہیوں کے متعلق مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ملزم نے نبی اکرم ﷺ کے متعلق متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔

کیے گئے) یہ الفاظ، حقائق پر مبنی ہیں اور انہیں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فاضل وکیل صفائی نے مختلف کتابوں کے حوالہ جات دیے اور یہاں تک کہ بہت سی قرآنی آیات کا حوالہ دیا۔ ملزم نے جیل سے ایک تحریری درخواست بھی بھیجی ہے جس میں انہی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی رسالت کا اعلان کیا تو اس وقت وہ پہلے مسلمان بن گئے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت محض ایک نکتہ قابل تعین ہے کہ کیا یہ الفاظ جو ملزم نے بولے، نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی گستاخی اور توہین ہیں۔ یہ کہنا کہ نبی اکرم ﷺ، 40 برس کی عمر تک مسلمان نہیں تھے، یہ کہ 25 برس کی عمر میں آپ ﷺ کا نکاح، نکاح نہیں تھا، بذات خود گستاخانہ اور اہانت آمیز تھے۔ کلاس میں اس قسم کے موضوعات پر بحث کا موقع نہیں تھا۔ اگر اس ضمن میں کسی بھی قسم کا حوالہ دینا مقصود تھا، اسے قابل احترام الفاظ میں بیان کیا جا سکتا تھا۔ الفاظ کی صورت میں دیگر باتیں بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز تھیں جن میں انہیں استعمال کیا گیا۔ ملزم نے اصرار کیا کہ وہ ایک پکا سنی مسلمان ہے جس کا مذہبی پس منظر ہے اور اسے نبی اکرم ﷺ پر ایمان ہے، لیکن ایک مسلمان جو اس قسم کے عقیدے کا اظہار کرتا ہے، اسے اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے جانے پر دی جانے والی سزا سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تعزیرات پاکستان کا جرم، پوری طرح ثابت ہو چکا ہے۔ اسے جرم ہذا کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے اور اس کے مطابق اسے سزا کا مستحق ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسے سزائے موت دی جاتی ہے اور

صفحہ 394

اسے مبلغ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید چھ ماہ محض قید بھگتنا ہوگی۔ اسے اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم، سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی اور اس ضمن میں علیحدہ درخواست دائر کی جائے گی۔ فیصلہ ہذا کی ایک نقل، متعلقہ حکام کو بھیجی گئی ہے۔ مجرم کو بتا دیا گیا ہے کہ اس کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 7 دن دستیاب ہیں۔ اسے فیصلہ ہذا کی نقل بلا قیمت مہیا کی گئی ہے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ صفدر حسین ملک 18 اگست 2001ء ایڈیشنل سیشن جج حال مقیم کیمپ جیل، راولپنڈی

۞......۞......۞

صفحہ 395

جناب صداقت اللہ خان ایڈیشنل سیشن جج لاہور

سرکار بنام انور کینتھ ، جولائی 2002ء

صفحہ 396
صفحہ 397

دل کی بات

اس مقدمہ کا ملزم گستاخ رسول انور کینتھ گوالمنڈی لاہور کا رہائشی تھا۔ اس کا آبائی گھر جھگیاں باجا سنگھ نزد باٹا کمپنی مراکہ ہیڈ کوارٹر 17 ملتان روڈ لاہور میں تھا۔ انور کینتھ 10 جنوری 1952ء کو پیدا ہوا اور اس کی 6 بہنیں اور 2 بھائی تھے۔ انور کی شادی رشتہ داروں میں ہوئی۔ اس کی اہلیہ شبنم لاہور کے ایک ہسپتال میں بطور نرس کام کرتی تھی۔ انور کینتھ نے ایف ایس سی مرے کالج سیالکوٹ اور بی ایس سی اسلامیہ کالج سول لائنز سے کی۔ 1977ء میں اٹامک انرجی کے ادارے نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ بیالوجی (نایاب) میں بطور سائنٹیفک اسسٹنٹ کی ملازمت کر لی۔ اس دوران انور کینتھ خودساختہ مذہب میں ریسرچ کرنے میں مصروف رہا۔ 20 جولائی 1978ء کو اٹامک انرجی سے استعفیٰ دے دیا اور محکمہ ماہی پروری میں اسسٹنٹ کی نوکری کر لی۔ پہلی پوسٹنگ گجرات میں ہوئی اور وہاں 1980ء تک کام کیا پھر اسلام آباد ٹرانسفر ہو گیا۔ اسی سال اس کی شادی ہوئی۔ 1994ء میں لاہور ٹرانسفر ہو گیا اور اسے ڈسٹرکٹ انچارج بنا دیا گیا۔ اس دوران 6 ماہ کے تربیتی کورس کے لیے کینیڈا چلا گیا۔ 1997ء میں انور کینتھ کی ٹرانسفر بہاولپور کر دی گئی۔ انور کینتھ نے وہاں جانے سے انکار کر دیا اور صرف ایک دن کی حاضری لگا کر واپس آ گیا۔ 1997ء میں انور کینتھ نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ پھر ایک رجسٹرڈ این جی او الفا ڈیویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کا ممبر بنا۔ کچھ عرصہ بعد این جی او کے دیگر ممبران سے اس کے اختلافات پیدا ہو گئے اور معاملات عدالت تک پہنچ گئے۔ اس دوران انور کینتھ اپنے مذہب کے بارے میں بھی کام کرتا رہا۔ اس نے اپنے خودساختہ مذہب کے پرچار کے لیے اپنی کچھ زمین بیچ دی اور باقی رقم اس این جی او سے حاصل کرتا رہا۔

2001ء میں اس نے حاجی ظفر محمود سیکریٹری جنرل انجمن اشاعت اسلام جامع

صفحہ 398

مسجد حبیب شاہدرہ ٹاؤن لاہور کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر کی مذہبی و سیاسی شخصیات کو ایک متنازعہ خط لکھا۔ اس خط کی ایک نقل ظفر اللہ خاں نیازی ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی لاہور کو بھی بھیجی گئی۔ انور کینتھ نے اپنے متنازعہ خط میں لکھا:

”محمد عربی ولد عبداللہ ولد اسمعیل نہ تو پیغمبر یا خدا ہیں اور نہ ہی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ انجیل مقدس میں اس قسم کی کوئی پیش گوئی موجود نہیں کہ کوئی پیغمبر اسمعیل کے قبیلے میں سے پیدا ہوگا اور تمام پیغمبر یعقوب کی نسل سے ہوئے اور جو یہ سمجھتا ہے کہ محمد عربی اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان کی کتاب ( ان پر نازل کردہ کتاب ) قرآن، اللہ کا کلام ہے، خداوند یوم قیامت انہیں جہنم کی آگ میں ڈالے گا۔ ( نعوذ باللہ ) ۔ میں نے بار بار مطلع کیا کہ مجھے آگ کی بھٹی میں ڈالا جائے اور اگر میں سچا ہوا تو خداوند یسوع مسیح مجھے بچائیں گے اور اور بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیں گے جن کو یہ علم ہوگا کہ خداوند اعظم اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے جسے آگ میں پھینکا گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ مکہ اور مدینہ میں تعمیر کردہ مقدس مقامات جہاں مسلمان حج ادا کرتے ہیں، کو آگ سے تباہ کر دیا جائے گا اور خداوند یسوع مسیح اسے جلتی ہوئی جگہ بنا دیں گے۔ اس کی آگ بجھائی نہ جا سکے گی اور آگ کا دھواں نسلوں تک اوپر اٹھتا رہے گا، یہ جگہ ویران پڑی رہے گی اور کوئی بھی یہاں سے کبھی نہیں گزرے گا۔“ ( نعوذ باللہ )

اس مقدمہ کے مدعی حاجی ظفر محمود کی درخواست پر تھانہ گوالمنڈی پولیس نے 25 ستمبر 2001ء کو ملزم انور کینتھ کے خلاف قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ بعد ازاں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ استغاثہ نے عدالت میں ملزم کے خلاف تمام شواہد پیش کیے ۔ ملزم نے اپنے دفاع کے لیے کوئی گواہ یا وکیل پیش نہ کیا۔ عدالت نے ملزم کو متعدد مرتبہ سرکاری خرچ پر وکیل کی خدمات دینے کی پیشکش کی مگر ملزم ہر بار یہ کہہ کر ان وکلا کی خدمات حاصل کرنے سے انکار کرتا رہا کہ اس کا وکیل خداوند یسوع مسیح ہے۔ ملزم نے عدالت کے روبرو متعدد بار اقبال جرم کیا۔ کئی ماہ تک مقدمہ عدالت میں زیر سماعت رہا۔ چنانچہ جولائی 2002ء کو ایڈیشنل سیشن جج جناب صداقت اللہ خان نے توہین رسالتؐ کے مقدمہ میں ملوث عیسائی مجرم انور کینتھ کو اقبال جرم کرنے پر سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔ مجرم انور کینتھ کو جیل سے پولیس کی حراست میں سخت پہرے میں عدالت لایا گیا۔ عدالت نے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔ عدالت کے باہر ملزم کے عزیز واقارب بھی

صفحہ 399

موجود تھے جو فیصلہ سننے کے بعد عدالت کے باہر اپنے مذہب کا پرچار کرتے رہے اور اونچی آواز میں مذہبی دعائیہ کلمات الاپتے رہے۔ بعد ازاں ان کے ان رشتہ داروں نے برملا اعلان کرنا شروع کر دیا کہ انور کینتھ کو موت نہیں آسکتی۔ وہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ پھانسی کا پھندہ تو کیا آگ بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ سچ ہے کہ رسی جل جاتی ہے مگر بل نہیں جاتا۔

بے پناہ صلاحیتوں کے مالک مجاہد ختم نبوت جناب محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے زیر نظر فیصلہ کی نقل مہیا کی جس پر وہ نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 400

بعدالت جناب صداقت اللہ خان ایڈیشنل سیشن جج لاہور

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 251/2001 بتاریخ 25 ستمبر 2001ء پولیس سٹیشن : گوالمنڈی لاہور بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295/C

سرکار

بنام

انور کینتھ ولد ویرا مسیح ذات عیسائی ساکن جاڑا پلازا، نزد پولیس سٹیشن ، گوالمنڈی، لاہور (ملزم)

وکلا منجانب مستغیث: رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

صفحہ 401

تاریخ فیصلہ: 18 جولائی 2002ء

فیصلہ

جناب صداقت اللہ خان ایڈیشنل سیشن جج لاہور

کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ عدالت میں موجود ملزم انور کینتھ نے حاجی محمود ظفر، سیکرٹری جنرل، انجمن اشاعت اسلام، جامع مسجد حبیب، شاہدرہ ٹاؤن، لاہور اور دنیا کے تمام ممالک کے سربراہان (ii)، کوفی عنان، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ (iii)، پاکستان میں تمام غیر ملکی سفارت کاروں (iv)، دنیا کے تمام مسلمان علمائے دین اور مذہبی رہنماؤں (v)، دنیا بھر کے تمام عیسائی ماہر دینیات، کے نام خط لکھا۔ اس خط کی نقول، ایس ایچ او نصر اللہ خان نیازی تھانہ گوالمنڈی لاہور کو بھیجی گئیں جن کی یسوع مسیح کے نام سے ابتدا کی گئی تھی اور حاجی محمود ظفر کو میرے پیارے بھائی سے مخاطب کر کے کہا گیا کہ میں نے انگریزی میں خط مورخہ 13 مارچ 2001ء تمام ممالک کے سربراہان اور پاکستان میں تمام سفارت کاروں کو بھیجا۔ پھر اس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا اور خط میں خدا کے لیے لکھے گئے تمام الفاظ انجیل سے لیے گئے اور کچھ مختصر تفصیل دی گئی تاکہ اردو کا قاری اسے با آسانی سمجھ سکے اور پھر اسے تمام مسلمان علماء، مذہبی رہنماؤں اور عیسائی پادریوں کو بھیجا گیا۔ 188 ممالک میں سے صرف سسٹر میک الیسو (Sister McAleese)، صدر آئر لینڈ ڈبلن، نے سیکرٹری لنڈا فیرل Linda) (Furrel کے ذریعے جواب دیا۔ سٹر میک الیسو اور سٹر لنڈا فیرل پر خداوند کی رحمت ہو جنہوں نے اپنے بندے کو قبول کیا، میں، ان کی اور ان کے اہل خانہ کے لیے خداوند سے

صفحہ 402

باقاعدگی سے دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کو ازلی زندگی دے اور وہ یروشلم کی خوشحالی دیکھیں۔

مسلمان علمائے دین (مذہبی راہنماؤں) میں سے صرف حاجی محمود ظفر نے جواب لکھا ہے اور اپنے خط مورخہ 25 جولائی 2001 کے ذریعے کچھ سوالات پوچھے۔ حاجی محمود ظفر اور اس کے ساتھیوں پر خداوند کی رحمت ہو کہ انہوں نے خدا کے ایک بندے سے خدا کی بادشاہت کے بارے جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ میں نے حاجی محمود ظفر کو جواب بھیجا اور اپنے خط مورخہ 6 اگست 2001ء کے ذریعے تمام سوالات کے جوابات دیے۔ اپنے اس خط میں، میں نے اسے مطلع کیا کہ میں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہی بلکہ میں نے صرف یہی چیزیں بیان کیں جو خداوند نے اپنے منہ سے بیان کیں جو انجیل مقدس میں لکھی گئی ہیں۔ میں نے اسے انجیل مقدس کے حوالے سے بتایا کہ انجیل مقدس کے باب 11 میں دو گواہان کا ذکر ہے۔ پہلا انور کینتھ ہے جو پاکستان سے ہے اور جس کا تعلق جادہ قبیلے اور کنگ ڈیوڈ خاندان سے ہے اور وہ ایک قسم کا اسرائیل ہوگا اور پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ اور دوسرا گواہ تقدس مآب ڈاکٹر مورسورلو (Chairman world Evangelism)، جس کا تعلق لیوی قبیلے اور فیملی چیف پادری زادک جو اس وقت اسرائیل میں تبلیغ کر رہا ہے کہ یسوع مسیح واحد خداوند ہے اور وہ اپنے قانون کو قائم کر رکھے گا کہ سؤر اور اونٹ ناپاک ہیں۔ خداوند عظیم نے اپنے الفاظ سے دونوں گواہوں کو امان دی ہے۔ یروشلم میں خداوند کے عرش پر ایک ہزار دو سو ساٹھ سال بیٹھے رہنے اور تصدیق کرنے کے بعد ایک درندے کے ذریعے مارے جائیں گے۔

خداوند کا سچا بیٹا وہ ہے جو موت کے بعد زندہ کیا گیا جیسا کہ ہمارا یسوع مسیح موت کے تیسرے دن دوبارہ زندہ کیا گیا اور مردوں میں سے پہلے پیدا ہونے والے کو بلایا۔ اور یہ دونوں گواہ (انور کینتھ اور ڈاکٹر مورسورلو) خداوند کے حکم سے ساڑھے تین دن بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ میں نے مزید مطلع کیا کہ وہ سلطنت جو آسمانوں کا عظیم خداوند اسرائیل میں قائم کر رہا ہے، کبھی تباہ نہیں ہوگی اور یہ سلطنت دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں نہیں جائے گی، یہ بنی اسرائیل کے تمام قبائل کے تمام 1,24,000 بندوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ تمام ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد، جو یہ سلطنت حاصل کریں گے، پیغمبر ہوں گے اور خداوند یسوع مسیح کے گواہ ہوں گے۔ بھائی ملا عمر جمہوریہ افغانستان کا صدر فادر بنجمنز ہاؤس کا سربراہ ہے اور اس کے ساتھ بارہ ہزار اسی قبیلے کے ہوں گے۔

صفحہ 403

خداوند نے حاجی محمود ظفر کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ خط کے ذریعے سوال پوچھ سکتا ہے اور اس کے جواب میں، میں اسے اور تمام دنیا کو خداوند کی سلطنت کے متعلق آگاہ کر سکتا ہوں، حاجی محمود ظفر نے اپنے خط مورخہ 18 اگست 2001ء کے ذریعے شکریہ ادا کیا ہے اور قرآن وسنت میں مذکور اسلامی عقیدے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سلطنت کے متعلق لکھا ہے۔ مختلف پیروں کے لحاظ سے وضاحت مندرجہ ذیل ہے:

زمین و آسمان پیدا کیے۔ اس نے ذہنی طمانیت کے ساتھ سلطنت کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ ہمارا خدا اس پر اور اس کے ساتھیوں پر رحمت کرے تا کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم رہ سکیں۔

انہیں صلیب پر چڑھایا گیا اور تین دن بعد دوبارہ زندہ کیا گیا۔ محمود ظفر نے اپنے خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ محمد عربی ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان ﷺ پر نازل کردہ کتاب، قرآن، مقدس نوعیت کی حامل ہے اور قیامت سے پہلے امام مہدی ظاہر ہوں گے جو تمام دنیا پر حکومت کریں گے اور تمام مسلمان امام مہدی کی آمد کے منتظر ہیں۔

اس سلسلے میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خداوند یسوع مسیح کے حکم اور قانون کے مطابق تقریباً تمام چیزوں کو خون سے پاک کیا جاتا ہے اور خون بہانے کے بغیر معافی نہیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ آسمانوں میں موجود اشیا کی نقلوں کو پاک کیا جائے لیکن بذات خود آسمانی اشیا ان کی نسبت بہتر قربانیوں کی حامل ہیں۔ چونکہ یسوع مسیح اس مقدس مقام میں داخل نہیں ہوئے ہیں، جسے ہاتھوں سے بنایا گیا جو سچ کی نقلیں ہیں لیکن ہمارے لیے جنت میں خدا کی موجودگی میں داخل ہوں گے۔ نہ ہی وہ اکثر اس پادری اعلیٰ کے مانند ہر سال مقدس مقام میں دوسروں کے خون کے ساتھ داخل نہیں ہوں گے۔ پھر انہیں اکثر دنیا کے پیدا ہونے کے بعد سے مصائب میں گرفتار ہونا پڑے گا اور پھر کافی عرصے کے بعد اس لیے ظاہر ہوں گے کہ اپنی قربانی سے گناہوں کو مٹا دیں۔ اور چونکہ انسان کو ہر حال میں موت کا مزہ چکھنا ہے، اس لیے یسوع مسیح کو بہت سوں کے گناہ اپنے سر لینے کا کہا گیا۔ وہ لوگ جو نہایت بے تابی سے ان کی آمد کا انتظار کرتے ہیں، وہ گناہوں سے نجات دلانے کے علاوہ دوسری دفعہ ظاہر ہوں گے۔

صفحہ 404

یسوع مسیح سولی پر اس لیے لٹک گئے تاکہ انسانیت کو گناہوں سے نجات دلا سکیں اور انہیں یروشلم میں ایک مقبرے میں دفن کیا گیا اور مرنے سے تین دن بعد وہ دوبارہ زندہ کیے گئے، اس لیے انہیں مرنے کے بعد پہلی دفعہ زندہ ہونے والا کہا گیا عین اسی طرح جیسے یہ یقین ہے کہ انہیں یوم قیامت کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

محمد عربی ولد عبداللہ ولد اسمعیل نہ تو اللہ کے نبی ہیں اور نہ ہی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ (نعوذ باللہ)۔ انجیل مقدس میں اس قسم کی کوئی پیش گوئی نہیں کی گئی کہ اسمعیل کے قبیلے سے ایک نبی ہو گا۔ تمام پیغمبر یعقوب کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس نے اطلاع دی کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب) قرآن، اللہ کا کلام ہے، جو یقین رکھتا ہے کہ محمد عربی اللہ کے نبی ہیں اور ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب) اللہ کا کلام ہے؟ یوم قیامت اللہ انہیں جہنم کی آگ میں ڈالے گا۔ اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص یسوع مسیح کے متعلق یہ سمجھے کہ وہ خدا ہے اور ان کی کتاب انجیل مقدس (66 کتابیں) پر ایمان لائے۔

اس لیے میں دوبارہ آپ سب کو مطلع کرتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ میں ڈال دو اور اگر میں سچا ہوا تو یسوع مسیح مجھے بچالیں گے اور بہت سے لوگوں کو ہلاک کر ڈالیں گے کہ دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ عظیم خداوند اپنے بندے سے پیار کرتا ہے جسے آگ میں پھینکا گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ میں تعمیر کردہ معبد جہاں مسلمان حج ادا کرتے ہیں، کو یسوع مسیح آگ اور گندھک سے تباہ کر دیں گے اور اس کی زمین جلتی ہوئی جگہ بن جائے گی۔ یہ آگ رات یا دن میں نہیں بجھائی جاسکے گی، اس کا دھواں نسلوں تک ہمیشہ اوپر اٹھتا رہے گا، یہ ویران پڑا رہے گا اور ہمیشہ کوئی بھی اس کے پاس سے نہیں گزرے گا۔ اور پھر معبد کی سرزمینوں میں عظیم قتل عام ہوگا۔ Edom and Bozrah - خداوند کی تلوار، اس سلسلے میں انجیل مقدس سے مندرجہ ذیل حوالوں کی تلاوت کرتا ہوں: باب 43 فقرہ: 1 تا 13، باب 24 فقرہ: 14 تا 19، باب 15 فقرہ: 1 تا 9، باب 16 فقرہ: 1 تا 14، باب 63 فقرہ: 1 تا 6، باب 48 فقرہ: 1 تا 47، باب 2 فقرہ: 11

اس لیے میں مسلمانوں کو اپنے خلاف قانون توہین رسالت، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کرانے کا موقع دے دینا چاہتا ہوں جس کی سزا موت ہے۔

صفحہ 405

میں سزائے موت کا اعتراف کرتا ہوں اور مجھے آگ میں ڈال دیا جائے جو کسی بھی سزائے موت سے زیادہ شدید ہے اور مجھے اس آگ میں ڈال دیا جائے جو کسی بھی سزا سے زیادہ شدید ہے کیونکہ میں گزشتہ دو برس سے قانون توہین رسالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کی خلاف ورزی کر رہا ہوں اور کھلے عام، بنیاد پرستوں سمیت مسلمانوں کے سامنے تبلیغ کرتا رہا ہوں کہ محمد عربی ایک ............. ہیں (نعوذ باللہ ) اور ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب) قرآن، کلام اللہ نہیں اور خداوند یسوع مسیح ، سعودی عرب میں تعمیر کردہ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کو تباہ کر دیں گے جہاں مسلمان کنکریاں مارنے سے پہلے عبادت کرتے اور قربانیاں کرتے ہیں۔

میں نے مسلمانوں سے بہت دفعہ کہا کہ میرے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کیا جائے لیکن اس وقت تک کسی نے نہیں کیا۔ اب میں نے اپنے خط میں اس امر کی تبلیغ کی ہے تاکہ تمام دنیا گواہ ہو۔ میں نے بنی اسرائیل کے خداوند کے بندے کی حیثیت سے یسوع مسیح کی سچائی اور پروگرام کے متعلق بتایا۔ خداوند اسرائیل کے علاوہ مہربان انسانوں سے پیار کرتا ہے۔ اگر تم اپنی زندگی بچانا چاہتے ہو، پھر تم بنی اسرائیل کے عظیم بادشاہ یسوع مسیح پر رحمت بھیجو؛ ان کی عظیم قوم اسرائیل پر بھی رحمت بھیجو۔ قسم کھاؤ اور یقیناً خداوند کے نام کی قسم کھا سکتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح کی قسم! تم اس وقت تک راہ ہدایت پر نہیں ہو سکتے جب تک تم خداوند کی رحمت پر یقین نہیں رکھتے اور اس ضمن میں تم مقدس بائبل کا مطالعہ کر سکتے ہو۔’’ہمارا خداوند رحم دل ہے اور وہ اپنی مقدس روح تمہیں عطا کرے گا، اس لیے تم خداوند کی سلطنت کا پروگرام سمجھ سکتے ہو اور ازلی زندگی حاصل کر لو گے‘‘ جس پر ایس ایچ او نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ایک رسمی ایف آئی آر درج کی اور 25-09-2001 کو تفتیش شروع کر دی۔ اس نے گواہ استغاثہ نمبر 2 حاجی محمود ظفر کے بیانات ریکارڈ کیے جس نے ایس ایچ او کو خط (EX.P1) دیا جسے اس نے مولانا اختر عدنان اور مولانا بشیر احمد کی موجودگی میں ریکوری میمو کے ذریعے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ان دونوں افراد نے حاجی محمود ظفر کے ساتھ تمام حالات کی تصدیق کی۔ اس کے علاوہ تفتیشی افسر نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت مولانا نعیم اور بشیر احمد کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ اسی روز عدالت میں حاضر ملزم تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا۔ اس نے تفتیشی افسر کے سامنے اپنا بیان دیا اور رسمی طور پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اسی دن اس کی جامہ تلاشی کے دوران حاجی محمود ظفر کو لکھے گئے دو خطوط،

صفحہ 406

-435/ روپے، کنگھا، بال پوائنٹ، ایک کلائی گھڑی، عینک، چار چابیوں والا کی رنگ اور قومی شناختی کارڈ موصول ہوئے۔ تفتیشی افسر نے اس سے تفتیش کی اور اسے جرم کا مرتکب پایا۔ اسی دن تفتیشی افسر نے جائے وقوعہ کا ایک عارضی خاکہ تیار کیا جہاں سے ملزم نے جو اس وقت عدالت میں موجود ہے، خطوط جو 24-07-2001 اور 18-09-2001 کو لکھے تھے۔ ان خطوط کے علاوہ دیگر اشیاء بھی ملزم سے برآمد ہوئیں جو قانون کے مطابق قبضہ میں لے لی گئیں۔ اسد احمد قریشی اے ایس آئی اور محمد اشرف کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

29-09-2001 کو عدالت میں حاضر ملزم کو عدالتی لاک اپ میں بھیج دیا گیا۔

لیبارٹری لاہور کو بھیج دیے گئے جن کی مثبت رپورٹ موصول ہوئی اور ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی طرف سے مذکورہ بالا رپورٹ موصول ہونے کے بعد ملزم کے خلاف چالان پیش کر دیا گیا۔

اپنی مرضی کا وکیل کا انتظام کرنے کے لیے کہا گیا یا پھر اسے سرکاری خرچ پر وکیل مہیا کیا جائے گا۔ اسے بتایا گیا کہ اس پر جو فرد جرم عائد کی جائے گی، اس کی سزا موت ہے اور اس کے خلاف کارروائی اس کی طرف سے نمائندگی کے بغیر نہیں کی جاسکتی لیکن اس نے اپنا نجی وکیل یا سرکاری خرچ پر کسی بھی وکیل کا انتظام کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس کا خداوند ہی اس کا وکیل ہے اور وہ اپنا وکیل یا سرکاری خرچ پر کوئی بھی حکومتی وکیل نہیں کرنا چاہتا۔

لے یا پھر سرکاری خرچ پر وکیل کر لے اور اس کے سامنے انتخاب کے لیے دو وکیلوں کی فہرست رکھی گئی لیکن ملزم نے دوبارہ انکار کر دیا اور اپنے کیس کا دفاع کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ پھر ملزم پر رسمی طور پر فرد جرم عائد کی گئی لیکن اس نے اعتراف جرم کر لیا۔ 28-06-2002 کو اسے اپنے اعترافی بیان پر دوبارہ غور کرنے کا موقع مہیا کیا گیا اور مقدمہ کی سماعت کے لیے 8-7-2002 کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ اس تاریخ کو اس نے دوبارہ کہا کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف کرنا چاہتا ہے اور اسے اپنے بیان پر دوبارہ غور کرنے کے لیے وقت دیا گیا اور اسے بتا دیا گیا کہ اس کا اعترافی بیان اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کی اپنی زبان میں اسے بتا دیا گیا جسے وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اعترافی بیان کی بنیاد پر اسے مجرم قرار دیا جا سکتا ہے

صفحہ 407

لیکن ملزم عدالت کے سامنے اپنا اعترافی بیان دینے کو تیار تھا۔ اس نے 2002-07-08 کو عدالت میں اپنا اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا:

”میں اپنے اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے 2001-09-14 کو پولیس سٹیشن گوالمندی، لاہور کے ایس ایچ او کے علاوہ مختلف ملکوں کے سربراہان اور پاکستان میں سفارتکاروں کو ایک خط لکھا جس میں، میں نے لکھا کہ محمد عربی ولد عبداللہ نہ تو اللہ کے پیغمبر ہیں (نعوذ باللہ) اور نہ ہی اللہ کے نبی ہیں۔ (نعوذ باللہ)۔ تمام پیغمبر یعقوب کی اولاد ہیں۔ میں نے مزید لکھا کہ جو یہ سمجھتا ہے کہ محمد عربی اللہ کے نبی ہیں اور ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب) قرآن، اللہ کا کلام ہے، خداوند، یوم قیامت کو اسے جہنم کی آگ میں ڈالے گا۔ میں نے مزید لکھا کہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C توہین رسالت کے قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہوں۔ میں نے سزائے موت قبول کی اور مجھے آگ میں ڈال دیا جائے۔ میں گزشتہ دو سال سے یہ تبلیغ کر رہا ہوں کہ محمد عربی ............(نعوذ باللہ) نبی ہیں اور ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب)، اللہ کا کلام نہیں اور خداوند یسوع مسیح، سعودی عرب میں تعمیر کردہ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کو تباہ کر دیں گے جہاں مسلمان کنکریاں مارنے سے پہلے عبادت کرتے ہیں اور میں نے مسلمانوں سے کہا کہ میرے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کرائیں۔ میں نے اسی قسم کا ایک خط حاجی محمود ظفر کو بھی لکھا جس میں میں نے اہانت آمیز کلمات کہے اور رسول اکرم ﷺ کے نام، قرآن پاک اور خانہ کعبہ کے علاوہ مدینہ منورہ کی بے حرمتی کی۔

مطابق ریکارڈ کیا گیا اور اسی بیان کو بغیر کسی جبر یا زبردستی کے دیا گیا اور پھر اسے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 243 کے تحت ایک شوکاز نوٹس دیا گیا کہ اس کے اعترافی بیان کے باعث کیوں نہ اسے سزا دی جائے لیکن اس نے اپنے جرم کا اقرار کیا اور اسے پھر دوبارہ سرکاری خرچ پر وکیل مہیا کرنے کی پیشکش کی گئی جس کا نام فہرست میں موجود ہے جو بار ایسوسی ایشن نے عزت مآب جناب سیشن جج، لاہور کے ذریعے فراہم کی، پھر بھی عدالت استغاثہ کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لیے تیار تھی۔ استغاثہ کی شہادت طلب کی گئی اور مس سعدیہ خالد ایڈووکیٹ کو سرکاری خرچ پر ملزم کا وکیل مقرر کیا گیا لیکن عدالت میں حاضر ملزم نے اسے اپنے

صفحہ 408

وکیل کی حیثیت سے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنا سابقہ موقف دہرایا۔

بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ گواہ استغاثہ نمبر 1 نے بتایا کہ مورخہ 2001-09-25 کو گواہ استغاثہ نمبر 2 حاجی ظفر محمود نے مجھے ایک خط دکھایا جسے عدالت میں حاضر ملزم کی طرف سے جاری اور لکھا گیا تھا جو فائل میں صفحہ 1 تا صفحہ 4 تک ہیں اور جنہیں تفتیشی افسر کے سامنے پیش کیا گیا اور جنہیں ریکوری میمو (EX.PA) کے مطابق حاصل کیا گیا۔ خطوط جو صفحہ 1 تا 4 تک ہیں، ان سب پر عدالت میں حاضر ملزم کے دستخط تھے اور ریکوری میمو کی تصدیق، گواہ استغاثہ نمبر 1 سے کروانے کے علاوہ دیگر گواہان استغاثہ کی بھی تصدیق کرائی گئی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم کی طرف سے لکھے گئے خطوط میں آخری نبی حضرت محمدﷺ، اللہ تعالیٰ، خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کی اہانت اور توہین کی گئی تھی۔

ملزم انور کینتھ نے اسے ایک خط لکھا جس میں اس نے عیسائیت کی تبلیغ کی اور رسول اکرمﷺ کے متعلق اہانت آمیز کلمات کہے اور یہی خط مولانا بشیر احمد اور مسلمانوں کے دیگر مذہبی عالموں کو دکھایا گیا۔ مزید یہ بیان کیا گیا کہ اسے 2001-9-25 کو شامل تفتیش کیا گیا اور اس نے پولیس کے سامنے خط پیش کیا جو عدالت میں حاضر ملزم نے اسے لکھا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے اردو میں ترجمہ شدہ خط (P2) جس پر عدالت میں حاضر ملزم کے دستخط تھے، 2001-08-06 کو پیش کیا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے ملزم کا لکھا گیا اردو خط مورخہ 2001-08-27 (P4) جو خط (P1) کا ترجمہ تھا، پیش کیا اور پولیس نے ریکوری میمو (EX.PA) کے مطابق یہ خط اپنے قبضے میں لے لیا اور اس نے مولانا بشیر اور دیگر کے ہمراہ اس کی تصدیق کی۔ ملزم کو گواہ پر جرح کرنے کا موقع دیا گیا لیکن اس نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور پھر اس عدالت نے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی 342 کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کیا۔

اپنے بیان میں ملزم نے تمام سوالات کے درست جواب دیے۔ جب اس سے سوال نمبر 10 پوچھا گیا کہ گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف کیوں گواہی دی اور کیوں یہ مقدمہ اس کے خلاف بنایا گیا تو ملزم نے جواب دیا کہ میری گواہان استغاثہ کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں

صفحہ 409

اور انہوں نے میرے خلاف درست طور پر گواہی دی اور یہ مقدمہ درست حقائق پر مبنی ہے۔ جب اس سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا تم نے اپنے دفاع میں کوئی شہادت پیش کی تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس موقع پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ملزم کا بیان خالصتاً اس کا اپنا بیان ہے اور اس نے کسی جبر و زبردستی کے بغیر اپنی مرضی کے مطابق بیان دیا ہے۔

میں جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کیا گیا اور خط (EX.P1) لکھنے کے متعلق فرد جرم واضح کرنے کے حوالے سے جو انگریزی زبان میں ہے، اس نے بتایا کہ محمد عربی ولد عبداللہ ولد اسمعیل نہ تو پیغمبر یا خدا ہیں اور نہ ہی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس نے اپنے خط (EX.P1) میں مزید بیان کیا کہ انجیل مقدس میں اس قسم کی کوئی پیش گوئی موجود نہیں کہ کوئی پیغمبر اسمعیل کے قبیلے میں سے پیدا ہوگا اور تمام پیغمبر یعقوب کی نسل سے ہوئے اور جو یہ سمجھتا ہے کہ محمد عربی اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب) قرآن، اللہ کا کلام ہے، خداوند یوم قیامت انہیں جہنم کی آگ میں ڈالے گا۔ (نعوذ باللہ)۔ اس نے مزید بتایا کہ میں نے بار بار مطلع کیا کہ مجھے آگ کی بھٹی میں ڈالا جائے اور اگر میں سچا ہوا تو خداوند یسوع مسیح مجھے بچائیں گے اور اور بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیں گے جن کو یہ علم ہوگا کہ خداوند اعظم اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے جسے آگ میں پھینکا گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ مکہ اور مدینہ میں تعمیر کردہ مقدس مقامات جہاں مسلمان حج ادا کرتے ہیں، کو آگ سے تباہ کر دیا جائے گا اور خداوند یسوع مسیح اسے جلتی ہوئی جگہ بنا دیں گے۔ اس کی آگ بجھائی نہ جاسکے گی اور آگ کا دھواں نسلوں تک اوپر اٹھتا رہے گا، یہ جگہ ویران پڑی رہے گی اور کوئی بھی یہاں سے کبھی نہیں گزرے گا۔ اپنے آخری پیرے (EX.P1) میں اس نے بتایا کہ چونکہ میں مسلمانوں کو یہ واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ کسی وقت بھی میرے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کے تحت مقدمہ درج کراسکتے ہیں۔ میں سزائے موت کا اقرار کرتا ہوں اور مجھے آگ میں ڈالا جائے کیونکہ میں گزشتہ دو سال سے توہین رسالت (ﷺ) کے اس قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہوں اور کھلے عام بنیاد پرستوں سمیت مسلمانوں کے سامنے یہ کہہ رہا ہوں کہ محمد عربی ایک ............ ہیں (نعوذ باللہ) اور ان کی کتاب (ان پر نازل کردہ کتاب) اللہ کا کلام نہیں اور

صفحہ 410

خداوند یسوع مسیح سعودی عرب میں تعمیر کردہ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کو تباہ کردیں گے جہاں مسلمان کنکریاں مارنے سے پہلے عبادت کرتے اور قربانیاں کرتے ہیں۔ اب میں نے یہ سب کچھ اپنے خط میں لکھ دیا ہے تاکہ دنیا گواہ رہے۔ میں نے خداوند یسوع مسیح کی سچائی اور پروگرام کے متعلق بتایا کہ بنی اسرائیل اس کے بندے ہیں۔

گیا جس میں اس نے حضرت محمدﷺ ، مسلمانوں، اللہ کی آخری کتاب، قرآن اور مکہ، مدینہ کے لیے اہانت آمیز کلمات کہے جن کے باعث دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچی۔ اس نے اپنے دونوں اعترافی بیانات کا اقرار کیا۔

ہیں لیکن انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اور ملزم کے بیان میں کسی بھی ابہام سے بچنے کے لیے گواہ استغاثہ نمبر 2 حاجی محمود ظفر اور گواہ استغاثہ نمبر 1 مولانا نعیم اختر عدنان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جنہوں نے واضح طور پر عدالت میں حاضر ملزم کے بیان کی تصدیق کی۔ دونوں گواہوں نے (ملزم کی طرف سے لکھے گئے متنازعہ) خطوط (P1، P2 اور P4) تفتیشی افسر کے سامنے پیش کیے جن میں گستاخانہ کلمات کہے گئے تھے اور نہایت ہی واضح طور پر حضرت محمدﷺ کے نام کی بے حرمتی کی گئی تھی۔ ملزم کو گواہوں پر جرح کرنے کا موقع مہیا کرنے کے باوجود دونوں گواہوں پر جرح نہیں کی گئی۔

کچھ نہیں کہا بلکہ وہ کچھ کہا ہے جو خداوند نے اپنے منہ سے بولا اور یہ انجیل مقدس میں لکھا ہوا ہے۔ کتاب انجیل مقدس کے باب 11 کے فقرہ نمبر 1 تا 13 میں دو گواہوں کا ذکر ہے۔ پہلا گواہ انور کینیتھ (عدالت میں حاضر ملزم) جو مشرقی ملک پاکستان سے ہے اور اس کا تعلق جتاہ قبیلے اور کنگ ڈیوڈ کے خاندان سے ہے اور وہ اسرائیل کا بادشاہ ہوگا جو دنیا پر حکمرانی کرے گا، اور دوسرا گواہ ڈاکٹر مورو سرلو جس کا تعلق لیوی قبیلے سے ہے اور جو اس وقت اسرائیل میں تبلیغ کر رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو عیسائی کہا جس کا تثلیث پر ایمان ہے اور دوسری طرف اس نے خود کو اسرائیلی کہا جو تثلیث پر ایمان نہیں رکھتا اور عیسائیت تو یہودیت سے بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی تو دیگر اقوام پر اپنی طرز کی یہودی نسل کی برتری پر یقین رکھتے ہیں۔ ملزم کا یہ خفیہ مقصد ہے اور کہ وہ جو کچھ تبلیغ کر رہا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ توہین رسالتﷺ کے

صفحہ 411

قانون کی خلاف ورزی اسی انداز میں کی جائے جس طرح کا انداز اس نے خط میں اختیار کیا اور وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

یہودیت کو مدغم کرنے کی کوشش کی جو دونوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے قابل قبول نہیں اور اس طرح اس نے نہ صرف مسلمانوں ہی کے جذبات کو مجروح نہیں کیا بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی اذیت کا نشانہ بنایا۔ اس لیے یہ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ملزم نے دونوں کو ناراض کیا اور دنیا کے کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو مجموعی طور پر ٹھیس پہنچا کر کسی کو سستی شہرت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کے سربراہان اور دیگر افراد کو خطوط (EX.P1 تا EX.P4) لکھنے کے ذریعے اہانت آمیز کلمات کا اظہار کیا جن میں اس نے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے نام کی بے حرمتی کی اور مجموعی طور پر لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے تمام شواہد اور ملزم کے اعترافی بیانات کے ذریعے بلاشک و شبہ ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے۔ میں عدالت میں حاضر ملزم انور کینتھ کو مجرم قرار دیتا ہوں اور میرے فرائض منصبی کا تقاضا ہے کہ میں مجرم کو سزائے موت سناؤں اور پانچ لاکھ روپیہ جرمانہ عائد کروں جسے ملزم سے زمینی آمدنی کے بقایاجات کی حیثیت سے وصول کیا جائے گا۔ اسے گردن کے ذریعے اس وقت تک پھانسی تک لٹکایا جائے جب تک اس کی موت نہ واقع ہو جائے اور پھر اس کی موت کی تصدیق معزز عدالت عالیہ سے کی جائے اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 374 کے تحت اسے جیل بھجوایا جائے گا۔

شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی، عینک، چابی اور کی رنگ ،ملزم کو واپس کر دی جائے گی جو مجرم کی گرفتاری کے وقت اس سے برآمد ہوئے۔ ضروری کارروائی کے بعد فائل بھیج دی جائے۔

دستخط : تاریخ فیصلہ صداقت اللہ خان 18 جولائی 2002ء ایڈیشنل سیشن جج ، لاہور

صفحہ 412

۞......۞......۞

صفحہ 413

جناب سردار احمد نعیم ایڈیشنل سیشن جج لاہور

سرکار بنام وجیہ الحسن، جولائی 2002ء

صفحہ 414
صفحہ 415

دل کی بات

زیر نظر مقدمہ کا ملزم وجیہ الحسن 28 سالہ نوجوان کوٹ عبدالمالک ضلع شیخوپورہ کا رہائشی تھا۔ وہ گلشن راوی میں واقع ایک فیکٹری شیل آئرن ورکس میں عام ملازم تھا۔ ملازمت کے دوران ہی ملزم کے ذہن میں شیطانی منصوبہ نمودار رہا۔ 1999ء میں اس نے درجنوں قومی اور بین الاقوامی اخبارات کے علاوہ مختلف مشہور شخصیات کو خطوط لکھے جن میں اسلام آباد میں متعین سعودی سفیر، مسٹر جسٹس راشد عزیز لاہور ہائی کورٹ، ایس ایس پی سعود عزیز، آئی جی پنجاب جہانزیب برکی، محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور سلطان آف برونائی وغیرہ شامل ہیں۔ ملزم وجیہہ الحسن نے لکھے گئے ان خطوط میں نہ صرف توہین رسالت کا ارتکاب کیا بلکہ حضور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ اور ان کے جانثار ساتھی صحابہ کرامؓ و خلفائے راشدینؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ کے بارے میں بھی انتہائی گھٹیا اور نازیبا الفاظ لکھے۔ 21 مارچ 1999ء کو سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ جناب محمد اسماعیل قریشی کی درخواست پر اس کے خلاف تھانہ اقبال ٹاؤن لاہور میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پولیس نے چالان مکمل کرکے مقدمہ سماعت کے لیے عدالت میں جمع کروا دیا۔ تقریباً 3 سال تک مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ توہین رسالت کے مجرم وجیہہ الحسن کے خلاف سول جج اور سابق ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت گیارہ افراد نے گواہی دی۔ ان میں سعید خورشید چوہان سول جج لاہور، حسن نواز تارڑ سابق ڈپٹی کمشنر لاہور، محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ، عتیق الرحمٰن، سب انسپکٹر مختار حسین، اے ایس آئی محمد منشاء، کانسٹیبل محمد بشیر قریشی ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ، فیکٹری مالک محمد وسیم نوید اور وسیم قریشی شامل تھے۔ 27 جولائی 2002ء کو جناب سردار احمد نعیم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت سمیت مجموعی طور پر 13 سال قید با مشقت اور 2 لاکھ 70 ہزار روپے

صفحہ 416

جرمانہ کی سزا سنائی۔ یہ ایک یادگار فیصلہ ہے جس کا مطالعہ ہر مسلمان کے ایمان کو ایک نئی جلا بخشے گا۔ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک مجاہد ختم نبوت جناب محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے زیر نظر فیصلہ کی نقل مہیا کی جس پر وہ نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 417

بعدالت جناب سردار احمد نعیم ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

ابتدائی معلومات

ایس ٹی اے (STA) نمبر 15 بہ سال 2001 ایف آئی آر نمبر : 110/99 بتاریخ 21 مارچ 1999ء پولیس سٹیشن : اقبال ٹاؤن لاہور بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A 295-C، 298 اور 298-A

سرکار

بنام

وجیہہ الحسن ولد راجہ محمد صفدر، ذات مدنی، ساکن، بالمقابل فاطمہ ہاؤس، کوٹ عبدالمالک، ضلع شیخوپورہ

(ملزم)

وکیل منجانب مدعی: محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ وکیل منجانب ملزم: عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

صفحہ 418

تاریخ فیصلہ: 27 جولائی 2002ء

فیصلہ

جناب سردار احمد نعیم صاحب ایڈیشنل سیشن جج ، لاہور

مندرجہ بالا ملزم کے خلاف پولیس سٹیشن اقبال ٹاؤن ، لاہور میں درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 110/99 مورخہ 1999-03-21 زیر دفعات تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C، 298 اور 298-A کے تحت محمد اسمعیل قریشی کی مدعیت میں مقدمہ کی سماعت کے لیے ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

متعلقہ مجاز عدالت میں استغاثہ کی طرف سے بیان کیے گئے حالات میں کہا گیا کہ درخواست گزار، سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک ایڈووکیٹ ، لاہور بار ایسوسی ایشن کا ایک سابق صدر، ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا چیئرمین رہا جس کی شاخیں ملک بھر کے علاوہ بیرون ملک بھی ہیں۔ وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک وزیٹنگ پروفیسر بھی رہا۔ وہ ملک میں قوانین کو اسلامی تعلیمات میں ڈھالنے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا ہے۔ اسے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی وساطت سے قانون توہین رسالت (ﷺ) متعارف کروانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، اس جرم کی سزا صرف موت ہے۔ وہ ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ“ نامی ایک کتاب کے مصنف کے علاوہ قانون توہین رسالت (ﷺ) کا محرک بھی تھا۔ اس نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں نبی اکرم ﷺ کی توہین کے خلاف مقدمے بھی لڑے ہیں۔ اس کے باعث پاکستان اور بیرون پاکستان میں عیسائی اور قادیانی اس سے ناراض ہو گئے

صفحہ 419

تھے۔ اس کے خلاف مضحکہ خیز الزام کی بنیاد پر جھوٹے اور فضول مقدمے درج کرائے گئے کہ ایک نوجوان شخص نے عاصمہ جیلانی، اس کی بہن حنا جیلانی اور دیگر عزیزوں کو قتل کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس کی کتاب ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ“ پڑھنے کے بعد وہ مشتعل ہو گئے تھے۔ کافی عرصے سے ہی اسے بے شمار نامعلوم افراد کی طرف سے قابل اعتراض دھمکی آمیز فون کالز کے علاوہ موت کی دھمکیاں بھی موصول ہو رہی تھیں لیکن اس نے دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ یہ دھمکیاں اسے ذاتی لحاظ سے دی جا رہی تھیں۔ لیکن گزشتہ چھ ماہ سے اسے خطوط موصول ہو رہے تھے جن میں نبی پاک ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کی جاتی اور آپ ﷺ کو براہ راست ایک ایسی غلیظ اور انتہائی اشتعال انگیز زبان میں گالیاں دی جاتیں کہ اس کرہ ارض پر کوئی بھی مسلمان اس قسم کے غلیظ خطوط کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اس نے انتہائی غصے کے عالم میں یہ خطوط پھاڑ اور جلا دیے۔ اس نے اس حرامی کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ دیے گئے پتے پر موجود نہ تھا۔ اسے، اس کا آخری خط 21-10-1998 کو موصول ہوا جس میں اس نے وہی غلیظ اور حرامیانہ زبان استعمال کی جو اس دنیا کے کسی بھی شخص نے کبھی استعمال نہیں کی تھی۔ اس نے ایم اے او کالج سٹوڈنٹس ہوسٹل، لاہور کے دیے ہوئے پتے پر اسے دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں کوئی ایسا طالب علم موجود نہ تھا۔ 3 نومبر 1998ء کو اسے عمر نواز بٹ کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی کہ وہ متذکرہ مرشد مسیح کے خلاف کارروائی کرنے جا رہا ہے۔ اس نے اسے اپنا ٹیلیفون نمبر دینے کے لیے کہا اور اصل مجرم کو تلاش کرنے میں اس کی معاونت کی۔ اس نے ایک ہفتے کے اندر یہ کام کرنے کا وعدہ کیا۔ اس نے 05-10-1998 کو تحریری طور پر ڈویژنل انجینئر، ملتان روڈ ٹیلیفون ایکسچینج اور مسلم ٹاؤن ایکسچینج کو مطلع کیا کہ اس کے فون نمبر 7832878 اور 5419210 کو زیر نگرانی رکھا جائے تاکہ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کو پکڑا جا سکے۔ 4 نومبر 1998ء کی شام کو اسے اچانک فون موصول ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ وہ عمر نواز بٹ، مرشد مسیح، عمر فاروق کے جعلی نام استعمال کرتا رہا ہے لیکن اس کا نام راجہ وجیہہ الحسن ہے اور وہ مسلمان سے عیسائی ہو گیا تھا جو مرشد مسیح کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور پھر اس نے درخواست گزار کو پاکستان میں توہین رسالت کا قانون متعارف کروانے اور عیسائیوں کے خلاف مقدمے لڑنے تاکہ انہیں پھانسی دی جائے، کی وجہ سے گالیاں دینی شروع کر دیں اور

صفحہ 420

اسے دھمکی دی کہ اسے مستقبل قریب میں گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے گا لیکن پھر اس نے نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دینی شروع کر دیں، پھر اس نے ٹیلیفون کا رسیور رکھ دیا۔ اس کے بعد اس نے بذریعہ فون کبھی بھی اس سے رابطہ نہیں کیا۔ نبی اکرم ﷺ، نبی اکرم (ﷺ) کے صحابہؓ کے لیے اس خط کے مندرجات، نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے لیے انتہائی توہین آمیز ہیں جو زیر دفعہ 295-C، 295-A، 298 اور 298-A تعزیرات پاکستان کے تحت جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس نے توہین آمیز خطوط، عمر نواز بٹ کے خطوط اور وجیہہ الحسن، ساکن چکوال کے قومی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں بھی لف کیں اور خطوط کی نقول ڈویژنل انجینئر ٹیلیفونز کو بھیج دیں۔ مندرجہ بالا شکایت کی بنیاد پر متعلقہ مجاز عدالت میں ایک رسمی ایف آئی آر درج کی گئی۔

پاکستان، ملزم کے خلاف ایک رسمی فرد جرم عائد کر دی گئی جس سے اس نے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی خواہش کا اظہار کیا۔

گردی ایکٹ 1977ء کی دفعہ 7 کے ساتھ پڑھا گیا، قانون میں ترمیم کی وجہ سے اس پر ایک اور فرد جرم عائد کی گئی اور مقدمہ کو اس عدالت میں پیش کیا گیا۔

حسین، محمد اسمعیل قریشی، محمد منشاء، سعید خورشید احمد چوہان، محمد بشیر قریشی، شہزاد کامل ایس آئی اور حسن نواز تارڑ سمیت گیارہ گواہ پیش کیے۔

خارج کر دیا۔

کے سامنے مندرجہ بالا وقوعہ کے متعلق ماورائے عدالت اعتراف کیا اور اس لحاظ سے ایسا ہی ایک بیان استغاثہ کے گواہ نمبر 2، محمد نوید نے بھی دیا۔

تفتیش میں شامل ہوا اور درخواست گزار نے خطوط (1 P سے 5 P تک)، لفافے

صفحہ 421

(P6 اور P7) اور ملزم کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی (P8) پیش کی۔

10- رسمی ایف آئی آر متعلقہ مجاز عدالت (Ex.PB)، استغاثہ کے گواہ نمبر 4 نے نکلوائی۔ اس نے بیان کیا کہ 1999-03-21 کو اسے پولیس سٹیشن اقبال ٹاؤن تعینات کیا گیا اور تحریری درخواست (Ex.PB)، کی بنیاد پر ایس پی لاہور سے پولیس Ex.PC کے کہنے کے مطابق ایک رسمی ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس نے درخواست گزار کے تصدیق شدہ خطوط (P9 تا P13) اور وجیہہ الحسن کے قومی شناختی کارڈ (P14) کی فوٹو کاپیاں بھی وصول کیں۔

11- اے ایس آئی ممتاز حسین، گواہوں کے کٹہرے میں استغاثہ کے گواہ نمبر 5 کی حیثیت سے حاضر ہوا اور بیان کیا کہ 2001-01-22 کو معاملے کی تفتیش اس کے سپرد کی گئی۔ 2001-01-27 کو اس نے ایک درخواست (Ex.PD) پیش کی کہ زیر دفعہ 87/88 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اشتہار جاری کیا جائے۔ 2001-02-28 کو مجسٹریٹ نے اشتہار جاری کر دیا کیونکہ اس سے پہلے ہی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ اس اشتہار کی تعمیل کے لیے اسے کانسٹیبل محمد منشاء کے سپرد کر دیا گیا۔ بعد ازاں، اس گواہ نے زیر دفعہ 512 تعزیرات پاکستان، ملزم کے خلاف تحریری چالان پیش کر دیا۔

12- درخواست گزار استغاثہ کے گواہ نمبر 6 کے طور پر پیش ہوا اور Ex.PB. میں بیان کئے گئے حالات کی تصدیق کی۔

13- استغاثہ کے گواہ نمبر 7 نے شہادت دی کہ 2001-01-08 کو اسے ملزم کے وارنٹ گرفتاری دیے گئے ۔ وہ ضامن کے پتے پر گیا لیکن وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہوسکی۔ پھر اس نے یہ وارنٹ ایس ایچ او کو واپس کر دیے۔ 30.1.2001 کو ملزم وجیہہ الحسن کے متعلق اسے ایک اشتہار دیا گیا جو اس نے ملزم کے گھر کے بیرونی حصے پر چسپاں کر دیا جبکہ دوسری نقل اس نے عدالت کے احاطے میں چسپاں کر دی۔ 27.2.2001 کو اس نے اشتہار کی تیسری نقل مع رپورٹ ایس ایچ او کے حوالے کر دی جو بالترتیب Ex.PD/1 اور Ex.PD/2 تھیں۔

14- اس کے بعد استغاثہ کی طرف سے جو گواہ پیش کیا گیا، وہ سعید خورشید احمد پانو ہان سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ، لاہور تھا۔ اس نے بیان کیا کہ 28.5.2001 کو اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے ایک درخواست گزاری جس میں اس نے ملزم کے دستخط کا نمونہ

صفحہ 422

اور اردو کے علاوہ انگریزی میں اس کی لکھائی حاصل کرنے کی اجازت طلب کی جو Ex.P.E. تھا جس کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے بعد ملزم کو اس کے سامنے پیش کیا گیا اور اس کی موجودگی میں اس کی انگریزی میں لکھائی جو S-1 تا S-9 پر مشتمل تھی، کے علاوہ اردو میں لکھائی جو S-10 تا S-45 پر مشتمل تھی، بھی اس کی موجودگی میں حاصل کی گئی اور اس نے اس کی تصدیق کی۔ یہ سب پولیس کے حوالے کر دی گئیں۔

قریشی، متذکرہ دستاویز کے معائنہ کار کو بھی استغاثہ نے اپنے گواہ نمبر 9 کی حیثیت سے پیش کیا جس نے یہ شہادت دی کہ 02-06-2001 کو متذکرہ پانچ دستاویزات (Ex.P-1 تا Ex.P-5) کے علاوہ ہاتھ کی لکھائی (S-1 تا S-45) کے 45 صفحات (Sheets) دفتر ہذا میں پیش کیے گئے۔ یہ دستاویزات ان کی طرف سے تقابل اور معائنہ کے لیے انہیں بھیج دی گئیں۔ اس نے Q-1 تا Q-5 (Ex.P-1 تا Ex.P-5) کا S-1 تا S-45 کے ساتھ تقابل کیا۔ اس نے رائے دی کہ اردو کے علاوہ انگریزی کی ہاتھ کی متنازع لکھائی بمطابق Q-1 تا Q-5 اور S-1 تا S-45 صفحات، نمونے کی اردو / انگریزی لکھائی ہی جیسی ہے۔ اس کی رپورٹ نمبر 4344/FSL مورخہ 04-07-2001 اسے بھیجی گئی جو بمطابق Ex.P.E تھی۔ اس ضمن میں متذکرہ انگریزی دستاویزات کی بڑی شکل (Enlargement) عدالت میں پیش کی گئی جسے B تا K ظاہر کیا گیا اور پھر اردو میں متذکرہ دستاویز کو L تا W سے ظاہر کیا گیا۔

سے پیش ہوا۔ اس نے بیان کیا کہ 21-05-2001 کو مون مارکیٹ، اقبال ٹاؤن، لاہور میں موجود تھا اور گشت پر تھا۔ وسیم مغل اور میاں محمد نوید نامی دو اشخاص وہاں آئے اور اس کے سامنے ملزم راجا وجیہہ الحسن کو پیش کیا۔ انہوں نے اس گواہ کو بتایا کہ وہ اس مقدمے ایف آئی آر نمبر 110/99 مندرجہ پولیس سٹیشن، اقبال ٹاؤن، میں مفرور ہے۔ ان کے بیانات زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ریکارڈ کیے گئے اور اس مقدمے میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ درخواست گزار، اپنے بیٹے محمد وسیم قریشی کے ہمراہ اس گواہ کے روبرو پیش ہوا جہاں (Ex.P-1 تا Ex.P-7)، قومی شناختی کارڈ جسے A سے ظاہر کیا گیا، کے ساتھ پیش ہوئے۔

صفحہ 423

انہیں بمطابق میمو (Ex.PA) تحویل میں لے لیا گیا۔ زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ان گواہوں کے بیانات کو بھی ریکارڈ کیا گیا۔ 2001-05-28 کو وہ علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو ملزم کے ہمراہ پیش ہوا کیونکہ ماہر تحریر نے Ex.P-1 تا Ex.P-5 کا معائنہ کرنا تھا لیکن ملزم کی ہاتھ کی لکھائی کا نمونہ حاصل کرنے کے لیے ایک درخواست گزاری گئی جو Ex.P.D تھی۔ مجسٹریٹ کی موجودگی میں نمونہ لیا گیا جس کی اس نے تصدیق کی جو S-1 تا S-45 تھی۔ 2001-05-29 کو Ex.P-1 تا Ex.P5 کو متذکرہ بالا نمونہ تحریری طور پر فرانزک سائنس لیبارٹری، پنجاب، لاہور، بھجوا دیا گیا۔ 2001-06-04 کو ملزم کا جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا۔ ماہر تحریر کی رپورٹ 2001-07-04 کو موصول ہوئی اور اس طرح ملزم کا چالان کر دیا گیا۔

17- اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، لاہور، حسن نواز تارڑ، استغاثہ کے گواہ نمبر 11 کی حیثیت سے پیش ہوئے اور شہادت دی کہ 2001-07-23 کو اسے لاہور میں تعینات کیا گیا اور وہ ڈپٹی کمشنر/ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہا تھا۔ پولیس کی طرف سے اس مقدمے کی تفتیش کے بعد یہ مقدمہ اس کے روبرو پیش ہوا اور اس نے فائل کا مطالعہ کیا اور جائزہ لیا۔ بعد ازاں، تفتیش کی بنیاد پر، زیر دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مزید کارروائی کے لیے ایک رسمی درخواست گزاری گئی جو Ex.PG تھی۔ اس پر اس کے دستخط ثبت تھے۔

18- زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور ملزم نے سوال نمبر 7 کا جواب درج ذیل دیا:

’’میں اور میرا والد، عاصمہ جہانگیر کے شوہر کے دفتر میں کام کر رہے تھے۔ کچھ عرصہ بعد میں نے یہ دفتر چھوڑ دیا اور کراؤن سٹیل انڈسٹریز میں ملازمت اختیار کر لی جہاں وسیم مغل منیجر تھا۔ کچھ عرصہ اس کارخانے میں کام کرنے کے بعد، میں نے چار ماہ کے لیے تبلیغی جماعت میں شامل ہونے کے لیے یہ ملازمت چھوڑ دی۔ اس کارخانے میں ملازمت کے دوران، وسیم مغل، گواہ استغاثہ، نے مجھ سے کہا وہ کسی سے ملاقات کے لیے اس کا تعارف کرائے گا۔ اس کے گھر پر میری گرفتاری سے 15 دن پہلے مجھ سے وسیم مغل، گواہ استغاثہ نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ جب میں اس کے گھر پہنچا، نوید، گواہ استغاثہ، مصطفیٰ ایڈووکیٹ اور ایک اور نامعلوم شخص، اس کے علاوہ گھر میں موجود تھے۔ یہ تمام لوگ مجھے لاہور کینٹ کے علاقے میں لے

صفحہ 424

آئے اور مجھے اذیت دی۔ مجھے ان لوگوں نے ایک گھر میں تقریباً 15 دن قید رکھا۔ مجھے ان لوگوں نے چند خطوط دکھائے اور مجھے اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا کہ خطوط عاصمہ جہانگیر نے لکھے ہیں۔ میرے انکار پر یہ لوگ مجھے اقبال ٹاؤن پولیس سٹیشن لے آئے جہاں اسمعیل قریشی پہلے ہی موجود تھا۔ کچھ اندراجات کرنے کے بعد محرر نے میری گرفتاری ڈال دی۔ مقصد یہ تھا کہ عاصمہ جہانگیر اور اس کی بہن حنا جیلانی کی طرف سے اس مقدمے کے شکایت کنندہ محمد اسمعیل قریشی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ اسے ان سے پرخاش تھی۔ شکایت کنندہ چاہتا تھا کہ اس جھوٹے مقدمے میں، میں عاصمہ جہانگیر / حنا جیلانی کو ملوث کر دوں۔ استغاثہ کے گواہوں نے درخواست گزار کے کہنے پر میرے خلاف شہادت دی اور استغاثہ کے گواہ، اس کی سربراہی میں قائم کسی یوتھ فورس کے ارکان تھے۔“

اس نے اپنے دفاع میں کچھ ثبوت دینے چاہے اور ثبوت کے طور پر کچھ سرٹیفیکیٹس اور دستاویزات بشمول Ex.DA تا Ex.DD اور Mark-A تا Mark-B/1 پیش کیں اور اپنی صفائی میں پیش کیے گئے ثبوت مکمل کر دیے۔ بہرحال، زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، وہ بطور اپنا گواہ خود نہ پیش ہوا۔

ماورائے عدالت اعتراف

کرنے کے لیے محمد وسیم گواہ استغاثہ نمبر 1 اور محمد نوید گواہ استغاثہ نمبر 2 کو پیش کیا گیا۔ محمد وسیم نے یہ بھی بیان کیا کہ ملزم سٹیل آئرن ورکس میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کرتا رہا ہے، یہ فیکٹری اس گواہ کے بڑے بھائی کی ملکیت ہے جہاں وہ ایک منیجر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ مشکوک نظریات کی بنا پر، ملزم وجیہہ الحسن نے مندرجہ بالا کارخانہ چھوڑ دیا۔ ایک یا دو مہینے بعد ملزم نے اس گواہ کے ساتھ 21.5.2001 کو رابطہ کیا۔ اسی اثنا میں محمد نوید بھی آ گیا۔ ان کے سامنے ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا ہے اور وہ

صفحہ 425

مرزائیت کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے شکایت کنندہ اور دیگر کو خطوط لکھے جن میں نبی اکرمﷺ اور ان (علیہ السلام) کے صحابہؓ کے خلاف اہانت آمیز زبان استعمال کی اور ان پر بہتان طرازی کی۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے شکایت کنندہ کے ساتھ فون پر بات چیت کی اور اس نے نبی اکرمﷺ اور ان (علیہ السلام) کے صحابہؓ کے خلاف اہانت آمیز زبان الفاظ کہے اور ان پر بہتان طرازی کی۔ اس نے استغاثہ کے گواہوں سے کہا کہ محمد اسمعیل قریشی سے معافی دلائی جائے۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ اس مقدمے میں ایک اشتہاری مجرم ہے اور درخواست کی کہ اسے پولیس کے روبرو پیش کیا جائے۔

وہ محمد وسیم کے گھر گیا جہاں ملزم بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اس کی موجودگی میں اقرار کیا کہ وہ مسلمان سے ”مرزائی“ ہو چکا ہے اور قادیانی مذہب کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں اس نے خطوط لکھے اور انہیں بذریعہ ڈاک مختلف مذہبی جماعتوں، مدیروں اور وکیلوں کو بھیج دیے۔ یہ خطوط نبی اکرمﷺ کی اہانت پر مبنی تھے اور یہ کہ اس نے شکایت کنندہ کو بھی خطوط لکھے جن میں نبی اکرمﷺ اور ان (علیہ السلام) کے صحابہؓ کے خلاف اہانت آمیز زبان استعمال کی گئی۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے شکایت کنندہ کو ٹیلیفون کالز کیں جن میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ ان کے صحابہؓ کے لیے غلیظ زبان استعمال کی گئی اور اس کے علاوہ نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہؓ پر بہتان طرازی بھی کی گئی۔ ملزم نے ان گواہوں سے خواہش کی کہ اسے شکایت کنندہ سے معافی دلوائی جائے اور پولیس کے روبرو بھی پیش کیا جائے۔

ماہر کی طرف سے ثبوت و شہادت

آمیز الفاظ کہے گئے اور شکایت کنندہ کو کی گئیں ناپسندیدہ فون کالز کی بنیاد پر درج کیا گیا جن میں نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہؓ کے خلاف اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے گئے، نیز شکایت کنندہ کو ناپسندیدہ ٹیلیفون کالز کی گئیں جن میں نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہؓ کے لیے گندے، غلیظ ترین اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے گئے ،اور اس لیے، اس مقدمے میں ملزم کی گرفتاری کے بعد یہ خطوط جو مبینہ طور پر ملزم کی طرف سے بھجوائے گئے، انہیں فرانزک سائنس لیبارٹری

صفحہ 426

بھجوایا گیا تا کہ یہ تعین کیا جاسکے کہ یہ کس نے لکھے تھے۔ تفتیشی افسر کی طرف سے ایک درخواست P.E گزاری گئی جس میں اس نے درخواست کی کہ ملزم کے ہاتھ کی لکھائی S-1 تا S-45 کا نمونہ لینے کی اجازت طلب کی گئی اور پھر S-1 تا S-45 کے ساتھ Ex.P-1 تا Ex.P-5 کو فرانزک لیبارٹری بھیجے گئے۔ متذکرہ بالا دستاویزات کا ماہر معائنہ، استغاثہ کے گواہ نمبر 9 کی حیثیت سے مقدمے میں پیش ہوا اور اس نے مندرجہ ذیل بیان دیا:

”02-06-2001 کو بحوالہ خط نمبر 4046/SP صدر لاہور مورخہ 29-05-2001، پانچ متذکرہ دستاویزات، Ex.P-1 تا Ex.P-5 مع ہاتھ کی لکھائی کے 45 صفحات (sheets)، S-1 تا S-45، ہمارے دفتر میں موصول ہوئیں۔ یہ دستاویزات تقابل اور جائزے کے لیے میرے پاس بھیجی گئیں۔ میں نے Q-1 تا Q-5 (P-1 تا P-5) مع S-1 تا S-45 کا جائزہ اور تقابل کیا۔ میری رائے کے مطابق انگریزی کے علاوہ اردو کی متنازع لکھائی Q-1 تا Q-5 مع صفحات (sheets)، S-1 تا S-45، اردو/ انگریزی لکھائی کے عین مطابق ہے۔ میری رپورٹ نمبر 4344/FSL مورخہ 04-07-2001 پر میرے دستخط ثبت ہیں جو Ex.P.F ہیں۔ اس ضمن میں متذکرہ لکھائی اور نمونے کی لکھائی کی فوٹو بڑی شکل (Enlargement) میں یکسانیت کے نکات پر تیر اور دائرے بنائے گئے ہیں۔ متذکرہ انگریزی دستاویزات کی فوٹو بڑی شکل (Enlargement) عدالت میں پیش کی گئی جسے Mark-B تا Mark-K سے ظاہر کیا گیا ہے، نیز متذکرہ اردو دستاویزات کو Mark-L تا Mark-W سے ظاہر کیا گیا ہے۔ متذکرہ بالا میری رائے، مندرجہ ذیل حقائق پر مشتمل ہے:

ہوئی لکیریں، نقطے، زاویہ اور خمیدگیاں، قلم کی حرکت، شیڈنگ۔

brother, mother, father, together, better میں حروف ”آر، ای، ایچ، ٹی“، لفظ qualities, equal میں کیو، لفظ christ میں c,h، لفظ where, Jesus میں e,s، لفظ great میں g,r، لفظ Further میں F,u، لفظ crazy میں z,y، لفظ sex میں e,x، لفظ

صفحہ 427

life میں LI، کی بناوٹ اور انداز ، دونوں متذکرہ دستاویزات کے علاوہ نمونے کی لکھائی میں انتہائی عجیب و غریب خصوصیات کی حامل ہیں۔ KAA کی اختتامی ضرب یعنی Alaf (الف)، Ghaya (گیا)، Kia (کیا)، Shaitan (شیطان)، Shumar (شمار)، Dia (دیا)، Baita (بیٹا)، Parokar (پیروکار)، Shoaar (شعار)، Usman (عثمان)، Jaidad (جائیداد)، Aaqa (آقا)، Batana (بتانا)، Bataya (بتایا)، کی گھڑی مخالف حرکت دونوں متذکرہ دستاویزات کے علاوہ نمونے کی لکھائی میں نہایت ہی عجیب و غریب نوعیت کا حامل ہے۔ لفظ Shakal میں حرف تہجی Sheen (ش)، Shaitan (شیطان)، Shadian (شادیاں)، Shumar (شمار)، Murshid (مرشد)، Rashdeen (راشدین)، Qureshi (قریشی)، Sheikhupura (شیخوپورہ)، متذکرہ بالا دونوں دستاویزات کے علاوہ نمونے کی لکھائی میں ایک جیسی خصوصیات کے حامل ہیں۔

واقعاتی شہادت

-23 جس طرح مندرجہ بالا بیان سے یہ ظاہر ہے کہ کچھ خطوط شکایت کنندہ کو بھیجے گئے جو نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہ کے متعلق گندی زبان اور الفاظ پر مشتمل تھے۔ پہلے تو شکایت کنندہ نے اشتعال کے عالم میں پھاڑ اور جلا دیے لیکن جب یہ معاملہ ختم نہیں ہوا اور شکایت کنندہ کو یہ خطوط بدستور موصول ہوتے رہے اور پھر مختلف نام اور انداز مثلاً مرشد مسیح، عمر نواز بٹ اور عمر فاروق استعمال کرتے ہوئے کچھ نامعلوم افراد نے ناپسندیدہ فون کالز کیں اور یہ Ex.PB کے مطابق عمر نواز بٹ سے شکایت کنندہ نے درخواست کی کہ اصل مجرم کو ڈھونڈنے میں کچھ مدد کی جائے۔ بعدازاں، نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہ کے علاوہ نبی اکرمﷺ کی بیویوں کے متعلق اہانت آمیز الفاظ کے علاوہ ملزم کے قومی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی پیش کی گئی۔ چونکہ ابتدائی طور پر شکایت کنندہ کے پاس کوئی ثبوت مہیا نہیں تھا لیکن ملزم کے قومی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کے علاوہ Ex.P-1 تا Ex.P-5، کی موصولی کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ہاتھ کی لکھائی کا نمونہ بھی حاصل کیا گیا جو 1-S تا 45-S پر مشتمل تھا۔ تمام متذکرہ بالا دستاویزات لکھائی کے ماہر کے پاس بھیجی گئیں جس نے یہ رائے دی کہ Ex.P-1

صفحہ 428

تا Ex,P-5 میں شامل لکھائی، 1-S تا 45-S پرمشتمل لکھائی کے عین مطابق ہے۔

کی بنیاد پر کسی کو بھی موت کی سزا کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جا سکتا؛

خطوط، دراصل، ملزم، یا مرشد مسیح یا عمر نواز بٹ یا عمر فاروق یا عمر دراز بٹ کی طرف سے لکھے گئے، اس لیے یہ مقدمہ شک اور قیاس پر مبنی ہے؛

اور براہ راست ثبوت کی غیر موجودگی میں کسی کو بھی مرتکب نہیں ٹھہرایا جا سکتا؛

نوعیت کے حامل نہیں، خاص طور پر یہ کہ استغاثہ کے گواہ نمبر 1 اور استغاثہ کے گواہ نمبر 2 سے ملزم کی یہ درخواست کہ اسے پولیس کے روبرو پیش کیا جائے کیونکہ کوئی شخص اس طرح دھوکہ نہیں دے سکتا۔

یہ انکشاف کیا کیونکہ دیگر دستاویزات کے مطالعہ کے بعد 45 صفحات کا لکھنا ممکن نہیں تھا۔

کا ذکر نہیں کیا کیونکہ کسی بھی گواہ نے ان الفاظ کا دستاویزات میں ذکر نہیں کیا، اس سے مراد یہ ہے کہ ان الفاظ کو توڑ موڑ کر بیان کیا گیا ہے اور کم از کم اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

نیت مسلمانوں کے اشتعال کو ہوا دینا تھا جو اس الزام کا لازمی عنصر ہے؛

لکھے، پھر بھی اسے اس وجہ سے جرم کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ نبی اکرم ﷺ نے

صفحہ 429

اپنی زندگی میں اپنے دشمنوں کو معاف کر دیا۔ فاضل وکیل نے استغاثہ کے گواہ نمبر 6 سے جرح میں سے گفتگو کے کچھ حصوں کا حوالہ دیا جس میں اس نے کہا تھا کہ نبی اکرمﷺ نے ان کی اہانت کرنے والی خاتون کے قتل کا حکم نہیں دیا جو ان پر کچرا پھینکا کرتی تھی۔

اور استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے تمام ثبوت اس کا متذکرہ جرم ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھے کیونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے وہ یہ تصور ہی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ نبی اکرمﷺ یا ان کے صحابہؓ یا اہل بیتؓ کے خلاف اہانت آمیز الفاظ کہے۔

شکایت نہیں کی گئی، اس لیے چونکہ ملزم کے خلاف کوئی شکایت نہ تھی، اس لیے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ خاص طور پر وہ درخواست جو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کی گئی جو استغاثہ کے موقف کو رد کر دیتی ہے۔ اس دلیل کے حق میں فاضل وکیل نے بشیر احمد بنام سرکار، 2000 P.Cr.L.J 902 اور ایک غیر شائع شدہ فیصلہ بعنوان ”قاری محمد یونس بنام سرکار (Crl.Appeal No.300-J/2000) کی فوٹو کاپی کا حوالہ دیا؛

بنیاد پر ملزم کے خلاف گواہی دی اور قانون کے تحت اس قسم کے ثبوت کی بنیاد پر ملزم کو جرم کا مرتکب ٹھہرانے کا عمل غیر محفوظ ہے؛

Ex.PG ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بھجوائی۔ بعد ازاں، یہ امر استغاثہ کے خلاف جاتا ہے کیونکہ صرف ایف آئی آر زیر دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ہی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے روبرو گزاری گئی تحریری شکایت پر درج کی جاسکتی تھی؛

ہوتی، یہ استغاثہ ہی کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کرے؛

صفحہ 430

کے حق میں جاتی ہے، اور چونکہ استغاثہ بلا کسی شک کے ملزم کے خلاف یہ مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے، اس لیے، وہ بریت کا مستحق ہے۔

الزامات ، شکایت کنندہ کی عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی سے دشمنی کے باعث عائد کیے ہوں جہاں ملزم کا والد کام کرتا رہا تھا اور یہ کہ ممکن ہے کہ ملزم کو کسی کی خاطر قربانی کا بکرا بنایا گیا ہو جو شکایت کنندہ کو خطوط بھیجتا رہا ہے۔

نکات اٹھائے:

کردار کا ذکر کیا گیا جن میں نبی اکرمﷺ ، ان کی ازواجؓ اور ان کے صحابہؓ کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی تھی۔

بالا خطوط ،ملزم کی طرف سے بھیجے گئے ، اور درحقیقت، وہ ان خطوط کا مصنف تھا۔

نے ابھی تک نبی اکرمﷺ ، ان کی بیویوں اور ان کے صحابہؓ کے خلاف استعمال نہیں کی؟

قدرتی تھا کیونکہ استغاثہ کے گواہان کے بیانات، اس مقدمہ کے درج ہونے کے نصف برس بعد ریکارڈ کیے گئے؛

طور پر ملوث کرنے پر شکایت کنندہ کی طرف سے کوئی دشمنی ثابت نہیں کر سکا جس کا اس مقدمہ میں اظہار کیا گیا ہے۔ اگر غلط طور پر ملوث کرنے کے لحاظ سے کوئی

صفحہ 431

ریکارڈ پیش نہیں کیا جاتا تو پھر اس حقیقت کو ملزم کے خلاف استعمال کرنا چاہیے؟

حالات کے تحت نہیں آتیں کیونکہ چالان ایک ایسی مخصوص عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت قائم کی گئی تھی۔ مزید برآں تہمینہ دولتانہ بنام سرکار 2001,P.Cr.L.J 1199 پر انحصار کیا گیا؛

ایسا ریکارڈ نہیں پیش کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ اس کی ان دونوں گواہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی کینہ پروری یا دشمنی تھی۔

بالواسطہ طور پر استغاثہ کا موقف تسلیم کیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق سزا کا مستحق ہے، استغاثہ نے ملزم کے خلاف بغیر کسی شک وشبہ کے اپنا مقدمہ ثابت کیا ہے۔

جائزہ لیا۔

طرف سے پیش کیا گیا جن کو ملزم کے ساتھ کوئی بغض نہ تھا۔ استغاثہ یہ ظاہر کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم نے اپنے اعتراف جرم کے لیے ان کا کیوں انتخاب کیا اور یہ کہ کسی بھی چیز کو اس بنا پر ترک نہیں کیا جا سکتا کہ اگر بہر صورت یہ ثابت ہو گیا کہ یہ دانستہ اور سچا تھا۔ ملزم نے 2000-05-21 کو نبی اکرمﷺ کے متعلق اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل گستاخانہ خطوط کے حوالے سے ان کے روبرو اعتراف کیا۔ اس نے ان کے روبرو اعتراف کیا کہ اس نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا اور مرزائیت کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے شکایت کنندہ اور دیگر کو خطوط لکھے جس میں نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہؓ کے خلاف اہانت آمیز زبان استعمال کی اور ان پر بہتان تراشی کی۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ

صفحہ 432

اس نے شکایت کنندہ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا اور وہ ایک اشتہاری مجرم ہے اور درخواست کی کہ اسے پولیس کے روبرو پیش کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہؓ کے خلاف اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل خطوط لکھے، جرح کے مستحق نہیں تھے تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ ملزم نے ان کا اعتراف کیا۔ مزید برآں، استغاثہ کے گواہ نمبر 1 کے روبرو ملزم کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ روزہ رکھتا ہے، جرح کے درمیان ملزم نے اپنے اس دعویٰ سے انکار نہیں کیا۔ اس لیے اس کی ملحدانہ حیثیت ثابت ہوچکی ہے۔ اسے ثابت کرنے کی خاطر استغاثہ کے گواہ نمبر 1 کے بیان کا مندرجہ ذیل اقتباس نہایت ہی درست اور معقول طور پر پیش کیا جاسکتا ہے:

’’ملزم نے ہمارے روبرو اعتراف کیا کہ اس نے ”قادیانی“ مذہب اختیار کرلیا اور مرزائیت کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ بعد ازاں اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے محمد اسمعیل قریشی اور دیگر کو خطوط لکھے جن میں نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہؓ کرام کے لیے گستاخانہ زبان استعمال کی گئی، نیز ان کے خلاف بہتان طرازی بھی کی گئی۔‘‘

استغاثہ کے گواہ نمبر 2 نے بھی اسی قسم کا بیان دیا جس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

بہرحال، اس گواہ نے مزید یہ کہا:

’’یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ملزم نے زبردستی یا میرے اور وسیم کے کہنے پر اعتراف کیا۔‘‘

جرح کا اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا ماورائے عدالت اعتراف سچ اور دانستہ تھا۔ متذکرہ بالا گواہان ہر لحاظ سے آزاد گواہان ہیں۔ ان میں سے ایک گواہ اس کا منیجر رہ چکا ہے اور دوسرا اس کے منیجر کا دوست تھا۔ اس ضمن میں ان دونوں گواہان کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی اور عناد تھا۔ ریکارڈ پر کوئی ایسا مواد موجود نہیں کہ ملزم کو زبردستی بیان دینے پر مجبور کیا گیا ہو۔ استغاثہ کے گواہ نمبر 1 نے جرح کے دوران مندرجہ ذیل جواب دیا:

’’ملزم میرے پاس آیا کیونکہ وہ کارخانے میں ایک ملازم تھا اور میں ہمیشہ اس کے ساتھ دوستانہ انداز میں پیش آتا تھا۔‘‘

ماورائے عدالت اعتراف کے ذریعے جو حقائق سامنے آئے، وہ ظاہری حالات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ اس تصدیق سے مراد یہ ہو کہ ایک خود مختار گواہ کی گواہی

صفحہ 433

لیکن کوئی بھی چیز جو حالات سے سامنے آئے، عدالت کے لیے طمانیت کا باعث ہو کہ اس گواہ نے سچ بولا ہے۔ مزید برآں، اگر کہا جائے کہ یہ اقرار اس مقدمے کے اندراج کے بعد تھوڑی دیر کے لیے کیا گیا، تو پھر قدرے بجا طور پر کہا جا سکتا تھا کہ اس پر شک کا اظہار کیا جائے، لیکن موجودہ مقدمے میں کہا جاتا ہے کہ اعتراف، اس مقدمے کے اندراج کے تقریباً چودہ ماہ بعد کیا گیا، خاص طور پر، اس مقام پر اعتراف کیا گیا جہاں مقدمے کے اندراج کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکتا تھا۔ استغاثہ کے مندرجہ بالا دونوں گواہان نے واضح طور پر بیان کیا کہ وہ شکایت کنندہ کو نہیں جانتے تھے اور شکایت کنندہ کا بھی یہی بیان تھا۔

28- فاضل وکیل صفائی کی اس دلیل میں کچھ وزن ہے کہ فوجداری مقدمے میں ملزم کی زندگیوں اور آزادیوں کو محض عدالت کے ذہن میں پیدا کردہ قیاس اور مفروضے کی بنیاد پر خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا اور یہ کہ جوڈیشل ٹربیونل کے فیصلے کی بنیاد لازمی طور پر قانونی شہادت پر مبنی قانونی ثبوت پر ہونا چاہیے۔ فاضل وکیل صفائی کی اس دلیل میں بھی وزن ہے کہ ماورائے عدالت اعتراف کا ایک کمزور قسم کا ثبوت سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اس کے باعث یہ اعتماد پیدا ہوتا ہو کہ ایک ملزم کا اعتراف جس کی بنیاد موجودہ حالات ہوں، اسے نہایت معقول انداز میں تسلیم کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر ان دیکھے واقعہ کی بنیاد پر اعتراف درست نہیں ہوگا۔ بہرحال، ثبوت کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت کی سوچ اور نظریہ جامد نہیں بلکہ متحرک ہونا چاہیے۔ اس مرحلہ پر مقدمے کے حقائق اور حالات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اور اگر یہ امر درست ہو کہ عملی طور پر اس جرم کا مرتکب شخص اس جرم کا مرتکب ہوا ہو، اس پر فرد جرم عائد کر دینی چاہیے اگرچہ تفتیشی ادارے؍استغاثہ نے جو فرد جرم عائد کی، وہ ایک منصفانہ مقدمے کے لحاظ سے ملزم کے لیے تعصب کا باعث نہیں۔ یہ ایک مناسب وقت ہے کہ فاضل وکیل صفائی کے اس اعتراض کا جواب دیا جائے کہ زیر دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے موت کی سزا کی منظوری لازمی طور قانون کے مطابق تھی۔ فاضل وکیل کا یہ اعتراض ایک غیر مندرجہ فیصلے مورخہ 2001-05-14 کی بنیاد پر تھا جو معزز جج نے فوجداری اپیل نمبر 300-J/2000 بعنوان ’’قاری محمد یونس بنام سرکار‘‘ اور ’’بشیر احمد بنام سرکار‘‘ 2000 P Cr L J 902 میں دیا۔ قاری محمد یونس بنام سرکار، کے مقدمے میں معزز جج نے ان خیالات کا اظہار کیا:

صفحہ 434

”دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ فاضل عدالت کو اختیار، وفاقی حکومت یا متعلقہ صوبائی حکومت یا دونوں حکومتوں کی طرف سے مقرر شدہ کسی افسر کی طرف سے شکایت کرنے کے بغیر موجودہ مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کے کسی بھی افسر کو اجازت یا اختیار نہیں دیا گیا، اس لیے فاضل عدالت کو سماعت کرنے اور مقدمہ کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔“

بشیر احمد بنام سرکار، کے مقدمے میں معزز جج کی متعلقہ رائے مندرجہ ذیل تھی:

”ریکارڈ پر کوئی ایسی چیز موجود نہیں جس سے اینٹی دہشت گردی عدالت کے معزز جج کو یہ اختیار مل سکے کہ وہ زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کسی بھی جرم کی سماعت کرسکے، اگرچہ وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت یا ان دونوں حکومتوں میں سے کسی کی طرف سے مقرر کئے گئے بااختیار افسر کی طرف سے شکایات درج کرانے کے لیے حکم جاری کیا ہو۔ مندرجہ بالا شق کو منفی زبان میں بیان کیا گیا ہے اور جب تک اس ضمن میں پس منظر درکار نہ ہو، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہدایتی نہیں بلکہ لازمی ہونی چاہیے۔“

جیسا کہ اس فیصلے کے پیرا نمبر 5 میں مذکور ہے کہ ابتدائی طور پر یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت قائم کردہ ایک مخصوص عدالت میں چلایا گیا لیکن قانون میں تبدیلی کے باعث یہ مقدمہ یہ سمجھتے ہوئے اس عدالت کے سپرد کر دیا گیا کہ یہ عدالت Supersession of Terrorist Activities Act 1975 کے تحت قائم کی گئی ہے۔ دفعہ 196 تعزیرات پاکستان کے اطلاق کا سوال بھی تہمینہ دولتانہ مقدمے جسے 2001 P.Cr. L J1199 میں رپورٹ کیا گیا، معزز لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ کے زیر بحث آیا۔ معزز جج کی متعلقہ رائے کو معقولیت کے ساتھ ذیل میں دوبارہ پیش کیا جا سکتا ہے:

”جناب اعجاز احمد چودھری، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ایڈووکیٹ، سردار محمد لطیف کھوسہ کی طرف سے پیش کیے گئے دلائل کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کے کسی بھی افسر جسے اس ضمن میں خصوصی طور پر بااختیار نہیں بنایا گیا، زیر دفعہ A-124 تعزیرات پاکستان، جرم کے

صفحہ 435

لیے درخواست گزاروں کے خلاف بااختیار طور پر فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا، کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق Suppression of Terrorist Activities (Special Court) Act 1975 اور 1975 کے قانون کی شقیں، بطور مخصوص قانون ہوتے ہوئے، کے تحت قائم کردہ مخصوص عدالت کی کارروائیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، عام قانون (General Law) کی شقوں کو منسوخ کر دے گا اور درخواست گزاروں کے لیے فاضل وکیل کی طرف سے حوالے کے طور پر پیش کیے گئے مقدمات متعلقہ نہ تھے کیونکہ ان کا تعلق عام قانون (General Law) سے ہے۔ اس تناظر میں دلیل یہ دی گئی ہے کہ عام قانون (General Law)، 1975 کے قانون کے باعث تبدیل ہو گیا ہے جبکہ سماعت کا مخصوص قانونی اختیار مخصوص عدالتوں کے سپرد کر دیا گیا ہے جنہیں زیر دفعہ قانون 1975، اس لیے تشکیل دیا گیا کہ وہ ان درج شدہ جرائم کے مقدمات کی سماعت کریں خواہ وہ مجموعہ ضابطہ فوجداری میں موجود ہوں، نیز زیر دفعہ 124-A مجموعہ ضابطہ فوجداری ایک درج شدہ جرم ہے اور 1975 کے ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت مخصوص عدالت کو یہ قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پولیس کی رپورٹ کی سماعت کرے۔ اس نے مزید کہا کہ 1975 کے قانون کی دفعہ 10 کی شقیں مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کو منسوخ کر دیتی ہیں، اس لیے، دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی رکاوٹ جو 1975ء کے قانون کے متضاد ہے، کا موجودہ مقدمے پر اطلاق نہیں ہوتا اور درخواست گزار یہ نہیں کہہ سکتے کہ رکاوٹ دور نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں میاں نواز شریف اور دیگر بنام سرکار 2000 MLD 946 (کراچی) پر انحصار کیا گیا جس میں اینٹی ٹیررسٹ ایکٹ 1997 کی شقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملزم کے خلاف درج کیے گئے مقدمے جو اینٹی ٹیرریزم ایکٹ 1997 کے تحت چلائے جاسکتے ہیں۔ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقیں جن کا تعلق عمومی قانون سے ہے، کا اطلاق سپیشل کورٹ کی کارروائی پر نہ ہوتا کیونکہ جو قانون جو ایک خاص قانون تھا، نے کسی نہ کسی طرح اس کے اثر کو منسوخ کر دیا جو کریمینل پروسیجر کوڈ 1898 پر مشتمل تھا یا پھر کوئی دیگر قانون یا پابندی جو دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری پر مشتمل تھا، کسی بھی طرح سپیشل کورٹ کے اختیار سماعت پر اثر انداز نہ ہوتا۔ ہم فاضل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، پنجاب کے اس موقف سے متفق ہیں کہ

صفحہ 436

Supersession of Terrorist Activities Act 1975 ،ایک خاص قانون ہے اور کریمینل پروسیجر آرڈر میں شامل کسی بھی دیگر چیز کو منسوخ کر دیتا ہے، نیز متذکرہ قانون کی دفعہ 5 ظاہر کرتی ہے کہ اس ایکٹ کے تحت قائم کردہ سپیشل کورٹ اس رپورٹ کی سماعت کرے گی جسے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، پولیس سٹیشن کے آفس انچارج نے براہ راست بھجوایا، اور، اس لیے دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی رکاوٹ ان مقدمات پر قابل اطلاق نہیں جنہیں 1975 کے ایکٹ کے تحت قائم کردہ سپیشل کورٹ نے سماعت کی۔ محمد شریف بنام سرکار، 1992 P Cr.L J,127 میں عدالت ہذا کے ایک ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی کسی بھی شق کا اطلاق نہیں ہوسکتا جہاں ایک مخصوص یا مقامی قانون کی شقیں یا پھر کوئی بھی مخصوص قانونی اختیار یا اختیار جوکسی بھی خاص فورم یا بیان کردہ پروسیجر میں دیا گیا ہو۔‘‘

فاضل جج کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، فاضل وکیل صفائی کی اعتراض کی کوئی اہمیت نہیں، اور اس لیے مسترد کیا جاتا ہے۔

-29 اب، دوبارہ ماورائے عدالت اعتراف کی طرف واپس جاتے ہوئے، پہلے تو یہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملزم نے یہ اعتراف کیا کہ وہ قادیانی تھا، اس نے شکایت کنندہ کو وہ خطوط بھجوائے جو نبی اکرم ﷺ، ان کے صحابہ کرام کے خلاف گندی اور غلیظ زبان پر مشتمل تھے اور یہ کہ اس نے شکایت کنندہ کے ساتھ فون پر بات چیت کی جس میں نبی اکرم ﷺ پر بہتان طرازی کی گئی۔ دوسرے یہ کہ استغاثہ کے گواہ نمبر 1 اور 2، آزاد اور خود مختار تھے، بلکہ استغاثہ کا گواہ نمبر 1 ملزم کا منیجر تھا اور پھر آخر میں یہ کہ جرح سے یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ ان دونوں گواہان کو ملزم سے دشمنی تھی۔ اس لحاظ سے مقدمے کے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ شکایت کنندہ، ملزم سے شناسا نہیں تھا، اور، خاص طور پر اس کی ملزم سے مندرجہ بالا واقعہ کے علاوہ کوئی طویل المدت دشمنی نہیں تھی۔ اس قسم کے حالات میں شکایت کنندہ کو یہ پسند نہ ہوتا کہ وہ اصل ذمہ دار کو چھوڑ دیتا اور اگر ملزم واقعی بے گناہ ہوتا تو وہ اسے ملوث کرتا۔

-30 فوجداری انصاف کا یہ ایک مستند انتظامی اصول ہے کہ ایک ملزم کی طرف سے اس کی اپنی رضا مندی سے کیے گئے اعتراف کے باعث اس پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سنت بھی اس حقیقت کی گواہ ہے۔ آپ ﷺ نے مجرموں کو ان کی جانب سے ان

صفحہ 437

کی اپنی رضامندی سے اعتراف کرنے پر سزائیں دیں۔ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی روشنی میں بے شمار اصولوں کا تعلق اعتراف سے ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق لفظ ”اقرار“ کو دونوں ، دیوانی اور فوجداری معاملات میں اعتراف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ایک مشہور امام ابوبکر سرخسی نے مندرجہ ذیل دو اصول بیان کیے:

(کسی بھی شخص کے اعتراف کی ذمہ داری صرف اسی پر عائد ہوتی ہے)

(جبر اور دباؤ کے تحت اقرار کی کوئی اہمیت نہیں)

مندرجہ بالا بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں کہ یہ یقین نہ کیا جائے کہ ماورائے عدالت اقرار سچا ہے اور بغیر کسی دباؤ واکراہ کے ، کیا گیا ہے۔ ماورائے عدالت اقرار ، محمد بشیر قریشی ، متذکرہ دستاویزات کے معائنہ کار ، کے ایما پر کیا گیا جو استغاثہ کا گواہ نمبر 9 کے طور پر پیش ہوا۔ اس نے بتایا کہ 1-Q تا 5-Q، اس کے دفتر میں 45 صفحات 1-S تا 45-S کے ہمراہ موصول ہوئے۔ یہ سب تقابل کے لیے اس کے پاس بھیجے گئے۔ اس نے اپنی رپورٹ Ex.PF پیش کی جس میں بتایا گیا کہ 1-Q تا 5-Q اور 1-S تا 45-S ایک جیسی خصوصیات کے حامل ہیں۔ وہ اس معاملے میں ماہر کی حیثیت کا حامل ہے۔ ملزم نے اس سے تفصیلاً جرح کی لیکن ملزم اس سے اپنے حق میں کوئی بات نہ کہلوا سکا۔ بعض دفعہ یہ بھی کہا گیا کہ اس کی رائے کی بنیاد محض قیاس اور اندازے پر ہے اور معتبر نہیں اور اس نے اپنی رائے تفصیلاً استغاثے کو دے دی ہے لیکن اس کی طرف سے تمام تجاویز کی تردید کی گئی۔ ایک طرف تو مدعا علیہ نے ماہر تحریر کی قابلیت کو یہ کہتے ہوئے جھٹلانے کی کوشش کی کہ اس کی رائے معتبر نہیں تھی لیکن دوسری طرف مدعا علیہ کسی بھی دوسرے ماہر تحریر کا جائزہ لینے یا پھر کسی دیگر ماہر تحریر کی رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہا تا کہ یہ دکھایا جا سکے کہ 1-P تا 5-P یا 1-S تا 45-S ملزم کے تحریر کردہ نہیں ، اس لیے مدعا علیہ ماہر تحریر کے بیان کو مسترد کرنے میں بری طرح ناکام ہوا، اس لیے ، موجودہ مقدمے میں ماہر تحریر کی رائے جس کی تصدیق کے لیے دلائل بھی دیے گئے ہیں ، کو ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ اس کی رائے براہ راست ثبوت کے عین مطابق ہے۔

صفحہ 438

گواہ نمبر 8 کی موجودگی میں لیے گئے جس کی اس کے علاوہ مدعا الیہ نے بھی باقاعدہ تصدیق کی، لیکن ایسا ریکارڈ پیش نہ کیا جاسکا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ S-1 تا S-45، ملزم کی لکھائی میں نہیں تھے۔ مختصر یہ کہ کوئی ایسا ثبوت میسر نہیں جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ S-1 تا S-45، ملزم کے ہاتھ کی لکھائی نہیں۔

ایف آئی آر کے مندرجات کو تسلیم کیا۔ اس نے واضح طور پر بیان کیا تھا کہ P-1 تا P-5، ملزم کی طرف سے اسے لکھے گئے تھے اور وہ خطوط گندی اور غلیظ ترین زبان پر مشتمل تھے۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ ملزم نے اس سے ٹیلیفون کے ذریعے بھی بات چیت کی تھی اور اس کی طرف سے ناپسندیدہ کالز جن میں نبی اکرمﷺ کے خلاف گندے اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے گئے، بھی اسے کی گئیں۔ اس امر کے حوالے سے ایسا کبھی نہیں کہا گیا کہ ملزم نے ناپسندیدہ ٹیلیفون کالز نہیں کیں اور یہ بھی کہ اس نے نبی اکرمﷺ کے خلاف اہانت آمیز گندی زبان استعمال کی جس سے مراد یہ ہے کہ اس بیان کو اعتراف سمجھا جائے۔

ذریعے حاصل ہوئی۔ اس نے بیان کیا تھا کہ ملزم کو استغاثہ کے گواہ نمبر 1 اور 2 نے اس کے روبرو پیش کیا تھا اور یہ کہ اس نے اس مقدمے میں ملزم کو گرفتار کیا۔ اس نے Ex.P.A میمو کے مطابق P-1 تا P-5 کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ مزید برآں اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، استغاثہ کے گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ اس نے ملزم کو پیش کیا اور ایک درخواست کے ذریعے ملزم کے ہاتھ کی لکھائی کے نمونے حاصل کیے اور پھر P-1 تا P-5 کو S-1 تا S-45 کے ساتھ بھجوا دیا۔ مندرجہ بالا مواد کے علاوہ دیگر حالات بھی ایسے ہیں جو ملزم کے خلاف جاتے ہیں کہ ملزم کو ایک اشتہاری مجرم قرار دیا گیا اور یہ استغاثہ کے گواہ نمبر 7 کے ذریعے ثابت ہو گیا۔ وہ قانون (کی گرفت) سے تقریباً 14 ماہ تک مفرور رہا اور اس حقیقت نے ملزم کے مقدمے کو مزید کمزور کر دیا۔ مندرجہ بالا تمام حالات سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ ملزم ہی تھا جس نے مندرجہ بالا خطوط لکھے، شکایت کنندہ کو یہ خطوط بھجوائے، ناپسندیدہ فون کالز کیں اور اس کے علاوہ وہ اس مقدمے میں جھوٹا ملوث ہونے کے معاملے کو ثابت کرنے میں ناکام رہا جسے لازمی طور پر اس کے خلاف پڑھا جانا چاہیے۔ بہرحال،

صفحہ 439

واقعاتی شہادت پر غور کرتے ہوئے عدالت کو جائے وقوعہ کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اگر جائے وقوعہ، وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھی شاہد دستیاب نہیں تھا اور معاملے کے متعلق صرف ملزم ہی کو علم تھا، نیز ملزم کی طرف سے محض انکار اور تردید، واقعاتی شہادت کی نوعیت کو مسترد کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی جو براہ راست اسے اس جرم سے منسلک کرتی ہو جس کی اس پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ لیکن اسے اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ دریافت ضرور کرنی چاہیے جسے امکانات کی کسوٹی پر پرکھا جاسکے تا کہ ایسے ثبوت مہیا ہوں جو اس کی بے گناہی ثابت کر سکیں۔ اگرچہ ایک عدالت کو اپنے فوجداری قانونی اختیارات کے ضمن میں مستند اصولوں پر ہی عمل کرنا چاہیے، مثلاً یہ کہ ایک ملزم کو بے گناہ سمجھنا چاہیے، یہ کہ ملزم کے خلاف استغاثہ کو بلاشک و شبہ ہی اپنا مقدمہ ثابت کرنا چاہیے اور اگر دو نکتہ نظر سامنے آئیں تو پھر ملزم کے حق میں آنے والی رائے کو ترجیح دینی چاہیے اور یہ کہ شک کا فائدہ ملزم کو پہنچنا چاہیے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ عدالت کو عصر حاضر کے بدلتے ہوئے حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ عدالت کو مقدمے کے تمام حقائق اور حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے اور اگر عدالت مطمئن ہو جائے کہ درحقیقت فرد جرم کے حامل شخص نے ہی اس جرم کا ارتکاب کیا ہے تو عدالت کو جرم کے ارتکاب کو ریکارڈ کرنا چاہیے اگرچہ استغاثہ کی طرف سے کچھ تکنیکی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ منصفانہ مقدمے میں کسی ملزم کو متعصبانہ رویے کا سامنا نہ ہوا ہو اور لوگ اس وجہ سے فوجداری نظام انصاف پر اپنا اعتماد کھو رہے ہوں کہ اکثر فوجداری مقدمات میں، مجرم کو بغیر سزا دیے بری کر دیا جاتا ہے۔

دواں رکھنے کے لیے اصول لازمی ہیں۔ صرف جنگل ہی میں قطعی آزادی وجود پذیر ہوتی ہے۔ ایک بحفاظت زندگی وجود میں لانے کے لیے معاشروں کو اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

دیے ہیں تاکہ تمام سماجی عناصر کے ساتھ معاملات طے کیے جاسکیں۔ نہ صرف شریعت صحت مند رویے اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ اس کی طرف سے توہین رسالت، ارتداد، زنا کاری، قتل، ایمان میں تحریف، جاسوسی وغیرہ جیسے جرائم کے لیے سزائیں بھی مقرر کی گئیں ہیں۔ اس قسم کے جرائم اور ان کے اثرات کو تمام معاشرے کی صحت کے لیے زہر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں کسی بھی نامناسب اور تخریبی رویے کی روک تھام کے لیے قواعد و ضوابط موجود

صفحہ 440

ہیں ۔ اسلامی شریعت میں ان لوگوں کے لیے کوئی نرمی نہیں جن کا برا اور خبیث رویہ تمام مسلم امہ کے وقار اور عزت کو تار تار کر دیتا ہے۔

طویل سلسلے کے ذریعے بنی نوع انسان پر نازل کیے جن کا اللہ تعالیٰ نے خود انتخاب کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے تمام پیغمبروں کی عزت واحترام لازمی ہے۔ اللہ کے آخری نبی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام بنی نوع انسان کی فلاح کے ایک عظیم آفاقی پیغام لائے ، جس کا بھی احترام لازمی ہے۔ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس کے باعث ان کے لیے ہلکی سی اہانت کا بھی اشارہ ملتا ہو۔ اسی طرح ان کی بیویاں جو مسلمانوں کی مائیں ہیں ، اسی عزت واحترام کی مستحق ہیں۔

تر بنایا کیونکہ ان کے مشن بھی عظیم تر تھے۔ قرآن میں ارشاد ہے کہ ”اللہ اور اس کے فرشتے ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں ، اس لیے مسلمانوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ہمیشہ ان کے اہل بیت کے علاوہ ان کے پیروکاروں کی عزت واحترام کریں۔

صرف ان کی زندگی کے زمانے بلکہ آج بھی اطلاق ہوتا ہے اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

اور اپنے تمام عزیزوں اور اولاد سے زیادہ پیارا سمجھیں۔ ان کی بیویوں کو بھی اپنی ماؤں سے کہیں زیادہ عزت دیں۔ مزید برآں ان کے صحابہؓ بھی بے عیب ، ایماندار ، با علم اور پر خلوص تھے۔ مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی کوشش کی مزاحمت کریں جس کے ذریعے ان عقائد کو کمتر بنایا جائے۔ جو لوگ ان اصولوں کو کمتر سمجھتے یا ان اصولوں کو کمتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آنا چاہیے حتیٰ کہ اگر اس سے مراد یہ بھی ہو کہ مسلمانوں کو اپنی دولت سمیت ہر چیز قربان کرنی پڑے اور بلاشبہ اپنی زندگیاں بھی قربان کرنی پڑیں تا کہ اللہ کے عظیم اور آخری پیغمبر اور نبی کے وقار ، عزت اور ان کے پیغام کی حفاظت کی جائے۔ اس لیے یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کی توہین کا مرتکب ہو، در حقیقت وہ تمام امت مسلمہ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس قسم کا شخص اللہ کے دین ، اسلام پر

صفحہ 441

بہتان طرازی کرتا ہے اور وہ اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کا دشمن ہے۔ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا اور ان کے لیے خطرہ ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کے شخص کو قابو کرے اور اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ یہ ان حقائق کی روشنی میں تھا کہ جن کی بنیاد پکے اور سچے اسلامی اصول ہیں کہ جناب خمینی نے سلمان رشدی کے متعلق فتویٰ دیا کیونکہ اس کی بنیاد اسلامی شریعت تھی۔ اس ضمن میں مسلمانوں یا مسلمانوں کے مختلف انداز ہائے فکر کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف رائے نہیں۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہوں کی نوعیت ہے کہ توہین رسالتؐ کے مرتکب انسانی درندے کو اس دنیا میں سزا دی جائے اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ سزا سے خبردار کیا جائے۔

خوشحالی عارضی طور پر نصیب ہوئی لیکن وہ جلد ہی قدرتی آفتوں یا داخلی خلفشار اور بغاوت کے ذریعے تباہ کر دیے گئے۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل مثالیں کافی ہوں گی:

فاش سے دوچار ہونا پڑا۔

عظیم ایرانی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔

ہو گئی۔ مشرق اور مغرب، ہندوستان، چین، وسطی ایشیا اور سپین کے ملحدانہ مذاہب مسلمان افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔

کے تقریباً ہر انچ سے باہر دھکیل دیا گیا اور اسلام کے شیروں؛ عماد الدین زنگیؒ اور نور الدین زنگیؒ کے ہاتھوں انہیں بری طرح شکست ہوئی۔ جب نور الدین زنگیؒ نے وفات پائی تو پھر صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبیوں کو مزید شکستوں سے دوچار کیا۔

صفحہ 442

کیے جائیں۔ لادینی اور گستاخ افراد کو یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے توہین رسالت کے متعلق فیصلہ سنا دینا چاہیے۔ حتیٰ کہ تعزیرات انگلستان میں بھی توہین رسالت کو جرم قرار دیا گیا ہے، اگرچہ یہ صرف انگلین چرچ تک محدود ہے۔ توہین رسالتؐ کا جرم ناقابل معافی ہے اور حتیٰ کہ یہودی اور عیسائی قوانین کے مطابق اس کی سزا، موت ہے۔ عیسائی چرچ یا یہودی مذہب کے خلاف کسی بھی قدم کو مندرجہ ذیل حوالے کے لحاظ سے عظیم جرم سمجھا جاتا تھا۔

گا، اور تمام لوگ یقینی طور پر اسے سنگسار کریں گے۔" (احبار: باب 24 فقرہ 15، 16)

1555ء میں ملکہ میری کی حکومت کے دوران انگلستان کی پارلیمان نے متفقہ طور پر پاپائے اعظم کے خلاف تمام قوانین کو منسوخ کر دیا اور پاپائے اعظم کی حیثیت کا اعتراف کیا۔ ملکہ میری نے مذہبی رہنماؤں کو توہین رسالت اور الحاد کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے کا اختیار بھی دیا۔ 1556ء میں دیگر بشپوں کے ساتھ مل کر آرچ بشپ آف کنٹربری نے یہ کام سنبھال لیا۔ فروری 1555ء اور نومبر 1558ء کے درمیان تقریباً 300 مردوں اور عورتوں کو الحاد اور توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہونے پر زندہ جلا دیا گیا۔

یورپ کے تحت سزا، موت تھی۔ بنیادی طور پر سکاٹ لینڈ کے قانون کے مطابق توہین رسالت کی سزا موت تھی۔ فرانس میں موت کی سزا مختلف اشکال میں رائج تھی؛ زندہ جلا دینا، ہاتھ پیر کاٹ دینا، اذیت یا سیدھی سادی موت کی سزا۔

توہین رسالت کی اصطلاح کی مندرجہ ذیل تعریف کی گئی ہے:

انتہائی جامع تعریف کے مطابق توہین رسالت، خدا تعالیٰ یا مذہب کی توہین اور گستاخی ہے۔ توہین رسالت، بغض، کینہ یا خیانت کے ذریعے انفرادی طور پر عیسائی مذہب پر حملہ ہے تاکہ اس کی توہین کی جائے اور اس کا مضحکہ اڑایا جائے۔ توہین رسالتؐ کے جرم کی دو عنوانات کے تحت درجہ بندی کی گئی ہے۔

صفحہ 443

کتب کے کچھ حصوں کی اہانت اور تضحیک (فحش بیان جس کے باعث ان کی ازلی حیثیت یا مذہب اور اخلاقی حیثیت متاثر ہو جو تمام حکومتوں کی بنیاد ہیں)۔

مختلف مقدس اور الہامی کتب میں ایک چیز مشترک ہے جو خدا، اس کی تخلیق اور دنیا کے نظام سے دانستہ انکار ہے جس کا مقصد و منشاء یہ ہو کہ ”ان“ کی شخصیت کے حوالے کو توڑا موڑا جائے اور تباہ کیا جائے۔ قانونی جرم کی تعریف کی عدم موجودگی میں قانونی تشریح اور تعریف کے لیے عمومی قانون کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔

مقدمے میں جس میں جسٹس ارسکن (Justice Erskine) نے کہا کہ یہ بلاشبہ اب بھی توہین رسالت ہے جو عمومی قانون کے مطابق قابل سزا ہے کہ عیسائی مذہب کی اہانت اور تضحیک کی جائے۔ ۔۔؛ حالانکہ کوئی بھی شخص، تعزیراتی نتائج کے قابل سمجھنے کے بغیر ان نظریات کی سچائی کا جو اس کے نزدیک اس کے لازمی ہیں، نہایت ہی معتبرانہ اور مودبانہ انداز میں جائزہ لیا جائے اور اس پر اعتراض کیا جائے۔

رسالت کی اصطلاح لاگو ہوتی ہے۔ ان میں سے کوئی یا تمام مندرجہ ذیل قسم میں آتی ہیں:

تحریر یا تقریر کے ذریعے پیغمبر کو گالیاں دینا یا اس کی اہانت کرنا، اس یا اس کے خاندان کے متعلق اہانت آمیز الفاظ کہنا، گستاخانہ انداز میں پیغمبر کے وقار اور عزت پر حملہ کرنا، جب اس کا نام آئے تو اس کے نام کو بگاڑنا یا برا چہرہ بنانا، اس، اس کے خاندان، اس کے صحابہ اور مسلمانوں کے لیے دشمنی یا نفرت کا اظہار کرنا، پیغمبر، اس کے خاندان کے خلاف الزام تراشی اور بہتان طرازی کرنا، نیز اس یا اس کے خاندان کے متعلق بری باتیں پھیلانا، پیغمبر کو بدنام کرنا، کسی بھی معاملے میں پیغمبر کی منصف کی حیثیت سے انکار کرنا، سنت نبوی کی تردید کرنا، اللہ اور اس کے پیغمبر کے حقوق کی بے حرمتی کرنا، یا اللہ یا اس کے پیغمبر کے خلاف بغاوت کرنا۔ مندرجہ بالا کسی بھی فعل کا ارتکاب اسلامی قانون کے مطابق توہین رسالت ہے۔

صفحہ 444

نبی اکرم ﷺ کے کسی صحابی کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے گستاخ رسول کی سزائے موت کی مخالفت کی ہو، اور نہ ہی بعد میں آنے والی نسلوں کے مسلمان علما کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس فیصلہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

ذریعے انہیں نظریاتی اور عملی، دونوں لحاظ سے اسلامی شریعت کے مطالعے کا بہتر موقع میسر ہوگا۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ان حقائق سے انکار کرنے یا ان پر غور نہ کرنے کے اپنے سابقہ رویے پر قائم ہیں، انہیں اسلامی فیصلے کے متعلق آگاہ کر دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ”پس آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اپنی پکار (خصوصاً) جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں۔ اور نہ آپ ہدایت دے سکتے ہیں اندھوں کو ان کی گمراہی سے۔ آپ نہیں سنا سکتے مگر انہیں جو ایمان لائے ہماری آیتوں پر پس وہ گردن جھکائے ہوئے ہیں“۔ (الروم: 52، 53)

الٰہی حفاظتی منصوبہ

ان کے دشمن بن گئے۔ آپ ﷺ کی جان لینے کی بہت کوششیں کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک الٰہی حفاظتی نظام درکار تھا جو انہیں عطا کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو یقین دلایا کہ شر پسند افراد کے خلاف ان کی شخصیت، مشن اور پیغام کی حفاظت کی جائے گی اور ان کا مشن مکمل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذاتی حفاظت کے متعلق فرمایا: ”یقیناً اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا۔“ (سورۃ المائدہ: 67)

کی علامت کے طور پر مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ آپ ﷺ کو ان کے نام سے مت پکاریں جس طرح وہ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں:

دوسرے کو“۔ (النور: 63)

مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ پر درود اور رحمت بھیجیں۔

صفحہ 445

لیں یا سنیں تو ان کے لیے اللہ کی رحمت طلب کریں۔ تحریر میں جب نبی اکرم (ﷺ) کا نام آجائے تو عربی طریقہ کے مطابق اللہ کی رحمت طلب کرنے کے لیے ﷺ لکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اپنا آخری نبی اور تمام انسانیت سے افضل بنایا اور ان پر رحمت بھیجی۔ فرشتے بھی مسلسل ان پر رحمت بھیجتے ہیں۔ قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

پر۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ (ﷺ) پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے) سلام عرض کیا کرو“۔

(الاحزاب:56)

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر عموماً اور مسلمانوں پر خصوصاً فرض قرار دیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی عزت اور حرمت کی حفاظت کی جائے اور الفاظ کے علاوہ افعال کے لحاظ سے بھی ان کی عزت کی جائے۔ انہیں لازمی طور پر تمام انسانوں سے افضل سمجھنا چاہیے اور انہیں زماں و مکاں کے لحاظ سے برتر اور اعلیٰ تصور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(کے ذکر) کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات میں اور انجیل میں۔ وہ نبی حکم دیتا ہے انہیں نیکی کا اور روکتا ہے انہیں برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور (کاٹتا ہے) وہ زنجیریں جو جکڑے ہوئے تھیں انہیں ۔ پس جو لوگ ایمان لائے اس (نبی امی) پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی (خوش نصیب) کامیاب و کامران ہیں ۔“

(الاعراف:157)

اور تاکہ تم ان کی مدد کرو اور دل سے ان کی تعظیم کرو اور پاکی بیان کرو اللہ کی صبح اور شام ۔“

(الفتح:9)

صفحہ 446

قرآن مجید کی ان دونوں آیات میں تین افعال استعمال ہوئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: عزر، وقر، نصر، جن کا مفہوم ہے: اپنی طاقت، قلم اور زبان یعنی تقریر کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی عزت کرنا، ان کا احترام کرنا، تمام بنی نوع انسان سے افضل سمجھنا، انہیں عظیم خیال کرنا، ان کی انتہائی عزت کرنا، ان کی عظمت کو تقویت دینا اور اس پر فخر محسوس کرنا۔ ان کے پیغام کی وسیع اشاعت میں ان کو بلند مقام پر سرفراز کرنا، ان کی معاونت کرنا اور ہر معاملے میں ان کی مدد کرنا، ان کے وقار اور عزت کا دفاع کرنا۔

56- اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی اکرم ﷺ کی ذات کو یہ کہتے ہوئے بلند مقام پر سرفراز کیا جو نبی اکرم ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور جو ان کی اطاعت کرتے ہیں، وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ جو اللہ کے ساتھ سچی محبت کرتے ہیں، انہیں نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

کی۔ (النساء: 80)

اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان ہے:

ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو (تب) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ اور بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (آل عمران: 31)

57- مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی طرح نبی اکرم ﷺ کو ناراض مت کریں۔ مسلمانوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نبی اکرم (ﷺ) کی بیویوں سے بالمشافہ گفتگو مت کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ہے تمہارے دلوں کے لیے، نیز ان کے دلوں کے لیے۔‘‘ (الاحزاب: 53)

58- قرآن پاک میں ان لوگوں کے متعلق یہ واضح حکم دیا گیا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کو رنج پہنچاتے ہیں یا اللہ کی طرف سے لے کر آنے والی سچائی کی تضحیک کرتے ہیں۔ در حقیقت اسلام کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانے والوں کے لیے کوئی

صفحہ 447

گنجائش نہیں۔ انہیں ذلیل کرنا چاہیے اور ان کی شرپسندیوں اور فتنوں کو تباہ کر دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کی مکمل سرکوبی کی اجازت دی ہے۔ اسلام کے دشمنوں کی سرکوبی کے بہت سے طریقے ہیں، لیکن کچھ معاملات میں جنگ، قتل یا سزائے موت ضروری قرار دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیں۔

قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو آپ ﷺ کے پیروکاران کو مدینہ لے گئے جیسا کہ انہیں مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ چنانچہ اللہ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا۔ مسلمانوں کو کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

کریں تمہارے دین پر تو جنگ کرو کفر کے پیشواؤں سے۔ بے شک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں ہیں (ایسوں سے جنگ کرو) تاکہ یہ لوگ (عہدشکنی) سے باز آجائیں۔ (التوبہ: 12)

بلاشبہ، اللہ کی نظر میں اس قسم کا فعل بہت بڑا جرم ہے اور جو لوگ اللہ کو ناراض کرتے ہیں اور نبی اکرم (ﷺ) کو برا کہتے یا ان کی توہین کرتے ہیں، انہیں اس دنیا میں موت کی سزا ملے گی اور یوم آخرت کو انہیں جہنم کی آگ میں گھسیٹا جائے گا۔ اللہ نے ان کے لیے ایک خوفناک اور ذلالت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔

قسم کی کارروائیوں کے خلاف طرزعمل اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں نہ صرف احتجاج کرنا چاہیے بلکہ اپنے اشتعال کا اظہار بھی کرنا چاہیے اور اس قسم کے لوگوں سے ہر قسم کے تعلقات اور دوستیاں ختم کر دینی چاہئیں۔ ناکامی کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ وہ بھی ان لوگوں کے مانند ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ہیں ہماری آیتوں میں تو منہ پھیر لے ان سے یہاں تک کہ وہ الجھنے

صفحہ 448

لگیں کسی اور بات میں اور اگر (کہیں) بھلا دے تمہیں شیطان تو مت بیٹھو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس‘‘۔

(الانعام: 68)

سنو اللہ کی آیتوں کو کہ انکار کیا جا رہا ہے ان کا اور مذاق اڑایا جا رہا ہے ان کا تو مت بیٹھو ان (کفر و استہزاء کرنے والوں) کے ساتھ یہاں تک کہ وہ مشغول ہو جائیں کسی دوسری بات میں، ورنہ تم بھی انہیں کی طرح ہو گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں۔‘‘

(سورۃ النسا: 140)

عزت و احترام کی مستحق ہیں اور مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ماؤں سے کہیں زیادہ ان کے لیے عزت و احترام کا اظہار کریں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ہیں اور آپ (ﷺ) کی بیویاں ان کی مائیں ہیں‘‘۔

(الاحزاب: 6)

کو اور تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں کہ نکاح کرو ان (ﷺ) کی ازواج سے ان (ﷺ) کے بعد کبھی۔‘‘

(سورۃ الاحزاب: 53)

اور اس طرح ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچاتا ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے مسلمانوں کے سپرد کر دیا اور فرمایا:

میرے خاندان پر الزام تراشی کرتے ہوئے مجھے ٹھیس پہنچاتا ہے؟ حضرت سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور کہا ’’یا رسول اللہﷺ! میں یہ کام کروں گا، اور پھر انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا۔‘‘

تھیں۔ ان میں سے کچھ عورتوں کی شادی قریش کے طاقتور سرداروں سے ہوئی تھی اور اس لیے

صفحہ 449

، ان کی اس ماحول میں پرورش ہوئی تھی جہاں وہ اسلام کے باعث اپنی خاص حیثیت کو خطرے میں محسوس کرتی تھیں۔ دیگر عورتیں، گانے والی وہ لڑکیاں تھیں جو نبی اکرمﷺ کو برا کہتیں، مزید برآں ان عورتوں کی ایک اور قسم وہ تھی جنہوں نے اسلام اور نبی اکرمﷺ سے نفرت کے باعث اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔

65- اسلام کے دیگر دشمنوں کے علاوہ عرب کے مشہور شاعر، جن کا موثر ترین ہتھیار ان کی زبان تھی، اللہ کے رسولﷺ کے خلاف واہی تباہی بکتے رہتے۔ آپﷺ نے ان کے لیے موت کی سزا مقرر کی۔ ان میں سے کچھ کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

66- اس امر کا ادراک نہایت ہی اہم ہے کہ توہین رسالت کی سزا، نبی اکرمﷺ کی (ظاہری) وفات کے بعد تک بھی ختم نہیں ہوتی۔ درحقیقت، اس دنیا سے ان کے پردہ فرما لینے سے یہ امر مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اللہ کے اس حکم کا نفاذ کیا جائے کیونکہ نبی اکرمﷺ

صفحہ 450

اب اس دنیا میں بظاہر نہیں کہ انہیں معاف کرسکیں جو اس قسم کے جرم کے مرتکب ہوئے۔ چونکہ اس جرم کا ارتکاب، رسالت کے خلاف کیا گیا، مجرم کو سزا دینی ہی ہوگی۔ اس لیے نبی اکرمﷺ کے صحابہؓ اور اسلام کے دیگر علما کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی توہین کی سزا موت ہے۔

میں مختلف واقعات وحالات کے موقع پر اس قسم کے احکام جاری کیے گئے اور گستاخ رسول کو قتل کر دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ کے وصال مبارک کے بعد، ان کے صحابہؓ اور تابعینؒ، اسلام کے فقہاء، اماموں اور علما نے بھی یہی طرزِ عمل اپنایا جس طرح حضور نبی اکرمﷺ نے طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔ انہوں نے اس گستاخ رسول کو قتل کرنے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جس نے نبی اکرم (ﷺ) کی اہانت کی اور ان کے لیے حقارت آمیز الفاظ و رویہ اختیار کیا، نیز انہوں نے کبھی بھی گستاخ رسول کی معافی اور پشیمانی قبول نہیں کی۔ یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اسلامی قانون کے مطابق اس نفرت انگیز جرم کی کوئی معافی نہیں۔

فرماتے سنا ’’گستاخ رسول اور مرتد، جو قتل کیے جاتے ہیں، دنیا کے بدبخت ترین افراد ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی فرد کسی مسلمان کو شہید کر دیتا ہے، وہ دنیا کے خوش بخت افراد میں سے ہے۔ اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے قرآن مجید میں سے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:

وجوہہمقف اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون ۝ واما الذین ابیضت وجوہہم ففی رحمۃ اللّٰہط ہم فیہا خالدون ۝

’’اس دن جبکہ روشن ہونگے کئی چہرے اور کالے ہوں گے کئی منہ تو وہ جو سیاہ رو ہوں گے (انہیں کہا جائے گا) کہ کیا تم نے کفر اختیار کر لیا تھا ایمان لانے کے بعد تو اب چکھو عذاب (کی اذیتیں) بوجہ اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے اور وہ (خوش نصیب) لوگ روشن ہوں گے جن کے چہرے تو وہ رحمتِ الہٰی (کے سائے) میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

(آل عمران: 106، 107)

صفحہ 451

اور یہودیت کے مطابق گستاخان رسول کے ساتھ کیسا طرز عمل اختیار کیا گیا تا کہ اس فیصلہ کے ایک عام قاری کو علم ہو جائے کہ توہین رسالتﷺ سے کیا مراد ہے اور کیا مراد تھی؟ گزشتہ صفحات میں، میں نے اس مقدمے کے ثبوت کے متعلق بحث کی اور معاملات کا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ ریکارڈ پر موجود استغاثہ کی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مندرجہ ذیل حقائق کی مستند حیثیت تسلیم کی گئی:

ازواج اور ان کے صحابہؓ کے خلاف کبھی بھی استعمال نہیں کی گئی۔

اعتراف اپنی رضامندی سے دیا گیا تھا اور سچا تھا۔

اپنی صفائی میں پیش کیا جانے والا موقف درست نہ تھا۔

کسی شک وشبہ سے بالا تر ثابت کر دیا ہے، اس لیے میں ملزم وجیہہ الحسن کو زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C اور 298-A کا مجرم سمجھتا ہوں اور ذیل کی سزاؤں کا مستحق ٹھہراتا ہوں۔

زیر دفعہ 295-A = دس سال قید بامشقت اور جرمانہ مالیت -/50,000 تعزیرات پاکستان: روپے، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے مزید چھ ماہ قید بھگتنی ہوگی۔

زیر دفعہ 295-C = سزائے موت اور جرمانہ مالیت -/2,00,000 روپے۔ تعزیرات پاکستان: جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید بھگتنی ہوگی۔ اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہوجاتی۔

صفحہ 452

زیر دفعہ 298 - A = تین سال بامشقت قید اور جرمانہ مالیت 20,000/- تعزیرات پاکستان: روپے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے مزید دو ماہ کی قید بھگتنی ہوگی۔

تمام سزائیں بیک وقت دی جائیں گی اور ملزم کو B-382 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت فائدے کا حق حاصل نہیں ہوگا کیونکہ گستاخ رسول کے مقدمے میں اس عدالت کے سامنے کوئی ایسے حالات نہیں آئے کہ اس کی طرف سے نرم رویہ اپنایا جائے اور اسلام میں بھی اس کی اجازت نہیں۔ زیر دفعہ 374 مجموعہ ضابطہ فوجداری ، ملزم کو دی گئی سزائے موت کی تصدیق کے لیے ایک درخواست معزز عدالت عالیہ کے روبرو پیش کی جائے گی۔

سات دنوں کے اندر اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اس فیصلے کی ایک نقل ڈسٹرکٹ اٹارنی ، لاہور کو بھی بھیجی جائے گی۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ سردار احمد نعیم 27 جولائی 2002ء ایڈیشنل سیشن جج ، لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 453

جناب شاہد رفیق ایڈیشنل سیشن جج، فیصل آباد

سرکار بنام رانجھا مسیح، اپریل 2003ء

صفحہ 454
صفحہ 455

دل کی بات

مئی 1998ء میں عیسائیوں نے گمٹی بازار فیصل آباد میں ایک جلوس نکالا جس کے شرکا مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، اس جلوس کی قیادت رانجھا مسیح کر رہا تھا۔ جب یہ جلوس گمٹی چوک پہنچا تو وہاں ہیرا پان شاپ نامی دکان پر ایک بورڈ نصب تھا جس پر کلمہ طیبہ تحریر تھا، اس طرح گمٹی چوک کے اردگرد تختیاں بھی نصب تھیں جن پر درود شریف لکھا ہوا تھا۔ رانجھا مسیح اور جلوس کے دیگر شرکا اپنے جوتے کلمہ طیبہ اور درود شریف کی تختیوں پر مارتے رہے۔ (نعوذ باللہ) پھر انہوں نے یہ سائن بورڈ اور تختیاں توڑ کر نیچے پھینک دیں اور ان کی بے حرمتی کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کو گندی گالیاں بھی دیں۔

اس افسوسناک سانحہ پر مسلمانوں میں بے حد اشتعال پھیل گیا۔ قریب تھا کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی۔ انتظامیہ اور مقامی علماء کرام کی دور اندیشی سے حالات خراب ہونے سے بچ گئے۔ اسی دن شام کو مرکزی ملزم رانجھا مسیح کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت تھانہ ریل بازار میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ملزم گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گیا۔ پولیس نے 10 دن کی کوششوں کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا۔ جونہی ملزم گرفتار ہوا تو عیسائی قیادت پریشان ہو گئی۔ چنانچہ اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر پادری جیکب انتھونی نے دیگر درجنوں پادریوں کے ہمراہ ایس ڈی پی او سے ملاقات کی اور اس واقعہ سے متعلق سرسری معذرت کی اور ملزم کو رہا کرنے کی درخواست کی۔ پولیس نے پادریوں کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو مقدمہ کی سماعت کا سامنا کرنے کے لیے جیل بھیج دیا۔

تقریباً 5 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ عیسائی بشپ مقدمہ کی سماعت اور اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے مختلف منفی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے جن میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ چنانچہ 26 اپریل 2003ء کو محترم شاہد رفیق ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے مستند شواہد اور ناقابل تردید گواہیوں کی موجودگی میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی۔

صفحہ 456

اس کیس کے سلسلہ میں مجاہد ختم نبوت جناب صاحبزادہ طارق محمودؒ کی گرانقدر خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے جس جانفشانی سے اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، وہ قابل صد ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور روز قیامت حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین!

اس فیصلہ کی نقل جناب محمد طیب قریشی ایڈووکیٹ نے فراہم کی جس پر وہ بے حد شکریے کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 457

بعدالت جناب شاہد رفیق ایڈیشنل سیشن جج، فیصل آباد

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 46-7/2000

سیشن ٹرائل نمبر : 13-7/2003

سیشن مقدمہ نمبر : 759/SC/2000

ایف آئی آر نمبر : 107/98 مورخہ 8 مئی 1998ء

پولیس سٹیشن : ریل بازار، فیصل آباد

بجرم : زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان

سرکار

بنام

رانجھا مسیح ولد فضل مسیح، ذات عیسائی، عمر 52/50 سال، ساکن، کچا کوارٹر، ٹی بی ہسپتال، فیصل آباد

(ملزم)

وکیل منجانب مدعی: چودھری ذوالفقار ایڈووکیٹ

وکیل منجانب ملزم: سردار خالق طاہر سندھو ایڈووکیٹ، منظور احمد رفیق ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 26 اپریل، 2003ء

صفحہ 458

فیصلہ

جناب شاہد رفیق ایڈیشنل سیشن جج، فیصل آباد

سے حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف اعلانیہ گستاخی اور توہین پر مبنی الفاظ کے استعمال کے باعث آپ ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کے قابل سزا جرم زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمے کی کارروائی کی گئی۔

(Ex.PB) کے مطابق مقدمہ ہذا کا اندراج کیا گیا اور ایک باقاعدہ ایف آئی آر (Ex.PB/1) فاروق ہیڈ کانسٹیبل 1882 نے درج کی۔ (Ex.PB) اور (Ex.PB/1) میں مندرج استغاثہ کے موقف کے مطابق مدعی، جہانزیب اپنے دوست کے ہمراہ مورخہ 08-05-1998 کو گمٹی چوک، فیصل آباد میں موجود تھا۔ دریں اثناء ایک عیسائی جلوس وہاں سے گزرا جس کے شرکاء مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے جس کے باعث ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ نیز اسی چوک میں ہیرا پان شاپ نامی دکان پر ایک بورڈ نصب تھا جس پر کلمہ طیبہ تحریر تھا اور گمٹی چوک کے اردگرد تختیاں بھی نصب تھیں جن پر ”درود شریف“ لکھا ہوا تھا، ملزم رانجھا مسیح اور جلوس کے دیگر شرکاء نے اپنے جوتے ”کلمہ طیبہ“ اور ”درود شریف“ پر پھینکے اور مسلمانوں کو ننگی گالیاں دیں۔ نیز یہ واقعہ مدعی کے علاوہ ہیرا پان شاپ کے ملازم محمد رمضان، محمد اشرف ولد مختار مع سعید، عمار ولد قیصر اور دیگر کئی افراد نے دیکھا۔ اس مقدمہ کی ابتدائی تفتیش وزارت علی شاہ، ایس آئی نے کی اور بعد ازاں ایس ایچ او ریل بازار نے کی۔ مورخہ 19-05-1998 کو ملزم گرفتار کر لیا گیا جو جرم کا مرتکب قرار پایا گیا اور پھر اسے جوڈیشل

صفحہ 459

لاک اپ بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی تفتیش، محمد حنیف، ایس آئی کو تفویض کر دی گئی جس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات قلمبند کیے اور وہ بورڈ جن پر ”کلمہ طیبہ“ لکھا ہوا تھا، کو اینگل ایلومینیم سمیت اپنی تحویل میں لے لیا، نیز اس نے وہ تختیاں جن پر ”درود شریف“ کندہ کیا ہوا تھا، بھی تین سربمہر لفافوں کے ذریعے اپنی تحویل میں لے لیں، وقوعہ کے متعلق جائے وقوعہ کا نقشہ بھی تیار کیا گیا اور فریقین کو ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او کے روبرو مورخہ 1998-06-03 کو پیش کیا گیا جہاں پادری جیکب انتھونی نے وقوعہ کے متعلق معذرت کا اظہار کیا اور معافی طلب کی۔ ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او نے ملزم رانجھا مسیح کو اصل مجرم پایا اور چالان پیش کرنے کا حکم دیا اور یوں مورخہ 1998-06-26 کو بذریعہ رپورٹ زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

کے تحت درکار نقول ملزم کو فراہم کی گئیں اور میرے فاضل پیش رو (ایڈیشنل سیشن جج) نے مورخہ 1998-10-21 کو ملزم پر فرد جرم عائد کی جس کی صحت سے ملزم نے انکار کیا اور قانون کے مطابق مقدمہ کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی۔

گواہان استغاثہ کے بیانات مختصر طور پر درج ذیل ہیں:

مورخہ 1998-05-29 کو گواہان استغاثہ کی نشاندہی اور پولیس کی ہدایت کے مطابق، جائے وقوعہ سے اندازاً تفصیلات حاصل کیں اور ان تفصیلات کی بنیاد پر مورخہ 1998-05-31 کو نقشے (Ex.PA) اور (Ex.PA/1) تیار کیے۔ سیاہ روشنائی میں تمام نقشے اس کی لکھائی میں تھے اور ان پر اس کے دستخط ثبت تھے اور متذکرہ نقشے 1"=32' کے پیمانے کے حساب سے تیار کیے گئے تھے۔

کہ مورخہ 1998-05-08 کو جب وہ پولیس سٹیشن، ریل بازار، فیصل آباد، تعینات تھا، اسی دن اس نے ایک تحریری درخواست (Ex.PB) وصول کی جس کی بنیاد پر اس نے اپنی طرف سے کسی بھی کمی یا بیشی کے بغیر باقاعدہ ایف آئی آر (Ex.PB) درج کی جس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔

صفحہ 460

08-05-1998 کو، وہ گواہان استغاثہ رمضان، سعید اور چند دیگر دوستوں کے ہمراہ، بیرون ریل بازار، گمٹی چوک، فیصل آباد پر کھڑا تھا کہ ٹی بی ہسپتال کی طرف سے عیسائیوں کا ایک جلوس نمودار ہوا جس کے شرکاء مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے جنہیں سن کر وہ جذباتی ہو گئے اور ان کے احساسات مجروح ہوئے۔ ملزم رانجھا مسیح، جو عدالت میں حاضر ہے، اس جلوس کی قیادت کر رہا تھا۔ قریبی چوک میں ہیرا پان شاپ کی دکان پر، ایک بورڈ نصب تھا جس پر کلمہ طیبہ تحریر تھا اور گمٹی چوک کے اردگرد، لوہے کی چھوٹی چھوٹی تختیاں نصب تھیں جن پر درود شریف لکھا ہوا تھا، ملزم رانجھا مسیح، جو عدالت میں حاضر ہے، اور جلوس کے دیگر شرکاء، نے اپنے جوتے کلمہ طیبہ اور درود شریف پر پھینکے اور مسلمانوں کو ننگی گالیاں دیں۔ اس واقعہ کو اس نے بذات خود، گواہان استغاثہ محمد اشرف، سعید، عمار صغیر اور رمضان کے ساتھ ساتھ دیگر دکانداروں نے بھی دیکھا۔ جلوس چلے جانے کے بعد، وہ پولیس سٹیشن چلا گیا اور شکایت/درخواست (Ex.PB) پیش کی جس پر اس کے دستخط بھی ثبت تھے۔

08-05-1998 کو بوقت ساڑھے چار بجے شام وہ بذات خود مدعی جہانزیب، عبدالخالق، عمار صغیر اور دیگر کچھ دوستوں کے ہمراہ قیصری گیٹ، ریل بازار، چوک میں کھڑے تھے کہ اسی اثناء میں، ٹی بی ہسپتال کی طرف سے عیسائیوں کا ایک جلوس آیا جو مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔ جب یہ جلوس چوک گمٹی پہنچا تو دکانداروں نے خوف کے باعث اپنی دکانیں بند کر دیں۔ ملزم رانجھا مسیح جو اس وقت عدالت میں حاضر ہے، جلوس کی قیادت کر رہا تھا، کچھ تختیاں جن پر درود شریف لکھا ہوا تھا، گمٹی کے ستونوں پر نصب تھیں، انہیں دیکھتے ہی ملزم رانجھا مسیح سمیت جلوس کے شرکاء نے اپنے جوتے تختیوں پر پھینکے جس کے نتیجے میں کچھ تختیاں ٹوٹ گئیں اور زمین پر گر گئیں، احتجاجی مظاہرین نے ان تختیوں پر پتھر بھی پھینکے، ہیرا پان شاپ پر نصب ایک بورڈ، جس پر کلمہ طیبہ تحریر تھا، جلوس کے شرکاء کی طرف سے جوتے اور پتھر لگنے کے باعث ٹوٹ گیا اور ان شرکاء میں سے سب سے نمایاں ملزم رانجھا مسیح تھا، جو عدالت میں حاضر ہے، یہ بورڈ ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہ بورڈ پلاسٹک کا بنا ہوا تھا۔

صفحہ 461

28-05-1998 کو اس کی موجودگی میں مدعی جہانزیب نے پولیس سٹیشن، ریل بازار میں پولیس کے روبرو، پلاسٹک بورڈ کے دو ٹوٹے ہوئے ٹکڑے (P.1/1-2) پیش کیے جن پر کلمہ طیبہ کے الفاظ تحریر تھے، نیز ایک بورڈ کا اینگل فریم، جو دو حصوں میں ٹوٹ چکا تھا جس کی نشاندہی بطور (P.2/1-2) کی گئی تھی، پیش کیا جو ایلومینیم کا بنا ہوا تھا اور ایک تختی (P.3) بھی پیش کی جس پر درود شریف لکھا ہوا تھا، جنہیں علیحدہ تین سربمہر لفافوں میں بند کیا تھا اور پولیس نے جنہیں بمطابق میمو (Ex.PC) اپنی تحویل میں لے لیا تھا جس کی تصدیق اس نے اور محمد علی نے کی۔

08-05-1998 کو تقریباً ساڑھے چار بجے شام وہ گمٹی چوک فیصل آباد پر واقع دکان پر بطور ملازم موجود تھا کہ عیسائیوں کا ایک جلوس ٹی بی ہسپتال کی جانب سے آیا جو مسلمانوں کے خلاف نعرے بلند کر رہا تھا۔ اس جلوس کی قیادت رانجھا مسیح کر رہا تھا۔ جلوس کے شرکاء ڈنڈے، جوتے اور اینٹیں پکڑے ہوئے تھے۔ وہاں گمٹی چوک کے ہر طرف تختیاں نصب تھیں جن پر ’درود شریف‘ کندہ یا لکھا ہوا تھا۔ اس جلوس کی قیادت رانجھا مسیح کے ہاتھ میں تھی۔ جلوس کی طرف سے درود شریف کی متذکرہ تختیوں پر پتھر اور جوتے پھینکے گئے، متذکرہ تختیوں میں دو تختیاں ٹوٹ کر زمین پر گر گئیں۔ بعد ازاں، جلوس ان کی دکان پر آیا، وہاں بھی جلوس کی قیادت ملزم رانجھا مسیح کر رہا تھا، جلوس کے شرکاء نے پتھر اور جوتے اس بورڈ کی طرف پھینکے جو ٹوٹ گیا اور زمین پر گر گیا۔ جلوس کے شرکاء مسلمانوں کو گالیاں دے رہے تھے۔ پھر ملزم رانجھا مسیح کی قیادت میں یہ جلوس چرچ کی طرف چلا گیا۔ اس نے اور گواہان استغاثہ جہانزیب اور رمضان کے علاوہ بہت سے دیگر افراد نے بھی یہ وقوعہ ملاحظہ کیا۔

ہوئے کہا کہ مورخہ 08-05-1998 کو وہ پولیس سٹیشن، ریل بازار، فیصل آباد میں بطور ایس آئی، تعینات تھا۔ وہ چارٹرڈ بینک چوک کے قریب موجود تھا جب اسے نصیر احمد، کانسٹیبل کے ذریعے یہ اطلاع موصول ہوئی۔ وہ جائے وقوعہ پر پہنچا، جہاں گواہ استغاثہ اشرف اس سے ملا۔ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کسی پیمانے کے بغیر نقشہ (Ex.PD) تیار کیا، تمام درج تفصیلات، نقشے اور تحریریں اس کی لکھائی میں تھیں اور ان پر اس کے دستخط ثبت تھے۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہ استغاثہ اشرف کا بیان قلمبند کیا، بعد ازاں، اعجاز

صفحہ 462

مسعود، ایس ایچ او / ایس آئی نے اس سے تفتیش واپس لے لی گئی۔

08-05-1998 کو وہ ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، ریل بازار، فیصل آباد تعینات تھا۔ مورخہ 13-05-1998 کو اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش اپنے ہاتھ میں لی اور مورخہ 19-05-1998 کو اس نے ملزم رانجھا مسیح کو گرفتار کیا جو عدالت میں حاضر ہے اور اسی دن اس نے ملزم کو جوڈیشل لاک اپ میں بھیج دیا۔ مورخہ 28-05-1998 کو اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش محمد حنیف عقیل، ایس آئی کے حوالے کر دی۔ مورخہ 04-06-1998 کو اس نے ڈی ایس پی / ایس ڈی پی او، سٹی سرکل فیصل آباد کی تفتیش کی بنیاد پر ملزم کے خلاف چالان تیار کیا۔

ہے کیونکہ وہ اس کا ماتحت تھا اور وہ دوران تفتیش، ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، ریل بازار تعینات تھا۔ مورخہ 28-05-1998 کو محمد حنیف عقیل نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت گواہان استغاثہ، محمد علی، محمد طیب، رائے عبدالخالد، محمد سعید اور محمد رمضان کے بیانات قلمبند کیے۔ اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PC) ایک بورڈ (P-1) جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا، ایک ایلومینیم اینگل کا بورڈ (P-2) اور ایک تختی (P-3) جس پر درود شریف لکھا تھا، ایک سائن بورڈ ٹوٹ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا جو (Ex.P1/1-2) اور (Ex.P1/1-2) تھے، اپنی تحویل میں لے لیے۔ ریکوری میمو کی تصدیق گواہان استغاثہ محمد طیب ایڈووکیٹ اور محمد علی نے کی۔ مورخہ 29-05-1998 کو محمد حنیف عقیل، ایس آئی نے اورنگ زیب ڈرافٹسمین کے ذریعے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور مورخہ 31-05-1998 کو پیمانہ کے مطابق تیار کردہ جائے وقوعہ کے نقشہ کی دو عدد نقول، اورنگ زیب کے ذریعے محمد حنیف، ایس آئی کے حوالے کیں۔ جائے وقوعہ کا روشنائی سے تیار کردہ نقشہ اور تفصیلات، دونوں، حنیف عقیل ایس آئی کی لکھائی میں تھیں اور اس پر اس کے دستخط ثبت تھے۔ اس نے مورخہ 31-05-1998 کو زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اورنگ زیب ڈرافٹسمین کا بھی بیان قلمبند کیا۔ اس نے کاغذوں اور ضمنیوں پر محمد حنیف عقیل کی تمام تحریروں اور دستخطوں کو پہچان لیا۔

08-05-1998 کو تقریباً 3:40 بجے سہ پہر کے وقت وہ محمد طیب، جہانزیب، محمد علی اور

صفحہ 463

دیگر افراد کے ہمراہ گمٹی چوک ، ریل بازار، فیصل آباد میں موجود تھا کہ ایک جلوس ٹی بی ہسپتال کی طرف سے آیا جس کی قیادت ملزم رانجھا مسیح کے ہاتھ تھی۔ ملزم، جو عدالت میں حاضر ہے، مسلمانوں کو گالیاں دے رہا تھا اور حضور نبی اکرم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا تھا۔ جب یہ جلوس، گمٹی چوک پہنچا تو رانجھا مسیح نے اس تختی پر پتھر پھینکے جس پر ”درود پاک“ تحریر تھا۔ اس نے ان تختیوں پر جوتے مارے۔ ان میں سے ایک تختی جس پر درود پاک لکھا ہوا تھا، نیچے گر گئی تھی اور دوسری لٹکی ہوئی تھیں۔ رانجھا مسیح کی سرکردگی میں جلوس ہیرا پان شاپ کی جانب گیا۔ ہیرا پان شاپ پر ایک بورڈ نصب تھا جس پر ”کلمہ شریف“ لکھا ہوا تھا۔ یہ بورڈ رانجھا مسیح کی طرف سے پتھر اور جوتے پھینکنے کے باعث ٹوٹ گیا۔ ملزم رانجھا مسیح کی قیادت میں جلوس ، چرچ کی طرف چلا گیا۔ یہ تمام وقوعہ اس نے دیگر گواہان استغاثہ کے ساتھ دیکھا۔

28-05-1998 کو تفتیشی افسر نے وہ بورڈ (P.1/1) جس پر سفید رنگ سے کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا اور (P.1/2) جو دو ٹکڑوں میں تقسیم تھا، اور ایلومینیم اینگل کی ایک تختی (P.2/1) اور (P.2/2)، دو ٹکڑوں میں اور ایک تختی (P.3)، جس پر ’درود پاک‘ لکھا ہوا تھا، مدعی جہانزیب نے میری اور محمد طیب گواہ استغاثہ کی موجودگی میں ان کے سربمہر لفافے تیار کیے اور تفتیشی افسر نے بمطابق ریکوری میمو نمبر (Exh.PC)، جس کی تصدیق اس نے اور محمد طیب نے کی، اپنی تحویل میں لے لیے۔ ان سب کو اس جلوس کے شرکاء نے توڑ دیا تھا جس کی قیادت رانجھا مسیح کے ہاتھ میں تھی جس نے ان چیزوں پر جوتے اور پتھر پھینکے تھے۔

نے مدعی کی درخواست پر رائے عبدالخالد کی گواہی کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے ترک کر دیا۔

اور حلفیہ بیان کیا کہ مورخہ 1998-06-30 کو، وہ بطور ڈی ایس پی فیصل آباد سٹی، تعینات تھا۔ اسی دن محمد حنیف ، ایس آئی نے مقدمہ ہٰذا سے منسلک فریقین کو اس کے روبرو پیش کیا۔ اس نے دونوں فریقین سے تفتیش کی اور اسے مکمل کیا۔ پادری جیکب انتھونی ملزم کی طرف سے 6 مزید افراد کے ہمراہ ، اس کے روبرو پیش ہوا۔ جب اس نے ان سے ملزم رانجھا مسیح کی بے

صفحہ 464

گناہی کے متعلق پوچھا تو وہ خاموش ہو گئے۔ پھر اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ ملزم رانجھا مسیح ہی مقدمہ ہذا کا مجرم ہے اور ملزم کی جانب سے مختلف لوگوں نے اس کے روبرو پیش ہو کر توہین رسالت کے متعلق ملزم کے کردار کی معذرت طلب کی۔ اس نے مقدمہ ہذا کے تمام حقائق درست پائے۔

گیارہ گواہان استغاثہ پیش کرنے کے بعد استغاثہ کی گواہی بند کر دی۔

گواہی میں اپنے خلاف بیان کیے گئے حالات سے انکار کیا اور کہا کہ وہ بے گناہ ہے۔ مزید کہا کہ اسے اس مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ ایک خاص سوال کے جواب میں کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں بنایا گیا ، اس نے مندرجہ ذیل بیان دیا۔

”در حقیقت، میں میونسپل کارپوریشن فیصل آباد میں بطور خاکروب، ملازم تھا۔ مقدمہ ہذا کا مدعی، سابق میئر ملک محمد اشرف، ایم سی فیصل آباد کا بیٹا ہے اور میں ایم سی فیصل آباد کے سیاسی امور میں شرکت کرتا رہا ہوں۔ مدعی کا باپ، مجھے نقصان پہنچانے کے لیے کئی دفعہ کونسلر رکن منتخب ہوا۔ مدعی کا باپ سابق میئر ملک محمد اشرف، ایم سی فیصل آباد نے مجھے اپنے گھر پر اضافی کام کرنے کا حکم دیا جس سے میں نے انکار کر دیا۔ اس واقعہ کے دوران، مقامی حکومتوں کے نئے انتخابات 1998ء کے لیے مہم جاری تھی تاکہ وہ اپنے باپ کی سیاسی حیثیت کو مضبوط کر سکے۔ اس نے پولیس اور گواہان استغاثہ کی معاونت سے جو ایک دوسرے کے ساتھ کام کر رہے تھے، ایک ہی جگہ پر رہتے اور کاروبار کرتے تھے اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، نے مجھے اس مقدمے میں ملوث کرنے کے لیے تمام انتظام کر لیا جو بالآخر اس کے لیے سیاسی طور پر مفید ثابت ہوتا۔

ہوا لیکن اس نے اپنی صفائی میں گواہ پیش کرنے کا حق محفوظ رکھا۔ ملزم رانجھا مسیح نے بطور گواہ صفائی مع ریکارڈ، جاوید انجم، ایچ سی، ٹی ایم اے فیصل آباد کو طلب کرنے کے لیے ایک درخواست گزاری جس کی اجازت دے دی گئی۔

وہ ٹی ایم اے، فیصل آباد کا متعلقہ ریکارڈ جو رانجھا مسیح کے بطور سینٹری ورکر سے متعلق ہے، لے

صفحہ 465

آیا ہے۔ رانجھا مسیح نے مورخہ 10-12-1968 کو بطور خاکروب ملازمت شروع کی اور طبی بنیادوں پر مورخہ 21-09-1992 کو ریٹائر ہو گیا۔ جب رانجھا مسیح نے ریٹائرمنٹ لی تو ملک محمد اشرف، کارپوریشن کا میئر تھا۔ اصلی ریکارڈ اس کے پاس ہے اور اس کی ملازمت کی تفصیل کی تصدیق شدہ نقل پیش کی گئی۔

دلائل سماعت کیے اور ریکارڈ ملاحظہ کیا۔

ہیں، یہ ہیں کہ ملزم رانجھا مسیح نے عیسائیوں کے اس جلوس میں شرکت کی جو گٹی چوک میں سے گزرا، جس کے شرکاء مسلمانوں کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ ملزم رانجھا مسیح اور دیگر شرکاء نے ان تختیوں جن پر ”درود پاک“ کندہ تھا، اور ہیرا پان شاپ نامی دکان پر نصب بورڈ جس پر ”کلمہ طیبہ“ لکھا ہوا تھا، پر جوتے پھینکے اور وقوعہ کو مدعی نے اس کے دوستوں، محمد رمضان اور ہیرا پان شاپ کے ملازم محمد اشرف نے مع سعید اور عمار دیکھا اور یہ وقوعہ دیکھنے والوں میں اس علاقے کے بہت سے دکاندار بھی شامل تھے۔ مدعی، بذات خود، بطور گواہ استغاثہ نمبر 3 پیش ہوا اور اپنے حلفیہ بیان میں وہ حقائق بیان کئے جو درخواست/شکایت (Ex.PB) میں مذکور تھے۔ مقدمہ ہذا اس دن 7:10 بجے شام کے وقت درج کر لیا گیا۔ محمد رمضان، چشم دید گواہ، بطور گواہ استغاثہ نمبر 4 پیش ہوا اور اس نے بیان کیا کہ ملزم رانجھا مسیح ایک جلوس کی قیادت کر رہا تھا اور رانجھا مسیح سمیت جلوس کے شرکاء نے اپنے جوتے ان تختیوں پر پھینکے جن پر ”درود پاک“ لکھا ہوا تھا اور ان میں سے کچھ ٹوٹ گئیں تھیں اور زمین پر گر گئی تھیں۔ اس نے مزید بتایا کہ جلوس کے تمام شرکاء نے اس بورڈ کو توڑ دیا جس پر ”کلمہ طیبہ“ لکھا ہوا تھا اور یہ بورڈ ہیرا پان شاپ نامی دکان پر نصب تھا۔ جلوس کے شرکاء کی طرف سے جوتے اور پتھر پھینکے گئے، جن میں سے ملزم رانجھا مسیح نمایاں تھا۔ محمد طیب، جو بطور گواہ استغاثہ نمبر 5، پیش ہوا، وہ ریکوری کا گواہ تھا جس کی موجودگی میں مدعی، جہانزیب نے پولیس سٹیشن، ریل بازار میں پلاسٹک بورڈ کے دو ٹکڑے (P.1/1-2) پیش کیے اور ان دونوں پر ”کلمہ طیبہ“ تحریر تھا، نیز دو ٹکڑوں (P.2/1-2) میں ٹوٹے ہوئے بورڈ کا فریم بھی پیش کیا جو ایلومینیم کا بنا ہوا تھا، ان کے علاوہ ایک تختی (P.3) بھی پیش کی جس پر درود شریف تحریر تھا، جنہیں علیحدہ طور پر تین

صفحہ 466

مختلف سربمہر لفافوں میں بند کیا گیا تھا اور جنہیں پولیس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PC) جس کی تصدیق اس نے اور محمد علی نے کی، اپنی تحویل میں لے لیا۔ محمد اشرف، جو اس سے پہلے ہیرا پان شاپ پر ملازم تھا، بطور گواہ استغاثہ نمبر 6 پیش ہوا اور حلفیہ بیان کیا کہ ملزم رانجھا مسیح، جلوس کی قیادت کر رہا تھا اور مسلمانوں کے خلاف نعرے بلند کر رہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جلوس کے شرکاء کے ہاتھوں میں ڈنڈے، جوتے اور اینٹیں تھیں اور رانجھا مسیح کی قیادت میں جلوس کے شرکاء نے درود شریف کی تختیوں پر پتھر اور جوتے پھینکے اور دو متذکرہ تختیاں ٹوٹ کر زمین پر گر گئیں اور بعدازاں، یہ جلوس دکان کی طرف آیا جہاں وہ کام کرتا تھا اور متذکرہ دکان پر نصب بورڈ پر ”کلمہ طیبہ“ تحریر تھا، اور وہاں ملزم رانجھا مسیح کی قیادت میں جلوس نے پتھر اور جوتے بورڈ پر پھینکے جو ٹوٹ کر زمین پر گر گیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ، ملزم رانجھا مسیح، جلوس کو چرچ کی طرف لے گیا۔ یہ سب کچھ چشم دید احوال ہے اور مدعی نے برآمدگی کی گواہی پیش کی۔

24- بشارت حسین، انسپکٹر، جو پہلا تفتیشی افسر تھا، بطور گواہ استغاثہ نمبر 7 پیش ہوا اور بیان کیا کہ مورخہ 08-05-1998 کو وہ پولیس سٹیشن ریل بازار، بطور ایس آئی، تعینات تھا اور اس وقت وہ چارٹرڈ بینک چوک میں موجود تھا، اسے نصیر احمد کانسٹیبل کے ذریعے اطلاعات موصول ہوئی اور وہ جائے وقوعہ پہنچا جہاں استغاثہ گواہ، اشرف سے اس کی ملاقات ہوئی۔ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور بغیر کسی پیمانے کے نقشہ (Ex.PB) تیار کیا، نیز زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت گواہ استغاثہ اشرف کا بیان قلمبند کیا اور پھر اعجاز مسعود، ایس ایچ او/ایس آئی نے اس سے تفتیش واپس لے لی۔ دوران جرح، اس نے بتایا کہ جب اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، تمام تختیاں، ہیرا پان شاپ کے سامنے نصب تھیں جن پر ”کلمہ طیبہ“ لکھا ہوا تھا اور ان تختیوں پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے نشانات موجود تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ گمٹی چوک کے اردگرد بھی تختیاں نصب تھیں جن پر ”درود شریف“ لکھا ہوا تھا اور ان پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے نشانات موجود تھے۔ اعجاز مسعود، انسپکٹر، بطور گواہ استغاثہ نمبر 8 پیش ہوا جس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش مورخہ 19-05-1998 کو اپنے ہاتھ میں لی اور 19-05-1998 کو ملزم رانجھا مسیح کو گرفتار کیا اور اسی دن اسے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا گیا اور مورخہ 28-05-1998 کو اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش محمد عقیل ایس آئی کے سپرد کر دی۔ مورخہ 04-06-1998 کو اس نے ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او، سٹی سرکل، فیصل آباد کی

صفحہ 467

تفتیش کی بنیاد پر ملزم رانجھا مسیح کے خلاف چالان تیار کیا۔ متذکرہ محمد حنیف ایس آئی فوت ہو گیا اور یہ گواہ، جس نے اس کی لکھائی اور دستخط اس لیے پہچان لیے تھے کیونکہ وہ اس کا ماتحت رہا تھا اور وہ پولیس سٹیشن ریل بازار کا ایس ایچ او تھا۔ دوران جرح، اس نے اعتراف کیا کہ سابق میئر ایم۔سی فیصل آباد، ملک اشرف، پولیس سٹیشن ریل بازار کے علاقے میں رہتا تھا اور ان واقعات کے دنوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہو رہے تھے۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ مقدمہ ہذا کا مدعی، متذکرہ ملک محمد اشرف، سابق میئر، ایم۔سی فیصل آباد کا بیٹا ہے۔ محمد سعید ولد محمد اسمعیل، بطور گواہ استغاثہ نمبر 9 پیش ہوا جس نے بتایا کہ تقریباً پونے چار بجے سہ پہر وہ، محمد طیب، جہانزیب، محمد علی اور دیگر افراد کے ہمراہ گٹی چوک، ریل بازار فیصل آباد میں موجود تھا، اور ملزم رانجھا مسیح کی قیادت میں ٹی بی ہسپتال کی طرف سے ایک جلوس آیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ رانجھا مسیح مسلمانوں کو گالیاں دے رہا تھا اور وہ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ بول رہا تھا اور جب جلوس، گٹی چوک پہنچا تو رانجھا مسیح نے ان تختیوں پر پتھر پھینکے جن پر ”درود پاک“ لکھا ہوا تھا۔ نیز اس نے متذکرہ جگہ کو جوتوں سے بھی نشانہ بنایا اور ان میں سے ایک تختی جس پر درود پاک لکھا ہوا تھا، زمین پر گر گئی اور دیگر تختیاں لٹک رہی تھیں۔ رانجھا مسیح کی قیادت میں جلوس، ہیرا پان شاپ کی جانب بڑھا۔ ہیرا پان شاپ پر ایک بورڈ نصب تھا جس پر ”کلمہ شریف“ لکھا ہوا تھا۔ رانجھا مسیح کی جانب سے پتھر اور جوتے پھینکنے کے باعث یہ بورڈ ٹوٹ گیا اور رانجھا مسیح کی قیادت میں جلوس، چرچ کی طرف چلا گیا۔ محمد علی ولد ملک محمد حنیف، بطور گواہ استغاثہ نمبر 10 پیش ہوا جو بورڈ، (P.1/1) اور (P.1/2)، جس پر ”کلمہ شریف“ لکھا ہوا تھا، ایلومینیم اینگل (P.2/1-2) اور تختی (R.3) جس پر ”درود شریف“ تحریر تھا، کا برآمدگی گواہ ہے اور جن کو تین علیحدہ لفافوں میں سربمہر کیا گیا تھا اور انہیں بمطابق ریکوری میمو (Ex.PC) جس کی تصدیق اس نے اور طیب گواہ استغاثہ نے کی، اپنی تحویل میں لے لیا۔ مشتاق احمد دوران وقوعہ، بطور ڈی ایس پی سرکل سٹی، تعینات تھا اور مورخہ 30-06-1998 کو محمد حنیف ایس آئی نے مقدمہ سے منسلک فریقوں کو اس کے روبرو پیش کیا اور اس نے دونوں فریقوں سے تفتیش کی اور اسے مکمل کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ پادری جیکب انتھونی 6 افراد کے ہمراہ ملزم کی طرف سے پیش ہوا اور جب اس نے ملزم رانجھا مسیح کی بے گناہی کے لحاظ سے ان سے تفتیش کی تو وہ خاموش ہو

صفحہ 468

گئے۔ اس نے مقدمہ ہذا میں رانجھا مسیح کو مجرم پایا نیز ملزم رانجھا مسیح کی طرف سے پیش ہونے والے افراد نے توہین رسالت کے لیے معافی طلب کی اور اس نے مقدمہ ہذا کے تمام حقائق کو درست پایا۔

متعلق کسی نے تردید نہیں کی جو گٹی چوک کے راستے سے ٹی بی ہسپتال کی طرف سے آ رہا تھا اور چرچ کی طرف جا رہا تھا۔ ملزم کی طرف سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ اس نے متذکرہ جلوس میں شرکت نہیں کی بلکہ کسی چشم دید گواہ کی طرف سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ رانجھا مسیح ، جلوس کی قیادت نہیں کر رہا تھا۔ وقوعہ کے متعلق تمام گواہان استغاثہ نے جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی ظاہر کی۔ وہ اس علاقے کے رہائشی تھے یا پھر اس جگہ اپنا کاروبار کر رہے تھے، اس لیے جائے وقوعہ پر ان کی موجودگی قدرتی ہے۔ فاضل وکیل صفائی، جہانزیب مدعی کے علاوہ، گواہان استغاثہ کے خلاف کوئی بھی بد نیتی ظاہر کرنے میں ناکام رہا۔ ملزم رانجھا مسیح کا موقف یہ ہے کہ وہ میونسپل کارپوریشن ، فیصل آباد میں بطور خاکروب ملازم تھا جبکہ مقدمہ ہذا کا مدعی، سابق میئر ایم۔سی فیصل آباد، محمد اشرف کا بیٹا ہے۔ ملزم کی طرف سے یہ کہا گیا کہ مدعی کا باپ، بہت سے مواقع پر کونسلر منتخب ہوا تھا تا کہ اس کا استحصال کیا جائے۔ مدعی کے والد، ملک محمد اشرف، سابق میئر ، ایم۔سی فیصل آباد نے اسے اپنے گھر پر اضافی کام کرنے کو کہا جس سے اس نے انکار کر دیا۔ اس نے اس سوال کے جواب میں کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں بنایا گیا اور کیا وجہ تھی کہ گواہان استغاثہ نے اس کو ملوث کیا، کہا کہ وقوعہ کے دنوں میں، مقامی حکومتوں کے انتخابات برائے 1998ء کے لیے مہم جاری تھی تا کہ مدعی کے باپ کی سیاسی حیثیت مضبوط بنائی جائے، اس لیے پولیس اور گواہان استغاثہ کی مدد سے، جو آپس میں رشتہ دار ہیں اور اکٹھے کام کرتے ہیں، ایک ہی جگہ رہتے ہیں اور کاروبار بھی کرتے ہیں، جن کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، نے اسے مقدمہ ہذا میں پھنسایا تا کہ مدعی کے والد کو سیاسی فائدہ پہنچ سکے۔ ملزم نے جاوید اکرم، ہیڈ کلرک، ٹی ایم اے، سٹی، ایم۔سی فیصل آباد کو پیش کیا جو رانجھا مسیح کے سروس ریکارڈ کے ساتھ حاضر ہوا اور بیان کیا کہ رانجھا مسیح نے مورخہ 1968-12-10 کو بحیثیت ایک خاکروب ملازمت شروع کی اور طبی بنیادوں پر مورخہ 1992-09-21 کو ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس نے مزید بتایا کہ جب رانجھا مسیح ریٹائر ہو گیا، ملک محمد اشرف، کارپوریشن کا میئر تھا۔ گواہ صفائی نمبر 1 کی طرف سے پیش کردہ ریکارڈ ایک مسل کی صورت میں ہے جس سے واضح طور ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم رانجھا مسیح ، طبی بنیادوں پر ملازمت سے سبکدوش ہوا۔ اس سے

صفحہ 469

واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو مدعی کے باپ نے ملزم کے خلاف ضابطہ کی کوئی کارروائی کی اور نہ ہی اسے کسی غلط رویہ کی بنا پر ملازمت سے فارغ کیا۔

کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ کارپوریشن کے میئر کو اس کے گھر کام نہ کرنے کے باعث اس سے پرخاش ہو گئی تھی۔ ملزم، یہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا کہ مدعی نے اس کے گھر میں اضافی کام نہ کرنے کے باعث اسے مقدمہ ہذا میں ملوث کیا۔

کی تحریری درخواست پر پولیس سٹیشن، ریل بازار میں 7:10 بجے شام درج ہوا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تاخیر سے درج شدہ ایف آئی آر ہے اور اسے اس مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کرنے کے لئے یہ تاخیر کی گئی۔ وزارت حسین انسپکٹر، بطور گواہ استغاثہ نمبر 7، پیش ہوا جس نے بتایا کہ اس نے جائے وقوعہ کا معاینہ کیا۔ ہیرا پان شاپ کے سامنے نصب شدہ بورڈ، جس پر ”کلمہ طیبہ“ تحریر تھا، موجود تھا لیکن اس پر توڑ پھوڑ کے نشانات موجود تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ گٹی چوک میں نصب تختی جس پر درود شریف لکھا ہوا تھا، پر توڑ پھوڑ کے نشانات موجود تھے۔

متذکرہ ملزم کی جھوٹے انداز میں ملوث ہونے کی حیثیت ثابت ہو گئی تھی جس سے، ملزم کے والد عنایت مسیح کے قبضہ میں احاطہ اس نے اپنے قبضہ میں لینا تھا، متذکرہ احاطہ بعدازاں، مقدمہ ہذا میں مدعی کے والد کو الاٹ کر دیا گیا تھا لیکن جیسا کہ مقدمہ ہذا کے متعلق اوپر گفتگو ہوچکی، صفائی کی طرف سے گواہان استغاثہ کی طرف سے ملزم رانجھا مسیح کو جھوٹے طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کرنے کی بدنیتی ثابت کرنے میں ناکامی ہوئی۔ 587 PLD 2002 Lahore میں پاکستان میں توہین رسالت کے لحاظ سے قانون سازی کے پس منظر میں تعریف کی گئی ہے۔ مقدمہ ہذا کے حقائق، مندرجہ بالا مثال کے حقائق سے بالکل مختلف ہیں۔ (1995 P Cr L J.811(Lahore میں معزز جج نے فیصلہ دیا کہ اگر عدالت کے نزدیک کسی ایک گواہ کی گواہی قابل اعتماد اور قابل بھروسا ثابت ہو جائے اور کسی خاص مقدمہ کی گواہی حالات کے مطابق ہو، اس ایک گواہی کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ مقدمہ ہذا میں تمام چشم دید گواہان نے حلفیہ حقائق بیان کیے جن میں یہ کہا گیا کہ عیسائیوں کا ایک جلوس آ رہا تھا اور ملزم، رانجھا مسیح ، اس جلوس

صفحہ 470

میں شامل تھا جو گمٹی چوک (جائے وقوعہ) کے راستے ٹی بی ہسپتال کی طرف سے آ کر چرچ کی طرف جا رہا تھا۔ ملزم رانجھا مسیح، زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، بیان حلفی کے ذریعے حقائق کی تردید کرنے کے لیے اپنی صفائی میں بطور گواہ پیش ہونے میں ناکام رہا۔ ملزم نے صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ایم۔ سی فیصل آباد میں بطور سینٹری ورکر کام کرتا تھا، اور مدعی کا والد، ملک محمد اشرف، ایم۔ سی فیصل آباد کا میئر تھا۔ صفائی کا محض ایک گواہ پیش کیا لیکن مقدمہ ہذا میں مدعی اور گواہان استغاثہ کی بدنیتی ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اسے غلط طور مقدمہ ہذا میں ملوث کیا گیا ہے۔ (ملزم کی طرف سے) دفاع اس امر کی تردید کے لیے بھی کوئی گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم نے واضح طور اپنی طرف سے وہ الفاظ استعمال نہیں کیے اور اپنی طرف سے پتھر اور جوتے ان تختیوں پر، جن پر درود شریف لکھا ہوا تھا، اور اس بورڈ پر جس پر ”کلمہ طیبہ“ لکھا ہوا تھا، پتھر اور جوتے نہیں مارے تا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاک نام کی بے حرمتی کی جائے۔ اس لیے حالات کے تحت، استغاثہ، ملزم رانجھا مسیح کے خلاف زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

طرف سے جن افعال کا ارتکاب کیا گیا، ان کی سزا کے طور پر عمر قید کے علاوہ 50,000/- روپے جرمانہ سے سزا دینے کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ اس لیے اس فیصلہ کے تحت ملزم رانجھا مسیح کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے عمر قید کے علاوہ 50,000/- روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ اس وقت ملزم پولیس کی حراست میں ہے۔ اسے روبکار کے ہمراہ، دی گئی سزا بھگتنے کے لیے قید خانہ بھیج دیا جائے۔ اس فیصلہ کی نقل ملزم کو مفت مہیا کی جائے۔ زیر دفعہ 382-B مجموعہ ضابطہ فوجداری، کا فائدہ مجرم کو دیا گیا۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

تاریخ فیصلہ 26 اپریل، 2003ء

دستخط: شاہد رفیق ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد

۞.......۞.......۞

صفحہ 471

جناب میاں مرید حسین ایڈیشنل سیشن جج گجرات

سرکار بنام مولوی طاہر عاصم، جون 2003ء

صفحہ 472
صفحہ 473

دل کی بات

2002ء میں کنجاہ ضلع گجرات کے ایک خبیث مولوی طاہر عاصم نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اس پر مقامی مسلمانوں میں بے حد غم و غصہ اور اشتعال پھیل گیا۔ اس سلسلہ میں معززین علاقہ کی میٹنگ ہوئی جس میں طے پایا کہ مولوی طاہر عاصم آئندہ جمعہ کو اپنے خطاب میں حضور نبی کریم ﷺ سے متعلق ادا کیے گئے اپنے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ واپس لے گا اور عوام الناس سے معافی طلب کرے گا۔ معززین علاقہ کے بار بار اصرار کرنے کے باوجود مولوی عاصم طاہر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی گستاخی پر ڈٹا رہا۔ چنانچہ مدعی مقدمہ ڈاکٹر محمد اکرم کریمی کی درخواست پر کنجاہ پولیس نے ملزم کے خلاف قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت مقدمہ درج کر کے چالان عدالت میں بھجوا دیا۔ ملزم نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسے مسلکی اختلاف کی وجہ سے اس مقدمہ ملوث کیا گیا حالانکہ ایسی کوئی بات ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ مسلکی اختلاف اپنی جگہ پر، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولوی طاہر عاصم نے جمعہ کے اجتماع میں حضور نبی کریم ﷺ اور ان کی والدہ ماجدہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا یا نہیں؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ ایک سنگین جرم کا ارتکاب کر کے اسے مسلکی اختلاف قرار دینا مجرمانہ ذہنیت نہیں تو اور کیا ہے؟

شہادتوں کا مکمل جائزہ اور تجزیہ کے بعد عدالت نے ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت کا مستحق قرار دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

”اللہ تعالیٰ کو حضور نبی اکرم ﷺ کی آواز سے اونچی آواز پسند نہیں۔ اس کا اظہار قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیت میں کیا گیا ہے۔ ”اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی کریم (ﷺ) کی آواز سے اور نہ زور سے آپ (ﷺ) کے ساتھ بات کیا کرو۔ جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو۔ (اس بے ادبی سے) کہیں ضائع نہ ہو جائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو“۔ (الحجرات: 2) جہاں تک اس

صفحہ 474

معاملے کا تعلق ہے، ملزم نے ایسے الفاظ بولے جو یقینی طور پر نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی والدہ محترمہ کی شان کی گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ اگر وہ منکسر اور عاجز بھی ہوں تو وہ بلند آواز سے بولیں۔ ملزم نے معاشرہ میں محض فتنہ و فساد برپا کرنے کے لیے بغیر کسی وجہ اور توجیہہ کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اسلام امن و سکون کا مذہب ہے جس نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ امن و سکون سے رہیں۔ جو شخص، مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ذریعے فساد فی الارض برپا کرتا ہے، وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے: (ترجمہ): ”بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب“۔ (الاحزاب: 57)

ملزم نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: (ترجمہ): ”اور جو لوگ دل دکھاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (معیوب) کام کیا ہو تو انہوں نے اٹھا لیا (اپنے سر پر) بہتان باندھنے اور کھلے گناہ کا بوجھ۔ (الاحزاب: 58)

اس قسم کے متنازع الفاظ کہنے کی کوئی منطق اور توجیہہ نہیں تھی۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 کے بیانات اور تفتیشی افسر کی تفتیش سے یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ نماز جمعہ کے اجتماع میں ملزم کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے گئے۔ اس لیے، ملزم پر عائد کیے گئے الزامات بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہوتے ہیں۔ اس قسم کے الفاظ کو دہرانے سے احتراز کرتے ہوئے ملزم کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔ ملزم کی طرف سے بولے گئے الفاظ ناقابل برداشت ہیں اور اگر اسے آزاد رہنے دیا گیا تو پھر دیگر افراد کو اس فتنہ کا سد باب کرنے کی ہمت افزائی حاصل ہوگی اور دیگر افراد میں اس قسم کا جرم دوبارہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔“

اس فیصلہ کے حصول کے لیے مجاہد ختم نبوت، شاعر تحفظ ناموس رسالت ﷺ برادر عزیز جناب محمد شہزاد اسلم ( گجرات ) ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے بہت محنت کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 475

بعدالت جناب میاں مرید حسین ایڈیشنل سیشن جج، گجرات

ابتدائی معلومات

سپیشل سیشن کیس نمبر : 2/2003 سیشن مقدمہ نمبر : 16/2003 ایف آئی آر نمبر : 458/2002 بتاریخ 24 اگست 2002ء پولیس سٹیشن : کنجاہ شہر ضلع گجرات بجرم : 295۔سی

سرکار

بنام

مولوی طاہر عاصم ولد محمد اکبر، ذات بھٹی، ساکن کنجاہ تحصیل وضلع گجرات (ملزم)

وکلا منجانب مدعی: چودھری فاروق حیدر ایڈووکیٹ، شہزاد اسلم ایڈووکیٹ وکلا منجانب ملزم: اشرف ڈار ایڈووکیٹ، قدیر وڑائچ ایڈووکیٹ چودھری نثار احمد ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 6 جون 2003ء

صفحہ 476

فیصلہ

جناب میاں مرید حسین، ایڈیشنل سیشن جج، گجرات

مندرجہ بالا ملزم کے خلاف مقدمہ، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت بمطابق ایف آئی آر نمبر 458/2002 کا چالان پولیس اسٹیشن کنجاہ پولیس نے مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت ہذا میں پیش کیا۔

مقدمہ کا بیان

2- ڈاکٹر محمد اکرم کریمی، مدعی کی درخواست (Ex.P.A) کے مطابق ایف آئی آر (Ex.P.A/1) درج کی گئی جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ وہ جماعت اہلسنت، تحصیل گجرات کا صدر ہے۔ 16-08-2002 سے قبل گزشتہ جمعہ کو ملزم، مولوی طاہر عاصم، خطیب محمدی جامعہ مسجد، اہل حدیث، محلہ عید گاہ کنجاہ، جمعہ کے اجتماع میں تقریر کر رہا تھا۔ عوام کے سامنے اس کی تقریر کے دوران، اس نے نبی اکرمﷺ اور ان کی قابل احترام والدہ، حضرت آمنہ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے کہ ”جب موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے اور ان کا خدا اپنی تجلی (نور) کے ساتھ پہاڑ پر نمودار ہوا، تو اس نے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اگر نبی اکرم (ﷺ) ”نور“ تھے، تو پھر آپ (ﷺ) کی والدہ .................................“ (نعوذ باللہ) اس محلہ کے مکین، جہاں یہ مسجد واقع ہے، اہل سنت کے پیروکار ہیں، جن میں سے چودھری محمد خلیل، چودھری نثار احمد گوندل، چودھری نثار احمد، کونسلر، مرزا سکندر اور مشتاق، مدعی کے پاس آئے اور اپنے ان مجروح مشتعل جذبات کے متعلق بتایا، جس پر چودھری نثار احمد گوندل، محمد صدیق بٹ، چیئرمین، کنجاہ پریس کلب، قاری مقبول احمد، مدعی کی معیت میں،

صفحہ 477

جماعت اہل حدیث کنجاہ کے امیر اور ناظم کے پاس گئے اور اسے مندرجہ بالا حقائق اور معاملے سے آگاہ کیا، جہاں یہ فیصلہ ہوا کہ مورخہ 2002-08-23 کو مولوی طاہر عاصم، جمعہ اجتماع سے تقریر کرتے ہوئے اپنے ان گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ واپس لے گا اور مجموعی طور پر عوام سے معافی طلب کرے گا۔ لیکن، ملزم مولوی طاہر عاصم، نے ایسا نہیں کیا، جس پر عوام کے جذبات عمومی جبکہ اہل سنت کے پیروکاروں کے جذبات خصوصی طور پر مشتعل ہونے کی حد تک مجروح ہوئے۔ اس الزام کے تحت، ملزم کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، گرفتار کر لیا گیا۔

تفتیش

مدعی، ڈاکٹر محمد اکرم کریمی کی طرف سے ایک درخواست (Ex.P.A)، پولیس کی ڈاک میں موصول کی۔ اس نے درخواست (Ex.P.A) پر پولیس ’کارروائی‘ لکھی اور اسے درج کرنے کی خاطر پولیس سٹیشن بھیج دیا جس کی بنیاد پر مقدمہ کی ایف آئی آر نمبر 458 درج کر لی گئی جو (Ex.P.A/1) ہے۔ پھر وہ مدعی کے ساتھ باہر آ گیا اور سڑک کے ایک طرف کھڑے ہو کر اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مدعی کا بیان قلمبند کیا۔ اس نے ان لوگوں سے بھی تفتیش کی جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ گواہان استغاثہ کے نام، چودھری نثار احمد گوندل ولد بشیر احمد، چودھری نثار احمد ولد چودھری عبدالحمید، خالد احمد ولد فضل احمد، مرزا سکندر ولد محمد شفیع اور مشتاق ولد ابراہیم ہیں۔ اس نے مبینہ جائے وقوعہ، جامعہ مسجد اہل حدیث کی (انتظامیہ سے) بھی تفتیش کی۔ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور اس کا نقشہ (Ex.P.B) تیار کیا۔ اس نے ملزم، مولوی طاہر عاصم کو گرفتار کیا۔ اس نے ایف آئی آر مورخہ 2002-08-24 کی نقل بھی موصول کی۔ اس نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو ملزم کو پیش کیا اور اسے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔ بعد ازاں اس کیس کی تفتیش کسی اور کو ٹرانسفر کر دی گئی۔ بہر حال ملزم کے خلاف چالان زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، مورخہ 2002-10-31 کو عدالت ہذا میں بھیج دیا گیا۔

مقدمہ کی کارروائی

مورخہ 2003-01-21 کو ملزم کے خلاف مندرجہ ذیل حالات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی:

”یہ کہ مورخہ 2002-08-16 پولیس سٹیشن کنجاہ کی حدود میں واقع مسجد محمدی اہل

صفحہ 478

جمعہ، عیدگاہ، کنجاہ، کے اندر اپنی تقریر کے دوران، تم، (ملزم) نے مسجد کے خطیب کی حیثیت سے مندرجہ الفاظ کہے؛ ”موسیٰ طور پر گئے تو وہاں اللہ تعالیٰ کے نور کی تجلی سے کوہ طور ریزہ ریزہ ہو گیا اور اگر نبی ﷺ نور ہوتے تو ان کی والدہ ..............................................................“

ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی اور یوں بعد ازاں استغاثہ نے اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے پانچ گواہان پر جرح کی:

گواہی

گواہ استغاثہ نمبر 2: نثار احمد، گوندل، وہ شخص ہے جس نے وہ تقریر سنی جس میں ملزم نے قابل اعتراض الفاظ کہے۔ اس نے مندرجہ بالا بولے گئے الفاظ کی تفصیل مہیا کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 3: مشتاق احمد، چار سنتیں ادا کرنے کے بعد ملزم، مولوی طاہر عاصم کے سامنے مسجد میں بیٹھا تھا۔ ملزم مولوی طاہر عاصم جمعہ کے اجتماع سے خطاب کر رہا تھا۔ اس نے نبی اکرم ﷺ اور ان کی قابل احترام والدہ، حضرت آمنہؓ کے متعلق قابل اعتراض الفاظ کہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 4: قلب عباس، اے ایس آئی، نے صفات اللہ، ایس آئی، پولیس اسٹیشن انچارج کنجاہ کی طرف سے بھیجی درخواست (Ex.P.A)، بذریعہ کانسٹیبل غلام رسول مورخہ 23-08-2002 سے موصول کی، جس کی بنیاد پر اس نے درست طور پر ایک رسمی ایف آئی آر (Ex.P.A/1) تیار کی۔

زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، کے تحت قلمبند کیے گئے ملزم کے بیان میں اس نے اپنے خلاف استغاثہ کے مقدمے سے انکار کیا اور کہا کہ اسے اس مقدمے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ ”کیا وجہ ہے کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف کیوں بنایا گیا اور کیا وجہ ہے کہ گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف گواہی دی، اس نے مندرجہ ذیل بیان دیا:

”مدعی کے ساتھ عرصہ دراز سے موجود مسلکی اختلافات، دشمنی اور اس کے ساتھیوں، جو بریلوی (اہل سنت) ہیں، کی وجہ سے غلط طور مجھے اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ مختلف مواقع پر مدعی پارٹی، ہماری مسجد پر حملہ کرتے رہے ہیں جس کے خلاف متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، جناب آفتاب مجید، مجسٹریٹ اور چیئرمین ٹاؤن کمیٹی،

صفحہ 479

کنجاہ کی مداخلت سے دونوں مسالک کے درمیان مصالحت ہوچکی ہے، جس پر متذکرہ مجسٹریٹ اور ایڈمنسٹریٹر/چیئرمین کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ مزید برآں، گواہان استغاثہ جن کا تعلق مخالف مسلک سے ہے، نے مجھے غلط طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیا ہے۔“

دلائل

فاضل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اٹارنی برائے سرکار جس کی معاونت مدعی کے فاضل وکیل نے کی، نے بیان کیا ہے کہ ملزم نے وہ گستاخانہ اور اہانت آمیز بولے جنہیں کوئی عام سمجھدار مسلمان بول نہیں سکتا۔ ملزم نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ملزم نے اس معاملے کو چھوا ہے جسے کبھی شریعت کا اظہار کرنے کے لیے بھی سامنے نہیں لایا گیا۔ اس طرح ملزم نے معاشرے میں فتنہ و فساد پیدا کیا ہے جس کی قانون کے تحت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ استغاثہ نے گواہان استغاثہ پر جرح کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے بیان کو ثابت کر دیا ہے جنہوں نے یہ الفاظ اس کے منہ سے جمعہ کے اجتماع میں سنے۔ اس نے مزید بیان کیا کہ اس ”فتنہ“ کا سدباب کرنے کے لیے، ملزم سے جمعہ کے اجتماع میں یہ الفاظ واپس لینے اور عوام سے مجموعی طور پر معافی طلب کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 1 نے دوران جرح کہا کہ یہ کہنا درست ہے کہ اگر کسی سے بھی اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے گئے ہوتے، تو وہ سزا کا مستحق ہوتا اور اسے مرتد قرار دے دیا جاتا۔ اس نے گواہ استغاثہ نمبر 2 کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس سے یہ پوچھا گیا کہ یہ درست ہے کہ ملزم نے اس قانون کی خلاف ورزی کی جس کے تحت لاؤڈ سپیکر پر تقریر ممنوع ہے۔ اس نے گواہ استغاثہ نمبر 5 کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم مولوی طاہر عاصم نے لاؤڈ سپیکر کے امتناعی قانون کی خلاف ورزی کی۔ اس نے مزید کہا ہے کہ تفتیشی افسر نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ، ملزم، (حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں) گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کا مرتکب ہوا ہے۔ لہٰذا اس کے مطابق، ملزم زیادہ سے زیادہ سزا کا مستحق ہے۔

ملزم کی طرف سے فاضل وکیل صفائی نے کہا کہ ملزم نے متنازع الفاظ کبھی بھی نہیں کہے۔ در حقیقت، اسے ’بریلوی‘ اور ’اہل حدیث‘ مسالک کے درمیان اختلافات میں گھسیٹا گیا ہے۔ ملزم کا تعلق اہل حدیث مسلک سے ہے جبکہ مدعی پارٹی کا تعلق سنی مسلک سے ہے۔ اس نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں مسالک کے درمیان پہلے ہی ایک جھگڑا چل رہا تھا جو

صفحہ 480

بالآخر، علاقہ مجسٹریٹ اور چیئرمین ٹاؤن کمیٹی کنجاہ کی مداخلت سے حل کر لیا گیا۔ یہ بھی کہ گواہان استغاثہ کا تعلق مخالف مسلک سے ہے جنہوں نے غلط طور پر اس کے خلاف گواہی دی۔ یہ بھی کہ لاؤڈ سپیکر پر پابندی عائد تھی، اس لیے، ملزم نے کسی بھی موقع پر لاؤڈ سپیکر استعمال نہیں کیا۔ اس سلسلہ میں اس نے P.L.D 2002, Lahore 587 کا حوالہ دیا ہے۔

