دفاع ختم نبوت — اسلام کا سب سے اہم مورچہ · محمد طاہر عبدالرزاق
Difa Khatm-e-Nubuwwat Islam ka Morcha · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

دفاع ختم نبوت

اسلام کا سب سے اہم مورچہ

تحقیق و تدوین محمد طاہر عبدالرزاق

PDF 2

دفاع ختم نبوت

اسلام کا سب سے اہم مورچہ

تحقیق وتدوین

محمد طاہر عبدالرزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

تحفظ

ال

PDF 4

شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔

*

پبلشرز 34- اردو بازار، لاہور 7352332 ت ختم نبوت کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ و بازار، لاہور فون: 7232926

مکتبۃ الحسن

و بازار، لاہور فون: 7241355-4339699-0300

فہم خرد تدبر فکر تڑپ سوز حکمت جرات عزم جہدِ مسلسل اخلاص عشق

انتساب

جب میں ان تمام اوصاف کو جمع کرتا ہوں تو جو شخصیت معرض وجود میں آتی ہے زمانہ اسے

جناب احمد علی ظفر

کے نام سے پکارتا ہے

میں اپنی اس نئی کاوش کا انتساب اُن کے نام کرتا ہوں

PDF 5

تحفظ

اد

PDF 6

آئینہ مضامین

PDF 7

تحفظ

PDF 8

حروف! جو دل پہ دستک دیتے ہیں

علیہ وسلم کی نبوت پرانی اور فرسودہ ہو چکی۔ لہٰذا جدید پیدا شدہ مسائل کے حل کے لئے نئے نبی کا آنا ضروری تھا۔ سنت خیر الانامؐ عصرِ حاضر کے بے چین انسانوں کے سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے کافی نہیں۔ (نعوذ باللہ) اس عقیدہ باطل کو بیان کرتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں ”نبی اکرمؐ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور، بوجہ تمدن کے نقص کے، نہ ہوا ورنہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا“

(ریویو مئی ١٩٢٤ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٤٦ اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)

مزید زہر افشانی سنئے

”ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ اس روحانیت کی ترقیات کی انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اسی روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١)

ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ نبوت کے تمام مراتب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکے، نبوت اپنی تکمیل پر پہنچ گئی، دین مکمل ہو گیا۔ تم کون سی نبوت کی بات کرتے ہو؟ احمقوں کی کس جنت کے باسی ہو؟ تمہیں تو شیطان نے ریشمی دھاگوں سے بنے ہوئے دلفریب جال میں پھنسایا ہوا ہے۔ جاؤ عقل کے ناخن لو۔ اپنے قلب میں ایمان کی شمع فروزاں کرو اور تعصب و جہالت کی عینک اتار کر کلام اللہ اور کلام خاتم النبیینؐ کا مطالعہ کرو تو پھر تم لسان و قلب سے پکار اٹھو گے۔

صفحہ ٩
فرما گئے یہ ہادی لانبی بعدی

اور جہاں تک تمہارے مسائل کا تعلق ہے تو جاؤ تمہیں چیلنج ہے۔ اپنے معاشی مسائل لے کر آؤ‘ اپنے معاشرتی مسائل لے کر آؤ‘ دنیا بھر کے مسائل کا پلندہ لے کر دوڑتے ہوئے آؤ اور آفتاب ختم نبوت کی روشنی میں پلک جھپکنے میں اپنے مسائل حل کرلو۔

طب و صحت کے میدانوں میں ساری زندگی سرگرداں رہنے والو! اگر دنیا کو صحت کی دولت سے مالا مال کرنا چاہتے ہو تو طب نبویؐ کا مطالعہ کرو۔

چاند پر پہنچنے اور مریخ کا عزم رکھنے والو! اگر خلائی سائنس پر عبور چاہتے ہو تو معراج النبیؐ کا مطالعہ کرو۔

معاشیات کے ماہرو! اگر خطہ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو معاشی سکون دینا چاہتے ہو تو خاتم الانبیاءؐ کے نظام زکوۃ کو اپنا لو

عالمی عدالت کے ججو! اگر دنیا میں انصاف کا بول بالا کرنا چاہتے ہو تو مدینہ کے قاضی کی سیرت کو اپنا لو۔

لاشوں کے انبار اور سروں کے مینار تعمیر کرنے والے مغرور فاتحو! کیا تم نے فاتح مکہ کی جھکی ہوئی گردن کو نہ دیکھا؟

اولاد سے سختی کرنے والو اور رزق کے خوف سے اسے قتل کرنے والو! کیا تم نے مصطفیٰؐ کے لبوں کو حسینؓ کے رخساروں کو چومتے نہیں دیکھا؟

ماں سے گستاخانہ رویہ برتنے والو! کیا سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کو ماں کے قدموں تلے نہیں بتایا؟

مزدوروں کے حقوق کے لئے صدائیں بلند کرنے والے لیڈرو! کیا تم نے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کرو؟

معاشرے میں یتیموں کے حقوق کی باتیں کرنے والو! کیا معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیم سے شفقت کرنے والے کو جنت میں اپنی رفاقت کا مژدہ جان فزا نہیں سنایا؟

غرضیکہ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لئے آنے

صفحہ ١٠

والے انسانوں کو زندگی کے ہر ہر سلیقے سے آشنا کر دیا۔ زندگی کو مہد سے لحد تک علم کی روشنی سے منور کر دیا۔ اس دنیا کے باسیوں کو ہر زہر کے لئے تریاق فراہم کر دیا۔ آج بھی ختم نبوت کا آفتاب اپنی تابانیوں کے ساتھ روشن ہے اور ہم ہر گھڑی ہر لمحہ اس آفتاب عالم تاب سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔

اب کبھی الجھن نہ ہو گی دین اکمل کی قسم
زندگی کی الجھنیں سلجھا گیا بطحا کا چاند

قادیانی اپنی دجل و فریب کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی ظلی اور بروزی نبی ہے اور وہ نبی اکرم کا بروز ہے تاریخ انبیاء شاہد ہے کہ مالک کائنات نے اہل کائنات کی رشد و ہدایت کے لئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو اس خاکدان ارضی پر مبعوث فرمایا۔ ان سارے نبیوں میں سے کوئی بھی کسی کا ظل یا بروز نہیں تھا اور نہ ہی دین اسلام میں ظل اور بروز کا کوئی تصور ہے۔ عیار مرزا قادیانی نے یہ تصور ہندوؤں سے مستعار لیا۔ ہم قادیانیوں سے سوال کرتے ہیں کہ بتاؤ دنیا کے کس گوشے اور معاشرے میں ظل و بروز کے عقیدے کو عملی حیثیت حاصل ہے؟ کتنے لوگ بروزی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں کس کا بروز تسلیم کیا جا رہا ہے؟

قادیانیو! ذرا توجہ دینا‘ اگر کوئی عورت اپنے گھر میں کام کاج میں مصروف ہے دروازے پر کوئی شخص دستک دیتا ہے۔ عورت دروازے کے قریب جا کر پوچھتی ہے کون؟ وہ شخص جواب دیتا ہے میں تیرا بروزی خاوند ہوں۔ بتاؤ اس شخص کی کیسی ”چھترول“ ہو گی؟ اگر کوئی نوجوان کسی گاڑی میں سفر کر رہا ہو۔ سامنے کی نشست پر کوئی بوڑھا آدمی آکر بیٹھ جائے اور نوجوان سے کہے بیٹا! مجھے پانچ سو روپیہ دے۔ نوجوان سوال کرے کہ جناب میں تو آپ کو جانتا ہی نہیں۔ بوڑھا پلٹ کر بولے بیٹا! کمال کرتے ہو تم بھی‘ تم مجھے جانتے ہی نہیں‘ میں تمہارا بروزی ابا ہوں۔ بتائیے نوجوان کے جذبات کا کیا عالم ہو گا اور اس کی غیرت اس بوڑھے سے کیا سلوک کرے گی؟

اگر ہمارے معاشرے میں ظل و بروز کا چکر چل جائے تو پورا معاشرہ جہنم بن جائے اور معاشرتی زندگی تباہ و برباد ہو جائے۔ ملک کا نظام تلپٹ ہو جائے۔ کوئی بروزی صدر بن جائے کوئی بروزی وزیر اعظم بن جائے‘ کوئی بروزی کمشنر بن جائے‘ کوئی بروزی

سفیر بن جائے‘ کوئی برو بروزی ایس پی بن جا۔ بہت بڑے عہدوں کا جناب! آج خاکروب ”سستا مسیح“ اس کا برو بھی وصول کروں گا۔ بھجوائے گا۔ اگر کوئی قادیانی مردود کس طر سکتا ہے؟ اگر وہ چوہڑا یا پاگل خانے جانے کا

نبوت لگانے سے نبی سوچنا چاہئے کہ حضو جائیں کہ نبی پاکؐ ک مہر نبوت سے ایک عو ڈھیٹ ا سب :

فرمائیں گے تو اس و عربی صلی اللہ علیہ و جواباً عرض وسلم کے بعد کوئی ؟ علیہ وسلم سے قبل : رب العزت نے ائ

صفحہ ١١

سفیر بن جائے، کوئی بروزی مشیر بن جائے، کوئی بروزی ایم۔ این۔ اے بن جائے اور کوئی بروزی ایس پی بن جائے وغیرہم۔ کیا ان لوگوں کی کوئی سرکاری یا عملی حیثیت ہوگی؟ یہ تو بہت بڑے عہدوں کا تذکرہ ہے۔ اگر کوئی خاکروب کارپوریشن کے دفتر میں آکر کہے کہ جناب! آج خاکروب "منگا مسیح" نہیں آیا اور وہ پورا ایک مہینہ نہیں آئے گا۔ میں "مستا مسیح" اس کا بروز ہوں اور میں اس کی جگہ پورا مہینہ کام کروں گا اور اس کی تنخواہ بھی وصول کروں گا۔ یقینی بات ہے کہ کارپوریشن آفیسر اسے فوراً تھانے یا پاگل خانے بھجوائے گا۔ اگر کوئی چوہڑا کسی چوہڑے کا بروز نہیں ہو سکتا تو چوہڑوں کا "چوہڑہ" مرزا قادیانی مردود کس طرح سید الاولین و آخرین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو سکتا ہے؟ اگر وہ چوہڑا تھانے یا پاگل خانے جانے کا مستحق ہے تو یہ "سپر چوہڑا" بھی تھانے یا پاگل خانے جانے کا سزاوار ہے۔

نبوت لگانے سے نبی بنتے ہیں لیکن عقل کے مارے اور نصیبوں کے ہارے قادیانیوں کو سوچنا چاہئے کہ حضورؐ تو خاتم النبیین ہیں اور النبیین تو جمع ہے اور اس سے یہ معنی لینے چاہئیں کہ نبی پاکؐ کی مہر سے بہت سے نبی بنتے ہیں اور یہاں صدیوں کی مسافت کے بعد مہر نبوت سے ایک ہی نبی "مسٹر گاماں" معرض وجود میں آیا!! الامان والحفیظ۔

ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی بے حیائی آپ کی

فرمائیں گے تو اس وقت عقیدہ ختم نبوت پر زد پڑے گی کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لائیں گے۔

جواباً عرض ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل پیدا ہوئے اور ان کی نبوت کا زمانہ آپؐ سے پہلے کا ہے۔ اس کے بعد رب العزت نے انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ قرب قیامت، دجال کے قتل اور اسلام

صفحہ ١٢

کی تبلیغ کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے لیکن اپنی شریعت لے کر نہیں بلکہ شریعت محمدیؐ کے تابع ہو کر‘ اپنی نبوت کے تحت نہیں بلکہ نبوت محمدیؐ کے تحت!! علماء نے لکھا ہے کہ ساری کائنات کے انسانوں کا آخرت میں صرف ایک دفعہ حساب ہو گا لیکن عیسیٰ علیہ السلام کا دو دفعہ حساب ہو گا ایک دفعہ نبی ہونے کی حیثیت سے‘ دوسری مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے! اس گفتگو سے ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔

عجیب ڈرامہ رچا رکھا ہے۔ وہ اپنی دجالی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی و رسول نہیں بلکہ مجدد و امام مہدی مانتے ہیں (حالانکہ یہ بھی پرلے درجے کا کفر ہے۔ کیونکہ جو شخص مدعی نبوت ہو‘ اسے مجدد یا امام مہدی تو کجا‘ مسلمان ماننا بھی کفر ہے) ہم ان سے پوچھتے ہیں اے ماہرین دجل و فریب! کیا تمہیں مرزا قادیانی کی کتابوں میں بار بار اس کا اعلان نبوت نظر نہیں آتا۔ اگر تمہیں نظر نہیں آتا تو وہ ہم دکھائے دیتے ہیں مرزا قادیانی اعلان کر رہا ہے۔

مصنفہ مرزا قادیانی)

نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨)

چکے ہیں‘ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں‘ سو وہ میں ہوں“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠۔ مباحثہ راولپنڈی ص ١٤٥)

ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ کے ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ“ (براہین

احمدیہ ص ٣٩٨)

١٩٠٨ء از مباحثہ راولپنڈی ص

اب بتاؤ! کیا سوچ ہے؟ کیا فکر قادیانیو! قادیانیت ۔ نے ارتداد کی جھاڑیوں میں دھاگوں سے اسے رفو کر لو۔ ارتداد کے گھٹا ٹوپ اندھیرو! مہتاب کی روشنی میں صراط جھلس رہے ہو اسلام کی باد جھوٹی نبوت کی آہنی زنجیریں دار تھپڑ رسید کرو۔ ختم نبوت کے باغیو رحمان و رحیم رب تمہیں با ہدایت کی روشنی دینے کے ۔ خدارا! قرآن کی پکار سن لو رہے ہیں..... خدارا ان کی لپک کے اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ

ادھر آ
ذرا میخانہ
صفحہ ١٣

تشریف لائیں گے لیکن اپنی شریعت لے کر نہیں بلکہ شریعت نبوت کے تحت نہیں بلکہ نبوت محمدیؐ کے تحت!! علماء نے لکھا کہ انسانوں کا آخرت میں صرف ایک دفعہ حساب ہو گا لیکن عیسیٰ ب ہو گا ایک دفعہ نبی ہونے کی حیثیت سے‘ دوسری مرتبہ سرکار م کے امتی ہونے کی حیثیت سے! اس گفتگو سے ہر صاحب عقل سلام کی آمد سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔

کے لاہوری گروپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک ہے۔ وہ اپنی دجالی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم مرزا ں بلکہ مجدد و امام مہدی مانتے ہیں (حالانکہ یہ بھی پرلے درجے کا ی مدعی نبوت ہو‘ اسے مجدد یا امام مہدی تو کجا‘ مسلمان ماننا بھی کفر نہیں اے ماہرین دجل و فریب! کیا تمہیں مرزا قادیانی کی کتابوں ع نبوت نظر نہیں آتا۔ اگر تمہیں نظر نہیں آتا تو وہ ہم دکھائے لان کر رہا ہے۔

رہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“ (دافع البلاء ص ١١ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ کہ اس سی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ قت الوحی ص ٦٨)

میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں‘ سو وہ میں ہوں“ ص ٩٠۔ مباحثہ راولپنڈی ص ١٤٥)

ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے اس میں ل اور نبی کے موجود ہیں نہ کے ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ“ (براہین

احمدیہ ص ٤٩٨)

١٩٠٨ء از مباحثہ راولپنڈی ص ١٣٣)

اب بتاؤ! کیا سوچ ہے؟ کیا فکر ہے؟ آئندہ کیا لائحہ عمل ہے؟

قادیانیو! قادیانیت کے گندے جوہڑ کو چھوڑ کر اسلام کے چشمہ صافی پر آجاؤ‘ تم نے ارتداد کی جھاڑیوں میں پھنس کر اپنے دامن کو تار تار کیا ہے۔ آؤ! ایمان کے دھاگوں سے اسے رفو کر لو۔ ندامت کے چند آنسو بہا کر اپنے گناہوں کی سیاہی دھو لو۔ ارتداد کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹھوکریں نہ کھاؤ۔ آؤ! قرآن کے آفتاب اور نبوت کے مہتاب کی روشنی میں صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاؤ۔ کیوں جھوٹی نبوت کی بادِ صرصر میں جھلس رہے ہو اسلام کی بادِ صبا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ لا نبی بعدی کا نعرہ مستانہ لگا کر جھوٹی نبوت کی آہنی زنجیریں توڑ دو۔ جعلی نبی اور جعلی نبوت کے منحوس چہروں پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دو۔

ختم نبوت کے باغیو! زندگی کے چند ایام باقی ہیں‘ درِ توبہ کھلا ہے۔۔۔ تمہارا رحمان و رحیم رب تمہیں بلا رہا ہے۔۔۔ اپنے رب کی بات سن لو۔۔۔ قرآن تمہیں رشد و ہدایت کی روشنی دینے کے لئے پکار رہا ہے۔۔۔

خدارا! قرآن کی پکار سن لو۔۔۔ جناب خاتم النبینؐ تمہیں جنت کے لئے صدائیں دے رہے ہیں۔۔۔ خدارا ان کی صدائے رحمت پر گوش ہوش رکھ دو۔۔۔ وقت تمہیں لپک لپک کے اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے دہائی دے رہا ہے۔

ادھر آ زندگی کا بادہ گلفام پیتا جا
ذرا میخانہ ”محمدؐ“ سے اک جام پیتا جا

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی۔ ایم اے (تاریخ)

صفحہ ١٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیشانی

امت مسلمہ کو آج تک جن خطرناک اور مہیب فتنوں سے واسطہ پڑا۔ اور امتحان کی بھٹی سے گذرنا پڑا۔ ان میں ایک فتنہ قادیانیت بھی ہے۔ دیگر فتنوں کے تعاقب میں اللہ رب العزت نے جس طرح امت محمدیہ کو فتح و کامرانی سے ممتاز فرمایا۔ اسی طرح قادیانی فتنہ کے تعاقب میں بھی امت محمدیہ کو حق تعالیٰ نے ہر محاذ پر کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ مناظرہ، تحریر، تقریر، عدالت، اسمبلی ہر محاذ پر قادیانیت شکست سے دو چار ہوئی۔ اور امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح و ظفر مندی سے ممتاز فرمایا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سید الاحرار فرمایا کرتے تھے لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا قادیانیوں سے مقابلہ ہے۔ ایسے نہیں بلکہ میرا ان سے مقابلہ ہے۔ جو قادیانیت کی پشت پر ہیں۔ فرمایا میں برصغیر میں قادیانیوں کی دم پر پاؤں رکھتا ہوں ان کی چیخ امریکہ و برطانیہ میں سنائی دیتی ہے۔

واقعہ بھی یہی ہے کہ اگر آج قادیانیت زندہ ہے تو امریکہ و برطانیہ کے آلہ کار کے طور پر زندہ ہے۔ امریکہ، برطانیہ، صہیونی طاقتیں اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کے لیے قادیانیت کی لاش کو واشنگٹن و لندن کے خزانہ سے آکسیجن مہیا کرتے ہیں۔

قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان متنازعہ مسائل کو چار عنوانوں پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (١) ختم نبوت (٢) حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام (٣) کذب مرزا غلام قادیانی (٤) کفر و اسلام کی حدود کیا ہیں؟ ان عنوانات پر بحمدہ تعالیٰ اتنا لکھا جاچکا ہے کہ اب اس میں زیادتی کرنا شاید دشوار ہو۔ تاہم امت کے جن حضرات نے اس سلسلہ میں اپنی محنتوں کو جاری رکھا ہوا ہے وہ قابل تحسین و مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امت کے لکھے

صفحہ ١٥

پیشانی

امت مسلمہ کو آج تک جن خطرناک اور مہیب فتنوں سے واسطہ پڑا۔ اور امتحان کی بھٹی سے گزرنا پڑا۔ ان میں ایک فتنہ قادیانیت بھی ہے۔ دیگر فتنوں کے تعاقب میں اللہ رب العزت نے جس طرح امت محمدیہ کو فتح و کامرانی سے ممتاز فرمایا۔ اسی طرح قادیانی فتنہ کے تعاقب میں بھی امت محمدیہ کو حق تعالیٰ نے ہر محاذ پر کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ مناظرہ، تحریر، تقریر، عدالت، اسمبلی ہر محاذ پر قادیانیت شکست سے دوچار ہوئی۔ اور امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح وظفر مندی سے ممتاز فرمایا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سید الاحرار فرمایا کرتے تھے لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا قادیانیوں سے مقابلہ ہے۔ ایسے نہیں بلکہ میرا، ان سے مقابلہ ہے۔ جو قادیانیت کی پشت پر ہیں۔ فرمایا میں برصغیر میں قادیانیوں کی دم پر پاؤں رکھتا ہوں ان کی چیخ امریکہ و برطانیہ میں سنائی دیتی ہے۔

واقعہ بھی یہی ہے کہ اگر آج قادیانیت زندہ ہے تو امریکہ و برطانیہ کے آلہ کار کے طور پر زندہ ہے۔ امریکہ، برطانیہ، صیہونی طاقتیں اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کے لیے قادیانیت کی لاش کو واشنگٹن ولندن کے خزانہ سے آکسیجن مہیا کرتے ہیں۔

قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان متنازعہ مسائل کو چار عنوانوں پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (١) ختم نبوت (٢) حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام (٣) کذب مرزا غلام قادیانی (٤) کفر و اسلام کی حدود کیا ہیں؟ ان عنوانات پر بحمدہ تعالیٰ اتنا لکھا جاچکا ہے کہ اب اس میں زیادتی کرنا شاید دشوار ہو۔ تاہم امت کے جن حضرات نے اس سلسلہ میں اپنی محنتوں کو جاری رکھا ہوا ہے وہ قابل تحسین ومبارک باد کے مستحق ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امت کے لکھے

ہوئے ذخیرہ کو جدید طرز پر مرتب کرکے تحقیق وتخریج کے مرحلہ سے گزار کر سلیقہ وقرینہ سے نئی ترتیب کے ساتھ زندہ جاوید بنادیا جائے۔

چنانچہ گذشتہ سو سال کی ان گرانقدر کتب ورسائل کو ”احتساب قادیانیت“ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کرنا شروع کیا ہے۔ اس وقت تک چودہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ اس میں دوسو کے قریب کتب ورسائل پر کام مکمل ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق مزید سے نوازیں۔ آمین

جس طرح ان رسائل و کتب کو جدید طرز پر مرتب کیا جارہا ہے۔ ضرورت تھی کہ ان اکابرین امت کے جو مضامین و مقالہ جات مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوئے۔ انہیں بھی یکجا کیا جائے۔ اس کے لیے میرے بھائی جناب محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے بیڑا اٹھایا ہے۔ قارئین شاید اندازہ نہ کرپائیں کہ یہ کام کتنا مشکل ہے۔ پہلے تو ان مضامین کو گذشتہ صدی کے جرائد سے تلاش کرنا، فوٹو کرانا، ترتیب قائم کرنی، انہیں پڑھنا، اور انتخاب کرنا، کمپوزنگ کرانا، پروف ریڈنگ کرنا، کاپیاں جڑوانی اور پھر طباعت کے جانگسل مراحل سے گزرنا۔ تب کہیں جاکر کوئی ایک کتاب کسی قاری کے سامنے پہنچتی ہے۔ محترم محمد طاہر عبدالرزاق صاحب لائق تبریک ہیں کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور کامیابی کے کنارے اپنی ناؤ کو لگانے میں کامیاب رہے ہیں۔

زیر نظر کتاب میں متذکرہ چاروں عنوانات پر بہت مفید مواد آپ کو ملے گا۔ یہ کوئی مستقل تصنیف نہیں بلکہ اکابرین امت کی محنت (مضامین) کو یکجا کرکے سلیقہ وقرینہ سے سجایا گیا ہے۔ اہل علم اور اس موضوع سے تعلق رکھنے والے اس کی قدر کریں گے۔ بہت ہی خوشی کا باعث ہے کہ امت کی محنت وکاوش کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کردینے کا یہ مستحسن قدم اٹھایا گیا ہے۔ حق تعالیٰ شانہٗ بہت ہی برکتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین۔ برحمتک یا ارحم الراحمین۔

فقیر اللہ وسایا خادم ختم نبوت، حضور باغ روڈ ملتان

صفحہ ١٦

جگر سوختہ

شیطان کی صورت میں یہ بدقسمتی روز ازل سے انسان کے تعاقب میں ہے اور اسے تباہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ دھوپ کے ساتھ سایہ، صحت کے ساتھ بیماری، نیکی کے ساتھ بدی، اچھائی کے ساتھ برائی کی عداوت ایک تواتر کے ساتھ چلی آرہی ہے مگر ان سب سے بڑھ کر جو عداوت مستقل اور قدیم ہے وہ ہے ہدایت کے ساتھ گمراہی کی عداوت و دشمنی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخرالزماں ﷺ تک جتنے انبیاء و رسل مبعوث ہوئے شیطانی طاقتوں نے ان کے ساتھ دشمنی کا رویہ اپنایا حتی کہ انہیں جان تک سے مار دینے کی کوششیں کیں۔ آنحضرت ﷺ اور ان کی امت کے ساتھ شیطان کی دشمنی ایک لازمے کے طور پر چلی آرہی ہے کیونکہ آپ کی تعلیمات سے انسان کو خیر و شر کے درمیان کھلی اور واضح تمیز کا ادراک ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صاحب بصیرت کا روشن ہدایت کی موجودگی میں بھٹکنے کا اندیشہ کم سے کم ہوتا ہے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے شیطان کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ محنت سے جی چرانا، غفلت میں پڑے رہنا شیطان کی سرشت ہے جس سے مجبور ہو کر وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تن آسانی سے کام لینے کی سعی کرتا ہے۔ شیطان کی اپنی خصلتوں کی بنا پر اہل نظر سستی و کاہلی کو شیطان کی نحوست اور کام چوری و غفلت کو شیطانی صفت قرار دے کر اس سے پناہ طلب کرتے ہیں۔

بزدل اور عیار دشمن کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ کھلے عام وار کرنے کی بجائے ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے۔ شیطان بھی بنیادی طور پر بزدل اور نامراد قسم کی چیز ہے اس لیے وہ ہمیشہ انسان کو دوستی کے روپ میں آکر ورغلاتا اور بہکاتا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ اس کا یہ حربہ آنحضرت کے زمانے سے ہی چلا آرہا ہے۔ جب شیطان نے عبداللہ بن ابی کی شکل میں آپ ﷺ کا اعتماد حاصل کر کے دین اور اہل دین کے خلاف

صفحہ ١٧

جگر سوختہ

دنیا میں یہ بدقسمتی روزِ ازل سے انسان کے تعاقب میں ہے اور اسے ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ دھوپ کے ساتھ سایہ، صحت کے ساتھ بیماری، اچھائی کے ساتھ برائی کی عداوت ایک تواتر کے ساتھ چلی آرہی ہے۔ وہ کہ جو عداوت مستقل اور قدیم ہے وہ ہے ہدایت کے ساتھ گمراہی۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں تک مبعوث ہوئے شیطانی طاقتوں نے ان کے ساتھ دشمنی کا رویہ اپنایا اور ضرر دینے کی کوششیں کیں۔ آنحضرتﷺ اور ان کی امت کے ساتھ تو یہ لازمے کے طور پر چلی آرہی ہے کیونکہ آپ کی تعلیمات سے حق اور واضح تمیز کا ادراک ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صاحبِ بصیرت کو اس سے بھٹکنے کا اندیشہ کم سے کم ہوتا ہے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے زیادہ ضرورت پیش آتی ہے۔ محنت سے جی چرانا، غفلت میں پڑے رہنا، اس سب سے مجبور ہو کر وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تن آسانی سے کام لیتا ہے۔ شیطان کی اپنی خصلتوں کی بنا پر اہل نظر سستی و کاہلی کو شیطان کی مذموم و شیطانی صفت قرار دے کر اس سے پناہ طلب کرتے ہیں۔

اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ کھلے عام وار کرنے کی بجائے چھپتا ہے۔ شیطان بھی بنیادی طور پر بزدل اور نامراد قسم کی چیز ہے جو انسانی دوستی کے روپ میں آ کر ورغلاتا اور بہکاتا ہے۔ خاص طور پر اس کا یہ وتیرہ آنحضرت کے زمانے سے ہی چلا آ رہا ہے۔ جب شیطان نے آپﷺ کا اعتماد حاصل کر کے دینی اور اہل دین کے خلاف

سازش کا تانا بانا بنا جس کی اطلاع آپﷺ کو بذریعہ وحی دے دی گئی۔ اور یوں اس منافق اعظم کا پردہ چاک ہوا جسے شیطان نے تمغہ ضلالت و ذلالت سے نوازا تھا۔ عبداللہ بن ابی کے جہنم رسید ہونے کے بعد شیطان نے اس کی نسل کی آبیاری کا بیڑا اٹھایا اور ہر زمانے میں اس کی نسل کے بڑے بڑے منافقوں کو نئے نئے حربوں سے انسانیت کے خلاف صف آراء کر کے نسل انسانی کو گمراہ کر کے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کی۔

برصغیر میں شیطان نے عبداللہ بن ابی کے نطفہ کا سنبھال کے رکھا ہوا جرثومہ جس بدبخت و ناہنجار عورت کے رحم میں داخل کیا اس نے مرزا قادیانی کی شکل میں تاریخ انسانی کے بدترین ذلیل وجود کو جنم دیا۔ جس نے پوری دنیا میں غلاظت اور جنسیت کی وبا پھیلا دی۔ جس پر شیطان بدمستی میں خوب ناچا کہ شاگرد نے شاگردی کا حق ادا کر دیا۔ مرزا قادیانی نے دنیا میں جو بے غیرتی پھیلائی وہ اربوں کنجر مل کر بھی نہیں پھیلا سکتے۔

ایک سروے کے مطابق قادیانیوں کی نوے فیصد عورتیں زنا کاری کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتی ہیں کہ انہیں ان کی جماعت کے سربراہ کی طرف سے یہ مستقل ہدایت ہے کہ وہ قادیانیت کے فروغ کے لیے دھن کے ساتھ ساتھ اپنے تن کو بھی استعمال میں لائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گمراہی کے جال میں پھنسا کر ان کی عاقبت خراب کر کے شیطان کو خوش کیا جاسکے۔

نصرانیت کی کوکھ سے جنم لینے والے مرزا قادیانی کی پرورش یہودیت کے گہوارے میں ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک غبی، مجہول، سست ترین کاہل بجو نما شخص کو مہدی، مسیح موعود یہاں تک کہ معاذ اللہ معاذ اللہ ظلی نبی تک کہا جانے لگا۔ دنیا کی ہر زبان میں جس قدر بھی گالیوں کا ذخیرہ ہے اسے اکٹھا کر لیا جائے تب بھی مرزا قادیانی کے لیے ناکافی، نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں کہ اس ابن شیطان، لخت ابلیس، نطفہ بے تحقیق کی کوکھ جلی ماں نے جس اذیت سے اسے جنا تھا اس نے ساری زندگی اس سے زیادہ کرب انگیز حالت میں گزاری کہ حاسد کو تو جہنم کی آگ کی گرمی بھی کم پڑتی ہے۔ اور یہ خبیث الدہر تو حاسدِ رسولؐ ہے اس کے لیے تو پس جہنم کی آگ بھی کم ہے۔

آج کل کمپیوٹر کے زمانے میں اس فتنہ قادیانیت نے جس جدید انداز میں کمزور ایمان کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کا توڑ کرنا اور ان کی مکروہ

صفحہ ١٨

سازشوں کو بے نقاب کر کے ان کی اصلیت کا چہرہ سامنے لانا اشد ضروری ہے تاکہ یہ ذلیل گروہ عامتہ المسلمین کی متاع زیست عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان کو ڈاکہ زنی کا شکار نہ بنا سکیں۔ اس کے لیے فتنہ قادیانیت کی ابتداء سے لے کر آج تک علمائے امت نے جتنی کوششیں کی ہیں وہ اپنی جگہ۔ مگر قلم و قرطاس کے حوالے سے یہ کوششیں کسی حد تک تشنہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سعادت جناب محمد طاہر عبدالرزاق کے حصے میں آئی جنہوں نے عالم شباب میں ہی اس راز کو جان لیا کہ فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی کے لیے اسی ہتھیار کا استعمال سب سے اہم اور ضروری ہے جس کا اللہ نے اپنی پہلی وحی میں ذکر کیا ہے۔ یعنی ”قلم“ اللہ نے حب رسول سے سرشار اس مجاہد کے بدن میں دھڑکنے والے دل کو نور ایمان سے منور کر کے اس کا سینہ ہی روشن نہیں کیا بلکہ اس کے ذہن رسا کو وہ تابندگی بخشی جس سے اس کے قلم کی نوک سے ایسے ایسے نکتہ آفرین مضامین سامنے آئے جس نے ایک طرف مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں اور انہیں خواب غفلت سے بیدار کر کے فتنہ قادیانیت کی شر انگیزیوں سے آگاہ کیا تو دوسری طرف قادیانیوں کے گروہ میں بے چینی پیدا کر کے ان کے دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کر دی ان کے مکروہ چہرے سے نقاب نوچ کر پھینکنے والے اس مجاہد ختم نبوت کی ولولہ انگیز شخصیت تمام مسلمانوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں جو شب و روز عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔

دعا ہے کہ جناب محمد طاہر عبدالرزاق کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور اہل اسلام قادیانیوں کی حقیقت سے آگاہی حاصل کر کے اس قافلہ میں شریک ہوں جو رد قادیانیت کی تحریک کی شکل میں موجود ہے تا کہ عام مسلمان کا ایمان ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ اللہ رب العزت جناب محمد طاہر عبدالرزاق مدظلہ عالی کی کوششوں کو قبول فرمائیں۔ ان کی زندگی میں برکت دے۔ ان کے گھر اور بچوں کو دنیا جہان کی نعمتوں سے مالا مال کر دے۔ (آمین، ثم آمین)

خیر اندیش علی اصغر عباس لاہور

صفحہ ١٩

ختم نبوت اور تکمیل دین

مولانا سید محبوب حسن واسطی

اگر قدرے غور کیا جائے تو معلوم ہو کہ موضوع کے دونوں حصے ”ختم نبوت“ اور ”تکمیل دین“ باہم سبب و نتیجے کا تعلق رکھتے ہیں کہ تکمیل دین سبب ہے اور ”ختم نبوت“ اس کا قدرتی نتیجہ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ذریعے دین کی تکمیل ہوگئی اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر شعبہ حیات سے متعلق دینی احکامات اللہ کی مخلوق کو پہنچا دیئے تو اب نبوت و رسالت کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے اب تک جاری تھا ختم کر دیا گیا۔

بعثت انبیا علیہم السلام

تخلیق آدم علیہ السلام کے بعد انسانی معاشرہ وجود میں آتے ہی انسان کے گوناگوں معاشرتی مسائل شروع ہو گئے روزی روزگار کے مسائل، شادی بیاہ، باہم لین دین کے مسائل و دیگر متعدد مسائل۔ انسانوں کو ان میں رہبری کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا کے ذریعے یہ رہنمائی فرمائی۔ کچھ عرصے اس رہنمائی کا اثر رہا اور لوگوں نے روشن آسمانی ہدایت کے زیر اثر راحت و پاکیزگی کی زندگی بسر کی۔ مگر کچھ عرصے بعد پھر لوگوں نے ہوا و ہوس کا راستہ اختیار کیا اور ان میں گمراہی پھیلنا شروع ہوئی تو عادت الٰہی کے مطابق ان کی اصلاح کیلیے پھر انبیا و رسول بھیجے گئے۔ قرآن کریم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا:۔ اِنَّهُمُ اَلْفَوْا اٰبَاءَ هُمْ ضَالِّيْنَ o فَهُمْ عَلٰى اَثٰرِهِمْ يُهْرَعُوْنَ o وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ o وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ o

صفحہ ٢٠

انھوں نے اپنے بڑوں کو گمراہی کی حالت میں پایا تھا، پھر یہ انہی کے قدم بقدم تیزی کے ساتھ چلتے تھے اور ان سے پہلے بھی اگلے لوگوں میں اکثر گمراہ ہو چکے ہیں اور ہم نے ان میں بھی ڈرانے والے بھیجے تھے۔

اور سورۂ روم میں اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا:- وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوْهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۝ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور وہ ان کے پاس دلائل لے کر آئے۔ سو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو مرتکب جرائم ہوئے تھے اور اہل ایمان کا غالب کرنا ہمارے ذمے تھا۔‘‘

ایسے ہی بارہ انبیا ورسل کا نام کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے سورۃ النساء میں ارشاد فرمایا:- اِنَّا اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ كَمَا اَوْحَيْنَا اِلَى نُوْحٍ وَّ النَّبِيِّنَ مِنْ بَعْدِهِ وَ اَوْحَيْنَا اِلٰى اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمَعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ وَاٰتَيْنَا دَاوُدَ زَبُوْرًا ۝ ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے جیسے نوح کے پاس بھیجی تھی اور ان کے بعد اور پیغمبروں کے پاس اور ہم نے ابراہیم اور اسمعیل اور اسحق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کے پاس وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور دی تھی۔

اور پھر بارہویں پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے علاوہ بھی متعدد دوسرے پیغمبر ہیں، جنھیں ہم نے مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ سے بیان کر دیا ہے جبکہ بعض کا نہیں بیان کیا۔ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا ۝ اور ایسے پیغمبروں کو صاحب وحی بنایا جن کا حال اس سے قبل ہم آپ

صفحہ ٢١

سے بیان کر چکے ہیں اور ایسے پیغمبروں کو جن کا حال ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا اور موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر کلام فرمایا۔

مقصد بعثت

ان انبیاء و رسل کے بھیجنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا ۝

”ان سب کو خوشخبری دینے والے اور خوف سنانے والے پیغمبر بنا کر اس لیے بھیجا تا کہ لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے سامنے ان پیغمبروں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے (یعنی ظاہراً بھی عذر باقی نہ رہے اور قیامت میں یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو تو دنیا میں بھلائی برائی کا علم ہی نہ تھا کہ اللہ کے نزدیک کیا چیز اچھی ہے اور کیا بری) اور اللہ تعالیٰ پورے زور والے ہیں ۔ بڑی حکمت والے ۔“

مختلف بستیوں کی طرف ہدایت ربانی

چنانچہ ہمیں کچھ تو قرآن وسنت کی تصریحات سے اور کچھ مختلف آیات تورات و کتب تاریخ عالم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے مختلف بستیوں کی ہدایت کے لیے ان انبیا و رسل کو اس طرح بھیجا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی اس وقت کی موجودہ ذریت کی طرف۔ حضرت نوح علیہ السلام کو ایک لاکھ چالیس ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے جزیرہ کی طرف۔ حضرت ہود علیہ السلام کو ارض احقاف میں قوم عاد کی طرف۔ حضرت صالح علیہ السلام کو حجر و وادی قریٰ میں قوم ثمود کی طرف۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قصبہ اور (عراق) کلدان‘ حاران‘ فلسطین شام و مصر وغیرہ کی طرف‘ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو وادی غیر ذی زرع کی طرف حضرت اسحق و یعقوب علیہما السلام کو فدان آرام و ارض کنعان (فلسطین) کی طرف‘ حضرت لوط علیہ السلام کو شرق اردن‘ سدوم و عامورہ کی بستیوں کی طرف‘ حضرت شعیب علیہ السلام کو اصحاب مدین و ایکہ کی طرف‘ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنعان (فلسطین) و مصر کی طرف‘ حضرت موسیٰ و ہارون علیہ السلام کو مصر میں بنی اسرائیل کی طرف‘ حضرت یوشع بن نون

صفحہ ٢٢

علیہ السلام کو اریحا و یروشلم کی طرف، حضرت الیاس علیہ السلام کو بعلبک کی طرف، حضرت الیاس کے خلیفہ و نائب حضرت الیسع علیہ السلام کو بعلبک و نواحی بستیوں کی طرف، حضرت داؤد علیہ السلام کو شام، عراق، فلسطین، شرق اردن، ایلہ (خلیج عقبہ) و حجاز وغیرہ کی طرف، حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کو شام و عراق و یروشلم و لبنان وغیرہ متعدد علاقوں کی طرف، حضرت ایوب علیہ السلام کو سر زمین عوص کی طرف، حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینویٰ کی طرف، حضرت عزیر علیہ السلام کو بابل، یروشلم و سائر آباد (عراق) کی طرف، حضرت زکریا علیہ السلام کو اہل بیت المقدس کی طرف، حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بیت المقدس و نواح یرون کی طرف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تمام اسرائیلی دنیا کی طرف اور آخر میں خاتم النبیین سرور دو عالم فخر کائنات سیدنا حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمیع انس و جن اور تمام عالم کی طرف۔

پیغمبروں کے لیے دو اعزاز

اللہ کے وہ مقرب بندے جو وقتاً فوقتاً مختلف انسانی بستیوں کی طرف ہدایت کے لیے بھیجے گئے اور جن کے ذریعے اللہ رب العزت کا پیغام اور اس کی شریعت بندوں تک پہنچی ان میں سے بعض کے لیے قرآن کریم میں صرف لفظ ”نبی“ استعمال کیا گیا جبکہ بعض دیگر کے لیے صرف لفظ ”رسول“ ایسا بھی ہوا کہ ایک قرآنی آیت میں جسے ”نبی“ کہا گیا دوسری آیت میں اسی کو ”رسول“ کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ یعنی اس پیغمبر کو دو عزتوں سے نوازا گیا اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی آیت میں ”نبی“ و ”رسول“ دونوں لفظ اس پیغمبر کے لیے یکجا کر دیے گئے مثلاً درج ذیل آیات:

اس آیت میں حضرت اسحٰق و حضرت یعقوب علیہ السلام کے لیے لفظ ”نبی“ استعمال کیا گیا۔

اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے لفظ نبی استعمال کیا گیا۔

صفحہ ٢٣

اس آیت میں حضرت ادریس علیہ السلام کے لیے صدیق نبی کا لفظ استعمال کیا گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے سورہ مریم آیت۔٣٠ میں لفظ ”نبی“ استعمال کیا گیا جبکہ درج ذیل آیت میں انھوں نے اپنے لیے لفظ ”رسول اللہ“ استعمال کیا۔

اور اس طرح وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمھارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو درج ذیل آیت میں ”يَأَيُّهَا النَّبِيُّ“ کہہ کر مخاطب کیا گیا۔

اے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کفار سے (بذریعہ تلوار) اور منافقین سے (بذریعہ زبان) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔

جبکہ درج ذیل آیت میں لفظ ”يَأَيُّهَا الرَّسُوْلُ“ کہہ کر آپ سے خطاب کیا گیا:۔

اے رسول! جو جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ سب پہنچا دیجئے۔

بعض قرآنی آیات میں بعض پیغمبروں کے لیے ”رسول“ اور ”نبی“ دونوں لفظ ایک ساتھ ہی استعمال کیے گئے مثلاً

رَسُوْلاً نَّبِيًّا.

اور اس کتاب میں موسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر کیجئے۔ وہ بلاشبہ اللہ کے خاص کیے ہوئے بندے تھے اور وہ رسول بھی تھے نبی بھی تھے۔

صفحہ ٢٤

(٨) وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا.

اور اس کتاب میں اسماعیل علیہ السلام کا بھی ذکر کیجئے۔ بلاشبہ وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ رسول بھی تھے نبی بھی تھے۔

قرآن مجید میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کو رسول نبی کہا گیا جبکہ حضرت اسحق علیہ السلام کے لیے صرف نبی کا لفظ استعمال کیا گیا۔ علامہ ابن کثیر دمشقی (م ٧٧٤ھ) اسی سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حضرت اسحق علیہ السلام پر فضیلت ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

(٩) فى هذا دلالة على شرف اسمعيل على اخيه اسحق لانه انما وصف بالنبوة فقط و اسماعيل وصف بالنبوة والرسالة.

اس آیت سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ان کے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق پر فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت اسحق کو صرف نبی کہا گیا جبکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو نبی بھی اور رسول بھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی یہ دونوں لفظ جمع کیے گئے اور ان کے لیے بھی رسولاً نبیا کہا گیا چنانچہ ان کی بھی دیگر متعدد انبیا پر فضیلت معلوم ہوتی ہے چنانچہ علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں۔

وكان رسولاً نبيا. جمع الله له بين الوصفين فانه كان من المرسلين الكبار اولى العزم الخمسة، وهم نوح و ابراهيم و موسى و عيسى و محمد صلوات الله و سلامه على سائر الانبيا اجمعين.

”حضرت موسیٰ علیہ السلام رسول بھی تھے اور نبی بھی تھے۔ اللہ پاک نے ان کے لیے دونوں اوصاف جمع کر دیے تھے کہ وہ ان پانچ عظیم المرتبت اولو العزم رسولوں میں سے تھے یعنی حضرت نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، صلوات اللہ وسلامہ علیٰ سائر الانبیاء اجمعین۔

صفحہ ٢٥

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تین اعزاز

دیگر انبیا علیہم السلام کے لیے گذشتہ قرآنی آیات میں دو اعزاز بیان ہوئے ایک ان کا نبی ہونا اور دوسرا ان کا رسول ہونا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو اعزاز بھی ملے جیسا کہ سورۃ التحریم (آیت ٩) اور سورۃ المائدہ (آیت ٦٧) میں اوپر بیان ہوا جبکہ آپ کو ایک تیسرا عظیم الشان اعزاز خاتم النبین ہونے کا بھی ملا جو اب تک کسی نبی کو بھی نہ ملا تھا۔ ارشاد ربانی ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِيْمًا.

(الاحزاب)

”محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“

تو اب تک عظیم المرتبت اور اولو العزم پیغمبروں کو نبی و رسول ہونے کے دو اعزاز خلاق عالم کی طرف سے مرحمت ہوئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبین“ ہونے کا تیسرا اور سب سے بڑا اعزاز دے کر بتا دیا گیا کہ اب خاتم النبین کے تشریف لانے کے بعد نبوت ورسالت کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے اب تک جاری وساری تھا‘ ختم کر دیا گیا۔ چنانچہ علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت اس بارے میں صریح نص ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو آپ کے بعد کسی رسول کا نہ آنا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگا کیونکہ مقام رسالت‘ مقام نبوت کے مقابلے میں زیادہ خاص ہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے جبکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور اس بارے میں صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث وارد ہیں۔“

حاصل کلام یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ درجہ فضیلت عطا فرمایا کہ آپ سے پہلے کسی پیغمبر کو عطا نہ ہوا تھا کہ آپؐ نبی بھی ہیں۔ رسول بھی اور خاتم النبین بھی۔

یہ تینوں لفظ قرآن مجید میں جس طرح استعمال ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معنی کے اعتبار سے ان تینوں میں کچھ فرق ہے۔ تو اولاً ہم ان تین الفاظ نبی‘ رسول اور خاتم النبین کے لغوی معنی کی طرف توجہ کرتے ہیں اور ثانیاً ان کے درمیان فرق کو واضح کریں گے۔

صفحہ ٢٦

لفظ نبی

اس کے متعلق دو قول ہیں: ایک یہ کہ یہ لفظ نباء سے نکلا ہے جس کے معنی اہم خبر کے ہیں۔ ”نبی“ چونکہ انسانوں کو احکام الٰہی کی اہم خبر دیتا ہے اس لیے اس کو نبی کہتے ہیں، اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ لفظ نبوۃ بمعنی رفعت و بلندی سے ماخوذ ہے اور نبی چونکہ عام انسانوں کے مقابلے میں ارفع و اعلیٰ درجے کا مالک ہوتا ہے، اس لیے اسے نبی کہتے ہیں: امام راغب اصفہانی (م٥٠٢ھ) لکھتے ہیں کہ ”نبا ایسی خبر کو کہتے ہیں جس کا فائدہ عظیم ہو۔ جو یقینی علم کے حصول کا ذریعہ ہو یا جس خبر سے غلبہ ظن (غالب گمان) حاصل ہوتا ہو۔ یہ اصل میں ایسی ہی خبر کو کہتے ہیں۔ جس میں یہ مذکورہ تینوں چیزیں پائی جائیں (عظیم فائدہ، علم، غلبہ ظن) اور نبا کہلائے جانے کے لیے اس خبر کا پورا پورا ”حق“ یہ ہے کہ اس میں جھوٹ بالکل نہ ہو (جھوٹ کا شائبہ تک نہ ہو) مثلاً خبر متواتر (اتنے زیادہ معتبر لوگوں کا پے در پے بیان جن کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو) یا جیسے خبر الٰہی یا خبر نبوی علیہ السلام“۔

درج ذیل بعض قرآنی آیات میں نباء کے مذکورہ تینوں پہلوؤں کا موثر انداز میں ذکر ہے مثلاً

قُلْ هُوَ نَبَؤٌ عَظِيمٌ o أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ o

آپ کہہ دیجئے کہ وہ قیامت کی خبر ایک عظیم الشان خبر ہے جس سے تم بالکل ہی بے پرواہ ہو رہے ہو۔

یہاں نبوء کے ساتھ عظیم کی صفت اس خبر کے عظیم فائدے کی نشاندہی کر رہی ہے کہ اس دنیاوی زندگی کو آخرت کی کھیتی سمجھ کر آخرت اور روزِ قیامت کے لیے تیاری کرو۔ اس طرح مثلاً:

عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ o عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيمِ o الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ o

یہ قیامت کا انکار کرنے والے لوگ کس خبر کا حال دریافت کرتے ہیں۔ اس بڑے واقعے کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ اہل حق کے ساتھ اختلاف کر رہے ہیں۔

یہاں بھی نباء کے ساتھ عظیم کا ذکر ہے جو خبر کے عظیم ہونے کی خبر دیتی ہے۔ لفظ

صفحہ ٢٧

”نباء“ کا دوسرا عنصر یہ ہے کہ اس خبر سے یقینی علم حاصل ہو۔ اس پہلو کے متعلق ارشاد ہوا ۔

تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَا اِلَيْكَ ج مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا ط

یہ قصہ (بوقت طوفان نوح، حضرت نوح علیہ السلام کا اپنے رب سے اپنے بیٹے کے لیے درخواست کرنا) منجملہ اخبار غیب کے ہے جس کو ہم بذریعہ وحی آپ کو پہنچاتے ہیں۔ ہمارے بتانے سے قبل اس قصے کو نہ آپ جانتے تھے۔ نہ آپ کی قوم۔

تو اس قصے کا یقینی علم آپ کو بذریعہ وحی حاصل ہوا۔ لفظ نباء کا تیسرا پہلو غلبہ ظن کا ہے یعنی غالب گمان۔ اس پہلو کو درج ذیل آیت واضح کرتی ہے:۔

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَآءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ ۝

اے ایمان والو۔ اگر کوئی شریر آدمی تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کبھی کسی قوم کو نادانی سے ضرر نہ پہنچا دو۔ پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔

نزول آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت جویریہؓ کے والد حضرت حارث بن ضرارؓ نے جو قبیلہ بنی مصطلق کے رئیس تھے قبول اسلام کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے قبیلے میں بھی اسلام کی تبلیغ کریں گے اور اپنے قبیلے کے مسلمانوں کی زکوٰۃ کی رقوم جمع کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو ادا کیا کریں گے۔ چنانچہ وقت مقررہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ولید بن عقبہؓ کو قاصد بنا کر حارث بن ضرار کے پاس زکوٰۃ کی جمع کردہ رقوم کی وصول یابی کے لیے بھیجا۔ ولید بن عقبہؓ جب قاصد بن کر حارث بن ضرار کے پاس جا رہے تھے تو راستے میں انھیں خیال آیا کہ قبیلہ بنی مصطلق سے ان کی پرانی دشمنی چل رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس قبیلے کے لوگ مجھے قتل کر دیں۔ چنانچہ یہ خیال آتے ہی وہ راستے ہی سے واپس آ گئے۔ بعض روایات کے مطابق قبیلہ بنی المصطلق کے لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی حیثیت سے ان کا استقبال کرنے آئے تو ولید بن عقبہ سمجھے کہ یہ لوگ زکوٰۃ سے انکاری ہیں اور اپنی پرانی دشمنی نکالنے کے لیے

صفحہ ٢٨

انھیں قتل کرنے آئے ہیں۔ چنانچہ اپنے اسی خیال کے مطابق انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر اطلاع دے دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر برہم ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق حال کے لیے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کے ہمراہ بھیجا تاہم آپ نے حضرت خالد کو تاکید کر دی کہ پہلے معاملے کی پوری تحقیق کر لیں۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولید حارث بن ضرار کے پاس پہنچے اور تحقیق حال کی تو معلوم ہوا کہ بات صحیح نہیں اور یہ کہ ولید بن عقبہ تو حارث بن ضرار سے ملے ہی نہیں۔ حضرت خالد نے پوری بات آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی۔ تو اگر بغیر تحقیق حضرت خالد بن ولید زکوٰۃ نہ دینے پر قبیلہ بنی مصطلق پر فوجی یلغار کر دیتے تو مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں بڑا نقصان پہنچ جاتا۔ اس لیے اس قرآنی آیت میں ہدایت کی گئی کہ اگر خبر غیر معمولی نوعیت کی ہو تو بہتر ہے اس میں توقف سے کام لیا جائے اور غلبہ ظن کے باوجود اس کے عواقب پر دوبارہ نظر ڈال لی جائے۔ حضرت امام راغب اصفہانی اسی کی تشریح میں فرماتے ہیں:

فتنبيه انه اذا كان الخبر شيئا عظيما له قدر فحقه ان يتوقف فيه وان علم و غلب صحته على الظن حتى يعاد النظر فيه (٢٤)

اس آیت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ اگر کوئی خبر غیر معمولی نوعیت کی ہو۔ جس کے اہم نتائج برآمد ہو سکتے ہوں تو اس میں توقف سے کام لینا چاہیے اور علم و غلبہ ظن کی صورت میں اس میں بار دگر غور و خوض کر لینا چاہیے۔

تو اس قول کے مطابق لفظ نبی نباء سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایسی خبر کے ہیں جو نوعیت کے اعتبار سے بہت مفید ہو اور جس سے یقینی علم یا غالب گمان حاصل ہوتا ہو چونکہ نبی اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ایسی ہی خبر کا ذریعہ یا واسطہ ہوتا ہے اس لیے اسے نبی کہتے ہیں۔

دوسرے قول کے مطابق لفظ نبی نبوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں رفعت و بلندی۔ چونکہ نبی کا مقام و درجہ دوسرے تمام لوگوں سے ارفع و بلند ہوتا ہے اس لیے اسے نبی کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام راغب اصفہانی المفردات میں فرماتے ہیں۔

وقال بعض العلماء هو من النبوة اى الرفعة وسمى نبيا لرفعة محله عن سائر الناس المدلول عليه بقوله و رفعناه

مكانا عليا . اور بعض علماء نے فرما بلندی اور نبی کو نبی اس سے ارفع و اعلیٰ ہوتا ہـ ادریس علیہ السلام کے مرتبے تک پہنچایا۔

لفظ رسول

اس کا مادہ ر س ل ہے سے اس کے معنی مختلف ہو جاتے ہیـ (چلنا) کے ساتھ استعمال ہو تو بمعنـ بمعنی لٹکے ہوئے بال (٢) لفظ رِسـ محاورے میں کہتے ہیں علی رسـ دکھاؤ) (٣) لفظ رِسْلَة (ر کا زیر) (وہ گروہ درگروہ آئے ) (٤) لفـ اَرْسَالَ (٥) رَسْلہ (ر کا زبر۔ سـ چال والی اونٹنی ایک عربی محاورہ آرام۔ راحت و آسودگی میں ہیـ رسائی، خط۔ اس کی جمع رَسَائِل پیغمبران کی جمع رُسُل، ارسل اور امام راغب اصفہانی رحـ والرسول يقال للـ رسول من انفسـ لفظ ”رسول“ واحد یہ بطور واحد اور سورۃ الشعراء آیـ

صفحہ ٢٩

چنانچہ اپنے اسی خیال کے مطابق انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر برہم ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کے ہمراہ بھیجا تا ہم آپ دی کہ پہلے معاملے کی پوری تحقیق کر لیں۔ چنانچہ حضرت خالد بن پاس پہنچے اور تحقیق حال کی تو معلوم ہوا کہ بات صحیح نہیں اور یہ کہ ولید رے ملے ہی نہیں۔ حضرت خالدؓ نے پوری بات آ کر حضور صلی اللہ یر تحقیق حضرت خالد بن ولیدؓ زکوٰۃ نہ دینے پر قبیلہ بنی مصطلق پر فوجی کو مسلمانوں کے ہاتھوں بڑا نقصان پہنچ جاتا۔ اس لیے اس قرآنی ہ اگر خبر غیر معمولی نوعیت کی ہو تو بہتر ہے اس میں توقف سے کام لیا جود اس کے عواقب پر دوبارہ نظر ڈال لی جائے۔ حضرت امام راغب فرماتے ہیں: كان الخبر شيئا عظيما له قدر فحقه ان يتوقف فيه يغلب صحته على الظن حتى يعاد النظرفيه

(٢٣)

اس بات پر تنبیہ ہے کہ اگر کوئی خبر غیر معمولی نوعیت کی اہم نتائج برآمد ہو سکتے ہوں تو اس میں توقف سے کام لینا و غلبہ ظن کی صورت میں اس میں بار دگر غور و خوض کر

کے مطابق لفظ نبی نباء سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایسی خبر کے ہیں جو ن مفید ہو اور جس سے یقینی علم یا غالب گمان حاصل ہوتا ہو چونکہ نبی اللہ اور ن ایسی ہی خبر کا ذریعہ یا واسطہ ہوتا ہے اس لیے اسے نبی کہتے ہیں۔

ں کے مطابق لفظ نبی نبوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں رفعت و م و درجہ دوسرے تمام لوگوں سے ارفع و بلند ہوتا ہے اس لیے اسے نبی ی امام راغب اصفہانیؒ ”المفردات میں فرماتے ہیں۔ ض العلماء هو من النبوة اى الرفعة وسمى نبيا له عن سائر الناس المدلول عليه بقوله و رفعناه

مكانا عليا.

اور بعض علماء نے فرمایا لفظ نبی ”النبوة“ سے نکلا ہے بمعنی رفعت و بلندی اور نبی کو نبی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا مقام باقی تمام لوگوں سے ارفع و اعلیٰ ہوتا ہے جیسا کہ (سورۃ مریم آیت ٥٧ میں حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق) فرمایا کہ ہم نے ان کو کمالات میں بلند مرتبے تک پہنچایا۔

لفظ رسول

اس کا مادہ رُسُل ہے۔ زبر و زیر کے اختلاف اور مختلف الفاظ کے ساتھ استعمال سے اس کے معنی مختلف ہو جاتے ہیں مثلاً (١) لفظ رَسل (ر کا زبر ۔ سین کا جزم) لفظ ”سَیْر“ (چلنا) کے ساتھ استعمال ہو تو بمعنی نرم چال اور جب لفظ شَعْر (بال) کے ساتھ استعمال ہو تو بمعنی لٹکے ہوئے بال (٢) لفظ رَسَل (رکا زبر ۔س کا زبر) بمعنی آسودگی۔ آہستگی۔ نرمی‘ عربی محاورے میں کہتے ہیں على رسلك يا رجل (اے میاں باوقار رہو۔ اتنی زیادہ جلدی نہ دکھاؤ) (٣) لفظ رِسْلَة (ر کا زیر) بمعنی جماعت۔ عربی محاورے میں کہا جاتا ہے جاء و ارسلة (وہ گروہ در گروہ آئے) (٤) لفظ رَسَل (ر اور س دونوں کا زبر) بمعنی جماعت۔ گروہ جمع اَرْسَال (٥) رَسْلہ (ر کا زبر ۔ س کا جزم) بمعنی نرمی محاورے میں کہا جاتا ہے۔ ناقةٌ رَسْلَةٌ. نرم چال والی اونٹنی‘ ایک عربی محاورہ اس طرح بھی ہے۔ هم فى رَسْلة من العيش (وہ لوگ آرام۔ راحت و آسودگی میں ہیں) (٦) رِسَالة رَسَالَةً (رکا زبر اور زیر) بمعنی پیغام‘ پیغام رسانی‘ خط۔ اس کی جمع رَسَائِل و رسالات آتی ہے (٧) رَسول‘ رَسیل بمعنی بھیجا ہوا۔ پیغمبر‘ ان کی جمع رُسُل‘ ارسل اور رسلاء آتی ہیں۔

امام راغب اصفہانیؒ لفظ رسول کی مزید تحقیق کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔

والرسول يقال للواحد والجمع قال تعالى لقد جاء كم رسول من انفسكم‘ قال انا رسول رب العلمين.

لفظ ”رسول“ واحد اور جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ سورۃ توبہ۔ آیت ١٢٨ میں یہ بطور واحد اور سورۃ الشعراء آیت ١٦ میں یہ بطور جمع استعمال ہوا ہے۔

صفحہ ٣٠

وَرُسُلُ اللّٰهِ تارة يراد بها الملائكة و تارة يراد بها الانبيا. اور اللہ کے رسولوں سے مراد کبھی فرشتے اور کبھی انبیا علیہم السلام ہوتے ہیں۔

چنانچہ سورۂ ہود کی آیات ٦٩‘ ٧٧ اور ٨١ اور سورۂ العنکبوت‘ آیت ٣١ میں رسول یا رُسُل سے فرشتے مراد ہیں یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے۔ اور سورۂ آل عمران آیت ١٤٤ اور سورۂ مائدہ آیت ٦٧ میں مراد انسان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نہ کہ فرشتے اور درج ذیل آیت میں لفظ ”رُسُل“ سے مراد نہ صرف پیغمبر ہیں بلکہ پیغمبر بھی اور ان کی امتوں کے نیک افراد بھی۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا. اے پیغمبرو! تم (اور تمہاری امتیں) نفیس چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔

یہاں لفظ الرسل استعمال کیا گیا جس کے معنی رسولوں کے ہیں مگر مراد رسول بھی ہیں اور ان کے اچھے امتی بھی۔ امام راغب اصفہانی کے بقول یہاں مراد رسول اور ان کے مختلف اصحاب ہیں۔ ان اصحاب کو بھی رُسُل اس لیے کہہ دیا کہ وہ بھی انہی کے ساتھ ہیں جیسے مہلب ( ہجو کیا ہوا) اور ان کے متعلقین کو مہالبہ کہہ دیا جاتا ہے۔

اور سورۃ المومنون کی اس آیت میں حلال غذا کھانے اور نیک اعمال بجالانے کے دو حکم کو یکجا کر دیا گیا ہے اس میں اس طرح بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ نیک اعمال بجالانے اور اکل حلال میں بڑا گہرا ربط ہے کہ نیک اعمال کی توفیق اکل حلال کے بعد ہی ہوتی ہے۔

نبی اور رسول کا فرق

قرآن کریم نے جس طرح ”نبی“ اور ”رسول“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ وہ فرق کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں:

اللہ کی بتائی ہوئی چیزیں لوگوں تک پہنچائے۔ اگر اس نبی کی بعثت منکرین ومخالفین کی طرف ہوئی ہے تو وہ قرآنی اصطلاح میں رسول ہے ورنہ صرف نبی۔ رسول ہونے

کے لیے شریعت جدید

حضرت سلیمان قرآنی

حامل نہ تھے بلکہ حضر

اور حضرت داؤد علیہما ال

(٢) قاضی بیضاویؒ فرماتے

جدید شریعت کے بجا

ضروری نہیں۔

تو نبی عام ہے اور رسول

عن ابي ذر عن رس

الانبيا ماة الف و

خمسة عشر و ثلا

آخرهم محمد.

