قادیانیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے · محمد طاہر عبدالرزاق
Qadyaniyat Raiza Raiza Hoti Hy · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

قادیانیت

ریزہ ریزہ ہوتی ہے

محمد طاہر عبدالرزاق

PDF 2

قادیانیت

ریزہ ریزہ ہوتی ہے!

تحقیق و تدوین: محمد طاہر عبدالرزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

تحفظ

اد

PDF 4

کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔

*

قادیانیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے! محمد طاہر عبدالرزاق گیارہ سو فراز کمپوزنگ سنٹر ، اردو بازار ، لاہور عنایت اللہ رشیدی 100 روپے جنوری 2006ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ، ملتان شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ ، لاہور

ملنے کا پتہ

رکز 34- اردو بازار ، لاہور 7352332 تم نبوت کتاب مارکیٹ ، غزنی سٹریٹ ر ، لاہور فون : 7232926

انتساب

جناب ثاقب خورشید

کے نام ...... بصد احترام

PDF 5

تحفظ

PDF 6

آئینہ مضامین

زاویہ نگاہ مولانا عبدالقیوم حقانی مدظلہ 9 محمد طاہر عبدالرزاق کا جذبہ جنوں صاحبزادہ طارق محمود 12 جنہیں خاتم النبیین ﷺ سے نسبت ہے محمد طاہر عبدالرزاق 15 ختم نبوت ﷺ وکمال شریعت عبدالفتاح / مولوی مختار احمد 20 خاتم النبیین ﷺ...... تکمیل نبوت تکمیل دین سید ابوالحسن ندویؒ 24 خاتم اور خاتم النبیین کے کیا معانی ہیں ؟ مولانا محمد سرفراز خان صفدر 39 متنبی قادیان اپنے جلیل القدر مرید کی نظر میں مولانا تاج محمدؒ 44 پیغام محمد ﷺ کی عالمگیریت سید سلمان ندویؒ 49 قادیانیوں کا محمد مصطفیٰ ﷺ سے کیا تعلق پروفیسر منور احمد ملک 54 سید المرسلین ﷺ کے فضائل صفات اور خصائل پروفیسر نور بخش توکلیؒ 58 قرآن کریم خاتم النبیین ﷺ کا خاتمۃ المعجزات عبدالفتاح ۔ مولوی مختار احمد 72 مسئلہ ختم نبوت اور ہماری زندگی پر مولانا منظور احمد الحسینی 83 اس کے اثرات مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں شاہ ولی اللہؒ پروفیسر مولانا محمد اشرف 98 پر قادیانیوں کا افترا اور اس کا جواب

PDF 7

مرزا قادیانی دجال تھا مگر کیسے؟ حکیم پیر محمد ربانی 103 دائمی اور عالمگیر نبوت سید سلیمان ندویؒ 109 قادیانی، قادیانیت کی رو سے بھی کافر اور مرتد ہیں مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری 111 مرزائیوں سے ہائی کورٹ کے سات سوالات مولانا محمد علی جالندھریؒ 116 قادیانی اپنا نام مسلمانوں جیسا نہیں رکھ سکتے مفتی ولی حسنؒ 158 حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی مفتی نسیم احمد امروہی 169 اور مرزا قادیانی طاعون کی پیشگوئی کا انجام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ 174 اسلامی اصطلاحات اور قادیانی مولانا مجاہد الحسینی 183 ۞........۞........۞

الحـ ختم نبوت انحراف بھی اسلام کی قادیانیت ہے بلکہ مملکت خدا ہے جو انگریز کی مکا شوق شہادت کو ختم مذہب کے تحفظ اور ہوتے رہے جنہوں نہ دیا اور ان کے مکر ان کا تعاقب جاری آج کے دفاع ختم نبوت کے نبوت اور دجل و فریـ اور حقائق کو اصل صـ بے شمار خوبیوں سے

PDF 8

تحفظ

صفحہ 9

حکیم پیر محمد ربانی 103 سید سلمان ندویؒ 109 اور مرتد ہیں مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری 111 سوالات مولانا محمد علی جالندھریؒ 116 کہہ سکتے مفتی ولی حسنؒ 158 روہی مفتی نسیم احمد امروہی 169

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ 174 مولانا مجاہد الحسینی 183

زاویہ نگاہ

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ جس سے سرمو روگردانی و انحراف بھی اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے کے مترادف ہے۔

قادیانیت نہ صرف مسلمانوں کے عقیدہ و مذہب کے خلاف ایک گمراہ کن فتنہ ہے بلکہ مملکت خداداد پاکستان کے وجود کے لیے انتہائی خطرناک سازشوں کا ایک جال ہے جو انگریز کی مکاری و عیاری سے پھیلایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں ایمان، جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔ مگر مسلمانوں میں اپنے دین و مذہب کے تحفظ اور دفاع ختم نبوت کے جذبات زندہ ہیں، ہر دور میں ایسے رجال کار پیدا ہوتے رہے جنہوں نے انگریز کی پروردہ قادیانیت کو گلشنِ اسلام میں پھلنے پھولنے کا موقع نہ دیا اور ان کے مکروہ عزائم اور پرخطر سازشوں کو بے نقاب کرتے رہے۔ ہر میدان میں ان کا تعاقب جاری رکھا۔

آج کے دور میں معروف مصنف و محقق، جناب محمد طاہر عبدالرزاق صاحب دفاع ختم نبوت کے علمبردار اور قافلہ بخاریؒ کے شریک سفر ہیں۔ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اور دجل و فریب کو عصرِ حاضر کے مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کے سامنے بے نقاب کرنا اور حقائق کو اصل صورت میں پیش کرنا ان کا مشن اور ہدف ہے۔ موصوف کو اللہ کریم نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے جن میں بڑی خوبی عشقِ رسالت ہے۔ عشقِ رسول ﷺ آپ

صفحہ 10

میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ختم نبوت و رسالت پر قادیانیوں کی خیرہ دستیوں کے خلاف قلمی جہاد انکا طرہ امتیاز ہے ان کے فکر و نظر کی جولانی اور علم و قلم کی روانی، اللہ کے دین کی ترجمانی اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب و بیخ کنی پر صرف ہو رہی ہے۔ انتہائی پر اثر، سادہ پر وقار اور عام فہم اندازِ تحریر سے پڑھنے والوں کو مسحور و مجذوب کر دینے کا ملکہ حاصل ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا جذبہ ان کے رگ و ریشہ میں رواں دواں رہتا ہے اور ناموس رسالت کا علم بلند تر رکھنے کا عزم ان کی تحریروں سے جھلکتا ہے۔

رد قادیانیت میں موصوف کی بے شمار کتب منظر عام پر آ کر مقبول خاص و عام ہو چکی ہیں اور فتنہ قادیانیت سے آگاہی اور حقائق کو بے نقاب کر کے امت کی اصلاح و تربیت اور ہدایت و رہنمائی کا باعث بن رہی ہیں۔ احقر نے موصوف کی تمام کتابیں پڑھی ہیں اور اب ہر کتاب دوبارہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔

برادر محترم محمد طاہر عبدالرزاق صاحب تصنیفی و تالیفی میدان میں جو علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اللہ کا احسان اور موصوف کی عنداللہ مقبولیت کی دلیل ہے بڑے بڑے علماء و مشائخ اور اہل علم و قلم اس میدان میں موصوف کی خدمات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ اللہ کریم موصوف کی عمر اور علوم و معارف میں مزید برکت اور ترقی و کمال عطا فرماوے اور ان کے قلم کی روانی اور فکر و نظر کی وسعتوں کو پورے عالم کے لیے مینارہ رشد و ہدایت بناوے۔

'قادیانیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے' (فہم ختم نبوت سیریز نمبر ۴) موصوف کی تازہ کاوش ہے۔ یہ کتاب مشاہیر اہل علم و دانش کے رشحات قلم کا حسین گلدستہ اور علمی و تحقیقی دستاویز ہے۔ رد قادیانیت میں موصوف کے گلدستہ تحفظ ختم نبوت کا اک نیا پھول ہے جس کی خوشبو چہار دانگ عالم میں پھیل کر ایمانی جذبات اور روحانی احساسات کو معطر کر دے گی۔ تحریروں کا انتخاب نہایت عمدگی اور موزونیت سے کیا گیا ہے۔ ہر تحریر علوم و معارف کا خزینہ اور علم و تحقیق گلشن ختم نبوت کے حسن و جمال کا آئینہ ہے، ہر تحریر کی اپنی اہمیت، اپنا لطف اور اپنی چاشنی ہے۔

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

کتاب کو جن اہل علم و قلم حضرا جناب عبدالفتاح عبداللہ، مولانا ابوالحسن علی مولانا تاج محمودؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مو کی گرانقدر تحریروں کے علاوہ پروفیسر منور ا ذاتی تجربات اور معلوماتی حقائق پر مبنی تحریر ش فاضل مرتب قادیانیت کے خلا رسول ﷺ سے سرشار اپنی تحریروں سے قلمی حسن و نکھار پیدا فرمائے اور پورے عالم ک موصوف کے لیے ذخیرہ آخرت بناوے۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خ

صفحہ 11

کتاب کو جن اہل علم و قلم حضرات کی تحریروں سے مزین کیا گیا ہے ان میں جناب عبدالفتاح ابوغدہ، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا تاج محمودؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا مفتی تسنیم احمد فریدی کی گرانقدر تحریروں کے علاوہ پروفیسر منور احمد ملک (سابق قادیانی) کی ہوشربا، چشم کشا، ذاتی تجربات اور معلوماتی حقائق پر مبنی تحریر شامل ہے۔

فاضل مرتب قادیانیت کے خلاف جس اخلاص، لگن، جذبہ صادق اور عشق رسول ﷺ سے سرشار اپنی تحریروں سے قلمی جہاد میں مصروف ہیں۔ اللہ کریم ان میں مزید حسن و نکھار پیدا فرمائے اور پورے عالم کے مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح کا ذریعہ بنا کر موصوف کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ اجمعین

(عبدالقیوم حقانی) رئیس الجامعۃ ابی ہریرہؓ خالق آباد جی ٹی روڈ ضلع نوشہرہ سرحد

صفحہ 12

طاہر رزاق کا جذبہ جنوں

محترم طاہر رزاق کی ذات عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور مرزائیت کے خلاف نشتر زنی کے حوالے سے قابل ستائش اور لائق صد تحسین و آفرین ہے۔ موصوف ایک مدت سے قادیانیت کے خلاف قلمی احتساب کے محاذ پر اپنی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اخلاص، للہیت اور جذبہ جنوں سے نواز رکھا ہے۔ ان کا دل عشق مصطفیٰ ﷺ سے لبریز ہے۔ اسی عشق کی دولت نے انہیں ناموس رسالت کی حفاظت اور سارقین ختم نبوت کے تعاقب کا جذبہ عطا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قادیانی فتنہ کے قلع قمع کی تحریک میں قلم کی شمشیر سے جہاد میں مصروف ہیں۔ طاہر رزاق نے مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ اور خانہ ساز نبوت کے گریبان چاک کرنے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر رکھی ہیں۔ ان کی فکر و نظر کا محور، ان کے تخیلات کا مرکز ختم المرسلینی کا تحفظ ہے۔ موصوف کا ذہن ہر وقت سوچتا ہے اور قلم قادیانی فتنہ کی بیخ کنی میں متحرک رہتا ہے۔

؎ ایں سعادت بزورِ بازو نیست

طاہر رزاق ختم نبوت کے محاذ پر آئے۔ تو شروع شروع میں انہوں نے قادیانی فتنہ کے ڈھول کا پول کھولنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پمفلٹ تحریر کیے۔ پھر کتابچوں کی صورت میں قادیانیت کے بخیے ادھیڑے۔ بعد ازاں طبیعت کی جولانی اور قلم کی روانی نے ایسا رنگ دکھایا کہ قادیانیت کے پوسٹ مارٹم اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مذموم کردار کی نقاب کشائی میں بیسیوں کتابیں ان کے نوک قلم کے ذریعہ منظر عام پر آ گئیں۔ تحریر کی جدت اور قلم کی ندرت کے باعث نئی نسل نے بالخصوص انہیں پسند کیا۔ جاذب نظر ٹائٹل اور منفرد دلچسپ عنوانات نے بہت پذیرائی پائی۔ انہوں نے ہر دم نوجوان نسل کے طبعی میلانات اور فطری

صفحہ 13

رجحانات کے پیش نظر قادیانی فتنہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے کردار کو افسانوی رنگ میں تحریر کر کے نوجوانوں میں قادیانیت کے حوالے سے آگاہی کا شوق پیدا کیا۔ طاہر رزاق اور عزیزم متین خالد ہر دو روشن دماغ نوجوانوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے قادیانیت کے خلاف روایتی احتساب کی تحریک کو ایک نیا رنگ، نیا اسلوب، نیا انداز بخشا ہے۔ طاہر رزاق کی یہ انفرادیت ہے کہ انہوں نے قادیانیت کے عقائد باطلہ، ”تحریک احمدیہ“ کے حقیقی پس منظر اور بانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کے بھیانک کردار اور اس کی سوانح کو قادیانی کتب کے حوالے سے ایسے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری انہیں دادِ تحسین دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور دیگر تدریسی اداروں کے طلباء نے طاہر رزاق کے انوکھے انداز کو نہ صرف پسند کیا۔ بلکہ اس طرز تحریر اور جدت پسندی کے ذریعہ قادیانی فتنہ کی حقیقت حال کو سمجھا۔ آج سینکڑوں نوجوان بلاشبہ ان کی تحریر اور اسلوب سے متاثر ہو کر ختم نبوت کے محاذ پر اپنا دینی، مذہبی اور ملی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ سبھی کچھ طاہر رزاق کی متاثر کن اور مخلصانہ قلمی کاوش کا نتیجہ ہے۔

طاہر رزاق کی تصنیف کردہ کتب کو رد قادیانیت کے حوالہ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے محاسبہ کے حوالے سے ہر پہلو پر اپنی بساط، واقفیت اور علم کے مطابق لکھا ہے۔

کچھ نہ کچھ لکھتے رہو تم وقت کے صفحات پر
نئی نسل سے یہی تو رابطے رہ جائیں گے

معروف کالم نویس محترم ہارون رشید نے طاہر رزاق کی طرف سے پیش کردہ کتابوں کا انبار دیکھ کر جو تبصرہ لکھا تھا۔ وہ طاہر رزاق کی قلمی عظمت کے لیے سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے قادیانیت کے احتساب پر مختلف عنوانات کے تحت درجنوں کتابیں لکھ کر ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ موصوف کی ساری قلمی تحریک ان کے عشق اور اخلاص کی مرہونِ منت ہے۔

طاہر رزاق کی حالیہ تصنیف ”قادیانیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے“ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں موصوف نے نامور صاحبانِ بصیرت، اہلِ فکر و نظر اور علم وعرفان کی دنیا میں بلند مقام رکھنے والے مختلف دینی، علمی، مقتدر رہنماؤں کی تحریروں کو منتخب

صفحہ 14

کر کے ایک دلاویز گلدستہ تیار کیا ہے۔ طاہر رزاق صاحب کی حالیہ تصنیف فہم ختم نبوت سیریز نمبر 4 کی حیثیت سے منظر عام پر آرہی ہے۔ سیّد سلیمان ندویؒ، پروفیسر نور بخش توکلیؒ، پروفیسر منور ملک (سابق قادیانی)، ڈاکٹر عبد الفتاح عبداللہ، مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حکیم پیر محمد ربانی، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا سرفراز صفدر، مولانا تاج محمودؒ جیسے اہل فن کی تحریروں کے منہ بولتے جادو کو ایک جگہ جمع کر کے طاہر رزاق نے قادیانیت کے وجود پر ایک اور ضرب کاری لگائی ہے۔

بندہ دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ طاہر رزاق کے جذبہ جنوں، کو قبول فرمائے۔ ان کی سعی جمیلہ کو منظور و مقبول فرمائے۔ اور انہیں اس مقدس و پاکیزہ عشق کے ثمرات سے نوازے۔

صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر: ماہنامہ ”لولاک“ ملتان

صفحہ 15

جنہیں خاتم النبیین ﷺ سے نسبت ہے

محمد طاہر عبدالرزاق

قیام پاکستان سے تھوڑا عرصہ بعد کی بات ہے۔ باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں ایک عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ تمام مکاتب فکر کے علماء سٹیج پر جلوہ افروز تھے، جو اتحاد امت کا ایک خوبصورت اور بہار آفریں منظر تھا۔ شمع ختم نبوت کے لاکھوں پروانے اپنے چہروں پر ایمان کی روشنی سجائے کانفرنس کے پنڈال میں ہر قربانی کا عزم لیے بیٹھے تھے۔ خطیب آتے رہے اور قادیانیت پر گرجتے برستے رہے اور حاضرین کے قلوب میں عشق رسول ﷺ کی بجلیاں بھرتے رہے۔ جلسہ گاہ، رزم گاہ بنتی رہی۔

رات کے اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ خطاب کے لیے آئے۔ انہوں نے سٹیج پر کھڑے ہو کر حاضرین پر ایک گہری نظر ڈالی اور کہا مسلمانو! جب مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا اور تاج و تخت ختم نبوت پر قبضہ کرنے کی ناپاک جسارت کی تو سیدنا صدیق اکبرؓ ماہی بے آب کی طرح تڑپ اٹھے اور فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابوبکر زندہ ہو اور اُس کے آقا ﷺ کی ختم نبوت پر کوئی ڈاکہ زنی کرے۔ حضور ﷺ کے وصال سے صحابہؓ کے دل زخمی تھے کہ مسیلمہ کذاب نے اس نازک وقت میں دعویٰ نبوت کر دیا۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے ان پر آشوب حالات کی قطعاً پرواہ نہ کی اور مسیلمہ کی جھوٹی نبوت کو پیوند خاک کرنے کے لیے لشکر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب یہ لشکر رخصت ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ جہادی آیات پڑھی جا رہی تھیں۔ رزمیہ اشعار پڑھے جا رہے تھے۔ تلواریں تیز کی جا رہی تھیں، نیزوں کی انیوں کو آب دی جا رہی تھی۔ گھوڑوں پر کاٹھیاں ڈالی جا رہی تھی۔ جب لشکر روانہ ہوا تو صدیق اکبرؓ مجاہدین ختم نبوت کے اس لشکر کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔

مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا، اس وقت اس لشکر پر آسمان سے انوار و تجلیات کی جو

صفحہ 16

بارش ہو رہی تھی اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا جو نزول ہو رہا تھا۔ وہی انوار و تجلیات اور وہی رحمتوں اور برکتوں کا نزول آج کے مجاہدین ختم نبوت پر اسی طرح نازل ہو رہا ہے۔ زمانے کا فرق ہے کام ایک ہی ہے۔ صحابہؓ نے اپنے وقت کے جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا اور ہم اپنے وقت کے جھوٹے نبی مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ صحابہ کرامؓ دنیا سے چلے گئے ان کی جگہ دوسرے مجاہدین ختم نبوت آ گئے اور نئے مدعیان نبوت بھی آ گئے۔ زمانہ گزرتا رہا۔ گردش لیل و نہار جاری رہی۔ جھوٹے نبی بھی آتے رہے اور ان کی سرکوبی کے لیے نئے مجاہدین ختم نبوت بھی آتے رہے۔ حتیٰ کہ ہمارا زمانہ آ گیا اور یہ لشکر مجاہدین ختم نبوت اسی لشکر کا اپنے وقت میں آخری حصہ ہے۔ اس لشکر کا پہلا حصہ صحابہ کرامؓ ہیں اور اس لشکر کا آخری حصہ آج کے مجاہدین ختم نبوت ہیں اور اس سارے لشکر کی قیادت مجاہد اعظم ختم نبوت جناب سیدنا صدیق اکبرؓ فرما رہے ہیں۔ پرچم ختم نبوت یار غار کے ہاتھوں میں ہے اور سارا لشکر ان کی کمان میں گامزن ہے۔ انشاء اللہ آنے والے وقت میں بہت سے مجاہدین ختم نبوت اس لشکر میں شامل ہوتے رہیں گے اور انشاء اللہ کل یہ سارا لشکر صدیق اکبرؓ کی قیادت میں بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوگا۔

خاتم النبیینؐ کے امتیو! اگر لاہور سے کوئی ٹرین کراچی کے لیے روانہ ہوتی ہے اور انجن کے ساتھ سو ڈبے بندھے ہوئے ہیں۔ جہاں انجن کراچی پہنچے گا وہاں آخری ڈبہ بھی کراچی پہنچے گا۔ جہاں صدیق اکبرؓ اور صحابہ کرامؓ جنت میں پہنچیں گے وہاں آج کے مجاہدین ختم نبوت بھی اُن کی قیادت میں جنت میں پہنچیں گے۔ (انشاء اللہ)

ختم نبوت کے پاسبانو! اپنے مقدروں پر ناز کرو، اپنے نصیبوں پر رشک کرو، اللہ پاک تم سے وہ کام لے رہا ہے جو صحابہؓ سے لیا تھا، اللہ تم سے وہ کام لے رہا ہے جو خالدؓ بن ولید سے لیا تھا۔ اللہ نے تمہیں اس مشن پر لگا دیا ہے، جس مشن کے لیے حضرت حبیبؓ بن زید انصاری، حضرت زیدؓ بن خطاب، حضرت ثابتؓ اور حضرت سالمؓ جیسے کبار صحابہؓ نے اپنی جانیں نثار کی تھیں۔ جس مقصد کے لیے ستر بدری صحابہؓ نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ جس مقصد کے لیے سات سو حفاظ قرآن صحابہؓ نے یمامہ کے میدان میں شہادت کی سرخ قبا پہنی تھی۔ جس مقصد کے لیے بارہ سو صحابہ کرامؓ نے یمامہ کے میدان کو اپنی لاشوں سے سجا دیا تھا لیکن آنے والی امت کو یہ پیغام دے دیا کہ اگر ناموس ختم نبوت پر اتنی بڑی قربانی بھی دینا پڑے تو دے دینا لیکن رسول خاتم ﷺ کے تاج ختم نبوت تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے وا حاصل ہو جاتی ہے۔ اسے قرب رسولؐ مل اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ قادیانیوں کے رسولؐ ہے۔ وہ حمایتی رسولؐ ہے۔ وہ عاش گستاخان رسول قادیانیوں سے نبرد آزما کائنات کی سب سے بڑی دولت کو پا گیا کیونکہ یہی وہ نسبت تھی جس نے انہیں دنیا کو مخاطب کر کے کہہ دیا تھا ’’اے حجر اسود! نقصان دے سکتا ہے۔ عمرؓ تجھے کبھی نہ چوم جناب محمد ﷺ نے تجھے چوما ہے۔‘‘ یہ نسبت ایک لاکھ رکعت کے برابر ملتا ہے اور مسجد ن برابر ملتا ہے۔ یہ نسبت ہی کا فیضان ہے حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی، حضر بھی جنت میں جائیں گے۔

مالی نے صبح شاہی باغ سے را اس گلدستہ کو باندھنے کے لیے وہیں سے ہ باندھ دیا۔ مالی بادشاہ کے کمرے میں پہنچا سارے کمرے میں خوشبو پھیل گئی۔ یہ خوراک ہے۔ تیرا بادشاہ کے کمرے میں بھینسوں کی خوراک ہوں لیکن مجھے ان کے قدموں میں رہتی ہوں۔ اس نسبت

آپ نے دیکھا ہوگا کہ مٹھا کنجوس گاہک بھی اس پر اعتراض نہیں ک ردی کاغذ اور توڑی وغیرہ سے بنا ہوا ہ

صفحہ 17

دینا لیکن رسول خاتم ﷺ کے تاج ختم نبوت کی طرف کوئی ہاتھ بڑھنے نہ دینا۔

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے مجاہد کو حضور ﷺ سے ایک بہت بڑی نسبت حاصل ہو جاتی ہے۔ اسے قرب رسول مل جاتا ہے اور وہ رحمت رسول اور شفاعت رسول کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ قادیانیوں کے خلاف کام کر کے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ حواری رسول ہے۔ وہ حمایتی رسول ہے۔ وہ عاشق رسول ہے، اسی لیے تو وہ کائنات کے بدترین گستاخان رسول قادیانیوں سے نبرد آزما ہے۔ جسے رسول ﷺ سے نسبت حاصل ہوگئی۔ وہ کائنات کی سب سے بڑی دولت کو پا گیا۔ یہی وہ نسبت تھی جس پر صحابہ ناز کیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہی وہ نسبت تھی جس نے انہیں دنیا میں ہی جنت نشیں بنا دیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو مخاطب کر کے کہہ دیا تھا ”اے حجر اسود! تو ایک سیاہ رنگ کا پتھر ہے۔ نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان دے سکتا ہے۔ عمرؓ تجھے کبھی نہ چومتا۔ عمرؓ تجھے فقط اس لیے چومتا ہے کہ میرے آقا جناب محمد ﷺ نے تجھے چوما ہے۔“ یہ نسبت ہی کی وجہ ہے کہ خانہ کعبہ میں ایک رکعت کا ثواب ایک لاکھ رکعت کے برابر ملتا ہے اور مسجد نبوی میں ایک رکعت کا ثواب پچاس ہزار رکعتوں کے برابر ملتا ہے۔ یہ نسبت ہی کا فیضان ہے کہ حضور ﷺ کا خچر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گدھا، حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا دنبہ اور اصحاب کہف کا کتا بھی جنت میں جائیں گے۔

مالی نے صبح شاہی باغ سے رنگا رنگ پھول توڑے اور ایک حسین گلدستہ بنا دیا۔ پھر اس گلدستہ کو باندھنے کے لیے وہیں سے گھاس توڑی۔ گھاس کی رسی بنائی اور اس سے گلدستہ کو باندھ دیا۔ مالی بادشاہ کے کمرے میں پہنچا اور کمرے میں میز پر رکھے گلدان میں گلدستہ سجا دیا۔ سارے کمرے میں خوشبو پھیل گئی۔ میز نے گھاس سے کہا کہ تو تو بکریوں اور بھینسوں کی خوراک ہے۔ تیرا بادشاہ کے کمرے میں کیا کام؟ گھاس نے جواب دیا۔ میں واقعی بکریوں اور بھینسوں کی خوراک ہوں لیکن مجھے ان پھولوں سے ایک نسبت حاصل ہے کہ میں ان پھولوں کے قدموں میں رہتی ہوں۔ اس نسبت کی وجہ سے میں بھی بادشاہ کی میز پر پہنچ گئی۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ مٹھائی کا ڈبہ مٹھائی کے بھاؤ ہی تولا جاتا ہے اور کنجوس سے کنجوس گاہک بھی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ ایک دن کسی نے مٹھائی کے ڈبے سے کہا کہ تو تو ردی کاغذ اور توڑی وغیرہ سے بنا ہوا ہے۔ تجھ سے خوشبو بھی نہیں آتی۔ ذائقہ تیرا ایسا کڑوا کسیلا

صفحہ 18

کہ کوئی مجھے اپنی زبان پر رکھنے کو تیار نہیں۔ پھر تو مٹھائی کے بھاؤ کیسے تلتا ہے؟ ڈبے نے جواب دیا۔ ”میں مٹھائی کی دوکان میں مٹھائی کے ساتھ رہتا ہوں۔ اس نسبت نے مجھے بھی سرفراز کر دیا۔“

فقہاء نے قرآن پاک کے بارے میں مسئلہ لکھا ہے کہ قرآن پاک کو بے وضو چھونے کی اجازت نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ قرآن پاک کا حاشیہ جس پر قرآن نہیں لکھا ہوتا اور وہ بالکل خالی ہوتا ہے اسے بھی بغیر وضو چھوا نہیں جاسکتا۔ کسی نے حاشیے کے کاغذ سے پوچھا کہ تجھ پر تو قرآن نہیں لکھا ہوا۔ تجھے یہ تقدس کیسے مل گیا؟ حاشیے نے جواب دیا ”میں قرآن کے ساتھ رہتا ہوں اور اس قرب کی نسبت نے مجھے بھی مقدس اور منزہ بنا دیا۔“ کسی شخص نے مسجد کے صحن میں مٹی ڈالنے کے لیے ایک مٹی کا ٹرک منگوایا۔ اس نے آدھی مٹی مسجد کے صحن میں ڈال دی اور آدھی مسجد کے باہر گلی کو اونچا کرنے کے لیے ڈال دی۔ جو مٹی مسجد کے اندر ڈال دی گئی وہ پاکیزہ ہوگئی۔ کوئی شخص اس پر جوتا لے کر نہیں آسکتا جبکہ باہر گلی والی مٹی پر ہر بندہ اپنے جوتے بھی جھاڑ سکتا ہے۔ جانور بھی وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ وجہ یہ ٹھہری کہ مسجد کے صحن کی مٹی نے مسجد کے دامن میں آکر مسجد سے نسبت حاصل کرلی اور اسے مسجد کی حرمت مل گئی۔

مسلمانو! ایک مجاہد ختم نبوت، قادیانیوں سے نبرد آزما ہو کر عقیدہ توحید کی حفاظت کر کے اللہ سے ایک نسبت قائم کرلیتا ہے۔ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے تاج و تخت ختم نبوت اور آبروئے رسول کی حفاظت کر کے شافع محشر ﷺ سے ایک نسبت حاصل کرلیتا ہے۔ وہ قادیانیوں کی قرآنی تحریفات کا مقابلہ کر کے قرآن سے ایک تعلق قائم کر لیتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے قاتل ہاتھوں سے حدیث رسول ﷺ کی حفاظت کر کے حدیث رسول ﷺ کی خدمت کر جاتا ہے۔ وہ قادیانیوں کی لچر زبان کا منہ توڑ جواب دے کر اُمہات المومنین کی عزت کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ قادیانیت کے جعلی عقیدہ صحابیت کے پرخچے اڑا کر صحابہ کرامؓ سے ایک نسبت حاصل کر لیتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے جعلی اہل بیت کی دھجیاں اڑا کر حضور سرور کائنات ﷺ کے اہل بیت کی شان بیان کرتا ہے اور اہل بیت سے ایک نسبت پا جاتا ہے۔ وہ قادیان اور ربوے کی مذمت اور مرمت کر کے مکہ اور مدینہ کی عزت کی حفاظت کر کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے ایک والہانہ تعلق پیدا کر لیتا ہے وہ قادیان کے نام نہاد ”اولیائے

صفحہ 19

کرام“ کی بدمعاشیوں کی پٹاریاں کھول کر لوگوں کے سامنے ان کی نمائش لگا کر ان کی پھک اُڑاتا ہے اور سچے اولیاء کرام کی شان بیان کر کے اولیائے کرام سے ایک نسبت حاصل کر لیتا ہے۔

سرور کائنات ﷺ کے پیارے امتیو! کہاں تک لکھوں۔ کہ ایک مجاہد ختم نبوت کتنی نسبتیں حاصل کر لیتا ہے۔ کتنی عظمتوں کو پالیتا ہے۔ اپنے دامن کو کتنے انعامات سے بھر لیتا ہے۔ اس کے سر پر کتنی شفقتوں کے سائے آجاتے ہیں۔ کتنی آسمانی محفلوں میں اس کا تذکرہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کیسے کیسے عظیم انعامات کا وعدہ کیا جاتا ہے؟

مسلمانو! وقت آواز دے رہا ہے۔ زمانہ صدا لگا رہا ہے۔ ...... ہے کوئی ان نعمتوں کو حاصل کرنے والا؟ اہل وفا کا قافلہ سوئے جنت جا رہا ہے۔ ہے کوئی جنت کا مسافر؟ ہے کوئی جنت الفردوس کا رہرو؟ ہے کوئی حوروں کا طلبگار؟ ہے کوئی شراب طہور کے جام نوش جاں کرنے کا آرزو مند؟ ہے کوئی موتیوں کے محلات کا طلبگار، ہے کوئی سونے کی مسہریوں پر گاؤ تکیے لگا کر بیٹھنے اور جنت کی دلنشیں بہاروں اور نظاروں کی دید کا طالب؟ ہے کوئی اللہ اور اس کے رسول کی زیارت کا خواہش مند؟

بولو! ...... بولو! ...... کہ اہل وفا کا قافلہ بڑی تیزی سے گزر رہا ہے۔ اور وقت کا متحرک پہیہ کسی کا انتظار نہیں کیا کرتا!!!

خاک پائے شہید اول ختم نبوت حضرت حبیب بن زید انصاری محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی۔ ایم اے تاریخ

صفحہ 20

ختم نبوت و کمال شریعت

ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکہ

ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد

بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آفرینش کے بعد انھیں مہمل و آزاد چھوڑا گیا نہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے ان کی عقلوں کی رہنمائی کو کافی سمجھا گیا۔

ابوالبشر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا عمل اللہ جل شانہ کے ہاتھوں انجام پایا، ان میں روح پھونکی گئی اور انھیں مخصوص اسماء کی تعلیم دی گئی، ازاں بعد دنیا میں خلافت و نیابت الٰہی کا تاج پہنا کر انھیں زمین پر اتارا گیا، قرآن پاک کی آیت میں تخلیق آدم کا یہی سبب ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ربانی ہے:

میں ضرور بناؤں گا زمین میں ایک نائب

(سورۂ بقرہ)

خلافت و نیابت کا استحکام اسی وقت پیدا ہو سکتا تھا، اور اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا جبھی ممکن تھا کہ ان کی ہدایت و تعلیم و تربیت کا مکمل بندوبست کیا جاتا، بلکہ اس کے اسباب بھی مہیا کیے جاتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے بارے میں امیدوں کے در وا کیے اور حکم مرحمت فرمایا کہ جب ان کی طرف ہدایت و احکام آئیں تو اسے قبول اور ان کی بجا آوری میں سر تسلیم خم کریں اور ان کی اتباع میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں۔

ہم نے حکم فرمایا نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب، پھر اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ تو کچھ اندیشہ ہو گا اس پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی، یہ لوگ ہوں گے دوزخ والے اور اس میں ہمیشہ

رہیں گے

بعد ازاں ان کا بیان ہے کہ یہ کمال کا شکار نہ ہوں بلکہ ان ان کے بیان کردہ احکام عوام الناس اختلافِ انسانی طبائع اور ظاہر ہونا، جذبات و رغبات ہر زمانہ و دور کے اندر نظر سلسلہ ہو، یک گونہ تسلسل کے لیے ایک نبی ہو جو اس معاشرت و معاش میں ج مقاصد اور اس کی غرض و واضح ہو، ان میں مکمل ہم آ راہ رو بن جائیں۔

اور ہم ہر ام کمزور اور شیط تعالیٰ نے ہر گا۔ (القرآ ہر قوم وملت بنا پر بھی ضروری تھا کہ امراض اور اجتماعی و معا اور ضلالت کے جن اند حق پر ڈالنے کی سعی کر

صفحہ 21

رہیں گے۔

بعد ازاں انبیا و رسل کو بنی نوع انسان کی جنس سے چننا اور منتخب کرنا اور پھر انھیں سراپا رحمت بنا کر مبعوث فرمانا، اللہ جل شانہ کی رحمت، شفقت و کرم نوازی کا ایک دلآویز انداز ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان ہدایت یافتہ اور برگزیدہ افراد سے بنی آدم وحشت، نفرت اور بے گانگی کا شکار نہ ہوں، بلکہ ان سے یک گونہ انسیت اور محبت کا احساس ان کے دلوں میں چٹکی لے اور ان کے بیان کردہ احکام کی بجا آوری سہل ہو۔

عوام الناس کے معیار زندگی میں روز افزوں ترقی، ماحول و معاشرے کی تشکیل و اختلاف، انسانی طبائع اور انداز فکر و نظر میں تنوع کی بنا پر مختلف و جداگانہ مکاتب فکر کا منصۂ شہود پر ظاہر ہونا، جذبات و رغبات، نفسیاتی و ذہنی ہم آہنگی کا فقدان، جنسی و شہوانی خواہشات کا غلبہ اور ہر زمانہ و دور کے اندر نظر و طرز معاشرت میں فرق اس امر کا تقاضا کرتے تھے کہ سلسلۂ انبیا مسلسل ہو، یک گونہ تسلسل کے ساتھ بدرجاً انبیا کرام کی بعثت عمل میں آئے، اور ہر امت و قوم کے لیے ایک نبی ہو جو اس کے قلب و جاں میں سرایت کردہ بیماریوں کی تشخیص کرے اور فکر و نظر، معاشرت و معاش میں جو کجیاں در آئی ہیں ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے انسان کی تخلیق کے مقاصد اور اس کی غرض و غایت واضح کرے تاکہ اپنے اصلی مقصد کے بارے میں امت کا ذہن واضح ہو، ان میں مکمل ہم آہنگی اور اتفاق رائے ہو، اور سب کے سب منہج ہدایت و صراطِ مستقیم کے راہ رو بن جائیں۔

اور ہم ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو، سو ان میں بعضے وہ ہوئے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعضے ان میں وہ ہیں جن پر گمراہی کا ثبوت ہو گا۔

(القرآن)

ہر قوم و ملت میں ماحول کے اختلاف اور جادۂ حق سے انحراف کے مختلف اسباب کی بنا پر بھی ضروری تھا کہ ہر امت کے ساتھ ایک رسول خاص ہو، جو اس کو اعتقادی آفات، نفسیاتی امراض اور اجتماعی و معاشرتی انارکی سے بچائے رکھے، اور اس وقت وہ جن امراض میں مبتلا ہے اور ضلالت کے جن اندھے گڑھوں میں ہاتھوں پاؤں مار رہی ہے، انھیں اس سے نکال کر جادۂ حق پر ڈالنے کی سعی کرے۔

صفحہ 22

تاریخ نبوت کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ ہر نبی اپنے زمانہ و ماحول کے مناسب ایک خاص ذمہ داری لے کر مبعوث ہوا ہے۔ نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ تاہم ان کی تیرہ بختی سعادت و فلاح کی راہ میں حائل ہوئی اور انھوں نے روگردانی کا وطیرہ اپنایا، آخر کار انھیں ایک ہیبت ناک طوفان نے آ گھیرا اور وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ ابراہیم علیہ السلام بھی اسی دعوت کو لے کر آئے اور اپنے دور میں شرک و بت پرستی کے طوفان بلاخیز سے نبرد آزما ہوئے اور ہر ممکن طریقے سے قوم کو اعتقادی بیماریوں سے نجات دلانے کی سعی کی۔ دریں اثنا اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمایا اور وہ آزمائش پر پورا اترے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انکی نسل میں نبوت و کتاب کے سلسلے کا آغاز فرما دیا۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو غلامیت کی ذلت سے نجات دلائی اور فراعنہ مصر کے ظلم و جور کے پنجہ استبداد سے انھیں نکالا۔ مسلسل حق تلفی کی شکار، ستم رسیدہ اور غلامانہ ذہنیت سے مغلوب قوم میں آپ علیہ السلام نے پیہم سعی سے عزت نفس، حریت فکر اور صلابت کی روح پھونکنے میں اہم خدمات انجام دیں، تاہم قوم نے ان احسانات کا بدلہ ناشکری و بے حسی سے دیا اور ان احسانات کو اپنا حق گردانتے ہوئے علی الاعلان احکام الٰہیہ کی بے توقیری کی اور بلا جھجک سود کھاتے اور انبیا ورسل کو دست ستم کا نشانہ بناتے تھے۔ ظلم و ستم اور نافرمانی میں وہ اس قدر آگے بڑھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو پس پشت ڈال کر علما و احبار کو خدا کا درجہ دے بیٹھے، نتیجتاً رفتہ رفتہ حلت و حرمت کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لے کر پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلہ کرنے لگے، تحریف و تاویل کا سیلاب بلاخیز در آیا، حتیٰ کہ دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے اور اس کی پیروی و اتباع کی تلقین کرتے تھے۔ حرص و طمع کے جذبات سے اتنے مغلوب ہوئے کہ ماضی کے واقعات سے آنکھیں موند لیں اور حال ہی کو سب کچھ سمجھ کر عیش و عشرت میں اضافے کی تگ و دو میں مصروف ہو گئے۔ اس صورتحال کے سدباب کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت عمل میں آئی۔ ان کی بعثت کا مقصد قوم کی فکری کجیوں کی اصلاح فرمانا اور ان کے جذبات و وجدان کو مخاطب کر کے اصلاح کے عمل کی داغ بیل ڈالنا تھا اور ان کے دلوں میں خشیت الٰہی کا چراغ روشن کرنا تھا، شاید ان کے دل نرم پڑ جائیں اور راہ حق پر از سر نو چلنے لگیں۔ تاہم انھوں نے آپ کی قدر کی نہ آپ کی باتوں کو درخور اعتنا سمجھا، بلکہ آپ کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف ہو گئے۔

انبیاء کرام کے ق فکری و نظری اختلاف اور کے لیے اسی ضابطے کے شریعت و انوار معرفت سے ما نفسیاتی، فکری و ذہنی اعتبا اسباب بہم پہنچ گئے۔ تو اللہ جل اختتام ایسا نبی مبعوث فرمایا جس جو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی اور آپ کے رب اس کلام کا کوئی بد رہے ہیں۔ یہ کتاب تمام انسا ہے جو دنیوی واُخروی سعاد طرف ہر حال میں رجوع کیا ہدایت کے ساتھ تذبذب کو کو کونے کھدرے میں دیکھنے رسوائی کا گز نہیں اور نہ اس ق

صفحہ 23

انبیاء کرام کے قصوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بعثت انسانیت کے اصول، ان میں فکری و نظری اختلاف اور قوت و ضعف، فقر و غنی کے نقطہ نظر سے عمل میں آئی ہے اور ہر امت کے لیے اسی کے اصول کے مناسب نبی منتخب کیا گیا۔ حتیٰ کہ جب ہر امت ہدایت و رسالت، شریعت و انوار معرفت سے اپنا متعین حصہ وصول کر چکی اور تمام انسانیت من حیث المجموع عملی نفسیاتی، فکری و ذہنی اعتبار سے اعلیٰ صلاحیتوں کی حامل اور ایک عمومی رسالت کی قبولیت کے تمام اسباب بہم پہنچ گئے۔ تو اللہ جل شانہ نے نبوت کے سلسلۃ الذہب کا اختتام فرما دیا اور سر انجام ایسا نبی مبعوث فرمایا جس کے بعد کسی نبی کی چنداں حاجت نہیں اور ایسی کتاب نازل فرمائی جو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ہر دور کی ضروریات پر حاوی ہے۔

اور آپ کے رب کا کلام واقعیت اور اعتدال کے اعتبار سے کامل ہے اس کلام کا کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ خوب سن رہے ہیں، خوب جان رہے ہیں۔

یہ کتاب تمام انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہے، اس کی ہدایات میں وہ راستہ پنہاں ہے جو دنیوی و اخروی سعادت پر منتج ہوتا ہے، اور یہ ایک ایسی جائے پناہ اور مرجع ہے جس کی طرف ہر حال میں رجوع کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس نور کے ساتھ ظلمت کا کوئی مس نہیں، نہ اس ہدایت کے ساتھ تذبذب کو کوئی سروکار ہے۔ اس واضح حق کی موجودگی میں گمراہی و ضلالت کو کسی کونے کھدرے میں دیکھنے کے سوا چارہ کار نہیں۔ اس عزت و کرامت کے کوچے میں ذلت و رسوائی کا گزر نہیں اور نہ اس توحید کے ہوتے ہوئے شرک و جہالت کا عفریت پنپ سکتا ہے۔

صفحہ 24

خاتم النبیینؐ ...... تکمیل نبوت ۔ تکمیل دین

مولانا سید ابوالحسن ندویؒ

اللہ تعالیٰ نے ادیان سابقہ کے ساتھ اشاعت دین کا معاملہ فرمایا‘ اور آخری دین کے آنے سے پہلے اور نبوت کے ختم ہونے سے پیشتر ان کے ذریعے لاکھوں انسانوں کو ہدایت اور ان کو نجات حاصل ہوئی‘ لیکن چونکہ ان ادیان کو قیامت تک باقی رہنا نہیں تھا‘ اس لئے حفاظتِ دین کا ان کے لئے نہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور نہ قرآن مجید میں اس کی کوئی تصریح ہے‘ اس کے برخلاف قرآن مجید میں ان ادیان کے متعلق ہے۔

بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ۔

(المائدہ۔۴۴)

کیونکہ وہ (علمائے یہود و نصاریٰ) کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الٰہی کا یقین رکھتے تھے ۔)

ایک طرف اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے متعلق فرماتا ہے: اِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ دوسری طرف صحف سابقہ کے بارہ میں فرماتا ہے۔ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ۔ (وہ لوگ علمائے یہود و نصاریٰ) کتاب اللہ کی حفاظت کے ذمہ دار بنائے گئے) اور ایک جگہ بھی یہ نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے قدیم آسمانی کتابوں کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔

اس میں بہت بڑا دخل ان ادیان میں ختم نبوت کے عقیدہ اور اعلان کے نہ ہونے کو ہے‘ مدعیانِ نبوت کے سلسلہ کو روکنے کے لئے ان ادیان میں کوئی دیوار نہیں بنائی گئی‘ کوئی پشتہ تعمیر نہیں کیا گیا‘ کوئی اعلان نہیں کیا گیا‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں مدعیانِ نبوت یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے رہے‘ لوگ ان کی دعوتوں سے متاثر ہوتے رہے اور یہودی اور مسیحی دنیا

صفحہ 25

کو ایک شدید ذہنی اور مذہبی انتشار سے واسطہ پڑتا رہا۔

یہودی اور مسیحی تاریخ کو پڑھنے والا اس بات کو صاف طریقہ پر دیکھتا ہے کہ مدعیان نبوت کا کثرت سے پیدا ہونا یہودی دنیا کے لئے اپنے حلقہ اثر میں اور مسیحی دنیا کے لئے اپنے حلقہ اثر میں، ایک عظیم الشان آزمائش اور فتنہ بنا ہوا تھا، یہ ان کے لئے ایک زبردست بحران (Crisis) اور ایک اہم مسئلہ (Problem) کی حیثیت رکھتا تھا، مجھے سب سے پہلے اس کی طرف توجہ علامہ اقبالؒ (اللہ تعالیٰ ان کے درجے بلند فرمائے) کی تحریر سے منعطف ہوئی کہ انہوں نے (میرے مطالعہ میں) پہلی مرتبہ یہ لکھا ہے کہ ختم نبوت اس امت کا طرۂ امتیاز اور اس کے حق میں نعمتِ عظمیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عظیم الشان نعمت عطا فرمائی ہے کہ ختم نبوت کا مختتم اعلان کر دیا گویا انسانوں کو یہ بتایا کہ اب تمہیں بار بار وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھنا نہیں ہے، اب زمین کی طرف دیکھو، اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں زمین کو (جس میں تم خلیفۃ اللہ فی الارض بنائے گئے ہو) آباد کرنے اور اپنی صلاحیتوں سے انسانوں کی قسمت بدلنے، سہولت بہم پہنچانے، اور ان کے لئے وہ ماحول مہیا کرنے میں صرف کرو جو ان کو نجات اُخروی اور سعادت دنیوی کے حصول میں معاون ہو، اب تم اپنی توانائی اس میں ضائع نہ کرو کہ ہر تھوڑے وقفہ کے بعد آسمان کی طرف دیکھا کرو کہ کوئی نیا نبی تو نہیں آ رہا ہے، کوئی نیا الہام تو نہیں ہو رہا ہے؟ آسمان سے براہ راست کوئی نئی راہنمائی ہونے والی ہے؟ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ ختم نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس نے امت کو انتشارِ ذہنی، کشمکش، اور جعل سازوں کی سازشوں کا شکار ہونے سے بچا لیا۔۱؎

میں نے اس روشنی میں یہودیت اور مسیحیت کی تاریخ براہ راست پڑھنی شروع کی تو میں نے دیکھا کہ یہودی اور مسیحی علماء سر پکڑ کر (اور اس کو ”مبالغہ“ نہیں کہہ رہا ہوں) رو رہے ہیں، اور اس پر پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ عجیب مصیبت ہے، روز ایک نیا مدعی نبوت پیدا ہوتا ہے، اس کو صادق و کاذب ثابت کرنے کے لئے کوئی پیمانہ

۱؎ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو علامہ اقبال کے مدراس کے لیکچرز۔ Reconstruction of Religious thought in islam. اور اس کا ترجمہ۔ از نذیر نیازی، ”تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ“

صفحہ 26

چاہئے اور وہ بھی ایسا ہونا چاہئے جو سب کو سمجھ میں آئے‘ ہماری طاقت اور ذہانت اسی میں صرف ہو رہی ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ فلاں جعلی مدعی نبوت ہے‘ فلاں دجال کذاب ہے‘ صدیوں تک یہودی اور مسیحی دنیا اس آزمائش میں مبتلا رہی ہے۔

میں یہاں معتبر یہودی و عیسائی مآخذ کے صرف دو اقتباس پیش کرتا ہوں‘ امریکی برطانی جیوش ہسٹاریکل کا ایک فاضل رکن Albert M. Taymson (البرٹ ایم ٹائمسن) انسائیکلوپیڈیا مذاہب و اخلاق“ میں لکھتا ہے:

”یہودی حکومت کی آزادی سلب ہو جانے کے بعد پچھلی چند نسلوں تک بہت سے خود ساختہ مسیحاؤں کا ذکر یہود کی تاریخ میں ملتا ہے‘ جلاوطنی کے تاریک ترین زمانوں میں امید اور خوشخبری کے یہ پیغامبر‘ خود ساختہ قائدین کی حیثیت سے یہود کو ان کے وطن (جہاں سے ان کے آباؤ اجداد نکال باہر کئے گئے تھے) واپس لے جانے کی امیدیں دلاتے رہتے تھے‘ اکثر اوقات اور خصوصاً قدیم زمانہ میں ایسے ”مسیح“ ان مقامات پر اور ایسے زمانہ میں پیدا ہوتے تھے‘ جہاں یہود پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ جاتا تھا اور اس کے خلاف بغاوت کے آثار پیدا ہو جاتے تھے‘ اس قسم کی تحریکیں عموماً سیاسی نوعیت کی حامل ہوا کرتی تھیں‘ خصوصاً بعد کے زمانہ میں تو تقریباً ہر تحریک کا یہی رنگ تھا‘ اگرچہ مذہبی عنصر سے کم عاری ہوا کرتی تھیں‘ لیکن اکثر ان کے بانی بدعات کو فروغ دے کر اپنی سیادت کا دائرہ اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے جس کے نتیجہ میں یہودیت کی اصل تعلیمات کو بہت نقصان پہنچتا تھا‘ نئے نئے فرقے جنم لیتے اور پھر بالآخر عیسائیت یا اسلام میں ضم ہو جاتے تھے۔“ ( Encyclopedia of Religion (And ethics.

chell مسیحیت کو پیش (1) sdom اور کلیساؤں فلاح و بہب وجود میں خو کرنے کی کلام کرتا ہے‘ ابھی ان مدعیان دریافت ب کلیسا اس اصولوں سکے۔ ا سکے۔ (D آپ خیال یہاں پر ہمیں اس حد میں بھی انہی لوگوں میں یہ ہے کہ اس وقت ہ کا مسئلہ آیا اور ان کے حدیث کو ہمیں سمجھنے میں

صفحہ 27

جو سب کو سمجھ میں آئے، ہماری طاقت اور ذہانت اسی میں کریں کہ فلاں جعلی مدعی نبوت ہے، فلاں دجال کذاب ہے، س آزمائش میں مبتلا رہی ہے۔

و عیسائی مآخذ کے صرف دو اقتباس پیش کرتا ہوں، امریکی فاضل رکن Albert M. Hyamson (البرٹ ایم ساق“ میں لکھتا ہے:

زادی سلب ہو جانے کے بعد پچھلی چند نسلوں ختہ مسیحاؤں کا ذکر یہود کی تاریخ میں ملتا ہے، ین زمانوں میں امید اور خوشخبری کے یہ پیغامبر، ثیت سے یہود کو ان کے وطن (جہاں سے ان باہر کئے گئے تھے) واپس لے جانے کی تھے، اکثر اوقات اور خصوصاً قدیم زمانہ میں ت پر اور ایسے زمانہ میں پیدا ہوتے تھے جہاں مچ جاتا تھا اور اس کے خلاف بغاوت کے آثار سم کی تحریکیں عموماً سیاسی نوعیت کی حامل ہوا کے زمانہ میں تو تقریباً ہر تحریک کا یہی رنگ تھا، م حاوی ہوا کرتی تھیں، لیکن اکثر ان کے بانی اپنی سیادت کا دائرہ اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کے نتیجہ میں یہودیت کی اصل تعلیمات کو بہت نئے فرقے جنم لیتے اور پھر بالآخر عیسائیت یا تھے۔" (Encyclopedia of Religion

Edwin Knox Mitchell ہارٹ فورڈ (Hartford) کے مدرسہ مسیحیت کو پیش آنے والے اس ابتلا کے بارہ میں لکھتے ہیں:

"ان جھوٹے نبیوں کے ظہور نے جو ماورائی حکمت Superior Wisdom کے مدعی ہوتے تھے، بہت جلد بے اعتمادی پیدا کر دی اور کلیساؤں اور ان کے رہنماؤں کو اس خطرہ کا احساس دلایا جو ان کی فلاح و بہبود کے گرد منڈلا رہا تھا، تاہم ابھی کوئی ایسا تادیبی طریقہ وجود میں نہیں آیا تھا، جو جانا پہچانا بھی ہوتا، اور ان مکاروں کا زور ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، جنہیں یہ دعویٰ تھا کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے، اور ان پر بذریعہ وحی اپنے راز ہائے سربستہ منکشف کرتا ہے، ابھی تک کوئی ایسا معیار نہیں دریافت ہو پایا تھا، جس کے ذریعہ ان مدعیان روحانیت کی صداقت کا امتحان لیا جاسکتا، ایسے معیار کا دریافت ہونا قطعاً ضروری تھا، اور اگر یہ دریافت نہ بھی ہوتا تو بھی کلیسا اس کی تخلیق کر کے رہتا تاکہ اس کے ذریعہ مذہب کو بنیادی اصولوں میں انتشار اور زندگی کو الحاد کے راستہ پر جا پڑنے سے بچا سکے۔ اور اس طرح خود اپنی حفاظت کا انتظام کر سکے۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics vol. 1, 0,)

آپ خیال کیجئے کہ جب یہ صورت حال ہو تو پھر دوسرے کام کیسے ہو سکتے ہیں۔

یہاں پر ہمیں اس حدیث کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے جس کو ہم پڑھتے پڑھاتے رہتے ہیں، میں بھی انہی لوگوں میں ہوں جنہوں نے الحمد للہ حدیث کا درس لیا اور دیا بھی لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس وقت ہم اس حدیث کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے، لیکن جب ختم نبوت کا مسئلہ آیا اور ان یہودیوں اور عیسائیوں کی ذہنی پریشانی اور بحرانی کیفیت کا علم ہوا تو اس حدیث کو ہمیں سمجھنے میں مدد ملی، بخاری کی حدیث ہے۔

صفحہ 28

جاء رجل من اليهود الى عمر بن الخطاب. رضى الله عنه. فقال : يا امير المومنين انكم تقرأون اية فى كتابكم ‘ لو علينا معشر اليهود نزلت لا تخذنا ذلک اليوم عیداً‘ قال: وای آیة؟ فقال قوله: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ ”فقال عمر . رضى الله عنه. والله انى لا علم اليوم الذى نزلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم. والساعة التي نزلت فيها على رسول الله . صلى الله عليه وسلم . عشية عرفة يوم جمعة.“ (روایت صحیح بخاری‘ کتب صحاح و سنن‘ مسند امام احمد بن حنبل (الفاظ مسند احمد بن حنبل کے ہیں)

اس میں ہر چیز قابل توجہ ہے‘ معمولی یہودی نہیں ایک یہودی عالم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے آ کر کہا کہ امیر المومنین! آپ اپنی مقدس کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس روز کو روز جشن بنا لیتے‘ لیکن آپ لوگ آسانی سے پڑھ جاتے ہیں (آپ کو اندازہ نہیں کہ وہ آیت کتنی عظیم الشان وہ ایک حد فاصل‘ اور امت کے حق میں ایک نعمت ہے) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ وہ کون سی آیت ہے‘ یہودی نے کہا ”اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ الخ“ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہم اس روز بلکہ اس وقت کو بھی خوب جانتے ہیں‘ جب آنحضرت ﷺ پر وہ نازل ہوئی تھی‘ وہ جمعہ کا دن اور عرفہ کی شام تھی۔

اس جواب میں فاروقی ذہن اور فاروقی راہنمائی کام کرتی نظر آتی ہے‘ آپ نے فرمایا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وقوف عرفہ کی دن یہ آیت نازل ہوئی‘ یہ تو رکھی رکھائی عید ہے‘ اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ ہمیں کسی نئے تہوار اور جشن کی ضرورت نہیں (اور اسلام حقیقتاً تہواروں اور جشنوں کا مذہب بھی نہیں ہے۔)

میں اس یہودی کے فہم کی اور اس کی نظر کی داد دیتا ہوں‘ اس کا بیان ایک تاریخی

صفحہ 29

شہادت کا درجہ رکھتا ہے، یہ شہادت روایتی اور تاریخی طور پر بھی معتبر ہے اور قرائن و آثار کے اعتبار سے بھی قابل فہم ہے، اس حدیث نے ثابت کر دیا کہ ایک یہودی عالم کی شہادت کے مطابق (جو اپنے مذہب کا واقف کار اور مستند نمائندہ ہے) یہودی مذہب میں کوئی ایسا اعلان نہیں کہ نبوت ختم ہو گئی اور ہمارے یہاں اس کا صاف اعلان موجود ہے، اگر ہمارے سامنے وہ یہودی عالم ہوتا تو آپ دیکھتے کہ اس کے چہرے پر کیا اتار چڑھاؤ ہے اور حسرت و افسوس کے کیا آثار ہیں؟ اگر کوئی شخص اس کے الفاظ کی طاقت اور اس کی تعبیر کی گیرائی اور گہرائی پر غور کرے تو اس کو کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس نے کس طرح اور کس حسرت سے اپنے اس مفہوم کو ادا کیا ہو گا، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس مذہب کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین اسلام کو یہ خصوصیت عطا فرمائی اور دین کے مختتم، محکم و کامل ہونے کا آخری طور پر اعلان فرما دیا۔

میں یہاں پر یہ عرض کر دوں کہ اسلامی تاریخ میں یہ دونوں فرض (اشاعت دین اور حفاظت دین) دوش بدوش اور ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں، لیکن اشاعت دین کے لئے ان دقیق و عمیق، بلند و نازک صفات کی اتنی ضرورت نہیں، جتنی حفاظت دین کے لئے ضرورت ہے، اشاعت دین کا جہاں تک تعلق ہے، وہ بادشاہوں کے ذریعہ سے بھی ہوئی، فاتحین ممالک اور بانیان سلطنت کے ذریعہ سے بھی ہوئی، تنہا ولید بن عبدالملک کی خلافت کے دور میں (جس کو ہم معیار نہیں سمجھتے) لاکھوں اور ممکن ہے کروڑوں آدمی مسلمان ہوئے ہوں اس لئے کہ جس وسعت کے ساتھ ولید کے زمانے میں دنیا فتح ہوئی، اس کی نظیر دوسرے خلفاء و سلاطین کے عہد میں مشکل سے ملے گی، عقبہ بن نافع دمشق سے چلتے ہیں، اور مصر سے لے کر لیبیا، طرابلس، الجزائر، تونس، اور مراکش و رباط تک پہنچ جاتے ہیں، شمالی افریقہ کی پوری پٹی مسلمان ہو جاتی ہے، وہ بحر ظلمات میں گھوڑے ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ یہ سمندر حائل نہ ہوتا تو میں تیری زمین کے آخری سرے تک تیرا دین پھیلاتا چلا جاتا، میں نے اپنے سفر مغرب کے دوران وہ جگہ دیکھی ہے جس کا نام آج تک ”اسفی“ ہی ہے، معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حسرت اور خلوص کے ساتھ وہ لفظ کہے تھے کہ آج تک اس جگہ کا نام اسفی ہے۔

(تاریخ الکامل ابن اثیر ج ۳ ص ۴۲ ۴۳۔)

جہاں تک اشاعت دین کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ فاتحین و قائدین عساکر اسلامیہ

صفحہ 30

کو جزائے خیر دے، ہمیں ان کا احسان ماننا چاہئے، ان کے لئے کلمہ خیر کہنا چاہئے، میں ان لوگوں میں نہیں ہوں جو فاتحین و قائدین کے سارے کارناموں پر یکسر پانی پھیر دیتے ہیں اور ان کو خالص دنیا دار اور دنیا طلب سلاطین و ملوک کی طرح پیش کرتے ہیں، اللہ نے ان سے بڑا کام لیا، خلفائے بنی امیہ کے ذریعہ اور دوسرے مسلمان سلاطین کے ذریعہ بڑے پیمانہ پر اشاعت اسلام ہوئی۔

لیکن اشاعت اسلام کے لئے ان نازک صفات، اندرونی روحانی طاقت، اس دین پر اعتماد کلی اور اس کے بارے میں مکمل شرح صدر اور اس غیرت دینی کی اتنی ضرورت نہیں جتنی حفاظت دین کے لئے ضرورت ہے۔ ........ اس لئے حفاظت دین کا فریضہ علماء کے سپرد کیا گیا ہے، نائبین رسول کے سپرد کیا گیا ہے، اشاعت دین میں دونوں شریک ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں، سیدنا عبدالقادر جیلانی اور ان کے متبعین کے ذریعہ افریقہ میں اسلام جس طرح پھیلا حضرمی سادات و شیوخ و تجار کے ذریعے ملائشیا اور انڈونیشیا جس طرح مسلمان ہوئے نائب رسول اللہ (میں یہ لفظ قصداً استعمال کر رہا ہوں کہ حضرت سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ سب بزرگوں کا نام اس طرح لیتے ہیں جس طرح لینا چاہئے لیکن جب خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا نام لیتے ہیں تو نائب رسول اللہ ضرور کہتے ہیں۔)