نتائج

انہیں ایک درخواست دی گئی جنہوں نے رائے دی کہ اس عدالت کی حدود، عدم حدود نہیں ہیں۔ دونوں فریقین کے فاضل وکلا نے مورخہ 23-06-2003 کو یہ بیان دیا کہ انہیں مقدمہ ہذا پر مکمل اعتماد ہے اور عدالت ہذا اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کی مکمل طور پر مجاز ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عدالت ہذا کی طرف سے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔ اس لیے، اس نے معزز عدالت عالیہ کے روبرو، ضمانت کی درخواست پیش کی جس پر عدالت ہذا کو ہدایت کی گئی کہ دو مہینے کے اندر اس مقدمہ کا فیصلہ کیا جائے۔

ہے۔ کسی بھی مسلمان سے غیر ضروری، بے مقصد اور بے بنیاد معاملے میں ملوث ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ناقص علم کے حامل افراد کی طرف سے معمولی معاملات کے متعلق بحث کے باعث غلط پہلو سامنے آتا ہے اور آگ پر تیل کا کام دیتا ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ کا مقام و مرتبہ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ (ترجمہ) کے ذریعے متعین کر دیا ہے۔

کی جاتی ہے میری طرف کہ تمہارا خدا صرف اللہ وحدہٗ ہے۔ پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور نہ شریک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو“۔

(الکہف:110)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے رسول، حضور نبی اکرمﷺ کی شان کا اعلان کیا ہے:

صفحہ 481

کرتا ہے تمہارے لیے بہت سی ایسی چیزیں جنہیں تم چھپایا کرتے تھے۔ کتاب سے اور درگزر فرماتا ہے بہت سی باتوں سے بے شک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی‘‘۔ (المائدہ:15)

جمعہ کے روز، مولوی طاہر عاصم ملزم، نے حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی قابل احترام والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے جو یوں ہیں (نعوذ باللہ):

’’موسیٰؑ کوہ طور پر گئے تو وہاں اللہ تعالیٰ کے نور کی تجلی سے کوہ طور ریزہ ریزہ ہو گیا اور اگر نبی ﷺ نور ہوتے تو ان کی والدہ ......................‘‘

متذکرہ بالا الفاظ، ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے ادا کیے گئے جو جامعہ محمدیہ مسجد اہل حدیث، واقع محلہ عید گاہ کنجاہ، میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے تھے۔ مسجد ہذا کے اردگرد رہنے والے افراد سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں چودھری خلیل، چوہدری نثار احمد گوندل، چودھری نثار احمد کونسلر، مرزا سکندر اور مشتاق احمد، جو اسی محلہ کے رہائشی ہیں، اس کی رہائش گاہ پر آئے اور تمام حقائق بیان کیے۔ چودھری نثار احمد، محمد صدیق چیئرمین پریس کلب، قاری نقیب احمد کی معیت میں جماعت اہل حدیث کنجاہ، کے امیر کے پاس گیا اور اس کے علاوہ جامعہ اہل حدیث کے ناظم سے بھی ملاقات کی۔ اسی ملاقات میں یہ فیصلہ ہوا کہ ملزم، مورخہ 2002-08-23 کو گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے پر نماز جمعہ کے اجتماع میں معافی پیش کرے گا۔ لیکن ملزم نے مورخہ 2002-08-23 کو نماز جمعہ کے اجتماع میں ایسا نہیں کیا، اس لیے جماعت اہل سنت کے لوگ اور عوام مشتعل اور ناراض ہو گئے۔ لوگوں کو جھگڑا فساد سے بچانے اور نقص امن کی صورت حال پیدا نہ کرنے کی خاطر اس نے مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس سٹیشن کنجاہ کی پولیس کو ایک درخواست (EX.P.A) پیش کی ہے، اور جس پر اس کے دستخط ہیں۔ جرح کے دوران اس نے گواہی دی کہ اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں سنے۔ متذکرہ پانچ افراد میں سے تین نے اسے ان گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق بتایا۔ مشتاق نے اسے بتایا کہ اس نے ملزم سے یہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے۔ اس نے مزید کہا کہ متذکرہ بالا پانچ افراد عام طور اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں جس مسجد میں جمعہ کی تقریر میں ملزم نے یہ الفاظ کہے۔ اس نے مزید وضاحت کی کہ اگر ملزم

صفحہ 482

نے معافی طلب کر لی ہوتی یا اپنے الفاظ واپس لے لیے ہوتے تو اسے معاف کر دیا جاتا اور اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ کروایا جاتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ”یہ کہنا درست ہے کہ اگر اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کسی نے بھی کہے ہوتے ، اسے سزادی جاتی اور اسے مرتد قرار دے دیا جاتا۔ اس نے یہ موقف غلط قرار دیا کہ یہ قصہ پولیس کے روبرو بیان کیا گیا ہے اور اس کے مطابق اس نے گواہی دی۔ گواہ استغاثہ نمبر 2، نثار احمد گوندل نے بتایا ہے کہ مورخہ 2002-08-16 کو وہ اپنے گھر میں نماز جمعہ کی تیاری کر رہا تھا۔ عدالت میں حاضر ،ملزم، مولوی طاہر عاصم، جامعہ مسجد محمدی میں تقریر کر رہا تھا۔اس نے وہی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے جن کے متعلق گواہ استغاثہ نمبر 1 نے بتایا۔ اس نے یہ موقف غلط قرار دیا کہ مختلف مسلک کی بنیاد پر اس کے ملزم کے ساتھ اختلافات ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ وہ اس وقت وضو کر رہا تھا جب ملزم نے یہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ ہم اس صورت حال اور الفاظ کے متعلق بتانے کے لیے ناظم کے پاس گئے۔ اس نے مزید بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ملزم، مولوی طاہر عاصم نے لاؤڈ سپیکر پر تقریر نہیں کی۔ اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ درست ہے کہ ملزم نے اس قانون کی خلاف ورزی کی جس کے تحت لاؤڈ سپیکر پر تقریر ممنوع ہے۔ اس نے صورت حال کی وضاحت کی کہ یہ تقریر اردو میں کی گئی جبکہ خطبہ عربی میں پڑھا گیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنا بیان قلمبند کروایا کہ مولوی طاہر عاصم، ملزم نے اپنی تقریر کے دوران متذکرہ بالا قابل اعتراض الفاظ بولے، اور اس نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ملزم نے متذکرہ بالا الفاظ، عربی خطبہ کے دوران کہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ پولیس نے جائے وقوع کے باہر زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے بھی اسی طرح کی گواہی دی۔ اس نے پرزور انداز میں کہا کہ ملزم نے متذکرہ بالا قابل اعتراض الفاظ بولے تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ چار سنتیں ادا کرنے کے بعد ملزم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے متعلق کسی بھی شبہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی مسلک سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے جذبات مشتعل ہو گئے اور وہ مسجد سے باہر نکل آیا۔ وہاں دیگر بیٹھے ہوئے افراد کا تعلق اہل حدیث سے تھا، اس لیے وہ مسجد سے باہر نہیں آئے۔ اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ملزم نے اس سے معافی طلب نہیں کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 5، صفات اللہ، ایس

صفحہ 483

آئی او، وہ ہے جس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی۔ اس نے بتایا کہ اس نے نہ صرف وقوعہ کے متعلق گواہانِ استغاثہ پر جرح کی بلکہ عام لوگوں سے بھی تفتیش کی اور اسے معلوم ہوگیا کہ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے۔ اپنی جرح کے دوران اس نے کہا کہ یہ درست ہے کہ لاؤڈ سپیکر پر کی جانے والی تقریروں پر پابندی عائد ہے۔ ملزم مولوی طاہر عاصم نے ممانعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاؤڈ سپیکر استعمال کیا۔ اس نے اس خلاف ورزی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔ وہ ایک مذہبی عالم ہے۔ اس نے اس امر کو درست قرار دیا کہ مقدمہ کے اندراج سے پہلے مدعی نے جماعت اہل حدیث کے ناظم سے ملاقات کی۔ اس نے یہ امر بھی غلط قرار دیا کہ کوئی بھی شخص، نہ ہی مدعی نے اور نہ ہی محمد صدیق اور ناظم جماعت اہل حدیث قاری مقبول احمد یا ناظم نے مدعی اور دیگر لوگوں کے اس مطالبے کو اہمیت دی کہ ملزم، معافی طلب کرے یا اپنے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ، اگر کوئی ہیں، کو واپس لے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کنجاہ میں اس کی تعیناتی کے دوران، وہاں کوئی بھی فرقہ ورانہ واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس نے اس امر کو بھی غلط قرار دیا کہ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ ادا نہیں کیے۔ اگرچہ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کی ادائیگی سے انکار کیا لیکن وہ زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے حق میں گواہی کے لیے پیش نہیں ہوا۔ اس نے استغاثہ کی طرف سے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کے لیے استغاثہ کے کسی گواہ پر جرح نہیں کی۔ اس نے جو دستاویزی ثبوت پیش کیا، وہ اس کی تعلیمی حیثیت کے بارے میں ہے۔ ملزم، زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مشتاق کے بیان (Ex.D.A) کی نقل خود لے کر آیا۔ اس بیان سے واضح طور پر بیان ہوتا ہے کہ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ ادا کیے تھے۔ (Ex.D.A/1) ملزم کا بیان حلفی ہے۔ اس نے بیان کیا ہے کہ وہ اس قسم کا بھیانک جرم کرنے یا پھر مذکورہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

تمام گواہوں کے بغور تجزیے اور جائزے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ گواہِ استغاثہ نمبر 2، کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ اس نے ملزم کے منہ سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے۔ وہ ایک سیدھا سادا مسلمان ہے۔ کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اس نے غلط طور پر ملزم کو اس جرم میں ملوث کیا جس کی زیادہ سے زیادہ سزا مقرر ہے۔ گواہِ استغاثہ نمبر 3 کا تعلق کسی بھی مسلک سے نہیں۔ وہ بھی ایک سادہ سا مسلمان ہے۔ اس کی بھی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی

صفحہ 484

یا مخاصمت نہیں ہے۔ اگر ملزم کو مجرم قرار دیا جاتا ہے یا اسے سزا دی جاتی ہے تو اس سے گواہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس نے بیان حلفی دیا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3، ملزم کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے حوالے سے باہم متفق ہیں۔ ملزم نے لاؤڈ سپیکر پر تقریر کرنے ممانعت کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاؤڈ سپیکر پر تقریر کی اور گواہان استغاثہ نے اس سے اتفاق کیا۔ تفتیشی افسر نے استغاثہ کے موقف کی توثیق کی۔ اگرچہ ، ملزم ایک تعلیم یافتہ 'خطیب' ہے، لیکن اسے حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی عزت مآب والدہ محترمہ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فاضل وکیل صفائی کی جانب سے پیش کیے گئے حقائق ،مقدمہ ہذا کے حقائق سے میل نہیں کھاتے، اس لیے ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

اللہ تعالیٰ کو حضور نبی اکرم ﷺ کی آواز سے کسی کی اونچی آواز پسند نہیں۔ اس کا اظہار قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیت میں کیا گیا ہے۔ ”اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی کریم (ﷺ) کی آواز سے اور نہ زور سے آپ (ﷺ) کے ساتھ بات کیا کرو۔ جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو۔ (اس بے ادبی سے) کہیں ضائع نہ ہو جائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو“۔ (الحجرات: 2) جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، ملزم نے ایسے الفاظ بولے جو یقینی طور پر نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی والدہ محترمہ کی شان کی گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ اگر وہ منکسر اور عاجز بھی ہوں تو وہ بلند آواز سے بولیں۔ ملزم نے معاشرہ میں محض فتنہ و فساد برپا کرنے کے لیے بغیر کسی وجہ اور توجیہہ کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اسلام امن و سکون کا مذہب ہے جس نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ امن و سکون سے رہیں۔ جو شخص، مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ذریعے فساد فی الارض برپا کرتا ہے، وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے: (ترجمہ): ”بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب“۔ (الاحزاب: 57)

ملزم نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: (ترجمہ): ”اور جو لوگ دل دکھاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کا

صفحہ 485

بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (معیوب) کام کیا ہو تو انہوں نے اٹھا لیا (اپنے سر پر) بہتان باندھنے اور کھلے گناہ کا بوجھ ۔ (الاحزاب: 58)

اس قسم کے متنازع الفاظ کہنے کی کوئی منطق اور توجیہہ نہیں تھی۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 کے بیانات اور تفتیشی افسر کی تفتیش سے یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ نماز جمعہ کے اجتماع میں ملزم کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے گئے۔ اس لیے، ملزم پر عائد کیے گئے الزامات بغیر کسی شک وشبہ کے ثابت ہوتے ہیں۔ اس قسم کے الفاظ کو دہرانے سے احتراز کرتے ہوئے ملزم کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔ ملزم کی طرف سے بولے گئے الفاظ ناقابل برداشت ہیں اور اگر اسے آزاد رہنے دیا گیا تو پھر دیگر افراد کو اس فتنہ کا سد باب کرنے کی ہمت افزائی حاصل ہوگی اور دیگر افراد میں اس قسم کا جرم دوبارہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ اس لیے ملزم، زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان، سزائے موت کا مستحق ہے۔ اس لیے، ملزم، مولوی طاہر عاصم کو زیر دفعہ C-295، مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے سزائے موت کے ساتھ -/30,000 روپیہ جرمانہ بھی کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ ملزم کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم سزائے موت پر عمل درآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ اس فیصلے کی نقل مجرم کو مفت مہیا کر دی گئی ہے۔ اسے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف 7 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اس فیصلہ کی نقل، زیر دفعہ 373 مجموعہ ضابطہ فوجداری، برائے معلومات، ڈی سی اور ای ڈی او (L) گجرات کو مہیا کی جائے گی۔ ملزم، اس وقت عدالت کی تحویل میں ہے۔ اسے سزا بھگتنے کے لیے جیل بھیجا جا رہا ہے۔ عدالت ہذا کے اہلمد کو مقدمہ ہذا کی فائل مکمل کرنے کے بعد، سزائے موت کی توثیق کی خاطر معزز عدالت عالیہ لاہور، کو بھیجنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ میاں مرید حسین 6 جون 2003ء ایڈیشنل سیشن جج ، گجرات

۞.......۞.......۞

صفحہ 486
صفحہ 487

جناب سردار محمد ارشاد خاں ایڈیشنل سیشن جج پشاور

سرکار بنام منور محسن وغیرہ ، جولائی 2003ء

صفحہ 488
صفحہ 489

دل کی بات

29 جنوری 2001ء کو انگریزی روزنامہ ”فرنٹیئر پوسٹ“ (Daily Frontier Post) میں ”آپ کے خیالات“ (Your Views) نامی کالم میں بینڈزک (Bendzac) نامی ایک یہودی کا خط بعنوان ”مسلمان یہودیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟“ (Why Muslims Hate Jews) شائع ہوا جس میں اسلام، قرآن اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی گئی جس کے باعث مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مشتعل ہوئے۔ اس اشتعال انگیز خط کی اشاعت پر پورے پاکستان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور اخبار کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ حکومت نے فوری طور پر فرنٹیئر پوسٹ کا دفتر اور پرنٹنگ پریس سیل کر دیا۔ (27 جون 2001ء کو یہ اخبار دوبارہ شائع ہونا شروع ہو گیا) گورنر سرحد نے اس واقعہ کی اشاعت کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد قائم جان خان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جس نے سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اخبار کے منیجنگ ایڈیٹر، ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹر اور کمپوزر اس افسوسناک واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔ مزید کہا کہ بدانتظامی اور غیر پیشہ ورانہ امور کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔ مرکزی ملزم منور حسن بنیادی طور پر گزشتہ دس برس سے منشیات کا عادی تھا۔ اس نے کبھی بھی ایڈیٹوریل صفحے پر کام نہیں کیا تھا لیکن اس دن اسے اس کام پر مامور کیا گیا۔ چنانچہ سید مہدی حسین ڈائریکٹر انفارمیشن کی طرف سے دی جانے والی درخواست پر 29 جنوری 2001ء کو تھانہ ویسٹ کینٹ پشاور میں اس واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 295-A، 295-B اور 295-C کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے اخبار کے ایڈیٹر اور رپورٹر سمیت 17 افراد کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔

تقریباً اڑھائی سال تک اس اہم مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ عالمی یہودی میڈیا

صفحہ 490

نے اس کیس کو بہت زیادہ اچھالا اور اس کیس کو ختم کرانے کے لیے پس پردہ بہت سازشیں کیں اور اس میں جزوی طور پر کامیاب رہے۔ 8 جولائی 2003ء کو جناب سردار محمد ارشاد خان ایڈیشنل سیشن جج پشاور نے مستند شواہد اور گواہیوں کی موجودگی میں ملزم منور محسن کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کیس کا مرکزی ملزم محمود شاہ آفریدی حکام سے ساز باز کر کے مفرور ہو گیا، اس لیے اسے سزا نہ سنائی جاسکی۔

پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ اور معروف دانشور جناب محمد عطاء اللہ صدیقیؒ اپنے فکر انگیز مضمون ”فرنٹیئر پوسٹ کی بحالی“ میں لکھتے ہیں:

”قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”تیرے خدا کی پکڑ بہت سخت ہے“۔ اسے سوئے اتفاق کہا جائے یا پھر قدرت کی بے آواز لاٹھی 27 جون 2001ء کو جب فرنٹیئر پوسٹ دوبارہ منظر عام پر آیا‘ اسی دن اخبارات میں صفحہ اول پر یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ ”فرنٹیئر پوسٹ“ کے مالک اور چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی کو ڈرگ کورٹ نے دو مرتبہ سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ اس دن دیکھنے والی آنکھوں نے یہ عبرت ناک منظر بھی دیکھا کہ گستاخان رسول کی حمایت کرنے والا آفریدی عدالت سے سزا سننے کے بعد جب پولیس کی معیت میں باہر آ رہا تھا تو زار و قطار رو رہا تھا۔ اس کی یہ عبرت آموز تصویر بھی اخبارات میں صفحہ اول پر شائع ہوئی۔

رحمت شاہ آفریدی کا اخبار گزشتہ کئی برس سے قانون توہین رسالتؐ 295 سی کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر اس کی منسوخی کی مہم چلائے ہوئے تھا۔ جب بھی کسی گستاخ رسول کے خلاف مقدمہ قائم کیا جاتا، فرنٹیئر پوسٹ نے ہمیشہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ گستاخان رسولؐ اور ان کی اعانت کرنے والے رسوائی اور ذلت سے دو چار ہوتے ہیں۔ بظاہر رحمت شاہ آفریدی کو یہ سزا ڈرگ کورٹ نے دی ہے، مگر راقم الحروف کا وجدان کہتا ہے یہ سزا اسے اس ”عدالت“ نے دی ہے‘ جس سے ہمیشہ عدل کا مطالبہ نہیں، بلکہ اس کے فضل کی درخواست کی جانی چاہیے اور جس کی غیرت اپنے محبوب پیغمبرﷺ کی شان میں گستاخی کو کبھی برداشت نہیں کرتی۔ رحمت شاہ آفریدی کا پچھلے دنوں ایک ماہنامہ میں کالم شائع ہوا جس میں وہ رات کو اٹھ اٹھ کر جیل کے درختوں سے مخاطب ہوتا اور ستاروں سے باتیں کر کے اپنی قید کی داستان سناتا ہے۔ شاید کہ جیل میں رات کی تاریکی

صفحہ 491

میں ضمیر کا چراغ روشن کر کے وہ دیکھ سکے کہ آقائے نامدارﷺ کے دشمنوں کو تحفظ دینے میں اس سے کہاں کہاں اور کس قدر کوتاہیاں ہوئی ہیں اور پھر شاید اس کی آنکھیں اس سے کہیں زیادہ آنسو بہائیں۔ جس قدر ڈرگ کورٹ سے سزا سننے کے بعد اس نے آنسو بہائے۔

یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ”فرنٹیئر پوسٹ“ میں شائع ہونے والا یہودی خبیث کا توہین آمیز خط اگرچہ ایک بہت بڑی جسارت تھا، مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا ”واقعہ“ نہیں تھا، جو اس اخبار کے حوالے سے منظر عام پر آیا۔ اس سے پہلے نسبتاً کم درجہ کی توہین آمیز جسارتیں تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتی رہیں۔ چونکہ ان کا کسی نے نوٹس تک نہ لیا، لہٰذا ان کی جرات، گفتار و جسارت اظہار میں بے باکانہ اضافہ ہوتا گیا۔ مذکورہ اہانت آمیز خط سے چند ہفتے پہلے ایک ریٹائرڈ میجر، جو قادیانی ہے، کی جانب سے تین چار ایسے خطوط فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہوئے، جن میں مسلمانوں کی دل آزاری کا بہت مواد موجود تھا۔ مارچ 2001ء کے تیسرے ہفتے میں جب راقم الحروف پشاور گیا، تو وہاں ایک صاحب نے بتایا کہ یہ میجر صاحب اس معروف قادیانی فوجی جنرل کے صاحبزادے ہیں، جنہوں نے آپریشن جبرالٹر کے ذریعے کشمیر پر قابض ہو کر وہاں قادیانی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی حتی الامکان کوشش کی تھی۔ لاہور میں بھی ایک دو صحافیوں کی زبانی کچھ اس طرح کے خیالات سننے میں آئے۔ پھر ذرا ذہن میں لائیے۔ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کا مقدمہ تو ماضی قریب کا معاملہ ہے۔ ان گستاخان رسول ﷺ پر جب مقدمہ چل رہا تھا، پوری سیکولر لابی ان کے دفاع کے لیے دیوانہ وار میدان میں کود پڑی تھی، مگر اس مجنونانہ مہم میں فرنٹیئر پوسٹ نے اپنے اداریوں میں جس قدر زشت خوئی اور جنون خیزی کا مظاہرہ کیا‘ اس کا موازنہ کسی اور سیکولر اخبار یا میگزین سے نہیں کیا جاسکتا۔ راقم الحروف کو تعجب تھا کہ جب ایک مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے‘ تو پھر ایک انگریزی اخبار میں دفعہ 295 سی کے خلاف اس قدر مکروہ شرانگیزی کیوں کی جارہی ہے؟ اس مقدمہ کی آڑ میں نہ صرف قانون توہین رسالتؐ کو نشانہ بنایا گیا تھا، بلکہ علمائے دین اور دین پسند طبقہ کے خلاف سخت بدزبانی اور ہرزہ سرائی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کیس کی تفصیلات بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے مگر اپنے علم و یقین کی بنیاد پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ کا اندراج سو فیصد درست تھا۔ راقم کی نگاہ سے وہ خط گزرا ہے، جس میں سلامت مسیح کے چچا نے کراچی

صفحہ 492

سے مولوی فضل حق صاحب خطیب مسجد سے درخواست کی تھی کہ بچوں سے ناسمجھی میں غلطی ہوگئی ہے، جس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔ عدالتوں میں سے کسی کے بری ہونے نہ ہونے کا لازمی مطلب کسی کی بے گناہی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عدالتیں اپنے فیصلے پیش کردہ شہادتوں اور ان پر جرح کو پیش نظر رکھ کر کرتی ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے، اگرچہ افسوس ناک بھی کہ پاکستان میں رشدی نسل کے کچھ ”دانشور“ موجود ہیں جو بالخصوص انگریزی اخبارات میں گھسے ہوئے ہیں۔ وہ نام کے تو مسلمان ہیں، مگر ان کے قلوب اسلام اور ان کے محبوب پیغمبر ﷺ کے خلاف نفرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پھر ان میں سے کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں، جن کے ذہن میں انسانی حقوق کا مسخ شدہ تصور موجود ہے۔ وہ ہر بات کو شائع کرنا، اظہار رائے کی آزادی کا عین تقاضا سمجھتے ہیں۔ چاہے اس میں توہین رسالت پر مبنی مواد کیوں نہ موجود ہو۔ سیکولر دانشور تو ایک طرف ہندوستان کے ایک معروف مذہبی سکالر مولانا وحید الدین خان نے تو سلمان رشدی کے اظہار رائے کے حق کے دفاع میں باقاعدہ ”شتم رسول کا مسئلہ“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ ماری ہے۔ ”فرنٹیئر پوسٹ“ کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ ایسے گستاخان رسول کی تحریروں کو شائع کرتا رہا ہے۔ فرنٹیئر پوسٹ کا وہ متعلقہ شخص، جس پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اس نے ہی خط شائع کیا، وہ یہ خط کبھی شائع نہ کرتا اگر اسے ذرہ برابر بھی خدشہ ہوتا کہ رحمت شاہ آفریدی یا اخبار کے دیگر ذمہ داران اس حرکت کو ناپسند کریں گے۔ اسے اخبار کی پالیسی، پسند ناپسند کا بخوبی علم تھا، اسی لیے کسی خوف، ملامت یا جواب دہی کے تصور سے بے پروا ہو کر اس نے یہودی دریدہ دہن کا خط شائع کر دیا۔ رحمت شاہ آفریدی تو اس خط کے پیچھے ”مشرق“ کا ہاتھ بتاتے ہیں مگر ان کا ذہن صہیونی لابی کی طرف کیوں نہ گیا، جو تمام دنیا میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف مواد شائع کرنے میں کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ یہی یہودی لابی ہی تو تھی، جس نے سلمان رشدی کی کتاب کا معاوضہ دس کروڑ روپے تک ادا کیا۔ یہی لابی ہی تو ہے جو تسلیمہ نسرین جیسی بے حیا اسلام دشمن عورت کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ فرنٹیئر پوسٹ میں کام کرنے والے صحافی کو یہودی لابی نے خرید لیا ہو۔ آج کل ای میل اور انٹرنیٹ کے ذریعے اس طرح کے رابطے استوار کرنا ایک معمولی بات ہے۔ راقم الحروف نے پشاور میں قیام کے دوران

صفحہ 493

بہت کوشش کی کہ اس یہودی خبیث کا ای میل نمبر معلوم ہو جائے مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ فرنٹیئر پوسٹ کا سب ایڈیٹر منور محسن جو ایڈیٹر کی ڈاک والے حصہ کا انچارج تھا، نے گرفتاری کے بعد یہ عذر تراشہ کہ ڈاک کے رش کی وجہ سے وہ اس یہودی کے خط کا صرف پہلا پیراگراف ہی دیکھ سکا، تمام خط نہ پڑھ سکا۔ اس کا یہ عذر دیوار پر اٹھا کر مار دیئے جانے کے قابل ہے۔ راقم الحروف نے وہ غلیظ خط دیکھا ہے اور ہر وہ شخص جسے اس دل آزار خط کے پڑھنے کی اذیت سے گزرنا پڑا ہے، اتفاق کرے گا کہ اس خط کے پہلے پیراگراف میں ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف لکھا جا رہا ہے اور اس خط کا عنوان ہی چونکا دینے والا ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کوئی روٹین کا خط تھا؟ کیا اس میں کسی گلی محلے میں پانی کے مسئلہ کی طرف توجہ دلائی گئی تھی؟ نہیں ایسا نہیں۔ اس میں واضح طور پر یہودیت بمقابلہ اسلام کی بات کی گئی تھی۔ آخر وہ کون سا صحافی ہے جو اس طرح کے غیر معمولی خط کو بغیر پڑھے ہوئے شائع کرا دے؟ پھر یہ خط کوئی بہت مفصل بھی نہیں تھا پانچ چھ پیراگراف پر مبنی ہے، آخر اسے پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ ایک شخص اپنے پیشہ ورانہ فرائض میں جس قدر بھی مصروف ہو، دو تین منٹ آخر نکال ہی لیتا ہے۔ صحافت کے پیشہ سے وابستہ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ خبروں کا صفحہ ہو یا ادارتی صفحہ، ان صفحات کے انچارج ایک ایک سطر پڑھنے کے بعد اسے فائنل کرتے ہیں۔ اخبارات کے دفاتر میں مدیر صاحبان کے خلاف گالی گلوچ پر مبنی سینکڑوں خطوط موصول ہوتے ہیں، آج تک غلطی سے اور ناسمجھی میں اس طرح کا تو کوئی ایک خط بھی شائع نہیں ہوسکا۔ آخر یہ ”ناسمجھی“ کے افسانے اس مقدس ہستی کے خلاف دریدہ دہنی کی اشاعت کے لیے کیوں تراشے جاتے ہیں، جو محسن انسانیت ﷺ اور وجہ تخلیق کائنات ہے؟ اور یہ افسانے بھی تب ہی تراشے گئے، جب مسلمانوں نے اس خط کے خلاف شدید احتجاج برپا کیا اور ہنگامہ آرائی کی۔ اگر اس کے خلاف احتجاج نہ کیا جاتا، تو یہی خط انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی بھی پاسداری کے اعلیٰ معیار اور شاندار کارناموں کے ناقابل تردید ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا۔ پورے یورپ اور امریکہ میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا کہ دیکھئے پاکستان میں بھی صحافت کس قدر ”آزاد“ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ کے خلاف خط کو شائع کر سکتی ہے۔ انہیں بتایا جاتا کہ آپ نے سلمان رشدی کی ”شیطانی آیات“ شائع کر کے آزادی اظہار کا عظیم ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔ ہماری اس ”حقیر کاوش“ کو بھی نگاہ میں رکھنا چاہیے اور شاید

صفحہ 494

رحمت شاہ آفریدی کو ان ”خدمات“ کے عوض اس قدر مال ہاتھ آتا، جو وہ ڈرگ کی سمگلنگ میں اب تک نہ کما سکا۔“

اس فیصلہ کے حصول کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما جناب مولانا عزیز الرحمن ثانی، پشاور کے امیر حضرت مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ، ایبٹ آباد کے مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان ، عزیزہ محترمہ پروین اختر ایڈووکیٹ صاحبہ نے بے حد کوشش کی ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاک پائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 495

بعدالت جناب سردار محمد ارشاد خان ایڈیشنل سیشن جج، پشاور

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 38/2001 تاریخ چالان : 17 فروری 2001ء ایف آئی آر نمبر : 47 بتاریخ 29 جنوری 2001ء پولیس سٹیشن : ویسٹ کینٹ پشاور بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A 295-B، 295-C اور 505، 16 ایم پی او

سرکار

بنام

(ملزمان)

تاریخ فیصلہ : 8 جولائی 2003ء

صفحہ 496

فیصلہ

جناب سردار محمد ارشاد خان ایڈیشنل سیشن جج، پشاور

مذکورہ بالا ملزمان کے خلاف پولیس سٹیشن ویسٹ کینٹ پشاور میں مورخہ 29-01-2001 کو درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 47، زیر دفعات 295-A,B,C/505، تعزیرات پاکستان، جسے دفعہ 16 ایم پی او کے ساتھ پڑھا جائے، کا چالان پولیس نے مذکورہ الزامات کے تحت مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت ہذا میں پیش کیا کہ انہوں نے مفرور شریک جرم ملزم محمود آفریدی جس نے دانستہ طور پر روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ (Daily Frontier Post) میں ایک خط کی اشاعت کے ذریعے پاکستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل کیے جس میں انہوں نے قرآن کریم کے ایک اقتباس کی بے حرمتی کی اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور اسے گستاخانہ اور اہانت آمیز انداز میں استعمال کیا، حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے، حضور نبی اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کی اور یوں مختلف مذہبی مسالک کے درمیان نفرت اور مخاصمت کے جذبات پیدا کیے۔

ڈبلیو۔ ایف۔ پی، پشاور، کی طرف سے تحریری اطلاع کے ذریعے ہوا، جس میں مختصر طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ”روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ“ میں 2001-01-29 کو ”آپ کے خیالات“ نامی کالم میں Bendzac (نامی ایک شخص) کا ایک خط بعنوان ”مسلمان، یہودیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں“۔ (Why Muslims Hate Jews) شائع ہوا جس میں حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی گئی جس کے باعث پاکستانی

صفحہ 497

مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے۔ یہ خط موصول ہونے پر، متذکرہ بالا ایف آئی آر کے مطابق ایک مقدمہ درج کیا گیا اور مقامی پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا جس کے دوران ملزمان (جن کے نام اوپر دیے گئے ہیں) کو اس نفرت انگیز اور کریہہ فعل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

تفتیش کے مکمل ہونے پر، معزز سیشن جج، پشاور کی عدالت میں مکمل چالان پیش کیا گیا جس نے ملزم کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے لیے اسے عدالت ہذا کو تفویض کیا۔ مسل مقدمہ موصول ہونے پر، ملزمان کو طلب کیا گیا جو عدالت میں پیش ہو گئے۔ بعد ازاں زیر دفعہ 265-C مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی اور انہیں سنائی گئی۔

ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کے لیے کہا جس کے باعث استغاثہ کو ان کے خلاف اپنا ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔ ملزمان کے خلاف اپنا الزام ثابت کرنے کے لیے استغاثہ نے مندرجہ ذیل گیارہ گواہ پیش کیے:

استغاثہ کی گواہیوں کا مختصر خاکہ مندرجہ ذیل ہے:

گواہ استغاثہ نمبر 1: شاہ نواز، انسپکٹر نے سید مہدی حسین، ڈائریکٹر انفارمیشن کی طرف سے مراسلے کی شکل میں تحریری درخواست موصول ہونے پر مقدمہ ایف آئی آر نمبر 47 درج کیا جو (Ex.P.A) ہے۔ 30-1-2001 کو اس نے جائے وقوعہ، یعنی فرنٹیئر پوسٹ

صفحہ 498

کے دفتر، کا دورہ کیا اور ملزمان، آفتاب احمد، امتیاز حسین، وجیہہ الحسن، قاضی غلام سرور اور منور محسن کو گرفتار کر لیا۔ اس نے جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.P.B) تیار کیا۔ جاوید خان، ڈپٹی مجسٹریٹ بھی اس گواہ کے ہمراہ تھا۔ اس نے ریکوری میمو نمبر (Ex.P.W.1/1) کے مطابق، جائے وقوعہ سے جرم کے ارتکاب کی مختلف امدادی اشیاء یعنی، 22 عدد مانیٹر ، بالترتیب (Ex.P1) تا (Ex.P22)، 16 عدد سی پی یو، 16 عدد کی بورڈ، 2 عدد پرنٹر، ایک عدد سکینر، ایک عدد رنگین ٹی وی، ایک عدد فیکس مشین، ایک عدد رنگین ٹی وی 20 انچ، رجسٹر حاضری برائے ملازمین، روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ مورخہ 2001-1-29 کا شمارہ جو بالترتیب (Ex.P23) تا (EX.P32) ہیں، اپنے تحویل میں لے لیں۔ اس نے ملزمان کو اپنی تحویل میں لے لیا اور پھر تفتیش کرائمز برانچ، پشاور کو تفویض کر دی گئی۔ وہ اس ریکوری میمو (Ex.P.W.2/3) کا سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزم، منور محسن علی کی نشاندہی پر جرم پر مشتمل صفحہ (A/1) کو اپنی تحویل میں لے لیا اور ملزم پولیس کی تحویل کے دوران، پولیس پارٹی کو اپنے دفتر لے کر گیا اور وہ طریقہ بتایا جس کے ذریعے جرم میں مستعمل مواد تیار کیا گیا۔ متذکرہ صفحہ (Ex.P.34) ہے۔ وہ ریکوری میمو (Ex.P.W.2/1) کا سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزم سید وجیہہ الحسن کی نشاندہی پر، ایک عدد، سرور (server)، (Ex.P.33) اپنی تحویل میں لے لیا جس کے ذریعے جرم میں مستعمل صفحہ کا لے آؤٹ (layout) بنایا گیا تھا۔ وہ اس ریکوری میمو (Ex.P.W.2/2) کا بھی سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ مورخہ 2001-1-29 کے 1 اور 12 صفحات پر مشتمل دو پلیٹیں (plates)، (Ex.P.34) اور (Es.P.35) اپنی تحویل میں لے لیں۔ اسی تاریخ کے صفحات 4 اور 9 کی ایک پلیٹ (plate)، جو (Ex.P.36) ہے۔ اسی تاریخ کے 6 اور 7 صفحات کی ایک پلیٹ (plate)، جو (Ex.P.37) ہے۔ اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے اور کرائمز برانچ کی طرف سے تفتیش مکمل کئے جانے کے بعد، اس نے عدالت ہذا میں ملزمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے لیے چالان پیش کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 2: خطاب گل، ایس آئی، ریکوری میمو (Ex.P.W.2/1) کا سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزم سید وجیہہ الحسن کی نشاندہی کے دوران، مرکزی کمپیوٹر سرور(main computer server)، اپنی تحویل میں لے لیا جس کے

صفحہ 499

ذریعے متنازعہ مواد تیار کیا گیا اور جو (Ex.P.33) ہے۔ اسی طرح، وہ ریکوری میمو (Ex.P.W.2/2) کا بھی سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے روزنامہ فرنٹیر پوسٹ مورخہ 2001-01-29 کے 1 اور 12 صفحات کی پلیٹیں (plates) اپنی تحویل میں لے لیں جو (Ex.P.34) اور (Ex.P.35) ہیں۔اسی تاریخ (کے اخبار) کے صفحات 4 اور 9 کی ایک اور پلیٹ (plate) جو (Ex.P.36) ہے، بھی تفتیشی افسر نے اپنی تحویل میں لے لی۔ صفحات 6 اور 7 کی ایک اور پلیٹ (plate)، (Ex.P.37) بھی تحویل میں لے لی گئی۔ اسی طرح وہ ریکوری میمو (Ex.W.2/3) کا بھی سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزم منور حسن کی نشاندہی کے دوران ، مین کمپیوٹر (Main Computer)، (A/4Ex.P.38) برآمد کر لیا جس کے ذریعے ملزم نے ای میل کا چھپا ہوا مواد موصول کیا۔ وہ اس ریکوری میمو (Ex,P.W.2/4) کا بھی سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے، ملزم آفتاب کے گھر کی تلاشی کے دوران،انگریزی میں ملزم آفتاب کی لکھائی میں تحریر 80 صفحات برآمد کیے جو لفافوں میں سربمہر کیے گئے۔مورخہ 2001-2-3 کو اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے۔ ان کے علاوہ اس نے گواہان استغاثہ مجیب الرحمٰن اور محمد اویس کے بیانات زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کیے۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہ استغاثہ، اعجاز احمد خان کا بیان بھی قلمبند کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 3: عابد رحیم، ایس آئی، کرائمنز برانچ، اس ریکوری میمو (Ex.P.W.3/1) کا سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے ڈیلی فرنٹیئر پوسٹ، پشاور کی انتظامیہ کی طرف سے اردو میں معافی کی چھپی ہوئی درخواست اپنی تحویل میں لی جو مختلف اخبارات میں شائع ہوئی اور جو (Ex.P.39) ہے اور مشتہر کی طرف سے خط (Ex.P.40) ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 4:محبوب الٰہی، ڈی ایس پی نے بیان کیا کہ 2001-02-19 کو اس نے ای میل کی معقولیت اور درستگی کے لیے روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ کی ملکیت 3 عدد سی پی یوز میں سے 2 عدد سی پی یوز کا معائنہ کیا۔ یہ سی پی یوز، مین این۔ٹی۔ سرور main) (N.T.Servre کے ایک سی پی یو اور ایک انٹرنیٹ کمپیوٹر کے لیے ہے۔ رحمت اللہ خان، پرنسپل، Epistemics کالج، خیبر کالونی نمبر 2، یونیورسٹی روڈ، پشاور کے ساتھ مشاورت

صفحہ 500

کے ذریعے کمپیوٹر کے مکمل معائنے کے بعد، اس گواہ نے مندرجہ ذیل نکات دریافت کیے:

فولڈر (folder) کو خالی پایا گیا۔

طور پر ختم نہیں ہوئی۔

سے مستقل طور پر وزٹ کرتا ہے۔

یہ خاص ای میل، وہاں بھی نہیں مل سکی اگرچہ ٹریش فولڈر میں اسی تاریخ کی دیگر ای میلز موجود تھیں۔ مندرجہ بالا نکات کے ذریعے صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ فرنٹیئر پوسٹ کے انٹرنیٹ کمپیوٹر کے ذریعے مندرجہ ذیل ای میل موصول ہوئی، اس لیے، اس کی نقل اور ای میل فارمیٹ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

گواہ استغاثہ نمبر 5: سید مہدی حسین، ڈائریکٹر انفارمیشن، نے بتایا کہ 29-1-2001 کو اس نے مراسلہ کی شکل میں ایک درخواست کا مسودہ تیار کیا جو (Ex.P.A./1) ہے، جسے ایس ایچ او ویسٹ کینٹ پشاور کے روبرو پیش کیا گیا جس کا تعلق ”روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ“ میں 29-1-2001 کو ”آپ کے خیالات“ نامی کالم میں Bendzac (نامی ایک شخص) کا ایک خط بعنوان ”مسلمان، یہودیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں“ کی اشاعت سے ہے جس میں حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی گئی۔ یہ درخواست (Ex.P.A./1) ہے جو اس کی اپنی لکھائی میں ہے اور اس پر گواہ کے دستخط بھی درست طور پر ثبت ہیں۔ یہی درخواست، ایس ایچ او پولیس سٹیشن، ویسٹ کینٹ کو مراسلہ میں مذکور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے بھجوائی گئی۔

گواہ استغاثہ نمبر 6: جہانزیب سرحدی، نے بتایا کہ اس نے 1993ء میں فرنٹیئر پوسٹ میں بطور کاپی پیسٹر، ملازمت اختیار کی اور پھر بعد ازاں اسے کمپوزر کمپیوٹر کی حیثیت سے ترقی دے دی گئی۔ کچھ عرصہ تک اس نے پیج میکنگ کا کام بھی کیا۔ پیج بنانے کے بعد وہ اسے

صفحہ 501

سرور اعوان کو بھیج دیتا۔ 2001-1-27 کو اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد وہ دفتر سے چلا آیا اور 2001-1-28 کو اس کی ہفتہ وار چھٹی تھی۔ 2001-1-29 کو جب وہ دفتر آیا تو توہین رسالت ﷺ پر مشتمل خط، بعنوان ”مسلمان، یہودیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں“ پہلے ہی شائع ہو چکا تھا۔ دفتر میں کوئی بھی موجود نہ تھا، اس لیے، وہ اس سلسلہ میں کسی سے دریافت نہ کرسکا۔ چونکہ سرور اعوان، چھٹی پر تھا، اس کی غیر موجودگی میں، منور محسن، بطور سینئر ایڈیٹر، ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا، اس لیے اس کا فرض تھا کہ وہ شائع شدہ خط بعنوان ”مسلمان، یہودیوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں“ کے مندرجات اور مقصد کا جائزہ لے۔ منور محسن، ملزم، متذکرہ بالا خط کی اشاعت کا ذمہ دار تھا اور یہ بھی کہ اس ضمن میں اس کا بیان زیر دفعہ 161/164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بھی قلمبند کیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 7: مجیب الرحمٰن، سب ایڈیٹر، نے بتایا کہ اس نے روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ میں بطور پروف ریڈر 1986-12-10 کو ملازمت اختیار کی۔ بعد ازاں، اسے 1-7-2000 کو بطور سب ایڈیٹر ترقی دے دی گئی۔ مقدمہ ہذا میں زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، 2001-2-3 کو اس گواہ پر جرح کی گئی جو (Ex.P.W.7/1) ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 8: محمد عمران خان، جوڈیشل مجسٹریٹ، نے بتایا کہ وقوعہ کے دنوں میں وہ بطور جوڈیشل مجسٹریٹ، پشاور، تعینات تھا۔ 2001-02-03 کو مقامی پولیس نے ملزم منور محسن علی کا اعترافی بیان قلمبند کرنے کے لیے اسے، اس کی عدالت میں پیش کیا اور پھر تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل اور پھر یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ ملزم، اپنی مرضی سے اعترافی بیان دے رہا ہے، اس نے ملزم کا اعترافی بیان (Ex.P.W.8/1) قلمبند کیا۔ سوالنامہ (Ex.P.W.8/2) ہے اور اس کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ (Ex.P.W.8/3) ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 9: عین الدین خان، ڈی ایس پی، نے بتایا کہ وقوعہ کے دنوں کے دوران، وہ بطور انسپکٹر کرائمز برانچ، پشاور، تعینات تھا۔ 2001-1-31 کو آئی۔جی۔پی کے احکامات کے مطابق، مقدمہ ہذا کی تفتیش اسے تفویض کی گئی۔ اس نے تفتیش شروع کر دی۔ کمپیوٹر اور دیگر مشینیں، جو پہلے ہی پولیس سٹیشن، ویسٹ کینٹ، میں موجود ہیں، کو اس نے ملزم سید وجیہہ الحسن کی نشاندہی پر گواہان کی سرسری موجودگی میں ریکوری میمو (Ex.P.W.2/1) کے مطابق، اپنی تحویل میں لے لیا۔ میمو پر اس نے دستخط کیے ہیں۔

صفحہ 502

قابل اعتراض مواد (مسلمان، یہودیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں)، کمپیوٹر سے لیا گیا جو (Ex.P.W.9/1) ہے۔ اس کا پرنٹ (چھاپہ)، ملزم منور محسن علی کے ایما/نشاندہی پر لیا گیا اور اس مقصد کی خاطر اس نے ریکوری میمو (Ex.P.W.2/3) تیار کیا۔ ملزم، منور محسن کی نشاندہی پر اس نے جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.P.B) نہایت ہی درست طور پر تمام حواشی اور خاکوں کے ساتھ تیار کیا۔ اس نے گواہان کی سرسری موجودگی میں ریکوری میمو (Ex.P.W.2/2) کے مطابق، متذکرہ میمو میں مذکور اشیا کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس نے ان مقامات کے لحاظ سے جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.P.B./1) بھی تیار کیا جہاں سے متذکرہ بالا پرنٹنگ پلیٹس، برآمد کی گئی تھیں۔ اس کی درخواست مورخہ 2001-2-2 کے مطابق، ایم آئی سی نے ملزم آفتاب احمد کے نمونہ کے دستخط حاصل کیے جو اس کے حوالے کیے گئے اور جو اس نے ریکوری میمو (Ex.P.W.9/4) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس لحاظ سے اس کی درخواست (Ex.P.W.9/3) ہے۔ ریکوری میمو (Ex.P.W.9/2) کے مطابق، اس نے دو عدد سی پی یوز کو ملزم وجیہہ الحسن کی نشاندہی پر سرسری گواہان کی موجودگی میں اپنی تحویل میں لے لیا۔ 2001-2-6 کو ملزم آفتاب احمد کے گھر کی تلاشی لی گئی اور دوران تلاشی، 80 صفحات پر مشتمل انگریزی میں لکھا ہوا مواد برآمد ہوا جسے اس نے ریکوری میمو ( E x . P . W . 9 / 5 ) کے مطابق، اپنی تحویل میں لے لیا۔ طبع شدہ (چھپا ہوا) مواد، ڈائریکٹر، ایف ایس ایل، پشاور کی درخواست مورخہ 2001-2-8 پر اسے بھیجا گیا جس کی نقل (Ex.P.W.9/6) ہے۔ روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ، پشاور کی انتظامیہ نے، قابل اعتراض مواد کی اشاعت پر، دونوں، اردو اور انگریزی میں معذرت اور معافی نامہ شائع کیا جسے ریکوری میمو (Ex.P.W.3/1) کے مطابق اس نے اپنی تحویل میں لے لیا جبکہ انگریزی میں معافی نامہ ( E x . P . W . 9 / 8 ) اور اردو میں معافی نامہ (Ex.P.W.9/9) ہے۔ ریکوری میمو مورخہ 2001-4-16 کے مطابق، اس نے محبوب الٰہی، کمپیوٹر انچارج، کی طرف سے پیش کیے گئے انگریزی میں تین خطوط، سرسری گواہان کی موجودگی میں ریکوری میمو (Ex.P.W.9/10) کے مطابق، اپنی تحویل میں لے لیے۔ یہ بھی کہ روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ کا پبلشر، رحمت شاہ آفریدی کسی اور (منشیات کے) مقدمے میں سنٹرل جیل، لاہور میں نظر بند تھا، جیل کے اندر اس نے فرنٹیئر پوسٹ کے پبلشر سے بھی تفتیش

صفحہ 503

کی اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان، قلمبند کیا گیا جو چالان کے کالم نمبر 2 میں لکھا گیا۔ اس نے ملزم منور محسن علی کو اس کی درخواست (Ex.P.W.9/11) کے مطابق، اس کا اعترافی بیان قلمبند کرنے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ اس نے ملزم آفتاب احمد کو بھی اس کی درخواست (Ex.P.W.9/12) کے مطابق اس کا اعترافی بیان قلمبند کرنے کے لیے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا لیکن اس نے جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنی درخواست (Ex.P.W.9/13) کے مطابق، اس نے متذکرہ بالا ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست کی۔ اپنی درخواستوں، (Ex.P.W.9/14) اور (Ex.P.9/15) کے مطابق، اس نے ملزم محمود خان آفریدی کے خلاف زیر دفعہ 204، وارنٹ حاصل اور زیر دفعہ 87 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اشتہار مفروری و گرفتاری حاصل کیے۔ کمپیوٹر انچارج، سی۔پی۔او۔پشاور کے نام اپنی درخواست مورخہ 2001-2-16 کے مطابق، اس نے ماہرانہ رائے کے حصول کے لیے سی پی یو بھیجا۔ اس درخواست کی نقل (Ex.P.W.9/16) ہے اور اس کا موصول شدہ جواب (Ex.P.W.4/1) ہے۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان استغاثہ اور ملزم کے بیانات قلمبند کیے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد، اس نے مسل مقدمہ، متعلقہ ایس ایچ او کے حوالے کر دی جس نے ملزم کے خلاف مکمل چالان پیش کر دیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 10: حضرت علی خان، اے ایس آئی، بھی ریکوری میمو (Ex.P.W.1/1) کا سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی افسر نے متذکرہ اشیاء کو اپنی موجودگی میں برآمد کیا۔ اس نے ریکوری میمو پر اپنے گواہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اصل دستخط کیے۔

گواہ استغاثہ نمبر 11: منور خان ہیڈ کلرک ریکوری میمو (Ex.P.W. 9/2) کا سرسری گواہ ہے جس کے مطابق تفتیشی آفیسر نے ریکوری میمو میں موجود مضامین کو اپنی تحویل میں لیا۔ اسی طرح، وہ ریکوری میمو (Ex.P.W.9/4) کا بھی سرسری گواہ ہے جس کے مطابق، تفتیشی افسر نے اس کی موجودگی میں سی پی یو، بالترتیب (Ex.P.1) اور (Ex.P.2)، اپنی تحویل میں لیے۔ میمو پر نہایت ہی درست انداز میں اس کے دستخط ثبت ہیں۔

3- بعد ازاں، استغاثہ نے اپنی گواہی مکمل کر لی۔ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزمان پر جرح کی گئی۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر استغاثہ کے الزامات کی تردید کی، اپنی بے

صفحہ 504

گناہی کا دعویٰ کیا اور انہوں نے کہا کہ انہیں قربانی کے بکروں کی حیثیت سے اس مقدمے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے نہ تو گواہی پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی اپنی صفائی میں زیردفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، درکار بیان حلفی دیا۔

سرکار کی طرف سے فاضل ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ، قابل اعتماد گواہان پیش کرنے کے ذریعے، بلاشک و شبہ، تمام ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ بھی کہ ان گواہان پر مفصل جرح کی گئی لیکن مدعالیہان (ملزم کی طرف سے صفائی پیش کرنے والے) کوئی بھی ایسی چیز پیش کرنے میں ناکام رہے جو ان گواہان کو ناقابل اعتماد ثابت کر سکے۔ یہ بھی کہ نہ تو بدنیتی اور نہ ہی کوئی الزام، گواہان کے خلاف ظاہر کیا جاسکا اور نہ گواہان استغاثہ کے خلاف کسی ملزم کے خلاف کوئی بدنیتی یا مخاصمت ثابت کی جاسکی، اس لیے، ان کے قابل اعتماد ہونے کی حیثیت کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

فاضل وکیل صفائی کا موقف تھا کہ استغاثہ کا مقدمہ شک و شبہات اور تضادات سے بھرپور ہے اور مقدمہ ہذا میں ملزمان کو قصور وار ٹھہرانے کے ضمن میں گواہان استغاثہ کے متضاد بیانات پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ فاضل وکیل صفائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ استغاثہ کا مقدمہ بنیادی طور پر پولیس کے گواہان پر منحصر ہے جنہیں ملزمان کو سزا دینے میں دلچسپی ہے۔ لہٰذا، ان کے بیانات کو مدنظر نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ بھی کہ ملزم منور محسن علی کا اعتراف، نہ تو سچ ہے اور نہ ہی ارادی ہے اور اس لیے بطور گواہی، اس کا اعتراف ناقابل قبول ہے۔

4- میں نے فاضل وکیل صفائی اور ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر برائے سرکار کے دلائل سنے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

5- ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مضمون بعنوان ”مسلمان، یہودیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں“، روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ کی اشاعت مورخہ 2001-01-29 کو صفحہ 7 پر ”آپ کے خیالات“ کے حصے میں شائع ہوا۔ یہ Bandzac کی طرف سے ایک خط تھا، جس کی عبارت کو (Ex.P.W.9/1) کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ متذکرہ خط، مبینہ طور پر ملزم منور محسن علی نے ای میل کے طور پر موصول کیا جس کی نشاندہی پر تفتیشی افسر نے A/4(P-38) برآمد کیا اور اس کی بڑی شکل بطور (Ex.P.W.9/1) تھی۔ گواہ استغاثہ،

صفحہ 505

جہانزیب سرحدی، فرنٹیر پوسٹ کے ایک ملازم نے بتایا کہ وقوعہ کے دن سرور اعوان، چھٹی پر تھا اور اس کی غیر موجودگی میں منور محسن علی، سینئر ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا اور اس حیثیت سے اس کا فرض تھا کہ وہ اس کی اشاعت سے قبل، اس کے مندرجات کا مکمل جائزہ لے۔ اسی طرح، گواہ استغاثہ، مجیب الرحمٰن، جو فرنٹیر پوسٹ کے ساتھ بطور سب ایڈیٹر منسلک تھا، نے بتایا کہ اخبار کے ایڈیٹر نے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی جگہ پر سرور اعوان، ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ وقوعہ کے روز، متذکرہ سرور اعوان، چھٹی پر تھا اور ملزم منور محسن علی، ایڈیٹر کے فرائض نبھا رہا تھا۔ گواہ استغاثہ عین الدین خان، جس نے مقدمہ کی تفتیش کی، نے بتایا کہ سب ایڈیٹر کی حیثیت سے، ملزم منور محسن علی کی ذمہ داری تھی کہ وہ صفحات 6 اور 7 اور متذکرہ مضمون جو صفحہ 7 پر شائع ہوا، کی ایڈیٹنگ کرے، اس لیے ملزم منور محسن علی، توہین رسالت ﷺ پر مشتمل خط کی اشاعت کا مکمل ذمہ دار تھا۔ گواہ نے مزید بیان کیا کہ قابل اعتراض مواد، صفحہ A/4 پر چھپا جو ملزم آفتاب احمد کی طرف سے اصلاح پر مشتمل تھا اور ملزم منور محسن علی کی طرف سے (Ex.P.W.9/1) میں درکار اور ضروری اصلاحات کی گئیں، اور بعدازاں، متذکرہ ملزم نے یہی مضمون شائع ہونے کے لیے بھیج دیا۔ گواہ استغاثہ، محمد عمران خان، جو اس وقت جوڈیشل مجسٹریٹ، پشاور تھا، نے بیان کیا کہ ملزم منور محسن علی، اس کے روبرو، اپنے جرم کا اعترافی بیان قلمبند کرانے کے لیے پیش ہوا۔ گواہ نے اسے اپنی شناخت کرائی اور اسے بتایا کہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے جرم کا اقرار کرے اور اگر وہ اپنے جرم کا اقرار کر لے تو اس کا یہ بیان، ثبوت کی حیثیت سے اس کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ گواہ نے اعتراف قلمبند کرنے سے قبل، ملزم کو اعتراف جرم کرنے کے خیال پر غور کرنے کے لیے مناسب وقت دیا۔ اس کے باوجود ملزم منور محسن علی نے اپنا اعترافی بیان (Ex.P.W.8/1) دیا جس میں اس نے بیان کیا کہ:

’’خاص طور پر 27 جنوری 2001ء کو، ادارتی صفحے کے اصل انچارج، سرور اعوان کو کسی ہنگامی صورت حال کے باعث چھٹی پر جانا تھا اور منیجنگ ایڈیٹر محمود شاہ آفریدی، نے سرور اعوان کی غیر موجودگی میں مجھے ادارتی صفحہ کا خیال رکھنے کو کہا۔ میں پہلی بار ان صفحات پر کام کر رہا تھا۔‘‘

اسی بیان میں ملزم نے مزید کہا:

’’میں نے، سرخی کے علاوہ خط کے مندرجات پر نظر دوڑانے کے بغیر، امجد کو کہا کہ

صفحہ 506

وہ ”آپ کے خیالات“ کے حصے میں یہ خط چسپاں (شامل) کر دے۔ پھر میں نے دونوں صفحات، یعنی صفحہ 6 اور 7 ، نیوز ایڈیٹر، آفتاب احمد کو سرخیوں کی پڑتال کے لیے بھجوا دیے جو اس نے کی اور یہ صفحات مجھے واپس بھجوا دیے۔ سرخیوں میں کچھ درستیاں کرنے کے بعد جن کی نشاندہی آفتاب احمد نے کی تھی، میں نے صفحات 6 اور 7 کے حتمی چھاپے (print) تیار کیے۔ پھر دونوں صفحات پیسٹنگ سیکشن بھیج دیے گئے اور پھر لوگ جو پیسٹنگ کرتے تھے، انہوں نے صفحات کو آخری چھاپے کے طور پر پیسٹ کیا۔“

الرحمٰن اور عین الدین خان کے بیانات نے تائید کی۔ قانونی کارروائیاں، جو گواہِ استغاثہ محمد عمران خان نے اس کے اعترافی بیان کو قلمبند کرنے سے قبل پوری کیں، کا یقینی مقصد یہ تھا کہ سچا اور اصلی بیان اخذ کیا جائے۔

نظر، اعترافی بیان جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے جرم کو ثابت کرنے کے مترادف ہے، سچ اور ارادی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کی تائید ریکارڈ پر موجود دیگر مواد سے ہوتی ہے۔ جرم میں ملوث ہونے پر مشتمل اعترافی بیان کو اس کے مرتکب کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ یہ سچ ہو۔ جیسا کہ اوپر کے صفحات میں بحث کی گئی، ملزم منور حسن علی کا اعترافی بیان نہ صرف سچ معلوم ہوتا ہے بلکہ ارادی بھی معلوم ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملزم منور حسن علی، توہین رسالت پر مشتمل خط کی اشاعت کے بدقسمت واقعہ کا ذمہ دار تھا۔ اپنے بیان میں جو اس نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قلمبند کرائی، ملزم منور حسن علی نے کہا کہ استغاثہ نے اسے بے بنیاد اور بدنیتی سے اس مقدمہ میں گھسیٹا ہے اور اس نے کبھی بھی توہین رسالتﷺ پر مشتمل خط کی اشاعت میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ملزم نے مزید کہا کہ وہ شراب کا عادی ہونے کے باعث ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھا۔ جرح کے دوران گواہِ استغاثہ عین الدین خان سے ملزم منور حسن علی کی خراب ذہنی حالت کے متعلق اسی قسم کا سوال پوچھا گیا اور اس کا جواب دیا گیا کہ دوران تفتیش اس کے علم میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ ملزم منور حسن علی، ایک عادی شرابی ہے اور ایک ہسپتال میں اس نے شراب ترک کرنے کے لیے علاج بھی کرایا۔ اگرچہ ملزمان، آفتاب احمد اور وجیہہ الحسن کو مقدمہ ہذا میں ملوث کیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف کوئی ایسا

صفحہ 507

ثبوت نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ ان کے خلاف جرم ثابت ہو چکا ہے۔ زیر دفعہ 295-A,B & C تعزیرات پاکستان، ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی لیکن تفتیش سے ظاہر ہوا کہ توہین رسالت ﷺ پر مشتمل خط میں نبی اکرم (ﷺ) کے مقدس نام کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے گئے، جو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ایک جرم ہے۔ کسی کو جرم کا مرتکب ٹھہرانے کے لیے مناسب اور موزوں ثبوت درکار ہوتا ہے۔ ملزم منور محسن علی نے اپنے جرم کا اعتراف کیا لیکن یہ موقف اختیار کیا کہ یہ سب کچھ اس کے ذہن کی خراب حالت کے باعث ہوا۔ مقدمہ کے دوران ملزم منور محسن علی کو خراب ذہنی حالت میں نہیں پایا گیا اور اس کی ذہنی خراب حالت کے متعلق ثبوت اور گواہی مکمل طور پر خاموش ہے۔ آزاد اور غیر جانبدار گواہان نے بتایا کہ متذکرہ خط کے انتخاب کے لیے ملزم منور محسن علی ذمہ دار تھا اور بعد ازاں اس نے یہ خط چھپنے کے لیے بھیج دیا۔ آزاد گواہان کے بیانات اور اعترافی بیان کو اگر مربوط کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ملزم منور محسن علی نے جرم کا ارتکاب کیا۔ دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کو مندرجہ ذیل انداز میں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے:

”جو شخص، حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے متعلق زبان سے بولے یا لکھے، یا پھر کھلے عام بہتان تراشی، اشارے کنائے، طعن آمیز اشارے، براہ راست یا بلاواسطہ، کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے اور نبی اکرم ﷺ کے محترم و مقدس نام کی بے حرمتی کرتا ہے، اس کی سزا موت، یا پھر عمر قید اور اسے جرمانہ بھی ہوگا۔“

ریکارڈ پر موجود گواہی اور ثبوت کے ساتھ مندرجہ بالا دفعہ کے بغور جائزے اور مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم منور محسن علی نے دانستہ اور اپنی رضامندی سے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب گواہانِ استغاثہ کو اس کے ساتھ کوئی مخاصمت نہیں تھی اور نہ ہی ان کا کوئی مفاد تھا اور اس ضمن میں کوئی وجہ بھی موجود نہیں جس سے یہ سمجھا جائے کہ انہوں نے ملزم کے خلاف جھوٹی گواہی دی۔

کامیابی کے ساتھ اپنا مقدمہ ثابت کر دیا ہے لیکن وہ مقدمہ کا سامنا کرنے والے بقایا ملزمان

صفحہ 508

کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یوں زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان، ملزم منور محسن علی کو جرم کا مرتکب ٹھہرایا جاتا ہے اور اس ارتکاب کے نتیجے میں ملزم کو عمر قید کی سزا کے ساتھ 50,000/- روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو ایک برس قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ دفعہ B-382 مجموعہ ضابطہ فوجداری کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ اس فیصلہ کی ایک نقل، ملزم، منور محسن علی کو بلاقیمت دی جائے گی۔ ملزمان آفتاب احمد اور وجیہہ الحسن کو ان پر عائد الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ وہ ضمانت پر ہیں اور ان کی ضمانتیں منسوخ سمجھی جائیں گی۔ مفرور ملزم محمود شاہ آفریدی کے خلاف بادی النظر مقدمہ موجود ہے، اس لیے اس کے خلاف مستقل وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں اور اس کا نام ان مفروروں میں شامل کیا جائے جن کی گرفتاری کے لیے اشتہار جاری کیے گئے ہیں۔ اگر مقدمہ کے حوالے سے کوئی ٹھوس مواد ملکیتی نوعیت کے اعتبار سے موجود ہے تو مفرور ملزم محمود شاہ آفریدی کی گرفتاری/عدالت میں مقدمہ کے لیے پیش کر دینے تک اسے محفوظ رکھا جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ سردار محمد ارشاد خاں 8 جولائی 2003ء ایڈیشنل سیشن جج۔ دوم، پشاور

۞........۞........۞

صفحہ 509

جناب جاوید اختر صاحب، ایڈیشنل سیشن جج، بہاولنگر

سرکار بنام بشیر احمد، اگست 2003ء

صفحہ 510
صفحہ 511

دل کی بات

اس مقدمہ کے حقائق مختصراً اس طرح ہیں کہ بہاولنگر کا رہائشی ملزم بشیر احمد عجیب گستاخانہ عقائد رکھتا تھا۔ وہ اکثر اپنی محافل میں اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ ، امہات المومنین، صحابہ کرام اور دین اسلام کے متعلق گستاخانہ الفاظ استعمال کرتا، لوگوں کو نماز اور حج کی ادائیگی سے منع کرتا۔ اس سلسلہ میں مدعی مقدمہ اپنے کئی ساتھیوں کے ہمراہ ملزم کو ملنے اس کے گھر گئے جہاں ملزم کے بہت سے مرید جمع تھے اور وہ انہیں تبلیغ کر رہا تھا۔ اس دوران ملزم نے مندرجہ ذیل اہانت آمیز جملے ادا کیے جسے انہوں نے ٹیپ ریکارڈ کی مدد سے ریکارڈ کر لیا۔

....... کی؛

نہیں ہوتے؛

اس پر مدعی اور گواہان مقدمہ نے ملزم کے خلاف تحصیل کونسل بہاولنگر میں ایک

صفحہ 512

قرار داد منظور کروائی اور پھر اندراج مقدمہ کے لیے تھانہ میں درخواست دی۔ چنانچہ 30 اکتوبر 2001ء کو مدعی مقدمہ مولانا محمد قاسم شجاع آبادی کی درخواست پر تھانہ سٹی بہاولنگر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مدعی نے ثبوت کے طور پر گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل ملزم کی ریکارڈ کی گئی گفتگو پر مشتمل 2 کیسٹیں بھی پولیس کے حوالے کیں۔ جنہیں پولیس نے مسل مقدمہ کا حصہ بنالیا۔

تقریباً 2 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ معزز عدالت نے معتبر گواہان کے مضبوط بیانات اور شہادتوں کے علاوہ فریقین کی موجودگی میں کمرۂ عدالت میں متنازعہ کیسٹوں کی خود سماعت کی۔ تمام فریقین بغیر کسی شک و شبہ کے اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ گستاخانہ گفتگو ملزم کی اپنی آواز میں ہے۔ چنانچہ 6 اگست 2003ء کو جناب جاوید اختر ایڈیشنل سیشن جج بہاولنگر نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو موت کی سزا سنائی۔ ملزم نے اس فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بنچ میں اپیل دائر کی۔ 14 ستمبر 2004ء کو لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز جج صاحبان جناب جسٹس اعجاز احمد چودھری اور جناب جسٹس محمد فرخ محمود نے اس کیس کی سماعت کی۔ دونوں جج حضرات نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے سیشن کورٹ سے ملزم کو ملنے والی سزا ”سزائے موت“ کو برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ اس قدر ایمان افروز اور علمی ہے کہ اسے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس تاریخی فیصلہ کا اردو ترجمہ اس کتاب کے آخر میں دیا جارہا ہے۔

اس کیس کے سلسلہ میں حضرت مولانا سعید احمد صاحب اور جناب ماسٹر غلام حسین صاحب کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ اس فیصلہ کی نقل ہر دلعزیز شخصیت کے مالک جناب محمد عمران ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے فراہم کی جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر مرحلہ زندگی میں کامیاب و کامران فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 513

بعدالت جناب جاوید اختر صاحب، ایڈیشنل سیشن جج، بہاولنگر

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 15/2001 سیشن مقدمہ نمبر : 04/2003 ایف آئی آر نمبر : 577/2001 مورخہ 30 اکتوبر 2001ء پولیس سٹیشن : سٹی بہاولنگر بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C

سرکار

بنام

بشیر احمد ولد نور محمد، ذات ارائیں، ساکن بستی جورانہ، موضع راجھن والی، تحصیل و ضلع بہاولنگر (ملزم)

وکلا منجانب مدعی: شیخ طلعت محمود ایڈووکیٹ، مشتاق احمد پراچہ ایڈووکیٹ

وکیل منجانب ملزم: رفیق ناصر ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 6 اگست 2003ء

صفحہ 514

فیصلہ

جناب جاوید اختر صاحب، ایڈیشنل سیشن جج، بہاولنگر

ملزم بشیر احمد کو مندرجہ بالا مقدمہ میں گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف پولیس سٹیشن سٹی بہاولنگر پولیس نے چالان کیا۔

استغاثہ کے مقدمہ کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ مورخہ 2001-10-30 سے ایک ہفتہ پہلے مدعی سٹیشن سوائے والا پر موجود تھا کہ وہاں کسی نے اسے بتایا کہ بشیر احمد ساکن بستی جورانہ، پیغمبروں کے علاوہ اسلامی تعلیمات، حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا ہے، نیز وہ خاص طور پر نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے خلاف بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا ہے۔ اس نے ملزم بشیر احمد کو یہ الفاظ بولتے ہوئے خود سنا:

...... کی؛

صفحہ 515

نہیں ہوتے؛

ماسٹر غلام حسین، محمد ارشاد، راؤ لیاقت علی، حاجی محمد یعقوب اور محمد امین نے بھی ملزم بشیر سے یہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے۔ سب سے پہلے انہوں نے تحصیل کونسل بہاولنگر سے ایک قرارداد منظور کرائی اور پھر اس نے مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دی اور پولیس سٹیشن پر ایک رسمی ایف آئی آر درج کرائی اور اس نے اس کے درست ہونے کی علامت کے طور پر اس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ اس سے قبل وہ ناظم اور نائب ناظم، تحصیل کونسل بہاولنگر کے نام قرارداد منظور کرنے کے لیے درخواست دے چکا تھا۔ اس نے چار کیسٹیں پیش کیں جنہیں تفتیشی افسر نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.E) اپنی تحویل میں لے لیا جس کی اس کے علاوہ دیگر گواہان استغاثہ مولانا سعید احمد اور حاجی محمد یعقوب نے بھی تصدیق کی۔

چالان پیش کیے جانے پر ملزم پر بجرم زیر دفعات 295-A اور 295-C فرد جرم عائد کی گئی جس کا اس نے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 1، رانا نذیر احمد نمبر 889 / H.C نے بتایا کہ مورخہ 04-11-2001 کو وہ پولیس سٹیشن سٹی، بہاولنگر میں تعینات تھا۔ اسی دن وہ چودھری رشید احمد، انسپکٹر / ایس ایچ او، سٹی پولیس اسٹیشن بہاولنگر کی معیت میں ملزم بشیر احمد کے ہمراہ جو ان کی تحویل میں تھا، ارشد پلازا، بہاولنگر پہنچا۔ جہاں ملزم بشیر احمد سے ایک رومال کے علاوہ چار کتابیں برآمد ہوئیں جسے تفتیشی افسر نے بمطابق ریکوری میمو تحویل میں لے لیں جس پر اس کے علاوہ رانا علی اختر بھٹی، ایس آئی کے بطور گواہ دستخط ثبت ہیں۔

دوران جرح اس نے بتایا کہ اسے معلوم نہیں کہ پولیس جائے برآمدگی کی طرف کب روانہ ہوئی۔ اس نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ جائے برآمدگی، رشید پٹرولیم سٹیشن کے نزدیک ہے۔ اس نے کہا کہ متذکرہ اشیا اس دفتر سے برآمد کی گئیں جو متذکرہ پلازا میں واقع ہے۔ اس وقت متذکرہ دفتر کھلا ہوا تھا اور لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ متذکرہ رومال (P-1) پر

صفحہ 516

ملزم کا نام درج نہیں تھا۔ متذکرہ کتابیں (P-2) تا (P-5)، ایک کونے میں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ درست ہے کہ متذکرہ پلازا میں سے برآمدگی کی کارروائی کے دوران تفتیشی افسر نے کسی کو نہیں بلایا۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، محمد عبدالرشید، ریٹائرڈ انسپکٹر نے بتایا کہ مورخہ 30-10-2001 کو تقریباً سوا دو بجے دوپہر، جبکہ وہ پولیس سٹیشن سٹی، بہاولنگر میں بطور ایس ایچ او تعینات تھا، ایک تحریری درخواست (Ex.P.B)، مدعی مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے اندراج مقدمہ کے لیے اس کے روبرو پیش کی جس پر اس نے رسمی ایف آئی آر (Ex.P.B/1) درج کی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے۔ اس نے ایک کیسٹ پنی تحویل میں لے لی اور اسے سر بمہر لفافے میں بند کر دیا اور اس پر گواہان نے تصدیقی دستخط ثبت کیے۔ اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس نے ملزم بشیر احمد کی بیٹھنے کی جگہ کا نقشہ تیار کیا۔ اس نے اسی دن ملزم بشیر احمد کو گرفتار کر لیا اور ملزم سے تفتیش کی۔ مورخہ 02-11-2001 کو، مدعی نے اس کے روبرو چار کیسٹیں پیش کیں جنہیں اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.E) اپنی تحویل میں لے لیا جس پر گواہان نے بطور تصدیق دستخط کیے۔ مورخہ 04-11-01 کو، جبکہ ملزم پولیس کی تحویل میں تھا، پولیس کو چار کتابیں، (P-2) تا (P-5)، برآمد کرائیں جو اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.A)، تحویل میں لے لیں۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان استغاثہ کے بیانات بھی قلمبند کیے۔

دوران جرح، گواہ نے بتایا کہ درخواست (Ex.P.B) جس کے ساتھ دیگر دستاویزات بھی لف ہیں، چالان فائل کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس نے بتایا کہ 30-10-01 سے قبل، ملزم کے خلاف اس معاملے/الزام کے متعلق اس نے کسی کی طرف سے بھی کوئی رپورٹ موصول نہیں کی۔ اس نے مزید بتایا کہ مورخہ 30-10-01 کو اسے معلوم ہوا کہ تحصیل کونسل، بہاولنگر نے ملزم کے خلاف ایک قرارداد منظور کی کہ اگر پولیس نے ملزم کو گرفتار نہ کیا تو امن وامان کی صورتِ حال خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ مقدمہ کے اندراج کے بعد، ملزم کے خلاف مختلف مساجد میں قراردادیں منظور کی گئیں۔ اس نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ ایک ریلوے کراسنگ کے نزدیک عارف والا روڈ پر ایک پٹرول پمپ اور ایک پلازا، ملزم کے بیٹوں کی ملکیت ہے۔ ملزم اکثر سڑک کنارے بیٹھا ہوتا تھا۔ ملزم ایک کاروباری شخص ہے جس

صفحہ 517

نے اسے بتایا کہ وہ حج کر چکا ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ملزم نے اس کے روبرو بتایا کہ اس نے مبینہ الفاظ نہیں کہے۔ اس نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پوائنٹ نمبر 1 میں بیٹھنے کی جگہ کا ذکر نہیں۔ اس نے کہا کہ یہ درست ہے کہ چوتھے سے پانچویں پوائنٹ تک، وہ دفاتر اور کمرے (پلازا) واقع ہیں جو ملزم کے بیٹوں کی ملکیت ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ متذکرہ پلازا کی جنوبی سمت میں واقع دکانیں، دیگر افراد کی ملکیت ہیں۔ پلازا کے ساتھ گزرنے والی سڑک، نہایت ہی مصروف سڑک ہے۔ یہ درست ہے کہ پٹرول پمپ کی مشرقی طرف، رہائش گاہیں اور قادیانی عبادت گاہ ہے اور رہائش گاہوں/ قادیانی عبادت گاہ سے کوئی بھی اس کے سامنے شامل تفتیش نہیں ہوا۔ متذکرہ بستی میں سے بھی کوئی شخص استغاثہ کی کہانی کی تصدیق کے لیے اس کے روبرو پیش نہیں ہوا۔ اس نے مزید بتایا کہ متذکرہ کتابوں کے متعلق علماء سے کوئی رائے حاصل نہیں کی۔ اسے یہ معلوم نہیں کہ کیا مدعی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، بہاولنگر کا تنخواہ دار ملازم ہے۔

گواہِ استغاثہ نمبر 3، مولانا محمد قاسم شجاع آبادی (مدعی) نے بتایا کہ مورخہ 30-10-01 سے پہلے وہ سٹیشن سوائے والا میں موجود تھا اور کسی نے اسے بتایا کہ بشیر احمد، ساکن، بستی جورانہ، پیغمبروں کے علاوہ اسلام کی بنیادی تعلیمات، حضور نبی اکرمﷺ کے اصحابؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا ہے، نیز وہ خاص طور پر نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا ہے۔ اس نے ملزم بشیر احمد کو خود یہ الفاظ بولتے ہوئے سنا:

حضرت جبرائیل علیہ السلام کے بھیس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے ساتھ ...... کی؛

صفحہ 518

نہیں ہوتے ؛

ماسٹر غلام حسین، محمد ارشاد، راؤ لیاقت علی، حاجی محمد یعقوب اور محمد امین نے بھی ملزم بشیر سے یہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے۔ سب سے پہلے انہوں نے تحصیل کونسل بہاولنگر سے ایک قرارداد منظور کرائی اور پھر اس نے مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دی اور پولیس سٹیشن پر ایک رسمی ایف آئی آر (Ex.P.B/1) درج کرائی۔

دوران جرح اس نے بتایا کہ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولنگر کا ضلعی سربراہ ہے۔ اس نے ایک فوجداری مقدمہ، زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان، پولیس سٹیشن، صدر چشتیاں میں درج کرایا۔ اس نے گزشتہ برس شعبان کے مہینے میں بہاولنگر میں ختم نبوت کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کروایا اور تحریک کے مرکزی رہنماؤں نے لیکچر دیا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس شخص کا نام نہیں بتا سکتا جس نے اسے ملزم کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق بتایا۔ اس سے پہلے، وہ عدالت میں حاضر ملزم کی سرگرمیوں سے آگاہ نہیں تھا۔ سوئے والا سٹیشن پر ایک نامعلوم شخص کی جانب سے شکایت موصول ہونے جو ملزم کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کے متعلق تھی، کے حوالے سے وہ ملزم سے نہیں ملا۔ اس نے بتایا کہ وہ نماز مغرب کے بعد ایف آئی آر کے اندراج سے دو روز قبل لیاقت علی کی دکان پر گیا تھا۔ اس نے متذکرہ لیاقت علی کی دکان پر جانے کا ذکر اپنی درخواست میں نہیں کیا۔ یہ درست ہے کہ اس نے ملزم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق براہ راست پولیس کو مطلع نہیں کیا بلکہ اس ضمن میں اس نے پہلے تحصیل کونسل بہاولنگر سے رابطہ کیا۔ تحصیل کونسل بہاولنگر کی طرف سے قرارداد منظور ہونے کے اگلے دن ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے بذات خود ملزم بشیر احمد کو گرفتار کیا تھا۔ اس نے مقدمہ کے اندراج کے لیے بذات خود درخواست (Ex.P.B) تحریر کی۔ گواہ استغاثہ لیاقت علی کافی عرصہ سے ہی اس کا واقف ہے۔ اسی طرح، غلام حسین اور محمد ارشاد، گواہان استغاثہ بھی گزشتہ ایک برس سے اس کے شناسا ہیں۔ یہ غلط ہے کہ ملزم نے کبھی بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔ یہ درست ہے کہ

صفحہ 519

ملزم کے خلاف بستی جورانہ سے گواہان دستیاب نہیں تھے۔ اسی طرح پٹرول پمپ اور ملزم کی ملکیت شاپنگ پلازا کے علاقے سے ملزم کے خلاف کوئی گواہ دستیاب نہیں تھا۔

گواہ استغاثہ نمبر 4، غلام حسین نے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے ملزم کو جانتا ہے اور وہ ڈیڑھ یا دو سال سے ملزم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سے واقف تھا۔ مدعی، مولانا محمد قاسم نے ملزم کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے خود اور محمد ارشاد، لیاقت علی اور محمد یعقوب، گواہان استغاثہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی اور یوں انہوں نے ملزم بشیر احمد سے ملاقات کی اور اس کے الفاظ ریکارڈ کیے۔ وہ قلندر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جس کا مرتبہ پیغمبروں سے اعلیٰ و افضل سمجھتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا بدن، حضور نبی اکرمﷺ اور اللہ تعالیٰ کا بدن ہے، نیز نبی اکرمﷺ اس کے منہ سے بولتے رہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حضرت جبرائیل کے بھیس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے ............ کی۔ اس نے اپنے اس موقف کا اظہار بھی کیا کہ قلندر بننے کے لیے کسی کی محبت میں گرفتار ہونا چاہیے جس طرح حضرت محمدﷺ .................... (نعوذ باللہ) اس کا یہ بھی موقف تھا کہ حضرت عمر، .................... تھے۔ اس کے نزدیک کلمہ پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں اور جو لوگ کلمہ پڑھتے ہیں، وہ کافر ہیں۔ اس کا یہ بھی موقف ہے کہ نماز ادا کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو (؟) دکھائی جائے۔ اس کے نزدیک مقدس کعبہ، ایک بت ہے۔ اس کے مطابق اسے بھی واقعہ معراج پیش آیا اور وہ امام مہدی ہے۔ اس کے نزدیک تمام پیغمبر آدمی ہیں جن کے سینگ نہیں اور وہ جنسی شہوت سے لبریز ہوتے ہیں۔ اس نے بذات خود ملزم بشیر احمد سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے اور گواہان استغاثہ بھی اس وقت موجود تھے۔

دوران جرح، گواہ نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں ایک پرائیویٹ ٹیوٹر کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ مدعی سے اس کی واقفیت، گزشتہ ایک برس سے، حاجی محمد یعقوب، گواہ استغاثہ کی وساطت سے ہے۔ اس نے ملزم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق تحریری درخواست، مولانا اللہ یار اشرفی، مہتمم، جامعہ رضائے مصطفیٰ کو دی۔ یہ درست ہے کہ اس نے کسی سرکاری افسر کو کوئی بھی معلومات نہیں دی۔ اس نے تفتیشی افسر کے روبرو یہ بھی بتایا کہ مدعی مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے بذات خود اور محمد ارشاد، لیاقت علی اور حاجی محمد یعقوب، گواہان استغاثہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ گواہ نے مزید بتایا کہ اس نے

صفحہ 520

ملزم کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا ایک منصوبہ بنایا اور اس طرح لیاقت علی اور ارشاد کو ملزم کے بولے گئے الفاظ ریکارڈ کرنے کے لیے بھجوایا۔ اس نے تفتیشی افسر کے روبرو یہ نہیں بتایا کہ وہ بذات خود، ملزم کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے گیا۔ ملزم کے بہت سے مرید جمع تھے اور وہ انہیں تبلیغ کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ یہ عین وہی وقت تھا جب وہ ملزم کے پوتوں کو اپنے گھر میں پڑھا رہا تھا۔ یہ غلط ہے کہ متذکرہ پڑھائی، اس کے مشکوک کردار کے باعث، ملزم نے ختم کر دی تھی۔ گواہ نے بتایا کہ اس نے متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق کسی سرکاری افسر کو مطلع نہیں کیا۔ حاجی محمد یعقوب براہ راست اس کا رشتہ دار نہیں ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 5، ارشاد نے بتایا کہ تقریباً ایک سال پہلے، اس نے لیاقت علی کی معیت میں، ملزم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق ملزم کی گفتگو، ایک ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے کیسٹ میں ریکارڈ کی۔ انہوں نے دو کیسٹیں تیار کیں جو مدعی کو دے دی گئیں جس نے یہ کیسٹیں، آگے پولیس کو دے دیں۔ تفتیشی افسر نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا۔

دوران جرح، گواہ استغاثہ نے بتایا کہ وہ ماڈل ٹاؤن، بہاولنگر میں گزشتہ چار سال سے دکان کر رہا ہے اور اس کا گھر ملزم کے گھر سے تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ اس کی دکان ملزم کے گھر سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے گواہ استغاثہ نمبر 4 غلام حسین کی ایما پر ملزم کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق اس کی گفتگو ریکارڈ کی اور مقدمہ کے اندراج سے ایک ماہ قبل، یہ سارا کام انہوں نے ارشد پلازا میں انجام دیا۔ ملزم کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کی گفتگو کی ریکارڈنگ کے لیے دو کیسٹیں تیار کرنے کے لیے ایک ماہ صرف ہوا اور انہیں گواہ استغاثہ نمبر 4 غلام حسین کے حوالے کر دیا گیا جس نے انہیں ٹیپ ریکارڈر اور کیسٹیں فراہم کی تھیں۔ جب اس نے ملزم کو دیکھا، وہ بہت سے لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ غلط ہے کہ ملزم نے کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں بولے۔

گواہ استغاثہ نمبر 6، محمد امین نے بتایا کہ وہ دفتری اوقات کار کے بعد دکان نمبر 6، نزد ریلوے کراسنگ بہاولنگر، ملحق ارشد پلازا بہاولنگر، میں موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹیں بناتا ہے جبکہ ملزم بشیر احمد اس کے ساتھ 1990ء سے 1993ء تک بیٹھتا رہا اور اکثر اسے نماز سے

صفحہ 521

منع کرتا اور وہ اس سے گمراہ ہو گیا۔ ملزم نے اسے حج کرنے سے منع کیا جبکہ اس نے 1992ء میں حج کیا تھا۔ اس کا نکتہ نظر یہ تھا کہ نماز کی ادائیگی ، اللہ تعالیٰ کو (؟) دکھانے کے مترادف ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسے بھی واقعہ معراج پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مورخہ 2001-11-03 کو اس کا بیان قلمبند کیا اور اس نے انکشاف کیا کہ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔

دوران جرح، گواہ نے کہا کہ وہ ایک کرائے کی دکان چلا رہا ہے جو چودھری عبدالحمید قمر ایڈووکیٹ کی ملکیت ہے۔ جب ملزم نے اسے نماز اور حج ادا کرنے سے منع کیا، اس نے ڈی سی آفس میں تحریری طور پر کوئی شکایت نہیں کی۔ گواہ نے مزید بتایا کہ جب ملزم، اس کی دکان پر آیا، دوسرے لوگ بھی وہاں آگئے۔ اس نے مدعی کے ساتھ کبھی ملاقات نہیں کی۔ جب اس کا بیان زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، دوران تفتیش، تفتیشی افسر نے قلمبند کیا، وہ بذات خود تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا۔ یہ درست نہیں کہ ملزم نے کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔

معزز ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے گواہان استغاثہ، لیاقت علی، حاجی محمد یعقوب کی گواہی کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اور ملزم کے ساتھ گٹھ جوڑ سمجھتے ہوئے ترک کر دی، نیز رانا علی اکبر ایس آئی، گواہ استغاثہ کی گواہی کو مدعی کی طرف سے درخواست پر غیر ضروری سمجھتے ہوئے ترک کر دی اور استغاثہ کی گواہی بند کر دی۔

ملزم نے اپنا بیان زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری ، قلمبند کرایا اور سوال نمبر 9 کا جواب دیتے ہوئے، ملزم بشیر احمد نے درج ذیل موقف اختیار کیا:

”میں بے گناہ ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں دیگر مسلمانوں کے مانند، تمام پیغمبروں اور ان کے صحابہ کو اعلیٰ تکریم کا درجہ دیتا ہوں۔ میں نے کبھی بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے اور نہ میں ایسا سوچ سکتا ہوں۔“

ملزم نے اپنے دفاع میں گواہی پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور اس پر اس کے گواہ کی حیثیت سے جرح کی گئی۔

گواہ صفائی نمبر 1، چودھری نیاز احمد نے بتایا کہ وہ یونین کونسل، روجھان والی کا ناظم ہے۔ اس سے پہلے وہ 1983ء سے 1987 تک چیئرمین میونسپل کمیٹی بہاولنگر رہ چکا ہے۔ وہ

صفحہ 522

ملزم بشیر احمد کو بچپن سے جانتا ہے۔ وہ اس کا پھوپھی زاد بہنوئی ہے اور وہ اس کا ہمسایہ بھی ہے اور اس کا پیر بھائی بھی ہے۔ وہ بچپن ہی سے نیک انسان ہے۔ وہ عاشق رسول ﷺ ہے۔ وہ صحابہ کرامؓ کی تعلیمات کا بھی پیروکار ہے۔ وہ صحابہ کرامؓ، امہات المومنینؓ کا مکمل احترام کرتا ہے۔ اس نے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں کہی جسے نبی اکرم ﷺ ، صحابہ کرامؓ اور امہات المومنینؓ کے لیے گستاخانہ اور اہانت آمیز قرار دیا جاسکے۔

دوران جرح، گواہ نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ اس کی بھتیجی ، ظفر ولد بشیر احمد ملزم کی بیوی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس کا بیٹا رضاء اللہ اور ظفر ولد بشیر احمد ملزم ، آپس میں ہم زلف ہیں۔ یہ درست ہے کہ ظفر پلازا کے نزدیک پٹرول پمپ اور ظفر پلازا میں شوروم ، ملزم کے بیٹوں کی ملکیت ہیں لیکن اسے یہ علم نہیں کہ یہ کس کے نام ہیں۔ یہ درست ہے کہ ظفر پلازا میں سوئی گیس کی ایجنسی بھی ملزم بشیر کے بیٹوں کی ملکیت ہے۔ گواہ نے مزید بتایا کہ اسے یہ علم نہیں کہ ملزم ، اس پلازا کی بالائی منزل کو اپنے پیروکاروں سے ملاقات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دوران تفتیش، وہ ملزم کی صفائی میں پولیس کے روبرو پیش نہیں ہوا۔

گواہ صفائی نمبر 2، محمد اکرم نے بتایا کہ وہ ظفر پلازا کے نزدیک ایک مکینک شاپ چلا رہا ہے اور ارشد شوروم کے علاوہ پٹرول پمپ ، ملزم کے بیٹوں کی ملکیت ہیں۔ صوفی بشیر اکثر ان کے ساتھ بیٹھتا تھا اور کبھی کبھار وہ پٹرول پمپ بھی چلا جاتا، جہاں وہ بیٹھا رہتا۔ اس نے اس کی موجودگی میں کبھی بھی اللہ تعالیٰ ، نبی اکرم ﷺ ، امہات المومنینؓ اور صحابہ کرامؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔

دوران جرح، گواہ نے بتایا کہ عمارت میں جو ورکشاپ وہ چلاتا ہے، وہ ملزم اور اس کے بیٹوں کی ملکیت ہے اور یہ کہ وہ گزشتہ تیرہ چودہ برس سے ان کا کرایہ دار ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ملزم اور وہ ارائیں برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ تیرہ چودہ برس سے، اس نے ملزم کے ساتھ کینال کالونی کی مسجد میں کُل بارہ تیرہ مرتبہ نماز ادا کی ہوگی۔ گواہ نے مزید بتایا کہ وہ مقدمہ ہذا کی تفتیش کے دوران ، کبھی بھی، ملزم کے دفاع میں پولیس کے روبرو پیش نہیں ہوا اور آج وہ اس کے بیٹوں کی ایما پر ، ملزم کی صفائی کے لیے پیش ہوا۔

گواہ صفائی نمبر 3، محمد اسلم نے بتایا کہ اس کی ملزم کے ساتھ ملاقات 1992ء میں عارف والا میں ہوئی اور اس کے بعد سے ان کے درمیان تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ ملزم ، اکثر

صفحہ 523

عارف والا آیا کرتا تھا اور ان ملاقاتوں کے دوران، وہ اس کے ساتھ بیٹھا کرتا۔ ملزم ہمیشہ انہیں نصیحت کرتا تھا کہ وہ نیک اور اچھے کام کریں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ انہیں نماز پڑھنے کی نصیحت بھی کرتا تھا۔ اس نے بہاولنگر میں ملزم کے پٹرول پمپ پر بھی اس سے ملاقات کی۔ اس نے اسلام کی مقدس شخصیات اور اللہ تعالیٰ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کبھی بھی نہیں کہے۔

دوران جرح، گواہ نے کہا کہ 1992ء سے ملزم کے بیٹوں کے ساتھ اس کے تعلقات قائم ہیں کیونکہ اس نے ملزم کے ایک بیٹے کی ایجنسی سے موٹر سائیکل خریدا تھا۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش کے دوران وہ کبھی بھی ملزم کی صفائی کے لیے پیش نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ وہ آج، محض ملزم کے بیٹوں کے ایما پر صفائی کے گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا۔

گواہ صفائی نمبر 4، ملزم حاجی بشیر احمد نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک حضرت محمد ﷺ کے صحابہ کرام انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ ایک گنہگار انسان ہے لیکن وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا امتی ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرامؓ کا بے حد احترام کرتا ہے۔ وہ امہات المومنینؓ کا بھی انتہائی احترام کرتا ہے کیونکہ وہ ان کی مائیں ہیں اور مندرجہ بالا مقدس شخصیتوں ہی کے باعث دین اسلام کو فروغ حاصل ہوا۔ وہ اپنی نمازوں میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ استغاثہ کی طرف سے اس پر عائد کردہ الزامات جھوٹے ہیں۔ اس نے کبھی بھی مبینہ الفاظ نہیں کہے۔

دوران جرح، گواہ/ملزم نے کہا کہ یہ درست ہے کہ کسی بھی گواہ استغاثہ کی اس یا اس کے بیٹوں کے ساتھ دشمنی یا مقدمہ بازی نہیں ہے۔ رضا کارانہ طور پر پیش ہونے والا گواہ استغاثہ غلام حسین اس کے پوتے اور پوتیوں کو 2000/- ماہانہ ٹیوشن فیس کے عوض پڑھایا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اس سے کالونی ہائی سکول میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے 200,000/- روپے طلب کیے لیکن اس نے اسے بتایا کہ وہ اسے اس قدر بڑی رقم نہیں دے سکتا، پھر اس نے اس کے پوتوں اور پوتیوں کو دلچسپی کے ساتھ پڑھانا بند کر دیا۔ گواہ نے بتایا کہ اس کا غلام حسین کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی اور جھگڑا نہیں اور نہ دیگر گواہان استغاثہ کے ساتھ کوئی اختلاف یا جھگڑا ہے۔ اس نے ارشد پلازا کی بالائی منزل پر کبھی مذہبی معاملات

صفحہ 524

کے متعلق محفل نہیں بلائی جو اس اور اس کے بیٹوں کی ملکیت ہے۔ وہ اب ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست اور صحت مند ہے۔ اس نے بتایا کہ اس واقعہ سے چھ ماہ قبل وہ بیمار پڑ گیا تھا اور ذہنی طور پر اس کی حالت اچھی نہ رہی تھی۔ اس بیماری کے دوران اس کے دماغ کو نقصان پہنچا۔ اس نے بتایا کہ یہ درست نہیں اس نے اللہ تعالیٰ اور حضرت مریمؑ کے متعلق قابل اعتراض الفاظ بولے۔ یہ بھی غلط ہے کہ اس نے کہا کہ خانہ کعبہ ایک بہت بڑا بت ہے۔ اس نے بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ آسمانوں پر ذاتی طور پر گیا تھا اور اسے بھی جسمانی طور پر معراج سے سرفراز کیا گیا۔ یہ غلط ہے کہ اس کے یہ الفاظ، آڈیو کیسٹوں میں ریکارڈ کیے گئے۔

میں نے مدعی کے فاضل وکیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے علاوہ ملزم کے فاضل وکیل کو سنا اور ریکارڈ کا نہایت ہی بغور اور مفصل جائزہ لیا۔

ملزم کے فاضل وکیل کی دلیل یہ تھی کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری، شکایت کسی بھی مرکزی یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے دائر نہیں کی گئی، اس لیے عدالت ہذا کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں۔ اس نے اس ضمن میں حوالہ جات کے طور پر مقدمات 2001 YLR 484, PLD 1965 Lahore 349, 2000 YLR 1306 Lahore, 2000 P.Cr. L J 902 Lahore کا حوالہ دیا۔ ملزم کے فاضل وکیل نے حوالہ کے طور پر مزید مقدمہ 2000 YLR 1273 Lahore کا حوالہ دیا کہ ملزم خود کو مسلمان کہہ رہا ہے اور مدعی کے علاوہ دیگر گواہان کے دعویٰ کے مطابق اس نے کوئی غلیظ زبان استعمال نہیں کی۔ عدالت کو ملزم سے یہ اصرار نہیں کرنا چاہیے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے خلاف متذکرہ الفاظ استعمال کیے جس نے اپنی نمازوں میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحم طلب کیا۔ اس نے مزید 1997 PLD 1228 Peshawar کا بھی حوالہ دیا۔

اس نے دلیل دی کہ گواہان استغاثہ کے بیانات میں موادی غلطی کا تضاد موجود ہے۔ جس شخص نے ملزم کے متعلق بتایا، اس کا نام گواہ استغاثہ نمبر 3 کے بیان میں درج نہیں اور اسے پیش بھی نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے مورخہ 2000-10-29 کو مدعی نے ناظم، تحصیل کونسل بہاولنگر کو درخواست دی تھی اور اس طرح ملزم کے خلاف عوام کی حمایت حاصل کی

صفحہ 525

اور پھر پولیس سے اس معاملے کی شکایت کی۔ جائے وقوعہ کی جگہ اور وقت کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3، وہ کیسٹیں تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا جس میں مبینہ طور پر ملزم کی آواز ہے اور ملزم نے نہایت ہی پُرزور انداز میں ان حقائق کی تردید کی ہے۔ اس نے دلیل دی کہ لیاقت علی اور حاجی یعقوب، گواہان استغاثہ، پیش نہیں کیے گئے۔ ملزم کی نشاندہی پر برآمد کی گئی کتابیں عمومی نوعیت کی ہیں اور ان میں کوئی ایسا مواد شامل نہیں جو دفعات 295-A اور 295-C تعزیرات پاکستان کے زمرے میں آتا ہو۔ کیسٹیں، جو مبینہ طور پر ملزم کی آواز میں ہیں، کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ استغاثہ کی طرف سے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ ملزم کی آواز میں ہیں، کوئی ماہر پیش نہیں کیا گیا، اس لیے استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ گواہیاں ناقص ہیں۔

غلام حسین، گواہ استغاثہ نمبر 4، ملزم کے پوتے پوتیوں کا ٹیوٹر تھا۔ اس نے ملزم سے دشمنی کے باعث اس کے خلاف گواہی دی۔ اس نے گواہ استغاثہ نمبر 6، محمد امین کے بیان کا بھی حوالہ دیا اور دلیل دی کہ اس کی گواہی کے مطابق معاملہ کا تعلق سال 1992ء سے ہے، اس لیے یہ غیر متعلقہ ہے۔

اس نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کے قلمبند بیان، صفائی گواہان اور ملزم کے بیان کا حوالہ دیا جو زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری پیش ہوا۔ ملزم کے فاضل وکیل کا موقف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہے اور وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کے خلاف عائد کردہ الزامات جھوٹے ہیں۔ اس نے ملزم کو بری کرنے کی استدعا کی۔

مدعی کے فاضل وکیل نے نہایت پُرزور انداز میں ملزم کی بریت کی نہایت سختی سے مخالفت کی ہے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے مطابق، صرف دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان کا ہی ذکر ہے اور دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا ذکر نہیں۔ اس نے دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان اور دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ اس نے مزید یہ دلیل دی کہ جہاں تک حوالہ کے طور پر پیش کیے گئے مقدمات کا تعلق ہے، یہ دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کی حد تک غیر متعلقہ ہیں۔ ملزم کی طرف سے حوالہ کے طور پر پیش کیے گئے مقدمے میں استحقاق کو بھی زیر گفتگو بنایا گیا ہے۔

اس نے مزید دلیل دی کہ استغاثہ نے بلاشک و شبہ ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کر

صفحہ 526

دیا ہے۔ کیسٹوں میں ملزم کی آواز ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 5، محمد ارشاد، جس نے انہیں ریکارڈ کیا اور پھر انہیں پولیس کے روبرو پیش کیا۔ کیسٹ میں ملزم کی طرف سے بولی گئی غلیظ زبان شامل ہے۔ اس لیے کسی بھی ماہر کو طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے مطابق، گواہان استغاثہ کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی یا پارٹی بازی نہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، ملزم کے پوتوں اور پوتیوں کا ٹیوٹر تھا۔ اس نے کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر 4، پر دوران جرح، گواہ کے کردار کے بارے میں کہا گیا جبکہ ملزم کے اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ متذکرہ گواہ نے -/200,000 روپے طلب کیے، اس لیے واضح طور پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ اس نے مزید دلیل دی کہ گواہان استغاثہ کی تعداد کے بجائے گواہان استغاثہ کا معیار مدنظر رکھنا چاہیے۔ مقدمہ ہذا میں مدعی اور گواہان استغاثہ نے مواد تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ سنی سنائی باتوں کے باعث ملزم کو کہیں سزا نہ ہو جائے، اس لیے انہوں نے کیسٹوں میں ملزم کی آواز ریکارڈ کی جو پولیس کو پیش کی گئیں۔ یہ کیسٹیں گستاخانہ اور اہانت آمیز مواد پر مشتمل ہیں جو دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس نے دلیل کے طور پر مقدمہ PLD 1991 FSC 10 کا حوالہ دیا اور استدعا کی کہ ملزم، زیادہ سے زیادہ سزا یعنی سزائے موت مع جرمانہ کا مستحق ہے۔

ملزم کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا جس میں گواہان استغاثہ کی موجودگی میں ملزم کی طرف سے بولے گئے مخصوص الفاظ مذکور ہیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 3، مولانا محمد قاسم نے واضح طور پر بتایا کہ اس نے بذات خود یہ (گستاخانہ) الفاظ ملزم بشیر احمد کی زبانی سنے۔ غلام حسین، گواہ استغاثہ نمبر 4 نے بھی ان حقائق کی تائید کی۔ وہ ملزم کے پوتوں اور پوتیوں کا ٹیوٹر تھا، اس لیے وہ ملزم کے بہت قریب تھا۔ ریکارڈ پر یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں کہ اس نے یہ بیان ملزم کے ساتھ دشمنی یا دیگر کسی وجہ سے دیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 5، محمد ارشاد نے ملزم کی آواز میں کیسٹیں ریکارڈ کیں جو پہلے پولیس کو پیش کی گئیں اور پھر تحویل میں لے لی گئیں۔

آج، میں نے بذات خود مدعی کے فاضل وکیل، وکیل صفائی اور دیگر لوگوں کی موجودگی میں، جزوی طور دو کیسٹیں سنیں۔ میرے ذہن میں خفیف سا شک بھی نہیں کہ ان کیسٹوں میں آواز، ملزم کی نہیں ہے۔ ایک کیسٹ میں، جو میں نے جزوی طور پر سنی، کچھ ایسی باتیں ہیں جو ایف آئی آر کے علاوہ گواہان استغاثہ کے بیانات میں مذکور ہیں۔ یہ قانون شہادت

صفحہ 527

کی شق 164 کے تحت قابل قبول شہادت ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 5، ارشاد نے ملزم کی آواز ریکارڈ کی، اس لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں کیونکہ گواہ بذات خود پیش ہوا جس نے آواز ریکارڈ کی۔ محمد امین نے بھی دیگر گواہان کی تائید کی۔ پولیس کی تفتیش میں ملزم کو قصور وار پایا گیا۔ صفائی کے گواہان ملزم کی صفائی میں تفتیشی افسر کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ صفائی کا ایک گواہ، ملزم کا قریبی رشتہ دار ہے جبکہ ایک گواہ اس کا کرایہ دار ہے، ایک اس کا دوست ہے، اس لیے یہ گواہان متاثر کن حیثیت کے مالک نہیں۔

دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے مطابق، صرف دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان کی مرکزی/صوبائی سرکاری اتھارٹی کے حکم یا ان کی طرف سے کی گئی شکایت کی ضرورت کے لیے مذکور ہے۔ دفعہ 295-C، دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری میں درج نہیں کی گئی۔ دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان کا تعلق، دانستہ طور پر کسی بھی طبقے کے مذہب یا اس کے مذہبی اعتقادات کی توہین کے ذریعے مذہبی جذبات بھڑکانے کے مذموم فعل سے ہے، جبکہ قانون میں پوشیدہ مقصد، دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان سے مختلف ہے۔ دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا تعلق، حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے استعمال سے ہے۔ دانستہ اور مذموم فعل کے اظہار کے فعل کا دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان میں ذکر نہیں، اس لیے یہ استدلال کہ درخواست، سرکاری افسر یا اس کی منظوری سے دائر ہونی چاہیے، قابل اطلاق نہیں۔ ملزم کے فاضل وکیل صفائی کی طرف سے جس مقدمے کا حوالہ دیا گیا، اس کا فیصلہ بھی استغاثہ کی طرف سے پیش کی گئی گواہی اور ثبوت پر بحث کے بعد کیا گیا۔ مقدمہ 2000 YLR 1273 Lahore میں، استغاثہ کی طرف سے مرکزی گواہ کو پیش نہیں کیا گیا، اس لیے ملزم کو بری کر دیا گیا۔ یہ حقائق، مقدمہ ہذا پر منطبق نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کی مقدمہ ہذا سے مشابہت پائی جاتی ہے۔

ریکارڈ پر کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں کہ گواہان استغاثہ کی ملزم کے ساتھ پارٹی اختلاف کے باعث کوئی دشمنی یا عداوت ہے۔ گواہان استغاثہ کے بیانات انتہائی قابل اعتماد ہیں اور ان پر یقین نہ کرنے کی میرے پاس کوئی وجہ نہیں۔ ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ملزم نے مورخہ 29-01-2002 کو زیر دفعہ 265-K، مجموعہ ضابطہ فوجداری، یہ گزارش کرتے ہوئے اپنی بریت کے لیے درخواست دائر کی کہ چونکہ اس کیس میں دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی پابندی نہیں کی گئی، اس لیے چالان کے مطابق کارروائی شروع نہیں کی جا

صفحہ 528

سکتی۔ میرے فاضل پیش رو کی جانب سے اس درخواست کو بمطابق احکامات مورخہ 05-03-2003، مسترد کر دیا گیا تھا۔ مدعی کے فاضل وکیل کے علاوہ ملزم کے وکیل کی طرف سے یہ امر میرے علم میں لایا گیا کہ نظر ثانی کی درخواست معزز عدالت عالیہ، بہاولپور بنچ کے روبرو دائر کی گئی اور اسے واپس لے لیا گیا۔ بہرحال اس کی نقل پیش نہیں کی گئی۔

ریکارڈ کے جائزے، گواہی پر متذکرہ بالا بحث اور کیسٹوں کے جزوی حصوں کی سماعت کے ذریعے، میری یہ کامل رائے ہے کہ استغاثہ نے زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان، ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ کامیابی سے ثابت کر دیا ہے، اس لیے میں ملزم کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کا مرتکب اور موت کی زیادہ سے زیادہ سزا کا مستحق ٹھہراتا ہوں۔ ملزم کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور، بہاولپور بنچ سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی، تاہم اس سلسلہ میں ایک علیحدہ ریفرنس تیار کر کے بھیجا جا رہا ہے۔ نیز اسے مبلغ ایک لاکھ روپے (Rs.100,000/-) جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔

مندرجہ بالا بحث اور دفعہ 196-C مجموعہ ضابطہ فوجداری کے حوالے سے دلائل کے پیش نظر، ملزم کو دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان سے مبرا قرار دیا جاتا ہے۔ مقدمہ کے متعلق اشیاء بحق سرکار ضبط کی جاتی ہیں۔

ملزم کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ ہذا کے خلاف 7 یوم کے دوران اپیل دائر کر سکتا ہے۔ فیصلہ ہذا کی نقل اسے بلا قیمت فراہم کی جائے گی۔ عدالت میں حاضر ملزم، پولیس کی تحویل میں ہے اور اسے عدالت ہذا کی طرف سے دی گئی سزا بھگتنے کے لیے ڈسٹرکٹ جیل، بہاولپور بھیجا جائے۔ فائل باقاعدہ طور پر مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ جاوید اختر 6 اگست 2003ء ایڈیشنل سیشن جج بہاولنگر

صفحہ 529

جناب محمد بخش مسعود ہاشمی ایڈیشنل سیشن جج لاہور

سرکار بنام یونس مسیح، مئی 2007ء

صفحہ 530
صفحہ 531

دل کی بات

جب کسی گستاخ رسول کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کے اس خبیثانہ فعل سے اسے نہ صرف سزا نہیں ملے گی بلکہ حکومت ایک معزز مہمان سا پروٹوکول دے کر کسی یورپی ملک روانہ کر دے گی جہاں اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جائے گا، شہریت پیش کی جائے گی، ایوارڈز سے نوازا جائے گا، انعامات کے خزانے کھول دیئے جائیں گے...... تب اس کا حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ یہ گستاخانہ اور خبیثانہ فعل کر گزرتا ہے۔

ایسے ہی بدبختوں میں لاہور کا یونس مسیح بھی شامل ہے۔ 10 ستمبر 2005ء کو گرین ٹاؤن لاہور کے علاقہ بستی عیسائیاں میں ایک قوالی کا اہتمام کیا گیا جس میں قوالوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں عقیدت مندانہ کلمات ادا کیے۔ اس دوران ملزم یونس مسیح آیا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز غلیظ الفاظ بولنے شروع کر دیئے۔ وہ قوالی کی محفل میں موجود مسلمانوں کو یہ کہہ کر للکارتا اور غصہ دلاتا رہا کہ آؤ اگر ہمت ہے تو میری پٹائی کرو۔ اس پر مجمع میں شدید اشتعال پھیل گیا اور قریب تھا کہ جھگڑے کی صورت میں کوئی بڑا حادثہ رونما ہو جاتا۔ عیسائی لوگ فوراً ملزم یونس مسیح کو ایک گھر کے اندر لے گئے اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیں گے۔ تب مسلمان وہاں سے منتشر ہو گئے۔ اسی دن تھانہ فیکٹری ایریا میں ملزم کے خلاف قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

یہاں ایک نہایت توجہ طلب بات کا ذکر ہر مسلمان کے ایمان کو تازگی بخشے گا کہ جب مدعی اس واقعہ کی درخواست لے کر تھانہ آیا تو پولیس آفیسر نے ملزم کی طرف سے حضور ﷺ کی شان میں کہے گئے ایسے گستاخانہ اور اہانت آمیز کلمات پر مشتمل درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایسے الفاظ پر مشتمل ایف آئی آر درج نہیں کرے گا خواہ اس کی ملازمت ختم ہو جائے۔ چنانچہ ملزم کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے ایک نئی

صفحہ 532

درخواست دی گئی۔ دوران مقدمہ سماعت کے موقع پر ملزم کے وکیل نے اعتراض کیا تھا کہ ایسے گستاخانہ جملے ایف آئی آر میں موجود نہیں۔ حالانکہ مدعی نے مقدمہ کے اندراج کے لیے جو پہلے درخواست دی تھی، اس پر ملزم کی طرف سے ادا کیے گئے گستاخانہ الفاظ موجود تھے۔ اس کے علاوہ موقعہ پر موجود کئی افراد نے ملزم کی زبان سے گستاخانہ الفاظ سنے اور عدالت میں گواہی دی۔ میں مذکورہ پولیس آفیسر کو اس دینی غیرت و حمیت پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔

اس مقدمہ میں محترم جج صاحب نے جرم ثابت ہونے پر ملزم یونس مسیح کو توہین رسالت ﷺ کے ارتکاب میں سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ محترم انوار احمد قریشی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ (سابق آفیسر سٹیٹ بینک آف پاکستان لاہور) نے اس فیصلہ کی نقل مہیا کی جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 533

بعدالت جناب محمد بخش مسعود ہاشمی ایڈیشنل سیشن جج لاہور

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 723/05 بتاریخ 10 ستمبر 2005ء پولیس سٹیشن : فیکٹری ایریا، لاہور بجرم : زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان

سرکار

بنام

یونس مسیح

(ملزم)

تاریخ فیصلہ: 30 مئی 2007ء

صفحہ 534

فیصلہ

جناب محمد بخش مسعود ہاشمی، ایڈیشنل سیشن جج لاہور

723/05 مورخہ 10-09-2005، مندرج پولیس اسٹیشن فیکٹری ایریا، مدعی حافظ عبدالعزیز کی درخواست (Exh.P/A) کی بنیاد پر درج کیا گیا جس پر عبدالمجید ایس ایچ او، پولیس سٹیشن فیکٹری ایریا جو گواہ استغاثہ نمبر 5 بھی ہے، نے ملزم کے خلاف مورخہ 10-09-2005 کو حسب ضابطہ ایف آئی آر (Exh.P/A-1) درج کی۔ مندرجہ بالا ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تفتیشی ایجنسی نے اس کی تفتیش کی۔ تفتیشی افسر محمد ارشد سب انسپکٹر، حالیہ تعینات پولیس سٹیشن گرین ٹاؤن لاہور جو گواہ استغاثہ نمبر 6 بھی ہے، کے علاوہ اس کی تفتیش سید انتصار حسین جعفری، ایس پی ماڈل ٹاؤن، حالیہ تعینات، ایس پی شیخوپورہ، ٹریفک نے کی جو گواہ استغاثہ نمبر 7 ہے۔

تفتیش مکمل کرنے کے بعد، توہین رسالتﷺ پر مبنی الفاظ کے ساتھ، زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کے خلاف چالان زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان پیش کیا گیا اور مجاز سیشن کورٹ کے روبرو پیش کر دیا گیا جس نے اسے عدالت ہذا کو تفویض کر دیا۔ اس چالان کی وصولی کے بعد، نقول زیر دفعہ 265-C مجموعہ ضابطہ فوجداری ملزم کو فراہم کی گئیں اور بعد ازاں، باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی جس کے متعلق عدالت ہذا میں حاضر ملزم کو بتایا گیا اور اسے پڑھ کر سنائی گئی جس پر ملزم نے اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔ پھر استغاثہ کی طرف سے گواہی طلب کی گئی اور استغاثہ نے حاجی

صفحہ 535

عبدالعزیز ( گواہ استغاثہ نمبر 1)، امجد حسین چیمہ (گواہ استغاثہ نمبر 2)، عبدالرؤف بٹ (گواہ استغاثہ نمبر 3)، طارق محمود (گواہ استغاثہ نمبر 4)، عبدالمجید سب انسپکٹر (گواہ استغاثہ نمبر 5)، محمد ارشد سب انسپکٹر ( گواہ استغاثہ نمبر 6) اور سید انتصار حسین جعفری، ایس پی ( گواہ استغاثہ نمبر 7) پیش کیے۔

بٹ ذات کشمیری عمر 27 سال پیشہ دکاندار ساکن، E-500/1 قینچی امرسدھو، لاہور کینٹ پیش کیا جس نے گزشتہ سال دوران جرح بیان دیا کہ مورخہ 10 ستمبر 2005ء کو تقریباً 4 بجے سہ پہر میرے بھائی عبدالرؤف نے مجھے بتایا کہ وہ قوالی کی ایک محفل میں موجود تھا، جو بابا چھابہ مسیح کے مکان پر منعقد ہوئی۔ بہت سے لوگ قوالی کی محفل میں شریک تھے، ان میں سے کچھ مسلمان اور دوسرے عیسائی تھے جنہوں نے ایک کھلی محفل میں شرکت کی۔ قوال یہ مخصوص الفاظ گا رہا تھا:

دل نبی (ﷺ) دے نظارے کولوں رج دا ای نئیں

ان الفاظ کی گائیکی کے دوران، ملزم یونس مسیح جو عدالتی تحویل میں حاضر ہے، آیا اور قوال کو قوالی روکنے اور اسے یسوع مسیح کے گیت گانے کے لیے کہا۔ قوال نے قوالی روک دی اور یسوع مسیح کے گیت گانے شروع کر دیے۔ یہ گیت گانے کے بعد اس نے قوالی دوبارہ شروع کر دی۔ قوال کی طرف سے قوالی کے دوران، ملزم یونس مسیح نے گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان کا استعمال شروع کر دیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف غلیظ فقرات بولے جو مندرجہ ذیل ہیں: (نعوذ باللہ)

........................................................................................................... ...........................................................................................................

مزید برآں، اس نے یہ اہانت آمیز الفاظ بھی کہے:

...........................................................................................................

اور اس نے دوبارہ مسلمانوں سے کہا کہ اگر وہ اس کی مار پٹائی کر سکتے ہیں تو پھر آ جاؤ اور میری پٹائی کرو۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد تھوڑی تھی جبکہ عیسائی بہت زیادہ تعداد میں تھے اور انہوں نے لڑنا اور جھگڑنا شروع کر دیا لیکن عیسائی، ملزم یونس مسیح کو گھر کے اندر لے گئے اور

صفحہ 536

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیں گے اور پھر مسلمان رات کو اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ اگلے دن، تقریباً 4 بجے سہ پہر میرے بھائی نے مجھے وقوعہ کے متعلق بتایا۔ حافظ شہباز، محمد اصغر، محمد شرافت، محمد امجد، محمد مقصود، صداقت، افضل چیمہ اور دیگر افراد، مختلف افراد کی جانب سے وقوعہ کے متعلق سننے کے بعد چوک میں تقریباً 5:15 بجے شام جمع ہو گئے اور ہمیں بتایا گیا کہ ایک لڑکا جونا سٹین (Joona Stain) نامی نے نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے اور بعدازاں، ہم سب بستی عیسائیاں چلے گئے۔ جلد ہی ہم بستی عیسائیاں پہنچ گئے اور جب ہم عدالتی تحویل میں حاضر ملزم سے کچھ فاصلے پر تھے، اس نے ہمیں دیکھ لیا اور اپنے ہاتھ بلند کر کے ہلائے اور وہی الفاظ دہرائے جو میں نے اوپر بیان کیے ہیں۔ ملزم نے یہ الفاظ با آواز بلند کہے کہ مسلمانو! آؤ اور میری پٹائی کرو۔ اس کے بعد ہمارے اور ملزم کے درمیان جھگڑا ہوا۔ عیسائیوں کے کچھ معتبر لوگوں نے کہا کہ ہمیں ملزم کے ساتھ لڑنا نہیں چاہئے اور وہ (خود) ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیں گے۔ بعدازاں ہم نے (پولیس ہیلپ لائن) 15 پر فون کیا لیکن ہمیں بتایا گیا کہ ملزم پہلے ہی پولیس سٹیشن جا چکا ہے۔ پھر ہم نے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ دوبارہ کہا کہ انہوں نے رات کو معاملے کے متعلق پولیس سٹیشن کو مطلع کر دیا تھا اور میں نے درخواست (Ex.P/A) پر اپنے دستخط ثبت کیے اور انگوٹھے کا نشان نقش کیا۔ (اس مرحلے پر صفائی کے وکیل اسلم پرویز چودھری ایڈووکیٹ نے یہ اعتراض اٹھایا کہ گواہ نے صرف یہی بتایا کہ اس نے محض پولیس کو مطلع کیا اور ایف آئی آر درج کرائی اور مدعی کی درخواست / شکایت جس پر اس کے انگوٹھے کا نشان ثبت ہے، اسے دکھایا / پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اعتراض نوٹ کر لیا گیا ہے، اسے حتمی دلائل کے موقع پر زیر غور لایا جائے گا۔

صفائی کے وکیل اسلم پرویز چودھری کی جانب سے دوران جرح، گواہ نے بتایا کہ میری دکان سے بستی عیسائیاں کا فاصلہ 50، 100 میٹر ہے۔ میں اپنی دکان پر اپنی باری پر بیٹھتا ہوں۔ اگر میں پہلے وقت دکان پر بیٹھوں تو دوسرے وقت میرے والد بیٹھتے ہیں۔ میں یہاں گزشتہ پچاس برس سے رہ رہا ہوں۔ بستی عیسائیاں میں عیسائیوں کے 100، 200 گھر ہیں۔ عیسائی، اس بستی میں کافی برسوں سے رہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں۔ یہ غلط ہے کہ کوئی بھی مسلمان، عیسائی خاندانوں

صفحہ 537

سے میل ملاقات نہیں رکھتا۔ یہ درست ہے کہ چھابہ مسیح، عیسائی ہے۔ یہ درست ہے کہ چھابہ مسیح، گزشتہ 3، 4 برس سے قوالی کروا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ قوالی کی اس محفل میں گزشتہ 3، 4 برس سے مسلمان اور عیسائی اکٹھے شریک ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ 30 برس قبل، مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کچھ فسادات ہوئے تھے اور ان فسادات کا مجرم، عدالت میں حاضر ملزم کا باپ تھا۔ یہ میرے ذاتی علم میں نہیں کہ کیا فساد کے متعلق ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ علاقہ کے لوگوں نے مجھے فساد کے اس واقعہ کے متعلق بتایا۔ یہ میرے علم میں نہیں کہ کچھ لوگوں نے میری درخواست پولیس سٹیشن دی ہے یا نہیں۔ ہم پولیس سٹیشن، تقریباً 7:30 بجے رات پہنچے، ہم پولیس سٹیشن چلے گئے اور ہم تقریباً 300، 400 افراد تھے۔ مجھے یہ علم نہیں کہ تھانیدار کا نام کیا ہے۔ میں نے تھانیدار کو مکمل کہانی سنائی۔ رضا کارانہ طور پر کہا اس نے بھی مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست پیش کی (اس مرحلے پر وکیل صفائی نے اعتراض اٹھایا کہ اس نے یہ سوال نہیں پوچھا۔ اعتراض قلمبند کر لیا گیا اور دلائل کے موقع پر اس پر غور کیا جائے گا)۔ میں نے درخواست میں ذکر نہیں کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کون سے الفاظ بتائے تھے۔ میں نے اس درخواست میں ذکر نہیں کیا کہ میرے بھائی نے مجھے بتایا کہ عدالت میں حاضر ملزم اس وقت نمودار ہوا اور قوال سے قوالی روکنے اور یسوع مسیح کے گیت گانے کا کہا۔ Ex.P/A (درخواست) کو جب دیکھا گیا جہاں لفظ 'بھائی' کا ذکر نہیں، تاہم اس میں یہ قلمبند ہے کہ قوالی بند کرنے کے لیے کہا۔ میں نے اپنی درخواست (Ex.P/A) میں ملزم کی طرف سے ادا کیے گئے مندرجہ ذیل گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔

خود رضا کارانہ طور پر کہا کہ جب ہم ملزم کی طرف سے مبینہ طور پر بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے درست اظہار پر مشتمل درخواست تیار کر رہے تھے، پولیس افسر نے قطعی طور پر یہ درخواست موصول کرنے سے انکار کر دیا، حتیٰ کہ اس نے اپنی ملازمت کی بھی پروا نہیں کی۔

عدالت کا سوال؟ تم نے پولیس افسر کو کس قسم کی دستاویزات پیش کی۔

جواب: میں نے پولیس افسر کو اپنی درخواست سمیت بیان حلفی دیا۔ میں نے مندرجہ ذیل الفاظ کا ذکر نہیں کیا:

صفحہ 538

درخواست (Ex.P/A) کو جب دیکھا گیا تو اس میں یہ لکھا تھا:

تاہم، بقایا سطریں مذکور نہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

یہ درست ہے کہ میں نے اپنی درخواست (Ex.P/A) میں یہ ذکر نہیں کیا کہ کیا بستی کی آبادی میں عیسائیوں یا مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ میں نے اپنی درخواست (Ex.P/A) میں ذکر کیا کہ عیسائیوں نے مسلمانوں سے وعدہ کیا کہ وہ عدالت میں حاضر ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیں گے۔ یہ میرے ذاتی علم میں نہیں کہ کس نے 15 پر فون کیا۔ وقوعہ کے اگلے دن، تقریباً 4.00 بجے سہ پہر میرے بھائی نے مجھے وقوعہ کے متعلق بتایا۔ میرے بھائی کا نام عبدالرؤف بٹ ہے جس نے اگلے دن مجھے وقوعہ کے متعلق بتایا۔ ہم بستی عیسائیاں تقریباً 5.30 یا 5.50 بجے شام پہنچے۔ ہم 10، 12 مسلمان تھے جو وہاں پہنچے۔ ہم بستی عیسائیاں میں کسی سے بھی نہیں ملے۔ ہم اس دن علاقے کے کسی نمبردار یا معززین سے نہیں ملے۔ یہ درست نہیں ہے کہ ہم ملزم کے گھر داخل ہوئے اور اس کی پٹائی شروع کر دی اور ملزم، بابا چھابہ کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم ملزم کے گھر داخل ہوئے اور اس کے گھر کے افراد کی پٹائی شروع کر دی اور گھر کو نذر آتش کر دیا۔ ہم نے بابا چھابہ سے ملاقات نہیں کی۔ یہ غلط ہے کہ ہم مکینوں کے گھروں میں داخل ہو گئے اور دیگر عیسائیوں کے گھر نذر آتش کر دیے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے عیسائیوں کے گھر نذر آتش کر دیے اور ملزم کا گھر بھی نذر آتش کر دیا اور ملزم ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے پولیس سٹیشن چلا گیا۔ یہ میرے ذاتی علم میں نہیں کہ عدالت میں حاضر ملزم کا پولیس کی طرف سے طبی معائنہ کرایا گیا یا نہیں۔ جونا سٹین کی حقیقت، ہمیں میرے بھائی عبدالرؤف بٹ، افضل چیمہ اور مسعود نے بتائی۔ متذکرہ بالا اشخاص، چوک میں موجود تھے۔ میں نے اپنی درخواست (Ex.P/A) میں اس حقیقت کا ذکر کیا جو میں نے دوران جرح بیان کی کہ ملزم نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور ہلائے اور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ ان الفاظ کا درخواست (Ex.P/A) میں ذکر نہیں کیا گیا..............................میرے ساتھ جو لوگ عیسائیوں کی بستی میں

صفحہ 539

گئے، ان میں محمد شرافت، محمد اصغر، امجد چیمہ، شہباز چیمہ، مقصود فرخ، صداقت، لیاقت، افضل چیمہ اور بہت سے دوسرے شامل تھے۔ ان میں سے صرف 5 افراد نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے بیان ریکارڈ کروائے۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ ان کے بیانات کب ریکارڈ ہوئے؟ میں گواہوں کے ساتھ پولیس کے پاس گیا لیکن مجھے تاریخ یاد نہیں۔ یہ بیانات غالباً وقوعہ سے دو تین دن بعد ریکارڈ ہوئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ عدالت میں حاضر ملزم نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب نہیں کیا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف گستاخانہ الفاظ استعمال نہیں کیے اور یہ غلط ہے کہ میں نے ملزم کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلم علاقے کے نوجوان، عیسائیوں کے علاقے میں داخل ہو جاتے اور عیسائی لڑکیوں کو چھیڑتے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ بہت سے لوگوں نے ہمیں یہ کرنے سے روکا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اس غلط مقدمہ کے باعث بابا چھابہ کو اس مقدمہ میں بطور گواہ بتایا گیا۔

دورانِ جرح بتایا کہ یہ غلط ہے کہ مورخہ 2005-09-10 کو میں تقریباً 4.00 بجے سہ پہر فیکٹری سے واپس گھر جا رہا تھا کہ تقریباً 5.30 بجے شام، میں مدینہ چوک پہنچ گیا اور اپنے دوستوں کا استقبال کیا۔ میرے گھر کے راستے میں عبدالعزیز بٹ، گواہ استغاثہ نمبر 1 کی دکان ہے، میں نے چوک میں حافظ عبدالعزیز اور دیگر افراد کو کھڑے دیکھا جو ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے۔ میں نے ان سے استفسار کیا کہ وہ کس معاملے پر بحث کر رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ عدالت میں حاضر ملزم نے قوالی کی محفل میں نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے۔ اس حقیقت کی تصدیق کے لیے، مدعی نے اپنے ساتھ جانے کے لیے کہا، جب ہم تصدیق کے لیے جارہے تھے، یونس مسیح نے ہمیں دیکھا اور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے شروع کر دیے۔ وہ گالیاں بک رہا تھا اور غلیظ زبان بولنی شروع کر دی۔ میں اس (گالی گلوچ) کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا، اس (عدالت میں حاضر ملزم) نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کہا کہ مسلمانو! میرے پاس آؤ اور مجھے مارو۔ میں پنجتن پاک کا منکر ہوں اور مندرجہ ذیل گستاخانہ الفاظ بولے: ................................................................................................

اس کے بعد وہاں جھگڑا ہوا اور عدالت میں حاضر ملزم کے ساتھ لڑائی ہوئی۔ بعدازاں، بعض

صفحہ 540

معتبر عیسائیوں نے مداخلت کی لیکن عدالت میں حاضر ملزم بھاگ گیا۔ اس کے بعد ایف آئی آر درج کرائی گئی اور میرا بیان قلمبند کیا گیا۔

وکیل صفائی، پرویز اسلم ایڈووکیٹ کی جانب سے جرح کے دوران، اس نے کہا کہ میں فیکٹری کا ملازم نہیں، میں تو صرف فیکٹری کو گاڑیاں فراہم کرتا ہوں۔ میں نے پولیس کے روبرو بیان دیا کہ جب میں چوک میں پہنچا تو وہاں کچھ لوگ معاملے کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔ میں نے ان سے استفسار کیا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک عیسائی نے غلیظ زبان، گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جب (Ex.D/A) کو دیکھا گیا تو اس میں یہ الفاظ مذکور نہیں تھے۔ اس نے خود بتایا کہ میں نے یہ بیان دیا لیکن پولیس افسر نے اس قسم کا بیان قلمبند کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے عقیدے کے باعث اپنی ملازمت کو خطرے میں ڈال کر بھی یہ الفاظ نہیں لکھ سکتا جو بہت ہی گستاخانہ تھے۔ جس پولیس افسر کے پاس وہ گیا، وہ مسلمان تھا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے بھی پولیس کے روبرو یہ بیان دیا کہ میں مع مدعی، وقوعہ ہذا کی تصدیق کے لیے گیا۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق پولیس کے روبرو بیان قلمبند کرایا جو مندرجہ ذیل ہیں:

.................................................................................

اس نے رضا کارانہ طور پر کہا کہ میں نے بیان دیا لیکن پولیس افسر نے اس قسم کا بیان قلمبند کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اپنے عقیدے کے باعث اس قسم کے گستاخانہ الفاظ نہ لکھنے کے لیے اپنی ملازمت کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے ملزم یونس مسیح کی طرف سے ہاتھ بلند کرنے اور ہلانے کی حرکت پولیس کے روبرو بیان کر دی۔ جب (Ex.D/A) کو دیکھا گیا تو اس میں ملزم کی طرف سے ہاتھ اٹھانے اور ہلانے کا ذکر نہیں تھا۔ (Ex.D/A) میں زیر دفعہ 161 ، اس کے بیان میں لفظ تصدیق کا ذکر نہیں۔ تاہم، جن الفاظ کے ذریعے گستاخی اور اہانت کا اظہار ہوتا تھا، انہیں مکمل طور پر (Ex.D/A) میں بیان کیا گیا۔ میں نے 10 تاریخ کو پولیس کے روبرو بیان، پولیس سٹیشن میں دیا۔ ہم نے بعد ازاں تقریباً 7.00 تا 9.00 بجے رات بیان دیا۔ ہم پولیس سٹیشن کے کمرے میں اس وقت 17، 18 افراد تھے جب میں نے بیان دیا۔ پولیس کے تفتیشی افسر نے صرف ان افراد کے بیانات قلمبند کیے جنہوں نے وقوعہ کا مشاہدہ کیا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مدعی کے کہنے

صفحہ 541

اور ایما پر جھوٹا بیان دیا۔

جس نے دوران جرح بتایا کہ مورخہ 9 ستمبر 2005ء کو جمعہ کے دن، عشا کے وقت (بعد از عشا)، کھانا کھانے کے بعد، میں مدینہ چوک، امر سدھو گیا اور میری ملاقات صوبیدار ریٹائرڈ محمد انور چشتی سے ہوئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ آج عیسائی گاؤں (بستی عیسائیاں) میں ایک پروگرام (محفل قوالی) ہے اور تقریباً 9.30، میں انور چشتی کے ہمراہ بستی عیسائیاں کی طرف چلا گیا۔ اس وقت قوالی ہو رہی تھی اور ہم ایک طرف بیٹھ گئے۔ قوال اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا:

دل نبی دے نظارے کولوں رج دا ای نئیں

دوران قوالی، عدالت میں حاضر ملزم، قوالی کی جگہ کے عقب سے سامنے آیا۔ اس نے قوال کے سامنے کھڑا ہو کر کہا:

ایس نبی دی قوالی بند کرو تے یسوع مسیح دے گیت گاؤ

اس کے بعد، بابا چھابہ جس نے قوالی کا انتظام کیا تھا، صورتحال کو سنبھالتے ہوئے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ قوال نے یسوع مسیح کا گیت گاتے ہوئے دوبارہ قوالی شروع کی۔ کچھ دیر بعد قوال نے دوبارہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں پڑھنا شروع کیا۔ پھر عدالت میں حاضر ملزم کھڑا ہو گیا، مائیکوں کو ادھر ادھر کر دیا اور کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی قوالی بند کرو اور مندرجہ ذیل گستاخانہ الفاظ کہے:

........................................................................

اس کے بعد عدالت میں حاضر ملزم اونچی آواز سے چلّایا اور کہا: ”میں کسی نوں نئیں مندا تے حضور پاک ﷺ دی شان وچ گستاخانہ گالیاں بکنا شروع کر دیتیاں۔“ یہ غلیظ زبان سننے کے بعد، میں اور متذکرہ بالا انور چشتی، قوالی کے منتظم سے ملے، آگے بڑھے اور اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ بابا چھابہ اور دیگر نے مداخلت کی اور ہمیں علیحدہ کیا اور کہا کہ ہم معاملے کو خود دیکھیں گے اور براہ مہربانی تم جاؤ۔ پھر ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے اور ہم نے یہ پروگرام بنایا کہ اگلے دن صبح سویرے، یہ کہانی اپنے کونسلر کو بتائیں گے۔ اگلے دن صبح سویرے، جب ہم کونسلر کو ملنے گئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو

صفحہ 542

پہلے ہی اپنی زمین پر جا چکا ہے۔ بعدازاں میں کالج میں اپنے کام پر چلا گیا اور کالج سے میں 4.00 بجے سہ پہر واپس آیا۔ چوک امرسدھو پر واقع میری دکان پر میرا چھوٹا بھائی، حافظ عبدالعزیز بٹ اور اس کے کچھ ساتھی دکان میں موجود تھے، اور انہوں نے مجھ سے وقوعہ کے متعلق پوچھا کیونکہ وہ پہلے ہی اس وقوعہ کے متعلق باخبر ہو چکے تھے۔ پھر میں نے انہیں گزشتہ رات کے واقعہ کے متعلق مفصل بتایا۔ اس کے بعد میں نے کھانا کھایا اور ٹیوشن کے لیے چلا گیا۔ پھر مجھے ٹیلیفون پر بتایا گیا کہ گزشتہ رات کے وقوعہ کے باعث جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا ہے اور مجھے پولیس سٹیشن پہنچنا چاہیے۔ جب میں ٹیوشن سے پولیس سٹیشن پہنچا تو ایف آئی آر درج کرائی جارہی تھی۔

وکیل صفائی کی طرف سے جرح کے دوران، اس نے بتایا کہ میرا تعلق سنی مسلک سے ہے اور مقدمہ ہذا کا مدعی بھی اسی مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ میں نے پولیس کے روبرو بیان دیا جو میں نے آج عدالت میں دیا ہے۔ میں نے پولیس کے روبرو یہ بیان نہیں دیا کہ قوال کہہ رہے تھے کہ

دل نبی(ﷺ) دے نظارے کولوں رج دا ای نئیں

میں نے پولیس کے روبرو یہ بیان نہیں دیا: کہ ملزم نے کہا کہ نبیﷺ کی قوالی بند کرو اور یسوع مسیح دے گیت گاؤ

میں نے پولیس کے روبرو یہ بیان دیا: کہ قوالوں نے یسوع مسیح کے گیت بند کر کے دوبارہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان اقدس میں قوالی شروع کر دی۔ لیکن اس قسم کا بیان دستیاب نہیں۔ جب (Ex.D/B) کو دیکھا گیا تو قلمبند بھی نہیں کیا گیا تھا (زیر اعتراض جسے حتمی دلائل کے وقت زیر غور لایا جائے گا)۔ میں نے پولیس کے روبرو بیان دیا کہ ملزم یونس مسیح دوبارہ اٹھا، مائیک پکڑ لیا اور کہا کہ اس نبی ﷺ کی قوالی بند کرو کیونکہ یہ نبی(ﷺ) ....................................................................‘‘

(Ex.D/B) کو دیکھا گیا، جو قلمبند نہیں کیا گیا (زیر اعتراض جسے دلائل کے وقت زیر غور لایا جائے گا)۔ ریکارڈ پر گواہ کا بیان حلفی موجود ہے جو اسے بھیجا گیا۔ مدعی کی طرف سے یہ استدعا کی گئی کہ عبدالرؤف بٹ کا بیان حلفی دکھایا جاسکتا ہے۔ اس کی وکیل صفائی نے شدید مخالفت کی (اعتراض پر دلائل کے وقت غور کیا جائے گا)۔ وکیل صفائی نے یہ سنگین

صفحہ 543

اعتراض اٹھایا کہ بیان حلفی کے متعلق اس قسم کے بیان کا نہ تو حوالہ دیا گیا اور نہ ہی متذکرہ گواہ نے اس کا جواب دیا۔ میں نے تفتیشی افسر کے روبرو یہ بتایا کہ ملزم نے اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے:

”میں کسی نوں نئیں مندا تے حضور پاک ﷺ دی شان وچ گالیاں بکنا شروع کر دتیاں۔“

(Ex.D/B) کو دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ریکارڈ پر نہیں لیکن بیان (Ex.D/B) میں یہ ذکر ہے کہ:

”اور حضور پاک ﷺ کی شان اقدس مبارک میں نعوذ باللہ گستاخی شروع کر دی اور گالی گلوچ کیا۔“

(Ex.D.B) کے مطابق جس میں کونسلر کے گھر میں آمد کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ میں نے اس سے پہلے پولیس کے روبرو نہیں کہا کہ میں کالج گیا اور واپسی پر 4.00 بجے سہ پہر ٹیوشن پر چلا گیا۔ میں نے پولیس کے روبرو نہیں کہا کہ مجھے اپنی ٹیوشن پر اور پولیس سٹیشن پہنچتے ہوئے ٹیلیفون کے ذریعے مقدمہ کے اندراج کے متعلق بتایا گیا۔ یہ درست ہے کہ بابا چھابہ، مقدمہ ہذا کا ایک گواہ ہے۔ (مدعی پر وکیل صفائی کا یہ اعتراض ہے کہ یہ سوال گواہ سے نہیں پوچھا جا سکتا کیونکہ جرح کے دوران یہ پہلے ہی ریکارڈ پر آ چکا ہے)۔ مجھے تقریباً 7.00 بجے رات ٹیلیفون کے ذریعے وقوعہ کے متعلق بتایا گیا۔ اس وقت میں بوستاں کالونی قینچی امرسدھو میں ٹیوشن پڑھا رہا تھا۔ میں محض 15 منٹ بعد ٹیوشن سے فارغ ہو گیا تھا۔ میں بوستاں کالونی سے پندرہ منٹ کے اندر پولیس سٹیشن پہنچ گیا۔ جب میں پولیس سٹیشن پہنچا تو وہاں 25، 30 افراد موجود تھے۔ میں ان تمام 25، 30 افراد کو جانتا ہوں کیونکہ ان کا تعلق میرے گاؤں سے ہے۔ میں ان 25، 30 افراد کے نام بھی بتا سکتا ہوں لیکن ممکن ہے کہ میں ان کی ولدیت نہ بتا سکوں۔ یہ درست ہے کہ ایف آئی آر، میرے پولیس سٹیشن پہنچنے کے بعد درج کرائی گئی۔ مجھے اس وقت پولیس سٹیشن میں موجود پولیس افسروں کے نام معلوم نہیں۔ مجھے اس پولیس افسر کا نام معلوم نہیں جو مقدمہ درج کر رہا تھا۔ میں نے مدعی، حافظ شہباز، محمد امجد، شیخ شرافت، محمد اصغر، صوبیدار محمد انور چشتی، طارق محمود، محمود غزنوی، غفور احمد اور باؤ چراغ دین کے بیانات قلمبند کروائے۔ ان تمام کا تعلق سنی مسلک سے نہیں۔ مقامی سطح پر معاملے کی تفتیش کے لیے مسلم علماء، عیسائی پادریوں اور پولیس آفیسرز کی کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی

صفحہ 544

گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا عیسائی لڑکیوں کو چھیڑنے پر فسادیوں نے عیسائیوں کے گھر نذر آتش کر دیے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ کوئی دنگا فساد ہو گیا تھا اور فوج اور پولیس نے عیسائیوں کو بچایا۔ بابا چھابہ عیسائی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کس وقت بابا چھابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز میں قوالی کا اہتمام کیا۔ یہ درست ہے کہ اس وقوعہ سے قبل میں کبھی بھی بابا چھابہ کے گھر نہیں گیا۔ یہ غلط ہے کہ قوالی کے وقت میں بابا چھابہ کے گھر نہیں گیا۔ یہ درست ہے کہ میرا بھائی/ مقدمہ ہذا کا مدعی، قوالی کے وقت موجود نہیں تھا لیکن باقی لوگ وہاں موجود تھے جن کے نام صوبیدار محمد انور چشتی، طارق محمود، محمود غزنوی، غفور احمد اور باؤ چراغ دین ہیں۔ یہ درست ہے کہ محمد افضل چیمہ نامی ایک شخص، اسی علاقہ سے مقدمہ ہذا کا گواہ ہے۔ یہ غلط ہے کہ محمد افضل چیمہ اس علاقے کا رہائشی نہیں۔ میں اپنی پیدائش سے ہی مدینہ چوک کا رہائشی ہوں۔ یہ درست ہے کہ اپنی پیدائش سے اب تک میں نے اس قسم کا وقوعہ نہیں دیکھا۔ یہ بھی درست ہے کہ عیسائی بھی اسی علاقہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ جو کچھ ملزم کے ساتھ منسوب کیا گیا، وہ جھوٹ ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں نے ملزم کے خلاف جھوٹی گواہی دی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ عدالت میں حاضر ملزم نے قوالی میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال نہیں کیے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ یونس مسیح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق نیک خیالات اور احساسات رکھتا ہے۔

دوران جرح بتایا کہ مورخہ 9 ستمبر 2005ء کو بروز جمعہ، تقریباً 10 بجے رات میں محمد حنیف سے ملاقات کے لیے وقوعہ کے مبینہ مقام کے نزدیک پہنچا جس کے ساتھ میرے کچھ کاروباری معاملات ہیں۔ بعد ازاں میں جلد ہی متذکرہ محمد حنیف کے ہمراہ واپس لوٹ آیا، میں نے راستے میں دیکھا کہ قوالی ہو رہی ہے۔ 10.30 بجے رات اور اس کے بعد تک میں وہاں ٹھہر کر قوالی سنتا رہا۔ جب میں وہاں موجود تھا تو میں نے ایک شخص یونس مسیح، ملزم جو اس وقت حراست میں ہے، کو دیکھا جو پنڈال میں بیٹھا ہوا تھا، وہ اٹھ کھڑا ہوا اور با آواز بلند بولا کہ قوالی بند کرو اور یسوع مسیح کے گیت شروع کرو۔ کچھ دیر بعد قوال نے قوالی دوبارہ شروع کی۔ 4، 5 منٹ کے بعد، عدالت میں حاضر ملزم کھڑا ہوا اور چیخنے لگا اور مائیک کے علاوہ دیگر آلات پھینکنے کے ذریعے قوالی کی یہ محفل تتر بتر کر دی۔ نیز اس نے قوالی کی محفل کے آداب کو مجروح کر دیا۔

صفحہ 545

ملزم نے کہا کہ:

”.........................................، اس کی قوالی بند کرو اور یسوع کے گیت گاؤ“۔

میں نے اس ضمن میں تفتیشی افسر کے روبرو بیان حلفی پیش کیا جس نے کہا کہ وہ من وعن گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں لکھے گا، اگر تم چاہتے ہو تو پھر اس ضمن میں بیان حلفی پیش کر سکتے ہو۔ اس واقعہ کے دوران، کچھ افراد، چھابہ مسیح وغیرہ، وہاں کھڑے ہو گئے اور مجھے بتایا کہ وہ صورت حال کو سنبھال لے گا۔ بعدازاں وہ وہاں سے چلا گیا۔

وکیل صفائی کی طرف سے دوران جرح، گواہ نے بتایا کہ مدینہ چوک، بستی عیسائیاں سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ میں اپنی پیدائش سے ہی مدینہ چوک میں رہ رہا ہوں۔ میرا تعلق اہلحدیث مسلک سے ہے۔ میں نے پولیس کے روبرو یہ نہیں کہا کہ میں حنیف کے گھر گیا جس کے ساتھ میرے کاروباری تعلقات ہیں۔ میں نے پولیس کے روبرو یہ نہیں کہا کہ میں نے قوالی میں یونس مسیح کو دیکھا۔ میں نے پولیس کے روبرو بیان دیا ہے کہ قوالی میں ملزم کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے کہنے لگا کہ قوالی بند کرو اور یسوع مسیح کے گیت شروع کرو۔ (Ex.D/C کو جب دیکھا گیا، یہ قلمبند نہیں کیا گیا)۔ میں نے پولیس کے روبرو بیان کیا کہ یونس مسیح قوالی میں اٹھ کھڑا ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف درج ذیل گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے:

”.........................................، اس کی قوالی بند کرو اور یسوع کے گیت گاؤ“۔

(Ex.D/B) کو سامنے رکھا گیا جہاں مخصوص گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ مذکور نہیں)۔ (استغاثہ کی طرف سے اعتراض کہ جس حصے کی تصدیق کی ، اس کی کچھ وضاحتوں کے ساتھ دوران جرح ، تردید کی جا چکی ہے، اس لیے، اس ضمن میں کوئی تقابل نہیں کیا جا سکتا۔ اس اعتراض کو دلائل کے وقت زیرغور لایا جائے گا)۔ مجھے تفتیش میں شامل ہونے کا درست وقت اور تاریخ یاد نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں، مقدمہ ہذا کی تفتیش میں پولیس سٹیشن فیکٹری ایریا میں شامل ہوا۔ میں تفتیشی افسر، رانا ارشد اور دوسرے مجید کے روبرو پیش ہوا۔ میرا بیان، ایف آئی آر کے اندراج کے وقت قلمبند کیا گیا۔ ایف آئی آر کا اندراج، مورخہ 9 ستمبر کو تقریباً 7.15 بجے رات ہوا۔ میرا بیان ایف آئی آر کے اندراج کے بعد قلمبند ہوا۔ میرا بیان، ایف آئی آر کے اندراج کے فوراً بعد قلمبند ہوا۔ یہ درست ہے کہ تفتیشی افسران، جو مقدمہ ہذا

صفحہ 546

کی تفتیش کر رہے تھے، بھی مسلمان تھے۔ مجھے اس پولیس افسر کا نام یاد نہیں جس نے میرا بیان قلمبند کرنے سے انکار کیا۔ میں نے کسی اعلیٰ حکام کو اس پولیس افسر کے خلاف درخواست نہیں دی، نیز میں نے پولیس افسر کے خلاف کوئی بھی رٹ پٹیشن دائر نہیں کی ہے۔ پولیس سٹیشن کی عمارت میں 25، 30 افراد موجود تھے جبکہ پولیس سٹیشن کے باہر بھی ایک ہجوم موجود تھا۔ علاقہ کی کسی مسجد کے کسی امام نے وقوعہ ہذا کے متعلق پولیس کے روبرو بیان نہیں دیا۔ اس مبینہ وقوعہ کے بعد، پڑھے لکھے افراد کی کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔ میں قوالی سننا پسند نہیں کرتا۔ جب میں اس جگہ پہنچا، قوال، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں قوالی گا رہے تھے:

”دل نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) دے نظارے کولوں رج دا ای نئیں“

قوال کی طرف سے یسوع مسیح کے متعلق بولے گئے مخصوص فقرے مجھے یاد نہیں۔ یہ غلط ہے کہ وقوعہ کے فوراً بعد، بہت سے مسلمانوں نے بستی عیسائیاں میں عیسائیوں کے گھر نذرِ آتش کر دیے۔ میری پیدائش سے اب تک اس قسم کا کوئی واقعہ اس علاقے میں پیش نہیں آیا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وقوعہ کی مبینہ جگہ پر کسی قوالی کا اہتمام نہیں کیا گیا اور نہ ہی میں نے وقوعہ کا مشاہدہ کیا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ عدالت کی حراست میں ملزم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں بولے۔ یہ بھی کہنا غلط ہے کہ میں نے آج عدالت ہذا کے روبرو جھوٹا بیان دیا ہے۔

استغاثہ نے عبدالمجید سب انسپکٹر انویسٹی گیشن ونگ پولیس سٹیشن، ساؤتھ کینٹ، لاہور کو بطور گواہ استغاثہ نمبر 5 پیش کیا اور اس پر جرح کے دوران اس نے 10-09-2005 کو بیان دیا کہ میں پولیس سٹیشن فیکٹری ایریا آپریشن ونگ میں سب انسپکٹر تعینات تھا۔ مجھے اسی پولیس سٹیشن میں بطور ڈیوٹی افسر بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اسی دن، عبدالحفیظ ولد محمد سرور بٹ نے ایک تحریری درخواست میرے روبرو پیش کی جو (Ex.P/A) ہے۔ توہین رسالت ﷺ کے متعلق اس درخواست کو وصول کرنے کے بعد میں نے زیردفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، فوجداری مقدمہ درج کیا جو (Ex.P-A/1) ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد مقدمہ ہذا، تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا۔ (Ex.PA/1) پر میرے دستخط ثبت ہیں اور یہ کسی کمی بیشی کے بغیر میرے اپنے ہاتھوں سے قلمبند کیا گیا۔

فاضل وکیل صفائی کی طرف سے جرح کے دوران، گواہ استغاثہ نے بیان کیا کہ

صفحہ 547

میں صبح آٹھ بجے تا شام آٹھ بجے ڈیوٹی پر تھا۔ یہ درست ہے کہ اس دن میری ڈیوٹی شام آٹھ بجے ختم ہو گئی۔ مدعی نے ساڑھے سات بجے شام کو ایک درخواست (Ex.P/A) میرے روبرو پیش کی۔ میں نے ایف آئی آر کے اندراج سے قبل روزنامچے میں رپورٹ بھی لکھی۔ مجھے رپورٹ نمبر یاد نہیں۔ میں اس دن کا پولیس سٹیشن کا روزنامچہ نہیں لایا کیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے عدالت ہذا میں دروغ گوئی کی۔

8- استغاثہ نے محمد ارشد سب انسپکٹر کو بھی بطور گواہ استغاثہ نمبر 6 پیش کیا جو اس وقت پولیس سٹیشن گرین ٹاؤن میں تفتیشی افسر تعینات ہے جس نے دوران جرح بیان کیا کہ میں مورخہ 2005-09-10 کو پولیس سٹیشن فیکٹری ایریا کے انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھا۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش میرے سپرد کی گئی۔ ایف آئی آر کی نقل موصول ہونے کے بعد میں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ نیز مدعی اور دیگر گواہان بھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ گواہان اور مدعی کی نشاندہی پر میں نے انسپکشن نوٹ کے علاوہ جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ بھی تیار کیا جو (Ex.P/B) ہے۔ میں نے زیر دفعہ 161 ضابطہ مجموعہ فوجداری، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ میں نے مورخہ 2005-11-09 کو ملزم کو گرفتار کرنے کی بھی کوششیں کیں، میں نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور اسے قصور وار پایا۔ پھر اس کا چالان تیار کیا اور اسے عدالت کے روبرو پیش کیا۔

گواہ نے دوران جرح بتایا کہ اس فوجداری مقدمے کی ایف آئی آر نمبر 723/2005 ہے۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش مورخہ 2005-09-10 کو تقریباً 7، ساڑھے 7 بجے رات میرے سپرد کی گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا یہ تفتیش میرے سپرد ہونے کے وقت، گواہان اور مدعی، پولیس سٹیشن موجود تھے یا نہیں۔ یہ درست ہے کہ مدعی اور گواہان نے مجھ سے پولیس سٹیشن میں رات 7.00 اور 7.15 بجے کے درمیان ملاقات نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ میں نے مدعی اور گواہان کے بیانات پولیس سٹیشن میں 7.00 یا 7.30 بجے رات قلمبند نہیں کیے۔ اس نے کہا کہ اس قسم کے بیانات میں نے جائے وقوعہ پر قلمبند کیے۔ میں جائے وقوعہ پر تقریباً 7:30 یا 7:40 بجے رات پہنچا، جائے وقوعہ اور پولیس سٹیشن کے درمیان ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ پولیس سٹیشن سے جائے وقوعہ تک پہنچنے کے لیے محض پندرہ منٹ صرف ہوئے۔ جب میں جائے وقوعہ پر پہنچا، وہاں 15 سے 20 افراد مع مدعی اور گواہان موجود تھے۔ کوئی بھی نمبردار یا کونسلر یا ناظم، اس وقت موجود نہیں تھا۔ میں نے تقریباً 7.15 یا 7.30 بجے رات

صفحہ 548

جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کرنا شروع کیا۔ میں نے بابا چھابہ مسیح، ہدایت علی اور شیر محمد نامی اشخاص کو جائے وقوعہ پر نہیں دیکھا۔ میں نے تقریباً 7.15 یا 7.30 بجے شام زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات قلمبند کرنا شروع کیے۔ گواہان کے بیانات قلمبند کرنے اور تفتیشی عمل میں محض ایک گھنٹہ صرف ہوا۔ میں نے وقوعہ کے متعلق کسی بھی عیسائی شخص کا زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیان قلمبند نہیں کیا۔ میں نے اس علاقے (بستی عیسائیاں) کے بیان کردہ گواہان کے علاوہ زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، کوئی بیان قلمبند نہیں کیا۔ یہ میرے علم میں نہیں کہ بہت سے مسلمانوں نے عیسائیوں کی گاؤں بستی نذر آتش کر دی۔ پولیس نے اگلے دن، توہین رسالت ﷺ کے متعلق مسلمانوں کے جلوس کی نگرانی کی۔ یہ میرے ذاتی علم میں نہیں کہ کیا پولیس نے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جنہوں نے احتجاج کیا یا جلوس میں شرکت کی۔ یہ درست ہے کہ ملزم یونس مسیح کا میری تحویل میں طبی معائنہ ہوا۔ اس مرحلے پر، فاضل وکیل استغاثہ اور فاضل وکیل مدعی نے درخواست کی کہ جوڈیشل فائل میں ایک درخواست (Ex.P/C) موجود ہے جو ملزم کی طرف سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہاسپٹل کو دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ وہ طبی معائنہ نہیں کرانا چاہتا۔ یہ غلط ہے کہ یونس مسیح کو مسلمانوں نے زخمی کیا۔ میں نے درخواست (Ex.P/C) میں یہ نہیں لکھا کہ ملزم یونس مسیح مسلمانوں کی پٹائی کے سبب زخمی ہو گیا ہے اور اسے زخم آئے۔ یہ درست ہے کہ میں نے وقوعہ کے متعلق کسی پادری یا امام کا بیان قلمبند نہیں کیا۔ یہ میرے علم میں نہیں کہ مبینہ وقوعہ کی تحقیق کے لیے مسلمانوں کی طرف سے علما اور عیسائیوں پر مشتمل کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ یہ درست ہے کہ میں نے وقوعہ کی تفتیش کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد اور مورخہ 2005-09-10 کو زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری مدعی اور گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد، میری تفتیش مکمل ہو گئی۔ یہ درست ہے کہ مورخہ 2005-09-10 کو ملزم کی گرفتاری کے بعد، مقدمہ ہذا کا چالان پیش کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ تمام کی تمام تفتیش میں نے انجام دی اور متعلقہ ایس ایچ او نے چالان پیش کیا۔ تفتیش، مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کے علاوہ پولیس رولز اور طبی حدود کے مطابق انجام دی گئی۔ میں گزشتہ 25 برس سے محکمہ پولیس میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔ یہ درست ہے کہ میں نے مجموعہ ضابطہ فوجداری کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ

صفحہ 549

میرے علم میں نہیں کہ کیا زیردفعہ 156-A، مجموعہ ضابطہ فوجداری، دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کی تفتیش، صرف ایس پی عہدے کے افسر ہی کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ یہ غلط ہے کہ میں مقدمہ ہذا کی تفتیش کے لیے مجاز پولیس افسر نہیں ہوں۔ یہ درست ہے کہ میں نے گواہان کے بیانات زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بغیر کوئی چیز حذف کیے، قلمبند کیے۔ یہ درست ہے کہ میں نے تمام مسل مقدمہ، ایس ایچ او کو بھیج دی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے ملزم یونس مسیح کو پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر کے بغیر گرفتار کیا۔ یہ غلط ہے کہ میں نے غیر قانونی طور پر تفتیش کی اور معاملے کے لحاظ سے قانون کو مدنظر نہیں رکھا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں نے مدعی اور گواہان کے ایما پر بدنیتی سے تفتیش کی۔ یہ غلط ہے کہ میری تفتیش سے قبل، کسی دوسرے پولیس افسر نے اس معاملے کی تفتیش کی۔ اس نے بتایا کہ ایس پی پولیس نے بھی تفتیش کی۔ یہ درست ہے کہ صرف ایک چالان پیش کیا گیا جس کی میں نے تفتیش کی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے دروغ گوئی کی۔

استغاثہ نے سید انتصار حسین جعفری، ایس پی ٹریفک شیخوپورہ ریجن کو بھی بطور گواہ استغاثہ نمبر 7 پیش کیا جس نے دوران جرح کہا کہ میں اس وقت ایس پی انویسٹی گیشن قصور تعینات تھا جب مقدمہ ہذا کا چالان پیش کیا گیا۔ دوبارہ، مورخہ 03-09-2005 کو میں، ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن تعینات کیا گیا۔ میں نے مقدمہ ہذا کی مسل کچھ اعتراضات کے ساتھ وصول کی۔ میں نے ان اعتراضات کی روشنی میں تفتیش کی جس کے بعد میں نے تفتیشی افسر کو اسے مجاز عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی۔

دوران جرح اس نے بتایا کہ مجھے قصور سے آزمائشی طور پر بطور ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن، مورخہ 03-09-2005 کو تبدیل کر دیا گیا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے لیے سات دن صرف ہوتے ہیں۔ مجھے ایس پی ماڈل ٹاؤن کا عہدہ سنبھالنے کی درست تاریخ یاد نہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے نہ تو زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بیانات قلمبند کیے اور نہ ہی جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا کیونکہ اس سے قبل، تفتیشی افسر یہ کام کر چکا تھا۔ یہ بنیادی اعتراض تھا کہ مقدمہ کی تفتیش ایس پی کے عہدے سے کم افسر کے ذریعے نہیں کرنی چاہیے۔ استغاثہ کی طرف سے اعتراضات اٹھائے گئے۔ جب مسل مقدمہ میرے روبرو پیش کی گئی، مقدمہ ہذا کی تفتیش مکمل ہو چکی تھی۔ یہ درست ہے کہ اعتراض دور

صفحہ 550

کرنے کے بعد میں نے تفتیشی افسر کو عدالت کے روبرو چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ میں نے تفتیشی افسر کو ہدایت دینے کے بعد تفتیش نہیں کی اور تاہم اعتراض دور کرنے کے بعد، میں نے اس شخص سے تفتیش کی جس نے اس گھر میں قوالی کا اہتمام کیا تھا، نیز میں نے قوالوں اور مدعی سے بھی تفتیش کی۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ چھابہ مسیح نے قوالی کا اہتمام کیا۔ میں نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، چھابہ مسیح کا بیان قلمبند نہیں کیا اور اس سے صرف تفتیش ہی کی۔ میں نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قوالوں کے بیانات قلمبند نہیں کیے، تاہم میں نے ان سے تفتیش کی۔ میں نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مدعی کا بیان قلمبند نہیں کیا، اس نے ازخود ہی کہا کہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کے مطابق چالان پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ زیردفعہ A-156 مجموعہ ضابطہ فوجداری، صرف ایس پی ہی معاملہ کی تفتیش کر سکتا ہے۔ جو اعتراضات میں نے مقدمہ پر سے دور کیے، ان کو دور کرنا تفتیش کا حصہ تھا۔ یہ درست ہے کہ اعتراضات دور کرنے کے بعد تفتیشی افسر نے میری ہدایت پر مجاز عدالت کے روبرو مقدمہ ہذا کا چالان پیش کیا۔ مجھے یاد نہیں کہ اعتراضات دور کرنے کے بعد چالان پیش کرتے وقت میں نے دستاویز پر دستخط کیے یا نہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے زیردفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ پر دستخط نہیں کیے جس پر میرے ایس ایچ او کے دستخط ہیں۔ میں نے اپنی یادداشت تازہ کی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں دروغ گوئی کر رہا ہوں اور میں نے مقدمہ کی تفتیش نہیں کی۔ یہ غلط ہے کہ میں نے دفعہ A-156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہی گواہ مورخہ 2007-03-29 کو عدالت کے روبرو دوبارہ بطور گواہِ استغاثہ نمبر 7 پیش ہوا اور کہا کہ مدعی اور گواہان میرے روبرو پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے پہلے بیانات کی تصدیق کی جو انہوں نے تفتیشی افسر کے روبرو قلمبند کرائے تھے۔ بعدازاں میں نے ارشد، ایس آئی، تفتیشی افسر کو مجاز عدالت کے روبرو چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔

دوبارہ دورانِ جرح، اس نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں کہ کیا عدالت ہذا کے روبرو مقدمہ ہذا کے دو چالان پیش کیے گئے۔ یہ میرے علم میں ہے کہ عدالت کے روبرو صرف ایک چالان پیش کیا گیا جس کی تفتیش، میری طرف سے اعتراضات دور کرنے کے بعد تفتیشی افسر سب انسپکٹر نے انجام دی۔ مجھے یاد نہیں کہ کیا میں نے مدعی یا کسی بھی گواہ کے متعلق ضمنی

صفحہ 551

بیان قلمبند کیا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مقدمہ ہذا کی تفتیش نہیں کی اور نہ ہی بیان قلمبند کیا۔

فوجداری، ملزم کا بیان قلمبند کیا گیا۔ بیان قلمبند کرنے کے بعد، ملزم نے سوال نمبر 8 کا جواب دیتے ہوئے دستاویزی ثبوت کے طور پر بیان حلفی دینے کے علاوہ کچھ پیش نہ کیا۔

سے صفائی کی ایک دستاویز پیش کرنے پر اعتراض کیا۔ اعتراض کو قانون کے مطابق قلمبند کر لیا گیا۔ مزید برآں، سوال نمبر 9 کا جواب دیتے ہوئے ملزم نے اپنے خلاف استغاثہ کی طرف سے عائد کردہ الزامات کی تردید کے ضمن میں زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، خود کو صفائی کے گواہ کی حیثیت سے پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

کو دلائل دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔ چونکہ ملزم نے بیان حلفی کے علاوہ خود کو صفائی کے گواہ کی حیثیت سے پیش نہیں کیا، اس لیے استغاثہ نے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔

دیتے ہوئے کہا کہ مدعی گواہ استغاثہ نمبر 1 نے اپنی درخواست (Ex.P/A) کے ذریعے ایف آئی آر (Ex.P/A-1) درج کرائی۔ جس سے صاف ظاہر اور نشاندہی ہوتی ہے کہ ملزم نے توہین رسالت ﷺ پر مبنی الفاظ بولے۔ مزید برآں، یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ پیش کیے گئے گواہان کو ملزم کے ساتھ کوئی پرخاش یا دشمنی نہیں تھی کہ اسے مقدمہ میں جھوٹے طور پر ملوث کیا جائے اور فوجداری مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس کے پاس معاملہ لے جانے سے قبل ہر ممکن احتیاط برتی گئی۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ گواہان استغاثہ نے ایف آئی آر (Ex.P/A-1) کے مندرجات کی تصدیق کی۔ مدعی کے فاضل وکیل اور فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے مزید دلیل دی کہ ایف آئی آر تقریباً فوری طور پر درج کرائی گئی۔ مزید دلیل دی گئی کہ فاضل وکیل صفائی نے ملزم کو مقدمہ ہذا میں جھوٹے طور پر ملوث کرنے کے لیے اس کے ساتھ پرانی دشمنی یا درپردہ مقاصد کے ضمن میں کوئی ٹھوس سوال نہیں پوچھا اور نہ ہی گواہان استغاثہ سے پرخاش کے متعلق کوئی سوال پوچھا گیا۔ تمام نجی گواہان کی ملزم کے ساتھ کوئی پرانی دشمنی نہ تھی، اس لیے استغاثہ نے کسی شک و شبہ کے بغیر اپنا مقدمہ بھرپور انداز

صفحہ 552

میں ثابت کر دیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے قرآنی آیات کے ذریعے قرآنی احکامات کا بھی حوالہ دیا: یعنی : سورہ الاحزاب، آیت نمبر 61، سورہ النور، آیت نمبر 63، سورہ المنافقون، سورہ اللھب، آیت نمبر 1 تا 5، سورہ الحشر، آیت نمبر 3، 4، سورہ الانفال، آیت نمبر 12، 13، سورہ البقرہ، آیت نمبر 104، سورہ النجم، آیت نمبر 4، سورہ الحجرات، آیت نمبر 3، 4

مدعی کے فاضل وکیل نے احادیث کی مختلف مقدس کتابوں سے احکاماتِ رسول (ﷺ) کا بھی حوالہ دیا۔ فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اور مدعی کے فاضل وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ گواہان استغاثہ کے بیانات کے مطابق، جسے فاضل وکیل صفائی جرح کے دوران، غلط ثابت نہیں کر سکا، واضح طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملزم، جس نے نبی اکرم (ﷺ) کی شان اقدس میں واضح آواز میں دو دفعہ، ایک دفعہ جب بابا چھابہ نے قوالی کا اہتمام کیا، اور پھر بعد ازاں، مدعی اور گواہان استغاثہ کی موجودگی میں، جب مدعی ، دیگر گواہان استغاثہ کے ساتھ اس وقوعہ کی تصدیق کے لیے جا رہا تھا، گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اس لیے اس صورت حال میں استغاثہ کا مقدمہ بغیر کسی نقص اور شک کے ہے اور استغاثہ نے اپنا مقدمہ ثابت کر دیا ہے۔ معمولی غیر مطابقتیں ، استغاثہ کے موقف کی تردید کرنے میں رکاوٹ نہیں اور نہ ہی استغاثہ کے مقدمہ کے لیے اہم ہیں۔ فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے علاوہ مدعی کے فاضل وکیل نے مندرجہ ذیل مقدمات 2005 YLR 985, PLD 1959 W.P.Karachi 383 پر انحصار کیا۔ چونکہ ملزم توہین رسالت ﷺ کے جرم کا مرتکب ہوا، اس لیے وہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان سزائے موت کا مستحق ہے اور براہ کرم ملزم کے ساتھ اس (دفعہ) کے مطابق سلوک کیا جائے۔

14- اس کے برعکس، وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ، اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ اپنے موقف کے حق میں وکیل صفائی نے مزید کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر 1، جو مدعی ہے کا بیان، سنی سنائی گواہی پر ہے۔ مدعی گواہ استغاثہ نمبر 1، نے ایف آئی آر (Ex.PA-1) اور اپنے بیان میں یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ جائے وقوعہ پر ذاتی طور پر موجود تھا جہاں نبی اکرم (ﷺ) کی شان اقدس میں مبینہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے گئے۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ ایف آئی آر، (Ex.PA-1)، کے ذریعے نبی اکرم (ﷺ) کی

صفحہ 553

شان اقدس میں توہین رسالت یا گستاخانہ کلمات پر مبنی کسی واحد لفظ کا اظہار بھی نہیں ہوتا۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ ایف آئی آر (Ex.PA-1) کے مطابق، مدعی کا بیان ہے کہ اس کا بھائی اسے مورخہ 2005-09-10 کو اس وقت 4.00 بجے سہ پہر ملا جب وہ اپنی دکان میں بیٹھا تھا لیکن جرح کی پوری کارروائی کے دوران، کوئی ایسی وجہ نہ بتا سکا کہ مدعی گواہ استغاثہ نمبر 3 کے بھائی نے اپنے بھائی کوتوالی کے واقعہ کے فوری بعد مبینہ وقوعہ کی حقیقت کے متعلق نہیں بتایا جس میں موجود ملزم کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔ استغاثہ یہ نقص یا کمی دور نہ کر سکا اور اس طرح استغاثہ، گواہ استغاثہ نمبر 3 کی طرف سے گواہ استغاثہ نمبر 1 کو الزام کے متعلق تاخیر سے بتانے کی وجہ کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ مدعی کا بیان، اپنی درخواست (Ex.PA) کے متضاد ہے جو اس نے پولیس کے روبرو پیش کی جس میں نبی اکرم (ﷺ) کی شان اقدس میں کوئی بھی مبینہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ مذکور نہیں جس طرح جرح کے دوران بتایا گیا۔ یہ حقیقت، واضح طور پر اس امر کا اظہار ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں توہین رسالت کرنے یا گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کے الزامات کے علاوہ درخواست (Ex.PA) اور (Ex.PA/1) میں مذکور الزامات ثابت نہیں ہوئے اور یوں یہ جھوٹ ثابت ہو گئے۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ ایک گواہ استغاثہ، جو تفتیشی افسر، گواہ استغاثہ نمبر 6 ہے جس نے مقدمہ ہذا کی پہلی تفتیش کی، زیر دفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری، مجاز نہیں تھا۔ وکیل صفائی نے مزید دلیل دی کہ اس کی طرف سے جرح کے دوران، اس پر متذکرہ گواہ استغاثہ کی اہلیت کے متعلق جو سوال پوچھا گیا، اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ شق کے مطابق، وہ توہین رسالت کے اس مقدمہ کی تفتیش کرنے کا اہل نہیں۔ وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ اس قسم کی صورت حال میں استغاثہ کا تمام تر مقدمہ غلط ثابت ہو گیا ہے اور اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ وکیل صفائی نے مزید دلیل دی کہ تمام گواہان استغاثہ نے خود پر جرح کے دوران یہ کہا کہ پولیس نے ان کے بیانات ایف آئی آر کے اندراج کے فوری بعد اسی دن پولیس سٹیشن میں قلمبند کیے۔ لیکن پہلے تفتیشی افسر، گواہ استغاثہ نمبر 6 نے خود پر جرح کے دوران کہا کہ تمام بیانات زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری اور تمام تفتیشی کارروائیاں، پولیس سٹیشن میں انجام پائیں۔ وکیل صفائی نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے ایک گواہ نے خود پر جرح کے دوران نہایت واضح انداز

صفحہ 554

میں کہا کہ بابا چھابہ مقدمہ ہذا کا گواہ ہے لیکن استغاثہ نے اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے اسے اپنی معاونت کے لیے پیش نہیں کیا۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ استغاثہ کی تمام تر کہانی کے مطابق ، استغاثہ کی طرف سے یہ تمام قصہ جو توہین رسالت ﷺ کے الزام پر مشتمل ہے، اس قوالی کے گرد گھومتا ہے جس کا اہتمام بابا چھابہ نے کیا لیکن پولیس کی جانب سے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، تیار کردہ گواہان کی فہرست سے بابا چھابہ کی غیرموجودگی کے علاوہ گواہی کے کٹہرے میں بابا چھابہ کی عدم حاضری کے باعث استغاثہ کی کہانی ثابت نہیں ہوتی جس کے باعث استغاثہ کا تمام مقدمہ غلط ثابت ہو گیا ہے۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ تفتیشی افسر، گواہِ استغاثہ نمبر 6 نے جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کرنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جو گواہِ استغاثہ نمبر 6 کے لیے بطور تفتیشی افسر ضروری تھا۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ استغاثہ کے ایک گواہ، یعنی گواہِ استغاثہ نمبر 2 نے خود پر ہونے والی جرح میں بتایا کہ کہ متذکرہ گواہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے ضمن میں تفتیشی افسر کے روبرو بیان دیا، نیز اس نے ملزم کے خلاف، ہاتھ بلند کرنے اور ہاتھ ہلانے اور گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کے متعلق بھی تفتیشی افسر کے روبرو بیان دیا۔ وکیل صفائی نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان، پولیس کو دیے گئے اس کے پہلے بیان جو (Ex.DA) کے ذریعے دیا گیا، سے متضاد ہے جو (Ex.DA) میں دستیاب نہیں۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ یہ ایک ٹھوس غلطی ہے جو استغاثہ کے مقدمہ کے لیے مہلک ہے۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ گواہِ استغاثہ نمبر 7، جو سید انتصار حسین جعفری، ایس پی انویسٹی گیشن ہے، نے واضح طور پر خود پر ہونے والی جرح کے دوران بتایا کہ اس نے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ پر دستخط نہیں کیے۔ فاضل وکیل صفائی نے مزید موقف یہ اختیار کیا کہ گواہِ استغاثہ نمبر 7 نے واضح طور پر بیان کیا کہ مقدمہ ہذا کا چالان پہلے ہی پیش کر دیا گیا تھا لیکن بعدازاں، پراسیکیوشن ایجنسی کے اعتراض کے باعث اعتراض دور کرنے کے لیے اس (گواہِ استغاثہ نمبر 7) کے پاس بھیجا گیا۔ وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ یہ بات دفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس طرح استغاثہ کا مقدمہ جھوٹا ثابت ہو گیا ہے جس کی بنیاد بے ایمانی ہے۔ یوں استغاثہ اپنی کہانی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور ان حالات میں ملزم بریت کا مستحق ہے۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ ملزم تو انتہائی عاجز شخص ہے اور وہ

صفحہ 555

نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں ایسی بات کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مزید دلیل یہ دی گئی کہ اپنی طرف سے احترام کے اظہار اور اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے ملزم نے بیان حلفی بھی دیا ہے جس پر استغاثہ نے اعتراض اٹھایا ہے۔ مزید براں، فاضل وکیل صفائی نے مندرجہ ذیل مقدمات ،PLD 2002 Lahore 587،2003 P Cr L J796,Lahore 2003 P.Cr. L J1441 اور 2001 PCr. L J 1003 پر انحصار کیا ہے اور پھر آخر میں وکیل صفائی نے دلیل دی کہ اس نے اس حوالے سے پرانی دشمنی کہ کچھ نوجوان مسلمان، عیسائی لڑکیوں کو چھیڑتے تھے، کے متعلق سوال گواہان استغاثہ نے پوچھا اور اس کے ردِعمل میں انتقامی طور پر مدعی نے عدالت میں حاضر ملزم کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ تیار کیا ہے۔ اس لیے محض یہی وجہ ہے جس کے باعث ملزم کے خلاف ایف آئی آر کی شکل میں قانون کو حرکت میں لایا گیا ہے کیونکہ ملزم کے ساتھ پرانی دشمنی اور پرخاش ثابت ہو چکی ہے، اور یوں ملزم کے خلاف یہ مقدمہ تیار کیا گیا جو بریت کا مستحق ہے اور اسے براہ مہربانی انصاف اور مساوات کے مفاد میں بری کیا جائے۔

جائزہ لیا گیا۔

(Ex.PA-1) بابت جرم توہین رسالت ﷺ ، اگرچہ نبی اکرم (ﷺ) کی شان اقدس میں بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ، ایف آئی آر (Ex.PA-1) میں نمایاں طور پر درج نہیں کیے گئے، لیکن اپنے بیانات میں گواہ استغاثہ نمبر 1 اور باقی گواہان استغاثہ نے ملزم کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بغیر کسی تضاد کے درست بیان کیے۔ اس امر کا ذکر اہم ہے کہ استغاثہ نے گواہ استغاثہ نمبر 4 طارق محمود کو پیش کیا جو استغاثہ کے موقف کے مطابق، محفل قوالی کا ایک سامع ہے، خود پر ہونے والی جرح کے دوران بتاتا ہے کہ عدالت میں حاضر ملزم یونس مسیح، قوالی کے دوران پنڈال میں بیٹھا تھا، جو اٹھ کھڑا ہوا اور قوالی رکوانے کے لیے چیخنے لگا اور اس نے جارحانہ انداز میں قوال کو حکم دیا کہ یسوع مسیح کے گیت شروع کیے جائیں۔ اس نے مزید بتایا کہ جب قوال نے نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گانا شروع کیا تو پھر ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے جو نعوذ باللہ ، مندرجہ ذیل ہیں:

صفحہ 556

”............................................اس کی قوالی بند کرو اور یسوع مسیح کے گیت گاؤ“ طارق محمود وکیل صفائی، گواہ استغاثہ نمبر 4 پر جرح کے دوران، اس کی ملزم کے ساتھ کسی بھی دشمنی، پرخاش یا بدنیتی، ثابت نہ کر سکا۔ مزید برآں، تمام گواہان استغاثہ نے واضح طور پر خود پر جرح کے دوران یہ کہا کہ ملزم یونس مسیح نے دومرتبہ متذکرہ بالا گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ، نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں کہے، ایک قوالی کے وقت اور دوسرے اس دن جب گواہان، اس مبینہ وقوعہ کی تصدیق کے لیے جارہے تھے۔ استغاثہ کی طرف سے یہ حقیقت، جرح کے دوران کسی بھی طرح جھٹلائی نہ جاسکی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب گواہانِ استغاثہ نے ملزم کے خلاف توہین رسالت ﷺ کے الزام کا بیان دیا، ملزم اور گواہانِ استغاثہ کے دوران کونسی دشمنی تھی اور ملزم اور گواہانِ استغاثہ کے درمیان کونسی پرخاش یا بدنیتی تھی۔ وکیل صفائی، اپنی جرح کے دوران یہ ثابت نہ کر سکا۔ وکیل صفائی کا موقف کہ اس نے پرانی دشمنی کے متعلق سوال پوچھا، یعنی، مسلمانوں کی طرف سے عیسائی لڑکیوں کو چھیڑنے کا معاملہ، کسی بھی ٹھوس ثبوت کے بغیر ہے اور اسے وکیل صفائی کی طرف سے ٹھوس انداز میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔ مزید برآں، عدالت کی یہ پختہ رائے ہے کہ وکیل صفائی نے ملزم کے خلاف گواہانِ استغاثہ کی جانب سے پرخاش یا بدنیتی کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ وکیل صفائی کے موقف کے مطابق، تمام نجی گواہان کے بیانات میں تضادات اور عدم مطابقتیں موجود ہیں۔ یہ معمولی نوعیت کی ہیں کیونکہ مقدمہ کا اندراج 2005-09-10 کو کیا گیا اور موجودہ گواہان، گواہی کے کٹہرے میں مقدمہ کے دوران 2006ء اور 2007ء میں پیش ہوئے۔ کچھ چیزیں بالکل درست طور پر یاد نہیں رہ سکتیں۔ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کے الزام کا تعلق ہے، اسے استغاثہ نے نہایت کامیابی سے ثابت کر دیا ہے۔

کی تفتیش، گواہ استغاثہ نمبر 6 نے کی، جو زیردفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری، اہل نہ تھا، بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ہے کیونکہ گواہ استغاثہ نمبر 7، ایس پی ٹریفک شیخوپورہ، عدالت ہذا کے روبرو پیش ہوا اور بتایا کہ اس نے بھی مقدمہ کی تفتیش کی اور پراسیکیوشن برانچ کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات دور کیے۔ اس لیے میں محسوس کرتا ہوں کہ اس ضمن میں کوئی غلطی

صفحہ 557

موجود نہیں۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی اہم ہے کہ دورانِ جرح، وکیل صفائی نے کئی اعتراضات اٹھائے، لیکن میری نظر میں یہ اعتراضات ٹھوس نہیں ہیں اور استغاثہ کے مقدمے کے لیے مہلک ثابت نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ اعتراضات مسترد کیے جاتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملزم نے اپنے وکیل صفائی کے ذریعے، دستاویزی ثبوت کے طور پر اپنی صفائی میں بیان حلفی پیش کیا۔ اس پر فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ صرف یہی دستاویز، یہاں پیش نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس پر جرح نہیں کی جا سکتی۔ میرے نزدیک اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں اور فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے اٹھایا گیا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے اور ملزم کا بیان حلفی ریکارڈ میں بطور (Ex.DD) شامل کیا جاتا ہے۔ جہاں تک بیان حلفی کے مندرجات کی مستند حیثیت کا تعلق ہے، ان پر یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب عدالت میں حاضر ملزم، نبی اکرم ﷺ کی حرمت اور احترام پر یقین رکھتا ہے تو پھر اس نے کیوں اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے؟ مزید براں عدالت کی یہ پختہ رائے ہے کہ گواہانِ استغاثہ، اسی علاقے کے رہائشی ہیں، اس لیے اس کی موجودگی اور گواہی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر جو کچھ بھی بحث ہوئی، استغاثہ نے کسی بھی معقول شک و شبہ کے اپنا مقدمہ کامیابی کے ساتھ ثابت کر دیا۔ اس لیے میں ملزم یونس مسیح ولد وسان مسیح، عمر 26، 27 سال، ذات عیسائی، ساکن بستی عیسائیاں، پنڈ امرسدھو، لاہور کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا مرتکب قرار دیتا ہوں اور اسے سزائے موت دی جاتی ہے۔ ملزم کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم سزائے موت پر عمل درآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ سے اس فیصلہ کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ نیز ملزم کو ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے اور اس جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید چھ ماہ قید محض بھگتنی ہوگی۔

دستخط: تاریخ فیصلہ محمد بخش مسعود ہاشمی 30 مئی 2007ء ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 558
صفحہ 559

جناب صہیب احمد رومی سیشن جج سیالکوٹ

سرکار بنام شفیق ، جون 2008ء

صفحہ 560
صفحہ 561

دل کی بات

17 مارچ 2006ء کو سیالکوٹ میں ایک بدبخت شخص شفیق نے لوگوں کی موجودگی میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز جملے کہے اور قرآن مجید کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے غلیظ جگہ پر پھینکا۔ اس پر ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 295-B اور 295-C کے تحت پولیس اسٹیشن ہیڈ مرالہ سیالکوٹ میں مقدمہ درج ہوا۔

ملزم شفیق نے عدالت میں اپنے دفاع میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ گاؤں میں پارٹی بازی کی بنیاد پر مخالفین نے درج کروایا۔ مزید کہا کہ گاؤں کے ایک شخص شبیر کے اس کی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ ان ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر شبیر نے مخالفین کی ملی بھگت سے میرے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ ملزم شفیق نے اپنے دفاع میں تیسرا مؤقف یہ دہرایا کہ گستاخی رسول ﷺ اور گستاخی قرآن کا کوئی واقعہ گاؤں میں سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ ملزم کی ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا۔

اس کے خلاف گاؤں میں پارٹی بازی کے باعث مخالفین کی پولیس سے ملی بھگت کے ذریعے درج کیا گیا۔ ملزم کی طرف سے گاؤں میں پارٹی بازی کے متعلق کوئی بھی تفصیل اس کی طرف سے یا پر جرح کے دوران مہیا نہیں کی گئی۔ وہ گاؤں میں اپنی کوئی مخالفت کی وجہ بھی بیان کرنے میں ناکام رہا۔ گاؤں میں اس کے مخالفین کون ہیں؟ اور ان کی پولیس کے ساتھ کیا ملی بھگت ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا مقدمہ کے دوران ملزم کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ اس نے ایک نئی کہانی گھڑنے کی کوشش کی کہ شبیر نامی ایک شخص کے اس کے بڑے بھائی محمد انور کی بیوی اور اس کی بھابی، ، پروین بی بی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، جس سے ملزم نے منع کیا اور کہا کہ شبیر نے گاؤں میں اس کے مخالفین کے ساتھ ملی بھگت سے یہ جھوٹی

صفحہ 562

کہانی گھڑی۔ اسی گاؤں کے شبیر نامی شخص کے ساتھ اپنی بھابی، پروین بی بی کے ناجائز تعلقات کے متعلق اس قسم کی کہانی کے ذریعے اگر ملزم اپنے لیے صفائی کاثبوت مہیا کرنا چاہتا تھا، تو پھر ملزم کا فرض تھا کہ وہ اپنے دفاع میں ثبوت اور گواہ مہیا کرنے کے لیے اپنی بھابی کو بھی پیش کرتا۔ ملزم،شبیر، اپنی بھابی کے مبینہ عاشق کے علاوہ اپنے مخالفین کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہ کرسکا جو تمام مقدمہ کے دوران نامعلوم رہے۔ملزم محمدشفیق کی طرف سے جو تیسر اموقف اختیار کیا گیا، وہ یہ ہے کہ استغاثہ کے دعوے کے برعکس اس طرح کا کوئی بھی واقعہ گاؤں میں پیش نہیں آیا۔

میں ملزم کی طرف سے اپنے دفاع میں گھڑی گئی کمزور سی کہانی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ استغاثہ کو ہمیشہ اپنے گواہوں اور ثبوتوں کے ذریعے اپنا مقدمہ ثابت کرنا چاہیے، لیکن اس مفروضے کے متعلق دورائیں نہیں ہوسکتیں کہ اگر مدعا علیہ (ملزم) نے اس قسم کاکوئی موقف اختیار کیا تو اسے اس موقف کو ثابت کرنے کے ضمن میں ذمہ داری سے مستثنیٰ قرارنہیں دیا جاسکتا۔ مدعا علیہ (ملزم) کی طرف سے کسی ثبوت کے بغیر گھڑی گئی کہانی، کسی ثبوت یا گواہ کی حیثیت نہیں لے سکتی۔ اگر مدعاعلیہ (ملزم) کے موقف کا استغاثہ کے موقف کے ساتھ تقابل نہ کرتے ہوئے استغاثہ کی طرف سے بیان کردہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں سب سے پہلے قرآن پاک کے بے حرمت شدہ اوراق سے واسطہ پڑتا ہے۔گواہ استغاثہ نمبر 2 کا بیان قلمبند کرتے ہوئے عدالت کی رائے کے مطابق ، قرآن پاک کے کئی ایک اوراق تھے اور ان بے حرمت شدہ اوراق پر غلاظت لگی ہوئی تھی۔قرآن پاک کی سرخ رنگ کی جلد بھی وہاں موجود تھی۔ اس موقعہ پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کاثبوت گھڑا جاسکتا ہے اور کسی دشمنی کی بنا پر کسی شخص کے خلاف سازش کی جاسکتی ہے، اور کیا ایک مسلمان ، اپنے مخالفین کو ملوث کرنے کے لیے قرآن پاک کے اوراق کو گائے بھینسوں کے فضلے اور پیشاب میں لتھڑ سکتا ہے۔ میں اس قسم کی شدید دشمنی کو تلاش کرنے میں ناکام رہا جس کی بنا پر قرآن پاک اور حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات مقدسہ کو استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا ثبوت تخلیق کیا جائے۔ ملزم کی طرف سے اس ضمن میں خفیف سا ثبوت بھی مہیا نہیں کیا گیا۔‘‘