حضرت ابوذرؓ حضور صلی

فرمایا حضرات انبیا ایک

سب سے پہلے حضرت آ

علیہ وسلم ہیں۔

(٣) علامہ رشید رضا اپنی تفسیر

احکام و اخبار سے آگاہ

رسول ایسا نبی ہے جسے ا

اپنی ذات کو دوسروں کے

نہیں کہ وہ جدید شریعت

کرنے کے بعد قاضی ز

میں یہ معلوم ہو جاتا ہے

”رسول“ خاص لیکن باع

”رسل بشر“ پر بھی ہوتا ۔

صفحہ ٣١

کے لیے شریعت جدیدہ کا حاصل ہونا ضروری نہیں۔ حضرت یوسف‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان قرآنی تصریح کے مطابق رسول تھے حالانکہ وہ کسی جدید شریعت کے حامل نہ تھے بلکہ حضرت یوسف‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے پیرو تھے اور حضرت داؤد‘ سلیمان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے پیرو۔

جدید شریعت کے بجائے کہا کہ وہ آسمانی کتاب کا حامل ہو) جبکہ نبی کے لیے یہ ضروری نہیں۔

تو نبی عام ہے اور رسول خاص‘ درج ذیل حدیث سے اس قول کی تائید ہوتی ہے:

عن ابی ذرّ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان الانبيا مائة الف واربعة و عشرين الفا و كان الرسل خمسة عشر و ثلاثمائة رجل فيهم او لهم آدم الى قوله آخرهم محمد.

حضرت ابوذرؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا حضرات انبیا ایک لاکھ ٢٤ ہزار ہوئے ہیں اور رسول ٣١٥ جن میں سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

احکام واخبار سے آگاہ کیا جائے جن سے آگاہی انسانی کوشش سے ممکن نہ ہو اور رسول ایسا نبی ہے جسے اللہ نے تبلیغ دین ودعوت شریعت کے لیے بھیجا ہو اور اسے اپنی ذات کو دوسروں کے لیے عملی نمونہ بتانے کا حکم دیا ہو۔ رسول کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ جدید شریعت یا جدید کتاب بھی لے کر آیا ہو۔ مذکورہ تینوں اقوال بیان کرنے کے بعد قاضی زین العابدین لکھتے ہیں کہ ”بہر حال ان تینوں اقوال کی روشنی میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ باعتبار ”دعوت“ اور ”بعثت“ کے ”نبی“ عام ہے اور ”رسول“ خاص لیکن باعتبار جنسیت داعی کے ”رسول“ عام ہے کہ اس کا اطلاق ”رسل بشر“ پر بھی ہوتا ہے اور رسل ملائکہ پر بھی اور ”نبی“ خاص کہ اس کا اطلاق

صفحہ ٣٢

رسل ملائکہ پر نہیں ہوتا۔‘‘

ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اور نبی کی تفسیر میں اقوال متعدد ہیں۔ تتبع آیات مختلفہ سے جو بات احقر کے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کے مفہوم میں عموم و خصوص من وجہ ہے۔ رسول وہ ہے جو مخاطبین کو شریعت جدیدہ پہنچادے۔ خواہ وہ شریعت اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے تورات وغیرہ یا صرف مرسل الیہم (جن کی طرف وہ رسول بھیجا گیا) کے اعتبار سے جدید ہو۔ جیسے اسمعیل علیہ السلام کی شریعت کہ وہی شریعت ابراہیمی تھی لیکن قوم جرہم کو اس کا علم حضرت اسمعیل علیہ السلام ہی سے حاصل ہوا اور خواہ وہ رسول نبی ہو یا نبی نہ ہو جیسے ملائکہ کہ ان پر رسل کا اطلاق کیا گیا ہے اور وہ انبیا نہیں ہیں یا جیسے انبیا کے فرستادے اصحابِ قریہ سورۂ یٰس میں ہے اذ جاء ھا المرسلون. اور نبی وہ ہے جو صاحب وحی ہو خواہ شریعت جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعتِ قدیمہ کی جیسے اکثر انبیا بنی اسرائیل کہ شریعت موسویہ کی تبلیغ کرتے تھے۔ پس من وجہ وہ عام ہے۔ من وجہ یہ خاص ہے۔ پس جن آیتوں میں دونوں جمع ہیں اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ عام و خاص کا جمع ہونا صحیح ہے اور جس موقع پر دونوں میں تقابل ہوا ہے جیسے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی (سورۂ الحج۔ آیت ٥٢) چونکہ عام و خاص مقابل ہوتے نہیں اس لیے وہاں نبی کو ”عام“ نہ لیں گے بلکہ خاص کرلیں گے مبلغ شریعتِ سابقہ کے ساتھ پس معنیٰ یہ ہوں گے۔ ما ارسلنا من قبلک من صاحب شرع جدید ولا صاحب شرع غیر جدید. یعنی رسول کے معنیٰ صاحب شرع جدید اور نبی کے صاحب شرع غیر جدید۔

لکھتے ہیں:

شریعت اسلامی میں نبی اس ہستی کو کہتے ہیں جس کو حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے چن لیا ہو اور وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئی اور رسول اس نبی کو کہا جاتا ہے جس کے پاس اللہ کی جانب سے نئی شریعت اور نئی کتاب بھیجی گئی ہو‘‘

صفحہ ٣٣

لفظ ’خاتم النبیین‘

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اللہ پاک نے دیگر انبیا و رسل کو یا تو صرف اس عزت سے نوازا کہ انہیں نبی بنا کر بھیجا۔ بندوں کی ہدایت ان سے متعلق کر دی اور اللہ پاک ان انبیا سے ہم کلام ہوا۔ یا ان کو دو عزتوں سے نوازا کہ نبی رسول بنا کر بھیجا، جدید شریعت یا جدید کتاب یا دونوں بھی ان کو عنایت فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے ان دو عزتوں کے علاوہ ایک تیسری ایسی عزت سے بھی نوازا جس سے اب تک کسی اور نبی یا نبی رسول کو نہیں نوازا تھا یعنی آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کی عزت کہ آپ پر سلسلہ نبوت بھی ختم کر دیا اور آپ کے ذریعے اپنے دین کی تکمیل بھی فرما دی والحمد لله علی ذالک۔ اس مضمون کی تشریح کے سلسلے میں درج ذیل دو قرآنی آیتیں مرکزی حیثیت کی حامل ہیں: سورۃ الاحزاب کی درج ذیل آیت۔

وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ہ

محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

اور سورۃ المائدہ کی درج ذیل آیت جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور آپؐ کی بعثت کے ذریعے تکمیل دین، انسانیت پر اتمامِ نعمت اور اسلام کی عالمگیریت واضح کی گئی ہے:

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۔

آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا۔

اب ان مذکورہ دو قرآنی آیات میں ہمیں درج ذیل تشریح طلب امور پر غور کرنا ہے:

صفحہ ٣٤

روحانیہ کا اثبات: اس کی تشریح۔

ابوۃ صلبیہ وابوۃ روحانیہ

ابوۃ باپ ہونا، صلب، پشت، ابوۃ صلبیہ: حقیقی باپ ہونا ابوۃ روحانیہ: بحیثیت رشد و ہادی و پیغمبر امت کا باپ ہونا، روحانی رشتہ سے ہر امتی کا باپ ہونا سورۃ الاحزاب کی آیت۔ ٤٠ میں (جس کا ابھی ذکر ہوا) فرمایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں (آپ کے چار بیٹوں میں سے تین ٣ بیٹے نزول آیت سے پہلے بچپن ہی میں فوت ہو گئے اور چوتھے بیٹے حضرت ابراہیم ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اور وہ بھی چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوئے۔ تو ان چاروں بیٹوں میں کوئی بھی پختہ عمر کو نہ پہنچ سکا کہ رجل (مرد) کہلاتا اور منہ بولا بیٹا (متبنیٰ) صلبی جسمانی، حسی و حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا کہ اس کی طلاق شدہ بیوی سے اس کے باپ کا نکاح صحیح نہ ہو یا اس کی موت کی صورت میں باپ کو اس کی میراث سے حصہ ملے یا ان کا نفقہ خرچ اس پر واجب ہو۔ یہ چیزیں تو حقیقی بیٹے کی صورت میں ہوتی ہیں۔ تو کفار کا یہ طعن صحیح نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ کی مطلقہ بیوی حضرت زینب بنت جحش کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے صحیح ہو گیا اور اس میں درحقیقت عظیم دینی مصلحت تھی کہ خوب واضح ہو جائے کہ متبنیٰ کی مطلقہ کے ساتھ نکاح درست ہے۔

اب رہا یہ شبہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ابوۃ صلبیہ و جسمانیہ حاصل نہیں تو کیا کسی طرح کی ابوۃ (باپ ہونا) بھی حاصل نہیں۔ قرآن کریم نے ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین کہہ کر اس شبہ کا ازالہ فرما دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ آپ کو تو ایسی ابوۃ روحانیہ قویہ حاصل ہے کہ آپ کی روحانی اولاد (امت مسلمہ) تعداد میں بھی اربوں کھربوں (جسمانی اولاد کی طرح صرف چار نہیں) اور قوت کیفیہ کے اعتبار سے بھی ایسی کہ آپؐ کی اور آپؐ کے دین کی عزت و ناموس پر مر مٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار، اور آپؐ صرف نبی یا صرف رسول ہوتے تو یہ عزت وقتی ہوتی۔ صرف ایک محدود وقت کے لیے۔ ایسا بھی نہیں ہے بلکہ آپؐ پر سلسلہ نبوت ختم ہے اور اس طرح یہ عزت آپؐ کے لیے قیامت تک کے لیے ہے۔

صفحہ ٣٥

لفظ خاتم : دو قرأتیں

امام عاصم اور امام حسن نے لفظ خاتم کو ت کے زبر کے ساتھ محفوظ کیا ہے جبکہ دیگر تمام قراء نے ت کے زیر کے ساتھ‘ زبر کے ساتھ ہو تو لفظ خاتم بمعنی مہر ہے جبکہ زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی ختم کرنے والا‘ آخر قوم‘ دونوں صورتوں میں معنی وہی آخری نبی کے ہیں جن کے بعد اور کوئی نبی نہ آئے‘ کیونکہ مہر بھی آخر ہی میں لگائی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ

اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر

یعنی اب کوئی خیر و بھلائی کی چیز ان سیاہ قلوب والے کافروں کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ علامہ زمخشریؒ اپنی مشہور عالم تفسیر کشاف میں فرماتے ہیں کہ ”خاتم : ت کے زبر کے ساتھ‘ بمعنی آلہ مہر اور ت کے زیر کے ساتھ بمعنی مہر کرنے والا یا ختم کرنے والا اور اسی دوسرے معنی کی تقویت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ولکن نبیاً ختم النبیین سے ہوتی ہے۔ اگر آپ کو یہ شبہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیا بھلا کیسے کہتے ہیں جبکہ حسب روایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نزول کریں گے تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ آخر الانبیا کے معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا جبکہ حضرت عیسیٰ تو ان میں سے ہیں جنھیں آپ سے پہلے نبی بنایا گیا۔“

اور حضرت امام غزالیؒ کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں۔

ان الامة قد فهمت من هذا اللفظ انه مفهم عدم نبی بعده ابداً وعدم رسول بعده ابداً وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص فكلامه من انواع الهذيان لايمنع الحكم بتكفيره لانه مكذب بهذا النص الذی اجمعت الامة علی انه غير ماول ولا مخصوص.

پوری امت نے اس خاتم النبیین کے لفظ سے یہی سمجھا ہے کہ نہ کبھی آئندہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کبھی رسول آئے گا۔ اس میں نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے نہ کسی تخصیص کی۔ اگر کوئی اس لفظ کی تاویل کرے تو اسے ہذیان اور دماغی خلل کہا جائے گا اور یہ تاویل اسے کافر کہے جانے

صفحہ ٣٦

سے نہیں روک سکتی کیونکہ وہ ایسی نص قرآنی کو جھٹلا رہا ہے جس کی نہ تاویل ہو سکتی ہے اور نہ جس میں کسی تخصیص کی گنجائش ہے۔

خاتم المرسلین نہ کہنے کی حکمت

قرآن کریم کی اس آیت میں ابتداً لفظ رسول استعمال ہوا ہے (ولکن رسول الله) تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے دوسرے حصہ میں لفظ خاتم المرسلین کہا جاتا تو مناسب ہوتا لیکن اس کی بجائے لفظ خاتم النبیین استعمال کیا گیا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ لفظ خاتم المرسلین کے استعمال کے بعد اس کی گنجائش رہتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول (جدید شریعت یا جدید کتاب والا) تو نہیں آ سکتا مگر آپؐ کے بعد شاید کوئی نبی آ سکتا ہو جو جدید شریعت یا جدید کتاب والا نہ ہو مگر نبی ہو تو لفظ ”خاتم النبیین سے اس کی بھی نفی ہو گئی کہ آپ کے بعد نہ کوئی جدید شریعت یا جدید کتاب والا نبی آ سکتا ہے نہ قدیم شریعت والا عام نبی۔ تو لفظ خاتم النبیین میں زیادہ بلاغت ہے اور زیادہ عموم اس لیے بجائے خاتم المرسلین یہ لفظ استعمال کیا گیا۔ حضرت مولانا مفتی شفیع رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اوپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بصفت رسول آیا ہے۔ ان کے لیے بظاہر مناسب یہ تھا کہ آگے ’خاتم الرسل‘ یا خاتم المرسلین کا لفظ استعمال ہوتا مگر قرآن کریم نے اس کے بجائے خاتم النبیین کا لفظ اختیار فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ جمہور علماء کے نزدیک نبی اور رسول میں ایک فرق ہے وہ یہ کہ نبی تو ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو حق تعالیٰ اصلاح خلق کے لیے مخاطب فرمائیں اور اپنی وحی سے مشرف فرمائیں خواہ اس کے لیے کوئی مستقل کتاب اور مستقل شریعت تجویز کریں یا پہلے ہی نبی کی کتاب و شریعت کے تابع لوگوں کو ہدایت کرنے پر مامور ہو۔ جیسے ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب و شریعت کے تابع ہدایت کرنے پر مامور تھے اور لفظ رسول خاص اسی نبی کے لیے بولا جاتا ہے جس کو مستقل کتاب و شریعت دی گئی ہو۔ اسی طرح لفظ نبی کے مفہوم میں بہ نسبت لفظ رسول کے عموم زیادہ ہے تو آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کے ختم کرنے والے اور سب سے آخر میں ہیں خواہ وہ صاحب شریعت نبی ہوں یا صرف پہلے نبی کے تابع۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کی جتنی قسمیں اللہ کے نزدیک ہو سکتی ہیں وہ سب آپؐ پر ختم ہو گئیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔“

صفحہ ٣٧

نبوت کے لیے اہلیت کی شرط

ڈاکٹر عبد الفتاح عبد اللہ برکہ ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد

جب یہ واضح ہو گیا کہ اکتساب نبوت عقلاً ممکن ہے نہ واقع میں اس کی کوئی مثال ہے چنانچہ عقل کے لیے باعث تعجب اور جائے حیرت ہو گی اگر ہر فردِ بشر اپنے لیے ہبہ الہیہ کا حصول اور اصطفائے ربانی کی امید رکھے اور ہر انسان یہ توقع کرے کہ وہ یہ اعلیٰ و ارفع مقام پا سکتا ہے۔

جب یہ ضعیف الخلقت انسان جو فی نفسہ اور فی الواقع کم ہمت و زود رنج واقع ہوا ہے، خود پسندی اور حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کی رو میں بزعم خویش تصور کر سکتا ہے کہ وہ اپنے زیادہ متحمل مزاج، بردبار اور اعلیٰ انسانی صفات کے حامل افراد کو پیغام ربانی پہنچانے اور انھیں مطمئن کرنے کی سکت رکھتا ہے اور اس گراں بار ذمہ داری سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہو سکتا ہے، تو یہ کسی قدر حیران کن و تعجب خیز ہوگا کہ اللہ تعالیٰ یہ مقام ایسے شخص کو تفویض فرمائیں جو اس کی لیاقت رکھتا ہو نہ وہ اس مقام کے مناسب اہلیت کا حامل ہو۔ حاشا و کلّا! اللہ تعالیٰ کی عظیم تر ذات سے ایسے فعل کا صدور محال ہے۔ چنانچہ نبی وہ ہوگا جو تمام انسانوں پر خداداد فطری صلاحیتوں کی بدولت فوقیت رکھتا ہو اور اعلیٰ انسانی صفات سے متصف ہو۔

بایں ہمہ تائید ایزدی اور نگاہِ ربانی سے محفوظ ہو۔ ارشاد ہے:

اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دے دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے، اس موقع کو تو خدا ہی خوب جانتا ہے جہاں

صفحہ ٣٨

اپنا پیغام (وحی کے ذریعے سے) بھیجتا ہے۔ پیغمبر کی انہی اعلیٰ بشری صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے امام شہرستانی فرماتے ہیں کہ قبل از بعث ہی نبی اخلاق وسلوک کے تمام مراحل طے کر لیتا ہے، کمال فطرت اور اعتدال مزاج میں فوقیت رکھتا ہے اور اقوال وافعال میں سچائی وامانت کی خصلت اسے عام انسانوں میں منفرد وممتاز رکھتی ہے۔ وہ قومی واجتماعی امراض سے دور اور ایک الگ وجدا گانہ راہ کا راہی ہوتا ہے، اس کی ذات سے رحمت وشفقت کی شعاعیں پھوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس کا پیغام اس کی تعلیمات بنی نوع انسان کے لیے فلاح وترقی کا زینہ ہوتی ہیں۔

انبیا کرام انسانوں کے لیے خدا کی محبت اس کی معرفت کا ذریعہ اس کی رحمت کا باعث اور اس کی بیش بہا نعمتوں کا سبب ہوتے ہیں۔ وہ ان برگزیدہ افراد میں سے ہوتے ہیں، جنھیں اللہ جل شانہ اپنے تقرب خاص سے نوازتا ہے اور انھیں منتخب فرماتا ہے۔

بے شک اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کی اولاد کو تمام جہانوں پر۔

نبی جس طرح قول وعمل میں فائق ہوتا ہے، حسن خلقت، حسن فطرت، مکارم اخلاق اور رنگ ونسل میں بھی برتر حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ جسے اپنی نگاہ التفات سے نوازتے ہیں، سنت جاریہ کے مطابق اس کی تہذیب وتثقیف کا پورا اہتمام فرماتے ہیں، روحانیت میں روز افزوں ترقی ہوتی ہے، جھوٹے امور اور رذائل سے دور ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب یہ ذات آغوش الٰہی میں بتدریج تربیت کے مراحل طے کر کے نبوت سے مناسبت اور اس مقام تک رسائی کی اہل ہو جاتی ہے، لوح محفوظ میں اس نعمت کے حصول کا وقت موعود آ پہنچتا ہے تو نبوت کی خلعت عطا کر دی جاتی ہے دریں وقت دعویٰ نبوت چونکانے کا باعث ہوتا ہے نہ توہم پرست ذہنوں میں شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں، بلکہ اس ذات کی علو ہمت، اعلیٰ روحانی کمالات، فراخ دلی، سخاوت، حسن گفتار و کردار اور ذکاوت حس کو دیکھتے ہوئے ابنائے قوم اسے انعام واکرام کا مستحق سمجھتے ہیں تاہم یہ تمام امور تعلیم وتربیت نفس کے وہ مراحل ہیں جن سے اس منصب کے حاملین کو گزارا جاتا ہے اور قدرت الٰہیہ اس عمل کے اسباب مہیا کرتی ہے۔ ازاں بعد کہا جاتا ہے اللہ جل شانہ نے اس ذات کو اپنے لیے چنا اور مقربین کی صف میں شامل کر لیا۔

صفحہ ٣٩

یہ صورتحال اور اہتمام و رعایت کی یہ کیفیت ہر نبی کی ذات گرامی میں دکھائی دیتی ہے‘ جسے قرآن کریم نے بالتفصیل ذکر کیا ہے‘ خصوصاً حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام میں قدرے تفصیل سے اس کا ذکر ملتا ہے‘ اسی طرح حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام بھی اس خصوصیت کے حامل ہیں۔ اگر دوسرے پہلو سے جائزہ لیں تو بعض انبیا کرام کی تربیت میں اہتمام و رعایت کی یہ کیفیت ان کی ولادت سے قبل نظر آتی ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہ السلام کے احوال میں غور کرنے سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے۔ سورۂ مریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا بھی اس اہتمام و عنایت سے حظ اٹھانے کا ذکر ملتا ہے‘ جس کے باعث زبان رسالت بے اختیار پکار اٹھتی ہے۔

اور مجھ پر سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز مروں گا اور جس روز میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔

سورۂ آل عمران کی درج ذیل آیتوں سے معلوم ہوتا ہے‘ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ آپ علیہ السلام سے قبل یہ معاملہ روا رکھا گیا تھا۔

جب کہ عمران کی بیوی نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! میں نے نذر مانی ہے آپ کے لیے اس بچے کی‘ جو میرے شکم میں ہے کہ وہ آزاد رکھا جائے گا سو آپ مجھ سے قبول کر لیجئے‘ بے شک آپ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں۔ پھر جب لڑکی جنی‘ کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار! میں نے تو اس کو لڑکی جنی‘ حالانکہ خدا تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں اس کو جو انھوں نے جنی‘ اور وہ لڑکا اس لڑکی کے برابر نہیں اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو آپ کی پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔ پس ان کو ان کے رب نے بوجہ احسن قبول فرما لیا اور عمدہ طور پر ان کی نشو و نما فرمائی اور زکریا ؑ کو ان کا سرپرست بنایا۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم بھی عنایت ربانی اور تربیت الٰہی کے انوار سے بہرہ ور ہوئے واثلہ بن اسقع فرماتے ہیں:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ جل شانہ نے

صفحہ ٤٠

اولاد اسماعیل سے قبیلہ کنانہ کو چنا‘ پھر کنانہ سے قریش کو منتخب فرمایا۔ بعد ازاں قریش سے بنی ہاشم پر نظرِ انتخاب ٹھہری اور بنی ہاشم سے مجھے منتخب فرمایا۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اس احسان و نعمت‘ تائید و اہتمام کے حوالے دیے اور جا بجا آیتیں ذکر کیں۔ ان کی ایک جھلک سورۂ ضحیٰ‘ سورۂ انشراح‘ سورۂ مزمل‘ سورۂ مدثر اور دیگر سورتوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے قدرت الٰہیہ کو آپؐ کی ذات میں کس قدر اہتمام ملحوظ تھا‘ اس سے بڑھ کر اہتمام و رعایت ممکن نہیں اور اللہ کی رحمت و شفقت انداز بدل بدل کر آپؐ پر سایہ عاطفت کیے ہوئے تھی۔

قادیانی کی قبر پر آگ کے گولے

روڈو ضلع خوشاب میں ایک انتہائی گستاخ قادیانی حاجی ولد موندا رہتا تھا۔ وہ انتہائی فحش گالیاں بکتا۔ گلی کوچوں میں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتا۔ اس کی ناپاک زندگی کی صبحیں اور شامیں اسی غلاظت سے اٹی پڑی تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قادیانیوں کو ابھی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیا گیا تھا اور قادیانی حج پر جاسکتے تھے۔ یہ رذیل بھی مسلمانوں کے ساتھ مکہ مکرمہ چلا گیا۔ وہ وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتا۔ جگہ جگہ پر کھسیانی ہنسی ہنستا۔ قہقہے لگاتا اور بکواس کرتا کہ میں تو یہاں صرف سیر کرنے آیا ہوں کیونکہ اب حج تو صرف ربوہ میں ہوتا ہے۔ یہ گستاخ رسول جب مرا تو اسے قادیانیوں کے الگ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ سورج غروب کے بعد جلد ہی رات کا اندھیرا پہلے کی نسبت قدرے گہرا ہونا شروع ہوگیا۔ رات کو اردگرد کی آبادیوں نے یہ خوفناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ چشم دید گواہ آج بھی اس واقعہ کے شاہد ہیں کہ آگ کا ایک بہت بڑا سرخ گولہ عین اس کی قبر کے اوپر آکر گرا اور غائب ہوگیا۔ پھر پے درپے گولے برسنے لگے تو رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپنی آنکھوں سے اس قادیانی مردود کی قبر پر آگ برستے دیکھ کر بھی قادیانیوں کو کوئی عبرت نہ ہوئی‘ شاید ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں۔

صفحہ ٤١

مرتد کی سزا (قرآن وحدیث کی روشنی میں)

شیخ الحدیث مولانا سرفراز خاں صفدر

اسلام میں غیر مسلموں کے لیے تبلیغ وترغیب تو ہے لیکن لا اکراہ فی الدین کے قاعدہ کے مطابق جبراً کسی کو مسلمان نہیں بنایا جاسکتا لیکن اگر کوئی مسلمان ہے اور وہ بد بخت اسلام سے پھر کر مرتد ہو جائے (العیاذ باللہ تعالیٰ ) تو وہ خدا تعالیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا باغی ہے جب دنیا کی کسی حکومت میں باغی کسی رعایت کا مستحق نہیں بلکہ تختہ دار پر لٹکائے جانے کے قابل ہے تو اللہ تعالیٰ کے باغی کے لیے رعایت کی گنجائش کیسے؟ بلکہ اگر قتل سے کوئی زیادہ سزا ہوتی تو وہ اس کا بھی مستحق ہے۔ مرتد کا قتل کرنا قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

قرآن کریم

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کر کے ارتداد اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: فتوبوا الیٰ بارئکم فاقتلوا انفسکم. سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی (پ ١ بقرۃ رکوع ٦) طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جانوں کو۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ جن لوگوں نے گئو سالہ پرستی کی تھی اور جو مرتد ہو گئے تھے، ان کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قتل کرایا گیا جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی اور ان لوگوں کے واقعہ کو بیان فرما کر اللہ تعالیٰ دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے: وَكَذَالِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ ٥ اور یہی سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے (پ ٩ الاعراف رکوع ٩) والوں کو۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا دنیا میں قتل ہے۔ بلفظہ اور الشہاب میں اس پر انہوں نے مفصل بحث کی ہے۔

صفحہ ٤٢

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

ممکن ہے کسی کو یہ شبہ ہو کہ قتل مرتدین کا یہ فیصلہ تو حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت کا حکم تھا اور ہماری شریعت اس کے علاوہ ہے تو جواب یہ ہے کہ اوّلاً تو ہمارا استدلال صرف فاقتلوا انفسکم کے جملہ سے ہی نہیں ہے تا کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ حکم بنی اسرائیل کے ساتھ مختص تھا جو اس کے مخاطب تھے بلکہ وکذالک نجزی المفترین کے جملہ سے بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مرتدین کے بارے اپنی عادت جاریہ بیان فرمائی ہے کہ مرتدوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں یا دیں گے کیونکہ نجزی فعل مضارع کا صیغہ ہے جس میں حال اور استقبال کے معانی پائے جاتے ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ نے مرتدوں کی سزا کے بارے میں اپنی عادت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے جو واضح ہے۔ (ثانیاً) اصول فقہ کی کتابوں میں تصریح موجود ہے کہ:

وشرائع من قبلنا تلزمنا اذا قص الله و ہم سے پہلے کی شریعتوں کے احکام جب اللہ رسوله من غير نكير ...... الخ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیان کیے ہوں (نجم الاصول ص ٢١٦) اور ان پر نکیر نہ کی ہو تو وہ ہم پر بھی لازم ہیں۔

اور قتل مرتد کی اللہ تعالیٰ نے وکذالک نجزی المفترین میں تائید کی ہے نہ کہ تردید اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحیح احادیث قتل مرتد کی تائید کرتی ہیں نہ کہ نکیر و تردید تو قرآن کریم کی نص قطعی سے مرتد کی سزا قتل ثابت ہوئی جس میں کسی قسم کا کوئی شبہ و تردد نہیں ہے البتہ لاعلم کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ مسلمانوں کو منکروں کے انکار کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے اور حق کے میدان میں بلاخطر چلنا چاہیے ۔

میدان میں گرجتا ہوا شیروں کی طرح چل
تو شیر ہے دشمن کے کلیجے کو ہلا دے

احادیث

ان علیّاً احرق قوماً فبلغ ابن عباس حضرت علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا۔ فقال لو كنت انا لم احرقهم لان النبی یہ خبر جب حضرت ابن عباسؓ کو پہنچی تو انہوں صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تعذبوا بعذاب الله و لکن نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو میں ان کو آگ

اقتلهم كما قال النبى صلی اللہ علیہ وسلم من دينه فاقتلوه ۔ (بخاری ص ٤٢٣‘ ص ١٠٢٣ ج ٢ و ترمذی ص ج ٢‘ وفيه فبلغ ذالك عليا صدق ابن عباس وقال هذا حد يث حسن صحيح و ابوداؤد ص ج ٢ و نسائی ص ١٥١ ج ٢ ومنـ ص ٣٠٧ ج ٢ وسنن الکبـ ص ١٩٥ ج ٨)

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من بدل دينه فاقتلوه ۔ (ابن ماجہ واللفظ لہ ومسند احمد ج ١ ص ٢١٧ وسنن ص ٢٤٤ ج ١ وسنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٩٥ ج ٢ ص ٣٠٧‘ والجامع الصغیر ص ١٦٨ ج ٢‘ والسراج المنیر ص ٣٤١ ج ٣)

اس صحیح حدیث سے مرتد کا ہے کہ آنجہانی مسٹر غلام احمد پرویز کی طر فاقتلوه کے عمومی الفاظ سے اسلام سے من بدل دينه میں الفاظ عام ہیں۔ شر کا عیسائی اور یہودی وغیرہ ہو جانا وغیرہ کیسے متعین ہوا؟

الجواب

یہ شبہ نہایت ہی سطحی ذہن (اوّلاً) تو اس لیے کہ اسی حدیث میں یہ ا

صفحہ ٤٣

یہ شبہ ہو کہ قتل مرتدین کا یہ فیصلہ تو حضرت موسیٰ علیہ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ اور ہماری شریعت اس کے علاوہ ہے تو جواب یہ ہے کہ اوّلاً تو ہمارا انفسکم کے جملہ سے ہی نہیں ہے تا کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ حکم بنی اس کے مخاطب تھے بلکہ وکذالک نجزی المفترین کے جملہ تعالیٰ نے مرتدین کے بارے اپنی عادت جاریہ بیان فرمائی ہے کہ زائیں دیں گے کیونکہ نجزی فعل مضارع کا صیغہ ہے جس میں حال اور تے ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ نے مرتدوں کی سزا کے بارے میں اپنی جو واضح ہے۔ (ثانیاً) اصول فقہ کی کتابوں میں تصریح موجود ہے کہ:

ما اذا قص اللہ و ہم سے پہلے کی شریعتوں کے احکام جب اللہ ... الخ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیان کیے ہوں خذ المال (ص ٢١٦) اور ان پر نکیر نہ کی ہو تو وہ ہم پر بھی لازم ہیں۔

للہ تعالیٰ نے وکذالک نجزی المفترین میں تائید کی ہے نہ کہ ت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحیح احادیث قتل مرتد کی تائید کرتی ہیں نہ کہ نص قطعی سے مرتد کی سزا قتل ثابت ہوئی جس میں کسی قسم کا کوئی شبہ و یا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ روں کے افکار کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے اور حق کے میدان میں بلاخطر

میدان میں گرجتا ہوا شیروں کی طرح چل
تو شیر ہے دشمن کے کلیجے کو ہلا دے

(المتوفی ١٠٧ھ) سے روایت ہے کہ: فبلغ ابن عباس حضرت علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا۔ رقہم لان النبی یہ خبر جب حضرت ابن عباسؓ کو پہنچی تو انہوں عذاب اللہ و لکن نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو میں ان کو آگ

اقتلھم کما قال النبی ﷺ من بدل میں نہ جلاتا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دینہ فاقتلوہ۔ (بخاری ص ٤٢٣‘ ج ١ و ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب (آگ) سے کسی ص ١٠٢٣ ج ٢ وترمذی ص ١٥١ کو سزا نہ دو بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا۔ جیسا کہ ج ٢‘ وفیہ فبلغ ذالک علیا فقال جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس صدق ابن عباس وقال ھذا حدیث نے اپنا دین (اسلام) بدل دیا تو اس کو قتل حسن صحیح و ابوداؤد ص ٢٤٢ کردو۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ج ٢ ونسائی ص ١٥١ ج ٢ ومشکوۃ جب حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ ص ٣٠٧ ج ٢ وسنن الکبریٰ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن ص ١٩٥ ج ٨) عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا ہے۔

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ایک روایت یوں ہے:

عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے من بدل دینہ فاقتلوہ۔ (ابن ماجہ ص ١٨٥ ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللفظ لہ ومسند احمد ج ١ ص ٢١٧ ومسند حمیدی جس نے اپنا دین (اسلام) بدل دیا تو اسے ص ٢٤٤ ج ١ وسنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٩٥ ومشکوۃ قتل کردو۔ ج ٢ ص ٣٠٧ والجامع الصغیر ص ١٦٨ ج ٢ وقال صحیح والسراج المنیر ص ٤٣١ ج ٣)

اس صحیح حدیث سے مرتد کا قتل بالکل آشکارا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنجہانی مسٹر غلام احمد پرویز کی طرح کسی کج فہم کو یہ شبہ ہو کہ اس حدیث میں من بدل دینہ فاقتلوہ کے عمومی الفاظ سے اسلام سے پھر جانے والے مرتد کا قتل ثابت اور متعین نہیں ہوتا کیونکہ من بدل دینہ میں الفاظ عام ہیں۔ مثلاً یہودی کا عیسائی ہو جانا یا عیسائی کا ہندو یا سکھ ہو جانا یا ہندو کا عیسائی اور یہودی وغیرہ ہو جانا وغیرہ ذالک تو اس سے اسلام سے پھر کر مرتد ہونے والے کا قتل کیسے متعین ہوا؟

الجواب

یہ شبہ نہایت ہی سطحی ذہن کی پیداوار ہے جس کی کوئی قدر و منزلت ہی نہیں ہے۔ (اوّلاً) تو اس لیے کہ اسی حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ:

صفحہ ٤٤

ان عليا رضی الله عنه احرق ناسا ارتدوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں کو عن الاسلام (الحديث) (ابوداؤد ص ٦٢٢ آگ میں جلایا تھا جو اسلام سے پھر گئے تھے۔ ج ٢ وترمذی ص ٢٧١ ج ١ نسائی ص ١٥١ ج ٢)

اس سے بالکل واضح ہو گیا کہ یہ کارروائی ان لوگوں کے بارے میں ہوئی جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے۔ وہ لوگ اسلام سے بایں طور پھرے کہ پہلے مسلمان تھے پھر مرتد ہو گئے یا پہلے منافقانہ طور پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا پھر کھلے طور پر کفر کی طرف پھر گئے کوئی بھی معنی لیا جائے یہ صحیح روایت اسلام سے پھر کر مرتد ہونے والوں کے قتل کیے جانے پر نص ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد من بدل دینه فاقتلوه سے یہی سمجھتے ہیں کہ دین اسلام سے پھر جانے والے کا یہ حکم ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث مرتد عن الاسلام کے قتل کے متعلق ہے نہ کہ ہندو سے عیسائی اور عیسائی سے یہودی وغیرہ ہو جانے کے بارے میں۔ وثانیاً اس لیے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہی سے روایت ہے:

قال قال رسول الله ﷺ من جحد آية آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے من القرآن فقد حل ضرب عنقه. قرآن کریم کی کسی آیت (یا اس سے مطلوب (الحديث ابن ماجه ص ١٨٥) معنی کا) انکار کیا تو بلاشک اس کی گردن اُڑا دینا حلال اور جائز ہے۔

کی کسی ایک آیت (یا اس کے مقصود معنی) کا انکار کرتا ہے تو وہ مرتد اور قابل قتل ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث من بدل دینه فاقتلوه اسلام سے پھر جانے والے کے بارے میں ہے نہ کہ کسی کافر کے اپنا دین چھوڑ کر کفر کے کسی اور دین کو اختیار کر لینے والے کے بارے میں۔

تعالیٰ علیہ وسلم نے یمن کے ایک صوبے کا گورنر بنا کر بھیجا جبکہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے بعد دوسرے صوبے کا گورنر بنا کر بھیجا۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات کے لیے گئے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکرام ضیف کی مد میں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے تکیہ ڈالا اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی تک سوار تھے۔

واذا رجل عنده مو كان يهوديا فاء اجلس قال لا اجلس الله ورسوله ثلاث مر

(بخاری ص ١٠٢٣ ج ٢ ومج

ص ١٢١ ج ٢ وسنن الکبریٰ م

اور بخاری شر فسار معاذ فی ارض ابی موسیٰ فجاء يس انتهى اليه واذ هو بـ اليه الناس واذا رجل يداه الى عنقه فقال بن قيس ايم هذا قـ بعد اسلامه قال لا انز انما جئى به لذال انزل حتى يقتل فامره

(بخاری ص ٢٢ ج ٣)

قال سمعت رسول الله

صفحہ ٤٥

واذا رجل عنده موثق قال ما هذا قال تو انہوں نے حضرت ابوموسیٰ کے پاس ایک كان يهوديا فاسلم ثم تهود قال شخص باندھا ہوا دیکھا۔ پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اجلس قال لا اجلس حتى يقتل قضاء حضرت ابوموسیٰؓ نے فرمایا کہ یہ پہلے یہودی الله ورسوله ثلاث مرات فامربه فقتل. تھا پھر مسلمان ہوا اس کے بعد پھر یہودی (بخاری ص ١٠٢٣ ج ٢ ومختصراً ص ١٠٥٩ ج ٢ ومسلم ہو گیا۔ فرمایا اے معاذؓ! بیٹھ جاؤ۔ حضرت معاذؓ ص ١٢١ ج ٢ وسنن الکبریٰ ص ٢٠٥ ج ٨) نے فرمایا کہ جب تک اس کو قتل نہیں کیا جائے گا میں نہیں بیٹھوں گا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا یہی فیصلہ ہے۔ تین دفعہ انہوں نے یہ فرمایا پھر اس مرتد کے بارے میں قتل کا حکم دیا گیا اور وہ قتل کر دیا گیا۔

اور بخاری شریف میں دوسرے مقام پر روایت یوں ہے کہ:

فسار معاذ فی ارضه قريباً من صاحبه حضرت معاذؓ اپنے علاقہ کی زمین میں اپنے ابی موسى فجاء يسير على بغلته حتى ساتھی حضرت ابوموسیٰؓ کے قریب پہنچے تو وہ خچر انتهى اليه واذ هو جالس وقد اجتمع پر سوار تھے اور حضرت ابوموسیٰؓ بیٹھے ہوئے اليه الناس واذا رجل عنده قد جمعت تھے اور ان کے پاس لوگ جمع تھے اور ان کے يداه الى عنقه فقال له معاذ يا عبدالله پاس ایک شخص کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ بن قيس ايم هذا قال هذا رجل كفر حضرت معاذؓ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس! بعد اسلامه قال لا انزل حتى يقتل قال یہ کون ہے؟ فرمایا یہ شخص اسلام لانے کے بعد انما جئى به لذالك فانزل قال ما کافر ہو گیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا کہ میں انزل حتى يقتل فامربه فقتل ثم نزل. اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک کہ اس کو (بخاری ص ٢٢ ج ٣) قتل نہ کیا جائے گا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا اس کو اسی لیے تو لایا گیا ہے۔ آپ اتریں۔ فرمایا جب تک اس کو قتل نہ کیا جائے گا میں نہیں اتروں گا۔ اس کو قتل کیا گیا تو وہ اترے۔

قال سمعت رسول الله ﷺ یقول وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ

صفحہ ٤٦

لا يحل دم امرء مسلم الا بثلاث ان يزنى بعدما احصن او يقتل انسانا او يكفر بعد اسلامه فيقتل. (نسائی ج ٢ ص ١٥١ وابوداؤد الطيالسي ص ١٣ ومسند احمد ج ١ ص ٧٠ سنن الکبریٰ ص ١٩٤ ج ٨)

صلى الله عليه وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں ہے مگر تین چیزوں سے (١) یہ کہ شادی کے بعد کوئی زنا کرے (٢) کسی انسان کو قتل کر دے (٣) اسلام کے بعد کفر اختیار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔

اور یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے اور اس میں الفاظ یہ ہیں:

او رجل ارتد بعد اسلامه. (ابن ماجہ ص ١٨٥)

یا وہ شخص جو اسلام کے بعد مرتد ہو جائے۔

4۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:

قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل دم رجل مسلم يشهد ان لا اله الا الله وانى رسول الله الا باحدى ثلاث الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة.

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں خون بہانا جائز نہیں مگر تین چیزوں میں سے کسی ایک کے ارتکاب پر (١) شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے (٢) کسی کو قتل کر دے تو اس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا (٣) اپنے دینِ اسلام کو چھوڑ کر ملت سے جدا ہو جائے تو قتل کیا جائے گا۔

(بخاری ج ٢ ص ١٠١٦ ومسلم ج ٢ ص ٥٩ وابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٢ وابن ماجہ ص ١٨٥ ومسند احمد ج ١ ص ٣٨٢ وسنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٩٤ و ج ٨ ص ٢٠٢)

اس صحیح اور صریح حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ دین سے دینِ اسلام مراد ہے کہ جو مسلمان اپنے دینِ اسلام سے پھر کر مرتد ہو جائے تو وہ قابلِ گردن زدنی ہے اور اس جرم کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا۔

5۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (المتوفاۃ ٥٨ھ) سے روایت ہے:

ان النبى صلى الله عليه وسلم قال من ارتد عن دينه فاقتلوه . (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ١١٤)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے دین (اسلام) سے پھر گیا تو اسے قتل کر دو۔

6۔ مشہور تابعی ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ (عبداللہ بن زید الجرمی المتوفی ١٠٤ھ) نے خلیفہ

راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز (المتوفی ١١٠ھ) بیان فرمائی:

فو الله ماقتل رسول الله صلى الله عليه وسلم احدا الافى ثلاث رجل قتل بجريرة فقتل او رجل زنى بعد احصان او حارب الله و رسوله وارتد الاسلام . (الحديث) (بخاری ج ٢ ص

ایسی صحیح اور صریح احادیث کی کہ مرتد ہو جانے والے کے بارے میں سے خاموش ہیں یا یہ صرف ان لوگوں پر اعلانیہ کافر ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔ کسی م جو ملحد و زندیق ہو۔

حضرات آئمہ دین

جس طرح قرآن وحدیث ا ایسا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا اور ان میں سے ک متداول اور اُمتِ مسلمہ میں قابل اعتماد ہ کو جو اسلام کے مدعی تو ہیں مگر اسلام کی آ صرف اپنی نارسا عقل وخرد پر نازاں و فرح پر طعن کرتے ہیں۔ حضرت امام مالک (ا القضاء فيمن ارتد عن الاسلام مالك عن زيد بن اسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من غير دينه فاضربوا عنقه. مالك ومعنى قول النبى صلى الله عليه وسلم م نرى والله تعالى اعلم من غير د فاضربوا عنقه انه من خرج من الاسل

صفحہ ٤٧

راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ (المتوفی ١٠١ھ) کی بھری ہوئی عدالتی اور علمی مجلس میں یہ حدیث بیان فرمائی:

فوالله ما قتل رسول الله ﷺ احدا قط بخدا آنحضرت ﷺ نے کبھی بھی کسی کو قتل الا في ثلاث رجل قتل بجريرة نفسه نہیں کیا مگر تین جرائم میں (١) وہ شخص جو ناحق فقتل او رجل زنى بعد احصان او رجل کسی کو قتل کرتا تو اسے قصاص میں قتل کرتے (٢) حارب الله و رسوله وارتد عن شادی کے بعد زنا کرتا تو اسے قتل کرتے (٣) الاسلام . ( الحديث ) (بخاری ج ٢ ص ١٠١٩) اسلام سے پھر کر مرتد ہو جاتا تو اسے قتل کرتے۔

ایسی صحیح اور صریح احادیث کی موجودگی میں یہ موشگافیاں کرنا کہ یہ احادیث اسلام سے پھر کر مرتد ہو جانے والے کے بارے میں نہیں یا یہ احادیث ضعیف ہیں یا یہ احادیث کلمہ گو کے قتل سے خاموش ہیں یا یہ صرف ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو اسلام سے خارج ہو کر کھلے طور پر اعلانیہ کافر ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔ کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا، یہ کارروائی صرف وہی کر سکتا ہے جو ملحد و زندیق ہو۔

حضرات آئمہ دین

جس طرح قرآن وحدیث اور دین اسلام کی باریکیوں کو حضرات آئمہ دین سمجھتے ہیں، ایسا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا اور ان میں سے بھی بالخصوص حضرات آئمہ اربعہ جن کے مذاہب مشہور اور متداول اور اُمتِ مسلمہ میں قابلِ اعتماد ہیں اور آج کل کے مادر پدر آزاد دور میں ملاحدہ اور زنادقہ کو جو اسلام کے مدعی تو ہیں مگر اسلام کی سمجھ ہی ان کو نہیں اور نہ وہ اس کی روح سے واقف ہیں، وہ صرف اپنی نارسا عقل و خرد پر نازاں و فرحاں ہیں اور اسی کو وہ حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور حضرات سلفؒ پر طعن کرتے ہیں۔ حضرت امام مالکؒ (المتوفی ١٧٩ھ ) اس حدیث پر یہ باب قائم کرتے ہیں:

القضاء فيمن ارتد عن الاسلام مالک اس شخص کے بارے فیصلہ جو اسلام سے پھر عن زيد بن اسلم ان رسول الله ﷺ جائے ۔ امام مالکؒ حضرت زید بن اسلمؒ سے قال من غير دينه فاضربوا عنقه قال روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مالک ومعنی قول النبی ﷺ فیما فرمایا جس شخص نے اپنا دین بدل دیا تو تم اس نری والله تعالیٰ اعلم من غیر دینه کی گردن اُڑا دو۔ حضرت امام مالکؒ فرماتے فاضربوا عنقه انه من خرج من الاسلام ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا

صفحہ ٤٨

الى غيره مثل الزنادقة واشياعهم فان اولئك اذا ظهر عليهم قتلوا ولم يستتابوا لانه لا يعرف توبتهم وانهم يسرون الكفر ويعلنون الاسلام فلا ارى ان يستتاب هولاء ولا يقبل منهم قولهم واما من خرج من الاسلام الى غير واظهر ذالك فانه يستتاب فان تاب فبها والا قتل ذالك لو ان قوما كانوا على ذالك رايت ان يدعوا الى الاسلام ويستتابوا فان تابوا قبل ذالك منهم وان لم يتوبوا قتلوا ولم يعن بذالك فيما نرى والله اعلم من خرج من اليهودية الى النصرانية ولا من النصرانية الى اليهودية ولا من يغير دينه من اهل الاديان كلها الا الاسلام فمن خرج من الاسلام الى غيره واظهر ذالك فذالك الذى عنى به والله اعلم

(مؤطا امام مالک ص ٣٠٨ طبع مجتبائی دہلی)

ہماری دانست میں معنیٰ یہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ’’کہ جو شخص اسلام سے نکل کر زنادقہ وغیرہم میں جا ملا ایسے زنادقہ پر جب مسلمانوں کا غلبہ ہو جائے تو ان سے توبہ طلب کئے بغیر ان کو قتل کیا جائے کیونکہ زنادقہ کی توبہ معلوم نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ کفر کو چھپاتے اور اسلام کو ظاہر کرتے ہیں اور ہماری دانست کے مطابق نہ تو ان سے توبہ طلب کی جائے اور نہ توبہ قبول کی جائے۔ باقی رہے وہ لوگ جو اسلام سے کفر کی طرف نکلے اور کفر کو ظاہر کیا تو ان پر توبہ پیش کی جائے گی اور اگر وہ توبہ کر لیں تو فبہا ورنہ ان کو قتل کیا جائے گا یعنی اگر کوئی قوم اسلام سے برگشتہ ہو کر کفر کا اظہار کرتی ہے تو اس سے توبہ کرنے کا کہا جائے گا اگر توبہ کی تو قبول کر لی جائے گی ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس حدیث کا مطلب ہماری دانست میں یہ نہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کوئی شخص یہودیت سے نصرانیت کی طرف یا نصرانیت سے یہودیت یا اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی طرف پھر جائے تو اس کے متعلق یہ حدیث ہے بلکہ یہ حدیث صرف اس کے بارے میں ہے جو اسلام کو ترک کر کے کفر کو اختیار کرے اور اسے ظاہر کرے۔

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ من بدل دینہ اور من غیر دینہ کا یہی مطلب لیتے ہیں کہ جو شخص دین اسلام سے پھر کر کفر کی طرف چلا جائے اور زندیق تو ایسا واجب القتل ہے کہ نہ تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار ہے، وہ بہر حال اور بہر کیف

صفحہ ٤٩

شياعهم فان قتلوا ولم ريتهم وانهم الاسلام فلا لا يقبل منهم الاسلام الی يستتاب فان ل لو ان قوما ن يدعوا الى ن تابوا قبل وا قتلوا ولم والله اعلم من نصرانية ولا يهودية ولا من ديان كلها الا الاسلام الی ذالك الذي

بائی دہلی )

ہماری دانست میں معنی یہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ”کہ جو شخص اسلام سے نکل کر زنادقہ وغیرہم میں جا ملا ایسے زنادقہ پر جب مسلمانوں کا غلبہ ہو جائے تو ان سے توبہ طلب کیے بغیر ان کو قتل کیا جائے کیونکہ زنادقہ کی توبہ معلوم نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ کفر کو چھپاتے اور اسلام کو ظاہر کرتے ہیں اور ہماری دانست کے مطابق نہ تو ان سے توبہ طلب کی جائے اور نہ توبہ قبول کی جائے“۔ باقی رہے وہ لوگ جو اسلام سے کفر کی طرف نکلے اور کفر کو ظاہر کیا تو ان پر توبہ پیش کی جائے گی اور اگر وہ توبہ کر لیں تو فبہا ورنہ ان کو قتل کیا جائے گا یعنی اگر کوئی قوم اسلام سے برگشتہ ہو کر کفر کا اظہار کرتی ہے تو اس سے توبہ کرنے کا کہا جائے گا اگر توبہ کی تو قبول کر لی جائے گی ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس حدیث کا مطلب ہماری دانست میں یہ نہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کوئی شخص یہودیت سے نصرانیت کی طرف یا نصرانیت سے یہودیت یا اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی طرف پھر جائے تو اس کے متعلق یہ حدیث ہے بلکہ یہ حدیث صرف اس کے بارے میں ہے جو اسلام کو ترک کر کے کفر کو اختیار کرے اور اسے ظاہر کرے۔

رحمۃ اللہ علیہ من بدل دینه اور من غیر دینه کا یہی مطلب لیتے پھر کر کفر کی طرف چلا جائے اور زندیق تو ایسا واجب القتل ہے کہ نہ سکتا ہے اور نہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار ہے وہ بہر حال اور بہر کیف

واجب القتل ہے۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (نعمان بن ثابتؒ (المتوفی ١٥٠ھ ) امام ابو جعفر احمد بن سلامہ الطحاوی الحنفیؒ (المتوفی ٣٢١ھ ) فرماتے ہیں:

وقد تكلم الناس فی المرتد عن الاسلام ايستتاب ام لا فقال قوم ان استتاب الامام المرتد فهو احسن فان تاب فهو احسن والا قتل وممن قال ذالك ابو حنيفة و ابو يوسف و محمد رحمة الله عليهم وقال آخرون لا يستتاب وجعلوا حكمه كحكم الحربيين على ماذكر من بلوغ الدعوة اياهم ومن تقصيرها عنهم وقالوا انما يجب الاستتاب لمن خرج الاسلام لا عن بصيرة منه به فاما من خرج منه الى غيره على بصيرة فانه يقتل ولا يستتاب وهذا قول قال به ابو يوسف في كتاب الاملاء قال اقتله ولا استتيبه الا انه ان بدرنی بالتوبة خليت سبيله ووكلت امره الى الله تعالى.

(طحاوی ج ٢ ص ١٠١ کتاب السیر )

لوگوں نے اسلام سے نکل کر مرتد ہو جانے والے کے بارے میں بحث کی ہے کہ کیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا؟ یا نہیں؟ علماء کی ایک قوم کہتی ہے کہ اگر حاکم مرتد سے توبہ کرنے کا مطالبہ کرے تو اچھا ہے تو بہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا یہی قول ہے اور دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے جیسا کہ دارالحرب کے کفار کو جب دعوت اسلام پہنچ جائے تو پھر ان کو اسلام کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں۔ نہ پہنچی ہو تو دعوت دی جائے اور فرماتے ہیں کہ توبہ کا مطالبہ اس وقت واجب ہے جبکہ کوئی شخص اسلام سے بے سمجھی کی وجہ سے کفر کی طرف چلا جائے۔ رہا وہ شخص جو سوچے سمجھے طریقے پر اسلام سے کفر کی طرف چلا جائے تو اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ ہاں اگر وہ میرے اقدام سے پہلے ہی توبہ کر لے تو میں اسے چھوڑ دوں گا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دوں گا۔

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی ٢٠٤ھ ) تحریر فرماتے ہیں کہ:

صفحہ ٥٠

ولم يختلف المسلمون انه لا يحل ان يفادى بمرتد ولا يمن عليه ولا توخذ منه فدية ولا يترك بحال حتى يسلم او يقتل والله اعلم.

(کتاب الام ج ٦ ص ١٥٦)

مسلمانوں میں کسی کا اس بارے کبھی اختلاف نہیں ہوا بلکہ سب کا اتفاق ہے کہ مرتد کو فدیہ میں دینا جائز نہیں اور نہ اس پر احسان کیا جائے اور نہ اس سے فدیہ لیا جائے اور اس کو اس کے حال پر کبھی نہیں چھوڑا جاسکتا یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائے یا قتل کیا جائے۔

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ حوالہ قتل مرتد کے بارے بالکل واضح ہے۔ حضرت امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی الشافعی (المتوفی ٦٧٦ھ) لکھتے ہیں کہ:

وقد اجمعوا على قتله لكن اختلفوا فى استتابته هل هى واجبة ام مستحبة.

(نووی شرح مسلم ج ٢ ص ٢٢١)

تمام اہل اسلام کا مرتد کے قتل کرنے پر اجماع ہے ہاں اس پر اختلاف ہے کہ مرتد پر توبہ پیش کرنا واجب ہے یا مستحب؟

بعض آئمہ کرام مرتد پر توبہ پیش کرنا واجب کہتے ہیں اور بعض مستحب کہتے ہیں۔ چنانچہ علامہ علاؤ الدین بن علی بن عثمان الماردینی (المتوفی ٧٤٥ھ) فرماتے ہیں کہ:

وقال صاحب الاستذكار لا اعلم بين الصحابة خلافاً فى استتابة المرتد فكانهم فهمو من قوله عليه السلام من بدل دينه فاقتلوه اى بعد ان يستتاب.