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور ان کے جانشینوں کے ذریعہ اسلام جس طرح پھیلا ہے، افسوس ہے کہ اس کا مفصل ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ مگر تاریخ سے متواتر یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ابوالفضل جیسا Secular مؤرخ بھی بلند الفاظ میں اس کا اعتراف کرتا ہے۔

(ملاحظہ ہو آئین اکبری ص ۲۷۰)

ہندوستان کی اشاعت اسلام کی تاریخ میں تین نام اور بہت نمایاں نظر آتے ہیں، امیر کبیر سید علی ہمدانی جن کے ہاتھ پر کشمیر کا بڑا حصہ مسلمان ہوا، شیخ اسماعیل لاہوری۔ اور خواجہ فرید الدین گنج شکر ( ملاحظہ ہو ”دعوت اسلام“ (ترجمہ Preaching of Islam از پروفیسر آرنلڈ) ص ۲۷۸ - ۲۷۹ و ص ۲۸۸ - ۲۸۹ (اردو) طبع لاہور ۱۹۶۲ء ) تیرھویں صدی ہجری کے ایک باخبر عالم و مؤرخ مولانا عبدالاحد کہتے ہیں کہ حضرت سید احمد شہیدؒ کے ہاتھ پر چالیس ۴۰۰۰۰ ہزار آدمی مسلمان ہوئے۔

(سوانح احمدی)

لیکن حفاظت دین کا اب سارا انحصار ہمارے علماء پر ہے، ہمارے مدارس کے

صفحہ 31

فضلاء پر ہے اور میں اس سلسلہ میں عرض کرتا ہوں کہ اس کی پیشین گوئی موجود ہے، مشکوٰۃ شریف میں حدیث موجود ہے:

يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين

(مشکوٰۃ فصل ثانی ص ۳۶)

”اس علم کے حامل ہر نسل میں وہ لوگ ہوں گے جو دیانت وتقویٰ سے متصف ہوں گے وہ اس دین کی غلو پسندوں کی تحریف اہل باطل کی غلط نسبت و انتساب اور جاہلوں کی تاویلات سے حفاظت کریں گے۔“

میں پھر آپ سے کہتا ہوں کہ:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ o إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ o (سورہ النجم: ۳-۴)

(اللہ کے نبی) نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں، یہ قرآن تو حکم خدا ہے جو ان کی طرف (بھیجا جاتا ہے۔)

ایک نبی مرسل اور صادق ومصدوق کی زبان ہی سے یہ الفاظ نکل سکتے ہیں، اسلام کی پوری تاریخ اصلاح وتجدید آپ پڑھیں، حفاظت دین کے جتنے کام ہوئے ہیں، صیانت دین کے جتنے کام ہوئے ہیں ان میں سے ہر کام ان عنوانوں میں سے کسی نہ کسی عنوان کے تحت آتا ہے، افسوس ہے کہ ہم نے ان الفاظ کے اعماق اور آفاق کا جائزہ نہیں لیا اور ان کا صحیح اندازہ نہیں کیا، الفاظ کے لئے اعماق بھی ہوتے ہیں، آفاق بھی، الفاظ نبوی کے آفاق بھی وسیع سے وسیع تر اور اعماق بھی عمیق سے عمیق تر ہیں، اللہ کے برگزیدہ رسول کے سوا چودہ سو برس پہلے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا ”ینفون عنه تحریف الغالین وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين“ ساری تاریخ اصلاح و تجدید اس کی تشریح ہے۔

اب میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ان فتنوں میں جو امت کی تاریخ میں رونما ہوئے فتنہ قادیانیت سرفہرست ہے، مجھے تاریخ کے اس حصہ سے خصوصی دلچسپی رہی ہے، جس کا تعلق

صفحہ 32

ملت اسلامیہ کے دین و عقائد فکر و رجحان اور تحریکوں سے رہا ہے، اس لئے میں اپنے محدود مطالعہ کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ ظہور اسلام سے لے کر اس وقت تک کوئی فتنہ اسلام کی تاریخ میں اتنا نازک اور ابتلا کا نہیں تھا، جتنا قادیانیت، اس کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ ایک مستقل دین اور متوازی امت کی تشکیل کی دعوت ہے، اس لئے ہمارے بہت سے ان علماء حضرات کو جنہوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا (اللہ تعالیٰ ان کے درجے بلند فرمائے) اس پہلو کے تفصیلی و تنقیدی مطالعہ کا موقع نہیں ملا، بہت سی چیزیں زمان و مکان سے متعلق ہوتی ہیں، ذہانت، وفور علم اس کے ذہانت، وفور علم، اس کے ادراک کے لئے کافی نہیں، جو واقعہ ابھی پیش نہیں آیا، جو دعوے ہمارے سامنے نہیں آئے، ان دعوؤں کا ہم پہلے سے نوٹس کیسے لے سکتے ہیں، حقیقتاً قادیانی لٹریچر اس طرح کھلے طریقہ سے سامنے نہیں آیا تھا کہ یہ حضرات یہ اندازہ کرتے، ہمارے بہت سے مناظرین اور مدافعین نے (جو ہمارے اعتراف و احترام کے مستحق ہیں) بیشتر ایک اسلامی فرقہ کی حیثیت سے قادیانیت پر نظر ڈالی، اور اسی دائرہ کے اندر اس کا احتساب کیا، لیکن معاملہ یہ نہیں ہے، معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک متوازی امت اور ایک مستقل دین کی داعی ہے، یہاں پورا دینی نظام ترتیب دیا گیا ہے، شعائر کے مقابلہ میں شعائر، مقدسات کے مقابلہ میں مقدسات، مرکز کے مقابلہ میں مرکز، قبلہ کے مقابلہ میں قبلہ، محبت کی جگہ پر محبت، عظمت کی جگہ پر عظمت، ایک طریق فکر و استدلال کی جگہ پر دوسرا طریق فکر و استدلال، کتابوں کی جگہ پر کتابیں، ہر چیز کا انہوں نے بدل مہیا کیا ہے، اور ہر چیز انہوں نے متبادل دی ہے، یہاں تک کہ اسلامی تقویم کی قمری و ہجری مہینوں کے مقابلہ میں انہوں نے مہینوں کے نئے نام رکھے ہیں، اتنا وقت نہیں ہے کہ اس کو تفصیل سے بیان کیا جا سکے، متعدد کتابوں میں اس کی تفصیلات اور نمونے ملیں گے، خود میری کتاب ”قادیانیت“ میں ایک مستقل باب ”ایک مستقل دین اور ایک متوازی امت“ کے عنوان سے ہے۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ”قادیانیت“ ایک مستقل دین اور متوازی امت بنانے کی کوشش ہے، بلکہ مرزا صاحب کو انبیاء علیہم السلام پر بھی فضیلت دی گئی ہے مجھے پھر کہنا پڑتا ہے کہ علامہ اقبال نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھا، میرے علم میں انہوں نے اپنے ان انگریزی مضامین میں جو جواہر لال نہرو صاحب کے اٹھائے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں میں آخر اتنا جوش و خروش کیوں پایا جاتا

صفحہ 33

ہے‘ وہ بھی ایک مسلمان فرقہ ہے‘ کمال اتاترک نے بھی دین میں اصلاحات کیں‘ وہ بھی بعض نئی چیزیں پیش کرتے ہیں (مقالات شائع شدہ اخبار Statement) لیکن ان کے خلاف تکفیر وتنقید کی یہ ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی‘ علامہ اقبال نے اس بات کو واضح کیا کہ اس امت کی اجتماعیت مربوط ہے ختم نبوت کے عقیدہ سے‘ یہ خاص توفیق الٰہی تھی‘ میں اس کو اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کے مداور۔ وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ. کی تفسیر سمجھتا ہوں‘ اگر خدانخواستہ علامہ اقبال کو اس بارے میں ذرا سا تردد پیدا ہو جاتا ہے‘ یا وہ تذبذب کا شکار ہوتے تو اس نئی تعلیم یافتہ نسل کو بچانا کسی کے بس میں نہیں تھا‘ لیکن ان مخلصین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے‘ کہ اللہ کی توفیق سے علامہ اقبال کا ذہن اس بارہ میں بالکل صاف تھا‘ انہوں نے اس سلسلہ میں علمی وفکری انداز پر بڑا اہم کردار ادا کیا‘ انہوں نے اپنے اس انگریزی مضمون میں جو جواہر لال صاحب کے جواب میں شائع ہوا یہ لکھا ہے کہ ”اسلام بحیثیت دین و مذہب اپنے عقائد اور اپنی شریعت پر قائم ہے لیکن بحیثیت ایک معاشرہ و جماعت یہ امت ختم نبوت کے عقیدہ پر قائم ہے‘ اسلام کے قیام کے لئے اس کی شریعت کافی ہے‘ لیکن جہاں تک امت کا تعلق ہے اس امت کی شیرازہ بندی‘ اس امت کا باہمی ربط‘ اس امت کا دوام اس کا تسلسل ختم نبوت کے عقیدہ سے وابستہ ہے۔“ (ملاحظہ ہو Islam and Ahmadism شائع کردہ ”مجلس تحقیقات ونشریات اسلام“ ندوۃ العلماء لکھنؤ۔

اور دوسری بات ان کی گرفت میں یہ آئی کہ یہ فتنہ برطانوی حکومت اور مغربی اقتدار کی سازش اور ایک گہری اور دورس منصوبہ بندی کا جز ہے‘ اور یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے‘ جس کا دستاویزی ثبوت موجود ہے‘ خود مرزا صاحب اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں لکھتے ہیں:

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں‘ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب‘ مصر اور شام اور کابل و روم تک پہنچا دیا ہے‘ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ

PDF 34

مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی و مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں‘ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔

(تریاق القلوب ص ۱۵)

انہوں نے لیفٹنٹ گورنر پنجاب کو ۲۴ فروری ۱۸۹۸ میں جو درخواست پیش کی تھی‘ اس میں اپنے خاندان کو اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کا وفادار اور جانثار اور سرکار انگریزی کا ”خودکاشتہ پودا“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت ج ۷ ص ۱۹ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مقرر کی کتاب ) ”قادیانیت فصل دوم“ انگریزی حکومت کی تائید اور جہاد کی ممانعت‘ علامہ اقبال نے بڑے لطیف اور حکیمانہ انداز میں اس ربط و تعلق کو ظاہر کیا ہے‘ جو قادیانیت کی تحریک اور برطانوی سیاست کے مصالح و مفادات کے درمیان پایا جاتا ہے۔ (خود مرزا قادیانی نے صاف لفظوں میں اس ربط و تعلق کا اعتراف کیا ہے) ”امامت“ کے عنوان سے وہ فرماتے ہیں:

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانہ کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینہ میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی اور بھی تیرے لئے دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہٴ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمان کو سلاطین کا پرستار کرے

”نبوت“ کے عنوان سے فرماتے ہیں۔

میں نہ عارف نہ مجدد نہ محدث نہ فقیہہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام

ہاں مگر عالم فاش ہے مجھ عصر حاضر کی وہ حقیقت کہ وہ نبوت ہے جس نبوت میں یہ وہ شخص کہہ رہا ہے جس نے نے دو آدمیوں کو پنجاب میں پیدا کیا (میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ علامہ انور شاہ کشمیریؒ رفقاء و تلامذہ نیز پروفیسر الیاس برنیؒ مولا گا کہ وہ سب ایک مستقل مضمون بلکہ رسا کروں گا کہ آپ ان کو دعاؤں میں یادر ایڈیٹرز ”زمیندار“ اگر یہ دونوں وقت پر مید ’جو ہماری زبان نہیں سمجھتے‘ ان کو علامہ اقبا خان کے زور کلام نے قادیانیت کے آغ حضرات فضلاء طلبائے عزیز‘ حفاظت دین کا فرض آج بھی اس طری گاہوں میں پرورش پانے والوں اور نائبا کہ اس وقت تک رہا ہے‘ اس لئے برموق رہی ہے‘ میں نے عرض کیا کہ حفاظت د صفات سے زیادہ دقیق زیادہ عمیق‘ زیادہ فہم ہونا چاہئے‘ اس کے لئے صاحب فن براہ راست دین کے سمجھنے اور عربی زبان تفسیر و حدیث اور تاریخ اصلاح و تجدید اور اس سے بھی بڑھ کر حمیت دینی وغیرت

صفحہ 35

کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی و مسیح بتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو راب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو

ص ۱۵)

ر پنجاب کو ۲۴ فروری ۱۸۹۸ میں جو درخواست پیش کی گئی، کو گورنمنٹ برطانیہ کا وفادار اور جانثار اور سرکار انگریزی کا سوم کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت ج ۷ ص ۱۹ تفصیل کے لئے ل دوم ”انگریزی حکومت کی تائید اور جہاد کی ممانعت“ علامہ اقبال میں اس ربط و تعلق کو ظاہر کیا ہے، جو قادیانیت کی تحریک اور دات کے درمیان پایا جاتا ہے۔ (خود مرزا قادیانی نے صاف ہے) ”امامت“ کے عنوان سے وہ فرماتے ہیں۔

پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
میری طرح صاحب اسرار کرے
ا تیرے زمانہ کا امام برحق
حاضر و موجود سے بیزار کرے
ہ آئینہ میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
ر بھی تیرے لئے دشوار کرے
احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
ت بیضا ہے امامت اس کی
ن کو سلاطین کا پرستار کرے

ے فرماتے ہیں۔

عارف نہ مجدد نہ محدث نہ فقیہہ
علوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک نیلی فام
عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے
وہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ تمام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں شوکت و قوت کا پیام

یہ وہ شخص کہہ رہا ہے جس نے کیمبرج کی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم پائی، اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کو پنجاب میں پیدا کیا (میں مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مولانا محمد حسین بٹالویؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء و تلامذہ نیز پروفیسر الیاس برنیؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ وغیرہ ہم کا ذکر نہیں کروں گا کہ وہ سب ایک مستقل مضمون بلکہ رسالہ و کتاب کے مستحق ہیں) آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں ایک علامہ اقبال دوسرے مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر ”زمیندار“ اگر یہ دونوں وقت پر میدان میں نہ آتے تو نئی نسل کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ، جو ہماری زبان نہیں سمجھتی، ان کو علامہ اقبال کی اس عمیق و موثر اور سحر انگیز شاعری اور ظفر علی خان کے زورِ کلام نے قادیانیت کے آغوش میں جانے سے روکا۔

حضرات فضلاء، طلبائے عزیز، مہمانان کرام! میں آپ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ حفاظت دین کا فرض آج بھی اس طریقہ سے علماء اور طالبان علوم دینیہ اور ہماری درس گاہوں میں پرورش پانے والوں اور نائبان رسول کے ذمہ ہے، جیسے کہ پہلی صدی سے لے کر اس وقت تک رہا ہے، اس لئے بر موقع اور صحیح جگہ پر یہ مجلس مذاکرہ، یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، میں نے عرض کیا کہ حفاظت دین کے شرائط و صفات، اشاعت دین کے شرائط و صفات سے زیادہ دقیق زیادہ عمیق، زیادہ نازک اور زیادہ اہم ہیں، اس کے لئے دین کا عمیق فہم ہونا چاہئے، اس کے لئے صاحب فن اور ماہرین علوم دینیہ اساتذہ سے استفادہ و تلمذ اور براہ راست دین کے سمجھنے اور عربی زبان پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لئے تفسیر و حدیث اور تاریخ اصلاح و تجدید کے وسیع مطالعہ کی ضرورت ہے، پھر ایک بیدار ضمیر اور اس سے بھی بڑھ کر حمیت دینی و غیرت اسلامی کی ضرورت ہے۔ ع

صفحہ 36
میرے دیکھے ہوئے ہیں مشرق ومغرب کے مے خانے

آپ کے اسلاف کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔

میں اپنے مطالعہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ دسویں صدی ہجری سے لے کر اس وقت تک حفاظت دین کا فریضہ اس گروہ قدسی نے ادا کیا جس کے سرخیل اور سرگروہ سیدنا مجدد الف ثانیؒ ہیں (۹۷۱ھ ۔ ۱۰۳۴ھ) شیخ الاسلام ابن تیمیہ (برد اللہ مضجعہ) کے بعد ہمیں اس پایہ کے مجدد دین اور اس پایہ کے محافظین دین کم نظر آتے ہیں، لیکن مجدد الف ثانیؒ کے عہد سے لے کر (جن کی ولادت ۹۷۱ھ میں ہوئی اور ۱۰۳۴ھ میں وفات ہے) ہمارے اس عہد تک کم س کم برصغیر ہند میں۔ یہ فریضہ ان درس گاہوں اور علمی و دینی مرکزوں کے فضلائے نے انجام دیا جو حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہؒ کے فکر ومسلک اور ان کے بنائے ہوئے نقشہ پر قائم ہوئے، اور آج بھی یہ ان کے کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔

گماں مبر کہ بپایاں رسید کار مغاں
ہزار بادۂ ناخوردہ دررگ تاکست

اس وقت آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہندوستان میں دین کا فہم، دین کی صحیح تعبیر، دین کا صحیح تصور، اور دین کی اصل بنیادیں متاثر نہ ہونے پائیں، یہ سب سے بڑا فریضہ ہے مدارس عربیہ کے فضلاء اور ان سے انتساب رکھنے والے علماء و اہل فکر کا، صیانت دین و حفاظت دین کا میدان علماء ہی کا میدان ہے، اور علماء ہی اس میدان کا حق ادا کر سکتے ہیں، اس لئے میں نے یہ عرض کیا کہ اس کے لئے ان محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جن کا ذکر حدیث بالا ”ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتاویل الجاھلین.“ میں آیا ہے، ہمیں حضورﷺ نے فصول و ابواب دے دیئے ہیں، ہم کو اہم ناکوں اور فیصلہ کن محاذوں پر کھڑا کر دیا ہے، فتنے کے دروازے کیا ہیں، ”تـــحــــریــف الـغــالین ...... انتـــحــــال المــبـــطلیــن ...... تاویـــل الجاھــلیــن.“ اور میں اپنے قابل احترام فاضل دوستوں سے کہتا ہوں کہ اس وقت نہیں ایک دن دو دن سوچ کر کوئی چوتھا عنوان تجویز کریں جو اس حدیث میں نہیں آیا ہے، وہ دیکھیں گے کہ وہ عنوان ان میں سے کسی نہ کسی عنوان کے تحت آ جاتا ہے، اس میں دعویداران نبوت بھی آتے ہیں، دین میں تحریف کرنے والے بھی آتے ہیں، اہل الحاد بھی آتے ہیں، برخود غلط تجدد و ترقی پسند بھی آتے ہیں، بدعات

صفحہ 37

کے داعی بھی آتے ہیں، باطنیہ بھی آتے ہیں، فرق ضالہ کے ترجمان بھی آتے ہیں، شہرستانی کی ”تاریخ الملل والنحل“ آج بھی موجود ہے، اس کے بعد بھی اس موضوع پر کتابیں ملتی ہیں، آپ ان میں سے وقت کا کوئی فتنہ اور کوئی ضلالت لے آئیں، ان میں سے کسی نہ کسی عنوان کے تحت آجائے گی۔ ”تحریف الغالین“ کی حقیقت واضح کرنا، ”انتحال المبطلین “ کی نقاب کشائی کرنا، اور ”تاویل الجاہلین“ کی قلعی کھولنا اور اس سب سے امت کی حفاظت کرنا آج بھی علماء کے ذمہ ہے۔

قادیانیت کا پس منظر کیا ہے؟ قادیانیت کو مسلمان معاشرہ اور اس وقت کی بے چین طبیعتوں کو متوجہ کرنے کا موقع کیسے ملا؟ آپ دیکھیں گے کہ ذہنی انتشار اور روحانیت کے غلط دعوے اور الہامات و مبشرات کی ارزانی و گرم بازاری اس کا سبب بنی جس نے اس کے لئے میدان مہیا کیا، ذہنوں سے یہ نکل گیا تھا کہ امت میں عمیق فہم دین صحیح طور پر دینی حقائق پیش کرنے، وقت کے فتنوں کا مقابلہ کرنے اور دین کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کا سلسلہ بلا انقطاع قرن اول سے اس وقت تک رہا ہے، میں آپ کو آگاہی دیتا ہوں، (اپنے مطالعہ کی روشنی میں) کہ نئی نسل اور ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کا اعتماد اسلام کی مردم خیزی، شجر اسلام کی بار آوری، قرآن مجید کی تاثیر و ہدایت کے تسلسل اور اس امت کی طاقت تولید و انتاج (طاقت تخلیق نہیں کہتا) کی قابلیت پر اعتماد نئی نسل کے ذہنوں میں آپ کو بحال کرنا پڑے گا، قادیانیت سے کم درجہ کے فتنے جن کے نام لینے کی ضرورت نہیں، وہ بھی اسی سے آ رہے ہیں کہ ہمارے اچھے خاصے پڑھے لکھے نہیں جانتے کہ شجر اسلام ہر زمانہ میں سرسبز و شاداب رہا اور دین کا درخت نئے شگوفے کھلاتا رہا اور ہر زمانہ میں نئے برگ و بار لاتا رہا، محافظین اسلام مجددین دین، قائدین ملت اور مجاہدین اسلام سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہا، اور قرآنی و دینی حقائق کبھی یکسر و کلیۃً پردۂ خفا میں نہیں گئے اور دین عمومی تحریف اور امت اجتماعی انحراف کا کبھی شکار نہیں ہوئی، اور یہ دعویٰ کروں تو بجا ہے کہ پوری تاریخ اسلام میں ایک سال کی مدت اور کم از کم چھ مہینے کی مدت اور کہوں کہ وسیع عالم اسلام کے کسی محدود سے محدود رقبہ میں بھی کوئی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ حق بات کہنے والا ناپید ہو گیا ہو، اور دین کے بنیادی حقائق بالکل مجہول ہو گئے ہوں، اسی کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں ”لا تجتمع امتی علی ضلالۃ“ میری امت پورے طور پر کبھی کسی گمراہی پر مجتمع نہیں ہو

صفحہ 38

گی۔ (رواہ ابن ابی عاصم)

آپ کو یہ کام کرنا ہو گا‘ اور یہ ایک مثبت اور ایجابی کام ہے آپ کو نئی نسل کا اعتماد قرآن مجید کی ابدیت پر قرآن مجید کی قوت تاثیر پر اور اس کی قوت تولید پر اور شریعت اسلامی کے زمانہ کا ساتھ دینے پر‘ اور اس کے نئے مسائل و مشکلات کو حل کرنے اور علوم اسلامیہ کی حیات و نمو کی صلاحیت پر‘ بحال کرنا پڑے گا‘ یہ خیال سخت خطرناک ہے کہ امت معاذ اللہ عقیم ہو گئی ہے‘ یہ علوم اسلامیہ اپنی طاقت و افادیت کھو چکے ہیں‘ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے اور یہ اندھیرا صدیوں سے چلا آ رہا ہے‘ اس کے نتیجہ میں پھر کوئی مدعی پیدا ہو سکتا ہے‘ اس لئے آپ کو جہاں ایک طرف دفاعی کام کرنے پڑیں گے جو بسا اوقات ضروری ہو جاتے ہیں‘ وہیں آپ کو جرات مندانہ و دانشمندانہ اقدام بھی کرنا ہو گا‘ آپ کو دین کی ایسی تشریح کرنی ہو گی‘ جس سے امت کو اس دین کی ابدیت اور ہر زمانہ کا نہ صرف ساتھ دینے‘ (میں دین کو اس سے بالا تر سمجھتا ہوں کہ صرف زمانے کا ساتھ دے سکنے کا ذکر کروں) بلکہ نئی نسل کی قیادت کی اور زمانہ کی رہنمائی کی صلاحیت کو ثابت کرنا ہو گا‘ زمانہ کا ساتھ دینا کیا ہوتا ہے‘ زمانہ کا ساتھ تو سارے مذاہب دے رہے ہیں‘ لیکن اپنے وقت پر صحیح قیادت‘ مسائل و مشکلات کا حل‘ امت اور نئی نسل کو نئے نئے فتنوں سے بچانے کی صلاحیت اس امت کے علماء اور قائدین کی خصوصیت ہے۔

حسین خواب

"نفحۃ العنبر" ص ۲۰۴ حضرت بنوری مرحوم خود لکھتے ہیں:

میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مصلیٰ پر ایک طرف عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت سید انور شاہ کشمیریؒ تشریف فرما ہیں۔ میں کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روح پرور چہرہ اقدس کی طرف دیکھتا اور کبھی چہرہ انور کی طرف دیکھتا۔ یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی کہ ہر دو حضرات کے مبارک چہروں سے استفادہ و شرف زیارت سے مستفید ہو رہا تھا کہ بیدار ہو گیا۔ بیداری کے وقت خوشی و غم کی ملی جلی کیفیت تھی۔ خوشی ان حضرات کی زیارت کی اور غم کہ جلدی کیوں بیداری ہو گئی۔ اے کاش زیادہ وقت نظارہ کی سعادت نصیب ہو جاتی۔ اے مولیٰ کریم قیامت کے دن ان حضرات کی معیت نصیب فرما۔ (آمین)

صفحہ 39

نبی اور رسول کسے کہتے ہیں؟

خاتم اور خاتم النبیین کے کیا معانی ہیں؟

مولانا محمد سرفراز خان صفدر

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول یعنی اُمت کے روحانی باپ ہیں اور خاتم النبیین ہیں کہ آپ کی آمد پر انبیاء کرام علیہم السلام کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اکثر علماء عربیت کی اصطلاح کے مطابق لفظ رسول اور نبی کا مصداق اور مآل ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام مخلوقِ خدا کو پہنچانے والا اور ان کو خدائی خبریں سنانے والا رسول کا مادہ رسالت ہے یعنی پیغام رسانی اور نبی کا مجرد مادہ نبأۃ ہے جس کے معنی خبر دینا اور ظہور کے ہیں کیونکہ نبی اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر مخلوق کو خبر بھی دیتا ہے اور دلائل و معجزات کے اعتبار سے ان کی نبوت ظاہر بھی ہوتی ہے اور اس کا مجرد مادہ نبأۃ بھی بیان کیا گیا ہے جس کے معنی الصوت الخفی کے ہیں چونکہ وحی لانے والا فرشتہ ان سے آہستہ گفتگو کرتا ہے اور وہ بھی اس سے مخفی طریقہ پر محو گفتگو ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو نبی کہا جاتا ہے اور نبی کے معنی راستہ کے بھی ہیں۔ نبی کے ذریعے اللہ تعالیٰ تک رسائی ہوتی ہے اس لیے وہ وصول الی اللہ تعالیٰ کا راستہ بھی ہو۔ (ملاحظہ ہو نبراس ص ۱۵)

اور بعض علماء عربیت کی اصطلاح میں رسول اس کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مستقل کتاب وشریعت عطا ہوئی ہو جیسے حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ صاحب تورات اور صاحب شریعت تھے اور نبی وہ ہوتا ہے جس کو نبوت تو ملی ہو مگر وہ صاحب کتاب وصاحب شریعت نہ ہو بلکہ وہ صاحب کتاب وصاحب شریعت رسول کا معاون و وزیر ہو جیسا کہ حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام ...... اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا منصب بیان فرمایا تو لفظ رسول سے ولکن رسول اللہ یعنی اس دوسری اصطلاح کے مطابق آپ صاحبِ کتاب وصاحب شریعت ہیں اور جب لفظ خاتم کا مضاف الیہ بیان کیا تو لفظ النبیین ذکر فرمایا یعنی اس دوسری اصطلاح کے مطابق آپ غیر تشریعی نبوت کے بھی خاتم ہیں اگر

صفحہ 40

اس مقام پر خاتم الرسل کا جملہ ہوتا تو اس اصطلاح کے موافق شبہ کرنے والے یہ کہہ سکتے تھے کہ آپ تو رُسل کے خاتم ہیں اور رسول وہ ہوتا ہے جو صاحبِ کتاب وصاحبِ شریعت ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے اور آپ غیر تشریعی نبوت کے خاتم نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم اور معجز کتاب میں اس باطل شبہ کی بھی گنجائش ختم کر دی اور واضح کر دیا کہ آپ تشریعی نبوت تو کیا غیر تشریعی نبوت کے بھی خاتم ہیں۔ وخاتم النبیّین آپ کے آنے سے وہ وعدہ پورا ہو گیا جس کا انتظار تھا۔

نوائے عندلیب آئی ہوائے مشکبار آئی
سنبھل اے دل ذرا تو بھی سنبھل کامل بہار آئی

خاتم کا معنی

لفظ خاتم اسم آلہ کا صیغہ ہے جس کے معنی مہر کے ہیں جس طرح لفافہ اور بنڈل وغیرہ میں کوئی چیز رکھ کر اسے بند کر کے اس پر مہر لگا دی جاتی ہے تو کوئی چیز مہر توڑے بغیر نہ تو اس میں رکھی جاسکتی ہے اور نہ نکالی جاسکتی ہے۔ بعینہ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد سے قصر نبوت مکمل ہوگیا اور نبوت کا دروازہ بند اور سیل ہوگیا اور اس پر مہر لگ گئی اب بغیر مہر توڑے نہ اسے کوئی کھول سکتا ہے اور نہ اندر داخل ہوسکتا ہے۔ یہی ختم کا معنی ہے اور یہی اہل اسلام کا عقیدہ ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ ہمیں قائم رکھے۔

زمانہ ساز، نظر باز، مدعی سے کہو
جہانِ عشق میں سکے وفا کے چلے

لفظ خاتم اور قادیانی

قادیانی بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیّین تسلیم کرتے ہیں اور وہ خاتم کا معنی مہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر ہمارا پورا یقین ہے مگر بقول شاعر

در امید بھی وا ہے یقین بھی ہے چٹانوں سا
مگر جو دل میں ہے وہ وسوسہ کچھ اور کہتا ہے

قادیانیوں کا کہنا ہے کہ خاتم النبیّین کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مہر ہی سے آگے نبوت چلتی رہے گی۔ وہ یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر اور آپ کی پیروی اور اتباع کر کے ہی کسی کو نبوت ملتی اور مل سکتی ہے ویسے نہیں مگر قادیانیوں کی یہ تاویل بلکہ

صفحہ 41

تو اس اصطلاح کے موافق شبہ کرنے والے یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ہوتا ہے جو صاحب کتاب و صاحب شریعت ہو تو اس سے سلم کے بعد غیر تشریعی نبی آسکتا ہے اور آپ غیر تشریعی نبوت اپنی محکم اور معجز کتاب میں اس باطل شبہ کی بھی گنجائش ختم کر دی تو کیا غیر تشریعی نبوت کے بھی خاتم ہیں۔ وخاتم النبیین آپؐ کا انتظار تھا۔

ریب آئی ہوائے مشکبار آئی
ے دل ذرا تو بھی سنبھل کامل بہار آئی

ہے جس کے معنی مہر کے ہیں جس طرح لفافہ اور بنڈل وغیرہ پر مہر لگا دی جاتی ہے تو کوئی چیز مہر توڑے بغیر نہ تو اس میں رکھی عینہ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد سے قصر ر اور سیل ہو گیا اور اس پر مہر لگ گئی اب بغیر مہر توڑے نہ اسے سکتا ہے۔ یہی ختم کا معنی ہے اور یہی اہل اسلام کا عقیدہ ہے

ز نظر باز مدعی سے کہو
ن میں سکے وفا کے چلے

تے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تسلیم تے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر ہمارا پورا یقین ہے مگر بقول شاعر

ویٰ ہے یقین بھی ہے چٹانوں سا
میں ہے وہ وسوسہ کچھ اور کہتا ہے

النبیین کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ا۔ وہ یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر اور آپ کی لتی اور مل سکتی ہے ویسے نہیں مگر قادیانیوں کی یہ تاویل بلکہ

تحریف قطعاً باطل ہے۔ اولاً اس لیے کہ یہ معنی قرآن کریم، احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع اُمت کے خلاف ہے لہٰذا مردود ہے ثانیاً آپ کی پیروی اور اتباع کا جذبہ جس طرح خیر القرون اور ان کے قریب کے زمانوں میں تھا وہ بعد کو نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان مبارک زمانوں میں کسی کو نبوت نہ مل سکی اور اب اس کا دروازہ وا ہو گیا۔ جھوٹے نبیوں کی بات نہیں ہو رہی ان کا حشر تاریخی طور پر سب کو معلوم ہے۔ تفصیلی طور پر کتابیں دیکھنے کی فرصت نہ ہو تو کتاب آئمہ تلبیس مؤلفہ حضرت مولانا ابو القاسم محمد رفیق دلاوریؒ فاضل دیوبند ہی کافی ہوگی غالباً خاتم کا یہ معنی خود مرزا غلام احمد قادیانی کے مسلمات کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں، میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔

(تریاق القلوب ص ۳۷۹)

اس حوالہ کے پیش نظر اگر مرزا صاحب خود اور ان کی روحانی ذریت خاتم النبیین کا یہ معنی کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مہر سے آگے نبوت چلتی اور جاری و ساری ہے تو خاتم الاولاد کا بھی یہ معنی کریں کہ مرزا صاحب کی والدہ ماجدہ کے ہاں مرزا صاحب کی مہر لگنے سے تاقیامت ان کے پیٹ سے اولاد نکلتی رہے گی اور یہ مہر خاصی مفید و کارآمد رہے گی یا کم از کم ان کی والدہ ماجدہ کی زندگی میں ہی ایسا ہوتا رہا کہ مرزا صاحب کی مہر لگتی رہی اور اولاد نکلتی رہی تو پھر وہ خاتم النبیین کا معنی بھی بزعم خویش یہ کر سکتے ہیں۔ گو دوسروں پر وہ حجت نہیں اور اگر وہ خاتم الاولاد کا یہ معنی کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کے بعد ان کی والدہ کے ہاں کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئی تو اسی طرح یہاں بھی خاتم النبیین کا یہی معنی متعین ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد تاقیامت کوئی تشریعی یا غیر تشریعی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔

محمد علی لاہوری کا بیان

مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کا سربراہ محمد علی لاہوری جو گو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تو نہیں مانتا مگر مجدد مسیح اور مصلح کا نام تجویز کرتا ہے اور یہ بھی نرا زندقہ اور الحاد ہے اور وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہونے کی وجہ سے وہ قطعاً کافر ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں وہ لکھتا ہے کہ:

ختم اور طبع کے لغت میں ایک ہی معنی ہیں یعنی ایک چیز کو ڈھانک دینا اور ایسا مضبوط

صفحہ 42

یا مہر دینا کہ دوسری چیز اس میں داخل نہ ہو سکے۔

(تفسیر بیان القرآن ج ۱ ص ۲۳)

الحاصل خاتم کے معنی مہر کے لے کر بھی ختم نبوت کا مفہوم واضح ہے اور قادیانی اور لاہوری دونوں کے مسلمات اس پر شاہد ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی کا ثبوت دیں ۔

حذر حذر کہ زمانہ بڑا ہی نازک ہے
خدا نہ واسطہ ڈالے کسی کمینے سے

خاتم ماضی کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے

پہلے یہ عرض کیا گیا ہے کہ لفظ خاتم اسم آلہ کا صیغہ ہے جو مہر کے معنی میں ہے اور خود فریق مخالف کے قائم کردہ اصول کے مطابق یہ لفظ ختم نبوت پر دال ہے نہ کہ اجزائے نبوت پر اب یہ گزارش ہے کہ لفظ خاتم باب مفاعلہ کی ماضی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ علامہ سید محمود آلوسیؒ المتوفی ۱۲۷۰ھ نے صرف ونحو اور لغت کے مشہور امام ابوالعباس محمد بن یزید بن عبدالاکبر المعروف بالمبرد (المتوفی ۲۸۵ھ) کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ (تفسیر روح المعانی ج ۲۲ ص ۳۲) اس لحاظ سے یہ معنی ہوگا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور انہوں نے نبیوں کو ختم کر دیا یعنی ان کی آمد سے نبیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی دنیا میں پیدا نہیں ہو سکتا اور نہ آپ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے غرضیکہ قرآن کریم کی یہ نص قطعی ختم نبوت کی واضح اور روشن دلیل ہے جس کا انکار بغیر کسی مسلوب الایمان والعقل کے کوئی اور نہیں کر سکتا۔ قادیانیوں کی بالکل بے جا تاویل اور تحریف سے نہ تو نص پر کوئی زد پڑتی اور پڑ سکتی ہے اور نہ قادیانیوں کی ایسی تاویلوں سے ان کا ایمان ثابت ہو سکتا ہے۔

قادیانیت بھی خالص کفر کا ایک شعبہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ بقول حضرت مولانا ظفر علی خان صاحبؒ (المتوفی ۱۹۵۶ء) ۔

قادیانیت سے پوچھا کفر نے تو کون ہے
ہنس کے بولی آپ ہی کی دلربا سالی ہوں میں

اقوال مرزا صاحب

کسی لفظ کے معنی کی تعیین کے لیے اصول مسلمہ کے علاوہ فریق مخالف کے اپنے قول اور اقرار سے بہتر ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس کا اقرار ہے کہ خاتم بمعنی ختم قطع اور خاتمہ کے ہے ملاحظہ ہو:

صفحہ 43

خل نہ ہو سکے۔ (تفسیر بیان القرآن ج ۱ ص ۲۴) مہر کے لے کر بھی ختم نبوت کا مفہوم واضح ہے اور قادیانی اور شاہد ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی کا ثبوت دیں

عذر کہ زمانہ بڑا ہی نازک ہے
نہ واسطہ ڈالے کسی کمینے سے

ہے کہ لفظ خاتم اسم آلہ کا صیغہ ہے جو مہر کے معنی میں ہے اور خود کے مطابق یہ لفظ ختم نبوت پر دال ہے نہ کہ اجزائے نبوت پر اب مغلطہ کی ماضی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ علامہ سید محمود آلوسیؒ نت کے مشہور امام ابو العباس محمد بن یزید بن عبد الاکبر المعروف سے نقل کیا ہے۔ (تفسیر روح المعانی ج ۲۲ ص ۳۲) اس لحاظ مد علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن نے نبیوں کو ختم کر دیا یعنی ان کی آمد سے نبیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے یدا نہیں ہو سکتا اور نہ آپ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے غرضیکہ کی واضح اور روشن دلیل ہے جس کا انکار بغیر کسی مسلوب الایمان یانیوں کی بالکل بے جا تاویل اور تحریف سے نہ تو نص پر کوئی زد کی ایسی تاویلوں سے ان کا ایمان ثابت ہو سکتا ہے۔ فر کا ایک شعبہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ بقول (المتوفی ۱۹۵۶ء)

سے پوچھا کفر نے تو کون ہے
لی آپ ہی کی ٹکسالی ہوں میں

مین کے لیے اصول مسلمہ کے علاوہ فریق مخالف کے اپنے قول تا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس کا اقرار ہے کہ خاتم لہ ہو:

الله به النبیین. (حمامة البشریٰ ص ۳۴) وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

نیز لکھا ہے:

انقطع سلسلة المرسلین. وسلم) خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا (حقیقة الوحی ضمیمہ عربی ۶۴) سلسلہ قطع ہو گیا ہے۔

مزید لکھتا ہے:

قدیم لاہور ص ۱۱۵۲)

ان واضح اور روشن حوالوں سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ خود مرزا صاحب بھی ختم کے معنی خاتمہ بند اور انقطاع کے کرتے ہیں اور صاف لفظوں میں لکھتے اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نبوت اور رسالت ختم کر دی ہے اور اب وحی و رسالت قیامت تک بند ختم اور منقطع ہے اور آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

حضرت لاہوری اور مولانا عبد الستار خان نیازی

نوجوانوں کے ساتھ بہت محبت سے ملتے اور قدم قدم پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ مولانا عبد الستار نیازی کو تحریک ختم نبوت کے دوران پھانسی کی سزا ملی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہوئی اور پھر آخر رہا ہو گئے۔ مولانا نیازی کہتے ہیں میری رہائی کے بعد حضرت لاہوری میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ آپ کی نشست کا نیچے انتظام کیا ہوا تھا۔ واپس جانے لگے تو فرمایا مولانا اوپر کے کمرے میں مجھ کو اپنی چارپائی تک بھی لے چلو تاکہ مجھے قدم قدم کا ثواب ملے۔ میں ایک مجاہد سے ملنے آیا ہوں۔ مولانا نیازی سے یہ کہہ کر حاضرین کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے حضرات! آپ بھی اپنے آپ کو تلوار کی دھار پر لائیے اور دل سے کہئے : ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین

(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء ص ۳۵۴، از مولانا اللہ وسایا)

دوستو آؤ محمدؐ پہ نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں
صفحہ 44

مُتَنَبِّی قادیاں اپنے جلیل القدر ”مرید“ کی نظر میں

مولانا تاج محمد

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب پٹیالوی وہ مشہور و معروف شخصیت ہیں جو قریباً ۲۵ برس تک مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص الخاص، جلیل القدر مریدین میں شمار ہوتے رہے۔ مرزا صاحب کو آپ سے بے پناہ محبت تھی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب پر اپنا فضل و کرم فرمایا کہ ۲۵ برس بعد مرزائیت سے تائب ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مرزائیت کے زمانے میں قرآن کریم کی ایک تفسیر بنام ”تفسیر القرآن بالقرآن“ لکھی۔ مرزا غلام احمد کے نزدیک ڈاکٹر صاحب کا کیا مقام تھا؟ اس کے لیے مرزا صاحب کے درج ذیل ارشادات ذہن میں رکھیے۔

مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ”حدیث شریف میں آتا ہے کہ مہدی کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہو گی۔ جس میں اس کے تین سو تیرہ مریدوں کے نام درج ہوں گے۔ یہ پیشگوئی آج پوری ہو گئی۔ بموجب منشا حدیث کے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفا رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں (پھر اس سے آگے مرزا صاحب ان تین سو تیرہ صاحبان کا نام درج کرتے ہیں۔ جن میں نمبر ۱۵۹ پر ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کا نام ہے۔

(انجام آتھم ص ۳۱۲ ضمیمہ ص ۴۳)

مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ مطبوعہ لاہور ص ۸۰۸ پر ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے کہ ”حبی فی اللہ میاں عبدالحکیم خاں جوانِ صالح ہے۔ علامات رشد و سعادت اس کے چہرہ سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہیں۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔ امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کئی خدمات اسلام ان کے ہاتھ سے پوری کرے گا۔“

ڈاکٹر صاحب نے اپنے مرزائیت کے زمانہ میں قرآن مجید کی جو تفسیر لکھی تھی۔ اس کے متعلق مرزا جی لکھتے ہیں کہ ”ڈاکٹر صاحب کی تفسیر القرآن بالقرآن ایک بے نظیر تفسیر ہے۔ جس کو ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب نے کمال محنت کے ساتھ تصنیف فرمایا ہے۔ نہایت عمدہ شیریں بیان ہے۔ اس میں قرآنی نکات خوب بیان کیے گئے ۔ یہ تفسیر دلوں پر اثر کرنے والی

صفحہ 45

ہے۔“

(اخبار بدر ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۳ء بحوالہ فسانہ قادیاں)

چونکہ ڈاکٹر کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کو خدمت اسلام لینا منظور تھا۔ اس لیے ۲۵ برس مرزائیت میں ضائع کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کو توبہ کی توفیق ملی۔ ڈاکٹر صاحب کے مرزائیت سے تائب ہونے کے اصل وجوہات کیا تھے؟ اس کا تذکرہ تو آگے آئے گا۔ پہلے ہم مرزا صاحب پر بحران کے طاری ہونے کی حالت کا ذکر کرتے ہیں۔ جو ڈاکٹر صاحب کے مرزائیت کو چھوڑنے پر طاری ہوئی۔

لکھتے ہیں ”ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کا اگر تقویٰ صحیح ہوتا تو وہ کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل ہی نہیں تھا۔ اس کی تفسیر میں ذرہ بھر روحانیت نہیں اور نہ ہی ظاہری علم کا کچھ حصہ“

(اخبار بدر ۷ جون ۱۹۰۶ء بحوالہ فسانہ قادیاں)

سوچنے کا مقام ہے۔ ڈاکٹر صاحب جب تک مرزائی رہے ان کی تفسیر ایک بے نظیر تفسیر تھی۔ عمدہ شیریں بیان تھی۔ دلوں پر اثر کرنے والی تھی۔ جب مرزائیت سے تائب ہوئے تو مرزا صاحب نے ان کی مذمت شروع کر دی کہ ایسا تھا‘ ویسا تھا‘ گنجا تھا‘ لنگڑا تھا‘ لولا تھا‘ تفسیر لکھنے کا نااہل تھا‘ روحانیت نزدیک نہ پھٹکی‘ ظاہری علم سے کچھ حصہ نہ پایا۔

ڈاکٹر صاحب نے مرزائیت سے تائب ہونے کے وجوہات ”تفسیر القرآن بالقرآن“ کے آخری ایڈیشن میں ص ۲۴۴ تا ص ۲۹۰ یا عیسیٰ انی متوفیک کی تفسیر کے تحت تحریر فرمائے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا بیان درج کرنے سے پیشتر مولوی دوست محمد شاہد مولف ”تاریخ احمدیت“ کا بیان بھی پڑھ لیجئے۔ جو تاریخ احمدیت جلد چہارم ص ۱۷۸ پر درج ہے کہ ”ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے جو اپنے عقیدہ کی وجہ سے کہ نجات کا دارومدار صرف ایمان توحید و قیامت پر ہے جماعت سے خارج کیا گیا“ تاریخ احمدیت جلد چہارم ص ۱۷۸ کی مندرجہ بالا عبارت ہی دراصل اس مضمون کی محرک ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے مرزائیت سے تائب ہونے کے وجوہات خود ان کی زبانی سنیئے۔

لکھتے ہیں۔ ”عرصہ ۲۵ سال تک میرا یہی عقیدہ رہا کہ مسیح علیہ السلام جو رسول تھے فوت ہو چکے ہیں اور بڑی ارادت کے ساتھ میں مرزا صاحب کا مرید رہا۔ ان کے عیب اور خطاؤں کو بشری کمزوریوں پر محمول کرتا رہا۔ عالم قرآن اور مزکی خلق ہونے کی نسبت خالی دعوے سنتا رہا مگر نہ کبھی قرآنی مشکل ہی ان کی طرف سے حل ہوئی نہ کوئی نکتہ معرفت ایسا سنا جو مجھے اپنے طور پر معلوم نہ ہوا ہو نہ ان کی صحبت میں تزکیہ نفس اور رجوع الی اللہ کے خاص تاثیر

صفحہ 46

دیکھی۔ جو غیبت میں میسر نہ آئی۔ پھر بھی حسن عقیدت کے طور پر قریباً بیس روپے ماہوار سے حتی الامکان ان کے لنگر، سکول، اخبارات اور کتب وغیرہ کی امداد کرتا رہا۔ اردو انگریزی تفاسیر اور تذکرۃ القرآن ہزاروں روپے کے صرف سے ان کی تائید میں شائع کرتا رہا۔ حسن عقیدت کے غلبہ نے کبھی کچھ سوچنے نہ دیا۔ ذکر مرزا کی وجہ سے عام مسلمان میری تفاسیر اور دینی رسائل سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اکثر منصف مزاج اور غیر متعصب اشخاص نے جو میری دینی تصانیف کو پڑھا تو وہ ان سے بہت مستفید اور محظوظ ہوئے اور میرے نام لکھتے رہے کہ مرزا صاحب کے متعلق جو مضامین ان تفاسیر میں ہیں ان کو نکال دیں۔ تاکہ عام مسلمان اس سے مستفید ہو سکیں۔ مگر میں نے ان کی تحریروں پر کچھ خیال نہ کیا۔

جماعت (مرزائیہ) کثیر ہو جانے کی وجہ سے مرزا صاحب میں تمام اسلام پر مرزا کی شخصیت اور کبریائی اس حد تک بڑھتی گئی اور ان کی جماعت پرستی غالب ہو گئی۔ خداوند عالم اور تمام انبیاء کا استہزاء ہونے لگا۔

جماعت احمدی میں خاص مرزا کے اذکار کا جوش ایسا غالب ہو گیا کہ تسبیح تقدیس اور تحمید تمجید باری تعالیٰ قریب قریب مفقود ہو گئے یا محض برائے نام رسمی طور پر رہ گیا اور سوائے اس ایک مسئلے (حیات و وفات مسیح علیہ السلام) کے اور تمام قرآنی تعلیموں کا چرچا جاتا رہا اور جس ایک ہی مسئلہ کا مذاق رہ گیا کہ گویا پرستش باری تعالیٰ کی بجائے مرزا صاحب کی پرستش قائم ہو گئی اور عملی طور پر ان کا کلمہ الا المرزا ہو گیا کیونکہ الا میں معبود و مطلوب وہی ہے۔ جس قدر میں اس بات پر زور دیتا تھا کہ کوئی شخص کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ قرآن مجید کے تمام مسائل پر علی التناسب زور نہ دیا جائے ایک ہی مسئلہ (حیات و وفات مسیح ؑ) پر تن جانا اور اسی کو تمام امور پر غالب اور مقدم کرنا ایک قسم کا جنون اور سخت فسادات کی بنا ہے۔ مگر وہ مرزا کے دیوانے کب سنتے تھے۔

جن بناؤں پر میں عقیدہ مسیحیت ومہدویت ومجددیت مرزا صاحب سے تائب ہوا ہوں۔ وہ مختصراً حسب ذیل ہے۔

ان کے ساتھ تعلق رکھنے کو حرام بتلانا۔

واسطے ایک کمیٹی مقرر ہونی چاہئے تو آپ (مرزا) نے طیش میں آ کر جواب دیا کہ میں کسی کا خزانچی ہوں۔

صفحہ 47

ہے۔ تو از خود رفتہ ہو کر جواب دیا کہ کیا میں بھٹیاری ہوں۔

غلام احمد کے ماننے پر ہی منحصر ہے۔ غور کرو مساوات جبریہ پر.....

خدا کا ماننا + اعمال صالحہ + مرزا پر ایمان = نجات خدا کا ماننا + اعمال صالحہ - مرزا پر ایمان = - نجات خدا کا ماننا + اعمال صالحہ = یعنی ہیچ

پس آپ کا کلمہ یہ ہوا لا الہ الا المرزا کیونکہ نجات اللہ کے ماننے اور اعمال صالحہ پر نہیں بلکہ مرزا کے ماننے پر ہے خدا کا ماننا اور اعمال صالحہ سب ہیچ ہیں۔

ایمان لانے کے لیے کافی دلائل پہنچے یا نہیں۔ پھر تو کس وجہ سے مخالف ہے۔ کیوں نہ ہو آسمانی حکم جو ہوئے۔ کچھ تو سوچو۔ خداوند عالم قرآن مجید اور اسلام سے کیوں اعراض کرتے ہو۔ براہ خدا ایک دفعہ تو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ کیا تمام دنیا پر آپ خود تبلیغ کر چکے یا آپ کے مرید ہر فرد بشر کو آپ کی مسیحیت کا قائل کر چکے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ عدم تبلیغ کے مجرم آپ اور آپ کی جماعت ہیں جو ایسے احکام کو دبائے ہوئے گھر بیٹھے ہیں اور تمام دنیا کو سرکش اور کافر بنا رہے ہیں۔

ربوبیت عامہ اور الرحمان الرحیم کی رحمانیت و رحیمیت تامہ کو پامال کرنے والا اور کل عالم کی سعید فطرتوں اور نیک عملوں پر جھاڑو پھیرنے والا ہے۔ کسی نبی یا رسول نے آج تک یہ نہیں فرمایا کہ کل دنیا کے خدا پرست اور نیک لوگ قطعی جہنمی ہیں۔ جب تک کہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں۔ خواہ ان پر میری تعلیم کی تبلیغ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ یہ مسئلہ کہ خدا کا ماننا اور اعمال صالحہ اس وقت تک ہیچ ہیں جب تک کہ مرزا کو مدار نجات نہ مانا جائے۔ محض قرآن وحدیث اور عقل سلیمہ کے خلاف ہے۔

بنیں اور غلام احمد کا مدفن بہشتی مقبرہ بن جائے۔

صفحہ 48

ولد الحرام خنازیر کور چشم شیطان حرام زادہ اوباش، لومڑی، دجال، چوہڑے چمار سور اور بندر زندیق قرار دینا کیا یہ عمل مرزا صاحب کا واجب الاطاعت ہے ہم دن رات لوگوں کو فحش گالیاں نکالا کریں یا قرآن کریم کی اطاعت کریں۔

المرسلین کی اطاعت جن میں حج کی بابت سخت تاکید ہے؟

سہ چند اور چہار چند رکھ کر ان کا نفع اپنے صرف میں لانا۔

ہے کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پر قحط پڑیں گے۔ پھر ایسی پیشگوئیوں کو عظیم الشان بتایا جا رہا ہے۔ مسیح علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزم کرشمے بتایا۔

توفیق ماہواری یا سہ ماہی لنگر خانہ میں چندہ روانہ کرتا رہے۔ ورنہ ہر تین ماہ کے بعد اس کا نام بیعت سے خارج ہوگا۔ کیا تمام انبیاء ایسے ہی پیٹ گزارا کرتے تھے۔ اس حساب سے جو بے چارہ نادار چندہ نہ دے سکے وہ گویا اسلام سے خارج اور جہنم میں جھونکا جائے گا۔

میں نے چند ضروری تجاویز پر ایک ضروری خط و کتابت شروع کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے مجھ کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ یہ خط و کتابت علیحدہ بنام الحکم نمبر ۴ شائع ہو گئی ہے۔ چونکہ ۱۳ مئی کو میں نے ایک خواب کی بناء پر یہ بھی شائع کر دیا تھا کہ جب تک مرزا صاحب اپنی موجودہ زیادتیوں کا علاج کر لیں میں اپنی بیعت واپس لیتا ہوں۔

محترم قارئین کرام! یہ تھیں وجوہات جن کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب پٹیالوی مرزائیت سے تائب ہوئے ہمارے خیال میں علاوہ ان وجوہات کے سب سے بڑی وجہ جو اختلاف کا باعث بنی وہ یہ تھی کہ مرزا غلام احمد مسلمانوں کو کافر کیوں کہتا ہے۔

مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے کلمتہ الفصل ص ۴۹ پر ٹھیک لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے عبدالحکیم خاں کو جماعت (مرزائیہ) سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا۔

صفحہ 49

پیغام محمدﷺ کی عالمگیریت

سید سلیمان ندویؒ

دنیا میں وقتاً فوقتاً انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ سے پیغام آتے رہے مگر جیسا کہ بار بار کہا جا چکا ہے اور واقعات کی روشنی میں دکھایا جا چکا ہے، وہ تمام پیغام کسی خاص زمانہ اور قوم کے لئے آئے اور وقتی تھے اور اسلئے ان کی دائمی حفاظت کا سامان نہ ہوا، ان کی اصل برباد ہو گئی، مدتوں کے بعد مرتب کئے گئے اور ان میں تحریفیں کی گئیں، ان کے ترجموں نے ان کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔ ان کی تاریخی سند کا ثبوت نہیں باقی رہا۔ بہت سے جعلی پیغام ان میں شریک کئے گئے اور یہ سب چند سو برس کے اندر ہو گیا۔ اگر خدا تعالیٰ کا کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا ہے تو ان کا مٹنا اور برباد ہو جانا ہی ان کے وقتی فرمان اور عارضی تعلیم ہونے کا ثبوت ہے۔ مگر جو پیغام محمد رسول اللہﷺ کے ذریعے آیا وہ عالمگیر اور دائمی ہو کر آیا اور اسی لئے وہ جب سے آیا اب تک پوری طرح محفوظ ہے اور رہے گا۔ کیونکہ اس کے بعد پھر کوئی نیا پیغام آنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی گذشتہ پیغام کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ اس کی تکمیل ہو چکی اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار میں ہوں۔ دنیا کے تمام وہ صحیفے جو گم ہو چکے ان کا گم ہو جانا ہی ان کے وقتی اور عارضی ہونے کی دلیل ہے۔ اور جو موجود ہیں ان کی ایک ایک آیت تلاش کر لو، ان کی تکمیل اور ان کی حفاظت کے وعدے کے متعلق ایک حرف نہ پاؤ گے۔ بلکہ ان کے خلاف ان کے نقص کے اشارے اور تصریحیں ملیں گی۔

دوستو! اس کے بعد سوال یہ ہے کہ پیغام محمدی ﷺ کے سوا کوئی اور پیغام الٰہی بھی عالمگیر ہو کر آیا؟ بنی اسرائیل کے نزدیک دنیا صرف بنی اسرائیل سے عبارت ہے، خدا صرف بنی اسرائیل علیہ السلام کا خدا ہے اس لئے بنی اسرائیل علیہ السلام کے انبیاء اور

صفحہ 50

صحیفوں نے کبھی غیر بنی اسرائیل ” تک خدا کا پیغام نہیں پہنچایا اور اب تک بھی یہودی مذہب اور موسوی شریعت بنی اسرائیل ” تک محدود ہے۔ تمام صحیفوں میں صرف انہی کو خطاب کیا گیا ہے اور ان کو ان کے خاندانی خدا کی طرف ہمیشہ ملتفت کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی اپنا پیغام بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک محدود رکھا اور غیر اسرائیلی کو اپنا پیغام سنا کر ”بچوں کی روٹی کتوں کو دینی پسند نہ کی ۔“ ہندوستان کے وید بھی غیر آریوں کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتے کہ ان کے علاوہ تو تمام دنیا شودر ہے اور وہاں یہ تاکید ہے کہ اگر وید کے شبد شودر کے کانوں میں پڑ جائیں تو اس کے کانوں میں سیسہ ڈال دیا جائے۔ پیغام محمدی ﷺ دنیا میں خدا کا پہلا اور آخری پیغام ہے جو کالے گورے‘ عرب وعجم‘ ترک و تاتار‘ ہندی و چینی‘ زنگ و فرنگ سب کے لئے عام ہے۔ جس طرح اس کا خدا تمام دنیا کا خدا ہے۔ ”الحمد لله رب العلمین“ تمام دنیا کا پروردگار ہے۔ اسی طرح اس کا رسول تمام دنیا کا رسول رحمتہ اللعالمین تمام دنیا کے لئے رحمت ہے اور اس کا پیغام بھی دنیا کے لئے پیغام ہے۔

ان هو الا ذكرى للعلمين.

(انعام ۔ ۱۰)

”نہیں ہے مگر نصیحت تمام دنیا کے لئے۔“

تبرک الذی نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمین نذیرا الذی له ملک السموات والارض.

(فرقان ۔ ع ۔ ۱۱)

”برکت والا ہے وہ (خدا) جس نے اپنے بندہ پر فیصلہ والی کتاب اتاری تاکہ وہ تمام دنیا کو ہوشیار کرنے والا ہو‘ وہ (خدا) کہ اسی کی ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی“

آپ ﷺ تمام دنیا کے نذیر ہو کر آئے‘ جہاں تک خدا تعالیٰ کی سلطنت ہے وہاں تک آپ ﷺ کی پیغمبری کی وسعت ہے‘ سورہ اعراف میں ہے:

قل يا يها الناس انى رسول الله الیکم جمیعا الذی له ملک السموات والارض.

صفحہ 51

"کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کی طرف (اس) اللہ کا رسول ہوں، جس کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔"

دیکھو اس میں بھی پیغام محمدی ﷺ کی وسعت ساری کائنات تک بتائی گئی ہے اس سے زیادہ یہ کہ جہاں تک اس پیغام کی آواز پہنچ سکے سب اس کے دائرہ میں ہے:

واوحی الی ہذا القرآن لا نذرکم بہ ومن بلغ .

(انعام)

"اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس سے میں تم کو ہشیار کروں اور جس تک یہ پہنچے اس کو (ہشیار کروں)۔"

اور بالآخر :

وما ارسلنک الا کافة للناس بشیرا و نذیرا.

(سبا)

"اور ہم نے نہیں بھیجا تم کو (اے محمد ﷺ) لیکن تمام انسانوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ہشیار کرنے والا (بنا کر)"

ان حوالوں سے یہ امر پوری طرح ثابت ہوتا ہے۔ کہ سارے مذہبوں میں صرف اسلام نے اپنے دائمی اور آخری اور کامل اور عالمگیر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا " مجھ سے پہلے تمام انبیاء صرف اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے اور میں تمام قوموں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔" یہ ہمارے دعویٰ کا مزید ثبوت ہے اور تاریخ کی عملی شہادت ہماری تائید میں ہے۔ الغرض کہنا یہ ہے کہ پیغام محمدی ﷺ بھی اسی طرح کامل، دائمی اور عالمگیر ہے جس طرح اس پیغام کو لانے والے کی سیرت اور اس کا عملی نمونہ کامل، دائمی اور عالمگیر ہے۔

ظہور محمدی ﷺ سے پہلے دنیا کی یہ کل آبادی مختلف گھرانوں میں بٹی ہوئی تھی لوگ ایک دوسرے سے نا آشنا تھے۔ ہندوستان کے رشیوں اور منیوں نے آریہ ورت سے باہر خدا کی آواز کے لئے کوئی جگہ نہیں رکھی تھی۔ ان کے نزدیک پر میشور صرف پاک آریہ ورت کے باشندوں کی بھلائی چاہتا تھا۔ خدا کی رہنمائی کا عطیہ صرف اسی ملک اور یہیں کے بعض خاندانوں کے لئے محفوظ تھا۔ زرتشت خاک پاک ایران کے پاک نژاد کے سوا اور کہیں

صفحہ 52

خدا تعالیٰ کی آواز نہیں سنتا تھا۔ بنی اسرائیل ” اپنے خاندان سے باہر کسی رسول اور نبی کی بعثت اور ظہور کے حق نہیں سمجھتے تھے۔ یہ پیغام محمدی ﷺ ہی ہے جس نے یورپ‘ پچھم‘ اُتر‘ دکن ہر طرف خدا کی آواز سنائی اور بتایا کہ خدا کی راہنمائی کے لئے ملک قوم اور زبان کی تخصیص نہیں‘ اس کی نگاہ میں فلسطین ایران‘ ہندوستان اور عرب سب برابر ہے۔ ہر جگہ اس کے پیغام کی بانسری بجی اور ہر طرف اس کی راہنمائی کا نور چمکا۔

وان من امه الا خلا فیها نذیر.