سیشن جج جناب صہیب احمد رومی صاحب کا یہ فیصلہ نہایت ایمان افروز اور روح پرور ہے۔ انہوں نے اپنے اس فیصلہ میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے سلسلہ میں کئی اہم

صفحہ 563

احادیث مبارکہ اور اسلامی واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ محترم جج صاحب کے اس فیصلہ کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے مقدمات میں وکلا صفائی کی طرف سے عام طور پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے نہایت جامع اور قانونی جوابات آگئے ہیں جس سے بہت سے عمومی شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ اس فیصلہ کا مطالعہ ہر مسلمان کے ایمان کو جلا بخشے گا۔ اس مقدمہ میں محترم جج صاحب نے توہین قرآن کے جرم میں ملزم کو عمر قید کی سزا بامشقت سنائی جبکہ توہین رسالت ﷺ کے جرم میں سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ نیز اپنے فیصلہ میں حکم دیا کہ جرمانہ کی رقم حکومت پنجاب کے قائم کردہ ”قرآن بورڈ“ کو دی جائے گی۔ یہ ایک قابل صد ستائش قدم ہے جس پر محترم جج صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اس فیصلہ کی نقل اسلام اور پاکستان کی محبت میں سرشار معروف کالم نگار مجاہد ختم نبوت جناب محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ سیالکوٹ نے فراہم کی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 564

بعدالت جناب صہیب احمد رومی، سیشن جج، سیالکوٹ

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 2/2006 سیشن مقدمہ نمبر : 3/2006 ایف آئی آر نمبر : 50/2006 بتاریخ 17 مارچ 2006ء پولیس سٹیشن : ہیڈ مرالہ، سیالکوٹ بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-B اور 295-C

سرکار

بنام

محمد شفیق ولد محمد لطیف ، ذات لوہار ، ساکن گاؤں کولووال ، ہیڈ مرالہ ، تحصیل و ضلع سیالکوٹ (ملزم)

تاریخ فیصلہ: 18 جون 2008ء

صفحہ 565

فیصلہ

جناب صہیب احمد رومی، سیشن جج، سیالکوٹ

ملزم محمد شفیق ولد محمد لطیف کے خلاف، زیر دفعہ 295-B,295-C، تعزیرات پاکستان، مورخہ 17-03-2006 کو بوقت سہ پہر ساڑھے پانچ بجے، پولیس سٹیشن، ہیڈ مرالہ کی حدود میں حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کرنے کے علاوہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے اور اسے غلیظ جگہ پر پھینکنے کے جرم میں پولیس سٹیشن، ہیڈ مرالہ کی پولیس نے مقدمہ کی سماعت کے لیے چالان عدالت ہذا میں پیش کیا۔

2- مورخہ 17-03-2006 کو بوقت سہ پہر ساڑھے پانچ بجے، محمد ایوب، انسپکٹر/ایس ایچ او، پولیس سٹیشن ہیڈ مرالہ، اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ، لاہوری چوک کے نزدیکی علاقے میں گشت پر تھا۔ ایک شخص عبدالقیوم ولد خیرات علی ساکن گاؤں کولووال نے اسے مطلع کیا کہ ملزم شفیق نے قرآن پاک کے اوراق پھاڑے اور انہیں غلیظ جگہ پر پھینک دیا، انہیں اپنے پاؤں تلے روندا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی۔ محمد ایوب، انسپکٹر جائے وقوعہ پر پہنچا۔ محمد حسین ولد محمد بوٹا، شکیل احمد ولد محمد ابراہیم، محمد نواز ولد محمد سرور، حاجی محمد منظور ولد حاجی محمد شریف، اہل علاقہ، وہاں موجود تھے جنہوں نے اس وقوعہ کا مشاہدہ کیا تھا جو پہلے ہی واقع ہو چکا تھا۔ محمد ایوب، انسپکٹر، کے مطابق، ملزم محمد شفیق نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی، جو اس وقت قرآن پاک کی بے حرمتی کر رہا تھا اور قرآن پاک کے اوراق کو پھینک رہا تھا اور حضرت محمد ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کر رہا تھا، بھاگ کھڑا ہوا لیکن پولیس پارٹی نے اسے پکڑ لیا۔ جائے وقوعہ پر قرآن پاک کے بے حرمت

صفحہ 566

شدہ اوراق کو اکٹھا کیا گیا اور پولیس انسپکٹر نے انہیں ریکوری میمو کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس نے ایک رسمی شکایت (Ex PA) تیار کی اور اسے پولیس سٹیشن بھجوا دیا، جس کے موصولی پر محمد وسیم اے ایس آئی نے زیر دفعات B-295 اور C-295 ، تعزیرات پاکستان، رسمی ایف آئی آر (Ex.PA/1) درج کی۔

ہیڈ مرالہ کو تفویض کر دی گئی۔ اسی دن اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اندازاً نقشہ (Ex.PC) تیار کیا۔ اس نے قرآن پاک کے بے حرمت شدہ اوراق مع ریکوری میمو، اپنی تحویل میں لے لیے جو اسے محمد ایوب، انسپکٹر نے دیے تھے۔ ملزم، محمد شفیق کو گرفتار کر لیا گیا اور اس سے تفتیش کی گئی۔ بعد ازاں، اسے جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا اور زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ پیش کر دی گئی۔ ارشد محمود، ایس آئی کے مطابق، مقدمہ کی ملکیت اشیا، کو محفوظ تحویل میں رکھنے کے لیے محرر مالخانہ کے حوالے کر دی گئیں۔

عدالت کے پہلے فاضل جج صاحب کی طرف سے ملزم کے خلاف زیر دفعات C-295 اور B-295، تعزیرات پاکستان ایک رسمی فرد جرم عائد کی جس پر ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔ لہٰذا، استغاثہ کو گواہ اور ثبوت مہیا کرنے کے لیے کہا گیا۔

پر گواہ استغاثہ نمبر 1 محمد وسیم اے ایس آئی نے رسمی ایف آئی آر (Ex.PA/1) درج کی۔

(Ex.PA) پولیس سٹیشن بھجوائی اور اسے محمد وسیم اے ایس آئی کے حوالے کر دیا۔

بتائی ہے کہ کس طرح وقوعہ پیش آیا۔ اس گواہ نے اپنے کانوں سے ملزم کو نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے سنا اور اس کی آنکھوں کے سامنے ملزم محمد شفیق نے قرآن پاک کے اوراق کو غلیظ جگہ پھینکتے دیکھا جہاں گائے بھینسوں کا فضلہ اور پیشاب پڑا تھا۔ اس گواہ کے مطابق، جب اس نے قرآن مجید کے بکھرے اوراق کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تو ملزم محمد شفیق نے اینٹیں پھینکنی شروع کر دیں۔ ریکوری میمو (Ex.PB) پر اس گواہ کے انگوٹھے کے نشان بھی ثبت ہیں

صفحہ 567

جبکہ قرآن پاک کی سرخ رنگ کی جلد مع، بے حرمت شدہ، اوراق، تحویل میں لے لیے گئے۔

بھی آنکھوں دیکھے واقعہ کا شاہد اور گواہ ہے۔ اس نے بھی وقوعہ کی تفصیل مہیا کی ہے کہ کس طرح اور کس انداز میں یہ وقوعہ پیش آیا۔ اس گواہ کے مطابق، جب وہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ، جائے وقوعہ پر موجود تھا تو اس نے ملزم کو گستاخانہ اور اہانت آمیز فعل سے باز رکھنے کی کوشش کی جس پر ملزم محمد شفیق نے ان پر اینٹیں برسائیں۔ یہ گواہ، ریکوری میمو (Ex.PB) کا بھی گواہ ہے۔

مقدمہ ہذا کی تفتیش کی۔ اس نے مندرجہ بالا بیان کے ذریعے اپنی تفتیش کے نتائج کو ثابت کیا۔

آنکھوں دیکھے واقعہ کا عینی شاہد بھی ہے۔ اس نے جائے وقوعہ سے قرآن مجید کے بے حرمت شدہ اوراق جمع کیے اور ریکوری میمو (Ex.PB) تیار کیا اور موقعہ پر ملزم کو گرفتار کر لیا۔ گواہ استغاثہ نے بتایا کہ اس نے ملزم محمد شفیق کی طرف سے بولے گئے نبی معظم حضرت محمدﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ خود سنے۔

استغاثہ نے ان کی گواہی ترک کر دی۔

نمبر 7 پیش ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ اس نے گواہی دی کہ اس نے وقوعہ دیکھا تھا جب ملزم محمد شفیق نے قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی کی، انہیں گائیں بھینسوں کے فضلے اور پیشاب پر پھینکا اور نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے۔ اس گواہ کے مطابق، موقعہ پر موجود ایک گواہ حاجی منظور احمد کی ہدایت پر وہ پولیس کو بلانے کے لیے گیا۔ گواہ استغاثہ نے پولیس پارٹی کو مطلع کیا جس کی قیادت محمد ایوب انسپکٹر کر رہا تھا، جو گواہ استغاثہ کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچا۔ بعدازاں استغاثہ نے گواہی مکمل کر لی۔

خلاف ہر گواہی اور ثبوت سے انکار کیا اور ریکارڈ کے مطابق خود کو بے گناہ قرار دیا۔ ایک سوال

صفحہ 568

کے جواب میں کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں بنایا گیا اور گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف کیوں گواہی دی، اس نے مندرجہ ذیل جواب دیا:

”میرے خلاف الزام جھوٹا ہے۔ یہ جھوٹا مقدمہ، گاؤں میں پارٹی اختلاف کی بنا پر میرے مخالفین نے پولیس کے ساتھ ملی بھگت سے میرے خلاف درج کرایا۔ میں دین کے لحاظ سے مسلمان ہوں اور میں عاشق رسول بھی ہوں۔ میں، اللہ تعالیٰ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک پر مکمل ایمان رکھتا ہوں جو تمام انسانیت کے لیے راہنما کتاب ہے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کے متعلق کبھی بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں بولے اور نہ ہی میں نے قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی کی۔ استغاثہ کے دعوے کے برعکس، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ درحقیقت، شبیر آرتلے والا کے پروین بی بی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جو میرے سگے بھائی انور کی بیوی ہے۔ اس واقعہ سے قبل، میں نے کئی بار شبیر کو منع کیا اور بھابی کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے سے روکا۔ اس لیے متذکرہ شبیر نے گاؤں میں میرے مخالفین کے ساتھ ملی بھگت سے اس مقدمہ کی جھوٹی کہانی بنائی اور پولیس کی ملی بھگت سے مقدمہ درج کرا دیا۔ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی میں جائے وقوعہ سے گرفتار ہوا۔ مجھے اللہ تعالیٰ، نبی اکرم ﷺ پر مکمل ایمان ہے اور اس قسم کے بے ادب فعل کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا جس طرح مجھ پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ میں بے گناہ ہوں۔“

وہ کوئی گواہ اور ثبوت پیش نہ کر سکا۔ تاہم، اس نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنی گواہی حلفیہ بیان کرنے سے انکار کر دیا۔

اوراق اس غلیظ جگہ پر پھینکے جہاں گائے کا فضلہ اور پیشاب پڑا تھا اور نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے، اور جب وہاں جمع ہوئے لوگوں نے اسے باز آنے کو کہا تو اس نے ان پر اینٹیں برسائیں۔ اس واقعہ سے ایک ایسے شخص نے پولیس کو مطلع کیا جس نے یہ تمام وقوعہ دیکھا تھا۔ وقوعہ کی اطلاع موصول ہونے پر محمد ایوب، انسپکٹر پولیس نے اپنی پولیس پارٹی، مخبر کے ہمراہ جائے وقوعہ کا فوراً دورہ کیا اور نہ صرف قرآن پاک کے بے حرمت شدہ

صفحہ 569

اوراق گائے بھینسوں کے فضلے اور پیشاب پر بکھرے ہوئے دیکھے بلکہ قرآن پاک کے اوراق کو پھینکتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے علاوہ ملزم کو نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہتے ہوئے بھی سنا۔

ملزم کا جرم ثابت کرنے کی خاطر، محمد ایوب، انسپکٹر پولیس، نے گواہ استغاثہ نمبر 6 کی حیثیت سے پیش ہوتے ہوئے وقوعہ کی تفصیلات مہیا کی ہیں۔ اس کے مطابق، عبدالقیوم، گواہ استغاثہ، نے اسے وقوعہ کے متعلق مطلع کیا جب وہ پولیس پارٹی کے ہمراہ گشت پر تھا۔ وہ فوراً جائے وقوعہ کی طرف گیا اور گائے بھینسوں کے فضلے اور پیشاب پر قرآن پاک کے اوراق بکھرے ہوئے دیکھے جبکہ ملزم ان کے اوپر چل رہا تھا۔ گواہ استغاثہ کے مطابق ملزم شفیق، حضور نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہہ رہا تھا۔ گواہ استغاثہ نمبر 7 عبدالقیوم نے بتایا کہ وہ ملزم، محمد شفیق کے سگے بھائی انور کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ جب اس نے شور کی آواز سنی تو اس نے دیکھا کہ ملزم محمد شفیق، قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی کرنے اور انہیں ایک غلیظ جگہ پھینکنے کے بعد حضور نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا تھا۔ استغاثہ کے اس گواہ کے مطابق، اس نے دوسرے لوگوں کے ہمراہ ملزم کو منع کیا جس نے ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق یہی کچھ کرے گا۔ بعدازاں، حاجی منظور کے کہنے پر، وہ پولیس کو بلانے کے لیے چلا گیا اور راستے میں اس کی ملاقات، محمد ایوب، انسپکٹر پولیس، سے ہوئی۔ گواہ استغاثہ نمبر 2، محمد حسین ولد محمد بوٹا نے بتایا کہ وہ، محمد نواز، محمد شکیل اور حاجی منظور کے ہمراہ، ملزم کے بڑے بھائی محمد انور کے گھر کے قریب گلی میں سے گزر رہا تھا اور کھلے دروازے سے دیکھا کہ ملزم، محمد شفیق، نبی اکرمﷺ کے متعلق چلا چلا کر گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا ہے۔ اس گواہ کے مطابق، دیگر گواہان استغاثہ کے ہمراہ، وہ، محمد انور کے گھر کے صحن میں داخل ہو گیا جہاں ملزم محمد شفیق، قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی کر رہا تھا اور انہیں اس جگہ پھینک رہا تھا جہاں گائے بھینسوں کا فضلہ اور پیشاب پڑا تھا۔ اس گواہ کے مطابق، ابھی جب وہ اس جگہ موجود تھے، گواہ استغاثہ، عبدالقیوم پولیس کو لے کر پہنچ گیا۔ استغاثہ کے اس گواہ نے مزید بیان کیا کہ جب انہوں نے غلیظ جگہ سے قرآن پاک کے بے حرمت شدہ اوراق اٹھانے کی کوشش کی، تو ملزم نے ان پر اینٹیں پھینکیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد حسین ولد محمد بوٹا نے گواہ استغاثہ نمبر 2 کی ہر پہلو سے تصدیق کی۔

صفحہ 570

17- دوسری طرف ، ملزم محمد شفیق کا کہنا یہ ہے کہ گاؤں میں پارٹی بازی کی بنیاد پر یہ مقدمہ اس کے مخالفین نے جھوٹا درج کروایا ہے۔ اس نے انکار کیا کہ اس نے نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اس نے اس امر کی بھی تردید کی کہ اس نے قرآن پاک کے اوراق کی توہین اور بے حرمتی کی۔ ملزم ، محمد شفیق نے گاؤں میں اس قسم کے وقوعہ سے انکار کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ شبیر نامی ایک شخص کے ، اس کے بھائی محمد انور کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ اس نے شبیر کو پروین بی بی سے ان ناجائز تعلقات سے منع کیا، اس لیے شبیر نے گاؤں میں اس کے مخالفین کی ملی بھگت سے یہ جھوٹی کہانی گھڑی۔

18- ملزم ، محمد شفیق نے بیک وقت دو مختلف موقف اختیار کیے ہیں۔ پہلے یہ کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف گاؤں میں پارٹی بازی کے باعث مخالفین کی پولیس سے ملی بھگت کے ذریعے درج کیا گیا۔ ملزم کی طرف سے گاؤں میں پارٹی بازی کے متعلق کوئی بھی تفصیل اس کی طرف سے یا اس پر جرح کے دوران مہیا نہیں کی گئی۔ وہ گاؤں میں اپنی کوئی مخالفت کی وجہ بھی بیان کرنے میں ناکام رہا۔ گاؤں میں اس کے مخالفین کون ہیں؟ اور ان کی پولیس کے ساتھ کیا ملی بھگت ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا مقدمہ کے دوران ملزم کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ اس نے ایک نئی کہانی گھڑنے کی کوشش کی کہ شبیر نامی ایک شخص کے اس کے بڑے بھائی محمد انور کی بیوی اور اس کی بھابی ، پروین بی بی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، جس سے ملزم نے منع کیا اور کہا کہ شبیر نے گاؤں میں اس کے مخالفین کے ساتھ ملی بھگت سے یہ جھوٹی کہانی گھڑی۔ اسی گاؤں کے شبیر نامی شخص کے ساتھ اپنی بھابی، پروین بی بی کے ناجائز تعلقات کے متعلق اس قسم کی کہانی کے ذریعے اگر ملزم اپنے لیے صفائی کا ثبوت مہیا کرنا چاہتا تھا، تو پھر ملزم کا فرض تھا کہ وہ اپنے دفاع میں ثبوت اور گواہ مہیا کرنے کے لیے اپنی بھابی کو بھی پیش کرتا۔ ملزم ، شبیر، اپنی بھابی کے مبینہ عاشق کے علاوہ اپنے مخالفین کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہ کر سکا جو تمام مقدمہ کے دوران نامعلوم رہے۔ ملزم محمد شفیق کی طرف سے جو تیسرا موقف اختیار کیا گیا، وہ یہ ہے کہ استغاثہ کے دعوے کے برعکس اس طرح کا کوئی بھی واقعہ گاؤں میں پیش نہیں آیا۔

میں ملزم کی طرف سے اپنے دفاع میں گھڑی گئی کمزور سی کہانی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ استغاثہ کو ہمیشہ اپنے گواہوں اور ثبوتوں کے ذریعے اپنا مقدمہ ثابت

صفحہ 571

کرنا چاہیے، لیکن اس مفروضے کے متعلق دورائیں نہیں ہوسکتیں کہ اگر مدعا علیہ (ملزم) نے اس قسم کا کوئی موقف اختیار کیا تو اسے اس موقف کو ثابت کرنے کے ضمن میں ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مدعا علیہ (ملزم) کی طرف سے کسی ثبوت کے بغیر گھڑی گئی کہانی، کسی ثبوت یا گواہ کی حیثیت نہیں لے سکتی۔ اگر مدعا علیہ (ملزم) کے موقف کا استغاثہ کے موقف کے ساتھ تقابل نہ کرتے ہوئے استغاثہ کی طرف سے بیان کردہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں سب سے پہلے قرآن پاک کے بے حرمت شدہ اوراق (1.Ex.P) سے واسطہ پڑتا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 کا بیان قلمبند کرتے ہوئے عدالت کی رائے کے مطابق، قرآن پاک کے کئی ایک اوراق تھے اور ان بے حرمت شدہ اوراق پر غلاظت لگی ہوئی تھی۔ قرآن پاک کی سرخ رنگ کی جلد (2.Ex.P) بھی وہاں موجود تھی۔ اس موقعہ پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا ثبوت گھڑا جاسکتا ہے اور کسی دشمنی کی بنا پر کسی شخص کے خلاف سازش کی جاسکتی ہے، اور کیا ایک مسلمان، اپنے مخالفین کو ملوث کرنے کے لیے قرآن پاک کے اوراق کو گائے بھینسوں کے فضلہ اور پیشاب میں لتھڑ سکتا ہے۔ میں اس قسم کی شدید دشمنی کو تلاش کرنے میں ناکام رہا جس کی بنا پر قرآن پاک اور حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات مقدسہ کو استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا ثبوت تخلیق کیا جائے۔ ملزم کی طرف سے اس ضمن میں خفیف سا ثبوت بھی مہیا نہیں کیا گیا۔ تمام گواہان استغاثہ، آزاد گواہ ہیں۔ محمد ایوب، انسپکٹر/ایس ایچ او ر گواہ استغاثہ نمبر 6 کے ساتھ ملزم کی کوئی دشمنی بھی نہ تھی جو ملزم کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز فعل کے متعلق معلومات ملنے پر فوراً جائے وقوعہ پر پہنچا، نہ صرف اس نے ملزم کی طرف سے کیے گئے فعل کے نتائج کا جائے وقوعہ پر غلیظ جگہ پر قرآن پاک کے بکھرے اوراق کی صورت میں مشاہدہ کیا بلکہ اس نے خود ملزم کو دیکھا جو اپنے پیروں تلے قرآن پاک کے اوراق روند رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بھی بول رہا تھا۔ وہ قطعی طور پر ایک آزاد گواہ ہے اور اس کا اس مقدمہ کے فریق سے کوئی تعلق نہیں۔ فاضل وکیل صفائی مفصل جرح کے باوجود گواہان استغاثہ کے بیانات میں کوئی تضاد یا نا موافقت ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔

دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس مقدمہ کی سماعت کے لیے

صفحہ 572

صوبائی یا مرکزی حکومت کی طرف سے پیشگی اجازت نہیں لی گئی جبکہ مقدمہ ایک مجاز شخص کی درخواست پر نہیں بلکہ زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری چلایا گیا۔ دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت رپورٹوں اور زیر دفعہ 4(h) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بیان کی گئی درخواست کے فرق کے متعلق میں نے غور کیا ہے۔ نیز میں دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق کا بھی مطالعہ کیا ہے جو حسب منشاء درج ذیل ہے:

127) یا دفعہ A-108، دفعہ A-153 یا دفعہ A-294 یا دفعہ A-295، یا دفعہ A-505 یا دفعہ 505 کے تحت قابل سزا جرم سے اس وقت تک چشم پوشی نہیں کرے گی جب تک متعلقہ مرکزی حکومت یا صوبائی حکومت کے تحت مجاز اتھارٹی یا اس کی طرف سے یا پھر دونوں حکومتوں کی طرف سے کسی بااختیار افسر کی طرف سے حکم صادر نہ ہوا ہو۔"

متذکرہ بالا دفعہ کے سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدمہ ہذا میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مقدمہ ہذا میں مقدمہ یا درخواست پر مقدمہ کی سماعت کی منظوری، محض زیر دفعہ A-295 تعزیرات پاکستان ہی ممکن ہے۔ مقدمہ ہذا میں ملزم کے خلاف فرد جرم زیر دفعہ B-295 اور C-295 عائد کی گئی جن میں، دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری میں موجود منظوری یا طریقہ کار کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں۔

دفعہ A-156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے مطابق، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) سے کم درجہ کا کوئی پولیس افسر، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، درج مقدمہ کی تفتیش نہیں کر سکتا اور مقدمہ ہذا میں ایک سب انسپکٹر، پولیس نے تفتیش کی۔ اس لیے یہ دفعہ A-156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی واضح خلاف ورزی ہے اور ملزم پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔ میں نے اس تکنیکی اعتراض پر اپنی پوری توجہ مرکوز کی ہے۔ پولیس کی طرف سے تفتیش کے دوران خلاف قانون ہونے کی نوعیت یا بے قاعدگی کا سوال، خواہ مقدمہ باطل ثابت ہو یا نہ ہو، ہمیشہ سے ہی متنازع رہا ہے۔ خواہ یہ بے قاعدگی زیر دفعہ 537 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قابل اصلاح ہو اور کسی غیر مجاز شخص کی طرف سے تفتیش کا اثر کیا ہوگا؟ مزید آگے بڑھنے سے قبل، میں، مقننہ کی طرف سے دفعہ A-156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق کی تشکیل میں پوشیدہ رمز کے متعلق بیان

صفحہ 573

کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں، توہین رسالت ﷺ کے کچھ مقدمات عیسائی کمیونٹی سے منسلک افراد کے خلاف درج ہوئے جنہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ انہیں مدعیوں کی طرف سے غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ نیز بین الاقوامی مسلم مخالف برادری کی جانب سے ہمارے دفتر خارجہ پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا تھا۔ چنانچہ اس جرم کی بھیانک اور مکروہ نوعیت اور اس کی سزا کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مقدمہ کی تفتیش کے لیے ایک سینئر پولیس افسر مقرر کیا جانا چاہیے تاکہ مدعی کی طرف سے مدعا علیہ (ملزم) کے خلاف کسی بھی قسم کی بدنیتی اور مخاصمت کو درمیان میں نہ لایا جائے۔ یہ شاید تفتیشی ادارے کے عدم استحقاق کے باعث تھا جس کے تدارک کے لیے کسی سینئر عہدے کے حامل پولیس افسر کو تفتیش تفویض کرنے کے ذریعے ملزم کی طمانیت کا سامان مہیا کیا گیا۔ مقدمہ ہٰذا میں، مدعی اور ملزم کا تعلق ایک ہی قوم اور مذہب سے ہے۔ ایس آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش اور محمد ایوب، انسپکٹر پولیس کا کردار کسی سنگین شک کا حامل نہیں ہے جو بذات خود مدعی ہونے کے ساتھ ساتھ مقدمہ ہٰذا کا عینی شاہد بھی ہے، اور اس معاملے پر مدعا علیہ (ملزم) کی طرف سے اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا۔ بہت سے فیصلوں میں اعلیٰ عدالتوں نے یہ طے کر دیا کہ اگر مخصوص شقوں میں مذکورہ افسر سے کم رتبہ کے افسر نے تفتیش کی تو پھر بھی مقدمہ باطل نہیں ہوگا اور ملزم کی بریت کی بنیاد بھی باطل نہیں ہو گی۔ ہمیشہ یہی طے پایا ہے کہ یہ ایک ایسی بے قاعدگی ہے جو قابل اصلاح ہے اور جو مقدمہ کے نتیجے پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ اور اس کے لیے ولی زار بنام سرکار، PLD 1960 (WP) Karachi 204، کراؤن بنام علی گوہر، 1954 PLD 208 Sind، سرکار بنام مدن لال 42 Punjab 1954 AIR، کی مثالوں پر انحصار کیا گیا ہے۔ ان مقدمات میں جو موقف اختیار کیا گیا، وہ یہ تھا کہ اگر کسی غیر مجاز پولیس افسر نے تفتیش کی، یہ مقدمہ کو باطل کر دے گی اور یہ ایک خلاف قانون امر ہے جو قابل اصلاح نہیں اور ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس وقت کے معزز جج، مسٹر جسٹس ایس۔ اے محمود۔ جے، نے اس ضمن میں گفتگو کی ہے اور متذکرہ بالا بااختیار و مجاز کے درمیان فرق، یہ فیصلہ دیتے ہوئے کیا کہ اگر کوئی غیر مجاز شخص بھی تفتیش کرے، مقدمہ باطل نہیں ہوگا۔ یہ ایک محض بے قاعدگی ہے جو اس وقت تک قابل اصلاح ہے جب تک ملزم یہ ثابت نہیں کر دیتا کہ مقررہ عہدے سے کم رتبے کے افسر کی جانب سے تفتیش ہونے کے باعث اس سے تعصب

صفحہ 574

کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ متذکرہ بالا ولی زار کے مقدمے کی مثال میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ:

Prventation of Corruption Act (11 of 1947) ایک مقدمہ کی تفتیش، ایکٹ کی دفعہ 5-A کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی ایس پی کے عہدے سے کم رتبے کے حامل پولیس افسر کے ذریعے کی جائے، تو پھر بھی نہ تو عدالت کی اہلیت قانونی یا قانونی دائرہ اختیار، اور نہ ہی ثبوت کی جائز حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ بے ضابطگی اور بے قاعدگی، زیر دفعہ 537 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قابل اصلاح ہے۔“

جہاں کوئی بے ضابطگی اور بے قاعدگی انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ثابت نہ ہوئی ہو، تو پھر مقدمہ خلاف قانون نہیں اور اس کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو جرم کا مرتکب ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

جب جرم کے مرتکب ایک ملزم کو ایک بااختیار اور مجاز عدالت کے روبرو لایا جاتا ہے، یہ عدالت کے قانونی دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہے کہ اسے غیر قانونی ذرائع سے پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح، یہ مقدمہ کے لحاظ سے قانونی دائرہ اختیار کا نقص نہیں کہ اگر تفتیش کسی غیر مجاز افسر کے ذریعے کی جاتی ہے یا پھر معاملہ کسی بے قاعدہ یا بے ضابطہ انداز میں عدالت کے علم میں لایا جاتا ہے۔

درست اصول یہ ہے کہ جب جرم کا مرتکب ایک ملزم عدالت کے روبرو لایا جاتا ہے، تو پھر پہلے عدالت کو ثبوت کی بنا پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کیا اس پر کوئی جرم عائد کیا گیا یا نہیں اور تفتیش میں بے قاعدگی اور بے ضابطگی کا سوال کہ جو کسی غیر مجاز افسر کے ہاتھوں انجام پائی ہو، عدالت کے روبرو پیش سوال کے لحاظ سے غیر متعلقہ ہے، سوائے اس کے کہ یہ ظاہر ہوتا ہو کہ اس قسم کی بے قاعدگی اور بے ضابطگی بعض اوقات انصاف کی فراہمی میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ آگاہی حاصل کرنے کا اختیار، مقدمہ کی سماعت کا اختیار اور ثبوت کی قابل تسلیم حیثیت متاثر نہیں ہوتی اور اگر مقدمہ، قانونی اور جائز ہے اور قانون کے مطابق چلایا گیا ہے، اسے صرف اس بنیاد پر کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے کہ بے قاعدگی اور بے ضابطگی سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔ اس لیے، میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس مقدمہ کی تفتیش میں صرف ایک ہی بے قاعدگی پائی گئی ہے کہ اس مقدمہ کی تفتیش ایسے پولیس افسر نے

صفحہ 575

کی جو زیر دفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری، مجاز نہیں، لیکن اس کے باعث نہ تو عدالت کا قانونی دائرہ کار، سماعت اختیار اور نہ ہی عدالت کے روبرو پیش کردہ ثبوت کی قابل قبول ہونے کی حیثیت متاثر ہوئی۔ یہ بے قاعدگی زیر دفعہ 537 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قابل اصلاح ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ فراہمی انصاف میں ناکامی، اس بے قاعدگی کے باعث واقع ہوئی۔ اس لیے، میرا موقف ہے کہ عدالت ہذا میں چلایا گیا مقدمہ نہ تو غیر قانونی ہے اور نہ ہی عدالت کے اختیار سے باہر ہے۔

یہی سوال، سرکار بنام بشیر احمد (PLD1997 SC 408) کے فیصلے میں معزز سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہوا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ تفتیش میں غیر قانونی عمل یا بے ضابطگی، دفعہ 156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی ہے، لیکن اس کے باعث مقدمہ باطل نہیں ہو سکتا ہے بشرطیکہ، دفعہ 156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت ملزم کے خلاف کسی بھی قسم کا متعصب رویہ نہ اختیار کیا گیا ہو۔ فیصلے کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:

ضابطگی، اگر پہلے ہی سی آئی اے کے عملے کی طرف سے سرزد ہوئی، مقدمہ کو باطل کر دے گی، یہ کہا جا سکتا ہے کہ دفعہ 156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی ذیلی دفعہ (2) سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی بھی مقدمہ میں پولیس افسر کی کوئی بھی کارروائی، کسی بھی مرحلے پر اس بنا پر اعتراض نہیں کیا جائے گا کہ اس دفعہ کے تحت اس قسم کا افسر تفتیش کرنے کے لیے اہل نہیں تھا۔ یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے کہ سی۔آئی۔اے، پولیس کا ایک حصہ ہے۔ درحقیقت، یہ ایک خاص شعبہ ہے جسے پولیس فورس کی طرف سے خاص مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا۔ دفعہ 156(1) مجموعہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی، کسی بھی مقدمہ کو باطل نہیں کر سکتی بشرطیکہ متعلقہ ملزم کے متعلق کوئی بھی سخت متعصبانہ رویہ نہ اپنایا گیا ہو جو دفعہ 156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت، فراہمی انصاف میں ناکامی بنتا ہو لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ سی۔آئی۔اے، کو جان بوجھ کر متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرنی چاہیے، ان کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی بالا حیثیت کو یقینی بنائیں۔“

ایک غیر مجاز شخص کی طرف سے مقدمہ کی تفتیش کے انعقاد کو مقدمہ کا باطل ثابت

صفحہ 576

کرنے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا اور پھر درخواست کا فیصلہ استحقاق پر کیا گیا اور متذکرہ بالا رائے کے ساتھ مسترد کر دیا گیا۔ متذکرہ بالا پیرا، فاضل وکیل صفائی کی طرف سے پیش کئے گئے دلائل کا مکمل جواب ہے جو ملزم کی طرف سے دفعہ A-156 کی عدم پیروی کے متعلق اٹھائے گئے۔ ایس آئی کی طرف سے تفتیش کے ضمن میں کسی بھی قسم کا متعصبانہ رویہ نہیں اپنایا گیا اور یہ عمل، ملزم کو نا انصافی کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بنا۔ ملزم کے فاضل وکیل صفائی کی طرف سے اعتراض کو مسترد کیا جاتا ہے اور اسے تمام مقدمہ کو باطل کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔

طرف سے کسی قسم کی دشمنی، مخاصمت یا بدنیتی اور مخصوص مفاد کی موجودگی کا سراغ نہیں ملا کہ اس قسم کے بھیانک اور مکروہ جرم میں ملزم کو غلط طور پر ملوث کیا گیا ہو جس کی سزا موت ہے۔ گواہان استغاثہ آزاد حیثیت کے مالک اور قابل بھروسا ہیں اور ان پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ استغاثہ، کسی شک و شبہ کے بغیر ملزم شفیق کا قصور اور جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ملزم کے خلاف الزامات اور جرم ثابت ہو چکا ہے۔ اس لیے، میں، ملزم کو زیر دفعہ B-295، تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہراتا ہوں اور سزا تجویز کرتا ہوں۔ نیز میں، ملزم کو زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان کے ارتکاب کا بھی مجرم ٹھہراتا ہوں اور اس کے سزا تجویز کرتا ہوں۔

کرنے پر عمر قید سزا با مشقت دی جاتی ہے۔ جہاں تک زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان، ملزم کو سزا دینے کا تعلق ہے، اس سے قطع نظر میں نے اسلامی تاریخ، خاص طور حضور نبی اکرم ﷺ کے دور کا مطالعہ کیا ہے۔ اس ضمن میں کئی مثالیں فوری دستیاب ہیں جن میں کچھ درج ذیل ہیں:

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے دور میں ایک نابینا صحابیؓ کی ایک کنیز تھی جو نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کرتی تھی۔ اس لیے اس نابینا صحابیؓ نے اسے یہ سب کرنے سے منع کیا لیکن کنیز نے اس کی پروا نہ کی۔ ایک رات، جب وہ حسب معمول، نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہی تھی، نابینا صحابیؓ نے چاقو لیا اور اس کے پیٹ پر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔ اگلی صبح، خاتون کے قتل کا معاملہ جب حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے

صفحہ 577

لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا ’’یہ کام کس نے کیا ہے۔ کھڑے ہو جاؤ اور اعتراف کرلو کیونکہ اس نے جو کچھ کیا ہے، اس کا حق مجھ پر ہے۔‘‘ اس پر نابینا صحابی اٹھے اور لوگوں میں سے راستہ بناتے ہوئے نبی اکرمﷺ کے حضور پیش ہوئے اور کہا ’’یا رسول اللہﷺ، میں نے اس کنیز کو اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ میں اسے مسلسل باز کرتا رہا لیکن وہ باز نہ آئی۔ اس سے میرے دو خوبصورت بیٹے ہیں اور وہ میری بہت اچھی رفیقہ تھی ،لیکن، کل، جب وہ آپﷺ کی شان میں گستاخی کر رہی تھی، میں نے چاقو لیا، اس کے پیٹ میں گھونپا اور اسے قتل کر دیا۔‘‘ اس پر حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو، گواہ رہنا کہ اس خاتون کا خون رائیگاں گیا ہے۔‘‘ (ابوداؤد، جلد دوم، صفحات 355 تا 357)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی۔ اس پر ایک شخص نے اسے ہلاک کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے اس یہودی عورت کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ (ابوداؤد، جلد دوم، صفحات 357-355)

عمیرؓ بن امیہ نے روایت کی ہے کہ ان کی ایک بہن ’’مشرکہ‘‘ تھی۔ جب وہ نبی اکرمﷺ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوتے تو وہ انہیں برا بھلا کہتی اور نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرتی۔ بالآخر، ایک دن انہوں نے اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیا۔ ان کے بیٹے رونے لگے اور کہنے لگے ’’ہمیں اس کے قاتلوں کا علم ہے جنہوں نے ہماری ماں کو قتل کیا اور ان لوگوں کے والدین مشرک ہیں۔‘‘ جب عمیرؓ کو خیال آیا کہ ان کے بیٹے کسی غلط افراد کو قتل نہ کر دیں، وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں تمام صورت حال کے متعلق بتایا۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا ’’کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’ہاں!‘‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’کیوں؟‘‘ اس نے کہا کہ وہ آپﷺ اور میرے تعلقات کے حوالے سے مجھے برا بھلا کہتی تھی۔‘‘ نبی اکرمﷺ نے ان کے بیٹوں کو طلب کیا اور قاتلوں کے متعلق دریافت فرمایا۔ انہوں نے اس کے قاتلوں کو شناخت کر لیا۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں آگاہ کیا اور فرمایا کہ اس کی موت رائیگاں گئی۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد از علی ابن ابوبکر الہیثمی جلد 6)

روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص حضور نبی اکرمﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہا ’’یا رسول اللہﷺ، میرا باپ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، میں برداشت نہ کر سکا اور اسے قتل کر دیا۔‘‘ نبی اکرمﷺ نے اس کے فعل کی تائید فرمائی۔ (الشفا از قاضی عیاضؒ، جلد

صفحہ 578

دوم، صفحہ 285 اردو ترجمہ)

بلاشبہ، نبی اکرمﷺ نے اپنے کچھ مخالفین کو معاف کر دیا لیکن فقیہوں کا اتفاق ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ کو بذات خود اپنے مخالفین کو معاف کر دینے کا حق حاصل تھا جبکہ امت کو آپﷺ کی توہین کرنے والوں کو معاف کرنے کا بالکل حق حاصل نہیں۔ نبی اکرمﷺ کی شان قائم کرنے کے لیے قرآن مجید نے ناراضی کی خفیف سی علامت ظاہر کرنے سے بھی منع فرمایا اور اعلان کیا کہ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کی بیویوں سے شادی، مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے تاکہ نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

(صورت) کے کہ تم کو کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے (اور) نہ کھانا پکنے کا انتظار کیا کرو۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو اندر چلے آؤ پس جب کھانا کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جاؤ۔ اور نہ وہاں جا کر دل بہلانے کے لیے باتیں شروع کر دیا کرو۔ تمہاری یہ حرکتیں (میرے) نبی (ﷺ) کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں پس وہ تم سے حیا کرتے ہیں (اور چپ رہتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کسی کی شرم نہیں کرتا حق بیان کرنے میں۔ اور جب تم مانگو ان سے کوئی چیز تو مانگو پس پردہ ہو کر۔ یہ طریقہ پاکیزہ تر ہے تمہارے دلوں کے لیے نیز ان کے دلوں کے لیے۔ اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو اور تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں کہ نکاح کرو ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی۔ بے شک ایسا کرنا اللہ کے نزدیک گناہ عظیم ہے۔ (الاحزاب: 53)

حضور سرور کائناتﷺ، قرآن پاک کی متذکرہ بالا آیتوں کے بہترین مفسر ہیں اور آپﷺ کی سنت سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپﷺ کی توہین کا مرتکب، سزائے موت کا مستحق ہے۔ اس سلسلہ میں متذکرہ بالا احادیث کے علاوہ مندرجہ ذیل حوالے دیے جاسکتے ہیں:

’’حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’اس شخص کو قتل کر دو جو کسی پیغمبر کی توہین کرتا ہے اور اسے کوڑے لگائے جائیں جو میرے صحابہؓ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔‘‘ (الشفا از قاضی عیاضؒ، جلد دوم، صفحہ 194)

ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ’’ابوسلیمان خطابی نے کہا ’جب نبی اکرمﷺ کی توہین کا

صفحہ 579

مرتکب مسلمان ہو، تو پھر اس کی سزا، موت ہے اور میرے علم کے مطابق مسلمانوں کے درمیان اس پر کوئی اختلاف نہیں۔‘‘ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول از ابن تیمیہؒ صفحہ 4)

’’قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: ’’اس نکتے پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ جو مسلمان نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے یا آپﷺ کی بے حرمتی کرتا ہے، اس کی سزا موت ہے۔‘‘ (الشفا، جلد دوم، صفحہ 211)

قاضی عیاض مزید لکھتے ہیں: ’’ہر وہ شخص جو نبی اکرمﷺ کی توہین کرتا ہے یا آپﷺ کی نسل، دین یا آپﷺ کی خوبیوں میں کوئی نقص نکالتا ہے یا ایسا اشارہ بھی کرتا ہے، یا آپﷺ کی توہین اور بے حرمتی کی خاطر آپﷺ کو کسی چیز سے مشابہ قرار دیتا ہے، یا آپﷺ کے متعلق کسی نقص کا ذکر کرتا ہے، وہ توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ قتل کر دیا جائے گا، اور صحابہؓ کے دور سے ہی اس نکتہ پر علماء اور فقیہ متفق ہیں۔‘‘ (الشفا، از قاضی عیاضؒ، جلد دوم، صفحہ 214)۔

ابو بکر جصاص حنفیؒ لکھتے ہیں: ’’مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف رائے نہیں کہ ایک مسلمان، جو نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور آپﷺ کی توہین کرتا ہے، وہ دانستہ خود کو ملحد و مرتد کی حیثیت میں تبدیل کر لیتا ہے جو موت کا مستحق ہے۔‘‘ (احکام القرآن، جلد دوم، صفحہ 106)

اس موقع پر اسے ایک حدیث کے حوالے کے طور پر استعمال کیا جائے گا:

’’عبداللہ ابن عباسؓ راوی ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) تبدیل کر لیتا ہے۔‘‘ (بخاری، جلد دوم، صفحہ 123)

قاضی عیاضؒ راوی ہیں کہ ایک دفعہ ہارون رشید نے امام مالکؒ سے حضور نبی اکرمﷺ کی توہین کے مرتکب کی سزا کے متعلق استفسار کیا اور انہیں بتایا کہ عراق کے کچھ فقیہوں نے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے۔ یہ سن کر امام مالکؒ مشتعل ہو گئے اور کہا ’’اے امیر المومنین! جب نبی اکرمﷺ کی توہین کی جاتی ہو تو پھر امت کو اپنی رائے دینے کا کیا حق ہے۔ اس لیے اس شخص کو قتل کر دیا جائے جو نبی اکرمﷺ کی توہین کرتا ہے اور اس شخص پر کوڑے برسائے جائیں جو صحابہ رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ (الشفا، جلد دوم، صفحہ 215)

اس ضمن میں فقیہوں کی رائے بیان کرتے ہوئے ابن تیمیہ لکھتے ہیں ’’ابو بکر فارسی

صفحہ 580

نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس نکتے پر اتفاق موجود ہے کہ اگر کوئی مسلمان بھی توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی سزا موت ہے۔“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول از ابن تیمیہؒ، صفحہ 3)

قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: فتح مکہ کے بعد، نبی اکرم نے عام معافی کا اعلان کیا لیکن ابن خطل اور اس کی کنیز کے قتل کا حکم جاری کیا جو آپ ﷺ کی ہجو لکھا کرتی تھی۔ (الشفا از قاضی عیاضؒ جلد دوم، صفحہ 284، اردو ترجمہ)

ثابت ہو چکا ہے۔ اس لیے میں، زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان، اس کے لیے سزائے موت تجویز کرتا ہوں۔ اس کی موت واقع ہونے تک اسے گردن سے لٹکایا جائے۔ نیز اسے -/5,00,000 روپے، (پانچ لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جسے حکومت پنجاب کے قائم کردہ ”قرآن بورڈ“ کو دیا جائے گا۔ جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ اس فیصلے کی ایک نقل ملزم کو بلا قیمت مہیا کی جارہی ہے۔ اسے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف معزز عدالت عالیہ لاہور کے روبرو سات روز کے اندر اپیل کر سکتا ہے۔ تاہم ملزم شفیق دی گئی سزائے موت اس وقت تک ملتوی رہے گی جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی۔ مجاز افسر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس ضمن میں درخواست معزز عدالت عالیہ لاہور کو دے۔

ہونے تک محفوظ رکھی جائے گی جسے بعد ازاں ”قرآن بورڈ“ کے تجویز کردہ طریقے کے مطابق نمٹایا جائے گا۔

دستخط: تاریخ فیصلہ صہیب احمد رومی 18 جون 2008ء سیشن جج، سیالکوٹ

۞.......۞.......۞

صفحہ 581

جناب ریاض الحسن علوی سیشن جج جھنگ

سرکار بنام لیاقت علی وغیرہ ، مارچ 2009ء

صفحہ 582
صفحہ 583

دل کی بات

جن فتنوں نے دینِ اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان میں فتنہ قادیانیت اور فتنہ گوہر شاہیت سرفہرست ہیں۔ مدعی مہدویت ریاض گوہر شاہی کوٹری حیدر آباد سندھ کا رہنے والا تھا جس نے اسلام دشمن طاقتوں کے ایما پر 1980ء میں اپنی جماعت ”انجمن سرفروشانِ اسلام“ کی بنیاد ڈالی اور اپنے گمراہ کن عقائد ونظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ ریاض گوہر شاہی مغل خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا والد فضل حسین ایک سرکاری محکمے میں ملازم تھا۔ اس کے دادا کا نام گوہر علی تھا جو سری نگر میں رہتا تھا۔ وہاں اس نے ایک بے گناہ شخص کو قتل کر دیا پھر پکڑے جانے کے ڈر سے راولپنڈی آ گیا اور نالہ لئی کے پاس رہائش پذیر رہا۔ جب گرفتاری کا ڈر زیادہ ہوا تو فقیری روپ دھار کر تحصیل گوجر خان کے قریب ایک جنگل میں ڈیرہ لگا لیا، جہاں کافی لوگ اس کے مرید ہو گئے اور انہوں نے جنگل کو نذرانے کے طور پر پیش کر دیا۔ یہی جنگل ڈھوک گوہر علی کے نام سے آباد ہوا اور یہیں ریاض گوہر شاہی 25 نومبر 1941ء میں پیدا ہوا۔ گوہر شاہی نے اپنے گاؤں میں ہی مڈل پاس کیا اور پھر پرائیویٹ طور پر میٹرک کیا۔ اس کے بعد ویلڈنگ اور موٹر مکینک کا کام سیکھ کر اس کی دوکان کھولی مگر اس میں کوئی نفع حاصل نہ ہوا۔ حصولِ روزگار کے لیے پریشانی ہوئی تو اس نے دادا والا کام یعنی پیری مریدی شروع کر دی۔ پھر ریاض گوہر شاہی حیدر آباد کے سرے گھاٹ میں رہنے لگا۔ اپنے آپ کو سید ظاہر کیا جبکہ ذات کا مغل تھا۔ سندھ کے لوگ چونکہ سید کے نام پہ مرتے ہیں، اس لیے اس کی کافی پذیرائی کی۔ یہیں سے اس کی مشہوری ہوئی۔

اپنی کتاب میں خود لکھتا ہے: ”بیس سال کی عمر سے تیس سال تک ایک گدھے کا اثر رہا۔ نماز وغیرہ ختم ہو گئی۔ جمعہ کی نماز بھی ادا نہ ہوسکی۔ زندگی سینماؤں اور تھیٹروں میں گزرتی۔ حصول دولت کے لیے حلال و حرام کی تمیز جاتی رہی۔ بے ایمانی، جھوٹ اور فراڈ کا شکار بن گیا۔............ پھر سندھ کے پسماندہ اور غیر تعلیم یافتہ علاقے جام شورو ٹیکسٹ بک بورڈ میں

صفحہ 584

جھونپڑی ڈال کر پیری مریدی شروع کر دی۔ کچھ کمزور عقیدہ لوگوں کی آمد شروع ہو گئی۔ لیکن قریبی یونیورسٹی کے پرنسپل نے سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور جھونپڑی اکھاڑنے کا حکم دیا۔ ہم نے چپ چاپ اکھاڑ لی۔“ (روحانی سفر از ریاض گوہر شاہی صفحہ 8، 9)

اس کے گمراہ کن عقائد و نظریات اور باطل دعوے مندرجہ ذیل ہیں: اللہ تعالیٰ کی توہین کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ مجبور ہے اور شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ (روحانی سفر) اس نے کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا۔ (حق کی آواز ص 11) قرآن کے بارے میں لکھا ہے: تیس پارے ظاہری قرآن پاک اور دس پارے باطنی ملا کر چالیس پارے ہوئے اور یہ ہم پر عبادات، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے منکشف ہوئے۔ (حق کی آواز، ص 52,54) نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں روحانیت نہیں ہے۔ روحانیت کا تعلق دل کی ٹک ٹک سے ہے۔ (حق کی آواز، ص 3) اسلام واحد راہ نجات نہیں ہے۔ اس ضمن میں لکھا ہے کہ روحانیت سیکھو۔ خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو اور جس نے روحانیت سیکھی، چاہے اس نے کلمہ اسلام نہیں پڑھا، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ (مینارہ نور ص 9) نیز لکھتا ہے کہ عیسائی، ہندو، سکھ اور یہودی اگر روحانیت سیکھ لیں تو بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک ان کی رسائی ہو سکتی ہے۔ (گوہر، ص 4: سرفروش پبلی کیشنز) نشہ آور چیزوں کے حلال ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ بھنگ، چرس حرام ہیں۔ بلکہ وہ نشہ جس سے روحانیت میں اضافہ ہو حلال ہے۔ خوانخواہ ہمارے عالموں نے حرام قرار دے دیا۔ (روحانی سفر ص 23) عورتوں سے مصافحہ، معانقہ اور جسم دبوانا درست ہے۔ روحانی سفر میں اس نے خود اپنے چلے میں مستانی سے ملاقات اور اس کے ساتھ شب باشی کی فحش روئیداد تحریر کی ہے۔ (روحانی سفر، ص 32) اور پھر عورتوں سے معانقہ و مصافحہ کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا ہے کہ مولویوں نے اس کو حرام کیا ہے۔ سوال نامہ گوہر میں لکھا ہے: ”لوگ اگر ہمیں مہدی کہتے ہیں تو اصل میں جس کو فیض ملتا ہے، وہ ہمیں ایسا ہی سمجھتا ہے۔ (ص: 8) اس دعوے کے لیے بے سرو پا اور جھوٹے دلائل دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ میری تصویر چاند، سورج اور حجر اسود پر ظاہر ہو چکی ہے۔ یہ مہدی ہونے کی علامات میں سے ہے۔

زیر نظر مقدمہ میں تفصیلات کے مطابق ملزم عمر دراز کی شادی خالدہ سعید کے ساتھ ہوئی۔ عمر دراز نے گھر میں گوہر شاہی کے عقائد و نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ اس نے

صفحہ 585

اپنی بیوی کو قرآن مجید پڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے سے منع کیا۔ مزید کہا کہ عیدالاضحیٰ پر کتے کی قربانی کرنی چاہیے۔ خالدہ سعید نے اپنے خاوند کو ان گستاخانہ افعال سے منع کیا جس پر عمر دراز نے اپنی بیوی کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور طلاق دے دی۔ عمر دراز نے طلاق نامہ میں لکھا: ”اس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ گوہر شاہی کے ظہور کے بعد حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بجائے ذکر ریاض کرنا چاہیے۔ ریاض گوہر شاہی کے ایک پاؤں کے نیچے اللہ ہے اور دوسرے پاؤں کے نیچے...... ہے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بجائے ریاض گوہر شاہی کی عبادت کی جائے۔ (نعوذ باللہ)

چنانچہ 21 مارچ 2006ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا غلام حسین نے گوہر شاہی کے پیروکار لیاقت علی اور عمر دراز کے خلاف توہین رسالت ﷺ کے جرم میں پولیس اسٹیشن تھانہ جھنگ صدر میں مقدمہ درج کروا دیا۔ تقریباً 3 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ استغاثہ نے مضبوط شہادتوں کے ساتھ اپنا مقدمہ بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت کر دیا۔ محترم ریاض الحسن علوی صاحب سیشن جج جھنگ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا:

تعزیرات پاکستان کی شق کی طرف آتا ہوں۔ دفعہ C-295 یوں ہے:

”جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلاواسطہ، بہتان تراشی کرے یا رسول کریم حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت دی جائے گی۔“

قانون کی متذکرہ شق کا تعلق حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سے ہے۔ ملک کے تعزیری قانون میں اس امر کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس شخص کو سزا دی جائے جو اس کائنات کے خالق (اللہ تعالیٰ) کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے، جو حضرت محمد ﷺ کا بھی خالق ہے۔ قانون سازوں کو اس سقم کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ مقدمہ ہذا میں، دونوں ملزمان نے نبی اکرم ﷺ کے بجائے اللہ تعالیٰ کے متعلق بہ آواز بلند گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ یہ امر میری ہڈیوں کے گودے میں سرد لہر دوڑا دیتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے لیے قانون میں کوئی سزا نہیں جو نہایت ہی بے باک انداز میں اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی انسان کو ترجیح دیتے ہیں۔ (افسوس) وہ کسی کے سامنے

صفحہ 586

جواب دہ نہیں۔ جہاں تک مقدمہ ہذا کا تعلق ہے، دونوں ملزمان نے نہایت ہی اونچی اور بلند آواز میں، نہ صرف تحریری طور پر بلکہ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیانات قلمبند کراتے ہوئے اور عدالت کی طرف سے استفسار کرنے پر بھی، ریاض گوہر شاہی کو اپنا خدا قرار دیا اور کہا کہ ان کا ایمان ہے کہ ریاض گوہر شاہی نہ صرف اللہ تعالیٰ سے برتر ہے اور اس کائنات میں ہر چیز کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا بھی خالق ہے (نعوذ باللہ من ذلک)۔ ثبوت کے طور پر پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ان کے کلمات کفر، درج ذیل ہیں:

"موسیٰ آئے، موسیٰ کی تعلیم چلی۔ جب عیسیٰ آئے تو عیسیٰ کی تعلیم چلی، موسیٰ کی تعلیم چلی گئی۔ محمد آئے تو عیسیٰ کی تعلیم ختم ہوگئی۔ محمد کی تعلیم چلی، بالکل اسی طرح جب گوہر شاہی آئے تو محمد کا دین ختم ہوگیا، گوہر شاہی کا دین چلا۔ گوہر شاہی کو یاد رکھ، باقی سب بھول جا۔

کعبہ اب ہمارا طواف کرتا ہے۔ تمہارا اللہ اور حضور پاک ملنے کو ترستے ہیں۔ میں لیاقت یہ کہتا ہوں گوہر شاہی تو گوہر شاہی ہے، اس کا پیشاب پوری کائنات سے افضل ہے۔"

میں گوہر شاہی والا ہوں۔ جو یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے یا اللہ کو مانتا ہے، اس پر لعنت ہے۔ چھڈ دے چھڈ دے، اللہ محمد نوں، گوہر شاہی دی پوجا کر۔ میں گوہر شاہی کے در کا کتا ہوں۔ سب سے افضل ذکر ریاض، ریاض ہے"

(ریاض گوہر شاہی)

"میں نے دیکھا کہ اس کے ایک پاؤں پہ اللہ دوسرے پاؤں پہ ...... ہے۔ (نعوذ باللہ) میں اس کا پیشاب پینے کو ترس رہا ہوں۔ ریاض گوہر شاہی خداؤں کا خدا ہے۔ اللہ اور محمد اس کو ملنے کے لیے ترس رہے ہیں"۔ دستخط انگریزی

میں نے خود دیکھا گوہر شاہی کے ایک پاؤں تلے اللہ اور دوسرے پاؤں تلے ...... لکھا ہوا ہے۔ (نعوذ باللہ)

دستخط انگریزی لیاقت ملزم، بحروف اردو مورخہ 2004-03-18۔

ریاض گوہر شاہی میرا خالق، مالک اعلیٰ رب، دوزخ، جنت، اماں، باپ، سب کچھ وہی ہے۔ اسی عقیدہ کی وجہ سے میں نے اپنی بیگم کو طلاق دی۔ دستخط عمر دراز۔"

محترم جج صاحب نے ملزمان کو سزا سناتے ہوئے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا:

کے مروجہ قانون کی روشنی میں، مقدمہ کے منفرد حالات میں، دونوں ملزمان کے رویوں کو مدنظر

صفحہ 587

رکھتے ہوئے مجھے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وہ نہ صرف دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت مجرم قرار پائے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ، حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے منکر بھی ہیں۔ انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی ہے اور انہوں نے ایک عام شخص ریاض گوہر شاہی کو ان پر برتری دی ہے۔ (نعوذ باللہ) انہوں نے فساد فی الارض پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور عمومی طور پر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ میں نے افسوس کے ساتھ یہ بھی محسوس کیا ہے کہ اس قسم کے لوگ دین اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک نئے عقیدے کو پھیلانے کے لیے فعال ہیں کیونکہ انہوں نے واضح طور پر اپنے مرکز کا پتا گوجرہ آستانہ ریاض گوہر شاہی دیا ہے لیکن ان کی مذموم سرگرمیوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا جو اسلام کے لیے ایٹم بم سے کم نہیں۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ برائی کو ابھرنے سے پہلے ختم کر دیا جائے۔ اس لیے دونوں ملزمان لیاقت علی اور عمر دراز کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور ان کے لیے سزائے موت تجویز کی جاتی ہے۔“

یہ فیصلہ اس قدر فکر انگیز اور پراثر ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور کافی دیر تک اس بات پر اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار اور آنسو بہاتا رہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کائنات کے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے پر تعزیرات پاکستان میں کوئی سزا موجود نہیں۔ ایسا ایمان پرور فیصلہ لکھنے پر اللہ تعالیٰ جج صاحب کو دنیا اور آخرت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس فیصلہ کی نقل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا غلام حسین صاحب نے مہیا کی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین) اس کیس میں ان کی خدمات قابل صد ستائش ہیں۔

17 ستمبر 2015ء کو لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز جج صاحبان جناب جسٹس عبدالسمیع خان اور جناب جسٹس جیمز جوزف نے سیشن کورٹ کی طرف سے دی گئی ملزمان کی سزا کو بحال رکھا۔ اس اہم فیصلہ کا اُردو ترجمہ اس کتاب کے آخر میں دیا جارہا ہے۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 588

بعدالت جناب ریاض الحسن علوی، سیشن جج، جھنگ

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 66/2006 سیشن مقدمہ نمبر : 08/2009 ایف آئی آر نمبر : 166 بتاریخ 21 مارچ 2006ء پولیس سٹیشن : صدر جھنگ بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-C

سرکار

بنام

دونوں کی ولدیت محمد رمضان، ذات کھوکھر، ساکن بیگ کالونی، جھنگ صدر (ملزمان)

وکیل منجانب سرکار: سلیم بٹ ایڈووکیٹ

وکیل منجانب ملزم: نوید بھٹی ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 27 مارچ 2009ء

صفحہ 589

فیصلہ

جناب ریاض الحسن علوی، سیشن جج، جھنگ

ملزمان لیاقت علی اور عمر دراز کے خلاف پولیس سٹیشن صدر جھنگ میں مورخہ 21-03-2006 کو ایف آئی آر نمبر 166، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان جو کہ حافظ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 1) کی مدعیت میں درج کی گئی اور اس کا چالان پولیس نے مقدمہ چلائے جانے کے لیے عدالت میں پیش کیا۔

درخواست (Exh.PA) سے معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ مورخہ 17-04-2006 کو ناظم جامع عثمانیہ ابوبکر، ڈاکٹر ملازم حسین اور احمد نواز، گواہان استغاثہ، مدعی غلام حسین کے گھر گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خالدہ سعید دختر محمد سعید کی شادی، ملزم عمر دراز سے تین سال قبل ہوئی۔ عمر دراز نے تین چار ماہ پہلے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق قابل اعتراض الفاظ بولنے شروع کر دیے۔ اس نے ریاض احمد گوہر شاہی نامی ایک شخص کو اپنا خدا قرار دیا۔ عمر دراز کی بیوی نے اسے اس گستاخانہ اور اہانت آمیز فعل سے منع کیا۔ اس پر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا اور عمر دراز نے مورخہ 13-03-2008 کو اپنی بیوی خالدہ سعید کو طلاق دے دی۔ طلاق نامے میں عمر دراز نے خاص طور پر یہ ذکر کیا کہ اس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ خالدہ سعید کے جہیز کی چیزیں واپس کر دی گئیں اور ان چیزوں میں سے، ملزم لیاقت کی طرف سے لکھا گیا ایک خط بھی برآمد ہوا جو انتہائی قابل اعتراض تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ گوہر شاہی کے ظہور کے بعد حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہو چکا ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ

صفحہ 590

کے بجائے ذکر ریاض کا دعویٰ کیا۔ اس نے مزید شرمناک (نعوذ باللہ من ذالک) طریقے سے لکھا کہ ریاض گوہر شاہی کے ایک پاؤں کے نیچے، لفظ اللہ ہے اور دوسرے پاؤں کے نیچے لفظ محمد ہے۔ اس نے مزید زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بجائے ریاض گوہر شاہی کی عبادت کی جائے۔ مورخہ 18-03-2006 کو 11.00 بجے صبح ملازم حسین اور احمد نواز ، گواہان استغاثہ کی معیت میں مدعی نے ملزمان، لیاقت اور عمر دراز سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ملزمان سے خطوط (Exh.PE) اور (Exh.PF) کے متعلق استفسار کیا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ دونوں نے (Exh.PE) اور (Exh.PF) کی معقولیت اور درست ہونے کی تصدیق کی۔ ایک فوٹوسٹیٹ، جو لیاقت کی لکھائی میں تھی، اس کے روبرو لائی گئی۔ اس نے اس پر دستخط کیے اور اس کے اصل ہونے کی توثیق کی۔ متذکرہ دستاویزات، شکایت (Exh.PA) کے ہمراہ پولیس کے روبرو پیش کی گئیں جن کی بنیاد پر ایک رسمی ایف آئی آر (Exh.PA/1) درج کی گئی۔ مقدمہ کے اندراج کے بعد، اس کی تفتیش مرزا غفار بیگ، ایس پی (انویسٹی گیشن) نے کی۔ اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اس کا معائنہ کیا اور جائے وقوعہ کا نقشہ (Exh.PC) تیار کیا۔ گواہان استغاثہ کے بیانات، زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قلمبند کیے گئے۔ دونوں ملزمان کو اسی دن گرفتار کر لیا گیا۔ مورخہ 22-03-2006 کو اس نے ملزمان کی لکھائی اور دستخطوں کے نمونوں کی دستاویزات کے ساتھ تقابل کے لیے درخواست (Exh.PD) گزاری جسے مدعی نے پیش کیا تھا۔ تفتیش مکمل کی گئی۔ دونوں ملزمان جرم کے مرتکب پائے گئے اور ان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ قانونی رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد، زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ملزمان کے خلاف علیحدہ علیحدہ فرد جرم عائد کی گئی جس پر انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

گواہِ استغاثہ نمبر 1، حافظ غلام حسین

اس نے استغاثہ کی کہانی کی تصدیق کی ہے جو شکایت / درخواست (Exh.PA) میں بیان کی گئی مقدمہ کی شکایت کے عین مطابق ہے، جس کی تفصیلات پہلے ہی اوپر بیان کی جا

صفحہ 591

چکی ہیں۔ اس نے اس حقیقت کی توثیق کی کہ ملزمان کی تحریریں (Exh.PE) سے (Exh.PH) تک ملزمان کے روبرو پیش کی گئیں اور انہوں نے ان کی تصدیق کی جو ریکارڈ پر دستیاب ہیں۔ اس نے خاص طور پر بتایا کہ دونوں ملزمان نے اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ کے نام کی بے حرمتی کی۔ اس پر جرح کی گئی۔ وہ دونوں ملزمان، عمر دراز اور لیاقت کو مقدمہ ہذا کے اندراج سے قبل ہی ذاتی طور پر جانتا تھا۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ دونوں ملزمان، لیاقت اور عمر دراز، ریاض احمد گوہر شاہی کے پیروکار ہیں۔ ڈاکٹر ملازم حسین اور احمد نواز گواہان استغاثہ نے اسے ملزمان عمر دراز اور لیاقت کے (باطل) عقیدے اور ان کے قابل اعتراض بیان کے علاوہ خالدہ سعید اور ملزم عمر دراز کے جھگڑے متعلق بھی بتایا۔ جب عمر دراز نے اپنی بیوی خالدہ سعید کو طلاق دے دی تو تمام حقائق واضح طور پر سامنے آ گئے۔ وہ ملزمان عمر دراز اور لیاقت کی لکھائی نہیں پہچان سکا، تاہم، وہ ملزم لیاقت کے دستخط کو پہچان سکتا تھا جو اس کی موجودگی میں چٹھیوں (4/Exh.PF) اور (5/Exh.PF) پر کیے گئے۔ ڈاکٹر ملازم حسین نے اس کے سامنے چٹھی پیش کی اور اسے بتایا کہ یہ چٹھی لیاقت نے لکھی ہے۔ اس چٹھی کی بنیاد پر ڈاکٹر ملازم حسین نے اسے ملزمان کے رویے کے متعلق بھی بتایا۔ مورخہ 2006-03-18 کو اس نے گواہان استغاثہ کی معیت میں ملزمان لیاقت اور عمر دراز کی دکانوں پر حقائق کی توثیق کی۔ اس نے اس امر کی تردید کی کہ ملزمان نے اس کے روبرو کسی لکھائی کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے دونوں ملزمان نے اپنے عقیدے کا اظہار اس کے سامنے نہیں کیا۔ اس نے انکار کیا کہ اس نے جھوٹا بیان دیا۔ اس نے اس امر کی بھی تردید کی کہ اس نے چٹھی پر لیاقت کے جعلی دستخط کیے۔ گواہ استغاثہ نمبر 1 نے مورخہ 2006-03-13 کو ایک ضمنی بیان دیا جس کے مطابق مورخہ 2006-03-21 کو اس نے تفتیشی افسر کے روبرو 4 دستاویزات پیش کیں جو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PE) تحویل میں لے لی گئیں۔ دستاویز، پولی تھین کے کاغذ میں ملفوف تھی جسے ملزم لیاقت علی نے لکھا تھا، اور وہ (Exh.PE) ہے۔ قابل اعتراض حصے (1/Exh.PE) اور (2/Exh.PE) ہیں۔ ملزم لیاقت کی لکھائی میں دوسری دستاویز (Exh.PF) ہے۔ ملزم لیاقت علی کے دستخط (1/Exh.PF) ہیں اور گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ (2/Exh.PF) ہیں۔ فوٹو کاپی مع ملزم لیاقت کے دستخط (3/Exh.PF) ہیں۔ انگریزی میں دستخط (4/Exh.PF) اور اردو میں دستخط (5/Exh.PF) ہیں۔ عمر دراز کی

صفحہ 592

لکھی دستاویز (Exh.PG) اور اس کے دستخط (Exh.PG/1) ہیں۔ طلاق نامہ کی فوٹو کاپی (Exh.PH) اور عمر دراز کے دستخط (Exh.PH/1) ہیں۔ گواہان استغاثہ نے ملزمان سے ملاقات کی اور مندرجہ بالا دستاویزات کے متعلق استفسار کیا۔ ملزم لیاقت نے اعتراف کیا کہ (Exh.PE) اس کی لکھائی ہے جس پر اس کے دستخط ہیں۔ اسی طرح (Exh.PF) بھی اس کی لکھائی میں ہے۔ ملزم عمر دراز نے اعتراف کیا کہ تحریر (Exh.PG) اس نے لکھی ہے جس پر اس کے دستخط ہیں۔ (Exh.PH) کی املا ملزم لیاقت نے لکھائی جس پر اس کے دستخط ہیں۔ یہ تمام دستاویزات، تفتیشی افسر نے بمطابق ریکوری میمو (Exh.PD) اپنی تحویل میں لے لیں جس پر اس کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں۔ ملزمان کو گواہ پر جرح کا موقع مہیا کیا گیا لیکن انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، ملازم حسین

اس نے استغاثہ کی کہانی کی توثیق کی۔ دستاویزات، تفتیشی افسر کے روبرو پیش کی گئیں جو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PB) تحویل میں لے لی گئیں جس کی اس نے تصدیق کی۔ اس پر جرح کی گئی۔ دونوں ملزمان اس کے ہمسائے ہیں اور وہ انہیں ذاتی طور پر جانتا ہے۔ وہ ملزمان لیاقت اور عمر دراز کی لکھائی پہچان نہ سکا۔ وہ لیاقت کے دستخطوں کو پہچان سکتا تھا جو اس نے چٹھی پر کیے تھے۔ اس نے اس امر کی تردید کی کہ عمر دراز کی طرف سے اپنی بیوی خالدہ سعید کو طلاق دینے کے بعد انہوں نے ملزمان کے خلاف ایک جھوٹی کہانی گھڑی۔ معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ طلاق کی وجہ، ملزم عمر دراز کی طرف سے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ تھے۔ اس نے انکار کیا کہ ملزم لیاقت نے کسی بھی تحریر پر اپنے دستخط نہیں کیے۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ ملزمان لیاقت اور عمر دراز نے ان کی موجودگی میں کسی چٹھی سے انکار نہیں کیا اور اس کی موجودگی میں کسی بھی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس نے انکار کیا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی۔

گواہ استغاثہ نمبر 3، محمد سعید

اس نے گواہی دی ہے کہ خالدہ سعید، اس کی اکلوتی بیٹی ہے، جس کی شادی عمر دراز سے ہوئی تھی۔ وہ دو تین برس ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے رہے۔ جب ملزم لیاقت، عمر دراز کے ساتھ رہنے کے لیے آیا، اس نے کہنا شروع کیا کہ ریاض گوہر شاہی اس کا اللہ (رب) ہے۔

صفحہ 593

اس نے عمر دراز کو بھی تبلیغ کی جس نے ملزم لیاقت کا عقیدہ اپنا لیا۔ عمر دراز کی بیوی خالدہ سعید نے اس قسم کے کلمات بولنے سے منع کیا۔ اس پر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ بالآخر، عمر دراز نے گواہِ استغاثہ نمبر 3 کی بیٹی خالدہ سعید کو طلاق دے دی۔ طلاق نامہ میں، عمر دراز نے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ جب جہیز کی کچھ چیزیں واپس کی گئیں تو ان چیزوں میں ایک خط برآمد ہوا جو اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے خلاف بے حرمتی کے الفاظ پر مشتمل تھا۔ متذکرہ خط میں، یہ لکھا تھا کہ ریاض گوہر شاہی کے ایک پاؤں پر اللہ تعالیٰ کا نام کنندہ ہے اور دوسرے پاؤں پر حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کا نام کنندہ ہے (نعوذ باللہ)۔ متذکرہ خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ریاض گوہر شاہی کا ذکر کیا جائے اور اللہ تعالیٰ اور نبی اکرمﷺ کا ذکر ترک کر دیا جائے۔ اس پر جرح کی گئی۔ ملزم عمر دراز سے اس کی بیٹی کی شادی سے بیس پچیس برس پہلے وہ دونوں ملزمان کو جانتا تھا۔ عمر دراز سے اس کی بیٹی کی شادی کے وقت، اس کے والدین اور بہنیں بھی اس کے ساتھ آئیں تھیں۔ ملزم لیاقت، گزشتہ دس پندرہ برس سے ریاض گوہر شاہی کے ساتھ رہ رہا تھا۔ متنازعہ چٹھی، اس کی موجودگی میں آہنی سٹینڈ میں سے برآمد ہوئی۔ چٹھی میں دونوں ملزمان کے نام شامل تھے۔ اس نے متذکرہ چٹھی، حافظ غلام حسین، گواہِ استغاثہ نمبر 1 کے حوالے کر دی۔ اس کی بیٹی خالدہ سعید کی طلاق کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ طلاق نامہ کی فوٹو کاپی اسے دستی دی گئی۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ ملزم نے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کبھی نہیں بولے۔ اس نے اس حقیقت سے انکار کیا کہ اس نے اپنی بیٹی کی طلاق کے باعث ہی جھوٹا بیان دیا۔

گواہِ استغاثہ نمبر 4، رحمت اللہ، اے ایس آئی

اس نے گواہی دی کہ مورخہ 2006-03-21 کو اسے پولیس سٹیشن صدر جھنگ میں ڈیوٹی افسر تعینات کیا گیا تھا اور تحریری درخواست اس پولیس سٹیشن میں بذریعہ عبداللطیف کانسٹیبل، موصول ہوئی، جس کی بنیاد پر اس نے بغیر کسی کمی بیشی کے رسمی ایف آئی آر (Exh.PA/1) درج کی۔ اس پر جرح نہیں کی گئی۔

گواہِ استغاثہ نمبر 5، غلام حسین، ڈی ایس پی

اس نے گواہی دی کہ مورخہ 2006-03-21 کو وہ پولیس سٹیشن، صدر، جھنگ

صفحہ 594

میں انسپکٹر ایس ایچ او،تعینات تھا۔وہ کچہری روڈ ، جھنگ میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ موجود تھا ،جہاں مدعی ، حافظ غلام حسین اور ملازم حسین ،اس کے روبرو پیش ہوئے جنہوں نے ایک درخواست (Exh.PA) اور طلاق نامہ کی فوٹو کاپی ،پیش کی۔اس نے ڈی پی او جھنگ کو مطلع کیا۔درخواست کے مندرجات سے زیردفعہ C - 2 9 5 ،تعزیرات پاکستان،جرم اخذ کیا گیا۔اس نے عبداللطیف، ہیڈ کلرک کے ذریعے یہ درخواست ، اندراج مقدمہ کے لیے بھجوادی۔اس پر جرح نہیں کی گئی۔

گواہِ استغاثہ نمبر 6 ، مرزا غفار بیگ،ایس پی (انویسٹی گیشن)

اس نے اپنی تفتیش کی تصدیق کی جس کی تفصیلات پہلے ہی بیان کی جاچکی ہیں۔اس پر جرح کی گئی۔اس نے جائے وقوعہ کا دورہ مورخہ 2006-03-21 کو 4 بجے شام کو کیا۔ جائے وقوعہ کا نقشہ (Exh.PC)، اس کے ریڈر مختار احمد ایس آئی نے تیار کیا اور اس پر اس نے دستخط کیے۔کیس ڈائری نمبر 1 بتاریخ 2006-03-21 بھی متذکرہ ریڈر کے ہاتھ میں تھا۔گواہان استغاثہ کے بیانات بھی متذکرہ ریڈر نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری،قلمبند کیے۔اس نے خالدہ سعید کا بیان قلمبند نہیں کیا۔اس سے طلاق کے متعلق تفتیش نہیں کی گئی۔اس نے ملزمان کو واقعی مجرم پایا کیونکہ انہوں نے متنازعہ دستاویزات تحریر کرنے اور دستخط کرنے کے ذریعے اعتراف کیا۔

عدالتی گواہ، خالدہ سعید

ملزم عمر دراز کی سابقہ بیوی، خالدہ سعید کا بیان بطور عدالتی گواہ قلمبند کیا گیا۔ اس نے بتایا کہ تقریباً پانچ برس پہلے اس کی شادی عدالت میں حاضر ملزم عمر دراز سے ہوئی تھی جو کہتا تھا کہ گوہر شاہی اس کا خدا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔اس پر، اس کا اپنے خاوند، عمر دراز کے ساتھ جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا، جس نے اسے بھی قرآن مقدس پڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے سے منع کیا۔عدالت میں حاضر ملزمان ،عمر دراز اور لیاقت، حضرت محمدﷺ کے بھی منکر تھے۔دونوں کھلے عام کہتے ہیں کہ ان کا خدا، گوہر شاہی ہے۔ دونوں (نعوذ بااللہ) کہا کرتے تھے کہ گوہر شاہی کے ایک پاؤں کے تلوے پر اللہ لکھا ہوا ہے اور دوسرے پاؤں کے تلوے پر محمد لکھا ہوا ہے۔ دونوں ملزمان یہ کہتے تھے کہ عیدالاضحیٰ پر کتے کی قربانی کرنی چاہیے۔

صفحہ 595

اس نے انہیں منع کیا۔ عمر دراز نے اس کو مارا پیٹا، اسے گھر سے نکال دیا اور اسے طلاق دے دی۔ اس پر ملزم کی طرف سے جرح کی گئی۔ وہ ملزم کے عقیدے اور اس کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق اپنے والدین کو بتایا کرتی تھی۔ اس کے والد نے ملزم کو حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ اور اللہ تعالیٰ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے سے منع کیا۔ اس نے انکار کیا کہ دونوں ملزمان نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں کہے۔ اس نے متذکرہ الفاظ کے متعلق پولیس کو مطلع نہیں کیا۔ اس نے تردید کی کہ اس کی طرف سے ملزم کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور یہ کہانی جھوٹی ہے۔

ضابطہ فوجداری، قلمبند کیے گئے۔ ملزمان پر الگ سے استغاثہ کا مقدمہ اور دستاویزات (Exh.PE) تا (Exh.PH)، جن کا تعلق ان سے تھا، بھی الگ سے ان کے روبرو پیش کی گئیں۔ انہوں نے دستاویزات کی جائز حیثیت کا اعتراف کیا، جو ان کی لکھائی میں تھیں اور ان پر ان کے دستخط بھی تھے۔ انہوں نے اپنے دفاع میں زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، حلفیہ بیانات قلمبند کرانے سے انکار کر دیا بلکہ اس کے بجائے انہوں نے استغاثہ کی کہانی کو سچ تسلیم کر لیا۔ انہوں نے اپنا موقف (عقیدہ و نظریات) تبدیل کرنے سے انکار کر دیا جسے اوپر زبانی کے علاوہ استغاثہ کی دستاویزی گواہی کے طور پر بیان کیا گیا۔ یہ کسی بھی طرح انکار کا معاملہ نہیں تھا۔

انہوں نے نبی اکرمﷺ اور اللہ تعالیٰ کے خلاف کسی بھی قسم کی بے حرمتی کا مظاہرہ نہیں کیا، اس لیے وہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں جو اس کے اوپر لاگو ہوتا ہے جب کوئی حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے خلاف کسی بھی قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولتا ہے۔

محمدﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے بلکہ لکھائی کے ذریعے براہ راست اللہ

صفحہ 596

تعالی کے خلاف بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالی اور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے متعلق شرمناک الفاظ پر شرمندہ نہیں، بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے۔ کوئی بھی شخص جو ملزمان کے عقائد اور ان تحریروں کو جانتا ہو جو (عدالت میں) بطور ثبوت پیش کی گئیں، وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ انہوں نے اپنے عقیدے کے ذریعے فساد فی الارض کے دروازے کھول دیے، جو انہوں نے اپنی تحریروں میں لکھے/دکھائے، جنہیں بطور (Exh.PE) تا (Exh.PH) پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے نبی اکرم حضرت محمدﷺ اور اللہ تعالی کے پاک نام کی توہین کی ہے، اس لیے وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

معائنہ کرایا گیا اور ڈاکٹروں نے رپورٹ پیش کی کہ وہ ذہنی طور پر بالکل تندرست اور صحت مند ہیں۔ انہیں کوئی ذہنی عارضہ لاحق نہیں۔

تعزیرات پاکستان کی شق کی طرف آتا ہوں۔ دفعہ 295-C یوں ہے:

”جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلاواسطہ، بہتان تراشی کرے یا رسول کریم حضرت محمدﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت دی جائے گی۔“

قانون کی متذکرہ شق کا تعلق حضور نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سے ہے۔ ملک کے تعزیری قانون میں اس امر کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس شخص کو سزا دی جائے جو اس کائنات کے خالق (اللہ تعالی) کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے، جو حضرت محمدﷺ کا بھی خالق ہے۔ قانون سازوں کو اس سقم کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ مقدمہ ہذا میں، دونوں ملزمان نے نبی اکرمﷺ کے بجائے اللہ تعالی کے متعلق بہ آواز بلند گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ یہ امر میری ہڈیوں کے گودے میں سرد لہر دوڑا دیتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے لیے قانون میں کوئی سزا نہیں جو نہایت ہی بے باک انداز میں اس کائنات میں اللہ تعالی کے بجائے کسی انسان کو ترجیح دیتے ہیں۔ (افسوس) وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔ جہاں تک مقدمہ ہذا کا تعلق ہے، دونوں ملزمان نے نہایت ہی اونچی اور بلند آواز میں، نہ صرف تحریری طور پر بلکہ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیانات قلمبند کراتے

صفحہ 597

ہوئے اور عدالت کی طرف سے استفسار کرنے پر بھی، ریاض گوہر شاہی کو اپنا خدا قرار دیا اور ان کا ایمان ہے کہ ریاض گوہر شاہی نہ صرف اللہ تعالیٰ سے برتر ہے اور اس کائنات میں ہر چیز کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا بھی خالق ہے (نعوذ باللہ من ذلک)۔ ثبوت کے طور پر پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ان کے کلماتِ کفر، درج ذیل ہیں:

”(Exh.PE): ”موسیٰ آئے، موسیٰ کی تعلیم چلی۔ جب عیسیٰ آئے تو عیسیٰ کی تعلیم چلی، موسیٰ کی تعلیم چلی گئی۔ محمد آئے تو عیسیٰ کی تعلیم ختم ہوگئی۔ محمد کی تعلیم چلی، بالکل اسی طرح جب گوہر شاہی آئے تو محمد کا دین ختم ہوگیا، گوہر شاہی کا دین چلا۔ گوہر شاہی کو یاد رکھ، باقی سب بھول جا۔ کعبہ اب ہمارا طواف کرتا ہے۔ تمہارا اللہ اور حضور پاک ملنے کو ترستے ہیں۔ میں لیاقت یہ کہتا ہوں گوہر شاہی تو گوہر شاہی ہے، اس کا پیشاب پوری کائنات سے افضل ہے۔“

میں گوہر شاہی والا ہوں۔ جو یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے یا اللہ کو مانتا ہے، اس پر لعنت ہے۔ چھڈ دے چھڈ دے، اللہ محمد نوں، گوہر شاہی دی پوجا کر۔ میں گوہر شاہی کے در کا کتا ہوں۔ سب سے افضل ذکر ریاض، ریاض ہے“ (ریاض گوہر شاہی)

(Exh.PF/2): ”میں نے دیکھا کہ اس کے ایک پاؤں پہ اللہ، دوسرے پاؤں پہ محمد ہے۔ (نعوذ بااللہ)۔

میں اس کا پیشاب پینے کو ترس رہا ہوں۔ ریاض گوہر شاہی خداؤں کا خدا ہے۔ اللہ اور محمد اس کو ملنے کے لیے ترس رہے ہیں“۔ دستخط انگریزی (Exh.PF/1)

(Exh.PF/3): میں نے خود دیکھا گوہر شاہی کے ایک پاؤں تلے اللہ اور دوسرے پاؤں تلے محمد لکھا ہوا ہے۔ (نعوذ بااللہ)

(Exh.PF/4): دستخط انگریزی لیاقت ملزم، (Exh.PF/5) ، بحروف اردو مورخہ 18-03-2004۔

(Exh.PG): ریاض گوہر شاہی میرا خالق، مالک اعلیٰ رب، دوزخ، جنت، اماں، باپ، سب کچھ وہی ہے۔ اسی عقیدہ کی وجہ سے میں نے اپنی بیگم کو طلاق دی۔ دستخط عمر دراز (Exh.PG/1)“

معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اور ملزمان کے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے، مقدمہ ہٰذا میں قرآنی حوالے بہت ضروری ہیں۔

صفحہ 598

پارہ 6، سورہ المائدہ، آیت 33۔

فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف او ینفوا من الارض ذلک لھم خزی فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم.

ترجمہ: ”بلاشبہ سزا ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی یہ ہے کہ انہیں (چن چن کر) قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مختلف طرفوں سے یا جلاوطن کر دیے جائیں یہ تو ان کے لیے رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں اس سے بھی بڑی سزا ہے۔“۔

جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا نبی اکرمﷺ سے کسی کو برتر قرار دیتا ہے، یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبرﷺ کے ساتھ جنگ کر رہا ہے اور وہ سولی پر چڑھائے جانے کا مستحق ہے۔

پارہ 22، سورہ الاحزاب، آیت 57

واعد لھم عذابا مھینا.

ترجمہ: ”بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب“۔

پارہ 26، سورہ الحجرت، آیت 2

تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون.

ترجمہ: ”اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی کریم (ﷺ) کی آواز سے اور

صفحہ 599

نہ زور سے آپ (ﷺ) کے ساتھ بات کیا کرو۔ جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو۔ (اس بے ادبی سے) کہیں ضائع نہ ہوجائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو‘‘۔ حاشیہ جلالین، 202: حضور نبی کریم ﷺ کو اس طرح بلانا جس میں تعظیم نہ ہو، نہ ان کی (ظاہری) زندگی میں جائز تھا اور نہ ان ﷺ کی پردہ پوشی کے بعد جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو کم مرتبہ جانا، پس وہ کافر ہے اور دنیا و آخرت میں ملعون ہے۔

پارہ 28، سورہ حشر، آیت 04

ذلك بانهم شاقوا الله ورسوله ومن يشاق الله فان الله شديد العقاب.

ترجمہ: ”یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے مخالفت کی تھی اللہ اور اس کے رسول کی اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ عذاب دینے میں بڑا سخت ہے۔‘‘

پارہ 28، سورہ مجادلہ، آیت 05

قبلہم وقد انزلنآ ایت بینت وللکفرین عذاب مہین.

ترجمہ: ”بے شک جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، انہیں ذلیل کیا جائے گا جس طرح ذلیل کیے گئے وہ (مخالفین) جو ان سے پہلے تھے، اور بے شک ہم نے اتاری ہیں روشن آیتیں اور کفار کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘

یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینے والا واجب القتل ہے۔ حضور ﷺ کو اذیت دینا ، دراصل اللہ ہی کو اذیت دینا ہے۔

(الصارم المسلول از علامہ ابن تیمیہ اردو ترجمہ ص 62)

قرآن میں ہر جگہ لفظ یوذون النبی یا یوذون الرسول آیا ہے اور جب رسول اللہ ﷺ کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس میں ذاتِ پیغمبر ناطق ہوجاتی ہے۔ منصب رسالت کو جھٹلانا در حقیقت پیغام الوہیت کا انکار ہے۔ جب کسی نے منصب رسالت پر حملہ کیا تو اسے سزائے موت دی گئی کیونکہ منصب رسالت ذاتی جوہر نہ تھا، وہبی تھا۔

(تفسیر روح البیان، جلد نمبر 7 ص 237)

صفحہ 600

کرے خواہ حقیقتاً خواہ مذاقاً، وہ شخص کافر ہو جائے گا۔ (الصارم المسلول ص 32-31)

جلد 4، ص 407)

قبول نہیں کی جائے گی۔ (البحر الرائق جلد 5 ص 135)

ہوتے ہیں، اس میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا، اس لیے اس کی توبہ قابل قبول ہے مگر شاتم رسول ﷺ کافر مرتد ہوتا ہے کہ اس کا قتل لازم ہے۔ (تنقیح

حامدیہ 2 ص 154)

حدیث مبارکہ:

اور جو شخص اس شخص کے کفر اور عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ (فتاویٰ

شامی جلد 3 ص 317)

کے مروجہ قانون کی روشنی میں، مقدمہ کے منفرد حالات میں، دونوں ملزمان کے رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ وہ کسی رعایت کے مستحق ہیں۔ وہ نہ صرف دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت مجرم قرار پائے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ، حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے منکر بھی ہیں۔ انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی ہے اور انہوں نے ایک عام شخص ریاض گوہر شاہی کو ان پر برتری دی ہے۔ (نعوذ باللہ) انہوں نے فساد فی الارض پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور عمومی طور پر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ میں نے افسوس کے ساتھ یہ بھی محسوس کیا ہے کہ اس قسم کے لوگ دین اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک نئے عقیدے کو پھیلانے کے لیے فعال ہیں

صفحہ 601

کیونکہ (Exh.PF) میں انہوں نے واضح طور پر اپنے مرکز کا پتا گوجرہ آستانہ ریاض گوہر شاہی دیا ہے لیکن ان کی مذموم سرگرمیوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا جو اسلام کے لیے ایٹم بم سے کم نہیں۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ برائی کو ابھرنے سے پہلے ختم کر دیا جائے۔ اس لیے دونوں ملزمان لیاقت علی اور عمر دراز کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور ان کے لیے سزائے موت تجویز کی جاتی ہے۔ انہیں ان کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے جب تک موقع پر موجود ڈاکٹر ان کی موت کی تصدیق نہ کردے۔ تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ، لاہور، اس فیصلے کی تصدیق نہیں کر دیتی۔ ان دونوں کو فی کس -/5,00,000 روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں، انہیں فی کس مزید پانچ سال قید مشقت بھگتنی ہوگی۔ جرمانہ کی ادائیگی کی صورت میں اسے سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے۔ ملزمان تحویل میں ہیں۔ ان کو دی جانے والی سزائیں بھگتنے کے لیے واپس جیل بھیجا جا رہا ہے۔ سزائے موت کی توثیق کے لیے معزز عدالت عالیہ لاہور کو بھی درخواست بھیجی جائے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ ریاض الحسن علوی 27 مارچ 2009ء سیشن جج، جھنگ

۞.......۞.......۞

صفحہ 602
صفحہ 603

جناب جنگو خاں ایڈیشنل سیشن جج کراچی

سرکار بنام قمر ڈیوڈ ولد ڈیوڈ کے ماہ فروری 2010ء

صفحہ 604
صفحہ 605

دل کی بات

7 مئی 2006 کو کراچی کے جناب خورشید احمد خاں کے موبائل فون پر ایک نامعلوم شخص کی طرف سے ایک میسج / ایس ایم ایس موصول ہوا۔ یہ میسج تین قسم کی مختلف عبارات پر مشتمل تھے جو مختلف اوقات میں بھیجے گئے۔ ان پیغامات میں ملزم نے حضور نبی کریم ﷺ، آپ ﷺ کے اہل بیت، حضرت فاطمہؓ، حضرت حاجرہؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت علیؓ کے خلاف غلیظ ترین الفاظ استعمال کیے اور انہیں گندی گالیاں دیں۔ ملزم نے یہ میسج عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام مولانا قاضی احسان احمد، سید انوار الحسن، مفتی فخر الزماں اور محمد انور کو بھی بھیجے۔

چنانچہ خورشید احمد خاں صاحب نے 24 مئی 2006ء کو ملزم کے خلاف توہین رسالت ﷺ کے ارتکاب کے جرم میں اندراج مقدمہ کی درخواست دی۔ پولیس تفتیش سے پتہ چلا کہ ملزم قمر ڈیوڈ نے اپنے موبائل سے یہ گستاخانہ میسج کیے۔ تقریباً پونے چار سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ تمام گواہیاں اور ثبوت ملاحظہ کرنے کے بعد جناب جنگو خاں ایڈیشنل سیشن جج کراچی ساؤتھ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے قانونی مشیر مجاہد ختم نبوت جناب منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے اس کیس کو جس جانفشانی اور محنت سے لڑا، وہ قابل تحسین ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر جناب منظور احمد راجپوت کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس مقدمہ میں مجاہد ختم نبوت جناب مولانا قاضی احسان احمد صاحب کا کردار اور خدمات بھی قابل صد ستائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ

محمد متین خالد

لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 606

بعدالت جناب جنگو خاں، ایڈیشنل سیشن جج، کراچی ساؤتھ

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 379/2006 ایف آئی آر نمبر : 127/2006، بتاریخ 24 مئی 2006ء پولیس سٹیشن : صدر کراچی بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C اور 298-A

سرکار

بنام

(ملزمان)

وکیل منجانب مستغیث: منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ وکیل منجانب سرکار: شاہد محمود ایڈووکیٹ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکلا منجانب ملزمان: پرویز اسلم چودھری ایڈووکیٹ، انتخاب احمد ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 25 فروری 2010ء

صفحہ 607

فیصلہ

جناب جنگو خاں، ایڈیشنل سیشن جج، کراچی ساؤتھ

فیصلہ ہذا کے ذریعے میں اس مقدمے کا فیصلہ کر رہا ہوں جس میں متذکرہ نامزد ملزم کو پولیس کی تحویل سے متذکرہ بالا مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔مقدمہ ہذا،مورخہ 2010-01-11 کو بمطابق انتظامی حکم از معزز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج،ساؤتھ کراچی کی جانب سے قانون کے مطابق نمٹانے کے لیے عدالت ہذا کو موصول ہوا۔

استغاثہ کے مطابق مقدمہ کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ مدعی خورشید احمد خان،نے مورخہ 2006-05-24 کو ایک تحریری درخواست کے ذریعے ایک ایف آئی آر درج کرائی جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ وہ مکان نمبر A-160 ،واقع سندھ بلوچ ہاؤسنگ سوسائٹی،گلستان موڑ،کراچی کا رہائشی ہے۔ مورخہ 2006-05-07 کو وہ اپنے گھر پر موجود تھا اور اسے اپنے موبائل نمبر 0300-8203196 پر ایک نامعلوم شخص کی جانب سے ایک پیغام وصول ہوا جس کا موبائل نمبر 923016925341+ ہے اور پیغام مندرجہ ذیل ہے:

.......................................................................................................................................... ................................................................................................(نعوذ باللہ)۔

.......................................................................................................................................... ................................................................................................(نعوذ باللہ)

صفحہ 608

اس پیغام میں منور احمد نامی شخص نے حضور نبی اکرمﷺ اور تمام امت مسلمہ کی بے حرمتی کی اور گالیاں دیں، مزید برآں، نبی اکرمﷺ اور آپﷺ کے اہل بیتؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حاجرہؓ، حضرت حسینؓ اور حضرت علیؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ یہ پیغامات تین قسم کے تھے اور تین مختلف اوقات میں بھیجے گئے جن میں گستاخانہ اور اہانت آمیز جملے تحریر تھے، بھیجے گئے تھے۔ اس نے یہ پیغامات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علما جن میں مولانا احمد میاں حمادی، قاضی احسان احمد، سید انوار الحسن، مفتی فخر الزماں اور محمد انور شامل تھے، کو پڑھائے اور اس نے کمپیوٹر کے ذریعے ان پیغامات کا متن مورخہ 13-05-2006 کو حاصل کیا۔ متذکرہ فون نمبر کی شناخت کرنے کے لیے اس نے موبی لنک (Mobilink) کے صدر دفتر کو درخواست دی اور مورخہ 17-05-2006 کو انہوں نے منور احمد گلی نمبر 2، عنایت الٰہی کالونی، مکان نمبر 143، 144 چک نمبر 90/9-LPOS، ساہیوال کی نشاندہی کی اور پھر اس کے مطابق مدعی نے منور احمد کے خلاف حضور نبی اکرمﷺ اور دیگر مقدس شخصیات کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بھیجنے کے ضمن میں رپورٹ درج کرائی۔ معمول کی تفتیش کے بعد ملزم کے خلاف عدالت میں چالان پیش کر دیا گیا۔

بمطابق دفعہ 265-C، مجموعہ ضابطہ فوجداری، رسید (Ex:1&2) کے ذریعے ملزم کو مقدمہ کی نقول فراہم کر دی گئیں۔ زیر دفعات 295-C، 295-A، 298-A تعزیرات پاکستان، رسمی فرد جرم (Ex:3) عائد کر دی گئی جس سے ملزم نے انکار کیا اور بالترتیب (Ex:4&5) مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

استغاثہ نے اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی خاطر گواہ استغاثہ نمبر 1، انوار الحسن (Ex:6) پر جرح کی اور اس نے پرنٹ شدہ پیغام کا متن (Ex:6/A) پیش کیا؛ گواہ استغاثہ نمبر 2 احسان احمد پر جرح (Ex:7) کی گئی۔ گواہ استغاثہ فخر الزماں اور گواہ استغاثہ انور کی گواہی کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر برائے سرکار نے اپنے بیان (Ex:8) کے ذریعے ترک کر دی؛ گواہ استغاثہ نمبر 3 رئیس الدین قادری پر جرح (Ex:9) کی گئی؛ گواہ استغاثہ نمبر 4، خورشید احمد پر جرح (Ex:10) کی گئی، اس نے سیٹ منیجر، کسٹمر سروس کراچی کے نام تحریر کردہ خط (Ex:10/A) پیش کیا، تصدیقی رپورٹ کی نقل (Ex:10/B)، سیل نمبر کے متعلق

صفحہ 609

تصدیقی رپورٹ (Ex:10/C)، پرنٹ شدہ پیغام کا متن جس کے متعلق تفتیش (Ex:10/D) کی گئی تحریری درخواست (Ex:10/E) اور تحویل میں لیے جانے کا میمو (Ex:10/H)، معزز ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے گواہان کے بیانات (Ex:11) بھی پیش کیے، گواہ استغاثہ نمبر 5، ڈی ایس پی ، طاہر احمد نورانی پر جرح (Ex:12) کی گئی، اس نے میمو برائے تلاشی (Ex:12/A) پیش کیا؛ گواہ استغاثہ نمبر 6 ، اے ایس آئی فلک شیر پر جرح (Ex:13) کی گئی ؛ اس نے ایف آئی آر کی نقل (Ex:13/A) پیش کی؛ گواہ استغاثہ نمبر 7، ایس آئی، محمد صدیق پر جرح (Ex:14) کی گئی ،اس نے میمو برائے گرفتاری اور ریکوری (Ex:14/A) پیش کیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 8، انسپکٹر محمد ریاض پر جرح (Ex:15) کی گئی،اس نے حکم نامہ مورخہ 2006-05-24۔ لیاقت نیشنل ہاسپٹل کے نام خط (Ex:15/B)، ڈاکٹر علی عظمت عابدی کی طرف سے ایس ایچ او کے نام جاری کردہ خط (Ex:15/C)، کال کے ریکارڈ کی نقل اور درخواست (Ex:15/C,15/D) &15/E)، میمو برائے گرفتاری اور تحویل (Ex:15/F)، مندرجہ نمبر 17، (Ex:15/G)، مندرجہ نمبر 25، (Ex:15/H)، دو مندرجات نمبر 28 اور 14، (Ex:15/I&15/J) بالترتیب، میمو برائے تحویل مورخہ 2006-06-03 ،پیش کیں۔ گواہ استغاثہ ، علامہ احمد میاں نے اپنے بیان (Ex:16) کے ذریعے اپنی گواہی ترک کر دی۔ گواہ استغاثہ نمبر 9، انسپکٹر محمد زبیر پر جرح (Ex:17) کی گئی ۔ گواہ استغاثہ ہیڈ کلرک، مقصود کی گواہی بھی ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے بیان (Ex:18) کے مطابق ترک کر دی گئی۔ گواہ استغاثہ نمبر 10، ایس ایس پی (ایسٹ) انویسٹی گیشن ، محمد اسلم پر جرح (Ex:19) کی گئی۔ ہیڈ کلرک تسلیم حیدر پر جرح (Ex:20) کی گئی۔ پراسس سرور (Process Server) کا بیان (Ex:21) قلمبند کیا گیا، جس نے گواہ کے وارنٹ گرفتاری (Ex:21/A) اور اپنی رپورٹ (Ex:21/B) پیش کی ۔ بعد ازاں فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے سرکاری طرف سے اپنے بیان (Ex:22) کی رُو سے استغاثہ کی گواہی بند کر دی۔

بعد ازاں، زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ملزم ،قمر ڈیوڈ ولد ڈیوڈ کے مال اور منور احمد ولد حکیم محمد بخش کے بیانات بالترتیب (Ex:24&25) قلمبند کیے گئے جن میں انہوں نے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کی تردید کی۔ تاہم ،ملزمان نے بیان حلفی پر کوئی

صفحہ 610

بیان نہیں دیا اور نہ ہی اپنی صفائی میں کسی گواہ پر جرح کی۔ اب مقدمہ ہذا میں مندرجہ ذیل قابل تعین نکات پیدا ہوتے ہیں:

قابل تعین نکات

میں نے فاضل وکیل صفائی اور فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر برائے سرکاری طرف سے پیش کیے گئے دلائل سماعت کیے، نیز ریکارڈ کے علاوہ کارروائی بھی ملاحظہ کی۔ مندرجہ بالا نکات کے متعلق میرے اخذ کردہ نتائج مع وجوہ، مندرجہ ذیل ہیں:

اخذ کردہ نتائج

نکتہ نمبر 1 --------------- ثابت شدہ نکتہ نمبر 2 --------------- ملزمان کو زیر دفعہ 265-H(ii) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت جرم/سزا کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔

نکتہ نمبر 1

اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی خاطر، استغاثہ نے گواہ استغاثہ نمبر 1، انوار الحسن پر جرح کی جس نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس کا تعلق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے ہے اور وہ وہاں بطور اکاؤنٹنٹ کام کر رہا ہے۔ مورخہ 2006-05-11 کو وہ اپنے دفتر واقع پرانی نمائش کراچی، میں موجود تھا جہاں مولانا قاضی احسان احمد، محمد انور صاحب، مفتی فخر الزماں اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ خورشید احمد نامی ایک شخص، ان کے دفتر آیا اور انہیں مطلع کیا کہ وہ الحطیم انٹرنیشنل کے نام سے حج وعمرہ کے ویزوں کا کاروبار کر رہا ہے۔ اس نے مزید مطلع کیا کہ مورخہ 07-05-2006 کو اس کے موبائل نمبر 0300-8203196 پر کچھ شرانگیز اور بے ہودہ پیغامات موصول ہوئے جو حضرت محمدﷺ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسینؓ اور حضرت حاجرہؓ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھے۔ اس نے پھر یہ پیغامات پڑھے اور کمپیوٹر سے یہ پیغامات (SMS) پرنٹ کر لیے۔ مورخہ 2006-05-13 کو اس نے موبی لنک (Mobilink) سے درخواست کی کہ موبائل نمبر 0301-6925341 سے موصول شدہ

صفحہ 611

پیغامات کا ریکارڈ مہیا کیا جائے۔ مورخہ 17-05-2006 کو، خورشید نے ان پیغامات کا ریکارڈ، ذاتی طور پر موبی لنک سے وصول کیا جو اس نے (Ex:6/A) کے طور پر پیش کیا اور اسے تسلیم کیا اور اس پر تفتیشی افسر نے جرح کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، احسان احمد نے وہی گواہی دی جو گواہ استغاثہ نمبر 1 نے دی تھی، نیز اس نے مزید بتایا کہ وہ، خورشید اور دیگر افراد کے ساتھ، خورشید کے موبائل کے پیغام/میسج کا ریکارڈ حاصل کرنے موبی لنک کے دفتر گئے اور اس پیغام کا ریکارڈ وصول کیا جو خورشید کے موبائل پر موصول ہوا تھا۔ اس نے بذات خود یہ ریکارڈ دیکھا اور اس پیغام سے وہ موبائل نمبر بھی ظاہر ہو رہا تھا جہاں سے خورشید نے پیغام وصول کیا تھا اور اس کی موبائل سم نمبر 0301-6925341، منور احمد کی ملکیت میں تھی، جس کا مکمل پتا، موبی لنک کی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ مورخہ 25-05-2006 کو خورشید نے اس کی موجودگی میں ایک ایف آئی آر، پولیس سٹیشن، صدر، کراچی میں درج کروائی۔ اس نے مزید بتایا کہ اس پر پولیس نے جرح بھی کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 3، رئیس الدین قادری نے اپنے بیان میں بتایا کہ مورخہ 07-05-2006 کو تقریباً 2.30 بجے دوپہر ، وہ اپنے دفتر واقع گلستانِ اقبال میں موجود تھا، اس کے پاس ایک موبائل سیٹ تھا جس میں اس موبی لنک کا کنکشن تھا اور اس وقت اس کا سیل نمبر 0300-2657414 فعال تھا۔ اس وقت اس نے اپنے موبائل فون پر سیل نمبر 0301-6925341 سے یہی پیغام موصول کیا جو حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مبنی تھا۔ تقریباً 2، 3 دن بعد، اس نے اپنے ایک دوست خورشید کے ساتھ رابطہ کیا اور وہ بھی ٹریول ایجنسی چلا رہا تھا اور اسے پیغام کے متعلق مطلع کیا۔ اس نے پھر اس سے کہا کہ وہ گواہی دے اور اس کے ساتھ پولیس سٹیشن صدر، کراچی چلا گیا۔ اس نے مزید بتایا کہ اس پر بھی پولیس نے جرح کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 4، خورشید احمد خاں پر جرح کی گئی جس نے بتایا کہ وہ الحستیم انٹرنیشنل کے نام سے ایک ٹریول ایجنسی چلا رہا ہے۔ مورخہ 07-05-2006 کو، وہ اپنے دفتر موجود تھا اور اسی دن اسے 3 بجے کے درمیان بعد دوپہر، اس نے اپنے سیل نمبر 0300-8203196 پر سیل نمبر 0092-3016925341 سے ایسا ہی پیغام وصول کیا جو حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھا۔ یہ پیغام، مسلمانوں

صفحہ 612

کے خلاف الفاظ کے علاوہ الفاظ............(نعوذ باللہ) بھی حضرت محمدﷺ کے متعلق استعمال کیے گئے تھے اور مزید یہ کہ یہ پیغام، نشتر پارک کے متعلق الفاظ پر بھی مشتمل تھا اور یہ معلوم ہوا کہ اس پیغام میں یہ کہا گیا تھا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور اس کے علاوہ ............ (نعوذ باللہ) کے الفاظ، خاص طور پر متبرک ہستیوں کے متعلق استعمال کیے گئے تھے۔ پھر اس نے اس ضمن میں قاضی احسان احمد، مفتی ابراہیم، انوارالحسن، محمد انور اور میاں احمد حمادی جیسے علما سے رابطہ کیا۔ مشاورت کے بعد انہوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں اس نے اس پیغام کے متعلق مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کی خاطر، بذات خود، موبی لنک کو ایک تحریری درخواست پیش کی جو ریکارڈ پر بھی (Ex:10/A) کی حیثیت سے موجود ہے۔ 2، 3 دن بعد شاید مورخہ 2006-05-17 کو اس نے پیغام کے متعلق مکمل ریکارڈ موصول کیا اور یہ بھی ریکارڈ پر (Ex:10/B) کی حیثیت سے موجود ہے اور سیل نمبر کی تصدیقی رپورٹ بطور (Ex:10/C) کے علاوہ پرنٹڈ پیغام (Ex:10/D) کی تصدیقی رپورٹ پیش کی۔ پھر اس نے پولیس سٹیشن صدر، کو ایک درخواست پیش کی جو (Ex:10/E) ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے پولیس سٹیشن سے ملزم کی گرفتاری کے متعلق فون کال موصول کی۔ پھر وہ پولیس سٹیشن صدر گیا جہاں اسے قمر ڈیوڈ نامی ملزم کے متعلق علم ہوا جو مقدمہ میں ملوث تھا، اسے گرفتار کر لیا گیا اور انسپکٹر ریاض نے اسے وہ سم دکھائی جسے اس کے سیل نمبر پر پیغام بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جسے ملزم قمر ڈیوڈ سے برآمد کیا گیا۔ اس نے مزید بتایا کہ ڈی ایس پی، طاہر نورانی نے اسے دوبارہ ایک اور ملزم، منور احمد نامی کی گرفتاری کے ضمن میں اپنے دفتر سے فون کیا جو ایک دوسرا ملزم تھا۔

گواہان استغاثہ نمبر 1 سے گواہان استغاثہ نمبر 4 تک پر ملزم کے فاضل وکیل نے جرح کی لیکن گواہی غلط ثابت نہ کی جاسکی۔

گواہ استغاثہ نمبر 5، ڈی ایس پی، طاہر احمد نورانی پر جرح کی گئی جس نے اپنے بیان میں کہا کہ مورخہ 2006-05-24 کو وہ بطور TIO، کلفٹن II، میں تعینات تھا۔ اس دن ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے ایک ٹیم تشکیل دی جس میں محمد اسلم چودھری، ڈی ایس پی، گل حمید سومرو (پولیس سٹیشن صدر)، انسپکٹر ریاض تنولی، ایس آئی او، صدر، اے ایس آئی محمد صدیق اور وہ ڈی ایس پی بطور TIO کلفٹن، شامل تھے۔ اسی دن، ایس ایچ او پولیس سٹیشن صدر نے ملزم

صفحہ 613

قمر ڈیوڈ کی تحویل ، انسپکٹر ریاض کے سپرد کر دی جو بطور ایس آئی پی ، پولیس سٹیشن ، صدر کام کر رہا تھا۔ مورخہ 25-05-2006 کو ، ملزم قمر ڈیوڈ کی نشاندہی پر رسائل کی صورت میں کچھ مواد، کچھ اخبارات اور کچھ افراد کے پتا جات بھی برآمد کیے گئے جنہیں ملزم نے پیغامات بھیجے تھے۔ پارسل میں موجود اس قسم کے تمام مواد کو جائے موقع پر ہی اے ایس آئی ، بشیر نے تسلیم حیدر کی موجودگی میں سر بمہر کر دیا۔ اے ایس آئی ، بشیر نے تلاشی کا ایک میمو تیار کیا جسے اس نے بطور (Ex:12/A) پیش کر دیا۔ اس نے اسے پہچان لیا اور بتایا کہ اسے اے ایس آئی بشیر نے تحریر کیا تھا، جو اس نے اسے پڑھ کر سنایا اور اس نے اس پر دستخط کیے۔ میمو پر کیے گئے دستخط اس کے ہیں۔ اس نے مقدمہ سے منسلک برآمد کی گئی اشیاء کو پہچان لیا جنہیں ملزم کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا تھا۔

گواہ پر ملزم منور احمد کے فاضل وکیل نے جرح کی اور دوران جرح ، گواہ استغاثہ نے بتایا کہ ملزم منور احمد کو بھی ان کی ٹیم نے گرفتار کیا اور پولیس نے ملزم منور احمد کی بے گناہی کے متعلق رپورٹ دفعہ 169 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت پیش کی۔ جبکہ ملزم قمر ڈیوڈ کے فاضل وکیل صفائی نے اس گواہ استغاثہ پر جرح کی اور دوران جرح ، اس نے بھی یہی سوال کیا اور اس گواہ نے بتایا کہ ”یہ کہنا درست ہے کہ دفعہ 156-A کے تحت صرف ایس پی ہی جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کی تفتیش کر سکتا ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 6 ، فلک شیر نے بتایا کہ مورخہ 24-05-2006 کو وہ پولیس سٹیشن صدر میں بطور اے ایس آئی تعینات تھا اور اس کی ڈیوٹی کے اوقات صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک تھے اور وہ ڈیوٹی آفیسر کے طور پر پولیس سٹیشن صدر میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ اسی دن اس نے ایک تحریری درخواست نمبر LC-155 ، ایس ایچ او ، پولیس سٹیشن ، صدر کی طرف سے موصول کی جو شکایت کنندہ خورشید احمد خان کی طرف سے تحریر کردہ تھی۔ اس نے اس درخواست کے مندرجات زیر دفعہ 295-A, 295-C اور 298-A تعزیرات پاکستان ، ایف آئی آر نمبر 127/06 میں درج کیے جو ریکارڈ میں (Ex:13/A) کی حیثیت سے موجود ہے اور اس پر اپنے دستخطوں کو تسلیم کیا۔ شکایت کنندہ نے اپنا موبائل سیٹ نوکیا 6680 ، مع سم اور میسج پیش کیا۔ مدعی کی طرف سے موبائل کا حاصل کردہ ریکارڈ اس کے حوالے کر دیا گیا۔ موبی لنک کا یہ ریکارڈ چار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس نے پھر مدعی خورشید احمد خان کی

صفحہ 614

موجودگی میں تحویل میں لینے کا ایک مشیر نامہ تیار کیا اور ہیڈ کلرک غفار نے اسے (Ex:10/H) کی حیثیت سے دیکھا اور اس پر اپنے دستخط پہچان لیے۔ اس نے مقدمہ سے متعلق اشیاء یعنی، موبائل فون سیٹ مع سم ، کو پہچان لیا۔ اس نے مزید بتایا کہ پولیس نے اس پر جرح کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 7، محمد صدیق ، نے اپنی گواہی میں بتایا کہ مورخہ 2006-06-02 کو وہ پولیس سٹیشن صدر، میں بطور اے ایس آئی تعینات تھا۔ وہ، انسپکٹر محمد ریاض کے ساتھ اس جرم کی تفتیش کے سلسلے میں ساہیوال گیا۔ انسپکٹر محمد ریاض، نے پولیس سٹیشن، غلہ منڈی ساہیوال سے ملزم محمد منور ولد محمد بخش ، ساکن، عنایت الہی کالونی، کی گرفتاری کے ضمن میں رابطہ کیا۔ جب وہ 91/90 جی ٹی روڈ، نزد عارف والا پہنچے، تب تفتیشی افسر نے ملزم محمد منور کی جی ٹی روڈ پر موجودگی کے متعلق ایک مخبر سے اطلاع حاصل کی۔ اس طرح ملزم کو تلاش کر لیا گیا اور انسپکٹر محمد ریاض نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کی اور ایس آئی، لیاقت علی کی موجودگی میں، انسپکٹر محمد ریاض نے میمو برائے گرفتاری تیار کیا جو (Ex:14/A) پیش کیا گیا اور اس پر اپنے دستخطوں کو تسلیم کیا۔ ملزم منور کی جامہ تلاشی پر مبلغ چالیس روپے کی رقم اس سے برآمد ہوئی۔ اس نے ملزم کو پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے۔

گواہان استغاثہ نمبر 6 اور 7 پر ملزم کے فاضل وکیل نے جرح نہیں کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 8، محمد ریاض پر جرح(Ex:15) کی گئی جس نے اپنی حیثیت سے یہ گواہی دی کہ مورخہ 2006-05-24 کو وہ پولیس سٹیشن ، صدر میں بطور SIO تعینات تھا۔ اسی دن، ڈی آئی جی ، انویسٹی گیشن ، نے ایک حکم جاری کیا جبکہ تفتیشی افسر، ایس پی چودھری محمد اسلم کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی اور وہ اس ٹیم کا ایک رکن تھا اور یہ حکم مجھے بھی پہنچا دیا گیا جو اس نے(Ex:15/A) کے طور پر پیش کیا اور اسے پہچان لیا کہ یہ اسی نے موصول کیا تھا۔ ایس پی ، چودھری محمد اسلم نے مقدمہ کا ریکارڈ، ہماری تفتیش کے تحت کر دیا۔ دوران تفتیش اسے معلوم ہوا کہ دو موبائل نمبر، لیاقت نیشنل ہاسپٹل کی ملکیت ہیں اور انہی نمبروں سے ملزم قمر ڈیوڈ کے موبائل نمبر سے فون موصول ہوئے تھے۔ انسپکٹر زبیر، ہیڈ کلرک مقصود احمد اور اے ایس آئی مقصود کے ہمراہ وہ لیاقت نیشنل ہسپتال گیا اور پھر اس نے ایف آئی آر کے مندرجات میں مذکور ملزم قمر ڈیوڈ کے موبائل نمبر کے متعلق ایک تحریری خط، ڈائریکٹر، لیاقت نیشنل ہاسپٹل کو لکھا۔ اس نے ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہسپتال کی طرف سے موصول کردہ خط

صفحہ 615

(Ex.15/B) پیش کیا اور یوں اسے ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہسپتال سے معلوم ہوا کہ سمیرا کوثر نامی ایک خاتون نے ایک درخواست پیش کی اور ملزم کا موبائل نمبر، سمیرا کوثر نے درخواست فارم میں درج کیا، جسے، لیاقت نیشنل ہسپتال کو پیش کی گئی درخواست کے ضمن میں لیاقت نیشنل ہسپتال کی طرف سے فون کیے گئے۔ اس نے ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہسپتال کی طرف سے کورنگ لیٹر مع فونوں کا ریکارڈ اور درخواست فارم بطور (Ex15/C,Ex:15/D & Ex:15.E) پیش کیا۔ بعد ازاں، وہ درخواست فارم پر درج ملزم کے پتا کے مطابق ملزم کے گھر گئے۔ ملزم، مکان نمبر 10/61، سیکٹر 1/A، گلشن ظہور، لائنز ایریا، کراچی میں بطور کرایہ دار، رہ رہا تھا۔ ملزم کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا جس کے نتیجے میں ملزم بذات خود باہر آیا، اور پھر انہوں نے سمیرا کوثر کے متعلق دریافت کیا اور ملزم نے انہیں بتایا کہ وہ اس کی بیوی ہے۔ وہ پھر انہیں گھر کے اندر لے گیا۔ ایس ایچ او انسپکٹر، زبیر نے موبائل فون کے متعلق ملزم سے استفسار کیا اور اس نے اسی نمبر کی ملکیت قبول کر لی اور سم پیش کر دی جسے ایک سفید کاغذ میں لپیٹا گیا اور اسے ایک پرس میں رکھ دیا گیا۔ انسپکٹر زبیر نے سم کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ملزم کی مزید جامہ تلاشی پر ایک موبائل سیٹ، قمر ڈیوڈ اور سمیرا کوثر کے نام پر دو شناختی کارڈ، ملزم کا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا ایک شناختی کارڈ، برآمد کر لیا گیا۔ موبائل فون نمبر کی ایک فہرست اور دیگر اشیاء ملزم کے قبضے سے برآمد کی گئیں۔ یہ چیزیں، انسپکٹر محمد زبیر نے برآمد کیں جو اس نے بطور (Ex:15/F) پیش کیں اور ان پر اپنے دستخط پہچان لیے۔ اس نے مقدمہ سے منسلک اشیا کی بھی نشاندہی کر دی۔ مورخہ 2006-06-02 کو وہ ملزم محمد منور کی گرفتاری کے لیے اے ایس آئی صدیق کو ساتھ لے کر ساہیوال چلا گیا جس کے لیے اس نے محکمہ داخلہ سے پہلے ہی اجازت حاصل کر لی تھی۔ غلہ منڈی ساہیوال کی مقامی پولیس کی مدد سے اس نے ایس آئی، لیاقت علی اور اے ایس آئی صدیق کی موجودگی میں جی ٹی روڈ، نزد عارف والہ چونگی سے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اس نے میمو برائے گرفتاری تیار کیا جو ریکارڈ پر بطور (Ex:14/A) موجود ہے اور اسے پہچان لیا۔ اس نے اس کی آمد پر روزنامچہ میں اندراج کیا جو اس نے بطور (Ex:15/G) پیش کیا۔ اس نے ملزم، محمد منور کی گرفتاری کے بعد روزنامچہ میں اندراج کیا جو ریکارڈ پر (Ex:15/H) کی حیثیت سے موجود ہے۔ اس نے ملزم منور سے تفتیش کی اور اس کا اندراج روزنامچہ میں کیا جو اس نے بطور (Ex:15/I) پیش کیا۔ اس نے محکمانہ اندراج کے مطابق ملزم کا ریمانڈ لیا

صفحہ 616

جو اس نے (Ex:15/J) کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس نے ملزم منور کے موبائل فون کے متعلق جاز کمپنی کی فرنچائز سے ریکارڈ حاصل کیا۔ اس نے شیخ مجاہد اور محمد عرفان کی موجودگی میں اس ضمن میں میمو تیار کیا، جو ریکارڈ پر (Ex:15/K) کی حیثیت سے موجود ہے۔ پھر وہ ملزم کو کراچی لے گیا۔ اس نے عدالت میں دونوں ملزمان کو شناخت کرلیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 8، محمد ریاض پر ملزم کے فاضل وکیل نے جرح کی اور دوران جرح، اس گواہ نے اعتراف کیا کہ ”یہ کہنا درست ہے کہ اس نے ضابطہ فوجداری کے معیار کے اندر رہتے ہوئے کیس کی تفتیش کی اور اس نے ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہاسپٹل کا بیان زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ نہیں کیا اور مزید بتایا کہ ”یہ کہنا غلط ہے کہ وہ قمر ڈیوڈ کی طرف سے سمیرا کوثر کے خاوند ہونے کے اعتراف کے ضمن میں غلط بیانی کر رہا ہے۔“

گواہ استغاثہ نمبر 9، انسپکٹر محمد زبیر پر جرح (17:Ex) کی حیثیت سے کی گئی جس نے اپنی گواہی میں بتایا کہ مورخہ 2006-05-24 کو بطور انسپکٹر/ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، صدر تعینات تھا۔ اسی دن خورشید نامی ایک شخص، پولیس سٹیشن آیا اور ایک تحریری درخواست پیش کی۔ محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی طرف سے پیشگی اجازت حاصل کرنے کے بعد، ایف آئی آر نمبر 127/2006 درج کی گئی۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش طاہر نورانی TIO پولیس سٹیشن، کلفٹن ٹاؤن کو تفویض کی گئی جبکہ اس سے پہلے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سے اجازت حاصل کر لی گئی تھی۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی جس کا وہ بھی ایک رکن تھا۔ مدعی نے ڈی آئی جی کی تشکیل کردہ تفتیشی ٹیم کے روبرو ملزم کے موبائل فون نمبر کا بطور 6925341-0301 ذکر کیا۔ مورخہ 2006-04-17 کو، موبائل فون نمبر 6925341-0301 پر دو فون کال موصول ہوئیں اور ریکارڈ کے مطابق ان فون کالوں کا سراغ لگا لیا گیا اور ثابت ہو گیا کہ یہ فون کالیں، لیاقت نیشنل ہاسپٹل کے نمبر سے کی گئی تھیں۔ بعد ازاں، مورخہ 2006-05-24 کو، وہ، انسپکٹر محمد ریاض اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ، لیاقت نیشنل ہاسپٹل گیا جہاں اس کی ملاقات ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہاسپٹل سے ہوئی اور اس نے تفتیش کی۔ ڈائریکٹر نے ان تمام باتوں کی تصدیق کی۔ یوں، ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہاسپٹل نے اعتراف کیا کہ یہ فون کالیں، لیاقت نیشنل ہاسپٹل سے اس موبائل فون نمبر پر کی گئیں، اور اس نے مزید انکشاف کیا کہ سمیرا کوثر نے لیاقت نیشنل ہاسپٹل میں بطور نرس

صفحہ 617

ملازمت کے لیے درخواست دی اور اس نے اپنا رابطہ نمبر وہی فون نمبر دیا، اور پھر لیاقت نیشنل ہاسپٹل سے سمیرا کوثر کو انٹرویو کے لیے بلانے کے لیے اسی نمبر پر اس سے رابطہ کیا گیا۔ پھر ڈائریکٹر نے تمام ریکارڈ مع کورنگ لیٹر اس کے حوالے کر دیا جو (Ex:15/C,15.D & 15/E) ہے۔ یہ وہی ہیں اور درست ہیں جو اس نے ڈائریکٹر سے حاصل کیے۔ یہ ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد وہ ملزم کی تلاش کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور اس کا سراغ، R-10161، سیکٹر 1-A، گلشن ظہور، لائنز ایریا، کراچی، سے مل گیا۔ مورخہ 24-05-2006 کو 5 بجے پر، ہم سمیرا کوثر کے گھر پہنچے اور اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ دروازے کھٹکھٹانے پر ایک شخص جس کا نام قمر ڈیوڈ، معلوم ہوا، باہر آیا، پھر انہوں نے قمر ڈیوڈ سے سمیرا کوثر کے متعلق دریافت کیا اور قمر ڈیوڈ نے کہا کہ سمیرا کوثر گھر پر نہیں ہے۔ ہم نے قمر ڈیوڈ سے موبائل فون نمبر 6925341-0301 کے متعلق بھی دریافت کیا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ موبائل فون نمبر اس کی تحویل میں ہے۔ ملزم کی جامہ تلاشی سے ایک موبائل فون نوکیا برآمد ہوا اور بعدازاں ایک سم اس میں ڈالی گئی جو اس کے قبضے سے برآمد کی گئی۔ ایک اور سم، جو سفید کاغذ میں لپٹی ہوئی تھی، بھی قمر ڈیوڈ کی قمیص کی سامنے والی جیب سے برآمد کی گئی اور اس سم کے اوپر سیریل نمبر لکھا ہوا تھا لیکن اس وقت وہ اس کا درست سیریل نمبر نہیں بتا سکتا۔ ایک اصلی قومی شناختی کارڈ، سمیرا کوثر کا اصلی قومی شناختی کارڈ، موبائل نمبروں کی فہرست، دیگر دستاویزات اور ملزم قمر ڈیوڈ کا ہیلتھ کارڈ بھی ملزم کی پتلون کی جیب سے برآمد کیا گیا۔ اس کے بعد اس نے، انسپکٹر محمد ریاض اور ہیڈ کلرک، مقصود کی موجودگی میں میمو برائے گرفتاری تیار کیا جو اس کے مطابق (Ex:15/F) ہے، اور اس نے اپنے دستخط پہچان لیے۔ اس نے مقدمہ کی اشیاء ایک موبائل فون نوکیا جس میں سم نہیں تھی، قمر ڈیوڈ کا اصلی قومی شناختی کارڈ، قمر ڈیوڈ کا ایک اصلی ہیلتھ کارڈ، سمیرا کوثر کے قومی شناختی کارڈ کی ایک فوٹو کاپی، موبائل نمبروں کی ایک فہرست، جو عدالت میں موجود ہے، کو پہچان لیا جو ملزم سے اس نے برآمد کیں۔ اس نے ملزم قمر ڈیوڈ کو شناخت کر لیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 9، انسپکٹر محمد زبیر پر ملزم کے فاضل وکیل پر جرح کی لیکن اس کی گواہی کو غلط ثابت نہیں کیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 10، ایس ایس پی (ایسٹ) انویسٹی گیشن محمد اسلم نے بیان

صفحہ 618

دیا کہ مورخہ 2006-05-24، وہ بطور (ADRC)، اے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن تعینات تھا۔ اسی دن، اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش مع جرم ہذا کی ایف آئی آر، ریکوری میمو، ٹیلیفون ریکارڈ اور موبائل فون سیٹ کا ریکارڈ موصول کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، منظور مغل، نے ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی جس میں ڈی ایس پی گل حمید سامو، ڈی ایس پی طاہر نورانی، انسپکٹر ریاض، انسپکٹر زبیر شامل تھے۔ اے ایس آئی صدیق اور وہ، اس تفتیشی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے۔ اس نے مزید بتایا کہ مورخہ 2006-05-24 کو اس نے انسپکٹر زبیر کو ملزم قمر ڈیوڈ کی گرفتاری کا حکم دیا جو مقدمہ ہذا میں ملزم تھا۔ اسی دن انسپکٹر زبیر نے ملزم قمر ڈیوڈ کو گرفتار کرلیا اور اسے مع برآمد اشیاء، جیسا کہ ایک سم جس پر منور کا نام لکھا ہوا تھا، میرے روبرو پیش کیا۔ نیز اس نے ایک موبائل فون سیٹ، قمر ڈیوڈ کا ایک اصلی قومی شناختی کارڈ، اور قمر ڈیوڈ کی بیوی کا قومی شناختی کارڈ اور ٹیلیفون نمبروں کی ایک فہرست بھی پیش کی۔ اس نے انسپکٹر زبیر کا تیار کردہ میمو برائے گرفتاری و برآمد شدہ اشیاء، مع گواہان کے بیان کی تصدیق کی جو ریکارڈ پر (Ex:15/F) کی حیثیت سے موجود ہے اور اپنے دستخط پہچان لیے۔ اس نے مقدمہ سے منسلک اشیا کی بھی تصدیق کی۔ مورخہ 2006-05-25 کو، ڈی ایس پی، طاہر نورانی نے قمر ڈیوڈ کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے اس نے رسائل، اخبارات اشتہار برآمد کیے جہاں اس نے تحویل میں لینے کا میمو تیار کیا جو ریکارڈ پر (Ex:12/A) کی حیثیت سے موجود ہے اور اسے پہچان لیا، اس کی تصدیق کی اور دستخط کیے۔ اس نے مزید بتایا کہ 5، 10 دن بعد اس نے انسپکٹر ریاض کو ملزم منور کو ساہیوال سے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ انسپکٹر ریاض، نے پولیس پارٹی کے ساتھ، مورخہ 2006-06-02 کو ملزم منور کو ساہیوال سے گرفتار کرلیا۔ منور کو کراچی لایا گیا، اسے اس کے روبرو پیش کیا گیا اور اس نے ملزم منور سے تفتیش کی۔ ملزم منور کے خلاف اسے کوئی ثبوت نہیں ملا، اس لیے اسے اس جرم کے ارتکاب سے آزاد کر دیا گیا۔ اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ اس نے ملزم کو پہچان لیا اور نیز، مقدمہ سے منسلک اشیا کو بھی پہچان لیا۔

وکلائے صفائی کی جرح کے دوران، گواہ استغاثہ کی گواہی کو غلط ثابت نہیں کیا جاسکا۔

گواہ استغاثہ نمبر 11، ہیڈ کلرک، تسلیم حیدر پر جرح کی گئی جس نے اپنے بیان میں بتایا کہ مورخہ 2006-05-24 کو وہ گھر پر موجود تھا اور اس وقت تقریباً پونے 5 یا 5 بجے کا

صفحہ 619

وقت تھا۔ اس وقت، اس کے دروازے کی گھنٹی بجی اور اس نے کھڑکی میں سے دیکھا اور وہاں ایس ایچ او پولیس سٹیشن صدر کے ساتھ پولیس افسران موجود تھے۔ انہوں نے اسے نیچے بلایا، پھر وہ نیچے چلا گیا۔ پولیس نے اسے بتایا کہ انہوں نے پہلی منزل پر جانا ہے جہاں کرایہ دار رہ رہا تھا۔ کرایہ دار کا نام قمر ڈیوڈ تھا۔ اگلے دن، ڈی ایس پی، طاہر نورانی افسران کے ساتھ آیا۔ انہوں نے قمر ڈیوڈ کے گھر کی تلاشی لینی تھی جو مقفل تھا۔ انہوں نے تالا توڑ دیا اور دروازہ کھول دیا۔ تلاشی کے دوران، کچھ روزنامہ جنگ کے اخبارات ،ہفت روزہ تکبیر کے رسائل ،ہفت روزہ ختم نبوت ،ہفت روزہ فرائیڈے سپیشل اور ہفت روزہ وجود، کرایہ دار قمر ڈیوڈ کے گھر سے برآمد کیے گئے، نیز ایک میسج گائیڈ بک اور ایک قومی شناختی کارڈ، برآمد کیے گئے۔ ڈی ایس پی، طاہر نورانی نے مقدمہ سے منسلک اشیا تحویل میں لے لیں اور اس نے اس کی موجودگی میں میمو برائے تحویل بھی پیش کیا جو ریکارڈ پر (Ex:12/A) کی حیثیت سے موجود ہے، اور اس نے اس پر موجود اپنے دستخط پہچان لیے۔ اس نے مقدمہ کی اشیاء کے علاوہ ملزم کو بھی پہچان لیا۔ اس گواہ پر بھی ملزم کے فاضل وکیل نے جرح کی لیکن اس کی گواہی غلط ثابت نہ کی جاسکی۔

دونوں ملزمان کا بیان قلمبند کیا گیا۔ ملزم قمر ڈیوڈ نے اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس نے کوئی بیان حلفی دیا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ بے گناہ ہے اور مقدمہ ہذا میں اسے غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ بطور عیسائی، وہ نبی اکرمﷺ اور دیگر پیغمبروں کی بہت عزت کرتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ کسی بھی پیغمبر کے متعلق اس قسم کے گستاخانہ، اہانت آمیز کلمات اور مکروہ باتیں نہیں کر سکتا۔

میں نے ملزم کے فاضل وکیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر برائے سرکار کے دلائل سماعت کیے اور ریکارڈ پر دستیاب مواد ملاحظہ کیا اور پھر ملزم کے وکیل صفائی کی طرف سے بطور مثال مقدمہ PLD 2002 Lahore 587, 2003 P.Cr R 1441 & 2003 P.Cr.R.796 کا فیصلہ بھی ملاحظہ کیا۔

مندرجہ بالا گواہی کی روشنی میں جو ریکارڈ پر موجود ہے، یہ امر طے پا چکا ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 4، خورشید احمد خان نے اپنے موبائل نمبر 8203196-0300 پر پیغام موصول کیا اور بعد ازاں وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر گیا جہاں گواہ استغاثہ نمبر 1، انوار الحسن

صفحہ 620

اور گواہ استغاثہ نمبر 2، قاضی احسان احمد پہلے ہی بیٹھے ہوئے تھے اور مدعی نے پیغام کے تمام حقائق بیان کیے اور بعد ازاں، گواہ استغاثہ نمبر 1، انوار الحسن نے پیغام کے مندرجات پڑھے اور کمپیوٹر سے اس کا پرنٹ حاصل کیا۔ اس کے بعد گواہ استغاثہ انوار الحسن، احسان احمد اور خورشید احمد خان نے موبی لنک کمپنی کو سم نمبر 6925341-0301 کی تفصیل مہیا کرنے کی درخواست کی، جہاں سے مدعی کو پیغام وصول ہوا تھا۔ مورخہ 2006-05-17 کو مدعی خورشید احمد خان نے موبی لنک سے گواہ استغاثہ نمبر 1، انوار الحسن کی موجودگی میں اس سم کے متعلق رپورٹ پیش کی اور بعد ازاں، مدعی نے پولیس سٹیشن، صدر کو ایک تحریری درخواست پیش کی کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جس پر مورخہ 2006-05-24 کو ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

ایف آئی آر کے اندراج کے بعد، ڈی آئی جی، انویسٹی گیشن نے انویسٹی گیشن افسر، ایس پی چودھری محمد اسلم کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی اور دوران تفتیش، گواہ استغاثہ نمبر 8، انسپکٹر ریاض کو یہ معلوم ہوا کہ مورخہ 2006-04-17 کو موبائل نمبر 6925341-0301 پر دو کالیں وصول ہوئیں اور ریکارڈ کے مطابق ان دونوں فون کالز کا سراغ لگا لیا گیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ یہ دونوں فون کالز، لیاقت نیشنل ہاسپٹل کے نمبر سے کی گئیں۔ بعد ازاں، مورخہ 2006-05-24 کو، وہ، انسپکٹر محمد ریاض اور دیگر پولیس افسروں کے ساتھ، لیاقت نیشنل ہاسپٹل گیا جہاں وہ ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہاسپٹل سے ملا۔ اس نے ڈائریکٹر لیاقت نیشنل ہاسپٹل، سے تفتیش کی۔ پھر ڈائریکٹر نے اس کی تصدیق کی یقین دہانی کرا دی۔ بعد ازاں، ڈائریکٹر، لیاقت نیشنل ہاسپٹل نے اعتراف کیا کہ لیاقت نیشنل ہاسپٹل کی طرف سے اس نمبر پر فون کالز کی گئیں اور مزید انکشاف کیا کہ سمیرا کوثر نامی ایک خاتون نے بطور نرس، ملازمت کے لیے لیاقت نیشنل ہاسپٹل میں درخواست جمع کرائی اور اس نے رابطہ نمبر کے طور پر یہی موبائل فون نمبر دیا اور سمیرا کوثر کو انٹرویو کے لیے بلانے کے لیے اس سے رابطہ کیا گیا اور پھر درخواست کے ضمن میں لیاقت نیشنل ہاسپٹل کی طرف سے اور سمیرا کوثر کی طرف سے درخواست کی بنیاد پر اسے فون کالز کی گئیں جو ریکارڈ پر (Ex:15/E) کی حیثیت سے موجود ہے۔ پولیس کو نمبر 6925341-0301 مل گیا جو درخواست فارم پر لکھا ہوا تھا اور جو (Ex:15/E) ہے اور اس کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کے گھر کا سراغ لگا لیا اور ملزم کے گھر پہنچ

صفحہ 621

گئی۔ مورخہ 24-05-2006 کو پولیس، مکان نمبر 10/61، سیکٹر 1/A، گلشن ظہور، لائنز ایریا، کراچی پر پہنچی اور دروازہ کھٹکھٹایا، اس پر ایک شخص باہر آیا اور پولیس نے اس سے سمیرا کوثر کے متعلق استفسار کیا۔ اس نے بتایا کہ سمیرا کوثر اس کی بیوی ہے اور اس وقت وہ گھر پر موجود نہیں اور اس نے مزید اپنا نام قمر ڈیوڈ بتایا اور بعد ازاں، ملزم قمر ڈیوڈ، پولیس پارٹی کو اپنے گھر لے گیا اور پولیس نے اس سے بھی موبائل فون کے متعلق استفسار کیا جس نے اپنا موبائل فون پیش کیا اور سم بھی پیش کی جو اس کے پرس میں سفید کاغذ میں لپٹی ہوئی تھی اور یہ وہی سم تھی جس کا نمبر 0301-6925341 تھا جس سے مدعی خورشید احمد خان نے میسج وصول کیا گیا اور بعد ازاں، ملزم قمر ڈیوڈ نے قومی شناختی کارڈ، اپنی بیوی سمیرا کوثر کا شناختی کارڈ اور ایک اور سم بھی پیش کی جو اس کے موبائل میں فعال تھی اور بعد ازاں پولیس نے میمو برائے گرفتاری اور ریکوری تیار کیا جو ریکارڈ پر (Ex:15/F) ہے اور جس کی تصدیق، ایس پی چودھری محمد اسلم، تفتیشی ٹیم کے سربراہ نے کی۔

اسی دن، مدعی خورشید احمد خان نے پولیس سٹیشن صدر کی طرف سے فون کال وصول کی اور پولیس نے اسے پولیس سٹیشن بلایا۔ تب مدعی، پولیس سٹیشن چلا گیا اور پولیس سٹیشن، صدر کی طرف سے مطلع کیا گیا کہ مقدمہ ہذا کا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسی دن، پولیس نے سم نمبر 0301-6925341 برآمد کر لی جس سے مدعی نے میسج وصول کیا اور پولیس نے قمر ڈیوڈ سے برآمد شدہ اشیا، مدعی کو دکھائیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 10، ایس ایس پی (ایسٹ)، چودھری محمد اسلم نے بھی میمو برائے گرفتاری اور ریکوری (Ex:15/F) کی تصدیق کی اور مزید اعتراف کیا کہ وہ تفتیشی ٹیم کا سربراہ تھا اور دوسرے پولیس افسران کی مدد سے اس کی نگرانی میں تفتیش کی گئی اور اس نے مقدمہ کی اشیا کی تصدیق کی جو (Ex:15/F) پر ہیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 9، انسپکٹر زبیر نے دستاویز Ex:15/F لکھی ہے اور اس نے یہ، مشیر محمد ریاض کی موجوگی میں لکھی۔ ہیڈ کلرک، اور صادق شاہ کے علاوہ مشیر انسپکٹر، ریاض نے بھی یہ بتاتے ہوئے (Ex:15/F) کی تصدیق کی کہ (Ex:15/F)، اس کی موجودگی میں تیار کی گئی۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سم نمبر 0301-6925341، جس سے مدعی، گواہ استغاثہ نمبر 4، خورشید احمد خان کو پیغام بھیجا گیا، ملزم کے قبضے سے برآمد ہوئی، اور یہ

صفحہ 622

سمن، منور احمد کے نام سے جاری ہوئی۔ ملزم منور احمد کو بھی مقدمہ ہذا میں گرفتار کر لیا گیا مگر ملزم منور احمد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں سامنے آیا۔ متذکرہ بالا وجوہ کی بنا پر میری رائے یہ ہے کہ گواہان استغاثہ کی گواہی انتہائی موثر اور قابل اعتماد ہے ،اس لیے استغاثہ نے صرف ملزم قمر ڈیوڈ کے خلاف گواہی کے ذریعے اپنا مقدمہ بغیر کسی شک کے ثابت کر دیا۔ اس لیے اس نکتہ کا جواب یہ ہے کہ یہ ثابت ہو چکا ہے۔

نکتہ نمبر 2

مقدمہ کے متذکرہ بالا حالات اور ریکارڈ پر موجود گواہی اور نکتہ نمبر 1 کے متعلق نتیجہ، مدنظر رکھتے ہوئے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ملزم قمر ڈیوڈ کو جرم زیر دفعہ 295-A,295-B اور 295-C تعزیرات پاکستان کا مرتکب پایا گیا ہے کیونکہ استغاثہ نے ملزم قمر ڈیوڈ کے خلاف اپنا مقدمہ بغیر کسی شک وشبہ کے ثابت کر دیا ہے۔ اس لیے ملزم قمر ڈیوڈ ولد ڈیوڈ کے۔ مال کو بجرم زیر دفعہ 295-A،تعزیرات پاکستان کے ارتکاب کے لیے زیردفعہ 265-H (ii) مجموعہ ضابطہ فوجداری، مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے دس برس قید اور 5000/- روپے کا جرمانہ کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید ایک ماہ قید بھگتنی ہوگی، نیز، زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کے مرتکب ہونے کے باعث اسے عمر قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید بامشقت بھی بھگتنی ہوگی۔ ملزم قمر ڈیوڈ کو زیر دفعہ 298-A تعزیرات پاکستان ،جرم کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے اور اسے تین سال قید کی سزا کے علاوہ پانچ سو روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید دس دنوں کی قید بھگتنی ہوگی۔ تاہم، ملزم کو زیر دفعہ (b)-382 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت شک کا فائدہ دیا جاتا ہے اور متذکرہ بالا دی گئیں سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔ عدالت میں حاضر ملزم قمر ڈیوڈ جسے جیل کے حکام نے پیش کیا ہے اور سزا کے وارنٹ کے ساتھ دوبارہ بھیجا جارہا ہے تاکہ قانون کے مطابق دی گئیں سزائیں بھگت سکے۔ اسے اس فیصلے کی نقل مفت مہیا کی گئی ہے اور اس وصولی کو ریکارڈ پر رکھا گیا ہے۔ اب جبکہ ملزم منور کے خلاف کوئی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں، اس لیے، اسے زیر دفعہ 265-H (i) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بری کیا جاتا ہے۔ ملزم منور احمد ولد حکیم محمد بخش ضمانت پر عدالت میں حاضر ہے اور اس کی ضمانت

صفحہ 623

منسوخ کی جاتی ہے اور ضمانت واپس کی جاتی ہے۔ کھلی عدالت میں فیصلہ سنایا گیا جس پر میں نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عدالت کی مہر مورخہ 25 فروری 2010ء کو ثبت کی گئی۔

25-10-2010 دستخط جنگو خان ایڈیشنل سیشن جج، کراچی ساؤتھ

حکم برائے اشیائے مقدمہ

فرد جرم کے کالم نمبر 5 میں مذکور اشیائے مقدمہ، یعنی، ایک موبائل فون نوکیا ماڈل 6610، سم نمبر 0300-8203196 اس کے مالک کو واپس کر دیا جائے بشرطیکہ مقدمہ ہذا کی اپیل کی مدت ختم ہو جائے اور مالک کی طرف سے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔ ایک اور موبائل نوکیا، مع سم نمبر 0301-4141730 اور ایک اور سم نمبر 0301-6925341، قمر ڈیوڈ کا قومی شناختی کارڈ، ایس ایم ایس گائیڈ، جنگ اخبار اور رسائل، بحق سرکار ضبط کر لیے جائیں۔ اپیل کی مدت ختم ہونے کے بعد سمیرا کوثر کا قومی شناختی کارڈ، ایک موبائل فون اور محکمہ ہیلتھ کا کارڈ، سمیرا کوثر کو واپس کر دیا جائے بشرطیکہ اس کی طرف سے واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ جنگو خاں 25 فروری 2010ء ایڈیشنل سیشن جج، کراچی ساؤتھ

۞.......۞.......۞

صفحہ 624
صفحہ 625

جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب

سرکار بنام آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح ،نومبر 2010ء

2010ء Wait, correcting my last thought. The image shows: `2010ء`

Let me output this cleanly.

صفحہ 626
صفحہ 627

دل کی بات

14 جون 2009ء کو ضلع ننکانہ صاحب کے ایک نواحی گاؤں اٹانوالی میں عیسائی مذہب کی مبلغہ آسیہ مسیح نے قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نہایت نازیبا، دل آزار اور گستاخانہ کلمات کہے جن کو دہرانے کی میرا قلم اجازت نہیں دیتا۔ وفاقی وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی کی مداخلت سے کئی دن تک مجرمہ کے خلاف پرچہ درج نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر کی اس حرکت سے علاقہ بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر 19 جون 2009ء کو آسیہ مسیح کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت ایف آئی آر نمبر 326 درج کر لی گئی۔ مجرمہ کو گرفتار کر کے حفاظتی اقدام کے طور ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ بھیج دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کیس کی تفتیش پنجاب پولیس میں نیک نامی اور دیانت داری کی مثالی شہرت رکھنے والے جناب سید محمد امین بخاری ایس پی شیخوپورہ نے کی، جنھوں نے 26 جون 2009ء کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت آسیہ مسیح کا بیان ریکارڈ کیا اور نہایت جانفشانی، غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کرتے ہوئے آسیہ مسیح کو واقعی ملزمہ قرار دیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا: ’’ملزمہ آسیہ مسیح کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے۔ ملزمہ نے یہ تمام باتیں نہ صرف تسلیم کیں ہیں بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی ہے۔‘‘

اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی۔ ملزمہ کی طرف سے اکبر منور درانی ایڈووکیٹ، طاہر گل صادق ایڈووکیٹ، چودھری ناصر انجم ایڈووکیٹ، جسٹن گل ایڈووکیٹ، طاہر بشیر ایڈووکیٹ، ایرک جون ایڈووکیٹ، منظور قادر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جبکہ استغاثہ کی طرف سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے وکلا پیش ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ 8 نومبر 2010ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جرم ثابت

صفحہ 628

ہونے پر مجرمہ آسیہ مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت سزائے موت کا مستحق قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:

مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے۔ لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر توہین رسالتﷺ کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔ لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالتﷺ کا ارتکاب ہوا ہے۔ جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع منعقد ہوا اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو مجرمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش کی اور نہ ہی دفعہ 340(2)، ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات غلط ثابت کیے۔ مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک وشبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام گواہان استغاثہ نے استغاثہ کے مؤقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید و تصدیق کی ہے۔ گواہان استغاثہ اور ملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جا سکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا میں ملزمہ آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح کو زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔“

اس فیصلہ کے خلاف دُنیا بھر کی سیکولر لابیاں، نام نہاد ”انسانی حقوق“ کی تنظیمیں اور عیسائی نمائندے میدان میں آگئے۔ عیسائی پوپ بینڈکٹ سے لے کر گورنر پنجاب سلمان تاثیر تک سب نے آسیہ ملعونہ کے دفاع میں احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ایسے کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے۔ پوپ نے ویٹی کن میں منعقدہ خصوصی دعائیہ تقریب میں آسیہ مسیح کی رہائی کے لیے نہ صرف اس کا نام لے کر دُعا کرائی بلکہ صدرِ پاکستان سے بھی اپیل کی کہ اس کی سزا معاف کی جائے۔ اُنہوں نے حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانون توہین رسالت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پوپ کے بیان کے بعد

صفحہ 629

20 نومبر 2010ء کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر عدالت سے مجرمہ قرار دی جانے والی خاتون سے ملنے کے لیے فوراً ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچے۔ جہاں اُنھوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل شیخوپورہ کے وی آئی پی کمرہ میں آسیہ مسیح سے خصوصی ملاقات کی اور اُسے حکومتی سطح پر ہرممکن امداد کا یقین دلایا۔ وہ گورنر ہاؤس سے اپنے ساتھ آسیہ مسیح کو ملنے والی سزا کی معافی کی ٹائپ شدہ درخواست بھی ہمراہ لائے تھے۔ گورنر سلمان تاثیر نے میڈیا کی موجودگی میں آسیہ مسیح سے کہا کہ یہ آپ کی طرف سے تحریر کردہ درخواست ہے، آپ اس پر دستخط کردیں تاکہ میں بطور گورنر اس درخواست کو صدر آصف علی زرداری تک پہنچا کر سزا کی معافی ممکن بنوا سکوں۔ سزا معافی کے بعد آپ کو یورپ کے کسی ملک میں بھجوا دیا جائے گا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملعونہ آسیہ مسیح کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ دُنیا کی کوئی طاقت آسیہ مسیح کو سزا نہیں دے سکتی۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون توہین رسالت ایک ’امتیازی، غیر انسانی اور کالا قانون‘ ہے، جس کو ہر حالت میں ختم ہونا چاہیے۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے یورپی ممالک کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حکومت آسیہ مسیح کو سزا دینے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت ایسے تمام قوانین کو بھی ختم کردے گی جو اقلیتوں کی ’آزادی اظہار‘ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

30 نومبر 2010ء کو ملک کے جید علماء کرام نے قانون توہین رسالت کو ”کالا قانون“ کہنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کی بے جا حمایت وسرپرستی کرنے پر سلمان تاثیر کو گستاخ رسول قرار دیتے ہوئے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ اسی دن پیپلز پارٹی کی رُکن قومی اسمبلی وسابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شیری رحمان نے قانون توہین رسالت ایکٹ کو ختم کرنے کا بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا۔ اس سے اگلے روز صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی مسیح کی سربراہی میں اراکین اسمبلی پر مشتمل 9 رُکنی کمیٹی تشکیل دی جو قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

4 جنوری 2011ء کو گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے موقع پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتاری کے وقت وہ حیران کن حد تک نہایت پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ اس نے ابتدائی تحقیقات میں اعتراف کیا کہ ”گورنر پنجاب نے قانون توہین رسالت کو ”کالا قانون“ قرار دیا تھا، ایسا کہنا شان رسالت مآب ﷺ میں بدترین توہین کے

صفحہ 630

مترادف ہے۔ چونکہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ سلمان تاثیر گستاخ رسول تھا۔ مزید براں اس نے قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سے سزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کو بچانے کا عندیہ دے کر خود کو گستاخ رسول ثابت کر دیا تھا۔ اس پر مَیں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی غلامی میں قبول کر لیں۔ موت اور زندگی میں کوئی فرق نہیں۔‘‘

اس ساری صورت حال کو بگاڑنے میں انتہا پسند سیکولر صحافیوں اور نام نہاد دانشوروں نے نہایت غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ وہ یکطرفہ طور پر مختلف ٹی وی پروگراموں میں اپنے تئیں مفتی اور قانون دان بن کر متنازعہ گفتگو کر کے جلتی پر تیل کا کام دیتے رہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی ذمہ داری انہی فاشسٹ سیکولر صحافیوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اُس کی ملعونہ آسیہ کے ساتھ جیل میں وی آئی پی ملاقات کرنے، سیشن جج کے فیصلہ پر شدید تنقید کرنے، آسیہ مسیح کو بے گناہ قرار دینے، اُس کی درخواست معافی پر دستخط کروانے، آسیہ کے دفاع میں پریس کانفرنس کرنے، قانون توہین رسالت کو کالا قانون کہنے اور اُسے ختم کروانے کی کوششوں کو نہ صرف سراہا بلکہ ’’چڑھ جا بیٹا سولی، رام بھلی کرے گا‘‘ کا درس دیتے رہے۔ سلمان تاثیر کے یہ نادان دوست اگر معمولی سا بھی عقل و شعور رکھتے تو اُسے خلافِ آئین و قانون سرگرمیوں سے روکتے، اسے مشورہ دیتے کہ معاملہ عدالت میں ہے، اسے عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ مگر امریکی ڈالروں کی چمک میں اندھے ہونے والے بھلا کہاں کسی کو ایسا مشورہ دیں گے۔

آسیہ مسیح نے اپنی کتاب "Blasphemy: A Memoir Sentenced to death over a cup of water" میں اپنے مقدمہ کے حوالہ سے جس قدر جھوٹ بولے ہیں، اِس سے شاید جرمنی کے جوزف گوئبلز کی روح بھی شرما جائے۔ 160 صفحات پر مشتمل یہ کتاب 2013ء میں امریکہ سے شائع ہوئی۔ آسیہ نے اپنے تمام حالات و واقعات امریکہ کی معروف خاتون صحافی Anne Isabelle Tollet کو سنائے جس نے اس کتاب کو مرتب کیا۔ یاد رہے کہ مذکورہ صحافی 2008ء سے 2011ء تک اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے سلسلہ میں اسلام آباد میں مقیم رہی۔ آسیہ مسیح نے اپنی کتاب میں لکھا کہ وہ کھیت میں فالسہ چن رہی تھی۔ پیاس لگنے پر وہ قریب ہی پانی کے کنویں پر گئی اور ایک کپ سے پانی پیا۔ اُس نے وہاں کام کرنے والی ایک عورت کو پانی پلانے کی پیشکش کی جس پر وہاں موجود ایک اور عورت نے زور زور سے شور

صفحہ 631

مچانا شروع کر دیا کہ یہ عورت عیسائی ہے جس نے مسلمانوں کے کپ میں پانی پیا ہے۔ چنانچہ اُس پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کر کے اُسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ ہے وہ فرضی کہانی جسے ملکی و غیر ملکی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اچھالا گیا اور بین الاقوامی طور پر عیسائیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اِسی طرح 17 نومبر 2014ء کو معروف امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ میں آسیہ مسیح کے شوہر عاشق مسیح کا عالمی برادری کے نام ایک کھلا خط شائع ہوا جو نہ صرف جھوٹ کا پلندا بلکہ اس میں پاکستانی عدلیہ کی بھی تضحیک کی گئی ہے۔ اس جھوٹے پروپیگنڈا سے نہ صرف آسیہ مسیح کے شوہر عاشق مسیح کے اکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالر آئے بلکہ اس بہتی گنگا میں عیسائی این جی اوز، سیکولر صحافیوں سمیت آسیہ کے وکلا نے بھی خوب ہاتھ دھوئے۔ اس اہم کیس کے سلسلہ میں، میں یہاں چند اہم باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجرمہ آسیہ مسیح 14 جون 2009ء کو توہین رسالت کی مرتکب ہوئی۔ 19 جون 2009ء کو اُس کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں مقدمہ درج ہوا۔ 8 نومبر 2010ء کو اُسے سیشن کورٹ سے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی۔ 14 اکتوبر 2014ء کو لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز جج صاحبان جناب جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جناب جسٹس محمد انوار الحق نے سیشن کورٹ کی طرف سے دی گئی مجرمہ کی سزا کو بحال رکھا۔ اس اہم فیصلہ کا اردو ترجمہ اس کتاب کے آخر میں دیا جا رہا ہے جس کا مطالعہ ہر مسلمان کے ایمان کو ایک نئی جلا بخشے گا اور مخالفین ناموس رسالتﷺ کے سروں کا درد بنے گا۔ اب مجرمہ آسیہ مسیح نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اس پورے عرصہ میں مسلمانوں کی کسی بھی تنظیم کی طرف سے آسیہ مسیح کے خلاف کوئی جلسہ یا جلوس نہیں نکلا۔ کسی مسجد میں قرارداد تک پاس نہیں کروائی گئی۔ عدالتوں کے باہر دباؤ کی غرض سے کبھی کوئی اجتماع نہیں ہوا۔ آسیہ کے کسی وکیل یا خاندان کے کسی فرد کو بھی کوئی دھمکی یا نا زیبا الفاظ نہیں کہے گئے۔ شروع سے لے کر آخر تک تمام کارروائی میں آئین اور قانون کی مکمل پاسداری کی گئی۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ آسیہ مسیح کے حامی ماورائے آئین وقانون اُس کی رہائی چاہتے ہیں۔ اس کے لیے پس پردہ بڑی سازشیں ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے دسمبر 2014ء میں شیخوپورہ جیل میں مجرمہ آسیہ مسیح نے ایک بار پھر توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ اُس نے اللہ تعالیٰ، نبی کریمﷺ ، قرآن مجید اور مسلمانوں کے متعلق نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے جس پر جیل میں کھلبلی مچ گئی اور تمام قیدیوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ قریب تھا کہ قیدی

صفحہ 632

غصے میں آکر مجرمہ آسیہ پر حملہ کر دیتے، محکمہ داخلہ پنجاب کے حکم پر اُسے فوری طور پر ملتان جیل منتقل کر دیا گیا۔ اگر اِس شرارت سے کوئی نقصان ہو جاتا تو ایک بار پھر اُس کا الزام تمام مسلمانوں پر عائد کر دیا جاتا اور قانون توہین رسالت ﷺ ختم کرنے کے مطالبات شروع ہو جاتے۔ مجھے تو حیرانی ہے کہ خود کو دانشور کہلوانے والے بھی آسیہ مسیح کے سلسلہ میں ماورائے آئین و قانون انصاف چاہتے ہیں۔ ایک کھپی کالم نگار ان سب میں پیش پیش ہے۔ وہ مجرمہ کو بے گناہ اور معصوم قرار دیتے ہوئے معاشرے کو بے حس قرار دیتا ہے۔ گویا دانش ور صاحب سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ظالم اور غاصب قرار دے رہے ہیں۔؎ ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے!

قانون توہین رسالت ﷺ پر تنقید کرنے والے دراصل حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس پر بھونکنے کا لائسنس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کراچی سے شائع ہونے والا انگریزی روزنامہ ”ڈان“ اور ماہنامہ ”ہیرالڈ“ پیش پیش ہے۔ دسمبر 2014ء کی اشاعت میں ایک بدبخت نے اپنے مضمون میں لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز جج صاحبان کی طرف سے مجرمہ آسیہ مسیح کو ماتحت عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کو بحال رکھے جانے والے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے قانون توہین رسالت پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ کالم نگار نے اپنی بدترین خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ قانون متنازعہ ترین ہے۔ پوچھنا چاہیے کہ کیا حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں توہین کے مرتکب ہونے والے بلا امتیاز مذہب و مسلک کسی بھی شخص کے لیے قانون بنانا ............. متنازعہ ہے؟ کیا اس بات کی کھلی چھٹی دے دی جائے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی کی شان میں جو کوئی مرضی کہتا رہے، اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کی جائے؟ ان عقل کے اندھوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ قانون تو ملزم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ قانون ختم ہو جائے (یا اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہو) تو ملزم کو موقع پر ختم کر دینے کا رواج پڑ جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں لکھا تھا:

ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جا سکے اور معاشرہ میں یہ رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیراتِ پاکستان کی محولہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے

صفحہ 633

اندراج سے ملزم کو ایک عرصہ حیات میسر آ جاتا ہے۔ اس امر کے پورے مواقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزایابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل، نگرانی وغیرہ جیسی دادرسی کا فائدہ اٹھائے۔ کوئی بھی شخص، کجا ایک مسلمان، ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ من مانی کا سدباب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے احکام کی تنسیخ کر دی جائے یا انہیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔‘‘

(پی ایل ڈی 1994ء لاہور 485)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے عہدیداران اور کارکن نہایت ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں جنہوں نے آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کیس کی بھرپور پیروی کی اور بالآخر ملعونہ اپنے کیفر کردار کو پہنچی۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر نہایت مستعد مجاہد ختم نبوت جناب محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے زیر نظر فیصلہ کی نقل مہیا کی جس پر وہ نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 634

درخواست برائے اندراج مقدمہ

بخدمت جناب ایس۔ ایچ۔ او صاحب تھانہ صدر ننکانہ صاحب

جناب عالی!

گزارش ہے کہ سائل چک نمبر 3 گ ب اٹانوالی تھانہ صدر ننکانہ تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے اور مسجد صدیق اکبرؓ میں بطور امام مسجد خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ مورخہ 14-06-2009 کو بروز اتوار محمد ادریس ولد احمد علی قوم ارائیں سکنہ دیہہ کی زمین میں آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح جو عیسائی مذہب کی مبلغہ ہے، گاؤں کی دیگر عورتوں جن میں عاصمہ بی بی دختر عبدالستار، عافیہ بی بی دختر عبدالستار، یاسمین دختر اللہ رکھا شامل ہیں، فالسہ توڑ رہی تھیں۔ آسیہ الزام علیہا نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے نبی (معاذ اللہ) کیا ہیں،

........................................................................................................................................................................................................ .......................................................................................................................(نعوذ باللہ)

مزید قرآن پاک کے متعلق کہا کہ وہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔ یہ تمام باتیں عاصمہ بی بی، عافیہ، یاسمین مذکوران و دیگران نے مجھے اور گاؤں کے لوگوں کو بتائیں۔ آج مورخہ 19-06-2009 کو سائل معہ محمد افضل ولد محمد طفیل قوم گجر، مختار احمد ولد مشتاق احمد قوم راجپوت ساکنان دیہہ نے عاصمہ بی بی وغیرہ اور آسیہ الزام علیہا کو بلوایا اور 14-06-2009 کے وقوع کے متعلق آسیہ مذکورہ سے پوچھا تو اس نے اقرار کیا کہ مجھ سے واقعی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کی توہین کی مرتکب ہوئی ہوں اور معافی مانگتی ہوں۔ آسیہ مذکورہ ملزمہ نے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین قرآن کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ دعویدار ہوں، آسیہ مسیح ملزمہ مذکورہ کے خلاف توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین قرآن پاک کرنے پر مقدمہ درج کر کے کارروائی بمطابق قانون کی جاوے۔

عــــــرضــــــے

قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 گ ب اٹانوالی تحصیل وضلع ننکانہ (امام مسجد صدیق اکبرؓ چک نمبر 3 اٹانوالی) دستخط: محمد سالم

صفحہ 635

ایف آئی آر کا متن

ابتدائی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ زیر

دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری

15682 326/09 تھانہ صدر ننکانہ، ضلع ننکانہ صاحب، تاریخ و وقت وقوعہ 14/6/2009

1- تاریخ و وقت رپورٹ 6- بوقت 6:15 شام تھانہ سے روانگی کی تاریخ و سپیشل رپورٹ بحوالہ وقت 326/19-06-09

2- نام وسکونت اطلاع دہندہ ومستغیث درخواست گزار قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک 3 اٹانوالی مرسلہ مہدی حسن ASI تھانہ صدر ننکانہ

3- مختصر کیفیت جرم (معہ دفعہ) مال اگر کچھ کھویا جرم 295/C گیا ہے۔

4- جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے اور سمت بحد رقبہ چک نمبر 3 اٹانوالی بفاصلہ 7 میل جانب شمال از تھانہ

5- کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج کرنے میں بلا توقف کچھ توقف ہوا ہو تو اس کی وجہ بیان کی جاوے۔

دستخط محمد رضوان ASI عہدہ: محرر (ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو)

بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ صدر ننکانہ صاحب۔ جناب عالیٰ گزارش ہے کہ سائل چک نمبر 3 گ ب اٹانوالی تھانہ صدر ننکانہ تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے

صفحہ 636

اور مسجد صدیق اکبرؓ میں بطور امام مسجد خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ مورخہ 2009-06-14 کو بروز اتوار محمد ادریس ولد احمد علی قوم ارائیں سکنہ دیہہ کی زمین میں آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح جو عیسائی مذہب کی مبلغہ ہے، گاؤں کی دیگر عورتوں جن میں عاصمہ بی بی دختر عبدالستار، عافیہ بی بی دختر عبدالستار، یاسمین دختر اللہ رکھا شامل ہیں، فالسہ توڑ رہی تھیں۔ آسیہ الزام علیہا نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے نبی (معاذ اللہ) کیا ہیں، وہ ........................................ ........................................................................................................................ ............................................................................................ (نعوذ باللہ)

مزید قرآن پاک کے متعلق کہا کہ وہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔ یہ تمام باتیں عاصمہ بی بی، عافیہ، یاسمین مذکوران و دیگران نے مجھے اور گاؤں کے لوگوں کو بتائیں۔ آج مورخہ 2009-06-19 کو سائل معہ محمد افضل ولد محمد طفیل قوم گجر، مختار احمد ولد مشتاق احمد قوم راجپوت ساکنان دیہہ نے عاصمہ بی بی وغیرہ اور آسیہ الزام علیہا کو بلوایا اور 2009-06-14 کے وقوع کے متعلق آسیہ مذکورہ سے پوچھا تو اس نے اقرار کیا کہ مجھ سے واقعی میں نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین کی مرتکب ہوئی ہوں اور معافی مانگتی ہوں۔ آسیہ مذکورہ ملزمہ نے توہین رسالت ﷺ اور توہین قرآن کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ دعویدار ہوں، آسیہ مسیح ملزمہ مذکورہ کے خلاف توہین رسالت ﷺ اور توہین قرآن پاک کرنے پر مقدمہ درج کر کے کارروائی بمطابق قانون کی جاوے۔ عرضے دستخط اُردو قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 اٹانوالی تحصیل وضلع ننکانہ (امام مسجد صدیق اکبر چک نمبر 3 اٹانوالی)

صفحہ 637

تھانہ صدر ننکانہ ضلع ننکانہ صاحب مقدمہ 326/09،مورخہ 19-06-09 جرم 295/C ت پ تھانہ صدر ننکانہ سرکار بذریعہ ! قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک گ ب اٹھانوالی

درخواست برائے حصول اجازت انٹیروگیشن اندرون جیل

جناب عالی! گزارش ہے کہ مقدمہ عنوان بالا کی تفتیش بحوالہ چٹھی نمبر 1823-26/Legal Dated:24-06-2009 حسب الحکم جناب ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ، SP انوسٹی گیشن شیخوپورہ کو تفویض کی گئی ہے۔ مقدمہ عنوان بالا میں آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح گرفتار ہو کر بند حوالات جوڈیشل ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ ہے۔ جس سے مقدمہ عنوان بالا میں تفتیش عمل میں لائی جانی مقصود ہے۔ بذریعہ درخواست ہذا استدعا ہے کہ آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح سے اندرون ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں انٹیروگیشن کیے جانے کی اجازت عنایت فرمائی جائے تا کہ آسیہ مسیح سے انٹیروگیشن کی جائے اور مقدمہ ہذا کو حقائق کی روشنی میں مکمل کیا جائے۔

PSO ٹو ایس پی انوسٹی گیشن شیخوپورہ مورخہ: 2009-07-04

04-07-2009: تفتیشی افسر حاضر لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ تفتیشی افسر کو تفتیش کی اجازت ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں دی جاتی ہے۔

(دستخط) مجسٹریٹ درجہ اول ننکانہ صاحب

صفحہ 638

ایس۔ پی انوسٹی گیشن شیخوپورہ کے رُوبرو ملزمہ کا بیان

ضمنی نمبر 5

تھانہ صدر ننکانہ ضلع ننکانہ صاحب منجانب: سید محمد امین بخاری SP انوسٹی گیشن شیخوپورہ رپورٹ ابتدائی 326 مورخہ 19-06-2009 موصولہ تاریخ و مقام وقوعہ 14-06-2009 روانگی بجرم 295/C ت پ

بحد رقبہ اٹانوالی

حاضر تفتیش

سرکار بذریعہ قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی (مدعی) بنام آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح (گرفتار حوالات جوڈیشل) منجانب! سید محمد امین بخاری SP انوسٹی گیشن شیخوپورہ

بِسلسلہ رپورٹ ضمنی سابقہ مرتبہ خود تحریر ہے کہ اس وقت PSO خود نے عدالت مجاز سے برائے انٹیروگیشن آسیہ مسیح گرفتار بند حوالات جوڈیشل ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ اجازت حاصل کر کے میرے پیش کی ہے جو میں بمعہ عملہ خود برائے انٹیروگیشن آسیہ مسیح روانہ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ کا ہوتا ہوں۔

اس وقت میں بمعہ عملہ خود ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچا ہوں۔ جیل حکام نے مسمیان آسیہ مسیح کو لا کر میرے پیش کیا ہے۔ جس کو مقدمہ ہذا میں شامل تفتیش کر کے میں دریافت ہوتا ہوں۔

اس وقت میں معہ عملہ خود دفتر پہنچا ہوں۔ حالات پیش آمدہ درج رپورٹ ضمنی ہوئے ہیں۔ آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح ملزمہ گرفتار بند حوالات جوڈیشل سے بھی اندرون ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ حسب اجازت عدالت مجاز دریافت عمل میں لائی گئی ہے۔ حالات

صفحہ 639

مقدمہ اس طرح پر سامنے آئے ہیں کہ بروز وقوعہ مقدمہ ہذا آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح ہمراہ عافیہ بی بی، عاصمہ بی بی اور دیگر مسلمان عورتوں کے فالسہ توڑ رہی تھیں۔ جبکہ کھیت کا مالک مسمی محمد ادریس کھیت سے باہر اپنی بیوی کے ہمراہ درختوں کے سائے میں فالسہ تول رہا تھا کہ اسی دوران آسیہ مسیح اور عاصمہ، عافیہ بی بی وغیرہ کے مابین آسیہ مسیح جو کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے، کے ہاتھ سے پانی نہ پینے کی بابت بحث مباحثہ شروع ہوا اور بات آسیہ مسیح، مسلمان عورتوں کی ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ جو اس کی اطلاع پا کر مسمی محمد ادریس جس کے کھیت میں چند عورتیں فالسہ توڑ رہی تھیں، بھی آ گیا اور جھگڑے کی وجہ پوچھی تو عاصمہ، عافیہ بی بی وغیرہ نے اُسے بتلایا کہ آسیہ مسیح نے کہا ہے کہ تمہارے نبیﷺ (معاذ اللہ)

.................................................................................................... ....................................................................................................