(الجوہر النقی ج ٨ ص ٢٠٥)

مصنف استذکار (شرح موطا امام مالکؒ، امام ابوعمر بن عبدالبرؒ (المتوفی ٤٦٣ھ) فرماتے ہیں کہ مرتد پر توبہ پیش کرنے کے بارے میں مجھے حضرات صحابہ کرامؓ میں کوئی اختلاف معلوم نہیں ہے۔ پس گویا کہ حضرات صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ کے ارشاد من بدل دینہ فاقتلوہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ توبہ پیش کرنے کے بعد مرتد کو قتل کرنا چاہیے۔

علامہ عزیزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فاقتلوه بعد استتابة وجوبا قال المناوى وعمومه يشمل الرجل والمرأة وعلى قتل المرتد اجماع اجمع الائمة الثلاثة على قتل

فاقتلوہ کا مطلب یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اس کے بعد اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ امام عبدالرؤف مناویؒ فرماتے ہیں کہ الفاظ کا عموم مرد اور عورت دونوں کو

صفحہ ٥١

شامل ہے‘ مرتد کے قتل کرنے پر تو اجماع ہے المرتدة خلافا للحنفية. اور مرتد عورت کے قتل کرنے پر تین اماموں کا

(السراج المنیر ج ٣ ص ٦٤٤)

اتفاق ہے‘ احناف اختلاف کرتے ہیں۔

اس سے بھی واضح ہو گیا کہ توبہ پیش کرنے کے بعد مرتد کے اسلام سے انکار کرنے پر اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ مرد مرتد کے قتل پر تو تمام حضرات آئمہ کرام کا اجماع ہے۔ عورت مرتدہ کے بارے میں حضرات آئمہ ثلاثہ کا یہی مسلک ہے البتہ احناف یہ کہتے ہیں کہ اس کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ صنف نازک ہونے کی وجہ سے عموماً وہ لڑائی اور جھگڑا نہیں کرتی۔

قاضی محمد بن علی الشوکانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ١٢٥٠ھ) فرماتے ہیں کہ: احناف نے اس حدیث کو (ضمیر مذکر کے پیش وخصه الحنفية بالذكر و تمسكوا نظر) مرد کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور اس بحديث النهي عن قتل النساء. حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں عورتوں

(نیل الاوطار ج ٧ ص ٢٠٣)

کے قتل کرنے کی نہی وارد ہوئی ہے۔

ہاں اگر کوئی عورت لڑائی پر اتر آئے اور ارتداد کو پھیلانے کی سعی کرے تو اس کا معاملہ الگ اور جدا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ٢٤١ھ) کا مسلک امام موفق الدین ابن قدامہ الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ٦٢٠ھ) یہ نقل کرتے ہیں: تیسری فصل: اکثر اہل علم یہ کہتے ہیں کہ مرتد کو الثالث الفصل : انه لايقتل حتى اس پر توبہ پیش کیے بغیر نہ قتل کیا جائے جن میں يستتاب عند اكثر اهل العلم منهم حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عطاءؒ، امام نخعیؒ، عَمْرٌو علیٌ وعَطَاء ونَخَعی ومالک امام مالکؒ، امام ثوریؒ، امام اوزاعیؒ، امام اسحاق والثَّوْرِیّ رضی الله عنهم و الاوزاعی اور فقہاء احناف شامل ہیں اور حضرت امام و اسحاق و اصحاب الرائے وھو احد شافعیؒ کا بھی ایک قول یہی ہے اور حضرت امام قولى الشافعیؒ و روى عن احمدؒ رواية احمدؒ سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ مرتد اخرى انه لاتجب استتابته لكن سے توبہ کا مطالبہ واجب نہیں ہے لیکن مستحب تستحب وهذا القول الثانى الشافعیؒ ہے اور یہ امام شافعیؒ کا بھی ایک دوسرا قول ہے وهو قول عبيد بن عمير و طاؤس اور امام عبید بن عمیرؒ اور امام طاؤسؒ کا بھی یہی رضى الله عنهم ويروى ذالك عن قول ہے اور حضرت حسن بصریؒ سے بھی یہ الحسَنُ البصری لقول النبی ﷺ من

صفحہ ٥٢

بدل دينه فاقتلوه ولم يذكروا استتابة. مروی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (مغنی ج ٨ ص ١٢٤) ہے جو اپنا دین (اسلام) بدل دے تو اسے قتل کر دو اور توبہ کا مطالبہ اس میں مذکور نہیں ہے۔

ان تمام صریح حوالوں سے مرتد کا قتل کرنا آفتاب نصف النہار کی طرح ثابت ہے۔

علامہ ابو محمد بن حزم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ قتل مرتد کا معاملہ اُمت میں ایسا معروف و مشہور ہے کہ کوئی مسلمان شخص اس کے انکار پر قادر نہیں۔ (المحلی ج ٨ ص ٢٢٢) ان کے علاوہ بھی کتب فقہ و فتاویٰ میں قتل مرتد کی تصریح موجود ہے۔ مثلاً ہدایہ ج ٢ ص ٦٠٠‘ فتح القدیر ج ٤ ص ٣٨٦‘ شامی ج ٣ ص ٣٩٤ اور بحر الرائق ج ٥ ص ١٢٥ وغیرہ

علامہ علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ٥٨٧ھ) فرماتے ہیں کہ: ”مرتد کے قتل کرنے پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اجماع ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ مرتد کو تین دن تک بند رکھا جائے اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اچھا ہے ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔“ (بدائع الصنائع ج ٧ ص ١٣٤)

امام موفق الدین ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

واجمع اهل العلم على وجوب قتل اہل علم کا مرتد کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ المرتد روى ذالك عن ابى بكر حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ وعمر وعثمان وعلىّ ومعاذ وابى موسىٰ حضرت علیؓ حضرت معاذؓ حضرت ابو موسیٰ وابن عباس وخالد وغيرهم ولم ينكر الاشعریؓ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت خالدؓ ذالك كان اجماعا. (مغنی ابن قدامه وغیرہم سے یہی مروی ہے اور حضرات صحابہ ج ٨ ص ١٢٣) کرامؓ کے دور میں اس کا کوئی انکار نہیں کیا گیا تو یہ اجماعی مسئلہ ہے۔

قارئین کرام! غور فرمائیں کہ جس مسئلہ پر قرآن کریم اور صحیح احادیث سے واضح دلائل موجود ہوں اور جس مسئلہ پر حضرات خلفاء راشدینؓ متفق ہوں اور جس مسئلہ پر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی شخصیتیں متفق ہوں جو اپنے دور میں گورنری کے عہدہ پر فائز تھیں اور جس مسئلہ پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ترجمان القرآن متفق ہوں اور جس مسئلہ پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مجاہد اور فوج کے سپہ سالار متفق ہوں اور جس مسئلہ پر حضرات آئمہ کرام اربعہ اور جمہور آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم متفق ہوں

صفحہ ٥٣

اور جس مسئلہ کے خلاف کوئی مسلمان انکار کرنے پر قادر نہ ہوا ہو تو اس مسئلہ کے حق اور ثابت ہونے میں کیا شک وشبہ ہوسکتا ہے۔

حضرت امام ابوعمرو عامر بن شراحیل شعبی رحمۃ اللہ علیہا (المتوفی ١٠٩ھ) فرماتے ہیں کہ:

كان العلم يوخذ عن ستة عمر وعلیٰ چھ حضرات سے علم حاصل کیا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ، وابي وابن مسعود وزيد وابي موسیٰ حضرت علیؓ، حضرت ابیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، وقال ايضاً قضاة الامة اربعة عمر حضرت زیدؓ اور حضرت ابوموسیٰؓ اور نیز انہوں وعلی زيد و ابوموسیٰ. نے فرمایا کہ اُمت کے قاضی (جج) چار ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ١ ص ٢٣) حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ بن ثابت اور حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ۔

یعنی وہ یہ حضرات ہیں جن سے علم دین اخذ کیا جاتا تھا اور اُمت مسلمہ کے وہ مسلم قضاۃ (جج Judges) تھے اور حضرت صفوان بن سلیم رحمۃ اللہ علیہ الامام المدنی الفقیہ (المتوفی ١٣٢ھ) فرماتے ہیں کہ:

لم يكن يفتی فی زمن النبی ﷺ غیر آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ان چار عمر وعلیٰ ومعاذ وابى موسیٰ. حضرات کے بغیر اور کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا۔ وہ (تذکرۃ الحفاظ ج ١ ص ٢٣) حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاذؓ اور حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ ہیں۔

آپ حضرات بخوبی اس مقالہ میں مرتد کے بارے میں ان حضرات کے فتوے اور فیصلے پڑھ چکے ہیں۔

شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ

شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار نظر آیا، جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے۔

(فتاویٰ قادریہ)

صفحہ ٥٤

ختم نبوت اور نبوت کے غیر کسبی ہونے میں مناسبت

ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکتہ

ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد

نبوت کی خلعت فاخرہ سے وہی سرفراز ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں میں سے منتخب فرماتے ہیں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و نعمت ہے۔ نبی کی ذاتی حیثیت، شخصی وجاہت یا سعی و ریاض محرک بن سکتے ہیں نہ بشری نکتہ نگاہ وعقلی تگ و دو اس عطا کی کوئی توجیہ پیش کرسکتے ہیں۔ اس قاعدے سے کوئی نبی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مستثنیٰ نہیں، تاہم کسب وسعی، کمال فطرت، اعتدال مزاج یا اس جیسے دیگر اعلیٰ انسانی اوصاف، نبوت کا محرک و سبب بنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں ان اوصاف و کمالات کے بدرجہ اتم موجود ہونے کی بنا پر ممکن تھا کہ آپ کو یہ عظیم الشان منصب عطا کیا جاتا، بچپن سے لے کر جوانی اور پھر مہبط وحی بننے تک آپ کی سیرت کے مطالعے سے یہ امر واشگاف ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشریت کے اعلیٰ مقام پر متمکن تھے، اخلاق وسلوک کی پیچ در پیچ گھاٹیاں اور پر خار وادیاں عبور کر چکے تھے۔ علم و حکمت، حسن تصرف اور کاموں کی انجام دہی میں فائق اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل تھے۔ علاوہ ازیں ذوق عبادت میں بھی آپ کو امتیاز خاص حاصل تھا۔ جہالت و سرکشی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر میں نور معرفت کا چراغ فروزاں تھا۔ کئی کئی دن غار حرا کے گوشے میں لوگوں سے الگ تھلگ مناجات ودعا سے کام و دہن کی لذت کا سامان کرتے تھے۔ اگر کوئی کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طبیعت کی پاکیزگی، صفائی باطن، اعتدال مزاج، تحمل و بردباری، قوت برداشت اور اعلیٰ ذہنی و فکری صلاحیتوں کی بدولت نبوت کے سزاوار ہوئے، اور یہی صفات و کمالات آپ کو مقام نبوت تک پہنچانے کا سبب ومحرک بنیں تو یہ کوئی تعجب خیز بات نہ ہوتی اگر فی الواقع مقام نبوت کے

صفحہ ٥٥

حصول کے لیے یہ کمالات درکار اور ان صفات سے متصف ہونا شرط ہوتا۔ جب کہ یہ مقام و منصب خالصتاً اللہ تعالیٰ کا فضل وانعام ہے۔ علاوہ ازیں حقیقت حال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منصب کے منتظر تھے نہ اس کی توقع رکھتے تھے۔ چہ جائیکہ اس کی طلب میں دست سوال دراز کرتے، بلکہ ایک روز اچانک ہی آپ پر وحی کا نزول ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس خلاف توقع امر سے اتنی دہشت طاری ہوئی کہ بے اختیار اپنی غم خوار و مونس، ستودہ صفات زوجہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمانے لگے: ”مجھے اندیشہ ہے کہ میں مر نہ جاؤں۔“ آپ کی زوجہ محترمہ ٢ نے اطمینان دلایا اور کہا آپ جیسی اعلیٰ کریمانہ اخلاق سے متصف شخصیت ایسی مشکل سے دوچار نہیں ہو سکتی، جس سے جان کا خطرہ لاحق ہو ازاں بعد وحی کا نزول مسلسل ہونے لگا اور کبھی تعطل کی کیفیت نہیں طاری ہوئی، اس پس منظر میں قرآن پاک میں ارشاد ہے:

اور آپ کو یہ توقع نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جائے گی، مگر محض آپ کے رب کی مہربانی سے اس کا نزول ہوا۔

یہ قرآن دو قریوں (مکہ وطائف) کی دو عظیم شخصیتوں پر کیوں نازل نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا یہ (لوگ) آپ کے رب کی رحمت (انعام وفضل) تقسیم کرتے ہیں؟

بعینہ یہی اجتبا واصطفا، ہبہ وعطا کا معاملہ انبیا سابقین کے ساتھ روا رکھا گیا ہے، جیسا کہ یحییٰ وعیسیٰ علیہما السلام کی بابت آل عمران میں ذکر ہے اور اسحاق، یعقوب اور ہارون علیہم السلام کے بارے میں سورۂ مریم اور موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سورۂ طٰہٰ میں قرآن نے بیان کیا ہے۔

در حقیقت نبوت ایسے حساس و نازک مقام کے لیے یہی طرز عمل مناسب تھا، وگرنہ کتنے ہی جاہ و مال کے دلدادہ فطری صلاحیتوں کو عام پیمانے سے ترقی دے کر مقام نبوت کے دعوے دار ہو جاتے اور عجیب و غریب ذہنی پراگندگی، افراتفری اور انارکی کی فضا پیدا ہو جاتی، راہ ہدایت پر چلنا دشوار سے دشوار تر ہو جاتا، نبی و غیر نبی کی پہچان مشکل ہو جاتی، اس صورتحال کے سدباب کے لیے امت کی بہترین صلاحیتیں اور اعلیٰ دماغ شبانہ روز اسی کدوکاش میں مصروف عمل رہتے کہ کس طرح جھوٹے مدعیان نبوت کو نیچا دکھائیں اور ان کے طلسم و شعبدہ بازی کے سحر سے افراد امت کو نجات دلائیں۔ اس قسم کی صورتحال عیسائیت کو پیش آئی۔ Edwin knox mitchell ہارٹ فورڈ Hartford کے شعبہ دینیات میں یونانی، رومی اور مشرقی

صفحہ ٥٦

کلیسا کی تاریخ کے پروفیسر مسیحیت کو پیش آنے والے اس ابتلا کے بارے میں لکھتے ہیں: ”ان جھوٹے نبیوں کے ظہور نے جو ماورائی حکمت Superior Wisdom کے مدعی ہوتے تھے، بہت جلد بے اعتمادی پیدا کر دی اور کلیسائوں اور ان کے رہنمائوں کو اس خطرہ کا احساس دلایا جو ان کی فلاح و بہبود کے گرد منڈلا رہا تھا، تاہم ابھی کوئی ایسا تادیبی طریقہ وجود میں نہیں آیا تھا، جو جانا پہچانا بھی ہوتا، اور ان مکاروں کا زور بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جنہیں یہ دعویٰ تھا کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے، اور ان پر بذریعہ وحی اپنے راز ہائے سربستہ منکشف کرتا ہے، ابھی تک کوئی ایسا معیار نہیں دریافت ہو پایا تھا، جس کے ذریعے ان مدعیان روحانیت کی صداقت کا امتحان کیا جا سکتا، ایسے معیار کا دریافت ہونا قطعاً ضروری تھا، اور اگر یہ دریافت نہ بھی ہوتا تو بھی کلیسا اس کی تخلیق کر کے رہتا تاکہ اس کے ذریعے مذہب کے بنیادی اصولوں میں انتشار اور زندگی کو الحاد کے راستہ پر جا پڑنے سے بچا سکے، اور اس طرح خود اپنی حفاظت کا انتظام کر سکے۔“

اگر یہ منصب انسانی دسترس میں ہوتا یا قیاس و عقل کی کسوٹی پر اس کی پرکھ ممکن ہوتی تو اسی پریشانی و افراتفری کا سامنا ہوتا، جس میں مسیحیت مبتلا ہوئی اور اپنے اصلی خدوخال کھو بیٹھی۔

عقیدۂ ختم نبوت کی حکمت ہی سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مقام نبوت کی تفویض عقلی و بشری معیار تفویض و حوالگی کے مطابق عمل میں نہیں آتی، بلکہ یہ محض ذات باری کا کرم و احسان ہے، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مبعوث فرمایا اور قرآن پاک میں اس امر کی تصریح فرما کر قیامت تک باب نبوت بند ہو جانے کا اعلان فرما دیا۔

ایک شبہ کا ازالہ

کسی شخص کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے، لا انتہا قدرت کا یکتا مالک ہے اور عقیدۂ ختم نبوت، بالفاظ دیگر انسداد باب نبوت اس کے منافی بلکہ متصادم ہے، کیونکہ اس امر سے یہ لازم آتا ہے کہ خاکم بدہن خدا کی قدرت محدود ہے، اس لیے

صفحہ ٥٧

نبی مبعوث کرنے سے عاجز ہے۔ یہ گمان و سوچ شیطانی وسوسہ ہے اس کی بابت عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ مختار کل ہے اور ختم نبوت سے ان کا عجز لازم نہیں آتا، عجز و درماندگی تو اس وقت لازم آتی ہے جب نہ چاہنے کے باوجود اس سے کوئی کام کروا دیا جائے اور اس پر جبر کیا جائے کہ فلاں پیغمبر اور فلاں کو دوست بنائے اور وہ سر تسلیم خم کر دے۔ حالانکہ یہ امر بدیہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صوابدید پر کسی کو نبی بناتے اور کسی کو دوستی کے مقام پر فائز کرتے ہیں اور اسی ذات نے قرآن کے ذریعے ہمیں بتایا ہے کہ ختم نبوت کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا گیا ہے۔ اس عمل سے نہ اس کی قدرت میں کسی قسم کا فتور آیا ہے نہ اس کا ارادہ متاثر ہوا ہے۔ یہ تفصیلی توضیح اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت و ارادہ میں الحاد اور افراط و تفریط کا شکار ہونے والوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

عبرتناک انجام ! انہی لاعلاج اور مہلک بیماریوں کے ہاتھوں سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بشیر الدین جہنم واصل ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ آخری وقت میں کتے کی طرح بھونکنے لگا تھا۔ وہ شام کے سات بجے مردار ہوا لیکن اس کی موت کا اعلان رات کے دو بجے کیا گیا۔ موت کا اعلان سات گھنٹے بعد کیوں کیا گیا؟ سات گھنٹے تک یہ خبر قصر خلافت سے باہر کیوں نہ آئی۔ وجہ یہ تھی کہ بشیر الدین کئی مہینوں سے نہایا نہیں تھا۔ ناخن، داڑھی اور سر کے بال کٹوانے نہیں تھے۔ جسم پر غلاظت کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ قادیانی جب اسے ان امور کے بارے میں کہتے تو وہ انہیں ننگی گالیاں دیتا۔ مرنے کے بعد رگڑ رگڑ کر بشیر الدین کے جسم کو دھویا گیا۔ ناخن کاٹے گئے، سر اور داڑھی کے بالوں کو کاٹ کر آراستہ کیا گیا۔ جسم کی بدبو ختم کرنے کے لیے بہترین خوشبویات چھڑکی گئیں۔ چہرے پر پوڈر لگایا گیا۔ ہونٹوں پر ہلکی ہلکی سرخی سجائی گئی۔ اس کے علاوہ منہ پر چمک پیدا کرنے والے کیمیکلز لگائے گئے اور اس کی چارپائی باہر دالان میں رکھ دی گئی۔ مرکری کا ایک بلب اس کے سر کی طرف اور دوسرا پاؤں کی طرف روشن کر دیا گیا۔ جب مرکری کے بلب کی چمکیلی شعائیں اس کے چمکیلے کیمیکلز لگے منہ پر پڑتیں تو اس کا بدبودار منہ چمکتا اور قادیانی شکاری سادہ لوح قادیانیوں سے کہتے کہ دیکھو جی! حضرت صاحب کو کیسا روپ چڑھا ہے۔

صفحہ ٥٨

قادیانی جماعت کے بزرگانہ جھوٹ

پروفیسر منور احمد ملک

قادیانی جماعت میں ایک قادیانی کی حیثیت سے گزارے 40 سالوں میں مسلسل جماعتی عہدے داروں مربیوں کے ذریعے جھوٹ کے خلاف نفرت کا تاثر ملتا رہا ہے۔ صدہا لیکچرز میں مسلمان علماء دانش وروں کے بیانات میں سے جھوٹ تلاش کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ مذمت کی جاتی رہی ہے جس سے یہ یقین ہو چکا تھا کہ قادیانی جماعت جھوٹ سے سخت نفرت کرتی ہے بلکہ نوجوانوں (خدام الاحمدیہ) کو پانچ نکات پر مشتمل ایک تربیتی پروگرام بھی دیا گیا تھا جو قادیانی جماعت کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر سامنے آیا۔ اس میں بھی ایک نقطہ جھوٹ سے نفرت کا تھا۔

دوسری طرف جب جماعتی عہدے داروں اور مربیوں کے کردار کو دیکھیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے مگر ان عہدے داروں اور مربیوں کے سردار یعنی قادیانی جماعت کے سابق سربراہ مرزا ناصر احمد کے حوالے سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں، جنہیں میں بھی اپنے دور میں ”خلیفہ وقت“ سمجھا کرتا تھا اور ان کی وفات تک اسی اعتقاد پر تھا۔ یہ اسی عقیدت کا نتیجہ تھا جو ہر قادیانی بچے کے دل و دماغ میں بٹھائی جاتی ہے کہ ”خلیفہ وقت“ خدا کے نمائندہ ہیں۔

اگر آپ کے سر میں درد ہے تو دعا کے لیے خلیفہ کو خط لکھیں اگر امتحان دینا ہے تو خلیفہ کو خط لکھیں اگر ایک عورت کا اپنے خاوند سے جھگڑا ہے تو وہ خلیفہ کو خط لکھے اور اگر کسی مرد کا اپنی بیوی، ماں، بہن سے کوئی اختلاف ہے تو وہ ”حضور خلیفہ“ کو خط لکھے گا۔ یہ عقیدت اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب اگر خلیفہ جماعت کو بتائے کہ جھوٹ نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری ہے تو دوسرے دن قادیانی بلا جھجک جھوٹ کو ”مذہبی شعار“ کے طور پر اپنا لیں گے، کسی میں اختلاف کی گنجائش نہ ہوگی۔

تا دم تحریر جھوٹ کو جائز قرار نہیں دیا گیا، ابھی زبانی زبانی طور پر اسے قابل مذمت ہی سمجھا جاتا ہے البتہ ذیل کی تحریر کے بعد اکثر قادیانی جھوٹ کو جائز سمجھنا شروع ہو جائیں گے۔

قومی اسمبلی میں 1974ء کی تحریک ختم نبوت کے موقع پر قادیانی جماعت کے اس

صفحہ ٥٩

وقت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو طلب کیا گیا اور گیارہ دن تک قادیانی جماعت کے عقائد اور موقف کے بارے میں بحث ہوتی رہی۔ قادیانی جماعت کو اپنا مکمل موقف بیان کرنے کا موقع ملا۔ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مرزا طاہر احمد (موجودہ سربراہ) اور دوست محمد شاہد بھی تھے باقی دو افراد اب فوت ہو چکے ہیں۔ کل پانچ افراد پر مشتمل وفد گیارہ دن تک قادیانی جماعت کا موقف بیان کرتا رہا۔ اسمبلی کی کارروائی 20 سال کے لیے پابندی کے نیچے آ گئی۔ 20 سال بعد اسے ایک ادارے (بالواسطہ) شائع کیا گیا ہے چند اقتباسات حاضر ہیں:

قادیانی جماعت کی تعداد کے بارے میں اٹارنی جنرل استفسار کرتے ہیں:

اٹارنی جنرل: آپ کی تعداد کتنی ہے؟

مرزا ناصر: ہم ریکارڈ نہیں رکھتے۔

اٹارنی جنرل: آپ کی تبلیغ کا کام پاکستان یا انڈیا میں ہے یا باہر بھی؟

مرزا ناصر: ہم ہر جگہ پیار ومحبت کا پیغام دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: باہر آپ کے پیار ومحبت کو جس نے قبول کیا وہ کتنے ہیں؟

مرزا ناصر: تعداد کا ریکارڈ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: جو شامل ہو اسے کوئی فارم دیتے ہیں؟

مرزا ناصر: جی بیعت فارم

اٹارنی جنرل: ان کی تعداد؟

مرزا ناصر: ریکارڈ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: پچھلے 20 سالوں میں کتنے قادیانی ہوئے؟

مرزا ناصر: ریکارڈ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: جو آپ کا ممبر بنے اس کا ریکارڈ؟

مرزا ناصر: نہیں رکھتے ریکارڈ

اٹارنی جنرل: کوئی رجسٹر بھی؟

مرزا ناصر: میرے علم میں نہیں ہے بیعت فارم کو شمار کرتے ہیں یہ بھی میرے علم میں نہیں۔

(تاریخی قومی دستاویز 1974ء صفحہ 21)

قارئین غور فرمائیں! قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا ناصر کہتا ہے کہ ہم تعداد کا ریکارڈ

صفحہ ٦٠

نہیں رکھتے حالانکہ یہ سراسر خلاف حقیقت بات ہے کیونکہ ہر سال بلا ناغہ قادیانی جماعت کی ہر ذیلی تنظیم کی ”تجدید“ تیار کی جاتی ہے جس میں ہر رُکن کا نام، عمر، ولدیت، تعلیم، پیشہ اور دیگر بہت سے کوائف درج کر کے مرکز چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں بھیجے جاتے ہیں۔ ہر سال تجدید کی تیاری میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے جو جماعتی یونٹ یہ تجدید نہ بھیجے اسے ریمائنڈر بھیجے جاتے ہیں اور مجلس عاملہ کے اجلاس میں سرزنش کی جاتی ہے اور پابند کیا جاتا ہے کہ جلد از جلد بھیجے۔ اس طرح ایک سال کے اندر نئے بچے بھی درج ہوتے ہیں اور اس حلقہ میں کسی دوسرے شہر سے آنے والے نئے افراد اور اس حلقہ سے جانے والے قادیانی افراد کا بھی ذکر ہوتا ہے اس طرح پورے ملک کے ہر قادیانی بچے، جوان، بوڑھے، مرد اور عورت کے مکمل کوائف ہر سال کے آخری دو ماہ میں مکمل کیے جاتے ہیں اور یوں پورے ملک کے کل قادیانی مرد و زن کی تعداد مع کوائف محفوظ ہو جاتی ہے جبکہ قادیانی جماعت کے سربراہ جسے قادیانی ”خلیفہ وقت“ پکارتے ہیں، وہ فرما رہے ہیں کہ ہم ریکارڈ نہیں رکھتے۔

قادیانی حضرات ذرا غور فرمائیں کہ آپ کے سربراہ (قادیانی افراد کے سربراہ) کیا فرما رہے ہیں اگر ریکارڈ نہیں رکھتے تو تجدید کیا ہے؟ یقیناً آپ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ”خلیفہ وقت“ جھوٹ بول سکتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں ”یا راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے“ جب تک آپ کو ”راہ“ یا ”واہ“ نہیں پڑتا، آپ یہی سمجھیں گے کہ ایسی صورت میں ایک قادیانی دل کو کیسے تسلی دے گا۔ وہ میں بہتر سمجھتا ہوں کیونکہ میں نے اس قادیانی جماعت میں چالیس سال گزارے ہیں اور ”خلیفہ وقت“ کو ہر قادیانی کی طرح خدا سے زیادہ عزیز اور قریب جانا ہے اس وقت میرا بھی ایک قادیانی کی طرح یہ ایمان تھا کہ اگر کوئی مشکل یا پریشانی ہو تو ”حضور“ کو خط لکھنا ہے جب خط لکھ کر پوسٹ کر دیا تو سمجھ لیا کہ ایک مشکل ختم ہو گئی بلکہ صرف خط لکھنے کا ارادہ کرنے پر ہی ”معجزات“ کے وقوع پذیر ہونے پر ”بالا تفاق“ یقین تھا۔

درج بالا صورت میں ایک مذکورہ قادیانی سوچے گا کہ حضور پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ایسا کہا ہو گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ریکارڈ تو رکھا جاتا ہے، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ فرار کا راستہ صرف یہی ہے کہ حضور نے ایسا کہا ہی نہیں ہو گا اب آپ لاکھ دلائل دیں، ان کی ریکارڈ شدہ آواز بھی سنادیں تو وہ کہیں گے کہ یہ ان کی آواز ہی نہیں۔ آپ قومی اسمبلی کے تمام ممبران کے تصدیقی دستخطوں سے یہ ثابت کریں کہ انہوں نے یہ کہا تھا تو قادیانی کہہ دیں گے کہ یہ سب مخالف تھے اسی لیے الزام لگا رہے ہیں۔

صفحہ ٦٠

میں نہ مانوں گا‘ کا بہترین نظارہ اس کارروائی (قومی اسمبلی کی مذکورہ کارروائی) کو پڑھ کر کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً مرزا ناصر احمد نے اس سوال پر کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں اس کا جواب گول مول کرتے کئی دن لگا دیئے اور ایک سو سوالوں کے بعد بھی ممبران کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والا کافر ہے یا نہیں۔ اپنے اس رویہ سے انہوں نے ممبران کو سخت زچ کیا اور ان کو اپنے خلاف کر لیا۔ بجائے اس کے کہ ان کو قائل کرتے ان کو اپنے خلاف کر لیا۔ ان سوالوں کے عجیب و غریب جواب دینے پر نئی سے نئی اصطلاحیں اور کافر کی نئی نئی قسمیں سامنے آئیں جو ابھی تک قادیانیوں کو بھی معلوم نہیں۔ (اس پر بات کسی اور مضمون میں ہو گی)

مرزا ناصر احمد کہتا ہے کہ جو آدمی قادیانیت میں داخل ہوتا ہے یا بیعت کرتا ہے‘ اس کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ یہ بھی سراسر خلاف واقعہ بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نئے قادیانی کا بیعت فارم مکمل کوائف کے ساتھ مقامی امیر جماعت یا صدر جماعت کی تصدیق اور ریمارکس کے ساتھ مرکز میں جاتا ہے اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہر جلسہ سالانہ کے دوسرے دن ”حضور“ اپنے خطاب میں قادیانی جماعت کی کارگزاری سناتے وقت تھرپارکر‘ کنری سندھ کے علاقے میں ہندوؤں میں تبلیغ کے ثمرات کا ذکر کرتے وقت تعداد بتایا کرتے تھے۔ پورے پاکستان کی کل بیعتوں کا اس لیے ذکر نہ ہوتا تھا کہ اس کی تعداد بہت مایوس کن ہوتی تھی۔ قادیانی جماعت ریکارڈ رکھنے میں بھی اپنا ایک ”ریکارڈ“ رکھتی ہے بلکہ جب مرزا ناصر احمد خلیفہ بنے تو تمام قادیانیوں نے ان کی نئے سرے سے بیعت کی۔ (باقاعدہ بیعت فارموں پر) اور جب 1982ء میں مرزا طاہر نے اقتدار سنبھالا تو پھر پوری قادیانی جماعت نے باقاعدہ بیعت فارموں پر بیعت کی جس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

جب مرزا طاہر احمد پاکستان سے خفیہ طور پر نکل کر انگلینڈ چلے گئے تو 1984ء سے 1992ء تک ہر سال قادیانی جماعت کو یہ خوشخبری سنایا کرتے تھے کہ اس سال بیعتوں کی تعداد پچھلے سال سے ڈبل ہے۔ نعرے لگ جایا کرتے تھے مگر تعداد معلوم نہ ہوتی تھی۔ 1984ء سے 1992ء تک ڈبل کرتے کرتے 1993ء میں دو لاکھ بیعتوں کا اعلان کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے 1985ء کے قریب بیعتوں کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی اسی لیے تو بتاتے نہیں تھے اور جب تعداد زیادہ ہوئی تو فخر سے بتانے لگے۔ بہرحال ریکارڈ نہ رکھنے والی بات بزرگانہ جھوٹ کی ایک عمدہ مثال ہے۔ قومی اسمبلی کی کارروائی میں ایک اور دلچسپ صورت حال ملاحظہ فرمائیے:

یہ حقیقت بات ہے کیونکہ ہر سال بلا ناغہ قادیانی جماعت کی ہر ذیلی شاخ سے جس میں ہر رکن کا نام‘ عمر‘ ولدیت‘ تعلیم‘ پیشہ اور دیگر بہت سے کوائف لکھ کر مرکز (سابقہ ربوہ) میں بھیجے جاتے ہیں۔ ہر سال تجنید کی تیاری میں کوئی یونٹ یہ تجنید نہ بھیجے اسے ریمائنڈر بھیجے جاتے ہیں اور مجلس عاملہ کو وارننگ دی جاتی ہے اور پابند کیا جاتا ہے کہ جلد از جلد بھیجے ۔ اس طرح ایک سال کے کوائف مکمل ہوتے ہیں اور اس حلقہ میں کسی دوسرے شہر سے آنے والے نئے افراد کا بھی اندراج ہوتا ہے اور بانی افراد کا بھی ذکر ہوتا ہے اس طرح پورے ملک کے ہر قادیانی کا مکمل ریکارڈ اور ہر جماعت کے مکمل کوائف ہر سال کے آخری دو ماہ میں مکمل کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ کس جماعت میں قادیانی مرد و زن کی تعداد مع کوائف محفوظ ہو جاتی ہے جبکہ قادیانی بڑے فخر سے اپنے آپ کو عالمی ”خلیفہ وقت“ پکارتے ہیں‘ وہ فرما رہے ہیں کہ ہم ریکارڈ نہیں رکھتے۔

کیا یہ ممکن ہے؟ کیا آپ اس بات کو باور فرمائیں گے کہ آپ کے سربراہ (قادیانی افراد کے سربراہ) کیا یہ بات تسلیم کریں گے کہ ان کے پاس ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ہے؟ یقیناً آپ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ”خلیفہ وقت“ ایسا جھوٹ بولیں گے۔ وہ جھوٹ اسی لیے کہتے ہیں ”یا راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے“ جب تک آپ کو ان سے واسطہ نہ پڑے آپ ان کے متعلق یہی سمجھیں گے کہ ایسی صورت میں ایک قادیانی دل کو کیسے تسلی دے سکتا ہے؟ مجھے یہ بتاتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ میں نے اس قادیانی جماعت میں چالیس سال گزارے ہیں اور قادیانیوں کی نفسیات کا مطالعہ کیا ہے اور اسی طرح خدا سے زیادہ عزیز اور قریب جانا ہے اس وقت میرا بھی ایک قادیانی کی طرح اس بات کا یقین تھا کہ اگر کوئی مشکل یا پریشانی ہو تو ”حضور“ کو خط لکھنا ہے جب خط لکھ کر بھیجیں گے تو نہ صرف مشکل ختم ہوگی بلکہ صرف خط لکھنے کا ارادہ کرنے پر ہی ”معجزات“ کے ظہور کا ان کو پختہ یقین تھا۔

جب عام مخلص قادیانی سوچے گا کہ حضور پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے اور چونکہ ریکارڈ تو رکھا جاتا ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فرار کا راستہ تو ایک ہی ہے کہ یا کہا ہی نہیں ہو گا اب آپ لاکھ دلائل دیں، ان کی ریکارڈ شدہ آواز سنائیں لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ آپ قومی اسمبلی کے تمام ممبران کے تصدیقی بیانات دکھا دیں کہ انہوں نے یہ کہا تھا تو قادیانی کہہ دیں گے کہ یہ سب مخالف تھے اسی

صفحہ ٦٢

مرزا ناصر: الفضل ہمارا اخبار نہیں، قادیانی جماعت کے کسی خلیفہ کا نہیں۔ اٹارنی جنرل: قادیانی جماعت کا اخبار؟ مرزا ناصر: قادیانی جماعت کا بھی نہیں بلکہ قادیانی جماعت کی ایک تنظیم کا ہے۔ اٹارنی جنرل: ان کی آواز ہے، ان کی رائے دیتا ہے، ان کی طرف نہیں؟ مرزا ناصر: یہ خلیفہ کی آواز نہیں، الفضل قادیانی جماعت کی آواز نہیں۔ اٹارنی جنرل: یہ تو بڑا اچھا ہے، آپ ایسا کہہ دیں ہم تو سارا جھگڑا ہی الفضل سے کر رہے ہیں۔ مرزا ناصر: بالکل نہیں، جماعت کا پھر تو سارا جھگڑا ہی ختم ہوگیا۔ اٹارنی جنرل: کس جماعت کا ہے؟ مرزا ناصر: کسی جماعت کا نہیں۔ اٹارنی جنرل: آپ کی جماعت کی آواز؟ مرزا ناصر: وہ نہ جماعت نہ میری آواز ہے کچھ حصہ آواز کا نقل کرتا ہے، میری آواز کیسے بن گیا؟ اٹارنی جنرل: آپ سوچ لیں کہ کل آپ کی جماعت کو یہ معلوم ہوا آپ نے یہ جواب دیا تو پھر ......!!

(تاریخی قومی دستاویز 1974ء صفحہ 166 تا 168)

قادیانی حضرات! ذرا غور فرمائیے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ’’خلیفہ وقت‘‘ کیا فرما گئے ہیں کہ الفضل قادیانی جماعت کا اخبار ہی نہیں۔ یہ انکشاف انہوں نے 26 سال پہلے کیا مگر ہمارے علم میں اب آرہا ہے حالانکہ قادیانی جماعت کے سو فیصد ’’دیوانے‘‘ اسے قادیانی جماعت کا اخبار ہی سمجھتے ہیں۔ قادیانی جماعت کی طرف سے ’’خلیفہ وقت‘‘ کی بار بار ہدایت پر اس کے خریدار بنتے ہیں حالانکہ اس اخبار میں خبریں نہیں ہوتیں، اس کا معیار کسی بھی لوکل اخبار سے کم یا برابر ہوگا حالانکہ یہ انٹرنیشنل قادیانی جماعت کا ترجمان اخبار ہے۔ اسے صرف قادیانی اپنے سربراہ کی ہدایت، قادیانی جماعت کی بار بار تحریک اور عقیدت کی بنیاد پر خریدتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرزا طاہر احمد نے اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام میں تحریک کی تھی کہ الفضل کی اشاعت دس ہزار کرنی ہے لہٰذا قادیانی جماعت اس طرف توجہ دے اور پھر محمود آباد، جہلم میں جہاں پہلے ایک یا دو اخبارات آتے تھے وہاں پندرہ کے قریب آنے لگے بہر حال اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ یہ

صفحہ ٦٣

خبار نہیں، قادیانی جماعت کے کسی خلیفہ کا نہیں۔ اعت کا اخبار؟ ت کا بھی نہیں بلکہ قادیانی جماعت کی ایک تنظیم کا ہے۔ ز ہے ان کی رائے دیتا ہے ان کی طرف نہیں؟ ز نہیں الفضل قادیانی جماعت کی آواز نہیں۔ چھا ہے آپ ایسا کہہ دیں ہم تو سارا جھگڑا ہی الفضل سے کر

ماعت کا پھر تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو گیا۔ ت کا ہے؟ کا نہیں۔ ماعت کی آواز؟ ں نہ میری آواز ہے کچھ حصہ آواز کا نقل کرتا ہے میری آواز

چھ لیں کہ کل آپ کی جماعت کو یہ معلوم ہوا آپ نے یہ جواب

(تاریخی قومی دستاویز 1974ء صفحہ 166 تا 168)

ور فرمائیے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ”خلیفہ وقت“ کیا فرما گئے ہیں نہیں۔ یہ انکشاف انہوں نے 26 سال پہلے کیا مگر ہمارے علم عت کے سو فیصد ”دیوانے“ اسے قادیانی جماعت کا اخبار ہی ے سے ”خلیفہ وقت“ کی بار بار ہدایت پر اس کے خریدار بنتے ہوتیں، اس کا معیار کسی بھی لوکل اخبار سے کم یا برابر ہو گا حالانکہ ان اخبار ہے۔ اسے صرف قادیانی اپنے سربراہ کی ہدایت، عقیدت کی بنیاد پر خریدتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ندائی ایام میں تحریک کی تھی کہ الفضل کی اشاعت دس ہزار کرنی یے اور پھر محمود آباد جہلم میں جہاں پہلے ایک یا دو اخبارات نہ لگے بہر حال اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ یہ

قادیانی جماعت کا اخبار ہے۔ سو فیصد قادیانی اسے قادیانی جماعت کا اخبار سمجھ کر پڑھتے ہیں پھر مرزا ناصر کے بیان کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے یہ ”بزرگانہ جھوٹ“ ہی تو ہے۔ اب قادیانی پھنس گئے ہیں کہ اگر مرزا ناصر کے بیان کو سچ سمجھیں تو الفضل سے منہ موڑنا پڑے گا جبکہ انہیں جھوٹا سمجھنا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میں ان کے جذبات کو بہتر سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس قادیانی جماعت میں چالیس سال گزارے ہیں اگر کچھ عرصہ قبل مجھ پر یہ انکشاف ہوتا تو میرے جذبات بھی ایسے ہی ہوتے بہر حال قادیانی احباب کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ ضرور سوچیں مگر چندے باقاعدگی سے دیتے رہیں تاکہ ”شہزادوں“ کی آمدنی میں کمی واقع نہ ہو بس چندے دیں اور خوش رہیں !!!

مرزا قادیانی کی قبر پر کتے کا پیشاب : ٭

جناب عبدالسلام دہلوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے مرزائی بنانے کے لیے قادیانیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن میں ان کے قابو نہ آیا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے میرے دماغ میں سوال اٹھا کہ مجھے قادیان جانا چاہیے۔ میں نے فوراً قادیان کی تیاری شروع کر دی اور اگلے دن قادیان جا پہنچا۔ قادیان میں قادیانی مجھے بڑے تپاک سے ملے۔ مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا اور خوب خاطر مدارت کی گئی۔ مرزا بشیر الدین سے میری ملاقات بھی کرائی گئی۔ سوال و جواب کی نشست بھی جمتی رہی لیکن میرا دل مطمئن نہ ہوا۔ ایک دن عصر کی نماز کے بعد میں سیر کے لیے نکلا۔ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ مجھے ان کا بہشتی مقبرہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ میں لمبے لمبے قدم اٹھاتا بہشتی مقبرہ میں جا پہنچا۔ بہشتی مقبرہ میں داخل ہوتے ہی میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں چار پانچ کتے آپس میں کھیل رہے تھے اور ان میں سے ایک کتا ایک قبر پر پیشاب کر رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر جب اس قبر کے کتبے کو پڑھا، تو وہ مرزا قادیانی کی قبر تھی۔ میرا دل بول اٹھا کہ یہ قبر کسی مہدی، مسیح یا نبی کی نہیں ہو سکتی۔ میں استغفار پڑھتا، ڈرتا ڈرتا واپس آ گیا۔ رات قادیان میں ہی گزاری، جو آنکھوں میں بسر کی اور صبح ہوتے ہی اس منحوس بستی سے کوچ کر گیا۔

صفحہ ٦٤

نبیِّ کل کائنات ﷺ

مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حضور سرور کائنات ﷺ سے علاوہ حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام خاص خاص زمانوں‘ خاص خاص مقامات اور خاص خاص قوموں کے لیے مبعوث ہوئے۔ اس کا ذکر قرآن و حدیث میں جگہ جگہ وارد ہوا ہے۔ مثلاً پارہ نمبر ٨ رکوع ١٥ تا ١٨ میں ’’لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحاً اِلٰی قَوْمِهٖ اور وَاِلٰی عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا اور وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اور وَاِلٰی مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا‘‘ وغیرہ۔ ہمارے حضور ﷺ کل دنیا‘ بلکہ تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کے لیے ان کے وجود نمود سے بہت پہلے سے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے‘ ہر زمان اور ہر مکان کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ مگر یہ معاملہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تک کسی کی عقل کی رسائی نہیں ہو سکتی‘ اور اگر کوئی شخص عقل کے تھک کر عاجز ہونے پر انکار کرے تو یہ انکار بھی معتبر نہیں اس لیے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہی سے دیکھنا ہے کہ حضور کو کس کس کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے اور کس وقت سے کسی وقت تک کے لیے‘ یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے؟ کیوں کہ عالم غیب کا کوئی مسئلہ قرآن و حدیث کے سوا اور کسی طریقے سے مستند اور معتبر طور پر معلوم نہیں ہو سکتا۔

نبوتِ قبلِ عالم

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰی وَعِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ ۖ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا O لِّيَسْـَٔلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَاَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا اَلِيْمًا

(الاحزاب: ٧‘ ٨)

اور جب کہ ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا‘ اور آپؐ سے بھی‘ اور نوحؑ و ابراہیمؑ و موسیٰؑ اور عیسیٰؑ بن مریمؑ سے بھی‘ اور ہم نے ان سے خوب پختہ عہد لیا تا کہ ان سچوں سے ان کے سچ کی تحقیقات کریں اور کافروں

صفحہ ٦٥

کے لیے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ ان سب انبیاء سے جو وقتاً فوقتاً دنیا میں آئے ہیں‘ ایک دم جمع کر کے عہد لینا‘ ان کی روحوں کو جمع کر کے عہد لینا ہے‘ جو وجود دنیوی سے پہلے ہوا۔ روح المعانی (٢٧ ص ١٣٧) میں ابن جریر کی روایت قتادہؒ سے نقل کی گئی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ان سب سے یہ عہد لیا تھا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور اس کی بھی تصدیق کریں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسولؐ ہیں اور حضورؐ کے اس اعلان کی بھی تصدیق کریں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

”سچوں کے سچ کی تحقیق“ میں اشارہ موجود ہے کہ یہ سب حضرات نبی تھے‘ نبوت میں بھی سچے‘ احکام پہنچانے میں بھی سچے‘ اور لوگوں کے قبول و عدم قبول میں بھی سچے۔ اسی لیے منکروں اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہوا۔ چوں کہ یہ جمع کرنا عالم ارواح کا تھا تو سب کی نبوت‘ خصوصاً حضور اکرمؐ کی نبوت‘ خلق عالم کے قبل سے ثابت ہے۔ بلکہ اس حدیث کی رو سے تو اسی وقت سے حضورؐ کا خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہونا‘ اور تمام انبیاء سے اس کا عہد لینا بھی ثابت ہے۔

شبہ ہو سکتا ہے کہ نبوت تو چالیس سال یا کم و بیش عمر میں ملی ہے۔ اس لیے تخلیق عالم سے پہلے عہد کا لینا دینا کیسے ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہر عہدے پر سرفرازی کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک تقرر کا اور ایک کام میں لگنے یعنی اس تقرر کے ظہور کا۔ مثلاً اعلان ہوتا ہے کہ فلاں فلاں کو وزیر مقرر کیا گیا ہے‘ اور ان کے کاموں کا نام بھی آ جاتا ہے کہ وزیر صنعت ہے یا وزیر داخلہ‘ وزیر خارجہ ہے یا وزیر مواصلات وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان عہدے داروں کا کام فوراً ہی ان سے متعلق نہیں ہو جاتا‘ بلکہ وقتاً فوقتاً ہوتا ہے۔ یا مروجہ اصطلاح میں یوں کہیے کہ چارج بعد میں لیا جاتا ہے۔ کوئی کبھی لیتا ہے‘ کوئی کبھی۔ لیکن وزیر وہ اسی وقت سے ہیں جب سے تقرر ہو چکا ہے۔ اسی طرح یہ بھی سمجھا جائے کہ نبوت اور ختم نبوت کے عہدے تو تخلیق عالم سے قبل ہی عطا فرما دیے گئے۔ مگر ان کے کام ان کے اپنے اپنے مقررہ اوقات پر ظاہر ہوئے۔

سب سے پہلی روح

حضرات انبیاء علیہم السلام کی ان مبارک اور عہدے دار روحوں میں سب سے پہلی روح کون سی ہے؟ یعنی سب سے پہلے نبوت کا عہدہ کس پاک روح کو عطا ہوا؟ حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے: میں نے حضور ﷺ

صفحہ ٦٦

سے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! مجھے بتا دیجیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کون سی چیز پیدا کی؟ حضور نے فرمایا: ”اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں سے پہلے تیرے نبی کا نور (روح مبارک جیسے کہ شارحین حدیث نے کہا ہے) اپنے نور (کے فیض) سے پیدا کیا۔ پھر وہ نور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے جہاں جہاں منظور ہوا سیر کرتا رہا اور اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم، نہ بہشت تھی نہ دوزخ، نہ فرشتے نہ آسمان، نہ زمین، نہ سورج، نہ چاند، نہ جن و انسان تھے۔“ (آگے حدیث لمبی ہے۔ المواہب اللدنیہ) اگر کہا جائے کہ بعض روایات میں اور بھی بعض چیزوں کے اول مخلوق ہونے کا ذکر آیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان سب کا روح محمدی سے بعد میں پیدا ہونا احادیث میں صاف ہے۔ اس لیے سب سے اول تو حضور کی روح مبارک ہی پیدا ہوئی اور دوسری چیزیں اپنی اپنی نوع میں پہلی ہیں۔

امام احمد اور امام بیہقی نے اور حاکم نے صحیح الاسناد کہہ کر اور مشکوٰۃ میں شرح السنہ سے نقل کر کے حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں حق تعالیٰ کے یہاں خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم علیہ السلام ابھی خمیر ہی میں تھے۔“ یعنی ان کا پتلا بھی تیار نہ ہوا تھا۔

خلقِ آدم سے پہلے نبوت

ابن سعد نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپؐ کب نبی بنائے گئے؟“ فرمایا: ”آدمؑ اس وقت روح اور جسم کے درمیان میں تھے جب کہ مجھ سے عہد لیا گیا تھا۔“ (جس کا ذکر مذکورہ آیت میں تھا) اور حضرت امام زین العابدینؒ اپنے والد امام حسینؓ کے واسطے سے اپنے دادا حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”میں آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے سے اپنے پروردگار کے حضور میں ایک نور (روح) تھا۔“ (یہ سب احادیث ”المواہب الدنیۃ“ میں ہیں۔

جو مخلوقات اپنے وجود میں کسی دوسرے کی محتاج ہیں، خود مستقل وجود سے الگ نہیں، کسی کے ساتھ ہی ہوں گی الگ نہیں ہو سکتیں وہ ”عرض“ کہلاتی ہیں۔ جیسے لمبائی چوڑائی موٹائی سرخی سیاہی سبزی زردی سفیدی چمک خوشبو بدبو وغیرہ وغیرہ۔ چوں کہ ان کا اپنا وجود نہیں ہے بلکہ کسی اور مستقل وجود کے تابع ہو کر ہی یہ موجود ہوتی ہیں، اس لیے حکم میں بھی انہی کے تابع ہیں۔ جو چیز مستقل وجود کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہے۔ جو ان کے لیے نہیں، ان کے

صفحہ ٦٧

لیے بھی نہیں۔ اور جو چیزیں موجود ہونے میں دوسرے کی محتاج نہیں‘ خود موجود ہوتی ہیں‘ وہ ”جوہر“ کہلاتی ہیں۔ جیسے اینٹ‘ پتھر‘ درخت‘ جانور‘ انسان وغیرہ۔ ان میں بعض تو وہ ہیں جن میں نہ حس و حرکت ہے‘ نہ بڑھنا ہے۔ وہ جمادات ہیں اور جن میں حس و حرکت تو نہیں‘ مگر بڑھنے کی صلاحیت ہے‘ وہ نباتات ہیں۔ جن میں حس و حرکت قصداً ہے‘ مگر عقل نہیں‘ وہ حیوانات ہیں‘ اور جن میں علم و عقل کی روشنی ہے‘ وہ اہل عقل ہیں۔ پھر وہ تین قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن میں خیر تو ہے‘ شر نہیں‘ وہ فرشتے ہیں۔ دوسری وہ جن میں شر ہی شر ہے‘ خیر نہیں‘ یا خیر و شر دونوں ہیں مگر خیر مغلوب ہے اور شر غالب‘ یہ جنات ہیں۔ شیطان اور غیر شیطان۔ ایک وہ ہیں جن میں خیر و شر دونوں ہیں‘ مگر خیر غالب ہے اور شر مغلوب‘ وہ انسان ہیں۔ ان سات قسموں میں سے اول قسم تو بعد کی قسموں کی تابع ہے۔ اب چھ قسمیں کائنات و مخلوقات کی رہ گئیں۔ دیکھنا ہے کہ حضور اکرم ﷺ ان میں سے کس کس کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ یعنی جمادات‘ نباتات‘ حیوانات‘ جنات فرشتے‘ انسان عوام و خواص یعنی انبیاء تک۔

کل انسانوں کے لیے نبی

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ O

(سبا: ٢٨)

”اور ہم نے تو آپؐ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے‘ خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے‘ لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔“

بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں‘ جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ایک مہینے کی مسافت تک رعب کی مدد مجھ کو عطا فرمائی گئی ہے‘ اور کل زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزہ بنا دی گئی۔ سو میری امت کا ہر آدمی جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں پڑھ لے‘ اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا ہے‘ جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا‘ اور مجھے شفاعت کا مرتبہ دیا گیا ہے‘ اور ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا‘ میں تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔“ مسلم کی ایک اور حدیث میں یوں ہے کہ ”میں تمام مخلوقات کی طرف بھیجا گیا ہوں اور

صفحہ ٦٨

مجھ سے نبیوں کو ختم کیا گیا ہے۔" "تمام لوگوں اور انسانوں" میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تا قیامت آنے والے سب شامل ہیں۔ ان سب انسانوں کے لیے حضور کو پیغمبر بنایا گیا ہے۔ سوال ہو سکتا ہے کہ حضور آگے اور پچھلے انسانوں کے لیے پیغمبر کیسے ہو گئے؟ جواب یہ ہے کہ جیسے کسی کے بادشاہ ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جو اس کے شہر یا دربار میں حاضر ہوں، بس وہ انہی کا بادشاہ ہے۔ بلکہ جہاں جہاں تک اس کی فوج، پولیس، حکام اور احکام پہنچتے ہوں گے وہ سب اس کی حکومت ہے۔ وہ ان سب کا بادشاہ ہے اور ان کے ذریعے سب کو اسی کے احکام پہنچائے جاتے ہیں۔ سب اسی کی رعیت ہوتے ہیں۔ اسی طرح جیسا کہ آگے آیات و احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک بذریعہ تمام انبیاء اور ان کی امتوں کے علماء کے اور اب سے لے کر قیامت تک آپ کی امت کے علماء کے ذریعے آپ کے احکام، پیغامات، تعلیمات سب پہنچتے رہیں گے اور سب کو آپ کی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت ملتی رہے گی۔ بادشاہ بھی فرمانبردار اور نافرمان دونوں کا بادشاہ ہے۔ اسی طرح جب حضور کی رسالت و نبوت کی بہ واسطہ انبیاء و علماء شروع دنیا سے آخر تک دعوت دی جا رہی ہے تو فرماں بردار اور نا فرمان سب کے لیے آپ نبی اور رسول ہیں۔ سب ایمان والوں کو بشارت دینے والے اور کفر والوں کو عذاب سے ڈرانے والے ہیں۔

حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا جانا صرف حضور اکرم ﷺ کے لیے ہی خاص ہے دوسرے نبیوں کی نبوت صرف ان کی قوموں تک خاص تھی۔ وہاں یہ عموم نہ تھا۔ بلکہ جیسے "انسانوں" کے لفظ میں اول دنیا سے آخر تک کے تمام انسان شامل ہیں، ان میں نیک و بد سب بلکہ حضرات انبیاء علیہم السلام بھی آ گئے ہیں اور ان کی امتیں بھی۔ آنحضور ان کے لیے بھی پیغمبر ہیں۔ آگے آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

قُلْ يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّى رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:

(١٥٨

"آپ کہہ دیجئے اے انسانو! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی جانب۔" حضور کا یہ خطاب بھی بلا واسطہ اور بہ واسطہ انبیاء علماء اول سے آخر تک تمام انسانوں سے ہے اور حضور سب کے لیے نبی ہیں۔

صفحہ ٦٩

ایمان لانے کا عہد

ارشاد باری ہے:

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ ۠

(آل عمران : ٨١)

”اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں‘ پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے‘ جو مصدق ہو اس علامت کا جو تمہارے پاس ہے‘ تو تم ضرور اس رسول پر اعتقاد بھی رکھنا اور اس کی مدد بھی کرنا۔ فرمایا: آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا؟ بولے: ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد فرمایا: تو گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔“

حضرات انبیاء متبوع ہیں اور امتیں ان کی تابع ہیں۔ اس لیے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے یہ عہد لینا ان کی امتوں سے ان کے واسطے سے عہد لینا ہے۔ جیسے ہر جماعت کا قائد جو معاہدہ کر لے گا وہ پوری جماعت کا معاہدہ ہوگا۔ پھر یہ عہد ہر نبی سے اس کے بعد کے نبی کے لیے ہے‘ یا حضور اکرم ﷺ کے لیے؟ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ابن جریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت بیان کی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ اور ان کے بعد والے نبیوں میں کوئی نبی نہیں بھیجا‘ مگر اس سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ عہد لیا کہ اگر وہ ان کی زندگی میں بھیجے گئے تو یہ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کی مدد کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو یہ حکم بھی دیتے تھے کہ وہ اپنی قوم سے اس کا عہد لیں۔“ پھر حضرت علیؓ نے وہ آیت پڑھی جو اوپر مذکور ہوئی ہے (ج ٣ ص ١٨٤) بعض مفسرین نے ہر بعد کے نبی کے لیے قرار دیا ہے کہ اگلے ہر نبی پر بعد کے نبیوں پر ایمان لانے اور قوم کو ان پر ایمان لانے اور مدد کرنے کی ہدایت کرنے کا یہ عہد ہے۔ مگر اس تفسیر پر بھی چوں کہ حضور ﷺ سب سے آخری نبی ہیں‘ اگلے ہر نبی پر‘ اگر وہ حیات ہوتے‘ آپؐ پر ایمان لانا اور مدد کرنا اور اپنی قوم کو ہدایت کرنا فرض ہوتا۔

صفحہ ٧٠

فتاویٰ حدیثیہ میں ہے کہ علامہ سبکیؒ نے اپنی ایک کتاب میں ثابت کیا ہے کہ محض محمد ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام اور بعد کے حضرات کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے اور اس پر حدیث كنت نبياً و آدم بين الروح والجسد (میں نبی تھا اور آدم روح اور جسم کے درمیان تھے) سے اور حدیث: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً (میں تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں) سے دلیل ہے اور آیت وإذ اخذ الله تا آخر سے اور ابن ابی حاتم نے اس آیت کے تحت بیان کیا ہے کہ نوح علیہ السلام سے لے کر اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، مگر اس سے عہد لیا کہ محمدؐ پر ایمان لائیں گے۔ (ص ١٥١)۔ امام رازی نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ سے ثابت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس پاک صاف شریعت لایا ہوں۔ خدا کی قسم اگر موسیٰؑ بن عمران زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میرے اتباع کے سوا کوئی گنجائش نہ رہتی۔“ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٧٧) چنانچہ قیامت کے قریب جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جو صحیح اور بہت حدیثوں میں وارد ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے وہ بھی حضور اکرم ﷺ کی شریعت کی پیروی کریں گے۔ مرقات شرح مشکوٰۃ میں حضرت عیسیٰؑ کے ذکر کے تحت لکھا ہے: ”ابن ابی ذئب نے اس حدیث کے لفظوں کے معنی میں کہا ہے کہ وہ تمہارے رب کی اسی کتاب سے امامت کریں گے اور تمہارے ہی نبی کی حدیثوں سے۔“ آگے طیبی سے بھی نقل ہے: ”عیسیٰ علیہ السلام تمہاری امامت کریں گے۔ اس حال میں کہ تمہارے دین میں ہوں۔“ (جریر ج ١٠ ص ٢٣٢)

علامہ سبکیؒ کہتے ہیں: ”ہم کو صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو اپنے رب کی جانب سے تمام کمالات کی عطا اور نبوت پر انبیاء سے عہد لینا خلق آدم کے زمانے سے ہے تاکہ سب نبی جان لیں کہ آپؐ ان سے بڑھ کر ہیں اور ان کے بھی نبی اور رسولؐ ہیں۔ اس لیے حضورؐ نبی الانبیاء ہیں۔ اسی لیے آخرت میں سب آپؐ کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ ایسے ہی دنیا میں شب معراج میں ہوا اور اگر حضورؐ کے آنے کا اتفاق ان کے زمانے میں ہوتا تو ان پر اور ان کی امتوں پر حضورؐ پر ایمان لانا اور آپؐ کی مدد کرنا لازم تھا۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس کا عہد لیا اور اس وقت بھی وہ اپنی اپنی نبوت و رسالت پر جو ان کی امتوں کی طرف تھی، باقی تھی۔ اس بناء پر حضورؐ کی نبوت و رسالت تمام انبیاء کی طرف ایک امر واقعی سے آپؐ کو حاصل تھی۔ لیکن اس کا ظہور ان سب کا حضورؐ کے ساتھ موجود ہونے پر موقوف تھا تو اس ظہور کے تحقق کا مؤخر ہونا ان کے حضورؐ کے وقت موجود نہ ہونے سے ہوا ہے نہ اس وجہ سے کہ

صفحہ ٧١

حضور ان کی طرف نبی و رسول ہونے سے موصوف نہیں تھے لہٰذا حضور کی نبوت و رسالت سب کے لیے عام اور عظیم الشان ہے اور آپ کی شریعت اصول میں ان سب کی شریعت کے موافق ہی ہے کیوں کہ اصول میں فرق نہیں اور ان مسائل میں آپ کی شریعت کا سب سے بڑھ کر ہونا کہ جن میں اختلاف ہوتا ہے یعنی فروع میں تو یا تو حضور کی خصوصیت کی بناء پر ہے یا ان کے منسوخ ہونے کی بناء پر یا نہ یہ نہ وہ بلکہ حضور ہی کی شریعت ان اوقات میں ان سب امتوں کے لیے وہی ہے جو ان کے انبیاء لے کر آئے تھے اور اس وقت اس امت کے لیے یہ شریعت ہے۔ اوقات و اشخاص کے مختلف ہونے سے احکام مختلف ہوتے ہی ہیں۔ شریعت ایک بھی کہلا سکتی ہے (فتاویٰ حدیثیہ)

فتاویٰ حدیثیہ شیخ ابن حجر ہیتمی میں ہے کہ علامہ تقی الدین سبکی نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے کہ حضور ﷺ فرشتوں کی طرف بھی مبعوث ہیں۔ بلکہ اس پر یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ حضور تمام انبیاء علیہم السلام اور تمام قدیم امتوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور حضور کا یہ ارشاد کہ ”میں سب انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں“ سب کو شامل کیا ہے آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک اور علامہ بارزی نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے اور مزید یہ کہا ہے کہ حضور تمام حیوانات و جمادات کی طرف بھی بھیجے گئے ہیں اور اس کے لیے حضور کے رسول ہونے پر گوہ کی گواہی اور درختوں اور پتھروں کی گواہی کو دلیل بنایا ہے۔ جلال الدین سیوطیؒ کہتے ہیں: ”میں اس پر مزید کہتا ہوں کہ حضور خود اپنی طرف بھی مبعوث کیے گئے تھے۔“ (ص ١٥١) ان جانوروں درختوں اور پتھروں کی گواہی دینے کے واقعات احادیث میں ہیں۔ اس لیے آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک تمام انسانوں حتیٰ کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ان کی امتوں اور دوسرے انسانوں فرشتوں جمادات نباتات حیوانات سب کے لیے حضور نبی ہیں اور سب پر حضور کی پیروی فرض ہے۔

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ أُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ (الانعام : ١٩) ”اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تم کو اور جس کو یہ قرآن پہنچے سب کو ڈراؤں۔“

لہٰذا جن جن کو قرآن پہنچے خواہ وہ کسی زمانے کے ہوں حضور کے زمانے

صفحہ ٧٢

کے کچھ بعد بہت بعد آخر زمانے تک کے ہوں۔ اس لیے اس آیت میں حضورؐ کے زمانے سے لے کر قیامت تک کے اہل عقل کے لیے حضورؐ کی نبوت ثابت ہوئی خواہ انسان ہوں یا جن ہوں یا فرشتے ہوں۔ حضورؐ سے لے کر قیامت اور مابعد تک ابدالآباد کے لیے جن کو قرآن مجید پہنچے گا۔ آپؐ سب کے لیے نبی ہیں۔ قرآن مجید کی ہر سورت معجزہ ہے اور معجزہ نبی کی نبوت کی دلیل ہوتا ہے۔ دوسرے انبیاء وقتی تھے ان کے معجزے بھی وقتی تھے۔ حضورؐ کا یہ معجزہ جو ازل سے مقابلے کا چیلنج کر رہا ہے ابدی معجزہ ہے جو ابدالآباد تک کی نبوت کی دلیل ہے اور ہر اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کو پہنچے۔

تمام جہانوں کے نبیؐ

تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا ۙ (الفرقان:١) ”بڑی عالی شان ذات ہے جس نے یہ فیصلے کی کتاب یعنی قرآن اپنے خاص بندے پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو ۔“

ڈرانا منکروں کو عذاب سے ہوتا ہے تو حضور اکرم ﷺ تمام جہانوں کے باشندوں کو انکار کے عذاب سے ڈرانے والے اور سب کے لیے نبی ہیں مسلم شریف کی حدیث ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمام انبیاء پر چھ باتوں سے فضیلت دی گئی ہے۔ (١) مجھ کو کلمات جامعات عطا فرمائے گئے ہیں۔ (٢) رعب سے میری مدد فرمائی گئی ہے۔ (٣) میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔ (٤) میرے لیے تمام روئے زمین کو سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا ہے۔ (٥) میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (٦) اور مجھ سے تمام نبیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔“ (خازن ج ٢ ص ٢٤٦)۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ عالمین تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ جنات ہوں یا انسان یا ملائکہ قیامت تک کے لیے تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ اسی لیے واجب ہے کہ حضورؐ تمام انبیاء اور رسولوں کو ختم کرنے والے ہوں (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٤٤) مخلوق میں اعراض و جواہر جمادات نباتات حیوانات جن و

صفحہ ٧٣

انس و ملائک سب داخل ہیں۔ اس لیے حضور سب کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

ایک سوال شاید کسی ذہن میں آئے کہ نبی تو اس لیے بھیجے جاتے ہیں تاکہ عمل اور کام کے ذمہ داروں کو نیکی کے عمل اور بدی سے بچاؤ کا راستہ بتائیں اور انکو اپنی قوت قدسیہ سے اور احکام کی ترغیب سے نیک راہ پر چلائیں، تو جو جو مخلوق مکلف یعنی عمل کی ذمہ دار نہیں، اہل عقل نہیں، ان کی طرف رسول بنانے سے کیا فائدہ؟ اور جو مخلوق اہل عقل مگر معصوم ہیں۔ جیسے فرشتے، جن کی شان یہ آیت ہے کہ لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ (التحریم: ٦) ”یہ فرشتے نا فرمانی نہیں کر سکتے اس کی جو کچھ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتے ہیں۔“

اور اوپر علامہ باذری سے نقل کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کو جمادات وغیرہ کی طرف رسول بنا کر اس وقت بھیجا گیا جب کہ ان میں ادراک و شعور پیدا فرما دیا تھا۔ مسلم شریف کی حدیث: ”میں تمام مخلوقات کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“ یہی ظاہر کرتی ہے۔ یعنی رسول بنا کر بھیجنے کا ایک یہی فائدہ نہیں ہے کہ بدیوں سے بچا کر نیکیوں میں لگائیں جہاں نیکی بدی دونوں ہوں گی، وہاں یہ بھی فائدہ ہے ورنہ اس کے علاوہ دوسرے فائدے بھی ہیں، جن میں سے ایک تمام رسولوں کی امتوں سے زائد حضور ﷺ کی امت کا ہونا ہے۔

شیخ ابن حجر ہیثمی نے بھی کہا ہے کہ فرشتے اگرچہ معصوم ہیں، اور ان کو عذاب سے ڈرانا نہیں ہے، لیکن ان کی طرف رسول بنا کر بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ ان کو حضور ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کے لیے سب کے سردار ہونے کا اعتراف، آپ کی رفعت شان کا اقرار، آپ کے لیے خشوع و خضوع اور ان کا آپ کے پیروکاروں میں شمار ہونا ہے، جس سے آپ کا اعزاز اور بھی زیادہ ہو، اور یہ ان کے معصوم ہونے کے خلاف نہیں۔ پھر حضور ﷺ کا فرشتوں کے لیے پیغمبری کا کام کرنا یا تو کل کا کل شب معراج ہی میں ہوا ہے یا کچھ اس وقت اور کچھ بعد میں۔ مگر بعض خاص خاص احکام ہیں ان کے لیے پیامبر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ پوری شریعت محمدیہ کا ان کو مکلف قرار دے دیا گیا ہے۔ مذکورہ آیت اس پر کافی دلیل ہے اور مسلم شریف کی حدیث بھی، جس کے صحیح ہونے میں کوئی اختلاف ہی نہیں کہ ”میں تمام مخلوقات کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“ اسی سے تو شیخ الاسلام جمال باذری نے یہ اخذ کیا ہے کہ تمام مخلوقات حتیٰ کہ جمادات کے لیے بھی رسول بنائے گئے ہیں۔ اس طرح کہ ان میں خاص درجہ کی عقل و فہم پیدا کر دی کہ انہوں نے آپ کو پہچان لیا، ایمان لے آئے اور آپ کی فضیلت کا اعتراف کر لیا۔

صفحہ ٧٤

حضور اکرم ﷺ نے بھی اس کی خبر دی ہے جو مؤذن کے لیے گواہی دینے وغیرہ کے بارے میں ہے۔ اس ارشاد میں ہے کہ اذان دینے والے کی آواز کی بلندی کو کوئی درخت اور پتھر اور نہ کوئی اور شے سنتی ہے مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے شہادت دے گی اور حق تعالیٰ نے قرآن شریف کے لیے فرمایا ہے کہ اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو اللہ کے خوف سے پست ہونے اور پھٹ جانے والا دیکھتے، اور ایک جگہ فرمایا ہے کہ کوئی بھی چیز نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتی ہے (فتاویٰ حدیثیہ ص ١١٢)۔ یہ اس کی دلیلیں ہیں کہ جمادات میں بھی یہ احساسات پیدا فرمائے گئے ہیں جن کی بناء پر وہ پیغمبری کے تابع بننے کے اہل ہوئے ہیں۔

شبہ اور جواب

تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ایک جماعت نے اس لفظ عالمین سے یہاں حضور ﷺ کے عصر مبارک سے لے کر قیامت تک کے صرف انسان و جنات ہی مراد لیے ہیں، اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی قرأت میں لِلْعَالَمِيْنَ کے بعد للجن والانس ہے (جنات اور انسانوں کے لیے) اس سے اس کی تائید ہوتی ہے، اور جنات اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر آپ کا بھیجا جانا معلوم ہی ہے کہ دین کی ضروری باتوں میں سے ہے کہ اس کا منکر بھی کافر ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ العالمین صرف جن و انس ہیں اور صرف ان کی طرف حضور ﷺ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں نہ کہ تمام مخلوقات کی طرف۔

جواب یہ ہے کہ رسول بنا کر کسی کی طرف بھیجنا دو طرح ہوتا ہے۔ ایک تو شریعت کے تمام اصول و فروع کا مکلف اور ذمہ دار بنانے کے لیے پورے احکام کا پیغامبر بنا کر بھیجا جانا ہے کہ کسی حکم سے بھی روگردانی نہ کرسکیں۔ دوسرے صرف ایمان لانے، حضور کی عزت و شرف کا اقرار کرنے، امت دعوت اور آپ ﷺ کے تابعداروں میں داخل ہونے کے لیے پیغامبر بنا کر بھیجا جانا ہے۔ پہلی قسم عملی کاموں کی حد میں جن و انس کے لیے خاص ہیں۔ جیسے کہ ایک آیت شریفہ میں انہی کو ذمہ دار بنایا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ٥٦) ”اور میں نے جن اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری ہی خاص عبادت کیا کریں۔“ اس لیے پوری شریعت کا پیغام انہی کے لیے ہے اور دوسروں کے لیے عمل کی ذمہ داری کا کام نہیں ہے (ماخوذ فتاویٰ حدیثیہ ص ١١٢)۔ ان کے لیے مذکورہ عقائد کی پیغمبری ہے نہ کہ تمام

صفحہ ٧٥

عقائد و اعمال و معاملات و اخلاق وغیرہ کی۔ جیسے کہ اوپر بھی گزر چکا ہے۔ لہٰذا جن مفسرین نے فقط جن و انس مراد لیا ہے، وہ تمام شریعت کی پیغمبری کے معنی سے مراد لیا ہے اور جن حضرات نے تمام مخلوقات کو عام مراد لیا ہے، وہ دونوں طرح کی پیغمبری کو مراد لیا ہے اور رسالت و نبوت کا عام ہونا دونوں ہی قسموں سے ہے اسی بناء پر دوسرے بعض لوگوں نے بھی اختلاف کیا ہے کہ فرشتوں کے لیے حضور رسول ہیں یا نہیں۔ تو اثبات والوں نے نبوت خاصہ عقائد و پیروی سے اثبات کیا ہے، اور انکار والوں نے نبوت عامہ کل شریعت کے احکام نہ ہونے سے انکار بھی کیا ہے۔ مگر راجح، جیسے اوپر بھی آچکا ہے، ان کے لیے بھی رسول ہی ہونا ہے۔