(فاطر)

”اور نہیں ہے کوئی مگر یہ کہ اس میں گزر چکا ایک ہشیار کرنے والا۔“

ولکل قوم هاد.

(رعد)

”اور ہر قوم کے لئے ایک رہنما ہے۔“

ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومهم.

-(روم)

”اور ہم نے تجھ سے پہلے کتنے رسول ان کی اپنی اپنی قوم کے پاس بھیجے۔“

ایک یہودی اپنی قوم سے باہر کسی پیغمبر کو تسلیم نہیں کرتا۔ ایک عیسائی کے لئے بنی اسرائیل کے یا دوسرے ملکوں کے راہنماؤں کو تسلیم کرنا ضروری نہیں اور ایسا کرنے سے اس کے سچے عیسائی ہونے میں کچھ فرق نہیں آتا۔ ہندو دھرم کے لوگ آریہ ورت کے باہر خدا کی کسی آواز کے قائل نہیں۔ ایران کے زردشتی کو اپنے ہاں کے سوا دنیا ہر جگہ اندھیری معلوم ہوتی ہے۔ لیکن یہ محمد ﷺ رسول اللہ ہی کا پیغام ہے کہ ساری دنیا ایک ہی خدا کی مخلوق ہے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں ساری قومیں اور نسلیں برابر کی شریک ہیں۔ ایران ہو یا ہندوستان‘ چین ہو یا یونان‘ عرب ہو یا شام‘ ہر جگہ خدا کا نور یکساں چمکا۔ جہاں جہاں بھی انسانوں کی آبادی تھی خدا نے اپنے قاصد بھیجے‘ اپنے راہنما اتارے اور ان کے ذریعے اپنے احکام سے سب کو مطلع فرمایا۔

اسلام کی اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک دنیا کے تمام پیغمبروں پر‘ پہلی آسمانی کتابوں پر اور گذشتہ ربانی الہاموں پر یقین نہ رکھے۔ جن جن پیغمبروں کے قرآن میں نام ہیں ان کو نام بنام اور جن کے نام نہیں معلوم‘ یعنی قرآن نے نہیں بتائے ہیں وہ کہیں بھی گزرے ہوں اور ان کے جو نام بھی ہوں ان

صفحہ 53

سب کو سچا اور راست باز ماننا ضروری ہے۔ مسلمان کون ہیں؟

الذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک.

(بقرہ)

”جو ایمان رکھتے ہیں اس پر جو اے محمد ﷺ تم پر اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا۔“

پھر سورۂ بقرہ کے بیچ میں فرمایا

ولکن البر من امن باللہ واليوم لا خروالملئکۃ والکتب والنبين .

(بقرہ)

”لیکن نیکی اس کی ہے جو خدا پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور تمام نبیوں پر ایمان لایا۔“

اسی سورۃ کے آخر میں ہے کہ پیغمبر اور اس کے پیرو

کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ

(بقرہ)

”سب ایمان لائے خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ہم اس کے رسولوں میں باہم فرق نہیں کرتے۔“

یعنی یہ نہیں کہہ سکتے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر نہیں۔ تمام مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے:

یا یھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل .

(نساء ۔۲ع)

”اے ایمان لا چکنے والو! ایمان لاؤ خدا پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاری گئی۔“

صفحہ 54

قادیانیوں کا محمد مصطفیٰ ﷺ سے کیا تعلق؟

پروفیسر منور احمد ملک (سابق قادیانی)

ہندوستان کے قصبے قادیان ضلع گورداس پور میں انیسویں صدی کے آخری ربع میں مرزا غلام احمد قادیانی نے متعدد دعوے کر کے ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی جس کا نام ”جماعت احمدیہ“ رکھا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایسے دعوے سامنے آئے جو مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہ تھے۔ ایک طرف انہوں نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا تو دوسری طرف امام مہدی کا بھی کر دیا۔ ایک طرف اپنے آپ کو عیسیٰ ابن مریم کہا تو دوسری طرف امتی نبی کی نئی اصطلاح کے ساتھ نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پہلے چودھویں صدی کے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تو آخر نبی تک بات پہنچادی‘

پہلے کہا ؎

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے

بعد میں کہا ؎

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

بات اور آگے بڑھی تو یہاں تک پہنچی ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(العیاذ باللہ)

مرزا غلام احمد قادیانی نے ان اشعار کو فریم کروا کر اپنے گھر لگوا لیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی 26 مئی 1908ء کو فوت ہوا اس کے بعد 1914ء میں اس کے

صفحہ 55

بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد نے قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ کے طور پر اقتدار سنبھالا تو اس نے قادیانیت کو منظم کرتے ہوئے بالکل الگ اُمت کے طور پر پیش کر دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی وجہ سے تمام مسلمان فرقوں نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی تو مرزا بشیر الدین محمود نے ان کی اس کوشش کو عملی شکل دیتے ہوئے قادیانیوں کو باور کرایا کہ تمام مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانا، کافر اور غیر مسلم ہیں۔ ان کے ساتھ نماز روزہ کے اشتراک سے اجتناب کیا جائے۔ معاشرتی تعلقات کو توڑتے ہوئے جماعت سے کہا کہ ان کے ساتھ نماز جنازہ میں شامل ہونے اور فاتحہ خوانی سے بھی پرہیز کیا جائے۔

دوسری طرف قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے سورۃ صف میں جہاں ایک آنے والے نبی کی پیش خبری دی گئی ہے اور اس کا نام احمد رکھا گیا ہے اسے مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصل میں یہ دوسرے دور میں آنے والے نبی (مرزا غلام احمد قادیانی ) کی بالواسطہ خبر دی گئی ہے جس کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہے اور پھر کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ کے ذکر میں مرزا غلام احمد کا بالواسطہ ذکر بھی کر دیا کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”روحانی فرزند“ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جو کہ اصل میں اسی دور کے محمد رسول اللہ ہی ہیں۔ (نعوذ باللہ )

اس تفسیر اور اس کے عملی نفاذ سے جو صورت بنی وہ ذیل کے دلچسپ سروے رپورٹ سے واضح ہوگی۔

محمد سے احمد تک (ایک دلچسپ سروے رپورٹ)

ہر مذہب کے افراد کے نام ان کے مذہب کے عکاس ہوتے ہیں عموماً سکھ کے لفظ سے سکھ مذہب ظاہر ہوتا ہے۔ یوسف مسیح، پرویز مسیح جیسے ناموں سے عیسائی مذہب کی عکاسی ہوتی ہے۔ محمد صدیق، محمد شریف جیسے ناموں سے مذہب اسلام واضح ہوتا ہے۔

قادیانی جماعت نے اپنے آغاز سے خود کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ثابت کرنے کی کوشش کی، آہستہ آہستہ اپنے فرقہ کو اصل اسلام اور دیگر فرقوں کو دو نمبر اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مرزا بشیر الدین کے دور امامت میں قادیانی جماعت متشدد اور متعصب حد تک پہنچ کر اسلام سے علیحدہ ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں سے ہر قسم کے میل جول کو قادیانیوں کے لیے ممنوع قرار دے دیا گیا بلکہ مرزا بشیر الدین کے بھائی مرزا بشیر احمد ایم اے نے مسلمانوں کے بارے میں کافر بلکہ پکے کافر

صفحہ 56

جیسے الفاظ استعمال کر کے اشتعال کو اور بڑھا دیا۔

نام کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا ہے جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ قادیانیوں میں نام کیسے رکھے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے نام ان کی مذہبی سوچ کے عکاس ہوں گے۔ ضلع جہلم میں محمود آباد ایک ایسا گاؤں (اب محلہ) ہے جہاں کی اکثریت قادیانی ہوا کرتی تھی اور اسے ضلع جہلم میں قادیانیت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ہر قسم کی مذہبی رسومات میں وہ عملاً آزاد ہیں بلکہ نمایاں ہیں۔

محمود آباد جہلم کے قادیانی افراد کے ناموں کے سروے میں محمد اور احمد ناموں کی نسبت تلاش کی گئی ہے۔ مثلاً 70 افراد کے نام سامنے رکھے ان میں 40 افراد ہیں جن کے ناموں کے ساتھ محمد یا احمد کا لفظ استعمال ہوا ہے اب دیکھا یہ گیا ہے کہ 40 افراد میں سے کتنے فیصد نے محمد اور کتنے فیصد نے احمد نام رکھا ہوا ہے اس طرح ایک دلچسپ سروے رپورٹ تیار ہوئی ہے۔

سروے رپورٹ

محمود آباد جہلم میں پیدائش رجسٹر کے مطابق 1933ء تا 1941ء پیدا ہونے والے قادیانی بچوں کے ناموں کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ محمد کے نام والوں کی تعداد 48 فیصد اور احمد نام والوں کی 52 فیصد ہے۔ واضح رہے 1914ء میں مرزا بشیر الدین نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قادیانی جماعت کی ”برین واشنگ“ شروع کر دی تھی۔ بلحاظ 1933ء تا 1941ء قادیانی افراد ”دائرہ محمد“ سے نکل کر ”دائرہ احمد“ میں داخل ہو رہے تھے۔ 1950ء تا 1952ء کے عرصہ میں پیدا ہونے والے افراد میں یہ نسبت یوں بنی کہ محمد کے نام والے 28 فیصد رہ گئے اور احمد کے نام والوں کی تعداد بڑھ کر 72 فیصد ہو گئی۔ 1965ء تا 1971ء کے عرصہ میں پیدا ہونے والوں میں محمد کا نام رکھنے والوں کی تعداد 20 فیصد رہ گئی اور احمد نام کی تعداد بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی۔ 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔ قادیانیوں نے احتجاج تو کیا مگر ذہنی طور پر وہ یہ قبول کر چکے تھے کیونکہ وہ خود ہی حلقہ محمد سے باہر آ رہے تھے۔ 1984ء تا 1992ء کے عرصہ میں پیدا ہونے والے افراد میں محمد کا نام رکھنے والے 01 فیصد رہ گئے اور احمد نام والوں کی تعداد 99 فیصد ہو گئی اور یوں قادیانیوں نے خود ہی مسلمانوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا۔

یہ سروے تاریخ پیدائش کے حوالے سے تھا اب ذرا ایسے افراد کے ناموں کا جائزہ لیتے

صفحہ 57

ہیں جو جوان ہوئے اور معاشرے میں اچھا برا اثر چھوڑ کر یا تو دنیا سے چلے گئے یا ابھی سرگرم عمل ہیں۔ لہٰذا ایسے افراد جن کی عمر 60 سال ہو چکی ہے یعنی 1940ء سے قبل پیدا ہونے والے افراد کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے اس میں فوت شدہ افراد بھی شامل ہوں گے کیونکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے نام صفحہ ہستی سے مٹ نہیں گئے۔ 1940ء سے قبل پیدا ہونے والوں کی نسبت یوں بنی کہ محمد کا نام رکھنے والوں کی تعداد 83 فیصد اور احمد نام رکھنے والوں کی تعداد صرف 16 فیصد تھی جبکہ 1940ء تا 1970ء تک پیدا ہونے والے یا جن کی عمر اس وقت 30 سے 60 سال ہے اُن کے ناموں میں نسبت تیزی کے ساتھ بدل جاتی ہے اب نسبت یہ بنتی ہے کہ محمد کا نام رکھنے والے 9 فیصد اور احمد کا نام رکھنے والے 91 فیصد ہو جاتے ہیں۔ 1940ء تا 1970ء تک مرزا بشیر الدین اور مرزا بشیر احمد کی کوششیں رنگ لا چکی تھیں۔ قادیانی متعصب ہو چکے تھے لہٰذا وہ اپنے بچوں کے ناموں میں خاص احتیاط برت رہے تھے۔

ذرا آگے بڑھیے 30 سے کم عمر کے قادیانی بچوں کے ناموں نے فیصلہ ہی کر دیا اب محمد کا نام صرف 01 فیصد اور احمد کا نام 99 فیصد رکھ کر سارا مسئلہ ہی حل کر دیا گیا ہے۔ ”دائرہ محمدؐ سے بکلی منہ موڑ کر ”دائرہ احمد“ میں داخل ہو کر نہ صرف قادیانیوں نے مسلمانوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے بلکہ 1974ء میں اُمتِ مسلمہ کی طرف سے غیر مسلم والے فیصلے کی توثیق بھی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اب قادیانی خود بچوں کے نام نہیں رکھتے بلکہ پیدائش سے قبل ہی لندن میں خط لکھ دیتے ہیں نام کے لیے وہاں سے دو نام آ جاتے ہیں کہ اگر لڑکا ہو تو یہ نام رکھیں اور اگر لڑکی ہو تو یہ ان کی طرف سے محمد، عمر، عثمان، علی، حسن، حسین، فاطمہ، خدیجہ، آمنہ، زینب جیسے اسلامی ناموں سے مکمل ”پرہیز“ کیا جاتا ہے۔ بے شک وہاں سے نام گھوڑی، کالی جیسے ہی نام آ جائیں بخوشی قبول کر کے بچوں کے منہ پر مل دیں گے۔

صفحہ 58

سید المرسلین ﷺ کے فضائل‘ صفات اور خصائل

پروفیسر نور بخش توکلی

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بیس سال بڑی محنت سے احادیث و آثار و کتب تفسیر و شرح حدیث اور فی خصائص الحبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تصنیف فرمائی۔ جن میں ہزار سے زائد خصائص مذکور ہیں۔

یہ خصائص چار قسم کے ہیں۔ اول وہ واجبات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختص ہیں۔ مثلاً نماز تہجد‘ دوم وہ احکام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی پر حرام ہیں۔ دوسروں پر نہیں۔ مثلاً تحریم زکوٰۃ‘ سوم وہ مباحات جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختص ہیں۔ مثلاً نماز بعد عصر‘ چہارم وہ فضائل و کرامات جو حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخصوص ہیں۔ یہاں صرف قسم چہارم میں سے بعض خصائص ذکر کیے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب نبیوں سے پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں دنیا میں بھیجا۔

عالم ارواح میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا اور اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی روحوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح انور سے استفادہ کیا۔

عالم ارواح میں دیگر انبیائے کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کے روحوں سے اللہ تعالیٰ نے عہد لیا کہ اگر وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کو پائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کریں۔

حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور تمام مخلوقات حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ

صفحہ 59

وسلم ہی کے لیے پیدا کی گئی۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک عرش کے پایہ پر اور ہر ایک آسمان پر اور بہشت کے درختوں اور محلات پر اور حوروں کے سینوں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان لکھا گیا ہے۔

کتب الہامیہ سابقہ تورات وانجیل وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت درج ہے۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی آدم کے بہترین قرون قرناً بعد قرن سے اور بہترین قبائل و خاندان سے ہیں یعنی برگزیدگان اور بہترین بہتران اور مہترین ومہتران ہیں۔

حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد ماجد تک اور حضرت حوا سے لے کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ تک حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب شریف سفاح (زنا) سے پاک وصاف رہا ہے۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریف کے وقت بت اوندھے گر پڑے اور جنوں نے اشعار پڑھے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناف بریدہ اور آلودگی سے پاک وصاف پیدا ہوئے۔

پیدائش کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کی حالت میں تھے اور ہر دو انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیدائش کے وقت ایسا نور نکلا کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے ملک شام کے محلات دیکھ لیے۔

فرشتے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گہوارے کو ہلایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گہوارے میں کلام کیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند سے باتیں کیا کرتے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف انگشت مبارک سے اشارہ فرماتے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھک آتا۔

بعثت سے پہلے گرمی کے وقت اکثر بادل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کرتا تھا اور درخت کا سایہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آ جاتا تھا۔

صفحہ 60

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک چار دفعہ شق کیا گیا۔ یعنی حالت رضاعت میں دس برس کی عمر شریف میں غار حرا میں ابتدائے وحی کے وقت اور شب معراج میں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر پہلو کا ذکر کیا ہے۔ جس میں حق جل وعلا کی کمال محبت وعنایت پائی جاتی ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک ”محمدؐ“ اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (محمود) سے نکالا گیا ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے مبارکہ میں سے قریباً ستر نام وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہیں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جب سے دنیا پیدا ہوئی کسی کا یہ نام نہ تھا۔ تاکہ کسی کو شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے کہ کتب سابقہ الہامیہ میں جو احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کا پروردگار بہشت کے طعام سے کھلاتا پلاتا تھا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پیچھے سے ایسا دیکھتے جیسا کہ سامنے سے دیکھتے اور رات کو اندھیرے میں ایسا دیکھتے جیسا کہ دن کے وقت اور روشنی میں دیکھتے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک کا لعاب آب شور کو میٹھا بنا دیتا اور شیر خوار بچوں کے لیے دودھ کا کام دیتا ہے۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی پتھر پر چلتے تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک کا نشان ہو جاتا۔ چنانچہ مقام ابراہیم میں اور سنگ مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کہنیوں کا نشان مشہور ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغل شریف پاک وصاف اور خوشبودار تھی۔ اس میں کسی قسم کی بوئے ناخوش نہ تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز مبارک اتنی دور تک پہنچتی کہ کسی دوسرے کی نہیں پہنچتی چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیا کرتے تھے تو جوان لڑکیاں اپنے گھروں میں سن لیا کرتی تھیں۔

صفحہ 61

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت سامعہ سب سے بڑھ کر تھی۔ یہاں تک کہ اکثر ازدحام ملائک کے سبب سے آسمان میں جو آواز پیدا ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سن لیتے تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام ابھی سدرۃ المنتہیٰ میں ہوتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بازوؤں کی آواز سن لیتے تھے اور جب وہ وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کے لیے اترنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی خوشبو سونگھ لیتے۔ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کی آواز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سن لیا کرتے۔

خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ مبارک سو جاتی، مگر دل مبارک بیدار رہتا۔ بعضے کہتے ہیں کہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کا بھی یہی حال تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی جمائی اور انگڑائی نہیں لی۔ دیگر انبیائے اکرام علیہم السلام بھی اس فضیلت میں مشترک ہیں۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میانہ قد مائل بہ درازی تھے، مگر جب دوسروں کے ساتھ چلتے یا بیٹھتے تو سب سے بلند نظر آتے تا کہ باطن کی طرح ظاہر وصورت میں بھی کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑا معلوم نہ ہوتا۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور ہی نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن شریف پر مکھی نہ بیٹھتی اور کپڑوں میں جوں نہ پڑتی۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو فرشتے (بغرضِ حفاظت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہوتے۔ اسی واسطے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم میرے آگے چلو اور میری پیٹھ فرشتوں کے واسطے چھوڑ دو۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون اور تمام فضلات پاک تھے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براز کو زمین نگل جایا کرتی اور وہاں سے کستوری کی خوشبو آیا کرتی تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس گنجے کے سر پر اپنا دست شفا پھیرتے اسی وقت بال

صفحہ 62

اُگ آتے اور جس درخت کو ہاتھ لگاتے وہ اسی سال پھل دیتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس سر پر اپنا دست مبارک رکھتے اس جگہ کے بال سیاہ ہی رہا کرتے کبھی سفید نہ ہوتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت دولت خانے میں تبسم فرماتے تو گھر روشن ہو جاتا۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن مبارک سے خوشبو آتی تھی۔ جس راستے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرتے اس میں بوئے خوش رہتی جس سے پتہ چلتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں سے گزرے ہیں۔

جس چوپائے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوتے ہیں بول و براز نہ کرتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار رہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر کاہنوں کی خبریں منقطع ہوگئیں اور شہاب ثاقب کے ساتھ آسمانوں کی حفاظت کر دی گئی اور شیاطین تمام آسمانوں سے روک دیے گئے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرین و موکل (جن سے) اسلام لے آیا۔

شب معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے براق مع زین ولگام لایا گیا۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج میں جسد مبارک کے ساتھ حالت بیداری میں آسمانوں سے اوپر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پروردگار جل شانہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلام کیا۔ اسی رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں دیگر انبیائے کرام اور فرشتوں کی نماز کی امامت کرائی۔

بعض غزوات میں فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو کر دشمنوں سے لڑے۔

ہم پر واجب ہے کہ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں۔ پہلی امتوں پر واجب نہ تھا کہ اپنے پیغمبروں پر درود بھیجیں۔

قرآن کریم اور دیگر کتب الہامیہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوائے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور کسی پیغمبر پر درود وارد نہیں۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب عطا فرمائی جو تحریف سے

صفحہ 63

محفوظ اور بلحاظ لفظ و معنی معجز ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی تھے لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے اور نہ عالموں کی صحبت میں رہے تھے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰهُ یُعْطِیْ (میں تو بانٹنے والا ہوں اور اللہ دیتا ہے ) ان خزانوں میں سے جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے دست مبارک سے ملتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ باری تعالیٰ کے خلیفہ مطلق و نائب کل ہیں۔ باذنِ الٰہی عطا فرماتے ہیں جو کچھ چاہتے ہیں بقول عبدالستار خان نیازی:۔

اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں نبی سرور
یہ سچ ہے نیازی ہم سرکارؐ کا کھاتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع کَلِمْ عطا فرمائے ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام شریف میں فصاحت و بلاغت اور غوامض معانی اور بدائع حکم اور محاسن عبارات بلفظ موجز لطیف سب پائے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر شے کا علم دیا یہاں تک کہ روح اور ان امور خمسہ کا علم بھی عطا فرمایا جو سورۂ لقمان کے اخیر میں مذکور ہیں۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سارے جہان (انس و جن و ملائک) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

حضورِ پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رعب کا یہ حال تھا کہ دشمن خواہ ایک ماہ کی مسافت پر ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر رعب سے فتح پاتے اور وہ مغلوب ہو جاتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے) دورانِ جنگ دشمن سے چھینا ہوا مال اسباب حلال کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے) تمام روئے زمین سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی۔ پس جہاں نماز کا وقت آجائے

صفحہ 64

اور پانی نہ ملے چاہیے کہ تیمم کر کے وہیں نماز پڑھ لی جائے۔ دوسری امتوں کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کے ساتھ طہارت نہ تھی اور نماز بھی معین جگہ کے سوا اور جگہ جائز نہ تھی۔

چاند کا ٹکڑے ہونا، شجر و حجر کا سلام کرنا اور رسالت کی شہادت دینا، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ستون حنانہ کا رونا اور انگلیوں سے چشمے کی طرح پانی کا جاری ہونا یہ سب معجزات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوئے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت تمام انبیاء سابقین کی شریعتوں کی ناسخ ہے اور قیامت تک رہے گی۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اکنایہ سے خطاب دیا اور فرمایا بخلاف دیگر انبیاء کے کہ انھیں ان کے نام سے خطاب دیا گیا ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں اطاعت و معصیت فرائض و احکام اور وعدہ و وعید کا ذکر کرتے وقت اپنے پاک نام کے ساتھ یاد فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بلند کیا ہے چنانچہ اذان و خطبے اور تشہد میں اللہ عزوجل کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی امت پیش کی گئی اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں قیامت تک ہونے والے ہے وہ سب آپ پر پیش کیا گیا بلکہ باقی امتیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کی گئیں جیسا کہ حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام چیزوں کے نام بتا دیے گئے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں اور محبت و خلت اور کلام ورویت کے جامع ہیں۔

جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبیوں کو ان کے مانگنے کے بعد عطا فرمایا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بن مانگے عنایت فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر قسم کھائی ہے چنانچہ

صفحہ 65

قرآن کریم میں وارد ہے یٰسٓ قسم ہے قرآن حکیم کی تحقیق تو البتہ پیغمبروں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی قسم کھائی ہے۔

یعنی تیری زندگی کی قسم اور (قوم لوط) البتہ اپنی مستی میں سرگرداں ہیں۔

(حجر۔ ع۵)

اللہ تعالیٰ نے کسی اور پیغمبر کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی حالانکہ تو اترنے والا ہے اس شہر میں۔

(سورۃ بلد)

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وحی کی تمام قسموں کے ساتھ کلام کیا گیا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب وحی ہے۔

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت اسرافیل علیہ السلام نازل ہوئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوئے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہترین اولاد آدم ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ (بالفرض والتقدیر) معاف کیے گئے ہیں۔ یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی قسم کا گناہ (ترک اولیٰ جسے بلحاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منصب جلیل کے گناہ سے تعبیر کیا جاوے) کا صدور تصور کیا جائے تو اس کی معافی کی بشارت خدا نے دے دی ہے حالانکہ ایسا تصور میں نہیں آسکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی کوئی گناہ (خواہ ترک اولیٰ ہی ہو) صادر نہیں ہوا۔ کسی دوسرے پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے حیات دنیوی میں ایسی مغفرت کی بشارت نہیں دی۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اکرم الخلق ہیں۔ اسی لیے دیگر انبیاء مرسلین اور ملائک سے افضل ہیں۔

اجتہاد (بر تقدیر تسلیم وقوع) میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطا جائز نہیں۔

قبر میں میت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سوال ہوتا ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ سے نکاح حرام کیا گیا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے اشخاص و اجسام کا اظہار خواہ چادروں میں پوشیدہ ہوں (باستثنائے ضرورت) جائز نہ تھا۔ اسی طرح ان پر شہادت وغیرہ

صفحہ 66

کے لیے منہ ہاتھ کا دکھانا حرام تھا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیوں کی اولاد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہے۔ چنانچہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے کہلاتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیوں پر تزویج حرام تھا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی صاحبزادی کسی مرد کے نکاح میں ہو تو اس مرد پر حرام تھا کہ کسی دوسری عورت سے نکاح کرے۔

جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا اس نے بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو دیکھا۔

شیطان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت شریف کی طرح نہیں بن سکتا۔ اس بات پر تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ جس صورت سے کسی نے آپؐ کو خواب میں دیکھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو دیکھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم شریف محمد پر نام رکھنا مبارک اور دنیا اور آخرت میں نافع ہے۔

کسی کے لیے جائز نہیں کہ کسی انگوٹھی پر محمد رسول اللہ نقش کرائے جیسا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی پر تھا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کے پڑھنے کے لیے غسل و وضو کرنا اور خوشبو ملنا مستحب ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ حدیث شریف کے پڑھنے میں آواز دھیمی کی جائے جیسا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات شریف میں جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلام کرتے حکم الٰہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام مروی و ماثور عزت و رفعت میں مثل اس کلام کے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا جاتا تھا۔ لہٰذا کلام ماثور کی قرأت کے وقت بھی وہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے اور یہ بھی مستحب ہے کہ حدیث شریف اونچی جگہ پر پڑھی جائے اور پڑھتے وقت کسی کی تعظیم کے لیے خواہ کیسا ہی عالی شان ہو کھڑے نہ ہوں کیونکہ یہ خلاف ادب ہے۔

صفحہ 67

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کے قاریوں کے چہرے تازہ و شادماں رہیں گے۔

جس شخص نے بحالت ایمان ایک لمحہ یا ایک نظر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا اسے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہو گیا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔ لہٰذا شہادت و روایت میں ان میں سے کسی کی عدالت سے بحث مستحسن نہیں۔

نمازی تشہد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوں خطاب کرتا ہے السلام علیک ایھا النبی ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام اے نبی !) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور مخلوق کو اس طرح خطاب نہیں کرتا۔ شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انہی الفاظ سے خطاب کیا تھا۔

جس مومن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکاریں۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دینا واجب ہے خواہ وہ نماز میں ہو۔ حضرت ابوسعید بن معلیٰ کا بیان ہے کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا۔ میں نہ آیا۔ نماز سے فارغ ہو کر حاضر خدمت ہوا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہیں فرمایا:......... خدا اور رسول کا پکارنا۔ جب وہ پکارے تمھیں اس چیز کے لیے جو تم کو زندہ کرے۔‘‘

(انفال ع۳)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ایسا نہیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غیر پر ہے۔ (حدیث صحیحین میں آیا ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ آگ سے اپنا ٹھکانا بنالے۔‘‘ ایسے شخص کی روایت خواہ وہ توبہ کرے ہرگز قبول نہ کی جائے گی۔ بعضوں کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمداً جھوٹ باندھنا کفر ہے مگر حق یہ ہے کہ سخت گناہِ عظیم و کبیرہ ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حجروں کے باہر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنا حرام ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”البتہ وہ لوگ جو پکارتے ہیں تجھ کو حجروں کے باہر سے ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یہ البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

صفحہ 68

(حجرات ع ۱)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بلند آواز سے کلام کرنا حرام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہیں گناہ صغیرہ اور کبیرہ سے عمداً اور سہواً قبل نبوت اور بعد نبوت۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنون جائز نہیں اور نہ لمبی بے ہوشی جائز ہے کیونکہ یہ منجملہ نقائص ہیں۔

جو شخص حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب و شتم کرے یا کسی وجہ سے صراحتاً یا کنایۃً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص شان کرے اس کا قتل کرنا بالاتفاق جائز ہے۔

اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بذات شریف جہاد کے لیے نکلیں تو ہر مسلمان پر واجب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس شخص کے لیے جس حکم کی تخصیص چاہتے کر دیتے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خزیمہ انصاری کے لیے یہ تخصیص فرمائی کہ ان کی گواہی دو گواہوں کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسما بنت عمیس کو رخصت دی کہ وہ اپنے خاوند حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر تین دن سوگواری کرے۔ بعد ازاں جو چاہے کرے اور حضرت ابو بردہ بن نیار کو اجازت دے دی کہ تمہارے واسطے قربانی میں ایک سال سے کم کا بزغالہ کافی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فقیر سے ایک عورت کا نکاح کر دیا اور اس کا مہر یہ مقرر فرمایا کہ فقیر کو جتنا قرآن پاک یاد تھا وہ اس عورت کو پڑھائے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخار اس شدت سے چڑھتا تھا جیسا کہ دو آدمیوں کو چڑھتا ہے تاکہ ثواب بھی دو چند ملے۔

مرض موت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کے لیے حضرت جبرائیل علیہ السلام تین دن حاضر خدمت ہوتے رہے۔

جب ملک الموت حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اذن طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اس نے کسی نبی سے اذن طلب نہیں کیا۔

صفحہ 69

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جنازے شریف کی نماز مسلمانوں نے گروہا گروہ الگ الگ بغیر امامت کے پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام شقرانؓ نے جسد مبارک کے نیچے لحد میں قطیفہ نجرانیہ بچھا دی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوڑھا کرتے تھے۔ نماز بے جماعت اور قطیفہ کا بچھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص سے ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مقدس کو مٹی نہیں کھاتی تمام پیغمبروں کا یہی حال ہے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور میراث کچھ نہیں چھوڑا جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑا وہ صدقہ و وقف تھا اور اس کا مصرف وہی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات شریف میں تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ”ہم (انبیاء) کسی کو وارث نہیں بناتے۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ و وقف ہے۔ (بخاری کتاب الجہاد)

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرقد شریف میں حیات حقیقیہ کے ساتھ زندہ ہیں اور اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ تمام پیغمبروں کا یہی حال ہے علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرقد منور پر ایک فرشتہ موکل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے درود آپ کو پہنچاتا ہے۔ وہ فرشتہ عرض کرتا ہے کہ یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس وقت فلاں بن فلاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔ حاکم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتے ہیں جو زمین میں گشت کرتے ہیں۔ وہ میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر روز صبح اور شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ نیک اعمال پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہیں اور برے اعمال کے لیے بخشش طلب فرماتے ہیں۔ (حضرت عبداللہ بن مبارک نے حضرت سعید بن مسیب سے روایت کی کہ کوئی روز ایسا نہیں کہ صبح و شام امت کے اعمال نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش نہ کیے جاتے ہوں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی پیشانیوں سے اور ان کے اعمال کو پہچانتے ہیں)

صفحہ 70

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے قبر مبارک سے نکلیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حشر اس حالت میں ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوں گے اور ستر ہزار فرشتے ہمرکاب ہوں گے۔ (حضرت کعب احبار کی روایت میں ہے کہ ہر صبح کو ستر ہزار فرشتے آسمان سے اتر کر حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے بازو ہلاتے ہیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں) اسی طرح شام کے وقت وہ آسمان پر چلے جاتے ہیں اور ستر ہزار اور حاضر ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر شریف سے نکلیں گے تو ستر ہزار فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوں گے۔

مسجد نبوی میں آپؐ کے منبر شریف اور قبر مبارک کے مابین جگہ بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے جسے ریاض الجنتہ کہتے ہیں۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے دن مقام محمود عطا ہوگا۔ (جس سے مراد بقول مشہور مقام شفاعت ہے)

قیامت کے دن اہل موقف طول وقوف کے سبب سے گھبرا جائیں گے اور بغرض شفاعت دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس یکے بعد دیگرے جائیں گے اور آخر کار حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل موقف میں فصل قضا کے لیے شفاعت عظمیٰ عطا ہو گی اور ایک جماعت کے حق میں بغیر حساب جنت میں داخل کیا جانے کے لیے اور دوسری جماعت کے رفع درجات کے لیے شفاعت کی اجازت ہو جائے گی۔

روز قیامت حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ستر ہزار بہشت میں بے حساب داخل ہوں گے اور ستر ہزار کے ساتھ اور بہت سے (ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار) بہشت میں جائیں گے۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے لیے اور کئی قسم کی شفاعت کی اجازت حاصل ہو گی۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوض کوثر عطا ہوگا۔

قیامت کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پہلے سب پیغمبروں کی امتوں سے زیادہ ہو گی۔ کل اہل بہشت کی دوتہائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی امت ہو گی۔

صفحہ 71

قیامت کے دن ہر ایک نسب و سبب منقطع ہوگا (یعنی سودمند نہ ہوگا) مگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب و سبب منقطع نہ ہوگا۔ اسی واسطے حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے ام کلثوم بنت فاطمہ زہرا سے نکاح کیا تھا۔

قیامت کے دن لوائے حمد حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں ہوگا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے سوا سب اس جھنڈے تلے ہوں گے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (امت سمیت) سب سے پہلے پل صراط سے گزریں گے۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے بہشت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ خازن جنت پوچھے گا کہ کون ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ وہ عرض کرے گا کہ میں اٹھ کر کھولتا ہوں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی کے لیے نہیں اٹھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کے لیے اٹھوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے بہشت میں داخل ہوں گے۔

جنت میں حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی کنیت ان کی تمام اولاد میں سے سوائے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی اور کے نام پر نہ ہوگی چنانچہ ان کو ابو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا جائے گا۔

جنت میں سوائے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کتاب (قرآن کریم) کے کوئی اور کتاب نہ پڑھی جائے گی اور سوائے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کے کسی اور زبان میں کوئی تکلم نہ کرے گا۔

صفحہ 72

قرآن کریم خاتم النبیین ﷺ کا خاتمۃ المعجزات

ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکہ

ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد

قرآن کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے بلکہ ایک اعتبار سے تمام انبیاء کا معجزہ ہے۔ قرآن کریم کا نزول بعثت نبوی کے تمام عرصے پر محیط رہا، اور اپنے انوار و برکات سے قلب و جاں کو معطر کرتا رہا۔ دیگر معجزوں کے برخلاف یہ ایسا معجزہ ہے جس کی اعجازی کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد بھی برقرار ہے اور ایک امتیازی شان کی حامل ہے۔

بعد از بعثت ہر نبی کے ہاتھ پر ایسے خارق العادت امر کے ظہور کا التزام کیا گیا ہے جس کا عادتاً ان کے ہم جنس انسانوں سے تائید ایزدی کے بغیر ظاہر ہونا انتہائی ناممکنات سے ہوتا ہے۔ یہ معجزہ آخری حجت و دلیل کی حیثیت سے اللہ جل شانہ کی طرف سے عطا کیا جاتا تھا۔ یہ مادے و محسوسات کی قبیل سے ہوتے تھے تا کہ اہل دعوت ان کا مشاہدہ کریں اور دعوت کی سچائی ثابت ہونے کے بعد اس کے حلقہ بگوش ہو جائیں۔ علاوہ ازیں یہ معجزات اور خارق العادات امور حاضرین اور عینی شاہدین کے حق میں حجت اور دلیل کی حیثیت حاصل کر رکھتے تھے تاہم جب نبی دار فرار سے دار قرار سدھار جاتے تو مشاہدہ کرنے والوں کی اگلی نسل کے پاس وہ معجزات قصوں اور کہانیوں کی شکل میں رہ جاتے تھے اور مرور زمانہ کی گرد میں دب کر ان کے حقیقی خدوخال مٹ کر رنگ آمیزی سے افسانوں کی شکل اختیار کر کے اگلی نسل کو منتقل ہوتے تھے۔ بالفرض محال اگر تسلیم کر لیا جائے کہ تاریخی روایات میں یہ معجزات تحریف و رنگ آمیزی سے محفوظ رہتے تھے تو بھی تاریخی حقائق اذعان و یقین کی وہ کیفیت پیدا کرنے سے عاری ہیں جو چشم خود

صفحہ 73

دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔

کسی دین و دعوت کے بارے میں اللہ جل شانہ کا فیصلہ ہوتا کہ وہ اپنے نبی کی عمر سے زیادہ عرصہ دنیا میں گزارے تو اس کے لیے طریقہ کار یہ اختیار کیا جاتا کہ پے در پے انبیا مبعوث کیے جاتے تھے وہ حسی معجزات کے ذریعے اپنی نبوت ثابت کر کے اس دعوت و رسالت کی تبلیغ کرتے تھے بنی اسرائیل کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔

اب محض تاریخی روایت کی بنا پر کسی سابق نبی کی نبوت پر ایمان ہمارے لیے واجب نہیں، اگرچہ وہ روایت متواتر یا روایۃ الابناء عن الاباء کی قبیل سے ہو بلکہ گذشتہ کسی بھی نبوت کی تصدیق کا معیار یہ ہے کہ قرآن میں تصریح موجود ہو یا زبان رسالت نے اس کی توثیق کی ہو۔ شہرستانی فرماتے ہیں کہ ہر مکلف پر اللہ جل شانہ ملائکہ کتب سماویہ پر مطلقاً ایمان لانا واجب ہے، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل تشریف لانے والے انبیا و مرسلین پر قرآن وحدیث کی رو سے نام بنام ایمان لانا واجب ہے نہ کہ شخصاً شخصاً۔

رسالت خاتمہ کی نسبت تصریح کے ساتھ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفا ہوں گے نہ کہ نبی ورسول، چنانچہ یہ امر محال ہے کوئی نبی آئے اور لوگوں کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان کی تجدید کرے۔ جب خلفا لوگوں کا رشتہ آپ کی رسالت و نبوت، تعلیمات و شریعت سے مربوط رکھیں گے تو یہ امر ظاہر ہے کہ وہ معجزات کے صدور پر قادر نہیں ہیں، جو کہ اتمام حجت کا آخری مرحلہ ہے۔ لہذا ایک ایسے معجزے کی حاجت تھی جو مادی وحسی معجزات سے یکسر مختلف ہو، اس لیے کہ مادی وحسی معجزات وقوع کے بعد قلیل عرصے میں معدوم و ناپید ہو جاتے ہیں، اور مرور زمانہ سے ان کی چکا چوند اور تاثیر میں بھی فرق آتا ہے، لہٰذا ایسا معجزہ جس کی تاثیر بقا اور مطمئن کرنے پر اس کی قدر ہر زمانے میں شک و شبہ سے بالاتر ہو، رسالت خاتمہ کے لیے از بس ضروری تھا۔

ان اوصاف کا حامل معجزہ وہی ہو سکتا تھا جو انسان کی درماندگی، بے طاقتی اور اللہ جل شانہ کی غیر متناہی قدرت کو واضح کرے۔ چنانچہ قرآن کی صورت میں یہ معجزہ نظر افروز ہوا، اس سے انسان کا تعلق ایسا ہی ہے جیسا حقیقت کا قانون سے اور فطرت کا اعلیٰ اقدار سے۔ یہ معجزہ ہر

صفحہ 74

دور میں انسان کے بحیثیت انسان عجز و درماندگی پر برہان قاطع ہونے کے باوجود حریت و استقلال عزت نفس و بزرگی کے وسیع آفاق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

اس معجزے کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انسان کے مادے میں محصور حواس ہی سے اس کا تعلق نہیں بلکہ اس کی اعلیٰ صلاحیتیں، قلب و دماغ براہ راست اس کے مخاطب ہیں اور ہر اس وصف سے یہ عظیم کتاب خطاب کرتی گئی ہے، جس کے سبب انسان انسان ہے اور دوسری مخلوقات سے الگ و جداگانہ حیثیت کا حامل ہے، خواہ انسان کو خود اس کا ادراک ہو یا نہ ہو۔

اس قرآنی معجزے کا عربی خطہ زمین میں وقوع یہ ثابت نہیں کرتا کہ یہ صرف دنیائے عرب کے لیے حجت ہے اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاصرین مخاطب اوّل ہونے کی بنا پر اس کے ساتھ تخصیص کا کوئی شائبہ رکھتے ہیں، اس خدشے کے امکان کو زائل کرنے کے لیے قرین مصلحت تھا کہ اس معجزے میں اعجاز کی وہ کیفیت ودیعت کی جاتی جس پر بنی نوع آدم ثقافت و مشرب میں اختلاف کے علی الرغم سر تسلیم خم کر دے اور قرآن اپنے معجزاتی اسلوب کے ذریعے ان کے دل و دماغ پر یوں گرفت کر لے کہ وہ گمان کریں کہ قرآن کا انہی پر نزول ہوا ہے اور وہی اس کے مخاطب اوّل ہیں۔

اعجاز قرآنی کے مختلف پہلو

قرآن اپنی زبان میں بھی اعجازی شان لیے ہوئے ہے۔ عربی زبان دیگر زبانوں سے ادب، اشتقاق، لغت وغیرہ میں فائق ضرور ہے مگر ذاتی اعتبار سے معجز نہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے اس میں وہ اعجاز سمو دیا کہ عرب اہل لسان ہونے کے باوصف قرآن کی مثل کوئی کتاب یا اس کی سورۃ جیسی کوئی سورۃ لانے سے ہمیشہ عاجز رہے ہیں۔ عجز و درماندگی کی یہ کیفیت تمام نوع بشر پر محیط ہے، اس لیے کہ انسان بحیثیت انسان عربی ہو یا عجمی ایک سے اوصاف کا حامل ہے لہٰذا جب ایک خطے کے لوگوں پر کوئی امر ثابت ہو جائے تو دیگر افراد پر بھی اس کا تحقق ہوگا۔

زبان و بیان کے علاوہ قرآن میں اعجاز کے دوسرے پہلو بھی ہیں، ہر عہد کے لوگ فکری، ثقافتی اور علمی ترقی کی مناسب اشیا اسی معجزاتی کتاب میں پا لیتے ہیں، جس سے اللہ شانہ کے اس فرمان کی تصدیق ہوتی ہے۔

ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں ان کے گرد و نواح میں بھی دکھائیں گے

صفحہ 75

عجز و درماندگی پر برہان قاطع ہونے کے باوجود حریت و آفاق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یہ بھی ہے کہ انسان کے مادے میں محصور حواس ہی سے اس قلب و دماغ براہ راست اس کے مخاطب ہیں اور ہر اس گئی ہے، جس کے سبب انسان انسان ہے اور دوسری حامل ہے، خواہ انسان کو خود اس کا ادراک ہو یا نہ ہو۔ خطہ زمین میں وقوع یہ ثابت نہیں کرتا کہ یہ صرف دنیائے لی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاصرین مخاطب اول ہونے کی رکھتے ہیں، اس خدشے کے امکان کو زائل کرنے کے لیے اعجاز کی وہ کیفیت ودیعت کی جاتی جس پر بنی نوع آدم رغم سر تسلیم خم کر دے اور قرآن اپنے معجزاتی اسلوب کے ت کرلے کہ وہ گمان کریں کہ قرآن کا انہی پر نزول ہوا

اعجازی شان لیے ہوئے ہے۔ عربی زبان دیگر زبانوں ضرور ہے مگر ذاتی اعتبار سے معجز نہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے ن ہونے کے باوصف قرآن کی مثل کوئی کتاب یا اس کی عاجز رہے ہیں۔ عجز و درماندگی کی یہ کیفیت تمام نوع بشر پر عربی ہو یا عجمی ایک سے اوصاف کا حامل ہے لہٰذا جب ئے تو دیگر افراد پر بھی اس کا تحقق ہوگا۔ ن میں اعجاز کے دوسرے پہلو بھی ہیں، ہر عہد کے لوگ یا اسی معجزاتی کتاب میں پالیتے ہیں، جس سے اللہ شانہ

م ان کے گرد و نواح میں بھی دکھائیں گے

اور خود ان کی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ قرآن حق ہے۔

دعوت و جہاد کی ابدیت

دین خاتم کے آخری پیغام الٰہی ہونے کی بنا پر گذشتہ ادیان پر غالب اور بنی نوع انسان سے اس کے قبول کرنے کے مطالبے کے باوصف اور اللہ کے ہاں اس کے مقبول ہونے کی بنا پر ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دین حنیف کی طرف دعوت صبح و شام خفیہ و علانیہ طور پر قیامت تک جاری رہے۔ چنانچہ دعوت وتبلیغ کے پہلے مکلف انبیا کرام قرار پائے۔

ہم نے بے شک آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہ ہوں گے، آپ بشارت دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ نے اسلوب دعوت و منہج تبلیغ کے قواعد خود وضع فرمائے اور ان پر عمل کی ترغیب دی۔

سو آپ اسی کی طرف بلائیے اور جس طرح آپ کو حکم ہوا ہے مستقیم رہیے، اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں، میں سب پر ایمان لاتا ہوں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ تمھارے درمیان میں عدل رکھوں۔ اللہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے۔ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمھارے عمل تمھارے لیے۔ ہماری تمہاری کچھ بحث نہیں۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کے پاس جانا ہے۔

آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعے بلائیے اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجئے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا لب لباب اللہ تعالیٰ، سلامتی اور جنت کی طرف بلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ دارالبقاء کی طرف تم کو بلاتا ہے۔

صفحہ 76

یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت ومغفرت کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور بیان کرتا ہے اپنی آیتیں لوگوں کے لیے تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ دعوت کتاب وسنت کی صورت میں باقی رہی۔ اس کی ترویج واشاعت کا عمل ایسے افراد کے بغیر ممکن نہ تھا جو اپنے عیش و آرام کو تج کر اس دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ آپ کی حیات میں اس منصب کے حامل صحابہ کرام تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفود وسرایا کی شکل میں بغرض تبلیغ و اشاعت دین انھیں بھیجتے تھے، سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بڑے یا چھوٹے لشکر پر جب امیر مقرر کرتے تو اسے اپنے رفقا کی بابت تقویٰ کی اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرماتے تھے۔ پھر ارشاد فرماتے تھے: ”جب تمہاری اپنے دشمن مشرکین سے مڈ بھیڑ ہو تو اسے تین چیزوں کی دعوت دو، ان میں سے جو بھی اختیار کر لیں اسے قبول کر لو اور ان سے قتال نہ کرو، پھر انھیں اسلام کی دعوت دو اگر قبول کر لیں تو ان کے ساتھ قتال نہ کرو۔“

اس ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوتی خطوط ومراسلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو دے کر اطراف واکناف کے بادشاہوں اور امرا کے پاس جانے کی ہدایت فرمائی۔ دحیہ بن خلیفہ کلبی کو قیصر روم، عبداللہ بن حذافہ سہمی کو کسریٰ فارس، عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی حبشہ، حاطب بن ابی بلتعہ کو سکندریہ کے حاکم مقوقس کی طرف بھیج کر دعوت وتبلیغ کا سنگ بنیاد رکھا۔ علاوہ ازیں عمرو بن عاص، علاؤ بن حضرمی ، شجاع بن وہب اسدی کو بھی قرب وجوار کی ریاستوں میں بھیجا گیا۔ دین خاتم اور اس دعوت کے ہمیشہ باقی رہنے کا یہی بدیہی ومنطقی تصور تھا، جس کی داغ بیل آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ڈالی۔

اسلام میں اگر دعوت وتبلیغ کا ہر فرد کو پابند کرنے کی صراحت نہ بھی ہوتی تو یہ دعویٰ اس حکم کے استنباط کے لیے کافی تھا کہ یہ دین ابدالاباد تک رہنے کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ اس

صفحہ 77

دعویٰ کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس دین کا حامل ہر فرد اسے پھیلانے کی تگ و دو میں مصروف عمل ہو اور دعوت و تبلیغ کے عمل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ علاوہ ازیں اس اُمت کی خصوصیات و امتیازات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے نبی کو اللہ جل شانہ کی طرف سے جس حکم کا پابند کیا جاتا ہے بعد از استثنا چند خاص احکام اس کی یہ امت مکلف ہوتی ہے اور یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ امت پر بھی اس حکم کی بجا آوری ضروری ہے۔ ان مقدمات اور اس تفصیل کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب نصوص اسلامیہ میں امت کو دعوت و تبلیغ کا حکم نہ دیا ہوتا، حالانکہ قرآن پاک میں صراحت سے اس امر کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ربانی ہے:

تم بہترین امت ہو وہ امت جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو۔

اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو دیگر امتوں پر گواہ بنایا ہے بعینہ اس طرح جیسا کہ ہر نبی اپنی امت پر گواہ و شاہد ہے۔ اللہ جل شانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیا کی بابت ارشاد فرماتے ہیں:

اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گواہ جو ان ہی میں سے ہوگا ان کے مقابلے میں قائم کریں گے اور ان لوگوں کے مقابلے میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے جو تمام باتوں کا بیان کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے لیے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوش خبری سنانے والا ہے۔

اور خصوصیت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب ہے:

اور اس طرح ہم نے تمھیں ایسی امت بنایا ہے جو نہایت اعتدال پر ہے تاکہ تم لوگوں کے مقابلے پر گواہ ہو اور تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جا بجا دعوت و تبلیغ کے عمل کی جانب رغبت دلائی ہے:

اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو خدا کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

صفحہ 78

نص صریح سے دعوت و تبلیغ کا مکلف بناتے ہوئے فرمایا:

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔

دعوت و تبلیغ کے اوامر عام ہیں، ان کی عمومیت ہر فرد مسلم کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر فرد اس امر کا مکلف ہے خواہ یہ تکلیف عینی ہو یا کفائی، لہذا ہر فرد پر انفرادی طور پر اور اجتماعی سطح پر اس حکم کی بجا آوری ضروری قرار دی گئی ہے۔ فرد اسلام اور اس کے عقیدے کے بارے میں جتنا واقف ہے اس کی دعوت دے اور اسے پھیلانے کی کوششیں کرنے اور اجتماعی سطح پر بھی اس عمل میں شرکت سے پہلوتہی نہ کرے اور اپنی ذمہ داریوں کا بھر پور ادراک کرے۔ دعوت و تبلیغ کے عمل کو موثر و ہمہ جہت بنانے کے لیے جو وسائل اور صلاحیتیں درکار ہیں انھیں مہیا کیا جائے۔ اگر ان وسائل یا ایسے افراد میں کمی واقع ہو جائے تو امت پر بحیثیت امت واجب ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کرے جو اس عمل کی ذمہ داری لیں اور انھیں تمام ضروری وسائل مہیا کیے جائیں، ان افراد کی صفات مذکورہ آیت میں بیان کی گئی ہے:

آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا طریق ہے میں خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل پر قائم ہوں، میں بھی اور میرے ساتھ والے بھی۔

حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے انس و جن کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ یہ میرا راستہ علامت مسلک و مشرب ہے یہ راستہ توحید و رسالت کی گواہی دینا اور ان پر صادر کرنا ہے۔ توحید و رسالت کی یہ دعوت علی وجہ البصیرت، یقین و اذعان اور برہان عقلی و شرعی کے ساتھ متصف ہے۔ یہ اوصاف یقین و اعتماد کی یہ کیفیت اس عمل کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کے لیے بھی ازحد ضروری ہے۔

ذخیرۂ احادیث میں بھی اس عمل کی اہمیت، افادیت اور ضرورت پر کثرت سے زور دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عمل سے بھی دعوت و تبلیغ کی اہمیت واضح فرمائی ہے۔ اس ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرز عمل کی جھلک صحابہ کے ان دعوتی وفود کی تفصیلات میں دیکھی جاسکتی ہے جنھیں مختلف اوقات میں ارد گرد کے قبائل اور ان کی

صفحہ 79

مکلف بناتے ہوئے فرمایا: نا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور یں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ں گے۔

ان کی عمومیت ہر فرد مسلم کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور م ہو یا کفائی لہٰذا ہر فرد پر انفرادی طور پر اور اجتماعی سطح ہے۔ فرد اسلام اور اس کے عقیدے کے بارے میں پھیلانے کی کوششیں کرے اور اجتماعی سطح پر بھی اس پنی ذمہ داریوں کا بھر پور ادراک کرے۔ دعوت و تبلیغ وسائل اور صلاحیتیں درکار ہیں انھیں مہیا کیا جائے۔ جائے تو امت پر بحیثیت امت واجب ہے کہ وہ ایسے ں اور انھیں تمام ضروری وسائل مہیا کیے جائیں ان ہے:

تا ہے میں خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ں بھی اور میرے ساتھ والے بھی۔

میں لکھتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے انس و جن کے کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ یہ میرا راستہ علامت ت کی گواہی دینا اور ان پر صادر کرنا ہے۔ توحید و اذعان اور برہان عقلی و شرعی کے ساتھ متصف ہے۔ ں کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کے لیے بھی از حد

کی اہمیت افادیت اور ضرورت پر کثرت سے زور دیا یہ وسلم نے اپنے عمل سے بھی دعوت و تبلیغ کی اہمیت ند علیہ وآلہ وسلم کے طرز عمل کی جھلک صحابہ کے ان تھیں مختلف اوقات میں ارد گرد کے قبائل اور ان کی

ذیلی شاخوں کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ سربراہان مملکت سے خط و کتابت اور مراسلت صحابہ کرام کو ایک نئے انداز دعوت سے روشناس کرنے کی کوشش تھی۔ قائدین لشکر اور سرایا کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سب سے پہلے اسلام کی دعوت دیں بعد ازاں جہاد و قتال کریں۔ معاذ بن جبلؓ کو یمن کی جانب روانہ کرتے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیگر احکام کے علاوہ یہ نصیحت فرمائی:

تم عن قریب اہل کتاب کی کسی قوم کے پاس جاؤ گے تو پہلے انھیں توحید و رسالت کی گواہی کی دعوت دو اگر وہ اسے قبول کر لیں تو انھیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اسے بھی مان لیں تو انھیں آگاہ کرو کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں اور فقرا کو دیا جائے گا۔

وفود اور جماعت کے علاوہ فرداً فرداً بھی صحابہ کرام کو بغرض تبلیغ دوسرے علاقوں میں بھیجا گیا۔ مقرئ مدینہ مصعب بن عمیرؓ کو مدینہ روانہ کیا گیا تا کہ وہ اہل مدینہ کو اسلام و قرآن کی تعلیم دیں اور مسائل و احکام سے آگاہ کریں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قولاً بھی دعوت و تبلیغ دین کی جانب رغبت دلائی اور حکم دیا کہ ابلاغ و دعوت کا یہ عمل یوں ہی جاری و ساری رہنا چاہیے زید بن ثابتؓ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

نضر الله إِمْرَأً سمع مقالتی فبلغها، فرب حامل فقه الى غير فقيه، و رب حامل فقه الى من هو افقه منه.

دعوت و تبلیغ کے دوران امام المبلغین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذاتی وجاہت اور شخصی کمالات کے باوجود جس طرح کی مشکلات پیش آتی تھیں۔ اسی طرح کی مشکلات اور رکاوٹیں مستقبل میں بھی متوقع تھیں۔ چنانچہ جہاد و قتال کی مشروعیت اسی نقطہ نظر کی بنا پر عمل میں آئی ہے کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا اس کے ذریعے قلع قمع کیا جائے اور اس ڈھال کی حفاظت میں تبلیغ دین کے فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

یہ ممکن نہیں کہ دعوت و تبلیغ کا امر ہو مگر بدخواہوں اور کینہ پروروں سے اس کی

صفحہ 80

حفاظت کا حکم نہ ہو! چنانچہ جن دلائل وشواہد سے دعوت وتبلیغ کی فرضیت وابدیت ثابت ہوتی ہے انہی کی رو سے جہاد و قتال کی مشروعیت کا بھی ثبوت ہوگا۔

جہاد کی جولان گاہ وسیع ہونے کی بنا پر اس کی اقسام بھی متعدد ہیں۔ ہماری مراد جہاد بالسیف ہے، جس کو قتال سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، جہاد بالمال وغیرہ اس کے تابع اور اس کے ضمن میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ جہاد بالسیف اور قتال کی جانب لفظ ”جہاد“ سے ذہن سبقت کرتا اور اسی معنی کو سمجھتا ہے اور یہی حقیقی معنی ہونے کی علامت ہے۔

قرآن اور احادیث کے ذخیرے میں جہاد سے متعلق اس کی حساسیت اور ضرورت کے پیش نظر تمام معلومات، احکامات بہم پہنچا دیے گئے ہیں، جن سے اس فریضے اور شعبے کی اہمیت و عظمت مترشح ہے۔ اسلام کے دیگر فرائض کی مانند جہاد کی طرف بھی بالخصوص رغبت دلائی گئی ہے اور فوز عظیم و فتح مبین کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا ہے، ارشاد ربانی ہے:

”اے ایمان والو! کیا میں تم کو ایسی سوداگری بتاؤں جو تمھیں ایک دردناک عذاب سے بچالے تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو یہ تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔ اللہ تمھارے گناہ معاف کرے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہوں گے، یہ بڑی کامیابی ہے اور ایک اور بھی ہے کہ تم اس کو پسند کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور جلد فتح یابی اور آپ مومنین کو بشارت دے دیجئے۔

اس کے برعکس فریضہ جہاد سے جی چرانے اور راحت وتعیش کی طرف مائل ہونے والوں کے ساتھ تنبیہ وتوبیخ اور سرزنش کا رویہ اپنایا گیا ہے، ارشاد ہے:

اے ایمان والو! لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین کو لگ جاتے ہو، کیا تم نے آخرت کے عوض دنیاوی زندگی پر قناعت کر لی، سو دنیاوی زندگی کا تمتع تو کچھ بھی نہیں، بہت قلیل ہے۔ اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں سخت سزا دے گا اور تمھارے

صفحہ 81

بدلے دوسری قوم پیدا کر دے گا اور تم اللہ کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔

جہاد کا بنیادی و اساسی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ اسلام کی نشر و اشاعت اور عالم شہود کو اللہ تعالیٰ کے قانون و شریعت پر گامزن کرنا ہے۔ دفاع وطن اور مزاحمت ہی اس سے مقصود نہیں اور نہ مال غنیمت و دیگر مالی و مادی منفعتیں اس سے مقصود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کھلے الفاظ میں مشروعیت جہاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔ پھر اگر یہ باز آ جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں اور اگر روگردانی کریں تو یقین رکھو اللہ تعالیٰ تمہارا رفیق ہے۔ وہ بہت اچھا رفیق ہے اور بہت اچھا مددگار ہے۔

امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’ جب یہ کفار کفریہ حرکتوں اور ریشہ دوانیوں سے باز آ جائیں تو مغفرت کے مستحق قرار پائیں گے‘ اگر معاندانہ روش ترک نہ کریں تو ان کے ساتھ پہلوں کے طریقے پر عمل کیا جائے گا اور اگر ان حرکتوں پر اصرار کریں تو قتال کے ذریعے ان کی کج روی کی اصلاح کی جائے۔

کفار کے ساتھ قتال و جہاد کا سبب و علت ”فتنہ“ قرار پایا تو جب تک روئے زمین پر کفار کا تسلط اور حکمرانی برقرار رہے گی یہ ”فتنہ“ برہنہ شمشیر کی مانند امن عالم کے سر پر لٹکتا رہے گا۔ چنانچہ مشاہدہ ہے کہ کفار تمام امکانی وسائل بروئے کار لا کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے فتنوں کو جنم دے رہے ہیں‘ جن کی بنیاد ظلم و استحصال پر استوار ہے اور جن کا مقصد اپنے استعمال کو تادیر قائم رکھنا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی ناگفتہ بہ حالت زار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیابی و کامرانی کی ہر راہ مسدود کرنا ان ظالم و جابر حکمرانوں کا وطیرہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وعدے کی رو سے اسلام تا قیامت اس فریضے کی بدولت غالب و فتح یاب رہے گا‘ اگر دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی اس امت کے چند افراد اس فریضہ کو ادا کر رہے ہوں‘ اسی ضمن میں معاویہ بن قرۃؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ فتح یاب رہے گی‘ ان کی امداد و

صفحہ 82

اعانت سے دست کش ہونے والے انھیں ذرہ بھر نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ یہاں کہ قیامت آ جائے۔ یزید بن اصمؒ کہتے ہیں میں نے معاویہ بن سفیانؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث روایت کرتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جل شانہ جس سے خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے تفقہ فی الدین کی دولت سے نواز دیتے ہیں اور مسلمانوں کی ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر برسر پیکار رہے گی اور اپنے مخالفین و معاندین پر غالب ہوگی۔ مذکورہ احادیث سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ فریضہ جہاد میں نہ نسخ کا احتمال ہے نہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس میں افراط و تفریط کا شکار وہی ہوتے ہیں جن کے پیش نظر شخصی مفاد یا اسلام کو کمزور کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ جہاد بالنفس اور جہاد بالمال پر ترغیب دلانے کے لیے بڑی مقدار میں آیات و احادیث موجود ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کا ہمیشہ کے لیے مکلف و مامور بنایا گیا، چنانچہ اطلاق و عدم تخصیص کے باعث اس امر کا ثبوت ان احادیث سے بھی ہوتا ہے جن میں جہاد کی اہمیت، فضائل اور اس کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

باعث نجات

بہاولپور میں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے فرمایا تھا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی۔ یہ بات یقین کے درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ ہم سے تو کہف کا کتا بھی اچھا ہے۔ شاید یہ بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا۔ تمام مجمع چیخیں مار اٹھا۔ حضرت اقدس قدس سرہ پر اس واقعہ کو سن کر بہت رقت طاری ہوئی۔ فرمایا کہ واقعی شاہ صاحب تو آیۃ من آیات اللہ تھے۔

("حیات طیبہ" ص ۳۵۳، از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

محمدؐ کی عزت پر جان دے کر
شفاعت روز جزا چاہتے ہیں
صفحہ 83

مسئلہ ختم نبوت اور ہماری زندگی پر اس کے اثرات

مولانا منظور احمد الحسینی

دین اسلام ہر لحاظ سے مکمل ہو چکا ہے سلسلہ انبیاء جو آدم علیہ السلام سے جاری کیا گیا تھا سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر منتہی ہوا۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہا جس کے بارے میں دین اسلام کے اصول وضع نہ کئے گئے ہوں اور وہ تشنہ تکمیل رہ گیا ہو آج سے ۱۴ سو سال پہلے میدان عرفات میں مقصود کائنات رحمت دو عالم حضرت محمد ﷺ نے سوا لاکھ جاں نثاروں کے درمیان یہ اعلان فرمایا هَلْ بَلَّغْتُ؟ کیا میں نے دین اسلام کا پیغام آپ کو پہنچایا؟ جواب دیا گیا۔ نعم۔ ہاں آپ نے فریضہ تبلیغ احسن طریقے سے انجام دیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا فَاشْهَدُوْا فَاشْهَدُوْا! کہ تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں میرے گواہ رہو دین اسلام کی ایک ایک جز بھی منضبط و محفوظ کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے جان جوکھوں میں ڈال کر اس پیغام کو عالم دنیا تک پہنچایا نتیجہ یہ ہوا امن و آشتی کے یہ فطری اصول دنیا پر حکمرانی اور کامرانی کے ساتھ نمودار ہوئے۔

حضور ﷺ کے اس خاتم النبیین فلسفہ کا لب لباب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جامع اور کامل نظام حیات انسانیت کو دیا یہ تعلیمات نبوت صرف آپ کی حیات تک یا آپ کے بعد چند صدیوں تک موقت نہیں تھے بلکہ یہ اصول ابدی اور آفاقی تھے کہ زمانہ بیسیوں کروٹیں بدلیں یہ انسانی مسائل کے حل کرنے میں پیچھے نہیں رہینگے بلکہ جہاں انسان ہو گا خواہ یہ انسان سائنسی اور ایٹمی دور میں بھی سانس لے رہا ہو شریعت محمدی اپنی خاتم النبیین خصوصیات کی بدولت انسان کو بہتر سے بہتر ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہے گی تاریخ شاہد ہے کہ اطمینان، بھائی چارے و ہمدردی کی زندگی کا متلاشی اگر قانع ہوا ہے تو صرف اور صرف اس رحمت کائنات کے اصولوں کے سامنے عجز و نیاز تسلیم و رضاء کا اظہار کر کے زندگی سے لطف اندوز ہوا ہے اور ان کی آخری پناہ گاہ اسلام ہی رہا ہے۔

اسلام کا یہ نظریہ اتنا واضح اور بدیہی ہے کہ کسی دلیل و برہان کا محتاج نہیں مگر ہائے افسوس حق و باطل کی جنگ ایک ازلی جنگ ہے ہوس پرستی خود غرضی، حسد و بغض باطل کی صورت

صفحہ 84

میں نمودار ہو ہی جاتا ہے اگر سرور الکونین ﷺ کے دور میں باطل نے مسیلمہ کذاب اسود عنسی طلیحہ اسدی کی صورت میں سر اٹھایا تو آج مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی نے اگر اس محمدی شریعت اور تعلیمات قرآن کریم کے عظیم قصر کو جو سراسر اتحاد و اتفاق، محبت و اخوت کا داعی ہے گرانے کا کا ارادہ کیا۔ تو یہ کوئی تعجب اور انوکھی بات نہیں۔ ہاں قابل صد افسوس امر یہ ہے کہ اس شریعت حقہ کے حلیہ کو مسخ کر چھوڑا۔ دینی احکام اور مسلمہ عقائد کو توڑ مروڑ کے پیش کیا اور اپنی جھوٹی نبوت کے ثبوت کی سعی لا حاصل کی عقیدہ ختم نبوت جو ایک بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے اس میں معمولی سا تذبذب بھی قابل برداشت نہیں قادیانی نے اس اہم عقیدہ سے ہزاروں انسانوں کو راہ راست سے ہٹایا اور امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا یہ محض سامراجی اور برطانوی آقاؤں کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں اس نے مسلمان دشمنی کا کردار ادا کر کے انگریز ایجنٹی کا کام کیا۔

عقیدہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے بروزی، ظلی اور امتی نبی شریعت کی اصطلاحات نہیں، بلکہ یہ ہندوانہ تناسخ و حلول کی اختراعات ہیں۔ جمہور مفسرین اس عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں۔

عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں پہلی آیت

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ہ

ترجمہ: نہیں ہیں محمد ﷺ، تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور ہے اللہ ہر چیز کا جاننے والا:۔

مسئلہ ختم نبوت ہماری زندگی پر کیا اثرات چھوڑتا ہے ہم آئندہ قسط میں اس پر بحث کریں گے پہلے ختم نبوت کا مفہوم معلوم کرنا ضروری ہے۔

آیت مذکورہ کی تفسیر لغت عرب سے

حل لغات: اس آیت میں چند کلمات ہیں۔

صفحہ 85

و ، لکن ، رسول ، اللہ ، خاتم ، النبیین

جن میں سے واؤ عطف کے لئے ہے اور لکن استدراک یعنی ازالہ شبہ کے لئے ہے اور لفظ اللہ محتاج بیان نہیں، البتہ باقی تین لفظ یعنی رسول اور خاتم اور النبیین زیادہ تفصیل طلب ہیں اور بالخصوص آخر کے دو لفظ کیوں کہ فرقہ مرزائیہ نے اس آیت کی تحریف کا راستہ انہی دو لفظوں کو بنایا ہے لہٰذا ان الفاظ کے متعلق کسی قدر تفصیل ہدیۂ ناظرین کرنے کی ضرورت ہے۔

رسول: جس شخص کو خداوند عالم اپنی وحی کے ساتھ مشرف فرما کر مخلوق کی طرف تبلیغ و ہدایت کے لئے بھیجتا ہے، اس کو ”رسول“ اور ”نبی“ کہتے ہیں پھر ان دونوں لفظوں کی شرح میں علمائے عربیت و اصول کے مختلف اقوال ہیں۔

رسول اور نبی کے معنی میں فرق

بعض حضرات کا خیال ہے کہ اصطلاح شرع میں یہ دونوں لفظ مترادف ہیں۔ یعنی ان کے معنی میں باہمی کوئی فرق نہیں ہے یہ حضرات ان آیات اور احادیث اور کلمات عرب سے استدلال کرتے ہیں، جن میں سے ایک ہی شخص کی نسبت کبھی لفظ رسول بولا گیا ہے اور کبھی لفظ نبی۔ اور یہ مذہب جمہور معتزلہ کا ہے۔

اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ رسول بہ نسبت نبی عام ہے کیونکہ نبی کے لئے انسان ہونا ضروری ہے، فرشتہ کو نبی نہیں کہا جاتا اور رسول جس طرح انسان ہوتے ہیں اسی طرح ملائکہ بھی ہو سکتے ہیں، قرآن عزیز کی بہت سی آیات ملائکہ کو بھی رسول کا لقب دیتی ہیں، کما فی قول تعالیٰ:۔

لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيْمَ بِالْبُشْرٰی.

بے شک ہمارے رسول (یعنی ملائکہ) ابراہیم علیہ السلام کے پاس خوشخبری لے کر آئے۔

اور جمہور اہلسنت و الجماعت اور علمائے سلف کی تحقیق یہ ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص کیوں کہ اصطلاح شرع میں رسول صرف اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جس کو خداوند عالم کی طرف سے کوئی کتاب دی گئی ہو یا وہ نبی جو مستقل شریعت لے کر آیا ہو اور نبی کے لئے ان دونوں میں سے کوئی شرط نہیں، بلکہ نبی اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جو صاحب شریعت و کتاب ہو،

صفحہ 86

اور اس شخص کو بھی جس کو خداوند عالم سے وحی ہو اور وہ تبلیغ احکام کرتا ہو۔ لیکن اس کے لئے کتاب یا شریعت جدیدہ نہیں اور قرآن کریم کی متعدد آیات اس تحقیق پر شاہد ہیں۔

وما ارسلنا من رسول ولا نبی الآیہ

”نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول اور نہ نبی مگر اس طرح“ الخ جس میں لفظ رسول کے بعد نبی بغرض تعمیم بعد التخصیص ذکر کیا گیا ہے نیز حدیث میں ہے:۔

عن ابی ذر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان الانبياء مائة الف و اربعة و عشرين الفا وكان الرسل خمسه عشر و ثلثمائة رجل منهم اولهم ادم الى قوله اخر هم محمد (رواه اسحق بن راهويه و ابن ابی شیبہ ومحمد بن ابی عمر وابو یعلیٰ) (از حاشیہ مسامرہ مصری صفحہ ۱۹۳ ر وكذا اخرجه ابن حبان فی صحیحہ) (صححه ابن حجر فی الفتح)

ترجمہ: حضرت ابوذرؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ انبیاء ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوئے ہیں، اور رسول تین سو پندرہ جن میں سے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخر میں محمد ﷺ ہیں۔“

(یہ حدیث اسحق بن راہویہ ابن ابی شیبہ ابو یعلیٰ نے روایت کی ہے اور ابن حبان اور ابن حجر نے اس کو صحیح فرمایا ہے۔

اس حدیث نے بالکل صاف کر دیا کہ رسول اور نبی میں فرق ہے اور انبیاء بنسبت رسول کے زیادہ ہوئے ہیں، نیز اس حدیث میں خط کشیدہ الفاظ بھی قابل غور ہیں۔

اس لئے جمہور اہلسنت والجماعت نے اسی تحقیق کو اختیار کیا ہے، حافظ ابن حجر نے شرح صحیح بخاری صفحہ ۳۳۱‘ ج ۱۲ / کتاب التعبیر میں اس کی تصریح فرمادی اور زرقانی نے شرح موطا میں‘ ابن ہمام نے مسامرہ میں‘ قاضی عیاض نے شفاء میں اس کی تصدیق فرمائی ہے وھکذا فی حواشی شرح العقائد العضدیہ ۔

ہاں اس کے ساتھ ہی یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ جمہور اہلسنت کو بھی اس سے انکار نہیں کہ بعض مواضع میں لفظ رسول، نبی کی جگہ پر یا نبی رسول کی جگہ پر توسعاً و مجازاً بولا جاتا ہے

اور اسی بار علی المستقی

پیش کرتے لفظ خاتم

لفظ کو نبی ک خاتم ت

میں فرمایا عاصم کی قر

بالکسر اور دونوں لغت صورت م

لق

خاتم

صفحہ 87

سے وحی ہو اور وہ تبلیغ احکام کرتا ہو۔ لیکن اس کے لئے کریم کی متعدد آیات اس تحقیق پر شاہد ہیں۔ نبی الآیہ ل اور نہ نبی مگر اس طرح" الخ جس میں لفظ م بعد اتخصیص ذکر کیا گیا ہے نیز حدیث میں

صلی الله عليه وسلم قال كان الانبياء مائة الف و ن الرسل خمسه عشر و ثلثمائة رجل منهم اولهم مد (رواہ اسحاق بن راہویہ وابن ابی شیبہ و محمد بن ابی ہ مصری صفحہ ۱۹۳ و کذا اخرجہ ابن حبان فی صحیحہ) ( صحیحہ

ت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے س ہزار ہوئے ہیں، اور رسول تین سو پندرہ حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخر

نا ابی شیبہ ابو یعلیٰ نے روایت کی ہے اور ابن حبان اور

کر دیا کہ رسول اور نبی میں فرق ہے اور انبیاء نسبت میں خط کشیدہ الفاظ بھی قابل غور ہیں۔ عت نے اسی تحقیق کو اختیار کیا ہے، حافظ ابن حجر نے المعجم میں اس کی تصریح فرمادی اور زرقانی نے شرح عیاض نے شفاء میں اس کی تصدیق فرمائی ہے وملہ

ہینا ضروری ہے کہ جمہور اہلسنت کو بھی اس سے انکار جگہ پر یا نبی رسول کی جگہ پر توسعاً و مجازاً بولا جاتا ہے

اور اسی بات کو سمجھنے سے پہلے دونوں مذہبوں کی دلیلوں کا جواب بھی ہو جاتا ہے ( کما لا یخفی علی المستیقظ )

اس کے بعد ہم باقی ان دونوں لفظوں کی شرح علیحدہ علیحدہ لغت کی معتبر کتابوں سے پیش کرتے ہیں اور پھر پورے جملہ کے معنی از روئے قواعد عربیت ذکر کئے جائیں گے۔

لفظ خاتم کی لغوی تحقیق

اس لفظ کے بارے میں آیت مذکورہ میں دو قرآتیں ہیں یعنی جن حضرات نے اس لفظ کو نبی کریم ﷺ سے سنا ہے ان میں سے بعض نے خاتَم 'ت کے زبر کے ساتھ بعض نے خاتِم ت کے زیر کے ساتھ نقل کیا ہے۔ پھر امام المفسرین و المحدثین ابن جریر طبریؒ اور جمہور مفسرین نے اپنی اپنی تفسیروں میں فرمایا ہے کہ دوسری قرأت یعنی خاتَم 'ت کے اوپر زبر کے ساتھ صرف دو قاریوں حسن اور عاصم کی قرأت ہے۔ ان کے علاوہ تمام قاریوں کے نزدیک پہلی قرأت یعنی خاتِم 'ت مختار ہے۔ (بہ زیر تاء)

(ابن جریرؒ صفحہ ۱۱' جلد ۲۲)

اور جب آیت میں زیر اور زبر دونوں قراتیں موجود ہیں تو ضروری ہے کہ ہم خاتَم بالکسر اور خاتَم بالفتحہ دونوں لفظوں کی مفصل شرح ناظرین کے سامنے پیش کریں۔ وہو ہذا یہ دونوں لفظ کلام عرب میں چند معانی کے لئے مستعمل ہوتے ہیں جن کو ذیل میں ایک نقشہ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔

لفظ لفظ نمبر شمار معانی حوالہ کتب لغت خاتَم بالفتح خاتِم بالکسر ۱ نگینہ مہر جس پر نام وغیرہ کندہ کئے جاتے ہیں لسان العرب' تاج العروس صحاح جوہری' قاموس " " ۲ انگشتری یعنی انگوٹھی' مثلاً خاتم ذہب یعنی سونے کی انگوٹھی لسان العرب' تاج العروس صحاح وغیرہ

صفحہ 88

" " ۳ آخر قوم بھی اکثر قاموس‘ تاج العروس‘ مستعمل ہے منتہی الارب " " ۴ گھوڑے کے پاؤں میں " " " جو تھوڑی سی سفیدی ہو " " " اس کو بھی خاتم کہتے ہیں " " " " " ۵ گدی کے نیچے جو گڑھا " " " ہے اس کو بھی خاتم کہتے " " " ہیں " " " " خاتم بالکسر فقط ۶ مہر کا جو نقش کاغذ وغیرہ " " " پر آتا ہے " " ۷ بمعنی اسم فاعل‘ کسی چیز لسان العرب وغیرہ کو ختم کرنے والا

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں لفظ سات معانی میں مستعمل ہوتے ہیں جن میں اول کے پانچ دونوں میں مشترک ہیں‘ اور نمبر ۶ فقط خاتم بالکسر کے ساتھ مخصوص ہے اور نمبر ۷ خاتم بالفتح کے ساتھ خاص ہے۔

اس کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیت مذکورہ میں خاتم بالکسر کے چھ معنوں میں سے کون سے معنی ہو سکتے ہیں اور خاتم بالفتح کے چھ معنوں میں سے کون سے۔

سو یہ بھی ظاہر ہے کہ پہلے اور دوسرے معنی یعنی نگینہ‘ مہر اور انگشتری آیت میں کسی طرح حقیقت کے اعتبار سے مراد نہیں ہو سکتے اور باجماع علمائے لغت اور باتفاق عقلائے دنیا جب تک حقیقی معنی درست ہو سکیں اس وقت تک مجازی کو اختیار کرنا باطل ہے لہذا پہلے اور دوسرے معنی ہرگز مراد نہیں۔

چوتھے پانچویں معانی کا تو آیت میں کسی انسان کو وہم بھی نہیں ہو سکتا‘ کیوں کہ وہ اس آیت میں نہ حقیقتاً درست ہیں نہ مجازاً۔

اسی طرح ساتویں معنی یعنی مہر کا نقش‘ یہ بھی حقیقی معانی کے لحاظ سے آیت میں مراد

نہیں ہو سکتے۔ اور م لہذا اب کرنے والے اور یہ فرق ہے کہ ان میں دوسرے معنی صرف الحاصل ا اللہ تعالیٰ ناظرین کر کی تفاسیر اور ائمہ سر دیا جائے تب بھی ہیں‘ آخر النبیین اور

خلاصہ کلام

یہ کہ ظا ظلیت اور انعکاس اگر مرزا کا خیال ا اور نمونہ ہوں اور امت بتلائے کہ نمونہ تھا ظاہر ہے کا عکس اور مظہر نمونہ ہے۔ اور ا اور تصویر ہے تو ا نظر آ رہا ہے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہوں تو آخر بتا مرزائے غلام ا

صفحہ 89

۳ آخر قوم بھی اکثر مستعمل ہے قاموس، تاج العروس، منتہی الارب ۴ گھوڑے کے پاؤں میں " " " جو تھوڑی سی سفیدی ہو " " " اس کو بھی خاتم کہتے ہیں " " " ۵ گدی کے نیچے جو گڑھا " " " ہے اس کو بھی خاتم کہتے " " " ہیں " " " ۶ مہر کا جو نقش کاغذ وغیرہ " " " پر آتا ہے ۷ بمعنی اسم فاعل، کسی چیز لسان العرب وغیرہ کو ختم کرنے والا

وا کہ یہ دونوں لفظ سات معانی میں مستعمل ہوتے ہیں جن ک ہیں اور نمبر ۶ فقط خاتم بالکسر کے ساتھ مخصوص ہے اور ہے۔

ہ کہ آیت مذکورہ میں خاتم بالکسر کے چھ معنوں میں سے کون کے چھ معنوں میں سے کون سے۔

پہلے اور دوسرے معنی یعنی نگینہ مہر اور انگشتری آیت میں کسی نہیں ہو سکتے اور باجماع علمائے لغت اور باتفاق عقلا کے نزدیک جب ، اس وقت تک مجازی کو اختیار کرنا باطل ہے لہٰذا پہلے اور تو آیت میں کسی انسان کو وہم بھی نہیں ہو سکتا، کیوں کہ وہ نہ مجازاً۔

عنی مہر کا نقش، یہ بھی حقیقی معانی کے لحاظ سے آیت میں مراد

نہیں ہو سکتے۔ اور مجازی معنی مراد لینے کی کوئی وجہ نہیں۔

لہٰذا اب صرف دو احتمال باقی ہیں، تیسرے معنی یعنی آخر قوم اور چھٹے معنی یعنی ختم کرنے والے اور یہ دونوں معنی بلا تکلف آیت میں حقیقت کے اعتبار سے درست ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ ان میں سے پہلے معنی دونوں قرأتوں یعنی خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح پر درست ہیں اور دوسرے معنی صرف خاتم بالکسر کے ساتھ مخصوص ہیں۔

الحاصل لفظ خاتم کی دونوں قرأتوں اور ان کے معانی لغویہ پر مفصل بحث کا نتیجہ انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین کرام نے یہ نکال لیا ہو گا کہ اگر قرآن وحدیث کی تصریحات اور صحابہ و تابعین کی تفاسیر اور ائمہ سلف کی شہادتوں سے بھی قطع نظر کر لی جائے اور فیصلہ صرف لغتِ عرب پر رکھ دیا جائے تب بھی لغت عرب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ آیت مذکورہ کی پہلی قرأت کے دو معنی ہو سکتے ہیں، آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے اور دوسری قرأت پر ایک معنی ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ کلام

یہ کہ ظلیت اور انعکاس سے اتحاد اور عینیت کا ثابت کرنا سراسر غلط اور باطل ہے۔ ظلیت اور انعکاس سے صرف ایک قسم کی مشابہت اور مناسبت اور ہم رنگی ثابت ہو جاتی ہے سو اگر مرزا کا خیال اور گمان (بشرطیکہ ثابت ہو جائے) کہ میں آنحضرت ﷺ کے کمالات کا آئینہ اور نمونہ ہوں اور کمالات نبوت میں سرور عالم ﷺ کا مشابہ اور ہم رنگ ہوں تو مرزائے قادیان کی امت بتلائے کہ مرزائے قادیان کن کن کمالات علمیہ اور عملیہ میں سرور عالم ﷺ کا آئینہ اور نمونہ تھا ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں فلاں شخص کا ظل اور بروز ہوں اور اس کا عکس اور مظہر اتم ہوں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ یہ شخص صفات کمال میں اس کا ایک نمونہ ہے۔ اور اخلاق و اعمال میں اس کا شبیہ اور مثیل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ اس کا عکس اور تصویر ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اگرچہ ذات مختلف ہے مگر آئینہ میں جو عکس اور نقش نظر آ رہا ہے وہ اصل کے ہم رنگ ہے اور بظاہر ہو بہو وہی معلوم ہوتا ہے لہٰذا جب مرزا قادیان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں سرور عالم ﷺ کا ظل اور بروز ہوں اور حضور پر نور کے کمالات کا مظہر اتم ہوں تو آخر بتلائے بھی سہی کہ وہ کن صفات اور کمالات میں سرور عالم ﷺ کے مشابہ تھا۔

مرزائے غلام قادیانی حضور پر نور کے تو کیا مشابہ اور مماثل ہوتا وہ تو غلامان غلامان غلامان

صفحہ 90

غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان رسول کریم ------------- کے مشابہ بھی نہیں ہو سکتا۔

ہاں تیرہ سو برس میں جس قدر بھی مدعیان نبوت اور مسیحیت اور مہدویت اور دجال و کذاب گذرے ان سب کے وساوس اور دسائس کا ظل اور بروز تھا۔

آج اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں ہارون رشید کا یا سلطان صلاح الدین کا یا شاہ عالمگیر کا ظل اور بروز ہوں اور ان کا مظہر اتم ہوں' لہٰذا تم سب پر میری اطاعت واجب اور لازم ہے تو حکومت اس کو جیل خانہ یا پاگل خانہ بھیج دے گی۔ اس قسم کی باتوں سے جب بادشاہت ثابت نہیں ہو سکتی تو نبوت و رسالت کہاں ثابت ہو سکتی ہے۔

ظاہر ہے کہ اگر آج کوئی سیاہ فام یا گلفام یہ دعویٰ کرنے لگے کہ میں یوسف علیہ السلام کا ظل اور بروز ہوں اور میں عزیز مصر ہوں تو شاید کوئی پرلے درجہ کا پاگل ہی اس دعویٰ کے قبول کرانے پر تیار ہو۔

یہی حال ان لوگوں کا ہے جو قادیان کے ایک دہقان کو تمام انبیاء و مرسلین کا ظل اور بروز اور ان کے کمالات اور صفات کا آئینہ اور مظہر اتم ماننے پر تیار ہو گئے ہیں۔

چہ نسبت خاک راہ با عالم پاک
کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک

خلاصۂ کلام

یہ کہ حدیث لا نبی بعدی میں مرزائیوں کی یہ تاویل کہ لا نبی بعدی کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی مستقل نبی نہیں یہ تاویل بالکل مہمل ہے یہ تاویل تو ایسی ہے جیسے کوئی مدعی الوہیت لا الہ اللہ کے معنی یہ بیان کرنے لگے کہ اللہ کے سوا کوئی مستقل معبود نہیں۔ لیکن جو معبود اللہ تعالیٰ کا ظل ہو یا اس کا بروز ہو یا اس کا عین ہو تو ایسا عقیدہ عقیدۂ توحید کے منافی نہیں جیسا کہ مشرکین تلبیہ میں کہا کرتے تھے۔

لاشریک لہ الا شریکا لک تملکہ وما ملک' اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں جو تیری ہی ملک ہے یعنی کہ بت وغیرہ وہ سب تیرے ہی ماتحت ہیں یعنی جس طرح لا الہ اللہ کی تاویل مذکورہ کفر ہے اسی طرح لا نبی بعدی کی مرزائی تاویل بھی کفر ہے۔ مرزائیوں کی اس تاویل کے جواب میں کوئی مدعی الوہیت کہہ سکتا ہے کہ میری الوہیت اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور

صفحہ 91

وحدانیت کے منافی نہیں اور تاویل یہ کرے کہ میں مستقل الوہیت کا مدعی نہیں بلکہ میں ظلی اور بروزی الوہیت کا مدعی ہوں تو کیا یہ تاویل اس مدعی الوہیت کو کفر سے بچا سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ اسی طرح مرزائے غلام کا یا اس کے کسی چیلہ کا یہ کہنا کہ مرزا مستقل نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ظلی اور بروزی نبوت کا مدعی ہے اس کو کفر سے نہیں بچا سکتی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت جلد ۹ شمارہ ۳۰)

تفسیر روح المعانی میں تصریح موجود ہے۔ وَالْخَاتَمُ اِسْمُ الْاٰلَةِ لِمَا يُخْتَمُ بِهِ كَالطَّابِعِ لِمَا يُطْبَعُ بِهِ فَمَعْنٰی خَاتَمَ النَّبِيّيْنَ الَّذِىْ خَتَمَ النَّبِيُّوْنَ بِهِ وَمَالُهُ اٰخِرُ النَّبِيّيْنَ

(روح المعانی ۵۹‘ ج ۷)

ترجمہ: اور خاتم بالفتح اس آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے‘ پس خاتم النبیین کے معنی یہ ہوں گے ”وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے“ اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخر النبیین ہے۔

اور علامہ احمد معروف بہ ملا جیون صاحب نے اپنی تفسیر احمدی میں اسی لفظ کے معنی کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ وَالْمَالُ عَلٰی كُلِّ تَوْجِيْهِ هُوَ الْمَعْنٰی الْاٰخِرُ وَلِذٰلِکَ فَسَّرَ صَاحَبِ الْمَدَارِكِ قِرَاءَةَ عَاصِمٍ بِالْاٰخِرِ وَصَاحِبُ الْبَيْضَاوِىْ كُلَّ الْقِرَاءَ تَيْنِ بِالْاٰخِرِ.

ترجمہ:۔ اور نتیجہ دونوں صورتوں (بالفتح و بالکسر) میں وہ صرف معنی آخر ہی ہیں‘ اور اسی لئے صاحب تفسیر مدارک نے قرأت عاصم یعنی بالفتح کی تفسیر آخر کے ساتھ کی ہے‘ اور بیضاوی نے دونوں قرأتوں کی یہی ایک تفسیر کی ہے۔“

روح المعانی اور تفسیر احمدی کی ان عبارتوں سے یہ بات بالکل روشن ہو گئی کہ لفظ خاتم کے جو دو معنی آیت میں بن سکتے ہیں ان کا بھی خلاصہ اور نتیجہ صرف ایک ہی ہے‘ یعنی آخر النبیین‘ اور اسی بناء پر بیضاویؒ نے دونوں قرأتوں کے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں کیا۔ بلکہ دونوں صورتوں میں آخر النبیین تفسیر کی ہے۔

صفحہ 92

پھر خداوند عالم ائمہ لغت کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کی کہ لفظ خاتم کے معنی کو جمع کر دیا۔ بلکہ تصریحاً اس آیت شریفہ کے متعلق جس پر اس وقت ہماری بحث ہے صاف طور پر بتلا دیا کہ تمام معانی میں سے جو لفظ خاتم میں لغۃً محتمل ہیں اس آیت میں صرف یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ آپؐ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔

خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور معتبر و غیر معتبر لکھی گئیں اور کہاں کہاں اور کس صورت میں موجود ہیں، ہمیں تو نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت ہے بلکہ صرف ان چند کتابوں سے جو عرب و عجم میں مسلم الثبوت ہیں قابل استدلال سمجھی جاتی ہیں ”مشتے نمونہ از خروارے“ ہدیہ ناظرین کر کے یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر کے معانی میں ائمہ لغت نے آیت مذکورہ میں کون سے معنی تجویز کئے ہیں۔

مفردات القرآن

یہ کتاب امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی، خاص کر قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز سے بیان فرمایا ہے شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اتقان میں فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی، آیت مذکورہ کے متعلق اس کے یہ الفاظ ہیں۔

وَخَاتَمَ النَّبِيّيْنَ لِاَنَّهُ خَتَمَ النُّبُوَّةَ اَىْ تَمَّمَهَا بِمَجِيْئِهِ

(مفردات راغب ص ۱۴۲)

ترجمہ:۔ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؐ نے نبوت کو ختم کر دیا۔ یعنی آپ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام فرمایا۔

المحکم لابن السیدہ

لغت عربی کی وہ معتمد علیہ کتاب ہے جس کو علامہ سیوطیؒ نے ان معتبرات میں سے شمار کیا جس پر قرآن کے بارے میں اعتماد کیا جاسکے۔

وَخَاتِمُ كُلِّ شَىْءٍ وَخَاتِمَتُهُ عَاقِبَتُهُ وَاٰخِرُهُ

(از لسان العرب)

ترجمہ:۔ اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔

تہذیب للازہری

اس کو بھی وَالْخَاتِمُ التَّنْزِيْلِ اللَّهِ وَخَا ترجمہ:۔ ہیں اور میں سے آخری اس میں آنحضرت ﷺ کے کیا ائمہ تجویز کر سکتا ہے؟

لسان العرب

لغت کی خَاتِمُهُمْ وَسَلَّمَ ترجمہ: انہی الانبیاء اس میں میں خاتم الانبیاء لسان بالفتح اور بالکسر

صفحہ 93

ت کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے صرف اس پر بس ج کر دیا۔ بلکہ تصریحاً اس آیت شریفہ کے متعلق جس پر اس بتلا دیا کہ تمام معانی میں سے جو لفظ خاتم میں لغۃً محتمل ہیں اس ں کہ آپؐ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔ معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور کہاں اور کس صورت میں موجود ہیں، ہمیں تو نہ ان سب کے کسی بشر کی طاقت ہے بلکہ صرف ان چند کتابوں سے جو عرب استعمال کی جاتی ہیں ”مشتِ نمونہ از خروارے“ ہدیہ ناظرین خاتم بالفتح اور بالکسر کے معانی میں ائمہ لغت نے آیت مذکورہ

عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں نہایت عجیب انداز سے بیان فرمایا ہے شیخ جلال الدین سیوطیؒ قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی فاظ ہیں:۔ مَ النُّبُوَّةَ اَيْ تَمَّمَهَا بِمَجِيْئِهِ

(مفردات راغب ص ۱۴۲)

کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؐ نے آپؐ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام فرمایا۔

کتاب ہے جس کو علامہ سیوطیؒ نے ان معتبرات میں سے شمار عتماد کیا جاسکے۔ مَعُهُ خَاتِمَتُهُ وَآخِرُهُ

(از لسان العرب)

ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔“

تہذیب للازھری

اس کو بھی سیوطیؒ کے معتبرات لغت میں شمار کیا ہے اس میں لکھا ہے۔ وَالْخَاتِمُ وَالْخَاتَمُ مِنْ اَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي التَّنْزِيْلِ الْعَزِيْزِ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اَيْ آخِرَهُمْ

(از لسان العرب)

ترجمہ:۔ اور خاتم بالفتح اور خاتم بالکسر نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ہیں اور قرآن عزیز میں ہے کہ نہیں ہیں آنحضرت ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور سب نبیوں میں آخری نبی ہیں۔ اس میں کس قدر صراحت کے ساتھ بتلا دیا گیا کہ خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں آنحضرت ﷺ کے نام ہیں، اور قرآن مجید میں خاتم النبیین سے آخر النبیین مراد ہے۔ کیا ائمہ لغت کی اتنی تصریحات کے بعد بھی کوئی مصنف اس معنی کے سوا کوئی اور معنی تجویز کر سکتا ہے؟

لسان العرب

لغت کی مقبول کتاب ہے عرب و عجم میں مستند مانی جاتی ہے اس کی عبارت یہ ہے:۔ خَاتِمُهُمْ وَخَاتَمُهُمْ وَآخِرُهُمْ عَنِ اللِّحْيَانِيِّ وَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتِمُ الْاَنْبِيَاءِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ۔ ترجمہ:۔ خاتم القوم بالکسر اور خاتم القوم بالفتح کے معنی آخر القوم ہیں اور انہی معنی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے، محمد ﷺ خاتم الانبیا (یعنی آخر الانبیاء ہیں آپ پر اور ان سب پر صلوٰۃ وسلام ہو) اس میں بھی بوضاحت بتلایا گیا کہ بالکسر کی قرأت پڑھی جائے یا بالفتح کی ہر صورت میں خاتم الانبیاء کے معنی آخر النبیین اور آخر الانبیاء ہوں گے۔ لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اگرچہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے بحیثیت نفس لغت بہت سے معانی ہو سکتے ہیں لیکن جب قوم یا

صفحہ 94

جماعت کی طرف اس کی اضافت کی جاتی ہے تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ غالباً اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ خاتم کو تنہا ذکر نہیں کیا‘ بلکہ قوم اور جماعت کے ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

لغت عرب تتبع (تلاش) کرنے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی آخر ہی کے ہوتے ہیں‘ آیت مذکورہ میں بھی خاتم کی اضافت جماعت نبیین کی طرف ہے اس لئے اس کے معنی آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتے اس قاعدہ کی تائید تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے‘ وہو ہذا۔

تاج العروس

شرح قاموس للعلامۃ الزبیدی میں لحیانی سے نقل کیا ہے۔

وَمِنْ اَسْمَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْخَاتِمُ وَالْخَاتَمُ وَهُوَ الَّذِيْ خَتَمَ النُّبُوَّةَ بِمَجِيئِهِ.

ترجمہ:۔ اور آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کر دیا ہو۔

مجمع البحار

جس میں لغاتِ حدیث کو معتمد طریق سے جمع کیا گیا ہے اس کی عبارت درج ذیل ہے۔

الْخَاتِمُ وَالْخَاتَمُ مِنْ اَسْمَائِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘ بِالْفَتْحِ اِسْمٌ اَىْ اٰخِرُهُمْ وَبِالْكَسْرِ اِسْمُ فَاعِلٍ. (مجمع البحار)

ترجمہ:۔ ”خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ہے‘ بالفتح اسم ہے جس کے معنی آخر کے ہیں اور بالکسر اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی تمام کرنے والے کے ہیں۔

نیز مجمع البحار‘ صفحہ ۳۲۶ ج ۱ میں ہے:۔

صفحہ 95

خَاتِمُ النُّبُوَّةِ بِكَسْرِ التَّاءِ أَيْ فَاعِلُ الْخَتْمِ وَهُوَ الْإِتْمَامُ وَبِفَتْحِهَا بِمَعْنَى الطَّابِعِ أَىْ شَيْءٍ يُدَلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.

ترجمہ:۔ خاتم النبوۃ بکسر تاء یعنی تمام کرنے والا اور بالفتح تاء بمعنی مہر یعنی وہ شے جو اس پر دلالت کرے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘

قاموس

میں ہے:۔

وَالْخَاتِمُ اٰخِرُ الْقَوْمِ كَالْخَاتَمِ وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالٰى وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ أَىْ اٰخِرُهُمْ.

ترجمہ:۔ اور خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اس معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد خاتم النبیین یعنی آخر النبیین ۔

اس میں بھی لفظ ”قوم“ بڑھا کر قاعدہ مذکورہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے نیز مسئلہ زیر بحث کا بھی نہایت وضاحت کے ساتھ فیصلہ کر دیا ہے۔

کلیات ابی البقاء

لغت عرب کی مشہور و معتمد کتاب ہے‘ اس میں مسئلہ زیر بحث کو سب سے زیادہ واضح کر دیا ہے‘ ملاحظہ ہو:۔

وَتَسْمِيَةُ نَبِيِّنَا خَاتِمَ الْأَنْبِيَاءِ لِأَنَّ الْخَاتِمَ اٰخِرُ الْقَوْمِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

(کلیات ابی البقاء‘ ص ٣٦٩)

ترجمہ:۔ ”اور ہمارے نبی ﷺ کا نام خاتم الانبیاء اس لئے رکھا گیا کہ خاتم آخر قوم کو کہتے ہیں اور اسی معنی میں خداوند عالم نے فرمایا ہے کہ نہیں ہیں محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ کے رسول ہیں‘ اور آخر سب نبیوں کے۔‘‘

اس میں نہایت صاف کر دیا گیا ہے کہ آپؐ کے خاتم الانبیاء اور خاتم النبیین نام رکھنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ خاتم القوم کو کہا جاتا ہے اور آپؐ آخر النبیین ہیں۔

صفحہ 96

نیز ابو البقاء نے اس کے بعد کہا ہے کہ:۔

وَنَفْيُ الْأَعَمِّ يَسْتَلْزِمُ نَفْيَ الْأَخَصِّ

ترجمہ:۔ اور عام کی نفی خاص کی نفی کو بھی مستلزم ہے۔

جس کی غرض یہ ہے کہ نبی عام ہے۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، اور رسول خاص تشریعی کے لئے بولا جاتا ہے اور آیت میں جب کہ عام نبی کی نفی کر دی گئی تو خاص یعنی رسول کی بھی نفی ہونا لازمی ہے لہذا معلوم ہوا کہ اس آیت سے تشریعی اور غیر تشریعی ہر قسم کے نبی کا اختتام اور آپ کے بعد پیدا ہونے کی نفی ثابت ہوتی ہے جو لوگ آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم گھڑتے ہیں علامہ ابوالبقاء نے پہلے ہی سے ان کے لئے رد تیار کر رکھا ہے۔

صحاح العربیہ للجو ہری

جس کی شہرت محتاج بیان نہیں، اس کی عبارت یہ ہے:۔

والخاتم والخاتم بكسر التاء و فتحها والختيام والخاتام كله بمعنى والجمع الخواتيم وخاتمة الشيء اخره ومحمد صلى الله عليه وسلم خاتم الانبياء عليهم السلام

ترجمہ:۔ اور خَاتِم اور خَاتَم تاء کے زیر اور زبر دونوں سے اور ایسے ہی خِتیام اور خاتام سب کے معنی ایک ہیں اور جمع خواتیم آتی ہے اور خاتم کے معنی آخر کے ہیں اور اسی معنی میں محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔

اس میں بھی یہ تصریح کر دی گئی ہے کہ خاتَم اور خاتِم بالکسر اور بالفتح دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی آخر قوم۔

منتہی الادب

میں لفظ خاتم کے متعلق لکھا ہے:۔

"خاتم کصاحب مہر و انگشتر و آخر ہر چیزے و پایان آں و آخر قوم و خاتم بالفتح مثلہ و محمد خاتم الانبياء ﷺ وعلیہم اجمعین۔

صراح مہر علما علم ترجمہ خاتم لغت خروارے پیش لغت عرب آینہ خاتم کے معنی آ یہاں کے حقیقی معنی مر حقیقی معنی کے و معنی مہر کے ہوت اور اس وقت آ پہلے معنی کے علا دی، یعنی اب ا مخفف ترجمہ والط

صفحہ 97

صراح

میں ہے:۔ خاتمة الشيء آخره و محمد خاتم الانبياء بالفتح صلوات الله عليه وعليهم اجمعين. ترجمہ:۔ خاتمہ شے کے معنی آخر شے کے ہیں اور اس معنی میں محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔

لغت عرب کے غیر محدود دفتر میں یہ چند اقوال ائمہ لغت اور بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش کئے گئے ہیں، جن سے انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین کو یقین ہو گیا ہوگا کہ ازروئے لغت عرب آیت مذکورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتے اور لفظ خاتم کے معنی آیت میں آخر اور ختم کرنے والے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے۔

یہاں تک بحمد للہ یہ بات روشن ہو چکی ہے کہ آیت مذکورہ میں خاتم بالفتح اور بالکسر کے حقیقی معنی صرف دو ہو سکتے ہیں اور اگر بالفرض مجازی معنی بھی لئے جائیں تو اگرچہ اس جگہ حقیقی معنی کے درست ہوتے ہوئے اس کی ضرورت نہیں لیکن بالفرض اگر ہوں تب بھی خاتم کے معنی مہر کے ہوں گے جیسا کہ خود مرزا قادیانی ”حقیقتہ الوحی“ حاشیہ صفحہ ۹۷ میں تصریح کرتا ہے اور اس وقت آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ انبیاء پر مہر کرنے والے ہیں، جس کا خلاصہ بھی پہلے معنی کے علاوہ کچھ نہیں، کیوں کہ محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں چیز پر مہر کر دی یعنی اب اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی، قرآن عزیز میں فرمایا ہے۔ ختم الله على قلوبهم (بقرہ ع ۱) ترجمہ:۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی یعنی اب کوئی خیر کی چیز داخل نہیں ہوتی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی جلد ۹ ۔ شمارہ ۴)

صفحہ 98

مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ

پر قادیانیوں کا افتراء اور اس کا جواب

پروفیسر مولانا محمد اشرف

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا!
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ!

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ جن کے بعد ابد الآباد تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ یہ مسلمانوں کا ایسا متفقہ اور اجتماعی عقیدہ ہے۔ جس کا انکار کفر و ارتداد ہے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سعادت ہی سے یہ عقیدہ مسلم چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ آپؐ نے اسود عنسی (متنبی) کے خلاف جہاد کروایا اور وہ آپؐ کے وصال سے چار یا پانچ دن پہلے مقتول ہوا۔ اس طرح مسیلمہ کذاب کے خلاف حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد معروف ہے۔ صحابہ کا یعنی امت کا پہلا اجماع مسیلمہ کذاب کے کفر اور اس کے خلاف جہاد و فوج کشی پر ہوا۔ پھر امت نسلاً بعد نسل تواتر کے ساتھ اس مسئلہ پر متفق رہی اور اگر کبھی کسی شخص نے حریم ”ختم نبوت“ کے اندر داخلے کی کوشش کی تو اسے مرتد قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔ علماء و اعیان امت میں سے کسی شخص نے نہ تو ”ختم نبوت“ کا انکار کیا۔ نہ ہی آپ کے بعد اجزائے نبوت کے قائل کو مسلمان گردانا، غرض حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اسلام کا ایسا بدیہی اور متفق علیہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ صد حسرت و تعجب کا سبب ہے کہ جب سے انگریزوں نے اپنی اسلام دشمنی اور اپنی استعماری

صفحہ 99

ضرورتوں کے ماتحت برصغیر میں، قادیانی متنبّی کا پودا لگایا اور اس کی نگہداشت و پرورش کی ذمہ داری سنبھالی۔ ختم نبوت کے اس ناقابل شکست و ریخت حصن حصین میں نقب لگانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ تاکہ مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد کی ”دجالی نبوت“ کو کسی طور پناہ مل سکے اور ان کی ان ابلہ فریبیوں سے مسلمانوں کے سادہ لوح اشخاص کو دھوکہ دیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں ان کی ان کاوشوں کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے جو وہ بعض اعیان امت اور مشائخ و علماء کی بعض عبارات کو محرف کر کے پیش کرتے ہیں اور ان سے اپنے مکروہ عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ عبارات کبھی سیاق و سباق سے علیحدہ کر دی جاتی ہیں۔ کبھی ان میں تحریف کر دی جاتی ہے۔ کبھی کمال جسارت سے ان کو غلط معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ کبھی ایسی تاویل کر دی جاتی ہے جس کا بیچارہ مصنف گمان بھی نہیں کر سکتا ہو گا۔ غرض ”متنبیین“ کی حیلہ گری اور شعبدہ بازی اپنے فن کا ہر روز نیا مظاہرہ کرتی رہتی ہے۔

حکیم الاسلام حجۃ اللہ تعالیٰ فی الارض حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ اسلام کی حقانیت کی روشن دلیل اور علوم و حقائق کا وہ مینارہ نور ہیں جن کی مثال شاذ ہی ملے گی۔ تفسیر و حدیث و فقہ، علوم اسرار و حکمت، تصوف و کلام نے ان سے زندگی اور روشنی پائی ہے آپ کی ذات عالی کی طرف کسی بات کا منسوب کر دینا گویا اسے بزعم خود اسلامی اور دینی سند کا عطا کر دینا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ اور ان کے خانوادہ کے عقائد اظہر من الشمس ہیں۔

”ختم نبوت“ پر ان کا عقیدہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ لیکن مرزائی قافلہ کے رہرواں اپنی تاخت میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے ان کا حال بقول شاعر؎

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

مرزا غلام احمد کے ضلع گورداسپور کے ایک قصبہ قادیان میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر اللہ دتہ مظہر نامی ایک فاضل ہیں۔ جنھوں نے وکٹوریہ یونیورسٹی انگلینڈ کے شعبہ تعلیمات شرق اوسط سے ایم اے، پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ پھر چیچہ وطنی میں گورنمنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کالج کے پرنسپل رہے اپریل ۱۹۷۴ء سے وہ پاکستان کے سرکاری ادارہ نیشنل

صفحہ 100

کمیشن ان ہسٹاریکل اینڈ کلچرل ریسرچ اسلام آباد میں سینئر ریسرچ فیلو کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ فاضل مذکور نے اسی پاکستانی سرکاری ادارہ سے سرکاری خرچ پر ۱۹۷۹ء میں ایک کتاب شائع کروائی ہے جس کا نام ہے ”شاہ ولی اللہ۔ مسلم ہند کے ایک ولی عالم“ اس کتاب کے صفحہ ۱۱۵ پر وہ رقم طراز ہیں۔

”عقیدہ ختم نبوت کا انکار با ایں ہمہ حضرت شاہ ولی اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کو اسلام کے (دائرہ و) کیش میں رہنے کے ناقابل نہیں کر دیتا باوجود ان کے اس نتیجہ نکالنے کے کہ شیعہ ائمہ کے متعلق جو عقیدہ رکھتے ہیں۔ وہ ”ختم نبوت“ کے عقیدہ کے منافی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے شیعہ کو کافر نہیں قرار دیا۔

ان کے نزدیک مسلمان کو جو شرائط اسلام سے نکال دیتی ہیں وہ یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کا انکار (۲) غیر خدا کی پرستش (۳) پس مرگ زندگی (معاد) کا انکار (۴) جملہ ضروریات دین (میں سے کسی ایک کا) انکار“

(بحوالہ حسن العقیدہ مشمولہ تفہیمات جلد اول ص ۲۰۲)

فاضل مصنف ڈاکٹر اللہ دتہ مظہر صاحب نے جس تفہیم سے مذکورہ الصدر چار شرائط نقل کی ہیں۔ تعجب ہے کہ چند سطر پیشتر اس تفہیم نمبر ۶۶ ص ۲۰۱ پر ان کی نظر نہیں پڑی۔ جہاں حضرت شاہ صاحبؒ نے اسے ”حسن العقیدہ“ کے تحت میں ارقام فرمایا ہے۔

”اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین (آخری نبی) ہیں۔ ان کے بعد کوئی (نیا) نبی نہیں اور آپ کی دعوت (و بعثت) تمام انسانوں اور جنات کے لیے عام ہے اور آپ اس خصوصیت اور اس قسم کے دیگر خصائص کی وجہ سے تمام انبیاء میں افضل ہیں“۔

حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ کی اس واضح عبارت سے ثابت ہے کہ آپ کا عقیدہ ختم نبوت پوری امت کی طرح راسخ و پختہ ہے اور آپ ”لا نبی بعدہ“ پر کامل ایمان رکھنے کے ساتھ آپ کی دعوت و بعثت عامہ پر کلی اذعان و ایقان رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب آپ تمام انسانوں اور جنات کے لیے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بانگ دہل قائل اور اعلان کرنے والے ہیں اور اس تفہیم میں آگے چل کر ”نبی“ کے انکار پر کفر کا فتویٰ صادر کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جس ”نبی“ کی دعوت کو وہ تمام جن و انس کے لیے ”عام“

صفحہ 101

قرار دے رہے ہیں۔ وہ اس ”نبی“ کے منکر کو کیسے مسلمان کہہ سکتے ہیں جب کہ آپ کی بعثت و دعوت ”عمومیہ“ آپ کی ختم نبوت کا دوسرا عنوان و نتیجہ ہے۔

غرض حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی اس تفہیم کے اس اقتباس سے یہ بات ثابت و مبرہن ہو جاتی ہے کہ آپ ختم نبوت کے عقیدہ کے کسی منکر کو ”اسلام کے دائرہ“ میں کبھی شمار نہیں کر سکتے۔ اس لیے فاضل مصنف جناب ڈاکٹر اللہ دتہ مظفر کا یہ ادعا کہ ”عقیدہ ختم نبوت کا انکار بایں ہمہ حضرت شاہ ولی اللہ کے نزدیک اسلام کے دائرہ و کیش میں رہنے کے ناقابل نہیں کر دیتا“ حضرت شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ پر نرا افتراء اور بہتان ہے۔ حضرت شاہ صاحب کی دیگر تصنیفات اس پر گواہ ہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے نہ صرف قائل بلکہ اس عقیدہ اور اس کے حکم و اسرار کے مبلغ اور داعی بھی ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ اور ان کی دیگر تصنیفات میں ”نبوت“ پر ان کے مباحث دیکھے جا سکتے ہیں۔ جہاں تک شیعہ حضرات کی عقیدہ امامت کی تشریحات کا تعلق ہے وہ ہمارا موضوع نہیں۔ تاہم ”شیعہ“ ختم نبوت کے انکار کا اظہار و اعلان نہیں کرتے۔ اس بنا پر حضرت شاہ صاحب کا شیعہ کو کافر قرار نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ وہ ختم نبوت کے منکر کو بھی دائرہ اسلام کے اندر شمار کرتے ہیں۔

فقیر نہیں جانتا کہ ڈاکٹر اللہ دتہ مظفر صاحب کا قادیانیت سے کیا تعلق ہے لیکن ان کی یہ کاوش قادیانیت کی کھلی حمایت ہے اور ان کے مفاد (Cause) اور عقیدہ کو تقویت پہنچا رہی ہے اسی کتاب کے اسی صفحہ میں آگے چل کر ”جملہ ضروریات دین (میں سے کسی ایک کا) انکار“ کی دفعہ جسے حضرت شاہ صاحب نے کفر کا سبب قرار دیا ہے۔ وہ جس طرح مبہم (Vague) قرار دے کر اس کی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی ”نام نہاد اہل قبلہ“ مرتدین و زندیق فرق“ کو اسلام میں رکھنے کی ایک سعی باطل ہے۔ ہم حضرت شاہ صاحب کو ان جملہ باطل و کافرانہ افکار سے بری سمجھتے ہیں جو ”زنادقہ“ اور ”منکرین ختم نبوت“ کو اسلام کے دائرہ میں سمجھ کر انھیں مسلمان قرار دیتے ہوں۔ ”ختم نبوت“ اسلام کا اساسی عقیدہ ہے جس کے بغیر ”دین اسلام“ کا وجود باقی نہیں رہتا۔ امت ”ختم نبوت“ کے عقیدہ سے قائم ہے یہ عقیدہ نہ ہو تو امت کا تار و پود بکھر کر رہ جائے اور دین بازیچہ اطفال بن جائے۔

ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرکاری اداروں میں ایسی

صفحہ 102

کتابوں کی اشاعت کی اجازت نہ دے اور ایسے حضرات جو سرکاری اداروں اور سرکاری خرچ پر اپنی مقصد براری کے لیے ایسی کتابیں شائع کرتے ہیں۔ سخت محاسبہ کرے۔ ہمیں شبہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی سوانح لکھنے کا مقصد صرف یہی تھا۔ کہ ختم نبوت کے منکرین کو غیر مسلم نہ قرار دینے والا ثابت کیا جائے اور اس طرح قادیانیت کی حمایت کی سبیل نکالی جائے۔

آخر میں ہم جناب عبداللہ ڈائریکٹر پاکستان دیہی ترقیاتی اکیڈمی پشاور کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کتاب اور بات کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی۔

فتنوں سے لڑنے والوں کا مقام

حق تعالیٰ کا نظام قدرت و حکمت بھی عجیب ہے۔ بعض حضرات بزم جہاں میں دیر سے آتے ہیں، مگر ان کو نشست ”صدیقین اولین“ کے پہلو میں دی جاتی ہے، امام بیہقیؒ نے ”دلائل النبوۃ“ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے:

انه سيكون فى آخر هذه الامة قوم لهم مثل اجر اولهم، يامرون بالمعروف وينهون عن المنکر ویقاتلون اہل الفتن۔

(مشکوۃ ص ۵۸۴)

”اس اُمت کے آخر میں کچھ لوگ ہوں گے جن کو اجر، امت کے پہلوں کا سا دیا جائے گا۔ یہ لوگ ”معروف“ کا حکم کریں گے، برائیوں سے روکیں گے اور اہل فتنہ سے لڑیں گے۔“

یعنی ”المعروف“ کا حکم کرنا، ”المنکر“ سے روکتے رہنا اور فتنہ پردازوں سے برسر پیکار رہنا، یہی تین وصف ایسے ہیں جو پچھلوں کو پہلوں سے ملا دیتے ہیں۔ بلاشبہ علم و فضل، طہارت و تقویٰ، زہد و تقدس وغیرہ ایمانی و انسانی اوصاف بھی نہایت گرانقدر ہیں، مگر ان سارے اوصاف سے آدمی مقبولیت عنداللہ میں اپنے ہمعصروں سے آگے نکل سکتا ہے، اور اپنے زمانہ کا مقتدا بن سکتا ہے، تاہم شمار اس کا اسی زمانے میں ہوگا جس میں وہ پیدا ہوا اور اس کے اجر و ثواب اور درجات کا پیمانہ بھی اسی دور کے لحاظ سے متعین ہوگا۔ لیکن جو چیز قرون متاخرہ کے افراد کو قرون اولیٰ کی شخصیت بنا دیتی ہے، وہ صرف امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اہل فتن سے جہاد ہے۔

(ماہنامہ بینات۔ کراچی۔ شیخ بنوری نمبر ص ۲۷۹ از قلم: مولانا یوسف لدھیانوی)

صفحہ 103

مرزا قادیانی

دجال تھا! مگر کیسے؟

حکیم پیر محمد ربانی

امام ولی الدین صاحب المشکوٰۃ نے ایک متفق علیہ حدیث بروایت ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ فضائل مدینہ کے سلسلے میں بطور ذیل نقل کی ہے۔ عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ o مدینہ منورہ کے پھاٹکوں پر فرشتگان ہوں گے جن کی وجہ سے دجال اور اس کی معیت میں رہنے والی طاعون مدینہ منورہ میں داخلہ نہیں لے سکے گی۔

مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے قبل از وقت پیش گوئی فرمائی ہے کہ مدینہ منورہ پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ ایک دجال آدمی اپنی پیدا کردہ طاعون کے ساتھ اس میں داخلہ لینے کی کوشش کرے گا۔ لیکن وہ داخلہ نہیں لے سکے گا بلکہ ناکام ہو کر پسپا ہو جائے گا۔ اور اس کو یہاں پر اپنے متوقع فتنہ و فساد کے پھیلانے کا موقع میسر نہیں آئے گا۔

جاننا چاہیے کہ محدثین و مفسرین کی ایک جماعت نے لفظ۔ الدجال سے دجال معہود مراد لیا ہے جو مدعی الوہیت ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کرے گا۔ اور اپنے ساتھ ایک خاص قسم کی طاعون رکھتا ہوگا۔ اور بعض بزرگان نے اسی لفظ کو مفہوم عام میں رکھا ہے اور کہا ہے کہ اس لفظ سے مراد ہر وہ شخص ہو سکتا ہے جو دجال معہود کی مانند مدعی الوہیت ہو یا ختم نبوت کا منکر ہو کر آنحضرت ﷺ کے بعد دعوے نبوت و رسالت کرتا ہو جیسا کہ مرزا قادیانی اور بہاء اللہ ایرانی ہے کیونکہ لفظ ”الدجال“ کا لغوی معنے اور اصطلاحی مفہوم ہر قسم کے فریب کار غدار و مکار کو شامل ہے۔ خواہ وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ یا آنحضرت ﷺ کے ساتھ غداری و مکاری کرتا ہو۔ لیکن مرزا قادیانی نے پہلے مفہوم کو لیا ہے اور دوسرے مفہوم کو غلط اور غیر صحیح قرار

صفحہ 104

دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی مرتبہ کتاب ازالہ اوہام کے ص ۱۹۹ پر علمائے اسلام کو بطور ذیل ایک انعامی چیلنج دیا ہے۔

اگر مولوی محمد حسین بٹالوی یا ان کا کوئی ہم خیال یہ ثابت کر دیوے کہ ”الدجال“ کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے بجز دجال معہود کسی اور دجال کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے تو مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ایسے شخص کو بھی جس طرح ممکن ہو گا ایک ہزار روپیہ نقد بطور تاوان دوں گا۔ چاہیں تو مجھ سے رجسٹری کروالیں یا تمسک لکھوا لیں۔

میں نے اسی سلسلہ میں صدر انجمن احمدیہ ربوہ کو لکھا کہ اگر میں اسی مرزائی چیلنج کی تغلیط کر کے ثابت کر دوں کہ حدیث بالا کے لفظ ”الدجال“ سے مراد خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے تو کیا آپ مجھے موعودہ انعام (ایک ہزار روپیہ) ادا کریں گے؟ آپ کے جواب آنے پر میں آپ کو اپنا حل فوراً ارسال کر دوں گا۔ لیکن حسب توقع ان لوگوں نے خاموشی میں اپنی خیریت سمجھی اور ایسے خاموش ہوئے کہ ان کو کسی سمدار سانپ نے سونگھ لیا ہے بار بار کی یاد دہانی سے وہ خاموش اور ساکت ہی رہے مگر میں نے کچھ عرصہ بعد اپنا حل بطور ذیل بھجوا دیا۔ اور حق تبلیغ ادا کر کے استحقاق ثواب سے ممتاز ہوا۔

مرزا صاحب نے اپنی خود نوشت کتاب ”کتاب البریہ“ ص ۱۴۴ پر لکھا ہے کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری عہد میں ہوئی۔ اور ۱۸۵۷ء میں میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔

اور مرزا صاحب کی وفات باتفاق اہل مرزا ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔ ان حالات میں عمر مرزا ۶۸ سال (۱۹۰۸ - ۱۸۴۰ = ۶۸) ہے جو اس کو ”الدجال“ کے اعداد (۶۸) پر لاتی ہے اور یا ۶۹ سال (۱۹۰۸ - ۱۸۳۹ = ۶۹) ہے جو اس کو الدجال کے اعداد (۶۹) پر لا کر دجال بناتی ہے گویا کہ بقول مرزا ثابت ہو گیا کہ بروئے حدیث بالا مرزا جی ۶۸ سال عمر پا کر ”مجسمہ الدجل“ ہے اور ۶۹ سال عمر پا کر مکمل ”الدجال“ ہے۔

ہاں ! یہاں پر ایک اعتراض ہو سکتا ہے کہ حدیث محولہ بالا میں صرف لفظ ”الدجال“ ہے اور لفظ الدجل نہیں ہے۔ لہٰذا بروئے حدیث ہذا مرزا جی کی ۶۹ سال عمر ثابت ہو جاتی ہے لیکن ۶۸ سال عمر ثابت نہیں ہوتی۔ جواب یہ ہے کہ لفظ ”الدجال“ ایک صفت ہے اور اس میں اس کی مصدر ”الدجل“ موجود ہے۔ کیونکہ ہر ایک صفت میں اس کی مصدر موجود و مستور ہوتی

صفحہ 105

ہے جیسا کہ ”اَلْعَلَّامُ“ کے اندر اس کی مصدر ”العلم“ اور ”اَلظَّلَّامُ“ کے اندر اس کی مصدر ”الظلم“ موجود و مستور ہے۔ بنا برآں واضح ہو گیا کہ مرزا جی کی عمر ۶۹ سال عمر لفظ ”الدجال“ سے اور ۶۸ سال عمر اس کی مستور مصدر ”الدجل“ سے ثابت ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ مرزا جی بروئے حدیث بالا مدینہ منورہ میں داخلہ نہیں لے سکا کیونکہ یہ شخص لاہور میں مرا اور قادیان میں مدفون ہوا اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ دجال آدمی نہ مہدی ہو سکتا ہے اور نہ مسیح بلکہ ایسا آدمی صرف فریب کار مکار اور اوباش آدمی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلام احمد قادیانی اعداداً ”غیر المہدی“ یا مہدی الخیر ہے اور پھر غلام احمد قادیانی ”اعدادی طور پر“ ”اوباش شخص“ یا (اخبث القادیان ) ہے۔

میں نے لفظ ”الطاعون“ کو نظر انداز کر دیا ہے اس پر کسی اور وقت میں کلام کروں گا۔ اور پھر مزیدار بات یہ ہے کہ میں نے اپنے بیان بالائے مذکور کو صرف سنگل دجال ثابت کیا ہے اور مرزا جی کے فرزند رشید مسٹر بشیر احمد ایم۔ اے نے بڑی جدوجہد کے ساتھ اپنے باپ کی عمر تقریباً ۷۶ سال ثابت کر کے اس کو ڈبل دجال بنا دیا ہے کیونکہ دجال + دجال = ۷۶ بنتے ہیں گویا کہ مسٹر بشیر احمد ایم اے کے نزدیک اس کا باپ سنگل دجال نہیں بلکہ ڈبل دجال ہے۔ چنانچہ قارئین کرام کتاب سیرۃ المہدی مصنفہ بشیر احمد کے اندر پوری تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔

غلام قادیانی گروہ کے سیاسی اثر و نفوذ کا آغاز اس تاریخ سے ہوا جب سر فضل حسین مرحوم کی تائید اور سفارش سے آنجہانی سر ظفر اللہ کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے نامزد کیا گیا۔

مسلمانوں کو کافر کہنے والا شخص اور خود اپنے محسن و مربی سر فضل حسین مرحوم کی نماز جنازہ پڑھنے سے گریز کرنے والا شخص مسلمانوں کا نمائندہ بن گیا۔ اس طرح اپنی پوزیشنوں سے قادیانی ٹولے کے لیے ناجائز فائدے حاصل کیے۔ اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر مختلف محکموں میں مسلمانوں کے بجائے قادیانیوں کو بھرتی کیا اور کرایا۔ اس طرح مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔

جب پاکستان بنا تو باوجود اس کے کہ آنجہانی سر ظفر اللہ نہ تو مسلم لیگ میں شامل تھا۔ نہ اس کا قائد اعظم مرحوم کی ذات سے کوئی تعلق تھا۔ نہ تحریک پاکستان میں اس کا یا اس کے گروہ کے اکابر و اصاغیر میں سے کسی کا کوئی حصہ تھا بلکہ الٹا ان عزائم پر برملا اظہار و اعلان کیا گیا کہ

صفحہ 106

اگر پاکستان بنایا گیا تو قادیانی گروہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کرے گا۔

درحقیقت تقسیم ہند سے پہلے قادیان آزادیٔ اسلام اور مسلم لیگ کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا رہا۔

۱۹۴۵ء کے انتخابات میں قادیانیوں نے مسلم لیگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہی ظفر اللہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوا بقول جسٹس منیر سر ظفر اللہ کے ساتھ قادیانیوں کے وکیل نے کمیشن کے سامنے اپنا الگ کیس پاکستان کے وکیل پیش کیا۔ جس کے نتیجے پٹھان کوٹ کا ضلع پاکستان سے کٹ گیا۔ اسی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لیے دردِ سر کا مسئلہ بن گیا۔

ان ساری باتوں کے باوجود سر ظفر اللہ کو مسلمانوں کی نوزائیدہ مملکت میں بڑے پر اسرار طریقے پر وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔ جناب لیاقت علی خان کی شہادت میں یہ اور اس کا گروہ پوری طرح ملوث ہے۔ یہ واقعہ معمّہ ہے کہ ایک یہ شخص تحریک آزادی کی کسی جماعت میں شامل نہیں۔ انگریز سرکار کا ملازم اور ایجنٹ۔ ملک کی ہر تحریک آزادی کا مخالف مگر جب آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہے تو یہی مکار انقلاب کے سارے فوائد اپنے لیے اور اپنے گروہ کے لیے سمیٹتا ہے بلکہ اسلام کے خلاف ساری دنیا میں مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لیے قادیانی مشنوں کی قیادت کرتا ہے۔ سرکاری منصب سے غداری اور نمک حرامی نہیں اور کیا ہے!