قرآن پاک کی بابت کہا کہ یہ اُن کا کلام نہ ہے بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔ یہ باتیں سن کر محمد ادریس مالک کھیت نے آسیہ مسیح سے پوچھا تو اُس نے کہا کہ ہاں! میں نے یہ باتیں کی ہیں۔ جس پر محمد ادریس نے آسیہ مسیح کو اپنے کھیت سے نکال دیا۔ دوسری عورتوں کو بھی سمجھا کر چپ کروا دیا۔ عاصمہ بی بی وغیرہ نے شام کو گھر جا کر ساری باتیں مدعی مقدمہ قاری محمد سالم کو بتائیں۔ اِسی بابت گاؤں اٹانوالی میں اکٹھ ہوا۔ جہاں دیگر علمائے کرام بھی آئے۔ آسیہ مسیح اور دیگر عورتوں کو بھی بلوایا گیا۔ جہاں لوگوں کی موجودگی میں آسیہ مسیح نے حضور پاکﷺ اور قرآن پاک کی شان میں متذکرہ بالا باتیں کرنے کا اعتراف کیا اور معافی بھی مانگی۔

دوران تفتیش درج ذیل حقائق سامنے آئے ہیں۔

پاکﷺ کی شان میں اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ باتیں کیں۔

میں گنہگار پائی گئی ہے۔

وقوعہ موقع پر موجود خواتین نے اس بات کی تصدیق نہ کی ہے۔ جس سے ظاہر ہے

صفحہ 640

کہ ملزمہ آسیہ مسیح نے محض اپنے آپ کو بچانے کے لیے جھوٹی اور من گھڑت کہانی بنائی ہے۔ جس میں کوئی صداقت نہ پائی گئی ہے۔

بھی ثابت ہوا ہے۔

قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی۔

مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں آسیہ مسیح کا حضور پاک ﷺ کی شان میں اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے جو مقدمہ ہذا میں صحیح گنہگار پائی گئی ہے۔ مثل مقدمہ ہذا واپس تھانہ صدر ننکانہ صاحب بھجوائی جارہی ہے۔ SHO کو ہدایت کی جاتی ہے کہ بقایا تکمیل تفتیش کرے اور چالان عدالت میں بھجوائے۔

رپورٹ حاضر مرتب ہوئی۔

سیّد محمد امین بخاری ایس پی انوسٹی گیشن شیخوپورہ

صفحہ 641

بعدالت جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب

ابتدائی معلومات

مقدمہ نمبر : 402/2009 ایف آئی آر نمبر : 326/2009 بتاریخ 19 جون 2009ء پولیس سٹیشن : تھانہ صدر ننکانہ صاحب بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295/C

آسیہ مسیح (ملزمہ) زوجہ عاشق مسیح قوم عیسائی سکنہ چک نمبر 3 اٹانوالی، ننکانہ صاحب (ملزمہ)

بنام

سرکار

وکلا منجانب ملزمہ: اکبر منور درانی ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ) طاہر گل صادق ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) چودھری ناصر انجم ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) جسٹن گل ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) طاہر بشیر ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) ایرک جون ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) منظور قادر ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ)

وکیل منجانب سرکار: جناب مظہر عمران ایڈووکیٹ اسسٹنٹ پراسیکیوٹر تاریخ فیصلہ: 8 نومبر 2010ء

صفحہ 642

فیصلہ

جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج

19-06-2009 کو درج کی گئی ایف آئی آر نمبر (Exh.Pa/I) 326 زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان جو کہ قاری محمد سالم (گواہ استغاثہ نمبر 1) کی مدعیت میں حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کے خلاف توہین آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں درج کی گئی، کا چالان پولیس نے مقدمہ چلائے جانے کے لیے عدالت میں پیش کیا۔

(FIR) کے مطابق اس مقدمہ کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ مورخہ 14-06-2009 کو آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح جو کہ عیسائی عورت ہے اور عیسائی مبلغہ بھی ہے، گاؤں کی دوسری عورتوں (گواہان استغاثہ) کے ہمراہ محمد ادریس ولد علی احمد کے ملکیتی باغ سے جبکہ فالسے توڑ رہی تھیں۔ ملزمہ آسیہ نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات استعمال کیے کہ مسلمانوں کے نبی .................................................................................. (نعوذ باللہ) اس نے مزید کہا کہ حضرت محمد ﷺ ..................................................................... ..........................................................................................(نعوذ باللہ) اسی طرح قرآن پاک کے متعلق اس نے کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ انسان کی بنائی ہوئی خود ساختہ کتاب ہے۔ عافیہ بی بی، مافیہ بی بی اور یاسمین بی بی وغیرہ نے یہ واقعہ مدعی مقدمہ اور گاؤں کے دوسرے لوگوں سے بیان کیا۔

صفحہ 643

میں بلایا گیا اور اس سے واقعہ کے متعلق پوچھا گیا۔ جہاں اُس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی۔ لہٰذا آسیہ مسیح نے نہ صرف توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا بلکہ مقدس کتاب قرآن مجید کی بھی توہین اور تضحیک کی۔

ترمیم کے ایف آئی آر (Exh.PA/I) درج کی۔ اور اس ایف آئی آر کی نقل تفتیشی آفیسر ارشد ڈوگر سب انسپکٹر کو مزید کارروائی کے لیے فراہم کی۔

اور عدالت میں اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ مورخہ 2009-06-24 کو انہیں ایس۔ پی (انویسٹی گیشن) شیخوپورہ تعینات کیا گیا۔ اسی دن ڈی۔آئی۔جی/ آر۔پی۔او رینج شیخوپورہ کی چٹھی نمبر 1823 مورخہ 2009-06-24 کے ذریعہ مقدمہ کی تفتیش ان کے سپرد کی گئی۔ کیونکہ ایس۔ پی (انویسٹی گیشن) ننکانہ صاحب کا عہدہ خالی تھا۔ مورخہ 2009-06-29 کو اس نے دونوں فریقین کو اپنے دفتر میں طلب کیا۔ مدعی فریق کی جانب سے 27 افراد جبکہ ملزم فریق کی جانب سے 5 افراد اُن کے سامنے حاضر ہوئے۔ مدعی فریق کی جانب سے 5 افراد نے اُن کے سامنے اپنے بیانات زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کروائے۔ انہوں نے مقدمہ کی مکمل تفتیش کی۔ متعلقہ مجاز عدالت (Exh.PB) کی اجازت سے ملزمہ آسیہ مسیح کا بیان مورخہ 2009-07-06 کو جیل میں قلمبند کیا۔ دوران تفتیش ان کے علم میں آیا کہ محمد ادریس کے ملکیتی فالسہ کے کھیت میں ملزمہ اور گاؤں کی دیگر خواتین بشمول گواہان استغاثہ موجود تھیں جہاں اُن کی مختلف مذاہب کے نبیوں اور مذاہب وغیرہ پر بحث ہوئی۔ ملزمہ آسیہ مسیح جو ایک عیسائی ہے، نے کچھ توہین آمیز کلمات دوسری عورتوں کی موجودگی میں کہے جو کہ توہین رسالت ﷺ کے جرم کے ارتکاب کے زمرہ میں آتے ہیں۔ کھیت کا مالک محمد ادریس (جس کا بیان زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری علیحدہ قلمبند کیا گیا ہے) بھی اُن خواتین کی طرف متوجہ ہوا۔ جس کو گواہان استغاثہ (خواتین) نے واقعہ کے متعلق بتایا۔ جس پر اس نے ملزمہ آسیہ مسیح سے اُن گستاخانہ کلمات کی ادائیگی کی بابت دریافت کیا۔ جس کا ملزمہ نے اعتراف کیا کہ اُس نے وہ توہین آمیز کلمات کہے ہیں۔ تاہم وہ معافی کی خواستگار ہے۔ اپنی تفتیش اور

صفحہ 644

تحقیق کے بعد انہوں نے مورخہ 06-07-2009 کو آسیہ مسیح کو حضرت محمد ﷺ اور قرآن پاک کے متعلق توہین آمیز کلمات کہنے کے جرم کے ارتکاب کا مجرم قرار دیا۔ دوران تفتیش اُن کے علم میں آیا کہ ملزمہ آسیہ مسیح نے گواہان استغاثہ کے روبرو یہ کہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ ................................................................................................... اور نعوذ باللہ ................................................................. ملزمہ نے مزید کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے ............................................................................................ ................................................................................ (نعوذ باللہ) اس نے مزید کہا کہ حضرت محمد ﷺ کو (نعوذ باللہ) ........................................ اور مزید یہ بھی کہا گیا کہ قرآن پاک کوئی الہامی کتاب نہیں ہے بلکہ انسان کی بنائی ہوئی ہے۔ تفتیش کے دوران ان کے علم میں آیا کہ وقوعہ کے روز ملزمہ آسیہ مسیح اور گواہان استغاثہ کے مابین مذہبی بحث چھڑی تھی۔ جس میں ملزمہ آسیہ مسیح نے توہین آمیز کلمات حضرت محمد ﷺ اور قرآن پاک کی نسبت کہے۔ دوران تفتیش اُن کے علم میں یہ بھی آیا کہ آسیہ مسیح نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ گواہان استغاثہ نے اُس کے خلاف یہ الزامات اس لیے لگائے ہیں کہ وہ اسے مسلمان کرنا چاہتی تھیں۔ اور اس کے انکار پر انہوں نے اس کے خلاف الزامات لگائے۔ لیکن ملزمہ آسیہ مسیح کا یہ مؤقف ثابت نہیں ہوسکا۔ مزید برآں، یہ بھی معلوم ہوا کہ مذہبی بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب گواہان استغاثہ میں سے ایک (مسلمان خاتون) نے پانی مانگا جس پر ملزمہ آسیہ مسیح نے اسے پانی پیش کیا۔ جسے مذکورہ گواہ استغاثہ نے عیسائی خاتون کے ہاتھ سے لینے/ پینے سے انکار کر دیا۔

تفتیش مکمل کرنے اور آسیہ مسیح کو مجرم قرار دیئے جانے کے بعد انہوں نے مقدمہ کی فائل متعلقہ تھانہ کے ایس۔ایچ۔او کو واپس بھیج دی۔

کہ مورخہ 19-06-2009 کو وہ تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں تعینات تھا۔ تھانہ کے MHC (میونسپل ہیلتھ سنٹر) کی جانب سے اطلاع ملی کہ اٹانوالی گاؤں میں کوئی مذہبی جھگڑا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر وہاں جانا پڑا۔ وہ ایف۔آئی۔آر کی نقل وصول ہونے کے بعد اور اس بات کا علم دیئے جانے کے بعد وہاں گئے کہ انہیں اس مقدمہ کی تفتیش سپرد کی گئی

صفحہ 645

ہے ۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے ۔ اور جائے وقوعہ کا نقشہ Exh.PC بھی تیار کیا ۔ انہوں نے ملزمہ کو دو لیڈی کانسٹیبلان جو اُن کے ہمراہ گئی تھیں، کی مدد سے گرفتار کیا ۔ انہوں نے ملزمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد اُسے جوڈیشل حوالات میں بھیج دیا ۔ انہوں نے ملزمہ کے طبی معائنے کی درخواست بھی جمع کروائی ۔ جبکہ ملزمہ نے اپنا طبی معائنہ کروانے سے انکار کر دیا ۔ (درخواست Exh.PD پر ہے) بعد ازاں اس کیس کی تفتیش سیّد محمد امین بخاری ، ایس پی (انویسٹی گیشن) شیخوپورہ کے سپرد کر دی گئی ۔

7- مورخہ 2009-10-13 کو ملزمہ کے خلاف زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان فرد جرم عائد کی گئی جس کا ملزمہ نے جرم کی صحت سے انکار کیا اور باقاعدہ مقدمہ چلائے جانے کی استدعا کی جس پر استغاثہ کی طرف سے اس کیس میں مندرجہ ذیل گواہان پیش کیے گئے ۔

گواہ استغاثہ نمبر 1: قاری محمد سالم جو کہ اس کیس کا مدعی ہے ۔

گواہ استغاثہ نمبر 2: مافیہ بی بی (عینی شاہد)

گواہ استغاثہ نمبر 3: عاصمہ بی بی (عینی شاہد)

گواہ استغاثہ نمبر 4: محمد افضل جو کہ ملزمہ کے ماورائے عدالت اپنے سامنے اقرارِ جرم کا شاہد ہے ۔

گواہ استغاثہ نمبر 5: محمد رضوان سب انسپکٹر ، جس نے زیر بحث کیس کی ایف ۔آئی ۔آر درج کی ۔

گواہ استغاثہ نمبر 6: محمد امین بخاری ایس پی (انویسٹی گیشن) شیخوپورہ جنہوں نے اس کیس کی تفتیش کی ۔

گواہ استغاثہ نمبر 7: محمد ارشد ایس ایچ او ، انہوں نے بھی اس کیس کی تفتیش کی ۔

عدالتی گواہ نمبر 1: محمد ادریس جو کہ اس کھیت کا مالک ہے جہاں وقوعہ پیش آیا ۔

8- گواہانِ استغاثہ یاسمین بی بی اور مختار احمد کو سرکار کی جانب سے مقرر کردہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ADPP) نے غیر ضروری تصور کرتے ہوئے ترک کر دیا اور اس کے بعد مدعی کے وکیل نے اس کیس میں ان کی استغاثہ شہادت ختم کر دی ۔

9- زیر دفعہ 342، ضابطہ فوجداری کے تحت دیئے گئے بیان کے مطابق ملزمہ نے کہا: ’’میں شادی شدہ عورت ہوں اور میری دو بیٹیاں ہیں ۔ میرا خاوند غریب محنت کش ہے ۔ میں

صفحہ 646

دیگر کئی خواتین کے ہمراہ روزانہ اُجرت کی بنیاد پر محمد ادریس کے کھیت میں فالسہ چننے کا کام کرتی تھی۔ وقوعہ کے روز جبکہ میں متعدد دیگر خواتین کے ہمراہ کھیت میں کام کر رہی تھی، تو میرا مافیہ بی بی اور عاصمہ بی بی سے پانی لانے کے معاملے پر تنازعہ ہوا۔ جب میں نے پانی لانے کی پیشکش کی، تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ چونکہ تم ایک عیسائی ہو۔ اس لیے انہوں نے کبھی کسی عیسائی کے ہاتھ سے پانی نہیں لیا، جس پر تنازعہ ہوا۔ اور میرے اور ان گواہان استغاثہ خواتین کے مابین تلخ کلامی ہوئی۔ گواہان استغاثہ خواتین نے بعد ازاں قاری محمد سالم سے جو کہ اس مقدمہ میں مدعی ہے، اس کی زوجہ کے ذریعہ رابطہ کیا جو کہ ان دونوں خواتین کو پڑھاتی رہتی ہے۔ اس طرح گواہان استغاثہ نے قاری سالم کے ساتھ ساز باز کر کے مجھے جھوٹے، من گھڑت اور جعلی مقدمے میں ملوث کیا۔ میں نے بائبل پر حلفیہ بیان دیتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ میں نے اس طرح کے توہین آمیز اور شرمناک الفاظ حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن کے متعلق بالکل نہیں کہے۔ میں حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کا حد درجہ عزت و احترام کرتی ہوں۔ لیکن چونکہ پولیس اس سازش میں مدعی کے ساتھ شریک ہے۔ اس لیے پولیس نے ناجائز طور پر اسے اس مقدمہ میں ملوث کیا ہے۔ گواہان استغاثہ خواتین، دونوں حقیقی بہنیں ہیں اور مجھے اس جھوٹے کیس میں ملوث کرنے میں یکساں مفاد رکھتی ہیں۔ کیونکہ جھگڑے کے دوران تلخ کلامی کے باعث ان دونوں کو تذلیل اور بے عزتی محسوس ہوئی۔ مدعی قاری سالم کا مفاد بھی ان خواتین کے ساتھ یکساں ہے۔ کیونکہ ان دونوں خواتین نے اس کی زوجہ سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ میرے آباؤ اجداد قیام پاکستان کے وقت اس گاؤں میں مقیم ہیں۔ میری عمر بھی تقریباً 40 سال ہے اور اس واقعہ کے علاوہ اس قسم کی کوئی شکایت پہلے کبھی میرے خلاف پیدا نہیں ہوئی۔ میں ناخواندہ ہوں اور عیسائی مبلغہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ اس گاؤں میں کوئی عیسائی چرچ بھی موجود نہیں ہے۔ لہٰذا جب کہ میں اسلامی نظریات سے بھی بالکل نابلد ہوں، تو میں کیسے اللہ کے پیارے نبی ﷺ اور الہامی کتاب قرآن پاک کے متعلق اس قدر بھدے اور توہین آمیز الفاظ استعمال کر سکتی ہوں۔ گواہ استغاثہ محمد ادریس بھی مفاد پرست گواہ ہے۔ کیونکہ اس کے مذکورہ بالا خواتین کے ساتھ قریبی خاندانی روابط ہیں۔‘‘

10- ملزمہ کی جانب سے زیر دفعہ (2)340، ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے حق میں کسی شہادت صفائی کا اختیار استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی گواہ پیش کیا گیا۔

صفحہ 647

کریم ﷺ کی توہین کا ارتکاب کر کے زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان اور قرآن پاک کے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کر کے زیر دفعہ 295/B تعزیرات پاکستان کے جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چشم دید گواہوں کی مدد سے جن کے روبرو ملزمہ خاتون نے فالسہ کے باغ میں کام کے دوران توہین آمیز اور طنزیہ کلمات ادا کیے اور استغاثہ نے اپنا کیس تمام ممکنہ شبہات سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ کی تفتیش ایس پی (انویسٹی گیشن ) شیخوپورہ نے کی۔ جنہوں نے بھر پور تفتیش اور تحقیق کے بعد ملزمہ آسیہ مسیح کو جرم کا مرتکب ٹھہرایا۔ اسی طرح گواہ استغاثہ نمبر 6 نے بھی ملزمہ کو بلاشک و شبہ جرم کا مرتکب قرار دے کر استغاثہ کے مؤقف کو تقویت دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کے تمام گواہان وقوعہ کے وقت، تاریخ، جگہ اور الفاظ کے متعلق موقف یکساں ہے اور استغاثہ کے ان تمام گواہان کے بیانات میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملہ میں گاؤں کے لوگوں کا ایک اجتماع (اکٹھ) وقوع پذیر ہوا۔ جہاں ملزمہ کو بلایا گیا اور اس نے ان کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کئی نسلوں سے اس گاؤں میں رہ رہی ہے۔ لیکن اس قسم کا کوئی ایک واقعہ بھی ماضی میں پیش نہیں آیا۔ ہر دو قومیں، مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور ایمان کے متعلق تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر ماضی میں توہین رسالت کا وقوعہ ہوا ہوتا، تو فوجداری مقدمات یا گاؤں میں مذہبی تناؤ کی صورت حال ہوتی۔ حالانکہ دونوں قومیں اپنے تمام تر مذہبی اختلافات، ایمان اور مذہبی جذبات کے باوجود ایک ہی گاؤں میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اس گاؤں کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ ایک عیسائی خاتون نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا۔ لہذا مدعی اور گواہانِ استغاثہ کو اس سے قبل اس قسم کی پولیس مداخلت کی کبھی ضرورت نہ پڑی۔ انہیں یہ سہنا نہیں چاہیے تھا۔ انہوں نے پورے زور سے یہ بھی ثابت کیا کہ مدعی مقدمہ، گواہانِ استغاثہ اور ملزمہ خاتون کے خاندان کے درمیان کوئی پرانی دشمنی بھی نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ مدعی مقدمہ اور گواہانِ استغاثہ کی ملزمہ خاتون کے خلاف کوئی بدنیتی یا خفیہ محرک کارفرما نہیں ہے۔ انہوں نے مزید

صفحہ 648

بیان کیا کہ ملزمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش نہیں کی ہے جس سے ملزمہ کے ارتکاب جرم کی مزید توثیق ہوتی ہے۔ اپنے موقف پر دلائل مکمل کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں گواہان استغاثہ (گواہ نمبر 2 اور 3) غیر شادی شدہ بالغ لڑکیاں ہیں اور پردہ نشین بھی ہیں۔ اگر ایسا کوئی وقوعہ نہ پیش آیا ہوتا، یا انہوں نے توہین رسالت ﷺ سے متعلقہ گستاخانہ کلمات نہ سنے ہوتے، تو وہ کبھی بھی عدالت اور گواہی کے کٹہرے میں آکر پیش نہ ہوتیں۔ لہذا وکیل مدعی نے اس بات پر زور دیا کہ ملزمہ کو اس قسم کے جرائم کے ارتکاب کی بھرپور سزا جو کہ سزائے موت ہے، کا مستحق قرار دیا جائے۔

12- دوسری جانب وکیل صفائی نے ملزمہ کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ پہلی بات یہ ہے کہ اس قسم کا مقدمہ قائم کرنے سے قبل صوبائی یا مرکزی حکومت کی اجازت لازمی ہے۔ دوسرا انہوں نے اس بات پر بھی احتجاج کیا کہ توہین رسالت کے مقدمات کی تفتیش ایس۔پی کے عہدے سے کم عہدہ کا کوئی تفتیشی افسر نہیں کرسکتا۔ لیکن یہاں ایک اے۔ایس۔آئی نے اس کیس کی تفتیش کی ہے اور یہ کہ تمام گواہان استغاثہ یکساں مفاد رکھتے ہیں۔ اور انہوں نے توہین رسالت کو دیکھا نہ سنا۔ دونوں لڑکیاں اور مدعی مقدمہ کے مفادات یکساں ہیں۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ مورخہ 14-06-2009 کو فالسہ باغ میں پانی لانے کے معاملہ پر ملزمہ اور گواہان استغاثہ خواتین کے مابین تنازعہ ہوا۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ ان مسلمان خواتین نے ملزمہ خاتون جو کہ عیسائی ہے، کے ہاتھ سے پانی پینے سے انکار کیا۔ اور اپنے انتقام کی تسکین کے لیے اور ایک عیسائی عورت کو سبق سکھانے کے لیے، گواہان استغاثہ خواتین نے مدعی مقدمہ کی ملی بھگت سے توہین رسالت کی کہانی گھڑی۔ تاکہ ملزمہ خاتون کو فوجداری مقدمہ میں ملوث کرکے ایک بہت بڑے جرم کے ارتکاب کی سزا دلوائی جاسکے جبکہ اس کے علاوہ ایسا کوئی وقوعہ پیش ہی نہیں آیا اور نہ ہی ملزمہ کے منہ سے کوئی توہین رسالت یا توہین قرآن کے متعلق کوئی الفاظ ادا ہوئے۔ انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ مسلمان اکثریت نے عیسائی اقلیت کے خلاف ایک خیالی ڈرامہ رچایا ہے۔ اور یہ ڈرامہ ایک ایسے نازک وقت تیار کیا گیا جب اس قسم کے بہت سے واقعات ہمارے پیارے ملک میں وقوع پذیر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی اجتماع، جس میں ملزمہ خاتون کو طلب کیا گیا، جہاں اس نے ماورائے عدالت نام نہاد اقرار جرم کیا، کے متعلق

صفحہ 649

گواہان کے بیانات بابت لوگوں کی تعداد جو وہاں جمع ہوئے، میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، گواہ استغاثہ نمبر 1 کے بیان کے مطابق جمع شدہ لوگوں کی تعداد 100 کے قریب تھی۔ جبکہ گواہ نمبر 2 کے مطابق 1000، اور گواہ نمبر 3 کے مطابق 2000 تھی۔

معزز وکیل صفائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وقوعہ مورخہ 2009-06-14 کو پیش آیا۔ جبکہ ایف آئی آر پانچ دن بعد 2009-06-19 کو درج کروائی گئی۔ لہٰذا ایف۔آئی۔آر کا درج کروایا جانا اور اس میں ملزمہ خاتون کو ملوث کیا جانا باہمی مشاورت اور سوچ بچار کا واضح نتیجہ ہے۔ وکیل صفائی نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ مایوس کن طور پر اپنی ہی ٹانگوں پر کھڑا رہنے اور ملزمہ خاتون کے خلاف ناقابل تردید اور پر اعتماد شہادتیں پیش کر کے جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اور چونکہ ملزمہ کے خلاف ماضی میں بھی اس قسم کے جرم کے ارتکاب کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، اس لیے ملزمہ کو اس الزام سے بری کیا جائے۔

بھی مطالعہ کیا۔

جو کہ اس قسم کے مقدمات کے لیے لازمی امر ہے۔

ایس۔پی (انویسٹی گیشن) شیخوپورہ نے کی۔ جنہوں نے گواہی کے کٹہرے میں بطور گواہ استغاثہ نمبر 6 آ کر یہ بیان کیا کہ ڈی۔آئی۔جی/آر۔پی۔او شیخوپورہ کی چٹھی نمبر 1823 مورخہ 24-06-2009 کے تحت اس مقدمہ کی تفتیش ان کے سپرد کی گئی۔ اور انہوں نے مکمل طور پر اس کیس کی تفتیش کی اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت بیانات قلمبند کیے۔ لہٰذا اس اعتراض کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اور دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ معزز وکیل صفائی نے مقدمہ کے بالکل شروع سے لے کر شہادتیں مکمل ہونے تک نہ تو زبانی طور پر اور نہ ہی تحریری طور پر اپنا اعتراض داخل کیا۔

صفحہ 650

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/A کے زمرہ میں آتے ہیں۔ جبکہ دفعہ 295/C کا وہاں کوئی ذکر نہیں۔ لہذا دفعہ 295/C کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے ساتھ ملانا ، قانون سازی کی روح میں مداخلت تصور ہوگا۔ مقننہ کی ذہانت اس سلسلہ میں چیلنج نہیں کی جاسکتی۔

17- استغاثہ نے ان دونوں خواتین کو پیش کیا، جو اس وقوعہ کی چشم دید گواہان ہیں جن کے روبرو تحقیر آمیز کلمات (توہین رسالت) کہے گئے۔ گواہِ استغاثہ نمبر 2 اور 3 مافیہ بی بی اور عاصمہ بی بی نے عدالت میں آ کر وہ سب بیان کیا، جو انہوں نے سنا۔ گواہِ استغاثہ نمبر 2 مافیہ بی بی نے حلف اٹھا کر کہا کہ مورخہ 14-06-2009 بروز اتوار وہ، عاصمہ بی بی، یاسمین بی بی اور ملزمہ آسیہ مسیح کے ہمراہ گاؤں کے فالسہ کھیت میں موجود تھی۔ ملزمہ آسیہ مسیح مذہب کے لحاظ سے عیسائی ہے۔ ملزمہ آسیہ مسیح جو کہ عدالت میں موجود ہے، نے اُس کے اور دوسروں کے روبرو کہا کہ نبی کریم ﷺ ............................................................................................................ .................................................................................................................... (نعوذ باللہ) ملزمہ نے مزید کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے .......................................................................................................... (نعوذ باللہ) اس نے مزید یہ بھی کہا کہ قرآن پاک کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ یہ تم مسلمانوں کی تحریر کردہ / مرتب کی ہوئی ہے۔ اس (مافیہ بی بی گواہ استغاثہ نمبر 2) نے اس واقعہ کا ذکر قاری محمد سالم، محمد افضل اور مختار احمد وغیرہ سے کیا۔ جنہوں نے گاؤں کا ایک عوامی اجتماع منعقد کیا جہاں ملزمہ آسیہ مسیح کو بھی بلایا گیا اور اس نے اس عوامی اجتماع میں اپنے جرم کا اقرار کیا اور معافی کی خواستگار ہوئی۔

18- گواہِ استغاثہ نمبر 3 عاصمہ بی بی نے حلف اٹھا کر یہ بیان دیا کہ مورخہ 14-06-2009 کو وہ، مافیہ بی بی، یاسمین بی بی اور ملزمہ آسیہ مسیح کے ہمراہ فالسہ کے کھیت میں موجود تھی اور فالسے توڑنے کا کام کر رہی تھیں۔ ملزمہ آسیہ مسیح کا تعلق عیسائی مذہب سے ہے۔ فالسہ توڑنے کے کام کے دوران ملزمہ آسیہ مسیح نے اُس کے اور دوسرے لوگوں کے روبرو کہا کہ حضرت محمد ﷺ ............................................................................................................ ................................................................. (نعوذ باللہ) اس نے مزید کہا کہ حضرت محمد ﷺ ..................................................................................................................................................... نے

صفحہ 651

..................................................................................(نعوذ باللہ) اس نے مزید یہ بھی ذکر کیا کہ قرآن پاک کوئی الہامی کتاب نہیں بلکہ انسانوں کی خود ساختہ کتاب ہے۔ اس نے دوسرے گواہان استغاثہ کے ہمراہ یہ واقعہ قاری محمد سالم مدعی مقدمہ کو بتلایا۔ محمد افضل اور مختار بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے گاؤں کا ایک عوامی اجتماع (اکٹھ) منعقد کیا۔ جہاں ملزمہ آسیہ مسیح کو بھی بلایا گیا۔ اور وہاں اُس نے اپنے جرم کا اقرار کیا اور معافی مانگی۔ گواہِ استغاثہ کا یہ بیان زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری تفتیشی افسر کے روبرو قلمبند کیا گیا تھا۔

توہین آمیز کلمات براہ راست نہیں سنے بلکہ گواہانِ استغاثہ نمبر 2 اور 3 کی وساطت سے سنے۔ لہٰذا اس کی شہادت ’’سنی سنائی شہادت‘‘ کے زمرہ میں آتی ہے۔

استغاثہ ہے۔ اس نے گواہان بکس میں آکر بیان کیا کہ وہ بذات خود اس عوامی اجتماع میں موجود تھا۔ جو اس واقعہ کے بعد منعقد کیا گیا۔ جس میں آسیہ مسیح کو لایا گیا۔ جہاں اُس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی۔

کا مالک ہے۔ گواہان کے کٹہرے میں آکر اُس نے بیان دیا کہ مورخہ 2009-06-14 کو وہ اپنے گھر میں موجود تھا۔ مافیہ بی بی، عاصمہ بی بی، یاسمین بی بی، قاری محمد سالم اور مختار احمد کے ہمراہ اس کے پاس آئے۔ اور اس سے عدالت میں موجود ملزمہ آسیہ مسیح کی طرف سے حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین، قابلِ اعتراض اور حقارت آمیز کلمات کہے جانے کا واقعہ بیان کیا۔ مورخہ 2009-06-19 کو گاؤں کا ایک عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر پر منعقد ہوا۔ جس میں وہ بھی موجود تھا۔ آسیہ مسیح جو کہ عیسائی ہے، وہاں بلائی گئی جہاں اس کے روبرو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ اس کے بیان کے مطابق:

’’اس ملزمہ خاتون نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا اور نازیبا اور تضحیک آمیز الفاظ قرآن مجید کے متعلق استعمال کیے اور معافی چاہی۔‘‘

اس گواہ کا بیان تفتیشی آفیسر کے روبرو بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔

صفحہ 652

قرآن کے متعلق تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنے کے جرم کا اقرار اس واقعہ کے فوراً بعد اس کے روبرو کیا۔ کیونکہ جونہی یہ واقعہ پیش آیا۔ وہ (CW-I) پہلا مرد شخص تھا، جو اس باغ کے مالک ہونے کے ناتے سے ان لڑتی ہوئی خواتین کی طرف متوجہ ہوا کیونکہ وہ خود باغ میں ہی موجود تھا۔

-23 وقوعہ کی جگہ پر اس کی موجودگی ایک قدرتی امر ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرہ میں مالکان عام طور پر اپنے کاروبار کی جگہ پر موجود رہتے ہیں۔ خاص طور پر پھلوں کے باغات کے مالکان مزدوروں کی جانب سے چوری روکنے کے لیے، اور خاص طور پر جبکہ خواتین ورکرز کام کر رہی ہوں، پر نگرانی کے لیے وہاں موجود ہوتے ہیں۔ اس کی ملزمہ، خاتون ورکر سے کوئی دشمنی بھی نہیں ہے اور وہ ایک عرصہ سے اس کے ہاں ملازمت میں تھی۔ اس نے ملزمہ کو اعتراف جرم کرنے کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا جو کہ اس کی جانب سے ایک قدرتی رد عمل تھا۔ لہٰذا اس کی شہادت نہایت قابل اعتماد اور فطری ہے۔ وکیل صفائی بھی اس گواہ پر جرح کے دوران اس کی گواہی پر کوئی شک و شبہ پیدا نہ کر سکا۔

-24 چنانچہ گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 جو کہ واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں، کے بیانات، بابت توہین آمیز کلمات، واقعہ کے وقت، تاریخ، مقام اور وقوعہ کے دن کے متعلق مکمل طور پر ایک جیسے ہیں اور انہوں نے اپنے بیانات میں کسی بددیانتی سے کوئی اضافہ نہیں کیا۔ دونوں گواہان استغاثہ خواتین نے ملزمہ خاتون کے علاوہ کسی اور شخص کو اس الزام میں ملوث نہیں کیا۔ دونوں استغاثہ خواتین گواہان کی ملزمہ سے کوئی پرانی دشمنی بھی نہ ہے۔ اس طرح گواہان استغاثہ نمبر 1، نمبر 4 اور CW-I کی بھی ملزمہ خاتون یا اس کے خاندان کے کسی مرد شخص سے کوئی پرانی دشمنی نہ ہے، کہ جس کے باعث انہوں نے ملزمہ کے خلاف عدالت میں بیان دیا ہو۔

-25 گواہان استغاثہ نمبر 2 اور نمبر 3 نوجوان غیر شادی شدہ لڑکیاں ہیں۔ ان کی ملزمہ خاتون کے ہمراہ فالسہ کھیت میں موجودگی ایک قدرتی امر ہے۔ کیونکہ یہ سب اس باغ میں فالسہ توڑنے کی مزدوری کا کام کرتی تھیں۔ لہٰذا وہ کوئی بدنیت یا اتفاقیہ گواہان نہیں ہیں۔

-26 ہمارے معاشرے میں عام طور پر خواتین فوجداری مقدمات میں بطور مدعی یا گواہ بننے سے احتراز کرتی ہیں۔ خاص طور پر غیر شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کے والدین اپنی بچیوں کو تھانوں، پولیس افسران کے روبرو اور عدالتوں میں بیانات ریکارڈ کروانے اور وکیلوں کی جرح

صفحہ 653

جرح چبھتے سوالات کی وجوہات کی بناء پر اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ لیکن زیر غور مقدمہ میں ان خواتین (گواہ استغاثہ نمبر 2 اور نمبر 3) نے یہ موقف اختیار کیا۔ کیونکہ وہ توہین رسالتﷺ برداشت نہیں کرسکتی تھیں۔ یاسمین بی بی بھی جو کہ ایک اور گواہ استغاثہ تھی، عدالت کی کارروائی کے دوران مسلسل عدالت میں پیش ہوتی رہی۔ تاہم اس کی گواہی غیر ضروری جان کر ترک کر دی گئی۔

ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کیے گئے سوال نمبر 7 کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں درج ہوا، کے جواب میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا:

”میں دیگر متعدد خواتین کے ہمراہ کھیت میں کام کر رہی تھیں۔ مافیہ بی بی اور عاصمہ بی بی دونوں خواتین کا میرے ساتھ پانی لانے کے معاملہ پر تنازعہ ہوا۔ جو کہ میں نے ان کے لیے لانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ چونکہ میں ایک عیسائی ہوں، لہٰذا وہ عیسائی کے ہاتھ سے پانی نہیں پیتیں۔ اس بات پر جھگڑا پیدا ہوا، اور میرے اور گواہان استغاثہ خواتین کے مابین تلخ کلامی ہوئی۔“

اور مسلمان خواتین، کی جانب سے ایک عیسائی خاتون کے ہاتھ سے پینے کا پانی لینے کا انکار کر دیا گیا۔ لہٰذا اس واقعہ نے ایک مذہبی جھگڑے کی شکل اختیار کر لی، اور تلخ کلامی ماسوائے توہین رسالتﷺ کے کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔

مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے۔ لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر توہین رسالتﷺ کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔ لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالتﷺ کا ارتکاب ہوا ہے۔ جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع بھی منعقد ہوا۔ اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔

صفحہ 654

شہادت پیش کی، اور نہ ہی دفعہ (2)340، ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات غلط ثابت کیے۔

بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام گواہان استغاثہ نے استغاثہ کے موقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید و تصدیق کی ہے۔ گواہان استغاثہ اور ملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جا سکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا میں ملزمہ آسیہ مسیح زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔ ملزمہ کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا، جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ مجرمہ عدالت کے روبرو حراست میں موجود ہے، جس کو بتا دیا گیا ہے، کہ وہ اس فیصلے کے خلاف 7 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتی ہے۔ اس کو -/1,00,000 روپے جرمانہ کی ادائیگی کا حکم بھی دیا جاتا ہے۔ جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اس کو چھ ماہ کی مزید قید محض دی جائے گی۔ فیصلے کی نقل ملزمہ کو بغیر کسی ادائیگی کے فراہم کی جائے گی۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جاوے۔

تاریخ فیصلہ دستخط : 8 نومبر 2010ء جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب

۞......۞......۞

صفحہ 655

جناب رانا ظہور احمد ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ

سرکار بنام عبدالستار، جون 2011ء

صفحہ 656
صفحہ 657

دل کی بات

دسمبر 2009ء کے دوران کسی نامعلوم شخص نے اپنے موبائل فون سے تلہ گنگ کے رہائشی محمد سعید کے موبائل پر ایسے میسج بھیجنا شروع کر دیئے جو اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھے۔ اس پر محمد سعید نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ سے رابطہ کیا اور انہیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا۔ معمولی سی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ متنازعہ موبائل نمبر صوبہ سندھ کے رہائشی کسی شخص کا ہے۔ چنانچہ محمد سعید صاحب سندھ چلے گئے اور وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ محمد سعید واپس تلہ گنگ آیا اور 5 فروری 2010ء کو ملزم کے خلاف توہین رسالت ﷺ کے ارتکاب پر اندراج مقدمہ کے لیے پولیس اسٹیشن سٹی تلہ گنگ میں درخواست دی۔ پولیس نے حقائق و واقعات کے پیش نظر ملزم کے خلاف قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ تفتیشی افسر نے موبائل سموں کی تفتیش کے سلسلہ میں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے حصول کے لیے ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد سے رابطہ کیا۔ انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد نے تصدیق کی کہ یہ تمام سمیں ملزم عبدالستار کی ملکیت ہیں جسے بعد میں پولیس نے لاڑکانہ سندھ سے گرفتار کر لیا۔ تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ جرم ثابت ہونے پر محترم رانا ظہور احمد ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ نے ملزم کو سزائے موت دینے کا حکم سنایا۔

محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

گواہان استغاثہ اور مدعا علیہ (ملزم) کے احساسات اور مذہبی جذبات کا احترام کیا ہے، قطع نظر اس کے کہ کیا وہ مشترکہ طور پر ان اعتقادات پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں، یا، کیا وہ منطقی انداز کے حامل ہیں، یا میری رائے کے مخالف ہیں۔ ریکارڈ پر دستیاب ثبوت اور گواہی

صفحہ 658

کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ کے تمام حقائق اور حالات جائزہ لینے کے بعد، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے دانستہ اور مذموم ارادے کے تحت، تحریری الفاظ (پیغامات) استعمال کیے جن کے باعث مسلمانوں کے مذہبی اعتقادات کو ٹھیس پہنچی۔ مقدمہ کے اندراج اور مقدمہ کی سماعت کے ضمن میں پولیس کے علاوہ عدالت کی طرف سے درکار طریقہ کار بالترتیب اختیار کیا گیا۔ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ملزم نے جان بوجھ کر قرآن مجید کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ شہادتوں اور مسل مقدمہ میں دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد، میں اس نتیجے پر بھی پہنچا ہوں کہ ملزم، عبدالستار نے جان بوجھ کر حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز کلمات لکھے اور انہیں دوسروں کو بھیجا۔ یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے جرم کو متشکل کرنے کے لیے بہت زیادہ گواہان درکار نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف اس قسم کی غلیظ زبان، کھلے عام یا کسی جلسے میں یا پھر کسی مخصوص مقام پر با آواز بلند استعمال کی جائے، ایک واحد گواہ کا بیان کہ اگر کسی نے کسی مکان کے اندر حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق توہین آمیز الفاظ کہے ہوں تو بھی وہ توہین کے اس قسم کے مرتکب کے لیے سزائے موت تجویز کرنے کے لیے کافی تھا۔ میں نے اپنے فیصلے کی تائید کے لیے 2005 Y.L.R 985 اور PLD 1992 Lahore پر انحصار کیا ہے۔“

اس فیصلہ کی کاپی مجاہد ختم نبوت جناب ملک خالد مسعود ایڈووکیٹ تلہ گنگ نے فراہم کی جس پر وہ دلی شکریہ کے مستحق ہیں۔ جناب ملک خالد مسعود تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر عطیہ خداوندی ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کے لیے ان کی خدمات قابل صد ستائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاک پائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 659

بعدالت جناب رانا ظہور احمد، ایڈیشنل سیشن جج، تلہ گنگ

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 38/2010 سیشن مقدمہ نمبر : 34/2006 ایف آئی آر نمبر : 20 بتاریخ 5 فروری 2010ء پولیس سٹیشن : سٹی تلہ گنگ ضلع چکوال بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295۔اے،بی،سی

سرکار

بنام

عبدالستار ولد عبدالکریم، ذات سیال، ساکن علی احمد کالونی، محلہ ولید نزد شیخ زاہد کالونی، لاڑکانہ، صوبہ سندھ

(ملزم)

تاریخ فیصلہ: 21 جون 2011ء

صفحہ 660

فیصلہ

جناب رانا ظہور احمد، ایڈیشنل سیشن جج، تلہ گنگ

مندرجہ بالا ملزم کے خلاف مقدمہ ہذا زیر دفعات 295-C، 295-B اور 295-A تعزیرات پاکستان بمطابق ایف آئی آر نمبر 20 مورخہ 2010-02-05، مندرج بر پولیس سٹیشن سٹی تلہ گنگ، ضلع چکوال کا چالان پولیس نے مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا۔

پولیس کے معاملے کے متعلق اطلاع دیتے ہوئے بیان کیا کہ وہ تلہ گنگ کا رہائشی ہے۔ دسمبر 2 0 0 9ء کے دوران، کسی نامعلوم شخص نے اپنے موبائل نمبروں 0313-3705462، 0313-3705471، 0313-3682826 0312-3466361 سے اس کے موبائل نمبر 0303-4157770 پر پیغامات بھیجنا شروع کر دیے جو اللہ تعالیٰ، قرآن مجید اور حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھے۔ اس نے یہ ایس ایم ایس، عبدالرزاق اور وقاص کو دکھائے۔ بعدازاں، وہ اسلام آباد چلا گیا اور جہاں اسے دوبارہ اس قسم کا ایس ایم ایس موصول ہوا اور پھر وہ ملتان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر گیا، نیز اس نے مولانا عزیز الرحمٰن سے ملاقات کی اور تمام واقعہ انہیں سنایا، جس نے اسے بتایا کہ یہ نمبر صوبہ سندھ کے معلوم ہوتے ہیں۔ مدعی، ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر گیا اور مولانا میاں احمد سے ملاقات کی جس نے بذات خود متذکرہ بالا نمبروں کا جائے وقوع تلاش کیا۔ بعدازاں،

صفحہ 661

وہ کراچی گیا اور اس نے دفتر پی ٹی اے (Pakistan Telecommunication Athority) اور سائبر کرائم برانچ، دفتر، کراچی کو ایک درخواست دی۔ وہ واپس ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ، آگیا۔ مولانا میاں احمد نے اسے بتایا کہ وہ اور اس کے بیٹے کو بھی اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کی شکایتیں ہیں اور اس نے ٹنڈو آدم کے پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی۔ وہ واپس تلہ گنگ آگیا اور اس شخص کو تلاش کرنے اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جس پر اس نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ایک درخواست (Ex.PA) دی جس پر ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

کی۔ مورخہ 2010-02-05 کو تقریباً 11.00 بجے صبح، وہ اپنے دفتر میں موجود تھا۔ ان دنوں، وہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن، تعینات تھا۔ اسی دن، اس کے ریڈر نے اس کے روبرو ایف آئی آر کی نقل (Ex.PA/1) مع اصلی درخواست (Ex.PA) پیش کی۔ اسی دن، اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، تین گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے اور اندازاً جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.PG) مع حواشی، تیار کیا جو اس کی لکھائی میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ مزید برآں، اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB)، جس پر گواہان استغاثہ کے دستخط ہیں، موبائل فون (P-2) مع سم نمبر 4157770-0303 (P-1) اپنی تحویل میں لے لیا۔ مورخہ 2010-02-06 کو اس نے مرزا محمد یوسف، انسپکٹر/ ایس ایچ او، پولیس سٹیشن سٹی، تلہ گنگ، کے ذریعہ دفتر ڈائریکٹر، انٹیلی جنس بیورو، کے بلاک، اسلام آباد سے سم نمبروں 4157770-0303، 3705471-0313، 0313-3705462، 0313-3682826، 0312-3466361 کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے حصول کے لیے مراسلہ بھیجا اور اسے زبانی ہدایات دیں کہ متعلقہ دفتر سے متذکرہ بالا ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد اس کے روبرو پیش کیا جائے۔ مورخہ 2010-02-12 کو وہ محمد عمر ولد محمد صدیق، گواہ استغاثہ سے ملا اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا، نیز اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، محمد سعید ولد حافظ غلام سرور کا بھی بیان قلمبند کیا۔ محمد عمر، نے اس کے روبرو موبائل فون سیٹ نوکیا 1102، (P-13) مع سم، پیش کیا جو اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PF) اپنی تحویل میں لے لیا جس پر گواہان

صفحہ 662

استغاثہ کے دستخط ثبت تھے۔ مورخہ 2010-02-13 کو،شوکت حیات،اے ایس آئی،دفتر،آر پی او،راولپنڈی سے واپس آیا اور اس کے روبرو سم نمبر 3705462-0313 کا ڈیٹا (2010-01-16 تا 2010-01-29، (پچیس صفحات)، (P-3/1-25)، سم نمبر 3705471-0313 (24 صفحات)، (P-4/1-24)، 2010-01-01 تا 2010-01-09، سم نمبر 3682826-0313 ( 8 صفحات)، 2010-01-09 تا 2010-01-17، (P-5/1-8)، سم نمبر 3466361-0312 (16 صفحات)، 2010-01-29 تا 2010-02-09، (P-6/1-16)، سم نمبر 3705462-0313 اور سم نمبر 3466361-0312، پیش کیا۔ یہ تمام سمیں ملزم کی ملکیت ہیں جو مقدمہ کا سامنا کر رہا ہے اور سم نمبر 3682826-0313،محمد وارل ولد غلام علی، ساکن، کوٹ فتح محمد دادو، تحصیل اور ضلع دادو، جو اس نے بمطابق ریکوری نمبر (Ex.PC) اپنی تحویل میں لے لی۔ یہ تمام معلومات، اس کی طرف سے جاری کردہ خط نمبر 711/M مورخہ 2010-02-06، (Ex.PD) کے حوالے سے حاصل کی گئیں۔ مورخہ 2010-02-24 کو اس نے کمپیوٹر آپریٹر کے ذریعے 29 گستاخانہ پیغامات کے پرنٹ (P-14/1-29) حاصل کیے جو مدعی نے اپنی سم نمبر 4157770-0303، (P-1) جو اس نے کمپیوٹر سے حاصل کیے۔ اسی دن، اسے یہ معلوم ہوا کہ ایک نامعلوم شخص کے خلاف زیر دفعات 295-A, 295-B ،تعزیرات پاکستان، ایف آئی آر نمبر 66 مورخہ 2010-01-27، پولیس سٹیشن، ٹنڈوآدم، ضلع سانگھڑ، درج کرائی گئی۔اس کی معلومات کے مطابق، متذکرہ بالا سم،ملزم،عبدالستار کے نام جاری کی گئی۔ مورخہ 2010-03-04 کو اس نے صوبیدار ریٹائرڈ ملازم خان ولد غلام محمد سے ملاقات کی اور اس سے تفتیش کی جس نے بتایا کہ اس کو اپنے موبائل فون پر کبھی بھی کوئی فون یا پیغام موصول نہیں ہوا۔ 2010-03-06 کو اسے دفتر، آر پی او، راولپنڈی کی جانب سے ایک مراسلہ نمبر 3130 مورخہ 2010-03-06،سیکرٹری داخلہ، لاہور کے نام موصول ہوا جس میں متذکرہ بالا ملزم کی تلاش اور اس کی گرفتاری کے لیے سیکرٹری داخلہ،سندھ کو خط جاری کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ مورخہ 2010-04-20 کو،انسپکٹر احمد خان کی سربراہی میں،اس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی۔ مورخہ 2010-05-04 کو، اس نے بذریعہ محمد اختر، 581/HC ،علاقہ

صفحہ 663

مجسٹریٹ کی عدالت سے ملزم کی گرفتاری کے وارنٹ موصول کیے اور یہ وارنٹ رجسٹر نمبر B-5 نمبر شمار 331/5-B پر درج کیے گئے۔ مورخہ 2010-05-06 کو اس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مسل، احمد خان انسپکٹر کے حوالے کی۔ مورخہ 2010-06-17 کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ملزم کو پیش کیا اور اس کا چار دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور انسپکٹر/ایس ایچ او، عصر علی کو مورخہ 2010-06-18 کو اس کے دفتر پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری مدعی محمد سعید اور گواہ استغاثہ کا بیان قلمبند کیا۔ مورخہ 21-06-2010 کو اس کی درخواست پر ملزم کو جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا۔ دوران تفتیش، اس نے ملزم کا موقف بھی سنا۔ ملزم سے کی گئی تفتیش کے مطابق ملزم کو جرم کا مرتکب پایا گیا اور اس نے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مسل مقدمہ کو ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، تلہ گنگ کو رپورٹ مکمل کرنے کے لیے بھجوادی۔

کی۔ مورخہ 2010-06-16 کو مقدمہ ہذا کی مسل ،ملزم کی گرفتاری کے لیے اس کے حوالے کی گئی۔ وہ، سجاد اقبال، ایس آئی، ظفر اقبال اے ایس آئی اور اجمل ناصر 11/HC کی معیت میں پولیس سٹیشن ، ولید،ضلع لاڑکانہ، سندھ گیا۔ مورخہ 2010-6-14 کو، تقریباً گیارہ بجے صبح، وہ پولیس سٹیشن، ولید، پہنچے اور بعد دوپہر،تین بجے،وہ ، پولیس سٹیشن کے مقامی عملے کے ہمراہ،ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس سٹیشن ولید سے روانہ ہوئے۔ 6 بجے شام وہ واپس آ گئے۔ 2010-06-15 کو صبح نو بجے، وہ پولیس سٹیشن، ولید سے روانہ ہوئے اور تقریباً صبح ساڑھے دس بجے، اس نے ملزم عبدالستار کو گرفتار کرلیا۔ اس نے اس کی جامہ تلاشی لیتے ہوئے، اس نے ملزم کے شناختی کارڈ کی رنگین فوٹو کاپی (P-9)، موبائل فون نوکیا 1208 (P-10) بمعہ سم (P-11) برآمد کر لی جو اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PE)، اپنی تحویل میں لے لی جس کی تصدیق گواہان استغاثہ سجاد اقبال اور ظفر اقبال نے کی۔ اگلے دن،ملزم کا عبوری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد،وہ تلہ گنگ واپس آ گئے اور اس نے مسل مقدمہ،ایس ایس پی ، انویسٹی گیشن ،کے حوالے کردی۔

عدالت بھجوائی گئی۔ زیر دفعہ C-265 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت درکار متعلقہ دستاویزات

صفحہ 664

کی نقول ملزم کو فراہم کی گئیں اور اس پر مورخہ 21-08-2010 کو باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی جس پر اس نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ چلانے کی استدعا کی۔ مقدمہ ہذا میں اپنی طرف سے گواہی پیش کرنے کے لیے استغاثہ کو ہدایت کی گئی۔ استغاثہ نے 8 گواہان پیش کیے تاکہ ملزم کے جرم کو ثابت کیا جاسکے۔

(Exh.PA) کے مطابق بیان دیا اور یہ بھی کہا کہ مورخہ 05-02-2010 کو اس نے اپنی سم نمبر 0303-4157770، تفتیشی افسر کے پی اے کے حوالے کردی جو پولیس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB) اپنی تحویل میں لے لی جس کی اس نے تصدیق کی۔ 12-02-2010 کو، اس نے اپنا موبائل نوکیا IMEI 1112 نمبر 35806801797979803 (P-2)،تفتیشی افسر ایس پی انویسٹی گیشن کے حوالے کردیا اور اسے بتایا کہ یہ وہ موبائل فون ہے جس میں اس نے ملزم کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات موصول کیے۔ تفتیشی افسر نے برآمدگی کے ضمن میں اس کا بیان قلمبند کیا۔مورخہ 18-06-2010 کو اس کی موجودگی میں ملزم عبدالستار نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس زونگ کمپنی کی 7،8 سمیں ہیں جنہیں اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس بھیجنے کے لیے استعمال کیا اور جب ایک سم بند ہوگئی، تو پھر اس نے دوسری سم استعمال کی۔اس نے زبیر پی سی اور لاڑکانہ سے نئی سم خریدی اور دوبارہ گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس بھیجنے شروع کر دیے۔ وہ مختلف نمبروں پر ایس ایم ایس بھیجتارہا لیکن اسے خاص طور پر دو نمبر 0303-4157770 اور 0303-4158880 یاد تھے۔ مزید برآں،اس کی موجودگی میں، لاڑکانہ کے پی سی او کے مالک زبیر نے ایس پی انویسٹی گیشن کو بتایا کہ ملزم، عبدالستار، دومواقع پر، مورخہ 25-01-2010 اور مورخہ 26-01-2010 کو اس کے قریب بیٹھا رہا، اس نے اس سے بیلنس حاصل کیا اورمختلف مواقع پر، اس نے سام سنگ کمپنی کے موبائل فون میں زونگ نمبر پر لوڈ حاصل کیا،جسے اس نے مختلف لوگوں کو گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس بھیجنے کے لیے استعمال کیا اور اگر سم بلاک ہوجاتی تو وہ سم کو ضائع کردیتا۔اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے اس قسم کا ایس ایم ایس تقریباً 150/200 لوگوں کو بھیجا۔ اس نے اس کے روبرو یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ وہی شخص ہے جو ایس ایم ایس

صفحہ 665

بھیجتا تھا۔ اس نے یہ بھی اقرار کیا اس مقصد کی خاطر اس کے پاس ایک اور موبائل نمبر 0313-3682826 بھی موجود ہے۔

مدعی ،محمد سعید نے اسے اور وقاص کو اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری نبی ﷺ کے علاوہ قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل ایس ایم ایس دکھایا جو مختلف نمبروں سے بھیجا گیا تھا۔

کو، اس نے ان کے شناختی کارڈوں کی فوٹو کاپیوں کے مطابق، ملزم عبدالستار اور محمد وارل کی ملکیت سموں (P-3/1-25)،(P-4/1-24)،(P-5/1-8)،(P-6/1-6) کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کیا۔ مزید برآں اس نے بالترتیب، (P-7) اور (P-8) کا متعلق ریکارڈ بھی حاصل کیا اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ، چکوال کے حوالے کر دیا جس نے بمطابق ریکوری میمو (Exh/PC)، اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی طرف سے جاری کردہ خط نمبر 711/M مورخہ 2010-02-06 ،(Exh.PD)، کے مطابق متذکرہ بالا تمام ڈیٹا، حاصل کر لیا۔

ڈی پی او، چکوال کی ہدایت پر احمد خان، انسپکٹر اور دیگر پولیس افسران کی معیت میں لاڑکانہ گیا اور مورخہ 2010-06-15 کو، انہوں نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کی جامہ تلاشی کے دوران، احمد خان، انسپکٹر، نے ملزم کے شناختی کارڈ کی رنگین فوٹو کاپی (P-9)،موبائل نوکیا (P-10) مع مقامی سم (P-11) برآمد کر لی جو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PE) تحویل میں لے لی گئیں۔ ملزم کا عبوری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد وہ تلہ گنگ واپس لوٹ آئے۔

استغاثہ نمبر 1 کے بیان کی مکمل تائید کی۔

کو وہ بطور ایس آئی، پولیس سٹیشن، سٹی، تلہ گنگ تعینات تھا۔ اسی دن، محمد سعید، مدعی ،کی تحریری درخواست (Ex.PA) کے مطابق ،اس نے بغیر کسی اضافہ و ترمیم کے ایف آئی آر

صفحہ 666

(Ex:PA/1) تیار کی، جو اصلی ایف آئی آر کی درست نقل ہے، جو اس نے لکھی اور اس پر اپنے دستخط کیے۔ چونکہ قانون کی رو سے وہ اس معاملہ کی تفتیش نہ کر سکتا تھا، اس لیے، اس نے ایف آئی آر کی نقل، ایس پی انویسٹی گیشن، چکوال کو بھیج دی۔

ساتھ شیخ زاہد کالونی، لاڑکانہ پولیس سٹیشن، ولید، لاڑکانہ میں ساڑھے دس بجے صبح تفتیش میں شامل ہو گیا۔ تفتیشی افسر نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور دورانِ تلاشی، ملزم کے شناختی کارڈ کی رنگین فوٹو کاپی (P-9) کے علاوہ سرخ رنگ کا موبائل فون نوکیا 1208، (P-10)، مع سم نمبر 0336-2737490 بھی برآمد کر لیا گیا جو بمطابق ریکوری میمو (Ex:PE)، جس کی تصدیق اس اور ظفر اقبال اے ایس آئی / گواہ استغاثہ نے کی، تحویل میں لے لی گئیں۔

انسپکٹر پر بطور گواہ استغاثہ نمبر 8، جرح کی گئی۔ وہ مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسران ہیں اور جس طرح انہوں نے تفتیش کی، اس پر اس فیصلے کے ابتدائی حصے میں بحث ہو چکی ہے۔

نے صحت جرم سے انکار کیا اور اپنے روبرو پیش کیے گئے استغاثہ کی ہر شہادت کو مسترد کر دیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ یہ مقدمہ کیوں اس کے خلاف قائم کیا گیا اور گواہان استغاثہ نے کیوں اس کے خلاف گواہی دی، اس نے بیان کیا کہ:

”مجھے اس مقدمہ میں جھوٹے طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ پولیس نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے مجھے اس مقدمہ میں ملوث کیا اور اصلی مجرمان کی تلاش کے بجائے مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ میں دین کے لحاظ سے ایک سچا مسلمان ہوں اور اس قسم کے گناہ کے ارتکاب کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ استغاثہ کا تمام قصہ، جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ گواہان استغاثہ نے تفتیشی افسر کی ایما پر میرے خلاف گواہی دی اور نجی گواہان استغاثہ نے پولیس کی طرف سے گھڑی گئی کہانی کے مطابق میرے خلاف جھوٹی گواہی دی۔“

فوجداری، نہ تو کوئی صفائی پیش کی اور نہ ہی کوئی بیان دیا۔

صفحہ 667

کی کے علاوہ ، فاضل وکیل کے دلائل کو میں نے ان کی معاونت سے مفصل ملاحظہ کیا اور ریکارڈ کا بھی بغور جائزہ لیا۔

31-01-2010 کو دن دہاڑے، محلہ تڑپڑاں، تلہ گنگ، پولیس سٹیشن سٹی، تلہ گنگ، ضلع چکوال، کی حدود میں اس نے اپنے موبائل نمبروں 0313-3705462، (P-3)، 0312-3466361، (P-6)، 0313-3682826، (P-5)، 0313-3705471، (P-4) کے ذریعے مدعی کے سیل نمبر 0303-4157770 سمیت مجموعی طور پر وسیع پیمانے پر پیغامات بھیجے اور ملزم نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کی اور اپنے متذکرہ بالا فون نمبر کے ذریعے نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے متعلق تحریری گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے استغاثہ نے مدعی محمد سعید کو پیش کیا جس پر وکلائے صفائی نے گواہ استغاثہ نمبر 1 کی حیثیت سے جرح کی۔ اس نے اپنی درخواست (Exh.PA) کے مطابق بیان دیا۔ مزید برآں اس نے اپنی ذاتی سم (P-1) بھی حوالے کی جسے بمطابق ریکوری میمو (Exh.PB) تحویل میں لے لیا گیا۔ مورخہ 12-02-2010 کو، اس نے اپنا موبائل فون نوکیا 1112، (P-2)، تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا۔ اس کی موجودگی میں ملزم نے اقرار کیا کہ وہ مختلف سیلولر کمپنیوں کی 7، 8 فون سموں کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات بھیجا کرتا تھا۔ مدعی نے یہ گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات، گواہِ استغاثہ نمبر 2، عبدالرزاق اور محمد سعید کو دکھائے۔ محمد عمر گواہی کے کٹہرے میں بطور گواہِ استغاثہ نمبر 5، پیش ہوا۔ اس نے کہا کہ 07-02-2010 کو شام کے وقت موبائل فون نمبر 0312-3466361، (P-6) سے اپنے موبائل فون نمبر 0301-5667395، (P-12) پر اس نے اللہ تعالیٰ، حضور نبی اکرمﷺ اور قرآن مجید کے علاوہ اسلام کے متعلق، گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات موصول ہوئے۔ وہ ایس پی انویسٹی گیشن کے پاس گیا اور تفتیش میں شامل ہو گیا جہاں اس نے اپنی متذکرہ بالا سم (P-12) مع موبائل نوکیا (P-13) اس کے حوالے کر دی جسے بمطابق ریکوری میمو (Exh.PF) اس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس نے ملزم کے اعترافی بیان کے متعلق

صفحہ 668

محمد سعید، مدعی، گواہ استغاثہ نمبر 1، کے بیان کی تائید کی، فاضل وکیل صفائی نے گواہ استغاثہ نمبر 1، گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 5 پر مفصل جرح کی۔ تاہم، دوران جرح ، تمام حالات کے متعلق وہ باہم متفق رہے۔ یہ طے ہوگیا کہ متذکرہ بالا سم نمبرز ، ملزم کی ملکیت ہیں جن کے ذریعے ملزم نے حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف تحریری گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ ، مدعی اور وسیع پیمانے پر عوام کو بھیجے۔ متذکرہ بالا گواہان استغاثہ ، غیر جانبدار گواہان ہیں جن کی ملزم کے خلاف کوئی بدنیتی ، بغض یا مخاصمت نہیں۔ گواہان استغاثہ کی گواہی کے دوران مدعاعلیہ (ملزم) کی طرف سے ان کے لیے کسی دشمنی یا بدنیتی کا اظہار نہیں کیا گیا۔

-18 گواہ استغاثہ نمبر 3: شوکت حیات، اے ایس آئی ، نے سموں (P-3/1-25)، (P-4/1-24)، اور (P-5/1-8) (P-6/1-16) کا فون ڈیٹا اپنی تحویل میں لے لیا اور گواہی دی کہ ان کے شناختی کارڈوں کے مطابق سم نمبر 0313-3705462،(P-3) اور سم نمبر 0312-3466361 ، (P-6) ، ملزم کی ملکیت ہیں جبکہ سم نمبر 0313-36822826، (P-5)، ایک شخص ، محمد وارل، ساکن، گوٹھ فتح محمد خان ، تحصیل و ضلع دادو، کی ملکیت ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے ، متعلقہ ریکارڈ، بالترتیب (P-7) اور (P-8)، بھی جمع کیا جو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PC) ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن تفتیشی افسر (گواہ استغاثہ نمبر 7) نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی طرف سے جاری کردہ خط نمبر 711/M بتاریخ 06-02-2010 (Exh-PD) کے مطابق ، متذکرہ بالا ڈیٹا موصول کیا۔

-19 گواہ استغاثہ نمبر 4، ظفر اقبال، اے ایس آئی اور گواہ استغاثہ نمبر 6 ،سجاد اقبال ،ایس آئی، اس پولیس پارٹی کے ہمراہ تھے جو ملزم، عبدالستار کی گرفتاری کے لیے لاڑکانہ روانہ ہوئی ، جو 15-06-2010 کو گرفتار ہوا اور اس کی جامہ تلاشی کے دوران ، شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی (P-9) مع، موبائل فون نوکیا (P-10) اور سم (P-11)، بمطابق ریکوری میمو (Exh.PE) برآمد کیں۔ اس کے علاوہ ، گواہ استغاثہ نمبر 6، سجاد اقبال، ایس آئی، نے مدعی، محمد سعید کی تحریری درخواست (Exh.PA) پر رسمی ایف آئی آر (Exh.PA-1) تیار کی۔ متذکرہ بالا اشیاء ملزم کی گرفتاری کے وقت اس کے قبضہ سے برآمد ہوئیں ،جس کی تصدیق، احمد خان، انسپکٹر، گواہ استغاثہ نمبر 8 نے بھی کی۔

صفحہ 669

20- جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، مقدمہ ہذا کی تفتیش، ملک مطلوب احمد اعوان، ایس پی، راول ٹاؤن، راولپنڈی، نے کی۔ اعادہ کرنے کی خاطر، میں اس تفتیش کا دوبارہ جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ مورخہ 2010-02-05 کو، تقریباً 11.00 بجے صبح وہ اپنے دفتر میں موجود تھا۔ ان دنوں میں، وہ، بطور ایس ایس پی، انویسٹی گیشن، تعینات تھا۔ اسی دن، اس کے ریڈر نے ایف آئی آر (Exh.PA/1) مع، اصلی درخواست (Ex.PA) پیش کی۔ اسی دن اس نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، تین گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے، اندازاً جائے وقوعہ کا نقشہ مع حواشی (Ex.PG) تیار کیا، جو اس کی اپنی لکھائی میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ اس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB)، موبائل فون (P-2) مع سم نمبر 0303-4157770، (P-1)، اپنی تحویل میں لے لیے۔ مورخہ 2010-02-06 کو، اس نے بذریعہ مرزا محمد یوسف، انسپکٹر/ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، سٹی، تلہ گنگ، دفتر ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، کے بلاک، اسلام آباد سے سم نمبروں 0303-4157770، 0303-3705471، 0313-3705462، 0313-3682826، 0312-3466361، کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ حاصل کرنے کی خاطر ایک مراسلہ بھیجا اور اسے متعلقہ دفتر سے حاصل کرنے کے بعد متذکرہ ڈیٹا اس کے روبرو پیش کرنے کی زبانی ہدایت کی۔ مورخہ 2010-02-12 کو وہ محمد عمر ولد محمد صدیق، گواہ استغاثہ کے ساتھ شامل تفتیش ہو گیا اور زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا، نیز اس نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، محمد سعید ولد حافظ غلام سرور کا بیان بھی قلمبند کیا۔ محمد عمر نے اپنا موبائل فون سیٹ نوکیا 1102، (P-13) مع سم (P-2) بھی پیش کیا جو اس نے بمطابق ریکوری میمو (Exh.PF)، اپنی تحویل میں لے لیا جس پر گواہان استغاثہ نے دستخط ثبت کیے۔ مورخہ 2010-02-13 کو، شوکت حیات، اے ایس آئی، دفتر، آر پی او، راولپنڈی سے واپس آ گیا اور اس کے روبرو سم نمبر 0313-3705462، (25 صفحات، 16-01-2010 تا 29-01-2010)، (P-3/1-25)، سم نمبر 0313-3705471 (24 صفحات، 01-01-2010 تا 19-01-2010)، (P-4/1-24)، سم نمبر 0313-3682826 (8 صفحات، 09-01-2010 تا 17-01-2010)، (P-5/1-8)، سم نمبر 0312-3466361 (16 صفحات، 29-01-2010 تا

صفحہ 670

(09-02-2010)، (P-6/1-16)، سم نمبر 3705462-0313 اور سم نمبر 0312-3466361 کا ڈیٹا پیش کیا۔ یہ تمام سمیں، مقدمہ کا سامنا کرنے والے ملزم کی ملکیت ہیں اور سم نمبر 3682826-0313، محمد وارل ولد غلام علی ،ساکن، گوٹھ فتح محمد دادو، تحصیل وضلع دادو کی ملکیت ہے جو اس نے بمطابق ریکوری نمبر (Ex:PC) اپنی تحویل میں لے لیں۔ یہ تمام معلومات، اس کی طرف سے جاری کردہ خط نمبر 711/M بتاریخ 06-02-2010، (Ex:PD) کے ذریعے حاصل کی گئیں۔مورخہ 2010-02-24 کو، اس نے مدعی کی سم نمبر 4157770-0303 پر موصول کردہ 29 گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات (P-M/1-29) کے پرنٹ بذریعہ کمپیوٹر آپریٹر حاصل کیے جو کمپیوٹر سے حاصل کیے گئے تھے۔ اسی دن، اسے یہ علم ہوا کہ ایک نامعلوم شخص کے خلاف زیر دفعات 295-A,295-B تعزیرات پاکستان، ایف آئی آر، مورخہ 2010-01-27، پولیس سٹیشن، ٹنڈوآدم، ضلع سانگھڑ، درج کی گئی۔اس کی معلومات کے مطابق، متذکرہ بالا سم، ملزم عبدالستار کے نام پر جاری کی گئی۔مورخہ 2010-03-04 کو وہ صوبیدار ریٹائرڈ ملازم خان ولد غلام محمد کے ساتھ شامل تفتیش ہو گیا اور اس سے تفتیش کی جس نے بتایا کہ اس نے کبھی بھی اپنے موبائل فون پر کوئی بھی فون یا پیغام موصول نہیں کیا۔مورخہ 2010-03-06 کو اسے دفتر، آر پی او، راولپنڈی کی جانب سے، بذریعہ سی پی او، لاہور، سیکرٹری داخلہ، لاہور کے نام مراسلہ نمبر 3130 مورخہ 2010-03-06 موصول ہوا کہ سیکرٹری داخلہ، سندھ کو مندرجہ بالا ملزم کی تلاش اور گرفتاری کے لیے کہا جائے۔مورخہ 2010-04-20 کو، انسپکٹر احمد خان کی سربراہی میں اس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی۔ مورخہ 04-05-2010 کو، اس نے بذریعہ محمد اختر 581/HC، علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت سے ملزم کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے اور متذکرہ بالا وارنٹ، رجسٹر نمبر B-5 پر نمبر شمار 33/15-B، کے تحت درج کیے۔مورخہ 2010-05-06 کو ملزم کی گرفتاری کے لیے اس نے مسل مقدمہ احمد خان، انسپکٹر، کے حوالے کر دی۔مورخہ 2010-06-17 کو، اس نے ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور اس کا چار دنوں کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ، نیز اس نے انسپکٹر ایس ایچ او، عصر علی کو زبانی ہدایت کی کہ 2010-06-18 کو ملزم کو اس کے روبرو پیش کیا جائے۔اس نے زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مدعی، محمد سعید اور گواہ

صفحہ 671

استغاثہ، محمد عمر کے بیانات قلمبند کیے۔ مورخہ 21-06-2010 کو، ملزم کی درخواست پر اسے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا گیا۔ دوران تفتیش، اس نے ملزم کا موقف بھی سنا۔ اس کی تفتیش کے مطابق ملزم، جرم کا مرتکب پایا گیا اور اس نے مسل مقدمہ، ایس ایچ او، پولیس سٹیشن سٹی، تلہ گنگ کے حوالے کر دی تاکہ زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ مکمل کی جائے۔ جیسا کہ تفتیشی افسر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ، اس نے اس معاملے کی مفصل اور مکمل تفتیش کی اور ملزم کو اس کے خلاف جرم کا مرتکب پایا۔ گواہ استغاثہ نمبر 7 اور دیگر سرکاری گواہان استغاثہ، مکمل طور پر غیر جانبدار گواہان ہیں جن کی ملزم کے خلاف کسی قسم کی کوئی مخاصمت نہیں۔ تفتیشی افسر/گواہ استغاثہ نمبر 7 سمیت، تمام متذکرہ بالا گواہان استغاثہ پر فاضل وکیل صفائی نے مفصل جرح کی۔ تاہم، ان سے کوئی اہم چیز برآمد نہیں ہوسکی۔ دوران جرح، استغاثہ کی صداقت کو غلط ثابت نہیں کیا جاسکا اور تمام حالات و واقعات کے ضمن میں وہ باہم متفق رہے۔ گواہان کی گواہی نہایت ہی قابل بھروسا اور قابل اعتماد ہے۔

موقف کی جانب چلتے ہیں۔ ملزم کا موقف یہ ہے کہ اسے غلط طور پر اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ پولیس نے محض اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے اسے اس مقدمہ ہذا میں ملوث کیا ہے اور پولیس کی طرف سے اصل مجرموں کی تلاش کے بجائے اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ وہ ایک سچا مسلمان ہے اور اس قسم کے گناہ کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ استغاثہ کا تمام قصہ محض جھوٹ کا پلندہ ہے اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گواہان استغاثہ نے تفتیشی افسر کے ایما پر اس کے خلاف گواہی دی اور نجی گواہان استغاثہ نے پولیس کی طرف سے غلط سلط پٹی پڑھانے پر اس کے خلاف گواہی دی۔ تاہم، اپنی صفائی کو تقویت دینے کے لیے، زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری ملزم نے نہ تو کوئی گواہی پیش کی اور نہ ہی اپنے خلاف الزام کی تردید کے لیے کوئی بیان حلفی دیا۔ کسی بھی حلقے سے تائیدی گواہی کی عدم موجودگی میں، ملزم کی طرف سے اپنی صفائی میں پیش کردہ موقف، نہ ہی قابل بھروسا ہے اور نہ ہی قابل فہم ہے۔ محتاط غور و فکر کے بعد اسے مسترد کیا جاتا ہے۔

استغاثہ اور مدعا علیہ (ملزم) کے احساسات اور مذہبی جذبات کا احترام کیا ہے، قطع نظر اس کے

صفحہ 672

کہ کیا وہ مشترکہ طور پر ان اعتقادات پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں، یا، کیا وہ منطقی انداز کے حامل ہیں، یا میری رائے کے مخالف ہیں۔ ریکارڈ پر دستیاب ثبوت اور گواہی کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ کے تمام حقائق اور حالات جائزہ لینے کے بعد، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے دانستہ اور مذموم ارادے کے تحت، تحریری الفاظ (پیغامات) استعمال کیے جن کے باعث مسلمانوں کے مذہبی اعتقادات کو ٹھیس پہنچی۔ مقدمہ کے اندراج اور مقدمہ کی سماعت کے ضمن میں پولیس کے علاوہ عدالت کی طرف سے درکار طریقہ کار بالترتیب اختیار کیا گیا۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ملزم نے جان بوجھ کر قرآن مجید کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ شہادتوں اور مسل مقدمہ میں دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد، میں اس نتیجے پر بھی پہنچا ہوں کہ ملزم، عبدالستار نے جان بوجھ کر حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز کلمات لکھے اور انہیں دوسروں کو بھیجا۔ یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے جرم کو متشکل کرنے کے لیے بہت زیادہ گواہان درکار نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف اس قسم کی غلیظ زبان، کھلے عام یا کسی جلسے میں یا پھر کسی مخصوص مقام پر با آواز بلند استعمال کی جائے، ایک واحد گواہ کا بیان کہ اگر کسی نے کسی مکان کے اندر حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق توہین آمیز الفاظ کہے ہوں تو بھی وہ توہین کے اس قسم کے مرتکب کے لیے سزائے موت تجویز کرنے کے لیے کافی تھا۔ میں نے اپنے فیصلے کی تائید کے لیے 2005 Y.L.R 985 اور PLD 1992, Lahore پر انحصار کیا ہے۔

-23 مندرجہ بالا توجیہہ کے مطابق، میں اس غیر متزلزل نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ استغاثہ نے کافی سے زیادہ گواہیاں پیش کرتے ہوئے، نہایت کامیابی سے بغیر کسی شک وشبہ کے ملزم کے جرم کو ثابت کر دیا ہے۔ یوں، میں، ملزم، عبدالستار ولد عبدالکریم ذات سیال، ساکن علی احمد کالونی محلہ ولید نزد شیخ زاہد کالونی لاڑکانہ، صوبہ سندھ کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، جرم کا مرتکب قرار دیتا ہوں۔ اس وقت ملزم عدالت میں حاضر ہے اور میں مقدمہ ہذا کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے تحت حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کرنے اور لکھنے کے جرم میں ملزم کے لیے سزائے موت تجویز کرتا ہوں۔ اس پر-/50,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے اور جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں، اسے مزید چھ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ تاہم، سزائے

صفحہ 673

موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی جس کے لیے ایک علیحدہ درخواست کی جائے گی۔

24- اگرچہ، زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان کا جرم بھی ملزم کے خلاف ثابت ہو چکا ہے، لیکن اسے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کے ارتکاب کے لیے سزائے موت دی جاتی ہے، اس لیے، میرے نزدیک یہ مناسب نہیں کہ اسے زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، سزا دی جائے۔

25- جرم کا مرتکب، عبدالستار جو اس وقت عدالت میں حاضر ہے، عدالت کی تحویل میں ہے۔ اسے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اس فیصلے کی ایک نقل اسے مفت فراہم کر دی گئی ہے اور وہ سات دن کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اسے واپس جیل بھیجا جاتا ہے۔ مقدمہ کی ملکیت کسی بھی چیز سے قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا، اپیل/نظر ثانی کی مدت ختم ہو جانے کے بعد یا پھر نتیجہ کے بعد، فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط : تاریخ فیصلہ رانا ظہور احمد 21 جون 2011ء ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ

۞......۞.......۞

صفحہ 674
صفحہ 675

جناب گلشاد حسن علوی سپیشل جج انسداد دہشت گردی سرگودھا

سرکار بنام محمد محبوب عرف موبا، نومبر، 2011ء

صفحہ 676
صفحہ ۶۷۷

دل کی بات

ستمبر ۱۹۹۹ء میں خوشاب کے ایک بدطینت شخص محبوب عرف موبا نے بہت سے لوگوں کی موجودگی میں جامع مسجد مین بازار خوشاب کے صدر دروازوں اور دیواروں پر ایسے اشتہارات چسپاں کیے جن پر حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز جملے درج تھے۔ اس واقعہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات بے حد مشتعل ہوئے۔ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کروانے سے پہلے اس مقدمہ کے مدعی محمد امین نے ملزم محبوب سے ملاقات کی اور ۳، ۴ روز تک اسے نصیحت کرتا رہا کہ اس کے اس مذموم فعل سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس فعل پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے اور دوبارہ اسلام قبول کرے۔ لیکن ملزم نے اس کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا اور اپنے موقف کو درست قرار دیا۔ چنانچہ مدعی مقدمہ محمد امین نے ۲۶ ستمبر ۱۹۹۶ء کو تھانہ خوشاب میں تعزیرات پاکستان کی دفعات A-۲۹۵ اور C-۲۹۵ کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ عجیب بات ہے کہ ملزم نے عدالت میں کہا کہ وہ بے قصور ہے لیکن اس نے نہ صرف بیان حلفی دینے سے انکار کیا بلکہ اس نے اپنی بے گناہی کے حق میں کسی گواہ کو بھی پیش نہیں کیا۔ مزید براں وکیل صفائی نے ملزم کے بھیانک جرم کا دفاع کرتے ہوئے اپنے دلائل میں کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اسلام میں اختلاف رائے کی پذیرائی کی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وکیل صفائی اسلام بیزار سیکولر ذہن کے مالک ہیں یا انہیں اسلامی تعلیمات کی معمولی سوجھ بوجھ بھی نہیں۔ سلطان کون و مکان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توہین و تضحیک کرنا کہاں کا اختلاف رائے ہے؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں کسی کے متعلق کہوں کہ وہ نطفہ حرام سے پیدا ہوا ہے۔ جب وہ میرے خلاف کیس دائر کرے تو میں یہ توجیہہ پیش کروں کہ اسلام اختلاف رائے کی پذیرائی کرتا ہے، کیا عدالت اس دلیل کو تسلیم کر لے گی؟

محترم گلشاد حسین علوی سپیشل جج انسداد دہشت گردی سرگودھا نے اپنے اس فیصلہ

صفحہ 678

میں اسلامی نکتہ نظر سے بڑی جامع اور سیر حاصل بحث کی ہے جس سے بظاہر تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ تقریباً 2 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ نومبر 2001ء میں مستند شہادتوں اور گواہوں کی موجودگی میں جرم ثابت ہونے پر محترم جج صاحب نے ملزم کو سزائے موت سنائی۔ اس فیصلہ کے خلاف ملزم نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر عدالت عالیہ کے دو جج صاحبان نے اسے منظور کرتے ہوئے ملزم کو ”باعزت“ بری کر دیا۔ اس سلسلہ میں جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اپنے گرانقدر مضمون ”توہین رسالت ﷺ……علمی جائزہ“ میں لکھتے ہیں:

”لاہور ہائیکورٹ کے دو فاضل جج حضرات نے توہین رسالت ﷺ کی اپیل کیس کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے خوشاب کے ایک ملزم محمد محبوب عرف موبا کو حال ہی میں بری کردیا ہے۔ فیصلہ کی رپورٹ ملک کے موقر اردو اور انگریزی اخبارات میں مسلسل شائع ہو رہی ہے۔ جس پر مجھ سے اس فیصلہ کے بارے میں فون پر بالمشافہ ای میل اور مراسلت کے ذریعہ استفسار کیا جارہا ہے۔ ان سب کا علیحدہ علیحدہ جواب دینے کے لیے کافی وقت درکار تھا۔ اس لیے اس فیصلہ کے علمی جائزہ کو مضمون کی شکل دی گئی ہے تاکہ لوگوں کے ذہن میں جو اضطراب اور اشکال پیدا ہو گیا ہے، دور ہو سکے۔ وفاقی شرعی عدالت نے محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان کے مقدمہ میں 1990ء میں جو فیصلہ دیا اور جو سال 1991ء سے پاکستان میں نافذ العمل ہے، اس کی رو سے توہین رسالت ﷺ کی سزا، سزائے موت مقرر ہوچکی ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ سے خارج کر دی گئی تھی۔ آئین کی رو سے پاکستان کی تمام ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتیں فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کی پابند ہیں۔ پھر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے کوئی عدالت بھی انحراف نہیں کرسکتی۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے مذکورہ بالا فیصلہ میں اپنی بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ قرار دیا ہے:

”مندرجہ بالا دلائل کے بعد کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا کہ قرآن حکیم کے مطابق جب رسول کریم ﷺ نے اس کی تشریح فرمادی اس کے بعد امت میں تواتر سے اس پر عمل ہورہا ہے کہ حضور رسالت مآب ﷺ کی توہین کی سزا اس کے علاوہ کچھ اور ہو نہیں سکتی۔ رسول پاک ﷺ کے بعد کسی نے اس سزا میں کمی یا معافی کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ کسی کو یہ حق حاصل تھا“ (پیراگراف 32)

اس سے پہلے پیراگراف 26 میں کہا گیا ہے: ”یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ رسول پاک ﷺ نے چند گستاخان رسالت ﷺ کو معاف فرما دیا تھا لیکن تمام فقہا کا اس

صفحہ 679

بارے میں اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بذات خود معافی کا اختیار حاصل تھا لیکن امت میں کسی کو آپ ﷺ نے شاتمین رسول ﷺ کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔‘‘

قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد کسی کو یہ فیصلہ کرنے کا جواز کہاں سے مل گیا کہ توبہ کے بعد گستاخ رسول ﷺ کو معاف کر دیا جائے۔ اگر اس بارے میں امام ابن تیمیہؒ کی شتم رسول ﷺ پر مستند ترین کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘، ’’گستاخ رسول کے سر پر ننگی تلوار‘‘ کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت کا ذکر کیا گیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا مرتکب مرتد ہو جاتا ہے جو توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے۔ اسی صفحہ پر امامؒ نے اس روایت کی حضرت ابن عباسؓ ہی کی مستند روایت سے تردید کی ہے کہ جس میں انہوں نے فرمایا کہ ’’امہات المومنین پر تہمت لگانے والوں کی توبہ قابل قبول نہیں۔‘‘ اس سے ابن تیمیہؒ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی بے حرمتی کرنے والے کی توبہ کس طرح قابل قبول ہو سکتی ہے؟ امام ابن تیمیہؒ کی ساری کتاب میں ارتداد اور شتم رسول ﷺ کے فرق کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن، سنت رسول ﷺ اور اجماع امت سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کی توبہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔ حضور ﷺ کے معاف کرنے والے جس واقعہ کا ذکر بالعموم کیا جاتا ہے وہ ہجرت سے قبل اور مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد شاتمانِ رسول ﷺ کے قتل کا حکم خود حضور ﷺ نے صادر فرمایا تھا۔

توہین رسالت ﷺ کے قانون کے بارے میں یہ کہنا کہ قانون تقسیم ہند سے قبل برٹش گورنمنٹ نے مسلمان اقلیت کے مذہبی جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے نافذ کیا تھا تاریخ سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ برٹش گورنمنٹ نے انڈیا میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سال 1860ء میں قانون توہین رسالت ﷺ کو منسوخ کر دیا تھا۔ جبکہ قانون توہین مسیح (Blasphemy) انگلستان میں اس وقت موجود تھا اور آج بھی یہ قانون وہاں بطور کامن لا (Common Law) موجود ہے۔ اس قانون کے مطابق گے نیوز Gay) (News کے ایڈیٹر کو وہاں کی عدالت ابتدائی نے سزا دی تھی۔ جس کی اپیل بھی کوئنز بنچ نے خارج کر دی جس کی توثیق ملکہ برطانیہ نے حال ہی میں کر دی ہے۔ پاکستان میں بلاس فیمی کی وہی تعریف آئینی اور قانونی سمجھی جائے گی جو فیڈرل شریعت کورٹ اور واضعان قانون نے متعین کر دی ہے۔ اس کی رو سے حضور رسالت مآب ﷺ اور تمام انبیائے کرام کی شان میں

صفحہ 680

گستاخی کو بلاس فیمی یعنی توہین رسالت ﷺ میں بالوضاحت بیان کردیا گیا ہے۔ تمام اسلامی ملکوں میں بلاس فیمی کی یہی تعریف ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی تمام انگریزی اور اردو زبانوں کی ڈکشنریوں اور انسائیکلوپیڈیا میں بلاس فیمی کے معنی توہین مسیح، اہانت خدا اور توہین بائبل بتلائے گئے ہیں۔ بائبل میں تو نائب رسول کی توہین کی سزا سنگساری ہے۔ مگر ایک انگریزی روزنامہ کے کسی نامہ نگار کی ایک خود ساختہ احمقانہ تعریف کو نمایاں جگہ دی گئی ہے جس میں ”سب سے بڑی بلاس فیمی“ کے معنی ”کسی بھوکے بچے کی فاقہ کشی کے ذریعہ تدریجی موت کا باعث ہونا۔“ بتلائے گئے ہیں۔ ایسی تعریف آج تک نہ کسی نے کی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ بلکہ یہ بات تمام پیروان مذہب کی دل آزاری کا باعث بھی ہے۔

اسی انگریزی روزنامہ کی ایک سروے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے بتلایا گیا ہے کہ سال 1948ء سے سال 1979ء تک گیارہ، سال 1979ء سے لے کر 1986ء تک تین، سال 1987ء سے 1999ء تک 42 اور سال 1999ء سے سال 2000ء تک 52 توہین رسالت ﷺ کے کیس رجسٹر ہوئے۔ اس رپورٹر کو یہ خبر بھی نہیں کہ سال 1948ء سے سال 1985ء تک بلاس فیمی کا قانون پاکستان میں بنا ہی نہ تھا۔ بلاس فیمی لا بنانے کا آغاز پاکستان میں سب سے پہلے راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں سال 1984ء سے توہین رسالت ﷺ پر ایک کتاب کی اشاعت سے ہوا جس پر قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں نے اس کا نوٹس لیا۔ لیکن ہمارے پیش کردہ مسودہ قانون سے کچھ اختلاف پر میں نے پہلی پیٹیشن کے تسلسل میں سال 1987ء میں فیڈرل کورٹ سے رجوع کیا جہاں 1990ء کو فیصلہ کے بعد سال 1991ء سے موجودہ قانون توہین رسالت ﷺ پاکستان میں نافذ العمل ہے۔ اس لیے یہ اخباری رپورٹ قطعاً غلط ہے کہ سال 1986ء سے پہلے پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کا قانون موجود تھا اور اس کے تحت مقدمات درج ہوتے رہے۔ استدلال کہ قانون سخت ہو جانے کی وجہ سے بلاس فیمی کے مقدمات کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمان کبھی توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ ان خیالات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اسلامی اصول فقہ کی رو سے جرم کی سنگینی کے لحاظ سے سخت سزاؤں کا قانون مقرر ہے۔ جو سزائیں حد نے کی مقرر کی ہیں، ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں۔ یہ کہنا کہ ایک مسلمان حضور ﷺ کی توہین نہیں کر سکتا، درست مگر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا

صفحہ 681

مسلمان نہیں منافق ہوتا ہے جو کفر سے بھی بدتر جرم ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ 1991ء سے ابھی تک کتنے ملزموں کی سزائے موت عدالت عالیہ نے کنفرم کی ہے۔

موجودہ صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کہ توہین رسالت ﷺ کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کی جائے جو اس بارے میں تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا حکم دے گا۔ مگر عدالت عالیہ نے انسپکٹر جنرل پولیس کو یہ حکم دیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کی رپورٹ پولیس کی بجائے دو ایسے گزیٹڈ افسروں کے سامنے پیش کی جائے جو صرف قانون اسلامی کے نہیں بلکہ اصول فقہ اسلامی سے بھی واقف ہوں اور اگر یہ دونوں ضرورت محسوس کریں تو ”ماہرین فقہ اسلامی قانون“ کی یہ ٹیم تیسرے کسی غیر متنازعہ سکالر کو بھی شامل کر لیں اور اس رپورٹ کی تحقیقات کرے۔ اگر ان کی تحقیقات میں رپورٹ درست نہ ہو تو اس کو خارج کر دیا جائے۔ اس طرح قانون ضابطہ فوجداری کی دفعات 156، 173 وغیرہ کو حذف کر کے ایک نیا ضابطہ قانون فوجداری نافذ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ایسی قانون سازی کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے۔ مقننہ کے ان اختیارات میں عدلیہ مداخلت کرنے کی مجاز نہیں۔

مذکورہ بالا فیصلہ مندرجات سے یہ مجموعی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے قانون توہین رسالت ﷺ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔ پاکستان میں امریکہ کی طرح گستاخان رسول ﷺ کو موقع مل جائے گا کہ وہ توہین رسالت کرتے چلے جائیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عدالت عالیہ نے ان کے لیے توبہ سے معافی کا دروازہ کھول دیا ہے جو اس ملک کی سلامتی کے لیے نہایت خطرناک بات ہو گی۔“

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر نہایت مستعد مجاہد ختم نبوت جناب محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے زیر نظر فیصلہ کی نقل مہیا کی جس پر وہ نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 682

بعدالت جناب گلشاد حسن علوی سپیشل جج، انسداد دہشت گردی، سرگودھا

ابتدائی معلومات

سیشن مقدمہ نمبر : 759/SC/2000 ایف آئی آر نمبر : 466/99 مورخہ 26 ستمبر 1999ء پولیس سٹیشن : سٹی خوشاب، ضلع خوشاب بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C

سرکار

بنام

محمد محبوب عرف مُوبا ولد محمد شریف، ذات بلوچ، ساکن محلہ مرکزی مسجد مین بازار، خوشاب شہر (ملزم)

وکیل منجانب سرکار: چودھری محمد عبداللہ یوسف وڑائچ، پبلک پراسیکیوٹر وکیل منجانب ملزم: مہر محمد حیات گھگھ، ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 12 نومبر 2011ء

صفحہ 683

فیصلہ

جناب گلشاد حسن علوی سپیشل جج، انسداد دہشت گردی، سرگودھا

نے ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، خوشاب کے روبرو ایک درخواست (Ex.P.B) پیش کی جسے اس نے گواہ استغاثہ نمبر 7، ذوالفقار علی، سب انسپکٹر کو قانون کے مطابق مزید کارروائی کے لیے بھجوادی۔

درخواست (Ex.P.B) کے مطابق، چار پانچ دن قبل، ملزم محمد محبوب عرف مُوبا نے جامع مسجد، مین بازار خوشاب کے صدر دروازوں اور دیواروں پر گواہ استغاثہ نمبر 5، شیخ ظہیر احمد، گواہ استغاثہ حافظ محمد اکبر (جس کی گواہی ترک کر دی گئی) اور گواہ استغاثہ نمبر 6 محمد امین کی موجودگی میں اشتہارات چسپاں کیے جن میں متذکرہ بالا ملزم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جھوٹا کہا اور حضرت محمدﷺ کے متعلق بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے، اور یوں، ملزم نے دانستہ طور پر توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مشتعل کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 7، ذوالفقار علی، سب انسپکٹر، نے درخواست (Ex.P.B) پر اپنی تحریری درخواست (Ex.P.B/2) کے ذریعے قانونی رائے طلب کی جسے اس وقت کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس، خوشاب نے اسی دن ڈی ایس پی (لیگل) کو بھجوا دیا اور پھر ڈی ایس پی (لیگل) کی رائے (Ex.P.B/3) موصول کرنے کے بعد، گواہ استغاثہ نمبر 3 ولایت حسین، اے ایس آئی نے بذریعہ ایف آئی آر (Ex.P.B/1)، مقدمہ درج کیا۔ بعد ازاں، گواہ استغاثہ نمبر 7، ذوالفقار احمد، اے ایس آئی، جو اس وقت سب انسپکٹر تھا، نے جائے وقوعہ کا

صفحہ 684

معائنہ کیا، جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.P.I) تیار کیا، وہ اشتہارات (Ex.P.D)، (Ex.P.E)، (Ex.P.F) اور (Ex.P.G) حاصل کیے اور بمطابق تحویلی میمو (Ex.P.H)، تصدیق شدہ از گواہ استغاثہ نمبر 5، شیخ ظہیر احمد مع گواہ استغاثہ حافظ محمد اکبر، اپنی تحویل میں لے لیے۔ اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات بھی قلمبند کیے۔

مورخہ 1999-09-27 کو اس نے ملزم، محمد محبوب کو گرفتار کر کے اگلے روز تین دن کے لیے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔ بعدازاں، وہ مزید تین دنوں تک ریمانڈ پر رہا۔ مورخہ 1999-10-02 کو اس نے ملزم کو جناب عابد رضوان، فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ خوشاب کے روبرو پیش کیا جس نے ملزم کی تحریر کے نمونے حاصل کیے۔ مورخہ 03-10-1999 کو ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ اپنی بہن کی آمد پر اپنی تحریرات پیش کرے گا جو اس کے لیے کھانا لا رہی ہے۔ اس دن ملزم نے اپنی تحریریں (Ex.P.J)، (Ex.P.K)، (Ex.P.L)، (Ex.P.M)، (Ex.P.N) اور (Ex.P.O) جو سبز، نیلے اور کالے رنگ کے مارکروں کے علاوہ نیلی روشنائی کے دو بال پین (P1/1-3) اور (P2/1-2) سے لکھی تھیں، پیش کیں جنہیں بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.A) تحویل میں لے لیا گیا جس کے ذریعے متذکرہ بالا تحریریں (Ex.P.J) تا (Ex.P.O)، قبضہ میں لے لی گئیں۔ اس نے اشتہارات کے مسودے بھی پیش کیے جو لکیروں کے حامل چار کاغذات پر تھے، یہ (Ex.P.Q)، (Ex.P.R)، (Ex.P.S) اور (Ex.P.T) ہیں جو بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.A) تحویل میں لے لیے گئے۔

گواہ استغاثہ نمبر 7، ذوالفقار احمد، سب انسپکٹر، نے برآمد شدہ سامان کے گواہان کے بیانات قلمبند کیے، تفتیش کے تمام مطلوبہ تقاضے مکمل کیے، ملزم کو جوڈیشل تحویل میں لے کر اس کا چالان کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 8، اختر حسین اے ایس آئی، نے فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور کے اعتراض مورخہ 2000-04-29 کے موصول ہونے پر مورخہ 2000-05-17 کو فاضل علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو درخواست (Ex.P.U) پیش کی جب تحویل میں لیے گئے ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ملزم کی آہستہ، درمیانی اور تیز رفتار تحریر کے نمونے لینے کی استدعا کی گئی جس پر فاضل مجسٹریٹ نے ملزم کی تحریر کے نمونے (مختلف رفتار میں) چھ صفحات

صفحہ 685

پر لیے جو (Ex.P.V)، (Ex.P.W)، (Ex.P.X)، (Ex.P.Y)، (Ex.P.Z) اور (Ex.P.AA) ہیں جنہیں ایک لفافے میں سربمہر کر کے اس کے حوالے کر دیا اور انہیں محمد سعید ، کانسٹیبل نمبر 262 ، کے ذریعے فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور روانہ کر دیا گیا۔ مورخہ 12-08-2000 کو اس نے فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور سے نتیجہ موصول کیا اور اسے جوڈیشل ریکارڈ کے ساتھ لف کر دیا۔

مورخہ 05-11-2001 کو ملزم محمد محبوب عرف مُوبا پر زیر دفعہ 295-A، C-295 فرد جرم عائد کر دی گئی لیکن اس نے اس جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

استغاثہ نے آٹھ گواہان استغاثہ پیش کیے جن میں سے گواہ استغاثہ نمبر 1 محمد سعید کانسٹیبل ، گواہ استغاثہ نمبر 3 ولایت الحسن اے ایس آئی ، گواہ استغاثہ نمبر 4 بشارت حسین جونیئر کلرک ڈی سی او آفس خوشاب ، رسمی گواہان ہیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، عدالت خان کانسٹیبل نمبر 29، بال پنسلوں اور مارکروں کی برآمدگی کا گواہ ہونے کے علاوہ ریکوری میمو (Ex.P.A) کا دستخط کنندہ ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 5، ظہیر احمد نے وقوعہ کے چشم دید گواہ کی حیثیت سے بیان دیا کہ ملزم نے جامع مسجد ، مین بازار خوشاب کے صدر دروازے اور دیواروں پر اشتہارات چسپاں کر دیے جو اس نے 22-09-1999 سے چار پانچ دن قبل اپنے ہاتھ سے لکھے تھے جن میں اس نے یہ لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جھوٹ بولتے تھے اور وہ اشتہارات (Ex.P.D)، (Ex.P.E)، (Ex.P.F)، (Ex.P.G) ہیں۔ یہ اشتہارات اس کی موجودگی میں بمطابق ریکوری میمو (Ex.P.H) تحویل میں لے لیے گئے اور اس نے اس کی تصدیق مع گواہ استغاثہ حافظ محمد اکبر کے کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 6 مدعی ڈاکٹر محمد امین نے اس امر کی تصدیق کی کہ اس نے ایس ایچ او خوشاب کے روبرو ایک درخواست (Ex.P.B) پیش کی اور مزید یہ کہا کہ ملزم نے اشتہارات چسپاں کیے جس طرح درخواست میں ذکر کیا گیا ہے، جن میں لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دفعہ جھوٹ بولا اور حضرت محمد ﷺ کا ذکر ........................................ کے ساتھ کیا جو توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ تین چار دن تک ملزم کو یہ نصیحت کرتا رہا کہ وہ معافی طلب کرے اور دوبارہ اسلام قبول کر لے لیکن ملزم نے اس کی

صفحہ 686

ایک نہ سنی، پھر اس نے ایک درخواست (Ex.P.B) پیش کی۔ اس نے مزید کہا کہ پولیس نے ان اشتہارات کو دوبارہ چسپاں کر دیا اور ان کے بیانات قلمبند کیے اور ملزم کو بھی گرفتار کر لیا۔ ملزم کی طرف سے یہ اشتہارات چسپاں کرنے کے باعث اس کے علاوہ دیگر مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھی مجروح ہوئے۔

گواہ استغاثہ نمبر 7 ، ذوالفقار احمد ، اے ایس آئی اور گواہ استغاثہ نمبر 8 ، اختر حسین ، اے ایس آئی نے تفتیش کے متعلق بتایا اور متذکرہ بالا احوال کی تصدیق کی۔

چودھری محمد عبداللہ یوسف وڑائچ ، فاضل پبلک پراسیکیوٹر نے اپنے بیان مورخہ 06-11-2001 کے ذریعے گواہ استغاثہ حافظ محمد اکبر کی گواہی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ترک کر دیا۔ ثبوت کے طور پر فرانزک سائنس لیبارٹری ، (Ex.PBB) کی رپورٹ پیش کی اور استغاثہ کی طرف سے کارروائی ختم کر دی۔

زیردفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم پر جرح کی گئی جس نے استغاثہ کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ گواہان استغاثہ کے ساتھ ذاتی دشمنی اور فقہی مسائل پر مذہبی جھگڑے کے باعث اسے غلط طور پر مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے، اس لیے انہوں نے اس کے خلاف گواہی دی۔ اس نے کہا کہ وہ بے قصور ہے۔ ملزم نے زیر دفعہ (2)340، مجموعہ ضابطہ فوجداری مطلوبہ بیان حلفی دینے سے انکار دیا، نیز اس نے اپنے حق میں کسی گواہ کو بھی پیش نہیں کیا۔

دلائل سماعت کیے گئے ، ریکارڈ ملاحظہ کیا گیا۔

استغاثہ نے ملزم کا جرم ثابت کرنے کی خاطر چشم دید گواہ کی گواہی، برآمدگی کے گواہ کی گواہی کے علاوہ فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ بھی پیش کی۔ اب قابل تعین نکات یہ ہیں کہ کیا استغاثہ، ملزم کو اس لحاظ سے مجرم ثابت کر سکا ہے کہ اس نے متذکرہ بالا اشتہارات چسپاں کیے اور وہ اشتہارات اس کی لکھائی میں تھے اور برآمد شدہ اشتہارات جو دوران تفتیش ملزم سے برآمد کیے گئے ، کیا یہ اشتہارات ملزم کی اپنی لکھائی میں تھے؟ مزید کیا یہ اشتہارات ، مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے اور توہین رسالت ﷺ کے ارتکاب کی ذمہ داری ملزم پر عائد کرتے تھے۔

فاضل پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ اشتہارات ، گواہ استغاثہ نمبر 5 ظہیر احمد اور گواہ استغاثہ نمبر 6 مدعی ، ڈاکٹر محمد امین ، کی موجودگی میں چسپاں کیے گئے جنہوں نے اس حقیقت کی

صفحہ 687

تصدیق کی۔ اشتہارات کو دوبارہ چسپاں کیا گیا اور انہیں، ذوالفقار احمد، اے ایس آئی نے اپنے قبضے میں لے لیا اور واقعہ کے گواہ استغاثہ نمبر 5، گواہ استغاثہ نمبر 6 اور گواہ استغاثہ نمبر 7 نے تصدیق کی۔ ملزم کی طرف سے بذات خود لکھے گئے دیگر اشتہارات اس کی ہمشیرہ کے ذریعے اس سے مع سبز، نیلے اور سیاہ رنگوں کے مارکروں کے علاوہ بال پن اور پنسلیں اس سے برآمد کی گئیں۔ نہ صرف یہ اشتہارات بلکہ ان کے مسودے بھی دوران تفتیش ملزم سے برآمد کیے گئے جنہیں تحویل میں لے لیا گیا اور گواہان استغاثہ نے ان کی برآمدگی کی توثیق کی۔

فاضل پبلک پراسیکیوٹر نے ملزم کی طرف سے توہین رسالتﷺ کے علاوہ توہین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ارتکاب کو ثابت کرنے کی خاطر قرآن پاک کی سورہ الانبیا کی آیت 59، سورہ الصافات کی آیت 89، سورہ احزاب کی آیت 22 اور سورہ انعام کی آیت 91 کا حوالہ دینے کے علاوہ معارف القرآن، جلد ششم، صفحہ 195 اور 197 از مولانا مفتی محمد شفیع کا حوالہ دیا۔

فاضل وکیل صفائی نے اپنا یہ موقف پیش کیا کہ گواہ استغاثہ نمبر 5 اور گواہ استغاثہ نمبر 6 کی طرف سے ٹھوس ثبوت کی تصدیق، ٹھوس نکات کے لحاظ سے قطعی ناقص ہے کیونکہ یہ گواہان قابل بھروسا نہیں۔ نیز یہ حقیقت بھی محل نظر ہے کہ اشتہارات جو دوبارہ چسپاں کیے گئے، وہ فوٹو کاپیاں تھیں۔ جرم زیردفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، قابل سماعت نہیں اور پولیس نے دفعہ 156(3) مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کے مطابق عمل نہیں کیا اور زیر دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری، کوئی بھی عدالت اس جرم کی سماعت نہیں کر سکتی۔ ملزم کی تحریریں، فاضل علاقہ مجسٹریٹ نے، ان اشتہارات کی تحریروں کے مطابق حاصل کیں اور اس طرح فاضل مجسٹریٹ اور پولیس بھی اسی جرم کی مرتکب ہوئی۔ مارکر اور بال پوائنٹ عام قسم کے تھے اور بازار سے آسانی سے خریدے جاسکتے تھے۔ گواہ استغاثہ نمبر 2، عدالت خان کانسٹیبل نے بھی بتایا کہ کسی نے یہ چیزیں پیش کیں اور یہ کہ برآمد کی گئی چیزوں کا تعلق جرم کے ارتکاب سے جوڑا نہیں جاسکتا۔ فاضل وکیل نے تفسیر معارف القرآن کا حوالہ دیا اور جلد ششم کے انہی صفحات 195 اور 197 پر انحصار کیا۔ اس نے پر زور انداز میں موقف اختیار کیا کہ ملزم نے اشتہارات میں یہ کبھی نہیں کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، جھوٹے تھے اور صرف یہ کہا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا۔ اس کا یہ فعل ملزم کی کم علمی کی وجہ سے ہو سکتا

صفحہ 688

ہے، اس کے برے اور مکروہ ارادے کے باعث نہیں ہو سکتا۔ مدعی نے یہ تسلیم کیا کہ اپنی درخواست (Ex.P.B) میں اس نے اشتہارات کی اس زبان کا ذکر نہیں کیا جو گستاخانہ اور اہانت آمیز تھی۔

فاضل وکیل صفائی نے مزید دلیل دی کہ نبی اکرم ﷺ نے اسلام میں اختلاف رائے کی پذیرائی کی ہے۔ طے شدہ طور پر ملزم ایک مسلمان ہے اور اس نے توہین رسالت کا ارتکاب نہیں کیا۔ وکیل صفائی نے مقدمہ 1997 MLD 1228, 1995 P.Cr.L J 811 کے حوالہ جات پیش کیے اور استدعا کی کہ استغاثہ کسی معقول اور مناسب شک وشبہ کے بغیر ملزم کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور اسے بری کیا جائے۔

ریکارڈ کے ملاحظہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کے خلاف زیردفعہ 295-A اور 295-C تعزیرات پاکستان، فرد جرم عائد کی گئی۔ زیردفعہ 295-A فرد جرم، دہری نوعیت کی حامل تھی، ایک کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توہین سے تھا جس کے باعث مسلمانوں کے احساسات بھڑک اٹھے اور دوسرے پہلو کا تعلق ملزم کی طرف سے چسپاں کیے گئے اشتہارات میں نبی اکرم ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کرنے کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے بتوں کو توڑنے کے واقعہ کا ذکر قرآن پاک کی سورہ الانبیاء کی آیات 57 تا 72 میں موجود ہے۔ تفسیر معارف القرآن جلد ششم (صفحہ 194، 195 اور 197) از مولانا مفتی محمد شفیعؒ کے مطابق اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، نے ایک بڑے بت کے علاوہ تمام بت توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تاکہ طنزیہ انداز میں کہا جائے کہ جب لوگ بت توڑنے کے متعلق استفسار کریں تو پھر انہیں یہ شک ہو کہ اس تمام واقعہ کا ذمہ دار بڑا بت ہے جس سے بڑے بت کی بے بسی ظاہر ہو جاتی۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتوں کے ٹوٹنے کے متعلق پوچھنے کے لیے طلب کیا گیا تو لوگوں کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ تم لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ کام ان کا نہیں بلکہ ان کے بڑے بت کا ہے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ حرکت کرنے کے قابل ہے اور بول سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں، تو پھر بڑا بت کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھا اور وہ اللہ کی عبادت کرنے کے بجائے بتوں کی عبادت کرتے تھے اور یہ بت انہیں کچھ فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مولانا مفتی محمد

صفحہ 689

شفیع نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑنے سے انکار نہیں کیا۔ لیکن صفحہ نمبر 195 پر مزید لکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑنے کے متعلق جھوٹ نہیں بولا بلکہ انہوں نے استعارہ استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بہتان طرازی کی گئی لیکن حضرت خلیل اللہ نے جھوٹ نہیں بولا اور ان کی شخصیت ایسی کسی بھی چیز سے ماورا تھی۔ تفسیر تفہیم القرآن از مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جلد سوم صفحہ 166 اور 167 پر قرآن پاک کی سورہ الانبیا کی 59 تا 60 آیات کی تشریح کی گئی، انہوں نے بھی یہ رائے دی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے طنزیہ انداز میں بڑے بت کی طرف اشارہ کیا۔ اس لیے اگر وہ بت خدا ہوتے، تو پھر بڑے بت پر شک کرتے کہ شاید وہ چھوٹے بتوں سے ناراض ہو گیا ہے اس نے انہیں تباہ کر دیا ہے۔ تاہم صفحہ 167 پر ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹ کے متعلق بحث کی گئی اور یہ رائے دی گئی کہ اس قسم کی حدیث درست نہیں ہو سکتی۔ اس تناظر میں سورہ الصافات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے بتوں کو توڑنے کے متعلق آیت 83 تا 101 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں متعلقہ آیت 89 ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ میں بیمار ہوں“۔ بیماری کے اس معاملے کو ملزم کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے جھوٹ بولنے پر محمول کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیماری کے واقعہ کے متعلق مندرجہ بالا حدیث پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے تفہیم القرآن کے صفحہ نمبر 167 پر بحث کی ہے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن نے قرآن کریم کا جو ترجمہ کیا اور اس کی تفسیر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے کی، میں اس آیت کا یوں ترجمہ کیا گیا:

”پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (بیمار ہوں)“

لیکن تفسیر کے مطابق، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ نہیں بولا لیکن اس کے باوجود، سورہ الصفات کی آیت 89 کی تشریح، بتوں کو توڑنے کا واقعہ اور لوگوں سے کہنا کہ اس ضمن میں بڑے بت سے پوچھیں، اگر یہ سب کچھ اشتہارات کی تحریر میں نظر آتا، ملزم نے غیر مبہم انداز میں نہیں کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا بلکہ صرف یہی کہا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جھوٹ تھا۔ فاضل وکیل صفائی نے یہ بھی دلیل دی کہ یہ سب کچھ ملزم کی لاعلمی

صفحہ 690

یا کم علمی کے باعث ہو سکتا ہے۔ ان حالات کے تحت، شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے گواہان استغاثہ کی گواہی میں تضاد کے متعلق بھی بتایا۔ گواہی کے جائزے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 5 اور گواہ استغاثہ نمبر 6 کی گواہی میں صرف ایک تضاد ہے جو ان گواہان استغاثہ کے ساتھ ملزم کے نماز پڑھنے کے متعلق تھا کیونکہ گواہ استغاثہ نمبر 5 نے دورانِ جرح یہ تسلیم کیا کہ ملزم ان کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا لیکن گواہ استغاثہ نمبر 6، مدعی نے اس کی تردید کی۔ اس کے علاوہ، یہ دونوں گواہان استغاثہ، باہم قطعی متفق ہیں کہ ملزم نے یہ اشتہارات جامع مسجد مین بازار خوشاب کے صدر دروازے اور دیواروں پر چسپاں کیے تھے جو گواہ استغاثہ نمبر 7، سب انسپکٹر ذوالفقار نے دوبارہ چسپاں کیے تھے۔ گواہ استغاثہ نمبر 5، ریکوری میمو (Ex.P.H) کا دستخط کنندہ ہے جس کے ذریعے اشتہارات (Ex.PD)، (Ex.PE)، (Ex.PF)، (Ex.PG) اور (Ex.PH) کو تحویل میں لیا گیا۔ اس امر کا ذکر قابل اہمیت ہے کہ استغاثہ کی طرف سے تغافل کے باعث یہ اشتہارات، گواہ استغاثہ نمبر 5، ظہیر احمد کی گواہی میں مذکور نہیں کیے جا سکے اور ان کا ذکر گواہ استغاثہ نمبر 7، ذوالفقار سب انسپکٹر، حال اے ایس آئی کی گواہی میں کیا گیا۔ ملزم کا عقیدہ متنازع نہیں، اس لیے، ملزم کی طرف سے ان گواہان استغاثہ کے ساتھ ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرنے کے متعلق بیان، اگرچہ متناقض ہے لیکن استغاثہ کے لیے اہم نہیں کیونکہ یہ گواہان استغاثہ آزاد ہیں، ملزم کے ساتھ کسی بھی عداوت یا مذہبی دشمنی سے ماورا ہیں، اس لیے، یہ گواہان استغاثہ عین اسی طرح قابل اعتبار ہیں جس طرح اشتہارات (Ex.P.D) تا (Ex.P.G) کے چسپاں کرنے کے عینی شاہد قابل اعتبار ہیں، نیز گواہ استغاثہ نمبر 7 کی طرف سے اشتہارات اتارنے اور انہیں اپنی تحویل میں لینے کے ضمن میں قابل اعتبار ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ملزم نے یہ اشتہارات چسپاں کرنے کے ذریعے توہین رسالتﷺ کا ارتکاب کیا یا نہیں اور مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچائی یا نہیں۔ اشتہارات (Ex.PE) سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے حضرت محمدﷺ کو 'رسول اللہ' کے بجائے 'ولی اللہ' کہا۔ مسلمانوں کے مطابق، بہت سے اولیائے اللہ ہیں اور مولا بخش بنام شاروق پی ایل ڈی 1952ء سندھ 54 میں یہ کہا گیا کہ ”کوئی بھی عدالت مذہبی عقیدے کے اخلاص کو جانچ نہیں سکتی اور یہ تعین کرنا کہ ایک شخص سنی مسلمان ہے تو پھر عدالت کی طمانیت کے لیے

صفحہ 691

یہی کافی ہے کہ وہ سنی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔ کسی بھی عدالت کے لیے ایک شخص کے ذہنی رجحان اور مذہبی عقیدے کے متعلق استفسار ناممکن ہے جو کسی بھی خاص عقیدے کے حامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ نیز عدالت کے لیے یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ استفسار کرے کہ کیا اس کا عملی عقیدہ، اس خاص عقیدے کے قدیم عقائد کے مطابق ہے یا نہیں، 'لیکن عطیہ وارث بنام سلطان احمد خان کے مقدمہ PLD 1959 (W.P) LAHORE 205 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’’یہ شریعت کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ ایک شخص جس نے ایک دفعہ بھی کلمہ پڑھ لیا، اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہے اور اس کا یہ بھی ایمان ہے کہ نبی اکرم ﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور وہ خود کو مسلمان کہتا ہے، اسے عین اسی طرح قبول کر لینا چاہیے۔‘‘ بلاشبہ، عدالت، ملزم کے عقیدے کا تعین نہیں کرسکتی، تاہم، (Ex.P.E) سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو حضرت محمد ﷺ پر رسول اللہ کے طور پر ایمان نہیں بلکہ اس نے آپ ﷺ کو ’’ولی اللہ‘‘ لکھا۔ حضرت محمد ﷺ، اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں جس کا اظہار پہلے اور دوسرے کلمے سے ہوتا ہے۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ’ولی اللہ‘ نہیں بلکہ اپنا ’رسول‘ اور ’نبی‘ بھی قرار دیا۔ اس قسم کی چند آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، مثلاً سورہ الاحزاب آیت نمبر 22، سورہ محمد آیت نمبر 32-33، سورہ المجادلہ آیت نمبر 20-21، سورہ الحشر آیت نمبر 7-8، سورہ المائدہ آیت نمبر 92، نیز اس سورہ کی آیات 55-56 بھی اسی حقیقت کی عکاس ہیں۔ اس اشتہار میں، ملزم نے یہ بھی لکھا کہ اسلام کی تکمیل کے وقت ’وحی‘ کا سلسلہ رک گیا چونکہ حضرت محمد ﷺ نے اُس وقت کچھ معاملات میں کچھ انوکھا اور منفرد رویہ اختیار کیا تھا۔ ملزم نے بھی سورہ توبہ کی آیات 43 اور 80، سورہ القصص کی آیت 56، سورہ الاحزاب کی آیات 37، 38، سورہ التحریم کی آیت 1، سورہ العبس کی آیات 1 تا 16 کا حوالہ دیا۔ ان میں سے کسی بھی آیت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ملزم کی طرف سے جس موقع کا ذکر کیا گیا، اس کے بعد ’وحی‘ کا سلسلہ رک گیا۔ اشتہار (Ex.P.F) میں ملزم نے یہ لکھا کہ حضرت محمد ﷺ کے عاشق حضرت علیؓ، دیگر ولی اللہ، زندہ پیر اور ................................... خالق کی طرف سے شدید محبت کے ساتھ اپنی حکمت سے تخلیق شدہ حق کو پسند نہیں کرتے تاکہ اس کا ہر بندہ شیطان کی عبادت سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ اس نے عوام الناس کے علاوہ مذہب سے متعلقہ محکمہ پر بھی تنقید کی اور ان پر طنز کے تیر برسائے۔ (Ex.P.G) میں، ملزم نے حضرت محمد ﷺ کو دوبارہ ’ولی اللہ‘ کہا۔

صفحہ 692

دیگر اشتہارات (Ex.P.J)، (Ex.P.K)، (Ex.P.L)، (Ex.P.M)، مع مسودہ جات، (Ex.P.Q)، (Ex.P.R)، (Ex.P.S) اور (Ex.P.T)، ملزم کی ہمشیرہ کے ذریعے اس سے برآمد ہوئے لیکن استغاثہ گواہ نمبر 7، ذوالفقار، تفتیشی افسر کے سوا کوئی اور ثبوت نہیں اور برآمدگی کے گواہ، عدالت خان کانسٹیبل نمبر 29 نے اس ضمن میں ایک بھی لفظ نہیں کہا، اگرچہ اس نے مارکروں (P1/1-3)، بال پوائنٹ (P/2/1-2) کے متعلق کہا لیکن اس نے یہ تصدیق نہیں کی کہ یہ چیزیں، ملزم کی ہمشیرہ یا اس کی بہن کے ذریعے ملزم سے برآمد ہوئیں۔ اس لیے یہ برآمدگیاں اس قسم کی نوعیت کی حامل نہیں کہ جن پر انحصار کیا جا سکے، اس لیے، اس کے متعلق بحث کی ضرورت نہیں۔

فاضل وکیل صفائی نے یہ موقف اختیار کیا کہ جرم زیردفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، قابل دست اندازی پولیس نہیں۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری کے قواعد بھی اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔ پی ایل ڈی 1978ء لاہور صفحہ 1082 میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان کے مقدمات میں عدالت کو شکایت کے مقدمات کی سماعت کرنے سے روکتی ہے لیکن یہاں جرم کا ارتکاب زیردفعہ 295-C تعزیرات پاکستان بھی ہوا جو قابل دست اندازی پولیس ہے، اس لیے پولیس مجموعہ ضابطہ فوجداری دفعہ 156(3) کو مدنظر رکھے بغیر مقدمہ ہذا کی تفتیش کر سکتی تھی اور عدالت ہذا، زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کی طرف سے چالان کا مقدمہ کیے بغیر اس کی سماعت کر سکتی تھی۔

یہ موقف کہ ملزم مسلمان ہے، پر استغاثہ نے اعتراض نہیں کیا۔ 1997ء ایم ایل ڈی 1228 پشاور میں گواہان استغاثہ کی گواہی میں موادی تضادات تھے لیکن مقدمہ ہذا میں صرف ایک تضاد تھا جس کا ذکر اوپر کیا گیا جو اہم نہیں تھا۔ یہ استغاثہ کے متعلق خواہ مخواہ کا اعتراض نہیں ہے کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ استغاثہ پر عائد ہوتی ہے اور شک کا فائدہ اگر کوئی ہے، تو یہ ایک حق کے طور پر ملزم کو دینا چاہیے۔ 1995 پی ایل جے 811 لاہور، بعنوان سلامت مسیح و دیگر بنام سرکار، میں ملزمان کی طرف سے لکھے گئے الفاظ نہ ہی ایف آئی آر میں درج کیے گئے اور نہ ہی عدالت میں گواہان استغاثہ نے کہے لیکن یہ مقدمہ ان منفرد حقائق کے باعث استثنائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مقدمہ ہذا میں ملزم

صفحہ 693

کی طرف سے چسپاں کیے گئے اشتہارات، دوبارہ چسپاں کیے گئے اور انہیں تحویل میں لیا گیا جو جوڈیشل فائل میں موجود ہیں اور (Ex.P.D) تا (Ex.P.G) ، جوڈیشل رپورٹ کا حصہ ہیں اور ان پر اس سے قبل بحث کی جاچکی ہے، اس لیے، مدعی کا یہ اعتراف کہ اس نے اپنی درخواست (Ex.P.B) میں ملزم کی طرف سے اشتہارات میں استعمال کیے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا ذکر نہیں کیا، ان اشتہارات (Ex.P.D) تا (Ex.P.G) کی تحویل میں لینے کے پیش نظر ، خاص طور پر اس وقت جب ایف آئی آر، ثبوت کا اہم اور ٹھوس حصہ نہیں، استغاثہ کے مقدمہ پر منفی انداز میں اثر انداز نہیں ہوتا۔

مقدمہ کے اندراج کی درخواست (Ex.P.B) دینے سے چار پانچ دن پہلے وقوعہ رونما ہوا۔ گواہ استغاثہ نمبر 6 ، مدعی ، محمد امین نے دورانِ جرح وضاحت کی کہ وہ ملزم سے معافی طلب کرنے اور اسلام کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہتا رہا لیکن اس نے ایک نہ سنی، اس لیے، اس نے درخواست دی۔ تفتیشی افسر نے یہ معاملہ قانونی رائے کے حصول کے لیے ایس ایس پی (لیگل) کے سپرد کر دیا جس نے اسے ڈی ایس پی (لیگل) کو بھیج دیا۔ چنانچہ ڈی ایس پی (لیگل) کی رائے کی روشنی میں مورخہ 1999-09-26 کو ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ ریاض احمد بنام سرکار ، پی ایل ڈی 1994 لاہور 485 میں یہ فیصلہ دیا گیا کہ جہاں واقعاتی شہادت یا برآمدگی ملوث نہ ہو اور اس کا انحصار مدعی اور تین چشم دید گواہوں کی طرف سے پیش کی گئی گواہی پر ہو، تو پھر معاملے کے متعلق پولیس کو مطلع کرنے میں تاخیر ، استغاثہ کے مقدمے پر شک کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ میں ، مقدمہ ہذا کے حوالے سے یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ ملزم کی شناخت شک کی حامل نہیں تھی کیونکہ یہ وقوعہ دن دہاڑے پیش آیا تھا اور ملزم کو ان چشم دید گواہوں کی طرف سے جرم کا مرتکب ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا جو آزاد گواہ تھے اور ملزم کو حقیقی مجرم ثابت کرنے میں کوئی امر مانع نہ تھا، تب، مندرجہ بالا حالات کے پیش نظر تاخیر کی وجہ گواہ استغاثہ نمبر 6 نے پیش کی اور تفتیشی افسر کی طرف سے اختیار کردہ طریقہ ، یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھا کہ یہ تاخیر استغاثہ کے مقدمہ کی نوعیت کے لیے نقصان دہ نہیں تھی۔

فاضل وکیل صفائی کا موقف تھا کہ اشتہارات (Ex.P.D) تا (Ex.P.G) ، فوٹو کاپیاں تھیں اور فاضل مجسٹریٹ مع تفتیشی افسر ، نے یہی چیز ملزم کی طرف سے قلمبند کی کہ جس طرح اشتہارات میں تھی، تاکہ اس کی لکھائی کے نمونے حاصل کیے جائیں، قابل اہمیت

صفحہ 694

نہیں چونکہ لکھائی کا یہی نمونہ لیا جانا تھا جو اشتہارات کی تحریریں تھیں کیونکہ نمونہ کا تقابل اسی کے ساتھ کیا جانا تھا۔ فاضل مجسٹریٹ اور پولیس نے اس قسم کے کسی بھی ارادے کے بغیر اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے کوئی جرم نہیں کیا۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ (Ex.P.BB) بھی مثبت ہے۔ مزید برآں، یہ موقف کہ (Ex.P.D) تا (Ex.P.G)، فوٹو کاپیاں تھیں، جن کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ریکارڈ میں سے حذف کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود قانون یہ نہیں کہتا کہ صرف تحریر کنندہ ہی ذمہ دار ہے لیکن دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی زبانی یا تحریری یا پھر واضح حرکات وسکنات کے ذریعے، اس دفعہ کے تحت جرم کا ارتکاب کرتا ہے، وہ قابل مستوجب سزا ہوگا۔ ملزم کی طرف سے دیواروں پر ان اشتہاروں کو چسپاں کرنے کا فعل، اس قسم کے الفاظ کا واضح اظہار تھا اور اس کا یہ فعل اسے مجرم قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ اس امر کا اظہار بھی اہم ہے کہ ایک سوال اگرچہ اٹھایا نہیں گیا لیکن اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ فاضل مجسٹریٹ کے متعلق کافی ثبوت موجود نہیں کہ اس نے ملزم کی لکھائی کے نمونے حاصل کیے بلکہ یہ کہنا کافی ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 7 ذوالفقار اے ایس آئی اور گواہ استغاثہ نمبر 8 اختر حسین، اے ایس آئی نے اس حقیقت کی تصدیق کی اور اس پر ملزم کی طرف سے اعتراض نہیں کیا گیا کہ اس کی لکھائی کا نمونہ، فاضل مجسٹریٹ نے نہیں لیا۔ مزید برآں، عدالت کے فرائض درست تصور کیے جاتے ہیں جو باقاعدگی اور سرکاری طور پر ادا کیے جاتے ہیں جیسا کہ قانون شہادت 1984ء کی دفعہ 129 کی دفعہ ’’ای‘‘ سے واضح ہو جاتا ہے۔ یہاں اس امر کا اظہار بھی اہم ہے کہ ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری اپنے بیان میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس کے دباؤ کے تحت اس سے تحریریں حاصل کی گئیں جب وہ پولیس کی تحویل میں تھا۔ اس کا یہ موقف قطعی طور پر بعد از وقت سوچا سمجھا منصوبہ ہے کیونکہ اس قسم کا کوئی سوال گواہ استغاثہ 7 اور گواہ استغاثہ نمبر 8 سے نہیں پوچھا گیا۔

اشتہارات (Ex.P.E)، (Ex.P.F) اور (Ex.P.G) چسپاں کرنے کے ذریعے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، ملزم کے خلاف کافی ثبوت مہیا ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہاں صرف تین گواہان استغاثہ تھے جنہوں نے پولیس کے روبرو بیان کیا کہ مذہبی احساسات بھڑک اٹھے، اگرچہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ A-295، پاکستان کے کسی بھی

صفحہ 695

شہری کے متعلق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس دفعہ کا بغور مطالعہ یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ ملزم کی طرف سے مذہبی احساسات بھڑکانے کا ارادہ، دانستہ اور اس کے مکروہ عزائم کا مظہر تھا، تعین کرنے کا یہی معیار ہے۔ مقدمہ ہذا میں ملزم نے جامع مسجد مین بازار خوشاب کے صدر دروازے اور دیواروں پر اشتہارات چسپاں کیے، اس لیے، اس کا مکروہ، بدنیت اور دانستہ فعل عیاں ہے۔ مزید برآں، دفعہ A-295 تعزیرات پاکستان یہ نہیں کہتی کہ اگر پاکستان کے شہری کے ایک طبقے کے مذہبی احساسات مشتعل ہوئے، تو پھر محض ملزم ہی جرم کا مرتکب ہونے کا ذمہ دار ہے لیکن ملزم کی طرف سے اس قسم کا ارادہ اور نیت، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، ملزم کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ لفظ بے حرمتی اور دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کو ریاض احمد بنام سرکار، پی ایل ڈی 1994 لاہور 485 پیرا 15 اور صفحہ 514 اور پیرا 16 میں یوں بیان کیا گیا ہے:

بنانا، آلودہ کرنا، داغ لگانا، بے وقار کرنا ہے"۔ (Black's Law Dictionary، ایڈیشن پنجم، صفحہ 380) ”تقدس یا احترام کی خلاف ورزی؛ بے ادبی کرنا، ناپاک کرنا، عزت کو دھبہ لگانا، بے وقار کرنا۔“ (دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری، جلد سوم، صفحہ 136)

سے ادا کیا گیا یا تحریر کیا گیا یا پھر واضح اظہار یا پھر کوئی ایسا بہتان جس کے ذریعے براہ راست یا پھر اشارۃً کنایۃً یا طنز کے ذریعے نبی اکرمﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی ہوتی ہو، یہ فعل دفعہ C-295 کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

جہاں تک مقدمہ ہذا کا تعلق ہے، ملزم نے نبی اکرمﷺ کے متعلق 'رسول اللہ' کے بجائے ”ولی اللہ“ لکھنے کے ذریعے آپﷺ کی بے حرمتی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی (نعوذ باللہ من ذالک)۔ اس طرح جرم، زیر دفعات A-295 اور C-295 تعزیرات پاکستان، بلا کسی شک کے ثابت ہو چکے ہیں۔ اس لیے، ملزم، محمد محبوب عرف مُوبا کو زیر دفعہ A-295 تعزیرات پاکستان، مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے دس برس قید بامشقت (دفعہ 382۔ بی مجموعہ ضابطہ فوجداری کے شک کے فائدے کے ساتھ) دی جاتی ہے۔ اسے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان میں بھی مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے سزائے موت کے

صفحہ 696

ساتھ مبلغ پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید دو برس قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ اسے اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے گا۔ تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی۔ فیصلہ کی ایک نقل، مجرم کو مفت مہیا کی گئی ہے۔ اسے سزا بھگتنے کے لیے جیل بھیجا جا رہا ہے۔ اس کا ریکارڈ تین روز کے دوران معزز عدالت عالیہ، لاہور کو بھیجا جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ گلشاد حسن علوی 12 نومبر، 2011ء سپیشل جج عدالت انسداد دہشت گردی، سرگودھا

۞.......۞.......۞

صفحہ 697

جناب چودھری ایم ممتاز حسین ایڈیشنل سیشن جج جہلم

سرکار بنام محمد اسحاق، جنوری 2012ء

صفحہ 698
صفحہ 699

دل کی بات

اس مقدمہ کے حالات و واقعات کچھ اس طرح ہیں کہ 7 جولائی 2009ء کو تلہ گنگ ضلع چکوال کے ایک دربار میں ایک مذہبی اجتماع منعقد ہوا جہاں ایک شخص محمد اسحاق جو خود کو نام نہاد پیر اور صوفی کہلواتا تھا، کی سرپرستی میں ایسے غیر شرعی افعال انجام دیئے گئے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ اجتماع سے اگلے روز علماء کرام اور معززین نے ایک میٹنگ میں صوفی اسحاق سے ملاقات کرنے اور اپنے جذبات اس تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اسی دن ملزم اسحاق سے ملاقات کی گئی۔ متنازعہ امور سے متعلق ملزم کے علم میں تمام حقائق و واقعات لائے گئے۔ ملزم نے سب لوگوں کی موجودگی میں برملا کہا کہ جو لوگ اُسے ”سجدہ“ کرتے ہیں، ممکن ہے انہوں مجھ میں ”خدا“ دیکھا ہو۔ اگر لوگ اسے ”یا رسول اللہ“ پکارتے ہیں تو یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ اس نے اپنی گفتگو میں کہا کہ کہیں بھی حتیٰ کہ ”بیت الخلاء“ میں بھی سجدہ ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے حتیٰ کہ بعض اوقات امریکہ میں بھی ہوتا ہے اور اس محفل میں بھی موجود ہے۔ اس نے مزید کہا کہ قادیانی غیر مسلم نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمانوں کی ہی ایک حصہ ہیں۔ ملزم اسحاق کی اس متنازعہ اور دل آزار گفتگو کے بعد اس کے خلاف 8 جولائی 2009ء کو پولیس اسٹیشن تلہ گنگ میں درخواست دی گئی جس پر ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے اور سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تقریباً اڑھائی سال تک محترم چودھری ایم ممتاز حسین ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ استغاثہ نے دلائل اور حقائق کے ساتھ اپنا مقدمہ ثابت کر دیا۔ چنانچہ 30 جنوری 2012ء کو محترم جج صاحب نے ملزم کو اس مقدمہ میں سزائے موت اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ کے آخر میں بڑی ایمان افروز بات لکھی۔ ملاحظہ کیجیے:

صفحہ 700

الرحیم، الملک، العزیز، الظاہر، الخالق، الغفور، العادل، العظیم، الغفور، الکبیر، الحق، القوی، الحی، القیوم، الاحد، الصمد، المتعالی، البر، التواب، المقسط، الباقی ہے جس نے مجھے یہ مقدمہ صبر و تحمل سے سننے اور اس کا فیصلہ کرنے کا حوصلہ بخشا۔ اس فیصلہ کے آخر میں، میں اس آیت ’’اور ہم نے بلند کر دیا آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو۔‘‘ (الانشراح: 5) کے ساتھ، اپنی اور اپنی ٹیم کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں درود و سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘

منکسر المزاج مجاہد ختم نبوت جناب ملک خالد مسعود ایڈووکیٹ نے اس فیصلہ کی نقل فراہم کی جس پر وہ بے حد شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 701

بعدالت جناب چودھری ایم ممتاز حسین، ایڈیشنل سیشن جج، جہلم

حال مقیم اڈیالہ جیل، راولپنڈی

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 32/16/39، سال 2009/2011ء سیشن مقدمہ نمبر : 24/2010 ایف آئی آر نمبر : 106 بتاریخ 8 جولائی 2009ء پولیس سٹیشن : سٹی تلہ گنگ ضلع چکوال بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C

سرکار

بنام

محمد اسحاق ولد محمد انور، ذات اعوان، عمر 62 سال، ساکن تلہ گنگ، ضلع چکوال

(ملزم)

وکیل منجانب ملزم: چودھری محمود اختر خان، ایڈووکیٹ وکیل منجانب مدعی: ملک محمد کبیر، ایڈووکیٹ وکلاء منجانب سرکار: میاں محمد طفیل، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر

تاریخ فیصلہ: 30 جنوری 2012ء

صفحہ 702

فیصلہ

جناب چودھری ایم ممتاز حسین ، ایڈیشنل سیشن جج ، جہلم

حقائق کے مطابق ایف آئی آر نمبر 106 مورخہ 2009-07-08 مندرج بر پولیس سٹیشن سٹی تلہ گنگ ضلع چکوال زیر دفعات 295-A ، 295-C ، ملزم کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے لیے ضلع چکوال کی طرف سے مقدمہ سے دستبرداری کے بعد معزز عدالت عالیہ لاہور کی طرف سے عدالت ہذا کو مندرجہ بالا ملزم کے خلاف مقدمہ کی کارروائی تفویض کی گئی۔

295-C ، 295-A تعزیرات پاکستان ایک ایف آئی آر پولیس سٹیشن سٹی تلہ گنگ کی طرف سے درج کی گئی جس کے مطابق مدعی اسد اللہ نے الزام عائد کیا کہ مورخہ 2009-07-07 کو رات گئے ایک محفل (مذہبی اجتماع)، دربار قلندریہ، قتلیہ سلطان روڈ نزد فاروق اعظم مسجد تلہ گنگ ضلع چکوال منعقد ہوئی جہاں ملزم، اسحق نے خود کو ایک پیر اور صوفی کی حیثیت سے پیش کیا۔ متذکرہ محفل میں ڈھول بجائے گئے، رقص کیا گیا ، گانے گائے گئے اور شریعت کے خلاف کچھ افعال انجام دیے گئے جس کے باعث مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوئے۔ اس لیے مورخہ 2009-07-08 کو ملزم اسحق تک اپنے احساسات پہنچانے کے لیے علماء اور لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس لیے تقریباً صبح ساڑھے دس بجے ، دیگر لوگوں کی معیت میں مدعی نے ملزم اسحق سے ملک محمد سلیم کی بیٹھک میں ملاقات کی۔ ملزم کے علم میں حقائق لائے گئے۔ اس نے بتایا کہ جو لوگ اس کو ”سجدہ“ کرتے ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے اس میں ”خدا“ دیکھا ہو اور اگر لوگ اسے ’یا رسول اللہ‘ پکارتے ہیں تو پھر یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ ملزم نے بتایا کہ

صفحہ 703

ایک شخص کہیں بھی، حتیٰ کہ ’بیت الخلاء‘ میں بھی سجدہ کر سکتا ہے اور اس نے مزید بتایا کہ تم لوگ، ’قادیانیوں‘ کو ’کافر‘ سمجھتے ہو لیکن اس کے موقف کے مطابق، ’قادیانی‘ ’کافر نہیں‘۔ مدعی نے مزید بتایا کہ ملزم محمد اسحق نے یہ بھی بتایا کہ ’اللہ‘ مشرق سے مغرب، دونوں طرف ہوتا ہے اور وہ بعض اوقات امریکہ اور یہاں موجود ہوتا ہے۔ مدعی نے ملزم کے خلاف یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے اللہ کی موجودگی سے انکار کیا اور نبی اکرمﷺ کی توہین کی اور اس طرح مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو بھڑکایا۔

اسحق کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور مورخہ 08-07-2009 کو اسے گرفتار کر لیا گیا۔

دفعات 295-A، 295-C تعزیرات پاکستان، چالان، عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

خلاف زیر دفعات 295-A، 295-C تعزیرات پاکستان، فرد جرم عائد کی، ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا، اس لیے استغاثہ کی طرف سے گواہی طلب کی گئی۔

گواہی ثبوت

ایک درخواست/شکایت (Exh.P.A) کی وصولی پر اس نے ایف آئی آر (Exh.P.A./1) تیار کی۔

07-07-2009 کو تقریباً 1.00 بجے رات، دربار قلندریہ تکیہ، سلطان روڈ نزد مسجد فاروق اعظم تلہ گنگ، لوگ وہاں جمع ہو گئے اور ایک مذہبی اجتماع منعقد ہوا جہاں ملزم محمد اسحق نے خود کو پیر اور صوفی ظاہر کیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہاں ڈھول بج رہا تھا، رقص ہو رہا تھا، گیت گائے جا رہے تھے اور خلاف شرع کچھ افعال کیے جا رہے تھے اور یوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے تھے۔ اس لیے مورخہ 08-07-2009 کو تقریباً 10.30 صبح وہ عبید الرحمن، مولانا عبدالرحمن عثمانی، مولانا شاہد کلیم، مولانا صابر ایوب، ثناء اللہ خان، محمد حماد، اسد اللہ ولد عطاء اللہ،

صفحہ 704

محمد فاروق اور دیگر کی معیت میں، ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں جمع ہو گئے اور ملزم محمد اسحاق سے ملاقات کی۔ گواہ کا بیان ہے کہ ملزم محمد اسحاق نے ان کے سامنے کہا کہ جو لوگ اس کو ”سجدہ“ کرتے ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے اس میں ”خدا“ دیکھا ہو اور اگر لوگ اسے (صوفی محمد اسحاق کو) 'یا رسول اللہ' پکارتے ہیں تو پھر یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ ملزم نے بتایا کہ ایک شخص کہیں بھی حتیٰ کہ 'بیت الخلاء' میں بھی سجدہ کر سکتا ہے اور اس نے مزید بتایا کہ ملزم نے ان کے سامنے کہا کہ مدعی اور دیگر لوگ 'قادیانیوں' کو 'کافر' سمجھتے ہیں لیکن اس کے موقف کے مطابق، 'قادیانی'، 'کافر' نہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 نے بتایا کہ، ملزم، صوفی محمد اسحاق نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی اور کہا کہ وہ (ملزم) کچھ وقت امریکہ میں رہتا ہے اور کچھ وقت پاکستان میں رہتا ہے۔ اس نے بتایا کہ ملزم نے اللہ کی ہستی سے انکار کیا اور جان بوجھ کر لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکائے اور حضور نبی اکرمﷺ کی بے حرمتی کرنے کے لیے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے۔

کے دستخط ثبت ہیں جو (Exh.PA/2) ہیں اور اس نے یہ درخواست مع دو سی ڈی (P1/1-2) اور چار تصاویر (P2/1-4)، ذکاء اللہ اور حافظ مسعود کی موجودگی میں ایس ایچ او، پولیس سٹیشن سٹی تلہ گنگ کو پیش کیں۔ یہ سب کچھ بمطابق ریکوری میمو (Exh.PB) تحویل میں لے لیا گیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے موبائل ٹیلیفون کے ذریعے مندرجہ بالا گفتگو کی ویڈیو بنائی اور بعد ازاں اسے سی ڈیز میں منتقل کیا اور مندرجہ بالا تصاویر کھینچیں اور ان کا پرنٹ نکلوایا۔

10.30 بجے صبح وہ اور مدعی اسد اللہ خان، مولانا عبدالرحمن عثمانی، مولانا شاہد کلیم، مولانا صابر ایوب، ماسٹر ثناء اللہ، محمد حماد، اسد اللہ ولد عطاء اللہ، وحید اللہ اور محمد فاروق، ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں جمع ہوئے اور ملزم صوفی اسحاق وہاں آ گیا۔ مولانا عبدالرحمن عثمانی کے سوال پر کہ لوگ، ملزم کے سامنے کیوں ”سجدہ“ کرتے ہیں، ملزم نے جواب دیا کہ جو لوگ اس کو ”سجدہ“ کرتے ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے اس (ملزم) میں ”خدا“ دیکھا ہو اور اگر لوگ اسے 'یا رسول اللہ' پکارتے ہیں تو پھر یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے اور ایک شخص کہیں بھی، حتیٰ کہ 'بیت الخلاء' میں بھی سجدہ کر سکتا ہے اور اس نے مزید بتایا کہ ملزم نے کہا کہ لوگ، 'قادیانیوں' کو 'کافر' سمجھتے

صفحہ 705

ہیں لیکن اس کے موقف کے مطابق ’قادیانی‘ ’کافر‘ نہیں۔ ملزم نے مزید بتایا کہ اللہ ہر جگہ ہے کیونکہ وہ مشرق کے علاوہ مغرب میں بھی ہے۔ اس نے قرآن پاک کی سورہ کی بھی تلاوت کی اور اس کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وہ امریکہ میں رہتا ہے، اسی طرح یہاں بھی رہتا ہے۔

اس کی گفتگو کے باعث، لوگوں کے احساسات بھڑک اٹھے اور اس لیے وہ پولیس سٹیشن گئے اور وہاں درخواست پیش کی اور پولیس نے اس کا بیان بھی قلمبند کیا اور بعدازاں مورخہ 12-07-2009 کو ایس پی نے اس کا بیان قلمبند کیا۔

مورخہ 2009-07-08 کو تقریباً 10.30 بجے صبح وہ مولانا عبیدالرحمن، مولانا عبدالرحمن عثمانی، مولانا شاہد کلیم، ثناء اللہ خان، محمد فاروق، مدعی اسد اللہ ولد عطاء اللہ کے ہمراہ ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں موجود تھے جہاں ان کی ملاقات، ملزم، محمد اسحق سے ہوئی۔ سوال کرنے پر، اس (ملزم) نے کہا کہ جو لوگ اس کو ’’سجدہ‘‘ کرتے ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے اس (ملزم) میں ’’خدا‘‘ دیکھا ہو۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب ایک ’نعت‘ پڑھی جاتی ہے، لوگ اس کی طرف اشارہ کر کے ’یارسول اللہ‘ پکارتے ہیں تو پھر یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ گواہِ استغاثہ نے بتایا کہ ملزم نے یہ بھی کہا کہ ایک شخص کہیں بھی، حتیٰ کہ ’بیت الخلاء‘ میں بھی سجدہ کر سکتا ہے اور اس نے مزید بتایا کہ ملزم نے کہا کہ لوگ ’قادیانیوں‘ کو ’کافر‘ سمجھتے ہیں لیکن اس کے موقف کے مطابق ’قادیانی‘، ’کافر‘ نہیں۔ ملزم نے مزید بتایا کہ اللہ ہر جگہ ہے کیونکہ وہ کبھی امریکہ میں ہوتا ہے اور کبھی پاکستان میں ہوتا ہے۔ گواہ استغاثہ کے مطابق، ملزم نے اللہ کی ہستی سے انکار کیا اور نبی اکرمﷺ کے نام کی بے حرمتی کی اور اس طرح لوگوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کیا۔

بجے دوپہر وہ، حافظ مسعود احمد، گواہ استغاثہ کے ساتھ پولیس سٹیشن سٹی تلہ گنگ میں موجود تھا اور اسی دن مدعی اسد اللہ، تفتیشی افسر کے روبرو ڈی وی ڈیز (P.1/1-2) اور 4 عدد تصویریں (P2/1-4) پیش کیں جو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PC) تفتیشی افسر نے اپنی تحویل میں لے لیں۔

صفحہ 706

پولیس سٹیشن سٹی، تلہ گنگ میں متعین تھا اور سید اعجاز حسین شاہ نے ایف آئی آر تیار کرنے کے بعد مقدمہ کی تفتیش اس کے سپرد کی اور اسی دن تقریباً 1.00 بجے دوپہر، اسد اللہ مدعی نے اس کے روبرو ایک لفافے میں ملفوف دو سی ڈیز (P1/1/2) اور چار تصویریں (4-P2/1) پیش کیں جو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PB) گواہان استغاثہ کی موجودگی میں تحویل میں لے لی گئیں جنہوں نے اس کی تصدیق کی۔

فوجداری کے تحت قلمبند کیے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور اس کا اندازاً نقشہ (Exh.PD) تیار کیا۔ (Exh.PD) کی ڈرائنگ اور لکھائی ، اس کی تحریر میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ ملزم کو اسی دن گرفتار کر لیا گیا اور اسے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا اور جہاں سے اسے جوڈیشل لاک اپ بھیجا گیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ مقدمہ ہذا کی تفتیش چودھری ذوالفقار احمد ، ایس پی انویسٹی گیشن چکوال کو منتقل کر دی گئی۔

ایس پی انویسٹی گیشن ضلع چکوال تعینات تھا جبکہ محمد اشرف سب انسپکٹر تلہ گنگ، ایف آئی آر نمبر 106/2009 کے تحت درج اس مقدمے کی تفتیش کر رہا تھا جسے دوران تفتیش یہ معلوم ہوا کہ وہ مقدمہ ہذا کی تفتیش نہیں کر سکتا اور اس لیے اس نے مسل مقدمہ ، تفتیش کے لیے اس کے سپرد کر دی۔ اس نے بتایا کہ اس مقدمہ ہذا کی تفتیش دفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری کی روشنی میں کی اور مورخہ 2009-07-10 کو وہ جائے وقوعہ پر گیا اور سابقہ تفتیشی افسر محمد اشرف سے ملا اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ایس ایچ او کے علاوہ سابقہ تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مدعی کو باقاعدہ طور پر مطلع کیا جائے۔ چنانچہ اسے مورخہ 2009-07-12 کو اس کے روبرو پیش کیا گیا۔

مولانا شاہد کلیم، حافظ مسعود احمد، ذکاء اللہ خان، پروفیسر محمد طاہر، مظہر قریشی، سمیع اللہ اور شاہد محمود کے ہمراہ چکوال میں اس کے دفتر میں اس کے روبرو پیش ہوا اور تمام متذکرہ گواہان استغاثہ نے اپنے سابقہ بیانات کی تصدیق کی جو محمد اشرف سب انسپکٹر نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ

صفحہ 707

فوجداری کے تحت قلمبند کیے اور انہوں نے اپنے بیانات کی لفظ بہ لفظ تائید کی۔

تقریباً 12.30 بجے دوپہر اس کے روبرو پیش ہوئی اور ان کا موقف مفصل طور پر مورخہ 14-07-2009 کو تقریباً 12.45 دوپہر کو سنا گیا۔ مدعی نے 12 افراد پیش کیے جو شامل تفتیش ہو گئے۔ اس نے بتایا کہ بعد ازاں 2009-07-17 کو متعلقہ عدالت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد، وہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم گیا اور ملزم محمد اسحق ولد محمد انور سے قانون کے مطابق تفتیش کی۔ اس نے بتایا کہ دوران تفتیش، ملزم قصوروار پایا گیا اور اس لیے اس نے ایس ایچ او پولیس سٹیشن سٹی، تلہ گنگ کو متعلقہ عدالت کے روبرو چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔

دستاویزات کی مصدقہ نقل پیش کی:

راولپنڈی بینچ کی طرف سے ضمانت کے حکم نامہ کی مصدقہ نقل (Exh.P.G)

نقل (Exh.P.H)

کورٹ آف پاکستان کے حکم نامہ کی مصدقہ نقل (Exh.P.I)

نقل (Exh.P.J)

کی مصدقہ نقل (Exh.P.K)

کی مصدقہ نقل (Exh.P.L)، نیز استغاثہ نے اپنی گواہی بند کر دی۔

صفحہ 708

میں اس نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی۔ اس اہم سوال کے جواب میں کہ ”کیوں یہ مقدمہ اس کے خلاف بنایا گیا اور گواہان استغاثہ نے کیوں اس کے خلاف گواہی دی“، ملزم کا موقف مندرجہ ذیل ہے:

”میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ حضرت محمد ﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں مسلمان ہوں۔ میں مرحوم پیر فضل شاہ عرف افضل شاہ کا مرید ہوں جس کا مزار تلہ گنگ شہر میں واقع ہے۔ متذکرہ پیر فضل شاہ کی وفات کے بعد، مجھے ”سجادہ نشین“ مقرر کیا گیا۔ پیر فضل شاہ کی ذات اعوان تھی اور اس کا تعلق دھولہ قبیلے سے تھا۔ کچھ سال پہلے، پیر فضل شاہ کے پوتے، پیر زادہ جواد، جمیل اور میرے درمیان جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ میں اور میرے مریدین نے ایک علیحدہ آستانہ قادریہ چشتیہ قلندریہ، سلطان روڈ، تلہ گنگ شہر میں تعمیر کیا اور حضرت محمد ﷺ کے حوالے سے محفل میلاد اور محفل نعت کے انعقاد کے علاوہ پیر فضل شاہ عرف پیر افضل شاہ کا عرس بھی شروع کر دیا۔ میں اور میرے مریدوں نے متذکرہ ’آستانہ‘ پر محفل سماع، قوالیاں منعقد کرنی شروع کر دیں۔ مدعی اور دیگر گواہان استغاثہ اور مولویوں کا تعلق دوسرے مسالک سے ہے سوائے ایوب صابر کے جو بریلوی نقشبندی ہے۔ بریلوی نقشبندی مسلک میں حضرت محمد ﷺ کے متعلق محفل سماع قابل قبول نہیں۔ چونکہ تمام شہر کے علاوہ پورے پاکستان کے لوگ، اسلام کی سچی روح کے مطابق ہماری تبلیغ کے باعث ہمارے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے، اس لیے دوسرے مسلک کے مولوی، مدعی اور اس کے خاندان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ میں امریکہ میں آباد ہوں۔ مجھے، حضرت محمد ﷺ کے حوالے سے محفل نعت میں شرکت کے لیے مورخہ 2009-07-07 کو تلہ گنگ شہر آنا تھا اور میرے اس پروگرام کا بہت پہلے ہی اعلان کیا جا چکا تھا۔ اس تاریخ سے پہلے ہی دوسرے مسلک کے مولویوں اور مدعی نے مجھے شہر سے نکالنے اور اس قسم کی مذہبی تقریب سے باز رکھنے کے لیے موبائل وغیرہ پر ایک پیغام پھیلا دیا۔ آستانہ عالیہ چشتیہ قلندریہ میں محفل نعت کی مذہبی تقریب کے انعقاد کی خاطر ضلعی حکام سے اجازت لی گئی تھی۔ مورخہ 2009-07-07 کو میرے مریدوں نے میرا استقبال کیا اور متذکرہ آستانے پر مجھے ایک مذہبی جلوس کی شکل میں لے گئے۔ بس سٹاپ سے آستانہ تک سفر کے دوران، حضرت محمد ﷺ کے حوالے سے نعتیہ قوالیاں پڑھی گئیں۔ آستانہ پر پہنچنے کے بعد سب سے پہلے قرآن پاک سے آیات تلاوت کی گئیں۔

صفحہ 709

تب، محفل نعت کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف نعت خوانوں نے حصہ لیا اور حضرت محمدﷺ کے حوالے سے نعتیں پڑھیں اور پھر آخر میں، ہم سب نے حضرت محمدﷺ کے حضور درود و سلام پیش کیا۔ میرے مرید قابل احترام انداز میں اکٹھے ہوئے۔ ان کے اعتقاد کے مطابق، وہ میرے ہاتھ اور پاؤں چومتے ہیں اور انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ ’سجدہ‘ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ میں 1979ء سے امریکہ میں رہ رہا ہوں اور میرے پاس گرین کارڈ بھی ہے۔ دین اسلام کی تبلیغ کے لیے، میں نے وہاں، ’انٹرنیشنل اسلامک مرکز طریقت INC,323،Etna Street بروکلے، نیویارک، N.Y.11208‘ کے نام سے ایک رجسٹرڈ ادارہ قائم کیا۔ امریکہ میں متذکرہ بالا ادارے کی سرپرستی میں محفل میلاد اور محفل نعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم غیر مسلموں میں بھی اسلام کے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور ان میں شعور پیدا کرنے کے مضامین اور کتابچے شائع کرتے ہیں۔“

قلمبند کرایا۔

یقین رکھتا ہے جو واحد ہے اور حضرت محمدﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپﷺ ’رحمت للعالمین‘ ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کا ایمان ہے کہ جو شخص حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا، وہ ’کافر‘ ہے اور ’سجدہ‘ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو نور ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کا ایمان ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی لحاظ سے کسی دوسرے شخص کو ’سجدہ‘ کرتا ہے، وہ ’شرک‘ کا مرتکب ہوتا ہے اور ’سجدہ‘، صرف ایک صاف و ستھری جگہ پر ہی ادا کیا جا سکتا ہے اور سجدہ، ’بیت الخلاء‘ جیسی کسی گندی اور ناپاک جگہ میں ادا نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ فضل حسین شاہ عرف افضل شاہ کا ’مرید‘ ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کا پیر غیر سید تھا اور اس کا تعلق اعوان خاندان سے تھا اور وہ بھی ایک غیر سید ہے اور اس کا تعلق بھی اعوان خاندان سے ہے۔ اس نے بتایا کہ پیر فضل حسین عرف افضل شاہ کا مزار، تلہ گنگ شہر میں واقع ہے اور اس سے پہلے وہ مذہبی محافل متذکرہ دربار میں منعقد کرتا رہا ہے لیکن پیر فضل حسین عرف افضل شاہ کے قانونی وارثوں بشمول مدعی کے ساتھ کچھ اختلافات کے باعث اس کے مریدوں نے مذہبی محافل کا اہتمام علیحدہ طور پر ”آستانہ عالیہ قادریہ چشتیہ“ واقع سلطان روڈ، تلہ گنگ پر

صفحہ 710

کرنا شروع کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی ایک رجسٹرڈ تنظیم، نیویارک میں، ’انٹرنیشنل اسلامک مرکز طریقت Etna Street ،INC,323 ، بروکلے، نیویارک، N.Y.11208‘ کے نام سے موجود ہے اور متذکرہ تنظیم کی سرپرستی میں، انہوں نے محفل میلاد اور محفل نعت ایسے اسلامی اور مذہبی اجتماعات منعقد کیے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ غیر مسلموں میں بھی اسلام کے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور ان میں شعور پیدا کرنے کے لیے مضامین اور کتابچے شائع کرتے رہتے ہیں۔

دلائل

-22 چودھری محمود اختر خان، ایڈووکیٹ، فاضل وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ہذا میں تفتیش ناقص ہے۔ یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ محمد اشرف اے ایس آئی نے مقدمہ کے اندراج کے بعد کسی بھی اختیار کے بغیر تفتیش کی اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے، جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا، سی ڈیز کو اپنی تحویل میں لیا، ملزم کو گرفتار کیا اور ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ہی اسے جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا۔ اس نے اس موقف کا اظہار کیا کہ زیر دفعہ 156-A، مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت محمد اشرف سب انسپکٹر کی طرف سے کی گئی تمام کارروائی قانون کی نظر میں کسی اہمیت کی حامل نہیں اور نہ ہی جائز ہے۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ بعد ازاں ذوالفقار احمد، ایس پی نے خلاء پُر کرنے کے لیے تفتیش اپنے ہاتھ میں لے لی لیکن اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ استغاثہ نے دفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ زیر دفعہ (6)18 پولیس آرڈر 2002ء کے تحت تفتیش کی تبدیلی کا ایک طریقہ متعین کیا گیا ہے جو مقدمہ ہذا میں اختیار نہیں کیا گیا، اس لیے مقدمہ ہذا میں کی جانے والی تفتیش، عدالت میں حاضر ملزم کو مجرم قرار دینے کی بنیاد قرار نہیں دی جاسکتی۔

-23 اس نے یہ بھی دلیل دی کہ ایف آئی آر ہذا کے اندراج کے لیے متعلقہ حکام سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ اس نے اپنے اس موقف کی دلالت کے لیے معزز عدالت ہائے عالیہ کے مقدمات 2000 P Cr.L J. 902، PLD 2005 Lahore 631 اور PLJ 2004 SC 06 بطور مثال اور حوالے کے پیش کیے۔ اس نے مزید یہ دلیل دی کہ

صفحہ 711

مقدمہ زیر دفعہ 295-A، تعزیرات پاکستان کی کارروائی دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کے باعث مزید نہیں کی جاسکتی جبکہ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مقدمہ کی کارروائی 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت مزید نہیں کی جاسکتی۔

درخواست کی موصولی اور اسے مجاز افسر کے روبرو پیش کرنا تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی ذوالفقار نے نہ تو زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، کوئی بیان قلمبند کیا اور نہ ہی جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا، نیز اس نے تفتیش اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے بعد زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری رپورٹ تیار کی۔ اس نے مزید دلیل یہ دی ہے کہ ایس پی ذوالفقار تفتیشی افسر نے مورخہ 12-07-2009 اور 14-07-2009 کو مدعی پارٹی کو طلب کیا لیکن کسی بھی گواہ کا بیان قلمبند نہیں کیا اور صرف یہ ذکر کیا کہ گواہان استغاثہ نے اپنے ان گزشتہ بیانات کی تائید کی جو پہلے تفتیشی افسر سب انسپکٹر اشرف نے قلمبند کیے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ سی ڈیز کا مسودہ نہ تو سب انسپکٹر اشرف کے روبرو پیش کیا گیا اور نہ ہی ایس پی ذوالفقار کے روبرو پیش کیا گیا۔ مقدمہ ہذا میں سی ڈیز ایک بنیادی عنصر ہیں لیکن انہیں سنے بغیر ایف آئی آر درج کی گئی اور مقدمہ کی تفتیش کی گئی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ نہ تو اشرف سب انسپکٹر نے ملزم سے تفتیش کی اور نہ ہی اس کا بیان قلمبند کیا بلکہ محض اسے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔ تفتیشی افسر، اشرف کے مطابق، جائے وقوعہ، ملک سلیم اقبال کی 'بیٹھک' ہے جبکہ ایس پی ذوالفقار کے مطابق، جو مقدمہ ہذا کا ایک اور تفتیشی افسر ہے، جائے وقوعہ 'آستانہ عالیہ قادریہ چشتیہ' ہے۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ درحقیقت، ذوالفقار، ایس پی، نے جائے وقوعہ کا معائنہ ہی نہیں کیا۔ اس نے مزید کہا کہ تفتیشی افسر، اشرف نے جائے وقوعہ کا جو نقشہ تیار کیا، اس میں ملزم کی طرف سے کسی بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے بولنے کا کوئی ذکر نہیں۔

کرتے ہوئے اس کی نیت کو مدنظر رکھنی چاہیے۔ درحقیقت، ملزم کے خلاف استغاثہ کا کوئی مقدمہ ہی نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ کسی کو ملزم ٹھہراتے ہوئے وقت، جگہ اور ملزم کا فعل ضروری حیثیت رکھتا ہے جبکہ مقدمہ ہذا میں جرم کے ارتکاب کی فرد جرم کی تاریخ

صفحہ 712

07-07-2009 اور جائے وقوعہ’آستانہ عالیہ قادریہ چشتیہ‘بیان کیا گیا ہے۔اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کے حوالے سے استغاثہ کی طرف سے کوئی بھی گواہ پیش نہیں کیا گیا جبکہ مبینہ سی ڈیز جن پر استغاثہ کے مقدمہ کی بنیاد ہے،مورخہ 08-07-2009 کو تیار کی گئیں۔ اس نے موقف اختیار کیا کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 کا بیان، اس ضمن میں نہایت ہی متعلقہ ہے جس نے اعتراف کیا کہ کوئی مادی، یا تحریری یا زبانی مواد، ملزم کے خلاف ریکارڈ پر موجود نہیں جس کے باعث اسے کسی بھی جرم کے ارتکاب کے ساتھ منسوب کیا جاسکتا ہو۔اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے دورانِ جرح اعتراف کیا کہ اسے کسی نے نہیں بتایا کہ ملزم نے گستاخانہ الفاظ ادا کیے ہیں۔گواہ استغاثہ نمبر 3 نے مزید اعتراف کیا کہ بس سٹاپ سے لے کر ’آستانہ‘ تک، ملزم نے کوئی تقریر نہیں کی۔اس نے مزید دلیل یہ دی کہ گواہ استغاثہ نمبر 4، نے دورانِ جرح یہ تسلیم کیا کہ کسی نے اسے نہیں بتایا کہ ملزم نے خود کو ایسا کہا کہ جیسے نبی اکرم ﷺ نے اس کے سامنے سجدہ کرنے کا کہا ہو۔اس حقیقت کو گواہ استغاثہ نمبر 6،یعنی مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر نے بھی تسلیم کیا۔اس نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے کوئی موادی ثبوت پیش نہیں کیا؛ یعنی مولانا عبدالرحمن عثمانی جس نے مبینہ طور پر ملک سلیم اقبال کی ’بیٹھک‘ میں ملزم کے ساتھ ملاقات کے دوران سوال پوچھا۔مزید برآں استغاثہ نے کوئی بھی ایسا گواہ پیش نہیں کیا جس نے کہا کہ مقدمہ ہذا کے اندراج سے قبل ملزم نے کہا تھا کہ ایک شخص ، بیت الخلاء میں بھی سجدہ کرسکتا ہے، اس لیے، یہ طے ہوگیا کہ اس ملاقات سے قبل، ملزم کے خلاف مدعی پارٹی کے کچھ خفیہ اور پوشیدہ مقاصد تھے۔اس نے دلیل دی کہ فرد جرم عائد کرنے کے دوران، ملزم نے اپنا عقیدہ مکمل طور پر بیان کردیا تھا اور کسی شخص کے روبرو یہ بیان نہیں کیا کہ اس نے’قادیانیوں ‘کو’کافر‘نہیں کہا جبکہ ملزم کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اس نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ مدعی کی صداقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور استغاثہ کی جانب سے پیش گئیں تصویروں نے ملزم کے خلاف الزام کی تائید نہیں کی۔اس نے یہ کہا کہ استغاثہ، ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور پھر معزز سپریم کورٹ کے مقدمات پر بطور مثال انحصار کرتے ہوئے اس نے 1997 SCMR 1281 ، 1998 SCMR اور 1993 PLD Lahore 587 کا حوالہ دیا اور کہا کہ ملزم نے

صفحہ 713

کوئی جرم نہیں کیا اور اپنے الفاظ میں حضرت محمدﷺ کے لیے انتہائی تکریم کا مظاہرہ کیا۔اس لیے،اس نے درخواست کی کہ حضرت محمدﷺ کی روایات پر عمل کرتے ہوئے اور ریکارڈ پر موجود گواہی کے معیار اور ملزم کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے جو زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری اور زیردفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیان کیے گئے، ملزم کو مقدمہ ہذا سے بری کر دیا جائے۔ فاضل وکیل صفائی نے ملزم،اس کے ساتھیوں،مدعی اور گواہانِ استغاثہ اور دیگر افراد کے درمیان سی ڈی آڈیو/ویڈیو سے تیار شدہ گفتگو کا ایک مسودہ پیش کیا جس کے ہر صفحہ پر ملزم کے دستخط ثبت ہیں۔

-26 معزز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر برائے سرکار میاں محمد طفیل جس کی معاونت ملک محمد کبیر ایڈووکیٹ،فاضل وکیل برائے مدعی نے کی، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کا اطلاق ضروری نہیں اور مقدمہ ہذا میں کی گئی تفتیش کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس نے کہا کہ ایک بے اختیار افسر کے ذریعے تفتیش محض ایک بے قاعدگی ہے اور زیر دفعہ 537 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قابل اصلاح ہے۔ ایک بے اختیار شخص کے ذریعے تفتیش کی کارروائی کو اس وقت تک باطل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک ملزم کو مجرم قرار دینے کے لیے کسی تعصب کا مظاہرہ نہ کیا گیا ہو اور جیسے ہی عدالت نے مقدمہ ہذا سماعت کے لیے منظور کیا،تمام غیر قانونی کارروائی اور بے قاعدگیاں،ہمیشہ ہی درست تصور کی گئیں۔اس نے یہ دلیل پیش کی کہ تفتیش میں بے قاعدگی کے باعث عدالت کو مقدمہ ہذا کو قابل سماعت سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اس نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کا اندراج فوراً ہی کر دیا گیا اور قانون کے مطابق کام کرتے ہوئے پولیس نے فوراً ہی ملزم کو گرفتار کرلیا اور ضروری ثبوت اکٹھے کیے اور معاملے کو بااختیار افسر کے سپرد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم نے اپنے بیان زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری میں یہ تسلیم کیا کہ تمام گواہانِ استغاثہ کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں اور وہ مبینہ جائے وقوعہ ’’بیٹھک‘‘ میں گفتگو کے دوران موجود تھے۔ معزز فاضل وکیل نے مزید دلیل یہ دی کہ ملزم نے اپنے بیان میں مزید یہ اعتراف کیا کہ ایس پی ذوالفقار نے اس سے جیل میں ملاقات کی اور مزید یہ کہ تمام گواہانِ استغاثہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے متذکرہ ایس پی/تفتیشی افسر کے روبرو یہ بیان دیا کہ وہ شامل تفتیش ہو گئے اور مقدمہ ہذا کے پہلے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد اشرف کی طرف سے

صفحہ 714

زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کیے گئے اپنے بیانات کی تائید کی۔ فاضل وکیل نے دفعہ 59 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کا حوالہ دیا اور دلیل دی کہ اس کے باعث ایک سادہ شخص بھی ملزم کو گرفتار کرنے کا اہل ہو جاتا ہے بشرطیکہ اس کی موجودگی میں کوئی جرم واقعہ ہوا ہو۔ اس نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی ذوالفقار نے بھی مدعی کی طرف سے پیش کی گئیں سی ڈیز سنیں، اس لیے، مقدمہ ہٰذا میں تفتیش کے ضمن میں کوئی غیر قانونیت اختیار نہیں کی گئی۔ اس نے مزید کہا کہ یہ امر طے ہے کہ مقدمہ ہٰذا کے اندراج کے لیے پولیس کی طرف سے بااختیار شخص رادارے سے اجازت نہیں لی گئی کیونکہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کا زیردفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، مندرج مقدمات کے علاوہ ان مقدمات پر اطلاق نہیں ہوتا جن میں قانون کی دفعہ، مع دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ معزز عدالت عالیہ کے روبرو ملزم کی طرف سے ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست فوجداری نظرثانی پٹیشن نمبر 107/2010 اور معزز عدالت عالیہ کے روبرو ملزم کی طرف سے درخواست ضمانت، کے ضمن میں ملزم کی طرف سے اٹھایا جانے والا اعتراض، معزز عدالت عالیہ، لاہور، راولپنڈی بینچ کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ ملزم نے اس ضمن میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان سے رابطہ نہیں کیا، اس لیے ملزم کی طرف سے دلائل کے دوران اٹھائے گئے اعتراض کی کوئی قانونی اہمیت نہیں۔ اپنے مندرجہ بالا دلائل کی تائید میں معزز ایڈیشنل ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر، جن کی معاونت مدعی کے فاضل وکیل نے کی، نے معزز سپریم کورٹ کے مقدمات

1997 P.Cr.L J 836،1989 P.Cr.L J.1921, PLD 1994 Lahore 485،PLD 2000 Lahore 108 ،PLD 1968 SC 265 ،1987 P.Cr.L J.1789،1998 SCMR 1148،PLD 2004 SC 394 ،1972 P.Cr.L J. 400،1999 P.Cr.L J 824 ،1998 P.Cr.L J.828،1995 P.Cr.L J.199،AIR 1964 SC 33(V51 C 5) , 2009 SCMR 291, 2002 YLR 567, PLD 1961 Dacca 565،2011 SCMR 45،1980 P.Cr.L J.97،PLD 1980 Karachi 158،PLD 1996 Lahore 277،2005 SCMR 364 ،PLD 1972 Karachi 351،1992 P.Cr.L J. 2009،2008 YLR 274،AIR (33) 1946 Madras 7،AIR (39)

صفحہ 715

Allahabad 35،PLD 1976 Lahore 53،AIR (38) 1951 Calcutta 133،AIR 1968 SC 709،AIR 1955 Bombay 82،AIR 1964 Bombay 133،PLD 2002 Lahore 200،2009 SCMR 1133 کو بطور مثال پیش کیا۔

27- اس نے یہ بھی بتایا کہ وکیل صفائی نے گواہان استغاثہ اسداللہ، عبیدالرحمن اور صابر ایوب پر جرح کی جس میں ثابت ہوگیا کہ ملزم کے خلاف الزامات، متذکرہ گواہان کی ملک سلیم اقبال کی ’بیٹھک‘ (مبینہ جائے وقوع) میں موجودگی کو ملزم نے اپنے بیان زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری میں تسلیم کیا۔ اس نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کے بیان پر دوران جرح، ملزم نے یہ اعتراف کیا کہ اس کے استقبال کے موقع پر ’ڈھول بجایا گیا اور بھنگڑا ڈالا گیا‘ ، ”یہ درست ہے کہ متذکرہ استقبال میں ’ڈھول بجایا گیا اور بھنگڑا ڈالا گیا‘“۔ اس نے مزید کہا کہ گواہان کی ملزم کے ساتھ ملاقات کا وقت، ملاقات کی جگہ اور گفتگو اور موجودگی کا ملزم نے اعتراف کیا اور ایف آئی آر درخواست میں عائد کیے گئے ملزم کے خلاف الزامات کے متعلق متذکرہ گواہان پر ملزم کے وکیل کی جانب سے جرح نہیں کی گئی۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان جرم متشکل کرنے کے لیے، گواہان کی تعداد درکار نہیں بلکہ محض ایک گواہ کا بیان ہی ملزم کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی خاطر، استغاثہ نے گواہان استغاثہ کی موجودگی میں بمطابق فیصلہ از معزز عدالت عالیہ جو فیصلہ PLJ 2004 Lahore 779 میں کیا گیا، سی ڈیز (Exh.P.B/1-2) یعنی آڈیو / ویڈیو گفتگو پیش کی اور یہ متعلقہ قسم کے ثبوت ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ دونوں تفتیشی افسران نے سی ڈیز کا جائزہ لیا اور ملزم نے جائے وقوعہ پر ملاقات کی فلم بنانے سے انکار نہیں کیا۔ مدعی کے فاضل وکیل نے سی ڈی کا ایک مسودہ پیش کیا جس پر مدعی کے دستخط ثبت تھے۔ اس نے کہا کہ ملزم کی طرف سے ایک متن جس پر ملزم کے دستخط ثبت ہیں، بھی دوران دلائل، مدعی کے فاضل وکیل نے پیش کیا جو مسل مقدمہ میں موجود ہے اور اس متن میں شامل گفتگو سے باآسانی یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ درحقیقت پیش آیا۔ اس نے کہا کہ قانون شہادت کی شق 10 کے مطابق گواہ کی طرف سے ثبوت کے ایک حصے کی مخالفت ضروری ہے جسے مقدمہ ہذا میں ملزم کی

صفحہ 716

طرف سے نہیں انجام دیا گیا۔ اس لیے، ملزم، استغاثہ کی طرف سے کسی ثبوت یا گواہی میں معمولی سقم کا فائدہ نہیں لے سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ قرآن پاک میں، اس امر کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے کہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کیا جا سکتا ہے اور کوئی ذات سجدہ کے قابل نہیں۔ اس ضمن میں اس نے قرآن پاک کی مختلف آیات اور حدیثوں کا حوالہ دیا۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ حضرت محمدﷺ نے اپنے یا کسی دیگر شخص کے روبرو سجدہ کرنے سے منع فرمایا اور مسلمانوں سے ارشاد فرمایا کہ ’اسلامی شریعت‘ کے مطابق سجدہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ اس تناظر میں اس نے قرآن پاک کی سورہ النساء، سورہ الاحزاب، سورہ حج، سورہ حم السجدہ کے علاوہ حدیث ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ کا بھی حوالہ دیا، نیز اس نے تفسیر معارف القرآن جلد پنجم، بہار شریعت، ضیاء القرآن، مشکوٰۃ المصابیح، تفسیر ابن کثیر اور ملفوظات از مولانا محمد احمد رضا خان قادری کا بھی حوالہ دیا۔ مزید برآں، اس نے معزز عدالت عالیہ کے مندرجہ ذیل مقدمات 1992 P.Cr.L J ، 1994 MLD 15 PLD 1985 FSC 08،2346 اور PLD 1992 Lahore 01 کو بطور مثال پیش کیا۔ اس نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی شریعت کے مطابق ’سجدہ‘ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہے اور اسے کسی بھی دوسرے شخص کو کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ صرف صاف و پاک جگہ پر ہی کیا جا سکتا ہے۔۔ اس نے مزید کہا کہ اس کی خلاف ورزی، اسلامی شریعت کے اصول سے انکار ہے۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ قرآنی آیات اور حدیث کے مطابق، نبی اکرمﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور جو اسے تسلیم نہیں کرتا اور اس کی تردید نہیں کرتا جو اسے قبول نہیں کرتا یا پھر نبی اکرم کے بعد خود کو پیغمبر سمجھتا ہے، اس کا یہ طرز عمل، نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا یہ دعویٰ کہ حضرت آدم کے سامنے ’سجدہ‘ کیا گیا اور وہ ’آدم زاد‘ تھے، سے اس کی نیت واضح ہو جاتی ہے جو اسلامی شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے اپنے مریدوں کو اپنے روبرو ’سجدہ‘ کرنے کی اجازت دے کر ’شریعت‘ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے گواہان استغاثہ اور دیگر افراد کے سامنے اجتماع میں دانستہ اور مذموم نیت کے ساتھ کہا کہ

صفحہ 717

”ہر بندہ ہر جگہ سجدہ کر سکتا ہے حتیٰ کہ بیت الخلاء میں بھی سجدہ ہو سکتا ہے۔ نیز یہ کہ تم لوگ قادیانیوں کو کافر کہتے ہو جبکہ میری نظر میں قادیانی کافر نہ ہیں، نیز یہ کہ رب مشرق، مغرب دونوں طرف ہے اور میں امریکہ میں ہوتا ہوں اور یہاں بھی ہوں۔ جو لوگ مجھے سجدہ کرتے ہیں، ان کو میرے اندر خدا نظر آتا ہے۔“

اس لیے اس نے دلیل دی کہ ملزم نے لوگوں کے مذہبی احساسات کو بھڑکایا اور زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، قابل سزا جرم کا مرتکب ہوا۔ اس نے مزید کہا کہ ملزم نے گواہان استغاثہ کی موجودگی میں دانستہ اور بدنیتی کے ساتھ مندرجہ ذیل گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے اور نبی اکرم محمدﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی۔

”اگر لوگ مجھے یا رسول اللہ کہتے ہیں تو یہ ان کا عقیدہ ہے۔ یہ کہ تم لوگ قادیانیوں کو کافر کہتے ہو، جبکہ میری نظر میں قادیانی کافر نہ ہیں“۔

اس پر اس نے دلیل دی کہ ملزم نے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، قابل سزا، جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

نمبر 2 اسد اللہ، گواہ استغاثہ نمبر 3 عبید الرحمن اور گواہ استغاثہ نمبر 4 صابر ایوب مقدمہ ہذا کے عینی شاہد ہیں اور مسلمہ طور پر ان کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی یا پرخاش نہیں۔ اس وقوعہ کی فلم بنائی گئی اور دونوں پارٹیوں نے سی ڈیز کا مسودہ پیش کیا اور ان سی ڈیز کے مندرجات بھی دونوں پارٹیوں نے تسلیم کیے اور ملزم نے اس میں تحریف و تبدیلی کا کوئی الزام نہیں عائد کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ متذکرہ بالا تمام گواہان، قابل بھروسا ہیں، علاقے میں قابل احترام ہیں، وہ غیر جانبدار اور آزاد ہیں اور اس قسم کے بھیانک اور مذموم جرم کے لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ ملزم کے خلاف گواہی دیں۔ اس نے اپنے دلائل کے آخر میں یہ کہا کہ ملزم کے خلاف زیر دفعات 295-C/295-A تعزیرات پاکستان جرم متشکل کرنے کے لیے ریکارڈ پر کافی اور مناسب مواد موجود ہے اور استغاثہ نے بغیر کسی شک وشبہ کے ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ بخوبی ثابت کر دیا ہے۔ اس نے، ملزم، اس کے ساتھیوں، مدعی اور گواہانِ استغاثہ اور دیگر کے درمیان گفتگو جو سی ڈیز آڈیو، ویڈیو کی شکل میں ہے، کا مسودہ پیش کرتے ہوئے جس کے ہر صفحے پر مدعی کے دستخط ثبت ہیں، استدعا کی ہے کہ ملزم ایک بھیانک اور مذموم جرم کا مرتکب ہوا ہے اور وہ کسی

صفحہ 718

رعایت کا مستحق نہیں اور اسے مثالی سزا دی جائے۔

2005 YLR 985 (Lahore) میں دیے گئے فیصلے کی روح کی روشنی میں مقدمہ ہذا میں احتیاط کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے دونوں فریقین ، مدعی اور ملزم کے فاضل وکیلوں کے دلائل انتہائی صبر و تحمل سے سنے۔ ریکارڈ ، خاص طور پر گواہان استغاثہ کی گواہی، زیر دفعات 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری اور (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری ملزم کا بیان سنے اور سی ڈیز میں موجود گفتگو (Exh.P.B./1-2) دیکھی ، نیز ان کا متن بھی دیکھا جو مدعی اور ملزم کی طرف سے پیش کیا گیا تا کہ مقدمہ ہذا میں ملزم کے خلاف زیر دفعات 295-C، 295-A تعزیرات پاکستان کے تحت عائد کیے گئے الزامات کے متعلق درست نتیجے پر پہنچ سکوں۔

ہذا میں صوبائی یا مرکزی حکومت کی طرف سے مقدمہ کے اندراج کے متعلق کوئی اجازت نہیں لی گئی جو ضروری تھی اور دوسرے یہ کہ مقدمہ ہذا کی تفتیش ایس پی عہدے کے افسر نے نہیں کی بلکہ یہ تفتیش سب انسپکٹر کے عہدے کے ایک افسر نے کی ، اس لیے ، مقدمہ ہذا کا اندراج اور اس کی تفتیش غیر قانونی ہے اور اس قسم کے مقدمات میں عدالت جرم زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان ، سماعت کا اختیار نہیں رکھتی۔

274, 1992 P.Cr. L J 2346 دیا گیا ، یہ موقف اختیار کیا گیا کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری میں عائد کی گئی پابندی کا تعلق عدالت کی طرف سے ایک جرم کی قابل سماعت حیثیت سے ہے اور اس کا تعلق ایک نجی شخص کی طرف سے پولیس کو معاملے سے آگاہ کرنے کے اختیار سے نہ ہے۔ یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ مقدمہ ہذا میں ایف آئی آر ، جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان پر مشتمل ہے اور کسی مجاز ادارے یا فرد کی اجازت کے بغیر عدالت کی طرف سے سماعت کرنے کے معاملے کا تعلق متذکرہ جرم سے نہیں اور جبکہ معزز عدالت عالیہ کی طرف سے مقدمہ 1995 P.Cr.L J 836 کے فیصلے پر انحصار کرنے پر ہے ، میری رائے یہ ہے کہ دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت کسی بھی

صفحہ 719

طرح، پولیس کو سچ تک پہنچنے کے لیے اس پر قدغن نہیں لگائی گئی۔ مزید برآں، قانون کے مطابق، دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی پابندی زیر دفعہ A-295 تعزیرات پاکستان، کے لیے درکار ہے، تاہم جب دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان سامنے ہو تو جرم زیر دفعہ A-295 تعزیرات پاکستان، کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، جرم کے ایک حصے کے طور پر پڑھا جائے گا جس کے لیے مقدمہ کے اندراج کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ اس لیے، فاضل وکیل صفائی کے موقف کی کوئی اہمیت نہیں۔

عہدے کے حامل افسر نے نہیں کی، ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اندراج مقدمہ کے بعد، محمد اشرف سب انسپکٹر، گواہ استغاثہ نمبر 6 نے شروع کی کیونکہ مقدمہ کا تعلق سب ڈویژن سے ہے اور حالات کے مطابق اس نے مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھائی۔ تاہم بعد ازاں، مقدمہ ہذا کی تفتیش، ذوالفقار ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 7 کے سپرد کر دی گئی جس نے عدالت میں بطور گواہ استغاثہ نمبر 7 گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ضلع چکوال میں بطور ایس پی، انویسٹی گیشن تعینات تھا اور محمد اشرف سب انسپکٹر، تلہ گنگ، ایف آئی آر نمبر 106/2009 کے مقدمہ کی تفتیش کر رہا تھا جس نے دورانِ تفتیش سنا کہ وہ مقدمہ کی تفتیش نہیں کر سکتا، اس لیے مسل مقدمہ تفتیش کے لیے اس کے سپرد کر دی۔ اس نے مزید بتایا کہ مقدمہ ہذا کی تفتیش دفعہ A-156 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں کے تحت کی اور وہ مورخہ 10-07-2009 کو جائے وقوعہ پر گیا اور سابقہ تفتیشی افسر محمد اشرف سے ملاقات کی اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، اور مزید اس نے مقدمہ کی تفتیش کی اور ملزم کو قصوروار پایا اور ایس ایچ او، پولیس سٹیشن سٹی تلہ گنگ کو متعلقہ عدالت کے روبرو چالان پیش کرنے کی ہدایت کی، اس لیے وکیل صفائی کے اس اعتراض کی کوئی اہمیت نہیں۔

ملزم نے الفاظ کہے کہ

”ہر بندہ ہر جگہ سجدہ کر سکتا ہے حتیٰ کہ بیت الخلاء میں بھی سجدہ کر سکتا ہے، نیز یہ کہ تم لوگ قادیانیوں کو کافر کہتے ہو جبکہ میری نظر میں قادیانی کافر نہ ہیں۔ نیز یہ کہ رب، مشرق و مغرب، دونوں طرف ہے اور میں امریکہ میں ہوتا ہوں اور یہاں بھی ہوں۔ جو لوگ مجھے سجدہ

صفحہ 720

کرتے ہیں، ان کو میرے اندر خدا نظر آتا ہے۔“

اور پھر گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے کہ ”اگر لوگ مجھے رسول اللہ کہتے ہیں تو یہ ان کا عقیدہ ہے۔ یہ کہ تم لوگ قادیانیوں کو کافر کہتے ہو جبکہ میری نظر میں وہ کافر نہ ہیں۔“

اور یہ الفاظ ملزم نے کہے اور یوں یہ الفاظ زیر دفعات 295-A اور 295-C تعزیرات پاکستان، قابل سزا جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔

آڈیو ویڈیو سی ڈیز پیش کیں جو مبینہ طور پر اس کی اپنی آواز میں جائے وقوعہ پر ملزم کی طرف سے گواہانِ استغاثہ اور دیگر افراد کے روبرو بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھیں۔ گواہِ استغاثہ نمبر 2 اسد اللہ خان، گواہِ استغاثہ نمبر 3، عینی شاہد اور گواہِ استغاثہ نمبر 4 عینی شاہد، کے ساتھ مقدمہ ہذا کا مدعی بھی عینی شاہد ہے۔ مدعی، گواہِ استغاثہ نمبر 2 نے عدالت ہذا میں بطور گواہ پیش ہوتے ہوئے کہا کہ مورخہ 2009-07-07 کو تقریباً 1.00 بجے رات دربار قلندریہ قاتلیہ، سلطان روڈ، نزد مسجد فاروقِ اعظم، تلہ گنگ، وہاں لوگ جمع ہوگئے اور وہاں ایک مذہبی محفل منعقد ہوئی جس میں ملزم محمد اسحٰق نے خود کو پیر اور صوفی کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہاں ڈھول بج رہے تھے، رقص ہو رہا تھا اور گیت گائے جارہے تھے اور کچھ خلافِ شرع افعال سرانجام دیے جارہے تھے جس کے باعث مسلمانوں کے مذہبی احساسات مجروح ہوئے، اس لیے مورخہ 2009-07-08 کو تقریباً 10.30 بجے صبح وہ، عبید الرحمٰن، مولانا عبد الرحمٰن عثمانی، مولانا شاہد کلیم، مولانا صابر ایوب، ثناء اللہ خان، محمد حماد، اسد اللہ ولد عطاء اللہ، محمد فاروق اور دیگر لوگ، ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں جمع ہوگئے اور ملزم محمد اسحٰق سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ دیگر دو عینی شاہدین، گواہِ استغاثہ نمبر 3 اور گواہِ استغاثہ نمبر 4، عبید الرحمٰن اور صابر ایوب، نے مزید بتایا کہ ملزم محمد اسحٰق نے ان کے روبرو کہا کہ ”جو لوگ اس کو ”سجدہ“ کرتے ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے اس میں ”خدا“ دیکھا ہو اور اگر لوگ اسے (صوفی محمد اسحٰق کو) ’یا رسول اللہ‘ پکارتے ہیں تو پھر یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ ملزم نے بتایا کہ ایک شخص کہیں بھی حتیٰ کہ ’بیت الخلا‘ میں بھی سجدہ کرسکتا ہے اور اس نے مزید بتایا کہ ملزم نے اس کے روبرو بتایا کہ مدعی اور دیگر لوگ ’قادیانیوں‘ کو ’کافر‘ سمجھتے ہیں لیکن اس کے موقف

صفحہ 721

کے مطابق 'قادیانی' ، 'کافر' نہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 نے یہ بھی بتایا کہ صوفی محمد اسحاق ملزم نے قرآن مجید کی سورت کا ترجمہ کیا اور کہا کہ وہ (ملزم) کبھی تو امریکہ میں ہوتا ہے اور کبھی پاکستان میں ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس نے اللہ کی ہستی سے انکار کیا اور نبی اکرم ﷺ کی گستاخی اور بے حرمتی کی۔ اس نے مزید بتایا کہ درخواست (Exh.P.A) کو اس نے تحریر کیا اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں جو (Exh.P.A/2) ہے اور اسے مع دو سی ڈیز، (P1/1-2) اور چار تصویریں (P2/1-4) ، ذکاء اللہ اور حافظ مسعود کی موجودگی میں ایس ایچ او، پولیس سٹیشن سٹی، تلہ گنگ کے روبرو پیش کیا گیا۔ ان سب کو بمطابق ریکوری میمو (Exh.PB) تحویل میں لے لیا گیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے متذکرہ بالا گفتگو کی اپنے موبائل فون کے ذریعے ویڈیو بنائی اور بعد ازاں اس نے ویڈیو کو سی ڈیز میں منتقل کر دیا اور متذکرہ بالا تصاویر حاصل کیں اور ان کا پرنٹ نکلوایا۔ فاضل وکیل صفائی نے تینوں گواہان پر مفصل جرح کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ ہذا کسی بھی مخصوص یا خفیہ مقاصد کے بغیر ہی درج کیا گیا۔ گواہان استغاثہ کی گواہی سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کے خلاف الزام کی نوعیت کے اعتبار سے گواہان استغاثہ کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں۔ مزید برآں استغاثہ یا گواہان استغاثہ کی طرف سے ملزم کے خلاف کوئی دشمنی، پرخاش یا مخاصمت نہیں پائی گئی کہ اسے ایک ایسے ہولناک، مذموم اور بھیانک جرم جس کی سزا موت ہے، میں غلط طور پر ملوث کیا جائے۔

ان کا تعلق کسی خاص مسلک سے ہے، بلکہ گواہ استغاثہ نمبر 4، صابر ایوب، نے گواہی دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ وہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ گواہ مزید بتاتا ہے کہ فاضل وکیل صفائی، استغاثہ کی گواہی اور ثبوت میں کسی بھی قسم کا کوئی نقص یا عیب ڈھونڈنے میں ناکام رہا یا پھر وکیل صفائی گواہی اور ثبوت میں کسی بھی قسم کا خفیف عیب یا نقص اجاگر کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ان کی گواہی درست اور قابل بھروسا پائی گئی۔ ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بطور اپنی صفائی میں گواہی دیتے ہوئے واضح انداز میں کہا کہ استغاثہ کے کسی گواہ کی اس کے ساتھ کوئی دشمنی، پرخاش یا مخاصمت نہیں۔ مزید برآں، سی ڈیز (Exh.P.B/1-2) مع اس کی عبارت، جسے مدعی نے دوران دلائل اپنے وکیل کے ذریعے پیش کیا، اور مزید برآں، سی ڈیز کا متن جو ملزم نے اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے وکیل کے ذریعے پیش کیا، سے ظاہر ہوا

صفحہ 722

کہ ملک سلیم اقبال کی ’بیٹھک‘ میں گفتگو کے دوران مورخہ 2009-07-08 کو تقریباً 10.30 بجے صبح لوگوں کے اجتماع میں جو علاقہ کے مکینوں کے احساسات سے ملزم محمد اسحق کو آگاہ کرنے کے لیے جمع تھے، ملزم محمد اسحق نے ایک سوال کے جواب میں جو علماء اور دیگر لوگوں نے اس سے پوچھا تھا، اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے جو ایف آئی آر میں نمایاں طور پر درج کیے گئے اور ملزم کے خلاف فرد جرم میں لکھے گئے اور جن کے متعلق مدعی اور گواہانِ استغاثہ نے مقدمہ کی کارروائی کے دوران اپنے بیان میں ذکر کیا۔

-37 میں نے ملزم کی طرف سے بولے گئے الفاظ کا مفصل جائزہ لیا اور سی ڈیز کا بھی لفظ بہ لفظ معائنہ کیا جو مدعی اور مدعا علیہ کے فاضل وکلاء نے پیش کیں اور جن پر مدعی اور مدعا علیہ کے دستخط ثبت ہیں۔ آڈیو / ویڈیو سی ڈی (Exh.P.B/1-2) بھی مقدمہ کی کارروائی کے دوران دکھائی گئی اور عدالت نے اسے بار بار دیکھا اور معلوم ہوا کہ مورخہ 2009-07-07 کو ملزم (جس نے خود کو پیر اور صوفی کی حیثیت سے ظاہر کیا) نے جو تلہ گنگ شہر میں ایک جلوس میں وارد ہوا، نے ڈھول بجانے اور کچھ قابلِ اعتراض افعال کرنے اور جبکہ وہ کرسی پر بیٹھا تھا، اس نے لوگوں کو ایک ایک کر کے اپنے سامنے سجدہ کرنے کی اجازت دی جو قرآن پاک کی سورہ حم سجدہ میں مذکور حکم کی خلاف ورزی ہے:

ہے اور چاند بھی۔ مت سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو بلکہ سجدہ کرو اللہ کو جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے۔ اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو۔‘‘

(حم السجدہ:37)

ہے اور جو زمین میں ہے، نیز آفتاب، مہتاب، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان بھی (اسی کو سجدہ کرتے ہیں) اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور (دیکھو) جس کو ذلیل کر دے اللہ تعالیٰ تو کوئی اسے عزت دینے والا نہیں ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔‘‘

(الحج:18)

حضور نبی اکرمﷺ نے بھی اپنے سامنے یا کسی اور شخص کے سامنے سجدہ کرنے سے منع فرمایا اور مسلمانوں سے ارشاد فرمایا کہ اسلامی شریعت کے مطابق، سجدہ، صرف اللہ ہی کو جائز ہے۔ مزید برآں، اس ضمن میں اسلامی شریعت کی تشریح نہایت ہی واضح ہے اور بہت آسان

صفحہ 723

ہے اور اسے اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمان فقیہوں نے مشہور ’تفسیروں‘ میں قابل فہم انداز میں وضاحت سے بیان کیا ہے اور یہ تفسیریں اور کتابیں مندرجہ ذیل ہیں: تفسیر ابن کثیر،مشکوٰۃ المصابیح، ضیاء القرآن، تفہیم القرآن، بہار شریعت، معارف القرآن اور ملفوظات از مولانا محمد احمد رضا خان قادری۔

مطابق سجدہ، صرف اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے اور اس کی تمام قسمیں کسی بھی اور شخص کے سامنے ممنوع ہیں۔ اس تناظر میں جائے وقوعہ پر گواہان استغاثہ کے روبرو ملزم کا موقف یہ ہے کہ ’آدم‘ کو ’سجدہ‘ کرنے کے لیے کہا گیا اور وہ ’آدم زاد‘ ہے اور مزید یہ کہ جو اسے ’سجدہ‘ کرتے ہیں، یہ ان کا عقیدہ ہے، مکمل طور پر قرآن پاک، سنت کے احکامات کے خلاف ہے اور ’شریعت‘ کی رُوسے ممنوع ہے اور اس طرح اس نے زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، قابل سزا جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

کا تعلق ہے جس طرح اوپر ذکر کیا گیا، مدعی اور گواہان استغاثہ نے واضح طور پر کہا کہ ملزم، اسحاق نے ان کے روبرو یہ بھی کہا کہ جو اسے ”یارسول اللہ“ کہتے ہیں، یہ ان کا عقیدہ ہے اور یہ کہ ”دوسرے لوگ قادیانیوں کو ’کافر‘ سمجھتے ہیں، لیکن اس کے مطابق وہ ’کافر‘ نہیں ہیں“۔

گواہوں کی زیادہ تعداد درکار نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کھلے عام با آواز بلند بولے جائیں یا پھر کسی جلسے میں بولے جائیں یا پھر کسی مخصوص جگہ پر بولے جائیں، صرف ایک ہی گواہ کا بیان کہ کسی نے گھر کے اندر بھی نبی اکرمﷺ کی گستاخی اور توہین میں الفاظ بولے، اسے سزا کا مستحق قرار دینے کے لیے کافی ہیں۔

ملزم کی طرف سے دورانِ جلوس بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھیں، کے علاوہ کارروائی مقدمہ کے دوران ملاقات میں جو گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے گئے، کے متعلق گواہان استغاثہ نمبر 2، 3 اور 4 نے بتایا کہ انہوں نے ملزم کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے جو نبی اکرمﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ سی

صفحہ 724

ڈیز دیکھنے اور گواہان استغاثہ کی گواہی اور سی ڈی کا متن ملاحظہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے ملک سلیم اقبال کی ’بیٹھک‘ میں منعقدہ ایک اجتماع میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ ”اگر لوگ اسے ’یا رسول اللہ‘ کہتے ہیں تو یہ ان کا عقیدہ ہے“۔ مزید برآں، استغاثہ کی گواہی سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملزم نے جائے وقوعہ پر گواہان استغاثہ اور دیگر لوگوں کے روبرو ’قادیانیوں‘ کو ’کافر‘ نہیں کہا بلکہ اس نے ’کافر‘ کو بھی ’کافر‘ نہیں کہا۔ اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس حوالے سے مدعی اور گواہان استغاثہ کی درخواست (Exh.P.A) اور ایف آئی آر (1/Exh.P.A) میں ملزم کے خلاف عائد کردہ الزام ٹھوس بنیاد پر مبنی ہے۔

مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف مہیا کی گئی ہے۔ اس دفعہ کے مطابق ”مسلمان سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی مکمل وحدانیت اور نبی اکرمﷺ کی شان نبوت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ نبی اکرمﷺ کو آخری نبی سمجھتا ہے اور وہ حضرت محمدﷺ کے بعد الفاظ یا بیان، کسی طرح بھی کسی اور پیغمبر یا مذہبی مصلح یا پھر ایسے شخص پر یقین نہیں رکھتا جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، پر یقین نہیں رکھتا یا اسے پیغمبر کی حیثیت سے نہیں دیکھتا اور ’غیر مسلم‘ سے مراد وہ شخص ہے جو مسلمان نہیں اور اس میں وہ شخص شامل ہے جو عیسائیت، ہندومت، سکھ مت، بدھ مت یا پارسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے، یا پھر جو شخص قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو ’احمدی‘ کہلواتے ہیں یا کسی اور نام سے) یا پھر ’بہائی‘ یا پھر جو شخص نیچ ذاتوں سے تعلق رکھتا ہے۔“

اور ’قادیانیوں‘ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور جو انہیں غیر مسلم نہیں سمجھتا، اس کا اپنا عقیدہ بھی مشکوک ہے۔

بنائی گئی، سمیت استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوت سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم متشکل ہونے کے لیے کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم نے مقدمہ ہذا میں اپنے خلاف فرد جرم میں بیان کردہ جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 1، انسپکٹر اعجاز حسین کی گواہی جس نے درخواست (Exh.P.A) کی بنیاد پر ایف آئی آر (1/Exh.P.A) تیار کی اور گواہ استغاثہ نمبر 5، ذکاء اللہ کی گواہی جس کی موجودگی میں سی ڈیز، تفتیشی افسر نے اپنی

صفحہ 725

تحویل میں لیں، کے علاوہ گواہ استغاثہ نمبر 6، محمد اشرف گوندل سب انسپکٹر اور گواہ استغاثہ نمبر 7، محمد ذوالفقار، ایس پی کی گواہی بھی متعلقہ ہے اور استغاثہ کے مقدمے کی تائید کرتی ہے۔

45- جہاں تک مدعا علیہ کے موقف کا تعلق ہے، ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بیان قلمبند کراتے ہوئے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کی تردید کی اور اس اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ’کیوں یہ مقدمہ اس کے خلاف تیار کیا گیا اور گواہانِ استغاثہ نے اس کے خلاف گواہی کیوں دی‘ ملزم نے یہ موقف اپنایا کہ اس کا ’بریلوی‘ مسلک سے تعلق ہے اور وہ ایک اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور یہ کہ حضرت محمدﷺ ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور مرحوم پیر فضل شاہ عرف افضل شاہ، جس کا مزار، تلہ گنگ شہر میں واقع ہے، اور وہ ’سجادہ نشین‘ ہے اور مزید یہ کہ مدعی اور دیگر گواہانِ استغاثہ کا تعلق دوسرے مسلک سے ہے سوائے صابر ایوب کے جس کا تعلق ’بریلوی نقشبندی‘ مسلک سے ہے، نیز دوسرے مسلک کے ’مولویوں‘ نے مدعی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے بدنیتی سے مقدمہ ہذا میں ملوث کیا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ ’امریکہ‘ میں آباد ہے اور مورخہ 2009-07-07 کو وہ تلہ گنگ آیا اور اسی دن اس نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے قوالیوں اور نعت کی ایک ’محفل‘ منعقد کی۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کے مرید اس سے قابلِ احترام طریقے سے ملے اور اپنے عقیدے کے مطابق، انہوں نے اس کے ہاتھ پاؤں چومے اور کوئی ’سجدہ‘ نہیں کیا گیا۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے ایک ادارہ، ’انٹرنیشنل اسلامک مرکز طریقت INC,323، Etna Street، بروکلے، نیویارک، N.Y.11208‘ کے نام سے ایک رجسٹرڈ ادارہ قائم کیا اور غیر مسلموں میں بھی اسلام کے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور ان میں شعور پیدا کرنے کے مضامین اور کتابچے شائع کرتے ہیں۔ اس نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، ایک حلفیہ بیان قلمبند کرایا جس میں اس نے اپنا پہلا موقف دہرایا۔ تاہم، مدعی کے فاضل وکیل کی طرف سے دورانِ جرح، اس نے بتایا کہ ”اسے تلہ گنگ میں ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں مورخہ 08-07-2009 کو طلب کیا گیا، وہ دیگر افراد کے نام نہیں جانتا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہاں اس کی ان لوگوں کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ اس نے مزید اقرار کیا کہ نجی گواہان، جو اس عدالت میں موجود ہیں، تلہ گنگ میں ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں موجود تھے۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ اس نے محسوس نہیں کیا کہ متذکرہ گفتگو، موبائل فون پر

صفحہ 726

ریکارڈ کی جارہی ہے۔ اس نے مدعی کے فاضل وکیل کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ کچھ وجوہ کی بنا پر ’کافر‘ کو بھی ’کافر‘ نہیں کہتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں اس نے واضح انداز میں کہا کہ اس کی اپنے عقیدے، خیالات اور تعلیمات کے حوالے سے گواہان استغاثہ کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی گواہان استغاثہ کی اس کے ساتھ کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی اس نے اس ضمن میں انہیں کچھ بتایا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اس نے ایس پی ذوالفقار کو بتایا۔ یہ ایس پی، مقدمہ ہذا کا تفتیشی افسر ہے۔ مدعی کے فاضل وکیل کی طرف سے جرح کے آخری حصے میں، ملزم نے واضح طور پر کہا کہ ”جو کچھ میں نے نجی گواہان کے روبرو کہا، اس پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔“ اس کے علاوہ اس نے دستاویزات، (Exh.D.A) تصویریں، جن پر A اور B لکھا ہوا ہے، پریس ریلیز وغیرہ، جن پر D تا PQ کے نشان لگے ہوئے ہیں، پیش کیں۔

46- ملزم کے مندرجہ بالا بیان/گواہی میں، ایک چیز نہایت واضح ہے کہ ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں وقوعہ کے دن، مدعی اور گواہان استغاثہ اسے ملے اور بحیثیت مجموعی عوام الناس کے تحفظات کے ضمن میں وہاں ایک گفتگو ہوئی۔ مقدمہ ہذا کا ایک اور پہلو کہ ملزم نے ’قادیانیوں‘ کو ’کافر‘ نہیں کہا، بھی دوران جرح، زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کے بیان سے ثابت ہو گیا۔

47- مندرجہ بالا بحث اور ریکارڈ پر موجود تمام گواہی اور ثبوت کو مدنظر رکھتے ہوئے، مجھے گواہان استغاثہ کی طرف سے کسی بھی خاص مقصد، دشمنی یا مخاصمت نظر نہیں آتی جس کے باعث مقدمہ ہذا میں ملزم محمد اسحق کو غلط طور پر ملوث کیا جائے۔ گواہان استغاثہ، آزاد اور قابل بھروسا ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ان پر یقین نہ کیا جائے۔ سی ڈی کی شکل میں ریکارڈ پر موجود ثبوت بھی متعلقہ ہے اور خاص طور پر ان حالات میں قانون شہادت کے مطابق قابل اعتماد ہے جب ملزم نے دوران دلائل، اپنے وکیل کے ذریعے اپنے بیان کے ساتھ وہ متن پیش کیا جو مدعی پارٹی کی طرف سے دوران دلائل اور سی ڈی (Exh.P.B/1-2) میں موجود گفتگو کے تقریباً مشابہ ہے۔ اس لیے استغاثہ، بلاشک وشبہ، مندرجہ بالا گواہی کے ذریعے ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ مدعا علیہ اس کی تردید کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے بیانات کو گواہان استغاثہ کے بیانات پر ترجیح نہیں دی جا سکتی جن کے بیانات کو دوران جرح غلط ثابت نہیں کیا جا سکا اور گواہان استغاثہ، خاص طور پر ان حالات میں قابل بھروسا ثابت ہوئے

صفحہ 727

جب ملزم زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، عدالت میں پیش ہوتے ہوئے ملک سلیم اقبال کی بیٹھک میں مدعی، گواہانِ استغاثہ اور دیگر افراد کی موجودگی میں مبینہ ملاقات اور گفتگو کا اعتراف کیا۔ اس لیے ملزم کو زیر دفعات A-295 اور C-295 تعزیرات پاکستان، جرم کا مرتکب پایا گیا ہے اور مقدمہ ہذا کا جرم بلاشک وشبہ اس کے خلاف ثابت ہو چکا ہے۔ تاہم، سزا کی مقدار کا تعین کرنے سے پہلے میں اس امر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ، نبی اکرم ﷺ کو اپنی توہین کے مرتکبین کو معاف کر دینے کا حق حاصل تھا لیکن فقیہہ متفق ہیں کہ بلاشبہ اپنی توہین کے مرتکبین کو معاف کر دینے کا حق حاصل تھا جبکہ امت کو آپ ﷺ کی توہین کے مرتکبین کو معاف کر دینے کا کوئی حق نہیں۔ قرآن پاک نے آپ ﷺ کی شان کی خاطر آپ ﷺ کے لیے خفیف سی ناراضی اور گستاخی کی بھی ممانعت فرمائی اور اعلان کیا کہ آپ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی بیویوں سے شادی مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے تا کہ نبی اکرم ﷺ کی توہین نہ ہو سکے۔ ’سنت‘ کے مطابق یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی توہین کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ”اس شخص کو قتل کر دو جو نبی اکرم ﷺ کو ایذا دیتا ہے اور جو اپنے طرزِ عمل سے میرے صحابہ کو ایذا دیتا ہے ۔“ (الشفاء، قاضی عیاضؒ جلد دوم ، صفحہ 194)۔ قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: ”اس نکتے پر امت کا اجماع ہے کہ ایک مسلمان کی سزا جو نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کرتا ہے یا آپ ﷺ کی بے حرمتی کرتا ہے، موت ہے۔“ (الشفاء، جلد دوم، صفحہ 211)۔ ابوبکر جصاص حنفیؒ لکھتے ہیں۔ ”مسلمانوں میں اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ ایک مسلمان جو دانستہ رسول پاک ﷺ کی تضحیک و توہین کرتا ہے‘ مرتد ہو جاتا ہے اور سزائے موت کا مستوجب ہوتا ہے۔“ (احکام القرآن‘ جلد ہشتم صفحہ 106)۔

والے کوئی ایسے حالات موجود نہیں۔ اس لیے میں، ملزم محمد اسحق کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہراتا ہوں۔ اسے اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی، سزائے موت پر عملدرآمد ملتوی رہے گا۔ اسے دو لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے چھ ماہ قید بھگتنی ہوگی۔

صفحہ 728

ہے۔ اسے دفعہ 382-B مجموعہ ضابطہ فوجداری، شک کا فائدہ دیا گیا ہے۔

کے خلاف 7 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اس فیصلے کی نقل اسے بلاقیمت مہیا کر دی گئی ہے۔

فوجداری، سزائے موت دینے کے لیے ایک درخواست معزز عدالت عالیہ لاہور کو بھیجی جائے۔

الملک، العزیز، المطہر، الخالق، الغفور، العادل، العظیم، الغفور، الکبیر، الحق، القوی، الحئی، القیوم، الاحد، الصمد، المتعالی، البر، التواب، المقسط، الباقی ہے جس نے مجھے یہ مقدمہ صبر وتحمل سے سننے اور اس کا فیصلہ کرنے کا حوصلہ بخشا۔ اس فیصلہ کے آخر میں، میں اس آیت ’’اور ہم نے بلند کردیا آپ کی خاطر آپ کا ذکر کو۔‘‘ (الانشراح: 5) کے ساتھ، اپنی اور اپنی ٹیم کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ کی خدمت میں درود و سلام پیش کرتا ہوں۔

دستخط: تاریخ فیصلہ چودھری ایم ممتاز حسین 30 جنوری 2012ء ایڈیشنل سیشن جج، جہلم حال مقیم اڈیالہ جیل، راولپنڈی

۞.......۞.......۞

صفحہ 729

جناب چودھری عمر حیات ایڈیشنل سیشن جج قصور

سرکار بنام منظر الحق شاہجہان ایس ایچ او راجہ جنگ، مارچ 2012ء

صفحہ 730
صفحہ 731

دل کی بات

یہ مقدمہ ایک بدنام زمانہ گستاخ رسول منظر الحق شاہجہاں ایس ایچ او کے خلاف ہے جو اپنی دیوثی کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس مقدمہ کے حالات و واقعات اس طرح ہیں کہ 26 جنوری 2009ء کو مدعی مقدمہ محمد یونس اپنے دوست جاوید اقبال کے ہمراہ اپنے ایک کام کے سلسلہ میں محمد حیات سب انسپکٹر سے ملنے کے لیے پولیس اسٹیشن راجہ جنگ قصور گیا۔ وہاں اسے پتہ چلا کہ وہ تھانہ میں موجود نہیں ہے۔ پھر وہ ملزم منظر الحق شاہجہاں ایس ایچ او کے پاس گئے جو انہیں اقبال انجم انچارج انوسٹی گیشن کے پاس اس کے کمرے میں لے گیا۔ گفتگو کا آغاز مختلف باتوں سے ہوتا ہوا جامع فاروقیہ مسجد کے امام حافظ محمد شاہد محمود کے ساتھ ہونے والی ڈکیتی پر پہنچا تو ملزم منظر الحق نے مدعی سے کہا کہ تم مولویوں کے متعلق کیا بات کرتے ہو، مولوی تو بدکردار ہوتے ہیں۔ اس پر مدعی نے کہا کہ حافظ شاہد محمود تو ایسا نہیں ہے۔ وہ ایک خوش الحان نعت خواں ہے۔ اس پر ملزم نے نہایت تضحیک آمیز انداز میں کہا کہ وہ نعت گو ہے اور نعت، ”مدینے والے مدینے بلا لو“ پڑھتا ہے۔ اس کے بعد ملزم نے حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق اپنے ہاتھوں کے اشارے کے ساتھ ایسے گستاخانہ اور اہانت آمیز جملے کہے جنہیں میں یہاں نقل کرنے سے قاصر ہوں۔ یہ جملے اس قدر گستاخانہ، غلیظ اور دل آزار ہیں کہ اس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ حیراں ہوں آسماں کیوں نہیں گرا اور زمین کیوں نہ پھٹی۔ اس پر مدعی مقدمہ اور اس کا ساتھی پولیس اسٹیشن سے واپس آگئے۔ پھر انہوں نے حلف اٹھا کر اس واقعہ کا ذکر جامع مسجد محمدیہ اسٹیشن والی میں علماء کرام اور معززین علاقہ کے سامنے کیا۔ اس میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے۔ چنانچہ مدعی محمد یونس کی درخواست پر 5 فروری 2009ء کو ملزم منظر الحق کے خلاف توہین رسالت ﷺ کے ارتکاب پر پولیس اسٹیشن راجہ جنگ میں مقدمہ درج ہو گیا۔ مقدمہ کے

صفحہ 732

اندراج کے بعد اس کی تفتیش ایس پی انوسٹی گیشن نے کی۔ اس نے بغیر کسی سنجیدہ تحقیق یا تفتیش کے اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی اور اپنی ناقص تفتیش میں اسے بے قصور قرار دے دیا۔ افسوس ! اگر یہی الفاظ کسی نے اس ایس پی کے متعلق کہے ہوتے تو اسے محض چند دنوں میں ماورائے عدالت کسی مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک کر دیا جاتا۔

تقریباً 3 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ ملزم کے خلاف تمام شواہد اور دلائل ملاحظہ کرنے کے بعد جرم ثابت ہونے پر جناب چودھری عمر حیات ایڈیشنل سیشن جج قصور نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی۔ محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

ہے کہ ملزم مظہر الحق شاہجہاں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اس نے اپنی ہتھیلی بھی بند کی اور اپنا ہاتھ بلند کیا اور اشارہ کیا اور گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کی عزت و احترام، دنیا کے تمام مسلمانوں سے افضل ہے جس طرح قرآن پاک کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 6 میں بیان کیا گیا ہے: ”نبی کریم ﷺ مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہیں اور آپ (ﷺ) کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“، اور نبی اکرم ﷺ کی بیویاں، مسلمانوں کی مائیں بھی ہیں۔ زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان کے تحت توہین رسالت ﷺ کا جرم، ملزم کے خلاف مکمل طور پر ثابت ہو چکا ہے جو مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے۔ زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ملزم مظہر الحق شاہجہاں، جرم کا مرتکب پایا گیا ہے۔ اسے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، عمر قید کی سزا دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دو لاکھ روپیہ 200,000/- روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید دو سال کی قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔“

نہایت ادب کے ساتھ گذارش ہے کہ نجانے محترم جج صاحب نے کس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی کیونکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C کے تحت جرم ثابت ہونے پر ملزم کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ قانون کا معمولی طالب علم بھی اس بات کو جانتا ہے مگر افسوس ! ........................................ ! اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل

صفحہ 733

فیصلے حرف آخر ہیں:

میری ناقص رائے میں محترم جج صاحب کو اپنے فیصلہ میں ملزم کی طرف سے حضور نبی کریم ﷺ سے متعلق ادا کیے گئے غلیظ ترین گستاخانہ الفاظ کو بار بار اپنے فیصلہ میں نقل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ اس کے ہر لفظ سے ایک مسلمان کا جسم و روح لرز جاتا ہے۔ ہم اس کے تصور سے بھی ہزار بار استغفار کرتے اور درود شریف پڑھتے ہیں۔

اس فیصلہ کی نقل کے لیے جناب شوکت علی قادری اور جناب محمد نعیم انور بھٹی صاحب نے بے حد کوشش کی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 734

بعدالت جناب چودھری عمر حیات، ایڈیشنل سیشن جج، قصور

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 09/2010 سیشن مقدمہ نمبر : 20/2010 ایف آئی آر نمبر : 20/2009 بتاریخ 5 فروری 2009ء پولیس سٹیشن : راجہ جنگ بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-C

سرکار

بنام

منظر الحق شاہجہاں ولد محمد شفیع، عمر تقریباً 45 برس، ذات جٹ، ساکن محلہ مصطفیٰ آباد، ضلع فیصل آباد (ملزم)

وکیل منجانب مدعی: ملک محمد کبیر، فاضل وکیل وکیل منجانب سرکار: میاں محمد طفیل، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکیل منجانب ملزم: چودھری محمود اختر خان، فاضل وکیل

تاریخ فیصلہ: 16 مارچ 2012ء

صفحہ 735

فیصلہ

جناب چودھری عمر حیات، ایڈیشنل سیشن جج، قصور

کے ہمراہ مورخہ 26-01-2009 کو تقریباً 08.00 رات پولیس سٹیشن راجہ جنگ (قصور) گیا۔ مدعی نے اپنے ساتھی کے ہمراہ، عمر حیات سب انسپکٹر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی جو اس وقت وہاں نہ تھا، تب وہ مظہر الحق شاہجہاں کے پاس گئے اور پھر اس کے ساتھ وہ پولیس سٹیشن راجہ جنگ کی عمارت میں انچارج انوسٹی گیشن، اقبال نجم کے پاس گئے۔ گفتگو کا آغاز چھوٹے موٹے جرائم کے حوالے سے ہوا۔ بعد ازاں، فاروقیہ مسجد کے امام حافظ شاہد محمود کے ساتھ ڈکیتی کے حوالے سے گفتگو شروع ہو گئی۔ تب ملزم، مظہر الحق شاہجہاں نے مدعی سے کہا کہ تم مولویوں کے متعلق کیا بات کرتے ہو کیونکہ مولوی حجروں میں بچوں کے ساتھ لواطت کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور لڑکیوں کو بہلاتے پھسلاتے ہیں۔ حافظ شاہد محمود، مولویوں میں سے کس قسم کا مولوی ہے؛ وہ تو محض 'نعت گو' ہے اور 'مدینے والے مدینے بلا لو' نعت پڑھتا ہے .............................................................. نعوذ باللہ۔ اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے اور اپنے عمل کا اظہار اپنے ہاتھ کے ذریعے بھی کیا۔ مدعی اور اس کا ساتھی، پولیس سٹیشن سے واپس آگئے اور مدعی اور اس کے ساتھی نے عشاء کی نماز کے بعد متذکرہ واقعہ کا ذکر جامع مسجد محمدیہ اسٹیشن والی کے 65 معززین کے سامنے کیا۔ بعد ازاں یہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔

صفحہ 736

تفتیش متعلقہ تفتیشی افسر نے ملزم شاہجہاں کو بے قصور قرار دیا اور زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت رپورٹ کے کالم نمبر 2 میں اس کا نام درج کرتے ہوئے چالان پیش کر دیا۔

عدالت کے روبرو چالان پیش کیا۔ مورخہ 2009-09-25 کو فاضل علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت کے روبرو چالان پیش کیا گیا اور اسے مورخہ 2010-03-19 کو فاضل سیشن جج قصور کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ پھر اسے مورخہ 2010-3-19 کو جناب اجمل حسین ایڈیشنل سیشن جج، قصور کی عدالت کے سپرد کر دیا گیا۔ زیر دفعہ C-265 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اس کی نقول، مورخہ 2010-06-30 کو ملزم کے حوالے کر دی گئیں۔ مورخہ 10-07-2010 کو ملزم کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی گئی جس پر ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔ استغاثہ نے چار گواہانِ استغاثہ کی گواہیوں کو قلمبند کیا۔

مدعی ہے۔ گواہِ استغاثہ نمبر 3، وقوعہ کا مبینہ عینی شاہد ہے۔ گواہِ استغاثہ نمبر 4، مقدمہ ہذا کا تفتیشی افسر ہے۔ استغاثہ نے اصلی درخواست (Ex.PA)، ایف آئی آر (Ex.PA/1) جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ (Ex.PB)، مذہبی عالم، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ (رجسٹرڈ) لاہور کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ (Ex.PC)، قانونی رائے حاصل کرنے کے حوالے سے متعلقہ تفتیشی افسر کی درخواست (Ex.PD) اور اصل قانونی رائے (Ex.PD/1) بھی پیش کی۔

بیان قلمبند کیا گیا۔ ملزم نے اپنے دفاع میں بھی بیان دیا۔

راجہ جنگ میں بطور ڈیوٹی افسر تعینات تھا۔ اسی دن مدعی محمد یونس اس کے روبرو پیش ہوا اور ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ایک درخواست (Ex.PA) پیش کی جس کی بنیاد پر اس نے بغیر کسی کمی و بیشی کے جو اس کی لکھائی میں تھی اور اس پر اس کے دستخط ثبت تھے، ایف آئی آر (Ex.PA/1) درج کر لی۔ متذکرہ گواہِ استغاثہ پر مدعا علیہ (ملزم یا وکلائے صفائی) کی طرف سے جرح نہیں کی گئی۔

صفحہ 737

بجے رات کو وہ اپنے دوست جاوید اقبال کے ہمراہ ایک کام کے سلسلے میں عمر حیات، سب انسپکٹر سے ملاقات کے لیے پولیس سٹیشن راجہ جنگ گیا۔ متذکرہ سب انسپکٹر، پولیس سٹیشن میں نہ مل سکا اور بعد ازاں انہوں نے منظر الحق شاہجہاں، انسپکٹر/ایس ایچ او، پولیس سٹیشن راجہ جنگ حاضر ملزم عدالت سے ملاقات کی۔ ملزم، انسپکٹر/ایس ایچ او، انہیں تفتیشی افسر اقبال انجم کے کمرے میں لے گیا۔ بیٹھنے کے دوران چھوٹے موٹے جرائم کے متعلق گفتگو شروع ہوگئی۔ دورانِ گفتگو ان کے درمیان فاروقیہ مسجد کے امام حافظ شاہد محمود کے ہاں ہونے والی ڈکیتی کے متعلق بات چیت شروع ہوگئی۔ متذکرہ گفتگو کے دوران عدالت میں حاضر ملزم نے انہیں کہا کہ وہ کن مولویوں کے متعلق بات کرتے ہیں کیونکہ مولوی تو اپنے حجروں میں بچوں کے ساتھ لواطت کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور لڑکیوں کو بہلاتے پھسلاتے ہیں۔ حافظ شاہد محمود، مولویوں سے کس قسم کا مولوی ہے۔ وہ تو محض نعت گو ہے۔ نعت ”مدینے والیا مدینے بلا لو نعوذ باللہ، مدینے والے کا.......................................................................“ اور اس نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا اور گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے اور اپنے اس فعل کا ہاتھ سے بھی اشارہ کیا۔ متذکرہ وقوعہ کے بعد، وہ دوست کے ساتھ یہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ نمازِ عشا کے بعد، وہ جامع مسجد محمدیہ اسٹیشن والی میں جمع ہوئے۔ متذکرہ اجتماع میں علمائے کرام سمیت 65 معززین کے علاوہ دیگر افراد بھی موجود تھے۔ وہ اور جاوید اقبال نے ’کلمہ شریف‘ پڑھنے کے بعد مجمع کو تمام واقعہ بتایا۔ علمائے کرام ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے اور کہا کہ وہ (منظر الحق شاہجہاں) جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ اس نے ایک شکایت (Ex.PA) گزاری اور مقدمہ کے اندراج کے لیے اس شکایت پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ اس کے دستخط (Ex.PA/2) ہیں۔

مورخہ 2009-02-05 کو تقریباً 2:30 بجے دوپہر ایف آئی آر درج کروائی۔ اس نے تسلیم کیا کہ اس نے اس وجہ کا ذکر نہیں کیا کہ اس نے مورخہ 2009-02-05 سے قبل ایف آئی آر درج کیوں نہیں کروائی۔ اس نے ایف آئی آر تاخیر سے درج کروانے کی وجہ بھی بیان نہیں کی۔ اس کی شکایت (Ex.PA)، قصور کی ضلعی عدالتوں میں موجود ایک کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ اور کمپوز کی گئی۔ اس کے ساتھیوں اور دوستوں نے یہ درخواست تیار کی اور تب

صفحہ 738

اسے کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کیا گیا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ مفتی سادات علی قادری نے تحریری ہدایت کے ذریعے انہیں ملزم کے خلاف یہ مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کی ورنہ بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ مفتی سادات علی قادری آف قصور کی متذکرہ ہدایت کے بعد، اس نے ایک مشیر کے تعاون سے ایک کہانی گھڑی اور ایف آئی آر درج کروادی۔ ایف آئی آر کے اندراج کے دو تین دن کے بعد کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسے یہ علم نہیں تھا کہ کیا یہ کمیٹی، حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ تھی یا نہیں۔ تشکیل شدہ کمیٹی یا اس قسم کی کوئی کمیٹی، ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے یا بعد میں رجسٹر نہیں کرائی گئی۔ اس نے جاوید اقبال، گواہ استغاثہ سے اپنے تعلق کا اعتراف کیا۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ جاوید اقبال، تعمیرات کے کاروبار میں اس کا شراکت دار ہے۔ اس نے کہا کہ وہ زیر دفعہ 324 تعزیرات پاکستان ایف آئی آر نمبر 274/08 مورخہ 03-10-2008 کے اندراج سے انکار نہیں کر سکتا جو زیر دفعہ 324 تعزیرات پاکستان پولیس سٹیشن راجہ جنگ میں درج کی گئی۔ اس نے کہا کہ متذکرہ ایف آئی آر میں، ایک شخص رزاق نامی آتشیں اسلحہ کے باعث زخمی ہوا۔ اس نے بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ کیا ادریس کو متذکرہ ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا گیا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ پولیس سٹیشن راجہ جنگ میں مندرج ایف آئی آر 274/08 کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس نے اپنی لاعلمی ظاہر کی کہ ملزم ادریس نے زیر دفعہ 22-A اور 22-B مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ایک درخواست دائر کی کہ ایوب دھوبی اور مقصود اس کے ساتھ زیادتی کرتے رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ایف آئی آر نمبر 274/08 غلط طور پر درج کرائی گئی۔ اس نے اپنی اس لاعلمی کا اظہار بھی کیا کہ شریف سب انسپکٹر نے کیس ایف آئی آر نمبر 274/08 کی تفتیش کے دوران متذکرہ ملزم کا دوسرا موقف قلمبند کیا۔ اس نے تسلیم کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم، منظر الحق شاہجہاں، پولیس سٹیشن راجہ جنگ میں ایس ایچ او تھا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے عدالت میں حاضر ملزم سے، ملزم ادریس کے دوسرے موقف کو منسوخ کرنے کے لیے کہا اور اس سے ملزم پر مقدمہ کی سماعت اور اس کا چالان پیش کرنے کی سفارش کی۔ اس نے مزید تسلیم کیا کہ جاوید اقبال گواہ استغاثہ نے ایوب دھوبی کے خلاف ایف آئی آر نمبر 327/08 درج کرائی۔ اس نے تسلیم کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم، منظر الحق شاہجہاں، اس وقت پولیس

صفحہ 739

سٹیشن کا ایس ایچ او تھا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم نے متذکرہ ملزم ایوب دھوبی سے تفتیش کی۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم نے متذکرہ ایوب دھوبی کو بے گناہ قرار دیا اور اس کے خلاف درخواست کو جھوٹا قرار دیا۔ اس نے بتایا کہ چونکہ عدالت میں حاضر ملزم ایس ایچ او نے متذکرہ ایوب دھوبی کو بے گناہ پایا اور اس نے جاوید اقبال سے اسے چھوڑنے کے لیے کہا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ اور جاوید اقبال، ملزم ایوب دھوبی کے خلاف تفتیش کے ضمن میں ملزم سے ناراض تھے اور پھر انہوں نے ڈی پی او قصور کے ذریعے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کروا دی اور پھر یہ تفتیش احسان الٰہی کھوکھر انسپکٹر/ایس ایچ او، سی آئی اے قصور کے سپرد کر دی گئی۔ اس نے اپنی اس لاعلمی کا اظہار کیا کہ متذکرہ احسان الٰہی کھوکھر انسپکٹر/ایس ایچ او، سی آئی اے قصور نے مقدمہ کی مفصل تفتیش کی اور ایوب دھوبی کو بے قصور قرار دیا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ جاوید اقبال کے ہمراہ مبینہ وقوعہ سے قبل ہی منظر الحق شاہجہاں سے ناراض تھا۔ اس نے تسلیم کیا کہ وقوعہ کے وقت، وہ، جاوید اقبال اور اقبال نجم انسپکٹر انچارج انوسٹی گیشن، ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ تفتیشی افسر کے کمرے کی پیمائش 20x18 فٹ تھی۔ ان دنوں میں عمر حیات سب انسپکٹر، پولیس سٹیشن راجہ جنگ میں تعینات تھا۔ اس نے معاملہ کے لیے بیان کیا کہ وہ جس پولیس سٹیشن راجہ جنگ گئے، وہ منظر الحق شاہجہاں سے منسلک نہیں تھا۔ انہوں نے اقبال منشی نامی محرر سے استفسار کیا جو عمر حیات کے قریب کمرے میں بیٹھا تھا۔ استفسار کرنے پر اس نے بتایا کہ عمر حیات پولیس سٹیشن نہیں پہنچا۔ یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد وہ واپس نہیں آئے۔ اس نے اپنی اس لاعلمی کا اظہار کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم، پولیس سٹیشن، گنڈہ سنگھ والا کی حدود میں واقع اولکی جھیل کا رہائشی ہے۔ اس نے اپنی اس لاعلمی کا اظہار کیا کہ ملزم کا باپ، ایک مدرسہ کو چلاتا اور اس کا اہتمام کرتا تھا۔ اس نے تسلیم کیا کہ ایس پی انویسٹی گیشن نے بالمشافہ تفتیش کی۔ اس نے مزید اعتراف کیا کہ ایس پی انویسٹی گیشن نے وضو کرنے کے بعد پولیس لائنز، قصور کی مسجد میں ملزم کا بیان قلمبند کیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس کی موجودگی میں عدالت میں حاضر ملزم نے قرآن پاک پر حلف دیتے ہوئے جرم کے عدم ارتکاب کے ضمن میں اپنے بے گناہی کا اظہار کیا۔ اس نے مزید اعتراف کیا کہ ملزم منظر الحق شاہجہاں نے دوران تفتیش، یہ موقف اختیار کیا کہ اس کی اور جاوید اقبال کی اس کے خلاف دشمنی تھی اور اس دشمنی کے باعث، اس کے

صفحہ 740

خلاف متذکرہ ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس نے مزید بیان کیا کہ دوران تفتیش، ملزم نے موقف اختیار کیا کہ مبینہ وقوعہ کے وقت، فضل قادر ولد ابراہیم ، مشتاق ولد عارف علی ، افضل ولد صدیق، محمد عمر ولد غلام محمد اور اقبال نجم، انسپکٹر انویسٹی گیشن کمرے میں موجود تھے۔ اس نے اعتراف کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم نے ایس پی انویسٹی گیشن کے روبرو بیان کیا کہ کچھ دیر کے بعد ماسٹر امانت علی نے اسے ٹیلیفون پر بتایا کہ مولانا منظور احمد قادری اور مولوی عرفان کے درمیان ایک مذہبی معاملے پر جھگڑا ہو گیا اور وہ پولیس سٹیشن آنے کے خواہاں ہیں۔ ملزم نے جواب دیا کہ وہ پولیس سٹیشن نہ آئیں اور اس کے بجائے اسے مسجد میں آنا چاہیے۔ اس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملزم نے ایس پی کے روبرو تفتیش کے دوران بیان دیا تھا کہ اس بلاوے کے نتیجے میں وہ فوراً ہی مسجد گیا جہاں تیس پینتیس مولانا حضرات، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے موجود تھے اور وہ 1.00 بجے رات تک متذکرہ مسجد میں مصروف رہا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملزم نے کچھ تحریری کاغذات پیش کیے جنہیں مورخہ 2009-01-28 کو مخالف مولانا حضرات نے اپنے تنازع کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ مولانا منظور احمد قادری اس مسجد کا امام ہے جسے مسجد یا رسول اللہ کہتے ہیں جو ریلوے سٹیشن سے ملحق ہے۔ اس نے تسلیم کیا کہ اسی دن گواہ استغاثہ جاوید اقبال نے بھی وضو کرنے کے بعد پولیس لائنز قصور میں واقع مسجد میں ایس پی انویسٹی گیشن کے روبرو اپنا بیان قلمبند کروایا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ جاوید اقبال نے اس کے الزام سے انکار کر دیا اور درخواست میں شامل مبینہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کی تصدیق نہیں کی۔ اسے یہ علم نہیں تھا کہ کیا ایس پی انویسٹی گیشن نے تمام مواد اور مقدمہ کے متعلق تفصیل، رائے / فتویٰ حاصل کرنے کے لیے دارالعلوم جامعہ نعیمیہ رجسٹرڈ لاہور کو بھجوا دی۔ اس نے مزید کہا کہ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ متذکرہ دارالعلوم کی طرف سے کوئی فتویٰ دیا گیا کہ توہین رسالتﷺ کا ارتکاب نہیں ہوا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اقبال نجم انسپکٹر نے اس لحاظ سے اس کا بیان قلمبند کیا کہ اس قسم کے کوئی گستاخانہ کلمات استعمال نہیں کیے گئے اور اس نے مزید اپنا بیان قلمبند کروایا کہ وہ اور گواہ استغاثہ جاوید اقبال نے وقوعہ کے متعلق جائے وقوعہ سے رخصت ہوتے ہوئے متذکرہ انسپکٹر جاوید اقبال نجم سے اپنے کسی ارادے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کوئی تاثر دیا۔ اس نے بتایا کہ ان کی موجودگی میں اقبال نجم ، انسپکٹر پولیس کے روبرو دوران تفتیش پیش نہ ہوا۔ اس نے اس

صفحہ 741

بات سے انکار کیا کہ اس نے جو بیان دیا، وہ غلط ہے۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ اس کی اور گواہ استغاثہ جاوید اقبال کی ملزم منظر الحق شاہجہاں کے ساتھ پرانی دشمنی کے باعث، انہوں نے جھوٹی الزام تراشی کی اور سوچ سمجھ کر اور تاخیر سے غلط طور پر ایف آئی آر درج کروائی۔ اس نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ملزم کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے جاوید اقبال کے ہمراہ اس نے خاص طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی تا کہ انتظامیہ اور پولیس کو دباؤ میں لایا جائے۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے کئی دفعہ مختلف اخبارات میں کئی خبریں چھپوائیں اور بتایا کہ وہ اس لیے کر رہا ہے کیونکہ ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کی گواہی جھوٹی ہے۔ اس نے اس بات کی بھی تردید کی کہا اس نے ملزم کو بلیک میل کرنے کے لیے غلط ایف آئی آر درج کرائی۔

رات وہ اور محمد یونس اپنے ایک کام کے سلسلے میں عمر حیات سب انسپکٹر سے ملنے کے لیے پولیس سٹیشن راجہ جنگ گئے۔ متذکرہ سب انسپکٹر نہیں ملا، اس لیے انہوں نے منظر الحق شاہجہاں ایس ایچ او سے ملاقات کی۔ متذکرہ ایس ایچ او، انہیں اقبال نجم، انچارج انویسٹی گیشن کے کمرے میں لے گیا۔ وہ وہاں بیٹھ گئے اور چھوٹے موٹے جرائم کے متعلق گفتگو شروع کر دی۔ دورانِ بحث، انہوں نے فاروقیہ مسجد کے امام حافظ شاہد محمود کے ہاں ہونے والی ڈکیتی کے متعلق باتیں شروع کر دیں۔ ملزم، منظر الحق شاہجہاں نے کہا کہ مولویوں کے متعلق کیا کہا جائے جو اپنے حجروں میں بچوں کے ساتھ لواطت کے مرتکب ہوتے ہیں اور لڑکیوں کو بہلاتے پھسلاتے ہیں۔ ملزم نے کہا کہ حافظ شاہد، مولوی نہیں، وہ تو محض ایک نعت گو ہے جو نعت ’مدینے والیا مدینے بلا لے‘ اور ہاتھ کے اشارے اور گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہوئے مزید کہا ’مدینے والے کا.....................‘ بعد ازاں، وہ اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ متذکرہ واقعہ کے دو دن بعد، تقریباً 65 افراد، محمدیہ مسجد اسٹیشن والی میں جمع ہو گئے۔ انہوں نے متذکرہ لوگوں کے روبرو یہ واقعہ بتایا۔ محمد یونس، مدعی نے کلمہ شریف پڑھنے کے بعد مسجد میں بتایا کہ جو کچھ اس نے بتایا، درست ہے اور اس نے اس کی تصدیق کی۔ اس کا بیان بھی ایس پی انویسٹی گیشن نے قلمبند کیا۔ خود پر جرح کے دوران، اس نے مورخہ 2009-03-21 کو تقریباً 5.00 بجے شام بتایا کہ ایس پی انویسٹی گیشن قصور نے پولیس لائنز قصور میں واقع مسجد میں

صفحہ 742

موجود افراد سے تفتیش کی۔ ملزم منظر الحق شاہجہاں کی طرف سے 10 افراد بھی موجود تھے۔ دیگر افراد کے ہمراہ، وہ بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ اپنے گزشتہ تحریری بیان میں جو اس نے پہلے دیا، مزید اب وہ وضو سے ہے اور مسجد میں ہے، اس لیے وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ اس نے ایس پی کے روبرو اعتراف کیا کہ ملزم نے کہا کہ لوگ نعت پڑھ رہے تھے اور کہا ”بلا لو مدینے“ اور اس (ملزم) نے یہ بھی کہا کہ ’مدینے والے کا ...........‘ یہ کہنے کے بعد ملزم نے اپنی ہتھیلی بند کرتے ہوئے اور اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے اسے بلند کیا۔ اس نے ایس پی کے روبرو بیان کیا کہ ملزم نے اپنا ہاتھ بلند کرتے اور اشارہ کرتے ہوئے کہا ”عربیوں کے...............‘ یہ A سے A تک کے حصے ہیں جو (Ex.DA) ہے، جس میں ”عربیوں کے“ مذکور ہے۔ اس نے مزید اعتراف کیا کہ اس نے B سے B تک کے حصے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس نے (ExDA) کا ذکر کیا کہ ایف آئی آر میں حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق مستعمل لفظ، اس نے نہیں سنا۔ اس نے (Ex.DA) میں مذکور D سے D حصے کا بھی اعتراف کیا۔ اس نے ملزم ایوب اور دیگر چار نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر نمبر 327/2008 مورخہ 20-12-2008 بجرم زیر دفعہ 395 تعزیرات پاکستان کے تحت اندراج کا اعتراف کیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ ایوب، ایس ایچ او کے روبرو پیش ہوا جو مقدمہ ہذا میں ملزم ہے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ عدالت میں حاضر ملزم کی رائے تھی کہ متذکرہ ایوب کا مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس نے کہا کہ اس کی درخواست اور اس کے چچا کی درخواست پر ڈی پی او قصور نے ایوب کے مقدمہ کی تفتیش ملزم منظر الحق شاہجہاں سے لے کر احسان الہی کھوکھر کے سپرد کر دی جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایوب بے قصور ہے۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ ملزم سے اس کی پرخاش اس لیے شروع ہوئی تا کہ وہ اس سے انکار کر سکے اور اس ضمن میں اس نے گواہِ استغاثہ یونس کے گٹھ جوڑ سے ایک جھوٹی اور جعلی کہانی گھڑی۔ اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی۔

2008ء سے 27 مئی 2009ء تک ایس پی انوسٹی گیشن قصور تعینات رہا۔ مورخہ 05-09-2009 کو مقدمہ ہذا کی تفتیش اس کے سپرد کر دی گئی۔ وقوعہ مورخہ 26-01-2009 کو پولیس سٹیشن راجہ جنگ کے علاقے میں پیش آیا۔ مورخہ

صفحہ 743

06-02-2009 کو وہ اپنے پی ایس او، اسلم کے ساتھ، جائے وقوعہ پر گیا اور متذکرہ وقوعہ پولیس سٹیشن راجہ جنگ کی حدود میں پیش آیا۔ جائے وقوعہ، انسپکٹر اقبال نجم کا کمرہ تھا۔ اس نے جائے وقوعہ کے حوالے سے اندازاً جائے وقوعہ (Ex.PB) کا نقشہ تیار کیا، جسے اس کی ذاتی نگرانی میں اس کے پی ایس او اسلم نے تیار کیا۔ مورخہ 2009-02-07 کو، اس نے دونوں پارٹیوں کو بلایا، تاہم مظہر الحق شاہجہاں تفتیش میں شامل نہ ہوا جبکہ تقریباً 100 افراد مدعی کی طرف سے تفتیش میں شامل ہوئے۔ اس وقت ملزم کا تبادلہ کر دیا گیا اور وہ تقرری کی اپنی جگہ پر نہیں گیا۔ پھر اس نے قائم مقام کو ملزم ایس ایچ او کو گرفتار کرنے اور اس کے سامنے برائے تفتیش پیش کرنے کا حکم دیا۔ مورخہ 2009-02-09 کو، گواہ، جاوید اقبال، شامل تفتیش ہو گیا اور اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اس کا بیان قلمبند کیا جس نے ایف آئی آر کے مندرجات کی تصدیق کی۔ اس نے اسلم، پی ایس او، لیاقت علی انسپکٹر اور اقبال نجم انسپکٹر کو ہدایت کی کہ ملزم کو تلاش کیا جائے اور اسے پیش کیا جائے۔ مورخہ 13-03-2009 کو اس نے انسپکٹر لیاقت علی اور منصب دار، انسپکٹر ایس ایچ او کو پولیس اسٹیشن راجہ جنگ سے فیصل آباد، ملزم کی گرفتاری کے لیے بھیجا۔ مورخہ 2009-03-20 کو، ملزم نے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی اور اس کے روبرو پیش ہوا۔ اس نے مورخہ 21-03-2009 کے لیے دونوں پارٹیوں کو طلب کیا۔ متذکرہ تاریخ پر، پولیس لائنز قصور میں واقع مسجد میں دونوں پارٹیاں شامل تفتیش ہو گئیں۔ دوران تفتیش، مقدمہ کے مدعی نے ایف آئی آر کے مندرجات کی تصدیق کی جبکہ گواہ جاوید اقبال نے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور ایف آئی آر کے مندرجات سے کلی طور پر اتفاق نہیں کیا۔ ملزم نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے اور توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ملزم نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ مدعی اور گواہ استغاثہ جاوید اقبال کی مختلف معاملات کی وجہ سے پرانی دشمنی تھی اور انہوں نے اسے اس جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا ہے۔ گواہ استغاثہ جاوید اقبال کے کچھ باتوں پر موقف تبدیل کرنے اور مقدمہ کی حساسیت کے پیش نظر اس نے کہ معاملہ، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ (رجسٹرڈ) لاہور، کے سپرد کر دیا تاکہ فتویٰ حاصل کیا جا سکے۔ مورخہ 07-04-2009 کو پانچ چھ علماء کی طرف سے دستخط شدہ فتویٰ، اس دفتر میں موصول ہوا جو (Ex.PC) ہے۔ مذہبی علماء کی رائے تھی کہ متذکرہ جامعہ نعیمیہ کے فراہم کیے گئے ثبوت کے

صفحہ 744

مطابق، توہین رسالتﷺ کا ارتکاب نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں، اس نے یہ معاملہ ڈی ایس پی، لیگل کو قانونی رائے کے لیے بذریعہ خط مورخہ 2009-04-07، بھجوا دیا جو (Ex.PD) ہے۔ متعلقہ ڈی ایس پی لیگل نے اس کی رائے (Ex.PD/1) قلمبند کی اور اس قانونی رائے کی روشنی میں، اس نے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت رپورٹ کے کالم نمبر 2 میں ملزم کے نام کا چالان کر دیا۔ اس نے بھی ملزم کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اپنی جرح کے دوران، اس نے اعتراف کیا کہ مورخہ 2009-03-21 کو پولیس لائنز قصور میں واقع مسجد میں دونوں پارٹیوں کی موجودگی میں تفتیش کی گئی۔ دونوں اطراف سے کئی ایک افراد موجود تھے۔ تاہم، اس نے دونوں فریقوں کو مسجد میں اپنے ساتھ پانچ پانچ افراد لانے کے لیے کہا۔ اس نے کہا کہ مورخہ 2009-03-21 کو جاوید اقبال نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت دوبارہ اپنا بیان قلمبند کروایا جو (Ex.DA/1) تین صفحات پر مشتمل ہے۔ گواہ استغاثہ جاوید اقبال نے اس کے سوال کے جواب میں تین دفعہ کہا کہ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے ایف آئی آر میں مذکور الفاظ، اس کی موجودگی میں ملزم نے نہیں کہے اور نہ ہی بیان کیے۔ انسپکٹر نجم اقبال نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے ایف آئی آر میں بیان کیے گئے اہانت آمیز الفاظ نہیں سنے۔ اقبال نجم نے ایف آئی آر نمبر 20/09 پولیس سٹیشن راجہ جنگ کے حوالے سے اپنا تحریری موقف پیش کیا۔ اس نے اپنی تفتیشی کارروائی مورخہ 26-03-2009 میں بتایا کہ اس کی تفتیش کے دوران ملزم قصور وار نہیں پایا گیا۔

زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کیا گیا جس میں ملزم نے اپنی موجودگی اور سماعت میں گواہی کی قلمبندی کا اقرار کیا۔ اس نے سوال نمبر 2 کا جواب نفی میں دیا، اس نے سوال نمبر 3 کا جواب دیا کہ وہ خاص طور پر نبی اکرمﷺ کے بارے میں اہانت آمیز الفاظ بولنے یا کسی بھی قسم کا اشارہ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ دوران تفتیش کئی بار اس نے قرآن پاک کی قسم کھاتے ہوئے اپنی بے گناہی کے متعلق بتایا۔ اس نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اس کا تعلق سنی اور بریلوی مسلک سے ہے اور اس کے خلاف عائد کیا گیا الزام جھوٹا ہے۔

مورخہ 2009-10-03، پولیس سٹیشن راجہ جنگ میں درج کرائی اور تصدیق شدہ نقل

صفحہ 745

(Ex.DC) پیش کی جس میں محمد صدیق نے الزام عائد کیا کہ اس کا بیٹا رزاق آتشیں اسلحہ سے زخمی ہوا لیکن بچ گیا۔ مقدمہ ہذا کا مدعی محمد یونس متذکرہ مقدمہ میں محمد صدیق کا حمایتی تھا اور ادریس جو ایف آئی آر میں نامزد ملزم تھا۔ بعد از تفتیش یہ بات ریکارڈ پر آئی کہ ادریس ایف آئی آر میں نامزد ملزم تھا اور ایوب کے ہمراہ رزاق پستول کی نوک پر ایوب کے گھر پر ادریس کے ساتھ لواطت کا مرتکب ہونا چاہتا تھا اور اس کی دھینگا مشتی میں ایوب کے پستول سے ایک فائر ہو گیا جو مدعی کے بیٹے رزاق کو لگا۔ ادریس نے بھی زیر دفعہ 22-A اور 22-B مجموعہ ضابطہ فوجداری ایک درخواست دائر کی اور عدالت نے ملزم ادریس کا بیان قلمبند کرنے کا حکم دیا۔ اس کی نشاندہی پر زیر دفعہ 377، 511 تعزیرات پاکستان ایوب اور رزاق کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ متذکرہ وجہ کی بنا پر مدعی یونس ناراض ہو گیا اور وہ اسے جرح کے درمیان اپنائے گئے موقف سے دستبردار ہونے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہا تھا۔ گواہ استغاثہ جاوید اقبال کی ایما پر مقدمہ ایف آئی آر نمبر 327/2008، زیر دفعہ 395 تعزیرات پاکستان درج کی گئی، جس نے ایف آئی آر کی تصدیق شدہ نقل پیش کی جو (Ex.DD) ہے۔ یونس، گواہ استغاثہ جاوید اقبال کا رشتہ دار ہے جو اس مقدمہ کی تفتیش میں جاوید اقبال کی مدد کر رہا تھا۔ ایوب ولد شفیع کو دیگر چار نامعلوم ملزمان کے ساتھ ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ متذکرہ مقدمہ کی تفتیش کے دوران ایوب بے قصور پایا گیا۔ متذکرہ ناراضی کے باعث یونس اور جاوید اقبال نے اس کے خلاف متعلقہ ڈی پی او کے روبرو ایک درخواست دائر کی۔ متعلقہ ڈی پی او نے تفتیش انسپکٹر احسان الہی کھوکھر کو تفویض کر دی جو اس وقت سی آئی اے میں تعینات تھا۔ دوران تفتیش ایوب بے قصور پایا گیا اور اس کا چالان نہیں کیا گیا۔ متذکرہ رنجش کی بنا پر مدعی نے ڈی پی او قصور کے روبرو اس کے خلاف ایک جھوٹی شکایت دائر کی۔ بعد ازاں یونس اور جاوید اقبال نے اس سے درخواست کی کہ محمد عمر نائب ناظم کو ایف آئی آر نمبر 327/2008 کے حوالے سے گرفتار کر لیا جائے۔ اس نے انہیں کہا کہ متذکرہ محمد عمر کو ذیلی بیان میں نامزد کیا جائے لیکن وہ اس پر تیار نہ ہوئے۔ بعد ازاں متذکرہ دشمنی کی بنا پر اس کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ اس وقت، فضل قادر، مشتاق ولد عارف، محمد عمر ولد غلام محمد، افضل ولد صدیق بھی اس کے ساتھ موجود تھے۔ اقبال نجم انسپکٹر (انویسٹی گیشن) کو بھی وہیں موجود اور وقوعہ کا گواہ بتایا گیا ہے۔ اس نے مولویوں کے متعلق نہ تو کچھ کہا کہ مولوی اپنے حجروں میں بچوں کے ساتھ لواطت کے جرم

صفحہ 746

کے مرتکب ہوتے ہیں اور لڑکیوں کو بہلاتے پھسلاتے ہیں، حتیٰ کہ اس نے نبی اکرمﷺ کے متعلق بھی کوئی توہین آمیز الفاظ نہیں کہے اور نہ ہی کوئی اشارہ کیا۔ مورخہ 26-01-2009 کو شام کے وقت ماسٹر امانت نے اسے فون پر مطلع کیا کہ منظور احمد قادری اور مولانا عرفان کے درمیان ایک مذہبی معاملے پر جھگڑا ہوا اور وہ پولیس سٹیشن آنا چاہتے تھے۔ اس نے انہیں کہا کہ وہ مسجد میں حاضر ہوں اور وہ بذات خود مسجد میں آ جائے گا۔ وہ وہاں گیا اور مسجد اڈہ والی میں معاملے کو نمٹانے کے اس نے پانچ چھ گھنٹے صرف کیے۔ مورخہ 28-01-2009 کو متذکرہ بالا مذہبی عالم، مع معززین اس وقت کے ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او، پولیس سٹیشن راجہ جنگ کی موجودگی میں پولیس سٹیشن آئے اور ڈی ایس پی کے روبرو ”صلح نامہ“ پیش کیا اور دورانِ تفتیش یہ حقیقت بھی ثابت ہوگئی۔ متذکرہ مولانا حضرات مسجد اڈہ والی میں مورخہ 26-01-2009 کی رات موجود تھے جب علاقے کے تقریباً 102 معززین اس کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئے۔ اس نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا۔ اس نے اپنی صفائی میں گواہی بھی پیش کی۔ اس نے زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری اپنا بیان قلمبند نہیں کرایا۔

مورخہ 26-01-2009 کو وہ ایک چوری کے معاملہ کے متعلق ایس ایچ او، پولیس سٹیشن راجہ جنگ کے پاس آئے۔ اس وقت تقریباً 8.00 بجے رات کا وقت تھا اور وہ منظر الحق شاہجہاں سے ملے جس نے انہیں پولیس سٹیشن میں اپنے کمرے میں جانے کا کہا۔ جب وہ شاہجہاں کے کمرے سے باہر آئے تو یونس اور جاوید اقبال بھی انہیں ملے اور انہوں نے منظر الحق شاہجہاں سے ڈکیتی کے حوالے سے معاملے کی پیش رفت کے متعلق استفسار کیا۔ منظر الحق شاہجہاں نے ڈکیتی کے معاملے کے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے انہیں اپنے ساتھ تفتیشی انچارج کے کمرے میں آنے کے لیے کہا۔ پھر وہ تمام انچارج انویسٹیگیشن کے کمرے میں چلے گئے۔ منظر الحق شاہجہاں ایس ایچ او نے انچارج انویسٹی گیشن کو گواہان استغاثہ یونس اور جاوید اقبال کے ساتھ ان کے ڈکیتی کے معاملے میں تعاون کرنے کے لیے کہا۔ وہاں تقریباً دو منٹ رکنے کے بعد منظر الحق شاہجہاں متذکرہ کمرے سے باہر آ گیا اور وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دفتر چلے گئے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مسئلے کے متعلق بتایا۔ دریں اثنا منظر الحق

صفحہ 747

شاہجہاں کو ایک فون موصول ہوا اور وہ سرکاری گاڑی پر چلا گیا۔ ان کی موجودگی میں ملزم منظر الحق شاہجہاں نے نبی اکرمﷺ اور مدینے والے کے متعلق کوئی توہین آمیز الفاظ نہیں کہے۔ دوران تفتیش وہ ایس پی انویسٹیگیشن کے روبرو بھی پیش ہوئے اور اپنے بیان حلفی پیش کیے۔ انہوں نے ملزم کی بے گناہی کے سلسلے میں اپنے بیانات بھی قلمبند کرائے۔ جرح کے دوران صفائی کے دونوں گواہان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے مویشیوں کی چوری کے متعلق کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا۔ وہ تو صرف یہی معلوم کرنے گئے تھے کہ کیا مشتبہ طارق جسے پولیس سٹیشن راجہ جنگ کی پولیس نے گرفتار کیا تھا، نے ان کی مویشیوں کی چوری کے متعلق کچھ بتایا ہے یا نہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایس پی انویسٹی گیشن کی موجودگی میں ان کا سامنا گواہان استغاثہ یونس اور جاوید اقبال سے ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پولیس سٹیشن راجہ جنگ میں ان سے ملاقات سے قبل یونس اور جاوید اقبال کو جانتے تھے۔ دونوں صفائی کے گواہان نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے ملزم کے حق میں غلط گواہی دی جو پولیس انسپکٹر ہے۔ ملزم نے اپنی صفائی میں (Ex.DA)، (Ex.DB)، (Ex.DC) اور (Ex.DD) پیش کیے۔

کی معاونت مدعی کے فاضل وکیل نے کی، نے اپنے دلائل پیش کیے۔ فاضل وکیل صفائی نے اپنے دلائل پیش کیے۔

کی، نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ یہ امر کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت ہو چکا ہے کہ ملزم منظر الحق شاہجہاں، مورخہ 2009-10-26 کو تقریباً 8.00 بجے رات کو محمد یونس اور جاوید اقبال کے ہمراہ اقبال نجم انچارج انویسٹی گیشن کے کمرہ میں گیا۔ یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ وہاں گفتگو فاروقیہ مسجد کے امام حافظ شاہد کی ڈکیتی کے متعلق ہوئی اور اس گفتگو کے دوران اس نے نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے۔ یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ ملزم تفتیش کے ابتدائی ایام میں مفرور رہا اور اس نے اپنی نئی تعیناتی کے مقام پر اپنی ڈیوٹی شروع نہیں کی۔ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور کے مذہبی علماء کی جانب سے جاری کردہ فتویٰ، تکنیکی بنیادوں پر جاری کیا گیا۔ متذکرہ فتویٰ میں اصل وقوعہ اور گواہی کو مناسب طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ شریعتی قانون کو ملک پاکستان کا قانون نہیں بنایا گیا، اس لیے متذکرہ فتویٰ (Ex.PC) میں مذکور

صفحہ 748

گواہی ثبوت کے معیار کو مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شقوں اور قانون شہادت سے ماورا، گواہی کے منطبق ہونے کے حوالے سے مقدمہ ہذا کے حوالے سے منطبق نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہیاں زیر دفعہ 17 قانون شہادت ضروری ہیں جہاں معاملے کا تعلق مستقبل کی مالی ذمہ داری سے ہو۔ فاضل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اور مدعی کے فاضل وکیل نے مزید کہا کہ گواہِ استغاثہ نمبر 2 اور گواہِ استغاثہ نمبر 3 کے بیانات میں وقوعہ کے وقت، وقوعہ کی تاریخ اور جائے وقوعہ کے علاوہ ان کی موجودگی میں ملزم کی طرف سے اہانت آمیز الفاظ بولنے کے حوالے سے کوئی تضاد نہیں۔ گواہِ استغاثہ نمبر 2 اور گواہِ استغاثہ نمبر 3 نے وقوعہ کی بھرپور تصدیق کی۔ دورانِ جرح، گواہِ استغاثہ نمبر 4، نے اعتراف کیا کہ جاوید اقبال گواہِ استغاثہ نے اپنے بیان میں ایف آئی آر کے مندرجات کی تصدیق کی۔ متذکرہ گواہِ استغاثہ نے متذکرہ حقیقت کی تصدیق کی کہ وہ معزز عدالت ہذا کے روبرو بطور گواہِ استغاثہ نمبر 3 پیش ہوا۔ حتیٰ کہ گواہِ استغاثہ کا موقف جس کا دعویٰ (Ex.PD) میں کیا گیا، کو اس کے باوجود بھی درست تسلیم کیا گیا ہے کہ لفظ، ’’عربیوں کا‘‘ جرم کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا تعلق عرب سے تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی تمام زندگی عرب علاقے میں بسر کی۔ نبی اکرم ﷺ کا تعلق عربی نسل سے تھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کا ذکر قرآن پاک کی سورت نمبر 33 کی آیت 6 میں ہے:

آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، کتاب اللہ کی رو سے عام مومنوں اور مہاجرین سے مگر یہ کہ تم کرنا چاہو اپنے دوستوں سے کوئی بھلائی (تو اس کی اجازت ہے) یہ (حکم) کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔‘‘ (الاحزاب: 6)

ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ دورانِ گواہی صفائی کا فاضل وکیل، اس حقیقت کو ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ متذکرہ گواہان استغاثہ کی ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی تھی۔ صفائی کا فاضل وکیل یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ وہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت لانے میں ناکام رہا کہ گواہان استغاثہ 2 اور 3 کو کبھی جھوٹا بیان دینے یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم کا مرتکب ٹھہرایا گیا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی گئی۔ استغاثہ اپنا مقدمہ بجرم C-295 تعزیرات

صفحہ 749

پاکستان ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور ملزم جرم کا مرتکب قرار پایا ہے۔ چنانچہ اسے مجرم قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ فاضل وکیل نے اپنے موقف کے سلسلہ میں مقدمہ 2005 YLR 985 Lahore پر انحصار کیا۔

ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 نے مقدمہ ایف آئی آر نمبر 274/08 زیر دفعہ جرائم 324 مع دفعات 377، 511 تعزیرات پاکستان پولیس سٹیشن راجہ جنگ کے حوالے سے پولیس کی حمایت کی۔ گواہان استغاثہ نمبر 2 اور 3، نے بھی مقدمہ ایف آئی آر نمبر 327/08 زیر دفعہ 395 تعزیرات پاکستان کے حوالے سے محکمہ پولیس کا تعاون چاہا اور حمایت کی۔ یہ دونوں مقدمات، کیس ایف آئی آر نمبر 20/09 سے قبل درج کیے گئے۔ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے متذکرہ گواہان استغاثہ کے مذموم عزائم کی تکمیل سے انکار کر دیا اور متذکرہ وجہ کے باعث انہیں اس جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے۔ ملزم کا تعلق بھی بریلوی سنی مسلک سے ہے اور وہ پکا مسلمان ہے اور ایک پکے مسلمان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ نبی اکرمﷺ کے متعلق کسی بھی قسم کے توہین آمیز الفاظ استعمال کرے گا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے دوران تفتیش اپنا موقف تبدیل کر دیا جو کہ گواہ استغاثہ نمبر 4 اور (Ex.PD.1) سے ثابت ہے، حتیٰ کہ اقبال نجم، انچارج انویسٹی گیشن نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری اپنا موقف تبدیل کر لیا کہ اس نے وہ متذکرہ الفاظ نہیں سنے جن کا دعویٰ ایف آئی آر میں کیا گیا ہے۔ (Ex.DC) اور (Ex.DD)، استغاثہ کے موقف کو غلط ثابت کرنے اور استغاثہ کی کہانی میں شک و شبہ پیدا کرنے کے لیے کافی ہے، گواہ استغاثہ نمبر 4، نے اعتراف کیا کہ ملزم منظر الحق شاہجہاں، دورانِ تفتیش قصوروار ثابت نہیں ہوا۔ فاضل وکیل نے مزید دلیل دی کہ توہین رسالتﷺ کا جرم ثابت نہیں ہوا کیونکہ اس ضمن میں مذہبی علماء کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ اور (Ex.PC)، اس لحاظ سے قطعی متعلقہ ہے۔ دوران جرح، گواہ استغاثہ کی طرف سے یہ اعتراف کیا گیا کہ ملزم نے مورخہ 26-01-2009 کو یہ موقف اختیار کیا کہ مولانا منظور احمد قادری اور مولانا عرفان کے درمیان، مذہبی معاملے پر جھگڑے کے حوالے سے اسے فون موصول ہوا جس کے نتیجے میں منظر الحق شاہجہاں مسجد گیا اور وہاں 1.00 بجے رات تک رہا۔ یہ حقیقت، صفائی کے گواہان نمبر 1 اور 2 کی گواہی سے ثابت ہوتی ہے۔ فاضل وکیل نے مزید

صفحہ 750

دلیل دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ وقوعہ، استغاثہ کے موقف کے مطابق مورخہ 2009-01-26 کو رونما ہوا جبکہ ایف آئی آر، دس دن کی تاخیر سے مورخہ 2009-02-05 کو درج کی گئی۔ متذکرہ تاخیر کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ایف آئی آر سوچے سمجھے منصوبے اور مشورے کے مطابق درج کی گئی تاکہ ملزم کے جھوٹے طور پر ملوث ہونے کا معاملہ ناقابل تردید رہے۔ یہ طے شدہ اصول ہے کہ استغاثہ کو کسی شک و شبہ کے بغیر ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنا چاہیے۔ استغاثہ کا مقدمہ، شکوک اور تضادات سے بھرپور ہے، اس لیے شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاسکتا ہے اور براہ مہربانی اسے بری کیا جائے۔ صفائی کے فاضل وکیل نے اپنے موقف کی حمایت میں مقدمہ PLD 2002 S.C 1048 کو بنیاد بنایا اور ملزم کی بریت کی استدعا کی۔

کے فاضل وکیل کی بہترین معاونت سے دلائل سنے گئے، ریکارڈ ملاحظہ کیا گیا۔

تاریخ وقوعہ کے حوالے سے کوئی تضاد نہیں۔ اگرچہ گواہ استغاثہ نمبر 4 نے بیان کیا کہ مقدمہ کا سامنا کرنے والے ملزم کو قصوروار نہیں پایا، تاہم اس نے دوران جرح یہ تسلیم کیا کہ گواہ استغاثہ نمبر 3، جاوید اقبال، نے مورخہ 2009-02-02 کو زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قلمبند کرائے گئے اپنے بیان میں ایف آئی آر کے مندرجات کی تصدیق کی۔ یہ طے شدہ اصول ہے کہ پولیس کی رائے سے عدالت کا متفق ہونا ضروری نہیں بلکہ عدالت کے روبرو پیش کی گئی گواہی کے مطابق فیصلہ کا اختیار عدالت کو ہے۔ عدالت کے روبرو اپنے بیان میں گواہ استغاثہ نمبر 3 نے توہین رسالت ﷺ کے واقعہ کی حقیقت کی بھرپور تصدیق کی۔ اگرچہ صفائی کے گواہان نمبر 1 اور 2، نے بیان کیا کہ وہ پولیس سٹیشن، راجہ جنگ میں مبینہ وقوعہ کے وقت موجود تھے اور ایسا کوئی وقوعہ پیش نہیں آیا، تاہم ان کا یہ موقف، نجم اقبال، انسپکٹر انویسٹی گیشن کے مبینہ بیان (Ex.DB) کے ذریعے جھوٹا ثابت ہوگیا۔ اگرچہ (Ex.DB) میں یہ مذکور ہے کہ اقبال نجم نے اس قسم کے الفاظ نہیں سنے جو مبینہ طور پر انسپکٹر منظور الحق شاہ جہاں نے کہے تھے، تاہم (Ex.DB) میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اقبال نجم ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہوگیا تھا۔ دارالعلوم، جامعہ نعیمیہ، لاہور کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ کے مطابق، توہین رسالت ﷺ کا الزام ثابت نہیں ہوا، تاہم، متذکرہ فتویٰ کی بنیاد مبینہ طور پر شریعت کے قانون

صفحہ 751

پر ہے، تاہم، شریعت کا قانون stricto-senso طور پر قابل اطلاق نہیں، حتیٰ کہ قانون شہادت کے قانون کی دفعہ 17، مقدمہ ہذا کے حقائق پر قابل اطلاق نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ معاملہ نبی اکرمﷺ کی عزت و ناموس کے حوالے سے ہے اور مستقبل میں کوئی مالی ذمہ داری، مقدمہ ہذا کے حقائق کے مطابق قابل نفاذ نہیں ہے۔ مقدمہ ہذا، مکمل طور پر قانون شہادت کی دفعہ 17 (2) کی شق (b) کے زمرے میں آتا ہے۔ اس قسم کے معاملات میں، جہاں نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کا عمل ثابت ہو چکا ہے، ایک واحد گواہ کی گواہی کافی ہے۔ صفائی کے گواہان نمبر 1 اور 2 نے عدالت کے روبرو جھوٹے بیانات دیے ہیں۔ اگرچہ، (Ex.DA) کے مطابق، گواہ استغاثہ نمبر 3، نے پولیس کی تفتیش کے دوران اپنا موقف کسی حد تک تبدیل کر لیا، تاہم جب وہ اس عدالت کے روبرو پیش ہوا، اس نے درخواست (Ex.PA) میں مذکور توہین رسالتﷺ پر مبنی الفاظ پر مشتمل عائد کردہ الزام کی مکمل تصدیق کی اور گواہ استغاثہ نمبر 2 نے عدالت کے روبرو بیان کیا۔ اگرچہ گواہ استغاثہ نمبر 3، مقدمہ کی ایف آئی آر نمبر 327/08 بجرم زیر دفعہ 395 تعزیرات پاکستان، پولیس اسٹیشن، راجہ جنگ، کا مدعی تھا، تاہم، کوئی بھی مسلمان، مقدمہ ہذا کی تفتیش کے حوالے سے تفتیشی افسر کی طرف سے عدم تعاون کی بنیاد پر توہین رسالتﷺ پر مشتمل اس قسم کے الزام عائد کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ مقدمہ ہذا کی تفتیش منظر الحق شاہجہاں کے ذریعے نہیں کی جا رہی تھی جبکہ مقدمہ کی تفتیش اس وقت محمد شریف، سب انسپکٹر کے ذریعے جاری تھی جیسا کہ (Ex.DD) کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے اور اس کا ذکر مقدمات کے اندراج کے گوشوارے میں بھی موجود ہے۔ اگر گواہ استغاثہ نمبر 3، اس قدر ناراض تھا کہ وہ محمد شریف سب انسپکٹر کے خلاف متذکرہ الزام عائد کر دیتا، جس نے مورخہ 2009-01-15 تک مقدمہ ہذا کی تفتیش کی اور پھر مقدمہ ہذا کی تفتیش مورخہ 2009-02-26 کو اقبال نجم انسپکٹر کو تفویض کر دی گئی۔ (Ex.DC) کے مطابق، ایف آئی آر نمبر 274/08 کی تفتیش ان دنوں محمد شریف سب انسپکٹر انجام دے رہا تھا۔ صفائی کا موقف درست نہیں ہے، اس لیے اس پر یقین نہیں کیا جاتا۔ گواہان استغاثہ نمبر 2 اور 3 کی شہادتوں کے ذریعے بلاشک وشبہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ملزم منظر الحق شاہجہاں نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اس نے اپنی ہتھیلی بھی بند کی اور اپنا ہاتھ بلند کیا اور اشارہ کیا اور گستاخانہ

صفحہ 752

اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ کی عزت و احترام، دنیا کے تمام مسلمانوں سے افضل ہے جس طرح قرآن پاک کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 6 میں بیان کیا گیا ہے: ”نبی کریمﷺ مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہیں اور آپ (ﷺ) کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“۔ زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان کے تحت توہین رسالتﷺ کا جرم، ملزم کے خلاف مکمل طور پر ثابت ہو چکا ہے جو مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے۔ زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، ملزم منظر الحق شاہجہاں، جرم کا مرتکب پایا گیا ہے۔ اسے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، عمر قید کی سزا دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دولاکھ روپیہ -/200,000 روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید دوسال کی قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ ضمانتی مچلکے منسوخ کیے جارہے ہیں اور ضمانتیں ختم کی جارہی ہیں۔ یہ سزا بھگتنے کے لیے سزا یافتہ مجرم کو نائب کورٹ کے ذریعے تحویل میں لیا جاتا ہے اور اسے ڈسٹرکٹ جیل، قصور بھیجا جاتا ہے۔ فیصلہ ہذا کی نقل، بلا قیمت، سزا یافتہ مجرم کو مہیا کی گئی ہے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: چودھری عمر حیات ایڈیشنل سیشن جج، قصور

تاریخ فیصلہ 16 مارچ 2012ء

۞.......۞.......۞

صفحہ 753

جناب محمد قاسم ایڈیشنل سیشن جج گجرات

سرکار بنام محمد اقبال وغیرہ، اکتوبر 2012ء

صفحہ 754
صفحہ 755

دل کی بات

بدنام زمانہ گستاخ رسول سلمان رشدی کی متنازعہ کتاب The Satanic Verses (شیطانی آیات) اور بنگلہ دیش کی ملعونہ تسلیمہ نسرین کی کتاب Lajja (لجا) کو اسلام دشمن طاقتوں نے سراہتے ہوئے ان کی بے حد پذیرائی کی اور انہیں بے شمار انعامات و اکرام سے نوازا۔ یہ محض اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین اور اہانت کی۔ اسی پیروی میں گجرات کے چند بدبختوں نے توہین آمیز کتابیں ”ذلت“ اور ”ایک مولانا، ایک کافر“ شائع کر کے تقسیم کیں۔ ان کتابوں میں دین اسلام، حضور نبی کریم ﷺ، انبیاء کرام، حضرت امی عائشہ صدیقہؓ اور حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ تحریر تھے۔ تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ کتابیں مرزا یونس عرف عصر چغتائی کی تحریر کردہ ہیں اور اس کی معاونت و حوصلہ افزائی غفور اسلم، پروفیسر اختر شمار، پروفیسر شبیر شاہ، پروفیسر ارشد گوہر، شاعر جان کشمیری، مسعود اختر ایڈووکیٹ، میاں محمد قاسم اور احمد رضا وغیرہ نے کی۔ اس کیس کے ایک ملزم غفور اسلم نے اس کیس کی ایف آئی آر ختم کروانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جسے جناب جسٹس رانا زاہد محمود نے 12 مارچ 2009ء کو میرٹ کی بنیاد پر خارج کر دیا۔

(2009 PCr.L J.1108)

ان میں اصل مجرم مرزا یونس عرف عصر چغتائی امریکہ فرار ہو گیا۔ قاسم انصاری کسی نامعلوم کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ جبکہ تیسرا ملزم غفور اسلم دوران مقدمہ نامعلوم بیماری کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ 5 سال سے زائد تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ اصل مجرم مفرور تھا۔ اس لیے اسے سزا نہ سنائی جاسکی۔ باقی ملزمان کو عدالت نے سزائے قید سنائی۔

اس فیصلہ کی کاپی عزیزی شہزاد اسلم ایڈووکیٹ نے فراہم کی۔ وہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے محاذ پر ایک مجاہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گستاخان رسول کے خلاف ان کی کئی

صفحہ 756

نظمیں نہایت ایمان افروز اور ولولہ انگیز ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ بھی نہایت دینی ذوق کی مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 757

بعدالت جناب محمد قاسم، ایڈیشنل سیشن جج، گجرات

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 13/2007 سیشن مقدمہ نمبر : 11/2007 ایف آئی آر نمبر : 145 بتاریخ 12 جون 2007ء پولیس سٹیشن : بی ڈویژن، گجرات بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان C-295 ، شق 7 پاکستان پبلی کیشن آف کاپی ایکٹ، 1969ء

سرکار

بنام

(ملزمان)

وکیل منجانب مدعی: چودھری فاروق حیدر ایڈووکیٹ وکیل منجانب سرکار: مظہر محمود منور، ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکیل منجانب ملزم: محمد حنیف راجہ ایڈووکیٹ، محمد آصف ایڈووکیٹ تاریخ فیصلہ: 11 اکتوبر 2012ء

صفحہ 758

فیصلہ

جناب محمد قاسم، ایڈیشنل سیشن جج، گجرات

مدعی محمد یونس انسپکٹر سیکورٹی برانچ گجرات، گواہ استغاثہ نمبر 1 کی شکایت پر مندرجہ بالا ملزم کے خلاف مقدمہ، برائے جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان اور دفعہ 7، کاپی ایکٹ پاکستان پبلی کیشن، 1969ء بمطابق ایف آئی آر نمبر 145/2007 مورخہ 12-06-2007 کا چالان پولیس اسٹیشن، بی ڈویژن، گجرات شہر، نے مقدمہ کی سماعت کے لیے عدالت ہذا میں پیش کیا۔ دوران مقدمہ، ملزم غفور اسلم، 2011-10-30 کو مر گیا اور اس کی حد تک مقدمہ منسوخ کر دیا گیا۔

مندرجات میں بیان کیا گیا ہے کہ مدعی کہتا ہے کہ ایک قابل اعتماد ذریعے سے اسے معلوم ہوا کہ گجرات شہر میں چند روز قبل دو قابل اعتراض کتابیں بعنوان ”ذلت“ اور ”ایک مولانا، ایک کافر“ تقسیم کی گئیں۔ کتابوں کی تلاش کے بعد، اس نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا۔ معلوم ہوا کہ ”ذلت“ نامی کتاب کے صفحہ نمبروں 17، 23، 31، 173، 281 اور 282 پر دین اسلام، نبی اکرم ﷺ، پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام، پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام، پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت عائشہ صدیقہؓ، زلیخا اور حضرت مریم علیہ السلام کے بارے میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ تحریر تھے۔ کتاب ”ایک مولانا، ایک کافر“ میں، دین اسلام اور پیغمبران علیہم السلام کے متعلق مختلف صفحات پر گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ یہ دونوں کتب، مرزا یونس عرف عصر چغتائی، ذات مغل، ساکن محلہ مسلم آباد، گجرات کی تحریر کردہ

صفحہ 759

تھیں ۔ یہ دونوں کتابیں میاں محمد قاسم اور احمد رضا نے داتا پبلی کیشنز، فائیو سٹار پلازا ، رام طلائی روڈ ، گجرات سے کمپوز کرائی تھیں ۔ ان کتب کے باعث مسلمانوں میں شدید ردعمل پیدا ہونے کا امکان تھا۔ یہ بھی اسے معلوم ہوا کہ مورخہ 2007-05-13 کو تحصیل کونسل ہال ، گجرات میں ( اس متنازعہ کتاب کے سلسلہ میں ) ایک تعارفی تقریب بھی منعقد ہوئی تھی ۔ اس تقریب کا انتظام غفور اسلم ولد محمد حسین نے کیا تھا۔ اس تقریب کی صدارت پروفیسر اختر شمار، دیال سنگھ کالج لاہور نے کی تھی۔ ان کتب کے متعلق ، غفور اسلم ولد محمد حسین ، پروفیسر اختر شمار ، پروفیسر شبیر شاہ زمیندارہ کالج گجرات، پروفیسر ارشد گوہر، کامرس کالج گجرات، مرزا یونس عرف عصر چغتائی، گوجرانوالہ کے ایک شاعر جان کشمیری اور مسعود اختر ایڈووکیٹ گجرات نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا۔

مدعی نے ڈی پی او گجرات کے روبرو ایک درخواست دائر کی۔ اس نے یہ درخواست قانونی رائے کے لیے ڈی ایس پی لیگل کو بھجوادی ۔ ڈی ایس پی (لیگل) کی رائے پر ایک ایف آئی آر (EX.PA/1) درج کر لی گئی ۔

گجرات کے سپرد کر دی گئی ۔ مورخہ 2007-06-12 کو، اس نے مقدمہ ہذا کی ایف آئی آر موصول کی۔ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، نقشہ (Ex.PM) تیار کیا اور سرفراز احمد انسپکٹر ایس ایچ او، اور باؤ خان، سب انسپکٹر، کی معیت میں مورخہ 2007-06-02 کو مرزا یونس کے گھر پر چھاپہ مارا اور ملزم گرفتار نہیں ہوا، تاہم ہر کتاب کے 80 نسخے بعنوان، ایک مولانا ایک کافر اور ذلت (Ex.P6) اور (Ex.P7) بشمول، ملزم کے ہاتھ کی لکھائی میں اصل مسودے، اپنی تحویل میں لے لیے۔ پھر انہیں ایک پارسل میں سربمہر کر دیا گیا اور بمطابق ریکوری میمو (Ex.PE) تحویل میں لے لیے گئے جن پر بطور تصدیق سرفراز احمد ، انسپکٹر اور باؤ خان سب انسپکٹر کے دستخط ثبت ہیں۔ برآمدگی کے مقام کا نقشہ (Ex.PE/1) ہے جو اس کی لکھائی میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں ۔ مورخہ 2007-06-12 کو اس نے قاسم انصاری کی دکان پر چھاپہ مارا جہاں سے کمپوزنگ کے لیے مواد برآمد کر لیا جس میں دو کمپیوٹر سیٹ، دونوں کتب، بعنوان، ”ایک مولانا ایک کافر“ اور ”ذلت“، مع ، ہر کتب کی چھ نسخے جنہیں کمپوزنگ کے لیے اصل مسودے سے کمپوز کیا گیا تھا، شامل تھے اور بمطابق ریکوری

صفحہ 760

میمو (Ex.PD) تحویل میں لے لیا گیا جس کی تصدیق سرفراز احمد انسپکٹر اور باؤ خان، سب انسپکٹر نے کی، نیز جائے وقوعہ کا نقشہ (Ex.PD/1) ہے جو اس کی لکھائی میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ مورخہ 2007-06-13 کو اس نے ملزم غفور اسلم کے گھر پر چھاپہ مارا جسے گرفتار کر لیا گیا۔ دوران تفتیش اس نے بتایا کہ وہ متذکرہ بالا طبع شدہ کتاب کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے انکشاف اور نشاندہی پر، ہر کتاب کے پانچ نسخے مع، متذکرہ تقریب کے دعوت نامے اور 35 تصاویر برآمد ہوئیں کیونکہ ملزم نے متذکرہ کتب کی تعارفی تقریب کا بھی اہتمام کیا تھا۔ یہ سب اشیاء اس کے مکان سے برآمد ہوئیں جنہیں بمطابق ریکوری میمو (Ex.PF) تحویل میں لے لیا گیا جس پر بطور تصدیق سرفراز احمد انسپکٹر اور باؤ خان سب انسپکٹر کے دستخط ثبت ہیں، نیز جائے وقوعہ کا نقشہ (PF/1) ہے۔ ملزمان، غفور اسلم، احمد رضا اور عرفان عامر کو مورخہ 2007-06-12 کو گرفتار کر لیا گیا اور تفتیش کے بعد انہیں مورخہ 2007-06-15، کو جیل بھجوا دیا گیا۔ مورخہ 2007-06-22 کو انسپکٹر سیکورٹی محمد یونس مدعی، نے میرے روبرو ایک کتاب بعنوان چنگیز سے انگریز تک، پیش کی جسے طیب اقبال، پرنٹر، رائل پارک لاہور نے طبع کیا تھا اور عصر چغتائی کی تحریر کردہ تھی جسے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PN) تحویل میں لے لیا گیا جس پر بطور تصدیق متذکرہ محمد یونس، انسپکٹر کے دستخط ثبت ہیں۔ بعد ازاں اسے ڈی پی او گجرات تعینات کر دیا گیا اور مقدمہ ہذا کی تفتیش، ایس پی انویسٹی گیشن کے سپرد کر دی گئی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات قلمبند کی۔ے

نجیب اکرم مان ایس پی ہیڈ کوارٹر گجرات، گواہ استغاثہ نمبر 3 کو مقدمہ ہذا کی تفتیش تفویض کی گئی۔ اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کا آغاز مختلف تاریخوں پر کیا اور اس نے اس ضمن میں مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ مورخہ 2007-07-13 کو ایک مخبر نے اطلاع دی کہ جس شخص نے مبینہ طور پر یہ متنازعہ مواد طبع کروایا، وہ اس شخص کی موجودگی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ اطلاع ملنے کے بعد، اس نے ایس ایچ او پولیس سٹیشن بی ڈویژن اور عابد انسپکٹر انویسٹی گیشن گجرات پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی۔ بعد ازاں وہ افسران کے ساتھ رام طلائی روڈ پر گیا جہاں اس مخبر کی نشاندہی پر ہم نے اگلی تاریخ یعنی 2007-07-14 کو ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔ اس نے اس شخص کو عدالت کے روبرو پیش کیا اور اس کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ لیا۔ مورخہ 2007-07-15 کو اس شخص کی نشاندہی پر وہ لاہور رائل پارک گلی نمبر 7 گیا، وہاں

صفحہ 761

ایک پریس طیب پرنٹنگ پریس واقع ہے، جہاں، اس شخص کی نشاندہی پر کچھ ردی کاغذ موجود تھے، ان کاغذوں کے نیچے ایک لفافہ جو پولی تھین کا بنا ہوا تھا، اس نے برآمد کیا۔ اس میں کمپوزڈ کتاب موجود تھی اور اس کتاب پر سرورق (ٹائٹل) موجود نہ تھا۔ یہ مواد لینے کے بعد میں واپس آگیا۔ اس نے ریکوری میمو (Ex.PG) تیار کیا۔ اس نے اس جگہ کا اندازاً نقشہ ( 1 / P G ) تیار کیا جہاں سے ان چیزوں کی برآمدگی ہوئی تھی۔ اگلے دن یعنی مورخہ 2007-07-16 کو یہ شخص حکم نامہ مورخہ 2007-07-16 کے تحت، جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا جو ایک تحریری درخواست (Ex.PK) پر ہے۔

مورخہ 2007-08-20 کو محمد یونس نامی انسپکٹر سیکورٹی نے اسے ایک رسالہ ’’سکھاں‘‘ دکھایا اور اس رسالے میں ان کتب کی مفصل تصاویر موجود تھیں جو بمطابق میرے ریکوری میمو (Ex.PL) بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ یہ رسالہ (31-15/1) ہے۔ میں نے انسپکٹر سیکورٹی محمد یونس کا زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیان قلمبند کیا۔ میں نے ایس ایچ او پولیس سٹیشن بی ڈویژن گجرات، سرفراز احمد اور انسپکٹر انویسٹی گیشن عابد کھوکھر کے بھی زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری بیانات قلمبند کیے۔ بعدازاں عدالت میں چالان پیش کر دیا گیا جبکہ پانچ افراد کو کالم نمبر 2 کو نیلی روشنائی اور ایک مرزا یونس کو سرخ روشنائی (PO) اور پانچ ملزمان کو کالم نمبر 3 میں رکھا گیا۔

کیا۔ ملزم کے پیش ہونے پر، زیر دفعہ C-265 مجموعہ ضابطہ فوجداری، درکار نقول، ملزمان کو فراہم کر دی گئیں۔ اس ضمن میں ان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ بالآخر مورخہ 2007-10-01 کو میرے فاضل پیشرو نے قانون کے مطابق زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان جسے دفعہ 109/34 تعزیرات پاکستان پڑھا جائے اور کاپی ایکٹ آف پاکستان پبلی کیشن 1969، ملزمان پر فرد جرم عائد کی جس پر ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

میں پیش کیے:

صفحہ 762

کے حق میں گواہی دی اور اپنے موقف کی تائید میں ایف آئی آر (Ex.PA/1) پیش کی۔

مورخہ 2007-06-12 کو اسے تحصیل کونسل ہال میں منعقدہ کتاب کی تعارفی تقریب میں مدعو کیا گیا۔ غفور اسلم نے اسے مہمانوں اور مقرروں کی ایک فہرست تیار کرنے کو کہا۔ اسی اثناء میں، اپنے گھر سے فون آنے پر وہ ہال سے چلا گیا۔

کی ایک کتاب کمپوز کرانے کے لیے قاسم انصاری کی دکان پر گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ہنگامی طور پر کتب ”ذلت“ اور ”ایک مولانا، ایک کافر“ پر کام کر رہا ہے۔ غفور اسلم اور محمد یونس، بھی وہاں کھڑے تھے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ وہ یہ کتابیں کمپوز کروا رہے ہیں۔ قاسم انصاری نے میری کتاب کمپوز کرنے کی عدم صلاحیت سے آگاہ کیا۔

کے متعلق ذیل میں درج تفصیل کے مطابق بتایا:

”مورخہ 2007-06-12 کو اسے بطور انسپکٹر ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، بی ڈویژن گجرات تعینات کر دیا گیا۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش، ایس پی انویسٹی گیشن، محمود الحسن قریشی نے کی۔ اسی دن وہ شامل تفتیش ہو گیا۔ ملزمان، محمد قاسم، احمد رضا اور عرفان عامر کو تفتیشی افسر نے داتا پرنٹر ڈیزائنر، واقع فائیو سٹار پلازہ، رام طلائی روڈ گجرات سے گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کے دوران، تفتیشی افسر نے محمد قاسم اور دیگر ملزمان کے قبضے سے دو مکمل کمپیوٹر سیٹ، دونوں کتابوں، ”ذلت“، ”ایک مولانا، ایک کافر“ کی سی ڈی، کمپوزڈ مواد، کتاب ”ذلت“ کے 6 نسخے، کتاب ”ایک مولانا ایک کافر“ کے 6 نسخے، بمطابق ریکوری میمو، (Ex.PD) اپنی تحویل میں لے لیے جس پر اس کے علاوہ باؤ خان سب انسپکٹر کے دستخط ثبت ہیں۔ دو کمپیوٹر سیٹ، (P1/1-2)، کمپوزڈ مواد، (P2)، سی ڈی، (P3) کتاب ”ذلت“ کے 6 نسخے (P4/1-6)، اور کتاب ”ایک مولانا، ایک کافر“ کے 6 نسخے (P5/1-6) ہیں۔

اسی تاریخ کو، تفتیشی افسر نے، مرزا یونس عرف عصر چغتائی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ وہ گھر میں نہیں تھا۔ تفتیشی افسر نے کتاب ”ذلت“ کے 80 نسخے (P6/1-80)، کتاب ”ایک مولانا، ایک کافر“ کے 80 نسخے (P7/1-80) اور دونوں کتب کا ہاتھ سے لکھا ہوا اصلی مسودہ

صفحہ 763

(P8/1-2)، بمطابق ریکوری میمو (Ex.PE) اپنی تحویل میں لے لیے جس پر اس کے اور باؤ خان سب انسپکٹر کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں۔

مورخہ 2007-06-13 کو وہ دیگر پولیس افسروں کی معیت میں دوبارہ تفتیش میں شامل ہو گیا۔ ملزم، غفور اسلم کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ کتاب ’’ذلت‘‘ کی پانچ کتابیں، کتاب ’’ایک مولانا، ایک کافر‘‘ کی پانچ کتابیں، تعارفی تقریب کے دو دعوت نامے اور 35 تصویریں، اس کے گھر سے برآمد ہوئیں۔ متذکرہ بالا اشیاء اس نے تفتیشی افسر اور پولیس پارٹی کی معیت میں، اس کے گھر کے ایک کمرے سے برآمد کیں۔ اس نے کتاب ’’ذلت‘‘ کی پانچ کتابیں، (P9/1-5)، کتاب ’’ایک مولانا، ایک کافر‘‘ کی پانچ کتابیں، (P10/1-5)، دو دعوت نامے (P11/1-2) اور 35 تصویریں، (P12/1-5)، بمطابق ریکوری میمو (Ex.PF) اپنی تحویل میں لے لیں۔ ریکوری میمو پر اس اور باؤ خان سب انسپکٹر کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں۔

مورخہ 2007-07-15 کو ملزم محمد اقبال نے دوران تفتیش بتایا کہ اس کی دکان سے کتابیں ’’ذلت‘‘ اور ’’ایک مولانا، ایک کافر‘‘ کا کمپوزڈ مواد برآمد ہوا۔ پولیس نے اس کی دکان سے متذکرہ بالا اشیاء برآمد کیں اور تفتیشی افسر نے یہ اشیاء بمطابق ریکوری میمو (Ex.PG)، اپنی تحویل میں لے لیں اور اس میمو پر اس کے اور عابد کھوکھر، انسپکٹر، کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں۔ برآمد شدہ اشیاء میں کمپوزڈ مواد (P13/1-2) اور بغیر جلد کے دو کتابیں (P14/1-2) ہیں۔ تفتیشی افسر نے اس کارروائی کے ضمن میں اس کا بیان زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قلمبند کیا۔

مورخہ 2007-06-15 کو مرزا یونس عرف عصر چغتائی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری، عمل درآمد کے لیے اس کے حوالے کیے گئے جو (Ex.PH) ہے اور اس کی دوسری طرف وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کے متعلق رپورٹ درج ہے جو (Ex.PH-1) ہے۔ مورخہ 21-06-2007 کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو، اس کا بیان قلمبند کرنے کے بعد متذکرہ بالا ملزم کے خلاف، اشتہار جاری کیا گیا اور اس کے حوالے کر دیا گیا۔ اشتہار (Ex.PJ) ہے اور اس اشتہار کو چسپاں کرنے کے متعلق اس کی رپورٹ (Ex.PJ/1) ہے جو اس کے ہاتھ کی ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ تفتیشی افسر نے اس ضمن میں بھی بیان قلمبند کیا۔

صفحہ 764

عدالت ہذا میں حاضر ہوا اور بتایا کہ اس نے مرحلہ وار تفتیش کی جس کے متعلق اس فیصلہ کے پیرا نمبر 3 کے ذیلی پیرے میں پہلے ہی بیان کیا جاچکا ہے۔

افسر کے ہاتھوں، قاسم انصاری، ملزم، کے قتل کے متعلق بتایا۔

اور بتایا کہ اس نے تفتیش کی۔ اس کی تفصیل، اس فیصلے کے پیرا نمبر 3 میں درج ہے۔

انسپکٹر کی تائید میں برآمدگیوں کے متعلق بتایا۔

کو عابد کھوکھر انسپکٹر اور مورخہ 2010-06-29 کو یاور عباس، گواہ استغاثہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ترک کردیا اور پھر 2011-10-19 کو مظہر محمود منور، ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے استغاثہ کی گواہی بند کردی۔

فوجداری، جرح کی گئی جس کے دوران ان کے خلاف استغاثہ کی طرف سے پیش کیا گیا تمام مواد ان کے روبرو پیش کیا گیا۔ ملزمان نے جواب دیا کہ الزامات غلط ہیں۔ اس خاص سوال کے جواب میں کہ یہ مقدمہ کیوں تمہارے خلاف قائم کیا گیا اور گواہان استغاثہ نے کیوں تمہارے خلاف گواہی دی، ملزم احمد رضا نے درج ذیل جواب دیا:

”میں بے قصور ہوں۔ مجھے اس مقدمے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے کیونکہ میرے متعلق یہ شبہ ہے کہ میں نے اس وقوعہ سے پہلے قاسم انصاری (فوت شدہ) کے لیے دوماہ کے لیے بطور چپڑاسی کام کیا کیونکہ میں ایف اے کا امتحان دینے کے بعد فارغ تھا۔ بعدازاں، میں نے اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے مقدمہ ہذا کے اندراج سے تقریباً تین ماہ پہلے اس کی ملازمت چھوڑ دی۔ میں نے گستاخانہ اور اہانت آمیز مواد کی کمپوزنگ میں شرکت کی اور نہ ہی مجھے اس کے متعلق کچھ علم ہے۔“

صفحہ 765

ملزم، محمد اقبال نے درج ذیل جواب دیا:

”میں نے ”چنگیز سے انگریز تک“ نامی ایک کتاب، جو عصر چغتائی کی تحریر کردہ تھی، 20 برس پہلے طبع کی جبکہ پرنٹنگ پریس کا نام اس کتاب پر چھاپا۔ پولیس نے کسی طرح یہ کتاب حاصل کر لی اور شک کی بنیاد پر مجھے مقدمہ ہٰذا میں مجھے ملوث کرلیا۔ میں لاہور میں ایک پرنٹنگ پریس چلاتا ہوں جو میرے نام پر رجسٹر ہے۔ لیکن میں نے مبینہ کتب نہ چھاپی یا شائع کیں اور نہ ہی ان کتابوں کے متعلق مجھے کچھ علم ہے۔ تمام گواہان استغاثہ، تفتیشی افسر کے زیر اثر ہیں اور انہوں نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی۔“

ملزم، عرفان، نے درج ذیل جواب دیا:

”میں بے گناہ ہوں۔ مجھے شک کی بنا پر مقدمہ ہٰذا میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے کیونکہ میں وقوعہ ہٰذا سے قبل، قاسم انصاری (فوت شدہ) کے ساتھ کام کرتا تھا۔ بعدازاں، میں نے یہ ملازمت چھوڑ دی اور میں نے روزنامہ ”حلیف“، جی ٹی ایس چوک، گجرات میں نصر اللہ وڑائچ کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔“

ایک سوال ”کیا تمہارے پاس کہنے کے لیے کچھ ہے“ کے جواب میں ملزم، احمد رضا نے درج ذیل جواب دیا:

”میں بے قصور ہوں اور مجھے مقدمہ ہٰذا میں جھوٹے طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ میں ایک سچا مسلمان ہوں اور میرا ایمان ہے کہ نبی اکرمﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور پیغمبر ہیں اور وہ اس کائنات کی تخلیق کی وجہ ہیں۔ مجھے حضرت محمدﷺ کی رسالت اور آپﷺ کی مقدس تعلیمات پر ایمان ہے۔ میں نبی اکرمﷺ اور آپﷺ کی تعلیمات کے متعلق گستاخی اور اہانت کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔“

جواب دیا۔ تاہم اپنی صفائی میں گواہی پیش کرنے اور زیردفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، عدالت کے کٹہرے میں بیان حلفی کے ذریعے گواہی دینے کے ارادے کے باوجود، ملزمان نے استغاثہ کی طرف سے اپنے خلاف الزامات کی تردید کے لیے زیردفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری، عدالت کے کٹہرے میں اپنی صفائی میں گواہی کے لیے حاضر نہیں ہوئے۔ ملزمان نے اپنے بیانات کے ذریعے اپنی صفائی کی گواہی مکمل کی۔

صفحہ 766

فاروق حیدر ایڈووکیٹ نے کی، نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ کامیابی کے ساتھ ثابت کر دیا ہے۔ تمام تینوں ملزمان، دیگر ملزمان کے ساتھ، کمپوزنگ اور گستاخانہ اور اہانت آمیز کتابوں کی پرنٹنگ کے لیے اجتماعی طور قصور وار ہیں۔ تمام ملزمان، دانستہ طور پر اس جرم کے مرتکب ہوئے جو دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کی مکمل حدود میں آتا ہے۔ استغاثہ نے برآمد شدہ کتاب اور دیگر مواد کے ثبوت کے ذریعے اپنے دعوے کی تائید کی۔ استغاثہ کی گواہی فطری، قابل بھروسا اور قابل اعتبار ہے۔ ملزمان نے نہایت ہی بھیانک جرم کیا ہے اور وہ سزا کے مستحق ہیں۔

ہوئے کہا کہ استغاثہ، ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس وقوعہ کا کوئی عینی شاہد نہیں۔ مسل میں موجود کتابوں کی کمپوزنگ اور پرنٹنگ کے متعلق کوئی ثبوت موجود نہیں۔ حتیٰ کہ ملزم محمد اقبال سے جن اشیا کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا، وہ سازش پر مبنی ہیں۔ مبینہ برآمد شدہ اشیا کا کوئی عینی شاہد نہیں۔ استغاثہ کی گواہی مکمل طور پر نا قابل اعتبار ہے۔ استغاثہ کا مقدمہ شکوک و شبہات سے بھرپور ہے اور دونوں ملزمان بریت کے مستحق ہیں۔

کتابوں کی کمپوزنگ کے ضمن میں ملزم کے خلاف کوئی براہ راست ثبوت میسر نہیں۔ ملزم احمد رضا سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ اس لیے استغاثہ، ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے اور ملزم بریت کا مستحق ہے۔

بغور جائزہ لیا ہے۔ مقدمہ کا سامنا کرنے والے ملزمان کے خلاف اپنے مقدمہ کو کسی شک کے بغیر ثابت کرنے کی بنیادی ذمہ داری استغاثہ پر ہے اور اگر استغاثہ، اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوا، تو پھر اس کے ساتھ ساتھ مدعا الیہان کا بھی موقف ہے۔ استغاثہ کے موقف کے ساتھ اسے بھی بیک وقت زیر غور رکھنا چاہیے اور اس کے بعد ایک قابل اعتماد موقف ہی اپنانا ہوگا۔

کو نامزد کیا گیا ہے اور اب آخر میں تفتیش کے نتیجے میں ملزم، مرزا یونس عرف عصر چغتائی کو مفرور

صفحہ 767

مجرم قرار دیا گیا۔ ابتدائی مرحلے کے دوران، ملزم، قاسم انصاری کو قتل کر دیا گیا۔ چار ملزمان، محمد عرفان، احمد رضا، غفور اسلم اور محمد اقبال کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی۔ مقدمہ کی کارروائی کے دوران، غفور اسلم، مورخہ 2011-10-30 کو انتقال کر گیا اور اس کی حد تک مقدمہ منسوخ کر دیا گیا۔ لہٰذا ملزمان، محمد عرفان، احمد رضا اور محمد اقبال، مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

-14 گواہی کا تجزیہ کرتے اور جائزہ لیتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل مجرم مرزا یونس عرف عصر چغتائی، مفرور مجرم ہے۔ قاسم انصاری، جس نے کتابیں کمپوز کیں، پہلے ہی قتل کیا جا چکا ہے جبکہ تیسرا ملزم، غفور اسلم، جس کا گستاخانہ اور اہانت آمیز کتب کے تعارف میں فعال کردار تھا، فوت ہو چکا ہے۔

-15 ملزمان جو مقدمہ کا سامنا کر رہے ہیں، الزامات، ملزم محمد عرفان کے خلاف ہیں کہ اس نے کتب کی کمپوزنگ کے لیے قاسم انصاری کی مدد کی۔ ملزم احمد رضا کے خلاف کہ اس نے ملزم قاسم انصاری کے ساتھ، مشترکہ طور پر کتب کمپوز کیں۔ ملزم محمد اقبال، کے خلاف، کہ وہ طیب اقبال پرنٹنگ پریس، واقع، گلی نمبر 7، رائل پارک، لاہور، کا مالک ہے، نے کمپوزڈ کتب کو چھاپا۔ سرورق کے بغیر دونوں کتب کے نسخے مع، خام مواد، ملزم محمد اقبال کی نشاندہی پر اس کے پرنٹنگ پریس سے برآمد ہوئے۔ ملزم نے قابل اعتراض کتب طبع کیں اور اس کے مطابق استغاثہ نے گواہی اور ثبوت پیش کی۔

-16 ملزمان کے خلاف اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے کی خاطر، استغاثہ نے مدعی کو گواہی کے کٹہرے میں بطور (PW.1) پیش کیا جس نے اپنی درخواست (Ex.PA) میں کیے گئے اپنے دعوے کی تائید کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، سرفراز احمد نے ملزم سے کتب کی برآمدگیوں اور دیگر اشیاء کے متعلق بتایا جس کی گواہ استغاثہ نمبر 8، باؤ خان، سب انسپکٹر نے تائید کی۔ قابل اعتراض کتب، ”ذلت“ اور ”ایک مولانا، ایک کافر“ ملزم سے برآمد کی گئیں۔ متذکرہ کتب کا مصنف مرزا یونس عرف عصر چغتائی تھا اور جسے قاسم انصاری نے کمپوز کیا، وہ بھی بمطابق ریکوری میمو (Ex.PD) تحویل میں لے لی گئیں۔ ملزم غفور اسلم، گستاخانہ اور اہانت آمیز کتب کے تعارف کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ اس نے تحصیل کونسل ہال، گجرات میں تعارفی جلسہ کا اہتمام کیا اور اپنے ماہنامہ ”سکھاں“ میں شائع کیا۔ یوں استغاثہ نے عدالت میں گواہی پیش کی۔ ملزمان کے خلاف استغاثہ اپنا مقدمہ کامیابی کے ساتھ ثابت کرنے میں کامیاب

صفحہ 768

ہوگیا۔ چونکہ، استغاثہ کے دعوے کے مطابق اس جرم میں بہت سے ملزم شامل ہیں، اس لیے اب یہ تعین کرنا ہوگا کہ کون ذمہ دار ہے اور کس حد تک ذمہ دار ہے اور کیا متذکرہ تمام ملزمان کے خلاف استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

صفحہ 769

جائے برآمدگی کا اندازاً نقشہ (Ex.PG/1) ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 نے عدالت کے کٹہرے میں اس امر کی تائید کی۔ ملزم محمد اقبال نے استغاثہ کے اس گواہ پر جرح کی اور اس سے برآمدگی کے متعلق گواہان استغاثہ پر ترغیبی سوال کیا، جس کا جواب بطور غلط دیا گیا۔ ملزم، اس ترغیبی سوال سے اپنے موقف کی حمایت میں کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکا۔ حتیٰ کہ گواہان استغاثہ سے یہ سوال بھی نہیں کیا گیا کہ مقدمہ ہذا میں ان کی ملزم کے ساتھ کیا دشمنی، مخاصمت یا چپقلش تھی۔ ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے بیان میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے لیے تحفظ اور پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن بعدازاں، ملزم کے خلاف ریکارڈ پر موجود گواہی اور ثبوت اور پھر وہ بھیانک جرم جس کا اس نے ارتکاب کیا، وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ اس لیے، میری نظر میں، استغاثہ نے کامیابی کے ساتھ قابل اعتماد ثبوت اور گواہی پیش کی جس کی ملزم سے برآمد کیے گئے دستاویزی ثبوت کے ذریعے تائید ہوتی ہے۔ ملزم کی طرف سے کیے گئے اقدامات/کردار کی روشنی میں استغاثہ کے ثبوت اور گواہی کے متعلق اوپر کے صفحات میں مفصل بحث ہوچکی ہے۔ اب اس مرحلہ پر استغاثہ کے موقف کی روشنی میں ملزم کے طرف سے کیے گئے اقدامات/کردار کے متعلق جائزہ لیا جاتا ہے۔

’’دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے مفہوم کے مطابق جو شخص بذریعہ الفاظ، زبانی، تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلاواسطہ، رسول اکرم حضرت محمدﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت، یا عمرقید کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی کیا جائے گا۔‘‘

20- متذکرہ پرنٹنگ پریس کا مالک ہونے کی حیثیت سے قابل اعتراض کتب کی چھپائی کے ملزم کے کردار کی روشنی کے علاوہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ ملزم اقبال سے اس کے پرنٹنگ پریس سے دیگر مواد کے ساتھ قابل اعتراض کتب بھی برآمد ہوئیں، وہ براہ راست یا بلاواسطہ، نبی اکرم حضرت محمدﷺ کے پاک نام کے بے حرمتی کا مرتکب ہوا ہے۔ میں نے کتاب ’’ذلت‘‘ کے صفحات 17، 23، 31، 173، 281، 282 کا بغور مطالعہ کرنے کے علاوہ دیگر کتابی مواد بھی تفصیلاً پڑھا ہے جو مکمل طور پر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے جملہ زمرے میں آتا ہے۔

21- تمام گواہی اور ثبوت کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اصل مجرم مرزا یونس عرف عصر چغتائی ولد ڈاکٹر تاج بیگ ہے جس نے جرم کا مکمل طور پر ارتکاب کیا ہے۔ ریکارڈ

صفحہ 770

کے مطابق، وہ اشتہاری مفرور ہے۔ دیگر مکمل طور پر قصوروار ملزمان میں قاسم انصاری قتل ہوچکا ہے اور غفور اسلم بھی انتقال کر چکا ہے جیسا کہ اوپر گفتگو ہوچکی ہے۔ ملزمان محمد عرفان اور احمد رضا کے متعلق میری ناقص رائے یہ ہے کہ ان کے متعلق استغاثہ کوئی ٹھوس اور قابل اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور کسی گواہ نے بھی استغاثہ کے موقف کی تائید نہیں کی۔ ان دونوں ملزمان کی حد تک استغاثہ کا مقدمہ مشکوک ہے اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے، ملزمان، محمد عرفان ولد امانت علی، ذات کشمیری، ساکن محلہ رحمان پورہ، گجرات اور احمد رضا، ولد رحمت اللہ، ذات حجام، ساکن، گلی نمبر 18، محلہ فیض آباد، گجرات کو ان کے خلاف الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ دونوں ملزمان اس وقت ضمانت پر ہیں۔ انہیں ان کی ضمانت کے معاہدوں سے آزاد کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ملزم محمد اقبال کا تعلق ہے، استغاثہ، کسی شک کے بغیر اس کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا۔ دیگر ملزمان کے ساتھ ملزم اقبال بھی، قابل اعتراض کتب کو مرتب کرنے اور چھاپنے پر مبنی اصلی مجرم کی رسوا کن سرگرمیوں کی بنیاد پر قابل اعتراض کتب چھاپنے کے حوالے سے زیر دفعہ 295-C، جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ پبلیکیشنز بکس ریگولیشن اینڈ کنٹرول 1969ء، کے مطابق چھاپنے یا طبع کرنے کے اجازت حاصل کرنے کی درخواست، ڈائریکٹر کو پیش کی جائے گی لیکن اس قسم کی کوئی درخواست یا ثبوت، ملزم کی طرف سے پیش نہیں کیا گیا۔ چنانچہ ملزم، محمد اقبال کاپی ایکٹ آف پاکستان پبلی کیشن 1969 کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہوا ہے۔ ملزم اقبال ایک بوڑھا شخص ہے۔ ملزم کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملزم محمد اقبال ولد محمد سردار، عمر 70 سال، ذات ارائیں، ساکن، نسبت روڈ، لاہور، کو عدالت ہذا کی طرف سے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، سزائیں، ’’عمر قید‘‘ مع، -/2,00,000 روپیہ جرمانہ، اور جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں، ملزم کو 6 ماہ قید بھگتنی ہوگی، زیر دفعہ 7 پاکستان پبلی کیشن آف بکس ایکٹ، 1969ء، دو برس قید مع جرمانہ -/1000 روپیہ، جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید بھگتنی ہوگی۔ دونوں سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔ دفعہ 382 مجموعہ ضابطہ فوجداری کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ ملزم اقبال جو ضمانت پر تھا، عدالت میں حاضر ہے۔ اس کی سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ڈسٹرکٹ جیل گجرات بھیج دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی ایک نقل ملزم کو مہیا کر دی ہے۔

صفحہ 771

ملکیت تمام ثبوت اور دستاویزات، مفرور مجرم کی گرفتاری تک اور اپیل کا فیصلہ ہونے تک محفوظ رکھی جائیں۔ بعد ازاں مقدمہ کی ملکیت تمام ثبوت اور دستاویزات کو قانون کے مطابق داخل دفتر کیا جائے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ محمد قاسم 11 اکتوبر 2012ء ایڈیشنل سیشن جج، گجرات

۞......۞......۞

صفحہ 772
صفحہ 773

جناب میاں شہزاد رضا ایڈیشنل سیشن جج گوجرہ

سرکار بنام سجاد مسیح، جولائی 2013ء

صفحہ 774
صفحہ 775

دل کی بات

اس مقدمہ کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ گوجرہ کے ایک رہائشی ملک محمد طارق سلیم کو 18 دسمبر 2011ء کو ایک نامعلوم شخص کی طرف سے فون نمبر 7303958-0313 پر مختلف پیغامات / ایس ایم ایس موصول ہوئے جو حضور نبی کریم ﷺ، قرآن مجید اور اہل اسلام کے بارے میں نہایت گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ پر مشتمل تھے۔ تحقیق وتفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایس ایم ایس، سجاد مسیح نے بھیجے جو ضلع پاکپتن کا رہنے والا ہے۔ دوران تفتیش اس نے بتایا کہ گوجرہ میں اس کے رشتہ دار رہتے ہیں اور اس نے روما مسیح کا شناختی کارڈ لیا اور موبائل فون کی ایک سم نمبر 7303958-0313 حاصل کی، اسے فعال کرایا اور ٹیلیفون نمبر 6553373-0300 سمیت مختلف ٹیلیفون نمبروں پر حضرت محمد ﷺ اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل دو پیغامات بھجوائے اور بعد ازاں اس نے متذکرہ موبائل فون اور سم توڑ دی اور انہیں پاک پتن میں کسی جگہ پھینک دیا تا کہ ثبوت ضائع کیا جا سکے اور اس طرح وہ اس جرم کا مرتکب ہوا جس کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ کے مقدس نام اور قرآن پاک کی توہین کی۔

چنانچہ 19 دسمبر 2011ء کو ملزم سجاد مسیح کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت تھانہ سٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مزید تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ یہ سم ملزم سجاد مسیح کی پہلی منگیتر روما مسیح کے نام ہے۔ روما مسیح نے دوران تفتیش بتایا: ”2010ء میں اس کی منگنی ملزم سجاد مسیح کے ساتھ ہوئی تھی اور کہا کہ یہ منگنی تقریباً 6 ماہ قائم رہی اور بعد ازاں یہ منگنی اس لیے ختم ہوگئی کیونکہ ملزم سجاد مسیح کی تعلیم کافی نہیں تھی اور اس کی منگنی انگلستان کے ایک رہائشی ڈونلڈ مسیح نامی کے ساتھ ہوگئی۔ اس نے مزید کہا کہ اس کے والد کی موت کے بعد ملزم سجاد مسیح اس کی پھوپھی شریفاں بی بی کے گھر آیا اور اس

صفحہ 776

کا اصلی شناختی کارڈ حاصل کرلیا اور اس کے بعد ملزم سجاد مسیح، زونگ فرنچائز گیا اور اس کے نام سے سم کارڈ جاری کرایا کیونکہ ملزم سجاد مسیح اس کے ساتھ منگنی ٹوٹنے کا انتقام لینے کا خواہشمند تھا اور بہت سے لوگوں کو متذکرہ سم کارڈ سے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات / ایس ایم ایس بھیجے تاکہ متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات / ایس ایم ایس بھیجنے کے الزام میں اسے گرفتار کر لیا جائے۔“

ایک اہم بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس کیس کے سلسلہ میں ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ نے ”شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار“ ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ انہوں نے روما مسیح کے اس بیان پر کہ فون سم میری ہے لیکن اُسے استعمال سجاد مسیح نے کیا ہے، فوری طور پر اسے مقدمہ تفتیش میں ”بے گناہ“ قرار دے کر بیرون ملک بھجوا دیا۔ اس ضمن میں راز دارانِ درونِ خانہ نے جو انکشافات کیے ہیں، اس کے تذکرہ سے سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ تک اس اہم مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ دونوں طرف سے فاضل وکلاء پیش ہوتے رہے۔ مستند شواہد اور دلائل ملاحظہ کرنے کے بعد جرم ثابت ہونے پر محترم میاں شہزاد رضا ایڈیشنل سیشن جج ٹوبہ ٹیک سنگھ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی۔ محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

”مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں میرا موقف یہ ہے کہ استغاثہ نے کامیابی کے ساتھ ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ بغیر کسی شک وشبہ، اس قسم کی ٹھوس شہادتوں کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ ملزم کی بے گناہی کے تمام امکانات ختم ہوگئے ہیں اور مدعا علیہ (ملزم) استغاثہ کے بیانات میں کوئی بھی ٹھوس ناموافقت کی نشاندہی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ اس مقدمہ کو کمزور کیا جاسکے۔ اس لیے زیردفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ملزم سجاد مسیح کو مقدمہ ہذا میں مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے زیردفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔“

حیرانی ہے کہ ٹھوس شہادتوں کے ساتھ جرم ثابت ہونے پر بھی معزز عدالت نے ملزم کو عمر قید سنائی جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں دیکھیے حوالہ جات:

معزز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو کم سزا دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے

صفحہ 777

اپنے فیصلہ میں لکھا:

”جہاں تک سزا کی مقدار کا تعلق ہے، اس کی طرف آتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ حالات کو ملزم کے حق میں کم نقصان دہ بنایا گیا کیونکہ دوران تفتیش اصلی سیل فون نمبر 0313-7303958 اور سم کارڈ جس کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات جو ملزم کی طرف سے مدعی کو بھیجے گئے، ملزم کے قبضہ سے یا اس کی نشاندہی پر برآمد نہیں کیے گئے۔“

بڑے ادب و احترام کے ساتھ میری رائے میں یہ توجیہہ ناقص ہے۔ اس مقدمہ میں تفتیشی افسران نے خود عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا:

”ملزم نے حضرت محمد ﷺ اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل پیغامات / ایس ایم ایس بھیجنے کے بعد اپنا موبائل فون اور سم توڑ دی اور انہیں پاک پتن میں کسی جگہ پھینک دیا تا کہ ثبوت ضائع کیا جا سکے۔“

اب اس کے بعد ملزم کے قبضہ سے فون یا سم کس طرح برآمد کی جاسکتی ہے؟ ممکن ہے اس نے فون اور سم کسی نہر یا کنویں میں پھینک دی ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی ملزم پر قتل کا جرم ثابت ہو جائے اور اس نے آلہ واردات چھری یا ریوالور کسی دریا میں پھینک دیا ہو تو کیا اس وجہ سے وہ سزا میں کمی کا مستحق ہے؟

اس سلسلہ میں معزز عدالت نے ایک اور نکتہ بیان کیا:

کرتے ہوئے حالات کو کم نقصان دہ بنا کر ملزم کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ میں نہایت ہی مودبانہ انداز میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ایک مقدمے ”میر محمد عرف میرو بنام سرکار“ (2009 SCMR 1188) کا حوالہ دیتا ہوں جس میں صفحہ 1191 پر معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے مندرجہ ذیل نکتے پر زور دیا ہے۔“

محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں سپریم کورٹ کے جس فیصلہ کا ذکر کیا ہے، اس کے مطابق بعض جرائم میں ملزم کو سزا دیتے ہوئے جج صاحبان کو یہ صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں کہ وہ مقدمہ کے حالات و واقعات کے پیش نظر اگر محسوس کریں کہ ملزم کا جرم کچھ قدرے کم ہے، تو اسے تعزیرات پاکستان میں بیان کی گئی سزا سے کم سزا دے سکتے ہیں۔ لیکن اس کا اطلاق زیر نظر مقدمہ پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت

صفحہ 778

ملزم کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ اس سے کم سزا غیر شرعی ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل فیصلے حرف آخر ہیں:

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کائنات کی مقدس ترین ہستی حضور خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو غلیظ ترین گالیاں دی۔ عدالت میں اس کا جرم تمام ٹھوس شہادتوں کے ساتھ پوری طرح ثابت ہو گیا۔ اس کے باوجود ملزم کو شک کا فائدہ دینا .......................................؟ ہم اس قانونی فیثا غورثی معمے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

اس اہم کیس کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں حضرت مولانا محمد حبیب اور ان کے رفقاء کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اس فیصلہ کی نقل جمعیت العلمائے پاکستان کے سرگرم راہنما مجاہد ختم نبوت جناب حکیم عظمت اللہ نعمانی نے فراہم کی۔ وہ ہمہ وقت ایک مستعد اور تحریکی آدمی ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کی خدمات قابل صد ستائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 779

بعدالت جناب میاں شہزادرضا ایڈیشنل سیشن جج ، گوجرہ

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 7-7A/2012 سیشن مقدمہ نمبر : 33/2012 ایف آئی آر نمبر : 820 بتاریخ 19 دسمبر 2011ء پولیس سٹیشن : گوجرہ سٹی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ بجرم : 295-C، 16 MPO 25-D ٹیلیگراف ایکٹ

سرکار

بنام

سجاد مسیح گل ولد سردار مسیح ساکن سدھنوالا، ضلع پاکپتن (ملزم)

وکلا منجانب مدعی: شیخ محمد جاوید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ محمد توقیر اشرف خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سجاد اصغر کھوکھر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ وکیل منجانب سرکار: عمران رشید کسانہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکلا منجانب ملزم: جاوید چودھری سہوترا ایڈووکیٹ ہائی کورٹ طارق اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ تاریخ فیصلہ: 13 جولائی 2013ء

صفحہ 780

فیصلہ

بعدالت جناب میاں شہزاد رضا ایڈیشنل سیشن جج ، گوجرہ

25-D ٹیلیگراف ایکٹ اور 16 ایم پی او، ملک طارق سلیم کی مدعیت میں پولیس سٹیشن سٹی گوجرہ، میں نامعلوم ملزم کے خلاف درج کیا گیا۔ بعد ازاں دوران تفتیش جرم زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کا اضافہ کیا گیا۔

پر درج کی گئی جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ کوٹ غلام محمد کا مستقل رہائشی ہے اور صرافہ بازار، گوجرہ میں کپڑے کا کاروبار کرتا ہے۔ مورخہ 18-12-2011 (بروز اتوار) اسے حضرت محمدﷺ، قرآن پاک اور مسلمانوں کے متعلق گستاخانہ اہانت آمیز پیغامات/ایس ایم ایس، کسی نامعلوم شخص کی طرف سے ایک فون نمبر 0313-7303958 کے ذریعے اس کے فون نمبر 0300-6553373 پر موصول ہوئے۔ دوران تفتیش، ملزم سجاد مسیح کو اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔

ملزم سجاد مسیح کے خلاف چالان عدالت ہذا میں پیش کرتے ہوئے متذکرہ چالان میں اس کا نام کالم نمبر 3 میں درج کیا۔

30-5-2012 کے مطابق ملزم پر رسمی فرد جرم عائد کی گئی جس پر ملزم نے خود کو بے گناہ قرار

صفحہ 781

دیا اور کہا کہ اس پر مقدمہ چلایا جائے۔ استغاثہ کو ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔

پیش کیے:

گواہ استغاثہ نمبر 1 محمد ارشد نمبر 65/MNC ، نے آصف ندیم سب انسپکٹر کی طرف سے بھیجی گئی شکایت ( E x h . P A ) کی موصولی پر رسمی ایف آئی آر (Exh.PA/1) بغیر کسی اضافے یا تفریق کے ریکارڈ کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 2 محمد مقبول نمبر 703/HC نے گواہی دی کہ اس نے محمد خالد سلیم نمبر 263/HC اور آفتاب احمد صدیقی انسپکٹر کے ہمراہ چھاپہ مارا اور ملزم سجاد مسیح کو گرفتار کر لیا اور دوران تفتیش اس نے بتایا کہ گوجرہ میں اس کے رشتہ دار رہتے ہیں اور اس نے روما مسیح کا شناختی کارڈ لیا اور موبائل فون کی ایک سم نمبر 7303958-0313 حاصل کی ، اسے فعال کرایا اور ٹیلیفون نمبر 6553373-0300 سمیت مختلف ٹیلیفون نمبروں پر حضرت محمدﷺ اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل دو پیغامات بھجوائے ، اور بعد ازاں اس نے متذکرہ موبائل فون اور سم توڑ دی اور انہیں پاک پتن میں کسی جگہ پھینک دیا تا کہ ثبوت ضائع کیا جا سکے اور اس طرح وہ اس جرم کا مرتکب ہوا جس کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات مشتعل کیے اور اس طرح حضور نبی اکرم ﷺ کے مقدس نام اور قرآن پاک کی توہین کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 3 ملک طارق سلیم، مقدمہ ہذا کے مدعی نے گواہی دی کہ 18-12-2011 کو تقریباً سوا / ڈیڑھ بجے دوپہر ، وہ شارزری ہاؤس گوجرہ میں نثار احمد اور دیگر بہت سے لوگوں کے ساتھ موجود تھا جہاں اسے فون نمبر 7303958-0313 سے اس کے فون نمبر 6553373-0300 پر حضرت محمد ﷺ اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس موصول ہوا۔ اس کے بعد اس نے مندرجہ بالا سیل فون سے ایک اور ایس ایم ایس موصول کیا جو انہی اہانت آمیز اور گستاخانہ الفاظ پر مشتمل تھا لیکن کچھ الفاظ تبدیل شدہ تھے۔ اس نے متذکرہ پیغامات / ایس ایم ایس ، نثار احمد گواہ استغاثہ اور وہاں موجود دیگر لوگوں کو دکھائے ۔ بعد ازاں وہ ملکاں والا چوک کی طرف چلا گیا جہاں وہ آصف ندیم سب انسپکٹر سے ملا جو وہاں چند دیگر پولیس افسروں سمیت موجود تھا اور انہیں اپنی شکایت (Exh.PA) پیش کی جس پر اس کے دستخط ثبت تھے۔ اس کی درخواست کے نیچے اس کے

صفحہ 782

دستخط (Exh.PA/2) ہیں۔ پولیس اس جگہ گئی جہاں اس نے متذکرہ بالا پیغامات / ایس ایم ایس موصول کیے۔ پولیس نے موصول شدہ متذکرہ بالا گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات / ایس ایم ایس کے متعلق نثار احمد گواہ استغاثہ اور وہاں موجود دیگر لوگوں سے تفتیش کی اور جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ تیار کیا، نیز سم کارڈ کے ساتھ اس کا سیل فون بھی قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں اس نے متذکرہ بالا پیغامات / ایس ایم ایس کی عبارت کا پرنٹ بھی حاصل کرلیا جو اس کے سیل فون پر موصول ہوا تھا اور دوبارہ پولیس کو درخواست (Exh.PB) پیش کی اور ساتھ ہی گواہوں کے نام بھی درج کیے جس پر اس کے دستخط (Exh.PB/1) موجود ہیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 4 راؤ محمد حسن اے ۔ ایس ۔ آئی، ڈیجیٹل لیبارٹری، از دفتر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ٹوبہ ٹیک سنگھ نے گواہی دی کہ سم کارڈ فون نمبر 6553373-0300 کا ڈیٹا حاصل کرنے کی درخواست موصول ہونے کے بعد اس نے یہ درخواست آئی۔ بی، لاہور بھجوادی۔ آئی۔ بی۔ لاہور سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس نے متذکرہ رپورٹ / ڈیٹا 2012-01-21 کو محمد ارشد اے ایس آئی کی موجودگی میں آفتاب احمد انسپکٹر کو پیش کر دیا۔ آفتاب احمد صدیقی انسپکٹر نے ریکوری میمو (Exh.PC) کے مطابق متذکرہ رپورٹ / ڈیٹا اپنی تحویل میں لے لیا جو اس کی اور محمد ارشد اے ایس آئی کی طرف سے تصدیق شدہ تھا۔ متذکرہ رپورٹ / ڈیٹا، (P-1) پر موجود ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 5 نثار احمد نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ 2011-12-18 کو تقریباً سوا / ڈیڑھ بجے دوپہر کو وہ ملک طارق سلیم مدعی اور دیگر لوگوں کے ساتھ مدعی کی دکان، نثار زری ہاؤس پر موجود تھا جہاں ملک طارق سلیم مدعی کو اپنے سیل فون نمبر 0313-7303958 پر ایک ایس ایم ایس موصول ہوا جو نبی اکرمﷺ، قرآن پاک اور مسلمانوں کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھا۔ ملک طارق سلیم مدعی نے پیغام کی عبارت اسے دکھائی، نیز اس نے یہ عبارت پڑھی۔ اسی اثنا میں کچھ اور گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغام / ایس ایم ایس، ملک طارق سلیم مدعی کے سیل فون پر موصول ہوا جس نے متذکرہ ایس ایم ایس بھی پڑھا اور اپنی طرف سے شدید غصے کا اظہار کیا۔ بعد ازاں شام کے وقت آصف ندیم سب انسپکٹر دیگر پولیس افسروں کے ہمراہ دکان پر آیا اور میرے سمیت، ملک طارق سلیم مدعی، آصف رضا اور دکان کے دیگر ملازموں سے تفتیش کی اور ریکوری میمو

صفحہ 783

Exh.PE کے مطابق ملک طارق سلیم مدعی کا سیل فون (4-P) بمعہ اس کی سم بھی اپنے قبضے میں لے لی جس کی تصدیق اس نے اور محمد آصف رضا گواہ استغاثہ نے کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 6 محمد اخلاص عرف اخلاق نے گواہی دی ہے کہ دسمبر 2011ء کے دوران، اسے منیجر زونگ فرنچائز کمپنی ، گوجرہ تعینات کیا گیا۔ 10-12-2011 کو ملزم سجاد مسیح، جو عدالت میں موجود ہے، اس کے دفتر آیا جس نے روما مسیح کا اصلی شناختی کارڈ پیش کیا اور سم کارڈ کے اجراء کی درخواست کی جس پر اس نے سم کارڈ نمبر 7303958-0313 اسے جاری کر دیا۔ ملزم سجاد مسیح نے اس سے سم کو فعال کرنے کی درخواست کی لیکن اس نے اسے بتایا کہ کمپنی کو تفصیلات مہیا کرنے کے بعد یہ اسے (ملزم سجاد مسیح ) یا روما مسیح کو فعال کرنی ہوگی۔

گواہ استغاثہ نمبر 7 عمران کشور، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایڈمن اینڈ سیکورٹی ، فیصل آباد نے گواہی دی کہ اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی اور دوران تفتیش اسے معلوم ہوا کہ مدعی اور استغاثہ کے گواہان نے استغاثہ کے بیان کی مکمل تصدیق کی۔ اس نے زیر دفعہ 512 مجموعہ ضابطہ فوجداری، روما مسیح کا چالان بھی تیار کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 8 آصف ندیم نے گواہی دی کہ 19-12-2011 کو رات تقریباً ساڑھے سات بجے ، وہ مکاں والا چوک، گوجرہ میں موجود تھا جہاں مدعی ملک محمد طارق اس کے پاس آیا اور اسے ایک تحریری درخواست (Exh.PA) پیش کی اور اس درخواست پر نمبر لگایا اور اس درخواست کو فوجداری مقدمہ درج کرنے کے لیے بذریعہ محمد اویس (576/C) پولیس سٹیشن بھجوا دیا۔ بعد ازاں، وہ پولیس افسروں اور مدعی کے ہمراہ نثار زری ہاؤس چلا گیا ، یہ وہ جگہ تھی جہاں مدعی کو اس کے سیل فون پر گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات والے ایس ایم ایس موصول ہوئے۔ یہاں مدعی ، گواہ نثار احمد، آصف اور دیگر معزز افراد موجود تھے اور اس نے ان سے معاملے کے متعلق تفتیش کی۔ اس نے مدعی اور گواہان کے ایما پر جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ تیار کیا جہاں مدعی نے اپنے فون پر گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات والے ایس ایم ایس وصول کیے۔ جائے وقوعہ کا نقشہ (Exh.PJ) ہے۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ مدعی ملک محمد طارق سلیم نے گواہان استغاثہ نثار اور آصف کی موجودگی میں سم کارڈ سمیت ایل جی کمپنی کا اپنا سیل فون (P-4) نمبر 6553373-0300 اس کے سامنے پیش کیا جو اس نے مذکورہ میموری ریکوری (Exh.PE) کے مطابق اپنے قبضے

صفحہ 784

میں لے لیا۔ متذکرہ ریکوری میمو کی تصدیق گواہان استغاثہ نثار احمد اور آصف نے کی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔

گواہ استغاثہ نمبر 9 آفتاب احمد صدیقی، انسپکٹر/ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، چٹیانہ نے بھی قائم مقام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، امجد علی شیخ، کی زیر نگرانی اس مقدمہ کی تفتیش کی۔ 28-12-2011 کو اس نے کرسچین کالونی، تکیہ پھمن سین، مونگی روڈ، گوجرہ ٹاؤن کے علاقے سے ملزم سجاد مسیح کو گرفتار کر لیا اور اس سے تفتیش کی جس نے یہی حقائق بیان کیے جو روما مسیح نے بیان کیے اور اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ اس نے سم کارڈ 0300-6553373 اور 0313-7303958 کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے تحریری درخواست (Exh.PK) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دفتر میں پیش کی۔ درخواست (Exh.PK) پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ 2012-01-19 کو وہ ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے محمد ارشد اے ایس آئی کے ہمراہ ڈیجیٹل لیبارٹری، ڈی۔ پی۔ او۔ آفس، ٹوبہ ٹیک سنگھ گیا جہاں سے اس نے ریکوری ڈیٹا حاصل کیا اور اسے ریکوری میمو کے تحت اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اور 2012-01-21 کو محمد ارشد اے ایس آئی اور محمد حسن نے اس کی تصدیق کی۔ 2012-08-25 کو وہ ڈیجیٹل لیبارٹری، ڈی پی او آفس، ٹوبہ ٹیک سنگھ گیا، وہاں ایک درخواست اور سیل فون (4-P) مع اس کے سم کارڈ، گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات /ایس ایم ایس کا پرنٹ حاصل کرنے کے لیے انچارج ڈیجیٹل لیبارٹری، ڈی پی او آفس کو پیش کی۔ کچھ دیر بعد انچارج ڈیجیٹل لیبارٹری، ڈی پی او آفس، ٹوبہ ٹیک سنگھ نے اس کے سامنے متذکرہ بالا گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات /ایس ایم ایس کے پرنٹس کی دو نقول (2-P) اور (3-P) پیش کیں جو اس نے ریکوری میمو Exh.PD کے مطابق اپنے قبضے میں لے لیں اور ان کی تصدیق استغاثہ کے گواہان محمد حسن اے ایس آئی اور محمد ارشد اے ایس آئی نے کی۔ متذکرہ ریکوری میمو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ اس نے استغاثہ کے دونوں گواہان خالد سلیم اور مقبول احمد کی موجودگی میں ملزم سجاد مسیح کی طرف سے اعتراف کے متعلق بیانات ریکارڈ کیے۔ اس نے اس مقدمے کا نامکمل چالان تیار کیا اور اس کی تصدیق وتوثیق، امجد علی شیخ، قائم مقام ڈسٹرکٹ پولیس افسر، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے کرائی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، استغاثہ کے گواہان کے بیان ریکارڈ کیے۔ بعد ازاں، اس

صفحہ 785

نے زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری چالان تیار کیا اور مبینہ جرم کے ارتکاب میں ملزم سجاد مسیح کو ملوث پایا۔

نے گواہان استغاثہ خالد سلیم 283/HC ، محمد ارشد اے ایس آئی اور آصف رضا، اور پھر 06-07-2013 کو گواہ استغاثہ امجد علی شیخ کی شہادتوں کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے ترک کر دیا۔

سرکار کی طرف سے استغاثہ کی گواہی کو بند کر دیا۔

کیا اور ان کے لیے علامات مخصوص کر دیں۔

”شکایت کی درخواست (Ex.P.A)، ایف آئی آر کی کاربن کاپی (Exh.PA/1) درخواست/شکایت پر مدعی کے دستخط (Ex.PA/2)۔ گستاخانہ/ اہانت آمیز پیغامات/ ایس ایم ایس کی عبارت (Exh.PB) اور مدعی کے دستخط (Exh.PB/1)، سم ڈیٹا کا ریکوری میمو (Exh.PC)۔ گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات کے پرنٹس کا ریکوری میمو (Exh.PD)۔ موبائل فون نمبر 6553373-0300 کا ریکوری میمو (Exh.PE)، شریک ملزم روما مسیح کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے لیے درخواست (Exh.PF) (Since P.O) ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری (Exh.PG) زیر دفعہ 87 مجموعہ ضابطہ فوجداری، شریک جرم روما مسیح کے خلاف اشتہار کے اجرا کی درخواست (Exh.PH) (since P.O)۔ زیر دفعہ 87 مجموعہ ضابطہ فوجداری، شریک جرم روما مسیح کے متعلق اشتہار (Exh.PI)۔ جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ/ خاکہ (Exh.PJ) موبائل فونوں کے ڈیٹا کے حصول کے لیے درخواست (Exh.PK)، سم کارڈوں کا ڈیٹا (Exh.PL)۔ گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات کی عبارت (P-2) اور (P-3) اور مدعی کا موبائل فون (P-4)۔“

استغاثہ کی طرف سے ثبوت مکمل ہونے کے بعد، ملزم نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنا بیان ریکارڈ کرایا، جس میں اس نے استغاثہ کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات سے انکار کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف کیوں ہے اور کیوں استغاثہ کے

صفحہ 786

گواہان نے اس کے خلاف گواہی دی۔ ملزم سجاد مسیح نے اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل بیان دیا:

”میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہوں اور ضلع پاکپتن کا رہائشی ہوں۔ میں محکمہ آئی ٹی، ڈی۔سی۔او، کمپلیکس پاکپتن میں ملازم ہوں۔ میں 2011-12-10 کو صبح آٹھ بجے سے بعد دوپہر تین بجے تک اپنے فرائض ادا کر رہا تھا۔ ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہے اور تمام پاکپتن میں رہتے ہیں۔ میری والدہ زندہ ہے اور وہ بیوہ ہے۔ 2011-12-18 کو محلہ سمادھن والا ضلع پاکپتن میں واقع اپنے مکان میں موجود تھا، اسی دن میرے دفتر کے ساتھی میرے گھر آئے۔ میرے پاس میرا موبائل QE300 تھا جسے میں نے استعمال کیا اور میرے اسی فون میں دوسمیں 6424101-0313 اور 7233341-0314 تھیں۔ اس مقدمے کے متعلق توہین رسالت پر مبنی پیغامات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اس سم اور موبائل فون سے کوئی تعلق نہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان سے توہین رسالت پر مبنی پیغامات بھیجے گئے۔ اس مقدمے کے کسی تفتیشی افسر نے پیغامات اور ان کی عبارات کے متعلق مجھ سے کوئی تفتیش نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ میں نے یہ پیغامات نہیں بھیجے۔ میں نے زونگ فرنچائز، گوجرہ سے کوئی سم نہیں خریدی کیونکہ میں 2011-12-10 کو پاکپتن میں محکمہ آئی ٹی کے دفتر میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ پاکپتن اور گوجرہ کے درمیان فاصلہ تقریباً 05 گھنٹوں کا ہے اور میں نے حاضری رجسٹر کی تصدیق شدہ نقل (Exh.DB) کے طور پر پیش کی۔ روما اور اس کے گھرانے سے میرا کوئی تعلق نہیں کیونکہ روما کی شادی ایک اور شخص سے ہوئی تھی اور یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ میرے پاس روما کا شناختی کارڈ تھا۔ مدعی اور گواہان استغاثہ نے پولیس کے دباؤ پر میرے خلاف بیان دیا۔ پولیس نے چند نامعلوم اشخاص کی ملی بھگت سے مجھے اس مقدمے میں غیر قانونی طور پر ملوث کیا اور 2011-12-22 کو میرے گھر پر چھاپہ مارا اور میرے بھائی افتخار مسیح کو گرفتار کر لیا۔ اس لیے 2011-12-28 کو میں مہر سرفراز ایس ایچ او پولیس سٹی، رانا اسلم ڈی ایس پی گوجرہ اور آفتاب صدیقی انسپکٹر کی موجودگی میں گلزار سینما، گوجرہ میں واقع پولیس چوکی، پولیس سٹیشن گوجرہ میں شام سوا پانچ بجے پیش ہوا۔ میں نے اپنا متذکرہ بالا فون اور دو سمیں، آفتاب صدیقی انسپکٹر کے حوالے کر دیں۔ میں نے پولیس کے روبرو ثابت کر دیا کہ میں اس مقدمے میں بے گناہ ہوں مگر پولیس نے مجھے اذیت دی اور جوڈیشل لاک اپ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بند کر دیا۔ میرے خلاف یہ مقدمہ پولیس کی بدنیتی اور دشمنی پر مبنی ہے

صفحہ 787

کیونکہ میں عیسائی ہوں اور SDA چرچ، پاکپتن کا ایک رکن ہوں۔ میں مسلمان بھائیوں، قرآن مجید اور حضرت محمدﷺ کا اپنے دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں۔ میرے ساتھی عملے کے تمام افراد مسلمان ہیں اور وہ میرے اچھے دوست ہیں۔ میں اس قسم کے جرم کے ارتکاب کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں بے گناہ ہوں اور یہ مقدمہ جھوٹا، من گھڑت اور میرے خلاف مصنوعی طور پر بنایا گیا ہے۔‘‘

کے لیے پیش ہونے سے انکار کر دیا اور اس نے اپنی صفائی کے ثبوت میں کسی بھی گواہ کو پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

ایڈووکیٹس، وکلائے صفائی نے یہ دلیل دی کہ ایف آئی آر میں مدعی نے ملزم کو نامزد نہیں کیا، یہ بھی کہ ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جس سے استغاثہ کے بیان کے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، یہ کہ ایف آئی آر میں وقت اور جگہ کا ذکر نہیں، یہ بھی کہ ملزم کا نام، گواہان کے نام اور گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات کا بھی ایف آئی آر میں ذکر نہیں کیا گیا، یہ بھی کہ استغاثہ نے اپنے بیان کو ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی عینی شاہد پیش نہیں کیا، یہ بھی کہ ملزم کی نشاندہی پر کوئی مبینہ سم اور موبائل فون برآمد نہیں کیا گیا، یہ بھی کہ پولیس کے انسپکٹر کو مقدمہ ہذا کی تفتیش کا کوئی اختیار نہیں، اس لیے، اس مقدمہ میں تفتیش درست نہیں، یہ بھی کہ پولیس کے سامنے اعتراف، ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا، یہ بھی کہ مبینہ سم کارڈ پی ٹی اے کے قواعد وضوابط کے مطابق، منیجر زونگ کمپنی فرنچائز، گوجرہ نے جاری نہیں کیا، یہ بھی کہ ملزم کی گرفتاری کے وقت پولیس نے کوئی مقامی گواہ پیش نہیں کیا، یہ بھی کہ محمد اخلاص عرف اخلاق، گواہ استغاثہ کے بیان کی کوئی تصدیق ریکارڈ پر موجود نہیں: اس میں موادی غلطیاں، تضادات موجود ہیں اور استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں اضافہ کیا گیا؛ یہ بھی کہ کسی بھی گواہ کی طرف سے ثبوت کے طور پر ملزم کو مبینہ جرم کے ارتکاب سے منسوب نہیں کیا گیا؛ یہ بھی کہ یہ مقدمہ پولیس کی طرف سے ملزم کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا، یہ بھی کہ گواہان استغاثہ نے بیانات پولیس کی طرف سے کافی تاخیر سے ریکارڈ کیے گئے؛، یہ بھی کہ گواہان استغاثہ نے مخصوص گستاخانہ الفاظ کا اظہار نہیں کیا؛ یہ بھی کہ ملزم 10 دسمبر کو اپنی ملازمت پر موجود تھا اور مبینہ سم کارڈ خریدنے کے

صفحہ 788

لیے گوجرہ میں موجود نہیں تھا؛ یہ بھی کہ ملزم بے قصور ہے اور پولیس نے گواہان استغاثہ کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے مقدمہ ہذا میں ملزم کو غلط طور ملوث کیا ہے۔ معزز وکلائے صفائی نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے ثابت کیا کہ چونکہ استغاثہ کا مقدمہ شکوک و شبہات سے بھر پور ہے، اس لیے، شک کا فائدہ ملزم کو دینا چاہیے، اس بنیاد پر اسے تمام الزامات سے بری کر دیا جائے۔ معزز وکلائے صفائی نے مندرجہ ذیل فیصلوں پر بھی انحصار کیا:

1993 S C M R 550 PLD 2002 Supreme Court 1048 PLD 2002 Lahore 587 2001 YLR 484 2000 YLR 1273 2008 YLR 387 2007 YLR 336 PLD 2006 Karachi 613 2001 P Cr. L J 1003 PLD 2002 Lahore 587 2008 YLR 1386

12- سرکاری طرف سے معزز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ADPP) جناب عمران رشید کسانہ نے محمد توقیر اشرف خان، شیخ محمد جاوید اور جناب سجاد اصغر کھوکھر ایڈووکیٹس کی معاونت سے مدعی کی طرف سے دلائل دینے شروع کیے کہ مدعی ملک طارق سلیم اور گواہ نثار احمد نے اپنے ثبوت میں واضح طور پر بیان کر دیا کہ مدعی کے موبائل فون نمبر پر حضرت محمدﷺ، قرآن پاک اور مسلمانوں کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات بذریعہ ایس ایم ایس موصول ہوئے؛ یہ بھی کہ محمد اخلاص عرف اخلاق نے اپنے ثبوت میں یہ واضح طور پر بیان کیا کہ مبینہ سم کارڈ جس سے مدعی نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ وصول کیے، ملزم سجاد مسیح نے خریدی؛ یہ بھی کہ تفتیشی افسر آفتاب احمد صدیقی انسپکٹر اور عمران خاور ایس پی (ایڈمن اینڈ سیکورٹی) نے ملزم کو مبینہ واقعہ میں مکمل طور پر ملوث پایا؛ یہ بھی کہ گواہان استغاثہ کو ملزم سجاد مسیح سے کوئی پرانی دشمنی نہیں اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی بدنیتی ہے تاکہ مبینہ مقدمے میں اسے غلط طور پر ملوث کیا جائے؛ یہ بھی کہ مقدمہ ہذا میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اہم نوعیت

صفحہ 789

کی حامل نہیں؛ یہ بھی کہ پولیس کے گواہ اسی طرح جائز اور سمجھدار ہیں جس طرح کوئی بھی نجی گواہ ہوتے ہیں؛ یہ بھی کہ مبینہ سم کارڈ اور موبائل فون کی برآمدگی ملزم کی نشاندہی پر اس لیے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ یہ دونوں چیزیں خود ملزم نے ضائع کر دی ہیں؛ اس طرح استغاثہ کے مقدمے میں اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ یہ بھی کہ مدعا علیہ (ملزم) کسی بھی دوسرے شخص کی طرف سے مبینہ سیل فون اور سم کارڈ کے استعمال اور ملکیت کے لیے کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ یہ بھی کہ مقدمہ ہذا میں استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوت کے باعث ملزم سجاد مسیح، مکمل طور پر ملوث پایا گیا ہے۔ ان حالات میں بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ ملزم سجاد مسیح کے خلاف مدعی نے اپنا مقدمہ، کسی بھی معقول شک سے ماورا ثابت کر دیا ہے، اس لیے، مقدمہ ہذا میں ملزم کو سزائے موت دیتے ہوئے مجرم قرار دیا جائے۔

حضرت محمدﷺ، قرآن پاک اور مسلمانوں کے خلاف اپنے موبائل فون نمبر 0313-7303958 کے ذریعے مدعی کے سیل فون 0300-6553373 پر گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بھیجے جبکہ ملزم نے اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات سے یہ کہتے ہوئے مکمل طور پر انکار کیا ہے کہ وہ بے قصور ہے اور اس مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی مستند اصول ہے کہ استغاثہ کا فرض ہے کہ ملزم کے خلاف بغیر کسی معقول شک کے، مدعی کی درخواست سے قطع نظر، اپنے ثبوت کی بنا پر ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کرے۔ اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے استغاثہ نے 9 ثبوت پیش کیے ہیں:

استغاثہ کے گواہ نمبر 3 کی حیثیت سے گواہی دی کہ 2011-12-18 کو دوپہر تقریباً سوا 1 ڈیڑھ بجے، وہ نثار زری ہاؤس، گوجرہ میں نثار احمد اور دیگر چند افراد کے ساتھ موجود تھا جہاں اسے سیل فون نمبر 0313-7303958 سے اس کے سیل فون نمبر 0300-6553373 پر نبی اکرمﷺ اور قرآن پاک کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل ایس ایم ایس موصول ہوا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے مزید گواہی دی کہ اسے مندرجہ بالا سیل فون سے دوبارہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ جس کے الفاظ قدرے تبدیل تھے، بذریعہ ایک اور ایس ایم

صفحہ 790

ایس، موصول ہوئے اور اس نے یہ پیغامات بذریعہ ایس ایم ایس، نثار احمد، گواہِ استغاثہ اور وہاں موجود دیگر افراد کو دکھائے۔ بعد ازاں، وہ پولیس کے پاس گیا اور ایک درخواست (Exh.PA)، نامعلوم ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو پیش کی۔ گواہِ استغاثہ نمبر 3 نے مزید گواہی دی کہ بعد ازاں، اس نے اپنے سیل فون پر مندرجہ بالا پیغامات بذریعہ ایس ایم ایس کی عبارت کا پرنٹ حاصل کیا اور پھر دوبارہ ایک درخواست Exh.PB پولیس کو پیش کی اور ساتھ ہی گواہوں کے نام بھی ضروری قانونی کارروائی کے لیے درج کر دیے۔

نے اپنے ثبوت کے طور پر استغاثہ کے بیان کی عین اسی طرح تائید کی جس طرح گواہِ استغاثہ نمبر 3، مدعی نے اپنے بیان کے ذریعے توثیق کی تھی۔ استغاثہ کے گواہان نے اپنے ثبوت میں معاملے کی مکمل تفصیل بیان کی اور اس مقدمہ کے ہر موادی اور اہم پہلو کے لحاظ سے ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور موافقت موجود تھی۔ انہوں نے وقت، جگہ اور طریقہ کار کے بیان کے متعلق نہایت ہی سچائی اور موافقت کا مظاہرہ کیا جس طرح مدعی نے اپنے سیل فون پر گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات وصول کیے۔ جس طرح دونوں گواہان نے جرح کے دوران معاملے کو بیان کیا اور ہر چھوٹی سی چھوٹی تفصیل کے متعلق سوالات کے جوابات دیے، اس طرح ان پر یقین کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہا۔ گواہِ استغاثہ نمبر 3 اور گواہِ استغاثہ نمبر 5 پر معزز وکیل صفائی نے جرح کی لیکن کوئی ایسی چیز ریکارڈ پر نہ آسکی جو ان کی شہادت کو مسترد کر سکے بلکہ اس کے بجائے ان کا بیان تو بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے، غیر مبہم اور با اعتماد تھا، نیز انہوں نے واضح طور پر یہ شہادت دی کہ مدعی نے اپنے سیل فون پر حضرت محمدﷺ، قرآن پاک اور مسلمانوں کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل دو پیغامات بذریعہ ایس ایم ایس، وصول کیے۔ اگرچہ معزز وکیل صفائی نے ان کی گواہی میں معمولی تضادات کی نشاندہی کی لیکن میری رائے میں، ان کی نوعیت معمولی ہے اور اس طرح انہیں ناقابل اعتبار گواہ نہیں کہا جا سکتا، اس لیے ان گواہانِ استغاثہ کے ثبوت، قابل یقین ہیں۔

عدالت ہذا میں گواہِ استغاثہ نمبر 6 کی حیثیت سے پیش ہوا۔ وہ ایک انتہائی اہم، غیر جانبدار اور آزاد گواہ ہے جس نے عدالت ہذا میں گواہِ استغاثہ نمبر 6 کی حیثیت سے پیش ہوتے ہوئے

صفحہ 791

گواہی دی کہ دسمبر 2011 میں وہ زونگ فرنچائز کمپنی گوجرہ، تعینات ہوا اور 10-12-2011 کو ملزم سجاد مسیح جو عدالت ہذا میں حاضر ہے، فرنچائز شاپ کے دفتر میں آیا جس نے روما مسیح کا شناختی کارڈ اس کے سامنے پیش کیا اور سم کارڈ جاری کرنے کی درخواست کی۔ اس نے ملزم سجاد مسیح کا سم کارڈ نمبر 0313-7303958 جاری کر دیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 6 نے مزید گواہی دی کہ ملزم سجاد مسیح نے اس سے متذکرہ سم کارڈ فعال کرنے کی درخواست کی لیکن اس نے اسے بتایا کہ اسے فعال صرف وہی (ملزم سجاد مسیح) یا روما مسیح کمپنی کو کوائف مہیا کرنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 6 پر معزز وکیل صفائی نے جرح کی لیکن کوئی بھی ایسی چیز سامنے نہ آسکی جو گواہ استغاثہ نمبر 6 کی سچائی کو متاثر کرتی، بلکہ گواہ استغاثہ نمبر 6 نے نہایت ہی مستند انداز میں اپنے اوپر ہونے والی جرح میں بتایا کہ اس نے روما مسیح کے شناختی کارڈ کے مطابق مبینہ سم ملزم سجاد مسیح کے حوالے کر دی اور عدالت ہذا میں حاضر ملزم کو وہ کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مدعاعلیہ (ملزم) کی طرف سے کوئی بھی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ گواہ استغاثہ نمبر 6 کی ملزم سے دشمنی تھی اور اس کا ملزم کے ساتھ کوئی پرانا عناد یا دشمنی ہے تاکہ اسے غلط طور پر اس مقدمے میں ملوث کیا جائے۔ گواہ استغاثہ نمبر 6 کی طرف سے پیش کیا گیا ثبوت درست، قابل بھروسا اور ایسا اعتماد پیدا کرنے کے قابل ہے جس کے باعث ملزم کو مکمل طور پر جرم کا مرتکب پایا گیا ہے، اس لیے گواہ استغاثہ نمبر 6 کے ثبوت کو درست مانا جاتا ہے۔

طارق سلیم کی طرف سے ایک شکایت (Exh PA) موصول کی جس کی مدعیت میں یہ مقدمہ زیر دفعہ D-25 ٹیلیگراف ایکٹ اور 16 ایم پی او کے تحت درج کیا گیا۔ بعد ازاں اس نے ابتدائی طور پر اس مقدمے کی تفتیش کی، گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے، ریکوری میمو (Exh.PE) کے مطابق مدعی کا موبائل فون (P4) مع سم کارڈ نمبر 0300-6553373 اپنے قبضے میں لے لیے، نیز اس نے مدعی طارق سلیم کی طرف سے ایک درخواست (Exh.PB) بھی وصول کی اور زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، جرم کا بھی اضافہ کیا اور بعد ازاں، مقدمے کی مسل ایس ایچ او کے حوالے کردی تاکہ اسے کسی دیگر بااختیار پولیس افسر کو دیا جاسکے۔

صفحہ 792

استغاثہ کے گواہ نمبر 9 کی حیثیت سے پیش ہوتے ہوئے گواہی دی کہ اس نے قائم مقام ڈسٹرکٹ پولیس افسر ٹوبہ ٹیک سنگھ کی زیرنگرانی اس مقدمہ کی تفتیش کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 9 نے یہ بھی گواہی دی کہ دوران تفتیش اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات کو درست اور حقیقی پایا اور عدالت میں ملزم کے خلاف چالان پیش کر دیا اور اس کا نام کالم نمبر 3 میں درج کر دیا۔ اس نے مزید گواہی دی کہ 22-12-2011 کو شریک ملزمہ روما مسیح کی رہائش گاہ گیا اور اس سے تفتیش کی جس نے کہا کہ 2010ء میں اس کی منگنی ملزم سجاد مسیح کے ساتھ ہوئی تھی اور کہا کہ یہ منگنی تقریباً چھ ماہ قائم رہی اور بعدازاں یہ منگنی اس لیے ختم ہوگئی کیونکہ ملزم سجاد مسیح کی تعلیم کافی نہیں تھی اور اس کی منگنی انگلستان کے ایک رہائشی ڈونالڈ مسیح نامی کے ساتھ ہو گئی۔ اس نے مزید کہا کہ اس کے والد کی موت کے بعد ملزم سجاد مسیح اس کی پھوپھی شریفاں بی بی کے گھر آیا اور اس کا اصلی شناختی کارڈ حاصل کر لیا اور اس کے بعد ملزم سجاد مسیح، زونگ فرنچائز گیا اور اس کے نام سے سم کارڈ جاری کرایا کیونکہ ملزم سجاد مسیح اس کے ساتھ منگنی ٹوٹنے کا انتقام لینے کا خواہشمند تھا اور بہت سے لوگوں کو متذکرہ سم کارڈ سے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات ایس ایم ایس بھیجے تاکہ متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات ایس ایم ایس بھیجنے کے الزام میں اسے گرفتار کر لیا جائے۔ گواہ استغاثہ نمبر 9 نے مزید گواہی دیتے ہوئے کہا کہ 28-12-2011 کو اس نے ملزم سجاد مسیح کو کرسچین کالونی، تکیہ پھمن سین، مونگی روڈ، گوجرہ کے علاقے سے گرفتار کیا اور اس سے تفتیش کی جس نے وہی حقائق بیان کیے جو روما بی بی نے بیان کیے تھے۔ گواہ استغاثہ نمبر 9 کے بیان کی پُرزور تصدیق ملزم سجاد مسیح کے اپنے بیان کے ذریعے بھی ہوئی جو زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری ریکارڈ کیا گیا کہ روما مسیح کی اس سے منگنی ہوئی تھی اور یہ منگنی چھ ماہ تک برقرار رہی اور بعد ازاں یہ منگنی ٹوٹ گئی اور شریک ملزمہ روما مسیح (since P.O) کی شادی انگلستان میں رہنے والے ایک شخص ڈونالڈ مسیح کے ساتھ طے پاگئی۔

پیش ہوتے ہوئے اپنے ثبوت میں اسی طرح استغاثہ کے بیان کی حمایت کی جس طرح آفتاب احمد صدیقی انسپکٹر/گواہ استغاثہ نمبر 9 نے کی۔

صفحہ 793

ہذا میں بحیثیت گواہ استغاثہ نمبر 7 پیش ہوتے ہوئے واضح طور پر گواہی دی کہ 04-5-2012 کو اس مقدمے کی تفتیش اس کے سپرد کی گئی اور اس نے مدعی ، گواہان اور ملزم سجاد مسیح سے تفتیش کی اور اس تفتیش میں مدعی اور گواہان نے مکمل طور پر استغاثہ کے بیان کی تصدیق کی اور اپنے ان بیانات کی توثیق کی جو اس سے پہلے دیگر پولیس افسروں نے ریکارڈ کئے تھے۔ گواہ استغاثہ نمبر 7 نے دوران جرح یہ گواہی دی کہ دوران تفتیش، ملزم سجاد مسیح نے اپنی بے گناہی کے حوالے سے کوئی بھی گواہ اس کے روبرو پیش نہیں کیا۔

سجاد مسیح مکمل طور اس ارتکاب شدہ جرم میں ملوث ہے۔ مدعا علیہ (ملزم) کی طرف سے متذکرہ گواہان کو کسی بھی دشمنی یا خفیہ مقصد میں ملوث نہیں پایا گیا۔ وہ ملزم سجاد مسیح کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدنیتی یا پرخاش میں ملوث نہیں تھے تا کہ اسے غلط طور پر اس مقدمے میں ملوث کیا جائے،حتیٰ کہ مدعا علیہ (ملزم) ان کے بیانات میں کسی ظاہری غیر موافقت کی بھی نشاندہی نہیں کر سکا تا کہ ان کے بیانات میں کوئی تضاد پیدا کیا جاسکے۔ اس لیے فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ متذکرہ گواہان استغاثہ کی طرف سے پیش کیا گیا ثبوت کافی معقول ہے، اس طرح اس مقدمے میں ان کی شہادتوں کو درست تسلیم کیا گیا ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ نے گواہ استغاثہ نمبر 4 کی حیثیت سے عدالت ہذا میں پیش ہوتے ہوئے گواہی دی کہ وہ ڈیجیٹل لیبارٹری، دفتر ڈسٹرکٹ پولیس افسر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ اڑھائی برس سے کام کر رہا ہے اور 16-01-2012 کو اس نے سم کارڈ فون نمبر 0300-6553373 کے ڈیٹا کے حصول کی درخواست وصول کی۔ اس نے متذکرہ درخواست آئی بی، لاہور بھجوا دی اور آئی بی، لاہور سے رپورٹ وصول کرنے کے بعد، اس نے متذکرہ رپورٹ/ڈیٹا، محمد ارشد اے ایس آئی کی موجودگی میں 21-01-2012 کو انسپکٹر، آفتاب احمد صدیقی کے حوالے کر دی۔ انسپکٹر، آفتاب احمد صدیقی نے ریکوری میمو (Exh.PC) کے مطابق یہ رپورٹ اپنے قبضے میں لے لی اور اس کی تصدیق اس نے اور محمد ارشد، اے ایس آئی نے کی۔ متذکرہ رپورٹ/ ڈیٹا کو (P-1) سے ظاہر کیا گیا ہے۔ انسپکٹر، آفتاب احمد صدیقی، نے اس ضمن میں زیر دفعہ 161

صفحہ 794

مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان ریکارڈ کیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 نے مزید گواہی دی کہ 25-08-2012 کو انسپکٹر، آفتاب احمد صدیقی نے محمد ارشد اے ایس آئی کی معیت میں سم کارڈ نمبر 6553373-0300 کو اس کے روبرو پیش کیا جہاں سے اس نے پیغامات ایس ایم ایس کی عبارت کے دو پرنٹ لیے اور انہیں انسپکٹر، آفتاب احمد صدیقی کو پیش کر دیا جس نے ریکوری میمو (Exh.PD) کے مطابق یہ پرنٹ اپنی تحویل میں لے لیے جن کی تصدیق اس نے اور محمد ارشد اے ایس آئی نے کی تھی۔ پیغامات ایس ایم ایس کی عبارت کے پرنٹ (P-2) اور (P-3) سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 پر معزز وکیل صفائی نے جرح کی لیکن کوئی ایسی اہم چیز سامنے نہ آسکی جو اس کی سچائی کو غلط ثابت کر سکے۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 کی طرف سے پیش کردہ ثبوت، کال ڈیٹا (P1)، پیغامات کی عبارت (P3&P2)، جو ریکارڈ پر موجود ہے، سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ پیغامات جو حضرت محمدﷺ، قرآن مجید اور مسلمانوں کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھے۔ موبائل فون نمبر 0313-7303958 کے ذریعے بھجوائے گئے جس کا سم کارڈ ملزم سجاد مسیح نے خریدا۔

ثبوت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملزم سجاد مسیح نے سم کارڈ نمبر 7303958-0313، محمد اخلاص عرف اخلاق، گواہ استغاثہ نمبر 6، منیجر فرنچائز زونگ کمپنی، گوجرہ سے خریدا اور اسے اپنے استعمال اور قبضہ میں رکھا اور دانستہ و جان بوجھ کر اس نمبر سے مدعی طارق سلیم گواہ استغاثہ نمبر 3 کو اس کے سیل فون نمبر 6553373-0300 پر حضرت محمدﷺ، قرآن مقدس اور مسلمانوں کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل پیغامات (SMS) بھیجے جس سے حضرت محمدﷺ، قرآن مجید اور مسلمانوں کی توہین ہوئی اور ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ استغاثہ نے جو کچھ بیان کیا، اس کی پُرزور تصدیق گواہ استغاثہ نمبر 9، انسپکٹر آفتاب احمد صدیقی اور گواہ استغاثہ نمبر 7، عمران کشور، ایس پی، ایڈمن اینڈ سیکورٹی، فیصل آباد کی طرف سے یکے بعد دیگرے کی گئی تفتیش سے ہوتی ہے جن میں ملزم سجاد مسیح کو اس مبینہ جرم میں مکمل طور پر ملوث پایا گیا۔ ان حالات میں، یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مناسب اور معقول زبانی شہادتوں کے علاوہ دستاویزی ثبوت بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ ملزم نے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

صفحہ 795

اپنا موقف پیش کیا ہے، وہ لفظ بہ لفظ مندرجہ ذیل ہے: ”میرا عیسائی مذہب سے تعلق ہے اور میں ضلع پاکپتن کا رہائشی ہوں۔ میں محکمہ آئی ٹی، ڈی سی او کمپلیکس پاکپتن میں ملازم تھا۔ میں 2011-12-10 کو صبح آٹھ بجے سے بعد دوپہر تین بجے تک اپنی ڈیوٹی پر تھا۔ ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں اور سب پاکپتن میں رہتے ہیں۔ میری والدہ زندہ ہے اور وہ بیوہ ہے۔ 2011-12-18 کو میں اپنے مکان واقع محلہ سمادھن ضلع پاکپتن میں موجود تھا، اسی دن میرے ساتھی عملے کے افراد میرے گھر آئے۔ میرے پاس میرا موبائل QE300 تھا جسے میں نے استعمال کیا اور میرے اس فون میں دو سمیں 0313-6424101 اور 0314-7233341 تھیں۔ اس مقدمے کے متعلق توہین رسالت پر مبنی پیغامات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اس سم اور موبائل فون سے کوئی تعلق نہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان سے توہین رسالت پر مبنی پیغامات بھیجے گئے۔ اس مقدمے کے کسی تفتیشی افسر نے پیغامات اور پیغامات کی عبارت کے متعلق مجھ سے کوئی تفتیش نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ میں نے یہ پیغامات نہیں بھیجے۔ میں نے زونگ فرنچائز، گوجرہ سے کوئی سم نہیں خریدی کیونکہ میں 2011-12-10 کو پاکپتن میں محکمہ آئی ٹی کے دفتر میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ پاکپتن اور گوجرہ کے درمیان فاصلہ تقریباً 5 گھنٹوں کا ہے اور میں نے حاضری رجسٹر کی تصدیق شدہ نقل (Mark.DA) کے طور پر پیش کی۔ روما اور اس کے گھرانے سے میرا کوئی تعلق نہیں کیونکہ روما کی شادی ایک اور شخص سے ہوئی تھی اور یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ میرے پاس روما کا شناختی کارڈ تھا۔ مدعی اور گواہان استغاثہ نے پولیس کے دباؤ پر میرے خلاف بیان دیا۔ پولیس نے نامعلوم اشخاص کی ملی بھگت سے مجھے اس مقدمے میں غیر قانونی طور پر ملوث کیا اور 2011-12-22 کو میرے گھر پر چھاپہ مارا اور میرے بھائی افتخار مسیح کو گرفتار کر لیا، اس لیے 2011-12-28 کو میں مہر سرفراز ایس ایچ او پولیس سٹی، رانا اسلم، ڈی ایس پی، گوجرہ اور آفتاب صدیقی، انسپکٹر کی موجودگی میں گلزار سینما، گوجرہ میں واقع پولیس چوکی، پولیس سٹیشن گوجرہ میں شام سوا پانچ بجے حاضر ہوا۔ میں نے اپنا متذکرہ بالا فون اور دو سمیں، آفتاب صدیقی انسپکٹر کے حوالے کر دیں۔ میں نے پولیس کے روبرو ثابت کر دیا کہ میں اس مقدمے میں بے گناہ ہوں مگر پولیس نے مجھے اذیت دی اور جوڈیشل لاک اپ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بند کر دیا۔ میرے خلاف یہ مقدمہ پولیس کی بدنیتی اور دشمنی پر مبنی ہے کیونکہ میں عیسائی ہوں اور SDA چرچ، پاکپتن کا ایک رکن ہوں۔ میں مسلمان بھائیوں، قرآن مجید

صفحہ 796

اور حضرت محمد (ﷺ) کا اپنے دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں۔ میرے ساتھی عملے کے تمام افراد مسلمان ہیں اور وہ میرے اچھے دوست ہیں۔ میں اس قسم کے جرم کے ارتکاب کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں بے گناہ ہوں اور یہ مقدمہ جھوٹا، من گھڑت اور میرے خلاف جعلی طور پر بنایا گیا ہے۔“

ملزم سجاد مسیح کا موقف یقینی اور قابل اعتماد نہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا ہے اور یہ استغاثہ کے ثبوت سے میل نہیں کھاتا۔ میں نے اس کے موقف کے حوالے سے، اسے بعید القیاس پایا ہے۔ ملزم نے نہ کوئی گواہ پیش کیا اور نہ ہی زیر دفعہ (2)340 مجموعہ ضابطہ فوجداری حلفیہ طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس لیے اپنے موقف کے حق میں بغیر کسی ثبوت کے محض اسے بری کرنے کی درخواست، استغاثہ کے بیان کو مسترد کرنے کے لیے کافی نہیں، اس لیے ملزم سجاد مسیح کے موقف کو سراسر مسترد کیا جاتا ہے۔

پیش کی؛ یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ، پاکپتن، کی طرف سے تصدیق شدہ حاضری شیٹ، جس کا تعلق دسمبر 2011ء صبح آٹھ بجے سے دوپہر تین بجے تک ہے، اور جسے (Mark-DA) سے ظاہر کیا گیا ہے، اپنی صفائی میں پیش کی تاکہ متعلقہ وقت پر اس کی پاکپتن میں موجودگی دکھائی جاسکے جب مبینہ سم کارڈ زونگ فرنچائز، گوجرہ سے خریدا گیا لیکن میری رائے کے مطابق یہ دستاویز نہ تو کوئی پبلک ڈاکومنٹ ہے اور نہ ہی یہ ثبوت کے طور پر پیش کیے جانے کے قابل ہے، حالانکہ جس شخص نے اسے جاری کیا اور جس نے اس کی تصدیق کی، وہ عدالت ہذا میں حاضر نہیں ہوا، اس لیے، استغاثہ کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ اعتراض کہ یہ دستاویز ثبوت کے طور پر پیش کیے جانے کے قابل نہیں، قطعی جائز اور استحقاق کا حامل ہے۔ اس لیے، اس اعتراض کو قبول کیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس دستاویز کو ثبوت کے طور پر پڑھا نہیں جاسکتا۔

درج کی گئی جس کے باعث استغاثہ کے بیان کی سچائی کے متعلق شدید شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن میری رائے کے مطابق، اس مقدمے میں ایف آئی اے کے اندراج میں چوبیس گھنٹے کی تاخیر استغاثہ کے لیے کسی بھی طرح اہم نوعیت کی حامل نہیں کیونکہ مقدمہ ہذا، نامعلوم ملزم کے خلاف درج کیا گیا، اس لیے، میری رائے کے مطابق اس دلیل کی کوئی

صفحہ 797

قانونی اہمیت نہیں۔

-28 اس کے بعد فاضل وکیل صفائی نے یہ موقف اختیار کیا کہ مقدمہ ہذا کی تفتیش کے لیے انسپکٹر آف پولیس بااختیار نہیں تھا۔ میں نے فاضل وکیل صفائی کے ان دلائل پر کافی غور کیا لیکن ان کو میں قابل اہمیت نہیں پایا کیونکہ گواہ استغاثہ نمبر 9، آفتاب احمد صدیقی ، انسپکٹر، نے اپنے ثبوت میں واضح طور پر گواہی دی کہ اس نے مقدمہ ہذا کی تفتیش امجد علی شیخ ، قائم مقام ڈسٹرکٹ پولیس آفس ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی زیرنگرانی انجام دی جس نے اس حوالے سے اپنی ڈائری بھی درج کی ۔ ریکارڈ سے انتہائی واضح ہے کہ عمران کشور، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایڈمن اینڈ سیکورٹی )، فیصل آباد ، نے بھی مقدمہ ہذا کی تفتیش سے یہی نتیجہ اخذ کیا۔ اس لیے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مقدمہ ہذا میں تفتیش، پولیس کی طرف سے غیر قانونی طور پر کی گئی حالانکہ دفعہ 156(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی طرح پولیس افسر کی کارروائیوں پر کسی بھی طرح قابل اعتراض ہونے کا سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ مقدمہ اس افسر کے پاس بھیجا گیا جو اس دفعہ کے تحت تفتیش کے لیے بااختیار نہیں تھا، اس لیے، یہ دلیل قانونی اہمیت کی حامل نہیں۔

-29 اگرچہ فاضل وکیل صفائی کی طرف سے متذکرہ گواہان کے بیانات میں معمولی ناموافقت کی نشاندہی کی گئی لیکن میری رائے کے مطابق یہ ناموافقت غیر اہم نوعیت کی حامل ہے اور نہایت ہی معقول انداز میں اسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے، حالانکہ یہ کسی بھی گواہ کے لیے ممکن نہیں کہ معاملے کے متعلق ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل بھی یاد رکھے۔ اس لیے بلا خوف و خطر اور معقول انداز میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ متذکرہ گواہ کی طرف سے پیش کردہ ثبوت قابل بھروسا، معقول اور سچ ہے، اس لیے اس دلیل کی بھی کوئی قانونی اہمیت نہیں۔

-30 مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں میرا موقف یہ ہے کہ استغاثہ نے کامیابی کے ساتھ ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ بغیر کسی شک و شبہ، اس قسم کی ٹھوس شہادتوں کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ ملزم کی بے گناہی کے تمام امکانات ختم ہو گئے ہیں اور مدعا علیہ (ملزم) استغاثہ کے بیانات میں کوئی بھی ٹھوس ناموافقت کی نشاندہی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ اس مقدمہ کو کمزور کیا جا سکے۔ اس لیے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ملزم سجاد مسیح کو مقدمہ ہذا میں مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔

-31 جہاں تک سزا کی مقدار کا تعلق ہے، اس کی طرف آتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ حالات کو ملزم کے حق میں کم نقصان دہ پایا گیا کیونکہ دوران تفتیش اصلی سیل فون نمبر

صفحہ 798

0313-7303958 اور سم کارڈ جس کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات جو ملزم کی طرف سے مدعی کو بھیجے گئے، ملزم کے قبضہ سے یا اس کی نشاندہی پر برآمد نہیں کیے گئے۔

ہوئے حالات کو کم نقصان دہ بنا کر ملزم کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ میں نہایت ہی مودبانہ انداز میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ایک مقدمے ”میر محمد عرف میرو بنام سرکار“ (2009 SCMR 1188) کا حوالہ دیتا ہوں جس میں صفحہ 1191 پر معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے مندرجہ ذیل نکتے پر زور دیا ہے:

”اس امر پر زور دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک فوجداری مقدمے میں، سزا کی مقدار متعین کرنے کے لیے عدالتوں کی طرف سے انتہائی احتیاط درکار ہے کہ فیصلے لوگوں کی زندگی اور آزادیوں کا تحفظ کریں۔ بلاشبہ، ملزم بھی سزا کی مقدار کا تعین کرنے کے لحاظ سے حالات کی سنگینی کم کرنے پر مبنی شک کے فائدے کے مستحق ہیں۔“

میں بھی اطلاق کرتا ہوں، اس لیے، میں ملزم کو مندرجہ ذیل سزا دیتا ہوں:

ملزم سجاد مسیح کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، نیز اسے 2,00,000 روپے (دو لاکھ روپے) جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا اور عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔

ہی ڈسٹرکٹ جیل، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحویل میں ہے تا کہ اسے دی گئی سزا دی جائے۔ اسے اس فیصلہ کی نقل بھی بلا قیمت مہیا کی گئی ہے۔ اپیل یا فیصلے کے استرداد تک مال مقدمہ مناسب طور پر محفوظ کیا جائے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ میاں شہزاد رضا 13 جولائی 2013ء ایڈیشنل سیشن جج مقیم کیمپ جیل، ٹوبہ ٹیک سنگھ

۞.......۞.......۞

صفحہ 799

جناب محمد طاہر خان نیازی ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی

سرکار بنام عثمان رشید، اکتوبر 2013ء

صفحہ 800
صفحہ 801

دل کی بات

اس مقدمہ کے حالات و واقعات کچھ اس طرح ہیں کہ ملزم عثمان رشید راولپنڈی میں واقع D-Watson shop میں ملازم تھا۔ وہاں تنخواہ وغیرہ کے معاملہ پر تنازع ہوا تو اس نے وہاں سے ملازمت چھوڑ دی۔ ملازمت کے دوران ملزم نے D-Watson کا لیٹر چوری کیا۔ بعد ازاں اس نے مالکان سے بدلہ لینے یا بلیک میل کرنے کے لیے لیٹر ہیڈ پر حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز جملے تحریر کیے۔ D-Watson کی انتظامیہ کے ذمہ دار زبیر زیب عباسی نے یہ ساری صورتحال لکھ کر ایک درخواست تھانہ نیو ٹاؤن راولپنڈی میں جمع کروائی جس پر 15 مئی 2010ء کو ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 295-A کے تحت مقدمہ درج ہو گیا۔ فرانزک سائنس لیبارٹری اور نادرا سے موصول شدہ رپورٹوں کے مطابق لیٹر ہیڈ پر تحریر ملزم عثمان رشید کی لکھی ہوئی ثابت ہوئیں۔ ویسے تو حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف کوئی بھی تحریر نا قابل برداشت اور دیکھنے کے لائق نہیں ہوتی لیکن اس مقدمہ میں ملزم کی طرف سے لکھی جانے والی تحریریں اس قدر خوفناک اور دل آزار ہیں کہ اس کے تصور سے ہی ہزار بار استغفار اور اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ عزت مآب جناب محمد طاہر خاں نیازی صاحب ایڈیشنل سیشن، جج نہایت تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ گستاخانہ تحریریں اپنے فیصلہ میں نقل نہیں کیں۔

محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

تحریریں اس قدر مکروہ، گستاخانہ اور اہانت آمیز ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے قطعی طور ناممکن ہے کہ وہ ان مندرجات کا مطالعہ کر سکے۔ تاہم، انصاف کی مقدس ذمہ داری نبھاتے ہوئے، عدالت ہذا نے تحریروں کا مطالعہ کیا اور ان کا جائزہ لینے کے بعد عدالت ہذا کو یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ جس شخص نے بھی یہ تحریریں لکھیں، اس نے اس قدر غلیظ زبان استعمال کی کہ وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ مزید برآں، عدالت ہذا کا یہ بھی موقف ہے کہ تحریروں کو سر بمہر کیا جائے

صفحہ 802

تاکہ یہ تحریریں عدالت ہذا یا عدالت ہذا کی اجازت سے کسی دوسرے شخص کی نظر کے جائزے کے علاوہ کسی دیگر شخص کی نظر سے نہ گزریں تاکہ اس قسم کا مکروہ، گستاخانہ، اہانت آمیز اور غم انگیز مواد، اس کے بالآخر ضائع ہونے تک کسی بھی غیر متعلق شخص بشمول عدالتی اہلکار کی نظروں سے دور رہے۔

مزید برآں، یہ امر بھی قطعی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کس طرح اور کیسے یہ تحریریں دن کے اجالے اور مدعی یا کسی بھی دیگر گواہ کے سامنے آئیں، یہ وہ حقائق ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے محض تکنیکی ہیں کیونکہ یہ تحریریں زندہ حقیقت ہے اور استغاثہ نے ملزم عثمان رشید کی حد تک ثابت کر دیا ہے کہ اس نے ہی یہ گستاخانہ تحریریں لکھی ہیں۔‘‘

تقریباً ساڑھے 3 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ ٹھوس شہادتوں، مواد اور دلائل کے بعد عدالت نے ملزم کو موت کی سزا سنائی۔ گستاخ رسول کے خلاف یہ ایک بہترین اور جامع فیصلہ ہے جس کا مطالعہ قارئین کے لیے بے حد افادیت کا حامل ہوگا۔

قارئین کرام: یہ کتاب طباعت کے لیے پریس جا رہی تھی کہ اسی اثنا میں یہ اندوہناک خبر ملی کہ راولپنڈی میں ایڈیشنل سیشن جج عزت مآب جناب محمد طاہر خان نیازی کو ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر دن دہاڑے شہید کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم اسلام اور پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک عاشق رسول اور منصف مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شہادت سے عدلیہ ایک روشن دماغ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل جج سے محروم ہوگئی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور روز محشر حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔ محترم جج صاحب سے میری کوئی ملاقات نہ تھی۔ محض زیر نظر فیصلہ کی وجہ سے میرے دل میں ان کے لیے بے حد عزت و احترام ہے۔ میں تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ محترم جج صاحب کو ان کی شہادت کے بعد میں اور میرے رفقاء نے تقریباً 5 لاکھ مرتبہ درود شریف پڑھ کر انہیں ایصال ثواب کیا ہے۔ قوی امید اور واثق یقین ہے کہ اس سلسلہ میں محترم جج صاحب جنت میں میرا شکریہ ادا کر رہے ہوں گے تو میں ان کی دست بوسی کر کے عرض کروں گا کہ یہ آپ کا حق اور میرا فرض تھا۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 803

بعدالت جناب محمد طاہر خان نیازی، ایڈیشنل سیشن جج، راولپنڈی

مقیم سنٹرل جیل، راولپنڈی

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 14/2010

سیشن مقدمہ نمبر : 09/2011

ایف آئی آر نمبر : 335 بتاریخ 15 مئی 2010ء

پولیس سٹیشن : نیوٹاؤن راولپنڈی

بجرم : تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C

سرکار

بنام

عثمان رشید ولد عبدالرشید بیگ، ذات بیگ، عمر 35/33 سال

ساکن مکان نمبر E-229/A، سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی

(ملزم)

تاریخ فیصلہ: 31 اکتوبر 2013ء

صفحہ 804

فیصلہ

جناب محمد طاہر خان نیازی، ایڈیشنل سیشن جج، راولپنڈی

عثمان رشید ولد عبدالرشید بیگ، ذات بیگ، عمر 35/33 سال، ساکن مکان نمبر E-229/A، سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی، کے خلاف مورخہ 2010-05-15 کو درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 335، زیردفعہ 295-A/295-C تعزیرات پاکستان، زیردفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، تین الگ الگ عبوری رپورٹوں کے ذریعے چالان، پولیس نے مقدمہ چلائے جانے کے لیے عدالت ہذا میں پیش کیا۔

عباسی، پولیس سٹیشن پیش ہوا اور ایک تحریری شکایت (Ex.PC) پیش کی جس پر شیخ محمد اسلم ایس آئی /گواہِ استغاثہ نمبر 7 نے ایف آئی آر (EX.PC/1) درج کی، جس کے مندرجات ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں:

”عرض ہے کہ میں D-Watson Shop، چاندنی چوک، الفتح پلازا، میں ملازم ہوں۔ عثمان رشید بیگ ولد عبدالرشید بیگ، اسی دکان پر ہمارے ساتھ ملازم رہ چکا ہے جس نے تقریباً دو سال قبل، D-Watson سے ملازمت چھوڑ دی۔ اپنی ملازمت کے دوران عثمان رشید نے D.Watson کا لیٹر پیڈ چوری کیا۔ آج عثمان رشید ہماری دکان پر آیا۔ میں اور سبیل ولد محمد بشیر، دکان پر موجود تھے۔ عثمان رشید کے پاس D-Watson کا لیٹر پیڈ تھا جس پر نبی اکرم (ﷺ) کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ درج تھے اور اور اس نے ہمارے روبرو اعتراف کیا کہ یہ لکھائی اس کی ہے۔ میں اور سبیل نے اسے

صفحہ 805

پکڑ لیا۔ عثمان اور گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل لکھائی پیش خدمت ہے۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست ہے۔‘‘

مقدمے کی تفتیش شروع کی اور جائے وقوعہ پر گیا جہاں زبیر زیب مدعی/گواہ استغاثہ نمبر 4 نے اس کے روبرو ایک لکھائی (EX.PA) پیش کی جو اس نے ریکوری میمو (EX.PD) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لی۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات قلمبند کیے اور جائے وقوعہ کا نقشہ ( E X . P H ) تیار کیا اور عدالت میں زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، پہلی نامکمل رپورٹ پیش کی۔

ضابطہ فوجداری، مورخہ 2010-06-28 کو ملزم کو دستاویزات اور بیانات کی نقول فراہم کیں۔ تاہم، 2010-07-12 کو یہ پتہ چلا کہ لاہور سے ماہر تحریر کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی، اس لیے ماہر تحریر کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔ بعد ازاں، 2011-01-14 کو مقدمہ ہذا کی تفتیش، حنیف احمد، ایس پی، انویسٹی گیشن کے سپرد کر دی گئی جس نے عدالت ہذا کی اجازت سے 2011-01-24 کو (متنازعہ) اصلی تحریر (EX.PA) حاصل کر لی۔ حنیف احمد، ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 13، جائے وقوعہ پر پہنچا، اندازاً نقشہ (EX.PM) تیار کیا۔ جائے وقوعہ کے نقشے (EX.PM) کی تیاری کے دوران، مدعی نے ملزم کا تحریری اعترافی بیان بشمول ملزم کے قومی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی اس کے حوالے کر دی جو اس نے ریکوری میمو (EX.PF) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیں۔ اسی دن، زبیر زیب مدعی/گواہ استغاثہ نمبر 4 نے بینر پینا فلیکس (EX.P-1) اس کے حوالے کر دیا جو اس نے ریکوری میمو (EX.PE) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔ 2011-1-26 کو حافظ محمد الحق، گواہ استغاثہ نمبر 8 اور حاجی فضل کریم نے D.Watson (EX.PB) کے لیٹر پیڈ پر اصلی تحریر پیش کی جسے اس نے ریکوری میمو (EX.PG) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔ 2011-1-29 کو حنیف احمد، ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 13، عدالت ہذا کی اجازت سے ملزم عثمان رشید کے ساتھ شامل تفتیش ہو گیا اور 2011-2-15 کو زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، دوسری عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ 2011-2-28 کو محمد اشرف گوندل، فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ،

صفحہ 806

راولپنڈی کے روبرو، ملزم کے دستخط، دستی تحریر اور انگلیوں کے نشانات حاصل کیے گئے اور اسی کے ساتھ ساتھ تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB)، فرانزک سائنس لیبارٹری اور نادرا کو تقابل کے لیے بھیج دیے گئے۔ 14-3-2011 کو حنیف احمد، ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 13 کا تبادلہ کر دیا گیا اور تفتیش کو اسرار احمد عباسی، ایس پی/گواہ استغاثہ 12 کے حوالے کر دیا گیا جسے 29-3-2011 کو کامران اکبر اہلمد، گواہ استغاثہ نمبر 6 نے تقابل کا نتیجہ پیش کیا جسے اس نے ریکوری میمو (EX.PG) کے مطابق، اپنی تحویل میں لے لیا۔ 08-4-2011 کو محکمہ داخلہ کی جانب سے استغاثہ کی منظوری کے ضمن میں جاری کردہ خطوط (EX.P-2) اور (EX.P-3) بھی اس نے ریکوری میمو (EX.PK) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیے۔ تفتیش مکمل کرنے کے بعد اسرار احمد عباسی ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 12 نے زیردفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت رپورٹ کے ذریعے ملزم کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی سفارش کی۔

گئی جبکہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

زبیر زیب مدعی/گواہ استغاثہ نمبر 4، محمد اسلم، ایس آئی/گواہ استغاثہ نمبر 7، اسرار احمد خان عباسی، ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 12، حنیف احمد، ایس پی/گواہ استغاثہ نمبر 13، کے بیانات پر اس فیصلہ کے پہلے پیروں میں بحث کی جاچکی ہے، اس لیے، ان بیانات کی دوبارہ دہرائی کی ضرورت نہیں۔ تاہم، استغاثہ کے بقایا گواہان کے بیانات کا تجزیاتی خاکہ نیچے دیا جارہا ہے:

تحریروں (EX.PA) اور (EX.PB) کے حوالے سے اس کے روبرو اعتراف کیا۔

ملزم عثمان رشید نے دکان D.Watson کا لیٹر پیڈ چوری کرنے اور دکان کے باہر بینر آویزاں کرنے کا اعتراف کیا۔ متذکرہ گواہ کے مطابق، ملزم، عثمان رشید نے اپنی تحریر (EX.PA)، زبیر زیب، مدعی، گواہ استغاثہ نمبر 4 کے حوالے کی۔

ملزم، عثمان رشید نے 15-5-2010 کو اپنی (متنازعہ) تحریر (EX.PA) زبیر زیب مدعی،

صفحہ 807

گواہ استغاثہ نمبر 4 کے حوالے کی۔

15-05-2012 کو قبل از دوپہر 10 بجے اس کی موجودگی میں، ملزم نے اپنی تحریر (EX.PA)، زبیر زیب، مدعی/گواہ استغاثہ نمبر 4 کے حوالے کی۔

تعینات تھا، بطور گواہ استغاثہ نمبر 6 پیش ہوا ہے، جس نے فرانزک سائنس لیبارٹری اور نادار سے موصول شدہ رپورٹیں تفتیشی افسر ایس پی انویسٹی گیشن (اسرار احمد عباسی، ایس پی، گواہ استغاثہ نمبر 12) کو پیش کیں جس نے ریکوری میمو (EX.PG) کے مطابق، انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔

26.01.2011 سے پہلے D.Watson کے لیٹر پیڈ پر لکھی ہوئی تحریر ملی، جسے اس نے چودھری محمد حنیف، ایس پی تفتیشی افسر گواہ استغاثہ نمبر 13 کے روبرو پیش کی جسے تفتیشی افسر نے ریکوری میمو (EX.PG) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔

(EX.P-3)، اسرار احمد عباسی، ایس پی تفتیشی افسر گواہ استغاثہ نمبر 12، کے حوالے کیے جس نے اسے ریکوری میمو (EX.PK) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔

خطوط (P-2) اور (P-3) کے علاوہ، فرانزک سائنس لیبارٹری اور نادرا سے وصول شدہ رپورٹیں، کامران اکبر گواہ استغاثہ نمبر 6 نے، اسرار احمد عباسی، ایس پی تفتیشی افسر گواہ استغاثہ نمبر 12 کے روبرو پیش کیں جس نے انہیں ریکوری میمو (EX.PG) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔

بطور گواہ استغاثہ نمبر 11 پیش ہوا ہے جس کے مطابق جب اسے فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ، راولپنڈی، کی طرف سے تحریر کردہ خط (EX.PL)، دو دستاویزات (EX.PA) اور (EX.PB) بمع فوٹو کاپیاں (EX.R-1) اور (EX.R-2) اور 24 نمونہ صفحات (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) موصول ہوئیں جس پر ان کے تجزیہ کرنے کے بعد اس

صفحہ 808

نے رپورٹ (EX.PJ) پیش کی، جس کے مطابق متنازعہ لکھائی (EX.PA) اور (EX.PB) کے علاوہ دیگر تحریروں (EX.PS/1) تا (EX.PS/24)، (EX.R-1) اور (EX.R-2) میں مشابہت موجود تھی۔

انکار کیا اور کہا کہ اس کے آجر D.Watson نے اسے اس کی تنخواہ نہیں دی جس کے خلاف اس نے قانونی نوٹس جاری کیا۔اس لیے، پولیس کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے، اس کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم نے اپنے دفاع میں کوئی گواہی یا ثبوت پیش کیا اور نہ ہی کوئی بیان حلفی دیا۔

کرتے ہوئے یہ کہا کہ استغاثہ بلاشبہ، ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

(EX.D-2) کو چھپا لیا ہے جن سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ ملزم نے تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) نہیں لکھیں؛ یہ کہ امیر علی حسین خان، نامی، ماہر تحریر، گواہ استغاثہ نمبر 11 نے اگرچہ تحریروں (EX.PA)، (EX.PB) اور نمونہ کی لکھائی میں کچھ مشابہت محسوس کی ہے لیکن استغاثہ کے مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے عام مشابہتیں کافی نہیں، خاص طور پر اس وقت جب رپورٹ (EX.PJ) میں مشابہ الفاظ کی ساخت، ابتدائی اور اختتامی ضربوں، الفاظ کے درمیان فاصلے اور زاویہ کے حوالے سے خاص طور پر وضاحت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کے متعلق رپورٹ پیش کی گئی؛ اور یہ کہ امیر علی حسین، گواہ استغاثہ نمبر 13 کی رپورٹ کے مطابق، نمونہ کی تحریر (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) کا محتاط جائزہ لیا گیا، جبکہ حنیف احمد، ایس پی تفتیشی افسر/ گواہ استغاثہ نمبر 13 نے بیان دیا کہ ملزم عثمان رشید نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نمونہ کے صفحات (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) لکھے، اس لیے متذکرہ بالا حقائق کے باعث استغاثہ کے مقدمہ میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے جس کا فائدہ بہر حال، ملزم کو پہنچنا چاہیے، اس لیے، ملزم، بریت کا مستحق ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے اپنے موقف کی حمایت میں (محمد دین بنام لیاقت علی) 1991 MLD 1070 کراچی اور (شاہ محمد بنام سید اسرار حسین ودیگر) 1991 CLC Note 207 لاہور، پیش کیے۔

صفحہ 809

تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB)، اس قدر مکروہ، گستاخانہ اور اہانت آمیز ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے قطعی طور ناممکن ہے کہ وہ ان مندرجات کا مطالعہ کر سکے۔ تاہم، انصاف کی مقدس ذمہ داری نبھاتے ہوئے، عدالت ہذا نے تحریروں (EX.PA) اور (EX.PB) کا مطالعہ کیا اور ان کا جائزہ لینے کے بعد عدالت ہذا کو یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ جس شخص نے بھی یہ تحریریں (EX.PA) اور (EX.B) لکھیں، اس نے اس قدر غلیظ زبان استعمال کی کہ وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ مزید برآں، عدالت ہذا کا یہ بھی موقف ہے کہ تحریروں (EX.PA) اور (EX.PB) کو سر بمہر کیا جائے تا کہ یہ تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) عدالت ہذا یا عدالت ہذا کی اجازت سے کسی دوسرے شخص کی نظر کے جائزے کے علاوہ کسی دیگر شخص کی نظر سے نہ گزریں تا کہ اس قسم کا مکروہ، گستاخانہ، اہانت آمیز اور غم انگیز مواد، اس کے بالآخر ضائع ہونے تک کسی بھی غیر متعلق شخص بشمول عدالتی اہلکار کی نظروں سے دور رہے۔

(EX.PA) اور (EX.PB) دن کے اجالے اور مدعی یا کسی بھی دیگر گواہ کے سامنے آئیں، یہ وہ حقائق ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے محض تکنیکی ہیں کیونکہ یہ تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) زندہ حقیقت ہے اور استغاثہ نے ملزم عثمان رشید کی حد تک ثابت کر دیا ہے کہ اس نے ہی یہ تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) لکھی ہیں۔

لکھائی کی شناخت کا تعلق ہے، ماہر تحریر کا اس ضمن میں خاص طور پر سپیشلسٹ ہونا ضروری ہے اور اس لیے امیر حسین خان، گواہ استغاثہ نمبر 11 کی گواہی، مقدمہ ہذا میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ اس لحاظ سے حنیف احمد، ایس پی، سی آئی اے / گواہ استغاثہ نمبر 13 کے بیان کے علاوہ کامران اکبر گواہ استغاثہ نمبر 6 کا بیان، جو اس وقت محمد اشرف گوندل کی عدالت میں بطور اہلمد تعینات تھا، تصدیق کرتا ہے کہ نمونہ کی تحریریں (1/EX.PS) تا (24/EX.PS)، ملزم عثمان رشید سے موصول کی گئیں جو بذریعہ خط (EX.L)، دستاویزات (EX.PA) اور (EX.PB) کے ہمراہ، برائے تقابل بھیجی گئیں جنہیں امیر علی حسین خان گواہ استغاثہ نمبر 11 نے فرانزک سائنس لیبارٹری، لاہور میں وصول کیا۔ امیر علی حسین خان، گواہ استغاثہ

صفحہ 810

نمبر 11 کے مطابق یہ تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB)، نمونہ کے صفحات (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) کے مشابہ تھیں۔ اس معاملے میں مدعاعلیہ کا یہ موقف یہ ہے کہ خط (EX.D-1) کے مطابق، امیر حسین خان، گواہ استغاثہ نمبر 11 نے اس سے پہلے کاپیاں، درخواستوں، سرکاری یا نجی دستاویزات وغیرہ میں لکھی گئی اردو کی لکھائی کا مطالبہ کیا تھا جو تقابل کے لیے کبھی نہیں بھیجی گئیں۔ جہاں تک کاپیوں، درخواستوں، سرکاری یا نجی دستاویزات پر لکھی گئی پہلی اردو لکھائی کے بھجوانے کا تعلق ہے، یہ امر متذکرہ لکھائی کی دستیابی سے مشروط تھا اور اس ضمن میں دو فوٹو کاپیاں (EX.R-1) اور (EX.R-2)، تقابل کے لیے بھیجی گئیں جو اعتراض کے بعد عدالت میں پیش کی گئیں۔ تاہم، اگر دستاویزات (EX.R-1) اور (EX.R-2) کو مدنظر نہ رکھا جائے، اور مدعاعلیہ کا اعتراض بھی قبول کر لیا جائے، تو پھر بھی خط (EX.D-1) میں یہ ذکر ہے کہ ایک الگ صفحہ پر آہستہ، معمول اور تیز رفتار نمونہ کے دستخط، حاصل کیے جائیں اور تقابل کے لیے بھیجے جائیں جو درحقیقت محمد اشرف گوندل، فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ، راولپنڈی کی موجودگی میں (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) کی شکل میں حاصل کیے گئے اور ان دستاویزات کے معائنے کے بعد ہی امیر حسین خان، گواہ استغاثہ نمبر 11، اس نتیجہ پر پہنچا کہ نمونہ کے صفحات (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) پر موجود دستی تحریر، دستاویزات (EX.PA) اور (EX.PB) میں موجود دستی تحریر کے مشابہ ہے، اس لیے، مدعاعلیہ کا یہ اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔

حسین خان، گواہ استغاثہ نمبر 11 نے لکھا تھا، اس خط پر مدعاعلیہ نے اعتراض کیا کہ فوٹوسٹیٹ پر موجود تحریریں اور 9 صفحات پر موجود نمونہ کی تحریریں، جنہیں تقابل کے لیے بھیجا گیا، اچھی طرح تحریر کردہ نہ تھیں اور متنازع تحریروں کے ساتھ تقابل کے قابل نہ تھیں۔ اس معاملے میں حنیف احمد، ایس پی گواہ استغاثہ نمبر 13 نے زیر دفعہ A - 156 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مقدمہ ہذا کی تفتیش 2012-1-14 کو شروع کی اور عدالت سے 2011-1-14 کو اصلی دستاویزات (EX.PA) اور 2011-1-26 کو اصلی دستاویزات کے حصول کے بعد، محمد اشرف گوندل، فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ، راولپنڈی کے ذریعے نمونہ کی تحریر (EX.PS/1) تا (EX.PS/24) کی شکل میں حاصل کی اور خط (EX.D-2) میں مذکور اعتراض کو دور کرتے ہوئے، تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) تقابل کے لیے بھیجی

صفحہ 811

گئیں۔ اس لیے، (EX.D-2) ملزم عثمان رشید کی معاونت اور اس کے بچاؤ کے لیے قابل اہمیت نہیں۔ دوسری طرف، امیر علی حسین خان، گواہ استغاثہ نمبر 11 نے جرح کے دوران واضح طور پر بیان کیا کہ اس نے ساخت، ابتدائی اور اختتامی ضربوں، الفاظ، فاصلوں، زاویہ اور ساخت کی خصوصیات کا اپنی حتمی رپورٹ (EX.C.4) میں ذکر کیا، جو درحقیقت موجود ہیں، اس لیے مدعاعلیہ کی طرف سے، کسی مشابہ لفظ کی خصوصیات کو نہ ظاہر کرنے کے موقف کی ریکارڈ/ثبوت کے ذریعے تصدیق نہیں ہوتی۔ اور پھر کم از کم، یہ حنیف احمد، ایس پی، سی آئی اے، کی ذمہ داری نہیں تھی، جو یہ وضاحت کرتا کہ کیا ملزم عثمان رشید نے نمونہ کی تحریر احتیاط سے لکھی اور یہ ماہر تحریر ہی کی ذمہ داری تھی جو درحقیقت، امیر علی حسین خان، گواہ استغاثہ نمبر 11 نے انجام دی۔ لہٰذا، استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوت اور گواہی میں کوئی بھی تضاد نہیں پایا گیا جو امیر علی حسین خان گواہ استغاثہ نمبر 11 کی گواہی کو کمزور کرنے کے لیے کافی ہے اور امیر علی حسین خان گواہ استغاثہ نمبر 11 کا بیان، یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ تحریریں (Ex.PA) اور (Ex.PB)، ملزم عثمان رشید نے ہی تحریر کی تھیں۔

25- مدعاعلیہ کے اس موقف کی طرف آتے ہوئے کہ تنخواہ کے مطالبے اور اس کی طرف سے قانونی نوٹس کے اجراء کے باعث، ملزم عثمان رشید کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا، یہ باب عام فہم سے ماورا ہے کہ D.Watson کا مالک، اپنے لیٹر پیڈ استعمال کرتا اور ملزم، عثمان رشید کو محض تنخواہ نہ دینے کے لیے ان پر تحریریں (Ex.PA) اور (Ex.PB) لکھتا یا پھر وہ قانونی نوٹس کا انتقام لیتا۔ اس لیے، مدعاعلیہ کا موقف قابل دلیل نہیں ہے کہ اسے اہمیت دی جائے۔

26- جہاں تک ملزم کی طرف سے جرم کے ارتکاب کی سزا کی مقدار اور نوعیت کا تعلق ہے، اس ضمن میں ڈی واٹسن کمپنی کے لیٹر پیڈ کی چوری کا براہ راست ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں۔ اس لیے ملزم کو زیر دفعہ 380 تعزیرات پاکستان کے تحت ملزم قرار نہیں دیا جا رہا۔ تاہم ملزم عثمان رشید نے دانستہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے Ex.PA اور Ex.PB میں موجود تحریریں دانستہ طور پر لکھیں اور اپنی ان تحریروں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انتہائی گستاخانہ الفاظ کہے۔ اس لیے زیر دفعہ 295-C اور 295-A تعزیرات پاکستان جرم کا ارتکاب کسی بھی مناسب شک و شبہ کے بغیر ملزم عثمان رشید کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ جہاں تک سزا کی مقدار کا تعلق ہے، ملزم عثمان رشید کی طرف سے ارتکاب

صفحہ 812

شدہ جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ اسے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جاسکتی۔

کامیاب ہو چکا ہے، اس لیے، عدالت ہذا، ملزم، عثمان رشید کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہراتی ہے اور اسے سزائے موت سناتی ہے اور اسے موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ تاہم، سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ، لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہوجاتی۔ نیز، زیر دفعہ 374 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس فیصلے کو معزز عدالت عالیہ، لاہور کو بھیجا جائے۔ ملزم کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف 7 روز کے اندر اپیل دائر کرسکتا ہے۔

بھی سزا دی جاتی ہے۔ زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، سزا دینے کے لیے، دفعہ (b)382 مجموعہ ضابطہ فوجداری کا فائدہ مجرم کو دیا جاتا ہے۔ مقدمہ کی دستاویزات، تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) جو عدالت کی ملکیت ہیں، کو عدالت کے روبرو سر بمہر کیا جاتا ہے جنہیں محض معزز عدالت عالیہ، لاہور ہی کی اجازت سے کھولا جاسکتا ہے جہاں، عدالت ہذا کی طرف سے یہ فیصلہ بھیجا جارہا ہے۔ معزز عدالت عالیہ، لاہور کو بھیجے گئے اس مقدمے کے فیصلے یا معزز عدالت عالیہ، لاہور کے حکم کے مطابق مزید اپیل کے فیصلے کے بعد عدالت کی ملکیت بقایا ثبوت بمع تحریریں (EX.PA) اور (EX.PB) ضبط کی جائیں اور ضائع کردی جائیں۔

احکامات کے ساتھ جیل بھجوایا جائے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ محمد طاہر خان نیازی 31 اکتوبر 2013ء ایڈیشنل سیشن جج، راولپنڈی

صفحہ 813

جناب چودھری محمد ظفر اقبال ایڈیشنل سیشن جج ہارون آباد

سرکار بنام امام علی، دسمبر 2013ء

صفحہ 814
صفحہ 815

دل کی بات

اس مقدمہ کے حقائق اس طرح ہیں کہ ہارون آباد کے ایک رہائشی ملزم امام علی نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں اسلام کی مقدس ہستیوں کی فرضی تصاویر آویزاں کر رکھی تھیں۔ مقدمہ کے مدعی اور گواہان ملزم کے گھر گئے اور اس سے تصاویر کے بارے میں استفسار کیا۔ ایک تصویر کے بارے میں ملزم نے انہیں بتایا کہ یہ تصویر حضرت محمد ﷺ کی ہے۔ (نعوذباللہ) دیگر تصاویر کے بارے میں ملزم نے اشارہ کر کے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت علیؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کی ہیں۔ (نعوذ باللہ) قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس قطار میں ان مقدس ہستیوں کی تصاویر آویزاں کی گئیں، اسی قطار میں ملزم کے پیر کی تصویر بھی آویزاں تھی۔ ان تصاویر کی نمائش عام ناظرین کے لیے کھلی تھی۔ یہاں لوگ نماز اور نوافل کی ادائیگی بھی کرتے تھے۔ اس پورے واقعہ کی گفتگو خفیہ طور پر وڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔ چنانچہ اس کی بنیاد پر 28 فروری 2011ء کو مدعی مقدمہ قاری محمد احمد کی درخواست پر ملزم امام علی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C، 295-A اور 16 ایم پی او کے تحت تھانہ صدر ہارون آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ یہ مقدمہ تقریباً اڑھائی سال تک عدالت میں زیرسماعت رہا۔ اس مقدمہ میں ٹھوس شواہد اور دلائل کے بعد محترم چودھری محمد ظفر اقبال نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ملزم کو موت کی سزا سنائی۔ محترم جج صاحب نے اس فیصلہ میں تصویر کشی کی ممانعت سے متعلق قرآن وحدیث سے مستند دلائل دیئے جو پڑھنے کے لائق ہیں۔ ان اسلامی حوالہ جات سے فیصلہ کی جامعیت اور افادیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

اس فیصلہ کی نقل کے لیے برادر عزیز جناب رانا محمد عقیل صاحب اور ہارون آباد کے

صفحہ 816

جناب اصغر علی چیمہ نے بھرپور کوشش کی جس پر وہ خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاک پائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 817

بعدالت جناب چودھری محمد ظفر اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، ہارون آباد

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 11/2012 سیشن مقدمہ نمبر : 07/2012 ایف آئی آر نمبر : 85/2011 بتاریخ 28 فروری 2011ء پولیس سٹیشن : صدر، ہارون آباد بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-A، 295-C اور 16 ایم پی او

سرکار

بنام

امام علی (ملزم) ولد قادر بخش، ذات جوئیہ، عمر 60 سال، ساکن ٹبہ نولاں مولاں، چک نمبر 86/5.R، تحصیل ہارون آباد (ملزم)

وکیل منجانب مدعی: جناب ڈاکٹر محمد موسیٰ چودھری، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

وکیل منجانب سرکار: جناب ثناء اللہ جج، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر

وکیل منجانب ملزم: ملک قاسم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

تاریخ فیصلہ: 26 دسمبر 2013ء

صفحہ 818

فیصلہ

جناب چودھری محمد ظفر اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، ہارون آباد

ہارون آباد کے روبرو پیش کی جس کی بنیاد پر ایک رسمی ایف آئی آر (Exh.P.B) درج کی گئی۔

بجے، شاہد ولد محمد حنیف، ساکن مسلم کالونی، ہارون آباد، نامی ایک شخص نے مدعی کو مطلع کیا کہ ملزم امام علی ولد قادر بخش نے نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی کچھ فرضی تصویریں تیار کروائیں ہیں۔ مدعی، پریس کے نامہ نگاروں، پرویز اصغر، فیصل اختر، محمد طلحہ اور مولانا سمیع اللہ ساکن ہارون آباد، کی معیت میں ملزم امام علی کے گھر گیا جس نے اپنے کمرے میں مختلف تصاویر آویزاں کر رکھی تھیں۔ رائے پرویز اختر نے مدعی اور گواہان کی موجودگی میں ان تصاویر کے متعلق ملزم سے استفسار کیا۔ ملزم نے ان تصاویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ یہ اس کے پیر نے دی ہیں جو فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔ ملزم نے آویزاں فرضی تصاویر کی مندرجہ ذیل کے مطابق شناخت کی:

صفحہ 819

کے ساتھ لف کر دیا گیا۔

مقدمہ ہذا کے مدعی، قاری محمد احمد نے فراہم کی تھیں، کو تفتیشی افسر محمد اصغر ایس آئی نے اپنی تحویل میں لے لیں، جو بمطابق ریکوری (Exh.P.D) ، گواہ استغاثہ نمبر 1 قاری محمد احمد، گواہ استغاثہ نمبر 2 فیصل اختر اور گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد طلحہ کی موجودگی میں تحویل میں لے لی گئیں۔

رپورٹ پیش کر دی گئی۔ زیر دفعہ 265-C مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت درکار دستاویزات کی نقول، ملزم کو مہیا کر دی گئیں اور مورخہ 05-04-2012 کو اس کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی جس کا ملزم نے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

قاری محمد احمد، مقدمہ ہذا کا مدعی ہے، گواہ استغاثہ نمبر 2، فیصل اختر اور گواہ استغاثہ نمبر 3، محمد طلحہ (انتہائی مقدس شخصیات کی) فرضی تصاویر اور سی ڈی کی برآمدگی کے رسمی گواہ ہیں اور انہوں نے استغاثہ کے موقف کی تائید بھی کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، محمد اصغر، ایس آئی نے رسمی ایف آئی آر درج کی، نیز مقدمہ کی تفتیش بھی کی۔ عدالتی گواہ نمبر 1، رشید احمد وہ گواہ ہے جس نے فرضی تصاویر کی ویڈیو تیار کی۔

غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ترک کر دی۔

مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کیا گیا اور اس نے استغاثہ کی طرف سے عائد کردہ الزامات سے انکار کیا اور کہا کہ مقدمہ ہذا، گواہان استغاثہ کی ملی بھگت سے اس کے خلاف درج کیا گیا ۔ مزید برآں، اپنے دفاع میں اس نے نہ تو گواہ پیش کیا اور نہ ہی وہ خود اپنی صفائی میں زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہ کے طور پر پیش ہوا۔

پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ مدعی اور گواہان استغاثہ کی ملزم سے کوئی دشمنی یا مخاصمت نہیں

صفحہ 820

تھی کہ ملزم کو جھوٹے طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کیا جاتا۔ مقدمہ ہذا کے اندراج کے لیے معاملے کے متعلق پولیس کو مطلع کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط کی گئی۔ ملزم کی گستاخانہ اور اہانت آمیز ذہنیت اور انداز فکر جس کے مطابق اس نے کمرے میں آویزاں نبی اکرم حضرت محمدﷺ کی تصویر سمیت فرضی تصویروں کے متعلق اشارہ اور بولے گئے الفاظ، نہ صرف گواہانِ استغاثہ نے سنے بلکہ ان کا عینی مشاہدہ بھی کیا۔ تمام وقوعہ ریکارڈ کیا گیا اور اس کی سی ڈی، ثبوت کے طور پر پیش کی گئی۔ اسلام میں اس جرم کی سزا، صرف موت ہے اور ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ مدعی کے فاضل وکیل نے نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ میں سے واقعات کا حوالہ دیا جن میں ایک نابینا صحابی نے ایک ایسی عورت کو قتل کر دیا تھا جو نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولتی تھی اور نبی اکرمﷺ نے اس نابینا صحابی کو یہ دعا دی کہ دنیا و آخرت میں اسے کامیابی نصیب ہو۔ مزید یہ موقف اختیار کیا گیا کہ دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، جرم متشکل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ عوام الناس کے احساس مجروح کیے جائیں بلکہ نبی اکرمﷺ کی توہین کے لیے کسی بھی چیز کا اظہار، توہین کے مرتکب شخص کو قتل کرنے کے لیے کافی وجہ ہے اور اس کا خون رائیگاں جائے گا۔

کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ گواہان قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ ان کے بیانات میں موادی نکات کے متعلق تضاد موجود ہے؛ اور یہ بھی کہ پولیس نے مدعی کے دباؤ پر جانبدارانہ تفتیش کی؛ اور یہ بھی کہ پولیس نے آبادی کے مکینوں سے رابطہ نہیں کیا جو ملزم کے مذہبی عقیدے اور سرگرمیوں کے متعلق بہترین گواہ ہو سکتے تھے۔ اور یہ بھی کہ ملزم ایک بوڑھا شخص ہے اور مدعی نے ایک جامع منصوبہ بنانے کے بعد ملزم کو مقدمہ ہذا میں جھوٹے طور پر ملوث کیا۔

ذیل بحث کی گئی۔

علی کے متعلق یہ اطلاع موصول ہوئی کہ اس نے حضور نبی اکرمﷺ سمیت کئی پیغمبروں کی فرضی تصویریں تیار کروائی ہیں اور ان تصویروں کو لوگوں کو دکھانے کے لیے انہیں اپنے کمرے میں آویزاں کیا ہے۔ اس لیے بولے گئے الفاظ اور واضح تشریح کے ذریعے، اس نے مسلمانوں

صفحہ 821

کے مذہبی جذبات مجروح کیے اور حضرت محمد ﷺ اور دیگر پیغمبروں کے پاک نام کی بے حرمتی کا براہ راست مرتکب ہوا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے اس واقعہ کے متعلق پریس کے ضلعی صدر رائے پرویز اصغر اور ختم نبوت انٹرنیشنل کے صدر محمد احمد کو مطلع کیا، جو گواہ استغاثہ نمبر 2، فیصل اختر خلجی اور گواہ استغاثہ نمبر 3، محمد طلحہ کی معیت میں ملزم، امام علی کے گھر گئے جہاں ملزم نے ایک کمرے میں مختلف فرضی تصویریں آویزاں کر رکھی تھیں۔ رائے پرویز اختر نے ایک تصویر کے متعلق ملزم سے استفسار کیا تو جواب میں ملزم نے کہا کہ یہ تصویر سرکارِ مدینہ حضرت محمد ﷺ کی ہے۔ رائے پرویز اختر نے الفاظ، سرکارِ مدینہ کی وضاحت چاہی جس کے جواب میں ملزم نے کہا، محمد ۔ یہ فرضی تصویر، ثبوت (P.1) کے طور پر پیش کی گئی اور اس گفتگو کی ویڈیو ریکارڈنگ، سی ڈی (P.5) میں موجود ہے جس میں ملزم، ایک مخصوص تصویر کی طرف اشارہ کر کے اسے نبی اکرم ﷺ کی تصویر کہہ رہا ہے۔ اسی طرح، دیگر تصاویر، جن کے متعلق ملزم نے اشارہ کیا، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصویر (P.2)، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر (P.3)، حضرت نوح علیہ السلام کی تصویر (P.4) ہے۔ دریں اثنا پولیس وہاں پہنچ گئی اور فرضی تصاویر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

تائید کی جس نے مدعی کے بیانات کے مطابق اپنا بیان دیا۔

تصدیق کی، جب مدعی، گواہان اور پولیس کی معیت میں جائے وقوعہ پر پہنچا جہاں جرم کا ارتکاب کیا جارہا تھا۔

اس سے پہلے بھی ملزم کے گھر جاتے تھے۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 نے اس امر سے خاص طور پر انکار کیا کہ اس سے پہلے وہ ملزم کو جانتے تھے۔ ملزم کے فاضل وکیل نے عینی شاہدین کے بیانات میں کچھ اضافے کی طرف اشارہ کیا، تاہم، یہ اضافے نہ صرف اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم نہیں بلکہ اس حد تک مقدمہ ہذا میں مضر ثابت ہو سکتے ہیں کہ ملزم کی بے گناہی ثابت ہو سکے۔

صفحہ 822

(Exh.P.A) مع ایک کمپیکٹ ڈسک موصول کی جس پر ڈی ایس پی ہارون آباد کی طرف سے پیش رفت کے احکامات موجود تھے، جس کی بنیاد پر اس نے ایف آئی آر (Exh.P.B) قلمبند کی، گواہان استغاثہ، محمد طلحہ، فیصل اختر خلجی کی معیت میں جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، جائے وقوعہ کا نقشہ (Exh.P.E) تیار کیا، زیردفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان کے بیانات قلمبند کیے اور فرضی تصاویر (P.1) تا (P.4) کے علاوہ سی ڈی (P.5) ، بمطابق ریکوری میمو (Exh.P.D) اپنی تحویل میں لے لی۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 نے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، انسپکٹر جنرل پولیس کے ذریعہ وزارت داخلہ کو بھی ایک درخواست گزاری جس کی اجازت لیٹر مورخہ 2011-10-24 (Exh.P.F) کے مطابق دی گئی۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 پر جرح کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ ملزم کی رہائش گاہ، ایک پیر کا مزار ہے اور اس حقیقت کا اظہار، ملزم نے دوران تفتیش بھی کیا۔ تفتیشی افسر نے اس امر سے انکار کیا کہ جائے وقوعہ پر کوئی دیگر فقیر یا ملنگ موجود تھا۔

پہنچے جہاں اس نے کچھ تصاویر کی فلم بنائی جو بعدازاں ایک ڈسک پر منتقل کر دی گئی۔

سے ہے جبکہ مدعی اور گواہان کا تعلق دیوبند اور سپاہ صحابہ مسلک سے ہے جو مزاروں پر جانے کو برا سمجھتے ہیں۔ مزید برآں، وہ حبیب اللہ شاہ کے مزار کا مجاور ہے جس کی وہ صفائی ستھرائی کرتا ہے اور زائرین کی خدمت کرتا ہے۔ اس کا یہ موقف اسے نہ تو اس قسم کا بھیانک جرم کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اسے اس فعل کی معافی دی جاسکتی ہے۔

آتا۔ کسی بھی گواہ کو ملزم کے ساتھ کوئی دشمنی یا مخاصمت نہیں کہ اسے مقدمہ ہذا میں جھوٹے طور پر ملوث کیا جائے۔ ریکارڈ پر موجود تمام شہادتوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد، مجھے گواہان استغاثہ کی طرف سے کوئی بدنیتی، دشمنی اور مخاصمت نظر نہیں آتی کہ اس قسم کے بھیانک جرم میں اسے غلط طور پر ملوث کیا جائے جس کی سزا موت ہے۔ گواہان، خود مختار اور قابل اعتبار ہیں اور ان پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ سی ڈی کی صورت میں ملزم کے فعل کا آنکھوں دیکھا ثبوت موجود ہے جس میں استغاثہ کے موقف کے مطابق ملزم تصویروں کی طرف اشارہ کر کے

صفحہ 823

عین وہی الفاظ کہہ رہا ہے۔

میں تصویر کشی حلال ہے۔ اس کا انحصار تصویر کے استعمال اور کام پر ہے۔ اس کا مقصد بے حرمتی ہے، اس کی سختی کے ساتھ اس لیے ممانعت کی گئی ہے کہ یہ ”شرک“ کے زمرے میں آتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کی تصویر کشی کو عام طور پر بے حرمتی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح ”بدھ مت“ اور ”عیسائیت“ نے ہاتھ کی بنائی ہوئی تصاویر کی حوصلہ افزائی کی ، اسلام نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ مساجد کو کبھی بھی مذہبی تصاویر سے نہیں سجایا گیا اور نہ ہی مذہب کی تبلیغ یا مذہب کے پیروکاروں کی اصلاح کے لیے تصویری فن استعمال کیا گیا۔ اسلام کی مذہبی تصویروں میں، اسلام اور عیسائیت کے درمیان تقابل کی کوئی بھی تاریخی روایت موجود نہیں۔

جرم کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص، حضرت ابن عباسؓ کے پاس آیا اور کہا، ”میں ہاتھ کے کام سے اپنی روزی روٹی کماتا ہوں اور میں تصویر بناتا ہوں۔ کیا آپ اس ضمن میں قانونی (شرعی) رائے دے سکتے ہیں۔“ حضرت ابن عباسؓ نے اسے فرمایا: ”میرے قریب آجاؤ“ اور یہ شخص ان کے قریب ہو گیا۔ فرمایا: ”مزید قریب آجاؤ“، اور وہ شخص ان کے اس وقت مزید قریب ہو گیا کہ حضرت ابن عباسؓ نے اپنا ہاتھ اس شخص کے سر پر رکھا اور کہا ”کیا میں تمہیں وہ کچھ بتاؤں جو میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا تھا“۔ کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ ”تصویر بنانے والا ہر شخص جہنم کی آگ میں جائے گا جہاں اس کے اوپر ایک شخص متعین کیا جائے گا جو اس کی ہر تصویر کے بدلے اسے اذیت دے گا، اس لیے اگر تم نے تصویریں بنانی ہی ہیں تو پھر بے جان درختوں اور چیزوں کی تصویریں بناؤ۔“

ہوتی ہے۔ نبی اکرم حضرت محمدﷺ نے فرمایا، ’عائشہ، جن لوگوں کو یوم حشر اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب کا سامنا ہوگا ، وہ لوگ ایسے ہوں گے جو اللہ کی تخلیقات کی نقل کرتے ہیں۔

ہے۔ تصویری شبیہ کی ممانعت میں فیصلہ کن عنصر، مقصد ہے کہ جس کی خاطر تصویریں بنائی جاتی

صفحہ 824

ہیں ۔ ملزم نے نبی اکرم حضرت محمدﷺ ، پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ، پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت علیؓ ، حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی تصاویر اسی قطار میں آویزاں کیں جس قطار میں اس کے پیر حبیب اللہ شاہ کی تصویر آویزاں تھی۔ وہ ایک ایسے کمرے میں موجود پایا گیا جہاں اس کا اندرونی حصہ، مذہبی مرکز محسوس ہو رہا تھا۔ اگرچہ ملزم کی طرف سے ان تصاویر کی تیاری، ثابت نہیں ہوسکی ہے لیکن اس کے پیر کے مزار سے ملحق کمرے میں ان تصاویر کی نمائش، عام ناظرین کے لیے کھلی تھی۔ اس لیے ملزم نے بولے گئے الفاظ اور تصویری نمائش کے ذریعے دین اسلام کی توہین کی اور نبی اکرمﷺ کے پاک نام کے بے حرمتی کی۔ ملزم کی طرف سے اس گستاخانہ اور اہانت آمیز عمل کے باعث اسے جرائم زیر دفعات 295-A اور 295-C تعزیرات پاکستان کا مرتکب اور مجرم پایا گیا ہے۔

مرتکبین کو معاف کر دیا، لیکن فقیہوں کا موقف ہے کہ نبی اکرمﷺ کو اپنی اہانت کے مرتکبین کو معاف کرنے کا حق تھا جبکہ امت کو ایسا کوئی حق نہیں۔ جو کوئی نبی اکرمﷺ کی بے حرمتی کرتا ہے، کسی بھی طرح ان پر بہتان تراشی کرتا ہے، توہین، بے حرمتی اور گستاخی کے طور پر انہیں کسی بھی دیگر چیز سے تشبیہہ دیتا ہے، وہ آپﷺ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے قتل کیا جائے گا اور اس مسئلہ پر، صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک علماء کرام اور فقیہان میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ (الشفاء از قاضی عیاضؒ، جلد دوم ، صفحہ 214)۔

دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس لیے اس جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اسے سزائے موت اور 1,00,000/- روپیہ جرمانہ کی سزادی جاتی ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ ملزم کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے ، تاہم سزائے موت پر عملدرآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ اسے زیر دفعہ 295-A، تعزیرات پاکستان کے تحت بھی سزا کا مستحق ٹھہرایا جاتا ہے اور 10 برس قید بامشقت کی سزادی جاتی ہے۔ دونوں سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔ دفعہ 382-B مجموعہ ضابطہ فوجداری کا فائدہ بھی ملزم کو دیا جاتا ہے۔ مقدمہ کی ملکیت ثبوت، اپیل کی مدت ختم ہونے تک

صفحہ 825

تحویل میں رہیں گے اور بعد ازاں انہیں قانون کے مطابق داخل دفتر کیا جائے گا۔ مجرم، عدالت کے روبرو حراست میں موجود ہے۔ اسے فیصلے کی نقل بلا قیمت مہیا کی گئی ہے اور اسے بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ اس فیصلے کی نقل وکیل سرکار معزز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو بلا قیمت فراہم کی گئی ہے۔ اس مقدمہ کی فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط : چودھری محمد ظفر اقبال ایڈیشنل سیشن جج ، ہارون آباد

تاریخ فیصلہ 26 دسمبر 2013ء

۞......۞......۞

صفحہ 826
صفحہ 827

جناب چودھری محمد ظفر اقبال ایڈیشنل سیشن جج ہارون آباد

سرکار بنام اعجاز احمد وغیرہ، دسمبر 2013ء

صفحہ 828
صفحہ 829

دل کی بات

اس مقدمہ کے مختصراً حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ مسلم کالونی ہارون آباد کے رہائشی ملزمان اعجاز اور ریاض نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ہے جو انسانی شکل میں ہے۔ مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بیوی بچے ہیں، پیر چنن سرکار جو چندو وال ضلع نارووال میں رہائش پذیر ہے، خدا ہے، ملزمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ دونوں چنن سرکار کے پیغمبر ہیں۔ قرآن مجید سمیت چاروں مقدس کتابوں میں چنن کی بطور اللہ تصدیق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو ”اس دین“ کی طرف دعوت دے رہے ہیں، یہی سیدھا راستہ ہے۔ اس وقت تک تقریباً 100 افراد اس نئے دین میں شامل ہو چکے ہیں جن میں 25 کے قریب مدعیان نبوت بھی ہیں۔ اس مقدمہ کے مدعی قاری محمد احمد کو ان سب باتوں کا پتہ چلا تو وہ مقدمہ کے گواہان کے ہمراہ ملزم اعجاز کے گھر گئے جہاں ملزم ریاض بھی موجود تھا۔ مدعی اور گواہان مقدمہ کی موجودگی میں ملزمان نے وہی باتیں دہرائیں جو اوپر مذکور ہیں۔ ایک گواہ نے ملزمان کی طرف سے بولے گئے یہ گستاخانہ الفاظ موبائل فون کے کیمرے میں ریکارڈ کر لیے جنہیں بعد میں ایک سی ڈی پر منتقل کر لیا گیا۔ 26 جولائی 2010ء کو مدعی مقدمہ قاری محمد احمد نے تھانہ سٹی ہارون آباد میں ملزمان کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دی جس میں تمام وقوعہ درج کیا گیا۔ چنانچہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295، اے بی، سی کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔ ساڑھے 3 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ ٹھوس شہادتوں، دلائل اور گواہان کی قابل اعتماد گواہیوں کے بعد جناب چودھری محمد ظفر اقبال ایڈیشنل سیشن جج ہارون آباد نے ملزمان کو موت کی سزا سنائی۔

محترم جج صاحب نے اپنے اس فیصلہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بڑے علمی اور جامع نکات بیان کیے ہیں۔ جس سے اس فیصلہ کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محترم جج صاحب

صفحہ 830

کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران فرمائے۔ (آمین)

اس فیصلہ کی نقل کے لیے برادر عزیز جناب رانا محمد عقیل صاحب اور ہارون آباد کے جناب اصغر علی چیمہ نے بھرپور کوشش کی جس پر وہ بے حد شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر مرحلہ زندگی میں کامیاب و کامران فرمائے۔ (آمین)

خاک پائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 831

بعدالت جناب چودھری محمد ظفر اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، ہارون آباد

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 18/2011 سیشن مقدمہ نمبر : 01/2011 ایف آئی آر نمبر : 309/2010 بتاریخ 26 جولائی 2010ء پولیس سٹیشن : سٹی، ہارون آباد بجرم : زیر دفعہ 295-A، 295-B اور 295-C تعزیرات پاکستان

سرکار

بنام

(ملزمان)

وکیل منجانب سرکار: ثناء اللہ جج، ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر

وکلا منجانب مدعی: ظفر اقبال اعوان، ایڈووکیٹ چودھری غلام مرتضیٰ، ایڈووکیٹ ڈاکٹر محمد موسیٰ چودھری، ایڈووکیٹ

وکلا منجانب ملزمان: عظیم اللہ حنیف، ایڈووکیٹ ملک نجم الحسن اعوان، ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 26 دسمبر 2013ء

صفحہ 832

فیصلہ

جناب چودھری محمد ظفر اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، ہارون آباد

مدعی، قاری محمد احمد نے ایک تحریری درخواست (Exh.P.A)، ڈی ایس پی، ہارون آباد کے روبرو پیش کی جس کی بنیاد پر ایک رسمی ایف آئی آر (Exh.P.A/1) درج کی گئی۔ مدینہ کالونی، ہارون آباد کے ایک رہائشی مدعی نے استغاثہ کی جو کہانی بیان کی، اس کے مطابق مورخہ 22-07-2010 کو چند افراد نے اسے مطلع کیا کہ ملزم اعجاز ولد محمد احمد اور محمد ریاض ولد سلامت علی، جو دونوں مسلم کالونی، ہارون آباد کے رہائشی ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ہے جو انسانی شکل میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی بیوی اور بچے ہیں۔ مورخہ 22-07-2010 کو 9 بجے رات مدعی، محمد شاہد ولد محمد حنیف، محمد نعیم ولد خوشی محمد، محمد ادریس ولد ایوب اور قاری محمد صابر کی معیت میں ملزم اعجاز احمد کی بیٹھک گیا جہاں وہ دونوں موجود تھے۔ گواہان کی موجودگی میں، گفتگو کے دوران، دونوں ملزموں نے مندرجہ ذیل دعویٰ کیا اور کہا:

جو لاہور سے آگے چنڈووال میں رہائش پذیر ہے، ہمارا خدا ہے۔

کرا سکتے ہیں۔

لیے گئے جنہیں بعد ازاں ایک سی ڈی ڈسک پر منتقل کر دیا گیا جو (Exh.P.1)(1-2)

صفحہ 833

ہے ۔ لہٰذا ملزمان کی طرف سے دانستہ، خبیث اور بدباطن فعل کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی، نیز اپنے بولے گئے الفاظ اور واضح نمائندگی کے ذریعے ملزمان نے نبی اکرمﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی ۔

شفقت علی، ایس آئی، نے اپنی تحویل میں لے لیں جو اسے مدعی قاری محمد احمد نے دی تھیں جو گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد شاہد اور گواہ استغاثہ نمبر 2، قاری محمد شبیر کی موجودگی میں بمطابق ریکوری میمو (Exh.P.D)، تحویل میں لے لی گئیں۔ ملزمان اعجاز اور ریاض سے مورخہ 24-07-2010 کو سٹیل کی ایک انگوٹھی برآمد کی گئی جسے بمطابق ریکوری میمو (Exh.P.F)، گواہانِ استغاثہ محمد ارشد 940/C اور قمر الحق 831/C کی موجودگی میں تحویل میں لے لیا گیا ۔

عدالت ہذا کے روبرو پیش کیا گیا۔ زیر دفعہ C-265 مجموعہ ضابطہ فوجداری درکار دستاویزات کی نقول، ملزمان اعجاز احمد اور محمد ریاض کو فراہم کر دی گئیں اور مورخہ 2012-12-05 کو ان کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی جس سے انہوں نے انکار کیا اور انہوں نے مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی ۔

گواہ استغاثہ نمبر 1، قاری محمد احمد، مقدمہ ہذا کا مدعی ہے، گواہ استغاثہ نمبر 2 شبیر احمد اور گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد شاہد نے استغاثہ کے موقف کی تائید کی ۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، شفقت علی، ایس آئی، نے رسمی ایف آئی آر درج کی اور مقدمہ ہذا کی تفتیش بھی کی ۔ گواہ استغاثہ نمبر 5، قمر الحق اور گواہ استغاثہ نمبر 6، محمد ارشد، ملزم اعجاز سے سٹیل کی انگوٹھی کی برآمدگی کے گواہان ہیں ۔ گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد سمیع اللہ خان، رائے محمد اصغر کی طرف سے محمد عرفان اللہ ایس آئی کو سی ڈی پیش کرنے کا رسمی گواہ ہے ۔ گواہ استغاثہ نمبر 8 محمد اکرم وہ گواہ ہے جس نے میموری کارڈ کو سی ڈی میں تبدیل کیا ۔ گواہ استغاثہ نمبر 9 وہ گواہ ہے جس نے مدعی کی جانب سے تفتیشی افسر کے روبرو فتویٰ پیش کرنے کا مشاہدہ کیا ۔ گواہ استغاثہ نمبر 10 محمد عرفان اللہ ایس آئی تفتیشی آفیسر بہاولنگر ہے جس نے مقدمہ ہذا کی بھی تفتیش کی ۔ گواہ استغاثہ نمبر 11 رائے پرویز اصغر اس

صفحہ 834

گفتگو کا گواہ ہے جس نے گفتگو کی ریکارڈنگ سی ڈی میں منتقل کی اور اسے مدعی قاری محمد احمد، گواہ استغاثہ نمبر 1 کے حوالے کیا۔

ضابطہ فوجداری قلمبند کیے گئے اور انہوں نے استغاثہ کی جانب سے عائد الزامات کی صحت سے انکار کیا اور کہا کہ مقدمہ ہذا، گواہان استغاثہ کی ملی بھگت کے ساتھ دائر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اپنے دفاع اور صفائی میں انہوں نے کوئی گواہی پیش نہیں کی یا زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، خود اپنی صفائی میں بطور گواہ بھی پیش نہیں ہوئے۔

یہ موقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان کے خلاف استغاثہ نے اپنا مقدمہ مکمل طور پر ثابت کر دیا ہے؛ یہ بھی کہ مدعی اور گواہان استغاثہ کو ملزمان کے ساتھ کوئی دشمنی یا مخاصمت نہیں کہ وہ انہیں مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کریں، یہ بھی کہ ملزمان نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے اور حضرت محمدﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی؛ یہ بھی کہ اللہ کو دیکھنا اور اللہ سے ملاقات، انسان کی رسائی سے باہر ہے۔ ملزمان کا یہ دعویٰ کہ اللہ کی بیوی اور بچے ہیں، اسلام کی روح کے خلاف ہے اور اس طرح ملزمان نے قرآن پاک کی سورۃ اخلاص کی نفی کی، چنانچہ اس بنیاد پر ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔

کرنے میں ناکام رہا ہے؛ یہ بھی کہ گواہان قابل اعتبار نہیں کیونکہ ان کے بیانات میں موادی نکات کے ضمن میں تضاد پایا جاتا ہے؛ یہ بھی کہ پولیس نے مقدمہ کی جانبدارانہ تفتیش کی، یہ بھی کہ دونوں ملزمان دین کے لحاظ سے مسلمان ہیں اور انہیں مقدمہ ہذا میں جھوٹے طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ اس لیے انہیں باعزت طور پر بری کیا جائے۔

بیان کی جارہی ہے۔

استغاثہ نمبر 3 محمد شاہد اور گواہ استغاثہ نمبر 2 قاری شبیر احمد نے اسے بذریعہ ٹیلیفون مطلع کیا کہ

صفحہ 835

ملزمان ریاض اور اعجاز نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی خاطر یہ گستاخانہ الفاظ بولے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ گواہ استغاثہ نمبر 1، گواہان استغاثہ محمد شاہد، محمد نعیم، قاری محمد ادریس اور قاری محمد شبیر کی معیت میں ملزم اعجاز کی بیٹھک گیا اور ان کی موجودگی میں اعجاز اور ریاض نے کہا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ہے جو انسانی شکل میں ہے جس کی بیوی اور بچے ہیں اور ان کا اللہ، چنڈووال، ضلع نارووال کا رہائشی ہے اور جسے لوگ چمن سرکار کے نام سے جانتے ہیں۔ گواہ نے مزید بتایا کہ دونوں ملزمان نے انہیں کہا کہ وہ ان کے ساتھ جائیں اور اللہ کو دیکھیں۔ مدعی نے انہیں ایسا کہنے سے منع کیا لیکن وہ یہی کچھ کہتے رہے۔ یہ تمام وقوعہ اور گفتگو موبائل فون میں ریکارڈ کر لی گئی، دریں اثناء، ایک پریس رپورٹر، رائے پرویز اصغر مدعی کے فون کرنے پر وہاں پہنچا اور مدعی کے علاوہ گواہان استغاثہ کی موجودگی میں دونوں نے ملزمان کا انٹرویو کیا۔ دوران انٹرویو، ملزم اعجاز نے رائے پرویز اصغر سے کہا کہ اس نے اللہ سے ملاقات کی ہے اور اللہ کے بیوی اور بچے ہیں جو چنڈووال میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود ہے۔ ملزم نے اسے یہ بھی بتایا کہ وہ چمن سرکار کے پیغمبر ہیں اور قرآن پاک سمیت چاروں مقدس کتابوں میں چمن کی بطور اللہ تصدیق کی گئی ہے۔ ملزمان نے یہ بھی کہا کہ وہ لوگوں کو اس دین کی طرف بلا رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ یہی سیدھا راستہ ہے اور انہوں نے پہلے ہی 100 افراد کو اس دین میں شامل کر لیا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ رائے پرویز نے یہ دلیل کہ کسی نے اب تک سوائے نبی اکرمﷺ کے، اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا اور وہ معصوم لوگوں کو کیوں گمراہ کر رہے ہیں۔ رائے پرویز نے سورہ اخلاص بھی تلاوت کی اور اس کا اردو میں ترجمہ کیا۔ اس کی تردید میں ملزم اعجاز نے کہا کہ وہ متذکرہ بالا جگہ پر اللہ اور اس کے خاندان کو دکھا سکتا ہے۔ ملزم نے جواب دیا کہ وہ ہر لحاظ سے ذہنی طور پر تندرست ہیں۔ تیار کی گئی فلم، اکرم گیسٹ ہاؤس، بنگلو روڈ، ہارون آباد لے جائی گئی اور اسے سی ڈی میں منتقل کیا گیا۔ مدعی نے اندراج مقدمہ کے لیے ڈی ایس پی ہارون آباد کے روبرو درخواست (Exh.P.A) پیش کی۔ اس نے ایک اور درخواست (Exh.P.B) دائر کرتے ہوئے جس پر اس کے دستخط ثبت ہیں، مذہبی عالم کی ماہرانہ رائے حاصل کی تاکہ ملزم کی مذہبی حیثیت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کی گئی سزا کا بھی تعین کیا جائے۔ اس درخواست کے جواب میں مفتی عبدالرحمٰن، امام مسجد، تقویٰ ٹبہ نور پورہ، نے فتویٰ

صفحہ 836

دیا۔ اس فتوٰی کی تائید مفتی محمد یوسف آف بہاولپور سمیت بہت سے مذہبی علما نے کی۔ مزید بتایا گیا کہ ملزمان نے نبی اکرمﷺ اور قرآن مقدس کی توہین کی اور مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچائی۔

کا تعلق بصورت دیگر حاضر ملزمان کے مذہب سے نہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ وقوعہ کی وقوع پذیری کے متعلق چند سوالات کے جواب میں، گواہ پُر یقین اور پُر اعتماد رہا۔ وکیل صفائی، استغاثہ کی گواہی کی صداقت کو جھٹلا نہ سکے۔

جنہوں نے عینی شاہدین کی حیثیت سے استغاثہ کی تائید اپنے یہ بیانات قلمبند کراتے ہوئے کی کہ ان دونوں نے ملزمان کو اللہ تعالیٰ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز بولتے ہوئے دیکھا جن کا ذکر مدعی کی درخواست میں موجود ہے اور جو نبی اکرمﷺ کے لیے توہین آمیز اور اسلام کی روح کے خلاف ہیں۔ دوران جرح، اس قسم کی کوئی چیز ریکارڈ پر نہیں لائی جاسکی کہ عینی شاہدین کو ملزمان سے کوئی مخاصمت یا کینہ تھا۔

اسے شکایت / درخواست (Exh.P.A) موصول ہوئی جو ڈی ایس پی سرکل ہارون آباد نے بھجوائی تھی۔ بعد ازاں اس نے رسمی ایف آئی آر (Exh.P.A) تیار کی اور اسی دن اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، عین موقع پر گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔ اس نے جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ (Exh.P.E) بھی تیار کیا۔ دوران تفتیش، مقدمہ ہذا کے مدعی نے گواہان کی موجودگی میں دو سی ڈی Exh.P1(1-2) پیش کیں جو بمطابق ریکوری میمو تحویل میں لے لی گئیں اور اس کی تصدیق گواہان قاری محمد شاہد اور قاری محمد شبیر نے کی۔ گواہ نے ملزمان کو گرفتار کیا اور حکومت پنجاب، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے دفعہ A-295 تعزیرات پاکستان کی اجازت کے حصول کے لیے ڈی پی او، بہاولپور کے روبرو درخواست گزاری۔ متذکرہ درخواست پر حکومت کی طرف سے مورخہ 2011-06-25 کو اجازت دی گئی اور اجازت نامے پر مشتمل خط (Ex.P.J) ریکارڈ پر موجود ہے۔ دورانِ جرح، گواہ سے پوچھا گیا کہ وقوعہ کے پہلے دن جب وہ جائے وقوعہ پر گیا، ملزمان کی بے گناہی

صفحہ 837

کے متعلق پہلے ہی بہت سے لوگ وہاں موجود تھے، لیکن گواہ نے اس بات سے انکار کیا۔ گواہ نے اس امر سے بھی انکار کر دیا کہ ملزمان کو جھوٹے طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کیا گیا ہے۔

پی عرفان اللہ خان نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی اور اس کی موجودگی میں رائے محمد اصغر نے دوران تفتیش ایک سی ڈی، ایس پی کے روبرو پیش کی جسے بمطابق ریکوری میمو (Exh.P.H) تحویل میں لے لیا گیا۔

اس سے پہلے وہ کیسٹوں اور فلم بنانے کا کام سیکھ رہا تھا۔ مورخہ 2010-07-22 کو 11:00 PM پر مدعی قاری محمد احمد، دیگر دو افراد کی معیت میں اس کی دکان پر آیا اور اسے ایک میموری کارڈ اور موبائل دیا اور اس کی ویڈیو فوٹیج کو سی ڈی پر منتقل کرنے کے لیے کہا۔ اس نے مدعی سے -/100 روپے وصول کیے اور سی ڈی تیار کر دی۔ گواہ نے عدالت میں حاضر ملزمان اور ان کی آوازوں کی بھی نشاندہی کی۔ دوران جرح، گواہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ فلم اصلی ہے اور کسی دیگر افراد کی آوازوں کی ریکارڈنگ اور ملزمان کی تصویری حرکات کے ساتھ اس کے تقابل کے ذریعے ڈبنگ نہیں کی گئی۔

2010-07-28 کو اس نے لیٹر نمبر 214422-001-R مورخہ 2010-07-28 کے ذریعے ریجنل پولیس افسر کا حکم موصول کیا اور مورخہ 2010-07-29 کو مقدمہ ہذا کی تفتیش کے ضمن میں ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او، ہارون آباد، کے دفتر پہنچا۔ اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور پرت فتویٰ (Exh.P.B) کو بمطابق ریکوری میمو (Exh.P.1)، تحویل میں لے لیا جس پر اس کے دستخط (Exh.P.1/3) ثبت ہیں۔ اس نے بمطابق ریکوری میمو (Exh.P.H)، دو سی ڈیز (P.1) بھی تحویل میں لے لیں جس پر اس کے دستخط (Exh.P.G/2) ثبت ہیں، اور سی ڈیز کی برآمدگی کے متعلق محمد سمیع اللہ اور محمد ندیم کے بیانات قلمبند کیے۔ اس نے برآمد شدہ سی ڈی کو فریقین اور اپنی موجودگی میں سی ڈی پلیئر پر چلایا اور سکرین پر دیکھا جس میں ملزمان اللہ تعالیٰ اور نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہہ رہے تھے۔ گواہ نے علاقہ مجسٹریٹ سے بمطابق درخواست (Exh.P.J) جیل کے اندر ملزمان سے تفتیش کے لیے اجازت طلب کی اور بعد از تفتیش اسے یہ معلوم ہوا کہ

صفحہ 838

ملزمان کو درست طور پر مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے۔ مورخہ 30-11-2010 کو، گواہ نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مولانا محمد یوسف، مہتمم مدرسہ دارالعلوم، بہاولپور اور رائے پرویز کے بیانات قلمبند کیے۔ دوران جرح، گواہ سے یہ مخصوص سوال پوچھا گیا کہ ان مقدمات کی درست تعداد کیا ہے جن کی اس نے تفتیش کی جن کا اندراج زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان کیا گیا۔ اس کے جواب میں گواہ نے کہا کہ اس طرح کے کئی مقدمات ہو سکتے ہیں تاہم، اسے ان مقدمات کی درست تعداد یاد نہیں۔ گواہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ شخص جس نے فتویٰ دیا، ایک مذہبی عالم تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ اس نے ڈی ایس پی ہارون آباد کے دفتر میں تفتیش کی اور بیانات قلمبند کیے۔ اس مخصوص سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ اس نے جیل میں ملزمان سے تفتیش کی اور اس نے انہیں ذہنی طور پر بالکل ٹھیک پایا۔ گواہ نے اس سوال سے انکار کیا کہ اس نے ایک مذہبی تنظیم کی دھمکیوں کے زیر اثر ملزم کے مقدمہ میں ملوث ہونے کے متعلق مشاہدات قلمبند کیے۔

کی تائید کی کہ مورخہ 10-07-22 کو اس نے قاری محمد احمد کی ٹیلیفون کال موصول کی اور جائے وقوعہ کی طرف گیا اور دونوں ملزمان سے ان الفاظ کے متعلق استفسار کیا جو انہوں نے کہے تھے۔ اس نے سورہ اخلاص پڑھ کر ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کی لیکن دونوں ملزمان اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اسے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بھی پیش کش کی۔ یہ گفتگو، ایک ویڈیو کیمرا میں ریکارڈ کی گئی جسے ایک سی ڈی میں منتقل کیا گیا اور پھر یہ مقدمہ ہذا کے مدعی قاری محمد احمد کے حوالے کر دی گئی۔ دوران جرح، گواہ نے تسلیم کیا کہ اس سے پہلے بھی وہ دونوں ملزمان کو جانتا تھا لیکن گواہ کی طرف سے ملزمان کے خلاف کوئی بھی بدنیتی، مخاصمت یا دشمنی ثابت نہیں کی جاسکی۔

قرآن مقدس پر ایمان رکھتے ہیں۔ مقدمہ ہذا ان کے خلاف غلط طور پر درج کیا گیا ہے۔ مدعی، گواہان استغاثہ اور پریس رپورٹر کا تعلق وہابیت کے مسلک سے ہے اور وہ اولیاء کرام کے خلاف ہیں جبکہ وہ (ملزمان) اولیا اللہ سے محبت کرتے ہیں۔

تضاد نظر نہیں آیا۔ کسی بھی گواہ استغاثہ کو ملزمان کے خلاف مخاصمت یا بدنیتی نہیں ہے کہ وہ ملزمان

صفحہ 839

کو غلط طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کریں۔ ریکارڈ پر موجود تمام گواہی اور ثبوت کے بغور تجزیہ کے بعد مجھے گواہان استغاثہ کی طرف سے کوئی بدنیتی، مخاصمت یا دشمنی نظر نہیں آئی کہ ملزمان کو اس ہولناک جرم میں غلط طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کیا جائے جس کی سزا موت ہے۔ گواہان استغاثہ آزاد و خود مختار ہونے کے علاوہ قابل بھروسا ہیں اور ان پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ملزمان کے جرم کا ایک بصری ثبوت بھی سی ڈیز کی شکل میں موجود ہے جن میں ملزمان کو وہی الفاظ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن کے متعلق مدعی نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے۔

دعویٰ کہ اللہ کے بیوی اور بچے ہیں، اور یہ پیش کش کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کر سکتے ہیں، سورہ اخلاص، واقعہ معراج اور ختم نبوت کے متعلق قرآنی آیات کی واضح تردید ہے۔

انہیں عالم بیداری میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوا۔ (النجم)

ہے ہر چیز کا، پس عبادت کرو اس کی اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ نہیں گھیر سکتیں اسے نظریں اور وہ گھیرے ہوئے ہے سب نظروں کو اور وہ بڑا باریک بین (اور) پوری طرح باخبر ہے۔“

(الانعام: 102، 103)

بدن جیسی خصوصیات پر مشتمل ہے۔

پر آسمانوں پر تشریف لے گئے جہاں آپﷺ کی ملاقات انفرادی طور پر دیگر پیغمبروں سے ہوئی۔ آپﷺ کو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرنے کے لیے لے جایا گیا۔ پھر آپ جبرائیل کی معیت میں سدرہ تک پہنچے اور جبرائیل وہاں رک گئے۔ نبی اکرمﷺ وہاں سے عرش الہی (سدرہ المنتہیٰ) کی طرف چلے گئے پھر وہاں نبی اکرمﷺ نے اس دنیا کے مالک وخالق سے حالت بیداری میں ملاقات کی۔

صفحہ 840

یہ کہتے ہوئے تردید کرنے کی کوشش کی کہ اللہ کے بیوی اور بچے ہیں۔ اسلام کا بنیادی اصول، سورہ اخلاص کی تشریح پر روشنی ڈالتا ہے۔ پہلی آیت میں، اللہ تعالیٰ، نبی اکرم ﷺ کو حکم فرماتے ہیں کہ یہ اعلان فرما دیں کہ اللہ ایک ہے۔ وحدانیت کا یہ اسلامی اصول محض اس اظہار پر مشتمل نہیں کہ اللہ ایک ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمام حقیقتوں میں موجود ہے۔ دوسرے الفاظ میں تمام حقیقتیں، ایک ہی حقیقت میں ڈھل جاتی ہیں اور یہ کامل حقیقت واحد حقیقت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی واحد حقیقت، ازلی اور ابدی ہے، زماں و مکاں سے ماورا ہے، انسانی اصطلاح میں وقت کا تعلق ستاروں اور سیاروں کی حرکات سے ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سچائی، ماضی، حال یا مستقبل سے متاثر نہیں ہوتی۔ واحد، نہ تو کسی کو جنم دیتا ہے اور نہ ہی کسی کے ذریعے وجود میں آتا ہے کیونکہ یہ ازلی اور ابدی اور واحد حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ غیر فانی ہے اور اسے کسی کو جنم دینے یا کسی کے ذریعے وجود میں آنے کی حاجت نہیں۔ واحد حقیقت کے کوئی برابر نہیں کیونکہ واحد حقیقت، منفرد اور بے مثال ہے۔ انسان اس دورخی دنیا میں رہتا ہے جہاں ہر چیز یا تصور کا الٹ موجود ہے۔ مثال کے طور پر اچھائی یا برائی، مرد اور عورت وغیرہ، اس لیے واحد حقیقت کسی بھی تقابل سے ماورا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے عقیدے کو پاک کرنے اور اس کی کسی بھی قسم کی آلودگی ختم کرنے کے لیے سورہ اخلاص پڑھا کریں۔

ان سے ان کے رب نے (تو اس وقت) عرض کی اے میرے رب ! مجھے دیکھنے کی قوت دے تاکہ میں تیری طرف دیکھ سکوں۔ اللہ نے فرمایا تم ہرگز نہیں دیکھ سکتے مجھے، البتہ دیکھو اس پہاڑ کی طرف سو اگر یہ ٹھہرا رہا اپنی جگہ پر تو تم بھی دیکھ سکو گے مجھے۔ پھر جب تجلی ڈالی ان کے رب نے پہاڑ پر تو کر دیا اسے پاش پاش اور گر پڑے موسیٰ (علیہ السلام) بے ہوش ہو کر۔ پھر جب آپ کو ہوش آیا تو عرض کی پاک ہے تو (ہر نقص سے) میں توبہ کرتا ہوں تیری جناب میں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں“۔ (الاعراف: 143)

قاعدگیاں، ملزمان کے فعل کو بریت کی سند دینے کا جواز نہیں بن سکتیں جنہوں نے انتہائی بھیانک اور وحشت ناک جرم کا ارتکاب کیا۔ زبانی شہادتوں اور گواہی کے علاوہ ملزمان کی

صفحہ 841

ویڈیو فوٹیج جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ کہ ان میں نبی اکرمﷺ جیسی صلاحیت موجود ہے، انہوں نے نبی اکرمﷺ جیسی صلاحیتوں کی برابری کا دعویٰ کرنے کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے پاک نام اور رتبے کی بے حرمتی کی۔ دونوں ملزمان، اعجاز احمد اور محمد ریاض، زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کے مرتکب ہوئے، اس لیے انہیں مجرم قرار دیا جاتا ہے اور انہیں موت کی سزا دی جاتی ہے، نیز انہیں 1,00,000/- روپے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے اور جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم، مزید چھ ماہ قید بھگتیں گے۔ مجرموں کو ان کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے تاہم سزائے موت پر عمل درآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ لاہور سے اس فیصلے کی توثیق نہیں ہو جاتی۔ ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، بھی ثابت ہو چکا ہے۔ دونوں ملزمان، اعجاز احمد اور محمد ریاض کو زیر دفعہ 295-A کا بھی مجرم ٹھہرایا گیا ہے اور انہیں دس برس قید با مشقت دی گئی ہے۔ دونوں سزائیں بیک وقت دی جائیں گے۔ دفعہ 382-B مجموعہ ضابطہ فوجداری کا شک کا فائدہ بھی ملزمان کو دیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 295-B تعزیرات پاکستان، الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ مقدمہ کی ملکیت ثبوت اور دستاویز، اپیل (اگر کی گئی) کی مدت تک محفوظ رکھی جائیں اور بعد ازاں قانون کے مطابق داخل دفتر کیے جائیں گی۔ ملزمان پہلے ہی تحویل میں ہیں۔ انہیں اس فیصلے کی نقل بلا قیمت فراہم کر دی گئی ہے اور انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کی نقل فاضل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر برائے سرکار کو بھی بلا قیمت فراہم کی گئی ہے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: چودھری محمد ظفر اقبال ایڈیشنل سیشن جج، ہارون آباد

تاریخ فیصلہ 26 دسمبر 2013ء

۞.......۞.......۞

صفحہ 842
صفحہ 843

جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی

سرکار بنام محمد اصغر، جنوری 2014ء

صفحہ 844
صفحہ 845

دل کی بات

امریکہ سمیت پورا مغرب دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پوری طرح صف آرا ہو چکا ہے۔ وہ مسلمانوں کی مقدس ترین ہستی حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کرنے والوں کی بھرپور سرپرستی اور معاونت کرتا ہے۔ ایسا ہی مظاہرہ اُس نے حال ہی میں نبوت و رسالت کا دعویٰ کرنے والے گستاخ رسول اصغر کذاب کے معاملے پر کیا۔ 23 جنوری 2014ء کو ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی جناب محمد نوید اقبال نے برطانوی نژاد جھوٹے مدعی نبوت اور گستاخ رسول اصغر کذاب کو توہین رسالت ﷺ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ اصغر کذاب برطانیہ کے شہر ایڈنبرگ سکاٹ لینڈ Edinburgh Scotland کا رہائشی ہے۔ چند سال پہلے اُس نے راولپنڈی میں رہائش اختیار کی۔ تفصیلات کے مطابق ستمبر 2010ء میں راولپنڈی کے پوش ایریا گلزار قائد سے ملحق ایئر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی برطانوی نژاد اصغر نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کی جسارت یہاں تک بڑھی کہ وہ خود کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے افضل کہتا۔ (نعوذ باللہ)! اس سلسلہ میں اُس نے باقاعدہ اپنے وزیٹنگ کارڈ اور لیٹر پیڈ چھپوا رکھے تھے جو سادہ لوح مسلمانوں میں تقسیم کرتا اور اپنی تعلیمات کی دعوت دیتا۔ ملعون اصغر کی اس ناپاک جسارت پر علاقہ بھر کے مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیلا۔ مدعی مقدمہ ملک محمد حفیظ اعوان نے ملزم کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی۔ چنانچہ 22 ستمبر 2010ء کو تھانہ صادق آباد ایئر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی پولیس چوکی نے ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور ایف آئی آر نمبر 842/10 کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر کے اُسے گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اللہ کا نبی اور رسول (نعوذ باللہ) ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ راولپنڈی اور اُس کے مضافات میں ”لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“ کے جتنے بھی سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بنوائے

صفحہ 846

اور لگوائے ہیں۔ پولیس نے ملزم کے اس اعترافی بیان کی باقاعدہ ایک ویڈیو بنوائی تاکہ وہ عدالت میں اپنے اس بیان سے منحرف نہ ہو سکے۔ پولیس نے مقدمہ کا چالان مکمل کر کے ملزم کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔ ملزم کی طرف سے کئی وکلا پیش ہوئے جن میں سابق گورنر پنجاب کی قریبی عزیزہ پیش پیش تھی۔ اس نے کیس کی سماعت کے دوران کئی مرتبہ جج صاحب سے نہایت بدتمیزی کا رویہ اختیار کیا جس پر انہوں نے بے حد رواداری اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ مقدمہ کو 3 سال تک غیر ضروری طوالت دینے، جج صاحب کو نفسیاتی طور پر مرعوب کرنے، اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والی ڈالرائزڈ این جی اوز کے بے بنیاد واویلا کرنے اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے مقدمہ پر اثر انداز ہونے کے کئی منفی ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ عدالت میں ملزم کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ پاگل پن کی بیماری Paranoid Schizophrenia کا مریض ہے۔ اس پر محترم جج صاحب نے ملزم کے دماغی معائنہ کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا جس پر ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ نے ملزم کا مکمل طبی معائنہ اور ٹیسٹ وغیرہ کیے۔ میڈیکل بورڈ نے ملزم کی ذہنی حالت بالکل تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اُسے ایک صحت مند نارمل شخص قرار دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد کے پوش ایریاز میں ملزم نے کروڑوں روپے کی مہنگی ترین چھ کوٹھیاں خریدی ہیں جن کی رجسٹریاں باقاعدہ اُس کے نام ہیں۔ یہاں تو اُس کی نام نہاد بیماری نے کوئی غلطی نہیں کی۔ ملزم کی روزمرہ کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا جس سے اُس کا پاگل پن ثابت ہو۔ لیکن جب شان رسالت ﷺ میں توہین کا مقدمہ درج ہوتا ہے تو ایسے ملزم کو پاگل پن کی بیماری کا شکار قرار دے کر اُسے بچانے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے۔ ایک موقع پر جب عدالت نے ملزم کے اعتراف جرم کی ویڈیو طلب کی تو پتا چلا کہ متنازع ویڈیو ریکارڈ سے غائب ہے۔ کافی تگ و دو کے بعد اس متنازع ویڈیو کا سراغ ملا اور ’’اوپر‘‘ سے حکم آیا کہ یہ ویڈیو عدالت کے علاوہ کہیں استعمال نہ ہوگی کیونکہ اس سے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ اس کیس کی سب سے بڑی خوبی اس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف ترین تفتیش ہے جو انتہائی ایماندارانہ شہرت کے حامل پولیس آفیسر جناب زرات کیانی ایس پی نے کی۔ قانون توہین رسالت ﷺ کے مخالفین کا مطالبہ تھا کہ اس قانون کے تحت درج کیے گئے مقدمہ کی تفتیش ایس ایچ او وغیرہ نہ کرے بلکہ ایس پی کے عہدہ کا حامل آفیسر اس کی تفتیش کرے۔

صفحہ 847

مشرف دور میں یہ مطالبہ تسلیم کرلیا گیا اور اب اس قانون کے تحت درج کیے گئے ہر مقدمہ کی تفتیش ایس پی کے عہدہ کے برابر پولیس آفیسر کرتا ہے۔ چنانچہ اس کیس کی تفتیش بھی ایک ایس پی نے کی اور اپنی تفتیش میں انہوں نے ملزم اصغر کو توہین رسالت ﷺ کا مرتکب قرار دیا۔ اب یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مقدمہ غلط درج ہوا۔ کیا یہ ژاژ خائی آئین وقانون سے بغاوت کے زمرے میں نہیں آتی؟ قرآن وسنت پر مبنی قانون توہین رسالت ﷺ کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لینے اور اس قانون کو ختم کر دینے کا مطالبہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قانون کے تحت ابھی تک کسی ایک ملزم کو بھی سپریم کورٹ سے سزائے موت نہیں ہوئی۔ یہ قانون ملزم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں لکھا تھا:

ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جاسکے اور معاشرہ میں یہ رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیرات پاکستان کی محولہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے اندراج سے ملزم کو ایک عرصہ حیات میسر آجاتا ہے۔ اس امر کے پورے مواقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزا یابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل ، نگرانی وغیرہ جیسی دادرسی کا فائدہ اٹھائے۔ کوئی بھی شخص، کجا ایک مسلمان، ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ من مانی کا سدباب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے احکام کی تنسیخ کردی جائے یا انہیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔“

(پی ایل ڈی 1994ء لاہور 485)

22 جنوری 2014ء کو ملزم نے عدالت کے سامنے اپنے نبی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے جج صاحب سے درخواست کی کہ اُسے اعتراف جرم کرنے پر کم سے کم سزا سنائی جائے۔ جج صاحب نے ملزم سے دریافت کیا کہ کیا آپ یہ بات ہوش و حواس میں کہہ رہے ہیں؟ ملزم نے کہا جی سر! میں یہ سب سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں۔ اس پر جج صاحب نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا یہ اعترافی بیان کاغذ پر تحریر کر دے۔ اس پر ملزم اصغر نے عدالت کے روبرو اپنے نبی ہونے کا اعترافی بیان کاغذ پر تحریر کر کے اُس پر اپنے دستخط بھی ثبت کر دیے۔ جج صاحب نے ملزم کے وکیل کو گواہ بناتے ہوئے اُس کے دستخط بھی اس بیان پر

صفحہ 848

کروالیے۔ بعدازاں جج صاحب نے رائٹنگ ایکسپرٹ سے ان کے دستخط کے اصل ہونے کا سرٹیفکیٹ لیا۔ چنانچہ جج صاحب نے فریقین کے وکلا کی بحث مکمل ہونے اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد 23 جنوری 2014ء کو شام 4 بجے اڈیالہ جیل میں ملزم کو سزائے موت دینے کا حکم سنایا۔ اس کے چند دن بعد ملزم کے وکلا نے اس کی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔

مغربی میڈیا میں اس کیس پر دو اعتراضات کیے جارہے ہیں، پہلا یہ کہ یہ کیس اوپن عدالت کے بجائے اڈیالہ جیل میں سخت سیکورٹی کے حصار میں سماعت کیا گیا۔ یہ بے جا اعتراض ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کی بہترین مثال ہے۔ کیس کی سماعت کے پہلے روز ہی ملزم کے وکلا نے حکومت پنجاب سے تحریری درخواست کی تھی کہ چونکہ یہ ایک حساس کیس ہے اور ملزم کی جان کو خطرہ ہے، لہٰذا اس کی سیکیورٹی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ چنانچہ حکومت نے ملزم کی درخواست پر متعلقہ حکام کو اڈیالہ جیل میں ہی اس کیس کی سماعت کے انتظامات کرنے کے احکامات جاری کیے۔ دوسرا اعتراض یہ کیا گیا کہ عدالت نے ملزم کی وکیل کو کیس سے علیحدہ کرکے اس کی جگہ حکومت کی طرف سے ملزم کے لیے ایک نیا وکیل مقرر کیا جو سراسر نا انصافی ہے۔ یہ بے جا اعتراض ”چوری اور سینہ زوری“ کے مصداق ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس کی تقریباً تین سال تک سماعت ہوتی رہی۔ اس دوران میں ملزم کی وکیل نے ایک دفعہ بھی کیس پر دلائل نہیں دیے بلکہ ہر سماعت پر مختلف بہانے تراش کر اگلی سماعت کی تاریخ لے لی جاتی۔ کبھی کہا جاتا کہ ملزم بیمار ہے، کبھی کہا جاتا تیاری نہیں ہے، کبھی کہا جاتا کہ مجھے چھٹیاں گزارنے یورپ جانا ہے، کبھی کہا جاتا کہ عدالت پر اعتماد نہیں اور کبھی کہا جاتا کہ اس کیس کی سماعت کے بغیر ہی مقدمہ ختم کردیا جائے۔ یوں یہ اہم کیس تقریباً تین سال تک تاخیری حربوں کا شکار رہا۔ آخر کار ملزم کی وکیل کی کیس میں عدم دلچسپی کی بنا پر عدالت نے ملزم کی خاتون وکیل کے ساتھ ایک قابل سرکاری وکیل بھی مقرر کر دیا تا کہ کیس میں مزید تاخیر نہ ہو۔ اس پر ملزم کی وکیل نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس سارے معاملے کا بغور جائزہ لینے کے بعد درخواست مسترد کردی۔

اس کیس میں تحفظ ختم نبوت کے لیے اپنی زندگی کے شب و روز وقف کردینے والے مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا عبدالوحید قاسمی صاحب کی خدمات آب زر سے لکھنے کے

صفحہ 849

قابل ہیں۔ سب سے بڑھ کر ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے بے پناہ دباؤ، سفارشوں، دھمکیوں، وکلائے صفائی کے غیر اخلاقی رویوں کے باوجود انصاف اور میرٹ کا بول بالا کرتے ہوئے مبنی بر انصاف یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا۔ بین الاقوامی میڈیا کے علاوہ عیسائی اور قادیانی لابی اس فیصلے کے خلاف نہ صرف اپنے غم و غصہ کا اظہار کر رہی ہے بلکہ محترم جج صاحب کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔ ہمارے خیال میں سپریم کورٹ کو اس سلسلہ میں خصوصی سوموٹو ایکشن لینا چاہیے۔

مقدمہ کی سماعت کے دوران ملزم اور اس کے سرپرستوں کی طرف سے کیس پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ ہر پیشی پر برطانوی ہائی کمیشن کی طرف سے اسلام بیزار، ماڈریٹ اور بااثر خواتین کی ایک کثیر تعداد عدالت میں موجود ہوتی اور مقدمہ کی سماعت میں بلا وجہ رکاوٹ ڈالتی۔ یہاں تک کہ 23 نومبر 2012ء کو برطانوی ہائی کمیشن نے کیس میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے ملزم کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے ایک معزز جج کو خط لکھا جسے فاضل جج نے کیس کا حصہ بناتے ہوئے سیشن جج کو کوئی دباؤ قبول کیے بغیر سماعت جاری رکھنے کا حکم دیا۔ دریں اثنا حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اصغر کذاب کو ضمیر کا قیدی قرار دے کر حکومت پاکستان سے اس کی غیر مشروط فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اصغر کذاب کو حقوق انسانی کے تحت آزادی اظہار رائے کا حق ہے اور اس پر کوئی جرم نہیں بنتا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ ایسے واقعات پر کسی ملزم کے خلاف نہ پرچہ درج ہو اور نہ کسی کو سزا دی جائے۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اور انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل کے چیئرمین انصار برنی ایڈووکیٹ بھی برطانوی حکام کے ساتھ مل کر ملزم کی رہائی کے لیے متحرک ہوچکے ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ کی سینئر وزیر بارونس سعیدہ وارثی نے کہا کہ ہم اصغر کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ایڈنبرگ سے رکن پارلیمنٹ شیلا گلمور نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کو یقین دہانی کروائیں کہ سزائے موت کے مرتکب برطانوی شہری اصغر کو برطانیہ واپس لایا جائے گا۔ جس کے جواب میں کیمرون نے پارلیمنٹ کو یقین دلایا کہ وہ اصغر کو ہر حال میں واپس لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نژاد برطانوی شہری کو توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت سنائے

صفحہ 850

جانے پر وہ شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومت پاکستان کو اپنے خیالات سے آگاہ کر دیا ہے کہ وہ برطانوی شہری اصغر کو موت کی سزا سنائے جانے پر سخت پریشان ہیں ۔ امید ہے حکومت پاکستان ہمارے شہری کو رہا کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اصغر کی رہائی کے سلسلہ میں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار اور برطانوی وزارت خارجہ رابطے میں ہیں ۔ اصغر کذاب کو بچانے کے لیے اس کی بیٹی سوفینہ انگلینڈ میں قادیانی اور عیسائی لابی سے مل کر قانون توہین رسالت ﷺ کے خلاف مہم چلا رہی ہے ۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ مغرب میں ملزم کی رہائی اور قانون توہین رسالت ختم کرنے کے لیے ایک دستخطی مہم چلائی گئی جس پر اب تک دس ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ۔ یہ یادداشت امریکی صدر اوباما سمیت دنیا بھر کے بااثر افراد کو بھجوائی گئی ۔ 25 فروری 2014ء کو برطانوی ہائی کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں کی اڈیالہ جیل میں ملزم سے ملاقات کے بعد اسے جیل میں وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ ملزم کو ٹی وی، اخبارات، انٹرنیٹ اور موبائل سمیت کسی بھی ہوٹل سے اپنی مرضی کا کھانا منگوانے کی مکمل سہولتیں حاصل ہیں ۔

برطانوی سفارتی اہلکاروں کی طرف سے ملزم کو مکمل یقین دلایا گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے سزا نہیں دے سکتی، اس سے ملزم کے مزید حوصلے بڑھے۔ چنانچہ اس نے جیل میں بھی اپنی نبوت کی تبلیغ شروع کر دی۔ وہ علی الاعلان خود کو نبی و رسول کہتا اور دوسروں کو اس پر درود شریف پڑھنے کی تلقین کرتا۔ ملزم کی اس گستاخانہ حرکت پر وہاں جیل میں موجود قیدیوں اور سیکورٹی سٹاف میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ چنانچہ 26 ستمبر 2014ء کو ایک پولیس کانسٹیبل محمد یوسف نے اپنے مذہبی جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے شدید اشتعال میں ملزم پر حملہ کر دیا جس سے ملزم کو معمولی زخم آیا مگر وہ بال بال بچ گیا۔ ملزم کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے زخم پر مرہم پٹی کر کے اُسے ہسپتال سے فارغ کر دیا ۔ ملزم پر حملے کی اطلاع ملنے پر اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے کے ذمہ داران فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچے اور ملزم کو علاج کے بہانے برطانیہ لے جانے کے لیے ہسپتال انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے لگے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ایک معمولی زخم پر ملزم کو بیرون ملک علاج کے لیے کیسے ریفر کر سکتے ہیں؟ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے رہنماؤں نے ایک پریس

صفحہ 851

کانفرنس کے ذریعے اس پوری سازش کو بے نقاب کیا جس سے ملزم کو برطانیہ بھجوانے کا ڈرامہ فلاپ ہو گیا۔ چنانچہ ملزم کو واپس جیل بھیج دیا گیا۔ ان واقعات پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ خود کو مہذب کہلوانے والا مغربی معاشرہ کیا پاکستان کے عدالتی نظام میں بے جا مداخلت کا مرتکب نہیں ہو رہا؟ انہیں کون سی چیز گستاخانِ رسول کی سرپرستی پر اکساتی ہے؟ انہیں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دلآزاری میں کیا لذت حاصل ہوتی ہے؟ کیا محسن انسانیت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی ناپاک جسارت کرنا آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتا ہے؟ یہاں ایک بات کا تذکرہ بہت اہم ہے کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس کے سلسلہ میں ہمارے اراکین پارلیمنٹ کی بے حسی، بے توجہی اور بے پروائی ایک مجرمانہ غفلت سے کم نہیں۔ ان کا اپنا معمولی سا استحقاق مجروح ہو تو یہ پارلیمنٹ میں آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں مگر سرکار دو عالم ﷺ کے عظیم استحقاق پر ان کی مصلحت پسندی اور خاموشی معنی خیز ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے ، کم ہے۔ شیطانی حقوق کے پاسداروں کی گھٹیا ذہنیت کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ہر مسلمان کو اُن کی مذموم کوششوں کا راستہ روکنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے، اسی میں امت مسلمہ کی بقا پوشیدہ ہے۔

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ملک گیر سطح پر سرگرم عمل ”تحریک تحفظ ختم نبوت جڑانوالہ“ نے اس تاریخی فیصلہ کی علیحدہ کتابچے کی صورت میں اشاعت کا اہتمام کیا۔ اس سلسلہ میں جناب اسد اللہ ساقی، جناب رضوان شفیق بھٹی (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)، جناب عبدالستار اقبال (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) اور جناب حافظ محمد سجاد مدنی کی کاوشیں قابل صد ستائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے!

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور ۞..............۞.......۞..............۞.......۞.....................

صفحہ 852

ایف آئی آر کا متن

ابتدائی اطلاعی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ

زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری

273688

842/10 تھانہ، صادق آباد، ضلع راولپنڈی، تاریخ و وقت وقوعہ 08/08/10 چھ بجے شام

1- تاریخ و وقت رپورٹ 22/09/10 بوقت 3:30 رپورٹ نمبر 32 6- تھانہ سے روانگی کی تاریخ و وقت سپیشل رپورٹ

2- نام و سکونت اطلاع دہندہ و مستغیث محمد حفیظ اعوان ولد محمد انور ساکن الاعوان بلڈرز بالمقابل صدیق CNG سٹیشن چراہ روڈ مسلم ٹاؤن راولپنڈی فون نمبر 5169271-0300

3- مختصر کیفیت جرم (معہ دفعہ) مال اگر کچھ کھویا گیا ہے۔ جرم 295/C

4- جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے اور سمت چراہ روڈ دفتر الاعوان بلڈرز واقعہ گلی نمبر 4 مسلم ٹاؤن بفاصلہ قریب 3 کلو میٹر جانب جنوب مغرب

5- کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج کرنے میں کچھ توقف ہوا ہو تو اس کی وجہ بیان کی جاوے۔

دستخط دستخط انگریزی (رفاقت حسین) عہدہ Si (ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو)

نوٹ: اطلاع کے نیچے اطلاع دہندہ کا دستخط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہیے اور افسر تحریر کنندہ (ابتدائی اطلاع) کے دستخط بطور تصدیق ہونے چاہئیں۔

صفحہ 853

بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ صادق آباد راولپنڈی ۔ جناب عالی! سائل ائر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی راولپنڈی کا رہائشی ہوں ۔ اور راجہ محمد اصغر سائل کا جاننے والا ہے۔ اور مورخہ 2010-08-08 کو شام 6 بجے سائل اپنے دفتر واقع چراہ روڈ صادق آباد بالمقابل صدیق CNG سٹیشن اپنے دوستوں آفتاب احمد قریشی اور محمد شفیق مع دیگر معززین کے علاقہ موجود تھا کہ راجا محمد اصغر سائل کے دفتر ہذا میں آیا۔ اور اُس کے ہاتھ میں کچھ دستاویزات موجود تھیں ۔ سائل نے ہمراہ دیگراں مذکور کو دفتر میں بیٹھنے کے لئے کہا تو دفتر میں موجود مذہبی کیلنڈر جس پر آنحضور ﷺ اور اللہ کا ذکر تحریر دیکھ کر مسمی مذکور نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہنے شروع کر دیے جس پر سائل اور دیگران نے اُسے ایسا کرنے سے روکا۔ مسمی مذکور نے اپنے ہاتھ میں خود سے لکھی دستاویزات و دیگر کاغذات نکال کر آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ کہ وہ حضور ﷺ کی ذات سے بڑھ کر ہے (استغفر اللہ)! اور اُس نے اپنا وزٹنگ کارڈ جس پر راجا محمد اصغر صلی وعلیہ وسلم تحریر شدہ ہے، دیا اور اس کے علاوہ دیگر کاغذات تحریر شدہ بھی جن پر مسمی مذکور نے اپنے نام کے ساتھ صلی وعلیہ وسلم لکھا ہوا ہے، دیے۔ یہ کہ مسمی مذکور اس سے پہلے بھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرتا رہا ہے اور آج اس نے انتہا کر دی۔ مسمی مذکور کے آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ باتوں اور مواد کے بعد میں نے ہمراہ معززین اُس سے تمام کاغذات اور وزٹنگ کارڈ بھی چھین لیے اور اُسے ایسا کرنے سے روکا تو وہ سائل اور دیگراں کو گالیاں دیتے ہوئے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھاگ گیا اور اپنے آپ کو نبوت کا دعویدار کہتا رہا۔ مسمی مذکور کے خلاف آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ باتوں اور تحریر کرنے پر قانونی کارروائی کی جائے ۔ تمام کاغذات، دستاویزات اور مسمی مذکور کا وزٹنگ کارڈ جس پر راجا محمد اصغر صل وعلیہ وسلم تحریر شدہ ہے۔ ہمراہ درخواست پیش کر رہا ہوں ۔ عرضے دستخط انگریزی محمد حفیظ اعوان ولد محمد انور ساکن الاعوان بلڈرز بالمقابل صدیق CNG سٹیشن چراہ روڈ مسلم ٹاؤن ۔ راولپنڈی ۔ فون نمبر 5169271-0300 بتاریخ 2010-09-22

صفحہ 854

ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی کے رُوبرو ایس ایس پی کا حلفیہ بیان

سرکار ــــــــــــــــــــــــ بنام ــــــــــــــــــــــــ محمد اصغر

گواہ استغاثہ نمبر 5

محمد زرات کیانی، ایس ایس پی، راولپنڈی کا حلفیہ بیان

25-10-2010 کو مجھے ایس ایس پی سٹی راول ڈویژن، راولپنڈی تعینات کیا گیا۔ اسی دن مجھے اس کیس کے سلسلہ میں ایک خط موصول ہوا اور میں نے اس کیس کی تفتیش کا آغاز کر دیا۔ دوران تفتیش میں نے وزیٹنگ کارڈ (P-3)، ملزم اصغر کی دو تحریریں، منظور حسین کو لکھا گیا ایک خط (Ex-PD) اور دوسری تحریر، ایس ایچ او گلزار قائد کے نام بتاریخ 25 اکتوبر 2010ء درخواست (Ex-PE vide recovery memo Ex-PI/1) جو انگریزی میں لکھی ہوئی تھی، اپنے قبضے میں لے لیں۔ میں نے گواہان استغاثہ سے مذکورہ ریکوری میمو پر دستخط حاصل کر لیے۔ نیز میں نے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت گواہان استغاثہ کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ اس کے علاوہ میں نے ریکوری میمو (Ex-PG/1) کے مطابق ایک سی ڈی (P-11) مورخہ 25.10.2010 کو حاصل کرلی۔ مزید برآں میں نے نعتیہ کلام (P-1 اور P-2) کی دو سی ڈیز حاصل کیں اور ریکوری میمو (Ex-PC/1) کے مطابق انہیں اپنے قبضہ میں لے لیا۔ میں نے گواہان استغاثہ کے بیانات حاصل کیے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت گواہان استغاثہ کے بیانات ریکارڈ کیے۔ علاوہ ازیں میں نے ریکوری میمو (Ex-PB/1) کے مطابق وٹز Vitz کار (P-10) مع رجسٹریشن بک (P-9) بھی اپنے قبضے میں لے لی۔ میں نے ملزم کی جامہ تلاشی بھی لی اور اس سے 71,335/- روپے (P-4)، چشمہ (P-5/1-2)، قومی شناختی کارڈ کی

صفحہ 855

فوٹو کاپی (6-P)، انگلستان کا ڈرائیونگ لائسنس (7-P)، ایک بٹوہ (پیراشوٹ سے تیار کردہ) (8-P) برآمد کرلیں اور انہیں ریکوری میمو (1/Ex-PA) کے مطابق اپنے قبضے میں لے لیا۔ نیز میں نے ریکوری کے وقت گواہان استغاثہ کے دستخط حاصل کرنے کے علاوہ ان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ میں نے جائے وقوعہ (1/Ex-PJ) کا عارضی خاکہ بھی تیار کیا۔

دوران تفتیش یہ معلوم ہوا کہ ملزم اصغر نے مدعی کے دفتر آ کر یہ کہتے ہوئے توہین رسالت کا ارتکاب کیا کہ وہ (ملزم) حضرت محمد ﷺ سے افضل ہے (نعوذباللہ)، نیز اس نے گواہان استغاثہ کی موجودگی میں یہ دعویٰ بھی کیا وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔ مزید برآں دوران تفتیش ملزم نے خود مجھے بتایا کہ جو کچھ اس نے اپنے وزیٹنگ کارڈ پر چھپوایا، یعنی حضرت محمد اصغر صلی علیہ وسلم (نعوذ باللہ)، اس نے خود چھپوایا اور جو خط منظور حسین کو لکھا گیا، وہ بھی اسی نے لکھا تھا اور اسی طرح جو درخواست ایس ایچ او، گلزار قائد کو دی گئی تھی، وہ اس کے اپنے قلم (پین) سے لکھی گئی اور اس پر اس نے اپنے دستخط بھی کیے تھے۔ دوران تفتیش اس نے مجھے مزید بتایا کہ میں نے انگلستان سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو انگریزی میں ایک خط لکھا اور اس خط میں اس نے یہی کچھ لکھا اور ذکر کیا۔ ملزم نے یہ حقائق گواہان استغاثہ کی موجودگی میں بیان کیے۔

میری طرف سے کی گئی تفتیش کے مطابق ملزم نے دفعہ 295-C کے تحت جرم کا ارتکاب کیا اور اس کا ارتکاب گواہوں کے بیانات کے ذریعے ثابت ہوگیا جو دوران تفتیش میرے روبرو پیش ہوئے، نیز میری تفتیش کے مطابق ملزم قصور وار ہے اور اس نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

جب میں نے ویڈیو کیسٹ (11-P) کو خود ملاحظہ کیا تو اس میں ملزم نے اس وزیٹنگ کارڈ کی ملکیت کا اعتراف کیا جس کے مطابق اس نے خود کو پیغمبر ظاہر کیا تھا اور اس پر ”صلی اللہ علیہ وسلم“ کے الفاظ درج تھے، مزید برآں اس نے ایس ایچ او کو دی گئی درخواست کے علاوہ منظور حسین کو لکھے گئے خط کے متعلق بھی تسلیم کیا کہ یہ اس نے تحریر کیے ہیں۔ نیز اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس نے یہ سب کچھ کہا تھا۔ دوران تفتیش میں نے ملزم کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے طبی معائنہ بھی کروایا جس کا اہتمام جناب یاسر حسین خان جوڈیشل مجسٹریٹ، راولپنڈی کے حکم نامہ بتاریخ 2010-09-23 کے مطابق کیا گیا اور طبی معائنہ کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے اسے جسمانی طور پر درست اور صحت مند قرار دیا گیا۔

صفحہ 856

جب میں نے پہلے دن تفتیش کی تو بھی اس نے رسول اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ کلمات کہے اور حضرت محمدﷺ کے بجائے اپنے تئیں پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ دورانِ تفتیش اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ خدا اس پر وحی نازل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس کی حیثیت حضرت محمدﷺ سے بہت بہتر ہے۔ (نعوذ باللہ)! چنانچہ میری مکمل تفتیش، مذکورہ سی ڈی، ملزم سے قبضے میں لیے گئے کاغذات، وزیٹنگ کارڈ وغیرہ اور دوران تفتیش میرے روبرو ملزم کے اعتراف کے باعث میرے نزدیک عدالت میں حاضر محمد اصغر نامی شخص، توہین رسالت کا اصل ملزم ہے۔ میری خفیہ تفتیش کے مطابق بھی اس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ C-295 کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

RO&AC 09-01-2014

دستخط محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی اڈیالہ جیل

صفحہ 857

بعدالت جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی

ابتدائی معلومات

مقدمہ نمبر : 54/12 ایف آئی آر نمبر : 842/2010 بتاریخ 22 ستمبر 2010ء پولیس سٹیشن : صادق آباد، راولپنڈی بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295/C

سرکار

بنام

محمد اصغر ولد حکم داد قوم راجپوت سکنہ ناگاہل پہلوان تحصیل گجر خان۔ ضلع راولپنڈی۔ موجودہ پتہ مکان نمبر 1-197/9 گلی نمبر 7، ائیر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی۔ گلزار قائد۔ راولپنڈی (ملزم)

وکیل منجانب مدعی: راجہ شجاع الرحمن ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) وکیل منجانب سرکار: جاوید گل ایڈووکیٹ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکلا منجانب ملزم: بیرسٹر سارہ بلال ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ) اصغر گوندل ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ)

تاریخ فیصلہ: 23 جنوری 2014ء

صفحہ 858

فیصلہ

جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی

نقشہ کھینچا ہے، وہ کچھ اس طرح ہے۔

’’میں ائیر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا رہائشی ہوں اور راجا محمد اصغر کو جانتا ہوں۔ مورخہ 8 اگست 2010ء کو شام 6 بجے میں اپنے دوستوں آفتاب قریشی، محمد شفیق اور دیگر کے ہمراہ اپنے دفتر واقع چراہ روڈ صادق آباد بالمقابل صدیق سی این جی اسٹیشن میں بیٹھا ہوا تھا کہ جب مذکورہ راجا اصغر وہاں آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی جس میں کچھ کاغذات تھے۔ میں نے اس کو بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کی۔ میرے دفتر میں اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام والا کیلنڈر لگا ہوا تھا۔ اس کیلنڈر کو دیکھ کر ملزم اصغر نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز کلمات کہنے شروع کر دیے جس پر میں نے اور دوسرے لوگوں نے اسے ایسا کرنے سے روکا۔ تب ملزم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل کھولی اور اس میں سے کچھ دستاویزات اور کاغذات نکالے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں قابل اعتراض اور توہین آمیز کلمات کہنے شروع کر دیے اور اس نے یہ بھی کہا کہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہوں (نعوذ باللہ)۔ اس نے ہمیں اپنا وزٹنگ کارڈ بھی دیا جس پر ’’راجا محمد اصغر صل وعلیہ وسلم‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اس نے ہمیں کچھ دوسرے کاغذات بھی دیے جس پر ملزم محمد اصغر کا نام تھا اور ساتھ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لکھا تھا۔ ملزم اس سے قبل بھی توہین آمیز کلمات کہتا تھا لیکن آج تو اس نے حد کر دی۔ اس کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ 859

شان میں توہین اور قابل اعتراض کلمات کے بعد، میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر ملزم سے وزٹنگ کارڈ اور کاغذات چھین لیے اور اس کو ایسا کرنے سے روکا جس پر وہ ہمیں گالیاں دیتا ہوا میرے دفتر سے چلا گیا۔ اس نے ہماری موجودگی میں خدا کا رسول ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ پس ملزم مذکور محمد اصغر کے اس توہین آمیز فعل پر اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور ایکشن عمل میں لایا جائے۔ میں اس درخواست کے ساتھ تمام کاغذات، دستاویزات اور وزٹنگ کارڈ دے رہا ہوں جس پر ملزم محمد اصغر کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہوا ہے‘‘۔

842/10 (EX-PF/1) تھانہ صادق آباد، راولپنڈی میں درج ہوئی۔

عدالت میں چالان پیش کیا تاکہ ملزم عدالت میں مذکورہ بالا مقدمہ کا سامنا کر سکے۔ 21 جنوری 2011ء کو ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی جس پر ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمے کی سماعت پر اصرار کیا۔

استغاثہ نے مندرجہ ذیل 6 گواہان کو پیش کیا۔

عدالت میں پیش ہوا جس نے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔

ماہر لکھائی کے طور پیش ہوئے جنہوں نے ملزم کی لکھائی کا موازنہ کیا۔

ضروری تصور کرتے ہوئے اور انور علی شاہ کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ مورخہ 7 فروری 2012ء (EX-CA اور EX-CA/1) کی روشنی میں اُسے وفات شدہ قرار دے کر ان

صفحہ 860

دونوں کی استغاثہ شہادت ختم کردی۔

صفائی میں ثبوت پیش کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ تاہم عدالت کے اس سوال پر کہ ”کیا آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 340 کے تحت اپنا حلفاً بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہونا چاہتے ہیں؟“ کے جواب پر ملزم نے مندرجہ ذیل جواب دیا۔

”میں نے کہا تھا۔ میں اللہ کا پیغمبر ہوں!“

عدالت کے اس استفسار پر کہ ”کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہیں گے؟“ اس کے جواب میں ملزم نے کہا:

”میں اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہوں اور میری فاضل عدالت سے درخواست ہے کہ وہ میرے اعتراف جرم پر نرم رویہ اپنائے اور مجھے کم سے کم سزا سنائے۔

ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں ملزم اپنے مجرمانہ کردار کی وجہ سے نامزد اور مخصوص الفاظ ادا کر کے توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مدعی اور استغاثہ کے تمام گواہان نے اپنے اپنے بیان عدالت میں ریکارڈ کروا دیے جو وقوعہ کے وقت وہاں موجود تھے جب ملزم نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا تھا۔ پس استغاثہ نے ٹھوس شہادتوں کی بنا پر اس کیس کو باضابطہ طور پر ثابت کر دیا ہے اور وکیل صفائی، قانونی طور پر ملزم کے دفاع میں بری طرح اور مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صفائی کی طرف سے تحریری درخواست پر پانچ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک مکمل بااختیار میڈیکل بورڈ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں قائم کیا گیا۔ اس میڈیکل بورڈ میں ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ اس میڈیکل بورڈ کی متفقہ رائے ہے کہ ملزم ذہنی طور پر مکمل صحت مند ہے اور اپنا مقدمہ احسن طریقے سے لڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کی تحریر جس میں اس نے خود کو خدا کا رسول ہونے کا دعوی کیا ہے اور اپنے نام کے ساتھ لفظ ”صلی اللہ علیہ وسلم“ لکھا، کو بھی ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کے پاس بھیجا گیا۔ لکھائی کے ماہر کی رپورٹ بھی ملزم کے بارے میں مدعی کے موقف کی تصدیق کرتی ہے۔ پس استغاثہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملزم کی صحت والے

صفحہ 861

میڈیکل بورڈ فٹنس سرٹیفکیٹ اور لکھائی کے ماہر کی رپورٹ دونوں، ملزم کا جرم ثابت کرنے اور سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کو جب گرفتار کیا گیا تو اس وقت وہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور ایک معقول نقد رقم مبلغ =/71,335 روپے اس کے قبضے سے برآمد ہوئی۔ پس ایک پاگل یا ذہنی معذور شخص ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتا اور نہ اتنی بھاری رقم اور دیگر دستاویزات اپنے ہمراہ رکھ سکتا ہے۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ مدعی اور ملزم کے درمیان کوئی سابقہ رنجش نہیں ہے۔ انھوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے درمیان کوئی سابقہ رنجش بھی ہوتی تب بھی ماہر لکھائی Hand Writing) (Expert کی رپورٹ دونوں پارٹیوں کے درمیان کسی بھی چھوٹے سے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ ملزم کی توہین رسالت والی تحریر کو مدعی یا گواہ سے کسی بھی دباؤ کے تحت حاصل نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فائل میں دستاویزی ثبوت بھی موجود ہے جو کہ سی ڈی کی دکان میں حق ٹی وی چینل نے بنایا تھا۔ ملزم کی گرفتاری کے وقت وہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے اور حق ٹی وی چینل جو کہ ایک اسلامی ٹی وی چینل ہے، وہ بھی وہاں واقعہ کی کوریج کے لیے پہنچ گیا تھا اور یہ معاملہ ہے بھی ایسے ہی چینل سے متعلقہ ۔ چنانچہ انہوں نے ملزم کی گرفتاری کے وقت ایک ویڈیو فلم بھی بنائی جس میں ملزم نے اپنے جرم کا برملا اعتراف کیا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے اس نکتہ پر بھی توجہ دلائی کہ گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے اس کا برطانوی ڈرائیونگ لائسنس بھی برآمد ہوا۔ انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی ڈرائیونگ لائسنس اتھارٹی کبھی کسی ذہنی معذور شخص کو ڈرائیونگ لائسنس جاری نہیں کرسکتی۔ تاہم پاکستان میں شاید ایسا ممکن ہو لیکن برطانیہ میں نہیں۔ اپنے موقف پر دلائل مکمل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ملزم نے بذات خود معزز عدالت کے روبرو اپنا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 340(2) اور 342 کے تحت ریکارڈ کرواتے وقت نہ صرف یہ کہ اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے ملزم نے لکھا کہ اس کا دعویٰ (کہ وہ خدا کا رسول ہے) درست ہے۔ فاضل وکیل کے مطابق استغاثہ نے ملزم کے خلاف اپنا کیس ثابت کر دیا ہے۔ چنانچہ ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ وہ اپنے مذموم اور قابل مذمت فعل پر سزائے موت کا مستحق ہے۔

صفحہ 862

ہوئے کہا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اس کو مدعی نے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسایا ہے کیونکہ مدعی، ملزم کا کرایہ دار ہے جبکہ ملزم مالک مکان ہے اور جب اس نے مدعی کو مکان خالی کرنے کو کہا تو مدعی نے ملزم کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف آئی آر وقوعہ کی تاریخ سے ایک ماہ بعد تاخیر سے درج ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں گواہان استغاثہ ملک محمد حفیظ اور محمد شفیق نے عناد میں اپنے بیان قلمبند کروائے۔ لہٰذا گواہان استغاثہ کے عناد کی وجہ سے ملزم کو سزائے موت کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم ذہنی طور پر معذور ہے۔ اس کی بیماری پرانی ہے اور برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران وہ زیر علاج بھی رہا ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ ملزم کے قبضے سے سی ڈی اور دیگر دستاویزات کی شکل میں کچھ بھی برآمد نہیں ہوا تھا اور مبینہ برآمدگی میں ملزم کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزم 60، 65 سال کا ایک بوڑھا آدمی ہے۔ لہٰذا اس کے بڑھاپے، نقاہت اور دماغی کمزوری کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو اس الزام سے بری کیا جائے۔ آخر میں وکیل صفائی نے ایمانداری سے تسلیم کیا کہ اس کیس کی خوبیوں اور خامیوں سے قطع نظر ضابطہ فوجداری کی دفعہ (2(10-3) 342 کے تحت ملزم نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے وقت بھری عدالت میں بذات خود اپنے جرم کا برملا اعتراف کیا ہے۔ لہٰذا عدالت سے مجرم کے بارے میں نرم رویہ کی استدعا ہے۔

مطالعہ کیا گیا۔

ہیں ۔ پہلا یہ کہ ملزم نے یہ کہہ کر کہ وہ، حضرت محمدﷺ سے بہتر ہے (نعوذ باللہ)، توہین رسالتؐ پر مبنی گستاخانہ کلمات کہے، ملزم نے اپنے نام کے ساتھ ﷺ کے الفاظ مختلف دستاویزات اور اپنے وزٹنگ کارڈ پر استعمال کیے۔ دوسرا ملزم نے خدا کا رسول ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسے خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔

مزید یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں وکیل صفائی نے سماعت کے دوران عدالت میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ ملزم دماغی کمزوری کا شکار ہے اور اس کا طبی معائنہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے کروایا جائے۔ استغاثہ کی درخواست پر اس کیس میں

صفحہ 863

ملزم کی (شان رسالتﷺ میں کی جانے والی) گستاخانہ تحریر اور اس کے دستخط کے نمونہ وغیرہ کو ٹیکنیکل ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کے لکھائی کے ماہر (Writing Expert) کو موازنہ کے لیے بھیجا گیا۔ اس کیس میں مدعی کا موقف ثابت کرنے کے لیے ثبوت مہیا کیا گیا تھا۔ اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کے وقت جب سینکڑوں لوگ اس اہم خبر کو سن کر جمع ہوئے تھے تو ایک ٹی وی چینل نے ملزم کی ایک سی ڈی بھی تیار کی جس میں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور وہ خاص سی ڈی ریکوری میمو کے تحت پولیس نے اپنے قبضے میں لے لی اور پھر وہ عدالت کے سامنے پیش کی۔ اس کیس میں ابتدائی تفتیش ایک سب انسپکٹر نے کی لیکن بعد ازاں قانون کے مطابق ایس پی عہدے کے ایک اعلیٰ افسر نے دوبارہ اس کیس کی تفتیش کی۔ ان تمام حقائق سے قطع نظر اس کیس میں ملزم نے عدالت کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور وہ اس عدالت سے سزا کے سلسلہ میں نرم رویہ کا خواستگار ہے۔ جبکہ دوسری جانب وکیل صفائی نے یہ دلیل اور موقف اپنایا ہے کہ ملزم ذہنی پختگی کا حامل شخص نہیں ہے۔ ملزم اور مدعی کی رنجش کی وجہ سے یہ کیس قائم ہوا۔ کیونکہ مدعی کرایہ دار اور ملزم مالک مکان ہے اور جب مکان خالی کرنے کو کہا گیا تو مدعی نے ملزم کے خلاف یہ کیس درج کروا دیا۔ پس یہ اس کیس کا مکمل منظر نامہ ہے جسے عدالت کو دیکھنا اور تجزیہ کرنا ہے۔

استغاثہ نمبر 3 کو پیش کیا۔

’’مورخہ 8 اگست 2010ء کو میں اپنے دفتر میں موجود تھا۔ اس دوران ملزم اصغر جو اس وقت عدالت میں موجود ہے، وہاں آیا۔ میں نے اس کو اپنے آفس میں بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کی۔ میرے دفتر کی میز اور دیوار پر کچھ اسلامی اور دینی کیلنڈر تھے۔ عدالت میں موجود ملزم نے میرے دفتر میں بیٹھتے ہی (شان رسالتﷺ میں) توہین آمیز کلمات کہنے شروع کر دیے۔ اس نے بتایا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے وحی پاتا ہے اور اس نے یہ بھی کہا کہ وہ حضرت محمدﷺ سے افضل ہے۔ میں نے اس کو ایسے الفاظ کہنے سے فوراً روکا۔ اس پر اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے لفافہ میں موجود کاغذات اور دستاویزات میں سے ایک وزٹنگ کارڈ (3-P) نکالا۔ وزٹنگ کارڈ سنہری رنگ کا تھا۔ اس وقت محمد شفیق، آفتاب

صفحہ 864

قریشی اور میرے کچھ دوسرے دوست بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ عدالت میں موجود ملزم نے ہمیں مذکورہ بالا وزٹنگ کارڈ دکھلایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا، ”نیک نیت رحمت اللہ علیہ حضرت محمد اصغرﷺ۔ مزید برآں اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے لفافے میں رکھے ہوئے کاغذوں میں سے ایک خط (EX-PD) نکالا جو ملزم کی طرف سے اپنے ایک رشتہ دار منظور حسین کو لکھا گیا تھا اور اس پر کچھ قابل اعتراض تحریرات لکھی ہوئی تھیں۔ اس خط میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ گوجر خان سے لے کر راولپنڈی تک آویزاں کیے گئے تمام سائن بورڈز جن پر ”لبیک یا رسول اللہ“ لکھا ہوا ہے، یہ الفاظ اس (ملزم) کے بارے میں لکھے گئے ہیں اور یہ الفاظ میرے پیغمبر کے طور آنے کی خوشی میں لکھے گئے ہیں، ملزم کے مطابق یہ خط لوگوں کے لیے خوشی و مسرت کی خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی نازل کی ہے۔ ملزم نے ہمیں ایک اور کاغذ بھی دکھایا جو کہ گلزار قائد راولپنڈی کے ایس ایچ او کے نام ایک درخواست تھی جس میں درخواست کے اختتام پر یہ لکھا ہوا تھا ”نیک نیت رحمت اللہ علیہ حضرت محمد اصغرﷺ“ اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یہ سب اس کے اپنے ہاتھ کی لکھائی ہے اور یہ کاغذات اس کے اپنے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وزٹنگ کارڈ اس نے خود چھپوایا ہے۔ ایسے قابل اعتراض اور توہین آمیز کلمات سننے کے بعد میں صبر نہ کر سکا اور کھڑا ہو گیا اور تمام گواہان استغاثہ کی موجودگی میں، میں نے ملزم سے یہ تمام دستاویزات بشمول وزٹنگ کارڈ چھین لیے۔ اس پر ملزم اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا اور میرے دفتر سے جاتے ہوئے اس نے ہم سب کو کہا کہ وہ سب جاہل اور بے وقوف لوگ ہیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے وہ میرے دفتر سے نکلا اور چلا گیا۔

13- دفتر میں موجود ہم سب لوگ حیران اور پریشان ہو گئے۔ تب ہم سب نے باہر جا کر اس کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ سے معافی مانگنے کے بعد اس کو معاف کرنے اور دوبارہ کلمہ پڑھنے اور ایماندار مسلمان بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور بعد میں ہمیں پتا چلا کہ وہ بیرون ملک چلا گیا ہے۔ مورخہ 22 ستمبر 2010ء کو مجھے خبر ملی کہ ملزم اصغر واپس آگیا ہے اور اس نے وہی دوبارہ گستاخانہ الفاظ استعمال کیے اور اپنے آپ کو نبی ظاہر کیا ہے۔ اس پر میں صادق آباد پولیس اسٹیشن راولپنڈی چلا گیا۔ میں نے متعلقہ ایس ایچ او کو درخواست دی جس پر میرے باضابطہ دستخط موجود ہیں۔ میں نے گواہان استغاثہ محمد شفیق اور آفتاب قریشی کو تھانہ میں بلایا، وہ فوراً

صفحہ 865

آ گئے۔ میری درخواست پر ایک ایف آئی آر تیار کی گئی اور میں نے مذکورہ بالا وزٹنگ کارڈ اور دوسری قابل اعتراض دستاویزات تفتیشی افسر سب انسپکٹر ملک رفاقت کے سپرد کیں جو مجھے میرے دفتر میں ملزم نے گواہان استغاثہ کی موجودگی میں دی تھیں۔ درحقیقت تفتیشی افسر نے یہ سب چیزیں برآمدگی میمو کے تحت اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔

تفتیشی افسر ہمارے ساتھ میرے دفتر آئے، انھوں نے تفتیشی افسر کے طور پر پولیس کی کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کا عارضی نقشہ بھی تیار کیا، چنانچہ ہم ملزم کو گرفتار کرنے ملزم کے گھر گلزار قائد روانہ ہوئے۔ وہ اس وقت اپنے گھر موجود نہیں تھا، تب تفتیشی افسر رفاقت کو اطلاع موصول ہوئی کہ ملزم اس وقت ائیر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی راولپنڈی کے کمرشل ایریا میں موجود ہے۔ تب ہم وہاں گئے۔ ایک گاڑی گلزار قائد کی کمرشل مارکیٹ کے باہر کھڑی تھی اور ڈرائیونگ سیٹ پر عدالت میں موجود ملزم اصغر بیٹھا ہوا تھا۔ گاڑی سفید رنگ کی وٹز (Vitz) تھی جس کا رجسٹریشن نمبر QE-792-ICT اسلام آباد تھا۔ تفتیشی افسر نے ہماری موجودگی میں ملزم کو باضابطہ گرفتار کیا اور اس نے ملزم کی جامہ تلاشی لی اور مبلغ -/71,335 روپے، دو عدد عینکیں، شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی، برطانیہ کا ڈرائیونگ لائسنس اور ایک بٹوہ ملزم سے برآمد کیے اور ان سب چیزوں کو ریکوری میمو کے ذریعے اپنے قبضے میں لیا۔ یہ تمام چیزیں تفتیشی افسر نے عاطف حسین ASI اور دیگر پولیس کانسٹیبلز کی موجودگی میں اپنے قبضے میں لے لیں۔ عاطف حسین اے ایس آئی اور میں نے ریکوری میمو پر باضابطہ دستخط کیے۔ تب وٹز (Vitz) کار کی بھی تلاشی لی گئی اور تفتیشی افسر نے اس کی رجسٹریشن کی کتاب، اور دو سی ڈیز بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔ گاڑی کو بھی وصولی میمو کے تحت قبضے میں لے لیا گیا۔ اس میمو پر بھی میں نے اور عاطف حسین ASI نے دستخط کیے۔ سی ڈیز کو بھی وصولی میمو کے تحت جن پر کہ میرے اور عاطف حسین کے دستخط تھے، قبضے میں لیا گیا۔ ملزم کی گرفتاری کے وقت ”حق ٹی وی چینل“ کے رپورٹر رضوان شاہ بھی کیس کی نوعیت بارے معلومات حاصل کرنے وہاں آ گئے۔ انھوں نے ملزم کا انٹرویو بھی لیا اور اس انٹرویو میں ملزم نے ان تمام مندرجہ بالا دستاویزات، درخواست، خطوط اور وزٹنگ کارڈ کی ملکیت کا برملا اعتراف کیا۔ اسی ٹی وی رپورٹر نے اپنے چینل کے لیے ملزم کی (دستاویزی) فلم بھی بنائی جس میں ملزم کو دکھایا گیا ہے۔ رپورٹر رضوان شاہ نے مورخہ 2010-09-25 کو مجھے مندرجہ بالا انٹرویو کی ایک CD (P-11)

صفحہ 866

بھی دی جسے میں لے کر گواہ انور علی شاہ کے ہمراہ پولیس اسٹیشن چلا گیا اور یہ سی ڈی ہم نے متعلقہ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی جنھوں نے ریکوری میمو کے ذریعے اس کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

14- مورخہ 25-10-2010 کو مجھے پولیس اسٹیشن سے اطلاع دی گئی کہ ایس پی زرات کیانی اس کیس کے تفتیشی افسر کے طور پر میرے دفتر جائزہ اور تفتیش کے لیے آ رہے ہیں۔ وہ میرے دفتر آئے اور معائنہ کیا۔ سب انسپکٹر رفاقت اور دوسرے پولیس افسر بھی ایس پی کے ساتھ اس وقت موجود تھے، ایس پی زرات کیانی نے دوبارہ جائے وقوعہ کا عارضی نقشہ تیار کیا اور انہوں نے ہمیں پولیس اسٹیشن آنے کا کہا۔ ہم وہاں گئے اور انھوں نے ہم سے وقوعہ سے متعلق تفتیش کی اور بیان بھی ریکارڈ کیا۔ انہوں نے مندرجہ بالا تمام دستاویزات بشمول وزٹنگ کارڈ وغیرہ بھی وصولی میمو کے تحت اپنے قبضے میں لے لیں جس پر استغاثہ گواہان آفتاب قریشی اور شفیق کے دستخط موجود ہیں۔ وٹز گاڑی اور اس کی رجسٹریشن کتاب بھی ایس پی صاحب نے وصولی میمو کے تحت اپنے قبضہ میں لے لیں، جس پر میرے اور عاطف اے ایس آئی کے دستخط موجود تھے۔ نقد رقم مبلغ 71,335/- روپے، برطانیہ کا ڈرائیونگ لائسنس، دو عینکیں، ایک شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی اور ایک بٹوہ ایس پی صاحب نے وصولی میمو کے تحت اپنے قبضے میں لیا جس پر میرے اور ASI عاطف کے دستخط موجود تھے۔

تفتیشی افسر رفاقت علی نے ملزم کے خطوط پر فتویٰ بھی لیا اور مفتیان کرام جن میں مفتی مجیب الرحمٰن بھی شامل ہیں، نے فتویٰ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ”جو شخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا، وہ مسلمان نہیں ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے“۔ ملزم توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوا ہے، اس نے زیر دفعہ 295-C کے تحت جرم کیا ہے اور اس کو اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

15- محمد شفیق بطور گواہ استغاثہ نمبر 3 کے طور پر پیش ہوئے۔

”مورخہ 08-08-2010 کو بوقت شام چھ بجے میں اس کیس کے مدعی محمد حفیظ اعوان کے دفتر میں موجود تھا۔ اس دوران عدالت میں موجود ملزم محمد اصغر ادھر آیا اور وہاں بیٹھ گیا، اس کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔ وہاں دیوار پر اسلامی کیلنڈر اور میز پر ٹیبل کیلنڈر موجود تھے جن پر اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک درج تھے۔ اس دوران ملزم اصغر نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں قابل اعتراض اور نا قابل برداشت کلمات کہے۔ ملزم نے

صفحہ 867

یہ بھی کہا کہ دیوار پر لگے کیلنڈر پر حضرت محمد ﷺ کی بجائے اس کا نام ہونا چاہیے تھا، اور یہ سننے کے بعد ہم نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اس پر اس نے اپنا شاپنگ بیگ کھولا اور اس میں سے ایک سنہرے رنگ کا وزٹنگ کارڈ نکالا جس پر یہ لکھا ہوا تھا ”نیک نیت رحمت اللہ حضرت محمد اصغر ﷺ“ ۔ چند ٹیلی فون نمبرز بھی اس پر لکھے ہوئے تھے۔ پھر ملزم نے ہمیں ایک خط بھی دکھایا جو منظور حسین نامی کسی شخص کو لکھا ہوا تھا اور اس میں یہ لکھا ہوا تھا، ”مجھے اللہ تعالیٰ کی وحی آتی رہتی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور میں موجودہ حضرت محمد ﷺ سے افضل ہوں (نعوذباللہ) اور گوجر خان سے لے کر راولپنڈی تک جو سائن بورڈز نصب ہیں جن پر ”لبیک یا رسول اللہ“ لکھا ہوا ہے، یہ میری آمد کی خوشی اور جشن میں لگائے گئے ہیں اور ان کا تعلق حضرت محمد ﷺ سے نہیں ہے۔ اس نے ہمیں ایک اور تحریر دکھائی جو کہ ایس ایچ او پولیس اسٹیشن گلزار قائد کو لکھی گئی تھی اور اس کے آخر پر ”نیک نیت رحمت اللہ حضرت محمد اصغر ﷺ“ لکھا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ سننے اور دیکھنے پر مدعی محمد حفیظ اعوان اور میں غصے میں آ گئے اور صبر و تحمل کھو بیٹھے اور اس دوران محمد حفیظ اعوان اپنی نشست سے کھڑا ہوا اور ملزم محمد اصغر سے یہ تمام دستاویزات، خطوط اور وزٹنگ کارڈ وغیرہ چھین لیے۔ اس پر ملزم نے ہمیں کہا کہ آپ ان پڑھ اور جاہل لوگ ہیں اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ اللہ کا رسول ہے، اور ملزم ہمیں سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں دیتا ہوا دفتر سے چلا گیا۔ ملزم کے دفتر سے چلے جانے کے بعد ہم نے ملزم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور آخر یہ فیصلہ کیا کہ ملزم کو ”توبہ تائب“ اور دوبارہ کلمہ پڑھانے کے بعد چھوڑ دیں گے۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے مدعی سے ملزم کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھا تو اس کے خیال میں وہ بیرون ملک چلا گیا تھا۔ اس پر میں بھی پرسکون ہو گیا اور پھر مورخہ 22-09-2010 کو اس کیس کے مدعی محمد حفیظ اعوان نے مجھے ٹیلیفون کے ذریعے اطلاع دی کہ ملزم محمد اصغر شہر میں آ گیا ہے اور اب بھی گستاخیاں کرتا ہے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ وہ پولیس اسٹیشن جا رہا ہے اور ہمیں بھی وہاں آنے کی پیشکش کی۔ پھر میں اور وہ تھانہ صادق آباد گئے۔ آفتاب قریشی اور محمد حفیظ بھی تھانے میں موجود تھے۔ سب انسپکٹر رفاقت بھی وہیں تھے۔ تمام دستاویزات اور وزٹنگ کارڈ وغیرہ کو جو کہ مدعی نے ملزم سے قبضے میں لیے تھے، ان کو تھانے میں موجود تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا گیا۔ تفتیشی افسر نے دستاویزات کی اصلیت کے بارے میں مجھ سے تصدیق کی۔ میں نے تصدیق کی کہ یہ وہی دستاویزات ہیں جو میری

صفحہ 868

موجودگی میں ملزم سے چھینی گئیں۔ تفتیشی افسر نے ان سب چیزوں اور کارڈ وغیرہ کو میرے اور آفتاب قریشی کے دستخط شدہ وصولی میمو کے تحت قبضے میں لیا۔ میرا بیان بھی اسی تفتیشی افسر نے ریکارڈ کیا۔ انہوں نے دفتر کا عارضی نقشہ بھی بنایا۔ مورخہ 2010-10-25 کو مجھے صادق آباد تھانہ سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی اور جائے وقوعہ پر پہنچنے کو کہا گیا۔ اس کے مطابق میں مدعی کے دفتر چلا گیا، ایس پی انویسٹی گیشن زرات کیانی وہاں پہنچے اور انھوں نے بھی جائے وقوعہ کا عارضی نقشہ تیار کیا۔ پھر انھوں نے مجھے صادق آباد تھانے بلایا۔ میں وہاں گیا۔ وہاں میں نے دوبارہ وزٹنگ کارڈ اور ملزم کی طرف سے منظور حسین اور ایس ایچ او کو لکھے گئے خطوط کے اصل ہونے کی توثیق کی۔ یہ دستاویزات ایس پی صاحب نے میرے اور آفتاب قریشی کے دستخط شدہ ریکوری میمو کے تحت قبضے میں لے لیں۔ انھوں نے میرا بیان بھی ریکارڈ کیا“۔

اثر ڈالنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ دونوں گواہان استغاثہ نے بالترتیب اپنی شہادتوں میں یہ موقف ثابت کیا کہ ملزم محمد اصغر نے ان کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ وہ حضرت محمدﷺ سے (نعوذ باللہ) افضل ہے۔ ملزم نے انہیں وزٹنگ کارڈ بھی دکھایا جس میں اس نے اپنے آپ کو حضرت محمد اصغرﷺ لکھا ہوا تھا۔ مزید برآں ملزم نے دونوں گواہان استغاثہ کے سامنے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ (ملزم) اللہ کا رسول ہے، پس دونوں گواہان استغاثہ نے اپنی ٹھوس شہادتوں سے استغاثہ کا موقف ثابت کر دیا ہے۔ اگرچہ گواہ استغاثہ نمبر 2 اس کیس کا مدعی ہے جس کے دفتر میں یہ واقعہ رونما ہوا، اور گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد شفیق کی موجودگی بھی ایک قدرتی عمل ہے کیونکہ وہ گواہ استغاثہ نمبر 2 کا دوست ہے اور وہ معمول کے مطابق اس وقت دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ لہذا دونوں گواہان استغاثہ وقوعہ کی تاریخ، وقت، ملزم کے طریقہ کار اور توہین رسالتﷺ کی تمام عبارتوں اور ملزم کے دعویٰ نبوت پر متفقہ موقف رکھتے ہیں۔ لہذا استغاثہ کی ٹھوس شہادت بالکل قابل اعتماد اور فطری ہے۔

دفعہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کیس کے تفتیشی افسر ایس پی زرت کیانی نے فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی جناب یاسر حسین صاحب کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے ملزم کا طبی معائنہ کروایا اور متعلقہ حکام نے ملزم کو جسمانی طور پر مکمل صحت مند قرار دیا۔ جبکہ بعد

صفحہ 869

ازاں ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے دوران فاضل وکیل صفائی مس سارہ بلال ایڈووکیٹ نے ایک درخواست بعذر پیش کی کہ ملزم محمد اصغر دماغی کمزوری کا شکار ہے، پس اس کا ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنہ کروانا چاہیے۔ چنانچہ اس عدالت کی ہدایت پر پانچ ڈاکٹروں پر مشتمل جن میں ایک ماہر نفسیات بھی شامل تھا، ایک میڈیکل بورڈ قائم کیا گیا۔ اور ان سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ ملزم دماغی طور پر مکمل صحت مند انسان ہے۔ لہٰذا ان دونوں میڈیکل رپورٹوں کی روشنی میں ملزم شیزوفرینیا (Paranoid Schizophrenia) کا بھی مریض نہیں ہے اور دماغی طور پر ایک تندرست انسان ہے، پس وہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے موزوں ہے۔

کی روشنی میں ملزم کو فٹ اور ذہنی تندرست قرار دیے جانے پر، اس معاملے پر اعتراضی نکتہ اٹھاتے ہوئے اس کو معزز ہائی کورٹ لاہور کے راولپنڈی بینچ میں چیلنج کیا گیا کہ ملزم کا کراچی کے سپیشلسٹ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروایا جائے اور معزز ہائی کورٹ نے اس درخواست کو بذریعہ آرڈر مورخہ 2011-12-28 خارج کر دیا۔ پس میڈیکل بورڈ کی شہادت اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ مقدمے کا سامنا کرنے والا ملزم کسی دماغی کمزوری کا شکار نہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے ایک مکمل صحت مند انسان ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے نمونہ کے طور پر اس مقصد کے لیے حاصل کردہ تین صفحات تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا تمام دستاویزات ملزم نے خود لکھیں اور دستخط کی ہیں یا نہیں وغیرہ وغیرہ، FIA لیبارٹری اسلام آباد کے لکھائی کے ماہر کو بھیجے گئے۔ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رپورٹ (EX-PM, EX-PM/1, EX-PM/2) نے یہ واضح کر دیا کہ دونوں تحریریں ایک جیسی ہیں اور یہ ملزم اصغر کی لکھی ہوئی ہیں۔ ماہر لکھائی (Writing Expert) گواہِ استغاثہ نمبر 6 آصف حسین شاہ کو بھی وکیل صفائی کی جرح کے مرحلے سے گزرنا پڑا لیکن وہ اس سے اپنے مطلب کی کوئی موافقت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

موقف اختیار کیا کہ مدعی اور ملزم کے درمیان رنجش تھی۔ چونکہ مدعی، ملزم کے مکان میں کرایہ دار تھا

صفحہ 870

اور جب ملزم نے اس سے مکان خالی کرنے کو کہا تو اس نے ملزم کے خلاف یہ جھوٹا اور من گھڑت کیس بنوا دیا اور ملزم کو اس کیس کے بھنور میں ایسا پھنسایا کہ وہ اس میں سے آسانی سے نہ نکل سکے۔

21- فرض محال لمحہ بھر کے لیے یہ سمجھ لیا جائے کہ مدعی اور ملزم کے درمیان گھر خالی کرانے کا جھگڑا تھا، پھر بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کار یہ توہین آمیز دستاویزات، وزٹنگ کارڈ اور خطوط کہاں سے آئے کہ جس میں ملزم نے خود کو خدا کا رسول ظاہر کیا ہے۔ کیا کسی دھمکی یا بندوق کی نوک پر مدعی نے ملزم سے یہ (گستاخانہ) تحریرات لی ہیں یا مدعی نے رشوت دے کر پولیس یا تفتیشی افسر کے ذریعے یہ منظم سازش تیار کی ہے؟ تو اس سوال کا فوری جواب ”نہیں“ ہے۔ جیسا کہ ملزم نے خود پولیس کے سامنے اس کا اعتراف کیا کہ یہ اس کی اپنی لکھائی ہے اور بالخصوص لکھائی کے ماہر (Hand Writing Expert) کی یہ رپورٹ اس معمہ کو حل کرنے کے لیے کافی ہے۔ پس عدالت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ تحریرات خود ملزم نے لکھی ہیں اور وکیل صفائی کا گھر کے معاملے پر رنجش والا موقف کسی صورت بھی اس کیس میں قائم نہیں کیا جاسکتا۔

22- تفتیشی افسر نے ملزم کے قبضے سے کچھ سی ڈیز بھی برآمد کیں اور ریکوری میمو کے تحت انہیں اپنے قبضے میں لے لیا۔ مزید برآں ملزم کی گرفتاری کی خبر جنگل کی آگ کی طرح گلزار قائد کے علاقے میں پھیل گئی اور اس خبر سے بہت سے لوگ جن میں کچھ TV چینل بھی شامل ہیں، وہاں جمع ہو گئے۔ حق TV چینل نے تو اس منظر کی فلم بھی بنائی جس میں (متنازعہ مواد کی) برآمدگی اور ملزم کو گرفتار ہوتے بھی دکھایا گیا ہے، اس چینل کے نمائندے کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال پر ملزم نے یہ اعتراف کیا کہ توہین آمیز کلمات والے خطوط اسی نے لکھے ہیں جس میں اس نے اپنے آپ کو ”حضرت محمد اصغرﷺ“ ظاہر کیا ہے اور (متنازعہ) وزٹنگ کارڈ بھی اس کا اپنا ہے۔

23- فاضل عدالت نے یہ CD بھی دیکھی ہے اور اس CD میں ملزم نے ان دستاویزات اور وزٹنگ کارڈ کی اپنی ملکیت اور ان کے چھپوانے کا اعتراف کیا ہے۔ عدالت کی رائے میں اس CD میں ٹی وی نمائندے کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا ملزم کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ لہٰذا عدالت کی نظر میں ملزم کے خلاف یہ CD ایک ٹھوس شہادت ہے اور مذکورہ CD کے مواد کے مطابق جب ملزم کو صادق آباد پولیس اسٹیشن لے جایا گیا تو سینکڑوں لوگ پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے۔ انھوں نے ملزم کے خلاف نعرے بازی کی

صفحہ 871

اور کچھ لوگوں نے تو ملزم کا منہ بھی کالا کر دیا۔

موقف کی نہ صرف تائید کی بلکہ انھوں نے یہ بھی بیان دیا کہ ملزم محمد اصغر نے ان کے سامنے حضرت محمدﷺ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہہ کر توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے، اور ملزم نے تفتیشی افسر کے سامنے خود کو ”اللہ کا رسول“ ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ مذکورہ گواہ استغاثہ پر وکیل صفائی کی طرف سے جرح کی گئی، اس کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں کہ وہ گواہ سے اپنے حق میں کچھ کہلوا لیں۔ چنانچہ تفتیشی افسر نے ان تمام ثبوتوں اور حقائق کی روشنی میں ملزم کو قصور وار ٹھہرایا اور ملزم کو جیل بھیجتے ہوئے کیس کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا۔

کے دوران ملزم اصغر نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اس عدالت میں موجود اپنے وکیل صفائی اصغر علی گوندل ایڈووکیٹ اور لکھائی کے ماہر (Hand Writing Expert) انسپکٹر آصف حسین شاہ، جیل اور عدالت کے اہلکاروں کے روبرو عدالت میں ان الفاظ میں اعتراف جرم کیا:

”جناب! مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔ میں اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہوں اور برائے مہربانی مجھے کم سے کم سزا دی جائے“۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 340(2) کے تحت پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دینے کے لیے ملزم نے عدالت سے کاغذات وصول کیے اور اس نے عدالت کی طرف سے انگریزی میں ریکارڈ کیے گئے بیان کو کاٹ کر یہ لکھا: ”میں نے کہا تھا میں پیغمبر ہوں“۔ اور اس نے اس پر اپنے دستخط بھی کیے۔ یہ دستاویز EX-CB ہے۔

اعتراف کر لیا ہے، چنانچہ اس کیس کی تمام گتھیاں سلجھ گئی ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ ملزم اصغر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C کا مرتکب ہوا ہے۔

کیس ٹھوس اور دستاویزی شہادتوں کے ساتھ ثابت کر دیا ہے جبکہ بالخصوص ملزم نے عدالت کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان قلمبند کروانے کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور سزا میں نرمی کی درخواست کی ہے، جبکہ عدالت کی یہ رائے اور ٹھوس

صفحہ 872

موقف ہے کہ ملزم محمد اصغر ولد حکم داد نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے۔ لہذا عدالت ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سناتی ہے۔ ملزم کو موت واقع ہونے تک پھانسی دی جائے۔ ملزم کو مبلغ دس لاکھ روپے جرمانے کے طور پر بھی ادا کرنے ہوں گے اور عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنا ہوگی۔ تاہم جب تک معزز ہائی کورٹ اس سزا کی توثیق نہیں کرتی، ملزم کی سزا قابل عمل نہ ہوگی۔ ملزم کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ 7 دن کی مقررہ مدت کے اندر معزز ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔

تصدیق کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 347 کے تحت کیس فائل مع تمام دستاویزات اور پولیس فائل، ریفرنس کے طور پر معزز ہائی کورٹ کو بھیجا جائے۔ فائل کو متوقع تکمیل کے بعد ریکارڈ روم میں بھیجا جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ محمد نوید اقبال 23 جنوری 2014ء ایڈیشنل سیشن جج، راولپنڈی حال اڈیالہ جیل کیمپ

صفحہ 873

جناب چودھری غلام مرتضیٰ ایڈیشنل سیشن جج لاہور

سرکار بنام ساون مسیح عرف بودی ولد چمن مسیح، مارچ 2014ء

صفحہ 874
صفحہ 875

دل کی بات

7 مارچ 2013ء کو جوزف کالونی لاہور کے رہائشی ساون مسیح عرف بودی نے اپنے محلہ داروں کے سامنے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں بکواس کرتے ہوئے کہا: ”میرا یسوع مسیح سچا ہے، وہ آئے گا، وہ اللہ کا بیٹا ہے (نعوذ باللہ)، مسلمانوں کا نبی..................... ..................................................اور میرا یسوع مسیح سچا ہے، وہی بچائے گا۔“

اس موقع پر موجود لوگوں نے ساون مسیح کو ایسے گستاخانہ جملے ادا کرنے سے روکا تو اس نے انہیں گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اسے پکڑنے کی کوشش کی گئی مگر ملزم دوبارہ مذکورہ گستاخانہ جملے ادا کرتا ہوا موقع واردات سے بھاگ گیا۔ اس واقعہ کے بعد مقامی آبادی کے بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے۔ باہمی مشورہ ہوا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ چنانچہ مارچ 2013ء کو مدعی مقدمہ محمد شفیق نے تھانہ بادامی باغ لاہور میں درخواست دی جس پر ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اس اہم مقدمہ کی تفتیش ایس پی انوسٹی گیشن جناب سید محمد امین بخاری شاہ صاحب نے کی جو خوف خدا، ایمانداری اور غیر جانبداری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ محترم ایس پی صاحب نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ وقوعہ کے وقت ملزم شراب کے نشہ میں دھت تھا۔ 16 مارچ 2013ء کو انہوں نے کیمپ جیل لاہور میں ملزم سے تفتیش کی۔ دوران تفتیش ملزم نے اپنے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا اعتراف کیا۔ تقریباً ایک سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ ٹھوس شہادتوں اور دلائل کے ساتھ استغاثہ نے اپنا مقدمہ ثابت کر دیا۔ چنانچہ 27 مارچ 2014ء کو جناب چودھری غلام مرتضیٰ ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی۔ محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں جہاں وکلائے صفائی کی طرف سے بیان کی گئیں قانونی موشگافیوں کا تسلی بخش جواب دیا، وہیں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے سلسلہ میں قرآن وحدیث سے بڑے اہم حوالہ جات بھی

صفحہ 876

دیئے جس سے اس فیصلہ کی اہمیت و افادیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

یہاں یہ امر نہایت فکر انگیز ہے کہ اس فیصلہ کے خلاف بین الاقوامی میڈیا نے نہایت شر انگیز اور متعصبانہ رویہ اختیار کیا۔ خود کو پوری دنیا سے زیادہ انصاف پسند اور پڑھے لکھے سمجھنے والوں نے عدالتی فیصلے پر جس طرح طعن و تشنیع کی، اس کی مثال کسی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ یہ ہے یورپ کا وہ بھیانک چہرہ جو اس فیصلہ سے بے نقاب ہوا۔

اس فیصلہ کی نقل تحفظ ختم نبوت کے سرگرم مجاہد جناب محمد طیب قریشی ایڈووکیٹ نے فراہم کی جس پر وہ بے حد شکریہ کے مستحق ہیں۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 877

بعدالت جناب چودھری غلام مرتضیٰ، ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 112/13 بتاریخ 8 مارچ 2013ء پولیس سٹیشن : بادامی باغ، لاہور بجرم : زیر دفعہ تعزیرات پاکستان 295-C

سرکار

بنام

ساون مسیح عرف بودی ولد چمن مسیح، ساکن جوزف کالونی، بادامی باغ، لاہور (ملزم)

وکیل منجانب سرکار: رحمان شوکت بھٹی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر

وکیل منجانب ملزمان: نعیم شاکر ایڈووکیٹ، طاہر بشیر ایڈووکیٹ، ناصر انجم ایڈووکیٹ، تنویر مسیح ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ: 27 مارچ 2014ء

صفحہ 878

فیصلہ

جناب چودھری غلام مرتضیٰ، ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

مندرجہ بالا مقدمہ میں مقامی پولیس کی طرف سے مندرجہ بالا ملزم کا چالان، مقدمہ کی سماعت کے لیے بھیجا گیا۔

08-03-2013 کو ایک ایف آئی آر درج کرائی کہ نماز فجر کے بعد وہ اپنے گھر سے پیدل سیر کرنے کے لیے باہر نکلا اور جب وہ باؤ سعید کے گودام کے نزدیک پہنچا جہاں محمد شفیق اور دکاندار افتخار خان بھی موجود تھے اور وہ باتیں کر رہے تھے۔ دریں اثناء، وہ نزدیک ہی ایک رکشا بھی موجود تھا اور اس رکشے میں ساون مسیح عرف بودی ولد چمن مسیح ساکن جوزف کالونی جو مدعی اور گواہان استغاثہ سے پہلے ہی واقف تھے، نے اچانک حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ مدعی اور گواہان استغاثہ نے اسے روکا اور اسے پکڑنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ بھاگ گیا اور پھر علماء کے مشورے سے (ملزم کے خلاف) ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

اسے فوجداری نقول مہیا کی گئیں۔ اس پر رسمی فرد جرم عائد کر دی گئی اور استغاثہ کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے کہا گیا۔ استغاثہ نے مندرجہ ذیل ثبوت پیش کیا:

ایچ او پولیس سٹیشن، بادامی باغ لاہور تعینات ہوا اور میں نور روڈ، بادامی باغ میں سرکاری گاڑی

صفحہ 879

میں موجود تھا جہاں مدعی شاہد عمران نے دو گواہان استغاثہ کے ہمراہ وقوعہ کے متعلق درخواست (Ex.PA) پیش کی جس پر میں نے پولیس کی کارروائی (Ex.PA/1) اپنے ہاتھ سے درج کی، اپنے دستخط ثبت کیے اور پھر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

محمد صابر اور میرا بہنوئی قاسم علی میرے گھر میں تھے اور ان کی کار باؤ سعید کے گودام میں کھڑی تھی۔ میں نے بذریعہ ٹیلیفون باؤ سعید کے ملازم کو اس کے گودام سے کار لینے کے متعلق مطلع کیا اور اس نے جواب دیا کہ وہ گودام پہنچ جائے گا۔ دریں اثناء میں، محمد شبیر اور عاصم علی کے ہمراہ گودام کے پھاٹک پر موجود تھا۔ گودام کا ملازم گودام کے پھاٹک پر پہنچ گیا تھا۔ اسی دوران میں عدالت ہذا میں حاضر ملزم ساون مسیح نے باتیں کرنی شروع کردیں۔ افتخار حسین شفیق گواہان استغاثہ بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ ملزم نے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ”میرا یسوع مسیح سچا ہے، وہ آئے گا، وہ اللہ کا بیٹا ہے (نعوذ باللہ)، مسلمانوں کا نبی ............................................ اور میرا یسوع مسیح سچا ہے، وہی بچائے گا ۔“ اس وقت تولا مسیح اور تاگا مسیح (امجد مسیح ) نامی دو افراد بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے ملزم کو روکا کہ وہ یہ الفاظ نہ استعمال کرے اور جواب میں ملزم ساون مسیح نے انہیں گالیاں دیں۔ گواہ استغاثہ شفیق نے مندرجہ بالا زبان، الفاظ استعمال کرنے کی بنا پر اس پر حملہ کردیا اور میں نے گواہان استغاثہ کے ہمراہ، ملزم ساون مسیح کو محمد شفیق سے علیحدہ کیا اور بچایا۔ اس نے کہا کہ ملزم نے روکنے کے باوجود گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔ مقامی آبادی کے بہت سے لوگ بھی وہاں پہنچ گئے اور ہم نے ملزم ساون مسیح کی طرف سے استعمال کیے گئے الفاظ کے متعلق انہیں بتایا اور بتایا کہ تولا مسیح اور تاگا مسیح نے بھی ملزم کو ایسا کرنے سے روکا۔ جب ہم نے گواہ استغاثہ محمد شفیق سے ملزم کو چھڑایا تو وہ جائے وقوعہ سے بھاگ گیا۔ ہم نے گواہ استغاثہ محمد شفیق سے کہا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ 08-03-2013 گواہ استغاثہ محمد شفیق دوبارہ ہمارے پاس آیا۔ اس دن جمعہ تھا اور نماز جمعہ کے بعد بہت سے لوگ موجود تھے۔ گواہ استغاثہ محمد شفیق کے ہاتھ میں چھری تھی اور وہ ملزم ساون مسیح کو قتل کرنے کے درپے تھا۔ کسی نے پولیس کو مطلع کیا اور پولیس وہاں پہنچ گئی۔ تب درخواست (Ex.PA) تیار کی گئی اور درخواست اسی جگہ پر پولیس کے حوالے کی گئی اور اس درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ درخواست پر میں نے اپنا انگوٹھا نشان ثبت کیا ہے

صفحہ 880

اور درخواست مجھے پڑھ کر سنائی گئی ۔ 2013-03-15 کو میں ایس پی انویسٹی گیشن کے روبرو پیش ہوا ۔ اس نے ساون مسیح کی طرف سے استعمال کیے گئے الفاظ کے متعلق پوچھا اور میں نے ان الفاظ کے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور درخواست Ex.PB پیش کردی۔ 16-3-13 کو ایس پی نے مسجد میں تفتیش کی۔ ممکن ہے کہ مسجد کا نام مسجد غوثیہ ہو لیکن مجھے درست نام معلوم نہیں اور اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ اسی دن ایس پی انویسٹی گیشن کی موجودگی میں ملزم ساون مسیح نے اعتراف کیا کہ اس سے غلطی ہوئی اور مجھ سے کہا کہ پہلے دو مواقع پر اس نے مجھے معاف کر دیا اور اس دفعہ میرے خلاف قانونی کارروائی کیوں شروع کی گئی ۔ پھر ملزم نے معافی طلب کی اور میں ایس پی کے ساتھ چلا گیا ۔

پر ، جامعہ مسجد چشتیہ میں نماز فجر ادا کرنے کے بعد میں اپنے گھر جا رہا تھا اور راستے میں میری ملاقات کیس کے مدعی شاہد عمران اور اس کے دو رشتہ داروں سے ہوئی ۔ مجھے ان کے نام معلوم نہیں ۔ نزدیک ہی کھڑے ایک رکشے میں ملزم ساون مسیح دو دوسرے افراد تو لا مسیح اور تا گا مسیح کے ساتھ وہاں موجود تھا ۔ گواہ استغاثہ محمد شفیق بھی وہاں پہنچ گیا ۔ ساون مسیح نے با آواز بلند باتیں کرنی شروع کر دیں اور کہا کہ

”ہمارا یسوع مسیح سچا ہے ، وہ آئے گا اور وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بچائے گا اور (نعوذ با اللہ ) یہ بھی کہا مسلمانوں کا نبی .....................................................“

اس پر گواہ استغاثہ محمد شفیق نے ساون مسیح پر حملہ کر دیا اور پھر وہاں موجود تو لا مسیح کے علاوہ تاگا مسیح نے بھی ملزم کو ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روکا ۔ ہم نے محمد شفیق کو قابو میں کرنے کی کوشش کی جو ملزم کو گالیاں دے رہا تھا ۔ اس دوران ملزم ساون مسیح موقع سے بھاگ گیا ۔ ہم نے گواہ استغاثہ شفیق کو ٹھنڈا کیا اور ہم گھر چلے گئے ۔ اگلے دن مجھے بذریعہ ٹیلیفون مطلع کیا گیا کہ کرسچین کالونی میں لڑائی ہوئی ہے ۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا ۔ پولیس کو درخواست دی گئی جو پہلے ہی سے وہاں موجود تھی ۔ ہم پولیس سٹیشن چلے گئے اور پولیس نے ہمیں مطلع کیا کہ جائے وقوعہ پر لوگ (مشتعل) ہیں اور ہمیں وہاں جانے کے لیے کہا ، تاکہ لوگوں کو ٹھنڈا کریں ۔ تب ہم پولیس کے ہمراہ جائے وقوعہ پر گئے اور انہیں مطلع کیا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ اگلے دن ، میں دوپہر 12 بجے جائے وقوعہ پر پہنچا ۔ وہاں کچھ

صفحہ 881

چیزوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا اور ہم نے وہاں موجود لوگوں کو ٹھنڈا کیا۔

سے صبح 7.00 تک، میں، مدعی شاہد عمران مدعی اور گواہ استغاثہ قاسم علی کے ہمراہ، گودام کے پھاٹک پر موجود تھا۔ گواہ استغاثہ قاسم میرا کلرک اور میرا عزیز بھی ہے۔ ہم نے گیراج میں سے کار لینی تھی اور وہاں عدالت میں حاضر ملزم، بھی رکشا کے ساتھ موجود تھا اور اس نے رکشا کے ساتھ نصب پائپ کو پکڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ ”ہمارا یسوع مسیح آئے گا، وہ ضرور آئے گا جو اللہ کا بیٹا ہے (نعوذ باللہ) جو مسلمانوں کا نبی ہے، وہ...........................................................................................“

پھر مدعی شاہد عمران اور ملزم کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا اور میں نے شاہد عمران سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے اور اس نے مجھ سے کہا کہ میں اپنی کار لوں اور کام پر چلا جاؤں۔ اسی اثناء میں شفیق اور افتخار نامی دو افراد بھی وہاں پہنچ گئے۔ پھر میں اپنی پیشی کے لیے ہائی کورٹ چلا گیا۔

بطور ڈیوٹی افسر، پولیس سٹیشن بادامی باغ، لاہور میں تعینات تھا۔ اسی دن میں نے کانسٹیبل نعیم احمد نمبر 16777/C کے ہاتھوں ایک تحریری درخواست (Ex.PA) موصول کی جسے حافظ عبدالمجید انسپکٹر نے ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھجوائی تھی جس پر میں نے اپنی طرف سے بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے، رسمی ایف آئی آر (Ex.PA/2) اپنے ہاتھ سے درج کی اور اس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔

انچارج تفتیش، پولیس سٹیشن بادامی باغ میں تعینات تھا۔ ایف آئی آر نمبر 112/13، پولیس سٹیشن بادامی باغ کے کیس کی تفتیش موصول ہوئی جو میرے سپرد کی گئی۔ چونکہ میں قانونی طور پر اس مقدمے کی تفتیش کا اہل نہیں تھا، اس لیے میں نے تفتیش کے لیے مسل ایس پی انویسٹی گیشن، سٹی ڈویژن کو بھجوا دی۔

بطور ایس پی سٹی آپریشن لاہور، تعینات تھا۔ ایس پی انویسٹی گیشن، لاہور چھٹی پر تھا اور ایس پی

صفحہ 882

انویسٹی گیشن کا اضافی چارج بھی مجھے دیا گیا تھا۔ 13-3-8 کو اس مقدمہ کی تفتیش میرے سپرد کی گئی۔ میں جائے وقوعہ پر گیا جہاں مدعی اور گواہان استغاثہ موجود تھے۔ میں نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مدعی اور گواہان استغاثہ محمد شفیق اور افتخار احمد کے بیانات ریکارڈ کیے۔ مدعی بھی شامل تفتیش ہوگیا اور اس نے ایف آئی آر کے مندرجات کی تصدیق کی۔ میں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ (Ex.PC) میں نے اپنے ہاتھ سے تیار کیا اور اس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔

09-03-2013 کو میں نے ملزم ساون مسیح کو گرفتار کرلیا اور اسی دن علاقہ مجسٹریٹ کے ذریعے اسے جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا۔ پھر ایس پی انویسٹی گیشن آپریشن کے عہدے سے میرا تبادلہ کر دیا گیا۔

11- گواہ استغاثہ نمبر 8، سید محمد امین بخاری ایس پی انویسٹی گیشن سٹی ڈویژن لاہور نے گواہی دی کہ 2013-03-12 کو مجھے ایس پی انویسٹی گیشن لاہور تعینات کیا گیا۔ اسی دن اس مقدمہ کی تفتیش مجھے تفویض کر دی گئی۔ مجھ سے پہلے مقدمہ ہذا کی تفتیش ملتان خان ایس پی انویسٹی گیشن نے کی۔ ملزم ساون خان پہلے ہی گرفتار تھا اور وہ جوڈیشل لاک اپ میں تھا۔ میں نے 2013-03-12 کو بذریعہ انسپکٹر شبیر احمد ملزم کی مزید تفتیش کے لیے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو درخواست پیش کی۔ میں نے ملزم سے تفتیش کی۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ شراب کے نشے میں دھت تھا اور اسے یاد نہیں کہ اس نے کوئی گستاخانہ اہانت آمیز الفاظ کہے یا نہیں۔ 13-03-2013 کو معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے سوموٹو نوٹس کے مطابق، بابر بخت قریشی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو ریکارڈ پیش کیا۔ 2013-03-14 کو حافظ عبدالمجید ایس ایچ او بادامی باغ اور خالق حسین ایس آئی، پولیس سٹیشن بادامی باغ بھی شامل تفتیش ہوگئے۔ 2013-03-15 کو مقدمہ ہذا کے مدعی شاہد عمران نے اپنا ضمنی بیان (Ex.PB) پیش کیا۔ اس نے استغاثہ کے دو گواہوں، محمد بشیر اور قاسم علی کو یہ موقف اختیار کرتے ہوئے نامزد کیا کہ لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے اس نے ایف آئی آر میں گواہان استغاثہ کے ناموں کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے اپنے ضمنی بیان میں ملزم کی طرف سے کہے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا بھی ذکر کیا۔ 2013-03-16 کو میں نے کیمپ جیل میں دوبارہ ملزم سے تفتیش کی۔ دوران تفتیش ملزم نے اپنے گستاخانہ اور اہانت

صفحہ 883

آمیز الفاظ کا اعتراف کیا۔ اسی دن میں نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، گواہان استغاثہ محمد بشیر اور قاسم علی کے بیانات ریکارڈ کیے۔ 2013-03-17 کو ایف آئی آر کا گواہ رفیق عرف شیخو بھی شامل تفتیش ہو گیا اور میں نے افتخار احمد خاں، فضل حسین شاہ عرف کاکے شاہ، چمن مسیح، دولہ مسیح اور قاری سیف اللہ سے بھی تفتیش کی۔ انہوں نے قدرے مختلف الفاظ میں مدعی کے دعوے کی تصدیق کی ہے۔ میں نے تفتیش مکمل کی اور 2013-03-24 کو زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، کامران زمان ایس ایچ او پولیس سٹیشن بادامی باغ نے رپورٹ تیار کی۔

گواہیوں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ترک کر دیا اور 2014-01-04 کو مقدمہ ہذا میں استغاثہ کی گواہی بند کر دی۔

”گواہ مدعا علیہ نمبر 1 خالد مسیح نے گواہی دی کہ میں جوزف کالونی لاہور میں پیدا ہوا۔ میرے والدین اور دادا، دادی بھی جوزف کالونی لاہور میں رہتے تھے۔ جوزف کالونی کے ارد گرد ایک آئرن مارکیٹ ہے۔ ہمارے والدین نے ہمیں بتایا تھا کہ لوہے کے گوداموں کے مالکان جوزف کالونی کے مکینوں سے زمین خریدنا چاہتے تھے لیکن ہمارے آباء واجداد نے زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ زمین شہر میں اور ان کے کام کرنے کی جگہ کے قریب واقع تھی۔ جب میں بڑا ہوا تو لوگوں نے مجھ سے بھی زمین کی خریداری کے لیے رابطہ کیا لیکن میں نے زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ آئرن مارکیٹ میں صرف جوزف کالونی کی آبادی تھی اور وہ یہ زمین ہم سے خریدنا چاہتے تھے۔ آئرن مارکیٹ کے مالکان نے جوزف کالونی کے دیگر مکینوں سے بھی زمین کی خرید کے لیے رابطہ کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ مارکیٹ کے مالکان نے ایک منصوبہ تیار کیا اور انہوں نے لوہا تیار کرنے کے لیے کیمیکل کا استعمال شروع کر دیا اور کیمیکل نے جوزف کالونی کے مکینوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ میں بھی کیمیکل سے متاثر ہوا اور ٹی بی کا مریض بن گیا۔ تب مارکیٹ کے مالکان کی طرف سے ایک اور منصوبہ تیار کیا گیا۔ عمران بابر اور مقدمہ ہذا میں ملزم ساون مسیح آپس میں قریبی دوست تھے۔ عمران بابر، ساون مسیح کے گھر میں آیا کرتا اور کھانا بھی کھاتا۔ انہوں نے عمران بابر کو استعمال کیا

صفحہ 884

اور عمران نے ہمیں جوزف کالونی خالی کرنے کا حکم دیا کیونکہ ہماری زندگیوں کو خطرہ تھا۔ ہم جوزف کالونی سے چلے گئے اور جوزف کالونی کو نذر آتش کر دیا گیا اور انہوں نے ملزم ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کرنے کا پروپیگنڈا کیا۔ انہوں نے بینر تیار کیے اور ساون مسیح کے خلاف مساجد میں اعلانات کیے۔ آئرن مارکیٹ کے مالکان نے غلط طور پر ساون مسیح کو اس مقدمہ میں ملوث کیا اور میری رائے میں وہ بے گناہ ہے۔‘‘

آئرن مارکیٹ اور صوفی سٹیل ملز کا کارخانہ ہے۔ وہ لوہا بنانے کے لیے کیمیکل استعمال کرتے اور ہتھوڑے کے استعمال سے بہت ہی اونچی آواز برآمد ہوتی جو ہمارے گھروں کے لیے پریشان کن ثابت ہوتی۔ یہ کیمیکل صحت کے لیے نہایت نقصان دہ تھا اور صوفی سٹیل مل کے خلاف ہماری طرف سے پولیس سٹیشن درخواست پیش کی گئی۔ آئرن مارکیٹ کے مالکان جوزف کالونی کے مکینوں سے زمین خریدنا چاہتے تھے اور یہی حقیقت ہمارے والدین نے بھی بیان کی تھی۔ ہمارے والدین نے زمین دینے سے انکار کر دیا تھا اور آئرن مارکیٹ کے مالکان ہم سے زمین حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے صوفی سٹیل مل کی طرف سے زمین کی فروخت کے لیے ہم سے رابطہ کیا اور ایک شخص محمد افضل نے اس مقصد کی خاطر مجھ سے رابطہ کیا۔ شفیق عرف شیخو بھی جوزف کالونی کی زمین ہم سے خریدنا چاہتا تھا اور وہ گودام کا ملازم تھا۔ آئرن مارکیٹ کے کارخانوں اور گوداموں کے مالکان نے زمین کے حصول کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور انہوں نے اس مقصد کی خاطر عمران بابر کو استعمال کیا۔ عمران بابر اور ساون مسیح قریبی دوست اور ہمسائے تھے۔ 8-1-2013 کو مجھے معلوم ہوا کہ مدعی مقدمہ عمران شاہد اور ملزم ساون مسیح کے درمیان جھگڑا ہوا اور شفیق عرف شیخو نے منصوبے کے مطابق ساون مسیح کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔ پھر ایس ایچ او پولیس سٹیشن بادامی باغ نے ہمیں مطلع کیا کہ ہمیں جوزف کالونی خالی کرنی ہوگی ورنہ ہماری زندگیوں کو خطرہ ہے۔ تب ہم نے 09-03-2013 کو جوزف کالونی خالی کر دی اور ہم نے دیکھا کہ جوزف کالونی میں کارخانوں کے مالکان اور آئرن مارکیٹ کے انتخابی امیدواروں کی جانب سے بینر لگائے گئے اور گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مقدمہ ہذا میں ایک منصوبہ کے تحت ساون مسیح کو جھوٹے طور پر ملوث کیا گیا۔

صفحہ 885

گواہی اور ثبوت بند کر دیے۔

16- زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم ساون مسیح کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس نے اس سوال کا جواب دیا کہ اس کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا گیا اور کیوں گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف بیان دیے۔ اس سلسلہ میں ملزم نے درج ذیل بیان دیا:

”میں جوزف کالونی میں رہتا ہوں جس کے ارد گرد سٹیل مارکیٹ ہے۔ سٹیل مارکیٹ کے گودام کے مالکان ان مکینوں کو جو عیسائی ہیں، کہتے رہے اور انہیں مجبور کرتے رہے کہ وہ یہ زمین انہیں دے دیں جس کے عوض وہ انہیں بہت اچھا معاوضہ دیں گے لیکن وہ راضی نہ ہوئے اور برسوں تک اس مطالبہ سے احتراز کرتے رہے ہیں۔ بالآخر انہوں نے کالونی کے مکینوں کو بے دخل کرنے کے لیے ایک سازش تیار کی۔ انہوں نے موجودہ مدعی کے ذریعے توہین رسالت کے قانون کے تحت ایک جھوٹا مقدمہ گھڑا جس کے ساتھ میرے قریبی تعلقات ہیں۔ ان دنوں میں گودام مالکان کے مارکیٹ کمیٹیوں کے انتخابات ہو رہے تھے جن میں سٹیل مارکیٹ کے دو گروپ (امان گروپ اور اتحاد گروپ) شریک تھے۔ انہوں نے میرے خلاف نبی اکرم (ﷺ) کی توہین کے الزامات کے بینر لگائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے اور ملزم ان کے حوالے کیا جائے۔ قریبی کالونیوں سے لوگوں کے گروپ اور مذہبی عالم ملوث تھے جنہوں نے مساجد میں اعلان کیا کہ عیسائیوں نے نبی اکرم (ﷺ) کے خلاف توہین کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے لوگوں کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھیلا۔ اسی سہ پہر کو انہوں نے میرے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرائی۔ اسی دن انہوں نے جوزف کالونی کو نذر آتش کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے عیسائی مکینوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے مقامی پولیس کو ملوث کیا اور مکینوں کو دھمکی دی گئی کہ وہ یہاں سے چلے جائیں تاکہ ان کی جانیں محفوظ رہیں۔ اپنی جان بچانے کی خاطر عیسائی رات تک یہاں سے جاتے رہے اور 9 مارچ کو علی الصبح، انہوں نے تقریباً 200 گھر جلاتے ہوئے کالونی کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس نے مجھے 8 مارچ کی رات گرفتار کر لیا اور یہ سب کالونی کو ہتھیانے کی ایک سازش تھی۔ مدعی، گواہان استغاثہ اور بعد ازاں 83 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 114/13 زیر دفعات 148، 149، 436، 427، انسداد دہشت گردی ایکٹ 337/F1.L2، 295/A، 353، 377، 324/186 تعزیرات پاکستان درج کی گئی اور

صفحہ 886

وہ انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو مقدمہ کا سامنے کر رہے ہیں۔ مجھے اس گھناؤنی سازش میں قربانی کا بکرا اور نشانہ بنایا گیا ہے۔“

کی بنیاد پر ملزم کو غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور ایف آئی آر (Ex,PA) میں اس حقیقت کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا کہ ملزم کی طرف سے نبی اکرم (ﷺ) کے خلاف کس قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے، نیز وقوعہ کے 8 روز بعد ریکارڈ کردہ ضمنی بیان کی قانون کی نگاہوں میں کوئی اہمیت نہیں اور اسے ایف آئی آر کے لازمی حصے کے طور پر پڑھا نہیں جا سکتا۔ ضمنی بیان (Ex.PB) سوچا سمجھا ہے اور ملزم کے خلاف ایف آئی آر، علماء کے مشورے سے درج کرائی گئی اور یوں بنیادی دستاویز ایف آئی آر ثبوت کے طور پر معتبر نوعیت کی حامل نہیں اور اسے ملزم کے خلاف سمجھا نہیں جا سکتا۔ ایف آئی آر میں مذکور گواہان استغاثہ اور مدعی کے بیان (Ex.PB) کے دو گروپ ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ مقدمہ ہذا میں استغاثہ کے ثبوت میں اہم تضادات اور ناموافقیتیں موجود ہیں اور گواہان استغاثہ مفاد پرست گواہان ہیں اور ان کا مفاد یہ ہے کہ انہیں آئرن مارکیٹ کے مالکان کی طرف سے استعمال کیا گیا ہے اور آئرن مارکیٹ کے مالکان جوزف کالونی کا قبضہ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے جوزف کالونی کے مکینوں کو پیشکشیں کیں اور جوزف کالونی کے مکینوں نے اپنی زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا اور پھر بالآخر ایک سازش تیار کی گئی کہ جوزف کالونی کے مکینوں کو بے دخل کیا جائے اور اس سازش کے تحت موجودہ مدعی کے ذریعہ توہین رسالت کا ایک مقدمہ تیار کیا جس کے ساتھ ملزم کے قریبی تعلقات تھے اور ان دنوں گودام مالکان کے ہاں مارکیٹ کمیٹیوں کے انتخابات ہو رہے تھے جن میں سٹیل مارکیٹ کے دو گروپ، امان گروپ اور اتحاد گروپ انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے ملزم کے خلاف نبی اکرم (ﷺ) کے خلاف توہین کے الزامات پر مشتمل بینر لگائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے اور ان کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے قریبی کالونیوں کے لوگوں اور علماء کو جمع کر لیا جنہوں نے مساجد میں اعلان کیا کہ ایک عیسائی نے نبی اکرم (ﷺ) کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اسی سہ پہر انہوں نے لوگوں کے مذہبی جذبات

صفحہ 887

سے کھیلا، انہوں نے 33 گھنٹوں کی تاخیر سے ایف آئی آر درج کرائی جس کی وجہ استغاثہ نے بیان نہیں کی اور یہ وقت مشاورت میں گزر گیا۔ اسی دن انہوں نے جوزف کالونی کو نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے عیسائیوں میں خوف وہراس پیدا کرنے کے لیے مقامی پولیس کو ملوث کیا اور عیسائیوں کو دھمکی دی کہ اپنی جان بچانے کی خاطر وہ جوزف کالونی سے چلے جائیں۔ اپنی جانیں بچانے کے لیے عیسائی رات تک یہاں سے جاتے رہے اور 09-03-2013 کو علی الصبح، انہوں نے کالونی کو آگ لگا دی اور 200 گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ پولیس نے 08-03-2013 کو ملزم کو گرفتار کر لیا۔ یہ کالونی کو ہتھیانے کی ایک سازش تھی۔ مدعی، گواہان استغاثہ اور بعدازاں 83 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 114/13 زیر دفعات 148، 149، 436، 427، انسداد دہشت گردی ایکٹ 324/186 ،377 ،353 ،295/A ،337/F1.L2 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کی گئی اور وہ انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو مقدمہ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملزم کو گھناؤنی سازش میں قربانی کا بکرا اور نشانہ بنایا گیا۔ اس نے مزید کہا کہ جرم زیر دفعہ 295-C کی خاطر، استغاثہ کے گواہان، تزکیہ الشہود کے معیار کے ہونے چاہیے تھے لیکن مقدمہ ہذا میں گواہان استغاثہ اس معیار کے مطابق نہیں تھے۔ استغاثہ، بلاشک وشبہ، ملزم ساون مسیح کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور ایف آئی آر، مبینہ وقوعہ واقع ہونے کے وقت ملزم ساون مسیح کی طرف سے گستاخانہ الفاظ کے ذکر کے بغیر درج کی گئی۔ ضمنی بیان (Ex.PB)، وقوعہ کے واقع ہونے کے 8 روز بعد ریکارڈ کیا گیا اور یہ مشاورت اور ہدایات پر مبنی تھا۔ اس لیے اس بیان کو قانون کے مطابق ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر پڑھا نہیں جا سکتا۔ مقدمہ ہذا کے مادی ثبوتوں کے متعلق استغاثہ کے بیانات میں غلط طور پر تصحیح کی گئی ہے اور ایف آئی آر کی کہانی کو استغاثہ نے غلط طور پر توڑ موڑ کر بیان کیا ہے تاکہ بدنیتی اور پوشیدہ مقاصد کی بنیاد پر مقدمہ کو مضبوط کیا جائے۔ تاہم یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ اگر استغاثہ کسی شک وشبہ کے بغیر مقدمہ کو ثابت کرنے میں ناکام ہو جائے تو پھر ملزم کو اپنے حق میں شک کے فائدہ کے حصول کا حق حاصل ہے۔ اس لیے ملزم، شک کے فائدے کا حامل ہونے کے باعث بری ہونے کا حقدار ہے۔

صفحہ 888

مقدمہ ہذا میں استغاثہ نے گواہ استغاثہ نمبر 1 حافظ عبدالمجید پیش کیا جس نے شاہد عمران (Ex.PA) کی شکایت پر ایف آئی آر (Ex.PA/2) درج کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 شاہد عمران نے گواہی دی کہ 07-03-2013 کو وقوعہ کے وقت اس کے مہمان محمد شبیر اور قاسم علی، اس کے گھر موجود تھے اور ان کی کار باؤ سعید کے گودام کی کھڑی تھی۔ اس نے بذریعہ ٹیلیفون، باؤ سعید کے ملازم کو باؤ سعید کے گودام میں سے کار لینے کے متعلق مطلع کیا اور اس نے جواب دیا کہ وہ گودام پہنچ جائے گا۔ دریں اثناء وہ شبیر اور قاسم علی کے ہمراہ گودام کے گیٹ پر پہنچ گیا۔ چوکیدار، گودام کے پھاٹک پر پہنچ گیا۔ دریں اثناء، ساون مسیح، عدالت میں موجود ملزم نے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ گواہان استغاثہ افتخار حسین اور شفیق بھی وہاں پہنچ گئے۔ ملزم نے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اس طرح، گواہ استغاثہ نمبر 2 کے بیان میں اس نے گواہوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا، نیز ملزم ساون مسیح کی طرف سے حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا بھی ذکر کیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 افتخار خان، گواہ استغاثہ نمبر 4، شبیر حسین نے بھی ملزم ساون مسیح کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کی تفصیل مہیا کی۔ اس طرح، مدعاعلیہ کے فاضل وکیل کی طرف سے یہ اعتراض کہ ایف آئی آر توہین رسالتﷺ کے متعلق استعمال کی گئی، زبان کے حوالے سے خاموش ہے، قانونی اہمیت کا حامل نہیں۔ اس نے مزید دلیل یہ دی کہ دستاویز Ex.PA/2 کے حوالے سے ایف آئی آر کے مندرجات جن کے ذریعے ملزم کی موجودگی ظاہر کی گئی اور اس نے نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے، نیز یہ بھی ذکر کیا گیا کہ نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کیے گئے اور اس نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا اور تب ضمنی بیان (Ex.PB) کے ذریعے، الفاظ کا بھی ذکر کیا گیا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے فاضل وکیل کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ہوئی جس کی مفصل وضاحت کی گئی ہے اور ملزم کے موقف کے مطابق وہاں لڑائی ہوئی اور اگلے دن ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ مدعاعلیہ کے فاضل وکیل کا موقف یہ ہے کہ گواہان استغاثہ کی طرف سے وقوعہ کے متعلق عدالت میں بیانات پیش کرنے سے قبل ان میں غلط ترمیمات کی گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے اصلی حقائق اور وقوعہ ریکارڈ پر لائے گئے جس طرح یہ واقعہ ہوا اور استغاثہ کی طرف سے کوئی بھی من گھڑت اور مسخ شدہ کہانی ریکارڈ پر نہیں لائی

صفحہ 889

گئی۔ یوں استغاثہ، ملزم ساون مسیح کے خلاف مقدمہ ہذا ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ مدعا علیہ کے فاضل وکیل نے یہ دلیل دی کہ گواہان استغاثہ کا معیار تزکیہ الشہود کے مطابق نہیں لیکن اس حوالے سے استغاثہ کے گواہان پر جرح کے وقت اس طرح کا کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا اور گواہان استغاثہ پر تزکیہ الشہود کے معیار پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور جس مقدمہ کو مدعا علیہ کے فاضل وکیل نے مثال کے طور پر پیش کیا، اس ضمن میں کوئی مخصوص ہدایات اور فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے کہ گواہان استغاثہ کے معیار یعنی تزکیہ الشہود کے بغیر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔ یوں استغاثہ نے بغیر کسی شک وشبہ کے اپنا مقدمہ کامیابی سے ثابت کر دیا۔

20- ریکارڈ کے بغور ملاحظہ کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم ساون مسیح کے خلاف یہ الزام ہے کہ 2013-3-7 کو تقریباً نماز فجر کے وقت اس نے نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے اور پھر ایف آئی آر 13-3-8 کو بعد دوپہر 3.05 پر درج کرائی گئی۔ سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ دستاویز (2/Ex.PA) پر بغور نظر ڈالی جائے جس کے مطابق شاہد عمران گواہ استغاثہ نمبر 2 نے بیان کیا کہ وہ بادامی باغ میں کرایے کے ایک مکان میں رہتا ہے اور وہ ہیئر کٹنگ کی ایک دکان چلا رہا ہے، 07-03-2013 کو نماز فجر کے بعد وہ سیر کے لیے باہر گیا۔ جب وہ باؤ سعید کے گودام کے نزدیک پہنچا تو، اس کا ہمسایہ محمد شفیق دکاندار اور افتخار خان، وہاں موجود تھے اور وہ باتیں کر رہے تھے۔ اسی دوران ساون مسیح عرف بودی ولد چمن مسیح، جسے استغاثہ کے گواہ اور مدعی پہلے سے جانتے تھے، یکدم آخری نبی حضور اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہنے شروع کر دیے۔ انہوں نے اسے روکا لیکن وہ نہیں رکا اور نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے استعمال کے ذریعے وہ توہین رسالتﷺ کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ فرار ہوگیا۔ علماء کرام کی مشاورت سے ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ ایف آئی آر ہذا میں پہلے ملزم کا نام بمع ولدیت اور پھر ملزم کی طرف سے حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف استعمال کیے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ ہیں۔ اسے روکا گیا لیکن اس نے یہ سلسلہ جاری رکھا اور یوں توہین رسالتﷺ کے جرم کے لیے مطلوب ضروری مواد اور اندراجات پر مشتمل ایف آئی آر (2/Ex.PA) درج کرائی گئی۔ مدعا علیہ کے فاضل وکیل

صفحہ 890

کا موقف یہ کہ اس حقیقت کے متعلق ایف آئی آر کی خاموشی کہ ملزم کی طرف سے توہین رسالت کی گئی، حقیقت پر مبنی نہیں۔ شاہد عمران گواہ استغاثہ کے بیان (Ex.PB) میں اس نے ملزم ساون مسیح کی طرف سے توہین رسالت پر مبنی الفاظ کی تفصیل فراہم کی ہے۔ یوں مقدمہ ہٰذا میں ایف آئی آر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور متذکرہ بالا مندرجات کے ساتھ ایف آئی آر معتبر اور قابل قبول حیثیت کی مالک ہے۔

افتخار خان، گواہ استغاثہ نمبر 4 شبیر حسین نے واضح طور اپنے بیانات میں ملزم کی طرف سے وقوعہ کے وقت ملزم کی طرف سے استعمال کیے گئے الفاظ کا دوٹوک انداز میں ذکر کیا اور دوران جرح گواہ استغاثہ نمبر 2 نے بیان کیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس نے ملزم ساون مسیح کے خلاف گواہ استغاثہ محمد شفیق کے کہنے پر جھوٹا الزام عائد کیا۔ اس نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ کسی وجہ سے اس نے ایف آئی آر میں ملزم ساون مسیح کی طرف سے استعمال کردہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایف آئی آر میں ان الفاظ کا ذکر کیا تھا لیکن نقل نویس نے یہ الفاظ نہیں لکھے۔ گواہ استغاثہ نمبر 2 تا گواہ استغاثہ نمبر 4 کے بیانات میں مدعا علیہ، کوئی اہم اور بڑا تضاد پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ایف آئی آر میں متذکرہ گواہان استغاثہ شاہد عمران اور افتخار خان، بطور گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ جبکہ شبیر حسین گواہ استغاثہ نمبر 4 کی حیثیت سے پیش ہوا اور انہوں نے وقوعہ کے متعلق گواہی دی اور معزز وکیل صفائی نے ان پر جرح کی۔ مدعا علیہ کے فاضل وکیل کا موقف یہ ہے کہ ایف آئی آر (ExPA/2) میں جو گواہان درج کیے گئے ہیں اور ضمنی بیان (Ex.PB) میں فرق ہے لیکن استغاثہ نے دونوں طرح کے گواہان استغاثہ کی طرف سے ثبوت پیش کیا ہے۔ جہاں تک یہ تعلق ہے کہ گواہان استغاثہ تزکیہ الشہود کے معیار پر پورا نہیں اترے، معزز وکیل صفائی نے PLD 2002 S.C.1048، ایوب مسیح بنام سرکار وغیرہ کو اپنی بنیاد بنایا ہے۔ معزز سپریم کورٹ آف پاکستان، اپنے فیصلہ کے پیرا نمبر 8 میں یہ کہنے میں خوشی محسوس کرتی ہے ”تاہم، اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ ایک متبادل درخواست کے طور پر اعتراض اٹھایا گیا اور اگر مقدمے کی معتبریت کی حالت کے مطابق بریت کی جاتی ہے تو پھر درخواست کو ایسا سمجھا جائے گا کہ جیسے اس پر زور نہ دیا گیا ہو“ یوں

صفحہ 891

معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکیل صفائی کے دلائل کے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ہدایت جاری کی ہے۔ مقدمہ ہذا میں فاضل وکیل صفائی نے جرح کے دوران، گواہان استغاثہ نمبر 2 تا 4 تک، کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ہے کہ گواہان استغاثہ، تزکیۃ الشہود کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور کوئی بھی سوال ان سے نہیں پوچھا گیا کہ وہ اہل تزکیۃ الشہود کے معیار کے نہیں۔ اس لیے مقدمہ ہذا میں دستیاب ثبوت اور مقدمہ ہذا کا اس کے مطابق ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

-22 زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ملزم ساون مسیح کی طرف سے صفائی کی درخواست کا ذکر اس کے بیان میں Mentioned Supra ہے اور گواہ صفائی نمبر 1 اور گواہ صفائی نمبر 2 کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی طرف سے صفائی کی درخواست کا تعلق مقدمہ ہذا میں مکمل عیسائی کمیونٹی کی شرکت سے ہے اور وقوعہ 2013-03-07 کو نماز فجر کے وقت پیش آیا اور جوزف کالونی کو اگلے دن نذر آتش کیا گیا۔ دونوں صفائی کے گواہان 07-03-2013 کو وقوعہ کے وقت موجود نہیں تھے اور انہوں نے محض اس حقیقت کے متعلق گواہی دی کہ جوزف کالونی کے مالکان عیسائی برادری سے زمین خریدنے کے خواہشمند تھے اور انہوں نے شاہد عمران اور گواہان استغاثہ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا اور ملزم کو اس مقصد کی خاطر قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ لیکن استغاثہ کے ثبوت کا ملزم کے ثبوت سے تقابل کرنے کے ذریعے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مدعاعلیہ، استغاثہ کی درخواست کو ثابت کرنے میں ناکام رہا اور ایک وقوعہ 2013-3-8 کو جوزف کالونی میں پیش آیا جس کے متعلق ایف آئی آر 114/13، مدعی، گواہان استغاثہ اور 83 دیگر افراد کے خلاف درج کرائی گئی اور مدعاعلیہ نے اس کیس کی ایف آئی آر (112/13) اور ایف آئی آر 114/13 کے حقائق کو گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر برمحل ہے کہ مقدمہ ہذا میں حکم نامہ مورخہ 2013-4-3 کے مطابق معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ازخود نوٹس جاری کیا گیا اور معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نہایت مسرت کے ساتھ یہ فیصلہ دیتی ہے کہ ”اس فیصلہ کی ضرورت نہیں کہ ٹرائل کورٹ جس کے روبرو معاملہ درپیش ہے، کسی بھی طرح موجودہ کارروائی سے قطع نظر، قانون کے مطابق ہر حال میں اپنی کارروائی جاری رکھے گی ۔‘‘ معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ملزم نے توہین رسالتﷺ کے

صفحہ 892

جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں، یا پھر کیا اسے (ملزم کو) آئرن مارکیٹ کے مالکان کی طرف سے مذموم عزائم کے لیے غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ میری یہ پختہ رائے ہے کہ ملزم کی صفائی کی درخواست محض ایک من گھڑت کہانی ہے اور ایک الگ وقوعہ پیش آیا جسے مقدمہ ہذا میں گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مدعا علیہ (وکلائے صفائی) گواہان استغاثہ کی طرف سے ملزم کے خلاف بدنیت اور پوشیدہ مقاصد ثابت کرنے میں ناکام رہا اور یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ شاہد عمران اور ساون مسیح کے درمیان وقوعہ سے قبل اچھے تعلقات قائم تھے اور پھر وقوعہ پیش آیا۔

ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے کہ ”ہمارا یسوع مسیح سچا ہے، وہ آئے گا اور وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بچائے گا اور (نعوذ باللہ) یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کا نبی ..............................................................“ اور وہ اس حقیقت کے متعلق بخوبی آگاہ تھا کہ وہ (مسلمانوں کے پیارے) نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہا ہے اور اس نے دانستہ، اپنی خواہش کے مطابق اور علم رکھتے ہوئے اس جرم کا ارتکاب کیا۔

کرنے کے لیے گواہان کی تعداد درکار نہیں اور یہ ضروری نہیں کہ اس قسم کی گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان کھلے عام، کسی بھی جلسے یا پھر کسی مخصوص جگہ بیان کی جائے، حتیٰ کہ مکان کے اندر بھی اگر کسی ایک گواہ کا بیان جو کسی نے حضور نبی اکرمﷺ کی توہین میں دیا، سزائے موت دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سلسلہ میں اسلامی تاریخ سے کئی مثالیں موجود ہیں: ”حضرت ابن عباسؓ سے یہ روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرمﷺ کے عہد میں ایک نابینا شخص کی ایک لونڈی، نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولا کرتی تھی۔ اس لیے اس نابینا شخص نے اسے باز رہنے کو کہا اور تنبیہ کی کہ ایسا نہ کرو لیکن اس نے کوئی پروا نہ کی۔ ایک رات جب وہ حسب معمول نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بول رہی تھی، اس نابینا شخص نے چاقو نکالا، اس کے پیٹ میں گھونپا اور اسے قتل کر ڈالا۔ اگلے دن جب اس عورت کے قتل کا مقدمہ حضور نبی اکرمﷺ کے روبرو پیش ہوا تو انہوں نے لوگوں کو جمع

صفحہ 893

کیا اور فرمایا ”جس کسی نے یہ کام کیا ہے، کھڑا ہو اور اعتراف کر لے کیونکہ جو کچھ اس نے کیا ہے، میرا حق اس پر ہے۔“ اس پر یہ نابینا شخص اٹھ کھڑا ہوا اور لوگوں کو پیچھے ہٹاتا ہوا نبی اکرمﷺ کے حضور پیش ہوا اور کہا ”یا رسول اللہﷺ! میں نے اس لونڈی کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ آپﷺ کو گالیاں دیتی تھی۔ میں نے اسے بہت دفعہ منع کیا لیکن اس نے کوئی پروا نہیں کی۔ اس سے میرے خوبصورت بیٹے ہیں اور وہ ایک اچھی ساتھی تھی لیکن کل جب اس نے آپﷺ کو گالیاں دینی شروع کیں تو (مجھ سے برداشت نہ ہو سکا۔ چنانچہ) میں نے اپنا چاقو لیا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور اسے قتل کر ڈالا۔“ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ”اے لوگو، گواہ رہو کہ اس عورت کا خون ضائع گیا ہے۔“ ایک اور واقعہ میں ہے کہ ایک یہودی عورت نبی اکرمﷺ کو گالیاں دیتی تھی۔ اس لیے ایک شخص نے اسے قتل کر دیا اور نبی اکرمﷺ نے اس عورت کے خون کو ضائع قرار فرمایا۔ یہ بھی روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا ”یا رسول اللہ (ﷺ)!، میرا باپ گالیاں دیتا تھا، میں یہ سب کچھ برداشت نہ کر سکا اور اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے اس کے اس فعل کی توثیق فرمائی۔

کے ضمن میں ملزم ساون مسیح کے خلاف مخصوص الزام عائد کیا گیا۔ نیز مدعا علیہ (ملزم) کا موقف مضبوط، ٹھوس اور متاثر کن نہیں ہے۔ مدعا علیہ، گواہان استغاثہ نمبر 2 تا نمبر 4 تک، کی طرف سے کسی بھی بدنیتی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، نیز مورخہ 2013-03-07 اور مورخہ 2013-03-08 کے دونوں واقعات، مدعا علیہ کی طرف سے گڈمڈ کرنے کی کوشش ہے۔ اس لیے استغاثہ ملزم ساون مسیح کے خلاف اپنا مقدمہ کسی بھی شک و شبہ سے قطع نظر ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ملزم کے حق میں کسی بھی قسم کے گڈمڈ حالات موجود نہیں۔

اور اسے سزائے موت دی جاتی ہے۔ اس کی موت واقع ہونے تک اسے گردن سے لٹکایا جائے گا۔ اسے 200,000/- روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہو گی۔ ملزم کو سزائے موت پر عمل درآمد اس وقت تک ملتوی رہے گا جب تک معزز عدالت عالیہ، لاہور سے اس کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ اس فیصلے کو فوری

صفحہ 894

طور پر معزز عدالت عالیہ، لاہور کو بھیجا جائے۔ ملزم کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ وہ مجرم ٹھہرائے جانے اور سزا پانے کے خلاف سات یوم کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ حاضر ملزم اس وقت جیل انتظامیہ کی تحویل میں ہے۔ فیصلہ کی نقل ملزم کو مفت مہیا کی گئی ہے اور قانون کے مطابق اسے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو بھی بھیجا گیا ہے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: چودھری غلام مرتضیٰ ایڈیشنل سیشن جج ، لاہور

تاریخ فیصلہ 27 مارچ 2014ء

صفحہ 895

جناب محمد عامر حبیب ایڈیشنل سیشن جج ٹوبہ ٹیک سنگھ

سرکار بنام شفقت مسیح، شگفتہ کوثر مسیح، اپریل 2014ء

صفحہ 896
صفحہ 897

دل کی بات

18 جولائی 2013ء کو گوجرہ کے رہائشی محمد حسین اختر عطاری کو اس کے فون پر ایک نامعلوم شخص کی طرف سے مختلف ایس ایم ایس موصول ہوئے۔ یہ ایس ایم ایس حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن مجید کی تضحیک اور گستاخانہ الفاظ پر مشتمل تھے۔ اس نے یہ متنازعہ ایس ایم ایس اپنے کئی دوستوں کو دکھائے۔ دو دن بعد وہ سجاد اصغر کھوکھر ایڈووکیٹ کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس موبائل نمبر سے اسے دوبارہ گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس موصول ہوئے۔ جسے اس نے فاضل ایڈووکیٹ کو دکھائے۔ فاضل ایڈووکیٹ نے اپنے فون سے مرسل کا نمبر ملایا جو بار بار منقطع کیا جاتا رہا۔ پھر متنازعہ ایس ایم ایس بھجوانے والے نے اپنے فون سے فاضل ایڈووکیٹ سجاد اصغر کے فون پر وہی ایس ایم ایس بھجوائے۔ اس صورتحال پر باہمی مشورہ سے محمد حسین اختر عطاری نے اس سارے واقعہ کی تفصیل لکھ کر ایک درخواست تھانہ سٹی گوجرہ میں دے دی۔ معمولی سی تفتیش و تحقیق کے بعد جاز فرنچائز کے دفتر سے پتہ چلا کہ یہ متنازعہ سم شگفتہ مسیح کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور اس سازش میں اس کا خاوند سجاد مسیح بھی شامل ہے۔ چنانچہ ان دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی گوجرہ میں توہین رسالت ﷺ اور توہین قرآن مجید کے ارتکاب پر مقدمہ درج ہو گیا۔ پولیس نے انہیں گھر سے گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کر دیا۔

دوران تفتیش ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف اور اقرار کیا کہ انہوں نے یہ مکروہ کام صرف اور صرف لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کر کے کسی یورپی ملک میں پناہ حاصل کرنے کے لیے کیا۔ تقریباً 7 ماہ تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ ٹھوس شواہد اور دلائل کی موجودگی میں جرم ثابت ہونے پر محترم جج صاحب نے ملزمان کو موت کی سزا سنائی۔ عزت مآب جناب صاحبزادہ میاں محمد عامر حبیب صاحب ایڈیشنل سیشن جج کا یہ فیصلہ اس قدر علمی، جامع اور پر اثر ہے کہ قانون کی دنیا میں اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ محترم جج صاحب نے اپنے اس تاریخی فیصلہ کو ملکی قانون کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے مستند حوالوں سے بھی مزین کیا، جو نہایت خوش آئند اور قابل صد تحسین ہے۔

صفحہ 898

محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

آمیز ایس ایم ایس بھیجا اور اس کھلی عدالت میں زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے اس کا اعتراف کیا جہاں اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ ملزم نے نہایت ہی مکروہ اور بھیانک جرم کا ارتکاب کیا ہے اور امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اس طرح مقدس ترین ہستی کی تحقیر کی اور محض معمولی فائدے کے لیے انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایس ایم ایس بھیجا اور اپنی مرضی کے مطابق مخصوص مفاد حاصل کرنا چاہا۔ اگر اسی طریقے اور رجحان کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی تو نہ صرف دو ہمسایوں کے درمیان ہم آہنگی تباہ ہوجائے گی بلکہ ان کے درمیان فساد بھی برپا ہوگا۔ موبائل فون کی ملکیت سے انکار نہیں کیا جا رہا ہے۔ ملزمان کی طرف سے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے بیانات میں ملزمان کی طرف سے صحت جرم سے انکار، کسی بھی تصدیقی ثبوت کے بغیر جائز نہیں، اس لیے، میں ملزم کے بیان زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، پر بھروسا نہیں کر سکتا۔ ملزم نے اپنے فعل کے ارادی اور شعوری نتائج سے باخبر ہوتے ہوئے اور مفاد حاصل کرنے کی خاطر اس شرمناک فعل کا ارتکاب کیا جس سے درگزر نہیں کیا جاسکتا۔ ان گستاخانہ اور توہین رسالتﷺ پر مبنی ایس ایم ایس کے ذریعے انہوں نے نہ صرف نبی اکرمﷺ کی حرمت اور وقار کو پامال کیا بلکہ کتاب مقدس کی بھی بے حرمتی کی اور یوں دانستہ اور جان بوجھ کر مکروہ اور بھیانک جرم کا ارتکاب کیا۔ جرم ہذا کے شروع ہی سے استغاثہ کی گواہی جرم کے ارتکاب کو ثابت کر رہی تھی کہ مدعی نے اپنے موبائل پر توہین رسالتﷺ پر مبنی ایس ایم ایس موصول کیا اور اس نے نبی اکرمﷺ کی حرمت اور عزت کو محفوظ رکھنے کی خاطر اپنی بہترین کوشش کی۔ مقدمہ ہذا میں عبدالقدیر قطعی طور پر ایک آزاد گواہ ہے اور اس نے توہین رسالتﷺ پر مبنی ایس ایم ایس کی تصویریں لیں۔ ملزم شفقت مسیح کے نام پر رسید خریداری بھی پیش کی گئی اور دونوں ملزمان نے موبی لنک فرنچائز سے اپنی مشترکہ رضامندی سے سم خریدی۔ سم کی فروخت کی رسید کا نمبر شمار 78 ہے جو ملزم کو فروخت کی گئی۔ شفقت مسیح نے اس امر سے بھی انکار نہیں کیا کہ وہ اس سم کی خریداری کے لیے گیا تھا اور سم کو ضائع کرنے کے بعد بھی سم کی خرید کے متعلق تردید سامنے نہیں آئی اور سم کو ضائع کرنے کے عمل سے ملزم کی بدنیتی اور خباثت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے، جرم کے ارتکاب کے ضمن میں ایک سراغ کی دستیابی

صفحہ 899

کے باعث، سم کا ضائع ہونا، استغاثہ کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کا بیان، عدالت میں ایک ایسا ثبوت اور گواہی ہے جس کی حرمت اور وقار اور غیر جانبداریت اور شفافیت، کسی بھی شک سے ماورا ہے، جس کے ذریعے ملزم کو غور کرنے اور سوچنے کے لیے موقع دیا گیا اور ایسا انتظام کیا گیا کہ بیان دیتے وقت ملزم پر کوئی دباؤ نہ ہو اور یوں ملزم کے ذہن میں کوئی دباؤ نہ تھا اور اس نے اپنی مرضی سے اعتراف جرم کیا۔ اس قسم کے جرم کی کسی بھی معاشرے، مذہب یا دین میں اجازت نہیں اور یہ نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ ایک گناہ بھی ہے جس کی تمام ادیان میں ممانعت کی گئی ہے۔ میں نے اس ضمن میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ PLD 1991 FSC 10 پر انحصار کیا ہے۔“

میں یہ بات لکھتے ہوئے نہایت فخر و انبساط محسوس کرتا ہوں کہ محترم جج صاحب کے دادا جان حضرت حافظ صاحبزادہ عبدالحمید خانؒ خلیفہ مجاز حضرت محدث علی پوریؒ کو 184 علمائے وقت نے اپنی طرف سے سالار بنا کر فتنہ قادیانیت پر معمور فرمایا جو تاحیات اس فریضہ کو انتہائی احسن طریقے سے ادا کرتے رہے۔ جج صاحب کے والد گرامی حضرت صاحبزادہ الحاج محمد مختار حبیب صاحبؒ نے تحریک تحفظ ختم نبوت 1974ء میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی اور انہیں 9 ماہ کی سزا بھی سنائی گئی۔

اس کیس کی کامیابی کے سلسلہ میں جناب توقیر خان صاحب ایڈووکیٹ کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے جس محبت اور جانفشانی سے یہ کیس لڑا، اس پر وہ نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرگرم ضلعی مبلغ حضرت مولانا محمد خبیب صاحب اور ان کے ساتھیوں جناب قاری شرافت مجددی، حضرت مولانا مقدس عباس، حضرت مولانا حذیفہ اور دیگر رفقاء کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں جن کی شب و روز کوششوں سے یہ کیس پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ اس فیصلہ کی نقل گوجرہ کی پہچان برادر عزیز جناب حکیم عظمت اللہ نعمانی صاحب نے فراہم کی جس پر وہ نہایت شکریہ کے مستحق ہیں۔

خاک پائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ

محمد متین خالد

لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 900

بعدالت جناب محمد عامر حبیب، ایڈیشنل سیشن جج، ٹوبہ ٹیک سنگھ

حال مقیم ، ڈسٹرکٹ جیل ، ٹوبہ ٹیک سنگھ

ابتدائی معلومات

سیشن کیس نمبر : 47-7/2013 سیشن مقدمہ نمبر : 5-14/2014 ایف آئی آر نمبر : 407/13 بتاریخ 20 جولائی 2013ء پولیس سٹیشن : سٹی، گوجرہ بجرم : زیر دفعہ 295-C، 295-B، تعزیرات پاکستان، دفعہ 201 اور 25 ٹیلیگراف ایکٹ

سرکار

بنام

دونوں کی ذات عیسائی، ساکن، بشپ کمپاؤنڈ، گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ (ملزمان)

وکلا منجانب مدعی: چودھری مقبول احمد ایڈووکیٹ، محمد عامر لطیف ایڈووکیٹ، حسن منیر ایڈووکیٹ، عاطف حسین ضیاء ایڈووکیٹ، ملک خالد اکمل ایڈووکیٹ، محمد توقیر اشرف ایڈووکیٹ اور غلام مرتضیٰ چودھری ایڈووکیٹ

وکیل منجانب سرکار: جاوید رفیق ایڈووکیٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکلا منجانب ملزمان: ایریک جان ایڈووکیٹ، ندیم حسن ایڈووکیٹ تاریخ فیصلہ: 4 اپریل 2014ء

صفحہ 901

فیصلہ

جناب محمد عامر حبیب، ایڈیشنل سیشن جج، ٹوبہ ٹیک سنگھ

حسین کی جانب سے درج شدہ مذکورہ بالا مقدمہ کے ضمن میں مقدمہ کی سماعت کے لیے چالان عدالت میں پیش کیا۔

حقائق یہ ہیں کہ وہ مسجد تالاب والی میں نماز تراویح ادا کر رہا تھا۔ نماز تراویح ادا کرنے کے بعد اس نے دیکھا کہ اس کے موبائل نمبر 0300-6553526 پر ایک موبائل نمبر 0303-9445368 کی طرف سے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا ہے۔ یہ ایس ایم ایس، حضور نبی اکرمﷺ اور قرآن مقدس کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھا۔ بعد ازاں اس نے یہ ایس ایم ایس اپنے دوستوں محمد صابر ولد غلام نبی اور خالد مقصود نورانی کو دکھایا۔ بعد ازاں، 20-07-2013 کو وہ ان کے ساتھ فاضل ایڈووکیٹ، سجاد اصغر کے دفتر گیا اور یہ پیغام اسے دکھایا۔ جب وہ فاضل ایڈووکیٹ کے دفتر میں بیٹھے تو اس نے اسی موبائل نمبر سے وہ گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغام وصول کیا۔ اس نے یہی ایس ایم ایس، فاضل ایڈووکیٹ کو دکھایا جس نے اس سے مرسل کا نمبر طلب کیا۔ اس نے مرسل کا نمبر فاضل ایڈووکیٹ کو دے دیا اور فاضل ایڈووکیٹ نے اپنے سیل نمبر 0300-6550125 سے مرسل کا نمبر ملایا جو منقطع کیا جاتا رہا، پھر مرسل نے یہی چار ایس ایم ایس، فاضل ایڈووکیٹ، سجاد اصغر کھوکھر کے نمبر پر بھیجے۔ بعد ازاں، اس نے یہ ایس ایم ایس، عبدالقدیر کو دکھایا جس

صفحہ 902

نے اپنے سیل فون کے ذریعے اس ایس ایم ایس کی تصویر بنائی اور ای میل کے ذریعے اسے ایس۔ آر۔ کلر لیبارٹریز، گوجرہ، چھپائی (پرنٹ) کے لیے بھیج دیا۔ پھر عبدالقدیر نے یہ چھاپے (پرنٹ) ان کے حوالے کرنے کے بعد جو اس کی درخواست (Ex-P.J) کے ساتھ لف ہیں، جس پر پولیس نے ایف آئی آر تیار کی۔ (Ex.P.J) پر اس کے دستخط ثبت ہیں۔ سیل فون پر گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کی تصویر (Exh-PJ/2) ہے۔ پھر وہ جاز فرنچائز گیا تا کہ وہ مرسل کے پتے/شناخت کے علاوہ اس سم کی شناخت بھی ڈھونڈ سکے۔ جاز فرنچائز سے، اس کے نمائندے، راشد محمود نے اسے بتایا کہ سم نمبر 0303-9445368 کو 15-12-2012 کو شگفتہ کوثر نے اپنے خاوند شفقت مسیح کے ہمراہ خریدی۔ سم کو شگفتہ کوثر زوجہ شفقت مسیح، عدالت میں حاضر ملزم، کے نام پر جاری کیا گیا۔ 2013-07-21 کو اس نے یہی موبائل، تفتیشی افسر، ایس پی، ناصر سیال کو مسجد تالاب والی میں دے دیا جس نے یہ موبائل (P1) مع سم (P3) کو اپنی تحویل میں لے لیا اور ریکوری میمو تیار کیا اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا اور محمد شبیر اور خالد مقصود کے دستخط حاصل کیے۔ اس نے میرے موبائل فون کی تصویر (Exh-PJ/2) کو شناخت کر لیا جس پر گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس موصول ہوا اور گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس (Exh.PJ/1) کی عبارت پڑھی جا سکتی ہے۔ جاز فرنچائز کے دفتر سے اس نے ملزمہ شگفتہ کوثر اور شفقت مسیح کا پتا حاصل کیا جو بشپ کمپاؤنڈ، مشن روڈ، گوجرہ کے رہائشی ہیں۔ بعد ازاں، اس نے عدالت میں حاضر ملزمہ کی نشاندہی ایس پی کو کی جس نے انہیں، ان کے گھر سے گرفتار کر لیا اور یوں ایف آئی آر پیش کی۔

میں درج کیے اور پھر عدالت میں زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ پیش کر دی۔

پاکستان کے تحت مجھ سے پہلے اس عدالت کے فاضل جج صاحب نے ملزم کے خلاف رسمی فرد جرم عائد کی جس کا اس نے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

کے لیے کہا گیا۔ استغاثہ نے اپنے گواہان یوں پیش کیے:

صفحہ 903

گواہ استغاثہ نمبر 1، انس رشید ، اے ایس آئی، انچارج ڈسٹرکٹ کمانڈنگ کنٹرول، ڈی پی او دفتر ، ٹوبہ ٹیک سنگھ نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2011-03-01 سے انچارج، ڈسٹرکٹ کمانڈنٹ ، کنٹرول روم ، دفتر ڈی پی او ، ٹوبہ ٹیک سنگھ تعینات ہے۔ 2013-07-21 کو ایل جی ساختہ ایک موبائل فون اس کے حوالے کیا گیا تا کہ سم کا پرنٹ حاصل کیا جائے۔سم نمبر 6553528-0300 میں 6 گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس موجود تھے جو 0303-9445368 نمبر سے موصول ہوئے تھے۔ اس نے ایس ایم ایس کی ہارڈ کاپی حاصل کی جو (Ex.P.AP) ہے اور اس کے دستخط (Ex.P.A./1) اس پر ثبت ہیں اور متذکرہ (Ex.P.A)، ایس ایم ایس کی تفصیل پر مشتمل ہے اور اس نے اس ایس ایم ایس کی تصدیق بھی کی۔ بعد ازاں، 2013-07-24 کو، اس فون میں موجود سم نمبر 0300-6550125 میں موجود گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کا پرنٹ بھی حاصل کیا اور CDR کے ذریعے اس نمبر کی تصدیق بھی کی۔ EMEI نمبر کے ذریعے بھی وصول کنندہ کے فون کی تصدیق کی گئی اور سم نمبر 9445368-0303، مرسل کا نمبر تھا اور وصول کنندہ کا نمبر 6550125-0300 تھا۔ اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کی ہارڈ کاپی حوالے کی جو (Ex.P.B) ہے اور اس پر اس کے دستخط (Ex.P.B./1) بھی ثبت ہیں۔ اس نے (Ex.P.B) کے مندرجات کی تصدیق کی۔ (Ex.P.1) اور (Ex.P.2)، گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کے وصول کنندہ موبائل ہیں۔ بعد ازاں، تفتیشی افسر نے ریکوری میمو (Ex.P.C) کے مطابق (Ex.P.A) اپنی تحویل میں لے لیا جس پر اس کے دستخط (Ex.P.C./1) ثبت ہیں۔ بعد ازاں، تفتیشی افسر نے، ریکوری میمو (Ex.P.D) کے ذریعے (Ex.P.B) اپنی تحویل میں لے لی جس پر اس کے دستخط (Ex.P.D/1) ثبت ہیں۔ اس نے متعلقہ نمبر 9445368-0303 کے CDR کے پرنٹ بھی نکلوائے جو تین صفحات پر مشتمل ہیں اور جو (Ex.P.E) اور (Ex.P.E/1-2) ہیں۔ اس نے مرسل کے موبائل کی مالکہ شگفتہ کوثر کے قومی شناختی کارڈ نمبر 36502-1311132-8 کے پرنٹ بھی نکلوائے جو دو صفحات اور (EX.P.F/1) پر مشتمل ہیں۔ اس نے وصول کنندہ نمبر 6553526-0300 کا بھی CDR نکلوایا جو چار صفحات پر مشتمل ہے جو (Ex.P.G) اور (Ex.P.G./1-3) پر مشتمل ہیں۔ اس نے

صفحہ 904

موصول کنندہ نمبر 0300-6550125 کی CDR کے ذریعے پرنٹ نکلوایا جو چھ صفحات پرمشتمل ہیں اور یہ (Ex.P.H./1-5) ہے۔ سم P.3 کو پہلے ہی P.1 کے ساتھ ملادیا گیا تھا جس کا نمبر 0300-6553526 ہے جو موبل لنک کے نیٹ ورک کا ہے۔ تفتیشی افسر نے اس کا بیان 2013-07-26 کو گوجرہ میں قلمبند کیا۔ اس نے CDR بذریعہ ڈاکٹ تفتیشی افسر کو بھیجی اور اس ڈاکٹ کی توثیق کی، اسے پھر تفتیشی افسر نے طلب کیا اور ملزم کے موبائل نمبر 0303-9445368 کی CDR، (Ex.P.E/1-2) کے علاوہ موبائل نمبر 0300-6553526 کی CDR، (Ex.P.G.1-3)، پرنٹ CDR موبائل نمبر 0300-6550125، (Ex.P.H/1-5) اور شگفتہ کوثر کے قومی شناختی کارڈ (Ex.P.F) اور (Ex.P.F/1) کی تصدیق کی۔ تفتیشی افسر نے اس کا بیان زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، قلمبند کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، سجاد حسین، MHC-1246 نے 2013-07-20 کو بتایا کہ وہ پولیس سٹیشن گوجرہ میں بطور MCH تعینات تھا اور اسی دن اس نے ایک تحریری درخواست (Ex.P.J) موصول کی جس پر اس نے اپنی طرف سے بغیر کسی ترمیم واضافہ کے ایک رسمی ایف آئی آر (Ex.P.K) تیار کی جس پر اس کے دستخط (Ex.P.K/1) ثبت ہیں۔ چونکہ اس جرم کی تفتیش، سپرنٹنڈنٹ پولیس (SP) نے کرنی تھی، اس لیے اس نے شکایت اور ایف آئی آر کو صابر علی (C-52) کے ذریعے، دفتر، ڈی ایس پی، لیگل، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بھجوا دیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 3، سجاد اصغر کھوکھر ایڈووکیٹ نے بیان کیا کہ وہ تحصیل کورٹس، گوجرہ میں وکالت کر رہا ہے۔ 2013-07-20 کو تقریباً دوپہر ایک بجے، مدعی، محمد حسین ہمراہ شبیر احمد اور خالد مقصود، اس کے دفتر میں آئے تاکہ ان گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کے متعلق قانونی رائے لی جاسکے جو محمد حسین کو 2013-07-18 کو رات تقریباً دس، ساڑھے دس بجے، اس کے فون نمبر 0300-6553526 پر موبائل فون نمبر 0303-9445368 سے موصول ہوئے۔ اس نے ان ایس ایم ایس کا مطالعہ کیا اور جائزہ لیا جو گستاخانہ اور توہین آمیز تھے، اس نے مرسل کے نمبر پر کال کرنے کی کوشش کی جو 0303-9445368 ہے، گھنٹی بجتی رہی لیکن کسی نے فون نہیں سنا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے

صفحہ 905

اپنے سیل فون نمبر 0300-6550125 پر 0303-9445368 سے چار ایس ایم ایس موصول ہوئے۔ گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس، مندرجہ ذیل الفاظ پر مشتمل ہیں:

................................................................................................ ..........................................................(نعوذ باللہ)

بعد ازاں، انہوں نے مرسل کا نمبر تلاش کرنے کی کوشش کی اور بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ مرسل کے فون نمبر کی سم کو شگفتہ کوثر زوجہ شفقت مسیح نے خریدا تھا جو بشپ کمپاؤنڈ، گوجرہ، کے رہائشی تھے۔ اس نے تفتیشی افسر کے روبرو زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ عدالت میں حاضر ملزم نے اپنے باہر جانے کے مذموم عزائم پورے کرنے کے لیے ایس ایم ایس بھیجے۔ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کی توہین کی ہے اور یہ ایس ایم ایس بھیجنے کے ذریعے بدترین اور شرمناک جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس ہولناک جرم کے ارتکاب کے لیے انہیں سزائے موت دی جائے۔ اس نے اپنا نوکیا موبائل (X-2) تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا جو ریکوری میمو (Ex.P.L) کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 4، محمد حسین نے بیان کیا کہ 18-07-2013 کو بوقت رات 10.15 بجے وہ مسجد تالاب والی میں نماز تراویح ادا کر رہا تھا۔ ادائیگی نماز کے بعد جب اس نے اپنے موبائل فون کے ایس ایم ایس دیکھے تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے موبائل فون نمبر 0300-6553526 پر موبائل فون نمبر 0303-9445368 سے ایس ایم ایس موصول ہوا تھا۔ یہ ایس ایم ایس، حضور نبی اکرمﷺ اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ اور اہانت آمیز تھا۔ بعد ازاں، اس نے یہ ایس ایم ایس، اپنے دوستوں، محمد شبیر ولد غلام نبی اور خالد مقصود نورانی کو دکھائے۔ اس کے بعد 20-07-2013 کو ان دوستوں کے ساتھ سجاد اصغر، فاضل ایڈووکیٹ کے دفتر گیا اور اسے یہ ایس ایم ایس دکھایا۔ جب وہ فاضل ایڈووکیٹ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے، اسی موبائل نمبر سے اسے دوبارہ وہی ایس ایم ایس موصول ہوا جو انہی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل تھا۔ اس نے وہی ایس ایم ایس، فاضل ایڈووکیٹ کو دکھایا جس نے اسے مرسل کا موبائل فون نمبر دینے کے لیے کہا۔ اس نے فاضل وکیل کو مرسل کا موبائل نمبر دے دیا اور فاضل وکیل نے اپنے فون نمبر 0300-6550125 سے مرسل کا

صفحہ 906

نمبر ملایا جو بند تھا اور پھر مرسل نے وہی چار ایس ایم ایس، سجاد کھوکھر، فاضل ایڈووکیٹ کے نمبر پر بھجوا دیے۔ بعد ازاں، اس نے عبد القدیر کو ایس ایم ایس دکھایا جس نے اپنے سیل فون کے ذریعے ایس ایم ایس کی تصویر کھینچی اور پھر اسے پرنٹ کرنے کے لیے ای میل کے ذریعے ایس ۔آر۔کلر لیبارٹریز ، گوجرہ، بھجوا دی۔ پھر عبدالقدیر نے چھاپہ (پرنٹ ) ہمارے حوالے کر دیا، جو میری درخواست کے ساتھ بطور (Ex-P.J) لف ہے۔ اس پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ (Exh-PJ) پر اس کے دستخط (Exh-PJ/1) ثبت ہیں۔ سیل فون پر گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کی تصویر (Exh-PJ/2) ہے۔ پھر وہ مرسل کا پتا/شناخت اور اس کی سم کی شناخت معلوم کرنے کے لیے جاز فرنچائز گیا۔ جاز فرنچائز سے اس کے نمائندے راشد محمود نے اسے بتایا کہ سم نمبر 0303-9445368 کو شگفتہ کوثر نے 15-12-2012 کو اپنے شوہر شفقت مسیح کے ہمراہ خریدا۔ سم کو شگفتہ کوثر زوجہ شفقت مسیح، عدالت میں حاضر ملزم، کے نام پر جاری کیا گیا۔ 21-07-2013 کو اس نے یہی موبائل ، مسجد تالاب والی میں تفتیشی افسر، ایس پی، ناصر سیال کے حوالے کر دیا جس نے اس موبائل (P.1) کو بشمول سم (P.3) اپنی تحویل میں لے لیا اور ریکوری میمو تیار کیا اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا اور محمد شبیر اور خالد مقصود کے دستخط حاصل کیے۔ اس نے میرے موبائل فون کی تصویر (Exh.PJ/2) کی شناخت کی جس پر گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس موصول ہوا تھا اور اس گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس (Exh-PJ/1) کی عبارت پڑھی جاسکتی ہے۔ جاز فرنچائز کے دفتر سے اس نے ملزمہ شگفتہ کوثر اور شفقت مسیح کے پتے حاصل کیے جو بشپ کمپاؤنڈ ، مشن روڈ ، گوجرہ کے رہائشی ہیں۔ بعد ازاں، اس نے عدالت میں حاضر ملزم کے گھر کا پتا ایس پی کو بتایا جس نے ان کے گھروں سے انہیں گرفتار کر لیا۔ عدالت میں حاضر ملزمان، اصلی مجرم ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو بتائے بغیر اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی گھناؤنا جرم کیا۔ انہیں سزائے موت دی جائے۔

گواہِ استغاثہ نمبر 5، محمد شبیر نے بتایا کہ 18-07-2013 کو وہ محمد حسین اور خالد مقصود کے ہمراہ دیگر لوگوں کے ساتھ تالاب والی مسجد میں نماز تراویح ادا کر رہا تھا۔ رات ساڑھے دس بجے نماز تراویح کی ادائیگی کے بعد مدعی محمد حسین نے ہمیں بتایا کہ اس کے موبائل پر کچھ ایس ایم ایس موصول ہوا اور اس نے ایس ایم ایس ہمیں دکھایا۔ یہ ایس ایم ایس

صفحہ 907

گستاخانہ اور اہانت آمیز تھا اور اس کی عبارت اس طرح پڑھی جاسکتی تھی: ..................................................................................................... .......................................................................(نعوذ باللہ)

اس نے خالد مقصود کے ہمراہ یہ گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس پڑھا۔ 20-07-2013 کو، میں، مدعی اور خالد مقصود کے ہمراہ سجاد اصغر، فاضل وکیل کے دفتر، کچہری، گوجرہ، گیا تا کہ اس سے مشورہ کیا جاسکے۔ ہم فاضل ایڈووکیٹ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں، تقریباً دوپہر ایک بجے، مدعی کو فون نمبر 0303-9445368 سے ایک اور ایس ایم ایس موصول ہوا جو وہی نمبر تھا جہاں سے پہلے مدعی کو 0300-6553526 نمبر سے کال کی گئی تھی۔ بعد ازاں، مدعی نے فاضل ایڈووکیٹ کو اس حقیقت کے متعلق بتایا جس نے مرسل کا نمبر حاصل کر لیا تھا اور اس نمبر پر فون ملایا تھا جو بند تھا اور اسی عبارت کے 4 ایس ایم ایس، فاضل ایڈووکیٹ کے نمبر 0300-6550125 پر موصول ہوئے۔ بعد ازاں، مدعی محمد حسین نے گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کا پرنٹ حاصل کیا اور مقدمہ درج کرانے کے لیے ایک درخواست تیار کی اور پھر پرنٹ کے ساتھ درخواست پیش کی جو عبدالقدیر سے پرنٹ کرائی گئی، جس پر رسمی ایف آئی آر درج کی گئی۔ مقدمہ کے اندراج کے بعد ہم نے سم نمبر 0300-9445365 کے مالک کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد وہ، مدعی اور خالد مقصود کے ہمراہ، جاز فرنچائز، واقع مہدی محلہ، سمندری روڈ، گوجرہ گیا۔ ہم وہاں فرنچائز کے نمائندے، راشد محمود سے ملے جس نے اپنا ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہمیں بتایا کہ شگفتہ کوثر زوجہ شفقت مسیح نے سم نمبر 0303-9445368، مورخہ 15-12-2012 کو خریدی اور اس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ شگفتہ کا خاوند اور شگفتہ، دونوں اس کے دفتر سم خریدنے کے لیے آئے۔ اس نے ملزمہ کا پتا بھی بتایا جو بشپ کمپاؤنڈ، مشن روڈ، گوجرہ، تھا۔ 21-07-2013 کو جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران، وہ مدعی، خالد محمود کے ہمراہ، وہاں موجود تھا، مدعی نے ایل جی ساختہ اپنا موبائل، سم (P.1) اور (P.3) کے ساتھ مسجد تالاب والی میں تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا جس نے یہ چیزیں (متذکرہ موبائل اور سم کارڈ) اپنی تحویل میں لے لیں۔ بعد ازاں، میری اور مدعی کی نشاندہی پر، پولیس نے بشپ کمپاؤنڈ، مشن روڈ پر ملزمہ کی رہائش گاہ پر چھاپا مارا اور انہیں گرفتار

صفحہ 908

کر لیا۔ حاضر ملزمان، اصلی مجرم ہیں جنہوں نے اس مکروہ اور بھیانک جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا انہیں سزائے موت دی جائے۔ تفتیشی افسر نے تالاب والی مسجد میں میرا بھی بیان قلمبند کیا اور ریکوری میمو پر میں، مدعی اور خالد مقصود نے دستخط کیے۔

گواہِ استغاثہ نمبر 6 ، عبدالقدیر نے گواہی دی کہ وہ نیو ماڈل ٹاؤن، گوجرہ کا رہائشی ہے۔ وہ موبائل فون کی ایک دکان، عطاری موبائلز ٹو ، چلا رہا ہے۔ 2013-07-20 کو، مدعی محمد حسین اس کی دکان پر آیا اور اپنا موبائل ساختہ ایل جی جی ایکس 200 دکھایا جس میں ایک سم نمبر 6553526-0300 موجود تھی۔ اس نے اسے بتایا کہ ایک سم نمبر 0300-9445368 سے اسے 2013-07-18 کو گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس بھیجا گیا، اور 2013-07-27 کو مرسل نے وہی ایس ایم ایس بھیجا۔ تمام ایس ایم ایس کی عبارت ایک ہی تھی جو مندرجہ ذیل ہے:

.................................................................................................................................................. ........................................................................................(نعوذ باللہ)

اس نے موبائل فون اور موبائل کی سکرین پر موجود عبارت کی تصویر بنالی اور اس تصویر کی ای میل، ایس اے آر ڈیجیٹل لیبارٹری کو پرنٹ کے لیے بھجوادی اور مدعی کا موبائل فون اسے واپس کر دیا۔ 2013-07-18 کو ایس ایم ایس کے وصول ہونے کا وقت قبل از دوپہر گیارہ بجے تھا۔ اس نے میل کے ذریعے تصویر سمیع اللہ کو بھیج دی جو ایس اے آر ڈیجیٹل کلر لیب اینڈ فوٹوگرافس کی دوکان چلا رہا ہے اور اس نے اس سے تصویر کا پرنٹ وصول کر لیا جو (Ex.P.J/2) ہے۔ اس نے نیلے رنگ کے لفافے میں یہ پرنٹ تفتیشی افسر کو ڈی ایس پی گوجرہ کے دفتر میں دے دیے جس نے ریکوری میمو (Ex.P.N) تیار کیا جس پر اس نے اور نذر حسین نے دستخط کیے اور دستخط (Ex.P.N/1) ہیں۔ اس ضمن میں تفتیشی افسر نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا۔

گواہِ استغاثہ نمبر 7 ، سمیع اللہ خان نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایس اے آر ڈیجیٹل کلر لیب اینڈ فوٹو سٹوڈیو، گوجرہ میں ملازم ہے اور وہ 2013-07-20 کو لیبارٹری میں کام کر رہا تھا۔ تقریباً دوپہر ڈیڑھ بجے، اسے عبدالقدیر ولد محمد جاوید عطاری شاپ، گوجرہ سے ایک ای میل موصول ہوئی جو ایل جی جی ایکس 200، سے کھینچی ہوئی ایک تصویر تھی اور

صفحہ 909

اس کا پرنٹ درکار تھا، اور اس نے اس ای میل کے دو پرنٹ بنائے اور عبدالقدیر کے حوالے کر دیے۔ (Ex.P.J/2) وہ پرنٹ ہے جو اس نے بنایا اور موبائل کی سکرین پر گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کی پوری عبارت، اس کی وصولی کے وقت اور تاریخ کے ساتھ دکھاتی ہے، اور متذکرہ عبارت، موبائل نمبر 0303-9445368 سے موبائل سم نمبر 0300-6553526 پر بھجوائی گئی تھی۔ یہ ایک گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس تھا۔ تفتیشی افسر نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 8، شہزاد مبارک نے گواہی دی کہ 2013-07-21 کو تقریباً سہ پہر چار بجے، وہ بشپ کمپاؤنڈ میں مقدمہ ہذا کی تفتیش میں شامل ہوا۔ اس کی موجودگی میں، عدالت میں حاضر ملزم شفقت مسیح ولد ایمونوئل اور شگفتہ، زوجہ شفقت مسیح، جو پولیس کی تحویل میں تھے، سے تفتیش کی گئی اور انہوں نے بتایا کہ وہ موبائل نوکیا 1200 مع رسید خریداری سم نمبر 0303-9445368، سم کی جیکٹ اور اپنے قومی شناختی کارڈ، پیش کر سکتے ہیں جس کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس، مختلف موبائل نمبروں کو بھیجے گئے۔ ملزم شفقت، وہیل چیئر پر تھا اور اس نے اپنے رہائشی کمرے کا دروازہ کھولا اور اپنی شریک ملزمہ شگفتہ کوثر کو لوہے کا وہ ڈبہ لانے کا کہا جو رہائشی کمرے کے شمال مشرقی سمت میں پڑا تھا۔ ملزم شفقت نے خود لوہے کا ڈبہ کھولا اور وہاں سے موبائل فون ساختہ نوکیا 1208، (P.4)، سم جیکٹ (P.5)، خریداری رسید (P.6) اور اپنا قومی شناختی کارڈ (P.7) نکالا۔ خریداری رسید (P.6) پر اس کا قومی شناختی نمبر موجود ہے اور سم نمبر (0303-9445368)، (P.5)، سم جیکٹ، پر اس کے سم کا نمبر موجود ہے جو 0303-9445368 تھا۔ تفتیشی افسر نے انہیں ریکوری میمو (Ex.P.P) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا جس پر اس کے علاوہ گواہ استغاثہ افتخار احمد نے دستخط کیے اور انہیں ایک لفافے میں ڈال کر سربمہر کر دیا۔ میرے دستخط (Ex.P.P/1) ہیں۔ تفتیشی افسر نے اس کا بیان قلمبند کیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 9، راشد محمود نے بتایا کہ وہ موبائل فرنچائز پر کام کرتا ہے اور اس کا عہدہ نمائندہ کسٹمر کیئر ہے۔ عدالت میں حاضر ملزم، شفقت، جو معذور ہے، عدالت میں حاضر ملزمہ مسز شگفتہ، کے ساتھ 2012-12-15 کو اس کے پاس آیا اور انہوں نے -/100 روپے کے عوض سم نمبر 0303-9445368 خریدی۔ اس نے خریدار کے نام پر

صفحہ 910

رسید جاری کر دی۔ اس نے دونوں خریداروں کو دیکھا تھا اور شفقت نے ادائیگی کی اور سم کو شگفتہ کے نام پر جاری کر دیا گیا۔ 20-07-2013 کو، ایک شخص محمد حسین نے متذکرہ سم کی خریداری کے متعلق اس سے استفسار کیا۔ انہوں نے اس سم کے مالک کے متعلق استفسار کیا اور اس نے انہیں خریدار کا نام شگفتہ مسیح بتایا اور اس نے اسے خریدار کا نام بتایا۔ پھر اسے 22-07-2013 کو ایس پی ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف سے ڈی ایس پی، گوجرہ کے دفتر طلب کیا گیا۔ اس نے یہ حقیقت، محمد یار، ایس آئی کے روبرو بیان کر دی اور تفتیشی افسر کو ایک رسید بک دے دی۔ تفتیشی افسر کو دی گئی رسید بک (P.8) ہے اور ریکوری میمو (Ex.P.Q) کے مطابق اس میں 94 رسیدیں ہیں۔ یہ رسیدیں، 11-12-2012 تا 16-12-2012 تک ہیں۔ نمبر شمار 78 پر مشتمل، سم کی فروخت کی رسید (P.8/1) ہے۔ اس نے رسید بک تفتیشی افسر کے حوالے کر دی۔ (Ex.P.Q) پر اس کے دستخط (Ex.P.Q/1) ہیں۔ تفتیشی افسر نے اس کا بیان (Ex.P.Q) قلمبند کیا اور محمد یار ایس آئی نے دوبارہ کہا کہ اس پر ایس پی نے دستخط کیے۔

گواہ استغاثہ نمبر 10، ساجد محمود، جوڈیشل مجسٹریٹ نے گواہی دی کہ 21-07-2013 کو وہ گوجرہ میں بطور جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول / سول جج ۔ درجہ دوم، تعینات تھا۔ ناصر بلال، ایس پی انویسٹی گیشن نے اس کے روبرو عدالت میں حاضر ملزم شفقت مسیح پیش کیا تا کہ زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس کا بیان قلمبند کیا جائے۔ اس نے قانون کے مطابق کارروائی کی اور ملزم کو سوچنے کا وقت فراہم کیا۔ اس کی طرف سے قلمبند سربمہر بیان (Ex.P.R)، عدالت کے روبرو کھولا گیا جو اپنے درست تناظر میں قلمبند کیا گیا اور ملزم شفقت مسیح کو پڑھ کر سنایا گیا اور اس نے بیان پر اس کے انگوٹھے کے نشان بھی حاصل کیے۔ بیان کے متعلق دیا گیا سرٹیفکیٹ اس کے پاس ہے۔ اس کا بیان بالکل درست تناظر اور بغیر کسی جبر و اکراہ کے لیا گیا۔ سرٹیفکیٹ (Ex.P.R/1) ہے جس کی املا اس نے لکھائی اور اس نے اس پر دستخط کیے۔ اس نے یہ سرٹیفکیٹ، جناب سیشن جج، ٹوبہ ٹیک سنگھ کو سر بمہر لفافے میں بھیجا۔ اس کی نقل، تفتیشی افسر کو بھیجی گئی۔

گواہ استغاثہ نمبر 11، محمد ناصر سیال، ایس پی، مدینہ ٹاؤن نے گواہی دی کہ 20-07-2013 کو آر پی او نے مقدمہ ہذا کی تفتیش اسے سونپ دی۔ وہ 21-07-2013 کو تفتیش کی خاطر پولیس سٹیشن، سٹی گوجرہ پہنچا۔ ریکارڈ اس کے حوالے کیا گیا اور پھر وہ ایس ایچ

صفحہ 911

او اور مدعی کے ہمراہ، جائے وقوعہ پہنچا جہاں سے مدعی کو سب سے پہلے، مسجد تالاب والی میں گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس موصول ہوا۔ گواہان وہاں پہنچے۔ اس نے گواہان اور مدعی سے معاملے کے متعلق تفتیش کی۔ مدعی نے اس کے روبرو موبائل فون ساختہ ایل جی جی وائی 2000 ، سیاہ رنگ (P.1) مع سم نمبر 6553526-0300 پیش کیا جس پر اس نے متذکرہ بالا گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس وصول کیا۔ اس نے موبائل کا معائنہ کیا اور اس میں اس قسم کے (گستاخانہ) ایس ایم ایس موجود پائے۔ دریں اثناء، ساجد اصغر ایڈووکیٹ وہاں پہنچا اور مدعی ، محمد حسین نے اپنا ضمنی بیان قلمبند کرایا جو اسے زبانی پڑھ کر سنایا گیا اور اس نے شفقت مسیح اور شگفتہ ، عدالت میں حاضر ملزمان کو نامزد کیا۔ گواہان نے بھی اپنے بیان زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کروائے۔ ایک گواہ، سجاد اصغر ایڈووکیٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس نے اپنے فون نمبر 6550125-0300 پر بھی پیغامات موصول کیے۔ اس نے بھی مرسل کے نمبر 6550125-0303 سے پیغام موصول کیا، پھر ہم اس جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے لیے گئے جہاں سے سجاد اصغر نے پیغام وصول کیا اور اسی جگہ پر مدعی نے بھی 20-07-2013 کو پانچ پیغامات موصول کیے۔ اسی وقت، ایڈووکیٹ، سجاد اصغر نے بھی یہ پیغام اپنے فون نمبر (P.1) پر موصول کیا۔ مدعی نے مسجد تالاب والی میں اپنا موبائل فون پیش کیا جس نے میموری ریکوری (Ex.P.M) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا تھا، نیز اس نے جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا جو (Ex.P.S) ہے۔ پھر اس نے سجاد اصغر ایڈووکیٹ کے چیمبر کے جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا جو (Ex.P.T) ہے۔ جب مدعی نے اپنے ضمنی بیان میں ملزم کو نامزد کیا تو ہم نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا جبکہ اس کے ساتھ لیڈی کانسٹیبل تھی۔ ملزم شفقت ، اپنے گھر کے باہر موجود تھا جو معذور ہے اور شریک ملزمہ، شگفتہ کوثر ، چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ انہوں نے انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے تفتیش کی۔ ملزم شفقت نے بتایا کہ اس نے یہ سب کچھ اپنے منصوبے کے مطابق کیا اور مزید انکشاف کیا کہ اس کے کچھ مخصوص روحانی اور جذباتی احساسات ہیں اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ کسی دوسرے ملک جانا چاہتا ہے۔ اس نے مزید انکشاف کیا کہ اس کے پاس پہلے ہی 5/6 سمیں ہیں لیکن یہ سم اس نے بدنیتی اور خبیثانہ طور اپنی بیوی کے نام پر حاصل کی اور اس کی بے خبری کے عالم میں خریدی۔ شریک ملزمہ، اپنے گھر میں پڑا ہوا فولادی صندوق لے کر آئی، اس صندوق میں سے

صفحہ 912

اس نے رسید خریداری 9445368-0303، (P.6) کے علاوہ اپنا قومی شناختی کارڈ نکالا جو (P.7) ہے، نیز اپنا موبائل فون اور سم کی جیکٹ اس کے حوالے کر دی جو (Ex.P.4) اور (Ex.P.5) ہیں۔ موبائل فون نوکیا 1208 ہے جو ریکوری میمو (Ex.P.P) کے مطابق تحویل میں لیا گیا اور اس پر گواہان کے دستخط کیے گئے۔ اس نے گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ اس نے سم، موبائل اور سم جیکٹ رسید اور قومی شناختی کارڈ کی برآمدگی کا نقشہ تیار کیا جو (Ex.P.U) ہے جس پر اس کے دستخط ہیں۔ پھر وہ ملزم کو پولیس سٹیشن، سٹی، گوجرہ لے آئے۔ ملزم سے سامان برآمد کیا اور پھر یہ ایم ایچ سی تھانہ سٹی گوجرہ کے حوالے کر دیا۔ دوران تفتیش ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف اور اقرار کیا۔ گواہ استغاثہ نے اپنی مرضی سے کہا کہ اس نے مجاز عدالت کے روبرو صحت جرم کا اعتراف کیا۔ اس نے اپنی ایک درخواست (Ex.P.R/2) کے ذریعے زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو ملزم کا بیان قلمبند کرنے کا کہا۔ پھر انہیں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جبکہ عدالت نے انہیں عدالت سے باہر نکال دیا اور قانون کے مطابق زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کا بیان قلمبند کیا۔ بیان کی کاربن کاپی ہمیں دی گئی اور دوسری نقل، سیشن جج، ٹوبہ ٹیک سنگھ کو بھیج دی گئی جو (Ex.P.R) اور (Ex.P.R/1) ہیں۔ سم کو ملزم نے خود ضائع کر دیا تھا، اس لیے، اس نے زیر دفعہ 201 مجموعہ ضابطہ فوجداری، شریک ملزمہ کے ساتھ مشورے اور لاعلمی کے ساتھ جرم کا اضافہ کر دیا جس نے اعتراف کیا، اس لیے، دفعہ 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری کا اضافہ بھی کیا گیا۔ پھر دونوں ملزموں کو جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا گیا اور وہ ڈی پی او آفس ٹوبہ ٹیک سنگھ آ گیا اور اس نے سم کے ذریعے بھیجے گئے پیغام کی ہارڈ کاپی حاصل کرنے کے لیے ایک درخواست کے ذریعے استدعا کی جو (Ex.P.V) ہے، جو اس نے موصول کر لی۔ انس رشید اے ایس آئی اور عثمان رضا 1107 کانسٹیبل نے ایس ایم ایس کی ہارڈ کاپی پرنٹ کی تھی اور یہ ریکوری میمو (Ex.P) کے مطابق میں اپنی تحویل میں لے رہا ہوں اور اس نے متذکرہ گواہان استغاثہ کے بیانات بھی قلمبند کیے اور کمپیوٹر سے نکلا ہوا پرنٹ (Ex.P.A) ہے۔ مقدمہ کی ملکیتی اشیاء، سربمہر لفافے میں بند کی جا رہی ہیں جو (Ex.P.1) ہیں۔ دوبارہ، اگلے دن 22-07-2013، کو اس نے فرنچائزر راشد محمود ولد محمد شفیع سے رابطہ کیا، وہ مہدی محلہ کا رہائشی تھا۔ فرنچائز نمبر 786، مہدی محلہ سے جاری کردہ متذکرہ سم کی رسید بک، جس کے

صفحہ 913

ذریعے پیغام بھیجا گیا، بھی ریکوری میمو (Ex.P.Q) کے مطابق اسے اپنی تحویل میں لے لی، سم کی خریداری رسید بھی تحویل میں لے لی گئی، رسید بک 94 صفحات پر مشتمل ہے اور ملزم کی سم کی متذکرہ رسید کا نمبر شمار 78 ہے اور سم -/100 روپے کے عوض فروخت کی گئی۔ اس نے فرنچائزر کا بیان بھی قلمبند کیا۔ اس نے بتایا کہ سم، اس نے ملزم شفقت اور اس کی بیوی شگفتہ، جو عدالت میں حاضر ہے، کو فروخت کی ۔ 15-12-2012 کو محمد یار، ایس آئی، راشد محمود کے ساتھ تھا جب میں نے ریکوری میمو (Ex.P.Q) تیار کیا اور اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے۔ 23-07-2013 کو وہ ایس پی گوجرہ کے دفتر پہنچا جہاں دو اشخاص، عبدالقدیر ذات ملک، ساکن نیو ماڈل ٹاؤن، گوجرہ اور سمیع اللہ خان، شامل تفتیش ہو گئے۔ انہوں نے پہلے ہی دن تصویروں کے پرنٹ لے لیے تھے۔ انہوں نے مدعی کے کہنے پر پیغام کی تصویر تیار کی اور اس نے یہ تصویر اسے دی جو اس نے ریکوری میمو (Ex.P.N) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لی جس پر میں اور گواہ نے دستخط کیے ۔ تصویر (Ex.P.J/2) ہے، اسے سربمہر لفافے میں بند کر دیا گیا جو (P.9) ہے۔ اس نے محمد سمیع اللہ کا بیان قلمبند کیا۔ ریکوری میمو (Ex.P.N) پر نذر حسین ایس آئی اور عبدالقدیر کے دستخط ہیں۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ان کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ 27-04-2014 کو وہ ایس ڈی پی او، گوجرہ کے دفتر پہنچا۔ سجاد اصغر ایڈووکیٹ، نے اپنا سیل نوکیا X200 ساختہ بھارت، بغیر سم کے، اس کے حوالے کر دیا جو اس نے ریکوری میمو (Ex.P.L) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس موبائل فون میں چار گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات موجود ہیں۔ موبائل فون X200 کو میں نے اپنی تحویل میں لے لیا اور ریکوری میمو پر نذر حسین، ایس آئی، پی ایس او اور محمد یار ایس آئی نے دستخط کیے۔ پھر وہ ڈی پی او دفتر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چلا گیا اور میں نے انس رشید سے ایس ایم ایس کی ہارڈ کاپی حاصل کی اور ریکوری میمو (Ex.P.D) کے مطابق اپنی تحویل میں لے لی جس پر انس رشید اور عثمان رضا نے دستخط کیے۔ اس نے 21-07-2013 کو ڈی پی او، ٹوبہ ٹیک سنگھ کو سی ڈی آر، حاصل کرنے کے لیے ایک تحریری درخواست (Ex.P.W) دی۔ مندرجہ بالا تمام سموں کے نمبروں کے لیے سی ڈی آر کی درخواست کی گئی۔ ایک نمبر 03006553526 جو مدعی کی ملکیت ہے جبکہ سجاد اصغر کا نمبر 0300-6550125 اور ملزم کا نمبر 9445368-0303 ہے۔ 26-07-2013 کو

صفحہ 914

اس نے فیصل آباد کے میرے دفتر میں ایک رجسٹرڈ لفافہ موصول کیا جو ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ نے بھیجا تھا جسے (پہلے) میرے ریڈر نے وصول کیا جس میں سی ڈی آر جس کی درخواست اوپر کی گئی تھی، موجود تھی، جسے تفتیش کا حصہ بنا دیا گیا جو (Ex.P.E)، (Ex.P.G) اور (Ex.P.H) ہے اور جنہیں ریکوری میمو (Ex.P.X) کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا۔ ریکوری میمو پر طلعت/ایس آئی اور نذر حسین نے دستخط کیے اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری ان کے بیانات قلمبند کیے۔ 2013-07-26 کو وہ گوجرہ پہنچا اور اے ایس آئی انس کو طلب کیا جس نے سی ڈی آر کی تصدیق کی اور اس نے زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، سی ڈی آر، بھیجنے کے متعلق اس کا بیان قلمبند کیا۔ پھر مسل، ایس ایچ او کو بھیجی گئی تا کہ زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ تیار کی جائے۔

گواہ استغاثہ نمبر 12، نذر حسین، ایس آئی نے گواہی دی کہ 2013-07-23 کو میں ایس ایس پی، مدینہ ٹاؤن، ڈویژن، فیصل آباد، کے دفتر میں پرسنل سٹاف افسر کے طور پر تعینات تھا۔ اسی دن تقریباً دوپہر ساڑھے بارہ بجے، وہ، عبدالقدیر اور سمیع اللہ، نے ایس پی/ تفتیشی افسر کے روبرو نیلے رنگ کا لفافہ پیش کیا جس میں مدعی کی ملکیت موبائل فون ایل جی، کی تصویر کے پرنٹ موجود تھے جس پر گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغام کی عبارت، مرسل کا موبائل نمبر 0303-9445368، تاریخ 2013-07-18 اور وقت قبل از دوپہر 10.11 بھی دکھایا گیا تھا جو مدعی کے موبائل نمبر 0300-6553526 پر موصول ہوا۔ پرنٹ پکچر (Ex.P.9)، (Ex.P.J/2) کو ریکوری میمو (Ex.P.N) کے مطابق، ایس پی نے اپنی تحویل میں لے لیا جس پر عبدالقدیر نے اس کے اصل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے گواہ کے طور پر دستخط کیے ۔ اس کے اوپر اس کے دستخط (Ex.P.N/2) ہیں۔ اس ضمن میں تفتیشی افسر نے ان کے بیانات قلمبند کیے۔

24-07-2013، وہ، محمد یار، ایس آئی کے ہمراہ، ڈی ایس پی، گوجرہ کے دفتر موجود تھا جہاں ان کی موجودگی میں سجاد اصغر ایڈووکیٹ نے ایس پی/تفتیشی افسر کے روبرو اپنا موبائل فون نوکیا X200 پیش کیا اور بیان کیا کہ 2013-07-20 کو اسے اپنے موبائل فون نمبر 0300-6550125 پر چار گستاخانہ اور اہانت آمیز پیغامات، موبائل فون نمبر

صفحہ 915

0303-9445368 سے موصول ہوئے، اس نے ، محمد یار اور ایس پی تفتیشی افسر نے یہ پیغامات پڑھے۔ ایس پی تفتیشی افسر نے ریکوری میمو (Ex.P.L) کے مطابق وہ موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیا جس پر اس نے اور محمد یار نے اس کے اصل ہونے کی علامت کے طور پر دستخط کیے۔ اس کے دستخط (Ex.P.L/1) ہیں۔ اس ضمن میں تفتیشی افسر نے ہمارے بیانات قلمبند کیے۔

26-07-2013 کو قبل از دوپہر تقریباً 10.00 بجے ، وہ ، ایس پی تفتیشی افسر کے ساتھ اس کے دفتر، فیصل آباد میں موجود تھا جہاں طلعت محمود، اے ایس آئی نے ایک پوسٹل میل پیش کی جو دفتر ڈی پی او، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف سے بھیجی گئی تھی۔ یہ متذکرہ میل ، ڈی پی او کی طرف سے آئی۔ بی۔ پاکستان کے دفتر کو لکھے گئے ان خطوط پر مشتمل تھی جن میں سی ڈی آرز کی تصدیق کے علاوہ، ملزمہ، شگفتہ کوثر کے قومی شناختی کارڈ (Ex.P.F) ، (Ex.P.F/1)، موبائل نمبر 0300-6553526 (Ex.P.G)، (Ex.P.G/1-3)، موبائل نمبر 0300-6550125، (Ex.P.H)، (Ex.P.H/1-5) اور موبائل نمبر 0303-9445368، (Ex.P.E)، (Ex.P.E/1-2) کے سی ڈی آرز تھے جسے ریکوری میمو (Ex.P.X) کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا جس پر اس نے اور طلعت محمود اے ایس آئی نے دستخط کیے۔ اس کے دستخط (Ex.P.X/1) متذکرہ اشیاء کے اصل ہونے کے اظہار کی علامت کے طور پر موجود ہیں۔ اس ضمن میں تفتیشی افسر نے ان کے بیانات قلمبند کیے۔

کے مطابق، خالد مقصود، افتخار احمد، طلعت محمود، محمد یار اور محمد عثمان رضا کی گواہی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی گواہی ترک کر دی اور استغاثہ کی گواہی مکمل کر دی۔

قلمبند کیا گیا کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف کیوں تیار کیا گیا اور گواہان استغاثہ نے کیوں اس کے خلاف گواہی دی۔ ملزم ، شفقت مسیح نے بیان دیا کہ:

”وقوعہ سے تقریباً 8/7 مہینے قبل نذیر مسیح کے ساتھ تو تو ، میں میں ہوئی۔ وہ ہمار ا ہمسایہ ہے اور مدعی نے متذکرہ نذیر مسیح کی حمایت کی، بعد ازاں، متذکرہ نذیر مسیح اور مدعی نے سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سم کے جاری ہونے کے بعد کسی نے میرے نام

صفحہ 916

پر اس مقصد کے لیے سم استعمال کی۔‘‘

اسی سوال کے جواب میں، شگفتہ مسیح نے بیان دیا کہ: ’’وقوعہ سے تقریباً 8/7 مہینے قبل نذیر مسیح کے ساتھ تو تو، میں میں ہوئی۔ وہ ہمار ہمسایہ ہے اور مدعی نے متذکرہ نذیر مسیح کی حمایت کی، بعدازاں، متذکرہ نذیر مسیح اور مدعی نے سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سم کے جاری ہونے کے بعد کسی نے میرے نام پر اس مقصد کے لیے سم استعمال کی۔ میرے خاوند کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس بھجوانے کے الزام کے تحت مجھے بھی اس مقدمے میں ملوث کیا گیا۔‘‘

جناب محمد عامر لطیف، جناب غلام مرتضیٰ چودھری، جناب حسن منیر، جناب عاطف حسین ضیاء، جناب ملک خالد اکمل اور محمد توقیر اشرف ایڈووکیٹس کی معاونت کی۔ ان کا موقف تھا کہ گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس کی تصویر، اس درخواست کا حصہ ہے جو مدعی (Ex.P.G) نے گزاری۔ گواہ استغاثہ نمبر 9، راشد محمود نے گواہی دی کہ شگفتہ مسیح نے اپنے خاوند کے ہمراہ، وہ سم خریدی جس کے ذریعے گستاخانہ اور اہانت آمیز ایس ایم ایس بھیجے گئے اور اس کا قومی شناختی کارڈ، سم کی خریداری رسید پر موجود ہے جو (P.6) ہے۔ اگرچہ سم کو ضائع کر دیا گیا لیکن سم جیکٹ کو آزاد گواہان کی موجودگی میں برآمد کر لیا گیا جو (P.5) ہے۔ (P.7)، ملزمہ کا قومی شناختی کارڈ ہے اور یہ خریداری رسید پر دستیاب ہے۔ فروخت کنندہ، راشد محمود ہے۔ ایک شریک ملزم، شفقت مسیح نے فاضل علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنا بیان قلمبند کروایا جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ اس کی بیوی بے قصور ہے جو اس کے بیان کی غیر جانبداریت ظاہر کرتی ہے، تاہم جرم میں ملوث کرنے پر مشتمل اس بیان کو دونوں ملزمان کے خلاف پڑھنا چاہیے۔ ایس ایم ایس کا ہارڈ پرنٹ، دستیاب ہے جو (Ex.P.B) ہے۔ سجاد اصغر ایڈووکیٹ کی سی ڈی آر کے حصول کے لیے مدعی کی درخواست بھی ریکارڈ پر دستیاب ہے۔ رسید بک، جو 94 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں سم خریداری کی رسید کا نمبر شمار 78 ہے جو ریکوری میمو (Ex.P.Q) کے مطابق تحویل میں لی گئی۔ اس نے مجھے دو ایف آئی آر بتائیں اور بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 820/11 پولیس سٹیشن سٹی گوجرہ جس میں ایک ملزم سجاد مسیح کو سزا دی گئی جب کہ شریک ملزمہ روما بی بی، مفرور تھی

صفحہ 917

اور ملک سے فرار ہو گئی تھی جس کا موبائل نمبر 9445368-0303 ہے۔ (Ex.P.E) کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ ہذا کے ملزم نے اس مقدمہ کے مدعی کو ایس ایم ایس بھیجنے سے چار منٹ قبل ایس ایم ایس بھیجا۔ سم بھی روما مسیح کے نام پر تھی۔ وہ مزید بتاتا ہے کہ یہ ایک گروہ ہے اور بہت سے افراد اس قسم کے کام میں ملوث ہوئے اور ملک سے فرار ہو گئے مثلاً الماس اور فہمیدہ اور بہت سے دوسرے جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے جنہوں نے مالی اور سماجی مفاد کے لیے یہی کام کیا۔ وہ مزید بتاتا ہے کہ کہیں بھی کوئی مخاصمت نہیں ہے جسے مدعی اور گواہان کے ساتھ منسوب کیا جا سکے کیونکہ ملزم سے ان کا کوئی تعلق نہیں، وہ اسی علاقے کے رہائشی ہیں اور نہ ہی ان کے درمیان کوئی پرانا تعلق یا ناتا ہے۔ مزید برآں گواہان کو ملزم کے متعلق کوئی آشنائی نہیں اور ملزم نے یہ تمام کام صرف اور صرف بیرون ملک پناہ حاصل کرنے کے لیے کیا اور سیاسی مفادات حاصل کیے۔ وہ بتاتا ہے کہ 1991 PLD فیڈرل شریعت کورٹ 10، کے ایک فیصلے کے مطابق، گستاخ رسول کے لیے سزا، سزائے موت ہے اور مقدمہ ہذا میں تمام گواہان استغاثہ، بغیر کسی شک وشبہ، ایک دوسرے سے متفق ہیں۔ مقدمہ ہذا کا تقاضا ہے کہ ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔

کہ استغاثہ کا یہ مقدمہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ بہت سے اہم نکات کے ضمن میں تمام گواہان کے بیانات ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ (i) ایس ایم ایس کی موصولی کا وقت۔ (ii) سجاد کھوکھر ایڈووکیٹ کے دفتر میں گزارا وقت۔ (iii) ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس سٹیشن سے رابطہ اور یہ بھی تنقید کی کہ ملزم کا بیان، عدالت کے وقت کے بعد قلمبند کیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ، زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، شفقت مسیح کا بیان 7.00 بجے شام دباؤ کے تحت قلمبند کیا گیا۔ اس نے مزید کہا کہ رسید بھی گھڑی گئی ہے اور فرنچائز نے رسید اس قسم کی شکل میں جاری نہیں کی۔ اس نے رسید کا معائنہ کیا اور کہا کہ رسید، ایک عام نمونے پر مشتمل ہے اور فرنچائز کی طرف سے جاری کردہ رسید کے نمونے کے مطابق نہیں۔ فاضل وکیل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شگفتہ مسیح کے نام پر کسی بدطینت نے سم حاصل کی اور سم کو مخصوص مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ملزمان بے قصور ہیں اور ان پڑھ بھی ہیں اور انگریزی میں ایس ایم ایس بھی نہیں لکھ سکتے۔ رسید کی خریداری کی تاریخ 15-12-2012 بتائی گئی ہے اور درمیانی وقت

صفحہ 918

آٹھ ماہ کا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ایس ایم ایس کا ملزم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہ کسی تیسرے شخص کا کام ہے۔ اس نے مزید کہا کہ بیرون ملک پناہ حاصل کرنے کا طریقہ، گواہ استغاثہ نمبر 3 کی ہی اختراع ہے اور اس نے کسی ایسے ملک کا ذکر بھی نہیں کیا کہ جہاں ملزم جانا چاہتا تھا اور اگر ملزم قصوروار تھا تو پھر وہ جائے وقوعہ سے کیوں فرار نہ ہوا۔ وہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ شک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزم کو بری کیا جائے۔

ایم ایس بھیجا اور اس کھلی عدالت میں زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اس نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے اس کا اعتراف کیا جہاں اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ ملزم نے نہایت ہی مکروہ اور بھیانک جرم کا ارتکاب کیا ہے اور امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اس طرح مقدس ترین ہستی کی تحقیر کی اور محض معمولی فائدے کے لیے انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایس ایم ایس بھیجا اور اپنی مرضی کے مطابق مخصوص مفاد حاصل کرنا چاہا۔ اگر اسی طریقے اور رجحان کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی تو نہ صرف دو ہمسایوں کے درمیان ہم آہنگی تباہ ہو جائے گی بلکہ ان کے درمیان فساد بھی برپا ہوگا۔ موبائل فون کی ملکیت سے انکار نہیں کیا جا رہا ہے۔ ملزمان کی طرف سے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے بیانات میں ملزمان کی طرف سے صحت جرم سے انکار، کسی بھی تصدیقی ثبوت کے بغیر جائز نہیں، اس لیے، میں ملزم کے بیان زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، پر بھروسا نہیں کر سکتا۔ ملزم نے اپنے فعل کے ارادی اور شعوری نتائج سے باخبر ہوتے ہوئے اور مفاد حاصل کرنے کی خاطر اس شرمناک فعل کا ارتکاب کیا جس سے درگزر نہیں کیا جا سکتا۔ ان گستاخانہ اور توہین رسالتﷺ پر مبنی ایس ایم ایس کے ذریعے انہوں نے نہ صرف نبی اکرم ﷺ کی حرمت اور وقار کو پامال کیا بلکہ کتاب مقدس کی بھی بے حرمتی کی اور یوں دانستہ اور جان بوجھ کر مکروہ اور بھیانک جرم کا ارتکاب کیا۔ جرم ہذا کے شروع ہی سے استغاثہ کی گواہی جرم کے ارتکاب کو ثابت کر رہی تھی کہ مدعی نے اپنے موبائل پر توہین رسالتﷺ پر مبنی ایس ایم ایس موصول کیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کی حرمت اور عزت کو محفوظ رکھنے کی خاطر اپنی بہترین کوشش کی۔ مقدمہ ہذا میں عبدالقدیر قطعی طور پر ایک آزاد گواہ ہے اور اس نے توہین

صفحہ 919

رسالت ﷺ پر مبنی ایس ایم ایس کی تصویریں لیں۔ ملزم شفقت مسیح کے نام پر رسید خریداری بھی پیش کی گئی اور دونوں ملزمان نے موبی لنک فرنچائز سے اپنی مشترکہ رضامندی سے سم خریدی۔ سم کی فروخت کی رسید کا نمبر شمار 78 ہے جو ملزم کو فروخت کی گئی۔ شفقت مسیح نے اس امر سے بھی انکار نہیں کیا کہ وہ اس سم کی خریداری کے لیے گیا تھا اور سم کو ضائع کرنے کے بعد بھی سم کی خرید کے متعلق تردید سامنے نہیں آئی اور سم کو ضائع کرنے کے عمل سے ملزم کی بدنیتی اور خباثت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے، جرم کے ارتکاب کے ضمن میں ایک سراغ کی دستیابی کے باعث، سم کا ضائع ہونا، استغاثہ کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ زیر دفعہ 164 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ملزم کا بیان، عدالت میں ایک ایسا ثبوت اور گواہی ہے جس کی حرمت اور وقار اور غیر جانبداریت اور شفافیت، کسی بھی شک سے ماورا ہے، جس کے ذریعے ملزم کو غور کرنے اور سوچنے کے لیے موقع دیا گیا اور ایسا انتظام کیا گیا کہ بیان دیتے وقت ملزم پر کوئی دباؤ نہ ہو اور یوں ملزم کے ذہن میں کوئی دباؤ نہ تھا اور اس نے اپنی مرضی سے اعتراف جرم کیا۔ اس قسم کے جرم کی کسی بھی معاشرے، مذہب یا دین میں اجازت نہیں اور یہ نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ ایک گناہ بھی ہے جس کی تمام ادیان میں ممانعت کی گئی ہے۔ میں نے اس ضمن میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ 10 PLD 1991 FSC پر انحصار کیا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا:

تقریباً تمام فقہا نے مندرجہ ذیل آیات پر اعتماد کیا ہے جو یوں ہیں:

”57:33۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں‘ ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔“

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

”ہر چیز جو رسول پاک ﷺ کی ایذا کا سبب بن جائے‘ خواہ وہ مختلف معنی کے حامل الفاظ کے حوالہ سے ہو یا ایسے عمل سے جو آپ کی اذیت کے تحت آتا ہے۔“ (الجامع الاحکام جلد 14 صفحہ 238)

علامہ اسماعیل حقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینے کا مطلب‘ دراصل صرف رسول کو اذیت دینا ہے اور اللہ کا ذکر صرف عظمت اور سرفرازی کے لیے ہے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ رسول کو اذیت دینا‘ دراصل اللہ کو اذیت دینا ہے۔“

صفحہ 920

دوسری آیت جس پر اعتماد کیا گیا ہے‘ اس طرح ہے:

”61:9، 62۔ ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی ﷺ کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں، ان کے لیے دردناک سزا ہے۔“

(62،61:9)

”یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں، تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں“ (62:9)

ابن تیمیہؒ ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”آیت 62:9 اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانا، اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت ہے۔“

(الصارم المسلول ص21،20)

ابن تیمیہؒ مزید لکھتے ہیں ”ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب شاتمان رسول ﷺ کے گروہ میں سے ایک شخص رسول ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا ”تم اور تمہارے دوست مجھ پر کیوں سب وشتم کرتے ہیں جس پر وہ شخص چلا گیا اور اپنے دوستوں کو لے آیا اور ان سب نے اللہ کی قسم کھائی اور کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو برا بھلا نہیں کہا۔ اس پر مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں:۔

”18:58 ”جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا‘ وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں‘ اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو‘ وہ پرلے درجہ کے جھوٹے ہیں۔“

19:58 ”شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو‘ شیطان کی پارٹی والے ہی خسارہ میں رہنے والے ہیں۔

یہ آیات مندرجہ ذیل آیت 20:58 سے منسلک ہیں۔

20:58 ”یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔“

صفحہ 921

اس طرح ان آیات قرآن پاک سے بھی ظاہر ہے کہ یہ گالی دینے والے اور شاتم اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، جن کے متعلق قرآن کہتا ہے:

”اور وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور پور پور پر چوٹ لگاؤ“

(12:8)

”یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“

(13:8)

”اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔“

(3:59)

”یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“

(4:59)

چنانچہ یہ آیات واضح طور سے سزائے موت مقرر کرتی ہیں، ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالف ہیں، جن میں شاتمان رسول ﷺ شامل ہیں۔

قرآن پاک اس ضمن میں مزید بیان کرتا ہے:

”اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔“

(60:33)

”ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے۔“

(61:33)

قرآن پاک نے رسول ﷺ کی تعظیم اور تکریم ایک دوسرے طریقہ سے بیان کی ہے اور مسلمانوں کو اسے قائم رکھنے اور اس معاملہ میں احتیاط برتنے کا حکم دیا ہے ورنہ ان کے اچھے اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے۔ قرآن کہتا ہے:

”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے

صفحہ 922

ہو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔‘‘ (2:49)

ابن تیمیہؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”اس آیت میں مومنین کو اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے ان کی بلند آوازی ان کے اچھے اعمال کو غارت نہ کر دے اور وہ اس سے بے خبر ہوں۔‘‘

قرآن کی مختلف آیات سے یہ واضح ہے کہ کفر اور ارتداد انسان کے اعمال کو ضائع کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک کہتا ہے:

”لوگ پوچھتے ہیں ماہِ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اس میں لڑنا بہت برا ہے‘ مگر راہِ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد الحرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک‘ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ‘ خونریزی سے شدید ہے۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے‘ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں ۔ (اور خوب سمجھ لو کہ) کہ تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھر جائے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا‘ اس کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے ۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے ۔‘‘ (217:2)

قرآن پاک نے مزید اعلان کیا ہے کہ اہانت رسول ﷺ ارتداد ہے خواہ وہ کسی شکل میں بھی ہو۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے:

”اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے‘ تو جھوٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو‘ کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟‘‘ (65:9)

”اب عذر نہ تراشو‘ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے‘ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے‘ کیونکہ وہ مجرم ہے ۔‘‘ (66:9)

حضرت علیؓ کی سند سے روایت ہے کہ رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا ”اس شخص کو قتل کرو جو ایک نبی کو گالی دیتا ہے اور جو میرے صحابہؓ کو گالی دے اسے درے لگاؤ۔‘‘ (الشفاء‘ قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 194)

حضرت علیؓ کی سند سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی‘ اس کو ایک شخص نے قتل کر دیا ۔ رسول پاک ﷺ نے اس کا خون بے حقیقت قرار

صفحہ 923

دیا۔ (مندرجہ بالا)

”حضرت جابر بن عبداللہؓ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ”کعب بن اشرف کے خلاف میری کون مدد کرے گا؟ بلاشبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی“۔ اس پر محمد ابن مسلمہ کھڑے ہوئے اور بولے ”اے اللہ کے رسول ﷺ، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے ہلاک کر دوں؟“ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ہاں“ چنانچہ وہ عباس ابن جابرؓ اور عباد ابن بشرؓ کے ہمراہ گئے اور اسے قتل کر دیا۔ (بخاری، جلد دوم، صفحہ 88)“

حضرت عکرمہؓ کی سند سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول پاکﷺ کو گالی دی۔ آپﷺ نے فرمایا ”میرے اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟“ زبیر نے کہا ”میں“ پس وہ (زبیر) اس سے لڑے اور اسے قتل کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے اس کی تعریف کی۔

سب، شتم کے الفاظ اور اذیٰ، توہین رسولﷺ کے لیے قرآن پاک اور سنت میں استعمال ہوئے ہیں۔ سب کے معنی تکلیف اٹھانے، نقصان پہنچانے، تنگ کرنے، اہانت کرنے، بے عزتی کرنے، ناراض کرنے، مجروح کرنے، تکلیف میں مبتلا کرنے، بدنام کرنے، درجہ گھٹانے اور طنز کرنے کے ہیں۔ (Arabic English E. W. Lane, Book I, Part I, Page 24)

لفظ شتم کے معنی ہیں بے عزتی کرنا، گالی دینا، ملامت کرنا، جھڑکنا، بددعا دینا، بدنام کرنا۔

(مندرجہ بالا صفحات 212, 249)

فقیہ العصر مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ نے اپنی تصنیف بعنوان ”توہین رسالتﷺ اور اس کی سزا“ میں حضور اقدس ﷺ کی 40 احادیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:

”حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی تھی جو نبی اکرمﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور آپﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ یہ اس کو روکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی۔ یہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ سنتی نہ تھی۔ یہ راوی کہتے ہیں کہ جب ایک رات پھر نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنی اور گالیاں دینی شروع کیں تو اس نابینا نے ہتھیار (خنجر) لیا اور اس کے پیٹ پر رکھا اور وزن ڈال کر دبا دیا اور مار ڈالا۔ عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ نکل پڑا۔ جو کچھ وہاں تھا، خون آلود ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ حضورﷺ کے یہاں ذکر کیا گیا۔ آپﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا ’اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے کیا، جو کچھ اس نے کیا، میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے‘ تو نابینا کھڑا ہو گیا۔ لوگوں کو پھلانگتا ہوا

صفحہ 924

اس حالت میں آگے بڑھا کہ وہ کانپ رہا تھا۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ؛ یا رسول اللہ ﷺ، میں ہوں اس کو مارنے والا، یہ آپ ﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی۔ میں اسے روکتا تھا، وہ نہ رکتی تھی۔ میں دھمکاتا تھا، وہ باز نہ آتی تھی اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی۔ لیکن آج رات جب اس نے آپ ﷺ کو گالیاں دیں اور برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر اٹھا لیا، اس کے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا۔‘ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ’لوگو، گواہ رہو کہ اس کا خون بے بدلہ (بے سزا) ہے۔“

دونوں ملزمان، شفقت مسیح اور شگفتہ کوثر کے خلاف جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان اور 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ثابت ہوچکا ہے اور میرے نزدیک دونوں ملزمان متذکرہ جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں، اور میں انہیں (شفقت مسیح اور شگفتہ کوثر) کو زیردفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان جسے زیر دفعہ 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے ساتھ پڑھا جائے، موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں جب تک معزز عدالت عالیہ، لاہور سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ سزا کے مرتکبین کو موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ سزا کے مرتکبین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ -/100,000 روپے جرمانہ فی کس ادا کریں اور عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنا ہوگی، اس صورت میں کہ اگر معزز عدالت عالیہ، لاہور سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ جرم زیردفعہ 201 مجموعہ ضابطہ فوجداری مع 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری، دونوں ملزمان، شفقت مسیح اور شگفتہ کوثر کے خلاف ثابت ہوچکا ہے اور میں نے متذکرہ جرم کے ارتکاب کے لیے انہیں قصوروار پایا ہے اور انہیں زیردفعہ 201 تعزیرات پاکستان جسے زیر دفعہ 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے ساتھ پڑھا جائے، ہر ملزم کو ایک برس قید بامشقت دی جاتی ہے۔ زیر دفعہ 25 ٹیلیگراف ایکٹ جسے دفعہ 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے ساتھ پڑھا جائے۔ دونوں ملزمان، شفقت مسیح اور شگفتہ کوثر کے خلاف جرم بھی ثابت ہو چکا ہے اور متذکرہ جرم کے لیے میں نے دونوں کو قصور وار پایا ہے اور انہیں زیردفعہ 25 ٹیلیگراف ایکٹ مع زیر دفعہ 34 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ہر ملزم کو ایک برس قید بامشقت دی جاتی ہے۔ ملزمان پہلے ہی تحویل میں ہیں اور انہیں جو سزا دی گئی، اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے انہیں جیل بھیجا جائے۔ اپیل یا نظر ثانی کے عرصہ کے بعد مقدمہ سے منسلک

صفحہ 925

اشیا کو بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔ قانون کے مطابق سزائے موت کا ریفرنس تیار کیا جائے اور وقت مقررہ کے اندر سزائے موت کی توثیق کے لیے معزز عدالت عالیہ، لاہور کو بھیجا جائے۔ مجرمان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنی سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کی نقل، ملزمان/مجرم کے مرتکبین کو مفت فراہم کی جائے۔

تاریخ فیصلہ 4 اپریل 2014ء

دستخط: محمد عامر حبیب ایڈیشنل سیشن جج، ٹوبہ ٹیک سنگھ حال مقیم، ڈسٹرکٹ جیل، ٹوبہ ٹیک سنگھ

صفحہ 926
صفحہ 927

جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج لاہور

سرکار بنام ذوالفقار علی ولد عبدالغنی، جولائی 2014ء

صفحہ 928
صفحہ 929

دل کی بات

زیر نظر مقدمہ کے حقائق و واقعات کچھ اس طرح ہیں کہ مارچ 2008ء میں کوئی نامعلوم شخص نہرو پارک / افغان پارک اسلام پورہ لاہور کی دیواروں پر اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ اور دین اسلام کے خلاف نہایت گستاخانہ اور اہانت آمیز تحریریں لکھتا اور غائب ہو جاتا۔ یہ گستاخانہ تحریریں مندرجہ ذیل تھیں۔

اس مقدمہ کے مدعی سید نجم الحسن نے ثبوت کے طور پر ان گستاخانہ الفاظ کی تصویریں بھی بنالیں۔ ان متنازعہ اور گستاخانہ تحریروں پر علاقہ بھر کے مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ مدعی سمیت کئی اہل درد حضرات اصل ملزم کی تلاش اور ٹوہ میں رہے۔ چنانچہ 12 اپریل 2008ء کو بڑی محنت اور کڑی نگرانی کے بعد ملزم ذوالفقار علی کو رنگے ہاتھوں جائے وقوعہ سے پکڑ لیا گیا جب وہ دیوار پر متذکرہ بالا تحریریں لکھ رہا تھا۔ اس موقع پر ملزم نے لوگوں سے اپنے سنگین جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی بلکہ ایک کاغذ پر یہ سارا واقعہ لکھ کر اقرار جرم کرتے ہوئے معافی کا طلبگار ہوا۔ اس موقع پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ چنانچہ ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ مدعی کی درخواست پر ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مدعی نے پولیس کو متنازعہ عبارات کی تصویریں اور ملزم کا حلفیہ اعتراف جرم کا تحریری بیان بھی دے دیا۔ تقریباً 6 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی، اس عرصہ میں کئی جج حضرات آئے اور چلے گئے۔ جب بھی ان کے ہاں یہ کیس پیش ہوتا تو وہ بغیر سماعت کے اگلی پیشی کے لیے تاریخ دے

صفحہ 930

دیتے ۔ نہیں معلوم وہ ڈرتے تھے یا کسی اسلامی کیس کی سماعت نہ کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے یہ کیس مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ بالآخر عزت مآب جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج نے اس کیس کی سماعت کی۔ تمام قانونی تقاضوں کو ازسرنو پورا کیا گیا۔ ٹھوس دلائل اور قانونی شواہد کی روشنی میں استغاثہ نے اپنا کیس ثابت کر دیا۔ چنانچہ 14 جولائی 2014ء کو محترم جج صاحب نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو موت کی سزا سنائی ۔

یہ فیصلہ قانونی اور اسلامی حوالہ جات سے اس قدر مزین ہے کہ قانون کے طالب علموں سمیت وکلاء اور جج صاحبان کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ غالباً یہ تیسرا کیس ہے جس میں محترم جج صاحب نے قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت ملزم کو سزا دی۔ سیکولر اور اسلام دشمن لابیوں نے اس پر بہت شور مچایا، لیکن وہ ان فیصلوں میں کسی ایک بات کی بھی نشان دہی نہیں کر سکے جس سے محترم جج صاحب کی غیر جانبداری پر معمولی سا حرف بھی آتا ہو۔ خوفِ خدا، غیر جانبداری، ایمانداری، قانون پسندی، برداشت اور نڈر ہونا ایک جج کے بنیادی اوصاف میں شامل ہے اور یہ ساری خوبیاں محترم جج صاحب میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر مرحلہ زندگی میں کامیاب و کامران فرمائے۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 931

بعدالت جناب محمد نوید اقبال، ایڈیشنل سیشن جج ، لاہور

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 314/2008 بتاریخ 2 اپریل 2008ء پولیس سٹیشن : اسلام پورہ ، لاہور بجرم : تعزیرات پاکستان زیر دفعہ 295-C

سرکار

بنام

ذوالفقار علی ولد عبدالغنی ساکن 11 ۔ چوہان روڈ ، اسلام پورہ ، لاہور حال نظر بند کیمپ / ڈسٹرکٹ جیل ، لاہور (ملزم)

وکیل منجانب مدعی : غلام مرتضیٰ چودھری ایڈووکیٹ

وکیل منجانب ملزم : کاشف علی بخاری ایڈووکیٹ

تاریخ فیصلہ : 14 جولائی 2014ء

صفحہ 932

فیصلہ

جناب محمد نوید اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

مدعی، سید نجم الحسن ولد سید ریاض الحسن، ساکن مکان نمبر 8 گلی نمبر 53 سنت نگر، اسلام پورہ، لاہور نے اپنی درخواست (Ex.PA) کے ذریعے مقدمہ ہذا کا منظر نامہ/حالات، جس طرح پیش کئے، ان کی بنیاد پر مندرجہ ذیل ایف آئی آر (Ex.PA/1) تیار کی گئی: ”بخدمت جناب ایس ایچ او صاحب اسلام پورہ لاہور۔ گزارش ہے کہ کوئی شخص، نہرو پارک / افغان پارک کی دیواروں پر اہانت آمیز، قابل اعتراض اور گستاخانہ الفاظ لکھ رہا ہے اور قابل اعتماد ذرائع سے یہ بات اس کے علم میں آئی ہے کہ یہ ذوالفقار علی ولد عبدالغنی ساکن 11۔ چوہان روڈ، اسلام پورہ، لاہور، نامی ملزم ہے جو یہ سب کچھ لکھ رہا ہے۔ مورخہ 02-04-2008 کو میں نے، ہمراہ، محمد اسلم ولد محمد شریف، ساکن، مکان نمبر 6، گلی نمبر 54، نہرو پارک، متذکرہ ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو جائے وقوعہ سے پکڑ لیا جبکہ وہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ لکھ رہا تھا۔ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ/تحریر کی تصویریں بھی بنائی گئیں جو درخواست کے ساتھ منسلک ہیں۔ ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور قانون کے مطابق اسے سزا دی جائے“۔

علاقے کے لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ گرفتار ملزم، ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو درخواست اور دیواروں پر لکھی گئی گستاخانہ اور اہانت آمیز تحریر کی تصویروں کے ہمراہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ تفتیشی افسر نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB)، تصویروں کو اپنی تحویل میں لے لیا جس پر گواہان

صفحہ 933

استغاثہ نے دستخط کیے۔ جب ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو مدعی اور دیگر نے موقع پر رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور جیسے ہی اسے پولیس کے حوالے کیا جانا تھا، عین موقع پر ہی اس نے لوگوں اور مدعی سے معافی طلب کی لیکن مدعی اور لوگوں کی طرف سے معافی دینے سے انکار پر اس نے کاغذ طلب کر کے اس پر اپنا اعتراف جرم اور معافی نامہ لکھا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھاتے ہوئے لکھا کہ وہ یہ کام گزشتہ ایک مہینے سے کر رہا ہے۔ مدعی نے یہ (اعترافی بیان) تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا جو (Ex.PC/1) ہے اور تفتیشی افسر نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PC) اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

کا اس نے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی اور استغاثہ سے ثبوت اور گواہی پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس طرح استغاثہ نے اپنی طرف سے 11 گواہان پیش کیے۔

گواہ استغاثہ نمبر 2: سید نجم الحسن ولد سید ریاض الحسن ............. مقدمہ ہذا کا مدعی جس نے ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو رنگے ہاتھوں پکڑا۔

گواہ استغاثہ نمبر 3: محمد انور ولد محمد شریف ............. وہ بھی ایک عینی شاہد ہے اور اس نے بھی مدعی کے ہمراہ، ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو پکڑا۔

گواہ استغاثہ نمبر 4: محمد اطہر صابری ............. وہ بھی اس وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا جب ملزم ذوالفقار علی، ولد عبدالغنی کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اس کی موجودگی میں ملزم نے اپنا اعتراف جرم قلمبند کرایا اور اسے مدعی کے حوالے کر دیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 5: محمد احمد، ایس آئی ............. اس نے مدعی سے فوٹو کاپیاں اور تصویریں اپنی تحویل میں لیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 6: محمد احسن، پولیس کانسٹیبل ............. جس کی موجودگی میں تفتیشی افسر نے مدعی سے تصویریں وغیرہ حاصل کر لیں۔

گواہ استغاثہ نمبر 7: ریاض احمد، ایس آئی ............. اس نے جزوی طور پر مقدمہ کی تفتیش کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 8: سید پرویز قندھاری، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ............. مقدمہ ہذا کا مرکزی تفتیشی افسر اور دوران تفتیش تفتیشی افسر نے ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو جرم کا

صفحہ 934

مرتکب ٹھہرایا اور اس نے قانون کے مطابق عدالت میں چالان پیش کرنے کی سفارش کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 9: محمد نصر اللہ، ایس آئی .......... وہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا سٹاف افسر ہے۔ اسے وکیل صفائی کی تحریری درخواست پر طلب کیا گیا۔

گواہ استغاثہ نمبر 10: رشید احمد ولد محمد رفیق .......... وہ بھی (ملزم کے) ”معافی نامہ“ کی تحریر کے وقت موقع پر موجود تھا۔

گواہ استغاثہ نمبر 11: نسیم سرور، ایس آئی .......... اس نے مقدمہ کی ابتدائی / جزوی تفتیش کی۔

اپنا بیان قلمبند کرواتے وقت اس سے پوچھے گئے نہایت اہم سوال نمبر 7؛ ”کیا وجہ ہے کہ مقدمہ ہذا تمہارے خلاف درج کیا گیا اور کیا وجہ ہے کہ گواہانِ استغاثہ نے تمہارے خلاف گواہی دی؟“

کا اس نے یہ جواب دیا:

”مجھے نہیں معلوم کہ گواہانِ استغاثہ نے کیوں میرے خلاف گواہی دی۔ گواہانِ استغاثہ مدعی کے نزدیکی رشتہ دار/ دوست ہیں اور میرے خلاف ان کے مذموم عزائم ہیں، اس لیے گواہانِ استغاثہ نے میرے خلاف گواہی دی۔“

جب ملزم سے سوال نمبر 8 پوچھا گیا کہ کیا تم زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت اپنا بیان قلمبند کرانا چاہتے ہو؟ تو اس کے جواب میں اس نے کہا ”نہیں“ میں اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے ملزم، ذوالفقار علی ولد عبدالغنی نے اپنے بیان زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت کوئی بھی موقف اختیار نہیں کیا اور خاص طور پر طبی یا دماغی خلل کی بنیادوں پر کوئی موقف بھی اختیار نہیں کیا اور نہ ہی بیان حلفی پر کوئی موقف اختیار کیا۔ یہاں اس امر کا ذکر غیر ضروری نہیں کہ سوال نمبر 7 کے جواب میں ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی نے مدعی پارٹی یا گواہانِ استغاثہ کے متعلق کسی بھی قسم کی بدنیتی، سابقہ دشمنی، مخاصمت اور کسی بھی قسم کے خاندانی جھگڑے کا اظہار نہیں کیا جس کے باعث ملزم کو مقدمہ ہذا میں ملوث کیا جاسکتا تھا۔

پراسیکیوٹر کے ہمراہ یہ کہتے ہوئے دلائل کا آغاز کیا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے کوئی شخص، نہرو

صفحہ 935

پارک، لاہور کی دیواروں پر گستاخانہ، قابل اعتراض اور اہانت آمیز تحریر لکھ رہا تھا لیکن اس سلسلہ میں سنت نگر، لاہور کے علاقہ میں کسی شخص کا پتا نہیں چلا۔ علاقے کے لوگ یا اہل محلہ گھات لگائے بیٹھے تھے اور جب ملزم ذوالفقار علی نے لکھنا شروع کیا تو وہ ہوشیار ہو گئے اور جب ملزم نے نہرو پارک / افغان پارک، لاہور کی دیواروں پر گستاخانہ اور اہانت آمیز تحریر مکمل کی تو مدعی،سید نجم الحسن گواہ استغاثہ نمبر 2 اور محمد اسلم گواہ استغاثہ نمبر 3 نے علاقے کے دیگر لوگوں کے ہمراہ ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور نیز گستاخانہ اور اہانت آمیز تحریر کی تصویریں اتاریں۔ اس نے مزید بیان کیا کہ ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی نے نہ صرف نبی اکرمﷺ کے متعلق گستاخانہ الفاظ لکھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی قابل اعتراض الفاظ تحریر کیے اور پولیس کی طرف سے اپنی تحویل میں لی گئی تصویروں سے یہ سب صاف ظاہر ہے۔ فاضل وکیل نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 کی صورت میں براہ راست گواہی پیش کی اور یہ دونوں گواہ، نہ صرف عینی شاہد ہیں بلکہ ان دونوں نے ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو رنگے ہاتھوں پکڑا۔ یہ دونوں آپس میں رشتہ دار بھی نہیں بلکہ مکمل طور پر فطری گواہ ہیں۔ اس نے مزید زور دیا کہ فریقین کے درمیان کوئی بھی دشمنی، بدنیتی، خاندانی جھگڑا یا کوئی سابقہ مقدمہ بازی موجود نہیں جس کے باعث ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کو قیاسی مفہوم کے تحت مقدمہ ہذا میں ملوث کیا جاسکتا ہے۔ اس نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی نے نہ تو کوئی صفائی کا گواہ پیش کیا اور نہ ہی زیر دفعہ 340(2) ضابطہ مجموعہ فوجداری کے تحت اپنا کوئی بیان قلمبند کرایا ہے۔ اس نے اپنے دلائل کو مکمل کرتے ہوئے زور دیا کہ چونکہ ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی نے وحشیانہ اور سنگین جرم کیا جس کے لیے وہ صرف سزائے موت کا مستحق ہے۔ اس لیے اسے سزائے موت دی جائے اور اس کے ساتھ کوئی نرم رویہ یا رعایت نہ کی جائے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی حضرت محمدﷺ کے متعلق قابل اعتراض اور طنز آمیز تحریر لکھی۔

ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کی طرف سے دلائل پیش کیے اور دلیل دی کہ اس قسم کا کوئی مقدمہ، مرکزی یا صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر درج نہیں کیا جاسکتا لیکن مقدمہ ہذا میں اس قسم کی کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ اس نے مزید نشاندہی کی کہ ایس پی سے کم عہدے کا کوئی بھی پولیس

صفحہ 936

افسر، توہین رسالت ﷺ کے کسی بھی مقدمے کی تفتیش نہیں کر سکتا۔مقدمہ ہذا میں، گواہ استغاثہ نمبر 2،سب انسپکٹر،نے تفتیش کی اور پھر حتمی طور پر تفتیش کا سقم پورا کرنے کی خاطر ایس ایس پی/ انویسٹی گیشن کو پیش کیا گیا۔فاضل وکیل برائے صفائی نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی دماغی طور پر تندرست نہیں بلکہ وہ ایک پاگل شخص ہے اور اپنی گرفتاری 2008ء ہی سے،اس نے جیل ہسپتال کے ذہنی امراض کے وارڈ میں یہ اعتراف کیا۔اس نے زور دیا کہ اس کے ذہنی خلل اور پاگل پن کے باعث،ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی،اپنے جرم کی نوعیت سے واقف نہیں جو اس کے خلاف عائد کیا گیا ہے،اس لیے،ان حالات کے تحت اُسے اس الزام سے بری کیا جائے۔

پارک اسلام پورہ لاہور کی دیواروں پر طنز آمیز اور گستاخانہ الفاظ تحریر کیے۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کی تصاویر محفوظ کر لی گئیں اور پولیس کے روبرو پیش کی گئیں۔بلاشبہ،یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جہاں ملزم کو مدعی، گواہان استغاثہ اور علاقے کے دیگر لوگوں نے موقع پر رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا جب وہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ تحریر کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جہاں گرفتاری کے وقت ملزم نے مدعی اور دیگر لوگوں کے روبرو ”کاغذ طلب کرتے ہوئے اعتراف جرم/ معافی نامہ“ لکھا کہ اگر اسے معافی دے دی گئی تو وہ دوبارہ یہ جرم نہیں کرے گا۔یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جہاں وقوعہ کا عینی شاہد،عدالت میں حاضر ہوا اور ایف آئی آر کے مطابق اپنی گواہی قلمبند کرائی۔یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں عدالت نے بذات خود ملزم ذوالفقار علی ولد عبدالغنی کی لکھائی کا نمونہ مقدمہ کی کارروائی کے دوران لیا اور اس کا تقابل ملزم کی اپنی لکھائی میں لکھے ہوئے ”معافی نامہ“ سے کیا، اور یہ تقابل زیر دفعہ (2)84، قانون شہادت آرڈیننس کے تحت کیا گیا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جہاں ایک ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے خود تفتیش کی اور مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد ملزم ذوالفقار علی کو مجرم قرار دیا۔

پر پہلی بار یہ موقف اختیار کیا کہ ملزم ذوالفقار علی،ذہنی طور پر تندرست نہیں ہے اور وہ اس جرم کی

صفحہ 937

نوعیت سے لاعلم ہے۔ اس لیے یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جہاں نہ کوئی صفائی کا گواہ پیش کیا گیا اور نہ زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ایسا کیا گیا۔ یہ اس مقدمہ کا مکمل منظر نامہ ہے جس کا عدالت کو اس کے روبرو پیش کی گئی گواہیوں کی روشنی میں جائزہ لینا اور اس کا تجزیہ کرنا ہے۔

(i) آنکھوں دیکھے گواہان

استغاثہ کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے دو گواہان استغاثہ پیش کیے گئے۔ سید نجم الحسن، مقدمہ ہذا کا مدعی، جو عینی شاہد بھی ہے، گواہ استغاثہ نمبر 2 کی حیثیت سے پیش ہوا۔ محمد اسلم ولد محمد شریف، جو وقوعہ کا ایک اور عینی شاہد ہے اور جس نے مدعی کے ساتھ ملزم ذوالفقار علی کو رنگے ہاتھوں پکڑا، گواہ استغاثہ نمبر 3 کی حیثیت سے پیش ہوا۔ محمد اطہر صابری، بھی وقوعہ پر آیا اور اس کے سامنے ملزم ذوالفقار علی نے اپنا ”معافی نامہ“ قلمبند کیا اور اسے مدعی کے حوالے کر دیا، وہ گواہ استغاثہ نمبر 4 کی حیثیت سے پیش ہوا۔

ہوتے ہوئے مقدمہ ہذا کے مدعی سید نجم الحسن نے اپنا بیان یوں قلمبند کرایا:

”مورخہ 02-08-2008 کو ہم افغان پارک کے علاقے میں ایک ”تھڑے“ پر بیٹھے تھے کیونکہ ہم ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق مختلف جگہوں پر گستاخانہ الفاظ لکھ رہا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ عدالت میں حاضر ملزم ذوالفقار علی ایک دیوار پر حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف کوئلے سے گستاخانہ اور اہانت آمیز فقرات لکھ رہا ہے۔ ہم نے ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور دیوار پر لکھی گئی تحریروں کی تصویریں بنالیں۔ اس وقت بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ میرے ساتھ گواہ استغاثہ محمد اسلم تھا اور ہم دونوں نے ملزم کو پکڑا۔ ملزم نے ہم سے درخواست کی کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ اس نے اس ضمن میں ہمیں ایک تحریر بھی دی۔ کسی نے پولیس کو مطلع کر دیا اور پولیس پارٹی، موقع پر پہنچ گئی۔ ملزم کو پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور ہم بھی وہاں چلے گئے۔ پولیس کی طرف سے میرے زبانی بیان کو قلمبند کیا گیا اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔ میں نے مقدمہ ہذا میں قلمبند کی گئی ایف آئی آر پر اپنے

صفحہ 938

دستخط ثبت کیے۔‘‘

نمبر 3 پیش ہوتے ہوئے یوں کہا:

’’مقدمہ ہذا کی مسل میں درج پتا، مکان نمبر 6، گلی نمبر 54، درست ہے اور جو میں نے پتا لکھا ہے، وہ غلط ہے۔ نہرو پارک کے میدان کے بالکل سامنے تنبوؤں/ٹینٹوں کی میری دکان ہے۔ دیواروں پر کوئی شخص حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز فقرات لکھ رہا تھا۔ ہم اس شخص کی تلاش میں تھے۔ فروری 2008ء کے مہینے میں بدھ کے روز، تقریباً، دوپہر بارہ/ایک بجے، میں اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ میں اور اس مقدمہ کے مدعی، سید نجم الحسن نے عدالت میں حاضر ملزم کو پکڑ لیا جب وہ کوئلے سے دیوار پر لکھ رہا تھا۔ ملزم نے اپنا جرم قبول کرلیا اور اس ضمن میں ہمیں ایک تحریر دے دی۔ اسی اثنا میں محلہ دار بھی وہاں جمع ہو گئے۔ ہم ملزم کو پولیس سٹیشن لے گئے۔ بعد ازاں، میں ایس پی، لوئر مال کے روبرو پیش ہوا۔ صابری نامی ایک شخص نے ان تحریروں کی تصویریں بنالیں تھیں۔ بعدازاں یہ تصویریں، پولیس کے روبرو پیش کی گئیں لیکن مجھے تاریخیں درست طور پر یاد نہیں جب یہ تصویریں صابری نے پولیس کے روبرو پیش کیں۔ اس وقت میں اپنی دکان میں موجود تھا۔ میں نے وقوعہ کی تاریخ پر پولیس کے سامنے ایک خالی کاغذ پر دستخط کیے۔‘‘

گواہانِ استغاثہ نمبر 2 اور 3، دونوں نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو اس علاقے میں دیواروں پر حضور نبی اکرمﷺ اور اللہ تعالیٰ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز فقرات لکھا کرتا تھا۔ ان دونوں نے بیان کیا کہ وہ اس شخص کی تلاش میں تھے اور انہوں نے عدالت میں حاضر ملزم ذوالفقار علی کو اس وقت دیکھا جب وہ حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف دیوار پر کوئلے سے فقرات لکھ رہا تھا اور ان دونوں نے ملزم ذوالفقار علی کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور پھر دیوار پر لکھے ہوئے فقروں کی تصاویر تیار کی گئیں۔ ان دونوں نے مزید بتایا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا اور ملزم نے جائے وقوعہ پر وہاں جمع ہوئے محلہ داروں کے روبرو ’’معافی نامہ‘‘ لکھا اور اور پھر پولیس وہاں آگئی اور ملزم ذوالفقار علی کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

صفحہ 939

سے سید ہے اور گواہ استغاثہ نمبر 3 محمد اسلم، ذات کے لحاظ سے ملک ہے، وہ ایک دوسرے کے رشتہ دار نہیں حتیٰ کہ ایک دوسرے کے دوست بھی نہیں۔ لہٰذا قطعی طور پر یہ دونوں فطری گواہ ہیں کیونکہ دونوں نے اپنے علاقے کی دیواروں پر تحریر کردہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کو دیکھا تھا اور یہ سب کچھ ان کے علم میں تھا۔ اس لیے دونوں، ہوشیار اور محتاط تھے جب ملزم ذوالفقار علی دیواروں پر (توہین آمیز) فقرات لکھ رہا تھا اور گواہان استغاثہ، بالترتیب، تھڑے اور دکان میں بیٹھے ہوئے تھے، ان دونوں نے ملزم ذوالفقار علی کو پکڑ لیا اور پھر وہاں ہونے والے شور اور ہنگامے کے باعث محلہ کے لوگ وہاں جمع ہوگئے اور ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ لہٰذا، دونوں گواہان استغاثہ، نے ملزم ذوالفقار علی کا ذکر نہایت غیر جانبدارانہ انداز میں کیا۔ دونوں نے ملزم کا نام، ذوالفقار علی، بتایا۔ ان دونوں نے، ملزم کی طرف سے ان دونوں اور دیگر افراد سے معافی طلب کرنے کے متعلق بتایا ہے اور ان دونوں نے دیواروں پر لکھی گئی تحریر کی تصاویر حاصل کرنے کے متعلق بھی بتایا۔ دونوں گواہان استغاثہ مکمل جرح کے دوران اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہے۔ اس لیے، یوں، یہ میری پختہ اور واضح رائے ہے کہ دونوں گواہان استغاثہ فطری طور پر بااعتماد اور قابل بھروسا گواہان ہیں کیونکہ دونوں کی ملزم ذوالفقار علی کے ساتھ کوئی بھی بدنیتی، مخاصمت یا سابقہ دشمنی نہیں ہے، جس کے باعث ملزم کو اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔

(ii) اقرار نامہ معافی نامہ

علاوہ جب لوگ وہاں جمع ہوگئے تھے، وہاں، محمد اطہر صابری بھی چلا آیا جب یہ ”معافی نامہ“، ملزم ذوالفقار علی نے بذات خود تحریر کیا تھا اور اسے مدعی اور دیگر افراد کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

”اپریل 2008ء میں تقریباً صبح دس بجے، میں اور ایک شخص، رشید گجر ساکن، بھائی گیٹ، نہرو پارک کے علاقے میں سے گزر رہے تھے۔ ہم نے ایک ہجوم دیکھا جو عدالت میں حاضر ملزم کی پٹائی کر رہا تھا۔ ملزم، ہجوم سے اللہ اور نبی اکرم ﷺ کے نام پر معافی طلب کر رہا

صفحہ 940

تھا۔ ملزم کو اقرار کرنے اور اسے تحریر کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا جس کے باعث بالآخر ملزم نے اپنا اقرار نامہ قلمبند کرایا اور اسے مدعی کے حوالے کر دیا۔‘‘

ریکوری میمو (Ex.PC) اپنی تحویل میں لیا اور جس پر گواہان استغاثہ محمد اطہر صابری اور رشید احمد کے علاوہ دیگر گواہان نے دستخط کیے۔ ان گواہان میں سے کوئی بھی پولیس افسر نہیں تھا۔ اس ’’معافی نامہ‘‘ میں ،ملزم، ذوالفقار علی، نے لکھا: ’’اللہ اور نبی کے نام پر مجھے معاف کردو، آئندہ میں ایسا نہیں کروں گا اور میں یہ گزشتہ ایک ماہ سے کر رہا ہوں۔‘‘ ملزم ذوالفقار علی کے دستخط (Ex.PC/1) پر ثبت ہیں۔

کرنے کی خاطر اور خود کو مزید تقویت دینے کے لیے ملزم ذوالفقار علی کی لکھائی کا نمونہ جسے "A" سے ظاہر کیا گیا، لیا تا کہ زیردفعہ (2)84 قانون شہادت آرڈیننس کے تحت اس کا تقابل کیا جا سکے اور اس کے نتیجے میں عدالت کو معلوم ہوا کہ دونوں لکھائیاں ایک جیسی تھیں۔ اس لیے اس تقابل کے باعث، استغاثہ کے موقف کی تائید ہوئی۔

رنگے ہاتھوں گرفتار نہیں کیا تو پھر اسے مدعی اور دیگر سے تحریری طور پر معافی طلب نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لہٰذا ،ملزم، ذوالفقار علی کی اس تحریر نے بذاتِ خود، ملزم ذوالفقار علی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ اس لیے، یہ معافی نامہ، بذاتِ خود، ملزم ذوالفقار علی کے خلاف نہایت ہی واضح انداز میں تائیدی ثبوت ہے۔

دردناک، تکلیف دہ اور دل جلانے والے ہیں کہ عدالت ہذا ان الفاظ کا ذکر کرنے یا انہیں دوبارہ یہاں پیش کرنا نہیں چاہتی تھی، چونکہ یہ الفاظ، تمام مقدمہ کا بنیادی نکتہ ہے، اس لیے عدالت ہذا کے نزدیک ان الفاظ کا یہاں ذکر ضروری ہے۔ تاہم، یہ الفاظ نہایت ہی بھاری دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم ﷺ سے معافی کی درخواست کے ساتھ لکھے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ عدالت ہذا نے ایک اسلامی فقیہہ سے یہ راہنمائی بھی حاصل کی کہ:

نقل کُفر، کُفر نباشد
صفحہ 941

'Reporting of Kufar is not Kufar'

یہ گستاخانہ، طنز آمیز اور اہانت آمیز الفاظ اور تحریریں مندرجہ ذیل ہیں:

مقدمہ کی تمام کارروائی سے لے کر زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بیان قلمبند کرنے تک، ایک لفظ یا کسی بھی تجویز کے طور پر، ملزم ذوالفقار علی کی خراب ذہنی حالت کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا لیکن حتمی دلائل کے موقع پر، ملزم کے فاضل وکیل نے پہلی دفعہ کہا کہ ملزم ذہنی طور پر تندرست نہیں بلکہ وہ ذہنی خلل میں مبتلا ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر ناگزیر ہے کہ حتمی دلائل، محض معاملات، حقائق اور ان نکات تک محدود ہیں جنہیں پہلے ہی مقدمہ کی کارروائی کے دوران مدنظر رکھا گیا یا یہ دلائل، ان تجاویز کے متعلق ہیں جو مدنظر رکھی گئیں یا گواہانِ استغاثہ کے سامنے رکھی گئیں یا پھر انہیں دفاع کے لیے استعمال کیا گیا جنہیں ملزم ذوالفقار علی نے اختیار کیا لیکن بلاشبہ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت بیان قلمبند کرنے کے دوران، ذہنی طور پر تندرست نہ ہونے کا موقف نہیں اپنایا گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ملزم کے فاضل وکیل نے یہ نیا موقف حتمی دلائل کے دوران اپنایا جبکہ اس موقع پر کوئی نیا موقف نہیں اپنایا جاسکتا۔ مقدمہ کی کارروائی کے دوران بذات خود عدالت نے سوال کیے اور اسے معلوم ہوا کہ ملزم مکمل طور پر ذہنی تندرستی کا حامل ہے، اس نے تاریخ، وقت، اپنا نام، ولدیت، ذات اور جگہ کا ذکر نہایت ہی معمول کے انداز میں اور درست طور پر کیا، اس لیے میری یہ پختہ رائے ہے کہ ملزم مکمل طور پر ذہنی تندرستی کا حامل ہے اور اگر وہ ذہنی طور پر تندرست نہ بھی ہوتا، تو پھر دوران مقدمہ، ملزم کے فاضل وکیل کی طرف سے ملزم کے طبی معائنہ کے لیے درخواست گزاری جاتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ملزم کے فاضل وکیل نے دلیل دی کہ چونکہ اپنی گرفتاری کے وقت سے ہی ملزم، جیل کے ہسپتال کے ذہنی امراض کے وارڈ میں ہے، لیکن پھر بھی اس نے، جیل کے ہسپتال یا ڈاکٹروں کی طرف سے کوئی ایسا ثبوت یا نسخہ مہیا نہیں کیا۔ لہٰذا، اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کے فاضل وکیل نے محض ہوائی قلعہ بنانے کی کوشش کی

صفحہ 942

اور محض زبانی طور پر یہ موقف اختیار کیا لیکن اس پردے کے پیچھے اس قسم کی کوئی بات نہیں اور بلاشبہ، ملزم ذہنی طور پر مکمل تندرست ہے۔

سرکاری وکیل مقرر کیا گیا کیونکہ اس کے دفاع کے لیے کوئی بھی پیش نہیں ہو رہا تھا اور جب گواہان استغاثہ گواہی دینے کے لیے آئے تو سرکاری وکیل نے گواہوں پر جرح نہیں کی اور جب عدالت ہذا میں حاضر وکیل صفائی نے پہلے وکیل کی جگہ اس مقدمہ میں شمولیت اختیار کی ، اس نے عدالت ہذا کے روبرو تمام گواہان استغاثہ کی دوبارہ طلبی کے لیے درخواست دی تاکہ ان پر جرح کی جاسکے۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے، اس درخواست کو منظور کر لیا گیا اور تمام گواہان استغاثہ کو دوبارہ طلب کیا گیا اور پھر موجودہ وکیل صفائی نے تمام گواہان استغاثہ پر مکمل اور تفصیلاً جرح کی۔ موجودہ وکیل نے زیر دفعہ 540 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت گواہ استغاثہ نمبر 9، محمد نصر اللہ ایس آئی، کو طلب کرنے کی درخواست کی جو ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا سٹاف افسر ہے اور اس کے مطابق، اس درخواست کی منظوری دے دی گئی اور محمد نصر اللہ، ایس آئی کی گواہی ،بطور گواہ استغاثہ نمبر 9، قلمبند کی گئی۔

(iii) پولیس کی تفتیش

آئی نے مورخہ 2008-04-02 کو تحریری درخواست (Ex.PA) مع 6 فوٹو البم، وصول کی جو بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB) تحویل میں لے لی گئی اور پھر گواہ استغاثہ نمبر 9، محمد نصر اللہ ایس آئی، جس کی موجودگی میں مدعی نے ملزم کی طرف سے تحریر کردہ اور دستخط شدہ معافی نامہ، ایس ایس پی، انویسٹی گیشن کو پیش کیا جس نے اسے بمطابق ریکوری میمو، تحویل میں لینے کی ہدایت کی اور متذکرہ محمد نصر اللہ ایس آئی نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PC)، اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پھر گواہ استغاثہ نمبر 11، نسیم سرور، جس نے مقدمہ ہذا کی ابتدائی تفتیش کی، جائے وقوعہ کا اندازاً نقشہ تیار کیا، جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے، نیز ملزم ذوالفقار علی کو رسمی طور پر گرفتار کیا اور اس نے ملزم کا طبی معائنہ بھی کرایا اور پھر بالآخر سید پرویز قندھاری، ایس

صفحہ 943

ایس پی انویسٹی گیشن جو گواہ استغاثہ نمبر 8 ہے، نے مفصل طور پر مقدمہ ہذا کی تفتیش کی اور مکمل تفتیش کے بعد ملزم ذوالفقار کا اعترافی بیان قلمبند کیا اور ملزم کو مقدمہ ہذا میں قصور وار قرار دیا اور اس کے مطابق ملزم کا چالان پیش کرنے کی سفارش کی۔

-23 عدالت کے نزدیک، فاضل وکیل صفائی کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ مقدمہ ہذا میں ناقص تفتیش کی گئی اور اس ضمن میں عدالت نے اپنی راہنمائی کے لیے مقدمہ 2011 SCMR 45"Mushtaq Hussain" کو ملحوظ خاطر رکھا: ”تفتیش میں کسی بھی نقص، غلطی، بے قاعدگی یا تفتیش کرنے میں غیر قانونی کارروائی میں مجسٹریٹ یا عدالت کی طرف سے مقدمہ کا جائزہ لینے کے بعد اصلاح کی جاسکتی ہے۔“ جہاں تک دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کا تعلق ہے، اس کی حد تک ملزم کے فاضل وکیل کے اعتراض میں کوئی وزن نہیں کیونکہ اس ضمن میں معزز عدالت عالیہ لاہور نے ”توہین رسالت“ کے ایک مقدمہ 274 YLR 2008ء میں یہ فیصلہ صادر کیا: ”زیر دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت استغاثہ افسر پر پابندی، محض تعزیری شق کے متعلقہ تھی لیکن دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کسی بھی طرح دفعہ 196 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے زمرے میں نہیں آتی۔“

(iv) نتیجہ

-24 مقدمہ ہذا کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کے بعد مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ملزم ذوالفقار علی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہرو پارک، اسلام پورہ لاہور کی دیواروں پر گستاخانہ اور اہانت آمیز فقرے لکھنے کے ذریعے توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا ہے۔ اسے گواہان استغاثہ کے علاوہ دیگر افراد نے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ پولیس وہاں پہنچی اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نے اذان سننے پر ”کفریہ“ کلمات بھی کہے (تصویر 7-Ex.P)۔ اس نے اعتراف جرم/ معافی نامہ لکھا اور اسے مدعی کے علاوہ دیگر افراد کے حوالے کیا لیکن اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں، اس طرح، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے خلاف قابل اعتراض اور گستاخانہ الفاظ کہنے کے جرم کا مرتکب ہوا جن کی خاطر یہ پوری کائنات تخلیق کی گئی۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گستاخانہ، اہانت آمیز

صفحہ 944

اور غلیظ الفاظ لکھے جو کسی بھی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں۔ قرآن پاک کی سورہ الاحزاب کی آیت 57 میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا : ”بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب“۔

اور طریقے کے ذریعے بیان کیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ نبی اکرم ﷺ کی شان اور فضیلت کو برقرار رکھیں اور اس ضمن میں محتاط رہیں ورنہ ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

”اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی (ﷺ) کی آواز سے اور نہ زور سے آپ (ﷺ) کے ساتھ بات کیا کرو، جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو۔ (اس بے ادبی سے) کہیں ضائع نہ ہو جائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو“۔ (الحجرات : 2)

ابن تیمیہؒ مندرجہ بالا آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”اس آیت میں مومنوں کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند آواز میں بولنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ کہ نبی ﷺ کے روبرو تمہاری بلند آواز سے تمہارے اچھے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں خبر تک نہ ہوگی۔“

جس کا عنوان Bashir Ahmad vs State 2005 YLR 985 ہے، جس میں نہایت ہی فصیح انداز میں کہا گیا ہے:

”زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، ایک جرم متشکل کرنے کے لیے، گواہوں کی ایک بڑی تعداد ضروری نہ تھی اور یہ بھی ضروری نہیں تھا کہ نبی اکرم ﷺ کے خلاف اس قسم کی گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان، کھلے عام بلند آواز سے استعمال کی جائے، یا پھر ایک جلسے میں، یا پھر کسی مخصوص مقام پر استعمال کی جائے۔ لیکن ایک واحد گواہ کا بیان کہ کسی شخص نے، ایک گھر کے اندر بھی نبی اکرم ﷺ کی توہین کی خاطر کوئی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہے، توہین کے مرتکب کو سزائے موت کا مستحق ٹھہرانے کے لیے کافی ہے۔“

صفحہ 945

بلاشبہ استغاثہ نے ملزم ذوالفقار علی کے خلاف اپنا مقدمہ کامیابی کے ساتھ ثابت کر دیا ہے۔ ملزم سے کوئی رعایت یا اس کے جرم کی سزا کو کم کرنے پر مبنی کسی بھی قسم کے حالات دستیاب نہیں۔ اس لیے، ذوالفقار علی کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، مجرم قرار دیتا ہوں اور اسے سزائے موت کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔ اسے اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ اسے 1,000,000/- روپے کا جرمانہ کیا جاتا ہے اور جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے ایک برس قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔ اس فیصلہ کی ایک نقل، ملزم ذوالفقار علی کو مفت فراہم کردی گئی ہے تاکہ وہ اپیل دائر کر سکے اور اسے اس امر سے بھی مطلع کر دیا گیا ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپیل کر سکتا ہے۔ مقدمہ سے متعلقہ اشیا، اپیل تک، اگر کی گئی، محفوظ کر لی جائیں۔ مسل مقدمہ مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

دستخط: تاریخ فیصلہ محمد نوید اقبال 14 جولائی 2014ء ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 946
صفحہ 947

جناب محمد نوید اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

سرکار بنام عبدالشکور عرف بابا صاحب، مارچ، 2015ء

صفحہ 948
صفحہ 949

دل کی بات

دین اسلام اپنی بہترین آفاقی تعلیمات کے سبب دنیا بھر کے تمام ادیان سے آگے بلکہ سرفہرست ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت آسان، قابل عمل، دلوں کو موہ لینے والی اور ہر انسان کے دل کی آواز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ لیکن برا ہو علمائے سو اور مفاد پرست پیروں کا جنہوں نے محض اپنے پیٹ کی خاطر اس خوبصورت دین کا چہرہ مسخ کر دیا۔ یہ سومنات کے وہ بت ہیں جو اپنے سادہ لوح اور جاہل عقیدت مندوں کو عقیدہ کی اصلاح کے بجائے عقیدت کا زہر فراہم کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت مذہب بیزار ہوتی جا رہی ہے۔

پیران کرام لوگوں کی دینی و دنیاوی اصلاح کرنے والے ہوتے ہیں۔ پیری مریدی شریعت کے علم کے مطابق مرید کی تربیت کر کے اس میں توکل، صبر، شکر، حکمت، بردباری پیدا کرنا، حسد، کینہ، بغض، تعصب، تکبر، انا وغیرہ کی پہچان اور نیکی اور گناہ کے خیال میں فرق سمجھانا ہے۔ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ نے فرمایا کہ ”بیعت کے لیے لازم ہے کہ پیر چار شرطوں کا جامع ہو۔ 1۔ سنی صحیح العقیدہ ہو۔ 2۔ فقہ کا اتنا علم کہ اپنی حاجت کے سب مسائل جانتا ہو اور حاجت جدید پیش آئے تو اس کا حکم کتاب سے نکال سکے۔ بغیر اس کے اور فنون کا کتنا بڑا عالم ہو، عالم نہیں۔ 3۔ اس کا سلسلہ حضور کریم ﷺ تک صحیح و متصل ہو۔ 4۔ غیر فاسق معلن یعنی اعلانیہ کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب یا کسی صغیرہ گناہ پر مصر نہ ہو۔

(فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 26 صفحہ 575)

لیکن افسوس! ہمارے ہاں پیروں کی اکثریت ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ ایسے ہی لوگوں میں مغلپورہ لاہور میں واقع ایک مزار کا گدی نشین پیر عبد الشکور جو اپنے والد کی قبر پر کھڑے ہو کر اپنے مرید لیاقت علی کو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے بجائے لا الہ الا اللہ غفور شاہ رسول اللہ (نعوذ باللہ) پڑھنے کا حکم دے رہا تھا اور اس پر لیاقت علی زور زور سے یہ نیا کلمہ پڑھ رہا تھا۔ یہ دسمبر 2011ء کا واقعہ ہے۔ وہاں جو کچھ کہا جا رہا تھا، موقعہ پر موجود چند

صفحہ 950

لوگوں نے ذاتی طور پر یہ سب کچھ ملاحظہ کیا اور ان میں سے ایک نے اپنے موبائل پر یہ ساری متنازعہ ریکارڈنگ کر لی۔ اس کیس کے مدعی قاری شوکت محمود نے وقوعہ کے عینی گواہ محبوب عالم کے ہمراہ اس سارے واقعات کی رپورٹ ایک درخواست کی صورت میں پولیس سٹیشن مغلپورہ میں دی جس پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔ اس کیس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی تفتیش اعلیٰ شہرت کے حامل دو ایس پی حضرات نے کی۔ ان میں ایک سی ایس پی آفیسر جناب کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک ایس پی لاہور اور دوسرے جناب عمر ورک ایس پی سی آئی اے نے کی۔ دونوں پولیس افسران نے ملزمان عبدالشکور اور لیاقت علی کو اپنی تفتیش میں قصور وار پایا اور ان دونوں ملزمان کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، توہین رسالت ﷺ کا مرتکب قرار دیا۔ عدالتی کارروائی کے لیے جنوری 2012ء میں پولیس نے ملزمان کے خلاف عدالت میں چالان پیش کر دیا۔ تقریباً 3 سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ مستند گواہیوں، ناقابل تردید شواہد اور مکمل عدالتی قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد معزز عدالت نے ملزم لیاقت علی کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی ادائیگی کا حکم سنایا۔

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے حوالہ سے عزت مآب جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج لاہور اس سے پہلے بھی کئی یادگار فیصلے صادر کر چکے ہیں مگر زیر نظر فیصلہ سب سے منفرد اور اہم ہے۔ اس فیصلہ کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں ایسے قانونی نکات سامنے آئے ہیں جو جج صاحبان، وکلا حضرات اور قانون کے طالب علموں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوں گے۔ محترم نوید اقبال صاحب کے صادر کردہ کئی اہم فیصلہ جات میں نے اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ سینئر جسٹس صاحبان کو پیش کیے جن کو پڑھنے کے بعد وہ عش عش کر اٹھے۔ جسٹس صاحبان کی متفقہ رائے تھی کہ ان کی عمر کا ایک حصہ قانون پڑھنے پڑھانے اور عدالتی امور نمٹانے میں گزری ہے۔ انہوں نے بہت کم ایسے جامع اور بہترین فیصلے پڑھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محترم محمد نوید اقبال صاحب کے فیصلوں کو اعلیٰ عدلیہ میں بھی پذیرائی ملتی ہے۔

اس فیصلہ کی نقل مجاہد ختم نبوت جناب محمد طیب قریشی ایڈووکیٹ نے فراہم کی جس پر وہ خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور

صفحہ 951

بعدالت جناب محمد نوید اقبال، ایڈیشنل سیشن جج، لاہور

ابتدائی معلومات

ایف آئی آر نمبر : 21/2012 مورخہ 6 جنوری 2012ء پولیس سٹیشن : مغلپورہ، لاہور بجرم : زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان

سرکار (بذریعہ محمد نواز ایس آئی)

بنام

عبدالشکور عرف بابا صاحب ولد عبدالغفور، ذات انصاری، ساکن، عثمانیہ مسجد، لاریکس کالونی، غازی آباد سکیم، مغلپورہ، لاہور لیاقت علی ولد محمد نذیر، ذات انصاری، ساکن چک نمبر 223، جی بی، پوریانوالہ، تھانہ ڈی ٹائپ، سمندری روڈ، فیصل آباد (ملزمان)

وکیل منجانب سرکار: بیگم عطیہ امیر ایڈووکیٹ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر وکیل منجانب مدعی: غلام مصطفیٰ چودھری ایڈووکیٹ وکیل منجانب ملزم: سہیل انور ایڈووکیٹ تاریخ فیصلہ: 20 مارچ، 2015

صفحہ 952

فیصلہ

جناب محمد نوید اقبال، ایڈیشنل سیشن جج ، لاہور

21/2012، قاری شوکت محمود (گواہ استغاثہ نمبر 1) کی شکایت پر پولیس سٹیشن، مغلپورہ ، لاہور کی پولیس نے متذکرہ بالا ملزمان عبدالشکور عرف بابا صاحب اور لیاقت علی کا چالان کیا کیونکہ شکایت میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ دونوں ملزمان نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کے بجائے ایک دوسرے فرد کا نام لینے کے ذریعے کلمہ طیبہ کی توہین اور بے حرمتی کی ہے۔

ہے جس کی بنیاد پر رسمی ایف آئی آر (ExPc) تیار کی گئی ، مندرجہ ذیل ہیں: ” 22/21 دسمبر 2011ء کی درمیانی رات تقریباً نمازِ تہجد کے وقت، یعنی 04:00 بجے صبح، اس نے ایک شور سنا۔ معلوم کرنے پر مجھے یہ پتا چلا کہ ملزم عبدالشکور عرف بابا صاحب، اپنے باپ کی قبر پر کھڑے ہو کر کسی شخص، جو اس کا مرید تھا یا اس کے باپ کا مرید تھا، بعد ازاں جس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ لیاقت علی ولد نذیر تھا، کے سامنے اصلی کلمہ، ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے بجائے ’’لا الہ الا اللہ غفور شاہ رسول اللہ‘‘ پڑھ رہا تھا۔

ملزم عبدالشکور سے جو اشیاء برآمد ہوئیں، ان میں ایک موبائل فون (2-P)، ایک کٹھا (3-P)، (مرد کی گردن میں پہننے والا زیور) اور مختلف پتھروں پر مشتمل چار مختلف انگوٹھیاں (4-P تا 7-P) تھیں۔ تفتیشی افسر نے یہ تمام اشیاء بمطابق ریکوری میمو نمبر (Ex.PD) اپنی تحویل میں لے لیں اور متذکرہ برآمدگی پر تفتیشی افسر اور گواہان استغاثہ نے

صفحہ 953

دستخط کیے۔ مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک، ایس پی انوسٹی گیشن کے مطابق مورخہ 2012-01-09 کو تقریبا 02:00 بجے دوپہر، محمد اعظم، انسپکٹر انچارج، انوسٹی گیشن، مغلپورہ، نے ملزم عبدالشکور کو گرفتار کر لیا جبکہ اسی دن تقریباً سوا پانچ بجے شام، شریک ملزم لیاقت کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور یوں انہیں جوڈیشل لاک اپ بھجوا دیا گیا۔

مجموعہ ضابطہ فوجداری، رپورٹ کی شکل میں پیش کیا۔

ضابطہ فوجداری درکار تھیں، عدالت میں حاضر ملزمان کو فراہم کر دی گئیں اور ان کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ چلانے کی استدعا کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 1: قاری شوکت محمود، مقدمہ ہذا کا مدعی۔

گواہ استغاثہ نمبر 2: محبوب عالم، وقوعہ کا چشم دید گواہ۔

گواہ استغاثہ نمبر 3: محمد نواز، ایس آئی، متذکرہ گواہ استغاثہ نے تحریری شکایت موصول کی اور کسی بھی ترمیم و اضافے کے بغیر رسمی ایف آئی آر تیار کی۔

گواہ استغاثہ نمبر 4: شہزاد تنویر، متذکرہ گواہ استغاثہ، برآمدگی کا گواہ ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 5: محمد اعظم انسپکٹر، متذکرہ گواہ استغاثہ نے ملزمان گرفتار کیے، وہ برآمدگی کا بھی گواہ ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 6: کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک، ایس پی تفتیشی افسر، برآمدگی کا گواہ ہونے کے علاوہ مقدمہ ہذا کا تفتیشی افسر بھی ہے۔

پیش کیے ہیں۔

اور محمد نعیم اللہ خان، عدالتی گواہان کو مقدمہ کے عدالتی گواہان کے طور پر طلب کیا اور ان کے بیانات بطور (CW.1) اور (CW.2) قلمبند کیے۔

صفحہ 954

متعلق ناصر محمود 3300-C/Process Server تھانہ مغلپورہ کا بیان قلمبند کرنے کے بعد، فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے محکمہ داخلہ، حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ حکم نامہ نمبر SO(JUDL-III)7-1/2012 پیش کرنے کے بعد استغاثہ کی گواہی (ExPF) بند کر دی۔

فوجداری جرح کی گئی۔ انہوں نے اپنے خلاف استغاثہ کی گواہی کی تردید کی۔ انہوں نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری اپنے دفاع میں بطور گواہ پیش ہونے کی خواہش ظاہر کی اور انہوں نے اپنے دفاع میں گواہی بھی پیش کی۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ اس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں قائم کیا گیا اور گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف کیوں گواہی دی، مندرجہ ذیل بیان دیا:

’’در حقیقت معاملہ یہ ہے کہ جون/جولائی 2011 کو ایف آئی آر کا مدعی (گواہ استغاثہ نمبر 1)، میری رہائش گاہ آیا اور درخواست کی کہ وہ حجرہ/کوارٹرز کے لیے دربار کی زمین لینا چاہتا ہے۔ تاہم، میں نے اپنے بیٹے کی موجودگی میں موقع پر ہی انکار کر دیا۔ مورخہ 19-12-2011 کو گواہ استغاثہ نمبر 1 ایک دفعہ پھر میرے پاس آیا اور میرے بیٹے کے علاوہ لیاقت (ملزم) کی موجودگی میں وہی درخواست کی۔ تاہم، میں نے ایک دفعہ پھر انکار کر دیا اور پھر آخر کار مورخہ 21-12-2011 کو دوران عرس، گواہ استغاثہ نمبر 1، تقریباً شام کے وقت، ملزم لیاقت علی اور میرے بیٹے کی موجودگی میں میرے پاس آیا لیکن میں نے انکار کر دیا۔ تب گواہ استغاثہ نمبر 1 مشتعل ہو گیا اور اس نے کھلے عام اور بلند آہنگ کہا ’’اپنے انکار کے باعث سنگین اور شدید نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہو اور میں تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا جسے تم فراموش نہیں کر سکو گے اور میں تمہاری زمین کسی نہ کسی طرح ہتھیا لوں گا‘‘ اور میرے خیال کے مطابق یہی وجہ ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 1، کی طرف سے مخصوص مقصد، انتقامی کارروائی اور کینہ پروری کے باعث میرے اور لیاقت علی کے خلاف یہ مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

صفحہ 955

گواہ استغاثہ نمبر 2، (محبوب عالم) مکمل ان پڑھ ہے اور مکمل طور پر گواہ استغاثہ نمبر 1 کے زیر اثر ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت گواہ استغاثہ نمبر 1 اور گواہ استغاثہ نمبر 2، اکٹھے رہتے، کھاتے پیتے اور نماز پڑھتے تھے۔ دیگر گواہ، شہزاد تنویر کو میں قطعی طور پر نہیں جانتا بلکہ میں نے اسے پہلی بار اس وقت دیکھا جب وہ معزز عدالت ہذا میں گواہی دینے کے لیے آیا۔ جہاں تک پولیس کے گواہان کا تعلق ہے، انہوں نے میرے خلاف اس لیے گواہی دی ہے کیونکہ میں نے مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر انسپکٹر اعظم کے روبرو اعتراف کرنے سے انکار کر دیا تھا اور میں نے جسمانی اذیت برداشت کرنے کے باوجود ان کی خواہش کے برعکس سادہ کاغذوں پر دستخط کرنے اور انگوٹھے لگانے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں انہوں نے میرے خلاف بدنیتی اور انتقامی کارروائی کے طور پر میرے خلاف گواہی دی کیونکہ میں نے ان کے غیر قانونی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

ملزم لیاقت علی نے بھی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ گواہان استغاثہ نے اس کے خلاف کیوں گواہی دی، مندرجہ ذیل بیان دیا:

”مجھے مقدمہ ہذا میں اس لیے ملوث کیا گیا کیونکہ 19 اور 21 دسمبر 2011ء کو، گواہ استغاثہ نمبر 1، نے حجرہ کے لیے عبدالشکور کی زمین حاصل کرنے کی درخواست کی لیکن یہ درخواست دو دفعہ میرے سامنے ٹھکرا دی گئی۔ مورخہ 2011-12-21 کو گواہ استغاثہ نمبر 1 کی درخواست مسترد کر دی گئی جس پر گواہ استغاثہ نمبر 1 ، عبدالشکور کی طرف سے انکار کے باعث مشتعل ہوگیا اور اس نے علی الاعلان اور با آواز بلند کہا ” اپنے انکار کے باعث سنگین اور شدید نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہو اور میں تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا جسے تم فراموش نہیں کر سکو گے اور میں تمہاری زمین کسی نہ کسی طرح ہتھیا لوں گا“۔ مزید برآں جب مجھے پولیس نے گواہ استغاثہ نمبر 5 کے ذریعے گرفتار کیا تو انہوں نے کہا ”ہم نے تمہیں ملزم عبدالشکور کے خلاف بطور گواہ گرفتار کیا ہے اور اگر تم نے شریک ملزم عبدالشکور کے خلاف گواہی دی اور اپنی گواہی میں یہ کہا کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور اس کا دربار ملحدوں اور غیر اسلامی سرگرمیوں کا گڑھ ہے تو ہم تمہیں اس کیس سے آزاد کر دیں گے ۔“ بہرحال، میں نے یہ پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر مجھے ظالمانہ انداز میں اذیت دی گئی اور پھر بعد میں مجھے مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر کے روبرو پیش کیا گیا جس نے ایک دفعہ پھر انسپکٹر اعظم (گواہ استغاثہ

صفحہ 956

نمبر 5) کی پیش کش دہرائی اور پھر میں نے موقع پر دوبارہ انکار کر دیا اور پھر گواہ استغاثہ نمبر 5 کے علاوہ پولیس کے دیگر افسروں نے تفتیشی افسر کی موجودگی میں مجھ سے بدسلوکی شروع کر دی اور مجھے مارا پیٹا اور چند منٹ بعد، تفتیشی افسر نے میرے خلاف گندی اور غلیظ زبان استعمال کی اور مجھے بتایا کہ ” ملحد عبد الشکور کے ساتھ لٹکنے کے لیے تیار رہو۔“ چونکہ مجھے مقدمے میں اس لیے ملوث کیا گیا کہ میں استغاثہ کا سلطانی گواہ بن جاؤں، لیکن عبد الشکور کے مرحوم باپ کے ساتھ وفاداری کی خاطر میں نے ان سے تعاون نہیں کیا اور یوں مقدمہ ہذا میں ملزم کی حیثیت سے میرا چالان کر دیا گیا۔

جہاں تک گواہ استغاثہ نمبر 2، کا تعلق ہے، وہ ماتحت ہے اور گواہ استغاثہ نمبر 1 کے زیر اثر ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، شہزاد تنویر، میرے لیے اجنبی ہے بلکہ میں نے اسے اس وقت پہلی دفعہ دیکھا جب وہ عدالت میں گواہی دینے حاضر ہوا۔ آخر میں جہاں تک پولیس کے باقی افسروں کا تعلق ہے، انہوں نے بدنیتی کے علاوہ مخاصمت کی بنیاد پر میرے خلاف گواہی دی ہے۔ میں نے عبدالشکور کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ میں نے کسی بھی پولیس افسر کے روبرو کبھی بھی اپنے جرم کا اقرار نہیں کیا بلکہ مجھے تو پولیس نے بری طرح اور بے رحمی سے مارا پیٹا۔“

انہوں نے اپنی صفائی میں گواہ صفائی نمبر 1 تا گواہ صفائی نمبر 3، پیش کیے۔

کہ ہماری مذہبی شخصیات کی طرف سے معاشرے میں یہ معمول ہو گیا ہے کہ بے گناہ، خاص طور پر ان پڑھ افراد کو توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث کیا جائے تا کہ ذاتی مفادات حاصل کیے جاسکیں اور مقدمہ ہذا میں دو ان پڑھ اور بے گناہ افراد کو توہین رسالت کے بھنور میں پھینک دیا گیا ہے، جبکہ انہوں نے کبھی بھی اس قسم کا جرم نہیں کیا اور نہ ہی کچھ کہا کیونکہ دونوں ملزمان سچے مسلمان ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر مکمل ایمان ہے۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ مدعی کی خواہش تھی کہ ملزم عبدالشکور کی زمین سے ایک قطعہ اپنے کوارٹر حجرے کے لیے حاصل کیا جائے اور اس کے انکار پر اس کے مرید لیاقت علی سمیت

صفحہ 957

اسے اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔ اس نے اپنے دلائل میں اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں چشم دید گواہان کے بیانات میں شدید تضاد ہے کیونکہ ان میں سے ایک ، ایک کہانی بیان کر رہا ہے اور دوسرا استغاثہ گواہ، دوسری کہانی بیان کر رہا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے مزید کہا کہ استغاثہ، ملزمان کو مقدمہ میں ملوث کرنے اور برآمدگی کرنے میں ناکام رہا ہے جیسا کہ استغاثہ کا دعویٰ ہے؛ مزید یہ کہ گواہان استغاثہ کا رویہ بتاتا ہے کہ انہوں نے سچ نہیں بولا ؛ یہ بھی کہ مقدمہ ہذا کا کوئی بھی آزاد گواہ نہیں؛ یہ بھی کہ گواہان استغاثہ کے بیانات میں ظاہری تضادات موجود ہیں؛ یہ بھی کہ استغاثہ کی کہانی عمومی طور پر غیر معقول ہے اور گھڑی ہوئی ہے؛ یہ بھی کہ استغاثہ کی کہانی شروع سے آخر تک، شکوک سے بھرپور ہے، یہ بھی کہ شک کا فائدہ، ملزمان کا بنیادی حق ہے۔ اس نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ، ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ اس نے مقدمہ ہذا میں ملزمان کے بے گناہ ہونے کے باعث انہیں بری کرنے کی استدعا کی ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے مختلف عدالتی فیصلوں

PLD 2004 Supreme Court 244, 2014 MLD 953 (Sindh), 2015 MLD 313, 2015 PCr. L J 369, PLD 2015 Peshawar 65, 2003 SCMR 1419 (Supreme Court of Pakistan),2007 SCMR 1825(Supreme Court of Pakistan), PLD 2011 Supreme Court 796, 1995 SCMR 1350,2010 SCMR 385 (Supreme Court of Pakistan), 2009 SCMR 230 (Supreme Court of Pakistan), 2014 P.Cr. L J 872(Lahore), 2014 PCr. L J 1123 (Sindh), 2011 PCr. L J 1040 (Lahore),1998 SCMR 570 (Supreme Court of Pakistan), 2013 YLR 230 (Peshawar), 1994 PCr. L J 1057 (Lahore), 2012 MLD 365 (Balochistan), 2008 PCr. L J (Federal Shariat Court), 2014 YLR 206 (Karachi), 2013 SCMR 383 (Supreme Court of Pakistan) and PLD 2002 Lahore 587

پر بھی انحصار کیا۔

صفحہ 958

مصطفیٰ چودھری، ایڈووکیٹ، مدعی کے فاضل وکیل نے کی، کے علاوہ دیگر وکلاء نے استدعا کی کہ استغاثہ، اپنے انتہائی آزاد اور بے غرض، گواہان کے ذریعے کسی شک و شبہ کے بغیر ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے؛ یہ کہ برآمدگی کے وقت، جگہ اور طریقے کا گواہان استغاثہ کی طرف سے تعین کیا گیا ہے؛ یہ کہ مقدمہ ہذا کے گواہان نے تمام واقعات نہایت ہی سیدھے سادے اور سچے انداز میں بیان کیے ہیں؛ یہ کہ صفائی کی طرف سے استغاثہ کی کہانی میں کوئی نقص تلاش کرنے کی کوشش ناکام رہی؛ یہ کہ استغاثہ نے گواہ استغاثہ نمبر 1 تا گواہ استغاثہ نمبر 2 کی صورت میں براہ راست گواہی پیش کی؛ یہ کہ گواہان کے بیانات میں کوئی سنگین غیر مطابقت یا تضاد نہیں؛ یہ کہ مقدمہ ہذا کے مدعی کو ملزمان کے خلاف کسی بھی قسم کی بدنیتی، پرخاش یا پھر حتی کہ کوئی دوسری وجہ نہیں تھی کہ انہیں غلط طور پر مقدمہ ہذا میں ملوث کیا جائے؛ یہ کہ استغاثہ، ملزمان کے خلاف اپنے مقدمہ کو بھرپور انداز میں ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے؛ یہ کہ ملزمان کی طرف سے اس ضمن میں کوئی معقول وضاحت پیش نہیں کی گئی کہ ملزمان کو کیوں مقدمہ ہذا میں جھوٹے طور پر ملوث کیا گیا۔ استغاثہ نے استدعا کی ہے کہ ملزمان کو سزا دی جائے۔ انہوں نے اپنے موقف کی تقویت کے لیے مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں یعنی 2005 YLR 985، PLD 2014 Federal Shariat Court 18 اور PLD 1991 Federal Shariat Court 10 کے علاوہ فوجداری مقدمہ نمبر 2509/10 میں آسیہ مسیح بنام سرکار پر مشتمل توہین رسالت کے غیر مطبوعہ مقدمہ پر بھی انحصار کیا ہے۔

ملاحظہ کیا گیا ہے۔

اللہ محمد رسول اللہ“ کے بجائے گستاخانہ اور اہانت آمیز اور توہین رسالت پر مبنی کلمہ یعنی (نعوذ باللہ) ”لا الہ الا اللہ غفور شاہ رسول اللہ“ کہا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں ملزم عبدالشکور، جو عبدالغفور شاہ (جس کے مزار پر وقوعہ پیش آیا) کا بیٹا ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی، متذکرہ عبدالغفور شاہ کا مرید ہے۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں استغاثہ نے براہ راست گواہان کے

صفحہ 959

علاوہ موبائل فون کی ریکارڈنگ بھی پیش کی ۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں ایس پی کے عہدے کے دو اعلیٰ پولیس افسران نے تفتیش کی اور ملزمان کو قصور وار پایا۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا مقدمہ ہے جو ملزم لیاقت کے پیر اور عبدالشکور کے والد عبدالغفور شاہ کے عرس کے موقع پر پیش آیا جسے ( عبدالغفور شاہ ) پڑھے گئے کلمہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے (نعوذ باللہ ) ایک پیغمبر کے طور پر دکھایا گیا۔

اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ مدعی قاری شوکت محمود، مرحوم عبدالغفور کے مزار کی زمین کا ایک حصہ لینا چاہتا ہے۔ اس نے ملزم عبدالشکور سے زمین کے ایک حصے کا مطالبہ کیا جس نے انکار کر دیا اور ملزم لیاقت علی وہاں موجود تھا اور دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اس لیے دونوں ملزمان عبدالشکور اور لیاقت علی ، توہین رسالت ﷺ کے سنگین الزام کے تحت مقدمہ ہذا میں دھر لیے گئے۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں دفاع نے بھی اپنے موقف کی حمایت میں پانچ گواہان صفائی پیش کیے، نیز یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں عدالت نے ایس پی سی آئی اے، محمد عمر ورک کو بھی طلب کیا جس نے تفتیش بھی کی تھی اور استغاثہ نے اس کے علاوہ نعیم اللہ خان، ناظم حلقہ کو بھی پیش نہیں کیا جس نے دوران تفتیش زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنا بیان قلمبند کرایا۔ (لیکن عدالت نے اس کو بھی بطور گواہ طلب کیا اور اس کا بیان ریکارڈ کیا تاکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔) یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جو ایک سنگین، حساس اور نازک نوعیت کا حامل تھا جسے انتہائی غور اور انتہائی احتیاط سے سماعت کیا گیا، یوں مقدمہ ہذا کی یہ ساری تصویر اور منظر نامہ ہے جس کا عدالت ہذا نے اس کے روبرو پیش کی گئیں گواہیوں کی کسوٹی پر جائزہ لینا اور اس کی تہہ تک پہنچنا ہے۔

صفحہ 960

6. نتیجہ

چشم دید زبانی شہادت

پیش کیے۔ قاری شوکت محمود، جو مقدمہ ہذا کا مدعی اور عثمانیہ مسجد کا امام ہے۔ یہ مسجد عدالت میں حاضر ملزم عبدالشکور کے والد عبدالغفور کے مزار سے متصل ہے۔ وہ گواہ استغاثہ نمبر 1 کی حیثیت سے پیش ہوا جبکہ محبوب عالم، جس نے مسجد کے گراؤنڈ فلور کا ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا ہے اور متذکرہ مسجد میں رہ رہا ہے، وہ بطور گواہ استغاثہ نمبر 2 کی حیثیت سے پیش ہوا۔

ہوئے مندرجہ ذیل بیان دیا۔

”22/21 دسمبر 2011ء کی درمیانی رات تقریباً نماز تہجد کے وقت، یعنی 4 بجے صبح، اس نے ایک شور سنا۔ معلوم کرنے پر مجھے یہ پتا چلا کہ ملزم عبدالشکور عرف بابا صاحب جو اس وقت عدالت ہذا میں حاضر ہے، اپنے باپ کی قبر پر کھڑے ہو کر کسی شخص، جو اس کا مرید تھا یا اس کے باپ کا مرید تھا، بعد ازاں جس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ لیاقت علی ولد نذیر تھا، کے سامنے اصلی کلمہ، ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے بجائے ”لا الہ الا اللہ غفور شاہ رسول اللہ“ پڑھ رہا تھا۔

میں نے گواہ استغاثہ محبوب عالم، کے ہمراہ، وہاں جو کچھ کہا جا رہا تھا، ذاتی طور پر وہ دیکھا اور سنا۔ پھر ہم نے ملزم کو یہ سب کچھ کرنے سے روکا جس کے جواب میں اس نے مجھے گالیاں دینے کے علاوہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ پھر، میں نے اپنے ساتھی محبوب عالم کے ہمراہ، اپنے موبائل فون پر ملزم کی آواز ریکارڈ کر لی۔ پھر ہم پولیس سٹیشن مغلپورہ گئے اور میں نے ایس ایچ او کے روبرو ایک درخواست گزاری جو (Ex.PA) ہے جس پر میرے دستخط کے علاوہ میرے انگوٹھے کا نشان بھی ثبت ہے جو (Ex.PA/1) اور (Ex.PA/2) ہیں۔ پھر متعلقہ ایس پی اور ایس ایچ او، جائے وقوعہ پر آئے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ پھر انہوں نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB) میرا موبائل فون (P.1) اپنی تحویل میں لے لیا۔ پھر پولیس پارٹی جائے وقوعہ سے واپس چلی گئی۔

میں نے ایس ایس پی کے روبرو اپنا ضمنی بیان قلمبند کرایا۔ اپنے ضمنی بیان میں، میں

صفحہ 961

نے دوسرے ملزم (لیاقت) کا نام قلمبند کرایا جو اس سے پہلے میری درخواست (Ex.PA) میں درج نہیں تھا کیونکہ جس دن درخواست تحریر کی گئی تھی، اس دن مجھے اس کا نام معلوم نہ تھا۔ پھر ملزم کا نام لکھنے کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ پھر ہم اپنے گھر واپس آ گئے۔ چونکہ یہ ایک حساس مذہبی معاملہ ہے اور ملزمان، ایک ہولناک مذہبی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے انہیں سخت سزا دی جائے ۔‘‘

موقف کی حمایت میں یہ بیان دیا:

’’22/21 دسمبر 2011ء کی درمیانی رات کو میں اور قاری شوکت، گواہ استغاثہ نمبر 1، تقریباً چار بجے صبح، نماز تہجد کے لیے اٹھے۔ شور سن کر ہم دونوں اپنے کوارٹر سے باہر نکل آئے اور دیکھا کہ عدالت میں حاضر عبدالشکور، اپنے باپ کی قبر پر کھڑے ہو کر ایک اور شخص کے سامنے کچھ کہہ رہا ہے جو بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ملزم لیاقت ہے، میرے پاؤں پر گر پڑو، میرے پاؤں چومو اور کلمہ ’’لا الہ الا اللہ غفور شاہ رسول اللہ‘‘ پڑھو، جبکہ دوسرا شخص اس کے کہنے پر یہی کچھ کہہ رہا تھا۔ ہم نے یہ سب کرنے سے منع کیا جس پر ملزم عبدالشکور نے ہمیں گالیاں دینے کے علاوہ دھمکیاں بھی دیں اور قابل اعتراض فقرہ مسلسل کہتا رہا۔ پھر گواہ استغاثہ نمبر 1، قاری شوکت محمود، نے اپنے موبائل ٹیلیفون پر ان کی آوازیں ریکارڈ کر لیں جو ہمارے پاس موجود تھا اور جسے ہم نے بعد ازاں ثبوت کے طور پر پولیس کو دے دیا تھا۔ متذکرہ رات کو، ملزم لیاقت علی کا نام ہمیں معلوم نہ تھا، پھر ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا نام لیاقت علی ولد نذیر احمد ہے اور جو عدالت میں حاضر ہے۔

پر متفق ہیں۔ انہوں نے قطعی اور واضح طور پر یہ کہا کہ مقدمہ کی کارروائی میں ملوث دونوں ملزمان عبدالشکور اور لیاقت علی نے توہین رسالت ﷺ پر مبنی کلمہ پڑھا۔ دونوں نے ملزمان کے متعلق بالکل درست بیان کیا ہے کیونکہ قاری شوکت محمود، امام مسجد ہے جو مسجد کی پہلی منزل پر رہ رہا ہے جبکہ گواہ استغاثہ نمبر 2، مسجد کے گراؤنڈ فلور پر رہ رہا ہے، اس لیے دونوں گواہان استغاثہ کی وہاں موجودگی قطعی قدرتی ہے۔ ان دونوں ہی نے مدعی کے فون (P-1) کے ذریعے توہین رسالت ﷺ پر مبنی فعل کا ذکر کیا ہے۔ دونوں گواہان استغاثہ حافظ قرآن ہیں اور

صفحہ 962

دونوں کو شریعت کا علم بھی ہے۔ دونوں گواہان استغاثہ نے کبھی بھی کسی معاملے کو بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کیا اور انہوں نے کبھی بھی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ اس کے برعکس، شدید کوششوں کے باوجود، فریقین صفائی نے اپنے موقف کو جائز ثابت کرنے کے لیے جارحانہ، ہیجان خیز اور شدید رویہ اپنایا۔ مزید برآں، گواہ استغاثہ نمبر 1 اور گواہ استغاثہ نمبر 2 کے بیانات میں کسی بھی قسم کا نقص معلوم کرنے یا اسے غلط ثابت کرنے کی فاضل وکیل صفائی کی ہر کوشش ناکام رہی۔ اگر چہ ان بیانات میں خفیف سی بے قاعدگیاں موجود تھیں لیکن وہ اس قدر اہمیت کی حامل نہ تھیں کہ جن کے باعث استغاثہ کی گواہی کو غلط ثابت یا ناقابل بھروسا ثابت کیا جا سکے۔ اس لیے زبانی احوال اور گواہی کے ذریعے استغاثہ، ملزمان کے جرم کو واضح اور غیر مبہم انداز میں ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

عدالت ہذا نے معزز ہائی کورٹ لاہور کے شاندار فیصلہ 2005 YLR 985، سے بھی راہنمائی حاصل کی جس میں کہا گیا ہے: ”زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان، جرم متشکل کرنے کی خاطر، گواہان کی تعداد درکار نہ تھی اور یہ بھی ضروری نہیں تھا کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف اس کی گندی اور غلیظ زبان، کو کھلے عام بلند آہنگ میں استعمال کیا جاتا، یا کسی جلسے یا کسی خاص جگہ استعمال کیا جاتا، بلکہ صرف ایک گواہ کا یہ بیان کہ کسی نے اپنے گھر کے اندر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے، توہین رسالت کے اس قسم کے مرتکب کو سزائے موت دینے کے لیے کافی ہے۔“

موبائل فون کی ریکارڈنگ

22- جب ملزمان کی جانب سے توہین رسالت ﷺ پر مبنی فعل کا ارتکاب کیا جارہا تھا اور دوسری طرف دونوں گواہان استغاثہ نے یہ سنا، سب سے پہلے انہوں نے یہ سنا اور پھر بعد ازاں اس کی ریکارڈنگ کی، یہ قاری شوکت تھا جس نے اپنے چائنا میڈ موبائل (1-P) پر یہ ریکارڈنگ کی اور جب تفتیش کے وقت ایس پی، جائے وقوعہ پر پہنچا، اس نے موبائل فون تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا جس نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB)، گواہ استغاثہ نمبر 4، شہزاد تنویر احمد اور دیگر افراد کی موجودگی میں اپنی تحویل میں لے لیا۔

23- متذکرہ شہزاد تنویر احمد، بطور گواہ استغاثہ نمبر 4 بھی عدالت میں پیش ہوا اور یوں بیان کیا:

صفحہ 963

”مورخہ 2012-01-06 کو مدعی قاری شوکت محمود، محبوب عالم اور کچھ لوگوں کے ہمراہ میں، تفتیشی افسر کے روبرو تفتیش کے لیے پیش ہوا۔ میری موجودگی میں قاری شوکت محمود نے اپنا موبائل فون چائنا MRITE، (P-1)، جس کی پشت سیاہ رنگ کی تھی، دوران تفتیش، تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا جس میں عدالت میں حاضر ملزمان کی آوازوں میں اصلی کلمہ، ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے بجائے ”لا الہ الا اللہ غفور شاہ رسول اللہ“ پر مبنی توہین رسالت کے الفاظ (کلمہ/آوازیں) ریکارڈ تھے۔ تفتیشی افسر نے یہ موبائل، بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB) اپنی تحویل میں لے لیا۔ میں نے قاری شوکت محمود کے ہمراہ اس پر دستخط ثبت کیے، نیز محمد اعظم انسپکٹر نے بھی اس پر دستخط کیے۔“

کہ مدعی نے توہین رسالت ﷺ پر مبنی مواد پر مشتمل ٹیلیفون ہمارے حوالے کر دیا اور مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر، ایس پی لیاقت علی ملک نے بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB)، اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔

نمبر 1 اور گواہ استغاثہ نمبر 2، کے علاوہ گواہ استغاثہ نمبر 4 اور گواہ استغاثہ نمبر 5 پر نہ تو کوئی سوال کیا اور نہ ہی ان سے کچھ مزید پوچھا کہ انہوں نے وقوعہ پر کوئی ریکارڈنگ کی یا تفتیشی افسر نے ان کی موجودگی میں موبائل فون اپنی تحویل میں نہیں لیا۔

حاصل کی جسے PLD 2011 S.C 296، مقدمہ بعنوان حافظ تصدق کے طور پر درج کیا گیا اور اس میں کہا گیا ہے:

”یہ مقدمہ، اس اصول کے دائرے میں آتا ہے کہ اگر دوران جرح، ایک ٹھوس حقیقت کو بیان کیا جائے اور جرح نہ کی جائے تو اسے تسلیم کر لیا جائے گا۔“

مزید برآں، اس ضمن میں عدالت ہذا نے قانون شہادت آرڈر 1984 کی دفعہ 132 کو بھی مدنظر رکھا ہے۔

صفحہ 964

کہتے ہوئے استغاثہ کی طرف سے دکھایا جا رہا تھا کہ ملزمان کی طرف سے توہین رسالت ﷺ پر مبنی گستاخانہ الفاظ اور کلمہ، ریکارڈنگ حاضر ہے اور اس سیل فون (1-P) میں دستیاب ہے تو حیرت انگیز اور حیران کن طور پر صفائی کی طرف سے خاموشی سامنے آئی اور ملزمان کی آواز اور موجودگی کا انکار نہیں کیا گیا۔ صفائی کی طرف سے عدالت سے مزید کوئی درخواست نہیں کی گئی کہ ملزمان کی آوازوں کو کھلی عدالت میں لایا جائے۔ صفائی کے فاضل وکیل نے یہ بھی اعتراض نہیں اٹھایا کہ کیا موبائل میں موجود آوازیں یا ملزمان کی آوازوں کے موازنہ کے متعلق FSL کی رپورٹ موجود ہے یا نہیں، اس کے متعلق عدالت کی سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ بیان کیے گئے حقائق یہ طے کرنے کے لیے کافی ہیں کہ صفائی کی طرف سے (1-P) کی ریکارڈنگ کی صداقت کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

(1-P)، مدعی قاری شوکت محمود کی ملکیت نہیں اور یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور اسے استغاثہ کے موقف کو مضبوط بنانے کے لیے جھوٹے انداز میں گھڑا گیا ہے، اس لیے ، اندریں حالات، (1-P) میں توہین رسالت پر مبنی ریکارڈنگ ، ایک واضح اور شفاف حقیقت بن چکی ہے۔

صفائی کا موقف / شہادت

صفائی میں بطور گواہ پیش ہوئے۔ صفائی کے پانچ گواہان کے بیانات ،عدالت ہذا کی طرف سے قلمبند کیے گئے ۔ مزید برآں، زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت سوال نمبر 11 کے جواب میں کہ یہ مقدمہ تمہارے خلاف کیوں قائم کیا گیا ہے اور گواہان استغاثہ نے کیوں تمہارے خلاف گواہی دی، ملزم عبدالشکور نے یوں بیان کیا:

’’معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ جون/جولائی 2011ء میں ایف آئی آر (گواہ استغاثہ نمبر 1) کا مدعی میری رہائش گاہ آیا اور مجھے درخواست کی کہ وہ حجرے/کوارٹروں کے لیے دربار کی کچھ زمین چاہتا ہے۔ تاہم ، اپنے بیٹے کی موجودگی میں ، میں نے موقع پر ہی انکار کر دیا۔ مورخہ 2011-12-19 کو گواہ استغاثہ نمبر 1، دوبارہ میرے پاس آیا اور میرے بیٹے اور لیاقت (ملزم) کی موجودگی میں وہی درخواست دوبارہ کی۔ بہر حال، میں نے ایک

صفحہ 965

دفعہ پھر انکار کر دیا اور بالآخر دوران عرس، مورخہ 2011-12-21 کو تقریباً شام کے وقت، وہ ملزم لیاقت اور میرے بیٹے کی موجودگی میں میرے پاس آیا لیکن میں نے دوبارہ انکار کر دیا جس پر گواہ استغاثہ مشتعل ہو گیا اور کھلے عام بلند آہنگ کہنے لگا ”اپنے انکار کے باعث سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہو اور میں تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا جو تم کبھی فراموش نہیں کر سکو گے اور میں تمہاری زمین ہر حال میں لے لوں گا۔“ اور میرے خیال کے مطابق یہی وجہ ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 1، کی طرف سے مخصوص مقصد، انتقامی کارروائی اور کینہ پروری کے باعث میرے اور لیاقت علی کے خلاف یہ مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

گواہ استغاثہ نمبر 2، (محبوب عالم) مکمل ان پڑھ ہے اور مکمل طور پر گواہ استغاثہ نمبر 1 کے زیر اثر ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت گواہ استغاثہ نمبر 1 اور گواہ استغاثہ نمبر 2، اکٹھے رہتے، کھاتے پیتے اور نماز پڑھتے تھے۔ دیگر گواہ، شہزاد تنویر کو میں قطعی طور پر نہیں جانتا بلکہ میں نے اسے پہلی بار دیکھا جب وہ معزز عدالت ہذا میں گواہی دینے کے لیے آیا۔ جہاں تک پولیس کے گواہان کا تعلق ہے، انہوں نے میرے خلاف اس لیے گواہی دی ہے کیونکہ میں نے مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر انسپکٹر اعظم کے روبرو اعتراف کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے جسمانی اذیت برداشت کرنے کے باوجود ان کی خواہش کے برعکس سادہ کاغذوں پر دستخط کرنے اور انگوٹھے لگانے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں انہوں نے میرے خلاف بدنیتی اور انتقامی کارروائی کے طور پر میرے خلاف گواہی دی کیونکہ میں نے ان کے غیر قانونی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔“

جبکہ ملزم ، لیاقت علی نے مندرجہ ذیل رائے ظاہر کی: ”مجھے مقدمہ ہذا میں اس لیے ملوث کیا گیا ہے کیونکہ 19 اور 21 دسمبر 2011ء کو گواہ استغاثہ نمبر 1 نے حجرے کے لیے عبدالشکور کی زمین حاصل کرنے کی درخواست کی لیکن میرے سامنے یہ درخواست دو دفعہ مسترد کر دی گئی۔ مورخہ 2011-12-21 کو جب گواہ استغاثہ نمبر 1 کی درخواست مسترد کر دی گئی اور عبدالشکور کے اس انکار کے باعث گواہ استغاثہ مشتعل ہو گیا تو اس نے با آواز بلند یہ کہا ”اپنے انکار کے باعث سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہو اور میں تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا جو تم کبھی فراموش نہیں کر سکو گے اور میں ہر حال میں تمہاری زمین حاصل کر کے رہوں گا۔“ مزید برآں جب مجھے پولیس نے گواہ استغاثہ نمبر 5

صفحہ 966

کے ذریعے گرفتار کیا تو انہوں نے کہا ”ہم نے تمہیں ملزم عبدالشکور کے خلاف بطور گواہ گرفتار کیا ہے اور اگر تم نے شریک ملزم عبدالشکور کے خلاف گواہی دی اور اپنی گواہی میں یہ کہا کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب ہے اور اس کا دربار ملحدوں اور غیر اسلامی سرگرمیوں کا گڑھ ہے تو ہم تمہیں آزاد کر دیں گے ۔“ بہرحال، میں نے یہ پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر مجھے ظالمانہ انداز میں اذیت دی گئی اور پھر بعد میں مجھے مقدمہ ہذا کے تفتیشی افسر کے روبرو پیش کیا گیا جس نے ایک دفعہ پھر انسپکٹر اعظم (گواہ استغاثہ نمبر 5) کی پیش کش دہرائی اور پھر میں نے موقع پر دوبارہ انکار کر دیا اور پھر گواہ استغاثہ نمبر 5 کے علاوہ پولیس کے دیگر افسروں نے تفتیشی افسر کی موجودگی میں مجھ سے بدسلوکی شروع کر دی اور مجھے مارا پیٹا، اور چند منٹ بعد، تفتیشی افسر نے میرے خلاف گندی اور غلیظ زبان استعمال کی اور مجھے بتایا کہ ”ملحد عبدالشکور کے ساتھ لٹکنے کے لیے تیار رہو۔“ چونکہ مجھے مقدمے میں اس لیے ملوث کیا گیا کہ میں استغاثہ کا سلطانی گواہ بن جاؤں ، لیکن عبدالشکور کے مرحوم باپ کے ساتھ وفاداری کی خاطر میں نے ان سے تعاون نہیں کیا اور یوں مقدمہ ہذا میں ملزم کی حیثیت سے میرا چالان کر دیا گیا۔

جہاں تک گواہ استغاثہ نمبر 2، کا تعلق ہے، وہ ماتحت ہے اور گواہ استغاثہ نمبر 1 کے زیر اثر ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، شہزاد تنویر، میرے لیے اجنبی ہے بلکہ میں نے اسے اس وقت پہلی دفعہ دیکھا جب وہ عدالت میں گواہی دینے حاضر ہوا اور آخر میں جہاں تک پولیس کے باقی افسروں کا تعلق ہے، انہوں نے بدنیتی کے علاوہ مخاصمت کی بنیاد پر میرے خلاف گواہی دی ہے۔ میں نے عبدالشکور کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ میں نے کسی بھی پولیس افسر کے روبرو کبھی بھی اپنے جرم کا اقرار نہیں کیا بلکہ مجھے تو پولیس نے بری طرح اور بے رحمی سے مارا پیٹا ۔“

محمود کئی دفعہ ، ملزم عبدالشکور کے والد عبدالغفور ، کے مزار کے ”گدی نشین“ کے پاس آیا اور اس نے زمین کے ایک حصے کا مطالبہ کیا اور ہر دفعہ عبدالشکور نے اس کی درخواست مسترد کر دی اور پھر بالآخر تیسری دفعہ جب مدعی اسی مطالبے کے ساتھ اس کے پاس آیا جب ملزم لیاقت علی بھی وہاں موجود تھا اور پھر قاری شوکت محمود اور لیاقت علی کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ، نیز ملزم عبدالشکور کی جانب سے زمین کا قطعہ دینے سے انکار کے باعث ان دونوں کو مقدمہ ہذا میں ملوث کیا گیا۔

صفحہ 967

-31 صفائی کی طرف سے مذکورہ بالا موقف اختیار کیا گیا لیکن ٹھوس اور مضبوط گواہی کی غیر موجودگی میں وہ اپنا یہ موقف ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ یہاں اس امر کا ذکر کیا گیا ہے کہ گواہ صفائی نمبر 1، نیاز احمد، ملزم لیاقت علی کا سگا بھائی تھا جس نے صرف یہ بتایا کہ 6/5 جنوری 2012ء کی رات کو تقریباً 12، 1 بجے، اس کے بھائی کو اس کے مکان واقع فیصل آباد ، اس کی موجودگی میں پولیس کی بھاری نفری نے گرفتار کر لیا جس کی سربراہی انسپکٹر اعظم کر رہا تھا۔ اسی طرح گواہ صفائی نمبر 2، مسمات مقصوداں، جو ملزم لیاقت علی کی بیوی ہے جس نے بیان کیا کہ ملزم لیاقت علی کو اس کے مکان واقع فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔ گواہ صفائی نمبر 3، سر بلند علی جو ملزم عبدالشکور کا سگا بھائی ہے، اس نے بھی یہی کہا کہ قاری شوکت محمود، اس سے قطعہ زمین کا مطالبہ کر رہا تھا جب وہ اپنے والد کا عرس منا رہے تھے اور جب عبدالشکور نے اس مطالبہ سے انکار کر دیا، یہ مقدمہ، اس (عبدالشکور) اور لیاقت علی کے خلاف جھوٹے طور پر گھڑا گیا جو اس کے مرحوم والد کا مرید ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملزمان عبدالشکور اور لیاقت کا دفاع کرنے کے بجائے، متذکرہ گواہ صفائی نے عبدالغفور شاہ کے مزار پر ملزم لیاقت علی کی متعلقہ وقت پر موجودگی کی تصدیق کی۔ گواہ صفائی نمبر 4 اور گواہ صفائی نمبر 5، نے بھی صفائی میں یہ بیانات قلمبند کرائے کہ قاری شوکت محمود نے عبدالشکور سے زمین کا مطالبہ کیا۔

-32 قاری شوکت محمود، مسجد عثمانیہ، جو ملزم عبدالشکور کے والد عبدالغفور کے مزار سے متصل ہے، کا محض امام مسجد ہے۔ متذکرہ شوکت محمود مدعی، نہ تو متذکرہ مسجد کا ناظم اعلیٰ ہے اور نہ ہی انتظامیہ کمیٹی کا رکن ہے۔ وہ تو صرف بطور امام مسجد تنخواہ وصول کرتا تھا، بس اور کچھ نہیں۔ اس لیے قاری شوکت کی طرف سے ملزم عبدالشکور سے زمین مانگنے کے مطالبے کے سامنے سوالیہ نشان ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس حیثیت سے اس نے یہ مطالبہ کیا تھا کیونکہ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ مسجد انتظامیہ کسی بھی وقت اسے برخاست کر سکتی ہے اور اس کی ملازمت مستقل نوعیت کی نہیں ہے۔ مزید برآں، اسے پہلے ہی مسجد کی بالائی منزل پر رہائش فراہم کی گئی تھی جہاں وہ رہائش پذیر تھا۔ اس طرح وہ لاہور اور لاریکس کالونی کا مستقل رہائشی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے سے ہے۔ گواہان صفائی نمبر 3، 4 اور 5 نے بھی اسی طرح خاص طور پر گواہ صفائی نمبر 4 کے مانند تسلیم کیا کہ عبدالشکور نے کہا کہ ”قاری شوکت تن تنہا تھا اور خالی ہاتھ تھا۔“ یہی موقف گواہ صفائی نمبر 5 نے اختیار کیا

صفحہ 968

جب قاری شوکت محمود مزار میں آیا اور دھمکی دی اور تلخ کلامی کی ، وہ تن تنہا اور خالی ہاتھ تھا۔

33- خاص طور پر گواہ صفائی نمبر 4، ملزم عبدالشکور پر جرح کے دوران یہ معلوم ہوا کہ نہ ہی وہ اور نہ ہی اس کا باپ، اپنے مکان کے علاوہ عبدالغفور کے مزار کا حقیقی مالک نہیں اور اس نے واضح طور پر بتا دیا کہ یہ دونوں زمینیں محکمہ ریلوے کی ملکیت ہیں۔ اس لیے ایک دفعہ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ملزم عبدالشکور یا اس کا مرحوم باپ، زمین کے اصلی مالک نہیں تھے، تو پھر کیوں مدعی قاری شوکت محمود نے متذکرہ زمین میں سے قطعہ زمین کا مطالبہ کیا اور پھر ملزم عبدالشکور نے قاری شوکت محمود کو اس کے متعلق آگاہ کیوں نہیں کیا۔

34- گواہ صفائی نمبر 4، عبدالشکور نے بتایا کہ ”ہمارا گھر، ہماری قانونی ملکیت میں نہیں اور یہ زمین ریلوے کی ہے۔ میرے پاس ریلوے حکام کی طرف سے جاری کردہ کوئی اجازت نامہ نہیں۔ میں نے اس زمین پر رہنے کے لیے ریلوے کو کبھی کوئی کرایہ ادا نہیں کیا۔ جس زمین پر میرے باپ عبدالغفور کا مزار واقع ہے، وہ بھی ریلوے کی ملکیت ہے۔ میرے گھر سے نزدیک ترین مسجد، عثمانیہ مسجد ہے جہاں مقدمہ ہذا کا مدعی قاری شوکت امام مسجد ہے۔ میں عام طور پر نماز اپنے گھر میں ادا کرتا ہوں اور بعض دفعہ قاری شوکت، مدعی مقدمہ ہذا، کی امامت میں بھی نماز ادا کرتا ہوں۔ اس لیے اس ضمن میں متذکرہ بالا بحث کے باعث یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ملزمان کی طرف سے اپنی صفائی میں اختیار کیا گیا موقف کسی بھی طرح ٹھوس نہیں۔ مزید برآں، دھمکیوں کے معاملے سے نہ تو پولیس کو مطلع کیا گیا کہ ایف آئی آر درج کی جائے اور نہ ہی مسجد انتظامیہ کو قاری شوکت محمود کے اس فعل کے متعلق آگاہ کیا گیا جو مسجد انتظامیہ کے علم کے بغیر ہی زمین کا مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے بطور امام، ملازمت سے برخاست کیا جائے۔

فریقین کے درمیان پرانی دشمنی؟

35- عدالت ہذا نے مقدمہ ہذا کے متعلق بحث کے لیے دانستہ اور جان بوجھ کر عنوانات بنائے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس قسم کے مقدموں میں لوگ عام طور پر توہین رسالت کی چھتری کے تحت اپنے ذاتی مفادات کی تسکین کرتے ہیں۔ یہ بھی تکلیف دہ بات ہے کہ لوگ، خاص طور پر مذہبی لوگ، اپنے مخالفین کو توہین رسالت کی قربان گاہ پر قربان کر دیتے ہیں، اس لیے محض اس عنصر کی خاطر، یہ عدالت مناسب سمجھتی ہے کہ اس زاویے سے بھی مقدمہ ہذا کا جائزہ لیا جائے۔

صفحہ 969

مدعی، بطور گواہ استغاثہ نمبر 2 اور ملزمان کے درمیان کوئی پرانی دشمنی حتیٰ کہ دور کی پرخاش بھی موجود نہیں جس کے باعث انہیں اس ہولناک جرم میں ملوث کیا جائے۔ بلکہ ملزم عبدالشکور نے بطور گواہ صفائی نمبر 5، یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ عام طور پر اپنے گھر میں نماز ادا کرتا ہے اور بعض اوقات اپنے گھر سے متصل عثمانیہ مسجد میں مقدمہ ہذا کے مدعی قاری شوکت کی امامت میں بھی نماز ادا کرتا ہے۔

پولیس کی تفتیش

ریٹائرڈ لیاقت علی ملک، ایس پی پولیس نے توہین رسالت ﷺ کے اس مقدمے کی تفتیش کی کیونکہ زیردفعہ 156-A مجموعہ ضابطہ فوجداری، ایس پی عہدے کا ایک پولیس افسر ہی اس قسم کے مقدمے کی تفتیش کر سکتا ہے۔ متذکرہ بالا سی ایس پی افسر، کیپٹن لیاقت علی ملک، ایس پی نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی اور حکم نامہ مورخہ 2012-11-23 کے مطابق، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور نے مندرجہ بالا تفتیش کے باوجود ایک سینئر افسر کے ہاتھوں سچے حقائق دریافت کرنے کے لیے جناب عمر ورک ایس پی راوی (سی آئی اے) لاہور کو تفتیش سونپ دی تاکہ یہ تفتیش خالصتاً میرٹ اور قانون کی بنیاد پر کی جائے۔ یہ کہنا غیر ضروری نہیں کہ اگرچہ متذکرہ جناب عمر ورک ایس پی نے تفتیش کی اور اپنی ضمنیاں تحریر کیں لیکن پھر بھی استغاثہ نے اسے اپنے گواہ کی حیثیت سے پیش نہیں کیا، اس لیے اسے ایک اہم گواہ کی حیثیت سے عدالت ہذا نے ایک عدالتی گواہ کی حیثیت سے طلب کیا۔ لیاقت علی ایس پی نے بطور گواہ استغاثہ نمبر 6، اپنی گواہی قلمبند کرائی جبکہ عمر ورک ایس پی نے بطور عدالتی گواہ نمبر 1، اپنی گواہی قلمبند کرائی۔

مقدمہ ہذا میں اعلیٰ عہدوں کے حامل دو پولیس افسروں نے مقدمہ ہذا کی تفتیش کی، اس لیے عدالت، ان کی تفتیش سے بلاخوف و خطر نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔ عدالت ہذا نے اس ضمن میں مقدمہ 2009 MLD 120 سے راہنمائی حاصل کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے:

”اس ضمن میں پولیس کی طرف سے عدالت پر کوئی پابندی نہیں جب تک کہ اس کی بنیاد ٹھوس اور معقول نہ ہو۔“

صفحہ 970

اس امر کا ذکر بھی غیر ضروری نہیں کہ دونوں تفتیشی افسروں نے ملزمان، عبدالشکور اور لیاقت علی کو قصور وار پایا اور زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری انہیں چالان کے کالم نمبر 3 میں دکھایا گیا۔ بہرحال، ضمنی نمبر 8 مورخہ 18-01-2012ء، اپنے اخذ کردہ نتائج کے کالم میں کیپٹن لیاقت علی نے ذکر کیا کہ قاری شوکت محمود نے اپنا وہ موبائل فون بھی پیش کیا جس میں پانچ منٹ کی ریکارڈنگ موجود تھی اور یہ ریکارڈنگ، مدعی کے علاوہ دیگر معزز اور قابل احترام افراد کی موجودگی میں سنی گئی جس سے معلوم ہوا کہ یہ اس شخص کی آواز ہے جو توہین رسالت کا مرتکب ہوا اور توہین رسالت پر مبنی کلمہ کہا (ریکارڈنگ میں)، صرف ایک ہی شخص ہے اور کسی دوسرے شخص کی آواز سنائی نہیں دی۔ لیاقت علی، عبدالغفور کا مرید ہے جبکہ عبدالشکور ”گدی نشین“ ہے اور صرف ایک ہی شخص کی آواز ہے، اس لیے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ لیاقت علی نے توہین رسالت پر مبنی کلمہ، گدی نشین، عبدالشکور کے دباؤ اور ایما کے تحت بولا۔ اس نے مزید لکھا کہ ملزم لیاقت علی نے پہلے ہی توہین رسالت پر مبنی کلمہ بولنے کا اقرار کر لیا ہے۔ اس لیے، اپنی اس حیثیت کے لحاظ سے وہ (عبدالشکور)، اپنے باپ کے مزار پر ہونے والے تمام واقعات کا ذمہ دار ہے، اس لیے وقوعہ کی رات جب ملزم لیاقت علی، مسلسل، توہین رسالت پر مبنی کلمہ بول رہا تھا، تو پھر ملزم عبدالشکور نے اسے کیوں نہیں منع کیا یا پھر اس نے اسے قانون اور پولیس کے حوالے کیوں نہیں کیا لیکن اس ہولناک جرم کے باوجود اس نے ملزم لیاقت علی کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ مزید برآں، ضمنی نمبر 3، مورخہ 09-01-2012 میں، کیپٹن لیاقت علی، ایس پی نے لکھا ”یہ ملزم لیاقت علی ہی ہے، جس نے اپنا جرم قبول کیا، ملزم لیاقت علی نے بھی دیگر افراد کی موجودگی میں مدعی کے فون کی ریکارڈنگ سنی اور اس کا تقابل کیا گیا اور یہ آواز واضح طور پر ملزم لیاقت کی آواز سے مشابہ ہے۔“

بیان قلمبند کرایا، نے کہا کہ اس نے اپنے پیشرو کی تمام تفتیش کی توثیق کی اور دونوں ملزمان کو قصور وار قرار دیا، لیکن عدالت کے استفسار پر اس نے کہا:

”میں اپنے پیش رو تفتیش کار ایس پی لیاقت علی کی رائے اور اخذ کردہ نتیجے سے متفق تھا کہ عبدالشکور کے ایما پر، یہ ملزم لیاقت علی، عدالت میں حاضر، ہی تھا جس نے توہین رسالت پر مبنی کلمہ بولا اور توہین رسالت کا مرتکب ہوا۔“

صفحہ 971

ملزم عبدالشکور کی گرفتاری کے فوراً بعد اس نے جو بیان دیا، اس کا یہاں ذکر ناگزیر ہے جو اس نے وقوعہ کی رات تفتیشی افسر کے روبرو دیا، اسے معلوم ہوا کہ ملزم لیاقت علی، توہین رسالت پر مبنی کلمہ بول رہا تھا اور اس نے قرآن مجید کی کچھ آیات غلط طور پر پڑھی تھیں، اس نے اپنے بھائی سر بلند علی اور دوسروں کے ہمراہ اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوا۔ مزید برآں، ملزم لیاقت علی کا پہلا بیان بھی غیر مناسب نہیں جس میں اس نے تفتیشی افسر لیاقت علی ملک ایس پی کے روبرو روزنامچہ مقدمات نمبر 3 مورخہ 2012-01-09 میں یہ قلمبند کیا کہ 25 محرم کی رات کو، وہ اپنے پیر عبدالغفور شاہ کے عرس پر آیا اور رات کو ”ختم“ کے بعد، اس پر جنون کا دورہ پڑا اور بے خودی کے عالم میں اس نے توہین رسالت ﷺ پر مبنی کلمہ کہا اور توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا اور یہ الفاظ عبدالشکور کے علاوہ دیگر افراد اور متصل مسجد کے امام نے بھی سنے۔ سر بلند علی نے بھی روزنامچہ مقدمات نمبر 6 مورخہ 2012-01-12ء میں اپنے اس بیان کا ذکر، زیر دفعہ 161 مجموعہ ضابطہ فوجداری قلمبند کراتے ہوئے کیا کہ یہ ملزم لیاقت علی ہی تھا جس نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا اور میں اور میرے ملزم بھائی نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ اس نے مزید یہ ذکر کیا کہ مدعی کے موبائل فون کی تمام ریکارڈنگ میں صرف ایک شخص ہی کی آواز ہے۔

نمبر 13 مورخہ 2013-02-06 میں یہ ذکر کیا کہ دربار کی انتظامیہ، دربار کے ”گدی نشین“ عبدالشکور کے ہاتھ میں ہے اور اگر اس کی ایما پر ملزم لیاقت علی نے توہین رسالت پر مبنی کلمہ بولا، تو پھر مسلمان ہونے کے علاوہ گدی نشین ہونے کی حیثیت سے ملزم عبدالشکور کا یہ فرض تھا کہ وہ لیاقت کو یہ سب کچھ کرنے سے روکتا۔

جب مدعی اور دیگر افراد، میرے پاس آئے اور وقوعہ کے متعلق مجھے مطلع کیا، میں نے ان سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس اس کے متعلق کوئی ثبوت ہے یا نہیں؟ اس پر قاری شوکت مدعی مقدمہ ہذا نے اپنا موبائل فون (P-1) پیش کیا اور مجھے اس کی ریکارڈنگ سنائی جس میں ملزم عبدالشکور اور ایک اور شخص، اصلی کلمہ، ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے بجائے ”لا الہ الا اللہ غفور

صفحہ 972

شاہ رسول اللہ‘ پڑھ رہے تھے لیکن عدالت کے استفسار کرنے پر اس نے یہ جواب دیا:

”مورخہ 2012-01-07 کو، تفتیشی افسر اعظم نے میرا بیان قلمبند کیا۔ یہ درست ہے کہ میں نے اس سے پہلے تفتیشی افسر کے سامنے یہ بیان دیا کہ میں نے موبائل فون (1-P) میں سے صرف ایک شخص کی آواز سنی جو قاری شوکت محمود نے ریکارڈ کی تھی اور جس کی ریکارڈنگ مجھے سنائی گئی ۔“

اس مرحلے پر یہ ذکر اہم ہے کہ توہین رسالت کے مقدمے میں ایس پی کے عہدے سے کم کسی افسر سے تفتیش نہ کرانے میں پوشیدہ حکمت ، دانائی اور فلسفہ یہ ہے کہ چونکہ اس قسم کے مقدمات سنگین اور حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں، اس لیے ایس پی عہدے کا حامل افسر ، جو ایک سینئر اور تجربہ کار افسر ہوتا ہے، منصفانہ اور شفاف انداز میں تفتیش کرے گا اور گواہان کے علاوہ اس کے روبرو پیش ہونے والے لوگ بھی جھوٹ بولنے کی ہمت نہ کر سکیں گے یا اس کے روبرو کسی بات کو مرچ مسالہ لگا کر پیش نہیں کر سکیں گے ۔ مزید برآں ، ظاہر ہے کہ اس قسم کے افسر خوشامد پسند نہیں ہوتے ۔ اس لیے ، مقدمہ ہذا میں ، نہ صرف ایس پی عہدے کے ایک افسر بلکہ ایس پی عہدے کے دو افسران نے تفتیش کی ، اس لیے عدالت نہ صرف محفوظ رائے قائم کر سکتی ہے بلکہ اس پر بھروسا بھی کر سکتی ہے۔

نتیجہ

کا ایمان کیا ہے۔ ”مسلمانوں“ کا ایمان ”کلمہ شریف ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ دراصل ، کلمہ شریف کے معنی ، درحقیقت، ایک اقرار ہے جو اسلام میں داخل ہونے کا راستہ ہے لیکن جو شخص اس اقرار کو مشینی انداز میں ، دھوکا دہی کی نیت سے اور اس کے معنی بدل کر دہراتا ہے، اسے ”مسلمان“ نہیں کہا جا سکتا ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ کہا۔ اس ضمن میں سورہ احزاب کی آیت نمبر 40 کا حوالہ مندرجہ ذیل ہے:

”نہیں ہیں محمد (ﷺ) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“

صفحہ 973

اللہ تعالیٰ بذات خود اور اس کے فرشتے، حضور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس ضمن میں سورہ احزاب کی آیت نمبر 56 کا حوالہ مندرجہ ذیل ہے:

”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی مکرم (ﷺ) پر۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ (ﷺ) پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب ومحبت سے) سلام عرض کیا کرو۔“

اس مرحلہ پر اس امر کا ذکر نہایت مناسب ہے کہ مقدمہ ہذا میں ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے، معزز ہائی کورٹ لاہور نے بمطابق حکم مورخہ 14-03-2012، یہ فیصلہ دیا:

”قابل غور پہلا سوال یہ ہے کہ کیا جرم زیر دفعہ 298 تعزیرات پاکستان جو بتائے گئے حقائق میں متشکل کیا گیا، ایف آئی آر کو غلط ثابت کرتا ہے یا اس کے ذریعے ایک ایسے جرم کا ارتکاب سامنے آتا ہے جو دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت آتا ہے۔ دفعہ 298 تعزیرات پاکستان کا تعلق، کچھ الفاظ کے بولنے کے ذریعے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے متعلق ہے، یہ دفعہ، مقدمہ ہذا کے حقائق پر لاگو نہیں ہے۔ مقدمہ ہذا میں، اپیل کنندہ نے نہ صرف ایک شخص کے مذہبی جذبات بھڑکائے بلکہ اس نے اسلام کے بنیادی اصول تبدیل کرنے کے جرم کا بھی ارتکاب کیا۔ اپیل کنندہ نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کے بجائے اپنے باپ کا نام شامل کیا اور اسے ایک پیغمبر (نعوذ باللہ) کے طور پر پیش کیا، اس لیے، اس نے کلمہ طیبہ کا اسلوب ہی تبدیل کر دیا۔ اندریں حالات، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپیل کنندہ نے زیر دفعہ 298 تعزیرات پاکستان، جرم کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ یہ ایک ایسا واضح جرم کیا ہے جو دفعہ 295-C کے تحت آتا ہے۔“

42- مقدمہ ہذا کے ہر ایک پہلو کا تفصیلی جائزہ اور تجزیہ کرنے کے بعد مندرجہ بالا گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ عدالت کی یہ سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ اس مقدمہ میں توہین رسالت (ﷺ) کا ارتکاب کیا گیا ہے اور اسے استغاثہ نے نہایت ہی مدلل، ٹھوس اور متاثر کن گواہی کے ذریعے ثابت کر دیا ہے۔ ملزمان کے خلاف مدعی اور دیگر گواہان استغاثہ کی طرف سے کوئی پرانی دشمنی یا بدنیتی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اس قسم کے کسی فعل کا ارتکاب کیا گیا اور توہین رسالت (ﷺ) کے اس فعل کے ارتکاب کے باعث، ملزمان، جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، کے مرتکب ہوئے ہیں۔

صفحہ 974

43- اس کے ساتھ، عدالت ہذا، اس حقیقت سے بھی غافل نہیں کہ عدالت کا یہ بہت ہی بڑا فرض اور ذمہ داری ہے کہ مقدمہ کی مکمل چھان بین کی جائے۔ عدالت اس حقیقت سے بھی غافل نہیں کہ بھوسے کو گیہوں سے الگ کیا جائے۔ مندرجہ بالا بحث اور صورت حال کی روشنی میں عدالت کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ ملزم کو ہمیشہ قانون کا لاڈلا بیٹا سمجھا جاتا ہے اور اگر شک کا فائدہ اس کے لیے دستیاب ہو تو اسے ضرور دینا چاہیے۔ مقدمہ ہذا میں تمام حقائق، تفتیش، سیل فون ریکارڈنگ اور دستاویزات وغیرہ کے ذریعے قطعی طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ ملزم لیاقت علی ہی تھا جس نے گستاخانہ اور توہین رسالت پر مبنی کلمہ پڑھا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کے بجائے اپنے پیر مرشد کو نعوذ باللہ پیغمبر کہا۔ اس لیے، اندریں حالات، مندرجہ بالا بحث کے نتیجے میں، میں ملزم لیاقت علی کو زیر دفعہ 295-C، تعزیرات پاکستان، مجرم قرار دیتا ہوں اور اسے سزائے موت کا حقدار ٹھہراتا ہوں۔ مجرم کو اس کی موت واقع ہونے تک گردن سے لٹکایا جائے۔ اسے Rs.10,00,000/- جرمانہ بھی کیا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے ایک برس قید با مشقت بھگتنی ہوگی۔ مقدمہ کی ملکیتی اشیاء، اپیل اور نظر ثانی، اگر کی گئی، تک محفوظ رکھی جائیں گی۔ اس فیصلہ کی نقل ملزم کو مفت فراہم کر دی گئی ہے۔

جہاں تک ملزم عبدالشکور کا تعلق ہے، اسے شک کا فائدہ دیتے ہوئے ، میں ملزم عبدالشکور ولد عبدالغفور کو توہین رسالت کے الزام سے بری کرتا ہوں اور جہاں تک اس کی طرف سے ورغلانے یا اس کی طرف سے ایما کا تعلق ہے، اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی استغاثہ کی طرف سے اسے زیر بحث لایا گیا، اگر وہ کسی دیگر مقدمے میں ملوث نہیں تو اسے فی الفور رہا کیا جائے۔ فائل مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کی جائے۔

تاریخ فیصلہ 20 مارچ، 2015ء

دستخط: محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 975

قانون توہین رسالت ﷺ پر وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ بنام حکومت پاکستان اکتوبر 1990ء

صفحہ 976
صفحہ 977

فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان

(فیصلہ قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

(ابتدائی معلومات)

شریعت پٹیشن نمبر 6 - ایل - سال 1987ء منفصلہ 30 اکتوبر 1990ء

محمد اسماعیل قریشی ................................................................ پٹشنر

بنام

حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ...... ریسپانڈنٹ

تاریخ ہائے سماعت : 26 تا 29 نومبر 1989ء 4 تا 7 مارچ 1990ء

تاریخ فیصلہ : 30 اکتوبر 1990

صفحہ 978

فیصلہ

جناب جسٹس گل محمد خاں چیف جسٹس

یہ فیصلہ درخواست شریعت نمبر 1 / ایل 1984 اور درخواست ایس ایس نمبر 106 / 87 میں اٹھائے گئے (شرعی اور آئینی) نکتہ کے بارے میں صادر کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کو ان درخواست ہائے شریعت کے ذریعہ چیلنج کیا ہے جو بذریعہ آرڈیننس 1988ء پاکستان میں نافذ کی گئی۔ قبل ازیں ایسی ہی ایک درخواست شریعت، سائل درخواست گزار نے عدالت ہذا میں دائر کی تھی (1) مگر اس کا فیصلہ ہونے سے پیشتر قانون ساز اسمبلی نے از خود قانون (توہین رسالت ﷺ) میں ترمیم کر دی اور متذکرہ بالا 295 سی پاکستان پینل کوڈ میں شامل کر دی گئی، جس سے درخواست گزار مطمئن نہیں، اس لیے عدالت ہذا سے رجوع کیا گیا ہے (2) دفعہ 295 سی کا متن حسب ذیل ہے۔

دفعہ 295 سی: رسول پاک کے لیے اہانت آمیز الفاظ کا استعمال: ”کوئی شخص بذریعہ الفاظ زبانی، تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً، کنایتاً، بہتان تراشی کرے اور رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت یا سزائے عمر قید دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔“

احکامات اسلامی کے خلاف ہے جو قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ ﷺ میں دیئے گئے ہیں۔ جو نکتہ اعتراض اٹھایا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ رسالت مآب ﷺ کی شان میں کسی قسم کی کوئی بے ادبی یا اہانت آمیز بات شرعی حد کے دائرہ میں آتی ہے اور اس کی سزا قرآن اور سنت میں

صفحہ 979

بطور حد مقرر ہے جس میں کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔ فاضل ایڈووکیٹ نے اس سلسلہ میں سورۃ انفال کی آیت 13 اور سورۂ نساء کی آیت 65 پر حصر کیا ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں کہ توہین رسالت کی سزا صرف سزائے موت ہے اور کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس سے کم تر سزا یعنی عمر قید کی سزا دے۔ قرآنی آیات کے علاوہ احادیث نبوی کا حوالہ بھی دیا ہے۔

عدالت ہذا نے اس مقدمہ کی سماعت کے لیے عوام الناس کے نام نوٹس جاری کیے اور فقہا حضرات سے بھی معاونت طلب کی۔ مقدمہ مذکور کی لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں متعدد تاریخوں پر سماعت ہوئی اور عدالت کو مندرجہ ذیل فقہا حضرات کا تعاون حاصل رہا۔

مندرجہ بالا میں سے درج ذیل نے سائل کے موقف کی تائید کی کہ اس جرم کی سزا صرف سزائے موت ہی ہے۔

مندرجہ ذیل نے مزید کہا کہ اگر مجرم توبہ کرے تو سزا موقوف کر دی جائے گی۔

صفحہ 980

تاہم مولانا سعید الدین شیرکوٹی نے کہا کہ کم تر سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

217:2‘ 75:5‘ 1:39 اور 65‘ 28:47 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کچھ احادیث اور فقہی آراء بیان کیں جن میں شاتم کو مرتد تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید اس حدیث پر اعتماد کیا جو ابو قلابہؓ سے مروی ہے جس میں شاتم کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے قاضی عیاضؒ سے مروی حدیث پر بھی اعتماد کیا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”ہلاک کر دو اس شخص کو جو پیغمبر کو گالی دے اور اسے کوڑے لگاؤ جو ان کے اصحاب کو گالی دے۔“ انہوں نے ان احادیث پر بھی اعتماد کیا جن کے مطابق رسول پاک ﷺ نے شاتم کو سزائے موت دی۔ انہوں نے فقہا کے اجماع کا بھی حوالہ دیا کہ شاتم کی سزا موت ہے۔ انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ عمر قید کی سزا شاتم رسول عورت یا غیر مسلم کو دی جاسکتی ہے۔

42‘ 8:58‘ 57:33‘ 65:4‘ 104:2 اور بعض احادیث پر اعتماد کیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ شاتم کے لیے صرف سزائے موت ہی مقرر ہے‘ انہوں نے ان احادیث کے حوالے بھی دیئے جن میں رسول پاک ﷺ نے شاتم کو معاف کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے آیاتِ قرآنی اور احادیث رسول پاک ﷺ پیش کیں‘ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ اس نکتہ پر واضح ہیں کہ کس جرم میں توبہ قابل قبول ہے۔ مقتدر حنفی فقہا خصوصاً ابن عابدینؒ کے اقوال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ شاتم کی توبہ قابل قبول ہے اور یہی فقہائے حنفیہ کا ترجیحی نظریہ ہے۔

قبول کی جاسکتی ہے اور اس کے بعد اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آیاتِ قرآنی اور رسول پاک ﷺ کی احادیث کے حوالے بھی دیئے‘ بالخصوص ایک حدیث جو ابن عباسؓ کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) بدل دے۔“ ان کے مطابق شاتم چونکہ مرتد ہو جاتا ہے پس اسے سزائے موت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ابن تیمیہؒ کی رائے کا بھی حوالہ دیا کہ شاتم کی سزا

صفحہ 981

موت ہے۔ انہوں نے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے فتویٰ پر بھی اعتماد کیا (جس کے مطابق شاتم کی سزا قتل قرار دی گئی ہے)۔

اور احادیث رسول پاک ﷺ پر اعتماد کیا جن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شاتم کی سزا موت مقرر فرمائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فقہا کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم کی سزا موت ہے۔

نے احادیث رسول پاک ﷺ بھی پیش کیں کہ شاتم کی سزا موت ہے اور یہ کہ آپ ﷺ نے گستاخانِ رسول کو سزائے موت دی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کتاب ’الفقہ علیٰ مذاہب الاربعہ‘ مصنفہ عبدالرحمن الجزیری جلد پنجم صفحات 274-275 اور ’ردالمحتار‘ جلد سوم صفحات 291-290 سے مختلف فقہا کی آراء بھی پیش کیں۔

66 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے رسول پاک ﷺ کی کچھ احادیث کا حوالہ بھی دیا جن میں شاتم رسول کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے فقہا کی آراء بھی پیش کیں کہ شاتم کی سزا موت ہے۔

53-4:13-2:187‘ 229 اور 57:33 کے حوالے دیئے۔ انہوں نے متعدد احادیث بھی پیش کیں، جن میں رسول پاک ﷺ نے بعض گستاخانِ رسالت کو سزائے موت دی اور بعض کو معاف بھی فرمایا۔ انہوں نے فقہا کی بہت سی آراء کا حوالہ بھی دیا خصوصاً جن کا ذکر مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب امداد الفتویٰ جلد پنجم صفحات 166-168 پر کیا ہے۔

”57:33۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔“

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

”ہر چیز جو رسول پاک ﷺ کی ایذا کا سبب بن جائے، خواہ وہ مختلف معنی کے حامل الفاظ کے حوالہ سے ہو یا ایسے عمل سے جو آپ کی اذیت کے تحت آتا ہے۔“ (الجامع الاحکام

صفحہ 982

(جلد 14 صفحہ 238)

علامہ اسماعیل حقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینے کا مطلب‘ دراصل صرف رسول کو اذیت دینا ہے اور اللہ کا ذکر صرف عظمت اور سرفرازی کے لیے ہے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ رسول کو اذیت دینا‘ دراصل اللہ کو اذیت دینا ہے۔‘‘

’’61:9‘ 62۔ ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی ﷺ کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے‘ اللہ پر ایمان رکھتا ہے‘ اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں‘ ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔‘‘(61:9)

’’یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں‘ تاکہ تمہیں راضی کریں‘ حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں‘‘(62:9)

ابن تیمیہؒ ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’آیت 62:9 اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانا‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت ہے۔‘‘

(الصارم المسلول ص 21,20)

کے گروہ میں سے ایک شخص رسول ﷺ کے پاس آیا تو آپؐ نے اس سے کہا ’’تم اور تمہارے دوست مجھ پر کیوں سب وشتم کرتے ہیں جس پر وہ شخص چلا گیا اور اپنے دوستوں کو لے آیا اور ان سب نے اللہ کی قسم کھائی اور کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو برا بھلا نہیں کہا۔ اس پر مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں:۔

18:58 ’’جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا‘ وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں‘ اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو‘ وہ پرلے درجہ کے جھوٹے ہیں۔‘‘

19:58 ’’شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے

صفحہ 983

بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو شیطان کی پارٹی والے ہی خسارہ میں رہنے والے ہیں۔

یہ آیات مندرجہ ذیل آیت 20:58 سے منسلک ہیں۔

20:58 ’’یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘

اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، جن کے متعلق قرآن کہتا ہے:

’’اور وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور پور پور پر چوٹ لگاؤ‘‘

(12:8)

’’یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔‘‘

(13:8)

’’اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔‘‘

(3:59)

’’یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

(4:59)

چنانچہ یہ آیات واضح طور سے سزائے موت مقرر کرتی ہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالف ہیں، جن میں شاتمانِ رسول ﷺ شامل ہیں۔

’’اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔‘‘

(60:33)

’’ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے۔‘‘

(61:33)

صفحہ 984

ہے اور مسلمانوں کو اسے قائم رکھنے اور اس معاملہ میں احتیاط برتنے کا حکم دیا ہے ورنہ ان کے اچھے اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے۔ قرآن کہتا ہے:

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ (2:49)

ابن تیمیہؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’اس آیت میں مومنین کو اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے ان کی بلند آوازی ان کے اچھے اعمال کو غارت نہ کر دے اور وہ اس سے بے خبر ہوں۔‘‘

کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک کہتا ہے:

’’لوگ پوچھتے ہیں ماہِ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اس میں لڑنا بہت برا ہے، مگر راہِ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد الحرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید ہے۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے، حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں۔ (اور خوب سمجھ لو کہ) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھر جائے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔‘‘ (217:2)

’’آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں، اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں، خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ ہو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا۔‘‘ (5:5)

’’یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے،

صفحہ 985

رہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔‘‘ (88:6)

’’تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔‘‘ (65:39)

’’کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیئے۔‘‘ (9:47)

نے مومنوں کو ذومعنی الفاظ کے استعمال سے بھی منع فرمایا ہے، جیسا کہ یہودی رسول اکرم ﷺ کی اہانت کے لیے کرتے تھے۔ قرآن پاک کہتا ہے:

’’اے ایمان لانے والو ’راعنا‘ نہ کہا کرو بلکہ ’’انظرنا‘‘ کہو اور توجہ سے بات کو سنو یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں۔‘‘ (104:2)

مولانا محمد علی صدیقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’یہود یہ لفظ رسول اکرم ﷺ کی اہانت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ لفظ ’راعنا‘ کے دو معنی ہیں، اچھے اور برے۔ اس کے اچھے معنی ہیں ’’ہم پر مہربانی اور توجہ فرمائیے۔‘‘

برے معنی ہیں جو یہود راعینا کہتے تھے یعنی ’’اے ہمارے گڈریے‘‘ اور وہ یہ لفظ رسول ﷺ کی شان گھٹانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پس یہ ایک طنزیہ اشارہ ہے جو توہین رسالت کے برابر ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کیا گیا تھا، تاکہ وہ تمام راستے بند ہو جائیں جو رسول ﷺ کی اہانت کا باعث ہوں۔

قرآن پاک کہتا ہے:

’’جو لوگ یہودی بن گئے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر کہتے ہیں سمعنا و عصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا حالانکہ اگر وہ کہتے سمعنا و اطعنا اور اسمع اور انظرنا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ، مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔‘‘ (46:4)

صفحہ 986

علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔ ”مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کیا گیا‘ تاکہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کے راستے مسدود ہو جائیں ۔ نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتکریم ہی مذہب کی بنیاد ہے اور یوں اس سے محرومی مذہب سے انحراف ہے ۔“

(معالم القرآن از محمد علی صدیقی‘ جلد اول‘ صفحات 463 تا 468)

سے کسی معاملہ میں تنازعہ تھا۔ یہودی نے فیصلہ کے لیے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور منافق نے اسے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لیے کہا۔ بہرحال دونوں رسول پاک ﷺ کی خدمت میں گئے اور آپ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا۔ منافق اس فیصلہ پر راضی نہ تھا۔ چنانچہ وہ تنازعہ حضرت عمرؓ کے پاس لے گئے۔ یہودی نے حضرت عمرؓ کو بتا دیا کہ رسول پاک ﷺ پہلے ہی میرے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں‘ یہ شخص اس پر راضی نہ تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے منافق سے کہا۔ کیا یہ ایسا ہی ہے؟“ اس نے کہا ہاں ۔ حضرت عمرؓ اندر گئے‘ اپنی تلوار لی اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا اس شخص کے لیے میرا یہی فیصلہ ہے جو رسول پاک ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس پر آیت 65:4 نازل ہوئی جو مندرجہ ذیل ہے:

”نہیں‘ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو‘ اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں‘ بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔“ (65:4)

(روح المعانی‘ جلد پنجم صفحہ 67)۔ حضرت عمرؓ کے اس عمل کی قرآن کریم نے توثیق کی اور یہ اہانت رسول پاک ﷺ کے لیے سزائے موت کی نظیر ہے۔

شکل میں بھی ہو۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے:

”اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے‘ تو جھوٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو‘ کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟“ (65:9)

”اب عذر نہ تراشو‘ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے‘ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے‘ کیونکہ وہ مجرم ہے۔“ (66:9)

صفحہ 987

آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانے کے بارے میں ہے۔ پس اہانت کو کفر سے بھی شدید تر گردانا جائے گا‘ جیسا کہ اس آیت سے اخذ ہوتا ہے کہ جو کوئی رسول ﷺ کی توہین کرتا ہے‘ مرتد ہو جاتا ہے۔“ (الصارم المسلول صفحہ 31)

ابوبکر بن عربی اس آیت کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”منافقین یہ لفظ دانستہ بولتے تھے یا بطور استہزا‘ بہر حال صورت جو بھی ہو‘ یہ کفر ہے‘ کیونکہ کفریہ الفاظ سے مذاق کرنا بھی کفر ہے۔“ (احکام القرآن جلد دوم صفحہ 924)

سے منع کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا مومنوں کے لیے ممنوع ہے‘ تاکہ اہانت رسول ﷺ کا ذریعہ نہ بن سکے۔ قرآن کہتا ہے: ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو‘ نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو۔ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ‘ مگر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ‘ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں‘ مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ نبی ﷺ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو‘ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دو‘ اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو‘ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔“ (53:33)

آپ کی سنت سے بھی ثابت ہے کہ آپ کا شاتم‘ سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے:

کرو جو ایک نبی کو گالی دیتا ہے اور جو میرے صحابہؓ کو گالی دے اسے درے لگاؤ۔“

(الشفاء‘ قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 194)

صفحہ 988

شخص کے پاس ایک لونڈی تھی جو رسول پاک ﷺ پر سب وشتم کیا کرتی تھی۔ اس نابینا شخص نے اسے اس حرکت سے باز رہنے کا حکم دیا اور اسے ایسا نہ کرنے کی تنبیہ کی‘ مگر اس نے پروا نہ کی۔ ایک شب جب وہ حسب معمول رسول پاک ﷺ کو گالیاں دے رہی تھی‘ اس نابینا شخص نے چھری اٹھائی اور اسے ہلاک کر دیا۔ اگلی صبح جب اس عورت کے قتل کا مقدمہ رسول پاک ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا ”یہ کام کس نے کیا ہے؟ کھڑا ہو جائے اور اقبال کرے‘ کیونکہ جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے باعث میرا اس پر حق ہے۔“ اس پر نابینا شخص کھڑا ہو گیا اور لوگوں کو چیرتا ہوا رسول پاک ﷺ کے سامنے آیا اور بولا یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اس لونڈی کو قتل کیا ہے‘ کیونکہ اس نے آپ کو گالیاں دی تھیں۔ میں نے مسلسل اسے منع کیا‘ مگر اس نے کوئی پروا نہ کی۔ اس سے میرے دو خوبصورت بیٹے ہیں اور وہ میری بہت اچھی ساتھی تھی‘ مگر کل جب اس نے آپ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو میں نے اپنی چھری اٹھائی اور اس کے پیٹ پر حملہ کیا اور اسے ہلاک کر دیا۔“ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اے لوگو! گواہ رہنا اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“ (ابو داؤد جلد دوم صفحات 355-357)

(3)

حضرت علیؓ کی سند سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی‘ اس کو ایک شخص نے قتل کر دیا۔ رسول پاک ﷺ نے اس کا خون بے حقیقت قرار دیا۔ (مندرجہ بالا)

(4)

ابو برزہؓ کی سند سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ”میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس بیٹھا تھا جب وہ ایک شخص پر برہم ہوئے‘ میں نے ان سے کہا ”اے خلیفہ رسول اللہ! مجھے حکم دیجئے‘ میں اسے قتل کر دوں۔ اتنی دیر میں ان کا غصہ فرو ہو گیا اور وہ اندر گئے اور مجھے بلایا اور کہا ”تم نے کیا کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا ”مجھے حکم دیجئے اسے قتل کرنے کا۔“ آپ نے فرمایا ”اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو کیا تم اسے قتل کر دیتے؟“ میں نے کہا ”ہاں“ انہوں نے کہا ”نہیں“ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ رسول پاک ﷺ کے سوا کوئی شخص اس حیثیت میں نہیں کہ اس کو برا کہنے والا قتل کیا جائے۔“ (مندرجہ بالا)

صفحہ 989

”کعب بن اشرف کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟ بلاشبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی۔“ اس پر محمد ابن مسلمہ کھڑے ہوئے اور بولے ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے ہلاک کردوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”ہاں“ چنانچہ وہ عباس ابن جبر اور عباد ابن بشر کے ہمراہ گئے اور اسے قتل کر دیا

(بخاری جلد دوم صفحہ 88)

پاک ﷺ نے انصار کے کچھ آدمی عبداللہ ابن عتیق کی سرکردگی میں ایک یہودی ابو رافع نامی کے پاس بھیجے جو رسول پاک ﷺ کو ایذا پہنچاتا تھا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔

(الصارم المسلول از ابن تیمیہ صفحہ 152)

رسول پاک ﷺ سے ملاقات پر طعنے دیتی تھی اور رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہا کرتی تھی۔ آخر کار ایک دن انہوں نے اپنی تلوار سے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کے بیٹے چلائے اور بولے ”ہم ان قاتلوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ہماری ماں کو ہلاک کیا اور ان لوگوں کے والدین مشرک ہیں۔“ عمیر نے سوچا کہ اس عورت کے بیٹے کہیں غلط اشخاص کو قتل نہ کر ڈالیں، وہ رسول پاک ﷺ کی خدمت میں آئے اور پورے معاملہ کی اطلاع آپ کو دی۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا ”کیا تم نے اپنی بہن کو مار ڈالا؟ انہوں نے جواب دیا ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا ”کیوں؟“ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے آپ ﷺ کے تعلق کی وجہ سے نقصان پہنچا رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کو بلایا اور قاتلوں کے متعلق دریافت فرمایا۔ انہوں نے دوسرے لوگوں کی بطور قاتل نشان دہی کی۔ اس پر اللہ کے رسولؐ نے انہیں بتایا اور اس کی موت کو رائیگاں قرار دیا۔ (مجموعہ الزوائد و منائح الفوائد جلد پنجم صفحہ 260)

کے بعد ابن خطل اور اس کی لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا جو رسول پاک ﷺ کی ہجو

صفحہ 990

میں اشعار کہا کرتی تھیں۔ (الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم صفحہ 284 اردو ترجمہ)

کہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا ”اس شخص کو کون ہلاک کرے گا؟“ اس پر خالد بن ولیدؓ نے کہا۔ ”میں اسے قتل کروں گا۔“ رسول پاک ﷺ نے انہیں حکم دیا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ (الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم ص 284)

نبی ﷺ! میرے باپ نے آپ کو برا بھلا کہا‘ میں برداشت نہ کر سکا اور انہیں قتل کر دیا“ رسول پاک ﷺ نے اس کے اس عمل کی توثیق فرمائی۔ (الشفاء از قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 285)

پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی رہتی تھی۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا ”اس بد زبان عورت سے کون انتقام لے گا؟“ اس کے قبیلہ کے ایک شخص نے یہ ذمہ داری اٹھائی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ رسول پاک ﷺ کے پاس آیا‘ آپ نے فرمایا ”اس قبیلہ میں دو بکریاں بھی نہیں لڑیں گی اور لوگ اتحاد اور یگانگت سے رہیں گے۔“ (الشفاء از قاضی عیاض دوم صفحہ 286)

پاک ﷺ اور اس کی سزا کے متعلق بیان کی ہیں:

پاک ﷺ کو گالی دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”میرے اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟“ زبیر نے کہا ”میں“ پس وہ (زبیر) اس سے لڑے اور اسے قتل کر دیا۔

صحابی کے حوالہ سے کہتے ہیں) ایک عورت رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی۔ آپ نے فرمایا ”میری اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟“ اس پر خالد بن ولیدؓ اس کے تعاقب میں گئے اور اسے قتل کر دیا۔

صفحہ 991

حوالہ سے بیان کرتے ہیں) کہ جب ایوب ابن یحییٰ، عدنان کے پاس گئے، ان کو ایک آدمی کی نشاندہی کی گئی جو رسول پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ انہوں نے اس معاملہ میں علماء سے صلاح مشورہ کیا۔ عبدالرحمٰن ابن یزید سنانی نے انہیں مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ عبدالرحمٰن نے انہیں ایک حدیث سنائی تھی کہ وہ حضرت عمرؓ سے ملے اور ان سے بہت علم حاصل کیا۔ ایوب نے اس عمل کا ذکر عبدالملک (یا ولید ابن عبدالملک) سے بھی کیا۔ انہوں نے جواباً ان کے عمل کی تعریف کی۔

رسول پاک ﷺ کی نقل کی۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیر کو بھیجا اور ان سے کہا ”جب تم اسے پاؤ تو قتل کر دو۔“

بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے اس آدمی کے قتل کا حکم دیا جس نے رسول پاک ﷺ پر الزام لگایا۔ (مصنف عبدالرزاق جلد پنجم صفحات 378-377)

معاف فرما دیا تھا، لیکن فقہاء کا اتفاق ہے کہ رسول ﷺ کو بذات خود ہی معافی کا اختیار تھا، لیکن امت کو آپ ﷺ نے شاتمین کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔ (الصارم المسلول، ابن تیمیہ صفحات 223-222)

ہو تو اس کی سزا موت ہے اور اس میں میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں کوئی اختلاف رائے نہیں۔ (الصارم المسلول صفحہ 4)

توہین رسالت کی سزا موت ہے۔“ (الشفاء جلد دوم صفحہ 211)

قاضی عیاض مزید رقم طراز ہیں ”ہر وہ شخص جو رسول پاک ﷺ کو گالی دے، آپ ﷺ میں کوئی نقص نکالے یا آپ ﷺ کے نسب میں یا آپ کی کسی صفت میں یا آپ کی طرف کوئی کنایہ کرے یا کسی دوسری چیز سے آپ کی مشابہت کرے بطور آپ ﷺ کی

صفحہ 992

توہین، بے عزتی، تذلیل، بے لحاظی یا نقص کے، تو وہ آپ ﷺ کا شاتم ہے اور وہ قتل کیا جائے گا اور علماء وفقہاء کا اس نکتہ پر اجماع، صحابہ کے زمانہ سے آج تک ہے۔‘‘ (الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم صفحہ 214)

نہیں کہ ایک مسلمان جو دانستہ رسول پاک ﷺ کی تضحیک و توہین کرتا ہے مرتد ہو جاتا ہے اور سزائے موت کا مستوجب ہوتا ہے۔‘‘ (احکام القرآن، جلد ہشتم صفحہ 106) یہاں ایک اور حدیث بیان کرنا مفید ہوگا۔

’’عبداللہ ابن عباسؓ کی سند سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) تبدیل کرتا ہے۔‘‘ (بخاری جلد دوم صفحہ 123)

ﷺ کی سزا کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ عراق کے کچھ فقہاء نے اس کو دُرّے لگانا تجویز کیا ہے۔ اس پر امام مالکؒ غضب ناک ہو گئے اور کہا ’’اے امیر المومنین! اس امت کو زندہ رہنے کا کیا حق حاصل ہے جب اس کے رسول کو گالیاں دی جائیں۔ پس اس شخص کو جو رسول ﷺ کو برا بھلا کہے، قتل کرو اور اس کے دُرّے لگاؤ جو آپ کے صحابہ کو برا بھلا کہے۔‘‘ (الشفاء جلد دوم، صفحہ 215)

شافعی نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا موت ہے، اگر وہ مسلمان ہے۔‘‘ (الصارم المسلول صفحہ 3)

رسول پاک ﷺ نے اس کی تشریح فرمائی ہے اور اس کے بعد امت میں تواتر سے اسی پر عمل ہو رہا ہے کہ رسول پاک ﷺ کی توہین کی سزا موت ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ رسول پاک ﷺ کے بعد کسی نے سزا میں کمی یا معافی کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ کسی کو اس کا اختیار تھا۔ اس طرح مقدمہ میں پیدا ہونے والا دوسرا سوال اہانت رسول ﷺ کا تعین یا اس کی واضح تعریف کرنا ہے۔

صفحہ 993

استعمال ہوئے ہیں۔ سبّ کے معنی تکلیف اٹھانے‘ نقصان پہنچانے‘ تنگ کرنے‘ اہانت کرنے‘ بے عزتی کرنے‘ ناراض کرنے‘ مجروح کرنے‘ تکلیف میں مبتلا کرنے‘ بدنام کرنے‘ درجہ گھٹانے اور طنز کرنے کے ہیں۔ (Arabic English E. W. Lane, Book I, Part I, Page24) لفظ شتم کے معنی ہیں بے عزتی کرنا‘ گالی دینا‘ ملامت کرنا‘ جھڑکنا‘ بددعا دینا‘ بدنام کرنا‘ (مندرجہ بالا صفحات 249, 212)

علامہ رشید رضا لفظ ”اذیٰ“ کے معنی بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ”اس کے معنی کوئی ایسی چیز ہے‘ جس سے زندہ شخص کے جسم یا ذہن کو تکلیف پہنچے‘ خواہ ہلکی ہی ہو (المنار جلد دہم‘ صفحہ 445)

علامہ ابن تیمیہؒ توہین کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”اس کے معنی رسولؐ کو لعنت کرنے‘ ان کے لیے کسی مشکل کی دعا کرنے‘ یا ان کی طرف کسی ایسی چیز کو منسوب کرنا ہے جو ان کے رتبہ کے لحاظ سے نازیبا ہو‘ یا کوئی توہین آمیز‘ جھوٹے اور نامناسب الفاظ استعمال کرنا‘ یا ان سے جہالت منسوب کرنا یا ان پر کسی انسانی کمزوری کا الزام لگانا وغیرہ۔“ (الصارم المسلول‘ ابن تیمیہؒ صفحہ 526)

لکھتے ہیں ”بعض اوقات ایک حالت میں ایک لفظ ہی ضرر اور توہین بن جاتا ہے‘ جبکہ دوسرے موقع پر ایسا لفظ ضرر بنتا ہے نہ توہین۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ذو معنی اور مختلف مطالب والے لفظ کی توضیح‘ حالات اور مواقع کے ساتھ بدل جاتی ہے‘ جبکہ سبّ (توہین وتذلیل) کی تعریف شرع میں دی گئی نہ لغت میں‘ تو اس کی توضیح کے لیے رواج اور محاورہ پر انحصار کیا جائے گا‘ وہی شرع میں توہین وتذلیل قرار پائے گا اور اس کے برعکس بھی۔“ (الصارم المسلول ابن تیمیہؒ صفحہ 540)

غرض سے کی جائے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غفلت سے کی گئی ہو۔ اور ہر موقع پر فاعل کی ذہنی کیفیت ایسی ہو جو سزا کو مؤثر بنا سکے۔ اگر ایک شخص دانستہ غلط کاری اختیار کرتا ہے تو تعزیری نظام آئندہ کے لیے اسے راہ راست اختیار کرنے کے لیے وافر قوتِ محرکہ فراہم کرے گا۔ اگر دوسری طرف سے اس سے ممنوعہ فعل خطا کارانہ نیت کے بغیر سرزد ہوا ہے‘ تب بھی نقصان دہ نتائج کے امکان کو محسوس کرتے ہوئے سزا آئندہ کے بہتر طرز عمل کے لیے مؤثر ترغیب ہو سکتی ہے۔

صفحہ 994

ایک کم درجہ کے مجرمانہ ذہن پر مطمئن ہو۔ یہ صورت غفلت کے جرائم کی ہے۔ ایک شخص کو کسی جرم کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے اگر اس نے وہ فعل ایک معقول انسان کی طرح متوقع نتائج سے بچنے کے لیے نہ کیا ہو۔ دوسرے معاملہ میں قانون اس سے آگے جاسکتا ہے اور ایک شخص کو بلا لحاظ کسی مجرمانہ ذہنی کیفیت یا قابل مواخذہ غفلت کے‘ اس کے فعل کا ذمہ دار قرار دے سکتا ہے۔ ایسی خطاکاریاں جو غلطی سے مبرا ہوں‘ شدید ذمہ داری والی خطا کاری سے ممیز کی جاسکتی ہیں۔

بینی شامل ہو۔

جو مجرمانہ نیت یا پیش بینی سے متضاد ہے ایسی خطا کاریوں میں غلطی جیسا دفاعی موقف صرف مجرمانہ ذہن کی نفی کرے گا اگر غلطی بذات خود غفلت نہ ہو۔

نیت یا قابل مواخذہ غفلت کو ذمہ داری کی لازمی شرط تصور کیا جائے گا۔ یہاں اس قسم کے دفاعی موقف جیسے غلطی‘ سے کسی فعل کا سرزد ہونا قابل قبول نہیں۔

ایک آدمی بندوق خریدتا ہے۔ اس کی نیت‘ شکار کھیلنے کی ہو سکتی ہے‘ اپنے دفاع کے لیے استعمال کی ہو سکتی ہے یا کسی پر گولی چلا کر اسے جان سے مار دینے کی ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر موخر الذکر فعل ذاتی مدافعت ثابت نہیں ہوتا‘ بلکہ قتل ثابت ہوتا ہے‘ تب نیت ایسا ہی کرنے کی کہی جاسکتی ہے‘ یعنی جان سے مار دینے کی۔

جان سے مارنا جو ایک وجہ اور اثر کا حامل ہے‘ اس وقت غیر ارادی ہو سکتا ہے جب کہ فاعل ایسے نتائج برآمد کرتا ہے جو اس کی نیت نہ تھے۔ کوئی شخص غلطی سے کسی کو جان سے مار سکتا ہے جیسے شکار پر گولی چلاتے ہوئے یا غلط فہمی سے‘ اس کو کوئی اور شخص تصور کرتے ہوئے‘ پہلے بیان کردہ صورتوں میں وہ عواقب کا اندازہ نہیں لگا سکتا‘ جبکہ موخر الذکر صورت میں وہ بعض حالات سے ناواقف ہے۔

صفحہ 995

مواخذہ قرار دیا جائے‘ چاہے یہ اس کی نیت نہ رہے ہوں۔ اولاً ایسا اصول ذہنی عناصر کی مشکل تفتیش کا تدارک کرے گا‘ دوم اور زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ اصول اس بناء پر معقول ہوگا کہ کسی شخص کو ایسے افعال نہیں کرنے چاہئیں‘ جن کو وہ سمجھتا ہو کہ دوسروں کے لیے باعث آزار ہوں گے‘ خواہ اس کی نیت یہ آزار پہنچانے کی ہو یا نہ ہو۔ ایسا رویہ بظاہر غیر محتاط اور مورد الزام ہے‘ تاوقتیکہ خطرہ کا جواز خود فعل کے معاشرتی مفاد کی بناء پر نہ پیش کیا جا سکے۔

ہو سکتا ہے اور بعض اوقات ہوتا ہے کہ نیت کی محدود تعریف سے باہر اس بناء پر ذمہ داری منسوب کی جائے جس کو تاویلی نیت کہا جاتا ہے۔ وہ نتائج جو دراصل محض غفلت کی پیداوار ہیں‘ قانون میں بعض اوقات دانستہ گردانے جاتے ہیں۔ پس جو کوئی کسی دوسرے کو شدید جسمانی نقصان پہنچاتا ہے‘ خواہ اسے ہلاک کرنے کی خواہش یا اس کی یقینی موت کی توقع کے بغیر ہی کیوں نہ ہو‘ موت واقع ہو جانے کی صورت میں وہ قتل کا مجرم ہوگا۔

عواقب کو‘ جسے بے احتیاطی سے ممیز کیا جا سکے‘ دانستہ گردانتا ہے یعنی جہاں فاعل اپنے خطا کارانہ فعل کے متوقع عواقب کی پیش بینی کر سکتا ہے۔ بے شک ایک معقول آدمی کی پیش بینی بظاہر ایک مفید شہادتی کسوٹی ہے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فاعل نے خود کیا بھانپ لیا تھا‘ لیکن متذکرہ اصول نے اسے ایک قانونی قیاس کی شکل دے دی ہے جو بظاہر رد نہیں کی جا سکتی۔ یوں نیت کے تحت وہ افعال آتے ہیں جو صریحاً مدنظر ہوں یا جو غفلت سے کیے گئے ہوں۔

ساتھ ساتھ پیدا ہوئی۔ دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہے۔ اس اصول کی تائید درج ذیل حدیث رسول پاک ﷺ سے ہوتی ہے: ”اللہ تعالیٰ وہ تمام خیالات معاف فرما دیتا ہے جو میری امت کے افراد کے دل میں پیدا ہوتے ہیں جن کو وہ ظاہر نہیں کرتے یا جن پر وہ عمل نہیں کرتے۔“ یہی وجہ ہے کہ شریعت پہلے سے طے شدہ قتل انسانی اور ایذا رسانی اور بغیر سوچے سمجھے قتل یا ایذا کے درمیان کوئی خط تفریق نہیں کھینچتی اور دونوں صورتوں میں بعینہ وہی سزا مقرر

صفحہ 996

کرتی ہے۔ قتل کی مقررہ سزا قصاص ہے‘ خواہ وہ سوچا سمجھا ہوا ہو یا نہ ہو۔

نیت ایک واضح نیت سمجھی جائے گی۔ اگر مجرم اپنے نتائج پیدا کرنے کی نیت رکھتا ہے تو باوجود غیر واضح نتائج کے‘ اس کا جرم ایک واضح فعل گردانا جائے گا‘ خواہ اس سے کچھ بھی نتائج پیدا ہوں۔ حنفیہ‘ حنابلہ اور بعض شافعی فقہاء مجرمانہ معاملات بشمول قتل کی واضح اور غیر واضح نیت میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے‘ لہٰذا اگر مجرم کا فعل قتل پر منتج ہوتا ہے تو وہ دانستہ قاتل ہے‘ خواہ اس کی نیت کسی خاص مقتول کی نہ ہو۔

مزید برآں مجرم کی ذمہ داری کا تعین اور اس جرم کی قسم طے کرنے کے لیے جس کا وہ مرتکب ہے‘ فقہاء پختہ اور غیر پختہ نیت کو ایک سطح پر رکھتے ہیں اور انہیں ایک ہی حکم کے تابع خیال کرتے ہیں‘ سوائے اس کے کہ جرم میں قتل اور ناپختہ نیت جرم شامل ہو۔

مگر ارتکاب پر مقصد کے اثر اور طرز جرم اور اس پر عائد سزا کو تسلیم نہیں کیا۔ یوں شرع میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مقصد جرم پسندیدہ ہے جیسے اپنے کسی قریبی عزیز کے قصاص یا مجرم کے ہاتھوں اس کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے‘ یا یہ کہ مقصد جرم غیر پسندیدہ ہے جیسے روپے کے لالچ یا سرقہ کے لیے قتل کرنا۔

جرم یا اس کی سزا متاثر ہوتی ہے۔ پس عملاً یہ ممکن ہے کہ جہاں تک حد اور قصاص کے جرائم کا تعلق ہے‘ مقصد کے اثر کو مسترد کر دیا جائے‘ مگر ایسا کرنا تعزیری سزاؤں کے معاملات میں ممکن نہیں۔ مقصد‘ حد اور قصاص کے جرائم کو متاثر نہیں کرتا کیونکہ قانون ساز ہستی نے ارتکاب جرم کے پس پردہ مقصد پر غور کو قبول نہ کر کے عدالت کے اختیار کو مقررہ سزاؤں تک محدود کر دیا ہے‘ لیکن تعزیری سزاؤں کے مقدمات میں اس نے عدالت کو مقدار سزا اور قسم سزا متعین کرنے کا اختیار دیا ہے‘ تاکہ عدالت کے لیے مقدار سزا کے تعین میں مقصد جرم کو پیش نظر رکھنا ممکن ہو۔

میں یہ فرق ہے کہ موخر الذکر ان مقدمات میں جو حدود اور قصاص کے زمرہ میں آتے ہیں‘ مقصد کے اثر کو تسلیم نہیں کرتا۔ شریعت میں ایسی کوئی چیز نہیں جو عدالت کے لیے مقصد جرم پر

صفحہ 997

غور کرنے میں مانع ہو اگر چہ اصولاً یہ سزا پر اس کے اثر کو تسلیم نہیں کرتی۔

تسلیم کرتی ہے جب اس کے ساتھ واضح نیت موجود ہو۔ شریعت سزائے حد موقوف کر دیتی ہے اگر اس امر میں کوئی شک ہو کیونکہ شبہات حد کو زائل کر دیتے ہیں۔

اور اس کا اطلاق شاتم رسول پاک ﷺ پر ہوگا۔ مزید یہ کہ چونکہ نیت کا پتہ وقوعہ کے گرد کے حالات سے چل سکتا ہے۔ دوسری اور تیسری قسم کے اعمال حدود کی سزاؤں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کریں گے بشرطیکہ ملزم یہ ثابت کرے کہ اس کا ارادہ کبھی بھی جرم کرنے کا نہ تھا اور وہ نادم ہو اگر کہے گئے الفاظ کیے گئے اشارے یا عمل مبہم ہوں یا وہ مجرمانہ ذہن یا بغض کے کچھ رجحانات ظاہر کرتے ہوں۔ یہاں ہم یہ بھی واضح کردیں کہ توہین رسول پاک ﷺ کے جرم میں ندامت کا فائدہ یہ ظاہر کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے کہ مجرم کے ذہن میں کوئی مجرمانہ خیال یا بغض نہ تھا اور سزا اسی بناء پر موقوف کر دی جائے گی اس لیے نہیں کہ ندامت ایک سوچی سمجھی توہین کو ختم کر دے گی۔

قرآن پاک کہتا ہے:

”نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے‘ لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو‘ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“

(5:33)

”جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو‘ تم پر سلامتی ہے‘ تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔“

(54:6)

”جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر)‘ مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا‘ اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔“

(106:16)

”اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں۔“

(19:40)

صفحہ 998

کی جزاء کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو جو اس کی نیت رہی ہوگی‘ اسی کے مطابق جزا ملے گی۔ پس جنہوں نے دنیاوی فائدے کے لیے ہجرت کی‘ اس کی ہجرت اس فائدے کے لیے تھی‘ جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“ (بخاری جلد اول صفحہ 1 حدیث نمبر 1)

کے آخری سرے پر تھا‘ لیکن اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی کوئی نماز قضا نہ ہونے دی۔ ہمیں اس پر ترس آیا اور اس سے کہا اے بھلے آدمی! تم رسول اللہ ﷺ کے نزدیک کوئی گھر کیوں نہیں خرید لیتے‘ تاکہ تم گرمی اور اتنی دُور سے آنے کی تکلیف سے بچ سکو۔ اس نے کہا سنو! اللہ کی قسم‘ میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر رسول اللہ کے گھر کے قریب واقع ہو۔ مجھے اس کے یہ الفاظ برے لگے اور اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو (ان الفاظ کی) اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اسے طلب فرمایا اور اس نے بالکل وہی کہا جو اس نے ابی ابن کعب سے کہا تھا‘ مگر یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ہر قدم کی جزا چاہتا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حقیقت میں تمہارے لیے وہ جزا ہے جس کی تم نے نیت کی۔“ (مسلم جلد اول انگریزی ترجمہ از عبدالحمید صدیقی صفحات 324-323 حدیث نمبر 1404) مندرجہ بالا حدیث صاف طور پر ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر جو الفاظ کہے گئے‘ وہ توہین آمیز معلوم ہوتے ہیں‘ مگر یہ کہنے والے کی نیت نہ تھی‘ پس اسے سزا سے مبرا قرار دیا گیا۔

مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک آدمی نے اچانک قبر میں جھانکا اور بولا ایک مومن کی بری آرام گاہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے پلٹ کر فرمایا‘ کیا بری شے تم نے دیکھی ہے! اُس شخص نے بات کھول کر کہی‘ میرا یہ مطلب نہ تھا‘ بلکہ میرا مطلب تھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد بہتر ہے۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے تین مرتبہ کہا ”اللہ کی راہ میں مرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا خطۂ زمین ایسا نہیں‘ سوائے جہاد کے‘ جہاں میں اپنی قبر پسند کروں۔“ (مشکوٰۃ جلد سوئم‘ صفحات 663-662 انگریزی ترجمہ از فضل الکریم حدیث نمبر 575)

اللہ ﷺ کی شان میں بے ادبی ہیں‘ جرم نہیں‘ جب تک کہ یہ پرخاش یا تذلیل پر مبنی نہ ہوں۔

صفحہ 999

مثلاً رسول اللہ ﷺ کے روبرو بلند آواز سے بولنا منع ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ (2:49)

اس ضمن میں علامہ قرطبی آیت 2:49 کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔

سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی۔ تاہم یہ جرم نہیں، اگر بغرضِ جنگ یا دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔‘‘

ہوئی ثابت ابن قیس جس کی آواز قدرتی طور پر بلند تھی اپنے گھر گئے اور دروازہ بند کر کے رونا شروع کر دیا۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی مجالس میں لمبے عرصہ تک حاضری نہ دی تو رسول پاک ﷺ نے ان کے متعلق دریافت فرمایا۔ صحابہ نے آپ ﷺ کو بتایا کہ انہوں نے گھر کا دروازہ بند کر لیا ہے اور گھر کے اندر رو رہے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے انہیں بلوایا اور پوچھا تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا اے اللہ کے نبی جب سے یہ آیت نازل ہوئی، بلند آواز کا مالک ہونے کی وجہ سے مجھے خوف آیا کہ میں ان میں سے ایک نہ ہوں، جن کے نیک اعمال ضائع کر دیئے جائیں۔‘‘ رسول پاک ﷺ نے ان سے کہا ’’تم ان میں سے نہیں، تم برکتوں کے ساتھ زندہ رہو گے اور برکتوں کے ساتھ ہی وفات پائو گے۔‘‘ ...... کے مطابق اس کی بنیاد یہ تھی کہ اس کی بلند آوازی قدرتی چیز تھی، کیونکہ وہ بہرے تھے اور بہرے اکثر بلند آواز سے بولتے ہیں اور ان کی بلند آواز رسول پاک ﷺ کی تحقیر و تذلیل کی غرض سے نہ تھی، جیسا کہ منافقین کی جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

(روح المعانی، جلد 26 صفحات 124-125)

(1) جو اچھے اعمال کو غارت نہیں کرتا۔ (2) جو نیک اعمال کو ضائع کرنے کے برابر ہے۔ اول بغض اور توہین کرنے والے عمل پر مبنی نہیں جیسے کہ جنگوں میں چیخنا اور اونچی آواز سے بولنا، دشمنوں کے ساتھ جھگڑے کے دوران ضرب اور توہین کے لیے جیسے رسول ﷺ نے یوم غزوہ حنین پر حضرت عباسؓ کو لوگوں کو بلند آواز سے پکارنے کا حکم دیا اور انہوں نے لوگوں کو ایسی بلند

صفحہ 1000

آواز سے پکارا کہ اس سے حاملہ عورتوں کے حمل گر پڑے۔ دوسری قسم بغض اور توہین آمیز اعمال پر مبنی ہے جیسا کہ منافقین اور کفار کرتے تھے (مندرجہ بالا)

”اللہ کے نبی ﷺ کی وفات کے بعد میں حضرت عائشہؓ سے نکاح کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ کو سخت اذیت ہوئی۔ اس موقع پر وہ آیت نازل ہوئی جس نے ہمیشہ کے لیے جناب رسالت مآب ﷺ کی ازواج سے نکاح ممنوع قرار دیا اور رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اس دنیا میں میری ازواج آخرت میں بھی میری ازواج ہوں گی۔“ لیکن اس آیت کے نزول سے قبل عملاً یہ ہوا کہ رسول پاک ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی زوجہ کلبیہ کو طلاق دے دی اور انہوں نے عکرمہ ابن ابوجہل سے نکاح کر لیا اور بعض کے نزدیک انہوں نے ابن قیس کندی سے نکاح کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ان کے خیال میں آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ سے نکاح آپ ﷺ کی وفات کے بعد نکاح کا اظہار باعث اذیت رسول ﷺ نہ تھا، کیونکہ یہ ممنوع نہ ہوا تھا۔ (مندرجہ بالا صفحہ 230)

تراشی میں حصہ لیا تھا، سزا نہیں دی اور آپ ﷺ نے انہیں منافق بھی قرار نہیں دیا۔ ابن تیمیہؒ اس صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”ان کی نیت اللہ کے رسول کو ایذا دینے کی نہ تھی اور اس کی کوئی علامت بھی موجود نہ تھی، جبکہ ابن اُبی ایذا کی نیت رکھتا تھا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اللہ کے نبی ﷺ کی اس دنیا میں ازواج دوسری دنیا میں بھی آپ ﷺ کی ازواج ہوں گی اور یہ ان کی بیویوں کے لیے عرفِ عام میں ممکن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ان کے معاملہ میں تذبذب فرمایا اور علیؓ و زیدؓ (3) سے مشورہ کیا اور بریرہؓ سے دریافت کیا اور نتیجتاً ان لوگوں کو منافق قرار نہیں دیا جن کی نیت نبی ﷺ کے ایذا کی نہ تھی۔ ان کے ذہن میں اس امکان کی بناء پر کہ شاید رسول پاک ﷺ اپنی متہم بیوی کو طلاق دے دیں، لیکن اس حکم کے بعد کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کی ازواج آخرت میں بھی آپ ﷺ کی ازواج ہوں گی اور یہ کہ امہات مومنین ہیں، ان پر الزام لگانا ہر قیمت پر نبی ﷺ کی اذیت ہوگا (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ﷺ صفحہ 49)

صفحہ 1001

ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ایک شخص نے کہا، رسول پاک ﷺ غریب تھے اور خوش قسمت نہ تھے تو وہ صرف اس وقت کافر ہو جائے گا، جب اس سے اس کی نیت اہانت رسول ﷺ ہو۔“ (نورالعرفان حصہ دہم صفحہ 74)

الفاظ میں ہے تو شاتم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی، لیکن اگر الفاظ ایسے ہیں جو مختلف معنی اور مفہوم رکھتے ہیں یا اس امر کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں سے صرف ایک مفہوم توہین کا حامل ہے تو اس سے اس کی نیت دریافت کی جائے گی۔ (الشفاء، قاضی عیاض،

جلد دوم صفحہ 221)

جاتے ہیں۔ سیاق و سباق بھی مختلف معنی ظاہر کر سکتا ہے، لہٰذا ملزم کو وضاحت کا موقع دینا چاہیے، تاکہ کہیں کوئی معصوم شخص سزا نہ پا جائے۔ ایک روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”ایک مجرم کو بری کر دینے کی غلطی ایک معصوم شخص کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔“ (سنن البیہقی جلد ہشتم صفحہ 184) قرآن بھی ہر ملزم کو حق دیتا ہے کہ اسے سنا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گو اللہ قادرِ مطلق جانتا ہے کہ جو کچھ امین فرشتوں نے ایک شخص کے اعمال نامہ میں اس کے اس دنیا کے اعمال کے بارے میں لکھا ہے، صحیح و غیر مشکوک ہے پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص کو سنا جائے گا اور اگر اسے فرشتوں کے لکھے پر اعتراض ہے تو اللہ تعالیٰ شہادت طلب کرے گا اس کے اپنے ہاتھوں، پیروں، آنکھوں اور کانوں سے۔ ملاحظہ ہو القرآن، آیات 13:17، 14-65:36، 20:41، 22-21 اور 24:24 ان سنن سے جن کا حوالہ پیرا 41-36 میں دیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کا حق وضاحت و صفائی موجود ہے، جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس کے بعد ہی عدالت فیصلہ کر سکتی ہے کہ کہے گئے الفاظ تہمت کی غرض سے تھے یا وہ بدخواہی اور گستاخی سے استعمال ہوئے تھے یا غیر ارادی طور پر منہ سے نکل گئے تھے۔

”اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے، زبیرؓ اور مقدادؓ کو یہ کہہ بھیجا کہ ”جاؤ! یہاں تک کہ تم روضہ خاخ پہنچو۔ وہاں تمہیں ایک عورت ایک خط کے ساتھ ملے گی۔ اس سے خط حاصل کر لو۔“ چنانچہ ہم

صفحہ 1002

روانہ ہو گئے اور ہمارے گھوڑے پوری رفتار سے دوڑنے یہاں تک کہ ہم الروضہ پہنچے جہاں ہم نے ایک عورت کو پالیا اور اسے کہا ”خط نکالو“۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے دھمکی دی کہ خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے۔ اس پر اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا۔ ہم خط اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے آئے۔ اس میں حاطب ابن ابی بلتعہ کا ایک پیغام بعض کفار مکہ کے نام تھا جس میں انہیں اللہ کے رسول ﷺ کے بعض ارادوں کی اطلاع دی گئی تھی۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”حاطب! یہ کیا حرکت ہے؟ حاطب نے جواب دیا‘ اے اللہ کے رسول ﷺ میرے متعلق اپنا فیصلہ صادر کرنے میں عجلت نہ کیجئے۔ میں قریش سے قریبی تعلق رکھنے والا آدمی تھا‘ لیکن میں اس قبیلہ سے نہ تھا‘ جبکہ آپ کے ساتھ دوسرے مہاجرین کے رشتہ دار مکہ میں ہیں جو ان کے زیر کفالت افراد اور ان کی جائیداد کی حفاظت کریں گے‘ چنانچہ میں نے ان سے اپنے خونی رشتہ کی کمی کو ان کے ساتھ ایک مہربانی سے پورا کرنا چاہا‘ تاکہ وہ میرے کفیلوں کی حفاظت کریں۔ میں نے یہ نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے نہ ارتداد کی بناء پر اور نہ کفر کو اسلام پر ترجیح دینے کے لیے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے کہا‘ حاطب نے تمہیں حقیقت بتا دی ہے۔‘‘ (بخاری جلد چہارم‘ صفحات 154‘ 155 حدیث نمبر 201)

کے معاملات میں حاکم یا جج کو موقع محل اور شاتم کا عام رویہ معاملہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے۔‘‘ (احکام المرتد‘ نعمان عبدالرزاق سمرقتی‘ صفحہ 109)

ہیں ”کلمات کفر اور اس شخص کی نوعیت میں فرق ہے‘ جو ان الفاظ کا حوالہ دیتا ہے اور اس سے کافر ہو جاتا ہے۔‘‘ (تمہید ایمان صفحہ 59) وہ آگے چل کر فرماتے ہیں ”لفظ راعنا کا استعمال اب توہین نہیں‘ کیونکہ یہ آج کل توہین رسول کے سیاق و سباق میں نہیں کہا جاتا۔‘‘ (5) (ختم نبوت صفحہ 71)

دیا اور رسول کریم ﷺ کو پیش کیا جو بکرے کی دستی کا گوشت کھانا پسند فرماتے تھے‘ اس نے گوشت کے اس حصہ میں زیادہ زہر ملا دیا۔ رسول پاک ﷺ اور بشر بن براء نے جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے اس میں سے کھا لیا‘ لیکن جب رسول پاک ﷺ نے کھانا شروع کیا تو

صفحہ 1003

انہوں نے محسوس فرمایا کہ یہ زہر آلود ہے تو آپ ﷺ نے اسے تھوک دیا۔ پھر رسول پاک ﷺ نے اس یہودی کو بلایا اور اس سے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ اس نے اس گوشت میں زہر ملانے کا اقبال کیا۔ پھر رسول پاک ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے جواب دیا کہ اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ ایک نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ رسول پاک ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔

(اقضیاء الرسول از محمد ابن فرج اردو ترجمہ صفحات 190,189)

رکھا حالانکہ اس نے ان میں سے بعض پر دوسروں کی نسبت زیادہ نعمتیں نازل فرمائیں۔ یہاں ہم حوالہ کے لیے قرآن پاک سے مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں:

55:17=”ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیئے اور ہم ہی نے داؤد کو زبور دی تھی۔“

253:2=”یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے اور آخر میں عیسیٰؑ سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی، ہاں، اللہ چاہتا تو وہ ہرگز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“

136:2=”مسلمانو! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولادِ یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے ماننے والے ہیں۔“

84:3=”کہو کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں، اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولادِ یعقوبؑ پر نازل ہوئی تھیں اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان

صفحہ 1004

کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان مسلمان ہیں (6)۔‘‘ اور آیات 285:2‘ 150:4 اور 152:4۔

پیغمبروں کے ہم مرتبہ ہونے کے سبب سے وہی سزائے موت جو اوپر قرار دی گئی ہے‘ اس معاملہ میں بھی لاگو ہوگی‘ جہاں کوئی شخص ان میں سے کسی کے متعلق بھی کوئی توہین آمیز بات کہتا یا کسی طرح کی گستاخی کرتا ہے۔

295 سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے‘ احکاماتِ اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت میں دیئے گئے ہیں‘ لہٰذا یہ الفاظ اس میں سے حذف کر دیئے جائیں۔

پیغمبروں کے متعلق کہی جائیں وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم بن جائے جو اوپر تجویز کی گئی ہے۔

جائے‘ تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کیے جائیں اور اسے احکاماتِ اسلامی کے مطابق بنایا جائے۔ اگر 30 /اپریل 1991ء تک ایسا نہیں کیا جائے تو ’’یا عمر قید‘‘ کے الفاظ دفعہ 295 سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر موثر ہو جائیں گے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس 30 اکتوبر 1990 جسٹس عبدالکریم خاں کندی جسٹس عبادت یار خاں جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم جسٹس فدا محمد خاں

(PLD 1991 FSC 10)

صفحہ 1005

حواشی

کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں توہین مذہب کی سزا دو سال مقرر تھی اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا بھی یہی تھی، اس لیے مطالبہ کیا گیا تھا کہ توہین رسالت کی سزا سزائے موت بطور حد مقرر کی جائے۔

ہے کہ جب فاضل عدالت نے پہلی درخواست توہین رسالت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تو درخواست گزار نے 295 سی کا مسودہ قانون تیار کیا جسے مرحومہ آپا نثار فاطمہ ایم ۔ این ۔ اے نے اسمبلی میں پیش کیا، لیکن اس وقت کے وزیر قانون خان اقبال احمد خان اور مذہبی جماعتوں کے اراکین اسمبلی بھی اس بل کے حق میں نہیں تھے جو بصد مشکل عمر قید پر راضی ہوئے، لیکن بعد میں عوام کے دباؤ پر عمر قید کے ساتھ سزائے موت کا اضافہ کر دیا اور عدالت کو اختیار دے دیا کہ وہ ان دونوں سزاؤں میں جو سزا بھی مناسب سمجھے توہین رسالت کے مجرم کو دے سکتی ہے، جس پر دوبارہ مقدمہ مذکور الصدر وفاقی شرعی عدالت میں دائر کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر مملکت اور حکومت پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ وہ توہین رسالت کی سزا بطور حد صرف سزائے موت مقرر کریں۔

استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ اس وقت بھی اس کے مخاطب اہل ایمان ہی تھے جو اس لفظ کے سوائے ”توجہ فرمائیے“ کے کوئی اور معنی سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔ حق سبحانہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے لفظ ”راعنا“ کا استعمال تا قیامت ممنوع قرار دیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے ذہنوں میں اس لفظ کا گستاخانہ مفہوم آ ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے باوجود انہیں بھی اس لفظ کے استعمال سے منع فرما دیا گیا۔ بایں وجہ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی رائے سے بصد ادب اختلاف ہے۔

صفحہ 1006

السلام کی ایک دوسرے پر فضیلت کا تعلق ہے، اس سے قرآن نے انکار نہیں کیا بلکہ تصدیق کی ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ حضور ختمی مرتبت سردار الانبیاء ہیں۔

۞......۞......۞

صفحہ 1007

قانون توہین رسالت ﷺ پر وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

الیاس مسیح مونم ایڈووکیٹ بنام حکومت پاکستان دسمبر 2013ء

صفحہ 1008
صفحہ 1009

فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان

(فیصلہ قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

(ابتدائی معلومات)

شریعت کیس نمبر : 08/01/2007 متفرق درخواست نمبر : 09/01/2010

الیاس مسیح مونم ایڈووکیٹ اور دیگر...................... پٹشنر

بنام

حکومت پاکستان اور دیگر مدعا علیہان

وکیل اپیل کنندہ : حشمت علی حبیب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

تاریخ فیصلہ : 4 دسمبر 2013ء

صفحہ 1010

فیصلہ

جناب جسٹس شیخ احمد فاروق

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ (3)E-203 اور دفعہ 204 مع توہین عدالت ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت گزاری گئی متفرق درخواست ہذا کے ذریعے، مدعی نے سیکرٹری وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق، حکومت پاکستان، اسلام آباد سمیت مدعا الیہان کے خلاف دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے مورخہ 1990-10-30 پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرنے کی درخواست کی ہے۔ مدعی نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ چیئرمین پیمرا (PEMRA) کو ہدایت کی جائے کہ یہ امر یقینی بنایا جائے کہ مورخہ 1990-10-30 کے اس فیصلے کے خلاف (الیکٹرانک میڈیا پر) ٹاک شوز میں کسی بھی قسم کے توہین آمیز کلمات نہ کہے جائیں، جو حتمی ہے۔

مندرجہ بالا درخواست کے جواب میں فیڈریشن کی طرف سے مورخہ 04-10-2013 کو وفاقی سیکرٹری قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے ذریعے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں بیان کیا گیا ہے کہ:

”یہ کہ اگست 1991ء میں سینٹ میں ایک مسودہ قانون پیش کیا گیا جس میں تعزیرات پاکستان 1860ء کی دفعہ C-295 میں درج عمر قید کی سزا حذف کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ سینٹ نے یہ قانون منظور کر لیا اور اسے قومی اسمبلی کو بھیج دیا گیا لیکن قومی اسمبلی نے آئین کی دفعہ 70 کی شق (2) کے تحت اس قانون کو 90 دنوں کے اندر منظور نہیں

صفحہ 1011

کیا ۔ تاہم، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ D-203 کی شق (3) کے پیرا (b) کے تحت، فیصلہ کا نفاذ ، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان میں سے عمر قید کی سزا حذف کرنے کی حد تک ہونا تھا کیونکہ اس سزا پر عمل درآمد اس تاریخ سے روک دیا جانا تھا جب عدالت کا فیصلہ نافذ ہوا تھا، یعنی 30 اپریل 1991ء۔

یہ کہ جہاں تک مذکورہ بالا فیصلہ کے پیرا 68 کا تعلق ہے، جو دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان میں ترمیم کے حوالے سے ایک جرم کے طور پر دیگر پیغمبروں کی بے حرمتی کی حد تک ہے، اس وقت کی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صرف عمر قید کی سزا حذف کرنے کی حد تک ترمیم کی جاسکتی ہے اور یوں اسے پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس امر کی نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ موجودہ دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان میں ،حضور نبی کریم حضرت محمدﷺ کے اسم گرامی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا اور اسی طرح دیگر انبیاء کے اسماء کا بھی خاص طور پر اس دفعہ میں ذکر ہونا چاہیے تھا جس پر ممکن ہے کہ مختلف مکاتب فکر متفق نہ ہوں، اس لیے مزید پیچیدگیوں سے بچنے کی خاطر اسے نافذ نہیں کیا جاسکا۔‘‘

مدعی کے فاضل وکیل نے کہا کہ 20 برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مدعاعلیہان نے دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان میں سے عمر قید کے الفاظ حذف نہیں کیے۔ اس نے مزید کہا کہ مدعاعلیہان نے ابھی تک دفعہ C-295 میں ترمیم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے تاکہ اس شخص کے لیے سزائے موت مقرر کی جائے جو دیگر انبیاء کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے۔ مدعی نے مزید یہ موقف اختیار کیا کہ قانونی کتابوں کے پبلشرز، عدالت کی طرف سے مورخہ 1990-10-30 کو کیے گئے فیصلے کے مطابق عمر قید کے الفاظ کو حذف کیے بغیر ابھی تک دفعہ C-295 کی پرانی تشریح ہی شائع کر رہے ہیں۔ تاہم، فاضل وکیل نے اپنے دلائل کے اختتام پر، وقتی طور پر توہین عدالت کی اس درخواست پر زور نہ دینے کا فیصلہ کیا بشرطیکہ وزرات قانون ، انصاف اور انسانی حقوق کی طرف سے عدالت کے فیصلہ مورخہ 1990-10-30 پر عمل درآمد کے لیے مناسب کارروائی کی جائے۔

ہم نے درخواست گزار/ مدعی کے فاضل وکیل کی طرف سے پیش کیے گئے دلائل سماعت کیے اور ریکارڈ ملاحظہ کیا۔

ریکارڈ کے جائزے اور ملاحظہ کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ ججوں پرمشتمل

صفحہ 1012

عدالت کے ایک لارجر بنچ نے دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا جائزہ لیا اور مندرجہ ذیل فیصلہ کیا:

”یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاءؑ میں کوئی امتیاز یا حیثیت کا فرق نہیں رکھا حالانکہ اس نے ان میں سے بعض پر دوسروں کی نسبت زیادہ نعمتیں نازل فرمائیں۔ یہاں ہم حوالہ کے لیے قرآن پاک سے مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں:

55:17= ”ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیئے اور ہم ہی نے داؤد کو زبور دی تھی۔“

253:2= ”یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا‘ کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے اور آخر میں عیسیٰؑ سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے‘ وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے‘ اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا‘ پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی‘ ہاں‘ اللہ چاہتا تو وہ ہرگز نہ لڑتے‘ مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“

136:2= ”مسلمانو! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے ماننے والے ہیں۔“

84:3= ”کہو کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں‘ اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے‘ ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیمؑ‘ اسماعیلؑ‘ اسحاقؑ‘ یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ پر نازل ہوئی تھیں اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان مسلمان ہیں۔“

اور آیات 285:2‘ 150:4 اور 152:4۔

عملاً تمام فقہاء اور علماء نے اتفاق کیا کہ مندرجہ بالا آیات کے پیش نظر اور تمام

صفحہ 1013

پیغمبروں کے ہم مرتبہ ہونے کے سبب سے وہی سزائے موت جو اوپر قرار دی گئی ہے‘ اس معاملہ میں بھی لاگو ہوگی‘ جہاں کوئی شخص ان میں سے کسی کے متعلق بھی کوئی توہین آمیز بات کہتا یا کسی طرح کی گستاخی کرتا ہے۔

مندرجہ بالا بحث کے پیش نظر ہماری رائے ہے کہ عمر قید کی متبادل سزا‘ جیسا کہ دفعہ 295 سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے‘ احکاماتِ اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت میں دیئے گئے ہیں‘ لہٰذا یہ الفاظ اس میں سے حذف کر دیئے جائیں۔

ایک شق کا مزید اضافہ اس دفعہ میں کیا جائے‘ تاکہ وہی اعمال اور چیزیں جب دوسرے پیغمبروں کے متعلق کہی جائیں وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم بن جائے جو اوپر تجویز کی گئی ہے۔

اس حکم کی ایک نقل صدر پاکستان کو دستور کے آرٹیکل 203 (3) کے تحت ارسال کی جائے‘ تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کیے جائیں اور اسے احکاماتِ اسلامی کے مطابق بنایا جائے۔ اگر 30 / اپریل 1991ء تک ایسا نہیں کیا جائے تو ”یا عمر قید“ کے الفاظ دفعہ 295 سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر موثر ہو جائیں گے۔“

متذکرہ فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے روبرو ایک درخواست دائر کی گئی۔ تاہم مورخہ 1991-05-19 کو درخواست ہٰذا واپس لے لی گئی اور شریعت اپیلیٹ بینچ نے مندرجہ ذیل فیصلہ صادر کیا:

”فاضل ایڈووکیٹ آن ریکارڈ، درخواست ہٰذا واپس لینا چاہتا ہے۔ اسے ہر قسم کے استثنیٰ کے مطابق ایسا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

اس قانونی مسئلہ کے متعلق کوئی اعتراض اور حجت نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203-D کی شق 3(b) کے مطابق ، کوئی قانون یا شق جس کی حد تک یہ سمجھا جائے کہ یہ اسلام کے حکم کے متصادم ہے، یہ قانون یا شق ، اسی دن سے غیر موثر ہو جائے گی جس دن سے عدالت کا فیصلہ موثر ہوتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ بمطابق مورخہ 1990-10-30، زیر دفعہ جرم 295-C تعزیرات پاکستان، کو قرآن پاک اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے حکم کے متصادم قرار دیا اور حکم دیا کہ اسے 30 اپریل 1991ء تک حذف کر دیا جائے۔ جو اپیل، فیڈرل شریعت کورٹ کے مندرجہ بالا فیصلہ

صفحہ 1014

کے خلاف دائر کی گئی، اسے بھی مورخہ 1991-05-19 کو سپریم کورٹ کی فیڈرل شریعت کورٹ نے مسترد کر دیا۔ مندرجہ بالا قانونی حیثیت کو فیڈریشن نے سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے ذریعے مورخہ 2013-10-04 کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے ذریعے واضح طور پر تسلیم کر لیا جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ، اس حد تک قابل نفاذ ہے کہ زیر دفعہ C-295، عمر قید کی سزا اس تاریخ سے حذف کی جائے جس دن 1991-04-30 سے فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ موثر ہوا ہے۔ تاہم، فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ، حتمی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے، سزا، یعنی، عمر قید جس کا تعلق زیر دفعہ C-295 جرم کے ارتکاب سے ہے، وہ 1991-04-30 سے غیر موثر ہو چکی ہے۔ نتیجے کے طور پر، سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف و انسانی حقوق، حکومت پاکستان، اسلام آباد کو عدالت کے فیصلے مورخہ 1990-10-30 پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کے لیے مناسب اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسے یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ سزا، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کو تعزیرات پاکستان کے علاوہ قانون کی متعلقہ کتب میں سے بھی حذف کیا جائے اور رجسٹرار ہائی کورٹس کو ہدایت کی جائے کہ اسے پاکستان کے تمام جوڈیشل افسروں کو بھجوا دیا جائے۔ اس ضمن میں ایک رپورٹ، سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق، حکومت پاکستان، اسلام کی طرف سے دو ماہ کے اندر پیش کی جائے گی۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ متفرق درخواست نمٹادی گئی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جناب جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان 4 دسمبر 2013ء جناب جسٹس رضوان علی دودانی جناب جسٹس ، محمد جہانگیر ارشد جناب جسٹس شیخ احمد فاروق جناب جسٹس شہزادہ شیخ

(PLD 2014 FSC 18)

۞.......۞.......۞

صفحہ 1015

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

عبدالرحمان بنام سرکار، جنوری 2001ء

صفحہ 1016
صفحہ 1017

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

عبدالرحمٰن بنام سرکار

ابتدائی معلومات

عنوان مقدمہ : عبدالرحمٰن بنام سرکار فوجداری اپیل نمبر : 121-J سال 1999ء تاریخ سماعت : 16 جنوری 2001ء تاریخ فیصلہ : 16 جنوری 2001ء

وکیل اپیل کنندہ : عبدالرؤف فاروقی ایڈووکیٹ (سرکاری خرچ پر)۔ وکیل برائے سرکار ممتاز احمد نیازی ایڈووکیٹ۔

صفحہ 1018

فیصلہ

جناب جسٹس خواجہ محمد شریف

جو اپیل کنندہ عبدالرحمٰن کی طرف سے جیل سے دائر کی گئی جسے فاضل ایڈیشنل سیشن جج، سرگودھا کی طرف سے ان کے فیصلے بمطابق مورخہ 1999-09-23 زیردفعہ 295-B تعزیرات پاکستان، عمر قید کی سزا، زیردفعہ 295-C تعزیرات پاکستان عمر قید کی سزا دی گئی، نیز دس ہزار روپے (Rs.10,000/-) جرمانہ بھی عائد کیا گیا جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے ایک ماہ قید بامشقت بھگتنی تھی، نیز اسے زیردفعہ 298-A تعزیرات پاکستان، تین برس قید بھگتنی تھی۔ دفعہ 382-B، مجموعہ ضابطہ فوجداری کا فائدہ دیتے ہوئے یہ تمام سزائیں بیک وقت شروع ہونی تھیں۔

لیکن وہ مورخہ 2000-02-08 کو حاضر نہیں ہوئی، پھر سماعت کی تاریخ 2000-02-16 مقرر ہوئی لیکن اس تاریخ پر بھی وہ حاضر نہ تھی۔ مورخہ 2000-02-28 کو وہ حاضر ہوئی اور ریکارڈ ملاحظہ کرنے کے لیے وقت طلب کیا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔ آج، پھر وہ غیر حاضر ہے، اس کا نام عدالت کے روبرو حاضر ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل ہے، اس لیے آج، میں عبدالرؤف فاروقی، ایڈووکیٹ کو سرکار کے خرچ پر اپیل کنندہ کا دفاع کرنے کے لیے مقرر کرتا ہوں جبکہ سرکار کی نمائندگی جناب ممتاز احمد نیازی، ایڈووکیٹ کے ذمہ ہے۔

صفحہ 1019

بمطابق فیصلہ مورخہ 1999-09-23 کو سزا سنائی گئی جس کے خلاف اپیل کنندہ نے جیل سے اپیل کی۔ مقدمہ ہذا میں گواہ استغاثہ نمبر 7 محمد بدر عالم مدعی ہے۔ اس نے اپنی درخواست مورخہ 1999-06-23 میں بیان کیا کہ متذکرہ تاریخ کو وہ اپنے دفتر موجود تھا کہ فضل عباس، عمر حیات، رحمت خان، صاحب خان اور خوشی محمد کے علاوہ 25، 30 افراد وہاں پہنچے اور اپیل کنندہ عبدالرحمٰن کے خلاف یہ کہتے ہوئے شکایت کی کہ اس نے مورخہ 20-06-1996 کو قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کی اور نہ صرف یہ فعل کیا بلکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)، خلفائے راشدینؓ اور اہل بیتؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بھی استعمال کیے اور یہ بھی کہا کہ اقبال شاہ اس کا مرشد ہے اور اس نے اسے مختلف قسم کے علوم سکھائے ہیں اور وہ یہ سب کچھ اس کی ایما پر کر رہا ہے۔ تفتیش کی گئی، چالان پیش کیا گیا اور اپیل کنندہ پر فاضل سیشن جج، سرگودھا کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور بعدازاں، مقدمہ کے اختتام پر اسے جرم کا مرتکب پایا گیا اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، اسے سزا دی گئی۔

فوجداری کے تحت اپیل کنندہ کے قلمبند کیے گئے بیانات، گواہیاں پڑھیں اور استدعا کی کہ اپیل کنندہ کو مقدمہ ہذا میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے، مزید یہ کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تین دن کی تاخیر ہوئی، یہ بھی کہ گواہان استغاثہ کی اپیل کنندہ کے ساتھ دشمنی تھی، یہ کہ اپیل کنندہ نے دورانِ مقدمہ اور گواہان استغاثہ کے بیانات میں مندرج اپنے خلاف عائد کردہ تمام الزامات سے انکار کیا اور ان کے بیانات پولیس کی موجودگی میں قلمبند کیے گئے، یہ کہ درحقیقت، اس گھر کے متعلق تنازعہ تھا جس میں اپیل کنندہ اپنے بچوں کے ساتھ بطور مزارع رہتا تھا اور اس کا مالک میاں محمد، گواہ استغاثہ بھی اس کے ساتھ ہی رہتا تھا، یہ کہ اس طرح کا کوئی مقدمہ اپیل کنندہ کے خلاف نہیں۔ وہ آخر میں یہ استدعا کرتا ہے کہ معزز عدالت کی طرف سے اپیل کنندہ کو دی گئی سزا منسوخ کی جائے۔

کرتا ہے کہ استغاثہ نے بغیر کسی شک و شبہ کے اپیل کنندہ کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کر دیا ہے۔

استغاثہ نے 9 گواہوں پر جرح کی۔ حافظ اللہ دتہ، بطور گواہ استغاثہ نمبر 1 پیش ہوا اور اس نے

صفحہ 1020

استغاثہ کے مقدمہ کی مکمل طور پر تصدیق کی۔ اس کی اپیل کنندہ کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، اس لیے اپیل کنندہ کو اس مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر صاحب خاں، بطور گواہ استغاثہ نمبر 2 پیش ہوا جس نے استغاثہ کے موقف کی حمایت نہیں کی اور اسے منحرف قرار دے دیا گیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 عمر حیات ہے اور اس نے اپنی آنکھوں سے قرآن پاک کی بے حرمتی ہوتے نہیں دیکھی لیکن اس نے بذات خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدینؓ اور اہل بیتؓ کے خلاف اپیل کنندہ کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کہتے ہوئے سنے۔ اس نے مزید کہا کہ اپیل کنندہ نے متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان بہت دفعہ استعمال کی ہے، پولیس نے اس کی موجودگی میں قرآن پاک کے پھٹے ہوئے ٹکڑے اپنی تحویل میں لیے اور متذکرہ میمو کی تصدیق کی۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، جنداں بی بی زوجہ عامر خان ہے۔ اس نے بھی استغاثہ کے موقف کی تائید کی ہے۔ اس نے بیان حلفی کے ذریعے بتایا کہ اسے زرینہ بی بی زوجہ عبدالرحمٰن اپیل کنندہ نے بتایا کہ عبدالرحمٰن قرآن پاک کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ اس کے بیان کے مطابق، ملزم اپیل کنندہ، نے نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی۔ پھر گواہ استغاثہ نمبر 5 میاں محمد نے بھی یہ کہا کہ اپیل کنندہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان استعمال کی، اس پر اس نے عبدالرحمٰن سے اپنا گھر خالی کرنے کو کہا کیونکہ عبدالرحمٰن اس کا مزارع تھا، بعدازاں، گواہ استغاثہ نمبر 6، رحمت خان ہے اور اس نے بھی متذکرہ بالا گواہان کے بیانات کی توثیق کی کہ اپیل کنندہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اہل بیتؓ کے خلاف بھی گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے، پھر گواہ استغاثہ نمبر 7، محمد بدر عالم جو مقدمہ ہذا کا مدعی ہے، اس نے ایف آئی آر میں مندرج موقف کی تائید کی ہے، گواہ استغاثہ نمبر 8، اعجاز الحق ، MHC No.1180 ہے۔ اس نے درخواست (Exh.PB/1) کی بنیاد پر باقاعدہ ایف آئی آر (Exh.PB) قلمبند کی ہے۔ مقدمہ ہذا کا آخری گواہ ذوالفقار علی ، ایس آئی / تفتیشی افسر، گواہ استغاثہ نمبر 9 ہے۔ اس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اس کا معائنہ کیا اور نقشہ (Exh.PC) تیار کیا۔ اس نے عبدالرحمٰن کے گھر سے فرش پر پڑے ہوئے قرآن پاک کے پھٹے ہوئے ٹکڑے (P.1) بھی بمطابق ریکوری میمو (Exh.PA) اپنی تحویل میں لے لیے۔ اس نے گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے اور اپیل کنندہ کو

صفحہ 1021

25-06-1996 کو گرفتار کر لیا۔

ریکارڈ پر موجود دیگر متعلقہ مواد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد میری یہ پختہ رائے ہے کہ استغاثہ نے اپیل کنندہ کے خلاف اپنا مقدمہ بغیر کسی شک و شبہ کے، ثابت کر دیا ہے۔ تمام گواہان استغاثہ کا باہمی کوئی تعلق نہیں، ان کی اپیل کنندہ کے خلاف کوئی دشمنی بھی نہیں اور انہوں نے اپیل کنندہ کے خلاف متعصبانہ رویہ بھی نہیں اپنایا اور ان کے پاس اپیل کنندہ کے خلاف بیان حلفی کے ذریعے گواہی دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس لیے اپیل کنندہ کو معزز عدالت کی طرف سے جرم کا مرتکب ہونے اور اسے دی گئی سزا کو برقرار رکھا جاتا ہے اور اپیل کنندہ کی طرف سے دائر کردہ اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس خواجہ محمد شریف 16 جنوری 2001ء لاہور ہائی کورٹ، لاہور

(2001 MLD 1203)

۞......۞......۞

صفحہ 1022
صفحہ 1023

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

بشیر احمد بنام سرکار، ستمبر 2004ء

صفحہ 1024
صفحہ 1025

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

بشیر احمد بنام سرکار

ابتدائی معلومات

عنوان مقدمہ : بشیر احمد بنام سرکار مقدمہ قتل نمبر : 45/2003 فوجداری اپیل نمبر : 247/2003 تاریخ سماعت : 14 ستمبر 2004ء تاریخ فیصلہ : 14 ستمبر 2004ء

وکیل اپیل کنندہ : چودھری محمد رفیق ناصر ایڈووکیٹ۔ وکیل برائے مدعی : طلعت محمود ککے زئی ایڈووکیٹ۔ وکیل برائے سرکار : شاہین مسعود رضوی ایڈووکیٹ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل۔

صفحہ 1026

فیصلہ

جناب جسٹس اعجاز احمد چودھری

اپیل کنندہ کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کے لیے بھیجا گیا، نیز اس کی طرف سے دائر کی گئی فوجداری اپیل نمبر 247 سال 2003ء کا بھی فیصلہ کیا جائے گا جو معزز ایڈیشنل سیشن جج، بہاولنگر کے فیصلے مورخہ 06-08-2003 کے خلاف دائر کی گئی جس کے مطابق اپیل کنندہ کو زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت سزائے موت دی گئی، نیز ایک لاکھ روپے (Rs.100,000/-) جرمانہ بھی عائد کیا گیا جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنی ہے۔ تاہم، اپیل کنندہ کو زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، ارتکاب جرم سے بری کر دیا گیا تھا۔

(Exh.PB) موصول ہونے پر محمد عبدالرشید انسپکٹر/ایس ایچ او، پولیس سٹیشن، سٹی بہاولنگر (گواہ استغاثہ نمبر 2) نے زیر دفعہ 295-A تعزیرات پاکستان، مورخہ 30-10-2001 کو بوقت 2.15 بجے دوپہر، اپیل کنندہ کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر نمبر 577 (PB/1) درج کی۔

استغاثہ کی کہانی یہ ہے کہ 30-10-2001 سے ایک ہفتہ قبل، وہ سٹیشن سووائے والا پر موجود

صفحہ 1027

تھا جب کسی نے اسے بتایا کہ بستی جورانہ کا رہائشی بشیراحمد، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اسلام کے بنیادی عقائد اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ کے خلاف گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ بول رہا ہے، نیز اس نے بشیراحمد، اپیل کنندہ کو مندرجہ ذیل الفاظ بولتے ہوئے سنا:

......کی؛

نہیں ہوتے؛

گواہِ استغاثہ نمبر 3 کے مطابق، مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے اس (اپیل کنندہ) کی گمراہ کن تعلیمات، گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بھی کیسٹوں میں ریکارڈ کر لیے جن کی تصدیق کی جا سکتی ہے، نیز گواہان ماسٹر غلام حسین، محمد ارشاد، راؤ لیاقت علی، حاجی محمد یعقوب اور محمد امین سے ان الزامات کی تصدیق کی جا سکتی ہے جنہوں نے متذکرہ گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ، اپیل کنندہ بشیر احمد کی زبان سے خود سنے۔ سب سے پہلے انہوں نے تحصیل کونسل بہاولنگر سے ایک قرارداد منظور کرائی اور پھر مقدمہ کے اندراج کے لیے ایک درخواست دائر کی جس پر متذکرہ بالا ایف آئی آر (Exh.PB/1) تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-A اور 295-C کے تحت قلمبند کر لی گئی۔

صفحہ 1028

انسپکٹر/ایس ایچ او، گواہ استغاثہ نمبر 2 نے اپنی تحویل میں لے لی جسے مولانا سعید احمد نے، ماسٹر غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 4) اور حاجی محمد یعقوب (جسے پیش نہیں کیا گیا) کی موجودگی میں بمطابق میمو (Ex.P.C) پیش کی۔ اسی طرح مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے گواہ استغاثہ نمبر 2 کے روبرو چار عدد کیسٹیں پیش کیں جنہیں تفتیشی افسر نے اسی دن بمطابق ریکوری میمو (Exh.PE)، اپنی تحویل میں لے لیا۔ اپیل کنندہ بشیر احمد کو مورخہ 2001-10-30 کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے چار کتابوں کی برآمدگی کرائی جنہیں گواہ استغاثہ نمبر 2 نے بمطابق ریکوری میمو، اپنی تحویل میں لے لیا۔

رپورٹ مقدمہ کی سماعت کرنے والی فاضل عدالت کے روبرو پیش کر دی گئی۔ زیر دفعہ 265-C، مجموعہ ضابطہ فوجداری، مطلوب دستاویزات، حاجی بشیر احمد کو فراہم کی گئیں، اس کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی جس کا اس نے انکار کیا اور مقدمہ کی سماعت کی استدعا کی۔

رانا نذیر احمد، ہیڈ کانسٹیبل (گواہ استغاثہ نمبر 1)، باقاعدہ گواہ ہے کیونکہ اس نے اپیل کنندہ بشیر احمد سے اس کی موجودگی میں چار کتابیں برآمد کیں۔ (گواہ استغاثہ نمبر 2)، محمد عبدالرشید، انسپکٹر/ایس ایچ او، نے رسمی ایف آئی آر درج کی اور اس مقدمہ کی تفتیش بھی کی۔ (گواہ استغاثہ نمبر 3) مولانا محمد قاسم شجاع آبادی، مدعی ہے جبکہ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 4)، محمد ارشاد (گواہ استغاثہ نمبر 5) اور محمد امین (گواہ استغاثہ نمبر 6) نے استغاثہ کی کہانی کی تصدیق کی۔

فوجداری قلمبند کیے گئے اپنے بیان میں استغاثہ کی طرف سے خود پر عائد کئے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ مقدمہ ہذا، گواہان استغاثہ کے گٹھ جوڑ کے ذریعے دائر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اپنی صفائی اور دفاع میں، وہ زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، بطور صفائی نمبر 4 پیش ہوا اور ساتھ ہی ساتھ تین گواہ، چودھری نیاز احمد، محمد اکرم، محمد اسلم بطور گواہ صفائی نمبر 1 تا گواہ صفائی نمبر 3، اپنی صفائی میں پیش کیے۔

صفحہ 1029

کا اعلان کیا جسے اس اپیل کے ذریعے چیلنج کیا جا رہا ہے۔

ثابت کرنے میں ناکام رہا؛ مزید یہ کہ ایف آئی آر درج کرنے میں سات دن کی تاخیر ہوئی جس کی وضاحت نہیں کی گئی جس کے باعث اس ضمن میں توجہ دلانا نہایت ہی مناسب ہے کہ گواہان استغاثہ جھوٹ بول رہے تھے؛ مزید یہ کہ گواہان استغاثہ قابل بھروسا نہیں کیونکہ گواہان استغاثہ اور گواہ استغاثہ نمبر 3 کے بیانات میں واضح تضادات موجود تھے۔ مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے بذات خود گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہیں سنے جبکہ گواہ استغاثہ نمبر 4 غلام حسین اور گواہ استغاثہ نمبر 5، ارشاد، بھی چشم دید گواہ نہیں؛ مزید یہ کہ استغاثہ نے چار گواہان پیش کیے اور انہیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے دفاع کی طرف سے گواہ پیش کیے گئے جنہوں نے کہیں زیادہ واضح اور قابل اعتماد موقف پیش کیا جس پر بھروسا کیا جا سکتا ہے کیونکہ گواہ صفائی نمبر 1 چودھری نذیر احمد، جو اپیل کنندہ کا رشتہ دار ہے، نے اپیل کنندہ کے خلاف عائد الزامات کی واضح طور پر تردید کی جبکہ گواہ صفائی نمبر 2، محمد اکرم، ایک آزاد و خود مختار گواہ ہے اور گواہ صفائی نمبر 3، محمد اسلم، ہیڈ ماسٹر ہے اور اسلامیات میں ایم۔ اے ہے جبکہ اپیل کنندہ بشیر احمد، بذات خود، گواہ صفائی نمبر 4 کی حیثیت سے پیش ہوا اور اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی۔ مزید کہا گیا کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 مولانا محمد قاسم شجاع آبادی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، بہاولنگر کا صدر ہے جس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس نے اس سے پہلے بھی اسی جرم کے تحت ایک اور شخص کے خلاف بھی فوجداری مقدمہ دائر کیا تھا اور اس طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کی ایف آئی آر درج کرانے کا عادی ہے اور یوں وہ قابل اعتماد گواہ نہیں؛ مزید یہ کہ گواہان استغاثہ، اسی علاقے کے رہائشی نہیں اور ایسا کوئی وقوعہ نہیں ہوا کہ اپیل کنندہ نے ان کے سامنے اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولے؛ مزید یہ کہ گواہ استغاثہ نمبر 4 غلام حسین اور گواہ استغاثہ نمبر 5، ارشاد، بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے منسلک ہیں اور اپیل کنندہ کا جرم ثابت کرنے کی خاطر استغاثہ نے کوئی بھی آزاد اور خود مختار گواہ پیش نہیں کیا؛ مزید یہ کہ گواہ استغاثہ نمبر 6، محمد امین، قابل اعتبار نہیں کیونکہ اس نے 1993ء میں مبینہ طور پر الفاظ سنے لیکن اس وقت اس نے یہ معاملہ پولیس کے روبرو پیش نہیں کیا؛ مزید یہ کہ پہلے اپیل

صفحہ 1030

کنندہ کے خلاف تحصیل کونسل، بہاولنگر سے قرارداد منظور کرائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اپیل کنندہ کو سزا دلوانا چاہتے تھے لیکن کسی نے پولیس کے روبرو یا عدالت میں اپیل کنندہ کے خلاف بیان نہیں دیا، نیز پولیس نے عوام کے دباؤ پر جانبدارانہ تفتیش کی اور یہ کہ اپیل کنندہ بری ہونے کا حق بجانب ہے کیونکہ کسی مناسب شک و شبہ کے بغیر استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا جبکہ اپیل کنندہ، تمام پیغمبروں کا احترام کرتا ہے اور وہ ان کی توہین کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ صفائی کے فاضل وکیل کے مطابق اپیل کنندہ ایف آئی آر کے اندراج کے پہلے ہی دن سے اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کی تردید کرتا رہا ہے اور اسے گواہانِ استغاثہ کے متضاد بیانات کی بنیاد پر جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا جو قابل اعتبار نہیں۔ اس ضمن میں PLD 2002 SC 1048، PLD 2002 Lahore 587 اور 2002 YLR 1273 پر انحصار کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عفو و درگزر اور رحم کا نمونہ تھے۔ آخر میں یہ موقف اپنایا گیا کہ اپیل کنندہ بشیر احمد کی عمر 85 برس ہے جو جیل میں ذہنی طور پر پریشان ہے اور اسے اس جرم سے بری کیا جائے۔

کہ گواہانِ استغاثہ کی اپیل کنندہ کے خلاف کوئی دشمنی یا مخاصمت نہیں کہ اسے اس مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کیا جائے اور مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس کو اس معاملے سے آگاہ کرنے میں بے حد احتیاط کی گئی۔ فاضل وکیل کے مطابق گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ جو اپیل کنندہ نے بولے، مختلف مواقع پر ٹیپ کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے اور یہ ثابت کرنے کے لیے پانچ کیسٹیں پیش کی گئیں کہ اپیل کنندہ اس طرز عمل کا عادی تھا۔ فاضل وکیل نے مزید دلیل پیش کی کہ اسلام میں اس جرم کی سزا محض موت ہے اور اپیل کنندہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سے ایک واقعہ کا حوالہ دیا کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ الفاظ استعمال کرتی تھی، چنانچہ آپﷺ نے اپنے صحابہؓ سے کہا کہ کون اس عورت کو جہنم واصل کر سکتا ہے، اس پر ایک نابینا صحابیؓ رات کو سیدھے اس (گستاخ عورت) کے پاس گئے اور اس وجہ سے اسے قتل کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہو گیا ہے۔ مزید یہ موقف

صفحہ 1032

وكان المشركون قد أسروه وامرأته بالمدينة، فلما رجع قال لامرأته: خلي سبيلي، فقالت: ولم؟ قال: إنى عاهدت المشركين ألا أقيم بالمدينة، قالت: فأنزل الله فيك:

﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ﴾

سورۃ المائدہ کی آیت ۲

شان نزول:

امانتیں تھیں، وہ نبی ﷺ سے ملا۔ آپ نے اس پر اسلام پیش کیا، اس نے اسلام قبول کرلیا، پھر آپ سے بیعت کر کے جب جانے لگا تو نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا تم اسے کفر کے چہرے کے ساتھ آتا، اور دھوکہ کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جاتا دیکھو گے، پھر جب اس نے یمامہ پہنچ کر مرتد ہو کر لوگوں کے مال غصب کر لئے، تو ماہِ ذی قعدہ میں مکہ کی جانب نکلا، لوگوں نے حضور ﷺ کو خبر دی۔ تو نبی ﷺ کے صحابہؓ اس کے تعاقب میں نکلے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

﴿وَلَآ أٓمِّينَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَٰنٗاۚ﴾

(المائدہ: ۲)

”اور نہ ان لوگوں کو جو عزت والے گھر کے قصد سے آئے ہوں اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا مندی چاہتے ہوں۔“

تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے اس کو چھوڑ دیا۔

کہا جاتا تھا۔ اس نے اپنی سواریوں کو مدینہ کی گلیوں میں چھوڑا، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس نے کہا یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ میں اپنی قوم میں جاتا ہوں، اگر وہ سب مسلمان ہوگئے تو میں بھی مسلمان ہو جاؤں گا، ورنہ نہیں، پھر وہ مدینہ سے نکلا اور تمام سواریوں اور بکریوں کو لے کر بھاگ گیا۔ وہ

صفحہ 1032

نے بغیر لگی لپٹی بتا دیا کہ وہ اس شخص کا نام نہیں بتا سکتا جس نے پہلے اسے اپیل کنندہ کی طرف سے بولے گئے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے متعلق بتایا اور اس سے قبل، اسے نہ تو اپیل کنندہ کی سرگرمیوں کے متعلق علم تھا اور نہ ہی یہ معلومات حاصل ہونے سے قبل وہ کبھی اس سے ملا بھی تھا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تین افراد، حاجی محمد یعقوب، محمد ارشاد اور راؤ لیاقت علی کو اپیل کنندہ کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے مقرر کیا تھا اور انہوں نے اس سلسلہ میں اسے یہ معلومات فراہم کیں کہ وہ (اپیل کنندہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ بولنے کا عادی ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے مزید بتایا کہ اس نے بذات خود گواہ استغاثہ لیاقت علی کی دکان، جو مہاجر کالونی نزد مسجد پر واقع ہے، اپیل کنندہ کی زبان سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے تھے، جب وہ ایف آئی آر کے اندراج سے دو دن قبل نماز مغرب کے بعد اس دکان میں گیا تھا۔ گواہ استغاثہ نمبر 3 نے اس امر سے انکار کیا کہ دیگر گواہان استغاثہ، مجلس تحفظ ختم نبوت، تحصیل کونسل، بہاولنگر کے ارکان ہیں۔ کوئی بھی ایسی چیز ریکارڈ پر پیش نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 کو اپیل کنندہ سے دشمنی اور مخاصمت تھی اور اسے اس جھوٹے مقدمے میں پھنسانے میں اس کا کوئی مفاد تھا۔

15- استغاثہ گواہ نمبر 4، غلام حسین بھی بہاولنگر کا رہائشی ہے۔ جس طرح گواہ استغاثہ نمبر 3، مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے استغاثہ کی کہانی کی تصدیق کی، عین اسی طرح اس نے بھی استغاثہ کی کہانی کی توثیق کی۔ وہ ایم، اے۔ انگلش اور بی ایڈ ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک نجی ٹیوٹر کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ اس کے مطابق، اس نے پہلے بھی مولانا اللہ یار اشرفی، مہتمم جامعہ رضائے مصطفیٰ کے روبرو اپیل کنندہ کے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کے خلاف تحریری درخواست پیش کی تھی۔ دوران جرح جب اس سے اس امر کے متعلق اس کے گزشتہ بیان (Exh.DA) کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ اپیل کنندہ کے گستاخانہ اور اہانت آمیز خیالات سے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے آگاہ تھا اور اس کے بیان میں لفظ ایک ڈیڑھ سال کا ذکر نہ تھا۔ اس نے تصدیق کی کہ مولانا محمد قاسم شجاع آبادی (گواہ استغاثہ نمبر 3) نے اپنے اور دیگر گواہان استغاثہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس نے ملزم کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس مقصد کی خاطر اس نے لیاقت علی اور ارشاد کو اتفاقیہ طور پر ملزم کی

صفحہ 1033

گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اگرچہ اس نکتے پر اس کے سامنے اس کا پہلا بیان پیش کیا گیا تھا۔ دوران جرح، گواہ استغاثہ نمبر 4، نے یہ تسلیم کیا کہ اپیل کنندہ کے بہت سے مرید (پیروکار) ہیں جنہیں وہ تبلیغ کرتا ہے اور گواہان استغاثہ اس کے مرید نہیں۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اپیل کنندہ ایک عام شخص نہیں تھا اور اس سے توقع کی جاسکتی ہے وہ اپنے خیالات خود تشکیل دے سکتا ہے اور ان کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 4 کے بیان سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ پہلے بھی اپیل کنندہ سے شناسا تھا کیونکہ وہ اپیل کنندہ کے پوتوں کو اس کے گھر ٹیوشن پڑھاتا رہا تھا۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ متذکرہ پڑھائی / ٹیوشن اپیل کنندہ کے مشکوک کردار کے باعث منقطع کر دی گئی تھی اور اس نے یہ بھی بتایا کہ چونکہ ایک دفعہ اپیل کنندہ نے پیغمبروں کے متعلق قابل اعتراض، گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ کا اظہار کیا تھا جس پر اس نے متذکرہ ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ منقطع کر دیا اور اپیل کنندہ کے بیٹے محمد ظفر کو اس امر کی شکایت بھی کی جس نے اس ضمن میں اس سے معافی طلب کی۔ اس گواہ کے متعلق کوئی خاص دشمنی، مخاصمت یا کوئی مفاد ظاہر نہیں ہوا جس کے باعث وہ کسی رنجش یا پرخاش کے باعث اسے اس جھوٹے مقدمے میں ملوث کر سکے۔

ایسی بات موجود نہیں جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ اس کی اپیل کنندہ کے ساتھ کوئی دشمنی، پرخاش یا رنجش تھی۔ تاہم، محمد امین، گواہ استغاثہ نمبر 6، جو اسی علاقے کا رہائشی ہے، یہ ثابت کرنے کے لیے پیش ہوا کہ اپیل کنندہ، 1990ء سے ہی اسلامی تعلیمات کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کر رہا تھا اور وہ اس چیز کا گواہ ہے۔ متذکرہ بالا گواہان استغاثہ آزاد اور خود مختار ہیں۔ ان کی اپیل کنندہ کے ساتھ کوئی دشمنی اور پرخاش نہیں جس کا دوران جرح، اپیل کنندہ نے بطور گواہ صفائی پیش ہوتے ہوئے اقرار کیا کہ اسے اس وحشیانہ اور ہولناک جرم جس کی سزا، موت ہے، میں جھوٹے طور پر ملوث کیا۔

بیانات میں کسی بھی قسم کا تضاد تلاش نہیں کر سکے۔ یہ صرف اپیل کنندہ ہی کا موقف ہے کہ چونکہ گواہ استغاثہ نمبر 4، غلام حسین، اپیل کنندہ کے پوتے کو پڑھاتا رہا، لیکن اسے اس کی اس ملازمت سے فارغ کر دیا گیا اور سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے اپیل کنندہ سے دو لاکھ

صفحہ 1034

روپے دینے کا مطالبہ اپیل کنندہ نے پورا نہیں کیا، اس لیے وہ اپیل کنندہ کے خلاف ہو گیا اور اس نے گواہ استغاثہ نمبر 3 مولانا محمد قاسم شجاع آبادی کے ذریعے یہ جھوٹا مقدمہ تیار کیا۔ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ جب غلام حسین گواہی دینے کے لیے بطور گواہ استغاثہ نمبر 4 پیش ہوا تو فاضل وکیل صفائی کی طرف سے جرح کے دوران اس سے ایسی کوئی بات نہیں پوچھی گئی ۔ اس سے صرف یہی پوچھا گیا کہ اس کے مشکوک کردار کے باعث پڑھائی منقطع کر دی گئی۔ اپیل کنندہ نے بطور گواہ صفائی نمبر 4 پیش ہوتے ہوئے واضح طور پر بیان کیا کہ مقدمہ ہذا کے حوالے سے کسی بھی گواہ کی اس کے ساتھ کوئی دشمنی، مخاصمت یا پرخاش نہیں تھی کہ اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا جائے۔ اگرچہ اس نے یہ کہانی گھڑی کہ گواہ استغاثہ نمبر 4، غلام حسین، جو اس کے پوتے اور پوتیوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا، نے ایک دن اس سے کالونی ہائی سکول میں ملازمت کے حصول کے لیے دو لاکھ روپے (Rs.2,00,000/-) کا مطالبہ کیا لیکن مندرجہ بالا گفتگو کی بنا پر اس کے متعلق معلوم ہوا کہ یہ موقف دانستہ اور جان بوجھ کر اپنایا گیا اور اس کے بیان کو مسترد کرنے کے لیے اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

استغاثہ کی طرف سے کوئی دشمنی، مخاصمت یا پرخاش معلوم نہیں ہوئی جس کی بنا پر اس قسم کے ہولناک اور وحشیانہ جرم میں جس کی سزا موت ہے، اپیل کنندہ کو جھوٹے طور پر ملوث کیا جائے۔ یہ آزاد، خودمختار قابل اعتبار گواہان ہیں اور ان پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ تاہم، ہم آڈیو کیسٹوں پر یقین نہیں کر سکتے جو مبینہ طور پر اپیل کنندہ کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ پر مشتمل ہیں ورنہ یہ ایک تائیدی ثبوت ہوتا کیونکہ یہ واضح نہیں کہ کیسٹوں میں ریکارڈ آواز اپیل کنندہ کی ہے۔ اس لیے یہ استغاثہ کے لیے بے کار ہیں۔ لیکن جہاں تک مقدمہ ہذا کا تعلق ہے، استغاثہ، گواہان نمبر 3 تا 6 کے زبانی بیانات کے ذریعے بغیر کسی شک و شبہ، اپیل کنندہ کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ مزید براں، مدعی کی طرف سے پیش کی گئی درخواست پر تحصیل کونسل، بہاولنگر کی طرف سے مورخہ 29 اکتوبر 2001 کو منظور کردہ قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کے لوگ اپیل کنندہ کے گھناؤنے فعل کے خلاف جلوس نکال رہے تھے اور اس صورت حال کے ذریعے گواہان استغاثہ کی طرف سے اپیل کنندہ کو مقدمہ میں جھوٹے طور پر یا بدنیتی یا اپنے مخصوص مفاد کی خاطر

صفحہ 1035

ملوث کرنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے اپیل کنندہ کے حق میں جس مقدمے کی مثال پیش کی ہے، مقدمہ ہذا کے حقائق اور حالات پر منطبق نہیں ہوتا۔ PLD 2002 SC 1048 میں گواہان استغاثہ کی ملزم کے ساتھ دشمنی اور مخاصمت پائی گئی اور انہیں نا قابل اعتبار قرار دیا گیا جبکہ 2002 YLR 1273 میں یہ فیصلہ دیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو معاف فرما دیا کرتے تھے، ایف آئی آر 21 دن کی تاخیر سے درج کرائی گئی، اہم گواہ پیش نہیں کیا گیا اور آزاد اور خود مختار ذرائع نے استغاثہ کی گواہی کی تائید نہیں کی۔ PLD 2002 Lahore 587 میں ملزم پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے مسجد کے مرکزی دروازے پر اشتہارات چسپاں کیے ہیں اور استغاثہ کا ثبوت ناکافی پایا گیا تھا۔

کنندہ کا قریبی رشتہ دار ہے۔ گواہ صفائی نمبر 2، محمد اکرم، اپیل کنندہ کا مزارع ہے اور اس کے بیٹوں نے اس سے دکان کرایہ پر لی ہے جہاں وہ اپنا کاروبار کر رہا ہے اور گواہ صفائی نمبر 3، محمد اسلم، عارف والا میں رہتا ہے۔ یقینی طور پر ان میں سے کوئی بھی، دوران تفتیش، اپیل کنندہ کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پیش نہیں ہوا، نیز دوران جرح، انہوں نے کہا کہ وہ پہلی دفعہ عدالت میں گواہان صفائی کی حیثیت سے پیش ہوئے اور اپیل کنندہ کے بیٹوں کے بے حد اصرار پر پیش ہوئے ہیں۔ ان کے بیانات کو گواہان استغاثہ کے بیانات پر ترجیح نہیں دی جا سکتی جن کے بیانات کو دوران جرح غلط ثابت نہیں کیا جا سکا اور وہ قابل اعتبار ثابت ہوئے۔ ممکن ہے کہ اپیل کنندہ نے گواہان صفائی کے روبرو گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ نہ بولے ہوں، لیکن ان کے بیانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ گواہان استغاثہ دروغ گوئی کر رہے ہیں۔ زیر دفعہ C-295، جرم متشکل کرنے کے لیے، گواہان کی تعداد درکار نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ گستاخانہ اور غلیظ زبان، کسی عوامی مقام پر بلند آواز میں یا کسی ملاقات میں استعمال کی جائے یا پھر کسی خاص جگہ استعمال کی جائے، بلکہ کسی ایک گواہ کا یہ بیان کہ کسی شخص نے گھر کے اندر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق توہین آمیز زبان استعمال کی ہے، اس قسم کی توہین کے مرتکب کو سزائے موت دینے کے لیے کافی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سے مندرجہ ذیل واقعات اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں :

ابن عباسؓ کی سند سے روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ کے زمانہ میں ایک نابینا

صفحہ 1036

شخص کے پاس ایک لونڈی تھی جو رسول پاک ﷺ پر سب وشتم کیا کرتی تھی۔ اس نابینا شخص نے اسے اس حرکت سے باز رہنے کا حکم دیا اور اسے ایسا نہ کرنے کی تنبیہ کی، مگر اس نے پروا نہ کی۔ ایک شب جب وہ حسب معمول رسول پاک ﷺ کو گالیاں دے رہی تھی، اس نابینا شخص نے چھری اٹھائی اور اسے ہلاک کر دیا۔ اگلی صبح جب اس عورت کے قتل کا مقدمہ رسول پاک ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا ”یہ کام کس نے کیا ہے؟ کھڑا ہو جائے اور اقبال کرے کیونکہ جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے باعث میرا اس پر حق ہے۔“ اس پر نابینا شخص کھڑا ہو گیا اور لوگوں کو چیرتا ہوا رسول پاک ﷺ کے سامنے آیا اور بولا یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اس لونڈی کو قتل کیا ہے کیونکہ اس نے آپ کو گالیاں دی تھیں۔ میں نے مسلسل اسے منع کیا، مگر اس نے کوئی پروا نہ کی۔ اس سے میرے دو خوبصورت بیٹے ہیں اور وہ میری بہت اچھی ساتھی تھی، مگر کل جب اس نے آپ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو میں نے اپنی چھری اٹھائی اور اس کے پیٹ پر حملہ کیا اور اسے ہلاک کر دیا ۔“ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اے لوگو! گواہ رہنا اس عورت کا خون رائیگاں گیا ۔“ (ابو داؤد جلد دوم صفحات 355-357)

حضرت علیؓ کی سند سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، اس کو ایک شخص نے قتل کر دیا۔ رسول پاک ﷺ نے اس کا خون بے حقیقت قرار دیا۔ (مندرجہ بالا)

حضرت عمیر ابن امیہ کی سند سے روایت ہے کہ اس کی ایک مشرکہ بہن تھی جو اس کو رسول پاک ﷺ سے ملاقات پر طعنے دیتی تھی اور رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہا کرتی تھی۔ آخر کار ایک دن انہوں نے اپنی تلوار سے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کے بیٹے چلائے اور بولے ”ہم ان قاتلوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ہماری ماں کو ہلاک کیا اور ان لوگوں کے والدین مشرک ہیں ۔“ عمیر نے سوچا کہ اس عورت کے بیٹے کہیں غلط اشخاص کو قتل نہ کر ڈالیں، وہ رسول پاک ﷺ کی خدمت میں آئے اور پورے معاملہ کی اطلاع آپ کو دی۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا ”کیا تم نے اپنی بہن کو مار ڈالا؟“ انہوں نے جواب دیا ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا ”کیوں“؟ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے آپ ﷺ کے تعلق کی وجہ سے نقصان پہنچا رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کو بلایا اور قاتلوں کے متعلق

صفحہ 1037

دریافت فرمایا۔ انہوں نے دوسرے لوگوں کی بطور قاتل نشان دہی کی۔ اس پر اللہ کے رسولؐ نے انہیں بتایا اور اس کی موت کو رائیگاں قرار دیا۔

(مجموعہ الزوائد ومنانح الفوائد جلد پنجم صفحہ 260)

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص رسول پاکﷺ کے پاس آیا اور بولا ”اے اللہ کے نبیﷺ ! میرے باپ نے آپ کو برا بھلا کہا‘ میں برداشت نہ کر سکا اور انہیں قتل کر دیا“ رسول پاکﷺ نے اس کے اس عمل کی توثیق فرمائی۔

(الشفاء از قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 285)

مندرجہ بالا وجوہ کی بنا پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کے تحت اپیل کنندہ کی سزا برقرار رکھی جاتی ہے۔

”اے ایمان والو! نہ داخل ہوا کرو نبی کریم (ﷺ) کے گھروں میں بجز اس (صورت) کے کہ تم کو کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے (اور) نہ کھانا پکنے کا انتظار کیا کرو۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو اندر چلے آؤ پس جب کھانا کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جاؤ۔ اور نہ وہاں جا کر دل بہلانے کے لیے باتیں شروع کر دیا کرو۔ تمہاری یہ حرکتیں (میرے) نبی (ﷺ) کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں پس وہ تم سے حیا کرتے ہیں (اور چپ رہتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کسی کی شرم نہیں کرتا حق بیان کرنے میں۔ اور جب تم مانگو ان سے کوئی چیز تو مانگو پس پردہ ہو کر۔ یہ طریقہ پاکیزہ تر ہے تمہارے دلوں کے لیے نیز ان کے دلوں کے لیے۔ اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو اور تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں کہ نکاح کرو ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی۔ بے شک ایسا کرنا اللہ کے نزدیک گناہ عظیم ہے۔

(الاحزاب : 53)

صفحہ 1038

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی مندرجہ بالا آیات کی بہترین تفسیر کرنے والے ہیں اور ان کی سنت کے ذریعے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ ان کی توہین کے مرتکبین، سزائے موت کے مستحق ہیں۔ مندرجہ بالا احادیث کے علاوہ مندرجہ ذیل حدیث کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے:

حضرت علیؓ کی سند سے روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اس شخص کو قتل کرو جو ایک نبی کو گالی دیتا ہے اور جو میرے صحابہؓ کو گالی دے اسے درے لگاؤ۔“ (الشفاء قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 194)

ہو تو اس کی سزا موت ہے اور اس میں میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں کوئی اختلاف رائے نہیں۔ (الصارم المسلول صفحہ 4)

توہین رسالت کی سزا موت ہے۔“ (الشفاء جلد دوم صفحہ 211)

قاضی عیاضؒ مزید رقم طراز ہیں ”ہر وہ شخص جو رسول پاک ﷺ کو گالی دئے آپ ﷺ میں کوئی نقص نکالے یا آپ ﷺ کے نسب میں یا آپ کی کسی صفت میں یا آپ کی طرف کوئی کنایہ کرے یا کسی دوسری چیز سے آپ کی مشابہت کرے بطور آپ ﷺ کی توہین، بے عزتی، تذلیل، بے لحاظی یا نقص کے، تو وہ آپ ﷺ کا شاتم ہے اور وہ قتل کیا جائے گا اور علماء و فقہاء کا اس نکتہ پر اجماع، صحابہ کے زمانہ سے آج تک ہے۔“

(الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم صفحہ 214)

نہیں کہ ایک مسلمان جو دانستہ رسول پاک ﷺ کی تضحیک و توہین کرتا ہے، مرتد ہو جاتا ہے اور سزائے موت کا مستوجب ہوتا ہے۔“ (احکام القرآن، جلد ہشتم صفحہ 106)

یہاں ایک اور حدیث بیان کرنا مفید ہوگا۔

قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) تبدیل کرتا ہے۔“ (بخاری جلد دوم صفحہ 123)

ﷺ کی سزا کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ عراق کے کچھ فقہاء نے اس کو دُرے لگانا

صفحہ 1039

تجویز کیا ہے۔ اس پر امام مالکؒ غضب ناک ہو گئے اور کہا ’’اے امیر المومنین! اس امت کو زندہ رہنے کا کیا حق حاصل ہے‘ جب اس کے رسول کو گالیاں دی جائیں۔ پس اس شخص کو جو رسول ﷺ کو برا بھلا کہے‘ قتل کرو اور اس کے دُرے لگاؤ جو آپ کے صحابہ کو برا بھلا کہے۔‘‘

(الشفاء جلد دوم‘ صفحہ 215)

شافعی نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا موت ہے‘ اگر وہ مسلمان ہے۔‘‘ (الصارم المسلول صفحہ 3)

کے بعد، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمایا لیکن ابن خطل اور اس کی لونڈی کو قتل کرنے کا حکم دیا جو آپ ﷺ کی ہجو لکھتے تھے۔

ہوتی۔ اس لیے (سیشن) عدالت کی طرف سے اپیل کنندہ کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ اپیل بے بنیاد ہے، اس لیے مسترد کی جاتی ہے اور مجرم کو دی گئی سزا برقرار رکھی جاتی ہے۔

توثیق کی جاتی ہے اور اپیل کنندہ کی سزائے موت کی تصدیق کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس اعجاز احمد چودھری 14 ستمبر 2004ء جسٹس محمد فرخ محمود لاہور ہائی کورٹ، لاہور

(2005 YLR 985 Lahore)

۞......۞......۞

صفحہ 1040
صفحہ 1041

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

آسیہ مسیح بنام سرکار، اکتوبر 2014ء

صفحہ 1042
صفحہ 1043

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

آسیہ مسیح بنام سرکار

ابتدائی معلومات

عنوان مقدمہ : آسیہ مسیح بنام سرکار مقدمہ قتل نمبر : 614/2010 فوجداری اپیل نمبر : 2509/2010 تاریخ سماعت : 16 اکتوبر، 2014ء تاریخ فیصلہ : 16 اکتوبر، 2014ء

وکلائے اپیل کنندہ : چودھری نعیم شاکر، سردار خلیل طاہر سندھو اور ایس ۔ کے چودھری، ایڈووکیٹس ۔

وکلاء برائے مدعی : غلام مصطفیٰ چودھری، حمید احمد چودھری، محمد طاہر کھوکھر، عامر لطیف سبحانی، چودھری خالد محمود، محمد جاوید اقبال رمدے اور طاہرہ شاہین، ایڈووکیٹس ۔

وکیل برائے سرکار مرزا عابد مجید، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل۔

صفحہ 1044

فیصلہ

جناب جسٹس سید شہباز علی رضوی

ایف آئی نمبر 326 مورخہ 2009-06-19، مندرج بر پولیس سٹیشن صدر ننکانہ صاحب کے حوالے سے مقدمہ چلایا گیا اور بذریعہ فاضل ایڈیشنل سیشن جج، ننکانہ صاحب بمطابق فیصلہ مورخہ 2010-11-08 اسے جرم کا مرتکب قرار دیا گیا اور اسے مندرجہ ذیل سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا:

”زیردفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، سزائے موت مع جرمانہ مبلغ ایک لاکھ روپے (Rs.100,000/-) اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے مزید 6 ماہ قید محض بھگتنی ہوگی۔“

سال 2010ء جسے زیر دفعہ 374 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت معزز عدالت نے برائے اطلاع یا بصورت دیگر جرم کی مرتکب آسیہ مسیح اور اس کی طرف سے دائر کی گئی فوجداری اپیل نمبر 2509 سال 2010ء، ہمیں بھجوایا گیا جس کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے۔

کے مطابق مختصر حقائق یہ ہیں کہ مورخہ 2009-06-14ء کو گاؤں کی ایک عیسائی مبلغہ، مع دیگر خواتین بشمول مافیہ بی بی (گواہ استغاثہ نمبر 2)، عاصمہ بی بی (گواہ استغاثہ نمبر 3) اور یاسمین (جسے بطور گواہ استغاثہ، ترک کر دیا گیا)، محمد ادریس (CW نمبر 1) کے کھیت میں سے

صفحہ 1045

فالسہ چُن رہی تھیں جہاں ملزمہ نے یہ کہتے ہوئے نبی اکرمﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے کہ اپنی وفات سے ایک ماہ قبل مسلمانوں کے پیغمبر (معاذ اللہ) بیمار ہو گئے اور ................................... اس نے مزید کہا کہ تمہارے پیغمبرﷺ نے ................................... ....................................................................................................................................... (نعوذ باللہ)

اس نے مزید کہا کہ قرآن پاک اللہ کا نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے۔ گواہان استغاثہ، یہ معاملہ مدعی قاری محمد سالم اور دیگر کے علم میں لائے۔ مورخہ 19-06-2009 کو مدعی مقدمہ (قاری محمد سالم) محمد افضل اور مختار احمد کے ہمراہ عاصمہ بی بی وغیرہ اور آسیہ مسیح (اپیل کنندہ) کے پاس گیا اور اس سے واقعہ سے متعلق استفسار کیا جس نے علی الاعلان اپنے جرم کا اعتراف کیا، یوں اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

(گواہ استغاثہ نمبر 1) جو مدعی اور ماورائے عدالت ملزمہ کے اقبال جرم کا گواہ ہے۔ اس کے علاوہ استغاثہ نے (گواہ استغاثہ نمبر 2) مافیہ بی بی اور (گواہ استغاثہ نمبر 3) عاصمہ بی بی پیش کیے جنہوں نے وقوعہ کے متعلق اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کیا۔ گواہ استغاثہ نمبر 4، محمد افضل، ماورائے عدالت ملزمہ کے اقبال جرم کا گواہ ہے، گواہ استغاثہ محمد رضوان، ایس آئی نے ایف آئی آر تحریر کی اور سید محمد امین بخاری، ایس پی، گواہ استغاثہ نمبر 6، نے زیردفعہ A-156، مجموعہ ضابطہ فوجداری، تفتیش کرنے کے علاوہ تفتیش مکمل بھی کی، جبکہ گواہ استغاثہ نمبر 7، محمد ارشد، ایس آئی نے مقدمہ ہذا کی ابتدائی تفتیش کی جبکہ جائے وقوعہ کے مالک محمد ادریس پر بطور (CW1) جرح کی گئی۔

احمد کی گواہی کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے ترک کر دیا اور استغاثہ کی گواہی بند کر دی۔

جرم/الزامات سے اس طرح انکار کیا:

”میں شادی شدہ عورت ہوں اور میری دو بیٹیاں ہیں۔ میرا خاوند غریب محنت کش ہے۔ میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ روزانہ اُجرت کی بنیاد پر محمد ادریس کے کھیت میں فالسہ چننے

صفحہ 1046

کا کام کرتی تھی۔ وقوعہ کے روز جبکہ میں متعدد دیگر خواتین کے ہمراہ کھیت میں کام کر رہی تھی، تو میرا مافیہ بی بی اور عاصمہ بی بی سے پانی لانے کے معاملے پر تنازعہ ہوا۔ جب میں نے پانی لانے کی پیشکش کی، تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ چونکہ تم ایک عیسائی ہو۔ اس لیے انہوں نے کبھی کسی عیسائی کے ہاتھ سے پانی نہیں لیا، جس پر تنازعہ ہوا۔ اور میرے اور ان گواہان استغاثہ خواتین کے مابین تلخ کلامی ہوئی۔ گواہان استغاثہ خواتین نے بعد ازاں قاری محمد سالم سے جو کہ اس مقدمہ میں مدعی ہے، اس کی زوجہ کے ذریعہ رابطہ کیا جو کہ ان دونوں خواتین کو پڑھاتی رہتی ہے۔ اس طرح گواہان استغاثہ نے قاری سالم کے ساتھ ساز باز کر کے مجھے جھوٹے، من گھڑت اور جعلی مقدمے میں ملوث کیا۔ میں نے بائبل پر حلفیہ بیان دیتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ میں نے اس طرح کے توہین آمیز اور شرمناک الفاظ حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن کے متعلق بالکل نہیں کہے۔ میں حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کا حد درجہ عزت و احترام کرتی ہوں۔ لیکن چونکہ پولیس اس سازش میں مدعی کے ساتھ شریک ہے۔ اس لیے پولیس نے ناجائز طور پر اسے اس مقدمہ میں ملوث کیا ہے۔ گواہان استغاثہ خواتین، دونوں حقیقی بہنیں ہیں اور مجھے اس جھوٹے کیس میں ملوث کرنے میں یکساں مفاد رکھتی ہیں۔ کیونکہ جھگڑے کے دوران تلخ کلامی کے باعث ان دونوں کو تذلیل اور بے عزتی محسوس ہوئی۔ مدعی قاری سالم کا مفاد بھی ان خواتین کے ساتھ یکساں ہے۔ کیونکہ ان دونوں خواتین نے اس کی زوجہ سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ میرے آباؤ اجداد قیام پاکستان کے وقت اس گاؤں میں مقیم ہیں۔ میری عمر بھی تقریباً 40 سال ہے اور اس واقعہ کے علاوہ اس قسم کی کوئی شکایت پہلے کبھی میرے خلاف پیدا نہیں ہوئی۔ میں ناخواندہ ہوں اور عیسائی مبلغہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ اس گاؤں میں کوئی عیسائی چرچ بھی موجود نہیں ہے۔ لہٰذا جب کہ میں اسلامی نظریات سے بھی بالکل نابلد ہوں، تو میں کیسے اللہ کے پیارے نبی ﷺ اور الہامی کتاب قرآن پاک کے متعلق اس قدر بھدے اور توہین آمیز الفاظ استعمال کر سکتی ہوں۔ گواہ استغاثہ محمد ادریس بھی مفاد پرست گواہ ہے۔ کیونکہ اس کے مذکورہ بالا خواتین کے ساتھ قریبی خاندانی روابط ہیں۔“

دینے کے لیے حاضر نہیں ہوئی تاکہ اس کے خلاف عائد کئے گئے الزام کی تردید ہوسکے اور نہ ہی اس نے صفائی کا کوئی گواہ پیش کیا۔

صفحہ 1047

سزا کا مستحق ٹھہرایا جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

استغاثہ نمبر 2 اور عاصمہ بی بی، گواہ استغاثہ نمبر 3، جو مدعی کی بیوی کی شاگرد ہیں، جو اپیل کنندہ اور گواہان کے درمیان تو تو میں میں کے باعث مقدمہ ہذا کی غرض مند اور مخاصمانہ گواہ ہیں۔ تاہم، گواہ استغاثہ نمبر 1، قاری محمد سالم نے حالات کو مزید بھڑکایا اور اس معاملے کو ایک جھوٹے مقدمے میں بدل دیا، یہ بھی کہ ماورائے عدالت اقبال جرم، متنازع ہے۔ فاضل عدالت نے تزکیۃ الشہود کے ذریعے دونوں گواہان کی صداقت کو نہیں جانچا جو معزز سپریم کورٹ کے فیصلہ ”ایوب مسیح بنام سرکار“ (PLD 2002 SC 1048) کے تحت توہین رسالت کے مقدمے کے لیے ضروری ہے، یہ بھی کہ گواہان استغاثہ کے بیانات میں موافقت نہیں، یہ بھی کہ ایف آئی آر کے اندراج میں پانچ دنوں کی غیر معمولی تاخیر ہوئی جس سے گواہان کی صداقت کے متعلق شک پیدا ہوتا ہے؛ یہ بھی کہ گواہان نے جھوٹی کہانی گھڑی؛ یہ بھی کہ اپیل کنندہ نے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے قلمبند کیے بیان میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور قرآن پاک کے متعلق اپنی بھرپور تکریم کا اظہار کیا اور تفتیشی افسر کے سامنے بائبل پر حلف اٹھاتے ہوئے اپنی بے گناہی کا اظہار کیا؛ یہ کہ تفتیشی افسر نے نہ تو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور نہ ہی اس نے علاقے کے لوگوں سے تفتیش کی، اس لیے اپیل کنندہ بے گناہ اور بریت کی مستحق ہے۔

نے کی، نے ان دلائل کی مخالفت کی جو اپیل کنندہ کے فاضل وکیل نے اٹھائے تھے اور دلیل دی کہ اپیل کنندہ نے ایک مکروہ جرم کا ارتکاب کیا اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، یہ کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کی بخوبی وضاحت کر دی گئی، چونکہ الزامات بہت سنگین تھے، اس لیے ان الزامات کی تصدیق کی گئی اور معاملہ سے پولیس کو مطلع کیا گیا؛ یہ کہ دونوں چشم دید گواہان جنہوں نے اپیل کنندہ کی طرف سے گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ سنے، پر مقدمہ کے اہم پہلو، توہین رسالت کے لحاظ سے جرح نہیں کی گئی اور عدالت نے انتہائی درست طور پر اپیل کنندہ کو مجرم ٹھہرایا۔

صفحہ 1048

کے فاضل وکیل کے دلائل سماعت کیے اور ان کی بھرپور معاونت کے ذریعے ریکارڈ ملاحظہ کیا۔

اور اہانت آمیز الفاظ کا اظہار ہوتا ہے جن کے ذریعے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، جرم متشکل ہوتا ہے اور استغاثہ نے اپیل کنندہ کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے دو قسم کی گواہیاں، براہ راست گواہی (چشم دید بیان) اور ماورائے عدالت اقبال جرم گواہی، پیش کیں۔ اس واقعہ کو ثابت کرنے کی خاطر، استغاثہ نے مافیہ بی بی، گواہ استغاثہ نمبر 2 اور عاصمہ بی بی، گواہ استغاثہ نمبر 3 ، پیش کیے جنہوں نے وقوعہ کا احوال بیان کیا جو محمد ادریس (1-CW) کے فالسہ کے کھیتوں میں پیش آیا۔ مافیہ بی بی، گواہ استغاثہ نمبر 2، نے خود پر جرح کے دوران بیان کیا:

’’ملزمہ آسیہ مسیح مذہب کے لحاظ سے عیسائی ہے۔ ملزمہ آسیہ مسیح جو کہ عدالت میں موجود ہے، نے اُس کے اور دوسروں کے روبرو کہا کہ حضرت محمدﷺ .............................. ................................................................ ملزمہ نے مزید کہا کہ حضرت محمدﷺ نے ........................................................................................................ اس نے مزید یہ بھی کہا کہ قرآن پاک کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ یہ تم مسلمانوں کی تحریر کردہ/مرتب کی ہوئی ہے۔ .............‘‘

چشم دید گواہ پر کی گئی جرح کے تفصیلی جائزے سے یہ حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس پر صفائی کی طرف سے جرح نہیں کی گئی اور اپیل کنندہ کے خلاف اس کا بیان پیش کیا گیا جس سے اپیل کنندہ پر جرم میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوتا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ گواہ کے بیان کو رد کرنے کے لیے ایک بھی سوال نہیں اٹھایا گیا جس میں اپیل کنندہ کے خلاف توہین رسالتﷺ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اسی طرح، عاصمہ بی بی، گواہ استغاثہ نمبر 3 نے خود پر جرح کے دوران یوں بیان کیا:

’’فالسہ توڑنے کے کام کے دوران ملزمہ آسیہ مسیح نے اُس کے اور دوسرے لوگوں کے روبرو کہا کہ حضرت محمدﷺ ..................................................................... اس نے مزید کہا کہ حضرت محمدﷺ نے .....................................................................اس

صفحہ 1049

نے مزید یہ بھی ذکر کیا کہ قرآن پاک کوئی الہامی کتاب نہیں بلکہ انسانوں کی خود ساختہ کتاب ہے۔............“

اس گواہ پر صفائی کی طرف سے جرح کے ذریعے اسی معمول کے رویے کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ سچ کی تلاش کے لیے اس کے بیان پر کوئی سوالات نہیں اٹھائے گئے تاکہ اس کے بیان کو غلط ثابت کیا جائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صفائی نے اس سنجیدگی سے اپنے مقدمہ سے دفاع نہیں کیا جو اس ضمن میں مطلوب تھی کیونکہ استغاثہ کے مقدمہ کے انتہائی متعلقہ پہلو؛ مورخہ 2009-06-14 کو محمد ادریس (1-CW) کے فالسہ کے کھیت میں دیگر مسلمان کارکن خواتین کے ساتھ موجودگی، بشمول مافیہ بی بی گواہ استغاثہ نمبر 2، عاصمہ بی بی گواہ استغاثہ نمبر 3، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق توہین آمیز کلمات کا بیان اور چشم دید گواہان کی موجودگی میں قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ الفاظ کا اظہار ، بدستور نا قابل تردید ہی رہا۔ معزز سپریم کورٹ نے قانون شہادت آرڈر، 1984ء کی دفعہ نمبر 132 کے متعلق بحث کرتے ہوئے بار بار یہ کہا کہ جب جرح کے دوران ایک خاص اور ٹھوس حقیقت بیان کی جاتی ہے اور اس پر جرح نہیں کی جاتی تو اس سے مراد اس بیان کی من وعن قبولیت ہے۔ اس ضمن میں مقدمہ بعنوان حافظ تصدق حسین بنام لعل خاتون و دیگر (PLD 2011 Supreme Court 296) کافی ہے جس میں سپریم کورٹ نے یوں فیصلہ دیا:

”اس کے ذریعے مقدمہ ہذا، اس اصول کے تحت آ جاتا ہے کہ اگر ایک ٹھوس حقیقت، جرح کے دوران بیان کی گئی ہو اور اس پر کوئی اعتراض/ جرح نہ کی جائے تو اسے قبولیت کا اظہار سمجھا جائے گا۔“

اسی قسم کا نکتہ نظر ، اس ملک کی سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں میں اختیار کیا گیا ہے۔

اس کے باعث ہم بھی یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہیں کہ جہاں تک اپیل کنندہ کی طرف سے گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ بولنے کا تعلق ہے، گواہ استغاثہ نمبر 2، مافیہ بی بی کا بیان ، بدستور نا قابل تردید رہتا ہے، اس لیے اس بیان کو قبول کیا جاتا ہے اور حتیٰ کہ گواہ استغاثہ نمبر 3، عاصمہ بی بی پر بھی اس ضمن میں نیم دلانہ جرح کی گئی۔

فالسہ کھیت میں چشم دید گواہ کے علاوہ اپیل کنندہ کی بیک وقت موجودگی، دونوں گواہان استغاثہ سے پوچھے گئے اس سوال کے ذریعے قابل تردید نہیں۔ مافیہ بی بی گواہ استغاثہ

صفحہ 1050

نمبر 2 سے یوں پوچھا گیا:

”یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے ملزمہ آسیہ مسیح کے خلاف اس جھگڑے کی وجہ سے بیان دیا جو اسی دن فالسہ چنتے ہوئے میرے اور آسیہ بی بی کے درمیان پیش آیا۔“

یہی سوال گواہ استغاثہ نمبر 3، عاصمہ بی بی سے کیا گیا جو مندرجہ ذیل ہے:

”یہ کہنا غلط ہے کہ وقوعہ کے روز، میرے اور ملزمہ آسیہ مسیح کے درمیان، متذکرہ باغ میں پینے کے پانی کے معاملے پر جھگڑا پیش آیا۔“

ہم نے محسوس کیا ہے کہ دفاع کی طرف سے چشم دید گواہان کی طرف سے اپیل کنندہ کے خلاف کسی بھی پرانی دشمنی کی نشاندہی نہیں ہوسکی تاکہ اسے اس قسم کے ہولناک جرم میں جھوٹے طور پر ملوث کیا جائے۔ مزید برآں، 1-CW، محمد ادریس، ایک آزاد شخص کی گواہی جو اس وقت کھیت میں موجود تھا، چشم دید گواہان کی طرف سے پیش گئی گواہی کی بھرپور تصدیق کرتی ہے۔ اصل وقوعہ کے متعلق دونوں چشم دید گواہان کے سیدھے اور غیر متزلزل بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ان کے بیانات پر یقین نہ کریں۔

تاخیر کے متعلق اعتراض کا تعلق ہے، ہماری رائے یہ ہے کہ یہ چیز، مقدمہ ہذا میں کسی بھی اہمیت کی حامل نہیں جب استغاثہ کی طرف سے پیش گئی براہ راست گواہی موافق ، مربوط اور نہایت پُر اعتماد ہے کیونکہ اس قسم کی تاخیر صرف اس وقت اہمیت اختیار کرتی ہے جب ایسا معلوم ہو رہا ہو کہ استغاثہ کی گواہی اور مقدمہ کے دیگر حالات، ملزم کے حق میں ہونے جا رہے ہیں۔ بصورت دیگر بھی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے معاملے کے متعلق پولیس کو تاخیر سے آگاہ کرنے کے ذریعے کوئی بھی ناجائز فائدہ نہیں حاصل کیا گیا بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مدعی کی طرف سے مقدمہ کی سنجیدگی اور سنگینی کے باعث معاملہ سے پولیس کو آگاہ کرنے سے قبل، اس نے غیر معمولی احتیاط سے کام لیا۔ مندرجہ بالا بحث کے باوجود بھی، ملزمہ کی طرف سے گواہان استغاثہ کے متعلق کسی بھی قسم کی بدنیتی کا اظہار نہیں کیا گیا۔

دیگر خواتین کی غیر موجودگی کے متعلق دلیل کا تعلق ہے، ایک اور معزز عدالت نے پہلے ہی اسی

صفحہ 1051

قسم کے ایک مقدمے بعنوان بشیر احمد بنام سرکار (2005 YLR 985) میں فیصلہ کرنے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں مختلف واقعات کا حوالہ دینے کے ذریعے متعلقہ معاملے پر تفصیلی گفتگو کی اور فیصلے کے صفحہ نمبر 991 پر یوں تحریر کیا:

’’زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، جرم کو متشکل کرنے کے لیے گواہاں کی بڑی تعداد درکار نہیں اور یہ ضروری نہیں کہ نبی اکرمﷺ کے خلاف اس قسم کے گستاخانہ اور اہانت آمیز زبان کا استعمال، کھلے عام بلند آواز یا پھر کسی جلسے میں یا پھر کسی خاص جگہ پر بولنے چاہئیں، بلکہ کسی واحد گواہ کا بیان خواہ کسی نے نبی اکرمﷺ کے خلاف گھر کے اندر توہین کی، اس قسم کی توہین کا مرتکب فرد، سزائے موت کا مستحق ہے۔‘‘

اس لیے یہ دلیل، صفائی کے موقف کے لیے مفید نہیں۔

محمد افضل کے علاوہ CW-1، محمد ادریس، کی طرف سے ملزمہ کے ماورائے عدالت اقبال جرم کے متعلق گواہی پیش کرنے کا تعلق ہے کہ ملزمہ نے علی الاعلان اپنے جرم کا اقرار کیا، ماورائے عدالت اقبال جرم سمجھا نہیں جا سکتا کیونکہ اقبال جرم کے کسی وقت، تاریخ اور ارتکاب کا ذکر نہیں اور مزید کسی ایسے حالات کا ذکر نہیں جن کے تحت اپیل کنندہ نے مبینہ طور پر جرم کا ارتکاب کیا، مبینہ اقبال جرم کے بیان میں بیان کیے گئے۔

بعد ہم نے یہ محسوس کیا کہ یہ عملی مثال، مقدمہ ہذا کے حقائق اور حالات پر منطبق نہیں ہوتی جس طرح محمد محبوب عرف بؤ با بنام ریاست (PLD 2002 Lahore 587) میں ملزم نے مسجد کے صدر دروازے پر اشتہار چسپاں کیا اور استغاثہ کی گواہی ناکافی تھی۔ PLD) (2002 Supreme Court 1048 میں گواہان استغاثہ کو ملزم کے بارے میں مخاصمتی پایا گیا جبکہ مقدمہ ہذا میں فریقین کے درمیان کوئی پرانی دشمنی، مقدمہ کے دوران نہیں پائی گئی بلکہ اس میں تو یہ معاملہ ہے کہ اپنے دیگر افراد خانہ کے ہمراہ اپیل کنندہ، دہائیوں سے مقدمہ ہذا کے مدعی اور گواہان کے ساتھ پُر امن طور پر رہتی رہی ہے۔

تمام حالات پر غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس امر کو ثابت کرنے

صفحہ 1052

کے لیے ریکارڈ پر مناسب اور معقول گواہی موجود ہے کہ اپیل کنندہ نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کی جو دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت جرم متشکل کرتا ہے کیونکہ استغاثہ نے گواہ استغاثہ نمبر 2 اور گواہ استغاثہ نمبر 3 کی براہ راست اور ناقابل تردید گواہی کے ذریعے یہ الزام ثابت کر دیا ہے، جس کی مزید تصدیق CW-1 کے بیان کے علاوہ گواہ استغاثہ نمبر 6، سید محمد امین بخاری، سپرنٹنڈنٹ پولیس کی طرف سے کی گئی تفتیش سے ہو جاتی ہے، اس لیے معزز عدالت کی طرف سے ملزمہ کو جرم کا مرتکب ٹھہرانے کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

متعلقہ قانون کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہماری رائے ہے کہ اگر اپیل کنندہ کے جرم کی نوعیت کو کم کرنے کے کوئی حالات موجود بھی ہیں تو پھر بھی عدالت ہذا، قانون کے مطابق دی گئی سزا کو بدل نہیں سکتی جس کا تعین معزز فیڈرل شریعت کورٹ نے مورخہ 30 اکتوبر 1990ء کو محمد اسمعیل قریشی بنام پاکستان بذریعہ سیکرٹری لاء اینڈ پارلیمنٹری افیئرز (PLD 1991 FSC 10) اور حالیہ مقدمہ الیاس مسیح مونم ایڈووکیٹ و دیگر بنام حکومت پاکستان و دیگر (PLD 2014 FSC 18) نے اپنے فیصلے میں کیا جس میں زیر دفعہ 295-C سزا کے متعلق آخری قانونی حیثیت پر یوں زور دیا گیا ہے:

”اس قانونی مسئلہ کے متعلق کوئی اعتراض اور حجت نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203-D کی شق 3(b) کے مطابق، کوئی قانون یا شق جس کی حد تک یہ سمجھا جائے کہ یہ اسلام کے حکم کے متصادم ہے، یہ قانون یا شق، اسی دن سے غیر موثر ہو جائے گی جس دن سے عدالت کا فیصلہ موثر ہوتا ہے۔ عدالت کے فیصلہ بمطابق مورخہ 30-10-1990، زیر دفعہ جرم 295-C تعزیرات پاکستان، کو قرآن پاک اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت کے حکم کے متصادم قرار دیا اور حکم دیا کہ اسے 30 اپریل 1991ء تک حذف کر دیا جائے۔ جو اپیل، فیڈرل شریعت کورٹ کے مندرجہ بالا فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی، اسے بھی مورخہ 19-05-1991 کو سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بنچ نے مسترد کر دیا۔ مندرجہ بالا قانونی حیثیت کو فیڈریشن نے سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے ذریعے مورخہ 04-10-2013 کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے ذریعے واضح طور پر تسلیم کر لیا جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ، اس حد تک قابل نفاذ ہے

صفحہ 1053

کہ زیر دفعہ C-295 ، عمر قید کی سزا اس تاریخ سے حذف کی جائے جس دن، 30-04-1991 سے فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ موثر ہوا ہے۔ تاہم، فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے ،سزا، یعنی،عمر قید جس کا تعلق زیر دفعہ C-295 جرائم کے ارتکاب سے ہے، وہ 1991-04-30 سے غیر موثر ہو چکی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، سیکرٹری ، وزارت قانون ، انصاف و انسانی حقوق ، حکومت پاکستان، اسلام آباد کو عدالت کے فیصلے مورخہ 1990-10-30 پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کے لیے مناسب اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسے یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ سزا، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کو تعزیرات پاکستان کے علاوہ قانون کی متعلق کتب میں سے حذف کیا جائے اور رجسٹرار ، ہائی کورٹس کو ہدایت کی جائے کہ اسے پاکستان کے تمام جوڈیشل افسروں کو بھجوا دیا جائے۔ اس ضمن میں ایک رپورٹ، سیکرٹری وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق ، حکومت پاکستان، اسلام کی طرف سے دو ماہ کے اندر پیش کی جائے گی۔‘‘

حیثیت کے متعلق اصول کو منطبق کرنے کے بعد اور اپیل کنندہ کے خلاف زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، مجرم ٹھہرانے اور سزا دینے کے متعلق اپنی رائے کے بعد ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہی مناسب ہے کہ اپیل کنندہ کے فاضل وکیل کے دلائل پر تبصرہ کیا جائے کہ اس قسم کے مقدمات میں، عدالت کی طرف سے اپنایا گیا طریقہ تفتیش کہ جس کے ذریعے گواہ کی اعتباریت کے متعلق خود کو مطمئن کرنے کے لیے ،تزکیہ الشہود ایک جانچ ہونی چاہیے جس طرح عدالت کی طرف سے قوانین حدود (1979) کے تحت جرم کے متعلق بتایا گیا۔ اس ضمن میں کوئی تنازع نہیں کہ اس جانچ پر اطلاق کرتے ہوئے جسے اسلامی قانون کے تحت بخوبی تسلیم شدہ حدود کے نفاذ کے مقدمات میں، عدالت ، گواہ کی اعتباریت کے معیار پر جائز طور پر اصرار کر سکتی ہے لیکن ہماری پختہ رائے ہے کہ اس قسم کے اعلیٰ سطحی معیار کی گواہی کی اعتباریت کی جانچ کے لیے عملی قانون میں متعلقہ ترمیم کی غیر موجودگی میں تزکیہ الشہود کے قانون کو دیگر مقدمات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قانونی مفروضہ، ایوب مسیح بنام سرکار (PLD 2002 (1048 SC کے حوالے سے زیر غور آیا لیکن معزز سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے اس

صفحہ 1054

مفروضے کے اطلاق کو پابند نہیں کیا:

”مقدمہ کے استحقاق (میرٹ) کے مطابق اپیل کنندہ بریت کا مستحق ہے۔ اس لیے اس موقف کو ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ آیا جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان، حد کا سزاوار ہے جسے اپیل کنندہ کے فاضل وکیل نے ایک متبادل اپیل کی حیثیت سے اس موقف کی حیثیت سے اٹھایا کہ اسے ایسا سمجھا جائے جس پر زور نہیں دیا گیا اور سوال کھلا چھوڑ دیا گیا بشرطیکہ اپیل کنندہ کو مقدمہ کے استحقاقات کے مطابق شک کا فائدہ دینے کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ اس لیے سوال کو کھلا چھوڑا جاتا ہے۔“

اس لیے، ایک ایسے جرم کے ثبوت کے لیے عملی قانون میں ترمیم کی خاطر ازحد ضرورت محسوس کرتے ہوئے جہاں صرف، سزائے موت دی گئی ہو، اس فیصلہ کی ایک نقل، بذریعہ سیکرٹری وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق اسلام آباد، اس ضمن میں ضروری کارروائی کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھیجی جا رہی ہے۔ مقدمہ ہذا کا رجسٹرار، فیصلہ ہذا کی ایک نقل، متعلقہ حلقوں کو بغیر کسی تاخیر کے بھجوائے گا۔

اپیل نمبر 2509 سال 2010، مسترد کی جاتی ہے۔ اور یوں مقدمہ قتل نمبر 614 سال 2010ء کا جواب اثبات میں دیا جاتا ہے اور اپیل کنندہ آسیہ مسیح کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس سید شہباز علی رضوی 16 اکتوبر، 2014ء جسٹس محمد انوار الحق لاہور ہائی کورٹ، لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 1055

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

لیاقت علی بنام سرکار، ستمبر 2015ء

صفحہ 1056
صفحہ 1057

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

لیاقت علی ودیگر بنام سرکار

ابتدائی معلومات

عنوان مقدمہ : لیاقت علی ودیگر بنام سرکار مقدمہ قتل نمبر : 152/2009 فوجداری اپیل نمبر : 145-J/2009 تاریخ سماعت : 17 ستمبر، 2015ء تاریخ فیصلہ : 17 ستمبر، 2015ء

وکیل اپیل کنندہ : عثمان جی رشید ایڈووکیٹ وکلاء برائے مدعی : حمید احمد چودھری ایڈووکیٹ، محمد سلطان کھوکھر ایڈووکیٹ، چودھری خالد محمود ایڈووکیٹ، ملک خالد اکمل ایڈووکیٹ۔ وکیل برائے سرکار ہمایوں اسلم، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل

صفحہ 1058

فیصلہ

جناب جسٹس عبدالسمیع خان

اپیل کنندگان، لیاقت علی اور عمر دراز پر پولیس سٹیشن جھنگ صدر میں بمطابق ایف آئی آر نمبر 166/2006 مورخہ 2006-03-21 زیر دفعہ C-295، تعزیرات پاکستان، فاضل سیشن جج جھنگ کی عدالت میں مقدمہ کی کارروائی کی گئی جس نے فیصلہ بمطابق مورخہ 27-03-2009، اپیل کنندگان کو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان مجرم ٹھہرایا اور انہیں سزائے موت سنائی۔ علاوہ ازیں ان میں سے ہر ایک کو 5,00,000 روپے (پانچ لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا گیا اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں پانچ برس قید بامشقت کی سزا بھی سنائی گئی۔ اپیل کنندگان نے خود کو مجرم ٹھہرانے اور دی گئی سزا کے خلاف فوجداری اپیل نمبر 145-J، سال 2009ء کے ذریعے اپیل کی جبکہ فاضل ماتحت عدالت نے زیر دفعہ 374 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپیل کنندگان کو دی گئی سزائے موت کی توثیق یا عدم توثیق کی خاطر فیصلہ عدالت ہذا کو بھجوایا جس کا حوالہ فیصلہ برائے سزائے موت نمبر 152، سال 2009ء ہے۔ چونکہ دونوں معاملات ایک ہی فیصلے مورخہ 2009-03-27 سے متعلقہ ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ محض اس فیصلے ہی کے ذریعے دونوں معاملات نمٹا دیے جائیں۔

آئی آر نمبر 166/2006 مورخہ 2006-03-21 کے مطابق مقدمہ ہذا کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ مورخہ 2006-04-17 کو ڈاکٹر ملازم حسین اور احمد نواز نے مدعی حافظ غلام حسین سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ مسمات خالدہ سعید دختر محمد سعید کی شادی ملزم عمر دراز سے تین

صفحہ 1059

برس قبل ہوئی تھی۔ ایف آئی آر کے اندراج سے تقریباً 3، 4 ماہ قبل عمر دراز نے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق گستاخانہ اور توہین آمیز کلمات بکنے شروع کر دیے۔ اس نے ریاض گوہر شاہی کو اپنا خدا قرار دیا۔ اس کی بیوی نے اسے اس توہین آمیز فعل سے روکا جس پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور بالآخر عمر دراز نے مورخہ 13-03-2006 کو مسمات خالدہ سعید کو طلاق دے دی۔ طلاق نامے میں ملزم عمر دراز نے خاص طور پر اس امر کا ذکر کیا کہ اس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ مسمات خالدہ سعید کا جہیز واپس کر دیا گیا جبکہ ملزم لیاقت علی کا ایک خط برآمد ہوا جس میں اس نے لکھا کہ گوہر شاہی کے ظہور پذیر ہونے کے بعد حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہو چکا ہے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بجائے ذکرِ ریاض (گوہر شاہی) کرنا چاہیے۔ اس نے شرمناک انداز میں لکھا (نعوذ باللہ من ذالک) کہ ریاض گوہر شاہی کے ایک پاؤں کے نیچے لفظ، اللہ ہے اور دوسرے پاؤں کے نیچے محمد کا نام ہے۔ مزید برآں، اس نے کہا کہ اللہ کے بجائے ریاض گوہر شاہی کی عبادت کرنی چاہیے۔

مورخہ 18-03-2006 کو صبح گیارہ بجے ڈاکٹر ملازم حسین اور احمد نواز کے ہمراہ مدعی نے ملزمان لیاقت علی اور عمر دراز سے ملاقات کی اور توہین آمیز و گستاخانہ مواد پر مشتمل دستاویزات (جس طرح اوپر ذکر کیا گیا) کے متعلق استفسار کیا۔ ملزمان نے مندرجہ بالا گستاخانہ اور توہین آمیز مواد کی ملکیت کو تسلیم کیا۔ ایک فوٹوسٹیٹ، جو ملزم لیاقت علی کے ہاتھ کی لکھائی میں تھی، اس کے سامنے پیش کی گئی جس نے اس پر اپنے دستخط ثبت کیے اور اس کے مندرجات کی تصدیق کی۔

وصول ہونے کے بعد ایس ایچ او پولیس سٹیشن، صدر جھنگ نے زیر دفعہ 295-C تعزیراتِ پاکستان، ایف آئی آر نمبر 166/2006 مورخہ 21-03-2006 درج کی۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش مرزا غفار بیگ، سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹی گیشن) نے کی اور زیر دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ایک رپورٹ تیار کی اور ماتحت عدالت کے روبرو پیش کر دی گئی۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت مطلوب قانونی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد، ماتحت عدالت نے مورخہ 26-04-2006 کو اپیل کنندگان کے خلاف فردِ جرم عائد کی جس کی صحت سے انہوں نے انکار کیا اور مقدمہ چلانے کی استدعا کی، اس لیے ماتحت عدالت نے ریکارڈ طلب

صفحہ 1060

کیا اور استغاثہ کو گواہی پیش کرنے کے لیے کہا۔

عدالت کے روبرو چھ گواہ پیش کیے۔ حافظ غلام حسین مدعی (گواہ استغاثہ نمبر 1)، ڈاکٹر ملازم حسین (گواہ استغاثہ نمبر 2) اور محمد سعید (گواہ استغاثہ نمبر 3) نے زبانی گواہی دی۔ رحمت اللہ، اے ایس آئی (گواہ استغاثہ نمبر 4) نے ایف آئی آر (Ex.PA/1) لکھی، غلام حسین ڈی ایس پی (گواہ استغاثہ نمبر 5) نے درخواست (Ex.PA) وصول کی جبکہ مرزا غفار بیگ، ڈی ایس پی، سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹی گیشن) نے اس تفتیش کی تصدیق کی جو اس کے ہاتھوں انجام پائی تھی، نیز اس نے گستاخانہ اور اہانت آمیز مواد (Ex.PE تا Ex.PG/1، Ex.PH اور Ex.PH/1) کو بمطابق ریکوری میمو (Ex.PB) اپنی تحویل میں لے لیا۔ استغاثہ کی گواہی مکمل ہونے کے بعد، زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپیل کنندگان، لیاقت علی اور عمر دراز کے بیانات فاضل ماتحت عدالت نے قلمبند کیے جن میں انہوں نے اپنے جرم کا اقرار کیا۔ جبکہ ایک سوال ”اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے متعلق تمہارا کیا موقف ہے“؟ کے جواب میں دونوں، اپیل کنندگان لیاقت علی اور عمر دراز نے مندرجہ ذیل بیان دیا:

”ریاض گوہر شاہی، اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ سے کہیں برتر اور افضل ہے۔ میرے عقیدے کے مطابق، تمہارے اللہ کا نام، ریاض احمد گوہر شاہی کے ایک پاؤں کے نیچے اور حضرت محمد کا نام، گوہر شاہی کے دوسرے پاؤں کے نیچے ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی نبوت، ایک خاص مدت کے لیے تھی اور ریاض گوہر شاہی، آئندہ تمام زمانوں کے لیے ہے۔ تاہم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔“

انہوں نے زیر دفعہ 340(2) مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے بیانات قلمبند کروانے پر رضا مندی ظاہر نہیں کی اور استغاثہ کے مقدمہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی گواہی پیش نہیں کی۔ بعد ازاں، فاضل لاء افسر نے زیر دفعہ 540 مجموعہ ضابطہ فوجداری، مسمات خالدہ سعید کو بطور گواہ طلب کرنے کے لیے ایک درخواست، فاضل ماتحت عدالت کے روبرو پیش کی۔ اس درخواست کی منظوری ہو گئی اور مسمات خالدہ سعید کا بیان، ماتحت عدالت

صفحہ 1061

نے بطور عدالتی گواہ، قلمبند کر لیا۔ مقدمہ ختم ہونے پر فاضل ماتحت عدالت نے اپنے فیصلہ مورخہ 27-03-2009 کے مطابق، اپیل کنندگان، لیاقت علی اور عمر دراز کو مجرم پایا اور انہیں سزا دی جس کی تفصیل اوپر درج پیرا نمبر ایک میں موجود ہے۔

اپیل کنندگان کو دی گئی سزا کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی درخواست محض یہ ہے کہ اپیل کنندگان کی سزائے موت کو اس بنیاد پر عمر قید میں تبدیل کیا جائے کہ اپیل کنندگان نے اپنی غلطی پر توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کر لی ہے اور اب وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ وہ مزید کہتا ہے کہ اب یہ معاملہ اللہ تعالیٰ اور اپیل کنندگان کے درمیان ہے، اس لیے ان کی سزاؤں کی مقدار کے متعلق نرمی کا اظہار کیا جائے۔

پر بیان کیا کہ گواہان استغاثہ کی اپیل کنندگان کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں کہ انہیں اس قسم کے ہولناک مقدمے میں ملوث کیا جائے۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ استغاثہ کے مقدمے میں شک کا شائبہ تک نہیں جب کہ دوران تفتیش اور پھر دوران مقدمہ، اپیل کنندگان کا رویہ اور طرزعمل، نیز، جس قسم کے جرم کے وہ مرتکب ہوئے، اس کی نوعیت کے مطابق اس جرم کی سزا، سزائے موت سے کم نہیں، اس لیے ان کی استدعا ہے کہ اپیل کنندگان کو دی گئی سزا کی توثیق کی جائے۔

فاضل وکیل کی گزارشات ملاحظہ کیں اور ان کی بخوبی معاونت کے ذریعے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا۔

تعزیرات پاکستان سزا دی گئی، اس لیے، جرم کی نوعیت پیش نظر رکھتے ہوئے، ہم نے دستیاب مواد کا بخوبی اور انتہائی احتیاط سے جائزہ لیا اور ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مدعی، حافظ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 1)، ایف آئی آر میں درج کہانی کو ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر 1 کی حیثیت سے اس کے بیان کو ڈاکٹر ملازم حسین (گواہ استغاثہ نمبر 2)، محمد سعید (گواہ استغاثہ نمبر 3) کے بیانات، حتیٰ کہ مسمات خالدہ سعید کی گواہی کے ذریعے توثیق حاصل ہوئی جسے ماتحت عدالت نے عدالتی گواہ کی حیثیت سے طلب کیا تھا۔ ہم نے صفائی کے وکیل کی طرف سے مدعی، حافظ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 1)، ڈاکٹر ملازم حسین (گواہ استغاثہ

صفحہ 1062

نمبر 2)، محمد سعید (گواہ استغاثہ نمبر 3) اور مسمات خالدہ سعید (عدالتی گواہ) پر کی گئی جرح کی بھی بغور چھان بین کی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اپیل کنندگان کے خلاف استغاثہ کی طرف سے عائد الزامات، ان گواہان سے پوچھے گئے سوالات کے ذریعے ثابت ہو گئے۔ ہم نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ صفائی کی طرف سے متذکرہ بالا گواہان، خاص طور پر مدعی، حافظ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 1) اور ڈاکٹر ملازم حسین (گواہ استغاثہ نمبر 2) کی طرف سے کسی بھی قسم کی مخاصمت، پرانی دشمنی، خاص مقصد یا پرخاش کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ اپیل کنندگان کے خلاف اس قسم کے ہولناک الزامات عائد کیے جائیں کیونکہ دوران جرح، ان گواہان سے ایک بھی سوال نہیں پوچھا گیا۔ اسی طرح، اپیل کنندگان کی طرف سے یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا کہ انہوں نے اپیل کنندگان کے خلاف اپنی پرانی دشمنی کی خاطر جھوٹی گواہی دی۔ گواہان استغاثہ اور عدالتی گواہ نے بھی کامیابی سے فاضل ماتحت عدالت کا اعتماد حاصل کیا اور عدالت ہذا کو بھی ریکارڈ پر موجود ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو استغاثہ کے موقف کے برعکس ہو یا اپیل کنندگان کے جرم کو غلط ثابت کرنے میں مفید ہو۔

نمبر 2)، محمد سعید (گواہ استغاثہ نمبر 3) اور مسمات خالدہ سعید (عدالتی گواہ نمبر 1) کی گواہی کے علاوہ استغاثہ نے عدالت کے روبرو اپیل کنندگان کی جانب سے تحریر کردہ گستاخانہ اور اہانت آمیز مواد بھی دستاویزات بشکل، ExPE تا ExPG اور ExPH پیش کیا۔ زیردفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، ان کے بیانات کے دوران اپیل کنندگان کو مندرجہ بالا دستاویزات دکھائی گئیں جنہوں نے نہ صرف اپنی لکھائی کی تصدیق کی بلکہ ان تحریروں میں موجود مواد پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ اپیل کنندگان کے عقیدے کی پختگی اس حقیقت سے مترشح ہے کہ انہوں نے زیردفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے بیانات قلمبند کراتے ہوئے بھی عدالت کے روبرو دانستہ اپنے گستاخانہ اور اہانت آمیز عقیدے کا اعادہ کیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اپیل کنندگان کو فاضل ماتحت عدالت کے حکم کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، فیصل آباد کے پاس بھجوایا گیا تا کہ ان کی اچھی ذہنی حالت، تندرستی اور زیردفعہ 465 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے دفاع کی صلاحیت کا تعین کیا جائے۔ اس ضمن میں، میڈیکل بورڈ، جس نے اپیل کنندگان، لیاقت علی اور عمر دراز کا طبی معائنہ کیا، کی رپورٹیں بھی

صفحہ 1063

عدالت کے روبرو بطور Ex.PK اور Ex.PL، دستیاب ہیں جن کے مطابق، اپیل کنندگان، ڈاکٹر امتیاز احمد ڈوگر، کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ کی زیر نگرانی، ہسپتال کے قیدیوں کے وارڈ میں رہے، جس نے اپیل کنندگان کے متعلق علیحدہ طور پر رپورٹیں پیش کیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

”اس ہسپتال میں لیاقت علی کے قیام کے دوران ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم اور نفسیاتی امراض کے وارڈ کے معالجین نے اس کا مسلسل معائنہ کیا۔ اس نے بہت اچھی طرح کھانا کھایا اور سویا، وہ اپنے ماحول سے بخوبی واقف اور مربوط تھا۔ ذہنی حالت کے معائنہ پر یہ معلوم ہوا کہ اس کی عمومی حالت، گفتگو اور مزاج بالکل ٹھیک تھے۔ اس کا ادراک، بصیرتی صلاحیتیں، انداز فکر اور آگہی وشعور، بالکل درست حالت میں تھے۔ اس کا پکا عقیدہ ہے کہ ایک مذہبی شخص خدا ہے جس نے کائنات تخلیق کی اور اس کائنات کا وہ انتظام وانصرام کرتا ہے۔ تاہم، اس کے عقیدے کو اس کے سماجی وتہذیبی پس منظر کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔“

اپیل کنندہ عمر دراز کے متعلق بھی ڈاکٹر امتیاز احمد ڈوگر کی یہی رائے تھی اور طبی ماہرین کی طرف سے یہ واضح رائے ظاہر کی گئی تھی کہ اپیل کنندہ کسی بھی قسم کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا نہیں اور اسے کوئی مرض بھی لاحق نہیں۔ یوں یہ امر روز روشن کے مانند واضح ہے کہ اپیل کنندگان نے بقائمی ہوش وحواس اور اپنے شیطانی فعل کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہوتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے پاک نام کی بھی بے حرمتی کی۔

خلاف ایف آئی آر کے اندراج سے قبل اور بعد میں بھی اپنے گستاخانہ اور اہانت آمیز افعال کا اعادہ کیا۔ پہلے انہوں نے اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ اور اہانت آمیز الفاظ مسمات خالدہ سعید (عدالتی گواہ) کے سامنے ادا کیے۔ پھر حافظ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 1)، ڈاکٹر ملازم حسین (گواہ استغاثہ نمبر 2)، محمد سعید (گواہ استغاثہ نمبر 3) اور احمد نواز (جس کی گواہی ترک کر دی گئی) کے روبرو بولے جن کے سامنے انہوں نے اپنے گستاخانہ اور اہانت آمیز مواد کا اعتراف کیا۔ اس لیے اپیل کنندہ، تفتیشی افسر (گواہ استغاثہ نمبر 6) کے روبرو، اپنے مکروہ عقیدے پر قائم رہے۔ صرف ایک دفعہ جب ان کے خلاف فرد جرم عائد کی جا رہی تھی، جب انہوں نے استغاثہ کے الزامات کی تردید کی، لیکن بعد ازاں مقدمہ کی کارروائی کے دوران اور زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بیانات قلمبند کرتے

صفحہ 1064

ہوئے ، انہوں نے واضح طور پر اپنے جرم کا اعتراف کیا۔حتیٰ کہ وہ اپنے طبی معائنے کے موقع پر طبی بورڈ کے روبرو بھی اپنا عقیدہ ظاہر کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ تاہم، زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، بیانات قلم کراتے ہوئے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کا اعتراف، جرم کے اقرار کے برابر ہے اور اس طرح، اپیل کنندگان، زیر دفعہ 412 مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت مطلوب، اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے عمومی حق سے محروم ہو گئے جو یوں ہے:

”412۔ جب ملزم اقبال جرم کرے تو کوئی اپیل نہ ہو سکے گی۔ بعض خاص مقدمات میں جب ملزم اپنے جرم کا اقرار کر لیتا ہے اور اسے ہائی کورٹ، سیشن جج کی عدالت کے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت نے اس قسم کے موقف پر سزا سنائی ہو تو پھر سزا کی مقدار یا قانونی نوعیت کے علاوہ دوسری کوئی درخواست قبول نہیں ہوگی۔“

مندرجہ بالا قانون کی دفعہ سے راہنمائی کی روشنی میں، عدالت ہذا کو محض اپیل کنندگان کو ماتحت عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کی مقدار اور قانونی حیثیت کا تعین کرنا ہے۔ تاہم، ایف آئی آر (Ex.PA/1) میں مندرج ہولناک الزامات کی روشنی میں، ہمارے نزدیک مناسب یہی تھا کہ تمام مقدمے پر نظرثانی کی جائے اور اس عمل کے ذریعے ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ نے کامیابی سے اپیل کنندگان کے خلاف اپنا مقدمہ بلاشک وشبہ، ثابت کر دیا ہے بلکہ زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری، اپنے بیانات کے دوران اپیل کنندگان کی طرف سے اعتراف جرم کے باعث استغاثہ کے موقف کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔

پاکستان کی شق 295-C میں موجود ہیں:

”جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی، تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر بہتان تراشی کرے یا رسول کریم حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت یا سزائے عمر قید دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔“

اگرچہ اس جرم کی دو سزاؤں، یعنی (1) موت، یا (2) عمر قید، اور ان کے علاوہ جرمانے کا بھی اس میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ

صفحہ 1065

وفاقی شرعی عدالت نے مقدمہ بعنوان ”محمد اسمعیل قریشی بنام حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور“ (PLD 1991 Federal Shariat Court 10)، میں جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کی سزا عمر قید کو پہلے ہی اسلامی احکامات کے خلاف قرار دے دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے 30 اپریل 1991ء تک قانون کی کتاب سے حذف کیا جائے۔ مزید برآں، فاضل وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کو معزز سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے بھی برقرار رکھا ہے جو مقدمہ بعنوان ”الیاس مسیح مونم، ایڈووکیٹ و دیگر بنام حکومت پاکستان ودیگر“ میں حال ہی میں دیا گیا۔ (PLD 2014 Federal Shriat Court 18)۔ فاضل فیڈرل شریعت کورٹ نے مندرجہ ذیل فیصلہ دیا۔

”اس قانونی مسئلہ کے متعلق کوئی اعتراض اور حجت نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203-D کی شق 3(b) کے مطابق، کوئی قانون یا شق جس کی حد تک یہ سمجھا جائے کہ یہ اسلام کے حکم کے متصادم ہے، یہ قانون یا شق، اسی دن سے غیر موثر ہو جائے گی جس دن سے عدالت کا فیصلہ موثر ہوتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ بمطابق مورخہ 30-10-1990، زیر دفعہ جرم 295-C تعزیرات پاکستان، کو قرآن پاک اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے حکم کے متصادم قرار دیا اور حکم دیا کہ اسے 30 اپریل 1991ء تک حذف کر دیا جائے۔ جو اپیل، فیڈرل شریعت کورٹ کے مندرجہ بالا فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی، اسے بھی مورخہ 19-05-1991 کو سپریم کورٹ کی فیڈرل شریعت کورٹ نے مسترد کر دیا۔ مندرجہ بالا قانونی حیثیت کو فیڈریشن نے سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے ذریعے مورخہ 04-10-2013 کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے ذریعے واضح طور پر تسلیم کر لیا جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ، اس حد تک قابل نفاذ ہے کہ زیر دفعہ 295-C، عمر قید کی سزا اس تاریخ سے حذف کی جائے جس دن 30-04-1991 سے فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ موثر ہوا ہے۔ تاہم، فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ، حتمی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے، سزا، یعنی، عمر قید جس کا تعلق زیر دفعہ 295-C جرم کے ارتکاب سے ہے، وہ 30-04-1991 سے غیر موثر ہو چکی ہے۔ نتیجے کے طور پر، سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف و انسانی حقوق،

صفحہ 1066

حکومت پاکستان، اسلام آباد کو عدالت کے فیصلے مورخہ 30-10-1990 پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کے لیے مناسب اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسے یہ امر یقینی بنانا ہو گا کہ سزا، زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان، کو تعزیرات پاکستان کے علاوہ قانون کی متعلقہ کتب میں سے بھی حذف کیا جائے اور رجسٹرار ہائی کورٹس کو ہدایت کی جائے کہ اسے پاکستان کے تمام جوڈیشل افسروں کو بھجوا دیا جائے۔ اس ضمن میں ایک رپورٹ، سیکرٹری، وزارت قانون، انصاف اور انسانی حقوق، حکومت پاکستان، اسلام کی طرف سے دوماہ کے اندر پیش کی جائے گی۔‘‘

اندریں حالات، موت کا جملہ ہی واحد سزا ہے۔ اگرچہ اپیل کنندگان کے فاضل وکیل نے کہا کہ اپیل کنندگان نے اپنی غلطی پر توبہ کا اظہار کیا ہے اور اپنے عقائد کی اصلاح کر لی ہے اور اب وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ اس ضمن میں یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مقدمہ ہذا، مورخہ 21-03-2006 کو اپیل کنندگان کے خلاف درج کیا گیا اور مورخہ 27-03-2009 کو فاضل ماتحت عدالت کی طرف سے فیصلہ سنایا جانے تک، ان کے فاضل وکیل کی طرف سے کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔ آخری مرحلے پر اپیل کنندگان کے فاضل وکیل کی جانب سے اعتراض، اپنے موکلان کو بچانے کی بے سود کوشش کے علاوہ کچھ نہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے انتہائی قابل اعتراض افعال کے نتائج سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ گستاخانہ اور اہانت آمیز کلمات کہنے، توہین آمیز مواد لکھنے اور حضور نبی اکرم ﷺ اور اللہ تعالیٰ کی بے حرمتی کرنے پر مبنی الزامات، مدعی حافظ غلام حسین (گواہ استغاثہ نمبر 1)، ڈاکٹر ملازم حسین (گواہ استغاثہ نمبر 2)، محمد سعید (گواہ استغاثہ نمبر 3)، مسمات خالدہ سعید (عدالتی گواہ نمبر 1) کے بیانات سے ثابت ہو چکے ہیں، نیز ان الزامات کا اعتراف اپیل کنندگان، لیاقت علی اور عمر دراز نے بھی کر لیا ہے۔ اس لیے اپنے ناقابل برداشت افعال کے ذریعے اپیل کنندگان نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پیروکاروں کے مذہبی احساسات کو شدید طور پر مجروح کیا ہے۔ وہ اپنے توہین آمیز افعال پر قائم رہے اور یہ حقیقت واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا، اس پر انہیں کوئی پشیمانی نہیں۔ اس لیے ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ فاضل ماتحت عدالت نے انتہائی درست طور پر اپیل کنندگان لیاقت علی اور عمر دراز کو سزا دی ہے اور وہ اس سزا کے ضمن میں کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اس

صفحہ 1067

لیے اپیل کنندگان، کو فاضل ماتحت عدالت کی طرف سے زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان مع ادائیگی (ہر اپیل کنندہ کو) جرمانہ مالیتی 5,00,000 روپے (مبلغ پانچ لاکھ روپے)، اور جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں پانچ برس قید بامشقت کی سزا کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

2009ء کو مسترد کیا جاتا ہے۔ سزائے موت کے فیصلہ نمبر 152 سال 2009ء کی توثیق کی جاتی ہے اور اپیل کنندگان، لیاقت علی اور عمر دراز کی سزائے موت کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

دستخط جسٹس عبدالسمیع خان جسٹس جیمز جوزف لاہور ہائی کورٹ، لاہور

تاریخ فیصلہ 17 ستمبر، 2015ء

صفحہ 1068
صفحہ 1069

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

اکرم عربی بنام سرکار، فروری 1989ء

(درخواست ضمانت)

صفحہ 1070
صفحہ 1071

دل کی بات

بہت عرصہ پہلے لاہور میں مینار پاکستان سے راوی پل کی طرف جاتے ہوئے راستے میں دائیں جانب ایک عمارت پر ”محمڈن اوپن شرعی یونیورسٹی“ کا بورڈ آویزاں نظر آیا کرتا تھا۔ پھر یہ بورڈ ”جامعۃ القرآن“ بن گیا اور قبل ازیں یہ کبھی ”ادارہ عالمی تحریک حکمت و طب مشرق و اسلام پاکستان (رجسٹرڈ)“ ہوا کرتا تھا۔ پھر اخبارات میں ”محمدیہ شریعت محاذ الپاکستان“ اور ”مدرسہ آف قرآنی قانون“ کے نئے نئے ناموں سے تسلسل کے ساتھ اشتہارات چھپنے لگے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ امت مسلمہ کے خلاف ایک نہایت گھناؤنی سازش ہے اور اس کا سربراہ اکرم عربی نامی آدمی ہے۔ اس بدباطن شخص کی تمام گمراہ کن کتابیں اور لٹریچر حاصل کیا گیا۔ اس کی تمام کتابوں اور لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ شخص بہت بڑا گستاخ رسولؐ اور گستاخ اسلام ہے۔ یہ شخص اخباری اشتہار بازی کے ذریعے اپنا لٹریچر اور کتابیں فروخت کر کے نہ صرف دولت اکٹھی کرتا ہے بلکہ عامتہ المسلمین کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ اس شخص کے کفریہ عقائد ملاحظہ کیجیے!

میں منقسم کرنا لاحق ہوا۔ اس طرح آدمؑ اور ابلیس اور کل ملائکہ تخلیق پا گئے۔ پھر دو اقسام کی مخلوق بہشت میں نہ ٹھہر سکی جس کے لیے ...... اللہ کو الارض بنانا پڑی“۔ (”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ از اکرم عربی، ص: 12)

واقعہ معراج النبی کی رد اور ”سدرۃ المنتھیٰ“ انتہائے حد پر بیری کے درخت کے پاس حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں نبی کریم ﷺ کے دیکھنے کے قرآنی بیان پر ایمان رکھنے والے علماء امت اور آئمہ دین کو یونانی یہودی کہنے کے بعد لکھا ہے:

ساتویں آسمان پر اپنے محلات میں رہتا ہے۔ ملائکہ کے ذریعے فعال ہے۔ انسان مٹی کا پتلا

صفحہ 1072

ہے ۔ جب اللہ چاہتا ہے کہ اپنا نبی بھیجے تو زمین پر آ کر کسی خوبصورت لڑکی سے ............ کرتا ہے۔ (نعوذ باللہ) مسلمانوں کے نزدیک اللہ، اولیاء اللہ، انبیاء کی شکل میں دنیا میں ہی رہتا ہے اور ہر ایک کی بات سنتا اور دیکھتا ہے‘‘۔ (محمد کا معراج وقوعی نہیں‘‘ ص: 21)

شے کا مبداء یا خام مادہ تسلیم کیا جائے“۔ (”کتاب الشریعت‘‘ ص: 18)

ساز، معبود، منصف، فلسفی اور مددگار نہیں۔ اشهد ان محمد رسول الله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ محمد کی شکل دھار کر علاج کرتا ہے، کارساز ہے، معبود ہے، منصف ہے، فلسفی اور مددگار ہے“۔ (نعوذ باللہ) (”کتاب الشریعت‘‘ ص: 38)

(”محکمہ صحت زکوۃ روانہ کرے یا جزیہ ادا کرے‘‘ ص: 1)

(”کتاب الشریعت‘‘ ص: 15)

(”قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق‘‘ ص: 15)

(”قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق‘‘ ص: 15)

(”قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق‘‘ ص: 15)

حدیث کا حصول اسلام میں ممنوع ہے“۔ (”حادثہ الحدیث‘‘ ص: 4)

صفحہ 1073

(”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ ص: 24)

احادیث کا حائل ہونا مضحکہ خیز ہے“۔ ”قرآن سے احادیث کے نظریات کو دور ہٹایا جائے“۔

(اشتہار شائع شدہ در اخبارات)

مچے ہے ہنگامہ عابدوں کی مساجد میں پنجگانہ
پشیماں ہیں ملائکہ کہ عبادت کا سر شان محمد میں نہیں

(”عید الفطر کے مسائل“ ص: 2)

ہے جبکہ مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ کی جگہ کسی دیگر کی اطاعت کفر ہے۔ یعنی اسوۂ حسنہ کو ہم رسول کی جگہ پیش نہیں کر سکتے بلکہ اسلام میں یہ کفر ہے“۔ - (”حادثہ الحدیث“ ص: 18)

قرآن مجید کی آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ کا ترجمہ اور تفسیر قرآن کریم کی مشہور اور قدیم تفسیر ”ابن کثیر“ سے نقل کرنے کے بعد ”حادثہ الحدیث“ کے صفحہ 20 پر لکھا ہے:

سے مطابقت رکھتا ہے لیکن تفسیر قرآن کے الفاظ سے بالکل متضاد ہے۔ تفسیر میں صریحاً دعویٰ کر دیا گیا ہے کہ رسول کے جسم اقدس کی بجائے رسول کے اقوال، افعال اور احوال قابل اطاعت ہیں“۔

لیے مقرر ہے۔ یہ حکم محمدﷺ نے نافذ العمل نہیں رکھا۔ اس لیے اس کی تشریح بھی محدود زمانہ تک مخصوص نہیں بلکہ لامحدود ہے“۔ - (”حادثہ الحدیث“ ص: 24)

اللسان کی رو سے کلمہ توحید نہیں“۔ - (”کتاب الشریعت“ ص: 17)

سلسلے کا تحتی غوث ہی کیوں نہ ہو“۔ - (”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ ص: 10)

صفحہ 1074

محدث دہلوی کو یونانی قرار دے کر ان کا تذکرہ اور واقعہ معراج گھڑنے کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے لیے عذاب قبر اور اس میں مسلسل اضافے کا عقیدہ (تفصیلی عبارت سے ملخص)

(”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ ص: 7-8)

(”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ ص: 3)

توحید وسنت اور شیعہ وغیرہ میں سے کسی کے پاس نہیں ہے“۔ (”کتاب الشریعت“ ص: 15)

حضور نبی کریمؐ کے واقعہ معراج پر ایمان رکھنے والے تمام علماء ومحدثین کرام مفسرین قرآن اور آئمہ دین کا یونانیوں کے بطور تذکرہ کر کے لکھا ہے:

سمجھ کر چوروں کے گزوں ہی سے پیمائش کرتے ہیں۔ یونانی چورو! مسلمانوں کے ہاں جس کا گز کپڑے سے بڑھ جائے، اس کے ہاتھ اور زبان دونوں کاٹ دیتے ہیں تاکہ آئندہ وہ ایسی چوری نہ کرے“۔ (”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ ص: 20-21)

میں یونانی مذہب کا عقیدہ ہی پیش کیا گیا ہے۔ کیونکہ رازی، ابن رشد، ابن خلدون، ابن ماجہ اور دیگر سب یونانی مذہب کے لوگ ہیں اور رسول کے حادث ہونے کی بجائے رسول اللہ کے حدیث ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں میں یہ کفر ہے“۔ (”حادثہ الحدیث“ ص: 20)

نماز ادا کر دیتے ہیں جو 1857ء میں یونانی اداروں نے محمدی الصلوٰۃ کی کتاب نذر آتش کرنے کے بعد یونانی شریعت کی ترویج کے لیے دعائیہ الصلوۃ میں السلام علیک ایھا النبی رحمۃ اللہ و برکاتہ اور درودی سلامتی بھیج کر رحمت للعلمین محتاج دعا اور عیسیٰ علیہ کو سرچشمہ دعا ثابت کیا گیا ہے“۔ (اخباری اشتہار اقامت صلوۃ)

(کتاب الشریعت“ ص: 67)

صفحہ 1075

(”محمدؐ کا معراج وقوعی نہیں“ ص:130)

نماز میں قعدہ کے موقع پر نبیؐ پر السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ کے جملے ادا کرنا کفر ہے۔ (”حادثہ الحدیث“ ص:32)

کتاب ہے۔ اس لیے اس کتاب کے کلیات کے متعلق حکماء ہی کو علم ہوتا ہے۔

ترجمہ ”یہ کتاب علاج معالجہ کے قوانین کی واضح کتاب ہے، پھر اس کے نسخے ایک خبردار معالج سے ترتیب دیے گئے“۔

سنت کے معنی کسی ٹھوس وجود کے ہوتے ہیں...... فھل ینظرون الا سنت الاولین ترجمہ ”پس کیا تم نے پہلوں کی مشاہداتی شکل نہیں دیکھی؟“

دے دیا ہے۔ ہندو ، عیسائی اور یہودی کہتے ہیں کہ قرآن سمجھنے کے لیے حدیث لازم ہے۔ حدیث کے معنی نظریہ یا کلیہ یا محض عبارت کے ہوتے ہیں۔ یونانی کہتے ہیں احادیث بھی قرآن کی طرح حفظ ہو جاتی ہیں۔ سینکڑوں حفاظ حدیث انہوں نے چھوڑ رکھے ہیں۔

بنانے والے وقفے میں نازل کیا ہے۔ یا محمد! آپ کیا سمجھے ہیں کہ لیلۃ القدر یعنی السماء یا خلاء کو ٹھوس یا نور بنانے والا وقفہ آپ ہی تو ہیں“۔

آئینی ثبوت ہیں“۔

صفحہ 1076

اکرم عربی مندرجہ ذیل اداروں کے نام سے عوام کو لوٹتا رہا۔

اس کے علاوہ اس شخص نے حکمت کی رجسٹریشن، علامہ کورس، قاضی کورس، وکیل کورس کرانے کے بہانے سادہ لوح لوگوں سے لاکھوں روپیہ بٹورا۔

علاوہ ازیں ”اقامت الصلوٰۃ منوائیں“ اور ”احادیث کو قرآن سے دور ہٹایا جائے“ کے عنوان سے اپنے گمراہ کن عقائد پھیلاتا رہا۔

اکرم عربی کے ان کفریہ عقائد کی تبلیغ و اشاعت کے نتیجے میں ہفت روزہ خدام الدین لاہور کے ایڈیٹر اور جامع مسجد نورانی قلعہ محمدی کے خطیب مولانا عبدالرشید انصاری صاحب کی درخواست پر اکرم عربی کے خلاف تھانہ راوی روڈ لاہور میں ایف آئی آر نمبر 504 بتاریخ 13 اکتوبر 1988ء کو A-295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور بعد میں تفتیش کے دوران ملزم کی تمام کتابوں اور لٹریچر میں درج توہین رسالت ﷺ کی عبارات پائی گئیں تو ایک ضمنی کے ذریعے تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کا اضافہ کیا گیا۔ ملزم نے سیشن کورٹ میں ضمانت کی درخواست دی جسے عدالت نے سماعت کے بعد منظور نہ کیا۔ بعد ازاں ملزم اکرم عربی نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی، جسے جناب جسٹس سردار محمد ڈوگر نے سماعت کے بعد خارج کر دی۔

سیشن کورٹ کی عدالت میں دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر ایڈیشنل سیشن جج

صفحہ 1077

جناب حکیم سید اختر ارشاد نے اپنے 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں، ملزم اکرم عربی کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کے الزام میں عمر قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ A-295 کے تحت ملزم کو 2 سال قید سنائی گئی۔ اس فیصلہ کے خلاف ملزم نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی، جسے عدالت نے خارج کر دیا۔

اکرم عربی کوٹ لکھپت جیل میں تھا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے ساہیوال جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ اکرم عربی کے جیل جانے کے بعد اس کے کارندوں نے اکرم عربی کی ہدایت پر باقاعدہ دفتر کھول کر لوگوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ علاقہ کے علماء کا ایک وفد اسسٹنٹ کمشنر سٹی جناب ذوالفقار علی نور صاحب سے ملا اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا۔ اے سی صاحب نے مجسٹریٹ تھانہ نیو انارکلی نصر اللہ اقبال صاحب کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ محافظ پلازہ نیو انارکلی جا کر فی الفور چھاپہ مار کر متعلقہ افراد کو گرفتار کریں جو جعلی سندوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب بھی کر رہے ہیں۔ لہٰذا علاقہ مجسٹریٹ نے عملہ تھانہ انارکلی کی معیت میں چھاپہ مار کر اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ میاں سلطان احمد کی اطلاع پر مجسٹریٹ کی طرف سے درج کی جانے والی ایف آئی آر نمبر 102/89 بتاریخ 29 مئی 1989ء تھانہ نیو انارکلی لاہور کے مطابق پولیس نے مجسٹریٹ کی معیت میں محافظ پلازہ مین بازار نیو انارکلی کی چوتھی منزل پر دکان نمبر 417 پر ریڈ کیا اور وہاں سے دو ملزمان مقصود احمد ولد نذر احمد، قوم ملک ، ساکن ڈاک خانہ والی فاروق آباد ضلع شیخو پورہ اور محمد شفیع ولد محمد اشرف، ساکن حمید پور، نارنگ منڈی کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے بتایا کہ وہ اکرم عربی کے ملازم تھے اور یہ ادارہ حسب ہدایت اکرم عربی چلا رہے تھے جو چند دن ہوئے محافظ پلازہ میں منتقل ہوا۔ ملزمان کے خلاف گستاخ رسول اکرم عربی کی ایماء پر ادارہ کو چلا کر غیر اسلامی اشتہارات، غیر اسلامی کتب شائع کرنے، فروخت کرنے، جعلی اسناد چھپوا کر جاری کر کے دھوکہ دہی، جعل سازی اور دغا بازی، عوام کے جذبات مجروح کر کے اور لوٹ کر A-295، 468، 420 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق اکرم عربی کی کتابیں، پمفلٹ، اشتہارات، سرٹیفکیٹ، جعلی اسناد وغیرہ قبضے میں کر لی گئیں۔

قارئین کرام! میری انتہائی کوشش کے باوجود مجرم اکرم عربی کے خلاف سیشن کورٹ کا فیصلہ دستیاب نہ ہوسکا۔ غالب امکان یہی ہے کہ سیلاب کے دنوں میں ضلع کچہری میں پانی

صفحہ 1078

آجانے کے باعث جو ریکارڈ ضائع ہوا، اس میں اس کیس کی مکمل فائل بھی شامل تھی۔ ہماری کوشش جاری ہے، اگر یہ فیصلہ دستیاب ہو گیا تو اسے کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں شامل کر لیا جائے گا۔ سردست مجرم اکرم عربی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا اردو ترجمہ دیا جا رہا ہے جس میں عدالت عالیہ نے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کی ہے۔ اس فیصلہ کو پڑھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ مجرم اکرم عربی کن خبیثانہ اور گستاخانہ افعال کا مرتکب ہوا۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد لاہور ۞.......۞.......۞

صفحہ 1079

لاہور ہائی کورٹ لاہور

اکرم عربی بنام سرکار

ابتدائی معلومات

عنوان مقدمہ : علامہ اکرم عربی بنام سرکار فوجداری اپیل نمبر : 3838 / B / 1988 تاریخ سماعت : 12 فروری 1989ء تاریخ فیصلہ : 12 فروری 1989ء

وکیل برائے مدعی : رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ وکلا برائے سرکار : نجم الزماں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، الطاف محمد خان، مرزا عبدالمجید وکیل برائے ملزم : عبدالوحید بٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

صفحہ 1080

فیصلہ

جناب جسٹس سردار محمد ڈوگر

ایف آئی آر مقدمہ نمبر 504 مندرج بر پولیس سٹیشن راوی روڈ لاہور ، مورخہ 13-10-1988 کے حوالے سے عبدالرشید انصاری کی طرف سے پیش کی گئی درخواست کے مطابق اپیل کنندہ ضمانت کے حصول کا خواہش مند ہے۔ یہ مقدمہ بنیادی طور پر زیر دفعہ A-295، تعزیرات پاکستان، درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں تفتیش کے مختلف مراحل پر دفعات C-295 اور B-295 شامل کی گئیں۔ ان تینوں جرائم میں ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

کیے جہاں اس کی تحریر اور شائع کردہ کتب کی تعلیمات میں سے مواد پڑھایا جاتا ہے جس کی بنیاد گمراہ کن نظریات ہیں اور اس ضمن میں قرآنی آیات کی اس طرح تشریح کی جاتی ہے جس سے گمراہی کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کچھ احادیث اور سنن کی اس طرح تشریح کی ہے کہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں توڑ مروڑ کر بیان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں خدشات ، مایوسی اور اختلافات پیدا ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں معراج النبی کے متعلق اس نے خاص حوالے دیے ہیں۔

پڑھائی جا رہی ہیں جو مبینہ طور پر اپیل کنندہ کی طرف سے طلبہ کے لیے قائم کیے گئے۔ ان کتابوں کی تحریر اور اشاعت کے متعلق ثبوت اکٹھا کیا گیا ہے۔

(1) حادثہ الحدیث (2) کتاب الشریعت بالتقویم (3) علم الفسد (4) فلسفہ میزان

صفحہ 1081

الحکمت (5) میزان الحکمت (6) علم القانون (7) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج وقوعی نہیں ہے (8) محمدی قانون سطح اول۔

فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کچھ مندرجہ ذیل کتب میں سے اقتباسات پڑھے: (1) کتاب الشریعت (2) حادثہ الحدیث (3) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج وقوعی نہیں ہے (4) شرح الشمس (5) محمدی قانون سطح اول

استغاثہ کے مقدمہ کی معاونت کے لیے جس کے باعث امت المسلمین میں انتہائی مایوسی اور اشتعال پیدا ہوا۔ اس نے یہ بھی استدعا کی کہ ڈی ایس پی، جو اب مقدمہ کی تفتیش کر رہا ہے، نے مندرجہ ذیل کتب کے کاتبوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں: حادثہ الحدیث۔ فلسفہ میزان الحکمت۔ میزان الحکمت۔ کتاب الشریعت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج وقوعی نہیں۔

ان طلبہ کے بیانات، جو اس کی طرف سے قائم کردہ اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جنہیں ان کتابوں میں سے پڑھایا جاتا تھا، بھی پولیس نے قلمبند کیے ہیں۔ اس کے مطابق، کچھ مذہبی شخصیات کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں جن میں انہوں نے اپیل کنندہ کی طرف سے تصنیف اور شائع کردہ کتب میں کچھ قابل اعتراض اقتباسات کی طرف اشارہ کیا ہے، جن میں اسلامی عقائد کی بے حرمتی کی گئی ہے جس کے باعث عام مسلمانوں میں بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔

کیں یا وہ کوئی ایسی چیز پڑھا رہا ہے جو غیر اسلامی ہے اور مایوسی کے علاوہ بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔ فاضل وکیل نے استدعا کی کہ علم الفسد اور علم القانون کے علاوہ کوئی دیگر کتاب بھی اپیل کنندہ نے نہ تو تحریر کی اور نہ شائع کی۔ اس ضمن میں اس نے ایک بیان حلفی پیش کیا جس کی بخوبی تصدیق کی گئی ہے اور اس کے ذریعے اپیل کنندہ نے قسم کھائی ہے۔ اس کی استدعا ہے کہ کچھ مفاد پرست لوگ جن میں مدعی بھی شامل ہے، اپیل کنندہ کا ذاتی وجوہ کی بنا پر پیچھا کر رہے ہیں۔ اس نے بھر پور انداز میں موقف اختیار کیا کہ جو کچھ اپیل کنندہ سے منسوب کیا گیا ہے، اپیل کنندہ نہ صرف اس کی تردید کرتا ہے بلکہ یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ ان کتب میں

صفحہ 1082

مذکور نظریات کو بھی وہ غلط سمجھتا ہے۔

5-A- اگرچہ اپیل کنندہ نے دوران تفتیش پولیس کی طرف سے تحویل میں لی گئی کتب کی تحریر یا ان کی اشاعت سے انکار کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپیل کنندہ کے قائم کردہ اداروں میں سے وہ بے شمار کتب برآمد ہوئی ہیں؛ مزید یہ کہ وہاں پڑھنے والے طلبہ نے بھی بہت سی کتابیں پیش کی ہیں اور بیانات بھی دیے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، تفتیشی افسر کی طرف سے یہ ثبوت حاصل کر لیا گیا ہے جس کے باعث اپیل کنندہ کا ان کتب سے بطور مصنف اور ناشر، خطیبوں اور ناشر کے بیانات کی شکل میں تعلق ثابت ہوتا ہے۔

-6 مذکورہ بالا کچھ کتب سے اقتباسات، فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے پڑھے، قابل اعتراض محسوس ہوتے ہیں۔ جب تک ان کی تردید نہیں کی جاتی ، ان نظریات کے باعث امت مسلمین میں مایوسی اور اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپیل کنندہ کے فاضل وکیل نے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے پڑھے گئے اقتباسات کے متعلق کچھ کہنے سے معذوری ظاہر کی جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ان کتب میں سے ہیں جن کا مصنف اور ناشر اپیل کنندہ ہے۔ اس کا موقف محض یہ ہے کہ اپیل کنندہ ، نہ تو ان کتب کا ناشر ہے اور نہ ہی اس نے یہ کتابیں چھاپیں اور شائع کیں۔

دوران تفتیش، اپیل کنندہ کے خلاف ڈی ایس پی کی جانب سے اکٹھے کئے گئے ثبوت کے پیش نظر، اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ اس جرم میں ملوث ہونے کے حوالے سے اپیل کنندہ کے خلاف مناسب ثبوت موجود نہیں جس پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اس لیے ضمانت کے حصول کے لیے اس کی اپیل، استحقاق نہ رکھنے کے باعث مسترد کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس سردار محمد ڈوگر 12 فروری 1989ء لاہور ہائی کورٹ، لاہور

(1989 MLD 847 Lahore)

۞.......۞.......۞

صفحہ 1083

QADYANIAT IN THE EYES OF LAW

فتنۂ قادیانیت کے خلاف

عدالتی فیصلے

محمد متین خالد

کردار ادا کیا۔

ہر نقاب کو اُلٹ دیا۔

دیکھ کر بلبلا اُٹھے۔

یہ عدالتی فیصلے

تحریف، شعائر اسلامی کا تمسخر، آئین کا مذاق اور قانون کی خلاف ورزیوں کا وہ حقائق نامہ ہے جس نے ہر قادیانی کو رسوائے زمانہ گستاخ رسول ”سلمان رشدی“ قرار دیا ہے۔

کے لیے ایک راہنما کتاب کا کام دیں گے۔

ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے

صفحہ 1084

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

١٣٩٣ حامد

اتّحادِ بَینَ المُسلِمِین

وقت کی اہم ترین ضرورت

سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی ایک فکر انگیز اور توجہ طلب تحریر

جو آپ سے تنہائی میں بیٹھ کر مطالعہ کرنے کی دردمندانہ التجا کرتی ہے!

محمّد متین خالد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

نسیم منزل، ریلوے روڈ، ننکانہ صاحب

0300-8572511, 0300-4839384

PDF 1086

BLASPHEMY IN THE EYES OF LAW

توہین رسالتﷺ کے مرتکبین

کے خلاف سیشن کورٹس

کے یادگار فیصلے

یہ تاریخی فیصلے

ترتیب وتحقیق: محمد متین خالد

دلائل و براہین سے مزین یہ فیصلے عدل و انصاف کی دنیا میں ایک درخشندہ سنگ میل کی علامت ہیں۔ ان فیصلوں سے تحفظ ناموس رسالتﷺ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں اور محبت رسولﷺ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قانون توہین رسالتﷺ سے متعلق ان تمام غلط فہمیوں اور اعتراضات کا ازالہ ہوگا جنہیں عیسائی اور قادیانی کئی دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلا رہے ہیں اور جن کی اندھی تقلید میں مخالفت برائے مخالفت کے پیروکار قانون شکن سیکولر فاشسٹ، ڈالر ایڈڈ این جی اوز اور اسلام بیزار نام نہاد دانشور بھی سُر سے سُر ملاتے نظر آتے ہیں۔ یہ عدالتی فیصلے ججوں، سیاستدانوں، آئین شناسوں، وکیلوں، صحافیوں، دانشوروں، علما اور طالب علموں کے لیے ایک رہنما دستاویز کا کام دیں گے۔ ان فیصلوں کا ایک ایک لفظ پڑھنے والوں کی شریانوں میں دوڑنے والے خون کی ایک ایک بوند میں حیات ابدی کا شعلہ بیدار کرتا ہے۔

پڑھیے اور تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے آگے بڑھیے! شفاعت محمدیﷺ آپ کی منتظر ہے!

مرکز سراجیہ ختم نبوت لائرز فورم

گلی نمبر 4، اکرم پارک غالب مارکیٹ گلبرگ III لاہور Tel: 042 35877456 Cell: 0321 7044744