فرشتوں کے لیے رسول ہونا

اوپر بھی آیات و احادیث سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضور ان پر بھی رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اب کچھ اور دلائل پیش ہیں۔ فرشتوں کے ذکر عِبَادٌ مُكْرَمُوْنَ (عزت والے بندے) اور وَهُمْ بِاَمْرِہٖ يَعْمَلُوْنَ (وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر ہی عمل کرتے ہیں) کے بعد ارشاد ہے:

وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّيْ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْہٖ جَهَنَّمَ o

(الانبیاء: ٢٩)

”اور جو ان میں سے کہے گا کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے۔“

قرآن شریف نے ان کو عذاب کی وعید سنائی ہے کہ اگر بالفرض کسی نے خدائی کا دعویٰ کر دیا تو اس کے لیے جہنم ہے۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ قرآن کا حکم ان کے لیے بھی ہے اور صاحب قرآن نبی اکرم ﷺ ان کے لیے بھی پیغمبر ہیں۔ اس آیت میں عالمین (سب جہانوں کے لیے) کا لفظ اور اس اوپر کی آیت میں مَنْ بَلَغَ (جس جس کو قرآن مجید پہنچے) کا لفظ بھی اس کی دلیلیں، کیوں کہ یہ بھی عالم میں داخل ہیں اور ان کو بھی قرآن شریف پہنچا ہوا ہے، اور ایک بات یہ ہے کہ فرشتے تو معصوم ہیں مگر شیطان کی وہاں پہنچ تھی۔ اس سے اس قسم کے گناہ واقع ہوئے تھے اس لیے اس پیغمبری کی ضرورت ہوئی اور وہ وجوہ بھی تھیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں۔ علامہ ابن حجر مکی ہیتمی نے علامہ سیوطی سے نقل کیا ہے کہ بہت سی احادیث صحیحہ و غیر صحیحہ میں یہ واقعات وارد ہیں کہ فرشتوں میں سے بعض وہ ہیں جو آسمانوں میں ہماری جیسی نماز پڑھتے اور ہماری جیسی اذان دیتے ہیں، اور بعض فرشتے نماز فجر و عصر میں آتے اور ہمارے ساتھ نماز پڑھتے

صفحہ ٧٦

ہیں‘ اور ہماری مسجدوں میں پڑھتے ہیں‘ اور سعید بن منصور‘ بیہقی اور ابن ابی شیبہ نے حضرت سلمان فارسیؓ سے ان کا قول اور بیہقی نے دوسری سند سے حضرت سلمان سے حضورؐ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کھلی زمین پر ہوتا ہے اور وہاں نماز پڑھتا ہے‘ تو اس کے ساتھ دو فرشتے نماز پڑھتے ہیں‘ اور جب وہ اذان و تکبیر بھی کہہ لیتا ہے تو اس کے ساتھ اتنے فرشتے نماز پڑھتے ہیں کہ ان کی صف کے کنارے نظر نہیں آسکتے۔ اس کے رکوع پر رکوع اور سجدے پر سجدہ کرتے اور اس کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ بزار نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت نقل کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اذان تعلیم فرمانے کا ارادہ کیا تو جبریل علیہ السلام ایک سواری جس کو براق کہا جاتا ہے‘ لائے اور حدیث پوری بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک فرشتہ حجاب سے باہر آیا اور کہنا شروع کر دیا اَللّٰهُ اَکْبَرُ‘ اَللّٰهُ اَکْبَرُ پوری اذان دی‘ اور حضورؐ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کر دیا اور تمام آسمان والوں کو حکم دیا کہ آپؐ کی اقتدا کریں۔ ابو نعیم نے محمد بن حنفیہؒ (حضرت علیؓ کے صاحبزادے) سے مثل بالا روایت کی ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ جب فرشتہ کہتا حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حق تعالیٰ فرماتے: میرا بندہ سچ کہتا ہے اور میرے فریضہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ابن مردویہ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد روایت کیا ہے کہ جب مجھے آسمان پر معراج میں لے جایا گیا‘ جبرئیل علیہ السلام نے اذان دی۔ فرشتوں نے گمان کیا تھا کہ وہی نماز پڑھائیں گے۔ انہوں نے مجھے آگے بڑھایا اور میں نے سب کو نماز پڑھائی۔

سات صحابہؓ سے یہ حدیث آئی ہے کہ حضور ﷺ نے خبر دی ہے کہ عرش پر اور ہر آسمان اور جنت کے ہر دروازے اور سب پتوں پر لکھا ہوا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ حضورؐ کا نام ہونا اور نبیوں کا نہ ہونا دلیل ہے اس کی کہ سب فرشتے آپؐ کے رسول ہونے کے دل سے گواہ رہیں‘ یعنی ایمان رکھیں۔

ابن عساکر نے حضرت کعب الاحبار سے روایت کیا ہے کہ آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹے شیث علیہ السلام کو وصیت کی تھی کہ جب تم اللہ کا ذکر کرو ساتھ ہی محمدؐ کا نام بھی لیا کرو۔ کیوں کہ میں نے ان کا نام عرش کے ستون پر لکھا دیکھا ہے‘ جب کہ میں روح اور مٹی کے درمیان تھا۔ پھر میں نے گھومنا شروع کیا تو آسمان میں کوئی جگہ نہ دیکھی جس میں محمد ﷺ کا نام لکھا نہ ہو۔ نہ جنت میں کوئی محل اور کوئی بالاخانہ دیکھا مگر اس پر محمد ﷺ کا نام لکھا ہوا تھا اور میں نے محمد ﷺ کا نام حورعین کے سینوں پر‘ جنت کے درختوں کی شاخوں پر‘ شجر طوبیٰ اور سدرۃ

المنتہی کے پتوں‘ حجابات کے کثرت سے کیا کرو‘ کیوں ک ایسے ہی یہ حدیث سکتا ہے‘ نہ اس میں رہ سکتا بعد علامہ موصوف نے یہ ب فائدوں میں سے یہی فائدہ اور بچے ہیں‘ اور جس قدر م ہونے کی تبلیغ ہو جائے تا کہ کی تصدیق کریں۔ اگرچہ د ہوئے تھے (فتاویٰ حدیثیہ ا آگے ابن جریر خو اور ان سب کی طرف رسو ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم ا اور تمام انبیاء پر کچھ خصوصیا کا حضورؐ کے ساتھ ہو کر تشریف لے چلتے تو فرشتو سب آپؐ کے تابعدار اور حدیث میں حضور ﷺ نے سے۔ آسمان والوں میں وحضرت عمرؓ۔ وزیر تو بادشا مشرب تمام فرشتوں کے ہیں۔ آدم علیہ السلام کی کے تابع ہونے سے سب جب مسلمان جنگ میں شریک ہونا قیا

صفحہ ٧٧

المنتہیٰ کے پتوں حجابات کے کناروں فرشتوں کی آنکھوں میں لکھا دیکھا تو تم ان کا ذکر بڑی کثرت سے کیا کرو کیوں کہ فرشتے بھی ہر گھڑی ان کا ذکر کرتے ہیں۔

ایسے ہی یہ حدیث بھی صحیح ہے کہ جنتی مخلوقات میں سے کوئی بھی نہ جنت میں داخل ہو سکتا ہے نہ اس میں رہ سکتا ہے سوائے اس کے جو حضور ﷺ پر ایمان لے آئے۔ ان سب کے بعد علامہ موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ امید ہے کہ معراج اور جنت میں داخل ہونے کے فائدوں میں سے یہی فائدہ ہوگا کہ تمام آسمانوں پر جتنے فرشتے اور جس قدر جنتوں میں حوریں اور بچے ہیں اور جس قدر عالم برزخ میں حضرات انبیاء علیہم السلام ہیں سب کو آپ کے رسول ہونے کی تبلیغ ہو جائے تاکہ وہ رو در رو ہو کر آپ پر ایمان لائیں اور آپ کا زمانہ پائیں تو آپ کی تصدیق کریں۔ اگرچہ غائبانہ طریقے سے وہ سب آپ کی پیدائش سے پہلے سے ایمان لائے ہوئے تھے

(فتاویٰ حدیثیہ ابن حجر مکی۔ ص ١٥٢)

آگے ابن حجرؒ خود کہتے ہیں کہ جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضور ﷺ نبی الانبیاء ہیں اور ان سب کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور اس پر قرآن و حدیث کی بہت دلیلیں قائم ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام فرشتوں سے افضل ہیں تو نتیجہ صاف لازم آگیا کہ حضور ﷺ کو ان تمام انبیاء پر کچھ خصوصیات بھی حاصل ہیں جو فرشتوں کے معاملے میں بھی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کا حضور کے ساتھ ہو کر جہاد میں قتال کرنا (جس کا ذکر قرآن مجید میں بہت ہے) اور حضور تشریف لے چلتے تو فرشتوں کا پیچھے پیچھے چلنا (جو حدیث میں ہے) اس کی دلیل ہے کہ وہ سب آپ کے تابعداروں میں ہیں آپ کی شریعت میں ہیں اور آپ کی تقویت کے لیے ہیں۔

حدیث میں حضور ﷺ کے چار وزیر مذکور ہیں دو آسمان والوں میں سے اور دو زمین والوں میں سے۔ آسمان والوں میں سے جبرئیل و میکائیل علیہما السلام اور زمین والوں میں سے حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ۔ وزیر تو بادشاہ کا بالکل ہی تابع ہوتا ہے اور پھر جبرئیل و میکائیل علیہما السلام اپنے ہم مشرب تمام فرشتوں کے سردار ہیں جیسے کہ حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ تمام مسلمانوں کے سردار ہیں۔ آدم علیہ السلام کی وفات کے بعد سے آخر تک سب عام مسلمانوں کے سردار اور سردار کے تابع ہونے سے سب کا تابع ہونا ظاہر ہے۔

جب مسلمان جہاد کرتے ہیں تو فرشتوں کا اللہ کے دین کی مدد کے لیے ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہونا قیامت تک کے لیے ہے جیسے کہ حدیثوں اور واقعات سے معلوم ہے۔

صفحہ ٧٨

اب اس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی حضورؐ کے دین کی حفاظت کے لیے ایسے ہی ذمہ دار ہیں جیسے ہم مسلمان‘ اور وہ بھی اسی طرح تابع اور امتی ہیں جیسے سب مسلمان۔ جبرئیل علیہ السلام کا حضورؐ کے امتیوں کی موت کے وقت حاضر ہونا تاکہ شیطان کو دور کر دیں‘ اور فرشتوں کا شب قدر میں نازل ہونا اور مسلمانوں سے سلام کرنا‘ اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اپنی کتاب سے سنانا‘ حالانکہ فرشتے انسانوں سے سننے کے شوقین ہیں‘ اور یہ بات کسی اور آسمانی کتاب کے لیے نہیں وارد ہوئی ہے اور اسرافیل علیہ السلام کا حضورؐ کی خدمت میں حاضر آنا‘ جب کہ نہ اس سے پہلے کبھی زمین پر آئے تھے نہ بعد میں آئیں گے‘ اور قبر شریف پر فرشتے کا مقرر رہنا تاکہ صلوٰۃ وسلام پہنچایا کرے اور سارے عالم سے ان کا صلوٰۃ وسلام لاکر پہنچانا‘ جو بہت حدیثوں میں ہے اور دلیل ہے تابع و خدمت گزار ہونے کی۔ قبر مبارک پر ہر روز ستر ہزار فرشتے حاضر ہوتے ہیں‘ پر بچھاتے ہیں‘ استغفار کرتے ہیں‘ درود شریف شام تک پڑھتے رہتے ہیں‘ شام کو آسمان پر چڑھ جاتے ہیں اور دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح صبح تک رہتے ہیں تا قیامت یہ سلسلہ ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا حضور ﷺ ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں باہر تشریف لائیں گے۔ اس حدیث کو ابن مبارک نے حضرت کعب سے روایت کیا ہے (فتاویٰ حدیثیہ ۔ ص ١٥٣)

جنات کے لیے نبیؐ ہونا

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْآ اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ O قَالُوْا یٰقَوْمَنَآ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ O یٰقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَاٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَیُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔

(الاحقاف: ٢٩، ٣١)

”اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپؐ کی طرف بھیجا جو قرآن سننے لگے۔ غرض جب وہ لوگ قرآن کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ۔ پھر جب قرآن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ (ایمان لا کر) اپنی قوم کے پاس خبر پہنچانے کے لیے واپس گئے۔ کہنے لگے اے بھائیو! ہم

صفحہ ٧٩

حضورؐ کے دین کی حفاظت کے لیے ایسے ہی ذمہ دار ہیں جیسے تابع اور امتی ہیں جیسے سب مسلمان۔ جبرئیل علیہ السلام کا حضورؐ حاضر ہونا تا کہ شیطان کو دور کر دیں، اور فرشتوں کا شب قدر میں م کرنا اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اپنی کتاب سے سنانا، حالانکہ فرشتے ت اور یہ بات کسی اور آسمانی کتاب کے لیے نہیں وارد ہوئی ہے ا خدمت میں حاضر آنا، جب کہ نہ اس سے پہلے کبھی زمین پر ئے اور قبر شریف پر فرشتے کا مقرر رہنا تا کہ صلوٰۃ وسلام پہنچایا کا صلوٰۃ وسلام لا کر پہنچانا، جو بہت حدیثوں میں ہے اور دلیل ا۔ قبر مبارک پر ہر روز ستر ہزار فرشتے حاضر ہوتے ہیں، پر رود شریف شام تک پڑھتے رہتے ہیں، شام کو آسمان پر چڑھ رِشتے اسی طرح صبح تک رہتے ہیں، تا قیامت یہ سلسلہ ہے۔ شتے ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں باہر تشریف لائیں گے۔ اس حب سے روایت کیا ہے (فتاویٰ حدیثیہ ۔ ص ١٥٣)

اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ حَضَرُوْهُ قَالُوْا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ ۝ قَالُوْا يٰقَوْمَنَا اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِيْ اِلَى الْحَقِّ وَاِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۝ يٰقَوْمَنَا اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَاٰمِنُوْا بِهٖ يَغْفِرْلَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ.

کی ایک جماعت کو آپؐ کی طرف بھیجا جو قرآن لوگ قرآن کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ قرآن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ (ایمان لا کر) اپنی کے لیے واپس گئے۔ کہنے لگے اے بھائیو! ہم

ایک عجیب کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنی پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے بھائیو! تم اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور تم کو درد ناک عذاب سے محفوظ رکھیں گے۔‘‘

اور سورۃ جن پارہ نمبر ٢٩ میں بھی جنات کے ایمان کا بہت مضمون ہے، اور قرآن شریف کے مقابل لانے کا چیلنج بھی جنوں اور انسانوں کو ہے وہ بھی دلیل ہے اس کی کہ جن بھی ایسے ہی مکلف ہیں جیسے انسان۔ ارشاد ہے: قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰى اَنْ يَّأْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا (بنی اسرائیل ٨٨) ’’آپؐ کہہ دیجئے اگر انسان اور جنات اس پر جمع ہو جائیں کہ قرآن کا مثل لائیں گے تو اس کا مثل نہ لا پائیں گے اگرچہ بعض بعض کے مددگار بھی ہو جائیں۔‘‘

مغفرت اور عذاب سے بچانا، جنات کے ایمان اور ساتھ ساتھ تمام شریعت کے مکلف ہونے کو بھی ثابت کرتا ہے۔ طبرانی نے ’’معجم اوسط‘‘ میں اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ جنوں کا حضورؐ کے پاس آنا دو بار ہوا ہے، یعنی بار بار، کیونکہ ابن شہاب شارح بیضاوی کا قول ہے کہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ چھ بار ان کی حاضری ہوئی ہے، اور ابو نعیم اور واقدی نے حضرت کعب الاحبارؓ سے روایت کیا ہے یہ جن مقام نصیبین کے تھے۔ نو شخص تھے، اور جب انہوں نے اپنی قوم کو اطلاع پہنچا دی تو تین سو فوراً اسلام لانے کے لیے حاضر ہو گئے، اور ابن ابی حاتم نے حضرت عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ بارہ ہزار مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ مسلم، ترمذی، ابو داؤد وغیرہ کے متعدد حدیثوں میں رات کے وقت حضور ﷺ کا تشریف لے جانا اور جنات کو تبلیغ کرنا اور بعض دفعہ عبداللہ بن مسعودؓ کا ساتھ ہونا بھی مذکور ہے۔ یہ سب حدیثیں روح المعانی ج ٢٦ ص ٢٨ پر درج ہیں۔ امام رازی کہتے ہیں کہ اسی آیت میں اس کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ جنوں کی طرف بھی ایسے ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جیسے انسانوں کی طرف بھیجے گئے تھے (تفسیر کبیر، ج ٧ ص ٥١٩) اور سورۃ جن کے تحت بھی ہے کہ

صفحہ ٨٠

”قل“ سے حضور ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ قوم کو جنوں کے ایمان لانے کی خبر کر دیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ جیسے انسان حضور پر ایمان کے مکلف ہیں جن بھی ہیں۔ ج ٨ ص ٣١٨)۔ اوپر روح المعانی سے یہ نقل کیا جا چکا ہے کہ جیسے تمام انسانوں کے لیے نبی کو نہ ماننا کفر ہے جنوں کے لیے نہ ماننا بھی کفر ہے۔ تفسیر معالم التنزیل میں ہے کہ آیت مذکورہ میں اس پر دلیل ہے کہ حضور ﷺ جن و انس دونوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور حضرت مقاتل سے روایت ہے کہ حضور سے پہلے کوئی نبی جن و انس دونوں کی طرف نہیں بھیجا گیا (ہامش الخازن ج ٦ ص ١٤٢) شیخ ابن حجر مکی ہیتمی کہتے ہیں کہ جیسے ابن فرخ سے منقول ہے کہ حضور سے پہلے کوئی نبی جنات کی طرف نہیں بھیجا گیا یہ بات یقینی ہے ہاں بطور تبع کے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور ان کی شریعت میں داخل ہوئے ہیں۔

بیہقی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب کہ وہ مکہ مکرمہ جا رہے تھے ایک سانپ مرا ہوا دیکھا۔ انہوں نے ایک کپڑے میں اس کو کفن دے کر دفن کر دیا تو غیب سے کسی کہنے والے کی آواز سنی: ”اے سرق اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت نازل فرمائے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے فرمایا تھا کہ اے سرق تم ایک خالی میدان میں وفات پاؤ گے پھر تم کو میری امت کا بہترین شخص دفن کردے گا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس سے پوچھا: ”تم کون سے ہو اللہ تم پر رحم فرمائے؟“ عرض کیا: میں جنوں میں ایک شخص ہوں اور یہ سرق ہے اور جنات میں سے جن جن لوگوں نے حضور ﷺ سے بیعت کی تھی ان میں سے میرے اور اس کے سوا کوئی باقی نہیں رہا تھا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے فرمایا تھا اے سرق تم ایک خالی میدان میں وفات پاؤ گے اور تم کو میری امت کا بہترین آدمی دفن کرے گا۔“

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ثابت ہے کہ آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ سفر میں تھے ایک سانپ قتل ہوا پایا کسی صاحب نے اپنی چادر کے ٹکڑے میں اس کو کفن دیا اور دفن کر دیا۔ جب رات ہوئی تو چار عورتیں اس کو پوچھتی ہوئی آئیں اور انہوں نے ان کو بتایا کہ کافر جنوں نے مسلمان جنوں کے ساتھ جنگ کی تھی اور اس کو قتل کر دیا تھا اور یہ شخص اس جماعت میں سے تھا جنہوں نے حضور سے قرآن شریف سنا تھا پھر اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کے لیے گئے تھے۔ ابن ابی الدنیا نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت نے دو سانپوں

صفحہ ٨١

کہ قوم کو جنوں کے ایمان لانے کی خبر کر دیں تاکہ معلوم ہو کے مکلف ہیں جن بھی ہیں۔ ج ٨ ص ٣١٨)۔ اوپر روح جیسے تمام انسانوں کے لیے نبی کو نہ ماننا کفر ہے جنوں کے التاویل میں ہے کہ آیت مذکورہ میں اس پر دلیل ہے کہ ب رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور حضرت مقاتل سے روایت انس دونوں کی طرف نہیں بھیجا گیا (ہامش الخازن ج ٦ ص کہ جیسے ابن فرخ سے منقول ہے کہ حضور سے پہلے کوئی نبی ی یقینی ہے ہاں بطو رنقل کے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں۔

کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے جب کہ وہ مکہ مکرمہ جا رہے ں نے ایک کپڑے میں اس کو کفن دے کر دفن کر دیا، تو غیب ے سرق اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت نازل فرمائے اور میں گواہی ے سنا ہے، فرمایا تھا کہ اے سرق تم ایک خالی میدان میں کا بہترین شخص دفن کر دے گا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تم پر رحم فرمائے؟‘‘ عرض کیا: میں جنوں میں ایک شخص ہوں ن جن لوگوں نے حضور ﷺ سے بیعت کی تھی ان میں سے ی رہا تھا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ یک خالی میدان میں وفات پاؤ گے اور تم کو میری امت کا

ے ثابت ہے کہ آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ سفر صاحب نے اپنی چادر کے ٹکڑے میں اس کو کفن دیا اور دفن میں اس کو پوچھتی ہوئی آئیں، اور انہوں نے ان کو بتایا کہ ساتھ جنگ کی تھی، اور اس کو قتل کر دیا تھا، اور یہ شخص اس ور سے قرآن شریف سنا تھا پھر اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کے حدیث بیان کی ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت نے دو سانپوں

کو لڑتے دیکھا ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا تو اس کی خوبصورتی اور خوشبو پر ان کو بڑا تعجب ہوا کسی نے کفن دے کر دفن کر دیا تو ایک جماعت کو سلام کرتے ہوئے سنا، اور انہوں نے بتایا کہ یہ مقتول ان لوگوں میں سے تھا جو حضور ﷺ کے ساتھ اسلام لے آئے۔ اس کو ایک کافر نے قتل کر دیا ہے، اسی طرح اور بھی حدیثوں میں جنات کے ایمان اور دین حاصل کرنے کے واقعات آئے ہیں۔ شیخ ابن حجر مکیؒ کہتے ہیں کہ جن بھی مکلف ہیں۔ پوری شریعت پر عمل کرنا ان پر بھی فرض ہے۔ امام فخر الدین رازی وغیرہ نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے اور عز بن جماعہ کہتے ہیں کہ جن بھی فرشتوں کی طرح اول فطرہ سے مکلف ہیں۔ اور جمہور سلف و خلف کے نزدیک یہ ثابت ہے کہ ان میں کوئی نبی یا رسول نہیں ہوا۔

کئی سندوں سے جن سے حدیث حسن کے درجے کو پہنچ جاتی ہے، یہ حدیث آئی ہے کہ ابلیس کا پڑپوتا ہامہ بن ہیم بن لاقیس بن ابلیس حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مع صحابہ کے تہامہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے۔ اس نے بتایا کہ جن دنوں قابیل نے ہابیل کو قتل کیا، وہ بچہ سا تھا، اور یہ بھی ان لوگوں میں تھا جو حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لائے۔ حضرت نوح نے جب قوم کو بددعا دی تو اس نے عرض معروض بھی کیا تھا جس پر وہ بھی رو پڑے تھے اس کو بھی رلا دیا تھا، اور یہ کہ یہ ہابیل کے خون میں شریک تھا تو کیا! اس کے لیے توبہ کی گنجائش ہے حضرت نوح نے چند چیزیں کرنے کا حکم دیا تھا جن میں یہ بھی تھا کہ وضو کرے اور دو سجدے کرے اس نے فوراً ایسا کر لیا، تو آپ نے فوراً بشارت دی کہ اس کی توبہ کی قبولیت آسمان سے نازل ہو گئی اس پر ہامہ ایک سال تک اللہ تعالیٰ کے لیے سجدے میں رہا اور یہ کہ ہود علیہ السلام پر بھی ایمان لایا تھا، اور ان سے بھی ایسی ہی بات ہوئی تھی جیسے حضرت نوح علیہ السلام سے ہوئی تھی، اور اس نے یعقوب علیہ السلام کی بھی زیارت کی ہے اور یوسف علیہ السلام سے تو گہری دوستی رکھی تھی اور وہ لوگوں سے گھاٹیوں میں ملتا تھا، اور آج بھی ملتا ہے اور موسیٰ علیہ السلام سے بھی ملا اور انہوں نے اس کو کچھ توریت سکھلائی تھی اور حکم دیا تھا کہ ان کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اگر اس کی ملاقات ہو تو سلام پہنچا دے اور یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملا تھا اور ان کو یہ سلام پہنچا دیا تھا اور عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس کو حکم دیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ سے ملاقات ہو تو سلام پہنچا دے۔ حضور یہ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا: ’’عیسیٰ پر بھی سلام جب تک دنیا باقی رہے، اور اے ہامہ تجھ پر بھی ادائے امانت کے لیے سلام پھر ہامہ

صفحہ ٨٢

نے درخواست کی کہ حضور اس کو کچھ قرآن سکھا دیں جیسے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توریت سکھلائی تھی۔ اس پر حضورؐ نے اس کو سورۃ واقعہ سورۃ المرسلات اور النباء اور کوثر اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ سکھلا دی۔ اور فرمایا: ”اے ہامہ تم کو کوئی حاجت ہو تو ہم کو مطلع کرنا اور زیارت کرنا نہ چھوڑنا۔“ ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ جنت میں ہے۔ (فتاویٰ حدیثیہ ص ٥١)

آیات و احادیث سے جو حضور کی نبوت و رسالت کا ہر مخلوق اور ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے ہونا ثابت ہوا، ان میں کسی وقت اس کے ختم ہو جانے کا کوئی ذکر نہ ہونا اس کی دلیل ہے کہ حضورؐ کی نبوت و رسالت بعد وفات بھی ہے اور چونکہ مسلمان جنت میں اور کافر دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے نہ جنت اور جنتی ختم ہوں گے اور نہ دوزخ اور دوزخی۔ آیات میں دونوں کے لیے حکم خالدین فیھا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہونا کثرت سے آیا ہے تو حضورؐ کی نبوت و رسالت بھی ہمیشہ ہمیشہ قائم رہے گی۔ اسی پر تمام امت کا اجماع ہے علامہ شامی تقسیم غنیمت کے باب میں لکھتے ہیں: ”مقدسی نے کہا ہے کہ منیۃ المفتی میں یہ بات صاف ذکر ہے کہ ’رسولؐ کی رسالت موت سے باطل نہیں ہوتی‘ آگے مقدسی کا پورا قول نقل کرکے کہ ممکن ہے کہ یوں کہہ لیا جائے کہ حکماً باقی رہتی ہے۔ شامی کہتے ہیں کہ پوشیدہ نہ رہے کہ ان کے کلام سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ شاید نبوت کی حقیقت ختم ہو جاتی ہے، تو الدر المنتقی میں ہے کہ یہ اجماع کے خلاف ہے۔ میں (شامی) عرض کرتا ہوں کہ امام اہل السنت والجماعت امام اشعری کی طرف جو ثبوت نبوت بعد وفات کا انکار منسوب کیا گیا ہے، وہ بہتان ہے، الزام ہے۔ خود ان کی کتابوں اور ان کے شاگردوں میں اس منسوب کیے ہوئے کے خلاف صاف صاف خیال موجود ہے۔ یہ ان کے دشمنوں نے ان کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ کیونکہ حضرات انبیاء علیہم السلام سب کے سب اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ اور امام عارف ابو القاسم قشیری نے کتاب شکایۃ السنّت میں اس بہتان کو بیان کیا ہے اور دوسرے علماء نے بھی بیان کیا ہے۔ جیسے امام ابن السبکیؒ نے طبقاتِ کبریٰ میں امام اشعری کے تذکرے میں تفصیل سے لکھا ہے (ردالمحتار ج ٣ ص ٢٥٩) اور قیامت میں سب انبیاء کا آپؐ کے جھنڈے کے نیچے ہونا، کل مخلوق سے عذاب محشر دور ہونے کی شفاعت کرنا اور موقع بموقع متعدد شفاعتیں، حوض کوثر پر فیضِ عام اور بعض لوگوں کے ہٹائے جانے پر فرمانا: اصحابی اصحابی (میرے کچھ کچھ ساتھی) دوزخ میں سے

گناہگاروں کو نکال ہیں یہ سب واقعات کیا حضورؐ صرف بعض کا ہیں کہ حضرت محمد ﷺ پراپیگنڈہ کرنے کے لینا لازم ہے۔ قرآن

وَيُزَكِّيْ ضَلٰلٍ الْحَكِيْ ”وہی بھیجا‘ ان کو میں ہنوز ال آیت رسول بنا کر بھیجے نبی ہیں، دوسرے یہ لازم نہیں کہ د معنی نہیں ہو سکتے کہ دوسروں کے گزر چکی ہیں! ا لینا ضروری ہے ک

صفحہ ٨٣

قرآن سکھا دیں جیسے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توریت سکھلائی واقعہ سورۃ المرسلات اور النباء اور کوثر اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ عُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ سکھلا دی۔ اور فرمایا : ”اے ہامہ تم کو کوئی ت کرنا نہ چھوڑنا۔“ ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ جنت میں حضور کی نبوت و رسالت کا ہر مخلوق اور ہر زمانے اور ہر جگہ وقت اس کے ختم ہو جانے کا کوئی ذکر نہ ہونا اس کی دلیل ت بھی ہے اور چونکہ مسلمان جنت میں اور کافر دوزخ میں اور جنتی ختم ہوں گے اور نہ دوزخ اور دوزخی۔ آیات میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہونا کثرت سے آیا ہے تو حضور کی رہے گی۔ اسی پر تمام امت کا اجماع ہے علامہ شامی تقسیم ی نے کہا ہے کہ منیۃ المفتی میں یہ بات صاف ذکر ہے نہیں ہوتی“ آگے مقدسی کا پورا قول نقل کر کے کہ ممکن تی ہے۔ شامی کہتے ہیں کہ پوشیدہ نہ رہے کہ ان کے کلام کی حقیقت ختم ہو جاتی ہے‘ تو الدر المنتقیٰ میں ہے کہ یہ رض کرتا ہوں کہ امام اہل السنّت والجماعت امام اشعری کار منسوب کیا گیا ہے‘ وہ بہتان ہے‘ الزام ہے۔ خود ان س منسوب کیے ہووے کے خلاف صاف صاف خیال کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ کیونکہ حضرات انبیاء علیہم ا زندہ ہیں۔ اور امام عارف ابو القاسم قشیری نے کتاب ہے اور دوسرے علماء نے بھی بیان کیا ہے۔ جیسے امام ابن کے تذکرے میں تفصیل سے لکھا ہے (ردالمختار ج ٣ پؐ کے جھنڈے کے نیچے ہونا‘ کل مخلوق سے عذاب بموقع متعدد شفاعتیں‘ حوض کوثر پر فیض عام اور بعض اصحابی (میرے کچھ کچھ ساتھی) دوزخ میں سے

گناہگاروں کو نکال لانا وغیرہ سب واقعات اس کی دلیل ہیں کہ ابداًلآباد تک حضور نبی و رسول ہیں یہ سب واقعات احادیث میں موجود ہیں اختصار کے لیے پوری نقل نہیں کی گئیں۔

کیا حضور صرف عرب کے لیے نبی تھے؟

بعض کافر اور بعض بے دین اور بددین لوگ اسلام کو ختم کرنے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ صرف عرب کے لیے نبی تھے دوسرے لوگوں کے لیے نہیں اور اس پر غلط پراپیگنڈہ کرنے کے لیے کچھ دلیلیں بھی قائم کرتے اس لیے ان پر بھی مع دلیل و جواب غور کر لینا لازم ہے۔

قرآن شریف میں ہے:

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَیُزَکِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ o وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. (الجمعہ : ٢‘ ٣)

”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں (عرب میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا‘ جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے‘ اور ان کو کتاب و دانش مندی سکھاتے ہیں اور یہ لوگ پہلے سے کھلی گمراہی میں تھے اور دوسروں کے لیے بھی جو ان میں سے ہونے والے ہیں لیکن ہنوز ان میں شامل نہیں ہوئے‘ اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔“

آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ حضور صرف امی (ان پڑھ) لوگوں یعنی عربوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور بعد کے بھی جو لوگ انہیں میں سے ہونے والے ہیں‘ ان کے لیے نبی ہیں‘ دوسرے لوگوں کے لیے نہیں۔ جواب یہ ہے کہ اول تو کسی ایک قسم کے ذکر کرنے سے یہ لازم نہیں کہ دوسری قسم کے لیے نبی نہیں ہیں۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ میں کراچی گیا تھا‘ تو یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ نہ حیدر آباد گیا نہ سکھر نہ بہاولپور‘ نہ لائل پور وغیرہ۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے لیے نبی ہونا یہاں ذکر نہ ہو گا۔ تو دوسری آیات و احادیث میں ذکر ہے‘ جو اوپر گزر چکی ہیں! اور چونکہ قرآن بعض بعض کی تفسیر ہے اس لیے انہی سے اس کا مفہوم بھی مستنبط کر لینا ضروری ہے کہ ان کے لیے بھی نبی ہیں۔ (تفسیر کبیر‘ ج ٨ ص ٢٠٣ مع تشریح)

صفحہ ٨٤

دوسرے کس قدر کم عقلی یا بے عقلی کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپؐ کو نبی تسلیم کر لیا گیا ہے‘ گو صرف عرب کے لیے تسلیم کیا گیا ہو دوسری طرف آپؐ کی وحی کی آیات اور آپؐ کی احادیث‘ جو اوپر آ چکی ہیں‘ ان سے روگردانی ہے۔ جب حضورؐ کو کسی نہ کسی درجے میں نبی مانا جا چکا ہے تو آپؐ کا ہر ہر قول اور تمام انسانوں‘ فرشتوں‘ جنوں‘ بلکہ جمادات‘ نباتات‘ حیوانات سب کے لیے خلق عالم سے پہلے سے فنائے عالم کے بعد تک‘ ابدالآباد تک کے لیے نبی ماننا لازم ہو گیا اس کا انکار جرم ہو گیا۔

(شرح احیاء العلوم بحوالہ ج ٢ ص ٢٠٣)

تیسرے یہ مفہوم جو آیت شریفہ کا لے لیا گیا ہے‘ یہی غلط لیا ہے۔ یہ عربی زبان سے ناواقف ہونا اور اس کے لیے اردو وغیرہ مادری زبانوں کے محاورے پر مفہوم گھڑ لینا ہے‘ جو خود ایک جرم عظیم ہے۔ بات یہ ہے کہ بعث کے مفعول کئی آتے ہیں کوئی بغیر صلے کے ہوتا ہے کوئی فی کے صلے سے ہوتا ہے کوئی عَنْ کے‘ کوئی بِ کے‘ کوئی اِلیٰ کے صلے سے ہوتا ہے‘ اور ہر ایک کے معنے الگ ہوتے ہیں۔ یہاں دو مفعول ہیں۔ ایک تو رَسُوْلًا‘ جو بلا صلہ ہے‘ اور دوسرا فِی کے صلے سے ہے یعنی جن کو بھیجا گیا وہ تو رسول ہیں اور فی جو ظرف کے معنے کے لیے ہے‘ جن کے اندر بھیجا گیا وہ امّتیں ہیں‘ اور جو مفعول اِلیٰ کے صلے سے تھا‘ یعنی وہ جن کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے‘ ان کا یہاں بیان نہیں ہے۔ اسی طرح جو مفعول بِ کے صلے سے ہوتا ہے‘ یعنی جو دے کر بھیجا جاتا ہے‘ اس کا بھی ذکر نہیں‘ اور جو مفعول عَنْ کے ذریعے ہوتا ہے کہ جہاں سے اٹھا کر بھیجا ہے اس کا بھی ذکر نہیں۔ اس لیے غلطی یہ ہو رہی ہے کہ مبعوث فیہم یعنی جن کے اندر رسول بنایا گیا‘ پیدا کیا گیا‘ وحی بخشی گئی‘ رسول و نبی بنایا گیا‘ اس کو اعتراض کرنے والوں نے زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے مبعوث الیہم یعنی وہ سمجھ لیا کہ جن کی طرف نبی بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کا یہاں بیان ہی نہ تھا۔ ان کا بیان مذکورہ بالا آیات و احادیث میں آ چکا ہے لہٰذا یہ مفہوم لینا ہی بالکل غلط اور دھوکہ ہے۔

(روح المعانی بحوالہ ج ٢٨ ص ٨٣)

چوتھے قرآن مجید کا کوئی مفہوم ایسا گھڑنا جو دوسری آیات و احادیث کے خلاف ہو تحریف معنوی قرار پاتا ہے۔ وہ ہرگز معتبر نہیں ہو سکتا‘ جس کی برائی قرآن مجید میں بھی مذکور ہے اور یہ خدا تعالیٰ پر کھلا بہتان اور گناہ عظیم قرار پاتا ہے۔

پانچویں امّی کے معنے ان پڑھ کے علاوہ دوسرے بھی آتے ہیں: امت والے اس لیے تمام امّتی اس میں داخل ہیں۔ بخاری ترمذی‘ نسائی اور متعدد کتابوں میں حضرت ابو ہریرہؓ سے

صفحہ ٨٥

یہ حدیث روایت ہے کہ ”ہم سب حضورﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ سورۃ جمعہ نازل ہوئی اور حضورؐ نے تلاوت فرما دی۔ جب اس آیت پر آئے ”اور دوسروں کے لیے بھی جو ان میں سے ہونے والے ہیں لیکن ہنوز ان میں شامل نہیں“ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ حضورؐ یہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم میں شامل نہیں؟ حضورؐ نے حضرت سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر دین ثریا میں بھی ہو گا تو ان میں سے کچھ لوگ حاصل کر لیں گے“ حضرت سلمان فارسیؓ ان میں سے نہ تھے مگر امتی تھے اور ان کی پوری قوم بھی امتی ہوئی ہے۔ (روح المعانی مذکور)

چھٹے امی کے معنے اگر ناخواندہ‘ ان پڑھ ہی مراد لیے جائیں تو عربوں میں چند حیثیتیں ہیں۔ ایک خاص نسب کا ہونا‘ دوسرے خاص جگہوں کا ہونا‘ تیسرے ناخواندہ ہونا‘ چوتھے مسلمان ہونا۔ تو یہاں اول کی تین حیثیتوں میں سے تو کوئی مراد ہی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ آگے کا جملہ ”اب تک ان میں شامل نہیں ہوئے“ بتاتا ہے کہ وہ حیثیت مراد ہے جس میں دوسروں کا شامل ہونا ممکن ہے۔ تو نسب میں تو کسی کا شامل ہونا ممکن ہی نہیں اور خاص جگہوں کا وطنی ہونا بھی دوسروں کے لیے عرفی مفہوم سے ممکن نہیں کہ فارسی عرب نہیں شمار ہو سکتا اور ناخواندہ میں شامل ہونا کہ خواندہ ہو کر نا خواندہ بن جانا‘ یہ بھی ممکن نہیں اور پھر ان تینوں حیثیتوں کا شریعت میں کوئی اعتبار بھی نہیں‘ کیونکہ ان کی وجہ سے حقوقِ شرعی ایک کے دوسرے پر فرض نہیں ہوتے کوئی کسی کا وارث نہیں بن سکتا۔ صرف چوتھی وہ مسلمان ہونا ہی ایسی ہے کہ اس بناء پر آیت کا مفہوم صحیح بن سکتا ہے کہ ”دوسروں کے لیے بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے“ یعنی مسلمان نہیں ہوئے‘ اس لیے وہاں کے رہنے والے غیر مسلم بھی اور قیامت تک کے لوگ جب مسلمان ہو ہو کر ان میں یعنی مسلمانوں میں شامل ہوں گے‘ حضورؐ کا ان کے لیے نبی ہونا ثابت ہے۔ اس معنی سے کہ انہوں نے دعوت قبول کر لی ہے اور امت اجابت بن گئے۔ (بیان القرآن بتوضیح) ہر نبی کی امت دو قسم کی ہوتی ہے ایک امت دعوت کہ جن جن کو دعوت دی جائے۔ دوسری امت اجابت‘ یعنی وہ لوگ جنہوں نے یہ دعوت قبول کر لی اور ایمان لے آئے۔

اور ارشاد ہے: وَمَا اَرْسَلْنَا مِن رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (ابراہیم: ٤) ”اور ہم نے تمام پیغمبروں کو انہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

صفحہ ٨٦

تاکہ ان سے بیان کر دیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ ہر رسول اپنی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا جاتا ہے اور حضور کی زبان عربی تھی تو حضور کی قوم بھی عرب ہوئی لہٰذا صرف عرب کے لیے آپ نبی ہوئے۔

جواب اول تو یہ ہے کہ قوم اور چیز ہے اور امت اور چیز۔ قوم سے مراد تو وہ لوگ ہیں جن میں حضور کی ولادت و بود و باش ہوئی ہے اور امت دو قسم کی ہے۔ امت دعوت کہ ابتدا سے انتہا تک جن جن کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے دوسری امت اجابت وہ تا قیامت جماعت ہے جو ایمان لاتی ہے لہٰذا قوم کی زبان عربی ہونے سے پوری امت کا عرب میں منحصر ہونا لازم نہیں آسکتا۔ کیونکہ امت کی زبان نہیں فرمایا امت تو قوم بھی ہے دوسرے بھی ہیں۔ انبیاء فرشتے، جن، جمادات، نباتات، حیوانات اور کلی انسان غلط فہمی اس سے ہوتی ہو گی کہ چوں کہ دوسرے انبیاء جیسے کہ شروع میں آیات سے ثابت کیا گیا ہے صرف اپنی اپنی قوم کے لیے آئے ہیں تو وہاں قوم اور امت ایک ہی جماعت قرار پاتی ہے۔ شاید وہاں سے یہ وہم ہوا ہو کہ قوم اور امت ایک ہی ہے۔ قوم عرب ہے تو امتی بھی عرب ہی ہوں گے حالانکہ واقعہ یہ نہیں قوم خاص جماعت ہے امت اس سے بہت عام ہے۔

دوسرے جیسے اوپر کے اشکال کے جواب میں عرض کیا گیا ہے کہ ان کے ذکر سے اوروں کی نفی تو نہیں ہو سکتی۔ ان کے لیے بھی ہیں دوسروں کے لیے بھی نبی ہیں۔

تیسرے وہی جواب جو اوپر عرض ہوا ہے کہ جب بعض کے لیے نبی تسلیم کر لیا تو ان کی وحی اور خود ان کے ارشادات کو بھی حق تسلیم کر لیا۔ بعض یہودی لوگ یوں کہتے ہیں کہ حضور کی بعثت صرف عرب کے لیے ہے۔ اگر عام ہو گی تو پہلے مذہبوں کا منسوخ ہونا لازم آئے گا اور منسوخ ہونا محال ہے کیونکہ اس سے حق تعالیٰ کا یا جہل لازم آتا ہے یا بداء یعنی ندامت اور یہ دونوں باتیں حق تعالیٰ کے لیے محال ہیں، یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم بھی صادر ہو اس میں مصلحت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئے۔ یعنی جب کہ ممکن ہر وہ چیز ہے جس کا نہ وجود لازم ہو نہ عدم بلکہ دونوں برابر کے درجہ میں ہوں تو جب تک ایک کو ترجیح دینے والی کوئی شے نہ ہو گی وہ نہ ہو سکے گی۔ وجود کو ترجیح دینے والی کوئی چیز نہ ہو گی تو وجود نہ ہو سکے گا عدم کو ترجیح دینے والی کوئی چیز نہ ہو گی تو عدم نہ ہو سکے گا۔ اس لیے جو حکم صادر ہو گا چونکہ وہ ممکن تھا اس کے وجود کے لیے مرجح یعنی ترجیح دینے والی چیز کی ضرورت ہے ورنہ اس کا

وجود محال ہو گا اور وہ مصلح اب اگر منسوخ ہونے وا اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھی اس منسوب کرنا ہو گا جو محال ۔ اور دوسرے حکم سے بلا س کیے پر شرمندہ ہونا اور یہ

جواب یہ ہے مصلحتوں کی رعایت رکھنا یعنی وہ کسی کا محکوم و تابع سے نہ جہل لازم آ سکتا ۔

دوسرے اگر ف پھر بات یہ ہے کہ بعض کیوں کہ مصلحتیں اوقات پینا، دوسرے وقت میں ن ہونے میں کہ نہ ہونے والے کے مرجوح ہونے

تیسرے فرض کہ جب ناسخ اور منسوخ ہو گا تو جن کے تعلق کا ت ان کے لیے وہ منسوخ

چوتھے یہ کہ سے تعلق ہو ۔ یہاں یہ متعلق ہیں ۔ (شرح موا

پانچویں ہم ہو جانا جب کہ لوگ مق

صفحہ ٨٧

وجود محال ہو گا اور وہ مصلحت اگر مصلحت نہ تھی تو حکم ہی محال ہو گا لہٰذا مصلحت ہونا لازمی ہے تو اب اگر منسوخ ہونے والے حکم میں بھی مصلحت ہو گی۔ تو پھر دو صورتیں ہیں یا وہ مصلحت اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھی اس لیے ان کو منسوخ کر دیا ہے تو اس سے تو خدا تعالیٰ کی طرف جہل منسوب کرنا ہو گا، جو محال ہے اور اگر مصلحت معلوم تھی اور اس کی رعایت پہلے حکم میں تو ملحوظ رکھی اور دوسرے حکم سے بلا سبب منسوخ کر کے اس کو بے فائدہ قرار دے دینا، تو یہ بداء ہے یعنی کیے پر شرمندہ ہونا، اور یہ بھی حق تعالیٰ کے لیے محال ہے لہٰذا منسوخ ہونا ہی کسی حکم کا محال ہے۔

جواب یہ ہے کہ اول تو اہل سنت والجماعت کے نزدیک اللہ تعالیٰ پر احکام میں مصلحتوں کی رعایت رکھنا واجب نہیں اس لیے منسوخ حکم کا مصلحت پر مشتمل ہونا ہی ضروری نہیں یعنی وہ کسی کا محکوم و تابع نہیں کہ ان پر اس کی مصلحتوں کا لحاظ واجب ہو اس لیے منسوخ ہونے سے نہ جہل لازم آ سکتا ہے نہ بداء۔

دوسرے اگر فرض کر لیا جائے کہ احکام میں مصلحتوں کی رعایت ہونی ضروری ہے تو پھر بات یہ ہے کہ بعض دفعہ کوئی ایسی مصلحت حاصل ہو جاتی ہے جو پہلے سے حاصل نہ تھی۔ کیوں کہ مصلحتیں اوقات کے بدلنے سے مختلف ہوتی رہتی ہیں جیسے دوا کا ایک وقت میں پینا، دوسرے وقت میں نہ پینا تو کبھی مصلحت اس حکم کے ہونے میں ہوتی ہے اور کبھی اس کے نہ ہونے میں کہ نہ ہونے کے وقت دوسری مصلحت ہوتی ہے جو پہلے حکم کے زوال یا بہ نسبت بعد والے کے مرجوح ہونے پر حاصل ہو سکتی ہے اس لیے نہ جہل لازم آتا ہے نہ بداء۔

تیسرے فرض کیجیے کہ اس سے جہل یا بداء لازم آتا ہے تو یہ اس وقت لازم آ سکتا ہے کہ جب ناسخ اور منسوخ دونوں ایک ہی قوم کے لیے ہوں ورنہ جب الگ الگ قوموں کے لیے ہو گا تو جن کے تعلق کا حکم منسوخ ہوا، ان کے متعلق ناسخ نہیں آیا، اور جن کے لیے ناسخ حکم آیا ہے ان کے لیے وہ منسوخ حکم تھا ہی نہیں۔ اس لیے کچھ لازم نہیں آتا۔

چوتھے یہ کہ یہ اس وقت لازم آ سکتا ہے، جب ناسخ اور منسوخ دونوں کا ایک ہی فعل سے تعلق ہو۔ یہاں یہ بات بھی ہے کہ منسوخ احکام اور افعال کے متعلق تھے، ناسخ اور افعال کے متعلق ہیں۔

(شرح مواقف ج ٨ ص ٢٦١)

پانچویں ہم پوچھتے ہیں کہ دعویٰ نبوت کے موافق ہو کر خلاف عادت امور کا صادر ہو جانا، جب کہ لوگ مقابلے سے عاجز رہ جاویں، مدعی رسالت کی سچائی پر دلیل ہوتا ہے یا نہیں؟

صفحہ ٨٨

اگر کہیے کہ دلیل نہیں ہوتا تو ضرور ہو گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر بھی دلیل نہ ہو اور یہودی مذہب ہی ختم ہو جائے اور اگر دلیل ہوتا ہے تو حضورؐ اور حضرت عیسیٰؑ کی سچائی بھی ضرور ماننی ہو گی۔

چھٹے توریت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو فرمایا تھا جب کہ وہ کشتی سے باہر آئے تھے کہ میں ہر ہر جانور کو تمہاری اور تمہاری اولاد کی غذا بناتا ہوں، اور اس قدر عام کرتا ہوں جس قدر نباتات عام ہیں، سوائے خون کے اور پھر توریت میں ان میں سے بہت سی چیزیں حرام فرما دی گئیں اور توریت میں یہ بھی ہے کہ آدم علیہ السلام کی شریعت میں (سگے بھائی کا توام کی بہن) سے نکاح جائز تھا اور تم نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا جائز تھا تم نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور ہفتہ کے روز کام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت سے پہلے حلال تھا تم نے حرام قرار دے رکھا ہے اور پیدائش کے وقت ختنہ کرنا واجب نہ تھا، تم نے واجب قرار دے دیا یہ سب نسخ احکام ہے۔

جب یہودی مذہب میں یہ ناسخ احکام ہیں تو ان کا نسخ کو باطل کہنا ہی غلط ہوا۔ بعض یہودی اس مسئلے کو عقل سے ثابت نہیں کرتے بلکہ اپنے مذہب کی نقل سے ثابت کرتے ہیں کہ ”نسخ باطل ہے ۔“ تو یہ بات بہت بعد میں ابن الراوندی نے گھڑ کر ان کو بتائی ہے۔ ورنہ اگر یہ نقل صحیح ہوتی تو جب کہ یہودی لوگ ہر طرح حضور ﷺ کی تمام علامتوں کو مٹانے کے در پے تھے، حتیٰ کہ توریت میں جو حضور ﷺ کے حالات تھے ان کو بدل ڈالا تھا۔ یہ لوگ حضور ﷺ پر ضرور اس نقل کو پیش کرتے۔ اور اگر وہ یہ نقلی دلیل پیش کرتے تو منقول بھی ہوتا۔ اب اس کا منقول نہ ہونا۔ دلالت کرتا ہے اس پر کہ یہ بے بنیاد ہے (شرح احیاء العلوم ج٢ ص٢٠٣) ساتویں یہ کہ یہ لوگ نسخ کا مفہوم ہی غلط لیتے ہیں۔ ”باطل کر دینا“ لیتے ہیں۔ حالانکہ ناسخ و منسوخ دونوں اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ خدائی کلاموں میں ”ناسخ“ پارہ نمبر١ ع١٣ (جس کو ہم نسخ کردیں) وغیرہ قرآن مجید میں یا توریت و انجیل میں جہاں آیا ہے وہاں خدائی حکم کو باطل کرنا کون کہہ سکتا ہے؟ اس قدر جُرم کون کر سکتا ہے؟ نسخ کے معنی تبدیلی کے بھی تو ہیں۔ یہاں شریعت میں تبدیلی وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی پہلے حکم کا جو وقت تھا وہ بدل گیا ہے۔ اب نئے حکم کا وقت آگیا اور چوں کہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کا علم ہے۔ یہ بھی علم ہے کہ فلاں وقت تک کے لیے یہ حکم ہے اور فلاں وقت یہ ہے، خواہ ان کی مصلحتوں کو کوئی سمجھ سکے یا

نہ سمجھ سکے کیو میں نسخ جا استقبال سے ت ہیں۔ اور جمل خاص وقت تک میں مدت نہ ہوتا دوسرے ح ہے۔ مگر ہم کو ہی دوسرے حک متعلق آتا۔ اس سے بھی ا تعالیٰ کے نزدی عنہ (اور جوا تمام عالم کو۔ ہوتی۔ تو سب ہو سکنے سے۔ پر مقررہ وقت ؛ ”ہفتہ کے دن سے ثابت ہ نبوت عام نہی ؛ نقل ہوتا اور ہوتا، خصوصاً صحیح نہیں

صفحہ ٨٩

ہو گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر بھی دلیل نہ ہو اور اگر دلیل ہوتا ہے تو حضورؐ اور حضرت عیسیٰؑ کی سچائی بھی ضرور (باطل ہوگی۔)

اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو فرمایا تھا جب کہ وہ کشتی سے (اترے کہ میں نے روئے زمین کے تمام جانوروں کو) تمہاری اور تمہاری اولاد کی غذا بناتا ہوں، اور اس قدر عام کرتا (ہوں جیسے سبزہ۔ پھر تمام جانور حلال کر دیے۔ سوائے دم) یعنی خون کے اور پھر توریت میں ان میں سے بہت سی چیزیں (حرام کر دیں۔ اور منسوخ کر دیں ان پہلی باتوں کو، اور) یہ بھی ہے کہ آدم علیہ السلام کی شریعت میں (سگے بہن بھائی کا عقد کر دینا جو حضرت حواؑ کے ایک پیٹ سے نہ ہوں حلال تھا) اور تم نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یعقوب علیہ السلام کی (شریعت میں دو سگی بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں) جمع کرنا جائز تھا، تم نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور ہفتہ کے (دن کام کرنا ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی) شریعت میں پہلے حلال تھا تم نے حرام قرار دے رکھا ہے اور (کچھ جانوروں کی قربانی جو ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں جائز) تھا، تم نے واجب قرار دے دیا یہ سب نسخ احکام ہے۔

یہ ناسخ احکام ہیں تو ان کے نسخ کو باطل کہنا ہی غلط ہوا۔ بعض (یہودی جو کہتے ہیں کہ ہم منسوخ ہونے کی وجہ سے اسلام کو قبول) نہیں کرتے بلکہ اپنے مذہب کی نقل سے ثابت کرتے ہیں کہ (ہمارا مذہب منسوخ نہیں ہو سکتا، یہ ان کی محض شرارت ہے، جو) بعد میں ابن الراوندی نے گھڑ کر ان کو بتائی ہے۔ ورنہ اگر یہ (نقل سچ ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو ان سے پہلے تھے، وہ کیوں) (ان کے مذہب کو منسوخ کرتے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ) لوگ ہر طرح حضور ﷺ کی تمام علامتوں کو مٹانے کے درپے (تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ توریت و انجیل میں حضور ﷺ کی بعثت) کے حالات تھے ان کو بدل ڈالا تھا۔ یہ لوگ حضور ﷺ پر (ایمان لانے سے بچنے کے لیے یہ نقل گھڑ کر لائے ہیں) اگر وہ یہ نقلی دلیل پیش کرتے تو منقول بھی ہوتا۔ اب اس کا (کہیں بھی ذکر نہیں، سوائے ابن الراوندی کی کتاب کے۔ پس یہ) دلالت کرتا ہے اس پر کہ یہ بے بنیاد ہے۔ (شرح احیاء العلوم ص ٢٦٤)

یہ لوگ نسخ کا مفہوم ہی غلط لیتے ہیں۔ ”باطل کر دینا“ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے احکام میں۔ خدائی کلاموں میں ”ناسخ“ پارہ نمبر ١ آیت ١٠٦ قرآن مجید میں یا توریت و انجیل میں جہاں آیا ہے وہاں باطل کہا ہے؟ اس قدر جرم کون کر سکتا ہے؟ نسخ کے معنی تبدیلی کے بھی تو لغت میں آتے ہیں۔ یعنی پہلے حکم کا جو وقت تھا وہ بدل گیا پھر چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کا علم ہے۔ یہ بھی علم ہے کہ اب فلاں وقت یہ ہے، خواہ ان کی مصلحتوں کو کوئی سمجھ سکے یا

نہ سمجھ سکے کیونکہ قوموں اور شخصوں کی دلی کیفیات کا تفاوت انہی کو معلوم ہے۔ اس لیے جملہ خبریہ میں نسخ جاری نہ ہوگا کہ اس کا مدت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے تمام عقائد ماضی حال استقبال سے تعلق رکھنے والے آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک یکساں، برابر رہے ہیں۔ اور جملہ انشائیہ میں بھی اگر کوئی وقت بیان ہو جائے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے، یا کسی خاص وقت تک ہے تو وہاں نسخ اصلاً ہی نہ ہوگا۔ نسخ صرف ان انشائیہ جملوں میں ہوسکتا ہے جن میں مدت نہ بیان کی گئی ہو، خواہ لوگ بے دلیل اس کو دائمی سمجھتے رہیں۔ اب اس کی مدت کا ختم ہونا دوسرے حکم کے آنے سے بھی معلوم ہوگا۔ جیسے ہر انسان کی زندگی کی مدت علم الہی میں مقرر ہے۔ مگر ہم کو معلوم نہیں کہ کب تک ہے۔ موت سے ہی معلوم ہوگا کہ وہ مدت ختم ہوگئی۔ ایسے ہی دوسرے حکم سے معلوم ہوگا کہ پہلے حکم کی مدت ختم ہوگئی۔ یہ ہے مفہوم نسخ کا جو کلام الہی کے متعلق آتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ فقہ میں اس پر تفصیلی بحث ہے۔ اور یہ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (دین تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے) اور فرمایا ہے: وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ (اور جو اسلام کے سوا کوئی دین طلب کرے گا وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا) اور یہ حکم تمام عالم کو ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جب تک اصول و عقائد یعنی جملات خبریہ میں نسخ تبدیل نہیں ہوتی۔ تو سب انبیاء کا دین ایک ہی ہے۔ اسلام ہی اسلام ہے۔ کیونکہ عقائد تو سب کے نسخ نہ ہو سکنے سے بالکل ایک ہونے ضروری ہیں۔ اور فروع وقت وقت، قوم قوم، مزاج مزاج کی بناء پر مقررہ وقت وقوم کے لیے کچھ اور بعد میں تبدیل کر کے کچھ فرمایا گیا ہے۔

یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے معتبر سند سے ثابت ہے کہ فرمایا: ”ہفتہ کے دن کے احکام مضبوطی سے پکڑے رہو جب تک کہ آسمان رہیں اور زمینیں رہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ حکم اور ایسے ہی یہودی مذہب کا اور حکم منسوخ نہیں ہوسکتا اور حضور ﷺ کی نبوت عام نہیں ہو سکتی۔

جواب یہ ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صاف صاف یہ فرمایا ہو تو متواتر ہو کر نقل ہوتا اور یہودی جو حضور ﷺ کے مخالف تھے، ضرور پیش کرتے اور پیش کرتے تو ضرور نقل بھی ہوتا، خصوصاً یہودیوں کے یہاں ضرور ہی ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ نسبت ان کی طرف صحیح نہیں۔ بلکہ جیسا کہ مشہور ہے، یہ ابن الراوندی کا گھڑا ہوا ہے۔ (شرح مواقف ج ٨ ص ٢٦٢)

صفحہ ٩٠

حسن محمود عودہ اور قادیانی فلسفہ حساب

مولانا زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ برطانیہ کے شہر سلاؤ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ الاستاذ حسن محمود عودہ سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر باہم گفت وشنید کا موقع ملا۔ حسن عودہ کا تعلق فلسطین کے مشہور شہر حیفہ سے ہے اور قادیانی خاندان میں جنم لینے اور پرورش پانے کے باعث وہ ایک دور میں راسخ العقیدہ قادیانی شمار ہوتے تھے مگر ہدایت ان کے مقدر میں تھی اس لیے دس سال قبل مرزا طاہر احمد کی وہ دعوت مباہلہ جو انہوں نے دنیا بھر کے مسلم علماء دانش وروں اور رہنماؤں کو دی تھی حسن عودہ کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن گئی اور 21 جولائی 89ء کو انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل ان عربوں میں قادیانیت کے حقیقی تعارف اور پہچان کو اُجاگر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو کسی نہ کسی طور پر قادیانی پراپیگنڈہ کا شکار ہو چکے ہیں۔

حسن عودہ کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان میں سب سے پہلے ان کے نانا نے 1928ء میں قادیانیت قبول کی تھی جس کے بعد خاندان کے دیگر افراد بھی قادیانی ہوتے گئے حتیٰ کہ یہ خاندان عرب دنیا بالخصوص فلسطین میں قادیانیت کے فروغ کا سب سے بڑا علمبردار بن گیا اس خاندان میں حسن عودہ نے 55ء میں جنم لیا۔ ثانوی درجہ تک فلسطین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے سویڈن گئے تو وہاں 1976ء اور 1978ء میں اس وقت کے قادیانی چیف مرزا ناصر احمد سے ملاقات ہوئی اور اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے سویڈن چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور قادیانیت کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی تا کہ خلیفہ کے قریب ترین لوگوں میں جگہ پاسکیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ حسن عودہ کی شادی بھی قادیان میں ہوئی اور 85ء میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے انہیں مبشر کا منصب عطا کر کے لندن میں قائم ہونے والے نئے مرکز میں بلا لیا جہاں حسن عودہ کو عربی شعبہ کا ڈائریکٹر مقرر کر کے مرزا طاہر کی تقاریر کا عربی میں ترجمہ کرنے اور عربی ماہنامہ التقویٰ کی ادارت کی ذمہ داری ان کے سپرد

صفحہ ٩١

کر دی گئی۔

حسن عودہ کا کہنا ہے کہ جب تک وہ خالص قادیانی ماحول میں تھے انتہائی خوش عقیدہ قادیانی تھے اور کبھی ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ یہ مذہب بھی غلط ہو سکتا ہے اس لیے کہ انہوں نے مسلم علماء کی باتیں نہیں سنی تھیں اور نہ ہی ان کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملا تھا لیکن جب لندن کی کھلی فضا میں مخالفانہ باتیں بھی کچھ کچھ کان میں پڑنے لگیں تو کسی کسی وقت اُلجھن ہونے لگتی تھی اور اس اُلجھن میں اس وقت اضافہ ہو جاتا تھا جب انہیں ذہن میں آنے والے کسی سوال یا اشکال کا قادیانی خلیفہ یا جماعت کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملتا اس طرح ان کے شکوک وشبہات میں اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ مرزا طاہر احمد نے 88ء میں دنیا بھر کے مسلمان علماء اور رہنماؤں کو مباہلہ کی دعوت دے دی مگر جب بہت سے سرکردہ علماء کرام نے دعوت قبول کر لی تو مرزا طاہر احمد نے مقابلہ کے لیے سامنے آنے کے بجائے یہ موقف اختیار کیا کہ مباہلہ کے لیے اپنی جگہ بیٹھ کر دعا کر لینا ہی کافی ہے اور میدان میں آمنے سامنے ہونا ضروری نہیں ہے۔ حسن عودہ نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے قادیانی عقائد کے بارے میں مسلم علماء کی تحریرات کا مطالعہ شروع کیا اور صورت حال کا از سر نو جائزہ لیا تو یہ بات واضح ہو گئی کہ قادیانیت محض ایک مکر و فریب کا نام ہے اور جب انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی اہلیہ سے بات کی تو اسے بھی ہم خیال پایا۔ چنانچہ انہوں نے 17 جولائی 89ء کو قادیانی مرکز میں اپنی رہائش ترک کر کے دوسری جگہ سکونت اختیار کر لی اور 21 جولائی کو قریبی مسجد میں جمعہ کے روز مسلمانوں کے سامنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ حسن عودہ اس کے بعد سے سلاؤ میں مقیم ہیں عربی میں ”التقویٰ“ کے نام سے ایک ماہنامہ نیوز لیٹر شائع کرتے ہیں جس میں قادیانی عقائد کی تردید اور قادیانیت کے حقیقی تعارف کے ساتھ اسلامی عقائد واحکام کی وضاحت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد فلسطینی اور عرب نوجوانوں اور خاندانوں میں ان کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے حسن عودہ کو ربوہ کے نام کی تبدیلی اور اس سلسلہ میں اپنی مساعی سے آگاہ کیا تو انہوں نے بے حد خوشی کا اظہار کیا۔ مولانا چنیوٹی نے انہیں چناب نگر کا دورہ کرنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی اور کہا کہ کسی بھی مناسب پروگرام میں شرکت کے لیے وہ چناب نگر اور چنیوٹ ضرور آئیں گے۔ اس ملاقات میں مرزا طاہر احمد کے ان دعاوی کا تذکرہ بھی ہوا جو وہ ہر سال سالانہ اجتماع کے موقع پر اپنے عقیدت مندوں کو نفسیاتی طور پر تسلی دینے کے لیے کرتے ہیں اور قادیانیت میں لاکھوں افراد کی شمولیت کا اعلان کرتے ہیں۔ حسن عودہ