ظفر اللہ قادیانی کے وزارت خارجہ کے دور میں مسلمانوں کے ارتداد کے لیے کیسے کیسے گھناؤنے منصوبے بنائے گئے جو کہ اب امت مسلمہ کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔

”قادیانی صرف مسلمانوں کو مرتد کرتے ہیں غیر مسلموں میں تبلیغ نہیں کر سکتے“۔

یورپ میں کوئی پڑھا لکھا غیر مسلم اسلام قبول کرتا ہے تو یہ لوگ اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اگر وہ قادیانی نہ بھی ہو تو اس کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے ضرور کوشش کرتے ہیں۔

نائجیریا کے شہر لاگوس جو کہ مسلمانوں کا بڑا شہر ہے یہاں قادیانیوں نے خاص اڈا بنا رکھا ہے۔ اس کے ملحق ہائی سکول ہسپتال ہے جو کہ قادیانی ڈاکٹر چلاتے ہیں ایک طرف مسلمانوں کو مرتد کرنے کی تبلیغ ہو رہی ہے دوسری طرف حکومت پاکستان کے خلاف چھوٹے اور جھوٹے پمفلٹ‘ کتابچے‘ تمام افریقی ممالک میں شائع اور تقسیم کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہماری اکثریت ہے۔ فوجی حکومت نے ہم پر جبراً تسلط کر رکھا ہے۔ مندرجہ ذیل سے

صفحہ 107

آپ اندازہ لگائیں۔

ہفت روزہ اخبار جہاں مورخہ ۲۱ تا ۲۷ اپریل صفحہ ۱۴ مکتوب جرمنی از شہلا علاؤ الدین۔

’’چند سالوں سے احمدی مرد اور خواتین حضرات بھی سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے لگے ہیں۔ خاص طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے اور اپریل ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ احمدی (قادیانی) جرمن حکام کو اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔ یہاں مقیم بعض غیر جانبدار پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر احمدیہ فرقہ پاکستان میں محفوظ ہے تو حکومت پاکستان کو سفارتی سطح پر یہ ثابت کرنا چاہیے تا کہ کچھ لوگ اپنے مذہب (ارتداد) کا بہانہ بنا کر ملک کی بدنامی کا باعث نہ بنیں‘‘۔

بندہ کا ۱۹۷۹ء میں جرمنی میں جانا ہوا تو دیکھا کہ بہت سے پاکستانی یہاں پر سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وجہ: جب قادیانیوں کو حکومت پاکستان نے کافر قرار دیا تو کچھ تو واقعی قادیانی وہاں پہنچے تا کہ یورپ کو مسلمانوں کے ارتداد کے لیے اڈا بنایا جائے اور حکومت پاکستان کو بدنام کیا جائے۔

دوسرے پنجاب میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ جرمنی میں سیاسی پناہ گزینوں کو کافی سہولتیں ہیں۔ اس لالچ میں دین سے ناواقف ہزاروں پڑھے لکھے محنت کش (Working Labour) پاکستان سے مسلمان اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کر کے سیاسی پناہ حاصل کی بلکہ پاکستان کے خلاف شد و مد سے پروپیگنڈہ بھی کر رہے ہیں۔

کے نہیں تھے قادیانی بھی نہ بن سکے۔ لیکن مسلمان بھی نہ رہے۔ جرمنی کی ایمان سوز اور اخلاق سوز فضا میں بلا حقوق غلاموں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ذلیل ترین کسب کرنے پر مجبور ہیں۔ جب آجر چاہتا ہے دھکا دے دیتا ہے کبھی جرمن حکومت ملک بدر کر دیتی ہے کوئی ملازمت میں ضمانت نہیں۔ کوئی کاروباری ضمانت نہیں۔

ایک مرتبہ افریقہ کے مختلف ممالک کا سفر ہوا۔ کینیا کے مشہور شہر نیروبی کے بابا عبداللہ ایک عمر رسیدہ بزرگ جو کہ اب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں نے ایک عجیب واقعہ سنایا۔

’’جب پاکستان بنا تو ہم نے اور ہماری طرح دوسرے افریقی ممالک کے ایشین مسلمانوں نے حکومت پاکستان کو خطوط لکھے کہ ہماری اولادیں دینی تربیت سے محرومی کے سبب

صفحہ 108

جوانی کے نشے میں لادینیت ۔ عیسائیت کی گود میں جا رہے ہیں آپ اسلام کی حفاظت اور بچوں کی تربیت کے لیے مسلمان علماء بھیجیں مگر وزارت خارجہ کے ایماء پر قادیانی مبلغ آئے اور معلم بن کر مسلمانوں کو مرتد کرنے لگے پہلے تو ہم نہ سمجھے اور کچھ لوگوں کو مرتد کر کے ہمنوا بنا لیا ۔ مسلمانوں کے اندر بحث و تمحیص کے ذریعہ انتشار برپا کر دے ۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا۔ بجائے ہماری معاونت کے عیسائیوں کے ہاتھ مضبوط کرنے لگے۔ ہم نے پاکستان سے فتاوے منگوائے تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ قادیانی مرتد اور کافر ہیں مگر اب کیا کرتے پانی سر سے اونچا ہو گیا۔

اب جب سے ہند و پاک سے صحیح العقیدہ علماء آنے لگے ہیں تو ہمارے ایمان کے بچاؤ کی صورت ہو گئی ہے۔ اور اب تو الحمد للہ ہم میں بھی دین اسلام کے داعی مبلغ پیدا ہو چکے ہیں جو کہ اپنے خرچ پر دور دراز پسماندہ علاقوں میں بھی پہنچ کر افریقی مسلمانوں کی تربیت کرتے ہیں جس سے کئی مرتد شدہ افراد اور قبائل دین اسلام میں داخل ہو کر پر جوش مبلغ بن چکے ہیں۔ اس لیے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عجمی اسرائیل کے پراسرار گماشتے (قادیانیوں) کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ان کی جائیدادیں جو کہ انگریز نوازی۔ ناجائز سرکاری مراعات سے حاصل کیں ضبط کی جائیں ان سے ملکی وسائل اور سرکاری عہدوں کے ناجائز استعمال کا محاسبہ کیا جائے۔

اہل اللہ کی نظر

حکیم نور الدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لیے دعا کرانے کے لیے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا نام نور الدین ہے۔ حکیم نے کہا ہاں۔ فرمایا قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے جو کچھ عرصہ بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اٹھائے جائیں نہ رکھے جائیں اور تم لوح محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو۔ اس سے تعلق نہ رکھنا دور دور رہنا ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ میں پڑو گے۔ حکیم صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ فرمایا تم میں الجھنے کی عادت ہے۔ یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد قادیان میں ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور کبھی مسیح موعود بنا اور حکیم نور الدین اس کا خلیفہ اول بنا اور اس کے دین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا۔ مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا۔ اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔

(”حیات طیبہ“ ص ۴۰۹ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

صفحہ 109

دائمی اور عالمگیر نبوت

سید سلیمان ندوی

جن مختلف انسانی طبقوں نے ہم پر احسان کئے ہیں۔ وہ سب شکریہ کے مستحق ہیں ۔ لیکن سب سے زیادہ ہم پر جن بزرگوں کا احسان ہے ۔ وہ انبیائے کرام علیہم السلام ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی قوموں کے سامنے اس زمانہ کے مناسب حال اخلاق عالیہ اور صفات کاملہ کا ایک نہ ایک بلند ترین معجزانہ نمونہ پیش کیا۔ کسی نے صبر‘ کسی نے ایثار‘ کسی نے قربانی‘ کسی نے جوش توحید‘ کسی نے ولولہ حق‘ کسی نے تسلیم‘ کسی نے عفت کسی نے زہد ۔غرض ہر ایک نے دنیا میں انسان کی پرپیچ زندگی کے راستہ میں ایک ایک مینار قائم کر دیا ہے۔ جس سے صراط مستقیم کا پتہ لگ سکے۔ مگر ضرورت تھی ایک ایسے راہنما اور رہبر کی کہ جو اس سرے سے لے کر اس سرے تک پوری راہ کو اپنی ہدایت اور عملی مثالوں سے روشن کردے۔ گویا ہمارے ہاتھ میں اپنی عملی زندگی کی پوری گائڈ بک دے دے۔ جس کو لے کر اسی کی تعلیم و ہدایت کے مطابق ہر مسافر بے خطر منزل مقصود کا پتہ پا لے۔ یہ راہنما سلسلہ انبیاء علیہم السلام کے آخری فرد حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں۔ قرآن نے کہا۔

يا ايها النبى انا ارسلناک شاهدا ومبشرا ونذيرا وداعيا الی الله باذنه وسراجا منيراً (احزاب ع: ۶)

”اے پیغمبر! ہم نے تجھ کو گواہی دینے والا اور (نیکوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (غافلوں) کو ہوشیار کرنے والا اور خدا کی طرف اس کے حکم سے پکارنے والا اور ایک روشن کرنے والا چراغ بنا کر بھیجا ہے۔“

صفحہ 110

آپ ﷺ عالم میں خدا کی تعلیم و ہدایت کے شاہد ہیں۔ نیکوکاروں کو فلاح و سعادت کی بشارت سنانے والے مبشر ہیں۔ ان کو جو ابھی تک بے خبر ہیں۔ ہشیار اور بیدار کرنے والے نذیر ہیں۔ بھٹکنے والے مسافروں کو خدا کی طرف پکارنے والے داعی ہیں اور خود ہمہ تن نور اور چراغ ہیں۔ یعنی آپ کی ذات اور آپ کی زندگی راستہ کی روشنی ہے جو راہ کی تاریکیوں کو کافور کر رہی ہے۔ یوں تو ہر پیغمبر خدا کا شاہد، داعی، مبشر اور نذیر وغیرہ بن کر اس دنیا میں آیا ہے۔ مگر یہ کل صفتیں سب کی زندگیوں میں عملاً یکساں نمایاں ہو کر ظاہر نہیں ہوئیں۔ بہت سے انبیاء تھے جو خصوصیت کے ساتھ شاہد ہوئے۔ جیسے حضرت یعقوبؑ حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام وغیرہ بہت سے تھے جو نمایاں طور پر مبشر بنے۔ جیسے حضرت ابراہیمؑ، حضرت عیسیٰؑ حضرت ہودؑ اور حضرت شعیب علیہم السلام بہت سے تھے جو امتیازی حیثیت سے داعی حق تھے۔ جیسے حضرت یوسفؑ، حضرت یونس علیہم السلام لیکن وہ جو شاہد، مبشر، نذیر، داعی، سراج منیر، سب کچھ بیک وقت تھا اور جس کے مرقع حیات میں یہ سارے نقش و نگار عملاً نمایاں تھے، وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ آپ ﷺ دنیا کے آخری پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے جس کے بعد کوئی دوسرا آنے والا نہ تھا۔ آپ ﷺ ایسی شریعت لے کر بھیجے گئے جو کامل تھی۔ جس کی تکمیل کے لئے پھر کسی دوسرے کو آنا نہ تھا۔

آپ ﷺ کی تعلیم دائمی وجود رکھنے والی تھی، یعنی قیامت تک اس کو زندہ رہنا تھا، اس لئے آپ ﷺ کی ذات پاک کو مجموعہ کمال اور دولت بے زوال بنا کر بھیجا گیا۔

٭……٭……٭

صفحہ 111

قادیانی‘ قادیانیت کی رو سے بھی کافر اور مرتد ہیں

مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب سے غالباً قارئین ناواقف نہ ہوں گے جو مرزا صاحب کے مایہ الفخر مریدوں میں بیس برس تک بڑے خلوص اور اخلاص سے داخل رہے نیز مرزا صاحب ہی کی عنایت سے ان پر بھی الہام کی ہلکی ہلکی بوندیں پڑنے لگیں اور انہی کے الہام اور پیش گوئی کے مطابق مرکر مرزا صاحب نے اپنے کذاب و دجال ہونے اور لعنتی موت سے مرنے کو بھی ثابت فرما دیا انہی کو حقیقۃ الوحی میں مرزا صاحب بار بار مرتد لکھتے ہیں۔

پیغامیوں اور غیر پیغامیوں سے جواب طلب

محمد علی صاحب اور ان کے متبعین اور ان کے تمام حامی اور ناصر (جو ارتداد کے لیے اسلام سے انکار کی بھی قید لگاتے ہیں) بتلائیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اسلام سے کہاں انکار کیا جو توحید رسالت قرآن مجید کا کلام اللہ ہونا غرض اکثر فرائض کو دل و جان سے مانتے تھے اور اکثر ضروریات دین پر ایمان رکھتے تھے مگر صرف اس بناء پر کہ مرزا صاحب کے نزدیک وہ خود باوجود متبع رسول ہونے کے نجات کے لیے صرف توحید کو ضروری سمجھتے تھے رسول کی اتباع ضروری نہیں جانتے تھے تو مرزا صاحب کے نزدیک مرتد ہو گئے۔

فرمایئے دعوائے اسلام نہ تھا؟ یا تمام ضروریات دین وشعائر اللہ کا انکار تھا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو مرزا صاحب نے کیسے مرتد لکھا؟

کہو مرزا صاحب مرتد کی وہی تعریف کرتے ہیں جو ہم نے کی ہے یا نہیں؟ اب مرزا صاحب کے متعلق کیا کیا الفاظ استعمال کیے جائیں گے ان کو بھی وہی کہو گے جو علماء دیوبند و جمعیۃ العلماء ہند کو کہتے ہو یا کچھ اور؟

صفحہ 112

مرزا کا دوسرا فتویٰ

مرزائیو بتاؤ چراغ دین مرزائی کو بھی مرزا صاحب نے مرتد کہا ہے یا نہیں؟ اگر کہا ہے تو کیوں؟ کیا اس کو دعوائے اسلام نہ تھا؟ کیا وہ قرآن کا منکر تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول نہ جانتا تھا یا نماز روزہ حج زکوٰۃ اس کے نزدیک فرض نہ تھا یا بقول مسٹر محمد علی اور ان کے جتھے کے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے بعد ترک کیا تھا؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو مرزا قادیانی نے اسے کافر و مرتد کس بناء پر کہا؟ اس کا جواب آپ بھی اگر عقل و انصاف نے مدد کی تو یہی دیں گے کہ بخیال خود کسی ضرورت دین کے انکار پر مرزا نے اس کو مرتد کہا اور اس کے دیگر امور مذہبی کو بے حقیقت اور لا حاصل قرار دیا۔

مرزائیو! کیا یہ آدمیت اور انصاف ہے کہ جب مرزا صاحب ایک ضرورت دین کے منکر کو بھی کافر و مرتد کہیں تو وہ کہنا بجا اور حق ہو اور اگر ہم مرزا صاحب کو بجائے ایک کے بہت سے ضروریات دین کے انکار کرنے بلکہ خود عداوت اسلام عملاً و عقیدۃً کرنے کی وجہ سے بھی کافر و مرتد کہیں تو ہمیں تنگ نظر، تنگ حوصلہ، مسلمانوں کا دشمن کیوں کہا جائے۔ مرزا صاحب اور مرزائی تو خود اپنے ہی فتوے سے کافر اور مرتد ہیں جب تک سچے دل سے توبہ نہ کریں گے۔ اخباروں کے کالم سیاہ کرنے اور یورپ جانے سے اسلام نہیں مل سکتا۔ اسلام یورپ میں نہیں اسلام کی جگہ دل ہے۔ جب مرزائیوں کے دل ہی میں اسلام نہیں تو پھر لندن اور برلن کیا اگر کسی سیاسی وجہ سے حرمین شریفین بھی جائیں تو جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آئیں۔

مکہ گئے مدینہ گئے کربلا گئے
جیسے گئے تھے لوٹ کے ویسے ہی آ گئے

ہاں ع جلوہ یار یگانہ ابھی دیکھا کیا ہے۔ یہ تو دو ہی شخصوں کا قصہ ہے مرزا صاحب اپنے سارے تکفیر کرنے والے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جن کی تعداد کچھ کم سات کروڑ ہے۔ نہیں نہیں کافر ہی کہنے والے نہیں منکر اور متردد کو بھی کافر کہتے ہیں بلکہ اپنے منکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر کا ایک ہی قسم کا کفر بتلاتے ہیں اور مرزا صاحب کی تکفیر کرنے والوں کو تو غالباً پیغامی بھی کافر ہی کہتے ہیں اور مرزا محمود اور ان کے تمام مریدین تو علی الاعلان مرزا صاحب کو پیغامیوں کے اقرار سے بھی حقیقی نبی مانتے ہیں اور بیالیس کروڑ مسلمانوں میں سے جس کو بھی

صفحہ 113

ان کی دعوت پہنچی اور اس نے مرزا صاحب کو نبی نہ مانا وہ انھیں کافر سمجھتے ہیں اور تمام مرزائی غالباً پیغامی بھی اس میں شریک ہیں کہ کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح غیر مرزائی سے جائز نہیں نہ ان کے پیچھے نماز درست اور مرزا صاحب اور قادیانیوں کے نزدیک کسی مسلمان کے جنازہ کی نماز بھی مرزائی کو نہ پڑھنی چاہیے گو پیغامی خاص مرزا صاحب کا اسے مذہب نہ بتائیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جسقدر ہند اور روئے زمین کے مسلمانوں کو مرزا صاحب اور مرزائی کافر اور مرتد کہتے ہیں ان میں کون سے شعائر اللہ اور حدود اللہ نہیں پائے جاتے جو یہ سب کے سب مرزا صاحب اور مرزائیوں کے نزدیک کافر اور مرتد ہیں۔

مسئلہ صاف ہو گیا اور جو کچھ مرزائیوں کی تہ میں تھا وہ سطح پر آ گیا کہ مسلمانوں کی طرح مرزا صاحب اور مرزائیوں کا بھی یہی مذہب ہے کہ کفر اور ارتداد کے لیے صرف کسی ایک ہی ضرورت دین کا انکار کافی ہے اگرچہ وہ انکار کسی تاویل کی بناء پر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مرزا صاحب اور مرزائی جن تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو جس کسی ضرورت دین کے انکار کی وجہ سے کافر کہتے ہیں آخر وہ مرزائی کفری تیر کے شکار کوئی تاویل اور کوئی وجہ تو ضرور ہی رکھتے ہیں اور پھر بھی مرزا صاحب اور مرزائیوں کے نزدیک کوئی تاویل مسموع نہیں تو معلوم ہوا کہ جیسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ضرورت دین کے انکار میں کسی تاویل کا اعتبار نہیں اور ضرورت دین کا منکر بہر صورت کافر ہے۔ مسلمانوں اور مرزا صاحب اور کل مرزائیوں کا اس پر اتفاق ثابت ہو گیا کہ کفر و ارتداد کے لیے صرف ایک بھی ضرورت دین کا انکار کافی ہے۔ ع للہ الحمد میان من و او صلح فتاد۔

اب مرزا صاحب اور مرزائی تو علمائے دیوبند کی بات مان گئے اب مان نہ مان میں تیرا مہمان جو مرزا صاحب اور مرزائیوں کو مسلمان کہنے کے لیے اپنا ایمان بھی کھونے کے لیے تیار ہیں وہ کہاں کے رہے نہ ادھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے۔ گھر کے نہ گھاٹ کے کھیت کے نہ ہاٹ کے۔ شاید پیغامی یہ کہیں کہ یہ الزام مرزا صاحب اور قادیانیوں پر ہے نہ ہم پر کیونکہ ہم تو نہ مرزا صاحب کے منکروں کی تکفیر کرتے ہیں۔ نہ مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں بلکہ خود جو ہماری تکفیر کرتے ہیں ان کو بھی کافر نہیں کہتے۔

تو اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ اگر پیغامی ایسا کہیں گے تو گو ان کا کھلا نفاق ہو گا مگر یہ ضرور ثابت ہو جائے گا کہ کافر اور مرتد کی تعریف میں پیغامی ہمارے ساتھ نہ ہوں مگر ان کا

صفحہ 114

مجدد‘ محدث‘ مسیح موعود ہمارے ساتھ ہے۔ پھر پیغامیوں کے اتفاق نہ کرنے سے ان کے مذہب کے مطابق بھی ان ہی کا بطلان ثابت ہوگا اور انھوں نے جو ایجاد بندہ مرتد کی تعریف میں قیدیں زائد کی ہیں وہ سرتاپا مرزا صاحب کی تعریف سے پیغامیوں کا ارتداد و انحراف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر فقط اسی قدر ہوتا تو ممکن تھا کہ جان بچانے اور عزت و آبرو قائم رکھنے کے لیے جیسے مرزا محمود کو چھوڑا ہے مرزا صاحب کو بھی چھوڑ دیتے امیر تو بن ہی گئے ہیں مگر قیامت تو یہ ہے کہ ع اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ خواجہ کمال الدین صاحب کب چھوٹ سکتے ہیں ورنہ ابھی تقسیم امارت اور بٹوارہ کا مقدمہ پیش ہو جائے گا اور شاید پیغامیوں میں ولی عہد وہی ہوں۔

تحریک تحفظ ختم نبوت میں سرکاری ملازمین کا روشن کردار

ادھر صوبائی سول سیکرٹریٹ آج پھر بند رہا۔ تمام چھوٹے بڑے ملازمین نے مکمل ہڑتال کی اور سیکرٹریٹ کی چار دیواری کے اندر جمع ہو کر مطالبہ کرنے لگے کہ شہر میں فائرنگ اور ظلم کو فوری طور پر بند کر دیا جائے اور تحریک کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

حافظ عبدالمجید چیف سیکرٹری‘ سید غیاث الدین احمد ہوم سیکرٹری اور مسٹر ایس این عالم ڈی۔ آئی جی پولیس تینوں سیکرٹریٹ پہنچے۔ انھوں نے ملازمین کو کام پر جانے اور ہڑتال ترک کرنے کے لیے ہر طرح کہا لیکن سب نے متفقہ طور پر یہی جواب دیا کہ جب تک فائرنگ بند نہیں ہوتی اور مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے اس وقت تک ہم ہڑتال ترک نہیں کریں گے۔

اور محکمہ بجلی کے تمام ملازمین نے چیف انجینئر کو نوٹس دے دیا کہ شہر میں ہونے والے ظلم کو بند کیا جائے ورنہ ہم ہڑتال کرتے ہیں اور اس کے بعد بجلی کی سپلائی کا انتظام ناممکن ہوگا۔ چیف انجینئر کو اپنے محکمہ کے ہزاروں ملازمین کا مطالبہ گورنمنٹ ہاؤس گورنر صاحب کی خدمت میں تحریری طور پر بھیجنا پڑا۔ اس طرح ٹیلیگراف آفس اور ٹیلیفون ایکسچینج کے ملازمین نے کام چھوڑ دیا اور اپنے دفتروں اور کمروں سے باہر نکل آئے۔ غرضیکہ سب سرکاری ملازمین نے ہڑتال کر دی اور مطالبہ یہی تھا کہ شہر میں ہونے والی اندھا دھند فائرنگ اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو بند کرو۔

صفحہ 115

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد چیف جسٹس پنجاب ہائیکورٹ مسٹر منیر اور ان کے ایک ساتھی جج مسٹر ایم آر کیانی کو اس سارے معاملہ کی تحقیقات پر متعین کیا گیا۔ اس مقدس تحریک کا نام اس وقت کی مرزائی نواز حکومت نے فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء رکھا۔ اور عدالت کا نام منیر انکوائری کمیشن رکھا گیا۔ اس عدالت نے آٹھ نو ماہ تک انکوائری کو شیطان کی آنت کی طرح لمبا کیا اور جب ملک کے حالات پرسکون ہو گئے تو ایک لمبی بے تکی رپورٹ شائع کر دی اس عدالت نے مرزائیوں سے سات سوالات دریافت کیے تھے مرزائیوں نے اپنے روایتی دجل سے ان کا جواب بھی دجل آمیز عبارتوں میں دیا جس میں مغالطے دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ مرزائیوں کی کتاب الحیل اور تاویل تو مشہور ہے ان حیلوں اور تاویلوں اور دجل و فریب سے انہوں نے جوابات دے کر عدالت کے اخذ و مواخذہ سے بچنے کی کوشش کی جس پر اسلام کی رو سے ان مرتدوں کا مقام متعین ہو سکتا تھا اس سے بچنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ مولانا محمد علی جالندھری نے ان سوالات کے جواب الجواب میں درج ذیل رسالہ تحریر کیا اور اسے عدالت میں داخل کیا گیا۔ ہم ان کے یوم وصال کے موقعہ پر ان کی تحریر کا یہ نمونہ چھاپ رہے ہیں تاکہ قارئین ان کی اس تحریر سے ان کی ذہانت، فطانت اور قوت استدلال سے آگاہ ہو کر ان کی عظمت اور ان کی شخصیت کا اندازہ لگا سکیں۔

خادم تحریک ختم نبوت عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ 116

مرزائیوں سے ہائی کورٹ کے سات سوالات

مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات

اور

مولانا محمد علی جالندھری کا تاریخی جواب الجواب

سوالات:

مسلمان ہیں؟

ماننا کفر ہے تو ایسے کفر کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں؟

ہوتا ہے؟

رکھتے بے فائدہ ہے؟

جناب عالی! بندہ حضور والا کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔ جناب والا نے موجودہ انکوائری میں مرزائیت کے متعلق نفس مسئلہ کی بھی تحقیقات کرنا پسند فرمایا ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے عالی مرتبت انسان اس

طرف توجہ فرمائیں۔ مگر اس میں کمی یہ ہے کہ جـ کے تمام گوشے ظہور میں نہیں آسکیں گے کیو حیثیت اختیار کرگئی ہے جس کی وجہ سے اہل ا چاہیے تھیں اور بالخصوص ایسی صورت میں بجا ہیں ۔ اندریں حالات چونکہ مسئلہ کی تحقیق شرو نے مرزائیوں سے جن سوالوں کا تحریری جـ جوابات کو غور سے پڑھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دھوکہ دہی اور تلبیس سے کام لیا گیا کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ قبل اس کے پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں۔

الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔ زمانہ طالب علمی جس نبی کی صفت انک لعلی خلق عظ لیکن جب میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کذب بیانی، دھوکہ دہی اور دجل و تلبیس گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھ کر اظہار کے دجل کی مثالیں طوالت کلام کے خوف

متکلم کے کلام کے الفاظ بدل دے اور مع ہوتا نہ اس سے نظام عالم تباہ و برباد ہوتا باقی رہتی ہے نہ دین نہ نظام سلطنت قائم نے بھی نصوص کے الفاظ باقی رکھے مگر مع ہے۔ زندیق کا کفر کافر معاند کے کفر سے

للنظم والمعنى جميعاً (قرآن الف کفر ہے ایسے ہی معانی (متواترہ) کا انـ

صفحہ 117

طرف توجہ فرمائیں۔ مگر اس میں کمی یہ ہے کہ جن حالات میں تحقیق ہو رہی ہے خدشہ ہے کہ مسئلہ کے تمام گوشے ظہور میں نہیں آسکیں گے کیونکہ بدقسمتی سے ہماری حکومت بھی ایک فریق کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جس کی وجہ سے اہل اسلام کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہو سکتیں جو ان کو ہونی چاہیے تھیں اور بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ علماء کرام ایک طرح قابل مواخذہ سمجھے جارہے ہیں۔ اندریں حالات چونکہ مسئلہ کی تحقیق شروع ہو گئی ہے لہٰذا مودبانہ گزارش ہے کہ جناب والا نے مرزائیوں سے جن سوالوں کا تحریری جواب طلب فرمایا ہے میں نے ان سوالات اور ان کے جوابات کو غور سے پڑھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل سوالات کا جواب سرے سے دیا ہی نہیں گیا۔ اس میں دھوکہ دہی اور تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔ اس لیے میں جواب الجواب پیش خدمت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ قبل اس کے کہ نمبر وار جواب عرض کروں چند تمہیدی معروضات پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں۔

الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب میں نے یہ حدیث پڑھی تو حیرت ہوئی کہ جس نبی کی صفت انک لعلیٰ خلق عظیم ہے اس نے ایسے سخت الفاظ کیوں استعمال کیے لیکن جب میں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین وغیرہ کی کتب پڑھیں اور ان میں کذب بیانی، دھوکہ دہی اور دجل و تلبیس کا مظاہرہ دیکھا تو معاً خیال آیا کہ حضور علیہ السلام نے گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھ کر اظہار حقیقت کے لیے ”دجال“ لفظ استعمال کیا ہے۔ (اس کے دجل کی مثالیں طوالت کلام کے خوف سے ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا)۔

متکلم کے کلام کے الفاظ بدل دے اور مفہوم کلام کو باقی رکھے تو قاصد کذاب اور خائن تصور نہیں ہوتا نہ اس سے نظام عالم تباہ و برباد ہوتا ہے۔ لیکن اگر کلام کا مفہوم بدل دیا جائے تو نہ شریعت باقی رہتی ہے نہ دین، نہ نظام سلطنت قائم رہ سکتا ہے اور نہ سیاست مدن۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد نے بھی نصوص کے الفاظ باقی رکھے مگر مفہوم بدل دیا۔ ایسے انسان کو شروع میں زندیق کہا جاتا ہے۔ زندیق کا کفر کافر معاند کے کفر سے سے بھی زیادہ شدید سمجھا جاتا ہے۔

للنظم والمعنی جمیعاً قرآن الفاظ اور معانی کے مجموعہ کا نام ہے یعنی جیسے الفاظ کا انکار کفر ہے ایسے ہی معانی (متواترہ) کا انکار بھی کفر ہے۔ یعنی نصوص دین کے الفاظ کو تسلیم کرنا اور

صفحہ 118

مفہوم متواتر کو بدل دینا صریح کفر ہے۔ اگر کوئی شخص اقیموا الصلوٰۃ کا اقرار کرے اور اس کا مفہوم فوجی پریڈ مراد لے یا زکوٰۃ کی فرضیت کو تسلیم کرے مگر اس سے بدن کی صفائی مراد لے یا فرضیت جہاد کو مانے مگر اس سے صرف ترک لذات مراد لے اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تو مانے مگر بجائے آخری نبی مراد لینے اور آئندہ دروازہ نبوت بند سمجھنے کے اجراء نبوت اور تسلسل نبوت اس سے مراد لے کر خاتم النبیین کے اصل مفہوم متواتر کا انکار کر دے۔ الغرض اس طرح کسی قانون کا منشا بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ اسلامی قانون میں یہ شخص زندیق کہلاتا ہے اور کافر معاند سے بھی زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

کی بہت سی آیات بدل کر اپنے پر چسپاں کیں مثلاً:

احمد نے بدر سے مراد مقام بدر کے بجائے چودھویں صدی مراد لی ہے اور اس آیت میں اپنے (غلام احمد) آنے کا ذکر مراد لیا ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص ۲۷۶)

مراد لیا ہے اور کہا ابراہیم سے بھی میں ہی مقصود ہوں۔ (اربعین ص ۷۰)

بھی میرے لیے نازل ہوئی ہے آدم سے غلام احمد اور جنت سے مراد میری بہن جنت بیگم ہے۔

(تریاق القلوب ص ۲۹۹)

الغرض مرزا غلام احمد نے قرآن پاک کی آیات کو بدل کر ان کا مفہوم مسخ کر کے خدا کی مقدس کتاب کا وہ حلیہ بگاڑا ہے کہ اسلام کی روح کانپ اٹھی۔

کیوں نہ سمجھیں کہ وہ ضرورت کے لیے اور بھی جھوٹ بول لیتا ہوگا۔ اسی لیے تو حضور علیہ السلام نے ایسے لوگوں کی نسبت کذاب کا لفظ فرمایا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کی اکثر کتابیں جھوٹ اور کذب کے مواد سے بھری پڑی ہیں۔ یہاں مجھے صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ مرزا غلام احمد کو جب کبھی محسوس ہوا کہ اس کے دعویٰ نبوت سے لوگ مشتعل ہو رہے ہیں تو اس نے دعویٰ نبوت سے اس طرح انکار کر دیا گویا یہ دعویٰ اس پر ایک الزام ہے۔ پھر شرعی اور غیر شرعی کی

صفحہ 119

تقسیم سے بھی انحراف کر لیا۔ اس کے ثبوت کے لیے جامع مسجد دہلی کی تقریر اور مباحثہ لاہور مابین غلام احمد و مولوی عبدالحکیم کے راضی نامہ کی عبارت منجانب غلام احمد کافی ہے۔ ”سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ لفظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے جس حالت میں ابتدا سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ۲ ص ۹۵)

اس ضمن میں صدر انجمن ربوہ کے جواب سوال نمبر ۵ کے تحت ایک حوالہ قابل غور ہے:

اسی طرح ۱۹۰۱ء (تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کا جواب ص ۱۵) میں مولانا عبدالاحد خانپوری لکھتے ہیں ...... تو نہایت تنگ ہوکر مرزا قادیان سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کرلیں تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو میں صلح کرتا ہوں اگر صلح ہوگئی ......

یہاں یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ جب کسی نبی پر اس کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو کیا کسی نبی نے مخالفین سے کبھی صلح کی کوشش کی؟ صلح میں دو چیزیں ہوتی ہیں اخذ اور عطا یعنی کچھ لینا اور کچھ دینا کوئی نبی اپنے دعویٰ میں ایسی لچک کر سکتا ہے جس وجہ سے صلح ہو جائے!

مرزا غلام احمد نے دراصل ایسے موقع پر دعویٰ نبوت سے انکار کر کے عوام کی مخالفت کو کم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ عبداللہ عرب ایک قادیانی نے بغداد جا کر رہائش اختیار کی اس کی نسبت وہاں کی حکومت نے تفتیش شروع کی اس نے اپنے باپ اور بھائی کا نام غلط لکھایا (یہ قادیانی غالباً وہاں جاسوسی کے لیے گیا ہوگا۔ جیسے قادیانی بیرونی ممالک میں تبلیغ کے پردے میں برطانوی جاسوسی کا کام سرانجام دیتے رہے ہیں)۔

اس قادیانی کے کاغذات برائے تصدیق قادیان آئے۔ عبداللہ عرب نے اپنے باپ کا نام نورالدین اور بھائی کا نام محمد صادق لکھایا تھا اس پر مرزا غلام احمد نے کہا کہ چونکہ وہ احمدی ہے اس لیے اس سے متعلق کاغذات کی تصدیق کرا دینی چاہیے۔ عبداللہ عرب نے چونکہ نورالدین سے طب پڑھی ہے اس لیے وہ اس کا باپ ہوا اور احمدی چونکہ آپس میں بھائی بھائی

صفحہ 120

ہیں لہٰذا محمد صادق اس کا بھائی ہوا چنانچہ اس طرح ان کاغذات کی جھوٹی تصدیق کرائی گئی۔ (واقعہ مندرجہ کتاب ذکر حبیب مؤلفہ محمد صادق قادیانی ص ۴۶)

دوسرا واقعہ: ضلع لائلپور میں ایک قادیانی الیکشن میں امیدوار تھا۔ علاقہ کے لوگوں نے اس کے مرزائی ہونے کی وجہ سے اس کی مخالفت کی جب اسے اپنی کامیابی نظر نہ آئی تو اس نے بڑے مجمع میں کہا کہ میں مرزائی نہیں ہوں اور کہا کہ مرزا کے متعلق میری یہ رائے ہے یعنی اس کو کافر سمجھتا ہوں لوگوں نے اس کی باتوں کا یقین کر کے اسے ووٹ دے دیئے جب وہ کامیاب ہو گیا تو پھر احمدی کہلانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے جب اس سے سوال کیا کہ تو نے جھوٹ کیوں بولا تھا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے مرزائی ہونے سے انکار کیا تھا احمدی ہونے سے تو انکار نہیں کیا تھا جب اس سے دریافت کیا گیا کہ مرزا صاحب کے متعلق جو الفاظ کہے تھے ان سے مراد؟ جواب میں کہا توبہ میں نے حضرت صاحب کے متعلق کب کہا تھا؟ مرزا سے میری مراد تو ”مرزا صاحبان“ والے سے تھی۔

عالی جاہ! ان جوابات میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ اصل سوالات کا قطعاً جواب نہیں دیا گیا ہے ہر سوال کے جواب میں دجل و تلبیس سے کام لیا گیا ہے!

اب میں نمبر وار جواب الجواب عرض کرتا ہوں صدر انجمن ربوہ کے جواب کی عبارت کو ”مرزائیوں کا جواب“ اور اپنے جواب کو ”ہمارا جواب“ فرض کر کے عرض کروں گا۔

سوال انکوائری رپورٹ نمبر ۱:

جو مسلمان مرزا صاحب کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتے کیا وہ مومن اور مسلمان ہیں؟

مرزائیوں کا جواب:

مسلم نام امت محمدیہ کے افراد کا ہے۔۔۔۔۔ ایمان دراصل اس روحانی اور قلبی کیفیت کا نام ہے جس کو دوسرا نہیں جان سکتا خدا تعالیٰ ہی اس سے واقف ہوتا ہے۔ باقی رہا مومن سو کسی کو مومن قرار دینا اصل خدا تعالیٰ کا کام ہے۔

ہمارا جواب:

اس جواب میں مومن کی نسبت یہ لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کو مومن ہونے کا علم نہیں۔ یہ تحریر کر کے اپنا عقیدہ چھپا لیا ہے اسی کا نام دجل ہے حالانکہ اگر کوئی شخص دل سے اللہ

صفحہ 121

تعالیٰ اور رسول کریم کو نہ مانے تو وہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتا، جیسے منافق۔ گویا نماز وغیرہ پڑھنے کے باوجود ہم اسے مسلمان نہیں کہہ سکتے کیونکہ دل کا حال معلوم نہیں۔ اگر زبان کے اقرار سے شرعی حکم لگائیں گے تو مومن پر بھی حکم لگایا جا سکتا ہے جبکہ اس کے الفاظ اس قلبی کیفیت اور یقین کا پتہ دیں جو مومن کے لیے ضروری ہے۔ یہاں یہ کہہ کر جواب سے گریز کرنا کہ مومن کہنا صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے صحیح نہیں ہے۔

بہاولپور کے مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح میں، جو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی حیثیت رکھتا تھا اور جس میں قادیانی جماعت نے بطور پارٹی حصہ لیا تھا، اس میں مومن کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں پر بعث بعد الموت اور تقدیر پر یقین رکھے (فیصلہ مقدمہ ص ۲۶)

گویا ایمان قلبی کیفیت کا نام نہیں قلبی تصدیق کا نام ہے جس کی زبان ترجمانی کرتی ہے کہ آمنت باللہ و ملئکتہ و کتبہ و رسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ و شرہ من الله تعالی والبعث بعد الموت (یعنی کہ ایمان لایا میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر!)

صرف نام ہے تو ”نام“ سے واقعی کوئی شخص محروم نہیں کیا جا سکتا جیسے صالح محمد نامی کوئی شخص نماز ترک کرے اور علم الدین جہالت کی وجہ سے اور روشن دین اندھا ہونے سے اپنے ان ناموں سے محروم نہیں کیے جا سکتے لیکن اگر نام نہیں بلکہ ایک مذہبی وصف ہے تو جس طرح ہندو، سکھ ہونے کے بعد ہندو نہیں رہتا، عیسائی اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی نہیں رہتا، پارسی یہودی ہونے کے بعد پارسی نہیں کہلاتا ٹھیک اسی طرح مسلمان حضور کے بعد کسی دوسرے نبی کا اقرار کرنے کے بعد مسلمان نہیں رہتا۔ الغرض جس نبی و رسول کا ماننا کسی مذہب میں ضروری ہے اس کے انکار کے بعد وہ شخص یقیناً مذہبی وصف سے محروم سمجھا جائے گا۔ اب اگر مسلمان ہونے کے لیے مرزا غلام احمد کی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے تو خلیفہ صاحب کا سیدھا جواب یہ تھا کہ ”ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد کی نبوت کے منکر مسلمان نہیں ہیں۔“ گویا انجمن احمدیہ کی طرف سے اس پہلو کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

صفحہ 122

۴- مرزائیوں کا جواب:

مندرجہ بالا تشریح کے مطابق....... اس نام سے (مسلم) محروم نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس تشریح کے مطابق اور قرآن کریم کی آیت ھو سمکم المسلمین کے تحت کسی شخص کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے کی وجہ سے غیر مسلم نہیں کہا جا سکتا۔

(قادیانی جواب ص ۲)

ہمارا جواب:

یہ جواب کہ مندرجہ بالا تشریح کی روشنی میں مرزا صاحب کو نہ ماننے والے کو مسلم کے نام سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یقیناً اگر مسلم کسی کا نام قرار دیا جائے تو جواب درست ہے اور تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اسے مذہبی وصف قرار دیا جائے جیسا کہ عدالت کا منشا ہے تو پھر ان کا کیا عقیدہ ہے اس کا جواب ندارد۔ جواب میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی بجائے پہلے ایک غلط تشریح بیان کر دی پھر اس کی روشنی میں جواب دے دیا۔ عقیدہ بھی نہ بدلا اور جواب بھی تحریر کر دیا گیا

؎ رات سے پی اور صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

مرزائیوں کا جواب:

ممکن ہے کہ ہماری سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

ہمارا جواب:

غلام احمد سے لے کر ایک ادنیٰ قادیانی تک دنیا کے ۷۵ کروڑ مسلمانوں کو خارج از اسلام اور کافر کہتے آئے ہیں۔ مرزائیوں کو خطرہ تھا کہ آج اگر عدالت میں صاف اقرار کر لیا تو ساری دنیا پر کھل جائے گا کہ مرزائی مسلمان نہیں اس لیے اصل سوال کا جواب گول کر دیا۔ اس سوال کا جواب دینا کہ وہ الفاظ ہماری مخصوص اصطلاحات ہیں اور وہ عبارتیں احمدیوں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہیں۔ یہ صریح کذب ہے۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

حالانکہ ان عبارتوں میں صریحاً مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔

مطابق معاملات کرنا چاہے اور کسی تنازعہ کے وقت یہ کہہ دے کہ یہ میری ذاتی اصطلاحات ہیں

صفحہ 123

کیا کوئی عدالت اس کی ان باتوں کو تسلیم کرے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں آج نماز ادا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق اور پھر اس نے نماز ادا بھی نہ کی اس کی بیوی نے مطلقہ ہو جانے کا دعویٰ کر دیا جب اس شخص سے دریافت کیا جائے تو وہ جواب دے کہ میری اصطلاح میں نماز فوجی پریڈ کو کہتے ہیں اور میں آج پریڈ میں شامل ہوا تھا۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت اس جواب کو تسلیم کر لے گی؟

مرزائیوں کا جواب:

بانی سلسلۂ احمدیہ کو نہ ماننے والا مسلمان ہی کہلائے گا۔

مسلمان را مسلمان باز کردند

بانی سلسلۂ احمدیہ نے اپنی کتابوں میں مسلمان کہہ کر خطاب کیا ہے پھر اسی طرح موجودہ امیر جماعت احمدیہ بھی ان کو مسلمان کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں۔

ہمارا جواب:

اگر مسلمان کے لفظ سے مراد مذہبی حیثیت نہیں بلکہ یہ قوم کا نام ہو گیا ہے تو یہ کس طرح دلیل بن سکتی ہے کہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والے لوگوں کو بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ دراصل غیر احمدی کو مرزائی جب مسلمان کہتے ہیں تو ان کے ہاں وہ شخص مراد ہوتا ہے جو مسلمان کہلاتا ہے نہ کہ جو فی الحقیقت مسلمان ہے اس کے ثبوت میں آئندہ حوالہ جات درج کیے جائیں گے۔

نوٹ: چونکہ کسی شخص کو عقیدۃً غیر کافر یا مسلمان کہنا دونوں ہم معنی ہیں اس لیے یہ عبارات قادیانی حضرات کے سوال نمبر ۱ کے جواب کی تردید میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ سوال نمبر ۲ کے جواب کی تنقید کے بعد عرض کروں گا۔

سوال نمبر ۲: کیا ایسا شخص کافر ہے۔

نوٹ: گویا عدالت کی طرف سے سوال یہ ہوا کہ سوال نمبر ۱ کے مطابق جو شخص مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا کیا وہ کافر ہے؟

مرزائیوں کا جواب:

کافر کے معنی عربی زبان میں نہ ماننے والے کے ہیں۔ پس جو شخص کسی چیز کو نہیں مانتا اس کے لیے عربی زبان میں کافر کا لفظ استعمال ہوگا۔

صفحہ 124

ہمارا جواب:

سوال دراصل دینی اور شرعی اصطلاح کا ہے۔ سوال سے لغوی معنی خارج ہیں لغت کے اعتبار سے تو بعض جگہ کفر لازمی ہوتا ہے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے ولقد امروا ان یکفرو بہ اس کا نام خلط مبحث ہے کہ کافر بھی کہہ دیا جائے اور مورد اعتراض بھی نہ ہونے پائے۔ اس وقت ایسی بات کہہ دی جائے کہ بعد میں اس کی تاویل ہو سکے اور اعلان کر دیا جائے کہ ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم تو کافر سمجھتے ہیں۔

مرزائیوں کا جواب:

ہمارے نزدیک صلعم کے بعد کسی مامور من اللہ کے انکار کے ہرگز یہ معنی نہ ہوں گے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہو کر امت محمدیہ سے خارج ہیں یا یہ کہ مسلمانوں کے معاشرہ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔

ہمارا جواب:

اس جواب میں مرزائیوں نے جو دجل کیا ہے شاید آج تک کسی نے ایسا نہ کیا ہو۔ سوال تو یہ تھا کہ کیا غلام احمد کو نبی (مامور من اللہ) نہ ماننے والا شرعاً کافر ہے؟ یا نہیں؟ انہوں نے اس کا تو جواب نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کسی مامور من اللہ کے انکار کے یہ معنی نہیں کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کا منکر ہو کر امت محمدیہ سے خارج ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد تمہارے نزدیک امت محمدیہ کے لیے نبی رسول اور مامور من اللہ ہیں یا نہیں اور اس مامور من اللہ کا انکار امت محمدیہ سے خروج کا سبب ہو گا یا نہیں؟ اس کا جواب ذکر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سوال اس ہی پہلو کی بنا پر تھا۔

نہیں جواب میں صاف صاف اور واضح الفاظ میں کیوں نہ کہہ دیا کہ جو شخص مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا ہے وہ کافر نہیں ہے۔ بات صاف ہو جاتی اور ابہام دور ہو جاتا۔

ایسا کیوں نہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ایسا شخص نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمتہ الفصل ص ۱۱۱ مولفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)

مگر آج یہ عقیدہ قادیانی ظاہر نہیں کریں گے تا کہ ان کے غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا مطالبہ درست تسلیم نہ کیا جائے۔ اگر مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانے کا مطالبہ درست

صفحہ 125

تسلیم کر لیا جائے تو مرزائیت ختم ہو جائے گی۔ جواب میں ایک دجل تو وہ کیا جو نمبر ۱ میں درج کیا جا چکا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ سوال کے جواب میں کافر ہونا یا نہ ہونا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اس کی جگہ امت محمدیہ سے خارج ہونا ذکر کیا ہے۔ ایسا کیوں کیا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امت کی دو قسمیں ہیں ایک امت اجابت اور دوسری امت دعوت حضور علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد قیامت تک تمام بنی نوع انسان۔ اہلِ اسلام‘ مشرک‘ ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ یہودی‘ پارسی سب حضور علیہ السلام کی امت دعوت ہیں اب ان کا یہ کہنا کہ امت محمدیہ سے خارج نہیں۔ دراصل مراد امت دعوت ہے تو اس طرح قادیانیوں نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی بھی نہ کی اور انکوائری کورٹ کے سامنے اپنے اصل عقیدہ کا اظہار بھی نہ ہونے دیا۔ مرزائیوں نے یہاں مرزا غلام احمد کی ایک عبارت کا حوالہ بھی دیا ہے کہ ”ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر ہے کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کو ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے“۔ (حقیقة الوحی ص۱۷۹)

ہمارا جواب:

یہاں اس عبارت کو نقل کرنے کا مقصد ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ عبارت کو بلا تبصرہ اور بلا استدلال چھوڑ کر دوسری بات شروع کر دی ہے۔ عالی مرتبت جج صاحبان کو اس طرف خصوصی توجہ فرمانی چاہیے کہ قادیانیوں نے تکفیر کے عقیدہ کا ذکر اشارتاً تو کر دیا ہے مگر اس کی کوئی تصریح نہیں کی تاکہ آئندہ یہ کہا جاسکے کہ ہم نے تو مرزا صاحب کے منکر کی تکفیر کر دی تھی۔

سوال کے اصل اور صحیح جواب کے لیے ضروری تھا کہ واضح الفاظ میں اس طرح کہا جاتا کہ جناب مرزا غلام احمد کو جو شخص نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

اللہ ﷺ کا انکار لازم آتا ہے اور غلام احمد کے منکر اس لیے کافر ہیں کہ انہوں نے غلام احمد کو کافر کہا اور وہ کفر بموجب حدیث مسلمانوں پر واپس لوٹ آیا۔ یہ کہنا بھی غلط ثابت ہوا کہ چونکہ غلام احمد کو مسلمانوں نے پہلے کافر کہا تھا اس لیے اس کے جواب میں ایسے لوگوں کو کافر کہا گیا

صفحہ 126

ہے۔ مولوی اللہ دتہ مبلغ نے مرزا غلام احمد کے انکار کرنے والے کے کفر پر حقیقۃ الوحی ص ۱۷۹ کی مذکورہ بالا عبارت سے استدلال کیا ہے۔ (روئیداد مناظرہ راولپنڈی ص ۲۳ و ص ۱۵)

لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہیں تو ان کا یہ کفر حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے سبب سے ہوگا۔ اور غلام احمد اور اس کی جماعت نے جس کو کافر کہا وہ کفر غلام احمد کی نبوت کا باعث ہوگا۔

افراد کی اپنی عبارتیں نقل کرتا ہوں جن سے ثابت ہوگا کہ ان کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ دنیا کے ۷۵ کروڑ مسلمان جو مرزا غلام احمد کو نبی مامور من اللہ اور مسیح موعود نہیں مانتے اور اس کو اپنے دعاوی میں سچا نہیں جانتے وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

یہاں سب سے پہلے ایک ایسی عبارت درج کی جاتی ہے جس سے یہ معلوم ہوگا کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کے متعلق اپنی تحریرات میں جہاں کہیں مسلمان کا لفظ من اللہ نہیں مانتا وہ کافر نہیں ہے یا وہ کافر ہے دونوں باتوں کو قطعی صورت میں ظاہر کیا جاتا تاکہ ابہام دور ہو جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

عبارت کو بھی پوری طرح نقل نہیں کیا بلکہ اس میں بھی دجل اور فریب سے کام لیا گیا ہے پوری عبارت یوں ہے۔

”کفر دو قسم پر ہے ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلعم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید فرمائی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۱۷۹)

حقیقۃ الوحی کی مذکورہ بالا عبارت میں مرزا غلام احمد نے حسب ذیل باتیں بیان کی ہیں:

صفحہ 127

کریم ﷺ نے تاکید فرمائی ۔

ﷺ کو نہیں مانتا لہٰذا ثابت ہوا کہ جو مسیح موعود (غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

جناب عالی : مذکورہ بالا عبارت سے یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کی مراد یہ نہیں کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ وہ مسلمان کا لفظ اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم کا نام ہو گیا ہے لہٰذا اب ہندو، عیسائی اور یہودی سے تمیز کرنے کے لیے مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

چند عبارات مندرجہ ذیل ہیں:

منکران 'مسلمان' نہیں:

؎ چوں دور خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند

اس الہامی شعر میں اللہ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے مسلمان تو اس لیے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے تو لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کون مراد ہے مگر ان کے اسلام کا اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ اب وہ خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں بلکہ ضرورت ہے کہ پھر ان کو نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔ (کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ ریویو آف ریلیجنز

ص ۱۳۳ نمبر ۳ ج ۱۴)

۲۔ مسلمان کا لفظ:

”اس جگہ ایک شبہ بھی پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) اپنے منکروں کو حسب حکم الہامی اسلام سے خارج سمجھتے تھے تو آپ نے ان کے لیے اپنی بعض آخری کتابوں میں مسلمان کا لفظ کیوں استعمال فرمایا۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ۔۔۔ کیا قرآن شریف میں عیسیٰ کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو نصاریٰ کے نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ ضرور کیا گیا اور بہت دفعہ کیا گیا۔ مگر وہاں معترض نے اعتراض نہ کیا۔ جب وہ عیسیٰ کی تعلیم سے دور جا پڑے ہیں تو ان کو نصاریٰ کیوں کہا جاتا ہے؟

صفحہ 128

پھر یہاں اب یہ اعتراض کیسا؟

اصل میں بات یہ ہے کہ عرف عام کی وجہ سے ایک نام کو اختیار کرنا پڑتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز اسم با مسمیٰ ہو گئی ہے۔ مثلاً دیکھو اگر ایک شخص سراج دین نامی مسلمان ہے عیسائی ہو جائے تو اسے پھر بھی سراج دین ہی کہیں گے حالانکہ عیسائی ہونے کی وجہ سے وہ اب سراج دین نہیں رہا بلکہ کچھ اور بن گیا ہے لیکن عرف عام کی وجہ سے اس نام سے پکارا جائے گا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو بھی بعض اوقات اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھا جائیں اس لیے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیے ہیں کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ۔“ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہوا اسے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان۔۔۔ پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ (مرزا صاحب) نے جہاں کہیں بھی غیر احمدی کو مسلمان کہہ کر پکارا ہے وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ حسب حکم الٰہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے ۔“ (کلمتہ الفصل مصنفہ صاحبزادہ مرزا بشیر

احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ۱۲۶-۱۲۷ ج ۱۴ نمبر ۳)

کرتے ہیں اس سے مراد حسب پیش گوئی نبی کریم ﷺ اسمی اور رسمی ہوتی ہے کیونکہ آخر وہ نہ تو ہندو ہیں اور نہ عیسائی اور نہ بدھ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ قرآن شریف پر عمل کے مدعی ضرور ہیں کہ ہم انہیں اس نام سے پکاریں جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کے لیے الذین ھادوا قرآن مجید میں آتا ہے اور عیسائیوں کے لیے انصار اللہ اور بعض اوقات عیسائی اور موسوی بھی کہہ دیا جاتا ہے حالانکہ نہ وہ ہدایت یافتہ نہ وہ حضرت عیسیٰ و موسیٰ کے متبعین۔ پس مسلمان کا لفظ بلحاظ قوم ہے شرعی فتویٰ کسی نبی کے انکار سے لازم آتا ہے۔ وہ اور بات ہے۔

(اخبار الفضل قادیان ج ۱۲ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۱ اپریل ۱۹۲۵ء)

نوٹ: مرزا غلام احمد کو سچا نہ ماننے والوں کی تکفیر پر مولوی اللہ دتہ صاحب مشہور قادیانی مبلغ نے جو راولپنڈی کے مناظرہ میں قادیانی جماعت کے نمائندے تھے غلام احمد کے چار الہام ایسے پیش کیے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد کو نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے۔

صفحہ 129

ج- قل يا ايها الكفار انى من الصادقين. د- و يقول الذين كفروا لست مرسلا ۝

(مباحثہ راولپنڈی ص ۲۴۰)

”اس جگہ دائرہ اسلام کے متعلق یاد رکھنا چاہیے ایک دائرہ اسلام حقیقی ہے اور ایک دائرہ اسلام محض اسمی۔ پس حضرت مسیح موعود کے منکر حقیقی دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے نہ کہ رسمی دائرہ اسلام سے‘ اس لیے ہم ان کو مسلمان کے نام سے یاد کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ وہ خود اسلام کے دعویدار ہیں۔“ (مباحثہ راولپنڈی ص ۲۳۹)

مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ مرزائی جب مسلمانوں کو مسلمان کہہ کر پکارتے ہیں تو ان کی مراد صرف رسمی مسلمان ہوتے ہیں۔

مرزائیوں کا جواب:

یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کے فتوؤں میں بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ یا آپ کی جماعت کی طرف سے ابتداء نہیں ہوئی۔

ہمارا جواب:

قادیانی گروہ نے یہاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام کو جوابی طور پر کافر کہا ہے۔ کافر کہنے کی ابتداء ان کی طرف سے نہیں ہوئی‘ علاوہ ازیں انہوں نے ایک حدیث سے یہ ثابت کرنے کی سعی حاصل کی ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کافر کہے اور دوسرا کفر کا مستحق نہ ہو تو وہی کفر اس کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ قادیانیوں کا یہ استدلال مندرجہ وجوہ کی بنا پر درست نہیں سمجھا جاسکتا۔

کافر صرف اس لیے کہا ہے کہ بعض علماء نے غلام احمد پر کفر کا فتویٰ دیا تھا تو جواب میں صرف اسی شخص کو کافر کہنا چاہیے تھا جس نے مرزا غلام احمد کو کافر کہا نہ کہ دنیا کے تہتر کروڑ مسلمانوں کو اور ساتھ ہی کفر کی وجہ یہ بتانی چاہیے تھی کہ چونکہ غیر احمدی ایک شخص کو ناحق کفر کا الزام دینے کی وجہ سے کافر ہو گئے ہیں لہٰذا ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔

مذکورہ بالا نقل شدہ عبارتوں میں اس امر کی تصریح ہے کہ قادیانیوں نے تمام مسلمانوں کو بالعموم کافر کہا ہے نہ کہ ان کی تکفیر کرنے والوں کو نیز مسلمانوں کی تکفیر کے سبب میں

صفحہ 130

انہوں نے کسی جگہ بھی جوابی کفر کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ غلام احمد کی نبوت دعوائے ماموریت کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر کہا ہے۔ (از راہ کرم مذکورہ بالا حوالہ جات میں سے بالخصوص حوالہ نمبر ۲ کو ایک دفعہ پھر غور سے دیکھ لیا جائے ۔)

