رَدِّ قادیانیّت
رسائل
o حضرت مولانا عبدالحی کوہاٹی o جناب صفوۃ الرحمٰن
o حضرت مولانا سلطان محمود دہلوی o جناب عبدالرحیم قریشی
o حضرت مولانا سید محمد اویس سکروڈھوی o حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد سپروی
o حضرت مولانا عتیق الرحمٰن آروی o حضرت مولانا مفتی محبوب حسانی مظاہری
o حضرت مولانا محمد حسین سہروردی
احتساب قادیانیّت
جلد ٥١
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061
رَدِّ قادیانیت
رسائل
احتسابِ قادیانیت
٥١
● حضرت مولانا محب النبی کوہاٹیؒ ● جناب صفوۃ الرحمٰن
● حضرت مولانا سلطان محمود دہلویؒ ● جناب عبدالرحیم قریشیؒ
● حضرت مولانا سید محمد اویس سکردھویؒ ● حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد پوریؒ
● حضرت مولانا عتیق الرحمٰن آرویؒ ● حضرت مولانا مفتی محبوب ہمدانیؒ
● حضرت مولانا محمد یٰسین سرحدیؒ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اکاون (٥١) مصنفین : حضرت مولانا عبد الحی کوہاٹیؒ حضرت مولانا سلطان محمود دہلویؒ حضرت مولانا سید محمد اویس سکرودھویؒ حضرت مولانا عتیق الرحمٰن آرویؒ جناب صفوۃ الرحمٰن جناب عبد الرحیم قریشیؒ حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد سپردویؒ حضرت مولانا مفتی محبوب سبحانی واعظ حضرت مولانا محمد حسین سرحدیؒ
صفحات : ٥٦٨ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : مئی ٢٠١٣ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!
فہرست رسائل مشمولہ..... احتساب
- ☆....... عرض مرتب حضرت مو
- ١....... آئینہ مرزا، یا مرزائی ناول حضرت مو
- ٢....... ضرورت رسالت (حصہ اوّل) حضرت مو
- ٣....... ضرورت رسالت (حصہ دوم) //
- ٤....... صدع النقاب عن جسامة الفنجاب حضرت مو
- ٥....... اسلام اور مرزائیت حضرت مو
- ٦....... فتنہ قادیانیت جناب صفو
- ٧....... قادیانی مسلمان نہیں؟ جناب عبد
- ٨....... آسمانی کڑک حضرت مو
- ٩....... کارزار قادیان حضرت مو
- ١٠....... کلمہ حق حضرت مو
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !
فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٥١
☆...... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ٤ ١...... آئینہ مرزا، یا مرزائی ناول حضرت مولانا عبدالحئی کوہاٹیؒ ٧ ٢...... ضرورت رسالت (حصہ اوّل) حضرت مولانا سلطان محمود دہلویؒ ٢٥١ ٣...... ضرورت رسالت (حصہ دوم) // // // ٢٩٥ ٤...... صدع النقاب عن جساسة الفنجاب حضرت مولانا سید محمد اویس سکروڈھویؒ ٣٣٣ ٥...... اسلام اور مرزائیت حضرت مولانا عتیق الرحمٰن آروئیؒ ٣٧١ ٦...... فتنہ قادیانیت جناب صفدر الرحمٰن ٤١١ ٧...... قادیانی مسلمان نہیں؟ جناب عبدالرحیم قریشیؒ ٤٣٧ ٨...... آسمانی کڑک حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد سہروردیؒ ٤٧٥ ٩...... کارزار قادیان حضرت مولانا مفتی محبوب سبحانی مدظلہ ٥٣٥ ١٠...... کلمہ حق حضرت مولانا محمد حسین سرحدیؒ ٥٥٩
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!
عرض مرتب
نحمده ونصلي على رسوله الكريم ، اما بعد ! محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی جلد اکاون (٥١) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں دس عدد کتابیں شامل اشاعت ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے:
- ١...... آئینہ مرزا یا مرزائی ناول :
حضرت مولانا عبدالحئی کوہاٹی اس کے مصنف ہیں۔ ناول کی طرز پر اس کتاب کو لکھا ہے۔ قادیانی فتنہ سے متعلق جدید انداز تفہیم اپنایا گیا ہے۔ ابتداء میں یہ کتاب سٹیم پریس راولپنڈی میں باہتمام مہتہ کشن چند موہن پرنٹر کے ہاں شائع ہوئی۔ پاکستان بننے سے بہت پہلے کی شائع شدہ ہے۔ کتاب خوب دلچسپ ہے۔ پہلے ایڈیشن کے ٢٤٠ صفحات تھے۔ اب دوسرا زیر نظر ایڈیشن جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے صفحات ٢٤٢ ہیں۔ گویا طابق النعل ہو گیا۔ کم وبیش پون صدی بعد اس کتاب کی دوبارہ اشاعت ہم اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔
- ٢...... ضرورت رسالت (حصہ اول):
- ٣...... ضرورت رسالت (حصہ دوم):
ان کے مؤلف حضرت مولانا سلطان محمود صاحب ہیں جو مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی کے صدر مدرس تھے۔ بہت پہلے کی شائع شدہ ہے۔ اس کے پہلے ایڈیشن کے ٹائٹل پر یہ تعارف شائع کیا گیا تھا۔ ”اس رسالہ میں مسئلہ نبوت ورسالت کے تمام پہلو دلائل عقلیہ ونقلیہ سے واضح کئے گئے ہیں اور اس رسالہ کے دو حصے کر دیئے گئے ہیں۔ حصہ اول میں مطلق نبوت ورسالت کی تشریح کی گئی ہے جو مشترک ہے تمام انبیاء علیہم السلام میں، اور حصہ دوم میں خاص جناب رسول اللہ ﷺ کے افضل الرسل وخاتم الانبیاء ہونے کی تشریح ہے اور ان دونوں حصوں میں اصل مسئلہ کی تشریح کے علاوہ مخالفین اسلام کی تردید بھی نہایت مدلل طریقہ سے کی گئی ہے۔ خصوصاً مرزائیوں اور عیسائیوں کی ۔“
- ٤...... صدع النقاب عن جساسة الفنجاب:
اس رسالہ کے مرتب حضرت مولانا سید محمد ادریس سکروڈھوی مدرس دارالعلوم دیوبند
ہیں۔ رسالہ کا نام اس خوبصورتی سے تجویز کیا کہ کمال کر دیا۔ ”صدع سے ١٣٤٢ھ بنتے ہیں۔ جو کتاب کی اشاعت کا سن ہجری ہے اور ”جساسة ابجد کے حساب سے ١٩٢٥ء بنتے ہیں۔ جو کتاب کی اشاعت کا سن سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی تالیف ”اکفار الملحدین فی ضروریات ایک قصیدہ بزبان عربی قطعہ اعجازیہ نظم فرمایا تھا۔ حضرت مولانا سید محمد مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ آپ نے اس قصیدہ کو پنجابی میں شائع فرمایا۔ خوب علمی تحفہ ہے۔ کاش ہمارے رفقاء اس عربی قصیدہ
- ٥...... اسلام اور مرزائیت:
یہ مضمون حضرت مولانا عتیق الرحمن آروی کا مرتب کردہ مبلغ تھے۔ آپ کا یہ مضمون رسالہ ”قاسم العلوم“ دیوبند میں قسط وار اشاعت میں پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٦...... فتنہ قادیانیت:
جناب صفوۃ الرحمٰن صابر حیدر آباد انڈیا آندھرا پردیش کے ترتیب دیا۔ جو اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٧...... قادیانی مسلمان نہیں؟:
اس کے مؤلف جناب محمد عبدالرحیم قریشی ہیں جو کل ہند جنرل اور آل انڈیا مسلم لاء بورڈ کے سیکرٹری ہیں۔ آپ نے یہ رسالہ تبلیغ اسلام سوسائٹی مدینہ منشن حیدر آباد سے یہ شائع ہوا۔ قادیان پر نکالے۔ مولف نے یہ رسالہ تالیف کر کے شائع کیا۔ قادیانیت پر
- ٨...... آسمانی کڑک:
اس کے مؤلف حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد پسر نور احمد چوک فرید امرتسر کے صاحبزادہ تھے۔ آپ نے مرزا قادیانی تالیف کی جو ہر لحاظ سے قابل قدر ہے۔
- ٩...... کارزار قادیان:
یکم اپریل ١٩٣٦ء میں یہ رسالہ اولاً شائع ہوا۔ حضرت
ہیں ۔ رسالہ کا نام اس خوبصورتی سے تجویز کیا کہ کمال کر دیا۔ ”صدع النقاب“ ابجد کے حساب سے ١٣٤٣ھ بنتے ہیں۔ جو کتاب کی اشاعت کا سن ہجری ہے اور ”جساسۃ الفنجاب“ سے ابجد کے حساب سے ١٩٢٥ء بنتے ہیں۔ جو کتاب کی اشاعت کا سن عیسوی ہے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی تالیف ”اکفار الملحدین فی شئ من ضروریات الدین“ میں ایک قصیدہ بزبان عربی قطعہ اعجازیہ نظم فرمایا تھا۔ حضرت مولانا سید محمد ادریس سیکرڈھوی جو حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ آپ نے اس قصیدہ کو بمع ترجمہ و تشریح کے اس رسالہ میں شائع فرمایا۔ خوب علمی تحفہ ہے۔ کاش ہمارے رفقاء اس عربی قصیدہ کو یاد کریں۔
- ٥...... اسلام اور مرزائیت:
یہ مضمون حضرت مولانا عتیق الرحمن ارویؒ کا مرتب کردہ ہے۔ جو دارالعلوم دیوبند کے مبلغ تھے۔ آپ کا یہ مضمون رسالہ ”قاسم العلوم“ دیوبند میں قسط وار ٨ قسطوں میں شائع ہوا۔ جو بعد میں پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٦...... فتنہ قادیانیت:
جناب صفوۃ الرحمن صابر حیدر آباد انڈیا آندھرا پردیش کے تھے۔ آپ نے یہ رسالہ ترتیب دیا۔ جو اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٧...... قادیانی مسلمان نہیں؟:
اس کے مؤلف جناب محمد عبدالرحیم قریشی ہیں جو کل ہند مجلس تعمیر ملت کے سیکرٹری جنرل اور آل انڈیا مسلم لاء بورڈ کے سیکرٹری ہیں۔ آپ نے یہ رسالہ اکتوبر ١٩٩٠ء میں شائع کیا۔ تبلیغ اسلام سوسائٹی مدینہ منشن حیدر آباد سے یہ شائع ہوا۔ قادیانیوں نے حیدر آباد انڈیا میں پرنکالے۔ مولف نے یہ رسالہ تالیف کر کے شائع کیا۔ قادیانیت بے پر و بال ہو گئی۔
- ٨...... آسمانی کڑک:
اس کے مؤلف حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد پسروری ہیں۔ جو حضرت مولانا نور احمد چوک فرید امرتسر کے صاحبزادہ تھے۔ آپ نے مرزا قادیانی کی تردید میں یہ عمدہ کتاب تالیف کی جو ہر لحاظ سے قابل قدر ہے۔
- ٩...... کارزار قادیان:
یکم اپریل ١٩٣٦ء میں یہ رسالہ اولاً شائع ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محبوب سبحانی واعظ
کا مرتب کردہ ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کا یار غار مولوی محمد علی لاہوری کے درمیان ٨٥ زبردست اصولی اختلافات اس میں قلمبند کئے گئے۔ پڑھیں کہ خوب معرکۃ الآراء چیز ہے۔ ستر سال قبل شائع شدہ رسالہ کا اس جلد میں شائع ہونا ہم مسکینوں پر فضل ایزدی ہے۔ فالحمدلله!
- ١٠...... کلمہ حق:
مولانا محمد حسین سرحدی فاضل دیوبند سیالکوٹی نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے قریب قریب میں یہ رسالہ ترتیب دیا۔ حضرت علامہ خالد محمود صاحب نے تقریظ لکھی۔ ہم اسے جلد میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس جلد میں ٩ حضرات کے دس رسائل شائع ہورہے ہیں۔ ترتیب پھر تازہ کریں:
- ١...... حضرت مولانا عبدالحئی کوہاٹی کی ١ کتاب
- ٢...... حضرت مولانا سلطان محمود بھلویؒ کے ٢ رسائل
- ٣...... حضرت مولانا سید محمد اویس سکرڈھویؒ کا ١ رسالہ
- ٤...... حضرت مولانا عتیق الرحمن آرویؒ کا ١ رسالہ
- ٥...... جناب صفوۃ الرحمٰن کا ١ رسالہ
- ٦...... جناب عبدالرحیم قریشی کا ١ رسالہ
- ٧...... حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد بٹوروی کی ١ کتاب
- ٨...... حضرت مولانا مفتی محبوب سبحانی واعظ کا ١ رسالہ
- ٩...... حضرت مولانا محمد حسین سرحدیؒ کا ١ رسالہ
گویا ٩ حضرات کے کل ١٠ رسائل و کتب احتساب قادیانی کی جلد (٥١) میں شامل اشاعت ہیں۔ فالحمد لله على ذالك! محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٢/ جمادی الاول ١٤٣٤ھ بمطابق ٢٥ / مارچ ٢٠١٣ء
٭......٭......٭......٭......٭
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
آئینہ مرزائیت
یا
مرزائی نامہ
حضرت مولانا عبدالحئی کوہاٹی
خاتم النبيين لا نبي بعدي
صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم
آئینہ مرزا
یا
مرزائی ناول
حضرت مولانا عبدالحی کوہاٹی ؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
التماس مصنف
میں مصنف اس کتاب کا حلفاً بیان کرتا ہوں کہ یہ کتاب میں نے محض اسلام اور اہل اسلام کے درد سے لکھی ہے اور نہایت عجز و ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کو پڑھتے ہوئے ذہن کو تعصب سے پاک کر لیں۔ پھر اگر اس کو گمراہی سے بچانے والی اور راہ راست پر قائم رکھنے والی پائیں تو میرے حق میں عاقبت بخیر کی دعا کریں۔ مصنف!
دیباچہ
شہر لندن کے جنوب مشرق ٹوکیو دارالخلافہ جاپان کے غرب، دمشق کے شرقی منارہ اور قریباً من السیالکوٹ یعنی عین شہر سیالکوٹ میں ایک بابو صاحب رہتے تھے۔ جو سسرال کی طرف سے بھی اچھے نسب سے تھے۔ دین سے بہت رغبت رکھتے تھے۔ مگر دینی تعلیم سے بوجہ نو تعلیم یافتہ ہونے کے کورے تھے۔ موٹی عقل والے مگر مالدار تھے۔ بیوی ان کی ایک پرانے تعلیم یافتہ کی بیٹی اور اچھی لکھی پڑھی تھی۔ نام ان کے کچھ اور تھے۔ لیکن پیار سے ایک دوسرے کو گاماں اور گھسیٹی کہہ کر پکارتے اور جواب دیتے تھے۔ مکان رہائشی خاصا وسیع تھا۔ برآمدہ کے مشرقی کنارے پر ایک مختصر سا کمرہ تھا۔ جس کا دروازہ برآمدہ میں تھا اور تینوں طرف شیشوں کی کھڑکیاں تھیں۔ جنوبی کھڑکی مکان کے غسل خانہ میں کھلتی تھی۔ اس کمرہ میں ایک مختصر میز ایک کرسی، ایک الماری کے سوا ایک شیشم کا صندوق تھا۔ جس کو ایک بڑا وزنی قفل لگا رہتا تھا اور اس پر جلی حروف میں پرانے کاغذات لکھا ہوا تھا۔ بابو صاحب محکمہ تار ماسٹری میں ملازم تھے۔
ایک دن بیوی نے معلوم کیا کہ وہ اپنے ہاتھ کی انگوٹھی غسل خانہ میں بھول آئی ہیں۔ غسل خانہ میں جو گئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ بابو صاحب نے وہ صندوق کھولا۔ اس میں ایک پلندہ نوٹوں کا نکالا۔ اس میں سے چند نوٹ نکال کر باقی اسی طرح صندوق میں مقفل کر کے میز پر آبیٹھے۔ نوٹوں کو ایک خط میں لپیٹ کر اور لفافہ میں ڈال کر اس پر مکتوب الیہ کا پتہ لکھ رہے تھے کہ بیوی اوپر آ گئیں اور بولیں کہ کیا آج کھانا نہیں کھاؤ گے؟ بابو صاحب نے جھٹ اس لفافہ کو پیڈ پر الٹ دیا اور اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ گویا پتہ کو خشک کر رہے ہیں اور کہنے لگے چلو کھانا نکالو میں آیا۔ بیوی نے لفافہ پر موضع قادیاں دیکھ لیا تھا۔ کہنے لگیں بہت خوب۔ مگر کھانے سے پہلے میں
٢
معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ یہ خط تم نے کس کو لکھا ہے اور کیا لکھا ہے۔ بابو صاحب نے بہتیرے بہانے کئے اور عذرات پیش کئے مگر تریا ہٹ کے سامنے کچھ پیش نہ گئی اور بیوی نے ان کو اور برافروختہ کر دیا۔ آخر بابو صاحب نے خط کھولا اور یوں پڑھنا شروع کیا۔ مبلغ دو سو اہوں ارسال ہیں۔ اہوں اہوں دعا کے واسطے برائے کتب دس اہوں۔ اہوں پندرہ روپے۔ برائے توسیع مکان اہوں۔
بیوی ...... میاں گاماں آج تمہارے حلق میں نزلہ کا بہت زور ہے۔
اہوں۔ اہوں روپیہ لنگر خانہ کے واسطے پانچ روپے برائے خط و کتابت و ڈاک خرچ بدر اخبارات ارسال ہو چکا ہے اور بہشتی مقبرہ کا کا چندہ انشاء اللہ بماہ آیندہ ارسال ہو گا۔
بیوی ...... بس بابو صاحب! ہاں بس۔
بیوی ...... آپ نے یہ خط پڑھا تو سہی مگر موٹی موٹی رقمیں نزلہ کے ساتھ اڑا گئے۔ اور خط کی پشت پر تمہاری انگلیوں کے نیچے جوتی کا کیا ذکر ہے۔
بابو صاحب ...... ورق الٹ کر اور کھسیانے سے ہو کر۔ نہیں نہیں جوتی نہیں یہ تو میری بیعت کے ایک بنئے آڑھتی کا نام ہے۔ جوتی پرشاد۔
بیوی ...... اس خط میں ایک ہندو کا کیا ذکر آ گیا۔
بابو صاحب ...... اس سے کچھ منگوایا تھا۔
بیوی ...... کیا منگوایا تھا؟
بابو صاحب ...... چاول۔
بیوی ...... کس کے واسطے اور کتنے؟
بابو صاحب ...... جھنجھلا کر، معلوم نہیں تم عورتوں کا خمیر خدا نے کس مٹی سے بنایا ہے کہ ایک بات کو کھودتی ہو۔ خواہ تمہارا اس سے کچھ تعلق ہو نہ ہو۔ اگر تم کو نہ بتاؤں گا تو شاید تمہارا دم نکل جائے گا تو سن لو اور جو کرنا ہے کر لو۔ حضرت صاحب کے واسطے چاول منگوائے تھے۔ کیونکہ وہ معمولی اس ملک کے چاول پسند نہیں فرماتے تھے۔ اور یہ کام بہت عرصہ سے میرے ذمہ چلا آ رہا تھا۔ میں نے اس خط میں لکھ دیا ہے کہ جوتی پرشاد نے چاول بھیج دیئے ہے۔
بیوی ...... تم تو کہا کرتے ہو کہ مرزا قادیانی آنحضرت ہی تھے۔ کیا آنحضرت بھی چاول کھاتے تھے؟
٣
معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ یہ خط تم نے کس کو لکھا ہے اور کیا لکھا ہے۔ بابو صاحب نے بہت سے حیلے بہانے کئے اور عذرات پیش کئے مگر تریا ہٹ کے سامنے کچھ پیش نہ گئی۔ بلکہ ان عذرات نے بیوی کو اور برافروختہ کر دیا۔ آخر بابو صاحب نے خط کھولا اور یوں پڑھنا شروع کیا۔ بحضور جناب اہوں ارسال ہیں۔ اہوں اہوں دعا کے واسطے برائے کتب دس روپے۔ برائے چھاپہ خانہ تین روپے۔ برائے توسیع مکان اہوں۔
بیوی ....... میاں گاماں آج تمہارے حلق میں نزلہ کا بہت زور ہے۔ بابو صاحب نہیں گھسیٹی جی اہوں۔ اہوں روپیہ لنگر خانہ کے واسطے پانچ روپے برائے خط و کتابت متعلق مذہبی تحقیقات چندہ اخبارات ارسال ہو چکا ہے اور بہشتی مقبرہ کا کا چندہ انشاء اللہ! بماہ آئندہ بھیجا جاوے گا۔
بیوی ....... بس بابو صاحب! ہاں بس۔
بیوی ....... آپ نے یہ خط پڑھا تو سہی مگر موٹی موٹی رقمیں نزلہ کے نیچے دبا گئے۔ اچھا خیر۔ مگر خط کی پشت پر تمہاری انگلیوں کے نیچے جوتی کا کیا ذکر ہے۔
بابو صاحب ....... ورق الٹ کر اور کھسیانے سے ہو کر نہیں جوتی کا کچھ ذکر نہیں۔ یہ پیلی بھیت کے ایک بنئے آڑھتی کا نام ہے۔ جوتی پرشاد۔
بیوی ....... اس خط میں ایک ہندو کا کیا ذکر آ گیا۔
بابو صاحب ....... اس سے کچھ منگوایا تھا۔
بیوی ....... کیا منگوایا تھا؟
بابو صاحب ....... چاول۔
بیوی ....... کس کے واسطے اور کتنے؟
بابو صاحب ....... جھنجھلا کر معلوم نہیں تم عورتوں کا خمیر خدا نے کس چیز سے بنایا ہے۔ ہر ایک بات کو کھودتی ہو۔ خواہ تمہارا اس سے کچھ تعلق ہو نہ ہو۔ اگر تمہارا اس بات کے معلوم کئے بغیر دم نکل جائے گا تو سن لو اور جو کرنا ہے کر لو۔ حضرت صاحب کے واسطے یہ چاول منگوائے جاتے تھے۔ کیونکہ وہ معمولی اس ملک کے چاول پسند نہیں فرماتے تھے۔ ان چاولوں کا ڈیڑھ سو روپیہ بقایا میرے ذمہ چلا آ رہا تھا۔ میں نے اس خط میں لکھ دیا ہے کہ جوتی پرشاد کی رقم میں نے ادا کر دی ہے۔
بیوی ....... تم تو کہا کرتے ہو کہ مرزا قادیانی آنحضرت ہی تھے۔ کوئی اور نہ تھے۔ پھر جو کیوں نہیں کھاتے تھے؟
٣
بابو صاحب....... چلو چلو بکواس نہ کرو۔ کھانا نکالو۔ بیوی نے جس کے غصے کی انتہا باقی نہ رہی تھی۔ کانپتے کانپتے ہاتھوں سے کھانا نکالا اور بابو صاحب کے آگے رکھ کر یوں گویا ہوئیں یہ میرے ہاتھ کا آج آخری کھانا کھاؤ۔ بابو صاحب نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اور خاموشی سے کھانا زہر مار کرتے رہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر کہنے لگے۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ تم اس قدر برافروختہ ہو گئی ہو۔ اگر روپیہ قادیاں بھیجنے پر تم ناراض ہو تو تمہیں خوب معلوم ہے کہ میں اپنی پوری تنخواہ اور سفر خرچ تمہارے حوالے کر دیتا ہوں اور کبھی نہیں پوچھتا کہ تم نے کیا خرچ کیا اور کہاں کیا اور جو کچھ میں قادیاں بھیجتا ہوں وہ اپنی بالائی آمدنی سے بھیجتا ہوں۔ اس کی بابت تمہیں بھی نہیں پوچھنا چاہئے کہ کیا آمدنی ہوئی اور کہاں خرچ ہوئی۔
بیوی....... تمہارا یہ نوٹوں کا پلندہ اگر بالائی یعنی ناجائز آمدنی کا ہے تو ناپاک شے ہے۔ خدا اس میں سے ایک پیسہ بھی میرے نصیب نہ کرے اور جدھر جانا چاہتا ہے جاوے۔ اس میں کیا شک ہے کہ تم مرزا قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے اسلام سے خارج ہو۔ پس جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ تم مسلمان ہو۔ میرا تمہارا بیوی خاوند والا تعلق نہیں ہو سکتا اور نہ میں تمہارے گھر رہ سکتی ہوں۔
بابو صاحب....... اس میں کچھ شک نہیں اور میں آج تم سے صاف صاف کہے دیتا ہوں کہ میں حضرت اقدس جناب مرزا قادیانی بموجب ان کے اپنے فرمان امام الزمان، مجدد، مسیح موعود، مہدی معہود اور بموجب فرمان خداوندی نبی برحق مانتا ہوں۔ فرمان خداوندی سے میری مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں خدا نے ان کو نبی کہہ کر پکارا ہے اور میرے تمہارے گزارہ کی اب صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اس معاملہ پر بحث کی جاوے۔ بحث سے اگر حضرت اقدس توبہ معاذ اللہ توبہ معاذ اللہ جھوٹے ثابت ہوں تو میں تمہارا مذہب اختیار کرلوں اور اگر خدا ان کی سچائی ثابت کرے جو ضرور چمکے گی تو تم میرا مذہب اختیار کرو۔
بیوی....... بالکل ٹھیک۔ مجھے یہ بات بڑی خوشی سے منظور ہے۔ میں خدا سے اور کیا مانگتی تھی۔ مگر بحث ایک منصف کے سامنے ہونی چاہئے اور وہ ایسا شخص ہو جس کو ہم دونوں میں سے کسی کے مذہب سے تعلق نہ ہو۔ دوم عالم ہو اور سوم میرا اس سے پردہ نہ ہو۔
بابو صاحب....... اچھا تو تم ہی بتاؤ ایسا شخص کون سا ہے؟
بیوی....... تھوڑی دیر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر، قاضی احسان اللہ بی اے مولوی فاضل، مذہب کے رو سے شیعہ۔
٤
بابو صاحب....... منظور ہے۔ لو میں انہیں ابھی طلب کرتا ہ جاکے قاضی احسان اللہ ہوراں نوں موٹر تے بلالے آ تو اونہاں دی ک
گاموں....... جی اچھا، بگھی جڑی ہوئی اے۔ آدھ گھنٹہ نہیں گز سیاہ ٹوپی پہنے ہوئے آپہنچے۔
قاضی صاحب....... سلام علیک کے بعد۔ حضرات خیر تو ہے۔ ب گئی؟
بابو صاحب....... آپ کو معلوم ہے یا نہیں کہ ہم دونوں کے مذہب کا بعد ہے۔ آج صبح سے انہوں نے فساد مچا رکھا ہے۔ فیص تصفیہ کر کے دونوں ایک مذہب پر ہو جاویں اور آپ کو اس وق طرفین کے دلائل سن کر فیصلہ دیں۔
قاضی صاحب....... خیر یہ کام تو ایسا نہیں جس میں مجھے کچھ دقت کتابوں کا ہونا ضروری ہے۔ بابو صاحب دفتر میں جا کر الماری میں کتابوں کو نکال لائے اور بڑا افسوس ظاہر کیا کہ ابھی میں نے ان کتا ہو گئیں۔
قاضی صاحب....... کتابوں کا ملاحظہ کر کے۔ واقعی سنی اور شیع کتابیں کوری ہیں۔ کسی نے ان کے ورقے نہیں کاٹے۔
بیوی....... تو انہیں رہنے دیجیے۔ میں اپنی کتابیں لاتی ہوں۔ یہ کہ کی مدد سے ایک کتابوں کا انبار اٹھا لائیں جن میں جگہ جگہ چٹیں رکھی
قاضی صاحب....... اچھا بسم اللہ کیجئے اور سوال و جواب شروع
اصول بحث
بیوی....... قاضی صاحب! قبل اس کے کہ سوال و جواب شروع لے لیں۔ اول یہ کہ جو اصول مرزا قادیانی نے اختیار کیا ہو۔ ہم اختیار کریں۔
قاضی صاحب....... کیوں بابو صاحب منظور ہے؟
بابو صاحب....... اگر آپ کو منظور ہے تو مجھے بھی منظور ہے۔
٥
بابو صاحب ....... منظور ہے۔ لو میں انہیں ابھی طلب کرتا ہوں۔ گاموں (نام ملازم) جا، جا کے قاضی احسان اللہ ہوراں نوں دوڑ کے بلالے آ تو اونہاں دی کوٹھی ڈٹھی ہوئی اے ناں؟
گاموں ....... جی آہ، ڈٹھی ہوئی اے۔ آدھ گھنٹہ نہیں گزرا کہ قاضی صاحب ایک گول سیاہ ٹوپی پہنے ہوئے آ پہنچے۔
قاضی صاحب ....... سلام علیک کے بعد۔ حضرات خیر تو ہے۔ مجھ ناکارہ کی آج کیا ضرورت پڑ گئی؟
بابو صاحب ....... آپ کو معلوم ہے یا نہیں کہ ہم دونوں کے مذہبی خیالات میں مشرق اور مغرب کا بعد ہے۔ آج صبح سے انہوں نے فساد مچا رکھا ہے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ اس معاملہ پر تبادلہ خیالات کر کے دونوں ایک مذہب پر ہو جاویں اور آپ کو اس وجہ سے تکلیف دی ہے کہ آپ طرفین کے دلائل سن کر فیصلہ دیں۔
قاضی صاحب ....... خیر یہ کام تو ایسا نہیں جس میں مجھے کچھ دقت پیش آوے مگر مرزا قادیانی کی کتابوں کا ہونا ضروری ہے۔ بابو صاحب دفتر میں جا کر الماری میں سے ایک بڑا ذخیرہ کرم خوردہ کتابوں کا نکال لائے اور بڑا افسوس ظاہر کیا کہ ابھی میں نے ان کتابوں کو چھوا بھی نہیں اور یہ ضائع ہو گئیں۔
قاضی صاحب ....... کتابوں کا ملاحظہ کر کے۔ واقعی براہین اور کشتی نوح کے تمام کی تمام کتابیں کوری ہیں۔ کسی نے ان کے ورقے نہیں کاٹے۔
بیوی ....... تو انہیں رہنے دیجیے۔ میں اپنی کتابیں لاتی ہوں۔ یہ کہہ کر بیوی صاحبہ اٹھیں اور گاموں کی مدد سے ایک کتابوں کا انبار اٹھا لائیں جن میں جگہ جگہ چٹیں رکھی ہوئی تھیں۔
قاضی صاحب ....... اچھا بسم اللہ کیجئے اور سوال و جواب شروع کیجئے۔
اصول بحث
بیوی ....... قاضی صاحب! قبل اس کے کہ سوال و جواب شروع ہوں۔ بابو صاحب سے اقرار لے لیں ۔ اول یہ کہ جو اصول مرزا قادیانی نے اختیار کیا ہو۔ ہمارا حق ہوگا کہ ہم بھی وہ اصول اختیار کریں۔
قاضی صاحب ....... کیوں بابو صاحب منظور ہے؟
بابو صاحب ....... اگر آپ کو منظور ہے تو مجھے بھی منظور ہے۔
٥
قاضی صاحب ...... بابو صاحب! میں تو ثالث ہوں۔ مجھے منظوری غیر منظوری سے کیا تعلق۔ ہاں اتنا کہے دیتا ہوں کہ بات معقول ہے۔ بابو صاحب ...... اچھا چلو منظور ہے۔ بیوی ...... دوم یہ کہ جس کتاب یا مصنف کے حوالہ سے مرزا قادیانی نے کوئی اپنے مطلب کی بات ثابت کی ہوگی۔ ہمارا حق ہوگا کہ اسی کتاب یا مصنف کو ہم بھی اپنے ثبوت میں پیش کریں۔ قاضی صاحب ...... کیوں بابو صاحب! منظور ہے؟ بابو صاحب ...... یہ کچھ پیچیدہ باتیں ہیں۔ اچھا چلو چلو۔ اس وقت دیکھی جائے گی۔ کونسا تم دونوں مل کر مجھے پھانسی دلا دو گے۔ قاضی صاحب ...... بابو صاحب یہ نہیں ہو سکتا کہ اس وقت دیکھی جائے گی۔ ہاں یا نہ کرو۔ بابو صاحب ...... اچھا ہاں سہی۔ بس؟ قاضی صاحب ...... اچھا اب جو فریق سوال کرنا چاہے وہ سوال کرے اور دوسرا فریق جواب دے۔ بابو صاحب ...... سوالات میں کروں گا۔ قاضی صاحب اور بیوی بہ یک زبان۔ بہت خوب!
غیر احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انیس سو سال سے زندہ آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے قریب آسمان سے اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ پس سوال یہ ہے کہ وہ زندہ آسمان پر کیوں کر چڑھ گئے۔ کیونکہ نئے اور پرانے فلسفے کے مطابق کوئی شخص طبقہ زمہریرہ تک پہنچ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔ دوم ایک انسان بغیر کھانے پینے کے اس قدر مدت تک کس طرح زندہ رہ سکتا ہے۔ پھر اس کے سونے کے لئے بستر اور چارپائی کہاں سے آتی ہے؟
جواب۔ بیوی ...... جناب قاضی صاحب! آپ کے بابو صاحب نے ایسا مسئلہ چھیڑا جس سے میرے ان کے جھگڑے کا کچھ تعلق نہیں۔ سر سید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے بلکہ دوبارہ آنے کے بھی قائل نہ تھے تو کیا ہم ان کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ اس بارے میں خود مرزا قادیانی کا قول موجود ہے۔ یہ پڑھئے (ازالہ حصہ اول ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) ”جاننا چاہئے کہ نزول مسیح کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیت کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔“ پس بابو صاحب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ نہ مانیں تو نہ مانیں۔ مجھے اس سے کچھ پرخاش نہیں۔ جھگڑا تو مرزا قادیانی کے مسیح اور نبی ہونے میں ہے۔
دوم! یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کون کہتا ہے کہ وہ خود آسمان پر چڑھ گئے؟ جبکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ صاف فرما رہا ہے کہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے اپنی طرف۔ مرزائیوں کا اس
٦
پر اعتراض آیات ”ان اللہ علی کل شئی قدیر“ اور ”اذا ارا فیکون“ سے صریح انکار ہے۔ قاضی جی یہ پڑھئے۔ سرسید ص ١٦٤) کیا اس کے تمام کام بالاتر از عقل نہیں ہیں؟ آگے یہاں سے جس کی ساری قدرتوں پر ایک ذرا مخلوق محیط ہو جاوے ج ٢ ص ١٦٥) پڑھئے ”اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کی وہی قدرت قابل ت آجائے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا نام جہالت رکھیں یا تعصب (ص ١١٧، خزائن ج ٢ ص ١٦٥) ”پھر انجام کار (عقل کے پیرو) بہت خو اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا عجیب و غریب قدرتوں کا اح اور پڑھئے (برکات الدعاء ص ٢٣، خزائن ج ٦ ص ٢٩) اور ”یہ بات کہ گو وہ عجیب بیہودہ الزام ہے جبکہ اس کی صفات میں کل یوم ھو فی تصرفات کہ پانی سے برودت دور کرے۔ یا آگ سے خاصیت اح صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کے منافی نہیں ہیں۔“ فلسفہ کی نسبت ا الوحی ص ١١٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٢١) پر پڑھئے ”کوئی شخص فلسفیوں کی کتا نجات نہیں پاسکتا بلکہ ضرور غرق ہوگا۔“
آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے اگر آنحضر اگر اللہ تعالیٰ عبادت میں مجھے کھانا کھلا دیتا ہے اور پانی پلا دیتا ہے۔ ا رکھ سکتا ہوں۔ عبادت کی خوراک کافی نہیں تو معمولی خوراک بہم پ طاقت سے باہر نہیں۔ انہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت قرآن م کی درخواست پر آپ نے خدا سے دعا مانگی کہ اے اللہ ہمارے اتار تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اتاروں گا وہ خوان تم پر ( بصری کے سب سلف کا قول ہے کہ وہ خوان اترا۔ اس میں طرح ط بالفرض نہ بھی اترا ہو تو اس میں تو ایک ذرہ شک نہیں کہ خدا نے اس نہیں فرمایا کہ آسمان پر یہ چیزیں ہیں ہی نہیں۔
شق القمر کے ثبوت میں مرزا قادیانی نے یہ دلیل پیش حیوانات کی آبادی ہے۔ پس اس سے ثابت ہے کہ آسمان پر گوشت ہے۔ بستر اور چارپائی کی بابت عرض ہے کہ اول تو حضرت عیسیٰ علی
٧
پر اعتراض آیات ”ان اللہ علی کل شئی قدیر“ اور ”اذا اراد شئی ان یقول لہ کن فیکون“ سے صریح انکار ہے۔ قاضی جی یہ پڑھئے۔ سرمہ چشم آریہ کا (ص ١١٦ خزائن ج ٢ ص ١٦٤) کیا اس کے تمام کام بالا تر از عقل نہیں ہیں؟ آگے یہاں سے پڑھئے ”بھلا وہ خدا کیسا ہو جس کی ساری قدرتوں پر ایک ذرا مخلوق محیط ہو جاوے۔“ آگے (ص ١١٧ خزائن ج ٢ ص ١٦٥) پڑھئے ”اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کی وہی قدرت قابل تسلیم ہے۔ جو ہماری سمجھ میں آجائے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا نام جہالت رکھیں یا تعصب یا دیوانگی۔“ آگے پڑھئے (ص ١١٧ خزائن ج ٢ ص ١٦٥) ”پھر انجام کار (عقل کے پیرو) بہت خوار اور ذلیل ہو کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا عجیب وغریب قدرتوں کا احاطہ کرنا انسان کا کام نہیں۔“ اور پڑھئے (برکۃ الدعاء ص ٢٤ خزائن ج ٦ ص ٢٩) اور ”یہ بات کہ وہ قادر ہو مگر کرنا نہیں چاہتا۔ یہ عجیب بیہودہ الزام ہے جبکہ اس کی صفات میں کل یوم ہو فی شان بھی داخل ہے اور ایسے تصرفات کہ پانی سے برودت دور کرے۔ یا آگ سے خاصیت احراق زائل کر دیوے۔ اس کی صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کے منافی نہیں ہیں۔“ فلسفہ کی نسبت مرزا قادیانی کا فیصلہ (حقیقت الوحی ص ١١٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٢١) پر پڑھئے ”کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی سمندر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا بلکہ ضرور غرق ہوگا۔“
آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے اگر آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ عبادت میں مجھے کھانا کھلا دیتا ہے اور پانی پلا دیتا ہے۔ اس وجہ سے میں روزانہ روزہ رکھ سکتا ہوں۔ عبادت کی خوراک کافی نہیں تو معمولی خوراک بہم پہنچا دینا بھی اس کی قدرت و طاقت سے باہر نہیں۔ انہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت قرآن میں ذکر ہے کہ اپنے حواریوں کی درخواست پر آپ نے خدا سے دعا مانگی کہ اے اللہ ہمارے اتار ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اتاروں گا وہ خوان تم پر (پارہ ٧ رکوع ٥) سوا مجاہد اور حسن بصری کے سب سلف کا قول ہے کہ وہ خوان اترا۔ اس میں طرح طرح کے کھانے تھے۔ خوان بالفرض نہ بھی اترا ہو تو اس میں تو ایک ذرہ شک نہیں کہ خدا نے اس کے اتارنے کا وعدہ فرمایا یہ تو نہیں فرمایا کہ آسمان پر یہ چیزیں ہیں ہی نہیں۔
شق القمر کے ثبوت میں مرزا قادیانی نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ چاند و سورج میں حیوانات کی آبادی ہے۔ پس اس سے ثابت ہے کہ آسمان پر گوشت، سبزی، غلہ اور پانی میسر آ سکتا ہے۔ بستر اور چارپائی کی بابت عرض ہے کہ اول تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دنیا میں بھی ان
٧
چیزوں کو ضروری نہیں سمجھا اور مرزا قادیانی نے اپنے نفس پر قیاس کر کے ان کو ضروری سمجھا ہے۔ بستر اور چارپائی اسی کارخانہ میں تیار ہو جاتے ہوں گے۔ جس کارخانہ میں مرزا قادیانی کے خیال میں گرونانک صاحب کا چولہ (چوغہ) تیار ہوا تھا۔ قاضی جی! یہ پڑھئے اور (ست بچن ص ٦٨ ، خزائن ج ١٠ ص ١٩٢) ”در حقیقت وہی آسمانی چولہ قدرت کے ہاتھ کا لکھا ہوا ازلی ہادی کے فضل سے ان کو ملا تھا۔“
میرے میاں نے اگرچہ اپنے سوال میں سنت اللہ کا ذکر نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے جگہ جگہ اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ خدا کر تو سب کچھ سکتا ہے۔ لیکن اپنی سنت یعنی دستور کے خلاف نہیں کرتا۔ کیونکہ قرآن میں آیا ہے کہ لن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (تحفہ گولڑویہ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٩٥) مرزا قادیانی کے اس قول کی تردید کی حاجت نہیں۔ کیونکہ یہ دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص ٥٠، خزائن ج ٢ ص ٩٨) پر وہ خود ہی لکھتے ہیں کہ ”سنت اللہ ہمیشہ سے ہے کہ کثیر الوقوع کے ساتھ نادر الوقوع امر بھی ہوتے رہتے ہیں۔“ مگر میں بتا دینا چاہتی ہوں کہ مرزا قادیانی کو یا تو قرآن سے مس نہ تھا اور یہ الہام ان کا جھوٹا اور بناوٹی تھا کہ گو ”الرحمن علمہ القرآن“ خدا نے مجھے قرآن سکھا دیا یا سجع بکنے کے لئے آیات کے غلط معنے کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے اور جو بات اپنے فائدہ کی دیکھتے تھے۔ اس کو بطور اصول پیش کرتے تھے۔ قرآن شریف میں اول سے آخر تک جہاں جہاں کہیں سنت اللہ کا ذکر ہے وہ منکرین وغیرہ کے عذاب کے متعلق ہے اور تبدیلی کے معنے ہیں کہ کوئی دوسری ہستی اس کو بدل نہیں سکتی۔ یعنی خدا فرماتا ہے کہ میرے بھیجے ہوئے عذاب کو نہ کوئی بدل سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے اور ابھی میں نے مرزا قادیانی کا کلام (برکات الدعا ص ٢٣، خزائن ج ٦ ص ٢٩) پر بتا دیا کہ وہ خدا کو ”کل یوم ھو فی شان“ مانتے ہیں۔
علاوہ بریں محی الدین عربیؒ جن کا کلام مرزا قادیانی اپنی اغراض منوانے کے لئے جگہ جگہ ہمارے پیش کرتے ہیں مثلاً دیکھو (کتاب البریہ ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٢٢، ٢٣) وہ اپنی کتاب فصوص الحکم میں لکھتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھایا جہاں وہ قلب الافلاک یعنی فلک الشمس میں رہتے ہیں اور بعدہ شہر بعلبک کی طرف بھیجا۔ ”پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا خلاف عادت خداوندی بھی نہ رہا۔ اب یا تو مرزا قادیانی محی الدین ابن عربیؒ کے کلام کے حوالہ سے بروزی بننا چھوڑ دیں اور یا حضرت ادریس علیہ السلام کا آسمان پر جانا وہاں زندہ رہنا، پھر زمین پر اترنا بھی تسلیم کریں۔
مرزا قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٩٥) پر لکھتے ہیں کہ ”سچ کی یہی نشانی ہے
٨
کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے۔“ اگرچہ یہ قول ان کا سراسر غلط مانیں، آسمان کو نہ مانیں، زمین کو نہ مانیں، قرآن کو نہ مانیں۔ لیکن مانے ہوئے شخص کی کلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جا صاحب اگر آپ کی مرضی ہو تو میں محی الدین ابن عربیؒ کے کلام کو جو س لوں اور جو حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق ہے جھوٹا۔ مگر بابو صاح خیال میں ایسے مستغرق ہوئے کہ انہوں نے نہ یہ آخری کلمہ سنا نہ اس کا ج قاضی صاحب ...... نہیں! بیوی جی ایسا کب ہو سکتا ہے۔ یہ تو مجھ خلاف ہو گا۔ بابو صاحب کو یا تو دونوں باتیں سچی ماننی پڑیں گی یا دونوں تو حضرت ادریس علیہ السلام کا آسمان پر جانا بھی صحیح اور اگر ان کا آسما غلط۔
بیوی ...... بابو صاحب اس معاملہ پر اگر آپ نے کچھ اور کہنا ہے تو کہئے۔
بابو صاحب ...... ہاتھ ماتھے پر پھیرتے ہوئے نہایت دھیمی آوا اور سوال پیش نہیں کروں گا۔ قاضی صاحب ...... اچھا تو اب میں جا سکتا ہوں؟ بابو صاحب ...... اچھا اللہ حافظ! قاضی صاحب ...... کل میں ١٠ بجے آجاؤں گا۔ السلام علیکم، وعلیکم بابو صاحب (بیوی سے مخاطب ہو کر) کتابوں کو چھوڑ دو۔ کاموں اند کھانے کی فکر کرو اور ایک دو چیزیں زیادہ پکا لو۔ شاید میں کھانا باہر منگواؤ بیوی ...... مگر میں تم سے کیا کہہ چکی؟ بابو صاحب ...... تمہاری آج کی تقریر سے اتنا تو مجھ پر کھل گی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخاصمت تھا۔ گرونانک صاحب کے واسطے اترنا تو مانتے ہیں۔ بلکہ قدرت کے ہاتھ کا لکھا ہوا بھی۔ لیکن حضرت عیس پیغمبر کے لئے وہاں بستر پیدا ہونا محالات سے سمجھتے ہیں۔ تم شوق سے منظور ہے۔ بیوی (تسلی پا کر) اچھا کیا کیا پکاؤں؟
٩
کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے۔“ اگرچہ یہ قول ان کا سراسر غلط ہے۔ کیونکہ کیا ہم خدا کو نہ مانیں، آسمان کو نہ مانیں، زمین کو نہ مانیں، قرآن کو نہ مانیں۔ لیکن اب تو مرزا قادیانی کے ہی مانے ہوئے شخص کی کلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کی نظیر پیدا ہو گئی۔ بابو صاحب اگر آپ کی مرضی ہو تو میں محی الدین ابن عربیؒ کے کلام کو جو بروز کے متعلق ہے سچا مان لوں اور جو حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق ہے جھوٹا۔ مگر بابو صاحب ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کسی خیال میں ایسے مستغرق ہوئے کہ انہوں نے نہ یہ آخری کلمہ سنا نہ اس کا کچھ جواب دیا۔
قاضی صاحب....... نہیں! بیوی جی ایسا کب ہو سکتا ہے۔ یہ تو بحث کے مقرر کردہ اصول کے خلاف ہوگا۔ بابو صاحب کو یا تو دونوں باتیں سچی ماننی پڑیں گی یا دونوں جھوٹی یعنی اگر مسئلہ بروز صحیح تو حضرت ادریس علیہ السلام کا آسمان پر جانا بھی صحیح اور اگر ان کا آسمان پر جانا غلط تو مسئلہ بروز بھی غلط۔
بیوی....... بابو صاحب اس معاملہ پر اگر آپ نے کچھ اور کہنا ہے تو کہئے ورنہ دوسرا سوال پیش کیجئے۔
بابو صاحب....... ہاتھ ماتھے پر پھیرتے ہوئے نہایت دھیمی آواز میں۔ نہیں! آج میں کوئی اور سوال پیش نہیں کروں گا۔
قاضی صاحب....... اچھا تو اب میں جا سکتا ہوں؟
بابو صاحب....... اچھا اللہ حافظ!
قاضی صاحب....... کل میں ١٠ بجے آجاؤں گا۔ السلام علیکم، وعلیکم السلام۔
بابو صاحب (بیوی سے مخاطب ہو کر) کتابوں کو چھوڑ دو۔ گاموں اندر رکھ دے گا۔ تم رات کے کھانے کی فکر کرو اور ایک دو چیزیں زیادہ پکا لو۔ شاید میں کھانا باہر منگواؤں۔
بیوی....... مگر میں تم سے کیا کہہ چکی؟
بابو صاحب....... تمہاری آج کی تقریر سے اتنا تو مجھ پر کھل گیا کہ مرزا قادیانی کا مذہب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخاصمت تھا۔ گرو نانک صاحب کے واسطے سلا سلایا آسمان سے چوغہ اترنا تو مانتے ہیں۔ بلکہ قدرت کے ہاتھ کا لکھا ہوا بھی۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کے لئے وہاں بستر پیدا ہونا محالات سے سمجھتے ہیں۔ تم شوق سے کھانا پکاؤ اور دیکھو خدا کو کیا منظور ہے۔
بیوی (تسلی پا کر) اچھا کیا کیا پکاؤں؟
٩
بابو صاحب (تھوڑی دیر موچھ کو بل دے کر) آلو گوشت کی دو رکابیاں ہوں۔ مرغ پلاؤ۔ ایک پلیٹ حلوے کی کچھ اچار چٹنی دو پیالیوں میں۔ دستر خوان دھلا ہوا نکال لینا۔
دوسرے دن بابو صاحب کھانا کھا کر ہاتھ دھو رہے تھے کہ دروازہ پر دستک پڑی۔
بابو صاحب ...... گاموں دیکھ کون ہے۔ قاضی صاحب ہوں تو ان کو اندر بلا لے۔
قاضی صاحب ...... السلام علیکم بابو صاحب! وعلیکم السلام آئیے تشریف لائیے۔
قاضی صاحب کھانے سے فارغ ہولئے؟
بابو صاحب ...... جی ہاں! اور آپ نے کھانا کھایا ہے یا نہیں؟
قاضی صاحب ...... جی ہاں! میں بھی کھا آیا ہوں۔
بابو صاحب ...... کچھ تو کھائیے گا۔
قاضی صاحب ...... بہت بہتر حکم کی تعمیل کئے دیتا ہوں۔
بابو صاحب ...... گاموں باہر کرسیاں بچھا اور کل والی تمام کتابیں میز پر رکھ دے اور حقہ بھر لا۔
گاموں (کرسیاں بچھاتے ہوئے) بے بے جی راتیں جے میں روٹی کھڑی ہئی تے چبارے وچ بڑی کھپ پئی ہوئی سنی اک جٹا بڈی ہندستانی مارے تے بھوں چوں کے آکھے میں تین سو روپیہ دیتا ہاں پنج سو روپیہ دیتا ہاں۔
بیوی ...... میاں وہ کون سے سیٹھ صاحب تھے؟
بابو صاحب ...... اجی وہی تھا دہلی والا۔ اس کی ایسی ہی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ ایک دفعہ نقصان بھی اٹھا چکا ہے مگر اپنی عادت سے مجبور ہے۔
قاضی صاحب ...... لیجئے میں حقہ پی چکا۔ اب اپنا دوسرا سوال یا اعتراض پیش کیجئے۔
بابو صاحب ...... ہاں دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ خدا میری امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایسا شخص پیدا کرے گا جو ان کے دین کو تازہ کرتا رہے گا۔ پس بتایا جائے کہ اس صدی کا مجدد اگر مرزا قادیانی نہیں تو کون ہے؟
بیوی ...... قاضی جی میرے میاں اگر مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح نہ مانیں تو صرف مجدد مانیں تو میری ان سے جدائی لازم نہیں آتی۔ وہ شوق سے جسے مجدد سمجھیں۔ مجدد مانیں مگر میں چاہتی ہوں کہ مرزا قادیانی کی مجددیت کی بھی قلعی کھول دوں۔ قاضی جی کل جو میں نے دو اصول لکھوائے تھے۔ وہ آپ کے پاس ہیں۔
قاضی صاحب ...... جی ہاں یہ میرے پاس موجود ہیں۔
بیوی ...... اچھا تو سنئے۔ امام بخاریؒ اپنی صحیح کی نسبت فرماتے حدیثیں درج کی ہیں۔ جن کی صحت ثابت ہوگئی اور بہت سی صح درج نہیں کیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ جو حدی ضعیف ہی ہو۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منارہ دمش ضعیف قرار دیتے ہیں کہ وہ صحیح مسلم میں تو ہے مگر بخاری میں نہیں
یہ دیکھئے (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ١٩ میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس ال چھوڑ دیا ہے۔‘‘ قاضی جی فرمائیے کہ ہم کس قدر ضعیف سمجھیں۔
میں ہے نہ مسلم میں۔ بلکہ صحاح ستہ میں سے پانچ میں نہیں۔
قادیانی اس وجہ سے قابل حجت نہیں سمجھتے کہ اس کو امام مسلم اور اپنے مطلب کے واسطے ایسی حدیث پیش کرتے ہیں۔ جس صحاح ستہ میں سے پانچ نے اس کو نہیں لیا۔ یہ کیسی خود غرضی اور مجدد ہونے کا رتبہ دیں۔ پھر غضب یہ کہ اپنے مطلب کے واسط سامنے پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ دیکھو (نزول المسیح ص ٤٤، خزائن ایک حدیث میں صاف لکھا ہے۔ ”ہائے غضب پوچھنے والا کوئی ناقابل اعتبار تھی۔ ابھی ہمارے خلاف قابل اعتبار ہوگئی۔
اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی کا بوجہ حکم ہونے کے خدا سے اطلاع پا کر صحیح قرار دیں اور جس کو چاہیں غلط قرار دیں کیونکہ احادیث کا جو مطلب مرزا قادیانی ہمیں بتاتے رہے وہ ق ملاحظہ ہو:
- ١...... (ایام الصلح ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٧
کی حدیث ہے کہ آنحضرت نے مسیح موعود اور دجال کو آن واحد لئے میرے حج کا وقت وہ ہوگا۔ جب دجال یعنی پادری ایمان گے۔‘‘ اور چونکہ نہ کوئی پادری ایمان لایا اور نہ مرزا قادیانی کے کہ مرزا قادیانی حدیث کے معنے نہیں سمجھے۔ یا وہ مسیح موعود نہ تھ
- ٢...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١
بیوی...... اچھا تو سنئے۔ امام بخاریؒ اپنی صحیح کی نسبت فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں وہی حدیثیں درج کی ہیں۔ جن کی صحت ثابت ہوگئی اور بہت سی صحیح احادیث بھی طوالت کی وجہ سے درج نہیں کیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ جو حدیث صحیح بخاری میں نہ ہو وہ جھوٹی یا ضعیف ہی ہو۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منارہ دمشق پر اترنے کی حدیث کو اس لئے ضعیف قرار دیتے ہیں کہ وہ صحیح مسلم میں تو ہے مگر بخاری میں نہیں۔
یہ دیکھئے (ازالہ اوہام حصہ اول ص٢٢٠، خزائن ج٣ ص٢٠٩) ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“ قاضی جی فرمائیے کہ ہم کس قدر ضعیف سمجھیں۔ اس مجدد والی حدیث کو جو نہ بخاری میں ہے نہ مسلم میں۔ بلکہ صحاح ستہ میں سے پانچ میں نہیں۔ ہمارے مطلب کی حدیث کو مرزا قادیانی اس وجہ سے قابل حجت نہیں سمجھتے کہ اس کو امام مسلمؒ نے لیا۔ امام بخاریؒ نے نہیں لیا اور اپنے مطلب کے واسطے ایسی حدیث پیش کرتے ہیں۔ جس کا صحیحین میں نشان نہیں ہے اور صحاح ستہ میں سے پانچ نے اس کو نہیں لیا۔ یہ کیسی خودغرضی اور بے انصافی ہے۔ کیا ایسے شخص کو ہم مجدد ہونے کا رتبہ دیں۔ پھر غضب یہ کہ اپنے مطلب کے واسطے اسی صحیح مسلم کی حدیثیں ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ دیکھو (نزول المسیح ص٤٢، خزائن ج١٨ ص٤٢٢) پر لکھتے ہیں ”مسلم کی ایک حدیث میں صاف لکھا ہے۔“ ہائے غضب پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ابھی ہمارے واسطے صحیح مسلم نا قابل اعتبار تھی۔ ابھی ہمارے خلاف قابل اعتبار ہوگئی۔
اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی کا بوجہ حکم ہونے کے اختیار تھا کہ جس حدیث کو چاہیں خدا سے اطلاع پا کر صحیح قرار دیں اور جس کو چاہیں غلط قرار دیں تو ہمارا تجربہ اس کی تردید کرتا ہے۔ کیونکہ احادیث کا جو مطلب مرزا قادیانی ہمیں بتاتے رہے وہ غلط ثابت ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو:
- ١...... (ایام الصلح ص١٦٩، خزائن ج١٤ ص٣٩٧) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”صحیح مسلم
کی حدیث ہے کہ آنحضرت نے مسیح موعود اور دجال کو آن واحد میں طواف کعبہ کرتے دیکھا۔ اس لئے میرے حج کا وقت وہ ہوگا۔ جب دجال یعنی پادری ایمان لاکر میرے ساتھ حج کرنے جائیں گے۔“ اور چونکہ نہ کوئی پادری ایمان لایا اور نہ مرزا قادیانی کے ساتھ حج کو گیا۔ تو صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی حدیث کے معنے نہیں سمجھے۔ یا وہ مسیح موعود نہ تھے۔ نہ پادری صاحبان دجال۔
- ٢...... (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٣، خزائن ج١١ ص٣٣٧ حاشیہ) پر محمدی بیگم آسمانی
١١
منکوحہ کی نسبت مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”اس پیشین گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشینگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ “ لیکن چونکہ نہ مرزا قادیانی کا محمدی بیگم سے نکاح (زمینی) ہوا۔ نہ اس کی اولاد ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو نہیں سمجھا اور اس کے غلط معنے کر کے غلط جگہ استعمال کیا اور حقیقت میں مرزا قادیانی آنے والا مسیح نہ تھے۔
پھر دیکھئے (آئینہ کمالات ص ٢٥٨، خزائن ج ٥ ص ٢٥٨) پر مرزا قادیانی اس دمشقی منارہ والی حدیث کے غلط ہونے کی وجہ میں لکھتے ہیں: ”ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت کے وقت میں دمشق میں کوئی منارہ تھا۔“ اس سے پایا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کوئی منارہ بنا تو وہ سند نہیں ہے۔ بہت خوب! میں پوچھتی ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے وقت سنہ ہجری نہ تھا۔ خلافت دوم میں بنا تو اس حدیث سے سنہ ہجری کا سر مرزا جی کس طرح لے کر صدی کے سر پر تشریف لاتے ہیں۔ آنحضرت کے وقت میں عام الفیل یعنی سنہ فیل مروج تھا اور اس سنہ کا سنہ ہجری سے ٥٣ سال کا فرق ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے سنہ فیل میں۔ ٤٠ سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اس سے بارہ ، تیرہ سال بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت فرمائی۔ گویا ٥٣ فیل میں اور یہ سنہ ہجری کا جب وہ حضرت عمرؓ کے وقت میں مقرر کیا گیا، پہلا سال قرار دیا گیا۔ اگر دمشق کے منارہ والی حدیث اس وجہ سے غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے کسی کتاب میں نہیں پڑھا کہ آنحضرت کے وقت میں دمشق میں کوئی منارہ بھی تھا تو آنحضرت کے وقت میں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ سنہ ہجری نہ تھا۔ پھر مرزا قادیانی اس حدیث میں صدی سے سنہ ہجری کی صدی کیونکر لیتے ہیں۔ قاضی صاحب اس حدیث میں ہے ”من یجدد لھا دینھا “ یعنی وہ مجدد دین کی تجدید کیا کریں گے۔ اگر بابو صاحب بیان کر دیں کہ مسلمانوں نے چودھویں صدی میں دین اسلام کا فلاں رکن بھلا دیا تھا اور مرزا قادیانی نے اس کو دوبارہ زندہ کر دیا تو میں کیا میری اولاد بھی مرزا قادیانی کو مجدد مان لے گی۔ ورنہ اور امتحان بغیر تو یہ آپ کا غلام قائل نہیں ہے قبلہ کسی شیخ و شاب کا۔
قاضی صاحب....... بابو صاحب! سوال نہایت معقول اور فیصلہ کن ہے۔ ہمت کیجئے ورنہ میدان ہاتھ سے جاتا ہے۔
بابوصاحب....... قاضی صاحب! میں نے آج تک کبھی اس بات پر غور نہیں کیا اور یہ سوال میرے لئے بالکل نیا ہے۔ اس لئے اس کے جواب کے لئے مہلت درکار ہے۔
قاضی صاحب....... کیوں بیوی صاحبہ! آپ کی کیا رائے ہے؟
١٢
١٩
بیوی...... قاضی صاحب! آپ کو وہ عربی مقولہ یاد ہوگا کہ بھاگنے داخل ہے۔ مجھے ان مرزائیوں کا حال خوب معلوم ہے۔ جب یہ جوا کبھی مہلت مانگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس کا جواب الفضل دے گ ساتھ قادیاں چلو اور اپنا شک رفع کرلو۔ کوئی ان بھلے مانسوں سے یہ پو کاہے کے پٹھان؟ اگر تم نے مرزا قادیانی کو ہر پہلو سے پرکھ نہیں لی آنے کی کیا جلدی تھی؟ اچھا جواب کے لئے مہلت منظور لیکن میں سا کہ مرزا قادیانی نے شرک کی تعلیم دی کہ مجھے خدا نے ”کن فیکون“ کے بیع کنی کی۔ لکھتے ہیں ”آنحضرت اور خدا گویا ایک ہو گئے اور مقام وص (ص ٣٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤) ”دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت کو خدا ت (ص ٢٨، خزائن ج ٣ ص ٦٥) ”خدا نے تمام لوگوں کو آپ کے بندے ٹھہرا
قل یا عبادی یعنی کہہ کہ اے میرے (آنحضرت ۔ (خزائن ج ٣ ص ١٠٥) حالانکہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ صاف فرما شایان شان نہیں کہ خدا اس کو اپنی کتاب اور عقل سلیم اور پیغمبری عطا فر کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بنو۔ قاضی صاحب پارہ ٢٢ رکو ہے ”قل یعبادی الذین اسرفوا الخ “ اس کی نسبت مرز ”ی“ آنحضرت کی طرف پھرتی ہے۔ کیسی مخالف ہے خدا کے اس کام نہیں کہ وہ لوگوں کو کہے کہ تم میرے بندے بنو۔
قاضی صاحب....... معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نظر اس ہوتی تو ایسے صریح حکم کے خلاف ایسی تعلیم نہ دیتے۔
بیوی...... قاضی صاحب! مرزا قادیانی کو دوزخ کی طرف لے جا یہ تعلیم سہو و خطا پر محمول کر کے آپ معاف کریں تو کریں۔ مگر میں تو بھاری چالا کی مرکوز پاتی ہوں۔
بابوصاحب....... وہ کیا؟
بیوی...... وہ یہ کہ جب ہم (توبہ معاذ اللہ ) آنحضرت کے بن آنحضرت ہی ہیں (استغفر اللہ ، استغفر اللہ ) تو مرزا قادیانی کے ہ
١٣
بیوی ...... قاضی صاحب! آپ کو وہ عربی مقولہ یاد ہوگا کہ بھاگنے کے وقت بھاگ جانا فتح میں داخل ہے۔ مجھے ان مرزائیوں کا حال خوب معلوم ہے۔ جب یہ جواب سے عاجز ہوجاتے ہیں تو کبھی مہلت مانگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس کا جواب الفضل دے گا۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ قادیاں چلو اور اپنا شک رفع کرلو۔ کوئی ان بھلے مانسوں سے یہ نہیں پوچھتا کہ تیر نہ کمان میاں کاہے کے پٹھان؟ اگر تم نے مرزا قادیانی کو ہر پہلو سے پرکھ نہیں لیا تو تمہیں ان پر ایمان لے آنے کی کیا جلدی تھی؟ اچھا جواب کے لئے مہلت منظور لیکن میں ساتھ ہی یہ بھی عرض کرتی ہوں کہ مرزا قادیانی نے شرک کی تعلیم دی کہ مجھے خدا نے ”کن فیکون“ کے اختیار دے دیئے۔ توحید کی بیخ کنی کی۔ لکھتے ہیں ”آنحضرت اور خدا گویا ایک ہوگئے اور مقام وحدت تامہ ہے۔“ (توضیح مرام ص ٢٧ خزائن ج ٣ ص ٦٤) ”دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت کو خدا کہہ کر پکارا ہے۔“ (توضیح مرام ص ٢٨ خزائن ج ٣ ص ٦٥) ”خدا نے تمام لوگوں کو آپ کے بندے ٹھہرایا ہے۔“ قل یا عبادی یعنی کہہ کہ اے میرے (آنحضرت کے) بندو (کتاب البریہ ص ٨٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥) حالانکہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ صاف فرما چکا کہ کسی انسان کو تو یہ بات شایان ہی نہیں کہ خدا اس کو اپنی کتاب اور عقل سلیم اور پیغمبری عطاء فرمادے اور وہ لوگوں سے لگے کہنے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بنو۔ قاضی صاحب پارہ ٢٤ رکوع ٣ کے شروع میں یہ جو آیت ہے ”قل یعبادی الذین اسرفوا الخ “ اس کی نسبت مرزا قادیانی کی یہ تعلیم کہ عبادی کی ”ی“ آنحضرت کی طرف پھرتی ہے۔ کیسی مخالف ہے خدا کے اس صریح حکم کے، کہ کسی پیغمبر کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کو کہے کہ تم میرے بندے بنو۔
قاضی صاحب ...... معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نظر اس آیت پر نہیں پڑی۔ اگر پڑی ہوتی تو ایسے صریح حکم کے خلاف ایسی تعلیم نہ دیتے۔
بیوی ...... قاضی صاحب! مرزا قادیانی کو دوزخ کی طرف لے جانے والی تعلیموں میں سے ایک یہ تعلیم سہو و خطا پر محمول کر کے آپ معاف کریں تو کریں۔ مگر میں تو اس میں مرزا قادیانی کی بڑی بھاری چالاکی مرکوز پاتی ہوں۔
بابو صاحب ...... وہ کیا؟
بیوی ...... وہ یہ کہ جب ہم (توبہ معاذ اللہ) آنحضرت کے بندے ہوئے اور مرزا قادیانی آنحضرت ہی ہیں (استغفر اللہ، استغفر اللہ) تو مرزا قادیانی کے ہم بندے ہوئے۔
١٣
اگر مے زاد کس پیشت نمیداد
تھوڑی دیر تک خاموشی طاری رہنے کے بعد بیوی پھر بولیں مرزا قادیانی نے تثلیث قائم کی۔ لکھتے ہیں ”یہی پاک تثلیث ہے“ (توضیح مرام ص٢٢، خزائن ج٣ ص٦٢) مرزا قادیانی نے چیف کورٹ میں مقدمے ہارے جس سے ثابت ہے کہ وہ بیگانے مال پر دانت تیز کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے ایک فضول منارہ کی عمارت پر غریب مسلمانوں کا بیس ، پچیس ہزار روپیہ لگا کر فضول خرچی کا نمونہ امت کے لئے قائم کر دیا اور آیات ”ان الله لا يحب المسرفين“ اور ”ان المبذرين كانوا اخوان الشيطين“ کے صریح خلاف کیا۔ بیوی کو معلق رکھ کر خدا کے حکم ”فتذروها كالمعلقه“ کا خلاف کیا اور اپنے متبعین کے لئے بیویوں کے حق میں ایک زہریلا نمونہ قائم کر گئے۔ خدا کے صریح حکم کے خلاف کہ ”لاتسبوا الذين يدعون من دون الله“ عیسائیوں اور ہندوؤں کے بزرگوں اور معبودوں کو گالیاں دے کر گندا سے گندا لٹریچر اسلام اور بانی اسلام کی نسبت لکھوا گئے۔ خدا کے صریح فرمان کے خلاف کہ خدا بیٹا پکڑنے سے پاک ہے۔ الہام اتارا کہ تو (مرزا قادیانی) میرے بیٹے کی جگہ ہے۔ خلاف شریعت تصاویر بنوانا، بیچنا اور عزت سے گھر میں رکھنا سکھلا گئے۔ قرآن کریم کی صریح اور صاف تعلیم کو توبہ معاذ اللہ پشت پا مار کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈال گئے۔ پنڈت لیکھرام کے قتل کا ملزم بن کر آریوں کو مسلمانوں کا دشمن بنا گئے۔ سرکار انگلیشیہ کی توجہ اس طرف دلاتے رہے کہ مسلمان بغاوت کی کھچڑی پکاتے رہتے ہیں اور خونی مہدی کے منتظر ہیں اور سرکار سے خطاب ملنے کے لئے ایسے سخت منتظر رہے کہ الہام بھی اتر آیا کہ ”لک خطاب العزت“ بابو صاحب! ان خلاف شریعت اعمال کے مقابلہ میں آپ ان کا کوئی ایسا کام بتا دیں گے جس سے وہ اس صدی کے تمام دنیا کے مسلمانوں سے بہتر اور افضل ثابت ہو کر اس صدی کے مجدد مان لئے جائیں؟
اچھا اس کام کے لئے آپ کو اور کل مرزائیوں کو قیامت تک کی مہلت ہے۔ قاضی صاحب میں اپنے میاں سے ایک سوال پوچھتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود بننے کے مدعی ہوئے۔ مسیح موعود کا کام تھا کہ دجال کو قتل کرنا جو دعویٰ خدائی بھی کرے گا۔ دجال مرزا قادیانی نے بتایا پادریوں کے گروہ کو بلحاظ دجل اور مشینیں ایجاد کرنے والوں کو بلحاظ دعوے خدائی اور قتل کرنے سے مراد لی دلائل سے ان کو ہرانا۔ پادری آتھم صاحب اور ان کے ہمراہی پادر یان کے مقابلہ میں جو کچھ مرزا قادیانی کا حشر ہوا وہ کس کو معلوم نہیں۔ لیکن بفرض محال اگر ہم ایک منٹ
١٤
کے واسطے یہ تسلیم کرلیں کہ مرزا قادیانی نے پادریوں کو دلائل سے لاج کر لیا۔ تب بھی یہ ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی نے نصف دجال قتل کر لیکن باقی نصف دجال جو خدائی کا دعویٰ کرنے والا تھا۔ وہ اسی طرح ترقی کر رہا ہے۔
اور اگر ہم مرزا قادیانی کے اس فرمان کو بھی (ازالہ حصہ اول ص درج ہے، حساب میں لیں اور وہ یہ کہ ’ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ د ہوں‘۔ تو صرف تیسرا حصہ دجال کا قتل ہوا ہے۔ پس جبکہ دجال مکمل ط موعود کیونکر۔ کیا دجال والی حدیث میں یہ بھی ہے کہ دجال کا نصف کہتے ہیں کہ کسی تیلی کی بہن کو بارش ہوتی دیکھ کر گلگلوں کا شوق پیدا ہو پکاتی۔ آٹا قرض لے آتی مگر افسوس کہ تیل گھر میں نہیں۔ مرزا قادیا لیں کہ انہوں نے پادریوں کو قتل کر ڈالا۔ تو باقی دو حصوں کی نسبت کیا
قاضی صاحب ...... بابو صاحب! آپ اس کا کچھ جواب دیں۔
بابو صاحب ...... قاضی جی میں نے یہ مباحثہ تحقیق حق کے خا میں اپنے بھائیوں کی طرح اناپ شناپ ہر ایک بات کا جواب دینا ن چاہوں تو میرا مطلب فوت ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ سوال نہایت معقو پاس اس کا جواب نہیں۔ یعنی دجال مجموعہ ہو تین گروہوں کا۔ ان می قادیانی تالیاں پیٹ کر کہہ دیں کہ وہ ہار گئے۔ ہار گئے اور مان لیا جا
قاضی صاحب ...... اچھا پھر کوئی اور سوال کرنا ہو تو کیجئے۔
بیوی ...... قاضی صاحب! اگر پادریوں کو لاجواب کرنے سے عی عمامہ سر پر لپیٹتے ہیں تو ایسے تو بہت سے مسیح اسلام میں وقتاً فوقتاً پید سے ہی اس نام کی خصوصیت کیا ہے؟ دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص٢، خزائ اپنے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔ لکھتے ہیں ’اور جس قدر ان پادری صاح کے اعتراضات کر کے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔ یہ بات ان کے اور فضلا اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط ن
بابو صاحب ...... تیسرا سوال میرا یہ ہے کہ حدیث شریف
١٥
کے واسطے یہ تسلیم کر لیں کہ مرزا قادیانی نے پادریوں کو دلائل سے لاجواب کر دیا اور ان کو مغلوب کر لیا۔ تب بھی یہ ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی نے نصف دجال قتل کر ڈالا۔ جو دجل کا مرتکب تھا۔ لیکن باقی نصف دجال جو خدائی کا دعویٰ کرنے والا تھا۔ وہ اسی طرح زندہ اور دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
اور اگر ہم مرزا قادیانی کے اس فرمان کو بھی (ازالہ حصہ اول ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) پر درج ہے، حساب میں لیں اور وہ یہ کہ ”ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد پادری بااقبال قومیں ہوں“۔ تو صرف تیسرا حصہ دجال کا قتل ہوا ہے۔ پس جبکہ دجال مکمل قتل نہیں ہوا تو مرزا قادیانی مسیح موعود کیونکر۔ کیا دجال والی حدیث میں یہ بھی ہے کہ دجال کا نصف یا تیسرا حصہ قتل کیا جائے گا۔ کہتے ہیں کہ کسی میراثی بہن کو بارش ہوتی دیکھ کر گلگلوں کا شوق پیدا ہوا تو کہنے لگی کہ گڑ ہوتا تو گلگلے پکاتی۔ آٹا قرض لے آتی مگر افسوس کہ تیل گھر میں نہیں۔ مرزا قادیانی کی خاطر اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ انہوں نے پادریوں کو قتل کر ڈالا۔ تو باقی دو قوموں کی نسبت کیا جواب ہے؟
قاضی صاحب ...... بابو صاحب! آپ اس کا کچھ جواب دیں گے؟
بابو صاحب ...... قاضی جی میں نے یہ مباحثہ تحقیق حق کے خیال سے شروع کیا ہے اور اگر میں اپنے بھائیوں کی طرح اناپ شناپ ہر ایک بات کا جواب دیتا جاؤں کہ ملا آں باشد کہ چپ نہ شود تو میرا مطلب فوت ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ سوال نہایت معقول کیا ہے اور کم سے کم میرے پاس اس کا جواب نہیں۔ یعنی دجال مجموعہ ہو تین گروہوں کا۔ ان میں سے ایک گروہ کے پیچھے مرزا قادیانی تالیاں پیٹ کر کہہ دیں کہ وہ ہار گئے۔ ہار گئے اور مان لیا جائے کہ دجال قتل ہو گیا۔
قاضی صاحب ...... اچھا پھر کوئی اور سوال کرنا ہو تو کیجئے۔
بیوی ...... قاضی صاحب! اگر پادریوں کو لاجواب کرنے سے ہی مرزا قادیانی مسیح موعود ہونے کا عمامہ سر پر لپیٹتے ہیں تو ایسے تو بہت سے مبلغ اسلام میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہے۔ پھر مرزا قادیانی سے ہی اس نام کی خصوصیت کیا ہے؟ دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص٢، خزائن ج ٢ ص ٣١٢) پر مرزا قادیانی کے اپنے ہاتھ لکھے ہوئے ہیں۔ لکھتے ہیں ”اور جس قدر ان پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔ یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی کہ جو ان کے اور فضلا اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے۔“
بابو صاحب ...... تیسرا سوال میرا یہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مہدی کے واسطے
١٥
رمضان کے مہینے میں سورج گرہن اور چاند گرہن ہوگا اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور مہدی بھی ہوں۔ اس لئے میرے وقت میں رمضان شریف کے مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہونے سے ثابت ہے کہ میں مہدی ہوں مسیح ہوں۔
بیوی...... قاضی صاحب! یہ روایت اس طرح پر ہے: ”عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذخلق السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان تنكسف الشمس في النصف منه ولم تكونا منذ خلق السموات والارض“ یعنی عمرو بن شمر جابر سے اور جابر محمد بن علی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور وہ ایسے ہیں جیسے زمین اور آسمان پیدا ہوئے ان کا ظہور نہیں ہوا۔ چاند گہن ہوگا۔ رمضان کی پہلی رات میں اور سورج گہن ہوگا رمضان کے نصف میں اور یہ گہن ایسے ہیں کہ جیسے زمین وآسمان پیدا ہوئے۔ کبھی نہیں ہوئے۔
اب میری عرض یہ ہے کہ یہ روایت صحیح بخاری میں تو کجا صحاح ستہ میں سے کسی ایک میں بھی نہیں۔ یہ دیکھو (نجم الہدیٰ ص٢٢، خزائن ج١٤ ص١١٧) پر مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”یہ حدیث دارقطنی میں ہے ۔“ پھر یہ ہمارے کیوں پیش کی جاتی ہے۔ دوم اس کے تین راویوں میں سے پہلا راوی عمرو بن شمر محدثین کے نزدیک بڑا جھوٹا ہے۔ چھوٹی حدیثیں روایت کیا کرتا تھا۔ میزان الاعتدال میں اس کی نسبت لکھا ہے۔ لاشے۔ گمراہ کرنے والا۔ جھوٹا۔ رافضی۔ صحابہ کو گالیاں دینے والا۔ حدیثیں خود بنا کر ثقہ لوگوں کے نام سے بیان کرنے والا۔ منکر الحدیث۔ متروک الحدیث۔ سوم! الفاظ کے لحاظ سے یہ قول صریحاً باطل ہے۔ کیونکہ چاند گہن پہلی رات کو نہیں ہو سکتا اور مہینے کا نصف کوئی دن نہیں۔ اگر مہینہ ٢٩ کا ہو تو ١٥ تاریخ وسط ہوگی نہ کہ نصف اور اگر مہینہ ٣٠ دن کا ہو تو اس کے دو نصف ہوں گے۔ ایک یکم سے ١٥ تک اور دوسرا ،١٦ سے ٣٠ تک۔ اس حساب سے سورج گہن مہینہ کے کسی دن بھی ہو۔ اس کے ایک نصف میں ضرور ہوگا۔ پس یہ پیشین گوئی کیا ہوئی۔ کسی مجنوں کی بڑ ہوئی۔
چہارم یہ حدیث صریح خلاف ہے آنحضرت کی صحیحین والی حدیث کے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ ”کسوف وخسوف اس لئے نہیں ہوتے کہ کوئی بڑا شخص مر گیا یا کوئی بڑا شخص پیدا ہوا۔ ان کا ہونا اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت کی دلیل ہے ۔ پنجم مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ سورج گہن ٢٧، ٢٨ اور ٢٩ تاریخوں میں ہوتا ہے۔ اس لئے نصف کے معنے ہیں۔ اٹھائیسویں سراسر غلط
١٦
اور باطل ہے۔ مرزا قادیانی کی ایسی ہی رکیک تاویلات اور کھینچ میں حقیر کر دیا ہے۔ ٢٨ تاریخ ٢٧، ٢٨، ٢٩ کی نصف نہیں بلکہ ان اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازوں میں سے بیچ کی نماز یعنی نماز عصر کی بابت الصلوة والصلوة الوسطى “ صلوٰۃ نصف نہیں فرمایا۔
ششم جب مرزا قادیانی کو نیوز آف دی گلوب کے ح آپ کے زمانے میں ہوئے۔ یہ ہمیشہ ہوتے چلے آئے اور اس میں مذکور ہے کہ ایسے گہن جیسے زمین وآسمان پیدا ہوئے نہیں ہو بتائی کہ میرے زمانے کے گہنوں میں یہ اعجاز ہے کہ میں مدعی جواب میں ان کی خدمت میں عرض ہوا کہ اول تو اس روایت میں سے ہوگا کہ اس وقت مدعی مہدویت موجود ہوگا۔ دوم ابھی ایک کسوف و خسوف امریکہ میں ہوئے جہاں پادری ڈوئی مدعی مسیح اور مسیح کوئی علیحدہ علیحدہ دو ہستیاں نہیں۔ مدعی مہدویت موجود نے اپنی کتاب الذکر الحکیم ( کانا دجال) میں تیرہ سو سال ہجری گہنوں کی فہرست درج کر دی۔ جو دو صفوں پر ہے اور ان گہن تھے۔ ان کے نام بحوالہ کتب تواریخ درج کر دیئے۔ حاصل کلا روایت بالکل لغو ہے اور معنی کے لحاظ سے اب تک پوری نہیں ہ اثر کر جاتی ہیں لیکن آنکھوں والے ان کو تاویل کنندہ کے کاذب
گاموں...... ہما تو نرے جاہل ہوئے پر اپنے پیو ہوراں نوں لے دے گئے۔
بابو صاحب...... چپ رہ شیطان بے ہدایتا۔ تجھے کس
قاضی صاحب...... بابو صاحب آپ نے یہ کیا پڑھا؟ ذرا
بابو صاحب...... اجی کچھ نہیں۔ یہ مرزا قادیانی کا وہ شعر ہے جو مجھے اس وقت یاد آ گیا جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہن
ابے میں اگر چہ جاہل ہوں۔ مگر اتنا تو سمجھ رہا ہوں ک کردی۔
١٧
اور باطل ہے۔ مرزا قادیانی کی ایسی ہی رکیک تاویلات اور کھینچا تانیوں نے ان کو لوگوں کی نظروں میں حقیر کر دیا ہے۔ ٢٨ تاریخ ٢٧ ، ٢٨ ، ٢٩ کی نصف نہیں بلکہ ان کی وسط ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازوں میں سے بیچ کی نماز یعنی نماز عصر کی بابت فرمایا ہے ”حافظوا علی الصلوۃ والصلوۃ الوسطی “ صلوۃ نصف نہیں فرمایا۔
ششم جب مرزا قادیانی کو نیوز آف دی گلوب کے حوالہ سے جواب دیا گیا کہ جیسے گہن آپ کے زمانے میں ہوئے۔ یہ ہمیشہ ہوتے چلے آئے اور اس روایت میں دو دفعہ اول اور آخر میں مذکور ہے کہ ایسے گہن جیسے زمین و آسمان پیدا ہوئے نہیں ہوئے۔ تو مرزا قادیانی نے یہ بات بنائی کہ میرے زمانے کے گہنوں میں یہ اعجاز ہے کہ میں مدعی مہدویت موجود ہوں۔ اس کے جواب میں ان کی خدمت میں عرض ہوا کہ اول تو اس روایت میں سے ثابت نہیں کہ یہ اعجاز اس وجہ سے ہوگا کہ اس وقت مدعی مہدویت موجود ہوگا۔ دوم ابھی ایک سال ہوا کہ یہی ماہ رمضان کے کسوف وخسوف امریکہ میں ہوئے جہاں پادری ڈوئی مدعی مسیحیت اور بقول مرزا قادیانی کہ مہدی اور مسیح کوئی علیحدہ علیحدہ ہستیاں نہیں۔ مدعی مہدویت موجود تھا۔ پھر ڈاکٹر مولوی عبدالحکیم خان نے اپنی کتاب الذکر الحکیم ( کانا دجال) میں تیرہ سو سال ہجری کے ماہ رمضان کے چاند اور سورج گہنوں کی فہرست درج کر دی۔ جو دوصفحوں پر ہے اور ان گہنوں کے وقت جو جو مدعی مہدویت تھے۔ ان کے نام بحوالہ کتب تواریخ درج کر دیئے۔ حاصل کلام یہ کہ: اپنے الفاظ کے لحاظ سے یہ روایت بالکل لغو ہے اور معنی کے لحاظ سے اب تک پوری نہیں ہوئی۔ ایسی تاویلات جاہلوں پر تو اپنا اثر کر جاتی ہیں لیکن آنکھوں والے ان کو تاویل کنندہ کے کاذب ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔
گاموں١........ اساں نرے جاہل ہوے پر اتنا تے پیا سمجھیدا ہے ۔ جے بے بے جی بابو ہوراں نوں لے دے گئے۔
بابو صاحب....... چپ رہ شیطان بے ہدائتیا۔ تجھے کس نے منہ لگایا ہے اور جمائی لے کر
قاضی صاحب....... بابو صاحب آپ نے یہ کیا پڑھا؟ ذرا پھر پڑھیئے گا۔
بابو صاحب........ اجی کچھ نہیں۔ یہ مرزا قادیانی کے والد مرحوم کے ایک شعر کا ایک مصرعہ ہے جو مجھے اس وقت یاد آ گیا جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے۔
١۔ میں اگر چہ جاہل ہوں۔ مگر اتنا تو سمجھ رہا ہوں کہ اماں جی نے بابو جی کی ترکی تمام کردی۔
١٧
قاضی صاحب ...... اس مصرعہ پر مجھے مرزا قادیانی کا ایک مصرعہ زلزلہ کے متعلق یاد آ گیا۔ اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥١) مگر افسوس کہ اب نہ ان کی اولاد میں کوئی ایسا شاعر ہے۔ نہ اصحاب میں۔
بابو صاحب ...... حضرت یہ نہ فرمائیے۔ گزشتہ دسمبر میں جو میں قادیاں گیا اور حضرت یعقوب علی قادیانی سے ملنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے ایسے ایسے شعر سنائے کہ میں دنگ رہ گیا۔
قاضی صاحب ...... ان میں سے کوئی یاد ہو تو مجھے بھی محظوظ کیجئے گا۔
بابو صاحب ...... کیا مضائقہ ہے۔ سنئے شعر
بود در آب چو برخاست خشک پر برخاست
قاضی صاحب ...... واہ واہ، واہ واہ کمال ہے۔ غضب ہے۔ مگر یہ فرمائیے کہ ان کے اشعار کہیں سے مل بھی سکتے ہیں۔
بابو صاحب ...... یہ کہنا تو مشکل ہے۔ مگر شاید ڈاکٹر محمد اقبال صاحب یا نظام حیدرآباد سے مل جاویں۔ کیونکہ وہ نظمیں وغیرہ کے واسطے ان کے اشعار کے مسودے ہی منگوا لیتے ہیں۔
قاضی صاحب ...... مجھے اجازت دیجئے۔ میری طبیعت یک بیک بگڑ گئی ہے۔ شائد قے آوے۔ السلام علیکم!
دوسرا دن ...... دروازہ پر دستک۔ بابو صاحب دروازہ پر جاکر۔ آئیے تشریف لائیے۔ وعلیکم السلام۔ فرمائیے! اب طبیعت کا کیا حال ہے؟
قاضی صاحب ...... اللہ کا فضل ہے۔ بالکل خیریت ہے۔
بابو صاحب ...... قے تو نہیں ہوئی تھی؟
قاضی صاحب ...... نہ صاحب۔ میں نے جاتے ہی کچھ شعر استاد غالب کے کچھ خواجہ حالی صاحب کے پڑھ لئے اور طبیعت سنبھل گئی۔
بابو صاحب ...... (قہقہہ لگا کر) تم مولوی فاضلوں کی بیماریاں عجیب اور علاج عجیب تر۔
قاضی صاحب ...... (پان وغیرہ کھا کر) بابو صاحب جلدی کیجئے اور کوئی سوال ہو تو پیش کیجئے۔
بابو صاحب ...... چوتھا سوال میرا یہ ہے کہ رفعہ اللہ الیہ کے معنے آپ آسمان پر اٹھائے جانے کے کیوں کرتے ہیں۔ عزت دیئے جانے کے کیوں نہیں کرتے؟
بیوی ...... اگر آپ یا کوئی دوسرے قادیانی صاحب یہ ثابت کر دیں کہ تمام قرآن میں کسی ایک
١٨
جگہ بھی جہاں لفظ ”رفع“ عزت دینے کے واسطے خدا نے استعما ”الی“ کا صلہ آیا ہے۔ تو میں مان لوں گی۔ ورنہ لغت کی کتابیں جو بعد بنی ہیں۔ قرآن کے معنے حل کرنے کے لئے ماننے کو میں تیار نہیں ہونا چاہئے کہ یہ مسلمہ بہترین طریقہ ہے اور اس کام کے واسطے آپ
بابو صاحب ...... پانچواں سوال میرا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ نزول کے لفظ کے اوپر سے اترنے کے ہی معنے کیوں لئے جاتے ہیں کے واسطے یہ لفظ نہیں آیا؟ کیا مسافر کو نزیل نہیں کہتے؟
بیوی ...... نزول سے ہم اس کے اصلی اور حقیقی معنی اس لئے لیتے میں لفظ ”ھبوط“ بھی آیا ہے۔ حاکم نے ابو ہریرہؓ سے روایت
”لیھبطن عیسی ابن مریم حكما واماما مقسطا“
مانے ہوئے حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ تین چیزیں آسما ن سے اتریں۔ ایرن، سنسی اور ہتھوڑا اور یہ نہایت قرین قیاس ثابت کیا ہے کہ لوہا نہایت باریک ذرات میں آسمان سے اترتا داخل ہو جاتا ہے۔ دیکھو شیعوں کے مجتہد مولوی عبد العلی صا جہانگیری۔ میں مانتی ہوں کہ نزیل کا لفظ محاورات عرب میں مسا میں اوپر سے نیچے آنے کا مفہوم نہیں ہے۔ مسافر جہاں گدھے، گھوڑے، خچر، اونٹ وغیرہ وغیرہ سے اترا نزیل کہلایا۔ ا اور اردو میں اترنا کہتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے جو (کتاب البریہ ص ١٩٢، خزائن ”ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد اترے ہیں ۔“ یہ بالکل غلط ہے۔ اس سوال سے یہ غرض ہوتی اترے ہیں۔ کیونکہ مسافر اپنی سواری سے وہیں اترتا ہے جہاں قادیانی تو اس لفظ کے ایسے پیچھے پڑے کہ اس کو بے معنے ک ص ١٣٣) پر فرماتے ہیں ”جس کی آنکھوں پر نزول الماء اتر آیا مجازی معنوں میں نہیں آتا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک لفظ ہ حقیقی معنے نہ بنتے ہوں وہاں مجازی معنے لینے پڑیں گے۔ بدا
١٩
جگہ بھی جہاں لفظ ’رفع‘ عزت دینے کے واسطے خدا نے استعمال کیا ہے۔ تو اس کے ساتھ ”الی“ کا صلہ آیا ہے۔ تو میں مان لوں گی۔ ورنہ لغت کی کتابوں کو جو قرآن سے چار پانچ سو سال بعد بنی ہیں۔ قرآن کے معنے حل کرنے کے لئے ماننے کو میں تیار نہیں۔ قرآن کا حل قرآن سے ہی ہونا چاہئے کہ یہ مسلمہ بہترین طریقہ ہے اور اس کام کے واسطے آپ کو ٦ ماہ کی مہلت ۔
بابو صاحب ...... پانچواں سوال میرا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام والی حدیثوں میں نزول کے لفظ کے اوپر سے اترنے کے ہی معنی کیوں لئے جاتے ہیں۔ کیا قرآن شریف میں لوہے کے واسطے یہ لفظ نہیں آیا؟ کیا مسافر کو نزیل نہیں کہتے؟
بیوی ...... نزول سے ہم اس کے اصلی اور حقیقی معنی اس لئے لیتے ہیں کہ ان کے واسطے احادیث میں لفظ ”ہبوط“ بھی آیا ہے۔ حاکم نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ”لیھبطن عیسیٰ ابن مریم حكما واماما مقسطا“ لوہے کی بابت مرزا قادیانی کے مانے ہوئے حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ تین چیزیں آسمان سے حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ اتریں۔ اہرن، سنسی اور ہتھوڑا اور یہ نہایت قرین قیاس ہے۔ علاوہ بریں فلسفہ جدید نے ثابت کیا ہے کہ لوہا نہایت باریک ذرات میں آسمان سے اترتا ہے اور زمین کے مسامات میں داخل ہو جاتا ہے۔ دیکھو شیعوں کے مجتہد مولوی عبد العلی صاحب کی مواعظ حسنہ اور تزک جہانگیری ۔ میں مانتی ہوں کہ نزیل کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے واسطے آتا ہے۔ مگر کیا اس میں اوپر سے نیچے آنے کا مفہوم نہیں ہے۔ مسافر جہاں کہیں شب باش ہونے کو اپنے گدھے، گھوڑے، خچر، اونٹ وغیرہ وغیرہ سے اترا نزیل کہلایا ۔ اسی لحاظ سے فارسی میں فروکش ہونا اور اردو میں اترنا کہتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے جو (کتاب البریہ ص ١٩٢، خزائن ج١٣ ص ٢٢٥ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ ”ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں۔ آپ کہاں اترے ہیں ۔“ یہ بالکل غلط ہے۔ اس سوال سے یہ غرض ہوتی ہے کہ آپ اپنی سواری سے کہاں اترے ہیں۔ کیونکہ مسافر اپنی سواری سے وہیں اترتا ہے جہاں اس نے ڈیرہ کرنا ہوتا ہے اور مرزا قادیانی تو اس لفظ کے ایسے پیچھے پڑے کہ اس کو بے معنے کر کے چھوڑا۔ چنانچہ (سرمہ چشم آریہ ص ١٣٣) پر فرماتے ہیں ”جس کی آنکھوں پر نزول الماء اتر آیا ہو۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ کوئی لفظ مجازی معنوں میں نہیں آتا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک لفظ کے حقیقی معنے مقدم ہیں۔ ہاں جہاں حقیقی معنے نہ بنتے ہوں وہاں مجازی معنے لینے پڑیں گے۔ ید اللہ خدا کا ہاتھ خدا کے چونکہ حقیقی معنے
١٩
بنتے ہیں۔ اس لئے خدا کے خدا کے ہی معنے لیں گے۔ لیکن چونکہ خدا کو ہم ہاتھ پاؤں والا نہیں مانتے۔ اس لئے ہاتھ کے مجازی معنے طاقت لیں گے۔ مرزا قادیانی کی تعلیم کے مطابق اگر ہم یہ مان لیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہر جگہ لفظ نزول عزت کے لئے استعمال کیا تو ثابت ہوگا کہ آنے والا مسیح آنحضرت کا غلام (غلام احمد ) نہیں ہے۔ بلکہ وہی مسیح ابن مریم ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے علاتی بھائی اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرت نے ہر جگہ نزول کو مجازی معنے میں استعمال کر کے بڑا بھاری دھوکہ اپنی امت کو دیا۔ کفار عرب تو آنحضرت کو جہالت سے مجنوں کہا کرتے تھے۔ (معاذ اللہ ) مگر جو معنی احادیث کے مرزا قادیانی خود غرضی سے ہم سے منوانا چاہتے ہیں۔ ان سے شک باقی نہیں رہتا کہ کفار آنحضرت ﷺ کو مجنون کہنے میں واقعی سچے تھے۔ ( مرزا قادیانی ) مرزا قادیانی آنحضرت کی کلام ہمیں یوں سمجھاتے ہیں:
عیسیٰ ابن مریم سے مراد غلام احمد قادیانی روح اللہ سے مراد غلام احمد قادیانی نبی اللہ سے مراد غلام احمد قادیانی رجل فارس سے مراد غلام احمد قادیانی حارث حراث سے مراد غلام احمد قادیانی دمشق سے مراد قادیان یروشلم سے مراد قادیان بیت المقدس سے مراد قادیان مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کدعہ سے مراد قادیان باب لد سے مراد لدھیانہ اور لاٹ پادری بھی ہبوط اور نزول کے معنے پیدا ہونا زعفرانی دو چادروں سے مراد ذیابیطس اور دوران سر قتل خنزیر سے مراد قتل لیکھرام دجال سے مراد پادری کلیس ایجاد کرنے والے دولت مند انگریز خردجال سے مراد ریل سر کے قطرات سے مراد حقائق و دقائق اسلام
٢٠
دابۃ الارض سے مراد (1) علمائے اسلا یہود سے مراد علمائے اسلام ریح نفس سے مراد دلائل و حجج قتل دجال سے مراد دلائل سے مغلو یاجوج ماجوج سے مراد انگریز اور روس سیر و سیاحت سے مراد جلد شہرت پانا دولت دینے سے مراد حقائق ۔ دقائق مہدی سے مراد مسیح موعود
اب اس میں کوئی کسر باقی رہ گئی کہ مرزا قادیانی نے کر کے ثابت کر دیا کہ کفار عرب آنحضرت کو مجنون کہنے میں بالکل
وگر میزاد کس شیرت
مرزا قادیانی مسلمانوں کو کہتے تھے کہ میں آنحضر قاضی صاحب! خدا لگتی کہئے گا ہمارے رسول مقبولؐ خدانخواست دھوکوں میں ڈال گئے۔ کہ فرمائیں دمشق اور مراد اس سے لیں قا ہو۔
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مرزا قادیانی کرہٹ سے سوال کیا کہ ابن مریم کا لفظ قرآن اور آنحضرت کی ا جب کبھی بولا جاتا تھا تو اس لفظ کے اصلی معنے کیا سمجھے جاتے ہ اسرائیلی یا کوئی اور معنی بھی کسی کے خیال میں آتے تھے۔ اس ک نے فرمایا کہ:
”قرآن مجید میں جہاں ابن مریم آیا ہے وہاں وقع احادیث میں جو ابن مریم بولا گیا ہے اس کی تشریح صحابہ کرامؓ کی یہ اس شخص کا جواب ہے جس کے کتب خانہ کی قیمت تیس ہزار ر اتنے بڑے کتب خانے والے نے نہیں دیکھی تو کیا اس کے یہا کس طرح کوئی اور مسیح ابن مریم ہوتا تو ہوتی اور دیکھتے ۔“
٢١
دابۃ الارض سے مراد (١) علمائے اسلام (٢) طاعون یہود سے مراد علمائے اسلام نفخ صور سے مراد دلائل و حجج قتل دجال سے مراد دلائل سے مغلوب کرنا یاجوج ماجوج سے مراد انگریز اور روس سیر و سیاحت سے مراد جلد شہرت پانا دولت دینے سے مراد حقائق ۔ دقائق مہدی سے مراد مسیح موعود
اب اس میں کوئی کسر باقی رہ گئی کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت کی کلام کے یہ معنے کر کے ثابت کر دیا کہ کفار عرب آنحضرت کو مجنون کہنے میں بالکل حق پر تھے۔ (معاذ اللہ)
وگر میزاد کس شیرت نمیداد
مرزا قادیانی مسلمانوں کو کہتے تھے کہ میں آنحضرت کا جلال ظاہر کرنے آیا ہوں۔ قاضی صاحب! خدا لگتی کہئے گا ہمارے رسول مقبول خدا نخواستہ ایسے ہی مجنون تھے کہ ہمیں ایسے دھوکوں میں ڈال گئے۔ کہ فرمائیں دمشق اور مراد اس سے لیں قادیاں ۔ ہائے خود غرضی تیرا بھلا نہ ہو۔
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مرزا قادیانی کے ملی بھگت حکیم نور الدین دی بھیروی سے سوال کیا کہ ابن مریم کا لفظ قرآن اور آنحضرت کی کلام میں اور عام لوگوں کی کلام میں جب کبھی بولا جاتا تھا تو اس لفظ کے اصلی معنے کیا سمجھے جاتے تھے۔ آیا وہی حضرت مسیح ابن مریم اسرائیلی یا کوئی اور معنی بھی کسی کے خیال میں آتے تھے۔ اس کے جواب میں دی بھیروی صاحب نے فرمایا کہ:
”قرآن مجید میں جہاں ابن مریم آیا ہے وہاں وہی عیسیٰ ابن مریم سمجھے جاتے ہیں۔ احادیث میں جو ابن مریم بولا گیا ہے اس کی تشریح صحابہ کرام کی جانب سے میں نے نہیں دیکھی۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جس کے کتب خانہ کی قیمت تیس ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ جب اتنے بڑے کتب خانے والے نے نہیں دیکھی تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ تھی ہی نہیں اور ہوتی کس طرح کوئی اور مسیح ابن مریم ہوتا تو ہوتی اور دیکھتے ۔“
(اشاعۃ السنہ نمبر ٥ جلد ٢٣ ص ١٦٣)
٢١
بابو صاحب ....... چھٹا سوال میرا یہ ہے کہ آنحضرت کے بعد اگر کوئی نبی نہیں ہوگا تو حضرت عائشہ نے کیوں فرمایا کہ آنحضرت کو خاتم النبیین تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
بیوی ...... اس کا مطلب تو بالکل صاف ہے۔ خاتم النبیین کے معنے آخری نبی۔ تو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔ دیکھئے (ازالہ اوہام ص ٥٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٠) پر وہ لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کیونکر آتا۔ خاتم النبیین کی دیوار میں اسے آنے سے روکتی ہے ۔“ اس عبارت پر خوب غور کر لو کہ دیوار میں سے سوا اس کے کچھ اور مراد ہو سکتی ہے کہ بعد آنحضرت کے کوئی اور نبی نہیں۔ پس حضرت عائشہ کا یہ فرمانا کہ آنحضرت آخری نبی بھی ہیں اور ان کے بعد نبی بھی ہے۔ اسی حالت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ آنحضرت کے بعد جو نبی آئے گا وہ آنحضرت سے پہلے کا نبی ہو گا۔ کیوں قاضی صاحب؟
قاضی صاحب ....... شک نہیں کہ یہ عقدہ تو اسی طرح حل ہو سکتا ہے۔
بابو صاحب ....... مرزا قادیانی بھی تو کسی نئے نبی کا آنا نہیں مانتے۔ وہ تو کہتے ہیں کہ میں آنحضرت ہی ہوں۔ بروزی اور ظلی طور پر۔
بیوی ...... میرے میاں آنحضرت کے بعد جتنے جھوٹے نبی گزرے وہ آنحضرت کو آخری نبی مانتے ہوئے کوئی نہ کوئی وجہ اپنی نبوت کی تراشتے رہے۔ چنانچہ ایک عورت نے نبوت کا دعویٰ کر کے یہ وجہ بیان کی کہ آنحضرت نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی (مرد) نہیں۔ یہ تو نہیں فرمایا کہ کوئی عورت بھی نبی نہ ہوگی۔
مرزا قادیانی چونکہ ایک اچھی سوجھ والے کنبے کے فرد تھے۔ انہیں یہ سوجھی کہ تو یہ کہہ دے کہ میں تو آنحضرت ہی ہوں۔ کوئی اور نہیں۔ اس طرح لا نبی بعدی اور خاتم النبیین دھرے کے دھرے رہ گئے اور مرزا قادیانی نبی بن گئے۔ مشاہدہ کھرا ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی جھوٹا، مکار، فریبی پیدا نہیں ہوا جس نے کوئی وعدے کیا ہو اور ایک فریق نے اس کو مان نہ لیا ہو۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے ماں، بہن، بیٹی سے جماع جائز کر دیا۔ اس کے ماننے والے بھی بہت پیدا ہو گئے ۔ کسی نے پوچھا کہ تمہاری ماں کا تم سے کیا تعلق ہے۔ تو جواب دیا کہ جب میں اپنے باپ کی پشت میں تھا تو وہ میری بیوی تھی۔ جب میں اس کے رحم میں گیا تو اس کا جزو بدن ہو گیا اور کچھ مدت بعد اس سے علیحدہ ہو گیا۔ اب کیا تھا۔ ایسی فلسفیانہ تقریر سن کر جوق در جوق لوگ آ کر اس کے مذہب میں داخل ہو گئے۔ ایک دوسرے نے کہا سنو لوگو! اگر تم بادشاہ کے پاس جاؤ اور بادشاہ تم کو کچھ دے تو تم کیا کرو گے؟ لے لو گے یا واپس کر دو گے؟ سب نے کہا ہم خوشی سے قبول کریں
٢٢
گے۔ تو اس نے کہا بس! خدا ہمارا بادشاہ ہے۔ جو کچھ اس نے دنیا پیدا کیا ہے اور یہ بڑی گستاخی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ فلاں چیز یا فلاں ہے۔ ہر ایک چیز جو خدا نے ہمارے واسطے پیدا کی ہے، حلال ہے ہزاروں لاکھوں نہیں کروڑوں مرید اور پیرو ہو گئے۔ چودھویں صدی کو للکارا کہ اگر چہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کو میں بھی مانـ آنحضرت ہی ہوں۔ کوئی غیر نہیں۔ کسی نے نہ پوچھا کہ حضرت بہا نام ہے؟ آمنا و صدقنا کے نعرے ہر گوشہ سے بلند ہو گئے اور مرزا نے تو بہشت کی کنجیاں اپنی امت کو دینا شروع کی تھیں۔ مگر مرزا قا کنجی سے قفل نہیں بھی کھلا کرتا۔ کنجی کے غلط ہونے یا قفل میں زنگ مرید چندہ دینے والے کھلے بندوں بہشت میں داخل ہو جاویں۔ اعلان کر دیا کہ جو بہشتی ہو گا اس میں مدفون ہوگا۔ یا دوسرے الفاظ بہشتی ہوگا۔ میرے میاں مجھے بتا دیں کہ بروز سے وہ کیا سمجھے ہیں سمجھ کر ہدایت پا جاؤں۔
بابو صاحب ....... تم اس بروز براز کے جھگڑے کو چھوڑو! یـ آپ بحیثیت منصف انہیں منع کریں کہ اپنے جوابات میں مجھـ ہیں۔ سوال کرنے تو میں نے شروع کئے ہیں۔ پھر مجھ سے ہر جواب
قاضی صاحب ....... بابو صاحب میں افسوس کرتا ہوں کہ میں سکتا۔ کیونکہ میں کوئی بات ان کو ایسی کرتے نہیں دیکھتا جو قواعد مناظر مرزا قادیانی کو بروزی طور پر آنحضرت ہی مانتے ہیں۔ کیا مہربانـ معنے ہیں؟ کیا اہل ہنود کی طرح اوتار یا اواگون (تناسخ) بے ادلـ اس لئے آپ سے سمجھنا چاہتا ہوں کہ قرآن واحادیث میں اس کا یہ ایک نئی بات ہے۔
بابو صاحب ....... یہ دونوں باتیں نہیں۔
بیوی ...... اچھا تو مشابہت۔
بابو صاحب ....... غالباً!
بیوی ...... اچھا تو فرمائیے کہ مرزا قادیانی کس بات میں آنحضر
٢٣
گے۔ تو اس نے کہا بس! خدا ہمارا بادشاہ ہے۔ جو کچھ اس نے دنیا میں پیدا کیا ہے۔ ہمارے لئے پیدا کیا ہے اور یہ بڑی گستاخی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ فلاں چیز یا فلاں جانور ہم نہیں کھاتے وہ حرام ہے۔ ہر ایک چیز جو خدا نے ہمارے واسطے پیدا کی ہے، حلال ہے۔ کوئی چیز حرام نہیں۔ اس کے ہزاروں لاکھوں نہیں کروڑوں مرید اور پیرو ہو گئے۔ چودھویں صدی میں مرزا قادیانی نے پنجابیوں کو للکارا کہ اگر چہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کو میں بھی مانتا ہوں۔ مگر میں تو بروزی طور پر آنحضرت ہی ہوں۔ کوئی غیر نہیں۔ کسی نے نہ پوچھا کہ حضرت بروز کسے کہتے ہیں؟ کس جانور کا نام ہے؟ آمنا و صدقنا کے نعرے ہر گوشہ سے بلند ہو گئے اور مرزا قادیانی نبی بننے لگ گئے۔ کسی نے تو بہشت کی کنجیاں اپنی امت کو دینا شروع کی تھیں۔ مگر مرزا قادیانی نے سوچا کہ بعض اوقات کنجی سے قفل نہیں بھی کھلا کرتا۔ کنجی کے غلط ہونے یا قفل میں زنگ لگ جانے کی وجہ سے۔ میرے مرید چندہ دینے والے کھلے بندوں بہشت میں داخل ہو جاویں۔ ایک اور بہشتی مقبرہ مقرر کر کے اعلان کر دیا کہ جو بہشتی ہو گا اس میں مدفون ہوگا۔ یا دوسرے الفاظ میں جو اس میں مدفون ہوگا۔ وہ بہشتی ہوگا۔ میرے میاں مجھے بتا دیں کہ بروز سے وہ کیا سمجھے ہیں۔ شاید میں بھی اس مسئلہ بروز کو سمجھ کر ہدایت پا جاؤں۔
بابو صاحب....... تم اس بروز براز کے جھگڑے کو چھوڑو اپنا کام کئے جاؤ۔ قاضی صاحب آپ بحیثیت منصف انہیں منع کریں کہ اپنے جوابات میں مجھ سے سوالات کیوں کرتی جاتی ہیں۔ سوال کرنے تو میں نے شروع کئے ہیں۔ پھر مجھ سے ہر جواب میں سوالات کرنے کیا؟
قاضی صاحب....... بابو صاحب میں افسوس کرتا ہوں کہ میں آپ کے ارشاد کی تعمیل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں کوئی بات ان کو ایسی کرتے نہیں دیکھتا جو قواعد مناظرہ کے خلاف ہو۔ ہاں! آپ جو مرزا قادیانی کو بروزی طور پر آنحضرت ہی مانتے ہیں۔ کیا مہربانی سے بتائیں گے کہ اس کے کیا معنے ہیں؟ کیا اہل ہنود کی طرح اوتار یا اواگون (تناسخ) ہے بے ادبی معاف۔ میں یہ بروز یا بروزی اس لئے آپ سے سمجھنا چاہتا ہوں کہ قرآن و احادیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ میرے لئے بھی یہ ایک نئی بات ہے۔
بابو صاحب....... یہ دونوں باتیں نہیں۔
بیوی....... اچھا تو مشابہت۔
بابو صاحب....... غالباً!
بیوی....... اچھا تو فرمائیے کہ مرزا قادیانی کس بات میں آنحضرتؐ سے مشابہ تھے؟ آیا صرف
٢٣
اس بات میں کہ آنحضرت کی تعریف وتوصیف میں جو جو آیات قرآن نازل ہوئیں۔ وہ سب کی سب مرزا قادیانی نے اپنے الہاموں کے ذریعے اپنے لئے دہرا لیں یا کسی اور بات میں بھی۔ لو بس اسی پر فیصلہ ہے۔ آپ مرزا قادیانی کی مشابہتیں آنحضرتؐ سے بیان فرمائیے اور میں بڑے دعوے سے ڈنکے کی چوٹ کہتی ہوں کہ آپ قیامت تک بھی کوئی مشابہت اس کملی پوش خاتم النبیین سے بیان نہیں کرسکیں گے۔ تھوڑی دیر نہایت حیرت انگیز خاموشی طاری رہنے کے بعد:
قاضی صاحب ....... کیوں بابو صاحب! کوئی مشابہت بیان فرمائیں گے؟
بابو صاحب ....... قریباً ایک منٹ سر کھجلا کر۔ قاضی صاحب بدقسمتی سے کہو یا خوش قسمتی کہو۔ میں نے اس فرقے میں داخل ہونے سے پہلے آنحضرت کی ایک سوانح عمری پڑھی تھی اور ایسے شوق اور دلچسپی سے پڑھی تھی کہ اب تک مجھے یاد ہے۔ اس لئے میں مرزا قادیانی اور آنحضرتؐ میں کوئی ایک مشابہت بھی بیان کرنے کے ناقابل ہوں۔
قاضی صاحب ....... نہیں بابو صاحب! آپ جواب میں اتنی جلدی نہ کریں۔ خوب سوچ لیں۔ اتنے میں حقہ پی لوں۔ گاموں جا حقہ بھر لا۔ حقہ پینے کے بعد بابو صاحب! فرمائیے کوئی مشابہت ذہن میں آئی؟
بابو صاحب ....... قاضی صاحب مجھ سے جھوٹ نہ کہلوائیے۔ میرے ذہن میں تو کوئی مشابہت نہیں آتی۔
بیوی ....... قاضی صاحب! میں ان کے ساتھ ایک اور رعایت کرتی ہوں اور وہ یہ کہ دینی معاملہ میں نہ سہی۔ دنیاوی معاملات میں ہی کوئی مشابہت بیان کریں؟
بابو صاحب ....... اس طرف بھی میں تمہارے کہے بغیر نظر مار چکا ہوں۔ اگر کوئی ہوتی تو میں بیان کر دیتا۔ اتنے میں کسی نے دروازہ پر دستک دی۔
بابو صاحب ....... گاموں دیکھ کون ہے؟ کوئی ایرا غیرا ہو تو ٹال دے۔ گاموں واپس آ کر جی چٹھی رساں ہے۔ کہندا ہے اس پارسل دے پیسے دے دیو تے اس تے دستخط کر دیو۔
قاضی صاحب ....... یہ تو کوئی کتاب معلوم ہوتی ہے۔ کھول لوں؟
بابو صاحب ....... ہاں بڑی خوشی سے۔
قاضی صاحب (کتاب کھول کر) اوہو لیجئے۔ یہ تو حیات النبی آ گئی۔ اسے پڑھئے۔ اس میں ضرور مرزا قادیانی کی آنحضرتؐ سے مشابہتیں بیان کی گئی ہوں گی۔
بابو صاحب ....... مجھے خوب معلوم ہے کہ یعقوب علی عرفانی قادیانی کو بھی کوئی مشابہت نہیں
٢٤
ملی۔ طبیعت کا زور تو اس نے ان کے بیٹے کو خوش کرنے کو بہت لگایا ہے مگر مشابہت ایک بھی بیان نہ کرسکا۔ یہ دیکھئے ص ٩١
قاضی صاحب ....... قریباً پانچ منٹ اس پر نظر مار کر۔ لاحول فرمانا بالکل سچ ہے۔ اب تو شک باقی نہیں رہا کہ مرزائی مشابہت ایک بہت بڑا پوائنٹ ہے۔ جو مرزا قادیانی کی بروزی نبوت کی اب کوئی اور سوال کیجئے۔
بیوی ....... نہیں قاضی صاحب! ابھی میرا جواب ختم نہیں ہوا۔ قادیانی کو آنحضرتؐ سے تشبیہ دینا آنحضرت کی سخت توہین اور ص ٣٩، خزائن ج ٨، ص ٤١٦) پر مرزا قادیانی دابۃ الارض کے معنے ط ہیں: ”ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لف ہے۔ مثلاً یہ آیت ”فلما قضينا عليه الموت ما دلهم تأكل منسأته (سباء: ١٤)“ اب
- (١) اب چونکہ قرآن شریف میں سوا اس آیت کے دابۃ
مرزا قادیانی ”جہاں کہیں“ اور ”مثلاً“ لکھنا جھوٹ ہے۔
- (٢) چونکہ یہ جھوٹ قرآن شریف کے مطلب بیان کر
ایک ناپاک جھوٹ ہے۔
- (٣) چونکہ یہ جھوٹ ارادۃً اپنی غرض یعنی مسیح موعود بننے کے
شرمناک جھوٹ ہے۔ کیونکہ اس سے لوگوں کا ایمان خراب ک غضب خدا کا ہم پر بجلی کیوں نہیں گرتی اور آسمان کیوں نہیں ٹوٹ مظہر اتم مان رہے ہیں۔
بابو صاحب ....... چلو چلو اپنا جواب ختم کرو۔ بد زبان نہ بنو۔
قاضی صاحب ....... بابو صاحب یہ تو درست نہیں۔ یا تو آپ کریں۔ یا مرزا قادیانی کو آنحضرت کا مظہر اتم ماننے سے ابھی کریں تو ثابت ہوگا کہ آپ کو آنحضرت کی عزت کا احساس اور اور دھوکہ دینے والا ثابت ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ ہیں۔ ان کو برا نہ کہو۔ یہ عجب آنحضرت کی عزت کرنا ہے؟
٢٥
ملی۔ طبیعت کا زور تو اس نے ان کے بیٹے کو خوش کرنے کو بہت لگایا ہے اور بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں مگر مشابہت ایک بھی بیان نہ کر سکا۔ یہ دیکھئے ص ٩١
قاضی صاحب ...... قریباً پانچ منٹ اس پر نظر مار کر۔ لاحول ولاقوۃ۔ بابو صاحب! آپ کا فرمانا بالکل سچ ہے۔ اب تو شک باقی نہیں رہا کہ مرزائی مشابہت بیان کرنے سے عاجز ہیں اور یہ ایک بہت بڑا پوائنٹ ہے۔ جو مرزا قادیانی کی بروزی نبوت کی بیخکنی کرتا ہے۔ اچھا بابو صاحب اب کوئی اور سوال کیجئے۔
بیوی ...... نہیں قاضی صاحب! ابھی میرا جواب ختم نہیں ہوا۔ مجھے ابھی یہ دکھلانا ہے کہ مرزا قادیانی کو آنحضرتؐ سے تشبیہ دینا آنحضرتؐ کی سخت توہین اور ہتک کرنا ہے۔ دیکھئے (نزول المسیح ص ٣٩، خزائن ج ١٨ ص ٤١٦) پر مرزا قادیانی دابۃ الارض کے معنے طاعون کا کیڑا کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے اس سے مراد کیڑا لیا گیا ہے۔ مثلاً یہ آیت ”فلما قضينا عليه الموت ما دلهم على موته الا دابة الارض تاكل منساته (سباء: ١٤)“ اب
- (١) اب چونکہ قرآن شریف میں سوا اس آیت کے دابۃ الارض کا لفظ نہیں آیا۔ اس لئے
مرزا قادیانی ”جہاں کہیں“ اور ”مثلاً“ لکھنا جھوٹ ہے۔
- (٢) چونکہ یہ جھوٹ قرآن شریف کے مطلب بیان کرنے میں بولا گیا ہے۔ اس لئے یہ
ایک ناپاک جھوٹ ہے۔
- (٣) چونکہ یہ جھوٹ ارادۃً اپنی غرض یعنی مسیح موعود بننے کے واسطے بولا گیا۔ اس لئے یہ ایک
شرمناک جھوٹ ہے۔ کیونکہ اس سے لوگوں کا ایمان خراب کرنا مقصود ہے۔ قاضی صاحب! غضب خدا کا ہم پر بجلی کیوں نہیں گرتی اور آسمان کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا کہ ہم اس شخص کو رسول اللہ کا مظہر اتم مان رہے ہیں۔
بابو صاحب ....... چلو چلو اپنا جواب ختم کرو۔ بد زبان نہ بنو۔
قاضی صاحب ....... بابو صاحب یہ تو درست نہیں۔ یا تو آپ اس الزام کو مرزا قادیانی سے رفع کریں۔ یا مرزا قادیانی کو آنحضرت کا مظہر اتم ماننے سے ابھی توبہ کریں اور اگر دونوں باتیں نہ کریں تو ثابت ہوگا کہ آپ کو آنحضرت کی عزت کا احساس اور پاس نہیں۔ ایک شخص صریح جھوٹا اور دھوکہ دینے والا ثابت ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس کو آنحضرت کا مظہر اتم مانتے ہیں۔ ان کو برا نہ کہو۔ یہ عجب آنحضرت کی عزت کرنا ہے؟
٢٥
بابو صاحب ....... قاضی صاحب! آپ تو اپنے منصب سے تجاوز کر کے مدعی بن گئے۔
قاضی صاحب ....... اول تو میں نے اپنے منصب سے بڑھ کر کوئی بات نہیں کی۔ دوسرے آپ مجھے منصف مانیں یا نہ مانیں مگر مجھ سے بے غیرت بننے کی توقع نہ رکھیں۔
بیوی ....... قاضی صاحب! بس آپ خاموش ہو جائیں۔ میں اس سے بڑھ کر کچھ بیان کرتی ہوں۔ مرزا قادیانی خدا کی قسم کھا کر جھوٹ بولا کرتے تھے۔ سنئے! یہ کس کو معلوم نہیں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان بیس سال تک مرزا قادیانی کے مرید رہ کر تو بہ گار ہوئے اور مرزا قادیانی کے سخت مخالفوں میں ہو گئے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کو بذریعہ نور الدین صاحب اطلاع دی کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزاغلام احمد آج سے تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔ اس خبر کے پانے پر مرزا قادیانی آگ بگولا ہو گئے اور ایک بڑی ضخیم کتاب (حقیقت الوحی) لکھ ماری اور ڈاکٹر صاحب کو بتلایا کہ معمولی تھرڈ کلاس کے الہام تو ہر کسی کو ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک رنڈی کو اپنے یار کی بغل میں ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ لاشے ہوتے ہیں۔ ان پر فخر نہیں کرنا چاہئے اور اعلیٰ درجے کے اور سچے الہام ایسے درجہ کے لوگوں کو ہوتے ہیں جیسا کہ میں ہوں۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی عربی شعروں میں خبر لی۔ یہ اشعار (حقیقت الوحی ص ٣٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٣) پر درج ہیں اور ان کا ترجمہ مرزا قادیانی کا اپنا کیا ہوا اس طرح ہے:
”اے عبدالحکیم تو نے ہمارے مقابل پر جو باتیں کی ہیں۔ تو ایک روڑہ کی طرح ہے۔ جو چلایا جاتا ہے۔ مقابل اس تلوار کے جو کاٹتی ہے۔“
بخدا کہ خدا تعالیٰ کا عزیز رسوا نہیں ہوگا اور بخدا کہ تو غالب نہیں ہوگا اور رسوا کیا جائے گا یہ خدا کی طرف سے خبر پختہ ہے۔ محکم ہے۔ بس سن رکھ اور اس کا قرار دادہ وقت آ رہا ہے۔ اور بخدا ہر ایک مکر کا دھاگہ توڑ دیا جائے گا۔ خواہ وہ نرم مکر ہے اور خواہ وہ سخت مکر ہے۔
اب یہ کوئی مخفی راز نہیں کہ مرزا قادیانی اسی تین سال کی میعاد کے اندر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں زیر زمین ہو گئے اور خدا کی ان جھوٹی قسموں کا عذاب اپنی گردن پر لے گئے۔ کیا خدا کی جھوٹی قسمیں کھانے والا دھوکہ باز آنحضرتؐ کا مظہر اتم ہے؟ بابو صاحب، بابو صاحب میری طرف دیکھئے۔ یہی شخص آنحضرتؐ کا مظہر اتم اور عکس ہے۔ ہاتھ ملتے ہوئے۔ ہائے تم لوگوں کی غیرت اور حمیت کہاں گئی۔ کیا ہمارے حضرت ایسے ہی تھے؟ سچ کہو تمہارا ضمیر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرتؐ خدا کی جھوٹی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے خبر پختہ ہے۔ محکم ہے اور وہ خبر خود ساختہ ہوتی تھی؟
٢٦
وائے گر از پس امروز بود فردائی
بابو صاحب ....... مرزا قادیانی اگر جھوٹ بولتے تھے یا خدا کی جھوٹی عاقبت خراب کرتے تھے۔ مگر ہمیں وہ یہ تو نہیں سکھاتے تھے کہ چور بنو۔ یا جوا کھیلو۔ ہمیں تو وہ یہی سکھاتے تھے کہ نماز پڑھو۔ روزے رکھو۔ سچ بولو۔ زکوٰۃ دو۔ جھوٹ بولنا ایک قسم کا شرک ہے۔ جھوٹ بولنے سے بچو۔ حرام کا مال نہ کھاؤ۔ حج کرو۔
بیوی ....... میاں رہنے بھی دو۔ یہ مرزائیوں والے بہانے کسی اور کو بتانا۔ یہ سچ ہے کہ کون نہیں جانتا کہ نماز پڑھنا اچھا کام ہے اور چوری کرنا مذموم فعل ہے۔ مگر یہ دین کی پوری تعلیم نہیں۔ خدا نے اچھے برے کاموں کی تمیز انسان کے ضمیر میں رکھ دی ہے۔ جب لوگ کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھتے ہیں یا اس سے بیعت کرتے ہیں تو اس غرض سے کرتے ہیں کہ اس کی صحبت کے اثر سے برائیاں چھوٹ جائیں اور نیک کاموں کی طرف رغبت پیدا ہو۔ پس جب اس کے قول کے مطابق عمل نہ ہو۔ اس کی کلام میں کیا تاثیر ہوگی؟ اور جو شخص خود جھوٹا ہو اس کی صحبت میں بیٹھ کر جھوٹ سے کیا نفرت ہوگی؟ زبان سے وہ ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ کہے کہ جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے۔ جو شخص خود حج نہ کرے۔ اس کا کیا اثر ہوگا کہ وہ دوسروں کو ترغیب دے۔ جو شخص خود مغلوب الغضب اور بد زبان ہو اس کی صحبت میں بیٹھ کر کوئی کیا سیکھے گا اور میرے میاں آپ نے جو فرمایا کہ مرزا قادیانی نے ہمیں کیا برا سکھایا۔ یہ بھی تو آپ کی احکام خداوندی سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
تمام قرآن مجید اس حکم سے بھرا ہوا ہے کہ مسلمانو تم ایک ہو کر رہو اور تفرقہ پیدا نہ کرو ورنہ تمہاری ہوا جاتی رہے گی۔ مسلمانو اگر تم میں سے دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور ہم پر خدا اپنا احسان جتاتا ہے کہ تم دوزخ میں گرنے والے تھے ہم نے تم کو آپس میں بھائی بنا دیا۔ غرض ہمیں جگہ جگہ یہ حکم ہے کہ مسلمانو! تم فرقے فرقے نہ بن جاؤ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو احکام خداوندی کے صریح خلاف اپنے نام کا ایک علیحدہ فرقہ جاری کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں سے جدا کر دیا اور یہ تفرقہ کفار میں نہیں۔ آنحضرتؐ کی امت میں ڈالا اور تمہارے پاس کیا ثبوت اس بات کا ہے کہ مرزا قادیانی آنحضرتؐ ہی تھے کچھ اور نہ تھے۔ کیا آپ اپنے دعوے میں
٢٧
وائے گر از پس امروز بود فردائے
بابو صاحب ....... مرزا قادیانی اگر جھوٹ بولتے تھے یا خدا کی جھوٹی قسمیں کھاتے تھے تو اپنی عاقبت خراب کرتے تھے۔ مگر ہمیں وہ یہ تو نہیں سکھاتے تھے کہ چوری کرو۔ یا زنا کرو۔ یا شراب پیو۔ یا جواء کھیلو۔ ہمیں تو وہ یہی سکھاتے تھے کہ نماز پڑھو۔ روزے رکھو زکوٰۃ دو میری کتابیں خریدو، یعنی زکوٰۃ دو۔ جھوٹ بولنا ایک قسم کا شرک ہے۔ جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے۔ حرام کا مال نہ کھاؤ۔ حج کرو۔
بیوی ...... میاں رہنے بھی دو۔ یہ مرزائیوں والے بہانے کسی اور کو دو۔ کون سا مسلمان ہے جو یہ نہیں جانتا کہ نماز پڑھنا اچھا کام ہے اور چوری کرنا مذموم فعل ہے۔ یہ باتیں تو کسی تعلیم کی محتاج نہیں۔ خدا نے اچھے برے کاموں کی تمیز انسان کے ضمیر میں رکھ دی ہے۔ ہاں ہم لوگ جو کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھتے ہیں یا اس سے بیعت کرتے ہیں تو اس غرض سے کہ اس کی کلام اور اس کی صحبت کے اثر سے برائیاں چھوٹ جائیں اور نیک کاموں کی طرف رغبت پیدا ہو جس شخص کا فعل اس کے قول کے مطابق نہ ہو۔ اس کی کلام میں کیا تاثیر ہوگی؟ اور جو شخص جھوٹ بولے۔ اس کی صحبت میں بیٹھ کر جھوٹ سے کیا نفرت ہوگی؟ زبان سے وہ ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ کہے کہ جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے۔ جو شخص خود حج نہ کرے۔ اس کا کیا منہ ہے کہ دوسروں کو حج کی ترغیب دے۔ جو شخص خود مغلوب الغضب اور بدزبان ہو اس کی صحبت میں کوئی اخلاق کہاں سے سیکھے گا اور میرے میاں آپ نے جو فرمایا کہ مرزا قادیانی نے ہمیں کوئی بری بات نہیں سکھائی۔ یہ آپ کی احکام خداوندی سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
تمام قرآن مجید اس حکم سے بھرا ہوا ہے کہ مسلمانو تم ایک ہو جاؤ۔ مسلمانو تم فرقہ بندی نہ کرو ورنہ تمہاری ہوا جاتی رہے گی۔ مسلمانو اگر تم میں سے دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور ہم پر خدا اپنا احسان جتاتا ہے کہ تم دوزخ میں گرنے والے تھے۔ مگر ہم نے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔ غرض ہمیں جگہ جگہ یہ حکم ہے کہ مسلمانو! تم فرقے چھوڑ کر ایک ہو جاؤ اور بھائی بھائی بن جاؤ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے دنیا میں اپنا نام قائم رکھنے کے لئے احکام خداوندی کے صریح خلاف اپنے نام کا ایک علیحدہ فرقہ جاری کر کے بیٹے کو باپ اور بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا اور یہ تفرقہ کفار میں نہیں۔ آنحضرت کی امت ہی میں ڈالا۔ یہ کتنا بڑا بھاری ثبوت اس بات کا ہے کہ مرزا قادیانی آنحضرتؐ کے سچے پیرو نہ تھے اور تیرہ سو سال کے بعد اپنی
٢٧
امت میں تفرقہ ڈالنے آئے تھے۔ یہاں تک بیان کر کے بیوی صاحبہ اپنے جوش کو ضبط نہ کرسکیں اور دوپٹے کا آنچل منہ میں رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑیں اور اس گریہ میں یوں گویا ہوئیں قاضی صاحب! میں اور میری بہنیں جو مرزائیوں کے عقد نکاح میں ہیں اور مرزائی مذہب اختیار نہیں کرتیں۔ ان پر ایسے ظلم کئے جارہے ہیں۔ جو شریعت میں ”لا اکراہ فی الدین“ کو تو چھوڑو زانیہ عورتوں کے واسطے بھی روا نہیں۔
بابو صاحب ....... مرزا قادیانی پر سراسر یہ اتہام ہے کہ انہوں نے اپنے نہ ماننے والے مسلمانوں کو کافر کہہ کر اپنے سے علیحدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ چونکہ مجھے مسلمان کافر کہتے ہیں۔ اس لئے وہ بموجب اس حدیث کے کہ اگر کسی مسلمان کو کوئی کافر کہے اور وہ مسلمان حقیقت میں کافر نہ ہو تو فتویٰ کفر کا کافر کہنے والے پر عائد ہوتا ہے۔ خود کافر ہوگئے۔ کیونکہ میں مسلمان ہوں۔
بیوی ....... بے ادبی معاف! اس حدیث سے بھی مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو فریب دیا ہے۔ حدیث کے یہ معنی نہیں کہ اگر دلیل شرعی سے علمائے دین کسی پر کفر کا فتویٰ لگا دیں اور وہ شخص فی الحقیقت کافر نہ ہو تو علمائے دین بمعہ کل امت محمدیہ کافر ہو جائیں گے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو عداوت اور دشمنی سے بلا حجت شرعی کافر کہے تو یہ لفظ کافر کا تکفیر کرنے والے کی طرف عود کرے گا۔
مرزا قادیانی نے جب اپنے معتقدین کے اعتقاد کے بھروسہ پر اپنے جامہ سے نکل کر ڈینگیں مارنی شروع کیں کہ عیسیٰ کجاست تا بنہد پایہ منبرم (ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) اور جادہ شریعت سے باہر نکل گئے۔ تو علمائے دین امت محمدیہ کو کفر اور ضلالت سے بچانے کے لئے مجبور ہوئے کہ اس کی نسبت وہ فتوے دیں جس کا اس نے اپنے آپ کو ازروئے شریعت مستحق ثابت کیا۔ اگرچہ یہ شخص مجدد اور نبی بن کر لوگوں کو بیعت کے لئے نہ بلاتا۔ بلکہ کوئی مجذوب فقیر ہوتا تو اس فتوے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ لیکن ایسی حالت میں جبکہ وہ کفر بک رہا ہے اور مسلمانوں سے بیعت لے رہا ہے۔ علمائے دین کا فرض اہم تھا کہ وہ مسلمانوں کو آگاہ کر دیتے کہ یہ شخص مسلمان نہیں۔ اس شخص کی بیعت کر کے اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن نہ بناؤ اور اگر ایسا نہ کرتے تو پھر وہ کس مرض کی دوا تھے؟
علمائے دین کو مرزا قادیانی سے کچھ عداوت نہ تھی۔ کیونکہ اگر انہوں نے ٹکڑہ چھینا تھا تو سجادہ نشینوں اور پیروں کا نہ کہ علماء دین کا۔ بلکہ ان کفریات کے بکنے سے پہلے علماء دین ان کے ثنا
٢٨
خوان تھے۔ دیکھو براہین احمدیہ کا ریویو جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے کس قدر مرزا قادیانی کی اس کتاب کی تعریف کی اور کس قدر یہ طے ہوئی بات ہے کہ شریعت ظاہر ہے۔ باطن نہیں۔
چنانچہ مرزا قادیانی بھی یہ لکھتے
(حقیقت الوحی ص ١٨٠)
”شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔“ علمائے اسلام نے جب ظاہر حال پر کفر کا فتویٰ دینے کے لئے مجبور ہوئے اور یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے اس حدیث کے حوالہ سے اپنے مکفر پر جائیکہ کل امت محمدیہ کو۔ اگر باور نہ ہو تو ابھی ابھی کا تازہ معاملہ سر کیا سرسید کی نظر سے یہ حدیث چھپی ہوئی تھی؟ ہرگز نہیں۔ مگر انہوں نے کفر کا فتویٰ دینے میں حق بجانب سمجھا اور آنحضرتؐ کے جانشینوں کہنے سے ان کی روح کانپی۔ کیونکہ آنحضرتؐ سے ان کو محبت تھی۔ اس حدیث کا عذر پیش کرنا فضول ہے جبکہ مرزا قادیانی نے میں کافر کہہ دیا۔ میرے بابو صاحب کو دیگر مرزائیوں کی طرح مر
بابو صاحب ....... (شرمندگی کے غصہ میں) اچھا دکھا۔ احمد
بیوی ....... یہ پڑھئے
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتؐ کو خدا مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونو ہیں۔“ اب بابو صاحب کو کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔
قاضی صاحب ....... بابو صاحب آج کی بحث یہیں تک رہ ایک دوست کوہاٹ سے آ رہا ہے۔ اسے لانے کے لئے اسٹیشن بحث پر اگر میرا فیصلہ چاہتے ہو تو میں عرض کئے دیتا ہوں۔
بابو صاحب ....... نہیں قاضی صاحب! آج کی ان م کھول دیں۔ ہمیں آنحضرتؐ کی امت کو اور اس کے بزرگان
١؎ مرزا جی پر جب علمائے اسلام نے کفر کا فتویٰ ل ص ٣٢٢) پر لکھا اور کیا خوب لکھا مسلمانو! آؤ خدا سے شرماؤ اور دکھاؤ۔ مسلمان تو آگے ہی تھوڑے ہیں۔ تم ان تھوڑوں کو اور ک
٢٩
خوان تھے۔ دیکھو براہین احمدیہ کا ریویو جو مولوی محمد حسین ان کے مکفر نے لکھا۔ اس میں انہوں نے کس قدر مرزا قادیانی کی اس کتاب کی تعریف کی اور کس قدر ثبوت ان کی نیک نیتی کا ہے یہ مانی ہوئی بات ہے کہ شریعت ظاہر ہے۔ باطن نہیں۔
چنانچہ مرزا قادیانی بھی یہ دیکھئے (حقیقت الوحی ص ١٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٦) پر لکھتے ہیں ”شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔“ علمائے اسلام نے جب ظاہر حال مرزا قادیانی کا شریعت دیکھا تو کفر کا فتویٰ دینے کے لئے مجبور ہوئے اور یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ ہمیشہ سے ایسا ہوتا چلا آیا۔ مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے اس حدیث کے حوالہ سے اپنے مکفرین علماء کو کافر قرار دے دیا ہو۔ چہ جائیکہ کل امت محمدیہ کو۔ اگر باور نہ ہو تو ابھی ابھی کا تازہ معاملہ سرسید مرحوم کا تمہارے سامنے ہے۔ کیا سرسید کی نظر سے یہ حدیث چھپی ہوئی تھی؟ ہرگز نہیں۔ مگر انہوں نے علماء دین کو ظاہری حال پر کفر کا فتویٰ دینے میں حق بجانب سمجھا اور آنحضرتؐ کے جانشینوں اور ان کی پیاری امت کو کافر کہنے سے ان کی روح کانپی۔ کیونکہ آنحضرتؐ سے ان کو محبت تھی اور باطن مسلمان تھا۔ ماسوا اس کے اس حدیث کا عذر پیش کرنا فضول ہے جبکہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے کو صاف الفاظ میں کافر کہہ دیا۔ میرے بابو صاحب کو دیگر مرزائیوں کی طرح مرزا قادیانی کے لٹریچر پر عبور نہیں۔
بابو صاحب ...... (شرمندگی کے غصہ میں) اچھا دکھا۔ اس نے ایسا کہاں لکھا ہے؟
بیوی ...... یہ پڑھئے (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) ”کفر دو قسم پر ہے۔ اول ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتؐ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“ اب بابو صاحب کو کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔
قاضی صاحب ...... بابو صاحب آج کی بحث یہیں تک رہنے دیجئے۔ مجھے ایک کام بھی ہے۔ ایک دوست کوہاٹ سے آ رہا ہے۔ اسے لانے کے لئے اسٹیشن تک جاؤں گا۔ ہاں آج تک کی بحث پر اگر میرا فیصلہ چاہتے ہو تو میں عرض کئے دیتا ہوں۔
بابو صاحب ...... نہیں قاضی صاحب! آج کی ان کی تقریر نے تو خود ہی میری آنکھیں کھول دیں۔ ہمیں آنحضرتؐ کی امت کو اور اس کے بزرگان دین کو کافر کہنے میں اس حدیث کا بڑا
١؎ مرزا جی پر جب علمائے اسلام نے کفر کا فتویٰ دیا تو (ازالہ حصہ دوم ص ٥٩٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) پر لکھا اور کیا خوب لکھا مسلمانو! آؤ خدا سے شرماؤ اور یہ نمونہ اپنی مولویت اور تفقہ کا مت دکھاؤ۔ مسلمان تو آگے ہی تھوڑے ہیں۔ تم ان تھوڑوں کو اور نہ گھٹاؤ۔“
٢٩
دھوکہ دیا گیا۔ میرا ضمیر پہلے سے نہیں مانتا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کو جو دل سے خدا کو مانتا ہو اس کے رسول کو مانتا ہو۔ قرآن وحدیث کو مانتا ہو۔ صرف اس وجہ سے کافر جانوں کہ وہ چودھویں صدی کے مجدد ہونے کے مدعی کو نہیں مانتا۔ اس امت میں کتنے اولیاء، غوث، قطب ہوں گے۔ ان سب کو کافر کہہ دینا اپنا گھر دوزخ میں بنانا نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن قبل اس کے کہ میں اپنا آخری فیصلہ سنادوں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مولوی غلام نبی سے جو اتفاقاً گوجرانوالہ سے آگئے ہیں۔ ان کے اعتراضات بھی سن لوں اور ان کے جوابات کا وزن کرلوں۔ کل انشاء اللہ میں ان کے اعتراضات پیش کروں گا۔ جو آج رات میں ان سے لکھ لاؤں گا۔
بیوی...... قاضی جی کوہاٹ سے آپ کے کون سے دوست آرہے ہیں؟ کیا وہی تو نہیں ”سگے از کوہاٹ“
قاضی صاحب...... جی ہیں تو وہی۔ مگر تم انہیں کیسے جانتی ہو؟
بیوی...... اجی میں تو ان کے ہاتھوں میں چھوٹی بڑی ہوئی ہوں۔ میں انہیں کس طرح نہ جانوں۔
قاضی صاحب...... تو کیا کل انہیں بھی ساتھ لیتا آؤں؟
بیوی...... ان سے اس مباحثہ کا ذکر کر دیجئے گا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ ایسا شخص ہے کہ آپ سے پہلے یہاں پہنچے گا اور آپ اور وہ دونوں کل صبح کا کھانا یعنی ناشتہ یہیں تناول فرمائیے گا۔
قاضی صاحب...... بہت خوب! تو لیجئے اب میں مرخص ہوں۔ السلام علیکم وعلیکم السلام۔ حوالہ خدا ...................... دوسرے دن دروازے پر دستک ہوئی۔
بابو صاحب...... گاموں دیکھ کون ہے؟ قاضی صاحب ہوں تو بلا لے۔
گاموں...... (دروازہ کھول کر) آئیے
نووارد...... تسی کدھر ، اوہو غلام احمد تگڑا ہیں جوڑ ہیں راضی ہیں۔
گاموں...... تہاڈی مہربانی ہے۔ چلو لنگھ چلو بلاندے پئے۔
(قاضی صاحب اور نووارد اندر داخل ہوکر) السلام علیکم!
بابو صاحب...... (اپنی نشست سے اٹھ کر) وعلیکم السلام! اوہو بابو صاحب! آپ کس طرح سیالکوٹ آگئے؟
نووارد...... اجی کیا عرض کروں؟ قاضی صاحب کی کشش لے آئی اور آپ کا یہاں ہونا تو گویا نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔ میرا تو خیال تھا کہ آپ میراں شاہ میں ہیں۔
بابو صاحب...... جی ہاں! میں تھا وہیں۔ مگر میں نے صحت کی خرابی کی وجہ سے اپنی تبدیلی کرالی۔
٣٠
نووارد...... مگر وہ بڑی آمدنی کی جگہ تھی۔
بابو صاحب...... جی ہاں! آمدنی تو وہاں بہت تھی ہمارے حضرت صاحب ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جان ہے اب اس کا پتہ بھی نہیں۔
نووارد...... بابو صاحب بے ادبی معاف! آپ دو محکموں کھینچنے والا۔ نتیجہ یہی ہونا تھا۔ مگر شکر ہے کہ آپ خیریت جان بچی لاکھوں پائے۔
بیوی...... (اندر سے نکل کر) بابوجی السلام علیکم!
نووارد...... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ! راضی تو ہو؟
بیوی...... جی ہاں خدا کا شکر ہے۔ زندہ ہوں اور میرا برا حال۔
نووارد...... مگر تم تو پہچانی نہیں پڑتیں۔ وہ جسم تمہارا کہا گئے۔ سر میں ایسی جلدی سفیدی آگئی۔ یہ کنپٹیاں تمہاری ک
بیوی...... جی ہاں! مگر انسان بڑا بے شرم ہے۔ موت ا
بابو صاحب...... لو چھوڑو ان باتوں کو اور کھانا نکا
نووارد...... غلام احمد ادھر بابو صاحب کے ہاتھ دھلا۔ م
بیوی...... (کھانا چن کر) کیوں بابوجی آپ کیوں ن انہیں اطلاع نہیں دی تھی؟
قاضی صاحب...... جی میں نے ان کو اطلاع تو د کیک جو ساتھ لائے تھے۔ وہی چائے کے ساتھ کھا نے
بابو صاحب...... جی کیک سے کیا ہوتا ہے۔ آ ہو جاویں۔
بیوی...... بابو صاحب آپ اصرار نہ کریں۔ میں ان یہ اپنا کھانا کھا لیں تو پھر کوئی سونے کا نوالہ بھی دے تو جب ان کو ہماری طرف سے اطلاع پہنچ چکی تھی تو پھر
٣١
نووارد ....... مگر وہ بڑی آمدنی کی جگہ تھی۔
بابو صاحب ....... جی ہاں! آمدنی تو وہاں بہت تھی۔ مگر جان کا وہاں ہر وقت خطرہ تھا۔ ہمارے حضرت صاحب ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جان ہے تو جہاں ہے اور روپیہ تو ہزاروں کمایا اور اب اس کا پتہ بھی نہیں۔
نووارد ....... بابو صاحب بے ادبی معاف ! آپ دو محکموں میں بھرتی ہیں۔ ایک دینے والا ایک کھینچنے والا۔ نتیجہ یہی ہونا تھا۔ مگر شکر ہے کہ آپ خیریت سے وہاں سے نکل آئے۔ کسی نے کہا کہ جان بچی لاکھوں پائے۔
بیوی ....... (اندر سے نکل کر) بابو جی السلام علیکم !
نووارد ....... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ! راضی تو ہو؟
بیوی ....... جی ہاں خدا کا شکر ہے۔ زندہ ہوں اور مرگ کے دن پورے کر رہی ہوں۔ الحمد للہ علی کل حال۔
نووارد ....... مگر تم تو پہچانی نہیں پڑتیں۔ وہ جسم تمہارا کہاں گیا؟ آنکھوں میں تمہارے گڑھے پڑ گئے۔ سر میں اتنی جلدی سفید آگئے۔ یہ کنپٹیاں تمہاری کہہ رہی ہیں۔
بیوی ....... جی ہاں ! مگر انسان بڑا بے شرم ہے۔ موت اپنے ہاتھ میں نہیں کہ انسان مر جاوے:
بابو صاحب ....... لو چھوڑو ان باتوں کو اور کھانا نکالو۔ گاموں پانی لا اور ہاتھ دھلا۔
نووارد ....... غلام احمد ادھر بابو صاحب کے ہاتھ دھلا۔ میرے ہاتھ تو دھلے ہوئے ہیں۔
بیوی ....... (کھانا چن کر) کیوں بابو جی آپ کیوں کھانا نہیں کھاتے؟ قاضی صاحب آپ نے انہیں اطلاع نہیں دی تھی؟
قاضی صاحب ....... جی میں نے ان کو اطلاع تو دے دی تھی۔ مگر انہوں نے نہ مانا اور کچھ کیک ویک جو ساتھ لائے تھے۔ وہی چائے کے ساتھ کھانے کی جگہ کھائے ہیں۔
بابو صاحب ....... جی کیک سے کیا ہوتا ہے۔ آپ آگے بڑھیں اور کم از کم ہمارے شریک تو ہو جاویں۔
بیوی ....... بابو صاحب آپ اصرار نہ کریں۔ میں ان کی عادت سے واقف ہوں۔ ایک دفعہ جب یہ اپنا کھانا کھا لیں تو پھر کوئی سونے کا نوالہ بھی دے تو یہ نہیں کھایا کرتے۔ مگر یہ انہوں نے ظلم کیا کہ جب ان کو ہماری طرف سے اطلاع پہنچ چکی تھی تو پھر کھانا کھا کر کیوں آئے؟
٣١
نوموارد...... اس کی وجہ یہ ہے کہ گو میں زاہد اور متقی نہیں۔ سراسر گناہ گار ہوں اور بعض ممنوعات کو استعمال کر لیتا ہوں۔ مگر میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کھانا ایسی کمائی کا پکا ہوا کھاؤں جو حرام ہو یا حلال حرام کا مرکب ہو۔
بابو صاحب....... (نہایت غصہ میں) کیا ہمارا کھانا سگی سے بھی زیادہ پلید ہے؟
نوموارد...... جی ہاں! ترسم کہ صرفہ نبرد روز بازخواست۔ نان حلال شیخ ز آب حرام ما، سگی بے چاری تو بعض حالتوں میں جائز بھی ہے۔ مگر بیگانہ مال کھانا کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔
بیوی...... بابو جی! اگر آپ نے ہمارا کھانا محض اسی خیال سے نہیں کھایا تو غلطی کی۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ گھر کا خرچ تنخواہ اور سفر خرچ سے چلتا ہے اور بالائی آمدنی کچھ تو چندوں میں چلی جاتی ہے اور کچھ بہشتی مقبرہ میں سیٹ خریدنے کے لئے بابو صاحب کے پاس موجود ہے۔
قاضی صاحب....... چندے کیسے؟
بیوی...... یہی قادیان کا لنگر خانہ وغیرہ کے لئے۔
قاضی صاحب....... کیوں بابو صاحب! ایسا ہی روپیہ لنگر خانہ میں خرچ ہوتا ہے؟
بابو صاحب....... قاضی صاحب لنگر خانہ کے لئے کوئی خاص قسم کا روپیہ تو مقرر نہیں ہوسکتا۔ جیسا ہم نے بھیج دیا۔ اسی میں سے کم وبیش خرچ ہوگیا۔
قاضی صاحب....... تو کیا ایسی ہی کمائی کھا کر مرزا قادیانی مستجاب الدعوات ہونے کے مدعی ہیں؟
بیوی...... قاضی صاحب میں آپ کا قطع کلام کرتی ہوں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی دعا کوئی منظوری ہوئی دیکھی سنی بھی؟ بلکہ لدھیانہ کے مباحثہ میں جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ میرے حق میں مرزا قادیانی کی دعا قبول ہو گئی تو مرزائی مرزا قادیانی کی دعاؤں کے قبول نہ ہونے کے خلاف ثبوت پیش کرتے رہے۔ جس پر سردار چمن سنگھ ثالث نے اپنے فیصلہ میں حیرت ظاہر کی۔ ہاں کوئی کام ہو جانا تھا تو کہہ دیتے تھے کہ یہ میری دعا سے ہوا۔ جیسے طاعون، زلزلے، شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کی چیف کورٹ سے بریت وغیرہ وغیرہ۔
بابو صاحب....... لنگر خانہ کے ہزار ہا روپیہ کی آمد وخرچ کے حساب نہ رکھنے کا الزام تو بے شک مرزا قادیانی پر عائد ہوا۔ جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں کوئی بَنِیہ نہیں کہ حساب کتاب رکھوں۔ مگر یہ میں نے نہ کبھی دیکھا نہ سنا کہ انہوں نے لنگر خانہ کا کھانا کھایا ہو۔
بیوی...... بہت خوب آپ صاحبان کھانے سے فارغ ہولیں۔ میں آپ کو ابھی دکھلادیتی ہوں۔
٣٢
قاضی صاحب....... لے گاموں ہاتھ دھلا۔
بیوی...... (کھانے کے برتن دسترخوان سے اٹھاتے ہوئے) بابو جی غسل خانہ میں صابن تولیہ حاضر ہوئی۔ کھانا کھانے اور ملازموں کو دینے کے بعد بیوی نے بابو صاحب سے کہا: لو بابو جی! اگر مرزا قادیانی لنگر خانہ سے کھانا کھایا کرتے تھے تو پھر؟
بابو صاحب....... تو پھر جو ہو۔
بیوی...... اچھا! تو مان لوگے کہ رسال دار کا پانسو روپیہ مہینہ تنخواہ کا نوکری سے استعفیٰ دے کر فارغ ہونا۔ محمدی بیگم کے واسطے ایڑیاں رگڑنے اور ناک گھسنے پر بھی نہ ملنا۔ پھر آتھم کے پیچھے پڑنا۔ سلطان احمد کے گھر بیوہ نہ کرنا۔ مرزا قادیانی کے مخالفین ڈاکٹر عبدالحکیم ، مولوی محمد حسین ، مولوی ابراہیم اور دیگر دشمنوں کا گلی کوچوں میں پھرتے چلتے نظر آنا ، اسی وجہ سے تھا۔
بابو صاحب....... اگر تم ثبوت دو گی تو میں مان لوں گا کہ مرزا قادیانی لنگر خانہ کا کھانا کسی مہمان کی خاطر سے کھا لیتے ہوں گے۔ باقی؟
خدا کی قسم ہم تو مرزا قادیانی کے پیلی بھیت والے چاولوں کے کھانے کا سن کر حیران ہیں اور تم وہ راگ الاپ رہی ہو کہ مرزا قادیانی لنگر خانہ سے کھانا کھاتے تھے۔ کوئی ثبوت؟
بیوی...... یہ دیکھئے (روئیداد مقدمات قادیانی پر بیان حکیم فضل دین و خواجہ کمال الدین، و فیصلہ تحصیل دار بمقدمہ عذرداری انکم ٹیکس ص ٦ مرزا قادیانی اکثر لنگر خانہ کا کھانا کھایا کرتے تھے) کیوں؟ مان گئے؟ اور یہ بھی مانتے ہو کہ لنگر خانہ کے چندہ کا روپیہ محض جائز نہیں بلکہ اس میں حرام بھی شامل ہوتا ہے اور غالباً آپ نے پڑھا یا کم از کم سنا ہوگا کہ حضرت علیؓ نے ایک دفعہ سفر کی حالت میں ایک عورت کی پیش کردہ دودھ کی لسی پی لی۔ پینے کے بعد آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسی تھی؟ معلوم ہوا کہ بکری ایسے درختوں، بوٹوں کے پتے کھاتی تھی جن کا کھانا ناجائز تھا۔ آپ نے حلق میں انگلی مار کر قے کردی۔ مرزا قادیانی کی اپنی خود احتیاطی کا یہ حال ہے کہ اپنے لئے اوروں کی نسبت فرماتے ہیں:
ٹھونس کر مردار پیٹوں میں بھریں
اب کون ہے جو مرزا قادیانی کو حلال خور ثابت کرے۔
قاضی صاحب....... وقت جاتا ہے۔ اب سوالات کا سلسلہ بند کیجئے۔
٣٣
قاضی صاحب...... لے گاموں ہاتھ دھلا۔
بیوی...... (کھانے کے برتن دستر خوان سے اٹھاتے ہوئے) لو جی میں ابھی پانچ منٹ میں حاضر ہوئی۔ کھانا کھانے اور ملازموں کو دینے کے بعد بیوی۔ بھلا میاں اگر میں آپ کو دکھا دوں کہ مرزا قادیانی لنگر خانہ سے کھانا کھایا کرتے تھے تو پھر؟
بابو صاحب...... تو پھر جو کہو۔
بیوی...... اچھا اتنا مان لو گے کہ رسال دار کا پانسو روپیہ ہضم کر لینے کے بعد بھی اس کے ہاں بیٹا نہ ہوتا۔ محمدی بیگم کے واسطے ایڑیاں رگڑنے اور ناک گھسانے کے بعد بھی اس کا اب تک مرزا سلطان احمد کے گھر تولد نہ کرنا۔ مرزا قادیانی کے معہ الخیر زیر زمیں ہو جانے کے بعد مولوی ثناء اللہ، ڈاکٹر عبدالحکیم، مولوی محمد حسین، مولوی ابراہیم اور مولوی عبدالحق صاحبان مرزا قادیانی کے اشد دشمنان کا گلی کوچوں میں پھرتے چلتے نظر آنا ، اسی وجہ سے تھا۔
بابو صاحب...... اگر تم ثبوت دو گی تو میں مان لوں گا کہ مرزا قادیانی کبھی لنگر خانہ سے بھی کھانا کسی مہمان کی خاطر سے کھا لیتے ہوں گے۔ باقی جھگڑے فضول ہیں۔ قاضی صاحب غضب خدا کا ہم تو مرزا قادیانی کے پیلی بھیت والے چاولوں کے بل ادا کرتے کرتے تھک گئے اور یہ یہی راگ الاپ رہی ہیں کہ مرزا قادیانی لنگر خانہ سے کھانا کھایا کرتے تھے۔
بیوی...... یہ دیکھئے (روئیداد مقدمہ قادیانی پر بیان حکیم نور الدین دی گریٹ روبرو تاج الدین صاحب تحصیل دار بمقدمہ عذرداری انکم ٹیکس ص ٦ مرزا قادیانی اکثر لنگر خانہ سے کھانا کھا لیا کرتے ہیں۔ کیوں جی اب تو مان گئے؟ اور یہ بھی مانتے ہو کہ لنگر خانہ کے چندہ کا روپیہ محض جائز آمدنی کا ہی نہیں ہوتا۔ اس میں ہر طرح کا روپیہ شامل ہوتا ہے اور غالباً آپ نے پڑھا یا کم از کم سنا ہوگا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ایک مرتبہ سخت پیاس کی حالت میں ایک عورت کی پیش کردہ دودھ کی لسی پی لی۔ پینے کے بعد آپ کی دریافت پر کہ دودھ حرام تھا یا حلال ، آپ کو معلوم ہوا کہ بکری ایسے درختوں، بوٹوں کے پتے کھاتی تھی جن کے مالک سے اجازت نہیں لی ہوئی تھی۔ تو آپ نے حلق میں انگلی مار کر قے کر دی۔ مرزا قادیانی کی اپنی خوراک تو یہ اور مریدوں سے شاباش حاصل کرنے کے لئے اوروں کی نسبت فرماتے ہیں:
ٹھونس کر مردار پیٹوں میں نہیں لیتے ڈکار
اب کون ہے جو مرزا قادیانی کو حلال خور نہ سمجھے؟
قاضی صاحب...... وقت جاتا ہے۔ اب سوالات شروع ہونے چاہئیں۔
٣٣
نووارد ...... بابو صاحب اگر اجازت ہو تو آپ کے آج کے سوالات کے جواب میں عرض کروں؟
بابو صاحب ...... کیا مضائقہ ہے۔ بشرطیکہ آپ تہذیب سے باہر نہ جائیں۔
نووارد ...... بھلا بابو صاحب اگر ایک معزز شخص کسی سے پوچھے کہ آپ کی مالی حالت کیا ہے اور وہ شخص جواب میں کہے کہ جو شخص اپنی دختر کا نسبت ناطہ کسی سے کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس کی جائداد اور مالی حیثیت کو دیکھا کرتا ہے۔ آپ فرماویں کہ یہ جواب اس کا تہذیب کے اندر ہے یا اس سے باہر؟
بابو صاحب ...... بالکل باہر اور کسی بازاری آدمی کا۔
نووارد ...... بابو صاحب یہ آپ کے نبی کا کلام ہے۔ جس کو اس کے خدا نے الہام کیا تھا کہ ”انک لعلی خلق عظیم“ تو خلق عظیم پر ہے۔ یہ دیکھئے
(روئیداد مقدمات قادیانی حصہ دوم ص ٥)
گاموں ...... بے بے جی او تے تُسی کل قرآن وچ پئے پڑھدے سو۔ (اماں جی یہ تو تم کل قرآن میں پڑھ رہی تھیں)
بیوی ...... مرزا قادیانی نے اپنے الہام قرآن سے ہی لئے ہیں تا کہ (١) کوئی مسلمان دم نہ مار سکے۔ (٢) مرزا قادیانی آنحضرت سے کم نہ رہیں۔
بابو صاحب ...... سنئے اب میرے سوالات سنئے۔ اول قرآن شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا: ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی“ اس کے معنے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں اور عزت دینے والا ہوں۔ اس وجہ سے کہ
- ١...... قرآن شریف میں جس جگہ توفی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جہاں خدا فاعل ہے اور
انسان مفعول اس جگہ اس کے معنے موت کے ہی ہیں۔
- ٢...... حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے متوفیک کے معنے ممیتک کے کئے ہیں۔
- ٣...... متوفیک اور رافعک کے درمیان جو واؤ ہے۔ اس کو اگر ترتیب کے واسطے نہ بھی مانا
جائے اور محض عطف کے واسطے مانا جاوے۔ تب بھی متوفیک کو کسی دوسرے فقرہ کے بعد رکھنے سے بات نہیں بنتی۔ اگر رفع کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ تطہیر نہیں ہوئی۔ حالانکہ ہو چکی۔ اگر مطہرک کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ غلبہ متبعین ابھی تک نہیں ہوا حالانکہ ہو چکا اور اگر سب سے اخیر یوم القیامۃ کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ قیامت تک حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوں گے۔
- دوم ...... دوسری آیت ”واذ قال الله یعیسی ابن مریم اانت قلت للناس
الخ (المائده ١١٦)“ اس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ آیا عیسائیوں کا تثلیث کا غلط عقیدہ
٣٤
اور ان کا بگڑنا حضرت مسیح کی تعلیم سے اور آپ کی زندگی میں ہوا یا آپ کے آسمان پر جانے کے بعد۔ اس آیت کے جواب دعویٰ سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا بگڑنا حضرت عیسیٰ کے آسمان پر چلے جانے کے بعد ہوا نہ کہ پہلے۔
- سوم ...... آنحضرتؐ حدیث کوثر میں فرماتے ہیں کہ ”اقول کما قال العبد الصالح
”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (بخاری)“ اس میں توفی سے وفات مراد ہے کیونکہ آنحضرتؐ فوت ہو کر زمین میں مدفون ہیں؟
- چہارم ...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل
عمران : ١٤٤)“ یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ آنحضرتؐ سے پہلے جس قدر رسول آئے وہ سب فوت ہو چکے۔
- پنجم ...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ما المسیح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله
الرسل وامه صديقه كانا ياكلان الطعام (المائده: ٧٥)“ اس میں کانا یاکلان کے معنے یہ ہیں کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس سے ماضی کا قرینہ پایا جاتا ہے کہ وہ اب کھانا نہیں کھایا کریں گے۔ اگر زندہ ہوتے تو فرمایا جاتا کہ وہ اب تک کھانا کھاتے ہیں۔
- ششم ...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد“ اس آیت سے
بھی پایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے کیونکہ اس میں بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت سے پہلے کسی بشر کے لئے خلد نہیں بنایا گیا۔
- ہفتم ...... اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو فرمایا ”فیها تحیون و فیها تموتون
ومنها تخرجون (اعراف : ٢٥)“ ”زمین میں تم زندگی بسر کرو گے اور زمین ہی میں مرو گے اور اسی میں سے قیامت کے دن دوبارہ نکال کھڑے کئے جاؤ گے“۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسان آسمان پر زندگی بسر کرے۔
- ہشتم ...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”ومن نعمره ننکسه فی الخلق“ جس کی ہم عمر زیادہ کرتے
ہیں اس کو اوندھا کر دیتے ہیں یا اسے طفولیت کی طرف پھیر دیتے ہیں کہ وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ یہ ہیں میرے آٹھ سوال۔ ان کے جوابات تحریر فرماویں۔
نووارد ...... بابو صاحب یہ سوالات کا کاغذ مجھے دے دیجئے۔ میں ان کا جواب دیتا ہوں۔
- اول ...... توفی کے معنے ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ ہاں اس کے معنے موت کے بھی ہیں جب موت
کے واسطے قرینہ موجود ہو۔ موت کے معنے بھی لئے جاتے ہیں۔ میں ذیل میں چند آیات پیش کرتا
٣٥
اور ان کا بگڑنا حضرت مسیح کی تعلیم سے اور آپ کی زندگی میں ہوا ہے۔ یا آپ کی وفات کے بعد مسیح کے جواب دعویٰ سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا بگڑنا پیچھے ہوا ہے اور حضرت عیسیٰ کی وفات پہلے۔
سوم...... آنحضرت حدیث کوثر میں فرماتے ہیں کہ ”اقول کماقال عبد الصالح“ یعنی ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (بخاری ج٢ ص٦٦٥)“ کون نہیں جانتا کہ آنحضرت فوت ہو کر زمین میں مدفون ہیں؟
چہارم...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران: ١٤٤)“ یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایسے رسول ہو گزرے۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت سے پہلے جس قدر رسول ہوئے۔ وہ گزر گئے یعنی مر گئے۔
پنجم...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یاکلان الطعام (المائدہ: ٧٥)“ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس سے ماضی کا قرینہ صاف اس بات کا مظہر ہے کہ آپ فوت ہو گئے۔ اگر زندہ ہوتے تو فرمایا جاتا کہ وہ اب تک کھانا کھاتے ہیں۔
ششم...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد (انبیاء: ٣٤)“ اس سے بھی پایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت سے پہلے کسی بشر کے لئے خلد نہیں بنایا گیا۔
ہفتم...... اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو فرمایا کہ ”فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون (اعراف: ٢٥)“ ﴿زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں سے قیامت کے دن دوبارہ نکال کھڑے کئے جاؤ گے۔﴾ یہ آیت منافی ہے اس بات کی کہ کوئی انسان آسمان پر زندگی بسر کرے۔
ہشتم...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”و من نعمرہ ننکسہ (یسین: ٦٨)“ ﴿جس کو ہم زیادہ عمر والا کرتے ہیں۔ اس کو اوندھا کر دیتے ہیں﴾ اس سے پایا جاتا ہے کہ بہت بڑی عمر پا کر انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔ یہ ہیں میرے آٹھ سوال۔ ان کے جواب دیئے جاویں۔
نووارد...... بابو صاحب یہ سوالات کا کاغذ مجھے دے دیجئے اور جواب سنتے جائیے۔
اوّل...... توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور مجازی طور پر جہاں موت کے معنی لینے کے واسطے قرینہ موجود ہو۔ موت کے معنی بھی لئے جاتے ہیں۔ قرآن شریف میں بھی جہاں کہیں
٣٥
اس لفظ سے موت کے معنے لئے گئے ہیں۔ وہاں قرینہ موجود ہے اور اگر توفی کے معنے موت کے ہی ہوتے تو آپ لوگوں کو یا مرزا قادیانی کو فاعل اور مفعول کی شرط ساتھ لگانا نہ پڑتی۔ آیات ”اِن من اھل الکتاب الالیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء:١٥٩)“ اور ”وانہ لعلم للساعۃ“ یعنی ایسا کوئی نہ ہوگا۔ اہل کتاب سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آوے اور تحقیق وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نشانی ہیں قیامت کی۔ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ حدیثیں کھول کھول کر بیان کر رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ مثلاً ”ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ (تفسیر ابن کثیر ج١ ص٣٦٦)“ کہا آنحضرت نے یہود سے کہ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے اور بیشک وہ رجوع کرنے والے ہیں تمہاری طرف دن قیامت سے پہلے۔ دلائل قویہ موجود ہیں۔ مثلاً بل کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کے بعد جو بات ہو وہ ضد ہو، اس بات کی جو اس سے پہلے بیان ہوئی۔ مثلاً میں نے اسے بھوکا نہیں رکھا بلکہ رجا دیا۔ میں نکما نہیں رہا۔ بلکہ تمام دن کام کرتا رہا۔ خدا فرماتا ہے ”ماقتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ (نساء:١٥٨)“ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا رفع کے معنی یہاں عزت کے اس وجہ سے نہیں لے سکتے کہ اوّل تو تمام قرآن شریف میں عزت کے واسطے رفع الیہ نہیں آیا۔ دوسرے بل سے پہلے ہے قتل کا لفظ اور بل کے بعد ہے رفع۔ اگر اس رفع کے معنے عزت کے لیں تو قتل اور عزت میں ضد نہیں بلکہ مذہب اسلام میں خدا کی راہ میں قتل ہونے سے بڑھ کر کوئی عزت نہیں اور اگر یہ کہا جاوے کہ چونکہ بموجب حکم توریت یہود کا یہ خیال تھا کہ جو پھانسی دیا جاوے وہ لعنتی ہے۔ تو کیا یہود کی اس بات سے تسلی ہو سکتی ہے کہ تم نے تو اسے پھانسی دے ہی دیا۔ مگر ہم نے اس حکم کے خلاف جو ہم نے توریت میں دیا۔ اسے اتنی عزت دے دی۔ نہیں بلکہ یہود کی تردید اسی طرح پر ہو سکتی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے کی کہ اے یہود تم نے تو مکر کیا اور اپنی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دیا۔ لیکن ہم مکر کرنے والوں کے استاد تھے۔ ہم نے تمہارا ہاتھ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پڑنے نہ دیا اور جسے تم نے پھانسی دیا وہ کوئی اور ہی تھا۔ جسے تم عیسیٰ سمجھ گئے۔
- ١؎ ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (پ٣ع١٣)“
- ٢؎ ”واذکففت بنی اسرائیل عنک(پ٧ع٥)“
- ٣؎ ”وماقتلوہ وماصلبوہ ولکن شبھہ لھم (پ٦ع٢)“
٣٦
قرآن شریف میں جو صحف اولیٰ کی باتیں اللہ تعالیٰ کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم باور نہیں کرتے تو اہل کتاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ ان صحیفوں میں ہے۔ وہ سب درست ہے ہوتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرتؐ سے عرض کیا کہ یا حضرتؐ باتیں ہیں۔ کیا وہ نہ لکھی جاویں؟ تو آپؐ نے غصہ سے فرمایا ک ہوتے تو ان کو بھی میری شریعت کی متابعت کرنا پڑتی اور صحیح بخار سچا کہو نہ جھوٹا۔ بلکہ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور ان باتوں پر ا ثابت ہے کہ توریت، زبور، انجیل کی جو باتیں دوبارہ قرآن م اور جو نہیں آئیں۔ انہیں نہ ہم سچی کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹی۔
پس لازم آیا کہ قرآن کریم کی کسی آیت کے م کرے۔ تو ہم اسے صحف اولیٰ کی طرف لے جاویں اور ان معاملہ کی نسبت ایک انجیل کہتی ہے کہ جس کو پھانسی دیا گیا۔ اس اللہ تو نے مجھے کیوں بھلا دیا اور ترک کر دیا۔ دوسری انجیل برنبا نے کہا کہ مجھ کو اس بات پر یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ اس لئے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھا لے گا اور بے وفا کی ص کو ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔ مگر جب مقدس دھبہ کو مجھ سے دور کرے گا (فصل١١٢ آیات:١٣،١٥،١٦) اور بیا کے مقابلہ کے لئے مرزا قادیانی اسی کو بغل میں لے کر میدا چشمہ مسیحی حاشیہ، خزائن ج٢٠ص٣٤٦، کشف الغطاء ص٢٦، خزائن ج خزائن ج٣ص٢٨٨،٢٨٧) وغیرہ۔
قرآن شریف فرماتا ہے کہ ہم نے یہود پر اس ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو جو رسول خدا ہو حقیقت حال یہ ہے کہ نہ تو انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ال کو سولی دے رہے تھے۔ مگر ان کو ایسا ہی معلوم ہوا کہ ہم عی جو اس بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ میں یہ لوگ ناحق کے شک میں پڑے ہیں۔ ان کو اس کی ب
٣٧
قرآن شریف میں جو صحف اولیٰ کی باتیں اللہ تعالیٰ نے دوبارہ بیان کی ہیں۔ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم باور نہیں کرتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ لیکن اس کے برعکس یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ ان صحیفوں میں ہے۔ وہ سب درست ہے، اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرتؐ سے عرض کیا کہ یا حضرت ﷺ توریت میں بھی تو اچھی اچھی باتیں ہیں۔ کیا وہ نہ لکھی جاویں؟ تو آپ نے غصہ سے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اگر زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری شریعت کی متابعت کرنا پڑتی اور صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ اہل کتاب کو نہ سچا کہو نہ جھوٹا۔ بلکہ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور ان باتوں پر جو قرآن میں ہیں۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ توریت، زبور، انجیل کی جو باتیں دوبارہ قرآن میں آگئیں۔ وہ ہمارا ایمان ہے اور جو نہیں آئیں۔ انہیں نہ ہم سچی کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹی۔
پس لازم آیا کہ قرآن کریم کی کسی آیت کے مطلب ومعانی میں اگر کوئی تحریف کرے۔ تو ہم اسے صحف اولیٰ کی طرف لے جاویں اور ان سے پوچھیں کہ تم کیا کہتے ہو؟ اس معاملہ کی نسبت ایک انجیل کہتی ہے کہ جس کو پھانسی دیا گیا۔ اس نے یہ کہتے ہوئے جان دی کہ اے اللہ تو نے مجھے کیوں بھلا دیا اور ترک کر دیا۔ دوسری انجیل برنباس کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ مجھ کو اس بات پر یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا۔ اس لئے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھا لے گا اور بے وفا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک کہ اس کو ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔ مگر جب مقدس محمد رسول آئے گا۔ وہ اس بدنامی کے دھبہ کو مجھ سے دور کرے گا (فصل ١١٢ آیات ١٣، ١٥، ١٦) اور یہ انجیل برنباس وہ انجیل ہے کہ عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے مرزا قادیانی اسی کو بغل میں لے کر میدان میں نکلے تھے۔ دیکھو صفحات (ص٦ چشمہ مسیحی حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤١، کشف الغطاء ص ٢٦، خزائن ج ١٤ص ٢١١، سرمہ چشم آریہ ص ٢٣٩، ٢٤٠، خزائن ج ٢ ص ٢٨٧، ٢٨٨) وغیرہ۔
قرآن شریف فرماتا ہے کہ ہم نے یہود پر اس وجہ سے بھی لعنت بھیجی کہ انہوں نے کہا ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو جو رسول خدا ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، قتل کر ڈالا اور حقیقت حال یہ ہے کہ نہ تو انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا۔ واقعہ میں وہ کسی اور کو سولی دے رہے تھے۔ مگر ان کو ایسا ہی معلوم ہوا کہ ہم عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے رہے ہیں اور جو اس بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی تو اس معاملہ میں یہ لوگ ناحق کے شک میں پڑے ہیں۔ ان کو اس کی واقعی خبر تو ہے نہیں۔ مگر صرف اٹکل کے
٣٧
پیچھے دوڑے جارہے ہیں اور یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
(ترجمہ: مولوی نذیر احمد صاحب)
مرزا قادیانی اپنے مریدوں کو یہ معاملہ یوں سمجھاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا۔ لیکن جب وہ سولی سے اتارے گئے تو ان میں جان باقی تھی اور وہ کشمیر کی طرف بھاگ گئے اور ٨٦ سال تک وہاں زندہ رہ کر فوت ہو گئے اور ان کی جگہ میں آ گیا۔ بابو صاحب اب آپ ہی خدا کو حاضر ناظر جان کر فیصلہ کریں کہ بموجب فرمان خداوندی کہ ”فسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون (نحل: ٤٣)“ جب ہم نے اس مسئلہ کا حل اہل الذکر سے چاہا تو انہوں نے قرآن کی ان آیات کے ان معنوں کی تائید کی جو ہم مانتے ہیں یا ان معنوں کی جو مرزا قادیانی ہمارے منہ میں دیتے اور دماغ میں ٹھونستے ہیں کہ ہم انہیں مسیح ابن مریم مان لیں۔
- ٢....... اور یہ بات کہ حضرت ابن عباسؓ نے متوفیک کے معنی ممیتک کے کئے ہیں کہ اول تو اس
میں کچھ شک نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ جب یہودی مشورہ کرنے لگے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دی کہ اے عیسیٰ تیری موت تو میرے ہاتھ میں ہے۔ یہود کے ہاتھ میں نہیں اور جو تجھ پر میں مہربانیاں کروں گا۔ وہ بھی سن لے۔ میں تجھے زندہ آسمان پر اٹھا لوں گا۔ کافروں کی گندی صحبت سے پاک کروں گا اور تمہارے ماننے والوں کو تمہارے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت قبل از نزول کے قائل نہیں ہیں۔
صحابہؓ میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کی زیادہ تر روایات حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہیں چنانچہ ایک ان میں سے یہ ہے: ”لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلا الخ (تفسير ابن كثير ج٣ ص٩)“ جب ارادہ کیا اللہ نے تو یہ کہ اٹھاوے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف۔ نکلے حضرت عیسیٰ اپنے یاروں کی طرف اور گھر میں ١٢ مرد تھے۔
- ٣....... اس سوال کی سب ٹانگیں پہلے اور دوسرے سوالات کے جوابات میں ٹوٹ چکیں۔ دوم
اس سوال میں صرف لفظ توفیتنی کے معنے کا جھگڑا ہے۔ ہم اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ خدایا جب تک میں ان میں رہا۔ ان کے حالات سے واقف رہا۔ لیکن جب تو نے میرے دنیا میں رہنے کے دن پورے کر کے مجھے ان میں سے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان کے ٣٨
حال سے واقف رہا اور مرزا قادیانی اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ ج خبر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔ بہت خوب۔ اب سنئے اور کان دھر پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے یعنی ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عی گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے لوگوں سے یہ بات کہی تھی والدہ کو بھی دو خدا مانو۔ عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ اے پرو مجھ سے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں تیری شان میں ایسی بات کہوں نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو میرا کہنا تجھ کو ضرور ہی معلوم ہوا ہ کی بات جانتا ہے اور میں تیرے دل کی بات نہیں جانتا۔ غیب کی با نے جو مجھ کو حکم دیا تھا۔ پس وہی میں نے ان لوگوں کو کہہ سنایا تھ پروردگار ہے۔ اس کی عبادت کرو اور جب تک میں ان لوگوں میں م فلما توفیتنی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ۔“
(پ ٧ ع ٦ ترجمہ مولوی نذیر احمد
مرزا قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ١٤٧، خزائن ج ١٧ ص ٣١١) م ثابت ہے کہ عیسیٰ نے ١٢٠ برس عمر پائی ۔“ اور ہر ایک کو معلوم ہے جب آپ کی عمر ٣٣ برس ٦ ماہ کی تھی اس سے پایا گیا کہ اس واقع ٨٦ سال اور ٦ ماہ اور زندہ رہے۔ تواریخ سے ثابت ہے کہ اس واق یہودی نے یہ خرابیاں تثلیث وغیرہ کیں۔ عیسائی مذہب میں ڈالی
پ ١ رکوع ٣ ص ١٣ سوره النساء)۔
اور مرزا قادیانی بھی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ہیں: ”در حقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں ش شریر یہودی پولوس نام جو یونانی زبان سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا ہے۔ حواریوں میں آ ملا اور ظاہر کیا کہ میں نے عالم کشف میں ح شخص نے عیسائی مذہب میں بہت فساد ڈالے۔ ان باتوں سے ث خرابیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی پڑ گئی تھیں۔“ ( خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں: ”اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا کہ آس کر نصیبین کے راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ٣٩
حال سے واقف رہا اور مرزا قادیانی اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جب تو نے مجھے مار دیا تو پھر مجھے خبر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔ بہت خوب۔ اب سنئے اور کان دھر کر اور غور و انصاف سے سنئے۔ پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے یعنی ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے لوگوں سے یہ بات کہی تھی کہ خدا کے علاوہ مجھ کو اور میری والدہ کو بھی دو خدا مانو۔ عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ اے پروردگار! تیری ذات پاک ہے۔ مجھ سے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں تیری شان میں ایسی بات کہوں جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو میرا کہنا تجھ کو ضرور ہی معلوم ہوا ہوگا۔ کیونکہ تو تو میرے دل تک کی بات جانتا ہے اور میں تیرے دل کی بات نہیں جانتا۔ غیب کی باتیں تو تو ہی خوب جانتا ہے۔ تو نے جو مجھ کو حکم دیا تھا۔ پس وہی میں نے ان لوگوں کو کہہ سنایا تھا کہ اللہ جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اس کی عبادت کرو اور جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا۔ میں ان کا نگران رہا۔ فلما توفیتنی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔“ (پ ٧ ع ٦ ترجمہ مولوی نذیر احمد صاحب)
مرزا قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ١٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٣١١) پر لکھتے ہیں کہ ”حدیثوں سے ثابت ہے کہ عیسیٰ نے ١٢٠ برس عمر پائی۔“ اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اس وقت ہوا تھا جب آپ کی عمر ٣٣ برس ٦ ماہ کی تھی اس سے پایا گیا کہ اس واقعہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٨٦ سال اور ٦ ماہ اور زندہ رہے۔ تواریخ سے ثابت ہے کہ اس واقعہ صلیب سے ٨١ سال بعد بوس یہودی نے یہ خرابیاں تثلیث وغیرہ کیں۔ عیسائی مذہب میں ڈال دیں۔ دیکھو (احسن التفاسیر میں پ ٦ رکوع ٣ ص ١٣ سورہ النساء)۔
اور مرزا قادیانی بھی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١) پر لکھتے ہیں: ”در حقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہو گئی تھی۔ ایک شریر یہودی پولوس نام جو یونانی زبان سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا۔ جس کا ذکر مثنوی رومی میں بھی ہے۔ حواریوں میں آ ملا اور ظاہر کیا کہ میں نے عالم کشف میں عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا ہے۔ اس شخص نے عیسائی مذہب میں بہت فساد ڈالے۔ ان باتوں سے ثابت ہوا کہ مذہب عیسوی میں یہ خرابیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی پڑ گئی تھیں۔“ پھر مرزا قادیانی (ستارہ قیصریہ ص ١٠، خزائن ج ١٥ ص ١٢٣) پر لکھتے ہیں: ”اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کے راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک کوہ فغمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا۔“
٣٩
اہل اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں رہنے کے دو زمانے مانتے ہیں۔ پہلا زمانہ تبلیغ کا دوسرا بعد نزول قتل دجال اور قیام امن کا اور اللہ پاک کے اس سوال کو زمانہ تبلیغ کے متعلق مانتے ہیں اور مرزا قادیانی تو مانتے ہی ہیں کیونکہ وہ ان کے دوسرے زمانہ کے قائل ہی نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جوابات کا خلاصہ یہ ہے:
اول...... جب تک میں ان میں رہا۔ ان کے حالات کا نگران رہا۔ یعنی میرے زمانے میں وہ نہیں بگڑے۔
دوم...... فلما توفیتنی تو میری نگرانی ختم ہوگئی۔ پھر تو ہی انکا نگران حال رہا۔
اب اگر توفیتنی کے معنی کئے جاویں کہ جب تو نے مجھے مار دیا تو پایا جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مرنے تک کابل اور کشمیر میں بیٹھے ہوئے اپنے حواریوں کے حالات کے نگران رہے۔ کیونکہ نگرانی کا خاتمہ موت نے کیا اور یہ جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سراسر غلط ہوگا۔ کیونکہ اس زمانہ میں کسی تار برقی یا ٹیلی فون وغیرہ بلکہ ڈاک تک کا وجود کشمیر و کابل اور ملک شام کے درمیان ثابت نہیں۔ جس کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کابل و کشمیر میں بیٹھے ہوئے ٨٦ سال چھ ماہ تک اپنے حواریوں کے حالات کی نگرانی کرتے رہے اور پھر جبکہ پولوس نے بوجہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عمر ١٢٠ سال ہونے کے حضرت کی زندگی میں ہی حواریوں میں شرک کی تخم ریزی کر دی۔ تو یہ جواب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا غلط کہ میرے زمانے میں وہ نہیں بگڑے اور جب یہ مانا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں بیٹھے اپنے حواریوں کی نگرانی نہیں کر سکتے تھے اور نگرانی ختم توفیتنی سے ہوئی۔ تو شک نہ رہا کہ توفیتنی کے معنے کچھ بھی لو۔ یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ فعل ایسے زمانے میں واقعہ ہوا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں میں موجود تھے اور وہ وقوعہ سوائے واقعہ صلیب کے کوئی دوسرا نہیں۔ پس فلما توفیتنی کے معنی ہم تین سے زیادہ نہیں لے سکتے۔ (١) جب تو نے مجھے کشمیر کی طرف روانہ کر دیا۔ (٢) جب تو نے مجھے مار دیا۔ (٣) جب تو نے میرے دنیا میں رہنے کے دن پورے کر دیئے۔ پہلے معنے کسی طرح بھی لفظ توفیتنی سے نہیں نکلتے۔ دوسرے معنوں کی قرآن بڑے زور سے تردید کرتا ہے کہ ”ماقتلوہ یقینا“ اور مرزا قادیانی بھی نہیں مانتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر فوت ہوئے۔ پس تیسرے معنے ہی صحیح ہیں اور ان کے بغیر چارہ نہیں۔
لے مرزا قادیانی کے مذہب کے مطابق نگرانی تو ختم کی۔ کابل و کشمیر چلے جانے نے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ نگرانی ختم کی میری موت نے یعنی ٨٦ سال بعد ٤٠
سوم...... توفی کے معنے جب ہوئے دنیا میں رہنے کے دن پورے اس بیان پر کوئی اعتراض نہ رہا۔ خاص کر جب کہ مخاطب دونوں جـ کے دن میں نے کس طرح پورے کئے اور اس کے کس طرح پورے نے وہی الفاظ استعمال کئے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے لیکن بابو صاحب آپ کے اس سوال سے ایک خرابی واقعہ ہوتی نہیں کر سکیں گے۔ پوری حدیث کچھ اس طرح ہے روایت ہے ا رسول اللہ نے، پس فرمایا اے لوگو! بیشک تم جمع کئے جاؤ گے۔ اللہ کی بغیر ختنہ کئے پھر پڑھی یہ آیت ”کما بدأنا اول خلق نعـ فاعلین (انبیاء:١٠٤)“ پھر فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ سب حضرت ابراہیم کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ اور م میری امت میں سے پکڑے جاویں گے ان کو بائیں طرف۔ پھر ا چھوٹے اصحاب ہیں۔ پس کہا جائے گا بیشک تو نہیں جانتا ہے کہ بعد تیرے۔ پس کہوں گا میں مانند اس کی کہ کہا بندہ صالح یعنی عیسیٰ شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب کہا جائے گا کہ بیشک یہ لوگ پھر گئے اپنی ایڑیوں پر جیسے کہ چھوڑا تو
اب میں یہ کہتا ہوں کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو مرزا ا تھے۔ کیونکہ اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن آنحضر خدا کے سامنے یہ بیان دیں گے کہ جب تک ہم ان میں رہے رہے۔ لیکن اے اللہ ! جب تو نے ان میں سے ہم کو اٹھا لیا۔ پھر
اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں : ”آنحضرت کی نسبت لوگ آخـ ڈھونڈتے ہیں اور میں بلا انتظار آپ کے منہ سے سنتا ہوں ۔“
(رو
”میں نے کئی دفعہ آنحضرت کو اسی بیداری میں دی
(جنگـ
پوچھے ہیں۔
پرورش در دو عالم تکیہ دارم بر تو اے بس بزرگ
٤١
سوم ...... توفی کے معنے جب ہوئے دنیا میں رہنے کے دن پورے کر دینے کے تو آنحضرتؐ کے اس بیان پر کوئی اعتراض نہ رہا۔ خاص کر جب کہ مخاطب دونوں پیغمبروں کا خوب جانتا تھا کہ اس کے دن میں نے کس طرح پورے کئے اور اس کے کس طرح پورے تو باقاعدہ توجیہ اگر آنحضرتؐ نے وہی الفاظ استعمال کئے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے تو اس میں کیا حرج واقعہ ہوا۔ لیکن بابو صاحب آپ کے اس سوال سے ایک خرابی واقعہ ہوئی۔ جس کو آپ قیامت تک رفع نہیں کر سکیں گے۔ پوری حدیث کچھ اس طرح ہے ﴿روایت ہے ابن عباسؓ سے کہا کہ خطبہ پڑھا رسول اللہؐ نے، پس فرمایا اے لوگو! بیشک تم جمع کئے جاؤ گے۔ اللہ کی طرف ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کئے﴾ پھر پڑھی یہ آیت ”کما بدأنا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فاعلین (انبیاء:١٠٤) “ پھر فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ سب مخلوق سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیم کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ اور بیشک لائے جاویں گے چند مرد میری امت میں سے پھر لے جاویں گے ان کو بائیں طرف۔ پھر کہوں گا میں اے رب! یہ میرے چھوٹے اصحاب ہیں۔ پس کہا جائے گا بیشک تو نہیں جانتا ہے کہ کیا نئی چیزیں نکالیں انہوں نے بعد تیرے۔ پس کہوں گا میں مانند اس کے کہ کہا بندہ صالح یعنی عیسیٰ نے ”و کنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (مائدہ: ١١٧) “ پس کہا جائے گا کہ بیشک یہ لوگ پھر گئے اپنی ایڑیوں پر جیسے کہ چھوڑا تو نے ان کو۔
اب میں یہ کہتا ہوں کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو مرزا قادیانی بڑے جھوٹے اور مفتری تھے۔ کیونکہ اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن آنحضرتؐ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے سامنے یہ بیان دیں گے کہ جب تک ہم ان میں رہے۔ اپنی امتوں کے حال سے باخبر رہے۔ لیکن اے اللہ! جب تو نے ان میں سے ہم کو اٹھالیا۔ پھر ہمیں خبر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”آنحضرتؐ کی نسبت لوگ آنحضرتؐ کی حدیثیں زید وعمر سے ڈھونڈتے ہیں اور میں بلا انتظار آپ کے منہ سے سنتا ہوں ۔“
(دافع الوساوس ص ٢٥، خزائن ج ٥ ص ٢٥)
”میں نے کئی دفعہ آنحضرتؐ کو اسی بیداری میں دیکھا ہے۔ باتیں کی ہیں۔ مسائل پوچھے ہیں۔
(جنگ مقدس ص ١٢٩، خزائن ج ٦ ص ٢٢٣)
عشق تو دارم ازاں روز یکہ بودم شیر خوار
در دو عالم تکیہ دارم بتو از بس بزرگ
پرورش دادی مرا خود ہمچو طفلے در کنار
٤١
یاد کن آن لطف و رحمھا کہ با من داشتی وآں بشارتہا کہ میدادی مرا از کردگار
یاد کن وقتیکہ رو بنمودی بہ بیداری مرا آن جمالے آں رخے آں صورتے رشک بہار
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧، ٢٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
ترجمہ
دو جہانوں میں مجھے تجھ سے بڑی بھاری نسبت ہے تو نے خود مجھے بچے کی طرح گود میں پالا ہے
وہ وقت یاد کر جب تو نے مجھے اپنی شکل کشف میں دکھائی اور وہ وقت بھی جب تو میرا مشتاق بن کر میرے پاس آیا
ان مہربانیوں اور رحمتوں کو یاد کر جو تو میرے ساتھ کرتا تھا اور ان خوش خبریوں کو یاد کر جو تو خدا کی طرف سے لا کر مجھے دیا کرتا تھا
وہ وقت یاد کر جب تو نے بیداری میں مجھے اپنا جمال اپنا چہرہ اور اپنی صورت جس پر بہار رشک کرتی تھی، دکھائی
"ایک دن میں رات کی نماز کے فرض اور سنتیں ادا کر چکا تھا۔ جاگ رہا تھا۔ نہ نیند میں تھا۔ نہ غنودگی میں بیدار تھا۔ اس حالت پر میں نے دروازہ پر دستک کی آواز سنی۔ جب میں نے اس طرف نظر کی تو دیکھا کہ دستک دینے والے جلدی جلدی میری طرف آرہے ہیں اور جب وہ میرے قریب آگئے تو میں نے پہچان لیا کہ پنجتن پاک ہیں یعنی حضرت علی بمعہ دونوں بیٹوں اور بیوی کے اور رسول اللہ کے (معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد ) تو میں نے نیند میں دیکھا کہ آنحضرت نے آکر وہ کتاب مجھ سے لے لی اور ان مقامات پر انگلی رکھ کر تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ میرے لئے اور یہ میرے اصحاب کے واسطے۔"
(دافع الوساوس ص ٥٦٣، خزائن ج ٥ ص ٥٦٣)
(دافع الوساوس ص ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ٥٥٠) جب میں کتاب دافع الوساوس (دوسرا نام آئینہ کمالات) لکھ رہا تھا اور اس میں آنحضرت اور آپ کے اصحاب کی تعریف لکھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت
"میرے پر کشفاً ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔ تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اس نے جوش میں آکر اور اپنی امت کو ہلاکت کا مفسدہ پرواز پاکر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہہ چاہا جو اس ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو۔"
(دافع الوساوس ص ٢٥٤، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤)
سبحانے توبہ یہ مسلمانوں کے پیغمبر جن کو وہ دو جہاں کا بادشاہ اور کل پیغمبروں کا سردار اور اپنا شفیع مانتے ہیں۔ (معاذ اللہ ) خاکم بدہن کیسے تھے کہ ایک حقہ کش اور نماز روزہ کے غیر پابند شخص
٤٢
کے بیٹے کو (حیات النبی ص ٤٠) گود میں پالتے ہیں۔ خواب میں حاضر خدمت ہوتے ہیں۔ اپنی بیٹی، داماد اور نواسوں کو ساتھ لے آتے ہیں۔ دروازہ پر دستک (طلب اجازت ) دے کر اندر آتے ہیں۔ کوئی آپ کی اور آپ کے اصحاب کی تعریف لکھتا ہے تو مطلع ہو کر خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اپنی تعریف سننے کا آپ کو بہت شوق تھا اور آج قیامت کے دن جب خدا فرمائے گا کہ میں آپ کے ان اصحابوں کو نہیں جانتا کیونکہ آپ کی وفات کے بعد انہوں نے نئی نئی باتیں دین میں نکالیں تو آپ فرمائیں گے کہ وفات کے بعد تو مجھے خبر ہی نہیں انہوں نے کیا کیا اور حضرت عیسٰی جب تک میں ان میں رہا۔ ان کے حالات سے باخبر رہا۔ لیکن پھر مجھے خبر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور پھر اس ایک سو بیس سال میں اس سفید ریشی کے ساتھ اللہ میاں کے سامنے کیسا جھوٹ بولا۔
عیسائیوں کی کرتوتوں سے جوش میں آکر ان کی اصلاح کے لئے اپنا مثیل حضرت مرزا قادیانی جیسی ذات شریف کو بھیجا اور آسمان پر چلا گیا۔ تو مجھے خبر ہی نہیں کہ انہوں نے یعنی امت نے کیا کیا۔
بابو جی ...... جی ہاں سمجھ گیا۔
نووارد ....... کیا سمجھے؟
بابو صاحب ...... اتنا تو سمجھ گیا ہوں کہ مرزا قادیانی آج کل جو کچھ لکھتا ہے۔ اس کا آنحضرت کو علم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ قادیان میں جو رسالہ چھپتا ہے تو آپ کو خبر ہو جاتی ہے کہ اس میں کیا لکھا جا رہا ہے اور حضرت عیسیٰ کو قیامت سے پہلے عیسائیوں کے حالات معلوم ہو چکے۔ لیکن خدا کے سامنے ایسی واقفیتوں سے انکاری ہو جائیں گے۔ پس یہ دونوں اپنے بیانات میں سراسر جھوٹے ہیں۔
نووارد ....... تمہارے بچے جیتے رہیں۔ انصاف کی بات کہی ہے۔ بھلا ان خرافات کو ماننے والوں کا بھی منہ ہے کہ اس حدیث کوثر کو مانیں؟
قاضی صاحب ....... آپ آپس میں جھگڑیں یا سر پھٹول کریں۔ میرا ایک ایسا سوال حل ہو گیا جو آج تک نہیں ہوا تھا اور وہ یہ کہ
٤٣
کے بیٹے کو (حیات النبی ص ٤٠) گود میں پالتے ہیں۔ خدا سے بشارات لا لا کر دیتے ہیں۔ بیداری میں حاضر خدمت ہوتے ہیں۔ اپنی بیٹی، داماد اور نواسوں کو آپ کے سلام کے واسطے دائرہ دولت پر لاتے ہیں۔ دروازہ پر دستک (طلب اجازت) دے کر اندر داخل ہوتے ہیں۔ کتاب میں وہ آپ کی اور آپ کے اصحاب کی تعریف لکھتا ہے تو مطلع ہو کر خواب میں آ کر خوشنودی ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ اپنی تعریف سننے کا آپ کو بہت شوق تھا اور آج تک کسی نے کی نہ تھی۔ لیکن قیامت کے دن جب خدا فرمائے گا کہ میں آپ کے ان اصحابوں کو اس وجہ سے دوزخ میں ڈالتا ہوں کہ آپ کی وفات کے بعد انہوں نے نئی نئی باتیں دین میں نکالیں۔ تو آپ صاف فرمائیں گے کہ اپنی وفات کے بعد تو مجھے خبر ہی نہیں انہوں نے کیا کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام والا جواب دیں گے کہ جب تک میں ان میں رہا۔ ان کے حالات سے باخبر رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو پھر مجھے خبر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور پھر اس ایک سو بیس سال کے بوڑھے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھو اس سفید ریشی کے ساتھ اللہ میاں کے سامنے کیسا جھوٹ بولتا ہے۔ (معاذ اللہ) یعنی خود ہی تو عیسائیوں کی کرتوتوں سے جوش میں آ کر ان کی اصلاح کے لئے اور ان کے فتنہ کو فرو کرنے کے لئے اپنا مثیل حضرت مرزا قادیانی جیسی ذات شریف کو بھیجتا ہے اور خدا کو کہتا ہے کہ جب میں کشمیر چلا گیا تو مجھے خبر ہی نہیں کہ انہوں نے یعنی امت نے کیا کیا۔ بابوجی کچھ سمجھے؟
بابوجی ...... جی ہاں سمجھ گیا۔
نووارد ...... کیا سمجھے؟
بابو صاحب ...... اتنا تو سمجھ گیا ہوں کہ مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے۔ اس کا آنحضرت کو علم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ قادیان میں ایک کتاب اردو میں لکھی جاتی ہے تو آپ کو خبر ہو جاتی ہے کہ اس میں کیا لکھا جا رہا ہے اور اسی طرح پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت سے پہلے عیسائیوں کے حالات معلوم ہو چکے۔ لیکن قیامت کے دن یہ دونوں پیغمبر خدا کے سامنے ایسی واقفیتوں سے انکاری ہو جائیں گے۔ پس یا یہ حدیث غلط یا مرزا قادیانی ان کل بیانات میں سراسر جھوٹے۔
نووارد ...... تمہارے بچے جیتے رہیں۔ انصاف کی بات کہی۔ اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی کی ان خرافات کو ماننے والوں کا بھی منہ ہے کہ اس حدیث کوثر کو کسی کے پیش کریں؟
قاضی صاحب ...... آپ آپس میں جھگڑیں یا سر پھٹول کریں۔ مگر مرزا قادیانی کی تحریر سے میرا ایک ایسا سوال حل ہو گیا جو آج تک نہیں ہوا تھا اور وہ یہ کہ پنچتن میں یہ بھی طاقت ہے کہ وہ
٤٣
پارہ ١١ رکوع ٧ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”اذامس ا او قاعدا او قائما“ ﴿جب انسان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچتی پکارے جاتا ہے﴾ بابو صاحب! آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں صغیر ہیں؟ وحشی کتنے ہیں؟ خدا کو نہ ماننے والے دہرئے وغیرہ کتنے ہیں اس حکم سے باہر نہیں رہ جاتے؟ اگر خدا نے باوا آدم کو کہہ دیا کہ ب ہی رہوگے۔ زمین میں ہی مرو گے۔ تو یہ ایسا کلیہ قاعدہ بن گیا کہ عارضی طور پر آسمان پر نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ وہ زمین میں رہا ہے۔ ن فوت ہوگا اور قیامت کے دن زمین سے ہی اٹھے گا۔
پس آپ یاد رکھیں کہ کل کے معنی اکثر کے ہوا کرتے ہی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ پ ٢٧ ع ٥ میں فرماتا ہے ”ام للانسان مانی مراد بھی ملی ہے؟﴾ یعنی نہیں ملی اور مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٤ م ہیں ”کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ خدا تیری ساری مرادیں تجھے دے گ خدا نے اپنا قاعدہ ساری مرادیں پوری نہ کرنے کا توڑ دیا۔ پ ٥ ﴿کسی آدمی کی تاب نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دو بدو ہو کر کلام کرے ی کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو اس کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ ف ہے۔ پیغام خدا پہنچا دیتا ہے۔﴾ اور مرزا قادیانی (ضرورۃ الامام ہیں : ”خدا ان سے کسی قدر پردہ اپنے چہرے سے اٹھا کر کلام قادیانی کی خاطر پردے کے پیچھے سے کلام کرنے کا قاعدہ توڑ کے واسطے بھی اگر خدا نے اپنے قاعدے میں ذرہ سی ترمیم کر دی ت ہوتے ہیں؟
بابو صاحب ....... آپ نے مرزا قادیانی پر یہ کیسا بے جا ا پیتا تھا اور نماز روزے کا پابند نہ تھا۔
نووارد ....... حضرت میں نے کوئی اتہام نہیں لگایا۔ یعقوب علی تر انہی لکھی ہے۔ اس کا ص ٤٠ کھول کر دیکھ لیں۔
گاموں یعقوب علی بھی کچھ دیکھے داڑھی گھون والا ۔ ؎ گود میں بیٹھ کر داڑھی نوچنے والا۔
٤٥
پارہ ١١ رکوع ٧ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”اذامس الانسان ضردعانا لجنبه او قاعدا اوقائما“ ﴿ جب انسان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو پڑا یا کھڑا یا بیٹھا ہم کو پکارے جاتا ہے ﴾ بابو صاحب! آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں صغیر سن بچے کتنے ہیں؟ دیوانے کتنے ہیں؟ وحشی کتنے ہیں؟ خدا کو نہ ماننے والے دہرئیے وغیرہ کتنے ہیں؟ کیا یہ لاکھوں کروڑوں انسان اس حکم سے باہر نہیں رہ جاتے؟ اگر خدا نے باوا آدم کو کہہ دیا کہ بہشت سے اتر جاؤ۔ تم زمین میں ہی رہوگے۔ زمین میں ہی مرو گے۔ تو یہ ایسا کلیہ قاعدہ بن گیا کہ پدمہا انسانوں میں سے ایک بھی عارضی طور پر آسمان پر نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ وہ زمین میں رہا ہے۔ زمین میں رہے گا۔ زمین میں ہی فوت ہوگا اور قیامت کے دن زمین سے ہی اٹھے گا۔
پس آپ یاد رکھیں کہ کل کے معنی اکثر کے ہوا کرتے ہیں۔ نہ کہ کل سے کوئی فرد خارج ہی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ پ ٢٧ ع ٥ میں فرماتا ہے ”ام للانسان ماتمنى“ ﴿ کہیں انسان کو من مانی مراد بھی ملی ہے؟ ﴾ یعنی نہیں ملی اور مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٢ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣) پر لکھتے ہیں ”کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ خدا تیری ساری مرادیں تجھے دے گا ۔“ دیکھو مرزا قادیانی کے واسطے خدا نے اپنا قاعدہ ساری مرادیں پوری نہ کرنے کا توڑ دیا۔ پ ٢٥ ع ٦ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿ کسی آدمی کی تاب نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دو بدو ہو کر کلام کرے، مگر الہام کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو اس کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ خدا کے حکم سے جو اس کو منظور ہوتا ہے۔ پیغام خدا پہنچا دیتا ہے۔ ﴾ اور مرزا قادیانی (ضرورة الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ص ٤٨٣) پر لکھتے ہیں: ”خدا ان سے کسی قدر پردہ اپنے چہرے سے اٹھا کر کلام کرتا ہے۔“ یہاں خدا نے مرزا قادیانی کی خاطر پردے کے پیچھے سے کلام کرنے کا قاعدہ توڑ دیا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے بھی اگر خدا نے اپنے قاعدے میں ذرہ سی ترمیم کر دی تو اس سے مرزا قادیانی کیوں سیخ پا ہوتے ہیں؟
بابوصاحب ...... آپ نے مرزا قادیانی پر یہ کیسا بے جا حملہ کیا ہے کہ ان کا باپ حقہ بہت پیتا تھا اور نماز روزے کا پابند نہ تھا۔
نو وارد...... حضرت میں نے کوئی اتہام نہیں لگایا۔ یعقوب علی تراب نے جو مرزا قادیانی کی حیات النبی لکھی ہے۔ اس کا ص ٤٠ کھول کر دیکھ لیں۔
١؎ گود میں بیٹھ کر داڑھی نوچنے والا۔
٤٥٠
بابو صاحب ....... گاموں تو چپ ، بابو صاحب میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے جھوٹ بولا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ کسی کو یہ طعنہ دینا کہ تو ایک ایسے شخص کا بیٹا ہے۔ یہ بالکل درست نہیں۔ کیونکہ اس کی زد انبیاء علیہم السلام تک پہنچتی ہے۔ کیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ بت پرست کے بیٹے نہ تھے؟
نو وارد....... بابو صاحب! میں اس فعل کو آپ سے بھی زیادہ برا سمجھتا ہوں۔ مگر میں نے مرزا قادیانی پر یہ حملہ دیدہ دانستہ آپ سے یہ کلمات کہلوانے کے لئے کیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس برے فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔
بابو صاحب ....... (نہایت غصہ سے ) یہ مرزا قادیانی پر تیرا دوسرا اتہام ہے۔
نو وارد....... بابو صاحب! خفا نہ ہو جائیں۔ میں اتہام لگانے والا شخص نہیں۔ فرمائیں تو میں ابھی ان کی کتابوں میں دکھا دیتا ہوں۔
بابو صاحب ....... اچھا دکھا ورنہ میں تجھ سے کلام کرنا روانہ رکھوں گا۔
نو وارد....... قاضی صاحب یہ کتاب انجام آتھم مجھے دیجئے۔ بابو صاحب اس کی ابتداء میں یہ ہے اشتہار مباہلہ اس کا صفحہ ٥٩ ، خزائن ج ١١ ص ٥٩ دیکھئے۔ اس کا حاشیہ منشی سعد اللہ صاحب نو مسلم کی نسبت لکھتے ہیں: ”اس ہندو زادہ کی خباثت فطرتی اس لئے سب سے بڑھ کر ہے ۔“ کہ بابو صاحب کتاب زمین پر پٹخ کر، اس شخص کے مغلوب الغضب ہونے نے ہمیں ہر جگہ شرمایا۔ کہیں عبدالحکیم خان کے الہام کے جواب میں غصہ میں آ کر بے شمار الہام قرآنی آیات میں اتار دیئے۔ کہیں مولوی ثناء اللہ کی موت کے واسطے دست بدعا ہو گیا۔ کہیں آتھم کی موت کی پیشینگوئی کر دی۔ اچھا اب مباحثہ ختم ۔ آج رات میں یہ جوابات مولوی صاحب کو سناؤں گا۔ دیکھوں وہ حضرت کیا کہتے ہیں۔ کسی ہندو کو جو خدا سے ہدایت پا کر کلمہ رسول اللہ پڑھ لے۔ ہندو زادہ ہونے کا طعنہ دینا اور اس کو بد فطرت کہنا۔ یہ کہاں کی نبوت ہے۔ اگر تمہارا مذہبی خیالات واعتقادات میں کچھ اختلاف ہے۔ تو اس کو رفق اور نرمی سے طے کرو۔ نہ کہ گالیاں دو اور وہ بھی ایسی کہ انبیاء تک پہنچیں۔
بیوی....... مگر یہ مولوی صاحب آپ کے تو وہی ہیں کہ ہمیشہ مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ سے مباحثوں میں لاجواب ہوتے ہیں۔ لیکن کبھی قائل نہیں ہوتے ۔ بلکہ اپنی فتح کا ڈنکا بجایا کرتے ہیں۔ ان سے آپ کو کلمہ حق کہنے کی کیا توقع ہے؟ آپ اپنے ضمیر سے کام لیں یا حسب قرارداد فیصلہ قاضی صاحب سے لیں۔
١ مولوی ظہیر الدین صاحب مرزا قادیانی کو نئی شریعت والا رسول ثابت کرتے ہوئے لکھتے
ہیں کہ مرزا قادیانی کے الہاموں میں لفظ رفق آیا ہے۔ جو آنحضرت کے واسطے قرآن میں نہیں آیا۔
٤٦
بابو صاحب ....... مگر قاضی جی تو نہایت متحیر اور متفکر نظر آ رہے ہیں صاحب! بابو صاحب آپ کا قیافہ بالکل درست ہے۔ میرا خیال تو ادھر گیا تھا اور میں اس بات سے حیرت میں تھا کہ آنحضرت کے بعد جو جھوٹے نے کس قدر دماغ سوزی کی اور کیسے کیسے مکروں اور فریبوں سے جہلاء لکھوں کو اپنا معتقد بنالیا۔ یہ لوگ اصل میں خدا اور رسول کے منکر ہوئے لیڈر بنے اور عیش وعشرت سے زندگی بسر کرنے کے لئے اسلام کی آنکھوں کے اندھے اور گنٹھڑی کے پورے انہیں اسی مذہب میں ملتے مسلمانوں کی حالت پر آنسو بہاتا ہوں جو مذہب اسلام کے شوق میں سرمونڈ وا لیتے ہیں اور اسی قدر نہیں ۔ بلکہ بقول شخصے کل عالم دے بیٹے بنے کے کوشاں ہو جاتے ہیں کہ اور لوگ بھی ہمارے ہم خیال ہو کر ہما آجاویں۔ خواہ وہ اسلام کو دو کوڑی کا فائدہ نہ پہنچادیں اور ہزاروں رو اجاڑ دیں۔
بیوی....... لیجئے بابو صاحب! اب آپ نے قاضی صاحب کا فیصلہ سن اپنے اس عقیدہ سے رجوع کریں اور میرے ہم خیال ہو جائیں۔ قادیا بلکہ آئندہ یہ ناپاک روپیہ جو آپ لنگر خانہ اور بہشتی مقبرہ کے لئے لیتے ہی کیں رہ کہ تو میروی بتر کستا غریب مزدوروں کا پیٹ کاٹ کر ٹھیکہ داروں سے آنکھی کی تعمیر میں بے ایمانی کرنے کی ٹھیکہ داروں کو اجازت دے کر جو رو آپ بہشتی مقبرہ خریدنا چاہیں تو:
نو وارد....... بیوی جی! ابھی ان سے توبہ نہ کراویں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ میں مل جائیں۔ کل کا دن اور صبر کریں۔ کل میں ان کی مجددیت پر و گاموں....... بے بے جی! بابو ہوری اس گل توں ڈرد اخباراں چھاپ دین گے جے فلانا مرتد ہو گیا۔
١ اماں جی بابو صاحب اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ
چھاپ دیں گے کہ فلاں مرتد ہو گیا۔
٤٧
بابو صاحب....... مگر قاضی جی تو نہایت متحیر اور متفکر نظر آ رہے ہیں۔ خدا خیر کرے قاضی صاحب! بابو صاحب آپ کا قیافہ بالکل درست ہے۔ میرا خیال تواریخ کی کتابوں کی طرف چلا گیا تھا اور میں اس بات سے حیرت میں تھا کہ آنحضرت کے بعد جو جھوٹے نبی بنتے رہے۔ انہوں نے کس قدر دماغ سوزی کی اور کیسے کیسے مکروں اور فریبوں سے جہلا ہی کو نہیں اچھے اچھے پڑھے لکھوں کو اپنا معتقد بنالیا۔ یہ لوگ اصل میں خدا اور رسول کے منکر ہوتے ہیں۔ لیکن ایک قوم کے لیڈر بننے اور عیش وعشرت سے زندگی بسر کرنے کے لئے اسلام کی آڑ لے لیتے ہیں۔ کیونکہ آنکھوں کے اندھے اور گٹھڑی کے پورے انہیں اسی مذہب میں نظر آتے ہیں۔ مگر میں ان مسلمانوں کی حالت پر آنسو بہاتا ہوں جو مذہب اسلام کے شوق میں ان لوگوں کے پیچھے لگ کر سر منڈوا لیتے ہیں اور اسی قدر نہیں۔ بلکہ بقول شخصے کل عالم دے بیٹے بھنگی جان و مال سے اس بات کے کوشاں ہو جاتے ہیں کہ اور لوگ بھی ہمارے ہم خیال ہو کر ہمارے مذہب کے دائرہ میں آ جاویں۔ خواہ وہ اسلام کو دو کوڑی کا فائدہ نہ پہنچادیں اور ہزاروں روپیہ فیس اور ڈنر کی صورت میں اُجاڑ دیں۔
بیوی...... لیجئے بابو صاحب! اب آپ نے قاضی صاحب کا فیصلہ سن لیا۔ اب آپ حسب قرارداد اپنے اس عقیدہ سے رجوع کریں اور میرے ہم خیال ہو جائیں۔ قادیانی چندوں سے نجات پائیں۔ بلکہ آئندہ یہ ناپاک روپیہ جو آپ لنگر خانہ اور بہشتی مقبرہ کے لئے دیتے ہیں۔ دینا ہی بند کردیں۔
غریب مزدوروں کا پیٹ کاٹ کر ٹھیکہ داروں سے آنکھیں نیچی کر کے سرکاری عمارات کی تعمیر میں بے ایمانی کرنے کی ٹھیکہ داروں کو اجازت دے کر جو روپیہ آپ نے کمایا اس سے اگر آپ بہشتی مقبرہ خریدنا چاہیں تو:
نووارد...... بیوی جی! ابھی ان سے توبہ نہ کراویں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ خام مسلمان رہ کر لاہوری پارٹی میں مل جائیں۔ کل کا دن اور صبر کریں۔ کل میں ان کی مجددیت پر روشنی ڈالوں گا۔
گاموں...... بے بے جی! بابو ہوری اس گل توں ڈردے ہن جے توبہ کیتی تے مرزائی اخباراں چھاپ دین گے جے فلانا مرتد ہو گیا۔
اے اماں جی بابو صاحب اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ اگر توبہ کی تو مرزائی اخباروں میں چھاپ دیں گے کہ فلاں مرتد ہو گیا۔
٤٧
بابوجی...... تو اپنی باتوں سے باز نہ آیا۔ بیوی...... بابو صاحب لڑکے نے تو سچ کہا۔ یہ انہوں نے بڑی دھمکی رکھی ہوئی ہے۔ مگر اس دھمکی میں کون آتے ہیں؟ صرف کمزور ایمان والے۔ غلام احمد جا جا کر حقہ بھر لا اور پاندان مجھے دے میں پان بنا دوں۔ قاضی صاحب اور نو وارد پان کھا کر اور حقہ پی کر لیجئے اب اجازت دیجئے۔ رات خیریت سے گزرے تو انشاء اللہ کل حاضر ہوں گے۔ السلام علیکم وعلیکم السلام!
دوسرے دن دروازے پر دستک بیوی...... گاموں دیکھ آج صبح ہی صبح کون آن ٹپکا؟ گاموں...... (دروازے کھولتے ہی) آیئے آیئے، آؤ لنگھ آؤ۔ قاضی صاحب اور نو وارد صحن میں داخل ہو کر ”السلام علیکم!“ بیوی...... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ زینت الدار مرحبا۔ قاضی صاحب...... کیا بابو صاحب ابھی بیدار نہیں ہوئے؟ بیوی...... رات باہر سے بہت ناوقت آ کر سوئے۔ ابھی بیدار ہوئے ہیں۔ غسل خانہ میں ہیں۔ بابو صاحب...... (تولیہ گردن پر ملتے ہوئے باہر آ کر) اجی آج ایسے سویرے بابو صاحب کو شاید اپنی کامیابی کی خوشی میں رات نیند نہیں آئی۔ مگر قاضی صاحب آپ کو خلاف معمول اس قدر سویرے اٹھنا پڑا۔ نووارد...... بابو صاحب! واقعی آپ کا خیال بالکل درست ہے۔ کچھ تو کامیابی کی خوشی اور کچھ میں اس فکر میں رہا کہ آج کی تقریر کو کس طرح ایسا مختصر کروں کہ ایک دن میں تمام ہو جائے۔ بابو صاحب...... رات تو مولوی صاحب نے مجھے بڑی ملامت کی کہ تو نے قادیان سے اجازت لئے بغیر یہ بحث کیوں شروع کی۔ میں نے کہا کہ حضرت آپ کو کیا خبر کہ میری زندگی کیسی تلخ گزر رہی ہے؟ مرنے کے بعد بہشتی مقبرہ تو خدا جانے نصیب ہو یا نہ ہو۔ میں ملازم آدمی خدا جانے دم کس ملک اور کس شہر میں نکل جائے اور پھر خدا جانے کوئی احمدی ڈاکٹر وہاں ہو یا نہ ہو کہ تصدیق کر دے کہ یہ کسی متعدی مرض سے نہیں مرا کہ میرا جنازہ قادیان پہنچ سکے۔ مگر گھر مرزا قادیانی کی مہربانی سے دوزخی مقبرہ بنا ہوا ہے۔ میں احمدی اور میری بیوی محمدی ہر وقت تنازعہ، ہر وقت جھگڑا۔ جب زندگی نہایت تلخ ہو گئی تو ناچار یہ فیصلہ کیا کہ اس روز روز کی چخ چخ کا خاتمہ کروں اور بیوی سے تبادلہ خیالات کر کے جو حق ثابت ہو، اس پر دونوں قائم ہو جائیں۔ اس پر مولوی صاحب فرمانے لگے کہ تبادلہ خیالات بیوی سے تو کرتے۔ مگر اس یکے از کوہات کو کیوں اجازت ٤٨
دی کہ زہریلہ مادہ تمہارے کانوں میں ڈالے۔ میں نے کہا کہ کہ قرآن وحدیث اور معقول بات کو کان نہ دوں۔ اگر یہ مذہب ایک ٹھیس لگتی ہے۔ تو اس آٹے کے چراغ کو باہر رکھو تو کوے کھائیں اور اندر رکھو تو چوہے۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ یہ فتنے فساد تو گھر پڑے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ حضرت بڑا افسوس ہے کہ آپ عالم کہلوا کر جاہلوں کی سی بات کی۔ کہاں آنحضرت کا زمانہ کہاں زمانہ جہاں دیکھو دین دار مسلمانوں کے گھر میں ہی یہ فساد بپا ہے۔ سوا اس کے کہ مرزا قادیانی کا نام دنیا میں قائم رہے قاضی صاحب اپنے دوست کی تقریر شروع کرائیں۔ نووارد...... بابو صاحب آج کی میری تقریر اس بات پر ہوگی کہ آپ تھوڑی دیر کے واسطے تسلیم کر لیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے اور آ نے والا مسیح امت میں سے ہوگا۔ نہ کہ بنی اسرائیل میں سے تو بھی ہمیں اس عیسیٰ سے کوسوں فاصلہ پر کنارہ کشی کرنی ہوگی۔ یہ قادیانی ہرگز ہرگز اس لائق نہیں کہ اس کو مسیح بھی مانا جاوے۔ کیونکہ ہمارے رسول مقبول ﷺ فداہ ابی وامی نے جھوٹے نبیوں کے فتنوں سے بچانے کے لئے صاف فرما دیا کہ خبردار رہو۔ اور آنے والے مسیح کا پورے طور تعین کر دیا کہ روح اللہ نبی اللہ ہوں گے۔ ان کا لباس ان کی جائے نزول اور ان کے کام بیان کر کے ایسا صاف خاکہ کھینچ دیا کہ کوئی شبہ کی گنجائش نہ چھوڑی۔ وہ بھی بیان فرما دیا کہ لڑائیوں اور جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جزیہ قبول نہ کیا جاوے گا۔ مال اس قدر زیادہ ہوگا کہ لینے والا نہ ملے گا۔ آپس میں عداوتیں جاتی رہیں گی۔ حسد جاتا ر رہے گا۔ زمین صلح سے بھر جائے گی۔ دودھ میں برکت ہو گی۔ اب ان کو مرزا قادیانی نے بھی صحیح مانا ہے۔ چنانچہ انہیں نشانوں کے ساتھ اپنا مقابلہ کرو۔
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس شقی کو
کیوں بھولتے ہو تم دین مصطفیٰ کو
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو حدیث نبی کو
٤٩
دی کہ زہریلہ مادہ تمہارے کانوں میں ڈالے۔ میں نے کہا کہ میں ایسے تنگ خیالات کا آدمی نہیں کہ قرآن وحدیث اور معقول بات کو کانہ دوں۔ اگر یہ مذہب ایسا ہے کہ قرآن وحدیث سے اسے ٹھیس لگتی ہے۔ تو اس آٹے کے چراغ کی ہم کہاں تک حفاظت کریں گے کہ باہر رکھو تو کوے کھائیں اور اندر رکھو تو چوہے۔
مولوی صاحب فرمانے لگے کہ یہ فتنے فساد تو گھروں میں آنحضرت کی وجہ سے بھی پڑے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ حضرت بڑا افسوس ہے کہ آپ نے لکھے پڑھے ہو کر بلکہ مولوی کہلوا کر جاہلوں کی سی بات کی۔ کہاں آنحضرت کا زمانہ کہ چاروں طرف کفار ہی کفار اور کہاں یہ زمانہ جہاں دیکھو دین دار مسلمانوں کے گھر میں ہی یہ فساد ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس علیحدہ فرقہ بننے سے سوا اس کے کہ مرزا قادیانی کا نام دنیا میں قائم رہے۔ اسلام کو کیا فائدہ پہنچا؟ اچھا قاضی صاحب اپنے دوست کی تقریر شروع کرائیں۔
نووارد....... بابو صاحب آج کی میری تقریر اس بات پر ہوگی کہ بالفرض محال اگر ہم ایک منٹ کے واسطے تسلیم کرلیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے اور آنے والا مسیح آنحضرت کی امت میں سے ہوگا۔ نہ کہ ان کی اپنی امت میں سے تو بھی ہمیں اس عیسیٰ ابن مریم کی تلاش قادیان سے دور فاصلہ پر کرنی ہوگی۔ یہ قادیان ہرگز ہرگز اس لائق نہیں کہ اس کو مہدی، نبی مسیح اور مجدد تو کیا مسلمان بھی مانا جاوے۔ کیونکہ ہمارے رسول مقبول ﷺ فداہ ابی وامی ہادی برحق نے اپنی امت کو جھوٹے نبیوں کے چکموں سے بچانے کے لئے صاف فرمادیا کہ خبردار ہو جاؤ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور آنے والے مسیح کا پورے طور تعین کر دیا کہ روح اللہ نبی اللہ۔ ابن مریم۔ پھر ان کا حلیہ بیان کیا۔ ان کا لباس ان کی جائے نزول اور ان کے کام بیان کر کے ان کے وقت میں دنیا کا جو رنگ ہوگا۔ وہ بھی بیان فرما دیا کہ لڑائیوں اور جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دولت اس قدر ہوگی کہ کوئی زکوۃ لینے والا نہ ملے گا۔ آپس میں عداوتیں جاتی رہیں گی۔ حسد جاتا رہے گا۔ زہریلے جانوروں کا زہر جاتا رہے گا۔ زمین صلح سے بھر جائے گی۔ دودھ میں برکت ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ ان احادیث کو مرزا قادیانی نے بھی صحیح مانا ہے۔ چنانچہ انہی نشانوں کے ساتھ اپنا آنا ظاہر کرنے کے لئے فرماتے ہیں:
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
٤٩
عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا
جب آ جائے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا
جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گو سپند
کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بے گزند
یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ جنگ کا
بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
ان اشعار کے ماتحت مرزا قادیانی کے مسیح ہونے نہ ہونے کے امتحان کے لئے اول اس بات کو دیکھنا ہے کہ مرزا قادیانی کا زمانہ کب سے شروع ہوا اور کب ختم ہوا۔ ابتداء اس کی اگر مرزا قادیانی کی پیدائش سے لیں تو جنگ ذیل ان کے زمانہ میں داخل ہیں۔
١٨٥٧ء غدر دہلی و میرٹھ ١٨٦٣ء جنگ سرکاری ہتیر (سرحد) ٧٧، ١٨٧٦ء جنگ جواکی ١٨٧٨ء جنگ کابل ٨١، ١٨٨٠ء جنگ سوڈان
اگر ابتداء اس وقت سے لیں جب وہ بقول خود مبعوث ہوئے تو جنگ ذیل ان کی مہدویت اور مسیحیت میں ہوئیں۔
٨٥، ١٨٨٧ء جنگ برہما ٨٨، ١٨٨٩ء جنگ کالا ڈھا کہ (سرحد) ١٨٩٠ء جنگ ہنزہ و نگر (سرحد) ١٨٩١ء جنگ سمانہ (سرحد) ١٨٩٥ء جنگ ملاکنڈ (سرحد) ٩٧، ١٨٩٨ء جنگ تیراہ ١٨٩٩ء جنگ وزیرستان
٥٠
جنگ چین ١٩٠١، ١٩٠٢ء جنگ بھٹنڈہ ١٩٠١ء
اب رہا زمانہ تک کا کہ ان کا زمانہ کب تک تھایا۔ مرزائیوں سے جب ہم پوچھتے ہیں کہ تمہارے خزائن ج ٢٣ ص ٩٠) پر لکھا ہے: ”میرے زمانہ میں تمام قومیں ایک ہی مذہب اسلام ہو جائے گا۔“ لیکن ایسا تو نہ ہوا۔ تو وہ رہا ہے۔ یہ بھی انہی کا زمانہ ہے اور یورپ اور امریکہ میں ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی کا زمانہ ان کی زندگی تک ہی مانا کی سراسر جھوٹی ثابت ہوتی ہے اور اگر ان کی وفات کے با جنگ ذیل بھی انہی کے زمانے میں ہوئے۔
جنگ جرمنی ١٩١٤، ١٩١٨ء جنگ افغان ١٩١٩ء جنگ محمرہ ١٩٢٢ء
ان جنگوں میں سے جنگ یورپ یا دوسرے جب سے خدا نے زمین اور آسمان پیدا کئے۔ ایسی جنگ و کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمام دنیا آنے سے جنگوں کا خاتمہ ہونا تھا۔ تو تمام دنیا کے جنگوں قادیانی کی رعایت کر کے تمام دنیا کی جنگوں کو نہیں لیا۔ صر ایک فریق تھا۔ جس کی مسیح صاحب اور مہدی صاحب رم جنگوں کے فریق دوم مسلمان اور آنحضرت کی امت ا مرزا قادیانی کی ہی امت۔ پس مرزا قادیانی اگر مسیح تھے سے روکا اور کون سی جنگیں بند کرائیں۔ عیسائیوں کی عیسائیوں یا عیسائیوں کی جنگ بدھ مت والوں سے؟ آ کی مسلمانوں سے یا ہندوؤں کی ہندوؤں سے تو وہ کب مرزا قادیانی کے زمانہ میں دنیا میں سانپوں بھیڑوں کو چھوڑ کر چنے چبا کر یا گھاس کھا کر گزارہ کرنا
٥١
جنگ چین و جنگ ٹرنسوال ١٩٠١ء،١٩٠٢ء جنگ مہمند (سرحد) ١٩٠١ء
اب رہا یہ کہ ان کا زمانہ کب تک تھا یا ہے۔
مرزائیوں سے جب ہم پوچھتے ہیں کہ تمہارے مرزا قادیانی نے (چشمہ معرفت ص ٨٢، خزائن ج ٢٣ص٩٠) پر لکھا ہے: ”میرے زمانہ میں تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں گی اور ایک ہی مذہب اسلام ہو جائے گا۔“ لیکن ایسا تو نہ ہوا تو وہ ہمیں جواب دیتے ہیں کہ جو زمانہ گزر رہا ہے۔ یہ بھی انہی کا زمانہ ہے اور یورپ اور امریکہ میں اب لوگ اسلام قبول کرنے لگ گئے ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی کا زمانہ ان کی زندگی تک ہی مانا جائے تو یہ دعویٰ ان کا یا پیشین گوئی ان کی سراسر جھوٹی ثابت ہوتی ہے اور اگر ان کی وفات کے بعد کا زمانہ بھی انہی کا زمانہ سمجھا جائے تو جنگ ذیل بھی انہی کے زمانے میں ہوئے۔
جنگ جرمن جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی ١٩١٤ء،١٩١٨ء جنگ افغان یعنی افغان وار ١٩١٩ء جنگ محسود وزیر ١٩٢٢ء
ان جنگوں میں سے جنگ یورپ یا دوسرے الفاظ میں جنگ جرمن وہ جنگ ہے کہ جب سے خدا نے زمین اور آسمان پیدا کئے۔ ایسی جنگ دیکھنے سننے میں نہیں آئی بالآخر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ پس اگر ان کے آنے سے جنگوں کا خاتمہ ہونا تھا۔ تو تمام دنیا کے جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن میں نے مرزا قادیانی کی رعایت کر کے تمام دنیا کی جنگوں کو نہیں لیا۔ صرف انہی جنگوں کو لیا ہے جن میں وہ بادشاہ ایک فریق تھا۔ جس کے مسیح صاحب اور مہدی صاحب رعیت میں تھے اور ان کل جنگوں میں سوا تین جنگوں کے فریق دوم مسلمان اور آنحضرت کی امت اور اگر مرزا قادیانی آنحضرت ہی تھے۔ تو مرزا قادیانی کی ہی امت۔ پس مرزا قادیانی اگر مسیح تھے۔ (خاکم بدہن) تو انہوں نے کس کو جنگ سے روکا اور کون سی جنگیں بند کرائیں۔ عیسائیوں کی جنگ مسلمانوں سے یا عیسائیوں کی جنگ عیسائیوں سے یا عیسائیوں کی جنگ بدھ مت والوں سے؟ آخر کس کی کس سے؟ اگر کہا جائے ہندؤوں کی مسلمانوں سے یا ہندؤوں کی ہندؤوں سے تو وہ کب تھیں؟
مرزا قادیانی کے زمانہ میں دنیا میں سانپوں کے کاٹنے سے بچوں کا نہ مرنا اور شیروں کا بھیڑوں کو چھوڑ کر پتے چبا کر یا گھاس کھا کر گزارہ کرنا۔ اموات پیدائش اور تلفی حیوانات درندہ کے
٥١
نقشہ جات سے معلوم ہو سکتا ہے۔ روپیہ کی افراط محکمہ انکم ٹیکس کے قائم ہونے سے معلوم ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ اس مدعی مسیحیت اور مہدویت نے خود اپنے انکم ٹیکس کی عذرداری کی کہ میں انکم ٹیکس ادا نہیں کر سکتا اور وہ منظور بھی ہو گئی۔ زکوٰۃ کے لئے مسیح صاحب نے مسلمانوں کے آگے خود ہاتھ دراز کیا کہ زکوٰۃ سے میری کتابیں خریدو۔ دودھ میں اتنی برکت ہوئی کہ گھی طبیبوں کے نسخوں میں لکھے جانے کے لائق ہو گیا۔ زمین صلح سے بھر جائے گی کے معنی زمین فتنہ و فساد سے بھر جائے گی۔ حسد و بغض اور تو کہیں سے رفع نہیں ہوا۔ شاید مرزا قادیانی کی امت کی جو تین چار پارٹیاں ہیں۔ ان سے رفع ہو گیا ہو۔
گاموں ....... (چائے میز پر رکھتے ہوئے) بادشاہ ہو جد توڑی ہتھ وچ تلوار نہ ہووے، قلم نال وی کدے جنگ بند ہوئے ہن؟
نووارد ....... نہیں گاموں تو یہ کیا کہتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ یورپ والوں نے یورپ کا فساد رفع کرنے کے لئے مرزا قادیانی کی کتابیں طلب کی ہیں اور وائسرائے نے ایک ہاتھی ان کے اشتہاروں اور کتابوں کا لاد کر بذریعہ تار ولایت بھیجا ہے۔ قہقہہ
بیوی ....... قاضی صاحب آج آپ چائے کیوں نہیں پیتے؟
قاضی صاحب ....... چائے کی پیالی اٹھا کر اور منہ کے قریب لاکر، بیوی جی! اس مباحثہ نے تو مجھے پاگل کر دیا۔ ایک شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے نبی ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ اے لوگو! میرے زمانہ میں کل مذاہب باطلہ اسلام میں جذب ہو کر اسلام ہی اسلام رہ جائے گا۔ جنگ ایسے بند ہوں گے کہ تیر و تفنگ چلانا ہی لوگ چھوڑ دیں گے۔ زمین صلح سے بھر جائے گی۔ شیر اور گوسفند ایک گھاٹ سے پانی پیئیں گے۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے وغیرہ وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں مسلمانوں کو فرماتا ہے کہ میرا رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے تمہیں منع کرے باز رہو۔ رسول مقبول ﷺ بآواز بلند فرما رہے ہیں کہ اے مسلمانو! میری امت میں ٣٠ جھوٹے رسول پیدا ہوں گے۔ ان سے بچنا۔ توریت کہہ رہی ہے کہ جس نبی کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی نکلے اسے قتل کر دو۔ اب میں اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں کہ اس نبی کی تمام پیشین گوئیاں جھوٹی ہی نہیں ثابت ہوئیں بلکہ قدرت ان سب کا ضد عمل میں لاتی ہے۔ لیکن قرآن مجید اور حدیث اور حکم توریت کے خلاف بھی لوگ ہیں کہ اس کو نبی مان رہے ہیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ جان مار رہے ہیں کہ اور لوگ بھی اسے نبی مانیں۔
بابو صاحب ....... مگر جنگوں سے تو مرزا قادیانی کی مراد جہاد ہیں۔
٥٢
٥٩
نووارد ....... اجی لاحول ولاقوۃ ۔ یہ تو گورنمنٹ کے خوش کرنے حدیث کو لو جس کا اس نظم میں حوالہ دیا گیا ہے اور جہاد کو مرزا قادیان علاوہ بریں ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے کہ زمین صلح سے بھر گئی ی مرزا قادیانی نے کب اور کہاں بند کر دیں؟
قاضی صاحب ....... (چائے کی پیالی میز پر رکھ کر ) بابو صاحب
آپ جیسے شخص کا اس دام میں اسیر ہونا نہایت شرمناک
بابو صاحب ....... جواب کو ایک بناوٹی ڈکار میں ٹال کر
اور .......
نووارد ....... بابو صاحب! مرزا قادیانی آنجہانی اپنی کتاب (ضرو پر بڑے جلی حروف میں لکھتے ہیں: ”امام الزمان میں ہوں ۔“ او ص ٢٨١، ٢٨٢) پر امام الزمان کی تعریف یوں کرتے ہیں: ”مصیب اس وقت جب سخت دشمن سے مقابلہ آ پڑے اور کسی نشان کا مط اور یا کسی کی ہمدردی واجبات سے ہو۔ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے محبت و وفا اور عزم لایفک سے بھری ہوئی دعاؤں سے ملاء اعلیٰ محویت کی تضرعات سے آسمانوں میں ایک دردناک غلغلہ ہے....... ان کے اقبال علی اللہ کی حرارت یعنی خدا تعالیٰ کی طرف شروع کر دیتی ہے اور تقدیریں بدلتی ہیں۔ الخ
میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی ایسی بددعا بھی ہوگی جو محمد حسین صاحب بٹالوی ۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ۔ ڈا کی نسبت جنہوں نے آپ کی زندگی تلخ کر کے ناک میں دم کر اور غاصب آسمانی منکوحہ کی نسبت رات کو چارپائی پر کروٹیں لی بے اختیار مرزا قادیانی کے جسم و دل سے نکلتی ہوں گے۔ وہ تو م ان کی نسبت قیاس میں اچھی آ سکتی ہیں۔ مگر کیا ہوا نہ ملاء اعلیٰ میں ش اثر پیدا ہوا۔ نہ کوئی تقدیر بدلی۔ اب اس سے بڑھ کر کوئی اور مرزا قادیانی امام الزمان ہونے کے دعوے میں بھی جھوٹے تھے۔
٥٣
نووارد ...... اجی لاحول ولاقوة۔ یہ تو گورنمنٹ کے خوش کرنے کے لئے بات بنائی گئی۔ اصل حدیث کو لو جس کا اس نظم میں حوالہ دیا گیا ہے اور جہاد کو مرزا قادیانی نے خود دفاعی جنگ مانا ہے۔ علاوہ بریں ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے کہ زمین صلح سے بھر گئی یا بدامنی سے اور دین کی لڑائیاں مرزا قادیانی نے کب اور کہاں بند کر دیں؟
قاضی صاحب ...... (چائے کی پیالی میز پر رکھ کر ) بابو صاحب!
آپ جیسے شخص کا اس دام میں اسیر ہونا نہایت شرمناک ہے۔
بابو صاحب ....... جواب کو ایک بناوٹی ڈکار میں ٹال کر گاموں ! برتن اٹھا۔ اچھا بابو کچھ اور .......