صفحہ ٩٢

نے کہا کہ اس بار مرزا طاہر احمد نے سالانہ اجتماع میں 20 ہزار افراد کی شمولیت کا اعلان کیا ہے حالانکہ جس مقام پر انہوں نے اجتماع کیا ہے‘ وہ میرا دیکھا بھالا ہے۔ وہاں 6‘ 7 ہزار سے زیادہ افراد سما ہی نہیں سکتے۔ مولانا چنیوٹی نے اس پر یوں تبصرہ کیا کہ اجتماعات کے بارے میں عام طور پر مبالغہ آمیز باتیں کی جاتی ہیں‘ دو ہزار کا اجتماع ہو تو اخبارات میں اسے دس ہزار کا لکھا جاتا ہے۔ قادیانی مذہب کی بنیاد ہی چونکہ مبالغہ اور فریب پر ہے اس لیے ان کے مبالغہ میں تناسب کو دو گنا اور بڑھا چڑھا دیا جائے تو اصل عدد کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مرزا طاہر احمد کے اسی نوعیت کے ایک دعوے کا ذکر کرتے ہوئے راقم الحروف نے ایک عام جلسے میں کہا تھا کہ دراصل قادیانی مذہب میں حساب کتاب کا فلسفہ بھی الگ ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کی حقانیت کے اظہار کے لیے ”براہین احمدیہ“ کے نام سے کتاب لکھنا شروع کی اور دعویٰ کیا کہ اس کتاب میں اسلام کے خلاف کسی بھی مذہب کے لوگوں کی طرف سے کیے جانے والے تمام اعتراضات کا معقول جواب دیا جائے گا اور یہ کتاب 50 جلدوں میں مکمل ہو گی۔ اس کتاب کی اشاعت میں تعاون کے لیے اشتہارات کے ذریعہ لوگوں سے چندہ اور کتاب کی پیشگی قیمت بھی مانگی گئی اور بہت سے عقیدت مندوں نے 50 جلدوں کی پیشگی قیمت بھجوا دی لیکن چار جلدوں کی اشاعت کے بعد مرزا صاحب نے خاموشی اختیار کر لی۔ کافی عرصہ کے بعد جب لوگوں کا تقاضا بڑھا تو پانچویں جلد شائع کی اور اس میں یہ لکھا کہ 50 جلدیں لکھنے کا اعلان کیا تھا جن میں سے پانچویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اور چونکہ 50 اور 5 میں صرف ایک صفر کا ہی فرق ہوتا ہے اور صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اس لیے ان پانچ جلدوں کو ہی پچاس تصور کیا جائے اس کے بعد اس کتاب کی اور کوئی جلد شائع نہیں ہوئی۔ براہین احمدیہ کی یہ پانچ جلدیں اس کے بعد سے مسلسل شائع ہو رہی ہیں اور پانچویں جلد میں اعلان آج بھی موجود ہے جسے کوئی بھی صاحب مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے قادیانی علم الحساب کی رو سے صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے لہٰذا مرزا طاہر احمد اپنی جماعت کے اجتماعات اور قادیانیت میں لوگوں کی شمولیت کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کریں‘ ان میں سے صفروں کو منہا کر لیا جائے اور جو باقی بچیں انہیں اصل سمجھا جائے۔ حسن عودہ سے اس سے قبل بھی متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں‘ ان کا عزم و استقامت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی عزم و استقامت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے محاذ پر تادیر سرگرم عمل رکھیں۔ (آمین)

(ماہنامہ انوار ختم نبوت‘ اکتوبر‘ نومبر ١٩٩٩ء از قلم مولانا زاہد الراشدی)

صفحہ ٩٣

غدّارانِ ختمِ نبوّت کا انجام

آغا شورش کاشمیری

(جن لوگوں نے تحریک تحفظ ختم نبوت پر ظلم کیا تھا
وہ کیونکر مرے اور ان کے ساتھ کیا بیتی)

اللہ تعالیٰ سردار عبدالرب نشترؔ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے‘ ایک دن عندالملاقات راقم سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: ”ختم نبوت کی تحریک (1953) کے دوران میں جن لوگوں نے اقتدار کے زعم میں فدایان محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خون بہایا‘ ان کا انجام ورق عبرت ہو گیا ہے۔ انہیں قدرت نے اتنی زبردست سزا دی کہ اس کا تصور کرتے ہوئے جی کانپتا ہے۔ وہ سزا کیا تھی اور عبرت کیا؟“ سردار صاحب نے تفصیلات نہیں بتائیں لیکن راقم بعض واقعات سے آگاہ ہے۔ مثلاً قلعہ لاہور میں علماء کو تفتیش کے لیے رکھا گیا تو پولیس کا جو آفیسر ان علماء پر مامور تھا‘ اس نے اتنی گندی زبان استعمال کی کہ ہم ملفوف سے ملفوف الفاظ میں بھی بیان نہیں کر سکتے پھر اس کا جو انجام ہوا‘ ہمارے سامنے ہے۔ اگلے ہی دن اس کی جوان لڑکی تالاب میں ڈوب کر مرگئی قدرت یونہی عبرت سکھاتی ہے۔

ایک دوسرے سپرنٹنڈنٹ پولیس جو ان دنوں سی آئی ڈی میں اے سیکشن کے انچارج تھے ایک مسلح دستہ پولیس لے کر مال روڈ پر نوجوانوں کو شہید کرتے رہے۔ انہوں نے مال روڈ پر چینی لنچ ہوم کے سامنے دو درجن نوجوانوں کے ایک ہجوم پر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے کی پاداش میں گولیوں کی بارش کروائی‘ کئی ایک نوجوان شہید ہوگئے۔ وہ ان کی لاشوں کو ٹرک میں لاد کر جانے کہاں لے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سپرنٹنڈنٹ پولیس کو چند دنوں ہی میں سزا دی۔ اس کا بیٹا کھیلتا ہوا اس طرح گرا کہ اس کے پیٹ میں شکستہ بوتل کے ریزے چلے گئے اور وہ آناً فاناً رحلت کر گیا۔ وہ ایک ہی سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا جو خود اپنے حلقوں میں کبھی عزت پیدا نہ کر سکا اس پر پولیس کے اہلکار اور آفیسر بھی لعنت بھیجتے رہے کہ وہ نوکری کے غرور میں اندھا ہو چکا تھا۔ ہر شخص کو

صفحہ ٩٤

معلوم ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر جس نے مسلمان عوام پر تحریک کے چار دنوں میں وحشیانہ ظلم کیے پاگل ہو گیا تھا پھر بہت دنوں پاگل خانے میں رہا...... یہ تو خیر معمولی افسروں کے واقعات ہیں اور راقم کو ذاتی طور پر معلوم ہے کہ بعض پولیس آفیسر جو فدایان ختم نبوت کے معاملہ میں فرعون ہو گئے تھے ان کا انجام کیا ہوا اور وہ کس طرح تڑپ تڑپ کر مرتے رہے اور ان کی اولاد پر کیا بیتی؟

ملک غلام محمد ان دنوں گورنر جنرل تھے انہوں نے ہماری ثقہ معلومات کے مطابق شیخ دین محمد گورنر سندھ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کہ قادیانی فرقے کو فی الفور اقلیت قرار دیا جائے ۔ شیخ صاحب نے اس سلسلہ میں ایک آئینی و دستوری مسودہ تیار کیا ۔ الحمد للہ وہ محفوظ ہے لیکن ملک غلام محمد بعض عادتوں میں سر ظفر اللہ خاں کے ساتھی تھے انہوں نے ختم نبوت کے مضمرات پر غور نہ کیا اور وہ قیمتی مسودہ ٹھکرا دیا بلکہ اس جرم میں ایک سازش کے تحت شیخ صاحب کو گورنری سے سبکدوش کر دیا ۔ ملک غلام محمد کس طرح مرے سب کو معلوم ہے ۔ وہ آخری ایام میں دماغ کے تعطل کا ورق عبرت تھے کسی مسلمان کہلانے والے کی موت اس سے زیادہ عبرت ناک کیا ہو سکتی ہے کہ وہ مر جائے تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ ملے ۔ ملک غلام محمد گوروں کے قبرستان میں دفن کیے گئے اور اب شاید وہ قبر ہی مٹ چکی ہے ۔ کسی پھول یا چراغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کوئی مسلمان انہیں عزت سے یاد نہیں کرتا اور نہ کسی رعایت و احترام سے تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ وہ خدا و عوام دونوں کے معتوب ہو کر مرے تھے ۔

سکندر مرزا اس زمانہ میں ڈیفنس سیکرٹری تھے وہ ختم نبوت کی تحریک کو کچلنے کے لیے اتنے بے تاب تھے کہ لاہور گورنر ہاؤس میں افسران مجاز سے چیخ چیخ کر پوچھتے کہ مجھے یہ نہ بتاؤ فلاں جگہ امن قائم ہو گیا ہے یہ بتاؤ کہ تم کتنی لاشوں کا مژدہ لائے ہو کوئی گولی ضائع تو نہیں ہوئی۔

اس سکندر مرزا کے انجام سے ایک دنیا واقف ہے کہ ملک سے نکالا گیا ۔ لندن کے ایک ہوٹل میں منیجر ہو گیا پھر وہاں فاحشہ عورتوں کی دلالی کرتا رہا آخر بے بسی میں نذر اجل ہوا تو لحد کے لیے وطن کی زمین نصیب نہ ہوئی دیار غیر میں مرا اور ایک دوسرے ملک میں قبر کے لیے جگہ ملی ۔

یہ واقعات ہم نے اس لیے لکھے ہیں کہ آج بھی سرکاری ایوانوں میں بعض اس قسم کے وزراء و حکام موجود ہیں جنہیں مزدور کے پسینہ سے تو ہمدردی ہے لیکن ختم المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموس سے نہیں ۔ ہم انہیں یہی کہیں گے :

خدا کی غصہ میں ڈوبی ہوئی نگاہ سے ڈرو !

صفحہ ٩٥

جھوٹے مدعیان نبوت

از مولانا سید محبوب حسن واسطی

جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں پیش گوئی فرما دی تھی کہ آئندہ ایک ایسا فتنہ بھی ابھرنے والا ہے تا کہ مسلمان اس کے استیصال سے غفلت نہ برتیں۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:

لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک كذابون قريباً من ثلاثين كلهم يزعم تیس کے قریب جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو انه رسول الله۔ (٥٠) جائیں کہ ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔

اور مسلم شریف ہی میں حضرت ثوبانؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:

سيكون فى امتى كذابون ثلاثون عنقریب میری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين گے ان میں سے ہر ایک کا گمان ہو گا کہ وہ نبی لا نبی بعدى۔ (٥١) ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربیع الاول ١١ھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں کے انتخاب سے خلیفہ مقرر ہوئے اور ٢١ جمادی الثانی ١٣ھ اپنے انتقال تک دو سال تین ماہ دس دن مسلمانوں کی یہ عظیم خدمت انجام دیتے رہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی آپ کو بعض درج ذیل اہم مسائل کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر وہ ان کے فوری حل کی طرف پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ متوجہ نہ ہوتے تو اسلام کے وجود کو بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا تھا:

صفحہ ٩٦

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدعیانِ نبوت کے خلاف پورے عزم و حوصلے سے جہاد کیا اور اس میں انہیں نمایاں کامیابی بھی ہوئی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں ہی بعض جھوٹے نبی پیدا ہو گئے تھے مثلاً اسود عنسی، مسیلمہ کذاب وطلیحہ بن خویلد وغیرہ اور ان میں سے بعض مثلاً اسود عنسی (جو بقول حضرت عروہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات سے ایک دن ایک رات قبل مارا گیا اور بذریعہ وحی آپ کو اس کے قتل کی خبر دی گئی) آپ کے دور میں ختم بھی ہو گئے لیکن ان کے خلاف اصل معرکے عہد صدیقی ہی میں ہوئے۔

(1) اسود عنسی سؤد اللہ وجھہ : جب اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت فیروز دیلمی کو اس کے قتل کے لیے یمن روانہ فرمایا تھا اور وہ ذلت کے ساتھ مارا گیا۔ شاعر عبدالرحمٰن شامی نے درج ذیل اشعار میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے

وقال رسول اللہ سیرو لقتلہ
علیٰ خبر موعود و اسعد السعد

آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ’اس کے قتل کے لیے جاؤ اور اچھے وعدے اور خوش نصیبی کی خبر دی۔‘

فسرنا الیہ فی فوارس بہمۃ
علیٰ حین امر من وصاۃ محمد

چنانچہ ہم چند سواروں کے ہمراہ اس کے قتل کے لیے روانہ ہو گئے‘ آپ کے حکم و وصیت کی تعمیل کے لیے بعض مؤرخین مثلاً طبری و ابن اثیر کی تحقیق کے مطابق اسود عنسی کی جماعت میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا اور اپنے ہی ایک ساتھی قیس بن مکشوح کے ہاتھوں حالت نشہ میں مارا گیا۔

اس کا نام عبہلہ بن کعب تھا چونکہ چہرہ چھپا کر چلتا تھا اس لیے اسود ذوالخمار کے نام سے مشہور ہو گیا تھا۔ خمار عورتوں کی اوڑھنی کو کہتے ہیں۔ پوشیدہ شئی کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی چھپے چہرے والا اس کے پاس کینق وشقیق نامی دو مسخر شیطان تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یمن کے عامل باذان کا جب انتقال ہوا تو ان شیطانوں یا کسی نے باذان کے انتقال کی خبر دی تو اس نے یمن کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور باذان کی بیوہ مرزبانہ سے شادی کر لی۔ مرزبانہ دل سے

اس شادی پر راضی نہ تھی اور کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

(2) طلیحہ بن خویلد

علیہ وسلم کے آخری دور میں ضرار بن الازور کو اس کی سرکو صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات طلیحہ اسدی نے اس فرصت کو ملا لیا اور نجد کے چشمے پر اپنا ک مقابلہ کی تیاری کرنے لگا۔

حضرت ابو بکر صد گیارہ نامور بہادروں اور د نشانی ایک ایک جھنڈا دیا اور

نجد و بطاح کی طرف

کرنے کے لیے حضرموت

طرف

صفحہ ٩٧

اس شادی پر راضی نہ تھی اور بالآخر حضرت فیروز دیلمیؓ کی مدد سے اسود عنسی سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

علیہ وسلم کے آخری دور میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ضرار بن الازور کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا مگر ابھی یہ عسکری مہم ختم نہ ہوئی تھی کہ حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مشہور ہوئی اور حضرت ضرارؓ واپس مدینہ تشریف لے آئے۔ طلیحہ اسدی نے اس فرصت کو غنیمت جانا اور غطفان، ہوازن، بنو طے وغیرہ متعدد قبائل کو اپنے ساتھ ملا لیا اور نجد کے بزاخہ پر اپنا کیمپ قائم کر کے ایک بہت بڑی جمعیت اکٹھا کر لی اور مسلمانوں سے مقابلہ کی تیاری کرنے لگا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملک کی اندرونی گڑبڑ دُور کرنے کے لیے گیارہ نامور بہادروں اور دانش وروں کا انتخاب فرمایا۔ گیارہ جھنڈے تیار کرائے، ہر ایک کو بطور نشانی ایک ایک جھنڈا دیا اور ان کو درج ذیل مختلف جہتوں کی طرف روانہ فرمایا:

نجد و بطاح کی طرف

کرنے کے لیے حضرموت کی طرف

طرف

صفحہ ٩٨

ماہ جمادی الاول 11ھ میں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد) یہ حضرات مدینہ منورہ سے اپنے اپنے مشن پر روانہ ہوئے۔

حضرت خالد بن ولید کی ڈیوٹی اوّلاً اسی مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد اسدی کی سرکوبی کے لیے لگی تھی۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے وہ بزاخہ (نجد) کی طرف روانہ ہوئے۔ حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدیؓ بن حاتم جو پہلے ہی اپنے قبیلے طے کے شریروں کو سمجھانے کے بعد اپنے کامیاب مشن کے بعد لوٹ رہے تھے وہ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ حضرت خالد بن ولید سے آ ملے اور اس طرح اس مدعی نبوت پر زبردست حملہ ہوا اس کی فوج کے متعدد سپاہی مارے گئے بہت سے بھاگ گئے اور کچھ گرفتار ہوئے۔ خود طلیحہ اپنی بیوی کے ساتھ شام کی طرف بھاگ گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں مدینہ واپس آیا اور آپ کے ہاتھ پر دوبارہ مسلمان ہوا۔

(3) مسیلمہ کذاب: 9ھ اور 10ھ میں اہم مذاکرات کے لیے ملک کے مختلف حصوں اور بیرونی ممالک سے جو وفود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے ان میں وفد بنی حنیفہ کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ اس میں مدعی نبوت مسیلمہ کذاب بھی شامل تھا۔ گو 9ھ میں جب وہ وفد کے ساتھ مدینہ آیا ابھی تک اس نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا جو اس وفد کے ناکام مذاکرات کے بعد کیا۔ یہ وفد 17 افراد پر مشتمل تھا 16 افراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر مشرف بہ اسلام ہوئے جبکہ مسیلمہ تکبر کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دارِ بنتِ الحارث اس کے پاس تشریف لے گئے جہاں مدینہ میں اس کا قیام تھا اور مسیلمہ کی بیوی کیسہ بنتِ الحارث بن کریز کا گھر تھا جہاں مسیلمہ آ کر ٹھہرا تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اسلام کے لیے مسیلمہ کے پاس آئے تو خطیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ آپ کے ہمراہ تھے آپؐ نے جب اسے دعوتِ اسلام دی تو وہ کہنے لگا:

ان شئت خليت بيننا وبين الامر ثم اگر آپ چاہیں تو آپ ہمارے اور اس نبوت
جعلته لنا بعدک۔ کے درمیان حائل نہ ہوں پھر اپنے بعد یہ نبوت
ہمیں سونپ دیں۔

یعنی جب تک آپ زندہ ہیں آپ نبی اور آپؐ کی آنکھیں بند ہونے کے بعد میں نبی اور آپؐ کا خلیفہ۔ یہ مسئلہ آپ کے اور میرے درمیان کیوں حائل ہو کیوں نہ ہمارا اور آپؐ کا سمجھوتہ ہو جائے۔ بخاری شریف میں ہے:

صفحہ ٩٩

وفى يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قضيب فوقف عليه فقال له النبى صلى الله عليه وسلم لو سألتنى هذا القضيب ما اعطيتكه وفى رواية اخرى ولن تعدو امر الله فيك ولئن ادبرت ليعقرنك الله وانى لاراك الذى اريت فيه ما رأيت.

اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپ نے فرمایا تو اگر مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں تجھے وہ بھی نہ دوں گا (اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا): اور تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے تو اس سے ہرگز تجاوز نہ کر سکے گا اگر تو نے میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دیں گے اور میں سمجھتا ہوں تو وہی ہے جو خواب میں مجھے دکھایا گیا ہے۔

نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد اس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو درج ذیل خط بھیجا:

من مسيلمه رسول الله الى محمد رسول الله اما بعد فاني قد اشركت معك فى الامر و ان لنا نصف الارض ولقريش نصف ولكن قريشا لا ينصفون والسلام.

رسول اللہ مسیلمہ کی جانب سے رسول اللہ محمد کی طرف‘ اما بعد۔ میں اس کام میں آپ کے ساتھ شریک ہوتا ہوں کہ نصف زمین ہماری اور نصف قریش کی لیکن قریش انصاف نہیں کرتے‘ والسلام

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس خط کا درج ذیل جواب لکھوایا:

من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب اما بعد فالسلام على من اتبع الهدى فان الارض لله يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين.

محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب (بہت جھوٹے) کی طرف۔ اما بعد سلام اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے۔ بلاشبہ زمین اللہ کی ہے‘ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا کر دے اور اچھا انجام پرہیز کرنے والوں کا ہے۔

اس طرح گویا اوّلاً مسیلمہ کذاب نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ آپ اپنی زندگی میں نبی رہیں‘ بعد میں یہ چیز مجھے دے جائیں یا پھر ہم دونوں زمین کو آدھا آدھا بانٹ لیں۔

صفحہ ١٠٠

حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ جواب ملنے کے بعد مسیلمہ کو اپنی مقصد برآری کے لیے جنگ کی تیاریوں کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہ سوجھی اور اس نے باقاعدہ جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں ادھر حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پیشتر آخری کوشش کے طور پر مسیلمہ ہی کے قبیلے بنو حنیفہ کے ایک شخص رجال بن عنفوہ کو جس نے یمامہ سے منتقل ہو کر مدینہ کی سکونت اختیار کر لی تھی‘ مسیلمہ کے پاس سمجھانے اور نصیحت کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ شخص جب یمامہ پہنچا تو بجائے مسیلمہ کو سمجھانے کے خود مسیلمہ کے ساتھ مل گیا اور اس طرح مسیلمہ کی طاقت روز بروز بڑھتی رہی اور اس دوران میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاندھوں پر حکومت کی بھاری ذمہ داری آ پڑی۔ آپ نے مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے ابتداءً حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی جہل کو بھیجا اور پھر حضرت شرحبیل بن حسنہ کو ان کی کمک کے لیے روانہ کیا۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسیلمہ پر حملہ کرنے میں ذرا جلدی کی۔ وہ حضرت شرحبیل کے پہنچنے سے پہلے ہی حملہ آور ہو گئے اور شکست کھائی۔ ادھر حضرت خالد بن ولید مقام بطاح میں اپنی مہم سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ واپس آئے تو حضرت صدیق اکبر نے حضرت خالد بن ولید کو مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا۔ مسیلمہ کی جنگی تیاری کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے ساتھ صرف قبیلہ ربیعہ کے 40 ہزار جنگجو تھے اور کئی دیگر قبائل کے ہزاروں لوگ بھی اس کے ساتھ جمع ہو گئے تھے جبکہ حضرت خالد بن ولید کا لشکر صرف 13 ہزار افراد پر مشتمل تھا جو لوگ مسیلمہ کذاب کو جھوٹا سمجھتے تھے وہ بھی محض قومی و قبائلی عصبیت کی بناء پر مسیلمہ کے ساتھ ہو گئے تھے۔

حضرت خالد بن ولید کی فوجیں جب یمامہ کے قریب پہنچیں تو آپ نے فوج کے ایک دستے کو مقدمۃ الجیش کے طور پر پیش قدمی کا حکم دیا۔ مسیلمہ پہلے ہی مجاعہ بن مرارہ کی سرکردگی میں 60 آدمیوں کا ایک دستہ بنو تمیم پر شب خون مارنے کے لیے بھیج چکا تھا۔ اسلامی فوج سے اس دستہ کا ٹکراؤ ہوا اور یہ سب مرتد اسلامی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے اور مجاعہ گرفتار ہوا اب مسلمانوں کو مسیلمہ کی اصل فوج سے نبرد آزما ہونا تھا۔ مسیلمہ نے اسلامی فوج پر زبردست حملہ کیا لیکن مسلمان اس پامردی سے لڑے کہ مسیلمہ کی فوجوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ بھاگے۔ مسیلمہ کی فوج کے دو سپہ سالار تھے‘ رجال بن عنفوہ اور محکم بن طفیل۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محکم بن طفیل کو قتل کیا اب مسیلمہ کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسیلمہ کی فوج قریب ہی ایک قلعہ نما باغ (حدیقۃ الرحمٰن) میں تھی‘ مسیلمہ

صفحہ ١٠١

فرار ہونے کی نیت سے اس باغ کے دروازہ کے باہر جانا چاہتا تھا کہ حضرت وحشی (جنہوں نے حالت کفر میں غزوہ احد میں حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا، بعد میں وہ اسلام لائے تھے۔ وہ اس دروازے کے قریب موجود تھے انہوں) نے مسیلمہ کو اس زور سے نیزہ کھینچ کر مارا کہ نیزہ مسیلمہ کی زرہ کو پار کرتا ہوا مسیلمہ کے سینے کے پار ہو گیا اور اس طرح مسیلمہ واصل جہنم ہوا اور حضرت وحشی پر حضرت حمزہ کو شہید کرنے کا جو بڑا دھبہ لگا ہوا تھا، کسی قدر کم ہو گیا۔

مسیلمہ کذاب کے خلاف مسلمانوں کی یہ جنگ جو تاریخ میں جنگ یمامہ کے نام سے مشہور ہے ماہ ذی الحجہ 11ھ میں ہوئی اور اس کی شدت خون ریزی اور جانی نقصان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں مسیلمہ کذاب کی فوج کے 70 ہزار آدمی مارے گئے جبکہ ایک ہزار سے زائد صحابہ و تابعین شہید ہوئے جن میں خطیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے علمبردار حضرت ثابت بن قیس بھی شامل تھے وہ 9 ھ میں جب وفد بنو حنیفہ مذاکرات کے لیے مدینہ آیا تھا تو وہ مسیلمہ سے بات کرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے اور جب مسیلمہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اوٹ پٹانگ بات شروع کی تو بقیہ تفصیلی گفتگو کے لیے آپ نے اپنی طرف سے انہیں نامزد کیا تھا کہ اے مسیلمہ اب میری طرف سے باقی بات تم سے یہ ثابت بن قیس کریں گے۔

4۔ سجاح بنت الحارث بن سوید : اس زمانے میں عورتوں کو بھی نبوت کے دعویٰ کا سودا سمایا چنانچہ بنی تغلب کی اس عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور مدینے پر چڑھائی کے لیے چار ہزار کا لشکر جمع کر لیا اور اس مذموم مقصد میں بعض قبائل کے سردار مثلاً بنی تمیم کا سردار عقبہ بنی ہلال، بنو تغلب کا سردار ہذیل بن عمران اور بنی شیبان کا سلیل بن قیس بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔ اس نے اپنے مذہب میں اس سہولت کا اعلان کر دیا کہ نمازیں تو ضرور پڑھو مگر زنا کرنا، شراب پینا اور سور کھانا جائز ہے۔ اس ترغیب سے بہت سے عیسائی بھی اس کے پیروکار بن گئے چونکہ مسیلمہ کذاب اور سجاح کا مدینہ پر حملہ کرنا مشترکہ مقصد تھا لہٰذا اس نے مسیلمہ کذاب سے شادی کر لی اور مہر یہ قرار پایا کہ مسیلمہ نے آدھی پیغمبری اپنے پاس رکھی اور آدھی سجاح کو دے دی۔ نیز مسیلمہ نے سجاح کے پیروکاروں پر عشا اور فجر کی دو مشکل نمازیں معاف کر دیں مگر یہ شادی زیادہ دن نہ چل سکی۔ صرف تین دن دونوں کا ساتھ رہا اور پھر جیسے حضرت خالد بن ولید کی فوج سجاح کی فوج کے بالمقابل ہوئی، سجاح کے سب ساتھی اس کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے اور یہ بھی بھاگی اور بنی تغلب کے مقام جزیرہ پہنچ کر یہیں روپوش ہو گئی۔

صفحہ ١٠٢

5- فازازی: آٹھویں صدی ہجری کے امام حدیث علامہ شاطبیؒ نے اپنی کتاب ”الاعتصام“ میں اس جھوٹے نبی سے متعلق کچھ تفصیل لکھی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ اسے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بہت سے ایسے امور دکھلائے جو کرامت وخارق عادت سمجھے جاتے ہیں۔ عوام ہر زمانے میں عجائب پرست ہوتے ہیں اس وقت بھی ایک جماعت فازازی کے ساتھ ہو گئی۔ یہ بھی مرزا قادیانی کی طرح اتباع قرآن کا مدعی تھا اس لیے اس نے آیت خاتم النبیین میں ایسی تاویلات شروع کیں جن کے ذریعے کسی نبی کی گنجائش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکل آئے مگر بااتفاق علماء وقت اس کا دعویٰ اور تاویلات سب کفر و الحاد قرار دی گئیں اور اس زمانے کے امام مقتدر شیخ المشائخ ابو جعفر بن زبیرؒ کے فتویٰ پر اس کو قتل کر دیا گیا ۔“

6- مرزا غلام احمد قادیانی: انیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر ہند و پاک میں دعوئی نبوت کا یہ فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں اس مدعیِ نبوت کے گھرانے نے خصوصاً مرزا غلام احمد کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ نے مسلمانوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے سلسلے میں انگریزی حکومت کی بھر پور مدد کی تھی۔ انگریزی حکومت کی یہ ایک سیاسی ضرورت تھی کہ ہندوستانی مسلمانوں کے جذبۂ حریت کو کچلنے اور ان میں جہادی روح ختم کرنے کے لیے اس خاندان کو استعمال کیا جائے اور دین میں ایک نیا شوشہ چھوڑ کر یہ مذموم مقصد پورا کیا جائے ۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بھر پور طور پر یہ حربہ استعمال کیا۔

حضرات فقہاء کرامؒ نے کافروں کی تین قسمیں بیان کی ہیں: (1) مطلق کافر (2) منافق کافر (3) زندیق کافر

مطلق کافر:

ایمانِ مجمل و ایمانِ مفصل میں جن سات بنیادی عقائد و افکار پر ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے، وہ ان کا صراحتاً یا اشارتاً انکار کرتا ہے یا صراحتاً یا اشارتاً ان میں شک کا اظہار کرتا ہے اور یا ایسے افعال کا مرتکب ہوتا ہے جن سے صراحتاً یا اشارتاً انکار سمجھا جائے۔

منافق کافر:

وہ زبان سے تو ان ایمانیات کا اقرار کرتا ہے مگر دل سے انکار کرتا ہے۔ اس کا ظاہری

صفحہ ١٠٣

اقرار درحقیقت دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

زندیق کافر:

وہ دین میں تحریف کا مرتکب ہوتا ہے۔ آیات و احادیث کی اپنی مرضی اور اپنے مذموم مقاصد کے اعتبار سے تشریح کرتا اور سلف صالحین کی تعبیرات کو نظر انداز کرتا ہے اپنے کفر پر اسلام کا لیبل لگاتا اور بدبودار شراب کو آب شیریں کہہ کر فروخت کرتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کافروں کے اس تیسرے زمرے میں آتا ہے۔

العالم الاسلامی کے تحت مکہ مکرمہ میں 6 تا 10 اپریل 1974ء 40 مسلمان تنظیموں کا اجلاس ہوا جنہوں نے متفقہ طور پر قادیانیت کو اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک قرار دیا۔

لیے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وجود میں آئی اور علمائے حق اس تحریک کے خلاف میدانِ عمل میں آ گئے۔

مظاہرے ہوئے۔ 29 مئی 1974ء کو قادیانیوں نے ربوہ ریلوے سٹیشن پر مرزا طاہر کی سربراہی میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر لاٹھیوں اور سریوں سے جو ظلم کیا تھا وہ مارتے جاتے اور کہتے جاتے اور ”ختم نبوت کے نعرے لگاؤ“ اس پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت وقت کو مجبور کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کی گئی۔

ہوا۔

حکومت وقت اور خصوصاً اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ، اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار وغیرہ نے علمائے حق اور جمہور کے اس جائز دینی مطالبے میں ان کا ساتھ دیا۔ قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اس ساری جدوجہد میں انتہائی کردار ادا کیا۔ ارکانِ قومی اسمبلی کی اس قرارداد سے بہت پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر و

صفحہ ١٠٤

مفسد قرار دیا تھا اور اس ساری جدوجہد کے لیے فضا سازگار کی تھی۔ مثلاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، گولڑہ شریف کے سجادہ نشین حضرت پیر مہر علی شاہؒ، حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مفتی زین العابدینؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا عبد الستار خان نیازیؒ، مولانا ابو الحسناتؒ وغیرہ وہ پوری ملتِ اسلامیہ کے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک عظیم فتنے کو پھیلنے سے روکا۔ ان کے علاوہ جن علماء قائدین نے قومی اسمبلی کے اندر اور باہر اس سلسلے میں محنتیں کیں، انہوں نے بھی دینی حمیت کا مظاہرہ کیا اور مسلمانانِ پاکستان کے دل جیتے ۔ مثلاً مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) مولانا عبدالمصطفیٰ الازہریؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مفتی محمد جمیل خانؒ، مولانا سید محمد شریف جالندھریؒ، پروفیسر عبدالغفورؒ، چودھری ظہور الٰہیؒ، عبدالحمید جتوئیؒ، محمود اعظم فاروقیؒ، سردار شوکت حیات خانؒ وغیرہ متعدد علماء سیاسی رہبران و ممبرانِ اسمبلی۔

مرزا غلام احمد قادیانی، مسیلمہ کذاب کی طرح قتل تو نہ ہوا اور 26 مئی 1908ء کو اپنی موت مرا لیکن علماء حق نے (جزاهم الله احسن الجزاء عن جميع المسلمين) اس کے دجل و فریب کو خوب خوب چاک کیا اور اس طرح عامۃ المسلمین اس کے عظیم شر سے محفوظ رہے۔

والحمدلله على ذالك.

وہ دن دُور نہیں جب خوارج و دیگر باطل فرقوں کی طرح یہ فرقہ بھی تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گا۔ (انشاء اللہ)۔

قبر : جب مرزا بشیر الدین کی حالت زیادہ بگڑ گئی تو اسے ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ کمرے میں پاخانہ سے فارغ ہونے کے بعد وہ پاخانہ کا کچھ حصہ کھا جاتا اور کچھ حصہ منہ پہ مل لیتا۔ کمرے میں چیختا چلاتا اور ڈراؤنی آوازیں نکالتا۔ کچھ دنوں کے بعد اس نے چیخ چیخ کر کہنا شروع کر دیا کہ مجھے میرے باپ کے پاس قادیان لے کر چلو۔ بڑے قادیانیوں نے اس کے شور سے تنگ آ کر ایک رات جب وہ سو رہا تھا، اس کے کمرے میں مٹی کی ایک ڈھیری بنا دی اور اسے کہا کہ یہ تیرے باپ کی قبر ہے۔ وہ قبر پہ بچھ جاتا۔ کبھی قبر کی مٹی اپنے سر میں ڈالتا اور کبھی منہ میں ڈالتا۔ آخر ایک دن سر ظفر اللہ کے کہنے پر یہ قبر ہٹا دی گئی۔

صفحہ ١٠٥

نگاہِ اوّل

قادیانیوں کی قانونی حیثیت

حامداً و مصلیاً و مسلماً۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو جب سے غیر مسلم اقلیت قرار پائے اس وقت سے یہ سوال کئی ذہنوں میں ابھر رہا تھا کہ یہ کس نوع کے کافر ہیں اور غیر مسلموں کی کس صف میں آتے ہیں۔ مطلق غیر مسلم تو ہیں نہیں کہ دعویٰ اسلام کرتے ہیں اور بظاہر قرآن کریم کو بھی مانتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بھی اقرار کرتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں علماء محققین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ یہ لوگ ملحدین کی صف میں آتے ہیں۔ ملحد غیر مسلموں کی وہ قسم ہے جو زبان سے تو اسلام کا اظہار کریں اور بعض قطعیات اسلام کو ایسے معنی پہنائیں جو امت کے مسلسل تسلیم شدہ معنی سے ٹکراتے ہوں اور اسطرح اسلام کا انکار ہونے لگے جو مسلمانوں میں پورے اجماع اور اتفاق سے برابر تسلیم ہوتا آیا ہے۔ یہ انکار نئے سرے سے کیا جائے تو ایسا ملحد مرتد بھی ہو گا اور جس نے یہ الحادی نظریات پیدائشی طور پر پائے ہوں وہ ملحد اور زندیق سمجھا جائے گا۔ فقہ اسلامی میں مرتد ملحد اور زندیق بہت متقارب الفاظ ہیں۔ اور ان کے احکام میں بہت معمولی سا فرق ہے۔

ماہنامہ الرشید ساہیوال میں مسلسل ایسے خطوط آ رہے تھے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت کے مذہبی حقوق کیا ہیں اس پر کوئی مضمون آنا چاہیے۔ ہم نے اس سلسلہ میں ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب (پی۔ ایچ۔ ڈی) کی طرف رجوع کیا۔ ہم ان کے صمیم قلب شکر گزار ہیں کہ آپ نے گوناگوں مصروفیات کے باوجود مفصل جواب رقم فرمایا۔ یہ مضمون بہت سے ان شکوک و شبہات کا ازالہ کرے گا جو اس سلسلہ میں بعض ذہنوں میں ابھر رہے تھے۔ علامہ صاحب نے اس مضمون میں جا بجا قرآن کریم کی آیات سے استدلال کیا ہے اور بہت سے موضوعات پر

صفحہ ١٠٦

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سے سند لی ہے جن فقہا کی تصریحات پیش کی ہیں، وہ سب اپنے اپنے وقت کے جبال علم تھے۔ جن قادیانی عمائد کی عبارتیں ان کے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ وہ سب ان کی معتبر تحریرات ہیں۔ مضمون فکری اور عملی پہلو سے بھی پورا اطمینان بخش ہے۔ اسی مناسبت سے ہم یہ پورا مضمون ایک ہی اشاعت میں دے رہے ہیں تا کہ اوقع فی النفس اور اقرب الی الفہم رہے۔ مناسب ہوگا کہ اسے انگریزی اور عربی میں لکھ کر پورے یورپین اور عرب ممالک میں پھیلایا جائے امید ہے کہ یہ مضمون بہت سے بیمار ذہنوں کے لیے نسخہ شفا ہوگا۔

طاہر رشیدی

مرزا قادیانی کو آتش جہنم میں دیکھا ٭ جناب جاوید اختر رضوی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں بھویہ ضلع گجرات میں ایک قادیانی خاندان رہتا ہے۔ اس خاندان کا ایک نوجوان، جو آنکھوں سے نابینا ہے اور گاؤں والے نابینا ہونے کی وجہ سے اسے حافظ کے نام سے پکارتے ہیں، ایک رات اس نابینا نوجوان کو خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا دادا آتش جہنم میں بری طرح جل بھن رہا ہے اور بری طرح چلا رہا ہے اور اپنے نابینا پوتے کو کہہ رہا ہے کہ میرے بیٹے یعنی اپنے باپ سے کہو کہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لو ورنہ تمہارا انجام بھی مجھ سا ہوگا۔ اس نے یہ خواب اپنے والد صاحب کو سنایا۔ اسے یہ خواب مسلسل تین دن تک آتا رہا اور وہ اپنے باپ کو سناتا رہا۔ لیکن باپ کسی معبر سے تعبیریں پوچھنے کی باتیں کرتا رہا۔ آخر وہ نابینا نوجوان قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے اس نے قرآن پاک بھی حفظ کر لیا ہے۔ پہلے جس نوجوان کو لوگ نابینا ہونے کی وجہ سے حافظ کہتے تھے، اب اسے قرآن پاک کا حافظ ہونے کی وجہ سے حافظ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ استقامت عنایت فرمائے۔ (آمین)

صفحہ ١٠٧

قادیانیوں کی قانونی حیثیت

علامہ ڈاکٹر خالد محمود (پی۔ایچ۔ڈی)

الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ

ایک اسلامی سلطنت میں قادیانی غیر مسلم اقلیت کو کیا کیا مذہبی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں؟ اور انھیں کس حد تک مذہبی آزادی دی جاسکتی ہے؟

جواب: اسلامی مملکت میں غیر مسلم اقلیتوں کو اس حد تک مذہبی آزادی دی جاسکتی ہے کہ اس سے مسلمانوں کے اپنے دینی اور مذہبی حقوق میں کسی طرح سے مداخلت نہ ہوتی ہو اور ان کی داخلی خود مختاری کسی طرح مجروح نہ ہو لیکن اگر کسی اقلیت کی مذہبی آزادی سے خود مسلمانوں کے مذہبی حقوق تلف ہوتے ہوں تو مسلمان سربراہ کا فرض ہے کہ مسلمانوں کے دینی حقوق کی پوری حفاظت کرے۔ اسلامی مملکت میں غیر مسلم اقلیتوں کے رسوم و اعمال اسی حد تک چلنے دیے جاسکتے ہیں کہ اسلام کی اپنی عظمت وشوکت کسی طرح پامال ہونے نہ پائے۔ سربراہ مملکت ان پر کچھ اس طرح کی پابندیاں لگائے کہ وہاں کی مسلم آبادی اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے ان اقلیتوں کی مداخلت سے پوری طرح محفوظ رہ سکے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت کے جائز مذہبی حقوق کا تعین کرنے سے پہلے خود مسلمانوں کے دینی حقوق کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی پہلو سے کوئی غیر مسلم اقلیت ان کے حقوق میں مداخلت کرنے لگے تو ان امور میں کسی غیر مسلم اقلیت کو مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں دخل انداز نہ ہونے دیا جائے گا اور انھیں ان باتوں سے قانوناً منع کیا جائے گا۔

مذہبی آزادی کی حقیقت

اسلام کی رو سے دنیا میں ہر شخص کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے

صفحہ ١٠٨

آخرت کی جزا و سزا صرف حق پر مبنی ہوگی۔ قرآن کریم کی رو سے کسی کو جبراً مسلمان بنانے کی اجازت نہیں۔ صداقت اسلام کے دروازے کھلے ہیں اور حق باطل سے ممتاز ہو چکا ہے۔ مذہبی آزادی کی حقیقت یہی ہے کہ اسلام زبردستی دوسروں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی تعلیم نہیں دیتا لیکن مسلمانوں کو کوئی اور مذہب اختیار کرنے کا قطعاً کوئی حق حاصل نہیں۔ اسلام دین حق سے پھرنے کی کسی مسلمان کو اجازت نہیں دیتا اسے ہر کوشش کے ساتھ دائرہ اسلام میں پابند کرتا ہے۔ یہ اکراہ کسی کو دین میں لانے کے لیے نہیں اسے دین میں رکھنے کے لیے ہے جو اسلام کا ایک اندرونی معاملہ ہے۔ مذہبی آزادی کا یہ مفہوم مرزا غلام احمد نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے۔

”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان بنانے کے لیے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ تلوار کھینچی اور نہ دین میں داخل کرنے کے لیے کسی کے ایک بال کو بھی نقصان پہنچایا بلکہ وہ تمام نبوی لڑائیاں اور آنجناب کے صحابہ کرام کے جنگ جو اس وقت کیے گئے یا تو اس واسطے ان کی ضرورت پڑی کہ ملک میں امن قائم کیا جائے اور جو لوگ اسلام کو اس کے پھیلنے سے روکتے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں جو مسلمان ہوں ان کو کمزور کر دیا جائے۔“ (تریاق القلوب ص ١٠٣)

اسلام میں آئے ہوئے لوگوں کو ضابطہ اسلام کا پابند کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں یہ دھمکی بھی دی ظاہر ہے کہ یہ اکراہ نہیں دین اسلام کا ایک اپنا ضابطہ کار ہے۔

لَقَدْ هَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ رَجُلاً يُصَلِّى بِالنَّاسِ ثُمَّ اُحَرِقَ عَلى رِجالٍ يتخلفون عن الجمعة بيوتهم . (صحیح مسلم ج ١ ص ٢٣٢)

ترجمہ: میں نے ارادہ کیا کہ کسی اور شخص کو امام مقرر کروں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر ان لوگوں کے گھروں کو جو جماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں آگ لگا دوں۔“

بے شک یہ ایک بڑی دھمکی ہے اور مسلمانوں کو دین پر رکھنے کے لیے ہے یہ اکراہ ممنوع نہیں اور اس کے جواب میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لا اکراہ فی الدین دین میں اکراہ نہیں، یہ سختی کہاں سے آگئی!

صفحہ ١٠٩

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

مروا اولادكم بالصلوة وهم ابناء سبع سنين و اضربوهم

عليها وهم ابناء عشر سنين. (مشکوۃ ص ٥٨ سنن ابی داؤد )

ترجمہ: اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پر لگاؤ اور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں مار کر بھی نماز پڑھاؤ۔“

نماز کے لیے یہ مارنا اکراہ ممنوع نہیں۔ دین اسلام کا اپنا ضابطہ کار اور اس کا ایک اپنا دائرہ تربیت ہے۔

جس طرح نماز عبادت ہے زکوٰۃ بھی ایک عبادت ہے۔ تارک نماز کو دھمکی دے کر نماز پر لانا یا قوم کو دھمکی دے کر ان سے جبراً زکوٰۃ وصول کرنا ہرگز اکراہ ممنوع نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوٰۃ اور مانعین زکوٰۃ دونوں کے خلاف یہ عمل فرمایا۔

صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔

والله لا قاتلن من فرق بين الصلوة والزكوة فان الزكوة حق المال والله لومنعونى عناقا كانوا يردونها الى رسول الله

صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها. (مشکوٰۃ ص ١٥٧)

ترجمہ: خدا کی قسم میں ان لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق ڈالتے ہیں۔ بیشک زکوٰۃ حق مال ہے (جس طرح نماز حق بدن ہے ) بخدا اگر یہ لوگ ایک بھیڑ بھی جو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے نہ دیں گے تو میں اسے روکنے پر ان سے جہاد کروں گا۔“

یہ اکراہ ممنوع نہیں دین اسلام کا داخلی دائرہ کار ہے لوگوں کو اسلام پر رکھنے کا ایک قدم ہے اور بیشک سلطنت اسلامی کو اس کا پورا حق حاصل ہے۔

نماز کے لیے مسجد میں اذان دینا فرض نہیں لیکن شعائر اسلام میں سے ضرور ہے۔ اگر کسی علاقے میں پوری کی پوری قوم اذان نہ دینے پر اتفاق کرلے تو اسلامی سربراہ کو ان سے جہاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمدؒ کہتے ہیں کہ اگر کسی علاقے کے

صفحہ ١١٠

لوگ اذان کہنا چھوڑ دیں تو ہم اس پر ان سے جہاد کریں گے۔ ”ولهذا قال محمد لو اجتمع اهل بلد علی ترکہ قاتلناهم علیہ“ (البحر الرائق ص ٢٦٩ ج١) یہ اکراہ ممنوع نہیں، جو شخص اسلام کے اپنے دائرہ کار اور سلطنت اسلام کی داخلی خود مختاری پر کچھ غور کرے تو سینکڑوں مثالیں سامنے آئیں گی جن میں مسلمانوں کو اسلام کے ضابطے پر پوری سختی سے پابند کیا گیا ہے۔ ان میں دھمکیاں بھی ہیں اور سزائیں بھی اور معاشرے پر اخلاقی دباؤ بھی۔ ایک زندہ دین کی زندگی کے یہ نشان ہیں۔ انھیں اکراہ للدین تو کہا جا سکتا ہے اکراہ فی الدین ہرگز نہیں۔ ثانی الذکر کا حاصل صرف یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو جبراً اسلام میں نہیں لایا جا سکتا یہ منع ہے اسلام میں آئے ہوئے لوگوں کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ جو چاہیں کہتے اور کرتے رہیں۔ انھیں ضابطہ اسلام کا پابند کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر اکراہ کیا جا رہا ہے۔

علامہ شعرانی لکھتے ہیں۔ اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔ وَأَجْمَعُوا على انه اذا اتفق اهل بلدٍ علی ترک الاذان والاقامة قوتلوا لانه من شعائر الاسلام۔ (رحمۃ الامہ فی

اختلاف الائمہ ص ٣٣)

اسے ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا یہ عقیدہ بنا لے کہ وہ خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے تو کیا اسے مذہب یا آزادی کا لیبل لگا کر آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟ یہ اسلام اور اسلامی معاشرہ اسے پکڑے گا؟

مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس موقع پر مذہبی آزادی کا سہارا نہیں لیا۔ مرزا صاحب نے انگریزی سلطنت میں اس کا منصفانہ فیصلہ یہ پیش کیا تھا۔ ”اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا ہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی ہے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مہربان گورنمنٹ اس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی ہے تا کہ اس کے دماغ کی اصلاح ہو اور اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی ہے جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت سے لوگ جمع ہیں۔ (مکتوبات

صفحہ ١١١

(احمدیہ ج ٣ ص ٢١ مطبوعہ قادیان)

مرزا صاحب نے ایسے شخص کو پاگل خانے بھجوانے کی جو رائے بتائی ہے۔ یہ ہرگز اکراہ ممنوع نہیں۔ اسلامی سلطنت تو درکنار اسے انگریزی سلطنت بھی مذہبی آزادی کا نام نہ دے گی۔ کوئی مسلمان اگر اس قسم کی باتوں پر آ جائے تو سلطنت اسلام کا اس پر کوئی سختی کرنا ہرگز اکراہ ممنوع نہیں نہ یہ اقدام لا اکراہ فی الدین کے خلاف سمجھا جائے گا۔

قادیانی مبلغین نے اپنی اپیل میں اس آیت کو بالکل بے محل پیش کیا ہے کسی معتبر تفسیر میں اس کے یہ معنی نہیں لیے گئے کہ مسلمان کہلانے کے بعد مسلمان جو عقیدہ چاہے رکھے اور اس پر اسلامی سربراہ یا اسلامی معاشرہ کوئی پابندی نہیں لگا سکتا اور یہ پابندی مذہبی آزادی کے خلاف ہوگی‘ ایسا کہیں نہیں۔

غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی

اسلام اپنی سلطنت میں بسنے والی غیر مسلم اقوام کو پوری مذہبی آزادی دیتا ہے لیکن اس میں یہ بات اصولی ہے کہ ان کی یہ آزادی سلطنت اسلامی کا مروت و احسان ہے۔ جو اسلام کا انسانی حقوق کا ایک چارٹر ہے۔ ان انسانی حقوق پر ان کی مذہبی آزادی مرتب کی گئی ہے سو اگر کوئی غیر مسلم قوم مذہبی آزادی میں اپنی انسانی قدروں کو کھو دے تو پھر ان کی مذہبی آزادی پابندیوں کی جکڑ میں آ جاتی ہے اور یہ کوئی اکراہ نہیں ہے۔

مسلمان دارالحرب میں ہوں تو انھیں جو مذہبی مراعات حاصل ہوں گی وہ اس غیر اسلامی حکومت کا احسان اور ان کا ایک اخلاقی ضابطہ کار ہوگا۔ اسی طرح جو غیر مسلم اقوام اسلامی سلطنت میں رہتی ہیں انھیں جو رعایتیں دی جائیں اور ان سے جو عہد و پیمان باندھے جائیں وہ دارالاسلام کے مسلمانوں کا مروت و احسان ہوگا۔ اسے ان کا کوئی آئینی حق نہ کہیں گے اسی طرح انھیں کسی ایسے کلیدی عہدے پر لے آنا کہ خود مسلمان ان کے دست نگر ہو جائیں درست نہیں ہوگا۔ اس لیے قرآن کریم کی اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا

(النساء پ ٥ آیت ١٤١)

ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں پر ہرگز کوئی غلبے کی راہ نہ دے گا۔“

صفحہ ١١٢

اسلامی سلطنت میں مسلمانوں کے دینی حقوق

اسلامی سلطنت میں مسلمانوں کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہے اور ان پر اپنی پوری اجتماعی قوت سے اپنے دینی حقوق کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ اگر کسی دائرہ عمل میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مذہبی حقوق میں کوئی ٹکراؤ محسوس ہو تو یہ پابندی غیر مسلموں کی بے جا آزادی پر لگے گی۔ سلطنت اسلامی میں مسلمانوں کی دینی شوکت کو کسی پہلو سے مجروح نہ ہونے دیا جائے گا۔ اس کے لیے قرآن وحدیث کی مندرجہ ذیل نصوص سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

النساء آیت ١٤١) ترجمہ: ”اور ہرگز نہ دے گا اللہ کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ کی راہ۔“

آیت ٨) ترجمہ: اور غلبہ تو اللہ اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔

کافروں میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے قریب اہل کتاب ہیں۔ ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح سے رہیں تو ماتحت ہو کر رہیں برابر کی حیثیت سے نہیں۔

قاتلو الذين لا يومنون بالله ولا باليوم الاخر ولا يحرمون ماحرم الله ورسوله ولا يدينون دين الحق من الذين اوتوا الكتاب حتى يعطوا الجزية عن يدوهم صغرون.

(پ١٠ التوبہ آیت ٢٩)

ترجمہ: لڑو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کے ماتحت نہیں چلتے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب یہاں تک کہ وہ ماتحت بن کر ہاتھ سے جزیہ دیں۔

صفحہ ١١٣

حدیث

الاسلام يعلو ولا يعلى عليه.

(نووی شرح مسلم جلد٢ص٣٣)

ترجمہ: اسلام اوپر رہتا ہے اسے نیچے نہیں رکھا جاسکتا۔

امام نووی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں۔

المراد به فضل الاسلام على غيره.

اس سے مراد اسلام کا دوسرے مذاہب سے بڑھ کر رہنا ہے۔

اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ از بس ضروری ہے انھیں ان چار عنوانوں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔

امت کی سالمیت اور اس کا استقلال ہر صورت میں قائم رکھنا ضروری ہے۔

امت کی عملی زندگی اور اس زندگی کے محرکات ہر صورت میں قائم رہنے چاہئیں۔

امت کے ایک ایک فرد کی ہر دینی اور دنیوی فتنے سے حفاظت کی جانی چاہیے۔

امت کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی پوری حفاظت کی جائے۔

ان عنوانات پر ترتیب وار بحث حسب ذیل ہے۔

١۔ وحدت امت کا تحفظ

امت کی وحدت پیغمبر کے گرد قائم ہوتی ہے۔ وحدت امت کا سنگ بنیاد اور مرکز و محور پیغمبر کی شخصیت ہوتی ہے اور امت کے افراد جب تک پیغمبر کی شخصیت اور پیغمبر کے لائے ہوئے دین کے بنیادی عقائد میں جنھیں ضروریات دین کہا جاتا ہے متحد رہیں تو وحدت امت قائم رہتی ہے۔ پیغمبر جس طرح لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اسی طرح اپنے ماننے والوں

صفحہ ١١٤

کی ایک امت بھی قائم کرتے ہیں۔ جب تک اس امت کی وحدت قائم رہے اس پیغمبر کی رسالت کا اثر باقی رہتا ہے اور جب وحدت امت قائم نہ رہے تو رسالت کا اثر جاتا رہتا ہے۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایک امت بنائی اور ان کے دل اپنے فیض محبت سے پاک کیے اور یہ سلسلہ امت اب تک قائم اور باقی ہے اور اسی کو امت مسلمہ کہا جاتا ہے۔ ضروریات دین میں سب مسلمان متحد اور امت واحدہ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی کوئی نہیں اور اس امت کے بعد کوئی امت نہیں۔

اب اگر اس امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں برابر کے شریک ہوں وہ ایک دوسرے کو علی الاعلان اسلام کے بنیادی عقائد سے منحرف بھی قرار دیں اور پھر ایک امت کہلائیں تو ظاہر ہے کہ اس التباس سے امت کا تشخص ختم ہو جائے گا۔ امت اپنے مخصوص معتقدات سے ہی پہچانی جاتی ہے جب انہی میں التباس ہو گیا تو امت کہاں رہی۔ سو افراد امت کو حق پہنچتا ہے کہ جو لوگ ان سے بنیادی حقائق میں منحرف ہو جائیں انھیں اس امت میں شامل نہ رہنے دیں نکال باہر کریں ورنہ وحدت امت کا تحفظ نہ ہو سکے گا۔ اب ان باہر نکلنے والوں کا ہنوز اس امت میں رہنے کا دعویٰ مسلمانوں کے حق وحدت میں مداخلت ہوگی۔ وہ اگر مسلمان کہلانے پر اصرار کریں۔ تو یقیناً مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مخل اور دخل انداز ہوں گے۔

اسلام جب تمام اقلیتوں کو ان کی حدود میں مذہبی آزادی دیتا ہے تو یہ کیسے جائز کر سکتا ہے کہ خود اپنی آزادی میں دوسروں کی مداخلت برداشت کر لے سو قادیانیوں کا اسلام کا نام استعمال کرنے پر اصرار مسلمانوں کی وحدت امت کے حق میں ایک مداخلت بے جا ہے۔ مسلمانوں کا ان سے یہ مطالبہ کہ وہ مسلمان نہ کہلائیں ان کے اوپر بوجھ ڈالنا نہیں خود اپنی ذات کی حفاظت کرنا ہے۔ کوئی امت دوسروں کی خاطر اپنی سالمیت کو مجروح نہیں کرتی۔ قوموں کی سالمیت جن چیزوں سے باقی رہتی ہے انھیں ہی ان کے شعائر کہتے ہیں۔

شعائر امت کا تحفظ

مسلم سوسائٹی جن جگہوں، کاموں اور ناموں سے پہچانی جاتی ہے انھیں شعائر اسلام

صفحہ ١١٥

کہا جاتا ہے یہ اسلام کے دو نشان ہیں جن سے مسلم آبادیاں اور مسلمان لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ جب تک کسی امت کے شعائر محفوظ رہیں اور لوگ اپنے شعائر کا پوری غیرت سے پہرہ دیتے رہیں تو امت کا تشخص باقی رہ سکتا ہے ورنہ نہیں۔ پس ان شعائر میں کسی ایسے طبقے کی مداخلت جو کچھ بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے منحرف ہو چکے ہوں اور مسلم معاشرہ سے وہ باہر بھی کیے گئے ہوں مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہو گی کہ جو لوگ ان میں سے نہیں ہیں خواہ مخواہ ان کے ہاں گھس رہے ہیں۔ یہ شعائر مکانی بھی ہیں اور عملی بھی۔ پھر کچھ شعائر مرتبی بھی ہیں اور امت کی پہچان اور تشخص میں ان سب کا دخل ہے۔ انہی سے امت کا تشخص قائم رہتا ہے اور مسلمان دوسری قوموں میں انہی نشانات سے پہچانے جاتے ہیں۔

مکانی شعائر میں سب سے بڑی چیز کعبہ ہے جو مرکز اسلام ہے۔ پھر کعبہ کی جہت میں بنی ہوئی مسجدیں ہیں جو اللہ کے لیے بنی ہیں۔ عملی شعائر میں اذان اور مرتبی شعائر میں اسلامی القاب کی مثال دی جا سکتی ہے پس اگر کوئی غیر مسلم اقلیت اپنی عبادت کے بلاوے کو اذان کہنے لگے اور اس کے الفاظ بھی وہی مسلمانوں جیسے ہوں اور وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے اور اپنے بانی مذہب کے ساتھیوں کو صحابی اور انھیں بطور طبقہ رضی اللہ عنہ کہے تو اسے اس غیر مسلم اقلیت کی مذہبی آزادی نہ کہا جائے گا بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی بربادی سمجھا جائے گا کہ جن شعائر سے اس امت کا تشخص قائم تھا اب اس میں التباس ڈال دیا گیا ہے اور امت مسلمہ کے اس تشخص کو ضائع کر دیا گیا ہے۔ اب ان امتیازات میں وہ لوگ بھی شریک ہونے لگے ہیں جو یقیناً ان میں سے نہیں ہیں۔

شعائر امت اسلامیہ

شعائر امت میں ہم کعبہ اذان مسجد قرآن کلمہ نماز روزہ حج زکوٰۃ کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں۔ پیشتر اس کے کہ ان کی تفصیل کی جائے یہ بیان کرنا مناسب ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ان تمام شعائر میں مسلمانوں سے خود علیحدہ ہیں۔ اسلام کے بعض بنیادی عقائد میں ان کا مسلمانوں سے منحرف ہونا یہ گو ایک مستقل وجہ کفر تھی لیکن ان کا ان شعائر میں مسلمانوں سے علیحدہ ہونا یہ ان کے اسی کفر کی ایک اور تصدیق ہے۔ آپ شعائر

صفحہ ١١٦

اسلام کے ایک ایک فرد پر ان کے نقطہ نظر کو پڑھتے جائیں اور پھر ان شعائر میں مسلمانوں کے عقیدے کو بھی دیکھیں تو صاف معلوم ہو گا کہ یہ لوگ شعائر اسلام میں مسلمانوں کے ساتھ کسی طرح شریک نہیں۔ اب تعبدی امور میں ان کا اپنے آپ کو مسلمانوں کے ساتھ شریک کرنا محض التباس کے لیے ہے اور اس لیے کہ یہ مسلمانوں کے شعائر نہ رہیں اور یہ کہ امت کی سالمیت باقی نہ رہے۔ ان میں غیر مسلم بھی شریک ہوں۔

کعبہ

مسلمان کعبہ شریف کو تمام روحانی برکتوں کا مرکز سمجھتے ہیں مگر مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے۔

”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ...... کیا مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں“؟

(حقیقۃ الرؤیا، ص ٤٨)

اس کا مطلب اس کے سوا کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ اب ان کے عقیدے میں مکہ معظمہ مرکز برکات نہیں رہا کیا یہ شعائر اسلام کی صریح حرمت ریزی نہیں اور کیا یہ عقیدہ لا تحلوا شعائر اللہ کے خلاف صریح کفر کا ارتکاب نہیں؟ شعائر اللہ کا پہلا نشان تو کعبہ ہے۔

یہ سارا زور مکہ و مدینہ کی بجائے قادیان کی مرکزیت قائم کرنے پر لگ رہا ہے۔ قادیانی اپنی اتحادی تدبیروں سے ایک ایسا دین قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس کی رو سے مسلمانوں کا اسلام محض ایک مردہ دین ٹھہرے۔ ظاہر ہے کہ ان کی یہ کوشش شعائر اسلام کی کھلی بیخ کنی ہے اور اپنے شعائر کی ایک جارحانہ تحریک ہے۔

مکانی شعائر میں سب سے بڑی چیز کعبہ ہے جو مرکز اسلام ہے پھر کعبہ کی جہت میں بنی ہوئی مسجدیں ہیں جو اللہ کے لیے بنی ہیں۔ جب کعبہ کے بارے میں ان کا نظریہ یہ ہے تو اور مسجدوں میں وہ مسلمانوں کے ساتھ کیسے شریک ہو سکتے ہیں؟

مرزا غلام احمد اسی لیے اپنی جماعت کے اس کلی علیحدگی کا قائل تھا اس کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ مرزا غلام احمد سے نقل کرتا ہے۔

”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل

صفحہ ١١٧

میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات‘ رسول کریم‘ قرآن‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

(روزنامہ الفضل ٣٠ جولائی ١٩٣٠ء)

پھر ایک مقام پر لکھتا ہے۔

”تم اپنے امتیازی نشانوں کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ نبی کو مانتے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی‘ غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے کیا خدا نے جو تمھیں نشان دیے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے۔“

”ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا۔ اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرام کے لیے مقرر ہو چکے ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٥٣)

اس میں صریح اقرار ہے کہ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ کسی بات میں شریک نہیں ہو سکتے ان کا مسلمانوں کے شعائر میں خواہ مخواہ دخل دینا مسلمانوں کے دائرہ کار میں مداخلت بے جا ہے۔ قادیانیوں کا اسلام کا تصور اس اسلام سے بالکل جدا ہے جو مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

روزنامہ الفضل نے ٣١ مئی ١٩٥٢ء کی اشاعت میں چوہدری ظفر اللہ خاں کی ایک تقریر ان الفاظ میں شائع کی ہے جو قادیانی مذہب کو دین اسلام سے کلیتہ الگ کرتی ہے۔

”اگر نعوذ باللہ آپ (مرزا غلام احمد) کے وجود کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح خشک درخت شمار کیا جائیگا اور اسلام کی کوئی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہو سکتی۔“

(الصلح کراچی ٢٣

مئی ٥٢ء‘ الفضل ربوہ ٣١ مئی ١٩٥٢ء)

اس بیان کی روشنی میں مسلمانوں اور قادیانیوں میں کسی بات میں دینی اشتراک نہیں رہتا۔ ان کے ہاں مسلمان اس دین کے قائل ٹھہرتے ہیں جس میں مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے اب ان کا فیض جاری نہیں اور خود شجر اسلام ان کے ہاں ایک خشک درخت شمار ہوتا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ اور بانی مذہب مرزا غلام احمد سے نقل کرتا ہے۔

”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی ذات‘ رسول کریم‘ قرآن‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ ایک ایک چیز

صفحہ ١١٨

میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“ (الفضل ٣٠ جولائی ١٩٣٠ء)

جو لوگ اللہ کی ذات میں مسلمانوں سے اختلاف کریں وہ دہریہ ہو سکتے ہیں یا مشرک۔ مرزا صاحب ان دو میں سے کدھر تھے؟ اسے ان کے الہامات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ قادیانیوں نے مرزا صاحب کے الہامات تذکرہ کے نام سے شائع کیے ہیں اس میں ہے۔

”آواہن! خدا تیرے اندر اتر آیا۔“ (تذکرہ ص ٣١٦)

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے کہا۔

انما امرک اذا اردت شيئاً ان تقول له کن فیکون. ”تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ فی الفور ہو جاتی ہے۔

(حقیقتہ الوحی ص ١٠٥)

مرزا صاحب یہ بھی لکھتے ہیں۔

”دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٥) دیکھئے عقیدہ توحید کہاں باقی رہا؟ پھر یہ بھی کہا۔

”واُعْطِيْتُ صفة الافناء والاحياء من الرب الفعال“ (خطبہ الہامیہ ص ٥٦)

پھر یہ الہام بھی لکھا۔ ”انا نبشرک بغلام مظهر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء.“ (حقیقتہ الوحی ص ٩٥)

بیٹے کے بارے میں یہ تصور کہ گویا خدا آسمان سے اترا ہے۔ یہ عقیدہ کہاں تک توحید کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔

رسول کریمؐ

حضور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں مسلمانوں اور قادیانیوں میں کیا اختلاف ہے؟

مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہترین خلائق اور اولاد آدم میں کامل

صفحہ ١١٩

ترین شخصیت مانتے ہیں ان کے ہاں ان سے زیادہ کامل شخصیت کا تصور تک نہیں۔

قادیانی مرزا غلام احمد کے وجود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عربی وجود سے زیادہ کامل مانتے ہیں۔ ان کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو ظہور تھے۔ ظہور عربی، ظہور ہندی۔ وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی ایک دوسرا ظہور تھا اور آپ کا یہ ظہور آپ کے پہلے ظہور سے زیادہ کامل تھا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت عربی کو کامل اور مکمل نہیں مانتے جبکہ مسلمان آپ کی اسی شخصیت کریمہ کو اسوۂ حسنہ اور انسانیت کا کامل ترین ظہور مانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے ان کے ایک پیرو نے حسب ذیل اشعار پڑھے اور مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کے اخبار بدر کی ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء کی اشاعت میں شائع ہوئے۔

غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں نے
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

مرزا غلام احمد نے خود بھی لکھا ہے۔

”یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کریم کے بارہ میں فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ١٨)

پھر مرزا غلام احمد نے ان قرآنی حقائق و معارف کا اپنے اوپر کھلنا ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

”اگر یہ کہا جائے کہ ایسے حقائق و دقائق قرآنی کا نمونہ کہاں ہے جو پہلے دریافت نہیں کیے گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس رسالہ کے آخر میں جو سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی ہے اس کے پڑھنے سے تمھیں معلوم ہوگا۔

(کرامات الصادقین ص ١٨)

مرزا غلام احمد کے ان الفاظ کو بھی پیش نظر رکھیے۔

روضہ آدم کہ تھا نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٣)

صفحہ ١٢٠

قادیانیوں نے اس تصور کو پھر اور نکھارا اور مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے یہ مانتے ہوئے بھی کہ کوئی شخص حضور سے آگے نہیں بڑھا برملا کہا۔ مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کمالات کا تصور نہیں کر سکتا۔ سو مرزا غلام احمد کا یہ کہنا کہ ان کی جماعت دوسرے مسلمانوں سے رسول کریم کے بارے میں بھی مختلف ہے بالکل درست ہے۔ سو جب قادیانیوں کو مسلمانوں سے اللہ کی ذات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بھی بنیادی اختلاف ٹھہرا تو کلمہ کی وحدت کہاں رہی؟ کلمہ شریف اسی اقرار توحید و رسالت پر ہی تو مشتمل ہے۔

کلمہ شریف میں اللہ کی ذات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا ہی تو ذکر ہے۔ جب ان دونوں کے بارے میں مسلمانوں اور قادیانیوں میں اختلاف ہو گیا تو ان میں کوئی نقطہ اشتراک نہ رہا۔ توحید و رسالت کے اقرار میں بھی دونوں مختلف ہو گئے اور کلمہ بھی دونوں کا مختلف ہو گیا۔ اس لیے کہ اس کے مصداق بدل گئے۔

قرآن

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کی آخری کتاب قرآن کریم قیامت تک کے لیے محفوظ ہے اور اس کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم ١٨٥٧ء میں اٹھا لیا گیا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو مرزا صاحب کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مرزا غلام احمد کے آنے پر ان کے عقیدہ میں قرآن گویا دوبارہ اترا ہے۔ مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں بعض آیات قرآنی مختلف طور پر نقل کیں۔ ان کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے۔

”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے اسی لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن اتارا جائے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٧٣ ریویو آف ریلیجنز)

صفحہ ١٢١

قرآن کریم کی تفسیروں میں اختلاف بے شک انسانی اور علمی اختلاف ہے لیکن اسے قرآن کا اختلاف نہیں کہہ سکتے یہ مفسرین کا اختلاف ہے جو آخر انسان ہی تھے تاہم یہ صحیح ہے کہ قرآن کی غلط تفسیریں کبھی چل نہیں سکیں صحیح تفسیر بہرحال موجود رہی اور اہل حق اس کے ساتھ غلط تفسیروں کی تردید کرتے رہے لیکن قرآن کی اصلاح کا نام اسے اب تک کسی نے نہیں دیا۔ اب مرزا غلام احمد کی عبارت ذیل دیکھئے اور ان کی وہ تحریرات بھی سامنے رکھیے جن میں اس نے قرآنی آیات کو کچھ بدل کر لکھا ہے۔

”عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں اتر کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا ۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٨٨)

کیا یہ الفاظ ایسے شخص کے قلم سے نکل سکتے ہیں جو قرآن کریم پر مسلمانوں کا سا ایمان رکھتا ہو۔ جس طرح قرآن پر مسلمان اور قادیانی اپنے بنیادی عقیدہ میں مختلف ہیں نماز میں بھی ہر دو مذاہب کا بنیادی اختلاف ہے۔

نماز

نماز مسلمانوں کو ایک صف میں جمع کرتی ہے۔ اکٹھے نماز پڑھنا یا پڑھ سکنا مسلمانوں کو ایک امت بناتا ہے اور یہی ایک دوسرے کے لیے ایک دوسرے کے اسلام کا نشان ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

من صلى صلوتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذلك المسلم (مشکوٰۃ ص ١٢ عن البخاری)

ترجمہ: ”جو ہمارے جیسی نماز پڑھے ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ حلال سمجھے وہ مسلمان ہے۔“

ہمارے جیسی نماز میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس کی نماز الگ نہ ہو۔ اگر کوئی شخص مسلمانوں کی جماعت سے کلیتہ کنارہے تو وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہ سمجھا جائے گا۔ ابن نجیم لکھتے ہیں۔

فان صلى بالجماعة صار مسلماً بخلاف ما اذا صلى وحده

صفحہ ١٢٢

الا اذا قال اشہد صلی صلوتنا واستقبل قبلتنا ...... وعن محمد انہ اذا حج علی وجہ الذی یفعلہ المسلمون یحکم بالسلامہ. (البحر الرائق ص ٧٥)

مرزا غلام احمد لکھتا ہے۔ اب مرزا غلام کی نماز بھی دیکھئے کہ کس قدر وہ ہماری نماز جیسی ہے۔

”پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٨)

قادیانی اس باب میں بھی مسلمانوں سے جدا ہو گئے کہ قادیانیوں کے ہاں نماز مغرب میں تیسری رکعت میں رکوع کے بعد فارسی نظم پڑھنے کی سنت ہے۔ یہ بات آپ مسلمانوں کی مساجد میں کبھی نہیں دیکھیں گے۔ (سیرۃ المہدی ص ١٣٨)

جب قادیانیوں کی نمازیں مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئیں تو وہ کسی پہلو سے بھی حوزہ اسلام میں نہ رہے۔ مرزا غلام احمد کا یہ کہنا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے ایک ایک بات میں اختلاف ہے بالکل درست ہے۔

”اللہ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، حج، زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

قوموں کے شعائر ان کے اندرونی معتقدات کا ہی عملی پھیلاؤ ہوتے ہیں۔ بنی آدم میں خوف خداوندی اور تقویٰ ہی کا بیج پھوٹتا ہے تو اس سے اسلام کے شعائر ابھرتے ہیں اور مسلمان ان کی تعظیم کر کے وحدتِ امت میں نکھرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔

ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب.