کہا اور وہ کفر کا اہل نہ ہو تو کہنے والے کا کفر قائل پر ہی لوٹ آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا گناہ اس پر پڑے گا جس نے کسی کو غلط کافر کہا۔ حدیث میں باء کا لفظ ہے یعنی اس کا اپنا کہا ہوا اس پر پڑ جائے گا نہ یہ کہ اب اس کو دوسرا کافر کہنا شروع کر دے۔ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر میں کسی نے آج تک صرف اس بنا پر دوسرے کی تکفیر نہیں کی کہ چونکہ اس نے مجھے کافر کہا ہے اور میں اس کا اہل نہیں ہوں لہٰذا وہ بروئے حدیث کافر ہو گیا اس لیے ہم اس قائل بالکفر کو کافر کہتے ہیں۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے مولانا احمد رضا خان کی نسبت فرمایا کہ میری تکفیر پر مولانا احمد رضا خاں کو ثواب ملے گا۔ انہوں نے اپنے خیال میں محبت رسول ﷺ میں مجھے کافر کہا ہے یہ بات علیحدہ ہے کہ مجھے مواخذہ نہ ہو گا کیونکہ انہوں نے جس وجہ سے مجھے کافر کہا ہے وہ وجہ مجھ میں نہیں پائی جاتی۔ (مولانا کے اس ارشاد کا میں خود گواہ ہوں ) ملفوظات حضرت تھانوی حسن العزیز )

مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں دو مہمان آئے رات کے وقت ایک مہمان نے دوسرے سے کہا کہ صبح کی نماز ہم برج والی مسجد میں پڑھیں گے وہاں کے قاری صاحب بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ دوسرے نے کہا وہ قاری صاحب تو ہمارے مولانا صاحب (مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ ) کو کافر کہتے ہیں، ہم ایسے شخص کے پیچھے نماز کیوں پڑھیں۔ مولانا نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی یہ گفتگو سن لی۔ آپ نے فرمایا یہ مسئلہ کس کتاب میں درج ہے کہ جو شخص محمد قاسم کو کافر کہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، اس نے تو میری کوئی برائی دیکھ کر کہا ہو گا آج میں خود بھی اسی قاری کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ چنانچہ حضرت مولانا اپنے دوست مہمانوں کے ساتھ اس مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز اسی قاری صاحب کے پیچھے ادا کی جو آپ کو کافر کہتا تھا یہ اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ اس ”کافر“ کہنے والے سے چاہے مواخذہ کرے لیکن جس کو کافر کہا گیا ہے اس کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ ”قائل بالکفر“ کو کافر کہے۔

ایک مثال:

زید اور عمرو ایک شہر ایک دوسرے کا خون آپس میں لیے عمرو حلال الدم تو ہو گیا مگ قصاص طلب کرنے میں زید فریاد کرنا ہو گی۔ قاضی قصاص مجرم ہو گا۔

بھی دنیا کے تمام مسلمانوں ک پاکستان نے بھی ایبٹ آباد میں مسلمان (نمائندہ) سمجھ لیجیے۔ حالانکہ پاکستان ہ بیان حکومت کا بیان تصور کیا ج معلوم ہوا کہ چودھری ظفر اللہ اور یہاں صرف ا دیتا ہے کہ یہ لوگ ابن الوقت اپنی رائے کسی مصلحت کی وجہ

طرف سے ہوئی ہے غلام احمد نے کی ہے رکھی ساتھ ہی مخالفین ک کی صداقت کا انکار کر کی بنیاد بھی ساتھ ہی رکھ مرزا غلام احم وقت الہام قرار دیا جاتا رہ

صفحہ 131

ایک مثال:

زید اور عمرو ایک شہر میں آباد ہیں اور دونوں مسلمان ہیں۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون آپس میں حرام ہے لیکن اگر زید نے عمرو کے بیٹے کو قتل کر دیا اب زید کے لیے عمرو حلال الدم تو ہو گیا مگر قصاص میں زید عمرو کو قتل نہیں کر سکتا حالانکہ معاف کرنے اور قصاص طلب کرنے میں زید دونوں کا مجاز ہے مگر اسے کسی شرعی مجاز (قاضی) سے اسے قتل کی فریاد کرنا ہوگی۔ قاضی قصاص میں عمرو کو قتل کرا دے یا قصاص دلائے اگر زید خود بدلہ لے گا تو مجرم ہوگا۔

بھی دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر کہتے رہے ہیں۔ اسی لیے چودھری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان نے بھی ایبٹ آباد میں ایک انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان (نمائندہ) سمجھ لیجیے۔ (روزنامہ زمیندار لاہور ۱۸ فروری ۱۹۵۰ء)

حالانکہ پاکستان بن جانے کے بعد بانیان پاکستان یا کسی ایسے بزرگ نے جس کا بیان حکومت کا بیان تصور کیا جائے غلام احمد اور اس کی امت کے کافر ہونے کا اعلان نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ چودھری ظفر اللہ خاں کا حکومت پاکستان کو کافر حکومت کہنا ابتداء میں جواباً نہیں۔

اور یہاں صرف انکوائری کورٹ کے سامنے مصلحت کی وجہ سے انکار کرنا اس امر کا پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ ابن الوقت ہیں لیکن ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، قابل اعتماد وہی شخص ہے جو اپنی رائے کسی مصلحت کی وجہ سے نہ بدلے۔

طرف سے ہوئی ہے یہ مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت کا صریح کذب ہے حالانکہ ابتدا بالکفر غلام احمد نے کی ہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں جب دعویٰ نبوت کی بنیاد رکھی ساتھ ہی مخالفین کی تکفیر کی بنیاد بھی رکھ دی۔ جب کہ قادیانیوں نے تکفیر کی وجہ مرزا غلام احمد کی صداقت کا انکار قرار دیا ہے اور اس دعویٰ کی بنیاد براہین احمدیہ سے شروع ہوئی تو تکفیر منکرین کی بنیاد بھی ساتھ ہی وقوع میں آ جاتی ہے۔

مرزا غلام احمد نے براہین احمدیہ میں کچھ آیات قرآنی درج کیں جن کو ضرورت کے وقت الہام قرار دیا جاتا رہا۔ ان میں ایک یہ آیت درج ہے۔

صفحہ 132

و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمة ط

اس میں مخالفین کو کفروا سے خطاب کیا ہے چنانچہ مناظرہ راولپنڈی (جو قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کے درمیان ہوا تھا) میں مشہور قادیانی مناظر مولوی اللہ دتہ صاحب نے اس الہام سے ثابت کیا کہ مرزا صاحب اپنے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے تھے۔ (مناظرہ راولپنڈی ص ۲۴۰)

مرزائیوں کا جواب:

باہمی تکفیر کے بارہ میں علماء کے چند فتوے درج ہیں۔

ہمارا جواب:

بقول جناب محمد اکبر صاحب جج بہاولپور (تنسیخ نکاح قادیانی مقدمہ بہاولپور کا مشہور فیصلہ) جس کا فیصلہ بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔ ”مرزائیوں کا مسلمانوں کی باہمی تکفیر کو پیش کرنا دراصل اس تکفیر کو معمولی اور ہلکا ثابت کرنا ہے جو حضور علیہ السلام کے زمانے سے لے کر آج تک دنیائے اسلام کے تمام فرقوں نے بعد از نبوت حضور علیہ السلام ہر مدعی نبوت کی تکفیر کی ہے اور جس پر آج دنیائے اسلام کا اتفاق ہے“۔ (فیصلہ مقدمہ بہاولپور)

خارج ہو گیا یا نہیں؟

اس کے بارے میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ جب ایک نبی کو ماننے والی قوم کسی دوسرے نئے نبی کو مان لیتی ہے تو وہ پہلی قوم سے جدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کو ماننے والے حضور علیہ السلام کو ماننے والوں سے علیحدہ قوم ہیں۔ گویا کفر کے کئی مراتب ہوئے۔ ایک کفر قطعی جو ختم نبوت کے انکار اور حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت پر ایمان لانے یا حضور کے بعد تسلسل نبوت کو صحیح سمجھنے کی وجہ سے ہوگا۔ بہر حال یہ کفر مسئلہ نبوت کی بنا پر ہوا اس لیے دو ایسے شخص جو کسی نبی کی نبوت میں اختلاف رکھتے ہیں ایک امت اور ایک قوم نہیں ہو سکتے۔

عمل یا قول سے ہو چاہے یہ کفر کتنا سخت ہو اور اس کے احکام کیسے ہی کیوں نہ ہوں وہ مسلم قوم میں شمار ہوگا۔ اسی لیے فقہاء امت نے ایک کفر قطعی یا کفر عقیدہ اور دوسرے کو کفر فقہی یا کفر عملی کہا ہے اور دونوں کے احکام جدا جدا ہیں۔

صفحہ 133

ایک شبہ کا ازالہ:

یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس لیے اس کو سچا ماننے والے مسلمانوں کی قوم سے خارج نہیں سمجھے جائیں گے۔

دراصل یہ بحث مسئلہ ختم نبوت سے تعلق رکھتی ہے جس کا اس جگہ سے تعلق نہیں ہے لیکن اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا غیر ضروری نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد نے حضور علیہ السلام سے قبل آنے والے جملہ انبیاء کو بھی ظلی کہا ہے اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی غیر تشریعی نبی کہا۔ جب وہاں ہر نبی کی امت اور قوم جدا جدا ہے تو غلام احمد کے متبعین بھی غیر متبعین سے جدا امت اور جدا قوم ہوں گے۔

اسلامی فرقہ کی بالاجماع تکفیر نہیں کی۔ البتہ مرزائیوں کی تکفیر کے بارہ میں تمام فرقے متفق ہیں۔ مرزائیوں کا کفر اجماعی ہے۔

کی وجہ یا عقیدے کی بناء پر ہے اس شخصیت سے نسبت اور اس عقیدہ کو وجہ کفر قرار نہیں دیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں کسی فرقہ میں چاہے کتنے مسائل ہوں کہ جس شخصیت سے نسبت اور جس عقیدہ کی وجہ سے یہ فرقہ دوسرے اسلامی فرقوں سے ممیز ہے اس شخصیت اور اس عقیدہ کو سب اسلامی فرقوں نے وجہ کفر قرار دیا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے چند فرقوں کی نسبت عرض کیا جاتا ہے۔

الف۔ فرقہ شیعہ:

یہ فرقہ باقی فرقوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہ کی طرف منسوب ہونے اور عقیدہ افضلیت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے ممیز ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہ مومن کامل، مقبول بارگاہ الٰہی، محبوب رب العالمین تھے۔ آپ کی شخصیت تمام فرقوں کے نزدیک مسلم ہے اور نہ ہی افضلیت علی رضی اللہ عنہ کا عقیدہ کسی دوسرے اسلامی فرقے کے نزدیک سبب کفر ہے۔

ب۔ فرقہ اہل سنت والجماعت:

یہ فرقہ دوسرے فرقوں سے اس لیے ممیز ہے کہ یہ فرقہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی

صفحہ 134

سنت کو مدار نجات اور واجب العمل سمجھتا ہے۔ اور سنت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق زندگی کا نام ہے اور وہ سب فرقوں کے نزدیک واجب العمل ہے۔ جماعت سے مراد مسلمانوں کی جماعت ہے جس کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تاکیداً فرمایا کہ حتی الوسع جماعتی زندگی سے علیحدہ نہ ہونا تاکہ وحدت اسلامی پارہ پارہ نہ ہونے پائے۔ کبھی یہ فرمایا کہ صلوا خلف کل بر و فاجر یعنی ہر اچھے برے کے پیچھے نماز پڑھ لینا۔ کبھی یہ فرمایا کہ اگر سلطان نماز کو دیر کر کے پڑھا کریں اور وقت تنگ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیں تو تم اپنی نماز وقت پر گھر میں پڑھ لینا اور پھر مسلمانوں کے ساتھ جماعت میں بھی شریک ہو جانا۔

ایک حدیث میں فرمایا: ولو سلط علیکم عبد حبشی یعنی اگر کسی وجہ سے مسلمانوں پر ایسا بادشاہ مسلط ہو جائے جو ناپسندیدہ ہو تو پھر بھی اس کی اطاعت کرنا تاکہ مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان نہ پہنچے۔

الغرض کوئی شیعہ سنت نبی اور اتحاد بین المسلمین اور شمولیت جماعت مسلمین کے مخالف نہیں ہے۔

ج۔ مقلد:

مقلدین اپنے آپ کو آئمہ مجتہدین کی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ کتاب وسنت کی تشریح میں ایسے شخص کا قول معتبر ہو گا جو اپنے زمانے میں علم وفضل اور تقویٰ اور خشیت میں ممتاز علی الاقران ہو اور اجتہادی مسائل میں امام مجتہد کا قول مانا جائے گا۔ کوئی بھی غیر مقلد نہ تو اس اصول کی تردید کرتا ہے اور نہ کسی امام مجتہد کو برا کہتا ہے بلکہ ان سب کو بزرگ اور اہل علم تصور کرتا ہے۔

د۔ غیر مقلد:

غیر مقلدین اپنے آپ کو آج کل اہل حدیث کہلاتے ہیں۔ ان کا اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے ہر مسئلہ میں کتاب وسنت پر عمل کیا جائے اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جس کا حکم قرآن وسنت سے نہ سمجھ میں آئے تو اقوال آئمہ کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اصولی طور پر یہ درست اور صحیح امر ہے کہ کسی فرقہ نے اس اصول سے کبھی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ اختلاف تو مسائل سمجھنے پر ہوتا ہے۔ فرقہ بندی جس اصول اور جس عقیدہ کے سبب سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ کی وجہ سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ سے کسی فرقہ کی بنیاد رکھی گئی اس کی بنا پر کسی فرقہ نے دوسرے فرقہ کو کافر نہیں کہا۔

صفحہ 135

(نوٹ) دیوبندی اور بریلوی دراصل یہ فرقے نہیں بلکہ ایک فرقہ کی دو جماعتیں ہیں اصول دونوں فرقوں کا ایک ہے دونوں حضرات امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خاندان کی مختلف شاخیں۔

احمدی یا مرزائی حضرات کی نسبت مرزا غلام احمد کی طرف ہے یعنی یہ فرقہ مرزا غلام احمد کو اپنا پیشوا مانتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد اپنے جملہ دعاوی میں سچا تھا۔ فرقہ احمدیہ کی تعریف قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں پر صادق آتی ہے۔ ان کا آپس میں اختلاف اندرونی مسائل کا اختلاف ہے اس سے دوسرے فرقوں کا تعلق نہیں ہے یہ فرقہ اپنی تعریف کی بنا پر دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے ممیز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک جس شخصیت کی طرف فرقہ احمدیہ کی نسبت ہے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد تھی۔ اس شخص کے دعاوی کو درست اور صحیح سمجھنا تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک صریح کفر ہے۔ اس لیے مرزا غلام احمد کے متبعین دونوں گروہ صریح کافر دائرہ اسلام سے خارج اور مسلم قوم سے ایسے ہی علیحدہ ہیں جیسے یہود اور عیسائی بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ جس نبی پر یہودی اور عیسائی ایمان لاتے ہیں وہ اپنے وقت کے صادق اور خدا کے مبعوث نبی تھے مگر قادیانی جس شخص کو اپنا پیشوا مانتے ہیں وہ کاذب اور جھوٹا تھا۔

اور مسلمانوں کے درمیان تکفیر کا مسئلہ بنیادی اور قطعی کفر کا مسئلہ ہے اور مسلمانوں کے باہمی فرقوں کا باہمی کفر فقہی اور فروعی ہے۔ اس امر کی وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل استدلال پیش کیا جاتا ہے۔

مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ ”الاشیاء تعرف با اضدادها“ مشہور عربی مقولہ ہے کہ ہر چیز اپنے مقابل یعنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ایمان کی حقیقت سمجھ لیں۔ پھر ہمارے لیے کفر کی حقیقت معلوم کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایمان اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام فرشتوں، آسمانی کتابوں، اس کے تمام رسولوں اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور تقدیر پر ایمان لایا جائے یعنی ان باتوں کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کی جائے۔

صفحہ 136

ان امور پر حضور علیہ السلام بھی یقین رکھتے تھے اور اہل بیت اور تمام مسلمان بھی یقین رکھتے تھے مگر یہ بات واضح ہے کہ سب کا ایمان ایک ہی درجہ کا نہیں ہو سکتا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان ایک درجہ کا نہیں ہو سکتا اور نہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا ایمان اور ہم جیسے گنہگاروں کا ایمان برابر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ایمان کے مقابلے میں کفر کے بھی مدارج ہوں گے۔ کیونکہ ایمان اور کفر ایک دوسرے کی اضداد ہیں۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب بخاری شریف میں ”کفر دون کفر“ کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے اور گویا سب کفر برابر نہیں ہوتے بلکہ اس کے کچھ مدارج ہیں اس کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے تمام مذاہب میں کوئی ایسا بنیادی مسئلہ تلاش کریں جس سے ایک مذہب دوسرے مذہب سے ایک قوم دوسری قوم سے (قوم سے مراد شرعی قوم) ممیز ہو سکے۔

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وجود کا سوال ہے اس میں سب کا اتفاق ہے۔ عبادات اور اخلاق تمام مذاہب میں موجود ہیں۔ ان کے عنوانات چاہے کوئی ہوں اس لیے یہ امور امتیاز بین المذاہب کا سبب نہیں ہو سکتے۔

صرف ایک نبی کا وجود ایسا ہے جس سے ایک مذہب دوسرے مذہب سے اور ایک قوم دوسری قوم سے جدا ہوتی ہے نبی کی مثال ایک دیوار کی ہے جو اپنے خارج کو داخل سے جدا رکھتی ہے۔ جب تک یہ دیوار قائم رہے گی دیوار کا خارج اور داخل آپس میں نہیں مل سکتے۔ دیوار مختلف احاطوں کو محفوظ رکھتی ہے بلکہ اگر ایک بڑے احاطہ میں ایک دیوار قائم کر دی جائے تو اس احاطے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ایک نبی کا وجود اپنی امت کے لیے احاطہ ہے دیوار ہے جو دوسری امتوں سے اپنی امت کو علیحدہ رکھتی ہے لیکن اگر اس نبی کے بعد کوئی اور نبی آ گیا تو گویا ایک دیوار اور کھنچ گئی اور ایک حصہ اس احاطہ سے کٹ گیا۔ یعنی اب اس نبی کی امت دو امتوں میں تقسیم ہو گئی۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے یہودی ایک امت تھے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئے تو یہودیوں میں سے جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لائے وہ یہودیوں سے علیحدہ ہو گئے اور اب وہ عیسائی بن گئے۔ اس کے بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو آپ کو ماننے والے مسلمان نہ ماننے والے (عیسائیوں) سے جدا ہو گئے اور اب اس طرح اگر بالفرض حضور سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آ جائے تو اس کو ماننے والے نہ ماننے

صفحہ 137

والوں (مسلمان) سے جدا قوم ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس اصول کے تحت مرزا غلام احمد کو نبی ماننے والے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی ماننے والے ایک امت نہیں ہو سکتے۔ مسلمان جدا قوم اور مرزائی جدا قوم ہوں گے۔

سوال ۳-

ایسے کافر ہونے کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں یعنی اگر غلام احمد کو نبی نہ ماننا کفر ہے تو ایسے کفر کے دنیا و آخرت میں کیا نتائج ہیں؟

مرزائیوں کا جواب:

اسلامی شریعت کی رو سے ایسے کافر کی کوئی دنیوی سزا مقرر نہیں وہ اسلامی حکومت میں وہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عام معاشرہ کے معاملہ میں بھی وہ وہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہیں۔ ہاں اسلامی حکومت کا ہیڈ نہیں ہو سکتا۔

ہمارا جواب:

قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ایسے کفار کی کوئی سزا نہیں سراسر غلط ہے۔ سوال میں جس کافر کے متعلق دریافت کیا گیا ہے وہ کافر وہ ہے جو غلام احمد کو نہیں مانتا۔ یعنی اگر کوئی شخص (بالفرض) غلام احمد کو مان لے تو اس کے نزدیک غلام احمد کو نہ ماننے والا کافر ہو گا۔ ایسے کافر کی سزا مرزائیوں کے نزدیک وہی ہو گی جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے مسلمان کے مقابلہ میں کسی غیر مسلم مثلاً عیسائی کی۔ قادیانیوں کا یہ واضح عقیدہ ہے کہ:

”غیر احمدی کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ کر لا سکتا ہے مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جا سکتی“۔

(اخبار الحکم ۱۴ اپریل ۱۹۰۸ء اخبار الفضل قادیان ، نمبر ۴۵ مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۲۰ء)

اس عقیدے اور نظریئے کے علاوہ قادیانیوں کا معاملہ غیر احمدیوں کے ساتھ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں غیر احمدیوں سے جدا ہیں۔ رشتہ ناطہ جنازہ وغیرہ معاملات میں ان کا طرز عمل یہ ہے کہ ایک شخص کے سوالات کے جواب میں میاں محمود احمد خلیفہ

صفحہ 138

قادیان نے کہا ”ایسے نکاح خواہوں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جا سکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھا دیا ہو اور ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں ۔

(ڈائری میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۸ نمبر ۸۸ مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)

مرزائیوں کا جواب:

یہ درست ہے کہ اسلامی حکومت کا صدر بھی نہ ہو سکے گا۔

ہمارا جواب:

اگر غلام احمد کو نہ ماننے والا مرزائیوں کی مملکت کا صدر نہیں بن سکتا تو مسلمانوں کی مملکت میں جھوٹے نبی کو ماننے والا کافر اسلامی مملکت کا صدر کیسے بن سکتا ہے۔

مرزائیوں کا جواب:

باقی رہے اخروی نتائج سو ان نتائج کا حقیقی علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کافر کہلانے والے انسان کو بخش دے اگر کافر کے لیے یقینی طور پر دائمی جہنمی ہونا لازمی ہے تو پھر کسی کو کافر قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کو حق ہے۔

ہمارا جواب:

ان کا یہ جواب کسی صورت میں بھی درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا سوال قدرت الٰہی نہیں بلکہ اسلامی حکام کا ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان اللہ علی کل شی قدیر ۝ ہے مگر تحقیقاتی عدالت کی طرف سے سوال یہ ہے کہ کافر کے متعلق از روئے شریعت محمدیہ کیا حکم ہے؟ اسلام ایک قانون ہے جس میں بنیادی اور اخروی احکام درج ہیں یعنی ایک نبی کو ماننے کے بعد کسی دوسرے آنے والے نبی کا انکار کر دے۔ ایسے شخص کے متعلق اسلام کے احکام یہ ہیں کہ ایسے شخص کی نجات ہرگز نہ ہو گی۔ مرزائیوں کا بھی یہ عقیدہ ہے چنانچہ مرزا غلام احمد نے اپنے مخالفین کے متعلق لکھا ہے کہ:

”مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔

(معیار الاخبار، تذکرہ مجموعہ الہامات ص۳۴۳)

سوال نمبر ۴

کیا مرزا صاحب کو رسول کریم ﷺ کی طرح اور اسی ذریعہ سے الہام ہوتا ہے؟

صفحہ 139

تحقیقاتی عدالت یہاں یہ دریافت کرنا چاہتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے الہام کا ذریعہ وہی تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا ذریعہ تھا۔

مرزائیوں کا جواب:

بہر حال وہ ذرائع جو اللہ تعالیٰ اس وحی (غلام احمد پر) کے بھیجنے کے لیے استعمال کرتا تھا وہ ان سے نیچے ہوں گے جو قرآن کریم کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ ایک عقلی بات ہے واقعاتی بات نہیں جس کے متعلق ہم شہادت دے سکیں۔

ہمارا جواب:

قادیانیوں کی طرف سے اس جواب میں بات کو الجھایا گیا ہے۔ انہوں نے کسی مصلحت کی بنا پر ابہام کو دور کرنے اور صاف بات کہنے کی جرات نہیں کی۔ حالانکہ یہ امر مسلم ہے کہ حضور ﷺ پر جبریل فرشتہ نازل ہوتا تھا جو خدا کے پیغام آپ ﷺ پر پہنچاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں مرزا غلام احمد نے بھی اپنے آپ پر حضرت جبریل فرشتہ کے نازل ہونے کا الہام شائع کیا ہے۔ اس طرح حضور نبی کریم ﷺ کی اور مرزا غلام احمد کی وحی کا ذریعہ اور واسطہ ایک ہی ہوا۔ یعنی حضرت جبریل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور مرزا غلام احمد دونوں کے لیے ذریعہ وحی تھے۔ مرزا غلام احمد نے جبریل کی آمد کا اقرار کرتے ہوئے لکھا ہے۔

جاء نی ائیل واختار و ادار اصبعه اشار ان وعد الله اتی فطوبی لمن وجد و رائی.

(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

یعنی میرے پاس آئیل آیا (اس جگہ آئیل اللہ تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لیے بار بار رجوع کرتا ہے (حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔

(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

از دشمنان نگہ خواہد داشت۔

(مواہب الرحمن ص ۶۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

مرزا غلام احمد کی ان تحریروں سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے اس بات کا خود اقرار کیا کہ اس پر حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوتے تھے۔ گویا حضور ﷺ اور مرزا غلام احمد کی وحی کا ذریعہ اور واسطہ ایک ہی ہوا۔

قادیانیوں نے آگے چل کر اپنے بیان میں ایسی تفاصیل بیان کی ہیں جن میں اقرار

صفحہ 140

کے بعد انکار اور انکار کے بعد خود بخود اقرار کر لیا گیا کہ حضور ﷺ اور مرزا غلام احمد کا ذریعہ وحی ایک ہی تھا۔ مگر اس بات کو اس قدر الجھایا گیا کہ پڑھنے والا اس سے کوئی صحیح رائے قائم نہ کر سکے۔ حضور علیہ السلام نے اس کا نام دجل اور تلبیس رکھا ہے۔

اس سوال کا جواب یہ تحریر کیا گیا کہ:

البشر۔۔۔الخ۔

عالی مرتبت جج صاحبان !

قادیانیوں کے جواب کے مندرجہ بالا تین حصوں پر غور فرمائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ سوال کے جواب میں کس قدر الجھاؤ پیدا کیا ہے۔ ان کے جواب کے خلاصہ سے صرف یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مرزا غلام احمد پر وحی نازل ہوتی تھی اور وحی کے طریقے تین ہیں اور تمام انبیاء، اولیاء اور محمد رسول اللہ ﷺ پر انہی طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور مرزا غلام احمد کا ذریعہ وحی ایک ہی تھا۔ اس مفہوم کا جواب دو سطر میں دیا جاسکتا ہے مگر عبارت کی ایچ پیچ اور الفاظ کی ساحری میں الجھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ جواب دیتے وقت آگے چل کر دونوں وحیوں کے مرتبہ میں فرق کرنے کی سعی کی ہے تاکہ ہمارے مطالبہ کی دلیل کو کمزور اور اس کے وزن کو کم کیا جاسکے۔ یہ امر چونکہ سوال سے متعلق نہیں ہے اس لیے اس کے جواب میں جانا غیر ضروری ہے۔

یہاں اتنا عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مرزا غلام احمد نے آنحضرت ﷺ سے قبل انبیاء سابقین کو ”ظلی نبی“ کہا ہے اس لیے اب کسی کا مرزا صاحب کو ظلی کہنا یا امتی نبی کہنا اس سے نفس دعویٰ نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ ”پہلے تمام انبیاء ظلی تھے نبی کریم کے خاص خاص امتی صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“

(اخبار الحکم ۲۴ اپریل ۱۹۰۳ء منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ۱۷۷)

یوں تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت کی امت میں داخل ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۳)

نوٹ: مندرجہ ذیل حوالہ جات سے مرزا غلام احمد کی وحی کی حیثیت حضور علیہ السلام

صفحہ 141

کے برابر ثابت ہوتی ہے۔

حضور علیہ السلام کی وحی کی نسبت مندرجہ ذیل امور ذہن نشین کر لیے جائیں:

مرزا غلام احمد کی وحی بھی حضور جیسی تھی نمبر وار مطابقت ملاحظہ ہو۔

(نزول المسیح ص ۷۵ مصنفہ مرزا غلام احمد)

خدا ترا از دشمنان نگہہ خواہد داشت۔ (مواہب الرحمٰن ص ۶۳ مصنفہ مرزا غلام احمد)

زبان پر جاری کرتا ہے۔ (نزول المسیح ص ۵۶‘ ۵۷ مصنفہ مرزا غلام احمد)

گوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ (نزول المسیح ص ۸۶)

(د) آنچہ من بشنوم ز وحی خدا بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم از خطا ہا ہمیں است ایمانم

(نزول المسیح ص ۹۹)

اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیت پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرے کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ (نزول المسیح ص ۹۹ مصنفہ مرزا غلام احمد) (ایک غلطی کا ازالہ)

ہوتی ہے اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت عیسیٰ ؑ حضرت موسیٰ ؑ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا۔ (ایک غلطی کا ازالہ)

صفحہ 142

لئے اسے نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔

(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص ۷)

مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا وہ تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیری مخالفت کرے گا اور مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔

(معیار الاخیار ص ۸) تذکرہ ۳۴۳

سوال نمبر ۵:

کیا احمدیہ عقیدہ میں شامل ہے کہ ایسے شخص کا جنازہ جو مرزا صاحب پر یقین نہیں رکھتے (infructuaus) بے فائدہ ہے؟

مرزائیوں کا جواب:

سلسلہ احمدیہ کو نہیں مانتا اس کے حق میں نماز جنازہ (infructuaus) ہے۔

ہمارا جواب:

یہ جواب صریح غلط ہے احمدیہ عقائد میں نہ صرف یہ کہ جو شخص مرزا غلام احمد پر یقین نہیں رکھتا اس کا جنازہ (INFRUCTUAUS) ہے بلکہ اس کی نماز جنازہ شرعاً ناجائز اور درست نہیں ہے۔

محمدی بیگم کا نکاح مرزا غلام احمد کے ساتھ کرنے سے انکار کر دیا تو غلام احمد نے احمد بیگ کو کہا اگر تم میرے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح نہیں کرو گے تو میں تمہاری بھانجی عزت بی بی جو میرے لڑکے فضل احمد کی بیوی ہے، طلاق دلا دوں گا اور طلاق نامہ معلق فضل احمد سے لے لوں گا جس میں یہ تحریر ہو گا کہ جس دن تم محمدی بیگم کا نکاح میرے سوا کسی دوسرے کے ساتھ کرو گے تو عزت بی بی کو اس دن سے طلاق ہو جائے گی۔ چنانچہ احمد بیگ نے مرزا غلام احمد کی اس دھمکی کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کی ۔ مرزا غلام احمد نے اپنے لڑکے فضل احمد سے کہا کہ تو اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دے۔ فضل احمد پسر غلام احمد چونکہ اپنے والدین کا انتہائی فرمانبردار اور خدمت گزار تھا اس نے اپنے

صفحہ 143

باپ کے حکم کو بسر و چشم قبول کیا اور اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دی۔ فضل احمد اپنے والدین کا فرمانبردار ہونے کے باوجود اپنے باپ غلام احمد کو دعوئی نبوت میں دل سے سچا نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ جب اس تابعدار لڑکے فضل احمد کا انتقال ہو گیا تو مرزا غلام احمد نے اپنے اس فرمانبردار بیٹے کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔

(حوالہ انوار خلافت ص ۹۱ اور ریویو بابت دسمبر ۱۹۳۱ء)

مرزا غلام احمد کے اس عمل کے بعد بھی قادیانی کوئی تاویل کر سکتے ہیں؟

کی وجہ سے عیسائیوں کو دیا جاتا ہے اس لئے مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کے نابالغ بچوں کا جنازہ بھی جائز نہیں۔

(حوالہ انوار خلافت ص ۹۳)

بیعت کر کے حلقہ احمدیت میں داخل نہ ہوا ہو اس کا جنازہ جائز نہیں ہے۔

(انوار خلافت ص ۹۳)

مرزائیوں کا جواب:

شق (ب) کا جواب یہ ہے کہ گو اسی وقت تک جماعت کا فیصلہ یہی رہا ہے کہ غیر از جماعت کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے لیکن اب اس سال حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر اپنے قلم کی لکھی ہوئی ملی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے جو شخص منکر یا مکذب نہ ہو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ہمارا جواب:

جناب عالی ! یہ تو

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

والا معاملہ ہوا۔ قادیانیوں کا انکوائری کورٹ کے سامنے یہ بیان قطعاً غلط اور فریب دہی کے مترادف ہے کہ ”مسیح موعود کے اپنے قلم کی لکھی ہوئی تحریر اس سال ملی ہے حالانکہ ایسی تحریر انہیں ۱۹۱۵ء میں مل چکی تھی جس کے ملنے کا ذکر انوار خلافت کے ص ۹۱ پر کیا گیا ہے اور اس کے ثبوت میں غلام احمد کے لڑکے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھنے کا واقعہ تحریر بھی کیا جا چکا ہے۔

مرزائیوں کا جواب:

لیکن باوجود جنازہ کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے سابق طریقہ کے غیر احمدی مرحومین کے لئے دعائیں کرنے میں جماعت نے کبھی اجتناب نہیں کیا (رپورٹ) اور آگے چل کر چ معین الدین کے والد اور سر عبدالقادر کے لئے دعا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

صفحہ 144

ہمارا جواب:

کسی موت پر صرف دعا کرنا کون سی انوکھی بات ہے ایسے ہزاروں مواقع پیش آتے رہے ہیں کہ مسلمان کی فوتیدگی کے بعد ہندو اور سکھ وغیرہ غیر مسلم قومیں بھی اس کے حق میں دعاؤں میں شریک ہوتی رہیں۔ حضرت قائداعظم اور قائد ملت کے مزارات پر کئی ہندو اور غیر مسلم افراد نے اپنے عقیدے کے مطابق آپ کے حق میں دعائیں مانگیں اور ایسے ہی گاندھی جی کی سادھ پر ہمارے وزراء کرام اور دیگر سرکاری نمائندگان نے ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ دعا مانگنا آج ایک رسم بن چکی ہے اس سے یہ دلیل اور نتیجہ اخذ کرنا کہ ہم نے فلاں کی میت پر دعا مانگی تھی اور اسے جائز سمجھتے ہیں یہ کسی صورت میں دلیل نہیں بن سکتا کہ قادیانی غیر احمدی کا جنازہ جائز سمجھتے ہیں۔

تو دعا ہی ہے اس میں یہ کیوں شرکت نہیں کرتے اور بالخصوص حضرت قائد اعظم مرحوم کی نماز جنازہ میں چودھری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے کیوں شرکت نہ کی اور وزیر قانون مسٹر منڈل اور دیگر غیر نمائندگان کے ساتھ مسلمانوں سے الگ ہو کر کیوں کھڑے رہے؟ کیا چودھری صاحب کی یہ حرکت اسلامیان پاکستان کے دلوں کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں تھی؟ نماز جنازہ نہ پڑھنے پر جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک پمفلٹ بھی شائع کیا گیا ہے جس میں حضرت قائداعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ چونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ علاوہ ازیں چودھری ظفر اللہ خاں نے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کے متعلق ایک انٹرویو کے دوران جواب دیا معزز جج اس سے مطلع ہو چکے ہیں۔

سوال نمبر ۶:

کیا احمدی اور غیر احمدی میں شادی جائز ہے؟

مرزائیوں کا جواب:

کسی احمدی مرد کی غیر احمدی لڑکی سے شادی کی کوئی ممانعت نہیں البتہ احمدی لڑکی کا غیر احمدی مرد سے نکاح کو روکا جاتا ہے۔

ہمارا جواب:

قادیانیوں کے اس عقیدے کی طرح مسلمانوں کا عقیدہ عیسائیوں کی نسبت ہے کہ عیسائی لڑکی سے مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہے لیکن مسلمان لڑکی عیسائی سے نہیں بیاہی جاسکتی ۔ گویا

صفحہ 145

مسلمان کے نزدیک جو عیسائیوں کا مقام ہے احمدی تمام مسلمانوں کو وہی درجہ اور مقام دے رہے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ جواب ہمارے مطالبہ کی تائید کرتا ہے کہ احمدی مسلمانوں کو وہی درجہ اور مقام دے رہے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ جواب ہمارے مطالبے کی تائید کرتا ہے کہ احمدی مسلمانوں سے ایک الگ قوم اقلیت قرار دیئے جانے چاہئیں کیونکہ وہ خود ہی مسلمان میں شامل نہیں ہیں۔ اگر قادیانی بیاہ شادی کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ عیسائیوں جیسا سلوک کریں تو انہیں اقلیت میں آنے سے کیا عذر ہے؟ اور ویسے بھی قادیانی مسلمانوں کے متعلق رشتہ و ناطہ کے معاملہ میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا سلوک کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے:

”غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ لا سکتا ہے مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا، اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حوالہ عقد میں لا سکتا ہے مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی۔“

(اخبار الحکم ۱۴ اپریل ۱۹۰۸ء واخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۲۰ء)

مرزائیوں کا جواب:

باوجود اس کے کہ اگر احمدی لڑکی اور غیر احمدی مرد کا نکاح ہو جائے تو اسے کالعدم قرار نہیں دیا جاتا۔

ہمارا جواب:

جناب عالی! قادیانی حضرات نے یہاں بھی اصل حقائق کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت یہ کہ مرزائیوں کے ہاں ایسے رشتہ کی سخت ممانعت ہے اور اگر کسی نے قرابت داری یا کسی دوسری وجہ سے احمدی لڑکی کی غیر احمدی مرد سے شادی کر بھی دی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا گیا اور اس کے ساتھ بائیکاٹ کیا گیا۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے بخوبی واضح ہو جائے گا کہ مرزائیوں کے ہاں ایسے رشتے کی کیا پوزیشن ہے؟

غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ ”لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔“ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں میں لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اس کو احمدیوں کی امت سے

صفحہ 146

ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔” (انوار خلافت ص ۹۳ مصنفہ میاں محمود خلیفہ قادیان)

(ب) ”اگر کوئی احمدی غیر احمدی کا جنازہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیر احمدی کو لڑکی دیتا ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے لکھوایا اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہیے۔ فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے آپ کا نہیں۔“ (مکتوب میاں محمود خلیفہ قادیاں اخبار الفضل نمبر ۱۷۱، ۲۰ اپریل جلد نمبر ۸۲۔۸۱)

ج۔ ”چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں کو دے دیے ہیں، اس لئے ان کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا اور وہاں کی جماعت کو ہدایت کی جاتی ہے ان سے قطع تعلق رکھیں۔

سیالکوٹ۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۶ دسمبر ۱۹۳۲ء ناظر امور عامہ قادیاں)

مندرجہ حوالہ جات میں قادیانیوں کے عقائد کی صحیح ترجمانی ہے۔ جب کئی پابندیوں اور مجبوریوں کی بنا پر بھی کوئی احمدی غیر احمدی مرد سے اپنی لڑکی کا نکاح نہیں کر سکتا اور اگر کوئی اس طرح کا رشتہ کر دے تو اس کے ساتھ قطع تعلق کیا جاتا ہے، اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے تو پھر کونسی بات باقی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر احمدی غیر احمدیوں سے رشتہ ناطہ کو جائز سمجھیں اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔

سوال نمبر ۷:

احمدیہ فرقہ کے نزدیک امیر المومنین کی (SIGNIFICANCE) خصوصیت کیا

ہے؟

مرزائیوں کا جواب:

ہمارے امام کے عہدہ کا نام امیر جماعت احمدیہ اور خلیفۃ المسیح ہے لیکن بعض لوگ انہیں

صفحہ 147

امیر المومنین بھی لکھتے ہیں۔ الخ

ہمارا جواب:

جناب عالی! قادیانی حضرت کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جماعت کے امام کو امیر المومنین بعض لوگوں نے لکھنا یا کہنا شروع کر دیا ہے اور یہ کہ جماعتی طور پر امام جماعت احمدیہ کا عہدہ امیر المومنین نہیں بلکہ خلیفۃ المسیح ہے۔ قبل ازیں کہ اصل سوال کا جواب الجواب عرض کیا جائے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے خلیفہ اور امیر کی تشریح کر دی جائے تاکہ بعض بنیادی باتیں ذہن نشین ہو سکیں۔

خلیفہ:

کسی قائم مقام کو کہتے ہیں لیکن عام طور پر یہ لفظ مذہبی جانشین پر استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کی نسبت ایسی ہستی کی طرف ہوتی ہے جس کی یہ شخص نیابت کرتا ہے۔ اسی لئے حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد آپ کے قائم مقام کو خلیفہ کہا گیا اور اسی نیابت کا نام خلافت قرار پایا۔ وہاں دراصل مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص خلیفہ کے فرائض انجام دے جو نبی علیہ السلام کی تقویم دین کے سلسلہ میں مکمل نیابت کر سکے۔

امیر:

امیر کی نسبت کسی فوت شدہ انسان کی طرف نہیں ہوتی بلکہ اس کی نسبت زندہ انسانوں کی طرف ہوتی ہے۔ یہ لفظ اس فوقیت اور قوت کا پتہ دیتا ہے جو اسے باقی انسانوں پر حاصل ہے چونکہ حضرت رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی تھے اور تمام مسلمانوں کے امیر بھی۔ آپ کے بعد آپ کا نائب منصب نبوت کے لحاظ سے خلیفۃ المسلمین کہلایا اور حاکم وقت ہونے کے اعتبار سے اسے امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔

اسلامی طرز حکومت میں جب تک دین کا غلبہ باقی رہا تو مسلمانوں کے حکمران کے لئے یہ دونوں لفظ برابر استعمال ہوتے رہے اور جب مسلمانوں کے انداز حکمرانی میں دنیاوی غلبہ ہو گیا تو پھر خلیفۃ الرسول کی جگہ صرف خلیفۃ المسلمین اور امیر المومنین کا استعمال ہونے لگا۔

اسلامی اصطلاح میں امیر المومنین مسلمانوں کے حکمران کا اسلامی لقب ہے اور اگر امیر کی نسبت کسی خاص جماعت شہر یا فن کی طرف ہو تو وہاں صرف اسی جماعت کا صدر یا اس شہر کا رئیس یا اس فن کا ماہر مراد ہوتا ہے جیسے امیر جماعت اسلامی، امیر شریعت، امیر المومنین فی الحدیث۔ ان میں امیر کی نسبت خصوصی چیزوں کی طرف ہے۔ جیسے رب کے معنی مالک کے ہیں

صفحہ 148

۔ اگر رب کی نسبت کسی ایسی چیز کی طرف ہو جس کا انسان مالک بن سکتا ہے تو رب کی نسبت جائز ہوتی ہے۔ جیسے رب البلد۔ رب ہذا الارض۔ رب ہذا البیت یعنی رئیس شہر اس زمین کا مالک اور گھر کا مالک تو اس طرح رب کی نسبت جائز ہے۔ لیکن رب کی نسبت لوگوں کی طرف ہو جیسے رب الناس اور رب العالمین یا رب السموات والارض جیسی نسبت ہو تو اس صورت میں رب سے مراد صرف خدا تعالیٰ کی ذات اقدس ہو گی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کیونکہ بعض نسبتوں میں انسان بھی رب کی نسبت استعمال کر سکتا ہے لہذا اب وہ رب العالمین یا رب الناس کہلانا شروع کر دے‘ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہ ہوگا۔ ایسے ہی امیر المومنین کا لفظ جب مطلق بولا جائے گا تو اس سے مراد تمام مسلمانوں کا موجودہ حکمران ہوگا۔

۲۔ دوسرا سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ قادیانی حضرات امیر المومنین کا لفظ خوش عقیدگی کی وجہ سے بولتے ہیں یا ایسا باقاعدہ عقیدہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔

اس سلسلہ میں ہماری پہلی دلیل یہ ہے کہ مرزائیوں کی جماعت کی طرف سے جو بھی اعلانات یا ہدایات جاری ہوتی ہیں وہ ان میں خلیفۃ المسیح اور امیر المومنین دونوں استعمال کرتے ہیں معلوم ہوا کہ یہ ایک جماعتی لفظ ہے جو قادیانیوں نے اپنی جماعت کے امیر کو دے رکھا ہے۔

۳۔ قادیانی حضرات نے اپنے انتظامی معاملات میں سرکاری شعبوں کی طرح باقاعدہ شعبے قائم کر رکھے ہیں اور ان عہدیداروں کا ذکر سلطنت کے سرکاری عہدیداروں کی طرح کیا گیا ہے مثلاً ناظر امور خارجہ و داخلہ۔ ناظر دعوت و تبلیغ۔ ناظر تعمیرات۔ ناظر امور عامہ وغیرہ۔

نوٹ:۔ مرزائیوں کے ناظر کا لفظ وزیر کے قائم مقام ہے اسی طرح مرزائیوں کے ہاں امیر المومنین کا مفہوم بھی ان عہدوں جیسا ہے۔

۴۔ قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی بیوی کو ام المومنین اور سیدۃ النساء کا خطاب دیا۔ غلام احمد کے مرید صحابی کہلاتے ہیں۔ خاندان کو اہل بیت کہا۔ قادیان کی ایک مسجد کا نام مسجد اقصیٰ رکھا اور (پاکستان آنے کے بعد ربوہ میں مسجد اقصیٰ بن گئی) مرزا غلام احمد کے خلیفہ کو امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔

غرضیکہ ان تمام شرعی اصطلاحات کو مرزائیوں نے انہی معنی میں استعمال کیا جن معنی میں مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان اصطلاحات کو حضور اکرم ﷺ کی نسبت کی وجہ سے استعمال کیا لیکن ان اصطلاحات کو مرزا غلام احمد کے ساتھ نسبت کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے امیر المومنین بھی ایک اسلامی اصطلاح ہے جو اس معنی میں استعمال کی جاتی ہے

صفحہ 149

جس معنی میں مسلمانان عالم استعمال کرتے ہیں۔

طور پر سامنے آتی ہے کہ مرزائی ساری دنیا میں غالب آنے کے خواب دیکھتے ہیں اس امر کو ملحوظ رکھا جائے تو امیر المومنین کی مراد واضح طور پر سمجھ آسکتی ہے۔ امت مرزائیہ کے سیاسی عزائم کیا ہیں؟ وہ مندرجہ ذیل حوالہ سے بخوبی ظاہر ہوتے ہیں۔

"خوجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہیں مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی کہ ساری دنیا پر چھا جائیں۔ بے شک میمن اور بوہرے بہت مالدار ہیں مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کر دیں گے۔ ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہے کہ انفرادی طور پر مدینے کو خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر ان کے دماغ کے گوشہ میں بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے مگر اس کے مقابلے میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال اور اپنی دولت، اپنی عزت اور اپنی تعداد اور اپنے اثر ورسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شائد تمام منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ مچا دے گی اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہہ و بالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی وہ جماعت احمدیہ ہے۔" (خطبہ میاں محمود صاحب خلیفہ قادیاں مندرجہ اخبار الفضل قادیاں جلد نمبر ۱۵ نمبر ۸۶۔ ۱۷ اپریل ۱۹۲۸ء)

اس ملک کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہے۔ ان حالات میں اگر مرزائیوں کا امیر اپنے آپ کو امیر المومنین کہلائے تو دوسری دنیا یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں ایک امیر المومنین بھی ہے اور پھر اس امیر المومنین کا تعارف قادیانی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خاں کرائیں۔ چوہدری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے مبلغ مرزائیت کا جو پارٹ ادا کر رہے ہیں اس سے قادیانیوں کے جماعتی ترجمان الفضل کی فائل بھری پڑی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں بیرونی دنیا میں مرزا محمود خلیفہ قادیان کے متعلق یہ تعارف کروا رہے ہیں کہ وہ پاکستان کا امیر المومنین ہے۔ اس دلیل کے ثبوت کے لئے مندرجہ ذیل واقعہ کافی ہے اس سے آپ اندازہ کر سکیں گے دنیا اسلام مرزا بشیر الدین محمود کو کیا

صفحہ 150

اہمیت دے رہی ہے؟

مرزائی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خاں نے سلامتی کونسل میں جب مسئلہ فلسطین پر بحث کرتے ہوئے عربوں کی نمائندگی کی تو عرب لیگ کے سیکرٹری نے مرزا بشیر الدین محمود کے نام اس مضمون کا تار بھیجا کہ ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب وزیر خارجہ پاکستان کو مسئلہ فلسطین پر بحث کے اختتام تک یہاں ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔‘‘ (الفضل نومبر ۱۹۴۷ء)

عرب لیگ کے سیکرٹری کا یہ تار بہت سی باتوں کا پتہ دیتا ہے۔

بحث میں حصہ لے اور ہماری نمائندگی کرے۔

ٹھہرنے کی درخواست کو قبول نہ کیا۔

تب جا کر چوہدری ظفر اللہ خاں نے بحث میں حصہ لیا اور پھر عرب لیگ کے سیکرٹری نے شکریہ کا تار مرزا بشیر الدین محمود کے نام ارسال کیا یہ تار اخبار الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کی اشاعت پر پورے پاکستان میں احتجاج کیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین سابق وزیر اعظم پاکستان سے دوران ملاقات اس تار کا ذکر بھی کیا گیا۔

نوٹ:۔ (آپ یہ اخبار الفضل محکمہ پریس برانچ سے طلب کر کے اصل حقیقت حال سے مطلع ہو سکتے ہیں)

مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ چوہدری ظفر اللہ خاں مبلغ مرزائیت کی حیثیت سے جو پارٹ ادا کر رہے ہیں اس کی موجودگی میں مرزا بشیر الدین محمود کا امیر المومنین کہلانا دوسری دنیا میں پاکستان کو کیسی حیثیت میں پیش کیا جاتا ہے۔

آخر میں چند اہم اور ضروری باتیں عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

بلکہ علم اصول کے لحاظ سے تو اجماع امت کو بہت بڑا درجہ حاصل ہے۔

جہاں تک اس عقیدہ کا سوال ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ

صفحہ 151

بند ہے اور ہر مدعی نبوت خارج از اسلام ہے۔ یہ دنیا اسلام کا بنیادی اور اجتماعی عقیدہ ہے۔ گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سال میں کسی بھی فرقہ کی طرف سے ایک رائے بھی اس عقیدہ کے خلاف نہیں پائی گئی اس وقت مسلمانوں کے فروعی غیر اجماعی اختلاف کی آڑ لے کر قطعی اور بنیادی عقیدہ سے انحراف بھی کرنا اور مسلمانوں میں شمار بھی ہونا کسی طرح درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔

جب کسی ملک کے مختلف ہائیکورٹوں کے فیصلہ جات کسی قانونی دفعہ پر متفق ہوں اور اس سے کسی بھی ماہر قانون نے اختلاف نہ کیا ہو تو اس ملک کہ کسی سب جج یا مجسٹریٹ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہائیکورٹ کے متفقہ فیصلے کے خلاف رائے دے بالخصوص ایسے حالات میں جب کسی قانون کے وضع کرنے والے یا اس کے خاص پیش کار نے اس قانون کے وضع کرنے والے ہی سے معلومات حاصل کر کے قانون کی شرح بیان کر دی تو پھر اس سے اختلاف کسی قانون کے واضح سے بغاوت کے مترادف ہوگا۔

دے یہ نہ صرف ناجائز ہی ہے بلکہ اس پر قانون کی اہانت کا مقدمہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ عمل قابل ذکر ہے کہ اسلام نے چند اصطلاحات مقرر کر کے ان کے مفہوم بھی مخصوص کر دیے ہیں تاکہ ان میں کوئی الجھاؤ واقع نہ ہو سکے۔ اب اس کے بعد ان اصطلاحات کے مفہوم میں استعارہ لغت یا مجاز کی آڑ لے کر کوئی تغیر واقع کرنا سراسر ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ اسلامی قانون اپنی ان مخصوص اصطلاحات کو بگاڑنے کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتا مثلاً رحمان، غفور اور ستار وغیرہ اسمائے الٰہی کے معنی مشہور ہیں۔ اب کوئی شخص جس نے کسی پر رحم کیا ہو، کسی قصور وار کو معاف کر دیا ہو یا کسی کے عیب پر پردہ پوشی کی ہو اور وہ شخص یہ دعویٰ کرے کہ قرآن میں مجھے ہی تو یہ تمام نام دیئے گئے ہیں اور اپنے آپ ان حالات کی موجودگی میں رحمٰن، غفور اور ستار کہلانا شروع کر دے تو کیا دنیا کا کوئی عقل مند انسان اس کی اس دلیل کو صحیح اور درست کہہ سکتا ہے۔ یا ایسے ہی ہر چٹھی رساں پیغام رساں اپنے آپ کو نبی (یعنی خبر دینے والا ) اور ہر چپڑاسی اپنے آپ کو رسول (یعنی پیغام پہنچانے والا ) کہلانا شروع کر دے اور لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دینے لگے تو کیا عقل و خرد اسے تسلیم کر کے ان کے استعمال کی اجازت دے دے گی۔

اسلام دراصل اپنی مقدس اصطلاحات اور ان کے مفہوم کی عظمت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اگر ان اصطلاحات پر سے پابندی ہٹا دی جائے جائے تو عظمت ختم ہو جائے گی اور پھر اسلامی نظام بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا۔ اسلام کی قائم کردہ حدود کو جو شخص بھی توڑے گا اسے

صفحہ 152

اس کے جرم کی قرار واقعی سزا دی جائے گی یعنی اگر اسلام سے خارج ہو گیا ہے تو اس کی یہ سزا کیسے معاف کی جاسکتی ہے؟

اس سلسلہ میں ایک اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ علماء کرام ہر مسلمان کو کافر کہتے ہیں اور یہ کہ جب تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں تو ان کا کیا اعتبار ہے معترضین ساتھ ہی یہ آیت بھی پڑھ دیتے ہیں کہ لا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا۔

یہ بات مسلم ہے کہ کسی کی تکفیر کے معاملے میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اسی لئے فقہاء امت نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کے قول میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو اسے پھر بھی کافر نہیں کہنا چاہیے۔ اس سے بڑھ کر احتیاط اور کیا ہو سکتی ہے جو فقہاء امت نے کی مگر یہ فتویٰ بھی ان ہی محتاط لوگوں نے دیا کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی قسم کا دعویٰ نبوت یا مدعی نبوت کی تصدیق موجب کفر اور خروج عن الاسلام ہے۔ اس دور کے علماء کرام نے بھی اس فتویٰ کا اعلان کیا ہے جو ان فقہاء امت نے دیا۔ موجودہ زمانہ کے علماء پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ خواہ مخواہ تکفیر کرتے ہیں صریح ظلم اور عدم واقفیت پر مبنی ہے۔ رہا یہ سوال کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے باہمی ایک دوسرے کی تکفیر کیوں کرتے ہیں اس کا جواب اگرچہ بیانات میں دیا جا چکا ہے لیکن یہاں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فقہاء امت نے اجتماعی طور پر کسی ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا جیسے ہمارے ہاں آج کل مسلمانوں پر عائد کیا جاتا ہے اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ہم بھی حتی الوسع کسی کو خواہ مخواہ کافر کہنے سے گریز کریں۔ کیونکہ یہ فعل ایک شبہ کی بنا پر کیا جاتا ہے اور شبہ میں ملزم کو فائدہ پہنچتا ہے مگر شہادت قطعی کے بعد کسی ملزم کو بری کر دینا اور اس کی دلیل میں کسی دوسرے مقدمہ کی شہادت کے ناقص ہونے کا حوالہ دینا انصاف کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔

جہاں تک اس آیت قرآنی کا تعلق ہے اس میں پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ آیت میں القی السلام فرمایا ہے اسلام نہیں فرمایا۔ جب اسلام کا لفظ ہی نہ بولا گیا ہو تو اس سے مراد یہ لینا کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے تم اسے کافر نہ کہو کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ دعویٰ کے مطابق قرآن کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہو سکا۔ قرآن پاک خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس میں اسلام اور سلام کا کچھ تو بین فرق ہوگا۔

سلام بمعنی دعا یعنی سلامتی اور رحمت ظاہر ہے کہ اسلام ایک مذہب ہے یہاں پر سلام سے مراد یہ ہے اگر کوئی شخص تمہیں السلام علیکم کہے تو تم اس کے غیر مومن ہونے کا دعویٰ نہ کرو۔ اور

صفحہ 153

سلام کہنے والے کی زندگی کی جانچ پڑتال نہ شروع کر دو کہ یہ کہنے والا کیسا ہے اور اس آیت میں یہ بھی نہیں فرمایا کہ اسے تم ضرور مومن سمجھو۔

اس کی تیسری صورت یہ ہے اور ممکن ہو سکتی ہے کہ ہم اس کی نسبت کوئی فیصلہ ہی نہ کر پائیں بلکہ جستجو کریں کہ فی الواقع یہ شخص مومن ہے یا کافر ہے۔ دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی جہاد کے سفر میں مسلمانوں کو ایک چرواہا ملا اس نے مسلمانوں کو السلام علیکم کہا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید یہ شخص کافر ہے اور اس نے اپنے جان و مال کی حفاظت کے لیے اس نے ہمیں السلام علیکم کہا ہے۔ انہوں نے اسے قتل کر کے اس کے مویشیوں اور دیگر مال پر قبضہ کر لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یا ایھا الذین آمنوا لا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا ط

اس آیت میں حکم ہے کہ ایک علامت اسلام کی (یعنی السلام کہنا) پائی گئی تو اس کے غیر مومن ہونے کا حکم نہ دینا چاہیے کسی مسافر پر بلا تحقیق ایسا حکم دینا صحیح نہیں۔ اس آیت میں دو دفعہ فتبینوا فرمایا گیا کہ تحقیق کے بعد جس قسم کا ثبوت مہیا ہو اسی قسم کا حکم لگایا جائے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت نہیں ہوئی کہ جو بھی سلام کہہ دے تم اس پر مومن کا حکم لگا دو۔

ماہیت کا ذکر ہوتا ہے اس میں کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی جاتی اور علامت میں اس کی کسی ایسی صفت کا ذکر کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر یا معلوم کر کے عام لوگ اس چیز کا پتہ لگا لیں مثلاً ایک مسافر دور کسی گاؤں میں مسجد کے مینار دیکھ کر یہ انداز کر لیتا ہے یہ گاؤں مسلمانوں کا ہے لیکن جب مسلمانوں کی تعریف کی جائے گی تو پھر یہ نہیں کہا جائے گا کہ مسلمان وہ ہے جو مسجد والے گاؤں میں آباد ہو مثلاً ایک شخص یقیناً اسے مسلمان سمجھے گا مگر ایسی مونچھیں اور داڑھی اسلام کی تعریف میں شامل نہیں۔ یعنی جب ایک شخص مسلمان ہونا چاہے تو اس کی داڑھی مونچھ درست کر کے اس کے سر پر ترکی ٹوپی رکھ دینے سے ہی وہ مسلمان نہیں ہو جائے گا اس کے لئے اسلام نے جو طریقے بتائے ہیں اور جن چیزوں کے اقرار کرنے کی تاکید فرمائی ہے وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔

اس تمہید کے بعد یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ اسلام کی تعریف اور ہے اور سلام یا مسلمان کی علامت اور۔ علامت کا دارومدار حقیقت پر نہیں ہوتا بلکہ عرف عام پر ہوتا ہے۔ نبی علیہ السلام کے زمانہ میں مسلمانوں کو بعض علامتیں بتا دی جاتی تھیں کہ مسلمان کی علامت یہ ہے تا کہ وہ غلطی سے مسلمان آبادی پر شب خوں نہ ماریں۔ ان علامتوں میں حضور علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا

صفحہ 154

کہ کسی قوم پر حملہ کے لئے صبح کا انتظار کرنا اور ان کی آبادی سے آذان کی آواز آجائے تو انہیں مسلمان سمجھنا مگر جب کسی کافر کو مسلمان بنانا ہو تو اس کے متعلق یہ فرمایا گیا کہ ان سے اس امر کا اقرار لینا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد رسول ﷺ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں لیکن جو شخص پہلے سے مسلمان ہے اس کو پہچاننے کے لئے علامت کی ضرورت ہوگی اور اس علامت کا مدار عرف عام پر ہوگا۔ حضور علیہ السلام کی حدیث من صلی صلواتنا واستقبل قبلتنا میں مسلمان کی تعریف نہیں بلکہ علامت کا ذکر کیا گیا ہے۔

جانا۔ یہ دو جدا جدا امر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے جن امور کا ماننا ضروری ہے اسلام سے خارج (کافر ہونے) ہونے کے لیے ان سب کا انکار ضروری نہیں بلکہ کسی ایک امر کا انکار ضروری ہے۔ مثلاً جب ہم مسلمان کی تعریف یہ کریں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ایک اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر برحق تسلیم کرے اب خروج از اسلام کے لیے دونوں کا انکار ضروری نہیں بلکہ محض ایک کا انکار بھی موجب کفر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ ان کے تمام احکام کو درست تسلیم کرنا ضروری ہے اور محمد ﷺ کو رسول ماننے کے ساتھ آپ کے لائے ہوئے ہر پیغام کو صحیح تسلیم کرنا بھی ضروری۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کو ماننے کا مطلب ان کے ہر پیغام کو ماننا ہے لیکن جو شخص مسلمان ہونے کے بعد خدا اور رسول خدا علیہ السلام کے کسی ایک قطعی حکم کا بھی انکار کردے تو وہ شخص خارج از اسلام و کافر ہوجائے گا۔

ایک شبہ کا ازالہ

ایک شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں احکام تو بہت ہیں مثلاً نماز پڑھنا، داڑھی رکھنا، مسواک کرنا، بیٹھ کر پیشاب کرنا وغیرہ کیا ان میں سے کسی ایک حکم کو چھوڑ دینے سے آدمی مسلمان نہیں رہ سکتا اگر درست تسلیم کرلیں تو پھر مسلمان کون رہے گا؟

الجواب:

اول یہ جاننا چاہئے کہ انکار کرنا اور ترک کرنا ایک بات نہیں بلکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایمان یقین کا نام ہے اور کفر مکر جانے کا نام ہے۔ ترک نام ہے کسی حکم کو بجا نہ لانے کا۔ جب کوئی آدمی اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام احکام کو صحیح اور درست ہونے پر یقین رکھتا ہو وہ مسلمان ہے اور جب تک ان کے متعلق یقین رکھے گا وہ مسلمان ہی رہے گا چاہے وہ کسی حکم پر عمل نہ بھی کرے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ چاہے کمزور سے کمزور تر ہو اور اگر وہ کسی ایک

صفحہ 155

بات کا ہی انکار کر دے تو اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ کی بتائی ہوئی ہر بات نبی کے ذریعے سے معلوم ہوتی ہے۔ کسی بات کا انکار کرنا اس بات کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے۔ جب نبی کی بتائی ہوئی کسی بات کو جھوٹ قرار دے دیا تو گویا اس شخص نے نبوت کا ہی انکار کر دیا کیونکہ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نبی تو ہے مگر وہ اللہ کی طرف جھوٹ بھی منسوب کرتا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم نقطہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مسلمان کو یہ سزا دینا کہ وہ کافر ہو گیا ہے سب سے بڑی سزا ہے۔ اس کے لئے شہادت قطعی ضروری ہے یعنی جس چیز کے انکار سے کفر کا فتویٰ دیا جائے گا اس کا یہ ثبوت کہ اللہ تعالیٰ یا محمد رسول ﷺ کا حکم ہے کسی قطعی دلیل سے ہونا شرط ہے ظاہر ہے کہ قرآن کریم سب فرقوں کے نزدیک قطعی الثبوت ہے تو قرآن کریم کے کسی بھی حکم کا انکار (یعنی اس کو جھوٹا سمجھنا ) سارے قرآن کے انکار کو مستلزم ہے جو شرعی باتیں دلیل ظنی سے ثابت ہوں یعنی حدیث پاک سے اور حد تواتر کو نہ پہنچیں اور نہ ہی اس پر اجماع ہو اس کے انکار سے کفر لازم نہ آئے گا۔ بلکہ فسق کا درجہ ہوگا کیونکہ ایسی شرعی بات کی نسبت یہ سمجھنا کہ وہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمودہ ہے۔ یقین نہیں بلکہ گمان غالب ہے لہذا آخری سزا نہیں دی جاسکتی۔ ہاں وہ بات جس وقت نبی علیہ السلام نے فرمائی تھی اگر کوئی شخص اس وقت حضور علیہ السلام کے منہ سے سن کر انکار کرتا تو کافر ہو جاتا۔ کیونکہ آپ سے سن کر انکار کرنا نبوت سے انکار کو مستلزم ہے۔ نتیجہ یہ کہ اسلام نام ہے اللہ اور رسول علیہ السلام کے جملہ فرمانوں کو صحیح اور درست یقین کرنے کا اور کسی قطعی الثبوت بات کے انکار کر دینے کا نام کفر ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد کی نبوت فرضیت نماز وغیرہ قرآن کی قطعیت سے ثابت ہے اسی طرح یہ بات کہ آپ آخری نبی ہیں اور آپ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا باجماع امت قرآن کریم سے قطعی طور پر ثابت ہے اس لئے جس طرح توحید یا نفس رسالت محمدیہ کا منکر کافر ہے اس طرح آپ کو آخری نبی نہ ماننا یا آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت کے اجزاء کو درست سمجھنا یا دعویٰ نبوت کرنا یا ایسا دعویٰ کرنے والے کو اس کے دعاوی میں سچا سمجھنا موجب کفر ہو گا اور اس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے۔

یہ بات کہ مسلم کی تعریف کیا ہے اور کیا موجودہ زمانہ میں علماء کا کسی تعریف پر اتفاق ہے مجھے یقین ہے کہ آج بھی علماء اصولاً تعریف مسلم پر متفق ہیں قبل اس کے کہ اس کی تعریف کی جاوے چند امور ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں ......