نووارد ...... بابو صاحب! مرزا قادیانی آنجہانی اپنی کتاب (ضرورة الامام ص٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) پر بڑے جلی حروف میں لکھتے ہیں: ”امام الزمان میں ہوں ۔“ اور اسی رسالہ کے (ص ١١، خزائن ج١٣ ص ٤٨١، ٤٨٢) پر امام الزمان کی تعریف یوں کرتے ہیں : ”مصیبتوں اور ابتلاؤں کے وقت اور نیز اس وقت جب سخت دشمن سے مقابلہ آ پڑے اور کسی نشان کا مطالبہ ہو اور یا کسی فتح کی ضرورت ہو اور یا کسی کی ہمدردی واجبات سے ہو۔ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں کہ ان کے صدق اور اخلاص اور محبت و وفا اور عزم لاینفک سے بھری ہوئی دعاؤں سے ملاء اعلیٰ میں ایک شور پڑ جاتا ہے اور ان کی محویت کی تضرعات سے آسمانوں میں ایک دردناک غلغلہ پیدا ہو کر ملائکہ میں اضطراب ڈالتا ہے....... ان کے اقبال علی اللہ کی حرارت یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سخت توجہ کی گرمی آسمان پر کچھ بنانا شروع کر دیتی ہے اور تقدیریں بدلتی ہیں۔ الخ
میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی ایسی بددعا بھی ہوگی جو اپنے منہ امام الزمان نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی کی نسبت جنہوں نے آپ کی زندگی تلخ کر کے ناک میں دم کر رکھا تھا، کی نہ ہو اور مرزا سلطان احمد غاصب آسمانی منکوحہ کی نسبت رات کو چارپائی پر کروٹیں لیتے ہوئے جس قدر گرم بد دعائیں بے اختیار مرزا قادیانی کے جسم و دل سے نکلتی ہوں گے۔ وہ تو حسب محاورہ انگریزی بیان کرنے کی نسبت قیاس میں اچھی آ سکتی ہیں۔ مگر کیا ہوا نہ ملاء اعلیٰ میں شور پڑا۔ نہ آسمان پر کوئی دردناک غلغلہ پیدا ہوا۔ نہ کوئی تقدیر بدلی۔ اب اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت اس بات کا ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی امام الزمان ہونے کے دعوے میں بھی جھوٹے تھے۔
٥٣
اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا کہ میں تیری سب دعائیں قبول کروں گا۔سوائے ان کے جو تیرے شریکوں کی نسبت ہوں۔ سو اول تو یہ شریکوں پر جھوٹے دعوے کر کے مقدمات ہارنے کے احتمال کے لئے پیش بندی تھی۔ دوسرے مرزا سلطان احمد سے تو شراکت پیدا ہوگئی تھی۔مگر دیگر صاحبان سے بقول مرزا قادیانی مجھ کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا شراکت تھی اور یہ الہام بھی بالکل خلاف قیاس ہے۔اگر اللہ تعالیٰ یہ الہام کرتا کہ سب سے زیادہ برے تیرے اپنے رشتہ دار ہیں۔ کوئی چوڑہوں کا بھائی بنتا ہے۔ کوئی بھنگیوں کا سردار بنتا ہے۔ کوئی عیسائی ہو جاتا ہے۔ کوئی سماج میں داخل ہو جاتا ہے۔ کوئی تجھے ٹھگ اور دکاندار سمجھ کر اپنی لڑکی تجھے نہیں دیتا۔ جس کا ہم نے تیرے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔ ان کی نسبت تو جو دعا یعنی خواہش کرے گا۔ میں اسے قبول کر لوں گا۔ لیکن علمائے دین کی نسبت قبول نہ کروں گا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں۔ پابندی شریعت کر رہے ہیں۔ تو ایسا الہام ماننے کے لائق ہوتا۔
بایں ہمہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میری وحی قرآن کی طرح خطا سے پاک ہے۔ (نقل کفر کفر نباشد) شعر
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاء ہا ہمین است ایمانم
(درثمین فارسی ص ١٧٢،نزول المسیح ص ٩٩،خزائن ج١٨ ص ٤٧٧)
اور اپنی پیشین گوئیوں کی نسبت فرماتے تھے۔ ہمارے صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔ (آئینہ کمالات ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨، اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٨) پر مرزا قادیانی اپنا ایک الہام درج کرتے ہیں: ”خدا تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ تیرے لئے میں نے دن اور رات پیدا کیا۔ اب بحیثیت آنحضرتؐ کے بروز ہونے کے مرزا قادیانی کی آرزو یہ ہونی چاہئے تھی کہ اے اللہ مجھے غریب رکھ، غریب مار اور غریبوں میں اٹھا نہ یہ کہ اے اللہ میرا گھر ناپاک دولت سے بھر دے۔ ان کی مراد یہ ہونی چاہئے تھی کہ خدا کل دنیا پر رحم کر کے عیسائیوں، یہودیوں، بدھوں، دہریوں کو آنحضرتؐ کا کلمہ پڑھوا دے۔ نہ کہ پانچ لاکھ کم چالیس کروڑ مسلمان کافر ہو جائیں اور دنیا قحطوں، جنگوں اور بیماریوں سے تباہ ہو جائے۔
٥٤
ان کی مراد یہ ہونی چاہئے تھی کہ مذہب دجال پر ز بزور شمشیر عیسائی بنائے جائیں یا قتل کئے جائیں یا زندہ جلا د مرزا قادیانی کی مراد یہ ہونی چاہئے تھی کہ میں حج کروں اور جس کی زیارت سے اپنی آنکھیں مسرور کروں۔ نہ یہ کہ ان باتوں اس جہاں سے چل دوں اور کوئی وصیت بھی نہ کر سکوں۔ نتیج کے قریب یا اس سے بھی چند سال زیادہ (اربعین نمبر ٢ ص ٣١، خ پیشین گوئی میں ہے کہ وہ مبعوث ہونے کے وقت سے چالیس
مرزا قادیانی ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٨ء م ٦٨ سال زندہ رہے۔ پس اربعین والا الہام بھی جھوٹا اور تع چسپاں کرنا بھی جھوٹے نبی ہونے کی دلیل۔ کیونکہ ٤٠ سال کی اور اس کے بعد ٤٠ سال نہیں صرف ٢٨ سال زندہ رہے۔
کریں گے۔ (حقیقت الوحی ص ٣٠٦،خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩) جس سے رفو چکر ہو گئے۔ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ ر ج ٢٧ ص ٦٧) اب مرزا قادیانی کی بیماریاں سن لو۔
- ١...... ”یہ عاجز ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح
(
- ٢...... ”ایک دفعہ نصف حصہ اسفل بدن کا میرا بے حس
(
- ٣...... ”ایک دفعہ قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا۔“ (٢
- ٤...... ”ایک دفعہ بباعث مرض ذیابیطس جو قریباً میں
(
- ٥...... ”لیکن اتفاقاً مجھے درد گردہ شروع ہو گیا...... ا
درد گردہ رہی تھی اور میں اس سے قریب موت ہو گیا تھا۔“
(
٥٥
ان کی مراد یہ ہونی چاہئے تھی کہ مذہب دجال پر زوال آئے۔ نہ یہ کہ ہزار ہا مسلمان بزور شمشیر عیسائی بنائے جائیں یا قتل کئے جائیں یا زندہ جلا دیئے جائیں۔ بلکہ دفنا دیئے جائیں۔ مرزا قادیانی کی مراد یہ ہونی چاہئے تھی کہ میں حج کروں اور جس کا بروز ہوں اس کے روضہ مبارک کی زیارت سے اپنی آنکھیں مسرور کروں۔ نہ یہ کہ ان باتوں سے محروم رہ کر بغیر ادائے فریضہ حج اس جہاں سے چل دوں اور کوئی وصیت بھی نہ کر سکوں۔ تجھے ہم ٨٠ سال زندہ رکھیں گے یا اس کے قریب یا اس سے بھی چند سال زیادہ (اربعین نمبر ٣ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٤٨٠) نعمت اللہ ولی کی پیشین گوئی میں ہے کہ وہ مبعوث ہونے کے وقت سے چالیس برس تک عمر پاوے گا۔
(نشان آسمانی ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٦٤)
مرزا قادیانی ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٨ء میں فوت ہو گئے۔ اس حساب سے ٦٨ سال زندہ رہے۔ پس اربعین والا الہام بھی جھوٹا اور نعمت اللہ ولی کی پیشین گوئی کو اپنے پر چسپاں کرنا بھی جھوٹے نبی ہونے کی دلیل۔ کیونکہ ٤٠ سال کی عمر میں آپ بقول خود مبعوث ہوئے اور اس کے بعد ٤٠ سال نہیں صرف ٢٨ سال زندہ رہے۔
"ترد اليك انوار الشباب" یعنی جوانی کے نور تیری طرف عود کریں گے۔ (حقیقت الوحی ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩) جس کے ایک سال بعد آپ اس جہاں سے رفو چکر ہو گئے۔ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٦٧) اب مرزا قادیانی کی بیماریاں سن لو۔
- ١...... "یہ عاجز ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے۔"
(برکات الدعا ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣)
- ٢...... "ایک دفعہ نصف حصہ اسفل بدن کا میرا بے حس ہو گیا۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٥)
- ٣...... "ایک دفعہ قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا۔" (حقیقت الوحی ص ٣٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)
- ٤...... "ایک دفعہ بہ باعث مرض ذیابیطس جو قریباً بیس سال سے مجھے دامن گیر ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩)
- ٥...... "لیکن اتفاقاً مجھے درد گردہ شروع ہو گیا...... اس سے پہلے مجھے ایک دفعہ دس دن برابر
درد گردہ رہی تھی اور میں اس سے قریب موت ہو گیا تھا۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٨)
٥٥
- ٦...... ”مجھے دو بیماریاں مدت سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بے تاب
ہو جاتا تھا۔ یہ مرض تقریباً پچیس برس تک دامن گیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا...... دوسری مرض ذیابیطس جو قریباً ٢٠ برس سے ہے اور ابھی تک ٢٠ دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧)
- ٧...... ”اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر بھی بکلی رفع
نہیں ہوا تھا۔“
(نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)
- ٨...... ”ایک دفعہ مجھے مرض ذیابیطس کے سبب بہت تکلیف تھی۔ کئی دفعہ ١٠٠، ١٠٠ مرتبہ دن
میں پیشاب آتا تھا۔“
(نزول المسیح ص ٢٣٥، خزائن ج ١٨ ص ٦١٣)
- ٩...... بیان صاحب سول سرجن گورداسپور مندرجہ صفحہ ٥٨ مرزا قادیانی پر مقدمہ کتاب
روئیداد مقدمات قادیانی۔ دوسری دفعہ میں نے مرزا قادیانی کو ١٦ فروری ١٩٠٤ء میں دیکھا۔ اس کو اس وقت پرانی کھانسی کی تیزی کا دورہ تھا۔
بابو صاحب ایماناً کہئے کسی ہسپتال میں آپ نے اپنی عمر میں کوئی ایسا بیمار دیکھا جس کی تختی پر اتنی بیماریاں درج ہوں؟ قہقہہ
اب اس الہام کے جھوٹے ہونے میں تو کچھ شک باقی نہیں رہا کہ ذیابیطس جیسا خبیث مرض ہو۔ بیس سال سے ہو۔ دن میں سو سو دفعہ پیشاب آوے اور الہام یہ ہو کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھے گا۔ لیکن خرابی ایک اور پیدا ہو گئی یعنی مرزا قادیانی نے لکھا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو دو زعفرانی چادروں میں ملبوس ہوں گے۔ ان دو چادروں سے مراد میری دو بیماریاں ہیں اور اب جبکہ دو بیماریوں کا تعین نہ رہا تو وہ بناوٹی تشبیہہ بھی کافور ہو گئی۔ اب یا تو حدیث میں دو چادروں کی جگہ دس چادریں پڑھو یا مرزا قادیانی کو چادروں سے بیماریاں مراد لینے میں مکار سمجھو۔ عجب تماشہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بیان میں آنحضرتؐ اترنے کا طریق بیان فرما رہے ہیں۔ اترنے کی جگہ بیان فرما رہے ہیں اور بجائے ان کے لباس بیان فرمائیں کہ آپ کس لباس میں ہوں گے۔ بیماریاں بیان کرتے ہیں۔ بھلا یہ بیماریاں بیان کرنے کا کیا موقعہ تھا؟ ہائے خود غرضی تیرا ستیاناس
”اس واقعہ سے بہت پہلے میرے پر خدا نے ظاہر کیا کہ منشی الہی بخش ان خیالات فاسدہ پر قائم نہیں رہے گا اور آخر ان خیالات سے رجوع کرے گا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣٩)
٥٦
”انی ساخبرہ فی الاخر الوقت انک لست حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خبر دے دوں گا کہ تو حق پر نہیں ہے۔“
(حقیقت الو
بابو صاحب فرمائیے ! کس کے سامنے منشی الہی بخش مرج مولوی محمد حسین مرزا قادیانی پر ایمان لائے؟ ان کا جنازہ بھی مولو سے جا کر پڑھا۔ اب اس میں کچھ شک باقی ہے کہ یہ الہام جھوٹے ہ
بابوصاحب...... کوئی ایسا الہام مرزا قادیانی کا بیان کیجئے ج طرح صاف ہو؟
نووارد...... بہت بہتر! ڈاکٹر عبدالحکیم خان۔
بابوصاحب...... اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ا ہوں کہ غصہ کی حالت میں اتارا گیا۔
قاضی صاحب...... نہیں بابو صاحب! اسے بھی بیان کرنے دی مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا الہام تھا اور اس کا کیا انجام ہوا؟ بیوی جی ۔
کیا وہ تو مرزا قادیانی کا خدا کی جھوٹی قسمیں کھانا ظاہر کرتا تھا۔ ہاں
نووارد...... قاضی صاحب میں کیا عرض کروں؟ مرزا قادیانی کا ا الوحی (اشتہار خدا سچے کا حامی ص ١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٩) میں درج ہے۔
قاضی صاحب...... (حقیقت الوحی ہاتھ میں لے کر ) ”بسم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم“ اس امر سے آگ عبدالحکیم خان صاحب جو تخمیناً ٢٠ برس تک میرے مریدوں میں د سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الد شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور حکم پر س مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہی گویا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے کفایت نہیں کی۔ بلکہ پنجاب کے بڑے شہروں کا دورہ کر کے میر دیئے اور لاہور اور امرتسر اور پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں الو
٥٧
”انی ساخبره فی الاخر الوقت انك لست علی الحق“ میں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خبر دے دوں گا کہ تو حق پر نہیں ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
بابو صاحب فرمائیے! کس کے سامنے منشی الہیٰ بخش مرحوم نے رجوع کیا اور کس دن مولوی محمد حسین مرزا قادیانی پر ایمان لائے؟ ان کا جنازہ بھی مولوی ثناء اللہ صاحب نے امرتسر سے جاکر پڑھا۔ اب اس میں کچھ شک باقی ہے کہ یہ الہام جھوٹے تھے۔
بابوصاحب....... کوئی ایسا الہام مرزا قادیانی کا بیان کیجئے جس کا جھوٹا ہونا دو اور دو چار کی طرح صاف ہو؟
نووارد....... بہت بہتر! ڈاکٹر عبدالحکیم خان۔
بابوصاحب....... اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی نسبت میں خود تسلیم کرچکا ہوں کہ غصہ کی حالت میں اتارا گیا۔
قاضی صاحب....... نہیں بابو صاحب! اسے بھی بیان کرنے دیجئے۔ آپ کو تو معلوم ہوگا۔ مگر مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا الہام تھا اور اس کا کیا انجام ہوا؟ بیوی جی نے جو قصہ ڈاکٹر صاحب کا بیان کیا وہ تو مرزا قادیانی کا خدا کی جھوٹی قسمیں کھانا ظاہر کرتا تھا۔ ہاں مولوی صاحب فرمائیے۔
نووارد....... قاضی صاحب میں کیا عرض کروں؟ مرزا قادیانی کا یہ اشتہار پڑھ لیجئے۔ جو حقیقت الوحی (اشتہار خدا سچے کا حامی ص ١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٩) میں درج ہے۔
قاضی صاحب....... (حقیقت الوحی ہاتھ میں لے کر) ”بسم الله الرحمن الرحیم۔ نحمده ونصلی علی رسوله الکریم“ اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب جو تخمیناً ٢٠ برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہوگئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا۔ گویا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے سواء کوئی نہیں گزرا اور پھر اسی پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ پنجاب کے بڑے شہروں کا دورہ کرکے میری عیب شماری کے بارہ میں لیکچر دیئے اور لاہور اور امرتسر اور پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں انواع واقسام کی بدیاں عام جلسوں
٥٧
میں میرے ذمہ لگائیں اور میرے وجود کو دنیا کے لئے ایک خطرناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کر کے ہر ایک لیکچر میں مجھ پر ہنسی اور ٹھٹھا اڑایا۔ غرض ہم نے اس کے ہاتھ سے وہ دکھ اٹھایا۔ جس کے بیان کی حاجت نہیں۔“
نووارد...... بابو صاحب خیال رکھئے گا امام الزمان صاحب کی حالت زار کا ، اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی صد ہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کیونکہ کذاب اور مفتری ہے۔ میں نے اس کی ان پیشین گوئیوں پر صبر کیا۔ مگر آج ١٤؍اگست ١٩٠٦ء ہے۔ پھر اس کا ایک خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نور الدین صاحب کے نام آیا۔ اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کے عیب شماری اور گالیوں کے بعد لکھا ہے کہ ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے۔ میں بھی شائع کروں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے کیونکہ اگر میں درحقیقت خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں اور پچیس سال سے دن رات خدا پر افتراء کر رہا ہوں اور اس کی عظمت وجلال سے بے خوف ہو کر اس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بددیانتی اور حرام خوری کے طریقہ سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں تا کہ لوگ
١؎ آپ کے ان اشعار کی یہاں قلعی کھل گئی کہ:
ہمچو قرآن منزہ اش دانم ...... از خطاہا ہمین است ایمانم
(دُرِثمین ص١٧٢، فارسی)
مثل مشہور ہے آپ تے ڈبوں باہمنا ججماں بھی نالے، خود تو مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ جھوٹے تھے۔ مگر قرآن کو بھی ساتھ لے ڈوبے اپنے منہ میاں مٹھو بنتے تھے۔ جھوٹی قسمیں کھا کر بندے خدا کے نرے سچے سمجھے۔
٥٨
میرے فتنہ سے نجات پائیں اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ پیچھے بھی۔“
(حقیقت الوحی اشتہار خدا سچے کا حامی)
گاموں...... اچھا بابو جی مرجا! انہاں تناں سالاں وچ مر
نووارد...... (ایک بڑا قہقہہ لگا کر) گاموں! میں ڈرتا ہوں کہ با میں ناراض ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس میں ایک بڑا سخت کلمہ آگیا
بابو صاحب...... مگر اس نسبت تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہو غصہ کی حالت میں کہا۔
نووارد...... گاموں مرزا قادیانی اسی تین سال کی میعاد میں ہی فوت
گاموں...... اتے ایہہ ڈاکٹر کدوں مویا؟
نووارد...... یکم جولائی ١٩٢٠ء کو یعنی مرزا قادیانی سے ١٢ برس بعد
قاضی صاحب...... گاموں خاموش۔ میں خدا کی آنکھ سے دیکھتا ہوں اس لئے میں اس وقت دو پیشین گوئیاں یعنی میاں عبدالحکی اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ذیل میں لکھ قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں: میاں عبدالحکیم خان صاح نسبت پیشین گوئی جو اخویم مولوی نورالدین صاحب کی طر قادیانی کے خلاف ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال پیشین گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان
٢؎ تو ایسا ہے کیسے نہیں ذرا صبر تو کر ابھی تیری نبوت او
٣؎ ذرا مڑ کر ایسی ہی موت سے تو مریدوں کی آس اور اپنے آپ کو کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔
٤؎ مرزا قادیانی مع الخیر خود ہی خدا تھے۔ جو کچھ کہا ہوا کہ مجھ پر خدا نے یہ ظاہر کیا ہے آمنا وصدقنا مانو خدا تم سے وہ ؟
٥؎ ہے بھلے مانس سارا جھگڑا تو یہ ہے کہ خدا کو ہی ف دکھاوے کے لئے تھا۔ غریب مسلمانوں سے چندہ لے کر عیش و
٥٩
میرے فتنہ سے نجات پائیں اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم خان نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت ٢؎ نہیں دے گا کہ میرے ١؎ آگے بھی لعنت ہو اور پیچھے بھی۔"
(حقیقت الوحی اشتہار خدا سچے کا حامی ص ٢،١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٩، ٤١٠)
گاموں...... اچھا بابو جی مرزا انہاں تناں سالاں وچ مویا کہ پچھوں۔ نووارد...... (ایک بڑا قہقہہ لگا کر) گاموں! میں ڈرتا ہوں کہ بابو صاحب اس سوال کے جواب میں ناراض ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس میں ایک بڑا سخت کلمہ آگے پیچھے لعنت لے کر مرنے کا ہے۔ بابو صاحب...... مگر اس نسبت تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ سب کچھ مرزا قادیانی نے غصہ کی حالت میں کہا۔ نووارد...... گاموں مرزا قادیانی اسی تین سال کی میعاد میں ہی فوت ہوئے، ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو۔ گاموں...... اتے ایہہ ڈاکٹر کدوں مویا؟ نووارد...... یکم جولائی ١٩٢٠ء کو یعنی مرزا قادیانی سے ١٢ برس بعد۔ قاضی صاحب...... گاموں خاموش۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں۔ مجھے کون جانتا ہے۔ مگر وحی اس لئے میں اس وقت دو پیشین گوئیاں یعنی میاں عبدالحکیم خان کی میری نسبت پیشین گوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے ٣؎ پر ظاہر کیا ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے ٤؎ قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں: میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشین گوئی جو اخویم مولوی نورالدین صاحب کی طرف اپنے خط میں لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے خلاف ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ مرزا مسرف، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔ اس کے مقابل پر وہ پیشین گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی
١؎ تو ایسا ہے کیسے نہیں ذرا صبر تو کر ابھی تیری نبوت اور مسیحیت اور الہاموں کی قلعی کھلتی ہے۔ ٢؎ ذرا صبر کر ایسی ہی موت سے تو مریدوں کی آمنا وصدقنا پر اپنے جامہ سے باہر نکل گیا ہے اور اپنے آپ کو کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔ ٣؎ مرزا قادیانی ملعون خود ہی خدا تھے۔ جو کچھ کہنا چاہتے تھے کہہ دیتے تھے۔ مجھے یہ الہام ہوا کہ مجھ پر خدا نے یہ ظاہر کیا ہے آمنا وصدقنا خداوند خدا تم سے وہ سلوک کرے جس کے تم مستوجب ہو۔ ٤؎ بھلے مانس سارا جھگڑا تو یہ ہے کہ خدا کو ہی نہیں مانتا تھا۔ خدا اور رسول پر تیرا ایمان دکھاوے کے لئے تھا۔ غریب مسلمانوں سے چندہ لے کر عیش وعشرت کے لئے۔
٥٩
نسبت مجھے معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں: ”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ مگر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ ”رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق۔“ (حقیقت الوحی اشتہار خدا سچے کا حامی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٠، ٤١١)
اشتہار تو ختم ہو گیا اس کے نیچے کچھ نوٹ ہیں۔ کیا وہ بھی پڑھوں؟
نو وارد ...... ضرور۔
قاضی صاحب ...... ”خدائے تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خان کے اس فقرہ کا رد ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر اور خدائے تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت، ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے۔“
- ☆...... ”اس فقرہ میں عبدالحکیم مخاطب ہے اور فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار سے آسمانی عذاب
مراد ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے ظاہر ہوگا۔“
- ☆...... ”یعنی تو نے یہ غور نہ کی کہ اس زمانہ میں اور اس نازک وقت میں امت محمدیہ کے لئے
کسی دجال کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مجدد کی۔“
- ☆...... ”یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق دکھلا۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح
کون ہے؟ اس فقرہ الہامیہ میں عبدالحکیم خان کے اس قول کا رد ہے۔ جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ پس چونکہ وہ اپنے تئیں صادق ٹھہراتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تو صادق نہیں ہے۔ میں صادق اور کاذب میں فرق کرکے دکھلاؤں گا۔“ (اشتہار مرزاغلام احمد مسیح موعود قادیانی ١٦؍اگست ١٩٠٦ء مطابق ٢٣ جمادی الثانی ١٣٢٤ھ، حقیقت الوحی اشتہار خدا سچے کا حامی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤١١)
قاضی صاحب ...... بابو صاحب مرزا کے سچے اور جھوٹے ہونے کا جب بموجب ان کے الہام کے خدا نے ہی فیصلہ کردیا تو نعوذ باللہ خدا کے فیصلہ کے سامنے میرا فیصلہ کیا وقعت رکھے گا۔ خدا نے فیصلہ کردیا کہ مرزا جھوٹا تھا اور جو کچھ وہ کہتا تھا سب جھوٹ تھا۔ برخلاف اس کے ڈاکٹر عبدالحکیم خان سچا تھا اور جو کچھ اس نے کہا سب سچ تھا۔ مگر مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کے اس فقرہ کا مطلب نہیں سمجھا کہ ”خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور پیچھے بھی۔“
٦٠
نو وارد ...... قاضی صاحب ڈاکٹر صاحب نے حکیم نورالدین کے ذریعہ کہ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو خدا نے مجھے بذریعہ الہام اطلاع دی ہے کہ مرزا کے اندر ہلاک ہو جائیں گے۔ امام الزمان کو معہ اس کے الہام کنندہ ہ اور ناقابل برداشت معلوم ہوا۔
اس لئے مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں لکھا کہ اگر میں مطابق مروں تو وہ موت میرے لئے ایسی ہو گی گویا میں آگے بھی لعنت اور الہام کنندہ نے فوراً سے پہلے الہام اتار دیا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم جھوٹا صادق کی زندگی میں مرے گا ورنہ دنیا کے کل کاروبار خراب ہو جائیں۔
بابو صاحب ...... قاضی صاحب اوّل تو میں اس الہام کی بابت قادیانی نے غصہ میں اتارا۔ دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی نے بیان کر دیا تھ موت قریب ہے۔ اس کی خبر ڈاکٹر عبدالحکیم نے پا کر شائع کر دیا قادیانی ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء سے تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے۔ یہ
قاضی صاحب ...... آپ نے یہ کیا فرمایا؟ قرآن شریف م کہ: ”وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا اَوْ قَال شَیْئًا (پ ٧ ع ١٦)“ یعنی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جو خدا ہوتی ہے۔ حالانکہ اس کی طرف وحی نہ ہوتی ہو۔ تو وہاں خدا نے ک مفتری علی اللہ کو تو خدا سب سے بڑا ظالم قرار دیتا ہے اور عام ظالم علی اللہ کتنی لعنتوں کا مستحق ہونا چاہئے؟ اور دوسرا عذر آپ کا بھی موت کے الہام کی خبر پا کر ڈاکٹر صاحب نے کہہ دیا کہ مجھے الہام کے اندر فوت ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس اشتہار میں مرزا قادیانی کیا اور اس میں کچھ شک ہے کہ مرزا قادیانی کو موت کا الہام ہ الہامی میعاد کے اندر نہ مرنے کا بعد میں اور جائے تعجب ہے کہ م اس میں کوئی دن یا مہینہ یا سن یا میعاد نہ ہو، بالکل بے معنی ہو اور ا
١؎ یہاں مرزا قادیانی امام الزمان کو اپنا وہ قول بالکل فرض ہونا چاہئے کہ الہام اور کشف کا نام سن کر چپ ہو جائے اور
٦١
نووارد...... قاضی صاحب ڈاکٹر صاحب نے حکیم نورالدین کے ذریعہ مرزا قادیانی کو اطلاع دی کہ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو خدا نے مجھے بذریعہ الہام اطلاع دی ہے کہ مرزا قادیانی آج سے تین سال کے اندر ہلاک ہو جائیں گے۔ امام الزمان کو معہ اس کے الہام کنندہ کے یہ لفظ الہام نہایت سخت اور ناقابل برداشت معلوم ہوا۔
اس لئے مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں لکھا کہ اگر میں ڈاکٹر صاحب کے الہام کے مطابق مروں تو وہ موت میرے لئے ایسی ہوگی گویا میں آگے بھی لعنت اور پیچھے بھی لعنت لے کر مرا اور الہام کنندہ نے فوراً سے پہلے الہام اتار دیا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم جھوٹا ہے اور تو صادق ہے۔ کاذب صادق کی زندگی میں مرے گا ورنہ دنیا کے کل کاروبار خراب ہو جائیں گے۔
بابو صاحب...... قاضی صاحب اوّل تو میں اس الہام کی بابت خود تسلیم کرتا ہوں کہ یہ مرزا قادیانی نے غصہ میں اتارا۔ دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی نے بیان کر دیا تھا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ میری موت قریب ہے۔ اس کی خبر ڈاکٹر عبدالحکیم نے پا کر شائع کر دیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا قادیانی ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء سے تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے۔ یعنی آپ کا وصال ہو جائے گا۔
قاضی صاحب...... آپ نے یہ کیا فرمایا؟ قرآن شریف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیئا (پ ٧ ع ١٦)“ یعنی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جو خدا پر افتراء کرے یا کہے کہ مجھے وحی ہوتی ہے۔ حالانکہ اس کی طرف وحی نہ ہوتی ہو۔ تو وہاں خدا نے کسی مفتری کو معافی بھی دی ہے؟ مفتری علی اللہ کو تو خدا سب سے بڑا ظالم قرار دیتا ہے اور عام ظالم پر اللہ لعنت بھیجتا ہے۔ تو مفتری علی اللہ کتنی لعنتوں کا مستحق ہونا چاہئے؟ اور دوسرا عذر آپ کا بھی فضول ہے کہ مرزا قادیانی کے موت کے الہام کی خبر پا کر ڈاکٹر صاحب نے کہہ دیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا قادیانی تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے اس اپنے الہام کا ذکر تک نہیں کیا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی کو موت کا الہام پہلے ہوا اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی الہامی میعاد کے اندر نہ مرنے کا بعد میں اور جائے تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کو جو موت کا الہام ہوا اس میں کوئی دن یا مہینہ یا سن یا میعاد نہ ہو، بالکل بے معنے ہو اور ایک غیر شخص کو مرزا قادیانی کی
١؎ یہاں مرزا قادیانی امام الزمان کو اپنا وہ قول بالکل بھول گیا کہ ایک متدین عالم کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ الہام اور کشف کا نام سن کر چپ ہو جائے اور لمبی چون و چرا سے باز آ جائے۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٥)
٦١
موت کا الہام ہو تو اس میں موت کی میعاد مقرر ہو اور پھر وہ میعاد ایسی صحیح ثابت ہو کہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں جتنی الہامی پیشین گوئیاں کسی کی موت کی کی ہوں۔ ایسی صحت کے ساتھ پوری نہ ہوئی ہوں۔ مثال کے طور پر دیکھئے پنڈت لیکھرام کے آسمانی عذاب کی میعاد چھ سال قبل کیا گیا۔ ٤ سال میں مرزا احمد بیگ کی موت کا الہام تین سال کے اندر فوت ہو گیا ٦ ماہ میں اور ڈاکٹر صاحب کی پیشین گوئی میں پہلے یہ تھا کہ ١٢ جولائی ١٩٠٦ء سے تین سال کے اندر اور کچھ مدت بعد ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کو پھر لکھا کہ چونکہ آپ نے آج تک توبہ نہیں کی لہذا خدا نے آپ کی عمر اور گھٹا دی اور آپ ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے۔ جس کا جواب مرزا قادیانی نے (چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦) پر یوں دیا: ”ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام ونشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ مگر خدا نے اس کی پیشین گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا ۔“ مثل مشہور ہے کہ ”سو دن چور کا اور ایک دن سادھ کا“ مرزا قادیانی جیسا خرانٹ ہر روز تو نقب پر سے نہیں پکڑا جاسکتا تھا۔ لیکن اب جو خدا نے اسے پکڑوا دیا تو سخت بے حیائی ہے کہ تعصب اور ضد سے آپ کچھ نوٹس نہ لیں اور یہ کہہ کر معاف کر دیں کہ اس سے غصہ میں ایسا ہوا۔
نووارد ...... قاضی صاحب اس قصہ کو چھوڑیئے۔ آپ اپنا قیمتی دماغ ایسے لوگوں پر کیوں ضائع کرتے ہیں؟ یہ تو یہی کہا کرتے ہیں اور ان کا اصول یہی ہے کہ چونکہ ہم نے مرزا قادیانی کو مان لیا ہے۔ اس واسطے وہ سچے ہیں۔ میں نے ایک مرزائی سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کو باور کرتے ہو کہ مرزا قادیانی اللہ میاں کے پاس مشقیں دستخط کرانے لے گئے اور اللہ میاں نے قلم پر زیادہ روشنائی لگ جانے کی وجہ سے جو قلم کو جھاڑا تو وہ سرخ روشنائی مرزا قادیانی کے کرتے پر پڑگئی اور خدا کی بے تمیزی کا وہ نشان مرزا قادیانی سے ایک مرید نے تبرکا لے لیا۔ (معاذ اللہ) تو اس نے جواب میں کہا کہ جب میں مرزا قادیانی کو سچا مانتا ہوں تو اس کی ہر ایک بات سچی مانتا ہوں۔ اس کے بعد پھر میں نے اس سے کبھی کلام نہ کی۔
١۔ مرزا قادیانی فوت ہوئے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو۔
٦٢
بابو صاحب ...... مرزا قادیانی مغل تھے۔ اس لئے ان م تو رعایت ہونی چاہئے۔
نووارد ...... یہ بھی غلط ۔ یہ دیکھئے (حقیقت الوحی ص ٧٧، خزائن ج ٢٢ ”ان تمام کلمات الہیہ سے ثابت ہے کہ اس عاجز کا خاندان درا کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا۔“
بیوی ...... اجی یہ رجل فارس بننے کے لئے کارروائی کی گئی ہے۔
بابو صاحب ...... بابو صاحب آپ میری طرف اتنی بدگم انکار کرنے والا نہیں اور میں اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ خدا وع محتاج ہے۔
نووارد ...... بابو صاحب آپ کیا حق پسند کریں گے اور کیا توبہ کر کے آگے رونا اپنی آنکھیں ضائع کرنا ہے۔ اچھا میں آپ کی حق اگر میں مرزا قادیانی کے ایسے الہاموں کی اور مثالیں بیان کر اتارنے گئے اور سراسر جھوٹے نکلے۔ تب تو آپ اس چور کو پولیس
بابو صاحب ...... بہت نہیں۔ اگر ایک بھی بیان کر دیں۔
نووارد ...... بہت خوب! لیجئے سنئے اور غور سے سنئے (گاموں ک نزدیک سرک آیا اور بیوی صاحبہ بھی نزدیک تر آ بیٹھیں۔ دونو پانی آ گیا تھا اور بابو صاحب سخت متحیر تھے کہ نووارد کیا معاملہ دینے کا وقت قریب سمجھ کر دل میں اسے گھڑ رہے تھے ) ہاں رسالہ (الوصیت ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠١) اس طرح شروع کر ”اما بعد چونکہ خدائے عزوجل نے متواتر وحی ۔ نزدیک ہے اور اس بارہ میں اس کی وحی اس قدر تواتر سے ہ اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ اس لئے میں نے مناس لوگوں کے لئے جو میری کلام سے فائدہ اٹھانا چاہیں چند نص سے اطلاع دیتا ہوں۔ جس نے مجھے میری موت کی خبر د یہ ہے جو عربی زبان میں ہوئی اور بعد میں اردو کی وحی بھی لک
٦٣
بابو صاحب ....... مرزا قادیانی مغل تھے۔ اس لئے ان میں غصہ زیادہ تھا۔ اس کی کچھ تو رعایت ہونی چاہئے۔
نووارد ...... یہ بھی غلط۔ یہ دیکھئے (حقیقت الوحی ص ٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨١) کے حاشیہ پر وہ لکھتے ہیں: ”ان تمام کلمات الہیہ سے ثابت ہے کہ اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے۔ نہ مغلیہ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا۔“
بیوی ...... اجی یہ رجل فارس بننے کے لئے کارروائی کی گئی ہے۔
بابو صاحب ....... بابو صاحب آپ میری طرف اتنی بدگمانی نہ کریں۔ میں حق بات سے انکار کرنے والا نہیں اور میں اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ خداوند کریم دستخط کرتا ہے اور قلم دوات کا محتاج ہے۔
نووارد ...... بابو صاحب آپ کیا حق پسند کریں گے اور کیا توبہ کریں گے۔ میں تو مان گیا کہ اندھوں کے آگے رونا اپنی آنکھیں ضائع کرنا ہے۔ اچھا میں آپ کی حق پسندی دیکھتا ہوں۔ یہ فرمائیے کہ اگر میں مرزا قادیانی کے ایسے الہاموں کی اور مثالیں بیان کروں۔ جو بالکل ٹھنڈی طبیعت میں اتارے گئے اور سراسر جھوٹے نکلے۔ تب تو آپ اس چور کو پولیس کے سپرد کر دیں گے۔
بابو صاحب ....... بہت نہیں۔ اگر ایک بھی بیان کر دیں گے تو میں توبہ گار ہو جاؤں گا۔
نووارد ...... بہت خوب! لیجئے سنئے اور غور سے سنئے (گاموں حقہ آگے کرنے کے بہانے سے اور نزدیک سرک آیا اور بیوی صاحبہ بھی نزدیک تر آ بیٹھیں۔ دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے مارے پانی آ گیا تھا اور بابو صاحب سخت متحیر تھے کہ نووارد کیا معاملہ پیش کرے گا اور قاضی صاحب فیصلہ دینے کا وقت قریب سمجھ کر دل میں اسے گھڑ رہے تھے) ہاں بابو صاحب سنئے۔ مرزا قادیانی اپنا رسالہ (الوصیت ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠١) اس طرح شروع کرتے ہیں: ”اما بعد چونکہ خدائے عزوجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات نزدیک ہے اور اس بارہ میں اس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے دوستوں اور ان تمام لوگوں کے لئے جو میری کلام سے فائدہ اٹھانا چاہیں چند نصائح لکھوں۔ سو پہلے میں اس مقدس وحی سے اطلاع دیتا ہوں۔ جس نے مجھے میری موت کی خبر دے کر میرے لئے یہ تحریک پیدا کی اور وہ یہ ہے جو عربی زبان میں ہوئی اور بعد میں اردو کی وحی بھی لکھی جائے گی ”قرب اجلک المقدر و
٦٣
لا نبقى لك من المخزيات ذكر اقل ميعاد ربك ولا نبقى لك من المخزيات شيئا وامانرينك بعض الذى نعدهم او نتو فينك تموت واناراض منك جاء وقتك ونبقى لك الايات باهرات جاء وقتك ونبقى لك الايات بينات قرب ماتوعدون واما بنعمة ربك فحدث انه من يتق الله ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين “ (ترجمہ) تیری اجل قریب آ گئی ہے اور ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام ونشان نہیں چھوڑیں گے جن کا ذکر تیری رسوائی کا موجب ہو۔ تیری نسبت خدا کی میعاد مقررہ تھوڑی رہے گئی ہے اور ہم ایسے تمام اعتراض دور اور دفع کر دیں گے اور کچھ بھی ان میں سے باقی نہیں رکھیں گے۔ جن کے بیان سے تیری رسوائی مطلوب ہو اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ مخالفوں کی نسبت ہماری پیشین گوئیاں ہیں۔ ان میں سے تجھے کچھ دکھا دیں۔ یا تجھے وفات دے دیں۔ تو اس حالت میں فوت ہو گا۔ جو میں تجھ سے راضی ہوں گا اور ہم کھلے کھلے نشان تیری تصدیق کے لئے ہمیشہ موجود رکھیں گے۔ جو وعدہ کیا گیا وہ قریب ہے۔ اپنے رب کی نعمت کا جو تیرے پر ہوئی۔ لوگوں کے پاس بیان کر۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے۔ تو خدا ایسے نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔“
پھر لکھتے ہیں: ”اس جگہ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم تیری نسبت ایسے ذکر باقی نہیں چھوڑیں گے۔ جو تیری رسوائی اور ہتک عزت کے موجب ہوں۔ اس فقرہ کے دو معنے ہیں۔ (١) اوّل یہ کہ ایسے اعتراضات کو جو رسوا کرنے کی نیت سے شائع کئے جاتے ہیں۔ ہم دور کردیں گے اور ان اعتراضات کا نام ونشان نہ رہے گا۔ (٢) دوسرے یہ کہ ایسے شکایت کرنے والوں کو جو اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑتے اور بدذکر سے باز نہیں آتے ۔ دنیا سے اٹھا لیں گے اور صفحہ ہستی سے معدوم کر دیں گے۔ تب ان کے نابود ہونے کی وجہ سے ان کے بیہودہ اعتراض بھی نابود ہو جائیں گے۔ پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ نے میری وفات کی نسبت اردو زبان میں مندرجہ ذیل کلام کے ساتھ مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ بعد اس کے تمہارا واقعہ ہوگا۔ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔“
- ١؎ آنحضرت کی وحی یعنی قرآن کی نقلیں لگا رہا ہے۔ ہائے تو بہ ہائے تو بہ!
- ٢؎ واقعی جو شخص اس نبی پر ایمان نہ لائے۔ اس کی نجات غیر ممکن ہے۔
٦٤
ایک جملہ معترضہ
ہر ایک سمجھدار انسان جب کسی سے کلام کرتا ہے تو تاکہ اس پر اس کا سمجھنا آسان ہو۔ اگر متکلم مخاطب کی مادری زبان میں کلام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مخاطب متکلم کی زبان اختیار کرتا ہے۔ جس کو دونوں بول اور سمجھ سکتے ہوں۔ مگ کلام کرنے کا طریقہ جہان سے نرالا ہے۔ ابھی عربی میں کلا لے کر۔ ابھی بلاوجہ اردو میں شروع ہو گیا اور طرفہ یہ کہ کبھی زبانیں مرزا قادیانی کی مادری نہیں۔ اگر وہ چن کے تھے۔ تو فارسی اور اگر دمشق کے شرقی منارہ یعنی اسلام پور (قادیان) ک پنجابی مگر بہت اکثر ۔ جملہ معترضہ ختم ۔
اچھا بابو صاحب! آپ کو معلوم ہے کہ اس وحی من مرزا قادیانی پر ہتک آمیز اعتراض کرنے والے کون کون تھے بابو صاحب ...... مجھے پوری طرح معلوم نہیں۔ نووارد...... مجھ سے سنئے!
- ١...... یہی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب جو بموجب مرزا قا
(ملحقہ حقیقت الوحی بخزائن ج٢٢ص٤٠٩تا٤١١) کے مرزا قادیانی
حرام خور، خائن ، شکم پرست، نفس پرست، مفسد اور مفتری اور ہتک آمیز تصانیف شائع کرتے تھے۔ جن میں مرزا قا تھے۔
- ٢...... مولوی محمد حسین بٹالوی جن کی نسبت مرزا قا
چشمہ انگریزی میں لکھ دیا کہ محمد حسین مرزے کا سخت دشمن ”مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات ۔ اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صد ہا پنجاب ہندوستان کے یہود اور نصاریٰ سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب مفسد خائن رکھا۔“ ”جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیا ٦٥
ایک جملہ معترضہ
ہر ایک سمجھدار انسان جب کسی سے کلام کرتا ہے تو مخاطب کی مادری زبان میں کرتا ہے تاکہ اس پر اس کا سمجھنا آسان ہو۔ اگر متکلم مخاطب کی مادری زبان نہ بول سکتا ہو تو وہ اپنی مادری زبان میں کلام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مخاطب متکلم کی مادری زبان نہ سمجھتا ہو تو پھر وہ کوئی زبان اختیار کرتا ہے۔ جس کو دونوں بول اور سمجھ سکتے ہوں۔ مگر مرزا قادیانی کے ساتھ ان کے خدا کا کلام کرنے کا طریقہ جہان سے نرالا ہے۔ ابھی عربی میں کلام کر رہا ہے اور وہ بھی قرآن سے مدد لے کر۔ ابھی بلاوجہ اردو میں شروع ہو گیا اور طرفہ یہ کہ کبھی دجال کی زبان میں حالانکہ یہ تینوں زبانیں مرزا قادیانی کی مادری نہیں۔ اگر وہ چین کے تھے۔ تو ان کی زبان چینی تھی۔ اگر فارس کے تو فارسی اور اگر دمشق کے شرقی منارہ یعنی اسلام پور (قادیان کا اصلی اور پورا نام) قاضی ماجھی کے تو پنجابی مگر بہت اکھڑ ۔ جملہ معترضہ ختم۔
اچھا بابو صاحب! آپ کو معلوم ہے کہ اس وحی مقدس کے نزول کے وقت سال ١٩٠٥ء مرزا قادیانی پر ہتک آمیز اعتراض کرنے والے کون کون تھے؟ بابو صاحب ....... مجھے پوری طرح معلوم نہیں۔ نووارد ...... مجھ سے سنئے!
- ١....... یہی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب جو بموجب مرزا قادیانی کے اشتہار ”خدا سچے کا حامی ہو“
(ملحقہ حقیقت الوحی ،خزائن ج٢٢ ص ٤٠٩ تا ٤١١) کے مرزا قادیانی کو کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور، خائن، شکم پرست، نفس پرست، مفسد اور مفتری کہتے تھے اور ان کے خلاف لیکچر دیتے اور ہتک آمیز تصانیف شائع کرتے تھے۔ جن میں مرزا قادیانی کو کانا دجال کے نام سے تعبیر کرتے تھے۔
- ٢....... مولوی محمد حسین بٹالوی جن کی نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ڈپٹی کمشنر نے اپنے
چٹھے انگریزی میں لکھ دیا کہ محمد حسین مرزے کا سخت دشمن ہے ۔“
(البریہ،خزائن ج١٣ ص٣٦)
”مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرأت کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دجال رکھا اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صد ہا پنجاب ہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہود اور نصاریٰ سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب مفسد، دجال، مفتری، مکار، ٹھگ، فاسق، فاجر، خائن رکھا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢١،خزائن ج٢٢ ص ٤٥٤)
”جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیاں دیں اور محمد بخش جعفر زٹلی سے دلائیں اور
٦٥
طرح طرح کے افتراء سے میری ذلت کی۔ اس میں میری فریاد جناب الٰہی میں ہے۔“
(کشف الغطاء ص ٤، خزائن ج ١٤ ص ٢٥٣)
”میاں صاحب کے ناحق کے ظلموں، جو انہوں نے اس عاجز کی نسبت روا رکھے۔ ایک یہ بھی ہے کہ بٹالوی کو انہوں نے بالکل کھلا چھوڑ دیا اور اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ ہر ایک طرح کی گالیوں اور لعن طعن سے اس عاجز کی آبرو پر دانت تیز کرے۔ سو وہ میاں صاحب کا منشاء پا کر حد سے گزر گیا اور آیت کریمہ ”لا یحب اللہ الجہر بالسوء“ کی پرواہ نہ کر کے ایسی گندی گالیوں پر آ گیا کہ چوڑہے چماروں کے بھی کان کاٹے۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٦، خزائن ج ٤ ص ٣١٨)
”اس شخص کا بغض میری نسبت انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اس شخص سے خدا کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ ورنہ یہ شخص میری جان اور آبرو کا سخت دشمن ہے۔“ (کتاب البریہ ص ١٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٥)
- ٣...... مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جو مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کو جھوٹا کرنے کو کہ
مولوی ثناء اللہ کبھی قادیان نہیں آئے گا۔ شیر کی طرح قادیان جا پہنچے اور مرزا قادیانی کو للکارا کہ آ مباحثہ کے لئے میدان میں آ۔ مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے۔ دیکھو صفحات (١٢١ لغایت ١٣٣، الہامات مرزا) ان کی نسبت مرزا قادیانی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢) پر لکھتے ہیں:
”مولوی ثناء اللہ صاحب جو کہ آج کل مجھ سے بغض اور ہنسی اور توہین میں دوسرے علماء سے بڑھے ہوئے ہیں“ اور جن سے تنگ آ کر آخر الامر آپ نے اپنے خدا سے فریاد کی اور اس سے فیصلہ چاہا۔ جو حسب ذیل ہے۔
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب وتفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس کا دعوے مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی سخت لفظ نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں۔ تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ
٦٦
میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔
اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا کہ خدا کے ب کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشر میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں۔ بلکہ محض طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی م طرف سے نہیں یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں۔ محض فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہے اور میں تیری نظر میں مفسد و کذاب ہوں اور دن رات افتراء پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہ تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ میری جماعت کے سامنے تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے تو ہمیشہ مجھ کو دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین! میں ان کے ہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی ہے۔ و بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں اور بد زبانیوں میں آیت ”لا تقف ما لیس لك بہ علم“ سمجھ لیا اور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخ کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایس میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء ا سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چا میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب
٦٧
میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔
اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا کہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں۔ تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں۔ بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں۔ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعوٰی مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد وکذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے۔ تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے رو برو اور میری جماعت کے سامنے تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھ کو دکھ دیتا ہے۔ آمین یارب العلمین! میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت لا تقف ما لیس لک بہ علم پر عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ، دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیری ہی تقدس ورحمت کا دامن پکڑ
٦٧
کہ تیری جناب میں التجیٰ ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو وہ تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو، مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر آمین ثم آمین ! ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین ۔ آمین ! بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ مرقوم تاریخ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
- ٤....... مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی جو مرزا قادیانی کا اس قدر ناک میں دم کر رہے تھے کہ
مرزا قادیانی کی دارالامان قادیان سے بغرض تبدیل آب و ہوا پایہ تخت دجال یعنی لاہور کی طرف تشریف لے جانے کی خبر پا کر عزرائیل علیہ السلام سے بھی ایک دن پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال پیش کیا کہ آپ تو فرماتے ہیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر بڑی بے عزتی کر کے سولی پر چڑھا دیا۔ تو قرآن شریف کی اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ کہ: ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک “ یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! ہم نے تم پر اور تمہاری والدہ پر جو جو احسان کئے۔ ان کو یاد کرو۔ ایک یہ احسان دوسرا یہ احسان اور ساتواں یہ احسان کہ ہم نے بنی اسرائیل کا ہاتھ تم پر پڑنے نہ دیا۔ اگر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر اور ان کی ممکن سے ممکن بے عزتی کر کے سولی پر چڑھایا اور ان کے ہاتھوں اور پیروں میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ تو خدا کا یہ احسان کیا معنی رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی نے بہت غور اور خوض کے بعد فرمایا کہ اس کا جواب کل دیا جائے گا۔ لیکن افسوس کہ دوسرے دن آپ راہی ملک عدم ہو گئے۔ یہ کون سی تاریخ تھی؟ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء
بابو صاحب...... اب مرزا قادیانی پر اعتراض کرنے والوں اور ان کی ہتک کرنے والوں کا حشر بھی سن لیں۔
اول ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب یکم جولائی ١٩٢٠ء کو فوت ہوئے۔ مرزا قادیانی سے ١٢ سال بعد اور ان سے زیادہ عمر پا کر۔ ٦٨
دوم مولوی محمد حسین صاحب ٢٩؍جنوری ١٩٢٠ء کو سال بعد اور ان سے ١٧ سال زیادہ عمر پا کر یعنی ٨٥ سال کی عمر سوم مولوی ثناء اللہ صاحب بفضل خدا زندہ سلامت الہام کو کہ انی مہین من اراد اہانتک (حقیقت الوحی ص نیچے کچل رہے ہیں۔ یعنی دن دگنی اور رات چوگنی عزت پا رہے ہ چہارم مولوی ابراہیم صاحب شہر دہلی پایہ تخت ہن بہترین کام یعنی تعلیم حدیث انجام دے رہے ہیں۔ اللہ ان کی ع نووارد ...... بے جی ۔ نعرہ تکبیر اس نے بل
بیوی صاحبہ کو سب نے مبارک باد دی۔
بیوی ...... لو اٹھو اب اندر چل کے کچھ ناشتہ کرلو۔ کھانے میں نووارد ...... بیوی جی اک دومنٹ مجھے ایک لطیفہ سا یاد آ گیا ہے بیوی ...... دومنٹ نہیں۔ آپ کے لطیفے کے واسطے چار منٹ نووارد ...... بابو صاحب مرزا قادیانی کی اس باتواتر اور متعدد اور ہتک کرنے والوں کا آج تک زندہ رہنا تو بڑی بات ہے بارہ سال بعد فوت ہونا بھی کچھ تھوڑی بات نہیں۔ اگر مرزا سے ایک لمبا زمانہ لینے کی ضرورت پڑتی۔ تو آپ دیکھتے کہ و کہتے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے فلاں کتاب میں بھاڑ جھونکتے رہے۔ اس سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ کہ کل صوفیاء نے اس پر مہر لگا دی ہے کہ بارہ برس بعد خدارو لمبا زمانہ خیال کیا گیا۔ کہیں کہتے کہ سکھوں کا اس پر اجماع ہ بولیوں کا ابتداء اس سے کرتے ہیں کہ بارہیں برسیں سکھ کھ بارہ برس کے بعد تو سنگھ پردیس میں کما کے آیا اور کما کے یہ لا بیوی ...... (منہ پر کپڑا رکھ کر اور ہنسی کو روک کے ) لو اٹھو اب نووارد ...... بیوی جی یہ کیا حساب کتاب ہے؟ بیوی ...... بابو صاحب آپ مہربانی کریں اور منظور کریں آپ صاحبان کے لئے اپنا نقصان کیا ہے۔ ٦٩
دوم مولوی محمد حسین صاحب ٢٩ جنوری ١٩٢٠ء کو فوت ہوئے۔ مرزا قادیانی سے ١٢ سال بعد اور ان سے ١٧ سال زیادہ عمر پا کر یعنی ٨٥ سال کی عمر میں۔
سوم مولوی ثناء اللہ صاحب بفضل خدا زندہ سلامت اور ہشاش بشاش ہیں اور مرزا کے الہام کو کہ انی مهین من اراد اهانتك (حقیقت الوحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) پیروں کے نیچے کچل رہے ہیں۔ یعنی دن دگنی اور رات چوگنی عزت پا رہے ہیں۔ اللهم زد فزد!
چہارم مولوی ابراہیم صاحب شہر دہلی پایہ تخت ہند میں براجمان رہے ہیں اور دینی بہترین کام یعنی تعلیم حدیث انجام دے رہے ہیں۔ اللہ ان کی عمر میں برکت کرے۔
گاموں ...... بے بے جی۔ نعرہ تکبیر! سب نے بیک زبان ہو کر اللہ اکبر اس کے بعد بیوی صاحبہ کو سب نے مبارک باد دی۔
بیوی ...... لو اٹھو اب اندر چل کے کچھ ناشتہ کرلو۔ کھانے میں ابھی بہت دیر ہے۔
نووارد ...... بیوی جی اک دومنٹ مجھے ایک لطیفہ سا یاد آگیا ہے۔
بیوی ...... دومنٹ نہیں۔ آپ کے لطیفے کے واسطے چار منٹ بلکہ پانچ منٹ۔
نووارد ...... بابو صاحب مرزا قادیانی کی اس بالتواتر اور مقدس وحی کے بعد ان کے دو اشد دشمنوں اور ہتک کرنے والوں کا آج تک زندہ رہنا تو بڑی بات ہے ہی مگر باقی دو کا مرزا قادیانی سے بارہ بارہ سال بعد فوت ہونا بھی کچھ تھوڑی بات نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو مسیح بننے کے لئے بارہ سال سے ایک لمبا زمانہ لینے کی ضرورت پڑتی۔ تو آپ دیکھتے کہ وہ اس کو کتنا لمبا زمانہ قرار دیتے۔ کہیں کہتے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے فلاں کتاب میں لکھا ہے کہ بارہ برس دہلی میں رہے۔ بھاڑ جھونکتے رہے۔ اس سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ برس ایک طویل زمانہ ہے۔ کبھی کہتے کہ کل صوفیاء نے اس پر مہر لگا دی ہے کہ بارہ برس بعد خدا روڑی کی بھی سنتا ہے۔ اس لئے یہ زمانہ لمبا زمانہ خیال کیا گیا۔ کہیں کہتے کہ سکھوں کا اس پر اجماع ہے کہ ایک لمبا زمانہ ہے۔ کیونکہ وہ اپنی بولیوں کا ابتداء اس سے کرتے ہیں کہ بارہیں برسیں سنگھ کھٹ کے آیا کھٹ کے لایا فلانی چیز یعنی بارہ برس کے بعد تو سنگھ پردیس میں کما کے آیا اور کما کے یہ لایا۔
بیوی ...... (منہ پر کپڑا رکھ کر اور ہنسی کو روک کے ) لو اٹھو اب چلو۔ کمرہ میں داخل ہو کر۔
نووارد ...... بیوی جی یہ کیا حساب کتاب ہے؟
بیوی ...... بابو صاحب آپ مہربانی کریں اور منظور کریں۔ یہ غریب گاموں نے اس خوشی میں آپ صاحبان کے لئے اپنا نقصان کیا ہے۔
٦٩
قاضی صاحب ...... بیوی جی گاموں نمک حلال نوکر ہے۔ آپ دونوں صاحبان کا فساد رفع ہونے سے جس قدر میں اس کو خوش پاتا ہوں۔ اگر اس سے ہو سکتا تو اس سے بڑھ کر گڑ گڑتا۔
بابو صاحب ...... قاضی صاحب میں اتنی مدت کوہاٹ میں رہا۔ میں نے تو یہی دیکھا کہ آپ کے دوست کو سب وہاں بابو صاحب کہتے تھے۔ آپ ان کو مولوی صاحب کہتے ہیں
قاضی صاحب ...... جی ہاں! جو لوگ ان سے ملازمت کی حالت میں واقف ہوئے۔ وہ تو ان کو بابو صاحب ہی کہتے ہیں اور جو لوگ ان کے والد مرحوم کو جانتے ہیں۔ وہ انہیں مولوی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے مولوی صاحب کہتے ہیں۔
بابو صاحب ...... کیا آپ نے ان کے والد مرحوم کو دیکھا ہے؟
قاضی صاحب ...... جی نہیں! میں نے انہیں دیکھا تو نہیں لیکن سید محمود علی شاہ صاحب تحصیل دار سے جو ان کے شاگرد ہیں اور آج کل پنشن لے کر ثمن برج میں رہتے ہیں۔ میں نے ان کے حالات سنے ہیں۔ آپ بڑے جید عالم اور اہلحدیث تھے۔ تمام عمر اشاعت توحید میں گزاری۔ لالچ آپ کے خیال میں بھی نہیں گزرا تھا۔ بلکہ پیسہ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ کوئی اپنی خوشی سے کچھ دیتا یا پیش کرتا تھا تو لینے سے انکار کر دیتے تھے۔ حکام ان کی اور مولویوں کے مقابلہ میں جو زیادہ عزت کرتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ آپ بالکل بے طمع تھے۔ آپ کا نام نامی ہادی بختیار تاریخی تھا۔ محمود علی شاہ صاحب سے جو میں نے بعض اشعار ان کے قصائد کے سنے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعری میں بھی کمال رکھتے تھے۔
بیوی ...... قاضی صاحب کوئی شعر ان کا؟
قاضی صاحب ...... ان کے ایک قصیدہ کے ابتدائی دو شعر تو مجھے یاد ہیں جو یہ ہیں:
کہ اے اسیر منہ پا بروں زکوئے حزن...... در اندرون سرا نغمہ ہائے غم بیسرا
بیوی ...... قاضی جی واقعی یہ اشعار داد دینے کے قابل ہیں۔ آپ نے بھی تو جہاں کے چیدہ چیدہ اشعار یاد کر رکھے ہیں۔
بابو صاحب ...... مولوی صاحب آپ کے والد رہنے والے کہاں کے تھے؟
نووارد ...... دہلی کے اور امام صہبائی کے شاگرد تھے۔ بلکہ امام صہبائی ثانی کہلاتے تھے۔ شادی آپ نے کنج پور ضلع کرنال میں کی تھی۔ میرے نانا کنج پور کے قاضی تھے اور ایک بزرگ خاندان سے تھے۔ غدر میں والد مرحوم دہلی چھوڑ کر پنجاب کی طرف چلے آئے۔ کچھ مدت پٹھان کوٹ اور
٧٠
٧٧
کانگڑہ رہ کر سکونت ہوشیار پور میں اختیار کی۔ ایک مدت وہاں رہ کر انتقال فرمایا اور وہیں مدفون ہیں۔
بابو صاحب ...... اس فرقے کے رد کا شوق آپ کو کیونکر پیدا ہوا؟
نووارد ...... ہم تین بھائی ہیں۔ مجھ سے چھوٹا احسان الحق انبالہ چھاؤنی ہے۔ اس کو چنداں مذہب کا خیال نہیں۔ میرے بڑے بھائی احمد پینشن پاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا چال چلن بہت اچھا رکھا۔ یہاں ت لیکن مرزا قادیانی کے بڑے ثناء خوان اور اٹھنا بیٹھنا ان کا اور میل ملا تاثیر نہیں مگر کبھی تو کسی بیٹے میں ہونی چاہئے تھی۔ میں نے اپنی عمر م کتابیں پڑھنے میں صرف کر دی۔ دماغ صرف کر دیا۔ آنکھیں صر کہ جس قیمت پر کوئی کتاب ملی۔ میں نے خریدی۔ چنانچہ انجام آخ میں نے انجمن احمدیہ مردان سے ٢٠ روپیہ میں خریدی اور آخر میں مذاہب باطلہ کی کتابیں پڑھ کر دہریہ ہو گئے تھے اور ان کو یقین ہ اور وحی یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ روپے کی ان کو سخت ضرورت تھی۔ اس پیشہ اختیار کیا۔ مگر اسلام کی آڑ میں پیشین گوئیوں کو اپنا معیار بنای کیں۔ اس میں دو فائدے تھے۔ ایک تو یہ کہ موت ہی ایک ایسی با دوم یہ کہ وعید کی پیشین گوئی صدقہ خیرات اور ڈر جانے سے ٹل ج معلومات کے علاوہ جھوٹ بولنے اور حیا ترک کرنے کی بھی ضرو لئے آپ نے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ جھوٹ بولن ایک قسم کا شرک ہے۔ جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے۔ یہ اس میں جھوٹ بولوں۔ میری طرف سے جھوٹ بولنے کا کسی کو گمان غی اتار پھینکا۔ چنانچہ ایک شخص کی نسبت آپ لکھتے ہیں کہ اگرچہ وہ میر
١؎ (براہین احمدیہ ص ٨٥ و خزائن ج ١ ص ٨٥) پر مرزا قادیانی
بجز اندم زہر ملتِ دفترے ...... بدیدم
ہم از کودکی سوئے ایں تاختم ...... در
جوانی ہمہ اندریں باختم ...... دل از
٧١
کانگڑہ رہ کر سکونت ہوشیار پور میں اختیار کی۔ ایک مدت وہاں رہ کر ٢٠ ستمبر ١٨٨٧ء آپ نے انتقال فرمایا اور وہیں مدفون ہیں۔
بابو صاحب ....... اس فرقے کے رد کا شوق آپ کو کیونکر پیدا ہوا۔
نووارد ....... ہم تین بھائی ہیں۔ مجھ سے چھوٹا احسان الحق انبالہ چھاؤنی میں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ اس کو چنداں مذہب کا خیال نہیں۔ میرے بڑے بھائی احمد حسین شہر انبالہ میں پولیس سے پنشن پاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا چال چلن بہت اچھا رکھا۔ یہاں تک کہ تمام عمر حقہ بھی نہیں پیا۔ لیکن مرزا قادیانی کے بڑے ثناء خوان اور اٹھنا بیٹھنا ان کا اور میل ملاپ مرزائیوں سے آخر باپ کی تاثیر کہیں منتقل بھی تو کسی بیٹے میں ہونی چاہئے تھی۔ میں نے اپنی عمر مرزا قادیانی اور ان کے مخالفین کی کتابیں پڑھنے میں صرف کر دی۔ دماغ صرف کر دیا۔ آنکھیں صرف کر دیں۔ روپیہ اتنا صرف کیا کہ جس قیمت پر کوئی کتاب ملی۔ میں نے خریدی۔ چنانچہ انجام آتھم ڈیڑھ روپے قیمت کی کتاب میں نے انجمن احمدیہ مردان سے ٢٠ روپے میں خریدی اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ مرزا قادیانی مذاہب باطلہ کی کتابیں پڑھ کر دہریہ ہو گئے تھے اور ان کو یقین ہو گیا تھا کہ مذہب پیغمبری الہام اور وحی یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ روپے کی ان کو سخت ضرورت تھی۔ اس لئے انہوں نے جھوٹی نبوت کا پیشہ اختیار کیا۔ مگر اسلام کی آڑ میں پیشین گوئیوں کو اپنا معیار بنایا۔ پیشین گوئیاں موت کی شروع کیں۔ اس میں دو فائدے تھے۔ ایک تو یہ کہ موت ہی ایک ایسی بات ہے کہ ضرور واقعہ ہوتی ہے۔ دوم یہ کہ وعید کی پیشین گوئی صدقہ خیرات اور ڈر جانے سے ٹل جاتی ہے۔ اس کام کے واسطے علمی معلومات کے علاوہ جھوٹ بولنے اور حیا ترک کرنے کی بھی ضرورت انہوں نے محسوس کی اور اس لئے آپ نے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ جھوٹ بولنا بڑا بھاری گناہ ہے۔ جھوٹ بولنا ایک قسم کا شرک ہے۔ جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے۔ یہ اس بات کی ناکہ بندی کہ خواہ کتنا بھی میں جھوٹ بولوں۔ میری طرف سے جھوٹ بولنے کا کسی کو گمان ہی نہ ہو اور حیا کا برقعہ بالکل منہ سے اتار پھینکا۔ چنانچہ ایک شخص کی نسبت آپ لکھتے ہیں کہ اگر چہ وہ میعاد میں نہیں مرا۔ مگر مر تو گیا۔
١؎ (براہین احمدیہ ص ٥٩٥ خزائن ج ١ ص ٥٨٥) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: بنظم !
بخواندم زہر ملتے دفترے ...... بدیدم زہر قوم دانشورے
ہم از کودکی سوئے ایں تاختم ...... دریں شغل خود را بینداختم
جوانی ہمہ اندریں باختم ...... دل از غیر ایں کار پرداختم
٧١
خیال کیجئے کہ کس قدر بے حیائی کا کلمہ ہے۔ اگر موت کی پیشین گوئی اپنی میعاد میں پوری نہیں ہوتی تو وہ کیا پیشین گوئی ہے؟ کون سا ذی روح ہے جس نے مرنا نہیں اور اس کے ثبوت میں آپ مثال کیسی بے حیائی سے دیتے ہیں۔ کہتے میعاد کو نہیں دیکھنا چاہئے۔ نفس واقعہ کو دیکھنا چاہئے۔ اگر کسی شخص کی نسبت کہا جائے کہ وہ پندرہ ماہ تک کوڑھی ہو جائے گا۔ پس اگر بجائے پندرہ کے بیسیوں مہینے معدوم ہو جائے اور اس کے اعضاء گر جائیں تو کیا یہ کہا جائے گا کہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ بابو صاحب دیکھئے یہ مسیح موعود صاحب کا کیسا بے حیائی کا کلمہ ہے۔ کہاں موت کی پیشین گوئی اور کہاں کوڑھی ہو جانے کی۔ جب میں مرزا قادیانی کی تہ کو پہنچ گیا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ مرزا قادیانی کے مرید اپنی جماعت کو بڑھانے کے لئے جان مار رہے ہیں اور رات دن سادہ لوح مسلمان ان کی کنڈی میں پھنسے جارہے ہیں۔ تو میرے دل میں اخوت اسلامی نے جوش مارا اور میں نے مسلمانوں کو اس گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لئے اور جو گر چکے۔ ان کو باہر نکالنے کے لئے اخبار اہلحدیث میں مضامین دینے شروع کئے۔
بابو صاحب ...... گاموں لے۔ اب اپنا خوان نعمت زیادہ کر اور جانو کو کہہ دے کہ یہ صاحب بھی کھانا یہیں کھائیں گے۔ اس کے بعد سب نے ہاتھ اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا اور گاموں کے حق میں دعائے خیر کی گئی۔
بابو صاحب ...... قاضی صاحب میرے خیال میں اب باہر جانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ بہتر ہے کہ یہ سلسلہ گفتگو یہیں جاری رہے۔ کیوں مولوی صاحب؟
نووارد ...... جیسا منشاء عالی مجھے تو اندر اور باہر یکساں ہیں۔
بابو صاحب ...... میں مرزا قادیانی کے اس الہام کو کہ تیری موت قریب ہے۔ سمجھ تو گیا کہ سراسر جھوٹا تھا۔ لیکن آپ اس پر کچھ مزید روشنی ڈالیں۔ آج ہمارے پاس وقت کافی ہے۔
نووارد ...... بابو صاحب! چونکہ یہ مرزا قادیانی کی سفید ریشی کے زمانہ کا الہام مرزائی مذہب کی بیخ کنی کرنے والا ثابت ہوا ہے۔ اس لئے آپ کہیں نہ کہیں میں اس پر بہت کچھ کہوں گا اور اس کا سراسر جھوٹا اور من گھڑت ہونا دو اور دو چار کی طرح ثابت کروں گا۔ یہ الہام جھوٹا تھا۔ اس وجہ سے کہ:
١ ہم لوگ کیسے بدقسمت ہیں کہ اسی شخص کے مریدوں کو جب کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی پیشین گوئی مرزا قادیانی کی موت کی نسبت پوری ہو گئی۔ تو کہتے ہیں نہیں ہوئی۔ اللہ اللہ کیا تقویٰ ہے۔ کیا دین ہے۔ کیا انصاف ہے۔
٧٢
اول ...... یہ الہام کبھی پورا ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں
- ١...... ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام ونشان نہیں چھوڑیں گے
موجب ہو۔ اس وعدہ کو مرزا قادیانی کا الہام کنندہ اسی حالت میں پورا
- الف ...... مرزا قادیانی کی تمام تصنیفات کو جہان سے گم کردیتا۔
- ب ...... مرزا قادیانی کے مخالفوں کے اشتہاروں، رسالوں، کتابوں
دیتا۔
- ج ...... جو کچھ وعدے مرزا قادیانی سے کر چکا تھا کہ تیری زندگی
سب کو پورا کر دیتا۔
- د ...... موجودہ انسانوں کے دماغ سے اعتراضات بھلادیتا۔
- ہ ...... آئندہ انسانوں کی پیدائش بند کر دیتا۔
- ٢...... تو اس حالت میں فوت ہوگا کہ میں تجھ سے راضی ہوں
قادیانی اور مرزائیوں کی خاطر اپنے رسول مقبول کی اس حدیث سے جگہ فوت ہوتا ہے۔ جہاں اس نے دفن ہونا ہوتا ہے۔ تو بھی جاہ غربت کی موت بہت بری ہوتی ہے۔ ہر کس و ناکس ایسی موت ۔ مانگتا ہے کہ خدایا پردیس کی موت نہ دیجو۔ مرزا قادیانی سے ان کے کی کہ آرام سے گھر میں بیٹھے ہوئے کو لاہور لے جا کر اور زبان بند ان کے جنازہ کی بے حرمتی کرائی۔ اگر کوئی مرزائی ڈاکٹر وہاں موجود محروم رہتے۔ جیسے آنحضرت کی بغل میں مدفون ہونے سے محروم رہے
- ٣...... تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا
کوئی مرا جیتا مرزائی ہے۔ جو ہمیں بتادے کہ ٢٠ الوصیت اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء تاریخ وفات مرزا قادیانی کے درمیان دکھلائے؟
دوسری وجہ اس الہام کے جھوٹے ہونے کی بیان کر قادیانی کے اشتہار تبصرہ کی بابت کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٥، ٥٩٢) یعنی مرزا قادیانی کی موت سے ٦ لمبائی ایک فٹ ٥ انچ اور چوڑائی ایک فٹ ڈیڑھ انچ ہے اور اس
٧٣
- اول ...... یہ الہام کبھی پورا ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں
- ١ ...... ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے۔ جن کا ذکر تیری رسوائی کا
موجب ہو۔ اس وعدہ کو مرزا قادیانی کا الہام کنندہ اسی حالت میں پورا کر سکتا تھا کہ:
- الف ...... مرزا قادیانی کی تمام تصنیفات کو جہان سے گم کر دیتا۔
- ب ...... مرزا قادیانی کے مخالفوں کے اشتہاروں ، رسالوں ، کتابوں اور اخباروں کو دنیا سے اٹھا
دیتا۔
- ج ...... جو کچھ وعدے مرزا قادیانی سے کر چکا تھا کہ تیری زندگی میں ہم ایسا کردیں گے ان
سب کو پورا کر دیتا۔
- د ...... موجودہ انسانوں کے دماغ سے اعتراضات بھلا دیتا۔
- ہ ...... آئندہ انسانوں کی پیدائش بند کر دیتا۔
- ٢ ...... تو اس حالت میں فوت ہوگا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ بابو صاحب اگر ہم مرزا
قادیانی اور مرزائیوں کی خاطر اپنے رسول مقبول کی اس حدیث سے آنکھیں بند کر لیں کہ نبی اسی جگہ فوت ہوتا ہے۔ جہاں اس نے دفن ہونا ہوتا ہے۔ تو بھی جہان جانتا ہے کہ پردیس کی اور غربت کی موت بہت بری ہوتی ہے۔ ہر کس و ناکس ایسی موت سے ناراض ہے اور خدا سے دعا مانگتا ہے کہ خدایا پردیس کی موت نہ دیجو۔ مرزا قادیانی سے ان کے خدا نے اچھی رضامندی ظاہر کی کہ آرام سے گھر میں بیٹھے ہوئے کو لاہور لے جاکر اور زبان بند کر کے مارا اور شہر کے لڑکوں سے ان کے جنازہ کی بے حرمتی کرائی۔ اگر کوئی مرزائی ڈاکٹر وہاں موجود نہ ہوتا تو بہشتی مقبرہ سے بھی محروم رہتے۔ جیسے آنحضرت کی بغل میں مدفون ہونے سے محروم رہے۔
- ٣ ...... تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔
کوئی مرزا نما مرزائی ہے۔ جو ہمیں بتادے کہ ٢٠؍ نومبر ١٩٠٥ء تاریخ تحریر رسالہ الوصیت اور ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء تاریخ وفات مرزا قادیانی کے درمیان کیا کیا عجائبات قدرت خدا نے دکھلائے؟
دوسری وجہ اس الہام کے جھوٹے ہونے کی بیان کرنے سے پہلے میں آپ سے مرزا قادیانی کے اشتہار تبصرہ کی بابت کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ یہ اشتہار ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٨٥، ٥٩٢) یعنی مرزا قادیانی کی موت سے ٦ ماہ اور ٢٢ یوم پہلے کا ہے۔ اس کی لمبائی ایک فٹ ١٥ انچ اور چوڑائی ایک فٹ ڈیڑھ انچ ہے اور اس کی ٤٢ سطریں ایسی گنجان لکھی ہوئی
٧٣
ہیں ۔ گویا ایک رسالہ کو اشتہار کی شکل میں چھاپا ہے ۔ اس کے عنوان پر نوٹس کی صورت میں بڑے جلی خط میں لکھا ہوا ہے : ’’ہماری جماعت کو لازم ہے کہ اس پیشین گوئی کو خوب شائع کریں اور اپنی طرف سے چھاپ کر مشتہر کریں اور یاداشت کے لئے اشتہار کے طور پر اپنے گھر کی نظر گاہ میں چسپاں کریں ۔‘‘ بابو صاحب اگر اس اشتہار کو بہ تمام و کمال اگر آپ پڑھنا چاہیں تو فرصت کے وقت پڑھیں ۔ میں اس کے صرف چند اقتباسات بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ شروع یوں ہوتا ہے :
’’مجھے اس تحریر کے لئے اس بات نے مجبور کیا ہے کہ میں مامور ہوں کہ امر معروف اور نہی منکر کروں اور سننے والوں کو ان امور پر قائم کروں جن سے ان کا ایمان قوی اور معرفت زیادہ ہو اور صراط مستقیم پر قائم ہو جاویں ۔ واضح ہو کہ میں نے اس ہفتہ کے اخبار عام میں اس کے پہلے کالم میں یہی پڑھا ہے کہ بعض کوتہ اندیش لوگوں نے میرے فرزند مبارک احمد کی وفات پر بڑی خوشی ظاہر کی ہے۔ بلکہ دوسرے بعض اخباروں میں بھی بڑے زور سے اس واقعہ کو ظاہر کر کے یہ رنگ اس پر چڑھایا ہے کہ گویا ان میں سے کسی کا مباہلہ میں فتح یاب ہونا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ زیادہ لکھنا نہیں چاہتے ۔ کیونکہ جھوٹ کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ کافی ہے ۔ واضح ہو کہ میں نے کسی سے ایسا مباہلہ نہیں کیا ۔ جس میں کسی دوسرے فریق کی اولاد کو اس طرح پر معیار صدق و کذب بنایا جائے کہ اگر اس فریق کا لڑکا مر گیا تو وہ جھوٹا ٹھہرے گا ۔ بلکہ میں ہمیشہ یہی چاہتا ہوں کہ وہی شخص نابود ہو جس کا گناہ ہے ۔ جس نے خدا پر افتراء کیا ہے یا صادق کو کاذب ٹھہراتا ہے ۔‘‘ اور بابو صاحب اب تو یہ عذر بھی مرزا قادیانی کا باقی نہ رہا ۔ کیونکہ اس تحریر کے بعد خود مولوی عبدالحق صاحب کی زندگی میں جن سے ان نے مباہلہ کیا تھا، فوت ہو گیا ۔ آگے لکھتا ہے کہ ’’لڑکے کی موت کی خبر دو دفعہ مجھے خدا نے دی تھی اور یہ الہام ہوا تھا کہ ’’انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا‘‘ یعنی اے اہل بیت ! خدا تمہیں ایک امتحان کے ذریعہ سے پاک کرنا چاہتا ہے ۔ جیسا کہ حق پاک کرنے کا ۔
اس بارے میں ان دنوں میں کچھ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے وہ پیشین گوئیاں لکھتا ہوں ۔ چاہئے کہ میری جماعت یاد رکھے اور اس کو اپنے گھروں کے نظر گاہ جگہوں پر چسپاں کریں اور اپنی عورتوں اور لڑکوں کو اس سے اطلاع دیں اور جہاں تک ممکن ہو نرمی اور آہستگی سے اپنے واقف کاروں کو اس امر پر مطلع کریں ۔ کیونکہ یہ دن آنے والے ہیں اور خدا نے سب کچھ دیکھا ہے اور اب وہ ہم میں اور ہمارے ان مخالفوں میں جو تکفیر اور گالیوں سے باز نہیں آتے ، فیصلہ کرے گا ۔ وہ حلیم ہے ۔ مگر اس کا غضب سب سے بڑھ کر ہے اور وہ سزا دینے میں دھیما ہے ۔ مگر
٧٤
اس کا قہر بھی ایسا ہے کہ فرشتے بھی اس سے کانپتے ہیں اور اس پیشین صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے حد سے زیادہ مجھے ستایا اور گالی دینے میں بڑھ گئے۔
بلکہ بعض نے ان میں سے میرے قتل کے فتوے دیئے کہ وہ میں قتل کیا جاؤں اور زمین سے نابود کیا جاؤں اور میرا تمام سلسلہ پراگند جو میرے دل کی حالت کو جانتا ہے۔ وہ وہی فیصلہ کرے گا ۔ جو اس کے مجھے اپنے فیصلہ سے خبر دی ہے اور وہ یہ ہے ”الم تر كيف فعل ربك يجعل كيدهم فى تضليل انك بمنزلة رحم واخترتك“ (ترجمہ) تو نے دیکھ لیا یعنی تو ضرور دیکھے گا کہ اصحاب والے تھے اور جو آئے دن تیرے پر حملہ کرتے ہیں اور جیسا کہ اصحاب کرنا چاہا تھا ......
پھر فرمایا ”وينصرك رجال نوحى اليهم من الم عمیق“ یعنی تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم ا جگہوں سے تیرے پاس آئیں گے۔ اس جگہ استعارہ کے رنگ میں سے مشابہت دی۔ کیونکہ آیت ”یاتون من کل فج عمیق“ خا فرمایا کہ تو مجھ سے بمنزلہ اسلام کی چھاتی کے ہے اور اس چھاتی میں جو پڑ یعنی تجھ سے لڑنے والے اور تیرے پر حملہ کرنے والے سلامت نہی تیرے مخالفوں کا اخزاء اور افناء تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔ یعنی جو چاہتے ہیں۔ وہ آپ ہی رسوا اور ہلاک ہوں گے اور پھر فرمایا: ”ان ذوالعز والسلطان من عاد وليالی فکانما خر من السم سينالهم غضب من ربهم وما كنا معذبين حتى نب زكها وقد خاب من دسها قل انى امرت لكم فافعلو البرکات یا عبدالله انى معك والضحى والليل اذا س قلی“ یعنی میں رحمٰن ہوں صاحب عزت اور سلطنت جو شخص میر آسمان پر سے گر گیا۔ میں موجود ہوں۔ پس میرے فیصلہ کا منتظر رہ آتے ۔ عنقریب ان پر غضب الہٰی نازل ہوگا۔ ہم عذاب نازل نہیں
٧٥
اس کا قہر بھی ایسا ہے کہ فرشتے بھی اس سے کانپتے ہیں اور اس پیشین گوئی میں ہمارے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے حد سے زیادہ مجھے ستایا اور گالی دینے اور بدزبانی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے۔
بلکہ بعض نے ان میں سے میرے قتل کے فتوے دیئے کہ وہ سب لوگ چاہتے ہیں کہ میں قتل کیا جاؤں اور زمین سے نابود کیا جاؤں اور میرا تمام سلسلہ پراگندہ اور نابود ہو جائے۔ مگر خدا جو میرے دل کی حالت کو جانتا ہے۔ وہ وہی فیصلہ کرے گا۔ جو اس کے حکم کے موافق ہو۔ اس نے مجھے اپنے فیصلہ سے خبر دی ہے اور وہ یہ ہے ” الم تر كيف فعل ربك باصحاب الفيل الم يجعل كيدهم فى تضليل انك بمنزلة رحى الاسلام اثر تك واختر تك“ (ترجمہ) تو نے دیکھ لیا یعنی تو ضرور دیکھے گا کہ اصحاب الفیل یعنی وہ جو بڑے حملہ والے تھے اور جو آئے دن تیرے پر حملہ کرتے ہیں اور جیسا کہ اصحاب فیل نے خانہ کعبہ کو نابود کرنا چاہا تھا......
پھر فرمایا ”وینصرك رجال نوحى اليهم من السماء ياتون من كل فج عميق“ یعنی تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم الہام کریں گے۔ وہ دور دراز جگہوں سے تیرے پاس آئیں گے۔ اس جگہ استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ نے مجھے بیت اللہ سے مشابہت دی۔ کیونکہ آیت ”یاتون من كل فج عميق“ خانہ کعبہ کے حق میں ہے اور پھر فرمایا کہ تو مجھ سے بمنزلہ اسلام کی چکی کے ہے اور اس چکی میں جو پڑے گا وہ آخر کو پیسا جائے گا۔ یعنی تجھ سے لڑنے والے اور تیرے پر حملہ کرنے والے سلامت نہیں رہیں گے اور پھر فرمایا کہ تیرے مخالفوں کا اخزاء اور افناء تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔ یعنی جو لوگ تجھے رسوا اور ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ ہی رسوا اور ہلاک ہوں گے اور پھر فرمایا: ”انی انا ربك الرحمن ذوالعز والسلطان من عاد ولیا لی فكانما خرّ من السماء انی موجود فانتظر سينالهم غضب من ربهم وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا قد افلح من زكها وقد خاب من دسها قل انى امرت لكم فافعلوا ماتؤ مرون، اليوم يوم البركات يا عبدالله اني معك والضحى والليل اذا سجى ما ودعك ربك وما قلى“ یعنی میں رحمن ہوں صاحب عزت اور سلطنت جو شخص میرے ولی سے دشمنی کرے۔ گویا وہ آسمان پر سے گر گیا۔ میں موجود ہوں۔ پس میرے فیصلہ کا منتظر رہ جو لوگ عداوت سے باز نہیں آتے۔ عنقریب ان پر غضب الہی نازل ہوگا۔ ہم عذاب نازل نہیں کیا کرتے۔ مگر اس حالت میں
٧٥
کہ جب پہلے رسولؐ آجائے یعنی دنیا پر عذاب شدید نازل ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رسول آگیا ہے اور پھر فرمایا کہ عذاب سے وہ لوگ نجات پائیں گے جنہوں نے دلوں کو پاک کیا اور وہ لوگ سزا پائیں گے جنہوں نے اپنے نفسوں کو گندہ کیا اور پھر فرمایا کہ میں تیری نسل کو جڑ سے معدوم نہیں کروں گا۔ بلکہ جو کچھ کھویا گیا ۔ وہ تجھے خداوند کریم واپس دے گا۔ ان کو کہہ دے کہ میں تمہارے لئے مامور ہو کر آیا ہوں۔
پس وہی کرو جو میں حکم کرتا ہوں۔ یہ برکت کے دن ہیں۔ ان کا قدر کرو۔ کہ خدا کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔ مجھے روز روشن کی قسم ہے اور اس رات کی جو تاریک ہو۔ جو تیرے رب نے تجھے دشمن نہیں پکڑا اور پھر اردو میں فرمایا کہ ہر ایک حال میں تمہارے ساتھ موافق ہوں اور تیرے منشاء کے مطابق اور پھر فرمایا: ”لکم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا خیر و فتح ونصرت انشاء اللہ تعالیٰ ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظھرک ورفعنالک ذکرک انی معک ذکرتک فاذکرنی وسع مکانک حان ان تعان وترفع بین الناس انی معک یا ابراھیم انی معک ومع اھلک انک واھلک انی انا الرحمن فانتظر قل ياخذک اللہ“ یعنی تمہارے لئے دنیا اور آخرت میں بشارت ہے۔ تیرا انجام نیک ہے۔ خیر ہے اور نصرت اور فتح انشاء اللہ تعالیٰ! کہ ہم تیرا بوجھ اتار دیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی اور تیرے ذکر کو اونچا کر دیں گے۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں نے تجھے یاد کیا ہے۔ سو تو مجھے بھی یاد کر اور اپنے مکان کو وسیع کر دے۔ وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور لوگوں میں تیرا نام عزت اور بلندی سے لیا جائے گا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ اے ابراہیم اور ایسا ہی تیری اہل کے ساتھ اور تو میرے ساتھ ہے اور ایسا ہی تیرے اہل۔ میں رحمٰن ہوں۔ میری مدد کا منتظر رہ اور اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔
١؎ یہ الہام قابل توجہ مولوی محمد علی صاحب امیر لاہوری پارٹی ہے۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ وہ یہ کہہ دیں گے کہ مرزا قادیانی کے مخاطبین پر کب غضب نازل ہوا تھا یا عذاب آیا کہ ہم انہیں رسول مانیں۔ ٢؎ مرزائیو! اس الہام سے تو ٧ ماہ بعد مرزا قادیانی فوت ہو گئے۔ کوئی نعم البدل مبارک احمد کا بعد وفات مرزا قادیانی پیدا ہوا؟
٧٦
یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چود گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ ان تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر الشان پیشین گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب و عـ نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے اور نصرت و فتح تـ دشمن جو میری موت چاہتا ہے۔ وہ خود میری آنکھوں کے روبرو ا ہو جائے گا۔ خدا ایک قہری تجلی کرے گا اور وہ جو جھوٹ اور شوخی ۔ اور تباہی ظاہر کرے گا۔ مگر میری طرف ایک دنیا کو جھکا دے گا اور ہر ایک کنارہ میں پھیلا دیگا۔ سو چاہئے کہ میری جماعت کے لوگ اور تقوے اور طہارت سے پاک نمونہ دکھا دیں ۔“ خاکسار مرزا غلام احمد ٥ نومبر ١٩٠٧ء (مجمـ
صاحبان میری اس سے بحث نہیں کہ اس اشتہار کے سکے کے بنے ہوئے ہوتے ہیں، وزن کیا جائے۔ تو پانچ سیر کـ ہوگا۔ یا اگر مولوی محمد علی صاحب لاہور میں اس کا امتحان کیمیائی برابر سچ اس سے برآمد نہ ہوگا۔ مگر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں مورخہ ١٦ اگست ١٩٠٦ء پڑھ کر اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے سـ ١٩٠٧ء۔
اور یہ اشتہار تبصرہ مورخہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء پڑھ کر انسا اشتہارات دینے والے کو دسمبر ١٩٠٥ء میں موت نہایت قریب تھے۔ جنہوں نے اس کی ہستی کی بنیاد کو ہلا دیا تھا اور الوہیت بحـ اب اس میں کچھ شک باقی نہیں رہا کہ مرزا قادیانی کو الہام موت بچے کا حامی ہو، میں ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کو بجائے اس کے یہ کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور پیچھے بھی۔ یہ دیکھتے کہ بھائی آج سے تین سال بعد فوت ہو جاؤں گا۔ لیکن مجھے تو تین روز زنـ
١؎ مرزا قادیانی الہام گھڑتے گھڑتے چوک گئے۔ شاید کـ
٧٧
یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تا کہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔ یہ عظیم الشان پیشین گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب وعقوبت کا وعدہ کیا ہے۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے اور نصرت و فتح تیرے ساتھ شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے۔ وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہو جائے گا۔ خدا ایک قہری تجلیٰ کرے گا اور وہ جو جھوٹ اور شوخی سے باز نہیں آتے ۔ ان کی ذلت اور تباہی ظاہر کرے گا۔ مگر میری طرف ایک دنیا کو جھکا دے گا اور میرا نام عزت کے ساتھ دنیا کے ہر ایک کنارہ میں پھیلا دیگا۔ سو چاہئے کہ میری جماعت کے لوگ اس پیشین گوئی کے منتظر رہیں اور تقوے اور طہارت سے پاک نمونہ دکھاویں ۔“
خاکسار مرزا غلام احمد ٥ نومبر ١٩٠٧ء
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٥ تا ٥٩٢)
صاحبان میری اس سے بحث نہیں کہ اس اشتہار کے چھاپہ خانہ کے حروف کو جو لوہے یا سکے کے بنے ہوئے ہوتے ہیں ، وزن کیا جائے ۔ تو پانچ سیر پختہ جھوٹ اور افتراء علی اللہ ثابت ہوگا۔ یا اگر مولوی محمد علی صاحب لاہور میں اس کا امتحان کیمیائی کراویں تو ایک رائی کے دانہ کے برابر سچ اس سے برآمد نہ ہوگا۔ مگر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا اشتہار خدا سچے کا حامی ہو ۔ مورخہ ١٦ اگست ١٩٠٦ء پڑھ کر اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء ۔
اور یہ اشتہار تبصرہ مورخہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء پڑھ کر انسان کے ذہن میں آسکتا ہے کہ ان اشتہارات دینے والے کو دسمبر ١٩٠٥ء میں موت نہایت قریب ہونے کے پے درپے الہام ہوئے تھے۔ جنہوں نے اس کی ہستی کی بنیاد کو ہلا دیا تھا اور الوصیت بھی لکھ چکا تھا۔ یعنی وصیت کر چکا تھا۔ اب اس میں کچھ شک باقی نہیں رہا کہ مرزا قادیانی کو الہام موت ہوا ہی نہ تھا۔ اگر ہوتا تو اشتہار خدا سچے کا حامی ہو، میں ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کو بجائے اس کے یہ لکھتے کہ میں ایسی موت نہیں مروں گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور پیچھے بھی۔ یہ دیکھتے کہ بھائی صاحب آپ تو یہ لکھتے ہیں کہ میں آج سے تین سال بعد فوت ہو جاؤں گا۔ لیکن مجھے تو تین روز زندہ رہنے کی بھی امید نہیں۔
١؎ مرزا قادیانی الہام گھڑتے گھڑتے چوک گئے۔ شاید کسی کتاب سے کچھ نقل کر رہے تھے۔
٧٧
آنحضرت نے (جنکا میں بروز ہوں) ایک روز اپنے صحابہ سے پوچھا کہ تم زندگی کی کتنی امید رکھتے ہو۔ ایک نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں صبح کی نماز پڑھ لیتا ہوں تو یہ یقین نہیں ہوتا کہ ظہر تک زندہ رہوں گا اور ظہر کی نماز نصیب ہوگی یا نہیں۔ دوسرے نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں ظہر کی نماز پڑھ لیتا ہوں تو مجھے یہ یقین نہیں ہوتا کہ عصر کی نماز نصیب ہو جائے گی۔ اسی طرح جب سب بیان کر چکے تو اخیر میں آپ نے فرمایا ”میں داہنی طرف سلام پھیرتا ہوں۔ تو مجھے یقین نہیں ہوتا کہ بائیں طرف بھی پھیر سکوں گا‘‘ اور علاوہ اس کے بروز ہونے کے مقدس وحی نے ١٩٠٥ء میں مجھے پے در پے ایسے تواتر کے ساتھ میری موت قریب ہونے کی اطلاع دی کہ جس نے میری زندگی کی بنیاد ہلا دی ہے اور میں وصیت بھی کر چکا کہ موت وحیات خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جس دن آپ کے دنیا میں رہنے کے دن پورے ہوگئے۔ آپ مر جائیں گے۔ جس دن میرے پورے ہوئے میں مرجاؤں گا اور الہام پر تو میرا ایمان ہے۔ میں یوم بعثت سے یہی تلقین کرتے کرتے تھک گیا کہ الہام کا نام سن کر چون و چرا نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ سر تسلیم خم کر دینا چاہئے۔
بدگمانی شقی لوگوں کا شیوہ ہے۔ میں آپ کے الہام سے کس طرح انکار کروں۔ خاص کر جب آپ کا الہام میرے الہام سے صاف اور زیادہ واضح ہے۔ کیونکہ آپ کے الہام میں میری موت کی میعاد مقرر کر دی گئی ہے اور میرا الہام گول مول ہے۔ شاید فریضہ حج ادا کرنے کے لئے یہ اشارہ ہوا ہے۔ خدا نے ایسا کوئی قاعدہ مقرر نہیں کیا کہ جو پہلے مرے وہ جھوٹا اور جو پیچھے مرے وہ سچا۔ جس کی جتنی عمر روز ازل سے خدا نے مقرر کر دی۔ اتنی بھگت کر اس نے دنیا سے چل دینا ہے۔ نہ یہ کہ مرزا قادیانی الہام کا نام سن کر نعل در آتش ہو کر اس الہام کی تردید میں ایک ضخیم فضول کتاب (حقیقت الوحی) لکھ کر اور پانچ روپے اس کی قیمت وصول کر کے لوگوں کا پیسہ، وقت اور ایمان ضائع کرتے۔
بابو صاحب....... ڈاکٹر صاحب کے الہام کی نسبت قادیان سے سالانہ جلسوں میں ہمیں یہ تعلیم ملتی رہی کہ مرزا قادیانی نے چونکہ مشتہر کر دیا تھا کہ مجھے موت قریب ہونے کا الہام ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے خبر پا کر ایک ٹک لگا دیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا قادیانی فلانی تاریخ سے تین سال کے اندر ہلاک ہو جائیں گے۔ مگر یہ الہامی تحریرات ان کی شمہ بھر بھی ظاہر نہیں کرتیں کہ درحقیقت انہیں اپنی موت قریب ہونے کا کوئی الہام ہوا تھا۔ بلکہ برخلاف اس کے آج یہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو لگا تار عربی اور اردو میں یہ الہام ہوئے کہ ہم تیری عمر بڑھا دیں گے اور تیرے دشمنوں اور
٧٨
تیری موت چاہنے والوں کو تیری زندگی میں فنا کر دیں گے۔ گویا جـ ہوا بھی تھا تو وہ منسوخ اور کالعدم ہو گیا۔
نو وارد ...... اچھا بابو صاحب مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ تعلیم ملی؟
بابو صاحب ....... مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت بدعا ا مولوی صاحب نے اسے منظور نہیں کیا تھا۔
نو وارد ....... بابو صاحب مرزا قادیانی نے جو (ضرورت الامام ص ١١) کی دعا ؤں کی نسبت لکھا ہے کہ ”آسمان میں غلغلہ ڈال دیتی ہیں ا ہے کہ بشرطیکہ فریق مخالف ان کی توہین اور تذلیل کرنے والا ا منصبی میں روڑے اٹکانے والا منظور بھی کر لے۔ دوئم مولوی صـ گنجائش ہی مرزا قادیانی نے کہاں چھوڑی؟ انہوں نے تو اپنی د صاحب جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ سے نکل کر خدا کے ہاتھ میں چلا گیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جا سیروں سیاہی خرچ کر دی کہ سنت اللہ نہیں بدلتی اور اس دعا میں کذاب نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ کذبین کی سزا کے اجراء کے لئے بھی مولوی صاحب کی منظوری نامنظوری کی ض مرزا قادیانی کی تکذیب سے تو یہ کرنی تھی کہ اس سنت اللہ کا مولو قرآن مجید تو فرماتا ہے: ”فسیروا فی الارض المكذبين (پ ٧ ع ٥)“ یعنی مکذبین کو اسی جہان میں سزا دی اور مولوی صاحب خدا کے سچے مامور کو جھوٹا کہنے والے تھے تو کی عزت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی۔ بابو صاحب قادیان تسلی ہو جاتی ہے۔ صاحب نظر کی نظروں سے وہی تاویلات باقی رہتیں کہ اس دعا کے بعد خدانخواستہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے مرزا قادیانی کی زندگی میں فوت ہو جاتے تو کیا مرزائی
تیری موت چاہنے والوں کو تیری زندگی میں فنا کر دیں گے۔ گویا موت کا الہام اگر مرزا قادیانی کو ہوا بھی تھا تو وہ منسوخ اور کالعدم ہو گیا۔
نو وارد ...... اچھا بابو صاحب مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ کی نسبت آپ کو قادیان سے کیا تعلیم ملی؟
بابو صاحب ...... مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت بددعا کی بابت ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ مولوی صاحب نے اسے منظور نہیں کیا تھا۔
نو وارد ...... بابو صاحب مرزا قادیانی نے جو (ضرورۃ الامام ص ١١، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٢) پر امام الزمان کی دعاؤں کی نسبت لکھا ہے کہ ”آسمان میں غلغلہ ڈال دیتی ہیں ۔“ وغیرہ وغیرہ! وہاں کیا یہ بھی لکھا ہے کہ بشرطیکہ فریق مخالف ان کی توہین اور تذلیل کرنے والا ان کو دکھ دینے والا۔ ان کے فرض منصبی میں روڑے اٹکانے والا منظور بھی کر لے۔ دوئم مولوی صاحب کی منظوری یا نامنظوری کی گنجائش ہی مرزا قادیانی نے کہاں چھوڑی؟ انہوں نے تو اپنی دعا ختم کر کے صاف لکھ دیا کہ مولوی صاحب جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی فیصلہ انسانی ہاتھوں سے نکل کر خدا کے ہاتھ میں چلا گیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کی تردید میں مرزا قادیانی نے سیروں سیاہی خرچ کر دی کہ سنت اللہ نہیں بدلتی اور اس دعا میں یہ بھی تھا کہ اور اگر میں مفتری اور کذاب نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ کیا اس سنت اللہ کے اجراء کے لئے بھی مولوی صاحب کی منظوری نامنظوری کی ضرورت تھی؟ کیا مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی تکذیب سے توبہ کر لی تھی کہ اس سنت اللہ کا مولوی صاحب پر اجراء نہ ہوا۔
قرآن مجید تو فرماتا ہے: ”فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبة المکذبین (پ ٤،ع ٥)“ یعنی مکذبین کو اسی جہان میں سزا دی گئی۔ اگر مرزا قادیانی سچے مامور تھے اور مولوی صاحب خدا کے سچے مامور کو جھوٹا کہنے والے تھے تو یہ کیا ہو گیا کہ مامور کو مار دیا اور مکذب کی عزت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی۔ بابو صاحب قادیان کی جن تاویلات سے مرزائیوں کی تسلی ہو جاتی ہے۔ صاحب نظر کی نظروں سے وہی تاویلات اس مذہب کو گرا دیتی ہیں۔ آپ خدا لگتی کہیں کہ اس دعا کے بعد خدانخواستہ مولوی ثناء اللہ صاحب ہیضہ سے بھی نہیں کسی معمولی بیماری سے مرزا قادیانی کی زندگی میں فوت ہو جاتے تو کیا مرزائی زمین آسمان سر پر نہ اٹھا لیتے؟ اور اگر
٧٩
ہم یہی عذر پیش کرتے کہ مولوی صاحب نے اس کو قبول نہیں کیا تھا۔ تو وہ یہ نہ کہتے کہ مرزا قادیانی چونکہ علم غیب کے گھوڑے پر سوار تھے۔ انہوں نے یہ فرما کر کہ مولوی صاحب جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ایسے نامعقول عذرات کی پہلے سے ناکہ بندی کر دی تھی۔ مرزا قادیانی کا اپنا اسی قسم کا فیصلہ موجود ہے۔ پنڈت لیکھرام کی نسبت کسی نے مرزا قادیانی سے کہہ دیا کہ اس کا قتل کیا جانا ایک اتفاقی امر تھا۔ اس پر مرزا قادیانی (استفتاء ص ١٠، خزائن ج ١٢ ص ١١٨) پر لکھتے ہیں:
”ایسا عظیم الشان مقدمہ جس کے نتیجہ کی دو بڑی بھاری قومیں منتظر تھیں وہ خدا کے علم اور ارادہ کے بغیر یونہی اتفاقیہ طور پر ظہور میں آ گیا۔ گویا جو مقدمہ خدا کو سونپا گیا تھا۔ وہ بغیر اس کے جو اس کے فیصلہ کرنے والے فرمان سے مزین ہو یونہی اس کی لاعلمی میں داخل دفتر ہو گیا۔ اگر ایسے خیالات بھروسہ کرنے کے لائق ہیں۔ تو پھر تمام نبوتوں کا سلسلہ اور شریعتوں کا تمام نظام یک دفعہ درہم برہم ہو جائے گا۔“ اور (حقیقت الوحی ص ٣٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٣ حاشیہ) پر لکھتے ہیں: ”مولوی اسماعیل نے اپنے رسالہ میں میری موت کے لئے بدعا کی تھی۔ پھر بعد اس دعا کے جلد مر گیا اور اس کی بددعا اسی پر پڑ گئی ۔“
مرزا قادیانی اسی مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ میں دعویدار ہیں کہ میں خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں۔ پس ان کا یہ دعویٰ اگر سچا تھا تو ان کو چاہئے تھا کہ اپنے خدا سے خبر پا کر دنیا کو اطلاع دے دیتے کہ چونکہ مولوی صاحب نے منظوری نہیں دی۔ اس لئے یہ ساری انشاء پردازی کالعدم۔ لیکن خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے قریباً ہر روز مشرف ہونے والے نے جبکہ ایسے اہم معاملہ کے فیصلہ۔ فیصلہ کی قبل از وقت خبر نہیں دی۔ تو خدا کے ساتھ مکالمہ کا دعویٰ سراسر جھوٹ اور ہماری طرف سے وہی الفاظ جو مرزا قادیانی نے (استفتاء ص ١٠، خزائن ج ١٢ ص ١١٨) پر لکھے: ” ہمیں ایسی عبارت آرائی کرنا کہاں آتی تھی۔ مگر خدا نے ہمیں بنی بنائی عبارت دے دی۔“ والحمدلله علی ذالك “
ہاں اس میں صرف اس قدر ترمیم کر کے کہ جو کی جگہ کہ بابو صاحب اس خدا کے ساتھ قریباً ہر روز مکالمہ کرنے والے اور تمام تمام دن اور تمام رات سوال و جواب کرنے والے کا حال یہ ہے کہ پیشین گوئیاں کر دینی اور جب دیکھنا کہ اس کی میعاد گزر گئی اور پوری نہیں ہوئی تو کہہ دینا کہ یہ دل میں ڈر گیا تھا۔ اس کی نانی ڈر گئی تھی۔ یہ ہوا تھا۔ وہ ہوا تھا۔ پوچھنے والا کوئی نہیں کہ حضرت سلامت آپ تمام تمام رات اور تمام تمام دن جو خدا کے ساتھ باتیں کرتے ہیں۔ وہ اگر آپ کے
مشن اور آپ کی پیشین گوئیوں کے متعلق جن کو آپ نے نہیں ہوتیں تو کس کے متعلق ہوتی ہیں؟ آیا امتحان مختاری کو بیوہ کر کے آخر آپ کی طرف واپس کرنے کے متعلق د گی ورنہ بعد ازالہ بکارت اسے مرزے کے خدامرزے کی بدعادت کو دیکھ۔ رشتہ داروں سے مقدمات جیتنے کے متعل طاعون کے دفع ہونے کے لئے آپ کی دعاؤں کے متعلق کے متعلق۔ خدا سے باتیں کر کے آپ نے مسئلہ کون سا حل
قاضی صاحب....... مولوی صاحب میں اچھی طرح ن کی نسبت ہیں اور مرزا قادیانی کا روئے سخن کس کس کی طر میں سٹے ڈال رہے ہیں۔
گاموں....... جی ہاں بے دریغ! قہقہہ
نووارد...... مرزے کے بیٹے کے مرجانے کو اپنے مباہلہ صاحب غزنوی کی طرف ہے۔ گالیاں دینے والا اور چ عبدالحکیم خان صاحب۔ تکفیر کرنے والا مولوی محمد حسین مولوی ثناء اللہ صاحب ومولوی ابراہیم صاحب۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب ان علماء دین م
نووارد...... ایک بھی نہیں قاضی صاحب ان میں سے کس
نووارد...... بالکل نہیں ! اللہ کا فضل رہا اور ہے۔
قاضی صاحب....... جب یہ مرزا قادیانی کے پانچ بری طرح پر جھوٹ ثابت ہوئے تو یہ تو دو اور دو چار طرف سے نہ تھے۔ لیکن سوال یہ باقی رہا کہ وہ کس کی والا کون تھا؟ اور اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا و
بابو صاحب....... میرا خیال ہے کہ شیطان کا ا تھا۔ کیونکہ ان میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی تھیں اور ج لئے ایک سے زیادہ سوراخ ہوتے تھے۔ سوائے معل کی حالت میں کھڑے گئے۔
مشن اور آپ کی پیشین گوئیوں کے متعلق جن کو آپ نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا ہے، نہیں ہوتیں تو کس کے متعلق ہوتی ہیں؟ آیا امتحان بخاری میں پاس کرا دینے کے متعلق۔ محمدی بیگم کو بیوہ کر کے آخر آپ کی طرف واپس کرنے کے متعلق ”بکر وثیب“ یعنی یا تو کنواری مل جائے گی ورنہ بعد ازالہ بکارت اے مرزے کے خدا مرزے کی جگر کو دیکھ اور تجھ پر بھی اپنی وعدہ خلافی کی بدعادت کو دیکھ۔ رشتہ داروں سے مقدمات جیتنے کے متعلق۔ آپ کی پنج وقتہ نماز کے بعد مرض طاعون کے دفع ہونے کے لئے آپ کی دعاؤں کے متعلق۔ حج نہ کرنے کے متعلق۔ زکوٰۃ مانگنے کے متعلق۔ خدا سے باتیں کر کے آپ نے مسئلہ کون سا حل کر دیا۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب میں اچھی طرح نہیں سمجھا کہ یہ کثیرالتعداد الہامات کس کس کی نسبت ہیں اور مرزا قادیانی کا روئے سخن کس کس کی طرف ہے اور بقول پنجابی کس کس کی بیڑی میں بٹے ڈال رہے ہیں۔
گاموں....... جی آپنی وچ! قہقہہ
نووارد....... مرزے کے بیٹے کے مر جانے کو اپنے مباہلہ کا اثر بیان کرنے کا اشارہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کی طرف ہے۔ گالیاں دینے والا اور چودہ ماہ کی میعاد کے اندر مارنے والا ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب۔ تکفیر کرنے والا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ حد سے زیادہ ستانے والا مولوی ثناء اللہ صاحب و مولوی ابراہیم صاحب۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب ان علماء دین میں سے کوئی مرزے کی زندگی میں مرا۔
نووارد....... ایک بھی نہیں قاضی صاحب ان میں سے کسی پر کوئی آفت آئی۔
نووارد....... بالکل نہیں! اللہ کا فضل رہا اور ہے۔
قاضی صاحب....... جب یہ مرزا قادیانی کے پانچ سیر پختہ الہام قرآن کی آیات کی نقل ایسی بری طرح پر جھوٹ ثابت ہوئے تو یہ تو دو اور دو چار کی طرح ثابت ہو گیا کہ وہ خدائے پاک کی طرف سے نہ تھے۔ لیکن سوال یہ باقی رہا کہ وہ کس کی طرف سے تھے۔ ان کے گھڑنے اور بنانے والا کون تھا؟ اور اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا وساوس شیطانی یا اپنی مشین؟
بابو صاحب....... میرا خیال ہے کہ شیطان کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مرزا قادیانی خود گھڑتا تھا۔ کیونکہ ان میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی تھیں اور جنگلی چوہے کے بل کی طرح نکل بھاگنے کے لئے ایک سے زیادہ سوراخ ہوتے تھے۔ سوائے معدودے چند کے جو خود کہہ رہے ہیں کہ ہم غصہ کی حالت میں گھڑے گئے۔
بیوی ...... میرا خیال ہے کہ یہ الہامات شیطانی تھے۔ کیونکہ جن جن پیشین گوئیوں کو مرزا نے عظیم الشان قرار دیا۔ انہی میں اس نے نیچا دیکھا۔
قاضی صاحب ...... اگر یہ الہام شیطانی تھے۔ تو شیطانی تھے ہی اور اگر مرزا قادیانی خود گھڑ کر ان کو خدا کی طرف منسوب کرتا تھا۔ تب بھی ایک طرح کے شیطانی ہی تھے۔ کیوں مولوی صاحب؟
نووارد ...... قاضی صاحب سچ فرماتے ہیں۔ مگر ان میں فرق کچھ نہ کچھ ضرور ہے اور میرا پختہ یقین ہے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام خود گھڑتا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان کا تو یہ کام ہے کہ انسان کو عبادت سے روکے اور برے کاموں کی طرف ترغیب دے۔ اس کا یہ کام نہیں کہ کسی کے دل میں ایسے وسوسے ڈالے جن سے اس کا گھر دولت سے بھر جاوے۔ مرزا قادیانی کے جتنے الہام تھے۔ ذاتی فائدے کے تھے۔ نہیں مانتے تو ان کے الہام ایک ایک کر کے میرے پیش کرتے جائیے اور مجھ سے ان کے فوائد سنتے جائیے۔
گاموں ...... مرجے نے تے شیطان دی بادشاہی کھوہ لی سی۔ پھر اس نے مرجے نوں کی کھٹانا سی۔
قاضی صاحب ...... بابو صاحب اب اس قصہ کو تمام کیجئے۔ مولوی صاحب یہ تو آپ نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کا دسمبر ١٩٠٥ء کا موت کا الہام بالکل جھوٹا اور خود ساختہ تھا۔ کیونکہ اس کے بعد اشتہار خدا سچے کا حامی ہو۔ مورخہ ١٦؍اگست ١٩٠٦ء میں اور اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں اور اشتہار تبصرہ مورخہ ٥؍نومبر ١٩٠٧ء میں جن میں مرزا قادیانی نے اپنے دشمن علماء دین سے سر کی بازی لگائی ہے۔ کہیں اشارہ بھی اس بات کا نہیں کہ ان کو موت کا الہام ہو چکا ہے۔ بلکہ اپنے دشمنوں کی زندگی میں نہ مرنے پر ایسے اکڑ رہے ہیں کہ کوئی مسلمان بغیر ایسی موت کے الہام ہونے کے بھی نہ اکڑتا۔ تو اب سوال یہ ہے کہ یہ جھوٹا الہام موت کے قریب ہونے کا مرزا قادیانی نے کیوں گھڑا۔ اس سے ان کو کیا فائدہ پہنچا۔
نووارد ...... قاضی صاحب آپ نے سوال نہایت معقول کیا اور اس کا جواب دینا میرا فرض ہے۔ کیونکہ میں دعویٰ کر چکا ہوں کہ کوئی الہام مرزا قادیانی کا میرے سامنے لاؤ میں مرزا کا ذاتی فائدہ اس سے ثابت کروں گا۔
١؎ مرزے نے تو شیطان کی بادشاہی چھین لی تھی۔ پھر شیطان نے مرزے کو کیا فائدہ پہنچانا تھا۔
٨٢
اول ...... وجہ تو آپ وہ سمجھ لیں جو اسی رسالہ الوصیت میں مرزا بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھ کر اس میں مدفون ہونے کے خواہش مند ہو اپنے دیگر الہامات بیان کرتے کرتے (ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦ کہ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حاد اشارہ ہے کہ ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا پر کچھ حواد ظاہر ہوں ...... پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی۔ کہ وہ چاند ک مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک ج مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگ اور چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں مقبرہ بہشتی ہے۔ بلکہ یہ بھی فرمایا: ’’انزل فيها كل رحم قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرست لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ای دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہو سکیں جو اپنے صدق ان شرائط کے پابند ہوں۔ سو وہ تین شرطیں ہیں ...... (١) یہ ک قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے۔ وہ اپنی حیثیت کے لحاظ س کرے ...... (٢) دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے یہ وصیت کرے۔ جو اُس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے کی اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صا وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے۔
قاضی صاحب ...... مگر یہ تو مرزا قادیانی نے اسلام میں
نووارد ...... اس اعتراض کا جواب مرزا قادیانی نے (الو حاشیہ دے دیا ہے۔ لکھتے ہیں ”کوئی نادان اس قبرستان اور ا کیونکہ یہ انتظام حسب وحی الٰہی ہے۔ انسان کا اس میں دخل ن
١؎ جھوٹے نبیوں والی چالاکیاں۔ کیا دنیا میں ک کوئی حادثہ واقع ہوتا ہو۔
٢؎ ہندوستانی ایسی اردو بولنے والوں کو پنجابی مل
٨٣
اول ....... وجہ تو آپ وہ سمجھ لیں جو اسی رسالہ الوصیت میں مرزا قادیانی نے ظاہر کر دی ہے۔ یعنی بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھ کر اس میں مدفون ہونے کے خواہش مندوں سے ٹکے وصول کرنے۔ چنانچہ اپنے دیگر الہامات بیان کرتے کرتے (ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦) پر پہنچ کر پھر لکھتے ہیں: ”اور فرمایا کہ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا پر کچھ حوادث پڑیں اور کچھ عجائبات قدرت ظاہر ہوں ...... پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی۔ کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی۔ اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں ....... اور چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے۔ بلکہ یہ بھی فرمایا:”انزل فیھا کل رحمت“ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔ اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے شرائط لگا دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جو اپنے صدق اور راست بازی کامل کی وجہ سے ان شرائط کے پابند ہوں۔ سو وہ تین شرطیں ہیں ....... (١) پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے۔ وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔ ...... (٢) دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا۔ جو یہ وصیت کرے۔ جو اُس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کی اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے۔
قاضی صاحب ....... مگر یہ تو مرزا قادیانی نے اسلام میں ایک بالکل نئی بات نکالی۔
نووارد ....... اس اعتراض کا جواب مرزا قادیانی نے (الوصیت ص ١٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٢١) پر بطور حاشیہ دے دیا ہے۔ لکھتے ہیں ”کوئی نادان اس قبرستان اور اس انتظام کو بدعت میں داخل نہ سمجھے۔ کیونکہ یہ انتظام حسب وحی الٰہی ہے۔ انسان کا اس میں دخل نہیں۔“ سن لیا؟
١؎ جھوٹے نبیوں والی چالاکیاں۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا بھی وقت گزرتا ہے کہ اس میں کوئی حادثہ واقع ہوتا ہو۔
٢؎ ہندوستانی ایسی اردو بولنے والوں کو پنجابی ڈنگے کہا کرتے ہیں۔
٨٣
دوسرا فائدہ ....... قاضی صاحب آپ نے کبھی اندر سبھا کا تماشہ دیکھا ہے؟
قاضی صاحب ....... جی ہاں! دیکھا ہے اور متواتر کئی کئی رات دیکھا ہے۔
نووارد ....... آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ تماشے کے اخیر ایک ایکٹر پردہ اٹھا کر حاضرین و ناظرین کو کیا کہا کرتا ہے۔
قاضی صاحب ....... (ایک قہقہہ لگا کر) میں آپ کا مطلب سمجھ گیا۔ یعنی جس طرح وہ ایکٹر ہر روز کل آخری تماشہ ہوگا۔ کہا کرتا ہے تا کہ جو لوگ سستی کر رہے ہیں۔ وہ آخری تماشہ سن کر تماشہ دیکھنے چلے آویں۔ اسی طرح بیعت کرنے میں سستی کرنے والوں کو یہ الہام قادیان کی طرف سے دوڑا دے گا۔
نووارد ....... جزاک اللہ!
قاضی صاحب ....... بابو صاحب انہی الہاموں کی زنجیروں میں جکڑے جا کر آپ نے اپنی عمر دولت اور ایمان جیسی چیز برباد کر دی۔
بابو صاحب ....... (ایک بڑی آہ بھر کر اور سر پر ہاتھ مار کر) قاضی صاحب میں آپ سے کیا عرض کروں۔ انسان کا شیطان انسان ہوتا ہے۔ مجھے ایک دوست نے جو چپراسی تھا۔ مجبور کیا کہ میں اخبار الحکم کا خریدار بنوں۔ اس میں مرزا قادیانی کی تعریفیں پڑھ پڑھ کر میں اس مذہب کی طرف راغب ہو گیا اور اس کے سریلے فقروں میں آ گیا۔
قاضی صاحب ....... مگر آپ اتنی مدت کوہاٹ میں رہے۔ کبھی مولوی صاحب سے آپ نے تبادلہ خیالات نہ کیا؟
بابو صاحب ....... اجی ان کو دیکھ کر تو میں اخبار بھی بند کر کے چھپا دیا کرتا تھا کہ کہیں اس کی وجہ سے مرزے کا ذکر نہ شروع کر دیں۔ کیونکہ ہماری پارٹی کی طرف سے مجھے ہدایت تھی کہ عام طور پر ہر کسی سے اور خاص طور پر ان سے مذہبی گفتگو نہ کروں۔
بیوی ....... کھانا تیار ہے۔ پہلے اس سے نمٹ لو۔ یہ ارمان تو تمام عمر کیا کرو گے۔
بابو صاحب ....... گاموں پانی لے آ ہاتھ دھلا۔
نووارد ....... (کھانے پر بیٹھ کر) بیوی جی آپ نے غضب کیا۔ اس قدر کھانا پکوا ڈالا۔ یہ کون کھائے گا؟
بابو صاحب ....... سچ تو یہ ہے کہ آپ کے لائق کھانا تو ہم سے پک ہی نہیں سکا۔ کوہاٹ کی پارٹی نے آپ کا نام شیطان رکھا ہوا تھا۔ مگر آپ تو گمراہوں کے لئے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے
ہیں میں اور میری بیوی جب تک زندہ رہیں گے۔ آپ کا یہ احسان قاضی صاحب نے جو اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا اور تکلیف برداشت کی کرنا محال ہے۔
قاضی صاحب ....... اجی میری تکلیف کا تو آپ نام نہ لیں۔ م مجھے اپنا گھر بھی بھول گیا اور اس مباحثہ کے نتیجے سے مجھے ایسی خوشی سکتا۔ بغیر کسی اصولی فرق کے جو مرزے نے مسلمانوں میں یہ فتنہ اور مسیحیت، مہدویت اور نبوت تھی۔ بھائی کا بھائی سے فساد ہے بیوی کی زندگی تلخ۔ مسجد بنانے پر کشمکش ہے۔ نماز پر جھگڑا ہے۔ کرنے پر لٹھ چلتے ہیں۔ فسخ نکاح کے مقدمات عدالتوں میں جارہے مسلمانوں کا پیسہ برباد ہورہا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں؟ محض اس س میں ساڑھے ٨٦ سال کسی غار میں چھپے رہ کر گمنامی کی حالت میں عیسائی کا نام ونشان تک نہیں تو مرزا قادیانی کو مسیح کیوں نہیں مان ہوا ہے کہ وہ مسیح ہیں؟
بابو صاحب ....... قاضی صاحب کھانے پر مرزے کے الہ سے رہ جائے گا۔
قاضی صاحب ....... بابو صاحب غضب خدا کا مسیلمہ اور پادر سالوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں معتقد ہو جائیں اور حضرت عیسیٰ ٨٦ سالہ، میں ایک متنفس بھی ایمان نہ لائے اور مرزا قادیانی السلام کے معجزات کو قابل نفرت سمجھے:
وگر میزاد کس شیرت
میرے خیال میں جو شخص انسانوں میں فساد ڈالے تب بھی وہ جھوٹا ہے۔ چہ جائے کہ مسلمانوں کا سر آپس میں کٹ اگر چہ شیعہ ہوں۔ مگر ایسے شیعوں کو بہت برا سمجھتا ہوں جو ایس اور اہل سنت والجماعت میں ناراضگی پیدا ہو۔
نووارد ....... قاضی صاحب بخدا آپ نے جو کچھ فرمایا بالکل ب
ہیں میں اور میری بیوی جب تک زندہ رہیں گے۔ آپ کا یہ احسان فراموش نہیں کرسکیں گے اور قاضی صاحب نے جو اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا اور تکلیف برداشت کی۔ اس کا شکریہ بھی پورا پورا ادا کرنا محال ہے۔
قاضی صاحب ....... اجی میری تکلیف کا تو آپ نام نہ لیں۔ میں تو یہاں ایسا آرام پاتا رہا کہ مجھے اپنا گھر بھی بھول گیا اور اس مباحثہ کے نتیجے سے مجھے ایسی خوشی ہوئی ہے جس کا ذکر میں نہیں کر سکتا۔ بغیر کسی اصولی فرق کے جو مرزے نے مسلمانوں میں یہ فتنہ کھڑا کر دیا۔ یہ کہاں کی مجددیت اور مسیحیت، مہدویت اور نبوت تھی۔ بھائی کا بھائی سے فساد ہے۔ باپ بیٹے میں نزاع، خاوند اور بیوی کی زندگی تلخ۔ مسجد بنانے پر کشمکش ہے۔ نماز پر جھگڑا ہے۔ جنازہ پر فساد ہے۔ مردے دفن کرنے پر لٹھ چلتے ہیں۔ فسخ نکاح کے مقدمات عدالتوں میں جارہے ہیں۔ اسلام کمزور ہورہا ہے۔ مسلمانوں کا پیسہ برباد ہورہا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں؟ محض اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں ساڑھے ٨٦ سال کسی غار میں چھپے رہ کر گمنامی کی حالت میں فوت ہو گئے۔ کیونکہ کشمیر میں کسی عیسائی کا نام ونشان تک نہیں تو مرزا قادیانی کو مسیح کیوں نہیں مان لیا جاتا؟ اور مرزا قادیانی کو الہام ہوا ہے کہ وہ مسیح ہیں؟
بابو صاحب ....... قاضی صاحب کھانے پر مرزے کے الہاموں کا نام نہ لیجئے۔ ورنہ کھانا مجھ سے رہ جائے گا۔
قاضی صاحب ....... بابو صاحب غضب خدا کا مسیلمہ اور پادری ڈوئی اور مرزا قادیانی کے تو چند سالوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں معتقد ہوجائیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے پیغمبر پر ساڑھے ٨٦ سال میں ایک تنفس بھی ایمان نہ لائے اور مرزا قادیانی کی طرح کل کشمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو قابل نفرت سمجھے:
وگرمیزاد کس شیرت نمیداد
میرے خیال میں جو شخص انسانوں میں فساد ڈالے۔ وہ اگر آسمان پر اڑ کر بھی دکھا دے تب بھی وہ جھوٹا ہے۔ چہ جائے کہ مسلمانوں کا سر آپس میں ٹکرانے والے کو ہم سچا مان لیں۔ میں اگر چہ شیعہ ہوں۔ مگر ایسے شیعوں کو بہت برا سمجھتا ہوں جو ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس سے ہم میں اور اہل سنت والجماعت میں ناراضگی پیدا ہو۔
نووارد ....... قاضی صاحب بخدا آپ نے جو کچھ فرمایا بالکل بجا فرمایا۔ ”بـدش گـفـتـی ودر
سفتی افاک اللہ نکو گفتی ''اب کھانے سے فارغ ہو کر اپنا فیصلہ سنا دیجئے۔
قاضی صاحب....... گاموں پانی دے۔ پانی پی کر اور ایک اچھی مضبوط ڈکار لے کر بابو صاحب میرا فیصلہ تیار موجود ہے اور میں خوش ہوں کہ مجھے خود بنانا نہیں پڑا، بنا بنایا مل گیا۔ میرے ایک دوست صاحب انسپکٹر جنرل بہادر پولیس کے دفتر میں ہیں۔ وہ فرمایا کرتے ہیں کہ دہریئے خدا کو تو نہیں مانتے۔ مگر اخلاق کے سخت پابند ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی دہریہ ہو کر اخلاق کا پابند نہیں۔ اسی نتیجہ پر میں پہنچا ہوں اور یہی میرا فیصلہ ہے۔
بابو صاحب....... گڈ گڈ ۔ آپ نے تو دریا کوزہ میں بھر دیا۔ گاموں بس تالیاں بجانا چھوڑ کھانا زیادہ کر۔
گاموں...... (کھانا دستر خوان سے اٹھاتے ہوئے) واہ اوئے مرجیا چنگا توں مہدی تے مسیح بن کے آئیوں۔ (واہ رے مرزے تو اچھا مسیح اور مہدی بن کر آیا)
نووارد...... کیوں غلام محمد مرزا قادیانی نے کیا کیا؟
گاموں...... جی مرجا مہدی سی تے کسے یہودی نوں رسول اللہ دا کلمہ پڑھواوندا۔ مسیح سی تے دو چار ہزار پادریاں، عیسائیاں نوں شرک تے توبہ کراوندا۔ ہڈوں پیغمبری تے لکھ دولکھ بت پرستاں نوں خدا آگے جھکاوندا۔ اہ کاہدہ پیغمبری جے اپنی چالی کروڑ امت نوں کافر کر گیا۔
نووارد...... میاں غلام محمد تم نے بالکل سچی اور ایمان کی بات کہی۔ مولوی محمد حسین مرحوم و مغفور نے جب مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ لگایا تو مرزا قادیانی نے بھی انہیں یہی کہا تھا: ”گر بکنی تکفیر قوم خود چہ کارے کردہ ...... رواگر مردی یہودے را باسلام اندر آر“
(درثمین فارسی ص٩١)
یعنی اگر تو نے ایک مسلمان پر کفر کا فتویٰ لگایا تو کیا تیر مارا۔ اگر مرد ہے تو جا کسی یہودی کو مسلمان کر کے دکھا۔
گاموں...... قربان جائیے مرجے دے جے اس سارے یہودی مسلمان بنادتے اتے اک مسلمان نوں بھی کافر ناں آکھیا۔
١؎ اجی مرزا قادیانی مہدی تھے تو کسی یہودی کو رسول اللہ کا کلمہ پڑھاتے ، مسیح تھے۔ تو دو چار ہزار پادریوں اور عیسائیوں کو شرک سے توبہ کراتے اگر پیغمبر صاحب ہی تھے تو لاکھ دو لاکھ بت پرستوں کو خدا کے آگے جھکاتے۔ یہ کاہے کا پیغمبر صاحب بنتا ہے کہ اپنی ہی امت کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کر دیا۔
ع صدقے ہوں مرزا قادیانی کے کہ انہوں نے کل یہودی مسلمان کر دیئے اور کسی ایک مسلمان کو بھی کافر نہ کہا۔
نووارد...... گاموں خدا نے تو مرزا قادیانی کو ( چشم بدور) کن تھے۔ مگر ضرورت زمانہ کی وجہ سے ان کی توجہ کلیاً روپیہ حاصل کر انہیں اتنی فرصت نہ دی کہ غیر مذاہب والوں کو مسلمان بنانے کی میں سے انہوں نے اپنے ہم خیال اپنی طرف کھینچ لئے اور باقی م
گاموں...... جی سنیا ہے جے محمدی بیگم نوں خدا نے محمدی بیگم کو خدا نے آٹھواں لڑکا دیا ہے)
نووارد...... بیوقوف یہاں کسی کے آٹھویں، ساتویں لڑکے کا کیا
گاموں...... (سر کھجلاتے ہوئے) جی ایویں منہ چو
نووارد...... غلام محمد میں تیرا مطلب سمجھ گیا۔ تیرا مطلب یہ ۔ فیکون کے اختیار دے دیئے تھے۔ تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآنی آیت میں مرزا قادیانی کو الہام کیا کہ ”انا زو ص٦٠) مرزا سلطان احمد ان کی آنکھوں کے سامنے باجوں گا؛ میں ڈال کر لے گیا اور مرزا قادیانی کن فیکون کے اختیارات اتنی غیرت بھی نہ کی کہ ایک مٹھی بھر کنکر ان پر چلا دیتے کہ سا ثابت نہیں کہ مرزا قادیانی نے سر راہ کھڑے ہو کر دوچار گالیا ہے کہ مرزا قادیانی اگر اس الہام میں سچے تو بے غیرت اور ا کیوں گاموں تیرا یہی مطلب ہے یا کچھ اور؟
گاموں...... جی ایہی۔
نووارد...... گاموں سن میں اس الہام کا راز تجھے بتائے ہوں کہ مرزا قادیانی کے لٹریچر کو جس غور و خوض سے میں ۔ کے لٹریچر کو پڑھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کی سب یہ تھی کہ فضیلت اور بڑائی کی کوئی ایسی بات نہ ہو۔ جو دنیا م آنحضرتؐ سے وہ منسوب ہوتی ہو اور میں اس کو اپنے کتاب میں پڑھا کہ ایک بزرگ سے کسی نے سوال کیا ہیں۔ آپ کے خدا میں یہ بھی طاقت ہے کہ اپنے اختیا کوئی جواب نہ بن پڑا) تو انہوں نے کہا کہ ہاں! خدا اس
٨٧
نودارو...... گاموں خدا نے تو مرزا قادیانی کو ( چشم بدور ) کن فیکون کے اختیار بھی دے دیئے تھے۔ مگر ضرورت زمانہ کی وجہ سے ان کی توجہ کلاً روپیہ حاصل کرنے کی طرف ہی رہی اور موت نے انہیں اتنی فرصت نہ دی کہ غیر مذاہب والوں کو مسلمان بنانے کی طرف راغب ہوتے۔ مسلمانوں میں سے انہوں نے اپنے ہم خیال اپنی طرف کھینچ لئے اور باقی ماندوں کو کافر کہہ دیا۔
گاموں...... جی سنیا ہے جے محمدی بیگم نوں خدا نے اٹھواں پتر دتا ہے ( اجی سنا ہے کہ محمدی بیگم کو خدا نے آٹھواں لڑکا دیا ہے )
نودارو...... بیوقوف یہاں کسی کے آٹھویں، ساتویں لڑکے کا کیا ذکر ؟
گاموں...... (سر کھجلاتے ہوئے ) جی ایویں منہ چوں نکل گیا۔
نودارو...... غلام محمد میں تیرا مطلب سمجھ گیا۔ تیرا مطلب یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو خدا نے کن فیکون کے اختیار دے دیئے تھے۔ تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ کو جس کی نسبت خدا نے قرآنی آیت میں مرزا قادیانی کو الہام کیا کہ "انا زوجنکھا" (انجام آتھم ص ٦٠ ، خزائن ج ١١ ص ٦٠ ) مرزا سلطان احمد ان کی آنکھوں کے سامنے باجوں گاجوں کے ساتھ آتش بازی چلا کر ڈولی میں ڈال کر لے گیا اور مرزا قادیانی کن فیکون کے اختیارات والے کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ اتنی غیرت بھی نہ کی کہ ایک مٹھی بھر کنکر ان پر چلا دیتے کہ ساری برات ہلاک ہو جاتی۔ بلکہ یہ بھی ثابت نہیں کہ مرزا قادیانی نے سراہ کھڑے ہو کر دو چار گالیاں ہی ان کو دی ہوں۔ مطلب تمہارا یہ ہے کہ مرزا قادیانی اگر اس الہام میں سچے تو بے غیرت اور اگر غیرت والے تو الہام میں جھوٹے۔ کیوں گاموں تیرا یہی مطلب ہے یا کچھ اور ؟
گاموں...... جی اہو۔
نودارو...... گاموں سن میں اس الہام کا راز تجھے بتائے دیتا ہوں۔ میں بڑے دعوے سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے لٹریچر کو جس غور و خوض سے میں نے پڑھا ہے۔ کم کسی نے پڑھا ہوگا اور ان کے لٹریچر کو پڑھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کی سب سے زیادہ کوشش وصولی دولت کے بعد یہ تھی کہ فضیلت اور بڑائی کی کوئی ایسی بات نہ ہو۔ جو دنیا میں کسی پیر فقیر قطب ولی نبی رسول حتیٰ کہ آنحضرت سے وہ منسوب ہوتی ہو اور میں اس کو اپنے لئے بیان نہ کر جاؤں۔ انہوں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ ایک بزرگ سے کسی نے سوال کیا کہ حضرت آپ جو خدا کو قادر مطلق مانتے ہیں۔ آپ کے خدا میں یہ بھی طاقت ہے کہ اپنے اختیارات کن فیکون کسی کو بخش دے ( ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا ) تو انہوں نے کہا کہ ہاں! خدا اس پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی نے
٨٧
جو یہ پڑھا۔ تو ان کے کان کھڑے ہوگئے کہ اہ ہو یہ بڑائی تو مجھ سے رہ جاتی ہے۔ سیویاں بنانے کی طرح الہام بنانے کی مشین گھر میں موجود تھی۔ فورا قرآنی الفاظ میں الہام اتر آیا کہ یہ تیرا حکم ہے۔ جب تو کہے گا۔ ہو جا پس ہو جائے گا ۔‘‘ الحکمت للہ ہندو مجسٹریٹوں کی عدالتوں میں سالہا سال کھنچے پھرتے ہیں اور ڈاکٹری سرٹیفکیٹ بھیجتے ہیں کہ مجھے پرانی کھانسی کا دورہ ہے۔ اگر میں قادیان سے ذرا بھی باہر نکلا تو مرجاؤں گا۔ مجھے حاضری عدالت سے معاف رکھا جائے اور اختیارات کن فیکون۔
قاضی صاحب ....... مولوی صاحب آپ نے جو فرمایا ہے کہ روپیہ کمانے سے دوئم درجہ مرزا قادیانی کا یہ شوق تھا کہ بڑائی اور فضیلت کی ایسی کوئی بات نہ ہو جس کو میں اپنی طرف منسوب نہ کر لوں۔ اس دعوے پر آپ کوئی دلیل دے سکتے ہیں؟ نووارد ...... ایک یا ایک ہزار؟ قاضی صاحب ....... نہ ایک نہ ایک ہزار ۔ چند گر پتہ کی ۔ نووارد ...... اچھا، لیجئے۔ سنئے!
- ١....... ”وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے۔ اب میں دیتا ہوں اگر کوئی لے
امیدوار ۔‘‘ (درثمین ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ١٤٧) آنحضرت تک پر حملہ بوجہ ہزاروں ۔
- ٢....... ”میرا نام اول المومنین رکھا اور مجھے سمندر کی طرح حقائق اور معارف سے بھر دیا۔“
(ضرورة الامام ص ٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٥٠٢) گویا مرزا قادیانی سے پہلے کے مسلمان مومن نہ تھے۔
- ٣....... ”قرآن کریم خدا کی کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ (ص ٢٣، ایام الصلح ، خزائن ج ١٤
ص ٤٠٨) یہ دعویٰ رسول اللہ نے بھی نہیں کیا۔ بلکہ برعکس حکم دیا کہ آیات حدیث سے خلط ملط نہ ہو جائیں۔
- ٤....... ”میں روح القدس سے بولتا ہوں ۔“
(کشف الغطاء ص ٢١، خزائن ج ١٤ ص ٢٠٤)
- ٥....... ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر
دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی ہے۔“
( دافع الوساوس ص ٩٣، خزائن ج ٥ ص ٩٤)
- ٦....... ”میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر
سے بڑھ کر ہے ۔“
(برکات الدعاء ص ٨، خزائن ج ٦ ص ١١)
- ٧....... ”بعض وقت ملائکہ کو دیکھتا ہوں ۔“
(برکات الدعاء ص ٢١، خزائن ج ٦ ص ٢٦)
- ٨....... ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح
٨٨
ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازال
یہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات ک میں بیان فرمائے اور کس کا کلام ہے اسی شخص کا جو اپنے آپ ک ایمان رکھنے والا ثابت کرنے کے لئے کہہ چکا کہ:
آنچه در قرآن بیانش
برہمہ از جان و دل ایما
ہر کہ انکارے کند از
قاضی صاحب ....... مولوی صاحب بے ادبی معاف ۔ مرزے کا ایمان معلوم کر لیا؟ بابو صاحب ....... جی ہاں! معلوم کر لیا۔ وہ مکروہ ال قادیانی کا جان ودل سے ایمان بھی ہے۔ قاضی صاحب ....... بابو صاحب میرا فیصلہ صحیح نکلا یا غلط نووارد ....... بابو صاحب مرزے نے اپنے اسی ایمان کا ذکر
بخدا پاک دانم
ہمچو قرآں منزہ
از خطا ہا ہمیں اس
اور آپ کی الوہیت کی وحی مقدس کی قلعی بعد م قاضی صاحب ....... اچھا مولوی صاحب! مرزا قادیا نووارد ....... (٩) ”بارہا عالم بیداری میں مقدس لوگ نظر آ “
- ١٠....... ”جو کچھ اس عاجز کو رویاء صالحہ اور مکاشفہ اور
حصہ وافر نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے۔ وہ دوسرا ول ٨٩
ابن مریم سے کم نہ ہوتا۔"
(ازالہ ص ٤١٠ حصہ اوّل، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
یہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کی نسبت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائے اور کس کا کلام ہے اس شخص کا جو اپنے آپ کو جہلاء کی نظر میں مسلمان اور قرآن پر ایمان رکھنے والا ثابت کرنے کے لئے کہہ چکا کہ:
آنچہ در قرآن بیانش بالیقین
برہمہ از جان و دل ایمان ماست
ہر کہ انکارے کند از اشقیاست
(درثمین فارسی ص ١١٤)
قاضی صاحب....... مولوی صاحب بے ادبی معاف۔ ذرا ٹھہرئیے گا۔ بابو صاحب آپ نے مرزے کا ایمان معلوم کر لیا؟
بابو صاحب....... جی ہاں! معلوم کر لیا۔ وہ مکروہ اور قابل نفرت بھی ہے اور ان پر مرزا قادیانی کا جان و دل سے ایمان بھی ہے۔
قاضی صاحب....... بابو صاحب میرا فیصلہ صحیح نکلا یا غلط کہ وہ دہریہ تھا؟
نووارد....... بابو صاحب مرزے نے اپنے اسی ایمان کا ذکر ان شعروں میں بھی کیا ہے کہ:
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور آپ کی الوہیت کی وحی مقدس کی قلعی بعد میں تین اشتہاروں نے کیسی کھول دی۔
قاضی صاحب....... اچھا مولوی صاحب! مرزا قادیانی کی جھوٹی لن ترانیاں سنتے رہیں۔
نووارد....... (٩) ”بارہا عالم بیداری میں مقدس لوگ نظر آتے ہیں۔“
(ازالہ حصہ دوئم ص ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٥٤)
١٠....... ”جو کچھ اس عاجز کو رویاء صالحہ اور مکاشفہ اور استجابت دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافر نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے۔ وہ دوسروں کو تمام عالم کے مسلمانوں میں سے ہرگز
٨٩
نہیں دیا گیا۔“
(ازالہ اوہام ص٧٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
- ١١...... ”آنحضرتؐ کے لئے صرف چاند کو خسوف ہوا (شق القمر) میرے لئے چاند اور سورج
دونوں۔“
(قصیدہ اعجازیہ ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)
- ١٢...... ”میرے وقت کی فتح آنحضرتؐ کے وقت کی فتح سے اعظم اور اکبر اور اظہر ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨)
- ١٣...... ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور اسے تمام انسانوں اور جنوں کا سردار اور حاکم بنایا۔
پھر ان کو شیطان نے بہکایا اور جنت سے نکالا اور حضرت آدم کی حکومت شیطان کو ملی اور اس لڑائی میں آدم کو ذلت اور رسوائی ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تا کہ آخری زمانہ میں شیطان کو ہزیمت دے۔ یہ وعدہ خداوندی قرآن میں لکھا ہوا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ کا حاشیہ در حاشیہ ص ت، خزائن ج ١٦ ص ٣١٢) قاضی صاحب کیا سمجھے؟
قاضی صاحب....... جی ہاں سمجھ گیا کہ (١) آنحضرتؐ کی فتوحات مرزا قادیانی کی فتوحات سے کچھ لگا نہیں کھاتیں۔ (٢) آنحضرتؐ کے اور دیگر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے زمانہ میں جن و انس پر شیطان حکمرانی کرتا رہا اور مرزا قادیانی نے قادیان میں جنم لے کر شیطان کی بادشاہی چھین لی۔
نو وارد....... قاضی صاحب اس سچ میں کچھ جھوٹ تو نہیں؟
قاضی صاحب....... نہ نہ بالکل نہیں۔ یہ مرزا قادیانی جیسے آدمی کا ہی کام تھا۔ شیطان پر سبقت لے جانا۔ قہقہہ۔
گاموں....... شیطان غریب نوں اتنے جھوٹ بنانے کتھے آوندے سن۔ جے مرزے دے سامنے کھلوندا۔ (شیطان غریب کو اتنے جھوٹ بنانے کہاں آتے تھے؟ کہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں قائم رہتا؟)
- ١٤......
صد حسین ست در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
مرزا قادیانی سو حسین جیب میں ڈالے پھرتے ہیں۔
٩٠
- ١٥...... ”اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو میرے سے کیا نسبت ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)
- ١٦......
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
- ١٧......
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
فرداً فرداً جو کل نبیوں کو دیا گیا وہ سب کچھ مجھے اکیلے کو دیا گیا۔
- ١٨...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت
بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- ١٩...... ”دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور اے قوم شیعہ! اس پر
اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب بس کیجئے۔ اس مضمون کو اس سے زیادہ سننے کی مجھ میں طاقت نہیں رہی۔
نووارد ...... قاضی صاحب میں خود ان کلمات کو بادل نا خواستہ بیان کر رہا ہوں۔ صرف ایک بات اور سن لیجئے۔ پھر اس الف لیلہ کو میں ختم کروں گا۔
قاضی صاحب ...... اچھا۔
نووارد ...... پنڈت لیکھرام اپنی کتاب نسخہ خبط احمدیہ کے ص ٣٥٠ پر لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی ایک معزز سید صاحب کو اپنے ایک خط میں (جو اصل ہمارے پاس موجود ہے) ذیل کے فقرات لکھتے ہیں: ”مجھ کو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت دی ہے اور علیؓ سے کچھ کم میرے پر فضل نہیں کیا۔ بلکہ جیسا اس نے علیؓ پر فضل کیا ایسا ہی اور اس کے برابر مجھ پر کیا۔ اگر علی زندہ ہوتا تو وہ میری بہت تعظیم کرتا۔ سو لازم ہے کہ جو اس کی سچی اولاد ہے۔ وہ بھی
٩١
میری تعظیم کرے۔ علیؓ کو شرف صحبت جناب رسول اللہ سے جو حاصل ہے۔ وہ چھوڑ کر سب کمالات کو ظلی طور پر اللہ جل شانہ نے مجھ کو عطا کیا اور مجھ کو بارہا بذریعہ الہام فرما دیا ہے کہ ہر شخص سید ہو یا کوئی اور ہو۔ جو تیری اطاعت اور فرمانبرداری غلامی کی طرح کرے گا۔ اسی پر میرا فضل ہوگا ورنہ در حالت انحراف وحسد سید ہونا کسی کام نہیں آئے گا۔
غرض آپ کے لئے سید ہونے کی یہی نشانی ہے کہ میرے فرمانبردار خادموں میں داخل ہو جائیے۔ ایسا ہی اللہ نے الہام سے مجھے مطلع کیا ہے۔ سو خدا کرے کہ آپ میں سچے سادات کی سچی نشانی پائی جائے۔ میں دیکھتا ہوں کہ صدہا سید نیک بخت میری کفش برداری پر فخر کرتے ہیں اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ سو خدا کرے کہ آپ میں بھی یہ سچی نشانی سید ہونے کی پیدا ہو جائے۔ مورخہ ١١؍ اپریل ١٨٨٦ء راقم غلام احمد۔ غلامی میں ہی اولاد سے بڑھ گئے۔ شاباش غلام ہوں تو ایسے ہوں۔
قاضی صاحب...... مولوی صاحب! آپ نے یہ مثل سنی ہے کہ منہ لگائی ڈومنی گائے آل پتال۔ اس مرزے کو جو چند جوشیلے مسلمانوں نے پادریوں اور ان کے عیسیٰ مسیح کو گالیاں دیتے پاکر مجدد وقت مان لیا۔ پھر کیا تھا۔ اپنے آپے سے باہر ہو گئے۔
نووارد...... قاضی صاحب۔ میری ابتداء سے یہی رائے ہے کہ اس کو اس کے مان لینے والوں نے بگاڑا۔ وہ ایسے اندھا دھند اس کی باتوں میں آمنا وصدقنا کہتے گئے۔ گویا آنحضرت کا یہ فرمان کہ میری امت میں جھوٹے نبی پیدا ہوا کریں گے۔ ان سے بچنا۔ انہوں نے کبھی سنا بھی نہ تھا۔ یہ لوگ اگر مٹی کا حقہ دلی دروازہ سے خریدتے ہیں۔ تو دس دفعہ ٹھوک بجا کر دیکھتے ہیں مگر دین جیسے معاملہ میں پیسے پلے سے دے کر پیٹھ لگوا لیتے ہیں۔
قاضی صاحب...... مولوی صاحب افسوس! کہ مرزے کی یہ تحریرات مرزے کی زندگی میں میری نظر سے نہ گزریں ورنہ آپ دیکھتے۔
نووارد...... قاضی صاحب کیا دیکھتے۔
قاضی صاحب...... ، آپ یہ دیکھتے کہ یا تو میں آج آپ لوگوں میں نہ ہوتا۔ یا مرزے کی موت قریب ہونے کا مقدس اور متواتر الہام ١٩٠٥ء سے ١٩٠٨ء تک پورا نہ کرتا اور آج آپ اس الہام کو اس کرسی پر بیٹھ کر جھوٹا ثابت نہ کرتے۔ مجھے علماء دین پر افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس پر کفر کا فتویٰ لگانے میں اتنی دیر کیوں لگائی۔
نووارد...... قاضی صاحب! یہاں آپ زبردستی کرتے ہیں۔ جس شخص نے اپنا ظاہر مسلمانوں کا
٩٢
سا رکھا ہوا ہو۔ اس کو بغیر حجت شرعی کے کافر کہہ دینا بڑی بھاری کیونکہ شریعت ظاہر ہے باطن نہیں اور قاضی صاحب اس میں شک ہے کہ دیکھا آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اِ سے جو حاصل ہے۔ وہ چھوڑ کر سب کمالات ظلی طور پر اللہ جل ش آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ مرزا جھوٹ کہنے والا آدمی نہ تھا۔ سچ کے ذریعہ معلوم ہوتا تھا۔ راست راست بے کم و کاست کہہ دیتا اس کی سخاوت کا حال تو آپ نے سینکڑوں کتابوں میں پڑھا ہو گا دیا۔ باقی رہی شجاعت۔ اس کا حال بھی سن لیں۔ نبی کی حیثیت الہامات شائع کرتے رہے۔ لیکن جب مولوی محمد حسین صاح طرف کھینچا کہ یہ شخص لوگوں کی موت کے الہام بیان کر کے ا مجسٹریٹ نے آنکھ دکھائی۔ تو آپ نے یہ اقرار نامہ لکھ دیا:
- ١...... میں ایسی پیشین گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں
معنے خیال کئے جائیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٢...... میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد و درخواست) ا
وہ کسی شخص کو (یعنی وہ مسلمان ہو یا ہندو وغیرہ ) ذلیل کرے۔ مورد عتاب الٰہی ہے، یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا ا
- ٣...... میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب
منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو گا۔ یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٤...... میں اس امر سے باز رہوں گا کہ مولوی ابو سعید محم
ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ ا شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں ک دوست یا پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کاذب نہیں ا یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گ احتمال ہو۔
سا رکھا ہوا ہو۔ اس کو بغیر حجت شرعی کے کافر کہہ دینا بڑی بھاری ذمہ داری اپنے اوپر لینا ہے۔ کیونکہ شریعت ظاہر ہے باطن نہیں اور قاضی صاحب اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ دیکھا آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ نیز یہ کہ علی کو شرف صحبت رسول اللہ سے جو حاصل ہے۔ وہ چھوڑ کر سب کمالات ظلی طور پر اللہ جل شانہ نے مجھ کو عطا کئے۔ اس سے آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ مرزا جھوٹ کہنے والا آدمی نہ تھا۔ سچ کا پتلا تھا اور جیسا اس کو الہام و وحی کے ذریعہ معلوم ہوتا تھا۔ راست راست بے کم و کاست کہہ دیتا تھا۔ خواہ کسی کو بھلا معلوم ہو یا برا۔ اس کی سخاوت کا حال تو آپ نے سینکڑوں کتابوں میں پڑھا ہوگا۔ ایک بیوی کو باغ کا باغ ہی بخش دیا۔ باقی رہی شجاعت۔ اس کا حال بھی سن لیں۔ نبی کی حیثیت سے آپ ایک مدت تک اپنے الہامات شائع کرتے رہے۔ لیکن جب مولوی محمد حسین صاحب مرحوم نے آپ کو عدالت کی طرف کھینچا کہ یہ شخص لوگوں کی موت کے الہام بیان کر کے ان کے دلوں کو مشوش کرتا ہے اور مجسٹریٹ نے آنکھ دکھائی۔ تو آپ نے یہ اقرار نامہ لکھ دیا:
- ١....... میں ایسی پیشین گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا۔ جس کے یہ معنی ہوں کہ ایسے
معنے خیال کئے جائیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٢....... میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد و درخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا کہ
وہ کسی شخص کو (یعنی وہ مسلمان ہو یا ہندو وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے، یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
- ٣....... میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا
منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی) ذلت اٹھائے گا۔ یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٤....... میں اس امر سے باز رہوں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کے
ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست یا پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کاذب نہیں لکھوں گا۔ میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا۔ جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
- ٥....... میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا
پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تا کہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیشین گوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔
- ٦....... جہاں تک میرے احاطہ قدرت میں ہے۔ تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار
ہے، ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی پر عمل کریں۔ جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ ١، ٢، ٣، ٤، ٥، ٦ میں اقرار کیا ہے۔ قاضی صاحب فرمائیے مرزا قادیانی کا یہ فرمانہ کہ حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر ہوں اور ظلی طور پر حضرت علیؓ کے کل کمالات رکھتا ہوں۔ کچھ جھوٹ ہے۔
گاموں....... جی حاکم کچھ نا کیتا جے اک دب ہور چاڑہ دتے مرجے ہوراں دی توبہ کڈہ دیئی سی۔ (اجی صاحب مجسٹریٹ نے کچھ نہ کیا اگر ذرا سا دباؤ اور ڈالتا تو مرزا قادیانی الہاموں سے قطعی توبہ گار ہوجاتے۔)
نووارد....... گاموں تو غلط کہتا ہے۔ مرزا قادیانی نے (ازالہ حصہ اول ص ١٥) پر فرمایا ہے : ”غیر اللہ کا خوف شرک میں داخل ہے۔“ پھر خدانخواستہ مشرک تھے کہ اپنے فرض نبوت ادا کرنے میں کسی سے ڈرتے۔ بابو صاحب ظہر کا وقت ہو گیا۔ چلئے کہ نماز پڑھ آئیں۔
بیوی....... کیا مرزا قادیانی کے دعوؤں کا سلسلہ آج ختم کر چکے۔
نووارد....... بیوی جی قاضی صاحب ان کے زیادہ دعوے سننا پسند نہیں کرتے۔ مگر ایک آپ کی خاطر اور سنائے دیتا ہوں۔ مرزا قادیانی (آئینہ کمالات ص ٣٣٨، خزائن ج ٥ ص ٣٣٨) پر لکھتے ہیں : ”مجھے قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ میں مخالف پر غالب آؤں گا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ ہے؟
قاضی صاحب....... بس مولوی صاحب بس! مجھے خوف ہے۔ گاموں ہنستے ہنستے پاگل نہ ہو جائے ۔ اس کے بعد بابو صاحب اور نووارد مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ مسجد میں داخل ہو کر ......
بابو صاحب....... (بوٹ کے تسمے کھولتے ہوئے) الحمدللہ۔ آج اٹھارہ سال بعد اس مسجد کا منہ دیکھا۔ عمر بالاخانوں میں ٹکریں مارتے گزر گئی۔ نماز کے بعد جو بابو صاحب اور نووارد گھر کی طرف روانہ ہوئے تو جو مسلمان بابو صاحب کا واقف ملتا ہے۔ مبارکباد دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوا کہ ادہر تو بابو صاحب اور نووارد نماز کے لئے نکلے۔ ادھر گاموں نے بابو صاحب کی مرزائیت سے توبہ کی خبر بجلی کی طرح شہر میں پھرادی۔ واپس مکان پہنچ کر۔
٩٤
نووارد....... بیوی صاحبہ لو۔ اب اپنے میاں تمہیں مبارکبا ہدایت بخشی۔ اللہ اس پر استقامت بخشے اور ان کے گزشتہ
بیوی....... (چشم پر آب ہو کر ) مولوی صاحب خدا م سکوں گی۔ آپ کی اس ہمدردی اور محنت کا شکریہ بھی میں چیز ( لنگی و کلاہ ) منظور فرماویں۔
نووارد....... بیوی صاحبہ یوں تو مجھے آپ سے کوئی شے معلوم ہے۔ ہمارے آپ کے تعلقات کیسے رہے ہیں کرداریوں کے مقابلہ میں ایک ہی یہ کام ہے۔ جس پر بخشش کی امید رکھی ہوئی ہے۔ کوئی معاوضہ لینا نہیں چاہت جائیں۔ ہاں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کام میں اور (ابی وامی ) کے طفیل سے میرے ناپاک گناہوں سے درگ
بیوی....... اجی یہ دعا تو جب تک ہم جیتے رہیں گے۔
نووارد....... بس یہی میرے لئے کافی ہے۔ ہاں بابو ص کرنا ہے۔ قاضی صاحب بھی سن رہے ہیں اور وہ یہ کہ ک آندھی کی طرح شہر میں پھیل گئی ہے۔ اس سے مرزائیوں مار دیں گے کہ آپ ان کے ہاتھ آئیں۔ تو پھر آپ کو ا وہ مجھ سے کلام کرنا روا رکھتے ہیں۔ پس اس بات کی کی نہیں آئیں گے؟
بابو صاحب....... مولوی صاحب ! میں آپ کی اخبار الحکم میں مرزا قادیانی کی تعریفیں پڑھ پڑھ کر اس سے بالکل بے خبر رہا اور دھوکا کھا گیا۔ اب مجھے مرزا قادیا ہو گیا کہ مرزے کا یہ دعویٰ کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ با کوئی دعویٰ بھی اس کا سچا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جو کچھ جب میرا دل مان چکا اور گواہی دے چکا کہ وہ ملہم ہو کس طرح ہو سکتا ہے کہ مفتری علی اللہ و اس بے بصیر یہی کہتا ہے کہ وحی مقدس اور متواتر نے کہ میری موہ
٩٥
نووارد...... بیوی صاحبہ لو۔ اب اپنے میاں تمہیں مبارک ہوں۔ خدا نے اپنا بڑا فضل کیا کہ ان کو ہدایت بخشی۔ اللہ اس پر استقامت بخشے اور ان کے گزشتہ گناہوں سے درگزر کرے۔
بیوی...... (چشم پر آب ہوکر) مولوی صاحب خدا کے اس فضل و کرم کا شکریہ تو میں کیا ادا کر سکوں گی۔ آپ کی اس ہمدردی اور محنت کا شکریہ بھی میں ادا نہیں کرسکتی۔ میری طرف سے یہ ناچیز چیز (لنگی و کلاہ) منظور فرمادیں۔
نووارد...... بیوی صاحبہ یوں تو مجھے آپ سے کوئی شے لے لینے میں کوئی عذر نہیں۔ آپ کو خوب معلوم ہے۔ ہمارے آپ کے تعلقات کیسے رہے ہیں؟ مگر اس کام کے عوض میں جو میری تمام بد کرداریوں کے مقابلہ میں ایک ہی یہ کام ہے۔ جس پر میں نے خداوند کریم سے اپنے گناہوں کی بخشش کی امید رکھی ہوئی ہے۔ کوئی معاوضہ لینا نہیں چاہتا اور نہ کبھی لوں گا معاف فرمادیں اور برا نہ مانیں۔ ہاں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کام میں اور بھی ہمت دے اور اپنے رسول مقبول (فداہ ابی وامی) کے طفیل سے میرے ناپاک گناہوں سے درگزر کرے۔
بیوی...... اجی یہ دعا تو جب تک ہم جیتے رہیں گے۔ ہمارے دلوں سے نکلتی رہے گی۔
نووارد...... بس یہی میرے لئے کافی ہے۔ ہاں بابو صاحب! آپ کی خدمت میں مجھے کچھ عرض کرنا ہے۔ قاضی صاحب بھی سن رہے ہیں اور وہ یہ کہ آپ کے مرزائیت سے توبہ گار ہونے کی خبر تو آندھی کی طرح شہر میں پھیل گئی ہے۔ اس سے مرزائیوں پر کچھ نیک اثر تو ہونے سے رہا۔ وہ جان مار دیں گے کہ آپ ان کے ہاتھ آئیں۔ تو پھر آپ کو اپنا سا بنا لیں۔ میں تو یہاں ہوں گا نہیں اور نہ وہ مجھ سے کلام کرنا روا رکھتے ہیں۔ پس اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ پھر ان کے بہکانے میں نہیں آئیں گے؟
بابو صاحب...... مولوی صاحب! میں آپ کی خدمت میں عرض کرچکا ہوں کہ میں صرف اخبار الحکم میں مرزا قادیانی کی تعریفیں پڑھ پڑھ کر اس فرقہ کی طرف مائل ہو گیا تھا اور حقیقت حال سے بالکل بے خبر رہا اور رکھا گیا۔ اب مجھے مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں اور اشتہاروں سے ثابت ہو گیا کہ مرزے کا یہ دعویٰ کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ بالکل جھوٹا تھا اور جب یہ ثابت ہو چکا۔ تو اب کوئی دعویٰ بھی اس کا سچا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جو کچھ بنا اسی طرح بنا کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے اور جب میرا دل مان چکا اور گواہی دے چکا کہ وہ ملہم ہونے کے دعوے میں سراسر جھوٹا تھا۔ تو اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مفتری علی اللہ کو اس کے بعد میں مسلمان بھی مانوں۔ غضب خدا کا ١٩٠٥ء میں کہتا ہے کہ وحی مقدس اور متواتر نے کہ میری موت قریب ہے۔ میری ہستی کی بنیاد ہلا دی اور
٩٥
١٩٠٦ء، ١٩٠٧ء میں اپنے مخالفوں کے بعد تک زندہ رہنے کو اپنی صداقت کا نشان بتا رہا ہے اور قرآنی آیات و الفاظ میں الہامات اتار اتار کر ان کو ڈرا اور دھمکا رہا ہے کہ تمہارا اخزا اور افنا میرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔ مجھے خدا خانہ کعبہ کہتا ہے اور تم کو اصحاب فیل سبحان اللہ اصحاب فیل تو زندہ صحیح سلامت اور ہشاش بشاش اور خانہ کعبہ صاحب زیر زمین اور طرفہ یہ کہ نہ کسی الہام میں موت کے الہام کا کچھ ذکر ۔ نہ مرزا قادیانی کی طرف سے اس کی طرف کچھ اشارہ ۔
اب کون سا احمق ہے کہ ان باتوں کے ہوتے ہوئے یہ سمجھے گا کہ مرزا قادیانی کو ١٩٠٥ء میں ایک دفعہ بھی موت کا الہام ہوا تھا اور جب یہ الہام موت کا جھوٹا ثابت ہوا تو رسالہ الوصیت کے جتنے الہام ہیں۔ سب جھوٹے اور بہشتی مقبرہ بنانے اور اس کے واسطے چندہ لینے کے لئے ثابت ہوئے۔ کیونکہ معمولی قبرستان میں مدفون ہونا آپ کی شایان شان نہ تھا۔ جب تک کہ مرید چندہ کر کے اس میں کنواں کھدوا کر باغ نہ بنوادیں اور جب رسالہ الوصیت کے تمام الہامات جھوٹے تو مرزا کے کل الہام جھوٹے۔ پس میرا قاضی صاحب کے فیصلے سے بکلی اتفاق ہے کہ مرزا دہریہ تھا اور اس نے اس مسلمانی جامہ میں مسلمانوں کو لوٹا۔ خود عیش سے زندگی بسر کر گیا اور اولاد کے واسطے کل ہند سے قادیان روپیہ اور نقد وجنس آنے کے لئے پختہ سڑک بنا گیا۔ ہزاروں روپیہ ہم سے کھینچا گیا اور کھینچا جا رہا ہے۔ جو پوچھو کہ یہ روپیہ کدھر جاتا ہے۔ تو جواب ملتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام ہو رہی ہے۔ ہم نے آج تک کسی امریکہ یا یورپ کے نو مسلم کو نہ دیکھا کہ اسلامی معاملہ میں اس کے کان پر جوں تک چلی ہو۔ ہمارے روپیہ کے تفن اور کھانے کھائے اور کھلائے جاتے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ڈھل مل یقین لوگوں کی تلاش میں پھرتے ہیں کہ ہماری تعداد بڑھ جائے تو ہم بھی کسی قطار میں آجائیں اور ہمارے بیوقوف بھائی سمجھتے ہیں کہ وہ خدمت اسلام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں وہ اسلام کے دشمنوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ مولوی صاحب میں آپ سے کیا عرض کروں اگر میں ان لوگوں سے سر نہ منڈوا بیٹھتا تو آج میں اپنے دونوں لڑکوں کو تعلیم کے لئے ولایت بھیج سکتا تھا۔
مولوی صاحب میرے خیال میں آپ ان تبلیغ کنندوں سے لاکھ درجہ بہتر ہیں کہ اپنے دست و بازو کی کمائی حق حلال کی کھا کر اس کام میں اپنا پیسہ اپنی طاقت، اپنی صحت اپنی بینائی، اپنا دماغ خرچ کر رہے ہیں اور کسی مسلمان کی جیب کو خبر تک نہیں
قاضی صاحب ...... بابو صاحب! واقعی آپ درست فرما رہے ہیں۔ میں نے بھی اس معاملہ پر بہت غور وفکر کیا اور میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ میں تو مرزا ٩٦
قادیانی صاف لکھتے ہیں کہ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی کے نازل ہو جانے کے بعد جس کے سچے اور یقینی ہونے نے مر ہو اور مرزا قادیانی نے اپنی چاندی کی قبر بھی اپنی آنکھوں د صاحب سے بلا الہام و وحی ایسی ٹکر لگانا صاف کہہ رہا ہے کہ مرزا تھی۔ اگر ہوتی تو ایسے فیصلے کے لئے مولوی صاحب کے اصرار جواب دیتا کہ ہاں آپ کو معلوم ہو گیا کہ مجھے موت قریب ہو وجہ سے آپ مجھ سے یہ فیصلہ چاہتے ہیں۔ میں بعد اس الہام نہیں کر سکتا۔ کیا ایک ایسے شخص کا جس کو نبض وغیرہ دیکھ کر حکیم مرنے والا ہے۔ کسی ہٹے کٹے تندرست و جوان آدمی سے اس داخل نہ ہوگا اور اگر وہ ایسا کرے تو اس کی دو ہی صورتیں ہیں اور اگر کہا ہے تو وہ اس ڈاکٹر کو ڈاکٹر نہیں سمجھتا۔
بیوی ...... مولوی صاحب مجھے اپنے میاں کی بات پر اعتبا مرزائیوں کا کوئی جادو منتر ان پر اثر کرے۔ مگر پھر بھی میں تنہا ب اور یہاں قیام فرما کر مرزا قادیانی کے کنبہ سے ان کو واقف کرو واسطے آپ سادھو سرا کوئی ہمارے مہربانوں میں نہیں اور آج ا کے کانوں میں کچھ ڈالتے جائیے۔
نووارد ....... بہت بہتر جناب اس کام کے لئے میں دل و جان نے کیا۔ وہ کسی سیدھے سادھے آدمی کے کرنے کا نہ تھا۔ اس بکار تھا۔ دیکھئے کہ وہ اپنی بزرگی اور بڑائی کیونکر مسلمانوں کے عظمت بیان کر رہا ہے اور باطناً اپنی جڑیں جما رہا ہے:
- ١...... "ہم حضرت عیسیٰ کی اس زندگی کی خصوصیت کو ہ
سے زیادہ حیات، اقوٰی اور اعلیٰ رکھتے ہیں اور کسی نبی کی ان آنحضرت کی ۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ آنحضرت کو اس بیدا مسائل پوچھے ہیں ۔“ (
- ٢...... "عیسائیوں کے خلاف خدا نے مسلمانوں کو یہ مج
وکلام اور اپنی برکات خاصہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ ک ٩٧
قادیانی صاف لکھتے ہیں کہ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں پس ایسی مقدس اور متواتر وحی کے نازل ہو جانے کے بعد جس کے سچے اور یقینی ہونے نے مرزا قادیانی کی ہستی کی بنیاد کو ہلا دیا ہو اور مرزا قادیانی نے اپنی چاندی کی قبر بھی اپنی آنکھوں دیکھ لی ہو۔ مرزا قادیانی کا مولوی صاحب سے بلا الہام و وحی ایسی ٹکر لگانا صاف کہہ رہا ہے کہ مرزا قادیانی کی موت کی وحی نہیں ہوئی تھی۔ اگر ہوتی تو ایسے فیصلے کے لئے مولوی صاحب کے اصرار کرنے پر بھی مرزا قادیانی انہیں یہ جواب دیتا کہ ہاں آپ کو معلوم ہو گیا کہ مجھے موت قریب ہونے کا الہام متواتر ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے آپ مجھ سے یہ فیصلہ چاہتے ہیں۔ میں بعد اس الہام کے ایسا فیصلہ آپ کے ساتھ ہرگز نہیں کرسکتا۔ کیا ایک ایسے شخص کا جس کو نبض وغیرہ دیکھ کر حکیم حاذق نے کہہ دیا ہو کہ تو عنقریب مرنے والا ہے۔ کسی ہٹے کٹے تندرست و جوان آدمی سے اس قسم کی شرط لگانا اس کی حماقت میں داخل نہ ہوگا اور اگر وہ ایسا کرے تو اس کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو ڈاکٹر نے اسے ایسا کہا ہی نہیں اور اگر کہا ہے تو وہ اس ڈاکٹر کو ڈاکٹر نہیں سمجھتا۔
بیوی...... مولوی صاحب مجھے اپنے میاں کی بات پر اعتبار ہے اور میں یقین نہیں کرتی کہ مرزائیوں کا کوئی جادو منتر ان پر اثر کرے۔ مگر پھر بھی میں نہایت مشکور ہوں گی کہ اگر آپ چند روز اور یہاں قیام فرما کر مرزا قادیانی کے کنبہ سے ان کو واقف کردیں۔ میں دیکھتی ہوں کہ اس کام کے واسطے آپ سا دوسرا کوئی ہمارے مہربانوں میں نہیں اور آج ابھی وقت بہت ہے۔ چلتے چلتے ان کے کانوں میں کچھ ڈالتے جائیے۔
نووارد...... بہت بہتر جناب اس کام کے لئے میں دل و جان سے حاضر ہوں۔ سنئے جو کام مرزے نے کیا۔ وہ کسی سیدھے سادھے آدمی کے کرنے کا نہ تھا۔ اس کے لئے ایک خارق عادت دماغ درکار تھا۔ دیکھئے کہ وہ اپنی بزرگی اور بڑائی کیونکر مسلمانوں کے ذہن نشین کرتا ہے کہ ظاہرًا اسلام کی عظمت بیان کر رہا ہے اور باطنًا اپنی پٹڑی جما رہا ہے:
- ١...... ”ہم حضرت عیسیٰ کی اس زندگی کی خصوصیت کو ہرگز نہیں مانتے...... ہمارے نبیؐ سب
سے زیادہ حیات، اقوٰی اور اعلیٰ رکھتے ہیں اور کسی نبی کی ایسی اعلیٰ درجہ کی حیات نہیں ہے جیسے آنحضرتؐ کی۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ آنحضرتؐ کو اس بیداری میں دیکھا ہے۔ باتیں کی ہیں۔ مسائل پوچھے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ١٢٩، خزائن ج ٦ ص ٢٢٣)
- ٢...... ”عیسائیوں کے خلاف خدا نے مسلمانوں کو یہ معجزہ دیا کہ اپنے اس بندہ کو اپنے الہام
وکلام اور اپنی برکات خاصہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کر
٩٧
مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معارف اور دقائق ساتھ دیئے۔"
(فتح اسلام ص ٦ ، خزائن ج ٣ ص ٦)
- ٣...... "ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہو گئی اور معجزات
نابود ہو گئے۔ ان کی امت خالی اور تہی دست ہے۔ صرف قصے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ مگر آنحضرت کی وحی منقطع نہیں ہوئی اور نہ معجزات منقطع ہوئے۔ بلکہ بذریعہ کاملین امت جو شرف اتباع سے مشرف ہیں۔ ظہور میں آتے ہیں۔ اسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔...... چنانچہ اس زمانے میں بھی اس شہادت کے پیش کرنے کے لئے یہ بندہ حضرت عزت موجود ہے۔ اب تک میرے ہاتھ پر ہزار نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک مکالمہ سے قریباً ہر روز میں مشرف ہوتا ہوں۔"
(چشمہ مسیحی ص ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥١)
- ٤...... "مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک
کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں۔"
(چشمہ مسیحی ص ٢٣ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٣)
- ٥...... "مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ علیہ السلام سے
بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔"
(چشمہ مسیحی ص ١٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٢)
- ٦...... "اسلام میں خود خدا تعالیٰ ہر ایک زمانہ میں اپنے انا الموجود کی آواز سے اپنی ہستی کا پتہ
دیتا ہے۔ جیسا کہ اس زمانہ میں بھی وہ مجھ پر ظاہر ہوا۔"
(چشمہ مسیحی ص ٢٥ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥)
- ٧...... "یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں۔ ہمارے سید ومولیٰ کی ہتک کرتے ہیں۔ جب کہتے
ہیں کہ اس امت میں عیسیٰ بن مریم کا مثیل کوئی نہیں آ سکتا ...... اس اعتقاد سے دو گنا پکے مرتکب ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ ان کو یہ اعتقاد رکھنا پڑتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام تیس برس تک موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔ اس کے مقابل پر اگر کوئی شخص بجائے ٣٠ سال کے پچاس سال بھی آنحضرت کی پیروی کرے تب بھی وہ مرتبہ نہیں پا سکتا۔"
(حاشیہ چشمہ مسیحی ص ٦٧ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١، ٣٨٢)
"اور پھر دوسری طرف آنحضرت کے ابدی فیض سے ایسا اپنے تئیں محروم جانتے ہیں کہ گویا آنحضرت نعوذ باللہ زندہ چراغ نہیں ہیں۔ بلکہ مردہ چراغ ہیں۔"
(چشمہ مسیحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٨)
- ٨...... "گزشتہ مذہبوں میں عورتوں کو بھی الہام ہوا۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں اور مریم
٩٨
کو مگر تم مرد ہو کر ان عورتوں کے برابر بھی نہیں۔ بلکہ اے نادانو اور ان اور ہمارے سید ومولیٰ (اس پر ہزار سلام) اپنے افاضہ کی رو سے اتم ہیں۔ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیح بنا سکتا ہے بنایا۔"
(چشمہ م
- ٩...... "میں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن
رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات بنا دیتا غیبیہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دنیا میں کسی مذہب والا د نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔"
(ضمیمہ انجام
بابو صاحب...... "العظمت للہ" مطلب یہ کہ آ بازاروں میں پھرتے رہتے ہیں۔ مگر اس کا ثبوت اپنے منکرین ک ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو غیر نبی ہیں۔ مرزا قادیانی کو صا آنحضرت ایک بڑے معجزہ والے ثابت ہوں گے۔ مرزا قادیانی اسلام ایک زندہ مذہب ثابت ہوگا۔ مرزا قادیانی کو توبہ معاذ اللہ السلام پر فوقیت دینے سے آنحضرت کی عظمت ثابت ہوگی۔ مرزا کے اپنی ہستی کا ثبوت دے رہا ہے۔ درد کہیں دوا کہیں۔ خدا کی ہستی جارہا ہے قائل کو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی کی پیروی نو وارد...... بابو صاحب خیال فرمائیے۔ یہ قول مرزے کا کیسا مرت عبداللہ اتٰنی الکتاب وجعلنی نبیا (پ١٦ع٥) "یعنی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی کہا کہ میں ناجائز اولاد ہوں اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ شریعت موسوی کی پیرو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے تھیں اور ہم مرد ہیں۔ مرزا قادیانی کو ملہم ماننے سے (مگر ڈاکٹ نہیں) اسلام کی اعلیٰ درجہ کی صداقت ثابت ہوگی۔ پس اے مسل مرزا قادیانی کو صاحب مکالمہ باخدا۔ صاحب وحی۔ صاحب کرا اور عالم الغیب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل مان لو۔ ورن نہ اسلام کی شوکت نہ بانی اسلام کی کچھ عظمت باقی رہے گی۔
٩٩
کو مگر تم مرد ہو کر ان عورتوں کے برابر بھی نہیں ۔ بلکہ اے نادانو اور آنکھوں کے اندھو! ہمارے نبیؐ اور ہمارے سید و مولیٰ (اس پر ہزار سلام) اپنے افادہ کی رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں۔ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیح بنا سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے اس عاجز کو بنایا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٩)
- ٩....... ”میں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم سے سچی محبت
رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات بنا دیتا ہے اور اس کامل انسان پر علوم غیبیہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دنیا میں کسی مذہب والا روحانی برکات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ ص ٣٣٥)
بابو صاحب....... ”العظمت للہ“ مطلب یہ کہ آنحضرتؐ اس جسم مرئی کے ساتھ بازاروں میں پھرتے رہتے ہیں۔ مگر اس کا ثبوت اپنے منکرین کو نہیں۔ اپنے آپ کو ہی دیتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو غیر نہیں وہی ہیں۔ مرزا قادیانی کو صاحب وحی و معجزات ماننے سے آنحضرتؐ ایک بڑے معجزہ والے ثابت ہوں گے۔ مرزا قادیانی کو صاحب نشانات ماننے سے اسلام ایک زندہ مذہب ثابت ہوگا۔ مرزا قادیانی کو توبہ معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فوقیت دینے سے آنحضرتؐ کی عظمت ثابت ہوگی۔ مرزا قادیانی سے خدا ہر روز باتیں کر کے اپنی ہستی کا ثبوت دے رہا ہے۔ ورنہ کہیں ہوا کھائیں۔ خدا کی ہستی کے منکر تو دہرئیے اور ثبوت دیا جارہا ہے قائل کو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی کی پیروی سے نبی بن گئے۔ لاحول ولا قوة الا باللہ....... بابو صاحب خیال فرمائیے۔ یہ قول مرزے کا کیسا صریح خلاف ہے۔ آیت ”انی عبداللہ اتٰنی الکتاب وجعلنی نبیا (پ ١٦ ع ٢)“ یعنی خداوند کریم تو قرآن میں فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی کہا کہ میں ناجائز اولاد نہیں۔ بلکہ نبی اور صاحب کتاب ہوں اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ شریعت موسوی کی پیروی کرنے سے مقرب بنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے ہم اچھے ہیں۔ کیونکہ وہ عورتیں تھیں اور ہم مرد ہیں۔ مرزا قادیانی کو ملہم ماننے سے (مگر ڈاکٹر عبدالحکیم خان اور منشی الٰہی بخش کو نہیں) اسلام کی اعلیٰ درجہ کی صداقت ثابت ہوگی۔ پس اے مسلمانو! اسلامی غیرت دکھاؤ اور جلد مرزا قادیانی کو صاحب مکالمہ باخدا۔ صاحب وحی ۔ صاحب کرامات ۔ صاحب معجزات و نشانات اور عالم الغیب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل مان لو۔ ورنہ نہ خدا کی ہستی کا کوئی قائل ہوگا۔ نہ اسلام کی شوکت نہ بانی اسلام کی کچھ عظمت باقی رہے گی۔
٩٩
نووارد...... بیوی جی خدا کا فضل و کرم دیکھئے کہ اس قلیل عرصہ میں ہی تمہارے میاں کے خیالات کیسے صحیح ہو گئے اور وہ کیسے مرزا قادیانی کی تہ کو پہنچنے لگ گئے۔
بیوی...... میں خوب سمجھ رہی ہوں۔ آپ وقت کو غنیمت جانیں۔
نووارد...... بیوی صاحبہ یہاں ایک مثال مرزا قادیانی کے قریباً ہر روزہ مکالمہ و مخاطبہ کی بیان کرنی لطف سے خالی نہ ہوگی۔
آسمانی نکاح کے ایک عربی الہام کا ترجمہ
”اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی فریب یا پکا جادو ہے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠)
بابو صاحب یہ الہام یا خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ قرآنی آیات کا مجموعہ ہے اور اس کے سات فقرے ہیں۔ فرمائیے کہ اس عالم الغیب کی طرف سے جس کو اول سے آخر تک کا تمام حال روشن ہے۔ یا خودغرض جھوٹے نبی کی گھڑنت ہے اور سادہ لوح مسلمانوں کے باور کر لینے کے لئے قرآنی آیات کو جمع کر دیا ہے۔ دیکھئے یہ شخص قرآنی آیات سے کام لے رہا ہے اور جب اس نکاح کے انتظار انتظار میں طاقت رجولیت جاتی رہی اور عمر ٦٧ برس کو پہنچی اور آپ کے دل نے گواہی دی کہ اب تو اگر محمدی بیگم بیوہ بھی ہو جاوے تو اس سے نکاح بوالہوسی سے زیادہ ثابت نہ ہوگا۔ تو (حقیقت الوحی کے تمہ ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) پر آپ نے کھسیانے ہو کر عذر گناہ بدتر از گناہ یوں کیا۔ لکھتے ہیں: ”کیا آپ کو خبر نہیں کہ یمحو اللہ مایشاء ویثبت “ نکاح آسمان پر پڑہا گیا یا عرش پر مگر آخر وہ سب کارروائی شرطی تھی۔ بابو صاحب اس عذر کے لغو اور بیہودہ ہونے میں کلام نہیں کیونکہ
- ١....... آپ ہی ایمان سے کہہ دیں اس الہام کے سات فقروں میں کوئی ایسا فقرہ بھی ہے۔
جس سے نکاح کا شرطیہ ہونا پایا جائے؟
- ٢....... اس الہام کا ایک ایک فقرہ پکار پکار کر نہیں کہہ رہا کہ نکاح قطعی اور بلا شرط ہے۔
- ٣....... یہ آیت پ ١٣ ع ١٢ کی جو مرزا قادیانی نے بیان کی ہے۔ اس کا شان نزول یہ ہے کہ
اس سے پہلے کی آیت سن کر کفار (قریش) نے آپس میں چرچا کیا کہ محمدؐ ہر وقت عذاب الٰہی سے جو ڈراتے تھے۔ اب معلوم ہو گیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور یہ بھی چرچا کرتے تھے کہ محمدؐ
١٠٠
اپنی طرف سے ایک بات کہہ دیتے ہیں۔ پھر جب جی چاہتا ہے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور فرما میں ہر کام کا وقت ہے۔ مگر جس نے وہ وقت ٹھہرایا ہے۔ وہی سے پہلے تم کو ہلاک کر دینے پر قادر ہے۔ اس آیت کو اس نکاح برکات ہوتا تھا۔ کچھ بھی تعلق نہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ مرزا قادیا اس کے تمام قرآن ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے کہ خدا وعدہ خلا کے ہی الفاظ وعدہ خداوندی کے نسبت سن لیں۔
- الف....... ”چونکہ مجھے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر وثوق تھا۔“
- ب....... ”وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا۔“
- ج....... ”جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور..... ٹلتی
(خطبہ
- د....... ”پہاڑ ٹل جاتے ہیں۔ دریا خشک ہو سکتے ہیں۔
نہیں بدلتا۔ جب تک پورا نہ ہولے۔“
(تتمہ
- ہ....... ”خدا اگر چہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ لیکن وعدہ خلا
(ازالہ حصہ دوم ص
- و....... ”ایک بیٹا نہیں اگر ہزار بیٹے بھی صلیب پر کھینچے
سکتا۔“
(
دہائی ہے خدا کی اگر یہ الہام بھی سچا ہے۔ تو خدا اسلام کے دشمنوں نے اسلام و بانی اسلام کو ظالم بدہن جھوٹا لگایا۔ مگر ان کو ناکامی نصیب ہوئی۔ اس شخص نے آنحضرتؐ میں جھوٹے الہام گھڑ کر اسلام و بانی اسلام کو ایسا جھوٹا ثابت کافر قرار دے کر اسلام سے خارج نہ کر دیتے تو آج ہمیں ک
قاضی صاحب....... مگر یہ عجیب تماشہ ہے کہ ادھر تو م بات خدائی یہی تو ہے۔ یعنی خدا ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ جس اور ادھر فرماتے ہیں کہ یمحو اللہ ويثبت۔ جسے خدا چاہ
نووارد....... قاضی صاحب اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ خدا ۔
١٠١
اپنی طرف سے ایک بات کہہ دیتے ہیں۔ پھر جب جی چاہتا ہے تو اس کی جگہ دوسری بات کہہ دیتے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور قریش کو دھمکایا کہ اگرچہ اللہ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت ہے۔ مگر جس نے وہ وقت ٹھہرایا ہے۔ وہی اس وقت کے بدل ڈالنے اور وقت سے پہلے تم کو ہلاک کر دینے پر قادر ہے۔ اس آیت کو اس نکاح سے جو محمدی بیگم کے لئے موجب برکات ہونا تھا۔ کچھ بھی تعلق نہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی سے پختہ وعدہ فرما چکا تھا اور علاوہ اس کے تمام قرآن ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے کہ خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ جناب مرزا قادیانی کے ہی الفاظ وعدہ خداوندی کے نسبت سن لیں۔
- الف...... "چونکہ مجھے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر وثوق تھا۔"
(استفتاء ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ١١١)
- ب...... "وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا۔"
(الوصیت ص ١٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٦)
- ج...... "جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور...... ٹلتی نہیں وہ بات خدا کی یہی تو ہے۔"
(درثمین ص ١٤)
- د...... "پہاڑ ٹل جاتے ہیں۔ دریا خشک ہو سکتے ہیں۔ موسم بدل جاتے ہیں۔ مگر خدا کا کلام
نہیں بدلتا۔ جب تک پورا نہ ہولے۔"
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- ہ...... "خدا اگرچہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ لیکن وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔"
(ازالہ حصہ دوم ص ٩٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢٢ حاشیہ در حاشیہ)
- و...... "ایک بیٹا نہیں اگر ہزار بیٹے بھی صلیب پر کھینچے جاویں تب بھی وعدہ میں تخلف نہیں ہو
سکتا۔"
(جنگ مقدس ص ١٦٩، خزائن ج ٦ ص ٢٦٧)
دہائی ہے خدا کی اگر یہ الہام بھی سچا ہے۔ تو خدایا ہمیں اس جھوٹی دنیا سے اٹھالے۔ اسلام کے دشمنوں نے اسلام و بانی اسلام کو خاکم بدہن جھوٹا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مگر ان کو ناکامی نصیب ہوئی۔ اس شخص نے آنحضرتؐ کا ظل اور بروز بن کر اور آیاتِ قرآن میں جھوٹے الہام گھڑ کر اسلام و بانی اسلام کو ایسا جھوٹا ثابت کرایا کہ اگر ہمارے علمائے دین اس کو کافر قرار دے کر اسلام سے خارج نہ کر دیتے تو آج ہمیں کسی کو منہ دکھانے کی جگہ نہ رہتی۔
قاضی صاحب...... مگر یہ عجیب تماشہ ہے کہ ادھر تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ٹلتی نہیں وہ بات خدا کی یہی تو ہے۔ یعنی خدا ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ جس بات کو وہ کہے کہ یہ میں ضرور کرتا ہوں اور ادھر فرماتے ہیں کہ یمحو اللہ ویثبت جسے خدا چاہے مٹا دے جسے چاہے قائم رکھے۔
نووارد...... قاضی صاحب اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ خدا نے یہ آیت اس غرض سے اتاری ہے کہ
١٠١
جسے میں چاہوں منسوخ کردوں۔ جسے چاہوں قائم رکھوں۔ تب بھی یہ فرمان خدائی احکام کی نسبت ہوگا نہ کہ خدا کے وعدوں کے متعلق۔ اپنے احکام کو خدائے پاک کیا ایک دنیاوی بادشاہ بھی منسوخ کرسکتا ہے۔ مگر اپنے وعدوں کو منسوخ کرنا اور اس پر قائم نہ رہنا ایک جنٹلمین کا کام نہیں چہ جائیکہ اللہ پاک جیسے زور آور حاکم کا۔ کیونکہ وعدہ خلافی کمزوری اور بے چارگی کی نشانی ہے اور قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا۔ مثلاً ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ ﴿اے پیغمبر ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کر چکا ہے، اس کے خلاف کرے گا﴾
”ان الله لا يخلف الميعاد۔ لا يخلف الله وعده ولكن اكثر الناس لا يعلمون “ ﴿بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے﴾
مرزا قادیانی کے نکاح کی بشارت کوئی حکم شرعی نہ تھا کہ اللہ نے منسوخ کر دیا۔ بلکہ وہ ایک وعدہ تھا کہ ”انا زوجنکھا“ ہم نے اس کا تیرے ساتھ نکاح کر دیا۔ یہ آیت بھی قرآن سے چرائی ہوئی ہے۔ قرآن کی عظمت و صداقت ثابت کرنے کو یا مخالفین سے اس پر طعنے کرانے کو۔ باقی رہا قاضی صاحب آپ کا یہ اعتراض کہ مرزا قادیانی نے ایک جگہ یہ کہا اور ایک جگہ یہ کہا۔ یہ آپ کی مرزا قادیانی کی کلام سے ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کے لٹریچر پر جن کو عبور ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی جس بات سے اپنا مطلب نکلتا پاتے تھے۔ اسی کو بطور قاعدہ کلیہ فرما دیا کرتے تھے۔ باور نہ ہو تو سنیں:
...... ”اگر یہ کہا جائے کہ کیوں بطور معجزہ جائز نہیں کہ حضرت مسیح اذن اور ارادہ الٰہی سے حقیقت میں پرندے بنا لیتے ہوں اور وہ پرندے ان کی اعجازی پھونک سے پرواز کر جاتے ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت و حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔ نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔ معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے جیسا کہ انسان کو ہاتھ پیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٣، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠)
برخلاف اس کے دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”آنحضرت نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں۔ بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی۔ مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھائی اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت کا جو شق القمر ہے۔ اسی الٰہی طاقت کے ظہور سے آیا تھا۔ کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی۔ کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے
١٠٢
جو الٰہی طاقت سے بھری ہوئی تھی۔ وقوع میں آ گیا تھا اور ہیں۔“
قاضی صاحب ...... لا حول ولا قوۃ ۔ لا حول ولا قوۃ ۔ استغـ بیوی ...... لو چاء پیو۔ لا حول پیچھے پڑھنا۔ گاموں ...... (چاء پیالیوں میں ڈالتے ہوئے بیگم والے الہام وچ رب دی قسم کھادی ہے۔ اس دا کفارہ مـ (مولوی صاحب مرزے نے جو اس محمدی بیگم ہے۔ اس کا کفارہ مرزے نے دیا ہوگا یا اس کے خدا نے؟) نووارد ...... مرزا قادیانی کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ وہ آں علیہ السلام سے بڑھ کر اور خدا کے مقرب ہو گئے۔ چنانچہ ” میں عرش پر تیری حمد کر رہا ہوں۔“ (تذکرہ ص ٤٧) ایسے شـ اسلام میں خدا اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔ میرے خیال مـ غرض و غایت صرف یہ تھی کہ اپنی ہستی کا ثبوت دے کہ میں ہو بابو صاحب ...... (چاء کی پیالی منہ سے ہٹا کر ) مولـ میں اپنے خدا اور اس کے رسول پر رکھتا ہوں کہ مرزا ملہم ہو یـ خود گھڑ لیتا تھا اور اکثر قرآنی آیات میں تا کہ کوئی مسلمان ا جھوٹ بولنے کو اس قدر مبالغہ سے بڑا سخت گناہ بیان کرتـ کا نام سن کر سرتسلیم خم کر دینا چاہیے اور بدظنی بڑا سخت گناہ بتایا۔ قاضی صاحب ...... بیوی جی میں سمجھے نہیں اس بات پر ۔ عز وجل نے بابو صاحب پر اپنا اتنا بڑا فضل و کرم کیا کہ انھـ آنکھیں کھول دیں۔ نووارد ...... لیجئے چاء تو پی لی گئی۔ اب دعا کیجئے۔ اس پر ا کرنی شروع کی۔ ”اللہ ! تیرا ہزار ہزار شکر واحسان کہ تو نے ہم شکر واحسان کہ تو نے اپنے پیارے نبی کی پیاری امت کـ
١٠٣
جو الٰہی طاقت سے بھری ہوئی تھی۔ وقوع میں آ گیا تھا اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں ۔“
(آئینہ کمالات ص ٦٥ ، خزائن ج ٥ ص ٦٥)
قاضی صاحب ...... لاحول ولا قوۃ ۔ لاحول ولا قوۃ ۔ استغفر اللہ ۔
بیوی ...... لو چاہ پیو۔ لاحول پیچھے پڑھنا۔
گاموں ...... (چاہ پیالیوں میں ڈالتے ہوئے) مولوی جی مرزے نے جے اس محمدی بیگم والے الہام وچ رب دی قسم کھادی ہے۔ اس دا کفارہ مرزے دتا ہوسی یا مرزے دے خدا؟
(مولوی صاحب مرزے نے جو اس محمدی بیگم والے الہام میں خدا کی جھوٹی قسم کھائی ہے۔ اس کا کفارہ مرزے نے دیا ہو گا یا اس کے خدا نے؟)
نووارد ...... مرزا قادیانی کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ وہ آنحضرت کی کمال پیروی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر اور خدا کے مقرب ہو گئے ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا ایک الہام یہ بھی ہے کہ ”میں عرش پر تیری حمد کر رہا ہوں۔“ (تذکرہ ص ٤٧) ایسے نیک اور مقبول بندوں کے ذریعہ قادیانی اسلام میں خدا اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔ میرے خیال میں اس قسم سے مرزا قادیانی کے خدا کی غرض وغایت صرف یہ تھی کہ اپنی ہستی کا ثبوت دے کہ میں ہوں اور وہ غرض پوری ہو گئی۔
بابو صاحب ...... (چاہ کی پیالی منہ سے ہٹا کر) مولوی صاحب مجھے تو ایسا یقین آ گیا جیسا میں اپنے خدا اور اس کے رسول پر رکھتا ہوں کہ مرزا ملہم ہونے کے دعوے میں سراسر جھوٹا تھا۔ الہام خود گھڑ لیتا تھا اور اکثر قرآنی آیات میں تاکہ کوئی مسلمان اس میں شک نہ کرے اور یہی وجہ تھی کہ وہ جھوٹ بولنے کو اس قدر مبالغہ سے بڑا سخت گناہ بیان کرتا رہا اور مسلمانوں کو تعلیم دیتا رہا کہ الہام کا نام سن کر سر تسلیم خم کر دینا چاہیے اور بدظنی بڑا سخت گناہ ہے۔ اس کے سوا اس نے اور ہمیں کیا بتایا۔
قاضی صاحب ...... بیوی جی میں تمہیں اس بات پر ہزار ہزار مبارک باد دیتا ہوں کہ خدائے عزو جل نے بابو صاحب پر اپنا اتنا بڑا فضل وکرم کیا کہ اٹھارہ سال بعد ان کی ظاہری نہیں باطن کی آنکھیں کھول دیں۔
نووارد ...... لیجئے چاہ تو پی لی گئی۔ اب دعا کیجئے۔ اس پر سب نے ہاتھ اٹھائے اور نووارد نے دعا کرنی شروع کی۔
”اے اللہ! تیرا ہزار ہزار شکر واحسان کہ تو نے ہمیں مسلمان بنایا۔ اے اللہ ! تیرا ہزار ہزار شکر واحسان کہ تو نے اپنے پیارے نبی کی پیاری امت کے ایک فرد کو از سر نو ہدایت بخشی۔ اے اللہ !
١٠٣
تو رحیم و کریم ہے۔ ہمارے دوسرے پیارے اور سادہ لوح بھائیوں کو بھی اسی طرح ہدایت بخش۔
پھر سب نے کہا، آمین! اور چائے کے برتن اٹھائے گئے۔
قاضی صاحب...... (ایک ڈکار لے کر) مولوی صاحب آپ کی آج کی تقریر سے تو بخدا لطف آ گیا۔ کوئی اور مثال بھی مرزا قادیانی کی متضاد باتوں کی یاد ہو تو سنائیے۔
نو وارد...... قاضی صاحب ایک یا ایک ہزار۔
قاضی صاحب...... نہیں مولوی صاحب ہزار نہیں صرف چند ایک مگر مزیدار۔
نو وارد...... اچھا لیجئے! سنئے یہ میں بیان کر چکا ہوں کہ مرزا قادیانی نے (آئینہ کمالات ص ٦٥، خزائن ج ٥ ص ٦٥) پر لکھا ہے کہ: ”اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت کا جو شق القمر ہے۔ اسی الٰہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا۔ کوئی دعا اس کے شامل نہ تھی۔ کیونکہ صرف انگلی کے اشارے سے جو الٰہی طاقت سے بھری ہوئی تھی، وقوع میں آگیا تھا۔“
- ٢...... اب دیکھئے! اب اس شق القمر کی بابت (نزول المسیح ص ١٢٨، ١٢٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٦،
٥٠٧) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا۔ یہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے۔ قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کوئی خارق عادت امر نہیں۔“
- ٣...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چڑیوں کی بابت (دافع الوساوس ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ٦٨) پر
لکھتا ہے: ”اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے، مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں۔“
اور (ازالہ حصہ اول ص ٣٠٩، ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٧) پر یوں درافشان ہے: ”اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ اگر یہ عاجز اس امر کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت عیسیٰ سے کم نہ رہتا۔“
دیکھئے ایک جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چڑیوں کا اڑنا قرآن شریف کی رو سے معجزہ بیان کرتا ہے اور دوسری جگہ اس خدا کے فرمائے ہوئے معجزے کو ایسا مکروہ اور قابل نفرت بیان کرتا ہے کہ اس کا دکھانا اپنی شایان شان نہیں سمجھتا۔
بی بی صاحبہ اس لئے ستر میں بیٹھی ہیں کہ چادر نہیں رکھتیں کہ اوڑھ کر باہر نکلیں۔ اگر مرزا
١٠٤
قادیانی ایسی باتیں کر دکھانے کی طاقت رکھتے تھے، تو کیو میں اس کو قابل نفرت سمجھتا ہوں۔ میری شان اس سـ کروں۔ کیونکہ جو فعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے العزم عیسیٰ علیہ السلام پر احسان رکھا۔ وہ ایسا بد نہیں ہو سکتا تھـ ہونے سے قلنکی یا قطعی جہنمی ہو جاتے۔ بلکہ اس سے یـ جھوٹے نبیوں میں شمار نہ کر سکتے اور ایک عالم ان کے متبـ مرزا قادیانی کی اس کلام سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ مرزا انہوں نے سیکھا ہوا تو تھا۔ مگر سوا تجربہ بتایا استاد کے مـ کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور ان کے اس اقبال نے اـ دی۔ بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے۔
قاضی صاحب...... مولوی صاحب آپ اپنے فیصـ سے بے انصافی نہیں کر رہے؟
نو وارد...... نہیں ہرگز نہیں۔ آپ مجھے بتلا دیں کہ آ اعلیٰ طبقہ کے انسانوں میں شمار کرتے ہیں۔ درمیانی طبقـ
قاضی صاحب...... اس میں شک نہیں کہ تعلیم و تر طبقہ کے انسانوں میں شمار کرتا ہوں۔
نو وارد...... آپ کے بچے جیتے رہیں۔ اب آپ اـ فرمائیں کہ اوّل طبقہ کے انسانوں میں کوئی ایسا انسا بابت بغیر اس میں کمال رکھنے کے ایسی ڈینگ مار صاحب! بس مولوی صاحب بس میں اپنا اعتراض وا داد دیتا ہوں میں مان گیا کہ اس طبقہ کا انسان جب تک کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں نکالتا کہ اگر فلانی با دکھاتا۔ کیونکہ ہر ایک دماغ ہر فن کے لئے موزوں نہیـ قادیانی ہی کو لیجئے کہ باوجود یکہ الہام اتارنے میں وہ رہا۔ پھر بھی بیرسٹری میں نہیں وکالت میں نہیں۔ مختا تک وہ قانون میں اعلیٰ درجہ کی مہارت حاصل نہ کر
١٠٥
قادیانی ایسی باتیں کر دکھانے کی طاقت رکھتے تھے۔ تو کم از کم ایک دفعہ تو کر دکھاتے اور پھر کہتے کہ میں اس کو قابل نفرت سمجھتا ہوں۔ میری شان اس سے بالاتر ہے کہ میں ہمیشہ ایسے مکروہ کام کروں۔ کیونکہ جو فعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر سے خدا نے کرایا اور اس کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر احسان رکھا۔ وہ ایسا بدھو نہیں ہو سکتا تھا کہ مرزا قادیانی اس کے ایک دفعہ مرتکب ہونے سے کلنکی یا قطعی جہنمی ہو جاتے۔ بلکہ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ آج ہم مرزا قادیانی کو جھوٹے نبیوں میں شمار نہ کر سکتے اور ایک عالم ان کے مثیل مسیح اور بہتر از مسیح ہونے کا قائل ہو جاتا۔
مرزا قادیانی کے اس کلام سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی مسمریزم جانتے تھے۔ یعنی یہ علم انہوں نے سیکھا ہوا تو تھا۔ مگر سوائے حجرہ یا استاد کے سامنے کرنے کے غیر اور نامحرم کے سامنے کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور ان کے اس اقبال نے ان کے تمام معجزوں اور نشانوں کی قلعی کھول دی۔ بس ہو چکی نماز مصلٰی اٹھائیے۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب آپ اپنے فیصلہ پر مکرر نظر ڈالیں۔ کیا آپ مرزا قادیانی سے بے انصافی نہیں کر رہے؟
نو وارد....... نہیں ہرگز نہیں۔ آپ مجھے بتلا دیں کہ آپ مرزا قادیانی کو بحیثیت تعلیم اور خاندان اعلیٰ طبقہ کے انسانوں میں شمار کرتے ہیں۔ درمیانی طبقہ کے یا ادنیٰ طبقہ کے۔
قاضی صاحب....... اس میں شک نہیں کہ تعلیم و خاندان کے لحاظ سے میں مرزا قادیانی کو اعلیٰ طبقہ کے انسانوں میں شمار کرتا ہوں۔
نو وارد....... آپ کے بچے جیتے رہیں۔ اب آپ اپنی بی اے اور مولوی فاضلیت کی قسم کھا کر فرمائیں کہ اوّل طبقہ کے انسانوں میں کوئی ایسا انسان آپ نے دیکھا یا سنا کہ اس نے کسی فن یا ہنر کی بابت بغیر اس میں کمال رکھنے کے ایسی ڈینگ ماری ہو۔ یعنی بغیر جانے اس فن کے۔ قاضی صاحب! بس مولوی صاحب بس میں اپنا اعتراض واپس لیتا ہوں اور ساتھ ہی آپ کے دماغ کی داد دیتا ہوں میں مان گیا کہ اس طبقہ کا انسان جب تک کسی فن یا ہنر میں مہارت کامل نہیں رکھتا۔ وہ کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں نکالتا کہ اگر فلانی بات مانع نہ ہوتی تو میں اس فن میں یہ کچھ کر دکھاتا۔ کیونکہ ہر ایک دماغ ہر فن کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔ مثال کے لئے دور نہ جائیے۔ مرزا قادیانی ہی کو لیجئے کہ باوجودیکہ الہام اتارنے میں دماغ ان کا کسی اور جھوٹے نبی سے کم درجہ نہیں رہا۔ پھر بھی بیرسٹری میں نہیں وکالت میں نہیں۔ مختار کاری کے امتحان میں فیل ہو گئے۔ پس جب تک وہ قانون میں اعلیٰ درجہ کی مہارت حاصل نہ کر لیتے تو وہ کبھی نہ کہہ سکتے کہ اگر میں خدا سے نہ
١٠٥
ڈرتا۔ تو رائیگن وکیل سے جھوٹے مقدمے بھی جیت لیتا۔ آپ کا خیال بالکل درست ہے کہ اعلیٰ طبقہ کے انسان میں جب تک کسی فن کی قابلیت نہ ہو۔ وہ اس فن کے ماہرین کے مقابلہ کی ڈینگ نہیں مار سکتا۔ ہاں ادنیٰ درجہ کے طبقہ کے لوگ شیخی میں آ کر سب کچھ کہہ گزرتے ہیں اور ان پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
پس مرزا قادیانی بغیر جانے مسمریزم کے یہ کبھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ اگر میں اس فن کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو میں علم مسمریزم سیکھ کر ایسی ایسی اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ انہیں کیا خبر تھی کہ اس فن میں ایسا کمال حاصل کر سکیں گے؟ یہ کوئی الہام یا مکالمہ و مخاطبہ باخدا کا معاملہ نہ تھا کہ لوگوں کے حواس خمسہ سے چھپا رہتا۔ ان کو تو میدان میں آ کر دکھانا پڑتا اور ہمیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ مرزا قادیانی نے لوگوں کے خلط ملط پیسے کو تو شیر مادر سمجھا اور اس علم میں کیا قباحت دیکھی کہ اس کو مکروہ اور قابل نفرت قرار دیا۔
نو وارد....... اس کی وجوہات میں عرض کروں۔ ایک طرف تو وہی جھوٹ کو شرک اور گوہ کھانے کے برابر قرار دینے کی کہ مرزا قادیانی کی طرف کوئی مسمریزم جاننے کا گمان نہ کرے۔ دوسرے یہ کہ جب مرزا قادیانی کو نبی بننے کا شوق ہوا تو اس کے لئے دو باتوں کی ضرورت انہیں نظر آئی۔ ایک الہام و وحی۔ دوسری معجزات و خوارق عادت۔ پہلے کام میں تو انہوں نے جھٹ پٹ مہارت حاصل کر لی۔ لیکن دوسرے کام میں عاجز رہ گئے۔ اس کے لئے انہوں نے یہ تجویز سوچی کہ ان کا کھنڈن ہی کر دو۔
چنانچہ آنحضرتؐ کے معراج کو آپ نے کشف قرار دیا۔ شق القمر کو ایک قسم کا چاند گرہن اور باقی معجزات انبیاء کی نسبت یوں فرمایا اور ان کی یوں تحقیر کی:
- ١....... ”سچے نبی کی شناخت کے لئے قرآن اور توریت نے کرتب مقرر نہیں کئے۔ بلکہ
پیشین گوئیاں مقرر کی ہیں۔“ (نشان آسمانی ص ٤١، خزائن ج٤ ص ٣٩٤) گویا آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیاء وغیرہ کو باز یگر فرما رہے ہیں۔
- ٢....... ”اگر حضرت مسیح سے درحقیقت معجزات ظہور میں آتے تو ان کے حواریوں کا ایسا بد
انجام ہرگز نہ ہوتا۔“
(آئینہ کمالات ص ٤٠٢، خزائن ج ٥ ص ٤٠٢)
- ٣....... ”اگر واقعی طور پر حضرت مسیح نے کوئی معجزہ دکھایا ہے۔ یا اگر کوئی اعجازی صفت حضرت
موصوف کے کسی قول یا فعل یا دعا یا توجہ میں پائی جاتی ہے۔ تو بلاشبہ وہ صفت کروڑ ہا اور انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٧٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٧)
١٠٦
- ٤....... ”کسی نبی کا کوئی معجزہ یا اور کوئی خوارق عادت امر
لوگ شریک نہ ہوں۔“
- ٥....... ”ایسے نشانات دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نزدیک
- ٦....... ”بہر حال یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صرف ا
- ٧....... ”راست باز بندے دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ
(ازال
- ٨....... ”سورۃ بقرہ میں گائے کا قصہ، مسمریزم کا ایک شعب
(ازال
- ٩....... ”قرآن شریف میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے
ہے۔“
(ازال
- ١٠....... ”قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا
قاضی صاحب مرزا قادیانی معجزات کو جادو کہتا اسے خوف ہوا کہ کہیں جال کی چڑیاں بھی نہ اڑ جائیں۔ ا مسمریزم سے تعبیر کیا۔ مگر نہ مرزا قادیانی کو معلوم تھا۔ نہ ان اس علم کا موجد تو ١٧٧٥ء کو پیدا ہوا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ ا سے ١٧٠٠ سال پہلے ہی کیونکر مہارت پیدا کر لی؟ قاضی صاحب....... یہ قصہ تو بخوبی طے ہو گیا اور مرزا گیا۔ اب مرزا قادیانی کی وہی متضاد باتیں سنائیے کہ لطف نو وارد....... لیجئے سنئے !
گور دتاسنگھ صاحب کے چولہ (چوغہ) کی نِسب
خدا سے جو تھا درد ک
١٠٧
- ٤...... ”کسی نبی کا کوئی معجزہ یا اور کوئی خوارق عادت امر ایسا نہیں ہے۔ جس میں ہزار ہا اور
لوگ شریک نہ ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٢)
- ٥...... ”ایسے نشانات دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نزدیک کفر ہے۔“
(جنگ مقدس ص ٦٨، خزائن ج ٦ ص ١٥٧)
- ٦...... ”بہر حال یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
- ٧...... ”راست باز بندے دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں کو تماشہ دکھائیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥)
- ٨...... ”سورۃ بقرہ میں گائے کا قصہ، مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٥٠، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤)
- ٩...... ”قرآن شریف میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے۔ یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ
ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦)
- ١٠...... ”قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار۔“
(نزول المسیح ص ٨٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٢)
قاضی صاحب مرزا قادیانی معجزات کو جادو کہنا چاہتا تھا۔ لیکن ایسا سخت لفظ کہنے سے اسے خوف ہوا کہ کہیں جال کی چڑیاں بھی نہ اڑ جائیں۔ اس لئے اس نے انبیاء کے معجزات کو مسمریزم سے تعبیر کیا۔ مگر نہ مرزا قادیانی کو معلوم تھا۔ نہ ان کے کسی حواری کو کہ میسمر صاحب موجد اس علم کا تو ١٥ مئی ١٧٣٤ء کو پیدا ہوا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس علم کے موجد کی پیدائش سے ١٧٠٠ سال پہلے ہی کیونکر مہارت پیدا کر لی؟
قاضی صاحب...... یہ قصہ تو بخوبی طے ہو گیا اور مرزا قادیانی کی نبوت کا ہمیں حال معلوم ہو گیا۔ اب مرزا قادیانی کی وہی متضاد باتیں سنائیے کہ لطف دیتی ہیں۔
نو وارد...... لیجئے سنئے! گورو نانک صاحب کے چولہ (چوغہ) کی نسبت مرزا قادیانی کے یہ اشعار ہیں:
خدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز
١٠٧
خدا کا کلام اس پہ تھا بیگماں
(براہین ص ٢٢، ٢٦)
(ست بچن ص ٦٨، خزائن ج١٠ص١٩٢) پر لکھتا ہے ”ہم باوا صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ انہیں غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا ۔“
(نزول المسیح ص ٢٠٥، خزائن ج ١٨ص٥٨٣) پر لکھتا ہے: ”کہ اسلام میں چولے رکھنا اس زمانہ میں فقیروں کی ایک رسم تھی۔ پس یہ بات بہت صحیح ہے کہ باوا صاحب کے مرشد نے جو مسلمان تھا۔ یہ چولہ ان کو دیا تھا ۔“ اور اسی کتاب کے (ص ٢٠٦، خزائن ج ١٨ص٥٨٤) پر لکھتا ہے : ”باوا صاحب کا یہ لکھنا اپنے چولہ پر کہ اسلام کے بغیر کسی جگہ نجات نہیں۔ اگر سکھ لوگ اس پر توجہ کرتے تو۔“ قہقہہ
- ......٥ اسی چولہ کی نسبت (ست بچن ص ٤٧، خزائن ج١٠ص١٧٥) پر لکھتا ہے : ”بعض لوگ انگد
کی جنم ساکھی کے اس بیان میں تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ مگر خدا کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی ۔“ اور حضرت عیسیٰ کی دوزعفرانی چادروں کا ذکر جو آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے۔ تو دوزعفرانی چادروں میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ ان کی نسبت حاشیہ (توضیح مرام ص ٥، خزائن ج٣ص٥٣) پر لکھتا ہے: ”یہ پارچات از قسم پشمینہ یا ریشم ہوں گے۔ جیسے چوڑیا، گلبدن، اطلس، کمخواب، زربفت، زری، لاہی یا معمولی کپڑے جیسے نین سکھ، تنزیب، چکن، گلشن، ململ، جالی، خاصہ، ڈوریہ، چارخانہ اور کس نے آسمان پر بنے اور کس نے سینے ہوں گے؟“ شرم شرم کے نعرے۔
- ......٦ ”شیخ سرہندی جیسے بزرگ نے لکھا کہ یہ ضروری ہے کہ مسیح موعود اور علماء وقت میں
نزاع پڑ جائے گی ۔“
(ایام الصلح ص ٨٥، خزائن ج ١٤ص٣١١)
”تمام مستند علمائے اسلام میرے ساتھ ہیں اور ٤٠ کے قریب ہیں اور فریق ثانی کے ساتھ اکثر ایسے ہیں۔ جو صرف نام کے مولوی ۔“
(سچائی کا اظہار ص ٦، خزائن ج ٦ ص ٧٤)
- ......٧ ”اوّل تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری
ایمانیت کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔“ (ازالہ حصہ اول ص ١٤٠، خزائن
١٠٨
ج ٣ ص ١٧١) اور (حاشیہ ص ٧٢، البریہ، خزائن ج ١٣ص٢٠٦) پر لکھتا اس پیشین گوئی کا انکار کرے۔ اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔“
- ......٨ ”میرے نہ ماننے والا ویسا ہی کافر ہے جیسے اسلام
(حق
- ......٩ ”الدجال بجز مسیح دجال کے اور کسی کو نہیں کہا جاتا
(ا
”الدجال میں وحدت شخصیہ نہیں وحدت نوعیہ ہ
(آئینہ کما
- ......١٠ ”زید کوئی گناہ کرے اور بکر کو سولی پر کھینچا جائے
(نور ا
”اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ ن روز سے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔“
- ......١١ ”بدگمانی سخت ممنوعات شرعیہ سے ہے۔“
”مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی ہے۔ ان کے اماموں کے پیچھے نماز ہونے میں مجھے شبہ ہے ہے۔ ایک دکان ہے۔ ......حرام خوری کا ایک مکروہ طریقہ ہ
”اے لوگو! صوفیوں کی مجلس سے پرہیز کرو ہیں۔ ظاہری صورت میں بھیڑوں کی طرح مسکین نظر آ درندہ ہیں۔“
(آئینہ کمالا
”علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں ہو رہی ہے۔ ان کو اصلاح نفس سے کوئی بھی غرض نہیں۔“
بابو صاحب دیکھا تمام جہاں سے بدگمانی کر ہوا ہے کہ میں مریم بھی ہوں اور ابن مریم بھی تو فوراً ما بدگمانی سخت ممنوعات شرعیہ سے ہے اور قرآن کریم میں کم فاسق بنباء فتبینوا “ یعنی اگر کوئی فا کر لیا کرو۔
١٠٩
ج ٣ ص ١٧١) اور (حاشیہ ص ٧٢، البریہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٦) پر لکھتا ہے: ”علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص اس پیشین گوئی کا انکار کرے۔ اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔“
- ٨...... ”میرے نہ ماننے والا ویسا ہی کافر ہے جیسے اسلام اور آنحضرت کا منکر۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
- ٩...... ”الدجال بجز مسیح دجال کے اور کسی کو نہیں کہا جاتا۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)
”الدجال میں وحدت شخصیّہ نہیں وحدت نوعیّہ ہے۔ بمعنی اتحاد الآراء“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٤، خزائن ج ٥ ص ٥٥٤)
- ١٠...... ”زید کوئی گناہ کرے اور بکر کو سولی پر کھینچا جائے یہ عدل ہے یا رحم۔“
(نورالقرآن ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٦٨ حاشیہ)
”اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے۔ تو پھر اسی روز سے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔“
(نکاح مرزا ص ٢١، کلمہ فضل الرحمانی ص ١٢٧)
- ١١...... ”بدگمانی سخت ممنوعات شرعیہ سے ہے۔“
(فتح الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٣ ص ١٩ حاشیہ)
”مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔ مساجد کا حال نہایت ابتر ہے۔ ان کے اماموں کے پیچھے نماز ہونے میں مجھے شبہ ہے۔ انہوں نے امامت کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے۔ ایک دکان ہے...... حرام خوری کا ایک مکروہ طریقہ ہے۔“
(فتح الاسلام ص ٤٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥)
”اے لوگو! صوفیوں کی مجلس سے پرہیز کرو۔ جو کہتے ہیں کہ ہم چشتی ہیں اور قادری ہیں۔ ظاہری صورت میں بھیڑوں کی طرح مسکین نظر آتے ہیں اور سیرت اور سریرت میں گرگ درندہ ہیں۔“
(آئینہ کمالات ص ٣٦٥، ٣٦٤، خزائن ج ٥ ص ٣٦٥، ٣٦٤)
”علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔ فقراء کو دیکھو تو ان کی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ ان کو اصلاح نفس سے کوئی بھی غرض نہیں۔“
(تقریریں ص ٤١)
بابو صاحب دیکھا تمام جہاں سے بدگمانی کرنا۔ لیکن مرزا قادیانی اگر کہیں کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ میں مریم بھی ہوں اور ابن مریم بھی تو فوراً مان لینا اور ہرگز ہرگز بدگمانی نہ کرنا۔ کیونکہ بدگمانی سخت ممنوعات شرعیہ سے ہے اور قرآن کریم میں بھی اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ: ”ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا“ یعنی اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس پر غور کرلیا کرو۔
١٠٩
- ١٢....... ”دابۃ الارض کے معنے تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی وہ طاعون ہے اور یہی وہ
دابۃ الارض ہے۔ جس کی نسبت قرآن میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکال لیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا بايتنا لا يوقنون“ (نزول المسیح ص ٣٨، خزائن ج ١٨ ص ٤١٦)
”دابۃ الارض سے مراد کوئی لایعقل جانور نہیں۔ بلکہ بقول حضرت علیؓ آدمی کا نام ہی دابۃ الارض ہے اور اس جگہ دابۃ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے۔ جو انسانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے۔ اس لئے چہرہ ان کا تو انسانوں کا ہے۔ مگر بعض اعضاء ان کے بعض دیگر حیوانات سے مشابہ ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے: ”واذ وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا بايتنالا يوقنون“ یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے۔ جن کو علم کلام اور فلسفہ میں یدطولیٰ ہوگا۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٠٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٠)
بابو صاحب آپ نے بڑی غلطی کی کہ قرآن شریف کے معنے اور مطالب مرزے سے نہ سمجھ لئے۔
بابو صاحب....... جی ہاں واقعی میں نے بڑی غلطی کی کہ ان سے مسیح کے وقت دابۃ الارض کے معنے طاعون کا کیڑا اور شام کو علماء اسلام نہ پڑھ لئے۔
قاضی صاحب....... مگر میں حیران ہوں کہ مرزے کی ان باتوں کو دماغ کی تنزلی پر محمول کروں یا دماغ کی کمزوری پر۔
نووارد....... ان سب باتوں میں اگر ہمارے بھلے کی کوئی بات ہے تو ممکن ہے ضعف دماغ کی وجہ ہو اور اس کو یاد نہ رہتا ہو کہ میں پہلے کیا کہہ چکا ہوں۔ لیکن اگر یہ سب کچھ مثیل مسیح اور مسیح موعود بننے کے لئے ہے۔ تو ضعف ایمان اور تنزلی دماغ نہیں تو اور کیا ہے؟
- ١٣....... ”میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا سے ڈرو۔“
(مرزا قادیانی کا خط ص ١٢٦ کلمہ فضل رحمانی)
”ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ رشتے ناطے توڑ دے گا۔“ ایضاً
- ١٤....... ”ایک گروہ مسلمانوں کا ایسا فلسفہ ضالہ کا مقلد ہو گیا کہ وہ ہر ایک امر کا عقل سے ہی
فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٥٢، خزائن ج ٣ ص ٤٥٢)
”نیا اور پرانا فلسفہ اس بات کو محال ثابت کرتا سکے۔“
قاضی صاحب....... مولوی صاحب! اس مضمون کو خوبی بیان کیجئے۔
نووارد....... قاضی صاحب اگر آپ کو اس بات کو مان سارا کارخانہ جھوٹ پر قائم تھا تو میں مرزا قادیانی کے کوئی
قاضی صاحب....... شک تو کس کافر کو رہا ہے۔ مگر یہ
نووارد....... اچھا تو بہت بڑی خوبی مرزا قادیانی کی یہ سنئے
مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے آمنے موصوف کا بال بھی بیکا نہ ہوا اور آپ کا ایک فرزند اور ص٢٠، ٢١ خزائن ج ١١ ص ٣٠٤، ٣٠٥) پر لکھا کہ ”وہ مباہلہ نہ بعد مباہلہ کبھی اس بات کی طرف توجہ کی اور نہ مبا دیا۔“ حالانکہ (ص ١٩٤ نزول المسیح، خزائن ج ١٨ ص ٥٧٢) ”صد ہا مخالف مولویوں کو مباہلہ کے سا میدان میں نکلا۔“ بابو صاحب دیکھئے! اس کلام میں۔
- ١....... جب مباہلہ کر لیا تو پھر ایں چہ معنی دارد کہ
- ٢....... جب مباہلہ کر لیا اور طرفین سے جھو
گئیں۔ تو پھر یہ کیا عذر ہے کہ مباہلہ کے بعد اس کی بھی دخل ہے؟
- ٣....... خود ہی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جن
میں سے صرف مولوی عبدالحق ہی میدان میں آئے تھا۔
- ٤....... نجران کے پادری جب اپنے اہل ب
میدان میں نہ آئے۔ جہاں رسول اللہ اپنے اہل ب نے قسم کھا کر یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے
"نیا اور پرانا فلسفہ اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان کرہ زہریر تک بھی پہنچ سکے۔"
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
قاضی صاحب....... مولوی صاحب! اس مضمون کو چھوڑیے۔ اب مرزا قادیانی کی کوئی اور خوبی بیان کیجئے۔
نووارد....... قاضی صاحب اگر آپ کو اس بات کو مان لینے میں کچھ شک رہا ہو کہ مرزا قادیانی کا سارا کارخانہ جھوٹ پر قائم تھا تو میں مرزا قادیانی کے کوئی صریح اور صاف جھوٹ بھی بیان کر دوں؟
قاضی صاحب....... شک تو کس کافر کو رہا ہے۔ مگر یہ بیان بھی لطف سے خالی نہ ہوگا۔
نووارد....... اچھا تو بہت بڑی خوبی مرزا قادیانی کی یہ تھی کہ وہ جھوٹ سے بہت کام نکالتے تھے۔ سنئے
مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے آپ نے مباہلہ کیا اور جب مولوی صاحب موصوف کا بال بھی بیکا نہ ہوا اور آپ کا ایک فرزند دلبند فوت ہوگیا۔ تو آپ نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٠، ٢١ خزائن ج ١١ ص ٣٠٤، ٣٠٥) پر لکھا کہ "وہ مباہلہ میری درخواست سے نہیں تھا اور نہ ہی میں نے بعد مباہلہ کبھی اس بات کی طرف توجہ کی اور نہ میں نے اپنے دل کے جوش کو اس طرف توجہ دیا۔" حالانکہ (ص ١٩٢ نزول المسیح، خزائن ج ١٨ ص ٥٧٢) پر لکھا ہے:
"صد ہا مخالف مولویوں کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا۔ جن میں سے عبدالحق غزنوی میدان میں نکلا۔" بابو صاحب دیکھئے! اس کلام میں کتنے جھوٹ ہیں۔
- ١....... جب مباہلہ کر لیا تو پھر ایں چہ معنی دارد کہ میں نے اس کو بلایا نہیں تھا۔
- ٢....... جب مباہلہ کر لیا اور طرفین سے جھوٹے کے واسطے خدا کی درگاہ میں بددعائیں ہو
گئیں۔ تو پھر یہ کیا عذر ہے کہ مباہلہ کے بعد اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ کیا مباہلہ میں بعد کی توجہ کو بھی دخل ہے؟
- ٣....... خود ہی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جن مولویوں کو ہم نے مباہلہ کے لئے بلایا تھا۔ ان
میں سے صرف مولوی عبدالحق ہی میدان میں آگئے اور پھر کہتے ہیں کہ میں نے ان کو بلایا ہی نہیں تھا۔
- ٤....... نجران کے پادری جب اپنے بال بچے لے کر آنحضرتؐ کے ساتھ مباہلہ کے لئے اس
میدان میں نہ آئے۔ جہاں رسول اللہ اپنے بال بچوں کو ساتھ لے کر کھڑے تھے۔ تو آنحضرتؐ نے قسم کھا کر یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو ضرور آسمان سے آگ برستی اور یہ لوگ وہیں
١١١
جنگل میں جل کر بھسم ہو جاتے۔ قاضی صاحب ہم اس شخص کو آنحضرت کا بروز اور آنحضرت ہی مانیں۔ جو یہ عذر تراش رہا ہے کہ مباہلہ کے بعد میں نے اس طرف توجہ نہیں کی تھی۔ دل کے جوش کو ادھر متوجہ نہیں کیا تھا۔ میں نے اس کو بلایا نہیں تھا۔ حالانکہ مولوی غلام دستگیر صاحب کی موت کو اپنی کرامت کا نشان اور مباہلہ کا اثر ظاہر کرتے ہوئے (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٩) پر لکھتا ہے: ”پھر مولوی غلام دستگیر قصوری وہ بزرگ تھے۔ جنہوں نے میرے کفر کے لئے مکہ معظمہ سے میرے کفر کے فتوے منگوائے تھے۔ وہ بھی اپنے یکطرفہ مباہلہ کے بعد انتقال کر گئے ۔“ گویا جو کوئی مرزا قادیانی کی زندگی میں مرجائے ۔ اس کی بددعا یا بھی یکطرفہ مباہلہ اور جو دو طرفہ مباہلہ کر کے بھی نہ مرے۔ تو وہ مباہلہ ہی نہیں۔ مرزا قادیانی نے اسے بلایا ہی نہیں تھا۔ مرزا قادیانی نے مباہلہ کے بعد توجہ ہی نہیں کی تھی۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب معلوم ہوا کہ نبی بننے کے لئے علاوہ جھوٹ کے بے حیائی بھی لوازمات میں سے ہے۔
نووارد ...... اس میں شک ہی کیا ہے۔ لیجئے ! اس کے علاوہ مرزا قادیانی کی بے حیائی کی اور مثالیں سن لیں:
- ١....... ڈپٹی آتھم صاحب والے صریح وصاف معاملہ میں جس کی نسبت پنجاب ہندوستان
کے کل مذاہب والوں نے بیک زباں کہہ دیا کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ مرزا قادیانی حیاء کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کی نسبت کیا کہتے ہیں:
- الف ....... ”منجملہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نشانوں کے آتھم والا نشان ہے۔“
(نزول المسیح ص ١٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٥٤١)
- ب....... ” آنکھ کھول کر دیکھو کہ آتھم والی پیشین گوئی اپنی تمام چمکوں کے ساتھ پوری ہو گئی ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
- ج....... ”تیسواں نشان آتھم کی نسبت ہے۔ جو بہت صفائی سے پورا ہوا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
١؎ یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے سالہا سال سے اشتہار دے رکھا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف مرزائیوں کی توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ میں پانچ صد روپیہ انعام اس مرزائی کو دوں گا۔ جو ثابت کر دے کہ مولوی غلام دستگیر مرحوم نے اپنی کتاب میں یہ لکھا تھا کہ جو جھوٹا ہوگا۔ وہ پہلے مرے گا۔
١١٢
- د....... ”بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم اپنی میعاد میں نہیں
(توجہہ
- ہ....... ”اور اس بات کو کسی نے نہ سوچا کہ پیشین گوئی کا ا
(نزو
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب یہ تو بالکل فضول اور لغو
نووارد ...... ہاں قاضی صاحب برخلاف کلام بزرگان دین اس بھی بہت ہوتے تھے۔ سنئے :
- ١....... ”دمشق کے لفظ سے دمشق ہی مراد رکھنا دعوے ب
(ا
- ٢....... ”ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون
کہ آنحضرت کے بعض صحابہ لڑائیوں میں شہید ہوئے تھے ص ٥٦٨ حاشیہ ) حالانکہ ( تقریریں ص ٣٦) پر لکھتا ہے کہ ”جولو پر چلیں گے۔ وہی محفوظ رہیں گے۔ خدا کا وعدہ ایسے ہی لو اپنے اندر کرتے ہیں۔“ پھر (حقیقت الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعا
کچھ بنیں طاعون کی صورت کچھ ذرا
اب مرزے کا یہ مذکورہ بالا کلام لغو ہے کہ ادھر علیہ السلام کی طرح اپنے پر ایمان نہ لانے والوں کے لئے پر ایمان لائے ہوئے کیوں طاعون سے ہلاک ہوئے؟ پ اصحاب کے دینی لڑائیوں میں شہید ہونے سے مشابہت دی
- ٣....... ”اگر یہ عاجز مسیح ہونے کے دعوے میں غلط
موعود جو آپ کے خیال میں ہے۔ انہی دنوں میں آسمان
ہمارا بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید
١١٣
- ......٤ ”بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم اپنی میعاد میں نہیں مرا لیکن وہ جانتے ہیں کہ مر تو گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص١١٨،خزائن ج٢٢ ص٥٥٢)
- ......٥ ”اور اس بات کو کسی نے نہ سوچا کہ پیشین گوئی کا اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صادق کی
زندگی میں مرے گا۔“
(نزول المسیح ص١٧٩،خزائن ج١٨ ص٥٧٢)
قاضی صاحب...... مولوی صاحب یہ تو بالکل فضول اور لغو کلمات ہیں۔
نووارد...... ہاں قاضی صاحب برخلاف کلام بزرگان دین اسلام مرزا قادیانی کی کلام میں لغویات بھی بہت ہوتے تھے۔ سنئے:
- ......١ ”دمشق کے لفظ سے دمشق ہی مراد رکھنا دعوے بے دلیل اور التزام مالم یلزم ہے۔“
(ازالہ حصہ اول ص٦١،خزائن ج٣ ص١٣٣)
- ......٢ ”ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہی ہے۔ جیسا
کہ آنحضرتؐ کے بعض صحابہ لڑائیوں میں شہید ہوئے تھے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص١٣١،خزائن ج٢٢ ص٥٦٨ حاشیہ) حالانکہ (تقریریں ص٣٦) پر لکھتا ہے کہ ”جو لوگ خدا کے بتلائے ہوئے صراطِ مستقیم پر چلیں گے۔ وہی محفوظ رہیں گے۔ خدا کا وعدہ ایسے ہی لوگوں کی حفاظت کا ہے۔ جو سچی تبدیلی اپنے اندر کرتے ہیں۔“ پھر (حقیقت الوحی ص٢٢٤،خزائن ج٢٢ ص٢٣٥) پر لکھتا ہے: ”حمامة البشریٰ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعا کی ہے۔ اور یہ شعر اسی کا ہے:
کچھ بنیں طاعون کی صورت کچھ زلازل کے بخار
(درثمین ص٨٨)
اب مرزے کا یہ مذکورہ بالا کلام لغو ہے کہ ادھر تو کہتا ہے کہ میں نے گویا حضرت نوح علیہ السلام کی طرح اپنے پر ایمان نہ لانے والوں کے لئے بددعا کی اور جب اعتراض ہوا کہ پھر تجھ پر ایمان لائے ہوئے کیوں طاعون سے ہلاک ہوئے؟ تو کیسا بیہودہ اس معاملہ کو آنحضرت کے اصحاب کے دینی لڑائیوں میں شہید ہونے سے مشابہت دیتا ہے۔
- ......٣ ”اگر یہ عاجز مسیح ہونے کے دعوے میں غلطی پر ہے تو پھر آپ لوگ کچھ کریں کہ مسیح
موعود جو آپ کے خیال میں ہے۔ انہی دنوں میں آسمان سے اتر آوے۔“
(ازالہ حصہ اول ص١٥٤،خزائن ج٣ ص١٧٩)
ہمارا ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
١١٣
قیامت کی نشانی ہیں۔ یعنی ان کا نزول ثابت کرے گا کہ قیامت آئی۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جب قیامت قریب ہوگی۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مسیح تو میں آ گیا۔ اگر مجھے نہیں مانتے تو اس شخص کو آسمان سے اتار لو جس کی نسبت تمہارا عقیدہ ہے کہ خدا اس کو قیامت کے قریب اتارے گا۔ قاضی صاحب اس سے بڑھ ہرزہ سرائی کیا ہو سکتی ہے؟ کیا مرزا قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت قائم کر دینا ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتار لیں۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب اس کو مختصر کریں۔
نووارد ...... نہیں قاضی صاحب! آپ سینہ پر پتھر رکھیں اور سنیں کیونکہ یہ میرے بیانات بابو صاحب پر مرزا قادیانی کی اصلیت روشن کرنے کے لئے ہیں۔ آپ کو اگر قے آئے تو باہر جا کر کر آئیں۔ ورنہ طبیعت بحال کرنے کے لئے الائچی موجود، پان موجود۔
قاضی صاحب ...... اچھا بابو صاحب! اگر مولوی صاحب اس مضمون کو ختم نہیں کرتے تو مجھے ایک الائچی والا پان بنا دیں اور تھوڑا سا تمباکو بھی اس میں ڈال دیں۔
نووارد ...... (٤) ”اگر اس میں میں جھوٹا نکلوں تو جو سزا آپ تجویز کریں خواہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو مجھے منظور ہے۔“ (جنگ مقدس ص ٦٨، خزائن ج ٦ ص ٢٥٧) مرزا قادیانی کو امتحان مختار کاری میں فیل ہی ہو چکے تھے۔ اتنا تو جانتے ہوں گے کہ کسی شخص کی موت پر راضی ہو جانے پر بھی انگریزی قانون کے مطابق کوئی اس کو ہلاک نہیں کر سکتا۔ پھر اگر یہ کلام اشد درجہ کا لغو نہیں تو اور کیا ہے؟ ہاں سکھوں کے زمانہ کی سزا کہ یا پنج سیر پیاز کھا یا دس من بوجھ سر پر رکھ کر تمام دن کھڑا رہ۔ یا پانچ سو درے (سزا دینے کے لئے ایک چمڑی کی چیز) انگریزی عملداری میں بھی اگر کوئی منظور کرے تو سرکار اس میں دست اندازی نہیں کرتی۔
قاضی صاحب اب تو آپ نے پان کھا لیا اور طبیعت بہتر ہو گئی۔ ایمان سے فرمائیے کہ اگر مرزا قادیانی سچا ہوتا تو کیا پیشین گوئی پوری نہ ہونے کی صورت میں ایسی سزا اپنے لئے تجویز کرتا؟ جس کو کوئی معزز شریف آدمی عملداری سرکار میں عمل میں نہ لا سکتا اور حاکم کے لونڈے ایک فرضی مسیح موعود بنا کر اس پر اپنے دل کے حوصلے نکالتے۔
...... ٥ ”سچے مسیح اور مہدی کا نہ آسمان پر کچھ پتہ چلتا ہے نہ زمین پر۔ ہزار جتن کرو وہ دونوں گم شدہ جواب ہی نہیں دیتے کہ زندہ ہیں یا مردہ اور کدھر ہیں اور کہاں ہیں؟“
(نزول المسیح ص ٤٣، خزائن ج ١٨ ص ٤١٢)
١١٤
...... ٦
وہ خدا سے پوچھ لے میرا نہیں
...... ٧ کیا اس میں کچھ جھوٹ ہے کہ جو ابن مریم کی ہے۔ قاضی صاحب اگر مرزا قادیانی بغیر باپ کے پیدا ہو
گہوارہ میں باتیں غربت اور مسکینی میں عمر عمر بھر کوئی عمارت شادیاں نہیں کیں دیہہ بدیہہ پیدل پھر کے تبلیغ جنگل میں پتے وغیرہ کھا کر لباس کمبل یا ٹاٹ کا پہنتے۔ جوتیوں کی جگہ درخو سر میں نہ تیل ڈالتے نہ کنگھا کرتے۔ تو مسل ہے۔ لیکن مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ ا کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھیں۔“
(ا
”یوسف کی ایک بیوی موجود تھی اور شریعت دوسری بیوی جائز نہ تھی۔ لیکن قوم کے بزرگ مجبور ہو یوسف سے کرا دیں اور بعد نکاح کے جتنی اولاد مریم ک السلام کے سگے بہن بھائی تھے۔“
(خلاص
دوسرا نام اس کتاب کا تقویۃ الایمان مطلب کی زانیہ تھیں! پھر باقی کل اولاد حضرت مریم کی بھی ناجائ اللہ ) کیا مرزا قادیانی اس مسیح کے مثیل تھے؟
اس وقت کا نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ب کے منہ میں آیا اس نے صرفہ نہ کیا۔ بابو صاحب جو تھوڑ پر مصر تھے۔ گالیوں سے درجہ دوم پر تھے اور مرزے ہ ١١٥
......٦
وہ خدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار
(درثمین ص ٨٧)
- ٧...... کیا اس میں کچھ جھوٹ ہے کہ جو ابن مریم کی خاصیتیں رکھتا ہے۔ وہ ابن مریم ہی
ہے۔ قاضی صاحب اگر مرزا قادیانی بغیر باپ کے پیدا ہوتے ،
غربت اور مسکینی میں عمر بسر کرتے
عمر بھر کوئی عمارت نہ بناتے
شادیاں نہیں شادی کرتے
دیہہ بدیہہ پیدل پھر کے تبلیغ توحید کرتے
جنگل میں پتے وغیرہ کھا کر گزارہ کرتے
لباس کمبل یا ٹاٹ کا پہنتے ۔ جوتیوں کی جگہ درختوں کی چھال پیروں سے لپیٹتے ۔
سر میں نہ تیل ڈالتے نہ کنگھا کرتے ۔ تو مسلمان خود بخود کہہ اٹھتے کہ یہ شخص مسیح ثانی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھیں ۔“
(ایام الصلح ص ٢٦٠ ، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٠ حاشیہ )
”یوسف کی ایک بیوی موجود تھی اور شریعت موسوی میں ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی جائز نہ تھی۔ لیکن قوم کے بزرگ مجبور ہوئے کہ عین حمل میں بعد از حمل مریم کا نکاح یوسف سے کرادیں اور بعد نکاح کے جتنی اولاد مریم کی یوسف سے ہوئی۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سگے بہن بھائی تھے۔“
(خلاصہ مضمون ص ١٦ کشتی نوح ، خزائن ج ١٩ ص ١٨، ١٩)
دوسرا نام اس کتاب کا تقویۃ الایمان مطلب یہ کہ حضرت عیسیٰ حرامی تھے اور والدہ ان کی زانیہ تھیں اور باقی کل اولاد حضرت مریم کی بھی ناجائز نکاح کی اولاد تھی ۔ یعنی حرامی تھی ۔ (معاذ اللہ ) کیا مرزا قادیانی اس مسیح کے مثیل تھے؟
اس وقت کا نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اول تو سب توبہ توبہ پکار اٹھے ۔ پھر جو جس کے منہ میں آیا اس نے صرفہ نہ کیا ۔ بابو صاحب جو تھوڑی مدت پہلے نووارد سے تہذیب میں رہنے پر مصر تھے۔ گالیوں سے درجہ دوم پر تھے اور مرزے نے یہ آڑ لے کر کہ انہوں نے غدر کرایا جتنی
١١٥
گالیاں علمائے اسلام کو دے کر دل خوش کیا تھا۔ وہ قاضی صاحب کی ہرزہ بازی کی عشر عشیر نہ تھیں اور اس وقت محفل ایسی بدمزہ ہو گئی کہ نووارد اور قاضی صاحب بلا انتظار منظوری اجازت اٹھ کر چل دیئے۔ دوسرے دن دروازہ پر دستک۔
گاموں ....... آؤ جی لنگھ آؤ۔ بابو جی مسیتی نماز پڑھن گئے ہوئے ہن۔ ہنے آ جاندے جے۔
نووارد اور قاضی صاحب اندر داخل ہو کر السلام علیکم!
بیوی ....... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ! چلئے اندر تشریف لے چلئے۔ وہ بھی صبح سے آپ صاحبان کا انتظار کرتے کرتے ابھی آدھ گھنٹہ ہوا نماز کے واسطے گئے ہیں۔
بابو صاحب ....... (گھر میں وارد ہو کر) گاموں جا دیکھ کیا معاملہ ہے؟ آج وہ کیوں نہیں آئے؟
بیوی ....... (نووارد سے) لو وہ آگئے اور بآواز بلند اجی وہ آئے بیٹھے ہیں۔
بابو صاحب ....... (اندر داخل ہو کر) السلام علیکم!
نووارد و قاضی صاحب ....... وعلیکم السلام!