(پ ١٧ سورۃ الحج آیت ٣٢)

ترجمہ: ”اور جو تعظیم کرتا ہے نشانہائے الٰہی کی تو بلاشبہ یہ پرہیزگاری دلوں کی ہے۔“

جب قادیانی مسلمانوں سے اپنے معتقدات اور اعمال بلکہ ہر چیز میں جدا ہو گئے تو

صفحہ ١٢٣

اب مشترکہ شعائر کا دعویٰ کسی طرح قرین انصاف نہیں رہتا۔ شعائر میں اشتراک اب التباس و اشتباہ کے لیے تو باقی رکھا جا سکتا ہے معتقدات کے تعارف اور عقیدت کے استشہاد کے لیے نہیں۔ کسی قوم کے ساتھ اس کے امتیازی نشانوں میں وہی لوگ جمع ہو سکتے ہیں جو ان کے معتقدات میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔ ایک ایک چیز میں اختلاف کرنے والے محض التباس و تشکیک کے لیے ایک سے شعائر کے مدعی ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی اچھی نسبت نہیں۔ اختلاف بڑھنے کی صورت میں تاریخ فیصلہ کرے گی کہ پہلے یہ نشان کس قوم کے تھے اور بعد میں انھیں کن لوگوں نے اختیار کیا اور کیا اس اختیار کا منشا پہلی قوم کے دینی شعائر میں التباس واشتباہ کے سوا کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ کسی قوم سے ان کے شعائر چھیننا اس سے بڑھ کر جارحیت اور کیا ہو سکتی ہے۔ صدر پاکستان کا زیر بحث آرڈیننس اسی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے ہے یہ قادیانیوں پر کوئی زیادتی نہیں۔

قادیانی جب کلمہ اور نماز تک میں مسلمانوں سے کلیتہً جدا ٹھہرے تو اب ان میں مسجدوں اور اذانوں کا اشتراک محض التباس کی تخم کاری کے لیے ہے۔ حق یہ ہے کہ مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور اذان انہی کی عبادت کا ایک بلاوا ہے جس پر مسلمان اکٹھے نماز پڑھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ جو مسلمانوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتے ، ان کی سی اذان بھی نہیں دے سکتے۔ نہ ان جیسی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں۔

مسجد اور اذان

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ دین ہمیشہ سے اسلام ہی رہا ہے اور سب انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے وقت میں مسلم ہی تھے۔ حضرت نوحؑ حضرت ابراہیمؑ حضرت یعقوبؑ حضرت موسیٰؑ حضرت عیسیٰ علیہم السلام سب کا دین ایک رہا اور سب اپنے اپنے وقت میں مسلمان تھے۔ پیغمبروں میں شریعتیں تو بدلتی رہتی ہیں لیکن دین سب کا ہمیشہ سے ایک رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

الانبیاء اخوۃ لعلات امہاتہم شتی و دینہم واحد

(صحیح بخاری ص ٤٩٠)

صفحہ ١٢٤

ترجمہ : سب انبیاء آپس میں ان بھائیوں کی طرح ہیں جو مختلف ماؤں سے ہوں اور باپ ایک ہو۔ دین سب انبیاء کا ایک رہا ہے۔ اس دین کا نام اسلام ہے اور ہر پیغمبر نے اسی کی طرف دعوت دی۔ حضرت ابراہیم و حضرت یعقوب علیہما السلام نے اپنی اولاد کو اسلام پر رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔

یا بنی ان الله اصطفی لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون،

(سورۃ البقرہ آیت ١٣٢)

ترجمہ : اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے تو تم ہرگز نہ مرنا مگر یہ کہ تم مسلمان ہو ۔“

اس پر ان کے بیٹوں نے کہا۔ ونحن لہ مسلمون ”ہم اللہ کے حضور میں مسلمان ہیں ۔“

قرآن پاک میں ارشاد ہوا۔

ما کان ابراهیم یهودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفاً مسلما.

(آل عمران آیت ٦٧)

ترجمہ : ”ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی لیکن تھے وہ یک رخ مسلمان ۔ “

قرآن کریم میں پہلے صحیح العقیدہ انسانوں کے لیے لفظ مسلم عام ملتا ہے۔ دیکھیئے پ البقره : ١٣٦، ١٢٨، ١٣١ پ ١٣ سورۃ یوسف ١٠١ پ ٩ اعراف ١٢٦ پ ١١ یونس ٧٢‘ ٨٤ ٩٠ پ ١٩ نمل ٣١‘ ٣٨‘ ٤٢ پ ٢٠ قصص ٥٣۔

حضرت ابراہیمؑ حضرت داؤدؑ حضرت سلیمان علیہم السلام اور ان کے پیرو سب اپنے اپنے وقت میں مسلمان تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد مسجد الحرام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد مسجد الاقصیٰ کہلائی۔ معلوم ہوا کہ مسجد ابتداء ہی سے مسلمانوں کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام رہا ہے۔

مشرکین نے اپنے دور اقتدار میں خانہ کعبہ میں بت رکھ دیے مگر یہ مسجد چونکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی تھی اس لیے ان بتوں کے باوجود اس سے مسجد کا نام جدا نہ ہو سکا ایسا

صفحہ ١٢٥

کرنا حدیث الاسلام يعلو ولا يعلى عليه کے خلاف تھا۔ سو نام مسجد کا ہی غالب رہا۔ اسے مشرکین کی عبادت گاہ کا نام نہ دیا جاسکا۔ سکھوں نے اپنے دورِ حکومت میں شاہی مسجد لاہور میں گھوڑوں کے اصطبل بنا لیے تھے مگر مسلمانوں نے اس کا نام مسجد ہی رکھا۔ مسجد ابتدائی طور پر مسجد ہو تو مسجدیت کا حکم اس سے قیامت تک نہیں چھن سکتا۔ اسلام کی نسبت اور کفر کی نسبت کا آپس میں ٹکراؤ ہو تو اسلام کی نسبت ہی غالب رہے گی۔

قادیانیوں کا یہ کہنا کہ مشرکین کی عبادت گاہوں کا نام بھی مسجد رہا ہے اور اپنی تائید میں مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ کو پیش کرنا بالکل بے محل ہے۔ غیر مسلم کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام کبھی مسجد نہیں ہوا۔ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہی ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ہے کچھ نوجوان تھے جنھوں نے مشرک حکومت سے بچ کر ایک غار میں پناہ لی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک طویل نیند وارد کر دی۔ جب یہ اٹھے تو نظام حکومت بدل چکا تھا اب حکومت عیسائیوں کی آچکی تھی۔ یہ اس وقت کے مسلمان تھے مشرکین ماتحت تھے اور ان کا زور ٹوٹا ہوا تھا۔ اصحاب کہف کی خبر پھیلی تو لوگوں نے چاہا کہ اس جگہ ان کی کوئی یادگار قائم کریں۔ قرآن کریم میں ہے۔

اذ يتنازعون بينهم امرهم فقالوا ابنوا عليهم بنيانا ربهم اعلم بہم قال الذين غلبوا على امرهم لنتخذن عليهم مسجدا.

(پ ١٥ الکہف آیت ٢١)

ترجمہ: جب وہ ان کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے وہ کہنے لگے بناؤ ان پر ایک عمارت۔ ان کا رب ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ وہ لوگ جو غالب آچکے تھے ان کو کہنے لگے ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔

مشرکین کا یہ کہنا کہ چونکہ وہ ہماری قوم میں سے تھے اس لیے ہم ان پر اپنے طریقے سے کوئی عمارت بنائیں گے اصولاً درست نہ تھا کیونکہ یہ موّحد تھے اور عیسائیوں کا (جو اس وقت کے مسلمان تھے) کہنا کہ ہم ان پر مسجد بنائیں گے کیونکہ وہ اعتقاداً توحید پرست تھے بیشک درست تھا۔

صفحہ ١٢٦

اس سے معلوم ہوا کہ مسجد ہمیشہ سے مسلمانوں کی ہی عبادت گاہ کا نام رہا ہے اور اس وقت کے مسلمان جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت تھے وہاں مسجد ہی بنانا چاہتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے تحت بیان فرماتے ہیں ۔ فقال المسلمون نبني عليهم مسجداً يصلى فيه الناس لا نهم على ديننا وقال المشركون نبني بنياناً لانهم على ملتنا.

(تفسیر خازن جلد ٤ ص ١٦٧‘١٦٨)

ترجمہ : مسلمانوں نے کہا ہم ان پر مسجد بنائیں گے جہاں لوگ نماز پڑھیں گے کیونکہ یہ لوگ ہمارے دین پر تھے (موحد تھے ) اور مشرکین نے کہا ہم ان پر یادگار بنائیں گے کہ یہ ہماری قوم سے تھے۔

علامہ نسفی مدارک تنزیل میں لکھتے ہیں ۔ لنتخذن عليهم على باب الكهف مسجدا يصلى فيه المسلمون (مدارک التنزیل ص ٣١) ج ٣

اسی طرح تفسیر فتح البیان میں ہے ۔ (لنتخذن عليهم مسجدا) يصلى فيه المسلمون ويعتبرون بحالهم وذكر اتخاذ المسجد يشعر بان هولاء الذين غلبوا على امرهم هم المسلمون (ج ٥ ص ٣٨٨ مطبع بولاق مصر)

ہم ان پر مسجدیں بنائیں گے جن میں مسلمان نماز پڑھیں گے اور ان کے حالات سے سبق لیں اور مسجد بنانے کا ذکر پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ جو اب ان پر غالب آچکے تھے وہ مسلمان تھے۔

اسلام اپنی کامل ترین شکل میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جلوہ گر ہوا۔ اب مسجد انہی کی عبادت گاہ کا نام ٹھہرا۔ پچھلی امتیں جو گو اپنے اپنے وقت میں اہل مساجد میں سے تھیں۔ اس آخری رسالت پر اگر ایمان نہ لائیں تو اب اہل صومعہ یا اہل بیعہ بن گئیں۔ اب ان کی عبادت گاہوں کا نام مساجد نہ ہوگا۔ مساجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ہی کہا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرق قائم فرما دیا۔ اب جائز نہ رہا

صفحہ ١٢٧

کہ اس کے بعد کسی اور قوم کی عبادت گاہ کو مسجد کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

ولو لا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بيع وصلوات و مساجد يذكر فيها اسم الله كثيراً.

(پ ١٧ الحج آیت ٤٠)

ترجمہ: ”اور اگر نہ روکتا اللہ بعض لوگوں کو بعض سے تو ڈھا دیے جاتے تکیے اور گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں۔“

اب مسجدیں مسلمانوں کا شعار بن گئیں جہاں مسجد نظر آئے یا اذان ہو مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہاں کسی کو قتل نہیں کرنا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسجدیں ہیں ہی مسلمانوں کی، کسی اور قوم کی عبادت گاہ نہیں بن سکتیں اگر ایسا ہو سکتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد دیکھنے سے ہی چڑھائی کو روک دینے کا حکم نہ فرماتے۔

اذا رايتم مسجدا او سمعتم اذانا فلا تقتلوا احداً.

(سنن ابی داؤد ص ٣٥٢ ج ١ ص ٣٥٥) (کتاب الخراج امام یوسف ص ٢٠٨

بولاق مصر ) (مشکوٰۃ ص ٣٣٢)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد اور اذان مسلمانوں کے شعائر ہیں۔ کوئی غیر مسلم قوم ان کو اپنا نہیں کہہ سکتی۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ بھی اس حدیث پر لکھتے ہیں۔

”مسجد شعائر اسلام میں سے ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی مسجد کو دیکھو یا کسی مؤذن کو اذان کہتے سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔“

(حجۃ اللہ البالغہ مترجم ص ٤٧٨)

آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کسی شخص کو مسجد میں عام آتے جاتے دیکھو تو اس کے مسلمان ہونے کی شہادت دو۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔

اذا رايتم الرجل يتعاهد المساجد فاشهدوا له بالايمان فان الله يقول انما يعمر مساجد الله من امن بالله واليوم الاخر

(رواہ ترمذی و ابن ماجہ مشکواۃ ص ٦٩)

صفحہ ١٢٨

ترجمہ: ”جب تم کسی شخص کو مسجد میں عام آتا جاتا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔“

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مساجد اسلام کے امتیازی نشان اور مسلمانوں کے شعائر ہیں کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد کہلائے تو مسلمان کس طرح وہاں آنے جانے والوں کو مسلمان کہہ سکے گا۔ قادیانیوں کو بھی اگر مسجد بنانے کی اجازت ہو تو اس صورت میں اس طرح کی احادیث کیا معطل ہو کر نہ رہ جائیں گی۔

یہ بات صحیح ہے کہ مسجدیں ملت اسلامیہ کا امتیازی نشان ہیں۔ جب تک کسی کا مسلمان ہونا ثابت نہ ہو اس کا مسجد میں کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔ قادیانی جماعت کے چوہدری ظفر اللہ خان اپنی ایک تحریر میں اقرار کرتے ہیں۔ ”اگر احمدی مسلمان نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ۔“ (تحدیث نعمت ص ١٦٢)

معلوم ہوا کہ چوہدری صاحب کے نزدیک بھی مسجدیں مسلمانوں کی ہیں اور مسلمانوں کی ہی عبادت گاہیں ہیں۔ غیر مسلموں کو ان سے کوئی واسطہ نہیں۔

مسجد بنانا امام کے ذمہ ہے

اسلام میں مسجد بنانا شہر میں مسلمانوں کو یہ سہولت بہم پہنچانا اسلامی سربراہ کے ذمہ ہے۔ امام یہ ذمہ داری ادا نہ کرے یا بیت المال میں اس قدر رقم نہ ہو تو یہ ذمہ داری مسلمانوں پر آئے گی۔ وہ امام کی طرف سے نیابۃً مسجد بنائیں گے۔

پس جب مسجد بنانا اصولاً امام کے ذمہ ٹھہرا اور وہ غیر مسلموں کو آرڈیننس کے ذریعے اس سے روکے تو غیر مسلم مسجد بنانے کا کسی طرح سے اہل نہ رہا نہ اس کی بنائی ہوئی مسجد امام کی نیابت میں ہوگی نہ مسجد کہلائے گی فقہ حنفی کی کتاب درمختار میں ہے۔

ووقف مسجد للمسلمين واجب على الامام من بيت المال والا فعلى المسلمين.

علامہ شامیؒ اس پر لکھتے ہیں۔

صفحہ ١٢٩

وان لم يفعل الامام فعلى المسلمين.

(ردالمحتار شامی ص ٧٧ ج ٣)

اس اصول کی روشنی میں امام کسی جگہ مسلمانوں کو مسجد بنانے سے روکے اور یہ روکنا کسی ملکی یا دینی مصلحت کے لیے ہو تو انھیں بھی وہاں مسجد بنانے کا حق نہیں رہتا۔ تو غیر مسلم اقوام صدر کے اس آرڈیننس کے بعد کس طرح حق رکھتی ہیں کہ مسلمانوں کے شعائر کا اس طرح بے جا اور بلا اجازت استعمال کریں۔ کافر تو عبادت کے اہل ہی نہیں۔

علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں۔

ان الكافر ليس باهل للنية فما يفتقر اليها لا يصح منه وهذا لان النية تصير الفعل منتهضا سبباً للثواب ولا فعل يقع من الكافر.

(البحر الرائق ص ١٥٩/٢)

ترجمہ : ”کافر نیت کا اہل نہیں سو جن امور میں اسے نیت کی ضرورت ہو اس کا اس میں اعتبار نہیں، یہ نیت ہی ہے جو کسی کام کو ثواب کا موجب بناتی ہے اور ایسا کوئی فعل (جو ثواب کا موجب ہو سکے) کافر سے صادر ہی نہیں ہوتا۔

اس اصول کی تائید میں مندرجہ ذیل آیات سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

فمن يعمل من الصالحات وهو مومن فلا كفران لسعيه وانا له كاتبون.

ترجمہ : ”پس جو نیک عمل کرے گا اور وہ ہو مومن، سو اس کی کوشش رد نہ کی جائے گی اور بیشک ہم (اس کے اعمال) لکھتے ہیں ۔“

(پ ١٧ الانبیاء آیت ٩٤)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب تک ایمان نہ ہو اچھے سے اچھے اعمال بھی قبولیت نہیں پاتے اور نہ وہ لکھے جاتے ہیں جو عمل ایمان کے بغیر ہوں گے ان کا ہمارے ہاں کھلا انکار ہے گویا وہ وجود ہی میں نہ آئے یہ صرف ایمان ہے جو اعمال صالحہ کو لائق قبولیت بناتا ہے۔

قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ہے۔

صفحہ ١٣٠

حیوة طیبة و لنجزینهم اجرهم باحسن ماکانوا یعملون۔

(پ ١٤ النحل آیت ٩٧)

ترجمہ: ”کوئی شخص مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے اور وہ ہو مومن پس ہم اسے پاکیزہ زندگی بخشیں گے اور ہم انھیں ان کے اعمال کی بہترین جزا بخشیں گے۔“

اس سے بھی معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل لائق قبول نہیں رہتا اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جہاں تک جزا کا تعلق ہے کافر کا کوئی عمل وجود ہی نہیں پاتا۔ یہی حبط اعمال کی حقیقت ہے کہ ان کا قیامت کے دن کوئی وزن نہ ہو گا۔ لا نقیم لهم یوم القیمة وزنا (پ ١٦ کہف ١٠٥) معلوم ہوا کافر کی ہر عبادت بے وجود اور اس کی ہر پکار ضائع ہے قرآن کریم میں یہ بھی ہے ۔

وما دعاء الکافرین الا فی ضلال (پ ١٣ الرعد آیت ١٤)

ترجمہ: ”اور نہیں ہے کافروں کی پکار مگر ضائع ۔“

کافر تو عبادت بلکہ نیت تک کا اہل نہیں ہے۔ جب اس کا کوئی عمل عمل ہی نہیں تو اس کی بنی عبادت گاہ مسجد کیسے بن سکتی ہے۔ مسجد ایمان کے بغیر بنے یہ ناممکن ہے۔ مسجد بنانے کے لیے نیت ضروری ہے اور کافر نیت کا اہل نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔

انما یعمر مساجد الله من امن بالله والیوم الاخر۔

(پ ١٠ التوبہ آیت ١٨)

ترجمہ: ”بیشک وہی آباد رکھتے ہیں مسجدیں اللہ کی جو ایمان لائے ہوں اللہ پر اور یوم آخرت پر۔“

یہاں تک یہ معلوم ہوا کہ کافر کو مسجد بنانے کا کوئی حق نہیں اور مسجدیں صرف مسلمانوں کے لیے ہیں۔ اب رہا ان کا مسلمانوں کی مسجد میں آنا جانا تو یہ اس کے بھی مجاز نہیں ۔ ان کا یہ تعاہد ان کے مسلمان ہونے کا گمان پیدا کرتا ہے مسلمان مامور ہیں کہ مسجد میں عام آنے والے کو مسلمان سمجھیں۔ جس طرح یہ مسجد بنانے کے لیے اہل نہیں ۔ انھیں مسجدوں

صفحہ ١٣١

میں عام داخلے کی بھی اجازت نہیں۔ حافظ ابوبکر جصاص الرازی لکھتے ہیں۔

عمارة المسجد تكون بمعنيين احدهما زيارته والكون فيه والاخر ببنائه و تجديد ما استرم منه فاقتضت الأية منع الكفار من دخول المسجد ومن بناءها و تولی مصالحها والقيام بها لا نتظام اللفظ لامرین۔

(احکام القرآن ج ٢ ص ١٠٨)

ترجمہ: ”مسجد کو آباد کرنا دو طرح سے ہے اس میں آنا جانا اور اس میں رہنا اور دوسرے اسے بنانا اور اس کی مرمت وغیرہ یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ کافروں کو مسجدوں میں داخل ہونے، بنانے، ان کے امور کا متولی ہونے اور وہاں ٹھہرنے سے روکا جائے کیونکہ آباد کرنے کا لفظ دونوں باتوں کو شامل ہے۔“

تمام مساجد کا قبلہ مسجد حرام ہے وہاں مشرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں۔ یہ حکم گو خاص ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ فروع اپنی اصل سے کلیتہً خالی بھی نہیں ہوتیں۔

خاص خانہ کعبہ کے متعلق تو لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی بھی تسلیم کرتے ہیں۔

”خانہ کعبہ کی تولیت کسی مشرک قوم کے سپرد نہیں ہو سکتی۔“

(بیان القرآن ص ٥٨١)

پس اگر اس اصولکو جملہ مساجد عالم میں کار فرما مانا جائے تو اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے اورنگزیب عالمگیر کے استاد شیخ ملا جیون جونپوریؒ نقل کرتے ہیں۔

ان المسجد الحرام قبلة جميع المساجد فعامره كعامرها وهذا على القرأة المعروفة وحينئذ عدينا الحكم الى سائر المساجد لان النص لا يختص بمورده۔

(تفسیرات احمدیہ ص ٢٩٨ مطبع علمی دہلی)

ترجمہ: بیشک مسجد حرام دنیا کی تمام مساجد کا قبلہ ہے سو اس کا آباد کرنے والا اسی طرح ہے جس طرح ان دیگر مساجد کو آباد کرنے والا۔ یہ معنی معروف قرأت پر ہے اور اسی لیے ہم نے مسجد حرام کے اس حکم کو تمام مساجد تک متعدی کیا ہے کیونکہ نص اپنے مورد تک محدود نہیں ہوتی۔

صفحہ ١٣٢

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی بھی لکھتے ہیں۔ فمنع الله المشركين من دخول المسجد الحرام نصًّا ومنع من دخوله سائر المساجد تعليلاً بالنجاسة ولوجوب صيانة المسجد عن كل نجس وهذا كله ظاهر لا خفاء فيه.

(احکام القرآن ص٩٠٢ ج٢)

ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے نصّاً روکا ہے اور دوسری تمام مساجد میں داخل ہونے سے اس طرح روکا ہے کہ روکنے کی علت بیان کر دی اور وہ انھیں نجاست سے بچانا ہے کہ مسجد کو ہر ناپاکی سے بچانا واجب ہے اور یہ سب بات ظاہر ہے اس میں کوئی خفا نہیں۔“

اسلامی ملک میں آباد اہل ذمہ مسجد میں داخل ہونا چاہیں تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک انھیں مسلمانوں کی اجازت کے بغیر اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم مسلمانوں سے پوچھے بغیر مسجد میں داخل ہو جائے تو حاکم شرع اسے تعزیر (سزا) دے سکتا ہے۔ علامہ محمد بن عبداللہ الزرکشی (م٧٩٤ھ) لکھتے ہیں۔ فلو دخل بغير اذن عُزِّر الا ان يكون جاهلاً بتوقفه على الاذن فيعذر. (اعلام المساجد باحکام المساجد ص٣٢٠ ط قاہرہ) ترجمہ: ”اگر کوئی غیر مسلم بغیر اجازت کے مسجد میں داخل ہو جائے تو اسے تعزیر دی جا سکتی ہے۔ مگر یہ کہ وہ اس سے بے خبر ہو کہ مسجد میں داخل ہونا مسلمانوں کے اذن پر موقوف تھا اس صورت میں اسے معذور سمجھا جا سکتا ہے۔

کافر اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دیں اس سے مسلمانوں کا تشخص مجروح ہوتا ہے۔ یمن میں مشرکین کا ایک عبادت خانہ تھا جسے وہ کعبہ یمانیہ کہتے تھے کعبہ مسلمانوں کی عبادت گاہ تھی اور مشرکین اسی نام سے اپنی عبادت گاہ چلانا چاہتے تھے۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ڈیڑھ سو آدمی ساتھ لے کر اس پر حملہ آور ہوئے اور اس کعبہ

صفحہ ١٣٣

سے موسوم ہونے والی نئی عبادت گاہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے اور صورت حال کی اطلاع دی۔ آپؐ اس پر بہت خوش ہوئے اور انھیں دعا دی۔

امام ابو یوسف رحمتہ اللہ (١٨٢ھ) لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی اس کارکردگی کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان الفاظ میں دی۔

والذي بعثک بالحق ماتینک حتی ترکنا ها مثل اجمل الاجرب قال فبرک النبي صلی اللہ علیہ وسلم.

(کتاب الخراج ص ٢١٠)

منافقوں کی بنائی ہوئی مسجد ضرار پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جو عمل کیا اس کی تشریح اگر حدیث کی روشنی میں کی جائے تو بات نکھر کر سامنے آئے گی کہ کافر گو وہ منافق کے درجے میں ہوں اپنی عبادت گاہ مسجد کے نام سے نہیں بنا سکتے اگر بنائیں تو وہ ان کے ایک محاذ جنگ کے طور پر استعمال ہوگی جس کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔

اذان کے بارے میں چند گذارشات یہ ہیں۔ قرآن کریم کی تین آیات میں نماز کے لیے بلاوے کا ذکر ہے۔

من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم والكفار اولياء واتقوا الله ان كنتم مومنين واذا ناديتم الى الصلوة اتخذوها هزواو لعبا. (پ ٦ المائده آیت ٥٨ - ٥٧)

انني من المسلمين . (پ ٢٤ حم سجده آیت ٣٣)

الى ذكر الله (پ ٢٨ الجمعه آیت ٥٨)

ان تینوں آیات میں اذان کے بارے میں ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے پہلی اور تیسری آیت میں ابتداء میں یا ایها الذین امنوا کا ذکر ہے دوسری آیت کے آخر میں

صفحہ ١٣٤

اذان دینے والے کے مسلمان ہونے کا ذکر اننی من المسلمین کے الفاظ میں مذکور ہے۔ قرآن کریم کی ان آیات سے معلوم ہوا کہ نماز کے لیے اذان دینا مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے۔ قرآن کریم اور حدیث میں کہیں ایک ایسا واقعہ نہیں ملتا جس میں نماز کے لیے اذان کسی غیر مسلم نے دی ہو پس اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔

نوٹ: روایات میں ایک غیر مسلم بچے ابو محذورہؓ کا اذان دینا مروی ہے۔ یہ اذان نماز کے لیے نہ تھی۔ بچے ہنسی مذاق میں کلمات اذان نقل کر رہے تھے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس سے اذان کہلوائی تو یہ بھی نماز کے لیے نہ تھی محض تعلیماً اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ سے ایمان ابو محذورہ کے دل میں اتر رہا تھا چنانچہ وہ مسلمان بھی ہو گئے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو رات کے پچھلے حصے میں اذان کی طرف توجہ رکھتے اگر اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے ورنہ غزا جاری رکھتے۔ صحیح بخاری میں ہے۔

فان سمع اذانا كف عنهم وان لم يسمع اذاناً غار عليهم.

(صحیح بخاری جلد ١ ص ٨٦)

اس سے پتہ چلا کہ اذان وہاں کے لوگوں کا امتیازی نشان ہے جہاں اذان سنی جائے گی وہاں کے لوگوں کو مسلم سمجھا جائے گا۔ اب اگر غیر مسلم کو بھی اذان دینے کی اجازت ہو تو اذان سنتے ہی جنگ سے رک جانا اور ہتھیار پیچھے کر لینا اس پر عمل کیسے ہو سکے گا۔ قادیانیوں کو اذان کی اجازت دینے سے اس قسم کی احادیث عملاً معطل ہو کر رہ جائیں گی۔ اذان علامات اسلام میں سے ہے۔ علامہ ابن ہمام حنفی رحمۃ اللہ (٨٦١ھ) لکھتے ہیں۔

الاذان من اعلام الدين.

(فتح القدير ص ٢٤٠ ج ١)

ترجمہ: ”اذان دین اسلام کی علامات میں سے ہے۔“ علامہ ابن نجیمؒ بھی لکھتے ہیں۔

”الاذان من اعلام الدين.“

(البحر الرائق جلد ١ ص ٢٦٩)

علامہ شامیؒ بھی اذان کو شعائر اسلام میں سے کہتے ہیں۔

صفحہ ١٣٥

"الاذان من اعلام الدين" (ردالمحتار ص ٣٨٤)

فقہ حنبلی کی معتبر کتاب المغنی لابن قدامۃ (٦٢٠ھ) حنبلی میں ہے۔

ولا يصح الاذان الا من مسلم عاقل ذكر فاما الكافر والمجنون فلا يصح منهما لانهما ليسا من اهل العبادات.

(المغنی مع شرح الکبیر ص ٤٢٩)

فقہ حنفی کی تعلیم بھی یہی ہے کہ کافر اذان نہ دے۔ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں۔

ان يصح اذان الفاسق وان لم يصح به الاعلام اى الاعتماد على قبول قوله فى دخول الوقت خلاف الكافر و غير العاقل فلا يصح اصلاً. (ردالمحتار ص ٣٩٣ ج ١)

ترجمہ: فاسق کی اذان معتبر ہے اگرچہ اس سے صحیح اطلاع نہ ہو پائے یعنی نماز کا وقت ہو جانے میں اس کے قول پر اعتماد نہ ٹھہرے لیکن کافر کی اذان اور غیر عاقل کی اذان بالکل ہو نہیں پاتی (یعنی وہ اذان نہیں ہے) فقہ شافعی میں بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔

ولا يصح الاذان الا من مسلم عاقل فاما الكافر والمجنون فلا يصح اذانهما لانهما ليسا من اهل العبادات. (المجموع

شرح المهذب ٩٨ ج ٣)

ترجمہ: "مسلم عاقل کے سوا کسی کی اذان معتبر نہیں کافر اور پاگل کی اذان معتبر نہیں کیونکہ یہ دونوں عبادت کے اہل ہی نہیں۔"

سورۃ الجمعہ کی آیت : ٩ يايها الذين امنوا اذا نودى للصلوة میں لفظ نُودِیَ مجہول کا صیغہ ہے جس کا فاعل مذکور نہیں۔ آیت کا حاصل یہ ہے ۔ اے ایمان والو جمعہ کے دن جب بھی نماز کے لیے تمھیں آواز دی جائے تم نماز کے لیے دوڑ کر آؤ۔ پس اگر غیر مسلموں کی بھی اذانیں ہوں اور ان کی بھی مسجدیں ہوں اور مسلمانوں پر اذان سنتے ہی ادھر آنا ضروری ٹھہرے کیونکہ یہاں نُودِیَ کا فاعل مذکور نہیں اور اس طرح مسلمانوں کی نمازیں ضائع ہونے کے مواقع عام ہوں تو کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ غیر مسلموں کو اذان دینے کا اصلاً حق نہ تھا اور

صفحہ ١٣٦

اگر مسلمان ان نداؤں پر حاضر نہ ہوں تو اس طرح کیا یہ آیت اپنے عموم میں عملاً معطل ہو کر نہ رہ جائے گی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اذان مسلمانوں کا شعائر ہے اور کسی مذہب کو شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ورنہ یہ شعائرِ اسلام نہ رہے گا۔ فتاویٰ قاضی خان سے ہے۔

الاذان سنة لاداء المكتوبة بالجماعة عرف ذلك بالسنة واجماع الامة وانه من شعائر الاسلام حتى لو امتنع اهل مصرا او قرية او محلة اجبرهم الامام فان لم يفعلوا قاتلهم.

(فتاویٰ قاضی خان بحاشیہ فتاویٰ عالمگیر جلد ١ ص ٦٩)

ترجمہ: اذان فرض نماز باجماعت پڑھنے کے لیے سنت ہے۔ یہ سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے اور یہ بیشک شعائرِ اسلام میں سے ہے۔ اگر کسی شہر یا قصبے یا محلے کے لوگ اذان کہنا چھوڑ دیں تو امام انھیں مجبور کر کے اذان جاری کرائے گا پھر بھی نہ کریں تو ان سے جہاد کرے گا۔“

فقہاء نے تو اس بات کی بھی اجازت نہیں دی کہ جہاں اذان ہوتی ہو وہاں ذمی لوگ برسر عام ناقوس بجائیں اور مسلمانوں سے ایک طرح کا ٹکراؤ ہو بلکہ انھیں ان کی عبادت گاہوں کے اندر محدود کیا گیا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی اذانوں کے مقابلہ میں غیر مسلم اپنی اذانیں دیں اور مسلمانوں کے لیے التباس پیدا کریں۔

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے شاگرد امام محمد رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

وكذالك ضرب الناقوس لم يمنعوا منه اذا كانوا يضربونه فى جوف كنائسهم القديمة فان ارادوا الضرب بها خارجاً فليس ينبغى ان يتركوا ليفعلوا ذلك لما فيه من معارضة اذان المسلمين فى الصورة. (سير كبير ج ٣ ص ٢٥٢)

ترجمہ: ”اور اہل ذمہ کو اگر وہ ناقوس اپنے پرانے عبادت خانوں کے اندر ہی بجائیں اس سے روکا نہ جائے گا اگر وہ باہر ناقوس بجانا چاہیں

صفحہ ١٣٧

تو انھیں ایسا کرنے نہ دیا جائے گا کیونکہ اس میں ظاہراً ان کا اذان سے معارضہ ہوگا۔

اسلام کی امتیازی علامات ایک دو نہیں متعدد ہیں انھیں زمانی، مکانی، علامتی اور مرتبی کئی جہات سے دیکھا جا سکتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ محدث دہلوی نے ایک بحث میں انھیں ذکر کیا ہے۔ اذان اور مسجد اس فہرست میں مذکور ہیں تاہم احاطہ ان میں بھی نہیں ہے۔

”شعائر اللہ در عرفِ دین مکانات وازمنہ و علامات و اوقاتِ عبادت را گویند اما مکاناتِ عبادت پس مثل کعبہ وعرفہ ومزدلفہ و جمارِ ثلاثہ وصفا و مروہ ومنیٰ و جمیع مساجد اند واما ازمنہ پس مثل رمضان واشہر حرم وعید الفطر وعید النحر و جمعہ و ایام تشریق اند واما علامات پس مثل اذان واقامت و ختنہ و نماز بجماعت و نماز جمعہ و نماز عیدین اند و درہمہ ایں چیزہا معنی علامت بودن متحقق است۔

(تفسیر فتح العزیز ص ٥٦٩ مطبوعہ دہلی)

مسجد اور اذان شعائر اسلام میں سے ہیں۔ اس کا مرزا غلام احمد نے بھی اقرار کیا ہے مرزا صاحب لکھتے ہیں۔

”سکھوں کی مختلف حکومتوں کے وقت میں ہم پر اور ہمارے دین پر وہ مصیبتیں آئیں کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اور بلند آواز سے اذان دینا بھی مشکل ہو گیا اور پنجاب میں دین اسلام مر چکا تھا۔ پھر انگریز آئے اور انگریز کیا ہمارے نیک طالع پھر ہماری طرف واپس آئے اور انھوں نے دین اسلام کی حمایت کی ...... اور پھر مدتِ دراز کے بعد پنجاب میں شعائر اسلام دکھائی دیے۔“

(ضرورت الامام ص ٢٥)

اب اس سے زیادہ مسلمانوں کی مظلومی کیا ہوگی کہ خود دار الاسلام (پاکستان) میں شعائرِ اسلام خالصتاً مسلمانوں کا نشان نہ رہیں اور غیر مسلم گروہ مسلمانوں کے ان شعائر میں شریک رہے۔ غیر مسلم قادیانی مسلمانوں کو کافر بھی کہیں اور ان کے شعائر میں التباس پیدا کریں اور خود انہی شعائر کو اپنائیں اس سے بڑھ کر ان شعائر اسلام کی اور کیا بے حرمتی ہوگی؟

اب جبکہ صدر مملکت نے اس آرڈیننس کے ذریعے مسلمانوں کے ان شعائر کو تحفظ دیا ہے تو ان کا بے جا استعمال کرنے والی غیر مسلم قوم محض اس لیے نالاں ہے کہ مسلمان انھیں اپنے ہاں گھسنے کا موقع کیوں نہیں دیتے۔ مرزا غلام احمد ایک اور بحث میں لکھتے ہیں۔

صفحہ ١٣٨

”شعائر اسلام کی ہتک کرنے والا شخص قابل رحم نہیں ہو سکتا۔“ (ملائکۃ اللہ ص ٨٠) لازم ہے کہ اسلامی سلطنت میں مسلمان سربراہ شعائر اللہ کی پوری حفاظت کرے۔

شعائر اسلام کی حفاظت امام کے ذمہ ہے

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلم سربراہ کے ذمہ لگایا ہے کہ وہ منکرات کے خلاف آرڈیننس نافذ کرے۔ ایسے ہی یہاں نہی عن المنکر سے ذکر کیا گیا ہے۔

الذین ان مکنّا هم فی الارض اقاموا الصلوة واتوا الزکوة وامروا بالمعروف و نهوا عن المنکر ولله عاقبة الامور.

(پ ١٧ الحج آیت ٤١)

انہی ذمہ داریوں کو شرح مواقف المرصد الرابع القصد الاول کے تحت ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

هی خلافة الرسول فی اقامة الدين و حفظ حوزة الملّة بحيث يجب اتباعه على كافة الامة وبهذالقيد الاخير يخرج من ينصبه الامام في ناحية كالقاضى ـ ص ٧٢٩.

ترجمہ: ”یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت ہے اقامت دین میں حوزہ ملت کی حفاظت میں بایں طور کہ اس کی اتباع ساری امت پر لازم آئے۔ اس قید اخیر سے وہ شخص نکل جاتا ہے جسے امام کسی علاقہ میں قاضی بنا کر بھیجے۔“

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے بھی نیابت رسول کی یہی تعریف کی ہے۔

هي الرياسة العامة فى التصدى لاقامة الدين باحياء العلوم الدينية واقامة اركان الاسلام....... ورفع المظالم والامر بالمعروف والنهي عن المنکر نيابة عن النبى صلى الله عليه وسلم.

ترجمہ: یہ عام سربراہی ہے اقامت دین کے لیے جو دینی علوم کے احیاء اور ارکان اسلام کے قائم کرنے کے لیے ہو اور رفع مظالم کے لیے اور

صفحہ ١٣٩

امر بالمعروف کے لیے اور نہی عن المنکر کے لیے بایں طور کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت کرنا ہو۔

امام جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرے گا دین کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی اس کے ذمہ ہو گی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کی ان نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مسیلمہ کذاب پر چڑھائی کی تھی حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا قائل تھا اور اس کی اذانوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار پایا جاتا تھا۔

امام کے ذمہ حوزہ اسلام کی حفاظت اس طرح ہے کہ شعائر اسلام کے ساتھ تمام افراد اسلام کے دینی تحفظ کی بھی اس میں پوری ذمہ داری ہو۔ ان کے دینی تقاضوں اور دیگر اہل ذمہ کے مذہبی امور میں اگر کہیں تصادم ہو تو اہل ذمہ پر پابندی لازم آئے گی کہ وہ کھلے بندوں اپنے شعائر کا اظہار نہ کریں۔

اہل ذمہ کے مذہبی شعائر پر پابندی

اسلامی سلطنت میں ذمی لوگوں کو اپنے مذہبی شعائر اپنی عبادت گاہوں تک محدود رکھنے کا حکم ہے۔ کھلے بندوں وہ ان کا اظہار نہیں کر سکتے۔ یہ وہ امور ہیں جن میں مسلمانوں کے لیے کوئی وجہ التباس نہیں لیکن جو غیر مسلم مسلمانوں کی سی اذانیں دیں اور اس میں ہر لمحہ مسلمانوں کے لیے اشتباہ کا سامان ہو انھیں اس درجہ میں بھی اذان دینے کی اجازت دینا مسلمانوں کی عبادت اور ان کے شعائر کو خطرہ میں ڈالنا ہو گا۔ بغداد یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر عبدالکریم زیدان لکھتے ہیں۔

للذميين الحق في اقامة شعائرهم الدينية داخل معابدهم و يمنعون من اظهارها في خارجها في امصار المسلمين لان امصار المسلمين مواضع اعلام الدين و اظهار شعائر الاسلام من اقامة الجمع والاعياد واقامة الحدود و نحو ذلک فلا يصح اظهار شعائر تخالفها لما في هذا الاظهار من

صفحہ ١٤٠

معنی الاستخفاف بالمسلمین والمعارضۃ لہم. (احکام

الذمیین والمستأمنین فی دارالسلام ص ١٩)

ترجمہ: ذمیوں کو اپنی عبادت گاہوں کے اندر اندر اپنے مذہبی شعائر قائم کرنے کا حق ہے۔ باہر مسلمانوں کے علاقوں میں انھیں ان کے اظہار کی اجازت نہیں۔ مسلمانوں کے علاقے دین اسلام کے نشانوں کی جگہیں ہیں اور جمعہ و عیدین اور اقامت حدود وغیرہ شعائر اسلام کے اظہار کے مواضع ہیں۔ سو (اسلامی سلطنت میں) ایسے شعائر کا کھلا اظہار درست نہیں جو اسلامی شعائر کے خلاف ہو کیونکہ مسلمانوں کا استخفاف اور ان سے (ان کے شعائر میں) ٹکراؤ ہوگا۔‘

مصالح عامہ کے لیے تعزیر کا اجراء

شریعت کا عام ضابطہ تو یہی ہے کہ اسلامی سربراہ انہی کاموں پر تعزیر جاری کرسکتا ہے جو حرام لذاتہ ہوں اور ان کی حرمت منصوص ہو لیکن امام مصالح عامہ کے لئے اگر کسی ایسی چیز پر تعزیر کا حکم دے جس کی حرمت منصوص نہیں تو شریعت میں اس کی بھی اجازت ہے اس سے زیادہ مصلحت عام کیا ہوگی کہ دارالاسلام میں عامۃ المسلمین کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اور انھیں الحاد و ارتداد کے ہر مظنۃ التباس سے بچانے کے لیے اسلامی سربراہ آرڈیننس نافذ کرے۔

جناب عبدالقادر عودہ لکھتے ہیں:۔

الشریعۃ تجیز استثناء من ہذہ القاعدۃ العامۃ ان یکون التعزیر فی غیر معصیۃ ای فیما لم ینص علی تحریمہ لذاتہ اذا اقتضت المصلحۃ العامۃ التعزیر والافعال والحالات التی تدخل تحت ہذا الاستثناء ولا یمکن تعیینہا ولا حصرہا مقدما لانہا لیست محرمۃ لذاتہا وانما تحرم لوصفہا فان توفر فیہا الوصف فہی محرمۃ وان تخلف عنہا

صفحہ ١٤١

الوصف فهی مباحة والوصف الذی جعل علة للعقاب هو الاضرار بالمصلحة العامة او النظام العام فاذا توفر هذا الوصف فی فعل او حالت استحق الجانی العقاب.

(التشریع الجنائی الاسلامی ص ١٤٩-١٥٠ مطبوعہ ١٩٥٩ء)

ترجمہ: شریعت اس عام قاعدے سے استثناء کی اجازت دیتی ہے کہ جب مصلحت عامہ کا تقاضا ہو تعزیر ان کاموں پر بھی لگ سکے گی جو معصیت نہیں یعنی ان کے حرام لذاتہ ہونے پر نص وارد نہیں اور وہ افعال اور حالات جو استثناء کے ذیل میں آسکتے ہیں ان کی گنتی اور احاطہ پہلے سے نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ حرام بالذات نہیں اپنے وصف سے وہ حرام ہورہے ہیں۔ ان میں جتنا یہ وصف زیادہ ہوگا اتنی ہی ان کی حرمت ہوگی۔ یہ وصف نہ پایا جائے تو وہ کام مباح ہوں گے جو وصف سزا دینے کی علت ٹھہرایا گیا ہے وہ مصلحت عامہ یا ملک کے نظام عام کو نقصان پہنچانا ہے کسی کام یا حالت میں یہ صورت ہو تو قصور وار سزا کا مستحق ہے۔“

مولانا عبدالحئی لکھنویؒ بھی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں۔

در رسالہ جامع تعزیرات از بحر الرائق منقول است۔

السياسة فعل ينشأ من الحاكم لمصلحة يراها و ان لم يرد بذلک دلیل جزئی.

ترجمہ: جامع تعزیرات میں البحر الرائق سے منقول ہے کہ سیاست (سزا دینا) ایک فعل ہے جو حاکم سے صادر ہو ایسی مصلحت کے لیے جس کو وہی جانتا ہو۔ گو اس کے لیے کوئی جزئی وارد نہ ہوئی ہو۔

(مجموعہ فتاویٰ عبدالحئیؒ جلد ١ ص ١١٤ طبع قدیم)

اور اسی میں یہ ہے۔

”سیاست نوع از تعزیر است کہ در عقوبات شدیدہ مثل قتل و حبس ممتد و اخراج بلد مستعمل مے شود۔“

صفحہ ١٤٢

ترجمہ: سیاست ایک طرح کی تعزیر ہے یہ لفظ سخت سزاؤں جیسے قتل لمبی قیدیں اور جلاوطن وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سربراہ سلطنت اسلامی جو ایسا کرنے کا مجاز ہو اس کے لیے ضروری نہیں کہ بطور خلیفہ منتخب ہوا ہو۔ ہر وہ سربراہ جس کو تسلط اور غلبہ حاصل ہو وہ ایسے احکامات جاری کرنے کا مجاز ہے۔ فقہاء لکھتے ہیں ۔

”معتبرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس کو تسلط حاصل ہو خواہ بادشاہ اسلامی ہو یا صوبیدار وغیرہ۔“ (حاشیہ غایۃ الاوطار جلد ٤ ص ٨٣)

جب یہ معلوم ہوگیا کہ مسلم سربراہ سلطنت بعض ان کاموں سے بھی روک سکتا ہے جو اپنی ذات میں تو ناجائز نہ ہوں لیکن اپنے کسی خاص وصف یا حالت میں مصالح عامہ کے خلاف ہوں اور ان پر تعزیر بھی لگا سکتا ہے تو اب ان چند کاموں کا بھی جائزہ لیں جو اپنی ذات میں نیکی ہیں مگر اپنے وصف میں مقارن بالمعصیت ہو جاتے ہیں کیا ان سے روکا جا سکتا ہے؟

جو نیکی مقارن بالمعصیت ہو اس سے روکنا

اس کے لیے مندرجہ ذیل آیات قرآنی اور احادیث مقدسہ سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

حالت میں پڑھی جائے) تو اس سے روکا جا سکتا ہے۔ لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون. (پ ٥ النساء آیت: ٤٣)

ترجمہ: اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے اس حالت میں کہ تم نشہ میں ہو تا وقتیکہ تم جان لو کہ تم کیا کر رہے ہو!