صفحہ 156

ہے۔

اصطلاحات کا جاننا ضروری ہے اور اصطلاحات کے استعمال کے لیے ان کے اسباب ہوتے ہیں ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔

مسلمان کی تعریف

اللہ تعالیٰ کو ایک اور محمد رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننا۔ جب اللہ تعالیٰ کو ایک مان لیا تو گویا وہ لاشریک ہوا اور اس کے جملہ احکام سچے ہوئے۔ جب پیغمبر علیہ السلام کو سچا رسول مان لیا تو گویا جو باتیں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر (نبی کوئی بات بغیر اطلاع ربانی نہیں کرتا) آپ نے بیان فرمایا سب کو درست تسلیم کیا۔ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ماننا یہ ہے کہ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کے جملہ فرمان سچے ہیں اور پیغمبر کو ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کا یہ دعویٰ کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ بنی نوع انسان کی طرف ہدایت دے کر بھیجا گیا ہوں درست ہے اور آپ کے جملہ احکام اور ہدایات صحیح ہیں۔

اب قرآن و سنت اور اجماع صحابہ و امت سے مسلمان کی مختلف موقعوں پر منقول تعریفیں نقل کی جاتی ہیں۔ اصل تعریف میں کوئی اختلاف نہ ہوگا بلکہ کسی جگہ اجمال کسی جگہ تفصیل کسی جگہ تعمیم بعد از تخصیص اور کسی جگہ تخصیص بعد از تعمیم یا مکملات ایمان یا کسی جملہ کی شرح درج ہوگی مسلمان وہ ہے جو زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے کہ:

تعالى والبعث بعد الموت۔

الصلوۃ ومما رزقنهم ينفقون والذين يؤمنون بما انزل الیک وما انزل من

صفحہ 157

قبلك و بالاخرة هم يوقنون ۝

ورسله لا نفرق بين احد من رسله ...... الخ

الذى نزل على رسوله والكتاب الذى انزل من قبل ومن يكفر بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الاخر فقد ضل ضلالا بعيدا ۝

ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون فان امنوا بمثل ما امنتم به فقداهتدوا و ان تولوا فانما هم فى شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم۔

الزکوة وتصوم رمضان وتحج البيت ان استطعت اليه سبيلا (حديث)

وشرهـ

واقام الصلوة وايتاء الزكوة والحج وصوم رمضان (الحديث)

ادائیگی فرض

ایسا ہی ایک مخلص کارکن نے چنڈ ضلع جھنگ سے اس وقت دفتر مرکزیہ کو خط لکھ کر درخواست کی جب کہ حضرت مولانا محمد لقمان صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب چنڈ اسٹیشن اتر کر چودہ میل پر کسی گاؤں میں تبلیغ کے لیے جا رہے تھے۔ بارش زور سے ہو چکی تھی۔ جلسہ کے منتظمین نے راستہ خراب دیکھ کر خیال کیا کہ ایسے میں علماء کرام کیا تشریف لائیں گے۔ اس لیے سواری نہ بھیجی لیکن منتظمین جلسہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ علماء کرام بارش کے پانی اور راستہ کے کیچڑ کا خیال کئے بغیر اپنی اپنی کتابیں سروں پر اٹھائے تبلیغ و اشاعت اسلام کے لیے موضع میں پہنچ گئے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں جملہ مبلغین کو پیش آئیں۔ بالخصوص مولانا محمد شریف صاحب بہاولپوری نے بہت ایثار کا ثبوت دیا۔

(تحریک ختم نبوت، ص ۱۰۳ از مولانا اللہ وسایا)

صفحہ 158

قادیانی اپنا نام مسلمانوں جیسا نہیں رکھ سکتے

ایک اہم فتویٰ

..................... سائل:- اسرار محی الدین احمد صدیقی

س کچھ قادیانی مرزائی اور لاہوری گروپ کے ماننے والے جو حکومت کے ایک صنعتی ادارے میں کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے اہل دین کا یہ مطالبہ ہے۔ کہ

سروس ریکارڈ میں، ان کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔

ان کے ناموں سے محمد اور احمد حذف کر دیا جائے۔

اس سلسلے میں مندرجہ بالا شق نمبر ۱ اور نمبر ۳ پر گورنمنٹ کے آرڈینینس نمبر ۲۰۔۱۹۸۴ جس کی فوٹو کاپی منسلک ہے۔ وضاحت کرتا ہے مگر شق نمبر ۲ پر خاموش ہے براہ کرم رہبری فرمائیے۔ نوازش ہو گی۔

ج استفتاء میں ذکر شق نمبر ۱۔ ۳ کے بارے میں حکومت پاکستان آرڈینینس جاری کر چکی ہے اس کے عملی نفاذ اور صنعتی اداروں کے سروس ریکارڈ میں اس پر عمل درآمد کے لئے ہر شخص کی کوشش ہونی چاہیے اور پوری امت کو مطالبہ کرنا چاہیے۔ نیز شق نمبر ۲ یعنی مرزائی (قادیانی یا لاہوری) کے نام مسلمانوں کے مشابہ نہ ہوں یہ مطالبہ بھی درست ہے بلکہ فقہاء کرام کی عبارات سے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذمی کو بھی کوئی ایسا عمل یا قدم اٹھانے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے اہل اسلام کے ساتھ ان کی کوئی بھی مشابہت ظاہر ہو حتی کہ ذمی کو مسلمانوں جیسا لباس تک پہننے کی اجازت نہیں جبکہ نام کی مشابہت تو زیادہ اہم اور خطرناک ہے۔ نیز یہ کہ یہ معاملہ تو ذمی کے ساتھ ہے جو کہ مسلمان حکومت میں اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہوئے حکومت کے تمام قوانین کا احترام کرے اور جزیہ ادا کرے قادیانی تو مرتد اور زندیق اپنے آپ کو مسلمان

صفحہ 159

کہتے ہیں اہل اسلام کی صف میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں حکومت پاکستان کے کسی قانون کو تسلیم نہیں کرتے اسی بناء پر ان کے لئے اس چیز کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ یہ لوگ کوئی ادنیٰ مشابہت بھی اہل اسلام کے ساتھ اختیار نہ کریں۔ (وتميز الذمى الخ) حاصله أنهم لما كانوا المغالطين اهل الاسلام فلا بد من تمييزهم عنا - کی لا يعامل معاملة المسلم من التوقير والاجلال و ذالك لا يجوز - ردّالمختار ص ۲۹۹ ج ۳ القول وكل كافر فی حكم الذمى عدم استعماله شعائر المسلمين محمد خالد امین چنیوٹی دارالافتاء علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

الجواب صحیح مفتی اعظم پاکستان (مفتی ولی حسن)

کیا قادیانیوں سے تعلقات اور میل جول رکھنا جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ ہمارے گاؤں پریم کورٹ (تحصیل ہٹیاں ضلع مظفر آباد آزاد کشمیر) میں کچھ با اثر قادیانی رہتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے ایسا میل جول اور ایسے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جیسا کہ مسلمانوں کے آپس میں باہمی تعلقات ہوتے ہیں مسلمان اور قادیانی کھلے عام ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔

دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا مسلمان قادیانیوں کے ساتھ اس قسم کے تعلقات رکھ سکتے ہیں؟ اور جو لوگ جان بوجھ کر یہ کردار ادا کر رہے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

(المستفتی نسیم خان پریم کورٹ آزاد کشمیر)

صفحہ 160

جواب منجانب دارالعلوم امجدیہ کراچی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جواب: قادیانی دعوائے نبوت کرنے اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ پر بہتان وافترا باندھ کر قرآن کریم کی تکذیب کر کے ایسا کافر ہے کہ اس کے کفر پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اور پاکستان میں اسے غیر مسلم قرار دے دیا گیا اس کے باوجود بے حیائی اور ڈھٹائی سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اس لئے اس کے احکام کافر حربی معاہد کے نہیں ہیں بلکہ مرتد کے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتداء میں جب بچہ بولنا شروع کر دیتا ہے تو ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اس کو کلمہ سکھاتا ہے۔ اس کے بعد جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے عقائد آہستہ آہستہ سیکھتا ہے اور بچہ جب سمجھدار ہو جائے تو اس کا اسلام معتبر ہو جاتا ہے اس کے بعد جب عقائد کفریہ سیکھتا ہے اور ان پر اعتقاد رکھتا ہے تو کافر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ مرتد ہوا۔ حکومت اسلامی میں کافر و مرتد کے احکام میں فرق ہے۔ کافر سے معاملات جائز ہیں۔ مرتد سے معاملات بھی جائز نہیں ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو قادیانیوں سے ملنا جلنا ان کے ساتھ کھانا پینا۔ سلام و کلام اور محبت کے تعلقات قائم کرنا جائز نہیں۔ خرید و فروخت وغیرہ کسی قسم کے معاملات کرنا بھی جائز نہیں ہیں لہٰذا جو لوگ جان بوجھ کر قادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کا معاملہ کرتے ہیں وہ سخت گناہگار ہیں اور قرآن کریم کی اس وعید میں داخل ہیں۔ ومن یتولھم منکم فانہ منھم یعنی تم میں سے جو بے دینوں، غیر مسلموں سے دوستی اور معاملہ کرے وہ انہی میں سے ہے اور ان کا عمل قرآن کریم کی اس آیت کے بھی خلاف ہے فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظالمین یعنی نصیحت آ جانے کے بعد کافروں کے ساتھ مت بیٹھو۔

دارالافتاء جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی

قادیانی کافر محارب ہیں ان سے تعلقات رکھنا مسلمانوں کی طرح ناجائز و حرام ہیں اور جو لوگ جان بوجھ کر ان سے مسلمانوں کی طرح تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ شدید درجہ کی گمراہی میں ہیں قادیانیوں سے جہاں تک ممکن ہو سکے دور رہنا تعلق نہ رکھنا ضروری ہے۔

صفحہ 161

جامعہ اہل حدیث کورٹ روڈ کراچی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و ھو الموفق للصواب:-

تمام مسلمانوں کا بالاتفاق عقیدہ ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں ان کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا وحی کا انقطاع ہو گیا اب کوئی نبی نہیں آئے گا جو بھی نبوت کا مدعی ہے وہ کذاب اور مفتری ہے ارشاد ربانی ہے ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (الاحزاب) ۴۰۔ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ۔ وانا خاتم النبین رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں دوسری ابن خزیمہ کے الفاظ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ثابت ہوا کہ سلسلہ نبوت حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو گیا اور دین مکمل ہو گیا۔ جب تک رسول اکرم ﷺ زندہ رہے آپ دین اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے۔ آپ کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری حضرات علماء کے سپرد کی گئی چنانچہ بخاری شریف میں ہے۔

ان العلماء ورثۃ الانبیاء کہ علماء انبیا علیہم السلام کے وارث ہیں قادیانی چونکہ رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبین تسلیم نہیں کرتے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ نبوت کا سلسلہ جاری و ساری سمجھتے ہیں اور نصوص قرآن و حدیث صحیحہ کے خلاف نظریہ رکھتے ہیں اس لئے وہ کافر اور خارج از اسلام ہیں مرتد ہیں ان کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کے گھروں سے کھانا بھی جائز نہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اس کے مقابلے میں لشکر ارسال کیا اور اسے تہ تیغ کیا پس قادیانی چونکہ مرتد ہیں۔ اس لئے واجب القتل ہیں کجا کہ وہ اسلامی حکومت کے زیر سایہ رہیں شریعت اسلامیہ میں اس کا کچھ جواز نہیں چہ جائیکہ ان کے ساتھ تعلقات رکھے جائیں اور ان کی عزت کی جائے ۔ چونکہ قادیانیوں کا نبوت کو جاری سمجھنا اہانت رسول اللہ ﷺ کے مترادف ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اہانت کرنے والا واجب القتل ہے۔ تفصیل کے لئے الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ پس اہانت رسول کرنے والوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا بھی ان جیسا ہے۔

صفحہ 162

استفتاء

کیا مرزائی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے؟ از مجلس تحفظ ختم نبوت تغلق روڈ ملتان

منجانب خیر المدارس ملتان

اور کفار کے قبرستان علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں اور تعامل امت حجۃ قطعیہ ہے لہذا مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔

مسلمانوں کے قبرستان میں جائز نہیں اور وہ الفاظ یہ ہیں السلام علیکم دار قوم مومنین۔‘‘ اضافت دار مومنین کی طرف علامت تخصیص ہے۔ اور یہ الفاظ حدیث میں وارد ہیں۔

(شامی ۸۴۴)

تو فقہا فرماتے ہیں کہ ان کو بھی علیحدہ دفن کیا جائے۔ ہر چند ان میں مسلمان بھی ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے لامحالہ کافر بھی دفن ہوں گے اور یہ جائز نہیں۔

فقہا فرماتے ہیں۔ کہ اس کو بھی مسلمانوں کے قبرستان سے علیحدہ دفن کیا جائے کیونکہ جب تک بچہ اس کے پیٹ میں ہے اسی کا جز ہے اور وہ کافر ہے لہذا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے یہ صراحت ہے اس بات کی کہ غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا کسی حالت میں جائز نہیں۔

ایک اہم سوال:-

ایک سوال اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کا جواب

صفحہ 163

سوال: آپ سے ایک اہم دینی مسئلہ کے بارے میں چند سوالات کرنے ہیں۔ یہ مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ پوری امت کا ہے۔ بدقسمتی سے دین سے دوری کے باعث امت دن بہ دن دینی حمیت اور دینی غیرت سے بھی عاری ہوتی جارہی ہے۔ ایک ایسا عقیدہ جو ہماری ”ضروریات دین“ میں سے ہے اس کو ایک چھوٹا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور رونا یہ ہے کہ یہ طرز عمل ان لوگوں کا ہے جو معاشرے میں معزز اور دیندار سمجھے جاتے ہیں۔ نماز، روزہ کے پابند ہیں۔ وہ مسئلہ دراصل ختم نبوت کا ہے۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ قادیانی جو باجماع امت کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔ ان کو آیا ایک مسلمان کاروباری ادارہ میں ملازم رکھا جا سکتا ہے اور کوئی اہم کلیدی عہدہ دیا جا سکتا ہے؟ حکومتی ادارہ کی بات نہیں ہو رہی بلکہ پرائیویٹ اداروں کی بات ہو رہی ہے۔ کیا مسلمان اس بات کو گوارہ کر سکتا ہے کہ اس کے ادارہ میں ایسا شخص پل رہا ہو جو جھوٹے نبی کا پیروکار ہو اور اس کی تنخواہ جو اسے دی جاتی ہو وہ حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو؟ اس ادارہ کے مالکان جو قادیانیوں کو اپنے ہاں ملازم رکھتے ہیں کا طرز عمل قرآن و حدیث کی روشنی میں کیسا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسے ادارہ کے دیگر ملازموں پر کیا فرض عائد ہوتا ہے۔ اگر مالکان کو سمجھانے کے باوجود مالک اس قادیانی کو نکالنے پر تیار نہ ہوں تو کیا دینی حمیت اس بات پر مجبور نہیں کرتی کہ ایسے قادیانی افسر کے ماتحت کام نہ کیا جائے اور استعفیٰ دے دیا جائے گا؟ ایسی صورت میں اللہ جل شانہ اور حضور ﷺ سے سچی محبت کیا تقاضا کرتی ہے؟ دراصل ایک شخص نے اپنے مالکان کو قادیانی فتنے کے بارے میں سمجھایا پر وہ نہ سمجھا اور قادیانی کو اپنے ہاں نوکری سے الگ کرنے پر تیار نہ ہوا لہٰذا اس شخص نے نوکری یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ میں قادیانی کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔ اب باقی دنیا والے جن میں بڑے دیندار لوگ بھی ہیں اس بات پر شدت سے نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں کیا۔ وہ قادیانی ہے تو اپنی جگہ تمہارا کیا لیتا ہے۔ آخر ہندو، پارسی، سکھ، کھوجے اور دوسرے غیر مسلم بھی تو ہیں۔ بہت سمجھایا لیکن نہیں سمجھتے۔ اب آپ سے رجوع کیا ہے۔ براہ کرم اس مسئلہ کا مفصل حل لکھیں اور اسے ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے کالم میں ضرور چھپوا دیں۔ میں آپ کا بہت مشکور رہوں گا۔

(اعجاز محمود‘ کراچی)

جواب: قادیانیوں کو اداروں میں کام کی اجازت دینا دو وجہ سے ناجائز ہے۔ اول یہ کہ قادیانی مرتد اور زندیق ہیں اور شرعی حکم کے مطابق واجب القتل ہیں اس لئے ان کا حکم

صفحہ 164

دوسرے کافروں سے مختلف ہے۔ کسی مرتد کو مسلمانوں کے اداروں میں ملازم رکھنا ناجائز ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر قادیانی اپنی تنخواہ کا ایک حصہ اپنے کفر و ارتداد کی تبلیغ پر خرچ کرتا ہے۔ ان کو ملازم رکھنا گویا بالواسطہ ان کی ارتدادی مہم میں اعانت کرنا ہے۔ جس شخص نے سیٹھ کے اس غلط طرز عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دیا اس نے اسلامی اور ملی غیرت کا ثبوت دیا۔ جو لوگ اس پر نکتہ چینی کرتے ہیں ان کا موقف غلط ہے۔

مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں

کو دفن کرنا جائز نہیں

مولانا محمد عبداللہ کلام

سوال: اگر کوئی امام کسی مرزائی کا جنازہ پڑھا دے اور امام کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ وہ مرزائی ہے جبکہ محلے کے مسلمانوں کو معلوم تھا کہ یہ مرزائی ہے اور کفن دفن کا انتظام بھی محلے والے مسلمانوں نے کیا ہے اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفنا دیا ہے۔

مسلمانوں کا مذکورہ مرزائی کے ساتھ یہ معاملہ کرنا کیسا ہے؟ نیز امام کے جنازہ پڑھانے سے اس کا نکاح باقی ہے یا ٹوٹ گیا؟ اور اسی طرح ان مسلمانوں کا نکاح (جنہوں نے اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، مرزائی کا علم ہونے کے باوجود) باقی ہے یا ٹوٹ گیا۔ براہ کرم دلائل سے جواب عنایت فرمائیں۔

مستفتی غوث بخش بکھر

الجواب باسمہ تعالیٰ

صورت مسئولہ میں اولاً یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مرزائی باتفاق علمائے امت کافر محارب، زندیق اور مرتد ہیں۔ ان کو کسی بھی اعتبار سے عزت اور شان کا مرتبہ نہیں دینا چاہیے اور اسلام کی غیرت ایک لمحہ کے لئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ رکھا جائے۔ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے ساتھ کلیتہً قطع

صفحہ 165

تعلق کا حکم دیا گیا ہے۔

چنانچہ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہے:۔

ياايهاالذين امنوا لاتتخذوا اليهود والنصرٰى اولياء بعضهم اولياء بعض ومن يتولهم منكم فإنه منهم ان الله لايهدى القوم الظلمين۔ (۵۱)

اے ایمان والو! مت بناؤ یہود اور نصاریٰ کو دوست، وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے، اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے۔ اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو۔

اس آیت کے تحت امام ابو بکر جصاص رازیؒ ”تفسیر احکام القرآن“ میں لکھتے ہیں۔

وفى هذه الآية دلالة على ان الكفار لايكون ولياً للمسلمين لا فى التصرف ولا فى النصرة وتدل على وجوب البرائة عن الكفار والعداوة بهم لان الولاية ضد العداوة فاذا اَمَرَنَا معادات اليهود والنصرى لكفرهم فغيرهم من الكفار بمنزلتهم والكفر ملة واحدة ج ۲ ص ۴۴۴

اس آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہو سکتا ۔ نہ تو معاملات میں اور نہ امداد وتعاون میں اور اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کافروں سے برأت اختیار کرنا اور اس سے عداوت رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ ولایت عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود و نصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے تو دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں کیونکہ سارے کافر ایک ہی ملت کے حکم میں ہیں۔

نیز دوسری جگہ سورۂ انعام میں حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے۔

صفحہ 166

واذا رايت الذين يخوضون فى آيتنا فاعرض عنهم حتى يخوضوا فى حديث غيره ط واما ينسينك الشیطن فلا تقعد بعدالذكرى مع القوم الظالمين (۶۸)

اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو کہ جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے تجھ کو شیطان تو مت بیٹھ یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ

اس آیت کے ذیل میں امام ابو بکر جصاص رازیؒ رقم طراز ہیں۔

وهذا يدل على ان علينا ترك مجالسة الملحدين وسائر الكفار عند اظهار ہم الكفر والشرك وما لا يجوز على الله تعالى اذا لم يمكنا انكاره۔ (ج ۳ ص ۲)

یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور تمام کفار سے جب ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ پر ناجائز باتیں کہنے کی روک تھام نہ کر سکیں تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دیں۔

مندرجہ بالا عبارات کی رو سے معلوم ہوا کہ قادیانیوں کے ساتھ مکمل قطع تعلق کرنا چاہئے۔ رہا یہ سوال کہ اگر کسی کا کوئی رشتہ دار قادیانی ہو اور وہ مر جائے تو اس کی تجہیز و تکفین کی کیا صورت ہو گی؟ اور اسلامی نقطہ نظر سے ایسے شخص کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ چونکہ یہ سوال بہت سارے ذہنوں کی خلش کا ذریعہ ہے اس لئے ذیل میں ہم مختصراً ان کو بیان کئے دیتے ہیں۔

جائے۔ اس صورت میں کسی مسلمان کو اس کی تجہیز و تکفین میں شرکت کرنا درست نہیں۔

اس طرح دیا جائے جیسے ایک ناپاک کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے۔ مگر ان میں سے کسی کام میں بھی سنت کی رعایت نہ کی جائے بلکہ یہ سارے کام سر سے بوجھ کو اتارنے کے لئے انجام دیئے جائیں۔

چنانچہ درمختار علی ہامش ردالمحتار میں ہے:-

صفحہ 167

فیغسلہ غسل الثوب النجس ویلفہ فی خرقة.

(ج ۱ ص ۲۵۷)

اسے اس طرح (کراہت) سے غسل دیا جائے جیسے ناپاک کپڑے کو دھو لیا جاتا ہے اور اسے کسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے۔

اسی وجہ سے فقہا نے لکھا ہے کہ مرتد کو مسنون طریقے سے غسل و کفن دینا ممنوع اور گناہ ہے۔ چنانچہ فتاویٰ خیریہ میں ہے۔

فان راعی ما نصت العلماء علیہ فی غسل المسلم و تکفینہ ودفنہ فقد ارتکب محظورا بلا شک لانہ ممنوع عنہ شرعاً ـ ج ۱ ص ۱۳

اگر کسی شخص نے کسی غیر مسلم کی تجہیز و تکفین اور دفن میں علماء کے ذکر کردہ امور مسنونہ کی رعایت کی جو مسلمان کے لئے ہیں تو وہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ کیونکہ بلاشبہ ان تمام امور کی رعایت کفار کے حق میں ممنوع ہے۔

جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں جیسا کہ سورۂ توبہ میں ارشاد ربانی ہے:-

ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انہم کفروا باللہ ورسولہ وماتو وہم فاسقون (۸۴)

اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسولؐ سے اور وہ مر گئے نافرمان

اس آیت کے تحت امام جصاصؒ تفسیر ”احکام القرآن“ میں لکھتے ہیں:-

وحظرہا (ای الصلوٰة) علی موتی الکفار الخ ج ۳ ص ۱۴۴

اور اس میں کفار کے موتیٰ پر جنازہ پڑھنے کی ممانعت ہے۔

پس جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے اگر وہ اس کے عقائد سے واقف تھے کہ یہ شخص مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہے‘ اس کی وحی پر ایمان رکھتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا منکر ہے اس علم کے باوجود اگر انہوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس کا جنازہ پڑھا تو ان تمام لوگوں کو جو جنازے میں شریک تھے اپنے ایمان

صفحہ 168

اور نکاح کی تجدید کرنی چاہیے۔ کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اسلام سمجھنا کفر ہے۔ اس لئے ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی باطل ہو گیا۔ ان میں سے کسی نے اگر حج کیا تھا تو اس پر دوبارہ حج کرنا بھی لازم ہے۔

چنانچہ بحر الرائق میں ہے:۔

والاصل ان من اعتقد الحرام حلالاً فان كان حراماً لغیره کمال الغير لا یکفر وان کان دلیله قطعیا کفر وا لافلا وقيل التفصيل في العالم، اما الجاهل فلا يفرق بين الحلال والحرام لعينه ولغيره وانما الفرق في حقه انما كان قطعياً کفر به والا فلا يكفر اذا قال الخمر ليس بحرام (ج ۵ ص ۱۲۲-۱۲۳) والہندیہ ج ۲ ص ۲۷۲

(تکفیر کے باب میں) قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو شخص کسی حرام چیز کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو۔ اور وہ شی فی نفسہ حرام نہیں (جیسے غیر کا مال) تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا اور اگر وہ چیز فی نفسہ حرام ہے تو اس کے حلال ماننے والے کو کافر کہا جائے گا۔ بشرطیکہ اس کی حرمت قطعی دلیل سے ثابت ہو (جیسے شراب خنزیر وغیرہ) ورنہ نہیں۔ حضرات علماء میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ تفصیل اس شخص کے لئے ہے جو حرام لعینہ حرام لغیرہ کے فرق کو سمجھتا ہو۔ لیکن جو اس فرق کو نہیں سمجھتا اس کے لئے اصول یہ ہے کہ اگر کسی امر قطعی کی حرمت کا انکار کرے تو کافر ہو جائے گا ورنہ نہیں۔ جیسے اگر کوئی کہے کہ شراب حرام نہیں تو اس کو کافر کہا جائے گا۔

البتہ اگر امام صاحب کو میت کا مرزائی، کافر اور مرتد ہونا معلوم نہ تھا اور لاعلمی میں مسلمان سمجھ کر نماز جنازہ پڑھا دی تو ان کو تجدید ایمان و تجدید نکاح کی ضرورت نہ ہو گی۔ یہی حکم ہر اس شخص کا ہو گا جس نے لاعلمی میں اس جنازے میں شرکت کی البتہ بے احتیاطی ہوئی کیونکہ تحقیق نہیں کی گئی اس لئے توبہ و استغفار کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ۵ شمار ۴۰۱)

صفحہ 169

حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی

اور مرزا قادیانی

مولانا مفتی نسیم احمد صاحب فریدی امروہی

حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی رحمۃ اللہ علیہ (م۱۳۳۰ھ) حضرت قاسم العلوم والمعارف کے ارشد تلامذہ میں سے تھے‘ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔ تحریر و تقریر میں اپنے استاذ معظم سے بہت مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کو تصویر قاسم کہا جاتا تھا۔ حضرت مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ہی کے زمانے میں وہ کافی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ مدرسہ اسلامیہ خورجہ اور مدرسہ عبدالرب دہلی میں مسند صدارت پر فائز رہے بعدہ ۱۲۹۶ھ میں وہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ کے ایماء سے مدرسہ شاہی مراد آباد کے سب سے پہلے صدر المدرسین ہوئے۔ ۱۳۰۳ ہجری میں مدرسہ شاہی سے مستعفی ہو کر مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کی داغ بیل ڈالی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مدرسہ بام عروج پر پہنچ گیا اور ملک و بیرون ملک سے جوق در جوق تشنگان علوم اس دارالعلم میں آتے رہے۔ حضرت محدث امروہی رحمۃ اللہ کی شخصیت اور حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ کی نسبت کی وجہ سے یہ مدرسہ بھی دیوبند اور سہارنپور کے مدارس سے کسی طرح کم نہ تھا۔ حضرت محدث امروہی رحمۃ اللہ کے شاگرد رشید جو حضرت نانوتویؒ اور حضرت گنگوہیؒ کے بھی شاگرد نیز حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ و مجاز یعنی مفسر قرآن حضرت مولانا حافظ عبدالرحمٰن صدیقی محشی بیضاوی‘ حافظ عبدالغنی صاحب پھلاؤدیؒ اور دیگر با کمال اساتذہ نے اس مدرسہ کو حضرت امروہیؒ کی رفاقت میں چلایا۔ استاذ القراء حضرت قاری ضیاء الدین الٰہ آبادی نے اس مدرسہ میں درس تجوید دیا اور یہیں دورۂ حدیث پڑھ کر سند فراغ حاصل کی۔ مولانا سید علی زیدی‘ امروہی‘ بابائے طب حکیم فرید احمد عباسی‘ مولانا محمد امین الدین مترجم نفیسی جیسے سینکڑوں با کمال حضرات نے جو اپنے اپنے علاقوں میں صاحب درس و فتویٰ ہوئے اور تعلیم و تبلیغ کا کام انجام دیا اس چشمۂ فیض سے سیرابی حاصل کی۔

صفحہ 170

پروفیسر عبد العزیز میمن نے بھی اس مدرسہ میں کچھ عرصہ تعلیم پائی ہے۔ معقول و منقول کی انتہائی تعلیم اس درس گاہ میں ہوتی تھی یہاں کے فارغ شدگان کی ایک طویل فہرست ہے جس کو یہاں درج کرنا مقصود نہیں۔

حضرت امروہی رحمۃ اللہ نے اپنے استاذ حضرت قاسم العلوم والمعارف کی طرح ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور اپنی تحریر و تقریر سے باطل کو ابھرنے نہ دیا باطل کی سرکوبی کرنا ان کا خاص نصب العین تھا اس کام کو کہاں کہاں اور کس کس تدبیر سے انجام دیا اس کی تفصیل بھی مدنظر نہیں۔ مجھے اس مقالہ میں صرف حضرت محدث امروہی رحمۃ اللہ علیہ کی اس جدوجہد کا ذکر کرنا ہے جو انہوں نے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کی۔ بدقسمتی سے امروہہ میں حکیم محمد احسن جو ایک اچھے خاندان کے فرد تھے مرزا قادیانی کے دام فریب میں آ گئے اور قادیان سے ان کا وظیفہ مقرر ہو گیا۔ قادیانی مذہب کے واقفین پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حکیم محمد احسن امروہی اور حکیم نورالدین بھیروی قادیانیوں کے یہاں نعوذ باللہ شیخین کا مرتبہ رکھتے ہیں اور ان کو رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے۔ مرزا کی جھوٹی نبوت کا دارومدار انہی دونوں کی دجل آمیز تحقیق پر تھا۔ حکیم محمد احسن نے اپنے محلہ کے قریب رہنے والے چند اشخاص کو مرزا قادیانی کی طرف مائل کر دیا تھا۔ حضرت مولانا امروہی اور ان کے ذی استعداد شاگردوں نے حکیم محمد احسن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ اپنی باطل و بے جا کوشش میں امید کے مطابق کامیاب نہ ہو سکے۔ ان لوگوں میں سے جو قادیانی کی طرف مائل ہو گئے تھے بعض لوگوں نے توبہ کر لی تھی۔ حضرت محدث امروہی کو بڑا فکر تھا کہ ان کے وطن میں یہ فتنہ وباء کی طرح پھیلتا جارہا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ایک مکتوب گرامی میں جو مولانا حافظ سید عبدالغنی صاحب پھلاؤدی کے نام ہے اس فتنہ کا ذکر فرماتے ہیں۔

بندہ نحیف احقر الزمن احمد حسن غفرلہ

بخدمت برادر مکرم جامع کمالات عزیزم حافظ مولوی محمد عبدالغنی سلمہ اللہ تعالیٰ بعد سلام مدعا نگار ہے کہ امروہہ میں اور خاص محلہ دربار (کلاں) میں ایک مرض وبائی مہلک یہ پھیل رہا (ہے) کہ محمد احسن جو مرزا قادیانی کا خاص حواری ہے اس نے حکیم آل محمد کو جو مولانا نانوتوی علیہ الرحمہ سے بیعت تھے مرزا کا مرید بنا چھوڑا اور سید بدرالحسن کو جس نے مدرسہ میں مجھ ناکارہ سے بھی کچھ پڑھا (ہے) مرزا کی طرف مائل (کر دیا) ان دونوں کے بگڑنے سے محمد احسن کی بن پڑی، لن ترانیاں کرنی شروع کیں، طلباء کے مقابلہ سے یوں عقب گزاری (کی) احمد حسن میرے مقابلہ پر آوے، میں جب مناظرہ پر آمادہ ہوا اور یہ پیغام دیا کہ حضرت! مرزا کو بلائیے صرف راہ

صفحہ 171

میرے ذمہ (یا) مجھ کو لے چلیے میں خود اپنے صرف کا متکفل (ہوں گا) بسم اللہ آپ اور مرزا دونوں مل کر مجھ سے مناظرہ کر لیجیے یا میرے طلباء سے مناظرہ کیجیے‘ ان کی مغلوبی میری مغلوبی۔ تب مناظرہ کا دعویٰ چھوڑ‘ مباہلہ کا ارادہ کیا۔ بنام خدا میں اس پر آمادہ ہوا اور بے تکلف کہلا بھیجا بسم اللہ مرزا آوے‘ مباہلہ‘ مناظرہ جو شق وہ اختیار کرے‘ میں موجود ہوں (میں نے) اس کے بعد جامع مسجد (امروہہ میں) ایک وعظ کیا اور اس پیغام کا بھی اعلان کر دیا اور مرزا کے خیالات فاسدہ کا پورا رد کیا۔

کل بروز جمعہ دوسرا وعظ ہوا جو بفضلہ تعالیٰ بہت پُر زور تھا اور بہت زور کے ساتھ یہ پکار دیا کہ دیکھو مولوی فضل حق کا یہ اشتہار مطبوعہ (اور) میرا یہ اعلان مرزا صاحب کو کوئی صاحب بوجہ اللہ غیرت دلائیں‘ کب تک خلوت خانہ میں چوڑیاں پہنے بیٹھے رہو گے؟ میدان میں آؤ اور اللہ برتر کی قدرت کاملہ کا تماشا دیکھو کہ ابھی تک خدا کے کیسے کیسے بندے تم سے دجال اُمت کی سرکوبی کے واسطے موجود ہیں اگر تم کو اور تمہارے حوارین کو غیرت ہے تو آؤ ورنہ اپنے ہفوات سے باز آؤ۔ بفضلہ تعالیٰ ان دونوں وعظوں کا اثر شہر میں امید سے زیادہ پڑا اور دشمن مرعوب ہوا۔

پیش گوئی تو یہ ہے کہ نہ مباہلہ ہو نہ مناظرہ مگر دعا سے ہر وقت یاد رکھنا‘ مولانا گنگوہی مدظلہ (اور) مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے بہت کلمات اطمینان تحریر فرمائے ہیں۔ ارادہ (ہے) دو چار وعظ اور کہوں۔ (۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ مطابق یکم مارچ ۱۹۰۲ء از امروہہ)

خود حضرت محدث امروہی رحمۃ اللہ نے مرزا کو براہ راست بھی ایک مکتوب گرامی تحریر فرمایا جو قادیانیوں کی روئیداد مباحثہ رامپور میں درج ہے۔ حضرت تحریر فرماتے ہیں: "بسم اللہ آپ تشریف لایئے‘ میں آپ کا مخالف ہوں‘ آپ مسیح موعود نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ آپ اپنے کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ میں بنام خدا مستعد ہوں‘ خواہ مناظرہ کیجیے یا مباہلہ‘ آپ اپنے اس دعویٰ کا احادیث معتبرہ سے ثبوت دیجیے میں انشاء اللہ تعالیٰ اس دعوے کی قرآن واحادیث صحیحہ سے تردید کروں گا۔" والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ راقم خادم الطلبہ احقر الزمن احمد حسن غفرلہ مدرس مدرسہ عربیہ امروہہ

ان تمام کوششوں کا ذکر مرزائے قادیان کے سامنے بھی ان کی جماعت کی طرف سے بذریعہ خط یا براہِ راست کیا جاتا ہوگا‘ مرزا کو جہاں دیگر علماء حق سے عناد تھا‘ حضرت امروہی رحمۃ اللہ سے بھی دلی بغض ہو گیا اور ایک رسالہ دافع البلاء لکھا جس میں ایک بڑی لمبی چوڑی تمہید کے

صفحہ 172

بعد حضرت امروہیؒ کو مخاطب کیا ہے، مخاطبت میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرزا کو حضرت کی ذات سے اپنے لیے بڑا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ دافع البلاء سے مرزا کی تحریر کے چند جملے یہاں پیش کیے جاتے ہیں:

مولوی احمد حسن صاحب امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لیے خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں تاکہ کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اُتار کر خاتم الانبیاء بنادیں، بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں اگر مولوی احمد حسن صاحب کسی طرح باز نہیں آتے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آسمانی فیصلہ سے ان کو پتہ لگ جائے یعنی اگر وہ درحقیقت مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور میرے الہامات کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں، نہ خدا کا کلام تو سہل طریق یہ ہے کہ جس طرح میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر انہ اوی القرية لولا الاکرام لھلک المقام وانہ اوی الامروھہ لکھ دیں، مؤمنوں کی دعا تو خدا سنتا ہے، وہ شخص کیسا مؤمن ہے کہ ایسے شخص کی دعا اس کے مقابلہ میں تو سنی جاتی ہے جس کا نام اس نے دجال اور بے ایمان اور مفتری رکھا ہے مگر اس کی اپنی دعائیں نہیں سنی جاتیں۔ پس جس حالت میں میری دعا قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ میں قادیان کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا خصوصاً ایسی تباہی سے کہ لوگ کتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے اسی طرح مولوی احمد حسن صاحب کو چاہیے کہ اپنے خدا سے جس طرح ہو سکے امروہہ کی نسبت دعا قبول کرالیں کہ وہ طاعون سے پاک رہے اور اب تک یہ دعا قریب قیاس بھی ہے کیونکہ ابھی تک امروہہ طاعون سے دو سو کوس کے فاصلہ پر ہے لیکن قادیان سے طاعون چاروں طرف سے بفاصلہ دوکوس آگ لگا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا صاف صاف مقابلہ ہے کہ اس میں لوگوں کی بھلائی بھی ہے اور نیز صدق اور کذب کی شناخت بھی کیونکہ اگر مولوی احمد حسن صاحب لعنت باری کا مقابلہ کر کے دنیا سے گزر گئے تو اس سے امروہہ کو کیا فائدہ ہوگا لیکن اگر انہوں نے اپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کراکے خدا سے یہ بات منوالی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تو اس صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہوگی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہوگا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کرسکیں گے اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کردے جس کا یہ مضمون ہو کہ میں یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر شائع کرتا ہوں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں جو مؤمن ہوں، دعا کی قبولیت پر بھروسہ کرکے یا الہام پاکر یا خواب دیکھ کر یہ

صفحہ 173

اشتہار دیتا ہوں۔ کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست برد سے محفوظ رہے گا لیکن قادیان میں تباہی پڑے گی کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔ اس اشتہار سے غالب آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہو جائے گا۔ دوسرے تیسرے جاڑے تک اوّل یہ کارروائی (طاعون) پنجاب میں شروع ہوئی لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دُور نہیں اس لیے اس مسیح کا کافر کش دَم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا یہی ہماری طرف سے دعویٰ ہے۔ مولوی احمد حسن اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کرے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم سے کم تین جاڑے امن سے گزر گئے تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہوگا اور میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانے کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف و کسوف ہوگا اور زمین پر طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہو اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خدائے تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی اور یہ امر کچھ مولوی احمد حسن صاحب تک محدود نہیں بلکہ اب تو آسمان سے عام مقابلہ کا وقت آ گیا اور جس قدر لوگ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں جیسے شیخ محمد حسین بٹالوی جو مولوی کر کے مشہور ہیں اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی جس نے بندوں کو خدائی کی راہ سے روکا ہوا ہے وہ عبدالجبار اور عبدالحق اور عبدالاحد غزنوی جو مولوی عبداللہ کی جماعت میں سے ملہم کہلاتے ہیں اور منشی الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ جنہوں نے میرے مخالف الہام کا دعویٰ کر کے مولوی عبداللہ صاحب کو سید بنا دیا ہے اور اس قدر صریح جھوٹ سے نفرت نہیں کی اور ایسا ہی نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے ان سب کو چاہیے کہ ایسے موقع پر اپنے الہاموں اور اپنے ایمان کی عزت رکھ لیں اور اپنے اپنے مقام کی نسبت اشتہار دے دیں کہ وہ طاعون سے بچایا جائے گا اس میں مخلوق کی سراسر بھلائی اور گورنمنٹ کی خیر خواہی ہے اور ان لوگوں کی عظمت ثابت ہوگی اور ولی سمجھے جائیں گے ورنہ وہ اپنے کاذب اور مفتری ہونے پر مہر لگا دیں گے اور ہم عنقریب انشاء اللہ اس بارے میں مفصل اشتہار شائع کریں گے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ

(ماخوذ از دافع البلاء ص ۱۵ تا ۱۸ مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان مورخہ اپریل ۱۹۰۲ء)

صفحہ 174

طاعون کی پیش گوئی کا انجام

مولانا ثناء اللہ امرتسری

قادیان میں طاعون کا آنا

مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مرزا کی بہت سی پیش گوئیوں کا الٹا اثر دکھانے کے بعد اس پیش گوئی پر بھی اپنے رسالے الہامات مرزا میں بہت تفصیل سے لکھا ہے میں اس موضوع پر ان کے کہے ہوئے مضامین میں سے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ مولانا امرتسری فرماتے ہیں:

’’اس پیش گوئی پر تو مرزا جی نے اپنی صداقت کا بہت کچھ مدار رکھا ہے، رسالہ دافع البلاء میں تو اس قدر زور ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کو للکارا جاتا ہے۔‘‘ کوئی ہے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے شہر کی بابت کہے انه اوی القرية یہاں (قادیان میں) طاعون کیوں نہیں آتا؟ بلکہ جو کوئی باہر کا آدمی قادیان میں آ جاتا ہے وہ بھی اچھا ہو جاتا ہے مگر خدا کی شان کیا ہی کسی نے سچ کہا ہے ؎

حباب بحر کو دیکھو وہ کیسا سر اُٹھاتا ہے
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

چند روز تو مرزا جی نے بہت کوشش کی کہ قادیان کے طاعون کا اظہار نہ ہو مگر بکری کی ماں کب تک خیر منائے ۔ آخر جب یہ امر ایسا محقق ہو گیا کہ مرزا جی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تو ایک اعلان جلی حرفوں میں جاری کیا جو درج ذیل ہے:

اعلان

’’چونکہ آج کل مرض طاعون ہر جگہ بہت زور پر ہے اس لیے اگر چہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعایت اسباب بڑا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے اس لیے یہ قرین مصلحت ہوا کہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر احباب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے اب کی دفعہ اس اجتماع کو بلحاظ مذکورہ بالا ضرورت کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ پر

صفحہ 175

خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو بچاوے۔‘‘

(اخبار البدر قادیان 19 دسمبر 1902ء)

اللہ اللہ کیسی دبی زبان سے قادیان میں طاعون ہونے کا اقرار ہے کس سوچ بچار سے لکھا گیا ہے کہ ”نسبتاً آرام“ ہے جس سے دام افتادوں کو بالکل آرام ہی معلوم ہو مگر دانا اس نسبتاً کے لفظ کی نسبت کو سمجھتے ہیں اور اس کی جانچ کرنے کو سرکاری رپورٹیں پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ قادیان کے اخبار البدر (جو مرزا جی کا ڈائری نویس ہے) کے نمبر 1 صفحہ 4 پر لکھا ہے کہ:

رائے پرتاپ سنگھ نے (جو قادیان میں لوگوں کو ٹیکہ لگانے آئے تھے) کہا کہ میں مرزا صاحب سے بھی کہتا مگر انہوں نے ڈھنگ بنایا ہوا ہے اس لیے میں سردست ان کی خدمت میں کچھ نہیں کہتا۔ میں یہاں نہ آتا مگر چونکہ متواتر رپورٹ پہنچ رہی ہے کہ (یہاں) ؟؟ نہیں طاعون ہے اس لیے آنا پڑا۔

یہ سن کر جناب مرزا صاحب کس ناز و ادا سے بعد تسلیم وجود طاعون دبی زبان سے تاویل فرماتے ہیں۔

انہ اوی القریۃ میں قریہ کا لفظ ہے قادیان کا نام نہیں اور قریہ قرا سے نکلا ہے جس کے معنی جمع ہونے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانے کے ہیں وہ لوگ جو آپس میں مواکلت رکھتے ہیں اس میں ہندو اور چوہڑے داخل نہیں۔ (اخبار مذکور 31 اکتوبر 1902ء)

حالانکہ دافع البلاء مطبوعہ ریاض ہند ص 8 پر لکھتے ہیں:

خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے اب یہاں صاف ہی انکار ہے۔ خدا کی شان کہ ابھی کل ہی کا ذکر ہے کہ یوں لکھا جاتا تھا اور شور مچایا جاتا تھا کہ: (تیسری بات جو اس وحی (متعلق طاعون) سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے۔ گو 70 برس تک رہے) قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ (ہے) اور یہ تمام اُمتوں کے لیے نشان ہے۔

مولانا امرتسری اس عبارت کو درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

مگر آج یہ بات کھلی کہ قادیان کا نام ہی نہیں قادیان کے رہنے والوں سے ہم نے بگوش خود سنا کہ اگر مرزا یہ پیش گوئی نہ کرتا تو قادیان میں کبھی طاعون نہ آتا جب سے اس نے پیش گوئی کی ہے ہم نے اسی روز سے سمجھا تھا کہ ہماری خیر نہیں خدا اس کی تکذیب کرنے کو قادیان میں ضرور ہی طاعون بھیجے گا سو ایسا ہی ہوا۔

صفحہ 176

16 اپریل 1904ء کے اخبار البدر قادیان میں مندرجہ ذیل ایک نوٹ ایڈیٹر کی طرف سے نکلا تھا (وہ یہ ہے) قادیان آریہ سماج کے دوسرے سالانہ جلسہ پر جو کہ 2‘ 3 اپریل کو ہوا‘ سنا گیا ہے کہ یوگیندر پال صاحب نے بڑے دعوے سے یہ پیش گوئی کی تھی کہ ہم بذریعہ ہون کے قادیان کو (طاعون سے) پاک و صاف کریں گے سو جلسہ کا ختم ہونا تھا کہ یوگیندر پال تو کیا صاف کرتے خود طاعون نے صفائی شروع کر دی۔

اخبار اہلِ حدیث امرتسر مورخہ 27 مئی 1904ء کے پرچہ میں معتبر شہادت کے حوالہ سے بتلایا گیا ہے کہ مارچ / اپریل 1904ء کے دو مہینوں میں 313 آدمی قادیان میں طاعون سے مرے ہیں حالانکہ کل آبادی 2800 کی ہے‘ سب لوگ اِدھر اُدھر بھاگ گئے‘ تمام قصبہ ویران و سنسان نظر آتا ہے۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری مرزا غلام احمد قادیانی کی مندرجہ ذیل عبارت حقیقت الوحی ص 8 سے نقل فرماتے ہیں: ’’طاعون کے دِنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا‘ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔‘‘ (ماخوذ از الہامات مرزا مصنفہ مولانا ثناء اللہ امرتسری)

مناظرۂ رام پور

رام پور میں منشی ذوالفقار علی قادیانی ہو گئے تھے (جو مولانا محمد علی جوہر کے بڑے بھائی تھے) اور ان کے چچازاد بھائی حافظ احمد علی خان شوق رام پوری‘ جماعت حقہ کے ساتھ تھے‘ دونوں ہی نواب رام پور کے خاص ملازم تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے قول کے مطابق ان دونوں میں بحث و مباحثہ ہوا کرتا تھا‘ نواب حامد علی خاں والیِ ریاست رام پور نے اس بحث و مباحثہ کا حال معلوم کر کے کہا کہ دونوں فریق سرکاری خرچ پر اپنے اپنے علماء کو بلائیں۔ چنانچہ 15 جون مناظرہ کے لیے مقرر ہوئی۔ اہل حق کی طرف سے حضرت محدث امروہی رحمۃ اللہ علیہ‘ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ‘ حضرت مولانا حافظ محمد احمد رحمۃ اللہ علیہ‘ حضرت مولانا تھانوی وغیرہم کو مدعو کیا گیا۔ ابوالوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مناظرہ کیا‘ فریق ثانی کی حمایت کے لیے حکیم محمد احسن امروہی‘ خواجہ کمال الدین وغیرہما رام پور پہنچے تھے۔ حضرت مولانا امروہی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا حافظ عبدالغنی پھلاؤدی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک مکتوب گرامی میں اس مناظرہ

صفحہ 177

کے بارے میں یوں تحریر فرمایا تھا:

امسال ایک مرتبہ دہرہ دون جانا ہوا اور پھر بھاگل پور اب ریاست رام پور میں فیما بین اہل سنت و جماعت وگروہ قادیانی مناظرہ قرار پایا ہے۔ رئیس (نواب) کی خواہش ہے میری مشایعت میں مناظرہ ہو، قادیانیوں نے مولوی محمد احسن امروہی صاحب، مولوی سرور اور دو چار اور کو منتخب کیا ہے، ادھر سے اول میرا نام لیا گیا ہے اور مولوی محمد اشرف علی صاحب کا (اور) مولوی خلیل احمد، مولوی مرتضیٰ حسن چاند پوری کا نیز پندرہ جون مقرر ہے۔ کل بطلب بندہ رجسٹری خط آیا کہ آپ بروز پنج شنبہ 10 جون کو رام پور آجاویں امور ضروریہ آپ کے سامنے طے ہونے ہیں۔ غالباً جمعہ کے بعد روانہ ہوں۔ میں نے مولانا محمود حسن صاحب صاحبزادہ صاحب (مولانا حافظ محمد احمدؒ) اور مولانا حبیب الرحمٰن صاحب کو لکھا ہے کہ (امروہہ) جمعہ پڑھیں اور ایک ساتھ روانہ ہوں۔ غالباً سب حضرات تشریف لاویں، آپ کو ضرور یہ تکلیف دی جاتی ہے کہ دعا اور ہمت قلبی سے اعانت کریں۔

(19 جمادی الاول 1327ھ بروز چہارشنبہ (مطابق) 9 جون 1909ء)

اپنے دوسرے مکتوب گرامی میں اس مناظرہ میں جو نمایاں کامیابی ہوئی اس کو مولانا حافظ عبدالغنی پھلاؤدی رحمۃ اللہ کے نام ایک مکتوب میں یوں ارقام فرماتے ہیں:

بندہ نحیف احقر الرحمٰن احمد حسن غفرلہ ...... بخدمت جامع کمالات برادر مکرم مولوی حاجی حافظ محمد عبدالغنی صاحب سلمہم

بعد سلام مسنون مکلف ہے۔

رام پور جانے کے بعد سہ شنبہ کے روز مناظرہ شروع ہوا مسئلہ وفات مسیح کا مولوی محمد احسن قادیانی ...... مرزائی نے ثبوت پیش کیا۔

مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اہل اسلام کی طرف سے تحقیق والزامی وہ جوابات دنداں شکن دیئے کہ ماشاء اللہ مجلس میں ہر خاص و عام پر محمد احسن کی مغلوبی اور مولوی ثناء اللہ کا غلبہ واضح و ثابت ہو گیا، اسی روز رام پور میں عام شہرت ہوگئی (کہ) قادیانی پسپا ہوئے مگر وہ بے غیرت اگلے روز بھی آکر زیادہ ذلیل ہوئے۔ محمد احسن کو ناقابل جان کر خود ان کے گروہ نے دوسرا مناظرہ مقرر کیا وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ تیسرے روز الزامی جوابات میں بہت ذلیل ہوئے۔ نواب صاحب نے فرمایا یہ مسئلہ ختم ہوا اور حاضرین کو حق و ناحق معلوم ہو گیا اب نبوت مرزا کا ثبوت دیجئے آمادہ نہ ہوئے اور ایک شب کی مہلت لی۔ شب میں یہ درخواست لکھی کہ حضور (نواب صاحب) اہل

صفحہ 178

اسلام کے حامی ہیں، بمقابلہ حضور ہم کو مناظرہ کرنا منظور نہیں۔ نیز مناظر اہل اسلام بد زبان ہے، ہمارے مقتدا وسیلۂ نجات (مرزا قادیانی) کی بھاری گستاخی کرتا ہے لہذا ہم کو مناظرہ کرنا کسی حال میں منظور نہیں، معاف فرمائیے۔ یہ درخواست لکھ کر بعض شب میں ہی روانہ ہوئے اور بعض دن میں راہی ..... الحمد للہ ..... (28 جون 1909ء)

اب مناسب خیال کرتا ہوں کہ مناظرہ رام پور کی کچھ روئیداد ہفت روزہ اخبار دبدبہ سکندری رام پور سے پیش کی جائے۔

دبدبہ سکندری کے دو پرچوں میں مناظرہ کا مختصر حال لکھا ہے، مفصل طور پر مناظرہ کی رپورٹ نہیں لکھی ہے۔ ایک پرچہ سے معلوم ہوا کہ حافظ احمد علی صاحب نے مناظرہ کی مکمل روئیداد دبدبہ سکندری کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ بعض موانع کی وجہ سے پوری کیفیت تحریر کر کے دبدبہ سکندری کو نہ بھیج سکے۔ ممکن ہے مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اپنے رسالہ اہل حدیث میں مناظرہ کے تمام احوال و کوائف شائع کر دیئے ہوں لیکن رام پور کی رضا لائبریری میں اخبار اہل حدیث کا کوئی فائل 1911ء سے پہلے کا نہیں ہے۔ حضرت محدث امروہی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک معرکۃ الآراء تقریر بھی مناظرہ کے دوران یا اختتام پر نواب کی موجودگی میں ہوئی تھی اس کا بھی حاضرین پر بہت اثر پڑا تھا۔ مولانا عبدالوہاب خاں رام پوری مرحوم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں نے یہ تقریر سنی تھی۔ یہ مناظرہ قلعہ رام پور کے اندر ہوا تھا اور اندازہ ہوتا ہے کہ علاوہ خواص کے شہر کے اور بھی بہت سے تعلیم یافتہ اشخاص کو سماعت کا موقع ملا تھا۔ مناظرہ 15 جون 1909ء کو شروع ہوا اخبار دبدبہ سکندری کے پرچوں میں اس کی جو روئیداد چھپی ہے اس کی تلخیص یہ ہے:

اس ہفتہ میں کئی روز حضرات علماء اسلام اور جماعت احمدیہ قادیانی میں نہایت عمدہ مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ کے محرک و مجوز جناب حافظ احمد علی خاں صاحب حنفی نقشبندی مہتمم کارخانہ جات ذات خاص حضور اور منشی ذوالفقار علی خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ محکمہ آبکاری ریاست رام پور ہیں۔

بہت سے حضرات علماء اسلام مناظرہ میں تشریف لائے ہیں جن میں سے چند حضرات کے نام نامی یہ ہیں: (حضرت) مولانا احمد حسن امروہی رحمۃ اللہ، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، جناب مولانا محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری، جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی، جناب مولانا محمد الدین صاحب امرتسری، جناب مولانا محمد برکات علی صاحب لدھیانوی، جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب دہلوی، جناب مولوی محمد عاشق الٰہی

صفحہ 179

صاحب میرٹھی‘ جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب کاندھلوی‘ جناب حاجی محمد عبدالغفار صاحب سوداگر دہلی‘ جناب مولوی حکیم قیام الدین صاحب جونپوری‘ جناب مولوی محمد حامد رضا خاں صاحب حنفی قادری بریلوی‘ جناب ڈاکٹر محمد عبدالحکیم صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ‘ حضرت مولانا سید محمد شاہ صاحب محدث رام پوری‘ جناب مولوی عبدالغفار خاں صاحب حنفی نقشبندی رام پوری‘ جناب مولوی محمد لطف اللہ صاحب مفتی ریاست رام پور‘ جناب مولانا محمد فضل حق صاحب رام پوری مدرس اوّل مدرسہ عالیہ ریاست رام پور جماعت قادیانی کی طرف سے یہ اشخاص آئے ہیں۔

مولوی محمد احسن صاحب امروہی‘ میاں سرور شاہ صاحب‘ منشی مبارک علی صاحب‘ منشی قاسم علی صاحب‘ منشی محمد علی صاحب‘ ایم اے خواجہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور‘ منشی یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم قادیان‘ حافظ روشن علی صاحب‘ ڈاکٹر محمد یعقوب خاں لاہوری‘ شیخ رحمت اللہ سوداگر لاہور وغیرہ۔

15 جون 1909ء حیات وممات مسیح علیہ السلام کی بحث چلی‘ سب سے پہلے جماعت قادیانی کی طرف سے محمد احسن امروہی نے ایک تحریری مضمون پڑھا۔ مولانا محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ان کے چاروں استدلالوں پر نقض قائم کر دیئے۔ مولوی محمد احسن کے بیان کی بے ربطی کا خود قادیانی جماعت نے اقرار کیا اور اس امر کو ان کی پیرانہ سالی کے سر منڈھا۔

16 جون 1909ء کو بعد معزولی محمد احسن منشی قاسم علی نے تحریری بیان وفات مسیح علیہ السلام پر پڑھنا شروع کیا‘ بجائے اس کے کہ مولانا محمد ثناء اللہ کے کل کے چار اعتراضات کا جواب دیا جاتا‘ وہ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر کے بعد صرف ایک اعتراض کی جانب پلٹ کر آئے۔

17 جون 1909ء کو ناسازی طبع کی وجہ سے نواب صاحب جلسہ مناظرہ میں نہیں آئے اور ان کی قائم مقامی چیف سیکرٹری اور ریونیو سیکرٹری نے کی۔ (آج) قادیانی جماعت کے مناظر سے کہا گیا کہ وہ مولانا امرتسری کے اعتراضات کا جواب دیں مگر جماعت قادیانی کی جانب سے جواب دینے میں پہلو تہی کی گئی۔

18 جون 1909ء کو مناظرہ نہیں ہوا۔

19 جون 1909ء کو مناظرہ ہوا۔ آج بھی قادیانی مناظر وفات مسیح علیہ السلام کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔

(اخبار دبدبہ سکندری 21 جون 1909ء)

20 جون کو اہل اسلام نے کہا کہ قادیانی ثبوت وفات مسیح علیہ السلام دینے سے گریز کرتے ہیں اور بار بار کے اصرار پر بھی عاجز ہیں۔ کل سے حضرات علماء اہل اسلام ابطال نبوت

صفحہ 180

مرزا پر گفتگو کریں گے اس پر خواجہ کمال الدین نے مناظرہ سے جان بچانے کے ڈھنگ نکالے اور ہٹ دھرمی سے کام لینا چاہا۔ بہت ردو قدح کے بعد قادیانیوں سے کہا گیا کہ وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر آپ کو جو کچھ کہنا ہو، کہیں تاکہ مسئلہ تو ختم ہو۔ چنانچہ منشی قاسم علی نے تحریری مضمون پڑھنا شروع کیا اور اہل اسلام کی طرف سے جو نقض ان پر وارد ہوئے تھے، بعض کا جواب دیا۔ قادیانیوں کی تحریر کے ختم پر جناب مولانا ثناء اللہ صاحب کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر میں انہوں نے فریق مخالف کے تمام دلائل کو تار عنکبوت کی طرح توڑ دیا اسی دن قادیانیوں نے یہ لکھا کہ ہم مناظرہ کرنا نہیں چاہئے۔ الحق یعلو ولا یعلیٰ

اللہ تعالیٰ نے دین حق کی نصرت فرمائی اور قادیانی خائب وخاسر 30 جون کی شب اور 31 جون کو یہاں سے چلے گئے۔ جناب مولانا قیام الدین صاحب بحت جونپوری نے کیا خوب تاریخ کہی ؎

قادیانی پے احقاق حق رام پور آئے مگر کھائی شکست
احمدی کہتے ہیں اپنے کو وہ لوگ لیکن این نسبت آنہا غلط است
بحت نے لکھی یہ سچی تاریخ احمدیوں کو ہوئی فاش شکست

(اخبار دبدبہ سکندری 28 جون 1909ء)

اخبار دبدبہ سکندری 22 جون 1909ء کو ایک تحریک ”فیصلہ حضرات علماء کرام اہل اسلام دربارہ مسئلہ حیات و ممات حضرت مسیح علیہ السلام“ کے عنوان سے چھپی ہے جس کے آخر میں علماء امروہہ، مراد آباد، رام پور، مئو، دیوبند، سہارنپور، کاندھلہ، میرٹھ، دہلی، امرتسر، سیالکوٹ، جونپور کے علماء کے دستخط ہیں، ذیل میں فیصلہ کی تحریر اور دستخط کنندگان کے نام لکھے جاتے ہیں۔

15‘ 16 جون 1909ء کو مباحثہ

بموجودگی نواب صاحب رام پور یہ مباحثہ مجمع عام میں ہم لوگوں کے سامنے تواریخ مذکورہ میں ہوا، جماعت اہل اسلام کی طرف سے جناب مولانا مولوی ابو الوفاء محمد ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسری مناظر مقرر ہوئے۔ (پہلے دن جماعت قادیانی کے مولوی محمد احسن صاحب نے ایک تحریر پڑھی جس پر اعتراضات ہوئے) مگر دوسرے تیسرے روز جماعت قادیانی کی طرف سے منشی قاسم علی صاحب دہلوی نے تحریر پڑھی۔ وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق جتنے دلائل قادیانی جماعت کی طرف سے پیش ہوئے، اسلامی مناظر نے ایک ایک کا جواب بڑی خوبی سے دیا۔ نمایاں

صفحہ 181

طور پر حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کر دیا‘ فجزاہ اللہ عنا وسائر المسلمین خیراً اس بحث سے شکستہ خاطر ہو کر قادیانیوں کو دوسرے مسئلہ (نبوت مرزا قادیانی) پر باوجود قرار داد و وعدہ بحث کرنے کی جرات نہ ہوئی لہٰذا وہ دوسرا مسئلہ پیش کیے بغیر خود بخود چلے گئے۔ (مولوی) محمد عبدالغفار رام پوری‘ (مولوی) محمد لطف اللہ (ابن مفتی سعد اللہ رام پوری) (مولوی) محمد اعجاز حسین وکیل رام پوری‘ (مولوی) محمد فضل اللہ رام پوری‘ (مولوی) محمد بشیر احمد مدرس اوّل مدرسہ انوار العلوم رام پور‘ (مولوی) محمد اسلم‘ (مولوی) فضل حق رام پوری مدرس اوّل مدرسہ عالیہ رام پور‘ (مولوی) افضال الحق رام پوری‘ (مولوی) محمد نبی رام پوری‘ (مولوی) مرتضیٰ حسن چاند پوری مدرسہ عربیہ دیوبند‘ (مولوی) ابراہیم سیالکوٹی‘ (مولانا) محمد حسن مدرس اوّل مدرسہ اسلامیہ دیوبند‘ (مولانا) عبدالرحمٰن مدرس اوّل مدرسہ شاہی مراد آباد‘ (مولوی) محمود حسن سہسوانی مدرس دوم مدرسہ شاہی مراد آباد‘ (مولانا) محمد اشرف علی تھانوی‘ (مولانا) احمد حسن امروہی‘ مدرس اوّل مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ‘ (مولوی) عبدالرؤف امروہی‘ (ابن مولانا سید راحت علی)‘ (مولوی) محمد شفیق احمد امروہی‘ (مولوی) محمد معظم حسین امروہی‘ (مولوی) محمد سلیم سکندر پوری مدرس مدرسہ عالیہ رام پور‘ (مولوی) سید محمد شاہ (محدث) رام پوری (مولوی) سید حامد شاہ رام پوری‘ (مولوی) محمد منور علی (محدث) رام پوری‘ مدرس درجہ حدیث مدرسہ عالیہ رام پور‘ (مولوی) محمد طیب عرب‘ (مولوی) محمد قیام الدین جونپوری‘ (مولانا) محمد سہول بھاگلپوری مدرس مدرسہ اسلامیہ دیوبند‘ (مولوی) محمد ابراہیم دہلوی‘ (مولوی) محمد قدرت اللہ مدرس مدرسہ شاہی مراد آباد‘ (مولانا) خلیل احمد (محدث) سہارنپوری مدرس اوّل مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور‘ (مولوی) محمد عاشق الٰہی میرٹھی‘ (مولوی) محمد یحییٰ مدرس دوم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور (والد شیخ الحدیث)‘ (مولوی) محمد اسمعیل انصاری امروہی‘ (مولوی) سید بدر الحسن امروہی‘ (مولوی) سردار احمد امروہی‘ (مولانا) محمد خلیل اللہ محدث مقیم رام پور‘ (مولوی) احمد امین مدرس دوم مدرسہ عالیہ رام پور‘ (مولوی) مدرس مدرسہ رام پور‘ (مولوی) غلام رسول مدرسہ عالیہ رام پور‘ (مولوی) صاحبزادہ محمد الطاف المعروف میاں جان خاں رام پوری‘ (مولوی) معز اللہ خاں (مدرس مدرسہ عالیہ رام پور)‘ (مولوی) محمد یوسف (مقیم رام پور) غلام رحمانی مقیم رام پور‘ (مولوی) سید سجاد علی بسولوی مقیم رام پوری‘ (مولوی) وزیر محمد خان مدرس مدرسہ عالیہ رام پور‘ (مولوی) محمد فضل کریم مقیم رام پور‘ (مولوی) دیانت حسین مقیم رام پور‘ (مولوی حافظ) عبدالغفار دہلوی‘ (مولانا حافظ) نورالدین احمد دہلوی۔

نواب رام پور نے اس مناظرہ کا جو فیصلہ دیا ہے اس کو مولانا ثناء اللہ امرتسری نے صحیفہ

صفحہ 182

مجموعہ اشتہارات مرزا کے آخر میں درج کیا ہے۔ ذیل میں اس کو بھی نقل کیا جاتا ہے:

”رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا‘ ہم ان کے بیان سے محظوظ و مسرور ہوئے۔ (محمد حامد علی خان والی ریاست رام پور)۔

غیرت اقبالؒ ٭ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی زبردست کوششوں سے مرزائیوں کے دونوں گروہوں‘ قادیانیوں اور لاہوریوں کو انجمن حمایت اسلام سے نکال دیا گیا اور یہ قانون بنایا گیا کہ کوئی قادیانی یا لاہوری انجمن کا رکن نہیں بن سکتا۔ ایک دن انجمن کا اجلاس عام ہو رہا تھا۔ عاشق رسولؐ علامہ اقبالؒ اجلاس کی صدارت فرما رہے تھے۔ ساتھ میاں امیر الدین بیٹھے تھے۔ اچانک علامہ کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے لاہوری مرزائی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ پر پڑی۔ علامہ چونک اٹھے۔ شدید غصہ کی حالت میں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گرجدار آواز میں حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے:

”اگر مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو فوراً یہاں سے نکال دو۔ میری غیرت یہ گوارہ نہیں کر سکتی کہ میرے آقاؐ کی ختم نبوت کا یہ دشمن بھی اجلاس میں بیٹھا رہے اور میں بھی موجود رہوں“۔

علامہ کا یہ فرمانا تھا کہ اجلاس میں ہلچل مچ گئی۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ علامہ کے اس سخت احتساب سے بدحواس ہو گیا اور انتہائی پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو بیک بینی دو گوش اجلاس سے نکال دیا گیا۔ شاہین ختم نبوت علامہ اقبالؒ کے اس ایمانی احتساب کا مرزائی مردود پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بدحواس ہو کر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا اور اسی حالت میں چند روز میں جہنم واصل ہو گیا۔

صفحہ 183

اسلامی اصطلاحات

اور ............ قادیانی

حنیف رامے کی کلمہ دوستی کا تجزیہ

مولانا مُجاہد الحسینی فاضل ڈابھیل (انڈیا)

صفحہ 184

روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۱۲ فروری کے شمارے میں

اپنے سینوں پر بیج لگانے کی جاری کردہ نئی مہم پر چند قادیانیوں کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور معروف سیاستدان جناب حنیف رامے نے قادیانیوں کے ساتھ اپنی کلمہ دوستی میں فرمایا ہے:-

علماء نے احمدیوں کی مساجد کی پیشانیوں سے کلمہ مٹانے کی روش ترک نہ کی‘ اور حد سے گزر کر احمدیوں کے سینوں سے بھی نوچنا شروع کر دیا تو ایک بات طے ہے کہ کلمہ تو نہیں مٹے گا۔ کیونکہ اس کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے‘ البتہ خدشہ ہے کہ اسے مٹانے والے اور نوچنے والے کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائیں اور میں ڈرتا ہوں کہ جس پاکستان میں اللہ کی مساجد سے اس کلمہ کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے‘ خواہ وہ مساجد احمدیوں ہی کی ہوں اگر اس کے باسی اس کلمہ دشمنی پر چپ رہے تو کہیں خدانخواستہ پاکستان ہی کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے۔

خاموش ہونے کے بجائے طمانیت اور شادمانی کا اظہار کرنا چاہیے۔

کے بارے میں کوئی اچھی بات لکھدی ہو تو کیا آئندہ علماء ان کتابوں کو بھی جلانے کا اہتمام کریں گے؟

جائے گی اور دنیا میں یہ تاثر پھیلے گا کہ یہودیت کی طرح اسلام بھی کوئی

صفحہ 185

جابرانہ مذہب ہے‘ پھر اس پاکستان کی اساس لا الہ الا اللہ پر اٹھائی جا رہی ہے تو کسی کو کیا اختیار ہے کہ کسی کی مذہبی آزادی چھین لے۔!

کوئی ”احمدی“ نہیں ہے۔“

جہاں تک کلمہ طیبہ کی تعظیم اور اس کے تحفظ کے سلسلے میں رامے صاحب کے جذبات کا تعلق ہے وہ قابل قدر ہیں لیکن ان کی مرزائیت نوازی اور قادیانیوں کے حق میں ان کی ”کلمہ دوستی“ ضرور محل نظر ہے۔

رامے صاحب اس تاریخی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس عقیدہ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور جھوٹے مدعیان نبوت یا ان کی ذریت کا وجود ملت اسلامیہ نے کبھی برداشت نہیں کیا ہے۔ نیز رامے صاحب کی نگاہ میں یہ تاریخی پس منظر بھی ضروری ہو گا کہ فرنگی دور اقتدار میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کاذبہ کا دعویٰ کیا تھا تو اس برصغیر کے علماء و مشائخ اور رہنماؤں نے اس فتنہ ”انکار ختم نبوت اور انکار جہاد“ کی زبردست مخالفت کر کے اس کے استیصال کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں سے شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ ‘ پیر سید مہر علی شاہؒ (گولڑہ شریف) دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ‘ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ‘ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ‘ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ‘ مولانا محمد یوسف بنوریؒ‘ مولانا احتشام الحق تھانویؒ‘ مولانا سید محمد داؤد غزنوی امیر جمعیت اہلحدیث‘ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ‘ مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری صدر مجلس عمل‘ مولانا عبدالحامد بدایونی بانی جمعیت علماء پاکستان‘ مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر روزنامہ زمیندار لاہور‘ مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکشؒ‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ‘ مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھنوی اور آغا شورش کاشمیری کے اسماء گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

علامہ اقبالؒ کا مطالبہ اقلیت

ہماری ملی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ حضرت علامہ اقبالؒ نے فرنگی حکومت سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ نہایت سنگین حالات میں کیا تھا‘ رامے صاحب کو

صفحہ 186

اس گروہ کے ساتھ اپنی ”کلمہ دوستی“ ...... کے اظہار سے پہلے کم از کم علامہ اقبال کے عقائد اور افکار و نظریات پر مشتمل ان کی جملہ تصانیف‘ خاص طور سے ان کی قادیانیت سے متعلق تقاریر‘ خطبات اور بیانات پر مشتمل حرف اقبال اور ان کے مکتوبات پر مشتمل انوار اقبال کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے تھا۔ صرف حرف اقبال ص ۱۴۲ ملاحظہ فرمائیے :۔

”ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا‘ جب ایک نئی نبوت ...... بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا‘ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے بقول ایمرسن ”صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔“

اس سے آگے ص ۱۴۷ پر علامہ اقبال لکھتے ہیں :۔

”ثانیاً ....... ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویے کو فراموش نہ کرنا چاہئے‘ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے‘ اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا‘ علاوہ ازیں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار‘ اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق‘ نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ تمام دنیائے اسلام کافر ہے یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں‘ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دُور ہیں جتنے سکھ ہندوؤں سے۔“

(حرف اقبال ص ۱۴۷)

قادیانیت کی بابت علامہ اقبال کے ان افکار و نظریات کی روشنی میں جناب رامے صاحب نے مطالعہ کیا ہوتا تو وہ یقیناً علامہ اقبال کے ہمنوا ہوتے۔ اب بھی میری رائے اور میرا حسن ظن ہے کہ رامے صاحب اپنے موقف پر ضرور نظر ثانی کریں گے‘ پھر یہ تو وہ مسئلہ ہے‘ جس کے لئے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں ملک گیر تحریکیں چل چکی ہیں اور پروانوں نے شمع رسالت پر جانیں قربان کی ہیں‘ جن کے نتیجے میں انہی کے دور اقتدار میں قومی اسمبلی نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں قانون وضع کیا‘ اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا

صفحہ 187

تھا، جسے رائے صاحب کے لیڈر جناب بھٹو صاحب مرحوم اپنے کارنامے کے طور پر فخریہ بیان کیا کرتے تھے۔

قادیانی کلمے کا مفہوم کیا ہے؟

بقول رائے صاحب اگر قادیانیوں کے کلمے اور مسلمانوں کے کلمے کے مابین کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے تو قادیانیوں کو علیحدگی اختیار کرنے، اپنا وجود الگ رکھنے، انہیں اسمبلی کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟ علامہ اقبال جیسے ”حکیم الامت“ اور بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت کو اس موضوع پر اظہار خیال کرنے کیلئے نظمیں لکھنے اور اپنے کلام میں ”قادیانیت“ کی مخالفت کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی.......؟ آخر اس کے کچھ تو محرکات ہیں۔!

بھٹو صاحب کے دور وزارت میں جب قادیانیوں کو ”غیر مسلم اقلیت“ کے زمرے میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت ان کی اور ان کے ہمنواؤں کی رگ حمیت دردا داری کیوں نہ پھڑکی تھی.......؟ آج جب موجودہ حکومت نے ۱۹۷۴ء ہی کے آئینی فیصلے پر عملاً قدم اٹھایا ہے تو رائے صاحب سراپا احتجاج بن گئے ہیں اور قادیانیوں کے وکیل اور محافظ کی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر قادیانیوں کے کلمے اور دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے کلمۂ طیبہ کا مفہوم و مقصود ایک ہی ہے تو یہ اقلیت کیسے معرض وجود میں آگئی؟ جبکہ رائے صاحب بھی انہیں ”اقلیت“....... ہی سے موسوم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیائے اسلام میں خواہ دیوبندی ہوں یا بریلوی، شیعہ ہوں یا سنی، اہلحدیث ہوں یا اہل قرآن، حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی خواہ کسی بھی مکتب فکر سے کیوں نہ تعلق و نسبت رکھتے ہوں، ان سب کے ہاں کلمۂ طیبہ کا مفہوم اور مطلب ایک ہی ہے، اس میں کسی نوعیت کا قطعاً کوئی اختلاف و تصادم موجود نہیں ہے۔ فروعی اختلافات اور فقہی توجیہات کی نوعیت قطعی مختلف ہے۔ ان میں کسی کے ہاں بھی ”کلمہ طیبہ“ کا مفہوم جزوی طور پر بھی مابِہ النزاع نہیں ہے۔

رائے صاحب کا یہ ارشاد ”کہ قادیانی احمدی اقلیت بھی جب اسی مسلمانوں کے کلمے کو جو خدا کا نازل کردہ ہے اپنا قرار دیتی ہے تو علماء کو اس پر خوش اور اظہار طمانیت کرنا چاہئیے۔“ یہ قادیانیوں کے عقاید و نظریات اور کلمہ کے مفہوم و مطالب سے ”ناواقفیت“ کا آئینہ دار ہے۔

صفحہ 188

چنانچہ اسی سلسلے کی معلومات میں قادیانی فتنے کے بانی مرزا غلام احمد نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا تھا جو آج بھی لائبریریوں اور مختلف علماء کرام کے پاس موجود ہے۔ خود قادیانیوں کے ہاں بھی یقیناً موجود ہوگا۔ رامے صاحب کو اس کا خصوصیت کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس کے صفحہ نمبر ۴ پر مرزا صاحب نے لکھا ہے:۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح)

(اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ ص ۵ پر ہے۔

”غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کی رُو سے اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا ہے۔ لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔“ اور کتابچے کے آخری ص ۱۶ پر ہے:۔

اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں ہے بلکہ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے، اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا، پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمدؐ کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی، علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔“

مندرجہ بالا آیات قرآنی کا جو مفہوم اور ”کلمہ طیبہ“ کے دوسرے حصے ”محمد رسول اللہ“ کا جو ترجمہ مرزا صاحب نے ایک غلطی کے ازالے کی صورت میں کیا ہے، رامے صاحب یقیناً اس کے مؤید نہیں ہو سکتے تو پھر قادیانیوں کے ”کلمے“ کو وہ کس طرح مسلمانوں ہی کا کلمہ قرار دینے پر بضد اور مصر نظر آتے ہیں۔؟ قرآن کریم کی آیات کریمہ تو حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر نازل ہوئی تھیں لیکن ان کے ترجمے اور مفہوم میں مرزا غلام احمد نعوذ باللہ اپنے بارے میں یہ کہے کہ اس سے مراد میں ہوں اور میرا نام ہی محمد رکھا گیا اور رسول بھی، اور اس طرح نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی۔

رامے صاحب ہی فرمائیں کیا دنیا کا کوئی بھی مسلمان کلمہ طیبہ کے اس ترجمے اور آیات کریمہ کی اس تشریح و تفسیر کو تسلیم کرنا تو کجا…… اس کے تصور پر بھی آمادہ ہو سکے گا؟

جب قادیانیوں کی تعبیر و تشریح دنیا بھر کے مسلمانوں سے مختلف ہے تو موافقت اور

صفحہ 189

مطابقت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ پھر ظفر اللہ خاں نے اپنے محسن قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہ پڑھا تھا؟ اختلاف کیا تھا۔؟

میری نگاہ میں رائے صاحب ...... کلمات کی تشریحات اور مماثلت کے چکر میں خوامخواہ پڑ گئے ہیں ....... ورنہ قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے پوری دنیائے اسلام کو چھوڑ کر اور کروڑوں فرزندانِ اسلام کے اختیار کردہ عقاید و نظریات ترک کر کے الگ ”اقلیت“ بننے کا راستہ کیوں اختیار کیا ۔؟ وہ آیات قرآنی کا غلط ترجمہ اور کلمہ طیبہ کا غلط مصداق مرزا غلام احمد کو ٹھہرانے پر کیوں بضد ہیں؟ اس کے ضرور کچھ محرکات ہیں اور وہ فرنگی سامراج کے مفادات کا تحفظ اور اسلامی اصطلاحات کی تضحیک و تنقیص ہے!

مرزا غلام احمد نے اپنی ذات کی بابت کئی بے سروپا‘ گستاخانہ اور توہین آمیز باتیں کہی ہیں مثلاً

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمدؐ و احمدؐ کہ مجتبیٰ باشد

یعنی میں ہی زمانے کا مسیح میں ہی کلیم خدا اور میں ہی محمدؐ اور احمدؐ مجتبےٰ ہوں

(الفضل قادیاں ۱۸ فروری ۱۹۲۰ء)

نئی تحریک کا پس منظر

حضرت علامہ اقبالؒ قادیانیوں کی انہی گستاخیوں اور اشتعال انگیزیوں پر لرزہ براندام ہو کر انہیں غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئے تھے‘ قادیانیوں کی شروع کردہ تحریک کا اس پس منظر میں جائزہ لیا جائے کہ ”کلمہ طیبہ کے مقدس نام سے یکا یک تحریک اُٹھانے کا ضرور کوئی سبب اور کوئی محرک ہے۔ اس سلسلے کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ساہیوال میں جامعہ رشیدیہ کے مدرس مولانا حافظ محمد بشیر اور پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم اظہر رفیق کو قادیانیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا ایک تو ان کے اشتعال انگیز و شرمناک حرکتوں پر مسلمانوں میں سخت برہمی اور خفگی کے جذبات موجود تھے اور دوسری جانب وفاقی شرعی عدالت نے ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو قادیانیوں کی بابت فیصلے میں حکومت کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ کے مطابق عمل درآمد کرانے کا حکم دیا تھا‘ جس کی رُو سے کوئی قادیانی اسلام کی مقدس

صفحہ 190

اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتا ہے اس پر قادیانیوں نے ملکی قوانین وضوابط کا مذاق اڑانے اور ملک میں ”مسلم اور قادیانی“ کے مابین فساد کرانے کی خاطر تقدس آمیز ڈھونگ رچانے کی کوشش کی ہے‘ نیز اس سلسلے میں قادیانی لیڈر مرزا طاہر نے لندن سے کیسٹوں کے ذریعے ہدایات بھی بھیجی ہیں کسی ذریعے سے چند کیسٹیں ہم نے بھی سنی ہیں...... ان سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیانی اپنے مفرور لیڈر اور بیرون ملک کے بعض دیگر پاکستان دشمن عناصر کے گٹھ جوڑ سے وہ ملک کے ٹھیک انتخابی مرحلہ میں دہشت گردی اور خون خرابے کی فضاء قائم کرنے کا خوفناک منصوبہ تیار کر چکے ہیں‘ تا کہ مسلمانوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے۔

جناب رائے صاحب کو چاہئے تھا کہ علماء کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے کے بجائے قادیانیوں کو ملک کے قوانین کا احترام کرنے کی تلقین اور کوئی فتنہ کھڑا کرنے سے باز رہنے کی نصیحت کرتے‘ وہ قادیانیوں کے حق میں کتنے بھی ”کلمات دوستی“ فرمادیں۔ دنیا کی کوئی طاقت قادیانیوں کو غیر مسلم سے مسلم قرار دینے کی ہرگز جسارت اور خلاف اسلام اقدام نہیں کر سکتی...... اب قادیانیوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ کلمہ کفر کے بجائے کلمہ طیبہ پر اس کے صحیح مفہوم و مطلب کے ساتھ ایمان لے آئیں اور اقلیت کا دائرہ چھوڑ کر اکثریت کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہونے کی سعادت حاصل کریں۔

انہدام مسجد ضرار کے اسباب

جہاں تک قادیانی عبادت گاہوں اور ان میں کلمہ طیبہ کی تحریر کا سوال ہے‘ رائے صاحب کو اللہ نے علم وفضل کا حصہ وافر عطا کیا ہے‘ وہ مدینہ منورہ کی مسجد قبا کے مد مقابل ”مسجد ضرار“ کی تعمیر کی تاریخ پڑھیں تو ان پر یہ عقدہ ضرور کھلے گا کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں‘ اور مدینہ طیبہ کے اُن مسلمانوں نے جنہوں نے بظاہر اسلام بھی خود رسول اللہ کے حضور قبول کیا تھا‘ ان لوگوں نے جب مسجد ضرار تعمیر کر لی تو قیصر روم کے ساتھ تیار کی گئی سازش کے مطابق فیصلہ ہوا کہ اس نئی مسجد میں ایک نماز حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھائی جائے تا کہ لوگوں کو یہ اطمینان ہو جائے کہ واقعی یہ مسجد ہی ہے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی پر اس پر آمادگی بھی ظاہر فرما دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسی قبا کی بستی میں جہاں آج مسجد قبا موجود ہے یہ آیت کریمہ نازل فرمادی

صفحہ 191

وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ مِنْ قَبْلُ ط (توبہ) الخ

اور جن لوگوں نے دعوت حق کو نقصان پہنچانے اور خدا کی بندگی کے بجائے کفر کرنے اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لئے ایک مسجد بنائی‘ اور اس بظاہر عبادت گاہ کو اس شخص کے لئے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے بھی اللہ اور رسول کے خلاف برسر پیکار ہو چکا ہے‘ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں‘ تم ہرگز اس میں کھڑے نہ ہونا۔

اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کا افتتاح کرنے کے بجائے چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھیج کر نہ صرف تعمیر شدہ مسجد کو گرا دیا بلکہ اس کے سامان کو بھی آگ لگا دی گئی تھی کیونکہ وہ مسجد نہیں تھی بلکہ ”ایک مقدس“ نام سے مسلمانوں میں تفریق ڈالنے‘ قیصر روم کا حملہ کرا کے مسلمانوں کا قلع قمع کرانے اور منافقوں کے لیڈر عبداللہ بن اُبی کو مدینہ منورہ کا سربراہ بنانے کی ایک خطرناک سازش تھی۔

جب مسلمانوں میں تفرقہ بازی اور ملت اسلامیہ کی اجتماعیت ختم کر دینے کا موجب اور سبب بننے والی مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے دور میں منافقین کی تعمیر کردہ مسجد کا وجود برداشت نہ کیا گیا تھا تو آج پندرھویں صدی میں غیر مسلم قادیانیوں کو اسلام کی مقدس اصطلاحات کے استعمال اور مساجد کی تعمیر یا ان کے وجود کی کیوں کر اجازت دی جا سکتی ہے اور ان کے ساتھ نرمی یا رواداری کا سلوک کیسے کیا جا سکتا ہے؟

پھر رائے صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہنا شرعاً اور قانوناً دونوں کے مطابق جرم ہے‘ قادیانیوں کے عزائم اور ان کے منصوبے تو ملت اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ خطرناک اور سنگین ہیں‘ منافقین مدینہ کی طرح ان کی تعمیر کردہ عبادت گاہوں کا انہدام اہم ملی اور دینی ضرورت ہے اور اس میں نرمی گناہ عظیم !

جبر و اکراہ اور آزادی کا فرق

جناب محمد حنیف رائے صاحب نے قادیانیوں کے ساتھ ”کلمہ دوستی“ میں یہ بھی فرمایا ہے:-

”میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اسلام پر صرف مسلمانوں کی اجارہ داری نہیں‘ اسلام کا خدا

صفحہ 192

رب العالمین ہے۔ اس کے پیغمبر رحمۃ للعالمین اور اس کا قرآن ذکر للعالمین ہے‘ اسلام سب قوموں، جمعیتوں اور گروہوں کی یکساں میراث‘ اور امانت ہے دوسرے اسے جتنا بھی قبول کرتے چلے جائیں ہمیں اس پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیئے۔

لیکن ہمارے علماء نے جو وطیرہ اختیار کر رکھا ہے اس سے نہ صرف اسلام کی اشاعت رُک جائے گی بلکہ اسلام کے بارے میں دنیا بھر میں یہ تاثر پھیلے گا کہ یہودیت کی طرح یہ بھی ایک جامدانہ مذہب ہے جس پر چند گروہوں کی اجارہ داری ہے۔“

معلوم ہوتا ہے کہ ”جبر و اکراہ اور ”آزادیِ رائے“ کا مفہوم رائے صاحب کے ذہن میں واضح نہیں ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کا مقصد یہ ہے کہ قبولِ اسلام کے لئے کسی شخص کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ یعنی اُس پر تشدد‘ دہشت گردی‘ اور سخت گیری کی ایسی صورتِ حال پیدا کر دی جائے کہ اسلام قبول کرنے کے سوا اس کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو‘ وہ اسلام کو خوش دلی اور پوری سوچ و فکر کے ساتھ نہیں بلکہ موت کے خوف سے دل گرفتہ ہو کر قبول کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اس طرح کے جبر و اکراہ کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام میں آزادیِ فکر کا اندازہ اس سے لگائیے کہ قرآن حکیم میں تو مشرکوں اور اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرنے والوں کی بابت یہاں تک فرما دیا گیا ہے۔ وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ ہ (توبہ ۶)

اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اگر کوئی مشرک بھی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تا کہ وہ اللہ کا کلام سنے‘ پھر اس کو امن کی جگہ پہنچا دو ! یہ اس لئے کہ وہ لوگ کوئی علم اور معلومات نہیں رکھتے ہیں ۔!

گویا وہ منکرین اور مشرکین جو اسلام کی خوبیاں‘ محاسن‘ برکات اور فوائد سن کر اسلام کی جانب راغب ہونا چاہیں‘ اور اس خاطر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر پناہ کے طلبگار ہوں تو ان کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کے ارتکاب اور ایذا رسانی کے باوجود ان کو امن دے دیا جائے اور انہیں کلامِ الہٰی سن کر پوری سوچ بچار کے ساتھ اسلام قبول کرنے کی بابت فیصلے کا موقع دیا جائے۔

یہ حکم سیاسی اور انتظامی نوعیت کا ہے کیونکہ مشرکوں کو فتح مکہ کے بعد پہلے ایک معاہدہ کے ذریعے مہلت دی گئی تھی کہ وہ سال بھر میں اپنا طرزِ عمل درست کر لیں‘ اسلام کی صداقت و

صفحہ 193

حقانیت پر ایمان لے آئیں عدل و انصاف اور رحم و کرم کا یہی تقاضا ہے کہ مکہ معظمہ فتح ہوتے ہی یک لخت مشرکوں اور غیر مسلموں سے مفتوحہ شہر خالی نہیں کرایا گیا ہے بلکہ ایک مدت معینہ کے بعد ...... پھر جب ان دشمنان اسلام کی مخالفت حد سے بڑھ گئی اور مسلمانوں کی جانب سے حسن سلوک کے باوجود ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کے لئے کافروں اور مشرکوں نے اپنی خطرناک سرگرمیاں تیز کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے انہی مشرکوں کی بابت یہ حکم نازل فرما دیا: فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ۔ کہ جب ان مشرکوں کو امن اور پناہ دینے کی مدت (اشہر الحرم چار ماہ) گزر جائیں تو اب انہی مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ مارو! انہیں پکڑو، ان کا گھیراؤ کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھ کر ان کی نگرانی کرو، لیکن اگر وہ توبہ کر کے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی صورت میں اسلامی زندگی اختیار کرنے کا عملی ثبوت مہیا کرنے کا مظاہرہ کریں، تو ان کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ ورنہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔

حدود حرم شریف میں غیر مسلموں کے داخلے کی ممانعت

قرآن حکیم میں انہی مشرکوں کے طرز عمل، اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف ان کی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اعلان فرما دیا گیا ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ج

(توبہ:۲۸)

اے ایمان والو! یہ مشرکین سراپا نجاست اور پلید ہیں۔ یہ لوگ اس سال کے بعد آئندہ مسجد الحرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔

حدود حرم شریف میں ان مشرکوں اور غیر مسلموں کا داخلہ ۹ھ میں ممنوع قرار دیا گیا تھا، جب کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے ذریعے موسم حج میں اس کا باقاعدہ اعلان کرایا تھا۔ ۹ھ سے ۱۰ھ تک معاہدے اور مہلت کا عرصہ تھا، بعد ازاں حدود حرم شریف کے اندر غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔

اب اگر کوئی شخص اس پر معترض ہو، اور آزادی نقل و حرکت اور رواداری کی آڑ میں معاندانہ لب کشائی کی کوشش کرے کہ سر زمین مقدس میں غیر مسلموں کا داخلہ کیوں ممنوع قرار

صفحہ 194

دیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نوعیت کے احکام پوری دنیا میں نافذ اور مروج ہیں‘ مختلف فوجی علاقوں‘ چھاؤنیوں سے ۔ لے کر ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ سائنسی‘ ٹیکنیکی اور ایٹمی تنصیبات تک کے علاقے ممنوعہ (PROHIBITED AREAS) قرار دیئے جاتے اور باقاعدہ پہرے عاید کئے جاتے ہیں‘ آزادی کے ساتھ ہر شخص کی آمدورفت ممنوع ہوتی ہے‘ جس طرح دنیا کے مختلف ملک اپنے قومی اور ملکی تحفظ کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر اختیار کیا کرتے ہیں۔

اسی طرح اسلام اور ملت اسلامیہ کے مرکزی مقدس مقام کو دشمنوں کے شرور وفتن‘ ان کے مکروہ عزائم‘ اثرات اور خطرناک منصوبوں سے محفوظ رکھنے کے لئے حدود شریف کے اندر غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے‘ کیونکہ مشرکین ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے نجس اور پلید ہیں اور کسی بھی پاک صاف اور مقدس چیز کے پاس نجاست کا وجود ہرگز برداشت نہیں کیا جاتا۔

یہی مسئلہ ”قادیانی مرتدوں“ کے ناپاک سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج کا ہے کیا کوئی بھی شخص اس ناپاک حرکت کو برداشت کر سکتا ہے کہ کوئی بدبخت توہین اور تضحیک کی نیت سے کلام الٰہی یا کلمہ طیبہ کسی گندی جگہ یا بیت الخلاء کے دروازے پر آویزاں کرنے کی جسارت کرے؟ کیا اسے کھلی چھٹی دی جائے گی اور اس پر کوئی گرفت یا محاسبہ نہیں ہوگا؟

”قادیانی مرتدوں“ کے ساتھ بھی رائے صاحب کو قرآن حکیم کے انہی احکام اور اسلام کی اسی تعلیم کے مطابق برتاؤ کرنا چاہئے‘ نیز انہیں ”بغاوت اور آزادی“ میں کوئی فرق اور تمیز ضرور برقرار رکھنی چاہئے‘ کیونکہ قادیانیت کا یہ فتنہ درحقیقت اسلام سے بغاوت اور شعائر اسلام کی توہین وتضحیک پر مبنی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو نبی اور رسول حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرار دینے کا اعلان کیا اپنی بیگم کو اُم المؤمنین‘ بیٹی کو سیدۃ النساء‘ بیٹے کو خلیفۃ المسلمین‘ فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی‘ اپنے مرید کو صحابی‘ راویٔ حدیث کو ملا وا رام اور بھائی بلدیو سنگھ‘ قادیاں کو ”ارض حرم“ اور قادیاں کے جلسے کو حج بیت اللہ سے تشبیہ دے کر اسلام کی ایک ایک مقدس اصطلاح کا مذاق اڑایا اور فرزندان اسلام کے جذبات مشتعل کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔

تاریخ اسلام کے یہ صفحات یقیناً رائے صاحب کی نگاہ میں ہوں گے کہ حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور آپ کی خصوصی تاکید پر دو جھوٹے مدعیانِ نبوت اسود عنسی اور

صفحہ 195

مسیلمہ کذاب کا کیا حشر کیا گیا تھا؟ اور ان کا عقیدہ ختم نبوت کے عنوان سے رونما ہونے والے فتنے کا کس قدر سختی کے ساتھ استیصال کر کے اُمت کے لئے ایک روشن مثال قائم کر دی گئی تھی‘ رامے صاحب کی یہ بات درست ہے کہ ”اسلام سب قوموں اور جمعیتوں کی میراث ہے‘ اس پر کسی مسلمان کی اجارہ داری نہیں‘ اسے جتنے بھی قبول کرتے جائیں گے ہم خوشی اور مسرت کا اظہار کریں گے۔ لیکن جو شخص بھی اسلام کا حلیہ بگاڑنے اور اس کی حسین و جمیل شکل و صورت پر بدنما داغ دھبہ لگانے کی جسارت کرے گا اس کی سرکوبی کے لئے سنت صدیق اکبرؓ ضرور زندہ کی جائے گی‘ اور جو بھی راجپال بن کر سامنے آئے گا اسے علم الدین شہید جیسے جاں نثاران شمع رسالت ضرور للکارتے رہیں گے۔

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے میرا کامل ایماں ہو نہیں سکتا !

بہرنوع‘ آزادیٔ رائے اور رواداری کا جو مفہوم رامے صاحب نے وضع کیا ہے‘ دنیا میں کہیں بھی اس کا تصور موجود نہیں ہے‘ کسی بھی ملک میں اس کے آئین و قانون کی خلاف ورزی اور بغاوت برداشت نہیں کی جاسکتی‘ کسی سوسائٹی میں بھی اس کے قواعد و ضوابط توڑنے‘ ان کا مذاق اڑانے‘ ان کا غلط مفہوم و معنی وضع کرنے اور من مانی کارروائیوں کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی۔!

اصطلاحات کے غلط استعمال کے نتائج

لوگوں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں ضرور کچھ اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں‘ جن کا احترام کیا جاتا ہے۔ یہ دائرہ حکومت کا ہو یا صنعت و تجارت کا‘ ہر حلقے کی جدا جدا اصطلاحات ہوتی ہیں مثلاً فوج کا معاملہ ہے اس کے ہر شعبے کے لئے جمعدار سے جنرل تک الگ الگ اصطلاحات اور وردی پر عہدے کے نشانات بھی مخصوص اور متعین ہوتے ہیں۔

جناب رامے صاحب نے فکر و عمل کی آزادی کا جو تصور قائم کیا ہے اگر درست مان لیا جائے تو پھر فوجی عہدہ داروں کا امتیاز مشکل سے ہو سکے گا پھر جس کے جی میں آئے اپنے سینے اور کندھے پر نشان سجا کر جو چاہے بن بیٹھے! کیا کسی تجارتی‘ صنعتی‘ علمی و ادبی اور سیاسی یونٹ کے سربراہ اور کنٹرولر کو کمانڈر انچیف یا ”صدر مملکت“ کہا جا سکتا ہے؟ کیا اس طرح کی مادر پدر آزادی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ فوجی وردی کا کپڑا کسی

صفحہ 196

بھی ملک کے باشندے عام ملبوسات کی صورت میں ہرگز استعمال نہیں کر سکتے، اور نہ ہی فوج کا عہدہ اور اس کا نشان بدوں استحقاق استعمال کی اجازت ہوتی ہے، خود رائے صاحب بھی اپنی مساوات پارٹی کا نام استعمال کرنے اور اس کا سربراہ یا عہدہ دار کہلانے کی بدوں قواعد و ضوابط اجازت نہیں دے سکتے۔ تو کیا اسلام ہی ایسا مظلوم رہ گیا ہے کہ اس کی ہر اصطلاح جو چاہے اور جس مفہوم و مطلب کے ساتھ چاہے آزادانہ استعمال کرتا پھرے اسے روکنے والا اور اسلام کے تقدس کا احترام کرانے والا کوئی نہ ہو؟ کیا اسلام آج اتنا ہی لاوارث ہو گیا ہے کہ اس کی عزت و آبرو کے لئے کسی کی بھی رگ حمیت نہ پھڑکے......؟ ایسا ہرگز نہیں...... اس دھرتی پر جب تک ایک بھی کلمہ گو فرزند اسلام موجود ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ ہو گا اور اسلام...... تو اللہ احکم الحاکمین کا دین ہے۔ اس کی ایک ایک اصطلاح اور اس کے ایک ایک حکم کا محافظ وہ خود ہے، وہ اپنے شعائر کی حفاظت کا مالک اور قادر ہے، اپنے دین، اپنے قرآن اور اپنے گھر (بیت اللہ شریف) کی خود حفاظت کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، وہ تو ابابیل پرندوں سے بھی کام لیتا رہا ہے، اس کے دین اور اس کے شعائر کو دنیا کا کوئی بھی ظالم و جابر انسان ہرگز ہرگز مٹا نہیں سکتا ہے۔

اسلام کی تمام اصطلاحات اپنے صحیح مفہوم و معنی کے ساتھ دنیا میں ضرور برقرار رہیں گی۔ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج ۳۲) اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر اور اس کی نشانیوں کی تعظیم و تکریم کرتا ہے تو یہ اس کے دل کی پرہیزگاری اور قلبی تقویٰ کی بناء پر ہے۔

بہر نوع اسلام کی تمام اصطلاحات ”نبی“ ”رسول“ ”اُم المومنین“ ”سیدۃ النساء“ اور ”صحابہ کرام“ اپنا خاص محل اور مفہوم رکھتی ہیں جو کسی بھی دوسرے کے لئے ہرگز استعمال نہیں ہو سکتیں۔ اسی طرح عبادت گاہوں کے نام کا معاملہ ہے، دنیا کے تمام مذاہب کو ماننے والوں کی عبادت گاہوں کے نام ان کے ڈیزائن اور ان کی شناخت ایک دوسرے سے مختلف ہے، مسلمانوں کی مسجد، عیسائیوں کا گرجا، یہودیوں کا بیعہ، بدھوں کا ٹوپا، ہندوؤں کا مندر، سکھوں کا گوردوارہ اور اسماعیلیوں کا جماعت خانہ ہے، ہر قوم کی عبادت گاہ الگ ہے قادیانیوں کی عبادت گاہ بھی مسلمانوں کی (مساجد) سے الگ، اور اُن کی شناخت بھی مسجدوں سے مختلف ہونی چاہیئے تا کہ جملہ عبادت گاہوں میں قادیانیوں کی عبادت گاہ دُور سے پہچانی جاسکے، یہی وجہ ہے کہ

صفحہ 197

حکومت نے آرڈینینس کے ذریعے قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھنے سے منع کر دیا ہے‘ اس پر سختی کے ساتھ عمل ہونا چاہیئے نہ کہ اعتراض ......!

قادیانیوں کو احمدی نہ کہا جائے‘ ارتداد کی سزا دی جائے !

قادیانیوں کو جب سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور انہیں اسلام کی مقدس اصطلاحات غلط طور پر استعمال کرنے سے قانوناً منع کر دیا گیا ہے تو حکومت کی طرف سے ملکی قوانین وضوابط پر عمل کرانے کے مؤثر اقدامات کو قادیانیوں نے اپنے لئے ایک چیلنج سمجھا ہے‘ انہوں نے ہر ممکن صورت میں حکومت کو ناکام بنانے کے حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ چنانچہ ایک طرف تو قادیانیوں کے سربراہ جماعت مرزا طاہر نے ملک سے راہ فرار اختیار کر کے لندن میں اپنا مرکز قائم کر لیا ہے اور کیسٹوں کے ذریعہ جماعتی کارکنوں کو قانون شکنی اور ملک میں فساد برپا کرنے کی ہدایات بھیجی جا رہی ہیں‘ اور دوسری جانب کھلی بغاوت کی راہ اختیار کی جا رہی اس کا مظاہرہ اس طرح ہوا کہ حالیہ الیکشن ۸۵ء میں حکومت نے تمام غیر مسلم اقلیتوں کے دوش بدوش قادیانیوں کے لئے بھی صوبائی اور قومی اسمبلی میں نشستیں مخصوص کی تھیں‘ مگر قادیانیوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر کے کسی نشست پر بھی اپنا کوئی نمائندہ کھڑا نہیں کیا ہے اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قادیانی ملک کے آئین وضوابط کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی خود غیر مسلم کہلوانے اور ”اقلیت“ بننے کو تیار ہیں‘ اندریں صورت اب دو ہی راستے ہیں کہ قادیانی سیدھی راہ اختیار کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر ملت اسلامیہ کا حصہ بن جائیں تو چشم ما روشن دل ما شاد...... ورنہ حکومت کو چاہیئے کہ قادیانی سربراہ جماعت مرزا طاہر‘ سر ظفر اللہ خاں سابق وزیر خارجہ پاکستان‘ ایم ایم احمد رکن عالمی بنک سمیت تمام جماعتی عہدے داروں کے خلاف اسلام اور ملکی قوانین کے خلاف بغاوت کی پاداش میں مقدمہ چلا کر عبرت ناک سزا دے‘ اور ان کا جماعتی سرمایہ بحق سرکار ضبط کر کے تحقیقات کرائی جائے کہ کونسے بیرونی ملک سے اس جماعت کو مالی امداد اور اس فتنے کو فروغ دینے کے اسباب فراہم ہوتے ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ان کے اسلحے کے لائسنس منسوخ اور اسلحہ ضبط کر کے جماعت احمدیہ سمیت فرقان بٹالین‘ خدام الاحمدیہ‘ لجنہ اماء اللہ وغیرہ مختلف ناموں سے ان کی تمام رضا کار فوجی تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیکر ملک کے کلیدی عہدوں سے مرزائی افسروں کو فوراً برطرف کر دینا چاہیئے کیونکہ یہ لوگ اپنے سربراہ جماعت کی باغیانہ ہدایات کے مطابق اسلام‘ ملت اسلامیہ اور پاکستان

صفحہ 198

کے خلاف نہایت خطرناک سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، گزشتہ واقعات اس کے شاہد ہیں کہ ان کے بڑے بڑے مرزائی افسروں نے اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر پاکستان کے خلاف سازش میں حصہ لینے، اندرون اور بیرون ملک مرزائیت کو فروغ دینے، مختلف سرکاری محکموں میں مرزائیوں کا اثر و نفوذ بڑھانے اور ملک و ملت کو ہر ممکن طریقے سے نقصان پہنچانے کیلئے نہایت گھناؤنا کردار ادا کیا ہے، ان سے چشم پوشی، نرم برتاؤ یا اس سلسلے میں مزید کوتاہی اور تساہل، سنگین حالات کا موجب ہو سکتا ہے اس لئے حکومت کو کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر ان کے خلاف فوری قدم اُٹھا کر جرأت مندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تا کہ ان دشمنان ملک و ملت کو اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کا موقع نہ مل سکے۔ نیز حکومت اور عوام دونوں کے لئے ضروری ہے کہ ملکی آئین کی دفعہ ۲۹۸ کے مطابق قادیانیوں کو خواہ وہ ربوہ کی جماعت سے متعلق ہوں یا لاہوری سے انہیں صرف ”مرزائی“ کہا اور لکھا جائے! کیونکہ دنیا کے مختلف عرب ممالک میں احمدی نام سے مسلم قبیلہ موجود ہے پاکستان کے قادیانی اپنے آپ کو احمدی کہلوا کر دنیا میں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے مرزائی احمدی بھی عربوں ہی کی طرح ایک مسلم قبیلہ ہے جسے خواہ مخواہ غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے صدر مملکت کو اس کی بابت بھی آرڈی ننس نافذ کر کے اشتباہ دُور کر دینا چاہئے۔

کمیونسٹوں کا اپنوں کے ساتھ سلوک

کیا رائے صاحب اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ روس میں کمیونزم پر یقین نہ رکھنے والوں یا چین میں کمیونزم کی غلط تعبیر و تشریح کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟ نئے چین کے بانی ماؤ کی بیوہ اور اس کے ساتھیوں ”چار کے ٹولے“ کو حکمراں جماعت نے آزادیٔ رائے اور اپنی مرضی سے سرگرم عمل رہنے سے کیوں روکا تھا؟ آزادیٔ رائے اور رواداری کا جو مفہوم رائے صاحب وضع فرما رہے ہیں اگر درست تسلیم کر لیا جائے تو رائے صاحب جاگیرداری و سرمایہ داری کی مخالفت کر کے اس طبقہ کو آزادی سے کیوں محروم کر دینا چاہتے ہیں ان کے ساتھ روا داری کا سلوک کیوں نہیں کرتے......؟ پھر چوروں، ڈاکوؤں اور دوسرے قانون شکن عناصر کی گرفت اور مخالفت کیوں ہے؟ لوگوں کی اپنے سرمائے سے قائم کی ہوئی بڑی بڑی صنعتیں چھین کر اپنے ”جیالے کارکنوں“ کے سپرد کرنے صنعت کاروں کے حقوق ان کی آزادی سلب کرنے اور ایک طبقے کو ان کی ذاتی چیزوں سے محروم کر دینے کا جابرانہ رویہ کیوں اختیار کیا

صفحہ 199

جاتا ہے؟ اس معاملے میں رواداری کیوں نہیں برتی جاتی؟ اسی طرح ملاوٹ کرنے والے دوسرے بدعنوان لوگوں کا معاملہ ہے‘ کیا ان کے ساتھ بھی رواداری کا یہی سلوک ہونا چاہئے؟

”آزادی اور رواداری“ کا ایک محل وقوع ‘ اور ایک اخلاقی ضابطہ ہے اس کے دائرے اور احاطے کے اندر تو آزادی اور رواداری کی بات کی جاسکتی ہے‘ مگر قانون شکنی‘ ملک و ملت کے تحفظ کے خلاف سرگرمی‘ سازش اور فتنہ و فساد برپا کرنے کی نہ تو آزادی دی جاسکتی ہے‘ اور نہ ہی ایسے لوگوں کے ساتھ رواداری اور چشم پوشی کا برتاؤ کیا جاسکتا ہے پھر رائے صاحب جن لوگوں کے ساتھ ”رواداری“ کے خواہاں اور رطب اللسان ہیں ان کا اپنا وطیرہ یہ رہا ہے کہ نہ تو انہوں نے قادیاں میں کسی مسلمان کو رہائش کی اجازت دی تھی اور نہ ہی ربوہ میں قادیانیوں کے سوا کوئی دوسرا شخص رہ سکتا ہے‘ ربوہ میں آج جو تھوڑی سی اجازت ملی اور وہاں مسلم کالونی میں مسلمان کے لئے بھی رہائش کے اختیارات حاصل ہوئے ہیں وہ بھی موجودہ حکومت کے جرأت مندانہ اقدام کی وجہ سے ہے ورنہ ”قادیانی مرزائی“ تو اب بھی اپنا زور صرف کر رہے ہیں کہ اس علاقے میں ان کا کوئی بھی مخالف زندہ نہ رہ سکے‘ مسلمان تو درکنار‘ ربوہ میں کوئی مرزائی بھی اپنے ”لیڈر“ اور جماعتی سربراہ کی منظوری کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ہے‘ حمید نظامی مرحوم نے اپنے اخبار میں ”ریاست اندر ریاست“ کے عنوان سے اسی سنگین صورت حال کے خلاف اداریہ لکھ کر حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہاں پر مسلمانوں کو بھی رہائش کے حقوق دیئے جائیں‘ بایں ہمہ‘ قادیانیوں کے سربراہ نے اپنے قادیانی مخالفوں کی بھی جائداد ضبط کر کے دھکے دے کر ربوہ سے نکال باہر کیا تھا اس کی تفصیلات ”تاریخ محمودیت“ میں دیکھی جاسکتی ہیں‘ یا ”داستانِ غم“ ان مظلوموں کی زبانی سنی جاسکتی ہے جو آج در بدر ٹھوکریں کھاتے ہوئے ”مرزائی حکمرانوں“ کی ”رواداری“ کا چرچا کرتے پھرتے ہیں۔

جن لوگوں کا خود اپنی جماعت اور اپنے عقیدے کے افراد کے ساتھ یہ سلوک ہے‘ وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ کس قدر ”المناک رواداری“ کا برتاؤ کرتے ہوں گے؟

کیا رائے صاحب بتا سکتے ہیں کہ پورے پاکستان میں کسی بھی عقیدہ اور مسلک کے لوگوں پر مشتمل کوئی آبادی یا کوئی ایسی بستی موجود ہے جو عقاید و نظریات کی اساس پر قائم ہو‘ جس میں دوسرے عقیدے سے متعلق افراد یا ان کے مخالفوں کو رہائش اختیار کرنے اور دوسرے شہری حقوق بھی حاصل نہ ہوں؟ اگر نہیں تو پھر قادیانیوں پر ہی یہ نظر کرم اور یہ مہربانی کیوں۔؟

صفحہ 200

رائے صاحب کو یہ بھی علم ہوگا کہ قیام پاکستان کے بعد ”ربوہ“ کی یہ زمین انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے اپنے اس خود کاشتہ پودے کی آبیاری کے لئے قادیانیوں کو بطور تحفہ عنایت کی تھی اور اس کی برائے نام قیمت بھی ایک آنہ فی مرلہ مقرر کی تھی۔

ہمارا تو مطالبہ یہ ہے کہ حکومت ”انگریز گورنر کے سیاسی احکام منسوخ کر کے ”ربوہ“ کی ساری زمین نیلام عام کے ذریعے فروخت کرے یا اس کی وہ قیمت مقرر کی جائے اسے مالکانہ حقوق بھی حاصل ہونے چاہئیں کیونکہ ربوہ کی تمام زمین آج بھی صدر انجمن احمدیہ کے نام پر ہے۔ اور وہاں رہائش پذیر تمام قادیانیوں کی تجدید الاٹمنٹ خود قادیانی سربراہ کے احکام کے ساتھ ہوتی ہے‘ اس طرح جو بھی قادیانی اظہار اختلاف کرے اس کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے ”ربوہ بدر“ کر دیا جاتا ہے۔

جناب رائے صاحب کو ”رواداری“ کے اس پہلو کی بابت کچھ ارشاد فرمانا چاہئے! باقی رہا ان غیر مسلموں اور مستشرقین کا معاملہ جو اپنی کتابوں میں یا اپنے اشعار میں حضور رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و منقبت بیان کرتے اور اسلام کی خوبیوں کے اعتراف میں مضامین اور کتابیں شائع کیا کرتے ہیں‘ انہیں نذر آتش کرنے کا معاملہ اور تبلیغ اسلام رک جانے کی بات ! رائے صاحب کو خود ہی اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ اس عنوان پر جو بھی غیر مسلم گفتگو کرتا اور پیغمبر اسلامؐ کے محاسن و اوصاف بیان کیا کرتا ہے اس کے مفہوم و مقصود میں مرزا غلام احمد کی طرح تحریف اور گستاخی کا تصور نہیں ہوا کرتا بلکہ ان کا مرکز و محور صرف اور صرف حضور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور آپ کی توصیف و منقبت پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن یہاں مرزائی نام اور اسم گرامی تو حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا لیتے ہیں‘ کلمہ اور آیات کریمہ آپ پر نازل شدہ پڑھتے ہیں اور مراد مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات اور اس کی تعلیمات لیتے ہیں‘ ایسی صورت میں غیر مسلموں کی کتابیں اور تحریریں کیسے زیر بحث آ گئی ہیں۔

البتہ کوئی غیر مسلم بھی اگر ایسی جسارت اور مذموم حرکت کرے گا تو غیرت مند مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے‘ شاتموں اور گستاخانِ رسولؐ کے عبرتناک انجام سے متعلق تاریخ کے صفحات آج بھی شاہد ہیں۔ رائے صاحب نے اپنے مضمون میں قادیانیوں کی مخالفت کی پاداش میں تبلیغ اسلام رُک جانے اور علماء پر ناگہانی مصیبت نازل ہونے کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے۔

صفحہ 201
آنکھ تیری سوئے کعبہ دل تیرا بیت الصنم
مجھ کو تیرے دل کا اندیشہ تجھے فکرِ حَرم

سب جانتے ہیں کہ قیصر و کسریٰ سے لیکر عصر حاضر کی بڑی بڑی ظالم و جابر طاقتوں تک سب نے اپنے جدید ترین وسائل و ذرائع کے ساتھ اسلام کا راستہ روکنے اور اس کے مبلغوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے ہزار جتن کئے اسلام ضابطہ حیات کی حیثیت سے وسعت پذیر اور روز افزوں ہے، اس دین کا اللہ تعالیٰ محافظ ہے اور اسی کے فضل سے ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔

تمہیں خبر نہیں شاید کہ دینِ حق کا چراغ
ہوائے تُند کے باوصف جلتا رہتا ہے

رہی علماء پر مصیبت نازل ہونے کی بات! علماء حق کے اس گروہ پر مصائب و آلام کے پہاڑ کب نہیں ٹوٹے؟ خصوصاً فرنگی دور حکومت سے لے کر آج تک انہیں کس نے معاف کیا ہے؟ انہیں دار پر کس نے نہیں لٹکایا۔؟ یہ لوگ کالے پانی جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتوں سے کب دو چار نہ ہوئے؟ جلاد کے بے رحم کوڑوں اور پولیس کے ظالمانہ تشدد سے ان کا جسم کب زخمی نہ ہوا؟ لگاتار لاٹھیوں سے کب ان کی ہڈیاں چکنا چور نہ ہوئیں؟ مصائب و آلام کے خوف سے صرف علماء سوء ہی لرزہ براندام ہوا کرتے ہیں، جنہیں حکمرانوں کی نوازشات اور لاکھوں روپے کی ”مالی امداد“ اور دیگر مراعات چھین جانے کا خطرہ ہو، درویش صفت داعیانِ حق و صداقت کے لئے یہ دھمکیاں سودمند ہیں نہ موثر ......؟

پھر یہ گریز کیوں؟

راے صاحب نے اپنے مضمون میں اپنے اور اپنے دُور و نزدیک رشتہ داروں کی بابت احمدی نہ ہونے کی بھی صفائی پیش کی ہے۔ جب ان کے نزدیک قادیانیوں کا اور عام مسلمانوں کا کلمہ ایک ہی ہے تو ”احمدیت“ سے بریت چہ معنی دارد؟ ”احمدیت“ اگر مبغوض، اور کوئی بری چیز نہیں تو اظہار نفرت اور اس سے دامن کش ہونے انہیں اپنے ”احمدی“ ہونے یا کہلانے میں کوئی قباحت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟

جہاں تک ان کے رشتے داروں کے قادیانی ہونے کا سوال ہے تو راے صاحب کو

صفحہ 202

یاد ہو گا کہ ان کے دور وزارت میں راقم الحروف نے ان کی خدمت میں ان کی بیگم شاہین رائے کے ”قادیانیت“ سے وابستگی کی بابت مختلف حلقوں کے پروپیگنڈے کا تذکرہ کیا تھا جس کی آپ نے سختی کے ساتھ تردید کی تھی‘ آج جب آپ انہی قادیانیوں کے وکیل‘ اور ان کے غلط موقف کے مؤید بن کر سامنے آئے ہیں تو لوگوں کا شبہ یقین میں تبدیل ہو جائے گا۔ کہ رائے صاحب کی یہ ”کلمہ دوستی“ اپنا ضرور پس منظر رکھتی ہے ......!

آخر میں عرض ہے کہ رائے صاحب تو اس سے ڈرتے ہیں کہ قادیانیوں کی مخالفت کر کے علماء کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں اور پاکستان کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ مجھے اس پر خوف طاری اور ڈر لاحق ہے کہ بانی اسلام حضور محسن انسانیت خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں قادیانیوں کی گستاخانہ جسارتوں‘ اور ملت اسلامیہ کے خلاف ان کی خطرناک سازشوں کی تائید و حمایت اور ان کے جرائم میں شرکت اور معاونت پر کہیں رائے صاحب‘ ان کا خاندان‘ ان کی جماعت بھی قادیانیوں پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کے سخت المناک عذاب کے مستحق اور شکار نہ ہو جائیں کیونکہ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ ہ کہ تیرے رب کی گرفت‘ اور اس کا عتاب بڑا ہی سخت اور درد ناک ہے۔

محترم بھائی محمد حنیف رائے کو توبہ اور اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

وَمَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغ -

کفن بدوش قائد ...... جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ تحریک کے امیر اور مولانا محمود احمد رضوی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فولادی عزم اور ولولہ انگیز قیادت نے پوری قوم میں جہاد کی روح پھونک دی۔ آپ نے پورے ملک کا طوفانی اور ایمانی دورہ کیا اور مسلمانوں کی رگوں میں خون کی بجائے بجلی دوڑا دی‘ اور لوگ آپ کے نعرہ جہاد پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں کود پڑے۔ جب گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب کے پاس گئے اور فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب ! میں تحریک کی راہنمائی کے لئے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں پھر کفن نکال کر دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا۔ اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا۔ واپس گھر جانے کا ارادہ نہیں۔ یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرتے رہنا۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے پوری ملت اسلامیہ کی لاج رکھ لی اور قادیانیوں کو آئین کی رو سے کافر قرار دے دیا گیا)

PDF 203

قادیانیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے !

موضوعات

فہم ختم نبوت سیریز 4

کا افترا اور اس کا جواب پروفیسر مولانا محمد اشرف

بہترین کاغذ ، اعلیٰ پرنٹنگ ، چار رنگا خوبصورت ٹائٹل صفحات : 208 قیمت -/ 90 روپے ، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، حضوری باغ روڈ ، ملتان