بابو صاحب ....... (کپڑے اتارتے ہوئے) کیوں جی آج خیر تو ہے؟
نووارد ...... قاضی صاحب قیلولہ کے عادی ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ظہر کی نماز کے بعد حاضر ہوا کریں گے۔ ظہر سے عصر یا مغرب تک آج کل کافی وقت ہوتا ہے۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب جس قدر زیادہ وقت آپ مجھے دیں۔ وہ آپ کی مہربانی میں داخل ہوگا۔ آپ نے تو میری عاقبت سنوار دی۔
بیوی ...... مولوی صاحب! میں ان کو مرزائی مذہب میں دیکھ کر سوچتی تھی کہ خدایا کیا تو نے چاند کو گرہن لگا دیا۔
نووارد ...... بیوی جی! میرے غصہ کی بھی کچھ حد نہیں رہتی جب میں دیکھتا ہوں کہ اس فرقہ میں ایسے ایسے نیک اور زاہد اور عابد شامل ہیں کہ ان کے مقابلہ میں مرزے کا بناوٹی اور دکھلاوے کا اتقاء کچھ شے نہیں اور اس وقت میں خدا کی قدرت پر حیران ہوتا ہوں کہ جو شخص دل سے مسلمان اور خدا اور رسول کا سچا عاشق وہ اس دہریئے اور بناوٹی مسلمان کی کفش برداری پر فخر کرے۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب چلئے کل کا اپنا مضمون ختم کیجئے۔
نووارد ...... ہاں! بابو صاحب کل کا میرا مضمون یہ تھا کہ مرزے نے کہا ہے کہ کیا اس میں کچھ جھوٹ
١١٦
ہے؟ کہ جو ابن مریم کی خاصیتیں رکھتا ہے۔ وہ ابن مریم ہی ہے۔ ہماری کتابوں سے جو ابن مریم کی خاصیتیں ثابت ہیں۔ وہ میں نے کل بیان کر دیں۔ اب میں ابن مریم کی وہ خاصیتیں بیان کرتا ہوں جو مرزے نے بیان کیں۔ ایک تو میں کل بیان کر چکا کہ توبہ نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حرامی تھے اور والدہ ان کی زانیہ اور بہن بھائی ناجائز نکاح کی اولاد۔
- ٢...... ”سخت کلامی کی وجہ سے منہ پر طمانچے کھائے۔“ (ازالہ اول ص ١٦، خزائن ج ٣ ص ١١٠)
- ٣...... ”عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“
(ازالہ اول ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)
- ٤...... ”مسیح کا یہ کہنا ہے کہ میں نیک نہیں ہوں۔“ (ازالہ اول ص ٥، خزائن ج ٣ ص ١٠٨)
- ٥...... ”ایلی ایلی کہتے جان دی۔ بصد حسرت اس عالم کو چھوڑا۔“ (تذکرہ ص ٩١ طبع سوم)
- ٦...... ”ذلت کے ساتھ پکڑا گیا۔ سولی پر کھینچا گیا۔ ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا
مر گیا۔ حوالات میں ہو کر...... ہتھکڑی ہاتھ میں۔ زنجیر پاؤں میں۔ چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر چھڑکیاں کھاتا ہوا گلیل کی طرف روانہ ہوا۔“ (ست بچن ص ١٦٠، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٤ ملخص)
- ٧...... ”اور اس سے عجیب تر یہ کہ کفارہ یسوع کی نانیوں دادیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا۔
حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا اور یہ دادیاں نانیاں صرف ایک دو نہیں۔ بلکہ تین ہیں۔ چنانچہ یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی یعنی راحاب کسبی یعنی کنجری تھی۔“ دیکھو (یسوع ١، ٢) اور دوسری نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی۔ اس کا نام ثمر ہے۔ یہ خانگی بدکار عورتوں کی طرح حرام کار تھی۔ دیکھو پیدائش (٣٨، ١٦، ٣٠) ایک نانی یسوع کی جو ایک رشتہ سے دادی بھی تھی۔ بنت سبع کے نام سے موسوم ہے۔ یہ وہی پاک دامن تھی۔ جس نے داؤد کے ساتھ زنا کیا تھا۔ دیکھو (سموئیل ١١، ٢)
”دیکھو وہ کیسے شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ حالانکہ اس کو مناسب نہ تھا۔ یہی حرکت تھی جس کی وجہ سے ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو اس نے روکا کہ مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟“ (ست بچن ص ١٢٩، ١٢٨، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٢، ٢٩٣ ملخص)
١؎ سنا ہے مثیل مسیح صاحب بھی لاہور جایا کرتے تھے تو وہاں گارڈ اور پولیس ہمراہ رہتی تھی۔
٢؎ بھلے مانس ریش سفید ہو گئی۔ فاعل مفعول کی شناخت نہ آئی۔ عورت فاعل ہوا کرتی ہے یا مفعول؟ کیا یہ کوئی قادیانی اصطلاح ہے؟
١١٧
بابو صاحب میں کچھ یہاں جملہ معترضہ کے طور پر اور بھی بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ دروغگو را حافظہ نباشد کے کیا معنی ہیں؟ مرزے کی تقریر کے ص ١٠ کو ملاحظہ کیجئے۔ اس معاملہ کو کس طرح بیان کرتا ہے: ”یہی امر ہے کہ جب حضرت عیسیٰ کو کہا گیا کہ اے نیک استاد تو چونکہ ان کو علم تھا کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو نیک نہ کرے۔ وہ نیک نہیں ہو سکتا۔ اس لئے فوراً انکار کیا اور اسے کہہ دیا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے۔ تا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں نیکی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہوں۔ حقیقی نیکی تو خدائے تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ جب چاہے۔ اپنے فضل سے عطاء کرے۔ جب چاہے شامت اعمال کے سبب سلب کرے۔ حالانکہ حضرت مسیح نے بہت ہی لطیف بات کہی تھی جو انبیاء علیہم السلام کی فطرت کا خاصہ ہے۔
- ٨....... ”مرگی کے مبتلا اکثر شیاطین کو اسی طرح دیکھا کرتے ہیں۔ یسوع دراصل مرگی کی
بیماری میں مبتلا تھا اور اسی وجہ سے ایسی خوابیں دیکھا کرتا تھا۔“
(ست بچن ص ١٥، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٤)
- ٩....... ”ایسے عامل ہمیشہ شراب اور پلید چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں اول درجہ کے شرابی
اور کھاؤ پیو ہوتے ہیں۔“
(ست بچن ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)
- ١٠....... ”بات یہ ہے کہ کبوتر کا رنگ سفید ہوتا ہے اور بلغم کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے۔ سو وہ بلغم
کبوتر کی شکل پر نظر آ گئی ۔“
بابو صاحب میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نقشہ جو مسلمانوں نے کھینچا ہوا ہے۔ وہ بھی بیان کر دیا۔ جو مرزا قادیانی نے کھینچا ہے وہ بھی بیان کر دیا۔ اب کسی مرزائی سے پوچھیں کہ مرزا قادیانی کون سے مسیح سے مشابہت رکھتے تھے اور کس کس بات میں۔ کیونکہ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ میں اور مسیح ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ ہاں اس بات کا خیال رہے کہ تقویت الایمان میں آپ حضرت مسیح کو حرامی ثابت کر چکے ہیں اور ست بچن میں ان کی نانیوں، دادیوں کی بد کاریوں کی وجہ سے ان کے گوہر فطرت پر داغ لگا چکے ہیں۔
بابو صاحب....... اس سوال کا نصف جواب تو میں آپ کو دے دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پہلی قسم کے مسیح سے قیامت تک بھی کوئی مشابہت مرزے کی ثابت نہیں ہو سکے گی۔ باقی نصف کا جواب مرزائیوں کے ذمہ ہے۔
- ١؎ مرزا قادیانی آپ اردو کی مٹی کیوں پلید کر رہے ہیں۔ آخر اس بے چاری کا کچھ قصور؟
- ٢؎ مرزا قادیانی بے ادبی معاف آپ اردو لکھ رہے ہیں یا پنجابی۔ اگر اردو نہیں جانتے تو اپنی
قادیانی میں کیوں نہیں لکھتے؟
١١٨
- ١٨....... ”آگ آگ کو معدوم کر دیتی ہے۔“
(قادیاں کے
- ١٩....... ”یاد رکھنا چاہئے کہ اس درجہ کا انسان فقط اس ا
رات میں دور سے ایک آگ کا دھواں دیکھتا ہے۔“
قاضی صاحب....... مرزا قادیانی اپنی کلام کو مبالغہ سے ک سے دھواں دیکھتا ہے۔ کہنا کافی تھا۔ لیکن انہوں نے اندھیر معنی کر دیا۔
نووارد....... قاضی صاحب یہاں تو اپنے اشد دشمن ڈاکٹ فرما رہے ہیں کہ اس کے الہام اور خواب ایسے ہیں اور خدا ہی زور لگا دینا چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی معمولی باتوں میں مثلاً ”مریم عیسیٰ کا قریباً طب کی ہزار کتاب میں ذکر ہے۔“
- ❖ میں وہ ہوں جس کی بعض پیشین گوئیوں
”میں سچ سچ کہتا ہوں میری جماعت کی ایسی ت ہے۔“
(قادیان
”اس غم سے میں محسوس نہیں کر سکتا تھا کہ میں
(قادیان
”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کئی کروڑ ہوگا۔“
”دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک
قربان جائیے اس مجدد کے اور اس کی تق ڈیڑھ ارب ہے۔ یعنی ١٥٠ کروڑ۔ دن رات کے گھنٹے تو ایک دن اور رات میں ٤٨ کروڑ انسان مر کر چار دن ہو گیا۔ اور جوان چار دنوں میں بچے زندہ اور پورے ا اور بلا خوراک رہ جانے کی وجہ سے چوتھے دن کی ش
١١٩
- ١٨...... ”آگ آگ کو معدوم کر دیتی ہے۔“
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٤٧، خزائن ج ٢٠ ص ٤٤٨)
- ١٩...... ”یاد رکھنا چاہئے کہ اس درجہ کا انسان فقط اس انسان کی طرح ہے کہ جو ایک اندھیری
رات میں دور سے ایک آگ کا دھواں دیکھتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣)
قاضی صاحب...... مرزا قادیانی اپنی کلام کو مبالغہ سے بھی لغو کر دیتے تھے۔ اس کلام میں دور سے دھواں دیکھتا ہے۔ کہنا کافی تھا۔ لیکن انہوں نے اندھیری رات کے لفظ ساتھ لگا کر کلام کو بے معنی کر دیا۔
نوارد...... قاضی صاحب یہاں تو اپنے اشد دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی نسبت مرزا قادیانی فرمارہے ہیں کہ اس کے الہام اور خواب ایسے ہیں اور ضد اور عداوت میں تو انسان کو بے شک سارا ہی زور لگا دینا چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی معمولی باتوں میں بھی مبالغہ کرنا بہت پسند کرتے تھے۔ مثلاً ”مرہم عیسیٰ کا قریباً طب کی ہزار کتاب میں ذکر ہے۔“
(ایام الصلح ص ٤٤، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٣)
﴿ ﴾ میں وہ ہوں جس کی بعض پیشین گوئیوں اور معجزات کے کروڑ ہا انسان گواہ ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٨٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٦١)
”میں سچ سچ کہتا ہوں میری جماعت کی ایسی ترقی ہوئی جیسے ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔“
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ١١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤٢٦)
”اس غم سے میں محسوس نہیں کر سکتا تھا کہ میں زندہ ہوں یا مر گیا۔“
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٢٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣٩)
”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کئی کروڑ ایسے بندے ہوں گے۔ جن کو الہام ہوتا ہوگا۔“
(ضرورۃ الامام ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٤)
”دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مرجاتے ہیں۔“
(تقویۃ الایمان ص ٣٧، خزائن ج ٩ ص ٤١)
قربان جائیے اس مجدد کے اور اس کی تقویت الایمان کے۔ ساری دنیا کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے۔ یعنی ١٥٠ کروڑ۔ دن رات کے گھنٹے ٢٤۔ کروڑ ہا کے معنی اگر صرف دو کروڑ لیں۔ تو ایک دن اور رات میں ٤٨ کروڑ انسان مر کر چار دن میں حضرت انسان کا صفایا سطح زمین سے ہوگیا۔ اور جو ان چار دنوں میں بچے رہے اور پورے ٩ ماہ کے ہو کر پیدا ہوئے۔ وہ بھی بلا حفاظت اور بلا خوراک رہ جانے کی وجہ سے چوتھے دن کی شام تک بھوک سے ہلاک ہوگئے۔ یا درند،
١١٩
جانوروں کے پیٹ میں چلے گئے۔ قاضی صاحب دیکھئے مرزا قادیانی نرے خاصے لال بجھکڑ ہیں یا نہیں۔ جن کو آپ کی زبان میں کاکا گئی کہتے ہیں کہ ساری مخلوق خدا کی چار دن میں مار دی۔ مگر امام الزمان صاحب کی بلا جانے کہ تمام دنیا کی آبادی ہے کتنی؟ آیا یہ درست نہیں کہ ”قریباً دس کروڑ کتابیں رد اسلام میں تالیف ہوئیں۔“
(ایام الصلح ص ٩٠، ٩١، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٥)
”جس کو تم ایک سیکنڈ میں ہزار ہا ہزار سجدے کر رہے ہو۔“
(فتح اسلام ص ٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٣)
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب بس کیجئے۔ بس کیجئے! کہیں یہ عادت ہم میں نہ سرایت کر جائے۔
نووارد ...... اچھا اس مضمون کو جانے دیجئے اور سنئے۔ مرزا قادیانی آیات کے معنے اپنے مطلب کے نکال لیا کرتے تھے۔ مثلاً (ایام الصلح ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦، ٤١٧) پر مرزا قادیانی نے اس اعتراض کے جواب میں کہ باوجود استطاعت کے حج کیوں نہیں کرتے۔ لکھتے ہیں: ”کہ چونکہ مسلمان اہل مکہ سے میری نسبت کفر کا فتویٰ لکھا لائے ہیں۔ اس لئے بموجب آیت: ”ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة“ یعنی دانستہ اپنے تئیں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ میں حج کو نہیں جا سکتا۔“ اب میری عرض سنیں:
اوّل تو مرزا قادیانی (کشف الغطاء ص ١، خزائن ج ١٤ ص ١٧٩) پر لکھتے ہیں: ”ملک عرب میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔“ اور (ص ٧ سچائی کا اظہار، خزائن ج ٦ ص ٧٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”عرب کے متبرک مقامات مکہ اور مدینہ کے جگر گوشہ اور فاضل مستند اس عاجز کے ساتھ شامل ہوتے جاتے ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٤) پر لکھتے ہیں: ”عرب خوشی سے اچھلنے لگے کہ اب مہدی پیدا ہو گیا۔“ اور (قادیان کے آریہ اور ہم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٤٢٢) پر لکھتے ہیں: ”اس رسالہ کے لکھنے کے وقت ملک مصر سے یعنی مقام اسکندریہ سے کل ٢٣؍ جنوری ١٩٠٧ء کو ایک خط بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا۔ لکھنے والا ایک معزز بزرگ اس شہر کا ہے۔ یعنی اسکندریہ کا جن کا نام احمد زبیری بدرالدین ہے۔ خط محفوظ ہے۔ جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں آپ کو یہ خوش خبری دیتا ہوں کہ اس ملک میں آپ کے تابع اور آپ کی پیروی کرنے والے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ جیسے بیاباں کی ریت اور کنکریاں اور لکھتے ہیں کہ میرے خیال میں کوئی ایسا باقی نہیں، جو
١٢٠
آپ کا پیرو نہیں ہو گیا۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٧) پر لکھتے ہیں ”اشجع الناس“ اور ”والله يعصمك من ا کچھ خطرہ نہ تھا۔ لیکن میرا مطلب یہ سب کچھ عرض کرنے کا یہ م لوگوں کو دھوکہ دیا اور مجھے اس بات کی مرزے سے سخت شکایت لوگوں کو فریب دیتا رہا اور ان کا ناجائز استعمال کرتا رہا۔ اگر وہ میں جھوٹے الہام نہ گھڑتا اور نہ آیات کی تحریف کرتا۔
یہ آیت پارہ ٢ رکوع ٨ میں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے باہر جانے سے جی چراتے تھے۔ تہدید کرتا ہے کہ جہاد سـ ڈالو۔ یعنی اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلو گے تو سمجھو کہ تم نے خود ا قادیانی بجائے اس آیت سے شرمانے کے اس کو حج کے واسطے ہیں۔
بابو صاحب ...... قاضی صاحب خدا تعالیٰ نے اپنی حلو اگر ایک کو جھوٹے نبی بننے کے لئے دیا تو ایک کو اس کو پکڑ میرا آپ کا ان دونوں کاموں کے لئے نہیں۔
نووارد ...... بابو صاحب سنئے! مرزا قادیانی بزرگوں کی ہتک ”تمام مردے خدا میرے پیروں کے نیچے ہیں
(اشتہـ
گویا کل اہل قبور آپ کے پاؤں کے نیچے ہیں ”ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی ر
قاضی صاحب آپ شاید نہ جانتے ہوں کہ ہما ہی الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔ (اعلان اخیر ضمیمہ حقیقت الو لکھتے ہیں: ”اے پادری صاحبان ...... اس محبت کو یاد دلا زعم میں حضرت یسوع مسیح ابن مریم سے رکھتے ہیں۔“ ہا علیہ السلام کی شان میں سن لیں اور پھر اس کے ساتھ دعویٰ
١٢١
آپ کا پیرو نہیں ہو گیا۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٧) پر لکھتے ہیں: ”نبی بہادر ہوتے ہیں۔“ ”اشجع الناس“ اور ”واللہ یعصمک من الناس“ کے الہام والے کو وہاں کچھ خطرہ نہ تھا۔ لیکن میرا مطلب یہ سب کچھ عرض کرنے کا یہ ہے کہ مرزے نے اس آیت سے لوگوں کو دھوکہ دیا اور مجھے اس بات کی مرزے سے سخت شکایت ہے کہ آیات قرآن سے وہ ہمیشہ لوگوں کو فریب دیتا رہا اور ان کا ناجائز استعمال کرتا رہا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو ہرگز قرآنی آیات میں جھوٹے الہام نہ گھڑتا اور نہ آیات کی تحریف کرتا۔
یہ آیت پارہ ٢ رکوع ٨ میں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو جو جہاد کے لئے گھر سے باہر جانے سے جی چراتے تھے۔ تہدید کرتا ہے کہ جہاد سے باز رہ کر اپنے تئیں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ یعنی اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلو گے تو سمجھو کہ تم نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور مرزا قادیانی بجائے اس آیت سے شرمانے کے اس کو حج کے واسطے باہر نکلنے کے عذر میں پیش کر رہے ہیں۔
بابو صاحب ...... قاضی صاحب خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو مختلف قسم کے دماغ دے دیئے۔ اگر ایک کو جھوٹے نبی بننے کے لئے دیا تو ایک کو اس کو پکڑنے کے لئے دیا۔ مگر خندہ کر کے۔ میرا آپ کا ان دونوں کاموں کے لئے نہیں۔
نووارد ...... بابو صاحب سنئے! مرزا قادیانی بزرگوں کی ہتک میں بڑے بے باک تھے۔ مثلاً ”تمام مردے خدا میرے پیروں کے نیچے ہیں۔ یعنی قبروں میں۔“
(اشتہار بعد ضمیمہ انجام آتھم ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٦)
گویا کل اہل قبور آپ کے پاؤں کے نیچے ہیں۔ ”ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
قاضی صاحب آپ شاید نہ جانتے ہوں کہ یسوع کون تھا؟ اس لئے مرزا قادیانی کے ہی الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔ (اعلان اخیر تتمہ حقیقت الوحی ص ٨، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اے پادری صاحبان ...... اس محبت کو یاد دلاتا ہوں اور قسم دیتا ہوں جو آپ لوگ اپنے زعم میں حضرت یسوع مسیح ابن مریم سے رکھتے ہیں۔“ بابو صاحب یہ الفاظ شریر و مکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں سن لیں اور پھر اس کے ساتھ دعویٰ اسلام کا بھی ہے۔
١٢١
”حضرت عیسیٰ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
اس سے پایا گیا کہ یا تو اسلام کا اتنا بڑا پیغمبر شرک جیسے گناہ کا عادی تھا اور یا جھوٹ بولنا گناہ ہی نہیں۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب ہم بھی کیسے بے غیرت ہیں کہ اس شخص کو مرزا صاحب کہتے ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے پیغمبر کو شریر، مکار اور جھوٹا کہتا ہے اور اپنے سے پہلے مدفونوں کو اپنے پاؤں کے نیچے بیان کرتا ہے۔
نووارد ....... بابو صاحب آج کے بعد انشاء اللہ آپ میرے منہ سے یہ لفظ اس شخص کے واسطے کبھی نہیں سنیں گے۔ ایک مثال اور لیجئے۔ ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
قاضی صاحب ....... بڑے جوش و خروش میں لہجے۔ بابو صاحب اس شخص کے واسطے خدا نے غیب سے ایک اور بنا بنایا فیصلہ دے دیا۔ یہی ہم سب کا فیصلہ ہے اس شخص کے حق میں سب طرف سے بیشک بیشک کی آواز۔
قاضی صاحب ....... گاموں بس تالیاں بجانا چھوڑ اور مولوی صاحب کے واسطے ایک چلم بھر لا۔ حقہ بھی ٹھنڈا کرلا۔
نووارد ....... قاضی صاحب خدا بڑا بے نیاز ہے۔ ہمیشہ آپ کو بنے بنائے فیصلے دے دیتا ہے۔ مگر مجھے اسی قسم کی بزرگوں کی توہین کی ایک اور مثال یاد آگئی۔ قاضی صاحب اسے ضرور سنئے گا۔ (نزول المسیح ص ٤٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣، ٤٢٤) پر لکھتا ہے: ”امام حسینؓ سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔“
قاضی صاحب ....... تھوڑی دیر ہونٹوں میں کچھ کہہ کر۔ میں حیران ہوں کہ یہ شخص اپنی بڑائی تو کرتا تھا۔ مگر ہمارے بزرگوں کی تحقیر کیوں کرتا تھا؟
نووارد ....... قاضی صاحب اس کی وجہ آپ نہیں سمجھے۔
قاضی صاحب ....... یہ کارروائی میری سمجھ میں تو نہیں آئی۔
نووارد ....... تو میں آپ کو بتاؤں، سنئے! ایک شخص نے یہ دیکھ کر کہ ایک زمیندار اپنے کھیت میں سے بڑی محبت سے گھاس چن چن کر نکال رہا ہے۔ اس سے دریافت کیا کہ اس فعل عبث پر کیوں
١٢٢
اتنی محنت کر رہا ہے۔ زمیندار نے جواب دیا کہ یہ گھاس اس غلہ میں بیجا ہے۔ وہ سوتیلا ہے۔ پس جب تک اس کا حقیقی پودا قائم رہے محال۔ مرزے کو بھی یہی خیال تھا کہ جب تک ان لوگوں کی عظمت قائم ہے۔ میری عزت جیسی کہ میں چاہتا ہوں۔ ہرگز نہ عزت ان کے دلوں میں بدستور قائم رہی۔ تو بہت کریں سمجھیں گے۔ بڑھ کر ہرگز نہ سمجھیں گے۔ اس لئے اس نے ان کے برابر قرار دیا۔ ”حضرت علیؓ کے بارے میں کہا کہ اگر میں عزت کرتا۔“
سادات کو کہا کہ وہ میری کفش برداری پر فخر کریں
داد آں جام را بتمام
اور (نزول المسیح ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہہ دی کہ وہی میرا نام داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین باباؤں کی ریش سے بازی کرنے کے بعد آپ کی توجہ آ صاف صاف اپنی فضیلت آپ پر بیان کرنی آپ کو خطرہ واسطے ایچ پیچ کئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح تو پیغمبرم۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بڑھ کر غلام
”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب (خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) پارہ ١٥ رکوع ٩ میں اللہ تعالیٰ آنحضر ربک مقاما محمودا ”یعنی تعجب نہیں کہ تہجد کی بر مقام محمود میں پہنچائے۔“ مرزا قادیانی اپنے الہام (ا لکھتے ہیں: ”اراد اللہ ان یبعثک مقاما محمود پہنچادے۔“
ان دونوں کلاموں میں فرق ملاحظہ ہو۔
١٢٣
اتنی محنت کر رہا ہے۔ زمیندار نے جواب دیا کہ یہ گھاس اس زمین کا حقیقی بیٹا اور جو کچھ میں نے اس میں بیجا ہے۔ وہ سوتیلا۔ پس جب تک اس کا حقیقی بیٹا قائم ہے۔ سوتیلے بیٹے کی پرورش پورے طور محال۔ مرزے کو بھی یہی خیال تھا کہ جب تک ان لوگوں کے دلوں میں اپنے بزرگوں کی عزت وعظمت قائم ہے۔ میری عزت جیسی کہ میں چاہتا ہوں۔ ہرگز ہرگز جاگزیں نہیں ہوسکتی۔ اگر ان کی عزت ان کے دلوں میں بدستور قائم رہی۔ تو بہت کریں گے تو مجھے ویسا اور ان کے برابر سمجھیں گے۔ بڑھ کر ہرگز نہ سمجھیں گے۔ اس لئے اس نے آنحضرت کے صحابہ کا پایہ اپنے صحابہ کے برابر قرار دیا۔ ”حضرت علیؓ کے بارے میں کہا کہ اگر علی میرے زمانہ میں ہوتا تو میری بڑی عزت کرتا۔“
سادات کو کہا کہ وہ میری کفش برداری پر فخر کرتے ہیں۔ سارے پیغمبروں کا مجموعہ بنا۔
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور (نزول المسیح ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢) پر لکھتا ہے: ”پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے۔“ سب باباؤں کی ریش سے بازی کرنے کے بعد آپ کی توجہ آنحضرت کی طرف منعطف ہوئی۔ مگر یہاں صاف صاف اپنی فضیلت آپ پر بیان کرنی آپ کو خطرناک معلوم ہوئی اور اس لئے اس کام کے واسطے ایچ پیچ کئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح تو صاف صاف نہ کہا کہ عیسیٰ کیا است تا بنہد پا بمبرم۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے۔ مگر اس طرح کہ: ”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) پارہ ١٥ رکوع ٩ میں اللہ تعالیٰ آنحضرت کو فرماتا ہے: ”عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا“ یعنی تعجب نہیں کہ تہجد کی برکت سے تمہارا پروردگار قیامت کے دن تم کو مقام محمود میں پہنچائے۔“ مرزا قادیانی اپنے الہام (حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) پر یوں لکھتے ہیں: ”اراد الله ان يبعثك مقاما محمودا“ خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ تجھ کو مقام محمود پر پہنچادے۔“
ان دونوں کلاموں میں فرق ملاحظہ ہو۔ وہاں تہجد کی شرط یہاں بلا شرط۔ وہاں صرف
١٢٣
امکان، یہاں وعدہ ۔ وہاں قیامت کے دن، یہاں نقد ۔ ”میرا پاؤں وہاں ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہوتی ہیں۔“
”اس کی ایسی مثال ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبیؐ سے ظہور میں آئے ۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
”اگر خدائے تعالیٰ کے نشانوں کو جو میری تائید میں ظہور میں آچکے ہیں۔ آج کے دن تک شمار کیا جائے تو وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ٤٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)
اس کی مثالیں میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ آنحضرتؐ کے واسطے صرف چاند کو گرہن لگا۔ میرے واسطے چاند اور سورج دونوں کو وغیرہ وغیرہ۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب آپ کے خیال میں مرزا قرآن کا مطلب اور مضمون سمجھتا تھا یا نہیں؟
نو وارد....... ایسا ہی سمجھتا تھا۔ جیسا کہ میں یا آپ ترجمے اور تفسیریں دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اور یہ دعویٰ اس کا بالکل غلط تھا کہ میں قرآن کے حقائق و دقائق بیان کرنے کا معجزہ دیا گیا ہوں۔ یا الرحمٰن علمہ القرآن خدائے رحمٰن نے مجھے قرآن سکھا دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی تردید آپ اپنا فرض اولین سمجھتے تھے۔ ان میں آپ تمام عمر بمثل غوطے کھاتے رہے اور ان کی حقیقت نہ بیان کر سکے۔ چڑیوں کی نسبت کبھی کہا کہ تالاب کی مٹی کی تاثیر ہوگی۔ کبھی کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ مدت تک کام کرتا رہا۔ ممکن ہے کسی کل کے دبانے سے وہ اڑتی ہوں اور
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥ حاشیہ)
پر یوں لکھا :
”یہ واقعہ جو قرآن شریف میں مذکور ہے۔ اپنے ظاہری معنوں پر محمول نہیں۔ بلکہ اس سے کوئی خفیف امر مراد ہے۔ جو بہت وقعت اپنے اندر نہیں رکھتا۔“ اور
(ازالہ حصہ اول ص ٣٠٣ حاشیہ،
پر لکھا : ”مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں۔ جن کو حضرت عیسیٰ
خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
علیہ السلام نے اپنا رفیق بنایا۔ قرآن شریف میں جو سات زمینیں پیدا کئے جانے کا ذکر ہے۔ اس پر اسلام کے مخالف ہمیشہ سے حملہ کرتے آئے ہیں۔“
مرزے نے
(انجام آتھم ص ٢٦٣، خزائن ج ١١ ص ٢٦٣)
پر جو اس کا جواب دیا ہے وہ یہ ہے۔ شاید لفظ ہفت زمین سے اشارہ ہفت اقلیم کی طرف ہو۔ قاضی صاحب کیا خدائے تعالیٰ بھی علم جغرافیہ سے اسی قدر واقف تھا۔ جس قدر کہ یہ دنیا کو ہفت اقلیم میں محدود کرنے والے کہ دونوں کی
١٣٢
رائے نے اتفاق کر لیا۔ قاضی صاحب اگر ایک تراز دعووں کو ڈال کر دوسرے پلے میں ان کے ثبوت ڈال تک پہنچے گا اور ان کے ثبوت کا ثریا تک جہاں سے ہیں۔ قہقہہ ۔ قاضی صاحب میں آپ کو سناؤں کہ مرزا تلقین کرتا ہے۔
- ١....... ”خدائے عز وجل براہین احمدیہ میں فرما
- ٢....... ”کیونکہ براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ
- ٣....... ”یہی جواب خدائے تعالیٰ نے میری نس
- ٤....... ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے ت
تالیف کیا ہے۔“
- ٥....... ”میں بالکل اس سے بے خبر اور غافل
میں مسیح موعود قرار دیا۔“
- ٦....... ”دیکھو (براہین احمدیہ ص ٤٨٨) اس میں
ہے۔“
لیکن جب آپ پر اعتراض ہوا کہ دوبارہ دنیا میں آنا تسلیم کیا ہے۔ تو (ازالہ اوہام ص نے براہین احمدیہ میں جو کچھ مسیح ابن مریم کے دو لحاظ سے۔“
بابو صاحب....... مولوی صاحب یہ قصہ تو دیتا۔ خیال کیجئے کہ فضولیات تو سب الہامی اور ج نو وارد....... بابو صاحب آپ نے راست تو فرما عذر بنایا۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب میں آ
رائے نے اتفاق کر لیا۔ قاضی صاحب اگر ایک ترازو لے کر اس کے ایک پلے میں مرزے کے دعوؤں کو ڈال کر دوسرے پلے میں ان کے ثبوت ڈال کر وزن کیا جائے۔ تو دعوؤں کا پلہ تحت الثریٰ تک پہنچے گا اور ان کے ثبوت کا ثریا تک جہاں سے آپ ابن فارس بن کر علم اتار لانے کے مدعی ہیں۔ قہقہہ۔ قاضی صاحب میں آپ کو سناؤں کہ مرزا اپنی کتاب براہین کی نسبت ہمارے کیا ذہن نشین کرتا ہے۔
- ١....... "خدا ئے عز و جل براہین احمدیہ میں فرما چکا ہے۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥١٩)
- ٢....... "کیونکہ براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔"
(دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
- ٣....... "یہی جواب خدائے تعالیٰ نے میری نسبت براہین احمدیہ میں، مخالفوں کو دیا۔"
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٩، خزائن ج ٢٠ ص ٥٣)
- ٤....... "کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مولف نے ملہم اور مامور ہوکر
تالیف کیا ہے۔"
(سرمہ چشم آریہ ص ٢٠٢، خزائن ج ٢ ص ٣١٩)
- ٥....... "میں بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑے شدومد سے براہین
میں مسیح موعود قرار دیا۔"
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
- ٦....... "دیکھو (براہین احمدیہ ص ٤٨٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کر پکارا گیا
ہے۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
لیکن جب آپ پر اعتراض ہوا کہ براہین میں تو خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا تسلیم کیا ہے۔ تو (ازالہ اوہام ص ١٩٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٦) پر یوں گویا ہوئے: ”میں نے براہین احمدیہ میں جو کچھ مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کی بابت لکھا وہ صرف مشہور عقیدہ کے لحاظ سے۔“
بابو صاحب....... مولوی صاحب یہ قصہ تو مرزے کی بے حیائیوں کی مد کے نیچے بہت لطف دیتا۔ خیال کیجئے کہ فضولیات تو سب الہامی اور جو اصل بات وہ مرزے کا رسمی عقیدہ۔
نو وارد....... بابو صاحب آپ نے راست تو فرمایا مگر اس شخص کے دماغ کو دیکھئے۔ بھول چوک کا کیا عذر بتایا۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔
١٢٥
نو وارد...... قاضی صاحب کوہاٹ میں ایک شہزادہ سرسلطان جان کے سی ایس آئی تھے۔ جو شاعر تھے۔ خوش نویس تھے اور مصور بھی تھے۔ ایک دن ذکر کرنے لگے کہ میرا مصوری کا استاد ایک انگریز تھا۔ وہ قلم روشنائی میں ڈبو کر سفید کاغذ پر چھڑک دیتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کہ ان مختلف اشکال کے چھینٹوں سے جو جو شکلیں بن سکتی ہیں۔ بنا ڈالو۔ مرزے نے بھی اسی طرح پہلے براہین احمدیہ وغیرہ میں مختلف مضامین کی آیات قرآنی چھڑک دیں۔ بعد اس کے جہاں کوئی معاملہ کسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا واقعہ نظر آیا۔ فوراً چلا اٹھا کہ وہ دیکھو خدا نے بیس برس پہلے ہی براہین احمدیہ میں فرمایا تھا کہ ایسا ہوگا۔ کیونکہ ان الہامی آیات میں فلانے لفظ سے یہ مراد تھی اور فلانے لفظ سے یہ مراد تھی۔ مثلاً اس آیت میں جہنم سے مراد طاعون تھا اور اس آیت میں فتنہ سے مراد پادری آتھم کا معاملہ تھا۔
(انجام آتھم ص ١) ”کیا انسان کی طاقت ہے؟ کہ قبل از وقت پیشین گوئی کر دے۔“
براہین احمدیہ لکھنے کے وقت غالباً مرزے کا خیال ایسے عروج پر نہ تھا کہ مسیح موعود بنے۔ اس لئے ملہم اور مامور صاحب نے الہامی کتاب میں لکھ ڈالا کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور جب مسیح بننے کا خیال پیدا ہوا تو اس الہامی کتاب کے سہو کا عذر اور اس سے بہتر اور بدتر کیا ہو سکتا تھا کہ اس کو اپنی لکھی ہوئی کتاب مان کر اس اہم معاملہ کو رسمی عقیدہ بیان کرے۔
غضب خدا کا رسول اللہ آپ کو شیر خواری کی حالت میں گودی میں پالتے ہیں۔ خدا سے بشارتیں لا لا کر دیتے ہیں۔ خدا خود آپ سے تمام تمام دن اور تمام تمام رات باتیں کرتا ہے۔ ملہم و مامور کر کے آپ سے کتاب لکھواتا ہے۔ پھر نہ آنحضرت آپ کو یہ بشارت دیتے ہیں کہ مسیح ناصری فوت ہو چکا ہے اور آنے والے مسیح چشم بدور آپ ہیں نہ خدا ہی مطلب کی بات آپ سے کرتا ہے اور فضول باتوں میں آپ کا اور اپنا وقت ضائع کرتا ہے کہ تجھے میں نے اپنے لئے چن لیا۔ تجھے پیدا نہ کرتا تو زمین و آسمان پیدا نہ کرتا۔ تجھے میں نے کن فیکون کے اختیارات دے دیئے۔ تیرا محمدی بیگم سے نکاح میں نے پڑھ دیا۔ ان فضول باتوں سے مرزے کو کیا فائدہ پہنچا؟
یہ تو وہی مثل ہوئی کہ گھر بار تیرا مگر چکی چولہے کو ہاتھ نہ لگائیو۔ ! مطلب کی چیز محمدی بیگم تو لے جائے مرزا سلطان احمد اور مرزا قادیانی کن فیکون کے اختیارات پڑے چاٹیں۔ بلند آواز سے قہقہہ۔ ایسے جھوٹے اور کنگال خدا سے جو کہے کہ زمین و آسمان میں نے تیرے لئے پیدا کیا اور محمدی بیگم مرزے کی چاہتا۔ جس کے لئے سجدہ کرتے کرتے مرزے کی ناک آدھی رہ جائے۔
حوالہ کر دے مرزا سلطان احمد کے۔ مولوی محمد حسین صاحب کا ڈپٹی کمشنر بہت اچھا کہ وعدے کچھ
١٢٦
بھی نہ کرے اور دے دلاوے سر بلے۔
”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں نے ایک نئی مین یہ سات آسمان اور شاید ہفت اقلیم کیا آپ کے واسطے کافی تکلیف اٹھائی۔ ایک بروزی محمدی بیگم کیوں پیدا نہ کر لی کہ ان کھل جاتے اور اس سے اولاد آپ کی وارث ہوتی۔ زمین آ سال کی محمدی بیگم پیدا کر لیتی آپ کے لئے کچھ مشکل نہ تھی۔
بیوی...... قاضی صاحب اگر آپ برا نہ مانیں اور اجاز درخواست کروں کہ مرزے کے کچھ متضاد کلمات اور بھی بیان
قاضی صاحب...... اگر آپ کو ان کے سننے کا شوق ہے صاحب کو اس وجہ سے روک دیا تھا کہ ان کی کافی تعداد بیان
بابو صاحب...... قاضی صاحب میرا بھی ان سے اتف
نو وارد...... اچھا بیوی جی ایسی مثالیں کتنی ایک سناؤں؟
ریمارکس سن لیں:
- ١...... ”جو پرلے درجے کا جاہل ہو۔ جو اپنے بیانو
پر اطلاع نہ رکھے۔“
- ٢...... ”ظاہر ہے کہ کسی سچیار (ہندی لفظ ) اور عقلمن
تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل ، مجنون اور ایسا منافق
لیجئے بیوی صاحبہ مرزے کے متناقض کلمات کا
- ١...... ”تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرور
مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکر اطلاق کر دیتے ہیں۔“
”جس کو یہ خبر نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مر
- ٢...... ”عیسیٰ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت ت
١٢٧
بھی نہ کرے اور دے دیو مرزے۔
”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں نے ایک نئی زمین و نیا آسمان پیدا کیا۔“ حضرت من یہ سات آسمان اور شاید ہفت اقلیم کیا آپ کے واسطے کافی نہ تھے؟ کہ آپ نے ایسے کشفوں کی تکلیف اٹھائی۔ ایک بروزی محمدی بیگم کیوں پیدا نہ کر لی کہ اس پر رحمت اور برکت کے دروازے کھل جاتے اور اس سے اولاد آپ کی وارث ہوتی۔ زمین آسمان اور مصانع کی نسبت ایک نو دس سال کی محمدی بیگم پیدا کر لینی آپ کے لئے کچھ مشکل نہ تھی۔
بیوی...... قاضی صاحب اگر آپ برا نہ مانیں اور اجازت دیں تو میں مولوی صاحب سے درخواست کروں کہ مرزے کے کچھ متضاد کلمات اور بھی بیان کریں۔
قاضی صاحب...... اگر آپ کو ان کے سننے کا شوق ہے تو مضائقہ کیا ہے؟ میں نے تو مولوی صاحب کو اس وجہ سے روک دیا تھا کہ ان کی کافی تعداد بیان ہو چکی تھی۔
بابو صاحب...... قاضی صاحب میرا بھی ان سے اتفاق ہے۔
نووارد...... اچھا بیوی جی ایسی مثالیں کتنی ایک سناؤں؟ پہلے تو تضاد کی بابت مرزے کے اپنے ریمارکس سن لیں:
- ا...... ”جو پرلے درجے کا جاہل ہو۔ جو اپنے بیانوں میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس
پر اطلاع نہ رکھے۔“
(ست بچن ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ١٤١)
- ٢...... ”ظاہر ہے کہ کسی سچیار (ہندی لفظ ) اور عقلمند اور صاف دل انسانوں کی کلام میں ہرگز
تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل، مجنون اور ایسا منافق ۔الخ!“
(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)
لیجئے بیوی صاحبہ مرزے کی متناقض کلمات کا پورا پورا لطف آپ کو اب آئے گا۔ سنئے:
- ا...... ”تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ
مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کی وجہ سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔“
(ازالہ حصہ اول ص ٧٢، خزائن ج ٣ ص ١٤٨ حاشیہ )
”جس کو یہ خبر نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔“
(ست بچن ص ب ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٢)
- ٢...... ”عیسیٰ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
١٢٧
”اب ظاہر ہے کہ مسیح جو نبی تھا۔ اس کا قول جھوٹا نہیں ہو سکتا۔“
(کتاب البریہ ص١٦، خزائن ج١٣ ص٢٥)
- ٣...... ”چاند کو دو ٹکڑے کر دیا۔“
(سرمہ چشم آریہ ص٦، خزائن ج٢ ص٦٤)
”شق القمر ایک قسم کا خسوف تھا۔“
(نزول المسیح ص١٢٨، خزائن ج١٨ ص٥٠٦)
- ٤...... ”کسی نبی کا کوئی معجزہ یا اور کوئی خارق عادت امر ایسا نہیں ہے۔ جس میں ہزار ہا اور
لوگ شریک نہ ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٧٠، خزائن ج١٧ ص٢٠٤)
”اور ظاہر ہے کہ جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت کہتے ہیں۔“
(سرمہ چشم آریہ ص١٩، خزائن ج٢ ص٦٧)
- ٥...... ”اس خدا نے ہی خبر دی کہ جس نے ہمارے نبی کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٤٤، خزائن ج٢٢ ص٤٧٧)
”پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)
- ٦...... ”میں بنی نوع انسان سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان۔“
(اربعین نمبر ١ ص٢، خزائن ج١٧ ص٣٤٤)
کچھ بنیں طاعون کی صورت کچھ زلازل کے بخار
(درثمین ص٨٨)
- ٧...... ”دور از ادب بات ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ کوئی زہر ناک اور وبائی مادہ مسیح کے منہ
سے نکل کر کمزور کافروں کو مارے گا۔“
(ازالہ اوہام ص٣٦٩، خزائن ج٣ ص٢٨٩ حاشیہ)
”لیکن امروبہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں ہے۔ اس لئے اس مسیح کا کافر کش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا۔“
(دافع البلاء ص١٨، خزائن ج١٨ ص٢٣٨)
- ٨...... ”دمشق کے لفظ سے دمشق ہی مراد رکھنا دعوے بے دلیل اور التزام مالا یلزم ہے۔“
(ازالہ اوہام ص٦١، خزائن ج٣ ص١٣٣)
”سو دیکھو! حضرت موسیٰ کیسی صاف صاف شہادت دے گئے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہوگا۔ اس کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور وہی توریت ہم کو بتاتی ہے کہ فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص٢٣٣ حاشیہ، خزائن ج٢ ص٢٨١)
١٢٨
بابو صاحب کیا سمجھے!
بابو صاحب ...... جی ہاں! حضرت موسیٰ علیہ السلام تو صاف کہ فاران مکہ کا پہاڑ ہے۔ لیکن ہمارے حضرت محمدؐ کو اتنی تمیز نہ ہو قادیان ہے۔ جو آج سے اتنی صدیوں کے بعد بابر بادشاہ کے جائے گا۔
- ٩...... (دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٤٠) پر ایک عربی
ہے: ”کہ تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہوگا۔“
(ص الاستفتاء ضمیمہ، خزائن ج٢٢ ص١٢٤) پر لکھتا ہے: ”ہم نے بار بار ایسے قوی اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانو ان کو دو قوم نہ کہا جائے۔“
- ١٠...... ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر
ص٣٥٤) سبحان اللہ! کیا الہام ہے۔ اس دیئے۔ یہ تو ہم نے مانا کہ یہ نام مرزا قادیانی نے بیگانی کتاب کے لائق تو لکھتے۔
”جو شخص کشمیر، سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہے وہی دراصل مسیح ہے۔“
- ١١...... ”قرآن کریم آنحضرت ﷺ کی دل کی صفائی ا
”یہ بات تو ہم دوبارہ یاد دلاتے ہیں کہ کتا ہوں گے۔“
- ١٢...... ”قرآن شریف فصاحت و بلاغت کی وجہ سے
”اگر بعض پر بلاغت فقرے اور مثالیں جو قر جاہلیت کے قصائد دیکھے جائیں۔ تو ایک لمبی فہرست تیار ہ
- ١٣...... ”میں سلطان روم کو امام نہیں مانتا۔ کیونکہ ہ
١٢٩
بابوصاحب کیا سمجھے!
بابوصاحب...... جی ہاں! حضرت موسیٰ علیہ السلام تو صاف صاف فرما گئے اور یہ بھی بتا گئے کہ فاران مکہ کا پہاڑ ہے۔ لیکن ہمارے حضرت محمد کو اتنی تمیز نہ ہوئی کہ فرما دیتے کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ جو آج سے اتنی صدیوں کے بعد بابر بادشاہ کے عہد میں ملک پنجاب میں آباد ہو جائے گا۔
- ٩...... (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج١٨ص٢٤٠) پر ایک عربی الہام کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا
ہے: ”کہ تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہوگا۔“
(ص١ ستارہ قیصریہ، خزائن ج١٥ص١٢٢) پر لکھتا ہے: ”خدائے تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ پھر ان کو دو قوم نہ کہا جائے۔“
- ١٠....... ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم
ص٤٧٣، خزائن ج٣ص٣٥٣) سبحان اللہ! کیا الہام ہے۔ اس نے سارے ہی دل کے وہم دور کر دیئے۔ یہ تو ہم نے مانا کہ یہ نام مرزا قادیانی نے بیگانی کتاب کا چرایا یا ہتھیایا۔ مگر کتاب اس نام کے لائق تو لکھتے۔
”جو شخص کشمیر، سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہے۔ اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔“
(دافع البلاء ص١٥، خزائن ج١٨ص٢٣٥)
- ١١....... ”قرآن کریم آنحضرتﷺ کی دل کی صفائی کی وجہ سے فصیح اور بلیغ ہے۔“
(ضرورۃ الامام ص٢٩، خزائن ج١٣ص٥٠٠)
”یہ بات تو ہم دوبارہ یاد دلاتے ہیں کہ گو کسی قسم کا القا ہو۔ الفاظ ہمیشہ ساتھ ہوں گے۔“ (برکات الدعا ص١٦، خزائن ج٦ص٢١)
- ١٢....... ”قرآن شریف فصاحت و بلاغت کی وجہ سے معجزہ ہے۔“
(جنگ مقدس ص١٨٨، خزائن ج٦ص٢٩١ ملخص)
”اگر بعض پر بلاغت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔ شعرائے جاہلیت کے قصائد دیکھے جائیں۔ تو ایک لمبی فہرست تیار ہو گی۔“
(نزول المسیح ص٥٦، خزائن ج١٨ص٤٣٤)
- ١٣....... ”میں سلطان روم کو امام نہیں مانتا۔ کیونکہ بموجب حدیث الائمۃ من القریش کے وہ
١٢٩
قریش سے ہونا چاہئے۔“
(کشف الغطاء ص٢، خزائن ج ١٤ص٢٦٩)
”اور اپنی نسبت کہتا ہے: ”گر کہے کوئی یہ منصب تھا شایان قریش، وہ خدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار۔“
(درثمین ص ٨٧)
- ١٣...... ”اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ
میں مسیح موعود ہوں۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
”کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ ایک عیسائی نے امریکہ میں بھی مسیح ابن مریم ہونے کا دم مارا تھا۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
بابو صاحب اول تو اس کلام سے پایا جاتا ہے۔ یعنی مفہوم اس کلام کا یہ ہے کہ جیسے ایک عیسائی نے قادیان میں مسیح ابن مریم ہونے کا دم مارا ہے۔ تھوڑا عرصہ ہوا۔ اسی طرح ایک عیسائی نے امریکہ میں بھی مسیح ابن مریم ہونے کا دم مارا تھا۔ لیکن اسے چھوڑو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بذاتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ تشریف لاکر اپنی قوم کی ملامت کر کے اور اپنا پیغمبر اور صرف پیغمبر ہونا ان پر ظاہر کر کے ان کو راہ راست پر نہیں لانا اور آنے والا ایک اور شخص ہے۔ جو اس کام کے واسطے چودھویں صدی ہجری میں پیدا ہوگا۔ تو ایسے شخص کا عیسائیوں میں پیدا ہونا زیادہ مفید ہوگا۔ یا عیسائیوں کے مخالف مذہب میں۔
بابو صاحب و جناب قاضی صاحب ایمان سے کہئے گا۔ مشاہدہ اور تجربہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ قوم کس کی بات مانتی ہے۔ یا بالفاظ دیگر کسی مدعی نبوت پر کون لوگ ایمان لایا کرتے ہیں۔ اس کی اپنی قوم کے یا غیر قوم کے۔ پادری ڈوئی نے اگر امریکہ میں مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔ تو اس پر کون ایمان لائے۔ سب بیک زبان عیسائی؟
مرزا قادیانی نے جو مسیح ابن مریم اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان پر کون لوگ ایمان لائے؟ سب نے بیک زبان مسلمان! خداوند کریم جو جگہ جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ہم نے فلانی قوم میں ان کے بھائی فلانے کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ فلانی قوم میں ان کے بھائی فلانے کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے ہر ایک قوم کے لئے ایسا پیغمبر بھیجا جو ان کی زبان بولتا تھا۔ پارہ ١١ ع ٧ میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر! لوگوں سے کہو کہ اس سے پہلے میں مدتوں تم میں رہا ہوں۔ میں نے کبھی وحی کا نام بھی نہیں لیا۔ گویا تم میرے ........ سے خوب واقف ہو کہ میں سچ بولنے والا ہوں یا جھوٹ بولنے والا۔ اس کے کیا معنی؟
قاضی صاحب ........ اس کلام خداوندی سے تو ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کو جس قوم کی اصلاح ١٣٠
منظور ہوتی ہے۔ اسی قوم کے ایک فرد کو پیغمبر بنا کر ان کی ہدایت بولتا ہے اور جس کی عمر ان میں گزری ہوتی ہے۔ نو وارد ........ اچھا قاضی صاحب! اس میں تو کچھ کلام نہیں کرنا ویکسر الصلیب ١؎۔
پس اگر اس کام کے واسطے۔ یعنی عیسائیوں کی اصلاح چاہئے تھا جو نہ عیسائیوں کی قوم کا ہو نہ ان کی زبان سے مطلع اور اگر مرزا قادیانی کی خاطر ہم یہ مان لیں کہ خدا نے اپنی عادت ہے کہ یا تو خدا نے غلطی کی یا مرزا قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت اس کے ہاتھ پر شرک اور صلیب پرستی سے توبہ نہیں کی۔ مرزا طرف کھینچنے کے لئے تھے اور بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
ج ١٣ ص ٣٩٥) پر مرزا جلی حروف میں لکھتا ہے: ”امام الزماں خزائن ج ١٣ ص ٤٧٢) پر لکھا ہے: ”اب ایک ضروری سوال یہ کی علامات کیا ہیں اور اس کو دوسرے ملہموں اور خواب بینوں جواب یہ ہے کہ امام الزمان اس شخص کا نام ہے کہ جس کی ہو کر اس کی فطرت میں ایک ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کرے اعتراضات کا خدا سے قوت پا کر ایسی عمدگی سے جواب دے دنیا کی فلاح کا پورا سامان لے کر اس مسافر خانہ میں آئی ہو
اب مرزا قادیانی کے دلائل سنئے، آریوں آریہ ص ٨٧، خزائن ج ٢ ص ١٣٥) پر لکھتا ہے: ”چونکہ اس زمانہ کہ شمس و قمر میں ایسی ہی آبادی حیوانات و نباتات وغیرہ اتصال قمری ثابت کرنے والا ہے۔“ لیکن (انجام آتھم لکھتا ہے: ”آفتاب و ماہتاب میں انسان آباد ہوتے تو اور کیڑے بھی ہوتے۔ جن میں انسانوں کی روحیں تناسخ
١؎ ”میں صلیب کے توڑنے اور خنزیر کے قتل ١٣١
منظور ہوتی ہے۔ اسی قوم کے ایک فرد کو پیغمبر بنا کر ان کی ہدایت پر مامور کرتا ہے۔ جو ان کی زبان بولتا ہے اور جس کی عمر ان میں گزری ہوتی ہے۔
نو وارد ...... اچھا قاضی صاحب! اس میں تو کچھ کلام نہیں کہ مرزے کا مشن یہ تھا کہ کسرِ صلیب ١ کرنا، یکسر الصلیب ۔
پس اگر اس کام کے واسطے ۔ یعنی عیسائیوں کی اصلاح کے واسطے کیا خدا کو ایسا شخص بھیجنا چاہئے تھا جو نہ عیسائیوں کی قوم کا ہو نہ ان کی زبان سے مطلق واقف ہو۔ نہ ان میں چھوٹا بڑا ہوا ہو اور اگر مرزا قادیانی کی خاطر ہم یہ مان لیں کہ خدا نے اپنی عادت اور طریق کا خلاف کیا تو نتیجہ کہہ رہا ہے کہ یا تو خدا نے غلطی کی یا مرزا قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت میں جھوٹا تھا۔ کیونکہ کسی عیسائی نے اس کے ہاتھ پر شرک اور صلیب پرستی سے توبہ نہیں کی۔ مرزے کے دعوے صرف مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے تھے اور بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ قاضی صاحب (ضرورۃ الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) پر مرزا جلی حروف میں لکھتا ہے: ”امام الزمان میں ہوں۔“ اور اسی کتاب کے (ص٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٢) پر لکھا ہے : ”اب ایک ضروری سوال یہ ہے کہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں اور اس کو دوسرے ملہموں اور خواب بینوں اور اہل کشف پر ترجیح کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام الزمان اس شخص کا نام ہے کہ جس شخص کی روحانی تربیت کا خدائے تعالیٰ متولی ہو کر اس کی فطرت میں ایک ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کے معقولیوں اور فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے۔ وہ ہر ایک قسم کے دقیق در دقیق اعتراضات کا خدا سے قوت پا کر ایسی عمدگی سے جواب دیتا ہے کہ آخر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی فطرت دنیا کی فلاح کا پورا سامان لے کر اس مسافر خانہ میں آئی ہے۔“ وغیرہ وغیرہ۔
اب مرزا قادیانی کے دلائل سنئے، آریوں کے مقابلہ میں شق القمر کا ثبوت (سرمہ چشم آریہ ص ٢٨، خزائن ج ٢ ص ١٤٥) پر لکھتا ہے : ”چونکہ اس زمانہ کی فلاسفی اپنی مستحکم رائے ظاہر کرتی ہے کہ شمس و قمر میں ایسی ہی آبادی حیوانات و نباتات وغیرہ ہے۔ جیسے زمین پر ہے اور یہ امر انشقاق و اتصال قمری ثابت کرنے والا ہے۔“ لیکن (انجام آتھم ص ١١٤، خزائن ج ١١ ص ١١٤) پر تناسخ کے رد میں لکھتا ہے : ” آفتاب و ماہتاب میں انسان آباد ہوتے تو ضرور تھا کہ ان میں بہت سے دوسرے جانور اور کیڑے بھی ہوتے ۔ جن میں انسانوں کی روحیں تناسخ کے طور پر داخل ہوتیں۔“
١ ”میں صلیب کے توڑنے اور خنزیر کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔“
(فتح اسلام ص ٧، حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١)
١٣١
قاضی صاحب اس امام الزمان کے دلائل سمجھے؟
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب ایک بات سوجھی ہے۔ آئیے کہ مرزا کی ان دلائل پر اس شیطان گاموں کے دماغ کا امتحان کریں۔ کہ یہ کیا سمجھا۔
نووارد ...... بات تو معقول ہے۔ مگر اس کو آپ سادہ پنجابی زبان میں سمجھا دیں اور پھر مطلب دریافت کریں۔ قاضی صاحب! سلیس پنجابی میں مرزے کے دونوں قولوں کو بیان کر دینے کے بعد اچھا گاموں اب تو کچھ سمجھا۔ بابو صاحب سے بیان کر دے۔ گاموں نے جو کچھ سمجھا تھا۔ بابو صاحب سے اپنی زبان میں خنداں خنداں بیان کر دیا۔
قاضی صاحب ...... اچھا بابو صاحب فرمائیے۔ گاموں مرزے کے ان دو قولوں کا آپ سے کیا مطلب بیان کیا۔
بابو صاحب ...... ہاتھ پر ہاتھ مار کے اور قہقہہ لگا کر۔ اجی آپ اس کے دماغ کا کیا امتحان کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں سمجھتا ہے۔ بچپن میں پڑھتا بھی رہا ہے۔ تیسری جماعت تک اس کی تعلیم ہے۔
قاضی صاحب ...... اچھا اس نے کیا بیان کیا۔
بابو صاحب ...... کہا ہے کہ مرزے کا دین و ایمان کچھ نہ تھا۔ ایک جگہ وہ کہتا ہے کہ چاند اور سورج میں حیوانات آباد ہیں اور دوسری جگہ کہتا ہے کہ چاند و سورج میں اگر انسان ہوتے تو مسئلہ اواگون تب صحیح ہوتا کہ ان میں حیوانات بھی ہوتے یعنی چونکہ چاند و سورج میں حیوانوں آبادی نہیں۔ اس لئے اواگون کا مسئلہ باطل ہے۔ ہر طرف سے نعرہ۔ گاموں شاباش، شاباش، زندہ باد!
نووارد ...... بابو صاحب مرزے نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ”اسلام کے بڑے بڑے فاضل جو قریباً چالیس کے ہیں۔ وہ میرے ساتھ ہیں اور فریق مخالف کے ساتھ صرف نام کے مولوی ہیں ۔“ آج ہم اگر اسی خیالی ترازو کے ایک پلے میں اس تیسری جماعت تک پڑھے ہوئے گاموں کو بٹھائیں اور دوسرے پلے میں ان چالیس علماء و فضلاء کو بٹھائیں جو مرزے کے معتقد ہو کر اس کے ساتھ تھے۔ تو غریب گاموں کا پلہ تو زمین سے ملحق رہے گا اور ان علماء کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی کسی اونچے آسمان پر جانے کا فخر حاصل ہو جائے گا۔ ہاں ایک بات ہے کہ چونکہ وہاں ان کی حجامت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ اس لئے سکھوں کی طرح ان کے جٹہ بن جانے کا احتمال ضرور ہے۔ خدا غریق رحمت کرے۔ آہ! مرزا قادیانی کیا سچ فرما گئے۔
١٣٢
١٣٩
سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہ
گاموں ...... مولوی جی تساں اوہ کی آکھیا؟
نووارد ...... گاموں میں نے اس کی بخشش کے لئے اس وجہ سے ایک بات سچی بھی کہہ گیا۔
گاموں ...... (متحیر ہو کر) جی اوہ کیہڑی؟
نووارد ...... یہ کہ اب ایسے کذابوں یعنی پادریوں سے زبانی مبا جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کر سکتے ہیں۔ مگر اس کا زبان پر کونسی تھیلی چڑھائیں۔ اس کے گالیاں دینے والے منہ پر (ص ٣٨، خزائن ج ١ ص ٣٨) دیکھو گاموں وہ بہشتی یہاں کیا سچ کہہ گیا سکتا۔ اس کا ایمان لانا تو کیا اس کا منہ بھی بند نہیں کیا جا سکتا۔ گالیا
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب کیا امام الزمان صاحب دعویٰ نبوت تھا۔ گالیاں دینی نہیں آتی تھیں؟
نووارد ...... قاضی صاحب آپ نے ان کے دلائل و حجج کا نمونہ نہ بنا۔ جیسا کہ دنیا کی پیدائش سے آج تک دلائل و مباحث کا یہ نے مریدوں کی نبض دیکھ کر اپنے مخالفوں پر گالیوں سے غلبہ پایا کہ آریوں اور عیسائیوں نے جو بات نہ کہنے کی تھی۔ وہ بھی آ المومنین اور نسخہ خبط احمدیہ جیسی کتابیں اسلام اور بانی اسلام کو گالیوں سے ذاتی فائدہ ان کو یہ پہنچا کہ جو شیلے اور سادہ لوح م اشارہ پر جیبیں خالی کرنے لگ گئے۔
قاضی صاحب (ص ٢٥ حاشیہ کلمہ فضل رحمانی) پر لکھا ہے روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا اور مرزے کا بیٹا بیمار ہوا تو پونے دوسو دیکھو اخبار اہلحدیث۔ یہ روپیہ اگر نبوت کی کمائی نہیں، تو کہاں کچھ شک نہیں کہ یہ اشعار مرزا قادیانی کے ہی ہیں:
١٣٣
سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے
(درثمین ص٤)
گاموں ...... مولوی جی تساں او کی آکھیا؟
نووارد ...... گاموں میں نے اس کی بخشش کے لئے اس وجہ سے دعا مانگی کہ وہ اس شعر کے خلاف ایک بات سچی بھی کہہ گیا۔
گاموں ...... (متحیر ہو کر ) جی اوہ کیہڑی؟
نووارد ...... یہ کہ اب ایسے کذابوں یعنی پادریوں سے زبانی مباحثات سے کیونکر فیصلہ ہو۔ ہم جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کر سکتے ہیں۔ مگر اس کا منہ کیونکر بند کریں۔ اس کی پلید زبان پر کونسی تھیلی چڑھائیں۔ اس کے گالیاں دینے والے منہ پر کون سا قفل لگائیں۔ (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨) دیکھو گاموں وہ بہشتی یہاں کیا سچ کہہ گیا کہ دجال دلائل سے قتل نہیں ہو سکتا۔ اس کا ایمان لانا تو کیا اس کا منہ بھی بند نہیں کیا جاسکتا۔ گالیاں دیتا ہے۔“
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب کیا امام الزمان صاحب کو جن کی روحانی تربیت کا خدائے تعالیٰ متولی تھا۔ گالیاں دینی نہیں آتی تھیں؟
نووارد ...... قاضی صاحب آپ نے ان کے دلائل وحجج کا نمونہ تو دیکھ ہی لیا اور جب ان سے کچھ نہ بنا۔ جیسا کہ دنیا کی پیدائش سے آج تک دلائل ومباحث کا کبھی کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔ تو مرزا قادیانی نے مریدوں کی نبض دیکھ کر اپنے مخالفوں پر گالیوں سے غلبہ پانے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آریوں اور عیسائیوں نے جو بات نہ کہنے کی تھی۔ وہ بھی آنحضرت کی نسبت کہی اور امہات المومنین اور نسخہ خبط احمدیہ جیسی کتابیں اسلام اور بانی اسلام کی توہین میں لکھی گئیں۔ ہاں! ان گالیوں سے ذاتی فائدہ ان کو یہ پہنچا کہ جوشیلے اور سادہ لوح مسلمان ان پر لٹو ہو گئے اور ان کے اشارہ پر جیبیں خالی کرنے لگ گئے۔
قاضی صاحب (ص ٢٥ حاشیہ کلمہ فضل رحمانی) پر لکھا ہے کہ مرزے کا باپ کشمیر جا کر پانچ روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا اور مرزے کا بیٹا بیمار ہوا تو پونے دوسو روپیہ روز ڈاکٹر کی فیس مقرر ہوئی۔ دیکھو اخبار اہلحدیث۔ یہ روپیہ اگر نبوت کی کمائی نہیں، تو کہاں سے آیا؟ قاضی صاحب اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ اشعار مرزا قادیانی کے ہی ہیں:
١٤٣
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء وہی ہے
اور گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٨)
اور یہ بھی ان ہی کا فرمودہ ہے کہ ”اخلاق معلم کا فرض ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھائے۔“ (چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦) مگر اس میں شک نہیں کہ امام الزمان کو روحانی متولی نے گالیوں سے بہرہ کامل بخشا تھا اور اس فن پر اس قدر حاوی تھے کہ بعض اوقات کہے ہوئے الفاظ کا تکرار کسر شان سمجھتے تھے:
بابوصاحب...... مولوی صاحب گاموں مرزے کی گالیاں سننے کا مشتاق نظر آتا ہے۔
نووارد...... بابوصاحب نماز پڑھ لیں پھر بعد اس کے زبان گندی ہو تو خیر ہے۔ نماز کے بعد۔
گاموں سن اور غور سے سن کیونکہ یہ آنحضرتؐ کے بروز کے کلمات ہیں۔ جو انہوں نے کمال اطاعت اور پیروی رسول اللہ میں استعمال کئے ہیں۔ زیرالہام ”انک علی خلق عظیم، وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی“
(تذکرہ ص ٣٧٨ طبع سوم)
- .......١ ”اس قدر جھوٹ کی نجاست کھائی کہ کوئی نجاست خور جانور اس کا مقابلہ نہیں کر سکے
گا۔“
(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)
- .......٢ ”احمق اور جاہل اور کمینہ طبع۔ کتوں کی طرح مرتے ہیں۔ بدبخت شریروں اور
جھوٹے۔ دروغ گوئی کی لعنت سے بچ جاتا۔ ایسے گندے اور ناپاک اخبار ایڈیٹر جو اجہل الجہلاء ہیں۔“
(نزول المسیح ص ١٤ تا ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠، ٣٩٣)
- .......٣ ”[بڑے بڑے خبیث اور شریر ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں۔ اگر شرم
رکھتے ہوں تو اس شرمندگی سے جیتے ہی مر جائیں۔ اس درجہ کی بے حیائی ہے۔ ان لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا۔ یہ صرف گوہ کھاتا ہے۔ اے جاہل بے حیاء۔“
(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠ ملخص)
- .......٤ ”اس سے زیادہ کوئی دیوانہ اور پاگل نہیں ہوتا۔ وہ لعنتی کیڑا ہے نہ آدمی۔ اس قسم خبیث
طبع۔ ایسے شخص اندھے ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)
١٣٤
- .......٥ ”یہ تو بے ایمانی کا طریقہ ہے۔ ایسا نامراد بنایا۔
(نزو
- .......٦ ایک مردے کا مضمون چرا کر کفن دوزدوں کی
ہے۔ اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاب چرا کر پیر مہر علی شاہ نے اپنی کتاب میں کھایا۔“ (نزول المس
- .......٧ ”اس سوال کے جواب میں گدھے کی طرح کنج
- .......٨ ”ملا لوگ خبیث طینت خنزیر سرشت۔ مگر تھوڑ
خور۔“
- .......٩ ”وہ مولوی بھی دجالیت کے درخت کی شاخیں
- .......١٠ ”بدسرشت مولویوں کے حکم اور فتوے نے۔“
- .......١١ ”ان کے الہامات شیطانی ہیں اور حزب شیطان
- .......١٢ ”نیم ملا دشمن اسلام اس کو روک نہیں سکتے۔ اگر
تو ہلاک کر دیئے جائیں گے۔“ (ال
- .......١٣ ”ان مولویوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرام
- .......١٤ ”جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے۔“ (
- .......١٥ ”دیانند کے خرافات۔“
- .......١٦ ”گرو نانک صاحب نیوگ والوں کو سخت بے
نالائق پنڈت ان کے دشمن ہو گئے تھے۔“
ے رجل فارس کی مراد کن کتوں سے ہے۔ کوئی ے ”اور ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایتاً اختیار امر کو پرلے درجے شریرالنفس خیال کرتے ہیں۔“
١٣٥
- ٥...... ”یہ تو بے ایمانی کا طریقہ ہے۔ ایسا نامراد بنایا۔ محمد حسن مردہ بخت۔“
(نزول المسیح ص ٦٨، ٦٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٧)
- ٦...... ”ایک مردے کا مضمون چورا کر کفن دزدوں کی طرح۔ نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی
ہے۔ اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ پر رکھ دی۔ اس کے مردار کو چورا کر پیر مہر علی شاہ نے اپنی کتاب میں کھایا۔“
(نزول المسیح ص ٧٠، ٧١، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٨، ٤٤٩)
- ٧...... ”اس سوال کے جواب میں گدھے کی طرح کیچڑ میں پھنس جاتے ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٣٥)
- ٨...... ”ملا لوگ خبیث طینت خنزیر سرشت۔ مگر تھوڑے سے مکھیوں کی طینت والے مردار
خور۔“
- ٩...... ”وہ مولوی بھی دجالیت کے درخت کی شاخیں ہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨، خزائن ج ٦ ص ٣٩٦)
- ١٠...... ”بدسرشت مولویوں کے حکم اور فتوے سے۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٥٩٣، خزائن ج ٣ ص ٤٢١)
- ١١...... ”ان کے الہامات شیطانی ہیں اور حزب شیطان ہمیشہ مغلوب ہے۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٤٠)
- ١٢...... ”لئیم ملا دشمن اسلام اس کو روک نہیں سکتے۔ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے۔
تو ہلاک کر دیئے جائیں گے۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٧٩، خزائن ج ٣ ص ٤٦٧)
- ١٣...... ”ان مولویوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٢٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠)
- ١٤...... ”جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے۔“
(ازالہ حصہ اول ص ٤٤، خزائن ج ٣ ص ١٥٧)
- ١٥...... ”دیانند کے خرافات۔“
(ست بچن ص ٣، خزائن ج ١٠ ص ١١٥)
- ١٦...... ”گرونا نک صاحب نیوگ والوں کو سخت بے حیا اور دیوث اور ناپاک سمجھتے تھے۔ اکثر
نالائق پنڈت ان کے دشمن ہو گئے تھے۔“
(ست بچن ص ٤، خزائن ج ١٠ ص ١١٦)
١؎ رجل فارس کی مراد کفن کشوں سے ہے۔ کوئی صاحب غلطی نہ پکڑیں۔
٢؎ ”اور ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایتاً اختیار کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجے شریر النفس خیال کرتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٨٣)
١٣٥
- ١٧...... ”یہ نالائق ہندو وہی شخص ہے۔“ (ست بچن ص ٦، خزائن ج ١٠ ص ١١٨)
- ١٨...... ”وہ دیانند کی طرح جہالت اور بخل کی تاریکی میں مبتلا نہ تھے۔“
(ست بچن ص ٧، خزائن ج ١٠ ص ١١٩)
- ١٩...... ”اس ناحق شناس اور ظالم پنڈت نے۔“ (ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)
- ٢٠...... ”اور اپنے خبیث مادہ کی وجہ سے۔“ (ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)
- ٢١...... ”وہ ناچیز برہموں اور کم ظرف پنڈتوں کی طرح۔“ (ست بچن ص ١٣، خزائن ج ١٠ ص ١٢٥)
- ٢٢...... ”اس نااہل پنڈت کا ارادہ یہ ہے۔“ (ست بچن ص ١٥، خزائن ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٢٣...... ”اے نالائق آریو! کیوں اس قدر باوا صاحب کی بے ادبی کر رہے ہو؟“
(ست بچن ص ٤١، خزائن ج ١٠ ص ١٦١)
- ٢٤...... ”ایسا خیال کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی خباثت بھی ہے۔“
(ست بچن ص ١٧٣، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٧)
- ٢٥...... ”اب سوچنا چاہئے کہ کیسی بدذاتی اور بدمعاشی اور بے ایمانی ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٢)
- ٢٦...... ”عمادالدین مرتد نصرانی نے کس قدر گوہ کھائے اور کتنی نجاست نکلی۔“
(ایام الصلح ص ٩٢، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٨ ملخص)
- ٢٧...... ”اس کی ایسی مثال ہے۔ جیسے کوئی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر اور بالغ ہو کر پھر یہ
چاہے کہ ماں کے پیٹ میں داخل ہو جائے۔“ (چشمہ مسیحی ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٤)
- ٢٨...... ”محض اوباشانہ لاف گزاف ہے۔“ (ٹائٹل پیج آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠)
- ٢٩...... ”جھوٹوں اور بے ایمانوں اور بخیلوں اور متعصبوں کی گردن کا ہار کر رکھا ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ١٩٠)
- ٣٠...... ”ان بے غیرتوں اور دیوثوں کو۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٩٩، خزائن ج ٢ ص ٣٦٦)
- ٣١...... ”اور بعض مولوی دنیا کے کتے ان کی ہاں کے ساتھ ہاں ملانے لگے۔“
(استفتاء ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)
- ٣٢...... ”کبھی سرقہ کا الزام دینا کبھی صرفی نحوی غلطی کا یہ صرف گوہ کھانا ہے، اے جاہل، بے
حیا۔“ (نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤١)
- ٣٣...... ”کشف الحقائق بمبئی ...... میں اسی پرانی عادت جھوٹ کی نجاست خوری کی وجہ
١٣٦
١٤٣
سے ۔“
- ٣٤...... ”اس عیسائی قوم میں سخت بدذات اور شریر پید
بھرے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں۔“
- ٣٥...... ”یہ لوگ جو پادرایانہ مشرب رکھتے ہیں۔ اکثر وہ
کیڑے ہیں۔“
- ٣٦...... ”ان کی فطرت میں کس قدر قابل شرم خبث بھرا ہ
- ٣٧...... ”اے بدذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو
یہوديانہ خصلت چھوڑو گے؟! اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ ت عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“
- ٣٨...... ”یہ نیک آدمیوں کا کام ہے۔ یا بدمعاشوں کا۔“
- ٣٩...... ”اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے؟“
- ٤٠...... ”یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔“
- ٤١...... ”اس نالائق نذیر حسین اور اس کے نامسعادت م
(اشتہار
- ٤٢...... ”اس ہندوزادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے۔
- ٤٣...... ”اس ہندوزادہ کی خباثت فطری۔“
- ٤٤...... ”اور ہر ایک کتے نے اگرچہ وہ سخت بوڑھا کیون
شروع کیا۔“ (دعوت قوم
- ٤٥...... ”گدھے کی طرح اپنی جگہ سے آواز بلند کر
١؎ کیوں مسیح صاحب دجال کو دلائل اور بیّن کیسے اتر آئے۔ مسیح کے منہ سے زہر یلا مادہ نکلتا تو دور از ا منہ سے سخت بد بو دار اور متعفن مادہ نکل رہا ہے اور ہمیں مار عقلمند جانتے ہیں کہ گالیاں دینا کمزوری کی نشانی ہے۔
١٣٧
سے۔“
(انجام آتھم ص٤، خزائن ج١١ ص٤)
- ٣٤...... ”اس عیسائی قوم میں سخت بدذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں ..... ایسی بدذاتی سے
بھرے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٩)
- ٣٥...... ”یہ لوگ جو پادریانہ مشرب رکھتے ہیں۔ اکثر وہ جھوٹ کے پتلے اور نجاست خوری کے
کیڑے ہیں۔“
(انجام آتھم ص١٧، خزائن ج١١ ص١٧)
- ٣٦...... ”ان کی فطرت میں کس قدر قابل شرم خبث بھرا ہوا ہے۔“
(انجام آتھم ص١٨، خزائن ج١١ ص١٨)
- ٣٧...... ”اے بدذات فرقہ مولویا! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم
یہودیانہ خصلت چھوڑو گے؟ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“
(انجام آتھم ص٢١، خزائن ج١١ ص٢١)
- ٣٨...... ”یہ نیک آدمیوں کا کام ہے۔ یا بدمعاشوں کا۔“
(انجام آتھم ص٢٢، خزائن ج١١ ص٢٢)
- ٣٩...... ”اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے؟“
(انجام آتھم ص٣٢، خزائن ج١١ ص٣٢)
- ٤٠...... ”یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔“
(انجام آتھم ص٣٤، خزائن ج١١ ص٣٤)
- ٤١...... ”اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادت مند شاگرد محمد حسین ۔“
(اشتہار مباہلہ، انجام آتھم ص٤٥، خزائن ج١١ ص٤٥)
- ٤٢...... ”اس ہندو زادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے۔“
(مباہلہ ص٥٨، خزائن ج١١ ص٥٨)
- ٤٣...... ”اس ہندو زادہ کی خباثت فطرتی ۔“
(اشتہار مباہلہ ص٥٩، خزائن ج١١ ص٥٩)
- ٤٤...... ”اور ہر ایک کتے نے اگرچہ وہ سخت بوڑھا کیوں نہ تھا۔ اپنی جانب پر عوعو کرنا یعنی بھونکنا
شروع کیا۔“
(دعوت قوم ص١٥٧ انجام آتھم، خزائن ج١١ ص١٥٧)
- ٤٥...... ”گدھے کی طرح اپنی جگہ سے آواز بلند کرتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص٢٣٥، خزائن ج١١ ص٢٣٥)
١؎ کیوں مسیح صاحب دجال کو دلائل اور حجج سے قتل کرنے کی بجائے آپ گالیوں پر کیسے اتر آئے۔ مسیح کے منہ سے زہر یلا مادہ نکلنا تو دور از ادب تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مثیل مسیح کے منہ سے سخت بد بودار اور متعفن مادہ نکل رہا ہے اور ہمیں مارے بدبو کے اپنی ناک پکڑنی پڑ گئی ہے۔ عقلمند جانتے ہیں کہ گالیاں دینا کمزوری کی نشانی ہے۔
١٤٧
- ٤٦...... ”ومن اورا بکلمات درد رساننده در غضب آوردم و الفاظ دل آزار گفتم تا باشد که
او برائے جنگ من برخیزد۔“
(انجام آتھم ص ٢٣٥، خزائن ج ١١ ص ٢٣٥)
- ٤٧...... ”اور ہم اس رسالہ کو خبیث لوگوں کے زیادہ ذکر سے ناپاک نہیں کریں گے۔“
(انجام آتھم ص ٢٥٤، خزائن ج ١١ ص ٢٥٤)
- ٤٨...... ”چند کمینے بدمعاش جمع ہو گئے۔“
(انجام آتھم ص ٢٧٤، خزائن ج ١١ ص ٢٧٤)
- ٤٩...... ”سو اگر اس ہندو زادہ بدفطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل اور
رسوا نہ مرا تو سمجھو کہ یہ الہام خدا کی طرف سے نہیں۔“
(اشتہار مباہلہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٩)
- ٥٠...... ”اور لئیموں میں سے میں ایک بدکار مردک کو دیکھتا ہوں کہ شیطان ملعون اور سفیہوں
کے نطفہ سے ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٨١، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)
- ٥١...... ”و ما برایشان درشتی کہ کردیم محض برائے آگاہانیدن کردیم واعمال نزد خدائے تعالیٰ
وابستہ بہ نیتہا ہستند۔“
(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢)
- ٥٢...... ”اور ان کے نہایت پلید اور بدذات لوگوں نے گالیاں نکالیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧)
- ٥٣...... ”چنانچہ پلید دل مولوی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
- ٥٤...... ”مگر شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ایضاً ص ٢٩٠)
- ٥٥...... ”یہ مردہ پرست لوگ کیسے جاہل اور خبیث طینت ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، ایضاً ص ٢٩٢)
- ٥٦...... ”ان بدبخت مولویوں نے علم پڑھا۔ مگر عقل اب تک نزدیک نہیں آئی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ٢٩٥)
- ٥٧...... ”فقیری اور مولویت کے شتر مرغ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، ایضاً ص ٣٠٢)
- ٥٨...... ”محض یاوہ گو اور ژاژ خا ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)
- ٥٩...... ”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اے مردار خور
مولویو اور گندی روحو...... اے اندھیرے کے کیڑو...... سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، ایضاً ص ٣٠٥)
١٣٨
- ٦٠...... ”یہ مولوی اس بیوقوف اندھے کی مشابہت رکھتے
ہیں“ )
- ٦١...... ”مگر اب تک بعض بے ایمان اور اندھے مولوی
- ٦٢...... ”ایک پلید ذریت شیطان فتح مسیح نام متعین ہا
- ٦٣...... ”یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کھا ر
- ٦٤...... ”تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا...... اور مخالفوں ا
مار سکتے۔“
- ٦٥...... ”اب پھر اسی بحث کو چھیڑنا یا فیصلہ شدہ باتو ں
ہے۔“
- ٦٦...... ”مگر تم نے حق کو چھپانے کے لئے یہ جھوٹ
مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔ وہ بدذات خود جھوٹا او
- ٦٧...... ”سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف
کرتے۔ کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ نہایت صفائی سے ناک کٹ منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں۔ م
قاضی صاحب...... مولوی صاحب ٹھہر جائیے۔
عظیم“ کی مثالیں تو آپ نے کافی زیادہ بیان کر دی کا کیا ذکر ہے۔
نووارد...... قاضی صاحب یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ ج آئی۔ مختصر یہ کہ مرزا کہہ رہا ہے کہ جس دن مرزا سلطا محمدی بیگم میرے گھر آ جائے گی۔ اس دن ان لوگوں کو جھوٹا باور کر کے مذاق اڑا رہے ہیں۔ بندروں نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔
١٣٩
٦٠...... ”یہ مولوی اس بیوقوف اندھے کی مشابہت رکھتے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)
٦١...... ”مگر اب تک بعض بے ایمان اور اندھے مولوی اور خبیث طبع عیسائی ۔“
(ایضاً ص ٢٢، ایضاً ص ٣٠٦)
٦٢...... ”ایک پلید ذریت شیطان فتح مسیح نام متعین فتح گڑھ نے ۔“
(ایضاً ص ٢٤، ایضاً ص ٣٠٨)
٦٣...... ”یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کھا رہے ہیں۔
(ایضاً ص ٢٥، ایضاً ص ٣٠٩)
٦٤...... ”تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا ...... اور مخالفوں اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مار سکتے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)
٦٥...... ”اب پھر اسی بحث کو چھیڑنا یا فیصلہ شدہ باتوں سے انکار کرنا محض شرارت اور بے ایمانی ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٥، ایضاً ص ٣١٩)
٦٦...... ”مگر تم نے حق کو چھپانے کے لئے یہ جھوٹ کا گوہ کھایا ...... پس اے بدذات خبیث مکّار تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔ وہ بدذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے۔“
(ایضاً ص ٥٠، ایضاً ص ٣٣٤)
٦٧...... ”سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف ...... پہلے سے ہی اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے۔ کیا اس دن ...... سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب ٹھہر جایئے۔ مرزا قادیانی کے ”اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ “ کی مثالیں تو آپ نے کافی زیادہ بیان کردیں۔ مگر یہ سمجھا دیجئے کہ یہ بندروں اور سوروں کا کیا ذکر ہے۔
نو وارد ...... قاضی صاحب یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ جو بہت وقت مانگتا ہے اور اب شام ہونے کو آئی۔ مختصر یہ کہ مرزا کہہ رہا ہے کہ جس دن مرزا سلطان محمد بیگ شوہر محمدی بیگم فوت ہو جائے گا اور محمدی بیگم میرے گھر آ جائے گی۔ اس دن ان لوگوں کے چہرے جو میری اس نکاح کی پیشین گوئی کو جھوٹی باور کر کے مزاح اڑا رہے ہیں۔ بندروں اور سوروں کے سے ہو جائیں گے اور ان کی نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔
١٤٩
قاضی صاحب ....... جس شخص سے خدا تمام دن یا رات سوال و جواب کرتا رہے اور تقریباً ہر روز خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوتا ہو اور الہامات اس پر بارش کی طرح برستے ہوں۔ اس کے لئے ایسی پیشین گوئی کر دینی ایک ادنیٰ سی بات ہے۔ گاموں تو خواہ مخواہ ہنس ہنس کر اپنے پیٹ کی شامت لا رہا ہے۔ تو مجھ سے شرط باندھ جس لڑکی سے تو کہے میں بغیر الہام اتارنے کے اس سے شادی کر کے دکھا دیتا ہوں۔
گاموں ....... جی الہام بغیر تے شادی اوکھی نہیں۔ سارا جہان پیا کردا ہے۔ میں بھی اک کڑی جنگل خیل چوں کیتی ہوئی ہے۔
قاضی صاحب ....... گاموں تیرے جیسا احمق تو میں نے دنیا بھر میں نہیں دیکھا۔ جس نکاح کی بابت خدا کہے کہ میں نے پڑھ دیا اور فلانی کی میں نے تجھ سے شادی کر دی۔ وہ نکاح بھی کبھی رک سکتا ہے۔
گاموں ....... قاضی جی میں تے بیوقوف ہاں۔ پر تسیں تے سیانے ہو۔ اتنا تے قیاس کرو۔ جے مرزے نوں ایہہ الہام خدا نے کیتا ہندا تے مرزا کڑی دے پیو دی اتے اس دی پھپھی نوں عاجزی دیاں اتے دھمکی دیاں چٹھیاں کیوں پاندا۔ تے جے جھوٹے نبیاں دے سارے تک پورے ہو جان تے ساری خلقت نہ گمراہ ہو جاوے۔
بابو صاحب ....... گاموں آفرین، آفرین! لے بس اب خاموش ہو جا۔ مولوی صاحب ہمیں مرزے کی ان بدزبانیوں کی نسبت یہ تعلیم ملی تھی کہ اس نے گالیوں کے جواب میں گالیاں دی ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی بزرگوں اور نیک بندوں کی شان سے بہت بعید ہے۔ مگر آج معلوم ہوا کہ مرزے کا خود اقبال ہے کہ میں نے فلانے کو دل آزار کلمات اس لئے کہے ہیں کہ وہ میرے ساتھ جنگ کرے۔
نووارد....... اس میں کیا شک ہے؟ پنڈت پادری اور مولوی تو مرزے سے پہلے بھی بہت گزرے۔ مگر یہ طریقہ لوگوں کو اپنے دین کی طرف لانے کا مرزے کا ہی ایجاد کردہ ہے۔ کیونکہ وہ طبیب اور طبیب کا بیٹا بھی تھا۔ یہ پڑھئے
(ازالہ حصہ اول ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ١١٧)
بابو صاحب ....... لائیے میں پڑھتا ہوں: ”اور سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں۔ ایک تحریک ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہندوؤں کی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ اکثر ان میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے چھیڑا نہ جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن
١٤٠
مگر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقا اس دین کے اولیاء کی مدح و ثناء کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دل ان ہوتے ہیں۔ ان کے روبرو سچائی کو اس کی پوری مرارت اور تلخی س ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجہر یعنی و بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ ب تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے۔ اگرچہ ایک لائق ہے۔ مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک رو جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں۔ تب تک اس مرض کا کچھ
قاضی صاحب ....... اب تو شک باقی نہ رہا کہ جتنی گالیا بزرگوں کو دی ہیں۔ یا جتنا گندا لٹریچر بانی اسلام یا آپ کی ا کے ذمہ دار خیر سے آپ ہی ہیں۔
نووارد....... قاضی صاحب ان گالیوں کا حال بھی اسی شخص کی
”ان ظالم پادریوں نے لاکھوں گالیاں ہماری ن دیا۔“ اور دیکھئے (ص ١٦٨ البریہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٠١) ”مجھے دوسرے کی سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔“
اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ ہمارے علماء کرا وہ ہر بات میں پیروی رسول اللہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ گالی اسی وجہ سے مرزے کو نظیر نہیں ملتی۔ آنحضرت کی نسبت بڑے بلند درجہ کے ہیں۔ اس کا تو ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ ہ ہے کہ السلام علیک یعنی تجھ پر ہلاکت ہے۔ تو آپ اس کو کہتے ۔ صرف اتنا فرماتے ہیں وعلیک۔ یعنی تجھ پر بھی اور ہو کر آنحضرت ہی ہو گیا اور مجھے خدا نے فرمایا ہے کہ : ”ا رسول اللہ اور خلاف حکم خدا کہ ”ولا تسبو الذین ی عدوا بغیر علم (پ٧ع١٩)“ اور مسلمانو! کرتے ہیں۔ ان کو برا نہ کہو کہ یہ لوگ بھی براہ نادانی ناح
١٤١
کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی کی توصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح و ثناء کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دل ان کے نہایت سیاہ اور سچائی سے دور ہوتے ہیں۔ ان کے روبرو سچائی کو اس کی پوری مرارت اور تلخی کے ساتھ ظاہر کرنا اس نتیجہ خیر کا منتج ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور علانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے۔ سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے۔ اگر چہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے۔ مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک رو بحق کرنے کے لئے پہلا زینہ ہے۔ جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں۔ تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہو سکتا۔“
قاضی صاحب ....... اب تو شک باقی نہ رہا کہ جتنی گالیاں پنڈتوں یا پادریوں نے ہمارے بزرگوں کو دی ہیں۔ یا جتنا گندا لٹریچر بانی اسلام یا آپ کی ازواج مطہرات کی نسبت لکھا گیا اس کے ذمہ دار خیر سے آپ ہی ہیں۔
نو وارد ...... قاضی صاحب ان گالیوں کا حال بھی اسی شخص کی زبانی سن لیجئے۔ یہ دیکھئے
(انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٨)
”ان ظالم پادریوں نے لاکھوں گالیاں ہمارے نبی کریم کو دے کر ہمارے دلوں کو زخمی کر دیا۔“ اور دیکھئے (ص ١٦٨ البریہ خزائن ج ١٣ ص ٢٠١) ”مجھے وہ گالیاں دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کی سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔“
اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ ہمارے علماء کرام جو خلق نبی کے پابند تھے۔ کیونکہ وہ ہر بات میں پیروی رسول اللہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ گالیوں کا جواب کبھی بھی گالیوں میں نہ دیا۔ اسی وجہ سے مرزے کو نظیر نہیں ملتی۔ آنحضرت کی نسبت جو اللہ فرماتا ہے کہ بیشک تمہارے اخلاق بڑے بلند درجہ کے ہیں۔ اس کا تو ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ ہر ایک کافر آکر بجائے السلام علیکم کے کہتا ہے کہ السام علیک یعنی تجھ پر ہلاکت ہے۔ تو آپ اس کو اس کے جواب میں وعلیک السام بھی نہیں کہتے۔ صرف اتنا فرماتے ہیں وعلیک۔ یعنی تجھ پر بھی اور اس شخص کو دیکھئے کہ میں آنحضرت میں فنا ہو کر آنحضرت ہی ہو گیا اور مجھے خدا نے فرمایا ہے کہ : ”انک لعلی خلق عظیم“ خلاف خلق رسول اللہ اور خلاف حکم خدا کہ ”ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم (پ٧ع١٩)“ اور مسلمانو! یہ مشرک خدا کے سوا جن معبودوں کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کو برا نہ کہو کہ یہ لوگ بھی براہ نادانی ناحق خدا کو برا کہہ بیٹھیں گے۔﴾
١٤١
دیگر مذاہب کے بزرگوں کو گالیاں دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ ان لوگوں نے لاکھوں گالیاں دیں ہمارے نبی کو اور مجھے تو اتنی دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کی سوانح میں نظر نہیں ملی۔ ہائے! شیخ سعدی صاحب کیا فرما گئے: خلاف پیغمبر کسے رہ گزید
قاضی صاحب...... اب اٹھئے کہ چلیں۔ باقی انشاء اللہ کل۔ کھڑے ہو کر۔ اب تخفیف تصدیع ہے۔ میاں بیوی بیک زبان! اچھا اللہ حافظ۔ مگر کل ظہر کی نماز پڑھتے ہی تشریف لے آئیں۔ ظہر کے بعد انتظار نہ کرائیں۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
دوسرا دن دروازہ پر دستک۔ بابو صاحب قاضی صاحب معلوم ہوتے ہیں۔ دروازہ پر پہنچ کر اور کواڑ کھول کر۔ آیئے تشریف لایئے۔ قاضی صاحب اور نووارد اندر داخل ہو کر السلام علیکم، وعلیکم السلام کے بعد کمرہ میں بیٹھ کر۔ بابو صاحب فرمایئے رات خیریت سے گزری؟
بابو صاحب...... جی ہاں! خیریت سے الحمدللہ! مگر مولوی صاحب رات چارپائی پر لیٹ کر میں دیر تک نہ سویا۔ دو تین خیالات ایسے دل پر طاری ہوئے کہ انہوں نے میری نیند اچاٹ کردی۔
نووارد...... بابو صاحب خیر ہو وہ کیا خیالات تھے؟
بابو صاحب...... ہاں خیریت تھی۔ یہ صرف مرزائی مذہب کی نسبت خیال تھے۔ یعنی وسوسے۔
نووارد...... بابو صاحب کوئی وسوسہ ابھی باقی ہے تو اسے جلد بیان کیجئے۔ میں صرف اسی غرض سے یہاں مقیم ہوں۔
بابو صاحب...... وسوسے یہ تھے۔ اوّل آیا مرزے کی تحریرات سے پہلے بھی کسی ہندو یا عیسائی نے ہمارے پیغمبر کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے یا نہیں؟
دوم...... مرزے نے یہ معاملہ بار بار پیش کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب مبعوث ہوئے تو یہودیوں نے ان کو اس وجہ سے نہ مانا کہ مسیح سے پہلے حضرت الیاس علیہ السلام آسمان سے اتر کر آئیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ الیاس علیہ السلام یوحنا آچکا۔ اسی طرح پر جو تم لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے کے منتظر ہو۔ غلطی پر ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ انکی خو بو پر میں آگیا۔
سوم...... یہ کہ ایک حدیث سے پایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ١٢٠ سال کی عمر پا کر فوت ہوگئے۔
١٤٢
نووارد...... میں بڑا خوش ہوں کہ آپ نے اپنے وسوسہ شیطانی کے جواب سن لئے اور دل میں فیصلہ کرلئے۔
اوّل...... ایسا تو شاید کوئی زمانہ نہ گزرا ہوگا جس میں مذہبی جھگڑے ملک میں بھی یہ جھگڑے ہوتے آئے اور اسلام اور بانی اسلام پر اسلام ان اعتراضوں کے تحقیقی جواب بڑی متانت سے دیتے اپنی تمام زندگی اس دنیا میں بسر کی۔ اس پر غور کر کے ہمیں بتایا جا سے کیا۔ فاقہ پر فاقہ برداشت کر کے روزہ پر روزہ رکھ کے۔ تات زخم پر زخم کھاکے۔ سالہا سال کے جنگوں کا خاتمہ کر دیا۔ بت کی پرستش سکھائی۔
شراب، قمار بازی، زنا، سرقے اور ڈکیتیوں ک کردی۔ بیویوں کے حقوق قائم کئے۔ بردہ فروشی، ناروا قرا ساتھ اچھا سلوک کرنا سکھایا۔ صدیوں کے دشمنوں میں اخوت مسلمان ایک بکری ذبح کرتا ہے تو اس کا سر ہمسائے کو بھیجت بجائے یہ پسند کرتا ہے کہ اس کو اس کا ہمسایہ کھائے اور وہ اس وہ ہمسایہ بھی اسی طرح کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سر اسی شخص ذبح کی تھی۔ عین جوانی میں کفار مکہ آپ ﷺ کو کہتے رہے جس قدر مال و دولت درکار ہو ہم دیتے ہیں۔ اچھی سے اچھ اس سے آپ کی شادی کرا دیتے ہیں۔ مگر آپ ﷺ ۔ تکالیف کفار کے ہاتھوں برداشت کرتے ہوئے جوانی آی جن عورتوں کو آپ نے اپنے نکاح میں لیا۔ ان کی وجوہات الزامی جواب کی صورت میں ان ہندوؤں کے رہنماؤ پھینکے۔ معاملہ وہاں کا وہیں رک گیا۔
یہ اگر مرزا قادیانی آنحضرت میں فنا ہوجا۔ خاتمہ کرنے آئے تھے۔ تو ان کے لئے بھی یہی راہ تھی کوڑی پر نہ خریدا اور کیونکر خریدتا۔ ایک بنیا کھڑا ہو کر نہیں یا سانپ کا مارنا بڑا پاپ ہے تو اس کی کون سنے گا
١٤٣
نووارد...... میں بڑا خوش ہوں کہ آپ نے اپنے وسوسہ شیطانی مجھ سے بیان کر دیئے۔ اب ان کے جواب سن لیجئے اور دل میں فیصلہ کر لئے۔
اوّل...... ایسا تو شاید کوئی زمانہ نہ گزرا ہوگا جس میں مذہبی جھگڑے نہ ہوئے ہوں۔ ہمارے اس ملک میں بھی یہ جھگڑے ہوتے آئے اور اسلام اور بانی اسلام پر حملے ہوتے آئے۔ مگر ہمارے علماء اسلام ان اعتراضوں کے تحقیقی جواب بڑی متانت سے دیتے رہے کہ آنحضرت نے اس طرح اپنی تمام زندگی اس دنیا میں بسر کی۔ اس پر غور کر کے ہمیں بتایا جائے کہ انہوں نے فریب کس غرض سے کیا۔ فاقہ پر فاقہ برداشت کر کے روزہ پر روزہ رکھے۔ ٹاٹ کے بستر پر سوئے۔ لڑائیوں میں زخم پر زخم کھائے۔ سالہا سال کے جنگوں کا خاتمہ کر دیا۔ بت پرستی اور شرک کی جگہ خدائے واحد کی پرستش سکھائی۔
شراب، قمار بازی، زنا، سرقے اور ڈکیتیوں کی بیخ ہی نکال دی۔ دختر کشی بند کر دی۔ بیویوں کے حقوق قائم کئے۔ بردہ فروشی، ناروا قرار دی۔ یتیموں پر رحم کرنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا سکھایا۔ صدیوں کے دشمنوں میں اخوت اور ایثار کی ایسی روح پھونکی کہ ایک مسلمان ایک بکری ذبح کرتا ہے تو اس کا سر ہمسائے کو بھیجتا ہے۔ وہ ہمسایہ اس کو خود کھانے کی بجائے یہ پسند کرتا ہے کہ اس کو اس کا ہمسایہ کھائے اور وہ اس کو اپنے ہمسائے کے گھر بھیج دیتا ہے۔ وہ ہمسایہ بھی اسی طرح کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سر اسی شخص کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ جس نے بکری ذبح کی تھی۔ عین جوانی میں کفار مکہ آپ ﷺ کو کہتے رہے کہ ہمارے بتوں کا خلاف چھوڑ دیجئے۔ جس قدر مال و دولت درکار ہو ہم دیتے ہیں۔ اچھی سے اچھی خوبصورت لڑکی جو آپ کو پسند ہو۔ اس سے آپ کی شادی کرا دیتے ہیں۔ مگر آپ ﷺ نے اس کو قبول نہ کیا اور طرح طرح کی تکالیف کفار کے ہاتھوں برداشت کرتے ہوئے جوانی ایک مسن عورت کے ساتھ گزار دی۔ باقی جن عورتوں کو آپ نے اپنے نکاح میں لیا۔ ان کی وجوہات خالصتاً تبلیغ دین تھیں۔ نہ علماء کرام نے الزامی جواب کی صورت میں ان ہندوؤں کے رہنماؤں پر اینٹ پھینکی۔ نہ ان پر کسی نے پتھر پھینکے۔ معاملہ وہاں کا وہیں رک گیا۔
١؎ اگر مرزا قادیانی آنحضرت میں فنا ہو جانے کی وجہ سے آپ کا بروز تھے اور جنگوں کا خاتمہ کرنے آئے تھے۔ تو ان کے لئے بھی یہی راہ تھی۔ نہ کہ کتابیں اور اشتہار جن کو کسی نے دو کوڑی پر نہ خریدا اور کیونکر خریدتا۔ ایک بنیا کھڑا ہو کر کہے کہ چوہے یا جوئیں یا کھٹمل مارنے اچھے نہیں یا سانپ کا مارنا بڑا پاپ ہے تو اس کی کون سنے گا؟
١٤٣٠
برخلاف اس کے مرزے نے الزامی جواب کی صورت میں جو کمزوری کی نشانی ہے، مخالفین پر اینٹیں پھینکیں۔ جس کے جواب میں مخالفین نے ایسے پتھر برسائے کہ سمجھدار مسلمانوں نے مرزے کی اس حرکت کو بڑی نفرت سے دیکھا۔ اس بات کی تصدیق کے لئے ملاحظہ ہو (کتاب البریہ ص١٣٣، خزائن ج١٣ص١٧٣) پر بیان ہنری مارٹن کلارک:
”مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار چھاپا (حرف D) جس میں انہوں نے لکھا کہ مرزے نے آریہ وغیرہ سے بزرگوں کو گالیاں دلوائی ہیں۔ پھر قرآن کا اردو ترجمہ پادری عمادالدین صاحب سے کروایا۔ جس سے مولویوں نے مرزا قادیانی کو کہا کہ کیوں مولوی عماد الدین کو ابھارا کہ اس نے ترجمہ کیا ہے۔“
دوم....... آپ کے دوسرے وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اس معاملہ کا نہ تو قرآن میں ذکر ہے نہ احادیث میں اور جن کتابوں سے مرزے نے یہ معاملہ ہمارے پیش کیا ہے۔ ان کتابوں پر خود مرزا کو جس قدر اعتبار ہے۔ اسی کی زبانی سن لیں: ”اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ قرآن شریف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ توریت اور انجیل سے صلح کرے گا۔ بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں....... ناقص و محرف و مبدل ہیں۔“
(دافع البلاء ص١٩، خزائن ج١٨ص٢٣٩)
بابو صاحب جو شخص یہ کہے کہ میرا ایمان ہے کہ فلانی کتاب محرف اور مبدل ہے۔ اس کا بھی منہ ہے کہ اپنی کسی غرض کے واسطے اس کتاب کو بطور شہادت پیش کرے۔ اگرچہ بموجب فرمانِ نبویؐ میرا ایمان ہے کہ صحفِ اولیٰ کی جو باتیں مکرر قرآن میں آگئیں۔ وہ برحق ہیں۔ باقی باتوں کو نہ ہم سچی کہیں گے نہ جھوٹی۔ مگر آؤ مرزے کی خاطر اس ایلیا والے معاملہ کو ہم ایک منٹ کے لئے سچا مان لیتے ہیں۔
بابو صاحب ! توریت اور انجیل سے مرزا کا زمانہ قریب تھا یا آنحضرتؐ کا؟
بابوصاحب....... ظاہر ہے کہ مرزا آنحضرتؐ سے تیرہ سو سال بعد گزرا۔
نووارد....... بابو صاحب! یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاپ اور ان کے حالات معلوم کرنے کا موقعہ آنحضرتؐ کو زیادہ تھا یا مرزے کو؟
بابوصاحب....... آنحضرت ﷺ کو، کیونکہ یہودی اور عیسائی عرب میں بکثرت آباد تھے۔
نووارد....... اچھا تو یہ یہود ونصاریٰ کا سب سے بڑا اختلافی مسئلہ مرزے کی نسبت آنحضرتؐ کو بہتر معلوم ہوگا۔
١٤٤
بابوصاحب....... بیشک!
نووارد....... تو گویا آنحضرتؐ کو بخوبی معلوم تھا کہ حضرت پیشین گوئی نے تمام بنی اسرائیل کو کفر اور ضلالت میں غرق ک
بابوصاحب....... اس میں کیا شک باقی رہا؟
نووارد....... اچھا تو مرزا ہم سے یہ منوانا چاہتا ہے اور اس باوجود اس علم کے اسی پیغمبر کی دوبارہ آمد کی پیشین گوئی ال السلام دمشق کے مشرقی منارہ پر اترے گا اور اس وقت دوز مطلب آنحضرتؐ کا اپنی امت کو اس بات سے آگاہ کر میں پیدا ہوگا۔ تو ذیابیطس اور دورانِ سر کی اسے بیماری والے مسیح کا نام بیان کرنا۔ ولدیت بیان کرنا، جائے نز غرض سے تھا کہ میری امت غلطی نہ کھائے۔ یا دل میں ا کو اور ایسی امت کو جسے آپؐ نے اتنے مصائب برداش کے واسطے دے کر بنایا ہو، دھوکہ دینا۔ بابو صاحب اگر ہ نے آنحضرتؐ کو خاکم بدہن ایک ناکام نہیں مانا؟
سوم....... اب رہی یہ بات کہ کسی حدیث میں ہے ک فوت ہوئے۔ پہلے تو یہ بات سن لیں کہ مرزا قادیانی تھا؟
- ١....... ”یہ بھی یاد رہے کہ تمام ذخیرہ رطب ویابس
- ٢....... ”امام ابو حنیفہ نے بہت سی حدیثوں کو ردی
- ٣....... ”اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن
اور اگر یہ قاعدہ مقرر کیا جائے کہ جو حد کرے وہ سچی۔ تب بھی یہ حدیث مرزے کو کچھ فاء علیہ السلام کے جواب میں جو فلما توفیتنی ہے۔ اس
٤٥
بابو صاحب ....... بیشک!
نوارد....... تو گویا آنحضرت کو بخوبی معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ایک معمہ دار پیشین گوئی نے تمام بنی اسرائیل کو کفر اور ضلالت میں غرق کردیا۔
بابو صاحب ....... اس میں کیا شک باقی رہا؟
نوارد....... اچھا تو مرزا ہم سے یہ منوانا چاہتا ہے اور اس کے مرید مان گئے ہیں کہ آنحضرت باوجود اس علم کے اسی پیغمبر کی دوبارہ آمد کی پیشین گوئی اس طرح کرتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی منارہ پر اترے گا اور اس وقت دو زعفرانی چادروں میں لپٹا ہوگا اور اس سے مطلب آنحضرت کا اپنی امت کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قادیان میں پیدا ہوگا۔ تو ذیابیطس اور دوران سر کی اسے بیماری ہوگی۔ بابو صاحب آنحضرت کا آنے والے مسیح کا نام بیان کرنا۔ ولدیت بیان کرنا، جائے نزول بیان کرنا، ان کا لباس بیان کرنا اس غرض سے تھا کہ میری امت غلطی نہ کھائے۔ یا دل میں ان باتوں سے کچھ اور مراد رکھ کر اپنی امت کو اور ایسی امت کو جسے آپ نے اتنے مصائب برداشت کرکے اور کیسی کیسی قیمتی جانیں اس کے واسطے دے کر بنایا ہو، دھوکہ دینا۔ بابو صاحب اگر ہم مرزے کی اس بات کو مان لیں۔ تو کیا ہم نے آنحضرت کو خاکم بدہن ایک ناکام نہیں مانا؟
سوم....... اب رہی یہ بات کہ کسی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ١٢٠ سال کے ہو کر فوت ہوئے۔ پہلے تو یہ بات سن لیں کہ مرزا قادیانی کون سی حدیث مانتا تھا اور کون سی نہیں مانتا تھا؟
- ١....... ”یہ بھی یاد رہے کہ تمام ذخیرہ رطب و یابس کا صحیحین میں نہیں ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٢ خزائن ج ٣ ص ١٢٣)
- ٢....... ”امام ابو حنیفہ نے بہت سی حدیثوں کو ردی کی طرح سمجھ کر چھوڑ دیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٣١ خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)
- ٣....... ”اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ وان الظن لا یغنی من الحق شیئا ۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٥٢ خزائن ج ٣ ص ٤٥٣)
اور اگر یہ قاعدہ مقرر کیا جائے کہ جو حدیث ہم پیش کریں وہ جھوٹی اور جو مرزا پیش کرے وہ سچی۔ تب بھی یہ حدیث مرزے کو کچھ فائدہ نہیں پہنچاتی۔ مرزا مانتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جواب میں جو فلما توفیتنی ہے۔ اس کے معنی موت کے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ
١٤٥
السلام عرض کریں گے کہ خداوند جب تک میں ان میں رہا۔ ان کے حال کا نگران رہا اور جب تو نے مجھے مار دیا۔ تو پھر ان کے حال سے تو ہی واقف تھا۔ اس سے پایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خواہ کسی عمر میں مرے۔ لیکن مرے نہیں ہیں۔ جن کے حالات کی نگرانی کرنا بیان کرتے ہیں۔ پس یہ قصہ کابل اور کشمیر کا یاروں کی گھڑنت ثابت ہوا:
جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا جو وہ ٹانکا تو یہ ادھڑا
بابو صاحب ....... مولوی صاحب آپ کا یہ تیسرا جواب ختم ہوا یا نہیں؟ نو وارد ....... بابو صاحب جواب تو ختم ہو گیا۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے اسے سنا نہیں۔ بیوی ....... (نووارد کے کان میں) جانے دیں۔ خاموش ہی رہیں۔ اس وقت وہ سخت غصہ کی حالت میں ہیں۔ تھوڑی دیر خاموشی طاری رہنے کے بعد بابو صاحب اٹھ کر دفتر کے کمرہ میں چلے گئے اور مرزے کی تمام کتابیں الماری سے نکال کر باہر پھینک دیں اور گاموں کو بلا کر کہا کہ صحن میں ان کا ڈھیر لگا دے اور خود واپس آکر۔
بابو صاحب ....... قاضی صاحب آپ کی جیب میں ماچس تھی۔ ذرا دیجئے گا۔ دیا سلائی کی ڈبی لے کر۔ آئیے آپ بھی تشریف لائیے۔ مولوی صاحب آپ بھی آئیے۔ بیوی ....... (اپنی جگہ سے اٹھ کر) ذرہ ٹھہرئیے۔ میں تیل کی بوتل بھی لے آؤں۔ گاموں ....... جی او حقیقت الوحی بھی ساڑنی ہے؟ نو وارد ....... کیوں گاموں تو نے یہ کیا سوال کیا؟ گاموں ....... جی مرزا مر گیا تے ڈاکٹر صاحب جیوندا رہیا تے ایہہ تاں آپے سڑ گئی۔ (جی مرزا فوت ہو گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان زندہ رہا تو یہ تو خود ہی جل گئی ۔)
قاضی صاحب ....... گاموں دیکھنا سب سے پہلے درثمین کو آگ لگانا۔ یہ ریل میں مسافروں کو فریب دینے کے لئے جیبی جمال گوٹہ ہے۔ کتابیں جلا کر واپس اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر۔
بابو صاحب ....... غضب خدا کا۔ مولوی صاحب میں آپ سے کیا کہوں۔ رات تمام رات اسی خیال میں میری آنکھ نہیں لگی کہ جب ہمارے پاس ایلیا کی نظیر موجود ہے۔ تو ہم مرزے کو اس کا فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیں؟ اور میں اب سمجھا کہ جولوگ مرزے کی اس کلام پر یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مراد عیسیٰ علیہ السلام سے غلام احمد اور مریم سے غلام مرتضیٰ تھی۔ ان کی نظر میں آنحضرت ﷺ کی وقعت ایک ....... سے (توبہ نعوذ باللہ) زیادہ نہ ہو سکتی۔
١٤٦
نو وارد ....... (بابو صاحب کا غصہ فرو کرنے کے خیال سے) بابوصا بننے میں جو قلم کا زور دکھایا ہے۔ وہ انسان کے پیٹ میں گدگدی
قاضی صاحب ....... ہاں ہاں! بابو صاحب کو یہ سنائیے۔
نو وارد ....... بابو صاحب سنئے! (حقیقت الوحی ص ٣٣٦، خزائن براہین احمدیہ تصنیف کی۔ تو اس کی چھپائی کے لئے میرے کی تو الہام ہوا: "ھزی اليك بجذع النخلة تساقط کو قرآن شریف میں خطاب ہے۔ جب لڑکا پیدا ہونے و لئے خدا تعالیٰ کی مدد کی محتاج تھیں۔ اسی طرح براہین احمد ہوا۔ یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام یعنی طبعزاد بچے اور جبکہ براہین احمدیہ میرا بچہ ٹھہرا جو پیدا ہو مالی طور پر کمزور تھا۔ جیسا کہ مریم کمزور تھی اور اپنے طور پر کے لئے غذا حاصل نہیں کر سکتا تھا تو مجھے بھی مریم کی طر النخلة" پس اس پیشین گوئی کے مطابق سرمایہ کتاب ا روپیہ کا آنا بالکل غیر متوقع تھا۔ کیونکہ میں گمنام تھا اور یہ کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں مجھے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدت تک میرا نام خدا کے نزدی
نو وارد ....... بابو صاحب! میں اس فرقہ کے افراد ہے واسطے تھوڑی دیر کے لئے اس شخص کو ٹھگ تصور کر باطن کھل جاتا ہے یا نہیں۔ بابو صاحب! بعض اوقا اس کے بازار سے آنے میں دیر لگ جاتی ہے۔ مگ سے پہلے موجود۔
١؎ اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ہے۔ کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام ج ٣ ص ٤١٨) براہین (پانچویں آسمانی کتاب) کی بن چکے۔ ابھی ابن مریم کا انتظار بھی ہے۔ دہائی کیسی ریش خند کی ہے۔
نووارد...... (بابو صاحب کا غصہ فرو کرنے کے خیال سے ) بابو صاحب مرزے نے مریم اور ابن مریم بننے میں جو قلم کا زور دکھایا ہے۔ وہ انسان کے پیٹ میں گدگدی بھی پیدا کرتا ہے اور قابل داد بھی ہے۔
قاضی صاحب...... ہاں ہاں! بابو صاحب کو یہ سنایئے۔
نووارد...... بابو صاحب سنئے! (حقیقت الوحی ص٣٣٦، خزائن ج٢٢ ص٣٥٠) ”جب میں نے کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی۔ تو اس کی چھپائی کے لئے میرے پاس روپیہ نہ تھا۔ میں نے خدا سے دعا کی تو الہام ہوا:”ھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطباً جنیاً“ یہ حضرت مریم کو قرآن شریف میں خطاب ہے۔ جب لڑکا پیدا ہونے سے وہ بہت کمزور ہوگئی تھیں اور غذا کے لئے خدا تعالیٰ کی مدد کی محتاج تھیں۔ اسی طرح براہین احمدیہ میرے لئے بطور بچہ کے تھی۔ جو پیدا ہوا۔ یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائج طبع کہتے ہیں۔ یعنی طبعزاد بچے اور جبکہ براہین احمدیہ میرا بچہ ٹھہرا جو پیدا ہوا تو اس کے پیدا ہونے کے وقت میں بھی مالی طور پر کمزور تھا۔ جیسا کہ مریم کمزور تھی اور اپنے طور پر اس بچہ کی پرورش کے لئے یعنی اس کی طبع کے لئے غذا حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ تو مجھے بھی مریم کی طرح یہی حکم ہوا کہ ”ھز الیک بجذع النخلۃ“ پس اس پیشین گوئی کے مطابق سرمایہ کتاب اکٹھا ہو گیا اور پیشین گوئی پوری ہو گئی اور اس روپیہ کا آنا بالکل غیر متوقع تھا۔ کیونکہ میں گمنام تھا اور یہ میری پہلی تصنیف تھی اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں مجھے عیسیٰ کے نام سے موسوم کرنے سے پہلے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا۔
نووارد...... بابو صاحب! میں اس فرقہ کے افراد سے ہمیشہ یہی درخواست کرتا رہا کہ خدا کے واسطے تھوڑی دیر کے لئے اس شخص کو ٹھگ تصور کر کے پھر اس کا کلام پڑھو اور پھر دیکھو کہ تمہارا باطن کھل جاتا ہے یا نہیں۔ بابو صاحب! بعض اوقات انسان کو گھر میں نمک یا مرچ کی ضرورت تو اس کے بازار سے آنے میں دیر لگ جاتی ہے۔ مگر مرزے کو اگر الہام کی ضرورت پڑے تو فوراً سے پہلے موجود۔
”اپنے اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں ہے جس کا نام ابن مریم رکھا گیا ہے۔ کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکارا ہے۔ (ازالہ حصہ اوّل ص٤٨١، خزائن ج٣ ص٣١٨) براہین (پانچویں آسمانی کتاب) کی رو سے آپ مریم بھی بن چکے۔ ابن مریم بھی بن چکے۔ ابھی ابن مریم کا انتظار بھی ہے۔ دہائی ہے خدا کی اس چھپے ہوئے دہریے نے اسلام پر کیسی ریش خند کی ہے۔
١٤٧
بابو صاحب ........ مولوی صاحب چھوڑیئے اس قصہ کو۔
بابو صاحب ........ میں تو ایک جاہل آدمی تھا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ جولوگ عالم فاضل ہونے کے مدعی ہیں۔ ان کی تمام باتیں مان رہے ہیں۔
نووارد ....... بابو صاحب عیسائی اور اہل ہنود اسلام پر ہمیشہ یہ حملہ کرتے رہتے ہیں کہ یہ عیاشی کا مذہب ہے۔ اس نے چار عورتیں ایک وقت میں جائز کردیں۔ بزرگان دین اس کا یہ جواب دیتے رہے کہ اسلام یہ حکم نہیں دیتا کہ تم ضرور چار عورتیں کرو۔ ہاں اگر ضرورت پڑے۔ مثلاً پہلی بیوی دائم المرض ہو۔ کوڑھی ہو جائے۔ بانجھ ثابت ہو تو تم دوسری اور تیسری اور چوتھی بھی کر سکتے ہو۔ مگر اس شرط پر کہ تم سب سے یکساں سلوک کرو۔ یہ شرط ایسی کڑی ہے کہ ایک سے زیادہ جورو کرنے کو قریباً قریباً ناممکن کر دیتی ہے۔ مگر اس شخص نے بلاضرورت ایک سے زیادہ شادیاں کر کے اور ایک بیوی کو معلق رکھ کر عملاً ثابت کر دکھایا کہ اسلام:
کہ تقویم پارینہ ناید بکار
کی تعلیم دیتا ہے اور قرآن صبح کے وقت ہل ہل کے پڑھ لینے کے واسطے بنا ہے۔ نہ کہ اس پر عمل کرنے کے لئے۔ بابو صاحب، قاضی صاحب کا ریمارک آپ نے درثمین کی نسبت سنا۔ میں بھی اس کی نسبت کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب کو مرزائی جیب میں رکھتے ہیں اور جہاں انہیں کوئی سادہ لوح مسلمان نظر آیا یہ اسے جیب سے نکال کے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور لوگ اس کے اشعار سن کر لٹو ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ صرف ہاتھی کے دانت ہیں اور محض لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لینے کے لئے گھڑے گئے ہیں۔ مرزے کے معتقد ہو جاتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے:
وقف راہ تو کنم گر جان دہندم صد ہزار
(درثمین فارسی ص٩٠)
یعنی اے اللہ کے نبی میں تیرے ایک ایک بال کے صدقے، اگر مجھے خدا لاکھ جانیں بھی دے تو میں تیرے راستہ میں قربان کر دوں۔
در نثار تو نگر دو جاں کجا آمد بکار
(درثمین فارسی ص٩٠)
١٤٨
یعنی جو دل تیری محبت میں پگھل کر خون نہ ہو جا بیہودہ کیا جان ہے؟
ایں تمنا ایں دعا ایں دلم
میری آرزو میری دعا اور میرا پختہ ارادہ یہ ہے کـ ہو جائے اور میری یہ جان چلی جائے۔
دردا کہ مہر کعبہ چو مـ
یعنی دیکھو لوگو خلقت دنیاوی جاہ و جلال کے پیچھے دیوانی ہے اور ان کے دلوں میں تیری محـ
در میان خاک و خون
یعنی مجھے جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ میں جب مجھے کشتہ اور خاک و خون میں آلودہ دیکھو تو سمجھو وہ میرا سـ
آں منم کاول کـ
یعنی اگر حضرت کے کوچہ میں تلوار برسے تـ کون قربان کرے گا؟ یہ بندہ
کز پئے جاناں بکف
١٤٩
یعنی جو دل تیری محبت میں پگھل کر خون نہ ہو جائے وہ کیا دل ہے، جو جان تجھ پر قربان نہ ہو وہ کیا جان ہے؟
ایں تمنا ایں دعا ایں در دلم عزم صمیم
(درثمین فارسی ص ٧٧)
میری آرزو میری دعا اور میرا پختہ ارادہ یہ ہے کہ آنحضرت کے عشق میں میرا یہ سر چلا جائے اور میری یہ جان چلی جائے۔
دردا کہ مہر کعبہ چو مہر بتاں نماند
(درثمین فارسی ص٩٠)
یعنی دیکھو لوگو خلقت دنیاوی جاہ وجلال کے واسطے کیا کچھ کر رہی ہے، ہائے کعبہ کی محبت بتوں کی سی بھی ان کے دلوں میں نہیں رہی۔
درمیان خاک و خون بینی سرے
(درثمین فارسی ص ١١٦)
یعنی مجھے جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ میں وہ ہوں کہ آنحضرت کے رستہ میں اگر کوئی سر کٹا ہوا اور خاک وخون میں آلودہ دیکھو تو سمجھو وہ میرا سر ہے۔
آں منم کاول کند جاں را نثار
(درثمین فارسی ص ١١٦)
یعنی اگر حضرت کے کوچہ میں تلوار برسے تو جانتے ہو، سب سے اول اپنی جان کو کون قربان کرے گا؟ یہ بندہ
کز پئے جاناں بکف دارند جاں
(درثمین فارسی ص ١١٩)
١٤٩
یعنی صادقوں کا یہی نشان تو ہوتا ہے کہ جس کے وہ عاشق ہوتے ہیں۔ اس کے لئے سر ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں۔
اگرچه در رہ آں یار اژدہا باشد
سچا عاشق بلا سے نہیں ڈرتا۔ خواہ اس کے معشوق کے رستہ میں اژدھا ہی کیوں نہ بیٹھا ہو؟
وقف راہت کردہ ام ایں سر کہ بردوش است بار
(درثمین فارسی ص٩٠)
یعنی اے اللہ کے نبی میں تیرے پیارے منہ کے قربان جاؤں۔ میں نے اپنا سر جس کا بوجھ معلوم ہو رہا ہے۔ تیرے رستہ پر قربان کر دیا ہے۔
دل پرد چوں مرغ سوئے مصطفیٰ
(درثمین فارسی ص ١١٥)
یعنی میں آنحضرت کے چہرہ مبارک کا ایسا عاشق ہوں کہ آپ کی طرف میرا دل مرغ کی طرح اڑا جاتا ہے۔
من اگر میداشتم بال و پرے
(درثمین فارسی ص ٥)
آہ اگر خدا میرے بازوؤں میں پر پیدا کر دیتا تو خلقت دیکھتی کہ میں ہمیشہ اڑ کر رسول اللہ کے کوچہ میں جاتا۔
مولوی محمد علی صاحب امیر لاہوری پارٹی سے درخواست ہے کہ براہ مہربانی ان اشعار کو ممتحن کیمیا کے دفتر میں لے جا کر ان کا امتحان کرائیں اور ہمیں بتائیں کہ مجدد صاحب کے ان اشعار میں جھوٹ کا من ہے یا صداقت کی رتی؟
دولت سے مجدد صاحب کا گھر اٹا ہوا ۔ صحت کا یہ حال کہ تواتر کے الہام ہورہے ہیں۔ ریل دروازہ پر ہے۔ رسول اللہ کے کوچہ میں جانے کے عشق سے سینہ پر، سر کٹوانے کا بھوت سر پر سوار۔ بہادری کا یہ حال کہ اژدہے سے بھی نہیں ڈرتے۔ موت قریب ہونے کی وحی مقدس نازل
١٥٠
١٥٧ ہوچکی۔ خدا کی طرف سے اشیخ الناس کا خطاب ملا ہوا ہے۔" (تذکرہ ص ٢٨٠ طبع سوم) کا وعدہ۔ فرشتے جلو میں۔ عرب بہک گئے کہ مہدی پیدا ہو گئے۔ لیکن مجدد صاحب اور نبی صاحب نے بھی ادا نہیں کئے۔
پس معلوم ہو گیا کہ آپ کو خدا اور رسولؐ سے کو مسلمانوں کی جیبیں خالی کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ بابو شیخ مظفر الدین خان مرحوم و مغفور مجھے کبھی کبھی درثمین کے اشعار ایسے شخص کو جھوٹا اور فریبی کہتا ہے جو رسول اللہ کا ایسا عاشق زار
بابو صاحب اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے چند ”میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ج ٧ ص ٤٩) ”ہر ایک بدکاری اور بے ایمانی کی جڑ بزدلی ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٥٦) ”خدا تجھے دشمنوں سے بچائے گا
حاضرین میرا لحاظ نہ کرنا۔ خدا لگتی کہنا۔ یہ الہام کی اپنی گھڑنت؟ سب نے کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد ر کی اپنی گھڑنت۔ اگر واقعی الہام ہوتے تو مرزے کو ان پر قاضی صاحب ........ آنحضرتؐ جب ہجرت کر کے مدینہ وقت آپ کے صحابہ آپ کی حفاظت کے واسطے آپ ”والله يعصمك من الناس “ نازل ہوئی ۔ تو آپ والوں کو فرما دیا کہ اپنے اپنے گھر چلے جاؤ۔ پہرہ موقوف لے لی ہے۔ دیکھئے الہام پر کس قدر یقین ہے کہ اس بات اگر مرزے کے الہامات اپنے گھڑے ہوئے نہ ہوتے جتنی دیر میں انہوں نے حقیقت الوحی لکھی تھی۔ فریضہ حج ہیں میرے مقابلہ پر کھڑا ہو کر کوئی اور بھی الہام کا دعویٰ کرے نو وارد...... بابو صاحب انوار کمیٹی کا ایک قصہ ہے کہ تم
١٥١
ہو چکی۔ خدا کی طرف سے اشجع الناس کا خطاب ملا ہوا ہے۔ ”واللہ یعصمک من الناس“ (تذکرہ ص٢٨٠، طبع سوم) کا وعدہ۔ فرشتے جلو میں۔ عرب بے چارے خوشی سے اچھل اچھل کر تھک گئے کہ مہدی پیدا ہو گئے۔ لیکن مجدد صاحب اور نبی صاحب زیارت روضہ رسول اللہ تو کیا فریضہ حج بھی ادا نہیں کرتے۔
پس معلوم ہو گیا کہ آپ کو خدا اور رسولؐ سے کس قدر تعلق تھا؟ اور یہ اشعار غریب مسلمانوں کی جیبیں خالی کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ یا کوئی صداقت کی رتی بھی ان میں تھی۔ شیخ منظور الدین خان مرحوم و مغفور مجھے کبھی کبھی درثمین کے اشعار پڑھ کر ملامت کرتے تھے کہ دیکھ تو ایسے شخص کو جھوٹا اور فریبی کہتا ہے جو رسول اللہ کا ایسا عاشق زار ہے۔
بابو صاحب اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے چند دعوے بھی سن لیجئے۔ ”میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٨، خزائن ج١٧ ص٤٩) ”ہر ایک بدکاری اور بے ایمانی کی جڑ بزدلی اور نامرادی ہے۔“ (اشتہار انجام آتھم ص٥٦، خزائن ج١١ ص٥٦) ”خدا تجھے دشمنوں سے بچائے گا اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کرے گا۔“
(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٦)
حاضرین میرا لحاظ نہ کرنا۔ خدا لگتی کہنا۔ یہ الہام خدا کی طرف سے تھے۔ یا مرزا قادیانی کی اپنی گھڑنت؟ سب نے کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھ کر بیک زبان مرزے کی اپنی گھڑنت۔ اگر واقعی الہام ہوتے تو مرزے کو ان پر اعتبار ہوتا۔
قاضی صاحب ...... آنحضرتؐ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ تو رات کے وقت آپ کے صحابہ آپ کی حفاظت کے واسطے آپ کا پہرہ دیتے تھے۔ لیکن جس وقت آیت ”واللہ یعصمک من الناس“ نازل ہوئی۔ تو آپ نے کھڑکی میں سے سر باہر نکال کر پہرہ والوں کو فرما دیا کہ اپنے اپنے گھر چلے جاؤ۔ پہرہ موقوف! کیونکہ خدا نے میری حفاظت اپنے ذمہ لے لی ہے۔ دیکھئے الہام پر کس قدر یقین ہے کہ اس کے بھروسے پر جان کی حفاظت بند کر دی۔ اگر مرزے کے الہامات اپنے گھڑے ہوئے نہ ہوتے۔ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہوتے تو جتنی دیر میں انہوں نے حقیقت الوحی لکھی تھی۔ فریضہ حج ادا کر آتے۔ مگر انہیں تو یہ بات کھا گئی کہ کہیں میرے مقابلہ پر کھڑا ہو کر کوئی اور بھی الہام کا دعویٰ کرے۔
نووارد ...... بابو صاحب انوار سہیلی کا ایک قصہ ہے کہ جنگل کے جانور جمع ہو کر شیر کے پاس گئے کہ
١٥١
بادشاہ سلامت آپ جو ہر روز شکار کرتے ہیں۔ اس میں آپ کو بھی دوڑ دھوپ کی تکلیف ہوتی ہے اور ہم بھی اطمینان سے چل پھر نہیں سکتے۔ آپ ہم سے اپنے کھانے کے لئے ایک جانور ہر روز لے لیا کریں اور شکار نہ کیا کریں۔ شیر نے یہ بات منظور کر لی۔ ایک دن جب خرگوش کی نوبت آئی۔ تو وہ شیر کے پاس بہت دیر لگا کر گیا۔ جب شیر کے پاس پہنچا۔ تو شیر اس پر بہت ناراض ہوا کہ اتنی دیر لگا کر کیوں آیا؟ اس نے کہا بادشاہ سلامت! اس جنگل میں ایک اور شیر آ گیا ہے۔ آپ کے واسطے جو راشن بھیجا گیا تھا۔ وہ اس نے کھا لیا۔ اب میں دوسرا جانور آپ کے لئے لایا ہوں۔ شیر یہ سن کر طیش میں آ گیا۔ کہ کیا بکتا ہے۔ اس جنگل میں میرے سوا کوئی اور بھی پیدا ہوا گیا۔ چل بتا کہاں ہے؟ وہ اسے ایک کنویں پر لے گیا اور کہا کہ اس میں رہتا ہے۔ شیر نے جھانک کر دیکھا تو اپنی شکل نظر آئی۔ یہ غرا یا تو کنویں والا بھی غرایا۔ مطلب یہ کہ شیر طیش میں آ کر کنویں میں کود پڑا اور جنگلی جانور اس کی دستبرد سے چھوٹ گئے۔
مرزا چونکہ دہریہ تھا۔ وہ الہام کا قائل ہی نہ تھا۔ اس لئے ڈاکٹر عبدالحکیم کے الہامات کو بھی اس نے اپنے الہاموں کی طرح جھوٹے اور بناوٹی سمجھا اور حقیقت الوحی لکھ ماری کہ تھرڈ کلاس کا ملہم ہو کر مجھ فسٹ کلاس ملہم کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس فضول کام کی جگہ اگر مرزا حج کر آتا۔ تو بہت اچھا تھا۔ خدا وعدہ کر چکا تھا کہ میں تیری ساری مرادیں پوری کروں گا۔ مرزا کا حج کے لئے تھوڑا سا خواہش کرنا بھی کافی ہو جاتا۔ بابو صاحب آج میں آپ کو وہ ذریعے سناتا ہوں۔ جن سے مرزا اپنی معلومات اخذ کرتا تھا۔
- .......١ ”خدا تعالیٰ کے پاس مکالمہ سے قریباً ہر روز میں مشرف ہوتا ہوں۔“
(چشمہ مسیحی ص ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥١)
- .......٢ ”میں نے کئی دفعہ آنحضرت کو اسی بیداری میں دیکھا ہے۔ باتیں کی ہیں۔ مسائل
پوچھے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ١٤٩، خزائن ج ٦ ص ٢٢٣)
- .......٣ ”اس بارہ میں خود یہ عاجز صاحب تجربہ ہے کہ بار ہا عالم بیداری میں بعض مقدس لوگ
نظر آئے ہیں۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)
- .......٤ ”مجھے قسم ہے اس ذات کی کہ بارہا عالم کشف میں میں نے ملائکہ کو دیکھا ہے۔ ان
سے بعض علوم اخذ کئے ہیں اور ان سے گزشتہ یا آنے والی خبریں معلوم کی ہیں۔ جو مطابق واقعہ تھیں۔“ (آئینہ کمالات ص ١٨٢، ١٨٣، خزائن ج ٥ ص ١٨٢، ١٨٣) خدا کی قسم کا بھی خیال رہے۔
- .......٥ ”مکاشفات میں بعض گزشتہ نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس
١٥٢
١٥٩
امت میں گزر چکے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔“
(کتاب البریہ ص ١٦٥، خزا
- ......٦ ”ایک دن میں رات کے وقت فرض اور سنتیں ادا کر چکا تھا۔ نہ سویا
میں تھا۔ اسی حالت میں میں نے دروازہ پر دستک کی آواز سنی۔ جب میں نے کیا دیکھتا ہوں کہ دستک دینے والے سرعت کے ساتھ میری طرف چلے آئے میرے قریب آ گئے تو میں نے پہچان لیا۔ کہ پنجتن پاک ہیں۔ یعنی علیؓ بمعہ اس بیوی کے اور آنحضرت ﷺ ۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٣٩، ٥٠
- ......٧ ”ایک دفعہ وحی کے ذریعے خدا نے مجھے آواز دی۔ میں فوراً لبیک
مجھے گزشتہ اور آئندہ زمانے کے حالات سے مطلع کر دیا۔“
(آئینہ کمالات ص ٨٦)
بابو صاحب آؤ کہ اب ہم مرزے کی معلومات کا امتحان لیں کہ آیا سچ کہہ رہا ہے یا اسلام پر ہنسی اڑا رہا ہے اور مسلمانوں کو احمق بنا رہا ہے کہ تمہارے ہیں۔ دہریہ کی شکل میں نہیں مسلمان بن کر۔
اس شخص کا بیان ہے کہ میرا مشن ہے کہ میں لوگوں پر ثابت کردو آسمان پر مانتے ہو۔ وہ فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح میں آ گیا۔ کسی شخص ک ماننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی نعش برآمد ہو یا اس کی قبر کا پتہ ملے۔ یا ڈوبتا یا آگ میں جلتا دیکھا ہو۔
علاوہ مذکورہ ذرائعہ معلومات اس شخص کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ”میرے جواب دیتا ہے۔ نہ ایک دفعہ نہ دو۔ بیس بیس دفعہ یا تیس تیس دفعہ بلکہ پچاس رات یا قریباً تمام دن۔“
(نزول المسیح ص
اور اس مکالمہ کی بابت (آئینہ کمالات ص ٢٣٢، خزائن ج ٥ ص ٣٢ ”مکالمہ با خدا سے غرض یہ ہوتی ہے کہ دعا کے قبول ہونے سے اطلاع د بات بتائی جائے۔ یا آئندہ کی خبروں پر آگاہی دی جائے۔ اپنی الہامی کتا تسلیم کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں اور دوبارہ آئیں گے۔ ج ٣ ص ٢٧١) پر لکھا کہ ”براہین میں میں نے جو توفی کے معنے استیفاء او میری غلطی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا ع تھا۔ وہ بھی الہام کی غلطی تھی۔ میرے اجتہاد کی غلطی تھی۔“ خیر!
١٥٣
امت میں گزر چکے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٥، خزائن ج ١٣ص ١٩٨)
- ٦...... ”ایک دن میں رات کے وقت فرض اور سنتیں ادا کر چکا تھا۔ نہ سویا ہوا تھا اور نہ غنودگی
میں تھا۔ اسی حالت میں میں نے دروازہ پر دستک کی آواز سنی۔ جب میں نے اس طرف نظر کی۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ دستک دینے والے سرعت کے ساتھ میری طرف چلے آرہے ہیں اور جب میرے قریب آگئے تو میں نے پہچان لیا۔ کہ پنجتن پاک ہیں۔ یعنی علیؓ، بمعہ اپنے دونوں بیٹوں اور بیوی کے اور آنحضرت ﷺ ۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٤٩، ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٧...... ”ایک دفعہ وحی کے ذریعے خدا نے مجھے آواز دی۔ میں فوراً لبیک کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور
مجھے گزشتہ اور آئندہ زمانے کے حالات سے مطلع کر دیا۔“
(آئینہ کمالات ص ٣٨٦، خزائن ج ٥ ص ٣٨٦)
بابو صاحب آؤ کہ اب ہم مرزے کی معلومات کا امتحان لیں کہ آیا یہ جو کچھ کہہ رہا ہے۔ سچ کہہ رہا ہے یا اسلام پر ہنسی اڑا رہا ہے اور مسلمانوں کو احمق بنا رہا ہے کہ تمہارے ایسے اعتقادت ہیں۔ دہریہ کی شکل میں نہیں مسلمان بن کر۔
اس شخص کا بیان ہے کہ میرا مشن ہے کہ میں لوگوں پر ثابت کردوں کہ جس مسیح کو تم زندہ آسمان پر مانتے ہو۔ وہ فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح میں آگیا۔ کسی شخص کو فوت شدہ یا قتل شدہ ماننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی نعش برآمد ہو یا اس کی قبر کا پتہ ملے۔ یا کسی نے اس کو پانی میں ڈوبتا یا آگ میں جلتا دیکھا ہو۔
علاوہ مذکورہ ذریعہ معلومات اس شخص کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ”میرے پکارنے پر خدا تعالیٰ جواب دیتا ہے۔ نہ ایک دفعہ نہ دو۔ بیس بیس دفعہ یا تیس تیس دفعہ یا پچاس پچاس دفعہ یا قریباً تمام رات یا قریباً تمام دن۔“
(نزول المسیح ص ٩٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٢)
اور اس مکالمہ کی بابت (آئینہ کمالات ص ٢٣٢، خزائن ج ٥ ص ٢٣٢) پر یہ شخص لکھتا ہے کہ ”مکالمہ با خدا سے غرض یہ ہوتی ہے کہ دعا کے قبول ہونے سے اطلاع دی جائے۔ کوئی نئی اور مخفی بات بتائی جائے۔ یا آئندہ کی خبروں پر آگاہی دی جائے۔ اپنی الہامی کتاب براہین میں اس نے تسلیم کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں اور دوبارہ آئیں گے۔ پھر (ایام الصلح ص ٤٢، خزائن ج ١٤ ص ٤١٢) پر لکھا کہ ”براہین میں میں نے جو توفی کے معنے استیفا دادن کے کئے تھے۔ وہ بھی میری غلطی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا عقیدہ جو میں نے ظاہر کیا تھا۔ وہ بھی الہام کی غلطی نہ تھی۔ میرے اجتہاد کی غلطی تھی۔“ خیر!
١٥٣
اب ہم اس شخص سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں اپنے مشن کے متعلق اتنی تو تسلی کراؤ کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے۔ تو ان کی قبر کہاں ہے تو ہمیں ایک مدت تک جواب دیتا ہے کہ ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا ۔“ (ازالہ حصہ دوم ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) لیکن جب حکیم نور دین نے جو اس نبوت اور مجددیت میں آپ کے شریک تھے۔ آپ کو بتایا کہ سری نگر ملک کشمیر کے محلہ خانیار میں ایک بڑی مز یدار قبر موجود ہے۔ جو یوز آسف کی قبر کہلاتی ہے۔ اگر اس قبر پر ایک اپنا ملازم مرد یا کوئی بڑھیا عورت بٹھا دی جائے کہ وہ زائرین اور سیاحوں کو بتاتی رہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ تو (ستارہ قیصریہ ص ١٠، خزائن ج ١٥ص١٢٣) پر آپ نے لکھ دیا کہ دلائل قاطع سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر میں موجود ہے اور پھر جیسا کہ نقل مشہور ہے کہ شیخ سعدی نے کہا کہ نامت چیست گفت حاجی گفت حاجی و چاچی تجنیس خطی، چاچی کمان را میگویند، کمان و گمان تجنیس خطی، گمان شک را میگویند، شک و سگ تجنیس خطی، پس تو سگ ہستی۔ آپ نے یوز آسف سے عیسیٰ علیہ السلام بنانے میں قلم کا بڑا زور دکھایا ہے۔
دوسرا سوال آپ کی ذات خاص کے متعلق۔ کیا محمدی بیگم سے آپ کا زمین پر نکاح قطعی اور یقینی ہے؟ جواب ہاں ! ”اس پیشین گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ نے پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ” یتزوج ویولد لہ “ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ یتزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے۔ جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیشین گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ )
بابو صاحب! کیا اب بھی آپ شک کریں گے کہ اس شخص کے دعوے کہ میں آنحضرتؐ کی احادیث بلا انتظار ان کے منہ سے سنتا ہوں۔ میں نے کئی مرتبہ آنحضرت کو بیداری میں دیکھا ہے۔ باتیں کی ہیں۔ مسائل پوچھے ہیں۔ غلط اور جھوٹے تھے۔
- ا۔ پھر بھی مکالمہ اور مخاطبہ کے ذریعہ نہیں بلکہ دلائل سے۔
- ٢۔ مرزا ! تو ایمان سے کہنا سیاہ دل کون ثابت ہوا؟
بابو صاحب ....... مولوی صاحب میں یہ حدیث نہیں سمجھا۔ نووارد ...... بابو صاحب یہ حدیث مشکوٰۃ شریف کی اس طرح پر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم زمین کی طرف اتریں گے۔ پھر شادی کریں گے ٤٥ سال دنیا میں رہیں گے۔ پھر فوت ہو کر میری قبر میں میرے ساتھ علیہ السلام ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ہم دونوں ابو بکرؓ اور عمرؓ کے بابو صاحب ...... ایک قبر میں سے کیا مراد ہے؟ نووارد ...... اس حدیث میں اب کوئی جرح ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ منہ سے سن کے صحیح مان لیا ہے۔ مرزا بھی (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ابو بکرؓ اور عمرؓ جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں۔ بلکہ تمام کافروں کہ آنحضرتؐ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی مقبرہ ج ٣ ص ٥٨) پر لکھتا ہے : ”بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر بابو صاحب ...... اس حدیث میں شادی اور اولاد کا کیوں نووارد ...... صحیح اور ٹھیک معنی کسی حدیث کے تو تب ہی معلوم معلوم ہو کہ صحابہ نے دریافت کیا تھا کیا؟ لیکن اگر اس کے یہ آنحضرتؐ اپنی امت کو آنے والے مسیح کی علامات بیان کر رہے نے سابقہ زندگی میں تو شادی نہ کی تھی۔ لیکن آئندہ زندگی میں اولاد بھی ہوگی۔
تیسرا سوال آپ کی اولاد کے متعلق۔ مرزا قادیانی کیسا ہوگا؟
(ترجمہ الہام عربی مندرجہ آئینہ کمالات ص ٥٧٧، خزائن ج
دی اور فرمایا کہ میں نے تیری تضرعات اور دعاؤں کو سنا۔ نے مجھ سے مانگا ہے اور تو نعمت دیئے گیوں میں سے ہے۔ ہے۔ رحمت اور فضل اور قربت اور فتح اور ظفر پس سلامتی ہو تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتا ہوں۔ اس کا نام عمانوائیل میرے مقربوں میں سے۔ آسمان سے آئے گا اور اس ب ہوگا۔ وہ نور ہے اور طیب ہے اور پاکوں میں سے ہے۔ اِ ١٥٥
بابو صاحب ....... مولوی صاحب میں یہ حدیث نہیں سمجھا۔
نووارد ....... بابو صاحب یہ حدیث مشکوۃ شریف کی اس طرح پر ہے کہ فرمایا رسول اللہؐ نے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم زمین کی طرف اتریں گے۔ پھر شادی کریں گے اور ان کے اولاد ہوں گی۔ ٤٥ سال دنیا میں رہیں گے۔ پھر فوت ہو کر میری قبر میں میرے پاس دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ہم دونوں ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان ہوں گے۔
بابو صاحب ....... ایک قبر میں سے کیا مراد ہے؟
نووارد ....... اس حدیث میں اب کوئی جرح ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ مرزے نے اس کو آنحضرتؐ کے منہ سے سن کے صحیح مان لیا ہے۔ مرزا بھی (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) پر لکھتا ہے ”مگر ابوبکرؓ اور عمرؓ جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں۔ بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتؐ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے“ اور (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٥٨) پر لکھتا ہے: ”بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے۔“
بابو صاحب ....... اس حدیث میں شادی اور اولاد کا کیوں ذکر ہے؟
نووارد ....... صحیح اور ٹھیک معنی کسی حدیث کے تو تب ہی معلوم ہوتے ہیں کہ جب سوال کی نوعیت معلوم ہو کہ صحابہ نے دریافت کیا کیا تھا؟ لیکن اگر اس کے ساتھ سوال کوئی نہ تھا۔ تو ظاہر ہے کہ آنحضرتؐ اپنی امت کو آنے والے مسیح کی علامات بیان کرتے ہوئے یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اس مسیح نے سابقہ زندگی میں تو شادی نہ کی تھی۔ لیکن آئندہ زندگی میں شادی بھی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔
تیسرا سوال آپ کی اولاد کے متعلق۔ مرزا قادیانی وہ تین کو چار کرنے والا لڑکا آپ کا کیسا ہوگا؟
(ترجمہ الہام عربی مندرجہ آئینہ کمالات ص ٥٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً): ”اللہ نے مجھے بشارت دی اور فرمایا کہ میں نے تیری تضرعات اور دعاؤں کو سنا۔ تحقیق میں تجھے عطاء کروں گا۔ جو کچھ تو نے مجھ سے مانگا ہے اور تو نعمت دیئے گیوں میں سے ہے۔ تو نے نہیں سمجھا میں نے تجھے کیا کیا دیا ہے۔ رحمت اور فضل اور قربت اور فتح اور ظفر پس سلامتی ہو تجھ پر تو ظفریابوں میں سے ہے۔ میں تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتا ہوں۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر ہے۔ خوبصورت، عقل مند اور میرے مقربوں میں سے۔ آسمان سے آئے گا اور اس کے نازل ہونے سے خدا کا فضل نازل ہوگا۔ وہ نور ہے اور طیب ہے اور پاکوں میں سے ہے۔ اس سے برکتیں ظاہر ہوں گی۔ خلقت کو
١٥٥
طیب چیزیں کھلائے گا اور دین کی نصرت کرے گا۔ ترقی کرے گا اور بلند ہوگا اور عروج پائے گا اور اونچا ہوگا اور ہر ایک بیمار اور مریض کا علاج کرے گا۔ اس کے انفاس سے شفا ہوگی اور وہ میری نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا اور میری تائید کا ایک نشان ہوگا تا کہ تیری تکذیب کرنے والے جان لیں کہ میں فضل مبین کے ساتھ تیرے ساتھ ہوں۔ اس کے آنے سے حق آجائے گا اور اس کے ظہور سے باطل جاتا رہے گا۔ میری قدرت کی تجلی کرے گا۔ میری عظمت کو ظاہر کرے گا۔ دین کو بلند کرے گا۔ براہین کو روشن کرے گا۔ قبر والوں کو قبر سے نکال کھڑا کرے گا تا کہ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب سے انکار کیا۔ وہ جان جاویں کہ وہ غلطی پر تھے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے گی۔ تجھے ایک ذہین لڑکا تیری اپنی پشت اور اولاد اور نسل سے دیا جائے گا اور وہ ہمارے معزز بندوں میں سے ہوگا۔ وہ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ ہر ایک قسم کی میل کچیل اور عیب سے پاک اور طیب اور کلمۃ اللہ، بزرگ کلمات سے پیدا ہوا ہوا۔ فہیم ذہن اور حسین ۔ دل اس کا علم سے بھرا ہوا اور حلم والا ہوگا۔ اس کو نفس مسیحی دیا جائے گا اور روح الامین سے برکت دیا جائے گا۔ دوشنبہ ہے مبارک ہو یوم دوشنبہ تجھ میں ارواح آئیں گی۔ بیٹا صالح کریم کی مبارک مظہر اول و آخر۔ مظہر الحق والعلاء گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔
اس کے ظہور سے رب العلمین کا جلال ظاہر ہوگا۔ تیرے پاس نور آتا ہے۔ جو عطر رحمٰن سے ممسوح ہے۔ اللہ منان کے سایہ کے نیچے کھڑا ہے۔ قیدیوں کی گردنیں چھوڑائے گا اور ان کو خلاصی دے گا۔ خدا کی شان کو عظمت دے گا۔ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ امام، ہمام، قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ اس کے ساتھ شفاء آئے گی اور بیماریاں باقی نہ رہیں گی۔ خلقت اس سے فائدہ اٹھائے گی اور ایسا جلد جلد بڑھے گا۔ گویا وہ ستون ہے۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔'' وكان امرا مقضیا قدره قادر علام فتبارك الله خير المقدرین “ بابو صاحب آپ کو معلوم ہے کہ یہ لڑکا خدا کے پیدا کردہ زمین و آسمان میں ہے؟ یا مرزے کے اپنے پیدا کردہ زمین و آسمان میں؟
بابو صاحب ...... جی مجھے معلوم ہے کہ وہ ایک سال چار ماہ کا ہو کر نفسی نقطہ قادیاں میں مدفون ہے۔ اسی پر تو کسی دل جلے نے کہا تھا:
اے اس کلمہ کے کہنے کی ضرورت کیا تھی؟ ہم تو پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ یہ صفات سوا خدایا پرمیشر کے اوتار کے اور کسی میں ہو نہیں سکتیں۔
١٥٦
١٦٣
بشیر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا، تیرا اعزاز اور
گاموں ...... ایہو جھے چھوہر بچدے نہیں نظر کھا جاندی
نووارد ...... ہاں! اپنے بادشاہ کے متعلق اس کی معلومات بہت ق فرشتوں سے دریافت کر کے (ازالہ حصہ دوم ص ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ماجوج انگریز اور روس ہیں۔ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو فتح کر کے کیا اب بھی تم تسلیم نہ کرو گی کہ یہ الہام شیطانی نہ تھے۔ خود سا کرتیں تو اس قسم کے شیطانی الہام کی کوئی نظیر پیش کرو۔
قاضی صاحب ...... میں ہرگز ہرگز باور نہیں کرتا کہ شیطان اور اسی شخص کے بیان کے مطابق شیطانی وسوسہ ایک ڈھیلے کی چلا جاتا ہے۔ پس اس طرح پر اتنی لمبی عبارت یاد کیونکر رہ سکتی ہ
بیوی ...... قاضی صاحب یاد رہنے کی بات تو آپ رہنے دیں الفاظ القاء کئے تھے۔ اسی الہام کو جو مرزے نے اشتہار کے طو نے تکذیب (براہین احمدیہ ج دوم ص ٢٩٢) پر درج کیا ہے اور م کے ص ١٠ پر اس میں ہوشیار پور اور لدھیانہ کے سفر کے مبارک الہام میں جو ( آئینہ کمالات ص ٥٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر درج تک نہیں ۔“
قاضی صاحب ...... مجھے دینا یہ آئینہ کمالات مرزا اور تب میں تو واقعی مرزے نے کمال کر دکھایا۔ آپ لوگ ایسے الہ اور مجھے وہ پسند آتے ہیں جن کی بندش اچھی ہو۔ ایک ایک بیان کیا جائے اور کتاب کھول کر وهناني ربى وا اباها “ (آئینہ
بیوی ...... آپ کون سا صفحہ پڑھنے لگ گئے؟ ٥٧٧ یا ٥٧٨
قاضی صاحب ...... ہاتھ اٹھا کر ٹھہرو! مرزے کا ایک
گاموں ...... قاضی جی! او مینوں سنانا۔
قاضی صاحب ...... اچھا میں اردو میں اس کا مطلب کے خاوند کو اسی طرح ہلاک کر دوں گا۔ جیسا کہ میں نے
١٥٧
گاموں...... ایہو جھے چھوہر بچدے نہیں نظر کھا جاندی ہے۔ نووارد...... ہاں! اپنے بادشاہ کے متعلق اس کی معلومات بہت صحیح ثابت ہوئیں۔ کیونکہ اس نے فرشتوں سے دریافت کر کے (ازالہ حصہ دوم ص٥٠٨، خزائن ج٣ ص٣٧٤) پر لکھ دیا تھا کہ ”یاجوج اور ماجوج انگریز اور روس ہیں۔ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو فتح کر کے آپس میں لڑ پڑیں گے“ بیوی جی کیا اب بھی تم تسلیم نہ کرو گی کہ یہ الہام شیطانی نہ تھے۔ خود ساختہ ہوا کرتے تھے۔ اگر نہیں تسلیم کرتیں تو اس قسم کے شیطانی الہام کی کوئی نظیر پیش کرو۔ قاضی صاحب...... میں ہرگز ہرگز باور نہیں کرتا کہ شیطان ایسی عبارت بنانے پر قادر ہو سکے اور اسی شخص کے بیان کے مطابق شیطانی وسوسہ ایک ڈھیلے کی طرح ہوتا ہے۔ جس کو وہ پھینک کر چلا جاتا ہے۔ پس اس طرح پر اتنی لمبی عبارت یاد کیونکر رہ سکتی ہے؟ بیوی...... قاضی صاحب یاد رہنے کی بات تو آپ رہنے دیں۔ یہ کون کہتا ہے کہ شیطان نے بھی الفاظ القاء کئے تھے۔ اسی الہام کو جو مرزے نے اشتہار کے طور پر دہرایا ہے۔ جس کو پنڈت لیکھرام نے تکذیب (براہین احمدیہ ج دوم ص٢٩٣) پر درج کیا ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے تاریخ مرزا کے ص١٠ پر اس میں ہوشیار پور اور لدھیانہ کے سفر کے مبارک ہونے کا ذکر درج ہے۔ لیکن اصل الہام میں جو (آئینہ کمالات ص٥٧٧، خزائن ج٥ ص ایضاً) پر درج ہے۔ ”سفر کے مبارک ہونے کا ذکر تک نہیں“ قاضی صاحب...... مجھے دینا یہ آئینہ کمالات مرزا اور تبسم کرتے ہوئے بابو صاحب اس الہام میں تو واقعی مرزے نے کمال کر دکھایا۔ آپ لوگ ایسے الہام پسند کرتے ہیں جو پورے ہو جائیں اور مجھے وہ پسند آتے ہیں جن کی بندش اچھی ہو۔ ایک ایک بات کو تین تین چار چار پیرایوں میں بیان کیا جائے اور کتاب کھول کر ”وهنانی ربی وقال انامهلکو بعلهاکما اهلکنا اباها“
(آئینہ کمالات اسلام ص٥٧٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)
بیوی...... آپ کون سا صفحہ پڑھنے لگ گئے؟ ٧٦ یا ٧٧؟ قاضی صاحب...... ہاتھ اٹھا کر ٹھہرو! مرزے کا ایک مزیدار الہام مل گیا۔ گاموں...... قاضی جی! او مینوں سنانا۔ قاضی صاحب...... اچھا میں اردو میں اس کا مطلب سناتا ہوں۔ خدا نے فرمایا میں محمدی بیگم کے خاوند کو اسی طرح ہلاک کردوں گا۔ جیسا کہ میں نے اس کے باپ کو ہلاک کیا اور محمدی بیگم کو تیری ١٥٧
طرف لوٹا لاؤں گا۔ یہ بات تیری رب کی طرف سے سچ ہے۔ پس شک کرنے والوں میں سے مت ہو اور ہم اس کو صرف تھوڑی سی ڈھیل دیں گے۔ ان سے کہہ دے کہ وقت مقررہ کا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی کرتا ہوں۔ اتنا کہہ کر کتاب بند کر کے واپس دے دی اور بابو صاحب سے یوں گویا ہوئے۔ یہ محمدی بیگم کے خاوند کی موت کا الہام اگر خدانخواستہ سچا بھی ثابت ہو جاتا۔ تب بھی میں اس کی تعریف نہ کرتا۔ کیونکہ اس کی بندش اور الفاظ مرزے کے اپنے نہیں قرآنی الفاظ ہیں۔
بابو صاحب ....... قاضی صاحب اس بحث کو جانے دیجئے۔ یہ فرقہ اناث جس بات پر اڑ جائے اس سے باز نہیں آیا کرتا۔ راج ہٹ بالک ہٹ تریا ہٹ مشہور مثل ہے۔
قاضی صاحب ...... نہ صاحب میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہ جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کا ثبوت دے رہی ہیں۔ مگر مولانا آپ کیوں گنگے کا گڑ کھائے بیٹھے ہیں۔
نو وارد ....... بھئی مجھ سے پوچھتے ہو تو میں تو قسم کھا کر بھی یہ بات کہنے کو تیار ہوں کہ یہ الہام فرمائشی ہے۔ کسی خاص موقعہ پر والدہ بشیر نے کہا ہوگا کہ آپ تو سب کچھ بن چکے۔ میرے پیٹ سے بھی تو کسی کو کچھ بناؤ۔ اس پر آپ قلم دوات کاغذ لے کر بیٹھ گئے اور بیوی کو خوش کرنے کے لئے ایک طومار باندھ دیا۔
گاموں ....... جی مولوی ہوراں سچ آکھیا اے۔ او گل میرے دل نوں لگی اے۔
بابو صاحب ....... بڑے زور سے خندہ کر کے مولوی صاحب مرزے کی تہہ کو بہت لوگ پہنچے ہوں گے۔ مگر جیسا کہ آپ نے اسے پہچانا ہے۔ کم کسی نے پہچانا ہوگا۔
نو وارد ...... حضرت میرا یہ دعویٰ تو نہیں مگر اگر آپ کا خیال صحیح ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دیگر علمائے دین کو جنہوں نے مرزے کے لٹریچر کو پڑھا اور مرزے کے خلاف قلم اٹھایا۔ دینی و دنیوی اور مشاغل بہت تھے اور بندہ کا صرف ایک ہی شغل رہا اور دوسری بات ہے کہ ٹھگ کو جیسا ٹھگ پہچانے گا۔ نیک آدمی نہیں پہچان سکتا۔ میں نہایت درد رنج اور افسوس سے دیکھتا ہوں کہ مرزے کی باتوں میں زیادہ تر وہی لوگ آئے جو نہایت نیک اور سیدھے تھے۔ میری عمر مرزائیوں میں گزر گئی۔ ان کی طرف سے نیز میرے اپنے بڑے بھائی کی طرف سے یہ کوشش رہی کہ میں کم از کم اس کو ایک اچھا آدمی مانوں۔ مگر چونکہ میں سمجھ چکا تھا کہ وہ ایک ٹھگ ہے۔ اسلامی لباس میں اس نے ٹھگی کا کارخانہ کھولا ہوا ہے۔ میرے اس یقین کو کوئی متزلزل نہ کرسکا۔ بابو صاحب مجھے اپنے درویشوں اور گدی نشینوں کی سادگی اور حد سے تجاوز حسن ظن پر رونا آتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ فرقہ نشو و نما پا گیا۔ یعنی جب کسی مرد مسلمان نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ کیا فرماتے ہیں؟
١٥٨
مرزے قادیانی کے حق میں؟ تو وہ بڑی دلداری سے پوچھتے تھے۔
- ١...... وہ خدا کو مانتا ہے؟ جواب جی ہاں مانتا ہے۔
- ٢...... رسول کو مانتا ہے؟ جواب جی ہاں مانتا ہے۔
- ٣...... قرآن اور قبلہ کو مانتا ہے؟ جواب جی ہاں مانتا ہے۔
فیصلہ: تو اس کو برا نہ کہو۔ یہ فیصلہ ان کا بعینہ ایسا ہوتا ہے کے دل میں شک گزرے کہ یہ کوئی ٹھگ بناوٹی سادھو بنا ہوا ہے۔ بـ لے اڑے گا اور وہ کسی پنڈت سے پوچھے کہ پنڈت جی آپ فلا ہیں؟ تو وہ پوچھے کیا اس نے لٹیں چھوڑی ہوئی ہیں؟ کیا اس کا لباس پر بھبوت ملی ہوئی ہے اور جب اس کو تینوں سوالوں کا جواب اثبات پنڈت فیصلہ دے دے کہ وہ سادھو ہے اور سادہ لوح گدی نشینوں اہل نہ تھے۔ تم نے کیوں دیا اور امت رسول کو کیوں گمراہی میں پڑ
بابو صاحب ...... مولوی صاحب ٹھگ کی کیا شناخت ہے؟
نو وارد ....... بابو صاحب ٹھگوں کی صرف ایک ہی قسم نہیں کہ ان کی مختلف اور ان کی شناخت کے آثار مختلف۔
بابو صاحب ....... مرزا قادیانی کو آپ نے کن وجوہات کی
نو وارد ...... ہاں یوں سوال کیجئے۔ اب بیان کرنا میرا کام لیکن سمـ بابو صاحب میں کسی اور مسلمان کی نسبت نہیں۔ اپنـ کبھی میرے دل میں کوئی یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ پیغمبر خدا فریبی بـ خود گھڑتے تھے۔ تو میری تسلی اسی اور صرف اسی بات سے ہوتی فقیری سے امیر ہو جاتے۔ جھونپڑیوں سے محل بنا لیتے۔ پلاؤ کـ سے لاد دیتے۔ گھر دولت سے بھر لیتے۔ داماد کو جہیز سے نـ کہتا ہوں کہ میں قرآن کو خود بنایا ہوا ماننے کو تیار ہو جاتا۔ مجھے میں رکھا ہوا ہے۔ وہ آنحضرت کا چال چلن ہے کہ مصائب فائدہ ہر قسم کا مخلوق خدا کو پہنچایا۔ روزہ پر روزہ رکھ کر پیٹ پر چھنے آٹے کی روٹی کھا کر عمر گزاری۔ مرے تو گھر میں کفن عا کی تعریف یہ ہے کہ فریب سے لوگوں سے پیسہ حاصل کر کے
١٥٩
مرزے قادیانی کے حق میں؟ تو وہ بڑی دلداری سے پوچھتے تھے۔
- ١....... وہ خدا کو مانتا ہے؟ جواب جی ہاں مانتا ہے۔
- ٢....... رسول کو مانتا ہے؟ جواب جی ہاں مانتا ہے۔
- ٣....... قرآن اور قبلہ کو مانتا ہے؟ جواب جی ہاں مانتا ہے۔
فیصلہ: تو اس کو برا نہ کہو۔ یہ فیصلہ ان کا بعینہ ایسا ہوتا ہے جیسے کسی سادھو فقیر کو دیکھ کر کسی کے دل میں شک گزرے کہ یہ کوئی ٹھگ بناوٹی سادھو بنا ہوا ہے۔ یہ کسی عورت یا کسی عورت کا زیور لے اڑے گا اور وہ کسی پنڈت سے پوچھے کہ پنڈت جی آپ فلانے سادھو کی نسبت کیا فرماتے ہیں؟ تو وہ پوچھے کیا اس نے لٹیں چھوڑی ہوئی ہیں؟ کیا اس کا لباس بھگوا ہے؟ کیا اس نے بدن پر بھبوت ملی ہوئی ہے اور جب اس کو تینوں سوالوں کا جواب اثبات میں ملے کہ ہاں ایسا ہے۔ تو پنڈت فیصلہ دے دے کہ وہ سادھو ہے اور سادہ لوح گدی نشینوں تم پر افسوس کہ جس فیصلہ کے تم اہل نہ تھے۔ تم نے کیوں دیا اور امت رسول کو کیوں گمراہی میں پڑنے دیا؟
بابو صاحب....... مولوی صاحب ٹھگ کی کیا شناخت ہے؟
نو وارد....... بابو صاحب ٹھگوں کی صرف ایک ہی قسم نہیں کہ ان کی شناخت عرض کر دی جائے۔ ٹھگ مختلف اور ان کی شناخت کے آثار مختلف۔
بابو صاحب....... مرزا قادیانی کو آپ نے کن وجوہات کی بنا پر ٹھگ سمجھا؟
نو وارد....... ہاں یوں سوال کیجئے۔ اب بیان کرنا میرا کام لیکن سمجھنا آپ کا کام۔
بابو صاحب میں کسی اور مسلمان کی نسبت نہیں۔ اپنی نسبت سے عرض کرتا ہوں کہ جب کبھی میرے دل میں کوئی یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ پیغمبر خدا فریبی تھے۔ جھوٹے تھے۔ قرآن کی آیات خود گھڑتے تھے۔ تو میری تسلی اسی اور صرف اسی بات سے ہوتی ہے کہ وہ ایسے بالکل نہ تھے؟ اگر وہ فقیری سے امیر ہو جاتے۔ جھونپڑیوں سے محل بنا لیتے۔ پلاؤ قورمے اڑاتے۔ بیویوں کو زیورات سے لاد دیتے۔ گھر دولت سے بھر لیتے۔ داماد کو جہیز سے نہال کر دیتے۔ تو میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میں قرآن کو خود بنایا ہوا ماننے کو تیار ہو جاتا۔ مجھے جس بات نے آج تک دائرہ اسلام میں رکھا ہوا ہے۔ وہ آنحضرت کا چال چلن ہے کہ مصائب و تکالیف ہر طرح کی خود اٹھائیں اور فائدہ ہر قسم کا مخلوق خدا کو پہنچایا۔ روزہ پر روزہ رکھ کر پیٹ پر پتھر باندھ کر ٹاٹ پر سو کر۔ جو کے ان چھنے آٹے کی روٹی کھا کر عمر گزاری۔ مرے تو گھر میں کفن ندارد۔ ایسا شخص ٹھگ نہیں ہو سکتا۔ ٹھگ کی تعریف یہ ہے کہ فریب سے لوگوں سے پیسہ حاصل کر کے مزے اڑائے۔ کیوں بابو صاحب؟
١٥٩
بابو صاحب....... بالکل ٹھیک! اگر آپ خود نقصان اٹھا کر مجھے فائدہ پہنچا دیں تو آپ ٹھگ نہیں ۔ ٹھگ آپ اسی وقت ہیں جب مجھے نقصان دے کر آپ اپنا فائدہ حاصل کریں۔ نو وارد ...... اب مرزے قادیانی کو لیجئے۔ جو کہتا ہے مجھے نبی مانو۔ اس لئے کہ میں عین آنحضرت ہوں۔ مجھے مسیح مانو اس لئے کہ میں اس کی خصلتوں پر آیا۔ میرے مانے بغیر نجات نہیں۔ میں آخری نور ہوں۔ جو مجھے نہ مانے وہ کافر ۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے۔ جو تین مہینہ تک چندہ نہ دے، وہ جماعت سے خارج۔ بابو صاحب اس خیال میں میں منفرد نہیں۔ سارا ملک ہند میرے ہم خیال ہے۔ گرو نانک صاحب کے پیرو تو صرف سکھ ہیں۔ مگر ملک ہند کی جتنی قومیں ہیں۔ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ کوہاٹ کی چھاؤنی میں ایک مسلمان ہے۔ جو انڈے مرغیاں بیچتا ہے اور نام اس کا نانک ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا گرو نانک نے چندے کر کے ساٹھ ستر ہزار اشتہار ملک میں تقسیم کئے کہ آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے؟ کیا گرو نانک صاحب نے ستر اسی کتابیں لکھ ڈالیں کہ میرے سے خدا تمام تمام دن تمام تمام رات باتیں کرتا ہے۔ کیا انہوں نے یہ دعویٰ کیا؟ کہ میری دعائیں قبول ہوتی ہیں؟
نہیں ہرگز نہیں۔ انہوں نے فقیری میں توحید کی تبلیغ کر کے مشرکوں کو موحد بنایا اور کسی فرد بشر کی جیب کو خبر بھی نہیں ہوئی۔ پس جب صدق و کذب کا معیار میرے یا تمام ملک ہند کے خیال کے مطابق یہ ٹھہرا تو اب ایسے شخص کے خلاف جس نے غربت میں عمر بسر کر کے خلق خدا کو ہدایت کی ہو۔ اگر کوئی ہزار عیب بھی بیان کرے۔ تو ہم ان کو پس پشت ڈال دیں گے اور ایسے شخص کے خلاف جو پیشہ نبوت سے مالا مال ہو گیا ہو۔ اگر کوئی ایک عیب بھی بیان کرے تو ہم اس کو بہرہ چشم قبول کریں گے اور آدھے راستہ تک اس کے استقبال کے لئے جائیں گے۔
اس شخص نے جو جھوٹ بولنے کو شرک اور گوہ کھانے کے برابر کہا یہ کیوں؟
میری طرف کوئی جھوٹ بولنے کا گمان نہ کرے۔ کیونکہ آپ کے کارخانہ کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی تھی کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سمریزم کو مکروہ اور قابل نفرت کیوں کہا؟ میری طرف کوئی مسمریزم کا گمان نہ کرے۔
(فتح اسلام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ٤) پر لکھا: ’اس زمانے میں دنیا کمانے کے لئے مکر وفریب حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔‘ یعنی میری طرف کوئی ایسا گمان نہ کرے۔ اسلام کی تعریف کے پیرائے میں جو کچھ یہ اپنی تعریفات کر گیا۔ وہ میں پٹڑی جمانے کی مد کے نیچے بیان کر چکا۔
پھر اس شخص نے اپنی کتابوں میں جگہ جگہ اس بات پر بڑا زور دیا کہ براہین احمدیہ میں
١٦٠
میں نے اپنا الہام یاتین من کل فج عمیق اتنے سال پہلے کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا۔ کیا انسان کی طاقت ہے کہ ایسی یہ فقرہ کہ انسان کی طاقت ہے کہ ایسی پیشین گوئی کر سکے ہے۔ جس شخص کا یہ ارادہ ہو کہ ساٹھ ستر اسی نوے ہزار کرے کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ میری دعا قبول ہوتی ہے یہاں نور خدا برس رہا ہے۔ اس کے لئے اس قسم کی پیشین دور سے تیری طرف آئیں گے۔ کچھ مشکل تھی؟
کیا ایسے اشتہار دیکھ کر مسلمانوں کو بغیر قاد گھوڑے کا سر پچھاڑی کی طرف اور پٹھا تھاں کی طرف کے لئے بھی جمع ہوگئی تھی اور یہاں تو خدا کے نور برسنے ہندوستان پنجاب میں گھر گھر مسلمانوں کی گردن میں ک سارے پیروں سے زیادہ خدا کا مقرب اور مستجاب ال نہیں کریں گے کہ ایک دفعہ اسے دیکھ تو لیں کہ سچا ہے یا
کیا زمانہ پکار پکار کر نہیں کہہ رہا کہ تجارت سے زیادہ اس کی تجارت سب سے زیادہ۔ بابو صاحب کی۔ اس نے اپنے جوتشی کو بلا کر کہا کہ بتاؤ ہماری فتح ثابت ہوا تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ جوتشی بڑے فکر میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ بیٹی نے باپ کو مت بیٹی نے کہا بابا یہ تو کچھ بات ہی نہیں۔ تم ایک ذرہ فکر ہوگی۔ اگر فتح بادشاہ کی ہوگئی۔ تو تمہارا اعزاز بڑھے جو تمہاری گردن اڑائے گا؟
بابو صاحب کیا مرزا بھی یہی چال نہیں لئے انسان کی طاقت سے باہر بکتا ہے کہ اگر یہ صریح تو کوئی مرزے کو پکڑ کر پھانسی دے دیتا۔ تو میں پوچھتا پوری نہ ہونے پر مرزے کو کس نے پھانسی دے دیا؟ قاضی صاحب....... وہ کون سی؟
٤١
میں نے اپنا الہام یاتین من کل فج عمیق اتنے سال پہلے اور ایسے زمانے میں درج کیا ہے جب کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا۔ کیا انسان کی طاقت ہے کہ ایسی پیشین گوئی کر سکے۔ بابو صاحب دیکھئے یہ فقرہ کہ انسان کی طاقت ہے کہ ایسی پیشین گوئی کر سکے۔ کیسا مکر وفریب اور جھوٹ سے بھرا ہوا ہے۔ جس شخص کا یہ ارادہ ہو کہ ساٹھ ستر اسی نوے ہزار اشتہار چھپوا کر چار دانگ عالم میں مشتہر کرے کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ میری دعا قبول ہوتی ہے۔ میں آنے والا مسیح ہوں۔ مسلمانو آؤ کہ یہاں نور خدا برس رہا ہے۔ اس کے لئے اس قسم کی پیشین گوئی کسی کتاب میں لکھ رکھنی کہ لوگ دور دور سے تیری طرف آئیں گے۔ کچھ مشکل تھی؟
کیا ایسے اشتہار دیکھ کر مسلمانوں کو بغیر قادیاں آئے صبر آتا؟ کسی بندہ خدا نے اپنے گھوڑے کا سر پچھاڑی کی طرف اور پٹھا تھاں کی طرف کر کے باندھ دیا تو خلقت اس کے دیکھنے کے لئے بھی جمع ہو گئی تھی اور یہاں تو خدا کے نور برسنے اور استجابت دعا کے اشتہار تھے۔ جس نے ہندوستان پنجاب میں گھر گھر مسلمانوں کی گردن میں کسی نہ کسی پیر کی رسی ڈال رکھی ہے۔ ان کو اگر سارے پیروں سے زیادہ خدا کا مقرب اور مستجاب الدعوات کہیں سنائی دے۔ تو کیا وہ اتنا بھی نہیں کریں گے کہ ایک دفعہ اسے دیکھ تو لیں کہ سچا ہے یا جھوٹا۔
کیا زمانہ پکار پکار کر نہیں کہہ رہا کہ تجارت کا گر اشتہار ہیں؟ پھر جس کے اشتہار سب سے زیادہ اس کی تجارت سب سے زیادہ۔ بابو صاحب کہتے ہیں ایک بادشاہ پر غنیم نے چڑھائی کی۔ اس نے اپنے جوتشی کو بلا کر کہا کہ بتاؤ ہماری فتح ہوگی یا شکست؟ جواب تحریر دو اور اگر وہ غلط ثابت ہوا تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ جوتشی جواب کے لئے مہلت مانگ کر گھر آیا اور بڑے فکر میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ بیٹی نے باپ کو متفکر پا کر سبب پوچھا تو اس نے معاملہ سنا دیا۔ بیٹی نے کہا بابا یہ تو کچھ بات ہی نہیں۔ تم ایک ذرہ فکر مت کرو۔ بادشاہ سلامت کو لکھ دو کہ تیری فتح ہوگی۔ اگر فتح بادشاہ کی ہو گئی۔ تو تمہارا اعزاز بڑھ جائے گی اور اس کی شکست ہو گئی تو کون ہوگا جو تمہاری گردن اڑائے گا؟
بابو صاحب کیا مرزا بھی یہی چال نہیں چلا ؟ اور اگر مرزا قادیانی اس پیشین گوئی کو اس لئے انسان کی طاقت سے باہر سمجھتا ہے کہ اگر یہ صرف دو پہلو رکھنے والی پیشین گوئی پوری نہ ہوتی۔ تو کوئی مرزے کو پکڑ کر پھانسی دے دیتا۔ تو میں پوچھتا ہوں کہ بعینہ اسی قسم کی دوسری پیشین گوئی پوری نہ ہونے پر مرزے کو کس نے پھانسی دے دیا؟
قاضی صاحب ....... وہ کون سی؟
١٦١
نووارد...... مرزا (حقیقت الوحی ص ١٦٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٩) پر لکھتا ہے: ”اب یقیناً سمجھو کہ آریہ سماجوں کا خاتمہ ہے اور جیسا کہ خدا نے وعدہ کیا تھا۔ وہ پورا ہوا۔ کیا انسان کی طاقت ہے کہ قبل از وقت ایسی پیشین گوئیاں کر سکے۔“
کیوں بابو صاحب! اب تو مرزے کا یہ قول مردود ہو گیا نہ کہ ایسی پیشین گوئیاں کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ پھر میں یہ پوچھتا ہوں کہ سینکڑوں جھوٹی پیشین گوئیوں میں سے اگر خاص اسی پیشین گوئی یاتین من کل فج عمیق کے لئے کوئی مرزے کو پھانسی دینے لگتا تو کیا مرزے کا تاویلات کا تھیلہ ختم ہو گیا تھا؟ وہ ایک اشتہار اس مضمون کا نہ نکال لیتا کہ یہ میری اجتہاد کی غلطی تھی۔ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ کہ لیکھو کے قتل کے مقدمہ میں پولیس کے سپاہی دور دور سے تیرے مکان کی تلاشی لینے آئیں گے اور یہ عظیم الشان پیشین گوئی بڑے چمتکار کے ساتھ پوری ہوئی۔ ”فالحمدلله على ذالك ونحمده ونصلى على رسوله الكريم والعاقبة للمتقین“ الراقم عبداللہ الاحد الصمد احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ۔
بیوی...... (ہاتھ ملتے ہوئے) ہائے توبہ! غلام احمد سے احمد بن گیا۔
نووارد...... بیوی جی اول تو غلامی ہے ہی بہت بری چیز خواہ کسی کی بھی ہو۔ دوسرے اپنے یا بیگانے نام کو گھٹا کر لینے میں کسر نفسی بھی پائی جاتی ہے۔ قہقہہ
بیوی...... مگر مرزے نے ١٣٠٠ کا عدد تو غلام احمد قادیانی سے نکالا تھا۔
نووارد...... جی ہاں قادیانی کی جگہ قادیانی لگا کر۔ مگر وہ وقت گزر گیا۔ مرید مان چکے۔ اب ان اعدادِ جمل کی ضرورت نہیں رہی۔
بیوی...... لو اب اٹھو۔ چائے پی لو اور چارپائی پر بیٹھ کے۔
قاضی صاحب...... بابو صاحب آپ نے مرزے کے اس قول کی طرف توجہ کی؟ کہ کیا یہ انسان کا کام ہے کہ قبل از وقت ایسی پیشین گوئیاں کرے۔ یعنی آپ خلقت کو جتا اور بتا رہے ہیں کہ یہ ایسی غضب کی پیشین گوئی ہے کہ سِواء فرشتہ کے انسان کر ہی نہیں سکتا۔
بابو صاحب...... جی ہاں مرزا قادیانی ایسے ہی کام کیا کرتا تھا۔ جو انسان کیا مرزا سلطان احمد جیسے انسان کی طاقت سے باہر ہوتے تھے۔ قہقہہ۔ قاضی صاحب کو چائے میں اچو آ گیا۔
نووارد...... قاضی صاحب چھت کی طرف دیکھئے۔
١ آریہ اس باغ کے درختوں کی بھی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ جس سے وہ اپنے پودے لیتے ہیں۔
٢ پنڈت لیکھرام۔ دیکھو تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٤٢ ملخص۔
١٦٢
قاضی صاحب...... مولوی صاحب مجھے ذرا اپنا رومال دیجیے
بابو صاحب...... دوسری دفعہ پیالیوں میں چاء ڈالیے مرزے کی چالاکیوں کی کوئی اور مثال ہو؟
نووارد...... اچھا میں آپ کے اور قاضی صاحب کے دماغ قادیانی کے الہاموں میں جو ان کے خدا نے ان کو کئے، یہ دو اِ بتادیں۔
- ١ ...... ”انا انزلناه قریباً من القادیان“
- ٢ ...... ”انی متوفيك ورافعك الى“
قاضی صاحب کو دوبارہ اچو ہوتے ہوئے روکا سے لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں اور بات منہ سے نہیں نکلتی۔
بابو صاحب...... مولوی صاحب آپ نے یہ کیا غض آیا۔
نووارد...... قاضی صاحب ہنسی کو روکے اور بابو صاحب کو ا
قاضی صاحب...... (ہنسی کو روک کر) توبہ، لاحول الہاموں کا مطلب نہیں سمجھتے کہ کس غرض کے لئے اتارے
بابو صاحب...... نہ صاحب۔
قاضی صاحب...... اچھا تو سنئے! ہم مسلمان مرزا احادیث پیش کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے جہاں کہیں ذکر کیا ہے۔ وہاں لفظ نزول استعمال کیا ہے۔ اس لئے نزول کے معنے اوپر سے نیچے اترنا اور حضرت عیسیٰ علیہ ا آیت پیش کرتے ہیں کہ خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلا کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا۔ مرزے نے یہ دونوں الہام اپنے لئے اتا معنی اوپر سے نیچے اتارنے کے ہوتے۔ تو خدا مجھے کہ نازل کیا اور چونکہ قادیاں میں پیدا ہوا ہوں۔ اس ل معنے پیدا ہونے کے ہیں۔ اسی طرح احادیث میں
٦٣
قاضی صاحب....... مولوی صاحب مجھے ذرا اپنا رومال دیجئے۔
بابو صاحب....... دوسری دفعہ پیالیوں میں چاء ڈالتے ہوئے۔ اچھا مولوی صاحب! مرزے کی چالاکیوں کی کوئی اور مثال ہو؟
نووارد....... اچھا میں آپ کے اور قاضی صاحب کے دماغ کا امتحان کرتا ہوں۔ سنئے! مرزا قادیانی کے الہاموں میں جو ان کے خدا نے ان کو کئے، یہ دو الہام بھی ہیں۔ آپ ان کی غرض مجھے بتادیں۔
- .......١ "انا انزلناه قریبا من القادیان" (ازالہ اوہام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)
- .......٢ "انی متوفیک ورافعک الی" (تذکرہ ص ٩٦ طبع سوم)
قاضی صاحب کو دوبارہ اچھو ہوتے ہوتے رہ گیا۔ مگر پیالی چاء کی پرچ میں رکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہے ہیں اور بات منہ سے نہیں نکلتی۔
بابو صاحب....... مولوی صاحب آپ نے یہ کیا شگوفہ چھوڑ دیا۔ میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا۔
نووارد....... قاضی صاحب ہنسی کو روکئے اور بابو صاحب کو ان الہامات کا مطلب سمجھائیے۔
قاضی صاحب....... (ہنسی کو روک کر) توبہ، لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔ بابو صاحب آپ ان الہاموں کا مطلب نہیں سمجھتے کہ کس غرض کے لئے اتارے گئے؟
بابو صاحب....... نہ صاحب۔
قاضی صاحب....... اچھا تو سنئے! ہم مسلمان مرزے کی تکذیب وتردید میں آنحضرت کی احادیث پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت نے جہاں کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ذکر کیا ہے۔ وہاں لفظ نزول استعمال کیا ہے۔ اس لئے آنے والا مسیح آسمان سے اترے گا۔ کیونکہ نزول کے معنے اوپر سے نیچے اترنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے ثبوت میں یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا کہ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا۔
مرزے نے یہ دونوں الہام اپنے لئے اتار کر اپنے معتقدین پر ظاہر کیا کہ اگر نزول کے معنی اوپر سے نیچے اتارنے کے ہوتے۔ تو خدا مجھے کیوں فرماتا کہ میں نے تجھے قادیان کے قریب نازل کیا اور چونکہ قادیاں میں پیدا ہوا ہوں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ جیسے اس الہام میں نزول کے معنے پیدا ہونے کے ہیں۔ اسی طرح احادیث میں بھی نزول سے مراد واقعی اوپر سے نیچے اترنا
١٦٣
نہیں، بلکہ صرف پیدا ہونا ہے اور آیت میں ”رافعك الی“ یعنی اپنی طرف اٹھانے والا، سے واقعی اگر یہ مراد ہوتی کہ تجھ کو جسم سمیت اپنی طرف اٹھانے ہوں۔ تو میرے لئے وہی الفاظ کیوں استعمال ہوتے۔ کیونکہ میں تو آسمان کی طرف اٹھایا نہیں گیا۔ پس رافع الیٰ کے معنے یہی ہیں کہ میں تجھے عزت دوں گا۔
نووارد ...... قاضی صاحب شاباش شاباش! جزاک اللہ آج میں آپ کے دماغ کا قائل ہو گیا۔
قاضی صاحب ...... اور میں مرزے کے دماغ کا۔
بابو صاحب ...... اور میں مولوی صاحب کے دماغ کا۔
نووارد ...... بابو صاحب! میرے دماغ کی تعریف نہ کیجئے۔ میرے خیال میں مرزے نے خود بیان کر دیا ہے کہ رفع الیہ کے معنے اگر جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے ہوتے تو میرے لئے یہ آیت نہ اترتی۔ ہاں میں نے دوسرے الہام سے ایک نتیجہ نکالا ہے اور وہ یہ کہ خدا عجمی ہے۔ ”ض“ کی جگہ ”د“ بولتا ہے۔ کیونکہ جو لوگ قادیاں نہیں کہہ سکتے وہ قادیان کہتے ہیں اور اس لئے یہ خدا قرآن اتارنے والا خدا نہیں اور مرزا مجدد نہیں۔ کیونکہ مرورِ زمانہ سے جو خرابی اس کے گاؤں کے نام میں پڑ گئی تھی۔ اس کی اس نے تجدید و اصلاح نہ کی۔ بلکہ اس غلطی سے فائدہ اٹھا کر ١٣٠٠ء نکالا۔ یعنی قادیاں سے بجائے قاضیاں کے۔
١؎ مرزا (ستارہ قیصرہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٨، ١١٩) پر ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو لکھتا ہے۔ ”سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا ہے۔ تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے درد مندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا تا کہ دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلہ عدل نے آسمان سے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ بپا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لئے دنیا پر ایک آخری حکم ہے۔ جس کی رو سے مسیح موعود حکم کہلاتا ہے۔ اس لئے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا۔ اس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا گیا۔ قاضی کے لفظ سے خدا کے اس آخری حکم کی طرف اشارہ ہو جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی رہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حکم ہے۔ اس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ماجھی اس وقت اس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا۔ جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اس ملک ماجھے کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفتہ رفتہ خود مختار ریاست بن گئی اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیان ہو گیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پر معنی نام ہیں۔ جو ایک ان میں سے روحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا روحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے۔“
١٦٤
قاضی صاحب جس طرح اس نے جھوٹ اور مسمریزم کو برا کہا ہے۔ افتراء علیٰ اللہ کو بھی بڑے سخت الفاظ میں برا کہا ہے۔ چنانچہ (نشان آسمانی ص ٢، خزائن ج ٤ ص ٣٦٢) میں اس نے لکھا: ”اگر ہم بیباک اور کذاب ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نہ ڈریں تو ہزار ہا درجے ہم سے کتے اور سور اچھے ہیں۔“ بابو صاحب خدا لگتی کہنا کہ خدا کی نسبت یہ کہنا کہ اس نے قاضیاں کا تلفظ قادیاں کیا۔ یہ افتراء ہے یا نہیں؟
بابو صاحب مرزا کہتا ہے کہ مجھے خدا نے الہام کیا کہ ”میں تیری ساری آرزوئیں پوری کروں۔“ اور (آئینہ کمالات، ص ٤٣١، خزائن ج ٥ ص ٤٣١) میں اس نے مشائخ اور صلحائے عرب کی طرف لکھا ہے: ”من آرزو دارم کہ بلاد شما و با کمالات آرا معائنہ کنم و خاکپائے حضرت سید عالم ﷺ را سرمہ دیدہ خود سازم...... و از خدا میخواہم کہ او از محض کرم این تمنائے مرا کہ بجهت زیارت خطہ دلنشین شما دارم برآرد۔
بابو صاحب جن لوگوں کو خدا نے کبھی بھی ایسا الہام نہیں کیا۔ وہ اپنی عمر میں کئی کئی دفعہ جاکر زیارت روضہ رسول اللہ کر آتے ہیں اور اس شخص کو الہام کر کے خدا نے اس کی یہ عظیم الشان دلی آرزو پوری نہ ہونے دی۔ پس اگر زیارت روضہ رسول اللہ مرزے کی آرزو نہ تھی۔ تو مشائخ عرب کی طرف یہ تحریر جھوٹ اور اگر یہ تحریر سچی، تو مرزے کا الہام افتراء۔
بابو صاحب ........ کیوں قاضی صاحب! بس۔
قاضی صاحب ........ جی اب بھی بس نہ ہو؟
بابو صاحب ........ لے گاموں اب برتن اٹھا۔
گاموں ........ (تولیہ جس سے وہ مکھیاں اڑا رہا تھا، شانہ پر ڈال کر برتن جمع کرتے ہوئے) مرزے نوں تے اج مولبی ہوراں ڈاہڈا کنڈی وچ پھسایا۔ ہُن کوئی مرزائی آوے تے کڈھے۔
نووارد ........ قاضی صاحب! آپ نے دیکھ لیا۔ دنیا پیٹ کے واسطے کیا کیا کرتی ہے؟
قاضی صاحب ........ توبہ توبہ جن کاموں کے واسطے ایسے سخت لفظ استعمال کرتے وہی کام کرنے ہو تو یہ لاحول ولا قوۃ۔
نووارد ........ صرف اس واسطے کہ اس کی طرف کوئی ان کاموں کا گمان نہ کرے۔ مگر مرزے کے کاموں کی میں آپ کو آسان سی ترکیب بتاؤں۔ جس کام کو یہ بہت ہی برا قرار دے اور اس کے برے ہونے پر بڑا زور دے، تو سمجھ لو کہ یہ کام اس نے ضرور کرنا ہے۔ یا کیا ہے یا کر رہا ہے۔
١٦٥
بابو صاحب ....... اب آئیے اور اپنا مضمون شروع کیجئے۔
نودارد ....... بابو صاحب مضمون تو یہ بھی وہی ہے مگر خیر ۔ ہاں ٹھہریے ۔ میں نماز کے دو سجدے دے لوں۔ (نماز سے فارغ ہو کر ) بابو صاحب! آپ مرزے کی تمام کتابیں اول سے آخر تک پڑھ لیجئے۔ آپ کہیں نہ دیکھیں گے کہ آنحضرت کا کہیں نام آیا ہو اور اس کے واسطے مرزے نے صرف صلعم پر اکتفا کیا ہو۔ بلکہ ہر جگہ پورا ﷺ پاویں گے۔ لیکن دوسرے پیغمبروں کے واسطے مرزے نے بعض اوقات اتنی پرواہ بھی نہیں کی کہ علیہ السلام کا نشان بھی ان کے نام پر لکھے۔ مثلاً دیکھو صفحات (تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٤٧، ٥٦، ٦٦، خزائن ج١٧ ص ١٣٠، ١٤١، ١٧٢، ١٩١) نوٹ (دوم حاشیہ ص ٧٢ حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
ان کی عزت کے واسطے نہ حضرت کا لفظ ہے نہ جمع کا صیغہ ہے۔ نہ ہے۔ ان کے واسطے بالکل انگریزی فیشن اڑا ہے۔ مثلاً ابراہیم کی طرح ، نہ حضرت نہ خلیل اللہ نہ اس کی کیا وجہ؟ صرف یہ وجہ کہ آپ نے نہ کسی پیغمبر کو پیغمبر مانا نہ ان کی عزت آپ کے دل میں تھی اور ادھر نکتوں کا مدار آنحضرت کی عزت اور عشق جتانے پر تھا۔ اس لئے دکھلاوے کے واسطے کاپی نویس کو کیسی سخت تاکید و تنبیہہ کی گئی ہو؟ مگر ہم تب مانتے کہ آپ کے دادا کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا۔
قاضی صاحب اسلام میں کیسے کیسے بزرگ گزر گئے۔ مگر آپ نے کبھی سنا یا دیکھا کہ انہوں نے اپنی سچائی یا تعریف کے سرٹیفکیٹ لوگوں سے حاصل کر کے اپنی تصنیفات کے ساتھ شامل کئے ہوں۔
قاضی صاحب ....... لاحول ولاقوة كيا وه لوگ کتب فروش دکاندار ۔
نودارد ....... جو شخص مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنی کتابوں میں ایسے سرٹیفکیٹ لگائے۔ آپ اسے کیا کہیں گے؟
قاضی صاحب ....... کتب فروش دکاندار ۔
نودارد ....... ہمارے ہیرو کی کم کوئی ایسی کتاب آپ دیکھیں گے جس میں ایسی سندات درج نہ ہوں اور یہ سندات اپنے منہ سے کہہ رہی ہیں کہ ہم حاصل کردہ ہیں ۔ چودھویں صدی کا مسیح جس نے پڑھی ہو اس کو معلوم ہوگا کہ مرزا نے کس قدر زور لگایا کہ شیخ مہر علی صاحب مرحوم ومغفور اس کو سرٹیفکیٹ دیں کہ چیف کورٹ سے میری بریت مرزے کی دعا سے ہوئی ۔ مگر انہوں نے خلاف واقعہ بات کی۔
تصدیق کر کے خلقت کو دھوکہ دینا پسند نہ کیا ( اللہ ان کو غریق رحمت کرے اور اس کو اجر
١٦٦
عظیم عطا فرمائے ، آمین ) کسی کتاب میں حکیم نور الدین کا براہین کا تمام چندہ ادا کردہ میں اپنی گرہ سے لوگوں کو واپس کر ظاہر کیا ہے۔ کہیں کسی عرب کا خط درج کیا ہے کہ آپ کے ش میں نہیں آئے ہیں ۔ ان کو حفظ کروں گا۔ کسی کتاب میں رجز کی مدح سرائی اور تعریف سے مملو ہے۔ کسی کتاب میں عبد کے نام درج ہے کہ آؤ کہ نور خدا یہیں پاؤ گے اور یہ وہی مع ”انه اوى القرية “ (حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ بچاؤں گا۔ تو اس نے زمین آسمان سر پر اٹھالیا۔ اس کی تحر نے الہامات مرزا کے (ص ١١٩، ١٢٠) پر درج کئے ہیں، جو اس ”انہ اوى القرية“ کا مفہوم صاف لفظو کے غیر میں امتیاز ہو ...... حضرت مسیح موعود نے اپنی راستی ا کہ قادیاں کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفو جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہر یے ١، طبع کفار مشرک اور خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت م
حضرت ممدوح نے لکھا ہے اور بار بار فرما گا۔ اس جگہ کو خدا تعالیٰ اس غضب سے بچالے گا ... تم سے قادیاں کے پیغمبر کا دعویٰ باطل ہو جائے او اس کی دی طاعون کے حملہ سے محفوظ رہیں ۔ یا یہ کہ قادیاں طاعون نا خدا نے اس اکیلے صادق کے طفیل قادیاں ک خاص حفاظت میں لے لیا۔"
قاضی صاحب ...... مگر میں نے تو سنا ہے کہ یہ کرتا تھا۔ طاعون سے ہی قادیاں میں فوت ہوا۔
١ے جو اکثر دہر یہ طبع ہیں۔ قابل غور ہے۔ ٢ے یہ ہنسی بالآخر بالکل معقول ثابت ہوئی۔ ٣ے جیسے کوہاٹ جس میں یہ عاجز ٣١ سال
١٦٧
عظیم عطا فرمائے، آمین) کسی کتاب میں حکیم نورالدین کا خط درج کیا ہے کہ اگر آپ حکم دیں تو براہین کا تمام چندہ ادا کردہ میں اپنی گرہ سے لوگوں کو واپس کردوں۔ اس سے حکیم نور دین کا اعتقاد ظاہر کیا ہے۔ کہیں کسی عرب کا خط درج کیا ہے کہ آپ کے شعروں جیسے شعر آج تک میرے دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ ان کو حفظ کروں گا۔ کسی کتاب میں رتڑ چھتر کے کسی پیر کا خط درج ہے جو آپ کی مدح سرائی اور تعریف سے مملو ہے۔ کسی کتاب میں عبدالکریم سیالکوٹی کا خط کسی مجہول دوست کے نام درج ہے کہ آؤ کہ نورِ خدا یہیں پاؤ گے اور یہ وہی عبدالکریم ہے کہ جب مرزے کو الہام ہوا ”انہ اوی القریۃ“ (حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ص٢٤٣) میں تیرے گاؤں کو طاعون سے بچاؤں گا۔ تو اس نے زمین آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس کی تحریر کے اقتباسات مولوی ثناء اللہ صاحب نے الہامات مرزا کے (ص ١١٩، ١٢٠) پر درج کئے ہیں، جو اس طرح پر ہیں:
”انہ اوی القریۃ“ کا مفہوم صاف لفظوں میں تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اور اس کے غیر میں امتیاز ہو ...... حضرت مسیح موعود نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیاں کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ١ طبع کفار مشرک اور طبع دین حق سے ہنسی٢ کرنے والے ہیں۔ خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے۔
حضرت ممدوح نے لکھا ہے اور بار بار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہو گا۔ اس جگہ کو خدا تعالیٰ اس غضب سے بچا٣ لے گا ...... تم لوگ بھی مل کر ایسی پیشین گوئی کرو۔ جس سے قادیاں کے پیغمبر کا دعویٰ باطل ہو جائے اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا یہ کہ لاہور اور امرتسر طاعون کے حملہ سے محفوظ رہیں۔ یا یہ کہ قادیاں طاعون میں مبتلا ہو جائے۔
خدا نے اس اکیلے صادق کے طفیل قادیاں کو جس میں اقسام اقسام کے لوگ تھے۔ اپنی خاص حفاظت میں لے لیا۔“
قاضی صاحب ...... مگر میں نے تو سنا ہے کہ یہ عبدالکریم جس کے پیچھے مرزا نماز پڑھا کرتا تھا۔ طاعون سے ہی قادیاں میں فوت ہوا۔
١ جو اکثر دہریہ طبع ہیں۔ قابلِ غور ہے۔
٢ یہ ہنسی بالآخر بالکل معقول ثابت ہوئی۔
٣ جیسے کوہاٹ جس میں یہ عاجز ٣١ سال سے ہے۔
١٦٧
نووارد....... جی ہاں! یہ دیکھو (ص ٢٩ الذکر الحکیم) پر ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم اور مغفور لکھتے ہیں: ”مگر خاص ان کے گھر میں بھی عبدالکریم سیالکوٹی اور پیراں دتہ مرزا کا خاص ملازم طاعون سے فوت ہوئے۔“ قاضی صاحب قادیانی مسیح موعود جو اس حدیث پر اعتراض کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے۔ تو حضرت مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ دیکھو (ازالہ حصہ اوّل ص ٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٢٣) اپنے اسی مہدی کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے۔
اس کے بعد قاضی صاحب اور نووارد اجازت حاصل کر کے سلام علیک کہتے ہوئے رخصت ہو گئے۔ دوسرے دن دروازہ پر دستک۔ گاموں دروازہ پر پہنچ کر، آؤ جی بسم اللہ لنگھ آؤ۔ اندر داخل ہو کر سلام علیک وعلیکم السلام کے بعد۔
نووارد....... فرمائیے بابو صاحب، رات کیسے گزری؟
بابو صاحب....... مولوی صاحب! کچھ نہ پوچھئے۔ کل شام جب آپ صاحبان تشریف لے گئے۔ تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ بہت دن ہوئے۔ میں گھر سے باہر نہیں نکلا۔ ذرا باہر کا چکر لگا آؤں۔ چنانچہ غسل کر کے اور کپڑے بدل کر باہر نکل گیا۔ ریل کے اسٹیشن کے قریب پہنچا۔ تو پرانے یار مل گئے۔ سلام علیک وعلیکم السلام کے بعد انہوں نے یہی گفتگو شروع کر دی کہ ہم نے سن لیا ہے کہ اس کوہاٹی مردود ملعون کے بہکانے سے آپ دین حق سے مرتد ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں واقعی میں ایک ایسے کتاب فروش کو جو ہندوؤں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے علماء کو نجاست خور جانور، خبیث، شریر، لعنتی، خنزیر سرشت، بدسرشت، چور، قزاق، حرامی، ظالم ولدالزنا اور ان کی والدہ صدیقہ کو زانیہ کہتا ہو نہ مجدد، مہدی، مسیح دجال مان سکتا ہوں، نہ مسلمان۔
وہ بڑے تپے اور کہنے لگے کہ اس بات کا ثبوت ہمیں دے کہ حضرت اقدس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حرامی کہا ہے۔ میں نے ان سے کہا بہت بہتر کل شام کو اسی وقت یہ ثبوت آپ مجھ سے لیں۔ پس آپ آج مہربانی فرما کر قبل اس کے کہ اپنا مضمون شروع کریں۔ مجھے میرے دعوے کا ثبوت بہم پہنچا دیں کہ میں ان سے شرمندہ نہ ہوں۔
نووارد....... یہ مرزے کی کتاب ایام الصلح ہے۔ اس میں وہ افغانوں کو بنی اسرائیل ثابت کرنے کی وجوہات دیتا ہوا (ص ٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠) پر لکھتا ہے کہ ”پانچویں وجہ یہ ہے کہ افغانوں اور یہودیوں کے رسوم وعادات آپس میں ملتے ہیں۔ مثلاً افغان یہودیوں کی طرح نسبت اور نکاح میں فرق نہیں کرتے۔ لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے
١٦٨
باہر چکر لگانا۔ اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے اور بعضے پہاڑی اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر اختلاط پایا جاتا ہے کہ نص پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔“ بابو صاحب اس مضمون کو خوب ذہن کتاب تقویۃ الایمان سے کچھ پڑھ کر سناتا ہوں۔ (ص ١٦، خزائن کے سلسلہ میں:
”اور ہمارے رسول ﷺ نے نہ صرف گواہی دی کہ السلام کو دیکھا۔ بلکہ خود مرکر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اس سے پہلے کو جیسا کہ قرآن کو چھوڑتے ہیں۔ ویسا ہی سنت کو بھی چھوڑتے ہے۔ اگر عیسیٰ زندہ تھا۔ تو مرنے میں ہمارے رسول کی بے ع قرآن جب تک عیسیٰ کی موت کے قائل نہ ہو اور میں حضرت مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔ لیکن کرتا ہوں۔ کیونکہ میں روحانیت کے رو سے اسلام میں خا اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔ موسیٰ کے سلسلہ میں میں میں مسیح موعود ہوں۔ سو میں اس کی عزت کرتا ہوں۔ جس جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ آ کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک م بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہو ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آئے۔ مگر میں آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قا میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور دلوں کو دیکھتا ہے اور اس کے موافق تم سے معاملہ کرے ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے۔ اس کو مت کھاؤ۔“
١٦٩
باہر چکر لگانا۔ اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے اور بعضے پہاڑی خواتین کے قبیلوں میں لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر اختلاط پایا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ لڑکیاں نکاح سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔‘‘ بابو صاحب اس مضمون کو خوب ذہن نشین کر لیجئے۔ اب میں مرزے کی کتاب تقویۃ الایمان سے کچھ پڑھ کر سناتا ہوں۔ (ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٧) مریدوں کو تعلیم وتلقین کے سلسلہ میں:
”اور ہمارے رسول ﷺ نے نہ صرف گواہی دی کہ میں نے مردہ روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ بلکہ خود مر کر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اس سے پہلے کوئی زندہ نہیں رہا۔ پس ہمارے مخالف جیسا کہ قرآن کو چھوڑتے ہیں۔ ویسا ہی سنت کو بھی چھوڑتے ہیں۔ کیونکہ مرنا ہمارے نبی کی سنت ہے۔ اگر عیسیٰ زندہ تھا۔ تو مرنے میں ہمارے رسول کی بے عزتی تھی۔ سو تم نہ اہلسنت ہو۔ نہ اہل قرآن جب تک عیسیٰ کی موت کے قائل نہ ہو اور میں حضرت عیسیٰ کی شان کا منکر نہیں۔ گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔ لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔ موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں۔ سو میں اس کی عزت کرتا ہوں۔ جس کا ہم نام ہوں اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اُس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں۔ جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض۔ ان سب باتوں کے بعد پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کرلی ہے۔ ظاہر کچھ چیز نہیں۔ خدا دلوں کو دیکھتا ہے اور اس کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔ دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے۔ اس کو مت کھاؤ۔“
١٦٩
بابو صاحب مرزے کی اس ساری بکواس کا کیا مفہوم یہ نہیں کہ:
- ١....... مریم اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل از نکاح اختلاط کرتی تھی اور اس کے ساتھ
گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھی اور قوم افغان میں ایسے اختلاطوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر لڑکیاں قبل از نکاح حاملہ پائی گئیں۔
- ٢....... یہودیوں میں بموجب شریعت موسوی کے ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی
جائز نہ تھی۔ اس لئے بھی جائز نہ ہوئی۔
- ٣....... مریم بتول کا یہ ناجائز نکاح یوسف سے باز رہنے پر بزرگان قوم اس لئے مجبور ہوئے او
ر مریم اس نکاح پر اس لئے راضی ہو گئی کہ وہ حاملہ پائی گئی۔ حاملہ کس سے ہوئی یوسف سے۔ کیونکہ یوسف کے تخم سے اور مریم کے بطن سے جو دو لڑکیاں پیدا ہوئیں وہ حضرت عیسیٰ کی حقیقی بہنیں تھیں۔ حقیقی بہن بھائی انہیں کو کہتے ہیں جو ایک باپ کے نطفہ سے اور ایک ماں کے پیٹ سے ہوں۔ اگر ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں تو ان کو اخیافی کہتے ہیں اور اگر باپ ایک ہو اور مائیں جدا جدا ہوں تو ان کو علاتی کہتے ہیں۔
اب اس مکار کا مکر دیکھئے کہ فلانے کی عزت کرتا ہوں۔ میں ڈھمکے کی عزت کرتا ہوں کہ پیرائے میں کیا کہہ گیا کہ توبہ نعوذ باللہ مریم زانیہ تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ولد الزنا۔ اسی غرض سے اس نے (تحفہ گولڑویہ ص ١١٩ وخزائن ج ١١ ص ٢٩٧) پر آیت ”والتي احصنت فرجها“ کے معنی یوں کئے ہیں کہ ”مریم نے جب اپنے اندام نہانی کو نامحرم سے محفوظ رکھا۔“
بابو صاحب یہ انگریزوں کی ہی بادشاہی ہے۔ جس نے مذہبی امور میں لوگوں کو اس قدر آزادی دے رکھی ہے۔ اگر اسلامی بادشاہی ہوتی تو خدا جانے اس کو کیسے کیسے عذابوں سے مارتے؟
قاضی صاحب جہاں قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ یہود کی نسبت فرماتا ہے کہ: ”وقولهم على مريم بهتانا عظيما“ اور ہم نے یہودیوں پر اس وجہ سے بھی لعنت بھیجی کہ انہوں نے مریم پر بہتان لگایا یعنی زانیہ کہا۔ وہاں یہ بھی دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ مریم صدیقہ کے شکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کیونکر بیان کرتا ہے؟
پارہ ٣ رکوع ١٣ ترجمہ : ”اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اے مریم صرف خدا کے حکم سے ایک لڑکا تمہارے بطن سے ہوگا سو خدا تم کو اپنے (اس) حکم کی خوش خبری دیتا ہے (اور) اس کا نام ہوگا عیسیٰ مسیح ابن مریم دنیا اور آخرت (دونوں) میں رودار اور (خدا کے) مقرب بندوں
١٧٠
میں سے (ایک مقرب بندہ) اور جھولے میں اور بڑی کرے گا اور (اللہ کے) نیک بندوں میں سے ایک پروردگار! میرے ہاں کیسے لڑکا ہو سکتا ہے حالانکہ مجھ کو فرمایا ”كذالك“ اسی طرح جو اللہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بس اسے فرما دیتا ہے کہ ہو اور وہ ہو جاتا ہے۔“
پارہ ١٦ ع ٥ ترجمہ : ”اے پیغمبر قرآن میں وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب رخ ایک جگہ جا بیٹھیں نے اپنی روح (یعنی جبرائیل) کو ان کی طرف بھیجا تو رو برو آ کھڑے ہوئے۔ وہ (ان کو دیکھ کر) لگیں کہنے کہ ہوں (کہ میرے سامنے سے ہٹ جاؤ) (جبرائیل نے ہوا (فرشتہ) ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تم کو ایک کیسے لڑکا ہو سکتا ہے؟ حالانکہ (نہ تو نکاح کے طور پر)
”قال كذالك“ جبرائیل نے کہا جیسا ہے کہ تمہارے ہاں بے باپ کے لڑکا پیدا کرنا ہم کو غرض یہ ہے کہ لوگوں کے لئے ہم اس کو اپنی قدرت
بابو صاحب....... آپ نے سن لیا کہ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر اور رسول کی اب اس لفظ ”كذالك“ کا بھی حال سن لیں۔ جو اس یعنی ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ مرزائیوں نے اس کو بے باپ
قرآن شریف میں یہ لفظ ایسے موقعوں پر میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے یہ سن کر اپنا منہ پیٹنا شروع کیا کہ اول تو میں بڑھیا
ایک جگہ ”كذالك“ (پارہ ٢٦ ع ٤) میں جہاں خدا کہ ہم تم کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام کا پیدا نہیں کیا۔ زکریا علیہ السلام نے بتقاضائے کہا لڑکا کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ اور حال یہ ہے کہ میرا
میں سے (ایک مقرب بندہ) اور جھولے میں اور بڑی عمر کا ہو کر لوگوں کے ساتھ (یکساں) کلام کرے گا اور (اللہ کے) نیک بندوں میں سے ایک وہ بھی ہوگا۔ وہ کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار! میرے ہاں کیسے لڑکا ہو سکتا ہے حالانکہ مجھ کو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کذٰلک“ اسی طرح جو اللہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے۔ تو بس اسے فرما دیتا ہے کہ ہو اور وہ ہو جاتا ہے۔“
پارہ ١٦ ع ٥ ترجمہ: ”اے پیغمبر قرآن میں مریم کا ذکر بھی لوگوں سے بیان کرو کہ جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب رخ ایک جگہ جا بیٹھیں اور لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا تو ہم نے اپنی روح (یعنی جبرائیل) کو ان کی طرف بھیجا تو وہ اچھے خاصے آدمی کی شکل بن کر ان کے رو برو آ کھڑے ہوئے۔ وہ (ان کو دیکھ کر) لگیں کہنے کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم کو خدا کا واسطہ دیتی ہوں (کہ میرے سامنے سے ہٹ جاؤ) (جبرائیل بولے) کہ میں تو بس تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تم کو ایک پاک طینت لڑکا دوں۔ وہ بولیں میرے ہاں کیسے لڑکا ہو سکتا ہے؟ حالانکہ (نہ تو نکاح کے طور پر) مجھ کو کسی مرد نے چھوا اور نہ کبھی میں بدکار رہی۔
”قال كذالك“ جبرائیل نے کہا جیسا میں کہتا ہوں ایسا ہی ہوگا۔ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ تمہارے ہاں بے باپ کے لڑکا پیدا کرنا ہم پر آسان ہے اور (اس کے پیدا کرنے سے) غرض یہ ہے کہ لوگوں کے لئے ہم اس کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیں۔
بابو صاحب ...... آپ نے سن لیا کہ اللہ تعالیٰ ہم کو بذریعہ اپنے محبوب فداہ ابی وامی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر اور رسول کی پیدائش کا معاملہ کس طرح بیان فرماتا ہے۔ اب اس لفظ ”کذٰلک“ کا بھی حال سن لیں۔ جو ان کی نسبت خدا نے بذریعہ اپنے فرشتہ کے فرمایا یعنی ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ مرزائیوں نے اس کو بے وقعت کرنے کی کوشش کی ہے۔
قرآن شریف میں یہ لفظ ایسے موقعوں پر تین جگہ آیا ہے۔ ایک جگہ پارہ ٢٦ کے رکوع ١٩ میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دی اور ان کی بیوی نے یہ سن کر اپنا منہ پیٹنا شروع کیا کہ اول تو میں بڑھیا۔ دوسرے بانجھ تو فرشتوں نے کہا ”كذالك“ اور ایک جگہ ”كذالك“ (پارہ ٢٠ ع ٤) میں جہاں خداوند کریم نے حضرت زکریا کی دعا قبول کر کے فرمایا کہ ہم تم کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام ہوگا یحییٰ اور اس سے پہلے ہم نے کوئی آدمی اس نام کا پیدا نہیں کیا۔ زکریا علیہ السلام نے بتقاضائے بشریت عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ اور حال یہ ہے کہ میری بیوی تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی حد غایت کو
١٧١
پہنچ گیا ہوں تو خدا نے فرمایا ” کذالك “ اور وہ جگہ جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ بی بی مریم کے لڑکا پیدا ہونے کے معاملہ میں ۔ پس خدا کا یا خدا کی طرف سے فرشتوں کا کذالک کہنا ظاہر کر رہا ہے کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جس بات کو تم انہونی سمجھتے ہو۔ وہ خدا کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں اور اس کے لئے انہونی نہیں اور بی بی مریم کے معاملہ میں چونکہ وہ خاوند نہیں رکھتی تھیں۔ یہ الفاظ زائد کئے کہ خدا جس کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ تو فرماتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔
نو وارد کا یہ بیان کرنا تھا کہ بابو صاحب نے اپنی پگڑی اتار کر نو وارد کے قدموں پر رکھ دی اور عرض کی کہ خدا کے واسطے اس معاملہ کو بھی حل کر دیں جو (تقویۃ الایمان ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٧) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”کہ آنحضرت نے شب معراج میں حضرت عیسیٰ کو مردوں کی ارواح میں دیکھا تھا۔“
نو وارد ...... بابو صاحب میں آپ سے مرزے کی کون کون سی بات کی تردید بیان کروں گا۔ میں کو ہاٹ میں اور آپ سیالکوٹ میں۔ میری مختصر عرض اس بارہ میں سن لیں کہ مرزے کا جو کوئی قول بھی کوئی پیش کرے اس کو گوز شتر سے زیادہ وقعت نہ دیں۔ سنئے! اس معراج کی بابت اس شخص کے کیا کیا مختلف بیان ہیں۔ یہاں تو اس نے معراج کو قبول کیا۔ اب دوسرے واقعہ پر کیا کہتا ہے؟
”معراج کی حدیثوں میں سخت تعارض واقع ہے۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٩٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦١٢)
”معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔“
(ازالہ اوّل ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
اب کشف کی تعریف سنئے ! ”کشف میں روحانی امور طرح طرح کے اجسام میں انہی آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ ان روحوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ جو اس عالم سے گزر چکی ہیں۔ اپنے اصلی جسم میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔“ (آئینہ کمالات ص ١٤٩، خزائن ج ٥ ص ١٤٩) بابو صاحب آپ کو خدا کی قسم ہے سچ کہئے گا۔ اب زندہ اور مردہ کی کوئی شناخت کشف میں باقی رہی؟
بابو صاحب ...... مولوی صاحب شک نہیں کہ آپ نے دو اور دو چار کی طرح ثابت کر دیا کہ مرزے نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے کرتے صاف کہہ دیا کہ وہ حرامی تھے۔ پس مرزا قادیانی قرآن کا منکر اور کافر ثابت ہوا۔ میں آج یہ دونوں کتابیں لے کر ان کے پاس جاؤں گا۔ دیکھیں وہ کیا کہتے ہیں؟
١٧٢
نو وارد ...... اجی اس خیال خام کو دل سے نکالئے۔ وہ ہرگز نے زبردستی ان کے کانوں میں ڈال دی تو کہیں گے ہما جواب ہم سے مانگتے ہو۔ ہم ابھی ایک کارڈ قادیاں لکھ د میں ”الفضل“ میں اس کا جواب نکل آئے گا اور آپ کو اپنا قاضی صاحب ...... یہ تو میرے خیال میں ڈوب کر چھوڑ کر شیعہ ہو گیا اور مجھ سے کوئی اس مذہب کی خوبی مانگے۔ تو میں اس کو یہ جواب دوں کہ اس کا جواب فلا صاحب میری عقل حیران ہے کہ اگر یہ اعتراضات کا جو اختیار کرتے ہیں؟
نو وارد ...... قاضی صاحب اس کا جواب آپ بابو صاحب کر سکیں گے۔
بابو صاحب ...... سر کھجاتے ہوئے۔ مرزائی ہو اخباروں کا پڑھنا اور اپنے مذہب سے ناواقفیت جو میر روٹیاں کھانے کے لئے مرزائی بن گئے ہیں۔ بعض سے۔ بعض درویشوں کے اشعار سن سن کر کہ مرزا کیسا عا لڑوانے پر ایسا اڑا ہوا ہے کہ کسی کے روکے نہیں رکتا۔ گالیاں سن کر۔ بعض شادیوں کے رجسٹر کی وجہ سے۔ بع اندھا دھند حکیم نور دین کے مرزائی ہو جانے کی وجہ سے کے اشتہاروں کی وجہ سے۔ لیکن سب سے زیادہ میر نے اپنے مذہب سے لاعلمی کی حالت میں قادیانی ام زندہ آسمان پر موجود ہونا ناممکن نظر آیا اور خدا کو انہوں
نو وارد ...... بابو صاحب میری عقل حیران ہے کہ س خدا کا نیست سے ہست کرنے پر قادر ہونے کا منکر ازلی قرار دیتے ہیں۔ اس کو مرزے نے ایسا مانا ک دعوے پر قائم کر کے دکھلایا ہے۔ اس مسئلہ کے بع مسئلہ ہے اور دنیا کے لوگوں کا ہزاروں مختلف اور مت
١٧٣
نووارد....... اجی اس خیال خام کو دل سے نکالئے۔ وہ ہرگز آپ کی بات نہیں سنیں گے اور اگر آپ نے زبردستی ان کے کانوں میں ڈال دی تو کہیں گے ہوا کیا۔ ہوا کیا ۔ یہ بات ہی کیا ہوئی۔ اس کا جواب ہم سے مانگتے ہو۔ ہم ابھی ایک کارڈ قادیاں لکھ دیتے ہیں اور چٹکی بجا کر کہیں گے کہ اتنی دیر میں ’’الفضل‘‘ میں اس کا جواب نکل آئے گا اور آپ کو اپنا سا منہ لے کر واپس آنا پڑے گا۔
قاضی صاحب....... یہ تو میرے خیال میں ڈوب مرنے کی بات ہے کہ جب میں سنی مذہب چھوڑ کر شیعہ ہو گیا اور مجھ سے کوئی اس مذہب کی خوبی پوچھے یا اس پر اعتراض کر کے جواب مانگے۔ تو میں اس کو یہ جواب دوں کہ اس کا جواب فلانی اخبار یا رسالہ میں نکل آئے گا۔ مولوی صاحب میری عقل حیران ہے کہ اگر یہ اعتراضات کا جواب نہیں دے سکتے تو اس مذہب کو کیوں اختیار کرتے ہیں؟
نووارد....... قاضی صاحب اس کا جواب آپ بابو صاحب سے طلب کریں۔ وہ مجھ سے بہتر بیان کر سکیں گے۔
بابو صاحب....... سر کھجاتے ہوئے۔ مرزائی ہو جانے کے اسباب بہت سے ہیں۔ مرزائی اخباروں کا پڑھنا اور اپنے مذہب سے نا واقفیت جو میرے مرزائی ہونے کا سبب بنے۔ بعض مفت کی روٹیاں کھانے کے لئے مرزائی بن گئے ہیں۔ بعض سرکاری ملازمت میں ترجیح پانے کے خیال سے۔ بعض درثمین کے اشعار سن سن کر کہ مرزا کیسا عاشق رسول اللہ ہے کہ آپ کے کوچہ میں سر کٹوانے پر ایسا اڑا ہوا ہے کہ کسی کے روکے نہیں رکتا۔ بعض جوشیلے مرزے کے منہ سے پادریوں کو گالیاں سن کر۔ بعض شادیوں کے رجسٹر کی وجہ سے۔ بعض طاعون کا خوف دلانے کی وجہ سے۔ بعض اندھا دھند حکیم نور دین کے مرزائی ہو جانے کی وجہ سے۔ بعض مرزے کے مستجاب الدعوات ہونے کے اشتہاروں کی وجہ سے۔ لیکن سب سے زیادہ میرے خیال میں وہ لوگ اس طرف آئے جنہوں نے اپنے مذہب سے لاعلمی کی حالت میں قادیانی اخبار پڑھے۔ یا جن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر موجود ہونا ناممکن نظر آیا اور خدا کو انہوں نے قادر مطلق صرف زبان سے مانا۔
نووارد....... بابو صاحب میری عقل حیران ہے کہ سب سے باریک اور عقل میں نہ آنے والا مسئلہ تو خدا کا نیست سے ہست کرنے پر قادر ہونے کا ہے۔ جس کو کروڑوں انسان نہ مان کر مادہ کو بھی ازلی قرار دیتے ہیں۔ اس کو مرزے نے ایسا مانا ہے کہ اس کا ایک بھونڈا اور بھدا نمونہ بھی اپنے کرتے پر قائم کر کے دکھلایا ہے۔ اس مسئلہ کے بعد خدا کا اپنے آپ کو کسی انسان پر ظاہر کرنے کا مسئلہ ہے اور دنیا کے لوگوں کا ہزاروں مختلف اور متضاد خیال کے مذہبوں میں ہونا۔ بلکہ لا مذہب
١٧٣
ہونا اس کی تصدیق کرتا ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا کہ:
تو اگر پردہ اٹھا دے تو تو ہی تو ہو جائے
اس کو بھی یہ شخص منواتا ہے اور کہتا ہے خدا کی کلام سے قریباً ہر روز میں مشرف ہوتا ہوں۔ بعض اوقات تمام تمام دن یا تمام تمام رات خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ کبھی اپنے روشن چہرے سے کسی قدر پردہ اٹھا کر مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی دو چادروں کی بابت تو یہ شخص ہنسی اڑا کر کہتا ہے کہ کسی مسلمان یا عیسائی نے ہمیں پتہ نہیں دیا کہ یہ چادریں ریشمی ہوں گی یا سوتی۔ مگر خود اس نے بھی ہمیں پتہ نہیں دیا کہ خدا کے چہرے پر جو پردہ پڑا رہتا ہے۔ وہ ٹاٹ کا ہے یا پٹاپٹی کا۔ لیکن جو بات کہ مرزے کے ذہن اور عقل میں نہیں آتی۔ وہ خدا کا ایک کلمتہ اللہ کا آسمان پر اٹھا لینا ہے اور بس۔ کبھی ان کے لئے چارپائی اور بستر نہ ہونے کا غم اسے کھاتا ہے۔ کبھی ان کے بالوں اور ناخنوں کے بڑھ جانے کا رنج اسے نڈھال کئے دیتا ہے۔ کبھی باورچی خانہ اور پاخانہ آسمان پر نہ ہونے کا رنج اسے ہلاک کئے دیتا ہے۔ کبھی زمین کی حرکت سے زمین کے لوگوں کو ہر وقت گرتے پڑتے دیکھ کر آسمان کی گردش سے ان کا نیچے اوپر ہو جانے کا خیال اسے پنپنے نہیں دیتا۔ کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر ہونے سے آنحضرت کی ہتک کا درد اس کی روح کو گھٹاتا ہے۔
یہ خیال نہیں کرتا کہ گول چیزوں کا اوپر اور نیچے کیا۔ کیا کل آپ امریکہ کے وحشیوں کے پیروں کے نیچے نہیں گزرے اور مرزا قادیانی پادری ڈوئی کے پیروں کے نیچے زندگی نہیں بسر کرتا رہا۔ یہ خدا نے کتنا بڑا غضب کیا کہ اولیاء اور اقطاب و ابدال امریکہ کے وحشیوں کے پیروں کے نیچے پیدا کئے۔ زندہ رکھے اور مرنے کے بعد مدفون ہونے دیئے۔ کیا امریکہ والوں کا آسمان ہمارے پیروں کے نیچے نہیں اور کیا ہمارا آسمان امریکہ والوں کے پیروں کے نیچے نہیں؟
بابو صاحب قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا بیان کرتا ہے اور مرزا آیت ”رفعہ اللہ الیہ“ کے معنی کرتا ہے کہ خدا نے اس کو عزت دے دی۔ ہمیں بتلایا جائے کہ ان کی عزت کے نقشے کا کون سا خانہ خالی تھا جو پر کر دیا گیا؟ کون سی عزت ان کو پہلے حاصل نہ تھی جو دی گئی۔ کیا نبوت چھین کر۔ زخمی پیروں سے شام سے کشمیر تک کا سفر کرانا اور ٨٦ سال گم نامی اور جلاوطنی میں گزار کر کسی یوز آسف کی قبر میں مدفون کرانا ان کی عزت بڑھا گیا اور اس میں چار چاند لگا دیا۔ انیس سو سال کے بعد حکیم نور دین نے قبر کا پتہ لگایا۔ تب بھی کسی عیسائی نے اس پر ایک صلیب نصب نہ کی۔ نہ آنحضرت کی حدیث کے مطابق کسی عیسائی نے اس کو سجدہ گاہ بنایا۔
١٧٤
قاضی صاحب ...... بات کہیں کی کہیں پہنچ گئی اور آپ ذکر تو مرزے کے فریبوں کا تھا۔
نووارد ...... قاضی صاحب میں اس کے فریب کہاں تک بیا تھا۔ مچھلی پکڑنے کے لئے کنڈی پر جو خون یا گوشت یا آٹا ہے کہ انگریزی میں بیٹ کہتے ہیں۔ مرزے نے جن لوگو تھی کہ ”میرے وقت میں تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائے گا ۔“ (چشمہ معرفت ص ٨٣ خزائن ج ٢٣ ص ٩١) مسلمانو دوڑنا اور آپ سے سرمنڈانا شروع کر دیا۔ آپ ان کی دول کر کے ان جہاں سے چل دیئے۔ آپ کی بلا سے ہندو ہندو اور عیسائی بن جائیں۔ قاضی صاحب آپ نے مداری
قاضی صاحب ...... جی ہاں بہت دفعہ۔
نووارد ...... کبھی اس کی چالاکیوں پر آپ نے غور کیا؟
قاضی صاحب ...... کیا تو ہے۔ مگر میں کبھی ان کی تہ
نووارد ...... اچھا تو مجھ سے سنئے! اور ملاحظہ کیجئے۔ جس کر کے لوگوں سے کچھ وصول کرنا چاہتا ہے۔ تو پہلے ڈگ پاؤ گے۔“ کے اشتہار تقسیم کرتا ہے۔ جب لوگ آنے کرنے تک خوش رکھنے کے لئے بنسی بجانی شروع کر د اسلام کی شوکت ظاہر کرنے آیا ہوں۔“ پھر ایک کپڑ میدان میں پھینک دیتا ہے اور اس سے غرض اس کی آئے تو تماشائی چلے نہ جائیں۔ بلکہ اس انتظار میں کیا بناتا ہے؟ اس سے جو کچھ بھی اس نے بنانا وہ دائی میرے زمانہ میں کل مسلمان ہو جائیں گے۔“ اور جس کر پیسے طلب کر کے اس گڈے کو اسی طرح واپس مرزا قادیانی بھی اپنے مریدوں کو کل دنیا کے لوگو اس جہان سے تشریف لے گئے۔ اب کرلو ان کا جو کر گئے اور ان کے دیوالے نکل گئے۔ مگر مرزا قادیانی کے
١٧٥
قاضی صاحب....... بات کہیں کی کہیں پہنچ گئی اور آپ اصل مضمون سے بہت دور چلے گئے۔ ذکر تو مرزے کے فریبوں کا تھا۔
نووارد....... قاضی صاحب میں اس کے فریب کہاں تک بیان کروں۔ اس کے تو بال بال میں فریب تھا۔ مچھلی پکڑنے کے لئے کنڈی پر جو خون یا گوشت یا آٹا یا کیچوا لگایا جاتا ہے۔ اس کا آپ کو معلوم ہے کہ انگریزی میں بیٹ کہتے ہیں۔ مرزے نے جن لوگوں کو بیٹ سے اپنی کنڈی میں پھنسایا وہ یہ تھی کہ ”میرے وقت میں تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں گی اور ایک ہی مذہب اسلام ہو جائے گا۔“ (چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١) مسلمانوں نے اسی خوشی میں آکر آپ کی طرف دوڑنا اور آپ سے سرمنڈانا شروع کر دیا۔ آپ ان کی دولت سے اپنا گھر بھر کر اور خوب عیش و عشرت کر کے اس جہاں سے چل دیئے۔ آپ کی بلا سے ہندو اور عیسائی مسلمان ہو جائیں۔ یا مسلمان ہندو اور عیسائی بن جائیں۔ قاضی صاحب آپ نے مداری کا تماشا تو بہت دفعہ دیکھا ہوگا۔
قاضی صاحب....... جی ہاں بہت دفعہ۔
نووارد....... کبھی اس کی چالاکیوں پر آپ نے غور کیا؟
قاضی صاحب....... کیا تو ہے۔ مگر میں کبھی ان کی تہہ کو نہیں پہنچا۔
نووارد....... اچھا تو مجھ سے سنئے! اور مقابلہ کیجئے۔ جب وہ کسی چورستے یا میدان میں اپنا تماشہ کر کے لوگوں سے کچھ وصول کرنا چاہتا ہے۔ تو پہلے ڈگڈگی بجاتا ہے۔ یعنی ”آؤ لوگو یہیں نور خدا پاؤ گے“ کے اشتہار تقسیم کرتا ہے۔ جب لوگ آنے لگ جاتے ہیں۔ تو ان کو تماشے کے شروع کرنے تک خوش رکھنے کے لئے بنسی بجانی شروع کر دیتا ہے ”میں آنحضرت کا بول بالا کرنے اور اسلام کی شوکت ظاہر کرنے آیا ہوں“ پھر ایک کپڑے کا بت سا بنا ہوا تھیلے میں سے نکال کر میدان میں پھینک دیتا ہے اور اس سے غرض اس کی یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی اور کرتب میرا پسند نہ آئے تو تماشائی چلے نہ جائیں۔ بلکہ اس انتظار میں کھڑے رہیں کہ دیکھیں اس گڈے سے یہ کیا بناتا ہے؟ اس سے جو کچھ بھی اس نے بنایا وہ واقعی قابل تعریف کرتب ہوگا۔ ”وہ گڈا یہی تھا کہ میرے زمانہ میں کل مسلمان ہو جائیں گے“۔ اور جس طرح مداری صاحب چند معمولی کرتب دکھا کر پیسے طلب کر کے اس گڈے کو اسی طرح واپس تھیلے میں ڈال کر چل دیتے ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی اپنے مریدوں کو کل دنیا کے لوگوں کو مسلمان ہوتے دیکھنے کے انتظار میں چھوڑ کر اس جہان سے تشریف لے گئے۔ اب کر لو ان کا جو کرنا ہے۔ کیا کر سکتے ہو؟ بڑے بڑے بینک بیٹھ گئے اور ان کے دیوالے نکل گئے۔ مگر مرزا قادیانی کے بینک کو روز افزون ترقی ہے۔
١٧٥
قاضی صاحب قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے بعض اوقات کسی کے تذکرہ میں جو کچھ اس نے بیان کیا ہوتا ہے۔ اسی طرح بیان کر دیتا ہے۔ مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ میں بیان کرتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا۔ پھر ان کے ایماء سے ایک پکارنے والے نے پکارا کہ قافلے والو تم ہی چور ہو۔ انہوں نے دریافت کیا کیا گم ہو گیا؟ تو اس کے جواب میں اس نے کہا کہ شاہی پیمانہ نہیں ملتا۔
اسی طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے قصہ میں ہے کہ ان لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ ہمارے بتوں کو کس نے توڑا؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ بڑے بت نے چھوٹے بتوں کو توڑا۔ لیکن مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جب جھوٹی نکلیں۔ تو آپ نے (پارہ ٢٤ رکوع ٩) میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا لوگ ارادہ کرنے لگے تو ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو مخفی رکھے ہوئے تھا ۔ کہا کہ اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا عذاب خود اٹھائے گا اور اگر سچا ہے تو جن جن عذابوں کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی تو تم پر ضرور آ نازل ہوگا، کے حوالے سے مسلمانوں سے یوں فرمانا شروع کیا ”چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے: ”ان یک صادقاً“ (نشان آسمانی ص ٤٢، خزائن ج ٤ ص ٤٠٤) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”وان یک کاذباً“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠) جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ فرماتا ہے: ”وان یک کاذباً“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧)
اب دیکھو خدا تعالیٰ نے بعض کا لفظ اس جگہ استعمال کیا نہ کل کا (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧) پس نص قرآنی سے ثابت ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں۔ (ص ١٣١ تتمہ حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨) قاضی جی یہ کتنی بڑی خود غرضی ہے کہ ایک امتی کے قول کو خدا کا قول کہا جاتا ہے۔ وہ فریب اس سے بڑھ کر کیا کہہ سکتا تھا؟
مخفی ایمان لائے ہوئے بھی شاید اس کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہوں گے۔ وہ نہ پیغمبر تھا نہ ملہم تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کی جان بچانے کے لئے جو کچھ اس نے اپنی عقل و سمجھ کے موافق کہا وہ اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا۔ خدا نے نہ اس کے لفظ لفظ کی تصدیق کی نہ تکذیب۔ اگر مرزا یوں لکھتا کہ قرآن میں آیا ہے تو بھی دھوکے کی حد تک تھا۔ مگر اس کا یہ کہنا کہ ”جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ فرماتا ہے“ دھوکے سے کچھ بڑھ کر ہے۔
١؎ پ ١٦ ع ٣ میں ہے کہ ذوالقرنین نے سورج کو کالے کیچڑ کے کنڈ میں ڈوبتے دیکھا
١٧٦
قاضی صاحب مرزا کہتا ہے کہ میں اس وجہ سے بھی مسیح موعود ہوں کہ میرا حلیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملتا ہے۔ یعنی رنگ گندمی اور بال لمبے ہیں۔ قاضی جی آپ تو علاقہ خٹک میں پھر آئے ہیں۔ پھر اگر ڈپٹی کمشنر صاحب کوہاٹ۔ خان صاحب خٹک کو لکھے کہ آپ کے علاقہ میں ایک گندمی رنگ، لمبے بالوں والا آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ کا ہے۔ اس کو ہمارے پاس بھیج دو۔ تو سچ بتانا خان صاحب کو کتنے مسیح موعود بھیجنے پڑیں گے؟ پچیس تیس ہزار یا کم وبیش۔
قاضی صاحب ...... نہیں آپ غلط کہتے ہیں۔ میری موجودگی میں ایک ایسا حکم آیا تھا۔ تو خان صاحب نے اس پر لکھ دیا تھا کہ میرے علاقہ میں اس حلیہ کا کوئی شخص نہیں۔ تحقیقات ودریافت خفیہ وعلانیہ سے پایا گیا کہ ملک پنجاب میں ایک شخص اس حلیہ کا ضرور ہے۔
نووارد ...... گاموں بس بس۔
بیوی ...... گاموں اٹھ جا کے چاء لے آ۔ قاضی صاحب نے کتاب ضرورت الامام اٹھا کر اس کی ورق گردانی شروع کردی۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب یہ ہے مولوی عبدالکریم صاحب کا خط ایک دوست کے نام۔
نووارد ...... جی ہاں یہی ہے۔
(ص٤٢،خزائن ج١٣ ص ٥٠٣)
قاضی صاحب ...... اجی لاحول ولاقوۃ اس خط کے کاتب کو مرزے نے مولوی لکھا ہے۔ العظمت للہ۔ اس کی تو کوئی سطر غلطی سے خالی نہیں۔
بیوی ...... قاضی صاحب اسے چھوڑیئے اب چاء پیجئے۔ گاموں جانو کو کہہ کچھ تھوڑا سا مربہ نکال دے۔
بابو صاحب ...... (چاء پیالیوں میں ڈالتے ہوئے) کیوں قاضی صاحب مولوی عبدالکریم کا خط آپ کو پسند نہ آیا؟
قاضی صاحب ...... اجی لاحول ولاقوۃ سنا کرتے تھے کہ فلانے نے ایسی عبارت لکھی کہ موتی پرو دیئے۔ مگر اغلاط پروئی ہوئی آج ہی دیکھیں۔
نووارد ...... قاضی صاحب مرید کی اغلاط دیکھ کر ہی گھبرا گئے۔
قاضی صاحب ...... کیا پیر کی عبارت میں بھی اسی قسم کے موتی پروئے ہوئے تھے؟
نووارد ...... اس میں شک ہی کیا ہے؟
بابو صاحب ...... مولوی صاحب یہ آپ تعصب سے کہہ رہے ہیں۔ مرزے کی علمی لیاقت کے سب قائل ہیں۔
١٧٧
نووارد....... بابو صاحب بے ادبی معاف! آپ جیسے ٹل کے ایک اسٹیشن ماسٹر صاحب جو مرزائی تھے۔ درثمین میں دس شرائط بیعت پڑھ رہے تھے تو انہوں نے بنی نوع کو بنی نوح پڑھا۔ ایک اور صاحب نے جو ایک بیٹری میں ہیڈ کلارک تھے اور ہیں۔ مجھے ایک خط لکھا اس میں یہ شعر لکھا: خشت اوّل چوں نہد معمار کج....... الخ۔ ایسے مریدوں کے لئے تو مرزا واقعی علامہ دہر تھا۔
قاضی صاحب....... ۔ بابو صاحب یہ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے مولوی صاحب کوئی دعوے بے دلیل نہیں کیا کرتے۔
بابو صاحب....... قاضی صاحب اگر آپ سا عالم فاضل یہ دعوے کرے تو لوگ مان لیں۔ لیکن ہمارے مولوی صاحب تو نام کے مولوی ہیں۔ ہمیشہ دفتر انگریزی میں کلرکی کرتے رہے۔
قاضی صاحب....... ہاں! مگر ایسے شخص کا مرزے کی تحریرات میں غلطیاں پکڑنا مرزے کے لئے زیادہ ہی خفت کا باعث ہوگا۔
بابو صاحب....... کیوں مولوی صاحب بس اور قاضی صاحب آپ بھی بس۔ اچھا گاؤں اٹھا۔ چائے کے برتن اٹھائے جانے کے بعد۔
بابو صاحب....... اچھا مولوی صاحب اب ہمارا انتظار رفع کرائیں۔
نووارد....... بابو صاحب مرزے کا اردو نہ جاننا کچھ جرم تو نہیں۔ لیکن چونکہ اس میں بھی اس کا ایک جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے میں اس میں اردو کی اغلاط بیان کرتا ہوں۔
اس شخص نے (نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤) پر لکھا:”کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں۔ تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے ۔“ اور اندر سے تعلیم دینے والے کی بابت (ص ٩٣ آئینہ کمالات، خزائن ج ٥ ص ٩٤) پر لکھتا ہے: ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی ہے۔“ اب مرزے کے روح القدس کی اردو سن لیں۔
سب سے اوّل یہ کہ مرزا نے ہمیشہ کہ بیانیہ کی جگہ ”جو“ جو اردو میں حرف صلہ ہے۔ استعمال اغلاط کیا ہے۔ ”مثلاً یہ عقیدہ رکھتے جو خدا تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں ۔“ (چشمہ مسیحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٦٢) اس غلطی سے اس کی تمام کتابیں بھری پڑی ہیں۔
دوسری عام غلطی اس کی یہ ہے کہ ”تاکہ“ کی جگہ ”کہ تا“ یا صرف ”تا“ دیکھو:
(سرمہ چشم آریہ ص ١٦٦، خزائن ج ٢ ص ٢١٤، آسمانی فیصلہ ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٣٣)
دیگر اغلاط کے کچھ نمونے سنئے:
١٧٨
- .......١ ”اپنی قوم کے لئے وہیں غاریں کھودار ہے
ص ٣٦٦) غار چاہئے۔
- .......٢ ”گیارہ کی جگہ گیاراں۔“
(نشان آسمانی ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣٦٤)
- .......٣ ”بھیڑ کی جگہ بھیڈ۔“
- .......٤ ”ایسا غبار کی جگہ ایسی غبار۔“
- .......٥ ”ایسے خواب کی جگہ ایسی خوابیں۔“
- .......٦ ”پارہ کی جگہ پاراں۔“ (ست بچن
- .......٧ ”متلاشی بجائے تلاش کنندہ۔“
- .......٨ ”ید طوبیٰ بجائے یدطولیٰ۔“
- .......٩ ”اوّل الدن بجائے اوّل القدح کے۔“
- .......١٠ ”شیشہ کی جگہ آئینہ۔“
تصویر کو آئینہ میں رکھنے سے۔
- .......١١ ”نہ کرو کی جگہ مت کرو۔“
تمہیں چاہئے کہ ”اس دنیا کے فلسفیوں کی
- .......١٢ ”مسیح کی پیشین گوئیوں کا سب سے مجید
- .......١٣ ترقیاں کرسکیں۔ (ازالہ حصہ اوّل ص ١٢٧
- .......١٤ اپنے اندر کو ٹٹولو۔ قادیانی اردو
- .......١٥ ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر۔
ایک پنجابی ہے۔
- .......١٦ ”گائیاں بجائے گائیں۔“
(ازالہ اوّل ص ٦١ حاشیہ، خزائن ج ٣
آنحضرت ﷺ نے گائیاں ذبح ہوتی
- .......١٧ ”جو مرہم حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی
- .......١٨ ”آپ دعا کرو۔“ (حقیقت الوحی ص ٩
١٩.
- ......١ ”اپنی قوم کے لئے وہیں غاریں کھود رہے ہیں۔“ (نشان آسمانی ص ٥، خزائن ج ٤
غار چاہئے۔ ص ٣٦٦)
- ......٢ ”گیارہ کی جگہ گیاراں۔“
(نشان آسمانی ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣٦٤، تمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٩)
- ......٣ ”بھیڑ کی جگہ بھیڈ۔“ (آئینہ کمالات ص ٣٣، طبع ماہ فروری ١٨٩٣ء)
- ......٤ ”ایسا غبار کی جگہ ایسی غبار۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٤٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠)
- ......٥ ”ایسے خواب کی جگہ ایسی خوابیں۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٤٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠)
- ......٦ ”بارہ کی جگہ ہاراں۔“ (ست بچن ص ٥٦ الف، ١٦٦، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٠، ١٧٧)
- ......٧ ”متلاشی بجائے تلاش کنندہ۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ٢٠، خزائن ج ٢ ص ٢٨٩)
- ......٨ ”یدطولیٰ بجائے یدطولیٰ۔“ (نشان آسمانی ص ٤٤، خزائن ج ٤ ص ٤٠٨)
- ......٩ ”اوّل الدن بجائے اول القدح کے۔“ (درثمین اول ص ٣٦) الدن دردی آورد دی۔
- ......١٠ ”شیشہ کی جگہ آئینہ۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٥١، خزائن ج ٢ ص ١٩٩)
تصویر کو آئینہ میں رکھنے سے۔
- ......١١ ”نہ کرو کی جگہ مت کرو۔“ (کشتی نوح ص ٢٢، خزائن ج ١٩ ص ٢٤)
تمہیں چاہئے کہ ”اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو۔“
- ......١٢ ”مسیح کی پیشین گوئیوں کا سب سے عجیب تر حال یہ ہے۔“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
- ......١٣ ترقیات کر سکیں۔ (ازالہ حصہ اوّل ص ١٢٧، خزائن ج ٣ ص ١٦٧) ترقی چاہئے۔
- ......١٤ اپنے اندر کو ٹٹولو۔ قادیانی اردو (ازالہ حصہ اوّل ص ٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٥)
- ......١٥ ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
ایک پنجابی ہے۔
- ......١٦ ”گائیاں بجائے گائیں۔“
(ازالہ اوّل ص ٦١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٤، حقیقۃ الوحی ص ٣٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٦)
آنحضرت ﷺ نے گائیاں ذبح ہوتی دیکھیں۔
- ......١٧ ”جو مرہم حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی گئی تھی۔“ بنایا گیا تھا چاہئے۔
- ......١٨ ”آپ دعا کرو۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٢٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥١) آپ دعا کریں چاہئے۔
١٧٩
- ١٩....... ”درد گردہ شروع ہوگئی ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٨) درد کی جگہ
پڑنا چاہئے۔ ورنہ ہو گیا ہے چاہئے۔
- ٢٠....... ”ابھی ان کی انتظار ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٨) ان کا
انتظار چاہئے۔
- ٢١....... ”لکھنے سے مجبور ہوگیا ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٠) لکھنے سے
معذور ہو گیا ہوں چاہئے یا لکھنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔
- ٢٢....... عیسائی لوگ (حاشیہ ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥) لوگ نہیں چاہئے۔
- ٢٣....... ”تنکے کا پہاڑ ۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥) رائی کا پہاڑ چاہئے۔
یا کتھ دا پہاڑ۔
- ٢٤....... ”ان کے مقابل پر ۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٥) مقابل کے بعد پر
نہیں آتا۔ مقابلہ کے بعد آتا ہے۔
- ٢٥....... ”جیسے کسی دریا کا پل ٹوٹ کر اردگرد کی بستیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧، آسمانی فیصلہ ص ١٦، خزائن ج ٤ ص ٣٢٦)
- ٢٦....... ”کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے۔“ (تتمہ
حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١) منسوخ کے بعد کر دے، چاہئے۔
- ٢٧....... ”کیا انسان کی طاقت ہے کہ قبل از وقت ایسی پیشین گوئیاں کر سکے۔“ (تتمہ حقیقت
الوحی ص ١٦٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٩) پیشین گوئی کے واسطے قبل از وقت لانا روح القدس کے سوا معمولی آدمی کا کام نہیں۔
- ٢٨....... ”یا حدیثوں میں بعض انسانی الفاظ مل گئے ہوں ۔“ (کشتی نوح ص ٦٠، خزائن ج ١٩
ص ٦٥) کیا حدیثیں انسانی الفاظ ہیں؟
- ٢٩....... ”اور جو یقینی طور پر دیکھ رہا ہے کہ اس فلان بن میں ایک ہزار خونخوار شیر ہیں۔“ (کشتی نوح
ص ٦٢، خزائن ج ١٩ ص ٦٧) قاضی صاحب قبلہ کیا اس عبارت میں بھی موتیوں کی جگہ اغلاط نہیں پروئیں لیکن اول فلان کے واسطے اس اسم اشارہ تعین کر دینے والا۔ پھر ایک بن میں ایک ہزار شیر اور پھر شیر بھی کیسے معمولی دال چپاتی کھانے والے نہیں خون کھانے والے۔ توبہ توبہ ایسے شیروں سے خدا پناہ میں رکھے۔
قاضی صاحب....... ماتھے پر ہاتھ رکھ کر۔ مولوی صاحب آپ لگے رہئے۔ لطف آج ہی آیا ہے اور میری حیرت کا کچھ ٹھکانہ نہیں رہا۔ روح القدس اور یہ کلام!
١٨٠
- ٣٠....... ”ذرہ سوچو سکھو یہ کیا چیز ہے۔ یہ مردے تم
ص ١٦١) اکفا یکے از عیوب قافیہ ۔ غیاث اللغات۔
- ٣١....... ”کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے۔“ (ست بچن
ہے۔ اس کے واسطے تیرا نہیں آسکتا۔ تمہارا چاہئے۔ دھ
- ٣٢....... کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا ۔
صاحب آپ بھی ان خوفوں سے غوطیں کھاتے ہیں یا نہی
- ٣٣....... یہ نانک نے چولہ بنایا شعار (ست بچن ص ١٦
شعار۔
- ٣٤....... ”خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر ۔“ (ست
سے ہوتا ہے یا درندہ گزند جانوروں سے ہوتا ہے۔ خد
- ٣٥....... ”میں نے اس ثبوت میں بہت غور کی ۔
چاہئے۔
- ٣٦....... ”مگر ہم اگر چہ دونوں آنکھیں بھی بند کر
اگر چاہئے یا گو چاہئے۔ اگرچہ بالکل غلط ہے۔
- ٣٧....... ”اپنے خونوں کو بہا دیا۔“ (فتح اسلام ص ٣٧
- ٣٨....... ”بہتوں کو جو اس کے نیک بندے ہیں
لوگوں کو جو نیک ہیں چاہئے۔
بابو صاحب....... مولوی صاحب جہاں مرزا قرار دیا اور یہاں جو اس نے بہتوں کو کہا تو آپ ۔ طرح غلطی پکڑتے ہیں۔
قاضی صاحب....... بابو صاحب مولوی صاحب گائے، بیل، گدھے، گھوڑے نہیں ہوتے اور بہتو بہت کون؟ اگر آپ کہیں کہ بہتوں نے تکلیف اٹھا کہ کس نے اور کلام ایسا ہونا چاہئے کہ سننے والا اس
- ٣٩....... ”ظاہر ہے کہ اگر بابو صاحب کی عاد
ج ١٠ ص ٢٦٣) نہ ہونی چاہئے۔ عادت مونث ہے
- ٣٠...... ”ذرہ سوچو سکھو یہ کیا چیز ہے۔ یہ مردے تن کا تعویذ ہے۔“ (ست بچن ص ٤١، خزائن ج ١٠
ص ١٦١) اکفا یکے از عیوب قافیہ۔ غیاث اللغات۔
- ٣١...... ”کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے۔“ (ست بچن ص ٤٢، خزائن ج ١٠ ص ١٦٢) کہو جمع کا صیغہ
ہے۔ اس کے واسطے تیرا نہیں آسکتا۔ تمہارا چاہئے۔ دھوبیوں کی زبان۔
- ٣٢...... کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا۔ (ست بچن ص ٤٤، خزائن ج ١٠ ص ١٦٤) قاضی
صاحب آپ بھی ان خوفوں سے کوفتیں کھاتے ہیں یا نہیں؟
- ٣٣...... یہ نانک نے چولہ بنایا شعار (ست بچن ص ٤٦، خزائن ج ١٠ ص ١٦٦) چولہ دثار ہوتا ہے نہ کہ
شعار۔
- ٣٤...... ”خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر۔“ (ست بچن ص ٤٦، خزائن ج ١٠ ص ١٧٠) خطر چوروں
سے ہوتا ہے یا درندہ گزند جانوروں سے ہوتا ہے۔ خدا سے خطر نہیں ہوتا۔ خوف ہوتا ہے۔
- ٣٥...... ”میں نے اس ثبوت میں بہت غور کی۔“ (ست بچن ص ٥٧، خزائن ج ١٠ ص ١٨١) غور کیا
چاہئے۔
- ٣٦...... ”مگر ہم اگرچہ دونوں آنکھیں بھی بند کرلیں۔“ (ست بچن ص ١٥٨، خزائن ج ١٠ ص ١٨٢)
اگر چاہئے یا گو چاہئے۔ اگرچہ بالکل غلط ہے۔
- ٣٧...... ”اپنے خونوں کو بہا دیا۔“ (فتح اسلام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٤) اپنے خون بہا دیئے چاہئے۔
- ٣٨...... ”بہتوں کو جو اس کے نیک بندے ہیں۔“ (ست بچن ص ١٣٥، خزائن ج ١٠ ص ٢٥٩) بہت
لوگوں کو جو نیک ہیں چاہئے۔
بابو صاحب...... مولوی صاحب جہاں مرزے نے عیسائی لوگ کہا۔ تو وہاں لوگ کہنا غلط قرار دیا اور یہاں جو اس نے بہتوں کو کہا تو آپ نے کہا کہ بہت لوگ کہنا چاہئے۔ آپ اس کی ہر طرح غلطی پکڑتے ہیں۔
قاضی صاحب...... بابو صاحب مولوی صاحب راستی پر ہیں۔ اس کی وجہ آپ مجھ سے سنئے۔ گائے، بیل، گدھے، گھوڑے نہیں ہوتے اور بہتوں کے لئے ضروری ہے کہ بیان کیا جائے کہ بہت کون؟ اگر آپ کہیں کہ بہتوں نے تکلیف اٹھائی تو سننے والے کو پوری طرح سمجھ نہیں آوے گا کہ کس نے اور کلام ایسا ہونا چاہئے کہ سننے والا اس سے پورے طور متمتع ہو۔
- ٣٩...... ”ظاہر ہے کہ اگر بابا صاحب کی عادت نماز پڑھنا نہ ہوتا۔“ (ست بچن ص ١٣٨، خزائن
ج ١٠ ص ٢٦٣) نہ ہوتی چاہئے۔ عادت مونث ہے۔
١٨١
- ٤٠....... ”چنانچہ پانچ انگل کا نشان اب تک موجود ہے۔“ (ست بچن ص ١٣٩، خزائن ج ١٠
ص ٢٦٣) پانچ انگلیوں کا چاہئے۔ انگل کا لفظ پیمائش کے معنے دیتا ہے۔
- ٤١....... ”مگر ہمیں سمجھ نہیں آتا۔“ (ست بچن ص ١٤٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٦٦) ہماری سمجھ میں نہیں آتا
چاہئے۔
- ٤٢....... ”یہ بات بھی مجھے بیان کرنا ضروری ہے۔“ کہ (ست بچن ص ١٥٠، خزائن ج ١٠ ص ٢٧٤)
بیان کرنی ضروری ہے چاہئے۔
- ٤٣....... ”اور پھر تبت کا بھی سیر کیا۔“ (ست بچن ص ٥، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٥) تبت کی بھی سیر کی
چاہئے۔
- ٤٤....... ”سو وہ بلغم کبوتر کی شکل پر نظر آگئی۔“ (ست بچن ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥) نظر آ گیا
چاہئے۔
- ٤٥....... ”آنحضرت کو معراج کی رات میں کسی نے نہ چڑھتا دیکھا نہ اترتا۔“ (اربعین نمبر ٢
ص ٢٢ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٠) نہ چڑھتے دیکھا نہ اترتے چاہئے۔
- ٤٦....... ”مگر میں اُس بہتان کے سننے سے خاموش رہا۔“ (کشف الغطاء ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ٢٠٣)
قاضی صاحب ....... واہ واہ اس میں تو روح القدس صاحب نے کمال ہی کر دکھایا۔ نو وارد....... مگر قاضی صاحب میں اس کو غلطیوں کا نمبر نہیں دیتا۔ کیونکہ اس میں ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں۔
- ٤٧....... ”آپ کے مذہب کا عدل تو مجھے سمجھ نہیں آتا۔“ (جنگ مقدس ص ٦٠، خزائن ج ٦
ص ١٤٧) میری سمجھ میں نہیں آتا چاہئے۔
- ٤٨....... ”برائے مہربانی۔“ (جنگ مقدس ص ٧٦، خزائن ج ٦ ص ١٦٦) براہ مہربانی چاہئے۔
- ٤٨....... ”توریت کے کسی مقامات میں۔“ (جنگ مقدس ص ١١٩، خزائن ج ٦ ص ٢١٣) کسی مقام
میں چاہئے۔ کسی واحد ہے۔
- ٤٩....... ”تساہل عارفانہ۔“ (جنگ مقدس ص ١٥٤، خزائن ج ٦ ص ٢٥١) عارفانہ نہیں چاہئے۔ تجاہل
کے ہی معنی ہیں۔ جان بوجھ کر جاہل بننا۔
١؎ (انجام آتھم ص ٢٣٥، خزائن ج ١١ ص ٢٣٥) پر یہ شخص لکھتا ہے: ”مرا در بیان شیریں تراز آب شیریں کرد و چنانکہ از ہادیان مہدیان صاحب ہمچناں مرا افصح المتکلمین کرد“
١٨٢
١٨٩
- ٥٠....... ”اس آیت کے یہ معنے تھے۔ جن کو الٹا کر
ص ٢٨٨) الٹ کرنا چاہئے۔
- ٥١....... ”اپنے اندرون کا نہایت ہی برا نمونہ دکھایا۔
سرے سے اردو ہی نہیں۔
- ٥٢....... ”کچھ بھی التفات نہ کی۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٢، خزائن
- ٥٣....... ”ایک ذرا تقویٰ ہوتی۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن
- ٥٤....... ”اور دونوں کتاب کا موازنہ ہو کر۔“ (نور القران
چاہئے۔
- ٥٥....... ”ایک خورد تریج کی طرح۔“ (سرمہ چشم آریہ ص
- ٥٦....... ”مثلاً نباتات میں سے آک کے درخت کا
(سرمہ چشم آریہ ص ٥٠، خزائن ج ٢ ص ٩٨) اس میں تو اردو کے
- ٥٧....... ”اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدم
آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩) آدمیوں نے چاہئے۔
- ٥٨....... ”میرے خیال میں فلسفیوں سے بڑھکر اور
چشم آریہ ص ٤٢، خزائن ج ٢ ص ١٠٣) اس طرح چاہئے میر سے بڑھ کر خراب نہ ہوگی۔
- ٥٩....... ”پھر روح کسی نہ کسی دن کتی پا کر ختم ہو جا
ص ١١٩) روح واحد مونث کو مرزے نے جمع مذکر کا صیغہ
- ٦٠....... ”اس کے اندر میں ہی سے کچھ تغیر پیدا
ص ١٣٥) سبحان اللہ و بحمدہ لدھیانہ والے بیچ میں بولا کر
- ٦١....... ”تو یہ سارا رسالہ ایک بڑی کتاب ہو جا
ص ١٨٤) ہو جائے گا چاہئے۔
١؎ (نزول مسیح ص ٢٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٢) پر ہوں اور ص ٧٦ دعوۃ اسلام پر لکھتا ہے کہ بدانید کہ میکند، خداوندا کیا پھر بھی تو اس شان کا بندہ دنیا میں بنا اس کی صحبت میں رہے۔
٨٣
- ٥٠ ...... ”اس آیت کے یہ معنے تھے۔ جن کو الٹا کر کے۔“ (چشمہ مسیحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٠
ص ٣٨٨) الٹ کرنا چاہئے۔
- ٥١ ...... ”اپنے اندرون کا نہایت ہی برا نمونہ دکھایا۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٢، خزائن ج ٣ ص ٣١٢) یہ
سرے سے اردو ہی نہیں۔
- ٥٢ ...... ”کچھ بھی التفات نہ کی۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٢، خزائن ج ٣ ص ٣١٢) التفات نہ کیا چاہئے۔
- ٥٣ ...... ”ایک ذرا تقوٰی ہوتی۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٤) تقوٰی ہوتا چاہئے۔
- ٥٤ ...... ”اور دونوں کتاب کا موازنہ ہو کر۔“ (نور القرآن ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٣٣٣) کتابوں کا
چاہئے۔
- ٥٥ ...... ”ایک خورد ترنج کی طرح۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٩، خزائن ج ٢ ص ٦٧) ترنجیں چاہئے۔
- ٥٦ ...... ”مثلاً نباتات میں سے آک کے درخت کو دیکھو کیسا تلخ اور زہر ناک ہوتی ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ٥٠، خزائن ج ٢ ص ٩٨) اس میں تو اردو کے سر پر مرزے نے لٹھ مار دیا۔
- ٥٧ ...... ”اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا۔“ (سرمہ چشم
آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩) آدمیوں نے چاہئے۔
- ٥٨ ...... ”میرے خیال میں فلسفیوں سے بڑھکر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب ہوگی۔“ (سرمہ
چشم آریہ ص ٥٤، خزائن ج ٢ ص ١٠٣) اس طرح چاہئے میرے خیال میں کسی قوم کی دلی حالت فلسفیوں سے بڑھ کر خراب نہ ہوگی۔
- ٥٩ ...... ”پھر روح کسی نہ کسی دن مٹی پا کر ختم ہو جائیں گے۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ٧١، خزائن ج ٢
ص ١١٩) روح واحد مونث کو مرزے نے جمع مذکر کا صیغہ سمجھا ہے۔
- ٦٠ ...... ”اس کے اندر میں ہی سے کچھ تغیر پیدا ہو کر۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ٨٧، خزائن ج ٢
ص ١٣٥) سبحان اللہ وبحمدہ لدھیانہ والے پنجابی میں بولا کرتے تھے۔
- ٦١ ...... ”تو یہ سارا رسالہ ایک بڑی کتاب ہو جائے گی۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٣٦، خزائن ج ٢
ص ١٨٤) ہو جائے گا چاہئے۔
- ١؎ (نزول مسیح ص ٢٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٢) پر یہ شخص لکھتا ہے: ”میں خدا کی روح سے بولتا
ہوں اور ص ١٧٦ دعوۃ اسلام پر لکھتا ہے کہ بدانید کہ فضل خدا با من است و روح خدا در من سخنها میکند ، خداوند! کیا پھر بھی تو اس شان کا بندہ دنیا میں پیدا کر سکے گا؟ کیسے خوش قسمت تھے وہ لوگ جو اس کی صحبت میں رہے۔
١٨٣
- ٦٢...... ”اور کوئی اس کی ہڈیاں اور چمڑے کے فکر میں رہتا ہے۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٤٠، خزائن
ج ٢ ص ١٨٨) ہڈیوں چاہئے۔
- ٦٣...... ”اور کوئی گائے کے بچوں پر جوا رکھ کر دن رات ان کی جان کو مارتا ہے۔“ (سرمہ چشم
ص ١٠٩، خزائن ج ٢ ص ١٤٧) کو نہیں چاہئے۔
- ٦٤...... ”جو ذات کل فیضوں کا مبدا ہونا چاہئے۔“ ہونی چاہئے چاہئے۔ ذات مونث ہے۔
- ٦٥...... ”اونٹ تو نگلا گیا باقی دم رہ گئی۔“ (ص ١٥٨، خزائن ج ٢ ص ٢٠٧) چھاننے کے واسطے
اونٹ اور مچھر آتا ہے اور نگلنے کے واسطے ہاتھی اور دم۔
- ٦٦...... ”جاگو جاگو آریو نیند نہ کرو پیار۔“ (ص ١٩٢، خزائن ج ٢ ص ٢١١) پیار دو نہیں۔ یا نیند
کو چاہئے ۔ یا پیار کی جگہ پیاری۔
- ٦٧...... ”سب پرہیزیں توڑ دیتا ہے۔“ (سرمہ چشم ص ١٩٩، خزائن ج ٢ ص ٢٦٦) پرہیز چاہئے۔
- ٦٨...... ”اور بہتری مصیبتوں کے بیچ میں آکر ۔“ (پیغام صلح ص ١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٤٣٣) بیچ کے
ساتھ بھنور اور درمیان بھی ہوتا تو لطف دوبالا ہو جاتا۔
- ٦٩...... ”باوا صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے ایک رحمت تھی۔“ (پیغام صلح ص ١٢، خزائن ج ٢٣
ص ٤٣٦) تھا چاہئے۔ وجود مذکر ہے۔
- ٧٠...... ”ایک ایسی زہر ہے۔“ (پیغام صلح ص ٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٢) ایسا زہر چاہئے۔
- ٧١...... ”آپ کی زبان بدزبانی سے رکتی نہیں۔“ (استفتاء ص ٨، خزائن ج ١٢ ص ١١٦) آپ
بدزبانی سے رکتے نہیں یا آپ کی زبان بدکلامی سے رکتی نہیں چاہئے۔ یا افحش المتکلمین چاہئے۔
- ٧٢...... ”اس پر بھی ہماری طرف سے بڑی توقف ہوئی۔“ (استفتاء ص ١٠، خزائن ج ١٢ ص ١١٨)
توقف ہونا چاہئے۔
- ٧٣...... ”اس میں شک نہیں کہ یہ زمانہ جو جوانی کا ذریعہ ہے۔ ایک ایسا کارآمد زمانہ ہے۔“
(ص ٤ تقریریں) فصاحت بلاغت کا خاتمہ۔
- ٧٤...... ”اکثر لوگ بظاہر متقی اور زاہد ہوتے ہیں۔ لیکن جب تک خدا کا فضل و رحم بھی شامل
حال نہ ہو۔ تب تک وہ زہد اس کے کام نہیں آسکتا۔“ (ص ٥ تقریریں) ان کے چاہئے۔
- ٧٥...... ”پھر تو رات دن اس کی عیب چینی میں گزرتی ہے۔“ (ص ٧، تقریریں) عیب جوئی اور
نکتہ چینی تو سنتے آئے۔ عیب چینی کبھی نہیں سنا تھا۔
- ٧٦...... ”راتوں کو اور دنوں کو خوب سوچ کر دیکھو۔“ (ص ٣٢ تقریریں) مطلب آپ کا یہ ہے
١٨٤
کہ رات کے وقت اور دن کے وقت سوچ کر دیکھ کر کے دیکھو کہ یہ خدا نے کیا بنا دیئے۔ ایک کام کا
- ٧٧...... ”اس لئے میں تم سب کو گواہ رکھتا ہوں ک
- ٧٨...... ”یہ تحقیر کی باتیں جو ان کے ہونٹوں پ
ص ٢٨٠) زبان پر چڑھ رہی ہیں چاہئے۔
- ٧٩...... ”اس کی اخبار بند کر دی جائے۔“ (
بند کر دیا جائے چاہئے۔
- ٨٠...... ”طاعونیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔“ (
دو قسم کا ہوتا ہے چاہئے۔
- ٨١...... ”ورنہ قادیاں سب سے پہلے فنا کر
ص٤٩٥) قاضی جی یا اگر کو ہاٹ سے بیعت کر لی
- ٨٢...... ”کیونکہ جو کچھ مجھے دیا گیا ہے۔ و
ص٤٠) انہی کا چاہئے۔
- ٨٣...... ”اے نادانوں۔“ (نزول المسیح ص٤
- ٨٤...... ”اپنے ہونٹوں سے اسلام کی شہا
ص٤١) اپنی زبان سے چاہئے۔
- ٨٥...... ”جو ٹھیک ٹھیک بیماری عیال کا تر
کثرت عیال کا چاہئے۔
- ٨٦...... ”علمی اور دینی کتابیں جو ہزار ہا س
ص ٦٢، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٠) کاتب کی غلطی ہے۔
- ٨٧...... ”اور لومڑی کی طرح۔“ (نزول ا
لومڑی ہونا چاہئے۔
- ٨٨...... ”اس کی طرف ایسا کھینچا گیا ک
ص ٨٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٢) قاضی صاحب یہ
- ٨٩...... ”یقین اپنے نوروں کے س
ص ٢٧٢) یہاں بھی نالائق کاتب نے سمیت
کہ رات کے وقت اور دن کے وقت سورج کو دیکھو اور آپ کہہ رہے ہیں کہ رات اور دن میں غور کر کے دیکھو کہ یہ خدا نے کیا بنا دیئے۔ ایک کام کاج کے واسطے اور ایک آرام کے واسطے۔
- ٧٧...... ”اس لئے میں تم سب کو گواہ رکھتا ہوں کہ اگر ۔“ (ص ٣٦ تقریریں ) گواہ کرتا ہوں چاہئے۔
- ٧٨...... ” یہ تحقیر کی باتیں جو ان کے ہونٹوں پر چڑھ رہی ہیں۔“ (نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨
ص ٣٨٠) زبان پر چڑھ رہی ہیں چاہئے۔
- ٧٩...... ”اس کی اخبار بند کر دی جائے۔“ ( نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠) اس کا اخبار
بند کر دیا جائے چاہئے۔
- ٨٠...... ”طاعونیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔“ (نزول المسیح ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٣) طاعون بھی
دو قسم کا ہوتا ہے چاہئے۔
- ٨١...... ”ورنہ قادیاں سب سے پہلے فنا کرنے کے لائق تھی ۔“ ( نزول المسیح ص ١٧، خزائن ج ١٨
ص ٣٩٥) قاضی جی یہ اگر کوہاٹ سے بیعت کر لیتی تو طاعون سے بچ جاتی ۔
- ٨٢...... ” کیونکہ جو کچھ مجھے دیا گیا ہے۔ وہ انہیں کا ہے۔“ ( نزول المسیح ص ٢٣، خزائن ج ١٨
ص ٤٢٠) انہی کا چاہئے۔
- ٨٣...... ”اے نادانوں ۔“ ( نزول المسیح ص ٣٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٠) نادانو چاہئے۔
- ٨٤...... ”اپنے ہونٹوں سے اسلام کی شہادت دیں گے۔“ ( نزول المسیح ص ٤٣، خزائن ج ١٨
ص ٤٤١) اپنی زبان سے چاہئے۔
- ٨٥...... ” جو ٹھیک ٹھیک بسیاری عیال کا ترجمہ ہے۔“ ( نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٥٥)
کثرت عیال کا چاہئے۔
- ٨٦...... ”علمی اور دینی کتابیں جو ہزار ہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں۔“ ( نزول المسیح
ص ٦٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠) کاتب کی غلطی ہے۔ مشتمل ہونا چاہئے نہ مندرج ۔
- ٨٧...... ”اور لومڑی کی طرح ۔“ (نزول المسیح ص ٦٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٦١) کاتب کی غلطی ہے۔
لومڑی ہونا چاہئے۔
- ٨٨...... ”اس کی طرف ایسا کھینچا گیا کہ کچھ اٹکل نہیں آتی کہ مجھے کیا ہو گیا۔“ ( نزول المسیح
ص ٨٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٨٤) قاضی صاحب یہ دو نسلی اردو ہے۔ غالباً کاتب کی غلطی ۔
- ٨٩...... ”یقین اپنے نوروں کے سمیت آتا ہے۔“ ( نزول المسیح ص ٩٤، خزائن ج ١٨
ص ٤٩٢) یہاں بھی نالائق کاتب نے سمیت کے پہلے کے لکھ دیا۔
١٨٥
- ٩٠....... ”نورے کے استعمال سے یکدفعہ بال گر جاتے ہیں۔“ (نزول المسیح ص٩٤، خزائن ج١٨
ص٤٧٢) ہائے رے کاتب تجھے کہاں تک کوسوں۔ یکدم کو یکدفعہ لکھ گیا۔ تجھے کم بخت اتنا بھی معلوم نہیں کہ نورا میں دفعہ لگاؤ تو بیس دفعہ ہی بال گر جاویں گے۔
- ٩١....... ”کاش میں کسی دف کے ساتھ اس کی منادی کروں۔“ (نزول المسیح ص٩٦، خزائن ج١٨
ص٤٧٤) کاتب کم بخت کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کاش ماضی پر آتا ہے۔ مثلاً کاش! میں ایسا کرتا۔
- ٩٢....... ”مرزا اپنی ایک عربی کی تقریر کی تعریف میں (نزول المسیح ص٢١٠، خزائن ج١٨
ص٥٨٨) پر لکھتا ہے کہ ”میں ہرگز یقین نہیں مانتا کہ کوئی فصیح اور اہل علم اور ادیب عربی بھی زبانی طور پر ایسی تقریر کھڑا ہو کر کر سکے۔ یہ تقریر وہ ہے جس کے اس وقت قریباً ڈیڑھ سو آدمی گواہ ہوں گے۔“ معلوم ہوتا ہے یہ کاتب پنڈت لیکھرام کے قاتل کی طرح کسی دشمن کا تعینات کردہ تھا کہ ادھر تو مرزا قادیانی بڑے مزے میں آکر اپنی تقریر کی فصاحت و بلاغت کی تعریف کر رہا ہے اور ادھر اس نے ان چند سطور کے نقل کرنے میں ہی اتنی غلطیاں کر ماریں کہ اول یقین نہیں کرتا کو یقین نہیں مانتا نقل کر گیا۔ عرب کو عربی لکھ گیا۔ زبانی کو زبانی طور پر نقل کر گیا۔ یہ وہ تقریر ہے کو آگے پیچھے کر کے یہ تقریر وہ ہے لکھ گیا۔ ڈیڑھ کو کمبخت نے ڈیڈھ لکھ مارا۔ اب پڑھنے والے تو یہی کہیں گے کہ جیسے اردو کی تین سطروں میں پانچ غلطیاں ہیں۔ اسی طرح خدانخواستہ اس عربی تقریر میں بھی ہوں گی۔ قاضی صاحب کیا کہوں۔ میری زبان زیب نہیں دیتی کہ یہ کہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے الہامات مرزا میں اور مہر علی شاہ صاحب نے سیف چشتیائی میں جو مرزا قادیانی کی عربی دانی کی قلعی کھولی ہے۔ وہ آج اس کاتب کی مہربانی سے بالکل راست ثابت ہوئی۔
- ٩٣....... ”بلکہ بندگان خود را برائے ہمیشہ در جہنم انداخت۔“ (دعوت قوم ص١٢١، خزائن ج١١
ص١٢١) دیکھو برائے دوام کی جگہ برائے ہمیشہ کا کیسا مکروہ اور بے محاورہ لفظ نقل کر گیا۔
- ٩٤....... ”جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا۔“ (کتاب البریہ ص١٤٣،
خزائن ج١٣ ص١٦٤) جو بعد میں چاہئے۔ قاضیاں بے چاری کے واسطے پیچھے سے کا لفظ مکروہ ہے۔
- ٩٥....... ”یہودیوں کے سامنے جانا مصلحت نہ تھی۔“ (کتاب البریہ ص٢٣٩، خزائن ج١٣ ص٢٧٤)
مصلحت نہ تھا چاہئے۔ جانا مذکر ہے۔
- ٩٦....... ”یسوع کو جسم کے سمیت۔“ (کتاب البریہ ص٢٣٩، خزائن ج١٣ ص٢٧٤) جسم سمیت
چاہئے۔ جسم کے سمیت اردو نہیں۔
- ٩٧....... ”اور فقرہ یجددلہا جو حدیث میں موجود ہے۔ یہ صاف بتلا رہا ہے کہ ہر ایک صدی پر
١٨٦
ایسا مجدد آئے گا۔ جو مفاسد موجودہ کی تجدید کرے گا قاضی جی تمہیں اللہ کی قسم اس فقرہ سے م نے بھلا دیئے ہوں گے۔ ان کو از سر نو قائم کرے گا گی۔ ان کو تازہ کرے گا۔
قاضی صاحب....... مرزا جھوٹ بولنے والا شخص ک تازہ کرے سو کر گیا۔ قہقہہ۔
- ٩٨....... ”غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دل
ص٢٧٧) اس موقعہ پر ہر دل غلط ہے۔ صرف عزیز چا
- ٩٩....... ”اور میری قلم لکھنے سے رکی رہی۔“ (ن
رہا چاہئے۔
- ١٠٠....... چونکہ یہ شخص عبدالقادر بے علم ہے۔ اس
غلطی کی ہے۔ یہ مصرعہ جس پر نشان لگایا ہوا ہے۔ جو غلطی کی ہے۔ کیونکہ وہ لکھتا ہے: ”داخلِ جنت ہوا، داخل جنت ہوا وہ محترم۔ (
قاضی صاحب! اگر عبدالقادر غریب من داخل جنت ہوا وہ محترم کی جگہ داخل جنت ہوا ہے محت ہے۔ جو استاد غالب کے اس لاکھ روپے کے شعر ک کوئی مجھ کو تو سمجھائے کہ سمجھاویں گے کیا۔ (ضرورۃ کرتا ہے کہ حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش را
قاضی صاحب! شاعری کا دعویٰ اور علم کے یمن زسدا اور استاد غالب جیسے مشہور شاعر کی اب ایک ایسا بھدا لفظ مجھ کو تو اس میں ٹھوک کر اس کو بے مرزے کی اردو میں غلطیاں کرنے کا نمبر سو تک پنہ روح القدس کو زبان اردو سے بے بہرہ سمجھنے کے ب وفضل کی نسبت متزلزل نہیں ہوا۔ تو کل کچھ اور بھی یہ سارا شعر یوں ہے۔ ابن مریم مر گیا حق
٧
ایسا مجدد آئے گا۔ جو مفاسد موجودہ کی تجدید کرے گا۔“ (کتاب البریہ ص ٢٦٣، خزائن ج ١٣ ص ٣٠٣)
قاضی جی تمہیں اللہ کی قسم اس فقرہ سے یہ مراد ہے کہ جو شریعت کے احکام مسلمانوں نے بھلا دیئے ہوں گے۔ ان کو از سر نو قائم کرے گا۔ یا یہ کہ جو فساد کی باتیں اس وقت موجود ہوں گی۔ ان کو تازہ کرے گا۔
قاضی صاحب ..... مرزا جھوٹ بولنے والا شخص نہ تھا۔ وہ اسی واسطے آیا تھا کہ اسلام میں فساد کو تازہ کرے سو کر گیا۔ قہقہہ۔
- ٩٨..... ”غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دل عزیز تھے۔“ (کتاب البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣
ص ١٧٧) اس موقعہ پر ہر دل غلط ہے۔ صرف عزیز تھے چاہئے۔
- ٩٩..... ”اور میری قلم لکھنے سے رکی رہی۔“ (فتح اسلام ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١) میرا قلم رکا
رہا چاہئے۔
- ١٠٠..... چونکہ یہ شخص عبدالقادر بے علم ہے۔ اس لئے اس نے میرے شعروں کے لکھنے میں بھی
غلطی کی ہے۔ یہ مصرعہ جس پر نشان لگایا ہوا ہے۔ جو میرے شعر کا مصرعہ ہے۔ اس میں بھی اس نے غلطی کی ہے۔ کیونکہ وہ لکھتا ہے: ”داخل جنت ہوا ہے محترم۔“ حالانکہ یہ مصرعہ اس طرح پر ہے۔ داخل جنت ہوا وہ محترم۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٤٩ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٤)
قاضی صاحب ! اگر عبدالقادر غریب صرف اس وجہ سے بے علم قرار دیا گیا کہ اس نے داخل جنت ہوا وہ محترم کی جگہ داخل جنت ہوا ہے محترم ، لکھ دیا۔ تو کس قدر جاہل اور بے علم وہ شخص ہے۔ جو استاد غالب کے اس لاکھ روپے کے شعر کی کہ حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ، کوئی مجھ کو تو سمجھائے کہ سمجھاویں گے کیا۔ (ضرورۃ الامام ص ٣٠، خزائن ج ١٣ ص ٥٠١) پر یوں مٹی پلید کرتا ہے کہ حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ، پر کوئی مجھ کو تو سمجھائے کہ سمجھا دیں گے کیا۔
قاضی صاحب ! شاعری کا دعویٰ اور علم و فضل کی یہ لن ترانیاں کہ بعلم و فضل و کرامت کسے بمن نرسد اور استاد غالب جیسے مشہور شاعر کی ایسی مشہور غزل کے ایسے مشہور شعر کی یہ مٹی پلید کہ ایک ایسا بھدا لفظ مجھ کو تو اس میں ٹھوک کر اس کو بے معنی اور دو کوڑی کا کر دیا۔ بابو صاحب میں نے مرزے کی اردو میں غلطیاں کرنے کا نمبر سو تک پہنچا دیا ہے۔ میرے خیال میں اس کو اور اس کے روح القدس کو زبان اردو سے بے بہرہ سمجھنے کے لئے یہ کافی ہے۔ اگر آپ کا عقیدہ مرزے کے علم و فضل کی نسبت متزلزل نہیں ہوا۔ تو کل کچھ اور بھی عرض کر سکوں گا۔
یہ سارا شعر یوں ہے۔ ابن مریم مر گیا حق کی قسم ، داخل جنت ہوا وہ محترم۔
(درثمین ص ١٦)
١٨٧
ہاں اگر میں نے ان اغلاط کے پکڑنے میں تعصب سے کام لیا ہو۔ یعنی خواہ مخواہ زبردستی ان کے صحیح الفاظ کو غلط قرار دیا ہو تو قاضی صاحب بیٹھے ہیں۔ وہ فیصلہ دیں۔
بابو صاحب ....... میں ایسا اجہل بھی نہیں ہوں کہ جو غلطیاں آپ نے پکڑی ہیں۔ ان کو نہ سمجھ گیا ہوں۔ بلکہ میں تو اس خیال میں ہوں کہ اگر آپ سے زیادہ لیاقت کا آدمی اس کی غلطیوں کو تلاش کرے گا۔ تو وہ کس قدر پاوے گا؟ ہائے بھلا ہو ان لوگوں کا جو ہمیں یہ سبق دیتے رہے کہ مرزا علم وفضل میں اپنے زمانہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
نووارد...... قاضی صاحب اب مرزا قادیانی کی یعنی ابن فارس کی ایک مثال خواجہ حافظ جیسے مشہور شاعر کے شعر کے نقل کرنے کی بھی دیکھئے۔ خواجہ صاحب کے اس شعر کو کہ:
دیگراں ہم بکنند آنچه مسیحا میکرد
مرزا (ص١٣ اربعین نمبر٢، خزائن ج١٧ ص٣٥٩) پر یوں نقل کرتا ہے:
ہمہ آں کارکنند آنچه مسیحا میکرد
قاضی صاحب دہائی ہے خدائی جو شخص استاد غالب جیسے مشہور شاعر کے اردو شعر کے نقل کرنے میں ایسی فاحش غلطی کرے اور خواجہ حافظ جیسے شاعر کے شعر کے نقل کرنے میں ایسی فاش غلطی کرے۔ وہ راست باز اور نیکو کار آدمی ہے کہ اس کے شعر کے نقل کرنے میں اگر کسی نے وہ کی جگہ ہے لکھ دیا اور اس سے مطلب شعر میں کچھ بھی فرق نہیں آیا تو اتنی بات پر اس کو بے علم قرار دے دے۔
بابو صاحب ...... قاضی صاحب مجھے ایک بڑا حصہ اپنی عمر اور کمائی کا اس شخص کی نذر کر دینے سے اس قدر پشیمانی حاصل ہوئی ہے۔ جس کو میں بیان نہیں کر سکتا۔ اے کاش! میں اپنے دین کی کتابیں پڑھتا۔ اس جھوٹے نبی کی تحریروں کو پڑھتا اور بہ نظر تعمق پڑھتا۔ اس فرقہ میں داخل ہونے سے پہلے علمائے دین سے مشورہ کرتا۔
نووارد...... بابو صاحب اس لاحاصل پشیمانی کو جانے دیں اور غنیمت سمجھیں کہ خدا نے زندگی میں آپ کو ہدایت دے دی۔ مثل مشہور ہے کہ دن کا بھولا اگر رات کو گھر آ جاوے تو بھولا نہیں کہلاتا اور روپے کا بھی افسوس نہ کریں۔ یہ گندہ روپیہ تھا۔ بابو صاحب مجھے لاہور و امرتسر کے بعض مسلمانوں کا یہ تجربہ ہے کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو قادیانی مذہب سے تو کچھ تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ اس پر میں نے مرزے کے برخلاف جو کچھ کہنا شروع کیا تو میں نے ان کے چہروں کو
١٨٨
دیکھا کہ ایسے ہیں جیسے نقش بر دیوار اس پر میں نے سے کچھ تعلق نہیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے کا نہ کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم مرزے کو نہ جھوٹا چاہتے اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ پنجابیوں پر اول تو ایک یا دوسری پارٹی کی شکل میں اس کے کلمہ اور جو باقی ہیں۔ وہ بھی اس کو برا نہیں بھیج رہے ہیں۔ خاص اس بات سے کہ اس کا نتیج نے کچھ مدت پہلے ان کی تعداد میں اضافہ کیا عیسائیوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں اور یہی وہ پنجا کر اسلام کو ضعف پہنچا رہے ہیں اور اسلام میں پو ہلکے پلے کو وزن دے رہے ہیں۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب مرزے ہمیں حال معلوم ہو گیا۔ اب اس کی فارسی کا بھ زبان تھی۔
نووارد ...... قاضی صاحب جیسا دیکھا رسالہ وی مرزے کی فارسی۔
قاضی صاحب ...... اچھا مولوی صاحب کوئ
نووارد ...... سر کھپاتے ہوئے فارسی کی مثالیں
قاضی صاحب ...... نہیں بہت پکار نہیں۔
نووارد ...... اچھا میں آپ کو اس کی الہامی کتا مطلب آپ کو بیان کرنا ہوگا۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب میں۔ اشکال ہو۔
نووارد ...... آپ لفظی اشکال سے نہ ڈریں۔
قاضی صاحب ...... بہت خوب! تو فرمایئ ہو رہی ہے۔
دیکھا کہ ایسے ہیں جیسے نقش بر دیوار اس پر میں نے پوچھا کہ حضرت آپ تو فرماتے تھے کہ مجھے ان سے کچھ تعلق نہیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے میری اس قدر دردسری پر کوئی کلمہ آفرین یا نفرین کا نہ کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم مرزے کو نہ جھوٹا کہتے ہیں نہ سچا اور اس کے برخلاف کچھ سننا نہیں چاہتے اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ پنجابیوں پر اس جھوٹے نبی نے اپنا اس قدر جادو ڈالا ہے کہ اول تو ایک یا دوسری پارٹی کی شکل میں اس کے کلمہ گو ہو گئے ہیں۔
اور جو باقی ہیں۔ وہ بھی اس کو برا نہیں سمجھتے اور اپنی اولاد کو ان کے سکولوں میں دھڑا دھڑ بھیج رہے ہیں۔ خاص اس بات سے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ یہی پنجاب کے مسلمان تھے۔ جنہوں نے کچھ مدت پہلے ان کی تعداد میں اضافہ کیا۔ یہی پنجاب کے مسلمان ہیں۔ جو آریوں اور عیسائیوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں اور یہی وہ پنجاب کے مسلمان ہیں جو آج اس فرقہ میں داخل ہو کر اسلام کو ضعف پہنچا رہے ہیں اور اسلام میں پورا پور فساد اور تفرقہ ڈال دینے کے لئے ترازو کے ہلکے پلے کو وزن دے رہے ہیں۔
قاضی صاحب...... مولوی صاحب مرزے کی اردو کا اور اس کے اندر سے بولنے والے کا تو ہمیں حال معلوم ہوگیا۔ اب اس کی فارسی کا بھی کچھ حال بیان کریں۔ کیونکہ وہ تو اس کی مادری زبان تھی۔
نووارد...... قاضی صاحب جیسا دیکھا سالا ویسی سالے کی بہن جیسی مرزے کی اردو ویسی ہی مرزے کی فارسی۔
قاضی صاحب...... اچھا مولوی صاحب کوئی فارسی کی مثال بھی ہے۔
نووارد...... سر کھجاتے ہوئے۔ فارسی کی مثالیں بھی بہت درکار ہیں یا کوئی ایک آدھ۔
قاضی صاحب...... نہیں بہت درکار نہیں۔ ایک آدھ ہی ہو مگر صاف اور فیصلہ کن ہو۔
نووارد...... اچھا میں آپ کو اس کی الہامی کتاب کا ایک شعر سناتا ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس کا مطلب آپ کو بیان کرنا ہوگا۔
قاضی صاحب...... مولوی صاحب میں یہ وعدہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ممکن ہے کہ اس میں لفظی اشکال ہو۔
نووارد...... آپ لفظی اشکال سے نہ ڈریں۔ اس کا لفظی ترجمہ کردینا میرے ذمے۔
قاضی صاحب...... بہت خوب! تو فرمائیے اور جلد فرمائیے کہ شعر کا نام سن کر طبیعت بے قرار ہورہی ہے۔
١٨٩
نووارد...... اچھا لیجئے سنئے اور غور سے سنئے۔ یہ مرزے کی الہامی کتاب براہین احمدیہ کا ایک شعر ہے جو درثمین ص ٥٩ پر درج ہے۔ یعنی منتخب شعروں میں سے ہے:
مہر وماہ را نیست قدرے در دیار دلبرم
دوسرا مصرعہ اگر چہ وزن سے گرا ہوا ہے۔ لیکن ماہ کو مہ لکھنے سے درست ہو جائے گا۔ مگر آپ سے درخواست پہلے مصرعہ کا مطلب بیان کرنے کی ہے اور لفظی ترجمہ اس کا یہ ہے کہ کوئی محبوب مشابہت نہیں رکھتا جیسا میرا یار دلبر مشابہت رکھتا ہے۔ آپ تو دیوان غالب اور اس کی شرح ہمیشہ لے بیٹھا کرتے ہیں۔ اس مصرعہ کے معنے بتا دیں تو ہم جانیں۔
قاضی صاحب....... کیا مرزا قادیانی کے ایسے ادق اشعار کی کوئی شرح نہیں چھپی؟
نووارد....... اجی شرح ورح کو رہنے دیں۔ آپ اپنا دماغ لڑا دیں تھوڑی دیر بعد وجد و حالت والوں کی طرح شانوں کو داہنے سے بائیں اور بائیں سے داہنے ہلا کر۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب مرزے کا مطلب معلوم ہو گیا۔ اس مصرعہ سے اس نے یہ بیان کرنا چاہا ہے۔ بلکہ بخیال خود بیان کیا ہے کہ ہیچ محبوب بیار دلبرم نماند یعنی کوئی محبوب میرے یار دلبر سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ہائے افسوس! صد افسوس! اس غریب کو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ مشابہت رکھنے کے معنے میں جب ماندن استعمال ہوتا ہے تو اس کے بعد ب آتی ہے۔ نہ ہمچو۔ مولوی صاحب اس مصرعہ کی صحت کر کے درثمین کے لئے ایک پرچہ صحیح قادیاں بھیج دیجئے۔
نووارد....... لیجئے قاضی صاحب شعر کی صحت ہوگئی۔ ہیچ محبوبے نمی ماند بیار دلبرم مہر و مہ را نیست رونق در دیار دلبرم۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب آپ نے تو کمال کیا کہ ایک تھوڑی سی تبدیلی سے نہ صرف شعر کو صحیح کر دیا۔ بلکہ اس کا پایہ بڑھا دیا۔ قدرے کی ی کیسی بھونڈی معلوم ہوتی تھی اور شاعر کی کمزوری اور بے بسی پر دلالت کر رہی تھی۔ اس کی جگہ رونق کا لفظ لا کر آپ نے شعر میں رونق پیدا کر دی۔ واقعی کمال کیا۔ کمال کیا اور آج مجھ پر ثابت ہو گیا کہ آپ مرزے پر غالب آنے کے لئے ہر طرح پر پورے ہیں۔ افسوس اس لیاقت کے ساتھ آپ نے کلرکی میں عمر صرف کردی۔
نووارد....... قاضی صاحب! آپ نے خواہ مخواہ میری گڈی چڑھانی شروع کر دی۔ میں جو کچھ ہوں اور جس لیاقت کا آدمی ہوں۔ میں خود ہی اچھا سمجھتا ہوں اور خدا کا اور ازاں بعد اپنے حکام کا لاکھ لاکھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ سفید پوشی میں میری عمر اچھی عزت و آبرو سے گزر گئی۔ باقی رہا دنیا
١٩٠
کمانا سو میں آپ کی اور آپ کی سی اور صدہا مثالوں کو دیکھ ہوں کہ دولت راست بازوں کی طرح خواہ وہ کتنے ہی ہے۔ آپ نے اور آپ جیسے صدہا اوروں نے فضیلت آ کی طرف دیکھئے کہ ایک امتحان بھی اس سے پاس نہ ہو سکا بہانہ سد کی دف بجا کر اور اپنے ملہم اور مستجاب الدعوات ہو کر اور دو اخبارات جاری کر کے جو طرح طرح پر مرزا لاکھوں روپیہ کما لیا۔ اگر سو میں سے پچانوے نے اس آ تسلیم کر لیا کہ بے شک تو سچا مجدد، سچا مہدی، سچا مسیح اور سچا
مفتی محمد صادق ایڈیٹر اخبار بدر کا خط جو مسٹر ج ٢٢ ص ٢٨٨) پر نقل کیا ہے وہ شروع یوں ہوتا ہے:
”حضرت اقدس مرشدنا ومہدینا مسیح موعو اللہ و برکاتہ‘ اور ختم ہوتا ہے ”حضور کی جوتیوں کا غلام“
بیوی....... توبہ توبہ توبہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ۔ اس کمبخت کو یہ کس کا نام لگا ہوا ہے۔ العظمت للہ!
بابو صاحب....... (ماتھے پر ہاتھ مار کر ) الٰہی! ا اگر یہ بیوی میری بھی میرے ساتھ گمراہ ہو جاتی تو ہم د
نووارد....... قاضی صاحب ان اجرتی شاخوانوں کا ذک و مغفور نے اپنی کتاب الذکر الحکیم کے ص ٩ پر اس طرح
مرزا کی مجلسوں میں ذکر خدا اور اصلاح کی حمد میں پڑھے جاتے ہیں۔ جس میں مرزا کو مظہر سے بڑھ کر کہا جاتا ہے۔ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کے ا کہ تو نے صلیب کو توڑ دیا۔ شرک و کفر کو مٹا دیا۔ آریہ دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
حالانکہ خود کبھی مشابہ خدا بنتا ہے۔ کبھی آ لك ولا مرك“ (تذکرہ ص ٧٠٦ طبع سوم ) ”سر ظهوری “ (تذکرہ ص ٧٠٤ طبع سوم ) بہشت و دوزخ
کمانا سو میں آپ کی اور آپ کی سی اور صدہا مثالوں کو دیکھ کر بڑے بھروسہ سے یہ بات عرض کر سکتا ہوں کہ دولت راست بازوں کی طرح خواہ وہ کتنے ہی لکھے پڑھے کیوں نہ ہوں۔ رخ کم کرتی ہے۔ آپ نے اور آپ جیسے صدہا اوروں نے فضیلت کی ڈگریاں حاصل کر کے کیا کمایا۔ مرزے کی طرف دیکھئے کہ ایک امتحان بھی اس سے پاس نہ ہو سکا۔ لیکن اس نے بغیر علم و فضل و کرامت کے بھان متی کی دف بجا کر اور اپنے ملہم اور مستجاب الدعوات ہونے کے اشتہار چار دانگ عالم میں پھیلا کر اور دو اخبارات جاری کر کے جو طرح طرح پر مرزے کی تعریفات میں رطب اللسان رہیں۔ لاکھوں روپیہ کما لیا۔ اگر سو میں سے پچانوے نے اس کو مفتری مانا تو پانچ نے اس کو صادق مان کر تسلیم کر لیا کہ بے شک تو سچا مجدد، سچا مہدی، سچا مسیح اور سچا نبی ہے اور تیرے مانے بغیر نجات نہیں۔
مفتی محمد صادق ایڈیٹر اخبار بدر کا خط جو سنداً مرزے نے (حقیقت الوحی ص ٢٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٨) پر نقل کیا ہے وہ شروع یوں ہوتا ہے: ”حضرت اقدس مرشدنا مہدینا مسیح موعود و مہدی معہود والصلوۃ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ اور ختم ہوتا ہے ”حضور کی جوتیوں کا غلام محمد صادق۔
بیوی ...... توبہ توبہ توبہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ۔ اس کمبخت کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ میرے نام کے ساتھ یہ کس کا نام لگا ہوا ہے۔ العظمت للہ !
بابو صاحب ...... (ماتھے پر ہاتھ مار کر ) انہی اجرتی خوشامدیوں نے تو مجھے تباہ و برباد کر دیا۔ اگر یہ بیوی میری بھی میرے ساتھ گمراہ ہو جاتی تو ہم دونوں ہی ڈوب گئے تھے۔
نووارد ...... قاضی صاحب ان اجرتی ثنا خوانوں کا ذکر کچھ مختصر سا ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم ومغفور نے اپنی کتاب الذکر الحکیم کے ص ٩ پر اس طرح کیا ہے: مرزا کی مجلسوں میں ذکر خدا اور اصلاح نفوس کی بجائے پھکڑ شاعروں کے قصائد مرزا کی حمد میں پڑھے جاتے ہیں۔ جس میں مرزا کو مظہر نور کبریا۔ سب اولیاء سے افضل۔ بعض انبیاء سے بڑھ کر کہا جاتا ہے۔ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کے نام سے پکارا جاتا اور جھوٹ بکواس مارا جاتا ہے کہ تو نے صلیب کو توڑ دیا۔ شرک و کفر کو مٹا دیا۔ آریاؤں، نیچریوں اور دہریوں کے ناک میں دم کر دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
حالانکہ خود کبھی مشابہ خدا بنتا ہے۔ کبھی بمنزلہ اولاد خدا نعوذ باللہ۔ کبھی کہتا ہے: ”کـــل لك ولا مرك “ (تذکرہ ص ٧٠٦ طبع سوم ) ”سرك سرى“ (تذکرہ ص ٦٩٤ طبع سوم) ”ظهورك ظهورى “ (تذکرہ ص ٧٠٤ طبع سوم ) بہشت دوزخ کا مالک و مختار۔ مظہر خدا نہ دو چار۔ لاکھ عیسائی
١٩١
مسلمان ہوئے۔ نہ مسلمانوں کا عیسائی بننا بند ہوا۔ نہ ہندوستان سے بت پرستی اور قبر پرستی صاف ہوئی اور بلکہ خود قبر پرستی اور مزار پرستی کی بنیاد ڈال دی۔ نہ آریاؤں کی ترقی کم ہوئی۔ نہ مسلمانوں کے اندرونی فسادات کم ہوئے۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب مرزا کی عربی کی نسبت آپ کی کیا رائے ہے۔
نووارد ...... قاضی صاحب بچپن میں گومیں نے عربی مقامات حریری تک پڑھی تھی۔ مگر مزاولت نہ رہنے کی وجہ سے بالکل نسیا منسیا ہوگئی۔ اس لئے میری اپنی رائے مرزا کی عربی کی نسبت بالکل کچھ وقعت نہیں رکھ سکتی۔ ہاں! میں نے یہ دیکھا ہے کہ علمائے اسلام نے اس کی عربی میں اتنی غلطیاں پکڑیں کہ یہ چیخ اٹھا۔ مولوی محمد حسن صاحب فیضی مرحوم جو عربی کالج کا پروفیسر تھا۔ اس کے ساتھ جو مرزانے چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ تو وہ ایک ٤١ اشعار کا بے نقط قصیدہ لکھ کر مرزا کی تلاش میں نکلا اور اسی شہر سیالکوٹ کی مسجد حکیم حسام الدین میں مرزے کے پیش کر کے درخواست کی کہ اس کو پڑھ کر حاضرین کو اس کا مطلب سمجھائیے۔
مرزا دیر تک اس کو دیکھتا رہا اور جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اس کو اپنے ایک فاضل حواری کے حوالے کیا۔ اس نے بعد ملاحظہ مولوی صاحب مرحوم سے درخواست کی کہ آپ اس کا ترجمہ کر دیں۔ اس کا ہم کو تو پتہ نہیں ملتا۔ اس پر مولوی صاحب نے قصیدہ واپس لے لیا اور پھر یہ کل حال بمعہ قصیدہ کے مولوی صاحب مرحوم و مغفور نے اخباروں میں چھپوا دیا۔ بیوی جی مجھے یہ دینا کتاب روئیداد مقدمات قادیانی۔ یہ دیکھئے اس کے حصہ "مرزا قادیانی پر مقدمہ" کے صفحات ٨، ١١۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب اب اجازت لیجئے کہ چلیں۔
نووارد ...... قاضی صاحب ٹھہریئے! آج بابو صاحب ان مرزائیوں میں جانے والے ہیں۔ انہیں تھوڑی سی تعلیم دے لوں۔ بابو صاحب کیا اس طرف آج تشریف لے جانے کا آپ کا پختہ ارادہ ہے؟
بابو صاحب ...... جی انشاء اللہ۔
نووارد ...... اچھا اب دو باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ میں پیشین گوئی کئے دیتا ہوں کہ انہوں نے نہ خود ان واقعات کو پڑھنا ہے نہ آپ سے سننا ہے۔ ہاں جھگڑا آپ سے خوب کریں گے۔ ایک کچھ کہے گا دوسرا کچھ کہے گا۔ پس آپ بھی اگر پیشین گوئی کر سکیں کہ وہ آپ سے کیا پوچھیں گے۔ تو اس کے جواب کے لئے آپ تیار ہو کر جائیں۔
بابو صاحب ...... یہ تو میں کیا عرض کروں؟ کہ مجھ سے وہ کس بات پر بحث کریں گے۔ مگر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جھوٹے ہی وہ یہ کہا کرتے ہیں کہ ابن مریم مر گیا حق کی قسم ۔
١٩٢
نووارد ...... بابو صاحب آپ غور فرماویں اگر کوئی شخص ہم سے کہے کہ تمہارا کان کتا لے گیا۔ تو ہم اپنے کان کو دیکھیں گے یا کتے کے پیچھے دوڑ پڑیں گے؟ ایک شخص ہمیں کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ١٨٠٠ سال ہو گئے فوت ہو چکے اور آنے والا عیسیٰ میں ہوں۔ جو اس کی خوبو پر آ گیا۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ١٨٠٠ سال کے قصہ کو لے بیٹھیں ۔ ہم کیوں نہ اس سے کہیں کہ بتا تجھ میں کون سی عیسیٰ کی خوبو ہے کہ جھگڑا فوراً ختم ہو جاوے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی خوبو وہ اپنے میں بتائے تو ہم اس کو دونوں آنکھوں پر قبول کر لیں اور اگر نہ بتا سکے تو ہم اسے کہیں کہ شکل گم کر تو جھوٹا ہے۔ معاملہ دو منٹ میں طے ہو گیا اور ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ بالضرور مسلمانوں کے عیسیٰ علیہ السلام والی باتیں اپنے میں ثابت کر کے دکھاوے۔
نہیں، عیسائیوں کے عیسیٰ علیہ السلام میں جو باتیں اس نے ثابت کی ہیں۔ انہی کا ثبوت اپنے میں دیوے۔ تب بھی ہم اسے عیسیٰ مان لیں گے۔ تو ہمارے عیسیٰ علیہ السلام کی خوبو اپنے میں دکھاوے اور اگر عیسائیوں کے مسیح کی خوبو رکھنے کا مدعی ہے تو عیسائیوں کی طرف جاوے۔ ہم سے اس کا کچھ سروکار نہیں ۔
بابو صاحب میری اس تقریر سے یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ مسئلہ حیات وممات مسیح میں ہم کمزور ہیں اور مرزائی غالب ۔ نہیں نہیں، ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ بیوقوف ہیں کہ یہ مسئلہ ہم سے چھیڑتے ہیں کیونکہ اس بحث میں اپنے دعوے کی جو وہ دلیل دیتے ہیں۔ وہی اس دعوے کا قلع قمع کر دیتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا ثابت کرتی ہے۔ میں اس کو پہلے بھی مگر لمبی عبارت میں بیان کر چکا ہوں۔ شاید آپ نہ سمجھے ہوں۔ اب مختصراً آپ کو سمجھاتا ہوں۔ غور سے سنئے ! اور عمر بھر یاد رکھئے ۔
نووارد کا یہ کہنا تھا کہ حاضرین سب کے سب ہمہ تن گوش ہو کر نووارد کے بالکل قریب آ بیٹھے اور قاضی صاحب کو بھی رخصت ہونے کے لئے اجازت طلب کرنا بھول گیا۔
نووارد ....... بابو صاحب مرزے کا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ صلیب سے اتارے گئے۔ تین دن قبر میں مدفون رہے۔ پھر قبر سے نکالے گئے اور حواریوں سے اپنے صلیبی زخمات کا علاج کرا کر کابل کے رستہ کشمیر چلے گئے اور ١٢٠ سال کی عمر پا کر یعنی ساڑھے ٨٦ سال بعد کشمیر میں فوت ہو گئے۔
اور اس دعوے کی دلیل یہ کہ قیامت کے دن جب خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ان عیسائیوں کو کہا تھا کہ خدا کے سوا میری اور میری والدہ کی بھی پرستش
١٩٣
- کرو۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب میں عرض کریں گے کہ خداوند! اگر میں یہ بات کہتا تو تجھے معلوم ہوتا۔ میں جب تک ان میں رہا۔ ان کے حال کا نگران رہا۔ پھر جب تو نے مجھے موت دے دی تو تو ہی ان کا نگران حال تھا۔
اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس جواب کے اگر یہ معنے نہیں تو اور کیا ہیں؟ کہ جب تک میں ان میں زندہ رہا۔ ان کے حالات کو دیکھتا رہا۔ لیکن جب میری زندگی کا خاتمہ ہو گیا تو پھر مجھے خبر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔
اس جواب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کشمیر جانے کا قصہ تو چاروں خانے چت ہو گیا۔ کیونکہ کشمیر جاکر نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان میں رہتے تھے اور نہ وہاں بیٹھ کر شام کے لوگوں کے حالات دیکھتے تھے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت فوت ہوئے۔ جب وہ شام کے لوگوں میں تھے اور ان کے حالات دیکھ رہے تھے۔ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سولی سے زندہ اترنا غلط ثابت ہوا۔ پس ان کی اپنی ہی دلیل نے ان کے دعوے کو بنیاد سے اکھاڑ دیا۔ ہاں ثابت ہوا تو کیا ہوا کفارہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر مر کر اپنی امت کو بخشوا گئے۔ باقی رہ گئے ہم اور ہمارا ساتھی ہمارا قرآن کہ وہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ خدا ہمیں اس پر قائم رکھے اور اس پر مارے۔
اس پر سب نے آمین تو کی۔ لیکن خوشی کے مارے حاضرین کا کیا حال تھا وہ بیان سے باہر۔ قاضی صاحب نے اس ٦٠، ٦٢ سال کے نووارد بوڑھے کا منہ اس شوق سے چوما کہ اس کا بیان کرنا مشکل ہے اور اس کو اٹھا کر صحن میں اس طرح پھرے کہ گویا لنگر سنگھ کی بوٹی نے پیٹھ لگادی۔
بابو صاحب ...... مہربانی کریں۔ میرے پاس بیٹھ کر یہ تقریر اپنی مجھے لکھوادیں۔
نووارد ...... بہت بہتر لکھئے۔
مرزا کا دعویٰ
حضرت عیسیٰ فوت ہوچکے۔ ابن مریم مرگیا حق کی قسم۔
سوال ...... کس طرح فوت ہوئے؟
جواب ...... اس طرح کہ حضرت عیسیٰ کو یہودیوں نے پکڑ کر سولی پر کھینچ دیا۔ سولی سے اتارے گئے۔ تو جان باقی تھی۔ تین دن قبر میں رہے۔ پھر مخفی طور پر حواریوں سے صلیبی زخموں پر مرہم لگوا کر کشمیر بھاگ گئے۔ وہاں رہ کر ٨٦ سال کے بعد فوت ہوگئے۔
١٩٤
سوال ...... اس دعوے کی دلیل؟
جواب ...... اس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ:
”قیامت کے دن جب خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے سوال کرے گا کہ کیا آپ نے ان لوگوں (عیسائیوں) کو کہا تھا کہ خدا کے سوا میری اور میری والدہ کی پرستش کرو؟ تو حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ خداوند! اگر میں نے کہا ہوتا تو تجھے خوب معلوم ہوتا۔ میں جب تک ان میں رہا۔ ان کے حال کا نگران رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے توفیتنی (اسلامی معنی) دنیا سے اٹھا لیا (مرزائی معنی) موت دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگران حال تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جواب کا یہ حصہ کہ جب تو نے مجھے موت دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگران حال رہا۔ صاف کہہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی موت تک ان میں اور ان کے نگران حال تھے۔ اس بیان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے حواریوں سے ٨٦ سال غائب رہ کر کشمیر میں فوت ہونے کے قصہ کو بالکل غلط ثابت کر دیا اور جب واقعہ صلیب کے بعد آپ کا کشمیر جانے کا قصہ یاروں کی گھڑنت ثابت ہوا تو آپ کی موت لامحالہ صلیب پر ہی واقعہ ہوئی۔ کیونکہ اور کسی جگہ آپ کا آباد رہنا اور مرنا ثابت نہیں اور موت صلیب پر واقع ہونے سے کفارہ ثابت ہوا۔ یا یہود کا یہ قول کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا۔ چونکہ یہ دونوں باتیں جو ثابت ہوئیں، خلاف ہیں قرآن کریم کے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ توفیتنی سے موت کے معنے لینے والا قرآن کریم کا منکر اور خود غرض جھوٹا مسیح ہے۔
لیجئے! بابو صاحب ہم رخصت ہیں۔ آپ جانیں اور آپ کے مرزائی۔ یہ کہہ کر نووارد اور قاضی صاحب سلام علیک وعلیکم السلام کہتے ہوئے رخصت ہوئے۔
دوسرا دن دروازہ پر دستک ۔
گاموں ...... آیئے آیئے آؤ لنگھ آؤ۔ جی آیاں نوں۔
نووارد ...... گاموں بابو صاحب نے چاہ پی لی؟
گاموں ...... نہیں جی اجے تے جانو نے گائیں بھی نہیں چوئی۔ نووارد اور قاضی صاحب اندر داخل ہو کر سلام علیک وعلیکم السلام کے بعد۔ آج ہمارا بہت سویرے تکلیف دینا معاف رکھئے گا۔
ا؎ ”لاتزر وازرة وزر اخریٰ (پ ٢٨)“ ﴿اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر نہیں لے گا۔﴾
١٩٥
بابو صاحب ....... بہت سویرے؟ ہمارے اسٹیٹ کے مطابق تو آپ صاحبان دیر سے تشریف لائے ہیں۔ یہ کہہ رہی تھیں کہ آج مولوی صاحب کو نیند نہیں پڑنی۔
نو وارد ...... بارکماسٹری والوں کے اسٹیٹ تو روپیہ کا سوا روپیہ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے سویرے کیا آتے کہ چائے بھی پی کر نہیں آئے۔
بابو صاحب ....... (مسکراتے ہوئے) گاموں چاء کا جلد بندوبست کر۔
نو وارد ...... (چاء پر بیٹھ کر ) اچھا بابو صاحب فرمائیے۔ ان اعتراضوں کا آپ کو کیا جواب ملا؟
بابو صاحب ....... خاک! کل میں ابھی جانے کے لئے تیاری ہی کر رہا تھا کہ مولوی صاحب خود ہی تشریف لے آئے۔ پہلے تو وہ اس شیطان نے ان کے ساتھ تمسخر کیا کہ آنحضرت ﷺ کی سنت تھی مرنا اور مرزا قادیانی کی سنت تھی۔ اپنے نام سے لفظ غلام ہٹا دینا۔ آپ نے دونوں میں سے ایک سنت بھی ادا نہیں کی۔
نو وارد ...... خوب خوب! مگر گاموں تجھے کس طرح معلوم تھا کہ ان کے نام میں غلام آتا ہے؟
بابو صاحب ....... ان کے دروازے پر دستک دینے پر جو یہ باہر نکلا۔ تو انہوں نے اسے اپنا نام بتایا تھا کہ کہہ دے کہ فلانا آیا ہے۔
نو وارد ...... خوب خوب! اچھا پھر اس غریب کو کچھ جواب ملا؟
بابو صاحب ....... نہیں کچھ نہیں۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ نے اپنے نوکر بڑے گستاخ کر رکھے ہیں۔ میں نے اس کی طرف سے معذرت چاہی اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ جواب کی نوبت نہ پہنچی۔
قاضی صاحب ....... پیالی چائے کی ہٹا کر اس شیطان نے سوال ہی ایسا کیا۔ اگر وہ اپنی لاجوابی کو غصہ میں نہ ٹالتے تو کیا کرتے؟
بابو صاحب ....... پھر میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق دونوں مقام نکال کر پیش کئے تو ان کو بار بار پڑھا۔ پھر ان کو بند کر کے مطبعے دیکھتے رہے کہ کن کن مطبعوں میں چھپیں اور کس کس سنہ میں۔ پھر بہت دیر خاموش رہنے کے بعد فرمانے لگے کہ میں اپنی کتاب میں بھی دیکھ لوں۔ اگر ان میں بھی اسی طرح ہے تو یہ حضور علیہ السلام کی ایک غلطی ہے۔ مولوی صاحب کچھ نہ پوچھئے کہ ان کی ان حرکات و کلمات سے میں ایسا ان سے مایوس ہوا کہ پھر میں نے وہ حیات و ممات والا پرچہ بدل نخواستہ ان کے پیش کیا۔ اس پرچہ کے پڑھنے میں تو ایسے مستغرق ہوئے کہ میں دیکھتا تھا کہ کبھی ان کی بھوئیں ماتھے پر چلی جاتی تھیں کبھی آنکھوں پر آ ٹھہرتی تھیں۔ کبھی داڑھی میں خلال تھا۔ تو کبھی مونچھوں کی شامت تھی۔
١٩٦
اس طرح پر بہت سا وقت گزار کر جو انہیں ہوش آیا تو ایک بڑی لاپرواہی سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ نے اختصار سے کام لیا ہے۔ کوئی بات بیچ میں سے چھوڑ دی گئی اور فرمانے لگے کہ اس کا جواب آپ کو کل پہنچ وقت؟ فرمانے لگے کہ مجھے مشاغل بہت ہیں۔ فرصت فرصت ملی۔ اس کا جواب آپ کی جیب میں ہوگا۔ یہ ک
نو وارد ...... بابو صاحب آپ نے غضب کیا۔ جس و کوئی بات بیچ میں سے بیان کرنے سے چھوڑ دی گئی کہ جو عبارت بھی آپ اس میں چھوڑی ہوئی خیال فر
بابو صاحب ....... مولوی صاحب آپ بھی ظ وہ کیا عبارت اس کے ساتھ شامل کر دیتے۔
نو وارد ...... نہیں بابو صاحب آپ نے غور نہیں کیا عرض کرتے ہیں کہ خداوند میری نگرانی اس قوم کی ہما کون سی عبارت ہے کہ آگے یا پیچھے یا بیچ میں لگائی ج وہ کلمہ کہتے ہی فوراً سوجھ گئی اور وہ اس خوف سے اٹھ سی بات ہے۔ کیونکہ اگر کوئی فی الحقیقت ایسی بات تردید کرتی ہے کہ میری اپنی قوم کی نگرانی کو میری مو نے اس بات کے ذکر کو چھوڑ دینے میں اختصار نہی اختصار میں صرف فالتو اور غیر متعلق باتیں چھوڑی ج وانتم سکاریٰ" کا اختصار "لا تقربوا الصلوٰۃ
قاضی صاحب ....... بابو صاحب آپ اور ہم بڑ طرف سے اس اعتراض کے جواب کے منتظر رہیں
بیوی ...... قاضی صاحب نہ ہمیں کسی سے بحث کی یہ کہ آپ کے بابو صاحب اپنے اسلام پر ایسے پختہ اور زیادہ خوف مجھے انہی مولوی صاحب کا تھا۔ جنہ مر گیا حق کی قسم۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب وہ ا
٧
اس طرح پر بہت سا وقت گزار کر جو انہیں خیال آیا کہ میں جواب کے لئے منتظر بیٹھا ہوں تو ایک بڑی لاپرواہی سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس بیان میں خدا نے اختصار سے کام لیا ہے۔ کوئی بات بیچ میں سے چھوڑ دی گئی ہے۔ مگر یہ کہتے ہی اٹھ کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے کہ اس کا جواب آپ کو کل پہنچ جائے گا۔ میں نے کہا بہت بہتر مگر کس وقت؟ فرمانے لگے کہ مجھے مشاغل بہت ہیں۔ فرصت بہت کم ملتی ہے۔ جس وقت مجھے تھوڑی سی فرصت ملی۔ اس کا جواب آپ کی جیب میں ہوگا۔ یہ کہہ کر تشریف لے گئے۔
نوارو...... بابو صاحب آپ نے غضب کیا۔ جس وقت انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ اختصار کے لئے کوئی بات بیچ میں سے بیان کرنے سے چھوڑ دی گئی ہے۔ آپ کہتے کہ آپ کے ساتھ رعایت ہے کہ جو عبارت بھی آپ اس میں چھوڑی ہوئی خیال فرمائیں۔ اسے شامل کر کے جواب دیں۔
بابوصاحب ...... مولوی صاحب آپ بھی ظلم کرتے ہیں۔ میں اس طرح کہتا تو خدا جانے وہ کیا عبارت اس کے ساتھ شامل کر دیتے۔
نوارو...... نہیں بابو صاحب آپ نے غور نہیں کیا۔ جب بقول ان کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ خداوند میری نگرانی اس قوم کی میری موت سے تیری طرف منتقل ہو گئی۔ پھر وہ کون سی عبارت ہے کہ آگے یا پیچھے یا بیچ میں لگائی جاکر انہیں فائدہ دے گی۔ یہی بات تھی جو انہیں وہ کلمہ کہتے ہی فوراً سوجھ گئی اور وہ اس خوف سے اٹھ کر روانہ ہو گئے کہ ایسا نہ ہو یہ پوچھیں کہ وہ کون سی بات ہے۔ کیونکہ اگر کوئی فی الحقیقت ایسی بات ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس بیان کی تردید کرتی ہے کہ میری اپنی قوم کی نگرانی کو میری موت نے تیری طرف منتقل کر دیا تو خداوند کریم نے اس بات کے ذکر کو چھوڑ دینے میں اختصار نہیں کیا۔ بلکہ بددیانتی کی ۔ (معاذ اللہ) کیونکہ اختصار میں صرف فالتو اور غیر متعلق باتیں چھوڑی جاتی ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ "لا تقربو الصلوۃ وانتم سکاریٰ" کا اختصار "لا تقربو الصلوۃ" کیا جائے۔
قاضی صاحب ...... بابو صاحب آپ اور ہم بڑی غلطی کریں گے۔ اگر ان مولوی صاحب کی طرف سے اس اعتراض کے جواب کے منتظر رہیں گے۔
بیوی...... قاضی صاحب نہ ہمیں کسی سے بحث کی خواہش ہے نہ ہار جیت کی۔ میری خواہش تھی تو یہ کہ آپ کے بابو صاحب اپنے اسلام پر ایسے پختہ ہو جائیں کہ پھر کسی کے بہکانے میں نہ آجاویں اور زیادہ خوف مجھے انہی مولوی صاحب کا تھا۔ جنہوں نے اپنا تکیہ کلام یہی بنا رکھا ہے کہ ابن مریم مر گیا حق کی قسم ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب وہ ان کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔
١٩٧
قاضی صاحب....... بیوی جی آپ کے اس مولوی صاحب کے تکیہ کلام بیان کرنے سے مجھے پھر خیال آیا کہ جب مرزا حافظ صاحب اور استاد غالب جیسے چوٹی کے شاعروں کے اشعار کے نقل کرنے میں غلطی کرتا ہے تو وہ کون سے شاعروں کی قطار میں تھا کہ اس کے صحت سے گرے ہوئے وزن سے گرے ہوئے اور اسلام کے خلاف اشعار کو غریب عبدالقادر صحیح طور یاد نہ کر لینے سے بے علم قرار دیا گیا۔
نو وارد....... قاضی صاحب آپ نے اتفاقاً کوئی ایک شعر مرزے کا کاتب کی غلطی سے غلط پا لیا۔ تو آپ نے اس کو شاعروں سے خارج کر دیا۔ مگر اس کے بڑے بڑے زور کے آپ اشعار سنیں تو حیران رہ جائیں گے۔
قاضی صاحب....... مثلاً
نو وارد....... مثلاً ہر برگ صحیفہ ہدایت، ہر جوہر و عرض شمع برادر۔
(درثمین فارسی ص٧٠)
قاضی صاحب....... (ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو کر) مولوی صاحب آپ نے مجھے بڑا دھوکہ دیا اور ثابت ہوا کہ؟ آپ جو علم میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ میں سمجھا تھا کہ آپ واقعی کوئی بڑے پائے کا شعر بیان کریں گے۔ مگر اس شعر نے تو مجھے حق الیقین کی طرح ثابت کر دیا کہ وہ تیسرے درجہ کے شاعروں میں بھی شمار کرنے کے لائق نہیں۔ غضب خدا کا عرض بفتحتین کو عرض بالفتح باندھا۔ بیوی جی تمہاری کتابیں کہاں رکھی ہیں؟
بیوی....... گاموں انہیں میری کتابوں کی الماری دکھا دے۔ قاضی صاحب اندر سے ایک دو کتابیں نکال لائے اور یوں پڑھنے لگے:
نہر الفصاحت ص ١٩ دیگر واجب است که لفظ متحرک العین را بجائے ساکن العین، نیارند و ہمچنیں بالعکس مانند، عدن که بسکون دال است بمعنی بہشت بود و عدن بفتح دال نام جزیره ایست از دریائے عمان، پس عدن اول را بجائے عدن دوم ذکر نباید کرد و دوم را بجائے اول نباید آورد۔
غیاث اللغات عرض بالفتح ظاہر کردن چیزے را بر کسے و پہنائی و متاع و رخت خانہ و بمعنی ملامت و دیوانگی و عرض چیزے کہ قائم بچیز دیگر باشد مثل رنگ بر جامہ و حروف بر کاغذ پس جامہ و کاغذ جوہر باشند، چرا کہ بذات خود قائم است و رنگ و حروف عرض چرا که قیام آں بوسیلہ جامہ و کاغذ است۔
بابو صاحب....... قاضی جی یہ علمی باتیں چھوڑیں۔ مولوی صاحب کوئی مزیدار مضمون شروع کریں اور آپ صاحبان کھانا یہیں کھائیں گے؟
١٩٨
نو وارد....... بابو صاحب شاید کبھی کوئی مرزائی آپ سے مل آدمی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کس طرح کر سکتا تھا۔ تو میں آپ ڈیویں کرا دوں۔ ”مرزا امام دین ہماری برادری کا آریہ سماج
”میرے بہنوئی کا خالہ زاد بھائی عیسائی ہو گیا
”یہ فریق مخالف جن میں سے مرزا احمد بیگ دین کے سخت مخالف تھے اور ایک ان میں سے عداوت و رسول اللہ ﷺ کو علانیہ گالیاں دیتا تھا اور اپنا مذہب کرتے تھے اور نشان مانگتے تھے اور صوم وصلوٰۃ اور عقائد کمالات ص ٣٢٠، خزائن ج ٥ ص ٣٢٠) اور مرزا قادیانی پر حال بیان کر رہی ہے کہ ان کو لیڈر بننے کا کس قدر شوق
یک مہتر لال
افتد چو گذر بتا
این خانہ تمام آفتاب
بابو صاحب عیسائی اور آریہ وغیرہ ہمیشہ آیات خود گھڑ لیتے تھے اور ان کا بذریعہ فرشتہ اپنے پر کے کہے کو سچا مان لیتے تھے۔ ان اعتراضوں کو کوئی مرزے نے عملاً کر کے دکھایا کہ تم تو جہالت کے زمانہ زمانہ میں بھی جنہیں وہی کچھ کر کے دکھا دیتا ہوں۔ نے صاف صاف اس کو مفتری اور جھوٹا نبی ہونے کا اور جھوٹے نبی میں تمیز کر لینے کی قابلیت بھی رکھتے ہیں
اے خدا کا شکر ہے کہ اس کو آپ جیسی کارروائی گمراہ نہ کیا۔ وہ آپ سے پہلے بخشا جائے گا۔ اگر آپ
١٩٩
نووارد....... بابو صاحب شاید کبھی کوئی مرزائی آپ سے یہ کہے کہ مرزے کے سے اعلیٰ خاندان کا آدمی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کس طرح کر سکتا تھا۔ تو میں آج اس کے خاندان سے پہلے آپکو انٹرو ڈیوس کرا دوں۔ ”مرزا امام دین ہماری برادری کا آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ١٩٠، خزائن ج ٢ ص ٢٣٨)
”میرے بہنوئی کا خالہ زاد بھائی عیسائی ہو گیا۔“
(کتاب البریہ ص ١٤٣، خزائن ج ١٣ ص ١٧٣)
”یہ فریق مخالف جن میں سے مرزا احمد بیگ بھی تھا۔ اس عاجز کے قریبی رشتہ دار مگر دین کے سخت مخالف تھے اور ایک ان میں سے عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اللہ جل شانہ ورسول اللہ ﷺ کو علانیہ گالیاں دیتا تھا اور اپنا مذہب دہریہ رکھتا تھا اور یہ سب مجھ کو مکار خیال کرتے تھے اور نشان مانگتے تھے اور صوم وصلوٰۃ اور عقائد اسلام پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔“ (آئینہ کمالات ص ٣٢٠، خزائن ج ٥ ص ٣٢٠) اور مرزا قادیانی پر مقدمہ کے ص ٤ پر یہ رباعی اس خاندان کا حال بیان کر رہی ہے کہ ان کو لیڈر بننے کا کس قدر شوق تھا۔
یک مہتر لال بیکیاں دوزان
افتد چو گذر بقادیانت گاہے
ایں خانہ تمام آفتاب است بدان
بابو صاحب عیسائی اور آریہ وغیرہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرتؐ (توبہ نعوذ باللہ) آیات خود گھڑ لیتے تھے اور ان کا بذریعہ فرشتہ اپنے پر نازل ہونا بیان کرتے تھے اور جاہل عرب ان کے کہے کو سچا مان لیتے تھے۔ ان اعتراضوں کو کوئی صحیح سمجھتا تھا کوئی غلط۔ مگر غلط ماننے والوں کو مرزے نے عملاً کر کے دکھایا کہ تم تو جہالت کے زمانہ کی اس بات کو نہیں مانتے۔ میں اس تعلیم کے زمانہ میں بھی تمہیں وہی کچھ کر کے دکھا دیتا ہوں۔ میں قربان جاؤں ان علمائے دین کے جنہوں نے صاف صاف اس کو مفتری اور جھوٹا نبی ہونے کا فتویٰ دے کر عالم پر روشن کر دیا کہ مسلمان سچے اور جھوٹے نبی میں تمیز کر لینے کی قابلیت بھی رکھتے ہیں۔
- ١۔ خدا کا شکر ہے کہ اس کو آپ جیسی کارروائی نہ سوجھی اور اس نے مخلوق کو مسلمان بن کر
گمراہ نہ کیا۔ وہ آپ سے پہلے بخشا جائے گا۔ اگر آپ جیسے بخشے گئے۔
١٩٩
بابو صاحب اس نئے نبی بننے کے لئے کیا کیا چالاکیاں کیں۔ ہمارے صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئیاں معیار ہیں۔ معجزات یعنی کرتب نہیں۔ جانتا تھا کہ پیشین گوئیاں انسان عقل سے کر سکتا ہے۔ لیکن جب آپ کے عقلی ڈھکوسلے غلط ثابت ہونے لگے تو یہ عذرات تراشے:
- ١...... ”پیشین گوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤٠، خزائن ج ١٨ ص ٤١٨)
- ٢...... ”اجتہادی غلطیاں انبیاء سے بھی ہو جاتی ہیں۔“
(ازالہ ص ٢٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
- ٣...... ”یہ کہنا کہ سچے نبیوں اور محدثوں کی تمام پیشین گوئیاں عوام کی نظر میں صفائی کے ساتھ
پوری ہوتی ہیں، بالکل جھوٹ ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٣ ص ٤١)
- ٤...... ”پیشین گوئیوں کے اوقات معینہ قطعی الدلالت نہیں ہوتے۔ بسا اوقات ان میں
ایسے استعارات بھی ہوتے ہیں کہ دن بیان کئے جاتے ہیں اور ان سے برس مراد لئے جاتے ہیں۔“
(ازالہ دوم ص ٥٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٠٥)
- ٥...... ”وعید کی پیشین گوئیوں کا پورا ہونا بموجب نصوص قرآنیہ وحدیثیہ کے ضروری نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠٢)
- ٦...... ”کبھی خدا وعدہ کر کے پورا نہیں بھی کرتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٢ ملخص)
بابو صاحب اب سچی اور جھوٹی پیشین گوئیوں میں کوئی تمیز باقی رہ گئی؟ قہقہہ بابو صاحب یہ مرزا (آئینہ کمالات ص ٢٨٤، خزائن ج ٥ ص ٢٨٤) پر اپنے تئیں لکھتا ہے کہ ”میری سچائی کی صداقتوں میں سے ہے کہ خدا جل شانہ میری دعائیں قبول کرتا ہے۔ میرے قولوں فعلوں میں برکت دیتا ہے۔ میرے دوستوں کا دوست ہے اور دشمنوں کا دشمن اور لوگوں کی چھپی ہوئی باتوں کی مجھے خبر دیتا ہے۔“ اب اس کی دعاؤں کا حال سن لیجئے۔
سال ١٨٩٨ء میں جس کو آج ٢٣ سال ہو گئے۔ (ایام الصلح ص ١٠١، خزائن ج ١٤ ص ٣٣٩) پر اس نے لکھا کہ: ”میں ہمیشہ پانچوں وقت کی نماز میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس بلا یعنی طاعون کو لوگوں کے سر سے ٹال دے۔“ یہ کتاب اگست ١٨٩٨ء سے پہلے کی لکھی ہوئی ہے۔ مرزے کی تاریخ وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء ہے۔ اس حساب سے یکم اگست ١٨٩٨ء سے ٢٥ مئی ١٩٠٨ء تک مرزے نے معمولی طور نہیں۔ نمازوں میں ١٧٩٢٠ سترہ ہزار نو سو بیس دفعہ دعا کی اور نتیجہ
٢٠٠
معلوم۔ پس مرزے کے مستجاب الدعوات ہو (معجزہ) تھا۔
بابو صاحب آپ شاید یہ کہیں کہ ط تو بیشک کی۔ مگر خدا نے مرزے کو کچھ جواب ب چودھویں صدی کا مسیح آدھا یا پونا حصہ دجال ک اس نے تسلی دی کہ میں اس کو آج سے پندرہ کا بیٹا کہنے سے توبہ نہ کرے۔ بابو صاحب اِت دجال کے قتل کے لئے آیا ہوں۔ دجال پاد قتل سے مراد ہے دلائل سے مغلوب کرنا۔ موجود کو گویا دجال کے پونا حصہ سے مقابلہ ک پونا حصہ دجال نے بھی آپ سے ہار نہ مانی ت
”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہ بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ س گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس م میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے، ب بہرے سننے لگیں گے۔
(پیشین گوئی یعنی جواب خد
فرمایا ہے سُوّ الحمدلله والمنت“ ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ اب دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوج نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب میں چاہت
معلوم۔ پس مرزے کے مستجاب الدعوات ہونے کو نہ ماننا گناہ عظیم ہے۔ کیونکہ یہ اس کا نشان (معجزہ) تھا۔
بابو صاحب آپ شاید یہ کہیں کہ مرزے نے طاعون کے رفع دفع ہونے کے لئے دعا تو بیشک کی۔ مگر خدا نے مرزے کو کچھ جواب تو نہیں دیا تھا۔ اب میں ایک ایسا قصہ سناتا ہوں کہ چودھویں صدی کا مسیح آدھا یا پونا حصہ دجال سے عہدہ برآ ہو کر اپنے خدا کے پاس فریادی گیا اور اس نے تسلی دی کہ میں اس کو آج سے پندرہ ماہ کے اندر ماروں گا۔ بشرطیکہ وہ عیسیٰ کو خدا کہنے یا اس کا بیٹا کہنے سے توبہ نہ کرے۔ بابو صاحب ہمارے مرزے کا دعویٰ تھا کہ میں مسیح اور مہدی ہوں اور دجال کے قتل کے لئے آیا ہوں۔ دجال پادری ہیں اور کلیں ایجاد کرنے والے اور متمول عیسائی اور قتل سے مراد ہے دلائل سے مغلوب کرنا۔ پادری آتھم صاحب کے ساتھ مباحثہ میں ہمارے مسیح موعود کو گویا دجال کے پونا حصہ سے مقابلہ کا اتفاق ہوا۔ پندرہ روز تک یہ مباحثہ جاری رہا۔ جب پونا حصہ دجال نے بھی آپ سے ہار نہ مانی تو آپ یوں گویا ہوئے:
”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔
(پیشین گوئی یعنی جواب خداوندی ختم) اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو ”الحمدللہ والمنت“ کہ اگر یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا اور جرأت کرتا اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب میں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آ گیا۔ میں حیران تھا کہ اس بحث
٢٠١
میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس شان کے لئے تھا۔
میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسوائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔
بابو صاحب و قاضی صاحب ہمارا مرزا ہمیں کہہ چکا کہ نص آیات واحادیث سے ثابت ہے کہ مواعید کی پیشین گوئیاں ٹل جاتی ہیں۔ کبھی خدا وعدہ کر کے پورا نہیں بھی کرتا۔ پھر کیا سبب ہے کہ یہاں ان قاعدوں کو توڑ کر اس وعید کی پیشین گوئی کی نسبت خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہے کہ یہ ضرور پوری ہوں گی اور اس بات پر اس قدر زور دے رہا ہے کہ زمین آسمان ٹل جائیں گے۔ مگر خدا کا فرمانا نہ ٹلے گا اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اگر یہ (وعید کی) پیشین گوئی پوری نہ ہو تو مجھے پھانسی دے دو اور یہ کرو اور وہ کرو۔ اپنے ہی اصول کے خلاف یہ تحدی کیوں؟ اس وقت نہ نصوص قرآن وحدیث مرزے کے ذہن میں ہیں۔ نہ حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ۔ نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام والے مرد مومن کا بیان نہ شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب کا قول کہ (استغفر اللہ) کبھی خدا وعدہ کر کے پورا نہیں بھی کرتا۔
بیوی....... بوڑھے و دائم المرض آتھم کے دل میں خوف ڈال کر اس کو پندرہ ماہ میں مار دینے کے لئے۔
نووارد....... آگے فرماتے ہیں : ”اب میں ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا۔ تو کیا یہ سب آپ کی منشاء کے موافق کامل پیشین گوئی اور خدا کی پیشین گوئی ٹھہری گی یا نہیں؟ اور رسول ﷺ کے سچے نبی ہونے کے بارے میں جن کو اندرونہ بائیبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں۔ محکم دلیل ہو جائے گی یا نہیں ہو جائے گی۔ اب اس سے زیادہ کیا لکھ سکتا ہوں کہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔ اب ناحق ہنسی کی جگہ نہیں۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٨، ١٩٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٠ تا ٢٩٣)
٢٠٢
بیوی...... دیکھئے میری بات کی تصدیق ۔ اتنا زور اسی لئے دیا گیا کہ اسے اس بات کا یقین ہو جائے گا۔ تو گویا وہ شرک سے یعنی سچے خدا کو چھوڑ کر عاجز انسان کو خدا بنانے سے توبہ کرے گا اور یا موت کے یقین سے پندرہ ماہ کے لمبے عرصہ میں ہلاک ہو جائے گا۔
قاضی صاحب...... کیا پادری عبداللہ آتھم ہمیشہ بیمار رہتا تھا اور بوڑھا تھا؟
نووارد...... جی ہاں! ایسا کہ ان مباحثہ کے دنوں میں بھی وہ کئی روز بیمار رہا اور عمر اس کی اس وقت ٦٠ ، ٧٠ سال کے درمیان تھی۔
قاضی صاحب...... اچھا مولوی صاحب پھر کیا ہوا؟
نووارد...... قاضی صاحب پھر یہ ہوا کہ پادری آتھم صاحب نے مرزے کے اس الہام کو بالکل جھوٹا اور خود گھڑا ہوا سمجھا ہاں اس بات کی کہ مرزا ان کو کسی مرید کے ذریعہ اپنا الہام سچا ثابت کرنے کے لئے مروا نہ دے۔ انہوں نے یہ احتیاط کی کہ مرزے اور مرزائیوں سے غائب اور دور فاصلوں پر رہے اور نقل مکانی کرتے رہے اور مخلوق خدا نے اس الہام کے نتیجہ کا بڑے شوق سے انتظار شروع کیا اور جب ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کی شام کو یہ میعاد پندرہ ماہ خدا نے بخیر و خوبی ختم کر دی تو اگلے دن پادری عبداللہ آتھم دجال کی ذلت اور مرزا قادیانی مسیح موعود کی عزت حسب پیشین گوئی ان کے خدا کے اس طرح ہوئی کہ اس دن عیسائیوں نے پادری آتھم کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر ہاتھی پر سوار کر کے ان کا جلوس نکالا اور کل ہندوستان کے عیسائیوں نے مرزے کا ایک بروز بنا کر اس کا منہ کالا کر کے اور اس کے گلے میں رسی ڈال کر اسے ریچھ کی طرح نچایا اور اس کے ساتھ کچھ شعر بھی پڑھے گئے۔ دیکھو (ص ٢٨، ٣٠ الہامات مرزا) ان میں سے چند بطور نمونہ یہ ہیں:
لعین و بے حیا شیطان ثانی
نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر
یہ کہہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
نچاویں تجھ کو بھی اک ناچ ایسا
یہی ہے اب مصمم دل میں ٹھانی
بابو صاحب...... مولوی صاحب یہ پادری آتھم صاحب کب فوت ہوئے؟
نووارد...... ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء بمقام فیروز پور مرزا قادیانی کی عمر میں۔
نووارد...... بابو صاحب اب آپ نے مرزے کی قبول شدہ دعا کا حال دیکھ لیا اور دعا بھی عیسیٰ اور
٢٠٣
دجال کے درمیان جنگ میں مگر اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا اگر اپنے اس قول میں جھوٹا نہیں تھا کہ قتل دجال سے مراد تلوار یا نیزہ سے قتل کرنا نہیں بلکہ اس سے مراد ہے دلائل وحجج سے اس پر غالب آنا۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آریاؤں سے ٹکر لگائی۔ تو اپنے خدا کے پاس پہنچا اور پنڈت لیکھرام کے قتل کا پروانہ لکھوادیا اور پادریوں (بقول خود دجال) سے مباحثہ ہوا۔ تو اپنے خدا کے پاس فریادی بھاگا گیا اور دجال کے قتل (موت قبل از اجل) کا حکم حاصل کر لایا۔
لطیفہ ...... کہتے ہیں کہ کسی شخص کے گھر میں ایک چور داخل ہوا۔ اسباب چوری کر کے اپنے کمبل میں باندھ رہا تھا کہ مالک مکان بیدار ہو گیا۔ چور یہ دیکھ کر بھاگ پڑا۔ مالک مکان نے اس کا پیچھا کیا۔ اب آگے آگے چور اور پیچھے پیچھے مالک مکان۔ جو کہتا جاتا ہے کہ لوگو دوڑو پکڑو چور چور ہے۔ چور غصہ میں آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔ او بے شرم! چار روپے کا کمبل میرا تیرے گھر رہ گیا۔ ابھی چور میں ہوں؟ غضب خدا کا مرزا قادیانی عیسائیوں سے بحث کرتے ہیں تو ان کے قتل کا حکم حاصل کرتے ہیں۔ آریہ سے ٹکر لگاتے ہیں۔ تو اس کے قتل کا پروانہ لاتے ہیں۔ علماء اسلام سے تنگ آتے ہیں تو ان کی موت اور ذلت کے الہام دھڑادھڑ اتارتے ہیں۔ کوئی انہیں دختر نہیں دیتا تو اس کی اور اس کے داماد کی موت کے الہام اترتے آتے ہیں۔ طاعون کے قتل عام کو اپنی دعاؤں کا اثر بتاتے ہیں۔ شکر اللہ میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں۔ کچھ بنیں طاعون کی صورت کچھ زلازل کے آثار اور سرکار کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمان مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔ ایک خونی مہدی کے منتظر ہیں۔ بابو صاحب کوئی مہدی بلا تمیز ہندو، مسلمان، بلا تمیز نیک و بد عورت و مرد، بلا تمیز بوڑھا جوان اتنے خون کرے گا جتنے اس مرزے نے خدا سے طاعون اور زلزلے مانگ کر کرا دیئے۔
قاضی صاحب کسی شاعر نے کہا ہے:
اس مرزے کو بھی جس پہلو سے الٹو جھوٹا ہی جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ بابو صاحب آپ کے مکان کی چھت نئی ہے یا پرانی؟
بابو صاحب ...... ہنس کر۔ اجی چھت ہے تو مضبوط مگر ان آسمان پھاڑنے والے جھوٹوں کی کہاں تاب لائے گی۔
نووارد ...... بابو صاحب مرزے کے دعوے والے خسر نے اس کی شان میں ایک قصیدہ کہا ہے۔ اگر چہ اس کا ایک ایک شعر قصہ طلب ہے۔ مگر تاہم لطف سے خالی نہ ہوگا۔
قاضی صاحب ...... بابو صاحب قصیدہ ضرور سنا دیں۔ خاص کر گھر کے بھیدی کا۔
م ٤
نووارد ...... اچھا سنئے!
ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک
مال ودولت اور بیٹے پاؤ گے
تم پھلو پھولو گے دشمن ہوں گے خار
مال جو دے وہ مرید خاص ہے
جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید
ہے مریدی واسطے پیسوں کے اب
ہر گھڑی ہے مال داروں کی تلاش
قرض سے ایک دفعہ ہو جاوے نجات
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض
آج کل مکار ایسے پیر ہیں
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ
بعض کھا جاتے ہیں قیمت سب کی سب
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے
بدگمانی کا اسے آزار ہے
ایک تو پلے سے اس نے زر دیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے
عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں
ظاہری افعال ان کے نیک ہیں
عالم وصوفی ہیں اور شب خیز ہیں
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے
نو وارد ...... اچھا سنئے!
ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک ہم تمہیں دیں فیض تم دو گے بھیک
مال و دولت اور بیٹے پاؤ گے گر بجا خدمت ہماری لاؤ گے
تم پھلو پھولو گے دشمن ہوں گے خوار تم پہ رحمت ان پہ ہو گی حق کی مار
مال جو دے وہ مرید خاص ہے اس کے دل میں بالخصوص اخلاص ہے
جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید شمر اس کو جان لو یا ہے یزید
ہے مریدی واسطے پیسوں کے اب ہائے دنیا میں پڑا کیسا غضب
ہر گھڑی ہے مال داروں کی تلاش تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
قرض سے ایک دفعہ ہو جاوے نجات گو ملے صدقہ کہ مل جاوے زکوٰۃ
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
آج کل مکار ایسے پیر ہیں ان کے حال و قال بے تاثیر ہیں
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار یہ بھی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
بعض کھا جاتے ہیں قیمت سب کی سب اس طرح کا پڑ گیا یارو غضب
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
بدگمانی کا اسے آزار ہے سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے
ایک تو پلے سے اس نے زر دیا دوسرے بدنام اپنے کو کیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا کچھ گھٹا اس کا نہ ہرگز اتقا
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے نو مسلم آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں ہر طرف ڈالے انہوں نے جال ہیں
ظاہری افعال ان کے نیک ہیں سارے عالم میں وہ گویا ایک ہیں
عالم و صوفی ہیں اور شب خیز ہیں مال پر لوگوں کے دنداں تیز ہیں
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے ہیں یہی تدبیر ہر دم سوچتے
٢٠٥
ہو کوئی کیسا ہی گرچہ بدمعاش میوۂ زر کی وہ دے دے ان کو قاش
پھر تو وہ مقبولِ رحماں ہے ضرور ان کے دل کو اس نے پہنچایا سرور
متقی ان کو نہ دے تو ہے شقی جو شقی دے ان کو وہ ہے متقی
ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول کر کے تعریفیں اڑا لیتے ہیں مول
جو کوئی دے ہاتھ کر دیں گے دراز اس قدر ہے ان کے دل میں حرص و آز
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ دین داری کی نہیں ہے کوئی بات
علم ہے دنیا کمانے کے لئے دولتِ دنیا ہے کھانے کے لئے
دل میں اپنے منفعل ہوتے نہیں ہنستے رہتے ہیں کبھی روتے نہیں
غیظ میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ اپنی چالاکی پر اتراتے ہیں وہ
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب آیتِ قرآں ہیں گویا ان کے خواب
قاضی صاحب یہ نظم مسدس حالی کی طرح تمام صحیح قصوں اور روایتوں سے پر ہے اور جب تک وہ قصے معلوم نہ ہوں اس کا پورا لطف نہیں آسکتا۔ الذکر الحکیم کے ص٧٢ پر ڈاکٹر صاحب نے کچھ تھوڑی سی باتوں پر روشنی ڈالی ہے۔
قاضی صاحب ....... مولوی صاحب یہ تو گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھادی۔ آپ نے جو جو اعتراض مرزے پر کئے ہیں۔ اس نظم نے ان کی تصدیق کر دی۔ یہ نظم میں مقبول کو حفظ کراؤں گا۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب کیا پادری آتھم والا قصہ آپ ختم کر بیٹھے؟
نووارد ....... بابو صاحب اس پر میں کچھ اور بھی بیان کرتا ہوں۔ مگر اسے جتنا بھی چھانو گے کرکلا ہے۔ سنئے ! مرزے کے دعوے یہ تھے:
- ١....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ غلط ہے۔ لیکن
- ٢....... عیسیٰ کے آنے کا قصہ ایسا صحیح ہے کہ اس کا نہ ماننا انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن
حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود نہیں آئیں گے۔ ان کی خو بو پر کوئی آئے گا۔
- ٣....... وہ آنے والا مسیح میں آ گیا۔ جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہے۔
احادیث میں جو آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آکر دجال کو قتل کریں گے۔ سو
٢٠٦
- ٤....... ”دجال سے مراد پادریوں کا گروہ“
ایجاد کرنے والی قوم اور متمول اشخاص ہیں۔
- ٥....... قتل سے مراد دلائل و حجج سے ان کی صف
- ٦....... میں الہام خداوندی سے مشرف ہوں۔
- ٧....... ”میں قریباً ہر روز خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ
- ٨....... ”میں اپنے الہامات اور وحی کو بخدا قرآن
- ٩....... ”میرے صدق و کذب کا معیار میری پیش
جو الہام سے کی جاتی ہیں۔
- ١٠....... ”میں اس معنے سے نبی ہوں کہ غیب کی خ
اب ہم مرزے کے سچے یا جھوٹے ہو بلکہ بڑی کشادہ دلی سے۔ وہ اس طرح کہ ان گیارہ کوئی ایک سچی ثابت ہو گئی تو ہم مرزا کی پہلی دو باتی ہیں تو اس کی پہلی دو باتوں کو صحیح ماننا لعنتی بننا ہے۔
پادری آتھم کے ساتھ مرزے کا یہ مباح کیسا جنگ تھا۔ اس مسیح کا جس کا انتظار چودہ سو سا پتھرا گئی تھیں اور عرب تک کے مسلمان خوشی سے اچھ تھی۔ جس کو خدا نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا۔ یہ کس کی جس کو خدا نے ایک دن بلا کر جہاں کے تمام اگلے ساتھ جنگ تھا۔ دجال کے ساتھ؟
دجال کس کو کہتے ہیں؟ ”یہ لوگ جو پا پتلے اور نجاست خوری کے کیڑے ہیں۔“ (انجام ہے؟ ایک کمزور انسان اس جنگ کا نام کیا ہے؟
٧
- ٤...... ”دجال سے مراد پادریوں کا گروہ۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٩٦، خزائن ج٣ص٣٦٦) کلیس
ایجاد کرنے والی قوم اور متمول اشخاص ہیں۔
- ٥...... قتل سے مراد دلائل و حجج سے ان کی صف کو پامال کرنا ہے اور ان کو ساکت کرنا ہے۔
- ٦...... میں الہام خداوندی سے مشرف ہوں۔
- ٧...... ”میں قریباً ہر روز خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوتا ہوں۔“
(چشمہ مسیحی ص ١٩، خزائن ج٢٠ ص ٣٥١)
- ٨...... ”میں اپنے الہامات اور وحی کو بخدا قرآن کی طرح خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
- ٩...... ”میرے صدق و کذب کا معیار میری پیشین گوئیاں ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
جو الہام سے کی جاتی ہیں۔
- ١٠...... ”میں اس معنے سے نبی ہوں کہ غیب کی خبر پا کر اس سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
اب ہم مرزے کے سچے یا جھوٹے ہونے کا امتحان کرتے ہیں اور تنگ نظری سے نہیں بلکہ بڑی کشادہ دلی سے۔ وہ اس طرح کہ ان گیارہ باتوں میں سے آخری نو باتیں یا ان میں سے کوئی ایک سچی ثابت ہوگئی تو ہم مرزا کی پہلی دو باتیں بھی سچی مان لیں گے اور اگر وہ نو کی نو جھوٹی ہیں تو اس کی پہلی دو باتوں کو صحیح ماننا لعنتی بننا ہے۔
پادری آتھم کے ساتھ مرزے کا یہ مباحثہ بقول اس کے مسیح و دجال کی جنگ تھی اور یہ کیسا جنگ تھا۔ اس مسیح کا جس کا انتظار چودہ سو سال سے کرتے کرتے مسلمانوں کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور عرب تک کے مسلمان خوشی سے اچھلنے لگے تھے کہ مہدی پیدا ہو گیا۔ یہ کس کی جنگ تھی۔ جس کو خدا نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا۔ یہ کس کی جنگ تھی۔ یہ کس کی جنگ تھی اس اپنے خلیفہ کی جس کو خدا نے ایک دن بلا کر جہاں کے تمام اگلے پچھلے حالات سے مطلع کر دیا تھا۔ یہ کس کے ساتھ جنگ تھا۔ دجال کے ساتھ؟
دجال کس کو کہتے ہیں؟ ”یہ لوگ جو پادریانہ مشرب رکھتے ہیں۔ اکثر وہ جھوٹ کے پتلے اور نجاست خوری کے کیڑے ہیں۔“ (انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ١٧) ان کا خدا کون ہے؟ ایک کمزور انسان اس جنگ کا نام کیا ہے؟ جنگ مقدس۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہونا تھا؟
٢٠٧
کر صلیب جس کے واسطے خدا نے اپنے منہ بولے بیٹے کو بھیجا تھا اور جو اس کا مشن تھا۔ اس کے خدا نے اسے کیا بتایا تھا؟ جب یہ اپنے خدا کے فریادی گیا تو اس نے اس کے آنسو یوں پونچھے کہ جاؤ۔ اگر دجال خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو خدا بنانے سے توبہ نہ کرے گا۔ تو ہم ان ہزاروں میں سے ایک کو پندرہ ماہ تک کوئی داؤ لگا کر مار دیں گے۔ سردست ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کی عمر کے کئی سال باقی ہیں۔ اچھا اگر وہ پندرہ ماہ میں مر جاتا تو کیا ہوتا؟
مرزے کا خبر دینے والا خدا اور عالم الغیب ثابت ہوتا۔ مسلمانوں میں فرقہ ناجیہ کا پتہ چل جاتا اور خدا کا منہ بولا بیٹا بننے والے کی بے عزتی نہ ہوتی۔ دیکھو یہ خدا کا منہ بولا بیٹا (استفتاء ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٢٧) پر لکھتا ہے: ”چنانچہ سب سے پہلے امرتسر میں انہوں نے محض سفلہ پن کی راہ میں خلاف واقعہ شور مچایا۔ گلی کوچہ میں آتھم کو ساتھ لے کر وہ زبان درازیاں کیں کہ جیسے انگریزی عملداری اس ملک میں آئی ہے۔ اس کی نظیر کسی وقت میں پائی نہیں جاتی اور صرف اسی پر اکتفا نہیں تھی۔ بلکہ پشاور سے لے کر بمبئی، کلکتہ، الہ آباد وغیرہ میں۔“ الخ!
بابو صاحب ...... (ہنسی روک کر) اجی کہہ رہا ہے کہ مرزے نے جو لکھا ہے کہ میں حیران تھا کہ اس مباحثہ میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ تو یہ حیرت مرزے کی ٦ ستمبر کو رفع ہوگئی ہوگی؟
نو وارد ...... اچھا بابو صاحب اب جبکہ اس مسیح کو اپنے ہی قرار دادہ دجال کے مقابلہ میں ایسی ذلت نصیب ہوئی کہ عمل داری سرکاری میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ تو فرمائیے کہ اس کی گیارہ اگلی یا پچھلی نو باتوں میں سے کون سی صحیح ثابت ہوئی۔
بابو صاحب ...... ایک بھی نہیں۔
نو وارد ...... غریب مسلمانوں نے اس پہلوان کو دودھ اور ملائیاں کھلا کھلا کر پالا اور پہلے ہی اکھاڑہ میں چاروں شانے چت گر گیا۔ اگرچہ گر کر مٹی پونچھ کر اس نے اپنے ساتھیوں کی آنکھوں میں ڈال دی کہ میری پیٹھ نہیں لگی مگر غیر جانبدار ہزار ہا اس کشتی کو دیکھ رہے تھے۔ وہ کس طرح مانتے؟
قاضی صاحب ...... یہ کس طرح؟
نو وارد ...... اجی چند روز تک تو شرمندگی اور رنج کے مارے گھر سے باہر نہ نکلا۔ آخر نکلا تو اس کی یہ تاویلات سوچ کر نکلا۔ یعنی کبھی کہا کہ آتھم نے عین مباحثہ میں قریباً ستر آدمیوں کے سامنے اپنا کان پکڑ کر زبان باہر نکال دی تھی کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو اپنی کتاب میں دجال نہیں لکھا۔ یہی اس کی توبہ تھی۔ اس پر خدا نے اسے مہلت دے دی۔ قاضی صاحب میعاد پندرہ ماہ گزر جانے کے بعد ایسا کہنا کیسا نامعقول عذر ہے اور ایمانداری سے کس قدر دور؟
٢٠٨
اول تو الہام میں آنحضرت ﷺ کا کچھ ذکر نہیں تھا۔ دوسرے اگر آتھم نے توبہ کی تھی تو اسی وقت بھری محفل میں کھڑے ہو کر پادریوں وغیرہ کو کیوں نہ کہہ دیا کہ آتھم نے توبہ کر لی ہے۔ اب پندرہ ماہ میں اس کی موت کے منتظر نہ رہو۔ تیسرے مرزے کا تو وہ خدا تھا جو قریباً ہر روز آپ سے باتیں کرتا تھا۔ پوچھ لینا تھا کہ اب آتھم نے توبہ کر لی ہے میرے لیے کیا حکم ہے؟ جو حکم وہ دیتا وہ چھاپ کر مشتہر کر دیتے۔ چوتھے مرزے خود پندرہ ماہ تک روتے رہے اور اپنے دوستوں کے منع کرنے سے بھی منع نہ ہوئے اور ہر ایک کو تسلی دیتے رہے اور کہتے رہے کہ وہ ضرور مرے گا اور جب پندرہ ماہ گزر گئے تو یہ تاویلات گھڑ لیں کہ اس نے توبہ کر لی تھی۔ یہ کر لیا تھا۔ وہ کر لیا تھا۔
کبھی کہا کہ پادری آتھم دل میں ڈر گیا تھا۔ اس لیے بچ گیا۔
اس کا جواب اگرچہ پادری صاحبان بہت عمدہ طور پر مرزے کو دے چکے ہیں اور ڈاکٹر عبدالحکیم نے اپنے رسالہ الہامات مرزا میں اس مضمون میں جابجا خوب قلعی کھولی ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ پادری آتھم کس سے ڈر گئے؟ اگر خدا سے ڈرتے تو مرزے پر ایمان لاتے۔ مرزے کے خدا اور مرزے امام الزمان سے کوسوں بھاگتے۔ اگر موت سے ڈرتے تو ایک پینسٹھ (٦٥) چھیاسٹھ (٦٦) سال کا بوڑھا ہمیشہ بیمار رہنے والا اس غم سے پندرہ ماہ میں گھل گھل کر مر جاتا۔
اگر یہ کہا جاوے کہ پادری صاحب موت سے ڈر گئے تھے اور خدا ان پر ترس کھا کر اپنا حکم منسوخ کر دیا۔ تو یہ بالکل غلط۔ موت سے ڈرنے والوں کی تعریف نہ کبھی ہمارے خدا نے کی ۔ نہ اس کے رسول نے۔ تمام قرآن موت سے ڈرنے والوں کی مذمت سے پُر ہے اور موت سے ڈرنے والوں کو خدا مثلاً پ ٥ ع ٨ میں فرماتا ہے کہ اگر تم مضبوط سے مضبوط گنبدوں میں جا چھپو تب بھی تمہیں موت پالے گی۔
گویا موت سے ڈرنے کو خدا ایک فعل لغو قرار دیتا ہے۔ جو شخص ایسے قہار خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو خدا بناتا ہے۔ خدا کا بیٹا قرار دیتا ہے۔ مرزے کا خدا اس کا فریادی جاتا ہے۔ تو وہ فرماتا ہے کہ اچھا اگر اس نے اس گستاخی سے توبہ نہ کی تو اگرچہ میں دنیا میں بارہ تیرہ روز ہی حاضر رہا ہوں۔ لیکن یہ پندرہ دن موت کا پیالہ اسے ضرور پلا دیں گے۔ ایک دن کے حساب سے پندرہ ماہ کے اندر اس کی روح کو قبض کر لوں گا۔ اور پھر اس کے ڈرنے اور رونے سے بزدل اور موت سے ڈرنے والا بھی ثابت کرتا ہے۔ اپنی اور اپنے رسول کی تکذیب کر دیتا ہے اور بیٹے سے ذکر تک نہیں کرتا کہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے یا اس کے ڈرنے کی
٢٠٩
اول تو الہام میں آنحضرتﷺ کا کچھ ذکر ہی نہیں۔ دوم اگر بات یہی تھی تو جب اس نے توبہ کی تھی تو اسی وقت بھری محفل میں کھڑے ہو کر پکار کر کہہ دیتا تھا کہ لوگو! پادری صاحب نے توبہ کر لی ہے۔ اب پندرہ ماہ میں اس کی موت کے منتظر نہ رہنا یا پندرہ ماہ کے اندر اندر اپنے خدا سے جو قریباً ہر روز آپ سے باتیں کرتا تھا۔ پوچھ لیتا تھا کہ اس نے تو توبہ کر لی ہے۔ اب اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ جو حکم وہ دیتا وہ چھاپ کر مشتہر کر دیتے۔ یہ کیا کارروائی کہ پندرہ ماہ تک تو اکڑے رہے اور اپنے دوستوں کے منع کرنے سے بھی منع نہ ہوئے۔ نہ ان کے سمجھائے سے سمجھے اور یہی کہتے رہے کہ وہ ضرور مرے گا اور جب پندرہ ماہ گزر گئے تو اب لوگوں کو بتانے لگے کہ اس نے توبہ کر لی تھی۔ یہ کر لیا تھا۔ وہ کر لیا تھا۔
کبھی کہا کہ پادری آتھم دل میں ڈر گیا تھا۔ اس لئے خدا نے اس کو مہلت دے دی۔ اس کا جواب اگرچہ پادری صاحبان بہت عمدہ طور پر مرزے کو دے چکے اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے رسالہ الہامات مرزا میں اس مضمون میں جان ڈال دی ہے۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ پادری آتھم کس سے ڈر گئے؟ اگر خدا سے ڈرتے تو مرزے کے ہاتھ پر آ کر بیعت کرتے نہ کہ مرزے امام الزمان سے کوسوں بھاگتے۔ اگر موت سے ڈرتے تو مرزے کا الہام سچا ہو جاتا اور ٦٣ سال کا بوڑھا ہمیشہ بیمار رہنے والا اس غم سے پندرہ ماہ میں ضرور ہلاک ہو جاتا۔
اگر یہ کہا جاوے کہ پادری صاحب موت سے ڈر گیا تھا۔ تو اس کے خدا نے اس پر رحم کھا کر اپنا حکم منسوخ کر دیا۔ تو یہ بالکل غلط۔ موت سے ڈرنے والے کو نہ دنیا نے کبھی پسند کیا نہ خدا نے۔ نہ اس کے رسولؐ نے۔ تمام قرآن موت سے نہ ڈرنے والے بہادروں کی تعریفوں سے پُر ہے اور موت سے ڈرنے والوں کو خدا مثلاً پ ٥ ع ٨ میں فرماتا ہے: ”کہ تم موت کے ڈر سے پکے پکے گنبدوں میں جا چھپو تب بھی تمہیں موت پالے گی۔“
گویا موت سے ڈرنے کو خدا ایک فعل لغو قرار دیتا ہے۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ ایک شخص خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو خدا بناتا ہے۔ خدا کا منہ بولا بیٹا یہ شکایت لے کر اس کے پاس فریادی جاتا ہے۔ تو وہ فرماتا ہے کہ اچھا اگر اس نے اس بات سے توبہ نہ کی تو ہم اگرچہ وہ مباحثہ میں بارہ تیرہ روز ہی حاضر رہا ہے۔ لیکن یہ پندرہ دن مباحثہ کے اسی کی گردن پر تھوپ کے پندرہ دن کے حساب سے پندرہ ماہ کے اندر اس کی روح کو قبض کر لیں گے۔ لیکن جب وہ علاوہ مشرک ہونے کے بزدل اور موت سے ڈرنے والا بھی ثابت ہوتا ہے۔ تو خدا خفیہ طور پر اس کو معاف کر دیتا ہے اور بیٹے سے ذکر تک نہیں کرتا کہ میں نے اس کو بزدلی دکھانے کی وجہ سے معاف
٢٠٩
کر دیا ہے۔ اب تم اس کے خون کے پیاسے نہ رہو۔
اگر کوئی شخص موت کے خوف سے فریضہ حج ادا نہ کرے۔ تو کیا خدا اس کے اس خوف کرنے سے اس کی عمر بڑھا دے گا۔ یا اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ خدا کے واسطے کوئی مرزائی ہمیں یہ تو بتا دے کہ پادری آتھم صاحب کس سے ڈر گئے تھے؟
قاضی صاحب ان لغو تاویلات کے قصہ کو چھوڑ کر میں آپ کو مرزے کے (ضرورۃ الامام ص ٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٧) کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ جہاں وہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں کی مد میں لکھتا ہے: ”جس شخص کی روحانی تربیت کا خدا تعالیٰ متولی ہو کر اس کی فطرت میں ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ سارے جہان کے معقولیوں اور فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے۔ وہ ہر ایک قسم کے دقیق در دقیق اعتراضات کا خدا سے قوت پا کر عمدگی سے جواب دیتا ہے کہ آخر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی فطرت دنیا کی اصلاح کا پورا سامان لے کر اس مسافر خانہ میں آئی ہے ۔“
اب اس مباحثہ میں اس امام الزمان کے جوابات کا حال سنئے: ”قرآن شریف کے پ ١٦ ع ٥ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ترجمہ: حضرت مریم بولیں۔ میرے ہاں کیسے لڑکا ہو سکتا ہے؟ حالانکہ نہ تو نکاح کے طور پر مجھ کو کسی مرد نے چھوا اور نہ کبھی میں بدکار رہی۔ جبرائیل نے کہا جیسا میں کہتا ہوں ایسا ہی ہوگا۔ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ تمہارے ہاں بے باپ کے لڑکا پیدا کرنا ہم پر آسان اور اس کے پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کے لئے ہم اپنی قدرت کی ایک نشانی قرار دیں۔“
اس مباحثہ میں پادری آتھم صاحب نے مرزے سے پوچھا کہ مسیح کی پیدائش معجزہ ہی تھی یا نہیں؟ تو متواتر کئی پرچوں میں مرزے نے اس کا جواب کچھ نہ دیا۔ لیکن جب پادری صاحب نے پیچھا نہ چھوڑا اور ہر پرچہ میں اس کی طرف توجہ دلائی اور جواب مانگا تو مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”مسیح کا بن باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کچھ عجوبہ نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں نہیں رکھتے تھے۔ اب قریب برسات آتی ہے۔ ضرور باہر جا کر دیکھیں کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٠، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠،٢٨١)
قاضی صاحب یہ تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس جواب میں مرزا قرآن اور اسلام سے باہر نکل گیا۔ اب میں اس کے فلسفہ کا حال آپ پر منکشف کرتا ہوں۔ جس زمانہ میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں کل حیوان مثلاً گائے، بھینس، ہاتھی، گدھا، گھوڑا، اونٹ،
٢١٠
بھیڑ، بکری، شیر، چیتا، گیدڑ، لومڑی غرضیکہ درند، پرند، چرند، پر حضرت آدم علیہ السلام کے بغیر ماں باپ کے پیدا ہونے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے ایسے زمانہ میں پیدا دونوں کے ذریعے جاری تھا۔ پس مرزے کا حضرت آدم السلام سے زیادہ عجیب کہنا بالکل لغو ہوا۔ مزید برآں برسا حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی نہ کہ حضرت عیسیٰ علی
بابو صاحب ...... جزاک اللہ لیجئے اب ہاتھ دھو لیج
نووارد ...... جناب پہلے دھوئیں۔
بابو صاحب ...... دھوئیے دھوئیے تکلف نہ کیجئے
نووارد ...... قاضی صاحب آپ۔
قاضی صاحب ...... نہ صاحب آپ دھوئیں۔
نووارد ...... اچھا تو پھر الامر فوق الادب کھانے پر بیٹھ کر میں تو مرزے نے بڑی ڈینگ ماری کہ امام الزمان ایس ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے اول کمزوری دکھائی تو صاف قرآن اور اسلام سے باہر نکل گیا۔ یعنی خدا تعال پیدا کرتے ہیں کہ اس کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیں ہی نہیں ہے۔
سوم حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کو ج قرار دینے میں اس نے فلسفہ کا خون کر دیا۔ مولوی ص نے بڑا لطف دیا۔ کم از کم اسی قسم کا ایک سوال و جواب ہونے کی قلعی کھل جائے۔
نووارد ...... اچھا قاضی صاحب اگر آپ کی یہی خوا اس کے پونے حصہ دجال کے درمیان جنگ کے ض سنئے! مگر تگڑے ہو کر۔ ایسا نہ ہو کہ فلسفہ کے نشہ سے آپ
٢١١
بھیڑ، بکری، شیر، چیتا، گیدڑ، لومڑی غرضیکہ درند، چرند، پرند بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا حضرت آدم علیہ السلام کے بغیر ماں باپ کے پیدا ہونے کو ہم کچھ بھی خصوصیت نہیں دے سکتے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب سلسلہ ترقی جنس کا ماں اور باپ دونوں کے ذریعے جاری تھا۔ پس مرزے کا حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ عجیب کہنا بالکل لغو ہوا۔ مزید برآں برسات کے کیڑوں کی پیدائش بھی نظیر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی۔
بابو صاحب....... جزاک اللہ لیجئے اب ہاتھ دھو لیجئے۔
نووارد....... جناب پہلے دھوئیں۔
بابو صاحب....... دھوئیے دھوئیے تکلف نہ کیجئے۔ نہیں تو ریل چلی جائے گی۔
نووارد....... قاضی صاحب آپ۔
قاضی صاحب....... نہ صاحب آپ دھوئیں۔
نووارد....... اچھا تو پھر الامر فوق الادب کھانے پر بیٹھ کر قاضی صاحب مولوی صاحب ضرورۃ الامام میں تو مرزے نے بڑی ڈینگ ماری کہ امام الزمان ایسا ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے۔ فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پادری آتھم کے اس ایک سوال کے جواب میں اس نے اول کمزوری دکھائی کہ جواب نہ دیا۔ جواب دینے پر مجبور کیا گیا تو صاف قرآن اور اسلام سے باہر نکل گیا۔ یعنی خدا تو فرماتا ہے کہ ہم اس کو اس لئے بغیر باپ کے پیدا کرتے ہیں کہ اس کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیں اور مرزا کہتا ہے کہ میری نگاہ میں یہ کچھ عجوبہ ہی نہیں ہے۔
سوم حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے اغرب قرار دینے میں اس نے فلسفہ کا خون کر دیا۔ مولوی صاحب جنگ مقدس کے اس سوال و جواب نے بڑا لطف دیا۔ کم از کم اسی قسم کا ایک سوال و جواب تو اور بیان کریں تا کہ مرزے کے امام الزمان ہونے کی قلعی کھل جائے۔
نووارد....... اچھا قاضی صاحب اگر آپ کی یہی خواہش ہے کہ اس جنگ مقدس یعنی مسیح موعود اور اس کے پونے حصہ دجال کے درمیان جنگ کے ضربات اور جوابات کی کوئی اور مثال بھی سنیں تو سنئے! مگر تگڑے ہو کر۔ ایسا نہ ہو کہ فلسفہ کے نشہ سے آپ متوالے ہو جائیں۔
٢١١
سوال منجانب پادری صاحبان....... ”جہاں چھ ماہ تک سورج نہیں چڑھتا۔ روزہ کیونکر رکھیں۔“
(جنگ مقدس ص ١٧٧، خزائن ج ٦ ص ٢٧٧)
جواب منجانب مسیح موعود (امام الزمان)....... ”اگر ہم نے لوگوں کی طاقتوں پر ان کی طاقتوں کو قیاس کرنا ہے۔ تو انسانی قوٰی کی جڑ جو حمل کا زمانہ ہے۔ مطابق کر کے دکھلانا چاہئے۔ پس ہمارے حساب کی اگر پابندی لازم ہے تو ان بلاؤں میں صرف ڈیڑھ دن میں حمل ہونا چاہئے۔ اگر ان کے حساب کی تو دو سو چھیاسٹھ برس تک بچہ پیٹ میں رہنا چاہئے اور یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ حمل صرف ڈیڑھ دن تک رہتا ہے۔ لیکن دوسو چھیاسٹھ برس تک بچہ پیٹ میں رہنا چاہئے اور یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ حمل صرف ڈیڑھ دن تک رہتا ہے۔ لیکن دو سو چھیاسٹھ برس کی حالت میں یہ تو ماننا کچھ بعید از قیاس نہیں کہ وہ چھ ماہ تک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دن کی یہی مقدار ہے اور اس کے مطابق ان کے قویٰ بھی ہیں۔“
قاضی صاحب....... لاحول ولا قوۃ۔ لاحول ولاقوۃ سوال یہ کہ قرآن سے ثابت ہے کہ روزہ طلوع آفتاب سے پہلے جو صبح صادق ہوتی ہے۔ اس وقت سے رکھنا چاہئے اور اس کو رات پڑ جانے تک تمام کرنا چاہئے۔ پس جس ملک میں چھ ماہ تک سورج نظر نہ آوے۔ یا چھ ماہ تک وہ غروب نہ ہو۔ تو وہاں روزہ کس طرح رکھا جاوے اور جواب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے دن اور رات چھ چھ ماہ کے ہیں۔ تو وہاں کے لوگ اپنی ماں کے پیٹ میں بجائے نو مہینے کے دوسو چھیاسٹھ برس رہتے ہوں گے اور چونکہ بچہ جس قدر زیادہ مدت اپنی ماں کے پیٹ میں رہے گا۔ اسی قدر اس کے قویٰ مضبوط ہوں گے۔ اس لئے اس ملک کے لوگ چھ ماہ تک بھوک، پیاس بھی برداشت کر سکیں گے۔ اس جواب میں تو امام الزمان نے کمال کر دکھایا۔ مولوی صاحب مرزے کے امام الزمان اور مسیح ہونے میں اب مجھے ایک رتی برابر بھی شک نہ رہا۔ آپ کھانے کی طرف متوجہ ہوں۔
بابو صاحب....... حق بات یہ ہے کہ مرزے سے اس سوال کا جواب بن نہیں پڑا۔ اس لئے اس نے ایک ایسا لایعقل جواب انہیں دیا کہ مرزے کے حواریوں کی طرح جن میں گریجویٹ بھی تھے۔ پادری صاحبان بھی حیران رہ جاویں نہ اس جواب کو سمجھیں نہ جواب الجواب اب دے سکیں۔
١؎ یہ بھی وحی ہوئی کہ پر کوئی مجھ کو تو سمجھا دے کہ سمجھا دیں گے کیا؟ ٢؎ مرزا قادیانی کے خیال میں وہاں راون آباد ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔
٢١٢
نودارد...... بابو صاحب مرزے کے حواری خاص کر مولوی محمد علی صاحب تو سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ جواب محض دفع الوقتی ہے۔ مگر انہوں نے اس بھروسہ پر اسے تحریر میں آنے دیا کہ پادری صاحبان کے پلے کچھ نہیں پڑے گا۔
قاضی صاحب....... اجی کچھ بھی ہو۔ جواب نہایت نامعقول ہے۔ نامعقول ہے۔ نامعقول ہے۔
نودارد....... قاضی صاحب نامعقولیت کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔ یہ جواب صاف کہہ رہا ہے کہ مرزا علم جغرافیہ سے مس نہیں رکھتا تھا۔ اس نے چھ مہینے کے دن سے یہ سمجھا کہ ان کا سورج چھ مہینے تک ان کے سامنے کھڑا رہتا ہے یا ان کے مشرق ومغرب تک کا فاصلہ چھ ماہ میں طے کرتا ہے۔ اگر اس غریب کو یہ خبر ہوتی کہ اس ملک میں بھی سورج مشرق سے مغرب تک اور پھر مغرب سے مشرق تک ٢٤ گھنٹوں میں ہی جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ملک میں وہ مغرب سے مشرق کو جاتا ہوا ہماری نظر سے پنہاں ہوکر گزرتا ہے اور اس ملک میں واپسی کی حالت میں بھی وہ ان کو نظر آتا رہتا ہے۔ یعنی ان کے سر پر وہ ایک گول چکر لگاتا ہے اور اس دائرہ کو وہ ٢٤ گھنٹوں میں تمام کرتا ہے۔ تو وہ ہرگز ہرگز ڈیڑھ دن یا ٢٦٦ برس کی الجھن میں نہ پھنستا۔ کیونکہ سورج کی چوبیس چوبیس گھنٹہ کی رفتار کے حساب سے جب ہمارے چھ مہینے گزریں گے۔ تو اس کے بھی چھ مہینے ہی گزریں گے۔ قاضی صاحب غضب خدا کا اس جنگ مقدس کے اخیر میں مرزائیوں نے اس کی تعریف کرتے کرتے لکھا ہے کہ واعظین رونسارٹی کے لئے یہ کتاب بطور قطب نما ہے۔ اسلامی انجمنوں اور اسلامی مدرسوں میں اس کی اشاعت بطور درسی کتاب ہونی چاہئے۔ قہقہہ۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب قطب نما کی جگہ قطبین نما ہوتا تو اچھا تھا۔ کیونکہ اس کتاب نے قطبوں میں بچوں کے پیٹ میں رہنے کی مدت پر بڑی روشنی ڈالی ہے۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد:
قاضی صاحب....... مولانا اگر کوئی پادری صاحب آپ سے یہ سوال کرے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
نودارد....... بھائی میں تو یہ کہوں کہ ہمارے خدائے عزوجل نے جہاں مذہب اسلام کو عالمگیر بنایا۔ وہاں کمال دور اندیشی سے یہ بھی فرمایا کہ ”لا يكلف الله نفسا الا وسعها“ جو بات ہم کمزور انسان نہیں کر سکتے۔ اس کی ہم سے باز پرس بھی نہیں۔ ﴾
٢١٣
روزہ رکھنے کے لئے شرط ہے کہ ماہ رمضان کا چاند دیکھنا۔ اگر کوئی عیسائی صاحب رمضان المبارک کا چاند ہمیں وہاں دکھاویں گے۔ تو ہم گھڑی کے حساب سے وہاں روزہ رکھ لیں گے۔ موٹا حساب روزہ رکھنے کا نہ سہی۔ قاضی جی عیسائیوں کے قانون کے رو سے اقدام خودکشی کے لئے تو سزا ہے۔ مگر ارتکاب خودکشی کے لئے کوئی سزا نہیں۔ یہ کیوں؟ مجبوری۔ سزا عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔ عجب ہے کہ قطب میں آباد تو جا کر ہوں عیسائی آٹھویں دن اتوار یا توار گرجا گھر جانے والے اور یہ سوال ہو مسلمانوں سے۔ جو قیامت تک بھی ایسے ملک کی طرف رخ کرنے والے نہیں۔ جہاں وہ اپنا نماز روزہ نہ کرسکیں۔
حاضرین آفرین آفرین۔ نہایت معقول۔ ایسا ہی معقول جیسا امام الزمان کا نامعقول۔
نووارد...... صاحبان بے ادبی معاف ہو میرا جواب ہرگز ہرگز ایسا معقول نہیں۔ جیسا امام الزمان کا نامعقول تھا۔ قہقہہ۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب میرے لئے تو اس بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ اب مکان جانا مشکل ہے۔ بہتر ہے کہ دوپہر یہیں کاٹیں۔
بیوی...... اجی آپ جاویں بھی تو آپ کو جانے کون دے گا؟ گاموں یہ کھانا مہترانی کو دے کے جھٹ پٹ کھا کے پنکھا کھینچنا شروع کرے۔ قاضی صاحب میرے آنے تک کوئی مضمون شروع نہ ہو۔
نووارد....... نہیں جی ایسا نہیں ہوگا۔ بابو صاحب آپ کے مولوی صاحب ابن مریم مرگیا حق کی قسم تو اس وقت تک نہ آئے۔
بابوصاحب....... شاید شام کو لکھ لاویں۔ یا لکھ کر کسی کے ہاتھ بھیج دیں۔
قاضی صاحب....... میں حیران ہوں کہ جواب وہ کیا دیں گے؟
نووارد...... اجی کچھ بھی دیں، دیں تو سہی اور جلدی دیں کہ اس کے دیکھنے کا شوق پورا ہو جائے۔
قاضی صاحب....... جواب آنے پر سوال و جواب دونوں اخباروں میں چھپوا دیئے جائیں تاکہ پبلک کو معلوم ہو جائے کہ یہ کیا مذہب ہے اور کیوں اور کس کے فائدہ کے لئے یہ بنایا گیا ہے۔ آیا مریدوں کی بخشش اور نجات کے لئے یا مسیح یا احمد صاحب کے مالا مال ہو جانے کے لئے۔
قاضی صاحب میں درد بھرے دل سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی جہنم واقعی ہے تو وہ کیسا منہ
٢١٤
پھاڑ کر ان لوگوں کے نکل جانے کے لئے مستعد رہے ہیں۔
کمرہ کے ایک دروازہ کا پردہ اٹھا اور بیوی...... کیوں مولوی صاحب قیلولہ فرماویں مرزائیاں کوئی زہریلا مادہ ڈالیں گے؟
نووارد...... بیوی جی ایک تو میں قیلولہ کا عادی نہی جاگتے ہوں اور میں خواب استراحت فرماؤں؟
قاضی صاحب....... مولوی صاحب اگرچہ طاری ہے۔ مگر میں اس غنودگی میں بھی آپ کے مضمون شروع کریں۔
نووارد...... آپ یا بیوی صاحبہ جو سا مضمون پسن مولوی صاحب جو مضمون آپ پسند کریں۔
نووارد...... تھوڑی دیر فکر کر کے مجھ پر چھوڑ دیتی۔ جس قدر اس چودھویں صدی کے مسیح کے ہاں، ہاں ! الہام، الہام الہام رہیں۔
نووارد...... بابوصاحب مرزے کے الہامات آ شان مبارک میں اتری ہیں اور وہ مرزے نے خاص معاملہ مثلاً نکاح آسمانی سے تعلق رکھتے ہی سے تعلق نہیں رکھتے۔ لیکن ذی فہم انسان کے شکو
- ١....... ”فيك مادة فاروقية“ (تذکر
نبوت کا۔ جوانمردی کا۔ ملک گیری کا۔ رعیت (
- ٢....... ”انى مهين من اراد اهانتك
ذلیل کروں گا۔ (حقیقت الوحی ص ٦٧ ، خزائن ج میں ایسا ہو۔
- ٣....... ”يا عبدالقادر انى معك
ہوں۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)
پھاڑ کر ان لوگوں کے نگل جانے کے لئے مستعد بیٹھا ہوگا۔ جو مسلمانوں کو اس مذہب کی طرف کھینچ رہے ہیں۔
کمرہ کے ایک دروازہ کا پردہ اٹھا اور بیوی جی نمودار ہو گئیں۔
بیوی...... کیوں مولوی صاحب قیلولہ فرماویں گے؟ یا اپنے بابو صاحب کے کانوں میں بقول مرزائیاں کوئی زہریلا مادہ ڈالیں گے؟
نووارد...... بیوی جی ایک تو میں قیلولہ کا عادی نہیں۔ دوسرے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ سب جاگتے ہوں اور میں خواب استراحت فرماؤں؟
قاضی صاحب...... مولوی صاحب اگرچہ مجھ پر کھانا زیادہ کھانے کی وجہ سے کچھ غنودگی سی طاری ہے۔ مگر میں اس غنودگی میں بھی آپ کے لئے ہمہ تن گوش ہوں گا۔ اگر آپ کوئی بھڑکتا ہوا مضمون شروع کریں۔
نووارد...... آپ یا بیوی صاحبہ جونسا مضمون پسند کریں۔ قاضی صاحب و بیوی بیک زبان ،نہیں مولوی صاحب جو مضمون آپ پسند کریں۔
نووارد...... تھوڑی دیر فکر کر کے مجھ پر چھوڑتے ہیں تو آپ سچ جانیں کہ مجھے کوئی بات لطف نہیں دیتی۔ جس قدر اس چودھویں صدی کے مسیح کے الہام لطف دیتے ہیں۔ سب نے بیک زبان کہا۔ ہاں، ہاں! الہام، الہام الہام پڑھیں۔
نووارد...... بابو صاحب مرزے کے الہامات ایک تو وہ آیات قرآنی ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کی شان مبارک میں اتری ہیں اور وہ مرزے نے اپنے حق میں دوبارہ اتار لی ہیں۔ ایک وہ جو کسی خاص معاملہ مثلاً نکاح آسمانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر میں وہ الہام بیان کرتا ہوں کہ جو ان ہر دو قسم سے تعلق نہیں رکھتے۔ لیکن ذی فہم انسان کے شکم میں گدگدی پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً
- ١...... ”فیک مادۃ فاروقیۃ“ (تذکرہ ص ١٠٥، طبع سوم) تجھ میں حضرت عمر کا مادہ ہے۔ یعنی
نبوت کا۔ جوانمردی کا۔ ملک گیری کا۔ رعیت (یعنی شکم) پروری کا۔
- ٢...... ”انی مہین من اراد اہانتک“ یعنی جس نے تیری اہانت کا ارادہ کیا۔ میں اس کو
ذلیل کروں گا۔ (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) پنجاب میں تو نہ ہوا۔ شاید حیدرآباد دکن میں ایسا ہو۔
- ٣...... ”یاعبدالقادر انی معک“ یعنی اے قادر مطلق کے بندے میں تیرے ساتھ
ہوں۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) سوائے سفر حج کے کہ وہاں میں تیرے ساتھ نہیں جا
٢١٥
سکتا۔ کیونکہ وہاں میرا اور تیرا دونوں کا گزر نہیں۔
- ٤...... ”یا احمد فاضت الرحمت علی شفتيك“ یعنی اے احمد تیرے لبوں پر رحمت
جاری کی جائے گی۔ (حقیقت الوحی خاتمہ ص٨٠، خزائن ج٢٢ ص٧٠٦) یعنی تو مجھ سے ہمیشہ عیسائیوں، آریوں اور مسلمانوں کی موت کا خواستگار رہے گا اور طاعون اور زلزلے طلب کرے گا۔
- ٥...... ”من در تو برکت دهم حتی بادشاہان از جامہ ہایت برکت جویند“
یعنی تجھ میں ایسی برکت رکھوں گا کہ بادشاہ آ کر تیرے کپڑوں سے برکت مانگیں گے۔ (تذکرہ ص١٠، طبع سوم) یعنی کوئی بادشاہ جانے گا بھی نہیں کہ تو کون ہے اور کیا ہے؟
- ٦...... ”یحمدك الله من عرشہ“ یعنی خدا عرش پر بیٹھا تیری تعریف کر رہا ہے۔ (اربعین
نمبر٢ ص٦، خزائن ج١٧ ص٣٥٢) کہ مرزا قادیانی آفرین تمہارے حوصلہ پر کہ جو لڑکی میں نے آسمان پر بذات خود تمہاری منکوحہ کر دی۔ اس کو دوسرا شخص لے گیا اور آپ نے کوئی حرکت ایسی نہ کی جس سے آپ کی ریاست کے امن میں خلل واقع ہونے کے احتمال کے خیال کا گمان ہو سکتا۔
- ٧...... ”خدا تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔“ (تذکرہ ص١٣١، طبع سوم) یعنی تو مرزا احمد بیگ
والد محمدی بیگم وغیرہ کی طرف خوشامد اور چاپلوسی کے خط مت لکھ۔
- ٨...... ”تیری پاک زندگی کو ہم ٨٠ سال کریں گے۔ یا اس کے قریب یا چند سال زیادہ۔ یا
چند سال کم۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٣، خزائن ج١٧ ص٦٩) یعنی صحیح عمر معلوم کرنے کے لئے جب ہم آسمان پر جاتے ہیں تو شہاب ثاقب ہمارے پیچھے پھینکے جاتے ہیں۔ جس دن ہمارا داؤ لگ گیا تو ہم صحیح عمر بتا دیں گے۔ فی الحال ٨٥ یا ٧٥ سمجھتے رہو۔
- ٩...... ”لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف مجھے وعدہ دیا گیا کہ تیری عمر ٨٠ سال یا دو تین سال
کم یا زیادہ ہو گی۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٣، خزائن ج١٧ ص٦٩) مرزے کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء (البریہ ص١٤٦، خزائن ج١٣ ص١٧٧) وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء عمر ٦٨ یا ٦٩ سال یعنی ٨٠ سے ١١، ١٢ سال اور ٨٣ سے ١٥ سال کم۔
- ١٠...... ”یا نبی الله كنت لا اعرفك“ اے خدا کے نبی میں تجھے نہیں پہچانتا تھا۔ (حقیقت
الوحی خاتمہ ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٧١٣) یہ عجیب بات ہے کہ باپ نے بیٹے کو نہیں پہچانا۔
- ١١...... ”انی معك ومع اهلك اريد ما تریدون“ یعنی میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے
گھر والوں کے ساتھ۔ میں وہی ارادہ کرتا ہوں جو تم ارادہ کرتے ہو۔ (حقیقت الوحی خاتمہ ص٨٧، خزائن ج٢٢ ص٧١٥) یعنی خدا نے اپنے ارادہ کو مرزے اور اس کی بیویوں کے ارادہ کے ماتحت کر لیا۔
٢١٦
٢٢٣
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب یوں ہی کیوں نے خدا کی ناک میں نکیل ڈال دی۔ اس سے یہ بھی ثاب
من اگر میداشتم
صحیح تو یہ الہام جھوٹا اور الہام سچا تو یہ شعر جھو
- ١٢...... ”كل لك ولامرك“ یعنی سب کچھ
(تذکرہ ص١٠٦، طبع سوم) قاضی صاحب یہ الہام پکار کر گئے۔ مگر اس قدر اللہ کا شکر ہے کہ عزرائیل نے مرزا ہونے دیا۔ ورنہ مرزا سلطان احمد، ڈاکٹر عبدالحکیم خا ابراہیم صاحبان وغیرہ ہم کی خیر نہ تھی۔
- ١٣...... ”من ذالذی ھو اسعد منك“ یعنی
(ص٦٩٥ تذکرہ طبع سوم) خدا کو کیا خبر کہ بلا ضرورت اور ڈالنے کی وجہ سے مرزا قادیانی نے بیوی کو معلق رکھا ہو کے چندہ کی واپسی کے لئے مرزے کا دروازہ کوٹ رہ
- ١٤...... ”سیهزم الجمع ویولون الدبر“
شکست دے گا۔ (حقیقت الوحی خاتمہ ص٨١، خزائن ج بھاگیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے اور آخر کالعدم ہو جا ١٩٠٧ء میں یہ الہام تیس سال کا تھا۔ جس پر آج نصف سماج میں ہی جا کر دریافت کیا جائے کہ اس ٤٥ سال سے شکست کھا گئے اور کالعدم ہو گئے۔
میرے خیال میں تو مرزائی آج تک اِ ترقی کر رہے ہیں۔
- ١٥...... ”وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پ
گی۔ مرزائی ہمیں بتائیں کہ اس مقام پر مرزا کس دن
- ١٦...... زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیس
ہے۔ دوسرے لوگ خشکی سے۔ تو مجھ سے ایسا ہے
٢١٧
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب یوں ہی کیوں نہ کہئے کہ مرزے اور مرزے کے گھر والوں نے خدا کی ناک میں نکیل ڈال دی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ:
من اگر میداشتم بال و پرے
صحیح تو یہ الہام جھوٹا اور الہام سچا تو یہ شعر جھوٹ کی غلاظت سے بھرا ہوا۔
- ١٢...... "كل لك ولا مرك“ یعنی سب کچھ تیرے واسطے اور تیرے حکم کے واسطے ہے۔
(تذکرہ ص ٤٠٦، طبع سوم، ) قاضی صاحب یہ الہام پکار کر کہہ رہا ہے کہ اللہ میاں بوڑھے اور ناکارہ ہو گئے۔ مگر اس قدر اللہ کا شکر ہے کہ عزرائیل نے مرزا قادیانی کو جلد لے لیا۔ ٨٣ اور ٨٥ سال کا نہ ہونے دیا۔ ورنہ مرزا سلطان احمد، ڈاکٹر عبدالحکیم خان، مولوی محمد حسین، مولوی ثناء اللہ ، مولوی ابراہیم صاحبان وغیرہم کی خیر نہ تھی۔
- ١٣...... "من ذالذى هو اسعد منك“ یعنی وہ کون ہے جو تجھ سے زیادہ نیک بخت ہے۔
(ص ٦٩٥ تذکرہ طبع سوم) خدا کو کیا خبر کہ بلا ضرورت اور خلاف حکم قرآن ایک نئی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے مرزا قادیانی نے بیوی کو معلق رکھا ہوا ہے اور بیٹے کو عاق کر دیا ہے اور لوگ براہین کے چندہ کی واپسی کے لئے مرزے کا دروازہ کوٹ رہے ہیں۔
- ١٤...... "سيهزم الجمع ويولون الدبر“ یعنی آریہ مذہب کا انجام یہ ہوگا کہ خدا ان کو
شکست دے گا۔ (حقیقت الوحی خاتمہ ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧) اور آخر وہ آریہ مذہب سے بھاگیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے اور آخر کالعدم ہو جائیں گے۔ حقیقت الوحی کی تحریر کے وقت یعنی ١٩٠٧ء میں یہ الہام تیس سال کا تھا۔ جس پر آج نصف صدی گزر گئی اور یہیں نہیں قادیاں کی آریہ سماج میں ہی جا کر دریافت کیا جائے کہ اس ٤٥ سال کے عرصہ میں کتنے آریہ صاحبان مرزائیوں سے شکست کھا گئے اور کالعدم ہو گئے۔
میرے خیال میں تو مرزائی آج تک ان کی تہ کو بھی نہیں پہنچے کہ وہ کس کس رنگ میں ترقی کر رہے ہیں۔
- ١٥...... "وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمد وثنا کرے
گی۔ مرزائی ہمیں بتائیں کہ اس مقام پر مرزا کس دن کھڑا کیا گیا اور کس جگہ؟
- ١٦...... زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ میرے ساتھ ہیں۔ تو ہمارے پانی سے
ہے۔ دوسرے لوگ خشکی سے۔ تو مجھ سے ایسا ہے۔ جیسا کہ میری توحید۔ تو مجھ سے اس مقام پر
٢١٧
اتحاد میں ہے۔ جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں۔ تو اس سے نکلا اور اس نے تمام سے تجھے چنا۔
(کتاب البریہ ص ٧٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠١)
بیوی جی تمام دنیا میں نہیں اسی ہندوستان میں اور عین مرزے کے زمانہ میں سرسید مرحوم و مغفور وہ شخص گزرا کہ جس نے اسلام کی ڈوبتی ناؤ بچالی۔ اس کے سینہ میں اسلام اور اسلامیوں کا ایسا درد تھا کہ جب ان پر زوال آتے دیکھا تو گھر کا اسباب تک فروخت کر کے اور قرضہ روپیہ لے کر ولایت پہنچا اور ایک مدت دراز وہاں رہ کر اسلام اور اسلامیوں کی دلالت میں خطبات احمدیہ لکھ کر اسلام کے دشمنوں کو ایسے معقول جواب دیئے کہ بڑے بڑے فاضلوں کو سر تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اسلام کے چہرہ سے تمام داغ دور کر کے خلقت کو اس کا چاند سا منہ دکھا دیا۔ مرزے کو چننے کے وقت خدا کی آنکھوں پر شاید نزول الماء اتر آیا تھا کہ اس کو سرسید جیسا اسلام کا دردمند اور دیانت دار اور قابلیت سے مخالفوں کو جواب دینے والا تو نظر نہ آیا۔ نظر آیا تو کون؟ لوگوں کا روپیہ ہضم کر جانے والا۔ کتابیں اور تصویریں بیچنے والا۔ غیروں کے بزرگان دین کو گالیاں دے کر بانی اسلام اور آپ کی ازواج مطہرات کی نسبت ناپاک کلمات کہلوانے والا۔ مباحثات میں قرآن سے باہر نکل جانے والا اور جھوٹے الہام گھڑنے والا۔ بیوی جی سرسید مرحوم و مغفور کا تھوڑا سا مقابلہ اس خدا کے چنے کے ساتھ کر کے دکھاتا ہوں۔
- ١...... سرسید آنحضرت ﷺ کا نواسہ ایک بڑا آدمی تھا۔ لاکھوں روپیہ اس نے اپنے ذاتی
رسوخ سے پیدا کر کے اسلام کی بہتری کے لئے خرچ کر دیا اور مرا تو نانا کی طرح گھر سے کفن نہ نکلا۔
آنحضرت ﷺ کا بروز اور مظہر تمام غربت اور قرضداری کی حالت میں بڑا ہوا اور ٦٣ سال نبوت کر کے لاکھوں روپیہ نقد اور زیورات اور جائیداد کی صورت میں چھوڑ گیا اور اپنی عیش پر جو کچھ خرچ کر گیا وہ علاوہ۔
- ٢...... حکام وقت نے چاہا کہ آنحضرت ﷺ کے نواسہ کو ایک لاکھ روپیہ کی جاگیر جو ایک
مسلمان رئیس کی ضبط کی ہوئی تھی ، دلا دیں۔ مگر اس مرد خدا کو گوارہ نہ ہوا کہ ایک مسلمان کی ضبط شدہ جاگیر حاصل کرے اور حکام سے عذر کر دیا کہ میرا ارادہ ہندوستان میں رہنے کا نہیں۔ اس لئے میں یہ جاگیر لینا نہیں چاہتا۔
١؎ ”جب مجھے شادی کا الہام ہوا۔ تو اس سے مجھے فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کیونکر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیونکر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکوں گا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٧)
٢١٨
آنحضرت ﷺ کے مظہر تام اور عکس نے کورٹ تک زور لگایا اور مقدمات ہارے۔ دیکھو (حیا کہہ رہا ہے کہ مرزا حق پر نہ تھا اور بیگانہ مال غصب کرت
- ٣...... آنحضرت ﷺ کے نواسہ نے مسلمانوں
یورپ کا سفر کیا اور ٧ ماہ وہاں گزارے۔ آنحضرت ﷺ مبذول کرائی کہ مسلمان باغی ہیں۔ اس کے اپنے الفا کی نعمتوں کو فراموش کرنا ہے۔ مسلمان لوگ گورنمنٹ مہدی کے انتظار نے تمام مسلمانوں کے دل سیاہ کر ہے۔ جو کبھی بھڑک اٹھے گا۔ عبداللطیف کو محض اس بنا جہاد کا مخالف تھا۔ غدر میں مولویوں نے عام طور پر چاہئے۔ (تحفہ قیصریہ ص ١٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٥ تلخص) کے لئے آنحضرت ﷺ کا یہ نواسہ رحمت ہو اللہ کی سرسید کے مقابلہ میں کیا شے تھا۔ اسی لئے
- ٤...... سرسید کو بن مانگے نائیٹ کا خطاب ملا
درخواستیں بھیج بھیج کر اور خطاب ملنے کی امید میں لا منہ لے کر رہ گیا۔ ہاں ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر ا ١٨٩٧ء میں جو (کتاب البریہ ص ١، خزائن ج ١٣ ص ١) کے محنت کش ، منصف مزاج ، حق پسند ، خدا ترس، روشن ”مرزے نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسا جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کرے گا ہے کہ آخر کار آپ کو سرکار انگریزی سے ملا۔
بیوی جی مجدد والی حدیث میں کہیں ٢١ بھی کیا کریں گے اور نہ گزشتہ ١٤ صدیوں کے سینک دعوے نہیں کیا کہ میں مجدد ہوں۔ تو اب تم ہی ب مسلمانوں کے خون کا پیاسا ؟ ایک نے اسلام کی خا تن کو آرام دیا۔ من عورتوں کو دیا اور دھن خرچ کر لیا
١٩
آنحضرت ﷺ کے مظہر تام اور عکس نے اپنے رشتہ داروں کا خون پینے کے لئے چیف کورٹ تک زور لگایا اور مقدمات ہارے۔ دیکھو (حیاۃ النبی ص ٥٧) چیف کورٹ میں مقدمات ہارنا کہہ رہا ہے کہ مرزا حق پر نہ تھا اور بیگانہ مال غصب کرنا چاہتا تھا۔
- ٣...... آنحضرت ﷺ کے نواسہ نے مسلمانوں سے غداری کا الزام رفع کرنے کے لئے تنہا
یورپ کا سفر کیا اور ١٧ ماہ وہاں گزارے۔ آنحضرت ﷺ کے ظل نے گورنمنٹ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ مسلمان باغی ہیں۔ اس کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔ ”بغاوت کی کھچڑی پکاتے رہنا خدا کی نعمتوں کو فراموش کرنا ہے۔ مسلمان لوگ گورنمنٹ کے ساتھ باغیانہ خیال رکھتے ہیں۔ خونی مہدی کے انتظار نے تمام مسلمانوں کے دل سیاہ کر دیئے اور ان کے اندر بغاوت کا مادہ رکھ دیا ہے۔ جو کبھی بھڑک اٹھے گا۔ عبداللطیف کو محض اس بناء پر قتل کرایا کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کا وفادار اور جہاد کا مخالف تھا۔ غدر میں مولویوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے۔“ (تحفہ قیصریہ ص ١٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٥ ملخص) باوجی خدارا انصاف سے اس صدی کی مجددی کے لئے آنحضرت ﷺ کا یہ نواسہ رحمت ہو اللہ کی اس پر لائق اور موزوں تھا یا یہ چغل خور؟ اور یہ سرسید کے مقابلہ میں کیا شے تھا۔ اسی لئے
- ٤...... سرسید کو بن مانگے نائیٹ کا خطاب ملا اور یہ ملکہ وکٹوریہ قیصرہ ہند کی خدمت میں
درخواستیں بھیج بھیج کر اور خطاب ملنے کی امید میں لک خطاب العزت کے الہام اتار اتار کر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہاں ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر نے جس کی نسبت خود اپنے اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء میں جو (کتاب البریہ ص ١، خزائن ج ١٣ ص ١) کے ابتداء میں ہے۔ مرزا نے لکھا ہے کہ ”بیدار مغز محنت کش، منصف مزاج، حق پسند، خدا ترس، روشن ضمیر ۔“ مرزے کی نسبت اپنے فیصلہ میں لکھا کہ ”مرزے نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں۔ اس کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کرے گا۔ وہ قانون کی زد سے نہیں بچ سکتا۔“ یہ خطاب ہے کہ آخر کار آپ کو سرکار انگریزی سے ملا۔
بیوی جی مجدد والی حدیث میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں کہ وہ مجدد مجدد ہونے کا دعویٰ بھی کیا کریں گے اور نہ گزشتہ ١٣ صدیوں کے سینکڑوں مجددوں میں سے سوا ایک دو کے کسی نے دعوے نہیں کیا کہ میں مجدد ہوں۔ تو اب تم ہی بتاؤ کہ اسلام کا مجدد سرسید مرحوم و مغفور ہوا یا یہ مسلمانوں کے خون کا پیاسا؟ ایک نے اسلام کی خاطر اپنا تن، من، دھن خرچ کر دیا۔ دوسرے نے تن کو آرام دیا۔ من عورتوں کو دیا اور دھن خرچ کر لیا۔ سرسید مرحوم و مغفور کی موجودگی میں ایسے بڑائی
٢١٩
کے الہام مرزے پر نچھاور کرنے والے خدا کو ہم آنکھوں والا تصور کریں یا آنکھوں سے اندھا اور چندوں میں مرزا کا شریک۔
- ١٧...... تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھے پسند کیا۔ تو جہاں کا نور ہے۔
تیری شان عجیب ہے۔ (کتاب البریہ ص ٧٥، خزائن ج ١٣ص ١٠١) ہماری عقل حیران ہے کہ مرزے نے رفتہ رفتہ بڑھتے بڑھتے خدا کو نرا بھانڈ بنا دیا۔ (معاذ اللہ )
- ١٨...... ”میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔“ (کتاب البریہ ص ٧٥، خزائن ج ١٣ص ١٠١) اور تیرے
گروہ کو قیامت تک غالب رکھوں گا۔ تو برکت دیا گیا ہے۔ خدا نے تیری مجد کو زیادہ کیا تو خدا کا وقار ہے۔ پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔ تو کلمتہ الازل ہے۔ تو مٹایا نہیں جاوے گا۔ میں فوجوں کے سمیت تیرے پاس آؤں گا ۔“ بابو صاحب مرزا تو گورنمنٹ کو کہتا ہے کہ یہ مسلمان باغی ہیں۔ بغاوت کی کھچڑی پکاتے رہتے ہیں اور میں سرکار کا پرانا خدمت گزار اور خیر خواہ ہوں۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزے کا خدا فوجوں کا کیوں ذکر کرتا رہتا ہے۔
کیا مرزا سلطان احمد فوجوں کے زور پر مرزے کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کو اڑا لے گیا؟ کیا ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرحوم نے کوئی فوج بھرتی کر رکھی تھی؟ کیا مولوی محمد حسین صاحب مرحوم ومغفور نے کسی تہہ خانہ میں فوج چھپا رکھی تھی؟ کیا مولوی ثناء اللہ صاحب نے کوئی رسالہ توپ خانہ امرتسر میں چھپا رکھا تھا؟
کیا مولوی ابراہیم صاحب نے کوئی ولنٹر بھرتی کر رکھے تھے۔ آخر مرزے کی جنگ کس بادشاہ کے ساتھ تھی؟ کہ خدا اس کی مدد کو تنہا نہیں آتا۔ اپنی فوجیں لے کر اور یہ فوجیں معلوم ہوتا ہے کہ بھڑوں کی تھیں کہ مرزے کو کسی قسم کی بھی مدد نہ دے سکیں نہ مرزا کسی اپنے دشمن پر جن کے پاس ایک چھڑی بھی نام لینے کو نہ تھا۔ غلبہ پاسکا۔ نہ فریضہ حج ہی ادا کرسکا۔ شرم شرم ان جھوٹے بڑائی کے الہاموں سے شرم!
- ١٩...... ”میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔
تیرے پر میرے کامل انعام ہیں۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔“
(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ص ١٠١)
لیجیے مرزے کے توکل کا حال میں تمہیں اس رسالہ روئیداد مقدمات قادیانی کے (ص ٢٤،٢٢) سے پڑھ کر سناتا ہوں۔
٢٢٠
- (٤) مرزا قادیانی باوجود یکہ متوکل علی ال
بکاف عبده “ (حقیقت الوحی ص ٢٠، خزائن ج ٢٢ حوصلہ آپ نے دکھلایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ خدا ۔ وکیلا “ (تذکرہ ص ٤٨٢ طبع سوم) لیکن ”جری اللہ ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧) کو ایک دن بھی عدالت کہ دائیں بائیں آگے پیچھے وکلاء کی جماعت ہمراہ ت کی طرف سے تسلی مل چکی تھی کہ آپ فتح یاب ہوں ۔ پھر صریح فرمان ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔ مجھے وکیل وکلاء کی امداد حاصل کرتے؟
یہ تو صریح خدا کی نافرمانی ٹھہری اور پھر کوئی جماعت وکلاء تھی۔ بلکہ سچ پوچھو تو آیت مذکور ہر ایک موقعہ پر اکیلے پیش ہوتے رہے۔ ادھر جما سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرتا تھا۔ پھر ناظرین خود انصاف موید من اللہ کون ٹھہرا؟
اور نیز اگر بجز وکلاء کے حوصلہ نہ بندھتا صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ہی کافی تھے۔ ان ٹیل صاحب اور بالآخر مسٹر پینی صاحب کو بھی اپن خوب غور کرو۔
میرزا را گفت رب جلیل
حاجت خواجہ کمال الدین چہ بود
اے عجب مرشد گرفتار بلاست
ویں عجب تر چون مسیحائے زمان
اور پٹیل ۔ وگارس کرون وکیل
حل ایں عقدہ نیا ید در خیال
(٤) مرزا قادیانی باوجودیکہ متوکل علی اللہ ہونے کے مدعی اور الہام ”الیس الله بکاف عبدہ“ (حقیقت الوحی ص ٢٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٩) کے تسلی یافتہ ہیں۔ لیکن مقدمہ میں جو حوصلہ آپ نے دکھلایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ خدا نے مجھے کہا کہ ”لااله الا انا فاتخذنی وکیلا“ (تذکرہ ص ٤٨٢ طبع سوم) لیکن ”جری الله فی حلل الانبیاء“ (حقیقت الوحی خاتمہ ص ٨١ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧) کو ایک دن بھی عدالت میں تنہا پیش ہونے کا حوصلہ نہ ہوا۔ جب تک کہ دائیں بائیں آگے پیچھے وکلاء کی جماعت ہمراہ نہ ہوتی تھی۔ عدالت میں جانا محال تھا۔ اگر خدا کی طرف سے تسلی مل چکی تھی کہ آپ فتح یاب ہوں گے اور یہ بھی خدا ہی تمہاری امداد کو کافی ہے اور پھر صریح فرمان ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔ مجھے وکیل بنایا۔ تو پھر مرزا قادیانی کو کیا ضرورت تھی کہ وکلاء کی امداد حاصل کرتے؟
یہ تو صریح خدا کی نافرمانی ٹھہری اور پھر یہ نہیں تھا کہ آپ کے مقابل فریق کے ساتھ کوئی جماعت وکلاء تھی۔ بلکہ سچ پوچھو تو آیت مذکورہ پر مولوی صاحب مستغیث نے پورا عمل کیا کہ ہر ایک موقعہ پر اکیلے پیش ہوتے رہے۔ ادھر جماعت وکلاء کی ہوتی تھی اور ادھر وہ مرد خدا اکیلا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرتا تھا۔ پھر ناظرین خود انصاف کر سکتے ہیں کہ فریقین میں سے متوکل علی اللہ اور موید من اللہ کون ٹھہرا؟
اور نیز اگر بجز وکلاء کے حوصلہ نہ بندھتا تھا۔ تو پھر اپنے دونوں حواری خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ہی کافی تھے۔ ان پر بھروسہ نہ کیا۔ مسٹر اوگارمن صاحب مسٹر اور ٹیل صاحب اور بالآخر مسٹر پنچی صاحب کو بھی اپنا مددگار بنانا پڑا۔ بھائیو یہ سوچنے کا مقام ہے۔ خوب غور کرو۔
مثنوی
میر زارا گفت رب جلیل من خدایم بس مرا میداں وکیل
حاجت خواجہ کمال الدین چہ بود راست گو مرزا توکل ایں چہ بود
اے عجب مرشد گرفتار بلاست حامی و شافع مرید با صفاست
ویں عجب تر چون مسیحائے زمان از نصاریٰ جوید امداد و امان
اورٹیل ۔ وگارمن کردن وکیل روئے پیچیدن زفرمان جلیل
حل ایں عقدہ نیا بد درخیال ہست از مرزائیاں مارا سوال
٢٢١
میشود عیسیٰ گرفتار و ذلیل بہر خود دجال را ساز دوکیل
قاضی صاحب ...... بہت عمدہ بہت خوب ۔ مرزے کے توکل کے الہام کی خوب قلعی کھولی گئی ۔ مگر مولوی صاحب دجال کا لفظ وکیلوں پر بھی عائد ہو سکتا ہے؟
نووارد ...... کیوں نہیں ؟ یہ دیکھئے (ص١٤٦ ازالہ حصہ اول، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) پر مرزا لکھتا ہے: ”ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا بھی ریل ہو۔“
قاضی صاحب مرزے اور مرزائیوں کے واسطے کیسی شرم کی جگہ ہے کہ مسیح موعود پر ایک آفت آتی ہے ۔ تو وہ دجال کی پناہ لیتا ہے کہ مجھے بچا۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب اس قانون پیشہ فرقہ پر قوم کا لفظ حاوی ہو سکتا ہے؟
نووارد ...... کیوں نہیں! مرزے نے پادریوں کے واسطے قوم کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ کلیں ایجاد کرنے والوں کے واسطے قوم کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ بلکہ کل عیسائیوں کے واسطے بھی دیکھئے (ص٦ انجام آتھم ، خزائن ج ١١ ص ٦) پر لکھتا ہے: ”عیسائی بھی ایک عجیب قوم ہے۔“
قاضی صاحب ...... تب تو واقعی یہ عیسائی وکیل اور بیرسٹر مرزے کی دجال کی تعریف میں آ جاتے ہیں اور ان سے بڑھ کر آج کل کوئی قوم با اقبال نہیں۔
٢٠ ...... ”خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے ۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ میں تیرے ساتھ ہوں ۔ جہاں تو ہے جس طرف تیرا منہ اس طرف خدا کا منہ ۔ کوئی نہیں جو خدا کی پیشین گوئیوں کو ٹال سکے۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی اور تیرا ذکر بلند کیا گیا۔ خدا تیری حجت کو روشن کرے گا۔ تو بہادر ہے ١؎ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دیئے گئے۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں۔ تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا۔“
(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠١)
٢١ ...... ”آہن (خدا تیرے اندر آیا) خدا تجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا۔ جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔“ (کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠١) حاضرین اس کا مطلب آپ نے سمجھ لیا؟
بابو صاحب ...... جی بخوبی ۔ اس لمبے ستر (پوشیدگی) سے تنگ آگیا ہوگا۔
١؎ اسی وجہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب کو لوگ فاتح قادیاں کہتے ہیں۔ ٢؎ ہم لوگ بھی خلیفہ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کے سر مونڈتا ہے۔
٢٢٢
بیوی ...... مولوی صاحب مرزے یا مرزائیوں ۔ مرزے کے اس الہام کے بعد خدا کی ہستی کے قائل ہ نووارد ...... اجی لاحول ولا قوۃ یہ کام تو آنحضرتﷺ دکھایا۔ جیسے حالی صاحب مرحوم و مغفور فرماتے ہیں:
دیئے سر جھکا ان کے
مرزے کے زمانہ میں تو دہریوں کی اکثر ہی چھوڑ دو۔ ہندوستان میں جگہ جگہ ان کی سوسائٹیز ہوئے اور دہریئے ایسے احمق تھے کہ مرزے کی بات ہے کہ مجھے میرے خدا نے بتایا ہے کہ میں فلانے کو ب ہو کہ میں خدا ہوں اور پھر اسی خدا کو چھوٹا ثابت کر زندہ چھوڑ کر گھر سے باہر جا کر کہیں دم دے دیتا ہ ثبوت دیتا۔ جس نے اپنے دشمنوں کی زندگی میں م آپ کوئی فہرست طلب کرتی ہیں ۔ تو فہرست میں کے رسول مقبول کے قائل بلکہ عاشق تھے۔
مرزے اور اس کے الہاموں کو مانن دہریوں کو باؤلے کتے نے کاٹا تھا کہ وہ مرزے ک کی گردن پر مرزے کا یہ احسان قیامت تک رہے کہ اسلام میں جو بعض خدایا اس کے رسول سے بکواس ہے اور اس سے دہریت کو اور تقویت ا مسلمان اور زاہد اور عابد بن کر گھر سے باہر کیوں گی۔
٢٢ ...... ”تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واس دیا جائے گا اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تو کی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں۔“ (کتاب البری
بیوی....... مولوی صاحب مرزے یا مرزائیوں نے ان دہریوں کی کوئی فہرست دی ہے جو مرزے کے اس الہام کے بعد خدا کی ہستی کے قائل ہو گئے؟
نووارد....... اجی لاحول ولاقوۃ یہ کام تو آنحضرتﷺ کے ہی کرنے کا تھا اور آپؐ نے ہی کر دکھایا۔ جیسے حالی صاحب مرحوم ومغفور فرماتے ہیں:
دیئے سر جھکا ان کے مالک کے آگے
مرزے کے زمانہ میں تو دہریوں کی اس قدر کثرت ہوئی کہ یورپ اور امریکہ کا تو ذکر ہی چھوڑ دو۔ ہندوستان میں جگہ جگہ ان کی سوسائٹیاں قائم ہو کر ان کے اخبار اور رسالے جاری ہوئے اور دہریئے ایسے احمق تھے کہ مرزے کی بات پر اعتبار کرتے جو اپنے اشتہار تبصرہ میں کہتا ہے کہ مجھے میرے خدا نے بتایا ہے کہ میں فلانے کو مار دوں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور پھر اسی خدا کو چھوٹا ثابت کرنے کے لئے ان تمام فلان اور فلان اور فلان کو زندہ چھوڑ کر گھر سے باہر جا کر کہیں دم دے دیتا ہے۔ خدا ایسا....... تھا کہ اس کی معرفت اپنی ہستی کا ثبوت دیتا۔ جس نے اپنے دشمنوں کی زندگی میں مر کر خدا کے فرمائے کا دیوالہ کر دیا۔ بیوی جی اگر آپ کوئی فہرست طلب کرتی ہیں ۔ تو فہرست میں تو انہی لوگوں کے نام درج ہیں۔ جو خدا اور اس کے رسول مقبول کے قائل بلکہ عاشق تھے۔
مرزے اور اس کے الہاموں کو ماننے سے تو خدا قطعی جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ پھر دہریوں کو باؤلے کتے نے کاٹا تھا کہ وہ مرزے کی زبانی خدا کے قائل ہوتے۔ ہاں مخالفین اسلام کی گردن پر مرزے کا یہ احسان قیامت تک رہے گا کہ اس نے ان کے ہاتھ میں یہ ثبوت دے دیا کہ اسلام میں جو بعض خدا یا اس کے رسول سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ جھوٹ اور بکواس ہے اور اس سے دہریت کو اور تقویت ہوئی اور ثابت ہوا کہ ایک دہریہ خواہ کتنا ہی پکا مسلمان اور زاہد اور عابد بن کر گھر سے باہر کیوں نہ آوے۔ نتیجہ یہی ہوگا کہ دہریت کو تقویت پہنچے گی۔
٢٢....... ”تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تو مدد دیا جائے گا اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تو حق کے ساتھ نازل ہوا ہے اور تیرے ساتھ نبیوں کی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں۔“ (کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج١٣ ص١٠٢) قاضی صاحب یہ سن کر
٢٢٣
ایک پرمعانی کھانسی کھانسے۔ مگر نووارد نے ان سے آنکھیں ملا کر اور مسکرا کر کہا قاضی صاحب آپ اس نبی کے الہاموں پر ہنسی نہ اڑائیں۔ میں ایک دو ٹکریں لگا لوں۔ نماز کے بعد چاء موجود تھی۔ چاء پر بیٹھ کر۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب میں نے انگریزی میں بڑے بڑے مشہور مصنفوں کے ہنسنے ہنسانے والے ناول پڑھے۔ مگر میں بقول مرزا آپ سے سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قدر گدگدی میرے پیٹ میں کسی ناول نے پیدا نہ کی۔ جس قدر مرزے کے ان الہاموں نے جو آپ بیان کر رہے ہیں۔
نووارد....... قاضی صاحب، مرزا قادیانی اپنے الہاموں میں حد سے بڑھ گیا۔ ورنہ جو چال وہ چلا تھا۔ اس میں اگر وہ حد کو نگاہ رکھتا تو اسے بڑی کامیابی ہوتی۔ اس نے اپنے افعال واقوال میں بڑا چھچھورا پن دکھلایا اور اس سے وہ لوگوں کی نظر سے گر گیا۔
قاضی صاحب....... مولوی صاحب وہ کس طرح؟
نووارد....... قاضی صاحب جن دنوں مرزے نے آریوں اور پادریوں سے مباحثات کرنے کا دم مارا اور براہین احمدیہ لکھی۔ اس وقت مسلمان پادریوں اور آریوں سے بھڑکے ہوئے تھے اور خود سے چاہتے تھے کہ ہم میں سے بھی کوئی ایسا ہو کہ ان کو سخت الفاظ میں جواب دے۔ براہین احمدیہ میں جب اس نے الہام درج کئے تو جہلاء تو ان کو سمجھے ہی نہیں۔ لیکن جو علماء بھی سمجھے انہوں نے بھی یہ کہا کہ ہماری بلا سے جھوٹے الہام اگر گھڑتا ہے۔ تو ان کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔ ہماری طرف سے آریوں اور عیسائیوں کو جواب دینے کے لئے تو کھڑا ہوا ہے۔ لیکن مرزے نے یہ دیکھ کر کہ بہت سے مسلمان میرے پیچھے لگ گئے ہیں۔ ان سے بیعت لینی شروع کی کہ جو میری بیعت نہ کرے وہ کافر ہے۔
اب علمائے دین کی آنکھیں کھلیں کہ ہیں یہ کیا ہو گیا اور ہم کس خیال میں رہے۔ مگر وقت گزر چکا تھا۔ علمائے دین نے دوڑ دھوپ کر کے اس کی نسبت خود ہی کفر کا فتویٰ نہ دیا۔ بلکہ عرب تک سے کفر کا فتویٰ اس کے حق میں لکھوا لائے۔ مگر یہ بعد از وقت ثابت ہوا۔ جو لوگ بیعت کر چکے تھے۔ وہ ضد پر کھڑے ہو گئے کہ ہیں ہمارے پیر و مرشد کو کوئی کافر کہے۔ اس پر مرزے نے اپنا پایہ ان کی نظروں میں اور بھی بڑھانا شروع کیا اور مریدان کے کچھ اعتقادات سے اور کچھ مرزے کے مخالفین کی ضد سے امنا و صدقنا کے کوئی دوسرا لفظ زبان پر نہ لائے۔ یہ وجہ مرزے کے
٢٢٤
حد سے گزرنے اور ایسے الہام اتارنے کی۔ جو واقعی آپ گدگدی پیدا کرتے ہیں۔
نووارد....... (چاء سے فارغ ہو کر) بابو صا صاحب کی طرف بھیجیں کہ آپ کے جواب کے انتظار م
بابو صاحب....... گاموں جا اور مولوی صاحب ک آپ کے جواب کے انتظار میں تین بج چکے۔
قاضی صاحب....... بابو صاحب ایک رقعہ کیوں نہ کاغذ لے آ۔ رقعہ لکھ کر قاضی صاحب نے گاموں کے ح
بابو صاحب....... قاضی صاحب آپ نے رقعہ م
قاضی صاحب....... بابو صاحب بالکل مختصر کہ ہم ق کی پیدائش اور ان کی موت کی جوابات پانے کے ل لائیے۔
بابو صاحب....... اچھا مولوی صاحب۔
نووارد.......
- ٢٣....... ”خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تا کہ اپنے
غالب کرے۔“
- ٢٤....... ”اس کو خدا نے قادیاں کے قریب نازل
اتارا گیا اور ابتداء سے ایسا ہی مقرر تھا۔“
- ٢٥....... ”تم گڑھے کے کنارہ پر تھے۔ خدا نے تم
- ٢٦....... ”اے میرے احمد! تو میری مراد اور میر
اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا
- ٢٧....... ”کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں
چاہتا ہے۔“
٢٥
حد سے گزرنے اور ایسے الہام اتارنے کی۔ جو واقعی ایک صحیح دماغ والے انسان کے پیٹ میں گدگدی پیدا کرتے ہیں۔
نووارد...... (چاء سے فارغ ہو کر) بابو صاحب اگر نامناسب نہ ہو تو گاموں کو مولوی صاحب کی طرف بھیجیں کہ آپ کے جواب کے انتظار میں دن کے تین بج گئے۔
بابو صاحب...... گاموں جا اور مولوی صاحب کی خدمت میں میری طرف سے عرض کر کہ آپ کے جواب کے انتظار میں تین بج چکے۔
قاضی صاحب...... بابو صاحب ایک رقعہ کیوں نہ لکھ دیں۔ گاموں قلم دوات اور ایک پرچہ کاغذ لے آ۔ رقعہ لکھ کر قاضی صاحب نے گاموں کے حوالہ کیا اور وہ تیر کی طرح روانہ ہو گیا۔
بابو صاحب...... قاضی صاحب آپ نے رقعہ میں کیا لکھ دیا؟
قاضی صاحب...... بابو صاحب بالکل مختصر کہ ہم فلان فلان آپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور ان کی موت کے جوابات پانے کے صبح سے فلانی جگہ منتظر بیٹھے ہیں۔ جلد تشریف لائیے۔
بابو صاحب...... اچھا مولوی صاحب۔
نووارد......
٢٣...... ”خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تا کہ اپنے دین کو قوت دے اور سب دینوں پر اس کو غالب کرے۔“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)
٢٤...... ”اس کو خدا نے قادیاں کے قریب نازل کیا اور وہ حق کے ساتھ اترا اور حق کے ساتھ اتارا گیا اور ابتداء سے ایسا ہی مقرر تھا۔“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)
٢٥...... ”تم گڑھے کے کنارہ پر تھے۔ خدا نے تمہیں نجات دینے کے لئے اسے بھیجا۔“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)
٢٦...... ”اے میرے احمد ! تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور تیری مدد کروں گا۔“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)
٢٧...... ”کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں؟ کہ خدا عجیب ہے۔ چن لیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“
٢٢٥
- ٢٨...... ”خدا کا سایہ تیرے سر پر ہوگا اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین
بھی۔ ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنادیں گے اور یہ امر ابتداء سے مقدر تھا“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٢٩...... ”تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقرب
ہے“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٣٠...... ”تیرے پر انعام خاص ہے اور تمام دنیا پر تجھے بزرگی ہے“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٣١...... ”میں اپنی چمکار دکھاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھے اٹھاؤں گا“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٣٢...... ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور
بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
قاضی صاحب یہ شرمندگی رفع کرنے کے لئے جو مرزے نے احتیاطاً الہام گھڑ رکھا تھا، صریح خلاف ہے۔ الہامات:
- الف...... ”میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور تیرا ذکر بلند کروں
گا اور تیری محبت دلوں میں ڈال دوں گا“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٤٢)
- ب...... ”اے ابراہیم تجھ پر سلام۔ ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ چن لیا۔ خدا تیرے
سب کام درست کردے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا“
(ازالہ حصہ دوم ص ٦٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٤٢)
- ج...... ”میں وہی ارادہ کرتا ہوں۔ جو تم ارادہ کرتے ہو۔ سب کچھ تیرے واسطے ہے اور
تیرے حکم کے واسطے۔“
- د...... ”خدا تیری ساری مرادیں تجھے دے گا“
(تذکرہ ص ٤١ طبع سوم)
”تیرے لئے میں نے رات دن پیدا کیا“
(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
یہ دنیا میں ایک نذیر آیا والا الہام محض اس لئے گھڑ رکھا گیا کہ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ مرزا قادیانی آپ نے دنیا میں آکر بنایا کیا ۔ کتنے پادری لوگ کئے۔ کتنے عیسائی مسلمان ٢٢٦
٢٣٣
کئے۔ کتنے ہندو مسلمان کئے۔ کتنے آریئے مسلمان کئے سکھ مسلمان کئے۔ کتنے دہریے مسلمان کئے۔ یہ جو مٹھی بھر مسلم پہلے ہی رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے تھے۔ خدا کی ہستی کے قائل تھے۔ خدا کو ایک مانتے تھے۔ اور کسی کو اس کا شریک نہ مانتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے تھے۔ منکر خدا نہ تھے۔ تو آپ نے دنیا میں آکر سوائے اس کہ گورنمنٹ کو خوش کرنے کے سوا مسلمانوں میں تفرقہ ڈال دیا۔ آپ نے کوئی نیا دین تو نہیں بنایا کہ خدا نے آپ کو چنا اور سارے جہان پر آپ کو فضیلت دی۔ تو اس کو جواب دینا تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا، بھاگنے کے سوراخوں میں سے ایک بڑا بھاری سوراخ بنا لیا۔ کبھی ذلت کو اپنی طرف نہیں آنے دیا اور ٹانگ اونچی رکھی۔ کیوں؟ اس کی وجہ کیا؟ اس کے چننے اور اس پر اتنے انعام کرنے کی کیا وجہ تھی؟ محض اس شرمندگی کو رفع کرنے کے لئے۔
گاموں رقعہ کا جواب لے آیا اور قاضی صاحب کو دیا۔
مکرم بندہ جناب بابو صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ میں ہرگز ہرگز اسکو پسند نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کی ہتک اور بے عزتی گوارا کروں۔ اس کا جواب وہ کل صبح آپ کو پہنچ جاوے گا۔
نووارد...... بابو صاحب خیر ہے۔ کچھ حرج نہیں۔ رات زیادہ نہیں گزری۔
بابو صاحب...... یہ ہتک اور بے عزتی کا حال تو سن لو جو گاموں نے اتنی دیر لگا کر کیا ہے۔
قاضی صاحب...... کیوں گاموں؟
گاموں...... جی یہ خط آپے کھوتر کھوتر کے جیہڑا ساڈے مولوی ہوراں نے میرے دیکھدیاں کر دتا اے۔
نووارد...... بابو صاحب کی میز پر سے قلم دوات اور ایک کاغذ لے کر کچھ لکھنے لگا۔
٢٢٧
کئے۔ کتنے ہندو مسلمان کئے۔ کتنے آریے مسلمان کئے۔ کتنے سکھ مسلمان کئے۔ کتنے یہودی مسلمان کئے۔ کتنے دہریے مسلمان کئے۔ یہ جو مٹھی بھر مسلمان آپ کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ یہ تو پہلے ہی رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے تھے۔ خدا کی ہستی کے قائل تھے۔ مشرک نہ تھے۔ خدا کو وحدہ لا شریک مانتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا نہیں۔ ایک پیغمبر مانتے تھے۔ بت پرست نہ تھے۔ منکر خدا نہ تھے۔ تو آپ نے دنیا میں آ کر سوا اسکے کہ اسلام کو کمزور کرنے اور اس کے دشمنوں کو خوش کرنے کے اسلام میں تفرقہ ڈال دیا۔ آپ نے کون سا تیر مارا۔ جس کے لئے خدا نے آپ کو چنا اور سارے جہان پر آپ کو فضیلت دی۔ تو اس کو جواب دیا جاوے کہ خدا نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ یہ بھی جنگلی چوہے کے بل کی طرح نکل بھاگنے کے سوراخوں میں سے ایک بڑا بھاری سوراخ ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مگر اس میں بھی ذلت کو اپنی طرف نہیں آنے دیا اور ٹانگ اونچی ہی رکھی گئی۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا کیوں؟ اس کی وجہ کیا؟ اس کے چننے اور اس پر اتنے اعزاز نچھاور کرنے میں جو اس نے...... کی۔ اس شرمندگی کو رفع کرنے کے لئے۔
گاموں رقعہ کا جواب لے آیا اور قاضی صاحب نے کھول کر پڑھنا شروع کیا۔
مکرم بندہ جناب بابو صاحب
السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ میں ہرگز ہرگز ایسی محفل میں نہیں آنا چاہتا جہاں ہمارے مسیح موعود اور مہدی معہود صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور بے عزتی ہوتی ہو۔ باقی رہا آپ کے اعتراضوں کا جواب وہ کل صبح آپ کو پہنچ جاوے گا۔ الراقم: از بس ملول بندہ......
نووارد...... بابو صاحب خیر ہے۔ کچھ حرج نہیں۔ رات خیر سے گزرے۔ تو کل صبح بھی کچھ دور نہیں ۔
بابو صاحب...... یہ ہتک اور بے عزتی کا حال اس شیطان نے ان سے بیان کیا ہوگا۔ تب ہی اتنی دیر لگا کر آیا ہے۔
قاضی صاحب...... کیوں گاموں؟
گاموں...... جی یہ اوہ آپے کھوتر کھوتر کے گلاں پچھدے رہے میں بھی سچ سچ آکھ دتا جے ساڈی مولوی ہوراں تے مریداں کر دتا۔
نووارد...... بابو صاحب کی میز پر سے قلم دوات اور ایک ثابت چٹھی کا کاغذ لے آ۔ قاضی صاحب
٢٢٧
آپ بابو صاحب کی طرف سے اس رقعہ کا جواب لکھیں۔ میں بولتا جاتا ہوں اور آپ لکھتے جاویں۔
قاضی صاحب........ بہت خوب فرمائیے۔
نووارد........ لکھئے:
مکرم بندہ جناب مولوی صاحب
وعلیک۔ مولوی صاحب میں تو سمجھتا تھا کہ آپ اپنے مسیح موعود کے لٹریچر اور الہامات سے واقف ہوں گے۔ مگر افسوس میرا خیال غلط نکلا۔ میں آپ کی اس تحریر پر حیران ہوں کہ ہماری محفل میں آپ کے مسیح و مہدی کی ہتک اور بے عزتی کی جاتی ہے۔ مولوی صاحب نظر کمزور ہو۔ تو عینک لگا لیجئے اور روشنی کی طرف ہو کر (الوصیت ص ١٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠١، ٣٠٢) پر مرزا قادیانی کے عربی الہام (وحی مقدس و متواتر) پڑھئے۔ پھر اس کی تشریح جو مرزے نے (الوصیت ص ١٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠١، ٣٠٢) پر کی ہے۔ پڑھئے جو اس طرح پر ہے:
”اس جگہ یاد رہے کہ خدا کا یہ فرمانا کہ ہم تیری نسبت ایسے ذکر باقی نہیں چھوڑیں گے جو تیری رسوائی اور ہتک عزت کا موجب ہوں۔ اس فقرہ کے دو معنی ہیں:
- ١....... اوّل یہ کہ ایسے اعتراضات کو جو رسوا کرنے کی نیت سے شائع کئے جاتے ہیں۔ ہم دور
کر دیں گے اور ان اعتراضات کا نام ونشان نہ رہے گا۔
- ٢....... دوسرے یہ کہ ایسی شکایت کرنے والوں کو جو اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑتے اور بدذکر
سے باز نہیں آتے۔ دنیا سے اٹھالیں گے اور صفحہ ہستی سے معدوم کر دیں گے۔ تب ان کے نابود ہونے کی وجہ سے ان کے بیہودہ اعتراض بھی نابود ہو جاویں گے...... بعد اس کے تمہارا واقعہ ہوگا۔“
مولوی صاحب خدا کو حاضر ناظر جان کر فرمائیے۔ کیا اس الہام (وحی و متواتر) کے بعد اور مرزا کے حادثہ کے بھی بعد مرزے کی ہتک اور بے عزتی کرنا کسی کے اختیار میں رہا؟ اگر اب بھی اس کی ہتک اور بے عزتی ہو سکتی ہے تو وہ وحی مقدس و متواتر جھوٹی اور مرزا جھوٹے الہام خود گھڑ کر ان کو خدا کی طرف منسوب کرنے والا اور مفتری علی اللہ۔ لہٰذا اس کو جہنمی بے عزتی اور رسوائی بھی ہو کم کیونکہ ایسے شخص کو خدا سب سے بڑا ظالم قرار دیتا ہے اور معمولی ظالم پر لعنت بھیجتا ہے اور اگر مرزا سچا، اس کے الہام سچے اور خدا کی طرف سے، تو اس کے حادثہ یعنی اس کی موت کے بعد اس کی ہتک اور رسوائی کرنا ناممکن۔ کیونکہ ایسے اعتراضات کو خدا نے دور کر دیا اور اعتراض کرنے والوں کو خدا نے صفحہ ہستی سے معدوم کر دیا۔
٢٢٨
مولوی صاحب سابقہ دو اعتراضوں کے جوا
سوال کا جواب بھی عنایت فرماویں کہ آپ کے مسیح موعود توحید کی کے بعد اس کی ہتک اور رسوائی ہو سکتی ہے یا نہیں؟
اخیر میں عرض ہے کہ جس طرح آپ کے دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی سے مباحثہ کر ر قرار پاچکی تھی کہ وہ فریق مباحثہ کے پانچ پانچ پرچے ہو جائے۔ اس کا فرار سمجھا جاوے۔ گھر سے تار پہنچی تھی۔ یا آپ کا خسر بیمار ہے۔ اس کا خیال رہے کہ کوئی اس قسم کا تا
بابو صاحب........ گاموں یہ لے جا اور مولوی صاح
نووارد........ بابو صاحب اب ہم آپ سے مرخص ہیں۔ آ پھر صبح کی چائے یہیں آکر پیئیں گے اور کل کا دن ہمارا آ دوسرا دن اور دروازہ پر دستک۔ گاموں آئی قاضی صاحب اور نووارد اندر داخل ہو کر سلا
نووارد........ تشریف فرمائیے بابو صاحب! رات کیسے گز
بابو صاحب........ مولوی صاحب پوچھئے نہ کہ را بھونے ڈالتے تھے۔ دوسرے جانو کے بچوں کی چیخیں پی
نووارد........ بابو صاحب غنیمت سمجھئے کہ اس کے سارے رونا شروع کئے تھے۔ اگر سب کے سب زندہ رہتے تو
بابو صاحب........ مولوی صاحب بڑی بد بخت زیادہ بچے جنتی ہیں اور بڑی منحوس ہے ایسی اولاد جو اپنی ما
نووارد........ ہاں صاحب مگر ایسی اولاد بھی ہوتی ہی رہتی جس میں ایسی اولاد نہ ہوتی ہو۔ اس گاموں کے سسرال تھوڑے دن ہوئے۔ ان کے ہاں تین لڑکے پیدا ہو کسی ڈاکٹرنی نے مشتہر کرایا ہے کہ رہتک کے ہسپتال م
مولوی صاحب سابقہ دو اعتراضوں کے جوابات کے ساتھ براہ مہربانی اس تیسرے سوال کا جواب بھی عنایت فرما دیں کہ آپ کے مسیح موعود اور نبی اور مہدی اور مجدد وغیرہ وغیرہ کی فوتیدگی کے بعد اس کی ہتک اور رسوائی ہو سکتی ہے یا نہیں؟
اخیر میں عرض ہے کہ جس طرح آپ کے پیر و مرشد کو ایک ایسے ہی موقعہ پر جب وہ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی سے مباحثہ کر رہے تھے۔ شرائط مباحثہ میں ایک شرط یہ بھی قرار پا چکی تھی کہ دو فریق مباحثہ کے پانچ پانچ پرچے ہو جانے سے پہلے مباحثہ سے غیر حاضر ہو جائے۔ اس کا فرار سمجھا جاوے۔ گھر سے تار پہنچی تھی۔ یا کم از کم بیان کیا گیا تھا کہ تار پہنچی ہے کہ آپ کا خسر بیمار ہے۔ اس کا خیال رہے کہ کوئی اس قسم کا تار گوجرانوالہ سے نہ پہنچ جائے۔ خاکسار محمد دین ۔ بابو
بابو صاحب ....... گاموں یہ لے جا اور مولوی صاحب کو دے کر چلا آ۔
نووارد ....... بابو صاحب اب ہم آپ سے مرخص ہیں۔ اگر زندگی باقی ہے اور خدا کو منظور ہے تو کل پھر صبح کی چائے یہیں آ کر پئیں گے اور کل کا دن ہمارا آخری دن ہوگا۔ سلام علیکم، وعلیکم السلام۔
دوسرا دن اور دروازہ پر دستک ۔ گاموں آیئے جناب بیٹھ جاؤ ۔
قاضی صاحب اور نووارد اندر داخل ہو کر سلام علیکم، وعلیکم السلام۔
نووارد ....... تشریف فرمائیے بابو صاحب ! رات کیسے گزری؟
بابو صاحب ....... مولوی صاحب پوچھئے نہ کہ رات کس طرح گزری؟ ایک تو مچھر بدن بھونے ڈالتے تھے۔ دوسرے جانو کے بچوں کی چیخوں نے تمام رات آنکھ نہیں لگنے دی۔
نووارد ....... بابو صاحب غنیمت سمجھئے کہ اس کے سارے بچے زندہ نہیں ۔ ورنہ جس طرح اس نے دو دو جننے شروع کئے تھے۔ اگر سب کے سب زندہ رہتے تو آپ کو گھر میں رہنا دشوار ہو جاتا۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب بڑی بد بخت ہیں وہ مائیں جو ایک وقت میں ایک سے زیادہ بچے جنتی ہیں اور بڑی منحوس ہے ایسی اولاد جو اپنی ماں کی زندگی تلخ کر دیتی ہے۔
نووارد ....... ہاں صاحب مگر ایسی اولاد بھی ہوتی ہی رہتی ہے۔ میرے خیال میں کوئی محلہ ایسا نہیں جس میں ایسی اولاد نہ ہوتی ہو۔ اس گاموں کے سسرال کے گاؤں میں میرے ایک مہربان ہیں۔ تھوڑے دن ہوئے۔ ان کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے اور ابھی ابھی سول اینڈ ملٹری گزٹ میں کسی ڈاکٹرنی نے مشتہر کرایا ہے کہ رہتک کے ہسپتال میں کسی عورت کے پانچ بچے پیدا ہوئے ۔
٢٢٩
بیوی ...... مگر مرزا تو ایسی پیدائش کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی طرح نادرات سے قرار دیتا ہے۔ قاضی جی پڑھنا۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٨ ،خزائن ج ١٧ ص ٢٠٢)
بابو صاحب ...... گاموں چاہ کا بھی کچھ غم ہے یا نہیں؟
گاموں ...... جی او۔
قاضی صاحب ...... ”ہم اپنی کتابوں میں بہت جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ عاجز حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے رنگ میں بھیجا گیا ہے۔ بہت سے امور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں ایک ندرت تھی۔ اس عاجز کی پیدائش میں بھی ایک ندرت ہے اور وہ یہ کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور یہ امر انسانی پیدائش میں نادرات سے ہے۔...... حضرت مسیح کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی امور نادرہ میں سے ہے...... پس اس قسم کی پیدائش صرف اپنے اندر ایک ندرت رکھتی ہے۔ جیسے توام میں ایک ندرت ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔“ لاحول ولا قوۃ!
مولوی صاحب، آپ اپنا مضمون شروع کیجئے۔ آج ہم نے روانگی کی تیاری بھی کرنی ہے۔
بابو صاحب ...... اے لو چاہ آ گئی۔ پہلے چاہ سے فارغ ہو لیجئے۔
نووارد ...... بابو صاحب آپ کا رقعہ کل گاموں مولوی صاحب کو پہنچا آیا تھا۔ کیوں گاموں؟
بابو صاحب ...... جی ہاں! پہنچا تو آیا تھا۔ مگر کہتا ہے کہ اس کے سامنے انہوں نے رقعہ پڑھا نہیں۔ ایک دو آدمی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ اس لئے رقعہ لے کر جیب میں ڈال لیا اور یہ چلا آیا۔
نووارد ...... آدمی کون تھے؟
بابو صاحب ...... کہتا ہے کوئی مرزائی تھے۔
نووارد ...... بابو صاحب اگر مرزائیوں کے سامنے وہ آپ کے رقعہ کو پڑھتے؟ تو یقین جانیں آپ کے سوالوں کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔
قاضی صاحب ...... (پیالی ختم کرکے) اگر چہ یہ ان تینوں سوالوں کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔
نووارد ...... قاضی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔ زبانی مباحثات میں تو یہ الٹی سیدھی کچھ نہ کچھ کہہ جاتے ہیں۔ مگر تحریری جواب دینا کارے دارد اور دوسرے سوالات اور اعتراضات کی نوعیت سے
٢٣٠
مولوی صاحب کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ معاملہ کس سے ہے!
بابو صاحب ...... مولوی صاحب اگر ایسا لکھا پڑ اس فرقہ کو نہ چھوڑے تو جہلاء پر کیا گلہ ہو سکتا ہے؟
نووارد ...... بابو صاحب اس فرقہ کے لوگوں کا مزاج یہ جہاں اس میں داخل ہو جاوے تاکہ یہ ہر قسم کے حقوق ص ٦٦، خزائن ج ١٧ ص ١٩٨) پر مرزے نے لکھ دیا کہ ” انہیں کوئی ان کے مذہب کے جھوٹے ہونے کی کتنی ق اور کانوں میں انگلیاں ٹھوس لیتے ہیں۔ گویا ہم جو کچھ کہتے ہیں۔
بیوی ...... گاموں قاضی صاحب کے آگے کچھ بسکٹ
بابو صاحب ...... مولوی صاحب شک نہیں کہ کی طرح طرح کی خوشامد کر کے ان سے رسوخ پیدا کوشش میں رات دن لگانا۔ یہ کسی دن کچھ گل کھلا دے
بابو صاحب ...... گاموں یہ سب کچھ ہٹالے۔
نووارد ...... بیوی جی، گاموں کو کہہ دیجئے کہ بازار س سے پوچھتا آوے کہ جواب تیار ہو گیا یا نہیں۔ کیونکہ ہی اچھا ہے۔
بیوی ...... وہ بالا خانہ تو قصاب کے رستہ میں ہی ہے
قاضی صاحب ...... ایک آرام چوکی پر دراز ہو کر بیوی جی گھر میں پان ہوں تو ایک ٹکڑا پان کا بھی تم الہاموں کا اب لطف آئے گا۔
نووارد ...... اچھا سنئے!
٣٣...... ”تیرے لئے وہ مقام ہے۔ جہاں ان مولوی محمد علی صاحب ہمیں جواب دیں کہ نبوت کے
٣٤...... ”تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رہا
٢٣١
مولوی صاحب کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ معاملہ کس سے ہے اور یہ تیر کس کمان سے نکلے ہوئے ہیں۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب اگر ایسا لکھا پڑھا آدمی بھی صرف ضد اور ہٹ دھرمی سے اس فرقہ کو نہ چھوڑے تو جہلاء پر کیا گلہ ہو سکتا ہے؟
نووارد ....... بابو صاحب اس فرقہ کے لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ جس فرقہ میں ہم داخل ہو گئے ۔ سارا جہاں اس میں داخل ہو جاوے تا کہ یہ ہر قسم کے حقوق حاصل کر کے کچھ بن جاویں۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٦٦، خزائن ج ١٧ ص ١٩٨) پر مرزے نے لکھ دیا کہ ”ہمیشہ کی محکومیت جیسی اور کوئی ذلت نہیں۔“ انہیں کوئی ان کے مذہب کے جھوٹے ہونے کی کتنی ہی دلائل پیش کرے۔ آنکھیں بند لیتے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ گویا ہم جو کچھ انہیں کہتے ہیں۔ کسی اپنے فائدہ کے واسطے کہتے ہیں۔
بیوی ....... گاموں قاضی صاحب کے آگے کچھ بسکٹ اور رکھ۔
بابو صاحب ....... مولوی صاحب شک نہیں کہ اس فرقہ میں پولیٹیکل عنصر بہت ہے۔ حکام کی طرح طرح کی خوشامد کر کے ان سے رسوخ پیدا کرنا۔ اپنی ہر طرح کی طاقت بڑھانے کی کوشش میں رات دن لگانا۔ یہ کسی دن کچھ گل کھلاوے گا۔
بابو صاحب ....... گاموں یہ سب کچھ ہٹالے۔
نووارد ....... بیوی جی، گاموں کو کہہ دیجئے کہ بازار سے سودا وغیرہ لینے جاوے تو مولوی صاحب سے پوچھتا آوے کہ جواب تیار ہو گیا یا نہیں۔ کیونکہ آج جتنی جلدی بھی ہم فارغ ہو جاویں۔ اتنا ہی اچھا ہے۔
بیوی ....... وہ بالا خانہ تو قصاب کے رستہ میں ہی ہے۔ وہاں بھی ہوتا آئے گا۔
قاضی صاحب ....... ایک آرام چوکی پر دراز ہو کر۔ گاموں برتن سنبھال کے ایک حقہ بھی بھر لا۔ بیوی جی گھر میں پان ہوں تو ایک بیڑا پان کا بھی تمباکو والا لگا دیں۔ مولوی صاحب مرزے کے الہاموں کا اب لطف آئے گا۔
نووارد ....... اچھا سنئے!
- ٣٣ ....... ”تیرے لئے وہ مقام ہے۔ جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا۔“
مولوی محمد علی صاحب ہمیں جواب دیں کہ نبوت کے دعوے کے سر کیا سینگ ہوا کرتے ہیں؟
- ٣٤ ....... ”تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا ۔“ مولوی محمد علی صاحب
٢٣١
ہمیں جواب دیں کہ قرآن شریف میں جو اللہ تعالیٰ (پ١٩ ع٣) میں فرماتا ہے: ”وَ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا“ اس میں اللہ تعالیٰ نے کیوں فرمایا کہ ہم نے تم سب لوگوں کے واسطے رات کو پردہ پوش اور نیند کو موجب راحت بنایا اور دن کو اس غرض سے بنایا کہ لوگ چلیں پھریں۔ کیا دنیا کی پیدائش سے لے کر مرزے کی پیدائش تک جتنے انسان اور رات کو سونے والے حیوان پیدا ہوئے مرزے کے طفیل سے تھے کہ رات اور دن خدا نے پیدا تو کئے مرزے کے واسطے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر وغیرہ وغیرہ مرزے کے طفیل سے ان سے فائدہ اٹھاتے رہے اور مولوی صاحب امیر لاہوری پارٹی یہ بھی فرما دیں کہ مرزے کے ہلاک ہو جانے کے بعد اب خدا نے یہ دن رات کس لئے قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس شخص کی لن ترانیوں کی کوئی حد بھی ہے؟
- ٣٥....... ”تیری میری طرف وہ نسبت ہے۔ جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔“ بابو صاحب غور
فرماویں:
- الف....... لاہوری پارٹی کو آگاہی ہے کہ مرزا مجدد ہے۔ مسیح موعود ہے اور مہدی موعود ہے۔
- ب....... قادیانی پارٹی کو آگاہی ہے کہ مرزا ان کے علاوہ نبی بھی ہے۔
- ج....... مولوی ظہیر الدین کی پارٹی کو آگاہی ہے کہ مرزا رسول یا صاحب شریعت بھی تھا۔
پھر وہ کون سا درجہ مرزے کا سوا خدائی کے کوئی اور ہے جس کی مخلوق کو خبر نہیں۔ اللہ تیری شان! بابو صاحب آپ کو یقین نہیں تو مرزے کا ایک کشف بھی سن لیں۔ جو (کتاب البریہ ص٧٨، خزائن ج١٣ ص١٠٣) سے شروع ہوتا ہے۔ (ترجمہ) ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں (توبہ نعوذ باللہ نو وارد) اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔ یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قوت و قدرت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔...... اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم نیا نظام اور
٢٣٢
نیا آسمان اور نئی زمین بناتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر
قاضی صاحب اب تو آپ مرزے پر یہ ا فیکون کے اختیارات کیوں کہیں استعمال کر کے نہ دکھا
لو سرو کو تہمت نہ رعی
قاضی صاحب....... مولوی صاحب وہ مرزے کا تو
نو وارد....... قاضی صاحب افسوس! آپ کو اتنی بھی خبر یعنی آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی والے بیوی بچوں رہتے ہیں اور کروڑ ہا دہرئیے، ہندو، آریئے، سکھ، یہو مرزا قادیانی نے توڑ دی۔ صلیب شکستہ حالت میں اسی
قاضی صاحب....... وہاں ان کا مشغلہ کیا ہے؟
نو وارد....... مشغلہ کیا ہونا تھا۔ مرزا قادیانی نے اس صفائی سے انہیں فرصت نہیں ہوتی۔ ہاں غریب بشیر ک نے کسی بیمار کا علاج کر دیا۔ یا کسی قیدی کو چھوڑ دیا۔
بابو صاحب....... (بڑے زور سے) کیا وہ شیط
بیوی....... (باورچی خانہ سے باہر نکل کر) اجی وہ ت بابت کہتا تھا کہ ان کے بالا خانہ پر قفل لگا پڑا ہے۔ م کر آوے کہ مولوی صاحب کہاں ہیں؟ اور قفل لگنے ک
قاضی صاحب....... مرزا قادیانی کا یہ کشف سن اس کے یہ معنے لیں کہ کسی ایسی چیز کو صفائی قلب سے ان آنکھوں سے ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ تب بھی یہ ک نے راجہ صاحب کے ایک خیاط پیش کر کے کہا کہ مہار بنا سکتا ہوں کہ پہننے والے کو نظر نہ آوے اور سب ک
٢٣٣
نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب وتفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا۔“
قاضی صاحب اب تو آپ مرزے پر یہ اعتراض نہ کریں گے کہ مرزے نے اپنے کن فیکون کے اختیارات کیوں کہیں استعمال کر کے نہ دکھائے:
لو سرو کو تہمت نہ رہی بے ثمری کی
قاضی صاحب...... مولوی صاحب وہ مرزے کا زمین و آسمان بنایا ہوا ہے کہاں؟
نووارد...... قاضی صاحب افسوس! آپ کو اتنی بھی خبر نہیں۔ مرزا قادیانی بمعہ اپنی آسمانی منکوحہ یعنی آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی والے بیوی بچوں اور فرزند دلبند بشیر صنموائیل کے اسی میں تو رہتے ہیں اور کروڑہا دہریئے، ہندو، آریئے، سکھ، یہودی اسلام لا کر اور تمام عیسائی جن کی صلیب مرزا قادیانی نے توڑ دی۔ صلیب شکستہ حالت میں اسی میں مرزے قادیانی کے ساتھ آباد ہیں۔
قاضی صاحب...... وہاں ان کا مشغلہ کیا ہے؟
نووارد...... مشغلہ کیا ہونا تھا۔ مرزا قادیانی نے اس آسمان میں لیمپ اتنے لگا دیئے کہ انہی کی صفائی سے انہیں فرصت نہیں ہوتی۔ ہاں غریب بشیر کو کبھی جلد جلد بڑھنے سے فرصت ملی تو کبھی اس نے کسی بیمار کا علاج کر دیا۔ یا کسی قیدی کو چھوڑ دیا۔
بابو صاحب...... (بڑے زور سے) کیا وہ شیطان کا موں اب تک نہیں آیا؟
بیوی...... (باورچی خانہ سے باہر نکل کر) اجی وہ سودا تو مدت ہوئی لاچکا۔ مولوی صاحب کی بابت کہتا تھا کہ ان کے بالا خانہ پر قفل لگا پڑا ہے۔ میں نے اسے پھر بھیجا ہے کہ پختہ طور پر دریافت کر آوے کہ مولوی صاحب کہاں ہیں؟ اور قفل لگنے کی وجہ کیا ہے؟
قاضی صاحب...... مرزا قادیانی کا یہ کشف سن کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشف ہے کیا چیز؟ اگر اس کے یہ معنے لیں کہ کسی ایسی چیز کو صفائی قلب سے دیکھ لینا جو واقعہ میں اپنا وجود تو رکھتی ہے۔ لیکن ان آنکھوں سے ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ تب بھی یہ کشف غلط ۔ کہتے ہیں کسی پہاڑی راجہ کے وزیر نے راجہ صاحب کے ایک خیاط پیش کر کے کہا کہ مہاراج! یہ درزی دعویٰ کرتا ہے کہ میں ایسا لباس بناسکتا ہوں کہ پہننے والے کو نظر آوے اور سب کو نظر نہ آوے اور یہ لباس قیمتی اور فاخرہ ہوگا کہ اور
٢٣٣
کسی مہاراجہ کے پاس ویسا نہ ہوگا۔ مگر اتنا روپیہ اس کے اخراجات کے واسطے پیشگی ملنا چاہئے۔
راجہ صاحب نے کہا منظور ہے۔ ہمارے واسطے بہت جلد بنایا جائے۔ درزی پیشگی روپیہ لے کر چلا گیا۔ ایک ماہ کے بعد دربار میں اس طرح حاضر ہوا کہ گویا اس نے کچھ کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں۔ راجہ صاحب کو جھک کر سلام کیا اور کہا کہ اپنے کپڑے اتاریئے اور یہ پہن لیجئے۔ چنانچہ وہ راجہ صاحب کے کپڑے اتارتا گیا اور اپنا پہناتا گیا۔ کبھی سر پر سے ہاتھ گزار کر گریبان ڈالا۔ کبھی بانہیں اونچی کر کے آستینیں پہنائیں۔ بٹن لگائے۔ پاجامہ پہنا کر ازار بند باندھا۔ جب لباس پہنا گیا تو راجہ صاحب نے درباریوں کی طرف دیکھا۔ سب نے کہا واہ مہاراج واہ۔ کس کی مجال یہ کہے کہ مہاراج آپ برہنہ ہیں؟ دن بھر تو راجہ صاحب نے اسی لباس میں دربار کیا۔ شام ہوئی تو محل میں گئے۔ اسی خوشی میں کہ رانیاں یہ لباس فاخرہ دیکھ کر خوش ہوں گی۔ لیکن جب رانیاں آپ سے منہ چھپا کر بھاگیں۔ تو آپ کو معلوم ہوا کہ درزی مجھے الو بنا گیا۔
پس اس کشف کا زمین و آسمان، راجہ صاحب کی پوشاک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
کیونکہ ایک نیا آسمان نہیں۔ اگر ایک نیا ستارہ بھی آسمان پر نمودار ہوتا ہے۔ تو ہیئت دان معلوم کر لیتے ہیں کہ ایک نیا ستارہ نمودار ہوا ہے اور اگر کشف کے معنے لیں کہ کسی شخص کے دماغ میں کسی خیال کا پیدا ہو جانا جو حقیقت حال سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ تو مرزے کی معمولی چالاکیوں میں سے ایک چالاکی اور یہ کوشش کہ کسی مجذوب اور دیوانہ مسلمان سے بھی میں دوم درجہ نہ رہ جاؤں۔
بیوی ...... اجی گاموں آ گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بالا خانہ کے دائیں بائیں کے دکانداروں نے یہی بتایا ہے کہ ہم نو دس بجے دکان بند کر کے گئے۔ ہم اس بالا خانہ کو کھلا چھوڑ کر گئے۔ صبح دکان آ کر کھولی تو قفل لگا پایا۔ اس لئے میں نے اسٹیشن پر جا کر دریافت کیا تو بابو غلام رسول نے بتایا کہ مولوی صاحب تو ١٢ بجے رات کی گاڑی میں سوار ہو گئے ۔ ٹکٹ انہوں نے گوجرانوالہ کا لیا تھا۔
بابو صاحب ...... مولوی صاحب آپ کی پیش بندی نے کچھ نہ کیا۔ مرزے کی طرح غالباً مولوی صاحب کا بھی خسر بیمار ہو گیا۔
نو وارد ...... بابو صاحب، مولوی صاحب تو مرزے کی سنت ادا کر کے داخل ثواب ہو گئے ۔ لیکن اگر آپ کے اعتراضات یا سوالات کے جوابات سے عاجز رہ کر پھر بھی اسی فرقہ میں رہے۔ تو پھر اس میں کچھ شک باقی نہیں رہے گا کہ یہ ایک پولیٹیکل فرقہ ہے۔ جس کو حق باطل سے کچھ سروکار نہیں۔
٢٤٤
٢٤١
بابو صاحب ...... بآواز بلند کھانا تیار ہو گیا ہو تو لے آؤ۔
بیوی ...... کھانا تیار ہے۔ ذرا چاول دم ہولیں۔ گاموں گئے۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب آپ کی اس کشف کو
نو وارد ...... میری اس کشف کی نسبت وہی رائے ہے جو م ہے۔ جو (ضمیمہ حقیقت الوحی ص٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٩٨) پر گئے۔ مگر کسی نے اپنی تصویر اس طرح آنکھیں نیم باز کر کے جو ثابت کرے کہ:
اس تصویر کو کسی ڈٹیکٹیو کے محکمہ میں بھیج کر دریافت ہے تو مجھے یقین نہیں کہ وہ اس تصویر کو آپ کو واپس دیں۔ قا
قرآن مجید میں (پ٢٢ ع ١٧) فرما دے کہ خدا کے سوا تم ج انہوں نے کونسی زمین بنائی ہے؟ یا آسمانوں کے بنانے میں کہ خود ہی مرزے میں گھس کے اس سے زمین و آسمان پیدا منہ بولے بیٹے کو پکارا جاوے تو خدا کے پاس کونسی حجت باقی
بابو صاحب ...... مگر اس کی مرزے نے کچھ تاویل بھ
نو وارد ...... بابو صاحب افسوس آپ نے مرزے کو آج ک اشخاص (منکرین) کے لئے ہے۔ نہ کہ مان لینے والوں کے
قاضی صاحب ...... (دستر خوان اپنی طرف کھینچتے ہوئے مرزے کو ایسی باتیں بنانے سے فائدہ کیا تھا؟
نو وارد ...... قاضی صاحب کھانا کھا لیجئے۔ مولوی صاح گوجرانوالہ جاپہنچے۔ پس ہمارا یہ آخری دن ہے اور میں ا ترائیوں اور بیچومن دیگرے نیست کے مضمون پر ختم ک کر کھائیں۔ ایسا نہ ہو کہ میرا تو مغز خالی ہو جائے اور آپ خ
٢٤٥
بابو صاحب ...... بآواز بلند کھانا تیار ہو گیا ہو تو لے آؤ۔
بیوی ...... کھانا تیار ہے۔ ذرا چاول دم ہولیں۔ گاموں اتنے میں ہاتھ دھلا۔ ہاتھ دھوئے گئے۔
قاضی صاحب ...... مولوی صاحب آپ کی اس کشف کی نسبت کیا رائے ہے؟
نو وارد ...... میری اس کشف کی نسبت وہی رائے ہے جو مرزا قادیانی کی تصویر کی نسبت رائے ہے۔ جو (ضمیمہ حقیقت الوحی ص٧٢، خزائن ج٢٢ ص٦٩٨) پر درج ہے۔ بڑے بڑے بزرگ گزر گئے۔ مگر کسی نے اپنی تصویر اس طرح آنکھیں نیم باز کر کے اور گردن کو خم دے کر نہیں اتروائی۔ جو ثابت کرے کہ:
اس تصویر کو ٹھگی ڈکیتی کے محکمہ میں بھیج کر دریافت کریں کہ یہ شخص کس چال چلن کا آدمی ہے تو مجھے یقین نہیں کہ وہ اس تصویر کو آپ کو واپس دیں۔ قاضی صاحب غضب خدا کا، خدا تو اپنے قرآن مجید میں (پ٢٢ ع ١٧) فرمادے کہ خدا کے سوا تم جنہیں پکارتے ہو ذرا مجھ کو بھی تو دکھاؤ۔ انہوں نے کونسی زمین بنائی ہے؟ یا آسمانوں کے بنانے میں ان کا کچھ ساجھا ہے؟ اور برخلاف اس کے خود ہی مرزے میں گھس کے اس سے زمین و آسمان پیدا کراتا۔ اب اگر سوائے خدا کے اس کے منہ بولے بیٹے کو پکارا جاوے تو خدا کے پاس کونسی حجت باقی رہ گئی؟
بابو صاحب ...... مگر اس کی مرزے نے کچھ تاویل بھی تو کی ہے۔
نو وارد ...... بابو صاحب افسوس آپ نے مرزے کو آج تک نہ پہچانا۔ یہ تاویل تو صرف فہمیدہ اشخاص (منکرین) کے لئے ہے۔ نہ کہ مان لینے والوں کے واسطے۔
قاضی صاحب ...... (دسترخوان اپنی طرف کھینچتے ہوئے) مولوی صاحب میں حیران ہوں کہ مرزے کو ایسی باتیں بنانے سے فائدہ کیا تھا؟
نو وارد ...... قاضی صاحب کھانا کھا لیجئے۔ مولوی صاحب تو مرزا قادیانی کی سنت موکدہ میں گوجرانوالہ جاپہنچے۔ پس ہمارا یہ آخری دن ہے اور میں انشاء اللہ آج اپنی تقاریر کو مرزے کی لن ترانیوں اور ہفوات دیگرے نیست کے مضمون پر ختم کردوں گا۔ آپ ذرا کھانا بھوک رکھ کر کھائیں۔ ایسا نہ ہو کہ میرا تو مغز خالی ہو جائے اور آپ خراٹے بھرتے ہوں۔
٢٣٥
بیوی ...... مولوی صاحب آپ تو ہمارے قاضی صاحب کے کھانے کو ہی ہمیشہ ٹوکتے رہتے ہیں۔ قاضی صاحب کھائیے اور خوب کھائیے۔ یہ چاول تو میں نے آپ ہی کی خاطر دم کئے ہیں۔ اگر آپ نے نہ کھائے تو ان کے دام دینے پڑیں گے۔
گاموں ...... قاضی جی خیر میں تھانوں نپ کے تہاڈے پچھے بیٹھا رہاں گا۔
نووارد ...... اور گاموں مرزا قادیانی کا فصیح و بلیغ مصرعہ بھی پڑھتا جائیو جاگو جاگو آریو، نیند نہ کرو پیار۔
قاضی صاحب ...... (منہ میں نوالہ ڈال کر) بابو صاحب میں آپ سے سچ کہتا ہوں (نوالہ نگل کر اور گاموں کو پانی کا اشارہ کر کے) کہ نیند میرے اپنے اختیار میں ہے۔
نووارد ...... اچھا آپ کھائیں جتنا چاہیں۔ لیکن میری تقریر میں اگر آپ نے ایک آنکھ بھی بند کی تو پھر آپ تماشہ دیکھیں گے۔
قاضی صاحب ...... نہ مولوی صاحب آنکھیں کھلی رکھنا تو میرے اختیار میں نہیں۔ مگر حقیقت میں میں جاگتا ہوا کرتا ہوں۔
بیوی ...... ہاں اس کا تو مقبول کی والدہ بھی مجھ سے ذکر کرتی تھیں۔ قہقہہ۔ اور سب نے ہاتھ اٹھا کر : ”الحمد لله الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین والحمد لله رب العلمین“
بیوی ...... گاموں سب سے پہلے یہ ہڈیوں کا ڈھیر بابو صاحب کے سامنے سے اٹھا کر موتی کو ڈال دے کہ اس کا وقت ضائع نہ ہو اور مولوی صاحب میرے آنے تک تقریر شروع نہ کیجئے گا۔
نووارد ...... نہیں بیوی جی تم کھانا بافراغت کھا آؤ۔ ابھی تو ہم نے پان کھانا ہے۔ حقہ پینا ہے۔ ہاں آتے ہوئے احسن التفاسیر کی ساتویں منزل لیتے آنا۔
نووارد ...... اچھا بابو صاحب آج تو ہمارا کوچ ہے۔ کوہاٹ کی کوئی خدمت میرے لائق ہوا کرے تو بلا تکلف اطلاع دیا کریں۔
قاضی صاحب ...... اور میری طرف سے بھی یہی معروض سمجھیں۔
١؎ یعنی قاضی جی آپ خوب کھانا کھائیں۔ نیند سے نہ ڈریں۔ آپ کو پکڑے آپ کے پیچھے بیٹھا رہوں گا۔ گرنے نہ دوں گا۔
٢٤٦
بابو صاحب ...... اجی یہ تو آپ صاحبان کی نوازش ناچیز کو آپ یاد رکھیں گے اور کبھی کبھی اپنی خیریت کا کارڈ
نووارد ...... بابو صاحب آپ کا سلوک ہمارے ساتھ ا ہاں میرے ہاتھ میں چونکہ رعشہ ہے۔ خط لکھنا مجھے بڑا اسٹیشن چھوڑ آئیں تو مجھے بذریعہ کارڈ اطلاع دے دیا کر
بیوی ...... لیجئے مولوی صاحب یہ احسن التفاسیر لیجئے۔
نووارد ...... لیجئے قاضی صاحب اب میری طرف متوجہ بات پر ایمان ہے کہ:
یعنی خدا کی عبادت کرنے والوں کو جب ا ہیں۔ بلکہ میرے خیال میں سچے جھوٹے بزرگ میں ف روز ایک نیا قصہ لوگوں کو سناتا ہے۔ مرزے نے اپنی تما نے فرمایا ہے تو ایسا ہے تو وہ ہے۔ تیرا میرے ساتھ ا اعتراض کیا تو فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ’اما بنع خزائن ج ٢٢ ص ٧٠ ) یعنی خدا کی نعمتوں کا لوگوں سے ذک اس الہام کی تعمیل کرتا ہوں۔ کسی نے تو قر معنی ہیں؟ جو یہ ہمیں بتا رہا ہے۔ یا کچھ اور۔ پس میں سناتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو جاوے کہ مرزے نے بلند کرنے کے لئے کیسی لوگوں کی آنکھوں میں دھول سورۃ کی تفسیر احسن التفاسیر میں یوں لکھتا ہے:
”اگر چہ مفسروں نے اس سورۃ کے شان سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے۔ جس کا حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہو گئے تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے۔ یہ دیکھ کر ام جمیل ا
٢٤٧
بابو صاحب....... اجی یہ تو آپ صاحبان کی نوازشات ہیں۔ مجھ پر بڑی مہربانی ہوگی کہ اس ناچیز کو آپ یاد رکھیں گے اور کبھی کبھی اپنی خیریت کا کارڈ ڈال دیا کریں گے۔
نو وارد...... بابو صاحب آپ کا سلوک ہمارے ساتھ ایسا نہیں رہا کہ ہم آپ کو کبھی بھول سکیں۔ ہاں میرے ہاتھ میں چونکہ رعشہ ہے۔ خط لکھنا مجھے بڑا دوبھر معلوم ہوتا ہے۔ ہاں جب کبھی آپ اسٹیشن چھوڑا کریں تو مجھے بذریعہ کارڈ اطلاع دے دیا کریں کہ آئندہ میرا پتہ یہ ہوگا۔
بیوی....... لیجئے مولوی صاحب یہ احسن التفاسیر لیجئے۔
نو وارد....... لیجئے قاضی صاحب اب میری طرف متوجہ ہو جائیے۔ آپ کا ایمان ہو نہ ہو۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ:
یعنی خدا کی عبادت کرنے والوں کو جب کچھ مل جاتا ہے۔ تو پھر وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ بلکہ میرے خیال میں سچے جھوٹے بزرگ میں تمیز یہی ہے کہ پہلا خاموش ہے اور دوسرا ہر روز ایک نیا قصہ لوگوں کو سناتا ہے۔ مرزے نے اپنی تمام کتابیں اسی بات سے پر کردیں۔ مجھے خدا نے فرمایا ہے تو ایسا ہے تو وہ ہے۔ تیرا میرے ساتھ فلانا تعلق ہے۔ یہ ہے اور وہ ہے۔ کسی نے اعتراض کیا تو فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ”اما بنعمة ربك فحدث“ (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠ ) یعنی خدا کی نعمتوں کا لوگوں سے ذکر کر۔
اس الہام کی تعمیل کرتا ہوں۔ کسی نے تو قرآن کھول کر نہ دیکھا کہ کیا اس آیت کے یہی معنی ہیں؟ جو یہ ہمیں بتا رہا ہے۔ یا کچھ اور۔ پس میں آج اس سورۃ الضحیٰ کی تفسیر آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو جاوے کہ مرزے نے لن ترانیاں ہانک ہانک کر اپنا پایہ سب سے بلند کرنے کے لئے کیسی لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالی اور آیت سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ اس سورۃ کی تفسیر احسن التفاسیر میں یوں لکھتا ہے:
”اگر چہ مفسروں نے اس سورۃ کے شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں۔ سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے۔ جس کا ذکر صحیحین کی جندب کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہو گئے تھے۔ اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے۔ یہ دیکھ کر ام جمیل ابولہب کی بی بی نے کہا کہ محمد ﷺ کے رب نے
٢٣٧
محمد ﷺ کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کر دیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے رنج رفع ہو جانے کی غرض سے یہ سورۃ نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے۔ نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کا رنج رفع کرنے کے لئے یہ بھی فرمایا کہ دنیا تو اسی طرح کے رنج والم پیش آنے کی جگہ ہے۔ مگر چند روزہ دنیا گزر جانے کے بعد اے نبی اللہ کے تمہارے لئے عقبیٰ میں بڑے بڑے درجے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی اسی طرح کی نصیحتوں کے اثر سے آنحضرت ﷺ دنیا کی کسی راحت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ امام احمد ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن بوریا پر سونے سے آنحضرت ﷺ کے پہلو پر نشان پڑ گئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھ کو معلوم ہوتا تو میں بوریا پر کوئی چیز بچھونے کے طور پر بچھا دیتا۔ یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے۔ اس لئے مجھ کو دنیا کی راحت درکار نہیں۔ میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی مسافر تھوڑی دیر کسی سایہ دار درخت میں ٹھہر جاتا ہے۔“
حاضرین بیک زبان ہو کر سبحان اللہ، سبحان اللہ! سچے نبی کیسے دنیاوی راحتوں سے الگ رہتے تھے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ آیت: ”ولسوف يعطيك ربك فترضىٰ“ کی شان نزول کی بابت صحیح سند سے تفسیر ابن ابی حاتم مستدرک حاکم بیہقی طبرانی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام کے عہد میں پیش آیا کہ دور دور کے تمام شہر فتح ہو گئے اور اسلام کو نہایت ترقی ہوئی اور امت محمدیہ کو ہر طرح کی راحت نظر آئی۔ اس حال کے معلوم ہونے سے آنحضرت ﷺ بہت خوش ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو زیادہ خوش کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی راحت کے علاوہ اے نبی اللہ کے تمہارے امت کو اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی وہ راحت دینے والا ہے۔ جس سے تم خوش ہو جاؤ گے۔ اس معنی کی پوری تائید صحیح مسلم کی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی حدیث سے ہوتی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک روز قیامت کے دن کا امت محمدیہ کا انجام یاد کر کے رونے لگے۔
٢٣٨
٢٤٥ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ اے نبی اللہ قیامت کے دن میں تمہاری امت کے ساتھ وہ برتاؤ کروں گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس س میں حضور ﷺ پر کئے گئے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ دنیا جیسی امتحان کی جگہ جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا یہ حال ہے تو آخرت جیسی جگہ میں جو عین احسان کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا کیا حال ہو گا۔ چنانچہ فرمایا کہ پایا تجھ کو بھٹکتا کا مطلب ہے کہ منصب نبوت قرآن و شریعت تم کو معلوم نہ تھی۔ حضرت کی پیدائش سے پہلے آپ کے والد کا انتقا ل ہو گیا تھا۔ جب والدہ کا انتقال ہو گیا اور والدہ کے انتقال کے بع د آپ کی پرورش آپ کے دادا عبدالمطلب نے اپنے ذمہ لی۔ جب آپ کی عمر ٨ سال ہوئی تو عبد المطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد آپ کے چچا ابو طالب نے آپ کو پالا اور آپ بڑے ہوئے اور حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے نکاح کے بعد آپ کی تنگدستی رفع ہو گئی۔
ان ہی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور اس ذکر م یں آپ کی یتیمی اور تنگدستی یاد دلا کر یتیموں اور تنگدستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور اللہ کے احسان کا بیان کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جو احسان ہم نے کیا ہے وہ بیان کیا جائے۔ قاضی صاحب سن لیا آپ نے ”واما بنعمة ربك فح دث“ کا مطلب۔ قاضی صاحب ....... بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک۔“
مرزا جی کے ڈھنڈورے۔ اس آیت کے معنی یہ نہیں کہ دف لے کر ڈھنڈورہ پیٹا جاوے کہ مجھ سے خدا باتیں کرتا ہے۔ مجھ پر خدا کے الہام بارش کی طرح برستے ہیں۔ مجھ سے خدا اپنے چہرہ سے کس طرح نقاب اٹھاتا ہے۔ خدا مجھے کہتا ہے لوگوں کو ہم نے خشکی سے پیدا کیا۔ تجھے اپنے پانی ۔ خدا نے مجھے کُنْ فَیَکُوْن کے اختیارات دے دیئے۔ مجھے کہتا ہے کہ میں عرش پر بیٹھا تیری حم سن رہا ہوں۔ زمین و آسمان تیرے لئے پیدا کئے۔ میں نے رات دن تیرے لئے پیدا کئے۔ میں اور میرے فرشتے تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے میرے ساتھ ہیں۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں اپنی فوجوں کے ساتھ تیری مدد کروں گا۔ اور وہ ہے۔
نو وارد ..... قاضی صاحب اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھنا ہ
٢٣٩
اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی اللہ قیامت کے دن میں تمہاری امت کے ساتھ وہ برتاؤ کروں گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر کئے تھے۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ دنیا جیسی امتحان کی جگہ جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا یہ حال ہے۔ تو عقبیٰ جیسی جگہ میں جو عین احسان کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا کیا حال ہوگا؟
پایا تجھ کو بھٹکتا کا مطلب ہے کہ منصب نبوت قرآن کی نصیحتیں ان میں سے کوئی چیز بھی تم کو معلوم نہ تھی۔ حضرت کی پیدائش سے پہلے آپ کے والد کا انتقال ہو گیا اور آپ کی عمر چھ برس کی تھی۔ جب والدہ کا انتقال ہو گیا اور والدہ کے انتقال کے بعد آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی پرورش اپنے ذمہ لی۔ جب آپ کی عمر ٨ سال ہوئی تو عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔ پھر آپ کے چچا ابو طالب نے آپ کو پالا اور آپ بڑے ہوئے اور حضرت خدیجہؓ سے نکاح ہو جانے کے بعد آپ کی تنگدستی رفع ہو گئی۔
ان ہی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور اس ذکر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کی یتیمی اور تنگدستی یاد دلا کر یتیموں اور تنگدستوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی نصیحت فرمائی ہے اور اللہ کے احسان کا بیان کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ قاضی صاحب سن لیا آپ نے ”واما بنعمة ربك فحدث“ کے کیا معنے ہیں؟
قاضی صاحب ...... بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک۔ عقل انسانی بھی یہی مانتی ہے۔ اس کے معنے یہ نہیں کہ دف لے کر ڈھنڈورہ پیٹا جاوے کہ مجھ سے خدا قریباً ہر روز باتیں کرتا ہے۔ مجھ پر الہام بارش کی طرح برستے ہیں۔ مجھ سے خدا اپنے چہرہ سے کسی قدر پردہ اٹھا کر باتیں کرتا ہے۔ مجھے کہتا ہے لوگوں کو ہم نے خشکی سے پیدا کیا۔ تجھے اپنے پانی سے۔ مجھے اس نے کن فیکون کے اختیارات دے دیئے۔ مجھے کہتا ہے کہ میں عرش پر بیٹھا تیری حمد کرتا ہوں۔ میں نے زمین و آسمان تیرے لئے پیدا کئے۔ میں نے رات دن تیرے لئے پیدا کئے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے میرے ساتھ ہیں۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں اپنی فوجوں سمیت تیرے ساتھ ہوں۔ یہ ہے اور وہ ہے۔
نووارد ...... قاضی صاحب اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ مرزے نے جو ان لن ترانیوں
٢٣٩
کے الہاموں سے اپنی کتابیں بھر دیں۔ ان الہاموں کو اس نے کس لہجہ میں بیان کیا ہے؟ آیا اپنی بڑائی اور مسیحیت اور اپنے مخالفوں کی ذلت میں یا کبھی اس نے کسی الہام کے بیان کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ خدا کا شکر ہے۔ یا خدا کا احسان ہے کہ اس نے مجھے یہ الہام کیا ہے؟ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے۔ مرزے نے اپنے الہاموں کا ذکر شکریہ کے لہجہ میں نہیں کیا۔ پس مرزے کا اس آیت کی آڑ لینا ثابت کرتا ہے کہ اول تو مرزے نے اس آیت کے معنے ہی غلط کئے۔ دوم ان معنوں پر بھی کار بند نہ ہوا۔ لو بیوی جی بندہ اپنا فرض ادا کر چکا۔ اب آپ کے بابو صاحب جانیں اور مرزائی جانیں۔
بابو صاحب ...... مولوی صاحب آپ نے مجھے ایسا گدھا سمجھا کہ مرزے کے اس قدر حالات معلوم ہو جانے کے بعد بھی میں کبھی مرزے کو سچا مان لوں گا۔ استغفر اللہ، توبہ ، نعوذ باللہ۔
بیوی ...... مولوی صاحب اس جلتی دھوپ اور گرمی میں آپ کہاں جائیں گے؟ ریل تو آپ کی رات ١٢ بجے جائے گی۔ پھر یہیں کیوں آرام نہیں کرتے؟
نودارو ...... بیوی جی نہ مجھے دن کو عادت سونے کی نہ آپ کی چھت کے نیچے مجھے آرام کی توقع ۔ اگر میں دو پہر یہیں گزاروں تو کیا تم مجھے چین لینے دو گی؟
بیوی ...... کھکھلا کے ہنسنے کے بعد ۔ مولوی صاحب میں آپ سے ایک سوال سے زیادہ نہیں کروں گی۔
نودارو ...... قاضی جی، قاضی جی ۔
بیوی ...... اجی چھوڑیئے۔ انہیں آنکھ لگا لینے دیجئے۔
نودارو ...... اچھا بیوی جی فرمائیے۔ آپ کا سوال کیا ہے؟
بیوی ...... میں صرف یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ مرزے کو مرے ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں گزرے۔ ان کے متبعین کی کتنی پارٹیاں بن گئیں اور کیوں اور ان کے اعتقادات میں کیا اختلاف ہے اور کیوں؟
نودارو ...... بیوی جی تم نے سنا ہو گا کہ شیر جنگل میں کسی جانور کا شکار کر کے اس کا خون پی کر چل دیتا ہے۔ اس کے بعد بھیڑیئے، چیتے ، گیدڑ وغیرہ اس کا گوشت کھاتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے قلم کے زور سے مسلمانوں کا شکار کر کے ان کا خون پی کر چل دیئے۔ اب باقی مسلمانوں کا گوشت کھا
٢٤٠
رہے ہیں۔ اگر سب یک رائے ہو جائیں۔ تو لیڈر صرف ایک بننے کا شوق ہوا۔ اس نے دوسرے سے تھوڑی سے نا اتفاقی گوشت اسی جانور کا کھاتے ہیں۔ جس کا مرزا قادیانی نے شکا یعنی مرزے کو سب سچا مانتے ہیں۔ اس لیڈری عرضی نویس جیسوں کو تو نا کامیابی ہوئی۔ مگر تین لیڈر بچ رہے بات پر اڑا ہوا ہے کہ میرا باپ ضرور ضرور حقیقت میں مجدد خدا نے اس کے الہاموں میں اس کو ایسا کہا ہے۔ دوم مول لیڈر وہ کہتے ہیں کہ نہیں نہیں کہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ مگر مرزا ظہیر الدین وہ کہتا ہے کہ تم دونوں غلطی پر ہو۔ مرزا سچا بھی با شریعت مانو۔
اب عقل سے خالی اور جیب کے پر لوگ کچھ ایک کے کچھ تیسرے کے۔ باقی رہا یہ سوال کہ کن وجوہات پر اخت ایک مجدد سے لے کر خدا تک اسے مان سکتی ہو۔ ابھی الہ مرزے کو خدا نہیں مانتیں۔ مگر وہ وقت (خدا نہ کرے) اب سے اٹھ کر اسے خدا کہے گی۔ فی الحال تو ظہیر الدین کی پارٹ کا نام نکال کر مرزا کا نام داخل کر دیا ہے۔ دیکھئے اس نے ا القادیان“ کے اخیر میں لکھا ہے ”لا اله الا الله احمد بیوی جی ان لیڈروں میں اتنی تو طاقت نہیں ک مرزے کو سچا مان کر اور اس کے مذہب کی شاخیں بنا کر لیڈ بات کا قائل ہوں کہ گو اس کی برادری کا ایک شخص آریہ ب پیغمبر بن گیا۔ ایک دہریہ بن گیا۔ مگر مرزے نے اسلا ”الرحمن علمہ القرآن“ ہمیں قرآن سکھام سجدے دے لوں۔
بیوی ...... گاموں مولوی صاحب نماز پڑھ لیں تو چائے
٢٤١
رہے ہیں۔ اگر سب یک رائے ہو جائیں۔ تو لیڈر صرف ایک ہی ہو۔ اس لئے جس کسی کو لیڈر بننے کا شوق ہوا۔ اس نے دوسرے سے تھوڑی سی نااتفاقی کی اور اپنی پارٹی علیحدہ بنالی۔ لیکن گوشت اسی جانور کا کھاتے ہیں۔ جس کا مرزا قادیانی نے شکار کیا۔
یعنی مرزے کو سب سچا مانتے ہیں۔ اس لیڈری کے شوق میں بعض مثلاً کیمل پور کے عرضی نویس جیسوں کو تو ناکامیابی ہوئی۔ مگر تین لیڈر بچ رہے ہیں۔ اول مرزا قادیانی کا بیٹا جو اس بات پر اڑا ہوا ہے کہ میرا باپ ضرور ضرور حقیقت میں مجدد و مسیح و مہدی و معہود اور نبی تھا۔ کیونکہ خدا نے اس کے الہاموں میں اس کو ایسا کہا ہے۔ دوم مولوی محمد علی صاحب تعلیم یافتہ پارٹی کے لیڈر وہ کہتے ہیں کہ نہیں نہیں کہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ مگر مرزا تھا تو مجدد اس کا ماننا ضروری ہے۔ سوم ظہیر الدین وہ کہتا ہے کہ تم دونوں غلطی پر ہو۔ مرزا سچا بھی تھا اور رسول با شریعت ۔ اس کو رسول باشریعت مانو۔
اب عقل سے خالی اور جیب کے پر لوگ کچھ ایک کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ کچھ دوسرے کے کچھ تیسرے کے۔ باقی رہا یہ سوال کہ کن وجوہات پر اختلاف ہے۔ سو تم مرزے کا لٹریچر پڑھ کر ایک مجدد سے لے کر خدا تک اسے مان سکتی ہو۔ ابھی ان پارٹیوں کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ وہ مرزے کو خدا نہیں مانتیں۔ مگر وہ وقت (خدا نہ کرے) اب قریب ہے کہ ایک پارٹی اسی کے اقوال سے اٹھ کر اسے خدا کہے گی۔ فی الحال تو ظہیر الدین کی پارٹی نے صرف کلمہ میں سے آنحضرت ﷺ کا نام نکال کر مرزا کا نام داخل کر دیا ہے۔ دیکھئے اس نے اپنے ٹریکٹ ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ کے اخیر میں لکھا ہے ”لااله الا الله احمد جری الله“
بیوی جی ان لیڈروں میں اتنی تو طاقت نہیں کہ اپنا کوئی نیا مذہب ایجاد کریں۔ لامحالہ مرزے کو سچا مان کر اور اس کے مذہب کی شاخیں بنا کر لیڈر بن رہے ہیں۔ میں مرزا قادیانی کی اس بات کا قائل ہوں کہ گو اس کی برادری کا ایک شخص آریہ ہو گیا۔ ایک عیسائی ہو گیا۔ ایک چوڑھوں کا پیغمبر بن گیا۔ ایک دہریہ بن گیا۔ مگر مرزے نے اسلام کو نہ چھوڑا اور خدا سے قرآن کا علم پا کر ”الرحمن علمہ القرآن“ ہمیں قرآن سکھا گیا۔ کمرہ کا کلاک ٹن ٹن۔ لو بیوی جی میں دو سجدے دے لوں۔
بیوی ...... گاموں مولوی صاحب نماز پڑھ لیں تو چاء لے آ۔
٢٤١
بابو صاحب ...... گاموں پانی کے ڈولے بھر لا۔ نماز کے بعد قاضی صاحب جگائے گئے اور گاموں چاء لے آیا۔ چاء پر بیٹھ گئے۔ قاضی صاحب ...... آپ لوگوں نے بڑا ظلم کیا کہ مجھے بیدار کر دیا اور شکار میرے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ بابو صاحب ...... وہ کس طرح؟ قاضی صاحب ...... اجی میں نیند میں گوجرانوالہ پہنچا ہوا تھا اور مولوی صاحب کو پکڑ کر انہیں کھینچ رہا تھا کہ آکر ہمارے سوالات کا جواب دیں۔ قہقہہ۔ نووارد...... بابو صاحب اب ہم تو بقول شخصے کہ:
حوالت باخدا کردیم ورفتیم
آپ کو حوالت با خدا کرنے والے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے مولوی صاحب پھر آپ کو ملیں۔ تو ان سے یہ سوال بھی ضرور کیجئے گا کہ: بابو صاحب ...... مولوی صاحب ٹھہریئے کہ میں اسے لکھ لوں۔ نووارد...... اچھا لکھئے۔ بابو صاحب ...... قلم روشنائی میں ڈبو کر، جی۔ نووارد...... لکھئے!
- ١....... آپ کے نبی صاحب کو سال ١٩٠٥ء میں الہام ہوا کہ تیری موت بہت قریب ہے۔
(تذکرہ طبع سوم ص ٧٤٠) اور یہ وحی مقدس اس تواتر سے ہوئی کہ اس نے نبی کی ہستی کی بنیاد ہلا دی۔
(رسالہ الوصیت ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠١)
- ٢....... سال ١٩٠٦ء میں جب ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے نبی صاحب کو اطلاع دی کہ
مجھے الہام ہوا ہے کہ آپ ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے اور کاذب صادق کی زندگی میں فنا ہوگا تو نبی صاحب نے اشتہار ”خدا سچے کا حامی ہو“ جاری کر کے اس میں تحریر کیا کہ مجھے میرے خدا نے اطلاع دی ہے کہ عبدالحکیم خان صادق نہیں ہے۔ میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلاؤں گا اور یہ بھی لکھا کہ اگر میں ڈاکٹر صاحب کی الہامی پیشین گوئی کی میعاد مقررہ میں مرا۔
٢٤٢
تو یہ ایسی ذلت کی موت ہوگی۔ گویا میرے آگے بھی لعنت
- ٣....... سال ١٩٠٧ء میں جب اخباروں میں چھپا
صاحب غزنوی سے مباہلہ کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولو نبی صاحب کا فرزند فوت ہو گیا۔ تو نبی صاحب نے اشت الہامات آیات قرآنی میں اتار کے لکھا کہ میرے خدا نے خواہوں کو تیری زندگی میں فنا کر دوں گا اور تیری عمر بڑھاؤ ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔ مگر نبی صاحب ٢٦؍ مئی اور متواتر سے دو سال چھ ماہ بعد اور موت بعید ہونے ( سات ماہ کے اندر ان تمام دشمنوں اور مکذبوں کو جن کی طر خوبی زندہ اور سلامت چھوڑ کر مرنے سے ثابت کر دیا کہ محض جھوٹے اور خدا پر افتراء تھے۔
پس ابن مریم مر گیا حق کی قسم صاحب سے و کیا وہ اجازت دیتے ہیں کہ ہم الوصیت کے کل الہامات علی اللہ سمجھیں اور اس کی وجوہات ہیں:
- ١....... یہ کہ الوصیت کی مقدس وحی میں بھی یہ تھا ک
شرارتوں کو نہیں چھوڑتے اور بدذکر سے باز نہیں آتے معدوم کر دیں گے اور تب تیرا حادثہ ہوگا“ یہ الہام صاف
- ٢....... یہ کہ موت قریب ہونے کے الہامات اگر حق
کا ذکر یا ان کی طرف اشارہ ان اشتہارات کے الہامات کے ساتھ آخری فیصلہ میں جو کسی الہام وحی پر مبنی نہ تھا ک تھا۔
- ٣....... سوا بہشتی مقبرہ کے بدعت قائم کرنے اور نی
مقبرہ پر فضیلت دینے کے کوئی اور وجہ معلوم نہیں ہوتی ک بولے بیٹے کو موت سے اڑھائی سال پہلے اس کی موت کی بنیاد کو کیوں ہلا دیا اور تین کو چار کرنے والے کا کیوں
٣٢٣٣
تو یہ ایسی ذلت کی موت ہوگی۔ گویا میرے آگے بھی لعنت اور پیچھے بھی لعنت ہوگی۔
- ......٣ سال ١٩٠٧ء میں جب اخباروں میں چھپا کہ نبی صاحب نے جو مولوی عبدالحق
صاحب غزنوی سے مباہلہ کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب کا تو خدا نے بال بیکا نہ کیا اور نبی صاحب کا فرزند فوت ہو گیا۔ تو نبی صاحب نے اشتہار تبصرہ جاری کیا اور اس میں بے شمار الہامات آیات قرآنی میں اتار کے لکھا کہ میرے خدا نے مجھے یہ الہام کئے ہیں کہ میں تیرے بد خواہوں کو تیری زندگی میں فنا کردوں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا ۔تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔ مگر نبی صاحب ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو یعنی موت قریب ہونے کی وحی اور متواتر سے دو سال چھ ماہ بعد اور موت بعید ہونے (عمر بڑھائے جانے کے) الہامات سے سات ماہ کے اندر ان تمام دشمنوں اور مکذبوں کو جن کی طرف ان اشتہارات میں اشارہ تھا۔ بخیر و خوبی زندہ اور سلامت چھوڑ کر مرنے سے ثابت کردیا کہ یہ اشتہارات کے الہامات مقدسہ و مطہرہ محض جھوٹے اور خدا پر افتراء تھے۔
پس ابن مریم مرزا محمود احمد صاحب سے ہماری بڑی عاجزی سے درخواست ہے کہ کیا وہ اجازت دیتے ہیں کہ ہم الوصیت کے کل الہامات مقدسہ کو بھی اس طرح جھوٹے اور افتراء علی اللہ سمجھیں اور اس کی وجوہات ہیں:
- ......١ یہ کہ الوصیت کی مقدس وحی میں بھی یہ تھا کہ ”ایسی شکایت کرنے والوں کو جو اپنی
شرارتوں کو نہیں چھوڑتے اور بدذکر سے باز نہیں آتے۔ دنیا سے اٹھا لیں گے اور صفحہ ہستی سے معدوم کردیں گے اور تب تیرا حادثہ ہوگا ۔“ یہ الہام صاف غلط ثابت ہوا۔
- ......٢ یہ کہ موت قریب ہونے کے الہامات اگر حقیقت میں ہوئے ہوتے تو ضرور تھا کہ ان
کا ذکر یا ان کی طرف اشارہ ان اشتہارات کے الہامات میں ہوتا۔ بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ میں جو کسی الہام و وحی پر مبنی نہ تھا اور فیصلہ فریقین کی موت وحیات سے ہونا تھا۔
- ......٣ سوا بہشتی مقبرہ کے بدعت قائم کرنے اور نبی صاحب کے مقبرہ کو آنحضرت ﷺ کے
مقبرہ پر فضیلت دینے کے کوئی اور وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اللہ میاں نے نبی صاحب اور اپنے منہ بولے بیٹے کو موت سے اڑھائی سال پہلے اس کی موت کے قریب ہونے کی خبر دے کر اس کی ہستی کی بنیاد کو کیوں ہلا دیا اور تین کو چار کرنے والے کا کیوں سدراہ بنا۔
٢٤٣
قاضی صاحب...... مولوی صاحب میں اس آخری فقرہ سے اتفاق نہیں کرتا۔ اس کی منطق غلط ہے۔
نووارد...... (آنکھوں ہی آنکھوں میں قاضی صاحب کے قول کی داد دے کر اور مسکرا کر) ہاں بابو صاحب یہ سوال تو ختم ہو گیا۔ اب عرض یہ ہے کہ اس کو ابن مریم مرگیا حق کی قسم صاحب کے تنہائی میں پیش نہ کیجئے گا۔ بلکہ اس وقت جب وہ چار سمجھ دار آدمیوں میں بیٹھے ہوں تا کہ ٹال مٹال نہ کر سکیں۔
بابو صاحب...... (ماتھے پر ہاتھ مار کر) افسوس صد افسوس ، ہائے افسوس! ہم اس شخص کے الہاموں کے بھروسہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ اور بہشتی مقبرہ کو ہر قسم کی رحمتوں کا جائے نزول مانتے ہیں۔ مولوی صاحب تمام عمر کی حرام حلال کی کمائی ہم نے ان کی نذر کر دی اور آج اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ تم نے وہاں وہ کون سی چیز پائی جو پہلے تمہیں حاصل نہ تھی۔ تو ہمارے پاس اس کا جواب نہیں۔
نووارد...... بابو صاحب آپ بھی غضب کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اتنی دماغ سوزی کر کے یہ مذہب آپ کے کسی فائدہ کے لئے ایجاد کیا تھا۔ یا اپنے۔
قاضی صاحب...... مولوی صاحب آپ کے اس لفظ ”دماغ سوزی“ سے ایک مسئلہ حل ہو گیا۔ آپ نے کہیں کہا ہے کہ مرزا قادیانی نے دجال تین قسم کے اشخاص کا نام رکھا ہے۔ اول پادری ، دوم کلیسا ایجاد کرنے والے اور سوم متمول لوگ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مرزا قادیانی نے پادریوں کو قتل کر دیا یعنی دلائل سے ان پر غلبہ پالیا۔ تب بھی یہ ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی نے پونے حصہ دجال کا قتل کیا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا مرزا قادیانی الہام ایجاد کر کے اور دولت سے مالا مال ہو کر دجال کے باقی دو حصوں پر فوقیت نہیں پا گئے۔ قہقہہ۔
اس پر ہر دو نے اٹھ کر اجازت طلب کی۔ بابو صاحب اور بیوی نمناک آنکھوں کے ساتھ ڈیوڑھی تک انہیں رخصت کرنے آئے اور پھر وہاں سے وعلیکم السلام اور حوالت بخدا کی بوچھاڑوں میں مرخص ہوئے۔ ہاں بابو صاحب نے ایک فرمائش کی کہ صدرالدین صاحب اور محمد حسین کو میرا سلام علیک کہنا اور گاموں مکان تک ساتھ چلنے پر اصرار کرتا ہوا کوچہ کے اخیر سے واپس ہوا۔
٢٤٤
خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
ضرورت رسالت
(حصہ اوّل)
حضرت مولانا سلطان محمود دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
”الحمد لله الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون، والصلوٰۃ والسلام علی رسول النبی الامی خاتم الانبیاء رحمۃ للعٰلمین وعلی الہ واصحابہ اجمعین“
اما بعد! برادران اسلام! خداوند تعالیٰ نے جس دن سے نوع انسان کو دنیا میں آباد کیا ہے۔ اسی دن سے سلسلہ انبیاء علیہم السلام جاری فرما کر بنی نوع انسان کی اصلاح کا انتظام بھی فرما دیا۔ حتیٰ کہ پہلا انسان نبی ہی تھا۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام!
انسان کی اصلاح کے دو حصے ہیں۔ (١) اصلاح عمل۔ (٢) اصلاح اعتقاد اور دونوں حصوں میں سے اصلاح اعتقاد مقدم واہم ہے۔ اس لئے کہ عمل کی صحت و درستی اعتقاد کی صحت و درستی پر موقوف ہے۔ اگر اعتقاد خراب ہو تو عمل صحیح ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اعتقاد بمنزلہ اصل کے ہے اور عمل بمنزلہ فرع ہے اور جب تک اصل درست نہ ہو۔ فرع کی درستی ممکن ہی نہیں۔ مثلاً اگر کسی شخص کا اعتقاد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ماسوا اور چیزیں بھی قابل پرستش ہیں مثلاً سورج وغیرہ! تو وہ کبھی ایک خداوند تعالیٰ کی پرستش و عبادت مخلصانہ کر ہی نہیں سکتا۔ اس بناء پر اعتقاد کی اصلاح مقدم اور اہم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اول اصلاح اعتقاد کی طرف متوجہ ہوتے رہے ہیں اور اس کے بعد اصلاح اعمال کی طرف، اور تمام مسائل اعتقادیہ میں سب سے زیادہ مہتم بالشان تین مسئلے ہیں۔
- .......١ توحید یعنی خداوند تعالیٰ کو وحدہ لاشریک سمجھنا۔
- .......٢ رسالت میں تمام رسولوں کو سچا تسلیم کرنا۔
- .......٣ مجازات یعنی اعمال کی جزا وسزا کا قائل ہونا اور قیامت کے دن کو برحق ماننا۔
قرآن شریف نصف سے زیادہ فقط انہی تین مسئلوں کے بیان میں ہے۔ بار بار مختلف عنوانوں میں ان تین مسائل کو بیان کیا گیا اور طرح طرح کے دلائل سے واضح کیا گیا۔
زمانہ حال میں اکثر لوگ مسائل کی حقیقت سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلاء ہیں۔ حالت زمانہ کو دیکھتے ہوئے ضروری معلوم ہوا کہ ان تین مسائل کے متعلق مختصر طور پر تین رسالے تالیف کروں۔ گو میری قابلیت تو اس لائق نہیں تھی کہ ایسے اہم مسائل
٢
میں قلم اٹھاتا۔ مگر خیر خواہی بنی نوع نے مجبور کیا کہ جس قدر ہو سکے خداوند تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اول مسئلہ رسالت شروع کرتا ہو تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے کہ اس مسئلہ سے فارغ ہو کر دو مسئلوں کو بھی ل
پیغمبروں کے بھیجنے کی ضرورت
میں مناسب سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے اس امر کو واض کے بھیجنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ لیکن اس امر کی وضاحت سے تمہید ذکر کیا جاتا ہے تا کہ مقصد کے ذہن نشین ہونے میں آسانی ہو ا
پہلا مقدمہ
کسی ذی عقل پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ انسان پر جوئی فرض و لازم ہے۔ دلیل اس مقدمہ کی یہ ہے کہ خداوند خالق انسان مملوک، خداوند حاکم، انسان محکوم، خداوند رازق، انسان مرزو ظاہر ہے کہ مخلوق پر خالق کی رضا جوئی فرض ہے اور مملوک پر مالک کی حاکم کی رضا جوئی واجب ہے اور مرزوق پر رزاق کی رضا جوئی ضرور جوئی میں مر مٹنا عاشقوں کا شیوہ ہے۔ خصوصاً محبوب بھی ایسا کہ جس دست نگر ہوں۔ ان باتوں میں سے ایک بات کا ہونا بھی رضا جوئی ہے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ میں تو یہ تمام باتیں موجود ہیں۔ بلکہ ان س تعالیٰ میں موجود ہیں۔ جو انسان کو اس کی اطاعت و رضا جوئی پر مجب مصائب سے نجات دینا وغیرہ وغیرہ۔ تو اب ان باتوں کا لحاظ کرنے اس بات کا انکار کرے کہ خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی انسان پر فرض طرف قرآن شریف میں متعدد جگہ توجہ دلائی گئی ہے۔
دوسرا مقدمہ
انسان اپنی سمجھ وعقل سے خداوند تعالیٰ کی رضا وغیرہ م تک کہ وہ خود نہ بتلائے۔ دلیل اس مقدمہ کی یہ ہے کہ ایک انسان کو بھی بغیر بتلائے ہوئے ہرگز معلوم نہیں کر سکتا۔ حالانکہ دونوں کیونکہ دونوں جسم ہیں اور جسم تمام چیزوں سے زیادہ ظاہر ہوتا ہے
٣
میں قلم اٹھاتا۔ مگر خیر خواہی بنی نوع نے مجبور کیا کہ جس قدر ہو سکے۔ اسی قدر تحریر میں لایا جائے لہٰذا خداوند تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اول مسئلہ رسالت شروع کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ اس مسئلہ سے فارغ ہو کر دو مسئلوں کو بھی تحریر میں لاؤں۔ آمین!
پیغمبروں کے بھیجنے کی ضرورت
میں مناسب سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے اس امر کو واضح کروں کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ لیکن اس امر کی وضاحت کے لئے اول چند مقدمات کو بطور تمہید ذکر کیا جاتا ہے تاکہ مقصد کے ذہن نشین ہونے میں آسانی ہو۔
پہلا مقدمہ
کسی ذی عقل پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ انسان پر خداوند تعالیٰ کی اطاعت و رضا جوئی فرض و لازم ہے۔ دلیل اس مقدمہ کی یہ ہے کہ خداوند خالق اور انسان مخلوق، خداوند مالک انسان مملوک، خداوند حاکم، انسان محکوم، خداوند رازق، انسان مرزوق، خداوند محبوب انسان محب۔ ظاہر ہے کہ مخلوق پر خالق کی رضا جوئی فرض ہے اور مملوک پر مالک کی رضا جوئی لازم ہے اور محکوم پر حاکم کی رضا جوئی واجب ہے اور مرزوق پر رزاق کی رضا جوئی ضروری ہے اور محب کا محبوب کی رضا جوئی میں مر مٹنا عاشقوں کا شیوہ ہے۔ خصوصاً محبوب بھی ایسا کہ تمام دنیا کے محبوب بھی اس کے دست نگر ہوں۔ ان باتوں میں سے ایک بات کا ہونا بھی رضا جوئی کے فرض ہونے کے لئے کافی ہے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ میں تو یہ تمام باتیں موجود ہیں۔ بلکہ ان کے علاوہ بھی بہت سی باتیں خدا تعالیٰ میں موجود ہیں۔ جو انسان کو اس کی اطاعت و رضا جوئی پر مجبور کرتی ہیں۔ مثلاً بیماری و دیگر مصائب سے نجات دینا وغیرہ وغیرہ۔ تو اب ان باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے کون سا ذی عقل ہے جو اس بات کا انکار کرے کہ خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی انسان پر فرض نہیں ہے۔ وجوہ مذکورہ بالا کی طرف قرآن شریف میں متعدد جگہ توجہ دلائی گئی ہے۔
دوسرا مقدمہ
انسان اپنی سمجھ و عقل سے خداوند تعالیٰ کی رضا و غیر رضا ہرگز معلوم نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ وہ خود نہ بتلائے۔ دلیل اس مقدمہ کی یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رضا و غیر رضا کو بھی بغیر بتلائے ہوئے ہرگز معلوم نہیں کر سکتا۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے کو نظر آتے ہیں۔ کیونکہ دونوں جسم ہیں اور جسم تمام چیزوں سے زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ ایک دوسرے کو ہاتھ سے
٣
بھی پکڑ کر ٹٹول سکتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے بھی ایک دوسرے کی رضا وغیر رضا کو معلوم نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ دوسرا خود نہ بتلائے۔ خواہ سینہ سے سینہ بھی ملا لے۔ بلکہ دل کو چیر کر دیکھ لے حتیٰ کہ دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے دانتوں سے چبا لیا جائے تو پھر بھی دوسرے کے دل کی بات ہر گز معلوم نہیں ہو سکتی۔ تا وقتیکہ وہ خود نہ بتلائے۔
تو بھلا پھر خداوند تعالیٰ کے دل کی بات بغیر اس کے بتلائے ہوئے کیونکر معلوم ہو سکتی ہے؟ حالانکہ وہ ایسا لطیف ہے کہ آج تک کسی کو دکھائی نہیں دیا اور نہ وہ ہاتھ میں آنے والی چیز ہے اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد ہے۔ تو پھر اس کے دل کی بات بغیر اس کے بتلائے ہوئے انسان کیونکر معلوم کر سکتا ہے۔ چنانچہ اسی کے متعلق ارشاد ہے۔ سورۃ بقرہ کی اس آیت میں :”ولا يحيطون بشيء من علمه الا بماشاء “ ﴿اور موجودات اس کے معلومات میں سے کسی چیز کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لا سکتے، مگر جس قدر وہ چاہے ﴾ لہٰذا اس کی رضا و غیر رضا معلوم کرنے کے لئے اس کے ارشاد کا انتظار ضروری ہو گا۔
تیسرا مقدمہ
خداوند تعالیٰ کی شانِ عالی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنی رضا و غیر رضا ہر شخص کو خود بتلائے اور ہر کس و ناکس سے منہ لگائے۔
دلیل اس مقدمہ کی یہ ہے کہ شاہانِ دنیا کو دیکھو کہ وہ ایک معمولی سی عظمت کی وجہ سے اپنی مرضی وغیر مرضی کی بات اپنے بنی نوع سے بھی براہ راست نہیں کہتے۔ حالانکہ ہر طرح سے اتحاد ہے۔ صرف معمولی سی عظمت حاصل ہے۔ وہ بھی چند روزہ مستعار اس خدا کی دی ہوئی مگر اتنی سی بات پر بھی وہ اپنی رضا و غیر رضا ہر ایک کو ہر گز نہیں بتاتے پھرتے۔ بلکہ مقربان بارگاہ سے فرما دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو سنا دیتے ہیں یا بذریعہ اشتہار و منادی اعلان کرا دیتے ہیں۔ تو بھلا خداوند جو تمام بادشاہوں کا بادشاہ اور بادشاہی بھی ایسی کہ جو ازلی ابدی ہے۔ وہ کیا دنیا کے بادشاہوں سے بھی کم ہے کہ ہر کسی کو خود کہتا پھرے گا اور ہر کس و ناکس کو منہ لگائے گا۔ وہ بھی ایسا ہی کرے گا کہ اپنے مقربین درگاہ کے ذریعہ سے اپنی رضا و غیر رضا کی اطلاع دے گا۔ اس کے متعلق ارشاد ہے۔ سورہ نحل کی اس آیت میں: ”ينزل الملائكة بالروح من امره على من يشاء من عباده “ ﴿وہ اللہ فرشتوں کو وحی میں اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہیں نازل فرماتے ہیں۔﴾ یعنی انبیاء علیہم السلام پر اور سورہ مومن کی آیت میں: ”يلقى الروح من امره على
٤
من يشاء من عباده “ ﴿وہ اپنے بندوں میں سے جس یعنی ہر کس و ناکس کو منہ نہیں لگاتا۔ بلکہ اپنا حکم نازل فرماتا ہے۔
ان تینوں مقدموں کو سمجھ لینے کے بعد ہر ذی ضرورت ہے کہ خداوند تعالیٰ بعض ہستیوں کو منصب قرب غیر رضا کا اعلان فرمائے اور جو مقربین اس منصب کے اصطلاح میں ان کو نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی خداوند تعالیٰ کی رضا و غیر رضا معلوم نہیں کر سکتا لہٰذا خدا ناکس کو براہ راست نہیں بتائے گا۔ اس لئے یہ اس کی ش بعض مقربین و خواص کو منتخب کرنا ضروری ہوا تا کہ ان کے پوری تفصیل بندوں تک پہنچا دے اور انہیں مقربین کو نبی ہو گیا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی ضرورت ہے۔
پیغمبروں کا معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہو
منصبِ نبوت کے لئے جو حضرات منتخب ہو بردار ہونا ضروری ہے۔ حتیٰ کہ ان سے ارادہ معصیت بھ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ دنیا کے بادشاہوں میں سے دربار میں منصب قرب عطاء کرے۔ بلکہ منصب قرب یقین ہو کہ یہ ظاہر و باطن میں مطیع و فرمانبردار ہے۔ لہٰذا دربار رب العزت کے لئے منتخب کیا جائے وہ خداوند تعا کہ اس سے ارادہ مخالفت بھی ممکن نہ ہو۔ مخالفت کر ہے کہ خداوند کسی مخالف کو اپنے دربار میں منصب قربی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اسی کے متعلق ”الله اعلم حيث يجعل رسالته“ ﴿یعنی ہم معصوم ہستیاں اس منصب کے اہل ہیں۔ ان کو خداوند نہیں ہو سکتا۔
٥
من يشاء من عباده ”﴿وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی یعنی اپنا حکم پہنچاتا ہے۔﴾ یعنی ہر کس و ناکس کو منہ نہیں لگاتا۔ بلکہ اپنا حکم نازل فرمانے کے لئے خاص مقربین کو منتخب فرماتا ہے۔
ان تینوں مقدموں کو سمجھ لینے کے بعد ہر ذی عقل اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ خداوند تعالیٰ بعض ہستیوں کو منصب قرب عطاء فرما کر ان کے ذریعہ سے اپنی رضا و غیر رضا کا اعلان فرمائے اور جو مقربین اس منصب کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ اہل اسلام کی اصطلاح میں ان کو نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی انسان پر فرض ہے اور انسان بغیر بتلائے خداوند تعالیٰ کی رضا و غیر رضا معلوم نہیں کر سکتا لہٰذا خدا تعالیٰ کا بتلانا ضروری ہوا۔ لیکن وہ ہر کس و ناکس کو براہ راست نہیں بتائے گا۔ اس لئے یہ اس کی شان کے خلاف ہے۔ لہٰذا اس کام کے لئے بعض مقربین و خواص کو منتخب کرنا ضروری ہوا تا کہ ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اپنی رضا و غیر رضا کی پوری تفصیل بندوں تک پہنچا دے اور انہیں مقربین کو نبی ورسول کہا جاتا ہے۔ اس تقریر سے ثابت ہو گیا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی ضرورت ہے۔
پیغمبروں کا معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے
منصب نبوت کے لئے جو حضرات منتخب ہوں گے۔ ان کا ظاہر و باطن میں مطیع و فرماں بردار ہونا ضروری ہے۔ حتیٰ کہ ان سے ارادہ معصیت بھی ممکن نہ ہو۔ ارتکاب معصیت تو در کنار رہا کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنے مخالفین کو اپنے دربار میں منصب قرب عطاء کرے۔ بلکہ منصب قرب ایسے شخص کو دیا جاتا ہے کہ جس کے متعلق یقین ہو کہ یہ ظاہر و باطن میں مطیع و فرمانبردار ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو منصب قرب دربار رب العزت کے لئے منتخب کیا جائے وہ خداوند تعالیٰ کا ظاہر و باطن میں ایسا مطیع و فرمانبردار ہو کہ اس سے ارادہ مخالفت بھی ممکن نہ ہو۔ مخالفت کرنا تو در کنار رہا، یہ بات ہرگز قرین قیاس نہیں ہے کہ خداوند کسی مخالف کو اپنے دربار میں منصب قرب عطاء فرمادے۔ لہٰذا نبی کا معصوم ہونا یعنی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اسی کے متعلق ارشاد ہے۔ سورہ انعام کی اس آیت میں: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته“ ﴿یعنی ہر کس و ناکس اس شرف کے قابل نہیں﴾ اور جو معصوم ہستیاں اس منصب کے اہل ہیں۔ ان کو خداوند تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہو سکتا۔
٥
پیغمبروں کا منصب نبوت سے معزول ہونا ممکن نہیں ہے
بادشاہان دنیا اور خداوند تعالیٰ کے انتخاب میں اتنا فرق ہے کہ بادشاہان دنیا جس کو ظاہر و باطن میں مطیع و فرمانبردار سمجھ کر قرب عطا فرمادیں۔ اس میں دو طرح سے غلطی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ممکن ہے کہ وہ کسی شخص کو مطیع و فرمانبردار سمجھ کر منصب عطاء کردے۔ لیکن واقع میں وہ مطیع نہ ہو۔ بلکہ مکار ہو اور باطن میں بادشاہ کا سخت دشمن ہو۔ تو اس غلطی کی وجہ سے وہ اپنے مخالف دشمن کو منصب قرب عطاء کردے۔
دوسری غلطی یہ ہے کہ ایک شخص واقع میں بادشاہ کا ظاہر و باطن میں مطیع و فرمانبردار ہے اور بادشاہ کا مقرب ہے۔ لیکن بادشاہ کو اس کے متعلق بدگمانی پیدا ہوجائے تو اس غلطی کی وجہ سے وہ ایک سچے مطیع و فرمانبردار کو منصب قرب سے معزول کردے۔
مگر چونکہ خداوند تعالیٰ عالم الغیب ہے اور دلوں کے راز کو بھی جانتا ہے۔ لہٰذا نہ تو وہ مخالف و مکار کو مطیع سمجھ کر منصب نبوت عطا کرتا ہے اور نہ کسی نبی کو بوجہ بدگمانی کے منصب نبوت سے معزول فرماتا ہے۔ اس لئے کہ خداوند کا انتخاب ایسا صحیح ہوتا ہے کہ ممکن نہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن میں مطیع و فرمانبردار سمجھے اور منصب نبوت پر مقرر فرمادے۔ اس سے کبھی بھی معصیت کا صدور ہو بلکہ اس سے تو ارادہ معصیت بھی ممکن نہیں۔ ورنہ خداوند تعالیٰ کے علم کے خلاف لازم آئے گا اور یہ ممکن نہیں ہے لہٰذا جس شخص کو اللہ تعالیٰ منصب نبوت عطا فرمادے۔ اس سے معصیت کا ہونا غیر ممکن۔
پس اس کا منصب نبوت سے معزول ہونا بھی غیر ممکن۔ اس لئے کہ بغیر قصور کے تو دنیا کے بادشاہ بھی معزول نہیں کرتے تو احکم الحاکمین کے متعلق یہ خیال کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ وہ کسی مقرب کو بغیر کسی قصور کے منصب نبوت سے معزول کردے۔ اس کے متعلق ارشاد ہے۔ سورۂ الضحیٰ کی اس آیت میں: ”والضحى واليل اذا سجى ماودعك ربك وماقلى“ ”(قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جبکہ وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ (آپ سے) دشمنی کی ۔)“
چند دن وحی نہ آنے کی وجہ سے کفار نے یہ کہنا شروع کیا کہ ان کے رب نے ان کو چھوڑ دیا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ آپ کو نبی بنانے کے بعد چھوڑ دیا جائے۔ یعنی منصب نبوت سے معزول کر دیا جائے۔ آپ ﷺ تو آپ ﷺ ہی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ کسی نبی کو معزول نہیں فرمایا جاتا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ
٦
خدمت نبوت میں تخفیف کردی جائے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ تخفیف ہیں۔
پیغمبر خود مختار نہیں ہوتے
جیسا کہ بادشاہوں کے خواص اور مقرب بارگاہ ہو شریک سلطنت نہیں ہوتے تاکہ خود مختار ہوں اور جس کو چاہیں ڈالیں۔ بلکہ بوجہ قرب صرف اتنا کرسکتے ہیں کہ کسی دوست کی سفا دیں۔ ایسا ہی انبیاء علیہم السلام بھی شریک خدائی نہیں ہوتے۔ ا چاہیں جنت دیں اور جس کو چاہیں دوزخ میں بھیج دیں۔ البتہ ا کمال ادب سے کسی کی سفارش کردیں یا کسی کی شکایت اور دع دربارہ ترقی درجات یا مغفرت معاصی خداوند تعالیٰ کے دربار می اسلام کی اصطلاح میں اس کو شفاعت کہا جاتا ہے۔
الحاصل! انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہونا شفاعت کر لیکن ان کا گناہ گار ہونا اور خود مختار ہونا ہرگز قرین قیاس نہیں ہے
آیت میں ارشاد ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بل الله من يشاء ويهدى من يشاء وهو العزيز الحكيم ( (بھی) ان ہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ ( ا الٰہیہ کو) بیان کریں۔ پھر (بیان کرنے کے بعد ) جس کو اللہ تع چاہیں ہدایت کرتے ہیں اور وہی سب (امور پر) غالب ہے ا مطلب یہ ہے کہ نبی کا کام فقط احکام کا بیان کرنا ہ کے اختیار میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور بھی بہت ہیں اور اسی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے یعطی“ (میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا خدا ہے
پیغمبروں کا انسان ہونا ضروری ہے
یہ امر تو واضح ہوچکا ہے کہ جس ہستی کو منصب نب کا معصوم ہونا یعنی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ لیکن کس جنس کا ہونا چاہئے۔ اس لئے معصوم دو جنسوں کے موجو
٧
خدمت نبوت میں تخفیف کر دی جائے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب بالائے آسمان بحالت تخفیف ہیں۔
پیغمبر خود مختار نہیں ہوتے
جیسا کہ بادشاہوں کے خواص اور مقرب بارگاہ مطیع و فرمانبردار تو ہوتے ہیں۔ لیکن شریک سلطنت نہیں ہوتے تا کہ خود مختار ہوں اور جس کو چاہیں دے دیں یا جس کو چاہیں مروا ڈالیں۔ بلکہ بوجہ قرب صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ کسی دوست کی سفارش کر دیں اور دشمن کی شکایت کر دیں۔ ایسا ہی انبیاء علیہم السلام بھی شریک خدائی نہیں ہوتے۔ اس لئے ان کو یہ اختیار نہیں کہ جس کو چاہیں جنت دیں اور جس کو چاہیں دوزخ میں بھیج دیں۔ البتہ ان کو بوجہ قرب کے یہ حق ہوتا ہے کہ کمال ادب سے کسی کی سفارش کر دیں یا کسی کی شکایت اور دوستوں کی سفارش جو انبیاء علیہم السلام دربارہ ترقی درجات یا مغفرت معاصی خداوند تعالیٰ کے دربار میں قیامت کے روز کریں گے۔ اہل اسلام کی اصطلاح میں اس کو شفاعت کہا جاتا ہے۔
الحاصل! انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہونا شفاعت کرنا تو عقلاً بھی صحیح اور نقلاً بھی ثابت لیکن ان کا گناہ گار ہونا اور خود مختار ہونا ہرگز قرین قیاس نہیں ہے۔ اسی کے متعلق سورۂ ابراہیم کی اس آیت میں ارشاد ہے: ﴿وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم فيضل الله من يشاء ويهدى من يشاء وهو العزيز الحكيم﴾ ﴿ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) ان ہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ (ان کی زبان میں) ان سے (احکام الہیہ کو) بیان کریں۔ پھر (بیان کرنے کے بعد) جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں گمراہ کرتے ہیں اور جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں اور وہی سب (امور پر) غالب ہے اور حکمت والا ہے۔﴾
مطلب یہ ہے کہ نبی کا کام فقط احکام کا بیان کرنا ہے۔ اس کے بعد ہدایت و گمراہی نبی کے اختیار میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اسی قسم کی آیتیں قرآن شریف میں اور بھی بہت ہیں اور اسی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ﴿انما انا قاسم والله يعطى﴾ ﴿میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا خدا ہے۔﴾
پیغمبروں کا انسان ہونا ضروری ہے
یہ امر تو واضح ہو چکا ہے کہ جس ہستی کو منصب نبوت کے لئے منتخب کیا جائے گا اس کا معصوم ہونا یعنی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس امر کی تشریح باقی ہے کہ وہ معصوم کس جنس کا ہونا چاہئے۔ اس لئے معصوم دو جنسوں کے موجود ہیں۔ ملائکہ اور انسان۔ ملائکہ تو سب
٧
کے سب معصوم ہیں۔ قرآن شریف میں ان کے معصوم ہونے کی تصریح ہے کہ: ”لایعصون الله ما امرهم ويفعلون مايؤمرون“ ﴿وہ خداوند تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو ان کو حکم ہوتا ہے۔ وہی کرتے ہیں۔﴾ اور انسان سب کے سب معصوم نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض افراد معصوم ہوتے ہیں اور اکثر معصوم نہیں ہوتے۔ اگر سارے معصوم ہوتے تو سلسلہ نبوت کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور اکثر انسانوں کا معصوم نہ ہونا اظہر من الشمس ہے۔
صرف معصومیت کے لحاظ سے تو ملائکہ اور انسان دونوں میں صلاحیت نبوت مساوی ہے۔ لیکن چونکہ سنت اللہ یہ ہے کہ اگر کسی مقصد کے حصول کے لئے متعدد راستے ہوں۔ تو ان میں سے وہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جو سب سے آسان اور فطرت کے موافق ہو۔ اس لحاظ سے نبی کا انسان ہونا ضروری ہے۔ اس لئے کہ جن کی اصلاح کے لئے نبی کو بھیجنا ہے وہ انسان ہی ہیں۔ اس لئے ان کے افادہ و استفادہ کی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ نبی انسان ہو۔ کیونکہ فطرۃً اپنے ہم جنس سے بوجہ اتحاد کے انس زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے افادہ و استفادہ میں سہولت ہوتی ہے اور خلاف جنس سے فطرۃً وحشت ہوتی ہے۔ اس لئے افادہ و استفادہ میں دشواری ہوتی ہے۔ اس مصلحت کی وجہ سے خداوند تعالیٰ نے منصب نبوت ہمیشہ انسان ہی کو عطا فرمایا ہے۔
کبھی کسی فرشتہ کو اس منصب پر مقرر نہیں فرمایا اور یہ خدا تعالیٰ کا بندوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ ان کی اصلاح کے لئے وہ راستہ اختیار فرمایا کہ جس میں ان کو آسانی ہو اور ان کی فطرت کے موافق ہو۔ اس احسان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ظاہر فرمایا ہے: ”لقد من الله على المؤمنين اذبعث فيهم رسولا من انفسهم (آل عمران)“ ﴿حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر (بہت بڑا) احسان کیا جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک پیغمبر کو بھیجا۔ الحاصل انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے جو مقصد ہے۔ یعنی اصلاح انسان۔ اس کے اعتبار سے نبی کا انسان ہونا ضروری ہے۔
پیغمبروں کے انتخاب کے بارہ میں کافروں کی رائے کا رد
کفار گو اصولاً تو مسئلہ رسالت کے منکر نہیں تھے۔ لیکن طریقہ انتخاب میں ان کو کلام تھا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ منصب نبوت ملائکہ کو عطاء کیا جاتا۔ نبوت اور بشریت میں ان کے نزدیک منافات تھی۔ وہ کہتے تھے: ”ولوشاء الله لانزل ملئكة“ ﴿اگر اللہ تعالیٰ کو (رسول بھیجنا) منظور ہوتا تو (اس کام کے لئے) فرشتوں کو بھیجتا﴾ یہ نوح علیہ السلام کی قوم کا قول نوح علیہ السلام کے مقابلہ میں اور یہی خیال کفار عرب کا تھا اور کفار عرب ہی کے بارہ میں ہے: ”وما منع
٨
الناس ان یؤمنواذاجاء ہم الہدی الا ان قالوا بنی اسرائیل)“ ﴿اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہـ لانے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہیں ہوتی کہ انہوں بنا کر بھیجا ہے۔﴾
یعنی ایسا نہیں ہوسکتا اگر رسول آتا تو فرشتہ آتا۔ کے مقابلہ میں۔ غرض کفار کا عموماً یہی خیال تھا کہ انسان کـ انتخاب ملائکہ ضروری ہے۔
کافروں کی رائے کا منشاء
کفار کے اس خیال کی وجہ یہ تھی کہ نبوت ایکـ منصب کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرنا چاہئے کہ جس کو اوروں تاکہ اس کو اوروں پر فوقیت ہو۔ اس لئے جب تک کسی شخص اوروں پر فوقیت رکھتا ہو تو اس کو کسی منصب کے لئے منتخب کر منصب نبوت پر مقرر کیا جائے کہ جس سے بڑھ کر کوئی منصب
اس خیال کو دل میں جگہ دینے کے بعد جب کفا دیکھتے تھے۔ تو ان کو ان میں کوئی امتیاز نظر نہیں آتا تھا۔ کیو کھاتے پیتے ہیں اور انہی کی طرح روزی کی طلب میں بازا بال بچے دار ہیں۔ غرض تمام لوازم بشریت میں مساوی ہیں پر وہ ان کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔
قرآن شریف میں اس کی تصریح متعدد آیات ”ماهذا الابشر مثلكم (سورہ مومنون)“ ﴿نور لوگوں سے کہا کہ یہ شخص (یعنی نوح علیہ السلام) بجز اس آدمی ہے اور کچھ (رسول وغیرہ) نہیں ہے۔﴾
”ماهذا الابشر مثلكم يأكل مما تأ (سورہ مومنون)“ ﴿حضرت ہود علیہ السلام یا صالح لوگوں سے کہا کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آد تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں جو تم پیتے ہو۔﴾
٩
الناس ان یؤمنوا اذ جاءھم الھدی الا ان قالوا ا بعث اللہ بشرا رسولا (سورہ بنی اسرائیل) ”اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی۔ اس وقت ان کو ایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہیں ہوتی کہ انہوں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔“
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا اگر رسول آتا تو فرشتہ آتا۔ یہ قول مشرکین عرب کا تھا حضورﷺ کے مقابلہ میں۔ غرض کفار کا عموماً یہی خیال تھا کہ انسان نبی نہیں ہو سکتا۔ اس منصب کے لئے انتخاب ملائکہ ضروری ہے۔
کافروں کی رائے کا منشاء
کفار کے اس خیال کی وجہ یہ تھی کہ نبوت ایک بڑا عظیم الشان مرتبہ ہے۔ لہٰذا اس منصب کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرنا چاہئے کہ جس کو اور لوگوں سے خاص طور پر امتیاز حاصل ہو تاکہ اس کو اوروں پر فوقیت ہو۔ اس لئے جب تک کسی شخص میں ایسا امتیاز نہ ہو کہ جس کی وجہ سے اوروں پر فوقیت رکھتا ہو تو اس کو کسی منصب کے لئے منتخب کرنا عقل کے خلاف ہے۔ چہ جائیکہ اس کو منصب نبوت پر مقرر کیا جائے کہ جس سے بڑھ کر کوئی منصب ہی نہیں۔
اس خیال کو دل میں جگہ دینے کے بعد جب کفار انبیاء علیہم السلام کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے تھے۔ تو ان کو ان میں کوئی امتیاز نظر نہیں آتا تھا۔ کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ وہ انہی کی طرح کھاتے پیتے ہیں اور انہی کی طرح روزی کی طلب میں بازاروں میں پھرتے ہیں۔ انہی کی طرح بال بچے دار ہیں۔ غرض تمام لوازم بشریت میں مساوی ہیں۔ کوئی خاص امتیاز نہیں رکھتے۔ اس بناء پر وہ ان کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔
قرآن شریف میں اس کی تصریح متعدد آیات میں ہے۔ نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو:
”ما هذا الا بشر مثلکم (سورہ مومنون) ”نوح علیہ السلام کی قوم کے رئیسوں نے عام لوگوں سے کہا کہ یہ شخص (یعنی نوح علیہ السلام) بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک (معمولی) آدمی ہے اور کچھ (رسول وغیرہ) نہیں ہے۔“
”ما هذا الا بشر مثلکم یأکل مما تأکلون منه ويشرب مما تشربون (سورہ مومنون) ”حضرت ہود علیہ السلام یا صالح علیہ السلام کی قوم کے رئیسوں نے عام لوگوں سے کہا کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں۔ (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں جو تم پیتے ہو۔“
٩
یعنی ان کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو منصب نبوت عطاء کیا گیا ہو۔ وقالوا مال هذا الرسول یاکل الطعام ويمشی فی الاسواق (سوره فرقان) ”سرداران قریش نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہا کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور (انتظام معاش کے واسطے ہماری طرح) بازاروں میں (بھی) چلتا پھرتا ہے۔“ یعنی بالکل ہماری طرح بشر ہے۔ کوئی امتیاز اس کو حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ نبی نہیں ہے۔ نبی تو ایسا ہونا چاہئے جو ان امور کا محتاج نہ ہوتا کہ اس کو امتیاز فوقیت حاصل ہو۔ مطلب یہ کہ فرشتہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ انسان تو ان امور سے خالی ہو ہی نہیں سکتا۔
اس مضمون کی آیتیں تو بہت ہیں۔ لیکن مقصد کی وضاحت کے لئے چونکہ مذکورہ بالا آیات بھی کافی ہیں۔ لہٰذا انہی پر اکتفا کرتا ہوں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبی کے لئے خاص امتیاز ضروری ہے اور انسان ہونے کی صورت میں کوئی امتیاز نہیں پایا جاتا لہٰذا انسان کا نبی ہونا جائز نہیں۔ لیکن علاوہ انسان کے اور کسی ہستی میں بھی یہ امتیاز نہیں پایا جاتا سوا فرشتوں کے، لہٰذا نبی فرشتہ ہونا چاہئے۔
کافروں کی غلط فہمی کا ازالہ
کفار کا یہ خیال کہ نبی میں اوروں کی نسبت امتیاز ہونا چاہئے تاکہ اس کو اوروں پر فوقیت ہو اصولاً صحیح ہے اور واقعی نبی اور غیر نبی میں امتیاز ضروری ہے۔ ورنہ ترجیح بلامرجح لازم آئے گی اور وہ ناجائز ہے۔ لیکن اس کے بعد کفار کو دو طرح سے لغزش ہوئی ہے۔
پہلی لغزش یہ ہوئی کہ کفار نے یہ سمجھا کہ وہ امتیاز جسمانی امور میں ہونا چاہئے۔ مثلاً کھانا پینا وغیرہ حالانکہ ان امور میں امتیاز کا ہونا غرض نبوت کے منافی ہے۔ جس کی تفصیل دوسری لغزش کے بیان میں آئے گی۔ بلکہ نبی کا امتیاز تو امور روحانیہ میں ہوتا ہے۔ یعنی جس قدر روحانی خرابیاں ہیں۔ ان سب سے پاک ہونا اور جس قدر روحانی خوبیاں ہیں۔ ان سب کا اس میں پایا جانا۔ یعنی تمام بداخلاقیوں سے پاک ہونا اور تمام اخلاق حمیدہ کے ساتھ متصف ہونا۔
مثلاً نبی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ زنا کاری نہیں کر سکتا۔ مکار و دغا باز نہیں ہوتا۔ غرض کسی قسم کی معصیت و گناہ نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے۔ کیا یہ امتیاز کوئی معمولی امتیاز ہے کہ اس کے علاوہ امتیاز کی ضرورت باقی رہے۔ کیا مکار و غیر مکار میں امتیاز نہیں ہے۔ کیا جھوٹا اور سچا برابر ہیں؟ کیا زانی و غیر زانی میں امتیاز نہیں ہے۔ کیا بد اخلاق و با اخلاق مساوی ہیں۔ کیا معصوم کو گناہ گار پر امتیاز نہیں ہے۔ بلکہ یہ امتیاز تو جسمانی امور کے امتیاز
١٠
سے اعلیٰ وافضل ہے۔ اس لئے کہ جسم سے روح اف سے افضل واعلیٰ ہوگا۔
لیکن کفار نے امتیاز روحانی کو نظر اندا نہ آنے سے نبوت کا انکار کر دیا۔
دوسری لغزش کفار سے یہ ہوئی کہ وہ ا بھول گئے یعنی یہ نہیں سوچا کہ انبیاء علیہم السلام ک انسان کے نبی بنانے سے حاصل ہوتی ہے۔ یا فرش کہ انبیاء علیہم السلام کا امتیاز ظاہر کر دیا جائے تو شا لیکن غرض یہ نہیں ہے۔ بلکہ غرض بنی نوع انسان نہیں ہے۔ لہٰذا انتخاب کے وقت اس بات کی رع کون سی صورت میں ہو سکتی ہے؟ یہ نہیں ہوگا کہ ف حاصل ہو یا نہ ہو۔
اس غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ا چاہئے۔ کیونکہ افادہ و استفادہ میں جو سہولت نبی غیر جنس کی صورت میں ہر گز نہیں ہو سکتی۔ خصوصاً
فرشتہ سے تو افادہ واستفادہ قریب ق واضح کر دیا گیا ہے کہ نبی کے فرشتہ ہونے کی صو جعلنہ ملكا لجعلنہ رجلا وللبسنا علي رسول کوئی فرشتہ تجویز کرتے تو البتہ ہم اس کو آد ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کر رہے ہی جاتا تو اس کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ اس کو ا کی شکل میں بھیجا جائے۔ جیسا کہ حضرت جبری رضی اللہ عنہ کی شکل میں آیا کرتے تھے۔
اول صورت تو ممکن ہی نہیں۔ اس ل اس کی اصلی صورت میں دیکھنے پر قادر نہیں ہی ہو کر گر جائیں۔ عام لوگ تو درکنار رسول اللہ ﷺ
سے اعلیٰ وافضل ہے۔ اس لئے کہ جسم سے روح افضل ہے۔ لہٰذا یہ روحانی امتیاز بھی جسمانی امتیاز سے افضل واعلیٰ ہوگا۔
لیکن کفار نے امتیاز روحانی کو نظر انداز کر کے فقط امتیاز جسمانی کو دیکھا اور اس کے نظر نہ آنے سے نبوت کا انکار کر دیا۔
دوسری لغزش کفار سے یہ ہوئی کہ وہ امتیاز کے شوق میں فریفتہ ہو کر غرض نبوت کو بالکل بھول گئے یعنی یہ نہیں سوچا کہ انبیاء علیہم السلام کس غرض کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ آیا وہ غرض انسان کے نبی بنانے سے حاصل ہوتی ہے۔ یا فرشتہ کے نبی بنانے سے۔ اگر غرض صرف یہی ہوتی کہ انبیاء علیہم السلام کا امتیاز ظاہر کر دیا جائے تو شاید ملائکہ ہی کو منصب نبوت کے لئے منتخب کیا جاتا لیکن غرض یہ نہیں ہے۔ بلکہ غرض بنی نوع انسان کی اصلاح ہے۔ جو افادہ واستفادہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا انتخاب کے وقت اس بات کی رعایت ضروری ہوگی کہ افادہ واستفادہ میں سہولت کون سی صورت میں ہو سکتی ہے؟ یہ نہیں ہوگا کہ فقط امتیاز ہی کو گائے چلے جائیں۔ افادہ واستفادہ حاصل ہو یا نہ ہو۔
اس غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ذی عقل یہ رائے نہیں دے سکتا کہ نبی فرشتہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ افادہ واستفادہ میں جو سہولت نبی کے ہم جنس ہونے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ وہ غیر جنس کی صورت میں ہرگز نہیں ہو سکتی۔ خصوصاً غیر جنس میں بھی فرشتہ۔
فرشتہ سے تو افادہ واستفادہ قریب قریب ناممکن ہے۔ قرآن شریف میں اس بات کو واضح کر دیا گیا ہے کہ نبی کے فرشتہ ہونے کی صورت میں افادہ واستفادہ ممکن نہیں ہے: ”ولـــو جعلنہ ملکالجعلنہ رجلا وللبسنا علیہم ما یلبسون (سورہ انعام)“ ﴿اور اگر ہم رسول کوئی فرشتہ تجویز کرتے تو البتہ ہم اس کو آدمی کی صورت میں بناتے اور ہمارے اس فعل سے ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کر رہے ہیں۔﴾ آیت کا حاصل یہ ہے کہ اگر فرشتہ کو نبی بنایا جاتا تو اس کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ اس کو اصلی شکل میں بھیجا جائے۔ دوسری یہ کہ اس کو انسان کی شکل میں بھیجا جائے۔ جیسا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضور ﷺ کے پاس حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کی شکل میں آیا کرتے تھے۔
اول صورت تو ممکن ہی نہیں۔ اس لئے کہ عام لوگ ان حواس متعارفہ کے ساتھ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے پر قادر نہیں ہیں۔ دیکھتے ہی خوف کے مارے مر جائیں یا بے ہوش ہو کر گر جائیں۔ عام لوگ تو درکنار رسول اللہ ﷺ جیسے ذی حوصلہ اور بہادر (جن سے بڑھ کر آج
١١
تک کوئی بہادر دنیا میں پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ہوگا) کبھی فرشتوں کو ان کی اصلی شکل میں دیکھنے کو بآسانی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اسی وجہ سے جبرائیل علیہ السلام آپؐ کے پاس عموماً انسانی شکل میں آیا کرتے تھے۔ تمام عمر میں آپ ﷺ کو صرف دو مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کی اصلی شکل دکھائی گئی۔ وہ بھی مصلحت کی وجہ سے جس کا بیان آگے آئے گا۔
غرض جس نبی کو دیکھتے ہی جان چلی جائے یا چلے جانے کا گمان غالب ہو۔ اس نبی سے افادہ اور استفادہ (جو نبوت کی اصلی غرض ہے) کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ البتہ اگر نبی بھیجنے کی غرض یہ ہوتی کہ لوگوں کو یک دم ہلاک کر دیا جائے تو بیشک فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں بھیجنے سے حاصل ہو سکتی تھی۔ لیکن جب غرض ہلاک کرنا نہیں ہے۔ بلکہ غرض تو اصلاح بنی نوع انسان ہے۔ جو افادہ و استفادہ پر موقوف ہے۔ تو کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ غرض فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں بھیجنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔
الغرض یہ امر واضح ہو گیا کہ فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں بنا کر بھیجنا غرض نبوت کے بالکل خلاف ہے اور یہی مطلب ہے: ”ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا“ کا۔
دوسری صورت (یعنی فرشتہ کو انسان کی شکل میں بھیجا جائے) بھی مفید نہیں۔ اس لئے کہ اس صورت میں کفار وہی اعتراض کریں گے۔ جواب کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کہیں گے کہ نبی انسان کیوں ہے۔ فرشتہ کیوں نہیں؟ کیونکہ اس کو انسانی شکل میں دیکھنے کے بعد یقین نہیں کریں گے کہ یہ فرشتہ ہے۔ اگر وہ کہے گا بھی کہ میں فرشتہ ہوں تو ہرگز باور نہیں کریں گے بلکہ یہی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ تو آدمی ہے اور آدمی نبی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ نبی نہیں ہے اور یہی مطلب ہے: ”وللبسنا علیہم مایلبسون“ کا۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ فرشتہ کو نبی بنانے کی دونوں صورتوں میں نفع تو کچھ بھی نہیں ہے۔ بلکہ بجائے نفع کے الٹا ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا یہ رائے حماقت پر مبنی ہے۔ حکیم علی الاطلاق کی شان سے بعید ہے کہ وہ ایسا کرے۔
اعتراض
اگر کہا جائے کہ فرشتہ کو بشکل آدمی بھیجنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ شکل انسانی کے ساتھ ساتھ خواص انسانی بھی اس میں رکھے جائیں۔ مثلاً کھانا کھانا وغیرہ۔ دوسری یہ کہ فقط شکل انسانی دی جائے۔ خواص ملائکہ ہی کے باقی رہیں۔ جیسا کہ جبرائیل علیہ السلام حضور ﷺ کے پاس آتے تھے بصورت حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ مگر خواص ملکیت باقی رہتے تھے۔ یا جیسا کہ حضرت
١٢
ابراہیم خلیل اللہ کے پاس چند ملائکہ بیٹے کی بشارت وقوم انسان آئے تھے۔ مگر خواص ملائکہ ان میں موجود تھے۔ ا بچھڑے کا گوشت انکے پاس لائے تو انہوں نے اس درکنار رہا۔
ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت میں فرشتہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں کوئی وجہ امتیاز باقی یہ فرشتہ ہے۔ لیکن دوسری صورت میں چونکہ خواص ملکی آدمی ہے۔ پس اگر یہ صورت اختیار کی جائے تو اس میں اس صورت میں آسانی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ہو تاکہ افادہ و استفادہ میں دشواری ہو اور یہ اشتباہ بھی نہیں کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔ اس اعتراض کے متعدد جواب
پہلا جواب یہ ہے کہ اشتباہ کی صورت تو بچ ہوں اور یہی مراد ہے: ”وللبسنا علیہم مایلبس خواص دونوں انسان کے ہوں اس صورت میں تو اشتباہ میں تو نبی یقیناً انسان ہے۔ فرشتہ نہیں ہے۔ خواہ ابتداء قدرت کاملہ سے فرشتہ کو انسان بنا دیا ہو۔ بہرکیف اشتباہ اشتباہ تو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ شکل تو انسا دیکھتے ہی یہ خیال آئے گا کہ یہ انسان ہے فرشتہ نہیں ہے بیٹھے گا اور اگر بالفرض تحقیق کے بعد معلوم ہو بھی جائے یقین نہیں آئے گا کہ یہ فرشتہ ہے۔ کیونکہ جس خدا کو یہ قد بدل دے۔ اس کو یہ بھی قدرت ہے کہ انسانی خواص کو احتمالوں کے ہوتے ہوئے کیونکر یقین آسکتا ہے کہ یہ بخواص فرشتہ۔ لہٰذا یہ کہنے کی گنجائش ہوگی کہ یہ فرشتہ نہیں اتباع کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔ خواہ مخواہ بہانے بنا کر ٹال بہانہ بھی کافی ہو سکتا ہے اور یہاں تو معمولی بھی نہیں بل بہانہ ساز تو دیکھتے ہی کہہ دے گا کہ یہ انسان ہے۔ فرشتہ
١٣
ابراہیم خلیل اللہ کے پاس چند ملائکہ بیٹے کی بشارت وقوم لوط کی ہلاکت کی خبر سنانے کے لئے بشکل انسان آئے تھے۔ مگر خواص ملائکہ ان میں موجود تھے۔ اسی وجہ سے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بچھڑے کا گوشت انکے پاس لائے تو انہوں نے اس کی طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھائے، کھانا تو درکنار رہا۔
ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت میں تو واقعی اشتباہ ہوسکتا ہے کہ یہ انسان ہے فرشتہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں کوئی وجہ امتیاز باقی نہیں ہے جس کی وجہ سے معلوم ہوسکے کہ یہ فرشتہ ہے۔ لیکن دوسری صورت میں چونکہ خواص ملکیت باقی ہیں لہٰذا یہ اشتباہ نہیں ہوسکتا کہ یہ آدمی ہے۔ پس اگر یہ صورت اختیار کی جائے تو اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ بلکہ غرض نبوت بھی اس صورت میں آسانی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بوجہ صورت انسانی وحشت ونفرت نہیں ہوگی تاکہ افادہ واستفادہ میں دشواری ہو اور یہ اشتباہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ فرشتہ نہیں ہے۔ پھر اس صورت کو کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔ اس اعتراض کے متعدد جواب ہیں۔
پہلا جواب یہ ہے کہ اشتباہ کی صورت تو یہی ہے کہ شکل انسان کی ہو اور خواص ملائکہ ہوں اور یہی مراد ہے : ” وللبسنا علیہم مایلبسون “ میں۔ کیونکہ جس صورت میں شکل و خواص دونوں انسان کے ہوں اس صورت میں تو اشتباہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس صورت میں تو نبی یقینا انسان ہے۔ فرشتہ نہیں ہے۔ خواہ ابتداء ہی سے انسان ہو یا خداوند تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے فرشتہ کو انسان بنا دیا ہو۔ بہر کیف اشتباہ کا اطلاق اس صورت پر سراسر نادانی ہے۔ اشتباہ تو صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ شکل تو انسان کی ہو اور خواص ملائکہ ہوں۔ کیونکہ شکل کو دیکھتے ہی یہ خیال آئے گا کہ یہ انسان ہے فرشتہ نہیں ہے اور خواص کی اول تو تحقیق ہی کیوں کرنے بیٹھے گا اور اگر بالفرض تحقیق کے بعد معلوم ہو بھی جائے کہ اس نبی میں خواص ملائکہ نہیں تو پھر بھی یقین نہیں آئے گا کہ یہ فرشتہ ہے۔ کیونکہ جس خدا کو یہ قدرت ہے کہ فرشتہ کی شکل کو انسانی شکل میں بدل دے۔ اس کو یہ بھی قدرت ہے کہ انسانی خواص کو خواص ملائکہ میں بدل دے۔ تو ان دونوں احتمالوں کے ہوتے ہوئے کیونکر یقین آسکتا ہے کہ یہ فرشتہ ہے۔ بصورت انسان یا انسان ہے بخواص فرشتہ۔ لہٰذا یہ کہنے کی گنجائش ہوگی کہ یہ فرشتہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان ہے۔ خصوصاً وہ کفار جو اتباع کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔ خواہ مخواہ بہانے بنا کر ٹالنا ہی چاہتے ہیں۔ ان کے لئے یہ تو معمولی بہانہ بھی کافی ہوسکتا ہے اور یہاں تو معمولی بھی نہیں بلکہ صاف طور پر انسان کی شکل موجود ہے۔ بہانہ ساز تو دیکھتے ہی کہہ دے گا کہ یہ انسان ہے۔ فرشتہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ نبی نہیں ہے۔
١٣
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں غرض نبوت بھی پوری نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے پورا ہونے میں دو طرح کے مانع پیش آتے ہیں۔
ایک مانع یہ کہ جب فرشتہ کی فقط شکل ہی تبدیل ہوگی۔ خاصیت باقی رہے گی تو اس صورت میں گو وہ خوف جو اس کی اصلی شکل سے پیدا ہوتا تھا، جاتا رہے گا۔ لیکن وہ انس جو فطرتاً ہم جنس سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ نہیں پیدا ہوگا۔ بلکہ وہ وحشت ونفرت جو فطرتاً خلاف جنس سے ہوا کرتی ہے۔ بدستور باقی رہے گی۔ کیونکہ صرف شکل کی تبدیلی سے اتحاد جنس نہیں پیدا ہوتا۔ اس وجہ سے افادہ و استفادہ میں روک پیدا ہوگی۔
دوسرا مانع یہ ہے کہ جب نبی میں خواص انسانی نہیں ہوں گے تو وہ انسانوں کی اصلاح نہیں کر سکے گا۔ بھلا جس نے خود کھانا نہ کھایا ہو اور نہ قیامت تک کھا سکتا ہو۔ وہ دوسروں کو کھانا کھانے کا طریقہ کیا بتائے گا اور جس کو قیامت تک پیشاب و پاخانہ نہ آسکتا ہو۔ وہ دوسروں کو پیشاب و پاخانہ کے متعلق کیا تعلیم دے سکتا ہے؟ جو تمام عمر شادی نہ کر سکتا ہو وہ اوروں کو خانہ داری کے معاملات کیا سکھلائے گا اور جو بیمار ہونے کے معنے ہی نہ جانتا ہو۔ وہ دوسروں کے مرض کا کیا علاج کر سکتا ہے اور جس نے تجارت کی صورت بھی نہ دیکھی ہو۔ وہ اوروں کو تجارت کیا سکھلائے گا۔ علیٰ ہذا القیاس باقی امور اور ملائکہ کا ان تمام باتوں سے منزہ ہونا محتاج بیان نہیں ہے۔
پس اگر کسی فرشتہ کو نبی بنایا جائے تو وہ ان امور کی اصلاح نہیں کر سکے گا۔ البتہ جن امور کو وہ خود کر کے دکھا سکتا ہے۔ ان کی اصلاح کردے گا۔ مثلاً نماز وغیرہ۔ مگر اس قسم کے امور کم ہیں اور جن کو وہ خود نہیں کر سکتا وہ زیادہ ہیں۔ کیونکہ تمام خواہشات انسانی کی اصلاح کرنی ہے اور فرشتہ ان سے منزہ ہے۔ وہ تمام باتوں کو کر کے نہیں دکھا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ کچھ نہ کچھ زبانی بتا دے گا۔ لیکن صرف زبانی تعلیم میں دو قسم کی کمزوری ہوتی ہے۔
پہلی کمزوری یہ کہ لوگوں پر اثر کم ہوتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں تو کہے جا رہا ہے کہ کرو اور خود نہیں کرتا۔ ہم کیوں کریں اور جب زبانی تعلیم کے ساتھ عمل بھی مل جاتا ہے تو وہ زور دار ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ زبان مبارک سے جو فرماتے ہیں وہ سب سے پہلے خود کر کے دکھاتے ہیں اور ہم زبانی بہت کچھ کہہ دیتے ہیں۔ مگر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لہٰذا ہماری تعلیم کا اثر بھی بہت کم ہوتا ہے۔ مقامِ حدیبیہ میں حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کو تین دفعہ ہدی کے جانوروں کو نحر کرنے کا حکم دیا۔ مگر ڈیڑھ ہزار آدمیوں میں سے ایک بھی نہیں اٹھا اور جب آپؐ نے اپنی ہدی کو اپنے ہاتھ مبارک
١٤
سے نحر کیا تو تمام صحابہ کرام نے بڑی سرعت کے ساتھ اس حکم
دوسری کمزوری یہ کہ جب صرف سنی سنائی بات واقع ہوتی ہیں۔ کیونکہ تاوقتیکہ معلم زبانی بتائی ہوئی بات ک میں لانا ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص فن طب کی تمام ک نہ کرے تو وہ ہرگز کسی مرض کا صحیح طور پر علاج نہیں کر سکتا۔
پس اگر نبی فرشتہ ہوتا تو ان امور کی اصلاح با زیادہ امور ایسے ہی ہیں کہ جن کو وہ خود نہیں کر سکتا۔ جیسا ک ہونے کی صورت میں غرض نبوت کی تکمیل نہیں ہو سکتی اور ہی ہو سکتی ہے کہ نبی میں بھی تمام خواص انسانی موجود ہوں کر دکھائے اور یہ بات فرشتہ میں ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا اس
تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر فرشتہ کو بصورت ا اس میں باقی ہوں تو اس صورت میں یہ اندیشہ ہے کہ لو لئے کہ جب اس میں صفات خداوندی (یعنی کھانے پیا غلط فہمی میں ضرور مبتلا ہوں گے۔ جیسا کہ نصاریٰ نے خداوندی (یعنی مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ) کو دیکھا تو ا فرمایا: "لا تطرونی کما اطرت النصاری عیسیٰ قولوا عبداللہ ورسولہ (بخاری باب مریم) " ”میری تعریف میں بے جا مبالغہ نہ کرنا جیسا متعلق کیا کیونکہ میں تو فقط خدا کا بندہ ہوں، لیکن میرے اور اس کے رسول ہیں۔ پس یعنی نصاریٰ کی طرح مجھے مع
ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد آفتاب کے لئے انسان ہی کو منتخب کرنا ضروری ولازم ہے۔ ان کفار کی رائے جو ملائکہ کے متعلق تھی۔ وہ محض نادانی پر
اس تقریر کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا کہ جن اعتراض پیش کرتے تھے۔ وہ سب کی سب نبوت ضروری ولازم ہو جائیں گی۔ مثلاً نبی کا کھانا پینا طل
١٥
سے ٹکرایا تو تمام صحابہ کرام نے بڑی سرعت کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی۔ دوسری کمزوری یہ کہ جب صرف سنی سنائی بات کو عمل میں لایا جاتا ہے۔ تو بہت غلطیاں واقع ہوتی ہیں۔ کیونکہ تاوقتیکہ معلم زبانی بتائی ہوئی بات کو خود کر کے نہ دکھائے اس کو صحیح طور پر عمل میں لانا ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص فن طب کی تمام کتابیں پڑھ لے مگر استاد کے سامنے مطب نہ کرے تو وہ ہرگز کسی مرض کا صحیح طور پر علاج نہیں کر سکتا۔
پس اگر نبی فرشتہ ہوتا تو ان امور کی اصلاح بالکل ناقص رہتی جن کو وہ خود نہیں کر سکتا اور زیادہ امور ایسے ہی ہیں کہ جن کو وہ خود نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ اسی لئے نبی کے فرشتہ ہونے کی صورت میں غرض نبوت کی تکمیل نہیں ہو سکتی اور دین ناقص رہ جاتا ہے۔ مکمل اصلاح جب ہی ہو سکتی ہے کہ نبی میں بھی تمام خواص انسانی موجود ہوں تاکہ وہ علاوہ زبانی تعلیم کے عملی نمونہ بھی کر دکھائے اور یہ بات فرشتہ میں ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا اس کا نبی ہونا بھی خلاف مصلحت ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر فرشتہ کو بصورت انسان نبی بنا کر بھیجا جائے اور خواص ملکیت اس میں باقی ہوں تو اس صورت میں یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اس کو خدا بنا کر پوجنے لگیں گے۔ اس لئے کہ جب اس میں صفات خداوندی (یعنی کھانے پینے وغیرہ سے پاک ہونا) دیکھیں گے تو اس غلط فہمی میں ضرور مبتلا ہوں گے۔ جیسا کہ نصاریٰ نے جب عیسیٰ علیہ السلام میں بعض صفات خدا وندی (یعنی مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ) کو دیکھا تو ان کو خدا بنالیا۔ اسی واسطے حضورﷺ نے فرمایا: "لا تطرونى كما اطرت النصارى عيسى ابن مريم فانما انا عبده ولكن قولوا عبد الله ورسوله (بخارى باب قول الله عزوجل واذكر فى الكتب مریم) "میری تعریف میں بے جا مبالغہ نہ کرنا جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کیا کیونکہ میں تو فقط خدا کا بندہ ہوں، لیکن میرے بارہ میں یہ کہنا کہ محمدﷺ خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔" یعنی نصاریٰ کی طرح مجھے معبود نہ بنانا۔
ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد آفتاب کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ منصب نبوت کے لئے انسان ہی کو منتخب کرنا ضروری و لازم ہے۔ انتخاب ملائکہ بالکل مصلحت کے خلاف ہے اور کفار کی رائے جو ملائکہ کے متعلق تھی۔ وہ محض نادانی پر مبنی تھی۔
اس تقریر کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا کہ جن باتوں کو کفار نبوت کے خلاف سمجھ کر بصورت اعتراض پیش کرتے تھے۔ وہ سب کی سب نبوت کے موافق بلکہ غرض نبوت کی تکمیل کے لئے ضروری و لازم ہو جائیں گی۔ مثلاً نبی کا کھانا پینا طلب معاش کے لئے بازاروں میں چلنا پھرنا،
١٥
نکاح کرنا وغیرہ۔ کفار ان تمام باتوں کو نبوت کے خلاف سمجھتے تھے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ مگر تقریر سابق کے سمجھنے کے بعد واضح ہو گیا کہ نبی لوگوں کی اصلاح کر ہی نہیں سکتا جب تک کہ کھانا پینا وغیرہ تمام لوازم بشریت اس میں نہ ہوں۔ بلکہ الٹا اندیشہ ہے کہ لوگ اس کو کہیں خدا نہ بنالیں۔ اس مصلحت کی طرف قرآن شریف میں متعدد جگہ توجہ دلائی گئی ہے اور کفار کی غلط فہمی کو رد کیا گیا ہے۔ نمونہ کے طور پر چند آیتیں نقل کرتا ہوں: ”وما جعلنهم جسدا لا ياكلون الطعام وما كانوا خلدین (انبیاء)“ ﴿ہم نے ان رسولوں کے (جو آپ سے پہلے تھے ) ایسے جسم نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ حضرات ہمیشہ رہنے والے نہیں ہوئے ۔﴾ مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتے نہ تھے کہ نہ کھانا کھاتے اور نہ مرتے۔ بلکہ انسان تھے۔ تمام خواص انسانی ان میں موجود تھے۔
”وما ارسلنا قبلك من المرسلين الا انهم لياكلون الطعام ويمشون في الاسواق (فرقان)“ ﴿اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔﴾ یعنی نبوت و کھانا کھانے وغیرہ میں منافات نہیں ہے۔ جیسا کہ کفار کا خیال ہے۔ بلکہ ان امور کا ہونا نبی کے لئے ضروری ہے: ”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية (رعد)“ ﴿اور ہم نے یقیناً آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دیئے۔﴾ یعنی بیبیوں اور بچوں کا ہونا نبوت کے منافی نہیں ۔ بلکہ رسولوں میں ان امور کا ہونا ضروری ہے۔ بغیر اس کے اصلاح مکمل نہیں ہو سکتی اور دین ناقص رہتا ہے۔
الحاصل سہولت افادہ اور استفادہ اور تکمیل اصلاح دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ نبی انسان ہونا چاہئے۔ فرشتہ ہونے کی صورت میں افادہ اور استفادہ بھی آسانی سے نہیں ہو سکتا اور لوگوں کی اصلاح بھی کامل طور پر نہیں ہو سکتی۔
پیغمبروں کے لئے معجزات کی ضرورت
اگر فرشتہ نبی ہوتا تو شاید معجزات کی ضرورت نہ پڑتی۔ کیونکہ صداقت میں لوگوں کو شک نہ ہوتا تا کہ معجزات کی ضرورت ہوتی لیکن فرشتہ کا نبی ہونا مصلحت کے خلاف ہے۔ بلکہ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہی نبی بنایا جائے۔ جس کی تشریح اوپر گزر چکی ہے اور اس صورت میں یہ بھی احتمال ہے کہ کوئی جھوٹا آدمی دعویٰ نبوت کر دے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی ایسی بات ہونی چاہئے کہ جس کی وجہ سے جھوٹے اور سچے میں تمیز ہو سکے اور نبی صادق اپنی صداقت قوم کے سامنے ظاہر کر سکے تاکہ قوم اس
١٦
کی طرف متوجہ ہو اس ضرورت کے پورا کرنے کے لئے معجزات تجویز کئے گئے ہیں۔
الحاصل معجزات نبوت سے خارج ہیں۔ نبوت ان پر موقوف نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اول معجزات میں امتحان ہو جو معجزات دکھا دے اس کو نبوت عطاء کی جائے۔ جو معجزات نہ دکھائے اس کو نبوت نہ ملے۔ بلکہ نبوت پہلے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے سامنے اس نبوت کا اظہار کرنے کے لئے معجزے دیئے جاتے ہیں لہٰذا وہ حقیقت نبوت سے خارج ہوتے ہیں۔ بلکہ عموماً لوازم نبوت میں سے ہوتے ہیں۔ اگر قوم بغیر معجزہ دکھائے ہوئے ایمان لے آئے۔ تو معجزہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر چونکہ ایسا اتفاق بہت کم ہوتا ہے۔ بلکہ معجزہ دکھانے کے بعد بھی قوم کا ایمان لانا غنیمت ہوتا ہے۔ لہٰذا معجزات کا دینا عموماً نبوت کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔
معجزات کی حقیقت
معجزہ عربی لفظ ہے۔ جس کا مصدر اعجاز ہے۔ اعجاز کے معنے عاجز کر دینے اور ہرا دینے کے ہیں۔ یعنی نبی ایک ایسا کام کر دکھاتا ہے کہ اور لوگ سب کے سب اس کام کے کرنے سے عاجز آ جاتے ہیں اور اس کام میں نبی کا مقابلہ کرنے میں ہار جاتے ہیں اور معجزہ حقیقت میں نبی کا فعل نہیں ہوتا۔ بلکہ فعل خدا ہوتا ہے۔ جو نبی کے ہاتھ پر ظاہر کیا جاتا ہے تا کہ لوگ اس کو دعویٰ نبوت میں سچا سمجھ کر ایمان لے آئیں۔ کیونکہ جب لوگ ایک شخص کے ہاتھ سے ایسا کام ہوتا دیکھ لیتے ہیں۔ جو ان سے نہیں ہو سکتا تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کام انسانی طاقت سے نہیں ہوا بلکہ خدائی طاقت سے ہوا ہے۔ ورنہ ہم بھی کر لیتے اور خدائی طاقت جھوٹے کا ساتھ نہیں دے سکتی لہٰذا یہ سچا ہے۔
قرآن شریف میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ معجزہ حقیقت میں فعل خدا ہوتا ہے۔ جو نبی کے ہاتھ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ”وما رمیت اذ رمیت ولکن الله رمی“ جنگ بدر میں حضورﷺ نے ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی۔ جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جا گرے اور ان کو شکست ہوئی۔ ایک مٹھی کا تمام لشکر کی آنکھوں میں پڑنا یہ ایک معجزہ تھا جو حضورﷺ کے ہاتھ سے رونما ہوا۔ اس کے متعلق باری تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اے نبی وہ مٹھی خاک آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔
الحاصل معجزہ حقیقت میں اللہ کا فعل ہوتا ہے۔ جو نبی کے ہاتھ پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر جو لوگ اس حقیقت سے صحیح طور پر واقف نہیں ہیں۔ وہ بہت بڑی گمراہی میں ہوتے ہیں۔ وہ اس
١٧
فعل کو نبی کا ذاتی فعل سمجھ کر اس کو خدا بنا لیتے ہیں۔ جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردے زندہ کرتے دیکھا تو ان کو خدا بنا لیا۔ اگر معجزہ کی صحیح حقیقت سے واقف ہوتے تو اس غلط فہمی میں نہ پڑتے۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا سچا نبی سمجھتے۔
پیغمبروں کا معجزات میں مختلف ہونے کا سبب
تمام انبیاء علیہم السلام کو مختلف معجزے دیئے گئے۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ سب کو ایک ہی طرح کے معجزے دے دیئے جاتے۔ مثلاً جو معجزے عیسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے یعنی مردے زندہ کرنا وغیرہ سب کو یہی دیئے جاتے۔ یا سب کو عصا اور ید بیضا ہی دیا جاتا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ علیٰ ہذا القیاس باقی معجزات۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ بلکہ ہر نبی کو الگ الگ معجزے دیئے گئے ہیں۔
جیسا کہ معجزہ کی حقیقت سے صحیح طور پر آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے نصاریٰ کو غلط فہمی ہوئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنا لیا۔ ایسا ہی اختلاف معجزات کی صحیح وجہ نہ معلوم ہونے کے سبب اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے اور طرح طرح کے اعتراض پیش آئے ہیں۔ کسی نے تو یہ اعتراض کیا کہ: ”لولا اوتی مثل مااوتی موسٰی“ کہ رسول اللہ ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دیئے گئے جو موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے۔ یعنی عصا اور ید بیضا اور کسی نے ایک نبی کے معجزات کا دوسرے نبی کے معجزات سے مقابلہ کرنا شروع کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ جس نبی کے معجزے بڑے ہیں۔ وہ نبی بھی بڑا ہے۔ مثلاً نصاریٰ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کے معجزات تمہارے نبی کے معجزات سے بڑے ہیں لہٰذا ہمارے نبی (عیسیٰ علیہ السلام) تمہارے نبی (ﷺ) سے افضل ہیں۔
ان غلط فہمیوں کو دیکھتے ہوئے ضروری معلوم ہوا کہ اختلاف معجزہ کی صحیح وجہ بیان کر دی جائے تاکہ یہ غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔
انبیاء علیہم السلام کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم وہ معجزات جو بغرض تحدی عطاء کئے جاتے ہیں۔ یعنی اس غرض کے لئے کہ نبی جن لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ان معجزات کو ان کے مقابلہ میں پیش کر کے ان کو عاجز کر دے اور ہرا دے تاکہ اس کی صداقت ان لوگوں پر واضح ہو جائے اور دوسری قسم وہ معجزات ہیں۔ جو بغرض تحدی نہیں دیئے جاتے۔ یعنی ان کا ظاہر کرنا بغرض مقابلہ و اظہار صداقت نہیں ہوتا۔ اگرچہ ظاہر کرنے کے بعد صداقت کی بھی تائید ہو جاتی ہے۔
١٨
تشریح معجزات قسم اول
معجزہ اگرچہ نبوت کی حقیقت سے خارج ہے۔ کیو نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ لیکن اظہار صداقت ک پڑتی ہے۔ اس بناء پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کرام کو ای خاص خاص معجزے عطاء ہوتے رہے تا کہ قوم کے سامنے م حضرات جو نئی شریعت لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ ان کو معجزا معجزات کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ایک بہت بڑا انقلاب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور ظاہری بات ہے کہ انقلاب لانے والوں کی مخالفت زیادہ زور سے کرتے ہیں۔ اس لئے کہ لوگوں کے دلو میں پرانے مذہب کی محبت جاگزیں ہوتی ہے۔ اور یہ ایک مسلمہ با مخالفت اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اس کو چھوڑ کر دوسری شریعت کو قبول کرن کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اور یہ بات سب کو معلوم ہے ک کہ انسان کو مذہب سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔ خواہ ا کیوں نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ انسان مذہبی امور میں کسی بڑے س نہیں کرتا۔ کروڑ روپے کی ڈگری ایک معمولی حاکم سے اپنے ح مذہب کے متعلق کسی بڑے سے بڑے حاکم کے فیصلہ کو بھی ق سلطنت مذہبی امور میں دخل نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلما لڑنے مرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں گے۔ مگر مذہب کے ا انبیاء علیہم السلام نئی شریعت لے کر آتے ہیں اور لوگوں سے ا منوانا چاہتے ہیں۔ تو لوگ ان کا مقابلہ زیادہ زور سے کر زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ ان کو ایسے زبردست معجزے دی عاجز آ کر سر تسلیم خم کر دیں۔ اگرچہ معاندین تو پھر بھی نہیں م ہی مان جائیں گے۔
اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے موسیٰ علیہ الس علیہ السلام کو ” احیاء موتی و ابراء اکمہ و ابرص “ ک اور مادر زاد اندھوں کو اور برص کے بیماروں کو اچھا کرنا اور مرد عطاء کیا گیا اور رسول اکرم ﷺ کو اعجاز قرآن دیا گیا۔ یعنی ا وصف اعجاز رکھ دیا جس کی تشریح عنقریب آئے گی۔
١٩
تشریح معجزات قسم اول
معجزہ اگرچہ نبوت کی حقیقت سے خارج ہے۔ کیونکہ نبوت کا ملنا اظہار معجزہ پر موقوف نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ لیکن اظہار صداقت کے لئے چونکہ نبی کو معجزہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس بناء پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کرام کو اپنے اپنے زمانہ میں حسب ضرورت خاص خاص معجزے عطاء ہوتے رہے تا کہ قوم کے سامنے صداقت کا اظہار کر سکیں۔ خصوصاً وہ حضرات جو نئی شریعت لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ ان کو معجزات کی ضرورت بہ نسبت دیگر حضرات کے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ایک بہت بڑا انقلاب کرنے کے لئے آتے ہیں۔ لوگ ان کی مخالفت زیادہ زور سے کرتے ہیں۔ اس لئے کہ لوگوں کے دلوں میں پہلی شریعت کی وقعت و محبت اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اس کو چھوڑ کر دوسری شریعت کو قبول کرنا ہرگز گوارہ نہیں کرتے۔ اس وجہ سے کہ انسان کو مذہب سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔ خواہ اس کا مذہب نفس الامر میں باطل ہی کیوں نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ انسان مذہبی امور میں کسی بڑے سے بڑے حاکم کے فیصلہ کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ کروڑ روپے کی ڈگری ایک معمولی حاکم سے اپنے برخلاف سن کر سر تسلیم خم کر سکتا ہے۔ مگر مذہب کے متعلق کسی بڑے سے بڑے حاکم کے فیصلہ کو بھی قبول نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ارباب سلطنت مذہبی امور میں دخل نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سلطنت میں فساد برپا ہو جائے گا۔ لوگ لڑنے مرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں گے۔ مگر مذہب کے خلاف فیصلہ کو نہیں مانیں گے۔ لہٰذا جو انبیاء علیہم السلام نئی شریعت لے کر آتے ہیں اور لوگوں سے پہلی شریعت کے بجائے اپنی شریعت منوانا چاہتے ہیں۔ تو لوگ ان کا مقابلہ زیادہ زور سے کرتے ہیں لہٰذا ان حضرات کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ ان کو ایسے زبردست معجزے دیئے جائیں کہ لوگ ان کے مقابلہ سے عاجز آ کر سر تسلیم خم کردیں۔ اگرچہ معاندین تو پھر بھی نہیں مانیں گے لیکن انصاف پرست تو ضرور ہی مان جائیں گے۔
اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے موسیٰ علیہ السلام کو عصا و ید بیضا عطاء کیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو ”احیاء موتی و ابراء اکمہ و ابرص و خلق طیر“ یعنی مردوں کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو اور برص کے بیماروں کو اچھا کرنا اور گارے یعنی مٹی کے جانور بنا کر اڑانا وغیرہ عطاء کیا گیا اور رسول اکرم ﷺ کو اعجاز قرآن دیا گیا۔ یعنی ایسی کتاب عطاء فرمائی گئی کہ جس میں وصف اعجاز رکھ دیا جس کی تشریح عنقریب آئے گی۔
١٩
باقی رہی یہ بات کہ تمام حضرات کو ایک قسم کے معجزات کیوں نہیں دیئے گئے اور اگر مختلف معجزات ہی دینے منظور تھے۔ تو صورت موجودہ ہی کو کیوں اختیار کیا گیا۔ ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو احیاء موتی وغیرہ اور عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن شریف دیا جاتا علیٰ ہٰذا القیاس باقی احتمالات تو اس کے سمجھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ پہلے معجزات تحدی کے دینے کا قاعدہ کلیہ بیان کر دیا جائے تاکہ اختلاف معجزات کی وجہ آسانی سے سمجھ میں آجائے۔
تحدی کے معجزات کا قاعدہ
جو معجزات تحدی اور مقابلہ کی غرض سے دیئے جاتے ہیں۔ ان کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس فن میں دیئے جاتے ہیں۔ جس فن میں اس قوم کو جس سے تحدی اور مقابلہ ہے۔ اعلیٰ درجہ کی مہارت ہو۔ بلکہ اس فن میں اس قوم کا دنیا میں ثانی نہ ہو۔ اس لئے کہ اس کے بغیر قوم کو معجزہ کا معجزہ ہونا سمجھ میں نہیں آسکتا اور قوم ہی کو سمجھانا منظور ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص جو فن پہلوانی میں ماہر ہو ایک ایسی قوم کے پاس جاکر دعویٰ نبوت کرے جو فن پہلوانی سے تو بالکل ناواقف ہو مگر فن سنگ تراشی میں بے مثل زمانہ ہو اور معجزہ یہ پیش کرے کہ تم میرے ساتھ کشتی کر کے دیکھو اگر میں غالب آ جاؤں تو سمجھ لینا کہ میں سچا ہوں۔
تو کیا وہ قوم اس شخص کے کشتی میں غالب آنے کو معجزہ تسلیم کر لے گی؟ ہرگز نہیں۔ اس لئے کہ ایک ماہر فن کا فن کے نہ جاننے والے پر غالب آنا نہ تو کوئی کمال کی بات ہے اور نہ خلاف عادت۔ بلکہ مقتضائے عادت یہی ہے کہ ماہر فن ناواقف پر غالب آئے اور معجزہ ہمیشہ خلاف عادت ہوتا ہے۔ یعنی کسی شخص کے ہاتھ سے ایسے فعل کا ظاہر ہونا جو عادۃً انسانی طاقت سے باہر ہو۔
البتہ اگر وہ پہلوان یہ کہے کہ میں تو فن سنگ تراشی میں ہرا دوں گا اور تم اس فن میں یکتائے زمانہ ہو مگر باوجود اس کے میں تم کو سنگ تراشی میں ہرا دوں گا تو بے شک یہ معجزہ ہوگا اور قوم بھی اس کو معجزہ سمجھے گی۔ کیونکہ ناواقف کا ماہر فن پر غالب آنا قطعاً عادت کے خلاف ہے تو اس صورت میں یقیناً یہ کہا جائے گا کہ یہ شخص انسانی طاقت سے غالب نہیں آیا بلکہ آسمانی طاقت سے غالب آیا ہے۔ لہٰذا اپنے دعویٰ نبوت میں سچا ہے یا مثلاً ایک شخص اعلیٰ درجہ کا طبیب ایک ایسی قوم کے پاس جاکر دعویٰ نبوت کرے جو فن طب سے تو بالکل ناآشنا ہو۔ مگر زبان انگریزی میں ماہر بلکہ لاثانی ہو اور معجزہ یہ پیش کرے کہ میں فن طب میں تم کو ہرا سکتا ہوں۔ تو کیا یہ قوم اس کے فن طب میں غالب آنے کو معجزہ تسلیم کرے گی؟ ہرگز نہیں کیونکہ طب جاننے والے کو نہ جاننے والے پر
٢٠
غالب آنا کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ خلاف عاد بلکہ مقتضائے عادت کے موافق ہے ناواقف ہوں اور تم یکتائے زمانہ ہو مگر باوجود اس اور غالب آکر دکھا دے تو بے شک یہ فعل عاد بشرطیکہ عناد سے کام نہ لے۔ الحاصل تحدی کے لئے معجزہ کا اسی حاصل ہو۔ ورنہ وہ معجزہ قوم کے نزدیک معجزہ نہیں اس قاعدہ کے سمجھ لینے کے بعد ف السلام کو معجزات تحدی مختلف کیوں دیئے گئے ا اس لئے کہ موسیٰ علیہ السلام جس قوم کی طرف جادوگری و شعبدہ بازی میں کمال تھا اور اس فن بعض مفسرین فرعون نے ستر ہزار جادوگر موسیٰ بعض نے اسی ہزار بھی لکھے ہیں اور ان کو اس فن لگے : "وقالوا بعزة فرعون انا لنحن ہی غالب آئیں گے۔ لہٰذا قاعدہ مذکورہ کے م بھی اسی رنگ میں دیا جاتا تاکہ اگر وہ جادو کے سے ایسا سانپ بنا کر پیش کریں کہ تمام جادوگر جادوگری سے ناآشنا ہونے کے ہم پر غالب آ حالانکہ ہم اس فن میں یکتائے ز کبھی غالب نہ آسکتا۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب کی شہادت دے گا کہ جو کچھ میں لایا ہوں وہ لاؤں گا کہ کوئی جادو اس پر غالب نہیں آسکے لے آؤں گا اور اس بات کی شہادت دوں گا ک چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ تمام جادوگروں نے مید برب العلمین رب موسیٰ وھرون"
غالب آنا کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ خلاف عادت ہے۔ بلکہ مقتضائے عادت کے موافق ہے۔ لیکن اگر یہ شخص یوں کہے کہ میں تو انگریزی سے ناواقف ہوں اور تم یکتائے زمانہ ہو مگر باوجود اس کے میں تم پر انگریزی دانی میں غالب آسکتا ہوں اور غالب آ کر دکھا دے تو بے شک یہ فعل عادت کے خلاف ہے۔ وہ قوم اس کو معجزہ تسلیم کرے گی بشرطیکہ عناد سے کام نہ لے۔
الحاصل تحدی کے لئے معجزہ کا اسی فن میں ہونا ضروری ہے جس فن میں قوم کو کمال حاصل ہو۔ ورنہ وہ معجزہ قوم کے نزدیک معجزہ نہیں بن سکتا۔
اس قاعدہ کے سمجھ لینے کے بعد نہایت آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو معجزات تحدی مختلف کیوں دیئے گئے اور اختلاف کی صورت موجودہ کیوں اختیار کی گئی۔ اس لئے کہ موسیٰ علیہ السلام جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یعنی قوم فرعون چونکہ اس قوم کو فن جادوگری وشعبدہ بازی میں کمال تھا اور اس فن کے جاننے والے اس قدر کثرت سے تھے کہ بقول بعض مفسرین فرعون نے ستر ہزار جادو گر موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے جمع کئے تھے۔ بلکہ بعض نے اسی ہزار بھی لکھے ہیں اور ان کو اس فن میں اس قدر غرور تھا کہ نہایت ہی دلیری سے کہنے لگے: ”وقالوا بعزة فرعون انا لنحن الغلبون“ یعنی فرعون کی عزت کی قسم بے شک ہم ہی غالب آئیں گے۔ لہٰذا قاعدہ مذکورہ کے اعتبار سے یہی مناسب تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو معجزہ بھی اسی رنگ میں دیا جاتا تا کہ اگر وہ جادو کے ذریعہ سے سانپ بنا کر دکھائیں تو یہ معجزہ کے ذریعہ سے ایسا سانپ بنا کر پیش کریں کہ تمام جادوگروں کو ہرا دیں تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ یہ شخص باوجود فن جادوگری سے نا آشنا ہونے کے ہم پر غالب آگیا ہے۔
حالانکہ ہم اس فن میں یکتائے زمانہ تھے۔ یہ ضرور سچا نبی ہے۔ ورنہ اس فن میں ہم پر کبھی غالب نہ آسکتا۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ مقابلہ سے پہلے ایک دن موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آجاؤں تو ، تو مجھ پر ایمان لے آئے گا اور اس بات کی شہادت دے گا کہ جو کچھ میں لایا ہوں وہ حق ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کل میں ایسا جادو لاؤں گا کہ کوئی جادو اس پر غالب نہیں آسکے گا۔ اگر آپ ہم پر غالب آئیں گے تو میں ضرور ایمان لے آؤں گا اور اس بات کی شہادت دوں گا کہ جو کچھ آپ لائے ہیں۔ وہ حق ہے۔ جادو نہیں ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ تمام جادوگروں نے میدان مقابلہ میں ہی سر بسجود ہو کر بھرے مجمع میں: ”امنا برب العلمين رب موسى وهرون“ کا نعرہ بلند کیا اور ایمان سے مشرف ہوئے۔
٢١
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں لوگوں کو فن طب میں کمال حاصل تھا اور اس فن میں وہ لاثانی تھے۔ چنانچہ بڑے بڑے ماہرین فن طب اسی زمانہ میں گزرے ہیں۔ چنانچہ قاعدہ مذکورہ کا مقتضیٰ یہی تھا کہ ان کو معجزہ اسی رنگ میں دیا جاتا اسی بنا پر ان کو مردوں کا زندہ کرنا۔ مادر زاد اندھوں کا اور برص کی بیماری والے کو اچھا کرنا، گارے کے جانور بنا کر اڑا دیا گیا۔
کوئی طبیب کتنا ہی ماہر فن ہو۔ مگر وہ اپنے علاج سے نہ تو مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اور نہ مادر زاد اندھے کو اچھا کر سکتا ہے اور نہ گارے کے جانوروں میں جان ڈال سکتا ہے۔ خواہ وہ جالینوس زمانہ ہی کیوں نہ ہو۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام اپنے طب روحانی یعنی معجزہ سے یہ تمام کام کرتے تھے اور تمام ماہرین فن طب کو عاجز کر دیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جس قوم میں مبعوث ہوئے نہ تو وہ فن طب سے واقف تھی۔ نہ فن جادوگری سے آشنا بلکہ اس قوم کا مایہ الافتخار فصاحت و بلاغت تھی۔ میدان فصاحت و بلاغت میں ان سے کوئی سبقت لے ہی نہیں سکتا تھا۔
غرض اس فن میں وہ لوگ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا قاعدہ مذکورہ کے لحاظ سے مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ رسول ﷺ کو معجزہ اسی فن میں دیا جائے۔ اس بناء پر آپ ﷺ کو قرآن کا معجزہ دیا گیا۔ اس کی فصاحت و بلاغت کے آگے تمام فصحاء بلغاء عرب نے سرتسلیم خم کر دیا۔ کسی سے آج تک مقابلہ نہیں ہوسکا اور نہ قیامت تک ہوسکے گا۔
معجزہ چونکہ نبی کا دعویٰ نبوت کے صداقت کی دلیل ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن شریف رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی کامل دلیل ہے۔ اس لئے خداوند نے سورۂ یٰسین کے ابتداء میں ہی آپ کی نبوت پر قرآن شریف ہی کو دلیل بنایا ہے: ”والقرآن الحکیم، انک لمن المرسلین“ یعنی قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بے شک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں۔ یعنی آپ کے پیغمبر ہونے پر قرآن شریف ہی دلیل ہے۔
کفار کو قرآن شریف کے معجزہ ہونے میں یہ شبہ تھا کہ شاید اس کو رسول اللہ ﷺ خود تصنیف کرتے ہوں۔ تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”وماکنت تتلوا من قبلہ من کتاب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون“ آپ کے متعلق اس شبہ کی تو بالکل گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ آپ قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ کوئی کتاب ہاتھ سے لکھ سکتے تھے کہ ایسی حالت میں کفار کچھ شبہ نکالتے کہ یہ لکھے پڑھے آدمی ہیں۔ کتابیں دیکھ بھال کر کچھ مضامین جمع کر کے سنادیتے ہیں۔ یعنی اگر آپ لکھے پڑھے ہوتے تو البتہ کسی قدر منشاء اشتباہ تو ہوتا گو وہ بھی بعد ظاہر ہونے اعجاز قرآن کے زائل ہو جاتا۔ لیکن جب آپ لکھے
٢٢
پڑھے ہی نہیں ہیں۔ بلکہ امی ہیں تو اس شبہ کی تو بالکل گنجائش ہی نہیں آدمی تو معمولی کتاب بھی تصنیف نہیں کر سکتا چہ جائیکہ قرآن شریف امی ہونا قریش کے نزدیک آفتاب سے زیادہ روشن تھا۔
اس لئے کہ آپ انہی کے گھر میں پیدا ہوئے اور ا آپ کا ایک ایک منٹ قریش کی نظروں میں تھا۔ انصاف پرست حاجت نہیں رہتی۔ لیکن معاندین اپنے عناد سے کب باز آسکتے ہ نے اس شبہ کا ایسا دندان شکن جواب دیا کہ جس کے سننے کے بع کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من دون اللہ ان کنتم صادقین“ ﴿اے معاندین اگر نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندہ خاص پر تو اچھا پھر تم ب جو اس کا ہم پلہ ہو کیونکہ آخر تم لوگ بھی تو عربی زبان رکھتے ہو یک ہو حضور ﷺ تو اتنے مشاق بھی نہیں ہیں اور اپنے حمایتیوں کو بھ کر رکھے ہیں اگر تم سچے ہو﴾
اس پر زور مطالبہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ب قیامت تک بھی نہ کر سکو گے۔ یعنی قیامت تک بھی تم سے ایک ای قرآن شریف کا ہم پلہ ہو، نہیں بن سکے گی۔ بھلا یہ سن کر پیچ وتا میں کوئی دقیقہ باقی چھوڑا ہوگا۔ مگر باوجود اس کے ان کو عاجز ہو کر زبردست دلیل ہے قرآن شریف کے معجزہ ہونے کی۔
الحاصل اس تقریر سے واضح ہو گیا کہ ان حضرات کا اختلاف کی صورت موجودہ کیوں اختیار کی گئی۔ اس تقریر کو سننے ک نہیں رہتا بلکہ خداوند تعالیٰ کی پر حکمت کارروائی کو دیکھ کر سبحان ال ہے اور اس قسم کے اعتراضات کو کہ (رسول اللہ ﷺ کو وہ معجز السلام کو دیئے گئے تھے) نہایت بری نظر سے دیکھنے لگتا ہے ا معجزات کا مقابلہ کرے کہ کس نبی کے معجزات بڑے ہیں اور اس
البتہ اگر رسول اللہ ﷺ موسیٰ علیہ السلام کے آپ ﷺ کو عصا و یدبیضا ہی دیا جاتا۔ ایسا ہی اگر موسیٰ علیہ السل
٢٣
پڑھے ہی نہیں ہیں۔ بلکہ امی ہیں تو اس شبہ کی تو بالکل گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ بے لکھا پڑھا آدمی تو معمولی کتاب بھی تصنیف نہیں کر سکتا چہ جائیکہ قرآن شریف جیسی کتاب بنا سکے اور آپ کا امی ہونا قریش کے نزدیک آفتاب سے زیادہ روشن تھا۔
اس لئے کہ آپ انہیں کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہی کے ہاتھوں میں پرورش پائی۔ آپ کا ایک ایک منٹ قریش کی نظروں میں تھا۔ انصاف پرست آدمی کو اس کے بعد کسی دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ لیکن معاندین اپنے عناد سے کب باز آسکتے ہیں؟ لہٰذا معاندین کو خداوند تعالیٰ نے اس شبہ کا ایسا دندان شکن جواب دیا کہ جس کے سننے کے بعد سر نہ اٹھا سکے۔ فرمایا کہ: ”وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداءكم من دون الله ان كنتم صادقين“ اے معاندین اگر تم کچھ خلجان میں ہو اس کتاب کی نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندہ خاص پر تو اچھا پھر تم بنالاؤ ایک سورۃ یعنی ایک محدود ٹکڑا جو اس کا ہم پلہ ہو کیونکہ آخر تم لوگ بھی تو عربی زبان رکھتے ہو بلکہ تم عربی زبان میں بڑے مشاق ہو حضورﷺ تو اتنے مشاق بھی نہیں ہیں اور اپنے حمایتیوں کو بھی بلاؤ جو خداوند سے الگ تجویز کر رکھے ہیں اگر تم سچے ہو۔
اس پر زور مطالبہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ: ”ولن تفعلوا “ قیامت تک بھی نہ کر سکو گے۔ یعنی قیامت تک بھی تم سے ایک ایسی سورۃ جو فصاحت و بلاغت میں قرآن شریف کا ہم پلہ ہو نہیں بن سکے گی۔ بھلا یہ سن کر پیچ و تاب نہیں آیا ہو گا اور کیا کوشش کرنے میں کوئی دقیقہ باقی چھوڑا ہو گا۔ مگر باوجود اس کے ان کو عاجز ہو کر اپنا سا منہ لے کر بیٹھ رہنا کس قدر زبردست دلیل ہے قرآن شریف کے معجزہ ہونے کی۔
الحاصل اس تقریر سے واضح ہو گیا کہ ان حضرات کو مختلف معجزے کیوں دیئے گئے اور اختلاف کی صورت موجودہ کیوں اختیار کی گئی۔ اس تقریر کو سننے کے بعد سمجھدار آدمی کو کوئی شبہ باقی نہیں رہتا بلکہ خداوند تعالیٰ کی ہر حکیمانہ کارروائی کو دیکھ کر سبحان اللہ کا نعرہ بے ساختہ زبان پر لے آتا ہے اور اس قسم کے اعتراضات کو کہ (رسول اللہﷺ کو وہ معجزے کیوں نہیں دیئے گئے جو موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے) نہایت بری نظر سے دیکھنے لگتا ہے اور نہ اس کو یہ فکر باقی رہتی ہے کہ معجزات کا مقابلہ کرے کہ کس نبی کے معجزات بڑے ہیں اور اس کے چھوٹے۔
البتہ اگر رسول اللہﷺ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مبعوث ہوتے تو بیشک آپﷺ کو عصا و ید بیضا ہی دیا جاتا۔ ایسا ہی اگر موسیٰ علیہ السلام حضورﷺ کے زمانہ میں مبعوث
٢٣
ہوتے تو ان کو قرآن شریف ہی معجزہ دیا جاتا علی ہذا القیاس اگر حضور ﷺ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوتے تو آپ کو احیاء موتی وغیرہ ہی دیا جاتا اور اگر عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کے زمانہ میں ہوتے تو ان کو بھی قرآن شریف ہی معجزہ دیا جاتا۔ غرض قاعدہ مذکورہ بالا سمجھ لینے کے بعد عاقل کو تو کوئی دقت پیش نہیں آتی اور سمجھانا بھی عاقل ہی کو مدنظر ہوتا ہے۔ بے عقل کو تو کوئی سمجھا ہی نہیں سکتا۔
دوسری قسم کے معجزات کی تشریح
جو معجزات انبیاء علیہم السلام کو بغرض تحدی دیئے جاتے ہیں ان کی تشریح تو ہو چکی اور دوسرے قسم کے معجزات کی تشریح باقی ہے۔ یعنی وہ معجزات جو بغرض تحدی و مقابلہ نہیں دیئے جاتے ان معجزات کے ظہور کا سبب چونکہ ایک نہیں ہوتا جیسا کہ معجزات تحدی کا تھا۔ بلکہ ان کے ظہور کے اسباب مختلف ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لئے کوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتا جو سب کے لئے حاوی ہو البتہ اجمالاً اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ معجزات ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ جو علاوہ تحدی کے انبیاء علیہم السلام کے متعلق پیش آتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی موقع پر پانی کی ضرورت ہے۔ مگر ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ ضرورت پوری نہیں ہو سکتی تو اللہ تعالیٰ اسی ضرورت کو باطنی اسباب سے بصورت معجزہ پورا کر دیتے ہیں۔
گو مقصود بالذات اس وقت اظہار معجزہ نہیں ہوتا۔ بلکہ ضرورت کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بوجہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے صورت معجزہ پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے لئے پانی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ”اضرب بعصاك الحجر“ عصا کو پتھر پر مارو انہوں نے مارا تو بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور صحابہ کرامؓ نے حضور اکرم ﷺ سے پانی کے نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے ایک پیالہ میں ذرا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ مبارک اس میں ڈالا تو آپ کی انگلیوں میں سے پانی جاری ہو گیا۔ اس قدر پانی نکلا کہ تمام لشکر سیراب ہو گیا اور جس قدر ضرورت تھی، پوری ہو گئی اور بغرض اگر کہیں کھانے کی ضرورت ہو اور ظاہری اسباب سے یہ ضرورت پوری نہ ہو سکے تو اس کو بصورت معجزہ پورا کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی دعوت کا واقعہ ایام خندق میں کہ بہت تھوڑا سا کھانا اس قدر زیادہ ہوا کہ تمام آدمیوں کے کھانے کے بعد بھی کچھ کم نہیں ہوا اور بھی اس قسم کے بہت سے واقعات ہوئے ہیں اور اگر کہیں دشمن سے بچانا مقصود ہو مگر ظاہری اسباب وہاں موجود نہیں ہیں تو اس ضرورت کو بصورت معجزہ پورا کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے لئے دریا کو پھاڑ دیا گیا اور عیسیٰ ٢٤
علیہ السلام کو جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا گیا دیا گیا جو حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کو غار ث اعزاز دینا منظور ہو مگر ظاہری اسباب اس کو پورا نہیں ک جاتا ہے۔
جیسا کہ واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا مگر ظاہری اسباب کی رو سے اس قدر مسافت ہزار بصورت معجزہ سرانجام دیا گیا اور اگر دشمن کو ہلاک کر اس ضرورت کو بصورت معجزہ پورا کیا جاتا ہے۔ جیس تمام لشکر کفار کی آنکھوں میں پڑنا جنگ بدر میں ہوا تھا
الحاصل یہ کہ معجزات علاوہ تحدی کے با ہیں۔ جس قسم کی ضرورت ہو گی اسی رنگ کا معجزہ ہو گ کہ انبیاء علیہم السلام کے یہ معجزات مختلف کیوں تھے گئے؟ اس لئے کہ جب ضرورتیں مختلف ہوں گی تو ان اور جو معجزات بغرض تحدی دیئے جاتے ہیں۔ ان کے
پیغمبروں کے پاس علم آنے کے ذرائع
جن حضرات کو خداوند تعالیٰ منصب نب ذریعہ سے اپنی رضا و غیر رضا کا قانون بندوں کو پہ طریقے ہیں۔ جو قرآن شریف میں اس آیت میں يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب ا انه على حكيم (سوره شوریٰ) او کرے مگر یا تو الہام سے یا پردہ کے پیچھے سے یا منظور ہو پیغام دے وہ بڑا عالی شان، بڑی حکمت و
اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ مقربین ب تین طریقے ہیں۔ (١) الہام یعنی دل میں کوئی ب انبیاء علیہم السلام کا خواب بھی حکم وحی میں ہوتا ہے موسیٰ علیہ السلام نے سنا تھا۔ یعنی صرف کلام سنائی
علیہ السلام کو جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور سراقہ کی سواری کو خشک زمین میں دھنسا دیا گیا جو حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق کو مارنے کے ارادہ سے جارہا تھا اور اگر کسی نبی کو خاص اعزاز دینا منظور ہو مگر ظاہری اسباب اس کو پورا نہیں کرسکتے تو اس ضرورت کو بصورت معجزہ پورا کیا جاتا ہے۔
جیسا کہ واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اپنے حبیب پاک کو یہ اعزاز عطا فرمادے مگر ظاہری اسباب کی رو سے اس قدر مسافت ہزارہا برس میں بھی طے نہیں ہوسکتی تھی۔ تو اس کو بصورت معجزہ سرانجام دیا گیا اور اگر دشمن کو ہلاک کرنا منظور ہو مگر ظاہری اسباب وفا نہیں کرتے تو اس ضرورت کو بصورت معجزہ پورا کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا ایک مٹھی کنکریوں کا پھینکنا اور تمام لشکر کفار کی آنکھوں میں پڑنا جنگ بدر میں ہوا تھا۔
الحاصل یہ کہ معجزات علاوہ تحدی کے باقی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ جس قسم کی ضرورت ہوگی اسی رنگ کا معجزہ ہوگا۔ اس تقریر کے بعد ہر شخص کو معلوم ہوجاتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے یہ معجزات مختلف کیوں تھے۔ سب کو ایک قسم کے معجزے کیوں نہیں دیئے گئے؟ اس لئے کہ جب ضرورتیں مختلف ہوں گی تو ان کے پورا کرنے کی صورتیں بھی مختلف ہوں گی اور جو معجزات بغرض تحدی دیئے جاتے ہیں۔ ان کے اختلاف کی وجہ اوپر گزر چکی ہے۔
پیغمبروں کے پاس علم آنے کے ذرائع
جن حضرات کو خداوند تعالیٰ منصب نبوت کے لئے منتخب فرماتے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ سے اپنی رضا و غیر رضا کا قانون بندوں کو پہنچا دیں۔ ان حضرات کے پاس علم آنے کے تین طریقے ہیں۔ جو قرآن شریف میں اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں: ”وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء انہ علی حکیم (سورہ شوریٰ)“ ”اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے مگر یا تو الہام سے یا پردہ کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہو پیغام دے وہ بڑا عالی شان، بڑی حکمت والا ہے۔﴾
اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ مقربین کے پاس خداوند تعالیٰ کی طرف سے علم ملنے کے تین طریقے ہیں۔ (١) الہام یعنی دل میں کوئی اچھی بات ڈال دینا بیداری یا خواب میں۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا خواب بھی حکم وحی میں ہوتا ہے۔ (٢) پردے کے پیچھے سے کلام سنا دینا جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے سنا تھا۔ یعنی صرف کلام سنائی دے، نظر کچھ نہ آئے اور یہ حجاب کوئی جسم نہیں جو
٢٥
خداوند کی ذات اقدس کو پوشیدہ کر دیتا ہے۔ بلکہ حقیقت اس حجاب کی انسان کا ضعف ادراک ہے جس کی وجہ سے باوجود کمال ظہور نور ذات کے انسان ادراک سے عاجز ہے اور یہی ضعف ادراک کا حجاب تھا جو موسیٰ علیہ السلام کو رؤیت سے مانع ہوا تھا اور یہ مانع جنت میں دور کر دیا جائے گا اور اہل جنت کو خداوند تعالیٰ کی رؤیت کی قوت عطاء کر دی جائے گی۔ (٣) فرشتہ کو بھیج کر اس کے ذریعہ سے جو کچھ منظور ہو نبی کو پہنچا دیا جائے۔
غرض خدا تعالیٰ جب مقربین کو اپنی رضا و غیر رضا کی اطلاع دیتے ہیں تو ان تین طریقوں کے ساتھ دیتے ہیں۔ بالمشافہ یا بالمعاینہ کسی سے بات نہیں کرتے اور : ”انه علیٰ حکیم“ میں دونوں امروں (یعنی بالمشافہ بات نہ کرنے اور تین طریقوں سے بات کرنے) کی علت بیان فرمائی ہے۔ پہلے امر یعنی بالمشافہ بات نہ کرنے کی علت (علی) ہے۔ یعنی وہ بڑا عالی شان ہے۔ انسان حالت موجودہ میں بوجہ ضعف ادراک اس سے بالمشافہ بات کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور دوسرے امر یعنی تین طریقوں سے بات کرنے کی علت (حکیم) ہے۔ یعنی وہ بڑی حکمت والا ہے۔ اس لئے اپنے بندوں کی مصلحت کا خیال فرما کر تین طریقے کلام کے مقرر فرما دیئے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی طریقہ بھی کلام کا نہ ہوتا اور یہ بندوں کی مصلحت کے خلاف ہے۔ لہٰذا اپنی حکمت سے بندوں کی مصلحت کو بھی فوت نہیں ہونے دیا۔ بلکہ رضا و غیر رضا کے معلوم کرنے کے تین طریقے مقرر فرما دیئے اور علو شان کو بھی محفوظ رکھا۔
نبوت کی تکمیل کے لئے ملائکہ کے انتخاب کی ضرورت
چونکہ نبی کے پاس علم آنے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی فرشتہ کے ذریعہ سے نبی کو علم دیا جائے اور تمام طریقوں سے زیادہ واضح اور آسان طریقہ یہی ہے۔ خصوصاً آسمانی کتابیں ہمیشہ اسی طریقہ سے بھیجی گئی ہیں۔ اس لئے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ملائکہ میں سے بھی بعض حضرات کو اس منصب کے لئے منتخب کیا جائے تاکہ احکام خداوندی کو رسولوں تک پہنچا دیں۔ جیسا کہ رسولوں کو منتخب کیا گیا کہ احکام خداوندی کو عام لوگوں تک پہنچائیں۔
غرض سلسلہ نبوت و رسالت میں دو انتخابوں کی ضرورت ہے۔ ایک انتخاب ملائکہ جو احکام کو رسولوں تک پہنچائیں اور دوسرا انتخاب معصوم انسانوں کا جو احکام عام لوگوں تک پہنچائیں۔ ان دونوں انتخابوں کے مجموعہ سے نبوت کی تکمیل ہوگی (انہی دو انتخابوں کے متعلق ارشاد ہے): "الله يصطفي من الملائكة رسلا ومن الناس ان الله سميع بصير
٢٦
(سورہ حج) ”اللہ تعالیٰ منتخب کر لیتا ہے فرشتوں میں سے“ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے یعنی اللہ تعالیٰ تمام احوال سے خوب واقف ہے جن میں سے جس کو اس منصب کے لئے مناسب سمجھتا ہے، منتخ ان میں سے اس منصب کے لئے حضرت جبرائیل علیہ السلام سب کا سب یقیناً حضرت جبرائیل علیہ السلام ہی لائے ہیں تصریح ہے: "نزل به الروح الامين (سورہ شعراء الامین یعنی جبرائیل علیہ السلام لائے ہیں۔﴾
بلکہ دوسری کتب الہیہ بھی غالباً جبرائیل علیہ ا ”رسلا“ جمع اس وجہ سے ہے کہ بعض موقع پر بعض احک کہ : "ولقد جآءت رسلنا ابراهیم“ ”ولقد جآء گو ان میں بھی رئیس جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ غرض بعـ لیکن عام طور پر یہ ڈیوٹی حضرت جبرائیل علیہ السلام ہی کے
ملائکہ کے پردار ہونے کی وجہ
چونکہ سلسلہ نبوت کی تکمیل کے لئے انتخاب ملا چکا ہے۔ لیکن ان دونوں آسمانوں میں اور آسمان و زمین ک روایات کے اعتبار سے زمین سے آسمان تک پانچ سو سا دوسرے آسمان کی چھت کی موٹائی بھی پانچ سو سال کا را تک سات ہزار سال کا راستہ ہے تو اتنی دور سے احکام لا تیز رفتاری کا انتظام کیا جائے ورنہ نبی کی تمام عمر میں ایک وہ جگہ جو بمنزلہ ڈاکخانہ کے قرار دی گئی ہے۔ وہ جگہ ساتویں اس مقام کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ جس قدر ا وہاں پر نازل ہوتے ہیں۔ پھر وہاں سے ملائکہ لے کر ملائکہ کو احکام ملنے کا ڈاک خانہ ہے اور وہی مقام ہے۔ ج پہنچانے کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں اور وہ ڈاک خا راستہ کے فاصلہ پر ہے۔ تو اتنی دور سے ڈاک لانے
٢٧
(سورہ حج) ”اللہ تعالیٰ منتخب کر لیتا ہے فرشتوں میں سے احکام پہنچانے والے اور آدمیوں میں سے یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔“
یعنی اللہ تعالیٰ تمام احوال سے خوب واقف ہے۔ وہ اپنے علم میں ملائکہ اور انسانوں میں سے جس کو اس منصب کے لئے مناسب سمجھتا ہے، منتخب فرماتا ہے اور عموماً ہر زمانہ میں ملائکہ میں سے اس منصب کے لئے حضرت جبرائیل علیہ السلام ہی کو منتخب کیا گیا ہے۔ قرآن شریف سب کا سب یقیناً حضرت جبرائیل علیہ السلام ہی لائے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اس کی تصریح ہے: ”نزل بہ الروح الامین (سورہ شعراء) ”اس کو یعنی قرآن شریف کو روح الامین یعنی جبرائیل علیہ السلام لائے ہیں۔“
بلکہ دوسری کتب الٰہیہ بھی غالباً جبرائیل علیہ السلام ہی لائے ہیں۔ لیکن آیت میں ”رسلا“ جمع اس وجہ سے ہے کہ بعض موقع پر بعض احکام دوسرے فرشتے بھی لائے ہیں۔ جیسا کہ: ”ولقد جآءت رسلنا ابراھیم“ ”ولقد جآءت رسلنا لوطا“ میں تصریح ہے۔ گو ان میں بھی رئیس جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ غرض بعض موقعہ پر اور ملائکہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ لیکن عام طور پر یہ ڈیوٹی حضرت جبرائیل علیہ السلام ہی کے سپرد رہی ہے۔
ملائکہ کے پردار ہونے کی وجہ
چونکہ سلسلۂ نبوت کی تکمیل کے لئے انتخاب ملائکہ کی بھی ضرورت تھی۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ لیکن وہ رہتے آسمانوں میں اور آسمان و زمین کے درمیان مسافت بہت لمبی ہے۔ بعض روایات کے اعتبار سے زمین سے آسمان تک پانچ سو سال کا راستہ ہے اور ایسا ہی ہر آسمان سے دوسرے آسمان کی چھت کی موٹائی بھی پانچ سو سال کا راستہ ہے۔ تو گویا ساتویں آسمان کی چھت تک سات ہزار سال کا راستہ ہے تو اتنی دور سے احکام لانے کیلئے اس بات کی ضرورت تھی کہ کوئی تیز رفتاری کا انتظام کیا جائے ورنہ نبی کی تمام عمر میں ایک دفعہ بھی احکام کا آنا ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ وہ جگہ جو بمنزلہ ڈاکخانہ کے قرار دی گئی ہے۔ وہ جگہ ساتویں آسمان میں ہے۔
اس مقام کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ جس قدر احکام عالم بالا سے نازل ہوتے ہیں۔ پہلے وہاں پر نازل ہوتے ہیں۔ پھر وہاں سے ملائکہ لے کر زمین پر لاتے ہیں۔ تو گویا سدرۃ المنتہیٰ ملائکہ کو احکام ملنے کا ڈاک خانہ ہے اور وہی مقام ہے۔ جبرائیل علیہ السلام جو عموماً اس ڈاک کے پہنچانے کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں اور وہ ڈاک خانہ زمین سے تقریباً سات ہزار سال کے راستہ کے فاصلہ پر ہے۔ تو اتنی دور سے ڈاک لانے کے لئے بڑی زبردست تیز رفتاری کی
٢٧
ضرورت تھی اور اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی تھیں۔ مثلاً کوئی ہوائی جہاز ڈاک لانے والے فرشتہ کو دیا جاتا یا کوئی دوسری سواری تیز رفتار مثل براق وغیرہ کے دی جاتی۔ غرض متعدد صورتیں تھیں۔ لیکن چونکہ سنت اللہ یہ ہے کہ اگر ایک کام کے لئے متعدد راستے ہوں۔ تو ان میں سے وہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جو سب سے زیادہ آسان ومختصر ہو۔ اس بناء پر خداوند تعالیٰ نے ملائکہ کو پر دار بنادیا تا کہ وہ خود اڑ کر چلے جائیں۔ کسی سواری کی ضرورت ہی نہ ہو۔
کیونکہ یہ راستہ نہایت ہی مختصر اور آسان ہے۔ ڈاک لیتے ہی لے اڑے گا۔ جتنی دیر میں سواری کو پکڑ کر سوار ہوتا۔ اتنی دیر میں پہنچ بھی جائے گا اور اس بات کی فکر بھی نہیں ہوگی کہ سواری کو کہاں باندھوں یا کہاں رکھوں۔ اس کے متعلق ارشاد ہے: ”الحمدلله فاطر السموات والارض جاعل الملئكة رسلا اولى اجنحة مثنى وثلث وربع يزيد فى الخلق مايشاء ان الله على كل شيئ قدير (سورہ فاطر) “ حمد اللہ ہی کو لائق ہے جو آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو یا تین تین یا چار چار پر ہیں۔ وہ پیدائش میں جو چاہے زیادہ کر دیتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ﴿
اس آیت میں پیغام سے مراد وحی کا لانا ہے رسولوں کی طرف اور کچھ چار پروں پر منحصر نہیں بلکہ حسب مصلحت و ضرورت زیادہ بھی دیئے جاتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے: ” یزید فى الخلق مايشاء “ میں کہ اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے پر زیادہ عطا فرما دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کو جو عموماً اس ڈاک کے لئے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چھ سو پر عطا فرمائے ہیں اور وہ اس قدر تیز رفتار ہیں کہ بجلی بھی کیا چیز ہوگی۔ آنکھ کی پلک مارنے سے بھی پہلے پہنچ جاتے ہیں۔
غرض ڈاک لانے کی جگہ چونکہ بہت دور تھی لہٰذا جلدی پہنچنے کے لئے یہ صورت اختیار کی گئی کہ ملائکہ کو پر عطاء کئے گئے اور سواری وغیرہ سے مستغنی کر دیئے گئے اور یہی راستہ اس کام کے لئے تمام راستوں سے مختصر و آسان تھا۔
پیغمبروں کی شریعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ
گو اصول میں تمام انبیاء علیہم السلام متفق تھے۔ مگر فروع کے اعتبار سے شریعتیں مختلف ہوتی رہیں۔ اسی اختلاف کا سبب صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگوں کو طرح طرح کے خدشات پیش آئے۔ کسی نے تو یہ کہا کہ اس سے خداوند تعالیٰ کا جہل لازم آتا ہے۔ لہٰذا یہ جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ایک شریعت مقرر کر کے پھر اس کو کچھ عرصہ کے بعد منسوخ کر دینے سے معلوم ٢٨
ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم نہ تھا کہ آگے چل کر یہ شریعت خداوند تعالیٰ چونکہ عالم الغیب ہے۔ لہٰذا اس کی مقـ جو قیامت تک نہ بدلے۔ اس نسخہ ہی کی وجہ سے اکثر لوگ حضو اکرم ﷺ پر مفتری کا الزام لگایا۔ جس کی تصریح اس آیت میں اية والله اعلم بما ينزل قالوا انما انت مفتر (نحل) “ جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلـ اس کی جگہ دوسرا حکم دیتے ہیں حالانکہ اس کی مصلحت کو خداوند کہتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ خدا پر افتراء کرنے والے ہیں۔ یـ کرتے ہیں۔ مگر یہ لوگ جاہل ہیں مصلحت نسخ کو نہیں جانتے سے اس قسم کے خدشات لوگوں کو پیش آئے ہیں لہٰذا مناسب دی جائے تا کہ اس قسم کے خدشات رفع ہو جائیں۔
یہ سمجھنا چاہئے کہ انبیاء علیہم السلام مثل اطباء کے ہـ علاج کرتے ہیں۔ ایسا ہی انبیاء علیہم السلام روحانی بیماریوں کو روحانی بیماریوں کا طبیب و ڈاکٹر بنا کر بھیجتا ہے تو جس طـ بیماروں کو ایک ہی نسخہ دے بلکہ اگر ایسا کرے تو اس کا یہ فعل نا مختلف ہیں۔ جوانوں کا مزاج بچوں اور بوڑھوں کے خلاف جوان کے خلاف ہے۔ ایک ملک کے رہنے والوں کا مزاج نہیں ملتا۔
تو اس اختلاف مزاج کے ہوتے ہوئے ممکن ہی کے موافق ہو سکے۔ بلکہ ہر شخص کو اس کے مزاج کے موافق ہے۔ اسی طرح تمام لوگوں کے لئے ایک ہی شریعت مقرر نـ واقع ہوئے ہیں۔ ایک ہی شریعت سب کی فطرت کے موافـ کرنا تکلیف مالا یطاق ہے لہٰذا موافق فیصلہ: ” لا یکلف الـ تعالیٰ لوگوں کی فطرت کے موافق شریعت بھیجتے رہے۔
یا یوں سمجھنا چاہئے کہ بچے کی پیدائش کے دن کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہر ذی عقل جانتا ہے کہ ہر زما ٢٩
ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم نہ تھا کہ آگے چل کر یہ شریعت خلاف مصلحت واقع ہو گی ۔ خداوند تعالیٰ چونکہ عالم الغیب ہے۔ لہٰذا اس کی مقرر کردہ شریعت تو ایسی ہونی چاہئے جو قیامت تک نہ بدلے۔ اس نسخہ ہی کی وجہ سے اکثر لوگ حضورﷺ پر ایمان نہیں لائے اور حضور اکرمﷺ پر مفتری کا الزام لگایا۔ جس کی تصریح اس آیت میں ہے: ”واذا بدلنا آیۃ مکان آیۃ واللہ اعلم بما ینزل قالوا انما انت مفتر بل اکثرہم لا یعلمون (سورہ نحل) ”جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں یعنی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم دیتے ہیں حالانکہ اس کی مصلحت کو خداوند تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے تو آپ کو یہ کہتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ خدا پر افتراء کرنے والے ہیں۔ یعنی اپنے کلام کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ مگر یہ لوگ جاہل ہیں مصلحت نسخ کو نہیں جانتے۔ غرض اختلاف شرائع کی وجہ نہ سمجھنے سے اس قسم کے خدشات لوگوں کو پیش آئے ہیں لہٰذا مناسب معلوم ہوا کہ اس کی اصلی وجہ بیان کر دی جائے تاکہ اس قسم کے خدشات رفع ہو جائیں۔
یہ سمجھنا چاہئے کہ انبیاء علیہم السلام مثل اطباء کے ہیں۔ جیسا کہ اطباء جسمانی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ ایسا ہی انبیاء علیہم السلام روحانی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ خداوند تعالیٰ ان کو روحانی بیماریوں کا طبیب و ڈاکٹر بنا کر بھیجتا ہے تو جس طرح کوئی طبیب ایسا نہیں کرتا کہ تمام بیماروں کو ایک ہی نسخہ دے بلکہ اگر ایسا کرے تو اس کا یہ فعل نادانی پر مبنی ہو گا۔ کیونکہ لوگوں کے مزاج مختلف ہیں۔ جوانوں کا مزاج بچوں اور بوڑھوں کے خلاف ہے اور ایک جوان کا مزاج دوسرے جوان کے خلاف ہے۔ ایک ملک کے رہنے والوں کا مزاج دوسرے ملک کے رہنے والوں سے نہیں ملتا۔
تو اس اختلاف مزاج کے ہوتے ہوئے ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک ہی نسخہ سب کے مزاج کے موافق ہو سکے۔ بلکہ ہر شخص کو اس کے مزاج کے موافق نسخہ دیا جاتا ہے اور یہی مصلحت کا تقاضا ہے۔ اسی طرح تمام لوگوں کے لئے ایک ہی شریعت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ لوگ مختلف الفطرۃ واقع ہوئے ہیں۔ ایک ہی شریعت سب کی فطرت کے موافق نہیں ہو سکتی اور خلاف فطرت پر مجبور کرنا تکلیف مالا یطاق ہے لہٰذا موافق فیصلہ : ”لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا“ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ لوگوں کی فطرت کے موافق شریعت بھیجتے رہے۔
یا یوں سمجھنا چاہئے کہ بچے کی پیدائش کے دن سے لے کر جب تک وہ زندہ رہے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہر ذی عقل جانتا ہے کہ ہر زمانہ میں اس کو ایک ہی غذا نہیں دی جاتی۔
٢٩
بلکہ ہر زمانہ میں اس کی فطرت کے موافق غذا دی جاتی ہے۔ جب فطرت میں یہ تبدیلی واقع ہوتی ہے تو غذا میں بھی لازمی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو بچہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔
مثلاً پہلے روز ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد بچے کی فطرت کے لئے ماں کے دودھ سے بہتر کوئی غذا نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کے پیٹ کے نکلنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اس کی ماں کے پستانوں میں دودھ پیدا کر دیتا ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ وہ ایسا کرے۔
اگر کوئی شخص بچے کو پہلے ہی روز بجائے دودھ کے روٹی کھلانے لگے۔ یا زردہ بریانی کھلانے لگے تو گو یہ غذا بہت اچھی ہے۔ لیکن چونکہ بچے کی فطرت کے خلاف ہے لہٰذا وہ مرجائے گا۔ ہرگز زندہ نہیں رہ سکے گا۔ لیکن جب کچھ عرصہ کے بعد بچے کی فطرت میں تبدیلی آتی ہے۔ تو غذا بھی بدل دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ وہی دودھ ہے جس کے بغیر اس کو چین نہیں آتا تھا اور جس غذا کے کھانے سے زندہ ہی نہیں رہ سکتا تھا وہ غذا ماں کے دودھ کی طرح مرغوب معلوم ہوتی ہے۔
الحاصل لوگوں کی فطرت چونکہ مختلف ہے۔ اس لئے ہر زمانہ کے لوگوں کی فطرت کے موافق شریعت آتی رہی ہے اور یہ مطلب ہے: ”لکل جعلنا منکم شرعة ومنهاجا“ کا یعنی ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے خاص شریعت وطریقت تجویز کی تھی۔ اس آیت میں یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے۔ انہوں نے حضورﷺ پر ایمان لانے سے اس وجہ سے انکار کیا کہ آپﷺ نئی شریعت لائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ شریعت کی تبدیلی کوئی قابل تعجب نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے تم میں سے بھی ہر ایک کو خاص خاص شریعت مل چکی ہے۔ مثلاً یہود کے لئے توراۃ تھی اور نصاریٰ کے لئے انجیل۔ ایسا ہی اگر حسب مصلحت زمانہ حضورﷺ کی امت کو نئی شریعت یعنی قرآن شریف عطاء کیا گیا ہے تو اس میں انکار کی کیا بات ہے؟
غرض شریعت کی تبدیلی مصلحت کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ عین مصلحت ہے۔ البتہ اگر لوگوں کی فطرت مختلف نہ ہوتی بلکہ ہر زمانہ میں لوگوں کی فطرت یکساں ہوتی تو بیشک ایک ہی شریعت سب کو دی جاتی اور ایک شریعت کا دینا ہی مصلحت ہوتا اور یہی مطلب ہے: ”ولوشاء الله لجعلکم امة واحدة“ کا یعنی اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت کر دیتے جس کی صورت یہ ہوتی کہ تمام لوگوں کو ایک ہی فطرت پر پیدا کرتے اور سب کو ایک ہی شریعت دیتے۔ پھر تو سب ایک ہی امت ہو جاتے۔ یعنی خداوند تعالیٰ کو اس بات کی قدرت تھی کہ وہ ایسا کر دیتا۔ مگر ایسا کرنا چونکہ مصلحت کے خلاف تھا۔ جس کی تشریح عنقریب آئے گی۔ لہٰذا ایسا نہیں کیا گیا۔ بلکہ مختلف فطرتیں دے کر مختلف شریعتیں عطاء کی گئیں۔
٣٠
پیغمبروں کی تعلیم سے سب لوگ برابر مستفید نہیں
انبیاء علیہم السلام کی تعلیم سے تمام لوگ یکساں فائد اٹھاتا ہے کوئی کم اور کوئی بالکل محروم رہتا ہے۔ ناواقف آدمی میں کچھ نقصان ہے۔ جس کی وجہ سے سب کو فائدہ یکساں نہیں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اعلیٰ درجہ کی کامل ہوتی ہے۔ کوئی تعلیم نہ وہ خود چاہتے ہیں کہ ہماری تعلیم سے کوئی محروم رہے۔ بلکہ زمین فطرت مختلف ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ کسی ک خراب۔ اچھی فطرت والے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بری فطرت
خداوند تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس مسئلہ ”والبلد الطيب يخرج نباته باذن ربه والذي اعراف) ”اور جو زمین ستھری ہوتی ہے اس کا پیداوار خدا ہے اس کا پیداوار اگر نکلے بھی تو بہت کم نکلتا ہے۔“ مطلب ہے اور اس میں فی نفسہ کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر باوجود اس اور کہیں بہت کم اور کہیں پھول پیدا ہوتے ہیں اور کہیں کان فرمایا ہے شعر:
در باغ لالہ روید و در شورہ
ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کی تعلیم ایک روحانی ب کوئی کلام نہیں ہے۔ لیکن جس کی زمین فطرت خراب ہے فطرت اچھی ہے۔ وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے تعلیم پر کیا
بھی اس مسئلہ کو بارش کی مثال سے واضح فرمایا ہے: ”مثل والعلم كمثل الغيث الكثير اصاب ارضا فكا الكلاء والعشب الكثير وكانت منها اجادب ام فشربو اوسقوا وزرعوا واصاب منها طائفة اخ ولا تنبت كلاء فذلك مثل من فقه في دين ا وعلم ومثل من لم يرفع بذلك راسا ولم ي
٣١
پیغمبروں کی تعلیم سے سب لوگ برابر مستفید نہیں ہوتے
انبیاء علیہم السلام کی تعلیم سے تمام لوگ یکساں فائدہ نہیں اٹھاتے۔ بلکہ کوئی زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے کوئی کم اور کوئی بالکل محروم رہتا ہے۔ ناواقف آدمی کو اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید تعلیم میں کچھ نقصان ہے۔ جس کی وجہ سے سب کو فائدہ یکساں نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ وجہ نہیں ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اعلیٰ درجہ کی کامل ہوتی ہے۔ کوئی تعلیم ان کی تعلیم سے بہتر ہو ہی نہیں سکتی اور نہ وہ خود چاہتے ہیں کہ ہماری تعلیم سے کوئی محروم رہے۔ بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی زمین فطرت مختلف ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ کسی کی زمین فطرت اچھی ہے اور کسی کی خراب۔ اچھی فطرت والے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بری فطرت والے محروم رہتے ہیں۔
خداوند تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس مسئلہ کو بارش کی مثال دے کر سمجھایا ہے:
’’ والبلد الطيب يخرج نباته باذن ربه والذی خبث لايخرج الا نکدا (سوره اعراف) ‘‘ ﴿اور جو زمین ستھری ہوتی ہے اس کا پیداوار خدا کے حکم سے خوب نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس کا پیداوار اگر نکلے بھی تو بہت کم نکلتا ہے ۔﴾ مطلب یہ ہے کہ بارش تو سب جگہ برابر برستی ہے اور اس میں فی نفسہ کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر باوجود اس کے کہیں پیداوار بہت اچھی ہوتی ہے اور کہیں بہت کم اور کہیں پھول پیدا ہوتے ہیں اور کہیں کانٹے۔ جیسا کہ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے شعر:
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس
ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کی تعلیم ایک روحانی بارش ہے۔ اس کی لطافت و کمال میں تو کوئی کلام نہیں ہے۔ لیکن جس کی زمین فطرت خراب ہے وہ مستفید نہیں ہوسکتا اور جس کی زمین فطرت اچھی ہے۔ وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے تعلیم پر کوئی دھبہ نہیں آتا اور حضور اکرم ﷺ نے بھی اس مسئلہ کو بارش کی مثال سے واضح فرمایا ہے: ’’مثل ما بعثنی اللہ به من الهدى والعلم كمثل الغيث الكثير اصاب ارضا فكان منها نقية قبلت الماء فانبتت الكلاء والعشب الكثير وكانت منها اجادب امسكت الماء فنفع الله بها الناس فشربوا وسقوا وزرعوا واصاب منها طائفة اخرى انما هي قيعان لا تمسك ماء ولاتنبت كلاء فذلك مثل من فقه فی دين الله ونفعه بما بعثنی الله به فعلم وعلم ومثل من لم يرفع بذلك راسا ولم يقبل هدی الله الذی ارسلت به‘‘
٣١
(بخاری باب فضل من علم وعلم)
﴿ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت و علم مجھ کو دے کر بھیجا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے زور کا مینہ جو زمین پر برسا۔ پس بعضی زمین عمدہ تھی اس نے پانی پی لیا اور سوکھی اور ہری گھاس اگائی اور بعضے قطعے اس زمین کے سخت تھے۔ انہوں نے پانی کو روک رکھا (اور پیا نہیں) پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فائدہ دیا لوگوں نے اس سے پانی پیا اور پلایا (اپنے جانوروں کو) اور کھیتی کی اور بعضے قطعوں پر اس زمین کے پانی پڑا وہ صاف میدان تھے۔ نہ وہ پانی کو روکتے تھے نہ گھاس اگاتے ہیں۔ پس یہ (تینوں قسمیں جو اوپر بیان ہوئیں) مثال ہیں اس شخص کی جس نے سمجھ حاصل کی اللہ کے دین میں اور فائدہ دیا اس کو اس چیز نے جس کو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا۔ اس نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو تعلیم دی اور مثال اس شخص کی جس نے ادھر سر نہ اٹھایا اور نہ قبول کیا اللہ کی اس ہدایت کو جو میں دے کر بھیجا گیا۔ ﴾
مثال کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے خود بھی فائدہ اٹھایا اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچایا۔ دوسرے وہ لوگ جنہوں نے خود تو فائدہ نہیں اٹھایا یعنی خود شریعت پر عمل نہیں کیا لیکن دوسروں کو فائدہ پہنچایا یعنی تعلیم دی اور تیسرے وہ لوگ جو نہ خود فائدہ اٹھا سکے اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے۔
مثلاً اگر گائے اور بھینس گوشت سے فائدہ نہ اٹھائے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ گوشت میں کوئی خرابی ہے۔ بلکہ اس کی فطرت ہی ایسی ہے کہ اس کو گوشت سے نفرت ہے۔ ایسا ہی شیر گھاس سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ گھاس کا قصور ہے۔ بلکہ شیر کی فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ اس کو گھاس سے نفرت ہے۔ اگر بھوک سے مر بھی جائے تو گھاس نہیں کھائے گا۔ پس اسی طرح جن لوگوں کو فطرۃ شریعت سے نفرت ہے۔ جیسا کہ شیر کو گھاس سے اور گائے کو گوشت سے۔ وہ کبھی بھی شریعت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ خواہ مر بھی جائیں۔ جیسا کہ ابو جہل وغیرہ اور جن لوگوں کی فطرت کو تعلیم انبیاء علیہم السلام سے مناسبت ہے جیسا کہ حضرت ابو بکرؓ وغیرہ وہ مر بھی جائیں تو شریعت کو نہیں چھوڑیں گے جیسا کہ شیر گوشت کو نہیں چھوڑ سکتا۔
ایسا ہی اگر آپ چاہیں کہ گائے بھینس انڈے دے تو ہر گز نہیں دے سکے گی اور مرغی بچے نہیں دے سکے گی۔ خواہ آپ کتنا ہی زور لگائیں۔ بلکہ گائے بھینس بچے دے گی اور مرغی انڈے۔ ایسا ہی ہر نوع کے خواص جو اس کی فطرت کے ساتھ مخصوص ہیں۔ اس کے خلاف اگر آپ چاہیں تو ہرگز ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے باوجودیکہ تمام حیوانوں کو ایک پانی سے
٣٢
پیدا کیا ہے۔ مگر ہر قسم کے جانداروں کو صورت نوعیہ جدا جدا عطا نوعیہ کے خواص بھی علیحدہ علیحدہ مقرر فرمائے ہیں۔ ایک نوع سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے متعلق ارشاد ہے: ”والله خلق يمشى على بطنه ومنهم من يمشى على رجلين (سورہ نور) “
﴿اور اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں وہ ہیں جو دو وہ ہیں جو چار پر چلتے ہیں۔﴾
پانی سے مراد تو نطفہ ہے اور یا معنی متعارف یعنی پانی ہے اور ان کے مادہ کا جز ہے۔ اس بناء پر 'خلق کل دابة من مراد نطفہ لیا جائے تو اس صورت میں معنی ظاہر ہیں۔ مطلب یہ سے ہے۔ مگر پھر صورت نوعیہ جدا جدا ہے۔ کوئی پیٹ کے بل دو پاؤں پر چلتا ہے جیسا کہ انسان وغیرہ۔ کوئی چار پاؤں پر چلتا کی صورت نوعیہ اور خواص جدا ہیں۔ کوئی گوشت سے فائدہ اٹھا دیتا ہے کوئی انڈے۔ تو اب جس جاندار کی فطرت گوشت خور نہیں اٹھا سکتا اور جو گھاس سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ گوشت سے ہے وہ بچے نہیں دے سکتا اور جو بچے دیتا ہے وہ انڈے نہیں دے
اسی طرح جن لوگوں کی فطرت شریعت کے خلاف موافق وہ شریعت سے ہرگز فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ مگر ان کے دھبہ نہیں آسکتا اور نہ تعلیم انبیاء علیہم السلام پر کوئی حرف آسکتا ہ
یا یوں سمجھنا چاہئے کہ آفتاب جب نکلتا ہے تو وہ ا یہ چاہتا ہے کہ کسی جگہ روشنی پڑے اور کسی جگہ نہ پڑے۔ مگر جو پڑتی ہے اور جہاں ہموار نہیں ہوتی بلکہ کوئی دیوار وغیرہ کی آڑ ہ یہ آفتاب کا قصور ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی جب آفتاب نبوت میرا نور کسی جگہ پر پڑے اور کسی جگہ پر نہ پڑے بلکہ وہ سبھی جگ دوں۔ مگر جن لوگوں کی زمین فطرت ناہموار ہوتی ہے۔ وہ نور
٣٣
پیدا کیا ہے۔ مگر ہر قسم کے جانداروں کو صورت نوعیہ جدا جدا عطا فرمائی ہیں اور ہر ایک کی صورت نوعیہ کے خواص بھی علیحدہ علیحدہ مقرر فرمائے ہیں۔ ایک نوع کے خواص کا صدور دوسرے نوع سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے متعلق ارشاد ہے: ”واللہ خلق کل دابة من ماء فمنہم من یمشی علی بطنہ ومنہم من یمشی علی رجلین ومنہم من یمشی علی اربع (سورہ نور)“
﴿اور اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ پھر ان میں بعض تو وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں اور بعض ان میں وہ ہیں جو چار پر چلتے ہیں۔﴾
پانی سے مراد تو نطفہ ہے اور یا معنی متعارف یعنی بارش پانی چونکہ جانداروں کا بقاء پانی پر ہے اور ان کے مادہ کا جز ہے۔ اس بناء پر ”خلق کل دابة من ماء“ فرمایا ہے اور جب پانی سے مراد نطفہ لیا جائے تو اس صورت میں معنی ظاہر ہیں۔ مطلب یہ کہ باوجودیکہ پیدائش سب کی پانی سے ہے۔ مگر پھر صورت نوعیہ جدا جدا ہے۔ کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے جیسا کہ سانپ وغیرہ۔ کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسا کہ انسان وغیرہ۔ کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسا کہ چار پائے اور ہر ایک کی صورت نوعیہ اور خواص جدا ہیں۔ کوئی گوشت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کوئی گھاس سے۔ کوئی بچے دیتا ہے کوئی انڈے۔ تو اب جس جاندار کی فطرت گوشت خور واقع ہوئی ہے وہ گھاس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور جو گھاس سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ گوشت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ جو انڈے دیتا ہے وہ بچے نہیں دے سکتا اور جو بچے دیتا ہے وہ انڈے نہیں دے سکتا علیٰ ہذا القیاس باقی خواص۔
اسی طرح جن لوگوں کی فطرت شریعت کے خلاف واقع ہوئی ہے اور کفر و شرک کے موافق وہ شریعت سے ہرگز فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ مگر ان کے فائدہ نہ اٹھانے سے شریعت پر کوئی دھبہ نہیں آ سکتا اور نہ تعلیم انبیاء علیہم السلام پر کوئی حرف آ سکتا ہے۔
یا یوں سمجھنا چاہئے کہ آفتاب جب نکلتا ہے تو وہ اپنی روشنی کو ہر جگہ برابر ڈالتا ہے اور نہ یہ چاہتا ہے کہ کسی جگہ روشنی پڑے اور کسی جگہ نہ پڑے۔ مگر جہاں زمین ہموار ہوتی ہے وہاں روشنی پڑتی ہے اور جہاں ہموار نہیں ہوتی بلکہ کوئی دیوار وغیرہ کی آڑ ہوتی ہے۔ وہاں روشنی نہیں پڑتی تو کیا یہ آفتاب کا قصور ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی جب آفتاب نبوت طلوع کرتا ہے تو وہ یہ نہیں چاہتا کہ میرا نور کسی جگہ پر پڑے اور کسی جگہ پر نہ پڑے بلکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے نور سے منور کر دوں۔ مگر جن لوگوں کی زمین فطرت ناہموار ہوتی ہے۔ وہ نور نبوت سے محروم رہتے ہیں۔ مگر اس
٣٣
محرومی سے آفتاب نبوت پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔ خداوند تعالیٰ نے حضور ﷺ کو قرآن شریف میں سراج منیر فرمایا ہے اور آفتاب کو بھی سراج سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے ظاہر ہوا حضور اکرم ﷺ کو بمنزلہ آفتاب قرار دیا ہے یا یوں سمجھنا چاہئے کہ اگر چمگادڑ آفتاب کو نہ دیکھ سکے تو کیا یہ آفتاب کا قصور ہے؟ ہرگز نہیں۔ جیسا کہ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
چشمه آفتاب راچہ گناہ
اختلاف فطرت کے اختیار کرنے کی وجہ
جب تمام لوگ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم سے اس وجہ سے مستفید نہیں ہوتے کہ سب کی فطرت مساوی نہیں ہے تو خداوند تعالیٰ نے فطرتیں مختلف کیوں بنائیں جس کی وجہ سے اکثر لوگ محروم رہے۔ ایسا کیوں نہیں کیا کہ سب کی فطرت یکساں بنائے تاکہ سب کے سب تعلیم سے برابر فائدہ اٹھاتے؟
اس کے متعلق یہ گزارش ہے کہ صورتیں دو تھیں۔ ایک یہ کہ تمام چیزوں کو مختلف الفطرت بنایا جائے اور دوسری یہ کہ تمام چیزوں کو مساوی الفطرت بنایا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ حکیم ہے۔ لہذا اس نے دونوں صورتوں میں سے وہ صورت اختیار کی جو بندوں کے لئے زیادہ مفید تھی۔ یعنی اختلاف فطرت والی صورت کو اختیار کیا اور تمام چیزوں کو مختلف الفطرۃ بنا دیا۔ جیسا کہ مشاہدہ سے واضح ہے کیونکہ سب چیزوں کی فطرت کو یکساں اور متحد بنانے کی صورت میں کئی خرابیاں پیدا ہوتی تھیں۔
مثلاً اگر زمین کے قطعوں کو مختلف الفطرۃ نہ بنایا جاتا بلکہ تمام قطعے متحد الفطرۃ ہوتے تو پھر زمین ایسی نہ ہوتی کہ کہیں اونچی اور کہیں نیچی۔ کہیں خشکی کہیں مکانات و درخت کہیں صاف میدان بلکہ یا تو سب پر پانی ہوتا تو اس صورت میں زمین پر رہنا ہی ممکن نہ رہتا۔ یا ہر جگہ درخت ہوتے تو چلنا پھرنا ہی دشوار ہو جاتا۔ بلکہ رہنا بھی ممکن نہ ہوتا۔ یا کہیں بھی درخت نہ ہوتے تو سایہ کا انتظام نہ ہوتا اور لکڑیاں جلانے و مکان بنانے کے لئے میسر نہ ہوتیں۔ غرض تمام صورتوں میں دقتیں تھیں۔ لہذا یہی بہتر ہے کہ کہیں پانی ہے۔ کہیں خشکی ہے۔ کہیں درخت ہیں کہیں صاف میدان اور اگر ایسا ہی انسانوں میں اختلاف فطرت نہ ہوتا تو پھر تمام انسانوں میں کوئی امتیاز ہی نہ باقی رہتا۔ کیونکہ پھر تو سب کے قد بھی برابر ہوتے۔ رنگ بھی ایک ہوتا غرض کوئی امتیاز نہ ہوتا۔ تو ایک دوسرے کی پہچان ہی ناممکن ہوتی اور پھر یہ بھی نہ ہوتا کہ ایک دوسرے کے نطفہ سے پیدا
٣٤
ہوتے ورنہ ترجیح بلامرجح لازم آتی۔ کیونکہ جب سب کی فطرت کے نطفہ سے پیدا ہو اور عمر زید کے نطفہ سے پیدا نہ ہو۔
بلکہ پیدائش کی صورت یہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ یونہی جیسا کہ آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تھا۔ اور پھر یہ بھی نہ ہوتا کہ بلکہ سب کو ایک دم پیدا کیا جاتا ورنہ ترجیح بلامرجح لازم آتی تو پیدا کر دیئے جاتے۔ تو اس صورت میں ایک خرابی یہ ہوتی کہ ہوتی کہ جب ایک دوسرے کے نطفہ سے پیدا نہ ہوتے تو آپس نہ ہوتی بوجہ نہ ہونے تعلق رشتہ داری کے تو اس پر کئی خرابیاں کوئی مر جاتا تو مردہ سڑتا رہتا کوئی اٹھاتا ہی نہیں۔
اب تو غریب سے غریب آدمی بھی مر جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میرا باپ تھا۔ کوئی کہتا ہے میرا بھائی تھا۔ میرا چچا ہو جاتے ہیں۔ مگر جب پیدائش کا یہ سلسلہ نہ ہوتا تو کوئی پوچھنے کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ اس کے متعلق ارشاد باری ہے:
بشرا فجعله نسبا وصهرا (سورہ فرقان)
نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور سسرال ہوتے ہیں۔ ایک باپ کی طرف سے دوسرا ماں کی طرف سے
مطلب یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے انسان کی بن پیدائش کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کے ساتھ تعلقات بھی بنا دیئے ہیں اور پھر جب شادی کر لیتا ہے تو ایک تیسرا ر سسرال کہتے ہیں۔ غرض اس کی قدرت کاملہ نے ایک قطرہ تعلقوں والا ہو گیا اور یوں ہی بغیر نطفہ کے پیدا کرنے میں یہ
ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نے خداوند تعالیٰ کی دوسرے کے پیٹ میں رکھ کر پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے۔ کسی کے پیٹ میں رکھے بغیر بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ تو خداوند سمجھا دیں گے۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کہیں جنگل میں مردے نظر آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! ان کا کوئی
٣٥
ہوتے ورنہ ترجیح بلامرجح لازم آتی۔ کیونکہ جب سب کی فطرت برابر ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ زید عمر کے نطفہ سے پیدا ہو اور عمر زید کے نطفہ سے پیدا نہ ہو۔
بلکہ پیدائش کی صورت یہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ یونہی اپنی قدرت سے سب کو پیدا کر دیتا جیسا کہ آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تھا۔ اور پھر یہ بھی نہ ہوتا کہ ایک شخص آج پیدا ہوتا اور دوسرا کل بلکہ سب کو ایک دم پیدا کیا جاتا ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آتی تو قیامت تک کے آنے والے یک دم پیدا کر دیئے جاتے۔ تو اس صورت میں ایک خرابی یہ ہوتی کہ زمین تنگ ہو جاتی اور دوسری خرابی یہ ہوتی کہ جب ایک دوسرے کے نطفہ سے پیدا نہ ہوتے تو آپس میں ایک دوسرے سے انس و محبت نہ ہوتی بوجہ نہ ہونے تعلق رشتہ داری کے تو اس پر کئی خرابیاں مرتب ہوتیں۔ قتل و قتال زیادہ ہوتا۔ کوئی مر جاتا تو مردہ سڑتا رہتا کوئی اٹھاتا ہی نہیں۔
اب تو غریب سے غریب آدمی بھی مر جاتا ہے تو بہتیرے آدمی بھاگے آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ میرا باپ تھا۔ کوئی کہتا ہے میرا بھائی تھا۔ میرا چچا تھا غرض سینکڑوں تعلقات والے پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر جب پیدائش کا یہ سلسلہ نہ ہوتا تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ کوئی دوسرے کی معاونت کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ اس کے متعلق ارشاد باری ہے: ” وهو الذی خلق من الماء بشرا فجعله نسبا وصهرا (٥٤ سوره فرقان) “ ﴿اور وہ ایسا ہے جس نے پانی سے (یعنی نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔﴾ انسان کے دو خاندان ہوتے ہیں۔ ایک باپ کی طرف سے دوسرا ماں کی طرف سے۔
مطلب یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا ایسا طریقہ اختیار کیا ہے کہ پیدائش کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کے ساتھ تعلقات بھی پیدا ہوتے ہیں اور یہ تعلقات ہی مدار معاونت ہیں اور پھر جب شادی کر لیتا ہے تو ایک تیسرا رشتہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کو رشتہ سسرال کہتے ہیں۔ غرض اس کی قدرت کاملہ نے ایک حقیر نطفہ کو اس قدر پھیلایا کہ سینکڑوں علاقوں والا ہو گیا اور یوں ہی بغیر نطفہ کے پیدا کرنے میں یہ تعلقات نہ پیدا ہوتے۔
ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نے خداوند تعالیٰ کی جناب میں عرض کی کہ ایک انسان کو دوسرے کے پیٹ میں رکھ کر پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے۔ حالانکہ آپ کو قدرت ہے کہ آپ بغیر کسی کے پیٹ میں رکھنے کے بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ تو خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ہم کسی وقت سمجھا دیں گے۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کہیں جنگل میں جا رہے تھے تو حسن اتفاق سے دو تین مردے نظر آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! ان کا کوئی رشتہ دار یہاں نہیں ہے لہٰذا ان کا دفن
٣٥
وغیرہ تمہارے ذمہ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بڑی مشکل سے ان کو دفن کیا اور آگے چلے تو باری تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! وہ سوال جو تم نے کیا تھا۔ پھر اس کے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی تو موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ مولیٰ میری سمجھ میں آ گیا ہے۔ مگر مہربانی فرما کر اور کوئی مردہ نہ میرے سپرد کرنا۔ غرض موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ اگر موجودہ صورت تعلقات کی نہ ہوتی تو مردے ہی کوئی نہ اٹھاتا۔
اور علاوہ اس کے خداوند تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات اختلاف فطرت کی صورت میں زیادہ ظاہر ہوتے۔ بہ نسبت مساوات فطرت کے۔ کیونکہ مساوات فطرت کی صورت میں یا تو سب خوبصورت ہوتے یا سب بدصورت یا سب اندھے ہوتے یا سب آنکھوں والے غرض سب ایک ہی حالت پر ہوتے تو یہی سمجھتے کہ یوں ہی ہوا کرتے ہیں۔ بنانے والے کی طرف توجہ ہی نہ ہوتی۔ لیکن جب کوئی خوبصورت ہے اور کوئی بدصورت تو ضرور خیال کیا آئے گا کہ بنانے والا بڑا زبر دست ہے۔ جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس باقی حالتیں۔
ایسا ہی اگر تمام پھل ایک ہی حالت پر ہوتے مثلاً خربوزے سارے میٹھے ہی ہوتے یا سارے پھیکے۔ اسی طرح دیگر پھل تو لوگ یہی سمجھتے کہ یوں ہی ہوا کرتے ہیں۔ مگر جب باوجودیکہ کھیت ایک ہے اور ایک ہی پانی سے سیراب کیا گیا ہے۔ لیکن پھر پھلوں کا ذائقہ ایک نہیں ہے تو ضرور خیال آئے گا کہ کوئی بڑی زبردست طاقت ہے جو اپنے تصرف سے جسے چاہے میٹھا کر دے اور جسے چاہے پھیکا بنا دے تو اس قدرت کے نظارہ کو دیکھ کر انسان خالق کی طرف متوجہ ہوگا۔
اسی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اس آیت میں: ”وفی الارض قطع متجاورات وجنٰت من اعناب وزرع ونخيل صنوان وغير صنوان يسقى بماء واحد ونفضل بعضها على بعض في الأكل ان في ذلك لايٰت لقوم يعقلون (سورہ رعد)“
﴿اور زمین میں پاس پاس مختلف قطعے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں۔ جن میں بعضے تو ایسے ہیں کہ ایک جڑ سے اوپر جا کر دو تنے ہو جاتے ہیں اور بعضے دو تنے نہیں ہوتے۔ سب کو ایک ہی طرح کا پانی دیا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فوقیت دیتے ہیں۔ ان امور میں سمجھداروں کے واسطے دلائل ہیں۔﴾
یعنی سمجھدار آدمی جب دیکھتا ہے کہ ایک کھیت کا پھل رنگ میں ذائقہ میں، بو میں، شکل میں غرض سب باتوں میں مختلف ہے حالانکہ سب کو پانی ایک دیا گیا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ اختلاف بغیر قادر مختار کے دوسرے سے ممکن نہیں ہے۔ مگر اس نتیجہ پر سمجھدار ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس
٣٦
لئے فرمایا: ”ان فی ذلک لآیات لقوم یعقلون“
اور ایسا ہی انسان کو ماں کے پیٹ میں رکھ کر بنانے اور پھر بوڑھا بنانے میں جو قدرت کے کرشمے نظر آ کرنے میں نظر نہیں آتے۔ کیونکہ اوّل تو ماں کے پیٹ ہی م ہیں۔ جن کو دیکھتے ہی بے ساختہ: ”فتبٰرک اللہ احسن ال
جس کے متعلق ارشاد ہے: ”ثم جعلنٰه نطفة فی قر فخلقنا العلقة مضغة فخلقنا المضغة عظماً فـ خلقاً آخر فتبرک اللہ احسن الخالقین (سورہ مو
﴿پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو ایک محفوظ اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنا دیا۔ پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑ اس بوٹی کو ہڈیاں بنا دیا۔ پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑ پھر ہم نے اس کو ایک دوسری مخلوق بنا دیا (یعنی اس میں روح کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ کوئی دوسرا صا
انقلابات کے بعد انسان ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اور تین اندھیروں میں ہوتی ہے: ”يخلقكم فی بطون ظلمت ثلث (سورہ زمر)“ ﴿وہ تم کو ماؤں کے پیٹ پر بناتا ہے۔
تین تاریکیوں میں ایک تاریکی شکم کی، دوسری لپٹا ہوتا ہے اور پیدائش کے وقت اپنی قدرت کا نظارہ دکھا کہ باوجود راستہ تنگ ہونے کے بچہ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں میں ہے: ”خلقه فقدرہ ثم السبيل يسره (سورہ اس (کے اعضاء) کو اندازے بنایا پھر اس کو (نکلنے کا) راس تھی کہ وہ ایسے تنگ موقع سے بہ سلامت باہر آسکتا۔
پھر دوسری قدرت یہ دکھاتے ہیں کہ بچے کے نہریں جاری کر دیتے ہیں اور پھر تیسرا کمال یہ دکھاتے ہیں ہیں۔ نکلتے ہی بچہ اس خوبی سے دودھ پینا شروع کرتا ہ
٣٧
لئے فرمایا: ”ان فى ذلك لآيات لقوم يعقلون“ اور ایسا ہی انسان کو ماں کے پیٹ میں رکھ کر پیدا کرنے اور پھر آہستہ آہستہ جوان بنانے اور پھر بوڑھا بنانے میں جو قدرت کے کرشمے نظر آتے ہیں۔ وہ یوں ہی یک دم جوان پیدا کرنے میں نظر نہیں آتے۔ کیونکہ اوّل تو ماں کے پیٹ ہی میں بہت سے عجائبات قدرت دکھاتے ہیں۔ جن کو دیکھتے ہی بے ساختہ: ”فتبرك الله احسن الخالقين“ کا نعرہ زبان پر آتا ہے۔ جس کے متعلق ارشاد ہے: ”ثم جعلنه نطفة فى قرار مكين۔ ثم خلقنا النطفة علقة فخلقنا العلقة مضغة فخلقنا المضغة عظما فكسونا العظم لحما ثم انشأنه خلقا اخر فتبرك الله احسن الخالقين (سوره مومنون)“
پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا۔ پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنا دیا۔ پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنا دیا پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنا دیا۔ پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا (جس سے ہڈیاں ڈھک گئیں) پھر ہم نے اس کو ایک دوسری مخلوق بنا دیا (یعنی اس میں روح ڈال دی) سو کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ کوئی دوسرا صانع روح نہیں ڈال سکتا۔ غرض اس قدر انقلابات کے بعد انسان ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اور پھر یہ بھی فرما دیا گیا کہ یہ تمام کاریگری تین اندھیروں میں ہوتی ہے: ”يخلقكم فى بطون امهتكم خلقا من بعد خلق فى ظلمت ثلث (سوره زمر)“ وہ تم کو ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا ہے۔
تین تاریکیوں میں ایک تاریکی شکم کی، دوسری رحم کی، تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے اور پیدائش کے وقت اپنی قدرت کا نظارہ دکھاتے ہیں کہ کس خوبی سے بچہ کو نکالتے ہیں کہ باوجود راستہ تنگ ہونے کے بچہ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی۔ اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے: ”خلقه فقدره ثم السبيل يسره (سوره عبس)“ یعنی اس کی صورت بنائی پھر اس (کے اعضاء) کو انداز سے بنایا پھر اس کو (نکلنے کا) راستہ آسان کر دیا (ورنہ بچے کی کیا حقیقت تھی کہ وہ ایسے تنگ موقع سے بہ سلامت باہر آ سکتا۔
پھر دوسری قدرت یہ دکھاتے ہیں کہ بچے کے نکلتے ہی ماں کے پیٹ سے دودھ کی دو نہریں جاری کر دیتے ہیں اور پھر تیسرا کمال یہ دکھاتے ہیں کہ بچہ کو دودھ پینے کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں۔ نکلتے ہی بچہ اس خوبی سے دودھ پینا شروع کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ہماری
٣٧
طاقت سے باہر تھا کہ ہم بچہ کو دودھ پینا سکھا سکتے۔ پھر روزانہ بچے میں اپنی قدرت کا تماشہ دکھاتے ہیں۔ ایسا ایسا کرتا ہے کہ اگر بڑا آدمی گرتا تو سلامت نہ رہتا۔ مگر اپنی قدرت سے ایسا محفوظ رکھتے ہیں کہ انسان دیکھتا رہ جاتا ہے۔ پھر ایسی ضعیف ہستی کو جوان بنا دیتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ وہ ضعیف کو قوی بنا سکتے ہیں اور پھر جوان ہونے کے بعد بسا اوقات بوڑھا بنا دیتے ہیں تاکہ یہ بھی معلوم ہو جائے کہ جیسا اس کو ضعیف کو قوی بنانا آتا ہے۔ ایسا ہی قوی کو ضعیف بنانا بھی جانتے ہیں اور بوڑھا بنانے میں ایک اور وہم کا دور کرنا بھی منظور ہوتا ہے یہ کہ شاید کوئی یہ سمجھے کہ بچہ جو جوان و طاقتور ہوا ہے۔ محض غذا کھلانے کی وجہ سے ہوا ہے۔
خداوند تعالیٰ کی قدرت سے نہیں ہوا لہٰذا بوڑھا کر کے دکھاتے ہیں کہ اگر غذا نے اس کو طاقتور بنایا تھا تو اب بھی اس کو خوب غذا کھلا کر دیکھو کہ وہ غذا طاقتور بناتی ہے یا نہیں۔ پس جب مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ باوجود غذا کھلانے کے ضعیف و ناتوان ہوا چلا جاتا ہے اور جتنی غذا زیادہ کھاتا ہے۔ طاقت تو نہیں بڑھتی مگر بلغم کے ڈھیر لگائے جاتا ہے۔ تو یقین ہو جاتا ہے کہ طاقت کا دینا خدا ہی کے قبضہ میں تھا۔ اس کے متعلق ارشاد ہے: ”اللّٰہ الّذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا و شیبۃ ، یخلق ما یشاء وھو العلیم القدیر (سورہ روم)“ ﴿اللہ ایسا ہی ہے جس نے تم کو ناتوانی کی حالت میں بنایا پھر ناتوانی کے بعد توانائی عطاء کی۔ پھر توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا کیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔﴾ اول ضعف سے مراد بچپن کی حالت ہے اور قوت سے مراد جوانی اور دوسرے ضعف سے مراد بڑھاپا ہے۔ غرض اس قسم کی سینکڑوں باتیں ہیں جو غور کرنے سے معلوم ہوتی ہیں۔
الحاصل اختلاف فطرت کی صورت میں وہ خرابیاں بھی لازم نہیں آتیں جو مساوات فطرت کی صورت میں لازم آتی تھیں اور خداوند تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات بھی زیادہ نظر آتے ہیں۔ جو مساوات فطرت کی صورت میں نظر نہ آسکتے۔ لہٰذا خدا تعالیٰ نے اختلاف فطرت کی صورت کو اختیار فرمایا۔
پیغمبر کسی دوزخی کو جنتی نہیں بنا سکتے
خداوند تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے پیدا کرنے سے بھی پہلے اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ فلاں شخص دوزخی ہے اور فلاں شخص جنتی ہے۔ غرض تمام دوزخیوں اور جنتیوں کی تعداد ضبط کر دی ہے۔ اس تعداد میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے تشریف لانے کے بعد اس ٣٨
٢٨٩ تعداد میں بالکل فرق نہیں آتا۔ جو دوزخی لکھے ہوئے تھے ہیں۔ ایک بھی ان میں سے جنتی نہیں ہو سکتا اور جو جنتی لکھے ہی رہتے ہیں۔ غرض انبیاء علیہم السلام کے آنے کے بعد ا کا فرق بھی نہیں پڑتا۔
ترمذی شریف میں حدیث ہے کہ ایک دن ر اجمعین کے پاس تشریف لائے اور آپؐ کے ہاتھ میں دو ہو کہ یہ کتابیں کیسی ہیں تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ حضو البتہ معلوم ہو جائے گا۔ آپﷺ نے فرمایا جو کتاب میر طرف سے ہے۔ اس میں تمام اہل جنت کے نام اور ان لکھ کر سب کو جوڑ لگا دیا گیا ہے۔ ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے یہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔ اس میں تمام اہل ان کے قبیلوں کے نام لکھ کر سب کو جوڑ لگا دیا گیا ہے شریف میں بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں۔ جوا دوزخیوں کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اس میں تغیر و تبدل
نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو: ”ان الذین تنذرھم لا یؤمنون (سورہ بقرہ)“ ﴿بیشک ا میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ ل فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ ازلی کافر ہی رہیں گے۔ آپ ا لائیں گے۔
”لقد حق القول علیٰ اکثرھم فہ میں سے اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہو چکی ہ یعنی جن کے متعلق ازل میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ ا نہیں لا سکتے۔ ”افمن حق علیہ کلمۃ العذ زمر)“ ﴿بھلا جس شخص پر عذاب کی (ازلی تقدیری) (علم الٰہی میں) دوزخ میں ہے (موجبات نار ہے) والے ہیں۔ وہ کوشش سے بھی ضلالت سے نہ نکلیں گے ٣٩
تعداد میں بالکل فرق نہیں آتا۔ جو دوزخی لکھے ہوئے تھے۔ وہ ان کے آنے پر بھی دوزخی ہی رہتے ہیں۔ ایک بھی ان میں سے جنتی نہیں ہو سکتا اور جو جنتی لکھے ہوئے ہیں۔ وہ ان کے آنے پر بھی جنتی ہی رہتے ہیں۔ غرض انبیاء علیہم السلام کے آنے کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کی شمار میں ایک آدمی کا فرق بھی نہیں پڑتا۔
ترمذی شریف میں حدیث ہے کہ ایک دن رسول ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں کیسی ہیں تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ حضور ﷺ ہم کو معلوم نہیں ہے۔ آپ بتادیں تو البتہ معلوم ہوجائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو کتاب میری دائیں ہاتھ میں ہے۔ یہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔ اس میں تمام اہل جنت کے نام اور ان کے باپوں کے اور ان کے قبیلوں کے نام لکھ کر سب کو جوڑ لگا دیا گیا ہے۔ ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے اور جو کتاب میرے بائیں ہاتھ میں ہے یہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔ اس میں تمام اہل نار کے نام اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام لکھ کر سب کو جوڑ لگا دیا گیا ہے۔ ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے اور قرآن شریف میں بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں۔ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جنتیوں اور دوزخیوں کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو: ”ان الذين كفروا سواء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذرهم لا يؤمنون (سوره بقره) ”بیشک جو لوگ کافر ہو چکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے۔“ یعنی کافروں کے متعلق ازلی فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ ازلی کافر ہی رہیں گے۔ آپ ان کو کتنا ہی ڈرائیں مگر وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
”لقد حق القول على اكثرهم فهم لايؤمنون (سوره یسین) ”ان میں سے اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہو چکی ہے۔ سو یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاویں گے۔“ یعنی جن کے متعلق ازل میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے۔ وہ ہرگز ایمان نہیں لا سکتے۔: ”افمن حق عليه كلمة العذاب افانت تنقذ من في النار (سوره زمر) ”بھلا جس شخص پر عذاب کی (ازلی تقدیری) بات متحقق ہو چکی تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ (علم الٰہی میں) دوزخ میں ہے (موجبات نار سے) چھڑا سکتے ہیں۔“ یعنی جو دوزخ میں جانے والے ہیں۔ وہ کوشش سے بھی ضلالت سے نہ نکلیں گے۔
٣٩
غرض انبیاء علیہم السلام کسی دوزخی کو جنتی نہیں بنا سکتے۔ بلکہ جو لوگ ازلی فیصلہ میں دوزخی لکھے جاچکے ہیں۔ وہ انبیاء علیہم السلام کے آنے پر بھی دوزخی ہی رہیں گے۔ مثلاً اگر فرعون کے پاس بجائے ایک موسیٰ علیہ السلام کے ہزار نبی بھی بھیج دیا جاتا تو وہ کافر ہی رہتا اور ایسا ہی ابو جہل کے پاس اگر ہزار نبی بھی آتے تو وہ کافر ہی رہتا۔
اعتراض
جب انبیاء علیہم السلام کے آنے سے کوئی دوزخی بھی جنتی نہیں بن سکتا اور نہ کوئی جنتی دوزخی بن سکتا ہے بلکہ جو دوزخی تھے وہ ان کے آنے کے بعد بھی دوزخی ہی رہتے ہیں اور جو جنتی ہیں وہ جنتی ہی رہتے ہیں تو پھر ان کے آنے سے فائدہ ہی کیا ہوا۔ بلکہ ان کا آنا تو عبث رہا تو پھر اس سلسلہ کو خداوند تعالیٰ نے جاری ہی کیوں کیا تھا؟ عبث سلسلہ جاری کرنا ان کی شان کے خلاف ہے۔
الزامی جواب
ہر شخص کا یہ اعتقاد ہے کہ جس مریض کی قسمت میں شفاء لکھی ہوتی ہے۔ حکیم یا ڈاکٹر کے علاج سے اس کو شفا ہوگی اور جس مریض کی قسمت میں شفاء نہیں لکھی ہوتی اس کو تمام دنیا کے حکیم و ڈاکٹر بھی شفاء نہیں دے سکتے۔ غرض کوئی حکیم یا ڈاکٹر کسی ایسے مریض کو جس کی قسمت میں شفاء نہ ہو شفاء نہیں دے سکتا۔ تو پھر طبیبوں اور ڈاکٹروں کا سلسلہ بھی بے کار و عبث رہا حالانکہ پھر بھی تمام دنیا کے عقلاء ان سے علاج کراتے ہیں۔ تو جو جواب اس کا ہے۔ وہی جواب سلسلۂ انبیاء علیہم السلام کا ہے۔ جو روحانی ڈاکٹر وطبیب ہیں۔
تحقیقی جواب
عبث وہ فعل ہوتا ہے۔ جس میں کوئی بھی فائدہ نہ ہو۔ انبیاء علیہم السلام اگرچہ کسی دوزخی کو جنتی نہیں بنا سکتے لیکن ان کے آنے میں دو فائدے ہیں۔ جس فعل میں ایک فائدہ بھی ہو وہ عبث نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ جس فعل میں دو بہت بڑے فائدے ہوں اس کو عبث کہا جائے۔
پہلا فائدہ یہ ہے کہ کافر دوزخ میں ڈالنے کے وقت خداوند تعالیٰ پر ظلم کا دھبہ نہیں لگا سکیں گے اور اگر بغیر بھیجے انبیاء علیہم السلام کے ان کو دوزخ میں ڈالا جاتا گو نفس الامر میں ظلم نہ ہوتا کیونکہ خداوند تعالیٰ کو بوجہ عالم الغیب ہونے کے پہلے ہی سے معلوم ہے کہ فلاں فلاں آدمی کافر ہی رہیں گے۔ اگر چہ ان کے پاس ہزاروں نبی بھی بھیجے جائیں تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ لیکن ان لوگوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ خدا تعالیٰ پر ظلم کا دھبہ لگائیں اور یہ کہیں کہ ہم پر ظلم کیا جا رہا ہے کہ
٤٠
بغیر بھیجے کسی سمجھانے والے کے ہم کو دوزخ میں ڈالا جا نبی کے ذریعہ سمجھاتے اور ہم نہ مانتے تو بے شک ہم کو د اس آیت میں اشارہ ہے: ”رسلا مبشرين ومنذرين لئ الرسل وكان الله عزيزا حكيما (سوره نسا خوف سنانے والے پیغمبر بنا کر اس لئے بھیجا تا کہ لوگوں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ پورے زور تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے چند انبیاء علیہم السلام کا ذکر بھیجنے کا فائدہ وحکمت بتائی ہے کہ ان تمام حضرات کو ہ لوگوں کو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پر بظاہر بھی ظلم کا دھبہ یوں کہتے کہ ہماری کیا خطا ہے جو ہم کو دوزخ میں ڈالا جا حکیما“ میں یہ ظاہر کر دیا گیا ہے کہ گو میرا بغیر بھیجے کیونکہ میں مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہوں۔ مگر چونکہ یہی تھا کہ رسولوں کو بھیج کر ظاہری عذر کی جڑ کو بھی کاٹ د
غرض انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے مقصد کے حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے آنے کو عبث ف لوگوں کے عذر کی جڑ کو کاٹنا ہے۔
اگر لوگوں کی طرف سے اس عذر کا احتمال نہ ہوتی۔ جیسا کہ اس آیت میں ارشاد ہے: ”ولولا ان فيقولوا ربنا لولا ارسلت الينا رسولا (سوره قصص) ”اور ہم رسول نہ بھی بھیجتے اگر یہ سبب کوئی مصیبت نازل ہوتی تو یہ کہنے لگتے کہ اے ہ نبی کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم آپ کے احکام کا ابا ہوتے۔ غرض انبیاء علیہم السلام کی بعثت سے ایک ف تعالیٰ پر ظلم کا دھبہ لگانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے ف
٤١
بغیر بھیجے کسی سمجھانے والے کے ہم کو دوزخ میں ڈالا جارہا ہے۔ ہماری کیا خطاء ہے۔ اگر ہم کو کسی نبی کے ذریعہ سمجھاتے اور ہم نہ مانتے تو بے شک ہم کو دوزخ میں ڈال دیتے۔ اسی فائدہ کے متعلق اس آیت میں اشارہ ہے: ”رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل وكان الله عزيزا حكيما (سوره نساء) “ ﴿ان سب کو خوشخبری دینے والے اور خوف سنانے والے پیغمبر بنا کر اس لئے بھیجا تا کہ لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے سامنے ان پیغمبروں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ پورے زور والے ہیں بڑی حکمت والے ہیں۔﴾ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے چند انبیاء علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد آیت میں ان کے بھیجنے کا فائدہ وحکمت بتائی ہے کہ ان تمام حضرات کو اس لئے بھیجا ہے کہ ان کے آنے کے بعد لوگوں کو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پر بظاہر بھی ظلم کا دھبہ لگانے کا موقع نہ ملے ورنہ قیامت کے روز یوں کہتے کہ ہماری کیا خطاء ہے جو ہم کو دوزخ میں ڈالا جارہا ہے اور ”وكان الله عزيزا حكيما“ میں یہ ظاہر کر دیا گیا ہے کہ گو میرا بغیر بھیجے رسولوں کے سزا دینا بھی حقیقت میں ظلم نہ تھا کیونکہ میں مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہوں۔ مگر چونکہ میں حکیم بھی ہوں لہٰذا میری حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ رسولوں کو بھیج کر ظاہری عذر کی جڑ کو بھی کاٹ دوں۔
غرض انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے مقصد دوزخیوں کو جنتی بنانا نہیں ہے تاکہ اس مقصد کے حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے آنے کو عبث قرار دیا جائے۔ بلکہ ان کے آنے کا مقصد لوگوں کے عذر کی جڑ کو کاٹنا ہے۔
اگر لوگوں کی طرف سے اس عذر کا احتمال نہ ہوتا تو شاید رسولوں کے بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ جیسا کہ اس آیت میں ارشاد ہے: ”ولولا ان تصيبهم مصيبة بما قدمت ايديهم فيقولوا ربنا لولا ارسلت الينا رسولا فنتبع ايتك ونكون من المؤمنين (سوره قصص) “ ﴿اور ہم رسول نہ بھی بھیجتے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر ان کے کرداروں کے سبب کوئی مصیبت نازل ہوتی تو یہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمارے پاس کوئی نبی کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم آپ کے احکام کا اتباع کرتے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے۔﴾ غرض انبیاء علیہم السلام کی بعثت سے ایک فائدہ یہ ہے کہ کفار کو قیامت کے روز خداوند تعالیٰ پر ظلم کا دھبہ لگانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے فیض صحبت سے مراتب کمال جلدی اور آسانی
٤١
سے طے ہوتے ہیں۔ جو کمال پچاس برس میں حاصل ہوتا وہ ان کی صحبت میں ایک برس بلکہ چند منٹوں میں حاصل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اس فن کے پورے ماہر ہوتے ہیں اور تمام نشیب و فراز سے واقف لہٰذا بہت جلد راستہ طے کرا دیتے ہیں۔
غرض اس کے ذریعہ سے ہدایت تو انہی لوگوں کو ہوگی جن کی قسمت میں ہے۔ کسی بدبخت ازلی کو راہ راست پر نہیں لاسکتے۔ لیکن جن لوگوں کی قسمت میں ہدایت ہے۔ ان کو بہت جلد کمال تک پہنچا دیتے ہیں۔ اگر وہ لوگ ان کی صحبت میں نہ آتے تو بہت دیر میں کمال کو پہنچتے۔ جیسا کہ ڈاکٹر و طبیب کے علاج سے اچھا وہی ہو گا جس کی قسمت میں شفاء لکھی ہوئی ہے۔ لیکن ڈاکٹر و طبیب کا کمال صرف اتنا ہے کہ جو مرض ان کے علاج کے بغیر ایک مہینہ میں جاتا وہ ان کے علاج سے ایک ہفتہ میں جائے گا۔ کیا یہ کوئی معمولی فائدہ ہے۔
مثلاً ایک شخص مکان پر جانا چاہتا ہے اور اس کا مکان ایک ہزار میل کے فاصلہ پر ہے۔ پیدل جائے جب بھی وہ وہیں جائے گا اور ریل پر جائے جب بھی وہ وہیں جائے گا۔ لیکن اگر پیدل جائے تو کم از کم دو مہینے میں پہنچے گا۔ وہ بھی بڑی تکلیف اٹھا کر اور اگر ریل پر جائے تو دو دن میں پہنچے گا نہایت آسانی سے تو کیا ریل کا یہ کوئی معمولی کمال ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ بہت بڑا کمال ہے کہ دو مہینے کی مصیبت سے بچا کر نہایت آسانی کے ساتھ دو دن میں منزل مقصود تک پہنچا دیا۔ کیا کوئی ریل کو عبث کہہ سکتا ہے؟ ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کا کمال یہی ہے کہ وہ بہت بڑے لمبے راستے کو جلد اور آسانی کے ساتھ طے کرا کر منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس نے اسلام سے مشرف ہو کر صرف چند منٹ بھی صحبت رسول اللہ ﷺ حاصل کی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی فہرست میں داخل ہو گیا ہے۔ کوئی شخص بعد میں آنے والوں میں سے اس ادنیٰ درجہ کے صحابی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ ہو۔ یہی مطلب ہے مولانا روم صاحب کے اس شعر کا:
یعنی جو کمال علیحدہ رہ کر برسوں میں حاصل ہوتا ہے۔ وہ ایک کامل مرشد کی صحبت میں منٹوں میں حاصل ہو جاتا ہے اور انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر کوئی کامل دنیا میں نہیں آسکتا۔ لہٰذا ان کی صحبت و تعلیم سے سینکڑوں برسوں کا راستہ منٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ الحاصل انبیاء علیہم السلام کی بعثت سے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک کفار کے عذر رفع کرنا تا کہ خداوند تعالیٰ پر ظلم کا دھبہ نہ لگا سکیں۔ دوسرا طالبان ہدایت کو بہت جلد کمال تک پہنچانا۔
٤٢
تو اب ان دو فائدوں کے ہوتے ہوئے لگانا سراسر نادانی ہوگی۔
پیغمبروں کا جان سے زیادہ محبوب ہونا
انسان کے لئے خداوند کی رضا سے بڑھ ک نظر میں محبوب کی رضا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوا کرت زیادہ محبوب سمجھتا ہے۔ اس لئے اس کی رضا میں اپنی ر محبوبوں کے عاشقوں میں بھی موجود ہے۔ تو بھلا عا سے بڑھ کر کیا چیز ہو گی۔ ایک جان نہیں بلکہ ہزار جا لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خدا ک جاؤں پھر قربان ہو جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قربا چونکہ اس رضا کے حصول کے ذریعہ فق چیزوں سے زیادہ محبوب ہونے چاہئیں۔ حتیٰ کہ جان زیادہ محبوب ہو اس کا ذریعہ بھی باقی مقاصد سے زی زیادہ محبوب ہونا چاہئے۔ مجنون سے پوچھئے کہ جو شخ کس قدر محبوب ہوگا۔ انبیاء علیہم السلام چونکہ محبوب جان سے بھی زیادہ محبوب ہونے چاہئیں۔
جس قدر مصائب انسان پر مرنے کے ب بدرجہا زیادہ اور سخت ہیں۔ ان سے بچنے کے ذریع کوئی حکیم یا ڈاکٹر نہیں بتا سکتا کہ قبر کا اندھیرا اور ک وحشت سے بچنے کا کیا ذریعہ ہوگا۔ یا میدان حشر م سے گزرنے کے لئے سواری کیونکر میسر ہوگی۔ مگر ا سال پہلے ان تمام مصائب سے بچنے کا علاج بتا د ہے کہ نہایت ہی آسان و سستا ہوتا ہے تو اس اعتبار س محبوب ہونے چاہئیں۔ الحاصل جلب منافع و دفع وجود اقدس تمام اشیاء سے زیادہ محبوب ہونا چاہئے
تو اب ان دو فائدوں کے ہوتے ہوئے سلسلہ انبیاء علیہم السلام پر عبث ہونے کا الزام لگانا سراسر نادانی ہوگی۔
پیغمبروں کا جان سے زیادہ محبوب ہونا
انسان کے لئے خداوند کی رضا سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ عاشق کی نظر میں محبوب کی رضا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوا کرتی۔ حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی محبوب کی رضا کو زیادہ محبوب سمجھتا ہے۔ اس لئے اس کی رضا میں اپنی جان کو بھی قربان کر دیتا ہے۔ یہ بات تو مجازی محبوبوں کے عاشقوں میں بھی موجود ہے۔ تو بھلا عاشقان محبوب حقیقی کے نزدیک رضائے محبوب سے بڑھ کر کیا چیز ہوگی۔ ایک جان نہیں بلکہ ہزار جانوں کو بھی اس کی رضا پر قربان کر دیں۔ اس لئے حضورﷺ نے فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قربان ہو جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قربان ہو جاؤں۔
چونکہ اس رضا کے حصول کے ذریعہ فقط انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں لہٰذا وہ بھی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہونے چاہئیں۔ حتیٰ کہ جان سے بھی اس لئے کہ جو مقصد دیگر مقاصد سے زیادہ محبوب ہو اس کا ذریعہ بھی باقی مقاصد سے زیادہ محبوب ہے۔ تو اس کا ذریعہ بھی جان سے زیادہ محبوب ہونا چاہئے۔ مجنون سے پوچھئے کہ جو شخص لیلیٰ کے وصل کا ذریعہ ہو وہ اس کے نزدیک کس قدر محبوب ہوگا۔ انبیاء علیہم السلام چونکہ محبوب حقیقی کے وصل کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ جان سے بھی زیادہ محبوب ہونے چاہئیں۔
جس قدر مصائب انسان پر مرنے کے بعد آنے والے ہیں۔ وہ دنیاوی مصائب سے بدرجہا زیادہ اور سخت ہیں۔ ان سے بچنے کے ذریعہ بھی انبیاء علیہم السلام کے سوا دوسرا نہیں ہے۔ کوئی حکیم یا ڈاکٹر نہیں بتا سکتا کہ قبر کا اندھیرا دور کرنے کا کیا علاج ہوگا یا اس کی تنگی کیونکر رفع ہو گی یا وحشت سے بچنے کا کیا ذریعہ ہوگا۔ یا میدان حشر میں آفتاب کی گرمی کیونکر جائے گی یا پل صراط سے گزرنے کے لئے سواری کیونکر میسر ہوگی۔ مگر انبیاء علیہم السلام کی تعلیم میں یہ کمال ہے کہ ہزارہا سال پہلے ان تمام مصائب سے بچنے کا علاج بتا دیتے ہیں اور پھر ان کے علاج میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ نہایت ہی آسان و سستا ہوتا ہے تو اس اعتبار سے بھی انبیاء علیہم السلام تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہونے چاہئیں۔ الحاصل جلب منافع و دفع مضار دونوں کے اعتبار سے انبیاء علیہم السلام کا وجود اقدس تمام اشیاء سے زیادہ محبوب ہونا چاہئے۔
٤٤
اس کے متعلق ارشاد ہے اس آیت میں ”النبی اولی بالمؤمنین من انفسهم (سورہ احزاب) ”نبی کریمﷺ ایمان والوں کے ساتھ خود ان کے نفس (اور ذات) سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں“ کیونکہ اگر نفس برا ہے تب تو ظاہر ہے کہ وہ بدخواہ ہے اور حضورﷺ خیر خواہ ہیں اور اگر نفس اچھا ہے۔ تب بھی بعض مصالح اور منافع اس سے مخفی رہتے ہیں۔ ان مصالح کا مشورہ نفس نہیں دے سکتا۔ خصوصاً مصالح دینیہ واخرویہ میں اور حضورﷺ کو خداوند تعالیٰ نے جمیع مصالح ضروریہ کا علم عطاء فرمایا ہے اور آپ کا اپنی جان سے بھی زیادہ حق ہے اور آپ جان سے زیادہ محبوب ہونے چاہئیں۔ اسی لئے فرمایا ہے رسول اللہﷺ نے کہ کوئی تم میں سے مومن نہیں ہوگا جب تک کہ اس کو میری محبت اپنے باپ اور ماں اور اولاد اور اپنی جان اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔
پیغمبروں کی تصدیق کا جزو ایمان ہونا
جب یہ بات واضح ہوچکی کہ خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی انسان کا اہم ترین فریضہ ہے۔ تو حسب قاعدہ (مقدمہ واجب کا واجب ہوتا ہے) جن چیزوں پر خداوند تعالیٰ کی رضا کا حصول موقوف ہوگا۔ ان سب کی تصدیق جزو ایمان ہوگا اور وہ تین چیزیں ہیں۔ انبیاء علیہم السلام، ملائکہ، آسمانی کتابیں۔ کیونکہ آسمانی کتابیں تو رضا جوئی کا مفصل قانون ہوتی ہیں۔ جو مقصود بالذات ہے لہٰذا ان پر ایمان لانا فرض ہوگا اور کتابوں کا حصول موقوف ہوتا ہے انبیاء علیہم السلام پر لہٰذا ان پر بھی ایمان لانا ضروری ہوگا اور انبیاء علیہم السلام کے پاس کتابوں کا آنا موقوف ہے۔ سلسلہ ملائکہ پر لہٰذا ان پر بھی ایمان لانا لازمی ہوگا۔ الغرض ملائکہ، انبیاء علیہم السلام، آسمانی کتابیں یہ تینوں چیزیں موقوف علیہ ہیں۔ خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی کا لہٰذا ان تینوں کی تصدیق جزو ایمان ہوگا اور رضا حاصل کرنے نہ کرنے کی جزا وسزا کے لئے چونکہ قیامت کا دن مقرر ہے۔ لہٰذا اس کی تصدیق بھی جزو ایمان ہوگا اور قیامت کے دن جزا وسزا کا دینا موقوف مرنے کے بعد دوبارہ جلانے پر لہٰذا مرنے کے بعد دوبارہ جلانے پر ایمان لانا بھی جزو ایمان ہوگا۔
الحاصل ملائکہ، انبیاء علیہم السلام، آسمانی کتابیں مرنے کے بعد دوبارہ جلانا، قیامت کا دن ان سب پر ایمان لانا فرض ہوگا کوئی شخص جبتک ان سب پر ایمان نہ لائے ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوگا اور نہ رضائے مولیٰ حاصل کرسکے گا۔ جو اہم ترین فریضہ انسان ہے بلکہ ”خسر الدنیا والاخرة“ کا مصداق ہوگا۔
٤٤
خاتم النبیینﷺ
ضرورت رسـ
(حصہ دوم)
حضرت مولانا سلطان محمود
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
ضرورت رسالت
(حصہ دوم)
حضرت مولانا سلطان محمود دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی افضل الرسل والنبیین وعلی الہ واصحابہ اجمعین ، اما بعد!
ابتداء سے لے کر اب تک تو بحث تھی مطلق نبوت کے متعلق جو تمام انبیاء علیہم السلام میں مشترک ہے۔ لیکن اب خاص رسول ﷺ کی نبوت کے متعلق گفتگو شروع ہوتی ہے۔ آپ کی نبوت کے متعلق چند بحثیں ایسی ہیں۔ جن کا ذکر کرنا اور ان کو دلائل سے واضح کرنا ضروری ہے۔ مخالفین اسلام کو ان بحثوں کے متعلق طرح طرح کے شکوک وشبہات پیش آتے ہیں لہٰذا ان بحثوں پر اس قدر روشنی ڈالنی ضروری ہے کہ سمجھدار وانصاف پرست کا اطمینان ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ کا تمام پیغمبروں سے افضل ہونا
اہل اسلام کے نزدیک تمام انبیاء علیہم السلام کی محبت اور ان کی نبوت کا اعتقاد جزو ایمان ہے۔ کسی ایک نبی کے منکر کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن خاص کر رسول اللہ ﷺ کو تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل واعلیٰ اور سب کا سردار سمجھتے ہیں اور یہ ان کا مجرد دعویٰ ہی نہیں بلکہ ان کے پاس اس کے دلائل عقلیہ ونقلیہ دونوں طرح کے موجود ہیں۔ لیکن قبل اس کے کہ میں دلائل کا ذکر کروں، مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے یہ بتا دوں کہ افضلیت کے معنی کیا ہیں؟ کیونکہ بہت سے لوگوں کو اس میں بھی غلط واقع ہوا ہے جس کی وجہ سے غلط نتائج پر پہنچے ہیں۔
افضلیت کے معنی کی تشریح
اہل اسلام کے نزدیک جو معنی حضور ﷺ کے افضل الانبیاء ہونے کے ہیں۔ ان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اکثر لوگوں نے آپ کی افضلیت کا انکار کر دیا ہے اور اپنی طرف سے غلط معیار قائم کر کے دیگر انبیاء علیہم السلام کے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے کسی نے تو یہ سمجھا کہ جس نبی کے معجزے بڑے ہیں۔ وہ نبی بھی بڑا ہے۔ اس بناء پر نصاریٰ نے یہ دعویٰ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ سے افضل ہیں۔ کیونکہ ان کے معجزے (یعنی مردوں کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو اچھا کرنا وغیرہ) حضور ﷺ کے معجزے سے بڑے ہیں۔ یہود نے یہ کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزات بڑے ہیں۔ لہٰذا وہ افضل ہیں۔ کسی نے کہا کہ آدم علیہ السلام کو ملائکہ سے سجدہ کرایا گیا ہے۔ حضور ﷺ کو نہیں کرایا لہٰذا آدم علیہ السلام حضور ﷺ سے افضل ہیں۔ غرض ٢
اس طرح لوگوں نے مختلف معیار اپنی طرف سے قائم کر معیار نہ سمجھنے کی وجہ سے تھیں۔
معجزات کی جو تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ اس کے سے سمجھ سکتا ہے کہ معجزات کو افضلیت کا معیار ٹھہرانا صحیح نہیں باز نہ آئے اور معجزات ہی کو معیار افضلیت قرار دینے پر اص مرحلہ بھی طے کر دیا جائے گا کہ کس نبی کے معجزات بڑے ہی دیا جائے گا کہ کسی نبی کے معجزات حضور ﷺ کے معجزات س بات کو صاف کرنا چاہتا ہوں کہ اہل اسلام کے نزدیک حضو ان کے پاس اس دعویٰ کے دلائل عقلیہ یا نقلیہ کیا ہیں۔
اہل اسلام کے نزدیک نہ تو افضلیت کے یہ معن نہ یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ نے ساری عمر میں شادی نہیں کی سے سجدہ کرایا گیا اور نہ یہ معنی ہیں کہ آپ کو زندہ آسمان پر ا یہ معنی ہیں کہ منصب نبوت میں آپ تمام انبیاء علیہم السلام دربار میں تمام حضرات انبیاء علیہم السلام سے زیادہ مقرب منصب عطا کیا گیا کہ جس سے اوپر نبوت کا کوئی درجہ ہی ا نبوت میں آپ ﷺ کے ماتحت اور آپ ﷺ سے کم درج آپ ﷺ کو قرب کا وہ درجہ عطاء کیا گیا کہ اس سے اوپر قر علیہم السلام قرب خداوندی میں آپ ﷺ سے کم درجہ کے
مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ جس طرح وزا سب سے بڑا ہوتا ہے۔ وزارت کا کوئی درجہ اس سے او میں اس کے ماتحت اور اس سے کم درجہ کے ہوتے ہیں ب پر ختم ہو جاتے ہیں۔ حکومت کا کوئی درجہ اس سے اوپر نہیں کے ماتحت اور اس سے کم درجہ کے ہوتے ہیں۔ یا جس ط بڑا ہے۔ روشنی کا کوئی درجہ اس سے اوپر نہیں ہے۔ تمام ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو منصب نبوت وقرب سے اوپر کوئی درجہ نبوت وقرب کا باقی نہیں رہا اور تما ٣
اس طرح لوگوں نے مختلف معیار اپنی طرف سے قائم کئے۔ مگر یہ تمام باتیں افضلیت کا صحیح معیار نہ سمجھنے کی وجہ سے تھیں۔
معجزات کی جو تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ اس کے سمجھ لینے کے بعد ہر شخص نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ معجزات کو افضلیت کا معیار ٹھہرانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی معاند اپنے عناد سے باز نہ آئے اور معجزات ہی کو معیار افضلیت قرار دینے پر اصرار کرے تو عنقریب اللہ نے چاہا تو یہ مرحلہ بھی طے کر دیا جائے گا کہ کس نبی کے معجزات بڑے ہیں اور انشاء اللہ آفتاب کی طرح روشن کر دیا جائے گا کہ کسی نبی کے معجزات حضور ﷺ کے معجزات سے بڑے نہیں تھے۔ لیکن پہلے میں اس بات کو صاف کرنا چاہتا ہوں کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ﷺ کی افضلیت کے معنی کیا ہیں اور ان کے پاس اس دعویٰ کے دلائل عقلیہ یا نقلیہ کیا ہیں۔
اہل اسلام کے نزدیک نہ تو افضلیت کے یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺ خوشخط زیادہ تھے اور نہ یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ نے ساری عمر میں شادی نہیں کی اور نہ یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ کو ملائکہ سے سجدہ کرایا گیا اور نہ یہ معنی ہیں کہ آپ کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ افضلیت کے یہ معنی ہیں کہ منصب نبوت میں آپ تمام انبیاء علیہم السلام سے اعلیٰ وافضل تھے اور خداوند تعالیٰ کے دربار میں تمام حضرات انبیاء علیہم السلام سے زیادہ مقرب تھے۔ یعنی آپ ﷺ کو نبوت کا اتنا بڑا منصب عطا کیا گیا کہ جس سے اوپر نبوت کا کوئی درجہ ہی باقی نہ رہا اور تمام انبیاء علیہم السلام منصب نبوت میں آپ ﷺ کے ماتحت اور آپ ﷺ سے کم درجہ کے تھے اور خداوند تعالیٰ کے دربار میں آپ ﷺ کو قرب کا وہ درجہ عطاء کیا گیا کہ اس سے اوپر قرب کا کوئی درجہ باقی نہیں رہا اور تمام انبیاء علیہم السلام قرب خداوندی میں آپ ﷺ سے کم درجہ کے تھے۔
مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ جس طرح وزارت کے درجات میں وزیر اعظم کا درجہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ وزارت کا کوئی درجہ اس سے اوپر نہیں ہوتا۔ تمام وزراء منصب وزارت میں اس کے ماتحت اور اس سے کم درجہ کے ہوتے ہیں۔ یا جس طرح حکومت کے درجات بادشاہ پر ختم ہو جاتے ہیں۔ حکومت کا کوئی درجہ اس سے اوپر نہیں ہوتا۔ تمام حکام منصب حکومت میں اس کے ماتحت اور اس سے کم درجہ کے ہوتے ہیں۔ یا جس طرح درجات روشنی میں آفتاب سب سے بڑا ہے۔ روشنی کا کوئی درجہ اس سے اوپر نہیں ہے۔ تمام ستارے روشنی میں اس وجہ سے کم درجہ کے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو منصب نبوت وقرب خداوندی میں وہ درجہ عطاء ہوا ہے کہ اس سے اوپر کوئی درجہ نبوت وقرب کا باقی نہیں رہا اور تمام انبیاء علیہم السلام درجہ نبوت وقرب میں
٣
آپ ﷺ سے کم درجہ کے تھے۔
یہ ہیں معنی حضور ﷺ کے افضل الانبیاء ہونے کے اہل اسلام کے نزدیک۔ اس کے بعد چند باتیں قابل غور ہیں:
الف ...... منصب نبوت کے ملنے کا دارومدار چونکہ قرب خداوندی پر ہے۔ سوا مقربین کے یہ منصب دوسرے کو مل ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ ابتداء ہی میں اس کی تشریح کر دی گئی ہے تو جس درجہ کا قرب ہوگا۔ اسی درجہ کا منصب ملے گا۔ تو اب کسی نبی کو منصب نبوت سب سے بڑا ملنا اس بات کی صریح دلیل ہوگی کہ یہ نبی سب سے زیادہ مقرب تھا لہذا اگر ہم حضور ﷺ کا منصب نبوت میں سب سے بڑا ہونا ثابت کر دیں گے تو آپ ﷺ کا دربار خداوندی میں سب سے مقرب ہونا ثابت ہو جائے گا۔ کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ب ...... حضور ﷺ کا منصب نبوت میں اعلیٰ و افضل ہونا دو وجہ سے ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ آپ کی شریعت خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ قیامت تک بدستور باقی رہے گی اور باقی انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں خاص خاص وقتوں کے ساتھ مخصوص تھیں حتیٰ کہ حضور ﷺ کے آنے پر سب منسوخ کر دی گئیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ کی شریعت و دعوت کسی خاص قوم یا ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ تمام دنیا کے جن و انسان کے لئے ہے اور باقی حضرات کی دعوت و شریعت خاص خاص قوموں کے لئے تھی۔
ج ...... مذکورہ بالا دونوں وجوہات کو دو فصلوں میں بیان کیا جائے گا۔ پہلے آپ کی دعوت و شریعت کا تمام دنیا کے لئے عام ہونا ثابت کیا جائے گا۔ بعد میں آپ کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا ثابت کیا جائے گا۔
حضرت رسول ﷺ کی دعوت کا عام ہونا
حضور ﷺ کی شریعت و دعوت عام ہونے کے دلائل دو طرح کے ہیں۔ عقلیہ و نقلیہ۔ پہلے دلائل نقلیہ کا ذکر کرتا ہوں۔ اس کے بعد دلائل عقلیہ پیش کروں گا۔
دلائل نقلیہ
١ ....... ” وما ارسلنك الا كآفة للناس بشيرا ونذيرا ولكن اكثر الناس لا يعلمون (سورہ سبا) “ ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ ﴿ لفظ ناس اطلاق عرفی میں جن کو بھی شامل ہے۔
٤
٢ ....... ” تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكو فرقان) “ بڑی عالیشان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب خاص (محمد ﷺ) پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام جہاں والوں (جن ڈرانے والا ہو۔ ﴿
٣ ....... ” ان هو الا ذكر للعلمين (سورہ تکویر) “ جہان والوں کے لئے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے۔ ﴿
٤ ....... ” قل يايها الناس انى رسول الله السموات والارض (سورہ اعراف) “ آپ کہہ دیجئے تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں جس کی باد میں ۔ ﴿ لفظ ناس اطلاق عرفی میں جن کو بھی شامل ہے۔ جیسا کہ
٥ ....... ” هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الـ ولوكره المشركون (سورہ صف) “ وہ اللہ ایسا ہے ہدایت (یعنی قرآن شریف) اور سچا دین (اسلام) دے کر بھیجا پر غالب کردے گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں ۔ ﴿
ان مذکورہ بالا آیات میں آپ ﷺ کی دعوت و شر آیات تو اور بھی ہیں۔ لیکن اختصاراً ان کو ذکر نہیں کیا گیا۔
٦ ....... ” قال النبى ﷺ وكان النبى يبعث الـ الناس كافة “ (بخاری باب قول النبی ﷺ جعلت لی الارض فرمایا کہ (میرے سے پہلے) نبی کو خاص اسی کی قوم کی طرف لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ ﴿ احادیث تو اس مضمون کی آیات صریحہ کے ہوتے ہوئے زیادہ احادیث کے ذکر کرنے کو
دلائل عقلیہ
١ ....... حضور ﷺ کا سچا نبی ہونا دلائل و معجزات سے ثابـ ایک ایسا معجزہ ہے آپ کی صداقت کا جس کا جواب نہ اس ہوگا۔ جس کی تشریح کسی قدر معجزات کے بیان میں گزر چکی ہے۔ حضرات اہل کتاب بھی آپ ﷺ کو نبی تسلیم کر چکے ہیں۔ کیونـ
٥
- ٢...... ”تبارك الذی نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيرا (سوره
فرقان) ”بڑی عالیشان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب (یعنی قرآن شریف) اپنے بندہ خاص (محمد ﷺ) پر نازل فرمائی تا کہ وہ تمام جہاں والوں (یعنی انسان و جن سب) کے لئے ڈرانے والا ہو۔﴾
- ٣...... ”ان هو الا ذكر للعلمين (سوره تكویر) ”پس یہ (یعنی قرآن شریف) دنیا
جہان والوں کے لئے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے۔﴾
- ٤...... ”قل ياايهاالناس انى رسول الله اليكم جميعا الذى له ملك
السموات والارض (سوره اعراف) ”آپ کہہ دیجئے کہ اے (دنیا جہان کے) لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں جس کی بادشاہی ہے تمام آسمانوں اور زمین میں۔﴾ لفظ ناس اطلاق عرفی میں جن کو بھی شامل ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
- ٥...... ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله
ولوكره المشركون (سوره صف) ”وہ اللہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول (ﷺ) کو ہدایت (یعنی قرآن شریف) اور سچا دین (اسلام) دے کر بھیجا ہے تا کہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کر دے گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔﴾
ان مذکورہ بالا آیات میں آپ ﷺ کی دعوت و شریعت عام ہونے کی تصریح ہے۔ آیات تو اور بھی ہیں۔ لیکن اختصاراً ان کو ذکر نہیں کیا گیا۔
- ٦...... ”قال النبى ﷺ وكان النبى يبعث الى قومه خاصةً وبعثت الى
الناس كافة “ (بخارى باب قول النبى ﷺ جعلت لى الارض مسجدا وطهورا) حضور ﷺ نے فرمایا کہ (میرے سے پہلے) نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں سب دنیا کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔﴾ احادیث تو اس مضمون کی اور بھی بہت ہیں۔ لیکن مذکورہ بالا آیات صریحہ کے ہوتے ہوئے زیادہ احادیث کے ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
دلائل عقلیہ
- ١...... حضور ﷺ کا سچا نبی ہونا دلائل و معجزات سے ثابت ہے۔ خصوصاً ”قرآن شریف“
ایک ایسا معجزہ ہے آپ کی صداقت کا جس کا جواب نہ اب تک ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہوگا۔ جس کی تشریح کسی قدر معجزات کے بیان میں گزر چکی ہے اور مزید تشریح آگے آئے گی اور حضرات اہل کتاب بھی آپ ﷺ کو نبی تسلیم کر چکے ہیں۔ کیونکہ وہ فقط آپ ﷺ کو عرب کے لئے
٥
نبی مانتے تھے۔ گو عموم دعوت کے منکر تھے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نبی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ کیونکہ جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے اور انبیاء علیہم السلام معصوم گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ جس کی تشریح ابتداء میں گزر چکی ہے۔ پس جب آپﷺ کا نبی ہونا ثابت ہے تو جو کچھ آپﷺ زبان مبارک سے فرمائیں گے وہ سب سچ ہوگا اور آپﷺ نے اپنی زبان مبارک سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میری شریعت و دعوت عام ہے تمام دنیا جہاں والوں کے لئے ، جس کی تشریح آیات و احادیث میں اوپر گزر چکی ہے۔ پس ماننا پڑے گا کہ آپﷺ تمام دنیا کے لئے نبی ہیں۔
دیگر انبیاء علیہم السلام کی نبوت چونکہ عام نہیں تھی لہٰذا ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ ہی نہیں کیا کہ میں ساری دنیا کے لئے نبی ہوں۔
الحاصل اگر کسی کو حضورﷺ کی نبوت میں شک ہو تو ہم سے رفع کرلے مگر اس کے ثبوت کے بعد آپﷺ کی نبوت کے عام ہونے کی دلیل کی حاجت نہیں ہوگی۔ بلکہ آپﷺ کا فرما دینا ہی کافی ہوگا۔
- ٢...... اثبات دعویٰ کے لئے جس قدر دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ان سب سے زیادہ واضح
مشاہدہ ہے۔ مشاہدہ سے بڑھ کر کوئی دلیل واضح نہیں ہوتی اور مذہب اسلام کے عالمگیر ہونے کا ہر شخص مشاہدہ کر سکتا ہے۔ کون سا ایسا ملک ہے جس میں اسلام کے شیدائی نہ ملتے ہوں؟
جو لوگ اپنے مذہب کو قدیم بتاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا مذہب اسلام سے لاکھوں برس پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ وہ نظر انصاف سے دیکھیں کہ ان کے مذہب نے باوجود قدیم ہونے کے کس قدر وسعت حاصل کی ہے اور اسلام جس کو دنیا میں آئے ہوئے ابھی چودہ سو سال بھی پورے نہیں ہوئے۔ اس کی وسعت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ اگر پہاڑوں کی غاروں میں جا کر دیکھیں تو وہاں بھی اسلام کی صدا کان میں آئے گی اور اگر جنگلوں کو جا کر ٹٹولیں تو جھاڑیاں، بوٹیاں بھی اسلام کا پتہ دیں گی۔ غرض کوئی کونہ زمین کا ایسا نہیں ملے گا جس میں اسلام کی آواز نہ آئے۔
الحاصل حضورﷺ کی شریعت کا عام ہونا اس وقت آفتاب کی طرح روشن ہے۔ ہر شخص مشاہدہ کر سکتا ہے کہ کوئی مذہب دنیا بھر میں اس قدر وسعت نہیں حاصل کر سکا اور نہ کر سکے گا۔ اگر اسلام میں عام ہونے کی صلاحیت نہ ہوتی تو اس قدر جلدی وسعت ہرگز حاصل نہ کر سکتا۔ جیسا کہ دیگر مذاہب نہیں کر سکے۔ کیونکہ ان میں عام ہونے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ تیسری دلیل سے واضح ہو جائے گا۔
٦
- ٣...... حضورﷺ کی شریعت کے قوانین کی وضع میں
یہ شریعت عالمگیر شریعت ہے۔ کیونکہ ہر ہر قانون میں تما ہے۔ اگر کسی دوسرے مذہب والے یہ دعویٰ کریں کہ ہ دعویٰ مشاہدہ کے خلاف ہے اور ثانیاً جب اس مذہب کـ ثابت ہوگا۔ کیونکہ اس مذہب کے قوانین میں یہ صلاحیت پورا کر سکیں۔
قوانین میں غور کرنے کے بعد کوئی مذہب سـ کے قوانین میں تمام دنیا کی قوموں کی مصلحت کا لحاظ رکھـ مذہب اسلام ہی کو حاصل ہے۔
گو اس رسالہ کا موضوع قوانین کی تشریح نہیـ کرنے کے لئے لکھا گیا ہے۔ لیکن نمونہ کے طور پر چند قوا
- (١) الرسالۃ...... اول تو اسی مسئلہ میں غور فرمائیـ
رسالت ) کہ اس میں کس خوبی کے ساتھ مصلحت عامہ باتوں پر غور کرنے کے بعد جو مسئلہ رسالت کے متعلق اسـ کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اصلاح عامہ کے لـ نہیں ہو سکتی۔
چونکہ اس مسئلہ کے تمام پہلو اس رسالہ میں تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
- (٢) انضباط اوقات...... ہر شخص جانتا ہے کـ
اوقات کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثل حج وزکوٰۃ و روزہ و اور انضباط اوقات کی دو صورتیں ہیں۔ شمسی حساب و قمر سکتا۔ بلکہ اس کے سمجھنے کے لئے ایک اچھے حساب د ضرورت فقط حساب دانوں ہی کے لئے نہیں ہے۔
حساب بالکل آسان ہے۔ خواندہ و ناخواندہ اس کو براہ لوگوں کا لحاظ کرتے ہوئے قمری حساب کو اختیار کیا ہے
٧
- ٣...... حضور ﷺ کی شریعت کے قوانین کی وضع میں غور کرنے سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ
یہ شریعت عالمگیر شریعت ہے۔ کیونکہ ہر ہر قانون میں تمام دنیا کی قوموں کی مصلحت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ اگر کسی دوسرے مذہب والے یہ دعویٰ کریں کہ ہمارا مذہب تمام دنیا کے لئے ہے تو اولاً یہ دعویٰ مشاہدہ کے خلاف ہے اور ثانیاً جب اس مذہب کے قوانین پر نظر ڈالی جائے تو یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگا۔ کیونکہ اس مذہب کے قوانین میں یہ صلاحیت ہی نہیں ہوگی کہ تمام قوموں کی مصلحت کو پورا کر سکیں۔
قوانین میں غور کرنے کے بعد کوئی مذہب سوا اسلام کے ایسا نظر نہیں آئے گا کہ جس کے قوانین میں تمام دنیا کی قوموں کی مصلحت کا لحاظ رکھا گیا ہو لہٰذا تمام دنیا کو دعوت دینے کا حق مذہب اسلام ہی کو حاصل ہے۔
گو اس رسالہ کا موضوع قوانین کی تشریح نہیں ہے۔ بلکہ صرف مسئلہ رسالت کو واضح کرنے کے لئے لکھا گیا ہے۔ لیکن نمونہ کے طور پر چند قوانین کو پیش کرتا ہوں۔
- (١) الرسالۃ ...... اول تو اسی مسئلہ میں غور فرمائیے جو موضوع ہے اس رسالہ کا (یعنی مسئلہ
رسالت) کہ اس میں کس خوبی کے ساتھ مصلحت عامہ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ عاقل آدمی ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد جو مسئلہ رسالت کے متعلق اس رسالہ میں ذکر کی گئی ہیں۔ نہایت آسانی کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اصلاح عامہ کے لئے اس سے بہتر اور کوئی صورت رسالت کی نہیں ہو سکتی۔
چونکہ اس مسئلہ کے تمام پہلو اس رسالہ میں مفصل موجود ہیں لہٰذا اس کے متعلق زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
- (٢) انضباط اوقات ...... ہر شخص جانتا ہے کہ لین دین و عبادت و احکام میں انضباط
اوقات کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثل حج وزکوٰۃ و روزہ رمضان وعیدین وعدت و طلاق وغیرہ وغیرہ اور انضباط اوقات کی دو صورتیں ہیں۔ شمسی حساب و قمری حساب ۔ لیکن شمسی حساب ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ بلکہ اس کے سمجھنے کے لئے ایک اچھے حساب دان کی ضرورت ہے اور انضباط اوقات کی ضرورت فقط حساب دانوں ہی کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ ہر کس و ناکس کو پیش آتی ہے اور قمری حساب بالکل آسان ہے۔ خواندہ و ناخواندہ اس کو برابر سمجھ سکتا ہے لہٰذا مذہب اسلام نے ہر قسم کے لوگوں کا لحاظ کرتے ہوئے قمری حساب کو اختیار کیا ہے اور احکام کا دارومدار اسی پر رکھا ہے تاکہ کسی
٧
شخص کو دقت نہ پیش آئے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے قسم کھائی کہ ایک مہینہ تمام بیبیوں سے علیحدہ رہیں گے۔ ایک بالا خانہ میں تشریف لے گئے۔ انتیس دن گزرنے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے تو مہینہ بھر کی قسم کھائی تھی (ابھی تو انتیس دن ہوئے ہیں) تو حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ اے عائشہؓ! ہم تو ایک بے لکھی پڑھی جماعت ہیں۔ آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیلا کر تین دفعہ اشارہ کیا اور یہ ارشاد فرمایا کہ مہینہ کبھی تیس دن کا ہوتا ہے اور دوبارہ پھر دونوں ہاتھوں سے تین دفعہ اشارہ کیا۔ مگر تیسری دفعہ ایک انگلی نیچے کر لی اور فرمایا کہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ ہمارا حساب تو قمری مہینوں سے ہوتا ہے اور قمری مہینہ کبھی تیس کا ہوتا ہے اور کبھی انتیس کا۔
الحاصل انصاف سے دیکھنے والا تو قطعاً سمجھ سکتا ہے کہ مصلحت عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے قمری حساب سے بہتر دوسری کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ حساب کی ضرورت تو اس قدر عام ہے کہ عورتوں کو عدت گزارنے میں بھی ضرورت پڑتی ہے۔ تو اگر ان کو شمسی مہینوں کا حساب لگانا پڑے تو کس قدر دقت میں واقع ہوں گی۔ حساب دانوں کی تلاش میں ماری ماری پھریں گی۔ لیکن قمری حساب سے گھر بیٹھے بٹھائے نہایت آسانی کے ساتھ عدت گزار لیں گی۔ اول تو خود ہی چاند دیکھ لیا کریں گی ورنہ بچہ بچہ بتا دے گا کہ آج چاند ہو گیا۔
غرض جس مذہب نے قمری حساب اختیار نہیں کیا۔ اس کو انصاف کی رو سے دعوت عامہ کا حق ہرگز نہیں ہو سکتا اور اس مصلحت عامہ کے خالق نے چاند میں گھٹنا اور بڑھنا ایسے واضح طریقہ پر رکھا ہے کہ ہر شخص اس کو آسانی کے ساتھ معلوم کر سکے۔ اگر سورج کی طرح چاند بھی ہمیشہ یکساں رہتا تو پھر قمری حساب میں بھی شمسی کی طرح دقت ہوتی۔ اسی حکمت کے متعلق ارشاد ہے اس آیت میں: یسئلونک عن الاھلۃ قل ھی مواقیت للناس والحج (سورہ بقر)
﴿آپ سے چاندوں کے (ہر مہینہ بڑھنے کی) حالت (اور اس میں جو فائدہ ہے اس فائدہ) کی تحقیقات کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ (فائدہ اس کا یہ ہے کہ) وہ چاند (اپنے اس گھٹنے بڑھنے کے اعتبار سے) آلہ شناخت اوقات ہیں لوگوں کے لئے (یعنی ان کے معاملات وغیرہ کے لئے)
٨
اور حج کے لئے۔﴾ ایسا ہی زکوٰۃ و روزہ وغیرہ کے اس حکمت کے لئے رکھا ہے کہ لوگوں کو اس کے ذریعہ
- (٣) البلوغ ...... بعض لوگوں نے مرد و عور
رکھا ہے۔ جیسا کہ گورنمنٹ کے قانون میں مرد و عور سال مقرر کئے ہیں۔ اٹھارہ سال سے پہلے دونوں کو ہو۔ لیکن شریعت اسلامیہ نے بلوغ کا دارومدار کسی خاص قوم کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ عالمگیر مذہب ہے قانون بنایا ہے اور تمام قوموں کو مدنظر رکھتے ہوئے ح ہے۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ تمام دنیا کے آدمی اختلاف آب و ہوا بعض ملکوں میں جلدی بالغ ہو ملک کے رہنے والے بلکہ ایک شہر کے رہنے والے مد کوئی پہلے بالغ ہوتا ہے۔ کوئی پیچھے۔ کیون پیدا کیا ہے۔ اسی وجہ سے ایک شخص کی اولاد بھی بالغ علاوہ اختلاف مزاج و اختلاف آب و ہوا کے بعض او امراء کی اولاد نسبتاً غرباء کی اولاد کے عموماً جلدی بالغ ہ کھانے پینے کے سامان ان کو حسب منشاء مل سکتے ہیں بوجہ عارضہ بیماری کے بھی بعض آدمی کمزور ہو جاتے ہیں غرض مذکورہ بالا امور کو دیکھتے ہوئے غیر ممک جائے اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے بلوغ کا داروم حکم دیا ہے کہ ان علامات میں سے کوئی ایک علامت ہے۔ خواہ کسی عمر میں پائی جائے البتہ اگر کسی مرد یا عور پندرہ سال مقرر کر دیئے ہیں۔ پندرہ سال کے بعد دونو فطرت کے مطابق ہے اور تمام دنیا کے باشندوں کو جا گیا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ کسی کی فطرت تو حد بلوغ تک جائے۔ بلکہ ہر شخص کی فطرت کے مطابق قانون بنایا
٩
اور حج کے لئے۔﴾ ایسا ہی زکوٰۃ و روزہ وغیرہ کے لئے غرض اللہ تعالیٰ نے چاند میں یہ گھٹنا بڑھنا اس حکمت کے لئے رکھا ہے کہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے حساب میں آسانی ہو۔
(٣) البلوغ...... بعض لوگوں نے مرد و عورت کے بالغ ہونے کا دارومدار ایک خاص عمر پر رکھا ہے۔ جیسا کہ گورنمنٹ کے قانون میں مرد و عورت دونوں کے لئے دیوانی معاملات میں اٹھارہ سال مقرر کئے ہیں۔ اٹھارہ سال سے پہلے دونوں کو نابالغ قرار دیا جاتا ہے۔ خواہ ایک ہی دن کم ہو۔ لیکن شریعت اسلامیہ نے بلوغ کا دارومدار کسی خاص عمر پر نہیں رکھا۔ کیونکہ مذہب اسلام کسی خاص قوم کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ عالمگیر مذہب ہے۔ اس لئے تمام دنیا کی قوموں کو مدنظر رکھ کر قانون بنایا ہے اور تمام قوموں کو مدنظر رکھتے ہوئے حد بلوغ کا دارومدار کسی خاص عمر پر رکھنا غیرممکن ہے۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ تمام دنیا کے آدمی ایک عمر میں بالغ نہیں ہوتے۔ بلکہ بسبب اختلاف آب و ہوا بعض ملکوں میں جلدی بالغ ہوتے ہیں اور بعض میں دیر سے اور ایسا ہی ایک ملک کے رہنے والے بلکہ ایک شہر کے رہنے والے مدت بلوغ میں مختلف ہوتے ہیں۔
کوئی پہلے بالغ ہوتا ہے۔ کوئی پیچھے۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ نے تمام آدمیوں کو مختلف مزاج پیدا کیا ہے۔ اسی وجہ سے ایک شخص کی اولاد بھی بالغ ہونے میں عمر کی رو سے متفق نہیں ہوتی اور علاوہ اختلاف مزاج واختلاف آب وہوا کے بعض اوقات اور وجوہ سے بھی فرق پڑتا ہے۔ مثلاً امراء کی اولاد نسبتاً غرباء کی اولاد کے عموماً جلدی بالغ ہوتی ہے۔ کیونکہ بوجہ آسودہ حال ہونے کے کھانے پینے کے سامان ان کو حسب منشاء مل سکتے ہیں اور غرباء کو نہیں ملتے اور ایسا ہی بعض اوقات بوجہ عارضہ بیماری کے بھی بعض آدمی کمزور ہوجاتے ہیں۔ اس وجہ سے دیر میں بالغ ہوتے ہیں۔
غرض مذکورہ بالا امور کو دیکھتے ہوئے غیرممکن ہے کہ بلوغ کے لئے کوئی خاص عمر مقرر کی جائے اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے بلوغ کا دارومدار عمر پر نہیں رکھا۔ بلکہ علامات پر رکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان علامات میں سے کوئی ایک علامت جس مرد یا عورت میں پائی جائے وہ بالغ ہے۔ خواہ کسی عمر میں پائی جائے البتہ اگر کسی مرد یا عورت میں علامات کا ظہور نہ ہو تو اس کے لئے پندرہ سال مقرر کر دیئے ہیں۔ پندرہ سال کے بعد دونوں کو بالغ قرار دیا ہے اور یہ طریقہ نہایت ہی فطرت کے مطابق ہے اور تمام دنیا کے باشندوں کو جامع۔ کیونکہ اس میں کسی کی فطرت کو دبایا نہیں گیا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ کسی کی فطرت تو حد بلوغ تک پہنچ گئی ہو۔ لیکن قانوناً اس کو نابالغ قرار دیا جائے۔ بلکہ ہر شخص کی فطرت کے مطابق قانون بنایا گیا ہے۔ غرض انصاف پرست کے نزدیک
٩
اس سے بہتر اور جامع کوئی دوسری صورت نہیں ہو سکتی۔
- (٤) النکاح...... چونکہ مرد وعورت میں فطرۃً ایک دوسرے سے ملنے کی خواہش پیدا ہوتی
ہے اور دورِ نسل انسانی کی بقاء بھی ضروری ہے۔ جو مرد وعورت کے ملنے ہی پر موقوف ہے لہٰذا اس کے ملاپ سے تو چارہ نہیں ہے۔ لیکن مرد چونکہ فطرۃً غیور واقع ہوا ہے۔ اس کی غیرت اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ کسی عورت میں اپنے ساتھ کسی دوسرے کو شریک دیکھ لے لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک عورت کو ایک ہی مرد کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے۔ کسی دوسرے مرد کی شرکت اس میں نہ ہونے پائے۔ ورنہ نظام عالم میں فساد برپا ہو جائے گا اور قتل و قتال کا بازار ہر وقت گرم رہے گا۔
مذکور بالا امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر مذہب وملت میں مرد وعورت کے ملنے کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ جس میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے کہ ایک عورت کو ایک ہی مرد کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے تاکہ فساد کا بھی اندیشہ نہ رہے اور دونوں کو فطرتی خواہش پورا کرنے کا موقع بھی مل جائے اور نسل انسانی کی بقاء کا انتظام بھی ہو جائے اور ہر مذہب وملت میں اسی طریقہ کا ایک نام مقرر کیا گیا ہے اور مذہب اسلام میں اس کا نام نکاح رکھا گیا ہے۔ اتنا قدر تو تمام مذاہب میں مشترک ہے لیکن اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مذہب اسلام نے قانون نکاح میں جس قدر تمام دنیا کی قوموں کی مصلحت کو مدنظر رکھ کر قانون بنایا ہے۔ کسی دوسرے مذہب میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔
مذہب اسلام میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قانون بناتے وقت تمام پہلو سامنے رکھ کر قانون بنایا جاتا ہے۔ جہاں جہاں کسی خرابی کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کی اصلاح بھی ساتھ ہی ساتھ کر دی جاتی ہے اور ہر ملک کے باشندوں کی حالت کا صحیح اندازہ لگا کر قانون بنایا جاتا ہے تاکہ کسی قوم یا کسی ملک کے باشندوں کو دقت پیش نہ آئے۔
قانون نکاح کے متعلق جس قدر بحث مذہب اسلام نے کی ہے۔ اس کے لئے تو ایک بہت بڑا دفتر بھی ناکافی ہے۔ لیکن بطور نمونہ چند باتیں پیش کرتا ہوں تاکہ سمجھدار آدمی اس نتیجہ پر پہنچ سکے کہ تمام قوموں کو اپنی طرف دعوت دینا واقعی اسلام ہی کا خاصہ ہے۔ یہ بات کسی دوسرے مذہب کی شان کے شایان نہیں ہے۔
- ١...... نسل انسانی کی بقاء چونکہ ضروری ہے۔ اس لئے اس کا ذریعہ نکاح قرار دیا گیا ہے۔ جو
١٠
نہایت ہی فطرت انسانی کے موافق ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ جو چیزیں اس مقصد کی تکمیل میں مانع ہوتی ہیں۔ ان کی روک تھام بھی کر دی جائے اور وہ دو چیزیں ہیں۔ ایک لواطت یعنی لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کرنا یا عورت سے یہی معاملہ کرنا۔ دوسری زنا۔ لواطت میں تو نطفہ کا ضائع ہونا بالکل واضح ہے اور زنا میں گو نطفہ جاتا تو اسی محل میں ہے جہاں بچہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہر شخص کو معلوم ہے کہ زانی وزانیہ دونوں ہمیشہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ بچہ پیدا نہ ہونے پائے۔ اس قسم کی ادویہ استعمال کی جاتی ہیں کہ نطفہ ٹھہرنے ہی نہ پائے۔ یا ٹھہر جانے کے بعد گر جائے۔ یہی وجہ ہے کہ رنڈیوں کے ہاں اولاد بہت ہی کم پیدا ہوتی ہے اور اگر بالفرض شاذ ونادر ہو بھی جائے تو نہایت ہی ردی ہوتی ہے۔ بوجہ ولدالزنا ہونے کے لوگوں کی نظروں میں حقیر وذلیل ہوتی ہے۔
اور علاوہ اس کے زنا کاری سے بے حیائی بھی پیدا ہوتی ہے۔ حیا جاتی رہتی ہے۔ جو ایمان کا ایک شعبہ ہے اور بے حیائی ایک ایسا وصف ہے کہ جس کا برا ہونا ہر مذہب وملت میں مسلم ہے۔ الحاصل زنا ولواطت مقصد نکاح کی تکمیل میں نقصان دہ اور بے حیائی کی بنیاد ہے لہٰذا شریعت اسلامیہ نے ان دونوں کو قطعاً حرام قرار دیا ہے اور قرآن شریف میں ان دونوں کی مخالفت صاف طور پر موجود ہے۔ خصوصاً زنا کے متعلق تو ایک مفصل قانون ہے اور قرآن شریف میں دو جگہ اولاد کے قتل کرنے کی ممانعت کے ساتھ متصل زنا کی ممانعت کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد پھر قتل نفس کی حرمت بیان کی گئی ہے۔
غرض قتل ممنوع کی دو صورتوں کے درمیان زنا کی ممانعت کو ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے اشارۃً یہ بتانا ہے کہ زنا بھی قریب قریب قتل اولاد ہی کے برابر ہے۔ کیونکہ قتل میں تو پیدا ہونے کے بعد اولاد کو ضائع کیا جاتا ہے اور زنا میں پیدا ہونے ہی نہیں پاتی۔ جس کی تشریح اوپر گزر چکی ہے۔ بہر صورت ضائع ہونا دونوں صورتوں میں مشترک ہے۔
الحاصل زنا ولواطت چونکہ مقصد نکاح کو نقصان دہ ہیں لہٰذا ان دونوں کو شرعاً حرام قرار دیا گیا ہے۔
- ٢...... وصف حیاء چونکہ ایک مرغوب خلق ہے۔ جس کا مرغوب ہونا ہر مذہب وملت میں مسلم
ہے۔ بے حیائی کو کوئی بھی اچھا نہیں کہتا۔ لیکن نکاح کی بعض صورتیں ایسی تھیں کہ ان میں حیا جاتی رہتی ہے۔ بے حیائی پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ماں بہن وغیرہ کے ساتھ نکاح کرنا لہٰذا شرعاً ان صورتوں
١١
کو حرام قرار دیا گیا۔ جن کی حرمت کی تفصیل آیت: ”حرمت علیکم الخ“ میں کی گئی ہے۔
- ٣...... نکاح کی بعض صورتیں ایسی بھی تھیں کہ جن سے صلہ رحمی کو نقصان پہنچتا تھا۔ جو نہایت
ہی قابل حفاظت چیز ہے۔ مثلاً دو بہنوں کا یا خالہ بھانجی کا یا پھوپھی بھتیجی کا ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا کیونکہ بوجہ سوکن ہونے کے صلہ رحمی قائم نہیں رہے گی لہٰذا شریعت میں یہ صورتیں بھی حرام قرار دے دی گئیں۔ جن کی حرمت کی تصریح آیت: ”و ان تجمعوا بین الاختین“ میں کر دی گئی ہے۔
- ٤...... عورت و مرد کا معاملہ نکاح میں براہ راست گفتگو کرنا چونکہ عورت کے وارثوں کے لئے
باعث عار تھا اور اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ عورت چونکہ فطرۃً ناقص العقل ہے۔ اس وجہ سے اپنی مصلحت کو بھی پورے طور پر نہ سمجھ سکے لہٰذا ان دونوں باتوں کے تدارک کے لئے شریعت نے ولایت کو تجویز کیا ہے تا کہ یہ معاملہ عورت کے اولیاء کے ساتھ طے کیا جائے۔
- ٥...... خداوند تعالیٰ نے انسانوں کو چونکہ مختلف مزاج پیدا کیا ہے لہٰذا نکاح ہونے کے بعد بسا
اوقات زوجین یعنی میاں بیوی کے درمیان موافقت نہیں پیدا ہوتی اور دونوں ایک دوسرے سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ مل کر زندگانی بسر نہیں کر سکتے۔
اگر نکاح کے بعد اس قسم کی صورتوں میں تفریق کی کوئی صورت تجویز نہ کی جائے تو دونوں کی زندگی برباد ہو جائے گی اور اس قسم کی صورتیں کثرت سے پیش آتی ہیں۔ اس قسم کی صورتوں کو مد نظر رکھ کر شریعت اسلامیہ میں طلاق تجویز کی گئی ہے۔ جس مذہب میں اس قسم کی صورتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے اور طلاق کو تجویز نہیں کیا گیا۔ وہ مذہب انسانی اصلاح کا کیا دعویٰ کر سکتا ہے؟ یہ اسلام ہی کا کمال ہے کہ کوئی پہلو بھی اصلاح کا باقی نہیں چھوڑا۔
مخالفین اسلام مسئلہ طلاق پر مذاق اڑایا کرتے تھے۔ لیکن تجربہ کے بعد مجبوراً ان کو طلاق کے متعلق قانون بنانا پڑا اور اپنے مذہب کو ناقص تسلیم کرنا پڑا۔ بیوہ کے نکاح کو جو لوگ نا جائز سمجھتے تھے۔ وہ آج اسلامی قانون کے آگے سر تسلیم خم کر رہے ہیں۔ مگر قربان جائیے مذہب اسلام پر کہ اس نے کوئی پہلو اصلاح کا باقی ہی نہیں چھوڑا۔ طلاق کا دینا چونکہ مرد کے اختیار میں ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ وہ طلاق نہ دے۔ مگر عورت اس کے ساتھ رہنا برداشت نہیں کر سکتی تو اس کے لئے شریعت میں خلع تجویز کیا گیا ہے کہ عورت کچھ مرد کو دے کر اپنی رہائی کی صورت کر لے اور اگر نکاح زمانہ نابالغی میں ہوا تھا۔ تو اس صورت میں عورت کے لئے خیار بلوغ بھی رکھا گیا ہے۔ بالغ
١٢
٣٠٧
ہوتے ہی اگر چاہے تو نکاح فسخ کرالے۔ البتہ باپ د کراسکتی اور علاوہ احناف کے بعض حضرات کے نزدیک ہے۔
غرض نا اتفاقی کی صورت میں مرد و عورت الحاصل قانون نکاح کے متعلق اور بھی بہت سی باتیں ہیں نہیں رکھتا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذہب اسلام کے قوا کی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ یہ مذہب واقعی عالمگیر م قوانین ایسے ہیں کہ ان میں مصلحت عامہ کو ملحوظ رکھا گیا گئی ہیں۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے اور اس حضور ﷺ کی شریعت دعوت عام ہونے کی۔
پس آپ ﷺ کی شریعت کا عام ہونا دلائل رہا افضلیت کی دوسری وجہ کا ثبوت یعنی حضور ﷺ کی ش ہے ختم نبوت کے مسئلہ پر۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو ثابت ہو جا باقی رہے گی۔ کیونکہ کوئی شریعت منسوخ نہیں ہو سکتی ج بھیجی جائے اور شریعت نبی ہی کے ذریعہ بھیجی جاتی ہ آئے گا تو کوئی شریعت بھی نہیں آسکتی۔ پس آپ ﷺ افضلیت کی ختم نبوت کے مسئلہ پر موقوف ہے لہٰذا پہلے
رسول اللہ ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا
اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ خا تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا اور اس دعویٰ پر ان کے موجود ہیں۔ اول دلائل نقلیہ کو ذکر کرتا ہوں۔ اس کے
دلائل نقلیہ
- ١....... ”ما کان محمد ابا احد من رجال
١٣
ہوتے ہی اگر چاہے تو نکاح فسخ کرالے۔البتہ باپ دادا کا کیا نکاح مذہب احناف میں فسخ نہیں کراسکتی اور علاوہ احناف کے بعض حضرات کے نزدیک باپ دادا کا کیا ہوا نکاح بھی فسخ کراسکتی ہے۔
غرض نا اتفاقی کی صورت میں مرد وعورت دونوں کے لئے موقعہ تجویز کیا گیا ہے۔ الحاصل قانون نکاح کے متعلق اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ لیکن یہ مختصر رسالہ ان کے ذکر کی گنجائش نہیں رکھتا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذہب اسلام کے قوانین کے وضع میں غور کرنے کے بعد آفتاب کی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ یہ مذہب واقعی عالمگیر مذہب ہے۔ مذہب اسلام کے سارے ہی قوانین ایسے ہیں کہ ان میں مصلحت عامہ کوملحوظ رکھا گیا ہے۔لیکن نمونہ کے طور پر چند مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے اور اسی طریقہ پر قوانین کی وضع قطعی دلیل ہے حضور ﷺ کی شریعت ودعوت عام ہونے کی۔
پس آپ ﷺ کی شریعت کا عام ہونا دلائل عقلیہ اور نقلیہ دونوں سے ثابت ہوا۔ باقی رہا افضلیت کی دوسری وجہ کا ثبوت یعنی حضور ﷺ کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا تو یہ موقوف ہے ختم نبوت کے مسئلہ پر۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو ثابت ہو جائے گا کہ آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔ کیونکہ کوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے بجائے دوسری شریعت نہ بھیجی جائے اور شریعت نبی ہی کے ذریعہ بھیجی جاتی ہے۔ تو جب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو کوئی شریعت بھی نہیں آسکتی۔ پس آپ ﷺ کی شریعت باقی رہے گی۔ غرض چونکہ یہ وجہ افضلیت ختم نبوت کے مسئلہ پر موقوف ہے لہٰذا پہلے اس مسئلہ کو صاف کرنا ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا
اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا اور اس دعویٰ پر ان کے پاس دلائل عقلیہ اور نقلیہ دونوں طرح کے موجود ہیں۔ اول دلائل نقلیہ کو ذکر کرتا ہوں۔ اس کے بعد دلائل عقلیہ کو پیش کروں گا۔
دلائل نقلیہ
- ١....... "ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین
١٣
وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠) ﴿محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے﴾ ختم کے لغوی معنے یہ ہیں کہ کسی چیز کو اس طرح بند کرنا کہ نہ اس کے اندر کی چیز باہر نکل سکے اور نہ باہر کی چیز اس کے اندر جاسکے۔ اسی سے اس کے دوسرے معنے کسی شے کو بند کر کے اس پر مہر کرنے کے ہیں۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر سے نہ کوئی چیز باہر نکلی ہے اور نہ کوئی باہر کی چیز اس کے اندر گئی ہے اور چونکہ یہ عمل مہر سب سے آخر میں کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس کے معنے انتہاء اور ختم کرنے کے بھی آتے ہیں۔
قرآن مجید میں یہ تمام معنی مستعمل ہوئے ہیں: ”اليوم نختم على افواههم (يٰسین) ”آج ہم (قیامت کے دن) ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے کہ بول نہ سکیں۔“ اس آیت میں بند کر دینے کے معنی بالکل ظاہر ہیں۔ ”ختم الله على قلوبهم (بقر)“ ﴿خداوند تعالیٰ نے ان (کافروں) کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔﴾ یعنی نصیحت و ہدایت دلوں کے اندر نہیں جاتی اور کفر جو لوگوں کے اندر ہے وہ باہر نہیں آتا۔ ”وختم على سمعه وقلبه (جاثيه)“ ﴿خداوند تعالیٰ نے اس کے کان پر اور دل پر مہر لگا دی ہے۔﴾ کان میں دعوت کی آواز اور دل میں آواز کا اثر نہیں جاتے۔ ”يسقون من رحيق مختوم ختامه مسك (مطففین)“ ﴿ان (اہل جنت) کو پینے کے لئے وہ شراب خالص دی جائے گی جس پر مہر لگی ہوگی۔ اس کی مہر مشک ہوگی۔ وہ سر بمہر ہوگی۔﴾ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خالص شراب ہے۔ یہ کھلی نہیں ہے کہ اس کے اندر کی خوشبو باہر نکل گئی ہو اور نہ کسی نے باہر سے کوئی چیز اس کے اندر ملا دی ہے۔ جس سے اس کی تیزی کم ہو گئی ہو اور اس شراب کی بوتل یا صراحی کا منہ غایت صفائی اور نزاکت کی غرض سے دنیا کی طرح مٹی یا لاکھ یا موم کے بجائے مشک خالص سے بند ہوگا۔
الحاصل ان تمام استعمالات سے صاف طور پر ظاہر ہو گیا کہ اس لفظ کے عمومی اور مشترک معنی کسی چیز کو بند کرنے کے ہیں۔
لفظ خاتم کی دو قرأتیں ہیں۔ مشہور قرأت بالکسر ہے۔ جس کے معنے ختم کرنے والے اور بند کرنے والے کے ہوئے اور دوسری قرأت بالفتح کی ہے۔ جس کے معنی ہیں وہ شے جس کے ذریعہ سے کوئی شے بند کی جائے اور اس پر مہر لگائی جائے تاکہ وہ کھولی نہ جا سکے اور نہ اس کے اندر کوئی چیز باہر سے جاسکے۔
١٤
اسی اصل دونوں حالتوں میں آیت کا حاصل معنی آ اقدس پیغمبروں کے سلسلہ کو بند کرنے والا اور ان پر مہر لگا د پیغمبروں کی جماعت میں داخل نہ ہو سکے۔ پس اس آیت س بعد کوئی شخص مرزا قادیانی ہو یا کوئی دوسرا پیغمبروں کی جماعت
- ٢...... ”قال رسول الله ﷺ لو كان بعدي
(ترمذی باب مناقب عمر، ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)
نبی ہوسکتا تو البتہ وہ عمر ہوگا۔﴾ حضورﷺ کا مقصد اس فرمان کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اگر میرے بعد نبوت ختم نہ ہوتی تو عمر ضرو
- ٣...... ”قال رسول الله ﷺ وانه سيكون
يزعم انه نبي وانا خاتم النبيين لا نبي بعدي تقوم الساعة حتى يخرج كذابون، ابوداؤد ج ٢ ص ٢٧ سے پہلے میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ہر ایک دعویٰ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
- ٤...... ”قال رسول الله ﷺ ان مثلى ومثل
بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زا ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه ا النبيين (بخاری باب خاتم النبیین ج ١ ص ٥٠١ نے فرمایا کہ میری اور میرے سے پہلے نبیوں کی مثال ایسی ہ نہایت ہی اچھا اور خوبصورت بنا کر مکمل کر دیا۔ لیکن ایک کون پس لوگ اس مکان کو پھر پھر کر دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہی نہیں لگائی گئی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ وہ آخری اینٹ میں
مطلب یہ ہے کہ آپﷺ نے نبوت کو مکان میرے سے پہلے مکمل ہو چکا تھا صرف ایک اینٹ کی جگہ ر
پس اب قصر نبوت میں کوئی رخنہ باقی نہیں رہا جس کو کوئی د دعویٰ نبوت کرے گا وہ جھوٹا کذاب ہوگا۔
١٥
الحاصل دونوں حالتوں میں آیت کا حاصل معنی ایک ہی ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کا وجود اقدس پیغمبروں کے سلسلہ کو بند کرنے والا اور ان پر مہر لگا دینے والا ہے کہ پھر آئندہ کوئی نیا شخص پیغمبروں کی جماعت میں داخل نہ ہو سکے۔ پس اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص مرزا قادیانی ہو یا کوئی دوسرا پیغمبروں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔
- ٢...... "قال رسول اللہ ﷺ لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب
(ترمذی باب مناقب عمر، ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)" حضور ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو البتہ وہ عمر ہوگا۔ ٭ حضور ﷺ کا مقصد اس فرمان سے یہ ہے کہ میرے بعد سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اگر میرے بعد نبوت ختم نہ ہوتی تو عمر ضرور نبی ہوتا۔
- ٣...... "قال رسول اللہ ﷺ وانہ سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلہم
یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب ما جاء لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون، ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧)" حضور ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ہر ایک دعویٰ نبوت کرے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ٭
- ٤...... "قال رسول اللہ ﷺ ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل
بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنة من زاویة فجعل الناس یطوفون بہ ویتعجبون لہ ویقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبیین (بخاری باب خاتم النبیین ج ١ ص ٥٠١ ، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨)" حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری اور میرے سے پہلے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسا ایک شخص نے گھر بنایا اور اس کو نہایت ہی اچھا اور خوبصورت بنا کر مکمل کر دیا۔ لیکن ایک کونہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ پس لوگ اس مکان کو پھر پھر کر دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ٭
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کو مکان سے تشبیہ دے کر فرمایا کہ قصر نبوت میرے سے پہلے مکمل ہو چکا تھا صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ وہ میرے آنے سے پر ہو گئی۔ پس اب قصر نبوت میں کوئی رخنہ باقی نہیں رہا جس کو کوئی دوسرا نبی آ کر پر کرے لہٰذا جو میرے بعد دعویٰ نبوت کرے گا وہ جھوٹا کذاب ہوگا۔
١٥
- ٥...... ”قال رسول الله ﷺ كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما
هلك نبى خلفه نبى وانه لانبى بعدى وسيكون خلفاء الحديث (بخاري باب ماذكر عن بنى اسرائيل ج ١ ص ٤٩١، مسلم ج ٢ ص ١٦٢)“ ﴿حضورﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست و انتظام امور انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی رحلت فرما جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہو جاتا تھا اور تحقیق میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور البتہ خلفاء ہوں گے﴾ یعنی میرے بعد میری امت کے امور کا انتظام بذریعہ انبیاء علیہم السلام نہیں ہوگا مثل بنی اسرائیل کے بلکہ میری امت کا انتظام بذریعہ خلفاء ہوگا۔ کیونکہ میرے بعد سلسلہ نبوت ختم ہے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
- ٦...... ”قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول
بعدى ولا نبى قال فشق ذلك على الناس فقال لكن المبشرات فقالوا يا رسول الله وماالمبشرات قال رؤيا المسلم وهى جزء من اجزاء النبوة (ترمذى باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات ج ٢ ص ٥٣)“ ﴿حضورﷺ نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہو چکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔﴾
راوی کہتا ہے کہ آپ کا یہ فرمان سن کر لوگوں کو صدمہ ہوا۔ (کیونکہ نبوت جو رحمت خداوندی کا دروازہ تھا وہ بند ہو گیا) تو حضورﷺ نے لوگوں کو (تسکین دینے کی غرض سے) فرمایا کہ (گو نبوت ختم ہو گئی ہے) لیکن مبشرات باقی ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ حضور مبشرات کیا چیز ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ مسلم کے خواب اور وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہیں۔ غرض نبوت تو ختم ہو گئی ہے۔ اس کے اجزاء میں صرف ایک جز یعنی خواب رہ گئے ہیں۔
- ٧...... ”قال النبى ﷺ لم يبق من النبوة الا المبشرات قالواوما المبشرات
قال الرؤيا الصالحة (بخارى باب مبشرات ج ٢ ص ١٠٣٥)“ ﴿حضورﷺ نے فرمایا کہ نبوت سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر خوشخبریاں لوگوں نے عرض کیا کہ خوشخبریاں کیا چیز ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ سچے خواب۔﴾
- ٨...... ”ان رسول الله ﷺ خرج الى تبوك فاستخلف علياً قال اتخلفنى
فى الصبيان والنساء قال الاترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه ليس نبى بعدى (بخارى باب غزوه تبوك ج ٢ ص ٦٣٣)“ ﴿حضورﷺ غزوہ
١٦
٣١١
تبوک کی طرف تشریف لے جانے لگے تو حضرت علیؓ کو اہل بیت چھوڑا تو (حضرت علیؓ نے آپ کے ہم رکاب نہ ہونے پر ملال تسلی دینے کی غرض سے) فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو ہارون اور موسیٰ علیہ السلام میں تھی لیکن یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ
- ٩...... ”حدثنا ابن نمير قال حدثنا محمد
قلت لا بن ابى اوفى رايت ابراهيم بن النبى ﷺ ان يكون بعد محمدﷺ نبى عاش ابنه ولكن سمى باسماء الانبياء ج ٢ ص ٩١٦)“ ﴿اسمعیل (جو سند میں ابن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا کہ آپ نے حضور کے صاحبزاد فرمایا کہ وہ تو چھوٹے ہی رحلت فرما گئے تھے اور اگر یہ فیصلہ ہـ بعد کوئی نبی آئے گا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکـ ہوگا۔﴾ لہٰذا ان کو زندہ نہیں رکھا گیا ابن ابی اوفیٰ کے کلام صاحبزادے کو زندہ رکھ کر نبی نہ بنانا حضورﷺ کی شان کے خلا معمولی درجہ کی نبوت بھی نہ دی جائے۔
پس اگر نبوت کا سلسلہ باقی رہتا تو آپﷺ کے نبی بنا دیا جاتا۔ لیکن سلسلہ نبوت تو آپﷺ پر ختم ہو چکا ہے لہٰذا ہی نہیں رکھا گیا تاکہ آپﷺ کی شان کے خلاف لازم نہ آئے
مذکورہ بالا آیت و احادیث میں صاف طور پر تصریح آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپﷺ کی شریعت قیا شریعت کا نسخ بغیر نبی کے نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کے خوف سے ان کو ترک کر دیا ہے اور سمجھ دار کے لئے یہ بھی قابل ذکر ہیں۔
- ١٠...... ختم نبوت کے مسئلہ میں اہل اسلام کے مقابل دو مـ
مسلمان ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اسلام کو سچا مذہب ہوں یا کوئی دوسرا فرقہ اور دوسرے وہ لوگ جو زبان سے مدعـ
١٧
تبوک کی طرف تشریف لے جانے لگے تو حضرت علیؓ کو اہل بیت کی نگرانی کے لئے مدینہ منورہ میں چھوڑا تو (حضرت علیؓ نے آپؐ کے ہم رکاب نہ ہونے پر ملال ظاہر کیا تو) حضورﷺ نے (ان کو تسلی دینے کی غرض سے) فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میں اور مجھ میں وہ نسبت ہو جو ہارون اور موسیٰ علیہ السلام میں تھی لیکن یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴿
- ٩....... ”حدثنا ابن نمير قال حدثنا محمد بن بشر قال حدثنا اسمعيل
قلت لابن ابی اوفی رایت ابراهيم بن النبى ﷺ قال مات صغيرا ولوقضى ان يكون بعد محمدﷺ نبى عاش ابنه ولكن لا نبى بعده (بخارى باب من سمى باسماء الانبياء ج٢ص٩١٦) ’’ اسماعیل (جو سند میں مذکور ہیں) فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا کہ آپ نے حضور کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو چھوٹے ہی رحلت فرما گئے تھے اور اگر یہ فیصلہ (ازل میں) ہو چکا ہوتا کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ﴾ لہٰذا ان کو زندہ نہیں رکھا گیا ابن ابی اوفیٰ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ حضورﷺ کے صاحبزادے کو زندہ رکھ کر نبی نہ بنانا حضورﷺ کی شان کے خلاف ہے کہ اتنے بڑے نبی کی اولاد کو معمولی درجہ کی نبوت بھی نہ دی جائے۔
پس اگر نبوت کا سلسلہ باقی رہتا تو آپﷺ کے صاحبزادے کو بھی زندہ رکھا جاتا اور نبی بنا دیا جاتا۔ لیکن سلسلہ نبوت تو آپﷺ پر ختم ہو چکا ہے لہٰذا آپﷺ کے صاحبزادے کو زندہ ہی نہیں رکھا گیا تا کہ آپﷺ کی شان کے خلاف لازم نہ آئے۔
مذکورہ بالا آیت و احادیث میں صاف طور پر تصریح ہے کہ حضورﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپﷺ کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔ کیونکہ کسی شریعت کا نسخ بغیر نبی کے نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ احادیث تو اور بھی ہیں مگر طوالت کے خوف سے ان کو ترک کر دیا ہے اور سمجھ دار کے لئے یہ بھی بہت ہیں۔ اس مقام پر چند باتیں قابل ذکر ہیں۔
- ١....... ختم نبوت کے مسئلہ میں اہل اسلام کے مقابل دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ لوگ جو
مسلمان ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اسلام کو سچا مذہب ہی نہیں تسلیم کرتے۔ یہود و نصاریٰ ہوں یا کوئی دوسرا فرقہ اور دوسرے وہ لوگ جو زبان سے مدعی اسلام ہیں۔ مگر ختم نبوت کے منکر
١٧
ہیں ۔ جیسا کہ قادیانی وغیرہ ۔
- ٢...... اوّل قسم کے لوگوں کے مقابلہ میں تو عقلی دلائل ہی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ نقلی دلائل پر تو
ان کا ایمان نہیں ہے۔ البتہ ان کی کتابوں سے کوئی نقل اگر مفید مدعا ہو تو ان کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے اور نقلی دلائل کا ذکر کرنا تو صرف دوسری قسم کے لوگوں کے لئے ہے۔ کیونکہ وہ اپنی زبان سے قرآن وحدیث پر ایمان ظاہر کرتے ہیں۔
- ٣...... دوسری قسم کے لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ نبوت مستقلہ یعنی ایسی نبوت کہ جس میں نئی
شریعت ہو تو رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو چکی ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت جدیدہ نہیں آئے گا لیکن نبوت غیر مستقلہ یعنی جس میں شریعت جدیدہ نہ ہو۔ وہ ختم نہیں ہوئی لہٰذا حضور ﷺ کے بعد ایسے نبی آسکتے ہیں۔ جو صاحب شریعت جدیدہ نہ ہوں اور مرزا قادیانی بھی اپنے آپ کو ایسا ہی نبی بتاتے تھے۔
- ٤...... ان لوگوں کے سامنے جب آیت : ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ یا
حدیث : ”لا نبی بعدی“ وغیرہ ذکر کی جاتی ہے تو فوراً یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہاں تو نبوت مستقلہ کی نفی ہے۔ مطلق نبوت کی نفی نہیں ہے۔ لیکن ان کا یہ کہنا محض عناد پر مبنی ہے۔ کیونکہ آیت اور احادیث میں کوئی قید مستقلہ یا غیر مستقلہ کی نہیں ہے۔ اگرچہ میرا مقصد اس فریق کی تردید پر موقوف نہیں ہے۔ کیونکہ میرا مقصد اس مقام پر صرف رسول ﷺ کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا ثابت کرنا ہے اور اس کو یہ فریق بھی تسلیم کرتا ہے۔ لیکن چونکہ ختم نبوت کا تذکرہ آگیا ہے اور اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی غیر مستقل بھی نہیں آئے گا لہٰذا اس عقیدہ کے مخالفین کی غلط فہمی دور کرنے کی غرض سے مزید تشریح کرتا ہوں۔
نبوت ورسالت و نبی تینوں کلیّیں ہیں۔ خواہ از جنس متواطی ہوں یا مشکک اور ان تینوں پر لا نفی جنس واقع ہوا ہے جو مفید استغراق ہوتا ہے عندالنحاۃ۔ پس رسالت کی نفی سے تمام افراد رسالت کی نفی ہوگی اور نبوت کی نفی سے تمام افراد نبوت کی نفی ہوگی اور نبی کی نفی سے تمام افراد نبی کی نفی ہوگی اور نبوت غیر مستقلہ بھی افراد نبوت سے ہے اور ایسا ہی نبی غیر مستقل بھی افراد نبی سے ہے لہٰذا ان احادیث اور آیت سے نبوت غیر مستقلہ و نبی غیر مستقلہ کی بھی نفی ثابت ہوگئی۔ اب جو شخص ان تینوں کلیوں کو بعض افراد کے ساتھ خاص کرتا ہے بلا دلیل شرعی اس کا قول محض عناد پر مبنی ہے اور احادیث میں غور کرنے کے بعد صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں
١٨
نبوت غیر مستقلہ کی نفی کی تصریح ہے۔ ایک ایک کے متعلق فرمائیے۔ حدیث نمبر ٢ کے متعلق دو باتیں قابلِ غور ہیں۔
- الف...... حضور ﷺ نے یہ قول حضرت عمرؓ کی مدح میں فرمایا
اگر آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو آپ ﷺ فرماتے نہ کہ نفی کرتے۔ پس آپ ﷺ کے مطلقاً نفی فرمانے کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔
- ب...... اگر حدیث میں مستقل کی قید لگائی جائے اور معنی
مستقل نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا تو اس صورت میں حضرت عمرؓ کا نبی حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو منصب نبوت کے قابل و مستحق صرف نبوت کا ختم ہونا فرمایا ہے۔ پس جب نبوت غیر مستقل کوئی مانع نہیں ہے لہٰذا وہ ضرور نبی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ نبوت ضرور کرتے۔ کیونکہ نبی کے لئے اخفاء دعویٰ نبوت جا نہیں کیا اور نہ اہل اسلام میں سے کسی نے ان کو نبی کہا ہے تو آپ غور فرما سکتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ مستحق نبوت ہو، مس مبارک سے ثابت ہو اس کو تو نبوت نہ ملے اور مرزا قادیانی عقل کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن اگر کوئی متعصب اب بھی ن
غرض حدیث میں غور کرنے کے بعد صاف طور پر نبوت کی نفی فرمائی ہے اور اس نفی کو کلمہ (لو) کے ساتھ بیان فر کے لئے آتا ہے۔ جو محال ہوتا ہے۔ تو حدیث کا حاصل یہ ہو مستقل کا آنا محال ہے لہٰذا آپ ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت دعویٰ کرتا ہے۔
حدیث نمبر ٣ میں چند قرائن ایسے ہیں جو اس ب نے نبوت غیر مستقلہ کی بھی نفی فرمائی ہے۔
- ١...... حضور ﷺ کا قول: ”(کلهم يزعم انه نب
حضور ﷺ نے نبوت مزعومہ کے دعویٰ کو ان کذابوں کے جھ
١٩
نبوت غیر مستقلہ کی نفی کی تصریح ہے۔ ایک ایک کے متعلق الگ الگ عرض کرتا ہوں۔ غور فرمائیے۔ حدیث نمبر ٢ کے متعلق دو باتیں قابل غور ہیں۔
- الف...... حضور ﷺ نے یہ قول حضرت عمرؓ کی مدح میں فرمایا ہے اور مقام مدح کا تقاضا یہ تھا کہ
اگر آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو آپ ﷺ حضرت عمرؓ کے لئے اس کا اثبات فرماتے نہ کہ نفی کرتے۔ پس آپ ﷺ کے مطلقاً نفی فرمانے سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔
- ب...... اگر حدیث میں مستقل کی قید لگائی جائے اور معنی یہ کئے جائیں کہ اگر میرے بعد کوئی
مستقل نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا تو اس صورت میں حضرت عمرؓ کا نبی غیر مستقل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو منصب نبوت کے قابل و مستحق بتایا ہے اور نبوت کے ملنے سے مانع صرف نبوت کا ختم ہونا فرمایا ہے۔ پس جب نبوت غیر مستقل ختم نہیں ہوئی ہے تو اس کے ملنے سے کوئی مانع نہیں ہے لہٰذا وہ ضرور نبی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ وہ نبی نہیں تھے۔ اگر ہوتے تو دعوٰی نبوت ضرور کرتے۔ کیونکہ نبی کے لئے اخفاء دعوٰی نبوت جائز نہیں ہے۔ جب انہوں نے دعوٰی نہیں کیا اور نہ اہل اسلام میں سے کسی نے ان کو نبی کہا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ نبی نہیں تھے۔ تو اب آپ غور فرما سکتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ مستحق نبوت ہو جس کا مستحق ہونا رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ثابت ہو اس کو تو نبوت نہ ملے اور مرزا قادیانی قادیان میں نبی بن جائیں۔ یہ فیصلہ عقل کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن اگر کوئی متعصب اب بھی نہ مانے تو اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔
غرض حدیث میں غور کرنے کے بعد صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے مطلق نبوت کی نفی فرمائی ہے اور اس نفی کو کلمہ (لو) کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور کلمہ (لو) عربی میں اس امر کے لئے آتا ہے۔ جو محال ہوتا ہے۔ تو حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد نبی مستقل یا غیر مستقل کا آنا محال ہے لہٰذا آپ ﷺ کے بعد جو دعوٰی نبوت کرے وہ جھوٹا، کیونکہ وہ امر محال کا دعوٰی کرتا ہے۔
حدیث نمبر ٣ میں چند قرائن ایسے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے نبوت غیر مستقلہ کی بھی نفی فرمائی ہے۔
- ١...... حضور ﷺ کا قول: ”(کلہم یزعم انہ نبی) (کذابون)“ کی دلیل ہے یعنی
حضور ﷺ نے نبوت مزعومہ کے دعوٰی کو ان کذابوں کے جھوٹا ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔ حالانکہ
١٩
جو کذاب آپﷺ کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب نے نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں کیا۔ تو اس سے واضح ہو گیا کہ آپﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ کا مدعی بھی کذاب ہوگا۔
- .......٢ نبوت مزعومہ عام ہے، شامل ہے نبوت مستقلہ وغیر مستقلہ کو جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا
ہے اور آپ کا قول: ”وانا خاتم النبیین“ نبوت مزعومہ کے دعویٰ میں جھوٹے ہونے کی دلیل ہے تو معلوم ہوا کہ آپﷺ کا خاتم ہونا بھی عام ہے۔ یعنی آپﷺ مستقل وغیر مستقل دونوں قسموں کے نبیوں کے خاتم ہیں۔ کیونکہ اس کو خاص کرنے کی صورت میں نبوت مزعومہ کی نفی کی دلیل نہیں بن سکے گا۔ اس لئے کہ نبوت مزعومہ عام ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو مستلزم نہیں ہوتی حالانکہ حضورﷺ نے اسی قول کو نبوت مزعومہ کی نفی کی دلیل فرمایا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ﷺ دونوں قسموں کے نبیوں کے خاتم ہیں۔
- .......٣ آپﷺ کا قول: ”لانبی بعدی“ تفسیر ہے: ”وانا خاتم النبیین“ کی۔ یا
دلیل ہے اس کی تو اس سے معلوم ہوا کہ: ”لانبی بعدی“ میں بھی نبی عام ہے مستقل ہو یا غیر مستقل، دونوں کی نفی مراد ہے۔ ورنہ عام کی تفسیر یا دلیل نہیں بن سکے گا۔
الحاصل قرائن کو دیکھنے کے بعد نبوت غیر مستقلہ کی نفی میں کسی قسم کا تردد باقی نہیں رہتا۔
حدیث نمبر ٤ میں نبوت غیر مستقلہ کی ایسی تصریح ہے کہ مخالف کے لئے تاویل کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ حضورﷺ نے فرمایا کہ قصر نبوت میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ وہ میرے آنے سے پر ہو گئی۔ اب ذرا بھی رخنہ باقی نہیں ہے۔ جس کے پر کرنے کے لئے کوئی دوسرا نبی آئے۔ پس میں خاتم النبیین ہوں۔ یعنی سب سے پیچھے آنے والا ہوں۔
اب ذرا غور فرمائیے کہ جو شخص حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے۔ مرزا قادیانی ہو یا کوئی دوسرا شخص وہ اپنا روڑا کہاں لگائے گا؟ قصر نبوت میں تو کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔ لامحالہ وہ قصر نبوت کی بنیاد کھود کر اپنے روڑے کے لئے جگہ نکالے گا ورنہ اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ رسولﷺ کے بعد میرے روڑے کی تو کوئی جگہ نہیں ہے۔ مجبور ہو کر قصر نبوت کی بنیاد پر کدال اٹھا کر کھودنا شروع کیا تا کہ اپنے روڑے کے لئے کوئی جگہ نکالے۔ پس جب قصر نبوت کو حضورﷺ اپنے وجود اقدس سے مکمل فرما گئے تھے۔ اس کو غیر مکمل ثابت کرنا شروع کر دیا اور دعویٰ کر دیا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔
غرض حدیث میں غور کرنے کے بعد کسی متنبی کے روڑے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی اور
٢٠
آپ کا: ”فانا اللبنة “ کے بعد: ”وانا خاتم النبیین“ کہ آیت: ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ ہے اور لفظ خاتم کی تحقیق جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں بھی کسی حدیث نمبر ٥ میں دو صریح قرینے ہیں نبوت غیر پہلا قرینہ یہ ہے کہ حضورﷺ نے بنی اسرائیل شریعت مستقلہ نہیں تھے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد موسویہ کے متبع تھے اور ان نبیوں کے متعلق آپ نے فرمایا کہ بعد دیگرے آتے تھے۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا بعد کوئی نبی میرے امت کے امور کا انتظام کرنے والا نہیں بعد دیگرے ہوتے رہے۔ الغرض حضورﷺ نے اپنے بعد فرمائی جیسے نبی بنی اسرائیل میں ہوتے تھے اور وہ غیر مستقل تصریح ہو گئی۔
دوسرا قرینہ یہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنے بعد خلفاء کا اثبات فرمایا اگر آپ کے کلام: ”وانه لانبی بـ اس کے بعد آپﷺ اثبات نبی غیر مستقل کا فرماتے نہ کہ بعد صرف خلفاء کا اثبات فرمانا صریح قرینہ ہے نبی غیر مستقل
حدیث نمبر ٦ میں بھی دو قرینے ہیں نبوت غیر مـ پہلا قرینہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم الرسالة والنبوة “ سے صدمہ کا ہونا۔ اس لئے کہ ہو سکتا۔ بلکہ باعث فرحت ہے۔ باعث صدمہ تو نبوت مستـ انقطاع ہے۔ اس لئے کہ نبوت کی نفی واثبات کی کل چار اثبات نبوت مستقلہ واثبات نبوت غیر مستقلہ اور دو صورتـ غیر مستقلہ۔
اثبات کی دونوں صورتوں میں پہلی صورت ( ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ کی شریعـ
٢١
آپ کا: ”فانا اللبنة“ کے بعد: ”وانا خاتم النبیین“ فرمانا صاف دلیل ہے اس بات کی کہ آیت: ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ میں بھی تاویل کی گنجائش اصلاً باقی نہیں ہے اور لفظ خاتم کی تحقیق جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں بھی کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔
حدیث نمبر ٥ میں دو صریح قرینے ہیں نبوت غیر مستقلہ کی نفی پر۔
پہلا قرینہ یہ ہے کہ حضورﷺ نے بنی اسرائیل کے نبیوں کا ذکر فرمایا ہے جو صاحب شریعت مستقلہ نہیں تھے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سینکڑوں نبی آئے ہیں۔ جو شریعت موسویہ کے متبع تھے اور ان نبیوں کے متعلق آپ نے فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے امور کا انتظام یکے بعد دیگرے فرماتے تھے۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا ”وانہ لا نبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی میری امت کے امور کا انتظام کرنے والا نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں یکے بعد دیگرے ہوتے رہے۔ الغرض حضورﷺ نے اپنے بعد ایسے نبیوں کے ہونے کی نفی کی تصریح فرمائی جیسے نبی بنی اسرائیل میں ہوتے تھے اور وہ غیر مستقل ہوتے تھے لہٰذا نبی غیر مستقل کی نفی کی تصریح ہو گئی۔
دوسرا قرینہ یہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنے بعد نبی کی مطلقاً نفی کرنے کے بعد صرف خلفاء کا اثبات فرمایا اگر آپ کے کلام: ”وانہ لا نبی بعدی“ میں مستقل نبی کی نفی مراد ہوتی تو اس کے بعد آپﷺ اثبات نبی غیر مستقل کا فرماتے نہ خلفاء کا۔ پس مطلقاً نبی کی نفی کرنے کے بعد صرف خلفاء کا اثبات فرمانا صریح قرینہ ہے نبی غیر مستقل کی نفی کا۔
حدیث نمبر ٦ میں بھی دو قرینے ہیں نبوت غیر مستقلہ کی نفی پر۔
پہلا قرینہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حضورﷺ کے ارشاد : ”ان الرسالة والنبوة“ سے صدمہ کا ہونا۔ اس لئے کہ نبوت مستقلہ کا انقطاع باعث صدمہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ باعث فرحت ہے۔ باعث صدمہ تو نبوت مستقلہ کا عدم انقطاع اور نبوت غیر مستقلہ کا انقطاع ہے۔ اس لئے کہ نبوت کی نفی واثبات کی کل چار صورتیں ہیں۔ دو صورتیں اثبات کی یعنی اثبات نبوت مستقلہ واثبات نبوت غیر مستقلہ اور دو صورتیں نفی کی یعنی نفی نبوت مستقلہ اور نفی نبوت غیر مستقلہ۔
اثبات کی دونوں صورتوں میں پہلی صورت (یعنی اثبات نبوت مستقلہ) باعث صدمہ ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ کی شریعت قیامت تک باقی نہیں رہے گی بلکہ
٢١
آپ ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی صاحب شریعت مستقلہ آپ ﷺ کی شریعت کو منسوخ کر دے گا اور ظاہر ہے کہ یہ خبر عاشقان محمدی کے لئے باعث فرحت نہیں ہو سکتی بلکہ باعث صدمہ ہے۔
اور اثبات نبوت کی دوسری صورت (یعنی اثبات نبوت غیر مستقلہ) باعث فرحت ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آپ ﷺ کی شریعت کا نسخ بھی نہیں لازم آتا تا کہ باعث صدمہ ہو اور اس میں آپ ﷺ کی شریعت کو قیامت تک تازہ کرنے والوں کے آنے کی خوشخبری بھی ہے لہٰذا باعث فرحت ہے۔
اور نفی کی دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت (یعنی نفی نبوت مستقلہ) باعث صدمہ نہیں ہے۔ بلکہ باعث فرحت ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی صاحب شریعت مستقلہ نہیں آئے گا جو آپ ﷺ کی شریعت کو منسوخ کر سکے اور اظہر من الشمس ہے کہ آپ ﷺ کی شریعت کے بقاء الی یوم القیامۃ کی خبر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے باعث صدمہ نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی چیز باعث فرحت نہیں ہے۔
اور نفی کی دوسری صورت (یعنی نبوت مستقلہ کی نفی) باعث صدمہ ہے۔ کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی شریعت کو تازہ کرنے والا کوئی نبی قیامت تک نہیں آئے گا اور اس خبر کا صدمہ دہ ہونا ظاہر ہے۔
مذکورہ بالا تقریر کا حاصل یہ ہوا کہ نبوت مستقلہ کا اثبات باعث صدمہ ہے اور اس کی نفی باعث فرحت اور نبوت غیر مستقلہ کا معاملہ برعکس ہے کہ اس کا اثبات فرحت رساں اور نفی صدمہ دہ ہے۔ تو اب اس کے بعد ملاحظہ فرمائیے کہ حضور ﷺ نے جب نبوت کی نفی فرمائی تو صحابہ کرامؓ کو صدمہ ہوا اور صدمہ نبوت غیر مستقلہ کی نفی سے ہو سکتا ہے۔ نبوت مستقلہ کی نفی سے نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا ہے۔ پس صدمہ کا ہونا صریح قرینہ ہے نبوت غیر مستقلہ کی نفی کا۔ اگر نبوت مستقلہ کی نفی مراد ہوتی تو فرحت ہونی چاہئے تھی نہ کہ صدمہ۔
دوسرا قرینہ یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے دیکھا کہ صحابہ کرامؓ کو میرا ارشاد سن کر صدمہ ہوا ہے تو ان کی تسکین کی خاطر فرمایا: ”لكن المبشرات“ کہ گھبراؤ نہیں خوشخبریاں باقی ہیں۔ یعنی نبوت بجمیع اجزاء منقطع نہیں ہوئی ہیں۔ بلکہ اس کا ایک جز خوشخبریاں (یعنی سچے خواب) قیامت تک باقی رہے گا۔ تو آپ ﷺ کا نفی نبوت کے بعد لفظ مبشرات ہی کو مستثنیٰ فرمانا صریح قرینہ ٢٢
ہے نفی نبوت غیر مستقلہ کا اگر علاوہ مبشرات کے کوئی اور اس کو ضرور مستثنیٰ فرماتے۔ خصوصاً صحابہ کرامؓ کے صدمہ کـ نبوی کے خلاف ہے۔ لیکن باوجود اس کے بھی آپ ﷺ فرمانا بڑا زبردست قرینہ ہے نفی نبوت غیر مستقلہ کا۔ مگر تعـ حدیث نمبر ٧ میں تو آپ ﷺ نے بالکل صـ لفظوں میں فرما دیا کہ نبوت سے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ مگر حدیث نمبر ٨ کے سیاق میں نظر کرنے سے صاف طور پر مـ ”ألا إنه ليس نبي بعدي“ میں نبوت غیر مستقلہ کـ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے و ہارون علیہما السلام میں تھی اور وہ نسبت مرکب تھی دو اشتراک فی النبوۃ تو اس کے بعد حضور ﷺ کو یہ خیال آیـ میں بھی وہ دونوں امر ہیں جو حضرت ہارون علیہ السلام کـ ایک امر (یعنی قائم مقامی) کا اظہار تھا۔ یعنی آپ ﷺ کـ جانے کے بعد تو میرا قائم مقام ہے۔ جیسا کہ حضرت مـ کوہ طور پر جانے کے بعد۔
تو اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے آپ ﷺ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یعنی تو صرف مـ آپ ﷺ کا اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے نبوت کـ آپ ﷺ نے ایسی نبوت کی نفی کی ہے جو حضرت ہارو مستقلہ تھی۔ کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام کوئی نبی مـ کے تابع تھے اور موسیٰ علیہ السلام ہی نے اپنے نبی ہوـ اور درخواست میں اس بات کی تصریح بھی کر دی تھی کہ
جیسا کہ سورہ طہٰ کی آیت: ”واجعل لـ اشدد به أزري وأشركه في أمري“ سے صاف کہ آپ نے: ”لیس نبي بعدي“ میں نبوت غیر مـ ٢٣
ہے ۔ نفی نبوت غیر مستقلہ کا اگر علاوہ مبشرات کے کوئی اور چیز بھی نبوت سے باقی ہوتی تو آپ ﷺ اس کو ضرور مستثنیٰ فرماتے ۔ خصوصاً صحابہ کرام کے صدمہ کو دیکھنے کے بعد بھی اس کا ذکر نہ کرنا شانِ نبوی کے خلاف ہے۔ لیکن باوجود اس کے بھی آپ ﷺ کا سوا مبشرات کے اور کسی چیز کا مستثنیٰ نہ فرمانا بڑا زبردست قرینہ ہے نفی نبوت غیر مستقلہ کا ۔ مگر تعصب کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا ۔
حدیث نمبر ٧ میں تو آپ ﷺ نے بالکل ہی معاملہ صاف کر دیا ہے۔ کیونکہ صاف لفظوں میں فرما دیا کہ نبوت سے کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ مگر مبشرات اس سے زیادہ اور کیا تصریح ہو ۔
حدیث نمبر ٨ کے سیاق میں نظر کرنے سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے قول: ”الا انہ لیس نبی بعدی“ میں نبوت غیر مستقلہ کی نفی کی ہے ۔ اس لئے کہ جب حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تم میں اور مجھ میں وہی نسبت ہو جو موسیٰ وہارون علیہما السلام میں تھی اور وہ نسبت مرکب تھی دو امروں سے ۔ (١) قائم مقامی اور (٢) اشتراک فی النبوۃ تو اس کے بعد حضور ﷺ کو یہ خیال آیا کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں علیؓ کو یہ غلط فہمی ہو کہ مجھ میں بھی وہ دونوں امر ہیں جو حضرت ہارون علیہ السلام میں تھے ۔ حالانکہ آپ ﷺ کا مقصود صرف ایک امر (یعنی قائم مقامی) کا اظہار تھا ۔ یعنی آپ ﷺ کو صرف یہ بتانا تھا کہ میرے اس غزوہ میں جانے کے بعد تو میرا قائم مقام ہے۔ جیسا کہ حضرت ہارون موسیٰ علیہم السلام کے قائم مقام تھے کوہ طور پر جانے کے بعد ۔
تو اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا: ”الا انہ لیس نبی بعدی“ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ یعنی تو صرف میرا قائم مقام ہے ، نبی نہیں ہے ۔ تو اب آپ ﷺ کا اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے نبوت کی نفی کرنا صاف دلیل ہے اس بات کی کہ آپ ﷺ نے ایسی نبوت کی نفی کی ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حاصل تھی اور وہ نبوت غیر مستقلہ تھی ۔ کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام کوئی نئی شریعت نہیں رکھتے تھے ۔ بلکہ شریعت موسویہ کے تابع تھے اور موسیٰ علیہ السلام ہی نے اپنے نبی ہونے کے بعد ان کی نبوت کی درخواست کی تھی اور درخواست میں اس بات کی تصریح بھی کر دی تھی کہ ان کو میرے تابع بنایا جائے ۔
جیسا کہ سورہ طہٰ کی آیت: ”واجعل لی وزیرا من اہلی ہارون اخی اشدد بہ ازری واشرکہ فی امری“ سے صاف ظاہر ہے تو اس سے صاف طور پر واضح ہو گیا کہ آپ نے : ”لیس نبی بعدی“ میں نبوت غیر مستقلہ کی نفی فرمائی ہے۔
٢٣
یا یوں کہا جائے کہ حضورﷺ نے اس نبوت کی نفی فرمائی ہے جس کے متعلق آپﷺ کو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں علیؓ اسے نبوت اپنے حق میں نہ سمجھ جائیں۔ کیونکہ آپﷺ کو انہیں کی غلط فہمی دور کرنی منظور تھی اور وہ بھی نبوت غیر مستقلہ تھی۔ کیونکہ نبوت مستقلہ کا وہم تو علیؓ کے متعلق غیر ممکن تھا۔ چند وجوہ۔
- ......١ نبی مستقل دوسرے نبی کی قائم مقامی نہیں کر سکتا اور حضورﷺ علیؓ کو اپنا قائم مقام بنا کر
غزوہ پر جارہے ہیں۔ تو ان کو قائم مقامی کی حالت میں کیسے خیال آسکتا ہے کہ میں مستقل نبی ہوں البتہ غیر مستقلہ کا وہم پیدا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قائم مقامی اس کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ اس کی مؤید ہے۔
- ......٢ حضرت علیؓ کی غلط فہمی کا منشاء حضرت ہارون علیہ السلام کی نبوت تھی تو لامحالہ ان کو ایسی
ہی نبوت کا خیال آسکتا تھا۔ جو حضرت ہارون علیہ السلام میں تھی اور وہ نبوت غیر مستقلہ تھی۔ کیونکہ حضرت علیؓ کو معلوم تھا کہ حضرت ہارون علیہ السلام مستقل نبی نہیں تھے بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھے تو باوجود اس کے وہ اپنے متعلق نبوت مستقلہ کا خیال کیسے کر سکتے تھے۔ البتہ غیر مستقلہ کا خیال آسکتا تھا۔ کیونکہ منشاء میں نبوت غیر مستقلہ ہی تھی۔
- ......٣ نبی مستقل کے لئے نئی شریعت کا ملنا لازمی ہے اور وہ بغیر وحی آسمانی کے نہیں مل سکتی۔
پس جس شخص پر اصلاً وحی نہ نازل ہوئی ہو اور نہ اس کو شریعت ملی ہو۔ بلکہ ایک نبی کا زمانہ دراز سے امتی چلا آ رہا ہو۔ اس کو کیسے خیال آسکتا ہے کہ میں نبی مستقل ہوں۔ کیا نبوت مستقل کوئی خیالی پلاؤ ہے۔
- ......٤ جب حضرت علیؓ قرآن شریف میں نص صریح پڑھ چکے ہیں کہ آپﷺ خاتم النبیین
ہیں۔ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ تو ان کو کیسے خیال آسکتا ہے کہ میں مستقل نبی ہوں۔
الحاصل حضرت علیؓ کو اپنے متعلق نبوت مستقلہ کا خیال آنا غیر ممکن تھا۔ پس لامحالہ ماننا پڑے گا کہ نبوت غیر مستقلہ کے وہم کا اندیشہ تھا۔ اس لئے جب آپﷺ نے فرمایا کہ مجھ میں اور تجھ میں وہ نسبت ہے جو موسیٰ اور ہارون علیہما السلام میں تھی۔ تو ممکن ہے کہ علیؓ کو یہ خیال آئے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی نبوت کی درخواست کی تھی اور خداوند تعالیٰ نے منظور فرمائی تھی۔ شاید حضورﷺ نے بھی میری نبوت کے متعلق درخواست کی ہو اور منظور ہو گئی ہو۔ تو اس وجہ سے ان کو اپنے متعلق غیر مستقلہ کا وہم پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ مگر
٢٤
حضورﷺ نے: ”الا انه ليس نبی بعدی“ سے اس کا حدیث نمبر ٩ مرفوع حدیث نہیں ہے۔ بلکہ مو ہے کہ اس میں بھی غیر مستقل کی نفی ہے۔ کیونکہ ابن ابی اوفیٰ کو اس لئے زندہ نہیں رکھا گیا کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی آپﷺ کے صاحبزادے کو زندہ رکھ کر نبی نہ بنایا جائے ہے۔ اس لئے ان کو زندہ ہی نہیں رکھا گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آپﷺ کی شان کے خ ہے یا نبی غیر مستقل نہ بنانے میں۔ کوئی عاقل نہیں کہہ سک مستقل نہ بنانے کی صورت میں آپﷺ کی خلاف شان صاحبزادے کو نبی بنایا جاتا اور شریعت نئی نہ دی جاتی بلکہ پابند بنائے جاتے تو اس میں کوئی بات خلاف شان ن آپﷺ کے صاحبزادے کو مستقل نبی بنانے کی صور
حضورﷺ کی شریعت آپﷺ کے صاحبزادے کی شر شریعت کا منسوخ ہونا آپﷺ کی شان کے خلاف ہے تو معلوم ہوا کہ آپﷺ کے صاحبزادے کو کے خلاف ہے۔ پس اگر نبوت غیر مستقلہ باقی ہوتی تو آ لیکن اب زندہ نہیں رکھا گیا اس لئے نبوت غیر مستقلہ بھی جائے اور زندہ رکھ کر نبی نہ بنانا آپﷺ کی شان کے خلا کو زندہ ہی نہیں رکھا گیا۔ تو اب اس سے صاف ظاہر ہو گ بھی باقی نہیں ہے۔
الحاصل مذکورہ بالا آیت و احادیث سے وا مستقل یا غیر مستقل قیامت تک نہیں آسکتا۔ جو دعویٰ نبو کہ کسی شخص کو یہ خیال پیدا ہو کہ تمام احادیث میں جب ن کی نفی کی کیا دلیل ہوگی۔ تو اس کے متعلق یہ گزارش ہ نزدیک مسلم ہے۔ اس کی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ عقا
٢٥
حضورﷺ نے: ”الا انه ليس نبي بعدي“ سے اس کو صاف کر دیا۔ حدیث نمبر ٩ مرفوع حدیث نہیں ہے۔ بلکہ موقوف ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی غیر مستقل کی نفی ہے۔ کیونکہ ابن ابی اوفیٰ کا یہ کہنا کہ حضورﷺ کے صاحبزادے کو اس لئے زندہ نہیں رکھا گیا کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپﷺ کے صاحبزادے کو زندہ رکھ کر نبی نہ بنایا جائے تو یہ بات آپﷺ کی شان کے خلاف ہے۔ اس لئے ان کو زندہ ہی نہیں رکھا گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آپﷺ کی شان کے خلاف نبی مستقل نہ بنانے میں لازم آتا ہے یا نبی غیر مستقل نہ بنانے میں۔ کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا کہ آپﷺ کے صاحبزادے کو نبی مستقل نہ بنانے کی صورت میں آپﷺ کی خلاف شان لازم آتا ہے۔ کیونکہ اگر آپﷺ کے صاحبزادے کو نبی بنایا جاتا اور شریعت نئی نہ دی جاتی بلکہ اپنے والد حضورﷺ ہی کی شریعت کے پابند بنائے جاتے تو اس میں کوئی بات خلاف شان نبویﷺ نہیں تھی۔ بلکہ خلاف شان تو آپﷺ کے صاحبزادے کو مستقل نبی بنانے کی صورت میں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں حضورﷺ کی شریعت آپﷺ کے صاحبزادے کی شریعت سے منسوخ ہوگی اور آپﷺ کی شریعت کا منسوخ ہونا آپﷺ کی شان کے خلاف ہے۔
تو معلوم ہوا کہ آپﷺ کے صاحبزادے کو نبی غیر مستقل نہ بنانا آپﷺ کی شان کے خلاف ہے۔ پس اگر نبوت غیر مستقلہ باقی ہوتی تو آپﷺ کے صاحبزادے کو زندہ رکھا جاتا لیکن اب زندہ نہیں رکھا گیا اس لئے نبوت غیر مستقلہ بھی باقی نہیں ہے تا کہ ان کو زندہ رکھ کر نبی بنایا جائے اور زندہ رکھ کر نبی نہ بنانا آپﷺ کی شان کے خلاف ہے لہٰذا آپﷺ کے صاحبزادے کو زندہ ہی نہیں رکھا گیا۔ تو اب اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ حضورﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ بھی باقی نہیں ہے۔
الحاصل مذکورہ بالا آیت و احادیث سے واضح ہو گیا کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی مستقل یا غیر مستقل قیامت تک نہیں آ سکتا۔ جو دعویٰ نبوت کرے گا وہ جھوٹا کذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ کسی شخص کو یہ خیال پیدا ہو کہ تمام احادیث میں جب نبوت غیر مستقلہ کی نفی ہے تو نبوت مستقلہ کی نفی کی کیا دلیل ہوگی۔ تو اس کے متعلق یہ گزارش ہے کہ نبوت مستقلہ کی نفی فریق مخالف کے نزدیک مسلم ہے۔ اس کی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ مختلف فیہ صرف نبوت غیر مستقلہ ہے اور اس
٢٥
کے علاوہ آیت وخاتم النبیین مطلق نبوت کی نفی کرتی ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے اور احادیث کو نبوت غیر مستقلہ کی نفی پر حمل کرنے کے یہ معنی نہیں تھے کہ ان میں نبوت مستقلہ کی نفی نہیں ہے۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ تمام احادیث میں اس قسم کے قرائن موجود ہیں جو دلالت کرتے ہیں۔ اس بات پر کہ نبوت غیر مستقلہ نفی نبوت میں قطعاً داخل ہے نہ یہ معنی کہ نبوت مستقلہ نفی نبوت میں داخل ہی نہیں ہے۔
دلائل عقلیہ
- ١...... جب آپ ﷺ کا نبی ہونا دلائل سے ثابت ہے اور اہل کتاب بھی آپ ﷺ کے نبی
ہونے کو خاص عرب کے لئے تسلیم کر چکے ہیں۔ تو آپ ﷺ کا ہر دعویٰ سچا ہوگا۔ کیونکہ نبی کا جھوٹ بولنا محال ہے۔ کیونکہ جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے اور نبی کا معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ جس کی تصریح ابتداء میں گزر چکی ہے اور آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے دعویٰ خاتم الانبیاء ہونے کا کیا ہے۔ پس ماننا پڑے گا کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔
- ٢...... جس قدر انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ ان سب کی تعلیم سے
حضور ﷺ کی تعلیم اعلیٰ وافضل ہے اور اظہر من الشمس ہے کہ معلم اعلیٰ کی تعلیم سب سے آخر حاصل کی جاتی ہے۔ کیونکہ جب تک ابتدائی مراتب تعلیم کے پہلے حاصل نہ کئے جائیں۔ انتہائی تعلیم کا حاصل کرنا دائرہ امکان سے خارج ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے معلم اعلیٰ یعنی حضور ﷺ کو تمام پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
باقی رہی یہ بات کہ حضور ﷺ کی تعلیم کا دیگر حضرات کی تعلیم سے اعلیٰ وافضل ہونا کیونکر معلوم ہو تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ جس شخص کو اس امر میں تردد ہو وہ آپ ﷺ کی تعلیم اور باقی حضرات کی تعلیم میں نظر انصاف سے دیکھے تو انشاء اللہ یہ امر آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا۔ غور کرنے والے کو آپ ﷺ کی تعلیم میں بہ نسبت باقی تعلیموں کے دو طرح کا امتیاز حاصل ہوگا۔
ایک یہ کہ آپ ﷺ سے پہلے جس قدر حضرات تشریف لائے ہیں۔ ان سب کی تعلیم مخصوص ہوتی تھی۔ خاص خاص صیغوں کے ساتھ۔ مگر آپ ﷺ کی تعلیم جامع ہے۔ تمام صیغوں کی جس کی قدرے تشریح اوپر گزر چکی ہے اور دوسرا امتیاز یہ ہے کہ ہر صیغہ کے قواعد کی تشریح وتفصیل اور ان میں مصلحت عامہ کا لحاظ جس قدر حضور ﷺ کی تعلیم میں ہے۔ کسی دوسرے نبی کی تعلیم میں اس کا عشیر عشیر بھی نہیں پایا جاتا۔
٢٦
- ٣...... کسی نبی کے بعد دوسرے نبی کے آنے
کسی صیغہ کی تعلیم غیر مکمل رہ گئی ہو تو اس کی تکمیل وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم میں تحریف ہوگئی ہو۔ دے کر بھیج دیا جاتا ہے تاکہ لوگ صحیح تعلیم سے محروم لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے بعد نہ غرض سے کسی دوسرے نبی کو بھیجا جائے اور نہ آپ قیامت تک ہوگی تاکہ کسی دوسرے نبی کو بھیج کر صحیح ق تعالیٰ نے قرآن شریف کو تحریف سے قیامت تک آیت: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحـ اتارا ہے ذکر (یعنی قرآن شریف) اور ہم ہی ا سال کا مشاہدہ اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریـ ہوئی۔ حروف وکلمات کی تبدیلی تو درکنار رہی۔ تو ا کے بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔
- ٤...... آپ ﷺ کے بعد مستقل نبی کا نہ آنا
فیہ تو غیر مستقل نبی کا آنا لہٰذا اس کے متعلق فریق ثا
- الف...... یہ مسئلہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے اس
کام لیا جائے۔ بلکہ اس کے اثبات کے لئے نصوص مرحمت فرمائے جو نبوت غیر مستقلہ کے عدم انقطا دعوے کے لئے دلیل ہونا تسلیم بھی کیا گیا ہو۔ اس نہ ہو۔
- ب...... نبوت غیر مستقلہ کے ملنے کا دارومدا
بیان کرنے کے بعد بتلائے کہ وہ چیز صحابہ کرام اگر تھی تو ان کو نبوت کیوں نہیں ملی اور اگر نہیں تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تمام امت غیر صحابی کا صحابہ سے افضل ہونا لازم آتا ہے۔ ا
- ٣....... کسی نبی کے بعد دوسرے نبی کے آنے کی ضرورت دو وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ
کسی صیغہ کی تعلیم غیر مکمل رہ گئی ہو تو اس کی تکمیل کے لئے کوئی دوسرا نبی بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم میں تحریف ہو گئی ہو۔ دنیا میں صحیح تعلیم باقی نہ رہی ہو تو دوسرا نبی صحیح تعلیم دے کر بھیج دیا جاتا ہے تاکہ لوگ صحیح تعلیم سے محروم نہ رہیں۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے بعد نہ کوئی صیغہ تعلیم غیر مکمل رہا ہے۔ جس کی تکمیل کی غرض سے کسی دوسرے نبی کو بھیجا جائے اور نہ آپ ﷺ کی تعلیم میں تحریف واقع ہوئی ہے اور نہ قیامت تک ہو گی تاکہ کسی دوسرے نبی کو بھیج کر صحیح تعلیم سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو تحریف سے قیامت تک محفوظ رکھنے کا اعلان فرما دیا ہے۔ جو سورہ حجر کی آیت: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون“ میں مذکور ہے۔ یعنی تحقیق ہم نے ہی اتارا ہے ذکر (یعنی قرآن شریف) اور ہم ہی ہیں البتہ اس کے نگہبان۔ تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال کا مشاہدہ اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف میں آج تک ایک حرکت کی تبدیلی بھی نہیں ہوئی۔ حروف و کلمات کی تبدیلی تو درکنار رہی۔ تو اب آپ غور فرمائیں کہ آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کے بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔
- ٤....... آپ ﷺ کے بعد مستقل نبی کا نہ آنا تو فریق مخالف کے نزدیک بھی مسلم ہے۔ متنازع
فیہ تو غیر مستقل نبی کا آنا لہٰذا اس کے متعلق فریق مخالف سے چند امور دریافت طلب ہیں۔
- الف....... یہ مسئلہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے اس قابل نہیں ہے کہ اس میں صرف رائے زنی سے
کام لیا جائے۔ بلکہ اس کے اثبات کے لئے نصوص قطعیہ کا ہونا ضروری ہے لہٰذا کوئی ایسی نص شرعی مرحمت فرمائیے جو نبوت غیر مستقلہ کے عدم انقطاع پر صراحۃً دال ہو اور خیر القرون میں اس کا اس دعوے کے لئے دلیل ہونا تسلیم بھی کیا گیا ہو۔ اس کے دلیل ہونے کا دارو مدار صرف آپ کا اجتہاد نہ ہو۔
- ب....... نبوت غیر مستقلہ کے ملنے کا دارو مدار کیا چیز ہے۔ اس کی تعیین و دلیل تعیین دونوں کے
بیان کرنے کے بعد بتلائے کہ وہ چیز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں بھی تھی یا نہیں۔ اگر تھی تو ان کو نبوت کیوں نہیں ملی اور اگر نہیں تھی تو یہ بات اجماع امت کے خلاف ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تمام امت میں افضل ہونا مجمع علیہ ہے اور صورت مفروضہ میں غیر صحابی کا صحابہ سے افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس لئے کہ نبی، غیر نبی سے افضل ہوتا ہے لہٰذا یہ شق
٢٧
جو مستلزم ہے خلاف اجماع کو، یہ مردود ہے قابل تسلیم نہیں ہے اور علاوہ اس کے یہ بات فیصلہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ کون سا عاقل اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی جیسوں میں ایسی خوبی پائی جائے۔ جس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے حضرات بھی محروم رہے ہوں۔
- ج....... کیا حضور ﷺ کے بعد ساڑھے تیرہ سو سال میں مرزا قادیانی کے کوئی اور نبی بھی
مبعوث ہوا ہے یا نہیں، اگر ہوا ہے۔ تو اس کا حوالہ عنایت ہو اور اگر نہیں ہوا تو اس کی وجہ بیان فرمائیے کہ باوجود نبوت منقطع نہ ہونے کے اس قدر زمانہ دراز تک لوگوں کو اس نعمت عظمیٰ سے کیوں محروم رکھا گیا؟ کیا وجہ ہے کہ اس قدر طویل مدت میں سوا مرزا قادیانی کے امت میں سے کوئی دوسرا شخص اس منصب کا مستحق نہیں ہوا؟ اتنے عرصے کے بعد یکا یک مرزا قادیانی ہی کود پڑے۔ یہ بات نصوص صریحہ کے خلاف ہونے کے علاوہ دائرہ عقل سے بھی خارج ہے۔
- د....... کیا تارک فریضہ اسلام بھی نبی ہو سکتا ہے یا نہیں۔ شق اول تو اجماع امت کے خلاف
ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہونا مجمع علیہ اور تارک فریضہ بوجہ مرتکب ہونے گناہ کبیرہ کے معصوم نہیں ہے اور بر تقدیر شق ثانی مرزا قادیانی باوجود تارک ہونے فریضہ حج کے کیونکر نبی بن گئے۔ کیونکہ انہوں نے باوجود استطاعت کے تمام عمر میں فریضہ حج کو ادا نہیں کیا۔ جس کے ترک کو قرآن شریف کی آیت: ”ومن كفر فان الله غنى عن العلمين“ میں کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ منصب نبوت کے مستحق ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جو تارک فرائض ہوں۔ سمجھدار آدمی تو ایسے شخص کو مسیلمہ کذاب سے کم نہیں سمجھ سکتا۔
الحاصل دلائل نقلیہ وعقلیہ دونوں سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مستقل یا غیر مستقل نہیں آئے گا لہٰذا آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی اور آپ ﷺ کی دعوت کا تمام دنیا کے لئے عام ہونا پہلے ثابت ہو چکا ہے۔ تو ان دونوں باتوں کے ثابت ہونے سے واضح ہو گیا کہ حضور ﷺ منصب نبوت میں سب سے اعلیٰ وافضل تھے۔
جب آپ ﷺ کا منصب نبوت میں سب سے افضل ہونا ثابت ہوا تو ماننا پڑے گا کہ سب سے اقرب الی اللہ بھی آپ ﷺ ہی تھے۔ کیونکہ منصب نبوت کے ملنے کا دارومدار قرب پر ہے۔ جس قدر قرب زیادہ ہوگا۔ اسی قدر منصب نبوت بھی اعلیٰ ملے گا۔ پس منصب نبوت سب سے اعلیٰ ملنا دلیل ہے۔ اقرب الی اللہ ہونے کی لہٰذا حضور ﷺ کا تمام انبیاء علیہم سے اقرب الی اللہ
٢٨
ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ اس کے اثبات کے لئے مستقل دلیل الحاصل آپ ﷺ کا منصب نبوت میں سب سے اقرب الی اللہ ہونا دونوں امر دلائل سے ثابت ہو گئے اور نبی ہونے کے اہل اسلام کے نزدیک اور اہل اسلام کا یہ عقیدہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ کسی دوسرے نبی میں نہیں پائی جاتی
آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے دعویٰ کیا ہے۔
مذکورہ بالا بحث کے بعد گو رسول اللہ ﷺ کے اس تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن تبرعاً کچھ عرض کرتا ہوں رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے دربار میں تمام نبیوں حضور ﷺ کے اقرب الی اللہ ہونے کے متعلق چند ذکر کرتا ہوں تا کہ رحمۃ اللعالمین کی شان کا اندازہ ہر شخص
- ا....... ”لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء
- مت مقرر کرو پکارنا پیغمبر کا درمیان اپنے مثل پکارنے بعض
مفسرین نے چند تفسیریں کی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک تفسیر حضور ﷺ کے پکارنے کے متعلق ایک خاص طریقہ تعلیم فرمایا کی عظمت شان کو مدنظر رکھیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بلانا چاہو تو آپ ﷺ کا نام لے کر نہ بلایا کرو جیسے لے کر بلاتے ہو۔ یعنی یا محمد ﷺ کہہ کر نہ بلانا کیونکہ یہ طریقہ بلکہ رسول اللہ یا نبی اللہ ﷺ کہہ کر بلانا۔
اس کے لئے عام طور پر دستور ہے کہ نام لے برابر یا اپنے سے کم درجہ کا سمجھا جاتا ہے۔ جس کو اپنے سے خلاف ادب قرار دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کوئی شخص باپ پس رسول اللہ ﷺ کو نام لے کر بلائے تو بظاہر یہی سمجھا جائے حالانکہ ایک مسلمان کے نزدیک خداوند تعالیٰ کے بعد آپ سا کوئی دوسرا۔ اس واسطے خداوند تعالیٰ نے اہل ایمان کو خاص
٢٩
ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ اس کے اثبات کے لئے مستقل دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ الحاصل آپ ﷺ کا منصب نبوت میں سب سے اعلیٰ و افضل ہونا اور سب سے زیادہ اقرب الی اللہ ہونا دونوں امر دلائل سے ثابت ہو گئے اور یہی معنی تھے آپ ﷺ کے افضل الانبیاء ہونے کے اہل اسلام کے نزدیک اور اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ افضلیت مخصوص ہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ کسی دوسرے نبی میں نہیں پائی جاتی اور نہ کسی نے اس افضلیت کا سوا آپ ﷺ کے اپنی زبان مبارک سے دعویٰ کیا ہے۔
مذکورہ بالا بحث کے بعد گو رسول اللہ ﷺ کے اقرب الی اللہ ہونے کے متعلق کسی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن تبرعاً کچھ عرض کرتا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے دربار میں تمام پیغمبروں سے زیادہ قریب ہونا
حضور ﷺ کے اقرب الی اللہ ہونے کے متعلق بہت سے نصوص ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند ذکر کرتا ہوں تاکہ رحمۃ للعلمین کی شان کا اندازہ ہر شخص کو آسانی سے معلوم ہو جائے۔
- ١...... "لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا (سوره نور)"
﴿مت مقرر کرو پکارنا پیغمبر کا درمیان اپنے مثل پکارنے بعض تمہارے کے بعض کو﴾ اس آیت کی مفسرین نے چند تفسیریں کی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک تفسیر یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے بندوں کو حضور ﷺ کے پکارنے کے متعلق ایک خاص طریقہ تعلیم فرمایا ہے تاکہ پکارنے میں بھی آپ ﷺ کی عظمت شان کو مدنظر رکھیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بندوں کو حکم فرمایا ہے کہ جب تم رسول اللہ ﷺ کو بلانا چاہو تو آپ ﷺ کا نام لے کر نہ بلایا کرو۔ جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کا نام لے کر بلاتے ہو۔ یعنی یا محمدﷺ کہہ کر نہ بلانا کیونکہ یہ طریقہ ادب کے خلاف ہے۔ بلکہ یا رسول اللہ یا نبی اللہﷺ کہہ کر بلانا۔
اس کے لئے عام طور پر دستور ہے کہ نام لے کر اس شخص کو بلایا جاتا ہے۔ جس کو اپنے برابر یا اپنے سے کم درجہ کا سمجھا جاتا ہے۔ جس کو اپنے سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس کو نام لے کر بلانا خلاف ادب قرار دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کوئی شخص باپ کو نام لے کر نہیں بلاتا۔ تو اب اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو نام لے کر بلائے تو بظاہر یہی سمجھا جائے گا کہ وہ آپ ﷺ کو بڑا نہیں سمجھتا۔ حالانکہ ایک مسلمان کے نزدیک خداوند تعالیٰ کے بعد آپ ﷺ سے بڑھ کر نہ باپ ہو سکتا ہے نہ کوئی دوسرا۔ اس واسطے خداوند تعالیٰ نے اہل ایمان کو خاص طور پر تعلیم دی کہ آپ ﷺ کو نام لے
٢٩
کر نہ بلایا کرو۔ کیونکہ یہ آپﷺ کی عظمت وشان کے خلاف ہے۔
اب آپ حضورﷺ کے قرب کا اندازہ فرمائیے کہ خداوند تعالیٰ نے بھی تمام قرآن مجید میں اسی طریقہ مقررہ کی پابندی اپنے ذمہ لازم فرمائی اور آپﷺ کو کہیں بھی نام لے کر نہیں پکارا۔ بلکہ جب پکارا تو: ”یا ایھا النبی یا ایھا الرسول“ وغیرہ کہہ کر پکارا اور باقی انبیاء علیہم السلام کو صاف طور پر نام لے کر پکارا۔ آدم علیہ السلام کو یا آدم کہہ کر پکارا اور ابراہیم علیہ السلام کو یا ابراہیم کہہ کر اور موسیٰ علیہ السلام کو یا موسیٰ کہہ کر پکارا اور عیسیٰ علیہ السلام کو یا عیسیٰ کہہ کر پکارا اور نوح علیہ السلام کو یا نوح کہہ کر پکارا۔ ان تمام حضرات کو نام لے کر پکارنے کی تصریح قرآن شریف میں موجود ہے۔
اب آپ خود فرمائیے کہ خداوند تعالیٰ کے دربار میں حضورﷺ کو کس درجہ کا قرب تھا کہ احکم الحاکمین نے بھی کبھی آپﷺ کو نام لے کر نہ پکارا اور اہل ایمان کو بھی خاص طور پر تعلیم فرمائی کہ نام لے کر نہ پکارنا اور باقی نبیوں میں سے جو بڑے اولوالعزم تھے مثل ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ و نوح علیہم السلام کے ان کو بھی نام لے کر پکارا۔ اوروں کا تو کیا کہنا کیا آپﷺ کے اقرب الی اللہ ہونے میں اب بھی کوئی کسر باقی ہے؟
اعتراض
خداوند تعالیٰ کو نام لے کر پکارنا (یعنی یا اللہ کہنا) خلاف ادب قرار نہیں دیا گیا اور حضورﷺ کو نام لے کر پکارنا خلاف ادب قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ کی شان حضورﷺ کی شان سے بہت بلند ہے۔ پھر ان کو نام لے کر پکارنا خلاف ادب کیوں نہیں قرار دیا گیا؟
جواب
اس کی وجہ یہ ہے کہ نام لے کر پکارنا خلاف ادب وہاں ہوتا ہے جہاں اس بات کا اندیشہ ہو کہ سننے والوں کو یہ وہم پیدا ہو کہ نام لے کر پکارنے والا اپنے سے بڑا نہ سمجھنے کی وجہ سے نام لے کر پکار رہا ہے اور جہاں اس بات کا اندیشہ نہ ہو وہاں خلاف ادب قرار نہیں دیا جاتا۔ اس وہم کا اندیشہ حضورﷺ ہی کے پکارنے میں تھا۔ کیونکہ پکارنے والا بھی بشر اور آپﷺ بھی گو مجسم رحمت خداوندی تھے۔ مگر از جنس بشر تھے تو اس نسبت کی وجہ سے وہم پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید پکارنے والا بوجہ ہم جنس ہونے کے بڑا نہ سمجھتا ہو۔ چنانچہ منکرین اسی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ : ”ما ھذا الا بشر“ کہہ کر الگ ہو جاتے تھے۔ مگر خداوند تعالیٰ کو
٣٠
پکارنے میں یہ وہم نہیں جاسکتا کہ پکارنے والا خداوند تعالیٰ کو اپنے سے بڑا نہ سمجھتا ہو۔ مثنوی روم میں اس کی نظیر موجود ہے۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ممبر کے تین درجے تھے۔ حضور ﷺ سب سے اوپر والے درجہ پر بیٹھا کرتے تھے۔ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے تو دوسرے درجے پر بیٹھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں سب سے نیچے والے درجہ پر بیٹھے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو سب سے اوپر والے درجہ پر بیٹھے تو ایک شخص نے اعتراض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ دونوں خلیفہ تو حضور ﷺ کی جگہ پر نہیں بیٹھے۔ آپؓ کیوں بیٹھ گئے؟ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اگر ان دونوں میں سے کسی کی جگہ پر بیٹھتا تو شاید دیکھنے والوں کو یہ خیال پیدا ہوتا کہ میں اپنے آپ کو ان کے درجہ کا سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میں ان کے درجہ کا نہیں ہوں۔ لیکن حضور ﷺ کے درجہ پر بیٹھنے میں میرے متعلق کسی مسلمان کو یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے آپ کو حضور ﷺ کے برابر سمجھتا ہوں۔
- ٢...... ”قد نری تقلب وجہک فی السماء فلنولینک قبلۃ ترضہا (بقر)“ ہم
آپ ﷺ کے منہ کا بار بار اٹھنا آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم آپ ﷺ کو اس قبلہ کی طرف متوجہ کر دیں گے جس کے لئے آپ ﷺ کی مرضی ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو آپ ﷺ کا کعبہ کچھ مدت تک بیت المقدس رہا جو یہود کا کعبہ ہے۔ مگر آپ ﷺ کی دلی تمنا یہ تھی کہ میرا کعبہ قبلہ ہو جو مکہ معظمہ میں ہے اور اسی امید میں کہ شاید اس کے متعلق وحی آئے۔ بار بار آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے کہ شاید فرشتہ حکم لا رہا ہو۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کے لئے وہی قبلہ مقرر کر دیں گے جس کے لئے آپ ﷺ کی مرضی ہے۔ یعنی ہم کو تو آپ ﷺ کی خوشی منظور ہے لہٰذا ہم آپ ﷺ کی مرضی کے موافق کر دیں گے۔ اسی واسطے فرمایا کہ جس قبلہ کے لئے آپ ﷺ کی مرضی ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جس قبلہ کے لئے ہماری مرضی ہے۔
امام رازی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”والاشارۃ فیہ کانہ تعالیٰ قال یا محمد کل احد یطلب رضائی وانا اطلب رضاک فی الدارین اما فی الدنیا فہذا الذی ذکرناہ واما فی الاخرة فقولہ تعالیٰ ولسوف یعطیک ربک فترضی “ اس میں اشارہ ہے اس بات کا کہ گویا خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے حبیب ہر شخص میری رضا طلب کرتا ہے اور میں دونوں جہانوں میں آپ ﷺ کی رضا طلب کرتا ہوں۔ دنیا
٣١
میں آپ ﷺ کی رضا طلب کرنے کا ظہور تو آپ ﷺ کی مرضی کے موافق قبلہ مقرر کرنے میں ہے اور آخرت میں آپ ﷺ کی مرضی کا ذکر سورۂ ضحیٰ کی آیت : ”ولسوف يعطيك ربك فترضى“ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو آخرت میں اس قدر عطاء کروں گا کہ آپ ﷺ خوش ہو جائیں گے۔
الحاصل خداوند تعالیٰ نے دنیا میں بھی آپ ﷺ کی مرضی کے مطابق قبلہ کو بدل کر آپ ﷺ کو خوش کیا اور آخرت میں آپ ﷺ کو خوش کرنے کا وعدہ فرمایا تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضور ﷺ کو دربار خداوندی میں کس قدر قرب حاصل تھا۔
- ٣....... ” ورفعنا لك ذكرك (الم نشرح) “ اور ہم نے آپ ﷺ کی خاطر آپ ﷺ کا
آوازہ بلند کیا۔ یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ ﷺ کا نام مبارک ملا کر ذکر کیا گیا ہے۔ مرفوع حدیث میں اس کی تفسیر ہے کہ: ” قال الله تعالى اذا ذكرت ذكرت معى “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے حبیب جہاں میرا ذکر ہوگا میرے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کا ذکر بھی ہوگا۔ مثلاً خطبہ میں، تشہد میں، نماز میں، اذان میں، غرض اللہ تعالیٰ اپنے ذکر کو اپنے حبیب کے ذکر سے جدا کرنے کو پسند نہیں فرماتے۔ جس سے ہر ذی عقل اندازہ کر سکتا ہے کہ حضور ﷺ کو کس قدر درجہ کا قرب حاصل ہے۔
- ٤....... ترمذی شریف میں مذکور ہے کہ ایک روز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس بات پر
تعجب کا اظہار کر رہے تھے کہ خداوند تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا ہے اور موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں اور آدم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے برگزیدہ بنایا۔ یہ تذکرہ ہو رہا تھا کہ حضور ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے تمہارا تذکرہ سنا ہے۔ بیشک ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ وکلمۃ اللہ ہیں اور آدم علیہ السلام صفی اللہ ہیں اور سن لو میں حبیب اللہ ہوں۔ یعنی میرے رب نے مجھے حبیب اللہ کا لقب عطاء فرمایا ہے۔ جو تمام القاب سے افضل واعلیٰ ہے۔
اگرچہ آیات واحادیث اس مضمون کی بہت ہیں۔ مگر اس رسالہ کی حیثیت اجازت نہیں دیتی کہ ان سب کا ذکر کروں۔ حضور ﷺ کے اقرب الی اللہ ہونے کا اظہار دنیا میں واقعہ معراج میں کیا گیا حتیٰ کہ تمام انبیاء علیہم السلام نے بیت المقدس میں جمع ہو کر حضور ﷺ کو اپنا امام بنا کر آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور اس کے بعد آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور تمام
٣٢
آسمانوں میں آپ ﷺ کی شان وشوکت کو ظاہر کرتے ہو میں بلا کر تحفے عطاء فرمائے اور قیامت کے روز آپ ﷺ کبریٰ کی صورت میں تمام اہل محشر کے سامنے نمایاں کیا جا
تمام اہل محشر بڑے بڑے اولوالعزم نبیوں کے خداوند تعالیٰ کی جناب میں صرف اتنی گذارش کریں کہ الہا اس روز اس کام کے لئے تیار نہیں ہوگا اور اہل محشر سے فر کے کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ پس تمام اہل محشر آپ ﷺ آپ ﷺ اس کو منظور فرما کر خداوند تعالیٰ کے دربار م خداوند تعالیٰ منظور فرمائیں گے۔ جس سے تمام اہل محشر پر کی طرح روشن ہوگا۔
حضور ﷺ کی افضلیت پر حضرات نصاریٰ کی میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کا جواب دے دوں تا کہ عوا ہوں۔
اعتراض اول
حضور ﷺ کو جب اہل مکہ نے تنگ کیا۔ آ ہو گئے۔ تو آپ ﷺ کو مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ م آسمان پر نہیں اٹھایا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو جب یہود و چوتھے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ
جواب (١)
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جو افضلیت حضور ﷺ منصب نبوت میں سب سے بڑا ہونا اور دربار خداوندی آسمان پر اٹھایا جانا اس افضلیت کو مستلزم نہیں ہے۔ ورنہ ح ہونے چاہئیں کیونکہ ان کے متعلق بھی قرآن شریف میں ا علیا “ ہم نے ان کو بلند مکان پر اٹھا لیا۔ بلکہ حضرت ادر ہونے چاہئیں اس لئے کہ ان کے متعلق بعض حضرات کا
٣٣
آسمانوں میں آپﷺ کی شان و شوکت کو ظاہر کرتے ہوئے رب العزت نے اپنے خاص دربار میں بلا کر تحفے عطاء فرمائے اور قیامت کے روز آپﷺ کا قرب خداوندی میں ممتاز ہونا شفاعت کبریٰ کی صورت میں تمام اہل محشر کے سامنے نمایاں کیا جائے گا۔
تمام اہل محشر بڑے بڑے اولوالعزم نبیوں کے پاس جا کر عرض کریں گے کہ آپ خداوند تعالیٰ کی جناب میں صرف اتنی گذارش کریں کہ اہل محشر کا حساب شروع ہو جائے تو کوئی نبی اس روز اس کام کے لئے تیار نہیں ہوگا اور اہل محشر سے فرمائیں گے کہ یہ کام آج سوائے محمدﷺ کے کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ پس تمام اہل محشر آپﷺ کے پاس آ کر عرض کریں گے۔ تو آپﷺ اس کو منظور فرما کر خداوند تعالیٰ کے دربار میں اہل محشر کی شفاعت کریں گے اور خداوند تعالیٰ منظور فرمائیں گے۔ جس سے تمام اہل محشر پر آپﷺ کا اقرب الی اللہ ہونا آفتاب کی طرح روشن ہوگا۔
حضورﷺ کی افضلیت پر حضرات نصاریٰ کی طرف سے چند اعتراض کئے گئے ہیں۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کا جواب دے دوں تاکہ عوام الناس ان کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
اعتراض اول
حضورﷺ کو جب اہل مکہ نے تنگ کیا حتیٰ کہ شہید کرنے پر آپﷺ کو آمادہ ہو گئے۔ تو آپﷺ کو مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں تشریف لے جانے کا حکم ہوا۔ مگر آسمان پر نہیں اٹھایا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو جب یہود قتل کرنے لگے تو ان کو باقرار اہل اسلام چوتھے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپﷺ سے افضل تھے۔
جواب (١)
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جو افضلیت حضورﷺ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس سے مراد منصب نبوت میں سب سے بڑا ہونا اور دربار خداوندی میں سب سے زیادہ اقرب ہونا ہے اور آسمان پر اٹھایا جانا اس افضلیت کو مستلزم نہیں ہے۔ ورنہ حضرت ادریس علیہ السلام بھی افضل الانبیاء ہونے چاہئیں کیونکہ ان کے متعلق بھی قرآن شریف میں تصریح ہے کہ: ”ورفعناہ مکانا علیا“ ہم نے ان کو بلند مکان پر اٹھا لیا۔ بلکہ حضرت ادریس علیہ السلام حضورﷺ سے زیادہ افضل ہونے چاہئیں اس لئے کہ ان کے متعلق بعض حضرات کا خیال ہے کہ ان کو ساتویں آسمان پر اٹھا
٣٣
لیا گیا تو اب آپ بتلائیں کہ جس کو چوتھے آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ وہ افضل ہوگا یا جس کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے وہ افضل ہوگا۔
بلکہ آسمان پر اٹھایا جانا تو نفس نبی ہونے کو بھی مستلزم نہیں ہے۔ چہ جائیکہ اس کو افضل الانبیاء ہونے کی دلیل ٹھہرایا جائے۔ کیونکہ مفسرین نے تصریح کی ہے کہ حضرت آسیہ بنت مزاحم فرعون کی بیوی نے جب فرعون سے تنگ آکر دعا کی تو خداوند تعالیٰ نے نے ان کو بمع جسد عنصری زندہ اٹھا کر جنت میں داخل کر دیا۔ اب وہ جنت میں زندہ ہیں۔ کھاتی ہیں اور پیتی ہیں اور نہایت آرام کے ساتھ رہتی ہیں۔ حالانکہ وہ نبی بھی نہیں تھیں۔ الحاصل جب آسمان پر اٹھایا جانا نفس نبی ہونے ہی کو مستلزم نہیں ہے۔ تو پھر اس کو افضلیت کی دلیل ٹھہرانا تو سراسر غلطی ہے۔
جواب (٢)
عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اظہار قرب کی غرض سے نہ تھا تاکہ اس کو اقرب الیٰ اللہ ہونے کی دلیل بنایا جا سکے۔ بلکہ دشمنوں سے بچانے کی غرض سے تھا۔ جیسا کہ ان کے واقعہ سے صاف ظاہر ہے۔ اظہار قرب کے لئے تو رسول اللہ ﷺ کو بلایا گیا تھا۔ جس کی تفصیل واقعہ معراج میں ہے۔ جو مخصوص ہے حضور ﷺ کے ساتھ اگر حضرات نصاریٰ کے پاس اس کے مقابلہ میں کوئی چیز ہے تو پیش کریں۔
جواب (٣)
عیسیٰ علیہ السلام کا دشمنوں سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھایا جانا گو اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ مگر حضرات نصاریٰ تو اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ مصلوب ہوئے تو ان کے اعتقاد کے مطابق تو حضور ﷺ افضل ہوئے۔ کیونکہ گو ان کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا مگر دشمنوں کے ہاتھ سے شہید تو نہیں کرایا گیا، بلکہ بچا لیا گیا۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام کو تو بچایا ہی نہیں گیا۔ بلکہ دشمنوں کے ہاتھ سے مصلوب کرا دیا۔ اب آپ انصاف سے بتائیں کہ افضل وہ ہے جس کو بچا لیا گیا یا وہ جس کو سولی دلوا دیا گیا۔
اور علاوہ اس کے یہ گزارش ہے کہ افضلیت کا قصہ تو بعد کو طے کرنا اول تو یہ بات طے ہونی چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب خدا تھے یا خدا ان میں حلول کئے ہوئے تھا تو وہ مصلوب کیسے ہو گئے؟ کیا خدا ہونے کے باوجود ان میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ اپنی جان کو سولی سے بچاسکتے؟ کیا خدا رحلت بھی فرمایا کرتا ہے؟ خدا کے واسطے ذرا تو انصاف کرو۔
٣٤
باقی رہی یہ بات کہ اہل اسلام کے عقیدہ کے موافق کیا وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور حضورﷺ کو نہ اٹھایا گیا۔ بلکہ ہجرت کا حکم دیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فقط بنی اسرائیل ہی کے لئے نبی تھے۔ کسی دوسری قوم کے لئے نبی نہیں تھے۔ تاکہ کسی دوسری جگہ جا کر نبوت کا کام کر سکتے اور جن کے لئے نبی تھے۔ انہوں نے جان سے مارنے کا ارادہ کر لیا۔ تو لامحالہ ان کو آسمان پر اٹھانا پڑا اور رسول اللہﷺ چونکہ تمام دنیا کے لئے نبی تھے لہٰذا اگر مکہ معظمہ میں رہ کر کام نہیں کر سکتے تو مدینہ منورہ میں رہ کر کریں گے۔ آپﷺ کو اگر مدینہ میں بھی دقت پیش آتی تو پھر بھی آپ کو آسمان پر نہ اٹھایا جاتا۔ بلکہ کسی دوسری جگہ چلے جانے کا حکم ملتا۔ اس طرح تمام دنیا میں گھومتے رہتے۔ مگر آسمان پر نہ اٹھائے جاتے۔ کیونکہ آپﷺ تو جہاں بھی جاتے وہیں نبوت کا کام کر سکتے تھے۔ پھر آپﷺ کو آسمان پر اٹھا کر بے کار کیوں رکھا جاتا؟
اعتراض دوم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس درجہ کے مقدس و پاک دامن تھے کہ تمام عمر شادی ہی نہیں کی اور رسول اللہﷺ نے کثرت سے شادیاں کیں۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپﷺ سے افضل تھے۔
جواب
شادی نہ کرنا اور عورتوں سے جدا رہنا نبی کے لئے باعث فضل و کمال نہیں ہے۔ بلکہ مقصد نبوت کی تکمیل میں نقصان دہ ہے۔ کیونکہ نبی مکمل اصلاح کر ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس میں تمام لوازم بشریت پورے طور پر نہ پائے جائیں۔ اگر خواص بشریت کا نہ ہونا نبی کے لئے باعث کمال ہوتا تو ملائکہ ہی کو نبی کیوں نہ بنایا جاتا؟
غرض جس کو آپ باعث فضل و کمال سمجھ رہے ہیں۔ وہ حقیقت میں باعث نقصان ہے۔ جس قدر لوازم بشریت نبی میں کم ہوں گے۔ اسی قدر تکمیل مقصد نبوت میں کمی آئے گی۔ اس کی پوری تشریح اوپر گزر چکی۔ ملاحظہ فرما لیجئے۔
- ٢...... عیسیٰ علیہ السلام چونکہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ اس وجہ سے ان میں قوت
رجولیت بہت کم تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے تمام عمر کوئی شادی نہیں کی اور بوجہ کمزوری کے شادی نہ کرنا کوئی کمال نہیں ہے۔ بلکہ جس قدر دنیا میں کمزور و نامرد ہیں۔ اکثر ان میں سے شادی نہیں
٣٥
کرتے اور ناجائز طریقہ سے بدکاری کرتے ہیں۔ لیکن یہ ان کا کمال نہیں شمار کیا جاتا۔ ایسا ہی اگر عیسیٰ علیہ السلام نے بوجہ کمزوری قوت رجولیت کے شادی نہ کی ہو تو کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کی طاقت کے ہوتے ہوئے صبر کر کے دکھائے جیسا کہ حضورﷺ نے دکھایا۔ کیونکہ آپﷺ نے پچیس سال تک کوئی شادی نہیں کی۔ جو نہایت ہی جوش جوانی کا زمانہ ہے۔ حالانکہ آپﷺ میں چالیس آدمیوں کی طاقت تھی اور اس پر طرہ یہ ہے کہ کسی دشمن نے بھی آپﷺ پر کبھی بدنگاہی کا الزام بھی نہیں لگایا۔ بدکاری تو درکنار رہی کمال اس کو کہتے ہیں اور پھر پچیس سال کے بعد بھی شادی کی تو ایک بیوہ عورت سے۔ جو علاوہ دو دفعہ بیوہ ہونے کے آپﷺ سے عمر میں بھی بڑی تھیں۔ یعنی حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا۔ اور جب تک وہ زندہ رہیں آپﷺ نے دوسرا نکاح نہیں کیا اور ان کی رحلت کے بعد بھی جس قدر نکاح کئے، بیوہ عورتوں سے ہی کئے۔ سوا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے۔ حالانکہ آپﷺ کو اعلیٰ درجہ کی خوبصورت دوشیزہ عورتیں مل سکتی تھیں۔ مگر آپﷺ کا مقصد نکاح کرنے سے محض شہوت رانی نہیں تھا۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعہ دین کا وہ حصہ مکمل ہو جائے جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس مقصد کے لئے نوجوان لڑکیوں سے تجربہ کار عورتیں زیادہ مفید تھیں۔ الحاصل عیسیٰ علیہ السلام کا شادی نہ کرنا افضلیت کی دلیل نہیں ہے۔
اعتراض سوم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات بڑے ہیں بہ نسبت معجزات حضرتﷺ کے لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام افضل ہیں رسول اللہﷺ سے۔
جواب
معجزات کی تشریح جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھنے کے بعد سمجھدار آدمی تو اس گفتگو ہی کو فضول سمجھتا ہے کہ کس نبی کے معجزات بڑے ہیں اور کس کے چھوٹے ۔ لیکن معاندین چونکہ انصاف کو بالائے طاق رکھ کر بات کرتے ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ ان کو تسکین نہ آئے لہٰذا قدرے اس بات کی تشریح کرتا ہوں کہ معجزات رسول اللہﷺ بہ نسبت معجزات باقی انبیاء علیہم السلام کے کیا شان امتیازی رکھتے تھے۔ معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک معجزات علمی دوسرے معجزات عملی لہٰذا ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتا ہوں۔
٢٦
معجزات علمیہ
معجزات علمیہ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص د سب لوگ ان علوم کے مقابلہ سے عاجز آ جائیں اور معجز سے اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ علم اشرف ہے عمل س تعظیم کی جاتی ہے اور ہر صیغہ کے افسروں کو تنخواہ زیادہ دی خدمت زیادہ کرتے ہیں اور محنت زیادہ کرتے ہیں اور ا یہ شرف علم نہیں تو اور کیا ہے اور ایسا ہی بسا اوقات امتی آ سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ مگر مرتبہ میں پھر بھی کم ہ شرف علم تعلیم جو انبیاء علیہم السلام کے پاس ہے وہ امتی ہ
غرض انبیاء علیہم السلام کو امتیوں سے امتیاز د عبادت کے، تو ثابت ہوا کہ علم افضل ہے عمل سے لہٰذا عملیہ سے۔ اب مقابلہ کر کے دیکھو کہ معجزات علمیہ میں کے معجزات علمیہ کے افضل ہونے میں تردد ہو اس کو ق معجزات علمیہ سب سے افضل و تمام علوم کو جامع ہے۔ اس لی ہے کہ کوئی دوسری کتاب روئے زمین پر اس کا مقابلہ نہی مفصل ہے کہ اور کہیں ملنا ممکن نہیں۔ علم اخلاق و احوال جگہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
علم تاریخ پر وہ روشنی ڈالی ہے جس کا جواب ن مدن میں وہ خوبی دکھائی ہے کہ دوسری جگہ اس کا وجود محا کتاب اس کے مقابلہ پر لائے اور پھر فصاحت و بلاغت نہ مقابلہ ہو سکا اور نہ قیامت تک ہو سکے گا اس کی عبار طرح اعلیٰ درجہ کا خوبصورت بدصورتوں میں ممتاز ہوتا ہے کے خط سے ممتاز ہوتا ہے۔ الحاصل معجزات علمیہ میں تو ر ممتاز ہونا اظہر من الشمس ہے محتاج دلیل نہیں ہے قر مقابلہ کر کے دیکھ لے۔
٢٧
معجزات علمیہ
معجزات علمیہ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص دعویٰ نبوت کر کے ایسے علوم ظاہر کرے کہ سب لوگ ان علوم کے مقابلہ سے عاجز آ جائیں اور معجزات علمیہ افضل ہوتے ہیں معجزات عملیہ سے اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ علم اشرف ہے عمل سے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فن کے استادوں کی تعظیم کی جاتی ہے اور ہر صیغہ کے افسروں کو تنخواہ زیادہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ ان کے ماتحت والے خدمت زیادہ کرتے ہیں اور محنت زیادہ کرتے ہیں اور افسروں کو محنت بہت ہی کم کرنی پڑتی ہے۔ یہ شرف علم نہیں تو اور کیا ہے اور ایسا ہی بسا اوقات امتی آدمی مجاہدہ و ریاضت میں انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ مگر مرتبہ میں پھر بھی کم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ شرف علم و تعلیم جو انبیاء علیہم السلام کے پاس ہے وہ امتی کے پاس نہیں ہوتا۔
غرض انبیاء علیہم السلام کو امتیوں سے امتیاز بوجہ علم و تعلیم ہی ہوتا ہے نہ بوجہ ریاضت و عبادت کے، تو ثابت ہوا کہ علم افضل ہے عمل سے لہٰذا معجزات علمیہ بھی افضل ہوں گے معجزات عملیہ سے۔ اب مقابلہ کر کے دیکھو کہ معجزات علمیہ میں کون افضل ہے جس شخص کو رسول اللہ ﷺ کے معجزات علمیہ کے افضل ہونے میں تردد ہو اس کو قرآن شریف میں غور کرنا چاہئے کہ تمام معجزات علمیہ سے افضل و تمام علوم کو جامع ہے۔ اس لئے کہ اس میں علم ذات و صفات بھی اس قدر ہے کہ کوئی دوسری کتاب روئے زمین پر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ علم برزخ و آخرت بھی اس قدر مفصل ہے کہ اور کہیں ملنا ممکن نہیں۔ علم اخلاق و احوال و اعمال میں وہ رنگ دکھایا ہے کہ دوسری جگہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
علم تاریخ پر وہ روشنی ڈالی ہے جس کا جواب ناممکن ہے۔ علیٰ ہٰذا علم تدبیر منزل و سیاست مدن میں وہ خوبی دکھائی ہے کہ دوسری جگہ اس کا وجود محال ہے۔ اگر کسی کو یقین نہ ہو تو کوئی دوسری کتاب اس کے مقابلہ پر لائے اور پھر فصاحت و بلاغت کا یہ حال ہے کہ کسی فصیح و بلیغ سے آج تک نہ مقابلہ ہو سکا اور نہ قیامت تک ہو سکے گا اس کی عبارت ہر کس و ناکس پر اس طرح ممتاز ہے جس طرح اعلیٰ درجہ کا خوبصورت بدصورتوں میں ممتاز ہوتا ہے یا اعلیٰ درجہ کے خوش نویس کا خط بدنویسوں کے خط سے ممتاز ہوتا ہے۔ الحاصل معجزات علمیہ میں تو رسول اللہ ﷺ کا تمام انبیاء علیہم السلام سے ممتاز ہونا اظہر من الشمس ہے محتاج دلیل نہیں ہے قرآن شریف موجود ہے جس کا جی چاہے مقابلہ کر کے دیکھ لے۔
٣٧
معجزات عملیہ
معجزات عملیہ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص دعویٰ نبوت کر کے ایسے کام کر کے دکھائے کہ سب لوگ اس کے مقابلہ سے عاجز آ جائیں۔ کوئی دوسرا ایسے کام کر کے نہ دکھا سکے۔ باقی رہی یہ بات کہ معجزات عملیہ کس نبی کے افضل واعلیٰ ہیں۔ تو اس کے متعلق بعض انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا حضور ﷺ کے معجزات سے مقابلہ کر کے دکھاتا ہوں۔ اس کے بعد اہل انصاف فیصلہ کریں کہ کس کے معجزات افضل واعلیٰ ہیں۔
معجزات عیسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ
قبل اس کے کہ معجزات کا مقابلہ کر کے دکھاؤں۔ یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس امر کو واضح کر دوں کہ معجزات کے اعلیٰ وافضل ہونے کا معیار کیا ہے تا کہ مقابلہ کے بعد آسانی سے معلوم ہو سکے کہ کس کے معجزات اعلیٰ وافضل ہیں۔ معجزہ کے لغوی معنی اوپر گزر چکے ہیں اور اصطلاح میں معجزہ کہتے ہیں ایسے امر کو جو خلاف عادت نبی کے ہاتھ پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایسی وجہ پر کہ تمام منکرین کو عاجز کر کے دکھا دے۔ کوئی شخص اس امر میں اس کا مقابلہ نہ کر سکے تو جس قدر عادت کے زیادہ خلاف ہوگا۔ اس قدر وصف اعجاز میں اعلیٰ وافضل ہوگا اور جس قدر عادت کے قریب ہوگا اسی قدر وصف اعجاز میں کم درجہ کا ہوگا۔ اب اس معیار کے مطابق معجزات عیسیٰ علیہ السلام و معجزات رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ کر کے دیکھو اور فیصلہ کرو کہ معجزات کس کے اعلیٰ تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کئے اور رسول اللہ ﷺ نے ایک کھجور کے سوکھے ستون کو زندہ کیا۔ لیکن جو مردے عیسیٰ علیہ السلام نے زندہ کئے وہ پہلے بھی زندہ رہ چکے تھے اور زمانہ دراز تک محل حیات بن چکے تھے۔ مگر درخت کبھی محل حیات نہیں ہوا۔ پس ایک محل حیات میں اعادہ حیات کرنا اتنا مستبعد نہیں ہے جتنا ایسی چیز میں حیات کو پیدا کرنا مستبعد ہے جو کبھی محل حیات بنی ہی نہ ہو اور لکڑی بھی اگر تر ہوتی تو گو وہ بھی محل حیات تو نہیں لیکن تاہم اس کو کسی قدر حیات سے مناسبت ہوتی لیکن لکڑی اور پھر سوکھی اس کا زندہ کرنا تو بہت ہی مستبعد ہے۔
الحاصل عیسیٰ علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کرنے کے بعد کوئی ایسی بات نہیں دکھائی جو پہلے زمانہ حیات میں ان میں نہ پائی جاتی ہو۔ بلکہ نفس حیات سابقہ ہی کا اعادہ کیا۔ اس کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ اگر سوکھی لکڑی کو صرف ہرا درخت بنا کر دکھا دیتے تو جب بھی وصف اعجاز میں عیسیٰ علیہ السلام سے کم نہ ہوتے۔ بلکہ مساوی ہوتے۔ کیونکہ دونوں جگہ اعادہ حالت سابقہ علی ٣٨
السویہ پایا جاتا۔ لیکن آپ ﷺ نے تو سوکھی لکڑی میں وصف پہلے اس میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور پھر حیات بھی معمولی درجے درجہ کا ادراک وشعور ہو۔ جو سوا اشرف المخلوقات (یعنی انسا نہ جاتا ہو۔ کیونکہ وہ سوکھا ستون دردفراق رحمۃ اللعالمین میں مار کر رویا بحدیکہ کہ آپ ﷺ نے ممبر سے اتر کر اس کو گلے ل خاموش ہی ہوا اور اس قدر روتا تھا کہ خطبہ پڑھنا تنگ ک
اس کے بعد بات یہی قابل توجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ ارادہ فرما کر خاص طور پر توجہ نہیں فرماتے تھے۔ کوئی مردہ زند تو اس ستون کو زندہ کرنے کا ارادہ تک بھی نہیں فرمایا بلکہ اس کے علیحدہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بخود زندہ ہو کر دردفراق محمد
دوسرا معجزہ عیسیٰ علیہ السلام کا گارے کے جانو جانور کی شکل بناتے تھے۔ اس کے بعد اس میں پھونک مار ہو کر اڑ جاتا تھا۔ غرض اس کو کم از کم شکل میں تو زندوں سے سوکھی لکڑی کو تو صورت وشکل میں بھی زندوں سے مناسبت میں رہ کر زندہ ہوگئی لہٰذا یہ زیادہ مستبعد ہے اور پھر گارے حیات پیدا ہوتا تھا۔ مگر اس سوکھے ستون میں علاوہ حیات کے تھا۔ جس کی تشریح ابھی گزری ہے۔ تو صرف حیات کے پیدا
تیسرا معجزہ عیسیٰ علیہ السلام کا تھا بیماروں کا اچھ ہی خداوند تعالیٰ بیماروں کو اچھا کر دیتے تھے۔ اس کے مقابلہ ہوئی ٹانگ فوراً صحیح ہو جاتی ہے اور بگڑی ہوئی آنکھ اسی جاتی ہے۔ یہ فقط یوں ہی بیماروں کے اچھے ہو جانے سے زیادہ نہیں ہے کہ خداوند تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے ہ صرف قدرت خداوندی کا اظہار ہے۔ کچھ برکت جسما جاتی اور یہاں دونوں موجو د ہیں۔ کیونکہ فاعل حقیقی تو یہا اظہار یہاں بھی ہوا لیکن بواسطہ جسم محمدی (ﷺ) اس قدر ٣٩
السویہ پایا جاتا۔ لیکن آپﷺ نے تو سوکھی لکڑی میں وصف حیات پیدا کر دیا۔ جو کبھی اس سے پہلے اس میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور پھر حیات بھی معمولی درجہ کے نہیں بلکہ وہ حیات جس میں کمال درجہ کا ادراک و شعور ہو۔ جو سوا اشرف المخلوقات (یعنی انسان) کے کسی دوسرے جانور میں پایا ہی نہ جاتا ہو۔ کیونکہ وہ سوکھا ستون در فراق رحمۃ اللعالمین میں ایک سمجھدار انسان کی طرح چیخیں مار مار کر رویا جبتک کہ آپﷺ نے ممبر سے اتر کر اس کو گلے سے نہیں لگایا اور پیار و محبت نہیں کیا وہ خاموش ہی نہیں ہوا اور اس قدر روتا تھا کہ خطبہ پڑھنا تنگ کر دیا بڑی مشکل سے خاموش ہوا۔
اس کے بعد بات یہی قابل توجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب تک مردے زندہ کرنے کا ارادہ فرما کر خاص طور پر توجہ نہیں فرماتے تھے۔ کوئی مردہ زندہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے تو اس ستون کو زندہ کرنے کا ارادہ تک بھی نہیں فرمایا بلکہ اس سے علیحدگی اختیار فرمائی تو آپﷺ کے علیحدہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بخود زندہ ہو کر در فراق محمدیﷺ میں چیخ اٹھا۔
دوسرا معجزہ عیسیٰ علیہ السلام کا گارے کے جانور بنا کر اڑانا تھا۔ گارے کو لے کر پہلے جانور کی شکل بناتے تھے۔ اس کے بعد اس میں پھونک مارتے تھے۔ تو وہ خداوند کی قدرت سے زندہ ہو کر اڑ جاتا تھا۔ غرض اس کو کم از کم شکل میں تو زندوں سے مناسبت حاصل ہو جاتی تھی۔ لیکن اس سوکھی لکڑی کو تو صورت و شکل میں بھی زندوں سے مناسبت نہیں حاصل ہوئی تھی۔ بلکہ اپنی اصلی شکل میں رہ کر زندہ ہوگئی لہٰذا یہ زیادہ مستبعد ہے اور پھر گارے کے جانوروں میں صرف معمولی درجہ کا حیات پیدا ہوتا تھا۔ مگر اس سوکھے ستون میں علاوہ حیات کے اعلیٰ درجہ کا ادراک و شعور بھی پیدا ہو گیا تھا۔ جس کی تشریح ابھی گزری ہے۔ تو صرف حیات کے پیدا ہونے سے یہ زیادہ مستبعد ہے۔
تیسرا معجزہ عیسیٰ علیہ السلام کا تھا بیماروں کا اچھا کرنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہتے ہی خداوند تعالیٰ بیماروں کو اچھا کر دیتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں حضورﷺ کے ہاتھ لگاتے ہی ٹوٹی ہوئی ٹانگ فوراً صحیح ہو جاتی ہے اور بگڑی ہوئی آنکھ آپﷺ کے ہاتھ لگاتے ہی بالکل اچھی ہو جاتی ہے۔ یہ فقط یوں ہی بیماروں کے اچھے ہو جانے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ وہاں تو اس سے زیادہ نہیں ہے کہ خداوند تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے کہنے سے بیماروں کو اچھا کر دیا تو اس میں صرف قدرت خداوندی کا اظہار ہے۔ کچھ برکت جسمانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں نہیں پائی جاتی اور یہاں دونوں موجود ہیں۔ کیونکہ فاعل حقیقی تو یہاں بھی خداوند تعالیٰ ہی ہے لہٰذا قدرت کا اظہار یہاں بھی ہوا لیکن بواسطہ جسم محمدی (ﷺ) اس قدرت کا اظہار کرنا اس بات کی دلالت کرتا
٣٩
ہے کہ آپﷺ کا جسم مقدس منبع البرکات ہے۔ اب ان تمام باتوں کو دیکھ کر اہل انصاف فیصلہ کریں کہ حضورﷺ کے معجزات کے مقابلہ میں معجزات عیسیٰ علیہ السلام کو کیا نسبت تھی۔ مگر تعصب کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔
معجزات موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ
موسیٰ علیہ السلام کا عصاء زندہ ہو کر سانپ بن جاتا تھا۔ اس کے مقابلہ میں رسول اللہﷺ کے تصدق سوکھی کھجور کی لکڑی زندہ ہوتی ہے۔ سوکھی لکڑی میں جان آ جانے میں تو دونوں برابر لیکن اس کے بعد فرق یہ ہے کہ عصاء کی شکل سانپ کی ہو جانے کے بعد اس میں آثار حیات نمایاں ہوتے ہیں تو اس کو شکل میں زندوں کے ساتھ مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن کھجور کی سوکھی لکڑی کی شکل بھی نہیں بدلتی اپنی اصلی شکل میں رہ کر زندہ ہوتی ہے۔ یہ زیادہ تعجب انگیز بات ہے اور دوسرا فرق یہ ہے کہ عصاء میں صرف معمولی درجہ کا حیات آتا ہے۔ لیکن اس سوکھی لکڑی میں علاوہ حیات کے ادراک و شعور بھی اعلیٰ درجہ کا پیدا ہوتا ہے۔ جس کی تشریح اوپر گزر چکی ہے اور سانپ میں سوا خواص نوع سانپ کے اور کوئی بات پیدا نہیں ہوئی۔
الحاصل عصاء کا صرف سانپ بن جانا اس قدر مستبعد نہیں ہے جس قدر ایک سوکھی لکڑی کا بغیر تبدیلی شکل کے انسان بن جانا اور کمال ادراک و شعور ظاہر کرنا اور اسی طرح پتھروں کا انسان کی طرح آپﷺ کو سلام کرنا عصا کے سانپ بننے سے بدرجہا زیادہ مستبعد ہے اور ایسا ہی درختوں کا اپنی شکل میں رہ کر حضورﷺ کی اطاعت میں اپنی جگہ سے حرکت کرنا اور پردہ کرنے کی خاطر مل جانا کمال ادراک پر دلالت کرتا ہے۔ جو بغیر انسان کے کسی دوسرے حیوان میں نہیں پایا جا سکتا۔ یہ تمام معجزات عصاء کے سانپ بننے اور مردوں کے زندہ ہونے سے بدرجہا مستبعد ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک معجزہ یہ بھی تھا کہ پتھر سے پانی نکلتا تھا۔ اس کے مقابلہ میں حضورﷺ کے دست مبارک سے پانی نکلا۔ پانی تو دونوں جگہ سے نکلا۔ مگر پتھر سے پانی کا نکلنا اتنا تعجب خیز نہیں ہے جتنا گوشت و پوست سے نکلنا تعجب انگیز ہے اور علاوہ اس کے پتھر سے پانی نکلنے میں تو صرف قدرت خداوندی کا اظہار ہے۔ مگر دست مبارک سے پانی نکلنے میں علاوہ قدرت کے اظہار کے اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ آپ کا دست مبارک منبع فیوض تھا اور ایسا ہی آپﷺ کے لعاب سے کنوئیں میں پانی کا زیادہ ہونا بتلاتا ہے کہ جسم مبارک حضورﷺ کا معدن فیوض تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک معجزہ ید بیضا بھی تھا اس کے مقابلہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
٤٠
اجمعین کی چھڑی کے سر پر بطفیل جناب رسول اللہ ﷺ اندھیری رات میں جب وہ آپ ﷺ کی خدمت اقدس سے رخصت ہونے لگے، روشنی ہوگئی اور وہ جانے والے دو صحابی تھے۔ جہاں سے راستہ جدا ہوا وہاں روشنی بھی منقسم ہو کر دونوں کے ساتھ ہولی۔ اب خیال فرمائیے کہ دست مبارک موسیٰ علیہ السلام اگر گریبان میں ڈالنے کے بعد بوجہ قرب قلب منور و روشن ہو جاتا تھا تو اول تو وہ نبی دوسرے نور قلب کا قرب تو اگر بوجہ قرب نور قلب دست موسوی میں نور آجائے تو کیا تعجب ہے؟ وہ صحابی تو دونوں نبی بھی نہ تھے اور نہ ان کی لکڑی کو قرب و جوار نور قلب تھا۔ بلکہ فقط برکت صحبت نبوی ﷺ تو اب اہل انصاف فیصلہ کریں کہ معجزات کس کے اعلیٰ وافضل تھے۔
معجزہ خلیل اللہ سے مقابلہ
آتش نمرود میں خلیل اللہ کے جسم کا نہ جلنا واقع میں ایک بہت بڑا معجزہ تھا۔ لیکن وہ اتنا تعجب انگیز نہیں تھا۔ جتنا اس دستر خوان کا آگ میں نہ جلنا جو حضرت انسؓ کے پاس بطور تبرک نبوی ﷺ تھا اور وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ بار بار اس قسم کا اتفاق ہوا کہ جب میل چکناہٹ زیادہ ہو تو فوراً آگ میں ڈال دیا جب میل چکناہٹ جل گیا نکال لیا اور قصہ مثنوی مولانا روم میں مذکور ہے۔ اب خیال فرمائیے کہ ایک آدمی کا نہ جلنا اتنا تعجب خیز نہیں ہے جتنا کھجور کے پٹھوں کے دستر خوان کا اور وہ بھی ایسا کہ جس پر چکناہٹ بھی ہوتی ہو اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دستر خوان میں زمین و آسمان کا فرق تھا اور وہ خود نبی اور نبی بھی ایسے کہ خلیل اللہ اور دستر خوان میں فقط اتنی ہی بات کہ گاہے گاہے حضور ﷺ کے ساتھ رکھا گیا اور آپ ﷺ نے اس پر کھانا کھایا۔
جب حضور ﷺ کے معجزات کے مقابلہ میں ان حضرات کے معجزات کی یہ کیفیت ہے۔ باوجود ان کے اولوالعزم ہونے کے تو باقی حضرات کے معجزات کا تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی کیا کیفیت ہوگی۔
الحاصل حضور ﷺ کے معجزات علمیہ اور عملیہ تمام انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے اعلیٰ وافضل ہیں۔ لہٰذا اگر افضلیت کا دارومدار معجزات ہی پر رکھا جائے تو تب بھی حضور ﷺ ہی افضل الانبیاء ثابت ہوں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام جس قدر معجزات لائے تھے۔ جب دنیا سے رحلت فرمائی تو ان کو بھی ساتھ ہی لے گئے۔ اس وقت اگر آپ چاہیں کہ کسی نبی کے معجزہ کا مشاہدہ کریں تو غیر ممکن ہے مگر رسول اللہ ﷺ رحلت کے بعد بھی قیامت تک اپنا معجزہ (یعنی قرآن شریف) باقی چھوڑ گئے۔ جو آپ ﷺ کا علمی معجزہ ہے اور تمام معجزات سے
٤١
اعلیٰ وافضل ہے۔ کوئی مخالف اس کے مقابلہ میں سر نہیں اٹھا سکتا۔ جس کی قدرے تشریح اوپر گزر چکی ہے اور مزید تفصیل عنقریب آئے گی۔ غرض آپ ﷺ کی صداقت کی دلیل مخالفین کے سامنے ہر وقت موجود ہے۔ اس کے متعلق فرمایا ہے رسول اللہ ﷺ نے: ”ما من الانبیاء من نبي الا قد اعطی من الایات ما مثلہ امن علیہ البشر وانما کان الذی اوتیت وحیا اوحی اللہ الی فارجوا ان اکون اکثرھم تابعا یوم القیمۃ متفق علیہ“ ﴿کہ نہیں پیغمبروں میں سے کوئی پیغمبر مگر کہ تحقیق دیا گیا معجزات میں سے اس قدر کہ مثل اس قدر کے ایمان لا سکے اس پر بشر اور بیشک جو چیز کہ مجھے عطاء کی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے۔ پس میں امید کرتا ہوں کہ میں قیامت کے روز از روئے تابعداروں کے تمام پیغمبروں سے زیادہ ہوں گا۔﴾ مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کو اپنے اپنے زمانہ میں ایسے معجزات عطاء کئے گئے کہ ان کو دیکھ کر لوگوں کو ان کی صداقت کا یقین ہو سکے۔ مگر ہر نبی کے معجزات اس کے زمانہ کے ساتھ مخصوص تھے۔ اس کی رحلت کے بعد معجزات بھی منقطع ہوگئے۔ لیکن مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ ہر زمانہ میں اس کو دیکھ کر لوگ ایمان لائیں گے۔ اسی وجہ سے میرے تابعین قیامت کے روز زیادہ ہوں گے اور وہ معجزہ قرآن شریف ہے۔ جس کی تشریح اوپر گزر چکی ہے۔
حضرات نصاریٰ کی طرف سے حضور ﷺ کی افضلیت پر اعتراضات تو اور بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن افضلیت کی تشریح مذکورہ میں غور کرنے والا ان سب کا جواب نہایت آسانی کے ساتھ دے سکتا ہے لہٰذا ان سب کا ذکر کرنا بے فائدہ ہے۔
جو معنی افضلیت کے بیان کئے گئے ہیں۔ وہ کسی دوسرے نبی میں کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا اور نہ کسی نبی نے سواء حضور ﷺ کے اس افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ تو اب اگر کوئی شخص کسی دوسرے نبی میں وہ افضلیت ثابت کرنا چاہے تو اول تو وہ (مدعی سست گواہ چست) کا مصداق ہوگا اور دوسرے اس دعویٰ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا غیر ممکن ہوگا۔
حضور ﷺ کے قطعہ عرب میں مبعوث ہونے کی حکمت
حضور ﷺ کو تمام دنیا کا ہادی و مصلح بنا کر بھیجا گیا تھا۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ لیکن اظہر من الشمس ہے کہ تمام دنیا کی اصلاح بلاواسطہ ایک شخص سے ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ اس کو ہزار سال سے بھی زیادہ عمر دی جائے۔ خصوصاً ایسے شخص سے کہ اس کو فقط ٢٣ سال اس کام کے لئے دیئے جائیں اور قلت سامان کی یہ حالت ہو کہ گزر اوقات کی خاطر قوم کی بکریاں چراتا ہو۔ سلطنت
٤٢
لشکر کا ہونا تو درکنار اور بچپن میں یتیم ہونے کا صدمہ بھی اٹھا چکا ہو اور لکھنے پڑھنے کی یہ حالت ہو کہ کبھی قلم ہاتھ میں نہ پکڑا ہو اور کسی استاد سے ایک حرف بھی نہ سیکھا ہو لہٰذا مصلحت کا تقاضا یہ ہوا کہ کسی ایک قوم کو منتخب کر کے پہلے اس کو اس قوم میں بھیجا جائے تاکہ اول اس قوم کی اصلاح کر کے اس کو اپنا دست بازو بنا کر اس کے ذریعہ سے آپ ﷺ تمام دنیا کی اصلاح کریں۔
پس آپ ﷺ کی بعثت کے دو حصے ہیں۔ اولاً و بالذات اس قوم کی اصلاح اور ثانیاً و بالواسطہ باقی تمام لوگوں کی اصلاح۔ کیونکہ وہ قوم بمنزلہ آلہ کے ہوگی اور آلہ کا حصول مقدم ہوتا ہے۔ جب تک آلہ نہ ہو کام نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی جب تک اس قوم کی اصلاح پہلے نہیں ہوگی تو تمام دنیا کی اصلاح براہ راست ایک شخص سے ممکن نہیں ہے۔ اس انتخاب کا قرعہ فیصلہ ازلی میں قطعہ عرب پر واقع ہوا لہٰذا رحمۃ للعلمین کو مکہ معظمہ میں قوم قریش میں مبعوث کیا گیا۔
باقی رہی یہ بات کہ قطعہ عرب کے انتخاب میں کیا حکمت تھی کہ تمام دنیا کو چھوڑ کر اسی قطعہ کو منتخب کیا گیا۔ تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ اس میں تین حکمتیں تھیں۔
- .......١ اول سنت خداوندی یہ ہے کہ اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے ہر کام میں وہ راستہ تجویز
فرماتے ہیں جو تمام راستوں سے زیادہ آسان ومختصر ہو۔ اس سنت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ ﷺ کی بعثت کے لئے مکہ معظمہ سے بہتر اور کوئی قطعہ زمین کا نہیں تھا۔ اس لئے کہ جس نبی کو تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہو۔ اس کی بعثت کے لئے وہ جگہ منتخب ہونی چاہئے جو تمام دنیا کے وسط میں بمنزلہ مرکز کے ہوتا کہ ہر طرف آسانی سے پہنچ سکے۔ اگر اس کو ایک کنارے پر کھڑا کیا جائے تو اس کو بہت بڑی دقت پیش آئے گی اور تمام زمین کا وسط اور مرکز بیت اللہ ہے۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے: ”قالوا الكعبة سُرَّة الارض ووسطها“ ﴿خانہ کعبہ زمین کی ناف ہے۔﴾ لہٰذا حضور ﷺ کو مکہ معظمہ میں مبعوث کیا گیا۔
- .......٢ قطعہ عرب نعمت نبوت سے زمانہ دراز سے محروم چلا آ رہا تھا اور یہود جو ملک شام میں
آباد تھے، وہ آباؤ اجداد سے نعمت نبوت سے بہرہ یاب تھے۔ عرب کے لوگ جب ملک شام میں بغرض تجارت جاتے تھے۔ تو یہود کی طرف حسرت کی نگاہ سے اس طرح دیکھا کرتے تھے جس طرح ایک محتاج جو آباء واجداد سے محتاج چلا آ رہا ہو۔ ان لوگوں کی طرف حسرت سے دیکھتا ہے جو آباء واجداد سے اغنیاء چلے آ رہے ہوں اور عرب کو اسی وجہ سے امیین (یعنی ناخواندے) کہا جاتا تھا کہ وہ زمانہ دراز سے نعمت نبوت سے محروم چلے آ رہے تھے۔
پس رحمت الٰہیہ کو جوش آیا کہ ان کی سینکڑوں برسوں کی محرومی کو دور کر کے دولت نبوت
٤٣
سے ان کو سرفراز فرمائے۔ اسی وجہ سے حضورﷺ کی بعثت کے لئے قطعہ عرب کو منتخب کیا گیا۔ اس وجہ سے قرآن شریف میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ سورہ یٰسین میں ہے: ’’تنزيل العزيز الرحيم لتنذر قوما ما انذر آباء هم فهم غفلون‘‘ ﴿یہ قرآن شریف خدائے زبردست و مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپﷺ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے۔ سو اسی وجہ سے یہ بے خبر ہیں۔﴾
اور سورہ قصص میں ہے: ’’ولكن رحمة من ربك لتنذر قوما ما اتهم من نذير من قبلك لعلهم يتذكرون‘‘ ﴿لیکن آپﷺ اپنے رب کی رحمت سے نبی بنائے گئے تاکہ آپﷺ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ کیا تعجب ہے کہ وہ نصیحت قبول کریں۔﴾ دونوں آیات میں قوم سے مراد عرب ہیں اور دونوں آیات کا حاصل یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ زمانہ دراز سے نعمت نبوت سے محروم تھے لہٰذا رحمت الٰہیہ کو جوش آیا کہ ان کی محرومی کو دور کیا جائے۔
اور اس حکمت کا حاصل دوسری عبارت میں یہ ہے کہ وہ امراض روحانیہ جن کا علاج کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام بھیجے جاتے ہیں۔ وہ امراض قطعہ عرب میں انتہاء کو پہنچ گئے تھے۔ حتیٰ کہ بیت اللہ جیسی پاک جگہ بیت الاصنام بنی ہوئی تھی۔ تین سو ساٹھ بت بیت اللہ کے ارد گرد رکھے ہوئے تھے اور ایسا ہی باقی خرابیاں بھی حد سے گزر گئی تھیں اور اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ زمانہ دراز سے نعمت نبوت سے محروم تھے۔ کوئی مصلح ان کے پاس نہیں آیا تھا۔
الحاصل یہ لوگ روحانی ڈاکٹر کے زیادہ محتاج تھے بنسبت اوروں کے لہٰذا ان کی روحانی بیماریوں نے بزبان حال دربار خداوندی میں دست دعا دراز کر کے روحانی ڈاکٹر کی درخواست کی۔ رحمت خداوندی نے فوراً بتقاضائے: ’’اجیب دعوة الداع اذا دعان‘‘ منظوری فرما کر نبی کریمﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان بیماروں کی اصلاح کے لئے ایک ایسا زبردست مصلح بھیجا جو تمام مصلحین کا سرتاج تھا۔
٣....... حضورﷺ کی بعثت کے لئے اولاً ایک قوم کا منتخب کرنا تو ضروری تھا۔ جس کی تشریح اوپر گزر چکی ہے۔ لیکن مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ قوم منتخب کی جائے جو مقصد بعثت کے پورا کرنے میں زیادہ انفع ہو اور وہ مقصد تمام دنیا کی قوموں کی اصلاح ہے لہٰذا پہلے ایسی قوم منتخب ہونی چاہئے جو دنیا بھر کی قوموں سے زیادہ بہادر و قوی ہو۔ اگرچہ اس کی اصلاح میں رسول اللہﷺ کو بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں۔ کیونکہ ایسی بہادر قوم کی اصلاح ہو جانے کے بعد وہ تمام دنیا کی قوموں
٤٤
کو ٹھیک کر دے گی۔ بے شک ایسی قوم کا نمو شجاعت کے آسانی سے اطاعت قبول نہیں کر قومیں اس کے آگے سر تسلیم خم کریں گی۔ یہ با دنیا بھر کی قوموں سے زیادہ بہادر تھا۔ خصوصاً مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ آپﷺ کو قریش
آپﷺ کو جو ان لوگوں کی اصلا مگر اس قوم نے اصلاح پذیر ہونے کے بعد ہے۔ ان لوگوں نے قیصر و کسریٰ کے تخت ہلا قوم ایسی نہیں تھی جو ان کے مقابلہ میں ثاب اسلام پھیل گیا۔ مثلاً اگر حضورﷺ کو ہندوست آپﷺ کو اتنی دقت پیش نہ آتی جتنی عرب ہندوستان کے حدود سے آگے تجاوز نہ کرتا بعثت کا جو مقصد تھا (یعنی تمام دنیا میں اسلام لوگ اس قابل نہیں تھے کہ بڑی بہادر قوموں مارے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ مگ دیتے ہیں۔ غرض ان کے کارنامے محتاج بیا
اسی حکمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ب میں مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعہ سے اسلا
تقریر مذکورہ بالا سے بعض مخالفین ہونے پر کیا جاتا ہے۔ بوجہ ان نصوص کے ج مذکور ہے۔ جیسا کہ ان دو آیات میں جو اوپ اولاً و بالذات کے ہے۔ جیسا کہ اوپر مفص کے لئے نبی نہیں تھے۔ بلکہ آپﷺ کی ب چکا ہے۔
حضورﷺ کے امی ہونے کی حکم
جب یہ فیصلہ ہو چکا کہ آپﷺ
کو ٹھیک کر دے گی۔ بے شک ایسی قوم کا ٹھیک کرنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ کیونکہ وہ بوجہ قوت و شجاعت کے آسانی سے اطاعت قبول نہیں کرے گی۔ لیکن جب ٹھیک ہو جائے گی تو دنیا بھر کی قومیں اس کے آگے سر تسلیم خم کریں گی۔ یہ بات قطعہ عرب ہی میں پائی جاتی تھی۔ تمام قطعہ عرب دنیا بھر کی قوموں سے زیادہ بہادر تھا۔ خصوصاً قوم قریش بہادری میں تمام عرب میں ممتاز تھی لہٰذا مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ آپ ﷺ کو قریش میں مبعوث کیا جائے۔
آپ ﷺ کو جو ان لوگوں کی اصلاح میں دقتیں اٹھانی پڑیں۔ وہ محتاج بیان نہیں ہیں۔ مگر اس قوم نے اصلاح پذیر ہونے کے بعد دنیا کی اصلاح کا کام کیا ہے۔ وہ بھی اظہر من الشمس ہے۔ ان لوگوں نے قیصر و کسریٰ کے تخت ہلا دیئے تمام دنیا کو تہ و بالا کر دیا۔ روئے زمین میں کوئی قوم ایسی نہیں تھی جو ان کے مقابلہ میں ثابت قدم رہ سکے۔ بہت تھوڑے عرصہ میں تمام دنیا میں اسلام پھیل گیا۔ مثلاً اگر حضور ﷺ کو ہندوستان میں مبعوث کیا جاتا تو ہندوستان کی اصلاح میں آپ ﷺ کو اتنی دقت پیش نہ آتی جتنی عرب میں پیش آئی۔ لیکن اسلام رہتا ہندوستان میں ہی۔ ہندوستان کے حدود سے آگے تجاوز نہ کرتا تو گو حضور ﷺ کو تو تکلیف کم ہوتی مگر آپ ﷺ کی بعثت کا جو مقصد تھا (یعنی تمام دنیا میں اسلام پھیلانا) وہ ہرگز حاصل نہ ہوتا۔ کیونکہ ہندوستان کے لوگ اس قابل نہیں تھے کہ بڑی بہادر قوموں کا مقابلہ کر سکتے۔ یہ عرب ہی کا کام تھا کہ فاقوں کے مارے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ لیکن جب تلوار لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ تو پہاڑ ہلا دیتے ہیں۔ غرض ان کے کارنامے محتاج بیان نہیں ہیں۔
اسی حکمت کو مدنظر رکھتے ہوئے خداوند تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو قطعہ عرب میں مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعہ سے اسلام دنیا میں پھیلایا۔
تقریر مذکورہ بالا سے بعض مخالفین کا وہ شبہ بھی زائل ہو گیا جو آپ ﷺ کی بعثت کے عام ہونے پر کیا جاتا ہے۔ بوجہ ان نصوص کے جن میں آپ ﷺ کا خاص عرب کے لئے مبعوث ہونا مذکور ہے۔ جیسا کہ ان دو آیات میں جو اوپر گزر چکی ہیں۔ کیونکہ ان نصوص میں تخصیص باعتبار بعثت اولاً و بالذات کے ہے۔ جیسا کہ اوپر مفصل گزر چکا ہے۔ نہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ باقی لوگوں کے لئے نبی نہیں تھے۔ بلکہ آپ ﷺ کی بعثت کا عام ہونا دلائل سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
حضور ﷺ کے امی ہونے کی حکمت
جب یہ فیصلہ ہو چکا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے لئے قطعہ عرب ہی کا منتخب ہونا مصلحت
٤٥
ہے، تو اس کے بعد مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ آپ ﷺ امی ہوں۔ پڑھے لکھے نہ ہوں بوجوہ:
- .......١ عرب چونکہ امی تھے اور امیوں کی طرف نبی بھی امی ہونا زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ اس
صورت میں افادہ و استفادہ میں آسانی ہوگی۔ اس لئے کہ جس قدر مرسل و مرسل الیہم میں اتحاد زیادہ ہوتا ہے۔ اسی قدر افادہ و استفادہ میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں نبی کا طرز کلام ان کے محاورات و عادات کے بالکل موافق ہوتا ہے۔ ان کو سمجھنے میں دقت پیش نہیں آتی اور آپس میں انس بھی زیادہ ہوتا ہے اور اگر آپ ﷺ پڑھے لکھے ہوتے تو ان لوگوں کو آپ ﷺ سے انس بھی کم ہوتا اور آپ ﷺ کا کلام بھی ان کے مزاج کے مطابق نہ ہوتا۔ اس وجہ سے ان کو افادہ و استفادہ میں دقت پیش آتی۔ اس حکمت کی طرف اشارہ اس آیت میں: ”ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم (جمعہ)“ ”اللہ وہ ہے جس نے نا خواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا۔“
- .......٢ مصلحت وقت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ﷺ کو معجزہ کتاب کی صورت میں دیا جائے۔ جس
کی تشریح معجزات کے بیان میں گزر چکی ہے۔ پس اگر آپ لکھے پڑھے ہوتے تو بظاہر اس شبہ کی گنجائش ہوتی کہ آپ ﷺ چونکہ لکھے پڑھے ہیں لہٰذا کتابوں کو دیکھ بھال کر اپنی طرف سے جمع کر لیتے ہیں۔ گو تحدی کے بعد جب مقابلہ سے عاجز ہوجاتے تو یہ شبہ بھی زائل ہو جاتا لیکن قبل از تحدی اس کی گنجائش ہوتی۔ لیکن آپ ﷺ کے امی ہونے کی صورت میں اس شبہ کی ابتداء میں ہی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جیسا کہ اس آیت: ”وما کنت تتلوا من قبله “ میں اس کی تقریر گزر چکی ہے۔
- .......٣ اگر آپ ﷺ لکھے پڑھے ہوتے تو آپ ﷺ کو کتاب بھی لکھی لکھائی یک دم دے دی
جاتی۔ جیسا کہ آپ ﷺ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تھیں۔ لیکن قوم قریش کی درشتی و سخت مزاجی اس قدر حد سے بڑھی ہوئی تھی کہ آپ ﷺ سے کتاب کو چھین کر پارہ پارہ کر دیتے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک ورق بھی نہ رہنے دیتے۔ اسی مصلحت کی وجہ سے جب تک فرعون غرق نہیں ہوا، موسیٰ علیہ السلام کو کتاب نہیں دی گئی۔ غرض قوم قریش کی حالت کا اندازہ کرتے ہوئے مصلحت کا تقاضا یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو لکھا پڑھا نہ بنایا جائے تاکہ لکھی ہوئی کتاب دینے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ امی رکھ کر تھوڑا تھوڑا کر کے کتاب یاد کرادی جائے تاکہ آپ ﷺ کے قلب میں محفوظ رہے۔ کسی شخص کا اس پر قابو ہی نہ ہونے پائے۔ اسی کے متعلق ارشاد ہے سورۂ شعراء کی اس آیت
٤٦
میں: ”نزل به الروح الامین علی قلبك“ ﴿اس (قرآن مجید) کو امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے آپ ﷺ کے قلب پر۔﴾ اس کے علاوہ اور بھی کئی آیات میں اس کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو کتاب لکھی لکھائی نہیں دی گئی۔ بلکہ آپ ﷺ کے قلب پر اتار دی گئی ہے اور اس کا محل نزول آپ ﷺ کے قلب مبارک کو قرار دیا گیا ہے۔
اس تقریر سے کفار کا ایک شبہ بھی زائل ہو گیا جو بوجہ نادانی کے آپ ﷺ پر کرتے تھے جو سورۃ فرقان کی اس آیت میں مذکور ہے: ”وقال الذین کفروا لولا نزل علیه القرآن جملة واحدة“ ﴿آپ ﷺ پر قرآن شریف دفعۃً واحدۃً کیوں نہیں اتارا گیا مثل توراۃ وغیرہ کے۔﴾
اس اعتراض سے کفار کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ کتاب خدا کی طرف سے ہوتی تو پھر اس کو تدریجاً نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ محمد ﷺ خود سوچ سوچ کر تھوڑا تھوڑا بنا لیتے ہیں۔
اور تقریر مذکورہ بالا سے اس اعتراض کا ازالہ اس طرح پر ہوا کہ جب یہ بات طے ہو گئی کہ حضور ﷺ کا امی ہونا ہی مصلحت ہے۔ تو پھر ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کو کتاب یک دم لکھی لکھائی دینا خلاف مصلحت ہے۔ کیونکہ اس کو پڑھ نہیں سکتے۔ بلکہ تدریجاً آپ ﷺ کو یاد کرا دی جائے گی۔ جیسا کہ امی آدمی کے پڑھانے کا طریقہ ہے کہ اس کو تھوڑا سا سبق دے دیا جاتا ہے۔ جب اس کو یاد کر لیتا ہے۔ تو پھر دوسرا سبق دے دیا جاتا ہے۔ نہ تو وہ یک دم ساری کتاب کو یاد کر سکتا ہے اور نہ لکھی ہوئی پڑھ سکتا ہے اور آپ ﷺ سے پہلے جو انبیاء علیہم السلام تھے۔ وہ چونکہ لکھے پڑھے ہوئے تھے لہٰذا ان کو دفعۃً واحدۃً کتاب دے دی جاتی تھی۔
اس حکمت عملی کی وجہ سے اس کی ضرورت ہوئی کہ آپ ﷺ کو تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن شریف یاد کرایا جائے۔ ورنہ آپ ﷺ برداشت نہیں کر سکیں گے اور گھبرا جائیں گے۔ یہی حکمت عملی ارشاد فرمائی ہے باری تعالیٰ نے کفار کے اعتراض کے جواب میں: ”کذالك لنثبت فؤادك ورتلناه ترتیلا“ ﴿کہ اس طرح (تدریجاً) اس لئے (ہم نے نازل فرمایا) ہے تا کہ ہم اس کے ذریعہ سے آپ ﷺ کے دل کو قوی رکھیں اور (اسی لئے) ہم نے اس کو بہت ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے۔ ﴾ (حتی کہ تئیس سال میں پورا ہوا) اور تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنے میں کئی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے تقویت قلب ہے۔
٤٧
- ١....... یاد کرنے میں آسانی ورنہ کتاب ضخیم کا بے لکھے پڑھے آدمی کو دفعتاً یاد کرنا عادۃً دشوار
ہے اور اس کو دیکھ کر طبیعت کا پریشان ہونا امر طبعی ہے اور تدریج کی صورت میں دل قوی رہتا ہے۔
- ٢....... جب کفار کوئی اعتراض یا ناگوار معاملہ کرتے تب ہی آپ ﷺ کی تسلی نازل ہو جاتی
اس میں زیادہ تقویت قلب ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک کتاب آدمی کے پاس ہو اور وقت پر اس میں سے مضمون تلاش کر کے کام میں لائے۔
- ٣....... بار بار پیغام خداوندی کا آنا اور سلسلہ مراسلت کا جاری رہنا شہادت ہے معیت
خداوندی کی جو مدار اعظم ہے تقویت قلب کا وامثال ذالک۔
اعتراض
ممکن ہے کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ گو بے لکھے پڑھے آدمی کا یک دم کتاب ضخیم کو یاد کر لینا عادتاً دشوار ہے۔ لیکن خداوند تعالیٰ جب انبیاء علیہم السلام کو معجزات عطاء فرماتے ہیں۔ جو عادت کے خلاف ہوتے ہیں۔ تو ایک معجزہ یہ بھی عطاء فرما دیتے کہ حضور ﷺ کو کتاب یک دم یاد کرا دیتے اور اگر خواہ مخواہ تدریجاً ہی نازل فرمانی تھی تو اتنی لمبی مدت کیوں لگائی۔ بلکہ روزانہ ایک ایک رکوع نازل کر کے ایک دو سال میں قصہ ختم کر دیتے تو اس صورت میں بھی آسانی سے یاد ہو سکتا تھا۔
جواب
تقویت قلب کے جو وجوہ ثلثہ بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے پہلی وجہ تو بیشک اعتراض کی دونوں صورتوں میں حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن دوسری اور تیسری وجہ تقویت کی دونوں صورتوں میں فوت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سلسلہ اعتراضات تو آپ ﷺ کی تمام عمر تک جاری رہے گا لہٰذا خداوند تعالیٰ کی طرف سے شہادت معیت کی بھی تمام عمر ضرورت رہے گی۔ اس لئے مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ سلسلہ مراسلت کا بھی تمام عمر جاری رہے۔ اس لئے تئیس برس میں قرآن شریف کی تکمیل ہوئی اور یہ معنی: ”ورتلناہ ترتیلا“ کے صاحب کشاف نے کئے ہیں تو گویا: ”ورتلناہ ترتیلا“ کے اضافہ کرنے سے اعتراض کی دونوں صورتوں کے جواب کی طرف اشارہ ہو گیا۔ جس کا حاصل یہ ہوا کہ اعتراض کی دونوں صورتوں میں تقویت کے بعض وجوہ فوت ہو جاتے ہیں لہٰذا مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ تئیس سال کی مدت میں نزول قرآن شریف کو پورا کیا جائے۔
خاتم النبیین
صدع النق
عن
جساسة الف
حضرت مولانا سید محمد اویس
آدمی کو دفعتاً یاد کرنا عادۃً دشوار صورت میں دل قوی رہتا ہے۔ آپ ﷺ کی تسلی نازل ہو جاتی آدمی کے پاس ہو اور وقت پر
ری رہنا شہادت ہے معیت
ئے آدمی کا یک دم کتاب ضخیم کو معجزات عطاء فرماتے ہیں۔ جو حضور ﷺ کو کتاب یک دم یاد کیوں لگائی۔ بلکہ روزانہ ایک ت میں بھی آسانی سے یاد ہو
سے پہلی وجہ تو بیشک اعتراض وجہ تقویت کی دونوں صورتوں ام عمر تک جاری رہے گا لہٰذا رہے گی۔ اس لئے مصلحت کا بیس برس میں قرآن شریف کشاف نے کئے ہیں تو گویا: سورتوں کے جواب کی طرف تقویت کے بعض وجوہ فوت نزول قرآن شریف کو پورا کیا
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
صدع النقاب
عن
جساسة الفنجاب
حضرت مولانا سید محمد اویس سکروڈھوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دیباچہ
حامدا ومصلیا ومسلما اما بعد حضرت استاد جناب مولانا مولوی محمد انور شاہ صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند نے رسالہ اکفار الملحدین فی شی من ضروریات الدین تصنیف فرمایا ہے۔ جس میں مسائل اجماعیہ اور قطعیہ کے منکر اور ضروریات دین یعنی متواترات شرعیہ میں تاویل کرنے والے کی تکفیر کا مسئلہ کافی اور وافی دلائل کے ساتھ نہایت شرح وبسط کر کے لکھا جو عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ اس رسالہ میں حضرت ممدوح نے ایک قطعہ اعجازیہ نظم فرمایا تھا جو امت مرحومہ اور بالخصوص علماء کی خدمت میں بطور استدعا کے ہیں اور مرزا کے کفریات جن کی وجہ سے وہ کافر قطعی ہے اور ان کے دلائل اس قطعہ میں لکھے ہیں۔ احقر نے اس قطعہ کو باضافہ چند اشعار اور تکمیل حوالجات جن میں مرزا قادیانی کی ان عبارتوں اور دعاوی کا نمونہ ہے کہ ایک ایمان دار مسلمان ان عبارتوں کو سن کر مرزا قادیانی کے کفر والحاد میں تردد نہیں کر سکتا۔ معہ ترجمہ اشعار کے علیحدہ کر کے چھپوایا تاکہ ہر شخص نفع اٹھا سکے اور اس فتنہ صماء اور عمیاء کی اہمیت سمجھ کر اس کے استیصال و ابطال کی فکر کرے۔
والسلام! سید محمد ادریس عفا اللہ عنہ......مدرس دارالعلوم دیوبند
خُطُوْبًا اَلَمَّتْ مَالَهُنَّ يَدَانِ
”خبردار اے خدا کے بندو تیار ہو جاؤ اور جو ناقابل برداشت مصائب ٹوٹ پڑے ہیں ان کو درست کرو۔“
اس شعر میں مؤلف دام ظلہ کی غرض امت مرحومہ اور بالخصوص جماعت علماء کو اس قادیانی فتنہ کی طرف توجہ دلانا ہے جس نے دنیائے اسلام میں زندقہ اور الحاد اور ارتداد کی بنیاد ڈالی۔
وَزَحْزَحَ خَيْرٌ مَّا لِذَاكَ تَدَانِ
”بہت قریب ہے کہ ہدایت اور نشان ہدایت گر جائیں اور خیر دور ہوگئی ہے جو پھر نزدیک ہونے کو نہیں ہے“
ہدایت اور نشان ہدایت گر جانے سے آیات قرآنی میں رد وبدل اور انبیاء علیہم السلام کی توہین وتذلیل کئے جانے کی طرف اشارہ ہے۔
٢
يُسَبُّ رَسُوْلٌ مِّنْ اُولِى الْعَزْمِ فِيْكُمُ
”ایک اولوالعزم رسول تمہارے سامنے اور زمین پھٹ پڑیں۔“
رسول اولوالعزم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ غلام احمد قادیانی نے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اس کے م ہیں اور یہی اس فرقہ کا موضوع ہے۔ یہی ان کی غرض ہی کی توہین پر بس نہیں کی بلکہ خاتم الانبیاء ﷺ اور میں غلط فہمی کا التزام اور خاتم الانبیاء ﷺ کے معجزات والسلام پر بھی اپنا تفوق ظاہر کیا ہے۔ جس کو ہم اسی موقعہ پر لکھیں گے۔ جن کو دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے نبوت اور رسالت میں اپنی نبوت کو رلایا اور ملایا ہی نہی کی ہے۔ اب ہم مرزا کے وہ کلمات کفریہ جو حضر کتابوں میں لکھے ہیں، معہ حوالہ جات نقل کرتے ہیں
کفریات مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
- ١...... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور مجا
درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنج کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ا
- ٢...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک
زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ
- ٣...... ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہی
بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی
- ٤...... ”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبان
جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سک
”ایک اولوالعزم رسول تمہارے سامنے ذلیل کیا جا رہا ہے قریب ہے کہ آسمان اور زمین پھٹ پڑیں ۔“
رسول اولوالعزم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کی توہین وتذلیل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اس کے مرید بھی آج تک اسی کی اشاعت میں سرگرم ہیں اور یہی اس فرقہ کا موضوع ہے۔ یہی ان کی غرض ہے۔ مرزا نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی توہین پر بس نہیں کی بلکہ خاتم الانبیاء ﷺ اور دوسرے اولوالعزم رسولوں کے الہام اور وحی میں غلط فہمی کا الزام اور خاتم الانبیاء ﷺ کے معجزات کی زیادتی ۔ حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر بھی اپنا تفوق ظاہر کیا ہے۔ جس کو ہم اسی کی عبارتوں سے معہ حوالہ کتاب اپنے اپنے موقعہ پر لکھیں گے۔ جن کو دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس مفتری کذاب نے انبیاء اور مرسلین کی نبوت اور رسالت میں اپنی نبوت کو رلایا اور ملایا ہی نہیں بلکہ ان سے بڑھ کر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب ہم مرزا کے وہ کلمات کفریہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں اس نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں، معہ حوالہ جات نقل کرتے ہیں۔
کفریات مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں
- ١....... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت
درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، روحانی خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٢....... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی
زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٣....... ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی
بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(حاشیہ کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
- ٤....... ”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آ
جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے
٣
افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی پر بس نہ کی۔ حضرت مریم علیہا السلام کی عصمت پر بھی داغ لگانا چاہا۔ ”کبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذباً“
- ٥...... ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان
قوم کی نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ہے۔ یعنی باوجود یوسف نجار کے پہلے بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
- ٦...... ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا
کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
( دافع البلاء ص ٧ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ ٹائٹل پیج )
- ٧...... ”ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین
گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔“
( اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
اس عبارت کو پڑھ لینے کے بعد ہر موٹی عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دل پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کس درجہ تعظیم اور وقعت ہے اور ان واقعات کو جو اس کی پہلی عبارتوں میں نقل ہوئے ہیں، کس درجہ تک صحیح مانتا ہے۔
”جس رسول کو حق تعالیٰ نے کافروں کے ناپاک ہاتھوں سے پاک کیا اور بعض دوزخ کے لئے بعض جھوٹی نبوت کی خیال بندیوں کا چھوڑ دیا۔“
اس شعر میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم پیغمبر
٤
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کی نافرمان قوم کے ہاتھوں سے مامون ومصون رکھنے کا وعدہ فرمایا اور اپنی طرف بلا لینے کا قصد ظاہر فرمایا۔
”یعیسی انی متوفیک ورافعك الیّ ومطهرك من الذین کفروا “
﴿اے عیسیٰ (تم گھبراؤ نہیں) میں تم کو کامل طور پر لے لوں گا اور تم کو اپنی طرف اٹھالوں گا اور کافروں کے ناپاک ہاتھوں سے پاک کروں گا۔﴾
حق تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دے کر جو وعدہ کیا تھا۔ انجام کار اس کو پورا فرمایا اور یہودیوں کے خیالات کی تغلیط کی اور جو منصوبہ انہوں نے باندھا تھا وہ اس میں ناکام رہے جیسا کہ اس پر قرآن شاہد اور ناطق ہے اور حق تعالیٰ کا یہ ارشاد:
”وما قتلوه یقینا بل رفعه الله الیه “ ﴿یہودیوں نے ان کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔﴾ ایفاء وعدہ کا واضح بیان ہے۔
”ایک قوم نے اپنے خدا اور نبی سے لڑائی باندھی۔ پس تم اللہ کی مدد پر کھڑے ہو جاؤ جو تمہارے قریب ہے۔“
قوم سے مراد ملاحدہ اور شیاطین کی ایک مخصوص جماعت قادیانی گروہ ہے۔ جس نے قرآن وحدیث کی تعلیم کے خلاف کفر والحاد کو پھیلا کر مخلوق خدا اور امت مرحومہ کو مرتد وملحد بنانے کا خیال جما رکھا ہے اور ”ان الذین یلحدون فی ایاتنا “ کے مصداق خود تو تھے ہی مسلمانوں کو بھی بنانا چاہتے ہیں۔
”خدا کی حدود توڑی جانے کی وجہ سے میرا صبر مغلوب ہو گیا۔ پس ہے کوئی اس جگہ بلانے والا یا میری آواز کا جواب دینے والا۔“
”اور جب مصیبت حد سے بڑھ گئی تو میں تم سے مدد چاہنے آیا پس اے قوم ہے کوئی فریاد رس جو میرے نزدیک ہو۔“
”قسم ہے مجھے کہ میں نے سوتے کو جگایا اور جس کے کان تھے اس کو سنایا۔“
٥
”اور قوم کو اس کے خدا کے فرض کی طرف بلایا پس ہے کوئی زمانہ میں جو میرا مدد گار ہو۔“
وَقَدْ عَادَ فَرْضُ الْعَيْنِ عِنْدَ عِيَانِ
”سب کچھ چھوڑ دو اور جو فتنہ درپیش ہے اس کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اگر آنکھ کھول کر دیکھے تو ہر شخص پر فرض عین ہو گیا ہے۔“
ان اشعار میں اس فتنہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تمام فتنوں سے بڑھ کر فتنہ ہے۔ اس کے انسداد کی فکر ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور جس ممکن سے ممکن صورت سے بھی ہو سکے اس کا انسداد لابد ی ہے۔ قرآن نے ایسے فتنہ انگیز اور شریروں کے فتنہ اور شرر کو دبانے کے لئے متعدد جگہ مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے: ”يايها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم و ماوهم جهنم وبئس المصير،يحلفون بالله ماقالوا ولقد قالوا كلمة الكفر وكفروا بعد اسلامهم وهموابمالم ينالوا“
اس آیت میں منافقین کا عنوان صرف شناخت اور پہچان کے لئے رکھا ہے۔ ورنہ یہ سزا کلمہ کفر کہنے کی ہے اور اس آیت میں کئی مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ کلمہ کفر کہہ دینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کلمہ کفر ہزل کے طور پر کہنا بھی کفر ہے۔ تیسرا یہ کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔ ہمارے مخالفین نے نعمت اللہ خان مرتد کے قتل پر (جس کو افغانستان نے اس کے ارتداد کی وجہ سے یہ سزا دی) بہت شور مچایا اور اس کے اس فعل کو خلاف تعلیم قرآن بتلایا۔ وہ سمجھ لیں کہ افغانستان کا یہ فعل قانون اسلام اور قرآن کی تعلیم کے مطابق کس قدر ٹھیک اور درست ہے۔ ہم اس کے متعلق مزید دلائل میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔
وَمَنْ شَكَّ قُلْ هَذَا لَأَوَّلَ ثَانِ
”انبیاء کی توہین کرنے والا کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ پہلے کا دوسرا ہے۔“
اس شعر میں مرزا کے کفر کی وجوہات میں سے ایک وجہ کفر کو سمجھایا گیا ہے۔ یعنی اس نے انبیاء علیہم السلام کی توہین و تذلیل کی ہے۔ جو اس کے کفر کی علت اور سبب ہے اور اس کے کفر میں شک کرنے والی ایک دوسری جماعت (لاہوری) کے کفر کی بھی تصریح فرمائی ہے۔ ہم اس جگہ فقہاء امت کے چند اقوال ہر ایسے شخص کی تکفیر میں جو انبیاء علیہم السلام کی توہین کرے نقل کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ امام ابو یوسف اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں: ”ایما رجل مسلم سب رسول الله ﷺ اوکذبه وعابه اوتنقصه فقد كفر بالله تعالى وبانت منه ٦
زوجته “ جس مسلمان نے رسول اللہ یا آپ ﷺ کی تنقیص کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جدا ہوگئی۔ ﴾
ابن حزم کتاب الفصل میں فرماتے ہیں
بالله تعالى او بملك من الملائكة او بنبى م القرآن او بفريضة من فرائض الدين الحجة اليه فهو كافر“
”نص قرآن سے ثابت ہے کہ جس شخص کے میں سے کسی فرشتہ کے ساتھ یا نبیوں میں سے کے ساتھ فرائض دین سے جو کل آیات اللہ ہیں، مج انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے والے
”اجمع المسلمون ان شاتما کفر“
”مسلمانوں کا اجماع ہوا کہ نبی کریم عذاب اور کفر میں شک کرے کافر ہے۔“
”اور اس سے بھی بڑھ کر وہ شخص کافر ہو چکی تھی جو کسی صورت ممکن نہیں تھی۔“
ہم مرزا کی ان عبارتوں سے جن میں ہیں۔ جن کو دیکھ کر ہر وہ شخص جو تھوڑی سی بھی ا قدر صاف اور کھلے لفظوں میں ہے اور اپنی نبوت قرار دیتے اور اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا حکم
١....... ”الہامات میں میری نسبت بار ہا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہ
٢....... ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے۔
زوجته " "جس مسلمان نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی یا آپ ﷺ کو جھٹلایا یا عیب لگایا یا آپ ﷺ کی تنقیص کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور کافر ہوا اور اس سے اس کی عورت جدا ہو گئی۔﴾
ابن حزم کتاب الفصل میں فرماتے ہیں: ”وصح بالنص ان كل من استهزا بالله تعالى او بملك من الملائكة او بنبى من الانبياء عليهم السلام او بآية من القرآن او بفريضة من فرائض الدين فهى كلها آيات الله تعالى بعد بلوغ الحجة اليه فهو كافر"
(الفصل ج ٤ ص ٢٧٥)
"نص قرآن سے ثابت ہے کہ جس شخص نے استہزا کیا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا فرشتوں میں سے کسی فرشتہ کے ساتھ یا نبیوں میں سے کسی نبی کے ساتھ یا کسی آیت قرآنی یا کسی فرض کے ساتھ فرائض دین سے جو کل آیات اللہ ہیں، حجت پہنچ جانے کے بعد پس وہ کافر ہے۔"
انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے والے کی تکفیر پر شفاء میں اجماع مسلمین منقول ہے۔ " اجمع المسلمون ان شاتمه ﷺ كافر و من شك في عذابه وكفره كفر"
(شفاء قاضی عیاض ج ٢ ص ١٩٠)
" مسلمانوں کا اجماع ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والا کافر ہے اور جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے کافر ہے۔"
"اور اس سے بھی بڑھ کر وہ شخص کافر ہے جس نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا حالانکہ نبوت ختم ہو چکی تھی جو کسی صورت ممکن نہیں تھی۔"
ہم مرزا کی ان عبارتوں سے جن میں دعویٰ نبوت ہے، چند مختصر عبارتیں نقل کئے دیتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر ہر وہ شخص جو تھوڑی سی بھی اردو لکھ پڑھ لیتا ہے، سمجھ لے گا کہ دعوائے نبوت کس قدر صاف اور کھلے لفظوں میں ہے اور اپنی نبوت کے نہ ماننے والے کو صریح الفاظ میں کافر اور جہنمی قرار دیتے اور اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں، ہفوات مرزا:
- ......١ "الہامات میں میری نسبت بار ہا بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا
کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔"
(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
- ......٢ "یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے۔ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف
٧
ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسواء جس قدر ملہم اور محدث ہیں تو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘
(حاشیہ تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)
- ٣....... ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اسی کی طرف سے
ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی نبوت ثابت ہو جائے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
- ٤....... ”پس یاد رکھو کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی
مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)
ان صاف اور صریح عبارتوں کے بعد جس کے دماغ میں ذرہ برابر بھی عقل ہے۔ جس کے دل میں کچھ بھی انصاف ہے، یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ مرزا نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا وہ تو مجدد ہے یا محدث ہے۔ مگر ایسا شخص جس کے قلب پر حق تعالیٰ نے ضلالت اور گمراہی کی مہر لگا دی ہو جس کی قوت باصرہ اور سامعہ کو سلب کر دیا ہو اور: ”خَتَمَ اللهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَه “ کا مصداق بن گیا ہو۔ اب ہم لاہوری جماعت سے پوچھتے ہیں کہ جب مرزا نے صاف صاف بآواز بلند یہ کہہ دیا کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا ان ہی نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لے کر آئے ہوں اور پھر مرزا قادیانی بھی اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہوں تو وہ بھی صاحب شریعت اور احکام جدیدہ لانے والے ہوئے اور ان کو بھی نبی نہ ماننے والا کافر اور جہنمی ٹھہرا۔ لہٰذا لاہوری جماعت مرزا کے قول کے مطابق کافر اور جہنمی ہوئی کیونکہ وہ مرزا کو نبی نہیں مانتی اور محض مجدد یا محدث ماننے سے ان کو کفر سے نجات نہ ملی۔ اب دوسری جانب اہل اسلام سے بھی اپنے متعلق فتویٰ سن لیں۔
”اور جس نے اس کے قول کی تاویل یا اس کی طرفداری کی۔ وہ بھی یقیناً بلا توقف کافر کہا جائے گا۔“
کسی مدعی نبوت اور یقینی کفر بکنے والے کے قول میں تاویل کرنا یا اس کے قائل کی تحسین کرنا بھی ویسا ہی کفر ہے جیسا کہ اس کلمہ کفر کا کہنا کفر ہے۔ بحر الرائق میں ہے۔
٨
”من حسن کلام اهل الاهواء وقا ان كان ذلك كفرا من القائل كفر المحسن“
”جس نے اہل بدعت کے کلام کی تحسین ک کلام کے معنے صحیح ہیں پس اگر یہ امر کہنے والے کے لئے
ابن حجر اپنی کتاب اعلام میں فرماتے ہیں: ” من استحسنه او رضى به يكفر، الاعلام بق ہوا۔ پس جو شخص اس کو اچھا سمجھے یا اس سے راضی ہو کافر
”غالباً تم مجھ سے پوچھو گے وہ کیوں کافر با توفیق کے لئے ظاہر ہیں۔“
اس شعر میں مؤلف دام ظلہ کا مقصود اس ا مدعیان نبوت کے واقعات اور ان کے متعلق علماء امت نظائر ہیں جن سے مرزا قادیانی کے لئے بھی کفر کا فتویٰ
”تمہارا اس شخص کے حق میں کیا عقیدہ کے حق میں ایسی مہربانی کی جو مسیلمہ ذلیل اور رسوا ہ
”پس وہ کہنے لگا کہ مسیلمہ کے لئے بھی ت مجرم نہیں ہے۔“
”اور کیا کوئی منہ زور مسیلمہ اور اس جھوٹے نبی میں ف کرے۔“
”مسیلمہ کے کفر کی وجہ سے باوجود ا وجہ ہر وقت ہوئی ہے۔“
٩
”من حسن کلام اهل الاهواء وقال معنوی او کلام له معنى صحيح ان كان ذلك كفرا من القائل كفر المحسن“
(بحر الرائق ج ٥ ص ١٢٤)
”جس نے اہل بدعت کے کلام کی تحسین کی۔ یا کہا کہ کوئی معنوی امر ہے یا اس کے کلام کے معنے صحیح ہیں پس اگر یہ امر کہنے والے کے لئے کفر ہے تو تحسین کرنے والا کافر ہے۔“
ابن حجر اپنی کتاب اعلام میں فرماتے ہیں: ”من تلفظ بلفظ الکفر یکفر فکل من استحسنه او رضى به يكفر، الاعلام لابن حجر “ جس شخص نے کلمہ کفر کہا، کافر ہوا۔ پس جو شخص اس کو اچھا سمجھے یا اس سے راضی ہو کافر بن جائے گا۔
”غالباً تم مجھ سے پوچھو گے وہ کیوں کافر ہے۔ تو تم لے لو نقلیں اس کے کفر کی جو با توفیق کے لئے ظاہر ہیں۔“
اس شعر میں مؤلف دام ظلہ کا مقصود اس امر کو سمجھانا ہے کہ آئندہ اشعار میں جھوٹے مدعیان نبوت کے واقعات اور ان کے متعلق علماء امت کے فیصلہ جو تسلیم کئے گئے ہیں۔ وہ مرزا کے نظائر ہیں جن سے مرزا قادیانی کے لئے بھی کفر کا فتویٰ لیا جائے۔
”تمہارا اس شخص کے حق میں کیا عقیدہ ہے جس نے ۔ مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے حق میں ایسی مہربانی کی جو مسیلمہ ذلیل اور رسوا ہے۔“
”پس وہ کہنے لگا کہ مسیلمہ کے لئے بھی تاویل ہے یا کہا کہ مسیلمہ نبی نہ تھا وہ تو مہدی تھا مجرم نہیں ہے۔“
”اور کیا کوئی منہ زور مسیلمہ اور اس جھوٹے نبی میں فرق کر سکتا ہے اور اگر کوئی مدعی فرق ہے تو بیان کرے۔“
”مسیلمہ کے کفر کی وجہ سے باوجود اور بہت سے مخترعات کے دعوائے نبوت ہی مشہور وجہ ہر وقت ہوئی ہے۔“
٩
احادیث نبی میں اور اس کے بعد تمام جن وانس میں دعوائے نبوت ہی اس کے کفر کی وجہ متواتر رہی۔“
”مسیلمہ کے کفر کی وجوہ اور ہوں یا نہ ہوں مگر بڑی چلتی ہوئی مشہور وجہ دعوائے نبوت ہے جیسے مانی (کذاب) کی کفر کی وجہ دعویٰ نبوت تھی۔“
مانی کذاب مدعی نبوت کی طرح مسیلمہ کذاب کی تکفیر کا سبب بھی ادعا نبوت ہوا ہے اور دونوں باتفاق امت دعویٰ نبوت کی بناء پر کافر قرار دیئے گئے اور قتل کئے گئے۔
”اور سب سے پہلا اجماع جو ہمارے علم میں ثابت ہوا ہے وہ مسیلمہ کی تکفیر اور ان کی عورتوں کو اسیر کر لانے میں ہوا ہے۔“
مسیلمہ، نبی کریم ﷺ کے آخری زمانہ میں مدعی نبوت ہوا اور آنجناب ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق نے مسیلمہ پر چڑھائی کی اور نصرت و کامیابی کے ساتھ قتال کیا اور ان کی عورتوں کو اسیر کر کے لائے۔
”باوجودیکہ مسیلمہ نبی خیر البشر کی نبوت کا اپنے قول اور اذان میں اعلان اور اقرار کرتا تھا۔“
مسیلمہ بھی نبی کریم ﷺ کی نبوت کو مانتا تھا۔ مگر یہ کہتا تھا کہ مجھے بھی نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس نے جو خط نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا اس میں لکھا تھا (رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ ہے کہ میں اس امر میں شریک ہو گیا ہوں ۔ یعنی (مجھ کو نبوت میں خدا کی طرف سے شریک کیا گیا ہے ) اور مسیلمہ کے یہاں اذان میں بھی ”اشهد ان محمد رسول اللہ“ پڑھایا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ مسیلمہ نے اپنے مؤذن سے کہا کہ اذان میں ”اشهد ان مسيلمة رسول الله“ بھی ملا لیا کرو۔ مؤذن نے بجائے اس کلمہ کے یوں پڑھا ”واشهد ان مسيلمة يزعم انه رسول الله“ یعنی مسیلمہ کا خیال ہے کہ میں بھی رسول اللہ ہوں اور واقع میں نہیں۔ جب مسیلمہ جیسے شخص کی تکفیر باوجود اقرار نبوت خیرالانبیاء کی گئی تو مرزا کی تکفیر میں جبکہ وہ مدعی نبوت اور صاحب شریعت ہونے کے علاوہ تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت کا بھی دعوے دار بنتا ہے، کون امر مانع ہو سکتا ہے۔
١٠
خاتم الانبیاﷺ پر فضیلت کے دعوے
- ١......
له خسف القمر المنير وان لي غسـ ”اس کے لئے (یعنی نبی کریم) کے لئے چانـ لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔۔۔
- ٢...... ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی
باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اوـ ہو اور اس کی طرف خدائے تعالیٰ کے اس قول میں اشارـ بعبده“
- ٣...... ”لولاك لما خلقت الافلاك“
- ٤...... ”ما ارسلناك الا رحمة للعالميـ
فسوف تعلمون“
- ٥...... اور مجھے بتلایا گیا کہ تیری خبر قرآن اور حدـ
مصداق ہے کہ : ”هوالذی ارسل رسوله بالهدی كله“
حضرت آدم اور حضرت نوح علیہم السلام پر
- ٦...... ”ان الله خلق ادم وجعله سيدا وحـ
الانس والجان كما يفهم من اية اسجد والا الجنان ورد الحكومة الى هذا الثعبان و مـ العوان وان الحرب سجال وللا تقياء الموعود ليجعل الهزيمة على الشيطان في القران“ (حاشیه در حاشـ
جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیـ جن و انس پر بنایا ۔ جیسا کہ آیت اسجد دالا دم سے سـ پھسلا دیا اور جنت سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدھا لڑائی میں حضرت آدم کو ذلت اور رسوائی نے چھوا اـ
١١
خاتم الانبیا ﷺ پر فضیلت کے دعوے
- ١......
”اس کے لئے (یعنی نبی کریمؐ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
- ٢...... ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح
باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اس کی طرف خدائے تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے : ”سبحان الذی اسری بعبدہ“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨)
- ٣...... ”لولاک لما خلقت الافلاک“
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٥)
- ٤...... ”ما ارسلناك الا رحمة للعالمين اعملوا على مكانتكم انى عامل
فسوف تعلمون“
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ٥...... اور مجھے بتلا دیا گیا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا
مصداق ہے کہ: ”هو الذی ارسل رسوله بالھدى ودین الحق لیظهره علی الدین کله“
(تذکرہ ص ٤٥ طبع سوم)
حضرت آدم اور حضرت نوح علیہم السلام پر بھی فضیلت کا دعویٰ
- ٦...... ”ان الله خلق ادم وجعله سيدا وحكما واميرا على كل ذي روح من
الانس والجان كما يفهم من اية اسجدوا لادم ثم ازله الشيطان واخرجه من الجنان ورد الحكومة الى هذا الثعبان و مس آدم ذلة وخزى فى هذا الحرب العوان وان الحرب سجال وللا تقياء مال عند الرحمن فخلق الله المسيح الموعود ليجعل الهزيمة على الشيطان فى اخر الزمان وكان وعدا مكتوبا فى القرآن“
(حاشیہ در حاشیہ خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ٣١٢ حاشیہ)
جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور سردار اور حاکم اور امیر ہر ذی روح جن و انس پر بنایا۔ جیسا کہ آیت اسجدولآدم سے سمجھا جاتا ہے۔ پھر حضرت آدم کو شیطان نے پھسلا دیا اور جنت سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدھا یعنی شیطان کی طرف لوٹائی گئی اور اس سخت لڑائی میں حضرت آدم کو ذلت اور رسوائی نے چھوا اور لڑائی ڈول کھینچنا ہے اور بزرگوں کے لئے
١١
مآل ہے رحمٰن کے نزدیک۔ پس اللہ نے پیدا کیا مسیح موعود کو تا کہ شیطان کو شکست دے آخر زمانہ میں اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا تھا۔
- ٧...... ”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں
وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“
(تحفہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧، خزائن ج٢٢ ص ٥٧٥)
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افضل ہونے کا دعویٰ
- ٨...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں
بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو جو کام میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوا ہے وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨، خزائن ج٢٢ ص ١٥٢)
مرزا نے اس مسیح موعود کی تفسیر دافع البلاء میں ”غلام احمد قادیانی“ کی ہے۔
- ٩...... ”اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود
بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج١٨ ص ٢٣٣)
- ١٠......
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج١٨ ص ٢٤٠)
تمام انبیاء علیہم السلام پر افضلیت کا دعویٰ
- ١١...... ”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے
نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کردی۔ اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔“
(تحفہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦، خزائن ج٢٢ ص ٥٧٤)
مرزا کا اس عبارت میں باستثناء نبی کریم ﷺ کے تمام نبیوں سے معجزات میں زیادتی کا دعویٰ ہے اور گو بظاہر اس عبارت میں نبی کریم ﷺ سے معجزات کی زیادتی کا ادعاء نہیں۔ لیکن دوسری عبارات دیکھنے سے ناظرین کو معلوم ہو جائے گا کہ نبی کریم ﷺ کے علیحدہ کرنے میں محض امت مرحومہ کے لبھانے کی غرض مخفی ہے۔ جو دوسری جگہ ظاہر ہوگئی۔ سچ ہے دروغ گورا حافظہ نہ باشد۔ دیکھو (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج١٩ ص ١٨٣) پر کیا لکھا اور تتمہ حقیقۃ الوحی اور براہین احمدیہ
١٢
٥
میں کیا لکھتا ہے۔ دیکھو تحفہ گولڑویہ کے (ص ٤٠) معجزے ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آ البدر مطبوعہ جولائی ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں کہ ”جو م ہیں اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں گزر ص ٧٢) میں دس لاکھ سے زائد معجزات کی تعداد ”ان چند سطور میں جو پیشین گوئیاں سے زائد ہیں اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اول ص ٧٢) اور پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں: ”مجھے اس خ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا ن
تتمہ حقیقۃ الوحی میں خدا کی قسم کھا بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچ
ہر شخص ان تمام عبارتوں کے دیکھ استثناء مرزا کے مافی الضمیر کے خلاف ظاہراً لو سربستہ راز آئندہ کھل گیا۔ وَمَا قَوْلُكُمْ فِى الْعِيْسَوِيَّةِ اَوَّلُوْا ”تمہارا کیا فتویٰ ہے فرقہ عیسویہ م امیوں ہی کے لئے ہے۔“ عیسیٰ اصبہانی ایک شخص کا نام ہے جماعت کو عیسویہ کہا جاتا ہے۔ اس شخص کا خیال مگر آپ ﷺ کی بعثت اور رسالت صرف امی نہیں بھیجے گئے۔ اس شعر میں بھی مرزا کے تاویلات
میں کیا لکھتا ہے۔ دیکھو تحفہ گولڑویہ کے (ص٤٠، خزائن ج١٧ ص١٥٣) میں لکھتے ہیں کہ ”تین ہزار معجزے ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے۔“ اور اپنے معجزات و نشان کے متعلق اخبار البدر مطبوعہ جولائی ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں کہ ”جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں گزرتا اور۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٥٦، خزائن ج٢١ ص٧٢) میں دس لاکھ سے زائد معجزات کی تعداد بتلائی جاتی ہے۔
”ان چند سطور میں جو پیشین گوئیاں ہیں۔ وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زائد ہیں اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اول درجہ خارق ہیں۔“ (براہین احمدیہ ص٥٦، خزائن ج٢١ ص٧٢) اور پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں: ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائید میں ظہور میں آئے۔ اگر ان کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا جو اس کی فوج گواہوں سے زیادہ ہو۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٥١، خزائن ج٢١ ص٧٢)
تتمہ حقیقت الوحی میں خدا کی قسم کھا کر لکھتے ہیں: ”اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٨ خزائن ج٢٢ ص٥٠٣)
ہر شخص ان تمام عبارتوں کے دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی استثناء مرزا کے مافی الضمیر کے خلاف ظاہر لوگوں کے سامنے اپنے بچاؤ کی غرض سے تھی۔ جس کا سربستہ راز آئندہ کھل گیا۔
”تمہارا کیا فتویٰ ہے فرقہ عیسویہ میں جو یہ کہتا ہے کہ نبی خیر الکائنات کی رسالت صرف امیوں ہی کے لئے ہے۔“
عیسیٰ اصبہانی ایک شخص کا نام ہے۔ جس کی طرف نسبت کر کے یہودیوں کی ایک جماعت کو عیسویہ کہا جاتا ہے۔ اس شخص کا خیال تھا کہ جناب رسالت مآب ﷺ رسول برحق ہیں۔ مگر آپ ﷺ کی بعثت اور رسالت صرف امیوں ہی کی طرف ہوئی ہے۔ ہمارے لئے رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے۔
اس شعر میں بھی مرزا کے تاویلات کفریہ کی نظیر ہے۔
١٤
”اور کون سی جگہ ہے جہاں ملحد تاویل نہ کر سکے اور کون ہے جو تاویل کرنے والے کی زبان بالکل بند کر دے۔“
اپنے کلام کی ادھیڑ بن کر کے ہر شخص کو تاویل کر لینے کی گنجائش ہے لیکن کیا ایسی لچر اور پوچ تاویلوں سے رہائی ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب مرزائی جماعت کتنا ہی اپنے کلام کی توجیہات اور تاویلیں کریں ان کو توبہ اور رجوع الی الحق کے سوا چارہ نہیں اور نہ وہ بغیر اس کے کفر کی لعنت کے طوق سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مضل مرزا نے ضروریات اور متواترات فی الدین کا انکار کیا ہے۔ جن میں تاویل کی گنجائش نہ تھی۔
”اور کیا ضروریات دین میں تحریف کر کے تاویل کرنا صریح کفر نہیں ہے؟“
”جو ضروریات دین کے منکر کی تکفیر نہیں کرتا وہ انکار ضروریات کو اپنے سر لیتا ہے۔“
”دین تو صرف ایک بیعت معنویہ ہے وہ نسبوں کی طرح چلنے والا نہیں ہے۔“
ان دو اشعار میں مرزا اور اس کے ماننے والی جماعت کے کفر کی تیسری وجہ بیان کی گئی ہے۔ ختم نبوت اور ختم رسالت اور ختم شریعت کا مسئلہ ایک اجماعی اور قطعی اور ضروریات و متواترات فی الدین سے مانا گیا ہے۔ جس کا منکر باول قطعا کافر ہے۔ جس کے متعلق ہم علماء کی عبارتیں نقل کرتے ہیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں: ” ان الامة فهمت من هذا اللفظ انه افهم عدم نبى بعده ابدا وعدم رسول بعده ابدا وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص ومن اوله بتخصيص فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفيره لانه مكذب لهذا النص الذي اجتمعت الامة على انه غير مأوّل و لا مخصوص “
(کتاب الاقتصاد ص ١٢٣ ملخص)
”امت نے اس لفظ سے سمجھا یعنی آیت (ولکن رسول اللہ خاتم النبیین) اور اللہ نے سمجھا دیا کہ کوئی نبی آپ کے بعد کسی وقت اور کوئی رسول آپ کے بعد کسی وقت اور یہ کہ نہ اس میں تاویل ہے اور نہ تخصیص اور جو کوئی تاویل کر کے تخصیص کرے اس کا کلام جنون کی قسم ہے جو اس کی تکفیر کے حکم کو نہیں روکتا کیونکہ وہ ایسی آیت کا مکذب ہے جس پر بلا تاویل و تخصیص امت کا اجماع ہے۔“
١٤
”(جاحد المجمع عليه من الدين بالضرورة) وهو ما يعرفه، الخواص والعوام من غير قبول للتشكيك كوجوب الصلوة والصوم وحرمة الزنا والخمر (كافر قطعا) لان جحده يستلزم تكذيب النبى ﷺ“
(شرح جمع الجوامع ص ١٣٠ ج ٢)
”دین کے مجمع علیہ ضروری مسئلہ کا انکار کرنے والا کافر قطعی ہے۔ ضروری وہ ہے کہ جس کو خواص اور عوام نے بغیر شک کے قبول کر لیا جیسے وجوب صلوٰۃ اور صوم اور حرمت زنا و خمر کیونکہ اس کا انکار نبی کریم ﷺ کی تکذیب کو مستلزم ہے۔“
”والقول الموجب للكفر انكار مجمع عليه فيه نص ولا فرق بين ان يصدر عن اعتقاد وعناد “ كليات ابى البقا ”لان الكفر هو جحد الضروريات من الدين او تاويلها “
(ايثارالحق على الخلق حافظ محمد ابراهيم يمانى)
”مسئلہ مجمع علیہ کا انکار موجب کفر ہے جس میں نص ہو اور اعتقاد اور عناد کا کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ کفر ضروریات دین کا انکار یا اس میں تاویل کرنا ہے۔“
”وان كان مع اعترافه بنبوة النبى ﷺ وسلم يبطن عقائد هي كفر بالاتفاق فهو الزنديق “
(كليات ابي البقاء)
”جو شخص باوجود اقرار نبوت نبی ﷺ باطن میں ایسے عقائد رکھتا ہے جو بالاتفاق کفر ہیں وہ زندیق ہے۔“
”مشرکین بھی نبی کریم ﷺ کی تکذیب نہیں کرتے تھے پڑھ لو ولکن الظالمین الخ مگر خدا نے مآل اور انجام کے اعتبار سے ان کو منکر قرار دیا۔“
اس شعر میں اس آیت کا اقتباس ہے: ”فانهم لا يكذبونك ولكن الظلمين بايت الله يجحدون“ یعنی اے محمدؐ کفار تیری تکذیب نہیں کرتے لیکن وہ خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔
گو کفار نے نبی کریم ﷺ کو جھوٹا نہ کہا یا آپ ﷺ کے مقولوں کو نہ جھٹلایا کیونکہ آپ ﷺ کی راست بازی اور سچائی کو ہر ایک جانتا تھا۔ لیکن انہوں نے خدا کی آیتوں سے جحود کیا اور خدائی احکام کو بالآخر نہ مانا۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ان پر کفر کا الزام ہوا اور انجام کار ان کو آیتوں کا منکر قرار دیا۔
١٥
مؤلف کی غرض اس میں مرزا کے کفر کی چوتھی وجہ بیان کرنی ہے۔ کیونکہ اس کی نبوت سے خدا کی آیتوں کا انکار لازم آتا ہے۔
”ساباط کے رہنے والے حجام کی طرف ایک نازنینوں کے پچھاڑے ہوئے نے تہمت بے کاری سے بچنے کی وجہ سے دعویٰ نبوت کیا۔“
ساباط ایک جگہ کا نام ہے۔ یہاں ایک حجام رہتا تھا جس کی عادت تھی کہ اپنی ماں کو چوراہے پر بٹھا کر اس کی حجامت بنایا کرتا تا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ یہ بے کار ہے اور اس کے پاس کوئی حجامت بنوانے نہیں آتا۔ اسی طرح مرزا قادیانی کو بھی سوجھی کہ مدعی نبوت ہی بن جاؤ۔ اسی دام میں آ کر مخلوق خدا پھنس جائے گی۔ مرزا قادیانی نے صرف دعویٰ نبوت ہی نہیں کیا بلکہ کرشن ہونے کا بھی دعویٰ کیا تا کہ ہندو بھی علیحدہ نہ ہوسکیں۔ سچ ہے بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟
”اور اس کا معجزہ ایک منکوحہ آسمانی ہے جس کو منتر ”اطرق کرى اطرق کرى ان النعامة فى القرى“ کہہ کر پانے کی امید کرتا ہے۔“
منکوحہ آسمانی سے محمدی بیگم کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ جس پر مرزا قادیانی کی رال ٹپک گئی تھی اور بہت سی تدبیریں کیں کہ کسی طرح یہ شکار ہاتھ آئے۔ اوّل اس کے والد سے بذریعہ خطوط گفت و شنید کی۔ اس کے بعد معجزہ کی دھمکی دی۔ مدتوں الہامات میں نکاح کے مدعی رہے۔ اس کے بعد وعید کا بھی خوف دلایا۔ نکاح ہونے کو قضاء مبرم بھی ٹھہرایا۔ الغرض جو کوشش امکان میں تھی، کی گئی۔ مگر وہ نیک بی بی اور اس کے والد بزرگوار ان الہامات اور معجزات کی حقیقت خوب جانتے اور سمجھتے تھے کہ یہ سب نفس کی خواہشات پورا کرنے کے ذرائع ہیں۔ کسی طرح بھی اس کے دام میں نہ آئے اور مرزا اس حسرت و آرزو کو اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ اب ہم منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا کے وساوس کو اس کی کتابوں سے ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
مرزا کے وساوس معہ حوالہ کتب
- ١...... ”اوّل خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد گاما
بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور مانع ہوں گے اور کوشش کریں گے ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے
اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک مانع کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کی باتوں کو ٹال سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
اور جب محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ ہو گیا تو یہ الہام تراشا۔
- ٢...... ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار
کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
- ٣...... ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد ذات سے بدتر ٹھہروں
گا۔ اسے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہ ہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہ ہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں۔ ورنہ تم اس قدر جلد بے ایمان نہ ہوتے۔ کیا براہین احمدیہ میں اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی خبر نہیں دی گئی؟ کیا تم نے اس کو پڑھا نہیں۔ وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے ص ٤٩٦ میں درج ہے اور وہ یہ ہے: كذبوا بآياتنا وَزَوَّجْنٰكَهَا الخ“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
- ٤...... ”سوچنا چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیش گوئی کے التوا میں پڑنے سے کیوں اتنی
خوشحالی ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا یہ مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
- ٥...... ”١٨٩١ء میں اس عاجز کو سخت بیماری آئی یہاں تک کہ سولہ دن تک دست آتے رہے اور
موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ آج کل ہی میں آخری دم نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا (نکاح محمدی بیگم) تو الہام ہوا: ”الحق من ربك فلاتكونن من الممترين“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠)
اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ ہو کر اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھادے گا اور اس کام کو پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
اور جب محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ ہو گیا تو دوسرا تیار شدہ الہام سنئے :
- ٢....... ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار
کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔“
(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
- ٣....... ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں
گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقین سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہ ہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آتا ہے۔ براہین احمدیہ میں اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ جو میرے پر کھولا گیا اور وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے ص ٤٩٦ میں مذکور ہے: ”یا ادم اسكن انت وزوجك الجنة الخ“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
- ٤....... ”سوچنا چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد
گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
- ٥....... ”١٨٩١ء میں اس عاجز کو سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ موت تک نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ
موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا۔ تب اسی حالت میں مجھے الہام ہوا: ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
١٧
"اور اس منکوحہ کے قصہ میں شیطان نے مرزا کو اپنی وحی سے آسائش اور منگنی اور وصل کی آرزو دلائی۔"
"رب السموات نے اپنی طاقت اور قوت سے اس کو خوب ہی رسوا کیا اور اس میں ہم کو اللہ کافی ہوا۔"
خدا کا ہزار ہزار شکر ہے جس نے اپنی قوت سے ایک خدا پر افتراء کرنے والے کذاب اور مفتری کو اسی کے قول کے موافق بد سے بدتر، خبیث، مفتری ٹھہرایا اور خوب رسوا کر کے منہ کالا کیا اور دنیا میں ہی اس کی ناک کٹ گئی اور سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور مسلمانوں پر اس بے نیاز خدا نے فضل فرمایا کہ مرزا کو داماد احمد بیگ کے سامنے موت دے دی۔
"مرزا اس معاملہ میں مدتوں وحی کا دعویٰ کرتا رہا اور بالآخر وحی مثل حرکت ظربان کے نکلی۔"
١؎ جانور بد بودار مشابہ بلی۔
"مرزا کو دو شیطانوں نے ایک زمانہ تک پھسلایا اور اس نے یہ نہ جانا کہ اس میں دو شیطان وفا نہیں کریں گے۔"
وہ شیطانوں سے مراد اس کے دو مرید ہیں جن کو دو فرشتے کہتا تھا۔
"اور اس کو تو اپنی طویل زندگی میں سوائے برگزیدہ لوگوں کی ہجو اور لعنت کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔"
"کافر فحش گو اصل بنے ہوئے نے انبیاء کی آبروریزی میں خوب مزہ لوٹا جو خود ہی حقیقی معنی سے نفس الامر میں ذلیل تھا۔"
مرزا کی ساری زندگی برگزیدہ لوگوں کی ہجو ہی میں گزری اور ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کی توہینیں ہی کر کے مزہ اٹھایا۔ ہم اگر مرزا کی عبارتوں سے محض ان کلمات ہی کو جمع کرنا شروع کر دیں جو انبیاء علیہم السلام کی تنقیص اور توہین میں ملتی ہیں تو غالب گمان یہ ہے کہ ایک بڑی مستقل
١٨
کتاب بن جائے۔ اس لئے یہاں بھی ہمارا خیال تھا کہ مرز پیش کر دیں لیکن تطویل کا خوف مانع ہے۔
"ان کو انبیاء علیہم السلام پر طعن کرنے میں لذت زبانی بنایا ہوا ہے۔"
"مرزا مسیح ابن مریم پر اصطلاحیں گھڑ گھڑ کر طعن ہے۔ جیسے دو حقیقی بھائی ایک دوسرے کو گالی دیں دوسری کی ما
"اور یہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے دشمن کے جماعت کے روبرو اس کو سخت گالیاں عداوت سے دے رہا تھ
"پس اس دشمن گالیاں دینے والے نے اس کو پھر اخیر میں میری نیند سے آنکھ کھل گئی۔"
مرزا نے بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو کر کے دل کا غبار نکالا ہے اور کتب محرفہ میں جو چیزیں کبھی ملتی رہیں ان کو نقل کر کے حواشی چڑھائے اور رائی کے ناکام و ناکامیاب ثابت کرنے کی ہی کوشش کی اور خدا واقعات جو عصمت انبیاء علیہم السلام پر دھبہ لگانے والے ثبوت تھے۔ کیونکہ عصمت انبیاء علیہم السلام کا مسئلہ قطعی او قسم کے واقعات کو مخالفین کی کتابوں کے محرف ہو جانے کی لیکن یہ شعور کیوں ہوتا خدا نے اس کی عقل اس نبوت کی ہوس پڑی ہوئی تھی۔ اسی کو کامیاب بنانے اور جس طرح بھی ہو سکے انبیاء علیہم السلام کی ناکامیابی ک نشانات کو فوقیت دی جائے اور مرزا کی عادت ہے کہ جو کے خلاف اشیاء ملتی ہیں تو قطرہ کو دریا اور ذرہ کو سمـ
١٩
کتاب بن جائے۔ اس لئے یہاں بھی ہمارا خیال تھا کہ مرزا کی مزید کفریات کو مخلوق کے سامنے پیش کر دیں لیکن تطویل کا خوف مانع ہے۔
”ان کو انبیاء علیہم السلام پر طعن کرنے میں لذت آتی ہے اور طریقہ طعن دوسروں کی زبانی بنایا ہوا ہے۔“
”مرزا مسیح ابن مریم پر اصطلاحیں گھڑ گھڑ کر طعن کرتا ہے کہ اے نصاریٰ یہ جو تمہارا مسیح ہے ۔ جیسے دو حقیقی بھائی ایک دوسرے کو گالی دیں دوسری کی ماں کہہ کر۔“
”اور یہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے دشمن کے سامنے آیا ایسے حال میں کہ وہ ایک جماعت کے روبرو اس کو سخت گالیاں عداوت سے دے رہا تھا۔“
”پس اس دشمن گالیاں دینے والے نے اس کو خواب کی صورت میں ڈھال دیا اور کہا پھر اخیر میں میری نیند سے آنکھ کھل گئی۔“
مرزا نے بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو بہت ہی ہاتھ صاف کیا اور مطاعن بیان کر کے دل کا غبار نکالا ہے اور کتب محرفہ میں جو چیزیں بھی انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے خلاف ملتی رہیں ان کو نقل کر کے حواشی چڑھائے اور رائی کے دانہ کا پہاڑ بنا کر لکھا اور اپنے مقابلہ میں ناکام و ناکامیاب ثابت کرنے کی ہی کوشش کی اور خدا نے یہ سمجھنے کی توفیق نہ دی کہ اس قسم کے واقعات جو عصمت انبیاء علیہم السلام پر دھبہ لگانے والے ہیں۔ یہی ان کتابوں کی تحریف کا بین ثبوت تھے۔ کیونکہ عصمت انبیاء علیہم السلام کا مسئلہ قطعی اور مسلمات سے ہے اور علماء نے ہمیشہ اسی قسم کے واقعات کو مخالفین کی کتابوں کے محرف ہو جانے کی دلیل بنایا ہے۔
لیکن یہ شعور کیوں ہوتا خدا نے اس کی عقل پر تو پہلے ہی سے پردہ ڈال دیا تھا اس کو تو اس نبوت کی ہوس پڑی ہوئی تھی۔ اسی کو کامیاب بنانے کے درپے تھا۔ چاہے ایمان رہے نہ رہے اور جس طرح بھی ہو سکے انبیاء علیہم السلام کی ناکامیابی اور ناقابلیت ظاہر کر کے اپنی نبوت اور اپنے نشانات کو فوقیت دی جائے اور مرزا کی عادت ہے کہ جب کتب محرفہ سے عصمت انبیاء علیہم السلام کے خلاف اشیاء لے لیتا ہے تو قطرہ کو دریا اور ذرہ کو صحرا بنا کر خوب ہی مبالغہ کے ساتھ مخلوق کے
١٩
سامنے پیش کر دیتا ہے۔ جس سے ان کی ناکامی کا ثبوت اچھی طرح ہو جائے۔ والعیاذ باللہ! اور پھر کبھی ایک قانون داں بغاوت پھیلانے والے کی طرف قانونی بچاؤ بھی کر جاتا ہے اور سب کچھ کہہ بھی جاتا ہے۔ مگر کبھی زور میں آکر اپنے دل کی بات بھی کہہ دیتا ہے اور زہر اگل دیتا ہے۔ اب ہم دونوں اشعار کے تحت میں جو بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہیں، مرزا کی وہ عبارتیں لکھتے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی خصوصیت سے ناکامی و ناقابلیت بیان کی گئی ہے۔
عبارات مرزا
- ......١
”اور حضرت مسیح کی پیش گوئیوں کا سب سے بدتر حال ہے بارہا انہوں نے کسی پیش گوئی کے معنے کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔“
(ازالہ ص٧٩٠، خزائن ج٣ ص٤٧٢)
اس عبارت میں لفظ ’سب سے بدتر حال ہے‘ قابل غور ہے۔
- ......٢ (اعجاز احمدی ص١٣، خزائن ج١٩ ص١٢٠) ”اور یہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں
اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کو جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلیل قائم ہیں۔“ اور نیز اسی صفحہ پر لکھتے ہیں۔
- ......٣
”لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی (عیسیٰ علیہ السلام کی) پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کر سکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں۔ مگر یہاں ان کی نبوت بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“
(اعجاز احمدی ص١٣،١٤، خزائن ج١٩ ص١٢١)
ان عبارتوں میں تو مرزا نے پیش گوئیوں ہی کی تکذیب کی ہے۔ آئندہ معجزات کا بھی انکار ہے۔
- ......٤
”کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس
٢٠
میں کلوں کی ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں ک
(ازالہ اوہام ص
- ......٥
”اور ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں م
(ازالہ ص
- ......٦
”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے ب
(ازالہ
- ......٧
”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رو ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار بچ ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعد کے زمانہ میں جو دکھلائے۔ اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہ تھا۔“
(
- ......٨
”پھر جب خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیو کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسو ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقت
”اور کبھی نامرد کی طرح میدان خالی دیکھ کر ان ہی نقل کرتا تھا) واقعی اور حقیقی بنالیتا ہے۔“
”اور اسی اثناء میں مرزا کفر اگلتا ہے اور حضرت عیسیٰ کو ظاہر کرتا ہے۔“
”حال یہ ہے کہ نصاریٰ کے عہد قدیم و جدید کے جس کو مرزا نے اپنے خبث باطنی سے حق بنایا۔“
اس شعر میں مؤلف کا مقصود اس امر کو سمجھانا ہے بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کفریہ کلمات مرزا کی
٢١
میں کلوں کی ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
٥...... ’’اور ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔‘‘
(ازالہ حاشیہ ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
٦...... ’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(ازالہ حاشیہ ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
٧...... ’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے۔ جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار مجذوم و مبروص و مفلوج وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعد کے زمانہ میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے۔ اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہ تھا۔‘‘
(ازالہ ص ٣٢١، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
٨...... ’’پھر جب خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
’’اور کبھی نامرد کی طرح میدان خالی دیکھ کر ان ہی امور کو (جو دوسروں کے حوالہ سے نقل کرتا تھا) واقعی اور حقیقی بنالیتا ہے۔‘‘
’’اور اسی اثناء میں مرزا کفر اگلتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بغض دلی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
’’حال یہ ہے کہ نصاریٰ کے عہد قدیم وجدید کے محرف ہونے کی وجہ سے ایک شے تھی جس کو مرزا نے اپنے خبث باطنی سے حق بنایا۔‘‘
’’اس شعر میں مؤلف کا مقصود اس امر کو سمجھانا ہے کہ جو توہین انبیاء علیہم السلام کی اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کفریہ کلمات مرزا کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ وہ بطور الزام
٢١
نہیں کئے گئے۔ بلکہ اس کے نزدیک واقعی اور تحقیق حال اسی طرح ہے۔ اس کے ثبوت میں بھی ہم اسی کی عبارات ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
- ١....... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے
کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ)
اس عبارت میں فقرہ ”حق بات یہ ہے“ کو خیال کیا جاوے۔
- ٢....... ”ہم مسیح ابن مریم کو بیشک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر
لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واللہ اعلم!“
(دافع البلاء ٹائٹل پیج ص ٣، مطبوعہ ضیاء الاسلام ١٩٠٢ء خزائن ج ١٨ ص ٢١٩)
اس عبارت پر مرزا جی کا نوٹ ملاحظہ ہو:
- ☆....... ”یادرہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے بہت لوگوں کی
نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے۔“
- ٣....... ”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور
خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم رہنے نہ دیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
- ٤....... ”جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات
انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے۔ انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔“
(دافع البلاء ٹائٹل پیج ٣ مطبوعہ ضیاء الاسلام ١٩٠٢ء ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
ان عبارتوں کو پڑھنے کے بعد کون ہے جو یہ تردد کر سکے کہ مرزا نے جو کچھ لکھا وہ بطور الزام لکھا اور کس کی مجال ہے جو یہ کہہ سکے کہ عیسائیوں کو الزام دیا ہے جب کہ وہ اپنے نزدیک اپنے خیال اور عقیدہ کے موافق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسا ہی سمجھتا ہے جیسا کہ اس نے لکھا اور اس اخیر عبارت میں صاف صاف بتلا دیا کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کے موافق اگر چہ آسمان پر چڑھا دیں یا قرآن کے موافق پرندوں میں خدا کے حکم سے جان ڈالنے والا قرار
٢٢
کریں۔ ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ کے را دیکھنا یہ ہے کہ کس مسیح اور کس عیسیٰ کو قرآن نے آسمان حکم سے جان ڈالنے والا بتلایا عیسیٰ بن مریم کو یا کسی اور
”صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مالک ادنیٰ درجہ کا لفظ کہنے پر گرفت کر کے قتل کیا۔“ مالک بن نویرہ ایک شخص تھا۔ جس نے ”صاحبکم“ جو ادنیٰ اور گھٹیا درجہ کے لوگوں کے میں استعمال کیا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے واقعہ بھی بطور نظیر کے ہے۔
”امام ابو یوسفؒ نے ایک شخص کو اس کے نہیں اور وہ دقت معانی کا نہ تھا۔“
اس شعر میں بھی بطور نظیر امام ابو یوسفؒ ہے کہ امام ابو یوسفؒ ایک مرتبہ حدیث بیان فرمار اور رغبت سے کھایا کرتے تھے۔ اس پر ایک شخص جو لہجہ سے کہنے لگا کہ مجھے تو پسند نہیں جس پر امام موص توبہ کی جس سے اس کی معافی ہوئی۔
”امیر امان اللہ خان جلالت مآب عمل کر کے فیصلہ کیا۔“
اس شعر میں نعمت اللہ خان مرتد کے افغانستان کی جانب سے قتل کا فیصلہ دیا گیا تھا اور فیصلہ کا نفاذ ہوا ہے۔ مرزائی جماعت نے بہت کوشش کی۔ جس کے جواب میں حضرت مول دیوبند نے رسالہ الشہاب شائع کیا۔ جس میں
کریں۔ ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ کے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں۔“ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس مسیح اور کس عیسیٰ کو قرآن نے آسمان پر چڑھایا ہے اور کس کو پرندوں میں خدا کے حکم سے جان ڈالنے والا بتلایا عیسیٰ بن مریم کو یا کسی اور کو؟
”صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مالک بن نویرہ کو نبی کریم کی شان میں لفظ صاحبکم ادنیٰ درجہ کا لفظ کہنے پر گرفت کر کے قتل کیا۔“
مالک بن نویرہ ایک شخص تھا۔ جس نے جناب آنحضرت ﷺ کی شان میں لفظ ”صاحبکم“ جو ادنیٰ اور گھٹیا درجہ کے لوگوں کے حق میں استعمال کیا جاتا تھا۔ آپ ﷺ کے حق میں استعمال کیا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کے اس لفظ پر گرفت کی اور قتل کر دیا۔ یہ واقعہ بھی بطور نظیر کے ہے۔
”امام ابو یوسفؒ نے ایک شخص کو اس کہنے پر قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا کہ مجھے کدو پسند نہیں اور وہ وقت معافی کا نہ تھا۔“
اس شعر میں بھی بطور نظیر امام ابو یوسفؒ کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ ایک مرتبہ حدیث بیان فرمارہے تھے کہ نبی کریم ﷺ کدو کو پسند فرماتے تھے اور رغبت سے کھایا کرتے تھے۔ اس پر ایک شخص جماعت میں سے اٹھا اور بہت اونچی آواز اور سخت لہجہ سے کہنے لگا کہ مجھے تو پسند نہیں جس پر امام موصوف نے اس کے قتل کا حکم دیا اور بالآخر اس نے توبہ کی جس سے اس کی معافی ہوئی۔
”امیر امان اللہ خان جلالت مآب کی عادل حکومت نے اس مسئلہ میں حکم شریعت پر عمل کر کے فیصلہ کیا۔“
اس شعر میں نعمت اللہ خان مرتد کے قتل کی طرف اشارہ ہے۔ جس کے متعلق حکومت افغانستان کی جانب سے قتل کا فیصلہ دیا گیا تھا اور قرآن اور حدیث کے مطابق اسلام کی رو سے اس فیصلہ کا نفاذ ہوا ہے۔ مرزائی جماعت نے بہت شور مچا کر اس فیصلہ کو خلاف تعلیم قرآن بتانے کی کوشش کی۔ جس کے جواب میں حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی مدفیوضہ، مدرس دارالعلوم دیوبند نے رسالہ الشہاب شائع کیا۔ جس میں اس حکم کو قرآن کی آیات اور احادیث سے پوری
٢٣
تفصیل کے ساتھ مشرح فرمایا۔ جس کے دیکھنے کے بعد ہر منصف اہل دماغ سمجھ سکتا ہے کہ حکومت افغانستان کا یہ فیصلہ قرآن اور قانون اسلام کے بالکل مطابق ہے اور جس کے نظائر گزشتہ سلاطین اسلام کے یہاں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔
عبدالملک بن مروان نے حارث متنبّی ( جھوٹا مدعی نبوت ) کو قتل کرایا۔ اس کے ماسوا بہت سے خلفاء نے ایسے مجرموں کو یہی سزا دی ہے اور علماء نے ان کے افعال کی تصویب کی اور مخالف کی تکفیر۔ دیکھو میزان الکبریٰ میں شعرانی قتل مرتد پر اجماع نقل کرتے ہیں۔
”وقد اتفق الائمة على ان من ارتد عن الاسلام وجب قتله وعلى ان قتل الزنديق واجب وهوالذى يسرالكفر“
(میزان للشعرانی)
”تمام آئمہ کا اس پر اتفاق ہو چکا کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے اس کا قتل ضروری ہے اور اس پر اتفاق ہے کہ زندیق کا قتل واجب ہے اور زندیق وہ ہے جو باطن میں کفر رکھتا ہو۔“
شرح شفاء میں بھی علماء کا اجماع منقول ہے۔ ”اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبی ﷺ یقتل“
(شرح شفاء قاضی عیاض ج ٢ ص ٣٩٢)
”اجماع کیا عامہ اہل علم نے اس پر کہ جس شخص نے توہین کی نبی کریم ﷺ کی ، قتل کیا جائے۔“
اور دوسری جگہ ہے: ”من سب الله تعالى او انبياءه قتل“
(شرح شفاء ج ٢ ص ٣٨٩)
”جس نے اللہ کی اور اس کے ملائکہ اور انبیاء کی توہین کی ، قتل کیا جائے۔“
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”من سب الله او سب احدا من الانبیاء فاقتلوه “ جس نے اللہ کی یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کی توہین کی اس کو قتل کر دو۔
”مرزا بوڑھا ہو گیا دنیا کے خس و خاشاک جمع کرنے میں اور تمنائیں پوری کرنے میں چندہ کی رقمیں جمع کر کے۔“
”اور جو تدبیر یا مکر ہے اس کے یہاں الٹا کر کے اپنے مطالب ہی حاصل کرنے میں ہے۔“
٢٤
١٧
”کیا یہی ہے مسیح یا مقیل مسخ جس
”مرزا اپنی تحقیق کی بناء پر ماجوج کی ہے۔“
”ہاں دجال پر بھی مسیح کا اطلاق بعضوں کی۔“
یعنی احادیث میں مسیح کا لفظ دجال غلطی لگی۔ یعنی تھا مسیح دجال اور بن گیا مسیح بن
”کیا مرزا کو قرآن حفظ کرنے کی روک دیا۔“
”چراتا ہے اپنے الفاظ میں قادیانی۔“
باطنیہ اور قرامطہ دو فرقے ہیں کی۔
”مرزا کی متابعت ایسے لوگوں دینت رکھا تھا۔“
”اور مرزا نے اس شخص کی تکف اس میں اول مجرم ہے یا اول پھل پانے ہم اس سے قبل مرزا کی بع اسلام کو جو اس کی نبوت کو نہ مانے کافر
”کیا یہی ہے مسیح یا مثیل مسیح جس نے کرتہ پہن لیا گندھک کا۔“
”مرزا اپنی تحقیق کی بناء پر ماجوج کی نسل سے تھا پھر بن بیٹھا مسیح، پس عبرت لو اس جوڑ سے۔“
”ہاں دجال پر بھی مسیح کا اطلاق آیا ہے پر مرزا کو غلطی لگی اوچھے پن میں جلد بازوں کی۔“
یعنی احادیث میں مسیح کا لفظ دجال اور مسیح میں مشترک تھا جس اشتراک سے مرزا کو غلطی لگی۔ یعنی تھا مسیح دجال اور بن گیا مسیح بن مریم۔
”کیا مرزا کو قرآن حفظ کرنے کی ہدایت نہ ہوئی اور حج فرض ادا نہ کیا حرمین نے اس کو روک دیا۔“
”چوراتا ہے اپنے الفاظ میں فرقہ باطنیہ اور قرامطہ سے یہ وحی ہے اس کی دوغلی یا کادیانی۔“
باطنیہ اور قرامطہ دو فرقے ہیں جن سے مرزا نے مضامین چوری کر کر کے اشاعت و تبلیغ کی۔
”مرزا کی متابعت ایسے لوگوں نے کی جو پہلے نیم نصرانی تھے اور جن کی سرشت میں کفر و ودیعت رکھا تھا۔“
”اور مرزا نے اس شخص کی تکفیر کی جس نے اس کی نبوت کو نہ مانا اور حال یہ ہے کہ وہ خود اس میں اوّل مجرم ہے یا اول پھل پانے والا ہے۔“
ہم اس سے قبل مرزا کی بعض عبارتیں نقل کر چکے ہیں۔ جس میں مرزا نے تمام عالمِ اسلام کو جو اس کی نبوت کو نہ مانے کافر اور جہنمی کہا ہے۔ جس سے مرزا کے ان دعاویٰ کا سربستہ راز
٢٥
کھل جاتا ہے۔ جن میں اس نے کہا تھا کہ راست بازی ترقی کرے گی۔ اسلام دنیا میں پھیل جائے گا۔ ادیان باطلہ مثلاً دین یہود و نصاریٰ و ہنود نیست و نابود ہو جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا کی تھوڑی سی جماعت کے سوا بقیہ مسلمان جو اس کو نہیں مانتے ، اس کے نزدیک کافر ہی ٹھہرے تو مرزا نے کفر پھیلایا یا اسلام اور کونسا دین یہود اور نصاریٰ اور ہنود کا نیست و نابود ہوا۔ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِين !
”خبردار درست ہو جاؤ اور اپنے دین پر سرگشتہ ہو جاؤ اور دین پر مرنا ہی بڑی زندگی ہے۔“
”اور خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر تیار ہو جاؤ اس میں خدا کی تم پر مہربانیوں پر مہربانی ہے۔“
”اور حق کے غالب ہونے کی خدا سے امید رکھو اور برساتی کیڑوں کے مٹ جانے کا بوقت طلوع (ستارہ) سہیل انتظار کرو۔“
”حق صبح صادق کی طرح ظاہر ہوتا ہے اور حق کے لئے صولت اور نیزہ اور مار ہے ہر سر انگشت پر۔“
”اور آخری پکار ہماری یہ ہے کہ حمد کی مستحق وہی ذات ہے جس نے دین حق کی حمایت میں ہم کو ہدایت کی۔“
”اور خدا کی رحمتیں حضرت خاتم الانبیاء پر نازل ہوتی رہیں جب تک چاند اور سورج بلند ہوتے رہیں۔“
تتمہ
مرزا علیہ ماعلیہ کے الہامات اور وساوس شیطانیہ کا مختصر نمونہ جس کو ہم اشعار کے ذیل میں بعجلت اور تنگی وقت کی وجہ سے درج نہ کر سکے۔ اس جگہ نقل کر دینا مناسب سمجھتے ہیں۔
٢٦
الہامات شیطانیہ
”يُرِيدُونَ أَنْ يَّرَوْا طَمَثَكِ“ یعنی وہ تجھ الہام کی تشریح خود مرزا قادیانی کی زبانی اس طرح ہے۔ ”ی یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ مجھ ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ بمنزلہ (تخ
اس الہام میں مرزا عورت بنے۔ اب نعوذ باللہ اور رجولیت کی طاقت ظاہر کی جاتی ہے۔ جس کو مرزا کے ا اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ (اسلامی قربانی ص ١٢) مطبوعہ ر
”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہ اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“ اس عاقل کبھی خدا کی طرف نعوذ باللہ اس قسم کے افعال کو تجویز ن
”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ ک ٹھہرا دیا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زی آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص ٥٥٦ میں درج ک
”خدا تعالیٰ کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ وہ
”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گی حرکت و سکون سب اسی کا ہو گیا اور اسی حالت میں م آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پر پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر م تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قا اور کہا: ”اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ “ پیدا کریں گے۔“ (آئینہ
٢٧
الہامات شیطانیہ
”يريدون ان يروا طمثك“ یعنی وہ تیرا حیض دیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ اس الہام کی تشریح خود مرزا قادیانی کی زبانی اس طرح ہے۔ ”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
اس الہام میں مرزا عورت بنے۔ اب نعوذ باللہ خدا تعالیٰ مرزا سے ہم بستری کرتے ہیں اور رجولیت کی طاقت ظاہر کی جاتی ہے۔ جس کو مرزا کے ایک مرید قاضی یار محمد بی۔ او۔ ایل پلیڈر ا اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ (اسلامی قربانی ص ١٢) مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“ اس قسم کے وساوس یقیناً شیطانی ہیں۔ کوئی عاقل کبھی خدا کی طرف نعوذ باللہ اس قسم کے افعال کو تجویز نہیں کر سکتا۔
● ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرا دیا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص ٥٥٦ میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
”خدا تعالیٰ کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردزہ مجھے کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)
”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب، میرا حلم اور تلخی و شیرینی و حرکت و سکون سب اسی کا ہو گیا اور اسی حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت پر پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٢٧
انگریزی الہامات
(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧١ حاشیہ) ایک دفعہ کی حالت یاد آ گئی کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا: ” آئی لو یو “ یعنی میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا: ”آئی ایم ود یو “ یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا: ”آئی شیل ھیلپ یو “ یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا: ”آئی کین وھاٹ آئی ول ڈو “ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد میں اس کے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا، الہام ہوا: ”وی کین وھاٹ وی ول ڈو “ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے۔ جو سر پر کھڑا بول رہا ہے۔“ (یہ حقیقت میں شیطان ہے جو مرزا کو الہام کرتا ہے)
”اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ اور مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر ہوئے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
”ایسے ناپاک خیال، متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اسے نبی قرار دیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) (یہ بکواس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے)
(ازالۃ الاوہام ص ٦٤٩، خزائن ج ٣ ص ٤٤٩) پر لکھتے ہیں کہ ”ایک مرتبہ چار سو نبی نے غلطی کی۔“ مرزا کا یہ جملہ اس کی کم عقلی اور انبیاء علیہم السلام کی طرف غلطی کی نسبت کرنے میں کس قدر بے باکی کو ثابت کرتا ہے۔ یہ چار سو اشخاص درحقیقت نبی نہ تھے۔ بلکہ ایک بادشاہ کے مجاور اور پوجاری تھے۔ جن کو مرزا قادیانی نے نبی سمجھا اور غلطی کو نبیوں کی طرف منسوب کر دیا۔ آپ کی جھوٹی نبوت چونکہ ایسی ہی ہے اس لئے اور انبیاء علیہم السلام کو بھی ایسا ہی تصور کرتا ہے۔
٢٨
خاتم النبیین
اسلام
اور
مرزائیت
حضرت مولانا عتیق الرحمن
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
اسلام
اور
مرزائیت
حضرت مولانا عتیق الرحمن آروی رحمۃ اللہ علیہ
اسلام و مرزائیت
"الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى . اما بعد"
ہندوستان میں مسلمانوں کی بہت سی مختلف الخیال جماعتیں آباد ہیں۔ بعض میں فروعی جزوی اختلاف ہے اور بعض میں اصولی۔ پھر اصولی اختلاف رکھنے والے فرقوں میں باہمی فرق ہے۔ بعض فرقے بالکل ہی اسلام کے اصول قطعیہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور بعض اصل الاصول کو مان کر ان کے ماتحت اصول میں مختلف ہیں۔ عوام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات جو اسلام کے اصول وفروع سے پوری واقفیت نہیں رکھتے عموماً ان سب جماعتوں اور فرقوں کو ایک ہی درجہ میں سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچتا ہے۔ کیونکہ جس طرح جزوی اور فروعی اختلاف کی بناء پر آپس میں لڑنا جھگڑنا اور تشدد برتنا مذموم و نا جائز ہے اسی طرح اصولی اختلاف کو نظر انداز کر کے ایسی فرقوں کو جن کے عقائد، اسلامی عقائد اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہوں، مسلمان سمجھنا اس سے زیادہ مضر اور مذموم ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نے جس فرقہ کی بنیاد پنجاب میں ڈالی ہے۔ وہ اسی قسم سے ہے کہ اس کے عقائد کسی طرح عقائد اسلامیہ پر منطبق نہیں ہو سکتے۔ لیکن چونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ظاہر میں نماز، روزہ اور تلاوتِ قرآن میں عام مسلمانوں کے ساتھ شریک نظر آتے ہیں۔ اس لئے عام مسلمان اور بالخصوص جدید تعلیم یافتہ حضرات فریب میں آ جاتے ہیں۔ علماء اگر ان کو متنبہ کرتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ علماء کا اختلاف تو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور بعض تو خود ان حضرات علماء پر الزام رکھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ لڑتے رہتے ہیں اور کفر کے فتوے دینے کی ان کو عادت ہو گئی ہے۔ اس لئے احقر کے اساتذہ نے بالخصوص استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد سہول صاحب بھاگل پوری سابق مدرس دارالعلوم دیوبند نے ایک ایسا رسالہ لکھنے کا حکم دیا جس میں ہم اپنی طرف سے کچھ نہ لکھیں بلکہ عقائد مرزائیہ کو عقائد اسلامیہ کے مقابلہ میں رکھ کر لوگوں کے سامنے پیش کریں تاکہ ہر عقل اور انصاف والا خود بخود یہ فیصلہ کر سکے کہ اس فرقہ کے عقائد اسلامی عقائد سے کس قدر متضاد واقع ہوئے ہیں اور حضرات علماء اور تمام اسلامی فرقے کس مجبوری کی وجہ
٢
سے مرزائیوں کے کفر و ارتداد پر متفق ہوئے ہیں۔ اس قرآنی آیات اور مستند حدیثی روایات کے حوالے مع میں اس کے متعلق مرزا قادیانی کے عقائد خود ان کی کتا اور ان کے خاص مبلغین کی تصانیف سے مع ان کی اص دونوں کالموں میں ہمارا کوئی خیال اور کوئی مضمون نہی درخواست ہے کہ برائے کرم اپنے وقت کا تھوڑا سا حص موازنہ و مقابلہ کر کے نتیجہ نکالیں کہ فرقہ مرزائیہ کو مسلما
١....... ذات وصفات باری تعا
اسلام
- ١....... "وقالوا اتخذ الرحمن ولداً
يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر ال
ينبغى للرحمن ان يتخذولدا (مریم:ع٦)
کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد (بھی) اختیار کر رکھی ہے۔ ا (بات کہی تو) ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سب کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس با کرتے ہیں حالانکہ خدا کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیا
- ٢....... "وقالوا اتخذ الله ولد سبحا
اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ وہ اللہ پاک ہے اس س
- ٣....... "سبحانه ان يكون له ولد
اولاد ہو۔ ﴾
- ٤....... "لم یلد (اخلاص) “ ﴿ نہیں جنا
- ٥....... "لم یولد (اخلاص) “ ﴿ اور نہ و
بیٹا ہے۔ ﴾
- ٦....... "من اعترف بالهية الله تعا
سے مرزائیوں کے کفر وارتداد پر متفق ہوئے ہیں۔ اس لئے احقر نے اس رسالہ میں عقائد اسلامیہ قرآنی آیات اور مستند حدیثی روایات کے حوالے جمع کئے ہیں اور اس کے بالمقابل دوسرے کالم میں اس کے متعلق مرزا قادیانی کے عقائد خود ان کی کتابوں سے اور ان کے خلیفہ جانشین مرزا محمود اور ان کے خاص مبلغین کی تصانیف سے مع ان کی اصل عبارت اور صفحہ کے نقل کر دیئے ہیں۔ ان دونوں کالموں میں ہمارا کوئی خیال اور کوئی مضمون نہیں ہے۔ جدید تعلیم یافتہ حضرات سے میری درخواست ہے کہ برائے کرم اپنے وقت کا تھوڑا سا حصہ اس میں صرف فرما دیں اور دونوں عقائد کا موازنہ و مقابلہ کر کے نتیجہ نکالیں کہ فرقہ مرزائیہ کو مسلمان کہنا چاہئے یا خارج از اسلام۔
١...... ذات وصفات باری تعالیٰ ...... الوحی ونبوت
اسلام
- ١....... "وقالوا اتخذ الرحمن ولدا. لقد جئتم شيئا ادا. تكاد السموات
يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا ان دعوا للرحمن ولدا. وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا (مریم:٩٠)" اور یہ کافر لوگ (عیسائی یا مرزائی) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد (بھی) اختیار کر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (کہ) تم نے (جو) یہ (بات کہی تو) ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان ٹوٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے۔ ﴾
- ٢....... "وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه (یونس:٦٨)" اور (کافروں نے) کہا
اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ وہ اللہ پاک ہے اس سے (کہ کسی کو اپنا بیٹا بناوے)﴾
- ٣....... "سبحانه ان يكون له ولد" پاک ہے، اللہ تعالیٰ اس سے کہ اس کو بیٹا یا
اولاد ہو۔﴾
- ٤....... "لم يلد (اخلاص)" نہیں جنا اللہ تعالیٰ نے کسی کو۔﴾
- ٥....... "لم يولد (اخلاص)" اور نہ جنا گیا وہ یعنی اللہ تعالیٰ نہ کسی کا باپ ہے اور کسی کا
بیٹا ہے۔﴾
- ٦....... "من اعترف بالهية الله تعالیٰ ووحدانيته ولكنه ادعى لله ولدا و
٣
صاحبة او ولدا فذلك كله كفر باجماع المسلمين (شرح شفا ص ٥١٣ ج ٢) ﴿ جو شخص اقرار کرے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور خدائی کا اور اس کے ایک ہونے کا لیکن خدا کے لئے بیٹا یا باپ یا بی بی ہونے کا مدعی ہو تو یہ کفر ہے۔ بالاتفاق یعنی ایسے شخص کے کافر ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ ﴾
مرزائیت
- .......١ ”انت منی بمنزلة ولدی (اے مرزا) تو بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- .......٢ ”انت منی بمنزلة اولادی (اے مرزا) تو بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔“
(البشریٰ ص ٦٥، ج ٢، تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١، تذکرہ ص ٣٩٩)
- .......٣ ”اسمع ولدی“ یعنی سن اے میرے بیٹے (مرزا)“
(البشریٰ ص ٤٩ ج١)
- .......٤ اسی طرح (اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ حاشیہ) میں بابو الٰہی بخش کی نسبت یہ
الہام ہے ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ (حیض) بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ (اللہ کے بیٹے) کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- .......٥ ”انا نبشرك بغلام مظھر الحق والعلی کان اللہ منزل من السماء“ یعنی
بیشک ہم تجھ کو (مرزا) خوش خبری دیتے ہیں ایک لڑکے کی۔ (جو تجھ کو ہوگا) جو حق اور علاء کا ظاہر کرنے والا ہوگا۔ گویا اللہ تعالیٰ خود بخود آسمان سے اتر آئے گا۔ (مطلب اس الہام کا یہ ہے کہ خود خدا آسمان سے اتر کر تیرا بیٹا بن جائے گا)
(الاستفتاء ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)
- .......٦ ”انت منی و انا منك“ یعنی (اے مرزا) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
(تذکرہ ص ٤٢٢ طبع سوم)
٢....... زوجیت
اسلام
- .......١ ”انی یکون له ولد ولم تکن له صاحبة وخلق کل شئ وهو بکل
٤
شئ علیم (انعام:ع١٦) ”اس کے کہاں س سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی ہر چیز کا جاننے والا
مرزائیت
- .......١ ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)
کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوگئی ک کی قوت کا اظہار فرمایا۔“ (یعنی جو کام بوقت شہو نے مرزا قادیانی کے ساتھ وہی کام کیا)
- .......٣
اسلام
- .......١ ”لیس کمثله شئ وهو السمیع
اس کے کوئی چیز وہی تمام چیزوں کا سننے والا اور د
- .......٢ ”لم یکن له کفوا احد (الم
والا۔﴿
- .......٣ ”ای لم یکافئه احد ولم
ج ٤) ”﴿یعنی نہ تو کوئی خدا کے برابر ہے اور نہ اس
- .......٤ ”ومن اعترف بالهية الله و
بصورة فذلك كفر بالاجماع (شفا، ص یہ اعتقاد رکھے کہ وہ صورت اور شکل والا ہے تو وہ کا
مرزائیت
- .......١ ”دانیال نبی نے اپنی کتاب میں می
میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔“ مطلب یہ کہ میں خدا کے مانند بتایا ہے۔
- .......٢ ”اور تندوے کی طرح اس وجود اعظم
تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔“
شئ علیم (انعام:ع١٦) ﴿اس کے کہاں سے بیٹا پیدا ہوا اس کی تو کوئی بی بی نہیں۔ اس نے سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔﴾
مرزائیت
- ١...... "حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہو گئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔" (یعنی جو کام بوقت شہوت میاں اپنی بیوی سے کرتا ہے (العیاذ باللہ) خدا نے مرزا قادیانی کے ساتھ وہی کام کیا)
(اسلامی قربانی ص ١٢ مصنفہ یار محمد قادیانی)
٣...... مماثلت
اسلام
- ١...... "لیس كمثله شئ وهو السميع البصير (شوریٰ:ع٢)" ﴿نہیں ہے مانند
اس کے کوئی چیز وہی تمام چیزوں کا سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔﴾
- ٢...... "لم يكن له كفوا احد (اخلاص)" ﴿اور نہیں کوئی اس سے برابری کرنے
والا۔﴾
- ٣...... "ای لم يكافئه احد ولم يماثله ولم يشاكله (روح البيان ص ٧١٩
ج ٤)" ﴿یعنی نہ تو کوئی خدا کے برابر ہے اور نہ اس کے مانند ہے اور نہ اس کے ہم شکل ہے۔﴾
- ٤...... "ومن اعترف بالهية الله ووحدنيته ولكنه اعتقد انه مصور
بصورة فذلك كفر بالاجماع (شفاء ص ٥١٤ ج ٢)" ﴿اگر کوئی خدا کو ایک مانتے ہوئے یہ اعتقاد رکھے کہ وہ صورت اور شکل والا ہے تو وہ کافر ہے بالاتفاق۔﴾
مرزائیت
- ١...... "دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی
میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔" مطلب یہ کہ میں خدا کی مانند ہوں اور دوسرے نبیوں نے بھی مجھ کو خدا کے مانند بتایا ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
- ٢...... "اور تندوے کی طرح اس وجود اعظم (اللہ تعالیٰ) کی تاریں بھی ہیں جو صفحۂ ہستی کے
تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔"
(توضیح مرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
٥
٤...... الوہیت
اسلام
- ١...... "وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحى اليه انه لااله الا انا
فاعبدون (انبياء:٢٥)" ﴿اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے تجھ سے پیغمبر مگر وحی کرتے تھے ہم ان لوگوں کی طرف یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر میں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔﴾
- ٢...... "ومن يقل منهم انى اله من دونه فذلك نجزيه جهنم كذلك نجزى
الظلمين (انبياء:٢٩)" ﴿اور جو کوئی کہے ان میں سے کہ بیشک میں بھی اللہ ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا پس ہم بدلہ دیں گے اس کو دوزخ۔ اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم ظالموں کو۔﴾
- ٣...... "وقال الله لاتتخذوا الهين اثنين انما هو اله واحد فاياى فارهبون
(نحل:٥١)" ﴿اور کہا اللہ تعالیٰ نے نہ بناؤ دو خدا سوائے اس کے نہیں کہ وہ معبود (اللہ) اکیلا ہی ہے۔ پس مجھ ہی سے ڈرا کرو۔﴾
- ٤...... "الهكم اله واحد (نحل:٢٢)" ﴿تم لوگوں کا معبود ایک اللہ ہے۔﴾
- ٥...... "اذقال ابراهيم ربى الذى يحيى ويميت (بقره)" ﴿جبکہ کہا حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے کہ میرا پروردگار وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔﴾
- ٦...... "انما امره اذاارادشيئا ان يقول له كن فيكون (يسين)" ﴿جب وہ
(اللہ) کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کا معمول تو یہ ہے کہ اس چیز کو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے۔﴾
مرزائیت
- ١...... "رايتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو" یعنی میں نے خواب میں
دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور پھر میں نے یقین کر لیا کہ میں ہی خدا ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٢...... "فخلقت السموات والارض اولا بصورة اجمالية لا تفريق فيها ولا
ترتيب ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلالة من طين فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فى
٦
احسن تقويم وكنا كذالك الخالقين" پس میں نے بنائے۔ جن میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے آسمان نے آسمان دنیا کو چراغوں سے پھر میں نے کہا کہ انسا میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صور ہو گیا۔"
- ٣...... "اعطيت صفة الافناء والا حياء"
- ٤...... "انما امرك اذااردت شيئا ان تقو
(بیشک تیرا (مرزا قادیانی) ہی حکم ہے جب کہ ہو جا پس ہو جاتی ہے)
- ٥...... نوم و یقظہ۔ جو
اسلام
- ١...... "الله لااله الا هو الحى القيوم لا
تعالیٰ (ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لاق کو) نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے نہ نیند۔﴾
- ٢...... "قل اغير الله اتخذوليا فا
يطعم (انعام)" ﴿آپ کہئے کہ کیا اللہ کے سوا جو ک اور جو کہ (سب کو) کھانے کو دیتے ہیں اور ان کو کوئی
- ٣...... "ولا يصح عليه الجهل وا
محال (شرح عقائد جلالی)" ﴿اور نہیں صی نقص اور عیب ہیں اور نقص خدا کے لئے محال ہے۔
- ٤...... "ويكفراذاوصف الله تعالى
ولد اوزوجة اونسبه الى الجهل او ا ص ٢٣٦)" ﴿جبکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے لئے
احسن تقويم وكنا كذالك الخالقين ”پس میں نے پہلے آسمان وزمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا کہ بیشک زینت دیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے پھر میں نے کہا کہ انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہوگیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضا)
- ٣...... ”اعطيت صفة الافناء والا حياء“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٥، ٥٦)
- ٤...... ”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون“
(تذکره ص ٣٠٨ طبع ٣)
(بیشک تیرا (مرزا قادیانی) ہی حکم ہے جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اسے کہہ دے کہ ہو جا پس ہو جاتی ہے)
٥...... نوم ویقظہ۔ جہل و غلطی و غیرہ
اسلام
- ١...... ”الله لااله الا هو الحی القيوم لاتأ خذه سنة ولانوم (بقره)“﴿اللہ
تعالیٰ (ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہے سنبھالنے والا ہے (تمام عالم کا) نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے نہ نیند۔﴾
- ٢...... ”قل اغير الله اتخذوليا فاطر السمٰوت والارض وهو يطعم ولا
يطعم (انعام)“ ﴿آپ کہئے کہ کیا اللہ کے سوا جو کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ہیں اور جو کہ (سب کو) کھانے کو دیتے ہیں اور ان کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا، اس کو اپنا معبود قرار دوں۔
- ٣...... ”ولا يصح عليه الجهل ولا الكذب لا نهما نقص والنقص عليه
محال (شرح عقائد جلالی)“ ﴿اور نہیں صحیح ہے اس پر جہل اور نہ جھوٹ اس لئے کہ دونوں نقص اور عیب ہیں اور نقص خدا کے لئے محال ہے۔﴾
- ٤...... ”ويكفر اذا وصف الله تعالى مما لا يليق به، اوجعل لله شريكا او
ولد اوزوجة اونسبه الى الجهل او العجز اوالنقص (فتاویٰ عالمگیری ج ٢ ص ٢٣٦)“ ﴿جبکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایسا وصف ثابت کرے جو اس کی شان کے
٧
مناسب نہ ہو اس کے لئے کسی کو شریک ٹھہرائے یا اولاد یا بی بی ثابت کرے۔ یا خدا کی طرف جہل خطا، عجز یا نقص اور عیب کو منسوب کرے تو ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے۔﴿
مرزائیت
- ا...... ”اصلی واصوم اسهرو انام“ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے الہام میں
کہتا ہے ”میں نماز پڑھتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔ میں جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩، تذکرہ ص ٤٦٠، طبع سوم)
- ٢...... ”انی مع الرسول اقوم افطر واصوم“ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوتا
ہوں اور میں افطار کرتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧، تذکرہ ص ٤٥٨، طبع سوم)
- ٣...... ”انی مع الاسباب اتیک بغتۃ انی مع الرسول اجیب اخطئ
واصیب انی مع الرسول محیط“
(تذکرہ ص ٤٦٢ طبع ٣)
”میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ میں اپنے رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا خطا اور غلطی بھی کروں گا اور بھلائی کروں گا میں اپنے رسول کے ساتھ محیط ہوں۔“
- ٤...... ”یـانبـی الله كنت لااعرفك“ (خدائی الہام ہوتا ہے) اے اللہ کے نبی! میں
تجھے نہیں پہچانتا۔
(مجموعہ الہامات تذکرہ ص ٥٩٥ طبع ٣)
٦ ...... حدوث وقدم عالم
اسلام
- ا...... ”الله خالق كل شئ (قرآن)“ ﴿اللہ ہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا
ہے۔﴾ ”فمن قال بقدم العالم فهو كافر (شرح فقه اکبر ص ١٢)“ ﴿جو شخص قدم عالم کا قائل ہو وہ کافر ہے۔......
- ٢...... ”ذلكم الله ربكم لااله الا هو خالق كل شئ (انعام:)“ اللہ پروردگار
تمہارا ہے نہیں کوئی معبود مگر وہ پیدا کرنے والا ہر چیز کا۔﴾ (اور ظاہر ہے کہ پیدا کرنے والا اور بنانے والا پہلے ہوگا اور جو چیز پیدا کی گئی ہے اور بنائی گئی ہے وہ اس کے بعد ہو گی۔ اس سے معلوم
٨
ہو گیا کہ خالق کے ساتھ مخلوق کو قدیم ماننا باطل
- ٣...... ”كان الله ولم يكن معه شـ
ساتھ کوئی چیز نہیں تھی۔﴾ (نہ روح نہ مادہ و
- ٤...... ”لا نزاع في كفر اهل الـ
بـاعـتـقـاد قـدم الـعـالـم ونـفـی حـ وكـذا بصدور شئ من موجبات الـكـ الحق من اهل القبلة ص ٢٦٨، ٢٧٠ جو اعتقاد رکھتا ہو کہ عالم قدیم ہے یا قیامـت اور کفریہ عقائد اور اسی طرح موجبات کفر مـ کی پابندی اور بجا آوری دائمی طور پر کـ جاتا ہے۔﴾
- ٥...... ”فمن واظب طول عـ
العالم ونفى الحشر ونفى علمه بـ القبلة (شرح فقه اکبر ص ١٨٥) “ مگر قدم عالم یا نفی حشر کا قائل (قیامت کـ
مرزائیت
- ا...... ”ہم جانتے ہیں کہ خدا کی طـ
کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے بـ
- ٢...... ”ہمارا ایمان ہے کہ جس طـ
خالق بھی ہے وہ ہمیشہ سے پیدا کرتا اور بـ ساتھ چلی آرہی ہے۔“ (حدوث روح و قادیانی خلیفہ قادیانی)
- ٣...... ”یہی مذہب صحیح ہے کہ قدیـ
رہے گا۔“
ہو گیا کہ خالق کے ساتھ مخلوق کو قدیم ماننا بالکل غلط ہے اور قرآن کریم کی آیتوں کا انکار کرنا ہے )
- ٣...... " كان الله ولم يكن معه شئ (ترمذی،مسلم،بخاری) " ﴿اللہ ہی تھا اس کے
ساتھ کوئی چیز نہیں تھی۔﴾ (نہ روح نہ مادہ اور نہ سلسلہ عالم اور نہ کوئی دوسری مخلوق)
- ٤...... " لا نزاع فی کفر اهل القبلة المواظب طول العمر علی الطاعات
باعتقاد قدم العالم ونفی الحشر والعلم بالجزئیات او نحو ذلک وکذا بصدور شئ من موجبات الکفر (شرح مقاصد بحث سابع فی حکم مخالف الحق من اهل القبلة ص ٢٦٨، ٢٧٠ ج ٢ ) " ﴿ایسے شخص کے کافر ہونے میں کسی کا خلاف نہیں جو اعتقاد رکھتا ہو کہ عالم قدیم ہے یا قیامت نہ ہوگی۔ یا جزئیات کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں یا اس کے مثل اور کفریہ عقائد اور اسی طرح موجبات کفر صادر ہونے سے بھی اگر چہ وہ اہل قبلہ ہو اور اسلامی احکام کی پابندی اور بجا آوری دائمی طور پر کرتا ہو اور اپنی زندگی عبادت میں گزارتا ہو۔ کافر ہو جاتا ہے۔﴾
- ٥...... "فمن واظب طول عمره علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم
العالم ونفی الحشر ونفی علمه تعالیٰ بالجزئیات والکلیات فلا یکون من اهل القبلة (شرح فقه اکبر ص ١٨٥ ) " ﴿جو شخص ساری عمر طاعات و عبادات پر مداومت کرے۔ مگر قدم عالم یا نفی حشر کا قائل ( قیامت کا منکر ) ہو تو وہ اہل قبلہ یعنی مسلمان نہیں ہے بلکہ کافر ہے۔
مرزائیت
- ١...... ”ہم جانتے ہیں کہ خدا کی تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئی اور خدا تعالیٰ
کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضرور ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)
- ٢...... ”ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مالک ہے اسی طرح وہ ہمیشہ سے
خالق بھی ہے وہ ہمیشہ سے پیدا کرتا اور فنا کرتا چلا آیا ہے۔ ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی مخلوق اس کے ساتھ چلی آ رہی ہے۔“ (حدوث روح و مادہ ص ٣ مصنفہ میر محمد اسحاق صاحب ماموں مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیانی)
- ٣...... ”یہی مذہب صحیح ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ مخلوقات پیدا کرتا آیا ہے اور ابد تک پیدا کرتا
رہے گا۔“
(حدوث روح و مادہ ص ٧)
٩
- ٤....... "جاننا چاہیے کہ چونکہ بعض ناواقف مناظر جو اسلام کی تعلیم سے کماحقہ واقفیت نہیں
رکھتے۔ سلسلہ کائنات کی ابتداء مانتے ہیں اور خدا کی صفت خلق کا ایک خاص وقت سے کام شروع کرنا تسلیم کرتے ہیں۔ خدا کے خلق کرنے کی کوئی ابتداء نہیں۔ بلکہ جب سے خدا ہے (اور ہمیشہ سے ہے) تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے اور جب تک وہ رہے گا (اور ہمیشہ رہے گا) اس وقت تک وہ مخلوق پیدا کرتا چلا جاوے گا۔ نہ خدا کے خلق کرنے کی ابتداء ہے اور نہ انتہا۔ نہ کوئی پہلی مخلوق گزری نہ آخری مخلوق پیدا ہو گی بلکہ ہر مخلوق کے بعد مخلوق ہو گی اور سلسلہ پرواہ ١؎ سے انادی (قدیم) ہے۔"
(حدوث روح و ماده ص ٢٣٣)
٧....... نبوت و رسالت
(١) نبوت کا وہبی و کسبی ہونا
اسلام
- ١....... "الله يصطفى من الملئكة رسلا من الناس ان الله سميع بصير
(سورہ حج کا آخری رکوع) "اللہ تعالیٰ (کو اختیار ہے رسالت کے لئے جس کو چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے فرشتوں میں سے (جن فرشتوں کو چاہے) احکام پہنچانے والے (مقرر فرما دیتا ہے) اور (اسی طرح) آدمیوں میں سے یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔
- ٢....... "قالت رسلهم ان نحن الا بشر مثلكم ولكن الله يمن على من يشاء
من عباده (ابراهيم: ١١) "اور کہا ان سے ان کے رسولوں نے کہ (واقعی) ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں لیکن (اللہ کو اختیار ہے کہ) اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماوے اور اس کو نبوت اور رسالت سے نوازے۔"
١؎ مرزائیوں اور آریوں میں کوئی فرق نہ رہا کیونکہ وہ بھی عالم کے سلسلہ کو پرواہ سے قدیم مانتے ہیں دیکھو ستیارتھ پرکاش باب ٨ ص ٣٣٦ سوال ٤٣۔ اور مرزائی بھی سلسلہ دنیا کو قدیم اور عالم کو ازلی ابدی مانتے ہیں۔ اس کے بعد قیامت اور حشر و نشر ایک خواب پریشان ٹھہرے گا اور قیامت کا انکار کرنا ضروری ہوگا۔ کما لا يخفى على المتامل اس عقیدہ کے بعد یہ شور مچانا کہ ہم آریوں اور عیسائیوں میں تبلیغ کرتے ہیں۔ مناظرہ ومقابلہ کرتے ہیں۔ دروغ بے فروغ نہیں تو اور کیا ہے؟ خلیق الرحمن آروی!
١٠
- ٣....... "الله اعلم حيث يجعل رسالته (
ہے جہاں اپنا پیغام بھیجتا ہے (یعنی کس کو نبوت دینی ہے
- نوٹ....... ان تینوں آیات میں صاف صاف بتا یا
و رسالت سے سرفراز کرے وہی جس پر چاہے احسان چاہے چن لے کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں ہے کہ سے یہی تمام امت نے سمجھا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا
- ٤....... "ومن زعم انها (اى النبوة)
يقتضى كلامه واعتقاده ان لا تنقطع وهو المتواترة بان نبينا صلعم خاتم النبيين اور جو شخص یہ سمجھے کہ نبوت کوشش اور سعی سے حاص واجب ہے۔ اس لئے کہ اس کا یہ عقیدہ تو اس کو مقتض قرآنی اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے، جن میں کیا گیا ہے۔"
- ٥....... "قال شیخ الاسلام ابن تیم
النبوة مكتسبة وكان جماعة من زنادقة الحاصل ان النبوة فضل من الله ومو لمن يشاء ان يكرمه بالنبوة فلا يبلغها عن استعداد ولاية بل يخص بها من يشا فرمایا شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ نے اور ان لوگو مسلمانوں میں بعض گمراہ فرقے اور زندیق لوگوں کہ ہم لوگ بھی نبی بن جائیں اور دعوائے نبوت کر فضل خداوندی اور انعام الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس شخص نبوت کو اپنے کسب اور علم سے نہیں حاصل ک بن سکتا ہے۔"
- ٣....... "الله اعلم حيث يجعل رسالته (انعام)" ﴿اس موقع کو تو خدا ہی خوب جانتا
ہے جہاں اپنا پیغام بھیجتا ہے (یعنی کس کو نبوت دینی ہے۔
نوٹ....... ان تینوں آیات میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز کرے وہی جس پر چاہے احسان فرما کر نبی بنادے اور لوگوں میں سے جس کو چاہے چن لے کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں ہے کہ وہ کوشش کر کے حاصل کرے۔ ان آیات سے یہی تمام امت نے سمجھا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ ثبوت حسب ذیل ہیں۔
- ٤....... "ومن زعم انھا (ای النبوۃ) مکتسبۃ فھو زندیق یجب قتلہ لانہ
یقتضی کلامہ واعتقادہ ان لا تنقطع وھو مخالف للنص القرآنی والاحادیث المتواترۃ بان نبینا ﷺ خاتم النبیین (شرح عقائد سفارینی ص ٢٥٧ ج ٢) " ﴿اور جو شخص یہ سمجھے کہ نبوت کوشش اور سعی سے حاصل ہو سکتی ہے وہ زندیق ہے اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ اس لئے کہ اس کا یہ عقیدہ تو اس کو مقتضی ہے کہ سلسلہ نبوت کبھی ختم نہ ہوگا اور یہ نص قرآنی اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے، جن میں ہمارے نبی ﷺ کا خاتم النبیین ہونا بیان کیا گیا ہے۔﴾
- ٥....... "قال شیخ الاسلام ابن تیمیہ وھولاء (ای الفلاسفۃ) عندھم
النبوۃ مکتسبۃ وکان جماعۃ من زنادقۃ الاسلام یطلبون ان یصیروا انبیا و الحاصل ان النبوۃ فضل من اللہ وموھبۃ ونعمۃ یمن بھا سبحانہ ویعطیھا لمن یشاء ان یکرمہ بالنبوۃ فلا یبلغھا بعلمہ ولا یستحقھا بکسبہ ولا ینالھا عن استعداد ولایۃ بل یخص بھا من یشاء (شرح عقائد سفارینی ص ٢٥٧ ج ٢) " ﴿فرمایا شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ نے اور ان لوگوں یعنی فلسفیوں کے نزدیک نبوت کسبی ہے اور مسلمانوں میں بعض گمراہ فرقے اور زندیق لوگوں کا بھی یہی خیال ہے اور مقصد اس سے فقط یہ ہے کہ ہم لوگ بھی نبی بن جائیں اور دعوائے نبوت کریں لیکن یہ بالکل غلط اور باطل ہے۔ بلکہ نبوت فضل خداوندی اور انعام الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس نعمت سے نوازتا ہے۔ پس کوئی شخص نبوت کو اپنے کسب اور علم سے نہیں حاصل کر سکتا اور نہ ریاضت اور استعداد ولایت سے نبی بن سکتا ہے۔﴾
١١
- ......٦ ”(فإن قلت)فهل النبوة مكتسبة اوموهبة فالجواب ليست النبوة
مكتسبة حتى يتوسل اليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة من الحمقى۔ وقد افتى المالكية وغيرهم بكفرمن قال ان النبوة مكتسبة (اليواقيت والجواهر ص١٤٧ج١ مصنف شیخ عبدالوہاب شعرانی)“ ﴿پس اگر سوال کرے تو کہ نبوت کسبی ہے یا وہبی تو جواب اس کا یہ ہے کہ نبوت اکتساب سے حاصل نہیں ہو سکتی تا کہ کوئی شخص عبادت اور ریاضت کر کے نبوت حاصل کر سکے۔ جیسا کہ بعض احمقوں نے خیال کیا ہے بلکہ علمائے مالکیہ نیز ان کے علاوہ دیگر علماء نے بھی ایسے شخص کو جو نبوت کو کسبی کہتا ہو، کافر کہا ہے اور کفر کا فتویٰ دیا ہے۔﴾
- ......٧ ”وكذلك من ادعى النبوة لنفسه اوجوّز اكتسابهاوالبلوغ بصفاء
القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهولاء كلهم كفار مكذبون للنبی ﷺ لانه اخبر انه خاتم النبيين لا نبي بعده واخبر عن الله انه خاتم النبيين (شرح شفاء ص ٢٠ ج ٢)“ ﴿اور ایسے ہی کافر کہتے ہیں ہم اس شخص کو جو اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کا حاصل کرنا جائز سمجھے اور صفائی قلب سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچنا ممکن سمجھے جیسا کہ فلاسفہ اور حدود شرعیہ سے نکلے ہوئے صوفی کہلانے والوں کا خیال ہے۔ اسی طرح جو شخص دعویٰ کرے کہ اس کو منجانب اللہ وحی ہوتی ہے گو وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے پس یہ تمام کے تمام لوگ کافر اور نبی ﷺ کو جھٹلانے والے ہیں۔ اس لئے کہ آپ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
مرزائیت
- ......١ ”میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت (فضیلت) نہیں دیکھتا یعنی
جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں۔ میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ اور یہ تمام شرف (خدا سے ہم کلامی اور نبوت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت وغیرہ) مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤)
١٢
- ......٢ ”مراد میری نبوت سے کثرت مکالمہ
اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔“
- ......٣ ”آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ
توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“
- ......٤ ”اگر امتی کو جو محض پیروی آنحضرت ﷺ
اور نبی کا نام دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی
- ......٥ ”اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
ومخاطبہ کیا اور پھر اسحاق علیہ السلام سے اور اسماعیل السلام سے اور موسیٰ علیہ السلام اور مسیح ابن مریم علیہ سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن بھی اپنے مکالمہ ومخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف ہوا۔“
- ......٦ ”انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام
صالحین سے شہداء میں اور شہداء سے صدیقوں میں بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سرالہی (نبی) بن جاتا
- ......٧ ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی
* کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(ڈائری میاں محمود احمد، خلیفہ ثانی قادیان)
- ......٨ ”میرا پیارا اور میرا وہ محبوب آقا سید
اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع و وفاداری کہ آنحضرت ﷺ ہی کی شان اور عزت ہے کہ
(تقریر میاں محمود احمد مندرجہ)
- ......٩ ”براه راست خدا تعالیٰ سے فیض
- ......٢ ”مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے
اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ......٣ ”آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی
توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠ حاشیہ)
- ......٤ ”اگر امتی کو جو محض پیروی آنحضرت ﷺ سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتا ہے
اور نبی کا نام دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی ۔“
(چشمہ مسیحی ص ٤١ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٩ حاشیہ )
- ......٥ ”اور میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام سے مکالمہ
و مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق علیہ السلام سے اور اسماعیل سے اور یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام سے اور موسیٰ علیہ السلام اور مسیح ابن مریم علیہما السلام سے اور سب کے بعد ہمارے نبی ﷺ سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی۔ ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٤١١)
- ......٦ ”انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام نبی ہے۔ جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا
صالحین سے شہداء میں اور شہداء سے صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ آخر جب اس درجہ سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سرالٰہی (نبی) بن جاتا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٥٤،١٥٣ مصنفہ مرزا محمود احمد )
- ......٧ ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ
کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(ڈائری میاں محمود احمد ، خلیفہ قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیانی مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء )
- ......٨ ”میرا یار اور میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص
اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع و وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہی کی شان اور عزت ہے کہ آپ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے۔“
(تقریر میاں محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل ٢١؍ مارچ ١٩١٤ء منقول از قادیانی مذہب ص ٩١)
- ......٩ ”براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض وحی (نبوت) پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع
١٣
آنحضرت ﷺ کے کسی کو ملنا محال و ممتنع ہے اور یہ خود آپ ﷺ کا فخر ہے کہ ان کے اتباع میں یہ برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہو جائے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٣)
- ١٠...... ”اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور
ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔“
* (حقیقت الوحی ص ٢٨ حاشیہ ،خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
٨...... ختم نبوت
اسلام
- ١...... ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين
وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ ﴿نہیں ہیں محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔﴾
- ٢...... ”ولكنه رسول الله و خاتم النّبيين الذى ختم النبوة فطبع عليها
فلا تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة وبنحو الذى قلنا قال اهل التاويل (ابن جرير ص ١١ ج ٢٢، مصنف امام المفسرين ابو جعفر بن جرير طبرى“ ﴿لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی وہ شخص جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی۔ پس وہ (نبوت کا دروازہ) آپ کے بعد کسی کے لئے نہ کھولا جائے گا قیامت کے قائم ہونے تک اور ایسا ہی ائمہ تفسیر صحابہؓ و تابعینؒ نے فرمایا ہے۔﴾
- ٣...... ”والمراد بكونه عليه الصلوة و السلام خاتمهم انقطاع حدوث
وصف النبوة فى احد من الثقلين بعد تحليه عليه السلام بها فى هذه النشائة (روح المعانی ص ٦٠ ج ٧ سید محمود آلوسی بغدادی) ”﴿اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اس عالم میں وصف نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد وصف نبوت کا پیدا ہونا بالکل منقطع ہو گیا۔ جن و انس میں سے کسی میں یہ وصف پیدا نہیں ہوسکتا۔﴾
- ٤...... ”خاتم النّبيين ختم الله به النبوة فلانبوة بعده ولامعه (تفسیر
١٤
خازن ص ٣٧٠ ج٣) ”خاتم کے بعد کوئی نبوت ہے اور نہ آپ کے
- ٥...... ”عن انس بن م
قد انقطعت فلا رسول ص ٨٩ ج ٨، احمد فی مسنده) ” ہو چکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی
- ٦...... ”عن ابی ھریرة
الانبیاء كلما هلك نبى خـ (رواه البخارى فى كتاب احـ ص ١٦٢، احمد فی مسند ص ١٧ فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست خود ان اللہ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا
- ٧...... ”قال رسول الله
يزعم انه نبى وانا خاتم النـ ج ٢ ص ١٢٧ وغيرهم) ” ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
- ٨...... ”قال رسول الله
(رواه الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩) بن خطاب ہوتے ۔ ﴾
- ٩...... ”اذالم يعرف ا
ضروريات الدين (الاشبـ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا ضرور
خازن ص٣٧٠ ج٢) "﴿خاتم النبیین یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبوت ختم کر دی۔ پس نہ آپ کے بعد کوئی نبوت ہے اور نہ آپ کے ساتھ۔﴾
- ٥...... "عن انس بن مالك قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة
قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (رواه الترمذی ص٥٣ ج٢، ابن کثیر ص ٢٨٩ ج٣، احمد فی مسنده) "﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ رسالت و نبوت منقطع (ختم) ہو چکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔﴾
- ٦...... "عن ابی هریرة عن النبی ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم
الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى اخر وانه لانبى بعدى وسيكون الخلفاء (رواه البخارى فى كتاب احاديث الانبياء ج١ ص٤٩١، مسلم فى كتاب الامارة ج٢ ص١٦٢، احمد فی مسند ص٢٩٧ج٢) "﴿حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اللہ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء ہوں گے۔﴾
- ٧...... "قال رسول الله ﷺ انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم
يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لانبى بعدى (رواه ترمذى ج٢ ص٤٥، ابوداؤد ج٢ ص١٢٧ وغيرهم) "﴿میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں۔ ان میں ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾
- ٨...... "قال رسول الله ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب
(رواه الترمذى ج٢ ص٢٠٩) "﴿نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔﴾
- ٩...... "اذالم يعرف ان محمد (ﷺ) اخر الانبياء فليس بمسلم لانه من
ضروريات الدين (الاشباه والنظائر ص٢٦٦ كتاب السير والردة) "﴿جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہ یقین کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ کافر ہو جاتا ہے کیونکہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا ضروریات دین سے ہے۔﴾
١٥
مرزائیت
- ١...... ”نعنی بختم النبوة ختم کمالاتها علی نبینا الذی هو افضل رسل
الله و انبیاءہ ونعتقد بانہ لا نبی بعدہ الا الذی هو من امتہ ومن اکمل اتباعہ“
(مواہب الرحمٰن ص ٦٧ خزائن ج ١٩ ص ٢٨٥)
”یعنی ختم نبوت سے مراد آنحضرت ﷺ پر کمالات نبوت کا ختم ہونا اور وہ تمام پیغمبروں سے افضل ہیں اور ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر جو آپ کی امت سے ہو اور کامل متبعین سے ہو۔“
(ازہاق الباطل ص ٤٩ مصنفہ منشی قاسم علی قادیانی)
- ٢...... ”یہ شرف (نبوت) مجھے محض حضور ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا کیونکہ اب بجز محمدی
نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ خزائن ج ٢٠ ص ٤١١)
- ٣...... ”نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ
ومخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمت الٰہیہ سے مشرف ہو سکے (یعنی نبی نہ ہو سکے) وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند معقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣٨ ج ٢١ ص ٣٠٦)
نوٹ...... مطلب اس پوری عبارت کا یہ ہے کہ جو دین یہ عقیدہ سکھلائے کہ اب اس میں وحی الٰہی کا دروازہ اور نبوت کا سلسلہ بند ہے جیسے اسلام تو وہ دین لعنتی ہے اور جس نبی نے اس دین کی تبلیغ کی ہے وہ نبی نہیں۔ عتیق الرحمٰن آروی!
- ٤...... ”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔...... ہم پر کئی
سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نشانی اس کے صدق کی گواہی دے چکی ہے اسی لئے ہم نبی ہیں۔“
(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی منقول از حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢ مصنفہ مرزا محمود خلیفہ ثانی قادیان)
- ٥...... ”آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ
آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام (نبوت) کو بند کر دیا اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت ﷺ رحمۃ اللعالمین ثابت ہوئے
١٦
ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ) اگر اس عقیدہ ( ہوں گے کہ آپ ﷺ نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذا کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔“
(حقیقت ا
- ٦...... ”یہ بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے
ہوا ہے۔“
- ٧...... ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوا
آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“
- ٨...... ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں
بعد)
- ٩...... ؤ
اسلام
- ١...... ”اذا لم يعرف الرجل ان
وكذلك لوقال انا رسول الله اوقال بـ می برم يكفر (فتاویٰ عالمگیری ص آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں کہے کہ میں پیغمبر ہوں (میں پیغمبر ہوں) اور مراد یہ ہ
- ٢...... ”ودعوى النبوة بعد نـ
اکبر ص ٢٠٢) ”حضور ﷺ کے بعد نبوت
- ٣...... ”وكذلك نكفر من ادعـ
كمسيلمة الكذاب والاسودالعنسى القرآن و الحديث فهذا تكذيـ ص ٥٠٦ ج ٧) ”ایسا ہی ہم اس شخص کو کافـ کی نبوت کا قائل ہو جیسے حضور ﷺ کے زما
ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ) اگر اس عقیدہ (ختم نبوت) کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ ﷺ نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٨٦ مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی قادیان)
- ٦...... ”یہ بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا
ہوا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)
- ٧...... ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ
آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا کذاب ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٦٥ مصنفہ محمود احمد خلیفہ قادیان)
- ٨...... ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی اور ہوں گے۔“ (یعنی آنحضرت ﷺ کے
بعد)
(انوار خلافت ص ٦٢)
٩...... دعویٰ نبوت
اسلام
- ١...... ”اذا لم یعرف الرجل ان محمداًﷺ اخرالانبیاء فلیس بمسلم
وکذلك لو قال انا رسول اللہ او قال بالفارسیہ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر (فتاویٰ عالمگیری ص ٢٦٣ ج ٢) ”جب کوئی آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ من پیغمبرم (میں پیغمبر ہوں) اور مراد یہ ہو کہ پیغام پہنچاتا ہوں تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔﴿
- ٢...... ”ودعویٰ النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع (شرح فقہ
اکبر ص ٢٠٢) ”حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاتفاق کفر ہے۔﴿
- ٣...... ”وکذلك نکفر من ادعیٰ النبوۃ احد مع نبینا ﷺ ای فی زمنہ
کمسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی او تنبأ احد بعدہ فانہ خاتم النبیین بنص القرآن و الحدیث فہذا تکذیب اللہ ورسول اللہ ﷺ (نسیم الریاض ص ٥٠٦ ج ٤) ”ایسا ہی ہم اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد کسی شخص کی نبوت کا قائل ہو جیسے حضور ﷺ کے زمانے میں مسیلمہ اور اسود عنسی نے کیا یا کسی نے آپ کے
١٧
بعد نبوت کا دعویٰ کیا کیونکہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ قرآن حکیم اور حدیث کی نص سے۔ پس یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے۔﴾
- ٤...... ”من اعتقد وحیا بعد محمد ﷺ فقد کفر باجماع المسلمین (فتاویٰ
علامہ ابن حجر مکی) ﴿جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد وحی کا اعتقاد رکھے وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔
- ٥...... ”وکذلک قال ابن القاسم فیمن تنباہ وزعم انہ یوحی الیہ انہ
کالمرتد سواء کان دعا ذلک والی متابعہ نبوتہ سرا کان اوجہرا کمسیلمہ لعنہ الله وقال اصبغ بن الفرج ہو اى من زعم انہ نبى یوحی الیہ کالمرتد فی احکامہ لانہ قد کفر بکتاب الله لانہ کذبہ ﷺ فی قولہ انہ خاتم النبیین لا نبى بعدہ مع الفریہ علی الله (خفاجی شرح شفا ٤٣٠ ج ٤) ﴿اور ایسے ہی ابن قاسم نے اس شخص کے متعلق کہا ہے جو دعویٰ نبوت کرے اور کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ وہ مثل مرتد کے برابر ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی نبوت کی اتباع کی دعوت دے یا نہ دے اور پھر یہ دعوت خفیہ ہو یا علانیہ جیسے مسیلمہ کذاب اور اصبغ بن الفرج فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے۔ وہ احکام میں مثل مرتد (جو مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جائے) کے ہے اس لئے کہ وہ قرآن کا منکر ہو گیا اور آنحضرت ﷺ کو اس قول میں جھٹلایا کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر افتراء بھی باندھا کہ اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔﴾
- ٦...... ”واما من قال ان بعد محمد ﷺ نبیا غیر عیسیٰ بن مریم فانہ لا
یختلف اثنان فی تکفیرہ لصحہ قیام الحجہ (کتاب الفصل لعلامہ ابن حزم ص ١٨ ج ٤ ، ص ٢٤٩ ج ٣) ﴿جو شخص کہے کہ حضور ﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ بن مریم کے کوئی اور نبی ہے تو اس کے کافر کہنے میں دو مسلمانوں کا بھی اختلاف نہیں۔ کیونکہ حجت صحیح قائم ہے (یعنی تمام مسلمانوں نے ایسے شخص کو کافر کہا ہے)﴾
- ٧...... ”ویکفر بقولہ ان کان ما قال الانبیاء حقا او صدقا وبقولہ انا
رسول الله (بحر الرائق ص ١٣٠ ج ٥) ﴿اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ یہ کہے کہ اگر انبیاء کا فرمان صحیح و سچ ہو تو کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو بھی کافر ہو جاتا ہے۔﴾
١٨
مرزائیت
- ١...... ”سچا خداوند وہی ہے جسے قادیان میں اپنا رسول
- ٢...... ”اور میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے
مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا اور اسی نے مجھے مسیح
(تتمہ
- ٣...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبا
- ٤...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گی
خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ اس پر ایمان لانا
- ٥...... ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول
تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
- ٦...... ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا ہ
امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقـ تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیو ہیں۔۔۔۔۔۔ اس پر تیس برس کی مدت گزر گئی اور ایسا ہی اور نہی بھی ۔“
نوٹ...... ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادی ہونے کے مدعی بھی ہیں۔
- ٧...... ”اور جس قدر مجھ سے (مرزا قادیانی) پ
گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام ان میں پائی نہیں جاتی ۔“
- ٨...... ”میں حضرت مرزا قادیانی کی نبوت کی
١٩
مرزائیت
- ١...... ”سچا خداوند وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٢...... ”اور میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے
مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ٣...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء ،ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٤...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ۔ خدا کا مامور۔
خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
- ٥...... ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور
تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ٦...... ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند
امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ہیں۔......اسی پر تیس برس کی مدت گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
نوٹ...... ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نبی بھی ہیں اور رسول صاحب شریعت ہونے کے مدعی بھی ہیں۔
- ٧...... ”اور جس قدر مجھ سے (مرزا قادیانی) پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں
گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ ان میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
- ٨...... ”میں حضرت مرزا قادیانی کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ
١٩
سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے، پہلے انبیاء نے بلا واسطہ نبوت پائی اور آپ (مرزا قادیانی) نے بالواسطہ ۔“
(القول الفصل ص٣٣، مصنف میاں محمود احمد )
- ٩...... ”پس شریعت اسلامیہ نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس معنی سے حضرت مرزا غلام احمد
ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
- ١٠...... ”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) اللہ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں سکتے ۔“
(اخبار پیغام صلح جلد اول نمبر ٣٥ مورخہ ٧ نومبر ١٩١٣ء مسٹر محمد علی لاہوری مرزائی پارٹی کا ترجمان )
- ١١...... ”ہم تمام احمدی (مرزائی) جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار پیغام صلح سے تعلق ہے۔
خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ جو درجہ حضرت مسیح (مرزا قادیانی) نے بیان فرمایا اس سے کم و بیش کرنا سلب ایمان سمجھتے ہیں۔“
(اخبار پیغام صلح ج ١ نمبر ٣٤ مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء)
١٠...... توہین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام
١١...... توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- ١...... ”اذقالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح
عیسیٰ بن مریم وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل عمران:٤٥)“ ﴾ (اس وقت کو یاد کرو) جب کہ فرشتوں نے (یہ بھی) کہا کہ اے مریم بیشک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہو گا اس کا نام (ولقب ) مسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا (خدا کے نزدیک) با آبرو ہوں گے۔ دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اور منجملہ مقربین کے ہوں گے ۔ ﴾
- ٢...... ”انہ وجیہ فی الدنیا بسبب انہ کان مبرأ من العیوب التی وصفہ
للیہود بہا ووجیہ فی الاخرۃ بسبب کثرۃ ثوابہ وعلو درجتہ عند اللہ تعالیٰ
(تفسیر کبیر ج ٤ جزء ثامن ص ٥٣، ٥٤، از امام فخر الدین رازی)“
٢٠
- .......٣ ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه
صدیقہ (مائدہ:٧٥)“ (حضرت) مسیح ابن مريم (عین خدا یا جز خدا) کچھ بھی نہیں صرف ایک پیغمبر ہیں جن سے پہلے اور بھی پیغمبر گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ( بھی صرف) ایک ولی بی بی ہیں۔ ﴿
- ......٤ ”انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته القاها الى مريم
وروح منہ (نساء: ١٧١) “ مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا اور اللہ کی طرف سے ایک جان ہیں۔ ﴿
نوٹ ...... ان آیات میں بار بار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا رسول اور اس کا نبی اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ اور وجیہ فی الدنیا والاخرۃ اور مقرب خدا وغیرہ بتایا گیا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی عظمت کو ظاہر کیا گیا ہے اور دوسری طرف مرزا قادیانی ان کو بد اخلاق، چور، جھوٹا، مکار، فریبی کہہ رہے ہیں۔ بلکہ ان کی نبوت اور معجزات کا انکار کر رہے ہیں۔ خدا ان کی ماں کو صدیقہ (ولیہ کاملہ) کا خطاب دے رہا ہے۔ فرشتے ان کے سامنے آکر خدا کا پیغام پہنچا رہے ہیں اور حضرت محمد ﷺ ان کو خیر النساء ( بہترین عورت ) اور افضل النساء العالمین (دنیا کی عورتوں سے افضل سوائے حضرت خدیجہ و فاطمہ کے ) بتا رہے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ان کو زانیہ وغیرہ قرار دے رہے ہیں۔ (العیاذ باللہ) کیا یہ صریح خدا اور رسول کا مقابلہ نہیں ہے۔ کیا یہ قرآن وحدیث کا انکار نہیں ہے؟
فاعتبروا يا اولى الالباب
- ......٥ ”واتينا عيسى ابن مريم البينت وايدناه بروح القدس
(بقرہ:٨٧)“ اور دیا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات اور تائید کی ہم نے ان کی روح القدس کے ذریعہ سے۔ ﴿
- ......٦ ”هوالذي رباه فى جميع الاحوال وكان يسير معه حيث ساروكان
معه حيث صعّد الى السماء (تفسير كبير)“ جبرائیل علیہ السلام ان کی ہر وقت نگہداشت کرتے اور کسی وقت ان سے جدا نہیں ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو آسمان پر اٹھا کر لے گئے۔ ﴿
٢١
- ٧....... ”والمعنى اعناه بجبريل عليه السلام فى اوّل امره فى وسطه
واخره (تفسیر کبیر ص ٣٠٤ ج٢) ”اور معنی اس آیت کا یہ ہے کہ ہم نے اس کی امداد بذریعہ جبرئیل علیہ السلام کرائی ۔ اوّل عمر میں بھی اور وسط عمر میں بھی اور اخیر عمر میں بھی ۔ ﴿
- ٨....... ”انى قد جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير
فانفخ فيه فيكون طيرا باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحي الموتى باذن الله۔ ان فى ذلك لاية لكم ان كنتم مومنين (آل عمران:٤٩) ” ﴿تحقیق آیا ہوں میں تمہارے پاس ساتھ معجزہ اور نشانی کے تمہارے پروردگار کی جانب سے (وہ یہ کہ) میں بناتا ہوں تمہارے لئے مٹی سے مانند صورت چڑیا کے پس پھونکتا ہوں میں اس میں پس ہو جاتی ہے اڑنے والی چڑیا ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور چنگا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو اور جلاتا ہوں مردوں کو اللہ کے حکم سے۔ البتہ اس کے اندر (یعنی ان معجزات میں) نشانی ہے (اللہ کی طرف سے میری نبی ہونے کی) تمہارے لئے اگر ہو تم ایمان والے ۔ ﴿
- ٩....... ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن
فيكون (آل عمران:٥٩) ” ﴿بیشک مثال عیسیٰ علیہ السلام کی اللہ کے نزدیک مثل آدم کے ہے کہ پیدا کیا ان کو مٹی سے اور پھر کہا کہ ہو جا پس ہو گئے ۔
- ١٠....... ”اجمع المفسرون على ان هذه الاية نزلت عند حضور وفد نجران
على الرسول ﷺ وكان من جملة شبههم ان قالوا يا محمدﷺ لما سلمت انه لااب له من البشر وجب ان يكون ابوه هو الله تعالى فقال الآدم ماكان له اب ولام ولم يلزم ان يكون ابن الله تعالى فكذا القول فى عيسى عليه السلام الخ (تفسیر کبیر ص ٢٤١ ج٢) ” ﴿خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ آیت اس وقت اتری ہے جبکہ آنحضرت ﷺ کے پاس نجران کا وفد آیا ہوا تھا اور مختلف قسم کے اعتراضات و جوابات ہو رہے تھے۔ منجملہ اعتراضوں کے ایک یہ بھی تھا کہ آپ (حضرت محمد ﷺ) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بلا باپ کے ہونا تسلیم کرلیا ہے اور جب کسی کا بشر (آدمی) باپ نہ ہوگا تو ضروری ہے اس کا باپ خدا ہو تو اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا کہ آدم علیہ السلام کا نہ باپ تھا نہ ماں ۔ تو کیا اس سے لازم آتا ہے کہ وہ بھی خدا کے بیٹے ہو جائیں ۔ ہرگز نہیں چنانچہ تم (عیسائی) لوگوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔ تو ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی سمجھنا چاہئے کہ اگر آدمی ان کا باپ نہیں تو بھی وہ خدا
٢٢
کے بیٹے نہیں (حضور ﷺ) تو حضرت مسیح کو بلا باپ کے مانیں اور ہو ۔ مگر مرزا صاحب (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ) یوسف نجار کو ان کا باپ بتاتے ہیں ۔ کیا اب بھی وہ مسلمان باقی رہے
- ١١....... ”ان الله اصطفى آدم ونوحا وال ابراهيم
(آل عمران:٣٣) ” ﴿بیشک اللہ نے برگزیدہ کیا اور چن لیا آدم علیہ السلام کے کنبے کو اور عمران علیہ السلام کے خاندان کو تمام السلام کی اہلیہ کو العیاذ باللہ زانیہ بتائے ۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے مگر پھر بھی مرزا مسلمان ہی ہوت
مرزائیت
- ١....... ”ہاں آپ کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) گالیاں
ادنیٰ ادنیٰ بات پر اکثر غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے ر
(ضمی
- ٢....... ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلا
عادت تھی۔“
(ضمیرا نجا
- ٣....... ”اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ (حضرت عی
انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت
(ضمیرا نجا
- ٤....... ”پس ہم ایسے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ناپا
دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ ا
(ضمیر
- نوٹ ....... مسلمان ان گالیوں کو دیکھیں اور سمجھیں کہ ایک
کن کن ناپاک الفاظ سے یاد کیا گیا ہے کیا جھوٹا متکبر، ناپا نہیں ہو سکتا اور یقیناً نہیں ہو سکتا تو کیا یہ حضرت عیسیٰ علیہ گالیوں کا دینے والا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا ہاں ممکن ہے کہ مرزائیوں کی طرف سے یہ کہا جائے کہ اس
٢٣
کے بیٹے نہیں (حضور ﷺ) تو حضرت مسیح کو بلا باپ کے مانیں اور تمام امت کا اسی پر اجماع بھی ہو۔ مگر مرزا صاحب (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ ) میں مسیح کو بلا باپ نہیں مانتے بلکہ یوسف نجار کو ان کا باپ بتاتے ہیں۔ کیا اب بھی وہ مسلمان باقی رہیں گے۔ ﴾
- ١١....... "ان الله اصطفى آدم ونوحا وال ابراهيم وال عمران على العالمين
(آل عمران : ٣٣) " ﴿بیشک اللہ نے برگزیدہ کیا اور چن لیا آدم علیہ السلام کو اور نوح کو اور ابراہیم علیہ السلام کے کنبے کو اور عمران علیہ السلام کے خاندان کو تمام عالم پر۔ ﴾ (مگر مرزا عمران علیہ السلام کی اہلیہ کو العیاذ باللہ زانیہ بتائے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نانا حضرت عمران علیہ السلام ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے مگر پھر بھی مرزا مسلمان ہی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے)
مرزائیت
- ١....... "ہاں آپ کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) گالیاں دینے اور بد زبانی کی عادت تھی۔
ادنیٰ ادنیٰ بات پر اکثر غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٢....... "یہ بھی یاد رہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی
عادت تھی۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٣....... "اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) نے پہاڑی تعلیم جو
انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ہی ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں ۔"
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٤....... "پس ہم ایسے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے
دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں ۔"
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
نوٹ ...... مسلمان ان گالیوں کو دیکھیں اور سمجھیں کہ ایک اولوالعزم نبی صاحب کتاب وشریعت کو کن کن ناپاک الفاظ سے یاد کیا گیا ہے کیا جھوٹا متکبر، ناپاک خیال چور، زانی نبی ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں ہو سکتا اور یقینا نہیں ہو سکتا تو کیا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں؟ اور کیا ان گالیوں کا دینے والا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرنے والا کبھی مسلمان ہو سکتا ہے؟ ہاں ممکن ہے کہ مرزائیوں کی طرف سے یہ کہا جائے کہ اس میں گالیاں حضرت یسوع کو دی گئی ہیں
٢٣
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں تو یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یسوع ، عیسیٰ، مسیح ابن مریم۔ ان چاروں اسموں کا مسمی ایک ہی کو ٹھہرایا ہے اور وہ حضرت عیسیٰ بن مریم رسول اللہ صاحب کتاب انجیل ہیں۔ دیکھو (توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢، راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١، ست بچن ص ١٥٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٣)
- .......٥ ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے لکھے ہیں۔ مگر
حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور انہوں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے اپنے معجزہ مانگنے والوں کو گالیاں دیں۔ حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- .......٦ ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی
اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نادان عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- .......٧ ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ
عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
نوٹ....... جاننا چاہئے کہ شراب گو زمانہ سابقہ میں حلال تھی لیکن کسی نبی کا شراب پینا ہرگز ہرگز ثابت نہیں۔ کیونکہ نبی کا ہر قول و فعل امت کے لئے واجب العمل ہوا کرتا ہے اور شراب نشہ کی وجہ سے انسان کو اپنی عقل میں رہنے نہیں دیا کرتی حالانکہ یہ امر تبلیغ کے سراسر منافی ہے لہٰذا یہ مرزا قادیانی کا ذاتی افتراء ہے اور محض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین مقصود ہے۔
- .......٨ ”پھر افسوس! نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ
السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ
٢٤
بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کا کنجریوں (کسبی) سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے انسان سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٩...... "حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس سال کی مدت تک
نجاری (بڑھئی لوہار) کا کام کرتے رہے۔"
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ )
- ١٠...... "مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح
تو مسیح میں تو ان کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں نہ صرف اس پر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدس سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے کہ جس نے ایک مدت تک اپنی تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے تھے کہ برخلاف تعلیم توریت نکاح عین حمل میں کیونکر کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو ناحق کیوں توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔"
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧، ١٨)
نوٹ...... مرزا قادیانی اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار بھائی اور دو بہنیں بتاتے ہیں۔ یعنی یہ سب ساتوں کے ساتوں یوسف نجار اور مریم کی اولاد تھیں۔ لیکن یادرہے کہ حقیقی بہن بھائی ان بچوں کو کہتے ہیں جن بچوں کے ماں اور باپ ایک ہی ہوں۔ مرزا قادیانی کے اقرار کی رو سے حضرت مریم کا حمل جو نکاح سے پہلے تھا۔ اگر اس کو قدرتی یا غیر کا تسلیم کیا جائے تو دوسری باقی اولاد یوسف نجار اور مریم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے حقیقی بہنیں اور بھائی نہیں بن سکتے۔ البتہ اگر اس حمل کی نسبت یوسف کی طرف بقول مرزا قادیانی کی جاوے گی تو مرزا قادیانی کا کلام صحیح ہو سکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ مریم صدیقہ کا زانیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ولد الحرام ہونا اظہر من الشمس ہوگا۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ )
٢٥
١٢....... توہین حضرت نبی کریم ﷺ
اسلام
- ......١ "ياايهاالذين امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبى ولا
تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم وانتم لا تشعرون (حجرات:٢) ”﴿اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں بولا کرتے ہو۔ کبھی تمہارے اعمال برباد ہو جاویں۔﴾ (جب نبی کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے سے انسان کافر و مرتد ہو جاتا ہے اور اس کے سارے نیک اعمال حبط اور بیکار ہو جاتے ہیں تو جو شخص اپنے کو نبی ﷺ سے اکمل افضل اعظم اکبر سمجھتا ہو، وہ کیسے مسلمان باقی رہ سکتا ہے؟)
- ......٢ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض قال اهل التفسير المراد
بقوله ورفع بعضهم درجات اى محمد ﷺ اى رفعه على سائر الانبياء من وجوه متعددة ومراتب متباعده...... وظهرت على يديه المعجزات الكثيره ولیس احد من الانبياء اعطى فضيلة وكرامة الا وقد اعطى محمد ﷺ مثلها اى مثل تلك الفضيلة والكرامة مع الزيادة ما لا يعد ولا يحصى (شرح شفا ص ١١١ ج١) ”﴿یہ حضرات مرسلین ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعض پر فضیلت و فوقیت بخشی ہے۔ مفسرین نے کہا ہے کہ مراد اللہ تعالیٰ کے قول ’ورفع بعضهم درجات‘ (اور بعضوں کو ان میں بہت درجوں میں سرفراز کیا) سے حضرت محمد ﷺ ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے درجہ کو بلند و سرفراز فرمایا تمام نبیوں کے درجہ پر بہت سے وجوہ سے (مصنف اس پر دلائل لکھنے کے بعد فرماتے ہیں) اور اس لئے بھی کہ آپ کے دست مبارک سے معجزات کثیرہ کا ظہور ہوا ہے کیونکہ جو فضل و کمال انبیاء کرام علیہم السلام کو الگ الگ دیا گیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو وہ تمام فضل و کمال مع زیادتی کے عطاء فرمایا گیا اور آپ ﷺ کے معجزات اس قدر زیادہ ہیں جو حد شمار سے باہر ہیں۔﴾
- ......٣ ”عن ابن عباسؓ قال ان الله فضل محمد ﷺ على الانبياء واهل
السماء (رواه الدارمى) ”﴿حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ بیشک فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام نبیوں اور رسولوں پر اور تمام آسمان والوں (فرشتوں) پر۔﴾
٢٦
- ......٤ "ظهر على بن ابى طالب م
العرب فقالت عائشة الست انت سیّد العر العرب (رواه البیهقى فى فضائل الصحاب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمام عرب کے سردار ہیں، العرب (تمام عرب کے سردار) نہیں ہیں؟ اس کے العالمین (تمام جہانوں کا سردار) ہوں اور یہ (علی)
- ......٥ قال رسول اللہ ﷺ ”انا سیّد ولد
واء الحمد ولا فخر وما من نبى يومئـ رواه الترمذى ص ٢٠٢ ج ٢ وفى رواية انا اكرم ولـ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں کے اور میرے ہی ہاتھ میں لواءُ الحمد (تعریف کا جھنڈ پیغمبر قیامت کے دن خواہ آدم علیہ السلام ہوں خوا نیچے ہوں گے۔﴾
- ......٦ "اقتربت الساعة وانشق ا
سحر مستمر (قمر:١) ”﴿قیامت نزدیک دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جاد
- ......٧ "عن ابن مسعود قال انشق
فرقة فوق الجبل وفرقة دونه فقا (مسلم ص ٧٢١) ”﴿حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ پر نظر آتا تھا اور دوسرا پہاڑ
- ......٨ حضرت وہب بن منبہؒ فرماتے ہیں
یہ لکھا ہوا تھا کہ تمام اولین و آخرین کی عقلیں برابر ہیں۔
- ......٩ ”واجتمعت الامة على ان
محمد ﷺ افضل من الکل (تفسیر کـ اتفاق ہے کہ بعض انبیاء بعض سے افضل ہیں
- ......٤ ”ظهر على بن ابى طالب من بعيد فقال عليه السلام هذا سيد
العرب فقالت عائشة الست انت سيد العرب فقال انا سيد العالمين وهو سيد العرب (رواه البيهقى فى فضائل الصحابة) ”حضرت علیؓ دور سے ظاہر ہوئے تو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ یہ تمام عرب کے سردار ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کیا آپﷺ سید العرب (تمام عرب کے سردار) نہیں ہیں؟ اس کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا کہ میں سید العالمین (تمام جہانوں کا سردار) ہوں اور یہ (علیؓ) سید العرب ہیں۔ ﴾
- ......٥ قال رسول اللهﷺ ”انا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدى لواء
الحمد ولا فخر وما من نبى يومئذ آدم فمن سواه الا تحت لوائى (رواه الترمذى ص٢٠٢ ج٢ وفى رواية انا اكرم ولد آدم على ربى ولا فخر ترمذى) ” فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں قیامت کے دن اور نہیں کہتا ہوں میں از راہ فخر کے اور میرے ہی ہاتھ میں لواء حمد (تعریف کا جھنڈا) ہوگا اور نہیں کہتا ہوں میں از روئے فخر اور کوئی پیغمبر قیامت کے دن خواہ آدم علیہ السلام ہوں خواہ ان کے سوا اور تمام پیغمبر مگر میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ ﴾
- ......٦ ”اقتربت الساعة وانشق القمر وان يروا اية يعرضوا ويقولون
سحر مستمر (قمر:١) ” قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہو گیا اور یہ لوگ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوا جاتا ہے۔ ﴾
- ......٧ ”عن ابن مسعود قال انشق القمر على عهد رسول اللهﷺ فرقتين
فرقة فوق الجبل وفرقة دونه فقال رسول اللهﷺ اشهدوا (بخارى ج٢ ص٧٢١) ” حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ پر نظر آتا تھا اور دوسرا پہاڑ کے دوسری جانب آپ نے فرمایا کہ گواہ رہو۔ ﴾
- ......٨ حضرت وہب بن منبہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اکہتر آسمانی کتابوں کو پڑھا۔ ان میں
یہ لکھا ہوا تھا کہ تمام اولین و آخرین کی عقلیں حضرت محمدﷺ کے مقابلہ میں ایک ذرہ ریت کے برابر ہیں۔
(ترجمہ شرح شفا، ص١٦ج١)
- ......٩ ”واجتمعت الامة على ان بعض الانبياء افضل من بعض وعلى ان
محمدﷺ افضل من الكل (تفسير كبير ص٣٠٠ ج٢) ” تمام امت کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ بعض انبیاء بعض سے افضل ہیں اور اس پر بھی اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت محمدﷺ تمام
٢٧
نبیوں سے افضل ہیں۔ کچھ
- .......١٠ اور جس مسلمان نے گالی دی رسول اللہ ﷺ کو یا عیب لگایا یا جھٹلایا یا تنقیص کی۔ پس
تحقیق کافر ہو گیا وہ۔
(شرح شفا، ص ١٧، شامی الاشباہ والنظائر)
مرزائیت
- .......١ ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح
باقی ہے۔ جو پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور اعظم ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وقت ہو۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے کھلے لفظوں میں اقرار کیا ہے کہ میری فتح اعظم اکبر اظہر ہے اور نبی کریم ﷺ کی فتح اعظم و اکبر نہ تھی۔ جس کا صاف نتیجہ ظاہر ہے کہ کہ میں حضور ﷺ سے اعظم، اکبر وغیرہ ہوں۔
- .......٢ اپنے معجزات کو (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) میں ”تین لاکھ سے زیادہ“
لکھتے ہیں اور (براہین احمدیہ ص ٥٦ جلد پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) میں اپنے معجزات کی تعداد ١٠ لاکھ بتاتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے تمام معجزات کی تعداد (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں صرف تین ہزار لکھتے ہیں (ناظرین خود حساب کر کے دیکھیں کہ اپنا مرتبہ حضور ﷺ سے کتنا زیادہ بتایا ہے)
- .......٣ ”واتانی مالم یؤت احد من العالمین “ (الاستفتاء ص ٨٧ ملحقہ حقیقت الوحی،
خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥) ”اور مجھ کو وہ مرتبہ دیا کہ تمام جہان میں (کسی نبی اور ولی) کو نہیں دیا گیا۔
- .......٤ ”له خسف القمر المنير وان لي۔ خسفا القمران المشرقان
اتنكر “ ”(ترجمہ از مرزا قادیانی) اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
- .......٥ ”ایک صاحب نے (مرزا قادیانی سے) پوچھا شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے
ہیں۔ فرمایا ”ہماری رائے میں وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء)
- .......٦ ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ
ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (میرے زمانہ) میں پوری طرح تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)
٢٨
- .......٧ ”پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود (
نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے۔ لیکن کیا استاد و شاگرد کا سے استاد کے برابر بھی ہو جائے۔ تاہم استاد کے سامنے آپ ﷺ اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں سـ
- .......٨ ”آنحضرت ﷺ معلم ہیں اور مسیح موعو
استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے یا ا استاد ہی رہتا ہے اور شاگرد شاگرد ہی۔“
(تقریر
(اس میں صاف اقرار موجود ہے کہ مرزا یعنی مرزا قادیانی علم میں حضور کے برابر ہیں بلکہ بعض یعنی مرزا قادیانی کا علم حضور ﷺ سے زائد ہے۔ نعوذ
- .......٩ ”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم
آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“
- .......١٠ ”حضرت مسیح موعود (مرزا) کا ذہنی ارتـ
تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہـ حاصل ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز خان قادیانی ، مندر
- .......١١
اور آگے سے ہیں بـ
محمد دیکھنے ہوں
غلام احمد کو دیـ
(قاضی ظہور الدین قادیـ
- .......١٢
من بعرفان
آنچہ داداست
داد آں
- ......٧ ”پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس قدر رسول اللہ ﷺ کے
نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے۔ لیکن کیا استاد و شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔ گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے۔ تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کر کے بیٹھے گا۔ یہی نسبت آپ ﷺ اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں ہے۔“
(ذکر الہی ص ١٨ مصنف مرزا محمود احمد)
- ......٨ ”آنحضرت ﷺ معلم ہیں اور مسیح موعود (مرزا قادیانی) ایک شاگرد۔ شاگرد خواہ
استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے یا بعض صورتوں میں بڑھ بھی جائے۔ مگر استاد استاد ہی رہتا ہے اور شاگرد شاگرد ہی۔“
(تقریر محمود احمد مندرجہ اخبار الحکم قادیان ٢٨ اپریل ١٩١٤ء)
(اس میں صاف اقرار موجود ہے کہ مرزا قادیانی نے آپ کے تمام علوم حاصل کر لئے یعنی مرزا قادیانی علم میں حضور ﷺ کے برابر ہیں بلکہ بعض صورتوں میں حضور ﷺ سے بڑھ بھی گئے ہیں یعنی مرزا قادیانی کا علم حضور ﷺ سے زائد ہے۔ نعوذ باللہ !)
- ......٩ ”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر
آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٣)
- ......١٠ ”حضرت مسیح موعود (مرزا) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں
تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کو آپ ﷺ پر حاصل ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز خان قادیانی مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء)
- ......١١
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(قاضی ظہور الدین قادیانی مندرجہ اخبار بدر ج ٢ ص ٣٣، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
- ......١٢
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ داداست ہر نبی را جام
داد آں جام مرا بتمام
٢٩
ترجمہ ...... اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں۔ میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دے دیا ہے۔
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)
١٣......
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
ترجمہ ...... میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے۔
(نزول المسیح ص١٠٠، خزائن ج١٨ص٤٧٨)
١٣...... سرور عالم ﷺ کی خصوصیات اور مرزا کا دعویٰ ہمسری
قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر بعض آیات میں حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کی خصوصیات کا ذکر فرمایا ہے۔ جن میں اولین و آخرین میں کوئی آپ کا سہیم و شریک نہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک تمام مسلمانانِ عالم ان آیات کا مصداق حضور ﷺ کو مانتے چلے آئے۔ لیکن چودھویں صدی کے مدعی نبوت ”غلام احمد“ نے حضور ﷺ کی ان تمام خصوصیات کا انکار کر کے ان آیات قرآنی کا مصداق اپنے آپ کو قرار دے کر تمام مسلمانانِ عالم، رسول اللہ ﷺ ، خدا اور خدا کے کلام کو جھٹلانے کی کوشش کی۔ جس کا نمونہ درج ذیل ہے۔
اسلام
- ١...... "وإذ أخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم
رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال أأقررتم وأخذتم على ذلكم إصري قالوا أقررنا قال فاشهدوا وأنا معكم من الشاهدين (آل عمران:٨١)“ ﴿اور جملہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے جو کچھ میں تم کو کتاب علم دوں پھر تمہارے پاس آوے رسول (محمد) کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو تم ضرور اس رسول پر ایمان بھی لانا اور اس کی مدد بھی کرنا۔ فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا تو تمام رسول بولے ہم نے اقرار کیا پھر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔﴾
- ٢...... ”قال علي بن أبي طالب و ابن عباس ما بعث الله نبيا من الأنبياء إلا
٣٠
أخذ عليه الميثاق لئن بعث الله مح
(تفسیر ابن کثیر ص١٧٨ ج٢، تفسیر کبیر ص
اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جتنے انبیاء دنیا میں تش عہد و قرار لیا کہ اگر حضرت محمد ﷺ دنیا میں نبی بنا کر ہو، تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور یہ ہی عہد
- ٣...... ”إن الميثاق هذا مختص بـ
عباس وقتادة والسدي (تفسیر کبیر ص میں ہے) خاص ہے حضرت محمد ﷺ کے لئے اور سدیؓ وغیرہ ہم سے۔﴾
- ٤...... "وإذ قال عيسى ابن مريم
مصدقا لما بين يدي من التوراة ومبش (الصف)“ ﴿اور جبکہ عیسیٰ ابن مریم نے فرمایا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات ہے اس ک رسول آنے والے ہیں۔ جن کا نام احمد ہوگا۔ ان حدیث میں اس طرح ہے۔
- ٥...... "عن أبي أمامة عن رسو
دعوة إبراهيم و بشارة عيسى الحدي سارية (مسند احمد ص١٦٧ ج٤ و مشكوة کہ میں تم کو اپنی نبوت کی ابتداء کے متعلق آگا علیہ السلام کی بشارت ہوں۔ (جو آیت بالا میں
- ٦...... "عن جبير بن مطعم قال
محمد وأنا أحمد الحديث (بخاری، ص٢٠٥ ج٢)“ ﴿حضرت جبیر ابن مطعم فر ہوئے سنا کہ میرے لئے متعدد نام ہیں۔ میں
- ٧...... ”قل يا أيها الناس إني ر
دیجئے (اے محمد ﷺ) کہ اے لوگو! میں رسول
اخذ عليه الميثاق لئن بعث الله محمداً وهو حى ليؤمنن به ولينصرنه (تفسیر ابن کثیر ص ١٧٨ ج ٢، تفسیر کبیر ص ٤٨٣ ج ٢) ”حضرت علیؓ وابن عباسؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جتنے انبیاء دنیا میں تشریف لائے ان تمام نبیوں سے اللہ تعالیٰ نے عہد و اقرار لیا کہ اگر حضرت محمد ﷺ دنیا میں نبی بنا کر بھیجے جائیں اور اس وقت تم لوگ زندہ موجود ہو، تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور یہ ہی عہد واقرار تم اپنے اپنے متبعین سے بھی لینا۔ ﴾
- ٣...... ”ان الميثاق هذا مختص بمحمد ﷺ وهو مروى عن علىؓ وبن
عباسؓ وقتادة والسدىؒ (تفسیر کبیر ص ٤٨٣ ج ٢) ”بیشک یہ میثاق (جو آیت بالا میں ہے) خاص ہے حضرت محمد ﷺ کے لئے اور یہ ہی مروی ہے حضرت علیؓ و ابن عباسؓ و قتادہؒ وسدیؒ وغیرہم سے۔ ﴾
- ٤...... ”واذقال عیسیٰ ابن مریم يبنى اسرائيل انى رسول الله اليكم
مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشر برسول ياتى من بعدى اسمه احمد (الصف) ”اور جبکہ عیسیٰ ابن مریم نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں۔ جن کا نام احمد ہوگا۔ ان کی بشارت دینے والا ہوں۔﴾ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح ہے۔
- ٥...... ”عن ابی امامة عن رسول الله ﷺ انه قال ساخبر كم باول امرى
دعوة ابراهيم و بشارة عيسىٰ الحديث، وفى بعض الروايات عن العرباض بن سارية (مسند احمد ص ١٦٧ ج ٤ و مشكوة المصابيح ص ٥١٣ ج ٢) ”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میں تم کو اپنی نبوت کی ابتداء کے متعلق ابھی سناتا ہوں۔ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں ۔ (جو آیت بالا میں ہے) ﴾
- ٦...... ”عن جبير بن مطعم قال سمعت النبی ﷺ يقول ان لى اسماء انا
محمد وانا احمد الحديث (بخاری ص ٥٠١ ج ١، صحیح مسلم ص ٢٦١ ج ٢، مشكوة ص ٥١٥ ج ٢) ”حضرت جبیر ابن مطعم فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے لئے متعدد نام ہیں۔ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں۔ ﴾
- ٧...... ”قل ياایهاالناس انى رسول الله اليكم جميعاً (اعراف) ”آپ فرما
دیجئے (اے محمد ﷺ) کہ اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف۔﴾
٣١
- ٨...... ”قال النبی ﷺ فضلت علی الانبیاء بست وفیہ وارسلت الی
الخلق کافة وفی روایة البخاری و کل نبی یبعث الی قومہ خاصة وبعثت الی الناس عامة (بخاری و مسلم ص١٩٩ج١) ”فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ مجھ کو فضیلت دی گئی ہے تمام نبیوں پر چھ چیزوں کی وجہ سے (اس حدیث میں ان چیزوں کا بیان ہے اور اسی میں ہے) اور میں رسول بنا کر تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں (اور بخاری کی روایت میں ہے اور تمام نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام قوموں کے تمام افراد کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
- ٩...... ”وما ارسلنک الا رحمة للعلمین (انبیاء:١٠٧) ”اور ہم نے
آپ (محمد ﷺ) کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر۔
- ١٠...... ”انا اعطینک الکوثر (کوثر:١) ”ہم نے آپ کو (اے محمد ﷺ) کوثر عطاء
فرمائی۔
مرزائیت
- ١...... ”واذاخذاللہ میثاق النبیین الآیة “ جب اللہ نے سب نبیوں سے عہد لیا۔
النبیین میں سب انبیاء علیہم السلام شریک ہیں۔ کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں۔ اسی النبیین کے لفظ میں داخل ہیں کہ جب ہم نے کتاب اور حکمت دونوں یعنی کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور حکمت سے مراد سنت اور حدیث شریف ہے۔ پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے جو ان تمام چیزوں کا جو تمہارے پاس کتاب وحکمت سے ہیں۔ یعنی وہ رسول مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہے جو قرآن و حدیث کی تصدیق کرنے والا ہے......اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا۔ جب تمام انبیاء کو مجملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اس کی عزت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩، ٢١/ستمبر ١٩١٥ء)
- ٢...... ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “قرآن کریم میں احمد کی بشارت
ہے۔ وہ احمد میں ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص٦٧٣،خزائن ج٣ص٤٦٣)
- ٣...... ”ہم تو ظنی طور پر آپ (مرزا قادیانی) کو اسمہ احمد والی پیش گوئی کا مصداق نہیں مانتے
بلکہ ہمارے نزدیک آپ ہی (مرزا قادیانی) اس کے حقیقی مصداق ہیں۔“
(الفضل قادیان ٢٥/دسمبر ١٩١٦ء)
٣٢
- ٤...... ’’اور ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہی وہ رسول ہیں جن کی خبر اس
آیت میں دی گئی ہے۔‘‘
(انوار خلافت ص ٣١)
- ٥...... ’’اس آیت کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود۔‘‘ (مرزا قادیانی) ہیں۔
(ایضاً ص ٣٧)
- ٦...... ’’آنحضرت ﷺ کا واقع میں احمد نام نہ تھا۔‘‘
(القول الفصل ص ٢٩ رسالہ احمد ص ٣)
- ٧...... ’’پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے، وہ آنحضرت ﷺ
نہیں ہو سکتے۔‘‘
(انوار خلافت ص ٢٣)
- ٨...... ’’جب اس آیت میں ایک رسول کا اسم ذات احمد ہو، ذکر ہے دو کا نہیں اور اس شخص کی
تعیین ہم حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکلے کہ دوسرا اس کا مصداق نہیں۔‘‘
(الفضل مورخہ ٢٥ دسمبر ١٩١٦ء)
- ٩...... ’’قل یا ایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا ای مرسل من الله‘‘
(اے غلام احمد) اے تمام لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔
(تذکرہ ص ٣٥٢ طبع سوم)
- ١٠...... ’’ومآ ارسلنک الا رحمۃ للعالمین‘‘ ’’اور نہیں بھیجا ہم نے تم کو (اے مرزا) مگر
تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ١١...... ’’وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ‘‘
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن
ج ١٧ ص ٤٢٦) مرزا اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا بلکہ خدا کی وحی سے گفتگو کرتا ہے۔
- ١٢...... ’’انا اعطینک الکوثر‘‘ (حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) بیشک ہم نے تجھ
کو (اے مرزا) کوثر دیا۔
- ١٣...... ’’یٰسٓ والقرآن الحکیم، انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم‘‘
(ایضاً ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- ١٤...... ’’محمد رسول الله والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم‘‘ اس
الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
٣٣
- ......١٥ "ان الذین یبایعونک انما یبا یعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم"
(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
- ......١٦ "انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر"
(ایضاً ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
- ......١٧ "اراداللہ ان یبعثک مقاما محموداً"
(تذکرہ ص ٦٠٩ طبع ٣)
- ......١٨ "ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ"
(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
- ......١٩ "داعیا الی اللہ وسراجا منیر"
(ایضاً ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
- ......٢٠ "قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ"
(ایضاً ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- ......٢١ "انا ارسلنا الیکم رسولا شاھداً علیکم کماارسلنا الی فرعون رسولاً"
(ایضاً ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ......٢٢ "سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا"
(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
- ......٢٣ "دنیٰ فتدلی فکان قاب قوسین اوادنیٰ"
(ایضاً ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
- ......٢٤ "مارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمیٰ"
(ایضاً ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
١٤....... ملائکہ
اسلام
- ......١ "اذ تقول للمومنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الاف من الملئکۃ منزلین (آل عمران:١٢٤)"
﴿جبکہ آپ (محمدﷺ) مسلمانوں سے (مقام بدر میں) یوں فرما رہے تھے کہ کیا تم کو یہ امر کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تمہاری امداد کرے۔ تین ہزار فرشتوں کے ساتھ جواتارے جاویں گے۔﴾
- ......٢ "اجمع اھل التفسیر والسیران ان اللہ تعالیٰ انزل الملئکۃ یوم بدر
٣٤
وانهم قاتلو الكفار قال ابن عباس ا ص ٦٥ ج ٣) "تمام مفسرین ومؤرخین فرشتوں کو نازل فرمایا اور انہوں نے کفار کے فرشتوں نے بدر کے دن کے علاوہ کبھی قتال نہی
- ......٣ "واعلم ان ھذہ الشبھۃ ان
یقربھما فلا یلیق بہ شے من ھذہ ال مع ان نص القرآن ناطق بھاو کبیر ج ٥ ص ٦٦) "یوم بدر میں فرشتو جواب کے سلسلہ میں امام رازیؒ فرماتے ہ اعتراضات ان لوگوں کے لئے زیبا ہیں مناسب نہیں جو قرآن وحدیث پر ایمان قرآن اس پر ناطق ہے اور یہ چیزیں احاد
- ......٤ "تنزل الملئکۃ والرو
رات میں (یعنی لیلۃ القدر میں) فرشتے کر نازل ہوتے ہیں۔ امام رازیؒ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ فرشت ہیں، نازل ہوتے ہیں۔ لیلۃ القدر م ہے۔
- ......٥ "تعرج الملئکۃ و
کے پاس چڑھا کرتی ہیں۔ ﴾
- ......٦ "عن ابی ھریر
باللیل وملائکۃ بالنھار ی الذین باتوا فیکم الحدیث روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
وانهم قاتلو الكفار قال ابن عباس لم تقاتل الملئكة سوے يوم بدر الخ (كبير ص٦٥ ج٣) ”﴿تمام مفسرین ومؤرخین کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن فرشتوں کو نازل فرمایا اور انہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کی حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے بدر کے دن کے علاوہ کبھی قتال نہیں کیا۔﴾“
٣...... ”واعلم ان هذه الشبهة انما تليق بمن ينكر القرآن والنبوة فاما من يقربهما فلا يليق به شے من هذه الكلمات فما كان يليق......انكار هذه الاشياء مع ان نص القرآن ناطق بها ووردها فى الاخبار قريب من التواتر (تفسیر كبير ج٥ ص٦٦) ”﴿یوم بدر میں فرشتوں کے نازل ہونے پر بعض لوگوں کے اعتراضات کے جواب کے سلسلہ میں امام رازیؒ فرماتے ہیں ”جان لو کہ اس قسم کے ’فرشتوں کے نزول وغیرہ پر‘ اعتراضات ان لوگوں کے لئے زیبا ہیں جو قرآن اور نبوت کا انکار کرتے ہوں۔ ان کے لئے مناسب نہیں جو قرآن وحدیث پر ایمان رکھتے ہوئے اس قسم کی چیزوں کا انکار کریں۔ کیونکہ قرآن اس پر ناطق ہے اور یہ چیزیں احادیث متواترہ میں وارد ہیں۔﴾“
٤...... ”تنزل الملئكة والروح فيها باذن ربهم من كل أمر (القدر) ”﴿اس رات میں (یعنی لیلۃ القدر میں) فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔﴾ امام رازیؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ احادیث کثیرہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ فرشتے زمین پر تمام ایام میں جہاں مجالس ذکر اور دین پاتے ہیں، نازل ہوتے ہیں۔ لیلۃ القدر میں تو ان کا آسمان سے زمین پر نازل ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہے۔
(تفسیر کبیر ص٣٣٦ ج٨)
٥...... ”تعرج الملئكة والروح اليه الايه (معارج:٤) ”﴿فرشتے اور روحیں اس کے پاس چڑھا کرتی ہیں۔﴾“
٦...... ”عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ يتعاقبون فيكم ملئكة بالليل وملائكة بالنهار يجتمعون فى صلوة الفجر وصلوة العصر ثم يعرج الذين باتوا فيكم الحديث (بخاری شریف و مسلم شریف) ”﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پے در پے رہتے ہیں تمہارے پاس کچھ فرشتے رات کو اور
٣٥
کچھ فرشتے دن کو اور رات کو جمع ہوتے ہیں یہ سب نماز فجر اور عصر میں پھر چڑھ جاتے ہیں (آسمان کی طرف) فرشتے جو پہلے تمہارے پاس تھے۔ ﴿
- ......٧ ” فان قالوا نحن لانقول ان جبرئیل جسم ينتقل من مكان الى
مكان انما نقول المراد من نزول جبرئیل هوزوال الحجب الجسمانية عن روح محمد ﷺ حتى يظهر فى روحه من المكاشفات والمشاهدات بعض ماكان حاضرا متجليا فى ذات جبرئيل قلنا تفسير الوحى بهذا الوجه هو قول الحكماء واما جمهور المسلمين فهم مقرون بان جبرئیل جسم وان نزوله عبارة عن انتقاله من عالم الافلاك الى مكة “ ﴿اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جبرئیل علیہ السلام کے جسم نہیں ہے جو ایک جگہ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ جائیں اور ان کے نازل ہونے کے یہ معنی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی روح سے جسمانی پردہ اٹھ جانے کی وجہ سے جبرئیل کی ذات میں جو تجلیات موجود تھیں وہ مکاشفہ اور مشاہدہ کے طور پر رسول اللہ ﷺ کی روح پر وارد ہونے لگیں تو اس کا جواب ہے کہ نزول اور وحی لانے کے یہ معنی یونانی فلسفیوں (جو بالکل ملحد و دہریہ تھے) کے نزدیک ہیں۔ تمام دنیا کے مسلمان اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام مجسم ہو کر عالم افلاک سے مکہ میں اترتے تھے۔ ﴾
مرزائیت
- ......١ ”پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی اور
روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں۔“
(توضیح المرام ص ٣٢، ٣٣ ، خزائن ج ٣ ص ٦٧ ، ٦٨)
- ......٢ ”وہ نفوس نورانیہ (یعنی فرشتے) کواکب و سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں
اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلی فساد راہ پایا جانا لازمی اور ضروری امر ہے۔“
(توضیح المرام ص ٣٨ ، خزائن ج ٣ ص ٧٠)
- ......٣ ”فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔
ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔“
(توضیح المرام ص ٣٢ ، خزائن ج ٣ ص ٦٧)
٣٦
٠٧
- ......٤ ”در حقیقت یہ عجیب مخلوقات (یعنی ف
ہیں ۔“
- ......٥ ”محققین اہل اسلام ہرگز اس بات
انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اتر
- ......٦ ”جبرئیل جو ایک عظیم الشان فرشتہ
سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔۔ وہ فرشتہ اگرچہ ہر شخص نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے
- ......٧ ”اس وقت جبرئیل اپنا نورانی سا
رکھ دیتا ہے۔ تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان جبرئیل ہی ہوتا ہے۔ یا مثلاً اس فرشتہ کا نام رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انساں کے ہو جاتا ہے۔“
- ......٨ ”پس یہی مثال جبرئیل کی تاث
ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم ا رہا ہے۔“
نوٹ ...... ان تمام عبارتوں کا مطلب مستقل وجود نہیں رکھتے بلکہ نفوس فلکیہ مقامات سے ذرا برابر ادھر ادھر نہیں جا اور احادیث نبوی کھلے الفاظ میں کر رہ ہیں تو نزول کی تاویل کی کہ مراد نزول حضور ﷺ کے پاس نہیں آتے تھ تھے (جیسا کہ ملحدوں اور فلسفیوں نے قادیانی اور مرزائی ملائکہ پر ایمان نہیں
- ٤....... "در حقیقت یہ عجیب مخلوقات (یعنی فرشتے) اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر
ہیں ۔"
(توضیح المرام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧)
- ٥....... "محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائکہ اپنے شخصی وجود کے ساتھ
انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال بداہت باطل بھی ہے ۔"
(توضیح المرام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ٦٦)
- ٦....... "جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر (آفتاب)
سے تعلق رکھتا ہے....... وہ فرشتہ اگر چہ ہر شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو۔ نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے۔ نہ واقعی طور پر ۔"
(توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦)
- ٧....... "اس وقت جبریل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اس کے اندر
رکھ دیتا ہے۔ تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبرئیل نام ہے۔ اس عکسی تصویر کا نام بھی جبرئیل ہی ہوتا ہے۔ یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے۔ بلکہ اس کا عکس آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔"
(توضیح المرام ص ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٧)
- ٨....... "پس یہی مثال جبرئیل کی تاثیرات کی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبرئیل
ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے دل پر بھی وہی جبرئیل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے ۔"
(ایضاً ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ٨٨)
نوٹ ...... ان تمام عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ملائکہ (یعنی فرشتے) مستقل وجود نہیں رکھتے بلکہ نفوس فلکیہ اور ارواح کواکب کا نام ہے۔ اسی لئے وہ اپنے اپنے مقامات سے ذرا برابر ادھر ادھر نہیں جا سکتے ۔ مرزائیت کے اس عقیدہ کی تردید چونکہ آیات قرآنی اور احادیث نبوی کھلے الفاظ میں کر رہی تھیں اور بار بار جبرئیل کے لئے نزول وغیرہ ثابت کر رہی ہیں تو نزول کی تاویل کی کہ مراد نزول سے صرف اثر اندازی ہے۔ واقعی نہیں یعنی حضرت جبرئیل حضور ﷺ کے پاس نہیں آتے تھے۔ بلکہ اپنے مقام پر رہتے ہوئے حضور ﷺ پر اثر ڈالتے تھے ( جیسا کہ ملحدوں اور فلسفیوں نے لکھا ہے ) مسلمان ان عبارتوں کو ذرا غور سے دیکھیں کہ مرزا قادیانی اور مرزائی ملائکہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ پھر مسلمان کیسے کہا جا سکتا ہے۔ خلیق الرحمن آروی!
٣٧
١٥...... حیات عیسیٰ علیہ السلام
اسلام
- ......١ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة
(نساء:١٠٩)“ ترجمہ از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔ نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ اور روز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشاں۔ ﴿یعنی قیامت کے قریب ایک ایسا زمانہ یقیناً آئے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اسی وقت تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آویں گے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ وفات پاویں گے اور قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔﴾
- ......٢ ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسىٰ ابن مريم رسول الله وماقتلوه وما
صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفو فيه لفي شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما (نساء:١٥٧،١٥٨)“ ﴿اور یہود اس کہنے سے بھی مورد لعنت ہوئے کہ بیشک ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو کہ رسول ہیں، اللہ تعالیٰ کے قتل کر دیا۔ حالانکہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ وہ غلط خیال میں ہیں۔ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان (حضرت مسیح) کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کو خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔﴾
- ......٣ ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها (زخرف:٦١)“ ﴿بیشک وہ (حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کا نزول) قیامت کی علامت اور یقین کا ذریعہ ہیں تو تم لوگ اس میں شک مت کرو۔﴾
- ......٤ ”قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء
وامامكم منكم (كتاب الاسماء والصفات للبيهقى ص ٣٠١) “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا جبکہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوں گے اور حالانکہ امام تمہارا تم میں سے ہوگا۔﴾
- ......٥ ”عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسىٰ بن
٣٨
مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويم فن معى فى قبرى (مشكوة المصابيح ص اتریں گے اور ان کے اولاد ہوگی اور پھر وفات گے۔﴾
- ......٦ ”قال الحسن قال رسول
راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير اب مرسلاً روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہود پ ہیں۔ بلکہ زندہ ہیں اور قیامت کے قریب ضرور ا
- ......٧ ”عن ابن عباس قوله تعا
قبل يوم القيامة“ (تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢٠، ابن جری
- ......٨ ”واجتمعت الامة على ماتو
السماء حى وانه ينزل فى اخرالزم البيان ص ٣٤٤ ج٢، تلخيص الحبير ص امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عی نازل ہوں گے جیسا کہ حدیث متواتر سے ثاب
مرزائیت
- ......١ ”فمن سوء الادب ان يق
ياكل الحسنات “ یہ بے ادبی ہے ک ہیں۔ یہ بہت بڑا شرک ہے جو نیکیوں کو کھا ج
- ......٢ ”كلا بل هو ميت ولا
متعمدا خلاف ذلك فهو من الذي عیسیٰ علیہ السلام) مر چکا ہے اور وہ قیام وہ ان لوگوں میں ہے جو قرآن کے ساتھ ک
مريم الى الارض فيتزوج ويولدله ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيد فن معى فى قبرى (مشكوة المصابيح ص ٤٨٠) ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا عیسیٰ زمین پر اتریں گے اور ان کے اولاد ہوگی اور پھر وفات پا جائیں گے اور میرے مقبرہ میں مدفون ہوں گے۔﴿
٦....... ”قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسىٰ لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير ابن كثير ج ١ ص ٣٦٦) ”امام حسن بصریؒ سے مرسلا روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے ہیں۔ بلکہ زندہ ہیں اور قیامت کے قریب ضرور لوٹ آئیں گے۔﴿
٧....... ”عن ابن عباسؓ قوله تعالىٰ (انه لعلم للساعة الخ!) خروج عيسىٰ قبل يوم القيامة“
(تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢٠، ابن جریر ج ٢٥ ص ٤٩، مسند احمد ج ١ ص ٣١٧، ابن کثیر ج ٤ ص ١٤٤)
٨....... ”واجتمعت الامة على ماتضمنته الحديث المتواتر من ان عيسىٰ فى السماء حى وانه ينزل فى اخرالزمان الخ (تفسیر النھرالماد ص ٤٧٣ ج ٢ ، فتح البيان ص ٣٤٤ج ٢، تلخيص الحبير ص ٣١٩، اليواقيت والجواهر ص ١٣٠) ”تمام امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان میں زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے جیسا کہ حدیث متواتر سے ثابت ہے۔﴿
مرزائیت
١....... ”فمن سوء الادب ان يقال ان عيسىٰ مامات ان هو الا شرك عظيم ياكل الحسنات “ یہ بے ادبی ہے کہ کہا جائے کہ بیشک عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے بلکہ زندہ ہیں۔ یہ بہت بڑا شرک ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔
(استفتاء ملحقہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠)
٢....... ”كلابل هوميت ولا يعود الى الدنيا الى يوم يبعثون ومن قال متعمدا خلاف ذلك فهو من الذين هم بالقرآن يكفرون “ یاد رکھو بلکہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) مر چکا ہے اور وہ قیامت تک واپس نہیں آئے گا اور جو شخص اس کے خلاف کہے وہ ان لوگوں میں ہے جو قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہیں (یعنی وہ کافر ہے)
(الاستفتاء ص ٤٧ ملحقہ حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٠)
٣٩
- ٣....... ”ولا شك ان حيوة عيسى وعقيدة نزوله باب من ابواب الاضلال
ولا يتوقع منه الا انواع الوبال“ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے نزول کا عقیدہ گمراہی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس سے سوائے قسم قسم کی مصیبتوں کے اور کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
(الاستفتاء ص ٤٧، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٠)
- ٤....... ”فخلاصة الكلام ان قولكم برفع عيسى باطل ومضر للدين كانه
قاتل“ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیشک تم لوگوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور حیات کا قول باطل اور غلط ہے۔ گویا کہ دین کا قاتل ہے۔
(الاستفتاء ص ٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٧)
- ٥....... ”اور درحقیقت صحابہ رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق تھے اور ان کو کسی
طرح یہ بات گوارہ نہ تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے، زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧)
- ٦....... ”اس جگہ مولوی احمد حسن امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم
نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تا کسی طرح مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں۔ بڑی جان کاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
- ٧.......
کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دیں یا سیرت کفار ہے
کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا
مر گئے سب پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فنا
مولوی صاحب یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے
(از اوہام ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ٥١٣)
٤٠
خاتم النبیین
سیدنا آخری نبی صلی
فتنہ قاد
جناب ص
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتنہ قادیانیت
جناب صفوۃ الرحمن رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فتنہ قادیانیت
دین اسلام میں نئی نئی باتیں نکالنا اور نئے نئے عقائد تراشنا تجدید نہیں، بدعت و گمراہی ہے۔ مصلحانہ روش نہیں، مفسدانہ روش ہے۔ دین کا احیاء وتجدید یہ ہے کہ دینی احساسات میں جو مردگی پیدا ہوگئی ہے۔ اس میں روح پھونکی جائے۔ دینی تعلیم میں باطل افکار وعمل کی جو آمیزش ہو گئی ہے۔ اس کو دور کیا جائے۔ مسلمانوں کے قلوب کو حب دنیا کے مہلک مرض سے پاک کر کے ان کو حریص آخرت بنانے کی جدوجہد کی جائے تا کہ ان میں قرآنی کردار پیدا ہو اور باطل شکنی، زمانہ ستیزی کے مجاہدانہ جذبات ان کے قلوب میں بیدار ہو جائیں اور ربانی ہدایتوں، اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر دین کے تحفظ و بقاء واشاعت کا والہانہ جذبہ ابھر آئے۔ بلا لحاظ اس کے کہ دنیا کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف و تعلیمات کو دیکھئے تو اس میں اصلاح و تجدید کے بجائے فتنہ و فساد کا ایک طوفان نظر آتا ہے۔ مثلاً:
- ١...... نظام باطل کی خیر خواہی ہے۔
- ٢...... اس کے بقاء، وقیام کی جدوجہد ہے۔
- ٣...... اور باطل پر سرافگندگی ہے۔
- ٤...... وحی و نبوت کا زعم ہے۔
- ٥...... مسیحیت کا ادعا ہے۔
- ٦...... خدا سے ہمکلامی، جبرئیل کا آنا۔
- ٧...... حضرات انبیاء علیہم السلام، حضرت رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ اور حضرات حسنینؓ کی
اہانت ہے۔
- ٨...... خدا کے مشاغل تعلقات۔
- ٩...... قادیان مثل مکہ و مدینہ ہے۔
- ١٠...... مرزا قادیانی کو نہ ماننا...... کفر ہے۔
یہ تمام مفسدانہ عناصر، جن کے کارنامہ تجدید میں بھرے ہوئے ہوں۔ ان کو امام مجدد کہنا اور ان کی جماعت کو اسلام کی تبلیغی جماعت کہنا دین اسلام کی توہین ہے اور دین اسلام کو صریحاً
٢
بدنام کرنا ہے اور آخرت کی رسوائی کا سامان تیار کرنا ہے۔ نام نہاد تجدیدی کارناموں کی فتنہ سامانی مجدد قادیاں کی زبانی ملاحظہ ہو۔
- ١....... نظام باطل کی خیر خواہی۔٢....... اس کے بقاء و قیام کی جدوجہد۔
- ٣....... در باطل پر سرافگندی۔
”سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔........ میرے والد صاحب اور خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل وجان ہوا خواہ و وفادار رہے اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔........ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی روح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو لوگوں کے دلوں پر جمادیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ص٩ تا١٢ ملخص)
نوٹ: قرآن شریف میں منافقین کی ایک علامت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ اہل باطل کے پاس معزز بننا چاہتے ہیں: ”أيبتغون عندهم العزة (النساء:١٣٩) “ کیا یہ ان (اہل باطل) کے پاس معزز بننا چاہتے ہیں؟ یا منافقانہ روش اور مجدد کا خطاب۔
دیگر: ”اور میں نے اسی زمانہ میں خدا سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جو اس میں احسانات قیصر ہند کا ذکر نہ ہو۔ نیز اس کے تمام احسانوں کا ذکر ہو۔ جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔“
(نورالحق حصہ اول ص٢٩،خزائن ج٨ص٣٩)
دیگر: ”دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کو دور کروں ....... اور میں نے صرف اسی قدر کام نہیں کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن وامان اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے
٣
ہیں اور ایسی کتابیں چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا ۔“
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر منجانب مرزا قادیانی ، مورخہ ٢٤ فروری ١٩١٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
نوٹ ..... مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو مجدد اعظم و امام الزمان سمجھنے والے حضرات غور کریں کہ ایک امام و مجدد جو مرد مجاہد ہوتا ہے۔ اس کا اہم کام تو یہ ہے کہ وہ اپنی زبان و قلم اور جان و مال کی قوتوں کو اس کوشش میں صرف کرے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اللہ و رسول ﷺ کی سچی محبت اور اہل باطل کے خلاف مجاہدانہ جذبہ پیدا ہو جائے اور مسلمانوں کے دلوں کو اللہ و رسولؐ کی سچی اطاعت کی طرف جھکائے ۔ عقل و فہم کی کوتاہی کا کتنا ماتم کیا جائے کہ جو شخص مسلمانوں کے دلوں میں باطل نظام کی سچی محبت پیدا کرنے اور مسلمانوں کو اس نظام کا سچا مطیع بنانے میں اپنی قوت صرف کرتا ہے اور ہزار ہا روپیہ خرچ کرتا ہے۔ وہ مجدد اور امام سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ حسب ارشاد حضرت رسول کریم ﷺ ایسے لوگوں کو ”ائمۃ المضلین“ سمجھنا اسلامی نظر ہے۔“
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
(اقبال)
دیگر: ” والد صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد یہ عاجز (مرزا قادیانی ) دنیا کے شغلوں سے بالکل علیحدہ ہو کر خدائے تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی۔ وہ یہی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے ......“ (ستارہ قیصریہ، ہند ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
نظام باطل کو سایہ رحمت سمجھنا، مسلمانوں کو یہ تعلیم دینا کہ وہ اس کے شکر گزار اور دعا گو رہیں اور ایک باطل نظام میں امن وامان و آرام اور آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہنا، نظام باطل سے سرکشی کرنے کو خدا اور رسول سے سرکشی سمجھنا اور اس باطل پرستی پر خدا کا شکر ادا کرنا، کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک مسلم مرد کے جذبات اور اعمال ہو سکتے ہیں۔ امام اور مجدد ہونا تو بڑی دور کی بات ہے۔
کیا اچھے مصلح و مرشد ہیں کہ خدا اور رسولؐ کے مخالفوں کی اعانت اور ان کی خیر خواہی کو شرائط بیعت میں داخل کرتے ہیں۔
٤
” اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی عا
اپنی جماعت کے متعلق فرماتے ہیں: کی بات اور خبیث اور پلید راہ نہیں کہ انسان کرے اور اس کی حمایت سے اپنی دینی و دنیوی اور بداندیش ہو۔ بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ نہیں۔“
جس جماعت کی پاک باطنی یہ ہو کہ فائدے پہنچتے ہیں اور باغیوں کے حق میں وہ و جماعت کہلا کر دین اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنا
دیگر : ” ایسا ہی یاجوج ماجوج کا م میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں ہے آخر زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ا گا ، فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں نے مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احس
”مفسدون فی الارض“
مجدد قادیان مرزا غلام احمد انگ فسادی ہونا قرآن شریف سے ثابت ہے سمجھنا اور مفسدوں کو اپنے لئے سایہ رحمہ زندگی بسر کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر مصروف رہنا اور اس کے لئے اللہ سے دین اسلام کے مجدد کو ان فتنہ سامانیوں
”اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا میرا اصول ہے اور یہی وہ اصول ہے۔ جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٩، خزائن ج ١٣ص ١٠)
اپنی جماعت کے متعلق فرماتے ہیں: ”حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور خبث اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ امن و عافیت زندگی بسر کرے اور اس کی حمایت سے اپنی دینی و دنیوی مقاصد میں بار آور کوشش کر سکے۔ اس کا بدخواہ اور بداندیش ہو۔ بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکرگزار نہ ہو۔ خدائے تعالیٰ کا بھی شکرگزار نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٤٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٥٦١)
جس جماعت کی پاک باطنی یہ ہو کہ خدا کی باغی حکومتوں کو اس سے انواع و اقسام کے فائدے پہنچتے ہیں اور باغیوں کے حق میں وہ دعائے خیر کرتی ہے۔ ایسی جماعت کو اسلام کی تبلیغی جماعت کہنا دین اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنا ہے۔“
دیگر: ”ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آخر زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی۔ یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی ...... یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدا تعالیٰ چاہے گا، فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کو فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
﴿مفسدون فی الارض﴾ ”زمین پر فساد پھیلاتے ہیں۔“
مجدد قادیان مرزا غلام احمد انگریزوں کو یاجوج و ماجوج کی قوم قرار دیتے ہیں۔ جن کا فسادی ہونا قرآن شریف سے ثابت ہے۔ مفسدوں کے حق میں دعائے خیر کرنا اور ان کو اپنا محسن سمجھنا اور مفسدوں کو اپنے لئے سایہ رحمت ، سایہ عافیت سمجھنا اور مفسدوں کے زیر سایہ آرام سے زندگی بسر کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور مفسدوں کی حکومت قائم و باقی رہنے کے لئے ہمہ تن مصروف رہنا اور اس کے لئے اللہ سے دعا کرنا، یہ تمام فتنہ و فساد کے مجدد کا کارنامہ ہو سکتا ہے۔ دین اسلام کے مجدد کو ان فتنہ سامانیوں سے کیا نسبت۔“
٥
مزید برآں یہ کہ خدا کی ایک باغی اور مفسد حکومت کی خیر خواہی و وفاداری میں اتنا غلو فرمایا گیا کہ آیات قرآنی کی معنوی تحریف بھی کر دی گئی اور خدا کا ذرا بھی خوف نہ ہوا۔ چنانچہ آیت کریمہ: ”وماکان الله لیعذبهم وانت فیهم“ کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے: ”خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکلیف پہنچائے حالانکہ تو (یعنی مرزا قادیانی) ان کی عملداری میں رہتا ہو۔“
اور اسی آیت کی شرح کی جاتی ہے: ”اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے (یعنی مرزا قادیانی) کے وجود و دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے (مرزا قادیانی) کے سبب سے ہیں۔“ اور اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ: ”جدھر تیرا (مرزا قادیانی کا) منہ ہے، ادھر خدا کا منہ ہے۔“
استدلال میں یہ فرماتے ہیں: ”اینما تولوا فثم وجه الله“
(براہین احمدیہ ص ٢٤١، خزائن ج ١ ص ٢٦٧ حاشیہ، عریضہ بخدمت گورنمنٹ عالیہ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
خدا پناہ میں رکھے اس جنون سے کہ خدا بھی اپنے بندہ کا گویا تابع ہے۔ جدھر بندہ کا منہ ادھر خدا کا منہ۔ اللہ جل شانہ اور قرآن کریم کی اس سے بڑھ کر اور کیا اہانت ہوگی۔
آثار سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یاجوج ماجوج کی پوری قوم تباہ ہو جائے گی۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ کتاب الفتن باب العلامات، بین یدی الساعۃ بروایت مسلم۔ مگر یہ مسیح موعود ہیں کہ ان کے وجود سے یاجوج ماجوج کی حکومت قائم ہے۔ یہی ایک نام نہاد مجدد وامام الزمان کا فخریہ کارنامہ ہے اور ان کے متبعین بھی اسی روش پر قائم ہیں اور آئندہ قائم رہنے کا عزم رکھتے ہیں۔
”جناب عالی جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ہمیں اپنے امام کی طرف سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت بھی ہم رہیں۔ اس کے پورے طور پر فرمانبردار رہیں اور ہم نے ہر مشکل کے وقت اور بے امنی کے زمانہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کی ہے۔“
(ایڈریس بخدمت وائسرائے ہند، مندرجہ الفضل قادیان مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء جلد ٧ نمبر ٦٧)
وہی گورنمنٹ جس کی خدمت اس جماعت نے بندہ بے دام کی طرح کی، جیسا کہ اعتراف ہے: ”ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی نہ کیا کریں گے۔“
(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء جلد ٧ نمبر ٦٧)
٦
اس نام نہاد خدا پرست جماعت کی زمانہ کہ یا تو یہ لوگ برٹش گورنمنٹ کی خیر خواہی کے جوش کانگریس کا زور ہوا اور برٹش گورنمنٹ کا آہنی پنجہ کمز پائے گئے ۔ تو کانگریس کی خوشامد کرنے میں بھی کوئی صدر کانگریس کا جو استقبال کیا گیا ہے، اس کی رپور ”لاہور ٢٩؍ اپریل ۔ آج حسب پروگر پنجاب پراونشل کانگریس کمیٹی کی خواہش پر ( قادیا سے آپ کے استقبال کا انتظام کیا گیا۔ چونکہ کانگر اس لئے قادیان سے تین صد اور سیالکوٹ سے دو قادیان سے کار خاص کے سپاہی ساتھ آئے اور والنٹیرز با قاعدہ کوچ کرتے ہوئے اسٹیشن پہنچ تھا ...... پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جـ نیشنل لیگ نے لیگ کی جانب سے آپ کے ماٹوز جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے۔ live Jawaharlal کورس کا مظاہرہ اِ اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار مقـ
(اخـ
یہ خوشامد و چاپلوسی یقیناً اہل حق کا جن کے رگ و ریشہ میں دنیا پرستی بھری ہوئی ہو زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور دینِ اسلام کا نام ایسے لوگوں کے متعلق حضرت پیغمبر علیہ السلام ”بئس العبد عبد يختل ﴿بدترین بندہ ہے وہ بندہ جو دین سے دنیا کمـ قرآن شریف میں حق سبحانہ تعالـ ائمة يهدون بامرنا لما صبروا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھـ
اس نام نہاد خدا پرست جماعت کی زمانہ پرستی کا یہ شرمناک واقعہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ یا تو یہ لوگ برٹش گورنمنٹ کی خیر خواہی کے جوش میں کانگریس سے جھگڑتے رہے یا پھر جب کانگریس کا زور ہوا اور برٹش گورنمنٹ کا آہنی پنجہ کمزور ہوتا نظر آیا اور کانگریس کی کامیابی کے آثار پائے گئے ۔ تو کانگریس کی خوشامد کرنے میں بھی کوئی کمی نہیں کی۔ چنانچہ ١٩٣٦ء میں بمقام لاہور صدر کانگریس کا جو استقبال کیا گیا ہے، اس کی رپورٹ ملاحظہ ہو:
” لاہور ٢٩؍ اپریل ۔ آج حسب پروگرام پنڈت جواہر لال نہرو لاہور تشریف لائے۔ پنجاب پراونشل کانگریس کمیٹی کی خواہش پر (قادیانی جماعت کی) آل انڈیا نیشنل کورز کی طرف سے آپ کے استقبال کا انتظام کیا گیا۔ چونکہ کانگریس نے صرف پانچ سو والنٹیر کی خواہش کی تھی۔ اس لئے قادیان سے تین صد اور سیالکوٹ سے دوصد کے قریب والنٹیر ٢٨ مئی کو لاہور پہنچ گئے۔ قادیان سے کار خاص کے سپاہی ساتھ آئے اور عصر تک رہے... علی الصبح چھ بجے تمام باوردی والنٹیر با قاعدہ کوچ کرتے ہوئے اسٹیشن پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حد درجہ روح پرور اور جاذب توجہ تھا... پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ بشیر احمد قادیانی ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے لیگ کی جانب سے آپ کے گلے میں ہار ڈالا۔ کورز کی طرف سے حسب ذیل ماٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے۔ ( ایک ماٹو ملاحظہ ہو۔ جواہر لال زندہ باد Long live Jawaharlal کورز کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار مظاہرہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا۔“
(اخبار الفضل قادیان جلد ٢٣ نمبر ٢٧٨ ، مورخہ ٣١ مئی ١٩٣٦ء)
یہ خوشامد و چاپلوسی یقینا اہل حق کا شعار نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ تو ان لوگوں کا کردار ہے۔ جن کے رگ و ریشہ میں دنیا پرستی بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ اہل باطل کے زیر سایہ چین و آرام سے زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور دین اسلام کا نام لے کر اپنی دنیا بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق حضرت پیغمبر علیہ السلام فرماتے ہیں:
”بئس العبد عبد يختل الدنيا بالدين (ترمذى كتاب القيامة ج٢) “
﴿بدترین بندہ ہے وہ بندہ جو دین سے دنیا کمانا چاہتا ہے۔﴾
قرآن شریف میں حق سبحانہ تعالیٰ ائمہ ہدایت کا وصف بیان فرماتے ہیں: ”وجعلناهم ائمة يهدون بامرنا لما صبروا (السجده:٢٤) “ ﴿اور ہم نے ان میں سے بعض امام بنادیے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے سختیوں میں صبر کیا۔﴾
٧
آیہ کریمہ سے ظاہر ہے کہ آئمہ ہدایت گمراہ لوگوں کو راہ ہدایت بتاتے ہیں اور منصب امامت صبر و استقامت کے امتحان کے بعد عطا کیا جاتا ہے۔ یہی سنت الہی ہے۔ جیسا کہ بصراحت بیان فرمایا گیا ہے: ”لتبلون فی اموالکم وانفسکم و لتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم و من الذین اشرکوا اذى كثيرا وان تصبروا وتتقوا ذلك من عزم الامور (آل عمران: ١٨٦)“ ﴿البتہ آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں میں اور اپنی جانوں میں اور سنو گے دل آزاری کی بہت سی باتیں ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں اور صبر کرو گے اور پرہیز رکھو گے تو یہ بڑے ہمت کے کام ہیں۔﴾
حضرات صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کیجئے۔ جان و مال عزت و آبرو کا وہ کون سا نقصان تھا۔ جو ان حضرات کو راہ حق میں پیش نہیں آیا۔ ان کی دل آزاری میں اہل باطل نے، اہل کتاب سے ہوں کہ مشرکین سے، کیا کمی کی اور جس کو ان عاشقان پاک طینت نے باطل اثرات سے اپنے کو محفوظ رکھتے ہوئے بطیب خاطر برداشت نہیں کیا؟ ان عزم الامور کی تکمیل اور اس امتحان میں کامیابی کے بعد دنیا جانتی ہے کہ اقوام عالم کی امامت و پیشوائی کا منصب ان حضرات کو عطاء کیا گیا۔
قرآنی تاریخ شاہد ہے کہ جب حق کی آواز اٹھائی جاتی ہے۔ تو اہل باطل اس کو اپنے لئے موت کا سامان سمجھ کر اس کی مخالفت پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور حق کی آواز دبا دینے اور اہل حق کو مٹا دینے کے لئے اہل حق کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔ اہل باطل کی یہ مخالفانہ روش در اصل خدا کی طرف سے اہل حق کا امتحان ہوتا ہے۔ ان مواقع پر صبر و استقلال، جان و مال کی قربانیاں، سرفروشانہ مجاہدانہ زندگی، یہی اہل حق کے باطل شکن ہتھیار ہوتے ہیں۔ ان ہی ہتھیاروں سے ابتداء میں صحابہ کرام اہل باطل کے مقابلہ میں جمے رہے اور بالآخر حق تعالیٰ کی رحمت خاصہ، فضل عظیم کے مستحق ہو کر ”خیر الامۃ“ کا الہی خطاب پایا اور دنیا سے برائیوں کو مٹانے اور دنیا میں بھلائیوں کو جاری کرنے یعنی دنیا میں ہدایت حق پھیلانے کے منصب پر فائز ہوئے۔
آئمہ ہدایت کے یہی فرائض ہوتے ہیں کہ علماً وعملاً دنیا پرست انسانوں، دنیا ہی کو اصل زندگی سمجھ کر اور اسی کو مقصود و مطلوب بنا کر اپنے خالق و رب کے احکام و ہدایت سے لاپرواہ، اخروی زندگی سے غافل انسانوں کے سامنے آخرت کی حقیقی ابدی زندگی کا فطری نظریہ حیات پیش کرتے ہیں اور اس ابدی زندگی کے ابدی تکالیف سے محفوظ رہ کر ایک خیر والی زندگی حاصل کرنے کا واحد راستہ بندگی حق کی طرف ان کو بلاتے ہیں۔ حق کی یہی آواز بیک وقت اہل باطل
٨
کے لئے دعوت خیر وصلاح بھی ہو جاتی ہے اور ان کے باطل نظام زندگی کے خلاف اعلان جنگ بھی ہوتی ہے۔ جس کے بعد ہی حق و باطل کی آویزش شروع ہو جاتی ہے۔
قادیانی جماعت کو غور کرنا چاہئے ، انجام آخرت کو پیش نظر رکھ کر غور کرنا چاہئے کہ ان کے خود ساختہ ”امام الزمان“ کے فرائض امامت ، ان کے تجدیدی کارناموں میں باطل پرستیوں کے خلاف کوئی حرکت ہے یا سراسر اہل باطل کے ساتھ تعاون ہے؟ ان سے سچی دوستی ہے ان کی سچی خیر خواہی ہے اور ان کی بقاء کے لئے ان کی انسانیت سوز تہذیب کی اشاعت کے لئے پوری جدوجہد ہے۔ ان کی سلامتی کی دعائیں ہیں اور طرفہ تماشہ یہ کہ اس غلامانہ ذہنیت اور غلامانہ روش کو مذہبی فرض قرار دیا جاتا ہے۔ ان باطل افکار و کردار کی قرآنی نوعیت کیا ہے؟ ایک آیت کریمہ بطور آئینہ پیش کی جاتی ہے کہ مومنانہ اور کافرانہ روش واضح ہو جائے۔
”الذين امنوا يقاتلون فى سبيل الله والذين كفروا يقاتلون فى سبيل الطاغوت (النساء:٧٦) ”جو لوگ ایمان دار ہیں وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جو لوگ کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔“
قتال یا جہاد فی سبیل اللہ یہی ہے کہ طاغوتی نظام حکومت کو مٹانے اور الٰہی نظام زندگی ، ہر شعبہ زندگی میں خدا اور رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا نظام جاری کرنے کی جدوجہد دامے، سخنے، قدمے کی جائے اور قتال یا جہاد فی سبیل الطاغوت یہ ہے کہ طاغوتی نظام زندگی کی بقاء و اشاعت کے لئے جان و مال کی قوتوں کو صرف کیا جائے۔ اب طاغوتی حکومت کی بقاء اور سلامتی کی جدوجہد کو اپنا ایک قابل فخر کارنامہ اور مذہبی فرض سمجھنے والی جماعت آنکھیں کھول کر دیکھے کہ اس کی پیشانی پر ”يقاتلون فى سبيل الطاغوت“ کتنے جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے۔
کافرانہ ذہنیت و روش پر فخر کرنے والوں اور اس کو دین ایمان سمجھنے والوں کے متعلق سنت الٰہی یہ ہے کہ شیطان کی ولایت ان سے متعلق کر دی جاتی ہے۔ جس کے بعد شیطان ان کو ظلمات کی وادیوں میں بھٹکاتا رہتا ہے۔
”والذين كفروا اوليئهم الطاغوت يخرجونهم من النور الى الظلمت (بقره:٢٥٧) ”جو لوگ کافر ہیں ان کے ساتھی شیاطین ہیں۔ جو ان کو نور سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔“
یہ سنت الٰہی کس طرح اپنا کام کرتی رہی اور کر رہی ہے۔ اس کے دل ہلا دینے والے مناظر بھی بانی جماعت کے نامہ اعمال میں ملاحظہ فرمائیے۔
٩
- ٤...... وحی و نبوت۔
- ٥...... مسیحیت کا ادّعا۔
- ٦...... خدا سے مکالمہ ونزولِ جبرئیل۔
آئندہ مفسدانہ منصوبوں کو روبہ عمل لانے کی تمہید ملاحظہ ہو: ”اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ خدائے تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھول دیا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے۔...... اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک موجب سزا ٹھہرتا ہے۔“
(توضیح المرام ص١٨، خزائن ج٣ ص٦٠)
گویا تیرہ سو برس تک شریعت صرف پوست ہی پوست تھی۔ مغز شریعت اب ظاہر ہوا ہے۔ پوست شریعت تو یہ تھا کہ طاغوتی حکومتوں سے مقابلہ و مقاطعہ کرنے اور فتنہ و فساد کی اصلاح کرنے والے افراد پیدا ہوں اور مغز شریعت یہ ہے کہ طاغوتی حکومت کی خیر خواہی اور اس سے سچی محبت اور اس کی کامل تابعداری کی جائے۔ ”نعوذ بالله من شر الشيطان“ اب رفتار ترقی دیکھتے جائیے۔
”اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشدت مناسبت و مشابہت رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٤)
ارتقاء کا ایک اور قدم: ”یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی والہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٧٠)
شیطان کے بند فریب میں ایک اور بند کا اضافہ: ”مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعوے مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی دعویٰ جو براہین احمدیہ میں بار بار بہ تصریح لکھا گیا ہے۔“
(کشتی نوح ص٤٧، خزائن ج١٩ ص٥١)
دیگر: ”اور یہی عیسیٰ ہے جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ اس کو نشانی بنادیں گے اور کہا گیا کہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے شک محض ناتفہمی
١٠
سے ہے۔"
(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ص٥٦)
آثار سے تو ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر قوم کفار سے جہاد کریں گے مگر یہ کیسے عیسیٰ ہیں جن کو اپنی قوم کی غلامی کا فخر حاصل ہے اور جن کے پاس وحی آتی ہے کہ انگریزوں سے جہاد دین اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ بانی جماعت اور جماعت بارہا اپنے اس عقیدہ کا اعلان تو کرتی ہے کہ وہ حضرت محمدﷺ کو خاتم الانبیاء مانتی ہے۔ مگر خاتم الانبیاء ہونے کی جو توضیح کی جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو وہ کس قدر گمراہ کن ہے: ”جس کامل انسان پر قرآن شریف کا نزول ہوا......اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔ مگر وہ ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے ہے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا......اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت مل سکتی ہے۔ جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی نے امت کو ناقص حالت میں چھوڑنا نہیں چاہا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٢ص٢٩)
بقول محترم مؤلف کتاب ”قادیانی مذہب۔“ ”اگر مرزا قادیانی نبی نہ مانے جائیں تو امت محمدیہ ناقص قرار پاتی۔“
خاتم النبیین کی مزید تشریح ملاحظہ ہو: ”خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ بند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٩٠، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی لاہوری)
خاتم النبیین کی یہ توضیح قرآن میں تحریف معنوی اور تفسیر بالرائے کی کتنی قابل افسوس مثال ہے۔ تفسیر بالرائے کرنے والے کے متعلق حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
”من قال فی القرآن برأیہ فلیتبوأمقعدہ من النار (ترمذی ج٢ ص ١٢٣) ”جو شخص قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا ڈھونڈے۔﴿ خاتم النبیین کی تشریح حضرت خاتم النبیینﷺ نے فرمادی ہے۔ جس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ سلسلہ نبوت ختم کردیا گیا ہے۔ ”وختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩) ”اور ختم ہوگئے مجھ سے پیغمبر۔﴿ نیز جو ارشاد گرامی ہے: ”سیکون من امتی کذابون “عنقریب میری امت
١١
میں جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ﴾ اس کے بعد فرماتے ہیں: ”یزعم انه نبی الله“ ﴿وہ نبی اللہ ہونے کا ادعا کرے گا۔ ﴾ اس کے بعد خاتم النبیین کا مطلب کس طرح واضح ہے: ”وانا خاتم النّبيين لا نبی بعدی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧ ترمذی ج ٢ ص ٤٥)“ ﴿اور میں نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والا ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾
جس قرآنی لفظ کی تشریح و توضیح حضرت معلم حکمت ﷺ نے فرمادی ہو اور اس پر تمام امت کا اجماع ہو گیا۔ اس کے خلاف اپنی طرف سے نئی بات پیدا کرنا اور اپنے کو ”نبی اللہ“ ثابت کرنا، کیا ”کذابون“ کی صف میں داخل ہونا نہیں ہے؟ مگر گمراہی کو ہدایت سمجھ کر گمراہی میں مبتلا ہونے والوں سے جب یہ سنت الہی متعلق ہو جاتی ہے: ”قل من كان فی الضلالة فلیمدد له الرحمن مدا (مریم: ٧٥)“ ﴿کہہ دیجئے جو گمراہی میں مبتلا ہیں رحمٰن ان کی گمراہی کو بڑھا دیتا ہے۔ ﴾ تو ضلالت، گمراہی میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ:
”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو ہم مردہ کہتے ہیں تو اس لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرتے۔“
(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار بدر قادیان ٥ / مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
کتنا بڑا دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ حقیقت کو بالکل الٹ دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ تقریباً چودہ سو برس سے دنیا کے کسی حصے میں کوئی نبی، فرستادۂ الہی کا ظہور نہیں ہوا۔ نیز دین اسلام کا اصلی سرچشمہ ”القرآن والسنة“ تلبیس و تحریف اور انسانی دست برد سے بالکل محفوظ ہے۔ جو نہ صرف دین اسلام کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ بلکہ یہ الٰہی انتظام خدا کی طرف سے اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اب جتنے مدعیان وحی و نبوت پیدا ہوں گے۔ وہ سب کاذب سمجھے جائیں گے۔ مگر دجل وافتراء کا یہ حال ہے کہ جس دین میں کامل درس انسانیت، مکمل سبق بندگی ہے۔ اس میں دیگر افترائی ادیان کی طرح صرف قصہ گوئی ثابت کی جاتی ہے۔ کذب وافتراء کے مزید نمونے دیکھئے۔
”وہ دین، دین نہیں، اور نہ وہ نبی، نبی ہے۔ جس کی متابعت سے انسان اللہ تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔..... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا مستحق ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
١٢
دیگر: ”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا...... اور صرف قصوں کی پوجا کرو، پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا کا کچھ بھی پتہ نہیں جو کچھ ہیں قصے ہیں...... میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی......“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤)
قرآن کریم جو ”وحی الٰہی“ کا مجموعہ ہے۔ جس میں دین کی تکمیل ہے۔ نعمت الہی کا اتمام ہے اور: ”انا لہ لحفظون“ ﴿ہم اس کے محافظ، نگہبان ہیں۔﴾
جس کی شان ہے اور اسی شان سے آج وہ حرفاً حرفاً محفوظ ہے۔ وہ نبی قادیان اور ان کی جماعت کے نزدیک چند منقولی باتیں ہیں۔ چند قصے ہیں اور ان ہی قصوں کی پوجا ہے۔ خدا کو براہ راست پہچاننے کے لئے قرآن کریم کافی نہیں۔ قرآن کریم کی اس سے زیادہ اور کیا اہانت ہو سکتی ہے؟ نیز حضرت رسول کریم ﷺ اپنے پر سلسلہ نبوت ختم ہو جانے کو اپنے لئے وجہ فضیلت قرار دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین) مگر ہر بات کو الٹی سمجھنے والے ختم نبوت کو آنحضرت ﷺ کے لئے موجب ہتک سمجھ رہے ہیں۔ سخن فہمی معلوم شد۔ نیز یہ کہنا کہ ”وحی نبوت“ کا سلسلہ جاری رہنا نبوت محمدیہ کا کمال ہے۔ ایک بڑا فریب ہے اور درپردہ حضرت رسول کریم ﷺ کی نبوت کو ناقص قرار دینا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنے کو نبی اللہ قرار دے کر اس کو نبوت محمدیہ کا کمال ثابت کر رہے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی کی خانہ ساز نبوت نہ ہوتی تو نبوت محمدیہ ناقص رہتی۔ جس کے پاس یہ بیہودہ باتیں ہوں۔ اس کے متعلق مسلم ہونے کا تصور رکھنا بھی یقیناً دین اسلام کی تحقیر ہے۔ غرض ضلالت کی تباہ کاریاں دیکھتے جائیے۔
”ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ اس امت کی اصلاح و درستی کے لئے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا رہے گا۔“ (ارشاد مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ١٢ مئی ١٩٢٥ء)
”پس ثابت ہوا کہ امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں نہیں آ سکتا...... اس امت میں صرف ایک ہی نبی آ سکتا ہے۔ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہے۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان جلد نمبر ٩ نمبر ٣ ص ٣٠ تا ٣٣، ماہ مارچ ١٩١٤ء)
یا یہ ایقان کہ ہر ضرورت پر اللہ تعالیٰ امت محمدیہ میں انبیاء بھیجتا رہے گا یا پھر یہ اعلان کہ مرزا قادیانی کے سوا کوئی نہیں آئے گا۔ گویا اس امت کے خاتم النبیین مرزا قادیانی ٹھہرے۔ سچ کہا کسی نے:
١٣
دیگر:
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں است ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید از دہان خدائے پاک و وحید
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد بدو القاء
واں یقیں کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سیدالسادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص٩٩،١٠٠،خزائن ج١٨ص٤٧٧،٤٧٨)
”کم نیم“ نہیں بلکہ ان سے بڑھ چڑھ کر آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
دیگر: ”آمد نزد من جبرئیل علیہ السلام ومرا برگزید و انگشتِ خود بر او اشارہ کرد خدا ترا از دشمناں نگہ خواہد داشت“
(مواہب الرحمٰن ص٦٣، خزائن ج١٩ص٢٨٢)
ایک طرف تو مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں: ”اور بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔“
(چشمہ معرفت ص٢٠٩،خزائن ج٢٣ص٢١٨)
اب ذرا غور کیجئے کہ مرزا قادیانی کی اصل زبان تو پنجابی رہی۔ مگر ان کو وحی والہام عربی وفارسی میں ہوتا رہا۔ اگرچہ فارسی وعربی انہوں نے سیکھ لی تھی۔ مگر ظاہر ہے کہ وہ ان کی اصلی زبان تو نہیں تھی۔ اس کے باوجود زیادہ تر الہام بلکہ بیشتر وحی عربی زبان میں نازل ہوتی ہے اور بقول ان کے ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ“ امر ہے۔
اب تصفیہ طلب یہ ہے کہ یہ غیر معقولیت اور بیہودگی کی نسبت کس کی طرف؟ وحی نازل کرنے والے کی طرف یا جو نزول وحی والہام کا ادعا کرتا ہے اس کی طرف؟ عرض خدمت ہے کہ دونوں طرف۔ اس لئے کہ جب سر پر شیطان مسلط ہو تو دونوں کی غیر معقولیت و بیہودگی میں کیا شک وشبہ۔ مزید برآں وحی کا ایک سلسلہ بزبان انگریزی بھی نازل ہوا اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی انگریزی سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اس لئے وہ اپنے الہامی جملوں کا مطلب ایک ہندو سے اور پھر اپنے ایک مرید سے دریافت کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
”مخدومی و مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، بعد
٢٥ ہٰذا چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں۔ مگر قابل اطمینان آپ جہاں تک ممکن ہو جلد دریافت کر کے صاف
(مکتوبات احمدیہ
کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ وحی، الہ اور بیان کرے۔ تصفیہ کیجئے کہ یہ نبوت ہے یا ماؤ
”پھر پیش گوئی ان الفاظ میں ہے احمد“ کہ اس موعود رسول کا نام احمد ہوگا۔ نام رکھا۔ سو ظاہر ہے کہ محمد رکھا...... پس یہ کس کی صفت تو ضرور آپ میں پائی جاتی ہے... احمد تھا...... نام کے لحاظ سے پیشین گوئی کے م
اور جو آنحضرتﷺ نے فرماد
(بخاری ج١ ص٥٠١، مسلم ج٢ ص١١
ہوں۔﴾
اور امام مسلم کی روایت ہے: ”
ان احادیث کی موجودگی میں محمد کا اسم جلالی اور احمد کا اسم جمالی ہونے کی
”خوب توجہ کر کے سن لو کہ ا اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کرنوں کی ان میں برداشت نہیں۔ اب چا ہو کر میں آیا ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہ اور اخلاقی کمالات کے ظاہر کرنے کا زما
خدا کی پناہ! کتنی جرأت و ب ہے۔ جس کی شان میں ”رؤف و رح صرف سورج کی کرنیں سمجھنا اور اپنے
ہذا چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں۔ مگر قابل اطمینان نہیں…… اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں…… آپ جہاں تک ممکن ہو جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جائے، اطلاع بخشیں۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ جلد اول جدید ص ٥٨٣ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی)
کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ وحی ، الہام تو نازل ہو مرزا قادیانی پر اور اس کا مطلب کوئی اور بیان کرے۔ تصفیہ کیجئے کہ یہ نبوت ہے یا مالخولیا کا ایک مرض اور مرض بھی مہلک اور ترقی پذیر؟
’’پھر پیش گوئی ان الفاظ میں ہے : ” ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “ کہ اس موعود رسول کا نام احمد ہوگا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم کی والدہ نے آپ کا کیا نام رکھا۔ سو ظاہر ہے کہ محمد رکھا…… پس یہ کس طرح تسلیم کرلیا جائے کہ آپ کا نام احمد تھا۔ ہاں احمد کی صفت تو ضرور آپ میں پائی جاتی ہے…… مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ آپ کا نام بھی احمد تھا۔…… نام کے لحاظ سے پیشین گوئی کے مصداق حضرت مرزا قادیانی ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان جلد ٣ نمبر ١٠٧ مورخہ ١٨؍ اپریل ١٩١٦ء)
اور جو آنحضرت ﷺ نے فرمادیا: ”انا لی اسماء انا محمد وانا احمد (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٦١) “﴿میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں۔﴾
اور امام مسلم کی روایت ہے: ”انا محمد واحمد“ ﴿میں محمد ہوں اور احمد ہوں۔﴾
ان احادیث کی موجودگی میں اس قسم کے لاف و گزاف دجالیت نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر محمد کا اسم جلالی اور احمد کا اسم جمالی ہونے کی توضیح بھی قابل ملاحظہ ہے۔
’’خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے…… کا وقت نہیں ہے۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے۔ یعنی جمالی طور کی خدمت کے ایام ہیں اور اخلاقی کمالات کے ظاہر کرنے کا زمانہ ہے۔‘‘ (اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
خدا کی پناہ! کتنی جرأت و بے باکی کے ساتھ حضرت رسول کریم ﷺ کی تحقیر کی جارہی ہے۔ جس کی شان میں ”رؤف و رحیم “ اور ”انک لعلی خلق عظیم “ وارد ہے۔ وہاں صرف سورج کی کرنیں سمجھنا اور اپنے لئے اخلاقی کمالات ثابت کرنا ایسی بے ادبی ہے جو کذاب و
١٥
دجال ہی کر سکتا ہے۔ ایک امتی کے تو نہیں کر سکتا۔ پھر جمالی طور کی خدمت اور اخلاقی کمالات کی عملی صورتیں بھی ظاہر ہو چکی ہیں۔ خدا کے باغی اور نافرمان طاغوتی حکومت کی غلامی، خیر خواہی، وفاداری اور اس کے قائم وباقی رہنے کے لئے ہر طرح کی جدوجہد، سراسر باطل پرستی، اہل باطل کی خوشامد و چاپلوسی، زمانہ پرستی، دنیا طلبی، یہی وہ اخلاقی کمالات ہیں جو خانہ ساز نبوت کے امتیازی اوصاف ہیں۔ ان ہی اخلاقی کمالات میں یہ بھی داخل ہے کہ سرے سے اہل باطل سے جہاد ہی موقوف کر دیا جائے۔
”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم سے بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے۔ اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے فرما دیا تھا کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا جھنڈا بلند ہو گیا۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)
جہاد کا حکم شریعت کا ایک اہم حصہ ہے۔ قرآن مجید جہاد کی ہدایات اور ترغیبات سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت رسولؐ پر یہ کتنا بڑا بہتان ہے کہ آپ ﷺ نے جہاد سے منع فرما دیا تھا۔ حالانکہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لئے لڑتا رہے گا۔
”لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق (ابوداؤد ج ١ ص ٢٤٧) ”میری امت کا ایک طبقہ ہمیشہ حق کے لئے لڑتا رہے گا۔“ ﴾ نیز آپ ﷺ فرما رہے ہیں: ”جاهدوا المشركين باموالكم وانفسكم والسنتكم (ابوداؤد، نسائی، ودارمی ”مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں سے اور جانوں سے اور زبان سے۔“ ﴾
علاوہ ازیں آپ ﷺ نے آخرین امت کا اجر، اولین امت کے برابر ہو جانے کی جو بشارت دی۔ اس کی وجہ یہی بتائی گئی ہے کہ اولین کی طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر کریں گے اور اہل فتن سے قتال کریں گے۔ ”يأمرون بالمعروف وينهون عن المنکر ويقاتلون اهل الفتن (البيهقی) ”حقیقتاً جو مومن ہے وہ ایک مرد مجاہد ہوتا ہے“ ﴾ جیسا کہ حضرت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں: ”ان مؤمن يجاهد بسيفه ولسانه (الاستیعاب ابن عبدالبر) ”دین کی وہ تعلیم قرآنی اور نبوی نہیں ہو سکتی جس سے مجاہدانہ جذبات پیدا نہ ہوں۔“ ﴾ (آج دینی تعلیم سے نہ باطل افکار کی تردید کی قابلیت پیدا ہوتی ہے اور نہ باطل کے
١٦
خلاف آواز اٹھانے کی ہمت) غرض جہاد ایمان کا لا ہونے کی علامت ہے:
دین بندہ مومن کے لئے
مرزا قادیانی نے زمانہ سازی اور دنیا کے ایک حکم کو موقوف تو کر دیا۔ مگر ان کو اپنے اس فع شرع میں نہ ہو، وہ شیطان کے ساتھ کھیلتا ہے۔
”جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔“
مرزا قادیانی کی پوری زندگی شیطانی دفتر شیطانی الہامات کا مجموعہ نظر آتا ہے۔ یہ شیط ساتھی کو کیسے کیسے اونچے مقامات پر پہنچاتا ہے۔ ی
- ٧...... حضرات انبیاء علیہم السلام حضرت ر
جنون اور ان کی وحشت انگیزیاں۔
حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت کا نز
”آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس آگ میں بھڑکائے اور مسیح اس لئے آیا کہ ان ک مخاصمت نفرت اور پراگندگی کو دور کرے۔“ (
. حضرت نوح علیہ السلام
”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ
”پس اس امت کا یوسف یعنی ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید
خلاف آواز اٹھانے کی ہمت )غرض جہاد ایمان کا ایک ایسا تقاضا ہے جس کا نہ ہونا ایمان کے مردہ ہونے کی علامت ہے:
دین بندۂ مومن کے لئے موت ہے یا خواب
مرزا قادیانی نے زمانہ سازی اور دنیا پرستی اور طاغوتی حکومت کی خوشامد میں شریعت کے ایک حکم کو موقوف تو کر دیا۔ مگر ان کو اپنے اس قول کا خیال نہیں رہا کہ ایسی بات کہنا جس کی اصل شرع میں نہ ہو، وہ شیطان کے ساتھ کھیلنا ہے۔
"جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی اصل شرع میں نہ ہو خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد تو اس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١)
مرزا قادیانی کی پوری زندگی شیطانی کھیل کے سوا اور کیا ہے؟ ان کی وحی والہام کا تمام دفتر شیطانی الہامات کا مجموعہ نظر آتا ہے۔ یہ شیطانی ہتھکنڈے یہیں ختم نہیں ہو جاتے۔ وہ اپنے ساتھی کو کیسے کیسے اونچے مقامات پر پہنچاتا ہے۔ دیکھتے جائیے:
- ٧...... حضرات انبیاء علیہم السلام حضرت رسول کریم ﷺ وصحابہ کرام کی اہانت، افضلیت کا
جنون اور ان کی وحشت انگیزیاں۔
حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت کا زعم
"آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی طرف بھیجے اور ان میں اختلاف وعداوت کی آگ بھڑکائے اور مسیح اصم اس لئے آیا کہ ان کو دارفنا کی طرف لوٹائے اور ان میں سے اختلاف و مخاصمت نفرت اور پراگندگی کو دور کرے۔" "ما الفرق فی آدم والمسیح موعود"
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ٢١، خزائن ج ١٦ ص ٣٠٧)
حضرت نوح علیہ السلام
"اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
"پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔"
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩)
١٧
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
”مجھے کہتے ہیں مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا۔ مگر میں سچ سچ کہتا ہوں اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤)
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو جو کام میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
ہرگز ہرگز نہ کرتے طاغوتی حکومت کی خیر خواہی، اس سے سچی محبت، اس کی غلامی و تابعداری، طاغوتی حکومت کی بقاء، و سلامتی کی رات دن کوشش اور دعائیں اس کو سایہ رحمت سمجھنا اور اس کے سایہ عاطفت میں آرام و چین کی زندگی بسر کرنے پر شکر گزار ہونا۔ بھلا یہ تمام شیطانی کام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کیوں انجام پاتے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت
”مسیح ابن مریم مجھ سے اور میں خدا سے ہوں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج اول جدید ص ٢٦٥)
تمام انبیاء علیہم السلام
آنچہ داداست ہر نبی را جام دادآں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اگرچہ بہت سے نبی گزرے ہیں، مگر میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ ہر نبی کو جو جام دیا گیا تھا وہ تمام و کمال مجھ کو دیا گیا ہے۔
اب حضرت امام المرسلین ﷺ کی باری آتی ہے: ”اور اس کے (یعنی نبی کریم ﷺ کے) لئے چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند و سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں جسمانی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا زمانہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)
١٨
٢٩
دیگر: ”اسلام ہلال کی طرح شروع جائے۔ خدائے تعالیٰ کے حکم سے بس خدائے تعا اختیار کرے۔ جو شمار کی رو سے بدر کی طرح م خدائے تعالیٰ کے اس قول میں کہ ’لقد نصرک
یہ آیت کریمہ جنگ بدر سے متعل مشرکین، اہل مکہ سے پہلے جنگ ہوئی تھی۔ یہ بھی عقل ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت کریم کی توہین کی جا رہی ہے۔ شیطانیت ہی شیطانی
حضرت امام حسینؓ
”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار م کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) ہے کہ ا
حضرت علیؓ
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ د کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علیؓ کی تلاش کرت
حضرت ابو بکر صدیقؓ
”میں وہی مہدی ہوں جس ابو بکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب
خدا کے مشاغل و خدائی تعلقات
اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی اور سوتا ہوں۔“
(البشریٰ
دیگر: ”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے۔ خدائے تعالیٰ کے حکم سے بس خدائے تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے۔ جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدائے تعالیٰ کے اس قول میں کہ ”لقد نصر کم الله ببدر“
(خطبہ الہامیہ ص١٨٣، خزائن ج١٦ ص٢٧٥)
یہ آیت کریمہ جنگ بدر سے متعلق ہے۔ اس میں بدر اس مقام کا نام ہے جہاں مشرکین، اہل مکہ سے پہلے جنگ ہوئی تھی۔ یہاں بدر سے چاند مراد لینا غلط ہے۔ کسی انسان کو ذرا بھی عقل ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت کریمہ کی ایسی توضیح کرنا جس میں حضرت رسول کریم ﷺ کی توہین کی جارہی ہے۔ شیطانیت ہی شیطانیت ہے۔
حضرت امام حسینؓ
”اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣)
صد حسین است در گریبانم
(نزول مسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
حضرت علیؓ
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علیؓ کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات ج٢ ص١٤٢)
حضرت ابوبکر صدیقؓ
”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٨)
خدا کے مشاغل و خدائی تعلقات، ایک اور شیطانی فریب
اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو کہا: ”میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔“
(البشریٰ جلد دوم ص٧٩، تذکرہ ص٣٦٠، طبع سوم مجموعہ الہامات مرزا قادیانی)
١٩
خدا نے فرمایا: ”میں روزہ بھی رکھوں گا اور افطار بھی کروں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٢)
”انت منی بمنزلہ ولدی“ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”انت منی وانامنک“ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ ( تذکرہ ص ٤٢٢، طبع ٣)
”ظہورک ظہوری“ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔ (تذکرہ ص٧٠٢، طبع سوم)
قادیان ارض حرم ہے، مکہ ہے
(در ثمین ص ٥٠)
دیگر : ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جو الہام کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ اس کے متعلق ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان جلد ٢٠ نمبر ٨٠، مورخہ ٥ جنوری ١٩٣٣ء)
دیگر : ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے۔“ (گویا اصلی حج کا ثواب ہے) (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٢، خزائن ج ٥ ص ٢٥٢)
مرزا قادیانی کو نہ ماننا کفر ہے
”خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں۔“ ( تذکرہ ص ٦٠٧ ، طبع ٣)
دیگر: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
دیگر : ”کل مسلمان جو حضرت مسیح کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت ص ٣٥)
ان خود ساختہ نبی کی بیعت میں داخل ہونے کی شرط وہی زمانہ سازی اور حکومت پرستی ہے۔ ان ہی کی زبانی ایک دفعہ اور اس کو سن لیجئے۔
”میں زور سے کہتا ہوں اور دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ با اعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جاں نثار یہی نیا فرقہ ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥)
٢٠
اور جاں نثاری و وفاداری داخل جماعت ہونے کے لئے لازمی ہے۔ "خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ میں کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے...... یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے...... سنو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٣، ٥٨٤)
قادیانی جماعت کو چاہئے کہ اس مقالہ کو پڑھے اور غور سے پڑھے کہ سنت الہی کے مطابق جب شیطان کسی کا ولی ہو جاتا ہے تو اس کے دماغ میں نبی بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا وہم جما دیتا ہے۔ اس کے لئے طاغوتی حکومت کی وفاداری و جاں نثاری ضروری ہے۔ کیونکہ شیطانی کارندے شیطانی حکومتوں ہی کو اپنے لئے رحمت و برکت سمجھتے ہیں۔ ایسی صریح گمراہی کو ہدایت سمجھنا اور اس کی پیروی کرنا خسران آخرت کا موجب ہے۔ اب بھی در توبہ باز ہے اور اعلانِ حق ہے۔ "الا الذين تابوا من بعد ذلك واصلحوا فان الله غفور رحیم (آل عمران: ٨٩) “
اس موقع پر بعثت نبوت کے متعلق سنت الہی واضح کر دی جاتی ہے
بندوں کی اصلاح و ہدایت اور ان کی فلاح دارین کے لئے اللہ جل شانہ ہر ملک وقوم میں وقتاً فوقتاً اپنی ہدایت و تعلیم کو نازل اور انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتے رہے۔ نیز انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کو یہ ہدایت بھی دیتے رہیں کہ تمہارے بعد نبی مبعوث ہوں گے تم ان کی تائید اور ان کی اتباع کرنا۔ "واذ اخذ الله میثاق النبيين لما اتيتكم من كتب وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١) “ ﴿اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم عطاء کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو مصدق ہو ( اس کی کتاب و علم کا ) جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ ﴾
اس بناء پر انبیاء علیہم السلام اپنی امتوں کو اپنے بعد آنے والے نبی کی اطلاع دے دیتے اور اس کی خاص خاص علامتیں بھی بیان کر دیتے تاکہ آنے والے رسول کی شناخت میں امت کو دشواری نہ ہو۔ چنانچہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر تورات وانجیل میں بیان کر دیا گیا تھا۔
٢١
”الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذى يجدونه مكتوبا عندهم فى التورٰية والانجيل (اعراف:١٥٧) “ جو لوگ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کی بعثت کی خبر اور علامتیں وہ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔ ﴿
اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں نے اپنی امتوں کو بعثت حضرت محمد ﷺ کی اطلاع دی تھی۔ نیز سورۃ الصف میں یہ صراحت بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی بھی بتلا دیا تھا۔
” واذقال عیسى ابن مريم يبنى اسرائيل انى رسول الله اليكم مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشرا برسول يأتى من بعدى اسمه احمد (الصف:٦) “ اور جب کہ عیسیٰ ابن مریم نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ مجھ سے پہلے کی کتاب توراۃ کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد ایک رسول جس کا نام احمد ہے ان کے آنے کی بشارت دیتا ہوں۔ ﴿
چونکہ حضرت (احمد) محمد ﷺ آخری نبی تھے اور سلسلہ نبوت آپ ﷺ پر ختم ہورہا تھا۔ اس لئے قرآن مجید میں آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برخلاف اعلان یہ ہے کہ سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔
”ما كـان محمدا ابـا احـد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب:٤٠) “ محمد تمہارے لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔ ﴿
اس آیت کریمہ کا مطلب سمجھنے کے لئے تکمیل دین کی آیت: ”الـيـوم اكـمـلـت لـكـم دينكم “ آج تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا گیا ﴿ اور حفاظت قرآن کی آیت: ” انـا لـه لـحـفـظـون “ اور ہم اس کی یقیناً حفاظت کرنے والے ہیں۔ ﴿ پر غور کیجئے تو یہی مطلب واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نبی آخر الزمان آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ کیونکہ تکمیل دین اور سرچشمہ دین، کتاب وسنت کی پوری پوری حفاظت کے بعد نزول وحی اور بعثت نبوت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ نیز اللہ تعالیٰ کا نبی، جس پر کلام الہی نازل ہوتا ہے۔ وہ کلام الٰہی کی مراد کو بھی خوب جانتا ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے متعدد مواقع پر امت کو خبر دار کیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا۔ مثلاً
ایک مرتبہ امت کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سـيـكـون
٢٢
فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انـ بعدی (ابوداؤد ج٢ ص١٢٧، ترمذی ج٢ ص جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ مـ النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴿ نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ ’لا نبـى وضاحت کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ ایک دفعہ آپ ﷺ نے اپنے برحق ہـ مخصوص نعمت بھی بیان فرمائی کہ سلسلہ نبوت مجھ پـ ونصرت بـالـرعـب واحـلـت لى الغنـائـ وارسـلـت الى الخلق كافة وختم بى ا الکلم عطاء ہوئی۔ رعب سے میری مدد کی گئی ۔ ساری زمین پاک اور مسجد کر دی گئی اور میں تمـا نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا۔ ﴿ اس ارشاد میں الفاظ: ”ارسـلـت کا مفہوم یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ قیامـت مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کی لائی ہوئی الشـ ہے۔ اس لئے اب سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔ اسی طرح ایک دفعہ آپ ﷺ نـ فرمائی: ” ان لـى اسـمـاء انـا مـحـمـد الـكـفـر وانـا الـحـاشـر الـذى يحشر النـ لـيـس بـعـده نبى (مسلم ج٢ ص ٢٦١ ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعہ کفر کی دنیا مٹـ گی اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس کو کـ ان احادیث کے علاوہ کئی معـ طبقہ قیامت تک حق پر قائم رہے گا: ”لا تـز يضرهم من خالفهم حتى ياتى امـ
فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبي اللہ و انا خاتم النبیین ولا نبي بعدی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥) ﴿قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ میں اللہ کا نبی ہوں (حقیقت یہ ہے کہ) میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ ”لا نبی بعدی“ ”خاتم النبیین“ کا جو مطلب ہے اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔
ایک دفعہ آپ ﷺ نے اپنے پر حق تعالیٰ کی خصوصی نعمتوں کو بیان فرماتے ہوئے ایک مخصوص نعمت بھی بیان فرمائی کہ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا۔: ”اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطہورا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩) ﴿مجھ کو جوامع الکلم عطاء ہوئی۔ رعب سے میری مدد کی گئی۔ میرے لئے مال غنیمت حلال ہوا۔ میرے لئے ساری زمین پاک اور مسجد کر دی گئی اور میں تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہوں اور سلسلہ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا۔﴾
اس ارشاد میں الفاظ: ”ارسلت الی الخلق کافۃ“ اور ”وختم بی النبیون“ کا مفہوم یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کی لائی ہوئی الٰہی تعلیم تمام انسانوں کے لئے شمع ہدایت، راہ نجات ہے۔ اس لئے اب سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔
اسی طرح ایک دفعہ آپ ﷺ نے اپنے اسمائے گرامی گنوائے اور ان کی تشریح بیان فرمائی: ”ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحي الذي یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب و العاقب الذي لیس بعدہ نبي (مسلم ج ٢ ص ٢٦١) ﴿بیشک میرے متعدد نام ہیں۔ محمد ہوں، احمد ہوں، ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعہ کفر کی دنیا مٹا دی گئی میں حاشر ہوں یعنی میرے بعد قیامت ہی آئے گی اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس کو کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔﴾
ان احادیث کے علاوہ کئی مواقع پر آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میری امت کا ایک طبقہ قیامت تک حق پر قائم رہے گا: ”لاتزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاہرین لا یضرہم من خالفہم حتی یاتی امر اللہ“ ﴿میں آخری نبی ہوں میری امت آخری امت
٢٣
ہے ۔ قیامت تک اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی امت ہو گی۔﴾
غرض ان تمام ارشادات سے یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد نبی پیدا نہیں ہوں گے اور یہی اہل حق کا مسلمہ عقیدہ ہے۔ نبی کریمﷺ ہی کے زمانہ میں ایک شخص مسیلمہ کذاب پیدا ہوا تھا جو آپﷺ کے انتقال کے بعد ہی نبوت کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت میں کیفر کردار تک پہنچا۔ اس کے بعد کئی ایک جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوئے اور اہل حق کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے۔ عصر حاضر میں قادیان کے ایک شخص ...... نے ویسا ہی جھوٹا دعویٰ کیا اور اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے شیطان کے کارندے اس فتنہ کو خوب پھیلا رہے ہیں اور نادانوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر جہنم کی راہ پر لے جا رہے ہیں ۔ اہل حق کا فرض ہے کہ اس فتنہ کو مٹانے کی کوشش کرتے رہیں ۔ اتنی کوشش بھی کافی ہے کہ اہل علم اپنے اپنے حلقہ میں دین سے ناواقف مسلمانوں کو کتاب وسنت کی اس تعلیم سے باخبر کردیں کہ حضرت محمدﷺ نے اپنے بعد کسی نبی کے پیدا ہونے کی اطلاع نہیں دی۔ نہ بطور ظلی و بروزی وغیرہ ۔ بلکہ صاف صاف امت کو آگاہ کر دیا کہ میرے بعد جھوٹے دعوے دار پیدا ہوں گے لہٰذا اب جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے اور ایسے کذاب کو نبی ماننے والے اسلام سے خارج ہیں ۔ جب تک وہ توبہ نہ کریں اور اس باطل عقیدے سے باز نہ آئیں ۔ قابل گردن زنی رہیں گے۔
نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام ...... قرآنی آیات اور پیغمبری تشریحات
قوم یہود کو یہ ادّعا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ۔ سولی پر چڑھا دیا۔ اس ادعائے باطل کی تردید کرتے ہوئے اللہ جل شانہ فرماتے ہیں : ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء: ١٥٧ تا ١٥٩)“ ﴿اور یقیناً اس کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست حکمت والا ہے اور اہل کتاب کے تمام فرقے بیشک (عیسیٰ) پر یقین لائیں گے اس کی موت سے قبل۔﴾
اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین فرماتے ہیں : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں ۔ جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہاں میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود و نصاریٰ اس وقت ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں ، مرے نہ تھے۔“ (مولانا
محمود حسن شیخ الہند مرحوم)
٢٤
اسی طرح شاہ عبدالقادر صاحب مرحوم فرما میں فرماتے ہیں : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ جہاں میں آکر اسے ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سـ تھے۔“
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے ہـ
بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ حضرت ابـ حدیث: ”قال رسول الله ﷺ والذي نفسـ مريم حكما عدلا (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسـ کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جـ نازل ہوگا حاکم عادل ہو کر۔﴾ بیان فرماتے تو سور الکتب الا ليؤمنن به قبل موته “ تلاوت ہے کہ صحابہ کرام اور سلف صالحین مذکورہ بالا آیتـ ابھی زندہ ہیں اور قیامت کے قریب جب دجال قتل کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ایک اور ارشاد تو اوپر بیان ہو چکا ہے هريرة قال رسول الله ﷺ لينزلن ا فرمایا کہ بیشک نازل ہوگا مریم کا بیٹا حاکم عادل ہـ
”عن جابر ۔ قال رسول ا على الحق ظاهرين الى يوم القيامـ مريم فيقول اميرهم تعالى صلى تكرمة الله لهذه الامة (الحاوى للفتـ ہمیشہ لڑتا رہے گا میری امت کا ایک طبقہ امـ مسلمانوں کا سردار کہے گا آئیے نماز پڑھائیـ کے سردار ہوا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی
اسی طرح شاہ عبدالقادر صاحب مرحوم فرزند شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہوگا۔ تب اس جہاں میں آ کر اسے ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سب اس پر ایمان لائیں گے کہ یہ مرے نہ تھے۔“
(موضح القرآن)
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اس آیت کی تشریح میں صحیح روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے ہیں۔“
(تفسیر روح المعانی)
بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جب یہ حدیث: ”قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكما عدلا (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بیشک قریب ہے کہ مریم کا بیٹا تم میں نازل ہوگا حاکم عادل ہو کر۔ ﴾ بیان فرماتے تو سورۂ نساء کی مذکورہ بالا آیت: ”وان من اهل الکتب الا ليؤمنن به قبل موته “ تلاوت فرماتے۔ اس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ کرام اور سلف صالحین مذکورہ بالا آیت کا یہ مطلب سمجھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں اور قیامت کے قریب جب دجال پیدا ہوگا۔ آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ایک اور ارشاد تو اوپر بیان ہوچکا ہے۔ مزید ارشادات ملاحظہ ہوں: ”عن ابی ھریرة قال رسول الله ﷺ لينزلن ابن مريم حكما عدلا “ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک نازل ہوگا مریم کا بیٹا حاکم عادل ہوکر۔﴾
”عن جابر ۔ قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة (مسلم ج ٢ ص ١٤٣) فينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول اميرهم تعالىٰ صلّى لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله لهذه الامة (الحاوي للفتاوى ج ٢ ص ٦٤) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمیشہ لڑتا رہے گا میری امت کا ایک طبقہ حق پر قائم رہ کر تا قیامت پھر نازل ہوگا عیسیٰ ابن مریم تو مسلمانوں کا سردار کہے گا آئیے نماز پڑھائیے ہم کو تب عیسیٰ کہیں گے تم آپس میں ایک دوسرے کے سردار ہو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی دی ہے۔﴾
٢٥
امام ابن جوزی نے اپنی کتاب ”الوفاء“ میں حدیث ذیل بیان کی ہے: ”عن عبدالله ابن عمرؓ قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد (مشکوۃ ص ٤٨٠)“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم زمین پر نازل ہوں گے۔ پھر شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ پینتالیس سال رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور میری قبر میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ابن مریم (قیامت کے دن) ایک ہی قبر سے اٹھیں گے۔ یہ قرب قیامت کی جو علامتیں احادیث صحیحہ میں بیان ہوئی ہیں۔ ان میں منجملہ ایک یہ بھی ہے: ”ونزول عیسیٰ ابن مریم (مسلم)“
اسی طرح مسلم اور ترمذی کی ایک طویل حدیث میں یہ تفصیل ہے کہ مسیح ابن مریم دمشق کے سفید مینار پر نازل ہوں گے۔ پھر دجال کو تلاش کر کے اس کو قتل کر دیں گے اور یاجوج ماجوج حضرت کی دعا ہی سے مریں گے وغیرہ۔
احادیث نمبر ٤، ٥ سورۂ زخرف کی آیت: ”انہ لعلم للساعة“ کے مطابق ہیں۔ علماء مفسرین نے جن کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ ابن کثیرؒ وغیرہ نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کو متواتر کہا ہے اور حافظ ابن حجرؒ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
الحاصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ نازل ہونے کا امت محمدیہ کا متفقہ مسئلہ ہے اور سلف صالحین میں کسی سے انکار منقول نہیں ہے۔ قادیان کے کاذب مدعی نبوت نے اس متفقہ مسئلہ کے خلاف جو آواز اٹھائی اور ان کے کارندے اس کا جو پرچار کر رہے ہیں۔ وہ محض فریب ہی فریب ہے۔ دین سے ناواقف مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کی ایک شیطانی چال ہے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں۔
اس دجل و فریب کی انتہاء یہ ہے کہ جو احادیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق ہیں۔ ان کو قادیان کے مسیح کذاب سے متعلق کر کے اپنے کذب و افتراء پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جاہل تو خیر جاہل ہیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے قانون دان لوگ بھی قادیانیت کے دام فریب میں گرفتار ہیں۔ عقل کا اس طرح زائل ہو جانا اللہ تعالیٰ کی پناہ، خدائے تعالیٰ کی مار نہیں تو اور کیا ہے؟
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ
قادیانی
مسلمان نہیں؟
جناب عبدالرحیم قریشی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کچھ عرصہ سے قادیانیوں نے مسلمانوں کو ورغلا کر قادیانی بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ یہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے ساتھ میل جول شروع کرتے ہیں ۔ علاقہ کے ذی اثر مسلمانوں کی دعوتوں سے آؤ بھگت کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض کو قادیان لے جاتے ہیں ۔ جہاں آرام و آسائش کے ساتھ ان کی دلجوئی اور ضیافت کا خوب انتظام کیا جاتا ہے اور یوں ان کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بھولے بھالے مسلمانوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں ۔ مسلمانوں جیسا نام رکھنے سے وہ دھوکہ میں آ جاتے ہیں ۔ پھر جب یہ کلمہ بھی پڑھتے ، قرآن بھی سناتے ہیں تو سیدھا سادا مسلمان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ تو بڑے علم والے مسلمان ہیں ۔ بعض مقامات پر اسی طرح دھوکہ کھا کر قادیانیوں کو مسجد کا امام اور خطیب مقرر کر دیا گیا ۔ کیونکہ پیش کش یہ کی گئی کہ بستی کے مسلمانوں سے امام صاحب اور خطیب صاحب کوئی معاوضہ نہیں لیں گے ۔
قادیانیوں کی اس سازش سے خبردار کرنے اور گمراہی سے بچانے کے لئے یہ کتابچہ جناب محمد عبدالرحیم قریشی ( جنرل سیکرٹری کل ہند مجلس تعمیر ملت ،سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ) نے مرتب کیا ہے ۔ اس کتابچہ کی ترتیب میں مرتب نے مولانا الیاس برنیؒ کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے ۔ مرزاغلام احمد قادیانی سے متعلق تقریباً تمام باتیں ان ہی کتابوں سے لی گئی ہیں جہاں اس زمانے کا رسالہ یا اخبار نہ مل سکا۔ مولانا الیاس برنی کی کتاب کے حوالے سے ذکر کیا گیا۔ جن کتابوں کے حوالے دیئے گئے ہیں ۔ وہ تمام کتابیں تبلیغ اسلام سوسائٹی کے پاس محفوظ ہیں ۔
اس کتابچہ کے مضامین کے خلاصے پر مشتمل ایک پمفلٹ وسیع پیمانے پر اشاعت کے لئے علیحدہ شائع کیا گیا ہے ۔ اللہ دین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو ہدایت کا ذریعہ بنائے ۔ آمین!
(ربیع الاول ١٤١١ھ، اکتوبر ١٩٩٠ء،سلیمان سکندر،صدر تبلیغ اسلام سوسائٹی،حیدرآباد)
نوٹ ...... قادیانی خود کو احمدی کہتے ہیں ۔ ان میں ایک لاہوری گروہ بھی ہے ۔ ان سب کے لئے اس کتابچہ میں لفظ ”قادیانی“ استعمال کیا گیا ہے ۔
٢
بسم الله ”ماکان محمد ابا احـ النبیین۔ وكان الله بكل شی علیما سے کسی کے والد نہیں ہیں ۔ بلکہ خدا کے پیغمـ والے ) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے ۔
- ١...... قادیانیت ۔ اسلام کے خلاف
قادیانی مذہب یا احمدیت کا اسـ نہیں ہیں ۔ یہ جھوٹا مذہب مرزاغلام احمد نا پنجاب کے ایک مقام قادیان میں پیدا ہو گورنر کے درباری تھے ۔ ١٨٥٧ء کی جنگ سے غلام مرتضیٰ قادیانی نے انگریزوں کی مد ١٨٨٠ء میں مرزاغلام احمد کو عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے خلاف ا شہرت ملی ۔ اس کتاب میں مرزا قادیا اعتراضات کا جواب دیا تھا ۔ اس کتاب تقسیم کروائے ۔ ملک کے کونے کونے سے اس کام میں مدد کی ۔ اس ناموری اور شہـ بڑی غیر معمولی علمی اور روحانی صلاحیتو دعوے کے راستے پر ڈال دیا ۔
انگریز سامراج کی مدد
یہ زمانہ وہ تھا جب انگریز اس لیکن ہندوستان کے لوگ ان سے نفرت باہر کریں ۔ سلطنت مغلیہ کے ١٨٥٧ انگریزوں کے خلاف ان کے دلوں میں
بسم الله الرحمن الرحيم
”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين ۔ وكان الله بكل شی علیما (الاحزاب:٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں کی (نبوت کی) مہر (یعنی اس کو ختم کر دینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔﴾
١...... قادیانیت ۔اسلام کے خلاف انگریزوں کی سازش
قادیانی مذہب یا احمدیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قادیانی یا احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ یہ جھوٹا مذہب مرزا غلام احمد نامی شخص کا بنایا ہوا ہے۔ یہ شخص ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پنجاب کے ایک مقام قادیان میں پیدا ہوا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ انگریز گورنر کے درباری تھے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کو کچلنے میں پچاس گھوڑوں اور پچاس سپاہیوں سے غلام مرتضیٰ قادیانی نے انگریزوں کی مدد کی تھی۔
١٨٨٠ء میں مرزا غلام احمد کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس سال غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے خلاف ایک کتاب شائع کی۔ جس سے مرزا قادیانی کو بہت شہرت ملی۔ اس کتاب میں مرزا قادیانی نے اسلام پر عیسائی مشنریز اور آریہ سماجیوں کے اعتراضات کا جواب دیا تھا۔ اس کتاب کے اشتہارات مرزا قادیانی نے سارے ہندوستان میں تقسیم کروائے۔ ملک کے کونے کونے سے مسلمان نوابوں، امیروں اور تاجروں نے رقمیں بھیج کر اس کام میں مدد کی۔ اس ناموری اور شہرت سے مرزا قادیانی کا دماغ خراب ہو گیا اور وہ خود کو بڑی غیر معمولی علمی اور روحانی صلاحیتوں کا مالک سمجھنے لگے اور اس زعم نے انہیں نبوت کے دعوے کے راستے پر ڈال دیا۔
انگریز سامراج کی مدد
یہ زمانہ وہ تھا جب انگریز اس ملک پر اپنے قبضہ کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے تھے۔ لیکن ہندوستان کے لوگ ان سے نفرت کرتے اور اس کوشش میں رہتے تھے کہ انگریزوں کو نکال باہر کریں۔ سلطنت مغلیہ کے ١٨٥٧ء میں خاتمہ سے مسلمانوں کے دل دکھے ہوئے تھے۔ انگریزوں کے خلاف ان کے دلوں میں آگ بھڑک رہی تھی اور جہاں موقع ملتا انگریزوں کے
٣
خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جاتے اور اس لڑائی کو مقدس جان کر جہاد فی سبیل اللہ سمجھتے۔ جہاد کے جذبے نے ان کو اتنا جری بنا دیا تھا کہ ناکامی اور شکست کے یقین کے باوجود وہ انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے نہیں چوکتے تھے۔ مسلمانوں کا جذبہ جہاد انگریزوں کے ہندوستان پر قبضہ اور تسلط کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گیا تھا۔ انگریزوں نے اپنے قبضے کو مضبوط اور اپنے اقتدار کو پائیدار اور دیر پا بنانے کے لئے ایک طرف مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان عداوت پیدا کی اور دوسری طرف مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو توڑنے اور کمزور کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور جہاد کو ایک وحشیانہ عمل بنا کر پیش کیا۔ اس سلسلہ میں مرزاغلام احمد قادیانی نے انگریزوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔
مسلمانوں کے خلاف مخبری
مرزاغلام احمد قادیانی نے انگریزوں کی جاسوسی شروع کر دی اور ایسے مسلمانوں کے نام وغیرہ انگریز حکام کو راز میں بتانے شروع کر دیئے جو انگریزوں کی حکومت سے نفرت کرتے تھے اور ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کی حکومت مضبوط ہو جانے کے بعد جب کہ مسلمانوں کی طرف سے کسی مخالفانہ کارروائی کا خطرہ ٹل گیا تو خود اس جاسوسی کا اعتراف کیا اور انگریز سرکار کو لکھا ہوا خط شائع کر دیا۔ جس میں لکھا تھا:
”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام پر بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی...... ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
مرزاغلام احمد قادیانی نے مسیح موعود اور نبی ہونے کے جو دعوے کئے۔ ان کا مقصد انگریزوں کی حکومت کے لئے زمین ہموار کرنا تھا۔ اس کام کے لئے اس شخص نے جہاد کو منسوخ قرار دیا۔ انگریزوں کی تائید میں اشتہارات چھپوائے جن میں ان کی بڑی تائید کی۔ بلادِ اسلامیہ، عرب، عراق، شام، مصر، ترکی وغیرہ میں بھی اپنے دعوؤں اور جہاد کی منسوخی کے اعلان کو پھیلایا تا کہ یہ مسلم ممالک اور وہاں کے مسلمان انگریزوں کے غلام بن جائیں اور وہاں انگریزوں کا اقتدار
٤
قائم ہو جائے۔ برطانیہ کی اس وقت کی ملکہ کوئین ا کرتے ہوئے مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی ان خد ١٨٩٧ء میں لکھا: ”پھر میں اپنے والد اور بھائی کی و برس سے سرکار انگریزی کی امداد و تائید میں اپنے قلم جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں۔ ان سب لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی مخالفت کے بار میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس مخالفت جہاد کو عام مما کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغا نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔“
اس اشتہار میں آگے لکھا: ”پھر میں امداد اور حفظ امن و جہادی خیالات کے روکنے ک استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خ مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں، کوئی نظیر ہ سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب کرنے سے کس سے انعام کی توقع تھی۔“
انگریزوں کی خوشامد
مرزا قادیانی نے انگریزوں کی تعری میں عجیب باتیں لکھیں۔ مسلمان کے لباس میں نے لکھا:
”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں ک نہیں جس نے زمین پر امن قائم کیا ہو۔ میں ا گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہی ہم بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔ اگر یہ امن و آزادی عرب میں ہوتی تو وہ لوگ ہرگز تلوار سے ہلاک
قائم ہو جائے۔ برطانیہ کی اس وقت کی ملکہ کوئین وکٹوریہ کو انعام و اکرام کے لئے عرضیاں پیش کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ان خدمات کو گنوایا۔ اپنے ایک اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء میں لکھا: ”پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم ١٧ برس سے سرکار انگریزی کی امداد و تائید میں اپنے قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں۔ ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس مخالفت جہاد کو عام ممالک میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپے خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔“
اس اشتہار میں آگے لکھا: ”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن و جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر ١٧ سال تک پورے جوش سے، پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں، کوئی نظیر ہے؟ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس سے انعام کی توقع تھی۔“
(کتاب البریہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٣ ص ٦، ٧، ٨)
انگریزوں کی خوشامد
مرزا قادیانی نے انگریزوں کی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور تعریف میں عجیب باتیں لکھیں۔ مسلمان کے دماغ میں ایسی باتوں کا گزر تک نہیں ہوسکتا۔ مرزا قادیانی نے لکھا:
”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔ اگر یہ امن و آزادی اور بے تعصبی آنحضرتﷺ کے ظہور کے وقت عرب میں ہوتی تو وہ لوگ ہرگز تلوار سے ہلاک نہ کئے جاتے۔ اگر یہ امن، یہ آزادی اور بے تعصبی
٥
اس وقت کے قیصر وکسریٰ کی گورنمنٹوں میں ہوتی تو وہ بادشاہتیں اب تک قائم رہتیں۔“
(ازالہ اوہام ص٥٣، خزائن ج٣ ص١٣٠ حاشیہ)
”اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی نا شکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں، وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے، ہرگز نہیں پاسکتے۔“
(ازالہ ص٥٠٩، خزائن ج٣ ص٣٧٣)
غلام احمد قادیانی نے برطانوی حکومت کی تائید میں اشتہارات اور کتابچے لکھ کر تقسیم کروائے۔ ایک اشتہار میں لکھا: ”ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے (یعنی مسلمانوں کی حکومت ختم ہونے اور ملک کے غلام بن جانے سے) وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش کرنا عبث ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٩٥)
غلام احمد قادیانی کو یہ آرزو رہی ہے کہ انگریز انہیں غلامانہ وفاداری کا زیادہ سے زیادہ صلہ دیں۔ ١٨؍ نومبر ١٩٠١ء کو لکھتے ہوئے اپنی اس غلامانہ خدمت کی اہمیت جتائی یہاں یہ بات بتانا مناسب ہوگا کہ جہاد کے اسلامی فلسفہ و تعلیم کی مخالفت میں اپنا ایک رسالہ انگریزوں کی مدد سے مرزا قادیانی نے مصر میں چھپوایا اور تقسیم کروایا اور انگریزوں نے اپنے پٹھو اخبارات میں اس کو شہرت بھی دی۔ اس رسالہ پر مصر کے مشہور رہنماء اور اہل قلم علامہ رشید رضا کے اخبار ’المنار‘ نے تنقید چھاپی۔ اس تعلق سے مرزا قادیانی نے ایک اشتہار چھپوایا اور ذیل کی عبارت اس اشتہار سے لی گئی ہے۔
”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص١٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا اور میں نے ٢٢ برس سے یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو، اسلامی ممالک ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٤٣)
اور آگے لکھتے ہوئے حرف مدعا بھی قلم پر آگیا: ”بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالف جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں ...... میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ میری خدمات کی قدر کرے گی۔“
(ایضاً ص٤٤٥)
٦
انگریزوں سے مدد کی درخواست، صلہ کی تمنا
غلام احمد قادیانی، اپنی خدمات کا صلہ حاصل کرنے کے لئے انگریز سرکار کو عرضیاں پیش کرنے کے علاوہ اپنی غلامانہ درخواستوں کے ذریعے مسلمانوں کے مقابلہ میں انگریزی سرکار کی سر پرستی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
ایسی ہی ایک درخواست میں اس شخص نے عاجزی کرتے ہوئے لکھا: ”اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی، مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٣)
اس شخص نے اپنے جھوٹے مذہب قادیانیت کو پھیلانے اور اپنی نبوت کو مشہور کرنے کے لئے سرکار برطانیہ کا سہارا لیا۔ انگریز عہدہ داروں کی مدد حاصل کی اور برطانوی وسائل کے ذریعہ اپنے سازشانہ کام کو پھیلایا۔ ایک غلامانہ درخواست کوئین وکٹوریہ کے نام لکھی کہ: ”تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصر ہند دام اقبالہا کے بآدب گزارش کرتا ہوں کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے...... چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان، ضلع گورداسپور، پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں۔ جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدر آباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں میری جماعت کے لوگ موجود ہیں لہٰذا قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کرلیں۔“
(کشف الغطاء ص ١، خزائن ج ١٤ ص ١٧٩)
قادیانیت، انگریزوں کا لگایا ہوا پودا
پنجاب کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر کو ایک درخواست پیش کی۔ حکومت سے سر پرستی کی التجا کرتے ہوئے غلام احمد قادیانی نے خود لکھا کہ وہ اور ان کی جماعت سرکار برطانیہ کا ”خود کاشتہ پودا“ یعنی خود کا لگایا ہوا اور کھاد پانی دے کر پروان چڑھایا ہوا پودا ہے۔ اس درخواست میں لکھا: ”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو ٥٠ برس کے
٧
متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حاکم نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے انگریزی سرکار کی راہ میں اپنے خون بہائے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
کوئین وکٹوریہ کے جشن شصت سالہ کے موقع پر انعام واکرام واعزاز کے لئے ایک درخواست پیش کی لیکن نہ کوئی انعام ملا ، نہ اعزاز ۔ اس پر بھی غلام احمد قادیانی کا دل کھٹا نہیں ہوا۔
ایک اور غلامانہ درخواست پیش کی جس کو ستارہ قیصریہ کے نام سے چھاپا۔ اس میں لکھا:
”اس عاجز کو ..... وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت کامل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں ۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی تقاریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ، ہند دام اقبالہا کے نام تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب میں مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا ..... مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب میں ممنون نہ کیا جاؤں ۔ یقینا کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند دام اقبالہا کے ارادے اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں ، دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں ۔ اس غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں ۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٥ ص ١١٢)
جہاد کی مخالفت
اس درخواست میں غلام احمد قادیانی نے اس خدمت کو بیان کیا اور جتایا کہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو کند کر کے برطانوی اقتدار کے لئے راستہ صاف کرنا ہی انکی زندگی کا مقصد رہا
ہے۔ مرزا نے لکھا: ”اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے ممالک میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہذا ہر ایک مسلمان کا فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، اشاعت کر دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
نبوت کے دعوے کا مقصد
مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے، مسیح موعود ہونے اور مہدی ہونے کا جو دعویٰ کیا وہ انگریزی سامراج کی تائید و حمایت میں تھا۔ اس کا مقصد جذبہ جہاد کو مٹا کر مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی پر تیار و آمادہ کرنا تھا۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزوں کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات طبع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام میں اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
پنجاب کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر کو ایک درخواست پیش کی۔ اس میں مرزا قادیانی نے لکھا: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
٩
غرض غلام احمد قادیانی کے تمام دعوؤں اور ان کے مذہب قادیانیت کے پیچھے یہی مقصد کارفرما رہا کہ انگریزوں کی خدمت کر کے اس وقت کی دنیا کی سب سے طاقتور حکومت سے صلہ حاصل کیا جائے۔ مرزا قادیانی نے خود کہا ہے کہ وہ اور ان کا مذہب قادیانیت انگریزوں کا لگایا ہوا اور پروان چڑھایا ہوا پودا ہے۔
غلام احمد قادیانی، جسمانی و ذہنی مریض اور افیون و شراب کا عادی
مرزا غلام احمد قادیانی کو کم عمری ہی سے دو بیماریاں لگ گئی تھیں۔ ایک ذیابیطس کی اور دوسری درد و دوران سر کی بیماری۔ دونوں بیماریاں عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شدید ہوتی گئیں اور درد و دوران سر آخر میں مراق کے مرض (مرگی کی بیماری) میں بدل گیا۔
ان بیماریوں کا تذکرہ مرزا قادیانی نے خود اپنے خطوط اور اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے:
"......دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے...... ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول (پیشاب) میں شکر پائی گئی۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٤٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧)
شکر کی بیماری بعد میں اور بھی شدید ہوگئی۔ خود مرزا قادیانی نے اعتراف کیا: "میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔"
(اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
ذیابیطس کے علاوہ مرزا قادیانی دستوں کی یعنی اسہال کی بیماری کا شکار تھے۔ ملفوظات میں اس کا ذکر ہے: "باوجودیکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت پاخانہ کی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔"
(ملفوظات ج ١ ص ٣٤٨، ٣٤٩)
سر میں شدید درد اور چکر کی بیماری بھی بڑی شدید تھی۔ اس کا اظہار غلام احمد قادیانی نے اپنے ٥ فروری ١٨٩١ء کے ایک خط میں کیا ہے: "حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے۔ کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے۔
١٠
لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزر ہے۔ بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحری
مرگی کی بیماری
درد و دوران سر کا مرض اتنا شدید مراق (مرگی) کا مرض نہ ہو جائے۔ ایسے جھوٹ نکلی۔ پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا: " جس سے میں بے تاب ہو جایا کرتا تھا اور ب سال تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ د عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنا میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گ خدا تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے سگ چار پایہ کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کے بڑے پنجے تھے، میرے پر حملہ کرنے لگا ا اپنا ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر مارا اور ک ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جا سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔"
حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیا ہوتا گیا۔ مرزا قادیانی کے ماننے والے کہ یہ دماغی محنت کا نتیجہ تھا۔ قادیانیوں مرض حضرت مرزا قادیانی کو موروثی شد باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دور
لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے۔ بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے بیٹھے ریگن ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے۔ جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ہو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج اول جدید ص ١٠١)
مرگی کی بیماری
درد و دوران سر کا مرض اتنا شدید ہو گیا کہ خود مرزا قادیانی کو یہ اندیشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں مراق (مرگی) کا مرض نہ ہو جائے۔ ایسے موقع پر بھی اس شخص نے ایک پیش گوئی داغ دی جو جھوٹ نکلی۔ پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا: ”مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں بے تاب ہو جایا کرتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس سال تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا ہے کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا لہذا میں دعا کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چار پایہ کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کے مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے، میرے پر حملہ کرنے لگا اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے۔ تو میں نے اپنا ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دور ہو جا تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔ تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی، صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٦)
حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو مرگی (مراق) کا مرض ہو گیا تھا اور یہ دن بدن شدید ہوتا گیا۔ مرزا قادیانی کے ماننے والے اس مرض کا اعتراف کرتے ہیں۔ البتہ توجیہہ یہ کرتے ہیں کہ یہ دماغی محنت کا نتیجہ تھا۔ قادیانیوں کے ١٩٢٦ء کے ایک رسالہ میں توجیہہ کی گئی کہ: ”مراق کا مرض حضرت مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر سے ہوتا تھا۔“
(ریویو قادیان اگست ١٩٢٦ء)
١١
افیون کا استعمال
ذیابیطس کے علاج کے لئے افیون کا استعمال شروع کیا۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا: ”مجھے اس وقت اپنا ایک سرگزشت واقعہ یاد آیا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی برس سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔...... ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون بہت مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت ص ٦٧، خزائن ج ١٩ ص ٣٣٤، ٣٤٥)
دوست کو تو یہ مبہم جواب دیا۔ لیکن افیون کا نہ صرف استعمال شروع کیا بلکہ افیون کا ایک مرکب بنایا اور مریدوں کو باور کرایا کہ افیون کے مرکب کی ترکیب اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ قادیانیوں کے ایک اخبار نے اس دعویٰ کا تذکرہ کیا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک افیون نصف طب ہے۔ حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (یعنی حکیم نورالدین) کو حضور چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران میں استعمال کرتے رہے۔“
(الفضل قادیان ١٩؍جولائی ١٩٢٩ء)
شراب کا شوق
افیون کے علاوہ شراب کی عادت بھی پڑ گئی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شرابی ہونے کی تہمت لگائی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود کو شراب کی لت پڑ گئی۔ البتہ مرزا قادیانی نے اس حرام نشے کے استعمال کی عادت کو پوشیدہ رکھنے کے لئے دو احتیاطیں کیں۔ ایک تو یہ کہ ہر طرح کی شراب کی بجائے انگلستان کی خاص شراب ٹانک وائین کی عادت بنائی اور دوسرے یہ کہ اپنی کسی تحریر میں، رسالہ، اشتہار، کتاب میں اس بری عادت کا تذکرہ نہ کیا اور نہ کسی کشف و مراقبہ کے ذریعہ اس کو جائز بتانے کی کوشش کی۔ اتنی احتیاط کے باوجود ان کے ایک مرید نے جس کے ذریعہ ٹانک وائین منگوائی جاتی تھی، عقیدت میں مرزا غلام احمد کے خطوط کے مجموعے میں ٹانک وائین کی فرمائش والا خط بھی شائد بھول کر شائع کر دیا۔ حکیم محمد حسین قریشی قادیانی کے نام مختصر تحریر بھیج کر مرزا نے فرمائش کی: ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدنی
١٢
خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائین ، پلومر کی دکان سے خریدیں مگر ٹانک وائین چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت۔
(خطوط امام بنام غلام خط نمبر ٥)
حکیم محمد علی صاحب، پرنسپل طبیہ کالج امرتسر کی تحقیق یہ ہے کہ ”ٹانک وائین ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب تھی۔ جو لاہور میں پلومر کی دکان پر ملتی تھی اور ولایت (انگلستان) سے مہر بند بوتلوں میں آتی تھی۔“
(سودائے مرزا ص ٣٩)
انگریزوں کی کٹھ پتلی
مرگی کی بیماری ، دوران سر اور دماغ کی کمزوری، افیون کی عادت اور شراب کے شوق کا انگریزوں نے بڑا فائدہ اٹھایا۔ وہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھے۔ ہندوستان ہی نہیں بلکہ سارے بلاد اسلامیہ پر برطانوی استبداد اپنے پنجے گاڑھ رہا تھا۔ اس کام میں مدد کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو مسلمانوں میں مشہور ہو اور مسلمانوں کے مذہبی احساسات اور عقائد کا استحصال کرتے ہوئے ان کے جذبہ جہاد کو کند کر دے اور اس طرح برطانوی استبداد کے لئے راستہ ہموار کر دے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو براہین احمدیہ کی پہلی جلد کی اشاعت سے شہرت مل چکی تھی اور شہرت یہ تھی کہ یہ شخص عیسائیت اور آریہ سماجیوں کے خلاف اسلام کی مدافعت کرنے کی خوب صلاحیت رکھتا ہے۔ انگریزوں نے جال بچھایا اور اس شخص کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر لیا۔ انگریزوں کا جادو ایسا کام کر گیا کہ ”وحی“ انگریزی میں آنے لگی اور ”وحی“ پہنچانے والا انگریز محسوس ہونے لگا۔ انگریزوں کی نمک خواری اور وفاداری میں جب ضمیر مردہ ہو جائے اور دل سے ایمان اس حد تک نکل جائے کہ اللہ کی شان میں گستاخی سے زبان اور قلم نہ رکے تو پھر ”وحی“ اور ”فرشتہ“ کا کیا مقام ہے۔
براہین احمدیہ کی بعد کی جلدوں میں جن میں تمام قادیانی خرافات ملتی ہیں ، ایک جگہ لکھا: ”ایک دفعہ کی حالت یاد آئی کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا ”آئی لو یو“ یعنی میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر یہ الہام ”آئی ایم ود یو“ یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا ”آئی شیل ہیلپ یو“ یعنی میں تمہاری مدد کو آؤں گا۔ پھر یہ الہام ہوا ”آئی کین وہاٹ آئی ول ڈو“ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ اٹھا الہام ہوا ”وی کین وہاٹ وی ول ڈو“ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے اور باوجود پر دہشت ہونے کے پھر اس میں لذت تھی
١٣
جس سے روح کو معنے معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، ٤٨١، خزائن ج ١ص ٥٧١، ٥٧٢)
مرزا قادیانی کے نت نئے دعوے اور فتنہ انگیزیاں
آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریز کے اسلام پر اعتراضات کے جواب لکھنے پر مرزا قادیانی کو شہرت ملی۔ مرزا قادیانی نے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریز سے مناظرے شروع کئے۔ ان مناظروں میں مرزا قادیانی کے لب ولہجہ اور روحانی کمالات کے دعوؤں سے بعض بصیرت رکھنے والے اصحاب نے جان لیا کہ یہ شخص آگے چل کر بڑے بڑے دعوے بلکہ نبوت کا دعویٰ بھی کرے گا۔ لیکن مرزا قادیانی نے بڑے شدومد کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ صرف ایک عام مسلمان ہیں اور کسی خاص روحانی درجہ یا مقام کا کوئی دعویٰ نہیں ہے، کہا: ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت ونبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد رسول ونبی ہوں ۔“
(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً حاشیہ)
”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف میں جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ فی الحقیقت ہمارے نبی پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“
(کتاب البریہ ص١٨٤، خزائن ج ١٣ص٢١٧)
مرزا قادیانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو بد بخت نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ قرآن شریف کو جھٹلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی اور رسول ہونے کو جھٹلاتا ہے۔ ایسا شخص مسلمان نہیں رہتا۔ کافر ہو جاتا ہے۔ مگر انہوں نے بالآخر یہی کیا۔ نبوت ورسالت کا دعویٰ کر کے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اس شخص کا اور اس کے ماننے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب کافر ہیں، مسلمان نہیں ہیں۔
غلام احمد قادیانی نے یہ دیکھا کہ مسلمانوں میں رسول ﷺ سے بڑی گہری عقیدت ہے اور آپ کے خاتم النبیین ہونے پر بڑا مضبوط ایمان ہے۔ اس لئے غلام احمد قادیانی نے آہستہ آہستہ درجہ بدرجہ اپنے دعوے کے لئے راستہ بنانا شروع کیا۔ مسلمانوں میں انگریزوں کی تائید و
١٤
حمایت کا جذبہ پیدا کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ اس سمجھا کہ ایک خاص فضیلت و کمال کا دعویٰ کیا بلا پس و پیش باتوں کو مانیں گے اور بلا اعتراض
(١) ولایت اور مجددیت کا دعویٰ
چنانچہ اس شخص نے پہلے ولی، مجدد شخص نے ٣١؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو چھاپ کر تقسیم عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جو قرآن شریف اور حدیث کی رو سے مسلم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و وحی، رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع
٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو جامع مسجد کے لئے کہا : ”مسلمانوں کے سامنے صاف خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“
غلام احمد قادیانی نے ایک اشتہار وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ نبوت کے کیا۔ لکھا: ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے ۔“
(٢) محدثیت کا دعویٰ
اس کے بعد مرزا قادیانی نے کہ محدث کا مرتبہ نبوت سے قریب تر اس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ سند۔ اس ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ
حمایت کا جذبہ پیدا کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے غلام احمد قادیانی نے ضروری سمجھا کہ ایک خاص فضیلت و کمال کا دعویٰ کیا جائے۔ پھر اس حیثیت کو قبول کرنے کے بعد مسلمان بلا پس و پیش باتوں کو مانیں گے اور بلا اعتراض انگریزوں کی حمایت کرنے لگیں گے۔
(١) ولایت اور مجددیت کا دعویٰ
چنانچہ اس شخص نے پہلے ولی، مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک اشتہار میں جو اس شخص نے ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو چھاپ کر تقسیم کروایا تھا: ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن شریف اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی، رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو جامع مسجد دہلی میں تقریر کی اور مسلمانوں کے اعتراضات کو ٹالنے کے لئے کہا: ”مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)
غلام احمد قادیانی نے ایک اشتہار شعبان ١٣١٤ھ میں چھپوا کر تقسیم کروایا۔ جس میں یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں، اپنے ولی اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ لکھا: ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔...... نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
(٢) محدثیت کا دعویٰ
اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ محدث ہیں اور یہ کہ محدث کا مرتبہ نبوت سے قریب ترین ہے۔ نبی کے بعد محدث، یہ ایک عجیب و غریب دعویٰ تھا۔ اس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ سند۔ اس نئے اور عجیب دعویٰ کی مرزا قادیانی نے یوں وضاحت کی: ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا
١٥
شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
مسلمانوں کے مخالفانہ ردعمل کے خوف سے مرزا قادیانی نے یہ احتیاط برتی کہ محدثیت کو نبوت سے کم تر بتایا تا کہ نبوت کے دعویٰ کا الزام نہ لگ سکے۔ چنانچہ وضاحت کی: ”ہمارے سید رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔“ (شہادت القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٢٢٣، ٢٢٤)
مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ
محدثیت کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔ اس نئے دعویٰ کو پیش کرنے میں اس شخص نے تین احتیاطیں کیں۔ ایک وضاحت بار بار کی کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ دوسری احتیاط یہ برتی کہ یہ اعلان کیا کہ دعویٰ حضرت عیسیٰ مسیح کے مشابہ یعنی ان کی طرح کے ہونے کا ہے اور مسیح موعود (قیامت کے قریب تشریف لانے والے عیسیٰ مسیح) ہونے کا نہیں۔ تیسری احتیاط یہ وضاحت کہ یہ دعویٰ نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ بار بار نبوت کے دعویٰ سے انکار کیا۔
- ا....... حضرت عیسیٰ مسیح کے نزول کا عقیدہ کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے لکھا:
”اول تو جاننا چاہئے کہ مسیح موعود کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کا جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے ہے۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جس زمانے تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانے تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
- ب....... تکرار کے ساتھ کہا کہ دعویٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت کا ہے۔ اس لئے
مثیل مسیح اور تکرار کے ساتھ اس سے انکار کیا کہ وہ خود کو مسیح موعود (یعنی وہ حضرت عیسیٰ مسیح جو دوبارہ تشریف لانے والے ہیں) قرار دیتے ہیں۔ ایک جگہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا: ”اور مصنف کو (یعنی مرزا قادیانی) اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات کے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشدت مناسبت اور مشابہت ہے.......“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢)
دوسری جگہ وضاحت کے ساتھ لکھا: ”اس عاجز (یعنی مرزا غلام احمد) نے جو مسیح ہونے
١٦
کا دعویٰ کیا جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہوتا رہا ہے کہ مثیل المسیح ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادات اور اخلاق وغیرہ خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔‘‘
(ازالہ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
مرزا قادیانی نے ایک اشتہار ١١؍فروری ١٨٩١ء کو شائع کروایا جس میں لکھا: ’’یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا...... میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح آنے والا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٧)
اس اشتہار میں مسیح موعود ہونے سے انکار تو کیا لیکن ساتھ ایک نیا فتنہ پیدا کر دیا کہ اور بھی مثیل مسیح ہو سکتے ہیں۔ اسلام میں مثیل مسیح کا کوئی عقیدہ سرے سے ہے ہی نہیں اور نہ کسی اور نبی یا رسول کے مثیل کا عقیدہ۔ یہ باتیں سب بے اصل ہیں۔ قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں۔ غلام احمد قادیانی کے اس نئے فتنے کا اثر یہ ہوا کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں شہ پا کر چند بے بصیرت لوگوں نے کسی نبی اور کسی رسول کے مشابہ اور ان کے مثیل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ جب کہ اسلام میں ایسے کسی دعویٰ کی گنجائش نہیں ہے اور اسلام کے خلاف سازش ہے۔
مولوی عبدالجبار نامی ایک صاحب کے خط کے جواب میں مرزا قادیانی نے اس حدیث کی صداقت کا انکار نہیں کیا جس کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں نازل ہوں گے۔ البتہ چالاکی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرنے کی بجائے وہاں بھی مثیل مسیح کی اپنی گھڑی ہوئی اصطلاح استعمال کی۔
’’میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ظاہری طور پر اس پر جمتی ہیں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٨)
دوسرے مقام پر اور بھی مثیل مسیح اور دیگر انبیاء کے مثیل ہونے کی بے اصل اور گھڑی ہوئی بات کے ساتھ یہ دعویٰ کر دیا کہ: ’’آسمان سے اترنے والے اس کی نسل میں پیدا ہوں گے۔‘‘
’’بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور
١٧
بھی مسیح کا مثیل بن کر آوے۔ کیونکہ نبیوں کے مثیل دنیا میں ہوتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھی ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ امیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں، رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند......"
(ازالہ ص ١٥٥،١٥٦ خزائن ج ٣ ص ١٧٩۔١٨٠)
اسی کتاب میں آگے چل کر اس کا اعتراف کیا کہ مسیح موعود کی حدیثیں خود کی ذات پر نہیں جمتیں، مرزا قادیانی نے لکھا: ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک آئندہ زمانے میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔ ہاں اس زمانے کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کا انتظار بے سود ہے۔.... پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا بلکہ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“
(ازالہ ص ١٩٩،٢٠٠ خزائن ج ٣ ص ١٩٧،١٩٨)
ج...... مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود مرزا قادیانی نے نبوت کے دعویٰ سے انکار کیا۔ اس کے ساتھ ہی جزوی نبوت کا ایک تصور بھی پیش کیا: ”اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی ہونا چاہئے کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اوّل تو جواب یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔ بلکہ صاف طور پر یہی لکھا کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ ظاہر نہیں کرے گا میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام۔ ماسوا اس کے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی امت کے لئے محدث ہو کر آیا اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔“
(توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
(٤) مسیح موعود ہونے کا دعویٰ
اب تک تو مرزا قادیانی کو اس بات سے انکار تھا کہ انہوں نے مسیح موعود یعنی آخری زمانے میں پھر آنے والے حضرت عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان کے ہی کہنے کے مطابق دعویٰ صرف یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ مسیح سے مشابہت رکھتے ہیں اور ایسی مشابہت رکھنے والے ہزاروں ہو سکتے ہیں او یہ کہ وہ مسیح موعود جن پر رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں پوری اترتی ہیں۔ وہ کوئی اور ہیں
١٨
جو دمشق میں آسمان سے اتریں گے۔ لیکن چند ہی سال
”میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہو کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں
”اور یہی عیسیٰ ہے جس کا انتظار تھا اور ا مراد ہوں۔ میری ہی نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشا مریم ہیں جو آنے والا تھا۔“
(٥) نبوت کا دعویٰ
ایک دور میں خود غلام احمد قادیانی نے لکھ طرح مسلمان ہوگا۔ کیونکہ ”آنے والے مسیح کے ٹھہرائی“ لیکن اب مسیح موعود ہونے کے دعوے کے اور اپنی ہی بات کو انتہائی بھونڈے انداز میں جھٹلایا سے پتہ چلتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان
نبوت کے دعوے کے ساتھ ایک اور ش شروع سے چلا آ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ق کر یہ معنی پہنائے کہ آپ ﷺ کے بعد بھی (نعوذ تاویل سے نبوت کے دعوے کے فتنہ کا دروازہ نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھا، اس کو دوس سے باہر ہے۔“
”اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک ام الہام اور نبوت پاتا ہے۔ نبی کے نام کا اعزاز دیا ج ہے اور اس کا اپنا وجود کچھ نہیں اور اس کا اپنا کما بلکہ نبی بھی اور امتی بھی۔ مگر ایسے نبی کا دوبارہ آنا
جو دمشق میں آسمان سے اتریں گے۔ لیکن چند ہی سال بعد یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ خود مسیح موعود ہیں:
”میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)
”اور یہی عیسیٰ ہے جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری ہی نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہیں جو آنے والا تھا۔“
(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥٢)
(٥) نبوت کا دعویٰ
ایک دور میں خود غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ آنے والا مسیح نبی نہیں، عام مسلمانوں کی طرح مسلمان ہوگا۔ کیونکہ ”آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی“ لیکن اب مسیح موعود ہونے کے دعوے کے ساتھ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ بھی کر دیا اور اپنی ہی بات کو انتہائی بھونڈے انداز میں جھٹلایا اور کہا: ”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
نبوت کے دعوے کے ساتھ ایک اور شرانگیزی یہ کہ ”خاتم النبیین“ کے اس مفہوم کو جو شروع سے چلا آ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اس مفہوم کو بدل کر یہ معنی پہنائے کہ آپ ﷺ کے بعد بھی (نعوذ بالله من ذلك) نبی آ سکتے ہیں۔ اس شرانگیز تاویل سے نبوت کے دعوے کے فتنہ کا دروازہ کھول دیا اور کہا: ”نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع نہیں۔ یوں ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا، اس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں، اس تحدید سے باہر ہے۔“
(ازالہ ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)
”اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک امتی جو محض پیروی آنحضرت ﷺ سے درجہ وحی، الہام اور نبوت پاتا ہے۔ نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ وہ امتی ہے اور اس کا اپنا وجود کچھ نہیں اور اس کا اپنا کمال، نبی متبوع کا کمال ہے اور وہ صرف نبی نہیں کہلاتا بلکہ نبی بھی اور امتی بھی۔ مگر ایسے نبی کا دوبارہ آنا جو امتی نہیں، ختم نبوت کے منافی ہے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٦٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٣)
١٩
نبوت کے دعوے کے فتنہ کا دروازہ کھولنے کے بعد مرزا قادیانی نے اس اندیشے کے تحت کہ کوئی اور شخص نبوت کا دعویٰ کر کے چیلنج نہ کر بیٹھے، دوسروں کے لئے یہ دروازہ بند کر دیا: ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ۔۔۔۔۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش گوئی پوری ہو جائے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
مرزا قادیانی نے یہ لکھ مارا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ایک نبی ہونے کا ذکر احادیث صحیحہ میں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے زندگی بھر اور ان کے ماننے والوں نے آج تک ایک بھی صحیح حدیث پیش نہیں کی اور یوں اس جھوٹ کا بھی پول کھل گیا۔
خاتم النبیین کی جھوٹی تاویل سے نبوت کے دعوے کے فتنے کا دروازہ تو کھول دیا اور اس جھوٹی تاویل کے بعد جب یہ سوال پیدا ہوا کہ غلام احمد قادیانی سے پہلے کون نبی گزرے اور بعد کون ہوں گے۔ اس سوال کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ ایک ہی شخص کے نبی ہونے کی احادیث ہیں۔ لیکن یہ شخص ان احادیث کی زندگی بھر نشاندہی نہ کر سکا۔
مرزا قادیانی کے بیٹے اور جانشین دوم نے اپنی ایک کتاب میں لکھا: ”یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔“ اسی کتاب میں یہ بھی لکھا: ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک امت محمدیہ میں کوئی اور شخص (یعنی مرزا قادیانی کے سوا) نبی نہیں گزرا کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور پر صادق نہیں آئی۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)
اپنی بات کی یہ تاویل کی کہ ”آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥ ملخص، تشحیذ الاذہان قادیان نمبر ٨ ج ١٢ ص ١١ اگست ١٩١٧ء)
جو مصلحتیں اور حکمتیں کسی اور کے نبی ہونے کی مخالف ہیں، وہیں مصلحتیں اور حکمتیں رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی بھی نبی کی (غلام احمد قادیانی ہو یا کوئی اور) مخالف ہیں کہ اس سے دین میں رخنہ واقع ہوتا ہے۔
(٦) ایک گستاخانہ فتنہ ساز دعویٰ
فتنوں پر فتنہ کھڑا کرنے اور نئی نئی شرانگیز باتیں پیدا کرنے والے مرزا قادیانی نے آخرش ایک ایسا دعویٰ کر دیا کہ جس کے تصور سے مجھ جیسا گنہگار مسلمان اور رسول اکرم ﷺ کا یہ
٢٠
٧
حقیر امتی کانپ اٹھتا ہے۔ اس فتنہ پرداز نے جو میں آسکتے ہیں اور پھر کذاب قادیانی نے اپنے کہ ایک اشتہار چھاپا جس کا عنوان ’ایک غلطی لفظ ایک ایسی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبو پائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے س
پھر انہوں نے اپنے لئے دعویٰ کیا اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسو نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پا
ایک اور جگہ لکھا: ”میں وہ آئینہ ہو ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کر نہ رکھتا۔“
یہ بھی دعویٰ کیا: ”تمام نبیوں ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہ کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احم
اپنے اخبار الحکم میں مرزا قاد نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا بلکہ خود محمد ﷺ ہی آئے ہیں۔“
مرزا قادیانی کا یہ گستاخانہ د عقیدہ سے ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کی ہ جائے کہ: ”کیا اس بات میں کوئی شک اتارا تا کہ اپنے وعدے کو پورا کرے۔“
حقیر امتی کانپ اٹھتا ہے۔ اس فتنہ پرداز نے جو فتنہ پرور بات کہی کہ رسول اللہﷺ ہزاروں بار دنیا میں آسکتے ہیں اور پھر کذاب قادیانی نے اپنے لئے یہی دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی کی شر انگیزی دیکھئے کہ ایک اشتہار چھاپا جس کا عنوان ”ایک غلطی کا ازالہ“ رکھا۔ اس میں لکھا: ”غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک ایسی مہر ہے جو آنحضرتﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٤، ٢١٥)
پھر انہوں نے اپنے لئے دعویٰ کیا: ”مجھے بروزی صورت میں نبی اور رسول بنایا ہے اور اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
ایک اور جگہ لکھا: ”میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ مجتبیٰ نہ رکھتا۔“
(نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١ حاشیہ)
یہ بھی دعویٰ کیا: ”تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرتﷺ کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
اپنے اخبار الحکم میں مرزا قادیانی نے لکھا: ”اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں ۔ نہ نیا نبی نہ پرانا بلکہ خود محمدﷺ ہی کی چادر ایک دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ٤٠٤)
مرزا قادیانی کا یہ گستاخانہ دعویٰ مذہب قادیانیت کا مرکزی عقیدہ ہے اور اس گندہ عقیدہ سے ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کی بو آتی ہے۔ یہ تناسخ کا نظریہ نہیں تو اور کیا ہے، جب یہ کہا جائے کہ : ”کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتارا تاکہ اپنے وعدے کو پورا کرے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)
٢١
قادیانیوں کے نزدیک اس عقیدے سے انکار کفر ہے: ”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں۔ بلکہ وہی ہیں۔ اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو معاذ اللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو اور دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح آپ کی روحانیت، اقوی اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٤٦، ١٤٧)
”نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں، امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ٢٩ جون ١٩١٥ء)
کئی اور متضاد دعوے
خاتم الاولیاء
”میں ولایت کا سلسلہ ختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت ﷺ نبوت کے سلسلے کو ختم کرنے والے تھے اور وہ بھی خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں۔ مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠،٦٩)
کنبہ پروری اور اپنے ہی گھر کو بھرنے کی حرص دیکھئے کہ ولایت دوسروں کے لئے ختم کردی اور اپنی اولاد کے لئے جاری رکھی۔
خاتم الخلفاء
”خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا اور بھید اس میں یہ ہے کہ خدا نے ابتداء سے ارادہ فرمایا تھا کہ اس آدم کو پیدا کرے گا کہ آخری زمانے میں خاتم الخلفاء ہوگا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٦٧، ١٦٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٤)
عجب نہیں کہ یہ شخص اگر زندہ رہتا تو خدائی کا دعویٰ کر بیٹھتا۔ پہلے کسی بھی دعوے سے انکار، پھر ایک ہلکا سا دعویٰ ساتھ ہی کسی بڑے دعوے سے انکار اور پہلی بات کو جھٹلانا یا اس کی کوئی بھونڈی سی تاویل کرنا۔ یہ طریقہ کار مرزا قادیانی کا رہا۔
پہلے ہر دعوے سے انکار، صرف مسلمان ہونے کا اعلان، پھر ولایت اور مجددیت کا
٢٢
دعویٰ، نبوت کے دعوے سے انکار، پھر مثیل آخرش نعوذ باللہ من ذلک، حضور ختمی مرتبت ﷺ (دوبارہ ظہور) کا دعویٰ۔
جھوٹ پر جھوٹ، دعوے پر دعوے اللہ کہتا ہو اور قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کرتا ہو لیکن جس کے دل میں خدا کا خوف او تعالیٰ کے آگے حساب کتاب پر یقین ختم ہو آتی ہیں۔
”مسلمان ان تحریکوں کے معام خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر ا اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔“
”قادیانی صاحبان تبلیغ اسلام کا دھرتے ہیں لیکن انصاف سے دیکھئے تو بے ب ان کو ہٹا رہے ہیں۔ دین و ایمان گنوا رہے بنا رہے ہیں۔ تخریب دین کو تبلیغ دین بتا رہے
(٤) گستاخانہ زبان اور گندے خط
مرزا غلام احمد نے ہر نئے دعو صحابہ کرام کے خلاف گستاخانہ لب ولہجہ اخت السلام جیسے عظیم المرتبت رسول کے خلاف ایسی باتیں کہیں کہ ان کا تصور کرنا بھی گناہ ہ
جب تک نبوت کا دعویٰ نہیں اعتراف تھا۔ چنانچہ اپنے اخبار میں ا لوگوں (صحابہ) کا مداح اور خاک پا ہوں
دعویٰ، نبوت کے دعوے سے انکار، پھر مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ، مسیح موعود ہونے سے انکار اور آخرش نعوذ باللہ من ذلک، حضور ختمی مرتبت، خاتم النبیین، رحمۃ للعلمین، محمد مصطفیٰ ﷺ کے بروز (دوبارہ ظہور) کا دعویٰ۔
جھوٹ پر جھوٹ، دعوے پر دعوے، یہ کام وہی کر سکتا ہے جو بظاہر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہو اور قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان کرتا ہو لیکن جس کے دل میں خدا کا خوف اور رسول کی محبت نہ ہو اور جس کا روز قیامت اور اللہ تعالیٰ کے آگے حساب کتاب پر یقین ختم ہو چکا ہو۔ یہ ساری باتیں مرزا غلام احمد قادیانی میں نظر آتی ہیں۔
”مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے۔ جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بنا نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتماد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس کے لئے اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔“
(حرف اقبال)
”قادیانی صاحبان تبلیغ اسلام کا بڑا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کا مسلمانوں پر بڑا احسان دھرتے ہیں لیکن انصاف سے دیکھئے تو بے سروپا عقائد مسلمانوں میں پھیلا رہے ہیں۔ اسلام سے ان کو ہٹا رہے ہیں۔ دین و ایمان گنوا رہے ہیں۔ من مانے حاشئے چڑھا رہے ہیں۔ بچوں کا کھیل بنا رہے ہیں۔ تخریب دین کو تبلیغ دین بتا رہے ہیں۔ امت محمدی میں فساد بڑھا رہے ہیں۔“
(پروفیسر محمد الیاس برنی)
(٤) گستاخانہ زبان اور گندے خیالات
مرزا غلام احمد نے ہر نئے دعویٰ کے ساتھ، دوسروں پر اپنی فضیلت جتانے کے لئے صحابہ کرام کے خلاف گستاخانہ لب ولہجہ اختیار کیا۔ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم المرتبت رسول کے خلاف دریدہ دہنی کی۔ حتیٰ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بارے میں بھی ایسی باتیں کہیں کہ ان کا تصور کرنا بھی گناہ عظیم ہے۔
جب تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ صحابہ کی فضیلت سے انکار نہ تھا۔ بلکہ اس کا اعتراف تھا۔ چنانچہ اپنے اخبار میں اعلان چھپوایا: ”میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ ان لوگوں (صحابہ) کا مداح اور خاک پا ہوں۔ جو جزوی فضیلت اللہ تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے۔ وہ
٢٣
قیامت تک کوئی اور شخص نہیں پا سکتا۔ کیا دوبارہ محمدﷺ دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقع ملے جو جناب شیخین علیہما السلام کو ملا۔“
(ملفوظات ج ١ ص ٣٢٦)
نبوت کے دعویٰ کے بعد صحابہ کرامؓ اور انبیاء علیہ السلام کی شان میں گستاخی عادت بن گئی۔ ایک اشتہار شائع کروایا جس میں لکھا: ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا۔ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ تو کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
حضرت علیؓ اور حضرات حسنینؓ کی تحقیر
حضرت علی کرم اللہ وجہ کے تعلق سے بڑی گستاخانہ بات کہی گئی کہ: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے، اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے بارے میں کیا کیا لکھا۔ ملاحظہ کیجئے۔ حضرت زیدؓ بن حارثہؓ کا تذکرہ کس طرح کیا ہے۔ یہ بھی دیکھئے:
- ١...... ”افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ اہمیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام
تک ذکر نہیں ان سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان کو آنحضرت ﷺ کا بیٹا کہنا قرآن شریف کی نص صریح کے خلاف ہے۔ جیسا کہ آیت ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم“ سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ امام حسین رجال میں سے تھے۔ عورتوں میں سے تو نہیں تھے۔ حق تو یہ ہے کہ اس آیت سے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت ﷺ سے بوجہ پسر دختر ہونے کا تھا، نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے...... ہاں یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کے راست باز بندوں میں سے تھے۔ لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔“
(نزول المسیح ص ٤٥ تا ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣ تا ٤٢٦)
- ٢...... ”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسین اور امام حسین کو اپنے تئیں افضل سمجھا۔
میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
- ٣...... ایک شعر میں کہا:
صد حسین است در گریبانم
(درثمین فارسی ص ١٧١)
٢٤
صدیق اکبر پر فضیلت کا دعویٰ
صحابہ کرام اور اولیاء عظام کے بارے میں قادیانی کی وضاحت ذیل کے اقتباس سے ہوتی ہے: ”حضرت صدیق رضی اللہ عنہ، کی نسبت اہل سنت والجماعت کے خطبات جمعہ میں علانیہ اس عقیدہ کا اعلان کیا جاتا ہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق۔ تو جب مسیح موعود اور مہدی معہود ،ابوبکر سے افضل ہوں گے تو ظاہر ہے کہ بقیہ تمام امت سے بھی افضل ہوں گے۔ اکثر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت حضرت علی اور امام حسین رضی اللہ عنہما پر اہل سنت والجماعت میں متفق علیہ ہے اور اس کی وجہ سے کوئی ہتک ان حضرات اہل بیت کی نہیں ہوتی تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی فضیلت بدرجہ اولیٰ قابل تسلیم ہے اور نا قابل اعتراض ہے اور جب ان تمام حضرات پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی عقیدہ مسلم ہوگئی، دیگر اولیائے امت اور حضرت شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہم کے ذکر کی کیا ضرورت ہے۔“
(تصدیق احمدیت ص١٥٤)
حضرت عیسیٰؑ پر بہتان
جناب مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کر دیا تاکہ لوگ اس ”نبی“ سے ویسے ہی معجزات کا مطالبہ نہ کریں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور اونچے درجات کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے اور غلام احمد قادیانی نے ان کی یوں تحقیر کی ہے: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ (عیسیٰ) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا...... ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔ بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ تھا اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہ تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کیلئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کا پلید عطر اس کے سر پر
٢٥
لئے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦ ، ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)
جنس زدگی
مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مماثلت کے لئے خود کو مریم اور ساتھ ہی ابن مریم ٹھہرایا اور اس حماقت کو اپنی ایک کتاب میں لکھ بھی دیا کہ : ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ الہام کے جو...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا اور پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
مریم ٹھہرائے جانے کی وضاحت میں جو کچھ اس شخص نے کہا اس سے اس کی جنس زدگی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا اللہ سبحانہ تعالٰی پر یقین نہیں تھا جو اللہ کی سبحانیت اور اس کی ”لیس کمثلہ شی“ پاک اور بے عیب حقیقت پر یقین رکھتا ہو۔ وہ اس گندے تصور کے قریب پھٹک نہیں سکتا جس کا اظہار مرزا قادیانی نے ایک محفل میں کیا اور جس کو ان کے معتقد نے یوں بیان کیا : ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یوں بتائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالٰی نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢)
قرآن کے بارے میں جھوٹ
جھوٹ بولنے میں یہ شخص اتنا ڈھیٹ تھا کہ قرآن پر بھی جھوٹ باندھا۔ اس شخص نے لکھا: ”تین شہروں کا نام قرآن مجید میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا کہ کئی سال ہوئے مجھے دکھایا گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
یہ جھوٹ ہے کہ قرآن میں اس کے قصبہ قادیان کا نام آیا ہے۔
اگر اس کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کو یہ دکھایا گیا ہے کہ قرآن میں ”قادیان“ کا نام بھی لکھا ہوا تھا تو یہ شخص قرآن پر الزام لگا رہا ہے کہ یہ مکمل نہیں ہے۔
قرآن کریم کے بارے میں دروغ بیانی ، انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمت اور الزامات صحابہ کرامؓ اور اولیاء عظام کے خلاف گستاخانہ کلمات۔ یہ حرکتیں وہی شخص کر سکتا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو اپنے دین سے بدظن کرنا اور اسلام و مسلمانوں کو کمزور کرنا ہو۔ یہی خدمت انگریز آقاؤں کے لئے غلام احمد قادیانی نے انجام دی۔
٢٦
(٥) مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا ح
مرزا قادیانی کو اپنی دھاک بٹھانے مخالفین کے زمانہ قریب میں مر جانے کی پیش مخالفت کرنے والے سہم جائیں اور ڈر کر مخالف خوب کیا ۔ اشتہارات چھاپے۔ ہر پیش گوئی جھو کر علیحدگی اختیار کر لی ۔ لیکن جو دلوں کے اند توجیہہ اور تاویل کو قبول کر لیا ۔ یہاں تین مخالفی
آتھم کے خلاف پیش گوئی کا انجام
....... جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح اور چیلنج کیا ۔ مناظرے ہوئے جس میں مشہور م مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ آتھم ١٥ ستمبر تاریخ تک بلکہ اس کے بعد ایک عرصہ تک زن کیلئے کافی تھا جو اس وقت تک مرزا قادیانی پر ا ہے۔ وہ گمراہی ہی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ان کے بیٹے رحیم بخش قادیانی والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا۔ آتھ تھے کہ حضرت صاحب ( مرزا قادیانی) اس و آتھم مر جائے گا ۔ مگر جب سورج غروب ہو بخش ) فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبرا وقت حضور ( مرزا قادیانی ) نے تقریر فرمائی انشراح صدر پیدا ہو گیا اور ایمان تازہ ہو گیا ۔ عبد اللہ آتھم کو خود دیکھا ۔ عیسائی اسے گاڑی میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ ہے۔ جیسے لوگ لئے پھرتے ہیں۔ آج نہیں
(٥) مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا حشر
مرزا قادیانی کو اپنی دھاک بٹھانے کے لئے پیش گوئی کرنے کا بڑا شوق تھا۔ خصوصاً مخالفین کے زمانہ قریب میں مرجانے کی پیش گوئی اس شخص نے بڑے زور و شور سے کی تاکہ مخالفت کرنے والے سہم جائیں اور ڈر کر مخالفت سے باز آجائیں۔ ان پیش گوئیوں کا چرچا بھی خوب کیا۔ اشتہارات چھاپے۔ ہر پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی جس سے سمجھنے والوں نے سبق لے کر علیحدگی اختیار کرلی۔ لیکن جو دلوں کے اندھے تھے، انہوں نے بلا چوں و چرا مرزا قادیانی کی توجیہہ اور تاویل کو قبول کرلیا۔ یہاں تین مخالفین کی موت کی بددعا اور پیش گوئی کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
آتھم کے خلاف پیش گوئی کا انجام
- ١....... جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو عیسائیوں نے بھی برا مانا
اور چیلنج کیا۔ مناظرے ہوئے جس میں مشہور مناظر عیسائی عبداللہ آتھم سے ہوا۔ مناظرہ کے بعد مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ آتھم ١٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک مرجائے گا۔ عبداللہ آتھم نہ صرف اس تاریخ تک بلکہ اس کے بعد ایک عرصہ تک زندہ رہا۔ یہ واقعہ ان لوگوں کی آنکھوں کو کھول دینے کیلئے کافی تھا جو اس وقت تک مرزا قادیانی پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن جن کی آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ وہ گمراہی ہی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص ماسٹر قادر بخش قادیانی تھا۔ ان کا نام ذکر کرتے ہوئے ان کے بیٹے رحیم بخش قادیانی نے لکھا: ”١٥ ستمبر ١٨٩٤ء کو جس دن عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا۔ آپ (ماسٹر قادر بخش) قادیان میں تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) اس دن فرماتے تھے کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا کہ آتھم مرجائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈولنے لگے۔ آپ (ماسٹر قادر بخش) فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔ ہاں فکر اور حیرانی ضرور تھی۔ لیکن جس وقت حضور (مرزا قادیانی) نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حقیقت بتلائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر پیدا ہو گیا اور ایمان تازہ ہو گیا۔ (ماسٹر قادر بخش) فرماتے تھے کہ میں نے امرتسر جاکر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ سمجھ گیا کہ واقعہ میں یہ مرگیا ہے اور یہ اس کا جنازہ ہے۔ جسے لوگ لئے پھرتے ہیں۔ آج نہیں تو کل مرجائے گا۔“ (اخبار الحکم قادیان ١٧ ستمبر ١٩٠٣ء)
٢٧
مولوی ثناء اللہ امرتسری کے سامنے مرزا قادیانی کی موت
- ٢....... مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کے جھوٹ سے پنجاب کے مسلمانوں کو محفوظ
رکھنے اور ہوشیار کرنے کے لئے بڑی کوششیں کیں اور مرزا قادیانی کے جھوٹ، فریب اور جعل سازی کو بے نقاب کیا۔ مولوی ثناء اللہ کی ان مجاہدانہ کوششوں سے بوکھلا کر مرزا قادیانی نے ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار چھپوا کر تقسیم کروایا۔ جس میں دھمکی دی گئی کہ مرزا قادیانی کے جیتے جی مولوی ثناء اللہ صاحب پر طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں وارد ہوں گی اور اسی سے مرزا قادیانی کے سامنے ان کی موت واقع ہوگی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨)
اس اشتہار کی اشاعت کے بعد ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء کے اخبار ”بدر“ قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری شائع ہوئی جس میں لکھا: ” ثناء اللہ کے تعلق سے جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا قادیانی) طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“
اللہ نے مرزا قادیانی کے جھوٹ کو واشگاف کر دیا۔ دھمکی کے اشتہار کو چھپے ایک سال ہوا تھا کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو دستوں سے غلام احمد قادیانی کی موت واقع ہو گئی اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے بڑی عمر پائی۔
ڈاکٹر عبدالحکیم کو بددعا کا حشر
- ٣....... ڈاکٹر عبدالحکیم خان تقریباً بیس برس تک مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید رہے اور ان
کے ہر دعویٰ پر ایمان لائے۔ لیکن جب مرزا قادیانی کے دعووں کی حقیقت کھل گئی تو علیحدگی اختیار کر لی اور مرزا قادیانی کی تردید میں لگ گئے۔ ایک رسالہ ”المسیح الدجال“ کے نام سے شائع کیا اور اس میں بتایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی صرف جھوٹے اور مکار ہی نہیں ۔ بلکہ شکم پرست ( پیٹ بھرنے کی فکر کرنے والا) اور نفس پرست آدمی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے مرزا قادیانی کے خلاف تقریروں اور لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک لیکچر میں ڈاکٹر صاحب نے اعلان کیا کہ ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کو انہیں یہ الہام ہوا کہ مرزا قادیانی کذاب اور عیار ہیں۔ تین سال کے اندر ان کے سامنے مرزا قادیانی کی موت واقع ہوگی۔ ١٤ اگست ١٩٠٦ء کو ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کے ایک معتقد کے نام خط لکھ کر بھی اس الہام کی اطلاع دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٦ اگست ١٩٠٦ء کو ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے خلاف اشتہار شائع کیا۔ جس میں دھمکی کے انداز میں دعویٰ کیا کہ: ”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں پائی جاتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے
٢٨
ہیں ۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا ، نہ دیکھا، نہ جانا ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩)
غلام احمد قادیانی نے پھر جوابی پیش گوئی کی کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان صاحب عذاب سے ہلاک ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں : ” آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہو گیا ہے جس کا نام عبد الحکیم خان ہے اور وہ ایک ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی ہی میں ٤ راگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے ، خدا اس کی مدد کرے گا ۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢١ ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦ ، ٣٣٧)
”خدا کی قدرت اور مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کے مطابق میعاد مقررہ کے اندر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو دستوں میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے اور ماشاء اللہ ڈاکٹر صاحب بعد کو برسوں زندہ و خوش و خرم رہے۔
محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی
اوائل ١٨٨٨ء میں جب مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی۔ اپنے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ سے خواہش کی کہ وہ اپنی نو عمر بیٹی کا نکاح ان سے کر دے ۔ لڑکی کا نام محمدی بیگم تھا ۔ اس کی ماں مرزا قادیانی کی چچا زاد بہن تھی ۔ مرزا احمد بیگ اور ان کی بیوی مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعوؤں کو جھوٹ سمجھتے تھے ۔ ان دونوں نے مرزا قادیانی کی خواہش پر کوئی توجہ نہ دی ۔ عادت کے مطابق ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء کو مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک اشتہار شائع کروایا جس میں لکھا: ”خدائے قادر مطلق نے مجھے فرمایا ہے کہ اس شخص ( مرزا احمد بیگ ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم ) کے نکاح کی سلسلہ جنبانی کر ..... اگر نکاح سے انحراف کیا گیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہو گا اور جس کسی دوسرے سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال میں فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر میں تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
کئی جگہ اعلان کیا کہ وحی کے ذریعہ نکاح کا حکم ہوا : ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے لئے نکاح کی درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے
٢٩
وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ اگر کسی شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔ ایسی صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے جس کا نتیجہ موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے تین سال کے اندر مر جاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ حکم اللہ کا ہے۔ پس جو کرنا ہے کرلو۔ میں نے تم کو نصیحت کردی ہے۔ پس وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھا کر چلا گیا ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢،٥٧٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
نکاح کے لئے ناجائز ہتھکنڈے
تین سال مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ پر بڑا دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کردے۔ ١٨٩١ء میں جب محمدی بیگم کے کسی نوجوان سے نکاح کی بات چیت چلی تو مرزا غلام احمد قادیانی سے رہا نہیں گیا۔ ٢؍مئی ١٨٩١ء کو مرزا احمد بیگ کے بہنوئی مرزا علی شیر کو خط لکھا۔ علی شیر بیگ کی لڑکی، غلام احمد کے لڑکے فضل احمد سے بیاہی گئی تھی۔ اس خط میں مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی کو کہا کہ وہ اپنی بیوی کے ذریعہ احمد بیگ کو آمادہ کرے کہ ان سے محمدی بیگم کا نکاح کردے۔ ورنہ وہ اپنے بیٹے فضل احمد سے اس کی بیٹی عزت بی بی کو طلاق دلوا دے گا۔ یہ پورا خط بڑا دلچسپ ہے۔ اس کا یہ حصہ پڑھئے: ”میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ ایک طرف محمدی بیگم کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف سے فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا......“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٦)
ایسا ہی دھمکی کا خط علی شیر بیگ کی بیوی کے نام لکھا۔
علی شیر راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ انہوں نے ٤؍مئی ١٨٩١ء کو جو جواب مرزا قادیانی کو دیا، بڑا دلچسپ ہے۔ غلام احمد قادیانی پر بڑے تیکھے انداز میں طنز کرتے ہوئے اپنے اور مرزا احمد بیگ کے صحیح العقیدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے لکھا: ”مگر آپ خیال فرمائیں کہ آپ کی جگہ احمد بیگ ہوں اور احمد بیگ کی جگہ آپ ہوں تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے
٣٠
رشتہ کرو گے۔ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور مجمع الامراض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کتر چکا ہوتا تو آپ رشتہ کر دیتے؟ ...... اگر آپ طلاق دلوا دیں گے تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت قائم کر کے بد زبانی کا سیاہ داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا۔ تر نہ سہی خشک۔ مگر وہ خشک بہتر ہے جو پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ ...... اور میری بیوی کا حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی کو جو مراقی سے خدائی تک پہنچ چکا ہو، دینے کے لئے کس طرح لڑے......“
(نوشتہ غیب از ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی ص ١٠٠)
پہلی بیوی کو طلاق اور بڑا بیٹا عاق
مرزا احمد بیگ کے نام ١٧؍ جولائی ١٨٩٠ء کے خط میں غلام احمد قادیانی نے لکھا: ”ہمیں خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی قسمیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣)
مرزا قادیانی نے اشتہارات چھپوا کر ڈرایا کہ کوئی محمدی بیگم سے رشتہ نہ کرے۔ مرزا سلطان محمد جس سے محمدی بیگم کا نکاح ہو رہا تھا اس نے ان بھبکیوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ سلطان محمد نے محمدی بیگم کا پیام طے کرنے میں مرزا غلام احمد کے بڑے بیٹے سلطان احمد اور مرزا قادیانی کی بڑی بھاوج نے بھی حصہ لیا۔ ان کے خلاف مرزا قادیانی نے ٢؍ مئی ١٨٩١ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا: ”وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطے اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں۔ اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لئے تجویز کیا ہے۔ اس کو رد نہ کیا بلکہ اس شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اس نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اس روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے، اپنی اس بیوی کو اس دن سے جو اس کو نکاح کی خبر ہو، طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢١)
مرزا غلام احمد قادیانی اس غم میں گھلتے رہے۔ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہو گیا۔ ان کے بیٹے فضل احمد نے وراثت سے محرومی کے ڈر سے اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دی۔ لیکن بڑے بیٹے سلطان احمد اور ان کی ماں اپنے موقف پر جمے رہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی بڑی بیوی کو طلاق دے دی اور سلطان احمد کو عاق کر دیا۔
٣١
ایک پیش گوئی کی ناکامی پر دوسری پیش گوئی
مرزا احمد بیگ کے گھر پر کوئی عذاب آیا، نہ کوئی بلا نازل ہوئی۔ سلطان محمد نکاح کے ڈھائی سال ہونے پر بھی نہ مرا۔ مرزا قادیانی کو بڑی خفت ہوئی کہ یہ پیش گوئی بھی جھوٹ ثابت ہوئی۔ اب اس شخص نے پینترا بدل کر یہ پیش گوئی کر دی کہ ڈھائی سال بعد نہ سہی۔ آئندہ کبھی نہ کبھی محمدی بیگم ان کے نکاح میں آئے گی۔ یہ اعلان مرزا قادیانی نے ٦ ستمبر ١٨٩٦ء کو چھپوایا کہ: ”اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق کا نام کذاب رکھیں گے۔ لیکن وہ دن جلد آتے جاتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے...... یاد رکھو عورت مذکورہ کے نکاح کی پیش گوئی اس قادر مطلق کی طرف سے جس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں .....“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٤)
قضائے الٰہی سے محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کا اس نکاح کے کچھ عرصہ بعد انتقال ہو گیا۔ اس پر غلام احمد قادیانی نے بغلیں بجانا شروع کیں اور کہا کہ جس عذاب سے ڈرایا تھا اس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جس کے آخر میں محمدی بیگم بیوہ ہو کر نکاح میں آئے گی۔ شیخ محمد حسین بٹالوی کے ٤؍ جنوری ١٨٩٣ء کے خط کا جواب دیتے ہوئے مرزا قادیانی نے لکھا: ”میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول! نکاح کے وقت میرا زندہ رہنا۔ دوم! نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم! پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم! اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم! اس تک کہ میں اس سے نکاح کروں، اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم! پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔“
(مکتوبات احمد ج اول ص ٣٥٧، ٣٥٨)
محمدی بیگم کے سلطان محمد سے نکاح کے کئی سال بعد ضلع گورداسپور کی عدالت میں اپنے حلفیہ بیان میں مرزا قادیانی نے کہا: ”جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے، وہ میرا ہے اور سچ ہے۔ وہ عورت مجھ سے بیاہی نہیں گئی۔ مگر اس کے ساتھ میرا بیاہ ضرور ہوگا ..... وہ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی کامل یقین ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں، ٹلتی نہیں۔ ہو کر رہیں گی۔“
(اخبار الحکم قادیان ١٠؍ اگست ١٩٠١ء)
مرزا قادیانی نے یہ اعلان کیا: ”بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ ( سلطان محمد ) کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری
٣٢
موت آ جائے گی۔“
اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد کی یہ خوا ١٩٠٨ء میں محمدی بیگم کی حسرت میں مرزا قادیانی نا و خرم زندگی گزارتی رہی۔
دل کے اندھے
اللہ جھوٹوں اور سرکشی کرنے والوں کو آئیں۔ سچائی اور اللہ کی فرمانبرداری اختیار کریں ہے تو اللہ کا وہ قانون حرکت میں آتا ہے جو کذاب سرکشی اور بغاوت کو دن کے اجالے کی طرح واضح مرزا غلام احمد قادیانی کی اسلام سے پیش گوئیوں پر اتر آیا اور اپنی پیش گوئی کو دعویٰ کی گوئی کو جھٹلا کر دکھا دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا عیسائی عبداللہ آتھم، ضعیف العمری، کی زندگی میں مولانا ثناء اللہ امرتسری اور ڈاکٹر ع کے سامنے نہیں ہوئی۔ نہ مولانا ثناء اللہ امرتسری عذاب میں گرفتار ہوئے۔ اس کے برعکس ان ہیضہ اور قے دست سے ہوئی۔
محمدی بیگم سے نکاح کو نہ ٹلنے والی اور بڑے بیٹے پر جبر کیا۔ اس نکاح کو اپنے دعویٰ نکاح میں آئے گی۔ مرزا قادیانی اسی حسرت کو نہ ان کے جیتے جی بیوہ ہوئی۔
اللہ نے روز روشن کی طرح کھلا فیص کے سوا کچھ نہیں۔ وہ دل کے اندھے ہیں جو ا نہ لیں اور مرزا قادیانی کے جال میں پھنسے رہیں
(٦) غلام احمد قادیانی کی عبرتناک م
یاد رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی
موت آ جائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد کی یہ خواہش پوری کر کے ان کے جھوٹ کو واشگاف کر دیا ١٩٠٨ء میں محمدی بیگم کی حسرت میں مرزا قادیانی نے وفات پائی۔ جبکہ وہ سلطان محمد کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتی رہی۔
دل کے اندھے
اللہ جھوٹوں اور سرکشی کرنے والوں کو بھی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔ سچائی اور اللہ کی فرمانبرداری اختیار کریں۔ لیکن جھوٹ اور سرکشی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ کا وہ قانون حرکت میں آتا ہے جو کذاب اور سرکش کے جعل اور فریب، جھوٹ، دھوکے، سرکشی اور بغاوت کو دن کے اجالے کی طرح واضح کر دیتا ہے کہ ہر آنکھ رکھنے والا دیکھ لے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی اسلام سے سرکشی جب حد سے بڑھ گئی۔ وہ جھوٹے گھمنڈ میں پیش گوئیوں پر اتر آیا اور اپنی پیش گوئی کو دعویٰ کی دلیل اور سچائی کی کسوٹی بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ہر پیش گوئی کو جھٹلا کر دکھا دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ جھوٹ اور سراسر جھوٹ ہے۔
عیسائی عبداللہ آتھم ضعیف العمری کے باوجود پیش گوئی کے دن زندہ رہا۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں مولانا ثناء اللہ امرتسری اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان زندہ رہے۔ ان کی موت مرزا قادیانی کے سامنے نہیں ہوئی۔ نہ مولانا ثناء اللہ امرتسری کو طاعون و ہیضہ کی بیماری لگی اور نہ عبدالحکیم خان کسی عذاب میں گرفتار ہوئے۔ اس کے برعکس ان دونوں کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کی موت ہیضہ اور قے دست سے ہوئی۔
محمدی بیگم سے نکاح کو نہ ٹلنے والی تقدیر قرار دیا۔ دھمکیاں دیں، لالچ دیا۔ اپنی بیوی اور بڑے بیٹے پر جبر کیا۔ اس نکاح کو اپنے دعویٰ کی نشانی بتایا کہ محمدی بیگم ان بیاہی نہ سہی بیوہ ہو کر نکاح میں آئے گی۔ مرزا قادیانی اسی حسرت کو لئے مر گئے۔ محمدی بیگم نہ ان کے نکاح میں آئی اور نہ ان کے جیتے جی بیوہ ہوئی۔
اللہ نے روز روشن کی طرح کھلا فیصلہ دے دیا کہ یہ شخص اور اس کی نبوت جعل اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ وہ دل کے اندھے ہیں جو اس کھلے، صاف اور روشن فیصلہ کو دیکھ کر یا سن کر عبرت نہ لیں اور مرزا قادیانی کے جال میں پھنسے رہیں۔ ایسوں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔
(٦) غلام احمد قادیانی کی عبرتناک موت
یاد رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دو اصحاب مولانا ثناء اللہ امرتسری اور ڈاکٹر میاں
٣٣
عبدالحکیم خان کے لئے بددعا کی تھی کہ وہ طاعون ہیضہ جیسی مہلک بیماریوں سے مرزا کی زندگی میں ان کے سامنے مر جائیں۔ پھر اس بددعا کو اللہ کی طرف سے الہام بتایا اور اس کو اپنے دعوؤں کی سچائی کی نشانی قرار دیا کہ اگر یہ اصحاب ان کی زندگی میں نہ مریں تو ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ اللہ جل جلالہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کو ان کے جھوٹ اور فریب کی نشانی بتا دیا۔ ان کی موت نے ان کے تمام دعوؤں کو جھٹلا دیا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے جیتے جی ہی، مرزا غلام احمد کی موت ہوئی اور موت بھی مرگی کے دوروں میں اور ہیضہ کے مرض سے ہوئی۔
یہ مقام عبرت ہے تمام قادیانیوں کے لئے جن کو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں اور دل دیا ہے۔ وہ نبوت کے دعوے دار کے برے انجام سے عبرت لیں۔
بیٹے کی گواہی
مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے بشیر احمد نے جو باپ کے دعوؤں کو ماننے والا تھا لکھا ہے: ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود یعنی والد صاحب (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھوایا اور پھر طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے۔ جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت سے کہا کہ اس سے پوچھو۔ میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت طاری ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے درد، سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بڑے سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہ رہی اور طبیعت عادی ہو گئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦، ١٧، روایت نمبر ١٩)
اسی کتاب میں موت کے دن کا واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے:
”حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا...... لیکن کچھ دیر بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہیں جا سکتے تھے۔ اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر فارغ ہو گئے ...... اس کے بعد ایک اور دست آیا اور آپ کو قے آئی...... اور حالت دگرگوں ہو گئی ۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ١١، روایت نمبر ١٢)
قادیانی اخبار کی اطلاع
”برادران جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے۔ حضرت امامنا مولانا حضرت مسیح موعود، مہدی معہود مرزا قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بہ سبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی...... اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی لیکن ٢٥ تاریخ مئی کی شام کو ...... پھر اسی بیماری کا دورہ شروع ہو گیا ...... اور قریباً ١١ بجے ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی ...... دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہو گئی ...... ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا۔ جب وہ تشریف لائے تو اپنے پاس بلا کر کہا ”مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے آپ کوئی دوا تجویز کریں“ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا مگر پھر نبض واپس نہیں آئی ۔“
(اخبار الحکم ٢٨ مئی ١٩٠٨ء)
خسر کی شہادت
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریرات بددعاؤں اور پیش گوئیوں میں ہیضہ اور طاعون کو اللہ کا عذاب اور قہر الٰہی بتایا۔ مرزا قادیانی کا انتقال ہیضہ کے مرض سے ہوا۔ مرزا غلام احمد کے مرید اور خسر میر ناصر نواب نے مرزا قادیانی کی موت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے: ”حضرت مرزا قادیانی جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا تو آپ نے خطاب کر کے فرمایا: میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی جب کہ دوسرے دن دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیات ناصر ص ١٤)
٣٥
اے آنکھ والو! عبرت حاصل کرو۔ جس نے دوسروں کو ہیضہ کے عذاب سے ڈرایا اور ہیضہ سے موت کی بددعا کی اور دھمکی دی۔ اس کا انجام یہی ہوا کہ خود اس کا انتقال ہیضہ سے ہوا۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا کہ دنیا جھوٹے کے انجام کو دیکھ لے۔
(٧) کیا قادیانیوں کو مسلمانوں کا فرقہ سمجھا جا سکتا ہے؟
اکثر غیر مسلم اصحاب پوچھتے ہیں کہ کیوں قادیانیوں کو مسلمانوں ہی کا فرقہ نہیں سمجھا جاتا اور کیوں ان کو کافر اور اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ وہ مسلمانوں کا کلمہ ہی پڑھتے ہیں۔ قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔
پہلا جواب تو یہ ہے کہ جب قادیانی مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں تو انہیں کوئی حق باقی نہیں رہتا کہ خود کو مسلمانوں کے ایک فرقہ کی نوعیت دینے کی کوشش کریں۔
پہلے غلام احمد قادیانی کا مؤقف یہ تھا کہ ان کا دعویٰ چونکہ نئی شریعت لانے اور جاری کرنے کا نہیں ہے۔ بلکہ شریعت محمدی کی اتباع کا ہے اس لئے مثیل مسیح یا مسیح موعود ہونے کے ان کے دعوے سے انکار کرنے والا کافر نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے اس مؤقف کا اظہار ذیل کی تحریر میں کیا: ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے سوا اور جس قدر محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلوت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)
اپنے ان دعووں اور پیش گوئیوں کی طرح اس مؤقف پر مرزا قادیانی قائم نہ رہ سکے اور کچھ ہی عرصہ بعد مؤقف بدل کر کہا یہ کہ اس کے دعووں کا ماننا واجب ہے۔ انکار کرنے والا قیامت میں جواب دہ ہوگا۔ بس اتنا ہی مؤقف رکھا اور انکار کرنے والے کو کافر کہنے سے پس و پیش کیا۔ مؤقف یہ تھا: ”میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے۔ گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے۔ کیونکہ جس امر کو اپنے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا، رد کر دیا۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)
٣٦
یہ مؤقف بھی زیادہ دن قائم نہیں رہا۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ اعلان ہوا کہ جو غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لائے اور ان کو مسیح موعود نہ جانے وہ کافر ہے۔ ظاہر ہے انگریز اس پر مطمئن نہیں ہو سکتے تھے کہ جہاد کو منسوخ کرنے والا صرف نزول وحی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی بات کو مسلمانوں کی مرضی پر چھوڑ دے کہ وہ مانیں یا نہ مانیں۔ انگریز تو چاہتے تھے کہ جہاد کی منسوخی کو اتنے شدومد کے ساتھ پیش کیا جائے کہ اس کو تسلیم نہ کرنے والے کو کفر میں مبتلا ہونے اور جہنمی ہونے کا خوف پیدا ہو اور غلام احمد قادیانی کی طبیعت ایسی ’مانو یا نہ مانو‘ والی نبوت پر رکنے والی کہاں تھی۔ غنیمت یہی کہ خدائی کے دعوے تک نہیں پہنچی۔ چنانچہ پھر مؤقف بدلا۔ اب اعلان ہوا: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا...... اور مجھ کو باوجود صدہا نشانیوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
مرزا قادیانی نے اپنے پیروؤں کو حکم دیا کہ کسی مسلمان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ لکھا: ”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٦٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧ حاشیہ)
مرزا قادیانی نے ١٦؍ جون ١٨٩٩ء کو اشتہار چھاپ کر تقسیم کروایا کہ یہ الہام ہوا کہ: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کا انکار کرنے والوں کے لئے ایسی گری ہوئی زبان استعمال کی جس کی ایک سلیم الطبع شخص سے توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ کہا: ”مگر بدکار رنڈیوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)
ایک اور جگہ لکھا: ”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے۔ اول تو یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت میں ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا اور جس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔“
(تحفۃ الاذہان ج ٦ ص ٨)
٣٧
قادیانی اصحاب کو بڑا غصہ اس پر ہے کہ رابطہ عالم اسلامی نے اور حکومت پاکستان نے انہیں غیر مسلم قرار دیا۔ بلکہ پاکستان میں یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کا نام مسجد نہ رکھیں۔ قادیانی ان احکامات پر اور مسلمانوں کے فرقوں سے خارج قرار دیئے جانے پر بڑے بے چین و مضطرب بلکہ غیض و غضب میں بھرے ہوئے ہیں۔ جب وہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کا ”نبی“ مسلمانوں کو، رنڈیوں کی اولاد، اور سڑا ہوا کیڑے پڑا ہوا دودھ کہتا ہے تو پھر یہ قادیانی کیوں خود ان ہی شاخ یا ان ہی کا فرقہ قرار دیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں؟ جب کہ آج بھی تمام قادیانیوں کا عقیدہ یہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور مسیح موعود نہ ماننے والا کافر اور خارج از اسلام ہے۔
خلیفہ قادیان کا مشہور اعلان ہے: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
اس خلیفہ قادیان نے یہ بھی وضاحت کی کہ: ”آپ نے (یعنی مرزا قادیانی) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے، مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے، کافر ٹھہرایا۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے، کافر ٹھہرایا ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٦، نمبر ٤، اپریل ١٩١١ء)
جب مرزا قادیانی، تمام مسلمانوں سے قطع تعلق کو اپنا الہام قرار دیتے ہیں اور ان کے خلیفہ سب مسلمانوں کو کافر گردانتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں غلام احمد قادیانی اور قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اور خارج از اسلام قرار دینا ہی صحیح طریقہ کار ہے۔
قطعی جواب
دوسرا، صحیح اور قطعی جواب یہ ہے کہ چونکہ قادیانی رسول اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں یعنی یہ کہ قادیانی اس بات پر ایمان نہیں رکھتے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس لئے وہ خارج از اسلام، غیر مسلم، کافر اور جہنمی ہیں۔
یاد رکھو! نبوت کے دعویدار کسی جھوٹے سے اس کی نبوت کا ثبوت مانگنا بھی گناہ ہے۔ کیونکہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا کہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اللہم ! صلى على سيدنا مولانا محمد وعلى آل سيدنا ومولانا محمد وبارك وسلم!
٣٨
آسمانی
حضرت مولانا ابوالب
خاتم النبیین لَا نَبِیَّ بَعْدِی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
آسمانی کڑک
حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد پسروری رحمہ اللہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
التوطئة
جل کے ہو جائیں گے ہاں خاک بجھانے والے
آج دین و مذہب مصائب کے نرغے میں ہے۔ گلشن اسلام پامال خزاں ہونے کو ہے۔ دنیاوی ابتلاء کا سلسلہ منازل ترقی پر ہے۔ مسلمان صعوبتوں اور کلفتوں کے آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ اطمینان وطمانیت قلبی سے محروم پڑے ہیں۔ حوادث وسوانح، مصائب و آلام کے ہدف بنے ہوئے ہیں۔
دنیا ان کے تباہ وبرباد، نیست ونابود کرنے میں ساعی وکوشاں ہے۔ ان کی مخالفت، معاندت اور مخاصمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔ غرضیکہ ہرسمت، ہرجہت، ہرطرف سے ان پر مصائب کے ابر ٹوٹ پڑے ہیں اور ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ زبان حال سے پکارتے پھرتے ہیں:
تو ہائے گل پکار، میں چلاؤں ہائے دل
مگر پھر بھی یہ ان حوادث ووقائع سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے مذہب، اپنے دین اور اپنے آئین کے مقدس، مطہر اور مسلمہ اصولوں سے بے بہرہ اور غافل پڑے ہیں اور اپنے اہم مذہبی فرائض کو فراموش ونسیاً منسیاً کئے بیٹھے ہیں۔
مصائب و آلام مذہب سن کر ان کے قلوب بے قرار اور ان کی چشم اشکبار نہیں ہوتیں۔ کمال اسلام کا زوال اور نور اسلام کا انطفاء ہوتا ہے۔ مگر یہ آنکھ نہیں کھولتے۔ ان کی چتون نہیں بگڑتی اور ان کے تیور میلے نہیں ہوتے:
کفر دارد عار بر اسلام ما
فی الحقیقت ایام موجودہ، اہل اسلام کی غفلت اور نادانی کی بوقلموں کے لئے یادگار رہیں گے کہ جن میں بعض نام نہاد مفسد مسلمانوں نے محض اپنے حصول مفاد ذاتی کی خاطر اسلام اور پیغمبر اسلام کی اشد شدید علانیہ بے حرمتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ غیروں کو کیا کہئے۔ ان سے
٢
توقع ہی کیسی تھی۔ مگر اسے کیا کیجئے کہ حیات کی اس کشمکش جدیدہ میں ہمارے اپنے ہاتھ ہی نبض کی تپش آخری کو معلوم کرنے کے لئے گلو گیر ہیں:
اس گھر کو آگ لگ گئی، گھر کے چراغ سے
مرزا قادیانی اور ان کی دلخراش و جگر سوز کتب کو ملاحظہ کیجئے جن میں سوائے توہین انبیاء کرام و تذلیل مشائخ عظام و تکفیر علماء کے اور کچھ نہیں پایا جاتا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس سے ہر مومن متنفس کے قلب کے اندر غم و ملال اور حزن و ماتم کی بھٹیاں سلگیں گی اور ان کا دھواں اس کے لئے باعث افزونی عذاب جہنم ہوتا رہے گا:
کیا سمجھتے ہو، کہ خالی جائے گی
بڑے بڑے صاحبان سلطنت مدعیان عقل و ادراک، فہم و تدبیر نے اسلام کو صدمہ پہنچانے میں آراء و خیالات ظاہر کئے اور اس کو نیست و نابود کرنے کے لئے غلغلہ فلک پاش اور طوفان زلزلہ آفرین کے ساتھ اس کی بربادی کی تجاویز مختلفہ کی تائید کی اور سعی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ مگر اس کا بال تک بیکا نہ کر سکے۔ تو یہ بے چارے مرزا قادیانی ان کے مقابلہ میں کیا ہستی رکھتے ہیں؟
جب مسیلمہ کذاب جیسے مدعی نبوت جس نے آنحضرت ﷺ کے سامنے دعویٰ نبوت کیا اور عرصہ قلیل ہی میں ایک لاکھ سے زائد اس کے پیرو ہو گئے۔ اس کی یہ حالت ہوئی کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوا اور آج دنیا میں اس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں۔ تو یہ مرزا قادیانی اس کے آگے ہیں کیا چیز؟
بہر حال اس پر سکوت و خاموشی سے کام لینا موزوں اور مناسب نہ سمجھا اور ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کی سرکوبی اور دفعیہ کیا جائے تا کہ عوام کے اعتقاد اس کی سوء فطرت کی ہواؤں اور جہالت کے بخارات سے متعفن اور گندے نہ ہونے پائیں:
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں
چونکہ مرزائی صاحبان عوام کو دام تزویر میں لانے کے لئے مرزا قادیانی کی صداقت میں قرآن شریف کی آیات یا احادیث سے معیار پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے بہت مناسب
٣
معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کی ابتداء انہی معاییر کی تردید کی جائے۔ گو معاییر ہمیشہ سچے نبی کے لئے ہی ہوا کرتے ہیں اور جھوٹے اور کاذب ملہم کے لئے نہیں ہوتے۔ تاہم جواب دہی کی خاطر ان معیاروں کی تردید کر کے انہی پر پرکھ کر مرزا قادیانی کی نبوت، مجددیت، مہدویت اور مسیحیت کا ناظرین کے روبرو راز طشت از بام کیا جائے گا۔ جو منصف مزاج کے لئے کافی اور طالب حق کے لئے وافی ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
یاد رہے کہ اس کتاب میں چھ ابواب ہیں۔ جن کی تفصیل کے لئے فہرست مضامین ملاحظہ ہو۔
باب اوّل
مرزائی صاحبان کی طرف سے مرزا قادیانی کے صدق میں پیش کردہ معیار اور ان کی تردید:
پہلا معیار اور اس کی تردید
سب سے بڑا معیار جو مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش کیا کرتے ہیں اور جس پر ان کو ناز ہے، وہ یہ ہے۔ ’’فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایٰتہ انہ لا یفلح الظالمون ‘‘ ﴿اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔﴾
آیت بالا سے یہ امر ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی فی الحقیقت کاذب ہوتے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ، اگر وہ دعویٰ نبوت میں بطلان پر ہوتے۔ اگر ان کا یہ قول کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی مبعوث ہو کر آیا ہوں، جھوٹ ہوتا، تو ان کو دنیا میں ہرگز ہرگز فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوتی۔
اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ (١) کیا کامیابی سے مراد زیادہ دیر تک زندہ رہنا ہے؟ (٢) یا کامیابی سے مراد جماعت متبعین کا زیادہ بڑھ جانا ہے؟ (٣) یا کامیابی سے مراد اموال واولاد کا زیادہ ہو جانا ہے؟
ہاں! اگر کامیابی سے مراد زیادہ دیر تک زندہ رہنا ہے، تو بتلائیے کہ فرعون جس نے ٤٠٠ برس تک حکومت کی اور اس کے عروج و غرور کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ ’’قال انا ربکم الاعلیٰ ‘‘ کہہ کر خدائی تک کا دعویٰ کر دیا۔ قرآن اس پر شاہد ہے۔ لیکن اس سرکشی، اس افتراء پردازی، اس بغاوت، اس مطلق العنانی اور اس ظلم کے باوجود وہ ایسا کامیاب رہا کہ اس کی نظیر دنیا
٤
میں نہیں ملتی۔ چار سو برس تک حکومت کی اور اس مدت دراز اور عرصہ طویل میں اس کو بخار تک نہ آیا۔ ہر طرح کی نفسانی خواہشات اور ہر طرح کی دلی مرادیں پوری ہوئیں۔ ایسے مفتری ، ایسے کاذب، ایسے گمراہ اور ایسے نافرمان کو تو ایک منٹ، ایک ساعت، ایک لحظہ اور ایک آن واحد کی مہلت نہیں دینی چاہئے تھی۔ اس کو کیوں اتنی مہلت ملی اور کیوں اتنا موقع دیا؟ قرآن شریف بھی اس کو پکار پکار کر کہتا ہے: ”وقد خاب من افتری“ کہ وہ ٹوٹے، گھاٹے اور نقصان میں رہا۔ تو معلوم ہوا کہ کامیابی اور فلاح سے مراد زیادہ دیر تک زندہ رہنا ہرگز ہرگز نہیں۔
فرعون نے مخلوق سے اپنی خدائی منوا کر خلق کو گمراہ کیا۔ اس کی گمراہی ایک کاذب اور جھوٹے ملہم کی گمراہی سے لاکھ حصہ زیادہ ہے۔ کیونکہ اس نے تو منعم اصلی اور خالق حقیقی کے ساتھ زور وشور سے مقابلہ کیا۔ مگر اس قہار کی آتش غضب نے ایسے مفتری اور ایسے کاذب کو چارسو برس کی مہلت دی۔ پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ایسا سخت مجرم، گمراہ کرنے والا تو جلد ہلاک نہ ہو اور جھوٹا مدعی الہام جلد ہلاک کیا جائے۔ اسے کوئی عقل سلیم باور نہیں کرسکتی۔
اس کو چھوڑیئے، صالح بن طریف کی طرف دیکھئے۔ اس نے دعویٰ نبوت کے ساتھ مہدویت کا بھی دعویٰ کیا اور سنتالیس برس حکومت اور نبوت کی اور پھر یہ کہ وہ مر نہیں گیا۔ بلکہ تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ اس عرصہ کے بعد مشرق کی جانب چلا گیا اور کہا کہ تمہاری ساتویں پشت کا جو بادشاہ ہوگا ۔ اس وقت میں لوٹ کر آؤں گا۔ ملاحظہ ہو: ”كان ظهور صالح هذا فى خلافت هشام ابن عبدالملك من سنة سبع وعشرين من المأت الثانية من الهجرة ثم زعم انه المهدى الأكبر الذى يخرج فى آخر الزمان وان عيسى يكون صاحبه ويصلى خلفه الخ (تاريخ ابن خلدون ج ٦ ص ٢٠٧)“ یعنی اس نے ١٢٧ھ میں دعویٰ نبوت کے بعد یہ کہا کہ میں مہدی اکبر ہوں جو آخر وقت میں ظہور کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے ہمراہ ہوں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ تو مدعی نبوت تھا۔ اس کو کیوں اتنی مہلت ملی۔ تو معلوم ہوا کہ کامیابی سے مراد زیادہ دیر تک زندہ رہنا ہرگز ہرگز قطعی طور پر نہیں۔
ہاں! اگر کامیابی اور فلاح سے مراد متبعین کا زیادہ ہونا ہے۔ تو بتلائیے کہ مسیلمہ کذاب جس نے آنحضرت ﷺ کے سامنے نبوت کا دعویٰ کیا اور قلیل عرصہ ہی میں ایک لاکھ سے زائد اس کے مقلد و پیرو بن گئے اور مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کی جانب ایک بہت قلیل تعداد تھی۔ تو کیا وہ
٥
نبی تھا۔ کیا وہ رسول برحق تھا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ کاذب ومفتری تھا۔ تو معلوم ہوا کہ کامیابی سے مراد متبعین کا بڑھ جانا ہرگز نہیں۔
دوسرے احادیث ہمیں یہ بتلاتی ہیں کہ دنیا میں ایسے نبی بھی مبعوث ہوئے جن پر ایک بھی ایمان نہ لایا اور کئی ایسے بھی آئے کہ ان پر ایک یا دو ایمان لائے۔ چنانچہ احادیث ذیل سے خوب واضح اور اظہر من الشمس ہو جائے گا۔ غور سے ملاحظہ ہو۔
”لم يصدق نبى من الانبياء ما صدقت وان من الانبياء ما يصدقه من امة الا رجل واحد (صحيح مسلم) “ ﴿حضور فرماتے ہیں کہ جس قدر لوگوں نے مجھے مانا کسی نبی کو نہیں مانا ، اور بعض انبیاء ایسے گزرے جنہیں ایک ہی شخص نے مانا۔ ﴾
دوسری حدیث میں ہے کہ: ”عرضت على الامم فرايت النبى ومعه الرجل والرجلان والنبى ليس معه احد (مسلم ج ٢) “ ﴿آپ فرماتے ہیں کہ کشفی حالت میں میرے سامنے انبیاء علیہم السلام کی امتیں پیش کی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ بعض انبیاء کے ہمراہ چند آدمی ہیں اور بعض کے ہمراہ دو ایک ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ان کے ہمراہ ایک امتی بھی نہیں۔ ﴾
ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ ”خرج رسول الله ﷺ يوما فقال عرضت على الامم فجعل يمر النبى ومعه الرجل والنبى ومعه الرجلان والنبى ومعه الرهط والنبى وليس معه احد (بخاری۔ مسلم) “ ﴿ایک روز آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ انبیاء کی امتیں مجھ پر پیش کی گئیں۔ میرے سامنے سے ایک نبی گزرے ان کے ہمراہ ایک ہی امتی تھا دوسرے نبی گزرے ان کے ہمراہ دو امتی تھے۔ ایک اور گزرے ان کے ہمراہ چند امتی تھے اور بعض نبی ایسے گزرے کہ جن کے ہمراہ ایک امتی بھی نہیں تھا۔ ﴾
علاوہ ازیں قرآن شریف بھی گواہی دیتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پر باوجود قریباً ایک ہزار برس تبلیغ کے بہت تھوڑے اور قلیل تعداد میں ایمان لائے۔ ”و ما امن معه الا قليل“
اب تو یہ بات کافی پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ کامیابی سے مراد متبعین کا بڑھ جانا ہرگز نہیں اور اس سے یہ مراد لینا نعوذ باللہ قرآن اور حدیث کے خلاف عقیدہ رکھنا اور ان انبیاء کی نبوت سے انکار کرنا ہے۔
سوم....... اگر کامیابی سے مراد اموال اور اولاد کا زیادہ ہونا ہے۔ تو یہ خیال قطعی غلط اور سراسر لغو اور بیہودہ ہے۔ کیونکہ یہ احادیث نبویہ اور نصوص قرآنیہ ، تو جس چیز پر لعنت و پھٹکار بھیج رہی ہوں
٦
اس کے حصول کو فلاح اور کامیابی سمجھا جائے۔ معلوم ہوا کہ کامیابی سے مراد دنیوی فلاح اور دنیوی کامیابی ہرگز ہرگز نہیں بلکہ اس فلاح سے مراد فلاح اخروی ہے۔ قرآن شریف بھی متعدد جگہ اس امر کی خوب زور سے توضیح و تشریح اور تائید کرتا ہے۔ جیسے ”والعاقبة للمتقین“ لہٰذا اس کو مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار ٹھہرانا عوام الناس کو دھوکہ اور فریب دینا اور نصوص قرآنیہ کے معانی کو بگاڑنا ہے:
کار افسانہ حدیثوں سے لیا کرتے ہیں
دوسرا معیار اور اس کی تردید
دوسرا معیار جس کے متعلق مرزائی حضرات دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ اس کا جواب غیرممکن ہے، وہ یہ ہے: ”لو تقول علينا بعض الاقاويل لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين، فما منكم من احد عنه حاجزين“ (یعنی اگر یہ پیغمبر ہمارے ذمہ کچھ (جھوٹی) باتیں لگا دیتے (یعنی جو کلام ہمارا نہ ہوتا، اس کو ہمارا کلام کہتے اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے) تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے تو پھر ہم ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے، تو پھر تم میں کوئی ان کا اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا۔)
آیت بالا سے یہ امر ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ جھوٹا مدعی نبوت تئیس برس تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ اس طرح کہ آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چالیس برس کی عمر میں دعویٰ نبوت کیا اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ نے وفات پائی لہٰذا یہ زمانہ نبوت جو تئیس برس بنتے ہیں۔ سچے نبی کے لئے معیار صداقت ہوئے۔ یعنی اگر کوئی شخص دعوے نبوت کرے اور پھر تئیس برس تک اس کی نبوت کا زمانہ رہے، تو وہ سچا نبی ہوگا۔
یہاں پر آیت کے معنی الٹ پلٹ کر کے ایسے من گھڑت مرضی موافق مفہوم نکالا گیا ہے جس کو کوئی ذی عقل، سلیم الفطرت ماننے کے لئے تیار نہیں۔
سب سے قبل ہم یہ کہتے ہیں کہ ”تقول“ کی ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف راجع ہے۔ یہ قضیہ شخصیہ ہے۔ کلیہ نہیں۔ پھر اس سے نبی بالعموم کیوں مراد لیا جاتا ہے؟
ہاں! اگر فرض محال نبی بالعموم مراد لیا بھی جائے تو پھر ضروری ولابدی ہے کہ پہلے سچا نبی ہو تو پھر جھوٹ بولے تو پھر خدا تعالیٰ اس کو جلد ہلاک کر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی سچے نبی نہیں تھے لہٰذا ہلاک نہیں ہوئے۔
٧
دوسرے یہ کہ آیت مذکورہ بالا تو آنحضرت ﷺ کی صداقت کا بڑے زور سے اظہار کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ غیر ممکن ہے کہ نبی جھوٹ بولے۔ کیونکہ لو محال کے لئے آتا ۔ یعنی یہ امر محال ہے کہ نبی جھوٹ بولے۔ جیسے ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا“ یعنی یہ امر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور خدا بھی ہو۔
نیز یہ معیار بوجوہ ذیل لغو، باطل اور مبنی علی الکذب ثابت ہوتا ہے۔
- اول ...... جب آیت کا مطلب یہ ہے کہ مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے۔ تو تئیس برس کی مدت
معیار صداقت نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ تئیس برس سے کچھ کم مدت مثلاً بائیس برس اور چند مہینے کو کوئی ذی شعور جلدی نہیں کہہ سکتا۔
- دوئم ..... جن سچے نبیوں کی صداقت کا زمانہ تئیس برس سے کم ہے۔ وہ حضرات بھی سچے ثابت
نہیں ہو سکتے۔ (نعوذ باللہ منہ )
- سوئم ..... جب آیت کے معنی کی صحت آنحضرت ﷺ کی وفات پر موقوف ہے تو قبل وفات
آیت کے صحیح معنی معلوم نہیں ہو سکتے اور اس سے لازم آتا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے آیت کے صحیح معنی نہیں سمجھے ہوں ۔ (نعوذ باللہ منہ )
- چہارم ..... جب یہ آیت آنحضرت کی نبوت کی صداقت ثابت کرنے کے لئے استدلالاً پیش کی
گئی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نبوت کی صداقت کا ثبوت نبی کی زندگی میں ہونا چاہئے اور جب اس کے معنی کی صحت آپ کی وفات پر موقوف ہے ۔ تو پھر آپ کی زندگی میں یہ صدق نبوت کی دلیل کیونکر ہو سکتی ہے؟ اور آپ نے یہود و نصاریٰ وغیرہ مخالفین کے مقابلے میں اس کو کیونکر پیش کیا؟
اس کے علاوہ ان کے بطلان کا سب سے بڑا ثبوت ہمارے پاس یہ ہے کہ ہم کئی جھوٹے مدعی نبوت دیکھتے ہیں کہ جنہوں نے تئیس برس سے کہیں زیادہ نبوت کی ۔ صالح بن طریف کی طرف دیکھ لیجئے کہ سینتالیس برس نبوت اور حکومت کی۔ تاریخ ابن خلدون کے ورق الٹ کر ملاحظہ کر لیجئے کہ اس کو کتنی کامیابی نصیب ہوئی ۔ تو کیا وہ مرسل من اللہ تھا ؟ کیا وہ سچا رسول تھا ؟ اس معیار کے مطابق تو اس کو سچا ماننا پڑے گا ورنہ آپ کا معیار غلط اور لغو ہوگا۔
ہاں! اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ پر اعتبار نہیں ، تو میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی ہمیشہ تاریخی ثبوت پیش کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ مسیح کی قبر کشمیر میں ثابت کرنے کے لئے ایسی من گھڑت اور غیر معتبر تواریخ کے حوالے دیتے رہے ہیں کہ الامان ! الامان !
میں دعوے سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ کوئی مرزائی اس بات کو ہرگز ہرگز ثابت
٨
نہیں کرسکتا۔ اس سے یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوگئی کہ تئیس برس کی مدت کا معیار صداقت ہونا بالکل غلط ہے اور آنحضرت ﷺ کا دعویٰ وحی کے بعد تھوڑی مدت بھی سلامت با کرامت رہنا آپ کی صداقت کے اثبات کے لئے کافی وافی ہے۔ تئیس برس کی مدت کی ہرگز ضرورت نہیں اور یہ آیت عام نہیں ہوسکتی بلکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے یا سچے رسولوں کے ساتھ۔
باقی رہی یہ بات کہ جس مدعا کے ثابت کرنے، جس مطلب کو برلانے اور جس مقصد کے پورا کرنے کے لئے تئیس برس کی شرط لگا کر اس معیار کو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی نے تو ١٩٠١ء میں دعویٰ نبوت کیا۔ (دیکھئے کتاب حقیقت النبوۃ مرزا محمود صاحب ص ١٢٠، ١٢١) اور ١٩٠٨ء میں وفات پائی۔
لیجئے! اب تو آپ کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ہی مرزا قادیانی کاذب ہو گئے اور آپ کی یہ کوشش، یہ سعی، یہ چالاکی، یہ فریب دہی ضائع اور رائیگاں ہوگئی۔ ”والحمد لله علی ذالك“
بتلائیے ! اب بھی اس کے غلط ماننے سے آپ کو انکار ہے؟ اب تو مجبوراً آپ کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ مگر ہاں:
تا نہ سمجھے کوئی، کیا جلد کہا مان گئے
تیسرا معیار اور اس کی تردید
تیسرا معیار جس کو مرزا قادیانی کی صداقت کی زبردست دلیل سمجھتے ہیں، وہ یہ ہے: ”فان لم يستجيبوا لكم فاعلموا انما انزل بعلم الله“ ﴿یعنی اگر منکر لوگ اس اعجازی کلام کا مقابلہ نہ کر سکیں تو اے طالبان حق جان لو کہ یہ علم الہٰی سے ظاہر ہوا ہے۔﴾
اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کے مقابلہ اور معارضہ کے لئے دنیا کو چیلنج دیا اور دنیا اس کے مقابلہ سے عاجز آگئی اور آنحضرت ﷺ کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہوگئی۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی مقابلہ اور معارضہ کے لئے اپنا قصیدہ اعجازیہ پیش کیا اور لوگوں نے اس کا جواب نہ دیا لہٰذا یہ مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل ہے۔
اول تو ہم یہ کہتے ہیں کہ قصیدہ اعجازیہ کو صداقت کی دلیل تصور کرنا ایک زبردست غلطی
٩
ہے ۔ کیونکہ یہ قرآن کریم کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ قرآن شریف تو بآواز بلند پکار پکار کر کہتا ہے کہ: ”وما علمناہ الشعر وما ينبغى له“ ﴿نہ ہم نے ان کو شعر سکھایا اور نہ ان کے سزاوار ہے ۔﴾ دوسری جگہ: ”وما هو بقول شاعر“ ﴿یہ قرآن شریف کسی شاعر کا قول نہیں ہے ۔﴾ قرآن شریف تو کئی جگہ اشعار کی مذمت کرتا ہے۔ مگر ادھر اعجازی کلام کو اشعار میں پیش کیا جاتا ہے۔ جو صریح قرآن شریف کی تعلیم کے خلاف ہے لہٰذا مرزا قادیانی کے پیش کردہ اعجاز کا اشعار میں ہونا اس کے بطلان کی سب سے پہلی زبردست دلیل ہے۔
اچھا! اس سے بھی قطع نظر کیجئے۔ اب ذرا غور سے دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے اس قصیدہ کے جواب کے لئے کیسی کیسی کڑی اور اہم شرائط پیش کی ہیں۔ جو انسانی اور بشری طاقت سے بالاتر ہیں۔ لکھتے ہیں:
- ١....... ”اب ان کی اصلی میعاد ٢٠؍نومبر سے شروع ہوگی۔ پس اس طرح پر دس دسمبر ١٩٠٢ء کو
اس میعاد کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پھر اگر بیس دن میں جو دسمبر ١٩٠٢ء کے دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی ۔“
(ضمیمہ نزول المسیح ص ٩٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٥)
- ٢....... ”یہ شرط ضروری ہے کہ جو شخص بالمقابل لکھے، وہ ساتھ ہی اس کا اردو ترجمہ بھی لکھے ۔
جو میری وجوہات کو توڑ سکے۔ جس کی عبارت ہماری عبارت سے کم نہ ہو ۔“
(ضمیمہ نزول المسیح ص ٨٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٣)
- ٣....... ”مگر چاہئے کہ میرے قصیدہ کی طرح ہر ایک بیت کے نیچے اردو رد لکھیں اور از مجملہ
شرائط کے اس کو بھی ایک شرط سمجھ لیں ۔“
(ضمیمہ نزول المسیح ص ٩٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٤)
پہلی شرط کی رو سے جواب کے لئے صرف بیس دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کو اپنی عجز اور اعجاز کی پوری حقیقت معلوم تھی اور دل میں خائف تھے اور معارضہ کے خیال سے لرزتے تھے، ان کا دل دھڑکتا تھا اور ہمیشہ اس کے جواب کا خوف دامن گیر رہتا تھا لہٰذا ایسی کڑی شرط پیش کی کہ تھوڑے کیا کوئی لکھنے کی جرات نہ کرے۔ اس پر ہی بس نہیں۔
دوسری شرط میں یہ کہہ دیا کہ عبارت بھی ان سے کم نہ ہو۔ اگر کوئی مختصر عبارت میں ان کے وجوہات کو توڑ دے، تو مرزا قادیانی کے فہم سلیم کے موافق اس کا جواب نہ ہوگا۔
تیسری شرط میں تو غضب ڈھایا، کہا کہ اردو ترجمہ بھی نیچے ہونا چاہئے۔ اگر کوئی شخص بین السطور نہیں، بلکہ حاشیہ پر ترجمہ لکھ دے تو مرزا قادیانی کے شرائط پورے نہ ہوئے۔
اب آپ خود ہی انصاف کیجئے کہ بیت کے نیچے اردو ترجمہ کا لکھنا بھی کوئی اعجاز کی شان
١٠
ہے اس حواس باختگی کا کیا ٹھکانا یہ ہے مرزا قادیانی کا فلسفہ اب ذرا قرآن کریم کا اعجاز بھی ملاحظہ ہو کہ ”وان كنتم فى ريب مما نزلنا وادعوا شهداءكم من دون الله ان كنتم صا فاتقوا النار التى وقودها الناس والحجارة اع ﴿یعنی جو ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ پر قرآ یہ سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدائی نہیں بلکہ آدمی کی بنائی ہوئی اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنالاؤ اور اللہ کے سوا جو لو۔ پس اگر اتنی بات بھی نہ کر سکو اور یقیناً ہرگز نہ کر سکو ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے اور وہ منکرین کے لئے دہک ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
- ١....... اس کے مخاطب تمام مخالفین اسلام الی یوم
آئندہ کا بھی اعلان ہے۔
- ٢....... جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا (الخ) یعنی
پیغمبر امی محض ہے۔ نہ لکھا، نہ پڑھا اور نہ کبھی کسی استاد سے پڑھا۔ بخلاف اس کے تم سب پرانے مشاق، لکھے شہسواری کے مدعی ہو اور یہی تمہارا سرمایہ ناز ہے۔
- ٣....... قرآن کا مثل لانا تو ایک بڑی بات ہے۔ ا
- ٤....... تم اکیلے نہیں، بلکہ خدا کے سوا اپنے تمام م
میں ہے کہ جن وانس دونوں مل کر اس کے معارضہ کے
- ٥....... اگر سچے ہو، تو معارضہ کرو، اور جھوٹے ہو تو
- ٦....... اس کے بعد ان کو معارضہ اور مقابلہ پر ابھ
کر سکو اور ہرگز نہ یقیناً نہ کر سکو گے۔ یہاں زمانہ حال استقبال میں تاکید کے ساتھ قیامت تک کے لئے نفی ک
- ٧....... اب آخر میں ان کے عرق حمیت کو حرکت
لگا کر دیکھ لیں، کہ یہ قرآن انسانی طاقت سے بالاتر ہ
١١
ہے اس حواس باختگی کا کیا ٹھکانا یہ ہے مرزا قادیانی کا فلسفہ۔
اب ذرا قرآن کریم کا اعجاز بھی ملاحظہ ہو کہ کس زور سے بلاشرط چیلنج دیا جاتا ہے:
’’وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ وادعوا شھداءکم من دون اللہ ان کنتم صادقین، فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارة اعدت للکافرین‘‘
﴿یعنی جو ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ پر قرآن اتارا ہے۔ اگر تم کو اس میں شک ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدائی نہیں بلکہ آدمی کی بنائی ہوئی ہے اور اپنے اس دعوے میں اگر سچے ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنالاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہاری حمایت کو آموجود ہوں ان کو بھی بلا لو۔ پس اگر اتنی بات بھی نہ کرسکو اور یقینا ہرگز نہ کرسکو گے۔ تو دوزخ کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے اور وہ منکرین کے لئے دہکی دہکائی ہے۔﴾
ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
- ١...... اس کے مخاطب تمام مخالفین اسلام الی یوم القیام ہیں۔ اسی وجہ سے معارضہ کے لئے
آئندہ کا بھی اعلان ہے۔
- ٢...... جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا (الخ) یعنی قرآن کے اتارنے والے ہم ہیں۔ بندہ
پیغامبر امی محض ہے۔ نہ لکھا، نہ پڑھا اور نہ کبھی کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب کو سبق کے لئے تہ کیا۔ بخلاف اس کے تم سب پرانے مشاق، لکھے، پڑھے، میدان فصاحت و بلاغت کی اعلی شہسواری کے مدعی ہو اور یہی تمہارا سرمایہ ناز ہے۔
- ٣...... قرآن کا مثل لانا تو ایک بڑی بات ہے۔ لو ایک سورت ہی بنالاؤ؟
- ٤...... تم اکیلے نہیں، بلکہ خدا کے سوا اپنے تمام مددگاروں سے اس میں مدد لو۔ دوسری آیت
میں ہے کہ جن وانس دونوں مل کر اس کے معارضہ کے لئے اجتماعی قوت سے کام لیں۔
- ٥...... اگر سچے ہو، تو معارضہ کرو، اور جھوٹے ہو تو گھر بیٹھو۔
- ٦...... اس کے بعد ان کو معارضہ اور مقابلہ پر ابھارنے اور جوش دلانے کے لئے کہا کہ اگر نہ
کرسکو اور ہرگز نہ یقینا نہ کرسکو گے۔ یہاں زمانہ حال اور مستقبل دونوں میں معارضہ کی نفی بلکہ زمانہ استقبال میں تاکید کے ساتھ قیامت تک کے لئے نفی ہے کہ آئندہ ایسا ہرگز نہ کرسکو گے۔
- ٧...... اب آخر میں ان کے عرق حمیت کو حرکت میں لانے کے لئے تا کہ وہ ناخنوں تک زور
لگا کر دیکھ لیں، کہ یہ قرآن انسانی طاقت سے بالاتر ہے یا نہیں۔ یوں ارشاد ہوا کہ اگر اس پر بھی تم
١١
خدا کے کلام معجز پر ایمان نہ لائے تو اس آگ سے ڈرو جو منکرین کے لئے قبل ہی سے تیار ہے۔
سبحان اللہ! کیسے پر زور الفاظ اور بہترین پیرایہ میں بلاکسی پس و پیش کے ایسا کھلا دعویٰ اعجاز کیا گیا ہے کہ انسان کے تصور میں بھی پہلے نہ تھا اور کیوں نہ ہو۔ یہ کوئی انسانی افتراء اور بشری چالاکی تو نہیں ہے۔
اب ذرا مرزا قادیانی کے عجز اور قرآن پاک کے اعجاز کا مقابلہ سے دکھاتا ہوں۔ ناظرین خود ہی انصاف کریں۔
مرزا قادیانی کا عجز قرآن پاک کا اعجاز
- ١....... زیادہ سے زیادہ جواب کے لئے
بیس دن کی اجازت ہے۔
- ١....... قیامت تک مہلت ہے کہ اس
کے مثل لاؤ۔
- ٢....... جواب میں مرزا قادیانی کے قصیدہ
کے برابر اشعار ہوں اور اردو مضمون کی عبارت بھی مرزا قادیانی سے کم نہ ہو۔
- ٢....... ایک سو چودہ سورتوں میں سے
ایک ہی سورت اس کے مثل بنالاؤ۔
- ٣....... قصیدہ نظم ہے۔
- ٣....... قرآن پاک نثر ہے اور بظاہر نثر کا
معارضہ نظم سے سہل ہوتا ہے۔
- ٤....... مخاطب وہ ہیں جو ہندوستان کے
رہنے والے ہیں۔ جن کو نہ عربی نویسی کا دعویٰ ہے، نہ مشغلہ اور نہ ان کی زبان۔
- ٤....... مخاطب وہ تھے جن کی عربی
فصاحت اور بلاغت بے مثل اور دعویٰ اس سے بھی زیادہ اور یہی ان کا مشغلہ اور سرمایہ فخر تھا اور مادری زبان تھی۔
- ٥....... دعویٰ وہ کرتا ہے، جو لکھا پڑھا اور
جس نے ایک زمانہ تک کتب بینی کی۔
- ٥....... مدعی امی محض ہیں۔ (فداہ ابی
وامی)
مزید برآں مرزا قادیانی کا یہ قصیدہ کلام اعجازی ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ قوم کی زبان میں ہونا چاہئے تھا۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ قومی زبان تو اردو یا پنجابی تھی۔ اگر کلام معجز کا دعویٰ اردو یا پنجابی میں کیا جاتا تو خوب حقیقت منکشف ہوجاتی۔
دوسرے یہ کہ کلام معجز اس کو کہتے ہیں۔ جو بلاغت کے انتہائی رتبہ پر پہنچ کر انسانی طاقتوں سے نکل کر لوگوں کو اپنے مقابلہ سے عاجز کردے۔
١٢
”امارات البلاغة في الكلا حد الاعجاز (وهو ان يرتقى الـ البشر ويعجزهم عن معارضته)“ ( اب رہا یہ دعویٰ کہ اس کے مقابلہ قصیدے لکھے گئے اور لطف یہ کہ شرائط بھی پوری مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے قصیدہ ابتداء میں اہلحدیث کے کالموں میں شائع صاحب نے موتیہرسے ابطال اعجاز مرزا کے نـ ہاں بھی موجود ہے۔ اس میں قصیدہ اعجازیہ کی کو خوب اظہر من الشمس کردیا گیا ہے۔ بین اردو کا رد بھی ہے۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ جواب نہـ
مرزا قادیانی کی عربی لیاقت
نقل! دیکھیں
مرزا قادیانی نے جس قصیدہ کو معـ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو قادیانی اعجاز کہتے ہیں۔ اس کی لوح کی دوسـ عربی عبارت میں ادا نہ ہوسکا۔ ایسا شخص معجـ نے عربی عبارت لکھی ہے، ملاحظہ کیجئے: ”و ا مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین نصارٰی ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء مـ بار، خزائن ج١٨ ص١) ”اس عجز نما عبار
- ١....... طبع کی ضمیر قصیدہ کی طرف راجـ
- ٢....... ”قد طبع فی سبعین
چھپائی گئی۔ یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ تصنیف ا مطلب یہی ہے۔ اس لئے ضرور تھا کہ ”طـ
”امارای البلاغة فی الکلام طرفان اعلیٰ (الیه ینتهی البلاغة) وهو حد الا عجاز (وهو ان یرتقی الکلام فی بلاغته الی ان یخرج عن طوق البشر ویعجز هم عن معارضته)“ (دیکھئے مطول)
اب رہا یہ دعویٰ کہ اس کے مقابلہ میں کسی نے نہیں لکھا۔ میں کہتا ہوں کہ ایک چھوڑ کئی قصیدے لکھے گئے اور لطف یہ کہ شرائط بھی پوری کی گئی ہیں۔ ایک قصیدہ تو قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے قصیدہ رائیہ بجواب مرزائیہ کے نام سے لکھا جو ١٩٠٧ء کے ابتداء میں اہلحدیث کے کالموں میں شائع ہو چکا ہے۔ دوسرا قصیدہ مولانا شاہ غنیمت حسین صاحب نے مونگیر سے ابطال اعجاز مرزا کے نام سے لکھ کر دو حصوں میں طبع کرایا ہے۔ جو ہمارے ہاں بھی موجود ہے۔ اس میں قصیدہ اعجازیہ کی خوب قلعی کھولی گئی ہے اور مرزا قادیانی کی عربی دانی کو خوب اظہر من الشمس کر دیا گیا ہے۔ بین السطور ترجمہ بھی ہے۔ اعراب بھی ہیں اور ساتھ ہی اردو کا رد بھی ہے۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ جواب نہیں لکھا، صریح کذب نہیں تو اور کیا ہے؟
مرزا قادیانی کی عربی لیاقت
نکل! دیکھیں تری ہم شعر خوانی
مرزا قادیانی نے جس قصیدہ کو معارضہ کے لئے پیش کیا۔ اس کی عربی فصاحت کا نمونہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ جس قصیدہ کی فصاحت و بلاغت کو مرزا قادیانی اعجاز کہتے ہیں۔ اس کی لوح کی دو سطریں صحیح نہ لکھ سکے اور جو مضمون لکھنا چاہتے تھے۔ وہ عربی عبارت میں ادا نہ ہو سکا۔ ایسا شخص معجز نما عربی کیا لکھے گا؟ اعجاز مسیح کے لوح پر مرزا قادیانی نے عربی عبارت لکھی ہے، ملاحظہ کیجئے: ”وانی سمیته اعجاز المسیح وقد طبع فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوما وكان من الهجرة ١٣١٨ھ ومن شهر نصاریٰ ٢٠ / فروری ١٩٠١ء مقام الطبع قادیان (اعجاز المسیح ص ٹائیٹل بار، خزائن ج١٨ ص١)“ اس معجز نما عبارت کے اغلاط ملاحظہ ہوں:
- .......١ طبع کی ضمیر قصیدہ کی طرف راجع ہے۔ قصیدہ مونث ہے لہٰذا ”طبعت“ چاہئے تھا۔
- .......٢ ”قد طبع فی سبعین یوما“ کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ یہ کتاب ستر دن میں
چھپائی گئی۔ یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ تصنیف اور طبع دونوں ستر دن میں ہوئے حالانکہ مرزا قادیانی کا مطلب یہی ہے۔ اس لئے ضرور تھا کہ ”صنف“ کا لفظ زیادہ کیا جاتا۔
١٣
- ٣...... "من شهر الصیام" یہاں تو ستر دن کا ہوا ورنہ کہ صرف ماہ رمضان کا کر رہے ہیں۔
کیا رمضان ستر دن کا ہوتا ہے؟ اس سے تو یہی لازم آتا ہے۔
- ٤...... اگر "من شهر الصیام" کے من کو ابتدائیہ کہا جاوے، تو یہ مطلب ہوا کہ رسالہ کی
تالیف کی ابتداء ماہ صیام سے ہوئی لہٰذا سامعین کے لئے تعیین تاریخ ضروری تھا۔ کیونکہ اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ستر دن میں ہم نے لکھا۔ یہ اس وقت ہو سکتا ہے کہ مہینے کے بیان کے ساتھ تاریخ بھی لکھی جائے۔
- ٥...... "وكان من الهجرة ١٣١٨ ومن شهر النصارى ٢٠؍ فروری
١٩٠١ء" یہاں ہجری کے سن کے ساتھ تاریخ و ماہ نہیں لکھے۔ برخلاف اس کے سن عیسوی کی تاریخ و ماہ لکھے ہیں۔ یہ طرز تحریر بالکل خلاف ہے۔ دعویٰ اعجاز کا اور غلطی ایسی؟
- ٦...... سب سے بڑی غلطی اور غلطیوں کا ڈبل باوا یہ ہے کہ بیس فروری رسالہ کی ابتداء وانتہاء
بن ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ خود فرماتے ہیں کہ ١٣١٨ء کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتداء ہوئی (جیسا کہ من کے ابتدائیہ ماننے سے صادق آتا ہے) اور یہ ماہ صیام ٢٤؍ نومبر ١٩٠٠ء روز دوشنبہ سے شروع ہوا اور ٢١؍ جنوری ١٩٠١ء روز دوشنبہ کو ختم ہو گیا۔ اب بتلائیے کہ آپ کی فروری کدھر گئی؟
معلوم ہوا کہ فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی۔ اگر فروری میں ابتداء مانیں تو ماہ صیام جاتا ہے لہٰذا یہ ایک ایسی سخت غلطی کا ارتکاب مرزا قادیانی نے کیا ہے کہ جس کی تلافی غیر ممکن ہے۔
ہاں! اگر تاریخ کا بیان ہے۔ یعنی بیس فروری آخر ہے تو پھر اگر ابتداء رمضان کی پہلی فرض کریں تو اکہترواں دن فروری کے بعد ٢؍ مارچ کو ہوگا۔ پھر اگر ابتداء ماہ صیام کی تیئس یا چوبیس فرض کر لیں تو اکہترواں دن ٢٥ یا ٢٦؍ مارچ کو ہوگا۔ ٢٠؍ فروری کو انتہاء کسی طرح نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک ایسی زبردست غلطی ہے۔ جس کا جواب کچھ نہیں ہو سکتا۔
ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی کے کلام معجز جس کو معارضہ کے لئے پیش کرتے ہیں اور جس کو مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار مقرر کرتے ہیں۔ اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ ان کا یہ معیار مقرر کرنا کہاں تک بجا ہے:
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
چوتھا معیار اور اس کی تردید
چوتھا معیار جو مرزا قادیانی کی صد ہے: ’’فقد لبثت فيكم عمراً من قبل بڑے حصہ تک میں تم میں رہ چکا ہوں۔ تو پھر ک
آیت بالا سے یہ امر ثابت ہ آنحضرت ﷺ کی پہلی زندگی آپ کی نبوت قادیانی کی نبوت کے قبل کی زندگی بھی ان کی ن میں یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی آ کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ ’’حیات مسیح کا عقیدہ م شخص) اور پہلی زندگی میں آنجناب خود حیات م احمدیہ میں تین جگہ بڑے زور سے حیات مسیح ب
’’جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا
دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ’’حضرت گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک نشان نہ رہے گا۔‘‘
تیسری جگہ لکھتے ہیں: ’’حضرت بیٹھے۔‘‘
لہٰذا مرزا قادیانی اپنے قول ک زندگی مشرکانہ ہوئی اور جو ایک منٹ، ایک ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ: ’’ان الشرك ل اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ’’ نہیں ملے گا۔ ﴿﴾
دوسرے ہم یہ کہتے ہیں کہ جس کذب اور دروغ گوئی سے کام لیا۔ جیسا ک کی پہلی زندگی تو اس سے بھی زیادہ بدتر اور خ
چوتھا معیار اور اس کی تردید
چوتھا معیار جو مرزا قادیانی کی صداقت میں مرزائی صاحبان پیش کیا کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے: ”فقد لبثت فیکم عمرا من قبله افلا تعقلون“ ”اس سے قبل بھی تو عمر کے ایک بڑے حصہ تک میں تم میں رہ چکا ہوں۔ تو پھر کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے۔“ آیت بالا سے یہ امر ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کی پہلی زندگی آپ کی نبوت کی صداقت کی زبردست دلیل ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی نبوت کے قبل کی زندگی بھی ان کی نبوت کی صداقت کا معیار ہے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی تو اپنے قول کے مطابق پہلی زندگی میں مشرک تھے۔ کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ ”حیات مسیح کا عقیدہ مشرکانہ ہے ۔“ (دیکھئے کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ص ١٧ طبعس) اور پہلی زندگی میں آنجناب خود حیات مسیح کے بڑے زور وشور سے قائل تھے۔ چنانچہ براہین احمدیہ میں تین جگہ بڑے زور سے حیات مسیح کے قائل ہونے کا اقرار کرتے ہیں، لکھتے ہیں:
”جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(حاشیہ براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ص ٥٩٣)
دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا۔“
(حاشیہ براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١، ٦٠٢)
تیسری جگہ لکھتے ہیں، ”حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“
(براہین ص ٥٣١، خزائن ج ١ ص ٦٣١ حاشیہ در حاشیہ)
لہٰذا مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق پہلی زندگی میں مشرک ٹھہرے اور ان کی وہ زندگی مشرکانہ ہوئی اور جو ایک منٹ، ایک لمحہ اور ایک ساعت کے لئے بھی مشرک رہے، وہ ہرگز ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ: ”ان الشرك لظلم عظیم“ ”شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ”لا ینال عہدی الظالمین“ ”میرا عہد ظالموں کو نہیں ملے گا۔“
دوسرے ہم یہ کہتے ہیں کہ جب نبوت کے زمانہ میں مرزا قادیانی نے جھوٹ بولے۔ کذب اور دروغ گوئی سے کام لیا۔ جیسا کہ اس کتاب کے آخری حصے میں ظاہر کیا گیا ہے، تو ان کی پہلی زندگی تو اس سے بھی زیادہ بدتر اور خراب ہوگی:
١٥
تیر کھانے کی ہوس ہے، تو جگر پیدا کر
پانچواں معیار اور اس کی تردید
پانچواں معیار یہ ہے: ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا“ ﴿ہم دنیا میں عذاب نہیں بھیجا کرتے، جب تک پہلے کوئی رسول مبعوث نہ کر لیں۔﴾ مرزائی صاحبان! اس معیار کو پیش کر کے یہ کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے زمانے میں طاعون آیا۔ یہ ایک عذاب الہی تھا۔ جو مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے نازل ہوا تھا لہذا وہ نبی تھے۔
میں پوچھتا ہوں کہ یہ کہاں کا قاعدہ ہے کہ جہاں کہیں بیماری واقع ہو، وہاں نبی کا ہونا ضروری اور لابدی ہو۔ انفلوئنزا آیا، ہزاروں لاکھوں گھرانے تباہ و برباد ہو گئے اور طاعون سے بڑھ کر نقصان دہ ثابت ہوا تھا۔ اس وقت کون نبی تھا؟ دوسرے یہ کہ عذاب تو منکرین کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ متبعین کے لئے ۔ طاعون آیا، سینکڑوں مرزائی اس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے۔ بلکہ اس نے تو خاص مرزا قادیانی کے گھر پر جا کر حملہ کیا اور ان کے ایک لڑکے کو شکار بنا لے گیا اور منکرین کے سرغنہ مولوی ثناء اللہ صاحب، ڈاکٹر عبدالحکیم خان، احمد بیگ، سلطان احمد، محمدی بیگم وغیرہ کسی پر بھی عذاب کا کچھ اثر نہ ہوا۔ یہ دھوکہ دہی نہیں تو اور کیا ہے؟
کرتے ہیں، جادو سے اپنے آگ روشن آب میں
چھٹا معیار اور اس کی تردید
”کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی“ ﴿اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہتے ہیں۔﴾ اول تو یہ معیار ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں غلبہ کے لئے رسالت شرط ہے۔ یعنی سچا رسول ہونا لابدی اور ضروری ہے۔ مرزا قادیانی تو سچے رسول نہ تھے۔ دوسرے ہم یہ کہتے ہیں کہ غلبہ سے کیا مراد ہے۔ سیاسی ہے یا مالی۔ دنیوی ہے یا دینی؟ اگر سیاسی لیا جائے تو سیاست تو مرزا قادیانی کے پاس تک بھی نہیں پھٹکی اور مال وغیرہ کی زیادتی کو غلبہ نہیں کہہ سکتے اور دین میں تو مرزا قادیانی کو ایسی ذلت اٹھانی پڑی کہ الامان!
١٦
الامان آج تک مسلمانوں کے ساتھ آپ سـ مغلوب رہے۔
تیسرے یہ کہ جہاں غلبہ ہو وہاں بیہودہ خیال ہے۔ مسیلمہ کذاب کو بہت غلبہ تھا۔ بدھ گوتم کو بھی بہت بڑا غلبہ حاصل ہوا تھا وقت تک اس کی بہت سی مشنری دنیا کے حصوں سوامی دیانند کو بھی بہت بڑا غلبہ حاصل ہوا ۔ سماج موجود ہے۔ سینکڑوں سناتنی آریہ ہور ہیں۔ کیا وہ مرسل من اللہ تھا؟ کیا وہ پیغمبر برحـ
ہم اگر عرض کر
مرزا قادیانی کے کذب میـ
پہلا معیار
ناظرین کرام! مرزا قادیانی کو تردید ختم ہو چکی۔ اب ہم مرزا قادیانی کے کریں گے۔ ایک تو وہ جو مرزا قادیانی ا مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء مرزا قا سب سے پہلا اور بڑا قوی مـ مرزائی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں اور ہم فق اور رنگ زرد ہو جایا کرتے ہیں اور جوا سنئے! مرزا قادیانی لکھتے ہیں گوئی سے بڑھ کر اور کوئی مہلک امتحان نہیں لہٰذا مرزا قادیانی کے فیصلہ شد پر بحث کرتے ہوئے ان کے کذب کو اظہـ
الامان آج تک مسلمانوں کے ساتھ آپ کے جتنے مناظرے اور مباہلے ہوئے۔ سب میں مرزا مغلوب رہے۔
تیسرے یہ کہ جہاں غلبہ ہو وہاں رسالت کا موجود ہونا ضروری ہو۔ یہ سراسر لغو اور بیہودہ خیال ہے۔ مسیلمہ کذاب کو بہت غلبہ ہوا تھا۔ فرعون نے دنیا میں ہر طرح کا غلبہ حاصل کیا تھا۔ بدھ گوتم کو بھی بہت بڑا غلبہ حاصل ہوا تھا۔ ہندو برہمنوں کا اس نے ناک میں دم کر دیا تھا۔ اس وقت تک اس کی بہت سی مشنریں دنیا کے حصص میں پھیلی ہوئی ہیں۔ کیا وہ نبی تھا؟ کیا وہ رسول تھا؟ سوامی دیانند کو بھی بہت بڑا غلبہ حاصل ہوا۔ ہزارہا آریہ موجود ہیں۔ ہر شہر میں ایک نہ ایک آریہ سماج موجود ہے۔ سینکڑوں سناتنی آریہ ہورہے ہیں۔ اب تو وہ مسلمانوں پر بھی ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔ کیا وہ مرسل من اللہ تھا؟ کیا وہ پیغمبر برحق تھا؟ خود ہی انصاف کرو:
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
باب دوئم
مرزا قادیانی کے کذب میں مرزا قادیانی کے پیش کردہ معیار
پہلا معیار
ناظرین کرام! مرزا قادیانی کی صداقت میں مرزائی صاحبان کے پیش کردہ معیار کی تردید ختم ہو چکی۔ اب ہم مرزا قادیانی کے صدق و کذب جانچنے کے لئے دو قسم کے معیار پیش کریں گے۔ ایک تو وہ جو مرزا قادیانی ہمیں بتلا گئے ہیں اور دوسرے قرآن وحدیث سے۔
مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء مرزا قادیانی کے پیش کردہ معیاروں سے کی جائے۔
سب سے پہلا اور بڑا قوی معیار جو مرزا قادیانی ہمیں بتلا گئے ہیں۔ جس میں کسی مرزائی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں اور ہمیشہ جب کبھی اس معیار کو پیش کیا جائے تو ان کے چہرے فق اور رنگ زرد ہو جایا کرتے ہیں اور جواب سے عاجز آجاتے ہیں۔ وہ یہ ہے:
سنیے! مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ہمارے صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
لہٰذا مرزا قادیانی کے فیصلہ شدہ معیار کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان کی ایک عظیم الشان پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے ان کے کذب کو اظہر من الشمس کرتے ہیں۔
١٧
پہلی اور دوسری پیش گوئی
پیش گوئی سے مراد وہ زبردست اور عظیم الشان پیش گوئی ہے، جس کے متعلق ”زوجنکہا فی السماء“ کا حکم لگایا گیا ہے اور جس کو منکوحہ آسمانی کے لقب سے ملقب کیا گیا۔
اس پیش گوئی کی جس قدر عظمت انتہاء پر اور اس کا جس قدر تیقن اکمل مرزا قادیانی کے قلب میں تھا، وہ ان کے ذیل کے دو شعروں سے جو کہ ایک اشتہار بعنوان ”ایک پیش گوئی پیش از وقوع“ میں درج ہیں، ظاہر ہوتا ہے، لکھتے ہیں:
جھوٹ اور حق میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا کوئی پا جائے گا عزت، کوئی رسوا ہوگا
مرزا قادیانی نے پیش گوئی مذکورہ کو پورا کرنے کے لئے دو طریقے اختیار کئے۔ اولاً تو ان کی طبع اس بات کی مقتضی ہوئی کہ اس کو چاپلوسی کے الفاظ کے ساتھ پورا کریں۔ چنانچہ پہلے پہل تو اسی طریق کو اختیار کیا۔ مگر جب وہاں دال گلتی نہ دیکھی تو تہدید، ڈراوے خوف دلانا شروع کر دیا۔ لکھتے ہیں: ”لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا۔ تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی، وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ویسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر میں تفرقہ، تنگی اور مصیبت پڑے گی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
اجی خوب! ایسا دبوچا کہ کوئی پہلو باقی چھوڑا ہی نہیں۔ بوجہ انکار اس لڑکی کو اس کے والد اور اقربا کو اور جو اس سے نکاح کرے، اس کو زور سے ڈرایا پھر ہر طرح کا جان، مال کا خوف باہم تفرقہ اور تنگی کی مصیبت:
مرزا قادیانی! شاید آپ نے یہ سوچا ہوگا کہ کوئی ضعیف القلب اور ضعیف الایمان ڈر کر آپ کی خواہش پورا کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ مگر وہ صادق مومن ہستی یکسر ہمیشہ منہ پر تھوکتی رہی۔
مرزا قادیانی! اگر آپ کو اپنے الہام پر یقین ہوتا اور آپ مطمئن ہوتے تو اس خوف و تہدید دلانے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی:
١٨
جب اس پر بھی کوئی چال نہ چلی اور ناکامیابی کا منہ دیکھنا پڑا۔ تو تسلی قلب اور لڑکی والوں پر یہ جتلانے کے لئے کہ مجھے اپنے الہام پر تیقن اکمل ہے، تحریر کرتے ہیں: ’’خدا نے مقدر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں کو جس کی درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔‘‘
(دیکھئے مرزا قادیانی کا اشتہار مرقومہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
عبارت مذکورہ سے دو باتیں اظہر من الشمس ہورہی ہیں۔
- ١...... نکاح میں ہر قسم کے مانع جو وقوع پذیر ہوں گے، ان کو دور کرے گا۔
- ٢...... انجام کار اس لڑکی کو مرزا قادیانی کے نکاح میں لائے گا۔
مگر باوجود اس کوشش، اس سعی اور اس قدر اظہار تیقن واستعمال الفاظ تہدید کے جب لڑکی اور لڑکی والوں پر کچھ بھی اثر نہ پڑا اور لڑکی کے والدین دوسری جگہ شادی کرنے پر آمادہ ہو گئے اور مرزا قادیانی تاڑ گئے کہ مجھ بڑھے کے ساتھ ہرگز شادی نہیں کریں گے۔ بس اسی وقت پیش گوئی میں ایک اور جز بڑھا دی، لکھ دیا کہ: ’’خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار پاچکا ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدائے تعالیٰ بیوہ کرکے اس کو میری طرف لائے۔‘‘
(دیکھئے اشتہار ٢٠ مئی ١٨٩١ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)
اسی (ازالہ اوہام ص ٣٩٦ ، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں بھی مذکورہ بالا چالاکی کا اظہار کیا۔ مگر اظہار الفاظ تیقن کی معیت میں کہ شاید وہ اپنی کنواری کم سن لڑکی اس بوڑھے کو دے دیں۔ لکھتے ہیں کہ: ’’احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور بہت لوگ عداوت کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔‘‘
ناظرین ! غور سے ملاحظہ کریں کہ کس شدومد اور کس زور کے الفاظ ہیں۔ گویا یہ ہونے کی شرط اور لگا دی ہے۔ لیکن الفاظ یہ بتلاتے ہیں کہ لڑکی لابدی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ کسی نے خوب ادا کیا ہے:
بیوہ ہوکر آئے گی اب میرے پاس امر ربی سے نہیں کچھ جائے یاس
١٩
مگر افسوس! ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مگر بے سود، سعی کی، مگر بے فائدہ، کوشش کی مگر ناکام۔
ہائے غضب! لڑکی کا نکاح والدین نے عمداً دوسری جگہ کر دیا اور یہ میاں بدھو منہ تکتے رہ گئے۔ خوب منہ کالا ہوا۔ چاروں طرف سے پھٹکاروں اور لعنتوں کی بوچھاڑ بارش کی طرح برستی رہی۔ شرم کے مارے پانی پانی ہو گئے۔ مگر مکاری وعیاری کی دوسری راہ تو آپ کو پہلے ہی سوجھ چکی تھی اور اس کا انتظام پہلے ہی سے کر چکے تھے۔ جبھی تو شرط بیوہ لگا دی تھی۔
خیر اب قطعی ناامید ہو گئے اور دیکھ لیا کہ سخت ذلت ورسوائی ہوئی ہے اور لوگوں نے ناک میں دم کر دیا ہے۔ اسی وقت پہلو بدلا اور اس لڑکی کے خاوند کی طرف سے عنان توجہ منعطف کی اور اس موت کی بابت پیش گوئی کردی۔ لکھتے ہیں ”یاد رکھو، کہ اگر اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد اگر میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسانی افتراء نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
یاد رہے! پہلے مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا معیار نکاح و عدم نکاح محمدی بیگم تھا۔
اب اس کے ضمن میں ایک دوسرا معیار احمد بیگ کے داماد کی موت کی پیش گوئی مقرر ہو گئی۔
مرزا قادیانی نے پیش گوئی مذکورہ بالا میں اس زور کے ساتھ یقین دلایا کہ اس سے زیادہ اعتماد و وثوق ظاہر کرنا اور دوسرے کو یقین دلانا ہو نہیں سکتا۔ لکھتے ہیں: ”نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١ حاشیہ)
لیجئے جناب! اب تو معیار ثانی کی خوب زور سے تائید کردی۔ تقدیر مبرم یعنی جس کا ہونا یقینی طور پر علم الٰہی میں قرار پا چکا ہو۔ اس کیخلاف ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی وجہ سے اس کے خلاف ظہور میں آئے تو خدا تعالیٰ کا علم ناقص قرار پائے۔ (نعوذ باللہ )
اب غور طلب بات یہ ہے کہ جس امر کو مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم کہا تھا۔ اس کا ظہور ہوا یا نہیں؟ یعنی احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کی زندگی میں مرا یا کہ مرزا قادیانی اس کی زندگی میں داغ مفارقت دے گئے؟ ہائے! کچھ نہ پوچھئے ۔ اسی سوچ ہی میں تھے کہ ملک الموت نے گردن سے آن دبوچا۔ دل کی حسرتیں دل ہی میں رہ گئیں اور آنجناب راہی ملک عدم ہوئے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
٢٠
لکھا تھا ، ہا کذب میں اور یہ جناب داماد احمد بیگ م زبان حال سے یہ شعر کہہ رہے تھے:
مرحبا اے
مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ م ہر بد سے بدتر ٹھہرے ۔ جس میں کسی حیلہ ا
مفتری صادق مفتری ہوتا ہے
اب بتلائیے کہ تقدیر مبرم کہا تعالیٰ عالم الغیب نہیں؟ (نعوذ باللہ)
ہاں! مرزا قادیانی کا مصنوعی سنئے! اپنے اللہ کی تعریف
در حاشیہ) پر ایک عربی الہام کی صورت میں ربنا عاج“ یعنی اے میرے رب میرے
ترجمہ میں مرزا قادیانی نے عاج کے معنی لغت میں گو بر
کے یہ معنی ہوئے کہ مرزا قادیانی کا خدا نزدیک سور کی ہڈی کی طرح نجس ہے۔
لیجئے ! اب تو قصہ صاف ہو گ نے مرزا قادیانی کو دغا دیا۔
اب رہا پہلا معیار یعنی محمدی کا ر میرے نکاح میں آئے گی۔ باکرہ ہ
حالت باکرہ کا تو فیصلہ ہو چ دینا کافی خیال کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی
کذب میں سچا تھا، پہلے مر گیا
اور یہ جناب داماد احمد بیگ جو چھاتی پر مونگ دلنے کو پیچھے رہ گئے تھے۔ اس وقت زبان حال سے یہ شعر کہہ رہے تھے:
مرحبا اے مجھے دلشاد بنانے والے
مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق کذاب، مفتری اور پیش گوئی کے مطابق ہر بد سے بدتر ٹھہرے۔ جس میں کسی حیلہ اور کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں:
مفتری ہوتا ہے، آخر اس جہاں میں روسیاہ
اب بتلائیے کہ تقدیر مبرم کہاں گئی؟ اب مرزا قادیانی کو مفتری کہا جائے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہیں؟ (نعوذ باللہ)
ہاں! مرزا قادیانی کا مصنوعی خدا تو اس سے بھی بدتر ہے۔
سنئے! اپنے اللہ کی تعریف کا اظہار (براہین احمدیہ ص٥٥٤، خزائن ج١ص٦٦٢ حاشیہ در حاشیہ) پر ایک عربی الہام کی صورت میں یوں کرتے ہیں: ”رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج“ یعنی اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر، رب ہمارا عاج ۔“
ترجمہ میں مرزا قادیانی نے (عاج) کی جگہ (عاجی) لکھا ہے۔
عاج کے معنی لغت میں گوبر یا ہاتھی دانت کی ہڈی کے ہیں۔ یا یائے نسبتی لگانے سے اس کے یہ معنی ہوئے کہ مرزا قادیانی کا خدا گوبر کا یا ہاتھی کی ہڈی کا ہے۔ جو امام محمدؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک سؤر کی ہڈی کی طرح نجس ہے۔
لیجئے! اب تو قصہ صاف ہو گیا۔ مرزا قادیانی کا کوئی قصور نہیں تھا۔ بلکہ ان کے خدا عاجی نے مرزا قادیانی کو دغا دیا۔
اب رہا پہلا معیار یعنی محمدی بیگم والی پیش گوئی جس کے بارے میں لکھا تھا کہ ”انجام کار میرے نکاح میں آئے گی۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ ہونے کی حالت میں۔“
حالت باکرہ کا تو فیصلہ ہو چکا تھا۔ باقی رہی بیوہ ہونے کی حالت، سو اس پر اتنا ہی کہہ دینا کافی خیال کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے اپنی خواہش نفسانی کو پورا کرنے کے لئے راتیں بستر
٢١
پر تڑپ تڑپ کر گزاریں۔ فراق کے گیت گائے۔ دل کو تسلی دی کہ:
اور ہر طرح کی جائز و ناجائز کوششیں کیں۔ نرمی اور سختی سے کام لیا۔ چاپلوسی بھی کی۔ مال کا لالچ بھی دیا۔ مگر ہائے افسوس ! محمدی بیگم نہ ملی، نہ ملی اور ہرگز نہ ملی اور مرزا قادیانی کا عاجز رب انجام کار اس کو مرزا قادیانی کے پاس نہ لایا اور سخت دھوکہ دیا اور مرزا قادیانی کف افسوس ملتے ہوئے اس دنیا سے سدھارے اور زبان حال سے پکار رہے تھے کہ:
ہم الٹے، بات الٹی یار الٹا
باقی رہا مرزائی صاحبان کا یہ کہنا کہ نکاح فسخ ہو گیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول جن کو سب حقیقت معلوم تھی، وہ لکھتے ہیں کہ: ”نکاح فسخ نہیں ہوا۔ بلکہ اس لڑکی کی کوئی لڑکی در لڑکی اور مرزا قادیانی کا کوئی لڑکا در لڑکا آپس میں بیاہے جائیں گے۔ پس پیش گوئی ٹھیک ہے۔“
(رسالہ ریویو ج ٧ ص ٢٧٩)
تاویل بالا پر میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس کی لغویت ناظرین خود محسوس کرتے ہوں گے۔ خیر ہمارا مقصود پورا ہو گیا کہ مرزائی صاحبان کا یہ کہنا کہ نکاح فسخ ہو گیا۔ یہ بالکل لغو اور غلط ٹھہرا۔
دوسرے ”ایتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك “ کو پیش کر کے یہ کہنا کہ اس لڑکی کی ماں نے توبہ کر لی تھی، اس لئے ان پر عذاب نہیں آیا۔
میں کہتا ہوں کہ توبہ کے معنی لغت میں نکال کر دیکھئے۔ رجوع کے آتے ہیں۔ لڑکی کی ماں نے لڑکی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر اس سے رجوع کرتی۔ یعنی لڑکی دے دیتی تو پھر توبہ ہوتی۔ لڑکی دینا تو کیا وہ تو مرزا قادیانی کے خون کی پیاسی تھی اور تادم مرگ اسی حالت پر قائم رہی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ توبہ کیسے ہو گئی؟ اس کی لڑکی آج تک زندہ ہے۔ اس نے تو کبھی اپنی ماں کی توبہ یا اپنی توبہ کا اظہار تک بھی نہیں کیا۔ بلکہ جب مرزا قادیانی کا نام سنتی ہے تو اسی وقت ان کو کوسنا شروع کر دیتی ہے۔ معلوم نہیں کہ توبہ کے معنی کیا لئے گئے ہیں۔
عزیزان من! یہ ہے مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار کبیر۔ جس پر مرزا قادیانی بیس سال تک زور لگاتے رہے اور جسے قطعی طور پر مرزا قادیانی کی نبوت، مہدویت، مسیحیت مجددیت کی حقیقت کو اظہر من الشمس کر دیا۔
٢٢
برادران من! اگر اس پر بھی مرزا قادی نعوذ باللہ کیسے سخت کذب کا دھبہ آتا ہے۔ اس قد ر اس کی شان کے نازیبا اور خلاف ہے۔ افسو عظمت کو انسان سے بھی کم سمجھ لیا اور قرآن کریم کی گوئی سے یہ امر پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا کہ:
- ١...... خدائے قدوس جھوٹ بولتا ہے۔ (نعو
- ٢...... (نعوذ باللہ ) وعدہ خلافی کرتا ہے اور تو
محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کا مرزا قادیانی سے ا کیا اور تخمینا بیس برس تک امید دلائی۔ مگر پوری نہ
خلاصہ یہ کہ مرزا قادیانی کی ہر دو پیش مطابق کاذب اور ہر بد سے بدتر ٹھہرے۔ اب ہم
تیسری پیش گوئی ...... (زلزلہ )
دو پیش گوئیوں کے مبنی علی الکذب ہو کسی تیسری پیش گوئی پر بحث کی جاتی اور اس ک لئے اور نیز اس لئے اس کو پیش کیا جاتا ہے کہ م آگے اکثر طور پر پیش کیا کرتے ہیں اور دعویٰ کی صحیح نکلی لہذا وہ سچے تھے۔
پیش گوئی سے میری مراد وہ زلزلہ و ١٩٠٥ء والے زلزلہ کے بعد اپنی غفلت پر نادم ہ قادیان میں اپریل کو ایک اشتہار میں جس کا عنوان زلزلہ کی پیش گوئی کر دی اور اس کے شروع میں لک ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے۔ جو نمونہ قیامت او پھر ایک اشتہار دیا جس کا عنوان ” نو آج ٢٩ ؍اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مج ہے۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ و نے نہیں دیکھا۔ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل
برادران من! اگر اس پر بھی مرزا قادیانی کو کاذب نہ مانیں تو خدائے تعالیٰ و تقدس پر نعوذ باللہ کیسے سخت کذب کا دھبہ آتا ہے۔ اس قدر تاکید و اصرار کے بعد اس کے خلاف کرنا کس قدر اس کی شان کے نازیبا اور خلاف ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کی شان و عظمت کو انسان سے بھی کم سمجھ لیا اور قرآن کریم کی نصوص قطعیہ پر ذرا بھی خیال نہ کیا۔ کیا اس پیش گوئی سے یہ امر پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا کہ:
- ١...... خدائے قدوس جھوٹ بولتا ہے۔ (نعوذ باللہ)
- ٢...... (نعوذ باللہ) وعدہ خلافی کرتا ہے اور نہایت پختہ وعدہ کر کے بھی پورا نہیں کرتا۔ چنانچہ
محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کا مرزا قادیانی سے ”انا کنا فاعلین“ کہہ کر نہایت ہی پختہ وعدہ کیا اور تخمیناً بیس برس تک امید دلائی۔ مگر پوری نہ کی۔
خلاصہ یہ کہ مرزا قادیانی کی ہر دو پیش گوئیاں غلط نکلیں اور مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق کاذب اور ہر بد سے بدتر ٹھہرے۔ اب ہم ایک اور پیش گوئی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
تیسری پیش گوئی...... (زلزلہ)
دو پیش گوئیوں کے مبنی علی الکذب اور غلط ثابت ہو جانے کے بعد گو ضرورت نہ تھی کہ کسی تیسری پیش گوئی پر بحث کی جاتی اور اس کو غلط ثابت کیا جاتا۔ تاہم ناظرین کی دلچسپی کے لئے اور نیز اس لئے اس کو پیش کیا جاتا ہے کہ مرزائی صاحبان اس پیش گوئی کو عوام الناس کے آگے اکثر طور پر پیش کیا کرتے ہیں اور دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بالکل صحیح نکلی لہٰذا وہ سچے تھے۔
پیش گوئی سے میری مراد وہ زلزلہ والی پیش گوئی ہے جو کہ مرزا قادیانی نے ٤؍اپریل ١٩٠٥ء والے زلزلہ کے بعد اپنی غفلت پر نادم ہو کر اور موقع چھوٹ جانے پر کف افسوس مل کر آناً فاناً بیس اپریل کو ایک اشتہار میں جس کا عنوان ”زلزلہ کی خبر بار دوئم“ تھا، ایک خوفناک اور تباہ کن زلزلہ کی پیش گوئی کر دی اور اس کے شروع میں لکھ دیا کہ ”٩؍اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے۔ جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٢٦)
پھر ایک اشتہار دیا جس کا عنوان ”زلزلہ کی خبر بار سوئم“ تھا۔ اس کے شروع میں لکھا کہ ” آج ٢٩؍اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اسی ملک پر آنے والا ہے۔ جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گزرا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٣٥)
٢٣
مندرجہ بالا اقتباسات اس بات کو اظہر من الشمس کر رہے ہیں کہ وہ زلزلہ عظیمہ یہی ہے ۔ جس کو اردو زبان والے بھونچال کہتے ہیں اور یہی مرزا قادیانی کی مراد تھی۔ پیش گوئی بالا کو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥١،١٥٢) میں بصورت نظم شائع کیا ہے۔ اس نظم کے چند ابیات درج ذیل ہیں۔ غور سے ملاحظہ فرمائیں:
جس سے گردش کھائیں گے دیہات شہر و مرغزار
یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس
زار بھی ہوگا، تو ہوگا اس گھڑی باحال زار
شعر اولیٰ کے لفظ آج کے نیچے لکھا ہے۔ تاریخ امروز ١٥ اپریل ١٩٠٥ء جس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ یہ وحی پیش گوئی ہے جو ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کے اردگرد انہوں نے کی تھی۔
مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ اپنی الہامی پیش گوئی کو ادھر ادھر چکر دیا کرتے تھے۔ اس لئے عوام نے اعتراض کیا کہ یہ پیش گوئی گول مول ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ:
”آپ خود سوچ لیں کہ یہ پیش گوئی گول مول کیسے ہوئی جبکہ اس میں صریح زلزلہ کا نام بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ وہ میری زندگی میں آئے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی پیش گوئی ہے کہ وہ ان کے لئے نمونہ قیامت ہوگا۔ جن پر یہ زلزلہ آئے گا۔ اگر یہ گول مول ہے تو پھر کھلی کھلی پیش گوئی کس کو کہتے ہیں؟“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٠)
اقتباس بالا اپنا مضمون صاف بتلا رہا ہے کہ وہ زلزلہ موعود بھونچال ہوگا۔ ہمارے ملک پنجاب میں ہوگا اور مرزا قادیانی کی زندگی میں ہوگا۔
مضمون بالا کی توضیح خود ہی کتاب مذکورہ کے (ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨) پر یوں کرتے ہیں: ”اور بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ پیش گوئی میری زندگی میں میرے ہی ملک میں اور میرے فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی ۔“
یہاں پر اقتباس اولیٰ کی بڑے زور سے تائید کی گئی ہے۔
اور سنئے! مرزا قادیانی زلزلہ سے کیا مراد لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں ”اس میں کچھ شک نہیں کہ اس آئندہ کی پیش گوئی میں پہلی پیش گوئی کی طرح بار بار زلزلہ کا ہی لفظ آیا ہے اور کوئی لفظ نہیں
٢٤
آیا اور ظاہری معنوں کو بہ نسبت تاویلی معنوں کے زیادہ حق ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٣، خزائن ج٢١ ص٢٥٣)
لیجئے! خود فیصلہ کر دیا کہ زلزلہ سے مراد بھونچال ہی ہے۔ باوجود اس بات کے کہ مرزا قادیانی زلزلہ سے مراد بھونچال لیتے ہیں۔ پھر اس پیش گوئی کو جنگ کی نسبت قرار دینا انصاف کا خون کرنا ہے۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ ”زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار“ میں ”زار“ کا لفظ کیوں لکھا گیا؟ جن اصحاب کو شعر گوئی کا مذاق ہو۔ وہ جانتے ہیں کہ شاعر کو قافیہ تلاش کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ بالخصوص مرزا قادیانی جیسے شاعر کے لئے جن کی طبع میں آمد ہی نہیں۔ بلکہ آورد ہی ہے۔ قافیہ پورا کرنے کے لئے غیر متعلق بھی گھسیڑ لیا کرتے ہیں۔ چونکہ حال زار کے قافیہ کے ساتھ زار کا لفظ ابتداء میں ایزاد کرنا ایک تفنن ہے۔ اس لئے استعمال کر لیا۔
لہٰذا فقرہ کے یہ معنی ہوئے کہ اگر زار جیسا بادشاہ اس گھڑی یعنی زلزلہ کی حالت میں ہو گا تو اس کی حالت بھی زار ہو گی۔ کیونکہ زلزلہ اپنا اثر سب لوگوں پر یکساں ڈالتا ہے۔ کیا غریب اور کیا امیر، کیا فقیر اور کیا بادشاہ۔
غور تو کیجئے کہ اگر زار روس اور ایک فقیر ایک جگہ اکٹھے کھڑے ہوئے ہوں اور زلزلہ وارد ہو جائے تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ زلزلہ اس فقیر پر تو اپنا اثر ڈال دے اور زار روس پر اپنا اثر نہ ڈال سکے۔ نہیں۔ دونوں پر یکساں اثر ہوگا اس لئے مرزا قادیانی نے کہا کہ ایسا سخت زلزلہ ہوگا کہ زار بھی ہوگا تو اس گھڑی باحال زار ہوگا۔
میرے دوستو! اب بھی اس میں کوئی تاویل کی گنجائش ہے۔ اب رہا یہ معاملہ کہ آیا بھونچال پنجاب کے ملک میں ویسا ہی مرزا قادیانی کی زندگی میں آیا؟
افسوس! صد افسوس! کوئی بھونچال نہیں آیا اور مرزا قادیانی اس جہاں سے خفا ہو کر اپنی پیش گوئی پوری کرنے کی تحریک کیلئے اصالتاً آسمانی عدالت کی جانب کوچ کر گئے۔ مگر کچھ خبر نہیں کہ وہاں کیا کر رہے ہیں اور کیسی گزر رہی ہے:
کچھ تو لب گور سے فرمائے گا
مرزا قادیانی کی چالاکی
اب رہا یہ سوال کہ مرزا قادیانی نے دھڑلے سے ایسی پیش گوئی کیوں کی؟ ہاں لیجئے یہ
٢٥
راز بھی طشت از بام کئے دیتا ہوں۔ بات دراصل یہ تھی کہ ٤ اپریل ١٩٠٥ء والے زلزلہ سے مرزا صاحب کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے لہٰذا آئندہ کسی موقع کی تلاش میں تھے۔ ان دنوں ایک انگریز نے یہ پیش گوئی کر دی کہ ١١، ١٢ مئی ١٩٠٥ء کو پھر ایک غضبناک زلزلہ آنے والا ہے۔ بس پھر تو مرزا قادیانی کی طرف سے اشتہار جاری ہو گئے۔ مقلدین مرزا قادیانی نے اس کو اس قدر اہمیت دی کہ جنگلوں میں نکل بیٹھے۔ حتیٰ کہ خود آنجناب مرزا قادیانی اہل وعیال سمیت جنگل کو چلتے بنے۔ ایام مذکورہ گزر گئے۔ کوئی زلزلہ نہ آیا۔ اتنے میں ایک اور انگریز نے پیش گوئی کر دی کہ دو سو سال تک ایسا زلزلہ نہ آئے گا۔ بس اس کا سننا کہ گرو جی اپنے پٹھیوں سمیت جوتیاں چٹخاتے ہوئے اپنا سا منہ لے کر گھروں کو واپس لوٹے۔ کسی نے اشعار میں خوب ادا کیا ہے:
اور زلزلہ سے قوم کو اپنی ڈراتے ہیں
بستے گھروں کو چھوڑ کے سب بھاگنے لگے
جنگل میں جاکے اپنے وہ ڈیرے جماتے ہیں
واپس گھروں میں آ گئے چپکے سے لوٹ کر
شرمندگی سے چہروں کو اپنے چھپاتے ہیں
اور راتوں رات آگئے مرزا جی شہر میں
سارے حواری جوتیاں چٹخاتے آتے ہیں
باقی رہا یہ امر کہ باوجود اس صراحت اس وضاحت اور اس تشریح کے اب اس سے موجودہ جنگ اور زلزلوں کی معزولی مراد لینا یہ انصاف کا خون کرنا اور عوام کو دھوکہ میں ڈالنا ہے۔ فرض بالمحال اگر اس سے جنگ ہی مراد لے لیں تو وہ جنگ:
- ١...... مرزا قادیانی کی زندگی میں ہونی چاہئے تھی۔
- ٢...... وہ جنگ مرزا قادیانی کے ملک میں ہونی چاہئے تھی۔
- ٣...... اس سے مرزا قادیانی کے ملک کا ایک حصہ ان کی زندگی میں نابود ہو جانا چاہئے تھا۔
- ٤...... مرزا قادیانی کی بار بار کی وحی میں کبھی تو جنگ کا نام اور زلزلوں کی معزولی کا لفظ آتا۔
- ٥...... مرزا قادیانی ہرگز یہ نہ کہتے ، ظاہری معنوں کا بنسبت تاویلی معنوں کے زیادہ حق ہے۔
غرض مرزا قادیانی کی تحریروں سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ ہرگز سچے اور راست باز شخص
٢٦
نہیں تھے اور وہ خداوند تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھے اور اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق صریح اور صاف کاذب ٹھہرے۔
دوسرا معیار
سب سے بڑا اور زبردست معیار جو مرزا قادیانی اپنے صدق و کذب پرکھنے کے لئے ہمیں بتلا گئے ہیں، وہ یہ ہے۔ لکھتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے، تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
اب میں اسی معیار پر مرزا قادیانی کو پرکھتا ہوں۔ گو پیش گوئیوں کے باطل اور جھوٹا ہونے کے بعد کسی مزید جھوٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ تاہم ہر پہلو، ہر سمت، ہر طرف اور ہر جہت سے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی کے چند ایسے جھوٹ درج کئے جائیں گے۔ جن کا صحیح جواب مرزائی حضرات تا قیامت نہیں دے سکتے۔
جھوٹ نمبر ١
(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”اگر حدیث کے بیان پر اعتماد ہے۔ تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی ”ھذا خلیفۃ اللہ المھدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو ”اصح الکتب“ بعد کتاب اللہ ہے۔“
اجی مرزا قادیانی! سوچا اور خوب سوچا کہ یہ حدیث اس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جس پایہ اور مرتبہ کے آپ مجدد، رسول اور محدث ہیں۔ اللہ رے دلیری کہ بخاری جیسی مشہور کتاب، پھر مرزا قادیانی کو ادنیٰ ادنیٰ بات پر وحی کی بارش اور پھر جناب کی وحی دخل شیطانی سے محفوظ، روح اللہ ہر وقت آپ کے ساتھ، الہام جناب کا قطعی مگر اس قدر جھوٹ سے نہ وحی نے روکا، نہ روح القدس نے۔
اس مضمون کو بخاری کی روایت بتانا اس امر کی کافی شہادت ہے کہ مرزا قادیانی کی طبع میں احتیاط اور راستبازی کا نام تک نہ تھا۔ اگر میں غلط کہتا ہوں تو تمام دنیا کے مرزائی مل کر تلاش کر
٢٧
کے اس روایت کو دکھائیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کے کاذب اور مفتری ماننے میں کوئی تامل نہ کریں۔ میں دعویٰ سے ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ تا قیامت کوئی نہیں دکھلا سکتا:
جھوٹ نمبر ٢
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کے سامنے مر جائے گا۔“ یہ مرزا قادیانی کا صریح کذب ہے۔ ان دونوں حضرات نے ایسا کہیں نہیں لکھا کہ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو بتاؤ کہ کہاں اور ان کی کس کتاب میں ہے؟ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی مرزائی اس جھوٹ کے داغ کو قیامت تک نہیں مٹا سکتا:
شاید بگڑ گیا ہے کہیں باٹ نیل کا
جھوٹ نمبر ٣
(نور الحق نمبر ٢ ص ١٩، خزائن ج ٨ ص ٢٠٩) میں مرزا قادیانی نے ایک حدیث نقل کی ہے: ”فاخبر رسول اللّٰہ ﷺ خیر الانام ان الشّمس تنکسف عند ظہور المہدی فی النّصف من ھٰذہ الایّام یعنی الثّامن والعشرین قبل نصف النّہار“ یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا۔ یعنی اٹھائیسویں تاریخ میں دوپہر سے پہلے۔ یہ مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ہے۔ یہ کوئی حدیث نہیں۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو کتب احادیث سے عبارت بالا ایسے من وعن نکال دیجئے۔ ورنہ سمجھئے کہ مرزا قادیانی نے سخت جھوٹ بولا ہے:
جھوٹ پر اس قدر کیوں تلتا ہے تو
ناظرین! آپ نے ملاحظہ کر لیا کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق کس طرح کاذب، مفتری، جھوٹے اور دھوکہ باز ثابت ہورہے ہیں۔ جس میں کسی حیلہ اور چون و چرا کی گنجائش نہیں۔ اب ذرا مرزا قادیانی کے پانچ، چھ جھوٹ اور ملاحظہ ہوں۔ جن کا صحیح جواب غیر ممکن اور محال ہے۔
٢٨
جھوٹ نمبر ٤
مرزا قادیانی کی سب سے اشتہار بھی درج ہے۔ اس اشتہار میں ہے۔ وہ سب سچ ہے۔ لیکن اس کے ایک اشتہار ایک مقدمہ، چار فصلیں اور اب میں مرزائی حضرات شدہ موجود ہے۔ آئیے! اس کے ورق نکال کر دکھائیے اور مرزا قادیانی کو سچا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کہ مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں
جھوٹ نمبر ٥
مرزا (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیک جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر یہ مرزا قادیانی نے عوام کو د صاف جھوٹ لکھا ہے۔ مجدد صاحب۔ ہے کہ ”وہ محدث کہلاتا ہے۔“ اگر ہمت
جھوٹ نمبر ٦
مرزا قادیانی نے اپنی کتا ”اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ث سو پچیس (١٢٥) سال کی ہوئی ہے اور علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی ت
- ١....... یہ کہ انہوں نے کامل عمر پا
- ٢....... یہ کہ انہوں نے دنیا کے ا
جھوٹ نمبر ٤
مرزا قادیانی کی سب سے پہلی الہامی کتاب جس میں دس ہزار روپیہ انعام کا الہامی اشتہار بھی درج ہے۔ اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے۔ وہ سب سچ ہے۔ لیکن اس کے پہلے ہی دیباچہ میں انہوں نے لکھا ہے کہ ”اس کتاب میں ایک اشتہار ایک مقدمہ، چار فصلیں اور ایک خاتمہ ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ١٦، خزائن ج ١ ص ٢٤)
اب میں مرزائی حضرات سے پوچھتا ہوں کہ براہین احمدیہ سینکڑوں کی تعداد میں طبع شدہ موجود ہے۔ آئیے! اس کے ورق الٹ کر ایک اشتہار، ایک مقدمہ، چار فصلیں اور ایک خاتمہ نکال کر دکھائیے اور مرزا قادیانی کو سچا ثابت کریئے۔
میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی مرزائی تاقیامت ہرگز ہرگز نہیں دکھلا سکتا۔ اب بتلاؤ! کہ مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں آپ کو کیا شبہ باقی ہے؟
جھوٹ نمبر ٥
مرزا (حقیقت الوحی ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“
یہ مرزا قادیانی نے عوام کو دھوکہ دینے اور اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے صریح اور صاف جھوٹ لکھا ہے۔ مجدد صاحب نے ہرگز نہیں لکھا کہ وہ نبی کہلاتا ہے۔ بلکہ انہوں نے تو یہ لکھا ہے کہ ”وہ محدث کہلاتا ہے۔“ اگر ہمت ہے تو مکتوبات سے نکال کر دکھاؤ۔
جھوٹ نمبر ٦
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (مسیح ہندوستان ص ٥٤، خزائن ج ١٥ ص ٥٥) میں لکھا ہے کہ: ”اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس (١٢٥) سال کی ہوئی ہے اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔
- ١....... یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی۔ یعنی ایک سو پچیس برس زندہ رہے۔
- ٢....... یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔ اسی لئے نبی سیاح کہلائے۔“
٢٩
یہ مرزا قادیانی کا بالکل سفید جھوٹ ہے۔ اسلام کے تمام فرقے اس بات کو ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو ثابت کرے۔ مگر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی مرزائی تا قیامت ثابت نہیں کر سکے گا۔
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
جھوٹ نمبر ٧
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩١، خزائن ج٢١ ص ١١٨) میں لکھا ہے کہ ”اور بعض احادیث میں بھی آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہوگی کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔“
یہ مرزا قادیانی نے بالکل جھوٹ لکھا ہے۔ کتب احادیث دنیا میں موجود ہیں۔ اٹھ نہیں گئیں۔ اگر ہمت ہے تو آؤ اور مرزا قادیانی کو سچا ثابت کر دکھاؤ اور نہ ایسے مذہب سے توبہ کرو۔
جھوٹ نمبر ٨
(تحفہ گولڑویہ ص٩، خزائن ج١٧ ص ١٠٠) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اور ان کی (یعنی کشمیر) کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے۔ جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گزر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا اور اس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا۔ جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے۔ جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا اور اس کا نام یوز ہے۔“
مرزا قادیانی نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ صریح جھوٹ لکھا ہے۔ کشمیر کی قدیم و جدید سب تواریخ موجود ہیں۔ کسی تاریخ سے ایسا نکال دو۔ ورنہ خدا سے ڈرو اور ایسے جھوٹے مذہب کو خیر باد کہہ دو۔
تیسرا معیار
اب میں مرزا قادیانی کا ایک قول پیش کرتا ہوں۔ جس سے مرزا قادیانی کی مسیحیت خاک میں مل جاتی ہے اور وہ اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو ہمت ہے تو مرد بنے اور میدان میں نکلے اور سچا کر کے دکھلائے۔
مرزا قادیانی اخبار البدر مطبوعہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء (مکتوبات ج ١ ص ٣٩٥ جدید) میں لکھتے
٣٠
ہیں: ”میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں کام کر دکھایا جو مسیح اور مہدی کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
مرزا قادیانی نے یہاں تین دعوے کئے ہیں۔
اوّل! عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنا۔
دوم! بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلانا۔
سوئم! آنحضرت ﷺ کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کرنا۔
اس کے بعد بڑے دعوے سے یہ لکھتے ہیں کہ اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ باتیں میں پوری نہ کر سکوں اور مر جاؤں تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔
اب میں مرزائی صاحبان سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی گواہی کیوں نہیں دیتے۔ اب انہیں کیا عذر ہے۔ مرزائی حضرات ان زور دار دعوؤں کو ملاحظہ کریں اور بتلائیں کہ ان میں کوئی بات بھی ان کی زندگی میں پوری ہوئی یا ان کے خلیفہ اول یا دوم نے سچ کر کے دکھائی؟
کیا عیسائیت دنیا سے نیست و نابود ہو گئی؟ کیا تثلیث کی بجائے توحید دنیا میں پھیل گئی؟
ہرگز ہرگز نہیں۔ تمام دنیا نے دیکھ لیا اور دیکھ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد اسلام کی حالت بدتر ہو گئی اور بالخصوص اب جیسی حالت زار ہے۔ جو نام کے مسلمان ہیں۔ وہ بھی ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عیسائی و آریہ، دہریہ اور بے دین ہوتے جاتے ہیں۔
اگر انصاف اور حق طلبی سے دیکھا جائے تو مرزا قادیانی کے وجود سے تثلیث کے ماننے والے فنا تو کیا ہوتے، بہت کچھ ان کی ترقی ہو گئی اور توحید کی جگہ ساری دنیا میں تثلیث پھیل گئی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے محض مسلمانوں کو دھوکہ اور فریب دینے اور اپنے دام میں لانے کے لئے زور دار دعوے کر دیئے۔ ورنہ وہ اور ان کے متبعین تو عیسائیوں کے پورے معین و مددگار ہیں اور اسلام کے پکے دشمن۔
بجائے اس کے مرزا قادیانی اپنی سعی سے لوگوں کو مسلمان بناتے۔ انہوں نے آتے
٣١
ہی چالیس کروڑ مسلمانوں کو مرتد اور کافر بنا دیا۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنا نا جائز اور حرام قرار دیا۔ ان کے ساتھ رشتہ ناتہ کرنا قطعی طور پر ممنوع ٹھہرا دیا اور ان کے لئے دوزخ کا دروازہ کھول دیا۔ برخلاف اس کے اپنی قلیل جماعت کو فرقہ ناجی اور مستحق جنت ٹھہرایا۔
آنحضرت ﷺ کی جلالت، افضلیت اور شان یہ ظاہر کی کہ آتے ہی زور سے دعویٰ کر دیا کہ ”ان قدمی ھذہ علی منارة ختم علیہ کل رفعة“ (خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠) یعنی میرا پاؤں اس بلندی پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہیں۔ یعنی مجھے وہ رتبہ ملا ہے کہ کسی نبی کو آج تک نہیں ملا۔ یہاں پر صریح لفظوں میں آنحضرت ﷺ پر افضلیت کا دعویٰ کیا گیا۔
ایک جگہ پر تو صاف طور پر کھلے کھلے الفاظ میں لکھتے ہیں کہ: ”میرے بڑے بڑے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
اور جناب رسول ﷺ کی نسبت (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں لکھتے ہیں کہ ”ہمارے نبی ﷺ سے تین ہزار معجزے ظہور میں آئے۔“
ان دونوں قولوں کو ملانے سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میرے معجزات رسول اللہ ﷺ کے معجزات سے بھی زیادہ ہیں۔ یعنی مجھے آنحضرت ﷺ پر سو حصہ زیادہ فضیلت ہے۔ (نعوذ باللہ) اب ناظرین خود انصاف کر لیں کہ اس معیار کی رو سے صادق ٹھہرے یا کاذب؟
باب سوئم
مرزا قادیانی کے کذب میں قرآن کریم اور احادیث شریفہ سے معیار
ناظرین! مرزا قادیانی اپنے پیش کردہ معیار کی رو سے کاذب، مفتری، جھوٹے اور بے دین ثابت ہو گئے۔ ہم ان کے پیش کردہ اتنے ہی معیاروں پر اکتفا کرتے ہیں اور قرآن شریف اور حدیث نبی ﷺ سے معیار پیش کر کے ان کے کذب کی اور بھی تصدیق کرا دیتے ہیں۔
پہلا معیار
حدیث شریف میں آیا ہے: ”ما توفی اللّٰہ نبیا قط الا دفن حیث قبض (کنز العمال ج ٢ ص ١١٩)“ اس کا ترجمہ میں اپنی طرف سے نہیں کرتا۔ بلکہ مرزا محمود قادیانی کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ وہ اس معیار کو مانتے ہیں، لکھتے ہیں: ”نہیں فوت کیا، کسی نبی کو بھی اللہ نے ہرگز کہ وہ دفن کیا گیا، جس جگہ فوت کیا گیا۔“ (دیکھئے تشحیذ الاذہان ج ١١ نمبر ٤ ماہ اپریل ١٩١٦ء ص ٧)
٣٢
٧
چنانچہ ایک اور حدیث بڑے زور سے الافي الموضع الذی یحب ان ید النبی ﷺ) ”آنحضرت ﷺ فرماتے جہاں اسے دفن کرنا منظور ہو۔“
حدیث بالا کے راوی حضرت ابوبکر آنحضرت ﷺ کا جب انتقال ہوا تو آپ ﷺ اسی وقت حضرت ابو بکرؓ نے یہ حدیث پڑھ سنائی چنانچہ صدر اول کا اس پر بالتمام و حضور ﷺ کا جس حجرہ شریف میں انتقال ہوا تھا
اب آپ خود انصاف کریں کہ کیا مرزا قادیانی کا انتقال ہوا تھا۔ وہیں دفن کئے گدھے پر آپ کو لاد کر قادیان میں لاکر دفن کیا
لو آپ اپنے
دوسرا معیار
اب ایک اور معیار پیش کرتا ہوں کے سچا کر دکھائیں تو فی الحقیقت مرزا قادیا اسلامی جلسہ میں کئی دفعہ میں نے یہ معیار پ جواب نہیں دیا۔
حدیث شریف میں آیا ہے: ”ا الانبیاء فنبی اللہ حی یرزق (مش نے انبیاء کے اجساد کو زمین پر حرام کر دیا ہے یعنی زمین یا مٹی انبیاء علیہم السلا اجساد تو قبور میں ویسے ہی صحیح و سالم رہتے ہ چنانچہ اس کا ثبوت تاریخ مد اس میں لکھا ہے: ”اور اخبار صحیحہ میں آیا ہے
چنانچہ ایک اور حدیث بڑے زور سے اس کی تائید کرتی ہے: ”ماقبض اللہ نبیا الا فی الموضع الذی یحب ان یدفن فیہ (مشکوۃ ج چہارم باب وفاۃ النبی ﷺ) “آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی کی روح کو اسی جگہ قبض کرتا ہے جہاں اسے دفن کرنا منظور ہو۔ ﴾
حدیث بالا کے راوی حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں، حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا جب انتقال ہوا تو آپ ﷺ کی تدفین کے مقام میں لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ تو اسی وقت حضرت ابوبکرؓ نے یہ حدیث پڑھ سنائی۔ صحابہؓ نے سن کر اس پر اتفاق کیا۔
چنانچہ صدر اول کا اس پر بالتمام و کمال اجماع ہو گیا اور اسی پر عملدرآمد کیا گیا۔ یعنی حضور ﷺ کا جس حجرہ شریف میں انتقال ہوا تھا، وہیں آپ ﷺ کو دفن کیا گیا۔
اب آپ خود انصاف کریں کہ کیا مرزا قادیانی اس معیار پر پورے اترے؟ کیا جہاں مرزا قادیانی کا انتقال ہوا تھا۔ وہیں دفن کئے گئے؟ افسوس! انتقال ہوا لاہور میں اور دجال کے گدھے پر آپ کو لاد کر قادیان میں لا کر دفن کیا گیا۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
دوسرا معیار
اب ایک اور معیار پیش کرتا ہوں۔ اگر مرزائی حضرات، مرزا قادیانی کو اس پر پرکھ کر کے سچا کر دکھائیں تو فی الحقیقت مرزا قادیانی کی آواز پر ہم لبیک کہنے کو تیار ہیں۔ قادیان کے اسلامی جلسہ میں کئی دفعہ میں نے یہ معیار پیش کیا۔ مگر آج تک مرزائی حضرات نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
حدیث شریف میں آیا ہے: ”ان اللہ حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء فنبی اللہ حی یرزق (مشکوۃ کتاب الصلوۃ باب الجمعۃ) “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے اجساد کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور رزق دیا جاتا ہے ﴾
یعنی زمین یا مٹی انبیاء علیہم السلام کے اجساد و ابدان کو ہرگز ہرگز نہیں کھاتی بلکہ ان کے اجساد تو قبور میں ویسے ہی صحیح و سالم رہتے ہیں۔ جیسے آج دفن کئے گئے۔
چنانچہ اس کا ثبوت تاریخ مدینہ بنام ”جذب القلوب الی دیار المحبوب“ میں ملتا ہے۔ اس میں لکھا ہے: ”اور اخبار صحیحہ میں آیا ہے کہ چالیس برس کی مدت کے بعد شہداء کے قبور شریفہ کو
٣٣
کھولا تو ویسے ہی تروتازہ پھولوں کی کلیاں سی لاشیں مع کفن نکلیں گویا کہ کل ہی دفن ہوئی ہیں اور بعض کو ان میں سے دیکھا کہ اپنے زخم پر ہاتھ رکھ کر ویسے ہی رہ گئے ہیں ہاتھ کو جدا کرتے ہیں تو زخم سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ ہاتھ کو اٹھا کر چھوڑ دیتے ہیں تو پھر وہیں زخم پر پہنچ جاتا ہے۔ ان قبور شریفہ کے کھلنے کے جو سبب ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعضی بعضی لاشوں کے دفن میں خلط ہو گیا تھا۔ قرابتی ایک کا دوسرے کے پاس دفن ہوا تھا۔ تو لوگ آنحضرت ﷺ کی اجازت صریح سے یا دلالت حال سے یا قیاس واجتہاد سے ان لاشوں کو نکال نکال کر جدا جدا دفن کرتے تھے اور بعض قبروں کے کھل جانے کی وجہ سیل ہوئی تھی اور اکثر اس جہت سے قبریں کھلیں کہ حضرت معاویہؓ نے اپنے زمان امارت میں ایک نہر کھدوا کر اسی مشہد مقدس کی طرف جاری کی تھی۔ تو لاشیں نکال نکال کر الگ جا کر دفن کرتے تھے۔“
امام تاج الدین سبکیؒ ”شفاء الاسقام“ میں لکھتے ہیں: ”جس وقت حضرت معاویہؓ نے نہر نکالی اور نقل شہداء کا اپنے مواضع قبور سے حکم دیا اس وقت ایک کدال حضرت سید الشہداء سیدنا حمزہ بن عبدالمطلبؓ کے پائے مبارک میں لگی۔ اس سے خون جاری ہوا اور نقل کرتے ہیں کہ نہر کھدنے کے وقت ان کے عامل نے منادی کی کہ امیرالمومنین کی نہر آتی ہے۔ جس کسی کا مردہ یہاں دفن ہو آئے اور مردہ کو یہاں سے اکھاڑ کر اور جگہ لے جاوے۔“
(مرغوب القلوب ترجمہ جذب القلوب ص ١٩٥)
اب میں یہ کہتا ہوں کہ جب انبیاء کے متبعین صدیقین کی یہ حالت ہو، کہ ان کے اجسام زمین نے نہ کھائے ہوں تو کیا ان کے پیشواؤں یعنی انبیاء کی یہ حالت نہ ہوگی؟
اب مرزائی صاحبان کو چاہئے کہ مرزا قادیانی کو اس معیار پر پرکھیں۔ اگر ان کا جسد بالکل صحیح و سالم نکل آئے اور ان کے چہرے پر انوار نبوت موجود ہوں تو ہم ان کو نبی ماننے کو تیار ہیں۔ ورنہ ان کو مرزائیت سے تائب ہونا پڑے گا۔ اگر مرد میدان ہو، تو نکلو:
یا چل کے دکھا دے، دہن ایسا ،کمر ایسی
تیسرا معیار
قرآن شریف میں ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه“ یعنی ہم نے تمام پیغمبروں کو انہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔
مرزا قادیانی دنیا میں آئے اور قصیدہ اعجازیہ لکھ کر انہوں نے بڑے زور سے اعجاز کا
٣٢
دعویٰ کیا اور لوگوں کو معارضہ اور مقابلہ کے لئے دعوت دی۔ مگر افسوس یہ کہ قصیدہ عربی کا لکھا۔ اگر پیغمبر ہوتے تو ضروری ولابدی اپنی قومی زبان یعنی اردو یا پنجابی میں لکھتے۔
نیز مرزا قادیانی نے فرمایا کہ مجھے مختلف زبانوں میں الہام ہوتے ہیں۔ چنانچہ براہین احمدیہ میں عبرانی ، انگریزی ، عربی، فارسی وغیرہ میں الہام موجود ہیں۔ یہ تعلیم قرآنی کے صریح خلاف ہے۔ اس معیار کے مطابق ان کو اردو یا پنجابی میں ہونا چاہئے تھا۔
مجھ سے کہاں چھپیں گے ایسے وہ کہاں کے ہیں
چوتھا معیار
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ چنانچہ مختلف جگہوں میں انہوں نے اس کا کئی جگہ اعلان بھی کیا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥) میں لکھتے ہیں کہ ” الحمدللہ الذی جعلك المسيح ابن مريم “ یعنی اس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے ابن مریم بنایا۔
اسی طرح (ازالۃ اوہام ص ٤١٤،٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٥) میں لکھا ہے: ”پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیح کی رو سے ضروری قرار پا چکا ہے ، وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا۔ جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیش گوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔“
ان عبارتوں سے یہ بات خوب پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آنے والے مسیح مرزا قادیانی ہی تھے۔ اب ہم حدیث شریف کی طرف رجوع کر کے دیکھتے ہیں۔ حدیث نبوی عیسیٰ علیہ السلام کو پرکھنے کیلئے ہمیں کون سا معیار بتلاتی ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے: ”عن حنظلة الاسلمی قال سمعت اباهریرة يحدث عن النبی ﷺ والذى نفسى بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمرا وليثنينهما (صحيح مسلم جلد اول مطبوعہ مجتبائی پریس دہلی ١٣١٩ھ ص ٤٠٨ سطر ١٤)“ ﴿حنظلہ اسلمی سے مروی ہے کہا میں نے ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابن مریم یقیناً اور ضرور مقام فجّ روحاء میں حج یا عمرہ یا قرآن (یعنی حج اور عمرہ دونوں ) کا احرام باندھیں گے۔﴾
٣٥
میرے مرزائی دوستو! بتلاؤ کیا مرزا قادیان نے حج کیا تھا۔ کیا انہوں نے حج یا عمرہ یا قرآن کا احرام فج روحاء سے باندھا تھا؟
حدیث تو بڑی تاکید سے کہتی ہے کہ مسیح ابن مریم جب آئے گا تو ضرور حج کرے گا۔
ہاں! اگر یہ حیلہ تراشا جائے اور اگر یہ بہانہ پیش کیا جائے کہ مرزا قادیانی میں استطاعت نہیں تھی۔ تو میں پوچھتا ہوں کہ بتلائیے کہ حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ مسیح میں استطاعت ہوگی تو وہ حج کرے گا ورنہ نہیں؟
دوسرے میں یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی تو اپنے تئیں مختلف کتابوں پر رئیس اعظم قادیان لکھتے رہے ہیں۔ کیا ان میں استطاعت نہیں تھی۔ چلئے کدھر چلیں گے۔ میاں باطل اور مقابلہ حق کا؟
منہ تو دیکھو آستان پیر کا
پانچواں معیار
حدیث شریف میں ہے: ”قال رسول الله ﷺ لا نورث ما تركناه صدقة (مشکوٰة باب وفات النبی ﷺ)“ یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہم انبیاء کے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں، سب صدقہ ہوتا ہے۔
اسی واسطے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ نے مال فدک وغیرہ کو تقسیم نہیں کیا اور نہ بی بی فاطمہؓ کو کچھ دیا۔
اگر مرزا قادیانی نبی ہوتے تو لابد ہی اس معیار کے مطابق اپنی تمام جائیداد صدقہ کر جاتے۔ جب مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ان کی اولاد اور دیگر ورثاء ان کی جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کے وارث ہوئے اور مرزا قادیانی نے خود اپنے بیٹے کو بھی اپنی جائیداد سے محروم کر کے اس کو عاق کر دیا۔ تو وہ کاذب اور مفتری ٹھہرے۔
تو آشنائے نۂ خطا اینجا است
چھٹا معیار
قرآن شریف میں ہے: ”قل لا اسئلکم عليه اجرا “ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی (دنیوی) صلہ نہیں مانگتا۔
٣٦
یہی نہیں۔ بلکہ قرآن ک ہے۔ چنانچہ سورہ شعراء نکال کر دیکھ اسئلكم عليه من اجران اج نہیں مانگتا۔ بلکہ میرا صلہ تو رب العال یہاں سے سچے نبیوں ک چندہ نہیں مانگتے۔ جو کچھ کرتے ہیں ا اب ہم مرزا قادیانی ک کاذب؟
مرزا قادیانی نے اپنے وسعت کے لئے بڑے زور و شور سے روپیہ وصول کیا۔
مرزا قادیانی کی اپنی ج سب چندہ کی بدولت تھی۔ لہٰذا مرزا راہ پر ال اور کمل
مرزا قاد اب ہم قرآن وحدی چند ایک عقلی معیار پیش کرتے ہیں
پہلا معیار
ہم دیکھتے ہیں کہ آج صحابہ میں اس بات پر اختلاف ہو کوئی ایسی نظیر بتلا فریقوں میں منقسم ہو گئے۔ ایک جماعت ان کو نبی اور مرسل من ال
یہی نہیں ۔ بلکہ قرآن کریم میں متعدد جگہ مختلف انبیاء کے بارے میں بھی ایسا ہی آیا ہے۔ چنانچہ سورۂ شعراء نکال کر دیکھ لیجئے کہ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو کہا تھا کہ : ” و مـــــــا اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین “ یعنی میں تم سے کوئی دنیوی صلہ نہیں مانگتا۔ بلکہ میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
یہاں سے سچے نبیوں کا مابہ الامتیاز یہ بھی نکلا کہ وہ احکام کی تبلیغ میں اپنے لئے روپیہ اور چندہ نہیں مانگتے۔ جو کچھ کرتے ہیں۔ محض اللہ اور خاص خدا کے واسطے کرتے ہیں۔
اب ہم مرزا قادیانی کو اس معیار پر پرکھتے ہیں کہ آیا وہ اس پر صادق اترتے ہیں یا کاذب؟
مرزا قادیانی نے اپنے لئے چندہ مانگا اور بہت سی رقم جمع کی۔ چنانچہ اپنے مکان کی وسعت کے لئے بڑے زور وشور سے اشتہاروں میں انہوں نے چندہ کی درخواست کی اور لوگوں سے روپیہ وصول کیا۔
مرزا قادیانی کی اپنی جائیداد تو بہت کم تھی۔ اتنی بڑی جائیداد جو انہوں نے مہیا کی۔ وہ سب چندہ کی بدولت تھی۔ لہذا مرزا قادیانی کو اس معیار کی رو سے کاذب ماننا پڑے گا۔
اور کھل جاویں گے دو چار ملاقاتوں میں
باب چہارم
مرزا قادیانی کے کذب میں چند عقلی معیار
اب ہم قرآن وحدیث کے بتائے ہوئے اتنے ہی معیاروں پر اکتفاء کرتے ہیں اور چند ایک عقلی معیار پیش کرتے ہیں۔ غور سے ملاحظہ ہو۔
پہلا معیار
ہم دیکھتے ہیں کہ آج تک دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس کی وفات کے بعد اس کے صحابہ میں اس بات پر اختلاف ہو گیا ہو کہ یہ نبی تھا یا نہیں؟
کوئی ایسی نظیر بتلائیے کہ کسی نبی کی جماعت اس کی وفات کے بعد اس طرح دو فریقوں میں منقسم ہو گئے۔ ایک جماعت تو ان کی نبوت کا سرے سے انکار کرتی ہے اور دوسری جماعت ان کو نبی اور مرسل من اللہ مانتی ہے۔
٣٧
ابتدائے دنیا سے آج تک اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ بھی مرزا قادیانی کے کذب کی بڑی زبردست دلیل ہے۔
تیرے دھوئیں اڑاؤں گا میں ایک آہ میں
دوسرا معیار
دوسرے یہ کہ سچا نبی جب خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ اسی وقت وہ رسالت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ بتدریج اظہار نبوت نہیں کرتا۔ یعنی یہ نہیں کرتا کہ پہلے دعویٰ ولایت پھر مجددیت پھر مسیحیت اور پھر آخر میں کہیں جا کر جب دیکھا کہ لوگوں نے مان لیا ہے۔ دعویٰ نبوت کر دے۔
بخلاف مرزا قادیانی کے کہ انہوں نے دیگر انبیاء صادقین کی مثل فوراً دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ بلکہ وہ تو اول ولی، پھر مجدد، پھر مسیح موعود، پھر مہدی معہود، پھر رام چندر، پھر کرشن وغیرہ وغیرہ بنے پھر کہیں جا کر نبوت کا دعویٰ کیا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد ﷺ تک کسی نبی، کسی رسول، کسی مرسل من اللہ کا یہ طریقہ نہیں دیکھا جو مرزا قادیانی نے کیا۔ تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی سچے نبی نہیں تھے۔ بلکہ کاذب تھے۔
تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
تیسرا معیار
تیسرا معیار سچے نبیوں کا یہ ہے کہ ان کے نام ہمیشہ مفرد ہوتے ہیں۔ جیسے آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، اسمعیل علیہ السلام، محمد ﷺ۔
قرآن شریف وحدیث شریف میں انبیاء کا ذکر ہے۔ سب کے اسمائے گرامی مفرد ہیں مرکب نہیں۔
بخلاف غلام احمد کے یہ مضاف اور مضاف الیہ سے مرکب ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اس معیار کے مطابق سچے نبی نہیں ورنہ ان کا نام بھی مفرد ہونا چاہئے تھا۔
٤٨
باب پنجم
عقائد مرزا قادیانی
ناظرین! معیاروں کا سلسلہ ختم کیا جاتا ہے۔ اب ہم اس کے بعد مرزا قادیانی کے اس مذہب، ان عقائد اور اس تعلیم کا تھوڑا سا نمونہ پیش کرتے ہیں جو وہ عوام الناس میں چھوڑ گئے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کا اسلام سے خارج ہونا روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا اور نیز اس امر کی بھی توضیح و تشریح ہو جائے گی کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ صرف نبوت کا ہی نہیں، بلکہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تمام انبیاء سے افضل ہوں۔
مرزا قادیانی کا اپنی وحی پر قرآن شریف کی طرح ایمان لانا
لکھتے ہیں، ”جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے، جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔ تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرے کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں، جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
مذکورہ بالا قول سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں:
اول: یہ کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کو ایسا ہی قطعی اور یقینی کلام خدا جانتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید ہے۔ اس سے دو امور ثابت ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ مرزا قادیانی کو ویسا ہی نبوت کا دعویٰ ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ کو تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی کی وحی کا قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہونا اور اس پر ایمان لانا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ دوسرا امر یہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کے منکر کو ویسا ہی کافر سمجھیں گے جیسا کہ قرآن مجید کے منکر کو۔
دوم: یہ کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کے مقابلہ میں تمام احادیث نبویہ بیکار بتاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی وحی کو من جانب اللہ ہونا قطعی بتاتے ہیں اور احادیث کا ثبوت ظنی کہتے ہیں۔ بلکہ بلا تعین انہیں موضوع یعنی جھوٹی بنائی ہوئی باتیں کہتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا اپنے الہامات پر قرآن شریف کی طرح ایمان لانا
لکھتے ہیں ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں، جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو
٣٩
یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
دیکھا جائے کہ کس صفائی سے اپنے الہامات پر ایمان لانا ویسا ہی فرض بتاتے ہیں جیسا قرآن مجید پر، ان کے کلام خدا ہونے پر انہیں ایسا ہی یقین ہے جیسے قرآن مجید کے کلام خدا ہونے پر۔ اس قول کے بعد کسی ذی علم کو اس بات کے ماننے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا کہ ان کے الہامات کا منکر کافر ہے۔ جب ان کی وحی کا مرتبہ کلام الٰہی ہونے میں ایسا ہی ہو جیسا قرآن مجید ہے، تو کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ان کے الہامات کا منکر کافر نہ ہو بلکہ ضرور ہے کہ ان کے الہامات کا منکر ویسا ہی کافر ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا منکر۔
دعویٰ نبوت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ
لکھتے ہیں، ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا، جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
اس قول میں نہایت صاف طور سے نبی مستقل اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو ہر شان میں حضرت مسیح علیہ السلام سے بہت بڑھ کر بتاتے ہیں اور جب مرزا قادیانی ہر شان میں ان سے بڑھ کر ہوئے تو بالضرور ان کا یہ دعویٰ ہوا کہ میں مستقل نبی ہوں۔ بلکہ بعض مستقل انبیاء سے بہت بڑھ کر ہوں اور صاحب شریعت ہوں۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں، ”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے، مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہیں کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
ایک اور جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں: ”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
اس قول میں مرزا قادیانی کے کئی جھوٹ ثابت ہوتے ہیں۔
- .......١ خدا نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ کا مسیح پہلے وقت کے مسیح سے افضل ہوگا۔
- .......٢ جناب رسول ﷺ نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔
٤٠
- .......٣ انبیاء کرام کا بھی یہی قول ہے
- .......٤ آخری زمانہ کے مسیح کی فضی
یہ چاروں باتیں محض غلط اور جھوٹ ہیں دکھلائے کہ آنے والے مسیح کو پہلے مسیح کے کیا کارنامے دکھائے اور اسلام اور کافر ٹھہرا دیا اور کیا کیا؟
سرفروشی کی
کھلے کھلے لفظوں میں دعویٰ نبو
- .......١ ”میں نبی ہوں اور اس ام
- .......٢ ”الہامات میں میری نسب
مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے
- .......٣ ”سچا خدا وہی خدا ہے جس
- .......٤ مجھے الہام ہوا ہے: ”یا
لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی
- .......٥ ”بہر حال جب تک م
خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ آ نشان ہے۔“
دیگر انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ
لکھتے ہیں: ”بلکہ خدا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلا
- ٣...... انبیاء کرام کا بھی یہی قول ہے۔
- ٤...... آخری زمانہ کے مسیح کی فضیلت اس کے عمدہ اور مفید کاموں کی وجہ سے بیان کی ہے۔
یہ چاروں باتیں محض غلط اور جھوٹ ہیں۔ قرآن و حدیث اور کتب سابقہ موجود ہیں۔ کوئی قادیانی دکھلائے کہ آنے والے مسیح کو پہلے مسیح سے افضل کہاں ٹھہرایا ہے؟ اس مسیح نے سوائے اپنی شہرت کے کیا کارنامے دکھائے اور اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچایا بجز اس کے کہ دنیا کے مسلمانوں کو کافر ٹھہرا دیا اور کیا کیا؟
سرفروشی کی نہیں تاب تو سردار نہ بن
کھلے کھلے لفظوں میں دعویٰ نبوت
- ١...... ”میں نبی ہوں اور اس امت میں نبی کا میرے لئے مخصوص ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
- ٢...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ہے۔ خدا کا
مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٣...... ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٤...... مجھے الہام ہوا ہے: ”یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ یعنی اے
لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول ہو کر آیا ہوں۔“
(معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)
- ٥...... ”بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی
خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
دیگر انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ
لکھتے ہیں: ”بلکہ خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں۔ جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا
٤١
بیاں کردیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی (ﷺ) کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
قول بالا کی تائید میں مرزا قادیانی کا ایک اور قول پیش کرتا ہوں، وہ یہ ہے: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
ہر دو اقوال بالا میں بڑے زور سے دیگر انبیاء پر اپنی فضیلت کو صریح اور صاف الفاظ میں ظاہر کر رہے ہیں۔ جس میں کسی کو چوں و چرا کی گنجائش نہیں۔
حضور سرور کائنات پر فضیلت کا دعویٰ
اس سے قبل تتمہ حقیقۃ الوحی سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نقل کیا گیا ہے کہ میرے بڑے بڑے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ مگر اسی پر بس نہیں بلکہ اخبار بدر مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء میں تین لاکھ سے زیادہ اپنے معجزات کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے:
”جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں گزرتا۔“
اور جناب رسول (ﷺ) کی نسبت (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں لکھتے ہیں کہ :”ہمارے نبی (ﷺ) کے تین ہزار معجزے ظہور میں آئے۔“
ان ہر دو اقوال کے ملانے سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ میرے معجزات آنحضرت ﷺ کے معجزات سے سو حصہ زیادہ ہیں۔ یعنی سو حصہ مجھے حضور ﷺ پر زیادہ فضیلت حاصل ہے۔ (نعوذ باللہ)
- ٢...... اب ایک اور قول سنئے۔ لکھتے ہیں: ”لیکن پھر بھی دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت
رکھتے ہیں۔ یعنی مہدی کا نام ہمارے نبی ﷺ سے خاص ہے اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے اور نبیوں کی پیش گوئیوں میں یہ بھی تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھی ہو جائیں گی۔“ (حاشیہ اربعین نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٥٨) اس قول سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مؤید بروح القدس ٤٢
ہونے کی صفت رسول اللہ ﷺ میں نہ تھی۔ صرف صفت سے جناب رسول اللہ ﷺ محروم تھے۔ ( مگر مرزا قادیانی دونوں صفت کے رکھتے ہیں۔
- ٣...... ایک اور قول ملاحظہ ہو، لکھتے ہیں:
قادیانی کا) تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“ اس قول میں مرزا قادیانی صاف کیونکہ تخت اترنے سے مقصود معمولی تخت نہیں، مراد ہو سکتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا تخت سب انبیاء سے افضل ہیں۔
اسی طرح (خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن منارة ختم عليه كل رفعة “ یعنی یہ میرا یہاں بھی یہی دعویٰ ہے کہ مجھے وہ بلندی نصیب
- ٤...... چوتھا قول یہ ہے : ”أتانی مال
خزائن ج ٢٢ ص ٧١٠) ”اس الہام کا یہی سارے جہاں میں کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں ہیں۔ یعنی حضور کو بھی وہ مرتبہ نہیں دیا گیا۔ (است
- ٥...... اسی طرح (قصیدہ اعجازیہ ص ٧١، خز
ہیں: ”لـه خسف القمر المنير وان لم اللہ ﷺ کے لئے تو صرف چاند کا خسوف ظاہ تو انکار کرے گا؟ اس شعر میں پہلے رسول اللہ ﷺ چاند اور سورج دونوں کا گہن کہتے ہیں۔ یعنی صرف چاند گہن ہوا اور میری صداقت کے ﷺ پر مجھے فضیلت دی۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کا خدائی کا دعویٰ
لکھتے ہیں: ”رأيتني في الم
ہونے کی صفت رسول اللہ ﷺ میں نہ تھی۔ صرف مہدی ہونے کی صفت تھی۔ یعنی ایک عظیم الشان صفت سے جناب رسول اللہ ﷺ محروم تھے۔ (نعوذ باللہ)
مگر مرزا قادیانی دونوں صفت کے جامع ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ سے فضیلت رکھتے ہیں۔
- ٣...... ایک اور قول ملاحظہ ہو، لکھتے ہیں: ”تمام دنیا میں کئی تخت اترے، پر تیرا (یعنی مرزا
قادیانی کا) تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
اس قول میں مرزا قادیانی صاف طور پر اپنے آپ کو تمام انبیاء پر فوقیت دیتے ہیں کیونکہ تخت اترنے سے مقصود معمولی تخت نہیں۔ بلکہ مثالی طور پر عالی مرتبہ رسالت و نبوت کا تخت مراد ہو سکتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا تخت سب سے بلند بچھایا گیا تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی تمام انبیاء سے افضل ہیں۔
اسی طرح (خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠) پر لکھتے ہیں: ”ان قدمی ھذہ علی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ “ یعنی یہ میرا پاؤں اس بلندی پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہیں۔ یہاں بھی یہی دعویٰ ہے کہ مجھے وہ بلندی نصیب ہوئی ہے جو کسی نبی کو نہیں ملی۔“ (نعوذ باللہ)
- ٤...... چوتھا قول یہ ہے: ”اتانی مالم یؤت احد من العالمین (استفتاء ص ٨٧،
خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥) “ اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی کو جو مرتبہ دیا گیا ہے۔ وہ سارے جہاں میں کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ بھی داخل ہیں۔ یعنی حضور کو بھی وہ مرتبہ نہیں دیا گیا۔ (استغفر اللہ)
- ٥...... اسی طرح (قصیدہ اعجازیہ ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) پر اپنی فضیلت یوں بیان کرتے
ہیں: ”لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر “ یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے تو صرف چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟ اس شعر میں پہلے رسول اللہ ﷺ کا نشان صرف چاند گہن بتاتے ہیں اور اپنا نشان چاند اور سورج دونوں کا گہن کہتے ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی صداقت کے اظہار کے لئے تو صرف چاند گہن ہوا اور میری صداقت کے لئے چاند اور سورج دونوں کا گہن ہوا۔ یعنی آنحضرت ﷺ پر مجھے فضیلت دی۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کا خدائی کا دعویٰ
لکھتے ہیں: ”رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو فخلقت
٤٣
السموات والارض“، یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہو گیا ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں اللہ ہی ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان پیدا کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا قادیانی کا گویا خدا کی بیوی ہونا
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا (یعنی مرزا قادیانی کا) حیض دیکھے مجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے اور ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
مرزا قادیانی کا خدا کا بیٹا ہونا
دیکھو، الہام مرزا قادیانی ”انت منى بمنزلة ولدی“ یعنی اے مرزا تو ہمارے بیٹے کی جگہ ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) اور سنئے: ”انت من ماءنا وهم من فشل یعنی اے مرزا تو ہمارے نطفہ سے ہے اور وہ خشکی سے ہے۔“
(تذکرہ ص ٤٠٤ طبع ٣)
مرزا قادیانی کا خالق خدا ہونا
دیکھو مرزا قادیانی کا الہام ”انت منى وانا منك“ (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) یعنی خدا مرزا قادیانی کو کہتا ہے کہ اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ یعنی میں تیرا خالق ہوں اور تو میرا خالق ہے۔
مرزا قادیانی کا اہل بیت پر حملہ
- ١....... لکھتے ہیں: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود
ہے، اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
- ٢.......
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٣....... ”وقالوا على الحسنين فضل نفسه، اقول نعم والله ربي سيظهر“
(اعجاز احمدی ص ٧٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤) یعنی انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں، ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔
٤٤
”وانی قتيل تحب لک واظهر“ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٨ ص ١٩٣ کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔
بھائیو! انصاف سے کہو، کیا کوئی مسـ کوئی انسان رسول الثقلین پر ایمان لاکر اپنے کر سکتا ہے۔ وہ امام حسینؓ جنہوں نے اسلام نے اسلام کی خاطر اپنی جان کو قربان کر دیا۔ نے اہل جنت کا سردار فرمایا ہے اور نجات کے
قادیانی کہتے ہیں کہ (حسینکم) تمہارا حسین، یعـ اور پھر لکھتے ہیں کہ میں محبت کا کـ انہیں محبت الٰہی سے واسطہ نہ تھا۔ ان کی شہاد ہوں۔ کیونکہ میری زندگی امن و آرام اور چین مشک و زعفران استعمال کرنے کو ملتا ہے۔ افسوس
حشر میں روئے
توہین انبیاء کرام
مرزا قادیانی نے انبیاء کرام کی تو ہے۔ لکھتے وقت طبیعت میں ایسا ڈر، ایسا خوف جاتا ہے۔ مگر مجبوراً آپ حضرات تک ان کے حـ ہرگز ہرگز اس بات کی متقاضی نہیں ہوتی کہ ان الـ
- ١....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”بلکہ اکثـ
خود انبیاء کرام کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو، سمجھ نـ
- ٢....... ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ”ایک پاد
میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کـ
”وانى قتيل الحب لكن حسينكم ...... قتيل العدى فالفرق اجلى واظهر“ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٨ص٢٩٣) یعنی میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔
بھائیو! انصاف سے کہو، کیا کوئی مسلمان کے قلم وزبان سے یہ کلمات نکل سکتے ہیں؟ کیا کوئی انسان رسول الثقلین پر ایمان لاکر اپنے مقابلہ میں ان کے قرۃ العینین کی اس طرح فضیحت کر سکتا ہے۔ وہ امام حسینؓ جنہوں نے اسلام کے پودے کی پرورش اپنے خون سے کی۔ جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی جان کو قربان کر دیا۔ جو سید المرسلین کے نواسہ ہیں اور جنہیں سید المرسلین نے اہل جنت کا سردار فرمایا ہے اور نجات کے لئے کشتی نوح کے مثل ٹھہرایا ہے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ (حسینکم) تمہارا حسین، یعنی ہمارا نہیں؟
اور پھر لکھتے ہیں کہ میں محبت کا کشتہ ہوں اور امام حسین دشمنوں کے کشتہ تھے۔ یعنی انہیں محبت الٰہی سے واسطہ نہ تھا۔ ان کی شہادت محبت خدا کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ میں کشتہ محبت خدا ہوں۔ کیونکہ میری زندگی امن و آرام اور چین و راحت سے گزرتی ہے۔ قورما پلاؤ کھانے کو اور مشک وزعفران استعمال کرنے کو ملتا ہے۔ افسوس ایسی عقل پر:
حشر میں روئے گا ایسے جہل پر
توہین انبیاء کرام
مرزا قادیانی نے انبیاء کرام کی توہین میں جس قدر گستاخی اور بے باکی سے کام لیا ہے۔ لکھتے وقت طبیعت میں ایسا ڈر، ایسا خوف اور ایسی دہشت پیدا ہوتی ہے کہ قلم لکھنے سے رک جاتا ہے۔ مگر مجبوراً آپ حضرات تک ان کے عقائد پہنچانے کے لئے تحریر کیا جاتا ہے۔ ورنہ طبیعت ہرگز ہرگز اس بات کی مقتضی نہیں ہوتی کہ ان الفاظ کو لکھا جائے۔
- ١...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”بلکہ اکثر پیش گوئیوں میں ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ
خود انبیاء کرام کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو، سمجھ میں نہیں آسکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٤٩، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
- ٢...... ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ”ایک پادشاہ کے وقت میں چار نبی نے اس کی فتح کے بارے
میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست ہوئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مرگیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٣٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
٤٥
- ٣ ...... ”جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں، اس قدر صحیح نہیں نکلیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
- ٤ ...... ”حضرت موسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اسی صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر
حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھی تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
- ٥ ...... ”جناب رسول خدا (ﷺ) کی پیش گوئیوں میں بھی غلطی ہوئی۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١ ملخص)
- ٦ ...... ”جناب رسول اللہ (ﷺ) کا سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ
نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہیے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
- ٧ ...... ”مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے (رامچندر جی) سے کچھ زیادتی نہیں رکھتا۔“
(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١)
- ٨ ...... ”یہ حضرت مسیح کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا) حضرت سلیمان
کے معجزہ کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیال جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٩ ...... ”اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس
وقت مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھایا ہو، کیونکہ حال کے زمانے میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سخت توہین
لکھتے ہیں کہ: ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔ ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔ یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں
٤٦
ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بتا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں (کسبی عورتوں) سے میلان شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ ان کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٥، ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، ٢٩١)
مرزائیوں کے آگے جب یہ عبارت پڑھی جائے تو کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ سب کچھ یسوع کو کہا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ گالیاں نہیں دیں۔ یہ ان کی محض دھوکہ دہی ہے۔ مرزا قادیانی تو خود لکھ گئے ہیں کہ ”مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
اب بتلائیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں نہیں دی گئیں تو اور کس کو دی گئی ہیں۔ کیوں دوسروں کی آنکھوں میں خاک ڈال رہے ہو؟
سینہ کس کا ہے، میری جان جگر کس کا ہے
آنحضرت ﷺ کے معراج جسمانی سے انکار
”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس جسم خاکی کے ساتھ کرہ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ پس اس جسم کا کرہ ماہتاب و آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں
لکھتے ہیں: ”قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال
٤٧
کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن مجید کفار کو سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٥، ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥ حاشیہ)
قرآن شریف قادیاں میں نازل ہوا ہے
”کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند پڑھ رہے ہیں۔ پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا: ”انا انزلناہ قریبا من القادیان “ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر دیکھا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی ہے۔“
(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
قرآن کریم کے معجزات مسمریزم ہیں
لکھتے ہیں: ”قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہو گئے تھے۔ جیسے وہ مردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھا۔ جس کا ذکر ”واذ قتلتم“ کی آیت میں ہے کہ اس گائے کے گوشت کی بوٹیوں سے جس کے ہاتھ سے مقتول کے جسم پر لگنے سے زندہ ہو گیا تھا۔ یا ہو جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس قصہ سے واقعی طور پر زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف دھمکی تھی تاکہ چور بے دل ہو کر اپنے تئیں ظاہر کر دے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٧ تا ٢٥٨، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣، ٥٠٤)
حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں آئیں گے
لکھتے ہیں کہ: ”محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٢)
دجال پادری ہیں اور کوئی دجال نہیں آوے گا
”یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کا انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے۔ جو ٹڈی کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦) لکھتے ہیں: ”وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩، ٤٧٠)
٤٨
یاجوج ماجوج کوئی نہیں
لکھتے ہیں: ”یاجوج ماجوج سے دو قومیں انگریز اور روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٢، ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩، ٣٧٣)
دابۃ الارض علماء ہوں گے اور کچھ نہیں
لکھتے ہیں: ”دابۃ الارض علماء اور واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے۔ آخر زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا
لکھتے ہیں: ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“
(ص ٥١٥ ازالۃ اوہام، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦، ٣٧٧)
مرزا قادیانی کا فتویٰ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں
لکھتے ہیں: ”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ وہی تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٤ حاشیہ)
مرزا قادیانی کا فتویٰ
غیر احمدیوں سے مناکحت حرام ہے
لکھتے ہیں: ”میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔“
(دیکھو فتاویٰ احمدیہ ص ٧)
مرزا قادیانی کا منکر کافر اور جہنمی ہے
لکھتے ہیں: ”میرا منکر کافر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
میرے دوستو! مرزا قادیانی کا کذب ہر طریقہ سے اظہر من الشمس ہو گیا اور مرزا قادیانی خود اپنے الہاموں اور پختہ اقراروں سے کاذب، مفتری اور ہر بد سے بدتر ثابت ہو گئے اور ان کا جھوٹ آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہو گیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس توضیح و تشریح کے بعد
٤٩
مرزا قادیانی کو کاذب ماننے میں کون سی شے مانع ہے؟
اے امت مرزا! اگر تمہارے سینے میں دل اور اس دل میں صداقت ہے۔ اگر تمہارے سر میں دماغ اور اس دماغ میں مادہ فہم و ادراک ہے تو خدارا سوچو کہ کس قعر ضلالت میں پڑے ہوئے ہو۔ خدا و رسول کے لئے اب تو اپنے حال پر رحم کرو اور فوراً ان عقائد سے تائب ہو کر سچے مسلمان بن جاؤ۔ اگر تمہارے قلوب وصدر میں صداقت نہیں رہی۔ اگر تمہارے دماغوں میں مادہ فہم و ادراک زائل ہو گیا ہے۔ اگر تمہاری آنکھوں میں مادہ بصیرت نہیں رہا۔ اگر تمہارے دل پتھر ہو گئے ہیں۔ اگر تمہارے ہر امر میں تصنع اور زبان پر ریا شامل ہے۔ اگر تم میں حقیقت شناسی کی اک رمق، بصیرت کی ایک تڑپ، احساس صدق و حق کا ایک اضطراب بھی نہیں اور اگر تمہارے گوش آواز حق اور صدائے اسلام کو نہیں سنتے تو اللہ میاں کا جہنم بہت وسیع ہے:
نہ آئے آتش دوزخ میں جائے جس کا جی چاہے
باب ششم
مسئلہ ختم نبوت
تمام علماء اسلام کافۃً سلفاً وخلفاً اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد کوئی نبی پیغمبر، کوئی جدید نبی اور کوئی رسول قیامت تک نہیں آئے گا۔ نبوت ورسالت حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر ختم ہو گئی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ (یعنی محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں۔)
لفظ ”النبیین“ مطلق ہے۔ علاوہ بریں الف لام استغراقی اس پر داخل ہے۔ اس آیت نے بعبارت النص فیصلہ کر دیا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی تشریعی ہو یا غیر تشریعی ، مستقل ہو یا غیر مستقل، اصلی ہو یا ظلی ، ہر گز نہیں آئے گا۔
چنانچہ تفاسیر مسلمہ، تفسیر کبیر، خازن، مدارک، بیضاوی وغیرہ تفاسیر میں خاتم النبیین کی
٥٠
جو تفسیر کی گئی ہے۔ وہ بڑے زور سے تصریح بالا کی
”خاتم“ اور ”النبیین“ قرآن میں لفظ ”خاتم“ دوطرح زبان مبارک سے اکثر پڑھنے والوں نے خاتم کی ت سے پڑھتے سنا ہے۔ یعنی بعض نے بفتح پڑھا ہے اور ب
جیسا کہ تفسیر فتح البیان وغیرہ سے ظاہر آتے ہیں۔ مہر کو بھی خاتم کہتے ہیں اور انگوٹھی کو بھی جب یہ لفظ کسی جماعت کی طرف مضاف ہو ہیں۔ مثلاً خاتم القوم جب کہیں گے تو اس کے یہی والا اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن پاک میں لفظ ”خاتم طرف مضاف واقع ہوا ہے۔ تو اس کے معنے آخرالنّب
چنانچہ کتاب لسان العرب جو اہل عرب اس میں محاورہ عرب سے اس کے معنی آخر کے بیان ہوئے ہیں۔ اس میں خاتم النبیین کے معنی اس طرح کے آخر میں آنے والے۔ اس کے سوا کوئی دوسرے
”ختام القوم خاتمهم وخاتم علیہ و علیہم الصلوۃ والسلام و الخاتم التنزیل العزیز ماکان محمد ابا احد النبیین ای اخرہم (لسان العرب حصہ ١٠
خاتَم القوم (ت کی زبر) اور خاتِم القوم (ت کی ز خاتم اور خاتَم کو ایک جماعت کی طرف مضاف کر آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم اور خاتَم
جو ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ہے وہاں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں
اسی طرح قاموس ، تاج العروس، مجمع
٥١
جو تفسیر کی گئی ہے۔ وہ بڑے زور سے تصریح بالا کی مؤید ہے۔ ”خاتم النبیین“ میں دو لفظ ہیں۔ ”خاتم“ اور ”النبیین“ قرآن میں لفظ ”خاتم“ دو طرح سے آیا ہے۔ یعنی جناب رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اکثر پڑھنے والوں نے خاتم کی ت کو زبر سے پڑھتے سنا ہے اور بعض نے زیر سے پڑھتے سنا ہے۔ یعنی بعض نے بفتح پڑھا ہے اور اکثر نے بکسر پڑھا ہے۔
جیسا کہ تفسیر فتح البیان وغیرہ سے ظاہر ہے۔ کلام عرب میں خَاتَم، خَاتِم کے چند معنے آتے ہیں۔ مہر کو بھی خاتم کہتے ہیں اور انگوٹھی کو بھی اور آخری کو بھی۔ مگر عرب کے بول چال میں جب یہ لفظ کسی جماعت کی طرف سے مضاف ہو۔ تو اس حالت میں اس کے ایک ہی معنے ہوتے ہیں۔ مثلاً خاتم القوم جب کہیں گے تو اس کے یہی معنی ہوں گے کہ ساری قوم کے آخر میں آنے والا اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن پاک میں لفظ ”خاتم النبیین“ وارد ہے۔ یعنی لفظ خاتم النبیین کی طرف مضاف واقع ہوا ہے۔ تو اس کے معنے آخر النبیین ہی ہوں گے۔ دوسرے معنے نہیں ہو سکتے۔
چنانچہ کتاب لسان العرب جو اہل عرب کے نزدیک نہایت معتبر اور مستند لغت ہے۔ اس میں محاورہ عرب سے اس کے معنی آخر کے بیان کر کے قرآن مجید کی یہی آیت نقل کی ہے جو زیر بحث ہے۔ اس میں خاتم النبیین کے معنی اس طرح بیان کئے ہیں ”اَی آخرھم“ یعنی تمام انبیاء کے آخر میں آنے والے۔ اس کے سوا کوئی دوسرے معنی نہیں کئے۔ اس کی پوری عبارت ملاحظہ ہو:
”ختام القوم خاتمهم وخاتمهم اخرهم ومحمدﷺ خاتم الانبیاء عليه و عليهم الصلوة والسلام و الخاتم و الخاتم من اسماء النبىﷺ و فى التنزيل العزيز ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين اى اخرهم (لسان العرب حصه ١٥ مطبوعه مصر ص ٥٥)“ ﴿ختام القوم اور خاتم القوم (ت کی زبر) اور خَاتِم القوم (ت کی زیر) آخر قوم کو کہتے ہیں (یعنی جب لفظ ختام، خاتم اور خَاتِم کو ایک جماعت کی طرف مضاف کریں تو اس کے معنی آخر اور انتہا کے ہوتے ہیں۔ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور خَاتَم اور خَاتِم دونوں آپ کے نام ہیں اور قرآن شریف میں جو ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين“ آیا ہے وہاں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔﴾
اسی طرح قاموس، تاج العروس، مجمع البحار اور منتہی الارب میں بھی خاتم النبیین کے
٥١
معنے آخر النبیین کے لکھے ہیں اور جب یہ لفظ قرآن مجید کا ہے اور جن کی زبان میں قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ ان کا قطعی فیصلہ ہے کہ اس کے معنی آخر النبیین کے ہیں تو کلام الہی کے نص قطعی سے ثابت ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان ہر متنفس اور ہر بشر پر یہ روشن ہو جائے کہ حضور انور ﷺ کی نبوت و ہدایت کا ماہتاب قیامت تک روشن رہے گا۔ آپ کے خادم علمائے امت اسی روشنی سے مستفید ہو کر ساری امت کو فائدہ پہنچاتے رہیں گے اور یہ علماء ورثۃ الانبیاء کے معزز خطاب سے مشرف رہیں گے۔
یہ وہ عزت اور مرتبہ ہے جو حضور انور ﷺ سے پیشتر کسی نبی کو نہیں ملا۔ اس آیت سے بالیقین ثابت ہو گیا کہ آپ ﷺ پر نبوت ختم ہے اور جو آپ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ کذاب اور مرتد ہے۔ اس کی تصدیق و تفصیل جناب رسول خدا ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمادی ہے اور ایسے جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق پیش گوئی کی ہے جو آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
"وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لانبى بعدى (مسلم، ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ، ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧) “
﴿جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے اور ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ میں خدا کا رسول ہوں، حالانکہ میں تمام انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔﴾
اس حدیث میں پہلے آنحضرت ﷺ اپنی امت کے مدعیان نبوت کو جھوٹا فرما کر ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں ”وانا خاتم النبیین لانبی بعدی“ فرمایا۔ جس کا حاصل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین فرمایا ہے۔ جس کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ مگر حضور ﷺ نے اس کی دوسری تفسیر بیان کرنے کی غرض سے الفاظ بدل دیئے ہیں اور ”لانبی بعدی“ فرمایا ہے۔ یعنی میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔
لفظ نبی نکرہ ہے۔ جو ہر قسم کے نبی کو شامل ہے۔ یعنی جس پر نبی کا لفظ بولا جائے خواہ وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، ظلی ہو یا بروزی، طفیلی ہو یا غیر طفیلی، پھر اس پر لا نفی کا لاکر یہ فرما دیا کہ کسی قسم
٥٢
کا کوئی نبی میرے بعد نہیں آئے گا۔ یعنی کسی انسان کو کسی قسم کا نبوت کا مرتبہ ہرگز نہیں ملے گا۔ یہ حدیث ترمذی، ابوداؤد وغیرہ وغیرہ صحاح ستہ کی متعدد اور مستند کتب میں متعدد صحابہ کرام سے منقول ہے۔ یہ حدیث کئی وجوہ سے قابل غور ہے۔
اوّل! یہ کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ دو باتوں کی پیش گوئی فرماتے ہیں۔ ایک یہ کہ میرے بعد جھوٹے نبی مدعی نبوت آئیں گے۔
دوسرا! یہ کہ میرے بعد کوئی سچا مبعوث نبی ہونے والا نہیں۔ اس مدعا کو مختلف اوقات میں متعدد طریقوں سے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔
صحیح بخاری میں قرب قیامت کی علامت ہے: ”یبعث دجالون کذابون قریب من ثلثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ“ ﴿یعنی قیامت کے قریب تیس جھوٹے دجال اٹھیں گے اور ہر ایک رسالت کا دعویٰ کرے گا۔﴾
ترمذی میں ہے: ”لا تقوم الساعۃ حتی یبعث کذابون دجالون قریب من ثلثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ“ ﴿یعنی جب تک دنیا میں تیس کے قریب جھوٹے دجال، جو دعویٰ نبوت کریں، پیدا نہ ہولیں، قیامت قائم نہ ہوگی۔﴾
صحیح مسلم میں جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے: ”سمعت النبی ﷺ ان بین یدی الساعۃ کذابین فاحذروھم“ ﴿جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول خدا ﷺ سے سنا کہ آپ نے اپنی تمام امت سے فرمایا کہ قیامت کے قریب جھوٹے مدعی نبوت ہونے والے ہیں۔ ان سے بچو۔﴾
دیکھئے! جھوٹوں کے آنے اور ان سے بچنے کی تاکید کس طرح ہو رہی ہے۔ مگر کسی جدید نبی کے آنے اور اس پر ایمان لانے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں آیا۔ حالانکہ اس کا ذکر بھی ضروری تھا۔ بلکہ اس کے برخلاف ”لا نبی بعدی“ اکثر جگہ آیا ہے۔
اب مرزائی صاحبان کا احادیث صحیحہ قطعیہ کے مقابلہ میں قول ”لا فتیٰ الا علیّ لا سیف الا ذوالفقار“ کو پیش کر کے یہ کہنا کہ لا نفی جنس کے واسطے ہمیشہ نہیں ہوتا۔ جیسے اوپر کی مثال میں لا نفی جنس سیف پر نہیں۔ اسی طرح لا نفی جنس نبوت پر نہیں۔ یہ سراسر غلط اور کم عقلی و کم فہمی پر مبنی ہے۔
اوّل! تو اس موقعہ پر مثال پیش کرنا غیر محل ہے۔ کیونکہ حدیث ”لا نبی بعدی“ میں لا حرف استثناء نہیں۔
٥٣
دوسرے! یہ کہ: ”لانبی بعدی“ کو خاص کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی بت پرست ”لا اله الا الله“ کو خاص کر کے یہ معنی کرے کہ جو معبود عالی مرتبہ ہے۔ وہ اللہ ہے۔ اس سے چھوٹے معبودوں کی نفی نہیں ہوتی۔ جو کم مرتبہ کے ہیں۔
اب اگر مرزائی صاحبان بت پرستوں کے شریک اور کلمہ طیبہ کے لائے نفی جنس میں خصوصیت کے قائل ہوں اور چھوٹے معبودوں کو مانیں تو ہم آپ سے خطاب چھوڑ دیں گے اور اگر وہ ان کے معبودوں کو تسلیم نہ کریں گے اور کلمہ ”لا اله الا الله“ سے عام معبودوں کی نفی ثابت کریں گے تو لانبی بعدی میں بھی آپکو عام نفی ماننی پڑے گی۔
اچھا! اس کو چھوڑیئے اور سنئے! آپ فرماتے ہیں: ”فانی اخر الانبیاء (صحیح مسلم)“ یعنی اس میں شبہ نہیں کہ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں۔ اس جگہ میں تو ”لا نبی بعدی“ کی طرح لائے نفی جنس نہیں۔ یہاں تو ”لافتی الا علی“ کا فریب کچھ چل نہیں سکتا۔
ایک اور جگہ وارد ہے: ”انا العاقب والعاقب ليس بعده نبی (بخاری و مسلم)“
جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
ایک اور جگہ ہے: ”لم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة (بخارى ومسلم)“ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ نبوت کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہا۔ مگر مبشرات...... صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ مبشرات کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا سچی خوابیں۔
یعنی نبوت کا کوئی حصہ، کوئی شعبہ اور کوئی جز باقی نہیں رہا۔ صرف عمدہ خوابیں باقی ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ نبوت کے اجزاء میں سے جن کا ہونا نبی کے لئے ضروری ہے، کوئی جز کسی کو نہ ملے گا۔ صرف ایک حصہ اس کا امت محمدیہ کے نیک لوگوں میں پایا جائے گا۔ یعنی صالحین امت محمدیہ خواب دیکھا کریں گے۔ اس صحیح ترین حدیث نے ظلی، بروزی ہر طرح کی نبوت کی نفی کر دی اور نہایت صاف طور پر ثابت کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو کسی طور کی نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔
صحیح ابن ماجہ میں دجال کے بیان میں ایک طویل حدیث مذکور ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ نے نہایت ہی صفائی سے اپنی امت سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے: ”انا اخر
٥٤
الانبياء وانتم اخر الامم (ابن ماجه باب فتنة الدجال ) " ﴿ یعنی میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم تمام امتوں کے آخر میں ہو ۔ ﴾ یعنی آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی امت۔ یعنی امت محمدیہ کے بعد کوئی مرزائی یا بابی یا بہائی یا احمدی امت نہ ہو گی۔ یاد رہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہاں اپنے آپ کو آخر الانبیاء فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہر خاص و عام یہی سمجھتا ہے کہ ہمارے رسول ﷺ سب انبیاء کے آخر میں تشریف لائے۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔
اسی حدیث کا دوسرا جملہ یعنی ”انتم اخر الامم“ پہلے جملہ کی بڑے زور سے تاکید و تشریح کر رہا ہے۔ کیونکہ جب کوئی نبی آتا ہے تو اس کی امت خاص ہوتی ہے اور جب امت محمدیہ کے بعد کوئی امت ہے ہی نہیں تو کوئی نبی بھی نہیں ہو سکتا۔
چونکہ قادیانی حضرات کو حقانیت، فہم، ادراک اور سمجھ سے کچھ واسطہ نہیں اور زبان درازی میں بہت مشاق ہیں۔ اس لئے وہ اس حدیث کے جواب میں دوسری حدیث اپنی ناسمجھی سے پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ بڑے زور سے ختم نبوت کو ثابت کرتی ہے: ”قال رسول الله ﷺ فانى اخر الانبياء وان مسجدى اخر المساجد (صحيح مسلم ج ١ ص ٤٤٦)“ ﴿ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔﴾
اس حدیث کو پیش کر کے کہا کرتے ہیں کہ جس طرح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کہا ہے۔ حالانکہ آپ کی مسجد کے بعد ہزاروں مساجد بنیں اور بنتی رہیں گی۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اپنے آپ کو آخر الانبیاء کہا ہے۔ جس طرح آپ ﷺ کی مساجد کے بعد اور مساجد بنیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے بعد اور انبیاء بھی ہوں گے۔
میرے دوستو ! یہاں بالکل غلط مطلب نکال کر اور عوام الناس کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ لو مجھ سے صحیح مطلب سنو۔ حضور ﷺ نہایت تاکید سے فرماتے ہیں کہ میں آخر الانبیاء ہوں اور چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا لہذا میری مسجد انبیاء کی مساجد کی آخری مسجد ہے۔ چنانچہ دوسری حدیث اس کی مؤید ہے:
”انا خاتم الانبیاء و مسجدى خاتم مساجد الانبياء (كنز العمال ج١٢ ص ٢٧٠)“ ﴿یعنی میں تمام انبیاء کے آخر ہوں اور میری مسجد تمام انبیاء کی مساجد کے آخر میں
٥٥
ہے (یعنی میرے بعد نہ کوئی نبی ہونے والا ہے اور نہ کوئی نبی کی مسجد ہوگی)
چونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کی مفسر ہوتی ہے: ”فان الحديث يفسر بعضه بعضا“ لہٰذا معلوم ہوا کہ آخر المساجد کے معنی آخر مساجد الانبیاء کے ہیں:
یہاں پگڑی اچھلتی ہے، اسے میخانہ کہتے ہیں
ایک اور حدیث میں حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔ البتہ خلفاء ہوں گے جو امت محمدیہ کی سیاسی خدمات انجام دیں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وانه لانبى بعدى و سيكون الخلفاء (بخاری ج ١ ص ٤٩١) ”بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ سیاست کریں گے۔
الغرض حضور ﷺ نے اس حدیث میں اپنے بعد مطلقاً ہر طرح کے نبی کے آنے کی نفی اس طرح فرمادی کہ کوئی شبہ باقی نہیں رکھا اور صاف طور پر فرمادیا کہ نبی نہیں آئیں گے۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔ اس سے زیادہ اور کیا تصریح و تشریح اور توضیح ہوسکتی ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ”عن ابی هريرة ان رسول الله ﷺ قال ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨)“
یعنی جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور کل انبیاء سابقین کی مثال یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک نہایت عمدہ مکان بنا کر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس کے مکان کے چاروں طرف گھومتے اور اس کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے اور کہتے ہیں، اس ایک اینٹ سے اس مکان کی تکمیل کیوں نہیں ہوئی۔ میں وہی ایک اینٹ تعمیر نبوت کا متمم اور مکمل ہوں اور آخر النبیین ہوں۔
اس تمثیل میں خاتم النبیین کے معنی اور مسئلہ ختم نبوت کو اس درجہ صاف و شفاف کر دیا ہے کہ کسی مومن حق پسند کو ہرگز ہرگز شک وشبہ باقی نہیں رہتا۔
٥٦
قرآن کریم اور حدیث رسول کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ قیامت تک چمکتا رہے گا اور یہ بھی ظاہر ہے ہو، وہ مفتری اور کذاب ہے۔
ایک اور حدیث میں صاف طور فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی اور نبوت منقطع ہو گئی۔ میرے بعد نہ کوئی ر
ایک اور جگہ فرمایا: ”لو کان الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩) ”اگر میرے
اس حدیث سے صاف معلو بھی نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ حضرت عمرؓ جو کرنے والے تھے۔ بایں وجہ اگر نبی ہو میں نبوت کی پوری قابلیت تھی۔ ایسے لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی غیر تشریعی کیو آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی غیر تشریعی نہیں (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ و مسلم ج
آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا لا نبی بعدی ”تمہاری نسبت میر مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ السلام نبی غیر تشریعی اور ان کے تابع تھے علیہ السلام سے تشبیہہ دی اور فرمایا کہ میر غیر تشریعی تھے اور میرے بعد چونکہ کوئی مشابہت حضرت ہارون و لیاقت نبوی کے عمرؓ اور حضرت علیؓ غیر تشریعی نبی نہ ہوئے یا مدراسی، بنگالی ہو یا نیپالی، کس طرح نبی
قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ ﷺ سے مثل روز روشن کے ظاہر ہو گیا کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کی نبوت، آپ کی رسالت اور آپ کی شریعت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ ﷺ کے بعد امتی و غیر امتی جو نبوت کا مدعی ہو، وہ مفتری اور کذاب ہے۔
ایک اور حدیث میں صاف طور پر آیا ہے: ”ان الرسالة و النبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی (صحیح مسلم)“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی۔ میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔ ﴾
ایک اور جگہ فرمایا: ”لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب (رواه الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)“ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر بن خطاب ہوتے۔ ﴾
اس حدیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی غیر تشریعی بھی نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ حضرت عمرؓ جناب رسول اللہ ﷺ کی نیابت میں احکام خداوندی انجام کرنے والے تھے۔ بایں وجہ اگر نبی ہوتے تو نبی غیر تشریعی ہوتے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ میں نبوت کی پوری قابلیت تھی۔ ایسے لوگ امم سابقہ میں نبی غیر تشریعی ہوتے تھے۔ باوجود اس کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی غیر تشریعی کیوں نہیں ہوئے؟ اس لئے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی غیر تشریعی نہیں ہوگا۔
(بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨) میں سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی“ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہے جیسی ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ﴾
اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام نبی غیر تشریعی اور ان کے تابع تھے۔ جناب رسول خدا ﷺ نے حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تشبیہہ دی اور فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یعنی حضرت ہارون علیہ السلام تو نبی غیر تشریعی تھے اور میرے بعد چونکہ کوئی نبی تشریعی ہو یا غیر تشریعی ہونے والا نہیں ہے اور تم باوجود مشابہت حضرت ہارون ولیاقت نبوی کے نبی غیر تشریعی نہیں ہو سکتے۔ مقام غور ہے کہ جب حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ غیر تشریعی نبی نہ ہوئے تو دوسرا شخص عربی ہو یا فارسی، افریقی ہو یا ہندی، پنجابی ہو یا مدراسی، بنگالی ہو یا نیپالی، کس طرح نبی غیر تشریعی ہو سکتا ہے؟
٥٧
باقی رہا یہ معاملہ کہ باوجود ان نصوص قطعیہ اور ان احادیث صحیحہ کے مرزائی حضرات کا قرآن شریف کی اس آیت کو امکان نبوت کی دلیل سمجھ کر اپنے موافق الٹا مطلب نکال کر پیش کرنا یہ صریح دھوکہ دہی ہے۔
آیت یہ ہے: ”يابنى ادم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم اياتى فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (اعراف:٣٥)“ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس رسول آئیں، تمہاری جنس کے، اور میری نشانیاں تم سے بیان کریں، جو انہیں سن کر خدا سے ڈرا اور اپنی اصلاح کی انہیں کسی بات کا خطرہ نہیں۔)
اس آیت میں کئی لفظ قابل غور ہیں۔ اول ”یابنی آدم“ یہ خطاب عام بنی آدم سے ہے۔ یا خاص امت محمدیہ سے۔ اس پر غور کرنے کے لئے دیکھا جائے کہ یہ آیت سورہ اعراف کے چوتھے رکوع میں ہے۔ اب اس کے اوپر دیکھا جائے کہ اس کے دوسرے رکوع سے حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر ہے اور سارے رکوع میں انہی کا قصہ ہے اور جب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اللہ نے قبول کی تو اس وقت فرمایا: ”قال اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين، قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف:٢٥)“ (تم میاں بی بی اور شیطان تینوں بہشت سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں ایک کا دشمن ایک ہے اور تمہیں زمین پر رہنا ہوگا اور تم کو وہیں زندگی بسر کرنا ہوگی اسی میں مرو گے اور اسی میں سے دوبارہ نکال کر کھڑے کئے جاؤ گے۔)
آگے چل کر اولاد آدم کو مخاطب کر کے فرمایا: ”يابنى ادم قد انزلنا عليكم لبا سا يوارى سواتكم (اعراف:٢٦)“ (یعنی اے اولاد آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے پردہ دار بدن کو بھی چھپاتا ہے۔)
اب بتلائیے کہ کون عقل کا اندھا کہہ سکتا ہے کہ یہ آیت آدم علیہ السلام کے قصہ سے متعلق نہیں۔ باقی رہا اب یہ حیلہ تراشنا کہ ”یا“ حرف ندا ہے جس کا منادی حاضر الوقت ہوا کرتا ہے۔ اس واسطے قرآن کے نزول کے وقت کی ”بنی آدم“ ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی شے غائب نہیں۔ اس کی قدیم ذات کے آگے ہر ایک زمانہ حاضر
ہی ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں جب کوئی قصہ گویا مخاطب حاضر ہے۔
چنانچہ ذیل کی آیت شاہد ہے: ”یابنی عليكم وانى فضلتكم على العلمين ( احسانات یاد کرو جو ہم تم پر کر چکے ہیں اور اس بات کو کی فوقیت دی۔)
اب بتلائیے کہ ”کم“ سے جن لوگوں ک خطاب کے وقت تھے اور ان کی فضیلت ساری دنی ہر گز نہیں۔ تو پھر ”امایاتینکم“ کا خطاب ک شریف کی دوسری آیات جو اس پیش کردہ آیت کی ت الفاظ میں قصہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں، درج کرت
- ١...... ”قلنا اهبطوا منها جميعا فـ
فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (بـ بہشت سے سب کے سب، پھر اگر میری طرف سـ شخص اس ہدایت کی پیروی کرے گا سو ان پر کچھ ان
- ٢...... ”قال اهبطا منها جميعا بـ
هدى فمن اتبع هداى فلا يضل ولا يش دونوں کے دونوں جنت سے اترو اور دنیا میں ایسی میری طرف سے تمہارے پاس کسی قسم کی ہدایت آئ نہ گمراہ ہوگا اور نہ شقی ۔)
- ٣...... ”الم أعهد اليكم يابنى ادم
اولاد آدم کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کر دی تھی کہ تم یہ خطاب بنی آدم کو تھا اور عہد بھی انہیں کرنا۔ جب قرآن شریف کی دوسری آیات اس تو پھر اس آیت کو ہمیشہ رسولوں کے آنے کے تصو
ہی ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں جب کوئی قصہ بیان کرتا ہے تو ایسے طریقے سے فرماتا ہے کہ گویا مخاطب حاضر ہے۔
چنانچہ ذیل کی آیت شاہد ہے: ”یابنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العلمین (بقرہ:٤٧)“ ﴿اے بنی اسرائیل! ہمارے وہ احسانات یاد کرو جو ہم تم پر کر چکے ہیں اور اس بات کو بھی کہ ہم نے تم کو جہان کے لوگوں پر ہر طرح کی فوقیت دی۔﴾
اب بتلائیے کہ ”کم“ سے جن لوگوں کو اس آیت میں خطاب ہے۔ کیا وہ موجودہ خطاب کے وقت تھے اور ان کی فضیلت ساری دنیا پر ایسی ہی تھی، یا یہ خطاب امت محمدیہ کو ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر ”اما یاتینکم“ کا خطاب کس دلیل سے ہو سکتا ہے۔ اب ذیل میں قرآن شریف کی دوسری آیات جو اس پیش کردہ آیت کی تفسیر کرتی ہیں اور جو اس طرح قریب قریب انہی الفاظ میں قصہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں، درج کرتے ہیں۔
- ١...... ”قلنا اهبطوا منها جميعا فاما یاتینکم منی هدی فمن تبع هدای
فلا خوف علیهم و لاهم یحزنون (بقرہ:٣٨)“ ﴿ہم نے حکم فرمایا کہ نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب، پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کسی قسم کی ہدایت آوے سو جو شخص اس ہدایت کی پیروی کرے گا سو ان پر کچھ اندیشہ نہ ہوگا نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے۔﴾
- ٢...... ”قال اهبطا منها جميعا بعضکم لبعض عدوا فاما یاتینکم منی
هدی فمن اتبع هدای فلا یضل و لا یشقی (طہ:١٢٣)“ ﴿اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں کے دونوں جنت سے اترو اور دنیا میں ایسی حالت میں جاؤ کہ ایک دوسرے کا دشمن ہو گا پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کسی قسم کی ہدایت آوے سو جو شخص میری ہدایت کی اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ شقی۔﴾
- ٣...... ”الم اعهد الیکم یابنی ادم ان لا تعبد الشیطان (یس:٦٠)“ ﴿اے
اولاد آدم کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کر دی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔﴾
یہ خطاب بنی آدم کو تھا اور عہد بھی انہیں بنی آدم سے لیا گیا تھا کہ شیطان کی تابعداری نہ کرنا۔ جب قرآن شریف کی دوسری آیات اس پیش کردہ آیت سے مشابہت و موافقت رکھتی ہیں تو پھر اس آیت کو ہمیشہ رسولوں کے آنے کی نص سمجھ کر قرآن میں تعارض پیدا کرنا کسی مسلمان کلمہ
٥٩
گو کا کام نہیں۔ کیا یہ کل مذاہب اسلام کا مسلمہ اصول نہیں کہ ایسے معنی کسی آیت کے نہ کئے جائیں جو قرآن شریف کی دوسری آیات کے برخلاف ہو کر تعارض پیدا کریں۔
دوسرے ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ آیت آئندہ آنے والے رسولوں کے آنے کے واسطے نص قطعی ہے۔ تو ثابت ہوا کہ حضرت خاتم النبیین اس آیت کے معنی نہ سمجھے تھے۔ کیونکہ حضورﷺ تو ”لا نبی بعدی“ ہی سناتے رہے۔ نعوذ باللہ کس قدر باطل عقیدہ ہے۔
تیسرے یہ کہ ہر مسلم فرقہ کا مسلمہ اصول ہے کہ وحی الہی کا مطلب جو صاحب وحی سمجھتا ہے، وہی درست ہے۔ رسول اللہ ﷺ تو بانگ دہل پکار رہے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ جیسا مختلف احادیث سے جو پہلے بیان ہو چکی ہیں۔ ظاہر ہو رہا ہے اب اس کے خلاف اس کی تفسیر کرنا جہنم میں اپنا گھر بنانا ہے۔
چوتھے اگر سلسلہ انبیاء و رسل جاری ہے۔ تو جس قدر کذاب مدعیان نبوت و رسالت آنحضرت ﷺ کے بعد گزرے ہیں۔ وہ سب کے سب اس آیت سے تمسک کر کے سچے ہو سکتے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی اور ان کی اولاد سب کے سب کافر ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے ان مدعیان نبوت کو نہیں مانا اور نیز اب عبداللطیف گناچوری نے جو رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ اسے بھی ضرور ماننا چاہئے۔ قادیانی جماعت ان کو کیوں نبی نہیں مانتی؟ اس کے انکار سے کیوں کافر ہو رہی ہے۔
پانچویں اگر اس آیت سے آئندہ آنے والے رسول مراد ہیں۔ تو پھر ”یقصون علیکم آیاتی“ کے معنی کیا کرو گے؟ کیونکہ تم مرزائی حضرات تو خود تسلیم کرتے ہو کہ مرزا قادیانی کوئی کتاب اور شریعت نہیں لائے تو ثابت ہوا کہ رسول جو آنے والے ہیں، وہ بقول آپ کے کتاب اور شریعت نہیں لائیں گے۔ اس آیت میں ”یقصون علیکم آیاتی“ ہے لہذا یہ رسول وہی ہیں۔ جو ابتدائے آفرینش سے شروع ہوئے اور حضرت خاتم الرسل پر ختم ہوئے اور آپ کا استدلال اس آیت سے غلط ہے:
چشمہ آفتاب را چہ گناہ
”قد تم الكتاب المستطاب بعون الملك السموات والارضين الذی ارسل آخرالنبيين لهتدی به من له قلب سليم اللهم اجعله نورا وهداية لمن اتبع غير سبيل المسلمين سبيل الطاغين المفسدين الضالين المضلين“
٦٠
انما انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
کارزار قادیان
حضرت مولانا مفتی محبوب سبحانی واعظ رحمہ اللہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گزارش
مرزا غلام احمد قادیانی کے تکبر وغرور نے ان کو ”منشی“ سے ”مجدد“ اور مجدد سے ”نبی“ اور نبی سے ”خاتم النبیین“ اور خاتم النبیین سے ”مسیح موعود“ بنا دیا، اور اسی پر اکتفاء نہ کی بلکہ فرمایا ”دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“ اس بے نظیر ترقی کا اثر یہ ہوا کہ چند اچھے بھلے تعلیم یافتہ قانون پیشہ حضرات بھی ان کے مرید بن گئے، اور سمجھ لیا کہ بس اس سے بزرگ تر ہستی نہ ہوئی، نہ ہوگی۔ لیکن خدا کی شان دیکھئے! اس بڑے بول کا جلد ہی پول کھل گیا اور مرزا جی کے مرید خاص اور شاگرد عزیز ”مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے امیر طائفہ احمدیہ لاہور“ ہی اپنے آقا کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ شاگرد رشید نے نہ صرف مرزا قادیانی کی نبوت ہی سے انکار کیا بلکہ اپنے مرشد کے عقائد کی ہر قدم پر کھلی تردید کر دی۔ نبی اور امتی کے اس باہمی مجادلہ کی کیفیت ہمیں دیر سے معلوم تھی۔ مگر مصروفیات نے فرصت نہ دی کہ ہم ان اختلافات کو مرتب کریں۔ آخر اتفاق سے ”مفتی محبوب سبحانی صاحب“ واعظ سے ملاقات ہوئی جو احمدیت کی حقیقت درون خانہ سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے۔ ہم نے آپ سے اس دیرینہ ارادہ کا اظہار کیا اور آپ نے ہماری تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ جس میں انہیں کامیابی ہوئی، جو اس رسالہ کی شکل میں دنیا کے روبرو پیش کی جاتی ہے۔
یہ مضمون بالاقساط کئی ماہ ”المائدہ“ میں شائع ہوتا رہا اور اس عرصہ میں ہم نے بارہا ”لاہوری احمدیوں“ سے مطالبہ کیا۔ مگر ان کو اس کے جواب میں ایک لفظ کہنے کی بھی جرأت نہ ہوئی اور ہمیں یقین ہے کہ نہ کبھی ہوگی اور جب یہ حال ہو کہ شجر مرزائیت کو اس کی اپنی ہی جڑیں خشک کر کے بے برگ وبار بنا رہی ہوں تو ہم مسیحیوں کو کیا پڑی ہے کہ اس کے استیصال کی جانب متوجہ ہوں۔ ہم امت مرزائیہ کے دونوں (یعنی لاہوری اور قادیانی فرقوں) سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ! اس اختلاف نامہ کے آئینہ میں مرزا غلام احمد متنبّی قادیان کی شکل وصورت کیا نظر آتی ہے؟ یکم اپریل ١٩٣٦ء ...... ایم۔ کے۔ خان (مدیر المائدہ) ٢
نبی اور امتی
ناظرین کرام پر پوشیدہ نہ ر مرزا قادیانی کا وجود باجود ہے اور لفظ ام لاہور کا وجود مسعود ہے۔ چونکہ ہم نے ا کے حسب فرمائش مسٹر محمد علی اور مرزا ق بالکل وضاحت سے بتانا ہے کہ ”حضر امتی“ یعنی جناب مسٹر محمد علی صاحب کچھ مخالف اور مناقض ہوتا ہے۔ اس لئے ق دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں یہ جان لے ک سے اختلافی کارنامہ دکھایا جائے گا۔
اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک ہے۔ جو امتی صاحب کے ذات ستودہ جانتا ہے کہ اس سے پہلے جو اتنا بڑا طویل جماعت پیدا نہیں ہوئی۔ جس نے ایک مقدس پیغمبر و مرسل مانا اور تسلیم کیا ہو اور پر نڈر اور بے دھڑک ہو کر اپنا اختلاف ظا سچ ہے کہ ایسی کوئی جماعت خداوند کریم نے اس شان اور اس عقل چودھویں صدی کے سر پر مجدد مفروضہ ، دانا بندے اس کو دیکھ کر خدا کی قدرت چاہتا ہے، پیدا فرماتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ کسی دوست کے
نبی اور امتی
ناظرین کرام پر پوشیدہ نہ رہے کہ اس لفظ نبی سے مراد جو ہم نے اوپر لکھا ہے۔ حضرت مرزا قادیانی کا وجود باجود ہے اور لفظ امتی سے مراد جناب مسٹر محمد علی صاحب امیر طائفہ مرزائیہ لاہور کا وجود مسعود ہے۔ چونکہ ہم نے اس مسطورہ بالا عنوان کے ماتحت جناب محترم ایڈیٹر المائدہ کے حسب فرمائش مسٹر محمد علی اور مرزا قادیانی کی تحریرات میں باہمی اختلاف دکھانا اور اس امر کو بالکل وضاحت سے بتانا ہے کہ ”حضرت نبی“ یعنی مرزا قادیانی کچھ فرماتے ہیں اور ”حضرت امتی“ یعنی جناب مسٹر محمد علی صاحب کچھ اور کہتے ہیں۔ جو مرزا قادیانی کے قول و ارشاد کے بالکل مخالف اور مناقض ہوتا ہے۔ اس لئے ہم نے سر مضمون پر نبی اور امتی کا عنوان قائم کیا۔ تاکہ ہر دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں یہ جان لے کہ اس عنوان کے ذیل میں یقیناً امتی صاحب کا نبی صاحب سے اختلافی کارنامہ دکھایا جائے گا۔
اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک عجیب اور دلچسپ بات اور بالکل لامثال، اور بے نظیر قصہ ہے۔ جو امتی صاحب کے ذات ستودہ صفات کی بدولت ہمارے سامنے آیا ہے۔ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ اس سے پہلے جو اتنا بڑا طویل اور ممتد زمانہ گزرا ہے۔ اس میں کوئی ایک بھی ایسی قوم یا جماعت پیدا نہیں ہوئی۔ جس نے ایک شخص کو نبی، رسول، پیشوا، امام حق، حکم و عدل اور خدا کا مقدس پیغمبر و مرسل مانا اور تسلیم کیا ہو اور پھر اس کی ہر ایک بتائی ہوئی اور تعلیم دادہ بات سے کھلے طور پر فرار اور بے دھڑک ہو کر اپنا اختلاف ظاہر کیا ہو۔
سچ ہے کہ ایسی کوئی جماعت آج سے پہلے پیدا نہیں ہوئی۔ ہاں اگر کسی جماعت کو خداوند کریم نے اس شان اور اس عقل کا پیدا کیا ہے تو وہ مسٹر محمد علی صاحب کی جماعت ہے۔ جو چودھویں صدی کے سر پر مجدد مفروضہ کے ظہور کے ساتھ ساتھ پیدا ہوئی ہے تاکہ لوگ اور دنیا کے دانا بندے اس کو دیکھ کر خدا کی قدرت تامہ اور مشیت عامہ پر یقین لائیں کہ وہ عزاسمہ جس کو جیسا چاہتا ہے، پیدا فرماتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ کسی دوست کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ مسٹر محمد علی صاحب تو مرزا قادیانی
٣
کی نبوت کے قائل ہی نہیں ہیں۔ وہ تو بارہا اس سے انکار کر چکے اور صاف کہتے ہیں کہ میں مدعی نبوت کو کافر و دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ اس حال میں مسطورہ بالا عنوان قائم کرنا کیونکر درست اور جائز ہو سکتا ہے۔؟ نبی اور امتی کا عنوان تو سب صحیح ہو سکتا ہے جب مسٹر محمد علی صاحب جناب مرزا قادیانی کو نبی و رسول تسلیم کرتے۔ سو جواب اس کے ایسے سائل کو واضح رہے کہ گو مسٹر موصوف بظاہر اس سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ مگر ان کے اندرونی حالات کا مطالعہ کیا جائے اور یہ بغور دیکھا جائے کہ ان کے زیر پردہ ان کے عقائد کی باطنی کائنات کیسی ہے۔ تو میری طرح پر نظر عمیق دیکھنے والا ہر شخص اس امر کے یقین کرنے پر مجبور ہوگا کہ واقعی لاہوری جماعت کے حصہ اکابر اور ان کے امیر صاحب کے اصلی عقائد جن کو وہ جلب زر اور عام مسلمانوں سے چندہ بٹورنے کے لئے چھپائے ہوئے ہیں۔ یہی ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کو خدا کا نبی اور رسول مانتے ہیں اور یہ جو شیعہ حضرات کی طرح تقیہ بازی سے کام لے رہے ہیں۔ یہ صرف مسلمانوں سے پیسے بٹورنے کی خاطر، کیونکہ کوئی مسلمان کسی نئے نبی کی امت کے امیر کو چندہ دینے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔ یہاں پہنچ کر اس امر کی بڑی اشد ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ مسٹر موصوف کی ایسی تحریرات دکھائی جائیں جن سے ہر شخص کو صاف اور واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ واقعی یہ لوگ اور مسٹر موصوف جناب مرزا قادیانی کو ہندوستان کا مقدس نبی اور پنجاب کا برگزیدہ رسول تسلیم اور یقین کرتے ہیں۔ سو یاد رہے کہ جس طرح مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کے بارہ میں فرمایا ہے کہ:
”میں خدا کی اصطلاح میں (چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤١) تمام نبیوں کے اتفاق سے (الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٠) اسلام کی اصطلاح میں (حجۃ اللہ ص ٦) نبی کے حقیقی معنوں (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦) نبی اور رسول ہوں۔ اس واسطے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔“
(تجلیات ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
ٹھیک اسی طرح بغیر ایک بال کے برابر فرق کے مسٹر موصوف نے مانا اور لکھا کہ:
”حضرت مرزا قادیانی ہندوستان کے مقدس نبی ہیں۔“
(ریویو ج ٦ ص ٩٦، ایضاً ج ٢ ص ١٤١)
”نبی آخر الزمان ہیں۔“
(ریویو ج ٦ ص ٩٩)
”مرزا صاحب موعود نبی ہیں۔“
(ریویو ج ٦ ص ٨٣)
٤
”آخری زمانہ کے نبی ہیں۔“
(ریویو ج ٦ ص ٩٦)
”اس زمانہ کے نبی اور نجات دہندہ ہے۔“
(پیغام صلح ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء)
”برگزیدہ رسول ہے۔“
(ریویو ج ٦ ص ١٤٩)
”اللہ کا سچا رسول“
(پیغام صلح ٧ ستمبر ١٩١٦ء)
”انبیاء کے معیار پر ہے۔“
(ریویو ج ٦ ص ٢٧٢، ایضاً ج ٤ ص ٢٦٩)
”مرزا مدعی نبوۃ ہیں۔“
(ریویو ج ٣ ص ٢٦٢، ج ٥ ص ٤٣١)
فیصلہ...... ”جب ہم کسی شخص کو مدعی نبوت کہیں گے، تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ وہ ...... کامل نبوت کا مدعی ہے۔“
(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٨٨)
مندرجہ بالا حوالہ جات سے ناظرین کو روز روشن کی طرح معلوم ہو گیا ہوگا کہ مسٹر موصوف کے اصل عقائد کیا ہیں۔ زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں۔ اب ہم خدا سے توفیق مانگ کر ذیل میں نبی اور امتی کا اختلاف دکھاتے ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کہ اس سے ہماری مراد بجز حق نمائی نہیں۔ بلکہ لاہوری جماعت کی اصلاح کرنا ہے۔ ”ان اريد الا الاصلاح وما توفيقى الا بالله“
نبی کا ارشاد
- ١...... ”خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ کو کہے گا کہ کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری
والدہ کو معبود بنانا اور خدا ٹھہرانا؟ تو وہ جواب دیں گے۔ (سوال و جواب قیامت کو ہوگا)“
(براہین جلد پنجم ص ٤٠، خزائن ج ٢١ ص ٥١)
- ٢...... ”مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تو اس آیت کا مصداق ہے: ”ھو الذی ارسل رسولہ با
لھدیٰ و دین الحق الخ“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
”در حقیقت اس کا مصداق مسیح موعود ہے، اور یہی حق ہے۔“
(اشتہار منارۃ المسیح و دیگر کتب آئینہ وغیرہ)
- ٣...... ”جبکہ وہ ابراہیم ظلم سے آگ میں ڈالا گیا، تو خدا نے آگ کو سرد کر دیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢)
- ٤...... ”خدا کی پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ یونس علیہ السلام خدا کے فضل سے مچھلی کے
پیٹ میں زندہ رہے اور زندہ نکلے۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ١٤، خزائن ج ١٥ ص ١٦، ایضاً ریویو جنوری ١٩٠٣ء)
٥
- ٥....... ”حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ”قولوا انه خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبی
بعده“ اگر اسلام میں نبوۃ نہیں تو پھر آپ لوگوں کے پاس مابہ الامتیاز نہیں۔“
(بدر ٢٥/جون ١٩٠٨ء)
- ٦....... ”جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے۔ وہ اطاعت بھی کرتا ہے۔ ہر حال میں مجھے حکم
ٹھہراتا ہے۔ ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ جو ایسا نہیں کرتا مجھ سے نہیں ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٣٤)
- ٧....... ”یہ بات ہمارے عقائد میں سے ہے اور اس کو ہم قرآن مجید اور انجیل کی شہادت کے
مطابق لکھتے ہیں اور قرآن سے ایسا ہی ثابت ہے کہ مسیح بن باپ پیدا ہوا ہے۔ پس تم صداقت کو مت چھوڑو۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٧٠)
- ٨....... ”میرا ہر ایک الہام صحیح اور خالص ہے اور شریعت کے مطابق ہے۔ میرے کسی الہام
میں نہ کوئی شک ہے، نہ کوئی ملاوٹ، نہ کوئی شبہ ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ترجمہ از عربی)
- ٩....... ”ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(بدر ٥/مارچ ١٩٠٨ء)
- ١٠....... ”قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بن باپ پیدا ہوا ہے۔“
(بدر ١٩/مئی ١٩٠٧ء، ایضاً بدر ٢/جون ١٩٠٣ء)
- ١١....... ”بے باپ پیدا ہونے میں حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت مسیح کی مشابہت دی گئی
ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٤ حاشیہ)
- ١٢....... ”یہ خیال کہ مسیح یوسف سے پیدا ہوا، جاہلانہ خیال ہے اور قرآن کے مخالف ہے۔“
(ریویو جلد اول ص ٤٨)
- ١٣....... ”حضرت مسیح کا یوسف کا بیٹا ہونا اس خیال کی انجیل تردید کرتی ہے اور یہ ایک جاہلانہ
خیال ہے۔“
(ریویو ج ١ ص ٤٨)
- ١٤....... ”رہبانیت کا رواج قدیم سے ہے۔“
(ریویو ج ١ اول ص ١٤٨)
- ١٥....... ”یہ امر ”ولادة بن باپ“ خلاف قانون قدرت نہیں اور عادة اللہ سے باہر نہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٤ حاشیہ)
- ١٦....... ”یہ عیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو مہد (پنگھوڑے) میں باتیں کی ہیں۔ مگر اس
لڑکے نے پیٹ میں دو دفعہ باتیں کی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)
٦
- ١٧....... ”وہ شخص (خضر علیہ
نبی نہیں تھا۔“
- ١٨....... ”میں ایک پہلو سے
- ١٩....... ”آنحضرت کے بعد
- ٢٠....... ”جو احادیث میرے
ہیں۔“
- ٢١....... ”میری وحی قرآن مجی
کم نہیں۔ جو اس کے خلاف کہے
- ٢٢....... ”مقبرہ بہشتی کے ذر
بہشتی ہی ہوگا۔“
- ٢٣....... ”آیت ”وآخرین
- ٢٤....... ”خاتم النبیین کے م
- ٢٥....... ”نبی اس کو کہتے ہیں
- ٢٦....... ”آپ کا نام خاتم ا
اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش
- ٢٧....... ”آنحضرت کی مہر
نبوت کا سلسلہ اب جاری ہے۔“
- ٢٨....... ”خاتم النبیین کے
- ١٧...... ”وہ شخص (خضر علیہ السلام) جس نے کشتی کو توڑا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے، وہ
نبی نہیں تھا۔“
(ازالہ حصہ اول ص ١٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٨)
- ١٨...... ”میں ایک پہلو سے امتی ہوں اور ایک پہلو سے نبی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٨، ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
- ١٩...... ”آنحضرت کے بعد غیر تشریعی نبی آسکتے ہیں۔“
(بدر ٢٧؍ فروری ١٩٠٣ء ص ٣٢)
- ٢٠...... ”جو احادیث میرے الہام کے خلاف ہیں۔ ہم انہیں ردی کی طرح پھینک دیتے
ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤)
- ٢١...... ”میری وحی قرآن مجید اور انجیل کی طرح ہے اور میرا ایمان اپنی وحی کی بابت انبیاء سے
کم نہیں۔ جو اس کے خلاف کہتے ہیں، لعنتی ہیں۔“
(نزول المسیح ترجمہ از اشعار)
- ٢٢...... ”مقبرہ بہشتی کے ذریعہ مومن و منافق کے درمیان امتیاز ہوگا۔ جو اس میں دفن ہوگا وہ
بہشتی ہی ہوگا۔“
(رسالہ الوصیت ملخصا)
- ٢٣...... ”آیت ”واخرین منھم“ سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا۔“
(ملخصاً تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٠، ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢)
- ٢٤...... ”خاتم النبیین کے معنی ہیں صاحب خاتم یعنی صاحب مہر۔“
(چشمہ مسیحی ص ٤٦، حقیقت الوحی ص ٢٧، ٢٨، ٩٧)
- ٢٥...... ”نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٨٠)
- ٢٦...... ”آپ کا نام خاتم النبیین اس وجہ سے ٹھہرا کہ آپ کی پیروی کمالات نبوۃ بخشتی ہے
اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش، (نبی بنانے والی) ہے۔“
(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
- ٢٧...... ”آنحضرت کی مہر کے سوا اور آپ کی اجازت کے بغیر اب کوئی نبوت نہیں چل سکتی۔
نبوت کا سلسلہ اب جاری ہے۔ مگر آپ کی تابعداری اور آپ کی مہر سے۔“
(الحکم ٧؍ اپریل ١٩٠٣ء، ایضاً براہین حصہ پنجم، نیز ایک غلطی کا ازالہ وغیرہ)
- ٢٨...... ”خاتم النبیین کے معنی ہیں صاحب خاتم یعنی نبیوں کی مہر۔ آنحضرت کے سوا کوئی نبی
٧
صاحب خاتم نہیں ہے۔“
(حقیقت الوحی و براہین احمدیہ حصہ پنجم و ازالہ خورد)
- ٢٩...... ”قادیان کے مقام کو خدا نے برکت دی ہے۔“
(الوصیت ص ٢٢)
- ٣٠...... ”انجمن کا مرکزی مقام قادیان ہوگا۔ یہ ضروری ہو گا کہ مقام اس انجمن کا قادیان
رہے۔“
(الوصیت ص ٢٧)
- ٣١...... ”نبی کے لئے صاحب شریعت ہونا شرط نہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ) ”بغیر شریعت کے
نبی آسکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی)
- ٣٢...... ”خدا کی اصطلاح میں (چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤١) تمام نبیوں کے اتفاق
سے (الوصیت ص ١٢) اسلام کی اصطلاح (شرعی اصطلاح) میں (حجۃ اللہ ص ٦ وایضاً لیکچر سیالکوٹ ١٩٠٤ء) حقیقی معنوں میں (براہین حصہ پنجم ص ١٣٨) ہم نبی اور خدا کے حکم کے موافق (تتمہ حقیقت الوحی) نبی ہیں۔“
- ٣٣...... ”نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کسی صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔ (خلاصہ یہ کہ
نبی کا مطاع ہونا ضروری نہیں)“
(براہین حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
- ٣٤...... ”اس سوال کا کہ (کیا مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟) محض انکار کے الفاظ
سے جواب دینا صحیح نہیں ہے۔“
(مفہوم، ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
- ٣٥...... ”قرآن نے صاف فرما دیا کہ نسخ آیت کا آیت سے ہوتا ہے۔ نسخ کے بعد ضرور آیت
منسوخہ کے بجائے آیت نازل ہوتی ہے۔“
(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٦)
- ٣٦...... ”خدا نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔“
(آریہ دھرم حاشیہ ص ٣٥)
- ٣٧...... ”قرآن میں جو ”لکل قوم ھاداً“ واقع ہے۔ اس کے مطابق ہم مانتے ہیں کہ ہر
ایک قوم میں کوئی نہ کوئی ہادی گزرا ہے۔“
(ست بچن)
- ٣٨...... ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا کئی دفعہ سانپ (اژدھا) بنا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٣٩...... ”حضرت مسیح علیہ السلام کی چڑیوں کا معجزہ کے طور پر قرآن مجید سے پرواز ثابت
ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٨
- ٤٠...... ”میرا انکار میرا انکار نہیں بلکہ
بلکہ دوزخ اور جنت کا سوال ہے۔“
- ٤١...... ”میرا نام نبی ہوا، دوسرے
میرے آنے
”میں مسیح سے افضل ہوں۔“ ”یوسف سے بہتر ہوں۔“ ”مجددین سے مجھے امتیاز حا
- ٤٢...... ”رسول کا لفظ جو ہے یہ عام
- ٤٣...... ”بنی اسرائیل میں کئی ایسے
- ٤٤...... ”میرے دعویٰ وغیرہ کی ب
ہے۔ میرے دعویٰ کی بنیاد ہے۔“
- ٤٥...... ”حکم اسے کہتے ہیں کہ ا
جائے۔ (ضمیمہ نزول المسیح ص ٤) ”وحی کہتا ہوں، یہی سچ ہے۔ جو خدا اور رس منہ سے سن کر خاموش ہو جاوے۔“
- ٤٦...... ”مکالمہ کے بعد اور کوئی ا
علامت مکالمہ الٰہیہ ہے۔“
- ٤٧...... ”میں خدا کے حکم سے مبعو
١١ جون ١٩٠٨ء) ”میں اس مکالمہ (خدا جائے۔“ (تجلیات الٰہیہ ص ٢٥) ”میرا د
- ٤٨...... ”عمر مسیح موعود (مرزا قاد
٤٠...... "میرا انکار میرا انکار نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول کا انکار ہے۔ یہ معمولی بات نہیں بلکہ دوزخ اور جنت کا سوال ہے۔"
(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٥)
٤١...... "میرا نام نبی ہوا۔ دوسرے اس کے اہل نہیں تھے۔
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
"میں مسیح سے افضل ہوں۔"
(کشتی نوح، خزائن ج ١٩ ص ١٧)
"یوسف سے بہتر ہوں۔"
(نصرۃ الحق ص ٧٦)
"مجددین سے مجھے امتیاز حاصل ہے۔"
(بدر ص ٢٣ ، مورخہ ١١ / جون ١٩٠٨ء)
٤٢...... "رسول کا لفظ جو ہے یہ عام ہے۔ مجدد پر بھی بولا جاتا ہے۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ......)
٤٣...... "بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی ہے۔"
(بدر ٥ / مارچ ١٩٠٨ء)
٤٤...... "میرے دعویٰ وغیرہ کی حدیث بنیاد نہیں، بلکہ قرآن اور وہ وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ میرے دعویٰ کی بنیاد ہے۔"
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
٤٥...... "حکم اسے کہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو موضوع ٹھہرائے ناطق سمجھا جائے۔ (ضمیمہ نزول المسیح ص ٢) "وحی کے بعد احادیث کیا چیز ہیں۔" (عقیدۃ العجائز) "جو کچھ میں کہتا ہوں، یہی سچ ہے۔ جو خدا اور رسول کو مانتا ہے۔ اس کے لئے ہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سن کر خاموش ہو جاوے۔"
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٨)
٤٦...... "مکالمہ کے بعد اور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہو تو اسے نبی کہا جائے۔ نبوت کی علامت مکالمہ الٰہیہ ہے۔"
(بدر ٢٧ / فروری ١٩٠٤ء ص ٤٢)
٤٧...... "میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں ۔ اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔" (بدر ١١ / جون ١٩٠٨ء) "میں اس مکالمہ (خدا کے حکم میں) شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور آخرت تباہ ہو جائے۔" (تجلیات الٰہیہ ص ٢٥) "میرا دوست وہ جو میری بات مانے۔" (فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٢٥)
٤٨...... "پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) یا آپ کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ "دمشق" کی طرف
٩
سفر کرے گا۔“
(ترجمہ از عربی حمامۃ البشریٰ ص ٣٧، ایضاً الحکم ١٤؍ اپریل ١٩٠٨ء)
٤٩...... ”خدا اس کی (مرزا قادیانی) کی نسل سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا (مرزا قادیانی کا) جانشین ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٥)
٥٠...... ”مرزا قادیانی سلطان ترکی کی بابت لکھتے ہیں کہ سلطان کا خلیفہ المومنین ہونا صرف اپنے منہ کا دعویٰ ہے۔ دراصل حقیقی خلافت یہی ہے جو مجھے خدا نے دی ہے۔“
(خلاصہ از مجموعہ اشتہارات مرتبہ مفتی محمد صادق صاحب ص ٢٠٤)
٥١...... ”خضر کا بچے کو قتل کرنا یہ امر دلیل ہے کہ اس کا الہام قطعی تھا (یعنی اس نے اپنے الہام کو حجت قطعی ٹھہرایا) مگر وہ نبی نہیں تھا۔ (یعنی اس سے اس کا نبی ہونا ثابت نہیں ہوتا)
(نزول المسیح ص ٨٩)
٥٢...... ”میرا پہلا لڑکا محمود بشارۃ کے ماتحت پیدا ہوا۔“ (تریاق القلوب) ”کان اللہ نزل من السماء“ گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٧، ٥٦٨) بشارت کے ماتحت جو پیدا ہوں وہ نیک اور صالح ہوتے ہیں۔ (آئینہ خ ص ٥٧٨ حاشیہ) ”محمود اپنے کاموں میں الوالعزم ہوگا، جس کی وجہ سے لوگ ہدایت پائیں گے۔“
(سبز اشتہار حاشیہ خ ص ١٥ تا ١٧)
٥٣...... ”مجھ سے پہلے خلفاء (وغیرہ) کو یہ مرتبہ (نبوت) کسی کو نہیں دیا گیا تا کہ ختم نبوت پر یہ نشان ہو۔“
(خلاصہ تذکرۃ الشہادتین ص ٤٣)
٥٤...... ”اس میں (مسیح کی ولادت بن باپ میں) ایک عجوبہ قدرت (اعجاز) ہے جس کے لئے آدم کی مثال کا ذکر کرنا پڑا۔“
(بدر ١١؍مئی ١٩٠٧ء ص ٣)
٥٥...... ”ہمارا عقیدہ ہے کہ مسیح بن باپ پیدا ہوا ہے اور یہی راہِ صداقت ہے۔“ (مواہب الرحمٰن ص ٧٠) ”قرآن مجید سے ایسا ہی ثابت ہے اور ہم قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔“ (بدر ١٩٠٧ء و الحکم ١٩٠١ء) خلاصہ یہ کہ یہ اسلامی عقیدہ سے ثابت ہے۔ (واعظ)
٥٦...... ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر قائم نہیں رہنے دیتا۔“
(ایام الصلح)
(عقیدۂ ولادت بن باپ پر قائم رہے۔ واعظ!)
٥٧...... ”اس میں شک نہیں (یعنی یقینی بات ہے کہ) سری کرشن اپنے وقت کا نبی اور اوتار تھا۔“
(پیغام صلح آخری لیکچر ص ١١)
١٠
٥٨...... ”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس امت میں نبوت کا سلسلہ نہیں وہ مردہ امت ہے (یعنی خیر امت کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی) دوسرے مذاہب کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔“
(بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء)
نوٹ...... تحریر بالا میں لفظ دین کی بجائے ہم نے امت کا لفظ لکھا ہے۔ ایک اس لئے کہ دونوں لفظوں کا مآل ومفہوم ایک ہے اور دوسرا اس لئے بھی کہ ناظرین امتی صاحب کے اختلاف کو بآسانی سمجھ سکیں۔ (واعظ)
٥٩...... ”یورپ، امریکہ اور دیگر تمام ممالک میں جو عذاب نازل ہو رہا ہے۔ یہ سب میرے دعویٰ کے بعد ہے اور میری وجہ سے ہے۔ کیونکہ اس کے وقت کوئی دوسرا رسول (میرے سوا) پیدا نہیں ہوا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٢، ٥٣، ٦٤، ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٧)
٦٠...... ”پہلے مسیح کو جو خدا بنالیا گیا تھا۔ یہ کوئی صحیح اور واقعی امر نہ تھا تا کہ دوسرے مسیح (مرزا قادیانی) میں اس کی مشابہت تلاش کی جائے۔“
(اشتہار مطبوعہ قادیان ٤ نومبر ١٩٠٠ء ص ٢ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٠)
(مطلب یہ ہے کہ پہلے مسیح کی طرح میرے حق میں کسی جماعت کا غلو یہ کہہ کر مماثلت دکھانا درست نہیں ہے)
٦١...... ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ میری تکذیب خدا اور رسول کی تکذیب ہے۔“ (مجموعہ فتاویٰ جلد اول ص ١٥) ”منکر کو (جو ہم پر ایمان نہیں لایا) ہم کافر ہی قرار دیں گے۔“ ملخصاً
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، ١٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
(غرضیکہ مرزا قادیانی نے مذکورہ بالا کتابوں میں غیر احمدیوں کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور اپنے منکر کو آنحضرت ﷺ کا منکر ٹھہرایا ہے)
٦٢...... ”ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر (بند) کر دیا ہے کہ خدا کے نزدیک مومن وہی لوگ ہیں کہ جو صرف خدا پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خدا اور رسول دونوں پر ایمان لاتے ہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ١٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٢) ”خدا پر ایمان لانا رسولوں کے ساتھ ایمان لانے سے وابستہ ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٣١)
(خلاصہ یہ کہ رسولوں کے ساتھ ایمان لائے بغیر انسان مومن نہیں ہو سکتا)
١١
٦٣...... ”اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو، مصدقین (ایمان لانے والے) لوگوں کے سوا یعنی احمدیوں کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج١ ص١٨،١٩)
٦٤...... ”متوفی اگر سلسلہ کا مخالف تھا تو اس کا جنازہ مت پڑھو۔“
(فتاویٰ احمدیہ ص١١٨)
”جو ہمارا مصدق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں۔ وہ بھی ہمارا مخالف ہے۔“
(البدر مورخہ ٢٤؍اپریل ١٩٠٣ء)
٦٥...... ”جہاد پہلے روا رکھا گیا تھا۔ اب حرام ہے۔“ (مفہوم گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص٧) ”ایک حکم لے کر آیا ہوں کہ اب سے جہاد کا خاتمہ ہے۔“ (ص١٤) ”میری بعثت سے مقصود منع جہاد ہے۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٣٠ ترجمہ از عربی) ”اور نہ آئندہ جہاد کا انتظار ہے۔“ (خلاصہ یہ کہ اب جہاد حرام ہے اور اگر پہلے روا رکھا گیا تھا تو اب منسوخ ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ واعظ)
٦٦...... ”کوئی مومن میرا انکار نہیں کر سکتا۔“ (خطبہ الہامیہ ص٤١، خزائن ج١٦ ص٧٧) ”میرے منکر کافر ہیں۔“ (ص١٤٧) ”جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں، اور نہ ہی اس کا قرآن اور سورۃ فاتحہ پر ایمان ہے۔ مخلصاً (ص١٣٢) (غرضیکہ جو کلمہ گو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ واعظ)
٦٧...... ”یہ فرقہ اصول کے اعتبار سے دوسرے (فرقوں) سے امتیاز رکھتا ہے۔ اس میں تلوار کا جہاد نہیں نہ اس کا انتظار ہے۔“
(اشتہار مطبوعہ قادیان ١٤؍نومبر ١٩٠٠ء ص١)
٦٨...... ”اس کا نام فرقہ احمدیہ ہے۔ جو اصول کے لحاظ سے بالکل ممتاز ہے۔“
(ص٤ اشتہار مذکورہ)
٦٩...... ”یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ جو بصورت ...... اقوال انبیاء سے ظہور میں آتے رہے ہیں۔ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک تھے۔ جیسا کہ ...... حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغ گوئی میں داخل تھا۔ تو اس کی وجہ سے کوئی بدگمانی پیدا کرے تو وہ خبیث اور پلید ہے۔“ وغیرہ وغیرہ۔ ملخصاً (آئینہ کمالات اسلام ص٥٩٦، ٥٩٨، خزائن ج٥ ص٥٩٧) خلاصہ یہ کہ جناب مرزا قادیانی نے ”لـــــم یـــــکـــــذب ابراهیم“ والی حدیث کو درست اور صحیح سمجھا ہے اور اس پر یا اس کی وجہ سے اعتراض کرنے والے کو خبیث اور پلید ٹھہرایا ہے اور غالباً اسی حدیث کو اپنی کتاب ”فتح مسیح“ میں بقبیل توریہ لکھا اور توریہ کو از روئے حدیث جائز ٹھہرایا ہے۔“ (ملاحظہ ہو ص١٩ نمبر٢ نورالقرآن طبع٢) اور فرمایا کہ کوئی احمق ہی
١٢
اس کو حقیقی کذب سمجھے۔ (ص١٩ والی حدیث بالکل صحیح ہے اور نـ حدیث کو غلط قرار دینا اور بھی زیا ٧٠...... ”خدا تعالیٰ دنیا میں نہیں بھیج دیتا۔ وہ خود کہتا ہے“ امریکہ میں کوئی رسول پیدا نہیں
٧١...... ”اھدنا الصـ تمہیں یقین کے مرتبہ تک پہنچ
”یہ امت ہر ایک
٧٢...... ”مـا کنا معذبیـ آتا۔ جب تک کہ پہلے رسول
٧٣...... ”ہم دعویٰ سے کـ گیا ہوں۔“ ٧٤...... ”آنحضرت ﷺ ہوئی کہ ”ان مثل عیسیٰ ہے۔ اسی طرح مسیح بھی بن ٧٥...... ”نبوت کا درواز ١٧؍اپریل ١٩٠٣ء) ”آنحضر کا دروازہ بند کرنا اس امت ٧٦...... ”بتاؤ کونسی حدیـ تا تھا۔“
اس کو حقیقی کذب سمجھے ۔ (ص١٩) خلاصہ مطلب یہ کہ ”لم یکذب ابراہیم الا ثلاث کذبات“ والی حدیث بالکل صحیح ہے اور جو اس کو حقیقی کذب ٹھہراتا ہے وہ احمق ہے اور پھر اس بناء پر اس حدیث کو غلط قرار دینا اور بھی زیادہ حماقت ہے۔ واعظ)
- ٧٠....... ”خدا تعالیٰ دنیا میں عذاب نازل نہیں کرتا جب تک کہ پہلے اس سے کوئی رسول یا نبی
نہیں بھیج دیتا۔ وہ خود کہتا ہے ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا“ ظاہر ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کوئی رسول پیدا نہیں ہوا۔ پس ان پر جو عذاب نازل ہوا۔ وہ میرے دعویٰ کے بعد ہوا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٥٣،٥٢،خزائن ج٢٢ص٤٨٧)
- ٧١....... ”اهدنا الصراط المستقیم“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ لہذا ضرور ہوا کہ
تمہیں یقین کے مرتبہ تک پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص٣٢)
”یہ امت ہر ایک وہ انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے۔“
(ازالہ خرد ص ٣ حاشیہ)
- ٧٢....... ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا“ سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم پر عذاب نہیں
آتا۔ جب تک کہ پہلے رسول نہ بھیج دیا جائے۔“ ملخصاً
(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٤، ٦٥، خزائن ج٢٢ص٤٩٩)
- ٧٣....... ”ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ ہم نبی ہیں۔ نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا
گیا ہوں۔“
(حقیقت الوحی)
- ٧٤....... ”آنحضرت ﷺ پر نجران کے مسیحی علماء کی طرف سے سوال کیا گیا تو یہ آیت نازل
ہوئی کہ ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم“ یعنی جس طرح آدم بلا ماں باپ پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح مسیح بھی بن باپ پیدا ہوا ہے۔“ ملخصاً
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٣٩)
- ٧٥....... ”نبوت کا دروازہ بالکل بند نہیں۔ بلکہ آنحضرت کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔“ (الحکم
٧ اپریل ١٩٠٣ء) ”آنحضرت کے بعد غیر تشریعی نبی آسکتے ہیں۔“ (بدر ٢٤؍ فروری ١٩٠٣ء) ”نبوت کا دروازہ بند کرنا اس امت کو الہام الٰہی سے محروم رکھنا ہے۔“
(الحکم و حقیقت الوحی وغیرہ صفحہ مذکورہ)
- ٧٦....... ”جنات کو سلیمان علیہ السلام کے مرنے کا پتہ نہ بتایا مگر گھن کے کیڑے نے جو عصا کو کھا
رہا تھا“
(نزول المسیح ص٤٠)
١٣
٧٧...... ”لوگوں نے خدا کے نشانوں کا جو اس کے فرستادہ کے لئے اس زمانہ میں ظاہر ہوئے ہیں، قدر نہ کیا اور خدا کے نبی (مرزا قادیانی) کو جو اصلاح خلق کے لئے آیا، رد کر دیا۔“
(لیکچر لاہور طبع اول ص ٣٨)
٧٨...... ”کسی نبی کے متبع کی انبیاء علیہم السلام کی آزمائش کی طرح آزمائش کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩)
٧٩...... ”خدا کے حکم سے ایوب نے اپنی قسم کو اس طرح پورا کیا ہے کہ اپنی بیوی کو سو تنکوں کا ایک جھاڑو مارا ہے۔“
(رہنمائے خاتون حصہ اوّل مرتبہ فخر الدین ملتانی ماخوذ از الحکم)
٨٠...... ”اسلام نے بیاہ شدہ عورت اگر زنا کرے تو اس کے لئے رجم (سنگسار) کرنے کی سزا بتائی ہے۔“
٨١...... ”ایک زمانہ میں خدا نے شیطان کو ایوب پر مسلط کر دیا تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٤)
٨٢...... ”دابۃ الارض سے مراد طاعون ہے۔“
(نزول المسیح ص ٣٨)
نوٹ...... یادرہے کہ جو مرزا کہیں وہی درست ہوتا ہے جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا ہے کہ میری ہر بات سچ ہے۔ ”فاعتبروا!
٨٣...... ”چلہ کرنا صلحاء مسلمانوں کا طریق ہے۔“
(ست بچن ص ٥٠)
٨٤...... ”دوسرے عالم میں جزا وسزا بھگتنے میں ارواح کے ساتھ یہ اجسام بھی شریک ہوں گے۔“
٨٥...... ”اگر حضرت مسیح کچھ دن اور زندہ رہتے تو شادی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔“
امتی کا انکار
١...... ”یہ کلام جو (مسیح و خدا کے درمیان ہوا) عالم برزخ کا ہے۔ جو نزول سے پہلے ہو چکا ہے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٤٥٩، ٤٦١)
قیامت میں نہیں ہوگا۔
٢...... ”یہ کہنا یہ آیت ”هو الذی ارسل رسولہ“ مسیح موعود کے حق میں ہے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جس رسول کا ہدی ودین الحق لے کر آنے کا ذکر ہے۔ وہ محمد رسول اللہ نہیں بلکہ مسیح موعود ہے۔ کسی معتبر کا قول نہ دکھا سکو تو شرم کا مقام ہے۔“
(احمد مجتبیٰ ص ٣٣)
١٤
- ٣...... ”کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالا گیا ہو۔“
(بیان القرآن ص ١٢٧٥)
- ٤...... ”قرآن مجید میں کسی جگہ مذکور نہیں کہ یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔“
(بیان القرآن مصنفہ احمق ص ١٢٨٠)
- ٥...... ”(نبوت کے بند نہ ہونے میں) ایک عائشہؓ کا قول پیش کیا جاتا ہے جس کی کوئی سند
نہیں ہے۔ یہ غرض پرستی ہے۔ خدا پرستی نہیں۔“
(بیان القرآن ص ١٥١٦)
- ٦...... ”حکم وعدل کے یہ معنی نہیں کہ ہر ایک مسئلہ میں آپ (مرزا قادیانی) حکم وعدل ہیں۔
آپ کی ہر ایک بات واجب التسلیم نہیں ہے۔ ایسا مانا جائے تو پھر امن ہی اٹھ جاتا ہے۔“
(پیغام ص ١٢، ١٥ مئی ١٩١٨ء)
- ٧...... ”مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ بیشک تھا، لیکن قرآن مجید کی کسی آیت سے اس کو ثابت نہیں
کیا اور نہ کوئی فیصلہ دیا جو حقیقتاً فیصلہ کہا جاسکے۔“
(پیغام ١٢، ١٥ مئی ١٩١٨ء)
- ٨...... ”خود حضرت نے لکھا ہے کہ میں کسی الہام کو قرآن وحدیث کے مخالف پاؤں تو اسے
گنہگار کی طرح پھینک دیتا ہوں۔“ (شناخت مامورین ص ٢٠) مرزا قادیانی نے ایسا نہیں لکھا۔ بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ میرا ہر الہام صحیح ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پس پھینکنے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ غلط بھی ہوتا ہے۔ لاحول......
- ٩...... ”حضرت مرزا قادیانی کا دعویٰ مجدد ہونے کا تھا جو آنحضرت کے بعد دعویٰ نبوت
کرے وہ کافر و دجال ہے۔“
(پیغام ج ١٣ نمبر ٢٥ ص ٦ کالم ٢)
- ١٠...... ”میرے نزدیک یہ نتیجہ (ولادت بن باپ کا) الفاظ قرآن سے نہیں نکلتا۔“
(بیان القرآن ص ٤١٤)
- ١١...... ”مشابہت صورت خلق (پیدائش) میں نہیں بلکہ بشریت میں دی گئی ہے۔“
(بیان القرآن ص ٢٣٩)
- ١٢...... ”حضرت مسیح علیہ السلام یوسف کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہیں۔“
(تفسیر مذکورہ ص ٣٦٢، ١٢٠٨)
١٥
- ١٣...... ”انجیل سے یوسف کا بیٹا ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ خیال کہ بیٹا نہیں تھا۔ ایک وہم
ہے ۔“
(کتاب ولادت مسیح مصدقہ محمد علی)
- ١٤...... ”رہبانیت اور ترک دنیا کا طریق عیسائیوں کی ایجاد ہے۔“
(تفسیر ص ٢٩٥)
- ١٥...... ”یہ امر ’ولادۃ بن باپ‘ قانون قدرت اور عادۃ اللہ سے باہر ہے۔ بلکہ بالکل
خلاف ہے۔“
(کتاب ولادت مسیح)
- ١٦...... ”یہ مسیح کے زمانہ نبوت کا کلام ہے، نہ اس کی پیدائش کے فوراً بعد کا، یعنی مہد
(پنگھوڑے) میں یا گود میں باتیں نہیں کیں۔“
(بیان القرآن ص ١٢١٣)
- ١٧...... ”حضرت خضر علیہ السلام کا اپنی وحی کو قطعی ٹھہرانے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ نبی
تھے۔“
(بیان القرآن ص ١١٨٥)
- ١٨...... ”امت میں ہو کر نبوت کا دعویٰ کرنا کذاب کا کام ہے۔“
(النبوت فی الاسلام ص ١١٥)
- ١٩...... ”نبوت تشریعی اور غیر تشریعی ہر دو بند ہیں۔“
(النبوت فی الاسلام ص ١١٥)
- ٢٠...... ”کیا مرزا قادیانی کو لے کر ہم حدیث کو جواب دے دیں؟“
(پیغام ج ٣ ص ٥)
- ٢١...... ”مرزا قادیانی کے الہامات قرآن کے ہم پلہ نہیں۔ ہم قرآن اور احادیث کو الہامات
پر مقدم سمجھتے ہیں۔“ (پیغام ج ٥ نمبر ٣ ص ٩٢، ٩٣) ”حدیث ضعیف ہم مقدم بر الہام است (القول المجید)“
- ٢٢...... ”ہم نے قادیان کی خاطر حق کو نہ چھوڑا اور نہ مقبرہ بہشتی میں جانے کے لئے دوزخ کو
مول لیا۔“
(تبدیلی عقیدہ کا الزام ص ١٨)
- ٢٣...... ”یہاں ’واخرین منھم‘ میں کسی دوسرے نبی کے آنے کی کوئی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ
نص صریح ہے کہ نبی نہیں آسکتا۔“
(ملخصاً النبوۃ فی الاسلام ص ١٢٦ و بیان القرآن ص ١٨٤٨)
- ٢٤...... ”نبیوں کے خاتم کے معنی مہر نہیں۔ بلکہ آخری نبی ہیں۔“
(بیان القرآن ص ١٥١٥)
- ٢٥...... ”نبی وہ ہوتا ہے جو اپنی بات کو بلا دلیل منوائے۔“
(پیغام صلح ١٢؍ جنوری ١٩١٥)
- ٢٦...... ”ایک تنکا کا سہارا لے کر جھٹ پٹ بول اٹھے کہ خاتم النبیین کا معنی ہے اپنی مہر (توجہ
روحانی) سے نبیوں کا بنانے والا (نبی تراش) نہ رسول نے نہ کسی مفسر نے یہ معنے کئے۔“ -
(پیغام آخری نبی نمبر ٢٩ ؍ اگست ١٩٢٨ء ص ٤١)
١٦
- ٢٧....... ”یہ کہہ دینا کہ نبوت تو اب بھی (جاری) ہے۔ مگر آنحضرت کے اتباع (تابعداری)
سے ملتی ہے۔ یہ لفظی کھینچ تان ہیں۔ جوختم نبوت کے منکر کو کرنی پڑتی ہیں۔“
(پیغام ٢٩ اگست ١٩٢٨ء ص ١١)
- ٢٨....... ”جو لوگ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر لیتے ہیں وہ صریحاً رسول کریم کی خلاف
ورزی کرتے ہیں۔“
(پیغام ٢٩ اگست ١٩٢٨ء)
- ٢٩....... ”قادیان کا مقام ہلاکت کا موجب ہوا۔“
(نوٹ بر الوصیت ص ٢٤ از محمد علی)
- ٣٠....... ”احمدیہ انجمن جو مرزا قادیانی کی مقرر کردہ حقیقی جانشین ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر لاہور
(مدینہ المسیح) پڑا۔“
(حاشیہ الوصیت ص ٢٤ از محمد علی)
- ٣١....... ”ہر نبی صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہوتا ہے۔“
(بیان القرآن ص ٥٤٦ ایضاً ص ٤٥٠، ٤٤٤)
- ٣٢....... ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) شرعی اصطلاح میں نبی اور رسول نہ تھے۔ بلکہ آپ
ان معنوں میں نبی تھے، جن معنوں میں اس امت کے دوسرے مجدد بھی نبی اور رسول ہو سکتے ہیں۔“
(ٹریکٹ میرے عقائد ص ٢)
- ٣٣....... ”نبی مطاع ہوتا ہے۔ مطیع (متبع) نہیں ہوتا۔“ (بیان القرآن ج ١ ص ١٨٦، ایضاً ٥٤٦)
- ٣٤....... ”بجواب سوال دربارۂ نبوت مرزا قادیانی گورداسپور کے مقدمہ کے سلسلہ میں فرمایا
کہ ”میرے عقیدہ کے مطابق مرزا غلام احمد نبی نہیں تھے۔“
(پیغام صلح مورخہ ٤؍ جون ١٩٣٥ء)
- ٣٥....... ”قرآن کریم کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں اور نہ آئندہ ہوگی۔“
(پیغام صلح مورخہ ٤؍ فروری ١٩٣٢ء)
- ٣٦....... ”یہ معنی لینا کہ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا، صحیح نہیں ہے۔“
(بیان القرآن ج ٣ ص ١٤٧٢)
- ٣٧....... ”بعض نے ”لکل قوم ھاداً “ کے یہ معنی کئے ہیں کہ ہر قوم میں ایک ہادی ہو گزرا
ہے۔ مگر یہ معنی موزوں نہیں ہیں۔“
(بیان القرآن ج ٣ ص ١٠١٢)
- ٣٨....... ”عصاء موسیٰ میں اژدھا (سانپ) بننے کی صفت نہ تھی۔ نہ اس کا قرآن میں کہیں ذکر
ہے۔ یہ غلط خیال ہے۔“
(بیان القرآن ج ٢ ص ٧٦٩)
١٧
- ٣٩ ...... ”مسیح کے پرندوں (چڑیوں) کو سچ مچ اڑنے والا قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ اس میں کوئی
اعجاز کا رنگ نہیں۔“
(بیان القرآن ج ١ص ٣٢٠، ٣٢١)
- ٤٠ ...... ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا انکار معمولی مجددوں کے انکار سے ذرا زیادہ سخت
ہے۔“
(پیغام صلح ج ٣ ص ٢٣)
- ٤١ ...... ”مجددین میں سے ایک مجدد مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی ہیں۔“ (اس سے زائد کچھ
نہیں ہیں) چودھویں صدی کے ایک مجدد ہیں اور بس! خلاصہ مطلب۔ -
(پیغام صلح ج ٢ ص ٢٣)
- ٤٢ ...... ”رسول اور نبی ایک ہے۔“ (مطلب یہ کہ رسول کا لفظ عام نہیں ہے۔)
(بیان القرآن ج ٢ ص ١٢١٨)
- ٤٣ ...... ”ہر ایک نبی کے ساتھ کتاب اتاری، بغیر کتاب کے نبی نہیں ہو سکتا۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ١٨٦)
- ٤٤ ...... ”سلسلہ احمدیہ کا ثبوت حقیقت (مرزا قادیانی کا دعویٰ و تعلیم) کی دارومدار (بنیاد)
احادیث ہیں۔“
(القول المجدد سرورق ص ٢)
- ٤٥ ...... ”اگر امام (مرزا قادیانی) بھی ہم سے وہ بات منوانی چاہیں جس کی ...... احادیث میں
سند نہ ہو تو ہم اس کو نہیں مانیں گے۔ ...... احادیث کو کہاں جا رکھیں؟ (پیغام ج ٣ نمبر ٨) ”یہ لوگ غلطی کھا سکتے ہیں۔ پس ان کا قول سنت پر ”حکم“ نہیں ہو سکتا۔ ان کے تمام اقوال کتاب اور سنت پر ہی پرکھے جائیں گے۔“
(پیغام صلح ج ١٠ نمبر ٢ ص ٥)
- ٤٦ ...... ”اللہ تعالیٰ اس امت کے اولیاء سے کلام کرتا ہے۔ یعنی وہ مکالمہ سے مشرف ہوتے
ہیں ۔ مگر وہ نبی نہیں ہوتے۔“ (مکالمہ نبوت نہیں)
(مفہوم ٹریکٹ اسلام کا دور جدید آخری صفحہ)
- ٤٧ ...... ”حضرت مرزا قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد مانتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں
نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت (مجددیت) کا ہے۔ جو خدا کے حکم سے ہے۔ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ہرگز نہیں مانتے۔“
(ٹریکٹ اسلام کا دور جدید آخری صفحہ)
- ٤٨ ...... ”آپ کے (مرزا قادیانی) بعد خلافت کا سلسلہ نہیں۔ آپ خود خلیفہ ہیں تو خلافت
را چہ معنی؟
(از حاشیہ الوصیت ص ٦٥ مطبوعہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور)
- ٤٩ ...... ”مرزا قادیانی کے بعد کوئی ایک شخص جانشین نہیں ہو گا۔ بلکہ حضرت صاحب نے
ساری انجمن کو اپنا جانشین قرار دی
- ٥٠ ...... ”سلطان ٹرکی خلیفہ
صحیح (حقیقی حق دار ہے)“
- ٥١ ...... ”خضر کو اپنی وحی (ال
وہ رسول اور نبی تھے۔“ (قطعیہ ٹھہرایا گیا ہے۔“
- ٥٢ ...... ”میاں (محمود) صا
موت سے بدتر سمجھنے والے“ (پ بنائے گا۔“ (النبوت فی الاسلام ص تباہ کر دیا، اور ہدایت کو پس پشت نہیں ہیں) (پوسٹر اہل پیغام)
- ٥٣ ...... ”اس امت میں جس
- ٥٤ ...... ”اگر معجزانہ پیدائش
پیدا ہوئے ہیں تو قرآن کریم میں
- ٥٥ ...... ”حضرت مسیح کی ب
اصول ہے۔“
گویا مسیح موعود کا کام رہے۔
- ٥٦ ...... ”ولادت بن باپ
- ٥٧ ...... ”کرشن کے نبی ہو
بلکہ اجتہاد ہی اجتہاد ہے)
- ٥٨ ...... ”کسی دوسرے نبی
امت کہلانے کی فضیلت م) جو
ساری انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا نہ ایک شخص۔
(حاشیہ الوصیت مذکور)
- ٥٠ ...... ”سلطان ٹرکی خلیفہ ہے اور آیت استخلاف کے ماتحت ہے۔ وہی اس خلافت اسلامی کا
صحیح (حقیقی حق دار ہے)“
(پیغام ٢٥؍ جنوری ١٩٢٠ء)
- ٥١ ...... ”خضر کو اپنی وحی (الہام) کو قطعی حجت (یقینی) ٹھہرانے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ
وہ رسول اور نبی تھے۔“ (قطعیت الہام کو مرزا قادیانی کے خلاف ہو کر خضر کی نبوت کا ثبوت ٹھہرایا گیا ہے۔“
(بیان القرآن ص ١١٨٥)
- ٥٢ ...... ”میاں (محمود) صاحب اور ان کے مریدین اثیم، اظلم، شہادت حقہ کی ادائیگی کو
موت سے بدتر سمجھنے والے‘ (تبدیلی عقیدہ کا الزام ص ٢) ”سیاہ باطن، ظالم، خدا انہیں لعنت کا مورد بنائے گا۔“ (النبوت فی الاسلام ص ٣١٢) ”میاں محمود کو گمراہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جماعت کو تباہ کر دیا، اور ہدایت کو پس پشت ڈال دیا۔“ (مولوی صاحب کے نزدیک میاں صاحب صالح نہیں ہیں) (پوسٹر اہل پیغام)
- ٥٣ ...... ”اس امت میں جس قسم کی نبوت ہو سکتی ہے۔ وہ حضرت علیؓ کو ضرور ملی ہے۔“
(النبوت فی الاسلام ص ١١٥)
- ٥٤ ...... ”اگر معجزانہ پیدائش سے (عجوبہ قدرت کہنے سے) یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح بن باپ
پیدا ہوئے ہیں تو قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں لکھا۔“
(حقیقت المسیح ص ٨)
- ٥٥ ...... ”حضرت مسیح کی بن باپ پیدائش اسلامی عقائد میں داخل نہیں۔ بلکہ عیسائیت کا
اصول ہے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٤٣٦، ٤٣٧)
گویا مسیح موعود کا کسر الصلیب خود تا دم آخر اس عیسائیت کے غلط اصول کے پابند رہے۔
- ٥٦ ...... ”ولادت بن باپ کا عقیدہ ایک محض غلطی ہے اور وہم ہے۔“
(ولادت مسیح)
- ٥٧ ...... ”کرشن کے نبی ہونے کا خیال محض اجتہادی ہے۔“ (یعنی یقین سے نہیں کہا جا سکتا
بلکہ اجتہادی اجتہاد ہے)
(بیان القرآن ج ٢ ص ١٦٣٤)
- ٥٨ ...... ”کسی دوسرے نبی کی آمد سے اس امت کے خیر امت ہونے کی فضیلت (یعنی زندہ
امت کہلانے کی فضیلت) جو اس کو دوسری امم پر ہے، وہ نہیں رہتی ہے۔“
(مفہوم بیان القرآن ج ١ اوّل ص ٧٣٤)
١٩
نوٹ ...... یادرہے کہ زندہ امت اور خیر امت ہونے کا ایک ہی مفہوم ہے۔ کچھ ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہے۔ لہٰذا مسٹر صاحب بھنے چنے کے جلے سڑے چھلکہ کی طرح اپنے منہ مبارک کا ذائقہ نہ بنائیں ورنہ صدمہ ہوگا۔
- ٥٩ ...... ”عذاب انذار کا نتیجہ ہے۔ عذاب جو ہوگا وہ آنحضرت ﷺ کے انکار کی وجہ سے ہوگا
(یعنی مرزا قادیانی کی وجہ سے نہیں۔م) یہ ختم نبوت کی ایک دلیل ہے۔“
(بیان القرآن جلد دوم ص ١٠١٣)
- ٦٠ ...... ”اس سے پہلے مسیح کے ساتھ مماثلت (مشابہت) پائی گئی کہ پہلے مسیح کو غلو کر کے خدا بنا
لیا گیا اور دوسرے کو غلو کر کے مجدد سے نبی بنالیا گیا۔ جیسے پہلے کو نبی سے خدا بنالیا گیا ہے۔ پس اس سے تو مرزا قادیانی کا سچا ہونا اور مثیل مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے۔“
(مفہوم ٹریکٹ مغرب میں تبلیغ اسلام ص٢٠)
- ٦١ ...... ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے۔ مگر وہ دائرۂ
اسلام سے خارج نہیں۔“ (ٹریکٹ کفر و اسلام ص ٣) ”کافر کا لفظ اس مخالف پر بولا جاسکتا ہے جس نے کفر کا فتویٰ دیا اور پھر اس پر اصرار کیا اور جو صرف انکار کرتا ہے اس پر مطلق کافر کا لفظ نہیں بولا جا سکتا ہے۔ احمدی اور غیر احمدی میں ناقص اور کامل فرق ہے۔“
(پیغام ٢٤؍ مارچ ١٩١٣ء)
(آج تو خیر سے دوسرے لوگوں کو غیر احمدی کہنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ خدا جانے کہاں تک ترقی ہوگی)
- ٦٢ ...... ”جو شخص توحید الٰہی کا قائل ہوتا ہے (خدا کو ایک مان لیتا ہے) وہ اسلام میں داخل ہو
جاتا ہے۔“ (ٹریکٹ کفر و اسلام ص ٣) ”خدا نے آیت میں باوجود مشرک ہونے کے مومن کا لفظ ان پر بولا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جب ایک شخص توحید پر ایمان لاتا ہے تو وہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔“ (ص٣) (واہ مسٹر! مشرک اور پھر مومن یعنی توحید پر ایمان لانے والا؟ یہ فہم کی انتہاء ہے)
- ٦٣ ...... ”ہم منکرین کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ جو شخص عدم تکفیر کا اعلان کرے (خواہ وہ مرزا
قادیانی کو مسیح موعود نہ مانے) ہم اس کے بعد (پیچھے) نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔“
(مفہوم اعلان مندرجہ پیغام و اخبار انقلاب)
٢٠
- ٦٤ ...... ”ہمارے نزدیک غیر احمدی کا جو
ہیں۔“ (کراچی کے حادثہ میں جو غیر احمدی پڑھا ہے جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا
- ٦٥ ...... ”جو شخص قرآن شریف پر ایمان
کے کہ قرآن شریف کی ان آیات کو جن میں
نوٹ ...... یاد رہے کہ منسوخ کے یہ معنی ہو دینا اور اس کے ارتکاب کو ناجائز ٹھہرانا جیسا
- ٦٦ ...... ”کلمہ گو ..... کو کافر کہنا کلمہ کو عملاً
السلام علیکم کہے اس کو بھی کافر نہ کہو۔“ گویا مرزا قادیانی کا یہ فتویٰ قرآ
- ٦٧ ...... ”اسلام میں کوئی فرقہ نہیں۔“ (
- ٦٨ ...... ”احمدیت کا دوسروں سے ایک
- ٦٩ ...... ”حدیث ”لم یکذب ابـ
ص ١٤٨) ”آہ یہ کیسا شقی اور خدا کے رسول بقولہ وحی الٰہی ہے۔ مخالف اور اشد ترین اند جس کے خلاف یہ کمر بستہ نہ کھڑا ہوگیا ہو کیا جارہا ہے اور پھر مع ہٰذا اپنے آپ کو مرز خوشی کو بھی پورا کیا جاتا ہے:
اے ھداك الله
مرزا قادیانی تو اس حدیث کی ط
- ٦٤...... ’’ہمارے نزدیک غیر احمدی کا جنازہ بشرطیکہ وہ مکفر نہ ہو، پڑھنا جائز ہے اور ہم پڑھتے
ہیں۔‘‘ (کراچی کے حادثہ میں جو غیر احمدی شہید ہوئے ہیں۔ ان کا غائبانہ جنازہ لاہوریوں نے پڑھا ہے جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا۔ م)
- ٦٥...... ’’جو شخص قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ وہ جہاد کو منسوخ نہیں کہہ سکتا سوائے اس
کے کہ قرآن شریف کی ان آیات کو جن میں جہاد کا حکم ہے، منسوخ قرار دے۔‘‘
(ٹریکٹ اسلام کا دورِ جدید ص ٣٣)
نوٹ...... یادرہے کہ منسوخ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک حکم کہ جو پہلے جائز تھا، اس کو حرام قرار دینا اور اس کے ارتکاب کو ناجائز ٹھہرانا جیسا کہ مرزا قادیانی نے جہاد کی بابت کیا ہے۔ م)
- ٦٦...... ’’کلمہ گو...... کو کافر کہنا کلمہ کو عملاً منسوخ قرار دینا ہے۔ قرآن شریف تو کہتا ہے کہ جو
السلام علیکم کہے اس کو بھی کافر نہ کہو۔‘‘
(ٹریکٹ مذکور ص ١٥)
گویا مرزا قادیانی کا یہ فتویٰ قرآن مجید کے خلاف ہے۔
- ٦٧...... ’’اسلام میں کوئی فرقہ نہیں۔‘‘ (یعنی اصول سب کے ایک ہیں)
(قولِ خواجہ کمال الدین)
- ٦٨...... ’’احمدیت کا دوسروں سے ایک جزوی اختلاف ہے۔ اصول ایک ہی ہیں۔‘‘ (مشہور)
- ٦٩...... ’’حدیث ’’لم يكذب ابراهيم الا ثلاثا‘‘ غلط ہے۔‘‘ (بیان القرآن ج دوم
ص ١٤٨) ’’آہ یہ کیسا شقی اور خدا کے رسول حضرت مسیح موعود حکم و عدل کا جس کی ہر ایک بات صحیح اور بمنزلہ وحی الٰہی ہے۔ مخالف اور اشد ترین اندرونی دشمن ہے کہ کوئی بات جناب حکم نہیں فرماتے کہ جس کے خلاف یہ کمر بستہ نہ کھڑا ہو گیا ہو۔ افسوس کہ مرزا قادیانی کی کھلی کھلی تحریرات کا رد اور انکار کیا جارہا ہے اور پھر مع ہذا اپنے آپ کو مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص غلاموں میں شمار کرنے کی خوشی کو بھی پورا کیا جاتا ہے:
اے ہداك اللہ چہ بد فہمیدئہ
(مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی تو اس حدیث کی طرف داری کرتے ہوئے اس پر سے غلط اعتراضات
٢١
کا دفعیہ اور ازالہ کریں مگر میاں مرید سے اگر کچھ ہو سکا تو یہی کہ بیک جنبش قلم خدا کا خوف نہ کرتے ہوئے اس کو غلط قرار دے دیا اور مرزا قادیانی کے سب بیانات کو فضول کہہ دیا یہ سب کچھ شان غلامی میں ہو رہا ہے۔ اگر بظاہر بھی مخالف ہوتے تو خدا جانے کیا اندھیر نگری مچاتے۔ غالباً مرزا قادیانی یہ فرما رہے ہوں گے:
خدا ناخواستہ گر خشمگیں ہوتے تو کیا ہوتا
- ٧٠...... "اٹلی اور یورپ میں مثلاً جنگ یا زلزلہ وغیرہ کا عذاب آیا۔ اس سے اگر ضرور ہے کہ
اس وقت کوئی رسول یورپ یا اٹلی میں آتا۔ ایسے رسول کا ہندوستان میں آنا خالی از حکمت ہے جو خدا کا فعل نہیں ہو سکتا۔ ایسی باتیں کرنا لوگوں کو بتاتا ہے کہ مذہب کھیل ہے۔"
(بیان القرآن ص ١١٧، ١١٨)
- ٧١...... "اگر 'اھدنا الصراط المستقیم' کو حصول نبوت کی دعا مانا جائے تو ماننا پڑے گا
کہ ١٣٠٠ سال میں کسی کی دعا قبول نہ ہوئی۔ پس مقام نبوت کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے۔ جو ایسے شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے۔ جو اصول دین سے ناواقف ہے۔"
(بیان القرآن ص ١٠)
- ٧٢...... "جو لوگ ان الفاظ 'ما کنا معذبین حتی نبعث رسولا' سے یہ مراد لیتے
ہیں کہ دنیا میں کبھی کوئی عذاب نہیں آتا جب تک پہلے رسول نہ مبعوث کیا جائے وہ غلطی کرتے ہیں۔"
(بیان القرآن ص ١١٧، ١١٨)
- ٧٣...... "آنحضرت کے بعد نبی کا نام لینا اس کو زیبا ہے جو کہ اسلام سے بڑھ کر ایسا کام کر کے
دکھائے۔ ورنہ منہ کی پھونکیں ہیں۔ ناواقف دھوکہ کھا سکتے ہیں۔"
(پیغام آخری نبی نمبر ٢٩، اگست ١٩٢٨ء ص ١٢)
- ٧٤...... "عیسائیوں کے جواب میں فرمایا 'الستم تعلمون الخ' اگر بلا باپ ہوتا تو کہتے
کہ وہ بغیر باپ پیدا ہوا ہے اور یوں فرماتے کہ آدم کی طرح بن باپ ہے۔" (تفسیر ص ٣١٥) (فرمایا تو یونہی ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر مرید صاحب جو نہ سمجھیں تو اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟)
٢٢
- ٧٥...... "آنحضرت کے بعد ق
نقصان اسلام ہے۔" (پیغام ٢٩ اگس
- ٧٦...... "سلیمان علیہ السلام ک
سے سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی
- ٧٧...... "مرزا قادیانی کو نبی قرار
بھی بہت بڑی زبردستی ہے۔"
- ٧٨...... "مرزا قادیانی کو انبیاء ع
لاہوری احمدی مرزا قادیانی کو غیر نبی کے انبیاء کے معیار پر آزمائش کرنا ہ
- ٧٩...... "قسموں کو اس طرح پ
نہیں رہتی۔ یہ قصہ نہ بائبل، نہ حدی
- ٨٠...... "رجم (سنگسار) کرنا اس
- ٨١...... "شیطان ایوب پر مسلط
تکلیف کسی سفر سے تھی۔"
- ٨٢...... "دابۃ الارض سے مراد
ہے۔ قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہ
- ٨٣...... "چلہ کرنا ایک بدعت ہ
- ٨٤...... "بعث بعد الموت ف
- ٨٥...... "حضرت مسیح نے جیس
ضرور ہوئی ہوگی۔"
- ١...... دیکھئے صاحبان! یہ اخب
- ٧٥...... ”آنحضرتؐ کے بعد نبوت کو جاری رکھنا قرآن کی تذلیل ہے۔ یہ عقیدہ باعثِ
نقصان اسلام ہے۔“ (پیغام ٢٩ اگست ١٩١٨ء) ”غیر تشریعی نبی بھی نہیں آسکتا۔“
(المفہوم لمجددیۃ فی الاسلام ص ١١٥)
- ٧٦...... ”سلیمان علیہ السلام کے عصا کو دیمک کے کھا جانے کا قصہ بے اصل ہے۔ بلکہ اس
سے سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی بربادی مراد ہے، اور جنات سے مراد غیر اقوام ہیں۔“ ملخصاً
(بیان القرآن ج ٣ ص ١٥٣٦)
- ٧٧...... ”مرزا قادیانی کو نبی قرار دینا اسلام کی بیخ کنی ہے۔ بلکہ میرے نزدیک مرزا قادیانی پر
بھی بہت بڑی زد پڑتی ہے۔“
(پیغام ج ٢ پرچہ ١٦ اپریل ١٩١٥ء)
- ٧٨...... ”مرزا قادیانی کو انبیاء کے معیار پر پرکھنا اور آزمانا چاہئے۔“ (ریویو ج٦) (یاد رہے کہ
لاہوری احمدی مرزا قادیانی کو غیر نبی اور نبی یعنی آنحضرت کا تابعدار یقین کرتے ہیں باوجود اس کے انبیاء کے معیار پر آزمائش کرانا مرزا کے قول کے خلاف ہے)
- ٧٩...... ”قسموں کو اس طرح پورا کرنا حیلوں کا دروازہ کھولنا ہے۔ جس سے قسم کی وقعت
نہیں رہتی۔ یہ قصہ نہ بائبل، نہ حدیث اور نہ قرآن میں ہے۔“
(بیان القرآن ص ١٦٠٧)
- ٨٠...... ”رجم (سنگسار) کرنا اسلام میں زنا کی کوئی سزا نہیں ہے۔ یہ ایک خیال ہے۔“ ملخصاً
(بیان القرآن ص ١٣٣٥)
- ٨١...... ”شیطان ایوب پر مسلط نہیں کیا گیا تھا۔ اس کا کام صرف وسوسہ ڈالنا ہے اور ایوب کی
تکلیف کسی سفر سے تھی۔“
(ملخصاً ص ١٦٥،٦)
- ٨٢...... ”دابۃ الارض سے مراد انسان لینا صحیح ہے۔ کیونکہ وہ کلام کرے گا اور یہ انسان کا خاصہ
ہے۔ قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔“
(ملخصاً بیان القرآن ص ١٤٢٦)
- ٨٣...... ”چلہ کرنا ایک بدعت ہے۔ قرآن حدیث میں اس کا نام ونشان نہیں۔“
(ملخصاً ص ١٨٢١)
- ٨٤...... ”بعث بعد الموت (یعنی دوسرے عالم میں۔م) یہ جسم نہ ہوں گے۔“
(بیان القرآن ج ٣ ص ١٨٠٩)
- ٨٥...... ”حضرت مسیح نے جیسا کہ قرآن مجید سے ثابت ہے، ضرور شادی کی ہے اور اولاد بھی
ضرور ہوئی ہوگی۔“
(خلاصہ مطلب کتاب ولادت مسیح)
- ١...... دیکھئے صاحبان! یہ اختلافات ہیں جو ناظرین کرام کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کئے
٢٣
گئے ہیں۔ یوں تو اور بھی تلاش کرنے سے حاصل کئے جاسکتے تھے۔ مگر ہمیں مولوی محمد علی کے حال زار و پریشاں پر رحم اور ترس آ گیا۔ اگر ایسا شخص جو ہر بات میں اپنے منہ بولے پیر و مرشد سے اختلاف رکھتا ہے، اس کا جانشین، خلیفہ اور نائب ہو سکتا ہے۔ تو پھر بخدا کل اگر دہریہ خلیفہ اللہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو ہم اس کے اس دعویٰ کی تردید اس بناء پر کہ ”وہ خدا کے ہر عمل میں مخالف ہے“ ہرگز نہ کر سکیں گے۔ پس چاہئے کہ لاہوری احمدی غور کریں۔
(٢) مرزا قادیانی کا فیصلہ
مرزا قادیانی کا یہ صاف صاف فیصلہ ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ”جو شخص ہماری ہر بات کو نہیں مانتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور نہ وہ ہماری جماعت میں شمار ہو گا۔“
پس مرزا قادیانی کے اس صاف اور واضح ارشاد سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب جنہوں نے مرزا قادیانی کے صدہا اقوال کو انتہاء درجہ کی بے رحمی اور ناخدا ترسی سے نامقبول اور رد کر دیا ہے۔ وہ کسی طرح بھی جانشین ہونا تو کجا ایک معمولی احمدی بھی نہیں کہلا سکتے۔
خلاصہ یہ کہ مولوی صاحب موصوف دائرہ احمدیت سے بحکم بانی احمدیت خارج اور ہمہ وجوہ باہر ہو گئے ہیں۔ اچھا یہ تو ہوا سہی کہ احمدیت سے نکلے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان بھی رہے ہیں یا کہ نہیں؟
اس کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ ارشاد ہے کہ ”جو لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ سے پیدا ہونا مانتے ہیں، وہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔“
(الحکم ١٢؍جون ١٩٠١ء)
پس مرزا قادیانی کے اس ارشاد کے مطابق مولوی محمد علی بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار پائے۔ آہ!...... یہ کیسا ظلم ہوا کہ ایک طرف تو احمدیت سے نکلے اور دوسری طرف بہ یک طفرہ اسلام کے احاطہ سے بھی باہر جا پڑے۔ ظاہر ہے کہ یہ ظلم کسی اور کے ہاتھ سے ان پر نہیں ہوا۔ بلکہ جیسا کہ امر واقعہ ہے۔ ان صاحبان ذوالاحترام نے خود اپنے ہاتھوں سے لاعلمی کے جوش میں آ کر اپنی جان ناشاد پر کیا ہے۔ سچ پوچھو تو یہ حقیقت ہے کہ مرزا قادیانی کو ان کی ذات ستودہ صفات سے بڑی بڑی توقعات تھیں۔ مگر افسوس کہ یہ کسی مرض کا بھی علاج ثابت نہ ہوئے۔
بجائے اس کے کہ حضرت مرزا قادیانی کی شان کو بڑھاتے اور ان کی قدر و منزلت کو دوبالا کرتے انہوں نے الٹا ہر مسئلہ اور ہر بات میں ان سے اختلاف ظاہر کر کے ان کو گھٹانے اور نیچے گرانے کی سعی نامشکور فرمائی ہے۔ خدا ان کو جزائے واجب دے۔
حضرت
٢٤
جاسکتے تھے۔ مگر ہمیں مولوی محمد علی کے حال بات میں اپنے منہ بولے پیر و مرشد سے تا ہے۔ تو پھر بخدا کل اگر دہریہ خلیفہ اللہ اس بناء پر کہ ”وہ خدا کے ہر عمل میں مخالف ور کریں۔
ہا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ”جو شخص ہماری جماعت سے شمار ہوگا۔“ رشاد سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا صدہا اقوال کو انتہاء درجہ کی بے رحمی اور ناخدا نہیں ہوتا تو قطعاً ایک معمولی احمدی بھی نہیں
احمدیت سے بحکم بانی احمدیت خارج اور سے نکلے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان بھی
کہ ”جولوگ حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ فر ہیں۔“
(الحکم ٢٤/جون ١٩٠١ء)
مولوی محمد علی بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج تو احمدیت سے نکلے اور دوسری طرف یہ ہے کہ یہ ظلم کسی اور کے ہاتھ سے ان پر نہیں م نے خود اپنے ہاتھوں سے لاعلمی کے جوش ت ہے کہ مرزا قادیانی کو ان کی ذات ستودہ مرض کا بھی علاج ثابت نہ ہوئے۔ شان کو بڑھاتے اور ان کی قدر ومنزلت کو سے اختلاف ظاہر کر کے ان کو گھٹانے اور واجب دے۔
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
سید الاخیار شفیع المذنبین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کلمہ حق
حضرت مولانا محمد حسین سرحدی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قال الله تبارك وتعالى "تعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان" ﴿ آپس میں مدد کرو، نیکی اور پرہیزگاری میں اور نہ مدد کرو گناہ اور ظلم میں۔ ﴾
پاکستان بن جانے کے بعد یہ خیال تھا کہ اور کچھ ہو یا نہ ہو، کم از کم اتنا ضرور ہوگا کہ یہ فتنہ مرزائیت ختم ہو جائے گا۔ جس کا ناپاک پودا شوکت اسلامی کی تخریب کے لئے انگریز کے ناپاک ہاتھوں سے لگایا گیا تھا۔ لیکن دیکھنے میں آیا کہ پہلے کی نسبت اس وقت یہ فتنہ زیادہ پھیلتا جارہا ہے اور کمی نہیں بلکہ زیادتی ہورہی ہے۔ غضب یہ کہ مرزائی اسلام سے نکل کر رسول کریمﷺ کی عزت و ناموس اور مسلمانوں کے ایمان کے ڈاکو ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہیں اور یہ بھی اس لئے کہ مسلمانوں کے خلاف اپنی ناپاک کوششوں اور دجالی فریب کاریوں میں پورے طور پر کامیاب ہو سکیں اور اسی واسطے ارتداد سے توے کی طرح سیاہ اور دجالیت سے بھرے چہرہ پر اسلامی نقاب ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
بنابریں اہل اسلام نے ضروری سمجھا کہ فی الحال موجودہ ماحول میں حضورﷺ کی عزت و ناموس اور اپنے ایمان کی حفاظت کی خاطر، نیز مسلمانان پاکستان کے دنیاوی اور ملکی حقوق کے بچاؤ کے لئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جائے کہ:
- ١...... مرزائیوں کو قانوناً مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢...... سر ظفر اللہ خان مرزائی کو فوراً وزارت سے ہٹا دیا جائے اور یہ مقدس امانت کسی مسلمان
کے سپرد کی جائے۔
- ٣...... مرزائیوں کی اس کافرانہ تبلیغ کو فی الفور بند کر دیا جائے۔ جس سے کہ مسلمانوں کے
ایمان پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کا یہ مطالبہ ایسا صاف اور واضح ہے کہ کوئی بھی انصاف اور عقل رکھنے والا انسان اس کے جائز نہیں بلکہ واجب القبول ہونے میں شک نہیں کر سکتا۔ مگر نامعلوم حکومت پاکستان کے حکام کو کیا سوجھی اور کس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے۔ بجائے اس کے کہ مسلمانوں کا یہ جائز اور حکومت پاکستان کے لئے انسانی اور اسلامی قانون کے ماتحت واجب القبول مطالبہ فوراً مان کر عمل میں لے آتے۔ الٹے بگڑ بیٹھے اور ان کی اسلامی اور مذہبی تبلیغ پر ہی پابندی لگا دی۔ جس سے
٢
کہ اہل اسلام کے دلوں میں رنج و غم کی لہر موجودہ ارباب اختیار کے متعلق قسم قسم کے خی رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے: ”ا المسلمين وعامتهم “ یعنی دین امر رسول کی اور مسلم حاکموں کی اور عام مسلمانوں اس ارشاد نبوی کی رو سے ضرو خدمت میں حقیقت حال کو واضح کر دیا جائے دور ہو جائے۔ سو گزارش ہے کہ اہل اسلام ک کے بعد کسی مدعی نبوت کو مان لیں۔ وہ مسلم اسلام سے کٹ جاتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام فیصلہ ہے کہ اس کی جماعت مسلمانوں سے کٹ نے حکومت میں درخواست بھی دی تھی کہ اس کی جائے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے: ”چونکہ اب التزام کیا گیا ہے کہ ہر ایک فرقہ جو دوسرے فر علیحدہ خانہ میں اس کی خانہ پری کی جائے لہٰ ہے۔ وہی نام سرکاری کاغذات میں اس کا لک گیا ہے کہ اپنے فرقہ کی نسبت ان دونوں ب اور نیز اپنی جماعت کو ہدایت کی جائے کہ لکھوائیں۔“
پھر نام کے بارے میں لکھتا ہ رکھا جائے۔“
(تریاق القلو
اور پھر اسی کے مطابق اپنے ماب تھلگ رہیں اور کلی طور پر مسلمانوں کو ترک کر جو دعوے اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کر کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے نہ ہو۔“
کہ اہل اسلام کے دلوں میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی اور مجبوراً قدرتی طور پر حکومت پاکستان کے موجودہ ارباب اختیار کے متعلق قسم قسم کے خیالات وشبہات پیدا ہونے لگے۔
رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ”الدين النصيحة لله ورسوله ولائمة المسلمين وعامتهم“ یعنی دین اس چیز کا نام ہے کہ خیر خواہی کی جائے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور مسلم حاکموں کی اور عام مسلمانوں کی۔
(بخاری ج ١ ص ١٣ تعلیقاً)
اس ارشاد نبوی کی رو سے ضروری معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان کے مسلم حکام کی خدمت میں حقیقت حال کو واضح کردیا جائے اور اگر وہ کسی وجہ سے کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوں تو وہ دور ہوجائے۔ سو گزارش ہے کہ اہل اسلام کا تو یہ قطعی فیصلہ ہے کہ جو لوگ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو مان لیں۔ وہ مسلمانوں میں شامل نہیں رہ سکتے بلکہ فوراً اسلام اور اہل اسلام سے کٹ جاتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی اپنے ماننے والوں کے متعلق یہی فیصلہ ہے کہ اس کی جماعت مسلمانوں سے کلی طور پر علیحدہ اور الگ ہے اور اس غرض کے لئے اس نے حکومت میں درخواست بھی دی تھی کہ اس کی جماعت کی خانہ پری سرکاری کاغذات میں الگ کی جائے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے: ”چونکہ اب مردم شماری کی تقریب پر سرکاری طور پر اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ ہر ایک فرقہ جو دوسرے فرقوں سے اپنے اصولوں کے لحاظ سے امتیاز رکھتا ہے۔ علیحدہ خانہ میں اس کی خانہ پری کی جائے اور جس نام کو اس فرقہ نے اپنے لئے پسند اور تجویز کیا ہے۔ وہی نام سرکاری کاغذات میں اس کا لکھا جائے۔ اس لئے ایسے وقت میں قرین مصلحت سمجھا گیا ہے کہ اپنے فرقہ کی نسبت ان دونوں باتوں کو گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں یاد دلایا جائے اور نیز اپنی جماعت کو ہدایت کی جائے کہ وہ مندرجہ ذیل تعلیم کے موافق استفسار کے وقت لکھوائیں۔“
(اشتہار واجب الاظہار ص ١ ملحقہ، خزائن ج ١٥ ص ٥١٧)
پھر نام کے بارے میں لکھتا ہے کہ: ”مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا جائے۔“
(تریاق القلوب اشتہار واجب الاظہار ص ٤ ملحقہ، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٧)
اور پھر اسی کے مطابق اپنے ماننے والوں کو تلقین بھی کی کہ تمام اہل اسلام سے الگ تھلگ رہیں اور کلی طور پر مسلمانوں کو ترک کردیں۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ: ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوے اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
٣
ایک اور مقام پر اپنے آپ کو ذوالقرنین بتلا کر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اپنی جماعت کو علیحدہ قوم قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”غرض ذوالقرنین کے معنی ہیں دو صدیاں پانے والا۔ اب خدا تعالیٰ نے اس کے لئے تین قوموں کا ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی قوم جو مغرب میں ہے اور آفتاب وہاں غروب ہوتا ہے اور وہ تاریکی کا چشمہ ہے۔ یہ عیسائیوں کی قوم ہے۔ جس کا آفتاب صداقت غروب ہو گیا اور آسمانی حق اور نور ان کے پاس نہیں رہا۔ دوسری قوم اس کے مقابل میں وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے۔ مگر آفتاب سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ یہ مسلمانوں کی قوم ہے۔ جن کے پاس آفتاب صداقت قرآن شریف اس وقت موجود ہے مگر دابۃ الارض (اسلامی علماء) نے ان کو بے خبر بنا دیا ہے اور وہ اس سے ان فوائد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ بجز جلنے اور دکھ اٹھانے کے اب ایک تیسری قوم ہے جس نے ذوالقرنین سے التماس کی کہ یاجوج ماجوج کے درے بند کر دے تا کہ وہ ان کے حملوں سے محفوظ ہو جاویں۔ وہ ہماری قوم ہے۔ جس نے اخلاص اور صدق دل سے مجھے قبول کیا۔ خدا تعالیٰ کی تائیدات سے میں ان حملوں سے اپنی قوم کو محفوظ کر رہا ہوں جو یاجوج ماجوج کر رہے ہیں ۔“
(ملفوظات ج٣ ص١٩٠، ١٩١)
اسی کے مطابق ایک اور مقام پر لکھتا ہے کہ: ”دھوپ میں جلنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں سے، مجھے قبول نہیں کیا اور کیچڑ کے چشمے اور تاریکی میں بیٹھنے والے عیسائی ہیں۔ جنہوں نے آفتاب کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور وہ قوم جن کے لئے دیوار بنائی گئی وہ میری جماعت ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩، خزائن ج٢١ ص٣١٤)
اور پھر اس بات کی تائید میں کہ وہ خود اور اس کے ماننے والے ہر لحاظ سے مسلمانوں سے الگ تھلگ ہیں۔ لکھتا ہے: ”اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔“
(تریاق القلوب اشتہار واجب الاظہار ص ١، خزائن ج ١٥ ص٥١٨)
”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف ہرگز جہاد کی تعلیم نہیں دیتا۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص٣١)
نیز لکھتا ہے کہ: ”یاد رکھو کہ موجودہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا کوئی اور مسئلہ نہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ١٣٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)
پھر یہ بھی لکھا ہے کہ: ”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام
٤
کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔"
(اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣ مندرجہ شہادۃ القرآن، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
نیز یہ بھی لکھا ہے کہ: ”میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے۔ جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کاروائی میں کر رہا ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج ششم ص ١١٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣١٥)
پھر یہ ارشاد بھی ملاحظہ ہو کہ: ”ہم لندن کے بازاروں میں دینِ اسلام کی تائید کے لئے وہ وعظ کر سکتے ہیں۔ جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے۔“
(ست بچن ص ١٥٣، خزائن ج ١٠ ص ٢٧٧)
اور یہ بات اس نے درست کہی ہے کیونکہ جس کا مذہب یہ ہو کہ اسلام انگریز کی اطاعت کا نام ہے۔ اس کے اسلام کی تبلیغ مکہ معظمہ میں کب ہو سکتی ہے؟ ایسے اسلام کی تبلیغ تو ملکہ وکٹوریہ کی گلیوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ جس کی محبت نے انگریز کی اطاعت کو فرض اور اسلام کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ: ”چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ (ملکہ وکٹوریہ) سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)
”یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)
اور پھر واجب الاطاعت اور واجب التعظیم انگریزی گورنمنٹ کی توجہ عنایت اپنی طرف مبذول کرانے کی خاطر یہ بھی لکھتا ہے کہ: ”اس جگہ بار ہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اسی گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج پنجم ص ٤٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٤٥)
اپنی جماعت کے متعلق بھی لکھتا ہے کہ: ”یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور موردِ مراحم گورنمنٹ ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ہفتم ص ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠)
٥
اور صریحاً تعلیم قرآن کے خلاف اور اہل اسلام کے اعتقاد کے بالمقابل حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں لکھتا ہے کہ : ”اس کو جھوٹ بولنے اور بدزبانی کرنے اور گالیاں نکالنے کی عادت تھی اور اس کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہ تھا اور تین پشتوں تک اس کی دادیاں، نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ۔ جن کے خون سے اس کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، ٢٩١)
ان تمام دل خراش اور گستاخانہ خرافات و کفریات کے علاوہ جو سب سے بڑی چیز ہے اور ان تمام کفریات کے لئے بنیاد ہے جس کے ساتھ خدا اور اس کے رسول کی تکذیب لازم آتی ہے اور جس کے ساتھ انسان فوراً ہی اسلام اور اہل اسلام سے کٹ جاتا ہے وہ حضور ﷺ کے بعد دعوٰی نبوت ہے اور یا آپ کے بعد کسی مدعی نبوت کو مان لینا ہے۔
چنانچہ اس بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ : ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج دہم ص ١٣٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
اور یہ بھی لکھتا ہے کہ : ”اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
اور پھر لکھتا ہے کہ : ”جو مسلمان مجھے نہیں مانتے اور میرے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتے ۔ وہ کنجریوں، زنا کار عورتوں کی اولاد ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اور اس کا لڑکا بشیر الدین محمود جو اس وقت اس کا جانشین ہے، وہ کہتا ہے کہ : ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
ان کھلے واقعات اور حقائق کو پیش کر کے حکومت پاکستان کے ارباب اختیار کی خدمت میں یہ التماس کرنے کی جرأت کرتا ہوں کہ للہ آپ ان حقائق کی روشنی میں حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کیجئے اور حاکم ہونے کے لحاظ سے جس طرح بے گناہ لوگوں کی مالی اور جانی حفاظت آپ کے ذمہ ہے۔ اس سے کہیں بڑھ کر ان کے ایمان کی حفاظت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے۔ تو اس بناء ”تعاونوا علی البر والتقوٰی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان“ ارشاد خداوندی کو سامنے رکھ کر سوچئے کہ اس وقت ایماندارانہ طور پر آپ کا فرض کیا ہے اور کیا اسے انجام دیا جا رہا ہے اور اگر وہ فرض ادا نہیں ہوتا تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم یہاں کسی وجہ سے خدا اور رسول کے دشمنوں کا ناجائز طور پر ساتھ دیں اور قیامت کے دن ہمیں
٦
ندامت اٹھانی پڑے اور ”و کذل کے زیر ہدایت جب کہ مختلف قس ایسا نہ ہو کہ فرشتے ہمیں ساقی ک دیں کہ تم نے دنیا میں ان کا ساتھ اللہ ہمیں اس ذلت حکومت پاکستان ب نے یہ ”کلمہ حق“ کہہ دیا ہے اور احقر العبا
حضرت مولا اتحاد و ائتلاف کی سنت سے بے اعتنائی برتے ہ کو ایمان کی روحانی شعاعوں جس نے وحدت و اتحاد کا سلا فاصل ہو کر مومن کو کافر سے او ” ھو الذی خ تفرقوا “ ارشاد فرمایا او رکھا۔ یعنی تفریق کرنے وال ہونے چاہئیں تا کہ دین واحد ہے کہ ایک امتیاز ضرور باقی ر فصل و ماھو بالھزل “ قرآن پاک ان ہے۔ وہ اس بات کو برداشت جائے اور تاریکی اپنی سیاہی
ندامت اٹھانی پڑے اور ”وکذالک نولّی بعض الظالمین بعضا بما کانوا یکسبون“ کے زیر ہدایت جب کہ مختلف قسم کے مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کہیں اس دن ایسا نہ ہو کہ فرشتے ہمیں ساقی کوثر ﷺ کے کنار عاطفت سے کھینچ کر دجالین کی صف میں کھڑا کر دیں کہ تم نے دنیا میں ان کا ساتھ دیا۔ اب ان کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔ ”نعوذ بالله من ذالک“ اللہ ہمیں اس ذلت و خواری سے محفوظ رکھے۔ آمین! حکومت پاکستان کے مسلم حکام کو دینی بھائی سمجھ کر نصیحت اور ہمدردی کے طور پر میں نے یہ ”کلمہ حق“ کہہ دیا ہے اور امید واثق رکھتا ہوں کہ اس ناچیز کا یہ کلمہ حق بے اثر نہیں رہے گا۔
وماعلینا الا البلاغ احقر العباد محمد حسین عفا اللہ عنہ وعن والدیہ (فاضل دیوبند)
تقریظ بسیط
حضرت مولانا مولوی خالد محمود صاحب، فاضل دیوبند
اتحاد و اختلاف کی غلط فہمی میں حد غلو تک پہنچنے والے حضرات کے لئے جو نصوص کتاب و سنت سے بے اعتنائی برتتے ہوئے کفر واسلام کے بنیادی اور حقیقی امتیازات کو فراموش کر کے دنیا کو ایمان کی روحانی شعاعوں سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ مقام عبرت و نصیحت ہے کہ قرآن پاک جس نے وحدت و اتحاد کا ساری دنیا کو سبق دیا۔ ایمان وکفر جیسے نازک معاملہ میں خود ہی فارق و فاصل ہو کر مومن کو کافر سے اور کافر کو مومن سے علیحدہ قرار دیتا ہے۔
”هو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مؤمن “ اگر ایک طرف ”لا تفرقوا “ ارشاد فرمایا اور اپنا نام قرآن رکھا۔ یعنی ملانے والا تو دوسری طرف اپنا نام فرقان بھی رکھا۔ یعنی تفریق کرنے والا ، دعوت اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ جملہ نسلی ، ملکی اور ذاتی امتیازات ختم ہونے چاہئیں تا کہ دین واحد ہو جائے۔ ”لیکون الدین کله لله“ اور دعوت فرقان کا مقصد یہ ہے کہ ایک امتیاز ضرور باقی رہنا چاہئے اور وہ حق و باطل اور کفر واسلام کا امتیاز ہے۔ ”انه لقول فصل و ماهو بالهزل“
قرآن پاک ایسے فساد پرور اتحاد کا شدید مخالف اور اپنی شان فرقانیت میں نہایت سخت ہے۔ وہ اس بات کو برداشت نہیں کرتا کہ برائی اپنی صورت پر قائم رہتے ہوئے نیکی کے ساتھ مل جائے اور تاریکی اپنی سیاہی کے باوجود نور میں مل جائے اور اس طرح نہ نیکی نیکی رہے اور نہ بدی
٧
بدی ظلمت ظلمت رہے اور نہ روشنی روشنی۔
یادرکھئے! التباس ہی وہ تاریکی ہے۔ جس میں ہر شے کا اصلی وجود پہلے مشتبہ اور آخر کار معدوم و باطل ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کی پچھلی سات صدیوں کی تاریخ قومی تنزل کا سبب اول اسی حقیقت کو شمار کرتی ہے۔ امت مرزائیہ اور امت مسلمہ کی موجودہ کشمکش میں یہی عمل ہمارے ارباب حل وعقد کا ہے کہ مسلمان باوجود یکہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو دجال و کذاب اور مرتد سمجھتے ہیں اور مرزائی باوجود یکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو خدا کا نبی مانتے ہیں۔
مسلمان باوجود یکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک اولو العزم معصوم پیغمبر اور ان کے خاندان کو از روئے قرآن پاک طاہر و مطہر مانتے ہیں اور مرزائی باوجود یکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی، زانیہ عورتوں سے اختلاط رکھنے والا اور ان کے خاندان کو از روئے کتب مرزا قادیانی زنا کار عورتیں اور کنجریاں سمجھتے ہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار برطانوی مکتب فکر کے ماتحت دونوں کو ایک قوم شمار کر رہے ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ استقلال ملت اول مشتبہ ہو جائے اور آخر کار معدوم ہو جائے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر و ارتداد بینات میں سے ہے اور اس کے ساتھ نسبت عقیدت رکھنے والے تمام لوگ باتفاق جمیع اہل اسلام مرتد اور خارج عن الاسلام ہیں اور یہ امر ان کے خارج عن الملت اور خارج عن القوم ہونے کو مستلزم ہے۔ چنانچہ قرآن پاک نے مرتدین کو ایک علیحدہ قوم شمار کیا ہے۔ ”کیف یهدی الله قوما کفروا بعد ایمانهم وشهد وان الرسول حق وجاء هم البينت، والله لا یهدی القوم الظالمین“ ﴿کیونکر ہدایت کرے اللہ اس قوم کو جو اپنے ایمان لانے کے بعد اپنے اس اقرار کے بعد کہ رسول سچے ہیں، کافر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتے۔﴾
تاجدار ختم نبوت بھی دین چھوڑنے والے کو جماعت یعنی قوم کا چھوڑنے والا قرار دیتے ہیں۔ فقیہ الامت سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود نقل کرتے ہیں: ”لايحل دم امرء مسلم يشهد ان لا اله الله وانى رسول الله الا باحدى النفس بالنفس والثيب الزانى المفارق لدينه التارك الجماعة (صحيح بخاری ج٢ ص١٠١٦)“ ﴿جو مسلمان شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں اس کا خون حلال نہیں سوائے ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، قاتل ہو ’یا شادی شدہ ہو کر زانی ہو‘ اور یا دین چھوڑ کر جماعت (قوم) چھوڑنے والا ہو۔﴾
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے ”المفارق لدینہ“ کا سب سے پہلا مصداق مرتد
٨
کو شمار کیا ہے۔ اس ارشاد نبوی نے آفتاب کی طرح واضح کر دیا کہ اگر کوئی دین سے علیحدہ ہو جائے تو اس کا جماعت یا قوم سے علیحدہ ہو جانا لازمی ہے۔
یاد رکھئے! مسلمان ایک مستقل قوم ہے۔ جو کافر یا مرتد ہوں، وہ اس قوم میں شمار نہیں رہ سکتے۔ "ابن عباس ان النبی ﷺ رکبا بالروحاء فقال من القوم قالوا المسلمون (الحدیث صحیح مسلم ج ١ ص ٤٣١)" ﴿حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ حضور ﷺ مقام 'روحاء' پر کچھ سواروں سے ملے اور پوچھا تم کونسی قوم ہو، انہوں نے کہا "مسلمان"﴾ اسلامی تصریحات سے جو قطع و یقین کا درجہ رکھتی ہیں۔ متاثر ہو کر نقاش پاکستان علامہ اقبالؒ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا۔
"میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک علیحدہ جماعت تسلیم کرلے۔"
(حرف اقبال ص ١٢٨)
پھر لطف یہ ہے کہ امت مرزائیہ کی بھی سماجی اور ثقافتی پالیسی یہی رہی ہے کہ وہ غیروں سے الگ ہے۔ (اخبار الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٦٩، ٧٠ مورخہ ٢٦ فروری، ٢ مارچ ١٩١٨ء) لکھا: "کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہود بے بہبود سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کی سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ان جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا۔ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا کہ بیشک کیا ہے پس اگر مرزا قادیانی نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں، اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے الگ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی کی؟"
- ٢...... "یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے۔ اول تو یہ خدا تعالیٰ کے حکم
سے تھا، نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا، ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہو اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔" (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی رسالہ تجدید الاذہان قادیان ج ٦ ص ٤٩، ٥٠ مورخہ ٣؍اگست ١٩١١ء)
- ٣...... "غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔
ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے
٩
حرام قرار دیئے گئے ۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٦٩ مصنفہ مرزا بشیر احمد)
پس جبکہ مرزائیہ بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے کلی طور پر الگ سمجھتی ہے۔ (دیکھو اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧) اور مسلمان بھی اسے مرتد اور خارج عن الملت قرار دیتے ہیں۔ تو مقام تعجب ہے کہ ہماری حکومت کو اسے مسلمانوں سے علیحدہ قرار دینے میں کون سی چیز مانع ہے؟ پھر جبکہ پاکستان کا سنگ بنیاد بھی اسلامی قومیت کی ہی امتیازی حدود تھیں تو مقام حیرت ہے کہ اسی تصور حیات کے داعی صرف اس لئے زیر عتاب سمجھے جا رہے ہیں کہ اب اس کی زد براہ راست فرنگی کے خودکاشتہ پودے پر پڑ رہی ہے۔
حکومت پاکستان کا اولین فرض ہے کہ نزاکت وقت کا صحیح جائزہ لیتے ہوئے تدبر اور بصیرت سے کام لے اور تا نفاذ دستور اسلامی امت مرزائیہ کو مسلمانوں سے الگ مرتد اقلیت قرار دے۔ نیز مملکت پاکستان کی کلیدی آسامیوں سے ان تمام مرزائیوں کو برطرف کر دے جن کے ناپاک ارادے یہ ہیں ۔ ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے۔ اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو، اسے عبرت ناک سزائیں دیں ۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر کام کر لیتے ۔“
(تقریر مرزا محمود ص ٦ مورخہ ٢؍ جون ١٩٣٦ء، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٣ نمبر ٢٧٩)
یہ چند ضروری باتیں تھیں جو اجمالاً عرض کی گئیں۔ پوری تفصیل آپ کو کلمہ حق میں اپنے مالہ وما علیہ کے ساتھ ملے گی۔ میں نے اس رسالے کو شروع سے لے کر آخر تک دیکھا اور محققانہ اور مناظرانہ ہر اعتبار سے درست اور جامع پایا۔ استدلال میں ہر باریک سے باریک مقام پر بھی حوالہ پیش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ محبی المکرم مولانا محمد حسین صاحب کو ہر مستفید و مسترشد کی طرف سے جزائے خیر دے کہ اس دورِ پرفتن میں شبانہ روز محنت کے ساتھ تاج و تخت ختمِ نبوت میں اپنی عقیدت کے پھول پیش کر رہے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کے ادائیگی میں سرگرم ہیں ۔ حضرت امام العصر المحدث الکبیر شاہ صاحب کا ارشاد ہے:
وقد صار فرض العین عند عیان
اللہ تعالیٰ امت مرحومہ پر فضل فرمائے اور اس دورِ ابتلاء میں اسے قادیانی شقی ازل کے فتنہ سے نجات دلائے۔ آمین ! العبد الفقیر : خالد محمود امرتسری عفا اللہ عنہ، حال مقیم سیالکوٹ
١٠