سکتا ہے۔

لا یمسہ الا المطہرون (پ ٢٧ الواقعہ آیت: ٧٩) ترجمہ: نہیں چھوتے اسے مگر پاک۔

صفحہ ١٤٣

میں مرقوم تھا۔ لا یمس القرآن الا طاہر ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بغیر وضو سجدہ کرنے سے منع فرمایا حالانکہ خدا کو سجدہ کرنا اپنی ذات میں ایک بڑی نیکی تھی۔ عن ابن عمر انہ کان یقول لا یسجد الرجل ولا یقرأ القرآن الا وہو طاہر قال محمد ولہذا کلہ ناخذ وہو قول ابی حنیفہ۔

(مؤطا امام محمد ص ١٦٣)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ آدمی نہ وضو کے بغیر سجدہ کرے نہ بغیر طہارت قرآن پڑھے امام محمد کہتے ہیں کہ ہم اس پر ہی فتویٰ دیتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہؒ کا فیصلہ ہے۔

لا صلوٰۃ بعد صلوٰۃ العصر حتی تغرب الشمس ولا صلوٰۃ بعد صلوٰۃ الفجر حتی تطلع الشمس۔

(صحیح مسلم ص ٢٧٥ ج ١)

اسلام کر سکتے ہیں؟ تبلیغ اسلام بلاشبہ ایک نیکی اور طاعت ہے۔ مگر اس اشتراک میں چونکہ مرزا غلام احمد کی نبوت نہ آتی تھی مرزا صاحب نے اس کی اجازت نہ دی۔

(دیکھئے ذکر حبیب ص ١٤٧ مولفہ مفتی محمد صادق)

اس میں شبہ نہیں کہ نفل نماز اپنی جگہ ایک بڑی نیکی ہے لیکن بعض دوسری مصالح کے پیش نظر اس سے ان خاص حالات میں روکا گیا۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا فی نفسہ کوئی عیب بھی نہ تھا لیکن کسی درجہ میں سورج پرست قوموں کے قرب کا سبب ہو سکتا تھا اس لیے یہ حالت جو کسی معصیت کا سبب ہو سکتی تھی۔ اس میں نماز سے بھی روک دیا گیا جو اپنی ذات میں بڑی نیکی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو نیکی مقارن بالمعصیت ہو وہ اس حالت کی وجہ سے برائی قرار دی جا سکتی ہے اور مصالح عامہ کا تقاضا ہو تو اس پر تعزیر بھی جاری کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح غیر مسلموں کا اشہد ان لا الہ الا اللہ کہنا یا اشہد ان محمداً رسول اللہ کہنا یا اذان دینا اگر مسلمانوں میں التباس پیدا کرنے کا موجب ہو تو قانون

صفحہ ١٤٤

بالمعصیت کے باعث یہ کلمات کہنا بھی نیکی نہ رہا۔ اس صورت میں اسلامی مملکت کے سربراہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے جرم قرار دے اور مصالح عامہ کے لیے اس پر تعزیر بھی جاری کرے۔

واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ۔

(پ ٧ الانعام آیت: ١٩)

لیکن ایسے حالات ہوں کہ غیر مسلم اقوام کی طرف سے مصحف پاک کی توہین کا مظنہ ہو تو قرآن ان کے ہاں لے کر جانا ممنوع ٹھہرا حالانکہ ایسے حالات میں بھی صحابہ تعلیم قرآن جاری رکھتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں۔

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی ان یسافر بالقرآن

الی ارض العدوّ۔ صحیح بخاری ص ٢٩٩ ج ١۔

چھت میں تھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند تھی کہ حطیم بھی کسی طرح چھت کے نیچے آجائے۔ تعمیر کعبہ سے زیادہ اور نیکی کیا ہو سکتی تھی۔ لیکن محض اس لیے کہ اسلام میں نئے نئے آئے ہوئے لوگ اسے توہین کعبہ نہ سمجھ لیں اور اسلام سے برگشتہ نہ ہو جائیں آپ نے کعبہ کی تعمیر جدید کا اقدام نہ فرمایا۔ کیوں کہ یہ نیکی اس صورت میں مقارن بالمعصیت ہو سکتی تھی۔ آپ نے اپنی خواہش کا حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اظہار فرمایا اور تعمیر کعبہ کو بناء ابراہیمی پر نہ لوٹانے کی یہی وجہ بیان فرمائی۔

لولا حداثۃ عھد قومک بالکفر لنقضت الکعبۃ ولجعلتھا

علی اساس ابراہیم۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٢٩)

ترجمہ: اگر تیری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ کی عمارت گرا کر اسے اساس ابراہیمی پر لوٹا دیتا۔

اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کے مقارن بالمعصیت ہونے کا اندیشہ بھی ہو تو اسے عمل

صفحہ ١٤٥

میں لانے کا جواز نہیں رہتا۔ اس سے لوگوں کو منع کرنا ہے۔

بچانے کے لیے اہل ذمہ پر جو شرطیں عائد کیں ان میں یہ شرط بھی تھی۔

ولا یعلم اولادنا القرآن

(احکام اہل ذمہ لابن القیم جلد٢ ص ٦٦١)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نیکی مقارن بالمعصیت ہونے کا احتمال بھی رکھتی ہو اس سے منع کرنے میں کوئی حرج نہیں اور امام اگر اس روکنے میں مصلحت عامہ سمجھے تو اس کے مرتکب پر تعزیر بھی جاری کر سکتا ہے۔

شعائرِ مرتبی کا تحفظ

جس طرح شعائرِ مکانی (جیسے کعبہ اور مسجدیں) شعائرِ زمانی (جیسے رمضان اور جمعہ) شعائرِ عملی (جیسے نماز کے لیے اذان دینا) کی تعظیم و توقیر مسلمانوں پر واجب ہے۔ مسلمانوں کے شعائرِ مرتبی کا تحفظ و اکرام بھی مسلمانوں پر واجب ہے۔ مسلمانوں کے نام جو ان کے مذہب کا پتہ دیں اور ان کے اعتقادی اور انتظامی مدارج و مراتب (جیسے صحابہ اور ام المومنین اور اہل بیت جیسے القاب اور امیر المومنین جیسے مراتب) جو ان کی تاریخ اور اقتدار کے امتیازی نشان ہوں ان سب کا اکرام و احترام مسلمانوں کے ذمہ ہے اور مسلم سربراہ کے ذمہ ہے کہ وہ ان شعائرِ مرتبی کو غیر مسلم اقوام میں بے آبرو نہ ہونے دے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ماتحت غیر مسلم لوگوں سے جو عہد لیا اس میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں۔

ولا نکتنی بکناہم و علینا ان نعظمہم ونوقرہم۔

(تاریخ دمشق لابن عساکر ص ٥٦٤)

ترجمہ:- ہم مسلمانوں کی کنیتیں اختیار نہ کریں گے اور ان کی توقیر و تعظیم ہمارے ذمہ ہوگی۔

کنیت کا لفظ کنایہ سے ہے اور اس سے نسبتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اس اصولی شرط کو اگر کچھ وسعت نظری سے دیکھیں تو اس سے مسلمانوں کے تمام شعائرِ مرتبی کا تحفظ لازم آتا ہے اور اسلامی سربراہ کے ذمہ ہے کہ ان کے تحفظ کے لیے آرڈی نینس جاری کرے۔ اسی طرح جو نام مختص بالمسلمین ہیں غیر مسلموں کو وہ نام رکھنے کی اجازت نہیں۔ فھذا لا

صفحہ ١٤٦

یمکنون من التسمی به (طحطاوی ج٢ ص ٤٧٣)

قرآن کریم میں ام المومنین کا اعزاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو دیا گیا ہے۔ دنیا کی کسی اور عورت کو نہیں۔ حقیقت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعزاز ہے کہ ان کی ازواج امہات المومنین سمجھی جائیں۔ یہ اعزاز دنیا میں کسی اور شخص کا نہیں اور اس کی نسبت سے اس کی بیوی کو ام المومنین کہا جاسکے۔ مسلم عوام کسی دوسری محترمہ کو مادر ملت کہہ دیں تو ان کا یہ احترام کسی کی بیوی ہونے کے پہلو سے نہیں۔ بیوی ہونے کے پہلو سے یہ اعزاز صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے کہ ان کی ازواج کو امہات المومنین کہا جائے۔

قادیانی مرزا غلام احمد کی بیوی کو مرزا کی نبوت کی نسبت سے ام المومنین کہتے ہیں اور یہ اسلام کے شعائر مذہبی کی ایسی بے حرمتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں اس کی نظیر نہ ملے گی۔ نبوت کی نسبت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے سوا آج تک کسی کو ام المومنین نہیں کیا گیا اور نہ اسے کبھی کسی نے گوارا کیا ہے۔ قادیانیوں نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کی بیوی کو نبوت کی نسبت سے ہی ام المومنین کہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے پیروؤں میں مرزا صاحب کی نبوت کے بارے میں ١٩٣٧ء میں راولپنڈی میں ایک مباحثہ ہوا تھا جسے قادیان سے مباحثہ راولپنڈی کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں قادیانی گروہ نے مرزا صاحب کے لاہوری پیروؤں کو کہا تھا۔

فرمائیے آپ لوگ اب بھی حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کو ام المومنین کہتے ہیں؟ اگر نہیں تو آپ نے عقیدہ میں تبدیلی کر لی اگر کہتے ہیں تو حضرت اقدس کے اس ارشاد کے ماتحت کہ قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں قرار دیا گیا ہے آپ کے لیے ضروری ہوگا کہ اب حضرت اقدس کو نبی تسلیم کر لیں۔ (مباحثہ راولپنڈی ص ١٦٣)

اسی طرح صحابہ کا لفظ بھی جب مطلقاً بولا جائے تو یہ اپنے اندر نبوت کی نسبت رکھتا ہے اور اس اعتبار سے یہ لفظ صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا اعزاز ہے۔ نسبت نبوت سے کسی شخص کو صحابی کہنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے سوا کسی اور کے لیے ثابت نہیں۔ قادیانی بھی اسی نسبت سے مرزا غلام احمد کے ساتھیوں کے لیے صحابی کا لفظ

صفحہ ١٤٧

استعمال کرتے ہیں۔ حکیم نور دین یا مرزا بشیر الدین محمود کے ساتھیوں کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے یہ تابعی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ حضور کے صحابہؓ اور تابعینؓ سے صریح معارضہ نہیں؟

اسی طرح رضی اللہ عنہ کا اعزاز بطور طبقہ صرف صحابہ کرامؓ کی ہی شان ہے امّت کے کسی بڑے سے بزرگ کیلئے بطور طبقہ کہیں رضی اللہ عنہ نہیں کہا گیا۔ بعض بزرگوں کے لیے جو کہیں کہیں رضی اللہ عنہ کے الفاظ ملتے ہیں وہ ان پر بطور طبقہ نہیں بولے گئے ان کے شخصی مقام و احترام کے باعث ایک کلمہ دعا ہے لیکن مرزا صاحب کے پیرو مرزا صاحب کے ساتھیوں کے لیے مرزا صاحب کی نبوّت کی نسبت سے یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں مسلمانوں کے ہاں رضی اللہ عنہ کا یہ اعزاز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے بطور طبقہ آپ کے صحابہؓ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ بھی درحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعزاز ہے کہ آپ کی صحبت پانے والا ہر مومن (گو اس نے ایک لمحہ ایمان کے ساتھ آپؐ کا دیدار کیا ہو) رضی اللہ عنہ کی شان پاسکے۔

اسی طرح امیر المومنین یا امام المسلمین ایسے انتظامی مراتب ہیں کہ سوائے مسلمان کے انھیں کوئی نہیں پاسکتا۔ کسی غیر مسلم سربراہ پر ان مراتب کا اطلاق قرآنی آیت لن یجعل اللّٰہ للكافرین علی المومنین سبیلا (پ ٥ النساء آیت: ١٤١) کے خلاف ہے۔

فقہاء کرام نے ان ناموں کی بھی نشاندہی کر دی ہے جو مسلمانوں کے شعائر ہیں علاّمہ طحطاویؒ درمختار کی شرح میں لکھتے ہیں۔

فی جواز تسمیتھم باسماء المسلمین تفصیل ذکره ابن القیّم فقسم يختص بالمسلمین...... فالاول محمّد واحمد و ابی بکر و عمر و عثمان و علی و طلحة والزّبیر فھذا لا یمکّنون من التسمّی بہ (جلد ٢ صفحہ ٣٧٤)

ترجمہ: اہل ذمّہ مسلمانوں کے سے نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں اس کی تفصیل ہے جو ابن قیّم نے ذکر کی ہے۔ کچھ وہ نام ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہیں جیسے محمدؐ احمدؐ ابوبکرؓ عمرؓ عثمانؓ علیؓ طلحہ اور زبیر یہ نام رکھنے کی انھیں (غیر مسلموں کو) اجازت نہ دی جاسکے گی۔

صفحہ ١٤٨

اسلام ایک بسیط حقیقت ہے

کسی چیز کے بسیط ہونے سے مراد اس کا ناقابل تقسیم ہونا ہے۔ لفظ بساطت ترکیب کے مقابلہ میں ہے اسلام ایک بسیط حقیقت ہے یہ ہوگا تو پورا ہوگا نہ ہوگا تو کچھ بھی نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص پورا اور کوئی آدھا مسلمان ہو۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلام ناقابل تقسیم ہے۔ اسلام کے مقابلے میں کفر ہے یہ درست نہیں کہ کوئی شخص آدھا مسلمان ہوا اور آدھا کافر۔ اسلام کسی پہلو سے قابل تقسیم نہیں۔ ایک شخص پورا مسلمان ہونے کے باوجود نیک یا گنہگار ہو سکتا ہے لیکن اس کے پورا مسلمان ہونے میں کوئی شک نہ کیا جاسکے گا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

التغابن آیت ٢) ترجمہ: وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا سو تم میں سے کافر ہیں اور تم میں سے مومن ہیں۔

اس آیت کی رو سے انسان یا مومن ہوں گے یا کافر۔ دونوں کے بین بین کوئی تیسری قسم نہیں کافروں کے ہی ایک طبقے کا نام ہے اہل کتاب بھی کافروں کی ہی ایک قسم ہیں۔ مرتد اور زندیق بھی کفار ہیں۔ کفر کسی رنگ اور پیرایہ میں ہو کفر ہی ہے اور تمام اہل کفر در حقیقت ایک ہی ملت ہیں۔ الکفر ملة واحدة مشہور مثل ہے۔

الشیطن انه لکم عدو مبین۔ (پ ٢ البقره آیت ٢٠٨) ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور نہ پیروی کرو شیطان کے قدموں کی بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

ہے کہ کیا اس کے اس کچھ ایمان کا اعتبار ہوگا؟ کیا یہ نہیں کہ اس کے اس کچھ کفر کی وجہ سے اس کے کچھ ایمان کا کچھ لحاظ کیا جائے یا اسے

صفحہ ١٤٩

پورا کافر ہی سمجھا جائے گا اور اس کے بعض ایمانیات کا ہرگز کوئی اعتبار نہ ہوگا؟ اس سلسلہ میں اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض و یریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا اولئک ھم الکافرون حقا و اعتدنا للکافرین عذابا الیماً۔ (پ ٦ النساء آیت ١٥٠) ترجمہ: اور کہتے ہیں ہم بعض چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایک بیچ کی راہ نکالیں۔ ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں۔

معلوم ہوا کہ اسلام میں کچھ مومن ہونا اور کچھ کافر ہونا اس کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام میں اس بیچ کی راہ کی کوئی قیمت نہیں ایسے لوگ پورے کے پورے کافر ہوں گے۔ یہ نہیں کہ آدھے مسلمان ہوں اور آدھے کافر اسلام واقعی ایک بسیط حقیقت ہے جو قابلِ تقسیم نہیں۔

تھے۔ مسلمان صرف اللہ رب العزت کو مانتے تھے اور دیگر معبودوں کی خدائی کے منکر تھے۔ دونوں قوموں میں اللہ رب العزت نقطہ اشتراک تھا۔ مگر ان کا مشرکانہ اسلام میں کچھ اعتبار نہ کیا گیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بامر الٰہی انھیں صاف کہہ دیا۔

لا اعبد ما تعبدون۔ (پ ٣٠ الکافرون) میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔

کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس معبودِ حقیقی کی عبادت نہیں کرتے تھے جسے وہ مشرکین بھی بڑا خدا مانتے تھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معبود تو بیشک وہ ہی تھا لیکن ان کافروں کا معبود وہ نہ رہا۔ جب انھوں نے اس کے ساتھ اور کوئی بھی خدائی میں شریک کرلیا۔ اب ان کفریات کے ہوتے ہوئے ان کے اقرار سے خداوند اکبر کا بھی اعتبار نہ رہا اور وہ لوگ پورے کے پورے کافر قرار پائے۔ معلوم ہوا کہ اسلام ایک بسیط حقیقت ہے اور دین میں

صفحہ ١٥٠

مسلمانوں اور کافروں کے مابین کوئی نقطہ اشتراک نہیں۔ اس اساسی اشتراک کے باوجود انھیں اپنے سے کل علیحدہ کر دیا گیا اور لکم دینکم ولی دین (تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین) کہہ کر تعبدی امور میں سے ہر قسم کی علیحدگی اختیار کر لی گئی۔

قرآن کریم کی یہ آیات تعبدی امور میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہر نقطہ اشتراک کا انکار کرتی ہیں مگر قادیانی لوگ اپنے لیے ایک نیا دائرہ کھینچنا چاہتے ہیں کہ وہ بعض ضروریات دین کے انکار کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ ایک دائرہ اسلام میں شریک رہیں۔ اپنے سوا باقی کل مسلمانوں کو کافر سمجھنے اور کہنے کے باوجود مسلمان انھیں کسی نہ کسی پہلو سے دائرہ اسلام میں اپنے ساتھ شریک رکھیں۔

قادیانی اپنے اس مفروضہ کے لیے درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں۔

يدخل الايمان فى قلوبكم. (پ ٢٦ الحجرات آیت ١٥)

ترجمہ: اعراب کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہیں تم ایمان نہیں لائے البتہ تم یہ کہو ہم نے فرمانبرداری قبول کر لی اور ایمان ابھی تک تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔

لا نعبد الا لله. (پ ٣ آل عمران آیت ٦٥)

ترجمہ: ”آپ کہیں اے اہل کتاب آؤ ایک ایسے کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔“

یہ آیات ان آیات کے خلاف ہیں جو اسلام کو ایک بسیط حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

پہلی آیت میں اعراب سے مراد جنگلوں میں رہنے والے وہ بدو ہیں جو تہذیب و تمدن سے دور اور ظاہری علم سے بے بہرہ تھے۔ یہ قحط زدہ ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں امداد کے لیے حاضر ہوئے اور اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا اور اپنے دعویٰ ایمان

صفحہ ١٥١

کو سچا ثابت کرنے کے لیے کچھ اعمال بھی مسلمانوں جیسے کرنے لگے تھے۔ یہ اس درجے کے نو مسلم تھے کہ ظاہری طور پر انقیاد کر کے ایمان کی سرحد پر آ چکے تھے لیکن ایمان کامل ابھی ان کے دل میں داخل نہ ہوا تھا۔ اس لیے اعمال میں وہ لوگ صادق العمل تھے۔

قرآن کریم نے شہادت دی ہے کہ وہ ایمان کی سرحد پر آ چکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کے ارادے ان کے دلوں میں نہ تھے اور امید کی جا سکتی تھی کہ آئندہ ایمان کامل ان کے دلوں میں آ جگہ لے گا۔ صرف اتنا کہا گیا کہ ابھی تک ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ ان کے ایمان کی سرحد پر آنے کی شہادت اسی سورت کی آیت ١٧ میں ہے۔

یمنون علیک ان اسلموا قل لا تمنوا علی اسلامکم بل اللہ

یمن علیکم ان ھداکم للایمان. (پ ٢٦ الحجرات آیت ١٧)

ان ھداکم للایمان کی روشنی میں لما یدخل الایمان کا مطلب ان سے ایمان کامل کی نفی ہو گی۔ ایمان مطلق کی نہیں۔ اس تفسیر کی روشنی میں ان لوگوں کو کافر نہ کہا جائے گا۔ نفاق کا لفظ کہیں ملے تو اس سے مراد نفاق عملی ہو گا جو ابتدائی درجے کے مسلمان میں بھی ہو سکتا ہے۔ پس اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ کافر اور بے ایمان مسلمانوں کے ساتھ دائرہ اسلام میں جمع ہو سکتے ہیں صحیح نہیں۔ آیت کی ایک تفسیر موجود ہے جو اسلام کے ایک بسیط ہونے سے معارض نہیں اس کے لیے درج ذیل تفاسیر سے مزید راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے کلیتہ الشریعہ کے استاذ محمد علی الصابونی ولما یدخل الایمان (ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا) کے لفظ لما (ابھی تک) کے بارے میں لکھتے ہیں۔

ولفظة لما تفيد التوقع كانه يقول سيحصل لكم الايمان عند اطلاعكم على محاسن الاسلام و تذوقكم حلاوة الايمان

قال ابن كثير هولاء الاعراب المذكورون في هذه الآية ليسوا منافقين وانما هم مسلمون لم يستحكم الايمان في قلوبهم فادعوا لانفسهم مقاماً اعلى مما وصلوا اليه فادبوا

صفحہ ١٥٢

فی ذلک۔

(صفوۃ التفاسیر حصہ ١٦ ص ٥١)

ترجمہ: اور لفظ لما امید کا پتہ دیتا ہے گویا کہا گیا ہے کہ جب تم محاسن اسلام پر اطلاع پاؤ گے اور ہم تمھیں ایمان کی حلاوت چکھائیں گے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ اعراب جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ منافقین نہ تھے۔ یہ وہ مسلمان تھے کہ اسلام نے ابھی ان کے دلوں میں جڑ نہ پکڑی تھی سو انھوں نے اپنے لیے اس سے اونچے درجے کا دعویٰ کیا جس مقام پر کہ وہ تھے سو ان کی تادیب کی گئی۔

جامعہ ازہر مصر کے کلیہ اصول الدین استاذ و شیخ محمد محمود الحجازی لکھتے ہیں۔

قالت الاعراب أمنا بالله و رسوله وهم فى الواقع لم يؤمنوا ايماناً كاملاً خالصاً لوجه الله...... ثم عاد القرآن فَجَبَرَ خاطر هم فنفى عنهم الايمان مع ترتب حصوله لهم وقال لم يدخل الايمان قلوبكم اى الآن لم يدخل ولكنه سيدخل فيها و هذا تشجيع لهم على العمل والدخول حقاً فى صفوف المومنين.

(التفسير الواضح جلد ٢٦ ص ٦٧)

ترجمہ: یہ جنگلی عرب کہتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور واقع میں وہ پورا ایمان جو خالصاً اللہ کے لیے ہو وہ نہیں لائے...... قرآن پھر اس مضمون کی طرف لوٹا اور ان کے دلوں پر ضرب لگائی اور ان سے ایمان کی نفی اس طرح کی کہ اس کے حاصل ہونے کی امید ساتھ ساتھ بندھی رہے اور کہا کہ ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں نہیں اترا یعنی اب تک لیکن عنقریب یہ (تمھارے دلوں میں) اتر جائے گا۔

یہ پیرایہ بیان انھیں عمل پر ابھارنے کے لیے ہے اور مومنین کی صفوں میں حقیقی طور پر داخل ہونے کے لیے ہے۔ شیخ الاسلام پاکستان علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اُس آیت پر لکھتے ہیں۔

ایمان و یقین جب پوری طرح دل میں راسخ ہو جائے اور جڑ پکڑ لے اس وقت

صفحہ ١٥٣

غیبت اور عیب جوئی وغیرہ کی خصلتیں آدمی سے دور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور آزار پہنچانے میں مبتلا ہو سمجھ لو کہ ابھی تک ایمان اس کے دل میں پوری طرح پیوست نہیں ہوا۔ (ص ١٧٦)

اور آگے ھداکم للایمان پر لکھتے ہیں۔ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ایمان کی طرف آنے کا رستہ دیا اور دولت اسلام سے سرفراز کیا۔ (ص ٦٧٢)

مرزا غلام احمد کے پیروؤں میں مولوی محمد علی بھی لکھتے ہیں۔ مسلم تو ہر وہ شخص ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا خواہ ابھی اسلام کے احکام پر پورے طور پر عامل ہے یا نہیں اور خواہ دل میں وساوس بھی پیدا ہوتے ہیں...... یہاں ایمان کامل یعنی اس کے تینوں پہلوؤں کا ذکر ہے۔ (ص ١٢٩)

مولوی محمد علی صاحب نے یہاں ان نومسلموں میں اسلام کے ساتھ کمی عمل یا وساوس کو تو جمع کیا ہے لیکن یہ انھوں نے بھی نہیں کہا کہ اسلام کے ساتھ صریح کفر جمع ہو سکتے ہیں۔

پھر یہ بات ایک وقتی بات تھی اور محض آنی تھی۔ اس لیے ان کا انقیاد ظاہری میں آنا لفظ اسلمنا سے بیان ہوا جو جملہ فعلیہ ہے جملہ اسمیہ نہیں جملہ اسمیہ دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں بتلایا گیا کہ پوری طرح مسلمان ہونے سے پہلے وہ اسلمنا تو کہہ سکتے ہیں کہ وقتی طور پر انھوں نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ جملہ اسمیہ میں نحن مسلمون نہیں کہہ سکتے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایک جزئیہ ایسا نہیں ملے گا جس میں کسی فرد یا طبقے کو اس کے کھلے کفری اعتقادات کے باوجود ظاہری اقرار شہادتین (اظہار کلمہ توحید و رسالت) پر مسلم کہا گیا ہو۔ سو قادیانی حضرات کو اس آیت کی راہ سے داخل دائرہ اسلام ہونا قطعاً درست نہیں۔ یہ ذمی ہو کر دائرہ استسلام میں تو رہ سکتے ہیں دائرہ اسلام میں نہیں۔

اب دوسری آیت کو لیجئے جسے قادیانی مسلمانوں کے ساتھ تعبدی امور میں شامل ہونے کے لیے دلیل اشتراک بتاتے ہیں۔ تعالوا الى كلمة سواء بيننا و بينكم. آؤ اس بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں برابر ہے کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ یہاں

صفحہ ١٥٤

دو سوال سامنے آتے ہیں۔

مانتے تھے یا وہ حضرت مسیح کو ابن اللہ کہہ کر تین خداؤں کی خداوندی کے قائل تھے؟

بات) کیسے کہہ دیا۔

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے قرآن پاک کی آیات صریحہ (پ ٦ سورۃ المائدہ آیت: ١٨، آیت ٧٣، پ ٧ المائدہ آیت: ١١٦۔ پ ١٠ التوبہ آیت: ٣٠۔ آیت: ٣١) اس کی تردید کر رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کی خدائی میں شریک کرتے تھے۔ جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے۔ ایک خدا کی عبادت کو ان قوموں کے انبیاء کی اصل دعوت کے لحاظ سے کلمہ سواء (مشترکہ بات) کہا گیا ہے اور دعوت دی گئی ہے کہ اے اہل کتاب اس بات کی طرف آؤ جو تمام انبیاء کی مشترک دعوت رہی ہے کہ ہم ایک خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں۔ سو یہ دعوت اپنی اصل کے لحاظ سے اور اہل کتاب کے پیش نظر اسلام ہے۔ مشرک عیسائیوں سے دعوت اشتراک نہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روم کے عیسائی بادشاہ ھرقل کو اسلام کی دعوت دے کر والا نامہ ارسال فرمایا اس میں آپ نے اَسْلِمْ تَسْلَمْ یؤتک اللہ اجرک مرتین کے ساتھ یہ آیت بھی لکھوائی۔

تعالوا الى كلمة سواء بيننا و بينكم. (صحیح البخاری ج ١ ص ٥)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کو دعوت اسلام کے طور پر پیش کیا ہے دعوت اشتراک کے طور پر نہیں۔

تفسیر سراج منیر میں ہے۔

بان دعاهم الى ماوافق عليه عيسىٰ والانجیل وسائر الانبیاء والکتب. (جلد ١. ص ٢١٩)

ترجمہ: شرک اور کفر اہل کتاب کے اصل دین میں نہ تھا سو اس آیت میں انھیں اپنے اصل دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور یہ

صفحہ ١٥٥

حقیقت میں دعوت اسلام ہے ان کے اختراعی دین میں اشتراک نہیں۔ تفسیر المراغی میں ہے۔

اما اهل الكتاب فالشرک والكفر قد عرض للكثير منهم عروضاً و ليس من اصل دينهم. (ص ١٣٦ ج ٦)

اسلام خود ایک کامل دین ہے۔ اس میں تعبدی امور میں کسی اور دین سے سمجھوتہ کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔ دوسرے ادیان کو دعوت اشتراک دینے کی ابتداء مسیلمہ کذاب سے ہوئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں مسیلمہ نے حضور کی خدمت میں دعوت اشتراک ان لفظوں میں بھیجی تھی۔

من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله اما بعد فان الارض نصفها لى و نصفها لک (صفوة التفاسير جلد ١

ص ٣٥٠ حاشیه)

ترجمہ: یہ خط مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام ہے۔ زمین آدھی میرے نام رہے اور آدھی آپ کے نام۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعوت اشتراک کو اور اس کے دعوائے رسالت کو دونوں کو رد فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی نئے مدعی نبوت کے پیروؤں کے ساتھ کسی بات میں اشتراک نہیں کر سکتے۔

٣۔ افراد امت کا تحفظ

شعائر اسلام کی حفاظت اور ان کا ہر آمیزش سے تحفظ یہ عظمت شعائر کے پیش نظر تھا لیکن اسلام میں جملہ افراد امت کی ہر دنیوی اور دینی فتنے سے حفاظت یہ بھی حکومت اسلامی کے ذمہ ہے کسی غیر مسلم اقلیت کی مذہبی آزادی اگر افراد امت محمدیہؐ کے لیے کسی فتنے کا دروازہ کھولتی ہو تو مسلم سربراہ پر فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ ایسا آرڈی نینس نافذ کرے جس سے اسباب کی حد تک جملہ افراد امت کا پورا تحفظ ہو جائے۔

صفحہ ١٥٦

٤۔ حوزہ امت کا تحفظ

امت محمدیہ کی سالمیت کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے جس طرح مملکت اسلامی کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ اس امت کی نظریاتی سرحدوں پر بھی پوری فکری کاوش سے پہرہ دیا جائے۔ قادیانی لٹریچر کی اشاعت اگر عام رہے اور ان کے مبلغین کھلے بندوں مسلمانوں میں اپنے نظریات کی تبلیغ کرتے رہیں تو اس حوزہ امت کا کسی طرح تحفظ نہ رہ سکے گا اور حکومت کے لیے نت نئے مسائل اٹھتے رہیں گے۔ سو ضروری ہے کہ قادیانیوں کی تبلیغ ان کے اپنے محدود حلقوں میں محدود کی جائے اور انھیں کھلے طور پر اپنے خیالات پھیلانے کی اجازت نہ ہو۔ ان کے لٹریچر کی کھلی اشاعت خلاف قانون قرار دی جائے تاکہ امت کی نظریاتی سرحدیں پوری طرح محفوظ رہ سکیں۔

قادیانی لٹریچر کس طرح کی الحادی اور غیر اخلاقی فضا پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیے ان کے لٹریچر کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ان آیات اور احادیث کی ایک تلخیص بطور مقدمہ پیش کی جاتی ہے۔ جس میں اسلامی حکومت کی اس ذمہ داری کا بیان ہے کہ جہاں تک ہو سکے وہ منکرات کو روکنے میں زیادہ سے زیادہ کوشاں رہے منکرات کو روکنے اور ختم کرنے کے بغیر اسلامی مملکت میں معروفات کا قیام بہت مشکل ہے۔

اسلامی سلطنت میں قادیانی تبلیغ پر پابندی

قادیانی تبلیغ کے نام پر کس طرح کا لٹریچر پیش کرتے ہیں اور عامۃ المسلمین کے ذہنوں پر اس کا کس قدر مہلک اور مخرب اخلاق اثر پڑ سکتا ہے۔ اسے پیش کرنے سے پہلے ایک اصولی بات گزارش ہے۔

اسلامی سلطنت کے سربراہ کا فرض ہے کہ ان تمام منکرات کا سدباب کرے جس سے مسلمانوں کے عقائد اور اخلاق پر برا اثر پڑے۔ اس باب میں درج ذیل آیات و احادیث سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ (پاره ١٧ : سورة الحج: آیت ٤١)

صفحہ ١٥٧

وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَاد

(پ ٢٨ سورة تحريم: آیت ٦)

كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته فالامير الذى على النَّاسِ رَاعِ وَهُوَ مَسْئُول عَنْ رَّعِيَّتِهِ

( صحیح مسلم ص ١٣٢ ج ٢)

قال مَنْ رَّأَى مِنْكُمْ مُنْكَراً فَلْيُغَيِّرُهُ بِيَدِهِ ۖ فَإِن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْاِيْمَانِ.

(مشکوة ص ٤٣٦، بحواله مسلم)

ان آیات اور احادیث کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان اقتدار پر آنے کے بعد منکرات کو روکتے ہیں اور ہر سربراہ کا فرض ہے کہ اپنے عیال کو کفر اور بدی کی آگ سے بچانے کی پوری کوشش کرے۔ عامۃ المسلمین اسلامی سربراہ کے عیال اور رعایا ہیں۔

پاکستان ایک اسلامی سلطنت ہے۔ اس میں عامۃ المسلمین کی دینی اور اخلاقی قدروں کی صیانت اور حفاظت کرنا اور اس کے لیے فرامین جاری کرنا اور آرڈی نینس بنانا سربراہ اسلامی سلطنت پر ایک بڑا فرض ہے۔ ایک اسلامی سلطنت میں الحاد و زندقہ پھیلانے والا خلافِ اسلام لٹریچر اور بے حیائی پھیلانے والا مخرب اخلاق لٹریچر پھیلے۔ قادیانیوں کی کھلی تبلیغ پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس غلط لٹریچر سے مسلمانوں میں اس قسم کے عقائد و نظریات بیشک پھیلتے رہیں اور مسلمانوں کو اس سے عام اور کھلے بندوں الحاد و ارتداد کی دعوت ملتی رہے۔ اس باب میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کی مندرجہ ذیل تحریرات لائق توجہ ہیں۔ کیا یہ منکرات نہیں؟ کیا انھیں پھیلنے دینا چاہیے اور کیا مسلمانوں میں ان کی اشاعت عام کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ آئیے پہلے یہ دیکھئے کہ قادیانیوں میں نبوت کا تصور کیا ہے اور ان کے ہاں کس قسم کا آدمی نبی ہو سکتا ہے۔

مرزا صاحب کہتے ہیں ”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی

صفحہ ١٥٨

گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔

اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا۔ خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔ (تریاق القلوب ص١٣٣) مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ نومبر ١٩٧٩ء

ایک اور گستاخی ملاحظہ کیجئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی فضیلت جتلانا ان کے لٹریچر میں عام ملتا ہے اس قسم کا لٹریچر پھیلنے سے عام لوگوں کا ایمان کیسے بچ سکتا ہے۔ یہ المیہ از خود واضح ہے۔

بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔ (کرامات الصادقین ص١٩)

اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت سے معارف قرآن سے محروم رکھے گئے اور وہ حقیقتیں مرزا صاحب پر کھلیں مرزا صاحب کہتے ہیں۔

حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ھی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے اجمالی طور پر سجایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص٢٨٢ مطبوعہ قادیان)

ترجمہ: اس کے (حضور ص میرے لیے چاند ا

اب ان کے دوسرے

حتی کہ محمدؐ سے بھی (ڈائری

یعنی مجھے اللہ تعالیٰ انبیاء و مرسلین اور ا عامۃ المسلمین کا ای

دی (تذکرہ ص ٩

محمدؐ دیکھنے ہوں

اس لٹریچر کے عا کس طرح متزلزل ہوگی یہ با مرزا غلام احمد صا انداز میں کی ہے اسے دیکھئے

صفحہ ١٥٩

ترجمہ: اس کے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا؟

(اعجاز احمدی مطبوعہ ربوہ ص ١٧)

اب ان کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود سے بھی سن لیجئے۔

حتیٰ کہ محمدؐ سے بھی بڑھ سکتا ہے، مرزا صاحب نے پھر یہ بھی لکھا ہے۔

(ڈائری مرزا محمود احمد۔ مطبوعہ روز نامہ الفضل ص ٥۔ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)

یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ کچھ دیا جو تمام جہانوں میں کسی کو نہ دیا گیا تھا، کیا یہ کُل انبیاء و مرسلین اور اولادِ آدم پر فضیلت کا دعویٰ نہیں اور کیا اس قسم کا لٹریچر پھیلنے سے عامۃ المسلمین کا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے۔

(تذکرہ ص ٦٤٨)

(تذکرہ ص ٧٠٩)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٣)

محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(”بدر“ قادیان ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

اس لٹریچر کے عام پھیلنے سے مسلمانوں پر کیا اثر پڑے گا اور ان کی اعتقادی سطح کس طرح متزلزل ہوگی یہ بات ازخود واضح ہے۔

مرزا غلام احمد صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کس خلافِ تہذیب انداز میں کی ہے اسے دیکھئے۔

صفحہ ١٦٠

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت

اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی اور میری نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔

(حقیقت الوحی ص ١٤٩ تا ص ١٥٠)

بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا تاکہ یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنی کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے

(دافع البلاء ص ٢٧)

(دافع البلاء ص ٣٩)

شراب پینا

یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے

(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥)

گالیاں دینا

ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کرنے کی عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔

(انجام آتھم ص ٢٨٧)

جھوٹ اور چوری کی عادت

یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی جن جن پیش گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں

صفحہ ١٦١

ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پیاری تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جیسے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔

آپ نے یہ حرکت شائد اس لیے کی ہو گی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہ دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت تھی کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ (انجام آتھم ص ٢٧٤ تا ص ٢٧٥)

آپ کا کوئی معجزہ نہ تھا

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔ (انجام آتھم ص ٢٧٥)

آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے کچھ نہ تھا

ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔

(انجام آتھم ص ٢٧٥ تا ص ٢٧٦)

صفحہ ١٦٢

تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شائد یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہو گی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شائد اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے ہاتھ پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

(انجام آتھم ص ٢٧٦)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طعن کرنے میں قرآن سے استدلال

ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحیٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحیٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔

(حاشیہ دافع البلاء ص ٤ تا ٥)

صحابہؓ کرام کی توہین

مَن دخل فی جماعتی دخل فی صحابہ سیدی خیر المرسلین ترجمہ: پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨ و ص ٢٥٩)

صفحہ ١٦٣

راور کسبی عورتیں تھیں

ت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپؐ زنا کار آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شائد یہ بھی خدائی کے لیے میلان اور محبت بھی شائد اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے لے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

(انجام آتھم ص ٢٧٦)

کرنے میں قرآن سے استدلال

مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو لو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا ئی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور چھوا تھا یا کوئی بے تعلق عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ نام مصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس

فع البلاء ص ٤ تا ٥)

عل فی صحابة سیدی خیر المرسلین. عت میں داخل ہو اور حقیقت میرے سردار کل ہوا۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨ و ص ٢٥٩) مت سے کچھ حصہ نہ تھا۔ (ضمیمہ نصرت الحق ص ١٢)

(ازالہ اوہام ص ٤٢٦)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٥)

(حقیقت الوحی ص ٣٤)

کے اقوال سن کر جو اردگرد رہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابو ہریرہ جو غبی تھا اور روایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔

(نعوذ باللہ من ھذا الکفریات) اعجاز احمدی ص ١٨)

اہل بیت نبوی کی توہین

ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف سے نشہ سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔ جیسے بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آ گئے۔ یعنی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و حضرت علی و حسین و فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ (تذکرہ ص ٢١)

کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ (دافع البلاء ص ٢٦)

ترجمہ: اور مجھ میں اور تمھارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (اعجاز احمدی ص ٦٩)

صفحہ ١٦٤

واما حسين فاذكروا دشت كربلا۔ الى ھٰذہ الايام تبكون فتفكروا۔ ترجمہ: مگر حسین پس تم دشتِ کربلا کو یاد کرلو اب تک تم روتے ہو بس سوچ لو۔

وانى ورثت الكمال كمال محمد۔ فما انا الا آلہ المتخير۔ ترجمہ: اور میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال کا وارث بنایا گیا ہوں۔ پس میں اس کی آل برگزیدہ ہوں جس کو ورثہ پہنچ گیا۔

(اعجاز احمدی ص ٧٠)

طلبتم فلاحا من قتيل بخيبة۔ فخيبكم رب غيور متبر۔ ترجمہ: تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٨١)

ووالله ليست فيه منى زيادة وعندى شهادات من الله فَانْظُرُوْا۔ ترجمہ: اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٨١)

نسيتم جلال الله والمجد والعلى وما وردكم الا حسين اتنكر۔ تم نے خدا کے جلال کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔

فهذا على الاسلام احدى المصائب لدى نفحات المسك قذر مقنطر۔ ترجمہ: پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٨٢)

صفحہ ١٦٥

مسلمانوں کے اسلام پر لعن

ترجمہ:- اللہ نے میرے دل میں القاء کیا کہ یقیناً اسلام میت ہے (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٩)

دنیا کے سامنے پیش کرو گے۔ (ذکر حبیب ص ٤٧ مطبوعہ قادیان)

سے نکال دیا جائے۔ تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح خشک درخت شمار کیا جائے گا۔ (الفضل ربوہ ٣١ مئی ١٩٥٢ء)

مرزا صاحب کی زبان اخلاقی طور پر کن قدروں کا مظاہرہ کرتی ہے اسکے لیے ان کی ان تحریروں کا جائزہ لیجئے۔

اخلاقی بے حیائی کا فروغ

کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا انھوں نے ہمارے رو برو خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا۔ ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انھوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں۔ (حقیقت الوحی ص ٣)

نہیں سمجھا جاتا کہ اس نطفہ کو رحم سے تعلق ہو گیا ہے بلکہ تعلق کے لیے علیحدہ آثار اور علامات ہیں۔ پس یاد الٰہی میں ذرہ شوق جس کو دوسرے لفظوں میں حالت خشوع کہتے ہیں۔ نطفہ کی اس حالت سے مشابہ ہے جب وہ ایک صورت انزال پکڑ کر اندام نہانی کے اندر گر جاتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ جسمانی عالم میں ایک کمال لذت کا وقت ہوتا ہے لیکن تاہم فقط اس قطرہ منی کا اندر گرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحم سے اس نطفہ کا تعلق بھی ہو جائے اور وہ رحم کی طرف کھینچا جائے۔

صفحہ ١٦٦

پس ایسا ہی روحانی شوق ذوق اور حالت خشوع اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحم خدا سے ایسے شخص کا تعلق ہو جائے اور اس کیطرف کھینچا جائے بلکہ جیسا کہ نطفہ کبھی حرام کاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تو اس میں وہی لذت ڈالنے والے کو ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ پس ایسے ہی بت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع اور خضوع اور حالت ذوق اور شوق رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور ان لوگوں کا جو محض اغراض دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرام کار عورتوں کی اندام نہانی میں جاکر باعث لذت ہوتا ہے بہر حال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہی حالت خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے۔ مگر صرف حالت خشوع اور رقت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے۔

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عورت کے اندام نہانی میں داخل ہو جائے اور اس کو اس فعل سے کمال لذت حاصل ہو تو یہ لذت اس بات پر دلالت نہیں کرے گی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے۔

نوٹ: قادیانی لٹریچر میں اس قسم کی فحش باتیں بھی نقل کی گئی ہیں۔ جن کے نقل کرتے ہوئے بھی شرافت لرزتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ایک مخالف کی بات کو کن گندے الفاظ میں نقل کیا ہے۔

ہے اور کہہ دیتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے اور وہ الہام ہوا۔ میں مہدی ہوں میں مسیح ہوں۔ (تذکرۃ المہدی ١٥٧ مولفہ پیر سراج الحق مطبوعہ جون ١٩١٥ء)

نوٹ: پیر سراج الحق کون ہیں؟ یہ مرزا غلام احمد کے امام نماز ہیں۔ مرزا صاحب ان کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔

”پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے سمجھنے والے سمجھ لیں“ (چشمہ معرفت ص ١٠٩)

اس زبان کے لٹریچر کو کھلے بندوں شائع ہونے دیا جائے تو یہ عامۃ الناس کے لیے نہایت مخرب اخلاق اور حیاء سوز ہو گا۔ اس لٹریچر پر پابندی لگنی چاہیے۔

بد زبانی کا فروغ

تم یہوديانہ خصلت کو پ ایمانی کا پیالہ پیا وہ ع

زیادہ پلید وہ لوگ ہیں ہیں۔ اے مردار خورو م

اس آفتاب ظہور حق

عام مسلمانوں کے متعلق

(نجم الہدیٰ ص ٥٣)

فلکم کُتُبٌ ینظر ینتفع من معارفھا الذین ختم اللہ ع

ترجمہ: میری مذکورہ دیکھتا ہے اور ان ہے اور میرے دعو کے جن کے دلوں کرتے۔ (آئینہ کم

ذريته البغايا کا مع وليس من ذرية البغايا. اور ا خراب عورتوں کی نسل سے نہیں

صفحہ ١٦٧

بد زبانی کا فروغ

تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑوگے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہ ہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔ (انجام آتھم ص ١٩ ص ٢٠)

زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو تم پر افسوس۔ (انجام آتھم ص ٢٨٩)

اس آفتاب ظہور حق سے منکر ہیں۔ (انجام آتھم ص ٢٩٠)

عام مسلمانوں کے متعلق

(نجم الہدیٰ ص ٥٣)

تلكم كُتُبٌ ينظر الیہا کل مسلم بعین المحبّۃ والمودۃ و ینتفع من معارفها و یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذرية البغايا الذین ختم الله علی قلوبهم فہم لا یقبلون.

ترجمہ: میری مذکورہ بالا کتابوں کو ہر مسلمان محبت اور پیار کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے کنجریوں کی اولاد کے جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہریں لگا دی ہیں وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ و ص ٥٤٨)

ذرية البغايا کا معنی مرزا صاحب نے خود یہ کیا ہے۔ من هو من ولد الحلال وليس من ذرية البغايا۔ اور اس کا اردو ترجمہ یہ کیا ہے۔ ”ہر ایک شخص جو ولد حلال ہے اور خراب عورتوں کی نسل سے نہیں۔“ (نور الحق ص ١٦٢)

صفحہ ١٦٨

سے باز نہ آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔

(انوار اسلام ص ٣٠)

اس قسم کی تحریرات اور بدزبانی انسانی شرافت پر بہت گراں ہے۔ ایک اسلامی ملک میں اس قسم کا لٹریچر عام ملے اور اس پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو بلکہ کچھ لوگ اس کی تبلیغ و اشاعت میں زندگیاں وقف کیے ہوئے ہوں تو اس سے نہ صرف اسلامی عقائد کو سخت دھچکا لگے گا بلکہ ان مخرب اخلاق تحریروں سے انسانی شرافت بھی بری طرح پامال ہوگی ان حالات میں سربراہ مملکت اسلامی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی اس قسم کی تبلیغ کو خلاف قانون قرار دیں اور اس مخرب اخلاق لٹریچر کی طباعت اور اشاعت اس ملک میں خلاف قانون قرار پائے۔ صدر پاکستان نے اس آرڈی نینس کے ذریعہ اپنا ایک بڑا فرض سر انجام دیا ہے۔

قادیانی لٹریچر میں اسلام کے جذبہ جہاد کی روک تھام

یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام سے ہی اس کی بقاء وابستہ ہے اس کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت بھی دراصل اسلام ہی کے گرد ایک حفاظتی پہرہ ہے سو اس ملک میں عامتہ المسلمین ہی عموماً اور نوجوانوں میں خصوصاً جذبہ جہاد اور احساس قربانی کی آبیاری بہت ضروری ہے اور قادیانیوں کے خلاف جہاد لٹریچر کا ایک نمونہ عرض خدمت ہے۔

آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح صفحہ ب، ضمیمہ خطبہ الہامیہ)

مرزا غلام احمد نے صرف ہندوستان میں ہی انگریزوں کو اپنا اولوالامر نہیں بنایا بلکہ اس کی تحریک پورے عالم اسلام میں انگریزوں کے ایجنٹ کے طور پر ان کی سیاسی خدمات بجا

صفحہ ١٦٩

صاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی ری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ہے اور حلال زادہ نہیں۔ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ

(انوار اسلام ص ٣٠)

بانی انسانی شرافت پر بہت گراں ہے۔ ایک اسلامی ملک کسی قسم کی پابندی نہ ہو بلکہ کچھ لوگ اس کی تبلیغ واشاعت تو اس سے نہ صرف اسلامی عقائد کو سخت دھچکا لگے گا بلکہ شرافت بھی بری طرح پامال ہو گی ان حالات میں سربراہ ان لوگوں کی اس قسم کی تبلیغ کو خلاف قانون قرار دیں اور ر اشاعت اس ملک میں خلاف قانون قرار پائے۔ صدر نہ اپنا ایک بڑا فرض سرانجام دیا ہے۔

جذبہ جہاد کی روک تھام

ہتا ہے اور اسلام سے ہی اس کی بقاء وابستہ ہے اس کی صل اسلام ہی کے گرد ایک حفاظتی پہرہ ہے سو اس ملک ں میں خصوصاً جذبہ جہاد اور احساس قربانی کی آبیاری خلاف جہاد لٹریچر کا پوری طرح سد باب ہونا چاہیے۔

قادیانیوں کے خلاف جہاد نا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح صفحہ ٧ ضمیمہ خطبہ الہامیہ)

ہندوستان میں ہی انگریزوں کو اپنا اولو الامر نہیں بنایا بلکہ انگریزوں کے ایجنٹ کے طور پر ان کی سیاسی خدمات بجا

لانے کے لیے بھی مرزا صاحب کی مندرجہ ذیل تحریر اس پر گواہ ہے۔

میں نے بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھپوا کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے۔

(تبلیغ رسالت ۔ جلد ششم صفحہ ٦٥)

مرزا صاحب نے اپنی نبوت اور سلطنت برطانیہ کی خیر خواہی کو کس انداز میں جوڑا ہے اس کے لیے ان کی درج ذیل تحریر بڑی واضح ہے۔

آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ صفحہ ٧)

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں۔

دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔ اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔

(تبلیغ رسالت جلد ٧، صفحہ ١٠)

مرزا غلام احمد کی یہ تحریک صرف مقامی نہ تھی عالمی تھی اس باب میں ان کی مندرجہ ذیل تحریر ان کے سیاسی مقاصد کو پوری طرح اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔

اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت موثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس امر ممانعت جہاد

صفحہ ١٧٠

کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لیے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلادِ شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔

(کتاب البریہ صفحہ ٧٦)

مرزا صاحب نے جہاد کو مسلمانوں کے عام حالات کے پیش نظر یا اپنی ایک وقتی فکر سے بند نہ کیا۔ انگریزوں کی اس خدمت کو خدا کا نام لے کر آسمانی دعوؤں کے سہارے سرانجام دیا۔

آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔

(خطبہ الہامیہ مترجم ص ٢٨ ٢٩ و تبلیغ رسالت جلد ٩ صفحہ ٤٧)

سلطنت برطانیہ کی ان خدمات پر اب کچھ مراعات کی طلب ہے۔ اس کا ایک نمونہ درج ذیل تحریر میں لائقِ توجہ ہے۔

گورنمنٹ کا یہ اپنا فرض ہے کہ وہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت تدبیر سے زمین کے اندرونی حالات دریافت کرے۔...... ہمارے امام (مرزا صاحب) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو بائیس برس ہیں، اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلادِ اسلام عرب، شام کابل وغیرہ میں تقسیم کیا۔

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز، مولوی محمد علی قادیانی بابت ١٩٠٢ء جلد ١ ص ٢٧)

مرزا صاحب کے دل و دماغ میں جہاد سے کس قدر نفرت سما چکی تھی۔ اس کے لئے ان کی مندرجہ ذیل تحریرات دیکھئے۔ ان تحریرات کی کھلی اشاعت سے کیا اس ملک کے نوجوانوں کے لیے فکری اور عملی زندگی کا کوئی پہلو زخمی ہوئے بغیر رہ سکتا ہے۔

”یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے...... یہی وہ فرقہ ہے جو دن

صفحہ ١٧١

رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔"

(فرمان مرزا مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ١٩٠٢ء جلد ١' ١٢)

”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔“

(اشتہار واجب الاظہار تریاق القلوب صفحہ ٣٣٢)

جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔ (اربعین نمبر ٤ صفحہ ١٥ حاشیہ)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٩)

میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ چونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔

(تبلیغ رسالت جلد ٧ صفحہ ١٧)

صفحہ ١٧٢

”اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کو دلوں میں مخفی رکھتے ہیں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔“ (تریاق القلوب صفحہ ٢٦)

اس قسم کے خیالات اور ایمان سوز محرکات جس ملک میں کھلے بندوں پھیلتے رہیں وہ ملک اسلامی بنیادوں پر کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اور مسلمانوں کو ایک زندہ قوم کے طور پر اٹھانے کے لیے قادیانیوں کا اس قسم کا لٹریچر کلی طور پر خلاف قانون ہونا چاہیے۔ صدر پاکستان نے اس زیر بحث آرڈی ننس میں قادیانیوں کی کھلی تبلیغ پر پابندی عائد کر کے تحفظ پاکستان کی طرف ہی قدم بڑھایا ہے اور اقدام کسی پہلو سے بھی قرآن وحدیث کے خلاف نہیں ہے۔

قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔ (پ ٢٠ النمل آیت: ٦٤)

اسلامی مملکت میں مسلمانوں میں خلافِ اسلام تعلیم وتبلیغ کی کیا کھلی اجازت ہے؟

اگر سربراہ مملکت اسلامی اس پر پابندی لگائے اور اسے بذریعہ آرڈیننس خلاف قانون قرار دے تو کیا یہ پابندی قرآنی ارشاد قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین (اگر تم سچے ہو تو اپنے جواب پر دلیل لاؤ) کے خلاف نہیں؟ کیا اس سے ایک گروہ کی شخصی آزادی تو سلب نہیں ہوتی؟ قرآن کریم تو اپنے نہ ماننے والوں کو یہاں تک اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے سب حمائتیوں کو بے شک بلالیں۔ وادعوا شھداء کم من دون الله ان کنتم صادقین اگر وہ اپنے حمائتیوں کو گواہ بنا کر ساتھ لائیں تو ان کی یہ گواہی کیا خلاف اسلام ایک شہادت نہ ہوگی؟

جواب

یہ آیت وَادْعُوا شھداء کم من دون الله ان کنتم صادقین کس سیاق میں آرہی ہے؟ قرآن پاک کے معجزہ ہونے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر تم قرآن پاک کو الٰہی کلام نہیں سمجھتے اسے انسانی کلام کہتے ہو تو تم بھی تو انسان ہو ایسا ایک قطعہ کلام تم بھی بنالاؤ اور بے شک اس پر تم اپنے سب مددگاروں کو بھی بلا لو...... یہ انھیں اپنے عقائد کی تبلیغ کا موقع نہیں دیا جا رہا انھیں قرآن کریم کی مثل لانے سے عاجز ثابت کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کے

صفحہ ١٧٣

معجزہ ہونے کا بیان ہی اسی لیے ہے کہ اس کی مثل لانے سے ہر ایک عاجز ٹھہرے اور کوئی انسانی کلام ایسی کلام کا مقابلہ نہ کر سکے۔ آگے ولن تفعلوا کہہ کر بتلایا گیا کہ تم ایسا کبھی نہ کر سکو گے۔

اسی طرح آیت قل هاتوا برهانكم ان کنتم صادقین بھی یہود و نصاریٰ سے تصحیح نقل کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انھیں اپنے نظریات کی تبلیغ کا موقع نہیں دے رہی یہود و نصاریٰ نے کہا تھا جنت میں ہم ہی داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا کہ ان سے کہیں کہ اس پر حوالہ پیش کریں تصحیح نقل کا مطالبہ اور بات ہے اور انھیں آزادی دینا کہ خلاف اسلام جو چاہیں کہتے رہیں یہ امر دیگر ہے۔

اسی طرح آیت (١) قل ارأیتم ما تدعون من دون الله ارونی ماذا خلقوا من الارض (پ٢٦ الاحقاف آیت٤) اور (٢) قل ارایتم شرکاءکم الذین تدعون من دون الله ارونى ماذا خلقوا من الارض (پ٢٢ الفاطر آیت٤) میں مشرکین سے ان کی حقانیت کی دلیل نہیں پوچھی جا رہی ان سے ان کے غلط معبودوں کی تخلیق کا کام مانگا جا رہا ہے ان سے طلب کیا جا رہا ہے کہ ان معبودوں کی کوئی تخلیق بتائیں کسی چیز کی سند اور حوالہ مانگنا اور بات ہے اور انھیں اس میں بحث کا حق دینا یہ امر دیگر ہے اور پھر یہ سب باتیں وہاں ہو رہی ہیں جہاں اقتدار مشرکین کا تھا...... اس سے یہ بات نہیں نکلتی کہ کسی کو مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کرنے کا حق دیا جا رہا ہے یہ اسلامی سلطنت کی بات نہیں ہے مشرکین سے برابر کی سطح کی ایک بات ہے۔

قرآن پاک میں ایسے مضامین ان مشرکین کی تجہیل و تبکیت کے لیے آئے ہیں انھیں مسلمانوں میں اپنے عقائد کفریہ کی تبلیغ کا حق دینے کے لیے نہیں..... قادیانی مبلغین نے اپنی اپیل میں ان آیات کو بالکل بے محل نقل کیا ہے۔ سورہ نمل کی آیت قل هاتوا برهانکم ان کنتم صادقین کے سلسلہ آیات میں فضیلۃ الاستاذ احمد مصطفیٰ المراغی لکھتے ہیں۔

ثم انتقل من التوبيخ تعريضاً الى التبكيت تصريحاً.

(تفسير المراغى ص ٧ ج ٢٠)

مشرکین کے پاس اس پر کیا دلیل ہو سکتی تھی جو ان سے طلب کی گئی؟ کچھ نہیں۔

صفحہ ١٧٤

تفسیر جلالین میں ہے قل ھاتوا برھانكم على ذلك ولا سبيل اليه (تفسیر جلالین ص ٤٦٩) سو جب اس پر کوئی استدلال ممکن نہیں تو یہ محض تحکمیت اور تعجیز ہے ان سے مناظرہ میں طلب دلیل نہیں اپیل کنندگان نے اپنے اس استدلال میں قل ھاتوا برھانكم (پ ١٧ الانبیاء آیت: ٢٤، ٢٠ النمل آیت: ٦٤) ام لکم سلطان مبین (پ ٢٣ الصافات آیت: ١٥٦) قل ھل عندكم من علم فتخرجوه لنا) (پ ٨ الانعام آیت ١٤٨۔ ان الذین یجادلون فی آیات اللہ پ ٢٤ المومن آیت: ٥٦)

اور دیگر چند آیات بھی پیش کی ہیں اور یہ بات انھوں نے بالکل غلط نظر انداز کر دی ہے کہ یہ بات کہاں کی جا رہی ہے؟ اسلامی مملکت میں یا اقتدار مشرکین میں؟ سورۃ انبیاء سورۃ نمل سورۃ الصافات سورۃ الانعام سورۃ المومن سب مکی سورتیں ہیں جن سے یہ آیات لی گئی ہیں ان سے یہ استدلال کرنا کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلاف اسلام نظریات کی تبلیغ کا حق دیا جا رہا ہے کسی طرح لائق تسلیم نہیں ہے۔ مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کی راہ کھولنے کے لیے ان حضرات نے یہ آیات بالکل بے محل نقل کی ہیں۔

ایک ضروری بات

پھر یہ بھی دیکھیے کہ کافروں کو اپنے نظریات پر دلیل پیش کرنے کی دعوت کون دے رہا ہے؟ وہ جو ان کے مغالطے کو پوری طرح سمجھ سکے اور عملی پہلو سے اسے توڑ سکے کوئی عام آدمی ان غیر مسلموں کو دلیل پیش کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا کیونکہ اس کے لیے غیر مسلموں کی یہ تبلیغ اچھا خاصا فتنہ بن سکتی ہے۔

کسی کافر یا بد مذہب کو کسی عالم کے سامنے اظہار خیال کا موقع دینا اور اس سے اس کے معتقدات پر دلیل طلب کرنا یہ اور بات ہے اور اسے عامۃ المسلمین میں اپنے خیالات پھیلانے کی صورتیں مہیا کرنا یہ امر دیگر ہے ان آیات کی پیشکش کا تعلق پہلی صورت سے ہے دوسری صورت سے نہیں۔ قل ھاتوا برھانكم ان كنتم صادقین میں خطاب خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے جن کے سامنے ان میں سے کسی کی کوئی بات نہ چل سکتی تھی سو ان آیات میں عامۃ المسلمین میں خلاف اسلام نظریات کی تبلیغ واشاعت کے جواز کی کوئی صورت

صفحہ ١٧٥

نہیں ہے۔

پھر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہ کرنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی رو سے کافروں کے پاس جا کر کہیں ان سے ان کی حقانیت کی دلیل نہیں مانگی قرآن کریم کا یہ جملہ قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین ان غیر مسلموں کو تبلیغ کا موقعہ دینے کے لیے نہیں تھا ان کی تبکیت اور تعجیز کے لیے تھا اسلوب عرب میں اس قسم کے الفاظ دوسروں کے عجز کو نمایاں کرنے اور ان کے بے دلیل چلنے کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ارشاد نبویؐ ہے۔ من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ (مشکوۃ مترجم ص ٤٧٨) جہاں تک تم بدی کو ہاتھ سے روک سکو روکو زبان سے روکنے کا درجہ دوسرا ہے اب اگر کوئی غیر مسلم گروہ مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کر رہا ہے حکومت مسلمانوں کی ہے اور وہ ایسا کرنے سے بذریعہ آرڈیننس بھی روک سکتے ہیں لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے ان کی اس خلاف اسلام تبلیغ کو صرف تقریروں اور مناظروں سے بے اثر کرتے ہیں تو یہ صورت عمل کیا اس حدیث کے صریح خلاف نہیں؟ یہ صورت عمل یقیناً قرآن و حدیث کے خلاف ہوگی۔

مسیلمہ کذاب نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی نبوت کا خط لکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دلائل طلب نہ فرمائے اسے استدلال اور مناظرے کا موقع نہ دیا اسی طرح حضرت صدیق اکبرؓ نے اس سے غیر تشریعی نبوت جاری رہنے کے دلائل نہیں پوچھے نہ اسے تقریر و تحریر کی آزادی دی بلکہ من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ کے تحت ان منکرات کا بزور سلطنت ازالہ کیا۔ بعض ائمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے اور کوئی شخص اس سے معجزہ طلب کرے (بشرطیکہ یہ طلب تعجیز و تبکیت کے لیے نہ ہو) تحقیق کے لیے ہو تو وہ شخص خود کافر ہو جائے گا یہ طلب دلیل بتلاتی ہے کہ ابھی تک اسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر یقین نہ تھا۔ علامہ ابو الشکور السالمی نے کتاب التمہید میں اس کی تصریح کی ہے۔

(از اکفار الملحدین ص ٥٦)

صفحہ ١٧٦

اسلامی سلطنت میں اگر اس قسم کے لوگ پائے جائیں تو حکم شریعت یہ نہیں کہ انھیں اس قسم کے خلاف اسلام نظریات پھیلانے کی آزادی دی جائے بلکہ اس صورت حال میں سربراہ مملکت اسلامی کے ذمہ ہو گا کہ وہ ایسا آرڈیننس نافذ کرے جس کی رو سے ان منکرات پر پوری پابندی لگ جائے۔ یہ آرڈیننس غیر مسلم اقلیتوں کی اپنے حلقوں میں تبلیغ و تعلیم کی آزادی سے متصادم نہ ہو گا۔ یہ آرڈیننس اسلامی مملکت میں بسنے والی غیر مسلم اقوام کی اپنے حلقوں میں تقریر و تحریر کی آزادی کے خلاف نہیں مسلمانوں کو غیر مسلم ہونے سے بچانے کے لیے افراد امت اور حوزہ امت کی حفاظت کے لیے ہے۔

قادیانی حضرات نے اپنی اس اپیل میں پچھلی سات آیات کے ساتھ ان آیات کو بھی پیش کیا ہے جن میں مسلمانوں کو غیر مسلموں میں تبلیغ کے آداب کی تعلیم دی گئی ہے۔ مسلمان اپنا حق تبلیغ کس طرح استعمال کریں یہ اس کا بیان ہے غیر مسلموں کو اسلامی سلطنت میں مسلمانوں میں خلاف اسلام باتوں کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(پ ١٨ المؤمنون آیت : ٩٦)

(پ ٢١ العنکبوت آیت : ٤٦)

(پ ١٤ النحل آیت : ١٢٥)

سورۃ النحل، سورۃ المومنون اور العنکبوت بھی مکی سورتیں ہیں ان میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ سلطنت اسلامی میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کی آزادی ہونی چاہیے پس یہ آیات کسی صورت بھی صدر پاکستان کے جاری کردہ آرڈیننس کے خلاف نہیں ہیں۔

آیت اَوَلَوْ جِئْتُکَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ. (پ ١٩ الشعراء آیت ٣٠)

یہ فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کا سوال تھا دارالکفر میں یہ ایمان کی ایک صدا تھی اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں خلاف مسلموں کو مسلمانوں میں اسلام مسلموں کو مسلمانوں میں باتوں کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ (Wait, this was a previous line) Let me correct the final line. صدا تھی اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں خلاف اسلام

Wait, let me just provide the exact text without thinking aloud at the end.

صفحہ ١٧٧

تبلیغ کرنے کا پورا حق ہے یہ بات اس آیت سے نہیں نکلتی قادیانیوں نے اسے بھی بے محل پیش کیا ہے۔

قادیانی مبلغ بے موقعہ آیات لانے اور ان سے غلط استدلال کرنے میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ مشرکین سے جو سوال آخرت میں پوچھے جائیں گے اور انھیں جواب دینے کا موقع دیا جائے گا کہ وہ جان سکیں کہ ہمیں کن اعمال کی سزا دی جانے والی ہے اس سے بھی انھوں نے استدلال کیا ہے وہاں مشرکین کو جواب دینے کا موقع ملنے سے یہ استدلال کرنا کہ اسلامی مملکت میں مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کو روکنا قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے نہایت ہی بے محل بات ہے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں میں تبلیغ کا حق مانگنے کے لیے یہ آیت پیش کی ہے۔

ونزعنا من كل امة شهيدا فقلنا هاتوا برهانكم فعلموا ان الحق لله وضل عنهم ما كانوا يفترون. (پ ٢٠ القصص آیت: ٧٥)

ترجمہ: اور نکالیں گے ہم ہر ایک امت سے ایک احوال بتلانے والا پھر کہیں گے ہم لاؤ اپنی سند۔ تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھو جائیں گی ان سے وہ باتیں جو وہ اپنی طرف سے گھڑتے تھے۔

یہ آیت سرے سے اس دنیا کے بارے میں ہی نہیں آخرت کے بارے میں ہے ان لوگوں کو جنھوں نے اللہ پر افتراء باندھا مثلاً کہا کہ ان پر وحی اترتی ہے حالانکہ ان پر کوئی وحی نہ آتی تھی محض افتراء تھا انھیں جواب دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا اس موقع کے فراہم ہونے سے یہ استدلال کرنا کہ دنیا میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ نہایت ہی بے جوڑ بات ہے اس آیت سے پہلی آیت صاف بتا رہی ہے کہ هاتوا برهانكم کی یہ بات قیامت کے دن ہوگی فرمایا۔

ويوم يناديهم فيقول اين شرکائی الذین کنتم تزعمون.

(پ ٢٠ القصص آیت: ٧٤)

قادیانیوں کی پیش کردہ تیرہ آیات کی یہ تفصیل پیش کر دی گئی ہے کہ ان میں سے ایک

صفحہ ١٧٨

آیت بھی موضوع سے تعلق نہیں رکھتی اور کسی ایک آیت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلاف اسلام نظریات کی تبلیغ کا حق دیا گیا ہے۔ یہ لوگ اپنے غلط موقف پر آیات پیش کرتے یوں معلوم ہوتے ہیں گویا آیات قرآنی سے کھیل رہے ہوں صدر پاکستان نے اپنے آرڈی نینس میں ان پر جو پابندیاں لگائیں ان آیات میں سے کوئی آیت اس آرڈی نینس کے خلاف نہیں ہے۔ تحفظ افراد امت کا تقاضا ہے کہ اسلامی سربراہ مملکت اپنے ملک میں مسلمانوں میں کسی قسم کے خلاف اسلام نظریات پھیلانے کی کسی طبقے یا فرد کو اجازت نہ دے اور تحفظ حوزۂ امت کے لیے مسلمانوں کی اعتقادی سرحدوں کی حفاظت کرے۔

ارشاد قرآنی قوا انفسکم و اہلیکم ناراً۔ (پ ٢٨ التحریم آیت: ٦) کا یہ صریح تقاضا ہے۔

مسلمانوں کے ان دینی حقوق کے اس مختصر جائزہ (وحدت امت کا تحفظ افراد امت کا تحفظ شعائر امت کا تحفظ اور حوزہ امت کا تحفظ ) کے بعد اب اصل سوال کی طرف رخ کیا جاتا ہے کہ مملکت اسلامی میں قادیانی غیر مسلم اقلیت کو کیا کیا مذہبی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے پہلے ایک اور مرحلہ محتاج عبور ہے اس سے گزرے بغیر آگے بڑھنا مفید نہ ہوگا۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں لیکن یہ غیر مسلموں کی کون سی قسم ہیں یہ بات پہلے طے ہونی چاہیے۔ غیر مسلم لوگ گو اپنی تمام اقسام کے ساتھ امت واحدہ ہیں تاہم اسلام میں ان اقسام کے دنیوی احکام کچھ مختلف بھی ہیں گو آخرت میں سب کا انجام ایک سا ہو گا حشر کے دن مومنوں اور مسلمانوں کے سوا کوئی فلاح نہ پا سکے گا جو اپنے پروردگار کے بتلائے ہوئے صحیح راستے پر ہیں وہی اس دن فلاح پائیں گے اولئک علی الہدی من ربہم واولئک ہم المفلحون میں فلاح پانے کا بیان ہے۔

کافر سب ایک ملت ہیں

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کے ساتھ ایک مقام پر (یہود و صائبین نصاری و مجوس اور مشرکین) مختلف قسم کے کفار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان تمام کو (مومنین اور جمیع

صفحہ ١٧٩

کفار کو) دو فریق قرار دیا ہے۔ ١۔ مومن ۔ ٢۔ کافر ۔ پہلے یوں ذکر فرمایا۔ ان الذین امنوا والذین ھادوا والصائبين والنصارى والمجوس والذین اشرکوا. الآیه (پ ١٧ الحج آیت: ١٧) اور کافروں کو ایک ملت قرار دیتے ہوئے مومنوں کے مقابلہ میں یوں ذکر فرمایا۔ ھذان خصمان اختصموا فی ربھم یہ دو مدعی ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں۔ (سورۃ الحج آیت: ١٩)

معلوم ہوا کہ کافر سب ایک ملت ہیں الکفر ملۃ واحدہ مگر قرآن وحدیث کی رو سے دنیا میں ان کے احکام مختلف ہیں۔ ١۔ دھریہ منکرین خدا۔ ٢۔ مشرک ہندو۔ ٣۔ منکرین نبوات فلاسفہ۔ ٤۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ۔ ٥۔ مجوس آتش پرست۔ ٦۔ منافق اعتقادی۔ ٧۔ ملحد ۔ ٨۔ مرتد اقراری۔ ٩۔ مرتد تاویل۔ ١٠۔ زندیق باطنیہ۔ وغیرہ پھر ان میں جو مطلق کافر ہیں ان میں کچھ حربی کافر بھی ہوتے ہیں۔ مومنوں کے مقابلہ میں یہ سب ایک ہیں۔ ھوالذین خلقکم فمنکم کافرو منکم مومن. (پ ٢٨ التغابن آیت ٢)

قرآن کریم میں ملحدین کا ذکر

آرڈیننس زیر بحث کے موضوع میں کافروں کی دیگر اقسام سے بحث نہیں البتہ ملحدین کا ذکر کیا جاتا ہے قادیانی افکار ونظریات اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان الذين يلحدون فى اياتنا لا يخفون علينا افمن يلقى فى النار خير امّن ياتى امنا يوم القيامة اعملوا ماشئتم انه بما تعملون بصير ۝ ان الذين كفروا بالذكر لما جاء هم وانه لكتب عزيز ۝ لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد ۝ (پ ٢٤ حم السجده آیت ٤٠۔٤١۔٤٢)

ترجمہ: جولوگ ہماری آیات میں الحاد (ٹیڑھا پن) سے چلتے ہیں وہ ہم سے چھپے نہیں رہتے بھلا وہ جو پڑتا ہے آگ میں بہتر ہے یا وہ جو

صفحہ ١٨٠

قیامت کے دن امن میں ہوگا کیے جاؤ جو چاہو بیشک وہ تمھارے کیے کو دیکھتا ہے۔ جو لوگ کافر ہو گئے قرآن سے جب وہ آچکا ان کے پاس اور وہ کتاب عزیز ہے۔ اس میں جھوٹ چل نہیں سکتا نہ سامنے سے نہ پیچھے سے۔ اتارا ہوا ہے سب حکمتوں والے کا سب تعریفوں والے کا۔ ان آیات نے ایک ایسے گروہ کا پتہ دیا۔

قرآن کو نہیں مانتے)

(یعنی اللہ تعالیٰ قرآن کی حفاظت کے ایسے اسباب کھڑے کر دیں گے جو ان ملحدین کی تاویلات باطلہ کو بالکل کھول کر رکھ دیں گے۔

قرآن وحدیث کا ظاہری انکار کیے بغیر ایسے معنی اختیار کرنا کہ اصل معنی کا انکار ہو جائے زندقہ اور باطنیت کہلاتا ہے پہلے دور میں بھی ایک فرقہ باطنیہ ہو گزرا ہے۔ جو ظواہر نصوص سے کھیلتے تھے اور انھیں کچھ باطنی تاویل مہیا کرتے تھے۔

قادیانیوں کے عقائد ونظریات پر تفصیلی اور تحقیقی نظر کرنے سے قادیانی کافروں کی یہی وہ قسم ٹھہرتے ہیں جنھیں ملحدین، زنادقہ یا جدید باطنیہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

ملحد سے مراد وہ شخص ہے جو حق سے روگردانی کر کے الفاظ شریعت کو ایسے معنی پہنائے جو ان کی حقیقی مراد نہ ہوں زندیق بھی وہی ہے جو الفاظ شریعت پر ایمان ظاہر کرے اور ان میں ایسے معانی داخل کرے جس سے اصل کا انکار ہو جائے اور تاویل کا یہ کھیل ضروریات دین سے بھی کھیلا جائے۔

اَلْمُلْحِدُ العادل عن الحق المدخل فيه ماليس منه يقال الحد في الدين والحد اى حاد عنہ (لسانی العرب ص ٣٨٨ ج ٣)

صفحہ ١٨١

المراد من الالحاد تغييرها و تبديل احکامها. (مجمع

البحار ص ٢٤٦ ج ٣)

الزنديق فى عرف الفقهاء من يبطن الكفر مصراً عليه ويظهر الايمان تقية و نقل عن شرح المقاصد ان الكافر ان كان مع اعترافه بنبوة النبى صلى الله عليه وسلم و اظهاره شرائع الاسلام يبطن عقائد هى الكفر بالاتفاق خص باسم الزنديق.

(شیخ زادہ بحاشیہ تفسیر بیضاوی ص ١٤٢ ج ٢)

و المراد بابطان الكفر ليس هو الكتمان من الناس بل المراد ان يعتقد بعض ما يخالف عقائد الاسلام مع ادعائه اياه.

(اکفار الملحدین ص ١٣)

ان تصریحات کی روشنی میں فرقہ باطنیہ زنادقہ اور ملحدین کی حقیقت ایک سی ہے عنوان اور پیرائے ان کے مختلف ہیں لیکن حکم ان سب کا ایک ہے اور وہ یہ کہ یہ سب کافر ہیں۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب لکھتے ہیں۔

تفسير الزندقة والالحاد و الباطنية وحكمها واحد وهو الكفار.

(اكفار الملحدين ص ١٢)

یہ کتاب اکفار الملحدین شیخ الاسلام پاکستان مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی مصدقہ ہے اور مولانا عثمانیؒ کے اس پر دستخط موجود ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے ظل اور بروز کے پردے میں فرقہ باطنیہ کی تشکیل جدید کی ہے کسی عبارت میں دوسرے معنی داخل کرنے تو درکنار اس نے ایک شخصیت میں دوسری شخصیت اترنے کا جو فلسفہ پیش کیا ہے اس میں کوئی بات بھی اپنی جگہ نہیں رہ جاتی جملہ شرائع اسلام کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ مثلاً مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کے تین ظہور بتلائے ہیں۔

صفحہ ١٨٢

مرزا غلام احمد نے اس بار بار ظہور کے لیے بروز اور حلول وغیرہ کے سب الفاظ استعمال کیے ہیں جو باطنیہ کی ایجاد تھے قرآن وحدیث میں یہ الفاظ کہیں نہیں ملتے۔ یہ خالصتاً غیر اسلامی اور الحادی اصطلاحات ہیں جنھیں کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں اور قرآن وحدیث اور فقہ میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔

پھر مرزا غلام احمد نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں دوسرا ظہور چاہا اور پھر اپنے بارے میں دعویٰ کیا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بروز ہوں۔

قرآن وحدیث میں بروز وکمون کے ان باطنی سلسلوں کا کہیں ذکر نہیں یہ بیرونی فکر اسلام میں داخل کی گئی ہے اس بیان کی تائید میں مرزا غلام احمد کی یہ تحریرات گزارش کی جاتی ہیں۔

اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمدؐ کے نام سے پکارا گیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔“ (حاشیہ تریاق القلوب ص ٢٩٨ طبع ١٩٧٩ء)

طلب کیا اوّل جب ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ مکار اور کاذب تھا...... تب باعلام الٰہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام الزاموں سے اپنی برائت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے....... مسیح ناصری کی روحانیت کا یہ پہلا جوش تھا جو ہمارے سید ہمارے مسیح خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا فالحمد للہ پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی اور انھوں نے دوبارہ

صفحہ ١٨٣

مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا ...... وہ نمونہ مسیح علیہ السلام کا روپ بن کر مسیح موعود کہلایا کیونکہ حقیقت عیسویہ کا اس میں حلول تھا ...... یہ وہ دقیق معرفت ہے جو کشف کے ذریعہ اس عاجز پر کھلی ہے ...... جب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آ کر جلدی طور پر اپنا نزول چاہے گی تب ایک قہری شبیہہ میں اس کا نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا تب آخر ہو گا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی امت کی نالائق کرتوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لیے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٢ تا ٣٤٦)

مرزا غلام احمد نے اپنے میں صرف حضرت عیسیٰ کے نزول کا دعویٰ ہی نہیں کیا اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی دوسرا بروز بتلایا مرزا غلام احمد نے لکھا۔

وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے (ایک غلطی کا ازالہ ص١٣)

اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد پڑا پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٦)

مرزا غلام احمد کے پیرو قادیانی گروپ ہو یا لاہوری مرزا غلام احمد کو حضور کا ہی بروز سمجھتے ہیں اور آپ نے جو عرب میں ظہور کیا وہ اس سے اس قادیانی ظہور کو کامل جانتے ہیں۔

مرزا صاحب کی زندگی میں البدر ١٩٠٦ء میں ان کے حق میں یہ اشعار شائع ہوئے۔

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

مرزا غلام احمد نے اپنے لیے اوتار ہونے کا بھی دعویٰ کیا یہ خالصتاً ہندوؤں کی ایک اصطلاح تھی مرزا غلام احمد لکھتے ہیں۔

اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خو اور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت مسیح کا اوتار کر کے بھیجا ایسا ہی اس نے

صفحہ ١٨٤

حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لیے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں میں عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد بھی...... یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔ (ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٧٦)

بروز ہرگز ہرگز کوئی اسلامی اصطلاح نہیں ہے نہ احادیث نبویہ اور آثار صحابہ میں کہیں اس کا ذکر ملتا ہے مگر مرزا غلام احمد اس بروز میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ وہ اس کے بغیر اسلام کو ہی مکمل نہیں جانتے۔

مرزا صاحب ایک بحث میں لکھتے ہیں۔

اس خیال سے مسئلہ بروز کا انکار لازم آتا ہے اور وہ انکار ایسا خطرناک ہے کہ اس سے اسلام ہی ہاتھ سے جاتا ہے تمام ربانی کتابیں اس مسئلہ بروز کی قائل ہیں (کیا یہ قرآن پر افتراء نہیں) خود حضرت مسیح نے بھی یہی تعلیم سکھائی اور احادیث نبویہ میں بھی اس کا بہت ذکر ہے اس لیے اس کا انکار سخت جہالت ہے اور اس طرح سے خطرہ سلب ایمان ہے۔ (تریاق القلوب ص ٣٠٢)

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قادیانی تحریک باطنیہ کے خلاف اسلام حلول و بروز کے تصورات پر مبنی ہے اگر اسے قانونی شکل نہ دی جاتی تو اس کی بعض صوفیوں کی واردات کے انداز میں تاویل کر لی جاتی لیکن مرزا صاحب نے اپنے تصورات پر نہ صرف ایک نئی امت کی تشکیل کی بلکہ خدا تک کو اپنے اندر اتار لیا اپنے زمین و آسمان نئے بنائے اور اس الحادی راہ سے ایک پورے کا پورا نیا مذہب بنا ڈالا۔

مرزا غلام احمد نے لکھا ہے۔

”وجدت قدرته و قوته تفور فى نفسى والوهيته تتموج فى روحی و ضربت حول قلبی سرادقات الحضرة...... دخل بى على وجودى و كان كل غضبی وحلمی و حلوی ومرى و حركتى و سکونى منه و بينما انا فى هذه الحالة كنت اقول انا نريد نظاماً جديداً سماءً جديدةً و ارضاً

صفحہ ١٨٥

جديدة فخلقت السموات والارض.

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٣۔٥٦٥)

ترجمہ: اور میں نے دیکھا اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے...... خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی شیرینی اور حرکت و سکون سب اسی کا ہو گیا اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ (کتاب البریہ ص ٧٨۔٧٩)

مرزا غلام احمد نے ظل و بروز اور تجلی و حلول کے انہی سایوں میں اپنے مذہب کا ایک پورا نظام جدید ترتیب دیا پرانے باطنیہ کی طرح نئے ملاحدہ میدان میں آئے اور انھوں نے ضروریات دین میں وہ تاویلیں کیں جن سے ان کے اصل اسلامی معنی کا انکار ہو گیا۔ یہ لوگ بایں طور کہ عنوان اسلام کا کھلا انکار نہیں کرتے لیکن بعض ضروریات دین کو جدید معنی پہناتے ہیں اور ان کے اصل معنی کا انکار کرتے ہیں مسلمانوں سے نکل گئے قادیانیوں کے مسلمانوں سے جملہ اختلافات سب اسی الحاد کے سایہ میں مرتب ہوئے ہیں اور اسی لیے جمیع اہل اسلام انھیں اپنے سے جدا ایک علیحدہ امت سمجھتے ہیں اور یہ بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے ہر بات میں علیحدہ جانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر محمود لکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب نے کہا تھا۔

یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریم قرآن نماز روزہ حج زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔ (روزنامہ الفضل ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)

ملاحدہ و زنادقہ کا وجود کھلے کافروں اور دیگر اہل ذمہ سے زیادہ خطرناک ہے ان کے الحاد کا تختہ مشق قرآن و حدیث ہوتے ہیں انھیں احسان و مروت کے طور پر اگر کچھ حقوق دیے جائیں تو ان کی تعیین میں دو باتیں الاھم فالاھم کے طور پر رکھنی ہوں گی۔

صفحہ ١٨٦

خطرناک نتائج سے ملک کو کیسے بچایا جاسکتا ہے۔

ان تین مشکلات پر قابو پانے کے بعد ان کے دنیوی اور مذہبی حقوق طے کیے جا سکتے ہیں اور اگر یہ مسلمانوں کی عائد کردہ شرطوں کو تسلیم کرلیں تو مسلمان انھیں ان کے جان و مال کی حفاظت کا ذمہ دے سکتے ہیں اس صورت میں ان کے جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہوگی۔ بایں ہمہ یہ اہل ذمہ کے سے پورے حقوق نہ پاسکیں گے دوسرے اہل ذمہ اپنے مذہبی معاملات میں مسلمانوں کے ساتھ کسی مقام اشتباہ میں نہیں نہ وہ اپنی تبلیغ و اشاعت میں قرآن وحدیث پر کوئی ملحدانہ مشق کرتے ہیں لیکن قادیانی الحاد کی ضرب براہِ راست مسلم معتقدات پر آتی ہے اس لیے ان میں اور عام اہل ذمہ میں فرق کرنا ضروری ہے۔

اسلام میں ملحد کی سزا

اسلامی سوسائٹی میں زندیق اور ملحد کا وجود ناقابل برداشت ہے مسلمانوں کے لیے زنادقہ کا وجود ایک مستقل خطرہ اور مسلمانوں کے دین و ایمان پر ایک ہمیشہ کے لیے لٹکنے والی تلوار ہے۔

ظاہر ہے کہ مسلمان ایسے مشتبہ ماحول میں ہمیشہ کی زندگی بسر نہیں کر سکتا حضرت علیؓ کی خدمت میں کچھ زندیق لائے گئے تو آپؓ نے ان پر سزائے موت کا حکم دیا اور انھیں آگ میں ڈلوایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے اس طریقِ سزا سے اختلاف فرمایا۔

(مشکوٰۃ ص ٣٠٧ عن البخاری)

قادیانیوں کو اگر اہل ذمہ کے سے حقوق دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سلطنت اسلامی عقیدہ ختم نبوت کی بھی حفاظت کرے اور یہ اس پر فرض ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عقیدہ انکار ختم نبوت کی حفاظت بھی اپنے ذمہ لے اور یہ کھلا تعارض ہے ہاں اگر انکار ختم نبوت کا عقیدہ ان کے اپنے دائرہ کار تک محدود رہے اور اس کے عام ہونے کے جملہ

احتمالات و مواقع سب کے اس آرڈیننس کے و حدیث ان کے فاسد ذ انھیں ان کے غلط نظریات یہ بیان کی گئی ہے۔

انما جزاء فسادا ان خلاف او ترجمہ : ” رسول سے قتل کیا جا جانب سے وطن کر دیا مرتدین ۔

ذهب ح المسلم قول مال ان ظاهر ان الحد (فتح الب ترجمہ : ج ہے جو س کاٹے ۔ یہی راس

صفحہ ١٨٧

احتمالات ومواقع سب بند کر دیے جائیں تو پھر اس میں تعارض نہیں رہتا۔ سربراہ مملکت اسلامی کے اس آرڈیننس کے باوجود اگر یہ لوگ اپنی الحادی تبلیغ مسلمانوں میں جاری رکھیں اور قرآن وحدیث ان کے فاسد نظریات کا برابر تختہ مشق بنے رہیں تو پھر یہ حربی کافر قرار پائیں گے اور انھیں ان کے غلط نظریات کی حفاظت کا ذمہ نہ دیا جائے گا قرآن کریم میں حربی کافروں کی سزا یہ بیان کی گئی ہے۔

انما جزاء الذین یحاربون اللہ و رسولہ و یسعون فی الارض
فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من
خلاف او ینفوا من الارض. (پ ٦ المائدہ آیت ٣٣)

ترجمہ: ”بے شک ان لوگوں کی سزا جو لڑائی کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور دین میں فساد پھیلانے کی سعی کرتے ہیں یہ ہے کہ انھیں قتل کیا جائے یا سولی چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دیے جائیں یا انھیں اس (اسلامی) زمین سے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ امام بخاریؒ کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت کفار و مرتدین کے بارے میں ہے مگر حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں۔

ذھب جمہور الفقھاء الی انھا نزلت فیمن خرج من
المسلمین یسعی فی الارض فسادا و یقطع الطریق وھو
قول مالک والشافعی والکوفیین...... عن اسمعیل القاضی
ان ظاھر القرآن وما مضی علیہ عمل المسلمین یُرمی علی
ان الحدود المذکورہ فی ھذہ الآیۃ نزلت فی المسلمین.

(فتح الباری ص ٩١ ج ١٢)

ترجمہ: جمہور فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو مسلمانوں میں سے نکلے اور مسلمانوں میں فساد پھیلانے اور راہ کاٹنے کے لیے خروج کیا۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور اہل کوفہ کی بھی یہی رائے ہے...... اسماعیل قاضی کہتے ہیں کہ ظاہر قرآن اور جس پر

صفحہ ١٨٨

مسلمانوں کا تعامل رہا۔ یہی ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں ہی اتری ہے۔

خدائی احکام سے براہِ راست ٹکر لینے کو قرآنِ کریم نے پ ١٣ البقرہ آیت ٢٧٩ میں فاذنوا بحرب من الله و رسوله کے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں صرف میدانی بغاوت مراد نہیں عقائد کی مبانی بغاوت بھی اس میں شامل ہے۔ مبانی میں فساد پھیلانے والوں اور معانی میں فساد پھیلانے والوں ہر دو طبقوں کو یہ آیت شامل ہو گی۔

شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں۔ ”الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہو جاتا ہے آیت کی جو شانِ نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوئی ہے وہ بھی اسی کو مقتضی ہے کہ الفاظ کو عام رکھا جائے اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کرنا زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا یہ دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے وارتداد کا فتنہ‘ رہزنی اور ڈکیتی ناحق قتل‘ نہب‘ مجرمانہ سازشیں مغویانہ پراپیگنڈہ سب داخل ہو سکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا چار سزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں کسی نہ کسی سزا کا ضرور مستحق ہوتا ہے۔

(حاشیہ ترجمہ شیخ الہندؒ ص ١٤٦)

صدر پاکستان کے جاری کردہ اس آرڈی نینس کے باوجود جو قادیانی اپنے خلافِ اسلام نظریات وعقائد کی کھلی تبلیغ سے نہ رکیں اور مسلمانوں میں ان خلافِ اسلام نظریات کا برابر پرچار کرتے رہیں وہ حربی کافر ہیں اور جو ایسا نہ کریں اپنے نظریات و عقائد کو اپنے تک محدود رکھیں انہیں احسان اور مروت کے طور پر کچھ حقوق دیے جا سکتے ہیں۔

زندیق اور مرتد میں فرق

جس زندیق اور ملحد پر پہلے ایسا وقت گزرا ہو جب وہ مسلمان تھا اور اس کے بعد وہ اسلام کے ان عقائد سے پھرا اور زندقہ والحاد کا مرتکب ہوا تاہم اس نے اسلام کا کھلا انکار نہیں کیا کفر تاویل کی راہ سے وہ حدودِ اسلام سے نکلا ایسا شخص زندیق ہی ہے اور مرتد بھی اور اگر اس پر دورِ اسلام کچھ بھی نہیں گزرا وہ زندیق ہو گا مرتد نہیں اور اگر نابالغ ہو تو والدین کے مذہب پر ان کے حکم میں آئے گا۔

زندیق اور ملحد کا حکم

امام ابو حنیفہؒ توبہ کرنے لگا تو اس کی تو اقتلوا اللذ الجصاص زندیق اور مرتد وہ مرتد بھی ہیں اور زندیق یا عیسائی تھے اور پھر قادیا گو کہیں تو اس کا اعتبار نہ من الکر

(شرح سیر

ترجمہ : جس نے اپنے کل

قادیانیوں کو غیر مسل

سوال: قاد برداشت نہیں کرتا تو حفاظت کا ذمہ دینا شر مرتد اور زندیق ہیں انگریزی مروت کے غافل تھے۔ پھر انگریز واحسان کے تحت ایک پھر سے اسلام اور قاد اسلام میں لوٹ آئیں

صفحہ ١٨٩

زندیق اور ملحد کا حکم

امام ابو حنیفہؒ کے ہاں تو ملحد و زندیق اس درجہ مجرم ہے کہ اگر وہ پکڑا گیا اور پھر وہ توبہ کرنے لگا تو اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی حضرت امام فرماتے ہیں۔

اقتلوا الزندیق سراً فان توبته لا تقبل (احکام القرآن لابی

الجصاص ص ٥١ ج ١)

زندیق اور مرتد کا حکم شرعاً ایک ہے جو لوگ پہلے مسلمان تھے اور پھر قادیانی ہوئے تو وہ مرتد بھی ہیں اور زندیق بھی اور جو لوگ ان زنادقہ و ملحدین کے ہاں پیدا ہوئے یا وہ پہلے ہندو یا عیسائی تھے اور پھر قادیانی ہوئے تو وہ زندیق و ملحد تو ہیں لیکن مرتد نہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو کلمہ گو کہیں تو اس کا اعتبار نہ کیا جائے۔ وہ قطعاً اہل قبلہ میں نہیں رہتے۔ امام محمدؒ فرماتے ہیں۔

من انکر شيئا من شرائع الاسلام فقد بطل قول لا اله الا الله

(شرح سیر کبیر ص ٢٦٥ ج ٤)

ترجمہ: جس نے شرائع اسلام میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کیا اس نے اپنے کلمہ گو ہونے کو باطل کرلیا۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا

سوال: قادیانی جب شرعاً زندیق اور مرتد ہیں اور اسلام مرتد اور زندیق کے وجود کو برداشت نہیں کرتا تو سوال یہ ہے کہ انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انھیں جان و مال کی حفاظت کا ذمہ دینا شرعاً کیسے جائز اور درست ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اصلاً تو یہ لوگ واقعی مرتد اور زندیق ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو محض انگریزی مروت کے زیر سایہ ان میں پلے اور وہ اسلام کے متواتر تقاضوں سے ناواقف یا غافل تھے۔ پھر انگریزی اقتدار کے زیر سایہ ان کی تعداد اور بڑھتی گئی اب انھیں اسلامی مروت و احسان کے تحت ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر اگر برداشت کر لیا جائے تو ہو سکتا ہے انھیں پھر سے اسلام اور قادیانیت کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے اور کچھ لوگ ان میں سے پھر صف اسلام میں لوٹ آئیں۔ مسلم سربراہ یا مسلمانوں کی قومی اسمبلی اس تالیف قلب پر اگر انھیں

صفحہ ١٩٠

سزائے موت نہ دے اور کچھ وقت کے لیے ان کو موقع دے کہ وہ پھر سے اسلام یا قادیانیت میں سے کسی ایک کا اپنے لیے انتخاب کر لیں تو اس عبوری دور میں ان پر حکم زندیق جاری نہ کرنے کی بھی اسلام میں گنجائش ہے۔

حضرت امام بخاریؒ نے خوارج کو اس بات کا ملزم ٹھہراتے ہوئے کہ وہ متواترات اسلام سے نکل گئے ہیں۔ صحیح بخاری میں اس پر یہ باب باندھا ہے۔ قتل من ابی قبول الفرائض وما نسبوا الی الردۃ اس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص فرائض اسلام میں سے کسی کا انکار کرے اس پر حکم قتل دیا جائے۔ اس کے بعد ایک باب کے بعد پھر یہ باب باندھا ہے۔ باب قتل الخوارج والملحدین بعد اقامۃ الحجۃ علیہم اور پھر اس کے ایک باب بعد یہ باب باندھا ہے۔

باب من ترک قتال الخوارج للتالف وان لا ینفر الناس عنہ حافظ ابن حجر عسقلانی اس کے تحت لکھتے ہیں۔

قال المہلب التألف انما کان فی اول الاسلام اذا کانت الحاجۃ ماسّۃ الیہ لدفع مضرتہم فاما الیوم فقد اعلی اللہ الاسلام فلا یجب التالف الا ان ینزل بالناس جمیعہم حاجۃ لذلک فلامام الوقت ذلک۔ (فتح الباری جلد ١٢ ص ٨٨)

ترجمہ: مہلب کہتے ہیں کہ یہ تالف قلب ابتدائے اسلام میں تھا جب مسلمانوں کو رفع مضرت کے لیے اس کی ضرورت تھی لیکن اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بلندی بخشی ہے۔ یہ تالف واجب نہ رہا (جواز میں بحث نہیں ہے) مگر جب کہ تمام لوگ اس کی ضرورت محسوس کریں پھر امام وقت ایسا کر سکتا ہے۔

بعض علماء نے اس ترک قتال کو منفرد سے خاص کیا ہے اور لکھا ہے۔

والجمیع اذا اظہروا رایہم ونصبوا للناس القتال وجب قتالہم و انما ترک النبی صلی اللہ علیہ وسلم قتل المذکور لانہ لم یکن اظہر مایستدل بہ علی ماوراء غلو

صفحہ ١٩١

قتل من ظاہرہ الصلاح عند الناس قبل استحکام امر الاسلام و رسوخہ فی القلوب لنفرہم عن الدخول فی الاسلام و اما بعدہ فلا یجوز ترک قتالہم.

ترجمہ: اور وہ جب گروہ کی صورت میں ایک رائے دیں اور لوگوں کے خلاف برسر پیکار ہوں تو ان سے قتال واجب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اسے قتل نہ کیا تو یہ اس لیے تھا کہ جو لوگ اس کے پیچھے تھے ان کے سامنے بات ظاہر نہ ہو سکتی تھی کہ وہ کس لیے مارا گیا۔ اگر کوئی ایسا شخص استحکام اسلام اور لوگوں کے دلوں میں راسخ ہونے سے پہلے مارا جائے کہ اس کا ظاہر لوگوں کے ہاں اچھا ہو تو یہ بات ان دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روک بنے گی لیکن ان حالات کے بدلنے کے بعد ان کا ترک قتال بشرطیکہ اس کی طاقت ہو جائز نہیں۔ اگر وہ اپنے عقائد کا کھلا اقرار کرتے ہوں جماعت مسلمین کو چھوڑ چکے ہوں اور آئمہ کرام کی کھلی مخالفت کر رہے ہوں۔

اس کے بعد علامہ عینی لکھتے ہیں۔

قلت و لیس فی الترجمۃ ما یخالف ذلک الا انہ اشار الی انہ لو اتفقت حالۃ مثل حالۃ المذکورۃ فاعتقدت فرقۃ مذہب الخوارج مثلاً ولم ینصبوا حرباً انہ یجوز للامام الاعراض عنہم اذا رای المصلحۃ فی ذلک (عمدۃ القاری بشرح صحیح البخاری جلد ١٥ ص ٢٢٥)

ترجمہ: میں کہتا ہوں امام بخاری کے ترجمۃ الباب میں کوئی ایسی بات نہیں جو اس کے خلاف ہو۔ ہاں ایک اشارہ یہ ہے کہ اگر کبھی ایسی حالت اتفاقاً پیش آ جائے جو ان حالات سے ملتی جلتی ہو اور ایک طبقہ خوارج جیسے عقائد اختیار کرے اور مسلمانوں سے نہ لڑے تو ان سے امام وقت کو اگر اس میں وہ مصلحت دیکھے نرمی کرنا اور درگزر کرنا جائز ہو

صفحہ ١٩٢

گا۔ ان مصالح کے پیش نظر پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلے سے سربراہ مملکت اسلامی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ تالیف قلب کے طور پر ترک قتال کی پالیسی کو اپنائیں اور انھیں زندگی کا حق دیں اور انھیں اقلیت تسلیم کر لیں لیکن یہ رعایت ان کے ساتھ اسی حد تک برتی جاسکتی ہے کہ وہ جارحیت نہ کریں۔ مسلمانوں میں اپنے عقائد و نظریات کی تبلیغ نہ کریں۔ مسلمانوں کے شعائر اسلام میں دخل نہ دیں اور اپنی مذہبی آزادی کو اپنے گھروں اور اپنے حلقوں تک محدود رکھیں جب تک وہ ان باتوں کی پابندی نہ کریں۔ مسلمانوں پر ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نہ ہوگی۔

زنادقہ و ملحدین کو موقع دینا کہ وہ پھر اسلام کی طرف لوٹ سکیں۔ یہ اسی صورت میں ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کی کچھ امید بندھی ہو اس کے سوا مرتدین سے مصالحت کی کوئی صورت نہیں۔ علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں۔

ای نصالح المرتدين حتى ننظر فی امورهم لان الاسلام مرجو منهم فجاز تاخیر قتالهم طمعاً فی اسلامهم ولا ناخذ علیه مالاً لانه لا يجوز اخذ الجزية منهم و ان اخذه لم يرده لانه مال غیر معصوم.

(البحر الرائق جلد ٥ ص ٨٠)

ترجمہ: مرتدین سے مصالحت اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ ہم ان کے معاملات کا جائزہ لیں ان سے اسلام لانے کی امید ہو تو اس صورت میں ان کے قتال میں تاخیر روا ہوگی کہ ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو ہم ان سے کوئی رقم بھی نہ لیں گے کیوں کہ مرتدین سے جزیہ لینا جائز نہیں اور اگر لے لیا ہو تو اسے واپس نہ کیا جائے گا کیونکہ مرتد کا مال غیر معصوم ہے (اس کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں)

مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں کی تحریروں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قادیانی (لاہوری گروہ ہو یا قادیانی) زنادقہ و ملحدین ہیں اور کچھ مرتدین بھی ہیں۔ مگر مسلمانوں کو پھر

صفحہ ١٩٣

بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ احسان و مروت برتتے ہوئے ان پر ان کی اصل سزا نافذ نہ کریں اور دیگر دینی اور ملکی مصالح کے پیش نظر انھیں عبوری طور پر غیر مسلم اقلیت کے حقوق دیں اور امید رکھیں کہ شاید وہ آہستہ آہستہ اسلام کی طرف جھکنے لگیں۔ ہاں یہ شرط ہے کہ اس اجازت سے نہ کتاب و سنت کی عظمت پامال ہو اور نہ مسلمانوں کے شعائر و افراد کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہو یا نقصان پہنچے۔ اگر یہ مسلمانوں کو اپنے عقائد پر لانے میں برابر کوشاں رہیں اور ان کا کھلا اظہار کریں۔ کفر کی کھلی تبلیغ کریں تو پھر یہ کافر حربی کے حکم میں ہوں گے اور اس صورت میں یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ (ڈاکٹر خالد محمود عقائد الامہ)

مرزا قادیانی کا انجام : قانون قدرت ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کے راستہ پر چلتا ہے تو قدرت اس کے راستے میں ایک چھوٹی سی رکاوٹ رکھ دیتی ہے۔ اگر وہ اسے پھلانگ کر نکل جائے تو پھر اس سے بڑی رکاوٹ رکھ دی جاتی ہے۔ اگر وہ اسے بھی روندتا ہوا نکل جائے تو رکاوٹ اور بڑی کر دی جاتی ہے۔ اگر شاہراہ معصیت کا مسافر قدرت کی رکھی ہوئی چھوٹی بڑی رکاوٹوں کو توڑتا‘ روندتا نکل جائے تو پھر اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی جب جھوٹی نبوت کے لیے دعوے بازی شروع کرتا ہے تو قدرت اس کے راستے میں سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے لیکن وہ کلہ توڑ کر بھاگنے والی بھینس کی طرح شاہراہ کفر و ارتداد پر سرپٹ بھاگتا ہی گیا اور ان ساری رکاوٹوں کو توڑتا ہوا جہنم میں جا گرا۔

مرزا قادیانی کو انتہائی خوفناک ہیضہ ہوا۔ منہ اور مقعد دونوں راستوں سے غلاظت بہنے لگی۔ اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین تک جا سکے‘ اس لیے چارپائی کے پاس ہی غلاظت کے ڈھیر لگ گئے۔ مسلسل پاخانوں اور الٹیوں نے اس قدر نچوڑ کر رکھ دیا کہ اپنی ہی غلاظت پر منہ کے بل گرا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔ کائنات میں شاید ہی کسی کو ایسی ہولناک اور عبرتناک موت آئی ہو۔ تدفین تک منہ سے غلاظت بہتی رہی جسے بڑی کوشش کے باوجود بند نہ کیا جا سکا۔ جس تابوت میں مرزے کا جنازہ لاہور سے قادیاں گیا‘ اس تابوت اور تابوت میں پڑے بھوسے (توڑی) کو حکومت نے آگ لگوا کر خاکستر کرا دیا تاکہ اس تابوت سے علاقہ میں کوئی بیماری نہ پھیل جائے۔

صفحہ ١٩٤

البیان الرفیع...بیان درمقدمہ بہاول پور!

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ

حامداً ومصلیاً! عالم نبیل فاضل جلیل مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند بہت بلند پایہ فاضل تھے۔ مدتوں تک دارالعلوم دیوبند میں مفتی کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے ہیں۔ فتنہ مرزائیہ کی تردید میں آپ کی بہت سی مصنفات ہیں۔ مگر ختم نبوت تین حصوں میں ایک لاجواب تصنیف ہے۔ آپ کا بیان ٢١؍ اگست ١٩٣٢ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور کی عدالت میں ہوا۔ بیان ٧ بجے صبح سے شروع ہوا اور گیارہ بجے مختار مدعاعلیہ نے جرح کی جو ٢١؍ اگست کو ١ بجے ختم ہوئی۔ مفتی صاحب نے مختار مدعاعلیہ کی جرح کے مسکت جواب دیئے اور مرزائیت کے کفر وارتداد کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا۔ مفتی صاحب کا یہ بیان جن معارف و حقائق علمیہ کا خزینہ ہے۔ اس کا صحیح اندازہ پڑھنے سے ہو سکتا ہے۔ اسے لولاک میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ادارہ!

منکر ختم نبوت بالاجماع کافرومرتد ہے

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف میرے نزدیک بلکہ تمام علمائے امت کے نزدیک یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے وہ کافرومرتد ہے اور اسکا نکاح کسی مسلمان عورت سے جائز نہیں۔ اگر نکاح کے بعد یہ عقائد اختیار کرے تو نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور بغیر حکم قاضی اور بلا عدت اسے دوسرا نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کے ثبوت کیلئے سب سے پہلے میں عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کراتا ہوں۔ کہ کس وقت ایک مسلمان کو کن افعال یا اقوال کی بناء پر کافر کہا جاسکتا ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ خدائے تعالیٰ یا اس کے رسول کا انکار کفر ہے۔ لیکن یہ بات ذرا توضیح طلب ہے کہ رسول کے انکار کے کیا معنی ہیں؟۔

رسول ﷺ کے انکار کے معنے

میں سب سے پہلے ایک آیت پیش کرتا ہوں۔ قرآن شریف میں ارشاد ہے: ’’فلا وربک لا یؤمنون

صفحہ ١٩٥

حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما . نساء ٦٥ “

اس آیت میں صراحتہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص ہرگز مومن نہیں ہو سکتا جو آنحضرت ﷺ کو اپنے تمام معاملات میں حکم نہ بنائے اور آپ ﷺ کے فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے قبول نہ کرے۔ اس آیت کی تفصیل میں حضرت امام جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ: ”لو ان قوما عبدوالله تعالى واقامواالصلوة واتواالزكوة وصامورمضان وحجوا البيت ثم قالوالشئى صنعه رسول الله ﷺ الا صنع خلاف ما صنع او وجدوا فى انفسهم حرجاً لكانوا مشركين .“

(روح المعانی ج ٢ جز ٥ ص ٦٥)

جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی قوم یا جماعت خدا کی عبادت کرے۔ نماز پڑھے زکوٰۃ دے روزے رکھے اور سارے اسلامی کام ادا کرے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے کسی فعل پر حرف گیری کرے وہ مشرک ہے۔

خدا اور رسول ﷺ کے حکم کا انکار کفر ہے

اس بناء پر تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اس کے کسی ایک حکم کا نہ ماننا بھی کفر ہے۔

ابلیس کا کفر انکار حکم کی وجہ سے ہے

سب سے پہلا کافر ابلیس مانا جاتا ہے۔ وہ اسی قسم کا منکر ہے۔ وہ خدا کا منکر نہیں صرف خدا کے ایک حکم نہ ماننے کی وجہ سے کافر مانا گیا ہے۔ اس لئے میں اس کے متعلق چند علماء کی عبارتیں پیش کرتا ہوں:

ليس بكافر مالم يخالف ماهو من ضروريات الدين “اس کے بعد اسی کتاب میں ہے: ”فلا نزاع فى كون اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات باعتقاد نفى الحشر ونفى العلم بالجزئيات او نحو ذالك كذالك بصدور شيئى من موجبات الكفر عنه “اس عبارت کا مطلب ہے کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ اہل قبلہ میں سے جو شخص ساری عمر مداومت کرنے والا ہو۔ جب وہ قدم عالم کا قائل ہو جائے یا حشر کا انکار کرے یا اس کے امثال کا تو وہ کافر ہے یا ایسا ہی کوئی اور حکم موجبات کفر میں سے اس سے صادر ہو۔

اہل قبلہ کا معنی

حضرت ملا علی قاریؒ تحریر کرتے ہیں: ”اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله بالكليات والجزئيات وما

صفحہ ١٩٦

اشبہ ذالک من المسائل فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی علمہ سبحانہ بالجزئیات ولا یکون من اہل القبلۃ وان المراد بعدم تکفیر احد من اہل القبلۃ عند اہل السنۃ انہ لایکفر مالم یوجد شئی من امارات الکفر وعلاماتہ ولم یصدر عنہ شئی من موجباتہ ٠ شرح فقہ اکبر ص ١٨٩“

یعنی اہل قبلہ (جن کی تکفیر نہیں کی جاتی ) سے وہ لوگ مراد ہیں ۔ جو ضروریات دین پر متفق ہوں ۔ تو جو شخص ساری طاعات و عبادات پر مداومت کرے ۔ مگر قدم عالم اور نفی حشر کا قائل ہو ۔ وہ اہل قبلہ نہیں ہے اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی چیز علامات کفر میں سے اس میں نہ پائی جائے ۔ اس وقت تک اس کی تکفیر نہ کی جائے ۔ علامہ شامی در المختار جلد اول ص ٤١٤ / ٤١٥ باب الامامۃ میں ہے : ”لا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام من حدوث العالم وحشر الاجساد و نفی العلم با الجزئیات وان کان من اہل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات کمافی شرح التحریر “

یعنی امت میں کسی کو اس میں اختلاف نہیں کہ جو شخص ضروریات اسلام کا مخالف ہو ۔ وہ کافر ہے ۔ اگر چہ اہل قبلہ سے ہو اور ساری عمر عبادات پر مداومت کرے ۔ یہی مضمون بحرالرائق ۔ شرح کنز باب المرتدین اور غایۃ لتحقیق شرح حسامی اور کشف الاصول میں ہے ۔ نبراس میں علمائے محققین کی تحقیق اس طرح نقل فرمائی ہے : ”اہل القبلۃ فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التی علم ثبوتہافی الشرع واشتہر، النبراس شرح شرح العقائد ص ٣٤٢“

”یعنی متکلمین کی اصطلاح میں اہل قبلہ وہ شخص ہے جو تمام ضروریات دین کی تصدیق کرے ۔ یعنی وہ امور جن کا ثبوت شریعت میں معلوم و مشہور ہے۔“ جو شخص ضروریات دین میں کسی چیز کا انکار کرے ۔ وہ اہل قبلہ میں سے نہیں ۔ اگر چہ اطاعات میں انتہائی کوشش کرنے والا ہو ۔ ایسے ہی وہ شخص جو کسی ایسے کام کا مرتکب ہو ۔ تکذیب رسول کی علامت ہے ۔ جیسے توہین کسی امر شرعی کی یا کسی امر شرعی کا استہزاء کرنا ۔

یہاں تک کہ علمائے محققین کی چند شہادات اس بات پر پیش کی ہیں کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا انکار کفر ہے ۔ اسی طرح آپ ﷺ کے احکام میں سے کسی ایک قطعی حکم کا انکار بھی کفر ہے ۔ قطعی الثبوت سے میرا مطلب وہ حکم ہے جو اسلام میں ایسا مشہور و معروف ہے کہ امت قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ایسا ہی سمجھتی چلی آئی ہے ۔

قطعی الثبوت اور ضروریات دین میں فرق

قطعی الثبوت اور ضروریات دین میں اتنا فرق ہے کہ ضروریات دین ان کو کہا جاتا ہے ۔ جن کا ثبوت تو

صفحہ ١٩٧

تواتر کو پہنچ کر ایسا ہی واضح ہو گیا ہو کہ تمام امت اسے ہمیشہ ایسا ہی جانتی رہی ہو۔ قطعی الثبوت وہ چیز ہے جس کا ثبوت آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام سے علمی قواعد کی بنا پر قطعی ہو۔ خواہ امت کا کوئی فرد اسے نہ جانتا ہو۔ اس لئے قطعی الثبوت کے انکار کو اس وقت کفر کہا جائے گا۔ جبکہ اس کی تبلیغ اس کو کر دی جائے۔ ضروریات دین کا منکر مطلق کافر ہے۔ اس میں تبلیغ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات جو میں نے علماء کی تحقیق سے پیش کی ہے۔ خود مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کی کتابوں میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

”کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابلے پر ہے اور کفر دو قسم ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دو قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

اور اسی کتاب میں لکھتا ہے:

”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا۔ وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

نیز مسٹر محمد علی ایم اے لاہوری اپنی تفسیر بیان القرآن ص ٧٥٤ میں آیت کریمہ: ”ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین الله ورسلہ “ کے تحت میں لکھتا ہے کہ: ”اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ کو مان لیا اور رسولوں کا انکار کر دیا۔ جیسے براہم ہیں بلکہ یہ بھی کہ بعض رسولوں کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ جیسے تمام اہل کتاب کی حالت ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ کے کسی رسول کا انکار گویا اللہ ہی کا انکار ہے۔“

نیز (مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ) واشهد انا نتمسك بكتاب الله القران ونتبع اقوال رسول الله منبع الحق والعرفان ونقبل ما انعقد عليه الاجماع بذلك الزمان لا نزيد عليها ولا ننقص منها وعليها نحي وعليها نموت ومن زاد على هذه الشريعة مثقال ذرة او نقص منها او كفر بعقيدة اجماعية فعليه لعنته الله والملئكة والناس اجمعين ٠“

(انجام آتھم ص ١٤٤ خزائن ج ١١ ص ١٤٤)

”گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن سے تمسک کرتے ہیں اور رسول کے اقوال کا اتباع کرتے ہیں جو حق اور معرفت کا چشمہ ہے اور ہم ان چیزوں کو قبول کرتے ہیں۔ جس پر اس زمانہ میں اجماع منعقد ہوا۔ نہ اس پر زیادتی کرتے ہیں اور نہ کمی اسی پر زندہ رہیں گے اور اسی پر مریں گے جو شخص مقدار ایک شوشہ کی زیادتی کرے یا کمی

صفحہ ١٩٨

کرے۔ اس پر اللہ کی لعنت، ملائکہ کی لعنت، تمام آدمیوں کی لعنت، یہ میرا عقیدہ ہے۔‘‘

ان عبارتوں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ علمائے اسلام کے نزدیک متفقہ طور پر خود مرزا قادیانی کے نزدیک جس طرح رسول کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اسلام کے کسی اجماعی عقیدہ یا ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار بھی کفر ہے۔

مرزا نے بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا ہے

اس کے بعد میں یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے ضروریات دین میں سے بہت سی چیزوں کا انکار کیا اور اسی بناء پر وہ باجماع امت کافر و مرتد ہیں۔ اس وقت ان ضروریات دین سے پہلی چیز ختم نبوت کا انکار ہے اور نبوت کا دعویٰ اور وحی اور شریعت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔ نبوت کے دعویٰ کا خود مدعا علیہ کو اپنے بیان میں اقرار ہے۔ اس لئے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں۔

وحی اور شریعت مستقلہ کے دعویٰ کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے اقوال ذیل پیش کرتا ہوں کہ: ’’سچا خدا وہی ہے کہ جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

یہی مضمون اور دعویٰ: ’’اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرت کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی ٢٣ برس تک مہلت پا سکے۔ ضرور ہلاک ہوگا۔‘‘

(اربعین جز ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)

ایک اور جگہ لکھا ہے کہ: ’’حق یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ (اس کے اوپر الفاظ یہ ہیں) کہ چند روز ہوئے کہ ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

’’اسی طرح اوائل میں میرا بھی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی کی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ اور خدا کا مامو ر خدا کا امین اور خدا کی طرف آیا ہے جو جو کچھ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

اور مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسے تورٰۃ اور انجیل اور قرآن مجید پر تو کیا مجھ سے توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقینیات کو چھوڑ دوں گا۔‘‘

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

صفحہ ١٩٩

’’اسی طرح میں اسکی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال اس بارہ میں اگر جمع کئے جاویں تو اور بھی بہت سے ہیں۔ لیکن ان سے بقدر ضرورت یہ بات معلوم ہو گئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی وحی اور رسالت کا مدعی ہے اور اپنی وحی کو بالکل قرآن کے برابر سمجھتا ہے۔ اور اس کے منکر کو جہنمی کہتا ہے۔

تیرہ سو سال کا اسلامی اجماعی عقیدہ

اس کے بعد امت محمدیہ کا ساڑھے تیرہ سو برس کا عقیدہ اس بارے میں پیش کرتا ہوں کہ جو شخص وحی اور نبوت کا دعویٰ کرے یا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا یا کسی کو نبوت دیا جانا تجویز کرے۔ اس کے متعلق علمائے امت کی کیا رائے ہے اور آئمہ امت نے کیا فرمایا؟۔

علامہ خفاجی شرح شفاء میں لکھتے ہیں: ”قال ابن القاسم فيمن تنباء انه كا المرتد سواء كان دعا ذلك الى متابعة نبوته سرا كان او جهرا كمسيلمة لعنة الله تعالى وقال ابن الفرج هو اى من زعم انه نبى يوحى اليه كا المرتد فى احكامه لا نه قد كفر بكتاب الله لانه كذبه ﷺ فى قوله انه خاتم النبيين ولا نبى بعده مع الفرية على الله . نسيم الرياض ج ٤ ص ٣٩٣‘‘ ”ایسے ہی ابن قاسم نے اس شخص کے متعلق کہا ہے کہ دعویٰ نبوت کرے اور کہے کہ مجھ پر وحی نبوت آتی ہے اور ابن قاسم مدعی نبوت کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ مثل مرتد کے ہے۔ خواہ لوگوں کو اپنے اتباع کی دعوت دے یا نہ دے۔ اور پھر یہ دعویٰ خفیہ ہو یا علانیہ جیسے مسیلمہ کذاب۔ اور ابن الفرج فرماتے ہیں جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے۔ وہ مثل مرتد کے ہے۔ اس لئے کہ اس نے قرآن سے کفر کیا۔ آنحضرت ﷺ کو اس قول میں جھٹلا دیا کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس نے اپنے اللہ پر افتراء بھی باندھا کہ اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘

اسی طرح شرح شفا میں ہے: ”كذلك نكفر من ادعى نبوة احد مع نبينا عليه السلام ان فى زمنه كمسيلمة الكذاب والاسود العنسى او ادعى النبوة احد بعده فانه خاتم النبيين بنص القرآن والحديث فهذا تكذيب لله ورسوله عليه السلام . نسيم الرياض ج ٤ ص ٥٠٦‘‘ ”یعنی ہم ایسے ہی اس شخص کو بھی کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرے۔ یعنی آپ ﷺ کے زمانے میں جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے کیا یا آپ ﷺ کے بعد کرے۔ اس لئے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں بنص قرآن وحدیث۔ پس دعویٰ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے۔

نیز ہے: ”اذا لم يعرف ان محمد اًﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم لا نه من

صفحہ ٢٠٠

ضروریات الدین۔ الاشباہ والنظائر کتاب السیر ص ١٠٢ ’’یعنی جب کوئی شخص یہ نہ جانے کہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں کے آخری ہیں۔ کافر ہے۔ کیونکہ آپ کا آخری نبی ہونا ضروریات دین میں سے ہے‘‘۔

نیز فقہ حنفی کی مشہور کتاب البحر الرائق ص ١٢١ ج ٥ میں ہے کہ: ’’اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ یہ کہے کہ اگر انبیاء کا فرمان صحیح اور سچ ہوتو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘

نیز فتاویٰ عالمگیریہ ص ٢٦٣ ج ٢ میں ہے: ’’اذالم یعرف ان محمدا علیہ السلام آخر الانبیاء ‘‘ یعنی اگر کوئی آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ من پیغمبرم اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں۔ تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔ جس کا منشا یہ ہے کہ ایسے الفاظ ہوں۔ جو دعویٰ نبوت کے موہم ہوں۔ وہ بھی کفر ہے۔

علامہ ابن حجر مکی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں: ’’من اعتقد وحیا بعد محمد ﷺ فقد کفر با جماع المسلمین ‘‘ یعنی جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد وحی کا اعتقاد رکھے۔ وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔

حضرت ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’و دعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالا جماع ‘‘ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا باجماع کفر ہے۔

علامہ سید محمود آلوسی مفتی بغداد اپنی تفسیر کے ص ٦٥ ج ٧ میں لکھتے ہیں: ’’وکونہ علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتم النبیین من مانطقت ...... الخ ‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں ہے۔ جن پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں۔ جن کو حدیث نبویہ نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ جس پر امت نے اجماع کیا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف کا مدعی کافر سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی اصرار کرے گا تو قتل کیا جاوے گا۔‘‘

حافظ ابن حزمؒ اپنی کتاب الملل والنحل ص ٢٦٩ ج ٢ باب الکلام فیمن یکفر ولا یکفر میں لکھتے ہیں: ’’وکذلک من قال ...... الخ ‘‘ اور ایسا ہی جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ ابن مریم کے اور کوئی نبی ہے تو کوئی شخص بھی اس کے کافر ہونے میں اختلاف نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ ان امور پر صحیح اور قطعی حجت قائم ہو چکی ہے۔‘‘

حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ غنیۃ الطالبین ص ٨٨ طبع سوم مصر میں فرماتے ہیں کہ: ’’ادعت ایضاً ...... الخ ‘‘ روافض نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حضرت علیؓ نبی ہیں۔ خدا ان کو لعنت کرے اور اس کے فرشتے بھی اور اس کی تمام مخلوق دن قیامت تک اور جلا دے۔ ان کے خیموں کو ۔ کیونکہ انہوں نے اس بارہ میں غلو سے کام لیا ہے اور اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔ پس ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس شخص سے جس نے یہ قول کیا ہے۔‘‘

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ امت محمدیہ قرن اول سے لے کر آج تک اس پر متفق ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد وحی یا نبوت کا دعویٰ کرے یا ختمِ نبوت کا انکار کرے ۔ وہ کافر اور مرتد ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کی عبارتیں اس کی تائید میں پیش کرتا ہوں:

صفحہ ٢٠١

’’وما كان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین ‘‘ (حمامۃ البشری ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ’’مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافر قوم کے ساتھ مل جاؤں ۔‘‘ اس قول سے معلوم ہو گیا کہ پہلے خود مرزا قادیانی کا عقیدہ بھی یہ رہا ۔ جو تمام امت کا عقیدہ تھا۔

مدعیان نبوت کے خلاف اسلامی درباروں کے فیصلے

اس کے بعد میں چند وہ فیصلے پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ جو مدعیان نبوت کے بارہ میں اسلامی درباروں سے صادر ہوئے ۔ اسلام میں سب سے پہلا مدعی مسیلمہ کذاب اور پھر اسود عنسی ہیں۔ اسود عنسی کو وہاں حضور ﷺ کے حکم سے قتل کر دیا گیا اور کسی نے نہ پوچھا کہ تیری نبوت کے کیا دلائل ہیں اور تیرے صدق کا معیار کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو فتح الباری ص ٥٥ ج ٦)

آنحضرت ﷺ کے بعد مسیلمہ کذاب پر باجماع صحابہؓ جہاد کیا گیا اور آخر اسے قتل کیا گیا ۔ وہ سب سے پہلا اجماع جو اسلام میں منعقد ہوا۔ وہ مسیلمہ کے جہاد پر تھا۔ جس میں کسی نے یہ بحث نہ ڈالی کہ مسیلمہ اپنی نبوت کے لئے کیا دلائل اور کیا معجزات رکھتا ہے۔ بلکہ اس بناء پر آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت سرے سے کذب و افتراء مان لیا گیا۔ اس لئے باجماع صحابہؓ اس پر جہاد کیا گیا ۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد میں طلیحہ نامی ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے قتل کیلئے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔

(فتوح البلدان ص ١٠٢)

اس کے بعد حارث نامی ایک شخص نے خلیفہ عبدالملک کے عہد میں دعویٰ نبوت کیا۔ خلیفہ نے علماء وقت سے جو کہ صحابہؓ اور تابعین تھے۔ فتویٰ لیا اور متفقہ فتویٰ سے اسے قتل کر کے سولی پر چڑھا دیا گیا۔ کسی نے اس بحث کو روا نہ رکھا کہ اس کی صداقت کا معیار دیکھیں اور معجزات اور دلائل طلب کریں ۔ قاضی عیاض نے اس واقعہ کو اپنی کتاب (شفاء ج ٢ ص ٢٥٧، ٢٥٨ مطبوعہ مصر ١٩٥٠) میں نقل کر کے فرمایا ہے : ’’وفعل ذالک غیر واحد من الخلفاء والملوک با شباہہم ‘‘ یعنی بہت سے خلفاء بادشاہوں نے بہت سے ایسے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے اور اس وقت کے علماء نے اجماع کیا ہے کہ یہ ان کی کاروائی صحیح اور درست تھی ۔ اور جو شخص ان کے کفر کا منکر ہو۔ وہ خود کافر ہے۔ ہارون رشید کے زمانہ میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا ۔ خلیفہ نے علماء کے متفقہ فیصلہ سے اسے قتل کیا۔ کتاب المحاسن ص ٩٦ جلد اول میں مذکور ہے۔

یہاں تک میری گذارش کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام امت اس پر متفق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص دعویٰ نبوت یا وحی کا کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے۔ وہ کافر مرتد ہے اور اس فیصلے کو قرون اول سے لیکر تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں نے نافذ کیا ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے دونوں کافر مرتد ہیں ۔

صفحہ ٢٠٢

آئمہ کے ان اقوال سے یہ بات ثابت اور واضح ہو گئی کہ یہ جو کچھ ختم نبوت کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ قرآن مجید کی آیت: ”ولکن رسول الله و خاتم النبیین“ کا صریح حکم ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اس آیت کا مطلب سوائے اس کے اور نہیں ہو سکتا جو صحابہؓ نے اور تابعینؒ نے باجماع بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ جائز نہیں۔

تفسیر ابن کثیر ص ٨٩ جلد ٨ آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں ہے: ”فهذه الاية نص فى انه لا نبی بعدہ......الخ“ یعنی یہ آیت اس بات میں نص صریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو رسول بطریق اولیٰ نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے۔ اور عکس ضروری نہیں۔ اسی پر رسول اللہ ﷺ سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں۔ جس کو صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت نے آپ ﷺ سے نقل کیا ہے۔

اسی کتاب کے صفحہ نمبر ٩١ ج ٨ میں ہے: ”فمن رحمة الله ارسال محمد......الخ“ یعنی پس بندوں پر خدا کی رحمت ہے۔ محمد ﷺ کو ان کی طرف بھیجنا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کی تعظیم و تکریم میں یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر تمام انبیاء اور رسل کو ختم کر دیا ہے اور دین حنیف کو آپ ﷺ پر کامل اعتماد ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ میرے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہونے والا نہیں۔ تا کہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا اور مفتری ہے۔ دجال اور ضال مضل ہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی بھی کرے اور قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے۔ اس لئے کہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے اور ایسے ہی خداوند تعالیٰ ان پر لعنت کرے اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر یہاں تک کہ وہ مسیح الدجال تک ختم کر دئیے جاویں گے۔ اس بارہ میں جو احادیث متواترہ کا دعویٰ ابن کثیر نے کیا ہے۔ وہ سب تقریباً میرے رسالہ ختم النبوۃ (جو طبع شدہ ہے) میں محفوظ ہیں۔

حدیث شریف میں ہے: ”لا تقوم الساعة حتی تبعث دجالون کذابون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ یعنی قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی۔ جب تک بہت سے دجال اور جھوٹے لوگ نہ اٹھائے جائیں۔ جن میں ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ (ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ کتاب الفتن‘ ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون)

دوسری حدیث میں ہے: ”مثلی ومثل الانبیاء من قبلی......الخ“ یعنی میرے اور پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کسی نے گھر بنایا ہو اور آراستہ و پیراستہ کیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو اور اس کے آس پاس لوگ چکر لگاتے ہوں اور خوش ہوتے ہوں اور یہ کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تاکہ تعمیر مکمل

صفحہ ٢٠٣

ہو جاتی۔ وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔

(بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین)

تیسری حدیث: ”فضلت على الانبياء ...... الخ “ یعنی مجھے تمام انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ چھٹی یہ ہے کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کر دیا گیا ہے۔

(مسلم ج ١ ص ١٩٩ كتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)

چوتھی حدیث: ”انا اخر الانبياء وانتم اخر الامم ...... الخ “ میں انبیاء کا آخری ہوں اور تم تمام امتوں کے آخری ہو۔

(ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم )

یہاں تک میرے بیان کا ایک جزو ختم ہوا کہ ضروریات دین کا انکار باجماع امت کفر ہے۔ اور ختم نبوت کا عقیدہ اور اسی طرح مدعی نبوۃ کا مرتد ہونا بھی ضروریات دین میں سے ہے۔ مرزا قادیانی نے ان تمام ضروریات دین کا کھلے طور پر انکار کر دیا ہے۔ لہٰذا وہ باجماع امت کافر و مرتد ہیں۔

توہین انبیاء علیہم السلام

اس کے بعد دوسری چیز توہین انبیاء علیہم السلام ہے۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کی بلا تخصیص و استثناء توقیر کرنا اور تعظیم کرنا قرآن اور حدیث کا کھلا ہوا فیصلہ اور اجماعی مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں قرآن شریف کا ارشاد ہے: ”ان الذين يكفرون بالله ورسله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله، نساء ١٥٠“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء پر بلا استثناء ایمان لانا ضروری ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنی متعدد کتابوں میں متعدد مواقع پر انبیاء کی توہین کی ہے۔ خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس قدر اہانت اس کی کتابوں میں صراحتاً موجود ہے کہ ایک بھلا آدمی بھی دوسرے آدمی کو نہیں کہہ سکتا۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ علیہ السلام نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

اس عبارت نے یہ بات بھی صاف کر دی ہے کہ اس میں جو کچھ حضرت مسیح کے متعلق کہا گیا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کا اپنا عقیدہ ہے جس کو بحوالہ قرآن بیان کرتے ہیں۔ وہ کسی عیسائی وغیرہ کا قول نقل نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کو پیشگوئی کیوں نام رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

صفحہ ٢٠٤

اس کتاب کے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ: ” ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں ۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ حاشیہ)

ضمیمہ انجام آتھم میں ہے کہ : ” اور آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔ “ اسی صفحہ پر ہے کہ : ” آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ۔“ اسی صفحہ پر ہے کہ : ” سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم میں یہ گالیاں یسوع کا نام لے کر کہی ہیں اور خود لکھتا ہے کہ : ” ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں“ (توضیح المرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢) اسی طرح مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ : ” اور مفتری ہے ۔ وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا ۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چار بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں ۔ “ (کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨) اس کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ: ” یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں ۔ “

(کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨ حاشیہ)

مرزا قادیانی کی ان عبارات سے یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ جس کو یسوع کہتے ہیں ۔ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔ لہٰذا یہ بات نا قابل التفات ہے کہ مرزا قادیانی نے گالیاں یسوع کو دی ہیں نہ کہ عیسیٰ کو ۔ نیز کشتی نوح کے حاشیہ پر خود مرزا قادیانی بجائے یسوع کے لفظ عیسیٰ لکھ کر کہتے ہیں کہ: ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے ۔ “

(کشتی نوح ص ٦٥ خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ)

ان عبارات سے مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنا اور مغلظات گالیاں دینا ثابت ہو گیا ۔

توہین انبیاء علیہم السلام بالاجماع کفر ہے

اس کے بعد علمائے امت کا متفقہ فیصلہ اس بارہ میں پیش کرتا ہوں کہ جو شخص خدا کے کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرے ۔ وہ بالاجماع امت کافر ہے ۔ درمختار شامی ص ٣٥٦ ج ١ باب المرتد میں ہے: ” والکافر بسبب نبی من الانبیاء “ یعنی وہ شخص جو کسی نبی کو گالیاں دینے کی وجہ سے کافر ہو گیا ۔ اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قطعاً قبول نہ ہوگی اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔ “

یہی مضمون درمختار میں فصل جزیہ کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ فتاویٰ بزازیہ میں بھی ہے کہ اگر اپنے دل سے بھی کسی نبی کو مبغوض رکھے۔ اس کا بھی یہی حکم ہے ۔ اسی طرح شامی ص ٣١٧ ج ٣ باب المرتد ہے : ” قال ابن السحنون المالکی واجمع المسلمون ............... الخ “ یعنی ابن سحنون مالکی فرماتے ہیں کہ : ” تمام

صفحہ ٢٠٥

مسلمانوں نے اجماع کیا ہے کہ رسول کو گالیاں دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“ یہی عبارت بعینہ شفا وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ کتاب الخراج میں ہے: ”ای مسلم سب ........ الخ “ یعنی جو مسلمان آنحضرت ﷺ کو گالیاں دے یا آپ ﷺ کی تکذیب کرے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے تو وہ کافر ہو گیا۔ اس کی عورت اس سے بائنہ ہو گئی۔

تحفہ شرح منہاج باب المرتدین میں ہے: ”او كذب نبياً او رسولاً “ یعنی جو شخص نبی یا رسول کی تکذیب کرے یا کسی شخص کی نبوت کو ہمارے رسول کریم ﷺ کے بعد جائز رکھے۔ وہ کافر ہے۔

امت کے اجماعی فیصلوں سے مرزا قادیانی کے کفر اور ارتداد کی دوسری وجہ مل گئی۔ ان وجوہ سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین بالا جماع کافر و مرتد ہیں۔

مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد کے ساتھ جائز نہیں

اس کے بعد یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر کے ساتھ ہرگز کسی وقت جائز نہیں سمجھا گیا اور اگر بعد نکاح خاوند کفر اختیار کرے۔ اس کا نکاح ہمیشہ فسخ شمار کیا گیا ہے: ”لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن (الممتحنة :١٠) “ یعنی مسلمان عورتیں کفار کے لئے حلال نہیں اور نہ کفار مرد مسلمان عورتوں کیلئے حلال ہیں۔ قرآن کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے اور خود مرزا قادیانی اور ان کے متبعین بھی اس کے قائل ہیں۔

فتاویٰ احمدیہ ص ٧ جلد ٢ میں ” تاکید کی جاتی ہے کہ کوئی احمدی اپنی لڑکی غیر احمدی کے نکاح میں نہ دے۔“ اسی طرح مرزا محمود نے لکھا ہے کہ:

” ایک اور سوال بھی ہے کہ غیر احمدی کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں کو نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دیدی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔ اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کر لی ہے۔

(انوار خلافت ص ٩٣‘ ٩٤)

میں اپنے بیان کو اس پر ختم کرتا ہوں کہ باجماع امت بہ تصریح قرآن و حدیث کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی مذہب والے کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ بعد نکاح کے ایسا مذہب اختیار کرلے تو شرعاً وہ نکاح فسخ ہو جائے گا۔ قضائے قاضی اور عدت کی ضرورت نہیں۔

اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ ........ اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ

PDF 206

فہم ختم نبوت سیریز 2

دفاع ختم نبوت

اسلام کا سب سے اہم مورچہ

تحقیق و تدوین محمد طاہر عبدالرزاق

موضوعات

بہترین کاغذ، اعلیٰ پرنٹنگ، چار رنگا خوبصورت ٹائٹل صفحات: 208 قیمت: -/90 روپے، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان