قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ · پروفیسر محمد الیاس برنی
Qadyani Mazhab ka Ilmi Mohasba · Ilyas Barni
صفحہ 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیباچہ

الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ اما بعد

عزت مآب عالی جناب محترم پروفیسر محمد الیاس برنی‘ سابق صدر شعبہ معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کی شہرۂ آفاق کتاب ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ کو حق تعالیٰ شانہ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ رد قادیانیت پر یہ انسائیکلو پیڈیا کا درجہ رکھتی ہے۔ رد قادیانیت کے محاذ پر کام کرنے والا ہر خوش بخت و خوش نصیب شخص اس سے استفادہ کرنے کا محتاج ہے۔

اس کتاب کو طبع ہوئے تقریباً پون صدی بیت گئی لیکن اس کی اہمیت و افادیت پہلے سے زیادہ درخشاں ہے۔ رد قادیانیت پر آج تک جتنا لٹریچر شائع ہوا‘ سب سے زیادہ اسے قبولیت عامہ نصیب ہوئی۔ اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ فاضل مصنف ہر نئے ایڈیشن میں اضافے کرتے گئے۔ تاآنکہ یہ جامع و قابل قدر دستاویز بن گئی۔

آج تک اس کے جتنے ایڈیشن شائع ہوئے‘ سب لیتھو پر تھے۔ لیتھو کتابت ہر دفعہ نئی کرانی پڑتی ہے۔ اس لیے غلطیاں در غلطیاں ہوتی گئیں۔ مصنف حیدر آباد دکن کے تھے۔ کتاب لاہور میں چھپتی رہی۔ تصحیح کرنے والے حضرات کو رد قادیانیت پر عبور حاصل نہ تھا۔ اس لیے بعض غلطیاں اتنی سنگین ہو گئیں‘ جو کتاب کی ثقاہت کے منافی اور اس کے حسین چہرہ پر داغ محسوس ہوتی تھیں ورنہ رب کریم کا مصنف

صفحہ 2

پر یہ عظیم کرم و احسان ہے کہ آج تک قادیانی اس کے کسی حوالہ کو چیلنج نہ کر سکے تھے۔ قادیانی کتب کے ایڈیشن بدلتے رہے۔ صفحات میں فرق آتا رہا۔ آج سے پون صدی قبل کے حوالہ جات آج کی قادیانی کتب کے ایڈیشنوں میں تلاش کرنے خاصے توجہ طلب مسئلہ تھے۔ کتابت نے ترقی کی۔ لیتھو سے ویٹائپ سے آفسٹ اور پھر آج کمپیوٹر ان سب کی جگہ پر براجمان ہو گیا۔ سب سے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ضرورت محسوس کی کہ اس کا جماعت کی طرف سے ایڈیشن شائع ہونا چاہیے جو آج کی ان تمام ضرورتوں کو پورا کر سکے۔ جدید حوالہ جات لگا دیے جائیں تاکہ حوالہ تلاش کرنے میں آسانی ہو جائے۔ چنانچہ آپ نے اپنی زیر نگرانی مولانا عزیز الرحمن صاحب کراچی کو اس کام پر مقرر کیا مگر اس میں مشکل یہ پیش آئی کہ کراچی میں مرزا قادیانی کی تو تمام کتابیں موجود تھیں۔ دیگر قادیانی کتب و قادیانی اخبارات و رسائل تمام کے تمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر دفتر ملتان کے کتب خانہ میں تھے۔ اس لیے آپ کا ایماء و حکم پا کر فقیر نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔

۱۹۹۳ء میں ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے موقعہ پر حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور جمعیۃ علمائے ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم، حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری، استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت سے معلوم ہوا کہ ہندوستان میں وہ حضرات اس کتاب کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔ جدید حوالہ جات کی تخریج و تحقیق کے لیے انہوں نے بھی حکم فرمایا۔ چنانچہ واپسی پر فقیر کو تبلیغی اسفار سے جتنا وقت ملتا رہا، اس پر کام کرتا رہا لیکن اسے جتنا جلدی ہونا چاہیے تھا، مصروفیت کے باعث اس میں اتنی تاخیر ہوتی گئی۔ بالآخر مجبور ہو کر فقیر نے عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری دامت برکاتہم سے استدعا کر کے اپنے لیے دو معاون طلب کیے۔ پہلے مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ اوکاڑہ و مولانا عبدالستار قاسمی احمد پور شرقیہ نے معاونت فرمائی اور پھر مناظر ختم نبوت حضرت مولانا خدا بخش شجاعبادی

صفحہ 3

حضرت مولانا بشیر احمد، مرکزی ناظم نشر و اشاعت و حضرت مولانا عبدالعزیز مبلغ خانیوال نے بھرپور ساتھ دیا۔ یوں تقریباً دو سال کے بعد آج اس کتاب کی تخریج و تحقیق کے کام سے سبکدوش ہوئے ہیں۔

بحمدہ تعالیٰ جوں جوں کتاب کو پڑھنے کا موقعہ ملا، مصنف مرحوم کی دیانت و ثقاہت پر اتنا ہی ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا۔ قادیانی کتب و جرائد کا کوئی ایک بھی حوالہ ایسا نہیں، جو اصل ماخذ کے دستیاب ہونے پر اس میں نہ ملا ہو۔

اس کی تخریج و تحقیق میں مندرجہ ذیل اہتمام کیا گیا۔

دیے اور بالخصوص اس بات کا التزام کیا گیا کہ مرزا قادیانی کی کتب کے مجموعہ ”روحانی خزائن“ مطبوعہ ربوہ و لندن کے حوالہ جات بمع قید صفحہ و جلد لگا دیے گئے۔

تاریخ درج تھی۔ اب اس پر صفحات بھی لگا دیے ہیں تاکہ حوالہ کی تلاش کے لیے پورے شمارہ کو پڑھنے کی بجائے متعلقہ صفحہ دیکھ لیا جائے۔

دی گئی۔

تھی، اسے درست کر دیا گیا ہے۔

حوالہ کو مکرر لاتے تھے۔ چند ایک مقامات (پانچ یا چھ) پر عدم ضرورت کے باعث ان کو حذف کر دیا گیا۔ (باقی تمام کو علیٰ حالہ باقی رکھا گیا تاکہ مصنف کی محنت ضائع نہ ہو)

صرف نمبرنگ کا حوالہ دیا ہے۔ ہم نے فہرست میں عنوانات کی نمبرنگ کو بھی علیٰ حالہ

صفحہ 4

باقی رکھا لیکن اس کے آگے صفحات کے نمبر بھی لگا دیے۔

لگائی تھی، ہم نے ان تمام ضمیمہ جات کے عنوانات کی فہرست کو بھی اصل فہرست کے ساتھ شامل کر دیا ہے تاکہ فہرست پڑھنے والے شخص کے سامنے پوری کتاب بمعہ ضمیمہ جات کے عنوانات آجائیں۔

حصوں میں شائع ہوا تھا۔ فاضل مصنف نے ان کے صفحات کے نمبر دیے ہیں۔ اب ربوہ سے تبلیغ رسالت کے دس حصے "مجموعہ اشتہارات" کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔ ہم نے تبلیغ رسالت کے حوالہ جات کے ساتھ ساتھ مجموعہ اشتہارات کے صفحات بھی دے دیے ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے اقوال، جسے قادیانی ملفوظات یا کلمات طیبات کہتے ہیں، مصنف نے وہ مختلف رسائل و جرائد کے حوالہ جات سے نقل کیے تھے۔ اب خود قادیانیوں نے ملفوظات کا دس حصوں پر مشتمل مجموعہ شائع کر دیا ہے۔ ہم نے مصنف کے اصل ماخذ کے ساتھ ملفوظات کے بھی حوالہ جات لگا دیے ہیں۔

یہ اور اس جیسی دیگر محنت و کاوش کے بعد اللہ رب العزت کے حضور شکر گزار اور فاضل مصنف کے حضور سرخرو ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس عظیم و ضخیم کتاب کی تخریج و تحقیق کی ذمہ داری سے سرفراز فرمایا۔ ہمارے خیال میں اب ہر لحاظ سے یہ جدید ایڈیشن کامل و مکمل ہے۔ آج ہی اس بار عظیم سے عہدہ برآ ہوئے اور آج ہی اسے اپنے مکرم بھائی محمد متین خالد صاحب کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے بھجوا رہے ہیں۔ خدا کرے کہ اب کمپیوٹر کمپوزنگ، تصحیح، طباعت و جلد بندی کے تمام مراحل جلد سے جلد مکمل ہوں تاکہ اسے حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم کی خدمت میں بھیج سکیں۔ افوض امری الی اللہ

صفحہ 5

یا اللہ! ہم سب کو اپنی رضا کی توفیق نصیب فرما۔ آمین بحرمتہ النبی الامی الکریم۔ فقیر اللہ وسایا (و رفقائے کار) دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان ۲۳ - ۱۰ - ۱۴۱۵ھ ، ۲۵ - ۳ - ۱۹۹۵ء

محترم ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری صاحب، رفیق محترم جناب رانا محمد طفیل صاحب جاوید و جناب جمال عبدالناصر صاحب نے پروف ریڈنگ کے لیے بھرپور معاونت فرمائی۔ حق تعالیٰ ان حضرات کی مساعی کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازیں۔ آمین۔

فقیر اللہ وسایا ۱۴ - ۶ - ۱۹۹۵ء ۱۴ - ۱ - ۱۴۱۶ھ

صفحہ 6

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعارف

الحمدللہ! کتاب قادیانی مذہب کا ایڈیشن ششم شائع ہوگیا اور ایڈیشن پنجم کے مقابل اس میں جدید اقتباسات بتعداد کثیر اضافہ ہوئے جن سے مباحث بہت واضح اور محکم ہوگئے۔ کتاب کا حجم بھی کافی بڑھ گیا۔ بنا براں ایڈیشن ششم کا مقدمہ جو بجائے خود ایک مختصر مگر جامع تالیف ہے، علیحدہ شائع ہوا اور خود کتاب بھی دو حصوں میں شائع ہو رہی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ کتاب نے ایڈیشن ششم میں مستقل شکل اختیار کر لی ہے اور آئندہ ایڈیشنوں میں مزید رد و بدل اور اضافوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ تالیف ہر طرح مکمل ہوگئی۔

بنابریں ہم قادیانیت کے معلومات جو بصرف کثیر اور محنت شاقہ و وسیع مطالعہ سے فراہم کیے گئے، صدہا اقتباسات درج ہو جانے کے بعد بھی ان کا کچھ ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ احباب کا خیال بلکہ اصرار ہے کہ یہ ذخیرہ بھی محفوظ ہو جانا ضروری ہے کہ اس کا دوبارہ دستیاب ہونا محال ہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ آئندہ کسی موقعہ پر مقدمہ قادیانی مذہب کی طرح ایک تتمہ قادیانی مذہب بھی جداگانہ شائع ہو جو تقطیع اور حجم میں مقدمہ کے مماثل ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

صدہا اقتباسات جو کتاب میں شریک ہیں، اکثر و بیشتر صرف ایک ایک جگہ درج ہیں۔ بعض بعض کا کوئی جزو دوسری جگہ بھی درج ہے اور معدودے چند اقتباسات ایسے ہیں جو موقع و محل کی ضرورت سے مکرر بھی درج ہیں۔ چنانچہ طبع اول میں ایسی چند مثالیں موجود ہیں مگر فی الجملہ بہت کم ہیں۔ مزید صراحت یہ کہ

صفحہ 7

ایڈیشن ششم میں جو نئے عنوانات اضافہ ہوئے‘ ان کے ساتھ جدید کا سر حرف (ج) درج ہے اور علیٰ ہٰذا سابقہ عنوانات کے تحت جو نئے اقتباسات اضافہ ہوئے‘ ان کے ساتھ مزید کا سر حرف (م) درج ہے تاکہ بیک نظر اضافوں کا اندازہ ہو جائے۔

حتی المقدور اقتباسات کے حوالوں میں صحت کا اہتمام رکھا گیا۔ تاہم ایک دشواری جو قادیانی کتب کے حوالوں میں پیش آتی ہے‘ مغالطہ کا باعث ہو سکتی ہے۔ مثلاً خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی کتابوں کو لیجئے۔ اربعین جو ایک مشہور تالیف ہے‘ اس کے ایک مقام کا حوالہ خود مرزا قادیانی صاحب نے (کتاب اربعین نمبر (۴) ص ۱۹) لکھا ہے۔ دیکھو (تتمہ الوحی ص ۱۴۳) جہاں مرزا صاحب کو حیض آنے کا ذکر ہے) چنانچہ ہم نے بھی وہی حوالہ ص ۱۹ لکھ دیا لیکن اربعین نمبر (۴) کے ایڈیشن سوم میں وہ مقام ص ۹۷ پر پہنچ گیا۔ وجہ یہ کہ اربعین کے چار حصے ہیں۔ شروع کے ایڈیشنوں میں ہر حصہ کے صفحات جداگانہ درج ہوئے اور بعد کو وہ مسلسل درج ہونے لگے۔ لامحالہ حوالہ کے صفحات میں بڑا فرق پڑ گیا۔ چنانچہ اربعین ہی میں نمونہً صفحات کا فرق ملاحظہ ہو۔ اربعین نمبر (۳) صفحہ ۳۰‘ ۶۳‘ ص ۳۸‘ ۶۹‘ علیٰ ہٰذا اربعین نمبر (۴) صفحہ ۷‘ ۸۳‘ ص ۴۱‘ ۹۰‘ ص ۱۷‘ ۹۲ قس علیٰ ہٰذا۔

ایک دوسری کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ کو لیجئے۔ اس کے صفحات کا بھی یہی حال ہے۔ پہلے اور بعد کے ایڈیشنوں کا فرق ملاحظہ ہو۔ ص ۹۴‘ ۱۵۲‘ ص ۹۶‘ ۱۵۶‘ ص ۹۹‘ ۱۶۲‘ علیٰ ہٰذا۔ تیسری کتاب ازالہ اوہام میں بھی صفحات کا فرق نمایاں ہے۔ مثلاً ص ۲۵‘ ۵۶‘ ص ۳۲‘ ۷۵‘ ص ۳۴‘ ۷۷‘ ص ۲۱۱‘ ۵۰۹‘ ص ۲۸۲‘ ۶۹۱ وغیرہ الحاصل قادیانی کتابوں کے حوالوں میں اکثر پیچیدگی رہتی ہے کہ طباعت میں صفحات کا عملدرآمد بدلتا رہتا ہے۔ ممکن ہے ناواقفوں کو بصورت ضرورت حوالوں کی تلاش میں حیرانی و سرگردانی پیش آئے۔ مغالطہ ہو‘ اس لیے صراحت ضروری سمجھی گئی۔

اس تالیف میں جو کتابیں وغیرہ پیش نظر ہیں اور جن سے اقتباسات لیے گئے‘ ان کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے‘ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی کتابیں چالیس سے زیادہ شامل ہیں اور جملہ قادیانی کتابوں کی تعداد سوا سو کے قریب

صفحہ 8

ہوتی ہے۔ باقی کچھ کتابیں مسلمانوں کی شریک ہیں۔ چنانچہ پانچویں ضمیمہ میں حوالہ کی کتابوں کی فہرست درج ہے۔

ایڈیشن پنجم کے مقابل ایڈیشن ششم جو دو حصوں میں شائع ہو رہا ہے‘ اس کی مختصر صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ سابق کی فصل تیرہویں‘ فصل نویں کے بعد ہی فصل دسویں کی حیثیت سے درج ہوئی ہے جس سے مباحث کی مجانست میں اصلاح ہو گئی۔ لا محالہ دسویں فصل ایک درجہ آگے بڑھ کر گیارہویں فصل قرار پائی۔ علیٰ ہٰذا گیارہویں‘ بارہویں اور بارہویں تیرہویں فصل کہلائی۔ حتیٰ کہ چودھویں فصل سے سلسلہ مل گیا۔ مذکورہ اصلاح ترتیب کے سوا تقسیم کی صورت یہ کہ حصہ اول میں پانچ تمہیدیں اور پہلی دس فصلیں اور حصہ دوم میں آخری دس فصلیں اور پانچ ضمیمے شامل ہیں۔ دونوں حصے تقریباً مساوی ہیں۔

غرض کہ ایڈیشن ششم میں کافی اصلاح و ترقی ہوئی۔ یہ ایڈیشن مولوی محمد اشرف صاحب‘ تاجر کتب لاہور نے اپنے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ دین کی کتابوں میں ان کی حوصلہ مندی قابل نظیر ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا کرے۔ (آمین)

بیت السلام‘ سیف آباد‘ حیدر آباد دکن معروضہ ۵ محرم ۱۳۷۰ھ خادم محمد الیاس برنی

صفحہ 9

بسم اللہ الرحمن الرحیم

والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم خاتم النبیین رحمتہ للعالمین و بالمومنین رؤف رحیمO

تمہید اول

اللہ جل شانہ کا فضل و کرم ہے کہ اس پر آشوب زمانے میں حیدرآباد فرخندہ بنیاد حب نبی اور عظمت رسول کا مسکن و مامن بنا ہوا ہے اور کیوں نہ ہو کہ جو یہاں امیر المومنین ہے، وہ سب سے بڑھ کر فدائے سید المرسلین ہے۔ سبحان اللہ ۔

شہ ملک رسالت صاحب تاج و سریر آمد ضیا بار و جہاں افروز چوں مہر منیر آمد
امین و خازن رحمت، معین و شافع امت وزیر و رازدار و نائب رب قدیر آمد
رسول ہاشمی خیر الوریٰ، صل علی احمد کریم، صادق، نور، نذیر و البشیر آمد
چہ خوش چشمے کہ ما زاغ البصر نازل بشان او ز قلب پر صفا وزدیدہ حق بین بصیر آمد
خوشا پیغمبر برحق، کہ بہر ما گنہ گاراں! رؤف الرحیم آمد کفیل و النصیر آمد
نہ ماند تا حجابے جلوۂ روئے حقیقت را پے کشف رموز غیب علام و خبیر آمد
بنام آں شہ لولاک صد جان و دلم قرباں
کہ عثماں از طفیلش بر مسلماناں امیر آمد

چنانچہ ماہ ربیع الاول شریف میں جس اہتمام و احترام سے میلاد مبارک کے شاندار جلسے حیدرآباد میں منعقد ہوئے اور ہوتے ہیں، ہندوستان میں ان کی نظیر کم تر مل سکتی ہے۔ اول تو ماشاء اللہ خود یہاں اچھے سے اچھے علماء و مشائخ اور واعظ موجود ہیں۔ مزید برکت یہ کہ دور دور سے نامور اور ممتاز عالم واعظ اس زمانے میں یہاں

صفحہ 10

تشریف لاتے ہیں اور اپنے علم و عقیدت کے گوہر لٹاتے ہیں۔ حاضرین اپنے دامن ایمان گلہائے عقیدت سے بھر لے جاتے ہیں اور سب اپنی اپنی مرادیں پاتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں میں خود اعلیٰ حضرت شاہ دکن خلداللہ ملکہ اخوت اسلامی سے شرکت فرماتے ہیں اور عام و خاص کو عظمت رسالت کے آداب سکھاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے تاجدار کم تر نظر آتے ہیں۔

من جملہ بڑے مرکزی جلسوں کے ایک جلسہ میلاد مبارک کا علامہ مفتی نورالضیاء الدین نواب‘ ضیاء یار جنگ بہادر کی سرکردگی اور صدارت میں بمقام بادشاہی عاشور خانہ منعقد ہوتا ہے۔ علماء اور مشائخ خصوصیت سے اس میں جمع ہوتے ہیں۔ اس ناچیز ہیچمدان کو بھی اس جلسے میں چند سال سے بہ تعمیل فرمائش تقریر کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ امسال بھی بتاریخ ۲۰ ربیع الاول ۱۳۵۲ھ یوم جمعہ جلسہ منعقد ہوا اور خلاف معمول اس ناچیز کے مشورے بلکہ اطلاع کے بغیر ”ختم نبوت“ کا عنوان مقرر کر دیا گیا۔ صرف ایک روز قبل اپنے کو پتہ چلا۔ بہرحال بڑے مجمع کے روبرو شب کو تقریر ہوئی۔ اپنی بے بضاعتی تو معلوم ہے‘ خدا کی شان کہ تقریر کام کر گئی۔ دلوں میں اتر گئی۔ اگرچہ کوئی فرقہ خصوصیت سے مخاطب نہ تھا۔ تاہم قادیانی صاحبان کو تشویش ہوئی کہ ان پر کاری زد پڑی۔ چنانچہ جلد از جلد ان کی طرف سے ایک رسالہ ”ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی“ کے عنوان سے شائع ہوا اور اس میں کافی تنقیص کے باوجود تقریر کے اثر کا اعتراف کرنا پڑا کہ ”مقرر کی اپنی وجدانی بے اصل تقریر اس قابل نہ تھی کہ ہم اس پر کچھ خامہ فرسائی کرتے لیکن اسلامی پبلک میں سے اکثروں نے ہم سے سوالات کی بھرمار شروع کر دی جس کے لحاظ سے مناسب معلوم ہوا کہ ہم مختصراً کچھ عام فہم دلائل ختم نبوت کی حقیقت پر لکھ دیں“۔ اس رسالہ کی اشاعت کے بعد ہی کئی جلسے بھی ہوئے۔ نامور قادیانی واعظ دور دور سے بلائے گئے۔ ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر خوب تقریریں ہوئیں‘ تردیدیں ہوئیں۔ پھر کچھ تبلیغی رسالے بھی قادیان سے منگا کر تقسیم کیے گئے۔ غرض کہ خوب تلا بیلی رہی۔

صفحہ 11

قادیانی صاحب کی یہ غیر معمولی یورش اور سرگرمیاں دیکھ کر بالآخر مسلمانوں میں بھی توجہ اور حرکت پیدا ہوئی۔ تحقیق کا شوق پھیلا۔ چنانچہ مذکورہ بالا رسالہ کے جواب میں "ختم نبوت" کے مسئلہ پر مسلمانوں کی طرف سے بھی رسالے نکلنے شروع ہوئے۔ ایک رسالہ "ثبوت ختم نبوت" کے عنوان سے من جانب مجلس الواعظین سید ابوالحسنات مولوی شجاع الدین علی صاحب صوفی قادری نے شائع کیا۔ دوسرا رسالہ قادیانی جماعت کے شائع کردہ ٹریکٹ کا مدلل جواب قاری محمد تاج الدین صاحب قادری نے شائع کیا۔ ان دونوں سے بڑھ کر مفصل جواب "ہدایۃ الرشید للغوی المرید" کے عنوان سے سید محمد حبیب اللہ صاحب قادری (عرف رشید بادشاہ) نے شائع کیا۔ علی ہذا ایک رسالہ "تکذیب مرزا صاحب بہ زبان مرزا صاحب" ان کے بھائی سید ولی اللہ صاحب (عرف حبیب بادشاہ) نے شائع کیا۔ ختم نبوت کے اثبات میں ایک رسالہ مولوی سید درویش محی الدین صاحب قادری نے بھی شائع کیا لیکن اس سلسلے میں سب سے مدلل اور جامع رسالہ "آواز حق" نکلا جو مولانا محمد بدر عالم صاحب میرٹھی‘ استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کا علمی کرشمہ ہے اور جو مولوی فخر الدین رازی صاحب کی سعی سے حیدرآباد میں شائع ہوا۔

رسالوں کے علاوہ کچھ دو ورقے بھی نکلے‘ مثلاً "ختم نبوت کے متعلق سیکرٹری صاحب جماعت احمدیہ کا صریح مغالطہ"۔ اس عنوان سے عزیزم میاں سید محمود موسوی القادری سلمہ نے ایک دو ورقہ شائع کیا۔ علی ہذا "قادیانی جماعت کی دعوت قادیانیت پر ہمارے استفسارات" اس عنوان سے بھی ایک دو ورقہ قاری محمد تاج الدین قادری نے شائع کیا۔ "مرزائیوں کے عقاید" اس عنوان سے بھی ایک دو ورقہ باجازت حضرت مولانا مولوی محمد عبدالقدیر صاحب صدیقی القادری مسلمانان حیدر آباد کی طرف سے شائع ہوا اور بہت مقبول رہا۔ اس کے سوا اخبار اور رسالوں میں بھی مضامین نکلے۔ چنانچہ "خاتم النبیین" کے عنوان سے الحاج ابوالحسن محمد خیر اللہ صاحب سنوسی القادری نے "ختم نبوت" کے عنوان سے مولانا عینی شاہ صاحب نظامی نے اور "خاتم الانبیاء" کے عنوان سے قاری محمد تاج الدین صاحب قادری نے مقامی اخبار "رہبر

صفحہ 12

دکن" اور رسالہ خلیق میں سلسلہ وار مضامین شائع کیے۔ جلسوں اور صحبتوں میں بھی تذکرے پھیل گئے۔ غرض کہ خدا کے فضل سے بیداری پیدا ہو گئی اور غفلت میں جو نقصان پہنچ رہا تھا‘ اس کا اندیشہ آئندہ کے واسطے رفع ہو گیا۔ فالحمدللہ علی احسانہ۔

مذہبی بحث و مباحثہ علماء کا کام ہے۔ اپنے واسطے اپنا ایمان کافی ہے۔ واللہ اعلم کیا مصلحت الٰہی تھی کہ بلا اجازت‘ بلا مشورہ‘ بلا اطلاع مسلمانوں نے اس ناچیز کو اس بحث پر کھڑا کر دیا اور پھر قادیانی صاحبان نے اس میں زبردستی گھسیٹ لیا۔ چنانچہ تقریر کی شب کو جلسہ ختم ہوتے ہی قادیانی صاحبان کے نمائندے نے آ کر تبادلہ خیالات کے نام سے مناظرے کی دعوت دی‘ لیکن عذر کر دیا کہ اپنا یہ منصب نہیں ہے۔ اس کام کے واسطے علمائے کرام کی طرف رجوع کیا جائے تو مناسب ہے۔ واقعہ ہے کہ ہم جیسے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اسلامی خیالات سننے کا لوگوں کو خود بہ خود اشتیاق ہے ورنہ علماء اور مشائخ کے مقابل ہماری معلومات کی کیا حقیقت ہے لیکن یہ عذر قبول نہیں ہوا۔ اول تو تقریر کی تردید میں رسالہ نکلا‘ جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے اور اس کے آخر میں ہم کو اعراض کا الزام بھی دیا گیا۔ چنانچہ اس رسالہ کے ختم پر لکھتے ہیں کہ ”ہمارے ایک نمائندے نے جو جلسہ میلاد النبی متذکرہ میں شریک تھا‘ پروفیسر الیاس برنی صاحب سے اسی سلسلہ پر تبادلہ خیالات کی دعوت دی تھی لیکن صاحب موصوف نے اپنی عدیم الفرصتی کا عذر کیا اور فرمایا کہ علمائے کرام سے رجوع فرمایا جائے۔ یہ جواب قابل غور ہے“۔ اس بیان سے شاید ہماری کم ہمتی اور بے چارگی کا اعلان مقصود ہو۔ مضائقہ نہیں ۔

خدا شرے بر انگیزد کہ خیرے دراں باشد

بہر حال اس رسالے کے شائع ہونے پر خیال ہوا کہ اسی سلسلے میں علمی تحقیقات کے طور پر قادیانی مذہب کا دوسرا رخ جو بالعموم نظروں سے مخفی رہتا ہے‘ نمایاں کر دیا جائے تو خوب۔ اس کی نوعیت کا صحیح اندازہ ہو جائے اور مغالطہ کی بھی گنجائش نہ رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قادیانی مذہب کا ایک بڑا اصول ہے‘ جس سے عام تو کیا‘ خاص لوگ بھی بے خبر ہیں۔ وہ یہ کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی

صفحہ 13

مذہبی زندگی کے دو دور ہیں۔ پہلے دور میں تو وہ انکسار جتاتے ہیں۔ خوب خوش اعتقاد اور عقیدت مند نظر آتے ہیں۔ انبیاء‘ اولیاء سب کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ سب کی عظمت کرتے ہیں‘ اتباع کا دم بھرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! آپ کا والا نامہ پہنچا۔ خداوند کریم آپ کو خوش و خرم رکھے۔ آپ دقائق تصوف میں سوالات پیش کرتے ہیں اور یہ عاجز مفلس ہے۔ محض حضرت ارحم الراحمین کی ستاری ہے۔ اس ہیچ اور ناچیز کو مجلس صالحین میں فروغ دیا ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم کاروبار قادر مطلق سے سخت حیرانی ہے کہ نہ عابد نہ عالم نہ زاہد کیوں کر اخوان مومنین کی نظر میں بزرگی بخشتا ہے۔ اس کی عنایات کی کیا ہی بلند شان ہے اور اس کے کام کیسے عجیب ہیں۔؎

پسندیدہ سگانے بجائے رسند
زما کہتر انش چہ آمد پسند!“

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب نمبر ۸‘ بنام میر عباس علی شاہ

صاحب‘ مندرجہ مکتوبات احمدیہ‘ جلد اول‘ ص ۱۰)

”میرا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور میں کوئی کتاب بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نہیں جو کہ خاتم النبین ہے۔ جس پر خدا کی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہ کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث جو کہ چشمہ حق و معرفت ہے‘ میں پیروی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ اس خیر القرون میں باجماع صحابہؓ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں‘ نہ ان میں کوئی کمی اور اسی اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا اور اسی پر میرا خاتمہ اور انجام ہوگا اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے‘ یا کسی اجماعی عقیدے کا انکار کرے‘ اس پر خدا

صفحہ 14

اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو"۔ (ترجمہ)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب عربی بنام مشائخ ہند، مندرجہ انجام

آتھم، ص ۴۴، روحانی خزائن ص ۴۳، ۴۴، ج ۱۱، مصنفہ مرزا صاحب

موصوف)

"میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں، جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گئی...... اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔"

(اعلان مورخہ ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد دوم، ص ۲۰، مجموعہ

اشتہارات ص ۲۳۰، ۲۳۱، ج ۱، از مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

"ہم اس بات کے لیے بھی خدائے تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راست باز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو"۔

(ایام صلح، ٹائٹل ص ۲، روحانی خزائن، ص ۲۲۸، ج ۱۴، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی)

"ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راست باز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں، ان کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں، بطور ظل کے واقع ہیں اور ان میں بعض ایسے جزئی

صفحہ 15

فضائل ہیں، جو اب ہمیں کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتے“۔

(ازالہ اوہام‘ ص ۱۳۸‘ روحانی خزائن‘ ص ۴۷۰‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی)

”میرے لیے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں (صحابہؓ) کا مداح اور خاک پا ہوں، جو جزئی فضیلت خدائے تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے، وہ قیامت تک کوئی اور شخص نہیں پا سکتا۔ کب دوبارہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقع ملے جو جناب شیخین علیہما السلام کو ملا“۔

(اعلان مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ اخبار الحکم‘ قادیان‘ اگست

۱۸۹۹ء‘ ملفوظات ص ۳۲۶‘ ج ۱‘ طبع ربوہ)

”غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے“۔

(ایام صلح‘ ص ۸۶‘ روحانی خزائن‘ ص ۳۲۳‘ ج ۱۴‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

لیکن دوسرے دور میں حالت بالکل برعکس ہے۔ اول تو علانیہ نبی بن جاتے ہیں۔ پھر بڑھتے بڑھتے تقریباً تمام انبیاء و مرسلین سے صراحتاً ”یا کنایۃً“ بڑھ جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑے دعوے زبان پر لاتے ہیں۔ اچھے اچھوں کو نظروں سے گراتے ہیں اور اپنے واسطے انتہائی عقیدت کے طالب نظر آتے ہیں۔ دونوں حالتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قادیانی صاحبان اپنی تبلیغ میں تمام تر دور اول کی خوش عقیدگیاں پیش کرتے ہیں اور ان میں کافی تراوٹ ہے۔ ناواقف اور روادار مسلمان ان کی خوش عقیدگیوں سے خوش ہو کر خود ان کی عقیدت میں پھنس جاتے ہیں اور جب اچھی طرح متاثر ہو کر قابو میں آ جاتے ہیں تو وہ ان کو دور دوم کے اعتقادات پر لاتے ہیں‘

صفحہ 16

جو چاہتے ہیں، منواتے ہیں۔ ایمان کی خوب گت بناتے ہیں۔ قادیانی تبلیغ کا یہ بڑا گر ہے۔ اچھے اچھے بے خبر ہیں۔ تحقیق کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں، دکھانے کے اور۔

مرزا صاحب کے مذہب کے دونوں دور خود ان کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب موجودہ خلیفہ قادیان اپنی کتاب القول الفصل میں یوں واضح فرماتے ہیں:

”غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ۱۸۹۹ء سے شروع ہوئی اور اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور یہ کہ آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ہے لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت کے فقرے دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں، بلکہ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ۱۹۰۲ء سے پہلے کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا“۔

(القول الفصل، ص۲۴)

بعد کو اس زمانی تقسیم میں کسی قدر ترمیم کی گئی۔ چنانچہ میاں محمود احمد صاحب اپنی کتاب حقیقتہ النبوت میں تحریر فرماتے ہیں:

”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ پس..... یہ ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے“۔

(حقیقتہ النبوت، ص۱۲۱)

صفحہ 17

مرزا صاحب کی خوش عقیدگیوں کے مضامین تو مسلمانوں کو لبھانے اور پھسلانے کے واسطے قادیانی صاحبان بڑے شد و مد سے شائع کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی قسم کا ایک رسالہ ”عقائد احمدیہ“ کے نام سے حیدر آباد میں بھی شائع ہوچکا ہے۔ خوب سبز باغ دکھایا ہے لیکن دور دوم کے اعتقادات جو قادیانی مذہب کی جان ہیں ”روح رواں“ ہیں قادیانیوں کا دین و ایمان ہیں‘ وہ غیروں اور ارادت مندوں کے سامنے بھولے سے بھی بیان میں نہیں آتے۔ وہ دراصل پکے قادیانیوں کا حصہ ہیں۔ کچوں کے واسطے راز سربستہ ہیں۔ اگر کوئی بطور خود کتابوں کا مطالعہ کرے تو قادیانی لٹریچر میں ایک بڑا کمال ہے۔ اس درجہ تکرار‘ تضاد‘ ابہام اور التباس ہے کہ اکثر مباحث بھول بھلیاں نظر آتے ہیں۔ عقل حیران اور طبیعت پریشان ہو جاتی ہے۔ جب تک صبر و استقلال کے ساتھ غور و خوض نہ کیا جائے‘ اصل بات ہاتھ نہیں آتی۔ اسی ضرورت کے مدنظر خود بانی مذہب جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اور ان کی امت کے مشہور و مستند اکابر کی کتابوں میں صاف صاف اقتباسات تلاش کر کے وہ مخصوص اعتقادات جو لوگوں سے تقریباً مخفی ہیں‘ موزوں عنوانات و ترتیب کے تحت اس کتاب میں پیش کرتے ہیں۔ ناظرین خود انصاف فرما لیں کہ یہ مذہب قرآن و اسلام سے کس حد تک تعلق رکھتا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔

قادیانی مذہب کے مخصوص عقائد ثلاثہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نہایت اختصار اور وضاحت سے اپنی کتاب آئینہ صداقت میں حسب ذیل بیان فرماتے ہیں۔ عاقل را اشارہ کافی ست:

”یہ تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی) صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اول یہ کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی آیۃ اسمہ احمد کی پیشگوئی مذکورہ قرآن مجید کے مصداق ہیں۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں

صفحہ 18

تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کیے ہیں۔

(آئینہ صداقت، ص ۳۵)

قادیانی صاحبان تبلیغ اسلام کا بڑا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کا مسلمانوں پر بڑا احسان دھرتے ہیں لیکن انصاف سے دیکھئے تو بے سروپا عقائد مسلمانوں میں پھیلا رہے ہیں۔ اسلام سے ان کو ہٹا رہے ہیں، دین و ایمان گنوا رہے ہیں۔ من مانے حاشیے چڑھا رہے ہیں۔ بچوں کا کھیل بنا رہے ہیں، تخریب دین کو تبلیغ دین بتا رہے ہیں۔ امت محمدی میں فساد بڑھا رہے ہیں۔ قادیانی مذہب کے مخصوص اعتقادات کی مزید تفصیل آئندہ صفحات میں ملاحظہ کیجئے تو بے ساختہ دل و زبان سے نکل جاتا ہے:

”نعوذ باللہ من ذلک ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا و ہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب

بیت السلام حیدر آباد دکن رجب شریف ۱۳۵۲ء

معروضہ خادم محمد الیاس برنی

صفحہ 19

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمہید دوم

کن حالات کے تحت یہ کتاب ”قادیانی مذہب“ تالیف ہوئی، اس کی مختصر کیفیت تمہید اول میں درج ہے۔ شائع ہوتے ہی پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بکا۔ دور دور تک پھیل گیا۔ خاص کر اعلیٰ اور تعلیم یافتہ طبقوں میں اس کی بہت مانگ ہوئی۔ گویا کہ مدت سے ایسی کتاب کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اچھے اچھے مبصرین نے اس تالیف کی متانت اور وضاحت کا اعتراف کیا۔ پریس ریویو میں بھی بالعموم اس خصوصیت کا اعتراف ہوا۔ مثلاً:

”جناب برنی کا یہ رسالہ (قادیانی مذہب) مولویانہ لعن طعن سے قطعاً پاک ہے۔ قادیانی اور اہل سنت مباحثات کے متعلق ایسی متین کتاب غالباً نہیں دیکھی گئی جس کو مخالف و موافق سب ٹھنڈے دل سے پڑھ کر سکون قلب کے ساتھ رائے قائم کر سکتے ہیں۔

جناب مولف نے اس رسالہ میں اپنی طرف سے بہت کم لکھا ہے۔ زیادہ تر مرزا صاحب اور ان کے مستند متبعین کی تحریریں ایک خاص ترتیب سے جمع کر دی ہیں اور ان پر جو کچھ اظہار رائے کیا ہے، مختصر ہے اور تہذیب و متانت کے ساتھ ہے۔

یہ مولف صاحب کے حسن نیت کی دلیل ہے کہ انہوں نے اس رسالے کو بلا قیمت شائع کیا اور کسی مالی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا“۔

(رسالہ بلاغ امرت سر، بابت اپریل ۱۹۳۴ء)

صفحہ 20

کتاب کی اشاعت کے ایک ماہ بعد قادیانی صاحبان کی طرف سے بھی جواب میں ایک رسالہ شائع ہوا ”الیاس برنی کا علمی محاسبہ“ رسالہ کیا ہے‘ قادیانی ذہنیت کی پوری تصویر ہے۔ الزام و اتہام کی ناکام تدبیر ہے۔ قادیانی صاحبان کا سیاسی کشف بھی عجیب و غریب ہے۔ اگر واقعی ان کے دلوں پر ایسے وسواس طاری ہیں تو حیرت ہے اور اگر یہ ان کی طرف سے دیدہ و دانستہ افتراء و بہتان ہے تو افسوس۔ ملاحظہ ہو:

”آپ کی دیانت نے کس طرح اجازت دی کہ حکومت برطانیہ کی یاری وفاداری کو محل اعتراض ٹھہرا کر ”زمیندار“ لاہور کے ظفر علی خان نقاش...... اور ”الجمعیۃ“ دہلی کے مولوی کفایت اللہ کے نقش قدم پر چلیں اور دیوبندی‘ بدایونی‘ خلافتی‘ احراری اور کانگرسی تباہ کن تحریکات میں حیدر آبادی مسلمانوں کو گھسیٹیں‘ تعجب ہے کہ حکیم السیاست سلطان دکن تو تاج برطانیہ کا یار وفادار کہلانا باعث فخر سمجھیں مگر برنی صاحب اپنے رسالہ کے صفحات ص ۶۸ و صفحہ ۱۰۳ پر اس اقتدار اعلیٰ سے وفاداری کی تعلیم کے نیچے خط کھینچ کر لوگوں میں حقارت و بغاوت کے جذبات کی آگ مشتعل کریں“۔

(پروفیسر الیاس برنی کا علمی محاسبہ‘ قادیانی رسالہ)

یہ رسالہ بنظر احتیاط حیدر آباد چھوڑ کر بنگلور سے شائع کیا گیا۔ تاہم حیدر آباد میں بہ کثرت تقسیم ہوا۔ اس کا جواب بھی ”قادیانی جماعت“ کے عنوان سے ہفتہ عشرہ کے اندر شائع ہوگیا اور بطور ضمیمہ اس کتاب کے آخر میں شریک ہے۔ کتاب کے ساتھ ان دو رسالوں نے بھی خوب کام دیا۔ خیالات و اعتقادات کے سوا معاملات بھی بخوبی بے نقاب ہو گئے۔ بڑے بڑے نیک خیال چونک پڑے۔ عام طبقوں میں بیداری پیدا ہوگئی۔ مزید برآں ملک کے معتبر اور مقتدر اخبارات و رسائل نے بھی ہلچل ڈال دی۔ چنانچہ خاصی رَو پڑی۔ ہوا پلٹ گئی۔ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں سے بڑھ کر قادیانی جماعت کی اندرونی حالت سے کون واقف ہو سکتا ہے۔ صاحب موصوف نے موجودہ حالت کا جو فوٹو کھینچا ہے‘ واقعی قابل عبرت ہے۔ ملاحظہ

صفحہ 21

ہو:

"آج کل احمدیوں کی جس قدر مخالفت ہو رہی ہے، ابتداء میں بھی شاید اتنی نہ ہوئی ہو اور یہ صحیح بھی ہے مگر جماعت بوجہ ان فتوحات کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے نصیب ہو رہی ہیں، اسے محسوس نہیں کرتی۔ اس کی حالت اس بچے کی سی ہے، جس کی ماں رات کو فوت ہو گئی۔ صبح کو جب اٹھا تو اسے پیار کرنے لگا اور ہنسنے لگا۔ پھر بھی جب وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئی تو اس نے محبت سے اس کے منہ پر چُپت ماری اور یہی سمجھتا رہا کہ یوں ہی چپ ہے۔ حتیٰ کہ جب اسے دفن کرنے کے لیے لے جانے لگے، تب اسے معلوم ہوا کہ اس کی نہایت ہی محبوب چیز ہمیشہ کے لیے اس سے چھڑا دی گئی ہے۔ اسی طرح جماعت کے وہ ناواقف دوست جو سلسلہ کے حالات سے آگاہ نہیں اور مخالفت کی شدت جن آنکھوں کے سامنے نہیں، وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ کیا پرواہ ہے۔ ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے مگر جس جماعت کو میں یا جماعت کے دوسرے لوگ دیکھتے ہیں، وہ اس سے ناواقف ہیں۔

سب بڑے اور چھوٹے اس وقت ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ احمدیت کی ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے۔ سوائے چند ابتدائی ایام کے، کہ جب وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہو رہے ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں، جو جماعت کی خدمات کو سمجھتے ہیں۔ باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ غصے سے ہمیں دیکھتے ہیں اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں پیس ہی دیں۔ پھر وہ لوگ جو پہلے سیاسی کاموں کی وجہ سے ہمارے مداح تھے، ان میں سے بھی کچھ تو کھلے طور پر اور کچھ مخفی طور پر ہماری مخالفت میں لگ گئے ہیں۔ بعض تو صاف احراریوں سے مل گئے ہیں۔ ان کی مجالس میں جاتے ہیں، ان کے لیے چندے جمع کرتے ہیں اور چند گنتی کے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب نے یہی طریق اختیار کر رکھا ہے۔

صفحہ 22

پھر خود ہمارے اندر منافقوں کا ایک جال ہے جو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی جھوٹی خبریں شائع کرتے ہیں‘ کبھی جھوٹی باتیں بنا کر دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں انہیں کے متعلق آیا ہے والمرجفون فی المدینہ کوئی اچھا کام نہیں‘ جس پر وہ اعتراض نہ کریں اور کوئی نیک آدمی نہیں‘ جس پر الزام نہ لگائیں۔ یہ اندرونی دشمن ہیں‘ جو باہر والوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ کیونکہ ان کی باتیں سننے والا سمجھتا ہے‘ یہ بھی آخر احمدی ہیں‘ مخلص ہیں اور اس وجہ سے ان کے دھوکے میں آجاتا ہے۔ ان کی ایسی حرکات سے اپنوں کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے اور دشمن دلیر ہوتے ہیں۔

ان سب چیزوں کو دیکھ کر میں تو ایسا محسوس کرتا ہوں کہ گویا ایک چھوٹی سی جماعت کو چاروں طرف سے ایک فوج گھیرے چلی آرہی ہے اور قریب ہے کہ اس کے نکلنے کے لیے ایک انچ بھی جگہ باقی نہ رہے۔ ایک زلزلہ ہے جو اگرچہ ظاہر تو نہیں ہوا مگر زمین کے نیچے خوفناک آگ شعلہ زن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ الٰہی سلسلوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سب ہمارے لیے کچھ نہیں لیکن اگر یہ فتنے جماعت کو کمزور بھی کردیں تو وہ امانت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے سپرد ہے‘ اس کے ضائع ہو جانے کا احتمال ضرور ہے اور جس طرح دودھ زمین پر گر جانے کے بعد اٹھایا نہیں جا سکتا‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کا نور ایک دفعہ ضائع ہو جانے کے بعد پھر اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس کے لیے نئی جماعتیں ہی قائم ہوا کرتی ہیں اور نئے نبی مبعوث ہوتے ہیں۔“

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیاں کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار

”الفضل“‘ جلد ۲۱‘ نمبر ۱۱۰‘ مورخہ ۱۵ مارچ ۱۹۳۴ء)

اوپر جو کچھ بیان ہوا‘ اس کا منشا یہ ہے کہ کتاب کی اشاعت کے بعد سے اب

صفحہ 23

تک اندرون سال جو حالات رونما ہوئے، ان کی مختصر کیفیت پیش نظر ہو جائے اور آئندہ تاریخ کے سلسلے میں کام آئے۔

پہلا ایڈیشن بہت روک کر تقسیم کیا پھر بھی ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گیا، بلکہ ہندوستان کے باہر تک چلا گیا۔ پھر بھی ہر طرف سے ہل من مزید کی صدائیں آتی رہیں۔ لا محالہ دوسرے ایڈیشن کا جلد اہتمام کرنا پڑا۔ یوں بھی پہلا ایڈیشن بدرجہ مجبوری عجلت میں شائع ہوا تھا۔ اسی لیے نسبتاً سرسری اور نامکمل تھا۔ چنانچہ خود قادیانی صاحبان کو بھی اس کے متعلق قلت تحقیق کی شکایت تھی۔ اب دوسرے ایڈیشن میں کتاب کچھ سے کچھ ہو گئی۔ نہ صرف یہ کہ کتابت کی غلطیاں اور طباعت کی خامیاں رفع ہو گئیں، بلکہ مضامین میں بھی بہت کافی اضافہ ہوا۔ نئے نئے عنوانات قائم ہوئے، جدید فصلیں شامل ہوئیں۔ چنانچہ پہلے صرف پانچ فصلیں تھیں، اب گیارہ ہیں اور عنوانات پچاس سے بھی کم تھے۔ اب ڈھائی سو کے قریب ہیں۔ ترتیب بھی بہت مسلسل اور مکمل ہو گئی۔ حوالہ جات بھی بخوبی واضح ہو گئے۔

اول تو اکثر و بیشتر مضامین خود جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی کتابوں سے منقول ہیں۔ دوم ان کے صاحبزادگان میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان اور میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے کی کتابوں سے منقول ہیں۔ سوم مرزا صاحب کے مریدان خاص مثلاً مولوی محمد علی صاحب، امیر جماعت لاہور وغیرہ کی کتابوں سے منقول ہیں۔ غرض کہ تمام تر اقتباسات کا ماخذ قادیانی جماعت کے بانی اور اکابر کی کتابیں ہیں۔ ان کے سوا جو اقتباسات دیگر تصانیف سے لیے گئے ہیں، وہ بھی اکثر اسی جماعت کے متعلقین سے وابستہ ہیں۔ معدودے چند اقتباسات غیر قادیانی کتابوں سے لیے ہیں، سو وہ بھی تمام تر علمی ہیں۔ مذہبی نہیں ہیں۔ تشریح و توضیح بھی صرف بحالت ضرورت بغایت اختصار شریک کی گئی۔ مقصود یہ کہ خود قادیانی صاحبان ہی کی زبان سے ان کا دین و ایمان بیان ہو۔

رہا قادیانی لٹریچر، اسے دیکھئے تو طول کلام التباس و ابہام، لفظی ہیر پھیر،

صفحہ 24

اختلافات کے ڈھیر کہیں اقرار، کہیں انکار، کہیں دعویٰ، کہیں فرار، مباحث ناہموار، پراگندہ تکرار، سخن سازی کی بھرمار، تاویلات کے انبار، اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے جو مصروف کار ہیں، اس چکر میں کیوں پڑنے لگے۔ تبلیغی لٹریچر کی رنگینی پسند آئی تو معترف و مداح بن گئے۔ کچھ عقائد سن پائے تو معترض اور مخالف بن گئے۔ مگر اصل کیفیت سے بہت کم واقف۔ چنانچہ اسی ضرورت کے مد نظر اصل کتابوں سے کافی مواد فراہم کر کے علمی پیرایہ میں یکجا ترتیب دے دی تاکہ ہر کوئی خود ہی تصفیہ کر سکے کہ اس مذہب کی کیا اصلیت ہے، کیا نوعیت ہے۔ اس کا کیا رجحان ہے، کیا امکان ہے۔ اس کی جماعت میں کیا علمیت ہے، کیا ذہنیت ہے۔ کیا خیالات ہیں، کیا جذبات ہیں؟ الحاصل دور حاضرہ کی مذہبی، قومی اور ملکی تحریکات میں اس کی کیا حیثیت ہے۔ وما علینا الا البلاغ

بیت السلام حیدر آباد دکن معروضہ ربیع الاول شریف، ۱۳۵۳ھ خادم محمد الیاس برنی

صفحہ 25

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمہید سوم

یہ کتاب ”قادیانی مذہب“ سب سے اول رجب المرجب ۱۳۵۲ء میں تالیف ہوئی اور کن حالات میں تالیف ہوئی، اس کی کیفیت تمہید اول میں موجود ہے۔ اس کا دوسرا ایڈیشن ایک سال کے اندر ہی ربیع الاول شریف ۱۳۵۳ء میں شائع ہو گیا۔ اس ایڈیشن میں مضامین کا کس قدر اضافہ ہوا، تمہید دوم میں مختصر تشریح درج ہے۔ اس کی کیا خصوصیات تسلیم کی گئیں، ذیل میں چند تبصرے ملاحظہ ہوں:

”مولانا الیاس برنی ایم۔ اے۔ ایل۔ ایل بی (علیگ) مقیم حیدرآباد دکن نے کچھ عرصہ ہوا ”قادیانی مذہب“ کے نام سے ایک مختصر رسالہ شائع کیا تھا۔ اس رسالہ کو مزید مضامین کے اضافہ کے ساتھ زیر بحث موضوع پر ایک مبسوط تالیف کی صورت میں شائع کیا ہے۔

مولانا الیاس برنی نے قادیانی مذہب کی تردید کے لیے بالکل اچھوتا، مدلل اور اثر انگیز طریق اختیار کیا ہے۔ انہوں نے قادیانی مذہب کی بہت سی کتابوں کی ورق گردانی کر کے ان میں سے ضروری اور اہم تحریریں انتخاب کر لی ہیں اور ان کو نہایت عمدہ اور لطیف سلیقے اور پیرایہ کے ساتھ اس طرح مرتب کر دیا ہے کہ مطالعہ کے بعد قادیانی تحریک کے زیروبم، مدوجزر اور حقیقت پر خود بخود پوری روشنی پڑ جاتی ہے۔ خود مولف نے اپنی طرف سے بہت کم رائے زنی کی ہے۔ بلکہ قادیانی مذہب کے چہرے کو قادیانی تصانیف و تحریرات کے آئینہ میں دکھا دیا ہے اور کوئی تعجب نہیں کہ

صفحہ 26

ایک جدید تعلیم یافتہ اہل قلم کی اس تصنیف نے قادیانی حلقوں پر سراسیمگی کی کیفیت طاری کر دی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انداز بیاں بہت ہی شریفانہ اور استدلال مخلصانہ ہے۔ قادیانی مذہب کے عہد بہ عہد ارتقاء اور اس کی حقیقت کے متعلق یہ کتاب ایک بیش قیمت ذریعہ معلومات ہے اور ارباب ذوق اس سے مستفید ہو کر قادیانیوں کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ شکست دے سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی مذہب ایک گورکھ دھندہ ہے، ایک مجموعہ تضاد اور ذخیرہ اضداد ہے اور اسی لیے من عند غیر اللہ ہے“۔

(اخبار مدینہ، بجنور، جلد ۲۳، نمبر ۸۴، مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۳۴ء)

”قادیانی مذہب“ مولفہ جناب الیاس برنی صاحب، پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن، تقطیع متوسط، ضخامت ۴۴۴ صفحہ، کتابت بہتر، کاغذ عمدہ، طباعت قابل تعریف۔

قادیانی مذہب کے مزعومات کی تردید یوں تو بے شمار علماء و فضلاء نے کی لیکن واقعہ یہ ہے کہ خالص علمی رنگ میں پوری تحقیق اور تدقیق کے بعد کامل سنجیدگی اور متانت سے برنی صاحب نے جس طرح یہ کتاب لکھی ہے، ان ہی کا حق ہے۔

اس کتاب کے مطالعہ کے بعد قادیانیوں کی تدلیس و تلبیس پوری بے نقاب ہو جاتی ہے۔ دیانت تحریر کا یہ عالم کہ کوئی بات بغیر حوالہ کے نہیں کہی۔ دل چسپی کی یہ کیفیت کہ جب تک کتاب ختم نہ کر لیجئے، کتاب چھوڑنے کو جی ہی نہ چاہے۔ کتاب کیا ہے، قادیانی مذہب کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ مرزا غلام احمد صاحب کے اباطیل کا دندان شکن جواب، قادیانیت کا مکمل مرقع۔ ایک ایسا آئینہ جس میں قادیانیوں کا ایک ایک خط و خال نمایاں۔

برنی صاحب اب تک ایک ماہر معاشیات کی حیثیت سے مشہور تھے

صفحہ 27

لیکن کتاب لکھ کر انہوں نے ثابت کر دیا کہ مذاہب کے مطالعہ اور ان کی تحقیق و تدقیق میں بھی انہوں نے پورا وقت صرف کیا ہے اور جو کچھ کہا ہے، خوب سوچ سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں کا لحاظ کر کے۔

ہم اپیل کرتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو قادیانیت سے کچھ بھی متاثر ہے، یا قادیانیوں کے راز دروں پردہ سے واقف ہونا چاہتا ہے، ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ ضرورت ہے کہ اس کتاب کی قادیانیوں میں بھی تبلیغ کی جائے"۔

(اخبار خلافت، بمبئی، جلد ۱۴، نمبر ۲۲۳، مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۴ء)

”قادیانی مذہب“ مولفہ پروفیسر مولوی محمد الیاس برنی صاحب ایم۔ اے، ایل۔ ایل۔ بی تقطیع ۱۸ × ۲۲ / ۸ ضخامت ۳۵۰ صفحہ، لکھائی چھپائی اور کاغذ نفیس۔

یہ کتاب بھی قادیانی مذہب کے اصلی چہرے پر سے نقاب اٹھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس میں مرزا غلام احمد صاحب بانی مذہب کے ان احوال و اقوال کو جن سے مرزا صاحب کی نبوت کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ خود مرزا صاحب اور ان کے متبعین کی خاص تحریروں اور تقریروں سے اقتباس کر کے ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے جن کے پڑھنے سے ہر ایک منصف مزاج اور سمجھ دار شخص اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کا مذہب کس حد تک حامل صداقت و قابل اتباع ہے۔

اس کتاب میں بھی خلاف تہذیب اور دل آزار کلمات کے استعمال نہ کرنے کا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ جو تعلیم یافتہ مسلمان قادیانی غلط فہمیوں کا شکار ہو کر قادیانیت کا دم بھرنے لگے ہیں، ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایسی ہی کتابوں کی ضرورت ہے"۔

(اخبار منادی، دہلی مورخہ ۸ اکتوبر ۱۹۳۴ء)

بہر حال دوسرا ایڈیشن پہلے سے بھی زیادہ مقبول رہا اور خوب موثر اور کارگر

صفحہ 28

ثابت ہوا۔ کچھ عرصے سے جو قادیانی مذہب کے متعلق ملک میں عام بیداری پیدا ہو رہی ہے اور قادیانی جماعت کے کارناموں سے پبلک واقف ہو رہی ہے تو اس کے آثار قادیانی صاحبان کو بہت ناخوشگوار نظر آتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی مذہب کی موجودہ حالت کا جو درد انگیز نقشہ خود خلیفہ قادیاں میاں محمود احمد صاحب نے بے تاب ہو کر کھینچا ہے‘ وہ تمہید دوم میں قابل ملاحظہ ہے۔ قادیانی جماعت کی اس وقت ملک میں جو حیثیت خود قادیانی صاحب کو نظر آتی ہے‘ وہ ذیل میں ملاحظہ ہو:

”میں حیران ہوں کہ آخر ان حکام اور ان احراریوں کا ہم نے کیا بگاڑا ہے۔ میں نے خلی بالطبع ہو کر اس امر پر غور کیا ہے کہ ہم نے ان کو کیا نقصان پہنچایا ہے لیکن کوئی بات مجھے نظر نہیں آئی۔ ہم نے ہر ایک کی خدمت کی ہے اور خدمت کرنے کے لیے اپنی عزت کی قربانی کی‘ ماریں کھائیں‘ گالیاں کھائیں‘ احراری اب بھی کہتے ہیں کہ ہم مذہبی اختلافات کو برداشت کر سکتے ہیں (حالانکہ وہ اختلافات ناقابل برداشت ہیں) مگر ان کی حکومت سے وفاداری کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے حکومت کی خاطر اس قدر تکالیف اٹھائیں مگر اس سے کیا لیا....... ہمیں نہ تو ملک کی خدمت سے کچھ ملا اور نہ حکومت کی خدمت سے۔ سوائے اس کے کہ گالیاں کھائیں‘ ماریں کھائیں۔

ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لیے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا‘ صاف لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خاں نے صاحبزادہ سید عبداللطیف کو اس لیے مروا دیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرتا ہے۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لیے قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں۔ مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلا ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسند والا سلوک روا رکھا ہے........

دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ

صفحہ 29

عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت اختیار کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے، جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے لیکن دوسری طرف حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے تم (مرزا محمود احمد) سول نافرمانی کرنے والے ہو اور جب یہ واقعات کسی عقل مند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کا رویہ صحیح نہیں۔

ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کر کے ملک میں امن قائم رکھا ہے اور ملک میں ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرا دیا ہے اور ہمارے نازک احساسات مجروح کیے گئے ہیں۔ ہمارے دل زخمی کر دیے گئے ہیں۔ ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا، کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور پرندوں کے گھونسلے، مگر ابن آدم کے لیے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں“۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں، ص ۱۲ مندرجہ اخبار

”الفضل“، ج ۲۲، نمبر ۵۴، یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

اس سلسلے میں ایک اور امر بھی عبرت آموز ہے۔ وہ یہ کہ ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ شائع ہونے کے بعد ہی قادیانی صاحبان نے بڑے شد و مد اور بڑی بلند آہنگی سے ہم پر سیاسی الزام لگانے کی کوشش کی تھی کہ کس طرح زک دیں اور نقصان پہنچائیں لیکن ”چاہ کن را چاہ درپیش“ چاہتے تھے حکومت کو ہم سے بدظن کریں اور خود حکومت کی شکایتوں کا طومار باندھ رہے ہیں۔ ربیع الاول شریف ۱۳۵۲ھ سے ہم پر قادیانی التفات شروع ہوا اور خدا کی قدرت کہ ٹھیک ڈیڑھ سال بعد ماہ شعبان ۱۳۵۳ھ میں میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں اعلان فرماتے ہیں کہ اس ڈیڑھ سال سے ان پر کیا گزری ہے ۔

صفحہ 30
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے

اگر کہیں یہ صورت قادیانی صاحبان کے موافق ہوتی تو جناب مرزا قادیانی صاحب کی نبوت کی بڑی دلیل قرار پاتی لیکن "کردن خویش‘ آمدن پیش" کا اچھا سبق ملا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"میں نے یہ تفصیل اس لیے بتائی ہے کہ شاید بعض لوگوں کے دل میں خیال گزرتا ہو کہ حکومت سے ایک غلطی ہوئی ہے اسے جانے دینا چاہیے مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیڑھ سال سے ایسے واقعات متواتر ہو رہے ہیں اور میں نے اوپر صرف چند مثالیں بیان کی ہیں ورنہ اور بہت سے واقعات اوپر کے نتائج کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ ایک لمبا سلسلہ ہے جو جماعت پر مصائب اور مشکلات کے رنگ میں گزر رہا ہے"۔

(اخبار "الفضل" قادیاں‘ ج ۲۲‘ نمبر ۵۸‘ ص ۱۸‘ مورخہ ۱۱ نومبر ۱۹۳۴ء)

یہ تو خارجی احوال و آثار ہیں۔ اندرونی طور پر بھی جماعت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور نہ رہ سکتی تھی۔ اگرچہ پردہ داری کی پوری کوشش کی جاتی ہے پھر بھی اصل کیفیت گاہے گاہے بے ساختہ زبان سے نکل ہی جاتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"گزشتہ سال چندوں میں اسی ہزار کی کمی تھی اور اس سال بھی بار بجائے کم ہونے کے بڑھ رہا ہے۔ پس جب کہ جماعت کے بعض افراد ماہواری چندہ بھی نہیں ادا کرتے اور اس معمولی قربانی کے کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تو میں کس طرح سمجھ لوں کہ وہ بڑی قربانی پر آمادہ ہیں"۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیاں‘ مندرجہ اخبار "الفضل"‘ ج

۲۲‘ نمبر ۶۱‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۸ نومبر ۱۹۳۴ء)

غرض کہ جماعت قادیاں جو قادیانیوں کی مستند اور بڑی جماعت ہے‘ مسلمانوں کی عام بیداری سے پریشان نظر آتی ہے۔ رہی دوسری جماعت لاہور‘ اگرچہ قادیانیوں میں اس کا اعتبار کم ہے‘ پھر بھی یہ انہیں کی ایک چھوٹی جماعت ہے۔ اس نے قادیانی تعلیم میں مصلحت آمیز ترمیم کر کے مسلمانوں کو ملتفت کرنے کی راہ نکالی اور اس

صفحہ 31

میں کچھ کامیابی بھی ہوئی لیکن اصل حالات منکشف ہونے پر مسلمان چونک پڑے اور لامحالہ اس جماعت کے بھی قدم اکھڑ گئے۔ چنانچہ جماعت قادیان کا مشہور اخبار ”الفضل“ اس معاملہ میں رقم طراز ہے :

”مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین (یعنی امیر قادیانی جماعت لاہور) جب اپنے کارنامے گنانے شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ زور کے ساتھ ووکنگ مشن کا ذکر کرتے ہیں..... مگر اب ووکنگ مشن والوں نے کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے کہ ان کا اور ان کے مشن کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے بقول زمیندار (مورخہ ۹ مارچ ۱۹۳۵ء) اپنے رسالہ اسلامک ریویو کی مارچ کی اشاعت میں صفحہ اول پر ”کچھ اپنے متعلق“ کے عنوان سے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے:

”ارکان ووکنگ مسلم مشن اور لٹریری ٹرسٹ ووکنگ (انگلینڈ) نہ قادیانیوں سے تعلق رکھتے ہیں نہ احمدی تحریک سے متعلق ہیں۔ ہم آقائے نامدار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی اور خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں اور جو کوئی شخص حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ ہمارے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ہم فرقہ حنفیہ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں....... ہم غیر مبائعین (یعنی قادیانی جماعت لاہور) سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب ووکنگ مشن والے کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں کہ احمدیت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ فرقہ حنفیہ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں تو پھر ان کو احمدی قرار دینا صریح دھوکا دہی اور فریب کاری نہیں ہے تو اور کیا ہے“۔

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“، جلد ۲۲، نمبر ۱۲، ص ۱، مورخہ

صفحہ 32

(۱۳ مارچ ۱۹۳۵ء)

اسی سلسلے میں اخبار ”الفضل“ نے لاہوری جماعت کو طعن دیا ہے کہ:

”خواجہ کمال الدین صاحب کے فرزند اور ان کے رفقاء کار نے احمدیت سے ارتداد کا اعلان کر دیا ہے۔ باغیان خلافت (یعنی لاہوری جماعت) کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیاں‘ مورخہ ۱۵ مارچ ۱۹۳۵ء)

حاصل کلام یہ کہ جماعت قادیاں ہو یا جماعت لاہور۔ فی الجملہ قادیانی صاحبان متزلزل اور متفکر ہیں ۔

رنگ بدلا نظر آتا ہے خدا خیر کرے

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ دو سال کے اندر ہی اندر کتاب ”قادیانی مذہب“ کا تیسرا ایڈیشن ماہ محرم ۱۳۵۴ھ میں تیار ہوگیا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ایک مختصر سا رسالہ تھا۔ پانچ فصلوں کے تقریباً پچاس عنوانات درج تھے۔ چھوٹی تقطیع‘ حجم تقریباً سو صفحے۔

دوسرا ایڈیشن البتہ ایک مستقل کتاب بن گیا ہے۔ گیارہ فصلیں جن کے تحت تقریباً ڈھائی سو عنوانات‘ متوسط تقطیع‘ حجم تقریباً ۳۵۰ صفحے۔ موجودہ تیسرے ایڈیشن میں جس قدر اضافہ ہوا‘ وہ آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ تیرہ فصلوں کے تحت تقریباً چار سو عنوانات درج ہیں۔ بالفاظ دیگر ڈیڑھ سو جدید عنوانات شریک ہوئے اور ان سب کے ساتھ بطور امتیاز علامت (ج) درج ہے۔ اس کے سوا تقریباً چالیس سابقہ عنوانات کے تحت مزید اقتباسات درج ہوئے۔ ان کے سامنے بھی بطور امتیاز علامت (م) مرقوم ہے۔ خلاصہ یہ کہ تخمیناً ستر فی صدی مضامین تیسرے ایڈیشن میں اضافہ ہوئے۔

جن کتابوں سے اقتباسات لیے گئے‘ ان کی مکمل فہرست آخر میں بطور ضمیمہ شامل ہے۔ اس سے واضح ہوگا کہ یہ تالیف تمام تر قادیانی اکابر اور بالخصوص خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی کتابوں پر مبنی ہے۔ مختصر یہ کہ منجملہ ایک سو بیس کتب و رسائل

صفحہ 33

رسائل و اخبارات کے جن سے اقتباسات لیے گئے ہیں، ایک سو پانچ خود قادیانی صاحبان کی تصنیف و تالیف و تحریر ہیں اور ان میں بھی نصف یعنی پچاس سے زیادہ خود مرزا قادیانی صاحب کی کتابیں شامل ہیں۔ اس طرح صرف پندرہ کتابیں اور رسالے مسلمانوں کے شریک ہیں اور ان میں بھی پانچ فن طب سے متعلق ہیں۔ الحاصل یہ کتاب ”قادیانی مذہب“ کو خود بانی مذہب اور اکابر مذہب کی زبان سے بیان کرتی ہے اور یہی طریق اسلم ہے۔ اس کے سوا تین رسالے ”قادیانی جماعت“، ”قادیانی حساب“ اور ”قادیانی کتاب“ جو بطور جواب کے لکھے گئے، اس ایڈیشن کے آخر میں بطور ضمیمہ شامل ہیں۔ وما علینا الا البلاغ

بیت السلام، حیدر آباد دکن ماہ محرم الحرام ۱۳۵۴ھ

معروضہ خادم محمد الیاس برنی

صفحہ 34

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمہید چہارم

یہ کتاب ”قادیانی مذہب“ کچھ ایسی مقبول ہوئی کہ تیسرے سال کے اندر ہی اس کا چوتھا ایڈیشن نکل گیا اور تحقیق کا سلسلہ کچھ اس طرح پھیلا کہ ہر جدید ایڈیشن سابقہ ایڈیشن سے کیفیت اور کمیت میں بہت بڑھ گیا۔ اس چوتھے ایڈیشن کی خصوصیات بیان کرنے سے قبل ضرور ہے کہ تیسرے ایڈیشن کا حساب پڑتال لیں۔ اول یہ کہ ملک میں اس کے متعلق کیا رائے قائم ہوئی۔ دوم یہ کہ اس دوران میں کیا کیا آثار نمودار ہوئے۔ سابقہ ایڈیشنوں کی تمہیدات میں بھی یہ تنقیحات شریک رہی ہیں۔ اس طرح اس کتاب کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ قادیانی تحریک کے پلٹے بھی پیش نظر ہو جائیں گے اور آئندہ تاریخ میں کام آئیں گے۔

بریلی، دیوبند، لکھنؤ، دہلی، لاہور اور دیگر مقامات کے سربرآوردہ علماء نے بہ یک زبان اس کتاب کی از حد تعریف کی اور اس کو بہترین محاسبہ تسلیم کیا۔ ان سے بڑھ کر جدید تعلیم یافتہ طبقوں نے اس کی قدر کی اور مذہبی مباحث کے پیش نظر اس کو نفسیاتی تحقیق کا ایک علمی کارنامہ شمار کیا اور اس سے جو اخلاقی، تمدنی اور سیاسی پہلو نمایاں ہوئے، ان کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عدم توجہی میں کیا کیا ہوتا رہا اور نگہداشت کی کس درجہ ضرورت ہے۔ چنانچہ آج علماء سے بڑھ کر قومی لیڈر اس کتاب کی اہمیت محسوس کرتے ہیں۔ منجملہ اکابر ملت سر محمد اقبال نے تو دوسرے ہی ایڈیشن پر یہ رائے دی تھی کہ یہ کتاب ملک میں وسیع پیمانے پر شائع ہونے کے قابل ہے۔ اخبارات و رسائل نے تیسرے ایڈیشن پر جو تبصرے لکھے ہیں، ان میں سے چند

صفحہ 35

بطور نمونہ ذیل میں درج کرتے ہیں:

”مولانا الیاس برنی صاحب ایم۔ اے ناظم دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن نے قادیانی عقائد کی اصل صورت اس فرقہ کی مستند کتابوں سے مضامین اخذ کر کے دکھا دی ہے جس سے ہر شخص قادیانی دجل سے واقف ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے علمی طبقہ میں اور جدید تعلیم یافتہ گروہ میں اس کتاب کی دھوم مچ گئی ہے۔ اگرچہ یہ کتاب مناظرہ کی نہیں ہے، لیکن مناظرے کے مقصد پر اس سے بہتر کتاب کسی نے نہ دیکھی ہوگی“۔

(اخبار منادی‘ دہلی‘ مورخہ ۲۳ اگست ۱۹۳۵ء)

”مولوی الیاس برنی معاشیات کے ایک مستند عالم ہیں، جن کی کتابیں اردو زبان میں اس فن پر شاید سب سے زیادہ ہیں۔ لیکن وہ ایک معاشی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متکلم اور مناظر بھی ہیں اور تعجب یہ ہے کہ وہ جتنے بلند پایہ معاشی ہیں، اتنے ہی دقیق النظر متکلم اور کامیاب مناظر بھی ہیں۔ ان کی یہ کتاب رجب ۱۳۵۲ھ میں تالیف ہوئی۔ ایک سال کے اندر ہی ربیع الاول ۱۳۵۳ھ میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا اور محرم ۱۳۵۴ھ میں تیسرا ایڈیشن تیار ہو گیا۔ پہلے یہ کتاب سو صفحے کا ایک چھوٹا سا رسالہ تھا۔ دوسرے ایڈیشن میں ۳۵۰ صفحے ہوئے اور اب تقریباً ۶۰۰ صفحات ہیں۔

پروفیسر الیاس برنی جیسے سنجیدہ اور متین مصنف کی تصنیف میں لہجے کی متانت و سنجیدگی‘ رائے کا استحکام‘ نقل کی احتیاط اور ذاتیات سے علیحدگی کی جس قدر امید کی جا سکتی تھی‘ وہ اس کتاب میں پورے طور پر نمایاں ہے اور قادیانی مذہب کے متعلق ہر قسم کی معلومات بلا حاشیہ آرائی جس قدر مستند مواد سے اس کتاب میں جمع ہیں‘ وہ اور کتابوں میں دستیاب نہیں ہو سکتیں۔ اس کتاب کی اشاعت سے قادیانی فرقے میں اگر ہر مرتبہ ہلچل مچ گئی تو کوئی عجب نہیں اور یہی اس کی افادیت اور کامیابی کی سب سے

صفحہ 36

روشن دلیل ہے۔"

(رسالہ فاران، بجنور بابت ماہ جولائی ۱۹۴۵ء)

”جناب الیاس برنی صاحب پروفیسر جامعہ عثمانیہ کے نام نامی اور اسم گرامی سے کون واقف نہ ہوگا۔ آپ نے دنیائے تالیف و تصنیف میں وہ کارہائے نمایاں کیے ہیں، جن کا زمانہ مداح ہے۔ آپ نے مذہبیات میں بھی بڑی تفحص اور تجسس کی ہے اور ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ نامی کتاب تالیف کی ہے جس کا تیسرا ایڈیشن ہمارے پیش نظر ہے۔ قادیانی مذہب کے خلاف سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی لیکن اس بحر بے کراں میں غوطہ لگا کر جو در مکنون پروفیسر صاحب نے نکالا ہے، وہ کم غواصوں کو نصیب ہوگا۔ شروع سے آخر تک کتاب مذکور پڑھ جائیے۔ آپ ایک لفظ بھی ایسا نہ پائیں گے جو پروفیسر صاحب نے اپنی طرف سے ایزاد کیا ہو۔ مرزا صاحب آنجہانی کے خاندان اور پیدائش سے لے کر دم واپسیں تک کے واقعات بڑی کاوش اور محنت سے لکھے ہیں۔ مضمون مسلسل ہے۔ کہیں ایک لفظ بلکہ حرف کا بھی سکتہ نہ ہوگا لیکن حیرت اور کمال تعجب کا مقام ہے کہ یہ تمام الفاظ خود مرزا صاحب اور اس کے حواریوں کی کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ترتیب میں جو کمال پروفیسر صاحب نے کیا ہے، اس کی نظیر اگر ناممکن نہیں تو فی زمانہ محال ضرور ہے۔

کتاب کیا ہے، قادیانی مذہب کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جو چیز آپ کو ہزاروں کتب اور رسائل پڑھنے سے مہیا نہ ہو سکے گی، وہ آپ ”قادیانی مذہب کے علمی محاسبہ“ میں پائیں گے۔ ہم نے بھی قادیانی لٹریچر کا مطالعہ بہت کیا ہے لیکن جو حوالہ جات پروفیسر صاحب نے ترتیب دیے ہیں، ان میں سے بہت سے ایسے تھے جو ہماری نظر سے نہ گزرے تھے۔ انداز بیان نہایت ہی عالمانہ اور شریفانہ ہے۔ طرز تحریر دل پسند اور جاذب توجہ ہے۔ استدلال معقول اور دیانت سے مملو۔ کوئی بات بغیر حوالہ نہیں لکھی۔ جو

صفحہ 37

مضمون بیان کرنا چاہتے تھے، اس کے فقرات و الفاظ مرزا صاحب آن جہانی کی کتب سے اخذ کیے ہیں تاکہ عطائے شما بہ لقائے شما کا مصداق ہو سکے۔ قادیانی مذہب کی تاریخ کا لب لباب ہے جس کی نشوونما اور ارتقاء کو بتدریج بیان کیا ہے۔ مرزا صاحب آنجہانی کے خیالات و اعتقادات میں جو تبدیلیاں ماحول زمانہ کی روش کے ساتھ ساتھ ہوئیں، ان کا بیان نہایت خوش اسلوبی سے کیا گیا ہے اور قادیانی مذہب کے چہرے سے نقاب اتار کر دنیا کو اس کی اصلیت سے آگاہ کر دیا ہے۔

اس مرقع میں کوئی لفظ بھی ایسا نہیں، جسے دل آزار یا خلاف تہذیب کہا جاسکے۔ دوست و دشمن، سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ بہرحال پروفیسر صاحب اس علمی کارنامے کے لیے لاکھوں مبارک باد کے مستحق ہیں"۔

(رسالہ صوفی، پنڈی بہاؤالدین، بابت جولائی ۱۹۳۵ء)

"قادیانیت کی تردید میں اب تک علمائے اسلام نے دفتر کے دفتر تیار کر دیے ہیں لیکن عموماً وہ تحریریں مولویوں کے قلم سے نکلی ہوئی ہیں جو انگریزی تعلیم یافتہ طبقے کی ذہنیت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں اور اس لیے اپنے مقصد میں بھی زیادہ موثر نہیں ثابت ہوئی ہیں۔ حال میں سر اقبال اور سر مرزا ظفر علی وغیرہم کی تحریروں کے باعث بحث کا رخ بدلا ہے اور اب ہمارا جدید طبقہ بھی ادھر متوجہ ہو چکا ہے۔ پروفیسر الیاس برنی صاحب اس سلسلہ میں السابقون الاولون میں شامل ہونے کا شرف رکھتے ہیں اور وہ ترتیب نمائی میں سر اقبال وغیرہم سے بھی اس باب میں متقدم ہیں۔ ان کی کتاب "قادیانی مذہب" کا یہ جدید ایڈیشن بلحاظ اضافہ مضامین ایک جدید اور مستقل کتاب کے حکم میں ہے اور اس میں قادیانی مذہب کے اسرار کو ایک جدید طرز پر طشت از بام کیا گیا ہے، جو دلچسپ بھی ہے اور دلنشیں بھی۔

اس ضخیم کتاب میں مولف نے کمال یہ کیا ہے کہ خود بہت ہی کم لکھا

صفحہ 38

ہے بلکہ خود مرزا صاحب (بانی فرقہ) کی تحریروں سے ان کے اقتباسات لے لے کر انہیں ایک خاص ترتیب اور سلیقہ مندی سے پرو دیا ہے جس سے مرزا صاحب کے دعوے اور تعلیمات اور خود ان کی زندگی کے سارے خط و خال نظر آ جاتے ہیں۔ رومی اور چینی نقاشوں کے معرکہ کا مشہور قصہ یہ چلا آ رہا ہے کہ چینی نقاشوں نے بڑی محنت سے دیوار پر نقش و نگار بنائے۔ رومی ہنرمندوں نے اور کچھ نہ کیا۔ صرف یہ کیا کہ مقابل کی دیوار کو صیقل کر کے آئینہ بنا دیا اور جوں ہی پردہ اٹھا‘ ساری چینی نقاشیاں ہو بہو رومی دیوار پر منعکس ہو گئیں۔ برنی صاحب کا فن نقاشی بھی کچھ اسی قسم کا واقع ہوا ہے۔ انہوں نے مرزا کا چہرہ خود مرزا کے آئینہ میں جلا کر کے دکھا دیا ہے اور خود الگ کھڑے ہو گئے ہیں۔

دلچسپی سے کتاب کا کوئی صفحہ خالی نہیں۔ عبارت کسی خشک علمی یا مذہبی کتاب کی نہیں‘ ناول یا افسانہ کی معلوم ہوتی ہے۔ جا بہ جا قلم کی شوخیاں اور مہذب ظرافتیں اس پر مستزاد ہیں“۔

(اخبار صدق لکھنؤ‘ مورخہ ۲۱ جون ۱۹۳۵ء)

”الغرض پچاس سال کا ایک عظیم مغالطہ جس میں ہندوستان کے غریب تعلیم یافتہ مسلمان اور شاید حکومت انگریزی بھی مبتلا ہو گئی تھی‘ اب اس کا پردہ چاک ہو رہا ہے اور جس کا اس تحریک میں جہاں مقام تھا‘ وہ پہچانا جا رہا ہے۔

صرف یہ ہی نہیں کہ قادیانی جماعت اور حکومت کے تعلقات اسی نوبت تک پہنچ چکے ہیں بلکہ یکایک قدرت کی طرف سے یہ عجیب معاملہ ہو رہا ہے کہ قادیانی بحث و مباحثہ‘ جسے اب تک خالص دیوبند اور فرنگی محل‘ بریلی اور سہارنپور کی جبہ و دستار والے مولویوں کا ایک مذہبی مشغلہ سمجھا جا رہا تھا۔ جدید تعلیم یافتہ گروہ کی نگاہیں اس کی طرف اٹھ گئیں۔ ایک طرف جماعت احرار جس میں تعلیم یافتوں کی ایک معقول تعداد شریک

صفحہ 39

ہے ۔ وہ اس تحریک کے استیصال کے لیے آستین چڑھا چکی ہے تو دوسری طرف مولوی ظفر علی خان کا شبدیز خاصہ ان کے تعاقب میں سرپٹ چھٹا ہوا ہے اور حال میں علامہ سر اقبال ادام اللہ فضلہ و طول اللہ عمرہ کے اس بصیرت خیز ولولہ انگیز مقالے نے ہمالیہ سے راس کماری تک ہلچل ڈال دی ہے جس میں انہوں نے مسئلہ ختم نبوت کے فلسفیانہ پہلو کو قدرتی قانون پر منطبق کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری کا عظیم شرف حاصل کیا ہے۔ متع اللہ المسلمین بطول بقائہ

لیکن جدید طبقے کی تمام کاوشوں میں سب سے زیادہ منظم‘ باضابطہ و سنجیدہ شاہکار واقع میں وہ عظیم و خطیر کارنامہ ہے، جس کے لیے قدرت کے ہاتھوں نے مسلم یونیورسٹی کے ایک ہونہار سپوت عثمانیہ یونیورسٹی کے جلیل القدر استاد پروفیسر الیاس برنی ایم۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی ناظم دارالترجمہ عثمانیہ یونیورسٹی کو منتخب کیا۔

فاضل موصوف اب تک ملک میں اپنی معاشی اور ادبی خدمت کی بنیاد پر شہرت رکھتے تھے لیکن دو سال ہوئے کہ حیدرآباد میں ایک شر پیدا ہوا‘ جس سے خیر کا عظیم سمندر ابل پڑا۔

پروفیسر مذکور نے ایک تقریر کی تھی جس کا قادیانیوں سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ زیادہ سے زیادہ انہوں نے اسلام کے نظریہ ختم نبوت کی عالمانہ مقال میں تشریح کی تھی لیکن قادیانیوں نے برنی صاحب کو بھی بے کس‘ بے زبان مولویوں پر قیاس کر کے ”ریش بابا“ کے ساتھ بھی بازی گری کا ارادہ کیا۔ حسب عادت ایک رسالہ شائع ہوا جس میں برنی صاحب سے مطالبہ کیا گیا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ اپنی تقریر میں کیوں کیا؟..... ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اس مطالبہ پر جس حد تک برہم ہو سکتا ہے‘ برنی صاحب بھی ہوئے لیکن بجائے کسی لفظ زق زق کے خاموشی کے ساتھ انہوں نے قادیانی لٹریچر کی فراہمی کا کام

صفحہ 40

شروع کر دیا اور بڑی تدبیروں سے انہوں نے جب اس جماعت کے پیشوا اور اس کے معتبر اہل قلم مرزا صاحب کے مقربین و خلفاء کے وثائق جمع کر لیے تو بجائے مناظرانہ و مجادلانہ طریق کے خالص علمی رنگ میں انہوں نے ایک تحقیقی مقالہ ”قادیانی مذہب“ کتاب کی صورت میں شائع کیا۔ برنی صاحب کی قلم سے یہ کتاب کچھ ایسے انداز میں نکل پڑی کہ ہاتھوں ہاتھ ملک میں پھیل گئی اور ڈیڑھ سال کے عرصہ میں جدید اضافوں کے ساتھ اس کے دو ایڈیشن پیاپے نکالنے پڑے۔ بڑھتی ہوئی مانگ دیکھ کر پچھلے چند مہینوں میں پروفیسر صاحب مذکور نے اور بھی ہمت سے کام لیا۔ وقت اور روپیہ کی ایک بڑی مقدار اس کتاب کی ترتیب میں صرف کی۔ حال میں ۶۰۶ صفحات پر اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن بڑی آب و تاب کے ساتھ پریس سے نکلا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اب تک قادیانی تحریک کے متعلق جتنی کتابیں، رسالے، مضامین شائع ہوئے ہیں، ان سب سے اس کتاب کا رنگ بالکل نرالا ہے۔ بالخصوص چند خوبیاں خاص طور پر اس کے ساتھ مخصوص ہیں۔

ہے کہ مرزا صاحب یا مرزا صاحب کی تحریک کے متعلق جو کچھ بھی لکھا جائے، جہاں تک ممکن ہو، خود مرزا صاحب یا ان کے معتبر اصحاب و خلفاء کی کتابوں سے خود ان ہی کے الفاظ میں ہو۔ برنی صاحب نے بڑے اہتمام اور حزم کے ساتھ اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ خود ارقام فرماتے ہیں:

”کل ایک سو بیس کتابوں سے مواد لیا گیا جن میں سے ایک سو پانچ قادیانی ہیں اور صرف پندرہ غیر قادیانی۔ ان پندرہ میں سے بھی صرف چار قادیانی مذہب کی تردید میں ہیں۔ باقی پانچ فن طب سے متعلق ہیں۔ چند اخبارات و رسائل ہیں جن سے

صفحہ 41

بعض واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ رہیں ان میں ایک سو پانچ کتب قادیانی‘ ان میں سے نصف خاص مرزا صاحب کی تصانیف ہیں۔ باقی نصف دیگر قادیانی صاحبان کی"۔

(قادیانی مذہب‘ ص ۵۹۹)

اور سرخیوں کے قائم کرنے میں کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوت اجتہاد‘ وقت رسی‘ ژرف نگاہی کی جو داد ان عنوان بندیوں میں انہوں نے دی ہے‘ یہ ان کا مخصوص حصہ ہے۔

نفسیاتی تحلیل‘ تاریخی تسلسل اور تدریجی ارتقاء کی ایک سلیس اور دلچسپ کتاب جو چاہو قرار دو‘ ناظرین کی بشاشت طبع کو باقی رکھنے کے لیے سرخیوں میں ایسی جان بھری گئی ہے کہ پڑھنے والا ایک دفعہ شروع کرنے کے بعد اس وقت تک کسی دوسرے مشغلے میں اپنے کو لگا نہیں سکتا‘ جب تک اس کو ختم نہ کر لے۔

پروفیسر برنی سلمہ اللہ تعالیٰ نے بڑا کام سرانجام دیا ہے۔ فجزی اللہ عنی و عن الاسلام و عن رسول الاسلام صلی اللہ علیہ وسلم و عن القرآن خیر الجزاء سچ تو یہ ہے کہ اگر علماء کی جماعت شرح صدر اور وسعت قلب سے کام لے تو برنی صاحب کے اس کام کو ایک تجدیدی کام قرار دے سکتی ہے۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم

(انگریزی نبوت کی انگریزی تنقید‘ مندرجہ اخبار ”صدق“ لکھنؤ مورخہ یکم

اگست ۱۹۳۵ء)

گوناگوں اسباب کی بدولت اس دوران میں جو آثار نمودار ہوئے‘ وہ بھی قابل توجہ ہیں۔ ان کا ایک سادہ خاکہ خود قادیانی صاحبان کے بیان سے ذیل میں پیش

صفحہ 42

کرتے ہیں۔

خود مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں اور ان کے بعد قادیانی صاحبان نے اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ سرکار انگریزی اور قادیانی تحریک میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے ممد و معاون ہیں۔ چنانچہ سیاسیات کی فصل ان مضامین سے لبریز ہے۔ لیکن نہ معلوم کیا صورتیں پیش آئیں کہ قادیانی صاحبان نے بے اعتنائی سے لے کر مظالم تک سرکار انگریزی کے خلاف شکایات شائع کرنی شروع کر دیں۔ اس کا بھی کافی مواد سیاسیات کی فصل میں شریک ہے۔ قادیانی جذبات کے چند نمونے ذیل میں ملاحظہ ہوں:

"پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ گورنمنٹ احمدیوں کے ساتھ ہے۔ اس خیال کی وجہ سے کئی لوگ ہم پر ظلم کرنے سے رکے ہوئے تھے اور یہ صورت حالات اتنی واضح تھی کہ حکومت پنجاب کے ایک نہایت ہی اعلیٰ درجے کے افسر نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے جب کہ وہ ابھی حکومت ہند میں نہیں گئے تھے' کہا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ حکومت آپ کی حمایت یا کسی قسم کی رعایت کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ کو اس سے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے"۔

(میاں محمود صاحب' خلیفہ قادیاں کا خطبہ جمعہ' مندرجہ اخبار "الفضل"

قادیاں نمبر ۴۱' جلد ۲۳' ص ۷' مورخہ ۶ اگست ۱۹۳۵ء)

"دوسری بات جو پہلے نہ تھی' وہ حکام وقت کا موجودہ رویہ ہے۔ پہلے ہمارے دشمنوں کو کبھی کبھی سرکاری افسران کی طرف سے چشم نمائی بھی ہو جاتی تھی اور اس طرح وہ اپنی شرارتوں میں نہ حد سے گزرتے اور نہ شرارتوں کا سلسلہ کسی نظام میں زیادہ عرصے تک قائم رہ سکتا تھا لیکن اب مخالفت کی تنظیم سے گورنمنٹ بھی دب گئی ہے"۔

(ضمیمہ اخبار "الفضل" قادیان' جلد ۲۳' نمبر ۶۹' مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۳۵ء)

"گورنمنٹ نے ایک خفیہ سرکلر جاری کیا کہ جو قریباً تمام ضلعوں کے

صفحہ 43

ڈپٹی کمشنروں کے نام بھیجا گیا کہ جماعت احمدیہ کی حالت گورنمنٹ کی نگاہ میں مشتبہ ہے۔ اس لیے اس کے افراد کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ سرکلر تمام ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں کو یا اکثر اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بھیجا گیا۔ کیونکہ متفرق جگہوں سے اس سرکلر کی تصدیق ہوئی ہے۔ میں نام نہیں لے سکتا لیکن ایک جگہ سے تو اس سرکلر کے الفاظ تک ہمیں معلوم ہوگئے تھے۔ اب اگر گورنمنٹ کے بعض افسروں کے خیال میں بھی تبدیلی ہوگئی ہے تو چونکہ حکومت کی طرف سے ایک سرکلر جاری ہوچکا ہے، اس لیے بالعموم افسر اس سرکلر کا خیال رکھیں گے اور ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں ہماری جماعت کے افراد کے حقوق کو پامال کیا جائے گا۔ چنانچہ بعض جگہ ایسا ہوا بھی کہ بعض احمدی جو اچھے قابل تھے، ان کے حقوق کو افسران بالا کی طرف سے نظر انداز کر دیا گیا۔ جو پہلے حالات کے لحاظ سے ناممکن تھا"۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیاں، مندرجہ اخبار "الفضل"

قادیاں، جلد ۲۳، نمبر ۱۱۵، ص ۵، مورخہ ۱۴ نومبر ۱۹۳۵ء)

"اسی طرح مجھے شملہ سے ایک خط آیا ہے کہ ہماری جماعت کے ایک معزز رکن، ایک ذمہ دار انگریز افسر سے ملنے گئے۔ اس افسر نے کہا آیئے، کیسے آئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے دوست ہیں، اس لیے ملنے آگیا۔ اس افسر نے کہا یہ صحیح ہے میں آپ کا دوست تھا مگر معلوم نہیں کہ آئندہ بھی ایسا رہ سکوں گا یا نہیں....... اسی طرح انگلستان سے خطوط آئے ہیں۔ ان میں ایسی رپورٹوں کا ذکر ہے، جن میں بلاوجہ ہم پر الزام تراشے گئے ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیاں کا خطبہ، مندرجہ اخبار "الفضل"

قادیاں، جلد ۲۳، نمبر ۶۹، ص ۵، مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۳۵ء)

"اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ بات کھول دی کہ کسی انسان پر

صفحہ 44

اعتماد نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ جن کی جانیں بچانے کے لیے ہم اپنی جانیں پچاس سال تک قربان کرتے رہے، جن کی عزتیں بچانے کے لیے ہم پچاس سال تک اپنی عزتیں قربان کرتے رہے، ان پر بھی ہمارا اعتماد کرنا سخت غلطی ہے۔۔۔۔۔ ہمیں یہ جو اطمینان تھا کہ پرامن حکومت ہے اور شریف لوگوں کی حکومت ہے، گو ہمارا یہ خیال صحیح تھا اور میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ صحیح ہے مگر پھر بھی ہمارا یہ اطمینان صحیح نہ تھا“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“،

قادیاں جلد ۲۲، نمبر ۱۸۸، ص ۴۔۵، مورخہ ۱۲ جون ۱۹۳۵ء)

وہ جن کو ادعا تھا اپنے عدل اور انصاف کا
ہوا ہے راز فاش ان کی لاف اور گزاف کا
وہ جن کے لیے تم نے اپنے خون بھی بہا دیے
اور جن کی تقویت کے لیے مال و زر لٹا دیے
وہ آج اپنے دشمنوں کا آپ رازدار ہے
خلاف فعل اس کا ہر اک قول اور قرار ہے

(ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی۔ اے گجراتی قادیانی کی نظم، مندرجہ اخبار

”الفضل“ قادیاں، جلد ۲۳، نمبر ۶، ص ۲، مورخہ ۷ جولائی ۱۹۳۵ء)

”روم کی حکومت نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا دیا۔ مگر وہ مسیحیت کو نہ مٹا سکی۔ اسی طرح انگریز مجھے سولی پر لٹکا سکتے ہیں۔ تم میں سے ہر ایک کو لٹکا سکتے ہیں۔ ہم کو قید کر سکتے ہیں مگر انگریزوں اور دنیا کی دوسری سب حکومتوں سے بھی یہ ممکن نہیں کہ احمدیت کو مٹا سکیں“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“،

قادیان جلد ۲۲، نمبر ۱۸۸، ص ۶، ۱۲ جون ۱۹۳۵ء)

قادیانی تحریک کے منصوبے اور مقاصد واضح ہوئے تو ملک میں بالعموم اور مسلمانوں میں بالخصوص بے چینی پیدا ہوئی کہ اس کو نظرانداز کرنا خالی از خطر نہیں

صفحہ 45

ہے اور انسداد کی ضرورت ہے۔ چنانچہ خود میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں نے اس بیداری کا اچھا نقشہ کھینچا ہے۔ ملاحظہ ہو:

”اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے ماتحت اور جماعت احمدیہ کے مخلصین کے اخلاص کو اور بھی زیادہ ظاہر کرنے کے ارادے سے نئے نئے لوگوں کو ہمارے مخالفوں کی صف میں لا کھڑا کر رہا ہے۔ پہلے احراری اٹھے اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ایک منظم صورت میں جماعت احمدیہ کو کچلنا چاہتے ہیں۔ پھر امراء ان کی جماعت میں شامل ہوگئے اور ذاتی رسوخ اور ذاتی فوائد کے حصول کے لیے اور بعض افراد سے ذاتی بغض و عناد نکالنے کے لیے انہوں نے احرار کی مدد کرنی شروع کر دی۔ پھر پیروں، گدی نشینوں اور اخبار نویسوں کی ایک جماعت ان کے اندر شامل ہوگئی۔ انہوں نے اس جنگ کو اخباروں اور تقریروں کے ذریعہ سے ملک کے ایسے گوشوں اور کونوں میں پہنچانا شروع کر دیا‘ جہاں تک اس کا پہنچنا پہلے محال نظر آتا تھا۔ اس جوش و خروش کو دیکھ کر وہ منافقین کی جماعت جو ہمیشہ سے انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ اسی طرح لگی رہی ہے‘ جیسے کھیتوں میں چوہے‘ اس نے بھی اپنا سر نکالا اور خیال کیا کہ اوہو! آج خوب موقع ہے۔ آؤ ہم بھی انہیں بتائیں کہ ہم کچھ بہادری کر سکتے ہیں۔ پس وہ منافق بھی چوہوں کی طرح ادھر ادھر بل کھودنے لگ گئے اور سر نکال کر اپنے وجود کا ثبوت دینے لگے۔

جمعیۃ العلماء اس وقت تک خاموش تھی۔ کیونکہ اس کے لیڈروں کو احراریوں کے سرکردہ لوگوں سے بغض و عناد ہے مگر جب اس نے دیکھا کہ یہ مسئلہ خاص طور پر اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد کی توجہ اس طرف ہے تو اس نے خیال کیا ایسا نہ ہو جماعت احمدیہ کے کچلنے کا سہرا احراریوں کے سر رہے۔ پس اس نے بھی اعلان کر دیا کہ مسلمانان عالم کے سامنے اس وقت سب سے بڑا فتنہ جماعت احمدیہ کا

صفحہ 46

ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کا استیصال کریں۔ جب اس زور شور سے اغیار نے جماعت احمدیہ کا مقابلہ ہوتے دیکھا تو ان میں سے آریہ سماج کے اخبار بھلا کہاں خاموش رہ سکتے تھے۔ وہ بھی اٹھے اور ہماری جماعت کی مخالفت میں لگ گئے۔ قادیان کے آریہ اور سکھ بھی ان میں شامل ہو گئے.........

ہندوستان کے سیاسی لیڈر ابھی تک خاموش تھے بلکہ کہنا چاہیے کہ ان کا معتدبہ حصہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں فتنہ و فساد اور آپس کے تفرقہ سے بچنا چاہیے۔ اسی طرح اعلیٰ عہدہ دار خاموش تھے یا کم از کم ظاہر میں خاموش تھے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ طوفان مخالفت فرو ہونے میں نہیں آتا اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے تو انہوں نے کہا ہم پیچھے کیوں رہیں۔ اس خیال کا آنا تھا کہ سر مرزا ظفر علی صاحب نے ایک بیان شائع کر دیا۔ پھر ڈاکٹر سر اقبال کو خیال آگیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں اور اب آخر میں علامہ عبداللہ یوسف علی صاحب جو ہمیشہ ان باتوں سے الگ رہتے تھے‘ بول پڑے اور سمجھا کہ اسلامیہ کالج کا پرنسپل ایسی باتوں میں کیوں دخل نہ دے اور کس لیے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار نہ کرے۔ پھر اس موقعہ سے عیسائیوں نے بھی فائدہ اٹھایا اور وہ بھی ہمارے مخالفین کی صف میں شامل ہو گئے۔ غرض ہر قوم نے آج چاہا کہ ہمیں کچل دے۔ ایک طرف دنیا کی تمام طاقتیں جمع ہیں‘ احراری بھی ہیں‘ پیرزادے بھی‘ جمعیتہ العلماء بھی ہے‘ اہل حدیث بھی ہیں‘ دیوبندی بھی ہیں‘ قادیاں کے منافق بھی ہیں اور قادیان کے بعض آریہ اور سکھ بھی ہیں۔ پھر آریہ اخبارات بھی ہیں‘ پادری بھی ان کے ہم نوا ہیں۔ شاعر اور فلاسفر بھی ان کے ساتھ ہیں۔ سیاست دان بھی ان کے ساتھ ہیں۔ عہدہ دار بھی ان کے ساتھ ہیں اور حکومت بھی اپنا زور ان کی تائید میں خرچ کر رہی ہے۔ گویا دنیا اپنی تمام طاقتیں احمدیت کے کچلنے پر صرف کرنے کے لیے آمادہ ہو رہی

صفحہ 47

ہے.....

ہمارے خیر خواہ مسلمانوں میں سے بعض اور دوسری قوموں میں سے کئی دفعہ کہلوا چکے ہیں کہ ان شدید مخالفت کے ایام میں‘ میں خاموش رہوں مگر مجھے مداہنت کی ضرورت نہیں۔ میں تمام مخالفوں اور ان کے ہمنواؤں کو حضرت نوح علیہ السلام کے الفاظ ہی میں کہتا ہوں تم سارے مل جاؤ اور اپنی تمام تدابیر احمدیت کو کچلنے کے لیے تیار کرو۔ قادیان کے ان منافقوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لو جو کھلم کھلا تمہاری تائید کر رہے ہیں اور ان منافقوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو جو نمازیں پڑھتے‘ روزے رکھتے اور جماعت کے دیگر کاموں میں حصہ لیتے ہیں مگر اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں (قادیانی) سلسلے کے نظام پر ہنسی اڑاتے اور اس کی تحقیر و تذلیل کرتے ہیں۔ تم سارے مل جاؤ اور دن رات منصوبے کرو اور اپنے منصوبوں کو کمال تک پہنچا دو اور اپنی ساری طاقتیں جمع کر کے احمدیت کو مٹانے کے لیے تل جاؤ۔ پھر بھی یاد رکھو! تم سب کے سب ذلیل و رسوا ہو کر مٹی میں مل جاؤ گے“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۲۲‘ ص ۳ - ۴ - ۵‘ نمبر ۱۷۶‘ مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۳۵ء)

خود قادیانی جماعت کے خوددار لوگ قادیانی استبداد سے بیزار ہو چلے تو خلیفہ صاحب نے منافقوں کے نام سے ان پر بھی خوب لے دے کی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کے بعض منافق بھی تیس مار خاں بننے لگے ہیں۔ کچھ تو علی الاعلان ایسی باتیں کرتے اور کچھ یہ طاقت تو نہیں رکھتے‘ اس لیے علیحدہ علیحدہ آپس میں باتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہم سے کسی کو جماعت سے نکالیں تو سہی‘ ہم ایک جماعت ہیں.......... منافق دو قسم کے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو روپیہ یا عزت کی خاطر افسروں کو جا کر غلط باتیں بتاتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو احرار سے ملتے ہیں۔ یہ بے

صفحہ 48

غیرت اور بے شرم کہلاتے تو احمدی ہیں مگر ملتے ان لوگوں سے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دینا کوئی بات ہی نہیں اور میری مخالفت کے لیے وہ اسے برداشت کرنے کو تیار ہیں..... مجھے ایسے لوگوں کے نام بھی معلوم ہیں لیکن جیسا کہ میرا اصول ہے میں چاہتا ہوں کہ ان کو اصلاح کا کافی موقع دیا جائے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک شہادت شرعی موجود نہ ہو‘ میں شرعی سزا نہیں دیا کرتا"۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار "الفضل"

قادیان‘ جلد ۲۲‘ ص ۶‘ نمبر ۱۸۸‘ مورخہ ۱۲ جون ۱۹۳۵ء)

بالآخر خلیفہ صاحب قادیان نے حکومت کو‘ مسلمانوں کو اور خود اپنے نام نہاد منافقوں کو کھلا چیلنج دے دیا جو اعلان جنگ سے کم نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو:

”حکومت سے کہہ دو کہ ہم خیر خواہ اور امن پسند ضرور ہیں مگر یہ کبھی گوارا نہیں کر سکتے کہ سلسلہ کی عزت کو کم کیا جائے۔ ادب سے لیکن کھول کر حکومت کو یہ سنا دو کہ ہم سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ ہم سلسلہ کی بے عزتی حکام کے ہاتھوں ہوتی دیکھیں اور پھر بھی جی ہاں‘ جی ہاں کہتے ہوئے سر جھکائے رکھیں۔ ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا۔

مسلمانوں سے کہہ دو کہ تمہارے لیے ہم ہمیشہ قربانی کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن یہ کبھی نہ ہوگا کہ احمدیت میں اس وجہ سے کوئی کمزوری آنے دیں۔ جس دن تم احمدیت کے خلاف تلوار اٹھاؤ گے‘ اس دن بس دو ہی صورتیں ہمیں مطمئن کر سکیں گی۔ یا تو یہ کہ تم ایمان لے آؤ اور پھر یہ کہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جاؤ۔

منافقوں کو اچھی طرح سن لینا چاہیے کہ ان کے بارے میں ہم کوئی نرمی یا کمزوری اختیار نہیں کریں گے۔ ان کا ہم سنگ دل انسان کی طرح مقابلہ کریں گے اور ان کی تباہی ہمارے لیے عید کا دن ہوگا“۔

صفحہ 49

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۲، نمبر ۱۸۸، ص ۱۰، مورخہ ۱۲ جون ۱۹۳۵ء)

لیکن سب سے زیادہ قادیانی صاحبان جمعیت احرار سے ناراض ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب نے ان کو بھی چیلنج دیا۔ پیش گوئی کے اسباب تو جلد ظاہر ہوگئے لیکن پیشگوئی کا مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”آج ہمیں احرار سے بھی یہ کہہ دینا چاہیے کہ ہم نرم طبائع رکھتے ہیں۔ فسادی نہیں ہیں لیکن تمہاری ایک ایک قربانی کے مقابلہ میں ہم دس دس پیش کر کے بھی خوش نہیں ہوں گے۔ ہم اس وقت تک آرام کا سانس نہیں لیں گے جب تک کہ تم لوگ یا تو توبہ نہ کر لو اور یا پھر تمہارے نظام کو ہم دنیا سے فنا نہ کر دیں اور تمہارے پارٹی کو توڑ نہ دیں۔ ہماری آرام کی اب دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ تم مومن بن جاؤ اور دوسری یہ کہ تم پراگندہ ہو جاؤ“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ص ۱۰، مورخہ ۱۲ جون ۱۹۳۵ء)

”ابھی چند ہفتے ہوئے میں نے اسی منبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکلی جا رہی ہے اور میں ان کی شکست ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔ اب دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ زمین ان کے پاؤں سے نکل گئی“۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۳، ص ۱۰، نمبر ۵۵، مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء)

”ہماری جماعت کے لیے بے شک پچھلے ایام میں ایسا طویل ابتلا آیا ہے کہ بہت سے لوگ یہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ نہ معلوم خدا تعالیٰ کی مدد کب آئے گی اور عام طور پر کہا جانے لگا تھا کہ اس حملے کا سلسلہ بہت لمبا ہو گیا ہے مگر کسی کو کیا معلوم تھا۔۔۔۔ (البتہ میاں محمود احمد صاحب کو

صفحہ 50

شاید معلوم تھا جب کہ انہوں نے کچھ دنوں پیش گوئی کی تھی کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکلی جا رہی ہے (للمولف) کہ خدا تعالیٰ نے اس فتنہ کا علاج امرتسر میں گوردوارے پر بندھک کمیٹی کے پاس رکھا ہوا ہے جو مسجد شہید گنج کے انہدام کے سلسلہ میں ظاہر ہو گیا اور جس نے مسلمانوں پر ثابت کر دیا کہ احرار جو ہماری مخالفت خدمت اسلام کے نام سے کر رہے تھے‘ وہ جھوٹے تھے۔ اسلام کے لیے قربانی کرنا ان کا طریق نہیں۔ وہ تو اپنی ذاتی بڑائی کے لیے کام کرتے ہیں اور جب ذاتی بڑائی حاصل نہ ہوئی ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے گھر کے لیے بھی قربانی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ (لاہور میں سکھوں نے جو شہید گنج کی مسجد شہید کی تو قادیانی صاحبان متوقع اور منتظر تھے کہ احرار کٹ مریں گے اور قصہ پاک ہو جائے گا لیکن احرار نے آئینی اور قانونی تدابیر کو مقدم سمجھا اور بعد کو عام اکابر کی بھی یہی رائے قرار پائی۔ اس لیے قادیانی صاحبان کو مایوسی ہوئی) (للمولف)

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کی تقریر‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۹۴‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۵ء)

یوں تو خلیفہ صاحب قادیان کو دنیا جہان سے مخالفت کا شکوہ ہے لیکن پھر بھی حکومت سے اور احرار سے بدگمانی کی کوئی حد معلوم نہیں ہوتی۔ راز داری کی خبر میں بھی کافی صراحت موجود ہے۔ ملاحظہ ہو:

”اب بھی خطرہ کچھ کم نہیں ہوا صرف اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔ ورنہ خطرہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ میں اس کی تفصیلات میں نہیں پڑ سکتا۔ مگر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خطرہ پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے بھی اور احرار کی طرف سے بھی۔ جب انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ قوم (قادیانی) بے وقوف نہیں کہ یوں ہی آسانی سے اسے پکڑا جا سکے تو ان کے حملے نے اب عقل مندانہ شکل اختیار کر لی ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

صفحہ 51

(قادیان، نمبر ۶۶، جلد ۲۳، ص ۹، مورخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۳۶ء)

لامحالہ خود قادیانی جماعت بھی عام طور پر ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور ڈھیلی پڑ گئی تو خلیفہ صاحب نے ان کی بھی خوب خبر لی اور اپنے ڈکٹیٹر بننے کا اعلان کر دیا۔ ملاحظہ ہو:

”گزشتہ سال کے خطبات کے بعد میں سمجھا تھا کہ اب کئی سال تک جماعت کو جگانے کی ضرورت پیش نہ آئے گی مگر ابھی آٹھ ماہ ہی گزرے ہیں کہ سستی پیدا ہونے لگی ہے۔ ایک دو ہی دن ہوئے میں نے ایک اور رنگ میں بات کی تھی مگر ناظر صاحب بیت المال نے خیال کیا کہ میں نے کہا ہے کہ میں تحریک جدید کے لیے اس سال چندہ کی تحریک نہیں کروں گا اور وہ اس بناء پر بہت خوش ہوئے کہ اس تحریک سے چندہ عام کی ادائیگی میں سستی پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کارکن جماعت کے ستوں کا بوجھ محسوس کرنے لگے ہیں۔ لیکن میں نے گزشتہ سال یہ اعلان کر دیا تھا کہ اب میں ستوں کی پرواہ نہیں کروں گا اور جو مستعد ہیں، ان کو آگے لے جاؤں گا۔ ہم سونے والوں کو جگائیں گے مگر جو نہیں جاگیں گے، ان کو چھوڑتے جائیں گے۔

پچھلے سال میں نے بتایا تھا کہ میں نے جس قربانی کا مطالبہ کیا ہے، یہ بہت ہی کم ہے۔ آئندہ کے لیے جو اسکیم میرے مدنظر ہے، وہ بہت بڑی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے اور اب یہی ہو گا کہ کمزوروں کے متعلق ہم یہ ہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور جو باقی ہیں، ان کو آگے بڑھا لے جاؤں گا اور اس صورت میں خواہ دس آدمی بھی میرے ساتھ ہوں۔ انجام کار فتح ان ہی کی ہو گی۔

پس ان معاملات میں اب میں نہ نکموں کی پرواہ کروں گا نہ انجمن کی، نہ افراد کی اور نہ جماعتوں کی اور نہ مشوروں سے کام کروں گا۔ اب تو یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ چل سکتا ہے چلے، اور جو نہیں چل سکتا، وہ

صفحہ 52

پیچھے رہ جائے۔ اب میں اس پوزیشن میں کوئی تبدیلی کرنے کو تیار نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اب قربانی کا مطالبہ زیادہ سے زیادہ ہوگا۔ جو اس کو بوجھ سمجھتا ہے‘ وہ نہ اٹھائے۔ حتیٰ کہ جو انگلی اٹھا کر بھی کوئی اعتراض کرے گا‘ میں اسے جماعت سے علیحدہ کر دوں گا“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیاں‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۴۹‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۳۵ء)

پھر خلیفہ صاحب قادیان نے اپنی جماعت کو جوش دلایا کہ موت تک کے واسطے تیار ہو جائیں۔ ملاحظہ ہو:

”برادران کرام! گزشتہ دو سال کے عرصہ میں ہم شاید سینکڑوں مرتبہ جمع ہوئے ہوں گے۔ تا اپنی مظلومیت اور بعض سرکاری حکام کی احرار نوازی کی داستان ذمہ دار ارکان حکومت تک پہنچائیں اور پھر زور اور طاقت کے ساتھ اسے پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے متعلق کانگرسی اصحاب کا یہ مشہور قول بالکل درست ہے کہ وہ بہت اونچا سنتی ہے۔ ہمیں نہایت ہی افسوس ہے کہ مجلس احرار نے حکومت سے وفاداری رکھنے والی اور مصیبت میں اس کے کام آنے والی جماعتوں (یعنی قادیانیوں) کو اس سے منقطع کرنے کے لیے جو پروگرام تجویز کیا تھا‘ وہ ہمارے صوبہ کے بعض افسروں کی عاقبت نااندیشی اور کوتاہ نظری کے باعث بہت حد تک کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔

آپ لوگ قریباً دو سال سے جس وقت کے لیے تیار ہو رہے ہیں اور بوقت ضرورت جن قربانیوں کے لیے تیاری کے پرجوش وعدے کرتے رہے ہیں‘ ان کا وقت آن پہنچا ہے۔ اب آپ کو شاید ایسے مواقع بہت کم ملیں گے کہ کسی جلسہ میں جمع ہو کر نعرے لگا دیں اور پرزور الفاظ میں سلسلے کی خاطر ہر قربانی کا وعدہ کر کے گھروں کو چلے جائیں بلکہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ آپ کو عملاً قربانیاں کرنی پڑیں گی اور خدا کی راہ میں ممکن ہے آپ میں

صفحہ 53

سے بعض کو جانیں دینی پڑیں۔ حکومت کی طرف سے انتہائی سزاؤں کا مورد بننا پڑے اور دشمنوں کی طرف سے ہر قسم کی ایذاؤں کا متحمل ہونا پڑے“۔

(قادیانیوں کی نیشنل لیگ قادیان کا ایک اجلاس عام‘ تقریر میاں محمود احمد

صاحب‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیاں‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۴۰‘ ص ۱‘ ۱۶ اگست

۱۹۳۵ء)

(واضح باد کہ قادیانی مذہب کا پہلا ایڈیشن رجب ۱۳۵۲ھ میں تیار ہوا۔ گویا جمادی الاول ۱۳۵۴ھ تک تقریباً دو سال گزرے جس مدت کا تقریر میں ذکر ہے۔ للمولف برنی)

”قادیاں ۵ جولائی ۱۹۳۵ء آج حضور نے (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) مخالفین احمدیت کے انتہائی مظالم‘ ان کی ناقابل برداشت بد زبانیوں اور ایذا رسانیوں کا ذکر فرماتے ہوئے نہایت ہی دردناک جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس کے دوران میں سامعین کی ہچکیاں بندھ گئیں اور کوئی آنکھ آنسو بہانے سے باز نہ رہ سکی۔ یہ خطبہ انشاء اللہ بہت جلد درج اخبار کیا جائے گا“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیاں‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۶‘ ص ۲‘ مورخہ ۷ جولائی ۱۹۳۵ء)

”تم (قادیانیوں) سے اگر کوئی پوچھے کہ اسلام کی زندگی کی کیا صورت ہے تو تمہاری طرف سے اس کا ایک ہی جواب ہونا چاہیے کہ:

”ہماری موت‘ موت‘ موت“

پس تم اس کے لیے تیار ہو جاؤ“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ اخبار ”الفضل“ قادیاں‘

جلد ۲۲‘ نمبر ۱۸۸‘ ص ۱۰‘ مورخہ ۱۲ جون ۱۹۳۵ء)

لامحالہ اس دوران میں مالی دقتیں بھی نمودار ہو گئیں۔ اگرچہ اس قسم کی دقتیں بالعموم کم ظاہر ہونے پاتی ہیں۔ تاہم بہ حالت مجبوری اعلان میں آگئیں:

صفحہ 54

"احباب کرام کو معلوم ہے کہ مخالفین سلسلہ عالیہ احمدیہ کی شرارتوں کی وجہ سے کچھ عرصہ سے مرکز پر بہت سے غیر معمولی اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث صدر انجمن احمدیہ اب پھر زیر بار ہو گئی ہے اور معمولی بجٹ میں اسے اخراجات کا پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب کچھ عرصے سے انجمن کے کارکنوں اور متعلقین کو ان کی تنخواہیں اور وظائف باقاعدگی کے ساتھ ماہ بماہ ادا نہیں کیے جا سکتے اور بعض ضروری کاموں میں رکاوٹ واقع ہوئی ہے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز پسند فرمائی ہے کہ اس وقت ایک نئی تحریک تیس ہزار روپیہ قرض کے لیے جماعت کے ان خاص احباب سے کی جائے، جو حصول ثواب کی خاطر خوشی سے اس میں شریک ہونا چاہیں۔"

(اعلان مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان، جلد ۲۳، نمبر ۱۱، ص ۲، مورخہ ۱۰

ستمبر ۱۹۳۵ء)

"اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ہم نے اس تحریک پر گیارہ لاکھ روپیہ صرف کیا۔ اس میں قابل غور امر یہ ہے کہ یہ روپیہ آیا کہاں سے..... ہم پر تو ایک لاکھ چالیس ہزار قرض ہے۔ دو دو ماہ کی تنخواہیں لوگوں کو نہیں ملیں۔ پھر یہ گیارہ لاکھ روپیہ کہاں سے آگیا"۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار "الفضل"

قادیان، ج ۲۳، نمبر ۶۹، ص ۸، مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۳۵ء)

عام جماعت کے ساتھ ساتھ کارکن جماعت بھی شاید بددل ہو گئی کہ اس نے خلیفہ صاحب کے مقابل خود رائی اور خود سری شروع کر دی۔ چنانچہ اس بارے میں خلیفہ صاحب کی شکایت قابل ہمدردی معلوم ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

"اگر ناظروں میں تعاون نہ ہو اور وہ میری باتوں کو نہ سنیں، جو تجاویز میں پیش کروں، اس کے بجائے وہ اپنی تجاویز چلانا چاہیں، جو میں تدابیر

صفحہ 55

بتاؤں ان کو چھوڑ کر وہ اپنی تدبیریں بروئے کار لائیں اور اگر کارکنوں میں تعاون نہ ہو، مبلغوں میں تعاون نہ ہو اور میں کچھ کہتا رہوں اور وہ کچھ کرتے رہیں تو یہ وہی بات ہو گی کہ ؎

من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید

مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ تربیت کے نقص کی وجہ سے اب تک میری مثال اور ناظروں اور کارکنوں کی مثال بالکل یہی ہے کہ ؎

من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید

میں کچھ کہتا ہوں وہ کچھ اور کرتے ہیں۔ میں کوئی اسکیم پیش کرتا ہوں، وہ کوئی اور سکیم چلاتے ہیں۔ میں کوئی اور پالیسی بتاتا ہوں، وہ اپنی پالیسی کے پیچھے چلے جاتے ہیں..... ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ خلیفہ وقت جو کچھ کہتا ہے، اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر تو وہ سمجھتی ہے کہ خلیفہ نے جو کچھ کہا، وہ غلط کہا اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا تو جو لوگ یہ سمجھتے ہوں، ان کا فرض ہے کہ خلیفہ کو سمجھائیں اور اس سے ادب کے ساتھ تبادلہ خیالات کریں“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، نمبر ۱۷۷ جلد ۲۳، ص ۸، ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء)

یوں تو خلیفہ صاحب قادیان نے بہت کچھ جوش و خروش دکھایا لیکن ساتھ ہی بخوبی محسوس کر لیا کہ عام ناراضی کی تاب لانا محال ہے۔ ترکیب کے ساتھ پہلو بدلنا ضرور ہے کہ یہ ظاہر بات بھی بنی رہے اور رفع شکایت بھی ہو جائے۔ مرزا صاحب کی نبوت اور مسلمانوں کی تکفیر۔ قادیانی جماعت کا یہ بنیادی مسلک ہے اور وہ ان دونوں پہلوؤں کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اس مسلک پر ان کو کس درجہ استقرار و اصرار ہے، کتاب میں بکثرت شہادت موجود ہے۔ مصلحت وقت کی خاطر خلیفہ صاحب قادیان نے بالاخر کفر کو کافی فرما دیا کہ نبوت بھی ضمناً ڈھیلی پڑ جائے۔ عاقل را اشارہ

صفحہ 56

کافی است۔ توقع تھی کہ یہ تسلی بخش کام دے جائے گی اور مسلمانوں کی شکایت و ناراضی کسی نہ کسی حد تک رفع ہو جائے گی مگر مسلمان چونکہ قادیانی اعتقادات و جذبات سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں، یہ تدبیر کچھ کارگر ثابت نہ ہوئی۔ بہرحال تکفیر کی ترمیم قابل ملاحظہ ہے:

”ہم میں اور ان (غیر احمدیوں) میں تو کفر کی تعریف میں اختلاف بھی بہت سا پایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کفر کے معنی سمجھتے ہیں کہ اسلام کا انکار، حالانکہ ہم یہ معنی نہیں کرتے، نہ کفر کی یہ تعریف کرتے ہیں۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ اسلام کے ایک حد تک پائے جانے کے بعد انسان مسلمان کے نام سے پکارے جانے کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن جب وہ اس مقام سے نیچے گر جاتا ہے تو گو وہ مسلمان کہلا سکتا ہے مگر کامل مسلم اسے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ تعریف جو ہم کفر و اسلام کی کرتے ہیں، ان کے کفر اور ہمارے کفر میں بہت بڑا فرق ہے۔ ان کا کفر تو ایسا ہے جیسا سرمہ والا سرمہ پیستا ہے۔ وہ بھی جب کسی کو کافر کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ اسے پیس کر رکھ دیں۔ کہتے ہیں وہ جہنمی ہے اور ابدی دوزخ میں پڑے گا۔ لیکن ہم دوسروں کو کافر اصطلاحی طور پر کہتے ہیں۔ ورنہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کفر کی حالت میں مرے لیکن خدا تعالیٰ کسی خوبی کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے“۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، مورخہ یکم مئی ۱۹۳۵ء، منقول از اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲، نمبر ۱۸۹،

ص ۳، مورخہ ۱۳ جون ۱۹۳۵ء)

خلیفہ صاحب قادیان نے اپنے بچاؤ کی جو تدبیر نکالی، تو اس سے اپنے پرایوں کا اور شکوہ بڑھ گیا کہ اس درجہ غلط بیانی کی کیا گنجائش تھی۔ تکفیر کے معاملے میں قادیانی مسلک کس کو معلوم نہیں۔ کتاب میں تو آئندہ بکثرت اقتباسات موجود ہیں۔ فی الحال یہاں دو مختصر لیکن مستند حوالے ملاحظہ ہوں:

صفحہ 57

”ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح (مولوی نور الدین صاحب) سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی“۔

(تشحیذ الاذہان قادیان، جلد ۹، نمبر ۱۱، صفحہ ۲۴ ماہ نومبر ۱۹۱۴ء، و اخبار ”بدر“

نمبر ۲، جلد ۱۴ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۱۲ء)

اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے“۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ نمبر ۳، جلد ۱۴، صفحہ ۱۲۹)

قادیانی صاحبان کی لاہوری جماعت گو مختصر ہے لیکن نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور زمانہ شناس ہے۔ اس لیے پہلے ہی تاڑ لیا کہ مرزا صاحب کی نبوت اور مسلمانوں کی تکفیر یہ چلنے والی بات نہیں ہے۔ ؎

چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

چنانچہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد جلد وہ ان عقائد سے دست کش ہو گئی اور اس پر قانع رہی کہ مرزا صاحب کو مسیح موعود یا کم از کم مجدد اسلام منوایا جائے اور ان کے مریدین و معتقدین کی ایک جماعت احمدی کہلائے اور اپنی صواب دید سے مرزا صاحب کی تعلیم پھیلائے۔ چنانچہ لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب کا انگریزی ترجمہ قرآن اس مسلک کا بہت نمایاں نمونہ ہے۔ بہرحال یہ جماعت فی الجملہ مسلمانوں سے گھلی ملی رہی اور مسلمانوں سے اپنے کاموں میں بہت کافی مدد لیتی رہی لیکن قادیانی منصوبے منکشف ہوئے تو مسلمان اس جماعت سے بھی کھٹکے۔ پس جس طرح خلیفہ صاحب قادیان نے مسلمانوں کی ناراضی کے خوف سے تکفیر میں ترمیم کرنی چاہی، امیر صاحب جماعت لاہور نے بھی کوشش کی کہ مسلمانوں کو غیر احمدی کہنا

صفحہ 58

چھوڑ دیں۔ اگرچہ ”احمدی“ لقب اپنے واسطے مخصوص سمجھیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”ایک معزز بزرگ نے جو ہماری جماعت کے بہت بڑے معاون ہیں، لیکن جماعت میں شامل نہیں حضرت امیر ایدہ اللہ (مولوی محمد علی صاحب) کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرائی ہے کہ جس صورت میں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے اپنی جماعت کا احمدی نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم احمد کی بنا پر رکھا ہے، اپنے نام پر نہیں اور حقیقت بھی یہی ہے تو غیر از جماعت مسلمانوں کو ”غیر احمدی“ کے نام سے پکارنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی تو احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی عقیدت و وابستگی رکھتے ہیں جیسی کہ جماعت احمدیہ۔ انہیں غیر احمدی کہنا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی غیریت ظاہر کرنا ہے۔ اس لیے غیر احمدی کے بجائے غیر از جماعت کے لفظ استعمال کیے جایا کریں تو قرین انصاف و مصلحت ہوگا۔

اس پر حضرت امیر ایدہ اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس سوال کو اخبار میں زیر بحث لایا جائے اور ذیل کے سوال پر احباب کی رائے معلوم کی جائے۔

اگر ہماری جماعت کا نام احمدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم احمد کی طرف منسوب ہے تو گو ایک جماعت خصوصیت سے اس اسم کا مظہر ہو سکتی ہے لیکن کسی دوسری جماعت کو غیر احمدی کہنا کہاں تک درست ہے جس کا ظاہر مفہوم یہ ہو گا کہ گویا ایسے لوگوں کو احمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نسبت نہیں ہے اور جس صورت میں ہماری جماعت کے کسی فرد کا یہ خیال نہیں تو آیا ایسی حالت میں کہ بعض احباب کو یہ لفظ ناگوار گزرتا ہے۔ کیا مناسب نہ ہو گا کہ ہم اس لفظ کے استعمال کو چھوڑ دیں۔

امید کہ احباب کرام اس بارے میں اپنی آراء اخبار میں بھیج کر اس سوال پر روشنی ڈالیں گے۔ خاکسار دوست محمد۔

صفحہ 59

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۳۸‘ بابت ۱۱ جون‘ ۱۹۳۵ء)

عام بیداری کے تحت ڈاکٹر سر محمد اقبال کی تحریک اور مسلمانوں کی تائید پر انجمن حمایت اسلام لاہور نے ۱۹۳۵ء کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کی جس کی رو سے قادیانی صاحبان انجمن کی رکنیت سے علیحدہ ہو گئے اور آئندہ کے واسطے بھی ناقابل شرکت قرار پائے۔

اس موقع پر مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور نے اپنی بریت کے واسطے جو معذرت پیش کی‘ وہ قابل غور ہے۔ ملاحظہ ہو:

”اگر آپ احمدیہ جماعت لاہور کے متعلق کوئی فتویٰ دینا چاہتے ہیں تو جماعت کے مطبوعہ عقائد آپ کے سامنے ہیں۔ تیس سال قبل کی میری ذاتی تحریرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان عقائد کی بناء پر جو فتویٰ دینا چاہیں‘ دیں۔ اگر ذاتی طور پر مجھ پر فتویٰ کا سوال ہے تو ایسا کفر کا فتویٰ‘ جس کو تیس سال قبل کی تحریروں سے سہارا دینے کی ضرورت ہو‘ شاید ہی مفید ثابت ہو“۔

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور نمبر ۸‘ جلد ۲۴‘ مورخہ ۳ فروری ۱۹۳۶ء)

گویا کنایۃً ”مولوی محمد علی صاحب قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ تیس سال قبل خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی حیات اور صحبت میں ان کے جو عقائد تھے اور جن کو وہ شائع بھی کرتے تھے‘ تکفیر کا موجب ہو سکتے ہیں لیکن اس دوران میں ان کے عقائد بالکل بدل گئے۔ گویا کہ وہ مسلمان ہو گئے لیکن پھر بھی وہ مرزا صاحب کے کامل متبع رہے اور اب بھی قادیانی جماعت لاہور کے امیر ہیں۔

معشوق ما بہ مشرب ہر کس موافق ست باما شراب خورد و بہ زاہد
نماز کرد

ڈاکٹر سر محمد اقبال کو بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ حال تک قادیانی جماعت کے مخالف نہ تھے بلکہ ایک گونہ موافق اور موید تھے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب بھی مذکورہ بالا معذرت میں شکایۃً ” تحریر کرتے ہیں:

صفحہ 60

”علامہ سر محمد اقبال جیسے بلند پایہ انسان جسے (یعنی خود مولوی محمد علی صاحب قادیانی کو) آج سے چار سال پیشتر ایک مسلمان کمیٹی کا صدر بنائیں، آج اسے کافر قرار دیں۔ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے میں سر محمد اقبال پیش پیش تھے اور جس جماعت کو سولہ سترہ سال پیشتر ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ بتائیں (یہ الفاظ علی گڑھ میں ڈاکٹر سر محمد اقبال نے احمدیوں کے متعلق کہے) اسے آج کافروں کی جماعت قرار دیں۔ پس مناسب یہ ہے کہ جو کچھ فتویٰ آپ دیں، وہ آج کی تحریرات پر دیں“۔

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، نمبر ۸، جلد ۲۴، مورخہ ۳ فروری ۱۹۳۶ء)

کیفیت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے اپنے مذہب کو جس شکل میں پیش کیا، وہ مدتوں ابہام التباس اور تضاد کی بدولت چیستان اور معمہ بنا رہا۔ حتیٰ کہ خود مرزا صاحب کو اور ان کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کو اعتراف بلکہ اصرار ہے کہ مدت تک خود مرزا صاحب کو ٹھیک پتہ نہ چل سکا کہ وہ کیا دعویٰ کر رہے ہیں اور کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ بہ مشکل تمام آخر عمر میں مرزا صاحب کچھ سمجھے کہ وہ واقعی نبی اور رسول ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے اس درجہ بات گول رکھی کہ اب تک قادیانیوں کی لاہوری جماعت باوجود مرزا صاحب کی پیرو ہونے کے ان کے ادعائے نبوت و رسالت کی تاویل کرتی ہے۔

ان ہی الجھنوں کی بدولت مدت تک مسلمان متردد رہے کہ بالآخر مرزا صاحب کے مذہب پر کیا حکم لگائیں۔ بالخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقے نے حسن ظن مقدم سمجھا لیکن قادیانی صاحبان نے اس حسن ظن سے دل کھول کر فائدہ اٹھایا۔ حتیٰ کہ ان کا اصلی مسلک اور حقیقی مقصد بخوبی واضح ہوگیا اور مسلمانوں کو ان کے اقوال و افعال سے بخوبی ثابت ہوگیا ؎

ترسم کہ بہ کعبہ نہ رسی اے اعرابی کیں راہ کہ تو میروی بہ ترکستان ست
صفحہ 61

چنانچہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بھی جو حال میں انگریزی مضامین لکھے ہیں، ان میں افسوس کیا ہے کہ مدت تک مسلمان دھوکے میں رہے اور حال میں ان پر قادیانی تحریک کی پوری حقیقت کھلی۔ اس صورت میں مسلمانوں کو شکایت کا حق ہے نہ کہ قادیانی صاحبان کو کہ حسن ظن اور حسن سلوک بے محل ثابت ہوا۔ تاہم جہاں تک عقائد کا تعلق ہے، ڈاکٹر سر محمد اقبال نے مولوی محمد علی صاحب قادیانی کی طرح کوئی رنگ نہیں بدلا۔ بلکہ آج سے ایک مدت قبل بھی ان کا وہی عقیدہ تھا جو آج ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب موصوف کا فتویٰ ملاحظہ ہو:

”لمعات میں ڈاکٹر محمد اقبال صاحب پی۔ ایچ ڈی بیرسٹر ایٹ لاء کا ایک مضمون چھپا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کا قائل ہے جس کا انکار مستلزم کفر ہو۔ وہ خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۳، نمبر ۱۰۵، مورخہ ۱۱ اپریل ۱۹۱۶ء)

رہی یہ فرمائش کہ سابقہ تحریرات کو نظر انداز کر کے جدید تحریرات پر فتویٰ دیا جائے، اس کے واسطے لازم ہے کہ مرزا صاحب کی وہ تعلیم اور وہ تصانیف جن پر سابقہ تحریرات مبنی ہیں، ان کے منسوخ و متروک ہونے کا اعلان کر دیا جائے تاکہ نفاق رفع ہو۔ اس کے بعد شاید فتوے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

اس کتاب کے تیسرے ایڈیشن پر ملک میں کیا رائے قائم ہوئی اور اس دوران میں کیا کیا آثار نمودار ہوئے، مختصر کیفیت پیش ہوئی۔ ذیل میں چوتھے ایڈیشن کی خصوصیات بطور اجمال پیش کرتے ہیں۔

اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں پانچ مختصر فصلوں کے تحت تقریباً پچاس عنوانات درج تھے۔ تقطیع چھوٹی حجم (۱۲۰) صفحہ، دوسرے ایڈیشن میں گیارہ فصلوں کے تحت تقریباً اڑھائی سو عنوانات درج ہوئے۔ تقطیع متوسط حجم (۴۴۰) صفحہ، تیسرے ایڈیشن میں تیرہ فصلوں کے تحت چار سو عنوانات درج ہوئے۔ تقطیع متوسط حجم (۶۳۵)

صفحہ 62

میرا خیال تھا کہ تیسرا ایڈیشن کتاب کی مستقل شکل قرار پائے گا۔ چنانچہ اس ایڈیشن میں اس کا اعلان بھی کر دیا تھا لیکن خدا کی قدرت اس دوران میں قادیانی تحریک کے متعلق مستند معلومات کا اور بہت سا ذخیرہ ہاتھ آگیا۔ جس کی پہلے سے کوئی توقع نہ تھی اور جس کو نظر انداز کرنا بھی کسی طرح ممکن نہ تھا۔ لہٰذا یہ کل جدید معلومات چوتھے ایڈیشن میں شریک کر دی گئیں۔ بعض اقتباسات، جن سے کئی کئی پہلو نکلتے ہیں، اپنے اپنے محل پر کئی کئی جگہ بھی درج ہوئے ہیں لیکن یہ تکرار صرف چند اقتباسات کے واسطے مخصوص ہے۔ عام طور پر ہر اقتباس اپنے محل پر صرف ایک مرتبہ درج ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہ تعداد کثیر جدید عنوانات شریک ہوئے اور ان میں سے ہر ایک کے تحت کافی اقتباسات درج ہیں۔ ان کے علاوہ جا بہ جا قدیم عنوانات کے تحت بھی مزید اقتباسات درج ہوئے۔ ضمیمہ جات میں بھی اسی طرح کچھ اضافہ ہوا۔ بغرض امتیاز جدید عنوانات کے ساتھ علامت (ج) اور مزید اقتباسات درج ہونے کی صورت میں قدیم عنوانات کے ساتھ علامت (م) تحریر کر دی ہے تاکہ کوئی چاہے تو بہ یک نظر معلوم کر لے کہ تیسرے ایڈیشن کے مقابل چوتھے ایڈیشن میں کیا کیا اضافہ ہوا۔ علاوہ بریں چونکہ کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے مضامین بہت بڑھ گئے، اس لیے کل کتاب کو از سر نو بیس فصلوں میں تقسیم کر دیا۔ امید ہے کہ اس تقسیم سے تفہیم میں بہت سہولت رہے گی۔ اس طرح چوتھے ایڈیشن میں بیس فصلیں اور ان کے چار تمہیدیں اور چار ضمیمے داخل ہیں۔ چونکہ حجم کافی بڑھ گیا ہے اس لیے متوسط تقطیع کے بجائے بڑی تقطیع پر کتاب طبع ہوئی۔ پھر بھی کافی ضخیم رہی۔

یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر یہ اضافوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کتاب کی آخری شکل کب قرار پائے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ بہ ظاہر تیسرا ایڈیشن مکمل شکل قرار پا چکا تھا۔ یہ محض تائید غیبی تھی کہ جس مواد کا وہم و گمان بھی نہ تھا، وہ خود بخود میسر آگیا۔ لیکن کتاب اس نوبت پر آگئی کہ آئندہ کسی معتد بہ اضافہ کی گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہی۔ یوں معمولی کمی بیشی دوسری بات ہے۔ لہٰذا اس چوتھے ایڈیشن کے مکمل ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔

صفحہ 63

سب سے اول عبدالخالق خاں سلمہ اور ان کے ساتھ عبدالحلیم سلمہ، عبدالقدوس ہاشمی سلمہ، غلام دستگیر رشید سلمہ اور برادرم کمال احمد فاروقی سلمہ۔ یہ وہ عزیز نوجوان ہیں، جنہوں نے اس کتاب کی تالیف، طباعت اور اشاعت میں ہاتھ بٹایا۔

اللہ تعالیٰ ان مخلصین کو دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

ملک و ملت کے بہی خواہ قادیانی لٹریچر کے اس مجموعے کو مطالعہ فرمائیں۔ قادیانی صاحبان کے عذرات و تاویلات کو سماعت فرماویں اور پوری تحقیق کے بعد انصاف فرماویں کہ فی الواقع قادیانی تحریک دین و ایمان، تہذیب و اخلاق، تمدن و معاشرت اور قومیت و سیاست کے حق میں کیا حکم رکھتی ہے اور کیا انجام چاہتی ہے۔

بیت السلام، حیدرآباد دکن معروضہ ماہ شوال ۱۳۵۴ھ خادم محمد الیاس برنی

صفحہ 64

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمہید پنجم

اس کتاب "قادیانی مذہب" کا چوتھا ایڈیشن ادھر شائع ہوا، ادھر ختم ہو گیا۔ نصف سے زیادہ تو ہدیۃً تقسیم ہوا اور جو باقی بچا وہ ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ بالخصوص اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقوں میں اس کی بہت مانگ رہی۔ اکابر ملت نے زبانی اور تحریری اعتراف فرمایا کہ جو اہم معلومات اس کتاب میں شائع ہوئیں، خاص و عام بیشتر ان معلومات سے بے خبر تھے اور یہ بے خبری ملک و ملت کے حق میں سخت خطرناک تھی۔ اس کتاب سے قادیانی مذہب کی حقیقت کھل گئی۔ ترتیب و تفہیم کا جو اہتمام کیا گیا، وہ سراسر جدید اور اپنی آپ نظیر ہے۔ اس سے زیادہ مستند اور تشفی بخش طریق ممکن نہیں۔ یہ کتاب اپنی تحقیق و جامعیت کی بدولت قادیانیت کی قاموس بن گئی جو آئندہ تالیف و تصنیف میں مخزن معلومات کا کام دے گی۔

حامی دین متین امیر المومنین اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں بہادر آصف سابع سلطان العلوم شاہ دکن خلداللہ ملکہ کی رعایا پروری اور مذہبی رواداری تو مشہور و مسلم ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کو بھی اس سے مستفید ہونے کا پورا موقع ملا۔ آج سے بیس سال قبل جب کہ قادیانی جماعت حیدر آباد میں اپنے قدم جما رہی تھی، بقول خود اس کو پوری آزادی حاصل تھی۔ ملاحظہ ہو:

"مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی سید سرور شاہ صاحب راستہ میں آنے والے شہروں میں فرصت کے مطابق تبلیغ کرتے ہوئے حیدر آباد پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے تبلیغ شروع کر دی ہے۔ مفتی صاحب نے اپنا قیام

صفحہ 65

مولوی غلام اکبر خان صاحب وکیل (بعدش نواب اکبر یار جنگ بہادر رکن عدالت عالیہ) کے مکان پر کیا ہے جس میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے پاس شہر کے معزز لوگ آتے جاتے ہیں۔ اس لیے ان سے گفتگو کرنے کا انہیں موقع مل جاتا ہے۔ ۱۸ تاریخ کے خط میں مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ صبح سے بارہ بجے تک پانچ معزز اشخاص کو تبلیغ کی گئی اور انہوں نے پھر ملاقات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح انشاء اللہ تبلیغ کا سلسلہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخہ ۲۶ نومبر ۱۹۱۴ء)

”احمدی احباب اس خبر کو سن کر خوش ہوں گے کہ جس مقصد کے لیے جناب مفتی محمد صادق صاحب اور مولانا سید سرور شاہ صاحب کو حیدرآباد دکن روانہ کیا گیا تھا‘ اس میں خدائے تعالیٰ کے فضل سے ان کو کامیابی ہوئی ہے اور انہوں نے شاہ دکن کی خدمت میں (کتاب) ”تحفۃ الملوک“ پیش کر دی ہے اور اعلیٰ حضرت والی دکن نے بھی خوشی سے اس تحفہ کو قبول فرمایا ہے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲ نمبر ۸۲ مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۴ء)

”جس مقصد کے واسطے حضرت خلیفۃ المسیح فضل عمر ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں محمود احمد صاحب) نے ہم کو یہاں (حیدر آباد) بھیجا تھا وہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت کچھ پورا ہوگیا ہے اور ہو رہا ہے۔ کتاب ”تحفۃ الملوک“ باوجود بعض رکاوٹوں کے ہزہائی نس شاہ دکن کے حضور پہنچی اور پڑھی گئی اور قبول ہوئی اور اظہار خوشنودی کا پروانہ ہمیں ملا۔ اس کے بعد اراکین ریاست میں وہی کتاب خوب تقسیم ہوئی۔ بالشافہ بڑے بڑے نوابوں، ججوں اور اہل کاروں اور مشائخ سے گفتگو ہوئی اور پیام حق سب کو پہنچایا گیا۔ حضرت خاتم النبیین کی پیشینگوئی کے مطابق مسیح موعود مہدی معہود کے آنے کی خبر سب کو دی گئی۔ ہر جگہ کم و بیش (قادیانی) سلسلہ کے

صفحہ 66

متعلق گفتگو بھی ہوئی۔ تقسیم کتب کے علاوہ کئی ایک محلوں میں بڑے بڑے شاندار جلسوں میں کئی ایک وعظ ہوئے۔ تین جگہ درس قرآن شریف جاری ہوا۔ اتفاقی طور پر بعض علماء کے ساتھ بحثیں بھی ہوئیں اور ان بحثوں کے سننے کے واسطے بعض دفعہ کئی سو آدمی کا مجمع بھی ہو جاتا رہا۔ ان سب باتوں کے علاوہ متفرق طور پر بھی لوگوں کو تبلیغ ہوئی اور ہوتی رہتی ہے۔ کئی ایک آدمی سلسلہ بیعت میں بھی داخل ہوئے۔ شہر اور اس کے نواح میں احمدیت کا خوب چرچا پھیل گیا ہے۔ اکثروں کی بدگمانیاں دور ہو رہی ہیں اور لوگ حق کو قبول کرنے کے نزدیک آتے جاتے ہیں......

سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ یہاں کے بادشاہ حضور نظام دکن ایک حد تک سلسلہ حقہ کے صحیح حالات سے واقف ہوگئے ہیں اور ہم کو یہ امید ہوگئی ہے کہ ہمارے خلاف بے جا تعصب کی باتیں ان کے منصف مزاج قلب پر کوئی اثر نہ کریں گی اور احمدیوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ایک عدل گستر بادشاہ کی رعایا کو حاصل ہوتے ہیں۔ خواہ وہ کسی مذہبی عقائد کے ہوں۔

پھر یہاں کے اکثر اراکین سلطنت سلسلہ حقہ (یعنی قادیانیت) کے حالات سے آگاہ ہوگئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے دعویٰ و دلائل سے وہ ایک حد تک واقف ہوچکے ہیں۔ ایک معزز نواب صاحب کے مکان پر درس قرآن شریف ہوتا ہے۔ ایک پبلک درس چودھری نواب علی صاحب کے مکان پر ہوتا ہے"۔

(قادیانی مبلغ کی رپورٹ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲‘ نمبر ۱۳۰‘

ص ۵ - ۶‘ مورخہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۱۵ء)

”حیدر آباد میں جس کام کے واسطے ہم بھیجے گئے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت کچھ پورا ہوگیا ہے اور اب ہم اضلاع ریاست میں دورہ کر کے کتاب ”تحفۃ الملوک“ تقسیم کر رہے ہیں اور تبلیغ کر رہے

صفحہ 67

ہیں"۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۴۷‘ ص ۷‘ مورخہ یکم جون ۱۹۱۵ء)

حافظ روشن علی صاحب بہ ہمراہی سید بشارت احمد صاحب (وکیل) اضلاع ریاست میں تبلیغی دورہ اور حکام و معززین میں کتاب ”تحفۃ الملوک“ تقسیم کر رہے ہیں۔ مفتی محمد صادق صاحب شہر (حیدر آباد) میں تبلیغی کام کر رہے ہیں"۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۳‘ نمبر ۱‘ مورخہ ۲۳ جون ۱۹۱۵ء)

غرض کہ قادیانی جماعت کو رسنے بسنے کا پورا موقع مل گیا اور انہوں نے ترکیب سے چاروں طرف خوب پیر پھیلائے۔ حکومت میں‘ ملازمت میں‘ تجارت میں‘ تمدن میں اور معاشرت میں۔ حتیٰ کہ ان کو یہ گھمنڈ ہو گیا‘ ان کا رسوخ سب طرف حاوی ہے۔ خاص و عام ان کے موافق و موئید ہیں۔ لہٰذا کسی کی مجال نہیں کہ ان کے مقابل دم مار سکے۔ ظرف و استعداد کم ہو تو انسان نعمت سے بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ تمتع میں حد سے زیادہ گزر جاتا ہے۔ چنانچہ اسلامی رواداری اور حسن سلوک سے قادیانیوں نے بھی ایسا ہی نقصان اٹھایا۔ ”از ماست کہ بر ماست“ یہی مثل ان پر صادق آئی۔ چنانچہ اس کتاب کی جس طرح ابتداء ہوئی‘ تمہید اول میں تفصیل موجود ہے اور جو نتائج پیدا ہوئے‘ وہ بخوبی ظاہر ہیں۔ ع (خدا شرے بر انگیزد کہ خیر مادران باشد)

اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں بہادر سابع خلداللہ ملکہ کی رواداری اور علم دوستی تو شہرہ آفاق ہے۔ قادیانی اپنا تبلیغی لٹریچر بارگاہ خسروی میں پیش کرتے تھے۔ بطریق معمول کتاب جو قادیانی مذہب پر پیش ہوئی اور اس کو شرف قبول عطا ہوا۔ چوتھا ایڈیشن ملاحظہ اقدس سے گزرنے کے بعد ایک مکتوب مبارک خانگی طور پر خواجہ حسن نظامی کو سرفراز ہوا اور چونکہ یہ مکتوب مبارک اسلامی حکومت کے مذہبی مسلک کا صحیح نقشہ تھا کہ مذہبی آزادی کے کیا شرائط ہیں۔ رواداری کے کیا حدود ہیں‘ دینداری کی کیا ذمہ داری ہے اور اسلام کی کیا تعلیم ہے؟ خواجہ

صفحہ 68

صاحب نے خانگی ہونے کے باوجود مکتوب مبارک کو بنظر ہدایت خاص و عام اپنے اخبار منادی میں شائع کرنے کی عزت حاصل کی۔ کلام الملوک ملوک الکلام۔ مکتوب مبارک سے ملک و ملت میں جس قدر بیداری اور ہدایت پھیلی‘ بڑی بڑی تقریروں اور تحریروں سے یہ بات پیدا ہونی دشوار تھی۔ چنانچہ ہم بھی اس ہدایت مآب مکتوب مبارک سے اس کتاب کو مزین کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

نقل مکتوب حضور نظام

حیدر آباد دکن‘ ۱۸ مئی ۱۹۳۶ء

خواجہ حسن نظامی صاحب!

”مولوی محمد الیاس برنی جو کہ یہاں پروفیسر ہیں‘ ان کو تو جانتے ہوں گے کہ یہ کس طرح سے اپنی حد تک مذہبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یعنی انہوں نے چند کتب قادیانی مذہب کی شرح سے متعلق لکھی ہیں تاکہ اس مذہب کے اسرار نہاں سے پردہ اٹھایا جائے تاکہ کم فہم و استعداد کے اشخاص ان کے گمراہ کن خیالات میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

اس ضمن میں یہ کہہ دینا ضروری ہے کہ ہر انسان جو چاہے‘ اپنی حد تک کوئی بھی مذہب اختیار کرے‘ جس کو کہ وہ اچھا جانتا ہے اور جو چاہے اپنے عقائد رکھے۔ بشرطیکہ اس کا اثر دوسرے مذاہب کے اشخاص پر نہ پڑتا ہو اور جب کہ معاملہ ایسا ہو تو پھر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے مگر معاملہ جب قابل اعتراض ہو جاتا ہے کہ دوسروں سے مخاطب ہو کر کہا جائے کہ اگر کوئی شخص کہنے والے کے مذہب یا اعتقادات کی پیروی نہ کرے گا تو اس کے نزدیک وہ خارج از مذہب بلکہ کافر ہو جاوے گا۔

چنانچہ یہی پوائنٹ ہے جو کہ اس وقت شاید معرض بحث میں ہے

صفحہ 69

جس پر سے خامہ فرسائی اور ہر کتب لکھنے کی بھرمار ہو رہی ہے اور یہ کسی حد تک درست ہے۔ بہر ختم نبوت ہو چکی اور یہ اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے جو کہ اٹل ہے ورنہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ سلسلہ خدا کو باقی رکھنا منظور ہوتا تو اس کے لیے بہت سے نفوس قدسیہ اس وقت موجود تھے۔ وہ کون؟ وہی جو کہ لحمک لحمی و دمک دمی سے مرکب ہے۔

پس ظاہر ہوا کہ جب نوبت یہاں تک نہیں پہنچی تو ما و شما کا کیا ذکر۔ الحاصل آج کل کی دنیا میں مذہب کی وقعت بازیچہ اطفال سے زیادہ نہیں ہے۔ برخلاف اس کے مذہب اسلام کی کیا خوبیاں ہیں اور اس میں کون کون سے اسرار و غوامض ہیں اور اس کو سمجھانے والے کس طرح سے ہم کو سمجھنے کی ہدایت فرما گئے ہیں۔ اس پر ہم عامل نہیں رہے ورنہ اسلام کی شان اس وقت اور ہی کچھ ہوتی۔ خیر اب بھی وقت باقی رہ گیا ہے کہ ہم تلافی مافات کرلیں تاکہ اس کے ذریعہ نجات اخروی حاصل ہو۔

شاباش خواجہ صاحب کہ میرا دوسرا خط بھی شائع کر دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ میری خانگی تحریرات کو پبلک میں لانا اچھی چیز خیال کر رکھا ہے۔ حالانکہ وہ میرے ٹوٹے پھوٹے خیالات کا آئینہ ہوتے ہیں جو کہ میرے احباب کی حد سے متجاوز نہ ہونا چاہئیں۔ زیادہ والسلام۔

(عثمان علی)

(منقول از اخبار ”منادی“ دہلی بابت ۲۲ مئی ۱۹۳۶ء)

واقعہ یہ ہے کہ یوں تو ابتدا ہی سے مسلمانوں نے قادیانی تحریک کی روک تھام کی تردید میں کتابیں لکھیں، مناظرے کیے، اخبارات میں مضامین لکھے۔ مثلاً مولانا محمد علی صاحب مرحوم مونگیری، نواب فضیلت جنگ، مولانا انوار اللہ خان صاحب مرحوم حیدر آبادی اور مولانا ثناء اللہ خاں صاحب امرتسری یا جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں مولوی ظفر علی خاں صاحب کرم آبادی۔ ان جیسے اکابر ملت نے قادیانی تحریک کے انسداد میں بہت کام کیا

صفحہ 70

لیکن خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اور ان کے متبعین نے ابہام و التباس کے زور سے اس تحریک کو ایسا چیستان اور معمہ بنا کر پیش کیا کہ لوگ الجھن سے گھبرا کر تحقیق سے بچنے لگے اور دیگر اسلامی فرقوں کی طرح اس کو بھی ایک اسلامی فرقہ سمجھنے لگے کہ گویا یہ بھی علماء اسلام کا کوئی فروعی اختلاف ہے۔ اس کے ساتھ ہی قادیانیوں نے تبلیغ اسلام کے نام سے کچھ تگ و دو شروع کی اور اشتہار بازی سے پورا کام کیا۔ ترکیب چل گئی۔ صحیح حالات کا انکشاف تو نہ ہوا، حسن ظن کی بنا پر تائید دین کے خیال سے مسلمان امراء‘ رؤسا قادیانی جماعتوں کی قدر افزائی کرنے لگے‘ امداد دینے لگے۔ عام مسلمانوں کو متاثر کرنے کی غرض سے قادیانی جماعتیں ان قدر افزائیوں کی تشہیر کرتی رہیں کہ گویا مسلمانوں کے سرکردہ ان کے مداح اور موئد ہیں تو پھر مسلمانوں کو ان سے اختلاف اور احتراز کرنے کی کیا گنجائش ہے۔ نتیجہ یہ کہ سربرآوردہ مسلمانوں کے اس حسن ظن اور حسن سلوک کا مسلمانوں کے دلوں پر بہت بار پڑا اور قادیانی جماعتوں نے رسوخ پھیلانے میں اس سے بہت کام لیا۔ مسلمانوں ہی کے اثر سے مسلمانوں کو دبایا۔ جہاں مسلمانوں نے آواز اٹھانی چاہی‘ بڑے بڑوں کی تائیدیں شائع کر کے منہ بند کر دیا۔ چنانچہ ایک لطیفہ ہوا۔ قادیانی جماعت لاہور کے اکابر نے ہماری کتاب کے چوتھے ایڈیشن پر اپنے اخبار ”پیغام صلح“ لاہور میں جو واویلا کیا تو حسب عادت اپنی کارگزاری کے ثبوت میں ہزہائی نس نواب صاحب مانگرول کی تائیدی رائے شائع کی جو خدا جانے کن تدابیر سے کب حاصل کی گئی تھی لیکن ان کو علم نہ تھا کہ عالی جناب نواب صاحب مانگرول اس دوران میں ہماری کتب ”قادیانی مذہب“ ملاحظہ فرما کر اصل حال سے واقف ہو چکے تھے اور قادیانیت کے متعلق صحیح رائے قائم فرما چکے تھے۔ چنانچہ ہم نے جواب میں رائے مبارک شائع کر دی تو قادیانی صاحبان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ یہ رائے مبارک بھی مسلمانوں کے

صفحہ 71

واسطے باعث ہدایت اور قابل یادگار ہے۔

"میں نے آپ کی مرسلہ چاروں کتابیں (قادیانی مذہب) توجہ سے پڑھیں反 نقش اول سے نقش ثانی اور ثانی سے ثالث اور ثالث سے رابع کو بہت بہتر پایا۔ حقیقت میں آپ نے نہایت توجہ اور غور و خوض کے بعد اس آخری نمبر کو تیار کیا اور اس کی اشاعت سے دین اسلام کی ایک نہایت اہم خدمت انجام دی۔ قوم مسلم کو ایک بڑے خطرہ اور فتنہ سے آگاہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان خدمات دینی و قومی کا اجر جمیل عطا فرمادے۔ جزاک اللہ احسن الجزا"۔

(منجانب عالی جناب نواب صاحب مانگرول)

مزید برآں خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے روزنامچہ میں لکھا اور یہ روزنامچہ اخبار "منادی" میں بتاریخ ۳۰ اکتوبر ۱۹۳۶ء شائع ہوا کہ انہوں نے نواب صاحب (مانگرول) کا ایک فرمان مانگرول کے شیخ الاسلام کے پاس دیکھا جس میں نواب صاحب نے شیخ الاسلام کو لکھا تھا کہ آپ قادیانی عقائد کی تردید میں جو کچھ کہتے اور لکھتے ہیں، میں اس کو اسلام کی ایک بڑی خدمت تصور کرتا ہوں۔

غرض کہ مسلمانوں کے اعلیٰ طبقوں میں بیداری پھیلی اور قادیانیت کی حقیقت کھلی تو لامحالہ قادیانی جماعتوں کی ہوا اکھڑ گئی۔ تار عنکبوت کی طرح تدابیر ٹوٹ گئیں اور ملمع کی طرح رسوخ اڑ گیا۔ قدرتاً یہ انقلاب قادیانیوں کو سخت گراں گزرا۔ اپنی عادت کے مطابق سخت کلامی پر اتر آئے۔ حتیٰ کہ ان کی لاہوری جماعت جو مسلمانوں کی خوشنودی کا خاص لحاظ رکھتی تھی اور ان سے بے تکلف امداد پاتی تھی، اس نے بھی مایوس ہو کر طعن و تشنیع کا مشغلہ اختیار کیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"آج کل اس جماعت کے عبرت انگیز تماشے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ چند خودغرض، خودپرست اور دشمنان ملت نے احمدیت کے خلاف جو طوفان مخالفت برپا کر رکھا ہے، اس کی ناپاک لہروں سے بڑے بڑے مولویوں کی عبائیں اور عمامے اور بڑے بڑے لیڈروں، شاعروں اور اخبار

صفحہ 72

نویسوں کے طرہ ہائے افتخار آلودہ ہو رہے ہیں۔ اغراض و عزت کی قربان گاہ پر اصول بے محابا قربان کیے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور زبانوں میں کوئی مطابقت نہیں رہی اور یہ اپنے گزشتہ اقوال و اعمال کو بھی فراموش کر گئے ہیں۔

ایسی ایسی بے جوڑ اور غیر معقول باتیں ان کی طرف سے کہی جا رہی ہیں، جنہیں سن کر تعجب ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے اعلیٰ دماغوں کی باطل سے یہ مرعوبیت بے حد افسوس ناک ہے۔

مخالفین احمدیت کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو سرکردہ مسلمان علماء قائدین کو احمدیت کے متعلق اظہار رائے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہیں یا اپنے دلی خیالات و عقائد کا اعلان کر دیں تو ان کو طرح طرح سے بدنام کیا جاتا ہے۔ اس لیے انہیں مجبوراً مخالفین کا ہمنوا ہونا پڑتا ہے۔ اپنے اخلاق و اصول کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔ ان کا یہ اخلاقی افلاس واقعی قابل رحم ہے۔ لیکن اگر خدا پر بھروسہ اور اپنے ضمیر کا احترام کرتے اور سچی بات واضح الفاظ میں کہہ دیتے تو انہیں یہ دقت پیش نہ آتی۔ ہمیں افسوس ہے کہ گزشتہ ماہ مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی اس مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض لوگ عرصہ سے انہیں اس مصیبت میں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مولانا سکوت و خاموشی کے قلعہ میں پناہ گزین تھے لیکن ہوشیار و پرفن حیلہ سازوں نے کچھ ایسے جال بچھائے کہ طائر آزاد اپنے نشیمن خاموشی سے نکل کر ان کے جال میں گرفتار ہو گیا۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)

اخبار ”زمیندار“ ۲۶ جون ۱۹۳۶ء میں مولانا موصوف کے دو مکتوب شائع ہوئے ہیں، جن میں آپ نے احمدیت کی مخالفت فرماتے ہوئے مجددین اور حدیث کی ضرورت سے ہی انکار فرما دیا۔ ذرا مولانا ابوالکلام کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔ پہلے مکتوب میں فرماتے ہیں:

صفحہ 73

”باقی رہے مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کے دعاوی تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے اسلام کے اصول و مبادیات کو سمجھا ہے اور عقل سلیم سے بے بہرہ نہیں، یہ دعاوی ایک لمحہ کے لیے بھی تسلیم کر سکتا ہے“۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، جلد ۲۴، نمبر ۲۴، مورخہ

۳ جولائی ۱۹۱۶ء)

اسی طرح دیگر اسلامی مفکرین و مصنفین مثلاً ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالماجد دریابادی وغیرہ کے متعلق شکایت کے دفتر کھلے کہ کبھی کچھ تو معترف تھے مگر اب کیسے محترز بلکہ مخالف ہو گئے۔ حالانکہ خود قادیانی منافقت اس انجام کی ذمہ دار ہے۔ اگر شکایت کریں تو مسلمان کر سکتے ہیں کہ ان کے حسن ظن اور حسن سلوک سے کس درجہ بے جا فائدہ اٹھایا کہ درپردہ خود ان کے دین و ملت کی بیخ کنی شروع کر دی اور پھر یہ سینہ زوری کہ ان سے الٹی شکایت ہو رہی ہے۔

قادیانیوں نے یہ بھی اچھی طرح محسوس کر لیا کہ ان کے مقابل مسلمانوں میں جو بیداری پھیلی اور جنبش پیدا ہوئی ہے، وہ رکنے والی نہیں ہے بلکہ دور کی خبر لائے گی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”مجھے یاد ہے ہم میں سے بعض کہا کرتے تھے کہ اب مولوی ثناء اللہ کی طاقت ٹوٹ گئی ہے۔ مگر اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ان کی طاقت زیادہ تھی یا احرار کی۔ اسی طرح اب بعض یہ خیال کر رہے ہیں کہ احرار کی طاقت ٹوٹ گئی ہے۔ اب ہم سو جائیں مگر یاد رکھو تمہارے لیے سونا مقدر نہیں ہے۔ تم یا تو جاگو گے یا مرو گے“۔ (ہائے رے بے خوابی؎

موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں
آتی (للمولف)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان جلد ۲۳، نمبر ۲۸۷، ص ۴، مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۳۶ء)

صفحہ 74

”اب تو مسلم لیگ نے بھی جس کے ممبر آزاد خیال اور روادار سمجھتے جاتے ہیں اور ہندوستان کی ذہنی روح تصور کیے جاتے ہیں‘ ایک حلف نامہ تیار کیا ہے کہ جو ان کی طرف سے اسمبلی کے لیے امیدوار کھڑا ہو وہ یہ حلف اٹھائے کہ میں اسمبلی میں جا کر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کروں گا“۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴‘ نمبر ۶۰‘ مورخہ ۱۹ ستمبر

۱۹۳۶ء)

واقعات پر کہاں تک پردہ ڈالا جا سکتا ہے۔ بالاخر عاجز آکر خود قادیانیوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ:

”ایک وقت یہ تھا کہ سلسلہ (قادیانی) سب کو کھائے جا رہا تھا۔ دنیا کی نگاہیں بار بار اٹھتی تھیں کہ حقیقی عامل یہ جماعت پیدا ہوگئی ہے اور آج یہ حالت ہے کہ اچھے اچھے لوگ بھی جن کے دل ادھر کھنچے ہوئے تھے‘ وہ نفرت کرنے لگ گئے“۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴‘ نمبر ۶۳‘ مورخہ ۳

اکتوبر ۱۹۳۶ء)

ادھر مرزا صاحب کی نبوت کا تو پردہ ایسا چاک ہوا اور اصلیت کھلنے پر دلوں کا وہ حال ہوا کہ خود قادیانی چلا اٹھے کہ:

”وہ چمکتا ہوا ستارہ جسے خدا نے دنیا کی ہدایت کے لیے پیدا کیا لوگوں کی آنکھوں میں نور پیدا کرنے کی بجائے سردست تو حاسدوں کے دلوں میں ایک انگارہ بن کر جل رہا ہے۔ یعنی خدا کا مسیح دنیا کی تضحیک اور اس کے تمسخر کا مرکز بنا ہوا ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان جلد ۲۴‘ نمبر ۱۳۴‘ ص ۷ - ۸‘ مورخہ ۳ دسمبر ۱۹۳۶ء)

”قادیانی اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ ان کی خانہ ساز نبوت

صفحہ 75

کچھ دنوں کی مہمان ہے۔ اس وقت وہ ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے ادھر ادھر اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ شاید کسی تنکے کا سہارا ان کو ورطہ ہلاکت سے بچا لے"۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴‘ نمبر ۶۳‘ مورخہ ۳ اکتوبر

۱۹۳۶ء)

”قادیانیوں کی خانہ ساز نبوت کا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ روز بروز یہ حقیقت دنیا پر واضح ہو رہی ہے کہ نبی کریم کے بعد اس امت کے لیے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔ گزشتہ تیرہ سو سال کی مذہبی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ آنحضرت کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور آپ کے بعد جس قدر بھی متنبی ہوئے ہیں‘ سب کے سب ذلیل و خوار ہوئے ہیں۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۶۴‘ مورخہ

۷ اکتوبر ۱۹۳۶ء)

بہر حال قادیانی مذہب اور اس کے پیروؤں کی حقیقت کھل گئی اور ایک جماعت نے اعتراف کر لیا کہ:

”جس مذہب (قادیانی) کو ایسی کمزور بنیادوں پر بنایا جا رہا ہے‘ یہ کبھی نہیں بن سکتا۔ یہ سمجھنا کہ لاکھ کے قریب آدمی اس کو مانتے ہیں‘ محض سراب ہے۔ ان میں سے ننانوے ہزار ایسے ہوں گے جو مطلق سوچ و فکر سے کام نہیں لیتے۔ پیر پرستی میں انسان عقل و خرد کو جواب دے دیتا ہے اور مرید عقیدت کے پیش نظر پیر کے عیوب کی پردہ پوشی کرتے ہیں"۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۴‘ نمبر ۶۳‘ مورخہ ۳

اکتوبر ۱۹۳۶ء)

قادیانیوں کی لاہوری جماعت مصلحت آمیزی میں بڑی ماہر تھی۔ وہ قادیانی

صفحہ 76

تعلیم کو اس رنگ میں پیش کرتی تھی کہ مسلمانوں کو کوئی شک و شبہ پیدا نہ ہو سکے بلکہ ان ہی کی امداد و اعانت سے قادیانی مشن چل سکے۔ مدتوں یہ دورنگی خوب چلی لیکن آخر تا بکے۔ راز فاش ہونا تھا‘ ہوگیا۔ مسلمانوں نے دست کشی اختیار کر لی تو لامحالہ اس جماعت پر بھی زد پڑی۔ گرچہ اندرونی حالات افشا نہیں ہونے دیے جاتے‘ پھر بھی کبھی کبھی جھلک نظر پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم احمدیت کو چند روز میں نیست و نابود کر دیں گے۔ ان کی اس خام خیالی پر مجھے افسوس ہے لیکن اس سے زیادہ افسوس اپنے بعض ان لوگوں پر ہے جن کے دل کمزور ہوگئے ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ایمان یا حضرت مسیح موعود کے دعاوی پر یقین کے رنگ میں کمزور ہوگئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل احمدیت کی مخالفت کا بہت زور ہے۔ ہمارے مخالفین احمدیت کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں“۔

(قادیانی جماعت لاہور کے امیر مولوی محمد علی صاحب قادیانی کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۴‘ نمبر ۷‘ مورخہ ۳ نومبر ۱۹۳۶ء)

”موجودہ مشکلات کی وجہ سے ہمیں اپنے چند کارکنوں کو بھی جواب دینا پڑا۔ اس طرح انہیں تکلیف ہوئی اور ان کی تکلیف سے ہمیں بھی تکلیف پہنچی ہے۔ یہ نہیں کہ ہم ان کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے۔ کسی کا یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ انجمن کے چند سربرآوردہ ارکان اوپر چھتریاں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ کسی تکلیف کو محسوس کیے بغیر تخفیف کر رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو پوری طرح جانتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک امانت دی گئی ہے۔ موجودہ حالات میں وہ دیکھتے ہیں کہ ہم اس حد تک قدم اٹھا سکتے ہیں‘ اس سے آگے نہیں جا سکتے۔ اسی وجہ سے انہوں نے نہایت افسوس کے ساتھ چند کارکنوں کو جواب دے دیا ہے۔ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں ہم جس

صفحہ 77

حد تک پہنچے ہیں‘ وہ بظاہر آخری حد معلوم نہیں ہوتی..... میں نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ کن حالات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ آپ اتنا سوچ لیں کہ اگر آپ خلوص کے ساتھ اس جماعت کے اندر آئے ہیں تو کوئی دکھ اور تکلیف ان کے قدم کو پھسلانے کا موجب نہیں ہو سکتی اور جو بھی مشکلات آئیں‘ انہیں ہر حالت میں مردانہ وار برداشت کریں"۔

(قادیانی جماعت لاہور کے امیر مولوی محمد علی صاحب کا خطبہ مندرجہ اخبار

"پیغام صلح" لاہور، جلد ۲۴‘ نمبر ۷۴‘ مورخہ ۱۵ نومبر ۱۹۳۶ء)

رہی قادیانی جماعت قادیان جو مذہباً ٹھیٹھ قادیانی ہے‘ وہاں تو اندرونی معاملات میں اور بھی رازواری ہے۔ تاہم حالت بے قراری ہو تو کبھی نہ کبھی بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ بعض تازہ ترین حالات خود میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی زبانی سنئے۔

میاں صاحب عالم بیداری کے مقابل اپنی جماعت کو ڈھارس بندھانا چاہتے ہیں لیکن اس پر جو افسردگی اور بے حسی طاری ہو چکی ہے‘ اس سے عاجز معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"میں نے بارہا جماعت کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے آپ کو ان مشکلات اور ابتلاؤں کے لیے تیار کریں جو مستقبل میں ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آرام بلکہ آرام تو نہیں کہنا چاہیے۔ آرام طلبی جو موجودہ طرز رہائش کی وجہ سے دنیا میں خصوصاً ہندوستانیوں میں پیدا ہو رہی ہے‘ اس کی وجہ سے اکثر دوست اس بات کی جو میں کہتا ہوں‘ اہمیت کو نہیں سمجھتے اور اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے..... میں نے متواتر توجہ دلائی کہ آئندہ کے خطرات کو محسوس کرو۔ اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور ان قربانیوں کی طاقت اپنے اندر پیدا کرو جن کے نتیجہ میں محفوظ رہ سکو۔ مگر بعینہ اسی طرح جس طرح ایک افیونی کو جگایا جاتا ہے مگر وہ پھر سو جاتا ہے‘ پھر جگایا جاتا ہے‘ پھر سو جاتا ہے۔

صفحہ 78

جماعت کے دوستوں کو جگایا جاتا اور ہوشیار کیا جاتا ہے۔ اور وہ قربانی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘ مگر پھر سو جاتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ کب تک کوئی گلا پھاڑتا رہے گا۔ اگر یہی حالت رہی تو تم سمجھ سکتے ہو اس کا کیا انجام ہوگا۔“

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۲۷‘ ص ۱ - ۲‘ مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۳۶ء)

میاں صاحب کو قادیانی جماعت سے ظاہری نمائش اور بے عملی کی سخت شکایت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”پس میں اپنی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم باتیں کرتے ہو مگر کام نہیں کرتے۔ یہاں مجالس شوریٰ ہوتی ہیں۔ دھڑلے سے تقریریں کی جاتی ہیں۔ لوگ رو بھی پڑتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلیجہ باہر آنے لگا ہے مگر جب یہاں سے جاتے ہیں تو سست ہو جاتے ہیں۔ لوگ چندے لکھواتے ہیں مگر دینے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں میں نام پیدا کرنے کے لیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم احمدیت کے لیے ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہیں مگر وہ قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۴‘ ص ۹‘ مورخہ ۲ جولائی ۱۹۳۶ء)

قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ رہی ہے۔ بقول میاں صاحب ایک معتدبہ حصہ اس عام مرض میں مبتلا ہے اور میاں صاحب کی بات نہیں سنتا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”باقی رہیں دوسری قربانیاں‘ ان کا بھی یہی حال ہے۔ ابھی تک میں یہی سنتا ہوں کہ فلاں کی فلاں سے لڑائی ہے۔ حتیٰ کہ نماز بھی الگ پڑھی جاتی ہے۔ ایک دوست نے سنایا کہ ایک جگہ پانچ احمدی ہیں اور پانچوں الگ الگ نماز پڑھتے ہیں..... میں نے بارہا کہا کہ خدائی عبادت میں ایسا نہ

صفحہ 79

کرو مگر بعض لوگوں پر ایسی لعنت پڑی ہے کہ ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا.......

پھر میں نے توجہ دلائی ہے کہ صلح کرو اور آپس میں محبت پیدا کرو مگر اس کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کی جاتی۔ غرض کہ جماعت کا ایک معتدبہ حصہ ایسا ہے۔ یہ نہیں کہ ساری کی ساری جماعت ایسی ہے مگر غرباء میں بھی اور امراء میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے ملک کے اس عام مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ وعظ مزے لینے کے لیے سنتے ہیں۔ عمل کے لیے نہیں۔ اگر عمل کے لیے سنتے تو آج تک ولایت اور سلوک کی کئی منازل طے کر چکے ہوتے۔ (گویا واعظ صاحب خود طے کر چکے ہیں—— للمؤلف) مگر وہ مزے کے لیے سنتے یا اخبار میں پڑھتے ہیں“۔ (وعظ ہوتے بھی ہیں مزیدار۔ کیا کیا جائے اگر کسی کو بے اختیار مزہ آجائے—— للمؤلف)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، جلد ۲۳، نمبر ۲۷۰، ص ۵ - ۶ - ۷، مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۳۶ء)

سرد مہری کی یہ نوبت ہے کہ میاں صاحب کے زیر اہتمام حسب معمول قادیان میں سالانہ جلسہ ہوتا ہے تو مقامی قادیانی امداد سے جان چراتے ہیں۔ نہ مہمانوں کو مکان دیتے ہیں، نہ کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ میاں صاحب بڑی ترکیب سے سب کو سمجھاتے مناتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”پس میرے لیے یہ بات ماننی ذرا مشکل ہے کہ دوست اپنے مکان خالی نہیں کرتے یا مہمانوں کے لیے اپنی خدمات پیش نہیں کرتے۔ اس لیے میں تو سمجھتا ہوں شاید وہی بات ہے کہ افیونی اپنی ڈبیا بھول جاتا ہے اور مکان لینے والے اچھی طرح تمام لوگوں کے پاس نہیں پہنچے۔ وگرنہ ایمان کے ماتحت تو اس قسم کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ کامل ایمان تو بڑی چیز ہے۔

پس میں تو منتظمین کو ہی ملامت کروں گا اور کہوں گا کہ ان کے کام

صفحہ 80

میں کچھ نقص ہے اور انہوں نے صحیح طور پر کوشش نہیں کی ورنہ ہر مکان میں ہر سال کچھ نہ کچھ مہمان ٹھہرتے ہیں اور ہر سال لوگ مکان دیتے اور ہر سال اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اب تو نیشنل لیگ کور بھی قائم ہو چکی ہے جس کے والنٹیروں نے حلفیں اٹھائی ہوئی ہیں کہ وہ سلسلہ کی خدمت کریں گے۔ آخر یہ حلف انہوں نے مکھن لگا لگا کر چاٹنی تو نہیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہونی چاہیے اور وہ غرض یہی ہے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کریں۔ غرض میں سمجھتا ہوں اگر کسی شخص میں کوئی کمزوری ہے تو میرا اتنا کہنا ہی اس کے لیے کافی ہے اور اگر افسروں نے کمزوری دکھائی ہے تو انہیں چستی سے کام لینا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ یہ کام آخر ہو جائے گا"۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار "الفضل"

قادیان، جلد ۲۴، نمبر ۱۴۲، ص ۲، مورخہ ۱۳ دسمبر ۱۹۳۶ء)

قادیانی جماعت اب پہلا سا چندہ بھی نہیں دیتی۔ سال بسال کمی ہو رہی ہے۔ مجبوراً میاں صاحب نے بھی کارکنوں کو تخفیف کا نوٹس دے دیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"اس سال چندہ کی وصولی کی رفتار نسبتاً سست ہے اور اب جو کمی پیدا ہو رہی ہے، اگر جاری رہی تو گزشتہ سال سے بھی کم چندہ وصول ہو گا"۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا اعلان مندرجہ اخبار "الفضل"

جلد ۲۳، نمبر ۳۰۰، ص ۱، مورخہ ۲۶ جون ۱۹۳۶ء)

"میں قادیان کے لوگوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں کہ اگر چندہ میں کمی ہو تو ان کاموں کو جن کو شروع کیا جا چکا ہے، بند کر دیا جائے۔ میں پہلے بھی اشارۃً بیان کر چکا ہوں کہ روپیہ کی کمی کی وجہ سے کام ہرگز بند نہیں کیے جاسکتے۔ اگر روپیہ کی آمد میں کمی ہوئی تو کارکنوں کی تنخواہیں دس فی صدی کم کر دی جائیں گی اور اگر دس فیصدی کمی کر کے بھی گزارا نہ ہوا تو ان کی تنخواہوں میں بیس فیصدی کمی

صفحہ 81

کر دی جائے گی اور اگر بیس فیصدی کی بھی ضروریات کو پورا نہ کر سکی تو تیس فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر تیس فیصدی کی کافی ثابت نہ ہوئی تو چالیس بلکہ پچاس فیصدی کمی کر دی جائے گی۔ صدر انجمن احمدیہ کے جو کارکن پہلے سے کام کر رہے ہیں یا وہ کارکن جنہوں نے اس تحریک جدید پر کام شروع کیا ہے‘ میں آج سے ان سب کو ہوشیار کر دیتا ہوں کہ اگر انہیں اپنی تنخواہوں میں یہ کمی منظور نہ ہو تو وہ بے شک اپنی نوکریوں کا باہر انتظام کر لیں۔ (اس بے روزگاری کے زمانہ میں ان لوگوں کو نوکری اور کہاں مل سکے گی۔۔۔۔۔ للمولف)

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۴۳‘ ص ۹‘ مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۳۶ء)

لیکن قادیانیوں کی پرانی چاٹ نہیں چھوٹی۔ وہی فرمائشوں کا سلسلہ جاری ہے کہ حکومت میں ہماری سفارش کی جائے۔ حالانکہ حکومت سے وہ سابقہ تعلقات باقی نہیں رہے اور میاں صاحب ادھر سے سخت مایوس ہوچکے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”افسوس کہ ہمارے دوستوں کی آنکھیں ابھی تک نہیں کھلیں۔ میرے بار بار کے خطبات کے باوجود بعض دوست لکھتے رہتے ہیں کہ ہماری سفارش کر دو۔ حالانکہ آج کل حکومت کے بعض افسر بھی جماعت احمدیہ کے شدید دشمن ہیں۔۔۔۔۔ وہ ان باتوں کو شاید مبالغہ اور مذاق سمجھتے ہیں۔ جو باتیں مجھے معلوم ہیں‘ وہ تو بہت بڑی ہیں مگر جتنی میں نے بتائی ہیں‘ ان کا ہزارواں حصہ بھی اگر ایک شخص کے متعلق ثابت ہو تو میں موت کو اس کے پاس سفارش کرنے پر ترجیح دوں۔۔۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کی مثالیں محدود ہیں۔ نہ ہندوستان کی ساری گورنمنٹیں ایسی ہیں‘ نہ پنجاب گورنمنٹ کے سارے افسر ایسے ہیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسے وقت میں کون کہہ سکتا ہے کہ کون کیسا ہے؟ پس ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ انسان غیرت سے کام لے اور کہے کہ ہم سفارش نہیں کراتے۔۔۔۔۔

صفحہ 82

جماعت کے بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اور جس کا میں نے بارہا اپنے خطبات میں ذکر بھی کیا ہے‘ وہ ان سب باتوں کو مبالغہ مخول (مذاق) اور کھیل ہی سمجھتے ہیں۔ میں جب یہ حالت دیکھتا ہوں تو اگرچہ لفظوں سے تو نہیں کہتا مگر میرا دل چاہتا ہے کہ اگر جائز ہو تو خدا تعالیٰ سے کہوں کہ وہ جماعت کے ابتلاؤں کو اور بھی بڑھا دے تا ایسے دوستوں کے حواس درست ہوں....... میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکومت کا ابتلا اسی وجہ سے آیا ہے۔ تا اللہ تعالیٰ ہمیں بتا دے کہ انگریزی حکومت میں بھی ایسے کل پرزے آسکتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچائیں۔ گو یہ آج تھوڑے ہیں مگر کسی کو کیا معلوم کہ کل زیادہ ہو جائیں۔ اگر آج حکومت پنجاب میں ہیں تو کل حکومت ہند میں بھی ہو سکتے ہیں“۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان

جلد ۲۳‘ نمبر ۲۷۰‘ ص ۲ - ۳‘ مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۳۶ء)

بالآخر میاں صاحب نے قادیانی جماعت میں گرم جوشی پیدا کرنے کی غرض سے ”تحریک جدید“ کے نام سے تین سال کا ایک نظام العمل شائع کیا اور اس کے تحت چندہ طلب کیا لیکن خلاف توقع قادیانیوں نے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی اور چندہ بھی کم دیا تو خلیفہ صاحب کو بھی تاب نہیں رہی اور غصہ میں آ کر جماعت کو قطع و برید کی دھمکی دی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”آج سے تقریباً پونے دو سال پہلے جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا‘ جماعت میں ایک شور تھا۔ ایک غوغا تھا۔ ایک ہنگامہ تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ہم کو حکم دیجئے۔ ہم اپنا سب کچھ احمدیت کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن آج جاؤ اور تحریک جدید کے مالی وعدوں کو دیکھ لو۔ رجسٹر موجود ہیں ان سے معلوم کر لو۔ پرانے خطوط محفوظ ہیں‘ انہیں نکال کر پڑھ لو..... میں یہ نہیں کہتا کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک

صفحہ 83

جدید میں وعدہ کیا اور پھر اسے پورا نہیں کیا۔ منافق ہیں مگر کئی تھے، جنہوں نے پہلے سال وعدہ کیا اور پھر وعدہ پورا بھی کیا مگر دوسرے سال کی تحریک میں آکر رہ گئے۔ ایسے لوگ یک سالہ مومن تھے۔ ان کی دوڑ پہلے سال میں ہی ختم ہو گئی۔ دوسرے سال کی دوڑ میں وہ شریک نہ ہو سکے۔۔۔۔۔ اب انشاء اللہ تیسرے سال کی تحریک آنے والی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کئی ہیں جو اس میں بھی رہ جائیں گے۔ وہ دو سالہ مومن ہوں گے، جو تیسری تحریک کے وقت گر جائیں گے۔ غرض کچھ لوگ اس سال گر گئے اور کچھ لوگ اگلے سال گر جائیں گے۔ پھر کچھ سہ سالہ مومن ہوں گے جو تین سال قربانیوں پر صبر کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ یہ سب لوگ جھڑتے چلے جائیں گے اور گرتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ صرف وہ مومن رہ جائیں گے جو حیاتی مومن ہوں گے۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ خبیث اور طیب میں ضرور فرق کر کے دکھلائے گا۔ (گویا چندہ کے حساب سے صرف حیاتی قادیانی طیب رہے باقی یک سالہ، دو سالہ، سہ سالہ قادیانی سب خبیث بن کر نکل گئے۔۔۔۔۔ للمولف) جو لوگ گھبرا رہے ہیں اور خیال کر رہے ہیں کہ اس ذریعہ سے میں جماعت کو چھوٹا کر رہا ہوں، وہ نادان ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ جماعت ترقی کس طرح کرتی ہے۔ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ جماعت کی مضبوطی اور کمزوری کا کیا معیار ہوا کرتا ہے۔ کیا ایک لمبی زنجیر جس کی بعض کڑیاں کمزور ہوں، وہ مضبوط ہوتی ہے یا وہ چھوٹی زنجیر جس کی ساری کڑیاں مضبوط اور پائیدار ہوں"۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، جلد ۲۴، ص ۷ - ۸، نمبر ۲۳، مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۳۶ء)

”مجھے تحریک جدید کے مالی شعبے اور امانت فنڈ دونوں کی رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں شعبوں کے چندوں میں کمی آ رہی ہے اور ایک سالہ اور دو سالہ مومن کمزوری دکھا رہے ہیں مگر مجھے اس کی کوئی گھبراہٹ

صفحہ 84

نہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ گر جائیں اور ہمارا ساتھ چھوڑ دیں اور صرف ایسی ہی مخلص جماعت رہ جائے جو پورے طور پر اطاعت کرنے اور اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہو...... پس جو کمزور ہیں وہ میری تحریک کی اہمیت کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق عمل کریں ورنہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ یا تو ایک دن مرتد ہو کر انہیں جماعت سے خارج کرنا پڑے گا یا خود انہیں جماعت سے الگ کر دیا جائے گا..... پس ایک بار پھر میں جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ دیں۔ ورنہ اس بات کے لیے تیار رہیں کہ آج نہیں تو کل خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ٹھوکر لگے گی اور ان پر ایسا ابتلا آئے گا کہ وہ ایمان سے بالکل محروم کر دیے جائیں گے"۔

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

(للمؤلف)

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۴ ص ۹ - ۱۰ - ۱۱‘ نمبر ۴۴‘ مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۳۶ء)

بظاہر تو میاں صاحب کا اعلان مارشل لاء معلوم ہوتا تھا اور توقع تھی کہ قادیانی مرعوب ہو کر چندہ کی ادائی شروع کر دیں گے لیکن شاید وہ اس دھمکی کے راز سے واقف تھے۔ معلوم ہوتا ہے کچھ اثر نہیں لیا۔ بالآخر حصول چندہ کے واسطے پھر منت لجاجت کا طریق اختیار کرنا پڑا۔ چنانچہ اس بارہ میں فنانشل سیکرٹری تحریک جدید قادیان نے جو تازہ ترین اپیل شائع کی ہے‘ وہ بہت سبق آموز ہے۔ اس کا عنوان ہے ”چندہ تحریک جدید میں تا حال حصہ نہ لینے والی جماعتوں سے متعلق اعلان“ اس میں درج ہے کہ:

”حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پیش کرنے کے بعد گزارش ہے کہ اس وقت چار سو سے اوپر جماعتیں ایسی ہیں‘ جن کے

صفحہ 85

وعدے موصول نہیں ہوئے اور اس کی بڑی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ سیکرٹری اور پریذیڈنٹ صاحبان نے (جو غالباً سمجھ دار ہوں گے۔۔۔۔ للمؤلف) نہ خود چندہ کا وعدہ کیا ہے اور نہ دوسرے سے لکھایا ہے۔ (ہرچہ بر خود نہ پسندی بر دیگراں پسند۔۔۔۔ للمؤلف) اس لیے کام کو پیچھے ڈالتے چلے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں دوسرے مخلصین سے درخواست ہے کہ وہ اپنی جماعت کے ہر فرد سے معمولی طور پر وعدہ چندہ تحریک جدید سال سوم کی بابت دریافت فرما لیں اور جو وعدے ہوں فارم پر لکھ کر بھیج دیں تو وہی سیکرٹری اور وہی پریذیڈنٹ کے کام کا ثواب حاصل کر سکیں گے۔ (چندہ کے ثواب کی کیسی ناقدری ہو رہی ہے کہ کوئی آمادہ نہیں ہوتا جو یہ کام اپنے ذمے لے۔۔ زور و زاری بیکار ثابت ہوئی زر نہ ہاتھ آنا تھا نہ آیا۔۔۔۔ للمؤلف)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۵‘ نمبر۱۳‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۳۷ء)

نتیجہ یہ کہ قادیانی جماعت خود خلافت کو خفیف سمجھنے لگی۔ خلیفہ صاحب کی بات بے اثر ہوگئی۔ گلا پھاڑ پھاڑ کر سمجھائیں تو بھی نہیں سنتے۔ لامحالہ خلیفہ صاحب بھی ایسی جماعت سے بیزار ہوگئے اور ایک نئی جماعت کے واسطے دعا کرنے لگے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”میں نے ہمیشہ بتایا ہے اور اب بھی دو سال سے متواتر بتاتا چلا آ رہا ہوں کہ خلافت کی غرض و غایت کچھ نہ کچھ ضرور ہونی چاہیے اور جب کوئی شخص خلیفہ کی بیعت کرتا ہے تو اس کی بیعت کے بھی کوئی معنی ہونے چاہئیں۔ اگر تم بیعت کے بعد اور میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کے بعد میری سنتے ہی نہیں اور اپنی ہی کہی چلے جاتے ہو تو ایسی بیعت کا فائدہ ہی کیا۔ اس صورت میں تو ایسی بیعت کو تہہ کر کے الگ پھینک دینا زیادہ فائدہ مند ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ انسان دنیا میں ذلیل ہو اور خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی لعنتی بنے۔“

صفحہ 86

(ص ۴)

”پس سچی قربانی کرو اور فضول اور لغو باتیں چھوڑ دو کہ خدا تعالیٰ فضول اور لغو باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔ یہ باتیں میں نے اتنی بار کہی ہیں کہ اب کہتے کہتے میرا گلا بھی اس قدر متورم اور زخمی ہوچکا ہے کہ خطبہ جمعہ اور اس کے بعد نماز میں قرأت بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتا اور گلا بیٹھ جاتا ہے۔ پس میں تو اب اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ایسے لوگ مجھے عطا کرے جو سچے طور پر میری باتیں سن کر ان پر عمل کرنے والے ہوں۔ مجھے اس سے کیا فائدہ کہ لاکھوں آدمی میرے ساتھ ایسے ہوں جو میری باتوں پر عمل کرنے والے نہ ہوں۔ سچے مومن تو میرے ساتھ اگر دس بیس ہوں تو وہی لاکھوں آدمیوں سے میرے لیے زیادہ خوشی کا موجب ہو سکتے ہیں“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۳‘ نمبر ۲۹۹‘ ص ۹‘ مورخہ ۲۵ جون ۱۹۳۶ء)

یہی نہیں کہ قادیانی جماعت میں اندرونی ابتری پھیل گئی بلکہ چل چلاؤ شروع ہو گیا اور قادیانیت کو بچانا دشوار ہو گیا۔ شدت اضطراب میں پردہ اٹھ گیا۔ ورنہ ایسے راز بہت کم ظاہر ہوتے ہیں۔ بہرحال اس ہلچل کا ایک مختصر خاکہ ملاحظہ ہو:

”ہمیں نظر یہ آتا ہے کہ ہم دشمن کے عمل سے متاثر ہو رہے ہیں اور اس کی غلطیاں بار بار ہمارے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم میں سے جو کمزور لوگ ہیں‘ بسا اوقات وہ ان غلطیوں کا شکار ہو جاتے اور دشمن کے بد اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں..... دشمن ہمارے گھروں میں گھس کر ہماری جماعت کے نوجوانوں اور کمزور طبع لوگوں میں نقص پیدا کرتا رہتا ہے اور ہمارا سارا وقت اس اندرونی نقص کی اصلاح ہی میں صرف ہو جاتا ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل

صفحہ 87

(قادیان جلد ۲۳‘ نمبر ۷۹‘ ص ۳ ۔ ۴‘ مورخہ ۲ جون ۱۹۳۶ء)

”غرض کہ عقیدے کی جنگ میں جہاں ہم نے دشمن کو ہر میدان میں شکست دی اور نہ صرف میدانوں میں اس کو شکست دی بلکہ ہم اس کے گھروں پر حملہ آور ہوئے اور ہم نے اسے ایسا لتاڑا‘ ایسا لتاڑا کہ اس میں سر اٹھانے کی بھی تاب نہ رہی۔ دشمن کے ہر گھر میں گھس کر ہم نے اس کے باطل عقائد کو کچلا اور اسے ایسی کھلی شکست دی کہ دشمن کے لیے اس سے زیادہ کھلی اور ذلت کی شکست اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ وہاں عمل کے میدان میں ہم دشمنوں میں محصور ہوگئے اور ہمارے لیے ان سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہ رہی۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں آدمی۔ وہ ہم میں سے نقائص اور عیوب میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہم ایک جگہ سے بھاگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسری جگہ امن ملے گا مگر وہاں بھی نقص آ موجود ہوتا ہے۔ پھر وہاں سے بھاگ کر تیسری طرف جاتے ہیں تو وہاں بھی دشمن موجود ہوتا ہے۔ تیسری جگہ سے بھاگ کر چوتھی جگہ جاتے ہیں تو اس جگہ بھی دشمن ہمارے مقابلہ کے لیے موجود ہوتا ہے۔ گویا جس طرح چاروں طرف جب آگ لگ جاتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے اور وہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا کرے۔ یہی اس وقت ہماری حالت ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار الفضل‘

قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۷۹‘ ص ۵‘ مورخہ ۲ جون ۱۹۳۶ء)

نتیجہ یہ کہ جو صداقت پسند تھے‘ حقیقت کھلنے پر وہ قادیانیت کے پھندے سے نکل نکل کر اسلام کی طرف لوٹنے لگے۔ قادیانیوں نے بہت پیچھا کیا لیکن جب بس نہ چلا تو صبر کر لیا کہ جاتے ہیں تو جانے دو جو بچ رہے‘ وہی غنیمت ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”اب تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شیطان آتا ہے اور ہمارے ایک آدمی کو بہکا کر لے جاتا ہے۔ ہم سارا دن اس کی تلاش اور جستجو میں لگے رہتے ہیں

صفحہ 88

لیکن جب شام ہونے کے قریب ہوتی ہے اور ہم اسے تلاش کر کے واپس لا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں آواز آتی ہے کہ ہم میں سے دو اور آدمیوں کو شیطان بہکا کر اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ پھر ہم ان کی تلاش میں نکلتے ہیں تو آواز آتی ہے فلاں آدمی کو بھی شیطان پکڑ کر لے گیا ہے۔ غرض ہم میں اور شیطان میں ایک جنگ جاری ہے اور جنگ بھی ایسی کہ جس میں ہماری مثال دشمن سے بھاگے ہوئے شکست خوردہ لوگوں کی سی ہے۔ ہم ایک کو بچاتے ہیں تو دشمن دو کو لے جاتا ہے۔ ہم دو کو بچاتے ہیں تو وہ تین آدمی لے جاتا ہے۔ ہم تین کو بچاتے ہیں تو وہ چار کو لے جاتا ہے"۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۷۹‘ ص ۴ - ۵‘ مورخہ ۲ جون ۱۹۳۶ء)

”ذاتی طور پر مجھے اس بات کا قطعاً درد محسوس نہیں ہو سکتا۔ اگر ہماری جماعت موجودہ تعداد سے گھٹ کر آدھی رہ جائے یا چوتھا حصہ رہ جائے یا اس سے بھی زیادہ گر جائے۔ کیونکہ میں اس یقین پر قائم ہوں کہ مخلصین وہ کچھ کر سکتے ہیں جو تعداد نہیں کر سکتی“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۶۹‘ ص ۳ - ۴‘ مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۳۶ء)

ہندوستان میں قادیانی تحریک نے جو کام کیا اور اس کا جو انجام ہوا‘ آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ اس تحریک کو تھوڑا بہت جاری رکھنے کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی۔ وہ یہ کہ دور دراز ممالک میں ایک ایک‘ دو دو قادیانی بھیج دیئے جاویں۔ وہ وہاں سے تبلیغ کی دل خوش کن خبریں لکھ کر بھیجتے رہیں تو قادیانیوں کی کچھ ڈھارس بندھے کہ گھر میں قدم اکھڑے تو باہر قادیانیت قدم جما رہی ہے۔ اس ترکیب سے چندہ بھی جمع ہوتا رہے گا اور بے روزگاری کے زمانہ میں کچھ قادیانی نوجوان بھی روزی سے لگ جائیں گے۔ بیک کرشمہ دو کار۔ چنانچہ تحریک جدید کے نام سے جو چندہ طلب کیا جا رہا ہے‘ اس میں یہی سبز باغ دکھایا گیا ہے۔ دسمبر ۱۹۳۶ء کے سالانہ جلسہ

صفحہ 89

کی روئیداد میں تحریر ہے کہ:

"حضور یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے ان تمام نئے تبلیغی مشنوں کا ذکر فرمایا جو ۱۹۳۶ء کے دوران میں غیر ممالک میں تحریک جدید کے ماتحت قائم کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے حضور نے جنوبی امریکہ کے مشن کے حالات بیان فرمائے جو ارجنٹائن میں قائم کیا گیا ہے۔ پھر ہنگری، البانیہ، یوگوسلاویہ اور ہسپانیہ کے مشنوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریک جدید کے مجاہدین کی قربانیوں اور ایثار کا ذکر فرمایا۔

اس کے بعد فرمایا چین کے اس علاقہ میں جہاں چینی حکومت ہے، سابق مبلغ کے علاوہ ایک اور مبلغ بھی بھیجا گیا ہے۔ پھر ایک اور مبلغ کو جو ڈاکٹر ہیں تحریک جدید کے ماتحت ابی سینا بھیجا گیا، جہاں سے حبشہ اور اٹلی کی جنگ ختم ہونے پر انہیں نکلنا پڑا اور اب وہ فلسطین آ گئے ہیں۔

حضور نے ان مشنوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اتنے ملکوں میں بغیر کسی ایسے بوجھ کے جو جماعت کو محسوس ہو، نہایت قلیل عرصہ میں تبلیغ کا کام جاری ہو جانا ہماری جماعت کے لیے ایک ایسی مبارک بات ہے کہ جس پر جتنی بھی وہ خوشی کرے کم ہے"۔

(اخبار "الفضل" قادیان، جلد ۲۴، نمبر ۱۵۴، مورخہ ۲۹ دسمبر ۱۹۳۶ء)

شاید اسلامی ممالک میں بھی قادیانی بھیجے ہوں اور کسی مصلحت سے ان کا اظہار نہیں کیا گیا۔ صرف ضمناً فلسطین کا ذکر آ گیا جہاں غالباً پہلے سے قادیانی مشن قائم ہے۔ حالانکہ اسلامی ممالک پر تو شروع ہی سے توجہ رہی ہے۔ چنانچہ خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:

"چونکہ میں نے دیکھا کہ بلاد اسلامی، روم و مصر وغیرہ کے لوگ ہمارے واقعات سے مفصل طور پر آگاہ نہیں ہیں اور جس قدر ہم نے اس گورنمنٹ سے آرام پایا اور اس کے عدل و رحم سے فائدہ اٹھایا، وہ اس سے بے خبر ہیں۔ اس لیے میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف

صفحہ 90

کر کے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کیے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کیے اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعا حرام ہے اور ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام اور روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزار ہا روپے کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا“۔ (نیک نیتی تو صاف ظاہر ہے—— للمولف) شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیر خواہی غیر ممکن ہے کہ ہزار ہا روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلایا جائے۔ لیکن ایک عقلمند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایمان دار آدمی اس سے تمتع اٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق و محبت کے رنگ میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے تاکہ اس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش نے ان کارروائیوں کے لیے مجبور کیا“۔

(اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصر ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لیے شائع کیا گیا۔ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی، مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۸۹۲ء، ”مجموعہ اشتہارات“ ص ۲۶ تا ۲۸، ج ۲، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد سوم، صفحہ ۱۹۶، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی)

دوسرے ملکوں میں گھسنے کے سوا ہندوستان میں بھی قادیانیوں نے اپنا رخ بدلنا ضروری سمجھا۔ وہ یہ کہ کانگریس کی طرف جھکیں اور ہندوؤں کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ امید ہے کہ شاید حکومت کو کچھ لاج آئے یا مسلمانوں کے مقابل کچھ امداد مل جائے۔ اس مقصد کے واسطے پنڈت جواہر لال نہرو سب سے بہتر مرجع نظر آئے۔ چنانچہ قادیانی

صفحہ 91

جماعت فرط جوش سے پنڈت جی کی طرف لپکی۔ اس انقلاب کی تفصیل تو بارہویں فصل کے آخر میں درج ہے البتہ خود قادیانیوں کی لاہوری جماعت نے اس پر جو طنز کیا ہے‘ وہ قابل ملاحظہ ہے:

”موجودہ زمانہ کو انقلابات کا دور کہا جاتا ہے۔ سورج ہر روز ایک نئے انقلاب کی خبر لے کر طلوع ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بعض انقلابات ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کو محو حیرت کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ لاہور میں پنڈت جواہر لال نہرو کا قادیانی استقبال اسی قسم کا ایک حیرت انگیز انقلاب ہے۔۔۔ ۲۹ مئی کو جب پنڈت جواہر لال نہرو صدر کانگریس لاہور تشریف لائے تو قادیانی جماعت کی طرف سے ان کا شاندار استقبال ہوا۔ اخبار ”الفضل“ میں اس کی تفصیل بصد فخر نمایاں طریق پر ”فخر وطن پنڈت جواہر لال نہرو کا لاہور میں شاندار استقبال“ کے عنوان سے شائع کی گئی“۔

(لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۴۰‘ مورخہ ۲۳

جون ۱۹۳۶ء)

چنانچہ اخبار ”الفضل“ قادیان میں جو استقبال کی تفصیل شائع ہوئی‘ اس میں درج ہے کہ:

”علی الصباح چھ بجے تمام باوردی (قادیانی) والنٹیرز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حد درجہ جاذب توجہ اور روح پرور تھا۔ ہر شخص کی آنکھیں اس طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا تقریباً تمام انتظام (قادیانی) کور کر رہی تھی اور کوئی آرگنائزیشن اس موقعہ پر نہ تھی۔ سوائے کانگریس کے ڈیڑھ دو درجن والنٹیروں کے اسٹیشن سے لے کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر انتظار کے لیے ہمارے والنٹیر موجود تھے۔ پلیٹ فارم پر جناب چودھری اسداللہ خان صاحب (قادیانی) بیرسٹر ایم۔ ایل۔ سی قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کور بہ نفس نفیس موجود تھے اور باہر جہاں آ کر پنڈت جی نے کھڑا ہونا تھا‘ جناب شیخ صاحب موجود تھے۔

صفحہ 92

ہجوم بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد اضافہ ہوگیا اور لوگوں نے صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ مگر ہمارے والنٹیئروں نے قابل تعریف ضبط اور نظم سے کام لیا اور حلقہ کو قائم رکھا۔ پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ بشیر احمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ (قادیان) نے لیگ کی طرف سے آپ کے گلے میں ہار ڈالا (قادیانی) کور کی طرف سے حسب ذیل ماٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے:

قادیانی کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر (قادیانی) کور کے ضبط اور ڈسپلن سے حد درجہ متاثر تھے اور بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تو یقیناً ہماری فتح ہوگی“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۳، نمبر ۲۷۸، ص ۲، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۳۶ء)

چنانچہ اس پر قادیانیوں کی لاہوری جماعت نے اعتراض کیا کہ ”پنڈت جی کے استقبال میں قادیانی رضاکاروں کی شرکت پر طرح طرح کی خیال آرائیاں اور چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جناب خلیفہ قادیان کانگریس کے اشد ترین مخالف تھے اور قادیانی حضرات نے کانگریس کے مقابلہ میں حکومت کی امداد کی اور کار خاص کی خدمات انجام دیں۔ آج وہ کانگریس کے ایک انتہا پسند اور اشتراکی خیالات رکھنے والے صدر کے استقبال میں حصہ لے رہے ہیں۔ افسوس قادیانیوں نے اپنے اصلی کام تبلیغ

صفحہ 93

اسلام اور خدمت دین کو پس پشت پھینک دیا اور سیاسیات میں نہایت بھونڈے طریقے سے حصہ لینا شروع کر دیا“۔

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۳۵‘ مورخہ ۳ جون ۱۹۳۶ء)

اس انقلاب سے قبل قادیانی جماعت نے چاہا تھا کہ حکومت سے اپنی وفاداری کا سودا کرے۔ چنانچہ آج سے دو سال قبل میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے حکومت کو پیام دیا تھا کہ:

”میں اس امر کے آثار دیکھتا ہوں کہ حکومت کو جلد وفادار جماعتوں کی امداد کی پھر ضرورت پیش آئے گی۔ میں یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں کہتا بلکہ زمانہ کے حالات کو دیکھ کر عقل کی بنا پر کہتا ہوں۔ میں نے کانگریس کی تحریک کو خود غور سے دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب کانگریس ایک ایسی اسکیم تیار کر رہی ہے جس سے گو بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ میدان سے ہٹ گئی۔ مگر عنقریب وہ گورنمنٹ کو ایسی مشکلات میں ڈال دی گی جس کے لیے پھر اسے وفاداروں کی ضرورت محسوس ہوگی اور ہم پھر اپنے جھگڑے کو ایک طرف رکھ کر اس کی مدد کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ مگر حکومت نے ہمیں سبق دے دیا ہے کہ سودا کیے بغیر تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ ہم خود بھی آئندہ حکومت سے سودا کریں گے اور دوسروں کو بھی سودا کرنے کا سبق پڑھائیں گے۔ سوائے اس صورت کے کہ حکومت ہم پر جو ظلم ہوا ہے‘ اسے دور کر دے تب ہمارے تعلقات پہلے کی طرح ہو جائیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہماری مدد سودا کرنے کے بعد ہوگی اور ہم اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کریں گے“۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیانی مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲‘

نمبر ۵۸‘ ص ۲۰‘ مورخہ ۱۱ نومبر ۱۹۳۴ء)

اس انقلاب کی دوسری وجہ جو مسلمانوں سے متعلق ہے‘ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان اس کی یوں تشریح کرتے ہیں:

صفحہ 94

”اگر پنڈت جواہر لال صاحب نہرو اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لیے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کردیں گے جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیے جانے کے لیے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گزشتہ رویہ کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا جب کہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو‘ ایک سیاسی انجمن (یعنی قادیانیوں کی نیشنل لیگ۔۔۔۔ للمولف) کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۲۸۷‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۱ جون ۱۹۳۶ء)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو کو اسلام سے کیا واقفیت۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے کیا تعلق۔ قادیانی جماعت سے کیا دلچسپی اور ان کی طرف داری کی کیا ضرورت؟ اول تو خود علامہ سر محمد اقبال نے پنڈت جی کے اس رویہ کی توجیہہ کی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”بہر حال میں پنڈت جی یا قارئین سے یہ بات پوشیدہ رکھنا نہیں چاہتا کہ پنڈت جی کے مضامین پڑھ کر میرے دل میں کچھ دیر کے لیے بہت الجھن رہی۔ یہ جانتے ہوئے کہ پنڈت جی ایک وسیع القلب انسان ہیں اور مختلف تہذیبوں سے ہمدردی رکھتے ہیں‘ لامحالہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں‘ انہیں وہ بالکل خلوص سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ تاہم جس طریقہ سے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے‘ اس سے کچھ اس قسم کی ذہنیت کا مظاہرہ ہوتا ہے جسے پنڈت جی کی طرف منسوب کرنا میرے لیے دشوار۔ میں خیال کرتا ہوں کہ قادیانیت کے

صفحہ 95

متعلق میں نے جو بیان دیا تھا، جس میں جدید اصول کے مطابق صرف ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس سے پنڈت جی اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل میں مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی وحدت کے امکانات کو بالخصوص ہندوستان میں پسند نہیں کرتے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہندوستان کے قوم پرست جن کی سیاسی تصورات ان کے احساس حقائق کو مردہ کر دیا ہے۔ اس بات کو گوارا نہیں کرتے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے دل میں خود اعتمادی اور خود مختاری کا خیال پیدا ہو۔ ان کا خیال ہے اور میری رائے میں غلط خیال ہے کہ ہندوستانی قومیت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے کہ ملک کی مختلف تہذیبوں کو بالکل مٹا دیا جائے۔ جن کے باہمی تعامل سے ہندوستان میں ایک اعلیٰ اور پائیدار تہذیب ترقی پذیر ہو سکتی ہے جس قومیت کی ان طریقوں سے تعمیر کی جائے گی، اس کا نتیجہ باہمی تلخی بلکہ تشدد کے سوا اور کیا ہوگا۔ اسی طرح یہ بات بھی بدیہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی وقار کے بڑھ جانے سے ان کا یہ مقصد فوت ہو جائے گا کہ رسول عربی (فداہ امی و ابی) کی امت میں سے قطع و برید کر کے ہندوستانی نبی کے لیے ایک جدید امت تیار کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ میری اس کوشش سے کہ مسلمانان ہند کو یہ جتا دوں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس وقت جب نازک دور سے وہ گزر رہے ہیں، اس میں ان کی اندرونی یک جہتی کس قدر ضروری ہے اور نیز ان افتراق پرور اور انتشار انگیز قواء سے محترز رہنا لازمی ہے جو اصلاحی تحریکوں کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پنڈت جی کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قسم کی تحریکوں سے ہمدردی فرمائیں۔" (ترجمہ)

(ڈاکٹر سر محمد اقبال کے مضمون ”اسلام اور احمدیت“ مندرجہ رسالہ

صفحہ 96

(”اسلام“ لاہور‘ جلد ۱‘ نمبر ۴‘ مورخہ ۲۲ جنوری ۱۹۳۶ء کا اقتباس) دوم قادیانیت کی حمایت کی اس سے بڑھ کر توجیہہ ڈاکٹر شنکر داس صاحب کے مضمون سے ہوتی ہے جس میں قومی نقطہ نظر سے قادیانی تحریک پر بحث کی گئی ہے جو اپریل ۱۹۳۲ء میں بندے ماترم اخبار میں شائع ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر شنکر داس صاحب لکھتے ہیں:

”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ کبھی ان کے ساتھ سودے معاہدے اور پکٹ کیے جاتے ہیں۔ کبھی لالچ دے کر ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی ان کے مذہبی معاملات کو سیاسیات کا جزو بنا کر پولیٹیکل اتحاد کی کوشش کی جاتی ہے مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کیے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔

اس تاریکی میں‘ اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے‘ وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آؤ ہم احمدیہ تحریک کا قومی نگاہ سے مطالعہ کریں۔ پنجاب کی سرزمین میں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے مسلمانو! خدا نے قرآن میں جس نبی کے آنے کا ذکر کیا ہے‘ وہ میں ہی ہوں۔ آؤ! میرے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ اگر نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں قیامت کے روز نہیں بخشے گا اور تم دوزخی ہو جاؤ گے۔ میں مرزا صاحب کے اس اعلان کی

صفحہ 97

صداقت یا بطالت پر بحث نہ کرتے ہوئے صرف یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مرزائی مسلمان بننے سے مسلمانوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ ایک مرزائی مسلمان کا عقیدہ ہے کہ:

ہے جو کہ اس وقت کا نبی ہوتا ہے۔

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نبی بنا کر بھیجا۔

ضرورت محسوس ہوئی اور اس لیے مرزا صاحب کو بھیجا کہ وہ مسلمانوں کی راہنمائی کریں۔

میرے قوم پرست بھائی سوال کریں گے کہ ان عقیدوں سے ہندوستانی قوم پرستی کا کیا تعلق ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام، کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے، اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ علاوہ بریں جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی، اب وہ خلافت قادیان میں آ جاتی ہے اور مکہ مدینہ اس کے لیے روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔

اور کوئی بھی احمدی چاہے عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو، وہ روحانی شکتی کے لیے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لیے پنیہ بھومی (سرزمین نجات) ہے اور اسی میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر احمدی کے دل میں ہندوستان کے لیے پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا صاحب بھی

صفحہ 98

ہندوستانی تھے اور اب جتنے خلیفے اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں‘ وہ سب ہندوستانی ہیں“۔

اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب مرزا قرآن کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو وہ اسلام سے الگ کیسے ہو سکتے ہیں؟ ”اس کا جواب ہے سکھوں کی موجودہ ہندوؤں سے علیحدگی۔ گورو گرنتھ صاحب میں رام‘ کرشن‘ ندر‘ وشنو سب ہندو دیوی دیوتاؤں کا ورنن آتا ہے۔ مگر کیا سکھوں نے رام کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیں کیا۔ گوردواروں سے رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں اٹھایا۔ کیا سکھ آپ کو ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے۔ اسی طرح وہ زمانہ دور نہیں جب کہ احمدی برملا یہ کہیں کہ صاحب ہم محمدی مسلمان نہیں۔ ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے گا کیا تم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت کو مانتے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمد‘ عیسیٰ‘ رام‘ کرشن سب کو اپنے اپنے وقت کا نبی تصور کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو‘ عیسائی یا محمدی ہو گئے۔

یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان احمدیہ تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ہی عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لیے جو ہروقت پان اسلام ازم و پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں‘ کتنی ہی مایوس کن ہو مگر ایک قوم پرست کے لیے باعث مسرت ہے“۔

(مضمون ڈاکٹر شنکر داس صاحب مہر‘ بی۔ ایس‘ سی‘ ایم۔ بی۔ بی۔ ایس

لاہور مندرجہ اخبار ”بندے“ مورخہ ۲۲ اپریل ۱۹۳۲ء منقول از اخبار

”ایمان“ مورخہ ۲۰ اپریل ۱۹۳۵ء)

صفحہ 99

واقعہ یہ ہے کہ ادھر مسلمانوں کی بیداری اور حکومت کی سرد مہری سے قادیانی مضطرب اور بد دل ہوئے تو ان کو ہندوؤں اور کانگریس کی حمایت اور سرپرستی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ادھر جو سیاسی جماعت اسلامی جمعیت مٹا کر ہندوستانی قومیت میں مسلمانوں کو جذب کرنا چاہتی ہے۔ اس کو اس کام کے واسطے قادیانی جماعت موزوں اور مستعد نظر آئی۔ لہٰذا معاملہ کی بات چیت شروع ہوئی۔ ورنہ کہاں قادیانی اور کہاں پنڈت جواہر لال نہرو۔ کل کی سی بات ہے کہ قادیانی جماعت حکومت کی ہوا خواہی کا دم بھرتی اور معاوضہ کی توقع رکھتی تھی تو کانگریس کی مخالفت پر فخر کرتی تھی۔

چنانچہ خود اس جماعت کے خلیفہ میاں محمود احمد صاحب فرماتے ہیں:

”میں نے پھر بھی کانگریس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا کوئی فرد اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقیناً ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی راہنمائی تھی، جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرأت ہوئی اور ان میں سے کئی کانگریس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں“۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، جلد ۱۶، نمبر ۱۴۷ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۳۱ء)

”اس کے بعد ہر موقع پر جب کانگریس نے شورش کی، ہم نے حکومت کی مدد کی۔ گزشتہ گاندھی موومنٹ کے موقع پر ہم نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کر کے ٹریکٹ اور اشتہار شائع کیے اور ہم ریکارڈ سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں۔ سینکڑوں تقریریں اس تحریک کے خلاف ہمارے آدمیوں نے کیں۔ اعلیٰ مشورے ہم نے دیے، جنہیں اعلیٰ حکام نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا“۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان،

جلد ۲۲، نمبر ۹۱، مورخہ ۲۹ جون ۱۹۳۵ء)

علیٰ ہذا ناظر صاحب امور خارجہ قادیان کی ایک گشتی بصیغہ راز جاری ہوئی

صفحہ 100

تھی جس میں قادیانیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ:

"اپنے علاقہ کی سیاسی تحریکات سے پوری طرح واقف رہنا چاہیے اور کانگریس کے اثر کے بڑھنے اور گھٹنے سے مرکز کو اطلاع دیتے رہیں۔ اگر کوئی سرکاری افسر سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتا ہو یا کانگریسی خیالات رکھتا ہو تو اس کا بھی خیال رکھیں اور یہاں (قادیان) اطلاع دیں۔"

(اخبار "الفضل" قادیان، جلد ۱۸، نمبر ۱۰، ص ۹، مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۳۰ء)

چنانچہ قادیانیوں کی لاہوری جماعت جو اپنی حریف قادیانی جماعت کا حکومت میں رسوخ پیدا کرنا پسند نہیں کرتی تھی، اس سیاسی سرگرمی کا خاکہ اڑاتی تھی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"آج کل کانگریس والوں کو جہاں گورنمنٹ سے مقابلہ ہے، وہاں قادیانیوں کا سامنا بھی ہے اور بیچارے سخت مشکل میں آئے ہیں۔۔۔۔۔۔ گاؤں گاؤں گھوم پھر کر قادیانی مبلغین کانگریس کے پروپیگنڈے کو بے اثر بنا رہے ہیں۔ وعظوں اور لیکچروں کے ذریعہ گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کا سبق دیا جا رہا ہے اور اولی الامر منکم کی تفسیر کے دریا بہائے جا رہے ہیں۔ غرض گورنمنٹ کی سختیوں اور قادیانیوں کی بوالعجبیوں نے کانگریس والوں کا تو ان دنوں یہ حال کر رکھا ہے ؎

غم صیاد فکر باغباں ہے دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار "پیغام صلح" مورخہ ۲۳ جون ۱۹۳۰ء)

جب تک قادیانی جماعت کا حکومت سے میل رہا، خود سیاسی لیڈر اس جماعت سے خائف اور بیزار تھے۔ چنانچہ پنڈت جواہر لال نہرو بھی اس جماعت کو سدراہ مانتے تھے اور ان کو کمزور کرنا مقدم سمجھتے تھے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"پھر یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے، لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ بعض بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے

صفحہ 101

سوال کیا کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کا انگریزی حکومت سے اس قسم کا تعلق ہے۔ ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں‘ ایک دفعہ قادیان آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لال نہرو جب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے اسٹیشن پر اتر کر جو باتیں سب سے پہلے کیں‘ ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ اگر انگریزی حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کیا جائے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ان کی ایجنٹ ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان نمبر ۳۱‘ جلد ۲۳‘ ص ۷ ۔ ۸‘ مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۳۵ء)

خیر یوں سیاسی مصالح کی خاطر کانگریس کے لیڈر قادیانی جماعت کے سر پر ہاتھ رکھیں اور قادیانی جماعت ان کی رفاقت کا دم بھرے۔ جس طرح کل تک حکومت کی رفاقت کا دم بھرتی تھی لیکن یہ سودا پٹتا نظر نہیں آتا تھا۔ اول تو مسلمانوں سے جدا ہو کر قادیانیوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے جو وہ سیاسیات میں وزن پیدا کریں۔ دوسرے یہ کہ ان کے عقائد معلوم ہونے پر ہندو بھی شاید گوارا نہ کریں کہ ان کے دھرم میں یہ اندرونی ریشہ دوانی شروع کریں۔ ہندوؤں کو عام طور پر علم نہیں ہے کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اپنے آپ کو سری کرشن مہاراج کا اوتار سمجھتے ہیں اور اوتار بھی ایسا جو قادیانیوں کے نزدیک خود سری کرشن مہاراج سے بڑھ کر امن پسند ہے۔ مرزا صاحب جس طرح مسلمانوں کو اپنی امت بنانا چاہتے ہیں‘ ہندوؤں کو بھی اپنی امت میں داخل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ چنانچہ بطور نمونہ ذیل میں چند قادیانی عقائد ملاحظہ ہوں:

”اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے‘ در حقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا‘ جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور

صفحہ 102

اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کا در حقیقت نبی تھا، جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ:

"ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے"

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا لیکچر سیالکوٹ، ۲؍ نومبر ۱۹۰۴ء، ص ۳۴،

روحانی خزائن، ص ۲۲۸ - ۲۲۹، ج ۲۰)

"آخر پر یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لیے جن سے زمین پر ہو گئی ہے۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں۔ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی (کرشن) ہوں۔"

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا لیکچر سیالکوٹ، ۲؍ نومبر ۱۹۰۴ء، ص ۳۳،

"روحانی خزائن" ص ۲۲۸، ج ۲۰)

"جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیے گئے ہیں

صفحہ 103

اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے، جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا، وہ تو ہی ہے، آریوں کا بادشاہ“۔

(تتمہ ”حقیقۃ الوحی“ ص ۸۵، ”روحانی خزائن“ ص ۵۲۱، ج ۲۲، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

اس سمے جب کہ ہندو قوم نانا پرکار کے پاپوں میں لین ہوچکی ہے اور سارے ورن اپنے دھرم سے گر چکے تھے، بھگوان کرشن نے اپنے دعویٰ انوسار جو کہ آپ نے گیتا میں کیا تھا کہ میں لوگوں کی ہدایت اور پاپوں کے ناش کے لیے اس سنسار میں جنم لیا کروں گا قادیان کی پوتر نگری میں ایک پرماتما کے اپاسک کے ہاں جنم لیا جن کا نام حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہے۔ آپ نے پرماتما سے گیان حاصل کر کے سارے سنسار کو سنایا کہ اے بھائیو! پرماتما نے تمہارے ادھار کے لیے مجھ کو بھیجا ہے تاکہ میں تم کو پاپوں سے دور کر کے پرماتما کے اور لے جاؤں اور ایشور کی کرپا سے لاکھوں انسانوں نے آپ کی اس آواز کو سویکار کر کے آپ کے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کردیا.......

جماعت احمدیہ کا اعتقاد جو کہ بھگوان کرشن کے متعلق ہے، ظاہر ہے کہ وہ صادق و راستباز تھے اور پرماتما کی طرف سے گیان لے کر آئے تھے۔ چنانچہ بھگوان کرشن قادیانی (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب—— للمؤلف) اپنے ایک بھاشن میں فرماتے ہیں:

”واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور

صفحہ 104

اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت سی باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا"۔

("روحانی خزائن" ص ۲۲۸‘ ج ۲۰‘ لیکچر سیالکوٹ‘ ص ۳۴)

شریمان آنند کند بھگوان کرشن قادیانی (یعنی مرزا صاحب۔۔۔۔۔ للمولف) نے اپنے اس بھاشن میں یہ بات اچھی طرح سپشٹ کر دی کہ بھگوان کرشن اپنے سمے کا اوتار اور پرماتما کا پیارا اور راستباز تھا اور جماعت احمدیہ کا ایک ایک بچہ ان کے متعلق یہی وچار رکھتا ہے اور جماعت احمدیہ جس طرح اور راست بازوں کی عزت کرتی ہے اور ان کی ہتک ہر گز برداشت نہیں کرتی‘ اسی طرح کرشن بھگوان کے متعلق بھی ہمارا یہی طریق عمل ہے"۔

(مہاشہ محمد عمر شرما صاحب قادیانی کا مضمون‘ مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۲۳۲‘ ص ۴‘ مورخہ ۸ اپریل ۱۹۳۶ء)

"ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آئے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں پر سے پردے اٹھ جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جائے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے کے لیے کھل جائیں جو دین اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا‘ وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے"۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی‘ امیر جماعت لاہور کا مضمون‘ رسالہ "ریویو آف

ریلیجنز"‘ جلد ۳‘ نمبر ۱۱‘ ص ۴۰۹ تا ۴۱۱‘ منقول از رسالہ "تبدیلی عقائد" مولوی محمد علی

صاحب ص ۶۳‘ مولفہ محمد اسمعیل صاحب قادیانی)

"ہندوستان کا مستقبل اس وسیع براعظم کے فرزندوں کے باہمی سمجھوتہ اور فرقہ وارانہ اختلافات کے حل پر منحصر ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی لامذہبیت ہماری بگڑی کو نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ ہم فطرتاً مذہب پسند ہیں۔ آریہ سماج کی خشکی‘ ملاؤں کی خونخواری‘ نئی نئی بننے والی سوسائٹیوں کی صلح کن پالیسی بھارت کی قسمت کو نہیں

صفحہ 105

پلٹ سکتی۔ ہمارے دکھوں کا علاج ہماری سیاسی غلامی کی آزادی‘ کرشن کی مرلی کی جدید دھن پر موقوف ہے۔ ہمارے زمانہ کا کرشن (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب—— للمولف) وہ (سابق زمانہ کا کرشن—— للمولف) نہیں جو ارجن کو مادی تیر چلانے اور کوروں کو خاک میں ملانے کا وعظ کرے بلکہ مرلی کی نئی دھن‘ زمین پر صلح اور اہل زمین کی طرف پیغام آشتی ہے۔ ہم نے آج سے ۳۲ سال قبل (یعنی ۱۹۰۴ء میں جب کہ مرزا صاحب نے کرشن ہونے کا دعویٰ اور اعلان کیا—— للمولف) اس جمال جہاں آرا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کو دیکھا اور درخواست کی—— ”تک نجریا کینہو ہری اور گوپال“ نظر التفات ہوئی بیڑا پار ہوا—— جو بھگت سورما کو ملا۔“ سب کو ملنا چاہیے۔ اسی لیے جی چاہتا ہے کہ ہندو خوش ہوں کہ احمدی مسلمان (یعنی قادیانی—— للمولف) سری کرشن کو اللہ کا نبی مانتا ہے اور ہندوؤں کی محبوب ترین ہستی سے محبت رکھتا ہے (اور اس کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو کرشن جی کا اوتار مانتا ہے اور امن پسندی میں ان سے افضل جانتا ہے۔—— للمولف)

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۸۹‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۳ اکتوبر‘

۱۹۳۶ء)

”یاد رکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) مہدی اور مسیح ہی نہیں بلکہ کرشن بھی ہیں۔ یعنی آپ ہندوؤں کے لیے بھی ہادی ہیں۔ اب ہم ان میں تبلیغ شروع کریں گے اور جب تک ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہ کریں‘ حضرت مسیح موعود کرشن کیسے ثابت ہو سکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود مسیح ہیں۔ آپ کی جماعت کو مسیحیوں پر غلبہ ملے گا۔ آپ مہدی ہیں۔ مسلمانوں کو دوبارہ ہدایت آپ کے ذریعے ملے گی۔ کرشن ہیں‘ ہندوؤں میں آپ کی جماعت کو غلبہ اور آپ کی قبولیت پھیلے گی۔ ہمارے لیے حق پھیلانے کی راہیں کھل رہی ہیں۔ ہم ہندوؤں میں کام کریں گے اور وحشیوں تک میں دین پھیلائیں گے“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیانی کا خطبہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۰‘

نمبر ۷۱‘ ص ۶‘ ۱۵ مارچ ۱۹۲۳ء)

صفحہ 106

یوں قادیانیوں کو اختیار ہے کہ کانگریس کی طرف دوڑیں یا ہندوؤں سے رشتہ جوڑیں لیکن کچھ نبھاؤ کی صورت ادھر بھی نظر نہیں آتی۔ کہیں وہی مثل نہ ہو کہ ”ازیں سو راندہ و ازاں سو در ماندہ“۔

حاصل کلام یہ کہ اس کتاب ”قادیانی مذہب“ کے چوتھے ایڈیشن کے بعد قادیانیت کے متعلق کیا کیا آثار نمودار ہوئے‘ خاص و عام مسلمانوں میں‘ قادیانی جماعتوں میں‘ جماعتوں کے تعلقات میں‘ اندرونی طور پر آپس میں‘ بیرونی طور پر مسلمانوں کے ساتھ‘ حکومت کے ساتھ‘ کانگریس کے ساتھ اور ہندوؤں کے ساتھ۔ یہ سب پہلو مختصر مگر واضح طور پر اس تمہید میں پیش کیے گئے۔ اسی طرح ہر ایڈیشن کے متعلق اکابر ملک و ملت نے جو بکثرت پسندیدگی کے خطوط لکھے‘ ان کی قدر افزائی کا شکریہ واجب ہے۔ اخبار و رسائل میں بھی تبصرے شائع ہوئے۔ چنانچہ ذیل میں چند درج کرتے ہیں تاکہ رائے عامہ کا بھی رخ پیش نظر رہ سکے:

دارالترجمہ سرکار عالی) کو اپنی ایک تقریر ”ختم نبوت“ کے سلسلہ میں ”قادیانی مذہب“ کے نام سے ایک کتاب لکھنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد کچھ حالات و واقعات ایسے پیش آئے کہ پروفیسر صاحب کو یہ سلسلہ دراز کرنا پڑا۔ یہ تائید غیبی سمجھنا چاہیے کہ پروفیسر صاحب کو اس سلسلہ کے لیے اتنا مستند مواد دستیاب ہو گیا کہ آج تک اس کتاب کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ پہلا ایڈیشن چھوٹی تقطیع کے (۱۲۰) صفحات پر‘ دوسرا ایڈیشن (متوسط تقطیع کے) ۴۴۰ صفحات پر اور تیسرا ایڈیشن متوسط تقطیع کے ۶۰۰ صفحات پر مشتمل تھا۔ اب اس کا چوتھا ایڈیشن بڑی تقطیع کے ۹۶۶ صفحات پر شائع ہوا ہے۔ اس طرح سے پروفیسر صاحب نے قادیانی مذہب کی ایک انسائیکلو پیڈیا تیار کر دی ہے۔

یوں تو قادیانی مذہب سے متعلق غیر قادیانی صاحبان نے بہت سی کتابیں لکھیں لیکن یہ کتاب ان سب سے مکمل اور مستند ہے۔ پروفیسر

صفحہ 107

صاحب نے کتاب کی ترتیب میں بڑا کمال دکھایا ہے۔ یعنی خود اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا بلکہ قادیانی مذہب کے تمام لٹریچر کو سامنے رکھ کر بڑے سلیقہ اور عمدگی کے ساتھ ترتیب دیا ہے کہ قادیانی مذہب کی پوری حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے اور قادیانی مذہب تضاد و اضداد کا ایک مجموعہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس کے مطالعہ کے بعد پھر کسی کتاب کے دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اس قسم کی کتابوں کی زبان بالعموم سخت اور دل آزار ہوا کرتی ہے لیکن اس کتاب کا انداز بیان نہایت شریفانہ ہے جس کے مطالعہ سے دوست دشمن کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ علمی تحقیق کے ساتھ سنجیدگی اور مخلصانہ استدلال نے کتاب کے اثر کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ کتاب علمی ہونے کے باوجود جاسوسی ناول کی طرح بے حد دلچسپ و دلفریب ہے۔

یہ جدید ایڈیشن تقریباً چار سو صفحات کے اضافہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اب یہ کتاب بڑی حد تک مکمل ہو گئی ہے۔ اضافہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر رہی ہے تو بہت ہی کم۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ تائید غیبی سے پروفیسر صاحب کو کوئی پر اسرار قادیانی ڈائری ہاتھ لگ جائے۔

گزشتہ تین سال سے ”قادیانی مذہب“ کے مطالب عام ہو گئے ہیں۔ ہر شخص ان سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس لیے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کتاب کے پہلے دو ایڈیشن بلا قیمت تقسیم ہوئے تھے۔ تیسرے ایڈیشن کی قیمت دو روپیہ رکھی گئی تھی۔ اب چوتھے ایڈیشن کی قیمت تین روپیہ مقرر کی گئی ہے جو تقریباً ہزار صفحہ کی اچھی چھپی ہوئی کتاب کی مناسبت سے بہت کم ہے“۔

(اخبار ”مشیر“ دکن، حیدر آباد، مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۴۶ء، جلد ۵۲، نمبر ۱۲۰)

پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، دکن باضافہ و ترتیب جدید، حجم تقریباً ایک ہزار

صفحہ 108

صفحات‘ قیمت تین روپیہ۔

یہ جناب پروفیسر الیاس برنی کے اس مختصر سے رسالہ کا چوتھا ایڈیشن ہے جو ابتداء میں قادیانی مذہب کے نام سے شائع ہوا مگر جس نے گزشتہ تین اشاعتوں میں قادیانیت کے ایک علمی محاسبہ کی حیثیت سے غیر معمولی وسعت اور ضخامت اختیار کر لی۔ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقوں نے ایک مدت تک احمدیت کے متعلق حسن ظن سے کام لیا اور حتی الوسع یہی سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ ایک فروعی اور ضمنی اختلاف ہے جس کی ذمہ داری ہمارے سیاسی اخلاقی اور ذہنی انحطاط پر عائد ہوتی ہے جو ان فساد انگیز حالات کے ختم ہونے پر خود بخود کافور ہو جائے گا۔ اس طرز عمل سے قادیانیوں کو جو فائدہ پہنچا‘ اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اس بے اعتنائی سے قادیانی یا احمدی تحریک کا اصل مدعا لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہا۔ لیکن اب کچھ دنوں سے اس صورت حالات کے خلاف ایک ردعمل رونما ہے۔ احمدیت کے ثمرات ملک کے سامنے ہیں اور اس کے بعض نتائج کو خود اس جماعت کا لاہوری فریق بھی قرآن پاک کے منافی سمجھتا ہے۔ حقیقت میں قادیانیت کی عمارت جس مسالے سے تیار ہوئی ہے‘ اس کو اسلام کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارباب غور و فکر کی ایک جماعت ان عجیب و غریب انکشافات‘ اعتقادات‘ اجتہادات و افتراقات پر انگشت بدنداں ہے جو بقول پروفیسر صاحب موصوف اس تحریک کی بدولت وجود میں آئے اور جن کا خود انہوں نے زیر نظر تالیف میں نہایت شرح و بسط سے جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے لفظی نزاعات اور بحث و مناظرہ کی راہ سے ہٹ کر قادیانیت کا تجزیہ جس انداز سے کیا ہے‘ وہ بیک وقت اچھوتا بھی ہے اور دلچسپ بھی اور اس سے پروفیسر صاحب کی جدت طبع اور ذوق علم دونوں کا اظہار ہوتا ہے۔ سوائے چند تمہیدات و ضمیمہ جات کے جہاں کتاب کی

صفحہ 109

تالیف و ترتیب کے متعلق بعض امور تشریح طلب تھے ”قادیانی مذہب“ کے تمام ابواب و فصول ان اقتباسات پر مشتمل ہیں جو مولف نے بکمال محنت و دیانت مرزا صاحب اور مرزا صاحب کے نائبین و مریدین کی تصانیف ان کے اشتہارات اور اخبارات اور رسائل سے اخذ کیے۔ پوری کتاب بیس فصلوں پر منقسم ہے اور ان میں یکے بعد دیگرے (۱) بانی تحریک (۲) ان کے حالات زندگی اور گوناگوں دعاوی (۳) قادیانیت کا تدریجی نشوونما (۴) احمدیوں کا جماعتی افتراق‘ ان کے مخصوص عقائد‘ اجتہادات و نزاعات اور (۵) ملت کی طرف ان کا جو طرز عمل رہا ہے‘ اس پر خود اس جماعت ہی کے الفاظ میں ایک مکمل اور مبسوط تبصرہ موجود ہے۔ ہماری رائے میں پروفیسر الیاس برنی کی تصنیف قادیانیت کا ایک جامع قاموس ہے جس سے مسلمانوں کا کوئی گھر خالی نہیں ہونا چاہیے۔ جو حضرات ادیان و مذاہب کا مطالعہ علمی نہج پر کرتے ہیں‘ ان کے لیے یہ کتاب خاص طور پر مفید ثابت ہوگی۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ باوجود اتنی ضخامت اور اعلیٰ درجہ کی طباعت و کتابت کے ”قادیانی مذہب“ کی قیمت نہایت کم رکھی گئی ہے۔ غالباً اس لیے کہ ہر شخص اس سے افادہ حاصل کر سکے۔ پروفیسر صاحب کا یہ ایثار قابل مبارک باد ہے“۔

(رسالہ ”طلوع اسلام“ لاہور‘ بابت ماہ اگست ۱۹۳۶ء)

استاذ معاشیات جامعہ عثمانیہ۔ تقطیع ۲۰ x ۲۶ / ۸ حجم ۹۶۶ صفحات۔ کاغذ سپید‘ کتابت و طباعت بہتر قیمت (۳ روپے)

یہ کتاب برنی صاحب کی کوئی تصنیف نہیں ہے بلکہ ان کی پرانی تالیف ”قادیانی مذہب“ کی جو پہلی مرتبہ ۱۳۵۳ھ میں شائع ہوئی تھی‘ مکمل تر اور شاید آخری شکل ہے۔ برنی صاحب محض ایک پروفیسر معاشیات نہیں ہیں بلکہ اس سے زیادہ وہ مذہب و ملت کا درد رکھنے والے خادم اسلام ہیں۔

صفحہ 110

اس سلسلہ میں انہوں نے نہایت مفید اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ادھر چند برسوں سے ان کی دینی حمیت نے انہیں وقت کی ایک اہم ترین ضرورت اور مذہب کی ایک بڑی خدمت یعنی قادیانی مذہب کے احتساب کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے آج سے چار سال پہلے ایک مختصر کتاب ”قادیانی مذہب“ لکھی جس میں مرزا غلام احمد اور ان کی امت کے اکابر کے قلم سے ان کی اور ان کے مذہب کی تصویر دکھائی تھی۔ اس کتاب کو اتنا حسن قبول حاصل ہوا کہ چار سال کے اندر اس کتاب کے چار ایڈیشن شائع ہوئے جن میں سے ہر ایک جامعیت و تکمیل میں پہلے سے بڑھ کر تھا۔ موجودہ چوتھا ایڈیشن سب میں جامع تر اور مکمل تر ہے۔ اس کی جامعیت کا اندازہ کتاب کی ضخامت اور اس کے فصول مباحث کی کثرت سے ہو سکتا ہے۔ پوری کتاب میں بیس فصلیں اور چند ضمیمے ہیں۔ ہر فصل میں بکثرت مباحث ہیں۔ بعض بعض فصلوں کے مباحث کی تعداد سو سے اوپر ہے۔ پوری کتاب کے مباحث ایک ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ استیعاب کی یہ شان ہے کہ مرزا غلام احمد کے خاندانی حالات اور ان کی پیدائش سے لے کر ان کی وفات تک کا کوئی واقعہ اور قادیانی مذہب کا کوئی رخ اور کوئی پہلو چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ عجب نہیں کہ اس کتاب کو دیکھ کر قادیانی امت پکار اٹھی ہو ما لهذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصها

اس کتاب کی تالیف میں برنی صاحب نے قادیانی مذہب کا سارا لٹریچر کھنگال ڈالا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بعض ضروری تشریحات اور حواشی کے علاوہ مصنف نے خود اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا ہے۔ بلکہ خود مرزا صاحب اور قادیانی مذہب کے اکابر کے قلم و زبان سے نبی قادیان اور ان کے مذہب کی تصویر کھینچ دی ہے۔ گویا مصنف نے قادیانیوں ہی کا بنایا ہوا آئینہ لا کر ان کے سامنے کھڑا کر دیا ہے جس میں ان کے تمام خط و خال صاف نظر آتے ہیں اور بہ یک نظر ان کی پوری

صفحہ 111

تاریخ نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ جہاں خود کچھ لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے، وہاں بھی تہذیب و متانت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ جو مناظرانہ تحریروں میں عنقا ہے، اس موضوع پر بلکہ شائد مناظرے کی تاریخ میں اس نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف متین و سنجیدہ، بلکہ سب سے زیادہ موثر اور کامیاب بھی ہے۔ آج کل بہت سے ناواقف اور سادہ لوح مسلمان بلکہ بعض کوتاہ نظر تعلیم یافتہ تک قادیانی مذہب کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور کم از کم ان کے تبلیغی ڈھونگ سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد قادیانی مذہب کی حقیقت بالکل آئینہ ہو جاتی ہے۔ خدا مصنف کو اس عمل حسنہ کی جزائے خیر دے"۔

(رسالہ ”معارف“ اعظم گڑھ، بابت ماہ اکتوبر ۱۹۳۶ء)

”قادیانی مذہب“ یہ بڑی تقطیع کے ۶۶۶ صفحات کی ایک کتاب ہے جو مولانا الیاس برنی ایم۔ اے، ایل۔ ایل۔ بی (علیگ) ناظم دارالترجمہ سرکار عالی، حیدرآباد دکن کی مصنفات کا شاہکار ہے۔ اس کتاب میں قادیانی مذہب کی حقیقت کو خود اس مذہب کے اکابرین کی مستند تحریرات کے آئینہ میں اس خوش سلیقگی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے کہ اس کتاب کو غور اور گہری نظر سے مطالعہ کرنے والے پر اس مذہب کا پھر کوئی تبلیغی حربہ کارگر نہیں ہو سکتا۔ مذہبی مباحث میں پروفیسر برنی صاحب کا طرز نگارش اور اسلوب اظہار مدعا اتنا دلکش اور سنجیدہ ہے کہ اس حیثیت کی دوسری کتاب اب تک ہم نے نہیں دیکھی۔ کتاب کیا ہے، قادیانی مذہب کی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے اور گویا پورے قادیانی لٹریچر کا عطر و خلاصہ ہے۔ پروفیسر صاحب کی قلم سے کوئی ایک لفظ بھی ایسا نہیں نکلا، جو متانت و ثقاہت سے گرا ہوا اور کسی ذوق سلیم پر بار ہو۔ انہوں نے قادیانی مذہب کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور اس مذہب کے اعتقادات و اجتہادات و افتراقات کو

صفحہ 112

خود اس مذہب کے اکابرین کی مستند تحریرات کے دامن میں پیش کیا ہے۔ صرف عنوانوں کے الفاظ ان کے ہیں۔ باقی سب کچھ قادیانی لٹریچر کے پورے حصے اور پوری عبارتیں معہ حوالہ کتاب اور صفحہ ہیں اور سب کچھ ایک دلکش نظم و ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے۔ عنوانات میں بھی ہمیں یہ احتیاط اور تہذیب اور رواداری نظر آئی کہ ایسا کوئی لفظ قلم سے نکلنے نہیں دیا جس سے قادیانی مذہب والوں کی کوئی واقعی دل آزاری ہو۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ صرف اس کتاب کو پڑھنا قادیانی تبلیغ کے سحر سامری کو باطل کر دے گا۔

برنی صاحب نے یہ وہ خدمت اسلام انجام دی ہے اور اس قدر محنت اور جگر کاوی سے کام لیا ہے کہ بے اختیار ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں اس کتاب کو اگر پھیلا دیا جائے تو یقین ہے کہ دین سے بے خبر انگریزی تعلیم یافتہ لوگ قادیانی تبلیغ کے اثر سے قطعی محفوظ ہوں گے اور اس کتاب کو پڑھ کر اقرار کریں گے کہ اس بندۂ خدا کی کوشش نے ان کا دین بچا لیا۔ اب کوئی قادیانی تبلیغی حکمت و تدابیر انہیں سواد اعظم سے اور حضور خاتم النبیین کے قدموں سے جدا نہ کر سکے گی۔

اے حیدر آباد! خدا تجھ پر اپنی رحمت کا وہ سایہ دیرگاہ برقرار رکھے جس کا تیرے لیے اعلیٰ حضرت آصف جاہ ہفتم کی صورت ہمایونی میں ظہور ہوا ہے اور جس کی بدولت تیری یہ شان ہے کہ تو گویا آج مدینتہ الاسلام ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کا دل و دماغ کھنچ کر تیرے دامن میں چلا گیا ہے اور دین کی کیسی کیسی خدمات ہیں کہ دور حاضر میں خدا نے اے حیدرآباد تیرا حصہ کر دی ہیں"۔

(روزنامہ ”پیغام“ دہلی، مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۳۶ء)

”قادیانی مذہب“ یہ ایک کتاب کا نام ہے جو تقریباً ایک ہزار صفحہ کی ہے اور جناب مولانا الیاس برنی صاحب ایم۔ اے، ایل۔ ایل۔ بی پروفیسر

صفحہ 113

جامعہ عثمانیہ و ناظم دارالترجمہ عثمانیہ کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ ظل سبحانی اعلیٰ حضرت حضور نظام کے مکتوب مبارک میں بھی مولانا برنی کا ذکر تھا۔ یہ کتاب قادیانی عقائد کے جزو کل کا ایک ایسا مکمل آئینہ ہے جو موجودہ زمانہ کے لٹریچر میں بے نظیر کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ اس کی قیمت تین روپیہ بہت کم ہے۔ کیونکہ یہ قیمت لاگت سے بھی کم ہے۔ حسن نظامی“۔

(اخبار ”منادی“ دہلی، مورخہ ۱۹ جون ۱۹۳۶ء)

گزشتہ تین چار سال کے دوران میں قادیانیت کو جو انجام دیکھنا پڑا وہ کبھی نہ کبھی دیکھنا لازم تھا۔ ایسی تحریکات کی قلعی دیر میں کھلتی ہے مگر کھلتی ضرور ہے۔ چنانچہ اس قادیانی تحریک نے بھی پچاس سال کی مہلت پائی۔ یوں تو اس کا تفصیلی کارنامہ کتاب میں درج ہے لیکن اگر یہاں اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو بے محل نہ ہوگا۔ قادیانیت کا ایک زمانہ تھا کہ بڑا زور و شور تھا۔ بڑا گھمنڈ تھا۔ مسلمانوں کو عاجز و لاچار سمجھ کر طعنے دیئے جاتے تھے۔ اپنی کامیابیوں پر شادمان تھے۔ چنانچہ اس رنگ میں خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے خیالات و جذبات بہت سبق آموز ہیں کہ ابتدا میں جب ڈھیل ملتی ہے تو کتنا دھوکا ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

”دیکھو صدہا دانش مند آدمی آپ لوگوں کی جماعت میں سے نکل کر ہماری جماعت میں ملتے جاتے ہیں۔ آسمان پر ایک شور برپا ہے اور فرشتے پاک دلوں کو کھینچ کر اس طرف لا رہے ہیں۔ اب اس آسمانی کارروائی کو کیا انسان روک سکتا ہے۔ بھلا اگر کچھ طاقت ہے تو روکو“۔

(ضمیمہ ”اربعین“ نمبر ۴، ص ۷، ”روحانی خزائن“ ص ۴۷۳، ج ۱۷، مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔ میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔ اگر ان کے پہلے اور ان کے پچھلے، ان کے زندے اور ان کے مردے تمام جمع ہو جائیں اور میرے مارنے کے لیے دعائیں کریں تو میرا خدا ان تمام دعاؤں کو لعنت کی شکل پر بنا کر ان

صفحہ 114

کے منہ پر مارے گا (مخالف لوگ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے پہلے اور پچھلے زندے اور مردے جو جو ہیں وہ بھی معلوم ہیں۔ اللہ رے بے باکی ــــــ للمولف)

(”اربعین“ نمبر ۴‘ ص ۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۷‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

تجھے حمد و ثنا زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے
ترے احسان میرے سر پر ہیں بھارے چمکتے ہیں وہ سب جیسے ستارے
گڑھے میں تو نے سب دشمن اتارے ہمارے کر دیے اونچے منارے
مقابل میں میرے یہ لوگ ہارے کہاں مرتے تھے پر تو نے ہی مارے
شریروں پر پڑے ان کے شرارے نہ ان سے رک سکے مقصد ہمارے
انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی فسبحان الذی اخزی الاعادی

(مرزا قادیانی کی نظم منقول از اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۲۴‘ نمبر ۵۵‘ ص ۸‘ مورخہ

۳ ستمبر ۱۹۳۶ء‘ ”در ثمین اردو“ ص ۴۵)

میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان اپنے والد بزرگوار مرزا صاحب سے بھی ان خیالات و جذبات میں آگے بڑھ گئے تھے کہ دنیا کا چارج لینا چاہتے تھے۔ دنیا کی تباہی کو اپنی کامیابی کا پیش خیمہ سمجھتے تھے اور عالمگیر حکومت کا خواب دیکھتے تھے۔ چنانچہ کل کی سی بات ہے کہ میاں صاحب فرماتے تھے:

”پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا بلکہ لانے والا خدا ہے۔ اس لیے تمہیں آنے والوں کا معلم بننے کے لیے ابھی سے کوشش کرنی چاہیے“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۹‘ نمبر ۶۸۔۶۷‘ مورخہ ۲۷ فروری‘ ۲ مارچ ۱۹۲۲ء)

”غرض ہر قوم‘ ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی

صفحہ 115

ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو اپنے مذہب پر پکی اور امید و یقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے۔ وہ لوگ جو واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لاتے ہیں، وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم سب پھلے جائیں گے۔ صرف ہم باقی رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آ رہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے متعلق ہی کہا گیا ہے کہ ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا“ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت دی جائے گی حکمران ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی“۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، جلد ۱۵، نمبر ۷۸، ص ۶، مورخہ ۱۳ اپریل ۱۹۲۸ء)

لیکن ان خوابوں کی تعبیر کیا نکلی۔ وہی نکلی جو ایسے خوابوں کی نکلا کرتی ہے۔ تفصیل سے تو کتاب لبریز ہے مگر مختصر خلاصہ خود میاں صاحب کی زبان سے سنئے۔ فرماتے ہیں:

”ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کر کے ملک میں امن قائم رکھا ہے اور ملک میں ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرا دیا ہے اور ہمارے نازک احساسات مجروح کیے گئے ہیں۔ ہمارے دل زخمی کر دیے گئے ہیں۔ ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا، کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ ”لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور پرندوں کے گھونسلے، مگر ابن آدم کے لیے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں“۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، جلد ۲۲، نمبر ۵۴، ص ۱۲، مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

صفحہ 116

”ابھی تو ہم اس شخص کی طرح پریشان پھر رہے ہیں جو بغیر سواری کسی ساتھی کے ایک مہیب اور پر خطر جنگل میں بھٹک جائے اور اسے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کا راستہ نہ ملے۔ ہم بھی حیران و پریشان ایک ایسی زمین میں پھر رہے ہیں جس میں نہ کوئی انیس ہے نہ جلیس، نہ سواری ہے نہ ٹھہرنے کا مقام۔ ایسی حالت کے ہوتے ہوئے خالی عقیدوں کو ہم نے کیا کرنا ہے اور ان سے دنیا میں کیا تغیر ہو سکتا ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، جلد ۲۳، نمبر ۲۷۹، ص ۶، مورخہ ۲ جون ۱۹۳۶ء)

”گویا جس طرح چاروں طرف سے جب آگ لگ جاتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے اور وہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا کرے۔ یہی اس وقت ہماری حالت ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار

”الفضل“ قادیان، جلد ۲۳، نمبر ۲۷۹، ص ۵، مورخہ ۲ جون ۱۹۳۶ء)

یوں تو چوتھا ایڈیشن بھی بڑی تقطیع کے ہزار صفحات پر شائع ہوا تھا اور بہت جامع تھا۔ اس میں بیس فصلوں کے تحت نو سو سے زیادہ عنوانات اور ان کے سوا چار تمہیدیں اور چار ضمیمے درج تھے۔ گرچہ کتاب بڑی حد تک مکمل ہو چکی تھی پھر بھی کچھ مباحث تشنہ رہ گئے تھے۔ ان کے متعلق یا تو اس وقت تک مضامین دریافت نہ ہو سکے یا ہو گئے تو ان کے حوالے تحقیق طلب تھے۔ کچھ متعلقہ مضامین بعد کو نمودار ہوئے۔ یہ سب بڑی تحقیق سے اس دوران میں مہیا کر لیے گئے۔ ان کی بدولت اس پانچویں ایڈیشن میں تقریباً دو سو جدید عنوانات کا اضافہ ہوا اور یہ سب عنوانات بجائے خود بہت ضروری اور اہم تھے۔ بالخصوص قادیانیوں کا ہندوؤں کے ساتھ مذہبی تعلق پانچویں فصل میں خوب واضح ہو گیا۔ علیٰ ہذا قادیانی جماعت لاہور کے امیر مولوی محمد علی صاحب کے عقائد ان ہی کی مفصل تحریروں سے پندرہویں فصل میں بخوبی واقف ہو گئے کہ کسی گریز یا تاویل کی گنجائش نہیں رہی۔ قادیانی جماعت قادیان کے خلیفہ

صفحہ 117

میاں محمود احمد صاحب کے کارنامے بھی زیادہ نمایاں ہو گئے اور یوں بھی تقریباً تمام مباحث میں مزید عنوانات شریک ہونے سے بہت وضاحت پیدا ہو گئی۔ ان کے سوا یہ تمہید پنجم بھی اضافہ ہوئی۔ ایک ضمیمہ بھی جدید شریک ہوا جس میں قادیانیوں کی دونوں جماعتوں کی تفریق درج ہے۔ ان اضافوں کی وجہ سے کتاب کا حجم بھی کافی بڑھ گیا۔ اب اطمینان ہوگیا کہ کتاب نے ایک مکمل صورت اختیار کر لی۔ آئندہ کبھی - اضافے ہوئے تو شاذ ہو سکیں گے۔ کسی معتدبہ اضافہ کی ضرورت اور گنجائش نہیں رہی۔ چار سال کے اندر اندر کام تکمیل کو پہنچ گیا اور پانچواں ایڈیشن شائع ہو گیا۔

فالحمد للہ علی ذالک

کتاب کی موجودہ وسعت و جامعیت کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس میں تقریباً ڈیڑھ سو کتب و رسائل کے مضامین بطور اقتباس درج ہیں اور ان اقتباسات کے حوالے بھی ساتھ ساتھ اس تفصیل سے درج ہیں کہ جو کوئی چاہے اصل ماخذ نکال کر دیکھ لے، اطمینان کر لے۔ ان تمام کتب و رسائل کی مفصل فہرست بھی بطور ضمیمہ کتاب میں شامل کر دی گئی۔ جس سے واضح ہوگا کہ سوا سو سے زیادہ قادیانی کتب و رسائل اس تالیف میں شریک ہیں جن میں سے پچاس سے زیادہ خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی اور باقی قادیانی اکابر کی تصنیف و تالیف ہیں۔ خاص و عام کا اتفاق ہے کہ تحقیق و تنقید میں یہ کتاب آپ ہی اپنی نظیر ہے۔ اس زمانہ میں اس کتاب کی کس درجہ ضرورت تھی اور ضرورت ہے، ملک و ملت دونوں اس کا اندازہ کر چکے ہیں اور کریں گے۔ وما علینا الا البلاغ۔

بیت السلام، حیدر آباد دکن معروضہ ماہ ذی الحجہ ۱۳۵۵ھ خادم محمد الیاس برنی

صفحہ 118

نعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حصہ اول

فصل پہلی

ذاتی حالات

(۱) مختصر سرگزشت

"اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پڑدادا کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے، جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔

سکھوں کے ابتدائی زمانے میں میرے پردادا صاحب مرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے۔.... اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے۔ ان کے وقت میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔.... اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی...... اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزیں ہوئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانے میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیان میں واپس آئے اور مرزا صاحب

صفحہ 119

موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے۔۔۔۔۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ لیکن میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا۔

بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا‘ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدائے تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی‘ اس لیے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے‘ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدائے تعالیٰ نے چاہا‘ حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔

میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہیے۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز ان

صفحہ 120

کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ ہو کر ان کے غموم و ہموم میں شریک ہو جاؤں۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لیے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لیے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک میری کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی (یعنی سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار کے محرر تھے) آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد پر بہت گراں تھا۔ اس لیے ان کے حکم سے جو عین میری منشا کے موافق تھا۔ میں نے استعفیٰ دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی‘ سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔ تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور ان کو مرض زحیر (پیچش) میں مبتلا پایا۔۔۔۔ اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے۔۔۔۔ غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔ ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا”۔

(”کتاب البریہ“ ص ۱۴۴ تا ۱۴۶‘ خلاصہ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۶۴ تا ۱۶۵‘ ج ۱۳‘

مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲) خاندانی زوال

صفحہ 121

”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیرخواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگ جو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔ غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہو گئی۔

(”تحفہ قیصریہ“ ص ۱۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۷۰‘ ۲۷۱ ج ۱۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اس کے بعد انگریز آئے تو انہوں نے ہماری خاندانی جاگیر ضبط کر لی اور صرف سات سو روپیہ سالانہ کی ایک اعزازی پنشن نقدی کی صورت میں مقرر کر دی جو ہمارے دادا صاحب کی وفات پر صرف ایک سو اسی رہ گئی اور پھر تایا صاحب کے بعد بالکل بند ہو گئی“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۳۲‘ روایت نمبر ۴۸‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۳) آبائی مکانات

بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔ اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ ”ایک دفعہ مسٹر میکانکی ڈپٹی کمشنر گورداسپور قادیان دورہ پر آئے۔ راستے میں انہوں نے دادا صاحب (مرزا غلام مرتضیٰ صاحب) سے کہا کہ آپ کے خیال میں سکھ حکومت اچھی تھی یا انگریزی حکومت اچھی ہے۔ دادا صاحب نے کہا کہ گاؤں چل کر جواب دوں گا۔ جب قادیان پہنچے تو دادا صاحب نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے مکانات دکھا کر کہا کہ یہ سکھوں کے وقت کے بنے ہوئے ہیں۔ مجھے امید نہیں کہ آپ کے وقت میں میرے بیٹے ان کی مرمت بھی کر سکیں“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۰۵‘ روایت نمبر ۲۰۷‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

)

صفحہ 122

(قادیانی)

(۴) سندھی

والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ”ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے نہ سمجھا کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے کہ کسی منت ماننے کے نتیجہ میں بعض لوگ خصوصاً عورتیں اپنے کسی بچہ کا عرف سندھی رکھ دیتی ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپ کی والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بھی بچپن میں کبھی اس نام سے پکار لیتی تھیں“۔ (سندھی بفتح س)

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۳۶‘ روایت نمبر ۵۱‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۵) لطیف اشارہ

”میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور (مرزا صاحب) کا یہ الہام کہ یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ (مصنفہ مرزا صاحب) کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے‘ اس میں جو جنت کا لفظ ہے‘ اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی‘ اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی“۔

(”تریاق القلوب“ ص ۱۵۶‘ روحانی خزائن‘ ص ۴۷۹‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۶) انثیت کا مادہ

”حضرت مرزا صاحب توام پیدا ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ پیدا ہونے والا دوسرا بچہ لڑکی تھی جن کا نام جنت رکھا گیا تھا۔ وہ چند دنوں کے بعد فوت ہو گئی اور فی الواقع جنت ہی میں چلی گئی۔ مرزا صاحب نے اس معصومہ کے فوت ہونے پر اپنا خیال یہ

صفحہ 123

ظاہر کیا کہ ”میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدائے تعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بالکلی الگ کر دیا“۔

(”حیات النبی“ جلد اول‘ ص ۵۰‘ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۷) بچپن کی بات

بیان کیا مجھ سے والدہ نے کہ ”ایک دفعہ حضرت (مرزا) صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا‘ وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۲۶‘ روایت نمبر ۲۴۴‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۸)٭ ادھر ادھر

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ”ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلے گئے۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب آپ نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے.....“

والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ

صفحہ 124

نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا‘ ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔

("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ۲۴‘ روایت نمبر ۴۹‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۹) بھٹی لوگ

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ "ایک دفعہ میں نے سنا کہ مرزا امام الدین اپنے مکان میں کسی کو مخاطب کر کے بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ بھٹی (یعنی بھائی) لوگ (حضرت صاحب کی طرف اشارہ تھا) دکانیں چلا کر نفع اٹھا رہے ہیں۔ ہم بھی کوئی دکان چلاتے ہیں۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ پھر اس نے چوہڑوں کی پیری کا سلسلہ جاری کیا"۔

("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ۳۵‘ روایت نمبر ۳۹‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۰) لازمہ شرافت و شجاعت

"جس زمانے میں حضرت مسیح موعود کا بچپن جوانی کی طرف جا رہا تھا‘ عام طور پر لوگ ہتھیارات رکھتے تھے اور استعمال کرتے تھے اور گتکہ وغیرہ اور تلوار کے کرتب کی ورزشیں عام تھیں لیکن حضرت مسیح موعود چونکہ یضع الحرب کے لیے آئے تھے اور ان کے زمانے میں امن و آسائش کی راہیں کھل جانے والی تھیں۔ آپ نے ان امور کی طرف توجہ نہیں کی۔ بجائیکہ یہ امور لازمہ شرافت و شجاعت سمجھے جاتے تھے"۔

("حیات النبی" جلد اول‘ نمبر دوم‘ ص ۱۴۸‘ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۱۱) دایاں ہاتھ

بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب (حال عبدالرحیم درد صاحب قادیانی) ایم۔ اے کے کہ "ایک دفعہ والد صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ

صفحہ 125

آئی۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے۔ سامنے اسٹول رکھا تھا، وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جا سکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا"۔

("سیرت المہدی" حصہ اول' ص ۱۹۸' روایت نمبر ۱۸۷' مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۲) دندان مبارک

"دنداں مبارک آپ کے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے) آخر عمر میں کچھ خراب ہوگئے تھے۔ یعنی کیڑا بعض داڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوک دار ہوگیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔ مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے"۔ (شاید دیر میں شروع کی ورنہ کیڑا نہ لگتا۔۔۔۔۔ (للمولف)

("سیرۃ المہدی" حصہ دوم' ص ۱۳۵' روایت نمبر ۴۴۴' مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۳) توبہ توبہ

"خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا۔ اس لیے حضرت (مرزا) صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کی غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔۔۔۔۔۔ حضرت

صفحہ 126

مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کیے تھے، اس لیے بجائے چوزہ کی گردن کے انگلی پر چھری پھیر لی"۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم، ص ۴، روایت ۳۰۷، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت (مرزا) صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہ ہوتا تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۴۵، روایت نمبر ۵۱، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۴) انگریزی دانی

”اسی زمانہ میں (یعنی جبکہ مرزا صاحب سیالکوٹ کی کچہری میں ملازم تھے) مولوی الٰہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدراس تھے، کچہری کے ملازم منشیوں کے لیے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنر ہیں، استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں“۔ (مرزا صاحب کے انگریزی الہامات سے بھی بس اسی قدر لیاقت معلوم ہوتی ہے۔---- (للمولف)

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۱۳۷، روایت نمبر ۱۵۰، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۵) مختاری

”چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیوں کر ہوتے، وہ دنیوی اشغال کے لیے بنائے نہیں گئے تھے“۔ ہر کسے را بہر کارے ساختند

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۱۳۸، روایت نمبر ۱۵۰، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۶) مدرسی

صفحہ 127

”ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی جس کی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔ میں نے ان کی (یعنی مرزا صاحب کی) خدمت میں عرض کی کہ آپ درخواست بھیج دیں۔ چونکہ آپ کی لیاقت عربی زبان دانی کی نہایت کامل ہے، آپ ضرور اس عہدے پر مقرر ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ میں مدرسی کو پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں۔“

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۱۳۹، روایت ۱۵۰ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۷) ملازمت

”چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ (مرزا صاحب) کہیں ملازم ہو جائیں اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے۔ پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آجاؤ۔ حضرت صاحب فوراً روانہ ہوگئے۔... خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے۔“

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۳۵، روایت نمبر ۴۹، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۸) مرزا صاحب کی سادگی

”حضور جب مسجد میں تشریف لاتے تو تمام لباس زیب تن فرما کر کوٹ، پگڑی اور ایک کھونڈا گویا خذوا زینتکم عند کل مسجد پر پورا عمل تھا۔ جب ایک کھڑکی سے باہر نکلتے تو وہاں ہمارے مکرم حافظ ابراہیم صاحب نابینا علی العموم گیارہ بجے ہی سے بیٹھے ہوتے وہ ضرور سب سے پہلے السلام علیکم کہتے یا اس کا جواب دیتے اور پھر لباس مبارک کو مس کر کے برکت حاصل کرتے اور دعا کے لیے عرض کر لیتے۔ صرف ایک بار میں نے حضور کی زیارت ایسے لباس میں کی جب کہ شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ احباب لاہور کے آنے پر حضور مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔ سر پر ترکی ٹوپی تھی، جو بہت پرانی اور

صفحہ 128

فرسودہ سی بغیر پھندنے کے اور مہندی لگائے ہوئے تھے۔ غالباً اسی لیے صرف کرتا تھا‘ کوٹ نہ تھا۔ شیخ صاحب نے عرض کیا حضور گھڑی تو اچھی چلتی ہے آپ نے ایک رومال کو فرش پر رکھ کر اور ایک دو گانٹھیں کھول کر اس میں سے گھڑی نکالی۔ معلوم ہوا کہ بند ہے۔ چابی دی گئی۔ وقت درست کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے آہستہ سے کہا ’اب جس دن پھر آؤ گے چابی دے دینا۔ حضور نے یہ معلوم کر کے مسرت ظاہر کی کہ ایک گھڑی ایسی ہے جسے سات روزہ چابی دی جاتی ہے۔

(”یاد ایام“ از قاضی محمد ظہور الدین صاحب قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘ جلد

۳۷‘ نمبر ۱۸-۱۹‘ مورخہ ۲۱ تا ۲۸ مئی ۱۹۳۴ء)

(۱۹) جیبی گھڑی

بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ”ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے“۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ ”آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۱۶۲‘ روایت ۱۶۵‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۲۰) لباس

”آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا۔ یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے اور یہ علالت طبع کے باعث تھا۔ سردی آپ کو موافق نہ تھی اس لیے اکثر گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔ البتہ گرمیوں میں نیچے کرتا ململ کا رہتا تھا۔ بجائے گرم کرتے کے صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے۔ مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے بلکہ بعض اوقات پوستین بھی۔۔۔۔۔۔ جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے۔ بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا

صفحہ 129

لیتے۔ مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے نکلتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی‘ دوسری الٹی“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۲۶‘ روایت نمبر ۴۴۴‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

”کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ‘ صدری‘ ٹوپی‘ عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے تھے‘ وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۲۸‘ روایت نمبر ۴۴۴‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

”صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں آپ کا رومال ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔۔۔۔ اسی کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے اور اسی رومال میں نقد وغیرہ جو نذر لوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے‘ باندھ لیا کرتے تھے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۲۷‘ روایت نمبر ۴۴۴‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ”آپ (مرزا صاحب) معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا‘ باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے اور چابیاں آزار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی آزار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ

صفحہ 130

کو بڑی تکلیف ہوتی تھی"۔

("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ۴۲‘ روایت ۶۳‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۲۱) بوٹ کا تحفہ

"ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ آپ (مرزا صاحب) نے اس کی خاطر سے پہن لیا مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہ کر سکتے تھے۔ دایاں پاؤں بائیں طرف کی بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کی بوٹ میں پہن لیتے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لیے ایک طرف کے بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا"۔

("منکرین خلافت کا انجام" مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی‘ ص ۹۶‘ ملخص

"سیرت المہدی" ج ۱‘ ص ۶۷‘ روایت نمبر ۸۳)

(۲۲) خاص ادائیں

"نئی جوتی جب پاؤں میں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب سے سیر کے وقت گرد اڑ اڑ کر پنڈلیوں پر پڑ جایا کرتی تھی جس کو لوگ اپنی پگڑیوں وغیرہ سے صاف کر دیا کرتے تھے۔ چونکہ حضور (مرزا صاحب) کی توجہ دنیاوی امور کی طرف نہیں ہوا کرتی تھی‘ اس لیے آپ کی واسکٹ کے بٹن ہمیشہ اپنے چاکوں سے جدا ہی رہتے تھے اور اسی وجہ سے اکثر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے شکایت فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بٹن تو بڑی جلدی ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔

شیخ رحمت اللہ صاحب یا دیگر احباب اچھے اچھے کپڑے کے کوٹ بنوا کر لایا کرتے تھے۔ حضور کبھی تیل سر مبارک میں لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے"۔

(اخبار "الحکم" قادیان‘ جلد ۳۸‘ نمبر ۶‘ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۳۵ء‘ ملخص "سیرت المہدی"

ص ۳۸-۳۹‘ ج ۲‘ روایت ۴۴۴)

(۲۲ الف) مرزا قادیانی صاحب کی سیر (ج)

صفحہ 131

میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل سکنہ لاہور نے بیان کیا کہ ”حضور علیہ السلام صبح کو نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر احباب کو اپنے الہامات و رویا سنایا کرتے تھے اور پھر دوستوں میں سے کوئی رویا دیکھتا تو اسے بھی سنانے کے لیے فرماتے۔ پھر حضور گھر تشریف لے جاتے تھے اور آٹھ بجے کے قریب گھر سے باہر نکلتے۔ پہلے چوک میں مہمانوں کا انتظار کرتے۔ پھر حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کو اطلاع بھجواتے۔ مولوی صاحب جو بھی کام کر رہے ہوتے‘ اسے وہیں چھوڑ کر حاضر ہو جاتے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ شاید حضور کے حکم کا انتظار ہی کر رہے تھے۔ سیر قریباً تین میل ہوا کرتی تھی۔ ہم لوگ جب تھک جاتے تو سوچتے کہ اب واپسی کی کیا تدبیر کریں۔ عرض کرنے کی تو جرأت ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے ہم چند نوجوان ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑتے اور پھر تھوڑی دور چل کر قادیان کی طرف رخ کر لیتے۔ حضور بھی پیچھے ہو لیتے۔ پھر ہم پیچھے ہو جاتے۔ راستہ میں احباب کی کثرت کی وجہ سے اس قدر گرد اڑتی کہ سر اور منہ مٹی سے بھر جاتے۔ حضور اکثر پگڑی کے شملہ کو بائیں جانب منہ کے آگے رکھ لیتے۔ حضور کے دائیں ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی جو بعض اوقات لوگوں کی ٹھوکر سے گر بھی جاتی مگر حضور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جب کوئی چھڑی پکڑا دیتا تھا تو پکڑ لیتے۔ بعض اوقات حضور کے پاؤں کو بھی ٹھوکر لگ جاتی تھی۔

اگر دوران سیر کسی وقت پیشاب کی حاجت پیش آتی تو حضور احباب سے دور نکل جاتے۔ وضو پانی حضور بیٹھ کر ہی کیا کرتے تھے۔ ہم نے کبھی حضور کو کھڑے ہو کر وضو پانی کرتے نہیں دیکھا“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۷‘ نمبر ۲۵۰‘ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۳۹ء)

”اسی موقعہ پر حضور ایک مرتبہ سیر کے لیے باہر تشریف لائے۔ ساتھ بہت ہجوم تھا۔ حضور بڑ کے درخت کے قریب کھڑے ہو گئے۔ احباب چاروں طرف سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے تھے۔ لوگوں کی کثرت کی وجہ سے گرد اڑ رہی تھی۔ حضور علیہ السلام کی طبیعت ہجوم اور گرد کی وجہ سے نیز اس وجہ سے کہ دھوپ تھی اور گرمی کا آغاز تھا کچھ ناساز سی ہوئی۔ ایک دوست نے کہا کہ احباب جگہ کھلی چھوڑ دیں اور حضور کے نزدیک زیادہ ہجوم نہ کریں اور ایک دوسرے پر نہ گریں۔ حضرت مفتی صادق صاحب بھی قریب

صفحہ 132

تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ لوگ بھی بیچارے کیا کریں۔ تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی کا چہرہ دیکھنے کو ملا ہے"۔ (سو اس کی یہ قدر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔(للمولف)

(روایت قادیانی مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۱۸۰‘ جلد ۳۴‘ مورخہ ۲۲ اگست

۱۹۴۶ء)

”اس طرح ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لیے تشریف لے جاتے تو لوگ آپ کے ساتھ چلے جاتے۔ آپ کی باتیں سنتے لیکن آخری جلسہ سالانہ کے موقع پر جب آپ سیر کے لیے نکلے تو لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ لوگوں کے پیر لگنے کی وجہ سے کبھی آپ کی چھڑی گر جاتی اور کبھی آپ کی جوتی اتر جاتی۔ (سیر کیا تھی خاصا تماشا تھا۔۔۔۔۔ (للمولف) پھر آپ ریتی چھلہ تک تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے اب ہمارا کام ختم ہو گیا۔ اب تو جماعت اتنی بڑھ گئی ہے کہ سیر کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اس جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد سات سو تھی۔ (تعداد تو کچھ ایسی زیادہ نہ تھی لیکن معلوم ہوتا تھا کہ اپنے مریدوں سے مرزا قادیانی صاحب کا ناک میں دم آ گیا تھا کہ سیر سے دل بیزار ہو گیا اور نادانستہ طور پر موت کی آرزو دل میں آنے لگی۔۔۔۔ (للمولف)

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا ارشاد مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘

جلد ۳۴‘ نمبر ۳۰۰‘ ص ۲ - ۳‘ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۴۶ء)

(۲۳) مرزا قادیانی صاحب کی شکرگزاری

”دعوے سے قبل کا واقعہ ہے کہ حضور (مرزا صاحب) باغ میں تشریف لے گئے۔ ساتھ چند اور بھی دوست تھے۔ کسی دوست نے ایک پھل دار درخت پر حضرت اقدس کا عصا مبارک پھینکا۔ وہ عصا وہیں لٹک کر رہ گیا۔ دوستوں نے پتھروں اور ڈھیلوں سے ہر چند کوشش کی مگر وہ عصا نیچے نہ گرا۔ میں (حافظ نبی بخش صاحب قادیانی) نوجوان لڑکا تھا۔ میں اپنا تہ بند کس کر درخت کے اوپر چڑھ گیا اور عصا مبارک اتار لیا۔ حضرت اقدس کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔ بار بار فرماتے میاں نبی بخش تم نے بڑا کمال کیا۔ تم نے تو آج میرے والد صاحب کا سونٹا نیا لا کر مجھے دیا ہے۔ باغ سے واپس لوٹے تو راستے

صفحہ 133

میں جو ملے ان سے بھی ذکر کیا کہ میاں نبی بخش نے مجھے آج نیا سوٹا لا کر دیا ہے۔ پھر مسجد میں آکر بھی اسی شکرگزاری کا ذکر فرماتے رہے“۔

(”ذکر حبیب“ از سردار مصباح الدین احمد صاحب قادیانی، مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان

خاص نمبر، مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۳۴ء)

(۲۳) نامردی کا یقین (م)

”بخدمت اخویم مخدوم مکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ---------

”جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے، مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں (پھر شادی کس بھروسہ پر کی۔ اول صحت درست کرنا لازم تھا ورنہ فتنہ کا اندیشہ تھا۔۔۔۔۔ للمولف برنی) آخر میں نے صبر کیا (آپ سے زیادہ صبر آپ کی اہلیہ صاحبہ پر لازم ہوتا۔ پھر بھی معلوم ہوا کہ اولاد شادی کے بعد جلد ہی شروع ہو گئی۔۔۔۔ للمولف برنی) اور اللہ تعالیٰ پر امید اور دعا کرتا رہا۔ سو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا“۔

(خاکسار غلام احمد قادیان، ۲۲ فروری ۱۸۸۷ء ”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، ص ۲۱، نمبر ۲)

”دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر بھی کلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا۔ کیونکہ میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا جو اب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آئے۔ مگر باوجود ان کمزوریوں کے مجھے پوری قوت صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطا کیے“۔

(”نزول المسیح“ ص ۲۰۹، ”روحانی خزائن“ ص ۵۸۷، جلد ۱۸، مصنفہ مرزا غلام احمد

)

صفحہ 134

(قادیانی صاحب)

(۲۵) ایک ابتلاء

”ایک ابتلاء مجھ کو اس (دہلی کی) شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ باعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لیے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی----

غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے رفع مرض کے لیے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کیں اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پرصحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے‘ وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کیے گئے۔۔۔۔۔۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا“۔

(”تریاق القلوب“ ص ۳۵-۳۶ ”روحانی خزائن“ ص ۲۰۳-۲۰۴ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۶) مجرب دوائیں

مخدومی مکرمی اخویم مولوی (نور الدین) صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔۔۔۔۔۔ وہ دوا جس میں مروارید داخل ہیں‘ جو کسی قدر آپ لے گئے تھے اس کے استعمال سے بفضلہ تعالیٰ مجھ کو بہت فائدہ ہوا۔ قوت باہ کو ایک عجیب فائدہ یہ دوا پہنچاتی ہے اور مقوی معدہ اور کاہلی سستی کو دور کرتی ہے اور کئی عوارض کو نافع ہے۔ آپ ضرور استعمال کرکے مجھ کو اطلاع دیں۔ مجھ کو تو یہ بہت ہی موافق آگئی۔ (فالحمد للہ علیٰ ذلک)

خاکسار غلام احمد ۳۰ دسمبر ۱۸۸۶ء

صفحہ 135

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۱۲، مولفہ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب

”السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت تعجب ہے کہ دوا معلومہ سے آں مخدوم سے کچھ فائدہ محسوس نہ ہوا۔ شاید کہ یہ وہی قول درست ہو کہ ادویہ کو ابدان سے مناسبت ہے۔ بعض ادویہ بعض ابدان کے مناسب حال ہوتی ہیں اور بعض دیگر کے نہیں۔ مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کاہلی و سستی و رطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ واللہ اعلم و علمہ احکم۔

اگر دوا موجود ہو اور آپ دودھ اور ملائی کے ساتھ کچھ زیادہ قدر شربت کر کے استعمال کریں تو میں خواہش مند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں۔ کبھی کبھی دوا کی چھپی چھپی تاثیر بھی ہوتی ہے کہ جو ہفتے عشرے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ دوا ختم ہو چکی ہے اور میں نے زیادہ تر کھالی ہے اس لیے ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ ابھی تک وہ گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو راست کرے۔ اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا مگر میں شکرگزار ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دوا کا بہانہ کر کے بعض خطرناک عوارض سے مجھ کو مخلصی عطا کی۔ (فالحمد للہ علی احسانہ)“

خاکسار غلام احمد از قادیان، ۱۹ جنوری ۱۸۸۷ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۱۴)

محب عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ

”السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں ہمدست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا

صفحہ 136

جب آپ قادیان آئیں گے۔ یہ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک عنبر‘ نرسی‘ مروارید‘ سونے کا کشتہ‘ فولاد‘ یاقوت احمر‘ کونین‘ فاسفورس‘ کہربا‘ مرجان‘ صندل‘ کیوڑہ‘ زعفران۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ‘ مقوی جگر‘ مقوی معدہ‘ مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی اور مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اول تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا لیکن چونکہ حفظ صحت کے لیے یہ دوا مفید ہے اس لیے اس قدر خرچ گوارا کیا گیا......

نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور بثورات اور جذام اور ذیابیطس اور انواع و اقسام کے خطرناک امراض کے لیے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کو ایک عجیب اثر ہے“۔

خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۹؍ اگست ۱۸۹۹ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر ۴‘ ص ۱۰۵‘ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم حکیم نور الدین

”ایک میرے دوست سامانہ علاقہ پٹیالہ میں ہیں جن کا نام مرزا محمد یوسف بیگ ہے۔ انہوں نے کئی دفعہ ایک معجون بنا کر بھیجی ہے جس میں کچھ مدبر داخل ہوتا ہے۔ وہ معجون میرے تجربے میں آیا ہے کہ اعصاب کے لیے نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ اور فالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ کے لیے اور نیز قوت معدہ کے لیے فائدہ مند ہے۔ مدت سے میرے استعمال میں ہے۔ اگر آپ اس کو استعمال کرنا قرین مصلحت سمجھیں تو میں کسی قدر جو میرے پاس ہے‘ بھیج دوں“۔

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر ۲‘ ص ۵۵‘ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۷) خاندانی طبیب

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ”طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے اور ہمیشہ سے ہمارا

صفحہ 137

خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے۔ دادا صاحب نہایت ماہر اور مشہور حاذق طبیب تھے۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے جس سے بیماروں کو دوا دیتے تھے"۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۳۵‘ روایت نمبر ۵۰‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

”آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) خاندانی طبیب تھے۔ آپ کے والد ماجد اس علاقہ میں نامی گرامی طبیب گزر چکے ہیں اور آپ نے بھی طب سبقاً سبقاً پڑھی ہے مگر باقاعدہ مطب نہیں کیا۔ کچھ تو خود بیمار رہنے کی وجہ سے اور کچھ چونکہ علاج پوچھنے آجاتے تھے۔ آپ اکثر مفید اور مشہور ادویہ اپنے گھر میں موجود رکھتے تھے۔ نہ صرف یونانی بلکہ انگریزی بھی اور آخر میں تو آپ کی ادویات کی الماری میں زیادہ تر انگریزی ادویہ ہی رہتی تھیں۔ مفصل ذکر طبابت کے نیچے آئے گا۔ یہاں اتنا ذکر کر دینا ضروری ہے کہ آپ کئی قسم کے مقوی دماغ ادویات کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔ مثلاً کوکاکولا، مچھلی کے تیل کا مرکب، ایسٹن سیرپ، کونین، فولاد وغیرہ اور خواہ کیسی ہی تلخ یا بدمزہ دوا ہو، آپ اس کو بے تکلف پی لیا کرتے تھے"۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم، ص ۱۴۷‘ روایت نمبر ۴۴۴‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۲۸) توحید کا گر

”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا صاحب) کی عادت تھی کہ آپ جب کسی بیماری میں دواؤں کا استعمال کرتے تو صرف ایک دوائی کھانے پر ہی اکتفا نہ کرتے بلکہ بہت سی دوائیں کھا لیتے اور فرمایا کرتے کہ یہ میں اس لیے کرتا ہوں تا جب شفاء حاصل ہو جائے تو دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں دوائی سے شفا ہوئی ہے اور اس طرح پر اس قدر اعتماد ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہٹا لے۔ یہ ایک توحید کا گر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سکھایا۔ آپ خدا ہی کی طرف )

صفحہ 138

اپنی توجہ رکھنے کے لیے صرف ایک دو نہیں بلکہ اکٹھی بہت سی دوائیوں کا استعمال فرمایا کرتے تھے"۔ (ماشاء اللہ بہت سے شافی مقرر کر لیا کرتے تھے پھر بھی توحید باقی؟)

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ ”الفضل“ قادیان‘ ج۱۹‘ نمبر۸۱‘ مورخہ

۷؍ جنوری ۱۹۳۲ء)

(۲۹) پہلا دورہ

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ”حضرت مسیح موعود (یعنی والد صاحب) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ.......... بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصے بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لیے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی....... نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی۔ خاکسار نے پوچھا کہ اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا پہلے ر

صفحہ 139

حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی“۔

("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ۱۳‘ روایت نمبر ۱۹‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۳۰) رمضان کے دورے

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ”جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کیے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لیے باقی چھوڑ دیے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداً دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں۔ صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔۔۔۔“

("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ۵۱‘ روایت نمبر ۸۱‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۳۱) سخت دورہ

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ”اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت مرزا صاحب کو دورہ

صفحہ 140

پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی ادھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۲‘ روایت نمبر ۳۶‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۳۲) خطرناک

”پھر آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) فرمایا میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔ پھر آپ محبت الٰہی پر تقریر فرمانے لگ گئے اور قریباً نصف گھنٹے تک جوش کے ساتھ بولتے رہے۔ لیکن پھر یک لخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی جو خالص خون کی تھی جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔ مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا ہے۔ کیونکہ آپ نے یک لخت جھک کر قے کی اور پھر سر اٹھا لیا۔ مگر میں اس کے دیکھنے کے لیے جھکا تو حضور نے فرمایا کیا ہے۔ میں نے عرض کیا حضور قے میں خون نکلا ہے۔ تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے لوگ کمرے میں آگئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔ ڈاکٹر انگریز تھا۔ وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا خطرناک ہے۔ پھر اس نے کہا یہ آرام کیوں نہیں کرتے۔ خواجہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریں۔ مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں۔ حالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یوں ہی طے ہو سکتا ہے۔ اس نے کہا اس وقت

صفحہ 141

آرام ضروری ہے۔ میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔ کتنے عرصہ کے لیے سرٹیفکیٹ چاہیے۔ پھر خود ہی کہنے لگا میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہیے۔ خواجہ صاحب نے کہا فی الحال ایک مہینہ کافی ہوگا۔ اس نے فوراً ایک مہینہ کے لیے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور لکھا کہ میں اس عرصہ میں ان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۸۰‘ روایت نمبر ۱۰۶‘ مولفہ حضرت صاحبزادہ بشیر احمد

صاحب قادیانی)

(۳۳) مراق کا سلسلہ (م)

”مراق کا مرض حضرت مرزا صاحب میں موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت‘ تفکرات‘ غم اور سوء ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا“۔

(رسالہ ”ریویو“ قادیان‘ ص ۱۰‘ بابت اگست ۱۹۲۶ء)

”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لیے چہل قدمی مفید ہے۔ ان کے ساتھ چند خادم عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پردے کا پورا التزام ہوتا ہے۔....... ہم باغ تک جاتے ہیں پھر واپس آ جاتے ہیں“۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا بیان عدالت مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘ جلد ۵‘ نمبر

۲۹‘ مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۱ء‘ منقول از منظور الٰہی‘ ص ۲۴۴‘ مصنفہ منظور الٰہی صاحب

قادیانی لاہور)

”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت (مرزا) صاحب کے ایک حقیقی ماموں تھے جن کا نام مرزا جمعیت بیگ تھا۔ ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئے اور ان کے دماغ میں کچھ خلل آگیا تھا۔ لڑکے کا نام مرزا علی شیر تھا اور لڑکی کا حرمت بی بی۔ لڑکی حضرت صاحب کے نکاح میں آئی اور اسی کے بطن سے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد پیدا ہوئے“۔

صفحہ 142

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۰۶‘ روایت ۲۱۲‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

”مراق کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ورثہ میں ملا ہوا طبعی میلان اور عصبی کمزوری ہے۔ عصبی امراض ہمیشہ ورثہ میں ملتے ہیں اور لمبے عرصے تک خاندان میں چلتے ہیں“۔

(بیاض نور الدین‘ جلد اول‘ منقول از اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۱۰۶‘ ص ۴۷‘ مورخہ

یکم دسمبر ۱۹۲۸ء)

”جب خاندان میں اس کی ابتدا ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود احمد صاحب) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے“۔

(مضمون ڈاکٹر شاہنواز صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو“ قادیان‘ ص ۱۱‘ بابت اگست

۱۹۲۶ء)

”اکثر یہ مرض (مراق) تنہا رہنے یا زیادہ خوض علم میں کرنے یا محنت شدید یا ریاضت شدید یا مجاہدہ نفس سے پیدا ہوتا ہے“۔

(”تذکرۃ الوفاق فی العلاج المراق“ ص ۶۰‘ مصنفہ حکیم اصغر حسین خان فرخ آبادی)

(۳۴) مالینخولیا مراق

”مالینخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے‘ پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے‘ اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔

اس کی علامات یہ ہیں ترش دخانی ڈکاریں آنا‘ ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا‘ ہاضمہ خراب ہو جانا‘ پیٹ پھولنا‘ پاخانہ پتلا ہونا‘ دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔ (ترجمہ)“ (شرح الاسباب و العلامات امراض سر اس مالینخولیا

تصنیف برہان الدین نفیس)

”یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض (مراق) کی علامات کا ظہور فتور قوت حیوانی یا

صفحہ 143

روح حیوانی سے ہوتا ہے۔ جو کہ جگر و معدے میں ہوتی ہے مگر تحقیقات جدیدہ سے معلوم ہوا ہے کہ مرض عصبی ہے اور جیسا کہ عورت میں رحم کی مشارکت سے مرض اختناق الرحم (ہسٹریا) پیدا ہو جاتا ہے، اسی طرح اعضائے اندرونی کے فتور سے ضعف دماغ ہو کر مردوں میں مراق ہو جاتا ہے۔

علامات مرض :

”مریض ہمیشہ سست و متفکر رہتا ہے۔ اس میں خودکشی کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک بات میں مبالغہ کرتا ہے۔۔۔ بھوک نہیں لگتی، کھانا ٹھیک طور پر ہضم نہیں ہوتا“۔

(”مخزن حکمت“ مصنفہ شمس الاطباء حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب، طبع دوم)

”فساد ہضم، کھٹی دخانی ڈکاریں، منہ میں زیادہ رال آئے، پیٹ پھولتا ہو، پیٹ میں قراقر، تناؤ اور سوزش ہو، جھوٹی بھوک معلوم ہو، تالو کی طرف دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہوں، ہاضمہ اچھا ہو تو مرض میں تخفیف ہو۔ ہاضمے کی خرابی اور تھکنے سے مرض میں زیادتی ہو۔۔۔ گاہے جسم کے اوپر کے حصے میں کپکپی اور لرزہ، ہاتھ پاؤں کی ہتھیلیوں یا تمام بدن کا ٹھنڈا ہو جانا۔ مرض کی کمی بیشی کے مطابق کمزوری لاحق ہونا۔ یہاں تک کہ کبھی غشی کی نوبت پہنچ جائے۔۔۔۔ کبھی ایک چیز کے دو معلوم ہونا۔ کبھی آنکھوں کے سامنے بجلی سی کوندتی معلوم ہونا۔ آنکھوں کی کرختگی، پلکوں کا بوجھل ہونا، دماغ اور سر میں سوزش و گرمی، درد سر اور نسیان، یک بیک اچھو لگ جانا۔۔۔۔ مرض مراق کے لوازم سے ہے لیکن ان سب کا ایک مریض میں پایا جانا ضروری نہیں۔ (ترجمہ)“

(”اکسیر اعظم“ ج اول، ص ۱۸۹، مصنفہ حکیم محمد افضل خان صاحب)

”مالیخولیا اس مرض کو کہتے ہیں جس میں حالت طبعی کے خلاف خیالات و افکار متغیر، مخوف و فاسد ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب مزاج کا سوداوی ہو جانا ہوتا ہے۔ جس سے روح دماغی اندرونی طور پر متوحش ہوتی ہے اور مریض اس کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے یا پھر یہ مرض حرارت جگر کی شدت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہی چیز مراق ہوتی ہے۔ جب اس میں غذا کے فضلات اور آنتوں کے بخارات جمع ہو جاتے ہیں اور اس

صفحہ 144

کے اخلاط جل کر سودا کی صورت میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو ان اعضاء سے سیاہ بخارات اٹھ کر سر کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی کو نفخہء مراقیہ‘ مالیخولیائے نافع اور مالیخولیائے مراقی کہتے ہیں۔ (ترجمہ)“

(قانون شیخ الرئیس حکیم بو علی سینا‘ فن اول از کتاب ثالث)

علاج:

عمدہ خون پیدا کرنے والی غذائیں استعمال کرائی جائیں۔ مثلاً مچھلی‘ (پرندوں کا) زود ہضم گوشت اور کبھی کبھی سفید ہلکی شراب جو تیز اور پرانی نہ ہو۔۔۔۔ اور عمدہ عمدہ خوشبوئیں جیسے مشک‘ عنبر‘ نافہ اور عود استعمال کرائیں۔ نیز فم معدہ کے لیے مقوی جوارشات کا استعمال کرائیں۔

مریض مالیخولیا کو لازم ہے کہ کسی دل خوش کن کام میں مشغول رہے اور اس کے پاس وہ لوگ رہیں جو اس کی تعظیم و تکریم کرتے رہیں اور اس کو خوش رکھیں اور شراب تھوڑا تھوڑا پانی ملا کر اعتدال کے ساتھ پلائی جائے“۔

(قانون شیخ الرئیس حکیم بو علی سینا‘ فن اول از کتاب ثالث)

(۳۵) مالیخولیا کے کرشمے

”مالیخولیا خیالات و افکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف و فساد ہو جانے کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے۔۔۔۔۔ اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں“۔

(شرح الاسباب والعلامات امراض راس مالیخولیا‘ مصنفہ برہان الدین نفیس)

”مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً۔۔۔۔ مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے“۔

(”اکسیر اعظم“ جلد اول‘ ص ۱۸۸‘ مصنفہ حکیم محمد اعظم خان صاحب)

صفحہ 145

(۳۶) ہسٹریا (م)

ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ”میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم، ص ۵۵، روایت نمبر ۳۶۹، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

”ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں، چونکہ عام طور پر یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے اس لیے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو، ان کو مراقی کہتے ہیں“۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۱۰،

نمبر ۸۴، ص ۶، مورخہ ۳۰ اپریل ۱۹۲۳ء)

”یہ درست ہے کہ مرگی اور ہسٹریا میں بھی مراق کی علامات پائی جاتی ہیں مگر یہ نہیں کہ ہر مراقی کو مرگی یا ہسٹریا کا مرض ہوتا ہے“۔

(”بیاض نور الدین“ جلد اول، منقول از اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، جلد ۳۶، نمبر ۴۷، مورخہ

یکم دسمبر ۱۹۳۸ء)

”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لیئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے“۔

صفحہ 146

(”مضمون ڈاکٹر شاہ نواز صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان‘ ص

۷ - ۶‘ بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

(۳۷) دق اور سل

حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ بیماری آپ کو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کی زندگی میں ہو گئی تھی اور آپ قریبا چھ ماہ تک بیمار رہے۔ حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کا علاج خود کرتے تھے اور آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا کرتے تھے۔ اس بیماری میں آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی“۔

(”حیات احمد“ جلد دوم‘ نمبر اول‘ ص ۷۹‘ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ”ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت (مرزا) صاحب کو سل ہو گئی..... حتی کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی......... والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا تھا“۔

(”سیرۃ المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۴۲‘ روایت ۶۶‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۳۸) دو چادریں (م)

”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے۔ جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول“۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ قادیان)

(م) ”دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرا بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور یہ دونوں مرض اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ (شاید یہ دعوے کی برکت ہو------ للمولف)

صفحہ 147

(اخبار ”بدر“ قادیان‘ ج ۲‘ نمبر ۲۳‘ مورخہ ۷ جون ۱۹۰۶ء)

(مرزا قادیانی صاحب کی تالیف ”حقیقت الوحی“‘ ص ۳۰۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۲۰‘ ج ۲۲)

”مسیح موعود زرد چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں ہوگی۔ سو میں نے کہا کہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں۔ یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری (عیسیٰ مسیح کا معجزہ تھا کہ بیماروں کو تندرست بلکہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مسیح موعود یعنی بزعم خود مرزا قادیانی صاحب کی نشانی خود امراض ہیں۔ خاص کر سر کی بیماری اور پیشاب اور دستوں کی بیماری لیکن کیا عجب ہے یہ چودھویں صدی کا کمال ہو جس سے اچھے اچھوں نے پناہ مانگی۔۔۔۔ (للمؤلف)

(مرزا قادیانی صاحب کی تالیف ”تذکرۃ الشہادتین“ ص ۲۳-۲۴‘ ”روحانی خزائن“ ج ۲۰‘ ص ۲۶)

”مسیح موعود کی نسبت حدیثوں میں دو زرد رنگ چادروں کا ذکر ہے۔ ایسے ہی میرے لاحق حال دو بیماریاں ہیں۔ ایک بیماری بدن کے اوپر کے حصہ میں ہے جو اوپر کی چادر ہے اور وہ دوران سر ہے جس کی شدت کی وجہ سے بعض وقت میں زمین پر گر جاتا ہوں اور دل کا دوران خون کم ہو جاتا ہے اور ہولناک صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ (بعض دیگر دماغی امراض خاص کر مرگی میں یہ کیفیت گزرتی ہے۔ درد سر میں تو بیشتر تکلیف رہتی ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے اپنی خرابی صحت میں ہسٹریا کا مرض بھی ظاہر کیا۔۔۔۔ (للمؤلف) اور دوسری بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں ہے جو مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے جس کو ذیابیطس کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھے ہر روز پیشاب کثرت سے آتا ہے اور پندرہ یا بیس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات قریب سو دفعہ کے دن رات میں آتا ہے اور اس سے بھی ضعف بہت ہو جاتا ہے“۔

(مرزا قادیانی صاحب کی تالیف ”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ۲۰۱‘ ”خزائن“ ص ۳۷۲‘ ج ۲۱‘ منقول از اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۳۶‘ نمبر ۴۷‘ مورخہ یکم دسمبر )

صفحہ 148

(۱۹۴۸ء)

(۳۸) الف پیشاب کا انتظام (ج)

”اس پر مجھے یاد آیا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس عاجز کو دو بار ایسی خدمت کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔ ایک تو سفر جہلم۔ میری عادت تھی کہ سفر میں یہ کوشش کرتا تھا کہ رات کے وقت بھی مجھے حضور کے پاس ہی سو رہنے کی جگہ ملے۔ چنانچہ جہلم میں حضور کی چارپائی کے نزدیک ہی فرش پر لیٹنے کا مجھے موقعہ مل گیا اور جب سب لوگ سوئے ہوئے تھے تو مجھے آہٹ ہوئی کہ حضور چارپائی پر سے اٹھے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ کیا چاہیے۔ حضور نے فرمایا کہ پیشاب کی حاجت ہے۔ سردی کا موسم تھا۔ میں جلدی سے ایک مٹی کا برتن لایا اور مٹی کے ڈھیلے لایا۔ حضور پیشاب سے فارغ ہوئے تو میں برتن اٹھا کر باہر لے گیا۔

دوسری دفعہ لاہور میں جب حضور نے حضرت میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے مکان پر قیام کیا تب بھی رات کے وقت حضور کو پیشاب کی حاجت ہوئی۔ میں جاگ رہا تھا۔ ایک مٹی کا برتن لایا۔ جب حضور فارغ ہوئے تو میں نے ہاتھ بڑھایا اور مٹی کے برتن کو پکڑا کہ باہر لے جاؤں مگر اس دفعہ حضور نے مجھے اجازت نہ دی کہ میں ایسا کروں اور ایک کھڑکی سے جو اس کمرے میں تھی، خود ہی پیشاب باہر گرا دیا“۔

(”مفتی محمد صادق صاحب کا بیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، نمبر ۲۷۷، جلد ۲۸،

مورخہ ۶ دسمبر ۱۹۴۰ء)

(۳۹) دو بیماریاں

”مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر، جس سے میں نہایت بے تاب ہو جاتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامن گیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخر نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔ لہٰذا میں دعا کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ ایک دفعہ عالم

صفحہ 149

کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چارپایہ کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کے مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے تو میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اس کے سینے پر مارا اور کہا کہ دور ہو، تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔ تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی۔ صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے تا دو زرد رنگ چادروں کی پیش گوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے، جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی۔ ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کی رو سے انجام ذیابیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے یا کاربنکل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے سو اسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا یعنی تین عضو پر رحمت نازل کی گئی۔ آنکھ اور دو اور عضو پر اور پھر جب کاربنکل کا خیال میرے دل میں آیا تو الہام ہوا السلام علیکم۔ سو ایک عمر گزری کہ میں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں۔ فالحمد للہ“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۶۳، روحانی خزائن، ص ۳۷۶، ۳۷۷، ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد

صاحب قادیانی)

(۴۰) تیس برس (ج)

”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا۔ نبض کم ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً تیس برس سے ہیں“۔

(”نسیم دعوت“ ص ۶۸، ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۵، ج ۱۹، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”یہ دونوں بیماریاں کبھی دعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہیں کہ گویا دور ہو گئیں مگر پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دعا کی کہ یہ بیماریاں بالکل دور کر دی جائیں تو

صفحہ 150

جواب ملا کہ ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ مسیح موعود کے لیے یہ بھی ایک علامت ہے۔ کیونکہ لکھا ہے کہ وہ دو زرد چادروں میں اترے گا“۔

(اخبار ”پیغام“ صلح لاہور جلد ۳۶‘ نمبر ۴۷‘ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۳۸ء)

(۴۱) دائم المرض

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔۔۔۔ ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔۔۔۔۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں“۔

(”ضمیمہ اربعین“ نمبر ۳۔۴‘ صفحہ ۴ ”روحانی خزائن“ ص ۴۷۰۔۴۷۱‘ ج ۱۷‘ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ”حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے۔ کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھنی جاتی ہے۔ بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرات میں شاید قل ھواللہ بہ مشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے“۔

خاکسار غلام احمد قادیان‘ ۵ فروری ۱۸۹۱ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر ۲‘ ص ۸۸)

(۴۲) چشم نیم باز

”مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت (مرزا)

صفحہ 151

صاحب کی یہ عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں..... ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم، ص ۷۷‘ روایت ۴۰۳ - ۴۰۴، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد

صاحب قادیانی)

(۴۳) عصبی کمزوری

”حضرت (مرزا) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر‘ دردِ سر‘ کمی خواب‘ تشنج دل‘ بدہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا“۔

(رسالہ ”ریویو“ قادیان‘ بابت مئی ۱۹۳۷ء)

(۴۴) مرض اعصابی

مخدومی مکرمی اخویم (مولوی نور الدین صاحب) السلام علیکم رحمۃ اللہ..... یہ عاجز پیر کے دن ۹ مارچ ۱۸۹۱ء کو مع اپنے عیال کے لودھیانہ کی طرف جائے گا اور چونکہ سردی اور دوسرے تیسرے روز بارش بھی ہو جاتی ہے اور اس عاجز کی مرض اعصابی ہے۔ سرد ہوا اور بارش سے بہت ضرر پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے یہ عاجز کسی صورت سے اس قدر تکلیف اٹھا نہیں سکتا کہ اس حالت میں لودھیانہ پہنچ کر پھر جلدی لاہور میں آوے۔ طبیعت بیمار ہے‘ لاچار ہوں۔ اس لیے مناسب ہے کہ اپریل کے مہینہ میں کوئی تاریخ مقرر کی جاوے..... والسلام

خاکسار غلام احمد

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر ۲‘ ص ۹۰‘ مولفہ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

(۴۵) خرابی حافظہ

صفحہ 152

مکرمی اخویم سلمہ ..... میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا“۔ خاکسار غلام احمد‘ از خطہ انبالہ حاطہ ناگ پھنی

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر ۳‘ ص ۲۱)

(۴۶) مقدمہ کی فکر

”چوتھے وہ لمبا اور تکلیف دہ فوجداری مقدمہ جو کرم دین ساکن بھین‘ ضلع جہلم کی طرف سے اول اول جہلم اور پھر اس کے بعد گورداسپور میں چلا گیا تھا اور بالآخر بعدالت اے۔ ای ہریسن جج امرتسر ۷ جنوری ۱۹۰۵ء کو فیصل ہوا اور آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) بری کیے گئے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۲۴‘ روایت نمبر ۲۴۲‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ ”جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا‘ ایک دن حضرت (مرزا) صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دعا کے لیے اس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لیے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا یہ کس کی چھڑی ہے۔ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اچھا! میں نے تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۲۷‘ روایت ۲۴۶‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۴۷) بے توجہی

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ

صفحہ 153

السلام اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی (جوتہ) ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتہ پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے“۔

("سیرۃ المہدی" حصہ دوم، ص ۵۸، روایت ۳۷۵، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۴۸) جیب کے ڈھیلے

”آپ کو (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو) شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اسی زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے یار ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس کے باعث سے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو رہے تھے (البتہ کھانے میں مرغ، بٹیر، مقویات میں مشک، عنبر، مفرح، عنبری اور خاص مجربات اور مشاغل میں سرکار عظمت مدار کی توصیف و تائید اور دین میں تاویلات اور نبوت کے دعوے۔ دنیا کی طرف صرف اسی قدر توجہ باقی رہ گئی تھی، اس سے زیادہ نہیں------ (للمولف)

("مرزا صاحب کے حالات" مرتبہ معراج الدین عمر صاحب قادیانی، "تتمہ براہین احمدیہ"

جلد اول، ص ۶۷)

(۴۹) مصروفیت اور مراق

”میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں

صفحہ 154

تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے تاہم میں اس بات کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کیے جاتا ہوں"۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان، جلد ۵، نمبر ۴۰،

"ملفوظات" ص ۳۷۶، ج ۲، مورخہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۱ء منقول از کتاب منظور الٰہی، ص ۴۴۸،

مولفہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی)

(۵۰) انہماک

"مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں مگر جس وقت پاخانے کی بھی حاجت ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔ اپنے بھی روٹی کے لیے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے"۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان، جلد ۵، نمبر ۴۰، منقول

از کتاب منظور الٰہی، ص ۴۴۹، مولفہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی، "ملفوظات" ص ۳۷۶

- ۳۷۷، ج ۲، طبع ربوہ)

(۵۱) اوہو

"ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں حضور (مرزا) صاحب کے پاس یکہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ میری طرف بہت جھک گئے۔ میں ذرا کھسک گیا آپ اور میری طرف ہو گئے میں اور ایک طرف ہو گیا۔ حتیٰ کہ اتنی تھوڑی سی جگہ پر میں رہ گیا کہ ایک جگہ پر یکہ کا پہیہ جو کسی گڑھے میں پڑا اس دھکے سے میں نیچے جا پڑا اور جلدی سے اٹھ کر پیشاب کے لیے بیٹھ گیا۔ تا حضرت صاحب محسوس نہ کریں کہ میں گرا ہوں مگر آپ نے فرمایا اوہو! مفتی صاحب آپ گر گئے جگہ تو بہت ہے اور آپ پیچھے ہٹ گئے شاید یہ بھی کوئی امتحان ہی تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے"۔

صفحہ 155

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۷۷‘

ص ۷‘ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء)

(۵۲) روٹی کے ٹکڑے

”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب کھانا کھایا کرتے تھے تو بمشکل ایک پھلکا آپ کھاتے اور جب آپ اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے۔ پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دسترخوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسا کیوں کیا کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں“۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۲۲‘ نمبر ۱۰۵‘ ص ۷ ۔ ۸‘ مورخہ ۳ مارچ ۱۹۳۵ء‘ ملخص ”سیرت المہدی“ ص ۱۳۱‘ ج ۲‘ نمبر

۴۴۴)

(۵۳) دوران سر

”پان عمدہ بیگمی اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جاوے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے“۔

(خطوط امام بنام غلام‘ ص ۶‘ حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی‘ مالک دواخانہ رفیق

الصحت لاہور)

(۵۴) دماغی بیہوشی

”پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب حضور سخت دماغی محنت کیا کرتے تو اچانک آپ کے دماغ پر ایک کمزوری کا حملہ ہوتا اور بے ہوش ہو جاتے۔

صفحہ 156

ایک دفعہ کا واقعہ مجھے یاد ہے جب کہ عیسائی دشمنوں نے حضور پر مقدمہ اقدام قتل کا بنایا اور مسلمان مولوی صاحبان عیسائیوں کی تائید میں گواہیاں دینے کے لیے آئے تو جس دن بٹالہ میں پیشی تھی، اس سے قبل رات عشاء کی نماز کے بعد حضور جواب دعویٰ لکھنے بیٹھے اور مجھے حکم فرمایا کہ میں حضور کے مسودہ کو خوشخط لکھتا جاؤں۔ اندر کے صحن میں حضور بیٹھ گئے۔ لالٹین اور بتیاں روشن کی گئیں۔۔۔۔ حضرت صاحب مسودہ لکھتے رہے اور میں نقل کرتا رہا۔ اسی حالت میں ساری رات گزر گئی اور صبح کی اذان ہو گئی۔ اس وقت اچانک حضرت صاحب کو دماغ میں تکلیف محسوس ہوئی جس سے لیٹ گئے اور بیہوش ہو گئے۔ لوگ باہر سے بلائے گئے۔ بہت دیر تک بدن کو دبانے اور ملنے کے بعد ہوش میں آئے"۔

(”منظروصال“ از مفتی محمد صادق قادیانی، مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان، خاص نمبر، مورخہ

۲۱ مئی ۱۹۳۴ء)

(۵۵) خرابی صحت

”عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہو گئی ہے۔ بجز دو وقت ظہر و عصر کے نماز کے لیے بھی نہیں جا سکتا اور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور اگر ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ جسم بالکل بے کار ہو رہا ہے اور جسمانی قویٰ ایسے مضمحل ہو گئے ہیں کہ خطرناک حالت ہے۔ گویا مسلوب القویٰ ہوں اور آخری وقت ہے۔ ایسا ہی میری بیوی دائم المریض ہے۔ امراض رحم و جگر دامن گیر ہیں"۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ اخبار ”بدر“ قادیان، جلد ۲، نمبر ۲۱، منقول از

”آئینہ احمدیت“ ص ۱۸۶، مولفہ دوست محمد صاحب قادیانی لاہوری)

(۵۶) سخت بیمار

بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب (حال عبدالرحیم صاحب درد قادیانی) ایم۔ اے کہ ”ایک دفعہ والد صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) سخت بیمار ہو گئے اور حالت نازک ہو گئی اور حکیموں نے ناامیدی کا

صفحہ 157

اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہو گئی مگر زبان جاری رہی۔ والد صاحب نے کہا کہ کپڑا لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اس سے حالت روبہ صلاح ہو گئی۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت (مرزا) صاحب نے لکھا ہے کہ یہ مرض قولنج زحیری کا تھا۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:

”ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۳۴’ ”روحانی خزائن“ ص ۲۴۶’ ج ۲۲)

اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھایا تھا کہ پانی اور ریت منگوا کر بدن پر ملی جاوے۔ سو ایسا کیا گیا تو حالت اچھی ہو گئی۔ مرزا سلطان احمد صاحب کو ریت کے متعلق ذہول ہو گیا ہے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۲۰۳، روایت ۲۰۰، مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۵۷) مرغوبات

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ”حضرت (مرزا) صاحب جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کے تازہ ٹھنڈے یا تازہ آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے اور سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا۔۔۔۔ گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں۔۔۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ یہ بھی فرمایا تھا کہ گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ جو شخص چالیس دن لگا تار کثرت کے ساتھ صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے، اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ دال، سبزی، ترکاری کے ساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہیے“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۱۶۳، روایت ۱۶۷، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

پرندوں کا گوشت آپ کو مرغوب تھا۔ اس لیے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو تیتر، فاختہ وغیرہ کے لیے شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم کو اس کا گوشت مہیا کرنے کے

صفحہ 158

لیے فرمایا کرتے تھے۔ مرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا مگر بٹیر جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا، کھانے چھوڑ دیے تھے بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔... مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھا لیتے تھے۔ سالن ہو یا بھنا ہوا، کباب ہو یا پلاؤ مگر اکثر ایک ران پر ہی گزارا کر لیتے تھے اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی..... پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکوا لیا کرتے تھے مگر گڑ کے اور وہی آپ کو پسند تھے۔ عمدہ کھانے یعنی کباب، مرغ پلاؤ یا انڈے اور اسی طرح فیرنی، میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے جب ضعف معلوم ہوتا۔ جن دنوں میں تصنیف کا کام کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی تو ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے تھے..... دودھ، بالائی، مکھن یہ اشیاء، بلکہ بادام روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں۔ بعض لوگوں نے آپ کے کھانے پر اعتراض کیے ہیں مگر ان بیوقوفوں کو یہ خبر نہیں کہ ایک شخص جو عمر میں بوڑھا ہے اور اسے کئی امراض لگے ہوئے ہیں اور باوجود ان کے وہ تمام جہاں سے مصروف پیکار ہے۔... وہ شخص ان مقوی غذاؤں کو صرف بطور قوت لایموت اور سد رمق کے طور پر استعمال کرتا ہے تو کون عقل کا اندھا ایسا ہو گا کہ اس خوراک کو لذایذ حیوانی اور حظوظ نفسانی سے تعبیر کرے۔ خدا تعالیٰ ہر مومن کو بدظنی سے بچائے.......

میوہ جات آپ کو پسند تھے اور اکثر خدام بطور تحفے کے لایا بھی کرتے تھے۔ گاہے بگاہے خود بھی منگواتے تھے۔ پسندیدہ میووں میں سے آپ کو انگور، بمبئی کا کیلا، ناگپوری سنگترے، سیب، سردے اور سرولی آم زیادہ پسند تھے۔ باقی میوے بھی گاہے بگاہے جو آتے رہتے تھے، کھا لیا کرتے تھے-------- زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونڈ، جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر، لاہور سے خود منگوا لیا کرتے تھے۔ بازاری مٹھائیوں سے بھی آپ کو کسی قسم کا پرہیز نہ تھا۔ نہ اس بات کی پروا تھی کہ ہندو کی ساختہ ہے یا مسلمانوں کی۔ لوگوں کی نذرانہ کے طور پر آوردہ مٹھائیوں میں سے بھی کھا لیتے تھے اور خود بھی روپیہ دو روپیہ کی مٹھائی منگوا کر رکھا کرتے تھے۔ یہ مٹھائی بچوں کے لیے ہوتی تھی"۔

صفحہ 159

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۳۲ ۱۳۵‘ روایت ۴۴۴)

بلکہ ولایتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے اس لیے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے۔ کیونکہ بنانے والے کا ادعا تو مکھن ہے۔ پھر ہم ناحق بد گمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۳۲‘ روایت ۴۴۴‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۵۸) شکار کی ضرورت

”عام طور پر آپ کو (شکار سے) شوق اور دلچسپی نہ تھی۔ ہاں طیور کے گوشت کو پسند فرماتے تھے اور دراصل حضرت صاحبزادگان میں شکار کا شوق بھی حضرت مسیح موعود کی اس خواہش کے پورا کرنے کے لیے آیا جو حضرت والد صاحب قبلہ کی خوشنودی اور دعا کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غذا بالکل کم ہو گئی تھی اور کوئی چیز نہیں کھاتے تھے۔ پرند کا شوربا آپ پسند کرتے تھے۔ اس لیے عام طور پر خدام کوشش کرتے تھے کہ کوئی پرند کا شکار کر کے لائیں۔ اسی سلسلے میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی سعی کرتے“۔

(”حیات النبی“ جلد اول‘ نمبر دوم‘ ص ۱۳۹‘ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۵۸) الف کثرت کی آفت (ج)

”ایک زمانہ وہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر مہمانوں میں بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے اور ابتداء میں بعض دفعہ آپ کے ساتھ ایک آدمی بعض دفعہ دو آدمی اور بعض دفعہ چھ سات آدمی ہوتے تھے۔ آخر ہوتے ہوتے یہ تعداد پندرہ بیس تک جا پہنچے تو آپ نے کھانا باہر مہمانوں کے ساتھ کھانا چھوڑ دیا کہ اب یہ تکلیف مالا یطاق ہے۔ پھر یہ بات نہ رہی اور آپ نے گھر میں بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا۔ (تنہائی میں مرزا قادیانی کو یوں بھی کھانا حسب دلخواہ اچھا ملتا ہو گا۔ چنانچہ ذکر ہے کہ مرزا صاحب کو پرندوں کا گوشت بہت مرغوب تھا۔ مثلاً تیتر، مرغ، بٹیر وغیرہ------ (للمولف برنی)

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا ارشاد‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

)

صفحہ 160

قادیان‘ جلد ۳۴‘ نمبر ۳۰۰‘ ص ۲‘ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۵۹) درستی صحت

”مجھے دماغی کمزوری اور دوران سر کی وجہ سے بہت سی ناطاقتی ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اب میری حالت بالکل تالیف و تصنیف کے لائق نہیں رہی اور ایسی کمزوری تھی کہ گویا بدن میں روح نہیں تھی۔ اسی حالت میں مجھے الہام ہوا اترد الیک انوار الشباب یعنی جوانی کے نور تیری طرف واپس کیے۔ بعد اس کے چند روز میں ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری گم شدہ قوتیں پھر واپس آتی جاتی ہیں اور تھوڑے دنوں کے بعد مجھ میں اس قدر طاقت ہو گئی کہ میں ہر روز دو دو جزو تو تالیف کتاب کو اپنے ہاتھ لکھ سکتا ہوں اور نہ صرف لکھنا بلکہ سوچنا اور فکر کرنا جو نئی تالیف کے لیے ضروری ہے‘ پورے طور پر میسر آ گیا۔ ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرے بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے۔ یہ دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ میں نے ان کے لیے بھی دعائیں کیں مگر منع میں جواب پایا اور میرے دل میں القا کیا گیا کہ یہ ابتداء سے مسیح موعود کے لیے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔“

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۰۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۲۰۔۳۱۹‘ ج ۲۲)

(۶۰) روغن بادام

”ایسی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی ہتھیلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے میں مولوی یار محمد صاحب کو بھیجتا ہوں کہ آپ خالص تلاش سے ایسا روغن بادام کہ جو تازہ ہو اور کہنہ نہ ہو اور نیز اس کے ساتھ کوئی ملونی نہ ہو ایک بوتل خرید کر بھیج دیں۔ پانچ روپیہ قیمت اس کی ارسال ہے“۔

(”خطوط امام بنام غلام‘ ص ۵‘ از حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی‘ مالک دواخانہ رفیق

صفحہ 161

الصحت لاہور)

”بادام روغن میری بیماری کے لیے خریدا جاوے گا۔ نیا اور تازہ ہو اور عمدہ ہو۔ یہ آپ کا خاص ذمہ ہے“۔

("خطوط امام بنام غلام' ص ۷' از حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی' مالک دواخانہ رفیق

الصحت لاہور)

(۶۱) مشک

”آپ براہ مہربانی ایک تولہ مشک خالص جس میں ریشہ جھلی اور صوف نہ ہوں اور تازہ و خوشبودار ہو‘ بذریعہ ویلوپی ایبل پارسل ارسال فرما دیں۔ کیونکہ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے اور باعث دورہ مرض ضرورت رہتی ہے۔

("خطوط امام بنام غلام' ص ۱۶ از حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی' مالک دواخانہ رفیق

الصحت لاہور)

”پہلی مشک ختم ہو چکی ہے اس لیے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دو شیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرمائیں“۔ (ص ۲-۳)

”آپ بے شک ایک تولہ مشک بقیمت (۳۶) روپیہ خرید کر کے بذریعہ وی پی بھیج دیں۔ ضرور بھیج دیں۔ (ص ۳)

”پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی‘ وہ اب نہیں رہی۔ آپ جاتے ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہیے خوشبودار ہو ضرور ویلو پی ایبل کرا کر بھیج دیں جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چھچھڑا نہ ہو اور جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے‘ وہی اس میں ہو“۔

(خطوط امام بنام غلام‘ ص ۱۶ از مرزا بنام ----- حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی‘

مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)

مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ........

”اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہو رہی ہے۔ ہاتھ پاؤں بھاری اور

صفحہ 162

زبان بھی بھاری ہو رہی ہے۔ مرض کے غلبے سے نہایت لاچاری ہے۔ مجھ کو ایک مرتبہ آن مکرم نے کسی قدر مشک دیا تھا۔ وہ نہایت خالص تھا اور مجھ کو بہت فائدہ اس سے ہوا تھا۔ اب میں نے کچھ عرصہ ہوا، لاہور سے مشک منگوائی تھی اور استعمال بھی کی مگر بہت کم فائدہ ہوا۔ بازاری چیزیں مغشوش ہوتی ہیں۔ خاص کر مشک۔ یہ تو مغشوش ہونے سے خالی نہیں ہوتی۔ چونکہ میری طبیعت گری جاتی ہے اور ایک سخت کام کی محنت سر پر ہے اس لیے تکلیف دیتا ہوں کہ ایک خاص توجہ اس طرف فرمائیں اور مشک کو ضرور دستیاب کریں۔ بشرطیکہ وہ بازاری نہ ہو۔ کیونکہ بازاری کا تو چند دفعہ تجربہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ مشک دو ماشے یا تین ماشے ہو وہ بالفعل کفایت کرے گا مگر عمدہ ہو۔ اگر اصلی نافہ جو مصنوعی نہ ہو، مل جائے تو نہایت خوب ہے مگر جلد ہو"۔

خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۴ اگست ۱۸۹۲ء

(مکتوبات احمدیہ، جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۱۲۰-۱۲۱، مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ، السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ.......

"کل سے میری طبیعت علیل ہو گئی ہے۔ کل شام کے وقت مسجد میں اپنے تمام دوستوں کے روبرو جو حاضر تھے، سخت درجہ کا عارضہ لاحق حال ہوا اور ایک دفعہ تمام بدن سرد اور نبض کمزور اور طبیعت میں سخت گھبراہٹ شروع ہوئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زندگی میں ایک دو دم باقی ہیں۔ بہت نازک حالت ہو کر پھر صحت کی طرف عود ہوا مگر اب تک کلی اطمینان نہیں۔ کچھ کچھ آثار عود مرض کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فضل و رحم فرمائے۔

ایسے وقتوں میں ہمیشہ مشک کام آتی ہے۔۔ اس وقت مشک جو بمبئی سے آپ نے منگوا کر بھیجی تھی، لیکن طبیعت کی سخت سرگردانی اور دل کے اضطراب کی وجہ سے وہ مشک کھولنے کے وقت زمین پر متفرق ہو کر گر گئی اور گرنے کے سبب سے خشک تھی اور ہوا چل رہی تھی، ضائع ہو گئی۔ اس لیے مجھے دوبارہ آپ کو تکلیف دینی پڑی۔ یہ مشک بہت عمدہ تھی۔ اس دکان سے ایک تولہ مشک لے کر جہاں تک ممکن ہو، جلد ارسال

صفحہ 163

فرمائیں کہ دورہ مرض کا سخت اندیشہ ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ ہے"۔ خاکسار غلام احمد از قادیان

("مکتوبات احمدیہ" جلد پنجم، حصہ اول، ص ۲۸)

"سر کے دورے اور سردی کی تکلیف کے لیے سب سے زیادہ آپ مشک یا عنبر استعمال فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ نہایت اعلیٰ قسم کا منگوایا کرتے تھے۔ یہ مشک خریدنے کی ڈیوٹی آخری ایام میں حکیم محمد حسین صاحب لاہوری موجد مفرح عنبری کے سپرد تھی۔ عنبر اور مشک دونوں مدت تک سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی کی معرفت بھی آتے رہے۔ مشک کی تو آپ کو اس قدر ضرورت رہتی کہ بعض اوقات سامنے رومال میں باندھ رکھتے تھے کہ جس وقت ضرورت ہوئی، فوراً نکال لیا"۔

("سیرۃ المہدی" حصہ دوم، ص ۱۴۷، روایت ۴۴۴، مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۶۲) عنبر

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ...... عنایت نامہ پہنچا۔ اب بفضلہ تعالیٰ میری طبیعت ٹھہر گئی ہے۔ دورہ مرض سے امن ہے۔ حقیقت میں یہ عمر جب انسان ساٹھ پینسٹھ سال کا ہو جاتا ہے مرنے کے لیے ایک بہانہ چاہتی ہے۔ جیسا کہ ایک بوسیدہ دیوار یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس قدر سخت حملوں سے وہ بچا لیتا ہے۔ کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا۔ میری طرف سے آپ اس مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کرویں، جنہوں نے میری بیماری کا حال سن کر اپنی عنایت اور ہمدردی محض للہ ظاہر کی۔ خدا تعالیٰ ان کو اس خدمت کا اجر بخشے اور ساتھ ہی آپ کو آمین ثم آمین (مکتوب نمبر ۶۷)

عنبر سفید دراصل بہت ہی نافع معلوم ہوا۔ تھوڑی خوراک سے دل کو قوت دیتا ہے اور دوران خون تیز کر دیتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ایسی بیماری دامن گیر ہے کہ ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ (مکتوب نمبر ۶۸)

("مکتوبات احمدیہ" جلد پنجم، حصہ اول، ص ۲۶-۲۷ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی

)

صفحہ 164

صاحب)

عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میں باعث علالت طبع چند روز جواب لکھنے سے معذور رہا۔ میری کچھ ایسی حالت ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ پیر سرد ہو کر اور نبض ضعیف ہو کر غشی کے قریب قریب حالت ہو جاتی ہے اور دوران خون یک دفعہ ٹھہر جاتا ہے جس میں اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں میں یہ حالت دو دفعہ ہو چکی ہے۔ آج رات پھر اس کا سخت دورہ ہوا۔ اس حالت میں صرف عنبر یا مشک فائدہ کرتا ہے۔ رات دس خوراک کے قریب مشک کھایا۔ پھر بھی دیر تک مرض کا جوش رہا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ صرف خداء تعالیٰ کے بھروسے پر زندگی ہے ورنہ دل جو رئیس بدن ہے‘ بہت ضعیف ہو گیا ہے"۔

خاکسار مرزا غلام احمد‘ ۲۰ جون ۱۸۹۹ء

("مکتوبات احمدیہ" جلد پنجم‘ نمبر چہارم‘ ص ۹۸‘ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۶۳) مفرح عنبری

”یاقوت‘ مروارید‘ مرجان‘ یشب‘ کہربا‘ کستوری‘ زعفران وغیرہ کا ہر دلعزیز مرکب مفرح عنبری بڑی محنت سے تیار ہو گیا ہے۔ قیمت ایک ڈبہ (۵ روپے)

(”اشتہار مندرجہ سرورق‘ ص ۲‘ خطوط امام بنام غلام‘ از حکیم محمد حسین صاحب قریشی

قادیانی‘ مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)

”میں (حکیم محمد حسین صاحب) اپنے مولا کریم کے فضل سے اس کو بھی اپنے لیے بے اندازہ فخر و برکت کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا صاحب) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔ حضور کو چونکہ دورہ مرض کے وقت اکثر مشک و دیگر مقوی دل ادویات کی ضرورت رہتی تھی جو اکثر میری معرفت جایا کرتی تھیں"۔

(”خطوط امام بنام غلام‘ ص ۸‘ از حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی‘ مالک دواخانہ

)

صفحہ 165

(رفیق الصحت لاہور)

(۶۴) افیون (م)

”مجھے اس وقت اپنا سرگزشت قصہ یاد آتا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے‘ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی اور دوسرا افیونی“۔

(”نسیم دعوت“ مصنفہ مرزا قادیانی‘ ص ۶۷‘ ”روحانی خزائن‘ ص ۴۳۵ - ۴۳۴‘ ج ۱۹)

افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دوا نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں بھی قابل اعتراض نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک شخص نے علم کے ساتھ یا بغیر علم کے ضرور کسی نہ کسی وقت افیون کا استعمال کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تریاق الہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) کو حضور (مرزا صاحب) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔

(مضمون میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۱۷‘ نمبر ۶‘

ص ۲‘ مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۲۹ء)

صفحہ 166

”جب آپ (یعنی مرزا قادیانی صاحب) پہلی بار میرے مطبع میں تشریف لائے تو آپ تکیہ دار موڑھے پر بیٹھ گئے اور ایک موڑھے پر میں بیٹھ گیا اور مجھ سے کتاب کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے آپ کی آنکھوں کو خوابیدہ دیکھ کر دھوکہ کھایا کہ شاید آپ پوست یا افیون استعمال کرتے ہیں جیسا کہ رئیسوں کا حال عموماً دیکھنے میں آیا مگر جب میں حضرت کی تقریر یا گفتگو سنتا تھا اور ”براہین احمدیہ“ کے مضامین پر غور کرتا تھا تو سخت حیرت ہوتی تھی کہ افیون وغیرہ کے استعمال کرنے والے کی تو یہ حالت نہیں ہوتی۔ ایسی تصنیف اور تحریر ایسا آدمی کب کر سکتا ہے۔ پھر حضرت صاحب تشریف لے گئے..... اب مجھے اپنی پہلی غلطی اور دھوکہ کھا جانے پر افسوس ہوا اور ندامت ہوئی اور خوب معلوم ہوا کہ یہ نشہ معرفت الٰہی کا نشہ ہے، نہ افیون وغیرہ کا جسے میں اس وقت سمجھا تھا۔ (مرزا قادیانی صاحب تو افیون کے اس درجہ قائل تھے کہ گویا افیون نصف طب ہے۔ یوں بھی قادیانی تحریروں میں افیون کا تذکرہ پایا گیا۔ افیون کا عیب اور کمال یہی ہے کہ تخیل کو مضبوط اور وسیع کر دیتی ہے اور اس کے نشہ میں وہ باتیں سوجھتی ہیں کہ عقل حیران رہ جائے۔ آدمی تیز اور طباع ہو تو پھر سونے پر سہاگہ۔۔۔۔۔۔ (للمؤلف برنی)

(قادیانی صحابی شیخ نور احمد صاحب‘ مالک مطبع ریاض ہند کا بیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ نمبر ۱۹۲‘ ج ۲۴‘ مورخہ ۲۰ اگست ۱۹۳۰ء)

”آج سے تیس سال قبل بہت سے لوگ ایسے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کے متعلق کہتے تھے انہیں اردو بھی نہیں آتی اور عربی دوسروں سے لکھا کر اپنے نام سے شائع کرتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے مولوی نور الدین آپ کو کتابیں لکھ کر دیتے ہیں۔ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے۔ آپ فرمایا کرتے میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا اور حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینک میں اس سے اس کے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔ غرض آپ کو لوگ جاہل اور بے علم سمجھتے تھے۔ کئی لوگ اس بات کے مدعی تھے کہ آپ کو کئی سال پڑھانے کی قابلیت رکھتے ہیں“۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۶‘

نمبر ۶۲‘ ص ۸‘ مورخہ ۵ فروری ۱۹۲۹ء)

صفحہ 167

”مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے“۔

(”منہاج الطالبین“ ص ۷۴‘ مصنفہ مرزا محمود احمد پسر مرزا)

”۲۸ جون بروز جمعہ صبح کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ مجھے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور میاں ناصر احمد صاحب کو ساتھ لے کر خواجہ (کمال الدین) صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔

خواجہ صاحب نے اپنا قصہ سنانا شروع کیا۔ جو علاج کراتے ہیں اور جو عارضے رہے ہیں‘ سب کا ذکر ہوتا رہا۔ خواجہ صاحب افیون بھی آج کل کھاتے ہیں۔ ایک رتی سے شروع کی تھی۔ ابھی یہ خیال ہے کہ چھ ماہ اور کھائیں تاکہ اعصاب مضبوط ہو جائیں“۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ نوشتہ عبدالرحیم درد صاحب قادیانی‘

مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۵ جولائی ۱۹۲۹ء نمبر ۲‘ جلد ۱۷)

(۶۵) سنکھیا

”جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کیے تاکہ خدانخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی طاقت ہو“۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۲۲‘ نمبر

۹۹‘ ص ۴‘ مورخہ ۵ فروری ۱۹۳۵ء)

(۶۶) دو بوتل برانڈی

”حضور (مرزا صاحب) علیہ السلام نے مجھے لاہور سے بعض اشیاء لانے کے لیے ایک فہرست لکھ کر دی۔ جب میں چلنے لگا تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی کی میری اہلیہ کے لیے پلومر کی دکان سے لیتے آئیں۔ میں نے کہا کہ اگر فرصت ہوئی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا کہ حضور مہدی حسین میرے لیے برانڈی کی بوتل نہیں لائیں گے۔ حضور ان کو

صفحہ 168

تاکید فرمادیں۔ حقیقۃً ”میرا ارادہ لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس (مرزا صاحب) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین! جب تک تم برانڈی کی بوتلیں نہ لے لو‘ لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لیے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی دکان سے دو بوتلیں برانڈی کی غالباً چار روپیہ میں خرید کر پیر صاحب کو لا دیں۔ ان کی اہلیہ کے لیے ڈاکٹروں نے بتلائی ہوں گی“۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ ج ۳۹‘ نمبر ۲۵‘ مورخہ ۷ نومبر ۱۹۳۶ء)

(۶۷) ٹانک وائن

محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خریدنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام (مرزا غلام احمد)

(خطوط امام بنام غلام‘ ص ۵‘ مجموعہ مکتوبات‘ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ بنام حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی‘ مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)

”ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا جواب حسب ذیل ملا:

”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ڈیڑھ روپیہ ہے“۔ (۲۱ ستمبر ۱۹۳۳ء)

(”سودائے مرزا‘ ص ۳۹‘ حاشیہ‘ طبع دوم‘ مصنفہ حکیم محمد علی صاحب‘ پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)

(۶۸) ٹانک وائن کا فتویٰ

”پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ

صفحہ 169

جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لیے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لیے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے، نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتہ نہیں ملتا تھا تو اطبا یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔ آپ تمام تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ بڑھاپا بھی پڑتا تھا تو اندریں حالات اگر ٹانک وائن بطور علاج پی بھی لی ہو تو کیا قباحت لازم آگئی"۔

(از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی، فریق لاہوری، مندرجہ اخبار "پیغام صلح" ج ۲۳،

نمبر ۱۵، مورخہ ۴ مارچ ۱۹۳۵ء و جلد ۲۳، نمبر ۶۵، مورخہ ۱۱ اکتوبر ۱۹۳۵ء)

(۶۸) (الف) گھر کا بھیدی (ج)

”مرزا شیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سالے اور (ان کے فرزند) مرزا افضل احمد صاحب کے خسر تھے، انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔ راستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے۔ تسبیح کے دانے پھیرتے جاتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے۔ بڑا لٹیرا ہے، لوگوں کو لوٹنے کے لیے دکان کھول رکھی ہے۔ بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دار لضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے۔ بڑی لمبی سفید داڑھی تھی۔ سفید رنگ تھا۔ تسبیح ہاتھ میں لیے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار تھے۔ تسبیح لیے بیٹھے رہتے۔ جو کوئی نیا آدمی آتا، اسے اپنے پاس بلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کر دیتے کہ مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے۔ آخر میں نے کیوں نہ اسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جو لوگوں کو لوٹنے کے لیے کھولی گئی ہے۔۔۔۔۔ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں۔ میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں۔ اصل میں آمدنی کم تھی۔ بھائی نے جائیداد سے بھی محروم کر دیا۔ اس لیے یہ دکان کھول لی ہے۔ آپ لوگوں

صفحہ 170

کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا۔ پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لیے آپ کو بتائی ہیں“۔

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریر، جلسہ سالانہ ۱۹۴۵ء، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، نمبر ۹۱، جلد ۳۴، مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۴۶ء)

(۶۹) مجاہدات

مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب..........

یہ بات مسلم اور واضح رہے کہ راست باز انسان کے لیے ایسے امور کی غرض سے کسی قدر مجاہدہ ضروری ہے۔ الکرامات ثمرۃ مجاہدات۔ علالت طبع بہت حرج انداز ہے۔ اگر یہ مقابلہ صحت اور طاقت دماغی کے ایام میں ہوتا تو یقین تھا کہ تھوڑے دن کافی ہوتے مگر اب طبیعت متحمل شدائد مجاہدات نہیں رکھتی اور ادنیٰ درجے کی محنت اور خوض اور توجہ سے جلد بگڑ جاتی ہے“۔

خاکسار غلام احمد، ۳۱؍ مارچ ۱۸۹۱ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۱۰۳، مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۷۰) توجہات

مخدومی مکرمی اخویم (مولوی نور الدین صاحب)

”السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ دو روز سے میں نے اس شخص کے لیے توجہ کرنا شروع کیا تھا مگر افسوس کہ اس عرصہ میں میرے گھر کے لوگ یک دفعہ سخت علیل ہو گئے یعنی تیز تپ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے مجھے ان کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ کل ارادہ ہے کہ ان کو مسہل دوں۔ بعد ان کی صحت کے پھر توجہ میں مصروف ہوں........ والسلام (خاکسار غلام احمد)

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۴۶، مولفہ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

”یہ عقد ہمت اور توجہ شمشیر تیز سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ میری رائے میں نبیوں کی تمام کامیابی کا بڑا بھارا موجب یہی توجہ باطنی تھی“۔ (خاکسار مرزا غلام احمد از

صفحہ 171

قادیان، ۲۹؍ فروری ۱۸۸۸ء)

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۵۸، مولفہ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

”میری طبیعت آپ کے بعد پھر بیمار ہو گئی۔ ابھی ریزش کا نہایت زور ہے۔ دماغ بہت ضعیف ہو گیا ہے۔ آپ کے دوست ٹھاکر رام کے لیے ایک دن بھی توجہ کرنے کے لیے مجھے نہیں ملا۔ صحت کا منتظر ہوں۔ والسلام (خاکسار غلام احمد، مورخہ یکم جنوری ۱۸۹۰ء)

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۷۶، مولفہ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

(۷۱) پنجابی حلق

”بے شک یہ درست ہے کہ پنجابی حلق ہر ایک لفظ کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک شخص نے اعتراض کیا کہ یہ تو قرآن کا صحیح تلفظ عربی لہجہ میں ادا نہیں کر سکتا ہے۔ ایسا شخص کہاں مسیح ہو سکتا ہے۔ اس کی یہ بات سن کر سید عبداللطیف صاحب شہید نے اس پر ہاتھ اٹھایا مگر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور حضرت مسیح نے بھی انہیں روک دیا“۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۷؍

فروری ۱۹۲۰ء، نمبر ۱۲، ج ۱۷)

”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک لکھنؤ کا آدمی آیا۔ آپ نے قرآن کریم کا ذکر کیا تو کہنے لگا اچھے مسیح موعود بنے ہو کہ ق اور ک میں بھی فرق نہیں جانتے“۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۱۶،

نمبر ۲۲، ص ۷، مورخہ ۱۴؍ ستمبر ۱۹۲۸ء)

(۷۲) نماز

”اب پنجاب میں حاجی (ریاض الدین احمد) صاحب فقط وحشت دل کا علاج کرنے اور سیر سپاٹے کو گئے تھے۔ دل میں آئی کہ چلو ذرا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے بھی مل لیں۔ دیکھیں کس قماش کے بزرگ ہیں۔ لاہور سے روانہ ہو کے قادیان میں

صفحہ 172

پہنچے۔ مرزا صاحب مرحمت و اخلاق سے ملے۔ اپنے کانگری گیشن کے رکن اعظم حکیم نور الدین صاحب مرحوم سے ملایا اور پھر مرزا صاحب نے اپنے حجرے میں جو مسجد سے ملحق تھا‘ اپنی خلوت خاص میں جگہ دی۔ اتنے میں نماز کا وقت آگیا۔ حکیم نور الدین صاحب نے محراب مسجد میں کھڑے ہو کے نماز پڑھائی اور مرزا صاحب اپنے حجرے ہی میں کھڑے ہو گئے۔ نماز کی ایک رکعت ہوئی تھی کہ کیا دیکھتے ہیں مرزا صاحب نیت توڑ کے گھر کے اندر چلے گئے اور حاجی صاحب سخت حیران! کیا افتاد پیش آئی جو مرزا صاحب کو نماز کی نیت توڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ نماز کے بعد حاضرین مسجد سے یہ واقعہ بیان کیا اور اس کا سبب پوچھا۔ معلوم ہوا کہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ مرزا صاحب پر نماز میں جب وحی نازل ہوتی ہے تو آپ بیتاب ہو کے اندر چلے جاتے ہیں“۔ (رسالہ ”دلگداز“ لکھنؤ‘ بابت مارچ ۱۹۲۶ء)

بیان کیا ہے کہ ”حضرت ایک رکعت کے بعد نماز کی نیت توڑ کر گھر کے اندر چلے گئے۔ اگر کسی بیماری کے غلبہ کی وجہ سے ایسا ہوا ہو تو محل اعتراض نہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق دوران سر اور برد اطراف کا مرض تھا اور یہ وہ زرد چادریں تھیں جو روز ازل سے خدا نے اپنے مسیحا کے لیے بطور خلعت خاص مقدر فرمائی تھیں“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۱۰۷‘ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۲۶ء)

(۳۷) زنانی نماز

”حضور (مرزا صاحب) کسی تکلیف کی وجہ سے جب مسجد نہ جا سکتے تھے تو اندر عورتوں میں نماز باجماعت پڑھاتے تھے اور حضرت بیوی صاحبہ (مرزا صاحب کی اہلیہ) صف میں نہیں کھڑی ہوتی تھیں بلکہ حضرت (مرزا) صاحب کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں“۔

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۷۷‘

ص ۸‘ مورخہ ۱۷ جنوری‘ ۱۹۲۵ء)

”حضور (مرزا صاحب) اپنی عمر کے آخری سالوں میں جب دوران سر وغیرہ

صفحہ 173

تکالیف کے سبب مغرب‘ عشاء اور فجر گھر پر ہی پڑھنے لگے تو حضور گھر میں عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر اور حضور کے پیچھے اکثر گھر کی مستورات ہوا کرتی تھیں۔ ایسے موقعوں پر میں نے بھی بڑی کثرت سے بالخصوص ۱۹۰۵ء میں کئی ماہ تک باغ میں زلزلہ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں جن میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دائیں طرف کھڑا ہوتا تھا اور مستورات پیچھے ہوتی تھیں۔

(میر محمد اسحاق صاحب قادیانی کی روایت‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۲۴‘ نمبر

۱۰۸‘ مورخہ ۴؍ نومبر ۱۹۳۶ء)

(۷۴) اسٹیشن کی سیر

بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ”ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب‘ جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی‘ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں میں نے کہا میں تو نہیں کہتا۔ آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں۔ بیوی کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردہ کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔ میں نے کہا مولوی صاحب جواب لے آئے؟

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۴۹‘ روایت ۷۷‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۷۵) مرزا صاحب کا نسب نامہ

”اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد‘ میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد صاحب تھا۔۔۔۔۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا

صفحہ 174

ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے‘ جو اب تک محفوظ ہیں‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے“۔

(”کتاب البریہ“ ص ۱۴۴‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ۱۶۲‘ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

”ملک ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور سے گوشہ شمال مشرق میں ایک گاؤں قادیان نام ہے جو ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا گمنام گاؤں تھا۔ دنیا میں اس کو کوئی بھی نہیں پہچانتا تھا۔ بجز اس ضلع کے آدمیوں کے‘ جس میں وہ واقع ہے۔ یہاں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب رئیس اعظم (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے والد) سکونت پذیر تھے جو قوم کے مغل گوت کے برلاس کہلاتے تھے“۔

(”عسل مصفیٰ“ جلد دوم‘ ص ۱۲۹‘ مولفہ مرزا خدا بخش صاحب قادیانی)

”یاد رہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ ہاں بعض کاغذات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہماری بعض دادیاں شریف اور مشہور سادات میں سے تھیں۔ اب خدا کی کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسی کہ خدا تعالیٰ کو معلوم ہے‘ کسی دوسرے کو ہرگز معلوم نہیں“۔

(”اربعین“ نمبر ۲‘ ص ۱۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۶۵‘ ج ۱۷‘ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”میرے پاس فارسی ہونے کے لیے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں“۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۲۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۷۶‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”میں نے اپنے آباؤ اجداد کی سوانح کی کتابوں میں پڑھا ہے اور نیز اپنے والد سے بھی سنا ہے کہ میرے آباؤ اجداد مغل نسل سے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ وہ ترک نہیں تھے بلکہ بنو فارس میں سے تھے اور میرے رب نے یہ بھی خبر دی ہے میری بعض دادیاں بنو فاطمہ اور اہل بیت نبوت میں سے تھیں تو اللہ تعالیٰ نے کمال

صفحہ 175

حکمت و مصلحت سے ان میں اسحق و اسمعیل کی نسل جمع کر دی“۔

(”ترجمہ الاستفتاء“ ضمیمہ ”حقیقۃ الوحی“ ص ۷۷‘ روحانی خزائن ص ۷۰۳‘ ج ۲۲‘ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”اس پیش گوئی کو شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی اپنی کتاب ”فصوص“ میں لکھا ہے.... کہ وہ صینی الاصل ہو گا“۔ (متن)

”اس سے مطلب یہ ہے کہ اس کے خاندان میں ترک کا خون ملا ہوا ہو گا۔ ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے‘ اس پیش گوئی کا مصداق ہے۔ کیونکہ اگرچہ سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے مگر یہ تو یقینی اور مشہور و محسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں اور وہ صینی الاصل ہیں۔ یعنی چین کی رہنے والی۔ (حاشیہ)

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۲۰۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۰۹‘ ج ۲۲‘ متن و حاشیہ‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

”ایک حدیث سے جو ”کنزالعمال“ میں موجود ہے سمجھا جاتا ہے کہ فارس یعنی بنی فارس بنی اسحاق میں سے ہیں۔ پس اس طرح پر وہ آنے والا مسیح اسرائیلی ہوا اور بنی فاطمہ کے ساتھ الحاقی تعلق رکھنے کی وجہ سے جیسا کہ مجھے حاصل ہے‘ فاطمی بھی ہوا۔ پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا اور نصف فاطمی ہوا جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔ ہاں میرے پاس فارسی ہونے کے لیے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں“۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۲۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۶‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(اپنے خیال میں مرزا صاحب ضروری سمجھتے تھے کہ مختلف پیش گوئیاں نسل و خاندان کے لحاظ سے اپنے اوپر منطبق کریں اور اس سعی لاحاصل میں مرزا صاحب کو جس درجہ تاویلات کو طول دینا پڑا‘ وہ کافی سبق آموز ہے۔۔۔۔۔ (المولف)

(۷۵۔ الف) مباہلہ کا فیصلہ (ج)

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علی من اتبع الہدیٰ۔۔۔۔۔۔

صفحہ 176

اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمے و مخاطبے سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون‘ ہیضہ‘ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں (واقعہ یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی صاحب مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر یکا یک انتقال کر گئے اور حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری بعد میں بھی مدت دراز تک بخیر و عافیت قادیانیت کی سرکوبی میں مشغول رہے۔۔۔۔۔۔۔ (للمولف برقی)

(”مجموعہ اشتہارات“ جلد ۳‘ ص ۵۷۸‘ ”تبلیغ رسالت“ ج ۱۰‘ ص ۱۱۸)

”اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی ۲۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا صاحب کی روزانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ

”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا صاحب کی) طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی۔ (بعد کے واقعہ سے بھی یہی ظاہر ہوا۔۔۔۔۔۔ (للمولف برقی)

(اخبار ”بدر“ قادیان‘ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء)

(۷) مرزا صاحب کی وفات

”برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے کہ حضرت امامنا و مولانا مسیح موعود و مہدی موعود (مرزا صاحب قادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو

صفحہ 177

جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین پہلے یہ حالت ہوئی لیکن ۲۵ تاریخ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن ”پیغام صلح“ کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے، مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے ایک اور دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی، نیند آنے سے آرام آجائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے مگر تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا جس سے نبض بالکل بند ہو گئی اور مجھے اور حضرت مولانا خلیفۃ المسیح مولوی نور الدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لیے ہم پاس ہی ٹھرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی“۔

(اعلان منجانب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب قادیانی، مندرجہ ضمیمہ اخبار ”الحکم“ قادیان

غیر معمولی، مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء)

(۷۷) ایک سخت بیماری (م)

”اگر آپ احمدؑ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی ڈائری کو (اخبار بدر) کے پرچوں سے ملاحظہ کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کی موت ناگہانی ہوئی۔ آپ آخر دن تک اپنی معمولی صحت کی حالت میں رہے۔ اس شام سے پہلے جب آپ بیمار ہوئے، آپ سارا دن ایک رسالہ لکھنے میں مشغول رہے جس کا نام ”پیغام صلح“ ہے اور تاریخ مقرر کی گئی کہ اس پیغام کو ٹاؤن ہال میں ایک بڑے مجمع کے سامنے پڑھا جاوے اور اس دن کی شام کو حسب معمول سیر کے لیے باہر تشریف لے گئے اور کسی آدمی کو خبر نہ

صفحہ 178

تھی کہ یہ آپ کا آخری سیر تھا۔ رات کو وہ ایک سخت بیماری میں (یعنی دست اور قے میں ۔۔۔۔ للمولف) مبتلا ہو گئے اور صبح دس بجے کے قریب آپ کا وصال ہو گیا۔ آپ کی وفات کی خبر احمدی جماعت کے لیے بالکل ناگہانی تھی۔ چنانچہ جس جگہ خبر پہنچی لوگوں کو اس کی صداقت پر اعتبار نہ آیا"۔

(رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۲۴۱‘ نمبر ۶‘ ج ۱۳)

(۴) ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ء کو لاہور تشریف لے گئے۔ اسی روز بوقت ۴ بجے صبح آپ پر یہ وحی ہوئی جو آپ کی وفات پر دلالت کرتی تھی۔ مباش ایمن از بازی روزگار۔ اس وحی کے بعد قادیان میں کوئی موقعہ نہ ملا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو اس لیے قادیان میں یہ آخری وحی تھی“۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان کا خاص نمبر‘ ج ۲۷‘ نمبر ۱۹‘ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۳۴ء)

”بمقام لاہور آپ کا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا) قیام قریباً ایک ماہ تک رہا اور اس عرصہ میں آپ نے کئی تقریریں فرمائیں۔ ملنے والوں اور نئے نئے ملاقاتیوں کے ساتھ گفتگوئیں کیں اور روزمرہ نمازوں میں شامل ہوتے رہے اور ہر روز سیر کے واسطے جاتے رہے۔ جس روز حضور کا واقعہ وصال ہوا‘ اس سے ایک روز پہلے حضور نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ”پیغام صلح“ رکھا۔ یہ پیغام آپ نے اس غرض سے لکھا تھا کہ لاہور ٹاؤن ہال میں مختلف مذاہب کے وکلاء کو ایک عام جلسہ میں مدعو کر کے سنایا جاوے۔ جب وہ یہ پیغام لکھ چکے تو شام کے وقت وہ سیر کے لیے تشریف لے گئے مگر واپسی پر ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ بیمار ہو گئے (یعنی دست اور قے کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔۔۔۔۔ (للمولف) اور دوسرے دن قریباً ساڑھے دس بجے کے وقت راہی ملک بقاء ہو گئے“۔

(رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۲۴۱‘ نمبر ۶‘ ج ۱۳)

”باوجود اس کے کہ زمانہ وفات کے قریب ہونے کی خبر متواتر وحیوں سے ملتی رہی مگر پھر بھی جب حضرت حجۃ اللہ علی الارض خلیفۃ فی حلل الانبیاء حضرت احمد علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کے حسب وعدہ الٰہی متوفی ہو کر حیات طیبہ سے رفع المرتبت ہونے کا وقت آیا تو بالکل اچانک ہی آگیا۔ جس مشن کے پورا کرنے اور جس عظیم الشان کام کے

صفحہ 179

انصرام کے لیے آپ کی بعثت ہوئی تھی، اس کام میں وہ برابر اخیر وقت تک نہایت مستعدی سے مصروف رہے۔ یہاں تک کہ بیماری (دست اور قے) کے شدید حملے نے عاجز کر دیا اور قریباً (۱۲ گھنٹے) کی بیماری کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا“۔

(رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان، ص ۱۴۱، نمبر ۶، ج ۱۴)

(۷۷) الف موت کی ہلچل (ج)

”یوم الوصال کی صبح کو گو علالت کی خبر مل چکی تھی مگر یہ معلوم نہ تھا کہ یہ صبح ہمارے لیے شام فراق بننے والی ہے۔ مجھے سماچار پریس میں بھیج دیا گیا لیکن میں اپنے قلب میں کچھ اس طرح اضطراب پاتا کہ نہیں سمجھتا تھا کہ مجھے کیا ہو گیا۔ بجائے بارہ بجے کے سوا نو بجے ہی واپس چلا آیا۔ آتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ سراسیمہ پریشان اور حیران پھر رہے ہیں۔ ایک دو سے پوچھا مگر کچھ جواب نہیں ملا (شاید ہیضہ کے آثار میں گومگو کا عالم ہو۔۔۔۔۔۔ (للمولف برنی) آخر معلوم ہوا کہ حضور اس وقت نازک حالت میں ہیں (گویا نزع کی عام صورت نہیں۔۔۔۔۔۔ (للمولف برنی) تھوڑی دیر بعد انگریز ڈاکٹر آیا مگر آتے ہی چلا گیا (آخر تک موت کی خاص صورت ظاہر ہے۔۔۔۔۔ للمولف برنی) اور ادھر ایک دوست کو (انا للہ و انا الیہ راجعون) پڑھتے سن لیا۔ کلیجہ پکڑے دل مسوس کر رہ گیا“۔

(قاضی اکمل صاحب قادیانی کا مضمون ”یاد امام“ مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان کا خاص

نمبر، جلد ۲۷، نمبر ۱۸-۱۹، مورخہ ۲۱-۲۸ مئی ۱۹۳۴ء)

(۷۸) مرض الموت

خاکسار مختصراً عرض کرتا ہے کہ ”حضرت مسیح موعود ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آگئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور

صفحہ 180

حالت نازک ہے اور ادھر ادھر معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے۔“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۱۷‘ روایت ۱۲‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۷۹) وقت آخر

”خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے‘ جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی اور حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانے نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا ”اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے“ تو آپ نے کہا کہ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئیں تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشا ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ”ہاں“۔

صفحہ 181

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۱۱‘ روایت ۱۲‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۸۰) ہیضہ کا واقعہ (م)

”آج کل ہمارے (مرزا) گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بود و باش رکھتے ہیں“۔

(”اشتہار واجب الاظہار‘ منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مورخہ ۲۱ مارچ ۱۸۸۶ء‘

مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد اول‘ ص ۷۲‘ مولفہ قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ

اشتہارات‘ ص ۱۱۳‘ ج ۱)

”ابتداء میں جب کہیں حضرت (مرزا) صاحب باہر تشریف لے جاتے تھے تو مجھے گھر کی حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لیے چھوڑ جاتے تھے اور آخر زمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے تو بندہ بھی ہمرکاب ہوتا تھا۔ چنانچہ آپ لاہور تشریف لے گئے جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا۔ تب بھی بندہ آپ کے ہمراہ تھا اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا جس کے دوسرے روز آپ نے قبل از دوپہر انتقال فرمایا۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) اب بڑی اور سخت تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی کہ جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔

حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا جب میں حضرت (مرزا) صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا“۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے خسر میر ناصر صاحب قادیانی کے خود نوشتہ حالات‘

مندرجہ حیات ناصر‘ ص ۱۴‘ مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

(م) ہانگ کانگ سے ایک مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں بعض لوگ اعتراض کرتے

صفحہ 182

ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات مرض ہیضہ سے ہوئی (ہیضہ کی خبر بھی ہیضہ کی طرح دور دور تک پھیل گئی۔۔۔ للمولف برنی) نیز اور باتیں بھی اعتراضی رنگ میں وفات کے متعلق کرتے ہیں۔ (شاید یہ کہ روایت ہے کہ آخری وقت منہ کی راہ سے غلاظت خارج ہوئی۔ استغفراللہ۔۔۔ للمولف برنی) اسی لیے کسی صحابی سے اس وقت کے حالات لکھوا کر بھیجے جائیں۔ لہٰذا ناظم صاحب تحریک جدید کے حکم کی تعمیل میں عاجز نے مفصلہ ذیل مضمون لکھا ہے جو فائدہ عام کے واسطے درج اخبار کیا جاتا ہے۔

محمد صادق ۲۱ نومبر ۱۹۳۷ء

”وصال سے دو گھنٹہ قبل حضور بات نہ کر سکتے تھے۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب معالج تھے۔ کاغذ قلم دوات منگا کر حضور نے لکھا خشکی بہت ہے بات نہیں کی جاتی۔ ایسے ہی کچھ اور بھی الفاظ تھے جو پڑھے نہ گئے۔ (گویا آخر وقت کلمہ بھی زبان سے نہ نکلتا ہوگا۔ دل کا حال کسی کو کیا معلوم بظاہر بدحواسی معلوم ہوتی تھی کہ تحریر بھی پڑھنے میں نہ آسکی۔ مرض ہیضہ میں بھی خشکی کی بہت شکایت ہو جاتی ہے۔ حقیقت حال سے اللہ ہی بہتر واقف ہے۔ البتہ بظاہر بڑی عبرت معلوم ہوتی ہے۔۔۔ للمولف برنی)

(مرزا صاحب کے صحابی محمد صادق قادیانی کا مضمون‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج

۲۵‘ نمبر ۲۷۴‘ مورخہ ۲۴ نومبر ۱۹۳۷ء)

(۸۰) الف نعوذباللہ (م)

”چند روز ہوئے مجھے ایک قادیانی بزرگ سے جو لاہور میں سکونت پذیر ہیں‘ لاہور سے باہر ایک جگہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اثنائے گفتگو میں میرے منہ سے یہ نکل گیا کہ خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم موت کے وقت بہت خوش تھے۔ وہ بزرگ جھٹ بول اٹھے کہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ محمود (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) کا دشمن موت کے وقت خوش ہو۔ موت کے وقت خواجہ کے منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا۔ میں نے اس بزرگوار سے دریافت کیا کہ آپ نے خواجہ صاحب کو دیکھا۔ ارشاد ہوا دیکھا

صفحہ 183

تو نہیں مگر میں جو کہتا ہوں سچ ہے۔ میں نے آیہ تقفنا ما لیس لک بہ علم کی طرف توجہ دلائی۔ مگر بے سود مجھے بہت تعجب ہوا۔ بالکل ایسے ہی الفاظ (کہ موت کے وقت منہ سے پاخانہ نکل رہا تھاـــ(للمؤلف) مخالفین حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کے متعلق کہتے ہیں اور لاکھ تردید کرو نہیں مانتے۔ (نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلہا ـــ للمؤلف برنی)

(چودھری محمد اسماعیل قادیانی لاہوری کا بیان، ”پیغام صلح“ لاہور، جلد نمبر ۲۷، نمبر ۱۳،

مورخہ ۳ مارچ ۱۹۳۹ء)

اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے وہ بہت بری موت سے مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۸، نمبر ۵۰، ص ۱، مورخہ ۲ مارچ ۱۹۴۰ء)

(۸۱) عبرت ناک موت

”محمد عاشق نائب صدر مجلس احرار قصور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں بے حد بدزبانی کیا کرتا تھا، ۲۹ جولائی کو ہیضہ سے نہایت عبرت ناک موت مرگیا۔ قصور کے دوسرے احرار کو عبرت حاصل کرنی چاہیے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۴، نمبر ۳۰، ص ۲، مورخہ ۴ اگست ۱۹۳۶ء)

(۸۲) عبرت

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اپنی تحریرات میں ہیضے کو قہر الٰہی کا ایک نشان قرار دیتے تھے جو سرکشوں پر بطور عذاب نازل ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب سے جو ان کے مقابلے ہوئے، ان میں بھی انہوں نے یہی بددعا کی کہ جو کاذب ہو، اس پر ہیضے وغیرہ کی شکل میں موت نازل ہو اور آج قادیانی صاحبان کا ہیضہ کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔ خدا کی قدرت کہ اسی مرض ہیضہ میں خود مرزا صاحب نے انتقال کیا اور ہیضہ بھی ایسا تیز کہ اچھے خاصے تھے۔ تصنیف و تالیف میں مشغول

صفحہ 184

تھے۔ شام کو سیر و تفریح کر کے آئے۔ رات کو بیوی صاحبہ کے ساتھ کھانا کھایا۔ یکایک دست اور قے شروع ہوئے۔ ہزار علاج کیا، چند گھنٹوں میں خاتمہ ہو گیا، مقام عبرت ہے۔

قادیانی صاحبان اس واقعہ سے دل میں تو شرماتے ہیں لیکن زبان سے جھٹلاتے ہیں کہ مرزا صاحب گویا اسہال کے مرض میں فوت ہوئے۔ ہیضہ سے فوت نہیں ہوئے۔ چنانچہ ہم نے اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں سیدھی بات لکھ دی تھی کہ مرزا صاحب ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہوئے لیکن قادیانی صاحبان اس پر بہت چراغ پا ہوئے کہ گویا مرزا صاحب ہیضہ سے فوت ہوئے تو سارا مطلب فوت ہو گیا۔ چنانچہ پہلی کتاب ("تصدیق احمدیت" مصنفہ سید بشارت احمد صاحب قادیانی) میں یہ تنبیہہ کی گئی کہ حضور (مرزا صاحب) کے وصال کا باعث ہیضہ قرار دینا صریح جھوٹ بلکہ قانونی جرم ہے۔ دوسری کتاب ("ہمارا مذہب" مصنفہ علی محمد صاحب قادیانی) شائع ہوئی تو اس میں الزام دیا گیا کہ جناب محقق برنی صاحب بلقابہ نے حضرت مسیح موعود کی وفات کے متعلق لکھا ہے کہ ہیضہ سے واقع ہوئی۔ مگر یہ منجملہ آپ کے افتراؤں کے ایک نہایت ہی ناپاک ۔ افتراء ہے۔ شاید ناپاکی ہیضہ سے پیدا ہوئی۔

چونکہ قادیانی صاحبان بوجہ معلومہ ہیضہ کے نام سے بہت چڑتے ہیں۔ بعد کے ایڈیشنوں میں ہم نے اس کی صراحت لکھ دی کہ مرزا صاحب دست اور قے کے مرض میں فوت ہوئے لیکن مثل مشہور ہے ”جوئندہ یابندہ“ حق کا اظہار ہونا تھا بالآخر خود مرزا صاحب کے قول سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ ان کو مرض ہیضہ لاحق ہوا تھا جو باعث وفات ہوا اور مرزا صاحب بھی کون جو قادیانی اعتراف کے بموجب ”خاندانی طبیب“ تھے اور علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزا صاحب کے خسر میر ناصر نواب صاحب کی عینی شہادت اس پانچویں ایڈیشن میں اوپر درج ہے۔ کیا اب توقع کی جا سکتی ہے کہ قادیانی صاحبان ہیضہ کے واقعہ کو تسلیم کر لیں یا اب بھی ان کو عذر ہی رہے گا اور خدانخواستہ مرزا صاحب کا آخری قول جھٹلانے میں بھی دریغ نہ ہوگا۔

اس بارہ میں قادیانی صاحبان دو عذر بڑے شدومد سے پیش کرتے ہیں۔ اول یہ کہ تیمار دار ڈاکٹر اور اطباء نے مرزا صاحب کی وفات کا سبب اسہال قرار دیا۔ دوم یہ کہ

صفحہ 185

مرزا صاحب کا جنازہ لاہور سے قادیان لائے تو کچھ سفر ریل میں طے ہوا۔ گویا ہیضہ کے مرض میں ریل کے سفر کی اجازت کیسے مل سکتی تھی۔ لیکن ان عذرات کی حقیقت بخوبی ظاہر ہے۔ یہ تیمار دار ڈاکٹر اور طبیب کون تھے۔ خود مرزا صاحب کے مرید اور معتقد جو کسی طرح مرزا صاحب سے ہیضہ منسوب کرنا گوارہ نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا گول بات کہہ دی کہ اسہال سے موت واقع ہوئی۔ حالانکہ اسہال تمام عمر آئے، اسہال میں تمام کام انجام پائے۔ گویا اسہال طبیعت ثانی بن چکے تھے۔ پھر یہ کس قسم کے اسہال تھے کہ یکایک اچھی صحت میں شروع ہوئے۔ ان کے ساتھ قے بھی آئی اور آناً فاناً ”کام“ تمام ہو گیا۔ رہا ریل میں جنازہ لے جانے کا معاملہ۔ ایک جماعت کا مذہبی پیشوا جو ذی اثر اور ذی استطاعت ہو جو خصوصیت سے حکومت کا موید اور مداح رہا ہو، حکومت سے روابط رکھتا ہو، اگر کسی قریب مقام تک اس کا جنازہ ریل میں لے جانے کی اجازت مل جائے اور روک ٹوک نہ ہو تو کون سی بڑی بات ہے اور ایسی رعایت میں کیا مضائقہ ہے۔

خود مرزا صاحب کی وفات تو یوں واقع ہوئی۔ اس کے سوا قادیانی اکابر اور مخلصین جو مرزا صاحب کے بڑے بڑے صحابہ شمار ہوتے تھے۔ مثلاً مولوی عبدالکریم صاحب، حکیم نور الدین صاحب، میاں عبداللہ سنوری صاحب۔ یہ بھی جن حالات میں اور جن امراض میں فوت ہوئے، وہ خالی از عبرت نہیں تھے۔ چنانچہ یہ واقعات آئندہ کتاب میں درج ہیں۔

قادیانی صاحبان کا یہ قدیم مسلک ہے کہ کوئی مسلمان جو ان کی آنکھ میں کھٹکتا ہو، اگر اسے کوئی معمولی حادثہ بھی پیش آجائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر مشتہر کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں کہ گویا ان کو آسمانی نصرت حاصل ہوئی۔ چنانچہ اس ذہنیت کا اکثر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے جو ہمیشہ مضحکہ خیز ہوتا ہے۔ قادیانی صاحبان جو مسلمانوں کو بہت عبرت دلانا چاہتے ہیں، کبھی تو انصاف سے دل میں سوچیں کہ خود ان کو عبرت حاصل کرنے کی کس درجہ ضرورت ہے اور کس درجہ عبرت آموز واقعات ان کو پیش آچکے ہیں اور پیش آرہے ہیں ورنہ ع

ہم اگر کچھ بھی کہیں گے تو شکایت ہوگی
صفحہ 186

فصل دوسری

نبوت کی تمہید

”انبیاء اس لیے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کراویں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لائیں۔“

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر چہارم، ص ۴۲، مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)۔

”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۳۴۴، ”روحانی خزائن“ ص ۳۴۴، ج ۵، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم و صاحب فضل نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لیے اس کی تفسیر اپنے قول لا نبی بعدی میں واضح طور پر فرما دی اور اگر ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور

صفحہ 187

ہمارے رسولؐ کے بعد نبی کیوں کر آسکتا ہے۔ درآں حالے کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا"۔

("حمامتہ البشریٰ" ص ۴۴‘ "روحانی خزائن" ص ۲۰۰‘ ج ۷‘ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کس کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے"۔

("کتاب البریہ" ص ۱۸۴‘ حاشیہ "روحانی خزائن" ص ۲۱۸ - ۲۱۷‘ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

"ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بہ حیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا"۔

("ازالہ اوہام" ص ۵۷۷‘ "روحانی خزائن" ص ۴۱۴‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلۂ وحی رسالت نہ ہو"۔

("ازالہ اوہام" ص ۷۶۱‘ "روحانی خزائن" ص ۵۱۱‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل

صفحہ 188

حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بہ قیامت منقطع ہے۔

(”ازالہ اوہام ص ۴۱۴“، ”روحانی خزائن“ ص ۴۲۲، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعے سے حاصل کیے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی؟“

(”ازالہ اوہام ص ۵۳۴“، ”روحانی خزائن“ ص ۳۸۷، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بہ کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی، پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے، اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوئی۔“۔

(”ایام صلح“ ص ۱۴۶، ”روحانی خزائن“ ص ۳۹۲ ۔ ۳۹۳، ج ۱۴، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”اور اللہ کو شایان نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایان کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ از سر نو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو اور بعض احکام قرآن کریم کے منسوخ کر دے اور ان پر بڑھا دے“۔ (ترجمہ)

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۳۷۷، ”روحانی خزائن“ ص ۳۷۷، ج ۵، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

”اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرئیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب ایسی جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو، پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال

صفحہ 189

ہو، وہ محال ہوتا ہے"۔ (تتمہ)

("ازالہ اوہام" حصہ دوم، ص ۵۸۳، "روحانی خزائن" ص ۴۱۴، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

"اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین میں بھی اشارہ ہے۔ پس اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والوں زمانوں اور ان زمانوں کے لوگوں کے علاج اور دوا کی رو سے مناسب نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے لیے نہ بھیجتا اور ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں کیونکہ آپ کے برکات ہر زمانہ پر محیط اور آپ کے فیض اولیاء اور اقطاب اور محدثین کے قلوب پر بلکہ کل مخلوقات پر وارد ہیں۔ خواہ ان کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک سے فیض پہنچ رہا ہے۔ پس اس کا احسان تمام لوگوں پر ہے"۔ (ترجمہ)

("حمامتہ البشریٰ" ص ۴۹، طبع اول، ص ۶۰، طبع دوم "روحانی خزائن" ص ۲۴۳، ۲۴۴،

ج ۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

"میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے۔۔۔۔۔۔ اور میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا"۔ (ترجمہ)

("آئینہ کمالات اسلام" ص ۲۱، "روحانی خزائن" ص ۲۱، ج ۵، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

"میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی"۔

صفحہ 190

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۳۰، ج۱، مورخہ ۲ اکتوبر

۱۸۹۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد دوم، ص ۲)

”ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔۔۔۔۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں“۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا تحریری بیان جو بتاریخ ۲۳ اکتوبر ۱۸۹۱ جامع مسجد دہلی کے

جلسے میں دیا گیا۔ مجموعہ اشتہارات، ص ۲۵۵، ج۱، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد دوم، ص

۴۴)

”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت ونبوت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں“۔

(”انجام آتھم“ ص ۲۷، ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ۲۷، ج۱۱، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے قرآن کے، وہ کذب والحاد وزندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں“۔

(”حمامۃ البشریٰ“ ص ۹۶، ”روحانی خزائن“ ص ۲۹۷، ج ۷، مصنفہ مرزا قادیانی صاحب)

(م) میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔۔۔۔ اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں“۔

(”تبلیغ رسالت“، جلد دوم، ص ۲۲، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۳۰، ج۱، مورخہ ۲ اکتوبر

۱۸۹۱ء)

”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور

صفحہ 191

کافروں کی جماعت سے جاملوں“۔ (ترجمہ) (”حمامتہ البشریٰ“ ص ۹۶، ”روحانی خزائن“

ص ۲۹۷، ج ۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”اے لوگو......! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے“۔ (”آسمانی فیصلہ“

ص ۲۵، ”روحانی خزائن“ ص ۳۳۵، ج ۴، مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی)

(۳) ختم نبوت کے منافی

”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لیے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا“۔ (”ازالہ اوہام“ ص ۵۷۷، ”روحانی خزائن“ ص ۴۱۱-۴۱۲، ج ۳،

مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴) الف شوکت اور کسر شان (ج)

”اگر غور سے دیکھا جائے تو ہمارے نبی کریم کو جو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے اور حضرت موسیٰ کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے ان کی کسر شان کیونکہ حضرت موسیٰ بھی ایک نبی تھے اور ان کے بعد ہزاروں اور بھی نبی آئے تو ان کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیں ثابت ہوتی برعکس اس کے آنحضرتؐ کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کا پاس اور ادب کیا گیا ہے کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا“۔

(”تشحیذ الاذہان“ قادیان، نمبر ۸، ج ۱۲، اگست ۱۹۱۷ء بعنوان ”محمدی ختم نبوت کی اصل

حقیقت“ ص ۱۰ بحوالہ اخبار ”الحکم“ ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء، ص ۸)

صفحہ 192

(۳) ب بنی اسرائیل کا خاتم الانبیاء (ج)

”خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا اور ان کو بنی اسرائیل کا خاتم الانبیاء بنایا“۔

(”خطبہ الہامیہ“ از مرزا غلام احمد صاحب قادیانی، ص ۳۴، ”روحانی خزائن“ ص ۷۹، ج ۱۶)

”خدا کے غضب نے عیسیٰ مسیح کو اسرائیلی نبوت کے لیے آخری اینٹ کر دیا ہے“۔

(”تشحیذ الاذہان“ قادیان، نمبر ۸، ج ۳، ص ۱۸، اگست ۱۹۰۷ء بحوالہ اشتہار ”واجب الاظہار“

منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴) ولایت کے مقام سے نبوت کے نام تک ترقی (م)

”ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور بہ اتباع آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم اولیاء اللہ کو ملتی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے....... غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے“۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مورخہ ۲۰ شعبان، ۱۳۱۴ھ مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد

ششم، ص ۲۔۳، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۹۸۔۲۹۷، ج ۲)

”اور خدا کلام اور خطاب کرتا ہے۔ اس امت کے ولیوں کے ساتھ اور ان کو انبیاء کا رنگ دیا جاتا ہے مگر وہ حقیقت میں نبی نہیں ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام حاجتوں کو مکمل کر دیا ہے“۔ (ترجمہ)

(”مواہب الرحمٰن“ ص ۶۶، ”روحانی خزائن“ ص ۲۸۵، ج ۱۹، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے، وہ نبی بھی ہو جائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ اور رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں

صفحہ 193

چاہتا۔ بلکہ ہمارے مذہب کی رو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ و رسول کی پیروی سے دیے جاتے ہیں"۔

("جنگ مقدس" ص ۶۷ ، "روحانی خزائن" ص ۱۵۶، ج ۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"اول اس عاجز کی اس بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزے کا لفظ اس محل پر بولا کرتے ہیں جب کوئی خوارق عادت کسی نبی یا رسول کی طرف منسوب ہو لیکن یہ عاجز نہ نبی ہے اور نہ رسول ہے۔ صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت اور متابعت سے یہ انوار و برکات ظاہر ہو رہے ہیں سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ معجزے کا"۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ارشاد، مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان، نمبر ۲۳، ج ۵،

منقول از "قمر الہدیٰ" ص ۵۸، مؤلفہ قمر الدین جہلمی قادیانی)

"صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں ہے مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے"۔

("انجام آتھم ص ۲۷، حاشیہ "روحانی خزائن" ص ۲۷، ج ۱۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"یہ سچ ہے کہ وہ الہام جو خدا نے اس بندے پر نازل فرمایا اس میں اس بندہ کی نسبت نبی اور رسول اور مرسل کے لفظ بہ کثرت موجود ہیں۔ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں ولکل ان یصطلح سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو اس نے ایسے لفظ استعمال کیے۔ ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا رسول کے لفظ سے یاد کرے"۔

("سراج منیر" ص ۳۰۲، "روحانی خزائن" ص ۵، ج ۱۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صفحہ 194

صاحب)

"حال یہ ہے کہ اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو الہام ہوا ہے۔ اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آگیا ہے لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت و رسالت ہے...... چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں، اسلام میں فتنہ پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے۔ اس لیے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں۔"

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا خط، مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان نمبر ۲۹، جلد ۳، مورخہ

۱۷ اگست ۱۸۹۹ء، منقول از رسالہ "مسیح موعود اور ختم نبوت" ص ۶، مولفہ مولوی محمد علی

صاحب قادیانی لاہوری)

(۵) محدثیت سے نبوت تک ترقی

"ہمارے سید و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لیے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں"۔

("شہادت القرآن" ص ۲۸ "روحانی خزائن" ص ۳۲۳-۳۲۴، ج ۶، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

"میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تاکہ دین مصطفیٰ کی تجدید کروں"۔ (ترجمہ)

("آئینہ کمالات اسلام" ص ۳۸۳، "روحانی خزائن" ص ۳۸۳، ج ۵، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

"میں نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی...... میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتا ہے جس طرح محدثین سے"

صفحہ 195

(ترجمہ)

(”حمامتہ البشریٰ“ ص ۹۶، ”روحانی خزائن“ ص ۲۹۶۔۲۹۷، ج ۷، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”لوگوں نے میرے قول کو نہیں سمجھا ہے اور کہہ دیا کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ان کا قول قطعاً جھوٹ ہے۔ جس میں سچ کا شائبہ نہیں اور نہ اس کی کوئی اصل ہے۔۔۔۔ ہاں میں نے یہ ضرور کہا ہے کہ محدث میں تمام اجزائے نبوت پائے جاتے ہیں لیکن بالقوۃ، بالفعل نہیں تو محدث بالقوۃ نبی ہے اور اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا تو وہ بھی نبی ہو جاتا“۔

(”حمامتہ البشریٰ“ ص ۹۹، ”روحانی خزائن“ ص ۳۰۰، ج ۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے“۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۴۲۱، ”روحانی خزائن“ ص ۳۲۰، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”اس (محدثیت) کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا“۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۴۲۲، ”روحانی خزائن“ ص ۳۲۱، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بہ کلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ وہ اگرچہ کامل طور پر امتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لیے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے“۔

صفحہ 196

("ازالہ اوہام" ص ۵۶۹' "روحانی خزائن" ص ۴۰۷' ج ۳' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لیے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بہ جز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں"۔

("توضیح المرام" ص ۱۸' "روحانی خزائن" ص ۶۰' ج ۳' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں۔ میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکل ان یصطلح

("تتمہ حقیقۃ الوحی" ص ۶۸' "روحانی خزائن" ص ۵۰۳' ج ۲۲' مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۶) نبی اللہ

"مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔

صفحہ 197

یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔"

(”ازالہ اوہام“ ص ۷۰۶’ روحانی خزائن“ ص ۴۷۸’ ج ۳’ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۷) استعارہ اور مجاز (م)

”جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا ہے اور ہم محض دین کے خادم بن کر دنیا میں آئے ہیں اور دنیا میں بھیجے گئے ہیں۔ نہ اس لیے کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور دین بنا دیں۔ ہمیشہ شیطان کی رہزنی سے اپنے تئیں بچانا چاہیے اور اسلام سے محبت سچی رکھنی چاہیے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو بھلانا نہیں چاہیے۔

ہم خادم دین اسلام ہیں اور یہی ہمارے آنے کی علت غائی ہے اور نبی اور رسول کے لفظ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں۔ رسالت لغت عرب میں بھیجے جانے کو کہتے ہیں اور نبوت یہ ہے کہ خدا سے علم پا کر پوشیدہ باتوں یا پوشیدہ حقائق اور معارف کو بیان کرنا۔ سو اس حد تک مفہوم کو ذہن میں رکھ کر دل میں اس کے معنے کے موافق اعتقاد کرنا مذموم نہیں ہے مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدائے تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے ہوشیار رہنا چاہیے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کوئی کتاب بہ جز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجز محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں بجز

صفحہ 198

خادم اسلام ہونے کے اور کوئی دعوٰی بالمقابل نہیں اور جو شخص ہماری طرف اس کے خلاف منسوب کرے‘ وہ ہم پر افترا کرتا ہے۔ ہم اپنے نبی کریم کے ذریعے فیض برکات پاتے ہیں اور قرآن کے ذریعے ہمیں فیض معارف ملتا ہے۔ سو نامناسب ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے برخلاف کچھ بھی دل میں رکھے ورنہ وہی خدا کے نزدیک اس کا جواب دہ ہوگا۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں تو ہمارا سب کاروبار عبث ہے اور مردود اور قابل مواخذہ ہے۔ (چنانچہ بالآخر یہی انجام ہوا—— للمولف برنی)

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر چہارم‘ ص ۳۳‘ مرزا قادیانی صاحب کا مکتوب‘ مرقومہ ۱۷

اگست ۱۸۹۹ء بنام نواب محمد علی خان صاحب)

(۸) نبوت سے معذرت

”صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعوٰی نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے“۔

(”انجام آتھم‘ ص ۲۷“ ”روحانی خزائن“ ص ۲۷‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۹) راضی نامہ

”جو مباحثہ لاہور میں مولوی عبدالحکیم صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان چند روز سے بابت مسئلہ دعوائے نبوت مندرجہ کتب مرزا صاحب کے ہو رہا تھا آج مولوی صاحب کی طرف سے تیسرا پرچہ جواب الجواب کے جواب میں لکھا جا رہا تھا۔ اثنائے تحریر میں مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل کے بیان کرنے پر جلسہ عام میں فیصلہ ہو گیا جو عبارت درج ذیل ہے۔ المرقوم ۳ فروری ۱۸۹۳ء

العبد العبد العبد العبد برکت علی وکیل محی الدین خاکسار رحیم بخش فضل دین چیف کورٹ پنجاب المعروف صوفی

صفحہ 199

العبد العبد العبد العبد رحیم اللہ ابو یوسف محمد حبیب اللہ بخط گورمکھی مبارک علی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسولہ خاتم النبیین..... اما بعد تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ ”فتح الاسلام“ و ”توضیح المرام“ و ”ازالہ اوہام“ میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کیے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ”ازالہ اوہام“ کے ص ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ..... تو ان کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔

جس حالت میں ابتدا سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکلم مراد لیے ہیں..... تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دل جوئی کے لیے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو وہ دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرما لیں۔“

راقم خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی‘ مولف رسالہ ”توضیح المرام“

(”اعلان مندرجہ تبلیغ رسالت‘ جلد دوم‘ ص ۹۵‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘

مجموعہ اشتہارات‘ ص ۳۱۳۔ ۳۱۴‘ ج ۱)

واضح ہو کہ یہ معذرت اس زمانہ کی ہے جب کہ مرزا قادیانی صاحب ڈرتے تھے

صفحہ 200

ڈرتے نبوت کی طرف ہاتھ بڑھا رہے تھے اور جب کوئی ٹوکتا تھا تو فوراً دست کش ہو جاتے تھے کہ گویا نبوت سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ اس ترکیب سے ابتدائی زمانہ گزار دیا اور جوں ہم خیال معتقد پیدا ہوتے گئے، نبوت کے ولولے میں جان پڑتی گئی۔ حتیٰ کہ ۱۹۰۱ء میں ایک رسالہ (غلطی کا ازالہ) لکھ کر نبوت کا اعلان کر دیا۔ گرچہ پھر بھی گرفت کے خوف سے معذرت کی گنجائش رکھی۔ اس کے بعد جب لوگوں کو سہار ہو گئی تو دعویٰ اس درجہ بڑھا کہ مرزا قادیانی صاحب کی نبوت کے الہامات و آثار ہزار نبی بنانے کے واسطے کافی ہو گئے۔—— (للمولف برنی)

(۱۰) کئی مہدی

”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ بھی کئی تغیرات ہوں گے۔ مہدی کے متعلق جو پیش گوئیاں ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی مہدی ہوں گے۔ ان مہدیوں میں سے ایک مہدی تو خود حضرت مرزا صاحب ہیں اور آئندہ بھی کئی مہدی آسکتے ہیں“۔

(مکالمہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ۲۷

فروری ۱۹۲۸ء، نمبر ۶۸، ج ۱۴)

(۱۱) مسیح موعود کی اہمیت

”اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی، اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا“۔

(”ازالہ اوہام“ طبع اول، ص ۱۴۰، ”روحانی خزائن“ ص ۱۷۱ ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثل بھی نبی چاہیے، کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لیے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت

صفحہ 201

شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں"۔

("توضیح المرام" ص ۱۹، "روحانی خزائن" ص ۵۹، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۲) مثیل مسیح بننے پر قناعت (م)

"اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بہ شدت مناسبت و مشابہت ہے"۔

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۵، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۴، ج ۱)

"جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بہ حدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے"۔

("براہین احمدیہ" ص ۴۹۹، "روحانی خزائن" ص ۵۹۴، ج ۱، حاشیہ در حاشیہ، نمبر ۳ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

"مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے"۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد ۲، ص ۲۱، مولفہ میر قاسم

علی)

صفحہ 202

علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۳۱، ج ۱)

"اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے پا کر "براہین احمدیہ" کے کئی مقامات پر بہ تصریح درج کر دیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے، وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔"

("ازالہ اوہام" ص ۱۹۰، "روحانی خزائن" ص ۱۹۲، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

"یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں اسی الہام کی بنا پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار بھی نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو۔"

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مورخہ ۱۱ فروری ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۰۷، ج ۱)

"میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔"

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا خط بنام مولوی عبدالجبار صاحب، مورخہ ۱۱ فروری ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات ص ۲۰۸، ج ۱، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد اول، ملحقہ جلد دوم ۱۵۹)

"اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ

صفحہ 203

ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال و اقبال کے ساتھ بھی آئے اور ممکن ہے کہ اول وہ دمشق میں ہی نازل ہو"۔

("ازالہ اوہام" ص ۲۹۶، "روحانی خزائن" ص ۲۵۱، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لیے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے۔۔۔۔۔۔۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لیے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے"۔

("ازالہ اوہام" ص ۱۹۹، "روحانی خزائن" ص ۱۹۷، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۳) ذریت کی بشارت

"بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثیل بن کر آئے۔ کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں، رہائی دے گا۔ (فرزند دل بند، گرامی وارجمند مظہر الحق والعلا، کان اللہ نزل من السماء)

("ازالہ اوہام" ص ۱۵۶، "روحانی خزائن" ص ۱۷۹، ۱۸۰، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 204

(۱۴) دمشق تا قادیان

”اب یہ بھی جاننا چاہیے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے، یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید مشرقی کے پاس اتریں گے۔ یہ لفظ ابتداء سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آیا ہے۔۔۔۔ واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں‘ جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ان کی نگاہوں میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو انہیں سمجھ نہیں آتا اور چونکہ طبیب کو بیماروں ہی کی طرف آنا چاہیے۔ اس لیے ضرور تھا کہ مسیح ایسے لوگوں میں ہی نازل ہو۔

غرض مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بہ وجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں‘ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔۔۔۔ سو خدا تعالیٰ نے اس عام قاعدے کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارے میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اخرج منہ الیزیدیون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کیے گئے۔

اب اگرچہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسی کامل تصریح سے خدا تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہو گا بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے مگر خدا تعالیٰ

صفحہ 205

خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے"۔

(حاشیہ "ازالہ اوہام" ص ۷۳ تا ۷۴، "روحانی خزائن" حاشیہ، ص ۱۳۲ - ۱۳۸ ج ۳،

مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۱۵) بھید کھل گیا

"مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعوے مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو "براہین احمدیہ" میں بار بار بہ تصریح لکھا گیا ہے"۔

("کشتی نوح" ص ۴۷، "روحانی خزائن" ص ۵۰، ج ۱۹، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بناویں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے"۔

("کشتی نوح" ص ۴۸، "روحانی خزائن" ص ۵۰، ج ۱۹، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی اس لیے گو اس نے "براہین احمدیہ" کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ "براہین احمدیہ" سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا پھر...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بہ ذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر "براہین احمدیہ" کے حصہ چہارم ص ۵۵۶ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے "براہین احمدیہ" کے وقت میں اس سر خفی کی مجھے خبر نہ دی"۔

صفحہ 206

(”کشتی نوح“ ص ۴۷، ”روحانی خزائن“ ص ۵۰، ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرک ہے لیکن پہلے ”براہین احمدیہ“ میں خود یہ عقیدہ بیان کر چکے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص کہے کہ پھر آپ بھی شرک کے مرتکب ہوئے ہیں تو ہمارا یہی جواب ہوگا کہ ہرگز نہیں۔ آپ نے اس وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا۔ جب قرآن کریم اور الہام الٰہی سے وضاحت نہیں ہوئی تھی۔ شرک کے مرتکب وہ ہیں جو اس وضاحت کے بعد ایسا کرتے ہیں“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۶‘ نمبر ۱۵۵‘ ص ۹‘ مورخہ ۹ جولائی ۱۹۳۸ء)

(۴) دعوے کی دلیل

”مکاشفات اکابر اولیاء بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی سے پہلے چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور اس سے تجاوز نہیں کرے گا۔ چنانچہ ہم نمونہ کے طور پر کسی قدر اس رسالہ میں لکھ بھی آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے اور کوئی شخص دعوے دار اس منصب کا نہیں ہوا“۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۶۸۵، ”روحانی خزائن“ ص ۴۶۹، ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں“۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۶۸۳، ”روحانی خزائن“ ص ۴۶۸‘ ۴۶۹، ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے‘ وہ ان ہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلَّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا“۔

صفحہ 207

(”انجام آتھم“ حاشیہ ص ۲۸، ”روحانی خزائن“ ص ۲۸’ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۱۷) مشابہت

”ہم اپنی کتابوں میں بہت جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ عاجز جو حضرت عیسیٰ بن مریم کے رنگ میں بھیجا گیا ہے بہت سے امور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں ایک ندرت تھی اس عاجز کی پیدائش میں بھی ایک ندرت ہے اور وہ یہ کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور یہ امر انسانی پیدائش میں نادرات سے ہے۔ کیونکہ اکثر ایک ہی بچہ پیدا ہوا کرتا ہے۔“

(”تحفہ گولڑویہ“ حاشیہ ’ص ۱۱۰‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۰۲’ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”اس امت کے مسیح موعود کے لیے ایک اور مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام پورے طور پر بنی اسرائیل میں سے نہ تھے بلکہ صرف ماں کی وجہ سے اسرائیلی کہلاتے تھے۔ ایسا ہی اس عاجز کی بعض دادیاں سادات میں سے ہیں۔ گو باپ سادات میں سے نہیں اور حضرت عیسیٰ کے لیے خدا نے جو یہ پسند کیا کہ کوئی اسرائیلی حضرت مسیح کا باپ نہ تھا اس میں یہ بھید تھا کہ خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کی کثرت گناہوں کی وجہ سے ان پر سخت ناراض تھا“۔

(”مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا لیکچر سیالکوٹ‘ ص ۱۷، ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۵’ ج

۲۰)

”چودھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر بایں ہمہ موسوی سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ ایسا ہی میں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں“۔

(”تذکرۃ الشہادتین“ ص ۳۳، ”روحانی خزائن“ ص ۳۵’ ج ۲۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

صفحہ 208

قادیانی صاحب)

”سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانے میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندہ کا نام ابن مریم رکھا۔۔۔۔۔۔ پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربع میں سے کسی سلسلے میں یہ داخل ہے۔ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟“

(”ازالہ اوہام“ ص ۶۵۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۵۶‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۸) مسیحیت کے پردہ میں نبوت

”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے“۔

(اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۶، ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۰‘ ج ۱۸)

”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا“۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۱۹۵‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۹۵‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۲۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۱‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا

صفحہ 209

جائے۔ اگر اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے"۔

("ایک غلطی کا ازالہ" ص ۵ "روحانی خزائن" ص ۲۰۹ ج ۱۸ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

"اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ یعنی اس کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فلا یظھر علی غیبہ احداً الا من ارتضی من رسول یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بہ جز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدائے تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بہ جز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے"۔

("حقیقۃ الوحی" ص ۳۹۰ "روحانی خزائن" ص ۴۰۶ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

"اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی"۔

("حقیقۃ الوحی" ص ۱۴۹ "روحانی خزائن" ص ۱۵۳۔ ۱۵۴ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 210

”اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی کتاب میں بارہا اپنے متعلق یہ ذکر فرمایا کہ میں امتی نبی ہوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطہ نگاہ سے میں امتی ہوں مگر تم لوگوں کے نقطہ نگاہ سے میں نبی ہوں۔ جہاں میرے اور تمہارے تعلق کا سوال آئے گا، وہاں تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے۔ جس طرح نبی پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح مجھ پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔ جس طرح نبی کے احکام کی اتباع فرض ہوتی ہے، اسی طرح میرے احکام کی اتباع تم پر فرض ہوگی“۔

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان، ج ۲۸، نمبر ۷۳، ص ۳، مورخہ یکم اگست ۱۹۴۰ء)

(۲۰) گول مول بات

”اوائل ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے کہ مکرمی جناب خان ذوالفقار علی خان صاحب نے جو ان دنوں رخصت پر قادیان تشریف لائے ہوئے تھے، حضور اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ نواب صاحب رامپور نے جو شیعہ ہیں، حضور کے بارے میں چند سوالات کیے جن کے یوں جواب دیے گئے۔ منجملہ ان سوالات کے ایک یہ تھا کہ آیا ”حضور رسالت کے مدعی ہیں“۔ خان صاحب نے جواب دیا کہ حضور کا ایک شعر ہے۔

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب
ہاں ملہم ہستم و ز خداوند منذرم

اس پر دوسرے روز فرمایا کہ اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں اس قسم کا اخفا نہ رکھنا چاہیے۔ (البتہ گول بات کہنے میں مضائقہ نہیں کہ حسب موقع اسے جدھر چاہیں لڑھکا سکیں۔ معلوم ہوتا ہے مرزا قادیانی صاحب کے آخر وقت تک بھی غریب خان صاحب رامپوری یہ راز نہ سمجھ سکے۔ ورنہ ایسا صاف جواب نواب صاحب کو نہ دیتے کہ میر صاحب کی ڈانٹ سنتے۔ عجب نہیں اس وقت تک خود بھی اس مغالطہ میں مبتلا ہوں کہ نبوت کا دعویٰ نہیں ہے جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے اور بعد

صفحہ 211

کو شاید افغانی اصول ”زری خورم بابا زری خورم“ کے مطابق قادیانیت پر جم بیٹھے ہوں۔۔۔۔۔ (للمؤلف برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۲۰۵‘ ج ۳۳‘ ص ۶‘ مورخہ یکم ستمبر ۱۹۴۵ء‘

”ملفوظات“ ج ۱۰‘ ص ۱۴۶‘ طبع ربوہ)

(۲۱) نبوت و ولایت

”خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے متعلق علمائے متقدمین و متاخرین کا مذہب بیان کرتے ہوئے حضرت محی الدین ابن عربی‘ امام شعرانی‘ ملا علی قاری‘ سید عبدالکریم جیلانی‘ شاہ ولی اللہ دہلوی اور بعض دوسرے علماء کے الفاظ نقل کیے گئے ہیں جن کا ماحاصل صرف اس قدر ہے کہ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی میں نبوت تشریعی کو ممتنع ٹھہرایا گیا ہے اور نبوت عامہ جس میں شریعت نہ ہو‘ جاری قرار دی گئی ہے۔

یہ بالکل صحیح ہے لیکن کاش اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جاتا کہ وہ تمام علماء نبوت عامہ اور غیر تشریعی نبوت کو ولایت سے بڑھ کر یقین نہ کرتے تھے بلکہ ولایت ہی کا دوسرا نام انہوں نے نبوت عامہ یا غیر تشریعی نبوت قرار دیا تھا“۔

(قادیانی اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۳۷‘ نمبر ۱۱‘ مورخہ ۱۵ مئی ۱۹۵۰ء)

٭٭٭

صفحہ 212

فصل تیسری

نبوت کی تحصیل

(۱) ختم نبوت کی حقیقت (ج)

”محمدی ختم نبوت کی اصل حقیقت کو دنیا میں کماحقہ کوئی نہیں جو سمجھ سکتا ہو‘ سوائے اس کے جو خود حضرت خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء ہے کیونکہ کسی چیز کی اصل حقیقت کا سمجھنا اس کے اہل پر موقوف ہوتا ہے اور یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ ختمیت کا اہل یا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا حضرت مسیح موعود“۔

(قادیانی رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ نمبر ۸‘ ج ۲‘ ص ۲۰‘ بعنوان ”محمدی ختم نبوت کی اصل

حقیقت“ اگست ۱۹۱۷ء)

محمدی ختم نبوت سے باب نبوت بالکلی بند نہیں ہوا کیونکہ باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی الٰہی بند نہیں ہوا۔

(”تشحیذ الاذہان“ قادیان‘ نمبر ۸‘ ج ۲‘ اگست ۱۹۱۷ء)

(۱۔الف) ختم نبوت کی تاویل‘ اپنی نبوت کی تشکیل

اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک امتی کو جو محض پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتا ہے‘ نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی کیونکہ وہ امتی ہے اور اس کا اپنا وجود کچھ نہیں اور اس کا اپنا کمال نبی متبوع کا کمال ہے اور وہ صرف نبی نہیں کہلاتا ہے بلکہ نبی بھی اور امتی بھی۔ مگر کسی ایسے نبی کا دوبارہ آنا‘ جو امتی نہیں ہے‘ ختم نبوت کے منافی ہے۔

(”چشمہ مسیحی“ ص ۴۱‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۳۸۳‘ ج ۲۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 213

نیز خاتم النبین ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں ایسا نبی جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا‘ جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں اور اس تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ بہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے‘ جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۵۷۵‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۱۰‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں ملے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے جو امتی نہیں یعنی آپ کی پیروی سے فیض یاب نہیں۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۲۸‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۰‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ اعتقاد نہیں رکھتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہے اور جو کچھ پایا‘ اسی کے فیضان سے پایا..... وہ لعنتی ہے اور خدا کی لعنت اس پر اور اس کے انصار پر اور اس کے پیروؤں پر اور اس کے مددگاروں پر۔ (ترجمہ)

(”مواہب الرحمٰن“ ص ۶۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۸۷‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھا‘ وہ کسی گزشتہ نبی کی امت نہیں کہلاتا تھا گو اس کے دین کی نصرت کرتا تھا اور اس کو سچا جانتا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو۔

(”چشمہ معرفت“ ضمیمہ ص ۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۸۰‘ ج ۲۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

خدا نے اس زمانے میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک

صفحہ 214

عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۹۶‘ ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ۱۰۰۔۹۹‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپؐ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی۔ ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے‘ مگر وہی جو پہلے سے امتی ہو‘ پس اس بنا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔

(”تجلیات الٰہیہ“ ص ۲۴‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۱۱۔۴۱۲‘ ج ۲۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

آپ کے فیضان سے ایک ایسی نبوت ملتی ہے جو پہلے کسی نبی کی اطاعت سے نہیں ملتی تھی اور اس نبوت کا پانے والا امتی نبی کہلاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلی امتوں میں محدث یا جزوی نبی تو ہوتے تھے لیکن پہلے نبیوں میں اس قدر طاقت نہ تھی کہ ان کے فیضان سے امتی نبی ہو سکے‘ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ ان سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔۔۔۔۔۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے براہ راست نہیں مل سکتی اور پہلے زمانے میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی‘ کسی نبی کے اتباع سے نہیں مل سکتی تھی کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال نہ تھے‘ جیسے آنحضرت صلی

صفحہ 215

اللہ علیہ وسلم اور جبکہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا۔ تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود بھی نبی اللہ تھے۔

(”حقیقت النبوۃ“ ص۲۲۸‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آسکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کر سکے۔ میرا پیارا اور میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۱۱؍

مارچ ۱۹۱۴ء‘ منقول از جماعت مبایعین کے عقائد صحیحہ‘ ص ۱۴‘ رسالہ منجانب قادیانی

جماعت قادیان)

(۲) مہر کا فلسفہ (م)

جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے‘ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔۔۔ اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لیے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی نے امت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا۔ (گویا مرزا صاحب نبی نہ مانے جائیں تو امت محمدیہ ناقص اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و ہمدردی بھی ناقص قرار پاتی ہے۔۔۔ للمولف)

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۹۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۰‘ ج ۲۲‘ از مرزا قادیانی)

خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جب مہر لگ جاتی

صفحہ 216

ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو‘ وہ صحیح نہیں ہے۔

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ۲۹۰‘ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

طریق کلام کے مطابق دوسرے الفاظ میں خاتم النبین کے الفاظ رسول اللہ کے الفاظ کی نسبت بڑے درجے پر دلالت کرنے والے ہونے چاہئیں اور وہ یہی معنے ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں یعنی آپ کے بعد ایسے انبیاء پیدا ہوں گے جن کی نبوت کا معیار صرف آپ کے نقش قدم پر چلنا ہو گا اور آپ کی شریعت کو قائم کرنا ہو گا۔

(مکتوب میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۹

اپریل ۱۹۲۷ء‘ نمبر ۸۵‘ ج ۱۴)

پس یقیناً ہمارے مخالف مولوی صاحبان نے خاتم النبین کے معنے سمجھنے میں سخت غلطی کی ہے۔ آپ خاتم النبین ہیں مگر ان معنوں میں کہ آپ کا وجود باجود مہر نبیوں کی ہے‘ جو شخص آپ کے قولی اور فعلی نمونے کو کامل طور پر اپنے اندر پیدا کر لے گا‘ اور اتباع اور اطاعت میں ایسا صراطِ مستقیم پر چلے گا کہ ایک قدم بھی ادھر ادھر نہ ہو گا‘ ایسے شخص کی نبوت پر آپ کا وجودِ باجود ایک مہر ہے کیونکہ سرکاری مہروں کے لیے ضروری ہے کہ کاغذات بھی ہوں ورنہ مہروں کو بنانا ہی لغو ٹھہرے گا‘ پس جس صورت میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت کو نبیوں کی مہر قرار دیا ہے تو ضرور ہے کہ اس مرتبہ میں نبی بھی ہوں جو آپ کی اتباع اور آپ کی تصدیق سے نبوت کا درجہ حاصل کریں جیسا کہ محاورے میں ہم بولتے ہیں کہ فلاں شخص نے یہ بات کہہ کر اپنے اس قول پر مہر لگا دی ہے یعنی اپنے منہ سے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہی مطلب اس آیہ کریمہ کے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۶۸‘ مورخہ ۸ دسمبر ۱۹۱۵ء)

مگر ”ختم“ کے معنی وہ نہیں جو ”امت“ کا سواد اعظم سمجھتا ہے۔ اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ و ارفع کے سراسر خلاف ہے کہ آپ نے نبوت کی نعمت عظمیٰ سے اپنی امت کو محروم کر دیا بلکہ یہ ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ اب وہی نبی ہو گا جس کی آپ تصدیق کریں گے کیونکہ آپ نبیوں کے مصدق ہیں۔ گویا کسی نبی کی اس وقت

صفحہ 217

تک نبوت ثابت نہیں ہو سکتی جب تک آپ کی تصدیق اس کے ساتھ نہ ہو۔ انہی معنوں میں ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین سمجھتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۷، نمبر ۲۱۸، ص ۱۔ ۲، مورخہ ۲۲ ستمبر ۱۹۳۹ء)

کہا گیا ہے کہ مباحثین (قادیانی صاحبان) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے لیکن مجھے افسوس آتا ہے ان لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین بھی کہتے ہیں۔ وہ خاتم یعنی مہر ہی کیا ہوئی جو کسی کاغذ پر نہ لگی اور اس نے کسی کاغذ کی تصدیق نہ کی۔ اسی طرح نبی کریم خاتم النبین کیا ہوئے جب کسی انسان پر آپ کی نبوت کی مہر نہ لگی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوا۔ اگر آپ کی امت میں کوئی نبی نہیں ہے تو آپ خاتم النبین بھی نہیں ہیں۔

(خطبہ جمعہ، میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲،

نمبر ۱۵۱، ص ۷، مورخہ ۲۰ جون ۱۹۱۵ء)

”الحکم“ مورخہ ۲۷ فروری ۱۹۰۵ء میں حضرت خلیفہ اول کے (حکیم نور الدین صاحب کے) قلم مبارک سے ایک سائل کے جوابات شایع ہوئے ہیں، ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا صریح ثبوت موجود ہے۔ وہ سوال اور جواب حسب ذیل ہے:

سوال : خاتم النبین رسول تھے تو پھر نبی ہونے کا دعویٰ کس طرح درست ہو سکتا ہے؟

جواب : خاتم مہر کو کہتے ہیں۔ جب نبی کریم مہر ہوئے، اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگے گی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۲۲ء، نمبر ۹۱، جلد ۹، ص ۹)

(۳) نبی بننے کی ترکیب

میرا اس تمام بیان سے یہ مطلب ہے کہ نبوت کوئی الگ چیز نہیں کہ وہ مل جائے تو انسان نبی ہو جاتا ہے بلکہ اصل بات یہی ہے جیسا کہ میں اوپر قرآن کریم سے ثابت کر

صفحہ 218

آیا ہوں کہ انسانی ترقی کے آخری درجے کا نام نبی ہے۔ جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہدا میں اور شہدا سے صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے‘ وہ آخر جب اس درجے سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سر الٰہی (نبی) بن جاتا ہے۔

(”حقیقت النبوۃ“ ص ۱۵۳۔۱۵۴‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

پہلے نبیوں کی امت کے لوگ ایک حد تک پہلے نبی کی تربیت کے نیچے ترقی پاتے پاتے رک جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر نظر فرماتا تھا اور جن کو اس قابل پاتا کہ وہ نبی بن سکیں‘ ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا اور براہ راست نبی بنا دیتا تھا۔

لیکن ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسے مقام بلند پر کھڑا کیا اور آپ نے استادی کا ایسا اعلیٰ درجہ حاصل کر لیا کہ آپ اپنے شاگردوں کو اس امتحان میں کامیاب کرا سکتے ہیں.......... ان کے (یعنی گزشتہ انبیاء کے) مدرسہ کا آخری امتحان نبوت نہ تھا بلکہ ولایت تھا۔ پھر نبوت بلا واسطہ موہبت سے ملتی تھی۔ لیکن ہمارے آنحضرت کو ایسا درجہ استادی ملا کہ آپ کے مدرسے کو کالج تک بڑھا دیا گیا اور آپ کی شاگردی میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔

(”القول الفصل“ ص ۱۵‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میدان میں سب سے آگے بڑھ گئے اور خدا نے آئندہ کے متعلق بھی گواہی دے دی کہ آپ آئندہ آنے والی نسلوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ پیغامی (فریق لاہوری) یہی کہہ کر لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکاتے ہیں کہ اس لیے رسول کریم کے بعد امت محمدیہ میں نبی نہیں آسکتا...... (لیکن) اگر روحانی ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ ہاں خوبی یہ ہے کہ موقع سب کو دیا جائے‘ پھر آگے جو بڑھ جائے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان ڈائری مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۱۰‘

نمبر ۵۰‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۷۔جولائی ۱۹۲۲ء)

صفحہ 219

(۴) نبوت کا کمال

اور اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوت ختم ہوچکی ہے تو اس امت میں نبی کس طرح ہو سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے عزوجل نے اس بندہ (یعنی مرزا صاحب) کا نام اسی لیے نبی رکھا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ کی نبوت کا کمال، امت کے کمال کے ثبوت کے بغیر ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور اس کے بغیر محض دعوٰی ہی دعوٰی ہے جو اہل عقل کے نزدیک بے دلیل ہے اور کسی فرد پر ختم نبوت ہونے کے یہی معنی ہیں کہ کمالات نبوت اس پر ختم ہیں اور نبی کے بڑے کمالات میں سے نبی کا فیض پہنچانے میں کامل ہونا ہے اور یہ جب تک امت میں اس کا نمونہ نہ پایا جائے، ثابت نہیں ہو سکتا۔

(ترجمہ استفتاء عربی ضمیمہ ”حقیقت الوحی“ حاشیہ، ص ۱۶، ”روحانی خزائن“ ص ۶۷۳،

ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۵) ختم نبوت کی ہتک

تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گزرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امر پر پختہ ہوگئے تھے کہ آنحضرت ہی خاتم الانبیاء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جائے تو اس سے آنحضرت کی شان میں فرق بھی نہیں آتا، اس لیے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لیے ظاہراً بھی بول دیا......... آپ کے جانشینوں اور آپ کی امت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو امور مدنظر رکھنے ضروری تھے، اول عظمت آنحضرت، دوم عظمت اسلام۔ سو آنحضرت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر تیرہ سو برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تاکہ آپ کی ختم نبوت کی ہتک نہ ہو کیونکہ اگر آپ کے بعد ہی آپ کی امت کے خلیفوں اور صلحاء لوگوں پر نبی کا لفظ بولا جانے لگتا، جیسے حضرت موسٰی کے بعد لوگوں پر بولا جاتا رہا تو اس میں آپ کی ختم نبوت کی ہتک تھی۔ اور کوئی عظمت نہ تھی سو خدا تعالیٰ نے ایسا کیا کہ اپنی حکمت اور لطف سے آپ کے بعد تیرہ سو برس تک اس لفظ کو آپ کی امت پر سے اٹھا دیا تا آپ کی نبوت کی عظمت کا حق ادا ہو جائے۔ اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں

صفحہ 220

جن پر آنحضرت کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جائے اور تا پہلے سلسلے سے اس کی مماثلت پوری ہو۔ آخری زمانے میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوا دیا اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا۔ اور موسوی سلسلے کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرت بھی قائم رکھی۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب بہ جواب سوال مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘

مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء، ”ملفوظات“ ج۵‘ ص۳۵۱-۳۵۰‘ طبع ربوہ)

(۶) نبوت کی دعا

افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا۔ اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو نکلتی ہے نہ تعریف۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لیے کوئی قوت نہ تھی۔ اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس امت کو دعا سکھاتا ہے۔ اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے اس کو کچھ حصہ نہیں تو پھر یہ دعا کیوں سکھائی گئی۔

(”حقیقت الوحی“ ص۱۰۰‘ ”روحانی خزائن“ ص۱۰۴‘ ج۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

یہاں نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعہ سے مل سکتا ہے اور گویا ہر مسلمان ہر روز بار بار مقام نبوت کو ہی اس دعا کے ذریعے سے طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے۔ نبوت موہبت ہے اس لیے کہ نبوت محض موہبت ہے اور نبوت میں انسان کی جدوجہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں۔ ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبت سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت اول میں سے ہے۔........ پس مقام نبوت کے لیے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے ناواقف ہے۔

(مولوی محمد علی صاحب‘ امیر جماعت لاہور کی تفسیر ”بیان القرآن“ تشریح آیت اهدنا

)

صفحہ 221

(الصراط المستقیم ص ۶۵)

(۷) ختم نبوت پر الزام‘ عبرت کا مقام

ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں‘ عیسائیوں‘ ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے۔ صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ‘ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہیے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیش گوئیاں ہوں۔۔۔۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لیے ہم نبی ہیں امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے“۔

(”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۲۷۲‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ ارشاد مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ اخبار ”بدر“ قادیان‘ مورخہ ۵ مارچ ۱۹۰۸ء‘ ”ملفوظات“ ص

۱۳۸ - ۱۴۷‘ ج ۱۰‘ طبع ربوہ)

”پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اس نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔ بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے۔ وہ دین‘ دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی‘ نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور خدائے حی و قیوم کی آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی نومیدی ہے اور اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ کہہ نہیں سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی۔ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں‘ شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے (لاحول ولا قوۃ الا باللہ --- للمولف)

صفحہ 222

(”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص ۱۳۹، ”روحانی خزائن“ ج ۲۱، ص ۳۰۶، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

”اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے، اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات و مخاطبات الہیہ کا بند ہے۔ اگر یہ معنی ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا سے دور و مہجور ہوتی بلکہ یہ معنی ہیں کہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض وحی پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو ملنا محال اور ممتنع ہے اور یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فخر ہے کہ ان کی اتباع میں یہ برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہو جائے...... یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الہیٰ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں، قصے ہیں اور کوئی اگرچہ اس کی راہ میں جان بھی فدا کرے، اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کر لے تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات و مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ (دریں چہ شک) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی“۔

(”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص ۱۸۳ ”روحانی خزائن“ ص ۳۵۳ - ۳۵۴، ج ۲۱،

مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جائے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا کہ کنتم خیر امۃ یہ جھوٹ تھا۔ نعوذ باللہ اگر یہ معنی کیے جائیں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامۃ کے بجائے شر الامم ہوئی..... اس طرح تو ماننا

صفحہ 223

پڑے کہ نعوذ باللہ آنحضرت کی قوت قدسی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسیٰ سے مرتبے میں گرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد انکی امت میں سے سینکڑوں نبی آئے مگر آپ کی امامت سے خدا کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا۔ کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے‘ آخر اس سے کلام تو کیا ہی جاتا ہے“۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ بہ جواب سوال مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘

مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء ”ملفوظات“ ص ۴۲۴‘ ج ۵‘ طبع ربوہ)

”حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ کا کمال ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے مقام نبوت پر پہنچایا۔ ثابت کرتا ہے کہ آپ کو واقع میں نبی بنا دیا گیا ورنہ کسی اور معنے کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ کمال ثابت نہیں ہوتا“۔ (”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۲۲۱‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لیے فرمایا گیا کہ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس اور جن کے لیے یہ دعا سکھائی گئی کہ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور ناتمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی“۔

(”الوصیت“ ص ۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۱۲‘ ج ۲۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی بدی کا تو حصہ دار ٹھہرا دیا ہے یہاں تک کہ ان کا نام یہود بھی رکھ دیا۔ مگر ان کے رسولوں اور نبیوں کے مراتب میں سے اس امت کو کوئی حصہ نہ دیا۔ پھر یہ امت خیر الامم کس وجہ سے ہوئی بلکہ شر الامم ہوئی کہ ہر ایک نمونہ شر کا ان کو ملا مگر نیکی کا نمونہ نہ ملا۔ کیا ضرور نہیں کہ اس امت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آوے جو نبی

صفحہ 224

اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور ان کا ظل ہو"۔

(”کشتی نوح“ ص ۴۴، ”روحانی خزائن“ ص ۴۲۷ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے کلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے..... کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہی نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا فیضان ناقص اور آپ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات نہیں پا سکتا۔ دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور وہی افسر معزز کہلاتا ہے جس کے ماتحت معزز ہوں۔ یہ بات ہرگز فخر کے قابل نہیں کہ آپ کے شاگردوں میں سے کسی نے اعلیٰ مراتب نہیں پائے بلکہ آپ کی عزت بڑھانے والی یہ بات ہے کہ آپ کے شاگردوں میں سے ایک ایسا لائق ہو گیا جو دوسرے استادوں سے بھی بڑھ گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ من ذلک) اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نعوذ باللہ دنیا کے لیے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے‘ وہ لعنتی مردود ہے“۔

(”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۱۸۶ - ۱۸۷‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”ہم کہتے ہیں کہ ساری امت صحابہ سے لے کر مسیح موعود تک (یا بقول میاں صاحب کے مرزا صاحب کو الگ کر لو پھر باقی تیرہ صدیوں کے) کل صلحاء مع صحابہ کبار‘ کل آئمہ محدثین یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے لیے لعنت خیال کرتے تھے اور کیا واقعی یہ لوگ نعوذ باللہ من ذلک لعنتی اور مردود تھے۔ وہ صحابی جن کو کہا گیا انت منی بمنزلتہ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی وہ جس کو کہا گیا لو کان بعد ی نبی لکان عمر وہ اپنے دلوں میں کیا یہ نہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ 225

کے بعد نبی نہیں ہو سکتا۔ اگر سمجھتے تھے تو میاں صاحب کی محک پر وہ کیا ہوئے اور پھر وہ جس نے خود یہ لفظ کہے، وہ میاں صاحب کے نزدیک کیا ہوا۔ افسوس کہ دین کو بچوں کا کھیل بنا لیا گیا۔ ختم نبوت کا مسئلہ وہ ہے، جس پر امت کا اجماع ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کا آنا کسی نے نہیں مانا…… اور پھر میں پوچھتا ہوں کہ جس صورت میں میاں صاحب یہ بھی مانتے ہیں کہ اس امت میں نبی کا نام پانے کے لیے صرف مسیح موعود ہی مخصوص ہوئے تو اب ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے بعد اگر کوئی نبی ہو تو یہ خصوصیت جاتی رہی۔ ایسا ہی میاں صاحب آیۃ اخرین منھم لما یلحقوا بھم سے بھی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسیح موعود کے سوا کوئی رسول نہیں جیسا کہ انہوں نے صفحہ ۲۳۱ ”حقیقۃ النبوۃ“ پر لکھا ہے ”بلکہ بعض جگہ صاف الفاظ میں اپنی ہی جماعت کی نسبت آخرین کے لفظ پر حصر کیا ہے اور اگر آپ سے پہلے بھی کوئی رسول اس قسم کا مانا جائے جیسے کہ آپ تھے تو اس کی جماعت بھی اخرین منھم کے ماتحت اصحاب رسول اللہ بن جائے گی لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت مسیح موعود کی جماعت کے کسی جماعت کو آخرین نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہیں“ تو اس صورت میں آخری رسول مسیح موعود ہوئے اور اس امت میں پھر سلسلہ رسالت ختم ہوا۔ کیا اب مسیح موعود نعوذ باللہ من ذلک میاں صاحب کے الفاظ میں دنیا کے لیے عذاب ہوئے یا نہیں اور آنحضرت کا اس سے کیا بچاؤ ہوا۔ اگر ایک رسول آپ کے بعد آگیا جو اس زمانے میں جو قیامت تک ممتد ہے، نہ آنے کے برابر ہے اور پھر کیا وہ قرآن جس کے بعد کوئی کتاب نہیں، وہ اسی اعتراض کے ماتحت نہیں جس کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہونے کی وجہ سے ہیں۔ کیا قرآن دنیا کے لیے عذاب ہے جو اس کے بعد کوئی کتاب نہیں“۔

(”النبوۃ فی الاسلام“ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری، ص ۱۰۵، لغایتہ ص

۱۰۷، حاشیہ)

(۸) مسلمانوں کو دھوکا

”میرے نزدیک درود کے ذریعے دعا سکھانے میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ

صفحہ 226

کہ مسلمانوں کو یہ دھوکا لگنے والا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو جو کچھ ملا‘ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کو نہیں مل سکتا۔ حضرت ابراہیم کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم تمہاری ذریت میں نبوت رکھتے ہیں مگر مسلمانوں نے یہ دھوکا کھانا تھا کہ امت محمدیہ اس نعمت سے محروم کر دی گئی ہے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی تھی۔ اس لیے یہ دعا سکھائی گئی کہ جو کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو ملا‘ اس سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملے اور اس میں نبوت بھی آگئی۔ پس جب کوئی مسلمان درود کی دعا پڑھتا ہے تو گویا یہ کہتا ہے کہ واجعلنا فی ذریتہ النبوۃ کا جو انعام حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہوا تھا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ہو۔

پس درود میں یہ دعا کی جاتی ہے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کی امت کو دیا گیا‘ اس سے بڑھ کر ہمیں دے اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں جو نبی آئے وہ ابراہیمی سلسلہ کے نبیوں سے بڑھ کر ہو۔ ہاں ان میں یہ بھی فرق ہو گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی ذریت میں نبوت رکھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جسمانی ذریت ہیں۔

(درود شریف کی تفسیر از میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ رسالہ ”درود شریف“ ص

۱۴۲‘ ۱۴۳‘ مولفہ محمد اسماعیل قادیانی)

(۹) صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

”اپنے تئیں صرف ظاہری صورت اسلام سے دھوکا مت دو اور خدا کے کلام کو غور سے پڑھو کہ وہ تم سے کیا چاہتا ہے۔ وہ وہی امر تم سے چاہتا ہے جس کے بارے میں سورۃ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے یعنی یہ دعا کہ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم پس جب کہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں‘ وہ تمہیں بھی ملیں۔ پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پا سکتے ہو۔ لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبے پر پہنچانے کے لیے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ

صفحہ 227

نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے“۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا لیکچر سیالکوٹ، ص۲۲، ”روحانی خزائن“ ص۲۲۷، ج

۲۰)

”قرآن کریم نبوت کو رحمت بھی قرار دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں ”اے قوم! اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیں اور وہ یہ ہیں کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے اور تمہیں دنیوی سلطنت بھی عطا کی۔ پس نبوت جب کہ رحمت الٰہی ہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت میں تبدیلی نہیں کرتا تو عقلاً اور نقلاً کسی شخص کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ ضرورت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ افسوس ہے کہ غیر احمدی علماء جن غلطیوں میں پڑ گئے، ان میں سے ایک اہم ترین غلطی یہ ہے کہ انہوں نے خیال کر لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت خدا تعالیٰ نے بند کر دیا اور اب خواہ کتنی ہی ضرورت داعی ہو کوئی نبی اس کی طرف سے مبعوث نہیں کیا جاسکتا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین سمجھتے ہوئے کیوں اس افسوس ناک غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۱، نمبر ۳۳، ص ۵، مورخہ ۸ مئی ۱۹۳۴ء)

”بہر حال یہ خیال کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دروازہ نبوت بند ہو چکا ہے، بالکل باطل اور لغو خیال ہے۔ قرآن اور احادیث اور امت محمدیہ کے بہترین افراد اس عقیدے کی لغویت کا اعلان کر رہے ہیں اور درحقیقت امت محمدیہ کی شان بھی اسی میں ہے کہ اس میں جہاں صلحاء و اولیاء شہداء اور اصدقاء پیدا ہوں، وہاں ایسے بھی انسان ہوں، جو خدا سے شرف مکالمہ و مخاطبہ حاصل کر کے نبی بن جائیں تا امت محمدیہ حقیقی معنوں میں خیر الامم کہلا سکے۔

تعجب ہے کہ ہمارے مخالف کہنے کو تو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل ہیں اور یہ کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر فوقیت رکھتی ہے مگر عقیدہ وہ رکھتے ہیں جس کے ماتحت نہ صرف امت محمدیہ خیر الامم نہیں کہلا سکتی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر بھی حرف آتا ہے۔ اگر امت موسویہ میں باوجود کمتر درجہ

صفحہ 228

ہونے کے اللہ تعالیٰ کے انبیاء آسکتے ہیں تو کیوں امت محمدیہ میں ضرورت کے وقت نبی نہیں آسکتے۔ حق یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور محمدیہ کی فوقیت اسی میں ہے کہ ضرورت کے وقت امت محمدیہ میں نبی پیدا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو کر بنی اسرائیل کے نبیوں سے بڑھ کر ہوں تا معلوم ہو کہ جس کے خادم ایسے ہیں، ان کا آقا کس شان کا مالک ہے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، نمبر ۵۰، ج ۱۹، مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۱ء)

”جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا بھی سلسلہ جاری ہے۔۔۔۔۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔۔ اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود بھی نبی اللہ تھے۔

(”حقیقۃ النبوۃ“ ص ۲۲۸-۲۲۹، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”میں مرزا صاحب کو نبی قرار دینا نہ صرف اسلام کی ہی بیخ کنی سمجھتا ہوں بلکہ میرے نزدیک خود مرزا صاحب پر بھی اس سے بہت بڑی زد پڑتی ہے۔ اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں مانتے تو میرے نزدیک یہ بڑی خطرناک راہ ہے اور تم خطرناک غلطی کے مرتکب ہوتے ہو“۔

(خطبہ جمعہ مولوی محمد علی صاحب، امیر جماعت لاہور، مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“، جلد ۲،

نمبر ۱۹، مورخہ ۶ اپریل ۱۹۱۵ء، اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲، نمبر ۱۴۳، ص ۴، مورخہ ۲

مئی ۱۹۱۵ء)

(۱۰) پیغمبروں کا سلسلہ

”۲۶ فروری ۱۹۰۱ء حضرت مسیح موعود نے فرمایا اہدنا الصراط المستقیم کی دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ظلی سلسلہ پیغمبروں کا اس امت میں قائم کرنا چاہتا ہے مگر جیسا کہ قرآن کریم میں سارے انبیاء کا ذکر نہیں اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا ذکر کثرت سے ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس امت میں بھی مثیل موسیٰ

صفحہ 229

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مثیل عیسیٰ یعنی امام مہدی سب سے عظیم الشان اور خاص ذکر کے قابل ہیں"۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ جلد ۵‘ نمبر ۱۰‘ منقول از منظور الٰہی‘ ص ۲۴۱‘ مصنفہ منظور الٰہی

صاحب قادیانی لاہوری‘ ”ملفوظات“ ص ۲۲۳‘ ج ۲)

(۱۱) آئندہ نبی

”اس لیے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔ آئندہ کا حال پردۂ غیب میں ہے۔۔۔۔۔ اس پر بحث کرنا انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔ پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی“۔

(”حقیقۃ النبوۃ“ ص ۱۳۸‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

”آپ کا چوتھا سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب کے بعد کوئی اور نبی آئے گا یا آسکتا ہے؟ اگر کوئی اور نبی نیا مبعوث ہو تو احمدی لوگ اس پر ایمان لائیں گے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بعد نبی آسکتا ہے۔ آئے گا کے متعلق میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا نبی آئے گا۔ جب وہ نبی آئے گا‘ اس پر ایمان لانا احمدیوں کے لیے ضروری ہوگا“۔

(مکتوب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۹

اپریل ۱۹۲۷ء‘ نمبر ۸۵‘ ج ۱۴)

سوال : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) کے بعد بھی جب نبی آنے کا امکان ہے تو آپ کو آخری زمانے کا نبی کہنے کا کیا مطلب ہے؟

جواب : آخری زمانے کا نبی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے توسط کے بغیر کسی کو نبوت کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو یہ کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تعلق پیدا کر کے نبی بن سکا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں میری اتباع کے بغیر کسی کو قرب الٰہی حاصل نہیں ہو

صفحہ 230

سکتا۔ پس آئندہ خواہ کوئی نبی ہو، اس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانا ضروری ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ ”الفضل“ قادیان، نمبر ۸۰، ج ۳،

مورخہ ۴ مئی ۱۹۱۶ء)

”کئی جاہل لوگ (قادیانی صاحبان) جب مجھ سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں السلام یا نبی اللہ۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ میں نبی نہیں۔ میں تو نبی کا نائب ہوں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۲،

نمبر ۶۳، ص ۷، مورخہ ۸ فروری ۱۹۲۹ء)

(۱۲) انبیاء عظام

”خاتم النبیین آنے والے نبیوں کے لیے روک نہیں ہے۔ انبیاء عظام حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے خادموں میں پیدا ہوں گے اور وہ ہمیشہ اسلام کے محافظ اور شائع کرنے والے ہوں گے۔ ان کا کام صرف یہی ہو گا کہ جب اسلام کے چہرہ منور اور جسم صفاء پر نفسانیت اور تیرگی علم کے باعث علماء کجرو گرد و غبار ڈال دیں گے تو وہ اس کو صاف کر دیا کریں گے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان کا خاتم النبیین نمبر، ص ۱۵، جلد ۱۵، نمبر ۹۶ ۔ ۹۷، بابت ۳ جون

۱۹۲۸ء)

(۱۳) ہزاروں نبی

”انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے“۔

(”انوار خلافت“ ص ۶۲، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا

صفحہ 231

تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں“۔

(”انوار خلافت“ ص ۶۵‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ اس امت کی اصلاح اور درستی کے لیے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا رہے گا“۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۳‘ نمبر

۱۴۲‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۲ مئی ۱۹۲۵ء)

”اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی تو آنا نہیں مگر اس کے متعلق یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نبی ضرور آئیں گے۔ نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اول اس لیے کہ مسلمان معصوم نہیں ہو گئے کہ ان سے غلطیاں اور بد اعتقادیاں اور بد عملیاں ظاہر ہونا ناممکن ہیں۔ جب یہ ناممکن نہیں تو نبیوں کا آنا ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر مصلحین کی ضرورت نہ تھی تو مجددین کی کیوں پیش گوئی فرمائی گئی“۔

(تقریر حافظ روشن علی صاحب‘ جلسہ سالانہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۱۰‘ نمبر ۵۱‘ ص ۵‘ مورخہ ۲ جنوری ۱۹۲۳ء)

سوال : کیا آئندہ بھی نبیوں کا آنا ممکن ہے؟

جواب : ہاں قیامت تک رسول آتے رہیں گے۔ اگر یہ خیال ہے کہ دنیا میں خرابی پیدا ہوتی رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ رسول بھی آتے رہیں گے۔ جب تک بیماری ہے‘ تب تک ڈاکٹر کی بھی ضرورت ہے۔ اگر یہ مانیں کہ کفر تو دنیا میں موجود ہوگا لیکن ہدایت کا سامان نہ ہوگا تو پھر بجائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احسان ماننے کے آپ کی طرف ظلم منسوب ہوگا کہ آپ نے ہدایت کا راستہ بند کر دیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمت للعالمین ہیں۔ ان کی رحمت تمام زمانوں اور تمام قوموں پر وسیع ہے۔ لیکن اگر یہ مانا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا تو اس صورت میں رحمتہ للعالمین نہیں ٹھہریں گے“۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ

)

صفحہ 232

۲۷ فروری ۱۹۲۷ء، نمبر ۶۸‘ ج ۱۴)

”خدارا غور کرو کہ اگر یہ عقیدہ میاں (محمود احمد) صاحب کا درست ہے کہ نبی آتے رہیں گے اور ہزاروں نبی آئیں گے جیسا کہ انہوں نے بالصراحت ”انوار خلافت“ میں لکھ دیا ہے تو یہ ہزاروں گروہ ایک دوسرے کو کافر کہنے والے ہوں گے یا نہیں اور اسلامی وحدت کہاں ہوگی۔ یہ بھی مان لو کہ وہ سارے نبی احمدی جماعت میں ہی ہوں گے تو پھر احمدی جماعت کے کتنے ٹکڑے ہوں گے۔ آخر گزشتہ سنتوں سے تم اتنے ناواقف نہیں ہو کہ کس طرح نبی کے آنے پر ایک گروہ اس کے ساتھ اور ایک خلاف ہوتا ہے۔ وہ خدا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کل دنیا کی قوموں کو ایک کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے، کیا اب وہ مسلمانوں کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کردے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہوں اور آپس میں کوئی تعلقات اخوت اسلامی کے نہ رہ گئے ہوں۔ یاد رکھو کہ اگر اسلام کو کل ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ سچا تو یہ مصیبت کا دن اسلام پر کبھی نہیں آسکتا کہ ہزاروں نبی اپنی اپنی ٹولیاں علیحدہ علیحدہ لیے پھرتے ہوں اور ہزار ہا ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ہوں جن کے پجاری اپنی اپنی جگہ ایمان اور نجات کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہوں اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر، بے ایمان قرار دے رہے ہوں“۔

(”ردّ تکفیر اہل قبلہ“ ص ۴۹ - ۵۰‘ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی، امیر جماعت

لاہور)

”یاد رکھو جس دن تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ حضرت مسیح موعود سے علیحدہ ہو کر بھی ہم کچھ کر سکتے ہیں وہی دن تمہاری تباہی کا دن ہوگا۔ اسی لمحہ سے نئے نبی کی ضرورت محسوس ہوگی جو آکر نئی جماعت بنائے گا اور تم برباد کیے جاؤ گے۔ وہی بات سچ ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے کہی اور جو آپ کے خلاف کوئی دوسرا کہے، وہ غلط ہے“۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ ج ۱۲‘ نمبر ۴،

ص ۹‘ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۱۴) نبوت کا ایقان و اعلان

صفحہ 233

”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو‘ دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے‘ تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں“۔ (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا خط‘ مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء بنام اخبار عام لاہور‘ ”حقیقۃ

النبوۃ“ حصّہ ۱ ص ۲۷۰ - ۲۷۱)

”چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے‘ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے...... ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں“۔ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۲‘ ”روحانی

خزائن“ ص ۲۰۶‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کر دوں..... یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں“۔ (”ایک غلطی کا

ازالہ“ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۰‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے...... لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں‘ وہ نہیں مانتے“۔ (”چشمہ معرفت“ ص ۳۱۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۳۲‘ ج ۲۳‘ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

صفحہ 234

”خدا نے میرے ہزارہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں‘ وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے“۔ (”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۱۴۸ ”روحانی

خزائن“ ص ۵۸۷‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں“۔ (”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۶۸‘ ”روحانی خزائن“ ص ۵۰۳‘ ج

۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا‘ گو ستر برس تک رہے‘ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے....... سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“۔ (”دافع البلا“ ص ۱۰

۔ ۱۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۳۱‘ ۲۳۰‘ ج ۱۸ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(”ایک انگریز اور لیڈی جو شکاگو سے قادیان آئے) ان کے اس سوال پر کہ آپ نے جو دعویٰ کیا ہے‘ اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں..... جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جا سکتا ہے۔ وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں“۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ مورخہ ۱۰ اپریل ۱۹۰۸ء ”ملفوظات“ ص ۲۱۷‘ ج ۱۰‘ منقول از اخبار

”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۸۵‘ مورخہ ۱۵ جنوری ۱۹۳۵ء)

”میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں‘ جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۸‘ نمبر ۷‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۳۰ء)

”غور کا مقام ہے کہ ہم موسیٰ کو تو صرف اس لیے نبی کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے

صفحہ 235

اپنے کلام میں اس کو نبی کہا ہے۔ عیسیٰ کو نبی اللہ صرف اس لیے جانیں کہ قرآن کریم میں اس کی نسبت نبی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر جب مسیح موعود (یعنی مرزا صاحب) کا سوال آوے تو ہم اصول کو چھوڑ کر لفظی تاویلات میں پڑ جائیں۔ موسیٰ اور عیسیٰ کی نبوت کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نے ان کو بطور نبی کے پیش کیا ہے۔ پس جب اسی خدا کے کلام (یعنی مرزا صاحب کی وحی) میں مسیح موعود کو کئی دفعہ نبی کے نام سے پکارا گیا ہے تو ہم کون ہیں کہ اس کی نبوت کا انکار کریں"۔

("کلمۃ الفصل" مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ "ریویو آف

ریلیجنز" قادیان ص ۱۱۴‘ نمبر ۳‘ ج ۱۴)

"اگر کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا....... روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی رکھیں‘ کرشن نبی رکھے‘ زرتشت نبی رکھے‘ دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جا رہی ہوں‘ لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہے"۔

("حقیقۃ النبوۃ" ص ۱۹۸‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۱۵) حصول نبوت کے دو طریق

"میں حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی۔ صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے۔ پہلے انبیاء نے بلا واسطہ نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ۔

("القول الفصل" ص ۳۳‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

"خلاصہ کلام یہ کہ مجازی نبی کے لفظ سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں کہ آپ (یعنی مرزا صاحب) شریعت اسلام کے مطابق نبی نہ تھے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ نے حقیقی نبی کی جو اصطلاح مقرر فرمائی ہے اور خود ہی اس کے معنی بتا دیے ہیں۔ وہ اصطلاح آپ پر صادق نہیں آتی اور اس اصطلاح کی رو سے آپ کے مجازی نبی ہونے

صفحہ 236

کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ براہ راست نبی بنے ہیں۔ نہ یہ کہ آپ نبی ہی نہیں“۔

(”حقیقۃ النبوۃ“ ص ۱۷۴‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

”پس علی وجہ الحقیقت نبوت کا مدعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک وہ شخص ہے جو براہ راست نبی ہونے کا مدعی ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کوئی الگ دین بنائے اور اس کے مقابلہ میں جو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور متابعت کی برکت سے حاصل ہو‘ وہ علی طریق المجاز ہوگی۔ پس طریق المجاز اور وجہ الحقیقت ہونا صرف طریق حصول نبوت کے مختلف ہونے کے لحاظ سے ہے نہ اس وجہ سے کہ جس شخص کو علی طریق المجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے نبوت ملے گی‘ وہ نبی نہیں ہوگا“۔

(”منکرین خلافت کا انجام“ ص ۱۵‘ مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی)

(۱۶) گھٹیا قسم کی نبوت

”یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے‘ یہ محض ایک نفس کا دھوکا ہے‘ جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں..... وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا ہے‘ یا اس کے معنے ناقص نبوت کے کرتا ہے وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے۔ کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے‘ جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے“۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“

ص ۱۱۳‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۱۷) جواب اعتراض

”اگر کوئی نادان کہے کہ وہ (مرزا صاحب) تو مجددوں میں سے ایک مجدد تھے‘

صفحہ 237

خدا کے نبی کیونکر ہو سکتے ہیں تو میں کہوں گا یوں تو تمام انبیاء مجدد ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ افضل الرسل محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی ہمارے امام (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے مجدد ہی لکھا ہے۔ دیکھو لیکچر سیالکوٹ‘ ص ۳)

(اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۲‘ نمبر ۹۶‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۱۵ء)

”پھر حضرت مسیح موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بروزی نبی قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا چونکہ تکمیل ہدایت کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا تھا۔ ایک بروز موسوی‘ دوسرے بروز عیسوی“۔ (”تحفہ گولڑویہ“ ص ۹۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۵۶‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”اب کیا حضرت نبی کریم بروز موسوی و عیسوی ہونے کی وجہ سے معاذ اللہ نبی نہ تھے۔ پس حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود بروزی نبی تھے‘ یشوعا بھی خود بروزی نبی تھا‘ حضرت یحییٰ بھی مجازی اور بروزی نبی تھے۔ کیا تمہارے لیے حجت ہے یا نہیں اور اگر ان نبیوں کو بوجہ بروزی ہونے کے تم لوگ واقعی نبی مانتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود جس کے نبی اللہ ہونے کے بارے میں خدا اور رسول کی تصدیق موجود ہے بوجہ بروزی اور ظلی ہونے کے نبی نہ ہوں۔ وہ بھی یقیناً نبی تھے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۹‘ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۱۵ء)

(۱۸) نبوت کی تقسیم

”جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی اقسام ہیں‘ اسی طرح ظلی اور بروزی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے۔ اگر ہم حقیقی یا مستقل نبیوں کو ہمیشہ صرف نبی کے نام سے پکارتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ظلی نبی کو نبی کے نام سے نہ پکار سکیں۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر شیر تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک سفید‘ ایک سرخ اور ایک زرد۔ تو ہم سفید اور سرخ شیر کو تو شیر کہیں۔ مگر زرد شیر کو شیر کے نام سے نہ پکاریں۔ ظاہر ہے کہ شیر کا زرد ہونا ایسے شیر ہونے کی حیثیت سے نیچے نہیں گرا دیتا۔ اسی طرح مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کا ظلی نبی ہونا مسیح موعود سے نبوت کو

صفحہ 238

نہیں چھینتا بلکہ صرف نبوت کی قسم ظاہر کرتا ہے اور اگر ایک چیز کی قسم بتانے سے اس چیز کی ہستی باطل ہو جاتی ہے تو نعوذ باللہ نبی کریم کی نبوت بھی باطل ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ آپ کی نبوت بھی تشریعی نبوت تھی جو نبوت کی ایک قسم ہے۔ پس یہ ایک بچوں کا سا خیال ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ میں حقیقی اور مستقل نبی تو شامل ہیں مگر ظلی نبی نہیں کیونکہ جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی قسمیں ہیں، اسی طرح ظلی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے اور جو حقیقی اور مستقل نبیوں کو حقوق حاصل ہیں، وہی ظلی نبی کو بھی حاصل ہیں۔ کیونکہ نفس نبوت میں کوئی فرق نہیں۔۔۔۔۔۔

اس جگہ میں یہ بات بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں جہاں کہیں بھی حقیقی نبوت کا ذکر ہے، وہاں اس سے مراد ایسی نبوت ہے جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت ہو ورنہ حقیقی کے لغوی معنی کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت حقیقی ہی ہوتی ہے جعلی یا فرضی نہیں اور مسیح موعود بھی حقیقی نبی تھا اور جہاں کہیں بھی مستقل نبوت کا ذکر ہے، وہاں ایسی نبوت مراد ہے جو کسی کو بلاواسطہ بغیر اتباع کسی نبی سابقہ کے ملی ہو۔ ورنہ مستقل کے لغوی معنوں کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت مستقل ہوتی ہے، عارضی نہیں اور مسیح موعود بھی مستقل نبی تھا۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۱۹، ص ۱۱۸، نمبر ۳، جلد ۱۴)

(۱۹) اقسام نبوت

”مولوی صاحب (نذیر احمد صاحب قادیانی) کا ارشاد ہے کہ ’ظلی، بروزی، امتی، مجازی وغیرہ اصطلاحات اقسام نبوت کو سمجھانے کے لیے ہیں۔ یعنی پہلے انبیاء براہ راست انبیاء بنتے تھے اور اب متابعت سے نبی ہوں گے۔ اس کے جواب میں گزارش ہے کہ یہ تعریف نہ قرآن شریف میں ہے، نہ حدیث میں اور نہ ہی سابقہ انبیاء نے ایسا فرمایا ہے۔ ہم نے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ ایک وقت اگر براہ راست نبوت عطا ہوتی تھی تو یہ تعریف یا تشریح انبیاء سابقہ کو کرنی مناسب تھی اور پھر ان کو بھی اپنی نبوت کی کچھ اصطلاحات مقرر کرنی چاہئیں تھیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور چونکہ قرآن شریف

صفحہ 239

کے بعد ایک نیا دور نبیوں کا شروع ہونے والا تھا اس لیے ان اصطلاحات کو اگر وہ خود یا نبی کریم بیان فرماتے تو نہایت انسب تھا۔ چونکہ وہاں یہ خیال پیدا نہیں ہوا۔ اسی لیے اس کی کوئی اصلیت نہیں پائی جاتی۔

اگر لوگوں میں غلط فہمی کا گمان تھا جیسا کہ مولوی صاحب نے لکھا ہے تو سب سے پہلے قرآن شریف کو اس غلطی کی اصلاح کی ضرورت تھی اس کے برعکس آپ کا یہ ارشاد کہ عقل مندوں کے لیے ان اصطلاحات کا ذکر ہے تو آپ پیش کیوں نہیں کرتے۔ آپ الفاظ پیش کر دیجئے۔ ہم بلا بحث تسلیم کرلیں گے۔ غضب ہے ایک طرف آپ لکھتے ہیں کہ عقل مندوں کے لیے ان اصطلاحات کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور چند سطور اس سے آگے چل کر یہ بھی لکھ دیا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک چونکہ سب نبی نبی ہوتے ہیں اس لیے وہ نبی کی اصطلاح کو تشریح الفاظ کے اضافہ کے ساتھ استعمال نہیں فرماتا۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ ج۲۴‘ نمبر ۶۰‘ مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۲۰) ظلم عظیم

”اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں تو صرف رسولوں پر ایمان لانے کا سوال ہے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کا کوئی ذکر نہیں تو ایسا کہنا ایک ظلم عظیم ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں (یعنی مرزا صاحب کی وحی میں۔۔۔۔۔۔(للمولف) مسیح موعود (مرزا صاحب) کے متعلق بیسیوں جگہ نبی اور رسول کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ”دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا“۔ یا جس طرح فرمایا یا ایھا النبی اطعموا الجائع و المعتر یا جس طرح فرمایا انی مع الرسول اقوم اور مسیح موعود (مرزا صاحب) نے بھی اپنی کتابوں میں اپنے دعوٰی رسالت و نبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ ”ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“ دیکھو (”بدر“ ۵ مارچ ۱۹۰۸ء) یا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں

صفحہ 240

خدا میرا نام نبی رکھتا ہے، تو میں کیوں کر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔ (دیکھو خط حضرت مسیح موعود، بہ طرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور)

یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا اور آپ کے یوم وصال ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔ پھر اسی پر بس نہیں کہ مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ نبیوں کے سرتاج محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کا نام نبی اللہ رکھا۔ جیسا کہ صحیح مسلم سے ظاہر ہے پس ان تین عظیم الشان شہادتوں کے ہوتے ہوئے کون ہے جو مسیح موعود (مرزا صاحب) کی نبوت سے انکار کرے؟“

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۱۰۔۱۱۱، نمبر ۳، ج ۱۴)

(۲۱) مرزا صاحب حقیقی نبی

”در حقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کی رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو، تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔“

(”القول الفصل“ ص ۳، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت (مرزا) صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

(”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۱۷۴، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) رسول اللہ اور نبی اللہ جو کہ اپنی ہر ایک شان میں اسرائیلی مسیح سے کم نہیں اور ہر طرح بڑھ چڑھ کر ہے“۔

(”کشف الاختلاف“ ص ۷، مصنفہ سید محمد سرور شاہ صاحب، قادیانی)

”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں، میں نے اپنی کتاب ”انوار اللہ“

صفحہ 241

میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود بموجب حدیث صحیح حقیقی نبی ہیں اور ایسے ہی نبی ہیں جیسے حضرت موسیٰ و عیسیٰ و آنحضرتؐ نبی ہیں لا نفرق بین احد من رسلہ) ہاں صاحب شریعت جدیدہ نبی نہیں۔ جیسے کہ پہلے بھی بعض صاحب شریعت نبی نہ تھے۔

یہ کتاب حضرت مسیح موعود نے پڑھ کر فرمایا ”آپ نے ہماری طرف سے حیدر آباد دکن میں حق تبلیغ ادا کر دیا ہے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۳۸‘ ۳۹‘ مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۱۵ء)

”غرضیکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا اور وہی نبی تھا جس کو نبی کریمؐ نے نبی اللہ کے نام سے پکارا اور وہی نبی تھا جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں یا ایھا النبی کے الفاظ سے مخاطب کیا“۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۱۴‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

”محترم ڈاکٹر صاحب! اگر آپ حضرات (یعنی لاہوری جماعت) صرف مسئلہ خلافت کے منکر ہوتے تو مجھے رنج نہ ہوتا کیونکہ آپ سے پہلے بھی ایک گروہ خوارج کا موجود ہے مگر غضب تو یہ ہے کہ آپ حضرت اقدس (مرزا صاحب) کو مسیح موعود‘ مہدی نبی نہیں مانتے۔ اگر حضرت مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو مسیح موعود بھی نہ تھے۔ (نعوذ باللہ) اور اس لیے آپ کا ماننا نہ ماننا برابر ہوا اور ضرور حقیقی نبی تھے اور خدا کی قسم ضرور بہ ضرور نبی تھے اور آپ کے مخالف حضرات کا بھی وہی حشر ہو گا جو دیگر انبیاء کے مخالفین کا۔ میں اس عقیدہ پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں“۔

(مکتوب محمد عثمان خان صاحب قادیانی‘ مندرجہ ”الہدیٰ“ نمبر ۱‘ ص ۵۴‘ مولفہ حکیم محمد

حسین قادیانی لاہوری)

”(م) میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود کے زمانے کا احمدی ہوں اور میں نے ۱۸۹۹ء میں بیعت کی تھی۔

میں ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا کا نبی اور رسول یقین کیا

صفحہ 242

کرتا تھا، جن معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام اپنی پیش گوئی میں نبی اللہ رکھا ہے اور میں اس دعویٰ نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یقین رکھتا ہوں۔ میرے سامنے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ اور مولوی محمد احسن صاحب آپس میں بحث کر رہے تھے تو دوران مباحثہ میں آوازیں بلند ہو گئیں اور اونچا اونچا بولنا شروع ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب تو بالکل خاموش ہو گئے اور مولوی محمد احسن صاحب کچھ آہستہ آہستہ بولتے رہے“۔

(جناب حافظ محمد ابراہیم صاحب قادیانی کا حلفیہ بیان‘ مندرجہ رسالہ ”فرقان“ قادیان‘

ص ۱۰‘ جلد ۱‘ نمبر ۱۰‘ بابت اکتوبر ۱۹۴۲ء)

(۴) ”مجھے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دست مبارک پر اظہار اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ ۱۸۹۵ء میں بیعت کا شرف ملا۔ فالحمد للہ۔ میں حضور پر نور کو صحیح طور پر اور اصل معنوں میں اللہ کا رسول اور نبی یقین کرتا تھا نہ کہ محض استعارہ اور مجاز کے رنگ میں۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے بارہا براہ راست اپنے کانوں سنا۔ حضور کی موجودگی میں حضور کو نبی اللہ اور خدا کا رسول کے نام سے ذکر کیا گیا۔ ذکر کرنے والوں میں سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب خصوصیت سے پیش پیش تھے اور بعض احباب کے استفسار پر حضور نے مہر تصدیق بھی ثبت فرمائی“۔

(جناب بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی کی شہادت‘ مندرجہ رسالہ ”فرقان“ قادیان‘ ص

۶‘ جلد ۱‘ نمبر ۱۰‘ بابت اکتوبر ۱۹۴۲ء)

”میں حلفی بیان دیتا ہوں کہ خدا ایک اور محمد رسول اللہ اس کے سچے نبی خاتم النبیین ہیں اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب اسی طرح نبی اللہ ہیں جس طرح دوسرے ایک لاکھ ۲۴ ہزار نبی اللہ تھے۔ ذرہ فرق نہیں۔ فقط۔

(جناب بابو غلام محمد صاحب قادیان‘ ریٹائرڈ فورمین لاہور کی حلفیہ شہادت‘ مندرجہ رسالہ

”فرقان“ ص ۱۲‘ قادیان‘ جلد ۱‘ نمبر ۱۰‘ بابت ماہ اکتوبر ۱۹۴۲ء)

(۲۲) حقیقی نبی اور رسول

صفحہ 243

”اکثر لوگ دریافت کرتے ہیں کہ آیا فی الواقع میاں صاحب (محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں اور انہوں نے ایسا کہاں لکھا ہے۔ مختصر طور پر اس کا جواب یہ ہے کہ میاں صاحب فی الواقع حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں کیونکہ ۔۔۔ ”الفضل“ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۱۵ء میں ان کا ایک خط چھپا ہے جس میں انہوں نے صاف طور پر آیت فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بآیاتہ پر بحث کرتے ہوئے یہ لفظ لکھے ہیں اس آیت میں نبیوں اور رسولوں کے الہام کا ذکر ہے اور وہی مراد ہیں۔ حضرت مسیح موعود چونکہ اس گروہ میں شامل تھے۔ اس لیے ان کا انکار بھی اس آیت کے ماتحت آتا تھا۔ اب اس عبارت کا منشاء سوائے اس کے کچھ نہیں کہ حضرت مسیح موعود فی الواقع رسل اور انبیاء میں شامل ہیں۔ مجددوں کو الگ کر دینے اور حضرت مسیح موعود کو نبیوں اور رسولوں میں شامل کرنے سے صاف طور پر میاں صاحب کا یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی اور رسول مانتے ہیں نہ مجازی“۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا رسالہ ”نبوت کاملہ تامہ اور جزئی

نبوت میں فرق“ ص ۱۹‘ منقول از رسالہ ”تبدیلی عقائد“ مولوی محمد علی صاحب‘ ص ۷۸‘

مولفہ محمد اسمعیل صاحب قادیانی)

(۲۳) اطلاع عام

”میں پبلک اور حکام کی اطلاع کے لیے یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) کو اللہ تعالیٰ کا مقدس نبی‘ جری اللہ فی حلل الانبیاء اور بنی نوع انسان کا نجات دہندہ مانتے ہیں اور تمام وہ عقیدت مندی اور محبت جو کسی ہندو کو حضرت کرشن یا حضرت رام چندر جی سے یا کسی عیسائی کو حضرت مسیح ناصری سے یا کسی یہودی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہو سکتی ہے‘ وہ اپنے پورے کمال کے ساتھ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رکھتے ہیں“۔

(چودھری فتح محمد صاحب قادیانی ایم۔ اے کی تقریر بہ مقام قادیان‘ بتاریخ ۸ جولائی

۱۹۳۵ء‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۱۰‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۲ جولائی ۱۹۳۵ء)

(۲۳) الف) عقیدوں کی تبدیلیاں (ج)

صفحہ 244

”سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور وفات کے بارہ میں آپ کے عقیدہ میں تبدیلی ہوئی‘ یعنی پہلے ایک زمانہ تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھتے رہے اور پھر ان کے فوت شدہ ہونے کا اعلان کیا‘ اسی طرح اپنی نبوت کے بارہ میں بھی حضور کے خیالات میں تغیر ہوا۔ یعنی ایک زمانہ تک آپ اپنے آپ کو نبی خیال نہیں فرماتے تھے لیکن پھر اپنے آپ کو نبی یقین کرنے لگے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کی پہلی زمانہ کی تحریرات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آپ نبوت کے مدعی نہیں لیکن آخری زمانہ کی تحریرات و تقریرات یہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ نبوت کے دعویدار تھے۔۔۔۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسئلہ نبوت میں اپنے عقیدہ کو ۱۹۰۱ء کے قریب تبدیل کیا ہے اور یہ امر اس قدر واضح ہے کہ اس میں شک کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل امور ہمارے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

حضرت مسیح سے افضل ہونے کا دعویٰ

اول ”ایک زمانہ میں حضور علیہ السلام اپنے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اگر کوئی امر آپ کی فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اسے جزئی فضیلت قرار دیتے ہوئے فرماتے کہ ایک غیر نبی کو نبی پر جزئی فضیلت ہو سکتی ہے لیکن اس کے بعد آپ پر ایسا زمانہ آیا جب آپ نے فرمایا کہ میں ہر شان میں مسیح سے افضل ہوں اور ان دونوں باتوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں نبی نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی وحی نے مجھے اس خیال پر نہ رہنے دیا اور بار بار نبی کا خطاب دیا تو میں نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا۔ چنانچہ جب حضور علیہ السلام کے ان دو بیانات پر جن میں سے ایک میں آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت مسیح پر مجھے جزئی فضیلت ہے اور دوسرے میں فرمایا کہ میں ہر شان میں مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر ہوں۔ تناقض کا اعتراض ہوا تو حضرت نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ ”اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے ”براہین احمدیہ“ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن

صفحہ 245

مریم آسمان سے نازل ہو گا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے ”براہین احمدیہ“ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس عقائد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ اس لیے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور۔۔۔۔ کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا۔۔۔۔۔ اسی طرح صدہا نشانیوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لیے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود ہوں۔۔۔۔ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا ہے تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا“۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۱۴۸ تا ۱۵۰، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۲ تا ۱۵۴، ج ۲۲)

اس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس وضاحت سے نبوت کے بارہ میں اپنے عقیدہ کی تبدیلی بیان فرمائی۔ اس کے متعلق کسی تشریح کی ضرورت نہیں“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۸، نمبر ۱۴۷ مورخہ ۱۳ جون ۱۹۴۰ء)

”ہم (یعنی لاہوری جماعت) اور جماعت قادیان دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے جب ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو نبی ہونے سے انکار کیا اور ایسا دعویٰ نبوت کرنے والے کو مفتری اور کذاب قرار دیا۔ اختلاف ہم میں اور قادیانی جماعت کے پیشوا میں یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود ۱۸۹۱ء سے لے کر اپنی وفات تک اسی عقیدے پر قائم رہے اور جماعت قادیان کا پیشوا لکھتا ہے کہ آپ نے ۱۹۰۱ء میں اپنا عقیدہ تبدیل کر لیا تھا۔ خود نبوت کا دعویٰ کیا اور آنحضرتؐ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا قرار دیا (تعجب کی کیا بات ہے اگر مرزا قادیانی صاحب جیسے موقعہ

صفحہ 246

شناس اگر دس سال میں اتنی بھی تبدیلی اور ترقی نہ کرتے تو پھر دعویٰ سے کیا حاصل تھا یوں لاہوری جماعت مصلحتاً ”تجاہل عارفانہ سے کام لے تو دوسری بات ہے ورنہ واقعہ وہی ہے جو جماعت قادیان نے جرات بلکہ دیانت سے ظاہر کر دیا۔۔۔۔ (للمولف برنی)

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ ج ۴۴‘ نمبر ۳۴‘ مورخہ ۲۱ اگست ۱۹۳۶ء)

(۴۴) تناقض کا خلاصہ

”کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے“۔

(”ست بچن“ ص ۳۰، ”روحانی خزائن“ ص ۱۴۲، ج ۱۰، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق“۔

(”ست بچن“ ص ۳۱، ”روحانی خزائن“ ص ۱۴۳، ج ۱۰، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۸۴ ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۱، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے“۔

(”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص ۱۱۲، ”روحانی خزائن“ ص ۲۷۵، ج ۲۱، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

صفحہ 247

فصل چوتھی

نبوت کی تکمیل

(۱) ختم نبوت کی تجدید

ان حوالوں سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس امت میں سوائے مسیح موعود کے اور کوئی نبی نہیں ہو سکتا کیونکہ سوائے مسیح موعود کے اور کسی فرد کی نبوت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیقی مہر نہیں اور اگر بغیر تصدیقی مہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو بھی نبی قرار دیا جائے تو اس کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ وہ نبوت صحیح نہیں۔

(”تشحیذ الاذہان“ قادیان‘ نمبر ۸‘ جلد ۱۲‘ صفحہ ۲۵‘ بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)

پس اس وجہ سے (اس امت میں) نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔۔۔۔۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہو تا۔۔۔۔۔ تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا۔ وہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۳۹۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۰۷-۴۰۶‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

اس جگہ یہ سوال طبعاً ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہیں۔ پس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں‘ ان سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا۔ لیکن اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔ (”حقیقت

صفحہ 248

الوحی" ص۲۸‘ "روحانی خزائن" حاشیہ ص۳۰‘ ج۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم کی گئی ہے اس لیے آپ کے بعد اس کے سوا کوئی نبی نہیں جسے آپ کے نور سے منور کیا گیا ہو اور جو بارگاہ کبریائی سے آپ کا وارث بنایا گیا ہو۔ معلوم ہو کہ ختمیت ازل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی‘ پھر اس کو دی گئی جسے آپ کی روح نے تعلیم دی اور اپنا ظل بنایا۔ اس لیے مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور وہ جس نے تعلیم حاصل کی‘ پس بلاشبہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں جو رحمان کے دنوں میں سے چھٹا دن ہے۔

(ما الفرق فی آدم والمسیح الموعود۔ ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ب‘ "روحانی خزائن" ص۳۱۰‘ ج۱۶‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اسی طرح مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا کیا گیا۔

(ما الفرق فی آدم والمسیح الموعود۔ ضمیمہ خطبہ الہامیہ‘ ص ج‘ "روحانی خزائن" ص۳۱۰‘ ج۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔

("تشحیذ الاذہان" قادیان‘ نمبر۸‘ جلد۲‘ ص۱۱‘ ماہ اگست ۱۹۰۷ء)

ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔۔۔ اس آیہ میں ایک پیش گوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے۔ اور بجز بروزی وجود کے‘ جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے‘ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ جو کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے۔ اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا‘ وہ میں ہوں‘ اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لیے مقدر تھا‘ سو وہ ظاہر ہو گیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمے سے پانی لینے کے لیے باقی نہیں۔

("ایک غلطی کا ازالہ" ص۱۱‘ "روحانی خزائن" ص۲۱۵‘ ج۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صفحہ 249

صاحب)

(۲) مرزا صاحب خاتم النبیین (م)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔

(”تشحیذ الاذہان“ قادیان‘ نمبر ۸‘ جلد ۱۲‘ ص ۱۱‘ بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)

پس ثابت ہوا کہ امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آ سکتے‘ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔

اس امت میں نبی صرف ایک ہی آ سکتا ہے جو مسیح موعود ہے اور قطعاً کوئی نہیں آ سکتا جیسا کہ دیگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ امر متحقق ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسیح موعود کا نام نبی اللہ رکھا ہے اور کسی کو یہ نام ہرگز نہیں دیا۔

(رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ قادیان‘ ج ۹‘ نمبر ۳‘ ص ۳۰ تا ۳۲‘ ماہ مارچ ۱۹۱۴ء)

پس اس لیے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا کیونکہ ہر ایک کا کام نہیں کہ اتنی ترقی کر سکے۔ بے شک اس امت میں بہت سارے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے حکم کے ماتحت انبیائے بنی اسرائیل کے ہم پلہ تھے لیکن ان میں سوائے مسیح موعود کے کسی نے بھی نبی کریم کی اتباع کا اتنا نمونہ نہیں دکھایا کہ نبی کریم کا کامل ظل کہلا سکے۔ اس لیے نبی کہلانے کے لیے صرف مسیح موعود مخصوص کیا گیا۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“

قادیان‘ ص ۱۱۶‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

صفحہ 250

ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔

(”کشتی نوح“ ص ۵۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۶۱‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۳) بروزی کمالات گویا مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ کی ذات

غرض خاتم النبین کا لفظ ایک الہی مہر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہدہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: واخرین منھم لما یلحقوا بھم۔

(اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“۔ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۵‘ ج ۱۸‘ مندرجہ ”تبلیغ

رسالت“ جلد دہم‘ مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات متعدیہ کے اظہار و اثبات کے لیے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے، سو اس طرح سے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا۔ تا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔

(”چشمہ معرفت“ ص ۳۲۴‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۴۰‘ ج ۲۳ حاشیہ‘ مصنفہ مرزا غلام

صفحہ 251

احمد قادیانی)

مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، جو درحقیقت ”خاتم النبین“ تھے، رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیہ واخرین منہم لما یلحقوا بہم۔ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم) پس اس طور سے خاتم النبین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“۔ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۲، ج ۱۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

یہ مسلمان کیا منہ لے کر دوسرے مذاہب کے بالمقابل اپنا دین پیش کر سکتے ہیں تاوقتیکہ وہ مسیح موعود کی صداقت پر ایمان نہ لائیں جو فی الحقیقت وہی ختم المرسلین تھا کہ خدائی وعدے کے مطابق دوبارہ آخرین میں مبعوث ہوا۔

وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمتہ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک وملل عالم کے لیے تھی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۳، نمبر ۱۴، مورخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۱۵ء)

مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اس بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت

صفحہ 252

اور رسالت کی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۶‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں“۔

(”نزول المسیح“ ص ۲ ”روحانی خزائن“ ص ۳۸۱-۳۸۰‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں۔ یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے اور میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔

(”نزول المسیح“ ص ۳ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۳۸۱‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی)

”بروز کے معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھے ہیں کہ اصل اور بروز میں فرق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غلامی کی نسبت بیان کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ من یک قطرہ ز آب زلال محمدم لیکن جب آپ بروز کی رنگت میں جلوہ نما ہوتے تو فرماتے من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی وما رانی کہ جو مجھ میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ذرا بھی فرق کرتا ہے‘ اس نے نہ مجھے دیکھا اور نہ مجھے پہچانا۔

(تقریر سید سرور شاہ قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۸۴‘ مورخہ ۲۶؍

جنوری ۱۹۱۶ء)

تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدؐ کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔

صفحہ 253

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۰۵، نمبر ۳، جلد ۱۴)

اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیہ واخرین منھم سے ظاہر ہے کہ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی صاحب، مندرجہ ”رسالہ ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۵۸، نمبر ۳، جلد ۱۴)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(از قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحب قادیانی، منقول از اخبار ”پیغام صلح“ مورخہ ۴؍

مارچ ۱۹۱۶ء، اخبار ”بدر“ قادیان، نمبر ۴۳، ج ۲، ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء، ص ۲)

اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان، ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۱ء

منقول از جماعت مبائعین کے عقائد صحیحہ رسالہ منجانب قادیانی جماعت، قادیان، ص

۱۷)

”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔ اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۴۶۔۱۴۷، نمبر ۳، جلد ۱۴)

پس ان معنوں میں مسیح موعود (جو آنحضرت کے بعث ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے) کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا گویا آنحضرت کے بعث ثانی اور آپ کے احمد

صفحہ 254

اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔

نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا‘ یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں۔ امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۳‘ مورخہ ۲۹ جون ۱۹۱۵ء)

اور آنحضرت کی بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعث اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے جس سے لازم آتا ہے کہ بعث ثانی کے کافر کفر میں بعث اول کے کافروں سے بہت بڑھ کر ہیں۔ مسیح موعود کی جماعت و اخرین منھم کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۱۰‘ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء)

(۴) فنافی الرسول اور بروز میں فرق

البتہ یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ فنافی الرسول اور بروز میں بڑا فرق ہے۔ جس طرح مثیل اور بروز میں فرق ہے۔ فنافی الرسول اس حالت کا نام ہے جب کہ کسی شخص کے اندر امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اکمل اور اتم درجہ تک پائے جائیں لیکن جب اس حالت سے گزر کر اسے نبوت محمدیہ کی چادر پہنائی جائے اور اس کے آئینہ ظلیت میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا انعکاس ہو تو اس وقت وہ حالت بروز کہلاتی ہے۔ گو فنا فی الرسول ہونا صدیقیت کا مقام ہے۔ پس اسی لیے فنا فی الرسول کے مقام تک تو امت محمدیہ میں سے سینکڑوں پہنچے مگر بروز کے مقام کے لیے مسیح موعود ہی مخصوص تھے۔ جن کو احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے نبی اللہ کہا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۱۹‘ نمبر ۴۸‘ مورخہ ۲۰ اکتوبر ۱۹۳۱ء)

صفحہ 255

(۵) بروز اور اوتار

پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے۔ بروز میں وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے۔ لیکن مثیل میں نام کا ایک ہونا شرط نہیں۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل تھے۔ مگر بروز نہ تھے کیونکہ خدا نے آپ کا نام موسیٰ نہیں رکھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء کے نام دیئے گئے اور آپ ان کے بروز ہو کر نبوت کے مقام پر پہنچے۔ پس فنا فی الرسول اور مثیل ہونا بروز سے علیحدہ چیزیں ہیں۔ البتہ بروز اور اوتار ہم معنے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۳۱ء‘ نمبر ۴۸‘ ج ۱۹)

(۶) مسیح موعود محمد است و عین محمد است

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۱۵ء) ادھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے اور شروع ہی میں اس کو خدا اور خدا کے رسول پاک کا نام سنایا جاتا ہے۔ بعینہٖ یہ بات میرے ساتھ ہوئی۔ میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ ہی کے تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ ”مسیح موعود محمد است و عین محمد است“۔

میں اس سے بالکل بے بہرہ تھا کہ مسیح موعود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ”منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد“ پھر میں اس سے بالکل بے علم تھا کہ خدا کا برگزیدہ نبی اپنے آپ کو بروز محمد کہتا ہے اور بڑے زور سے دعویٰ کرتا ہے کہ ”میں بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں“ (ایک غلطی کا ازالہ) پھر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میں خدا کے اولوالعزم نبی حضرت مسیح موعود کو ماننے سے خدا کے نزدیک صحابہ کی جماعت میں شامل ہوگیا ہوں۔ حالانکہ وہ خدا کا نبی...... الہامی الفاظ میں کہہ چکا تھا کہ ”جو میری جماعت میں شامل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا“۔

(”خطبہ الہامیہ“ ص ۱۷۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۵۸‘ ج ۱۶ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 256

"پھر مجھے ہرگز یہ معلوم نہ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی وحی پاک میں مسیح موعود کو محمد رسول اللہ کر کے مخاطب کرتا ہے میرے کانوں نے یہ الفاظ سنے تھے کہ حضرت مسیح موعود کا آنا بعینہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے حالانکہ یہ بات قرآن سے صراحتاً ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ صلعم دوبارہ مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے۔ جیسے کہ واخرین منہم سے ثابت ہے۔ خدا کے ارادے نے میرے دل پر کسی بزرگ کے منہ سے "مسیح موعود محمد است و عین محمد است" کے الفاظ کندہ کروائے وہ فرد کامل تھا جس کی تعریف میں حضرت مسیح موعود نبی اللہ نے خود بھی صفحوں کے صفحے لکھے ہیں..... یعنی وہ میرا پیارا اور میری احمدیت کے عین بچپن کے زمانہ میں خضر راہ بننے والا حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کابل تھا۔ جس نے قادیان سے واپس آتے ہوئے..... مسجد گٹی والی (لاہور) میں....... دوران تقریر میں بڑے زور سے فرمایا کہ "مسیح موعود محمد است و عین محمد است"۔ وہ خدا کا پیارا (مرزا صاحب) جو اپنے منہ سے اپنے آپ کو بروز محمد کہتا تھا اور جو کہتا تھا کہ "میرا وجود خدا کے نزدیک محمد رسول اللہ کا ہی وجود قرار پایا ہے"۔ (ایک غلطی کا ازالہ) اس لیے مجھ میں اور محمد مصطفیٰ میں کوئی دوئی یا مغائرت باقی نہیں رہی (خطبہ الہامیہ)..... اور جو کہتا تھا کہ میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے اور جو کہتا تھا کہ جمیع انبیاء کی صفات کاملہ کا مظہر بن کر آیا ہوں جس کے آگے موسیٰ اور عیسیٰ وہی حیثیت رکھتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھتے ہیں۔ مسیح موعود کے عین محمد ہونے کی اول دلیل یہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود الہامی شان کے الفاظ میں یوں تحریر فرماتے ہیں "اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا پس وہ جو میری جماعت میں شامل ہوا' درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی واخرین منہم کے بھی ہیں.... اور جو شخص مجھ میں اور محمد مصطفیٰ میں تفریق پکڑتا ہے' اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے"۔ ("خطبہ الہامیہ" ص ۱۷۱' "روحانی خزائن" ص ۲۵۸-۲۵۹' ج ۱۶ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

پس ہمارا صحابہ کی جماعت میں شامل ہونا مسیح موعود کے عین محمد ہونے پر ایک پختہ اور بدیہی دلیل ہے۔ پھر یہ الفاظ کہ "جو شخص مجھ میں اور محمد مصطفیٰ میں تفریق کرتا

صفحہ 257

ہے۔ اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا“ صاف پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مسیح موعود کو فضائل اور نعماء حضرت احدیت کے لحاظ سے عین محمد اگر نہ مانا جائے تو سب کہنا باطل ہو جاتا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۲‘ نمبر۲۴‘ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۱۵ء)

(۷) ایک دفعہ پھر

”وہ جس نے مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اور نبی کریم میں تفریق کی‘ اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا کیونکہ مسیح موعود صاف فرماتا ہے کہ من فرق بینی و بین المصطفیٰ فما عرفنی و ما رای (دیکھو خطبہ الہامیہ‘ ص ۱۷۱ ”روحانی خزائن“ ص ۲۵۹‘ ج ۱۶) اور وہ جس نے مسیح موعود کی بعثت کو نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا“۔

(”کلمۃ الفضل“ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۱۰۵‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۸) ذرہ بھر

حضرت مسیح موعود نام کام اور مقام کے اعتبار سے گویا آنحضرت صلعم کا ہی وجود ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں سوائے اس کے کہ مسیح موعود شاگرد اور آنحضرت صلعم استاد ہیں لیکن یہ فرق نام‘ کام اور مقام کے اعتبار سے نہیں بلکہ ذریعہ یا حصول نبوت کے اعتبار سے ہے۔ اب میں اس مضمون میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے بصراحت اس امر کو لکھا ہے کہ مسیح موعود درحقیقت محمدی حقیقت کا مظہر تام اور آپ کے وجود کا آئینہ ہے اور جیسا کہ آنحضرت صلعم اپنی قوت قدسیہ اور افاضہ روحانیہ کے ساتھ اولین میں مبعوث ہوئے ہیں ایسا ہی وہ آخرین میں بھی اس قوت قدسیہ اور افاضہ روحانیہ کے ساتھ مبعوث ہوئے اور جیسا کہ فیض آنحضرت صلعم کا صحابہ پر جاری ہوا‘ ایسا ہی بغیر کسی فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا۔ چنانچہ آپ (مرزا صاحب) فرماتے ہیں ”پس جب کہ یہ امر یہ

صفحہ 258

تصریح قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہو گا تو اس صورت میں آنحضرت صلعم کا ایک اور بعث ماننا پڑے گا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا اور اس تقریر سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے ظہور سے پورا ہوا۔ (”تحفہ گولڑویہ“ ص ۹۴، حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، روحانی خزائن، ص ۲۴۹-۲۴۸، ج ۱۷) اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی صحابہ میں ایک جماعت ہے اور جیسا کہ آنحضرت صلعم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر بھی آنحضرت صلعم کا فیض ہوا۔ پس یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کا عین صحابہ میں کی ایک جماعت ہونا اور آپ کی جماعت پر عین بعین وہی آنحضرت صلعم کا فیض جاری ہونا جو صحابہ پر ہوا تھا۔ اس امر کی پختہ دلیل ہے کہ مسیح موعود در حقیقت محمد اور عین محمد ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں باعتبار نام، کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۳، نمبر ۷۶، مورخہ یکم جنوری ۱۹۱۶ء)

(۹) مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ

پس جب کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) نبی کریم کی دوسری بعث کے مورد ہیں اور آپ کی جماعت بغیر کسی فرق ایک ذرہ کے خاص نبی کریم ہی کی فیض یافتہ ہے تو پھر حضرت مسیح موعود کا نبی اللہ اور رسول اللہ ہونا متحقق ہے۔

پس اے مسیح کو خدا کا نبی نہ یقین کرنے والو! خدارا سوچو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) بغیر فرق ایک ذرہ کے روحانی حقیقت کی رو سے خود محمد رسول اللہ صلعم بھی ہیں تو ایک منٹ کے لیے بھی حضرت مسیح کو غیر نبی مقرر کرنا اور

صفحہ 259

آپ سے نبوت کو منفک شدہ ماننا ایک صریح کفر نہیں تو اور کیا ہے اور اگر حضرت مسیح موعود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث ثانی کے مورد ہیں اور یقیناً ہیں اور اگر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے نبی ہیں اور آپ کی نبوت کا دامن قیامت تک وسیع ہے اور یقیناً ہے تو یقیناً مسیح موعود کا نبی اور رسول ہونا بھی محقق ہے۔ منکران نبوت کہتے ہیں کہ مسیح موعود کو حقیقی معنوں میں نبی ماننے سے حضرت نبی کریم صلعم کی ہتک لازم آتی ہے مگر میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ مسیح موعود کو حقیقی معنوں میں نبی اللہ اور رسول اللہ نہ ماننا صریح طور سے کفر کا ارتکاب کرنا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایک خطرناک حملہ کرنا ہے کیونکہ خطبہ الہامیہ میں مسیح موعود علیہ السلام فرما چکے ہیں:

”اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے اخیر میں مبعوث ہوئے...... پس جس نے ان سے انکار کیا۔ اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے اخیر میں یعنی ان دونوں میں بہ نسبت ان سالوں کی اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے“۔

......... تم مسلمانوں کے بچے ہو۔ تم نے قرآن کو خدا کا کلام مانا ہے۔ تم نے حضرت نبی کریم کو افضل الانبیاء تسلیم کیا ہے۔ پھر اگر تمہارے ہی ہاتھوں سے نبی کریم صلعم کی یہ عزت ہو جو تم اس کو آج غیر نبی قرار دے رہے ہو تو تمہارے لیے شرم کا مقام ہے۔ وہ نبی جو آج سے تیرہ سو سال پہلے عرب کی مبارک زمین میں مبعوث ہو چکا ہے، وہی نبی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے ویسا ہی مبعوث ہوتا ہے جیسا کہ پہلے مبعوث ہوتا تھا۔ اس کو تم لوگ غیر نبی کہتے ہو۔ آؤ خدا سے ڈر جاؤ۔ پس اے مسلمانوں کی اولاد خدا را اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منکر مت ہو۔ تم سے کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کئی دفعہ پڑھوایا جا چکا ہے تا تم کسی وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منکر نہ ہو جانا۔ یہ ایسا نہ سمجھنا کہ گویا کسی ایک منٹ کے لیے بھی محمد رسول اللہ‘ رسول اللہ نہیں رہے۔ پھر سوچو

صفحہ 260

کہ اگر محمد رسول اللہ پہلی بعث میں نبی اللہ اور رسول اللہ تھے تو دوسری بعث میں جو اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہوتی ہے۔ وہی محمد رسول اللہ کیوں نبی اور رسول نہیں رہا۔ وہ نبی اور رسول ہے اور یقیناً ہے۔ پس تم محمد رسول اللہ صلعم کے ظل اتم اور بروز اکمل مسیح موعود علیہ السلام کو غیر نبی کہہ کر درحقیقت اپنے کفر پر آپ ہی مہر لگاتے ہو۔

(اخبار ”فاروق“ قادیان‘ ج۲۱‘ نمبر۴۶-۴۷‘ مورخہ ۱۴-۲۱؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء)

(۱۰) دونوں ایک

پس جب کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود کا وجود خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دوئی یا مغائرت نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی شان‘ ایک ہی مرتبہ‘ ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔ تو یہ کس قدر حق سے خروج ہوگا کہ حضرت مسیح موعود کے عین محمد ہونے سے انکار کریں اور چونکہ حضرت مسیح موعود آنحضرت صلعم کا بروزی وجود رکھتے ہیں اس لیے ممکن نہیں کہ حضرت مسیح موعود کو آنحضرت صلعم سے غیر یقین کیا جائے۔ جیسے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) فرماتے ہیں۔

اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا‘ وہ میں ہوں اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۱۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۵‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”الغرض مسیح موعود کی تحریروں سے یہ بات پختہ طور سے ثابت ہو رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود یقیناً محمد تھے اور آپ کو چونکہ آنحضرت صلعم کا بروزی وجود عطا کیا گیا تھا اس لیے آپ عین محمد تھے اور آپ میں جمیع کمالات محمدیہ کامل طور پر منعکس تھے۔

صفحہ 261

پس اس لیے آپ کے عین محمد ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ایسا ہونا قدیم سے مقدر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک بروز محمد جمیع کمالات محمدی کے ساتھ مبعوث ہوگا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۳‘ نمبر ۴۷‘ مورخہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(۱۱) کسی نے بھی

آج تک کے مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے متعلق بیان نہیں کی اور نہ ہی اس حقیقت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) سے پہلے کوئی شخص واقف اور شناسا ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں۔ تمام دنیائے اسلام میں صرف آپ ہی کا ایک وجود ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار آپ کی دو بعثتوں کی حیثیت میں کیا۔ چنانچہ آپ (یعنی مرزا صاحب) تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۹۴ پر تحریر فرماتے ہیں۔۔۔۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی موعود (مرزا صاحب) کے ظہور سے پورا ہوا“۔ پھر (مرزا صاحب) تحفہ گولڑویہ کے ص ۹۶ پر فرماتے ہیں ”جیسا کہ مومن کے لیے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر ایمان لانا بھی فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں“۔ پھر صفحہ ۹۹ (تحفہ گولڑویہ) پر فرماتے ہیں ”غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو بعث مقرر تھے۔ ایک بعث تکمیل ہدایت کے لیے‘ دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لیے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۸‘ نمبر ۸۶۔۸۷‘ ص ۱۰‘ مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۳۱ء)

(۱۲) وہی نبی

پس حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) وہی نور ہیں جس کا سب نوروں کے آخر میں آنا مقدر ہوچکا تھا اور وہی نبی ہیں جس کا آنا سب سے آخر ہوا اس لیے ہو نہیں سکتا کہ وہ سوائے آنحضرت صلعم کے بروزی وجود کے کسی اور حیثیت میں پیش کیے جاسکیں۔

صفحہ 262

کیونکہ آخری ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شان ہے پس اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ظلی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا تمام کمال یعنی نام‘ کام اور مقام عنایت کیا تا اس کا آنا کسی غیر کا آنا نہ سمجھا جائے بلکہ خود آنحضرت صلعم کا ہی آنا متصور ہو۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۳‘ نمبر۵۵‘ مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

(۱۳) انشراح صدر

پس ہم نہایت ہی انشراح صدر سے اس بات پر یقین لاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود بروزی طور پر (نہ تناسخ کے طور پر) وہی نبی خاتم الانبیاء ہیں جن کا آخری زمانہ میں آنا مقدر ہوچکا تھا اور یہ کہ حضرت مسیح موعود واقعی وہی جامع جمیع کمالات محمدیہ مع نبوت ہیں جس کا آنا خدا کے مقدس نوشتوں میں ایک قرار یافتہ عہد کے طور پر درج ہے اور آپ روحانی حقیقت کے اعتبار سے وہی حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو زمین حجاز میں اب سے تیرہ سو برس پہلے پیدا ہوئے تھے (صلی اللہ علیہ وسلم) پس حضرت مسیح موعود کا اپنا کلام بھی ہم کو ان الفاظ پر پورا یقین لانے کے لیے صراحۃً مجبور کر رہا ہے جو حضرت شاہزادہ عبداللطیف شہید کابل نے اپنی کمال معرفت حاصل کرنے کے بعد فرمائے تھے کہ

مسیح موعود محمد است و عین محمد است

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۳‘ نمبر۵۵‘ مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

(۱۴) یا یوں کہو

گزشتہ مضمون (مندرجہ ”الفضل“ مورخہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۱۵ء) میں‘ میں نے محض بفضل الٰہی اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود باعتبار نام‘ کام‘ آمد‘ مقام مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہیں یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔ یا یوں کہو کہ جیسا آنحضرت صلعم کو پانچویں ہزار میں محمیّت کی چادر پہنائی گئی تھی‘ ویسا ہی آج مسیح موعود کو

صفحہ 263

پھر بروزی طور پر وہی محمدیت کی چادر پہنائی گئی ہے یا یوں کہو کہ مسیح موعود ایک ایسا آئینہ ہے جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے یا یوں کہو کہ حضرت مسیح موعود ایک ایسا واسطہ ہے جس کے ذریعہ سے محمدی قوت اور جلال پھر از سر نو دنیا پر ظاہر ہوا۔ الغرض ان تمام باتوں کا لب لباب وہی الفاظ ہیں جو کہ میرے مضمون کے لیے اصل شاہراہ کا کام دے رہے ہیں یعنی یہ کہ :

مسیح موعود محمد است و عین محمد است

پس حضرت مسیح موعود وہی نور ہیں جس کا سب نوروں کے آخر میں آنا مقدر ہوچکا تھا اور وہی نبی ہیں جس کا آنا سب سے آخر ہوا ہے اس لیے ہو نہیں سکتا کہ وہ سوائے آنحضرت صلعم کے بروزی وجود کے کسی اور حیثیت میں پیش کیے جاسکیں کیونکہ آخری ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شان ہے پس اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ظلی طور پر آنحضرت صلعم ہی کا تمام کمال یعنی نام، کام اور مقام عنایت کیا تا اس کا آنا کسی غیر کا آنا نہ سمجھا جاوے بلکہ خود آنحضرت صلعم کا ہی آنا متصور ہو۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۵۵‘ مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

(۱۵) محمد مصطفیٰ

اس روئیت اور معرفت سے مراد وہ مرتبہ روئیت و معرفت ہے جس کی نسبت حضرت مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ میں فرمایا ہے کہ من فرق بینی و بین المصطفی ما عرفنی و مارانی یعنی جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفیٰ کے درمیان فرق کیا اور دونوں کو الگ الگ سمجھا اس نے نہ مجھے شناخت کیا اور پہچانا اور نہ ہی دیکھا اور سمجھا پس حضور کے اس ارشاد کے مطابق حضور کا دیکھنا اور پہچاننا ان ہی معنوں میں ہے کہ حضور (مرزا صاحب) کو محمد مصطفیٰ ہی یقین کیا جائے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۵۶‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۷؍ جون ۱۹۱۵ء)

(۱۶) مصطفیٰ میرزا

صفحہ 264
صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک کہ جس پر وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۱۳‘ نمبر ۱۱۴‘ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء)

(۱۷) محمد رسول اللہ

ہم نے مرزا کو بحیثیت مرزا نہیں مانا بلکہ اس لیے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا۔ کوئی نیا نبی نہیں آیا نہ پرانے نبیوں میں سے بلکہ محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی۔ یہی وجہ ہے کہ حضور (مرزا صاحب) نے اپنی نبوت کو ظلی و مجازی نبوت کہا اور حقیقی و مستقل نبوت نہ کہا۔ بعض لوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔ میرا ایمان ہے کہ اگر مرزا صاحب مستقل اور حقیقی نبی ہوتے تو ہرگز ہرگز یہ درجہ نہ پاتے جو محمد رسول اللہ صلعم ہو کر پایا۔

تم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی ساری جائیدادیں سارے اموال اور جانیں قربان کر دیتے تو بھی صحابہ کرام میں شامل نہ ہو سکتے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں‘ ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔ اللہ نے تمہیں محمد رسول کا چہرہ مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفاد کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا۔

(تقریر سید سرور شاہ صاحب قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۸ دسمبر

۱۹۱۴ء)

(۱۸) نبی اللہ رسول اللہ

حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے اپنے آپ کو کھلے طور پر نبی اللہ اور رسول اللہ پیش کیا ہے اور اپنے آپ کو زمرہ انبیاء و مرسلین میں شامل فرمایا ہے اور جن آیات قرآنیہ کو اپنے دعوے میں پیش کیا ہے‘ ان میں صریح طور سے الفاظ رسول یا رسلہ کے موجود ہیں جن کا حضور (مرزا صاحب) نے اپنے آپ کو مصداق ٹھہرایا ہے۔ پس آیات قرآنیہ بیّنہ کے لفظ رسول کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرانا صاف اور صریح اس امر کی بین

صفحہ 265

دلیل ہے کہ حضرت مسیح موعود من حیث النبوت ان ہی معنوں میں نبی اللہ اور رسول اللہ تھے جن معنوں میں ان آیات سے دیگر انبیاء سابقین مراد لیے جاتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۲‘ نمبر۳۸‘ مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۱۴ء)

(۱۹) وہ ایک ہے

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ اس زمانہ کے رسول (مرزا) کے خیالات اور تعلیم اور وہ کلام ربانی جو اس رسول (مرزا) پر نازل ہوتا ہے‘ چھوڑ دیں گے تو وہ اور کون سی باتیں ہیں جن کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اسلام کوئی دوسری چیز ہے جو اس رسول (مرزا) سے علیحدہ ہو کر بھی مل سکتا ہے۔ کیا احمد (مرزا) سے علیحدہ ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رستہ مل سکتا ہے۔ کیا احمد (مرزا) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ فرق ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا‘ جس نے محمد اور احمد (مرزا) میں فرق جانا اس نے ہرگز حضور (مرزا صاحب) کو نہیں پہچانا۔ اس کا زبان سے اقرار محض لاف زنی ہے جس نے احمد (مرزا) کو چھوڑا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی چھوڑا۔ وہ ہرگز ہر گز و اخرین منہم لما یلحقوا بہم کا مصداق نہیں۔ وہی احمد (مرزا) ہے وہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو اس وقت ہم میں (قادیان) موجود ہے۔ پھر جو احمد کی تعلیم کو علیحدہ کرنا چاہتا ہے‘ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت نہیں کر سکتا کیونکہ دراصل وہ ایک ہے۔

(منشی حبیب الرحمن صاحب قادیانی کا خط‘ بخدمت مرزا (محمود) صاحب‘ مندرجہ اخبار

”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۱۶۷‘ ص ۴‘ مورخہ ۷؍ جنوری ۱۹۳۶ء)

(۲۰) فخر اولین و آخرین

اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) میں ہو کر ملتا ہے۔ اسی کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک و ملل عالم کے لیے تھی۔ فصلی اللہ

صفحہ 266

علیہ وسلم۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۴۱‘ مورخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(۲۱) قادیانی سلام

سیدنا حضرت احمد جری اللہ پر سلام

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ یکم جولائی ۱۹۳۰ء)

اے امام الوریٰ سلام علیک مہ بدر الدجیٰ سلام علیک
مہدی عہد و عیسیٰ موعود احمد مجتبیٰ سلام علیک
مطلع قادیاں پہ تو چمکا ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
تیرے آنے سے سب نبی آئے مظہر الانبیاء سلام علیک
مہبط وحی مہبط جبرائیل سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
کفر کی شب کو کر دیا کافور مثل شمس الضحیٰ سلام علیک
مانتے ہیں تری رسالت کو اے رسول خدا سلام علیک

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۷‘ نمبر ۱۰۰‘ ص ۲‘ مورخہ یکم جولائی ۱۹۳۰ء)

(۲۲) کلمہ شریف

اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیوں مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں جیسا کہ وہ (مرزا صاحب) خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفیٰ فما عرفنی و ما رائی اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزا صاحب) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ

صفحہ 267

کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان، ص ۱۵۸، نمبر ۴، جلد ۱۴)

(۲۳) مرزا صاحب پر صلوات (م)

پس آیہ یایھا الذین امنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما کی رو سے ان احادیث کی رو سے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی تاکید پائی جاتی ہے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا از بس ضروری ہے۔

اس کے لیے کسی مزید دلیل اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ تاہم ذیل میں چند فقرات حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وحی الٰہی کے بطور نمونہ نقل کیے جاتے ہیں جن میں آپ پر درود بھیجنا آپ کی جماعت کا ایک فرض قرار دیا گیا ہے۔ (رسالہ ”درود شریف“ مصنفہ محمد اسمٰعیل صاحب قادیانی، ص ۱۳۶) تمہیں اصحاب الصفہ (کی ایک عظیم الشان جماعت) دی جائے گی اور تمہیں کیا معلوم کہ اصحاب الصفہ کس شان کے لوگ ہیں۔ تم ان کی آنکھوں سے بہ کثرت آنسو بہتے دیکھو گے اور وہ تم پر درود بھیجیں گے۔ (رسالہ ”درود شریف“ بحوالہ از ”اربعین“ نمبر ۲، ص ۶، ”روحانی خزائن“ ص ۳۵۰، ج ۱۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) وہ لوگ تم پر درود بھیجیں گے جو (اس جماعت میں) مثیل انبیاء بنی اسرائیل پیدا ہوں گے۔ (”الہام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ مندرجہ رسالہ درود شریف، ص ۱۳۷، مولفہ محمد اسمٰعیل صاحب قادیانی) خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ (رسالہ ”درود شریف“ بحوالہ از ”اربعین“ نمبر ۲، ص ۸، ۱۵، نمبر ۳، ص ۲۴-۲۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) سلام علی ابراہیم ابراہیم پر سلام (یعنی اس عاجز پر) (”اربعین“ نمبر ۲، ص ۱۹-۲۰، ”روحانی خزائن“ ص ۳۶۸، ج ۱۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ان الہامات کے کئی مقامات میں اس خاکسار پر خدا تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ اور سلام ہے۔ (”اربعین“ نمبر ۲، ص ۲۱، ”روحانی خزائن“ ص ۳۶۸، ج ۱۷، مصنفہ

پر

صفحہ 268

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) از روئے سنت اسلام و احادیث نبویہ ضروری ہے کہ تصریح سے آپ کی آل کو بھی درود میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح بلکہ اس سے بدرجہا بڑھ کر یہ بات ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود پر بھی تصریح سے درود بھیجا جائے اور اس اجمال درود پر اکتفا نہ کیا جاوے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے وقت آپ کو بھی پہنچ جاتا ہے۔..... چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پائے، میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ و سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے پھر جب کہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا، صحابہ نے کہا، بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا“۔ (رسالہ ”درود شریف“ بحوالہ ”اربعین“ نمبر ۲، ص ۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ پر درود بھیجنے کی یہی صورت نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ پر ملا کر ہی درود بھیجا جائے بلکہ ایسے طور پر آپ پر درود بھیجنا بھی جائز ہے کہ بظاہر اس میں تصریح کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہو۔ جیسا کہ یہ جائز ہے کہ جب کسی نبی کا ذکر آئے اور اس موقع پر اس نبی پر درود اور سلام بھیجا جائے تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ کیا جائے۔ نیز یاد رہے کہ کسی نبی پر اس طرح پر الگ طور پر درود و سلام بھیجنا سنت مومنین اور سنت اسلام کے خلاف ہے اور یہ بات انبیاء سے مخصوص ہے کہ ان کے لیے علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ (رسالہ ”درود شریف“ ص ۴۰، مولفہ محمد اسماعیل صاحب قادیانی) پیر سراج الحق صاحب نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ صف میں حضور کی بائیں طرف کھڑا تھا۔ جب نماز ختم ہوئی تو حضور نے میری ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ مجھے اس وقت یہ الہام

صفحہ 269

ہوا ہے ”صلی اللہ علیک و علی محمد“

(رسالہ ”درود شریف“ ص ۱۴۳‘ مولفہ محمد اسمعیل صاحب قادیانی)

حضور (مرزا) تحریر فرماتے ہیں کہ:

نہ معلوم ان لوگوں کی عقلوں پر کیا پتھر پڑے کہ جس شخص کو تمام نبی ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک عزت دیتے آئے ہیں‘ اس کو ایک ایسا ذلیل سمجھتے ہیں کہ صلوۃ و سلام بھی اس پر کہنا حرام ہے۔ یہی وجہ تو ہے کہ ہم بار بار ان لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرو اور سمجھو کہ جس شخص کو مسیح موعود کر کے بیان فرمایا گیا ہے وہ کچھ معمولی آدمی نہیں ہے بلکہ خدا کی کتابوں میں اس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی ہے۔ (کتاب ”اربعین“ نمبر (۲) ص ۲۳) اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کے نام کے ساتھ صلوۃ اور سلام کا استعمال ترک کر رہے ہیں‘ وہ یقیناً زیر الزام ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قدر و منزلت ان کے دلوں سے بالکل نکل چکی ہے۔

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۴۸‘ جلد ۲۸‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۶ جولائی

۱۹۴۰ء)

(۲۴) مرزا صاحب کی وحی و الہام

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم از خطا ہا ہمیں است ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید از دہان خدائے پاک و وحید
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد برو القا
واں یقین کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(”در ثمین“ ص ۲۸۷‘ مجموعہ کلام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ”نزول المسیح“ ص ۹۹‘

”روحانی خزائن“ ص ۴۷۷‘ ج ۱۸‘ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک

صفحہ 270

ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے‘ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۰‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔ (”حقیقتہ الوحی“ ص ۲۱۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۲۰‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) میں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر‘ جو مجھے ہو رہے ہیں‘ ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں کہ تورات اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ (”تبلیغ رسالت“ جلد ہشتم‘ ص ۶۴‘ اشتہار مورخہ ۴ اکتوبر ۱۸۹۹ء‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ۱۵۴‘ ج ۳) مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر (”اربعین“ نمبر ۴‘ ص ۲۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۸۴‘ مورخہ ۱۳ جنوری ۱۹۳۵ء)

(منکرین خلافت کا انجام“ ص ۴۹‘ مصنفہ جلال الدین قادیانی)

(۲۵) قرآن و حدیث

اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔

صفحہ 271

(”اعجاز احمدی“ ص ۳۰، ”روحانی خزائن“ ص ۱۴۰‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے‘ اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کردے۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۱۰، ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ۵۱‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

ایک شخص نے نہایت گستاخی اور بے ادبی سے لکھا ہے کہ بعض احادیث ہم اپنے محدود و ناقص علم سے صحیح سمجھیں‘ ان کے مقابلہ میں مسیح موعود کی وحی (ہاں وہ وحی جس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ یہ وحی دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کی طرح شبہات سے پاک و منزہ ہے) رد کر دینے کے قابل ہے۔ اس نادان نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اس طرح تو اسے مسیح موعود (مرزا صاحب) کے دعاوی صادقہ سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔ وہ احادیث جن سے آپ کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم اور علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اور تنکسف القمر لاول لیلتہ من رمضان یہ سب محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں مگر خدا کے مامور نے جب اپنے دعویٰ کا صدق الہامات کے ذریعے پیش گوئیوں اور دیگر نشانات سے ثابت کر دیا تو پھر ہم نے آپ کو حکم و عدل مان لیا اور جس حدیث کو آپ نے صحیح کہا وہ ہم نے صحیح سمجھی اور جسے آپ نے متشابہ قرار دیا‘ اسے ہم نے حکم کے تابع کر لیا اور جس حدیث کے بارے میں فرمایا یہ چھوڑ دینے کے قابل ہے‘ وہ چھوڑ دی۔ کیونکہ حدیث تو راویوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی اور ہم کو معلوم نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے در حقیقت کیا فرمایا مگر خدا کا زندہ رسول (مرزا صاحب) جو ہم میں موجود تھا‘ اس نے خدا سے یقینی علم پا کر ہمیں امر حق پر اطلاع دی اور جب وہ اتباع کامل نبوی سے نبی ہوا تو ہم نے مان لیا کہ آپ کے قول و فعل کے خلاف اگر کوئی حدیث بیان کی جائے گی تو ہم اسے قابل تاویل سمجھیں گے۔ اس لیے کہ جو باتیں ہم نے مسیح موعود سے سنیں‘ وہ اس راوی کی روایت سے زیادہ معتبر ہیں‘ جسے حدیث نبی بتایا جاتا ہے۔

صفحہ 272

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۳۳‘ ص۶‘ مورخہ ۲۹اپریل ۱۹۱۵ء)

قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خدا تعالیٰ کے کلام ہیں۔ دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے مقدم رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا…… حدیث تو بیسیوں راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی ہے اور الہام براہ راست۔ اس لیے (مرزا صاحب) کا الہام مقدم ہے نہ اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے معتبر ہے بلکہ اس لیے کہ اس کے راویوں سے معتبر ہیں…… مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں‘ وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت صلعم کے منہ سے نہیں سنی۔ سچی حدیث اور مسیح موعود کا قول مخالف نہیں ہو سکتے۔ (میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا ارشاد‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۳۳‘ ص ۶‘ مورخہ ۲۹اپریل ۱۹۱۵ء)

(۴۶) نزول جبرائیل

جو لوگ نبیوں اور رسولوں پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا ضروری شرط نبوت قرار دیتے ہیں۔ ان کے واسطے یہ امر واضح ہے کہ حضرت (مرزا) صاحب کے پاس نہ صرف ایک بار جبرائیل آیا بلکہ بار بار رجوع کرتا تھا اور وحی خداوندی لاتا رہا۔ قرآن میں نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ثابت ہے………… ورنہ دوسرے انبیاء کے واسطے جبرائیل کا نزول از روئے قرآن شریف ثابت نہیں…… اعلیٰ درجہ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا ہے‘ خواہ اس کو کوئی دوسرا فرشتہ کہو یا جبرائیل کہو اور چونکہ حضرت احمد علیہ السلام بھی نبی اور رسول تھے اور آپ پر اعلیٰ درجہ کی وحی کا یعنی وحی رسالت کا نزول ہوتا رہا ہے لہٰذا آپ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا تھا اور خدا تعالیٰ نے اس فرشتہ کا نام تک بتا دیا ہے کہ وہ فرشتہ جبرائیل ہی ہے۔

(”رسالہ احمدی“ نمبر ۵-۶-۷‘ بابت ۱۹۱۹ء‘ موسومہ والنبوۃ فی الالہام‘ ص۳۰‘ مولفہ

قاضی محمد یوسف قادیانی)

میری (میاں محمود احمد صاحب کی) عمر جب نو یا دس برس کی تھی میں اور ایک اور طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے۔ وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی

صفحہ 273

تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔ وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔ نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے۔ اس کتاب کو جو کھولا تو اِس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبرئیل نازل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا یہ غلط ہے۔ میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرئیل نہیں آتا۔ کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے۔ ہم میں بحث ہو گئی۔ آخر ہم دونوں مرزا صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کتاب میں غلط لکھا ہے۔ جبرئیل اب بھی آتا ہے۔ (تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ڈائری مندرجہ اخبار

”الفضل“ قادیان، مورخہ ۲۰؍ اپریل ۱۹۳۲ء 'ج ۱۹' نمبر ۷۶)

جاءنی ائل واختار، وادار اصبعہ واشار۔ ان وعداللہ اتی فطوبی لمن وجدورانی

یعنی میرے پاس ائیل آیا (اس جگہ ائیل خدا تعالیٰ نے جبرئیل کا نام رکھا ہے اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۰۳، ”روحانی خزائن“ ص ۱۰۶' ج ۲۲' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب) نیز تذکرہ یعنی وحی مقدس، مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب، ص ۴۲۶' ۴۲۷' طبع سوم)

آمد نزد من جبرئیل علیہ السلام و مرا برگزید و گردش داد انگشت خود را اشارہ کرد۔ خدا تر از دشمنان نگہ خواہد داشت۔ (”مواہب الرحمٰن“ ص ۴۲ - ۴۳، ”روحانی

خزائن“ ص ۲۸۲' ج ۱۹' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۷) وحی اللہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی وحی اپنی جماعت کو سنانے پر مامور ہیں۔ جماعت احمدیہ کو اس وحی اللہ پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ کیونکہ وحی اللہ اسی غرض کے واسطے سنائی جاتی ہے ورنہ اس کا سنانا اور پہنچانا ہی بے سود اور لغو فعل ہوگا۔ جب کہ اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا مقصود بالذات نہ ہو۔ یہ شان بھی صرف انبیاء ہی کو حاصل ہے کہ ان کی وحی پر ایمان لایا جاوے۔

صفحہ 274

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن شریف میں یہی حکم ملا اور ان ہی الفاظ میں ملا اور بعدہ حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ پس یہ امر بھی آپ کی (مرزا صاحب) کی نبوت کی دلیل ہے۔ (رسالہ احمدی نمبر ۵-۶-۷‘ بابت ۱۹۱۹ء‘ موسومہ نبوت فی الالہام‘ ص ۲۸‘ مولفہ قاضی محمد یوسف قادیانی)

(۲۸) صاحب کتاب

بحث اگر کچھ ہو سکتی ہے تو وہ ما انزل الیہ من ربہ پر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اور نبی کی کتاب یہی ہوتی ہے کہ ما انزل کو جمع کر لیا جاوے۔ چونکہ مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام سب انبیاء کے مظہر اور بروز ہیں تو ان کا ما انزل الیہ من ربہ بہ برکت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم و قرآن شریف اس قدر زیادہ ہے کہ کسی نبی کے ما انزل الیہ سے کم نہیں بلکہ اکثروں سے زیادہ ہو گا.... فالحمد للہ کہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک لحاظ سے صاحب کتاب ہونا ثابت ہو گیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۶‘ نمبر ۶۲‘ ص ۸‘ مورخہ ۱۵ فروری ۱۹۱۹ء)

(۲۹) الکتاب المبین

خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام (مرزا صاحب) کے ہیئت مجموعی الہامات کو الکتاب المبین فرمایا ہے اور جدا جدا الہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے۔ حضرت (مرزا) صاحب کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا ہے۔ پس آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلا سکتی ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے اور مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین کہہ سکتے ہیں۔

پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی اور رسول کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے خواہ وہ کتاب شریعت کاملہ ہو یا کتاب المبشرات والمنذرات ہو تو ان کو واضح ہو کہ ان کی اس شرط کو بھی خدا نے پورا کر دیا ہے اور حضرت (مرزا) صاحب کے مجموعہ الہامات جو مبشرات اور منذرات ہیں الکتاب المبین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت ہیں۔ ولو کرہ الکافرون (رسالہ احمدی‘ نمبر ۵-۶-۷‘

صفحہ 275

موسومہ النبوۃ فی الالہام، ص ۴۳، ۴۴، مولفہ قاضی محمد یوسف قادیانی)

(۳۰) الٰہی کلام

حقیقی عید ہمارے لیے ہی ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس الٰہی کلام کو پڑھا جائے اور سمجھا جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اترا۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے اور اس کا دودھ پیتے ہیں۔ دوسری کتابیں خواہ کتنی پڑھی جائیں جو سرور اور یقین قرآن شریف سے پیدا ہوتا ہے، وہ کسی اور سے نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح وہ سرور اور لذت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہاموں کے پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے، اور کسی کتاب کو پڑھنے سے نہیں ہو سکتی۔ جو ان الہاموں کو پڑھے گا، وہ کبھی مایوسی اور ناامیدی میں نہ گرے گا۔ مگر جو پڑھتا نہیں یا پڑھ کر بھول جاتا ہے خطرہ ہے کہ اس کا یقین اور امید جاتی رہے۔ وہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائے گا کیونکہ وہ سرچشمہ امید سے دور ہو گیا۔ اگر وہ خدا تعالیٰ کا کلام پڑھتا رہتا اور دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے کیا کیا وعدے دیے ہیں اور پھر ان پر دل سے یقین رکھتا تو ایسا مضبوط ہو جاتا کہ کوئی مصیبت اسے ڈرا نہ سکتی۔ پس حقیقی عید سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات پڑھے۔

(”خطبہ عید میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد

۱۵، نمبر ۸۷، ص ۶، مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۲۸ء)

(۳۱) قادیان کا قرآن

اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر (نازل) ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہو گا۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۹۱ ”روحانی خزائن“ ص ۴۰۷، ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

جناب میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) اور ان کے حاشیہ نشین جب نبوت کی پڑی جما چکے تو اب کتاب کی فکر ہوئی کیونکہ نبی اور کتاب آخر لازم و ملزوم چیزیں ہیں گو عارضی طور پر طوطے کی طرح مریدوں کو یہ رٹا بھی دیا گیا تھا کہ حضرت ہارون کو کتاب نہیں دی گئی اور فلاں نبی کو کتاب نہیں دی گئی لیکن اندر سے دل نہیں مانتا تھا کہ آخر وہ

تو

صفحہ 276

نبی ہی کیا جو کتاب نہیں لایا بلکہ میاں محمود احمد صاحب نے تو صاف طور پر فرما بھی دیا کہ کوئی نبی نہیں ہو سکتا جو شریعت نہ لائے....... اور مرید بھی اب تک بھٹکتے پھرتے تھے....... وہ عاجز آکر کبھی براہین احمدیہ کو کتاب بتا دیتے تھے تو کبھی خطبہ الہامیہ کو اور کبھی البشریٰ کو....... اس لیے اب کے سالانہ جلسہ پر جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے کتاب کی اہمیت کو جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت مسیح موعود کے الہامات کو جمع کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی مریدوں کو اس کی تلاوت کے لیے بھی ارشاد فرمایا تاکہ ان کے قلوب طمانیت اور سکینت حاصل کر سکیں....... اس لیے جناب میاں (محمود احمد) صاحب نے فرمایا تھا کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو مسیح موعود نے پیش کیا اور یہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ مسیح موعود کی وحی جب عین قرآن ہے جس کا کوئی محمودی انکار نہیں کر سکتا تو پھر اب جو قرآن محمودی حضرات پیش کریں گے ضرور ہے کہ وہ پرانے قرآن کا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور نئے قرآن کا جو حضرت مسیح موعود پر یا دوسرے لفظوں میں محمد رسول اللہ صلعم کی بعثت ثانی میں نازل ہوا۔ دونوں کا مجموعہ ہونا چاہیے۔ گویا عیسائیوں کی طرح عہد نامہ قدیم کے ساتھ عہد نامہ جدید بھی شامل ہو گا۔ تب یہ قدیم و جدید قرآن مل کر وہ قرآن بنے گا جس کے لیے میاں صاحب فرماتے ہیں کہ وہ یھدی من یشاء والا قرآن ہو گا....... اگر حضرت مسیح موعود عین محمد ہیں اور آپ کی بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بعثت ثانی ہے تو حضرت مسیح موعود کی وحی بھی عین قرآن ہونی چاہیے اور جو وحی بھی آپ پر نازل ہوئی‘ وہ قرآن جدید ہے اور قرآن کو جو خاتم الکتب کہا گیا تھا تو اس کا مطلب فقط اس قدر مانا جائے گا کہ اس کتاب کی مہر سے آئندہ خدا کی کتابیں یا دوسرے لفظوں میں قرآن کے مزید حصے نازل ہوا کریں گے اور کوئی وجہ نہیں کہ جو مجموعہ میاں صاحب حضرت مسیح موعود کے الہامات کا اب شائع کرائیں گے اس کا نام بجائے البشریٰ کے قرآن جدید نہ رکھا جائے یا القرآن ہی نام رکھ دیا جائے۔ کیونکہ یہ وہی قرآن ہے جو پیرایہ جدید میں جلوہ گر ہوا ہے۔

("اجرائے نبوت کا فتنہ عظیم" از ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی مندرجہ "پیغام صلح" لاہور‘

ج ۲۲‘ نمبر ۳۵‘ ص ۴‘ ۱۱؍ جون ۱۹۳۴ء)

صفحہ 277

یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ قادیانی احباب حضرت مسیح موعود کے الہامات کا مجموعہ شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیے مولوی شیر علی صاحب نے اخبار میں اعلان بھی کیا ہے۔ اس بارہ میں اتنی گزارش ہے کہ جیسا کہ اکثر پرانے اصحاب کو علم ہے کہ حضرت صاحب اپنے الہامات کو اپنی کاپی میں لکھ لیا کرتے تھے اور پھر باہر تشریف لا کر احباب کو بھی سنا دیا کرتے تھے۔ اس طرح آپ کے اکثر الہامات اخبارات سلسلہ میں آپ کی مختلف تالیفات میں اور آپ کے خطوں میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی تشریحات بھی آپ کی تحریروں اور تقریروں سے مل سکتی ہیں۔ باقی اگر کوئی رہ گئے ہوں تو وہ آپ کی کاپیوں اور دیگر کاغذات سے جو غالباً آپ کے فرزندوں کے پاس محفوظ ہوں گے مل جائیں گے۔ آپ کے الہامات کو چھبیس سال کے بعد زبانی روایات کی بنا پر خصوصاً موجودہ اختلاف سلسلہ کی موجودگی میں شائع کرنا ایک نامناسب اقدام ہے۔ سرمایہ کافی ہو تو آپ کے الہامات و مکاشفات کو بہترین صورت میں شائع کیا جا سکتا ہے ورنہ موجودہ حالات میں جب کہ مفت خورے بہت ہیں اور قیمتاً لینے والے کم۔ ایسا کام تکمیل کو پہنچنا دشوار ہے۔

(قادیانی جماعت کا لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ ج ۲۲‘ نمبر ۲۹‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۱ مئی ۱۹۳۴ء)

(۳۲) قادیانی دین

اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانہ میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو فارسی النسل ہیں اس اہم کام کے لیے منتخب فرمایا اور فرمایا میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ زور آور حملوں سے تیری تائید کروں گا اور جو دین تو لے کر آیا ہے اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل و براہین غالب کروں گا اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم رکھوں گا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۹۳‘ مورخہ ۳ فروری ۱۹۳۵ء)

(۳۳) میری امت

(مرزا صاحب نے) فرمایا کہ پہلا مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لیے اس کی امت گمراہ ہو گئی اور موسوی سلسلہ کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا

صفحہ 278

لیکن میں مہدی اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بروز بھی ہوں اس لیے میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہو جائیں گے اور دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔ (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۳ نمبر ۸۳، مورخہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۱۶ء)

(۳۴) قادیانی صحابہ

پس ہر احمدی کو جس نے احمدیت کی حالت میں حضور علیہ السلام (یعنی مرزا قادیانی) کو دیکھا یا حضور نے اسے دیکھا صحابی کہا جائے۔ کیونکہ جب تم علی الاعلان کسی کو صحابی کہو گے تو گویا تم نے کوٹھوں پر چڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کی نبوت کا اعلان کر دیا اور اگر تم منارہ پر چڑھ کر کسی کے صحابی ہونے کا اعلان کرو گے تو دوسرے لفظوں میں تم نے منارہ پر چڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کی نبوت کی منادی کر دی کیوں جتنی دفعہ یہ لفظ بولا جائے گا اتنی ہی دفعہ حضرت مسیح (مرزا) علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کی دنیا میں منادی ہو گی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۲۴، نمبر ۶۴، مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۳۵) نبی تشریعی یا غیر تشریعی

جن پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے وہ معمولی انسان نہیں ہوتے بلکہ ان کی ہستیاں دنیا سے جدا ہوتی ہیں اور ان کے لیے خدا تعالیٰ یہاں تک کہتا ہے کہ اگر کوئی میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ان کے ذریعہ حاصل کرو اور ایسے انسان شرعی ہوں یا غیر شرعی ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں اگر کسی کو غیر شرعی کہتے ہیں تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں لایا ہے ورنہ کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا جو شریعت نہ لائے۔ ہاں بعض نئی شریعت لاتے ہیں اور بعض پہلی شریعت ہی دوبارہ لاتے ہیں۔ پس شرعی نبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیا کلام لائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریعی نبی ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نئی شریعت لائے اور حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) غیر تشریعی نبی ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نئی شریعت نہیں لائے۔ ورنہ قرآن آپ بھی لائے۔ اگر نہ لائے تھے تو خدا تعالیٰ نے کیوں کہا کہ

صفحہ 279

اسے قرآن دے کر کھڑا کیا گیا۔

چنانچہ حضرت مسیح موعود بڑی وضاحت سے فرماتے ہیں مولوی لوگ حدیثیں لیے پھرتے ہیں مگر حدیثوں کا یہ کام نہیں کہ میرے متعلق فیصلہ کریں بلکہ میرا کام ہے کہ میں بتاؤں فلاں حدیث درست ہے اور فلاں غلط..... پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اسی کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لیے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اسی ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے اگر کوئی چاہے کہ آپ سے آپ علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لیے یہدی من یشاء والا قرآن نہ ہو گا بلکہ یضل من یشاء والا قرآن ہو گا..... اسی طرح اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو وہ مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہ رکھیں گی۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے حدیثوں کی کتابوں کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے‘ اسی طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۱۴‘ نمبر ۴ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۲۴ء)

جناب میاں (محمود احمد) صاحب نے اربعین کا حوالہ دے کر جو فرمایا ہے کہ ”خدا نے دوبارہ بعض احکام قرآن دے کر مسیح موعود کو ایک رنگ میں تشریعی نبی قرار دیا ہے“ یہ بھی حضرت صاحب کو صاحب شریعت نبی منوانے کی ایک ابتداء ہے۔

(”الہدی“ نمبر ۴-۵‘ ص ۱۴۴‘ مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی‘ لاہوری)

(۳۶) مرزا صاحب کی شریعت

صفحہ 280

یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا...... میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان ھذا لفی صحف الاولی صحف ابراہیم و موسی یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے۔

(”اربعین“ نمبر ۴، ص ۷، ۸۳ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۵ - ۴۳۶، ج ۱۷)

چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے ’فلک‘ یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا...... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔

(”حاشیہ اربعین“ نمبر ۴، ص ۷، ۸۳ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۵، ج ۱۷‘ حاشیہ، مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۳۷) جہاد

جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔

(”اربعین“ نمبر ۴، ص ۱۵‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۴۴۳، ج ۱۷‘ حاشیہ مصنفہ مرزا

صفحہ 281

غلام احمد قادیانی صاحب)

آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے، وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے، جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔

("تبلیغ رسالت" ج ۹، ص ۲۷ "مجموعہ اشتہارات" ص ۲۹۵، ج ۳)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(اعلان مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ "تبلیغ رسالت" جلد نہم، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی، ص ۴۹، "مجموعہ اشتہارات" ص ۲۹۸۔ ۲۹۷، ج ۳، "روحانی خزائن" ص ۷۷، ج ۱۷)

(۳۸) دس نبی اور ایک بندے کا انتخاب

خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی کنفیوشس پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی ابراہیمؑ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی موسیٰؑ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی مسیحؑ پر سلامتی ہو
صفحہ 282
خدا کے راست باز نبی محمدؐ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی احمد پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو

(چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کا ٹریکٹ جو مارچ ۱۹۳۳ء بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا۔

منقول از ”پیغام صلح“ لاہور‘ ج ۲۱‘ نمبر ۲۲‘ مورخہ ۸؍ اپریل ۱۹۳۳ء)

(۳۹) معترضین کو دھمکی

اب کس قدر تعجب کی جگہ ہے کہ میرے مخالف میرے پر وہ اعتراض کرتے ہیں جس کی رو سے ان کو اسلام ہی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتی تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے جن میں دوسرے نبی شریک غالب ہیں۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۵‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۴‘ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جائیں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔

(”تتمہ الوحی“ ص ۱۳۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۵۷۵‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اگر یہی بات ہے تو ان لوگوں کا ایمان آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی معاملہ مجھ سے ایسا نہیں جس میں کوئی نبی شریک نہ ہو اور کوئی اعتراض میرے پر ایسا نہیں کہ کسی اور نبی پر وہی اعتراض وارد نہ ہوتا ہو۔

(”تتمہ الوحی“ ص ۱۲۸ ”روحانی خزائن“ ص ۵۶۵‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

مخالفین احمدیت کی بھی عجیب حالت ہے۔ وہ اعتراض کرتے ہیں مگر اتنا نہیں سوچتے کہ ہمارا اعتراض صرف حضرت مرزا صاحب پر نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑتا ہے۔ گویا حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں وہ آنحضور پر اعتراض کرنے

صفحہ 283

سے بھی خوف نہیں کرتے۔

(اخبار "الفضل" قادیان، مورخہ ۱۵ فروری ۱۹۲۷ء، نمبر ۶۵، جلد ۱۴، ص ۹)

اگر معترض کو حضرت مسیح موعود کے الہام انت منی بمنزلتہ ولدی اور انت منی بمنزلتہ اولادی پر اعتراض ہے اور وہ اعتراض مخالفت کی وجہ سے نہیں بلکہ انصاف کی بنا پر ہے تو اسے یہ چاہیے کہ اول یہ اعتراض پہلی تمام کتب مقدسہ پر کرے اور پھر قرآن اور احادیث نبویہ پر کرے۔

(اخبار "الفضل" قادیان، ج ۳، نمبر ۱۱۰، ص ۴، مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۱۵ء)

میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو کیا میری تکذیب آسان امر ہے۔ یہ میں ازخود نہیں کہتا خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا، وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ اسی کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے۔ انت منی و انا منک بے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدائے تعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اللہ صلعم کی تکذیب ہے۔ اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لیے جرأت کرے، ذرا اپنے دل میں سوچ اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے۔

(پیغام نمبر ۶۴، ص ۲، کالم ۲) (تقریر مرزا قادیانی مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان، ج ۳،

نمبر ۸، مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۱۵ء)

(۴۰) رسول اللہ پر اعتراض (ج)

آج (۱۳۰۰) سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمن آپ پر وہی اعتراض کرتے ہیں جو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے دشمنوں نے کیے اور ان میں اتنی مطابقت اور مشابہت ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمن جب آپ پر اعتراض کرتے تو آپ فرماتے تھے

صفحہ 284

اعتراض آج سے (۱۳۰۰) سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے مخالفین نے کیے تھے۔ جب وہ باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قابل اعتراض نہ تھیں بلکہ آپ کی صداقت کی دلیل تھیں تو وہ میرے لیے کیوں قابل اعتراض بن گئی ہیں۔ پس جو جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دیا‘ وہی جواب میں تمہیں دیتا ہوں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جواب میں یہ طریق اختیار فرماتے اور لوگوں پر اس طریق سے حجت قائم کرتے تو مخالفین شور مچاتے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برابری کرتا ہے (گویا اگر کسی جھوٹے شخص پر وہی اعتراض کیا جائے جو کبھی کسی سچے پر کیا گیا تھا تو اس اعتراض کی بدولت جھوٹ بھی سچ ہو جاتا ہے۔ قادیانی منطق کا یہ نکتہ قادیانی ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔۔۔۔ (للمولف)

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۵ء‘ مندرجہ

اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۹۱‘ جلد ۳۴‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۴۶ء)

(۴۱) مرزا صاحب کے ۹۹ نام (ج)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ۹۹ اسماء الحسنہ

از حضرت میر محمد اسماعیل صاحب

کل بستر علالت پر لیٹے لیٹے خیال آیا کہ خدائے تعالیٰ کے ۹۹ نام احادیث میں آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ۹۹ نام کتابوں میں موجود ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کتنے الہامی نام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے ہیں۔ میں نے وہ سب جمع کیے تو ۹۹ ہی بن گئے۔ ان ناموں میں بھی ایک علم ہے۔ اس لیے اسے احباب کے فائدہ کے لیے شائع کیا جاتا ہے۔

(۱) احمد (۲) محمد (۳) مہدی (۴) یٰسین (۵) رسول (۶) مرسل (۷) نبی اللہ (۸) نذیر (۹) مجدد وقت (۱۰) محدث اللہ (۱۱) گورنر جنرل (۱۲) حکم (۱۳) عدل (۱۴) امام (۱۵) امام مبارک (۱۶) غلام احمد (۱۷) مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸) مرزا (۱۹) عیسیٰ (۲۰) مسیح (۲۱) مسیح موعود (۲۲) مسیح اللہ (۲۳) مسیح الزمان (۲۴) الشیخ المسیح (۲۵) مسیح ابن مریم

صفحہ 285

(۲۶) مسیح محمدی (۲۷) روح اللہ (۲۸) مریم (۲۹) ابن مریم (۳۰) آدم (۳۱) نوح (۳۲) ابراہیم (۳۳) اسمعیل (۳۴) یعقوب (۳۵) یوسف (۳۶) موسیٰ (۳۷) ہارون (۳۸) داؤد (۳۹) سلیمان (۴۰) یحییٰ (۴۱) جری اللہ فی حلل الانبیاء (۴۲) عبداللہ (۴۳) عبدالقادر (۴۴) سلطان عبدالقادر (۴۵) عبدالحکیم (۴۶) عبدالرحمان (۴۷) عبدالرافع (۴۸) محمد مفلح (۴۹) ذوالقرنین (۵۰) سلمان (۵۱) علی (۵۲) منصور (۵۳) حجۃ اللہ القادر (۵۴) سلطان احمد مختار (۵۵) حب اللہ (۵۶) خلیل اللہ (۵۷) اسد اللہ (۵۸) شفیع اللہ (۵۹) آریوں کا بادشاہ (۶۰) کرشن (۶۱) رودر گوپال (۶۲) امین الملک جے سنگھ بہادر (۶۳) برہمن اوتار (۶۴) آواہن (۶۵) مبارک (۶۶) سلطان القلم (۶۷) مسرور (۶۸) نجم الثاقب (۶۹) محی الاسلام (۷۰) حامی الاسلام (۷۱) غالب (۷۲) مبشر (۷۳) خیرالانام (۷۴) اسعد (۷۵) شیر خدا (۷۶) شاہد (۷۷) خلیفۃ اللہ السلطان (۷۸) نور (۷۹) امین (۸۰) رجل من فارس (۸۱) سراج منیر (۸۲) متوکل (۸۳) اشجع الناس (۸۴) ولی (۸۵) قمر (۸۶) شمس (۸۷) اول المومنین (۸۸) سلامتی کا شہزادہ (۸۹) مقبول (۹۰) مرد سلامت (۹۱) الحق (۹۲) ذوالبرکات (۹۳) البدر (۹۴) حجر اسود (۹۵) مدینۃ العلم (۹۶) طیب (۹۷) مقبول الرحمان (۹۸) کلمۃ الازل (۹۹) غازی

صفحہ 286

فصل پانچویں

فضیلت کی تفصیل

(الف) مسلمانوں کے مقابل

جو فہم قرآن کریم کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے دیا اور اصولی طور پر آپ نے ہمیں جس کی تعلیم دی ہے، وہ اتنا بڑا خزانہ ہے کہ موجودہ زمانے کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ درمیان کے تیرہ سو سال کے تمام علوم اس کے سامنے ہیچ ہیں۔

(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۲۶، نمبر

۲۶۴، مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۸ء)

یہ شرک کی بہت عمدہ تعریف ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے بھی اوپر تعریف بیان کی ہے جس کی نظیر پچھلے تیرہ سو سال میں نہیں ملتی۔

(”مسیح موعود کے کارنامے“ تقریر میاں محمود احمد صاحب، جلسہ سالانہ ۱۹۲۸ء مطبوعہ

اسلامیہ سٹیم پریس لاہور، ص ۲۸)

بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا فدائی، ایسا مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود تھے۔ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب۔۔۔۔۔ (للمولف)

(مولفہ میاں محمود احمد صاحب قادیانی، (ایضاً)

صفحہ 287

(۱) الف امت محمدی کے تمام اولیاء پر فضیلت

اسلام میں اگرچہ ہزارہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا‘ وہ موعود تھا (یعنی خود مرزا صاحب)

(”تذکرۃ الشہادتین“ ص ۲۹ ”روحانی خزائن“ ص ۳۱‘ ج ۲۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔

(”خطبہ الہامیہ“ ص ۳۵ ”روحانی خزائن“ ص ۶۹ - ۷۰‘ ج ۱۶‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ اور مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں‘ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں‘ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۹۱ ”روحانی خزائن“ ص ۴۰۶‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام ”براہین احمدیہ“ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرما دیا ہے قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ...... اور یہ دعویٰ امت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا

صفحہ 288

کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۶۷، ”روحانی خزائن“ ص ۵۰۲۔۵۰۳‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا فدائی اور مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود تھے۔

(”حقیقۃ النبوۃ“ ص ۵ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۲) حضرت مجدد الف ثانی

حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوب میں آپ ہی تحریر فرماتے ہیں کہ جو لوگ میرے بعد آنے والے ہیں جن پر حضرت احدیت کی خاص خاص عنایات ہیں، ان سے افضل نہیں ہوں اور نہ وہ میرے پیرو ہیں۔ سو یہ عاجز بیان کرتا ہے نہ فخر کے طریق پر بلکہ واقعی طور پر شکراً نعمۃ اللہ کہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے ان بہتوں پر افضلیت بخشی ہے کہ جو حضرت مجدد صاحب سے بھی بہتر ہیں اور مراتب اولیاء سے بڑھ کر نبیوں سے مشابہت دی ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ ”حیات احمدیہ“ جلد ۲، نمبر ۲، ص ۷۹‘

مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۳) حضرت غوث الاعظم اور مرزا صاحب

سید عبدالقادر جیلانی نے اپنے آپ کو اپنے حال کی کیفیات بیان کرنے تک رکھا۔ کیونکہ وہ مامور نہیں تھے، مجدد تھے اور مجددیت کے مقام پر کھڑے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے اندر کی کیفیت بیان کر دی کہ یہ کچھ میرے اندر گزر رہا ہے اور میں نے یہ کچھ دیکھا ہے۔ وہ مجدد تھے۔ مخاطبہ مکالمہ الہیہ سے مشرف تھے اور اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے رحمت تھے۔ مگر توحید کو اصولی طور پر بیان کرنا ان کے لیے نہ تھا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے رکھا گیا تھا جو مامور کر کے بھیجے گئے۔ اس

صفحہ 289

لیے آپ سے پہلے لوگ ایسا نہ کر سکتے تھے کہ توحید کے اصول بھی بیان کرتے۔ توحید کا حال اور خاص کر وہ حال جو ان کے ساتھ گزر رہا تھا‘ وہی بیان کر سکتے تھے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہی کام تھا کہ توحید کی اصل اور اس کے اصول اور اس کی غرض بیان فرماتے۔ پس یہ فرق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور گزشتہ صوفیاء حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ وغیرہ کے درمیان توحید بیان کرنے کے متعلق ہے۔

(”خطبہ جمعہ‘ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘

مورخہ ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۵ء‘ نمبر ۴۶‘ جلد ۱۳‘ ص ۷ ۔ ۸)

(۴) توحید کی تعلیم

شاید کوئی کہے کہ تم اپنے قول سے آپ پکڑے گئے۔ اگر عبدالقادر جیلانی اور محی الدین ابن عربیؒ نے بھی توحید کے متعلق وہ بات بیان کی جو حضرت مرزا صاحب نے بیان کی اور خدا سے علم حاصل کر کے کی تو پھر حضرت مرزا صاحب میں ان سے بڑھ کر کون سی بات ہے لیکن ہم نے کب کہا ہے کہ ان کا علم خدا سے حاصل کردہ نہ تھا۔ بے شک ان کا علم خدا سے ہی حاصل کیا ہوا تھا لیکن نورِ نبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علم کامل نہ تھا۔ اس لیے ابن عربی تو وحدت وجود کی طرف نکل گئے اور سید عبدالقادر حال کی کیفیات بیان کرنے تک محدود ہوگئے۔ اس سے آگے ایک قدم بھی نہ اٹھاسکے اور ہر گز اصول بتانے کی طرف نہ آئے جن سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے لیکن حضرت مسیح موعود نے اصول بیان کیے اور آپ میں اور ان میں یہی تو فرق ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آکر توحید کے اصول اور مقاصد بیان فرمائے مگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا۔

پس ان میں فرق حال اور اصول کا ہے اور یہ اتنا بڑا فرق ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مبعوث ہو کر توحید کو اس سے زیادہ پیش نہیں کیا جتنا کہ سید عبدالقادر جیلانیؒ اور محی الدین ابن عربیؒ نے کیا۔

(”خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘

)

صفحہ 290

مورخہ ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۵ء، نمبر ۴۶، جلد ۱۳، ص ۷)

(۵) مجدد اعظم

چنانچہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے ارشاد کی رو سے آپ کی امت کے مجددین میں سے ہر ایک مجدد کسی نہ کسی نبی کے کمالات کا وارث ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) جو مجدد اعظم ہیں، جری اللہ فی حلل الانبیا کی شان کے ساتھ سب انبیاء کے کمالات کے مجموعی طور پر وارث بنائے گئے۔ بلکہ اس لحاظ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آل ابراہیم سے ہیں مسیح موعود آل محمد میں سے ہونے کی وجہ سے کما صلیت اور کما بارکت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور برکات کے بھی ظلی طور پر کامل وارث ہوئے۔

(”تتمہ رسالہ درود شریف“ ص ۱۴، مولفہ غلام رسول قادیانی)

(۶) صحابہ کرام اور قادیانی صاحبان

حوالہ جات مندرجہ بالا ان لوگوں پر حجت ہیں جو اصحاب مسیح موعود کی عیب چینیاں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی صحابہ آنحضرت سے کیا نسبت ہے یا ان سے گھٹیا درجہ کے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ان اصحاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی اور ان لوگوں نے مسیح موعود (مرزا صاحب) سے۔ دونوں میں فرق بین ہے۔ حالانکہ حوالہ جات مافوق الذکر سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کو ہی خاتم الانبیاء اور محمد رسول اللہ فرمایا اور مسیح موعود (مرزا صاحب) و مصطفیٰ میں تفریق کرنے سے منع کیا۔ کیونکہ مسیح موعود بھی جامع جمیع کمالات محمدیہ ہے۔ پھر صحابہ مسیح موعود کو آنحضرت صلعم کے ہاتھ کے تربیت یافتہ اور آنحضرت کے صحابہ قرار دیا۔ پس ان دونوں گروہوں میں تفریق کرنی یا ایک کو دوسرے سے مجموعی رنگ میں افضل قرار دینا ٹھیک نہیں۔ یہ دونوں فرقے درحقیقت ایک ہی جماعت میں ہیں۔ صرف زمانہ کا فرق ہے۔ وہ بعثت اولیٰ کے تربیت یافتہ ہیں، یہ بعثت ثانی کے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۵، نمبر ۹۲، ص ۵، مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۱۸ء)

صفحہ 291

ایک نبی ہم میں (قادیانی صاحبان میں) بھی خدا کی طرف سے آیا اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرام کے لیے مقرر ہو چکے ہیں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب‘ مندرجہ اخبار ”بدر“ مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ء‘ ”آئینہ

صداقت“ ص: ۵۳‘ مصنفہ میاں صاحب موصوف)

(۷) خدا کا کلام

سب سے بڑا فضل اور انعام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی سے کلام کرے لیکن اس سے دوسرے درجہ پر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کلام کرنے والے انسان کے ساتھ تعلق ہو کیونکہ نبیوں کو خدا تعالیٰ سے بلا واسطہ تعلق ہوتا ہے لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض آدمیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ بلا واسطہ کلام کرتا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘

نمبر ۱۱‘ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۱۵ء)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچا لہسن رکھا گیا تو آپ نے نہ کھایا۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ہم بھی نہ کھائیں۔ فرمایا تم سے خدا کلام نہیں کرتا، تم کھا سکتے ہو۔

(”منہاج الطالبین“ ص ۱۳‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۸) حضرت امام حسینؓ پر فضیلت

امام حسینؓ پر فضیلت کے بارے میں کہ ان پر میری فضیلت سن کر یوں ہی غصہ میں آ جاتے ہیں۔ قرآن کریم نے کہاں امام حسینؓ کا نام لیا ہے۔ زید کا ہی نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہیے تھا کہ امام حسین کا نام بھی لے دیا جاتا اور پھر ما کان محمد ابا احد من رجالکم کہہ کر اور بھی ابوت کا خاتمہ کر دیا۔ اگر الا حسین اس آیت کے ساتھ کہہ دیا جاتا تو شیعہ کا ہاتھ کہیں تو پڑ جاتا۔

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ چہارم‘ ص ۱۹۱ - ۱۹۲‘ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی

لاہوری)

افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں

صفحہ 292

دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں۔ ان سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح کے برخلاف ہے جیسا کہ آیت ما کان محمد ابا احد من رجالکم سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے، عورتوں میں سے تو نہیں تھے۔ حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا، نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے۔

غرض حسین کو نبیوں پر فضیلت دینا بیہودہ خیال ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کے راست باز بندوں میں سے تھے۔ لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔ پس بلا وجہ ان کو تمام انبیاء کا سردار بنا دینا خدا کے پاک رسولوں کی سخت ہتک کرنا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے کیا نسبت ہے۔۔۔۔۔۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے اور جامع کمالات متفرقہ ہے۔ پھر اگر در حقیقت میں وہی مسیح موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسین کے مقابل مجھے کیا درجہ دینا چاہیے اور اگر میں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صدہا نشان کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہر دم میری تائید میں ہے۔

(”نزول المسیح“ ص ۴۵ تا ۵۰، ”روحانی خزائن“ ص ۴۲۳ تا ۴۲۸، ج ۱۸، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے (یعنی مرزا صاحب نے) امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں (بے شک) اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۵۲، ”روحانی خزائن“ ص ۱۴۲، ج ۱۹)

اور بخدا اسے (یعنی حضرت امام حسین کو) مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو۔

صفحہ 293

(ص ۸۱، ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۳، ج ۱۹)

اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

(ص ۸۱، ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۳، ج ۱۹)

مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔

(ص ۶۹، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۱، ج ۱۹)

مگر حسین (کو دیکھو تو) پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔

(ص ۶۹، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۱، ج ۱۹)

اور میں خدا کے فضل سے اس کے کنارہ عاطفت میں ہوں پرورش پا رہا ہوں اور ہمیشہ لئیموں کے حملہ سے جو پلنگ صورت ہیں بچایا جاتا ہوں۔

(ص ۶۹، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۱، ج ۱۹)

اور اگر دشمن تلواروں اور نیزوں کے ساتھ میرے پاس آویں پس بخدا میں بچایا جاؤں گا اور مجھے فتح ملے گی۔

(ص ۶۹، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۱، ج ۱۹)

تم نے اس کشتہ (حسین) سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا پس تم کو خدا نے جو غیور ہے، ہر ایک مراد سے نومید کیا۔ وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے"۔

(ص ۸۱، ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۳، ج ۱۹)

کیا تو اس (حسین) کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا ہے اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے دینی فائدہ کیا پہنچا۔ اے مبالغہ کرنے والو۔

(ص ۶۸، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۰، ج ۱۹)

اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔

(ص ۶۹، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۱، ج ۱۹)

صفحہ 294

اور مجھے جناب الٰہی میں جو میرا خالق ہے ایک عزت ہے پس خوشی ہو اس قوم کے لیے جنہوں نے میری اطاعت کی اور مجھے اختیار کیا۔

(ص ۷۲‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۴‘ ج ۱۹)

اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا صاحب) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس سے لڑنے والے ٹھہرو۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے۔ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے‘ میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا‘ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔

(”دافع البلاء“ ص ۱۳‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۳۳‘ ج ۱۸)

تو مجھے گالی دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کیوں مجھے گالیاں دیتا ہے۔ کیا امام حسین کے سبب سے تجھے رنج پہنچا پس تو برا فروختہ ہوا۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۷۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۷۹‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۹) صد حسین

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔

کربلا نیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(”نزول المسیح“ ص ۹۹‘ ”روحانی خزائن“ ج ۱۸‘ ص ۴۷۷)

کہ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ لوگ اس کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میں سو حسین کے برابر ہوں لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جب

صفحہ 295

کہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا اسلام کو قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا صاحب) امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ۔ حضرت امام حسین ولی تھے مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ ص ۷‘ جلد ۱۳‘

نمبر ۸۰‘ مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۲۶ء)

(۱۰) حضرت علی اور اہل بیت

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۱۶ء)

یہ سوال کہ حضرت علی نبی کیوں نہ ہوئے اور دیگر اہل بیت نے یہ مرتبہ کیوں نہ پایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی یا دیگر اہل بیت کامل طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم اور معارف کے وارث ہوتے اور ضرورت زمانہ بھی متقاضی ہوتی تو ضرور وہ بھی نبوت کا درجہ پاتے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۱۰۷‘ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۱۶ء)

(۱۱) وارث رسول اللہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کا وارث ہوگا۔ اس کے نام کا وارث‘ اس کے خلق کا وارث‘ اس کے علم کا وارث‘ اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اپنی ہی تصویر دکھلائے گا اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا اور اس میں فناء ہو کر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔ پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا‘ اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔

صفحہ 296

("ایک غلطی کا ازالہ" ص ۱۰، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی، "روحانی خزائن" ص ۲۱۴، ج

۱۸)

(۱۲) اکلوتا بیٹا

ہاں وہ محمد صلعم کا اکلوتا بیٹا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) جس کے زمانہ پر رسولوں نے ناز کیا تھا، جب وہ زمین پر اترا، تو امت محمدیہ کی بھیڑیں اس کے لیے بھیڑیے بن گئیں۔ اس پر پتھر برسائے گئے، اس کو مقدمات میں گھسیٹا گیا، اس کے قتل کے منصوبے کیے گئے۔ اس پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ اس کو اسلام کا دشمن قرار دیا۔

("کلمۃ الفصل" مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ "ریویو آف

ریلیجنز" قادیان، ص ۱۰۱، نمبر ۳، جلد ۱۴)

(۱۳) فی الواقع

حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) جو فی الواقع نبی اور رسول اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کی شان رکھنے والے ہیں، وہ بھی آنحضرت صلعم کے روحانی فرزند ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ مسیح موعود (مرزا صاحب) جن کا ظہور تمام نبیوں کے ظہور کے قائم مقام ہے اور جن کا وجود تمام نبیوں کے وجود کا مظہر ہے، ان کا آنحضرت صلعم کے توسط سے روحانی تولد بمنزلہ تمام انبیاء کے روحانی تولد کے ہے، جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین بمعنی ابوالانبیاء ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔

(اخبار "الفضل" قادیان، ج ۱۷، نمبر ۶۵، ص ۱۱، مورخہ ۸ فروری ۱۹۳۰ء)

(۱۴) بدبخت

بدبخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہم مسیح موعود (مرزا صاحب) کی روحانی اولاد ہیں اور ہمیں مسیح موعود کی اولاد کی کیا پرواہ ہے۔ اگر وہ مسیح موعود کی روحانی اولاد ہو سکتے ہیں تو کیوں یہ بات مسیح موعود (مرزا صاحب) کی جسمانی اولاد کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ ان کے لیے دو باتیں جمع ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔۔۔۔۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک خادمہ جس نے ان کو (صاحبزادہ بشیر احمد صاحب) کو اٹھایا ہوا تھا، اس کو کسی شخص

صفحہ 297

نے کوئی کام کرنے کے لیے کہا۔ اس نے کہا میں ابھی یہ کام نہیں کر سکتی۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔ حضرت مسیح موعود کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا میری یہ اولاد شعائر اللہ میں داخل ہے۔ اس عورت کو جس نے بچہ کو اٹھایا ہوا تھا، جس نے مارا ہے، اس نے شعائر اللہ کی ہتک کی ہے۔ پس جو خدا تعالیٰ کے نشانات ہوں، ان کی تعظیم کرنی چاہیے۔

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی، جلسہ سالانہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۱۱،

نمبر ۵۳، مورخہ ۸ جنوری ۱۹۲۴ء)

(۱۵) زندہ اور مردہ علی

پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔

(”ملفوظات“ طبع ربوہ، ص ۱۴۲، ج ۲، اخبار ”الحکم“ قادیان، نومبر ۱۹۱۲ء ”ملفوظات احمدیہ“

جلد اول، ص ۱۳۱، احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور)

(۱۵) الف کامل فرزند روحانی (ج)

بے شک جسمانی طور پر فاطمۃ الزہرا اور حضرت علی سے ایک نسل چلی لیکن کامل و اکمل روحانی و جسمانی فرزند سب سے بڑا فرخندہ گوہر اور حضرت علیؓ اور فاطمۃ الزہرا کے روحانی کمالات کا اتم اور اکمل طور پر وارث ایک ہی ہوا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۲۸، نمبر ۲۸۳، مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۴۰ء)

(۱۶) مردے

۱۴ مئی ۱۹۰۰ء شام کے وقت سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ کیا مردوں سے استعانت مانگنی جائز ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا بات یہ ہے کہ مردوں سے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مردوں کی طرف

صفحہ 298

رجوع کرتے ہیں اور زندوں سے دور بھاگتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف کی زندگی میں لوگ ان کی نبوت کا انکار کرتے رہے اور جس روز انتقال کر گئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ کونوا مع الصادقین کا حکم دے کر زندوں کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ منظور الٰہی‘ ص ۲۰۰‘ مصنفہ منظور الٰہی

صاحب قادیانی لاہوری‘ ملفوظات‘ ص ۵۳‘ ج ۲‘ طبع ربوہ)

(۱۷) حضرت ابوبکر صدیقؓ پر فضیلت

صدیق یعنی بہت ہی سچ بولنے والا انسان شہید سے اوپر ہوتا ہے اور اپنے ہر قول کی تائید اپنے عمل سے کرتا ہے اور اس کی فطرت نبیوں کی سی فطرت ہوتی ہے اور اس کے کام نبیوں کے سے کام ہوتے ہیں۔ لیکن کسی قدر کمی اور نقص کی وجہ سے وہ درجہ نبوت کے پانے سے روکا جاتا ہے ورنہ اسی حد تک پہنچا ہوا ہوتا ہے کہ قریب ہے کہ وہ نبی ہو ہی جائے بلکہ جزوی نبوت اسے مل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تجدید دین کا کام لیتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کو بھی جو صدیق تھے تجدید دین کا کام کرنا پڑا۔۔۔۔۔۔ اور یہ محدث کا آخری درجہ ہوتا ہے اور یہ درجہ امت محمدیہ میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے پایا۔

(”حقیقۃ النبوۃ“ ص ۱۵۳۔ ۱۵۴‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب قادیانی)

میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا‘ وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔

(”معیار الاخیار“ اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نہم‘

ص ۳۰‘ ”مجموعہ اشتہارات“ ص ۲۷۸‘ ج ۳)

(۱۸) ابوبکر و عمر

مجھے اہل بیت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص محبت اور عاشقانہ تعلق تھا۔ مجھے اس وقت بھی تمام خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دلی ارادت ہے اور میں ان

صفحہ 299

سب کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتا ہوں۔ مجھے اس خاندان کے طفیل سے بڑے بڑے نفع ہوئے ہیں۔ میں ان کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ میرے ایک محب تھے جو اس وقت مولوی فاضل بھی ہیں اور اہل بیت مسیح موعود کے خاص رکن رکین ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی اتنی پیشگوئیاں نہیں جتنی کہ مسیح موعود کی ہیں۔ پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا ہی دکھ دینے والا فقرہ بولا کہ ابوبکر و عمرؓ کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔ ان فقروں نے مجھے ایسا دکھ دیا اور ان کے سننے سے مجھے ایسی تکلیف ہوئی کہ میری نظر میں جو توقیر اور عزت اہل بیت مسیح موعود میں سے ہونے کی ان کی نسبت تھی‘ وہ سب جاتی رہی۔

(”المہدی“ نمبر ۲- ۳‘ ص ۵۷‘ مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

(۱۹) تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت

انبیاء گرچہ بوداند بسے من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادہ ست ہر نبی را جام داد آن جام را مرا بہ تمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(”در ثمین“ ص ۲۸۷-۲۸۸‘ ”نزول المسیح“ ص ۹۹-۱۰۰‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۷۸-

۴۷۷‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

یہ بات ظاہر ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے‘ ان کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جائیں جو نبی کریم صلعم میں رکھے گئے ہیں بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوئے تھے۔ کسی کو بہت‘ کسی کو کم مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۱۳‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

صفحہ 300

اس کے (یعنی آنحضرت صلعم) کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا بھی درجہ پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔

(”حقیقتہ النبوة“ ص ۲۵۷‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا‘ وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا‘ جس تک انبیاء بنی اسرائیل کی پہنچ نہیں۔ مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو بچالے۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۱۴‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

پس اب کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں لا نفرق بین احد من رسلہ داؤد اور سلیمان اور زکریا و یحییٰ علیہم السلام کو شامل کرتے ہیں‘ وہاں مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ ص ۱۱۷‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے۔ آپ کا درجہ مقام کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور آپ کا ظل ہونے کا تھا۔ دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔

(”الفضل“ قادیان‘ ج ۱۴‘ نمبر ۸۵‘ مورخہ ۲۹ اپریل ۱۹۲۷ء)

انبیاء کے کمالات کے تذکرہ میں (مرزا صاحب) نے فرمایا کہ:

کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے‘ وہ سب کے سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کیے گئے اور اسی لیے ہمارا نام آدم‘ ابراہیم‘ موسیٰ‘ نوح‘ داؤد‘ یوسف‘ سلیمان‘ یحییٰ‘ عیسیٰ وغیرہ ہے۔۔۔۔۔۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ حضرت نبی کریم کی خاص خاص صفات کے اور اب ہم (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ان تمام صفات کے

صفحہ 301

میں حضرت نبی کریم کے ظل ہیں۔۔۔۔ نبی کریم نے گویا سب لوگوں سے چندہ وصول کیا اور وہ لوگ تو اپنے اپنے مقامات اور حالات پر رہے لیکن حضرت نبی کریم کے پاس کروڑوں روپے ہو گئے اور آپ سب سے بڑھ کر دولت مند ہو گئے۔

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ چہارم، ص ۱۴۲، مرتبہ منظور الہی صاحب قادیانی لاہوری)

واتانی مالم یوت احد من العالمین مجھ کو وہ چیز دی گئی ہے کہ دنیا و آخرت میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں دی گئی۔

(”استفتاء ضمیمہ حقیقتہ الوحی“ ص ۸۷، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۷، ج ۲۲، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۰) کئی نبیوں سے افضل

اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (مرزا صاحب) کو جو بلحاظ مدارج کئی نبیوں سے بھی افضل ہیں اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہو کر ایسے مقام پر پہنچے کہ نبیوں کو بھی اس مقام پر رشک ہے۔

(خطبہ عید میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد

۲۰، نمبر ۹۳، ص ۷، مورخہ ۵ فروری ۱۹۳۳ء)

(۲۱) کچھ اور ہی رنگ

لاریب اسرائیلی عورتوں نے کئی ایسے بیٹے جنے جو نبی کہلائے مگر خدا کی قسم آمنہ کے بطن سے جو بیٹا پیدا ہوا اس کے مقابل اگر اسرائیل خاندان کے سارے بیٹے بھی ترازو میں رکھے جاویں تو تب بھی اسماعیلی پلڑا ضرور جھکا رہے گا۔ اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح بے شک تورات کو بہت سے نبی خدمت کے لیے عطا ہوئے لیکن قرآن کی خدمت کے لیے جو نبی امت محمدیہ میں پیدا کیا گیا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) وہ اپنی شان میں کچھ اور ہی رنگ رکھتا ہے۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان، ص ۱۱۶ ۔ ۱۱۷، نمبر ۳، جلد ۱۴)

(۲۲) تین سوال

صفحہ 302

آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حضرت مرزا صاحب نبی تھے اور ان کا درجہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر انبیاء علیہم السلام کے برابر ہے۔ حضرت مرزا صاحب کی نبوت کے لیے قرآن شریف میں بھی کہیں ذکر ہے۔ اس سوال کا جو در حقیقت تین سوالوں پر مشتمل ہے‘ یہ جواب ہے۔

تھا۔ دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔

میں جس طرح کہ پہلے انبیاء کا ذکر پہلی کتب میں ہوا کرتا تھا۔

(مکتوب میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۹ اپریل ۱۹۲۷ء

نمبر ۸۵‘ ج ۱۴)

(۲۳) آپ کا درجہ

سوال : کیا صاحب شریعت نبی کو غیر شرعی نبی پر فضیلت نہیں ہوتی۔ صاحب شریعت نبی تو معلم ہوتا ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا اگر صاحب شریعت نبی غیر شرعی نبی کا معلم ہو‘ تو اسے اس پر فضیلت ہوگی ورنہ ایک غیر شرعی نبی صاحب شریعت نبی سے بڑھ سکتا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پہلے سب انبیاء بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضان حاصل کر رہے تھے ادھر اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ میں جمیع کمالات محمدیہ کا بروز ہوں جو آخری زمانہ کے لیے مقدر تھا تو صاف ظاہر ہوگیا کہ آپ کا درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا باقی تمام انبیاء سے بلند ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۲۰‘ نمبر ۱۴۵‘ مورخہ ۶ جون ۱۹۳۳ء)

(۲۴) تمام کمالات

صفحہ 303

اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عیسیٰ کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ نبی کریم کے تمام کمالات حاصل کر لینے کے بعد نبی بنایا جاتا۔ داؤد اور سلیمان کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ ان کو نبی کا خطاب تب دیا جاتا جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات سے پورا حصہ لے لیتے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا کہ موسیٰ کے لیے بھی یہ ضروری نہ تھا کہ اسے اس وقت تک نبوت نہ ملے جب تک وہ محمد صلعم کی خوبیوں کو اپنے اندر جمع نہ کر لے۔ کیونکہ ان سب لوگوں کا کام خصوصیات زمانی اور مکانی کی وجہ سے ایک تنگ دائرہ میں محدود تھا لیکن مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) چونکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا تھا‘ اس لیے اللہ تعالیٰ اسے ہرگز نبوت کا خلعت نہیں پہنایا جب تک اس نے نبی کریم کی اتباع میں چل کر آپ کے تمام کمالات کو حاصل نہ کر لیا۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۱۱۴ - ۱۱۳‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۲۵) حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت

اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر کے انہیں تمام ذی روح انس و جن پر سردار‘ حاکم اور امیر بنایا جیسا کہ آیت اسجدوا لادم سے معلوم ہوتا ہے پھر شیطان نے انہیں بہکایا اور جنتوں سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدہے کی طرف لوٹائی گئی۔ اس جنگ و جدال میں آدم کو ذلت و رسوائی نصیب ہوئی اور جنگ کبھی اس رخ اور کبھی اس رخ ہوتی ہے اور رحمن کے ہاں پرہیزگاروں کے لیے نیک انجام ہے۔ اس لیے اللہ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تاکہ آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا تھا۔

(ما الفرق فی ادم والمسیح موعود ضمیمہ ”خطبہ الہامیہ“ ص ت‘ حاشیہ ”روحانی

خزائن“ ص ۳۴۳‘ ج ۱۶‘ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

آدم اس لیے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف بھیجے اور ان میں اختلاف اور عداوت کی آگ بھڑکائے اور مسیح احمد اس لیے آیا کہ ان کو دار بقا کی طرف لوٹائے اور ان میں سے اختلاف و مخاصمت تفرقہ اور پراگندگی کو دور کرے اور انہیں اتحاد

صفحہ 304

و محویت، نفی غیر اور باہمی اخلاص کی طرف کھینچے اور مسیح اللہ کے اسم کا مظہر ہے جو خاتم سلسلہ مخلوقات ہے یعنی آخر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قول هو الاخر میں اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ وہ کائنات کے آخر ہونے کی نشانی ہے۔

(ما الفرق فی انہ والمسیح الموعود ”ضمیمہ خطبہ الہامیہ“ ص الف، ”روحانی خزائن“

ص ۳۰۸، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۶) دائرہ گول

لا جرم خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا اور بھید اس میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ فرمایا تھا کہ اس آدم کو پیدا کرے گا جو آخری زمانہ میں خاتم الخلفاء ہوگا، جیسا کہ زمانہ کے شروع میں اس آدم کو پیدا کیا جو اس کا پہلا خلیفہ تھا اور یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ فطرۃ کا دائرہ گول ہو جائے۔

(”خطبہ الہامیہ“ ص ۲۷، ”روحانی خزائن“ ص ۲۵۵-۲۵۴، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۲۷) انوکھا عقیدہ

میرا اپنا عقیدہ یہ ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دور کے خاتم ہیں اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی ہیں کیونکہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا اور اگلا دور آپ سے شروع ہوا، اسی لیے آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا جری اللہ فی حلل الانبیاء۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ آپ آئندہ نبیوں کے حلوں میں آئے ہیں جس طرح پہلے انبیاء کے ابتدائی نقطہ حضرت آدم علیہ السلام تھے، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو اس زمانہ کے آدم ہیں، آئندہ آنے والے انبیاء کے ابتدائی نقطہ ہیں۔

(میاں محمود احمد کا فرمودہ درس قرآن، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۱۵، نمبر ۶۴،

مورخہ ۱۳ فروری ۱۹۲۸ء)

(۲۸) آدم اول و ثانی

صفحہ 305

فقعوا لہ ساجدین کے بھی یہی معنی ہیں کہ آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس کے فرمانبردار اور غلام ہو جاؤ۔ جب آدم اول کے متعلق فرشتوں کو یہ حکم ہوا تو آدم ثانی حضرت مسیح موعود جو آدم اول سے شان میں بڑھا ہوا تھا، اس کے لیے کیوں یہ نہ کہا جاتا کہ آگ تمہاری غلام بلکہ تمہارے غلاموں کی غلام ہے۔

(”ملائکہ اللہ“ تقریر میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ ص۶۵)

(۲۹) آدم کا جوڑا

خدا کے فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوتی ہے۔ اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا، گراں گزرتا۔ میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی سمجھتا۔ لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس فقرہ سے لذت پاتے تھے کیونکہ وہ برکت اسی الہام کے ماتحت ہوئی یا اد م اسکن انت وزوجک پہلا آدم تو نکاح کے بعد جنت سے نکالا گیا تھا لیکن اس زمانہ کے آدم (مرزا صاحب) کے لیے نکاح جنت کا موجب بنایا گیا چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کی ماموریت کا سلسلہ جاری ہوا۔ خدا تعالیٰ نے بڑی عظیم الشان پیش گوئیاں کرائیں اور آپ کے ذریعے دنیا میں نور نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنت وسیع ہوتی گئی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے آدم کے لیے جوڑا منتخب کیا گیا، وہ صرف جسمانی لحاظ سے تھا مگر اس آدم کے لیے جو چنا گیا، یہ روحانی لحاظ سے بھی تھا۔

(خطبہ نکاح‘ فرمودہ میاں محمود احمد‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘

مورخہ ۷ مارچ ۱۹۳۰ء‘ ج ۱۷‘ نمبر ۶۹)

ضرور تھا کہ مرتبہ آدمیت کی حرکت دوری زمانہ کے انتہا پر ختم ہوتی، سو یہ زمانہ جو آخر الزمان ہے، اس میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا، جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا......... خدا نے خود روحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کی رو سے اسی طرح نر اور مادہ پیدا کیا، جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا یعنی اس نے مجھے بھی، جو آخری آدم ہوں، جوڑا پیدا کیا۔

صفحہ 306

جیسا کہ الہام یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ میں اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے......... یعنی میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا......... اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی......... چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گزرے، منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔

(”تریاق القلوب“ ص۱۵۶۔۱۵۷‘ ”روحانی خزائن“ ص۴۷۶ تا ۴۷۹‘ ج۱۵‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

(۳۰) حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت

اور خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے مگر میں ان لوگوں کو کس سے مثال دوں۔ وہ اس خیرہ طبع انسان کی طرح ہیں جو روز روشن کو دیکھ کر پھر بھی اس بات پر ضد کرتا ہے کہ رات ہے‘ دن نہیں۔

(”تتمہ حقیقت الوحی“ ص۱۳۷‘ ”روحانی خزائن“ ص۵۷۵‘ ج۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۳۱) حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت

پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا اور اس امت کے یوسف (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی بریت کے لیے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور بھی نشان دکھلائے مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کے لیے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔

(”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص۷۶‘ ۸۲‘ ”روحانی خزائن“ ص۹۹‘ ج۲۱‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

(۳۲) حضرت عیسیٰ پر فضیلت

صفحہ 307

اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزوی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔

(”تریاق القلوب“ ص ۱۵۷، ”روحانی خزائن“ ص ۴۷۸، ج ۱۵، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے، میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔ پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔ اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں کہ اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم تو ایسا کفر منہ پر نہ لاتے۔ خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔

(”چشمہ مسیحی“ ص ۱۶-۱۷، ”روحانی خزائن“ ص ۳۵۴-۳۵۵، ج ۲۰، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اسی کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لیے تھی، اس لیے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لیے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لیے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ وہذا تحدث بنعمت اللہ ولا فخر.......... انسانی مراتب پردہ غیب میں ہیں، اس بات میں بگڑنا اور منہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۱۴۸، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۲، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 308

خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۱۴۸، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۲، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے پھر تو یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۱۵۵، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۹، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پایہ منبرم

(ازالۃ الاوہام“ ص ۱۶۹ تا ۱۷۵، ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۰، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۳۳) خدا مرزا مسیح

ہاں آپ کا (مرزا صاحب کا) یہ مذہب ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اس ناپاک الزام سے بری ہے۔ اس نے کبھی خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ میں اسے اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں۔ اگرچہ خدا تعالیٰ کا فضل مجھ پر اس سے بہت ہی زیادہ ہے اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے، اس کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے، تاہم میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں اور میں نے اسے بارہا دیکھا ہے چنانچہ ایک بار میں نے اور حضرت مسیح نے ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا تھا۔ اس لیے میں اور وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ غرض اس طرح پر حضرت (مرزا صاحب) نے بلحاظ اپنے کام اور ماموریت کے اور خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور احسانوں کے، جو آپ کے شامل حال ہیں، تحدیث بالنعمتہ اور تبلیغ کے طور پر ذکر فرمایا اور یہاں تک لکھ دیا کہ میں خدا سے ہوں اور مسیح

صفحہ 309

مجھ سے ہے۔

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ چہارم‘ ص ۱۹۹‘ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری‘

”مکتوبات احمدیہ“ ج ۳‘ ص ۱۱۸)

مسیح ابن مریم مجھ سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔ مبارک وہ جو مجھے پہچانتا ہے اور بدقسمت وہ جس کی آنکھوں سے میں پوشیدہ ہوں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب بنام ڈوئی‘ مندرجہ ”مکتوبات احمدیہ“ جلد سوم‘

ص ۱۱۸)

(۳۴) آدم اور عیسیٰ پر فضیلت

خدا تعالیٰ نے آپ (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کا نام آدم رکھا ہے تاکہ جس طرح پہلے آدم کو شیطان نے جنت سے نکالا تھا، آپ اس شیطان کو دنیا سے نکالیں۔ پھر خدا تعالیٰ نے آپ کا نام عیسیٰ رکھا ہے تاکہ پہلے عیسیٰ کو یہودیوں نے سولی پر لٹکا دیا تھا، مگر آپ اس زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔

(”تقدیر الٰہی“ ص ۲۹‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

(۳۵) آدم، مسیح اور نوح پر فضیلت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) نے لکھا ہے: ہر نبی کی دوسری بعثت اس کی پہلی بعثت سے زیادہ شاندار ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا پہلا آدم آیا اور اسے شیطان نے جنت سے نکال دیا مگر دوسرا آدم اس لیے آیا ہے تا انسانوں کو دوبارہ جنت میں داخل کرے۔ پھر فرمایا، پہلا مسیح آیا اور اسے دشمنوں نے دکھ دیا اور صلیب پر لٹکایا۔ مگر یہ دوسرا مسیح اس لیے نہیں آیا کہ صلیب پر لٹکایا جائے بلکہ اس لیے آیا ہے تا وہ صلیب کو توڑے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کردے۔ پس خدا کے اس رحیمانہ سلوک کو دیکھتے ہوئے خیال آیا تھا کہ باوجودیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اللہ تعالیٰ نے نوح رکھا ہے پھر بھی آپ سے ایسا سلوک ہوگا جو پہلے نوح سے بڑھ کر ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام نوحؑ رکھا تو دوسری طرف آپ کے (سب سے بڑے) بیٹے کو ہدایت سے محروم کردیا تا بتلائے کہ یہ

صفحہ 310

نوح کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ہے مگر پھر اس بیٹے کو ہدایت نصیب کی، تا ظاہر کر دے کہ پہلا نوح آیا اور اس کا بیٹا ہدایت سے محروم رہا۔ مگر یہ دوسرا نوح آیا تو اس کا بیٹا بھی اگرچہ ایک عرصہ تک ہدایت سے دور رہا مگر خدا نے اسے ہدایت میں داخل کر کے ظاہر کر دیا کہ پہلے نوح کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا سلوک تھا‘ اس سے بڑھ کر اس کا سلوک دوسرے نوح کے ساتھ ہے۔

(خطبہ جمعہ‘ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۹‘

نمبر ۵‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۳۱ء)

(۳۶) موسیٰؑ اور عیسیٰؑ پر فضیلت

حضرت مسیح موعود کے مرتبہ کی نسبت مولانا (محمد احسن صاحب امروہوی قادیانی اپنے مکتوب موسومہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان میں) لکھتے ہیں کہ پہلے انبیاء اولوالعزم میں بھی اس عظمت شان کا کوئی شخص نہیں گزرا۔ حدیث میں تو ہے کہ اگر موسیٰ و عیسیٰ زندہ ہوتے تو آنحضرت کے اتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا مگر میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود کے وقت میں بھی موسیٰ و عیسیٰ ہوتے تو مسیح موعود (مرزا صاحب) کی ضرور اتباع کرنی پڑتی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۹۸‘ مورخہ ۱۸ مارچ ۱۹۱۶ء)

(۳۷) انبیاء کی ہتک

”تم کہتے ہو میں نے حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ کی ہتک کی ہے۔ یاد رکھو میرا (مرزا صاحب کا) مقصد یہ ہے کہ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کروں۔ اول تو یہ ہے ہی غلط کہ میں کسی نبی کی ہتک کرتا ہوں‘ ہم سب کی عزت کرتے ہیں لیکن اگر ایسا کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہے تو بیشک ہو۔ میں نے جو دعوے کیے ہیں‘ وہ اپنی عظمت و شان کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی بلندی کے اظہار کے لیے کیے ہیں۔ مجھے خدا کے بعد بس وہی پیارا ہے۔ لیکن اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنیا میں نہیں ملے گا“۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع میں‘ میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ

صفحہ 311

چلائیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسیٰ کی ہتک ہوتی ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہو تو ہمیں ہرگز اس کی پروا نہیں ہوگی، بیشک آپ لوگ ہمیں سنگسار کریں یا قتل کریں۔ آپ کی دھمکیاں اور ظلم ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے دوبارہ قائم کرنے سے نہیں روک سکتے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر لائل پور، مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۱،

نمبر ۱۳۸، ص ۱۲، مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۳۴ء)

(۳۸) مرزا صاحب کا خلق

انک لعلی خلق عظیم راقم مضمون ہذا (سردار مصباح الدین احمد صاحب قادیانی) کے ذوق کے مطابق حضرت اقدس (مرزا صاحب) کے عظیم الشان معجزات میں سے ایک معجزہ حضور کے اخلاق کا بھی ہے۔ جس بلند پایہ اخلاق کا آپ سے ظہور ہوا، اس کی مثال سوائے آپ کے متبوع و مقتدیٰ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔

(”ذکر حبیب“ از سردار مصباح الدین احمد قادیانی، مندرجہ ”الحکم“ قادیان، خاص نمبر،

مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۳۲ء)

(۳۹) محمدؐ رسول اللہ مرزا صاحب

مسیح موعود کی جماعت ”و آخرین منھم“ کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت کے صحابہ ہونے کے لیے صحابہ نے آنحضرت کا وجود پایا ہو۔ پس صحابہ بننے کی شان ایک امتی پر ایمان لانے کا نتیجہ نہیں ہو سکتی اور احمدی بننے کا مرتبہ احمد پر ایمان لانے سے ہو سکتا ہے۔ نہ کسی غلام احمد پر ایک غلطی کا ازالہ (اشتہار) میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ، خدا نے مجھے کہا ہے۔ اب اس الہام سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:

صفحہ 312

کے نہ کسی اور لحاظ سے۔

اشداء علی الکفار اور رحماء بینھم کی صفت کے مصداق ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۱۰‘ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء)

(۴۰) اسمہ احمد کے مصداق مرزا صاحب

اب یہاں سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یوں ہی نہیں کر دیا بلکہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح اول نے بھی یہ ہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب احمد ہیں۔ چنانچہ ان کے درسوں کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت (اسمہ احمد) کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں۔

(”انوار خلافت“ ص ۲۱‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

جب اس آیت (اسمہ احمد) میں ایک رسول کا‘ جس کا اسم ذات احمد ہو‘ ذکر ہے‘ دو کا نہیں اور اس شخص کی تعیین ہم حضرت مسیح موعود پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکل آیا کہ دوسرا اس کا مصداق نہیں اور جب ہم یہ ثابت کر دیں کہ حضرت مسیح موعود اس پیش گوئی کے مصداق ہیں تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ دوسرا کوئی شخص اس کا مصداق نہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۔۵ دسمبر ۱۹۲۱ء)

آپ کا یہ سوال ہے کہ (اسمہ احمد میں) بشارت تو احمد کی ہے اور مرزا صاحب غلام احمد ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ......... مطلق غلام احمد نہ عربی ہے کیونکہ اس حالت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ نام فارسی بن سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ نام اردو ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں احمد کا غلام ہونا چاہیے تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ......... چونکہ حضرت صاحب کے خاندان میں غلام کا لفظ اصل نام کے

صفحہ 313

ساتھ اضافہ کے طور پر اس ملک کے رواج کے مطابق چلا آتا تھا، اس واسطے آپ کے نام کے ساتھ بھی لگا دیا گیا۔

احادیث میں آتا ہے کہ مسیح جوان ہوگا۔ اور غلام کے معنی جوان کے ہیں، جس سے یہ بتایا گیا کہ اس کے کام نوجوانوں کے سے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۱۰۷‘ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۱۶ء)

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا۔۔۔ اور کیا سورۃ صف کی آیت ’جس میں ایک رسول کی، جس کا نام احمد ہوگا‘ بشارت دی گئی ہے‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت (اسمہ احمد) مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔ لیکن ان کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں‘ میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ‘ جو قرآن کریم میں آیا ہے‘ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہی ہے۔

(”انوار خلافت“ ص ۱۸‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(خدا تعالیٰ نے) اسم احمد کو تو حضرت عیسیٰ سے روایت کیا اور اسم محمد کو حضرت موسیٰ سے۔ تاکہ پڑھنے والا جان لے کہ جلالی نبی یعنی حضرت موسیٰ نے وہ نام اختیار کیا جو اس کی مثال کے موافق تھا یعنی محمد جو اسم جلالی ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اسم احمد کو اختیار کیا جو اسم جمالی ہے کیونکہ وہ خود جمالی نبی تھا اور اس کو جنگ و جدال میں سے کچھ نہ ملا تھا۔ پس خلاصہ مدعا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے کامل مثیل کے ظہور کی پیشگوئی کی۔ پس اس نکتہ کو خوب یاد رکھو۔ یہ بات تم کو نجات دلائے گی‘ ہر ایک کے شک اور وہم سے۔ اور جلال و جمال کی حقیقت تم پر واضح ہو جائے گی اور شکوک کے رفع ہونے کے بعد اصلیت کھل جائے گی۔ جس وقت تم نے یہ بات مان لی تو تم ہر ایک دجال کے شر سے خدا کی پناہ میں رہو گے۔ اور ہر ایک ضلالت سے نجات پاؤ گے۔

(”ترجمہ اعجاز المسیح“ ص ۱۴۴‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۴۸‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد)

صفحہ 314

قادیانی صاحب)

خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں، یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے یعنی جمالی طور کی خدمات کے ایام ہیں اور اخلاقی کمالات کے ظاہر کرنے کا زمانہ ہے۔

("اربعین نمبر ۴" ص ۱۷، "روحانی خزائن" ص ۴۳۵-۴۳۶، ج ۱۷، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۴۱) تعریف کرو

میرے رب نے میرا نام احمد رکھا ہے، پس میری تعریف کرو اور مجھے دشنام مت دو اور اپنے امر کو ناامیدی کے درجہ تک مت پہنچاؤ اور جس نے میری تعریف کی اور کوئی قسم کی تعریف نہ چھوڑی تو اس نے سچ بولا اور جھوٹ کا ارتکاب نہ کیا اور جس نے اس بیان کو جھٹلایا، پس اس نے جھوٹ بولا ہے اور اپنے خدا کے غصے کو بھڑکایا ہے۔

("خطبہ الہامیہ" ص ۲۰، "روحانی خزائن" ص ۵۳، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے الہام میں احمد نام رکھا ہے، اس لیے آپ کا منکر کافر ہے کیونکہ احمد کے منکر کے لیے قرآن میں لکھا ہے واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔

("کلمتہ الفصل" مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ "ریویو آف

ریلیجنز" قادیان، ص ۱۴۱، نمبر ۳، جلد ۱۴)

(۴۲) احمد رسول مرزا صاحب

واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔ یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے۔ اور گو قرآن کریم سے ہمیں یہ تو معلوم

صفحہ 315

ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر شریعت کامل کر دی گئی، مگر اتمام نور آپ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔

(”انوار خلافت“ ص ۴۵-۴۶‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۴۳) احمد کون ہے اور کون نہیں

مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد آیت مرقومہ الصدر کے الفاظ میں مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پیشگوئی کی ہے کہ میں ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا آنا میرے بعد ہوگا‘ اس کا نام احمد ہے۔ پیشگوئی میں آنے والے رسول کا اسم احمد بتلایا گیا ہے، جس کے مصداق آنحضرت (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اس لیے نہیں ہو سکتے کہ قرآنی وحی میں کسی مقام سے آپ کا نام نامی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ ہاں محمد آپ کا اسم گرامی ضرور ہے جیسا کہ آپ قبل از دعویٰ نبوت محمد کے نام سے ہی مشہور تھے اور ایسا ہی قرآنی وحی میں بھی بار بار آپ کو محمد ہی کے نام سے یاد فرمایا گیا۔ اور تورات میں بھی آپ کی پیشگوئی میں آپ کا نام محمد ہی بتایا گیا۔

جیسا کہ سورۃ فتح میں اس کی تصدیق موجود ہے‘ جہاں فرمایا محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم....... لیکن اسم احمد کا ذکر تمام قرآن میں ایک جگہ صرف سورۃ صف میں ہی پایا جاتا ہے اور وہ بھی حکایۃً مسیح کی پیش گوئی کے الفاظ میں جس کا مصداق حضرت مسیح موعود کے الہامات میں بار بار آپ کو ہی قرار دیا اور بار بار اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ آنے والا احمد رسول جس کا ذکر مسیح کی پیش گوئی ہے وہ آپ (مرزا صاحب) ہی ہیں اور اگر احمد والی پیش گوئی کے مصداق آنحضرت (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی تھے تو ضرور تھا کہ آپ کی وحی بھی آپ کو احمد ٹھہرا کر اس امر کی تصدیق کرتی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۲۵‘ مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۱۵ء)

(۴۴) محمد اور احمد

پھر پیش گوئی ان الفاظ میں ہے و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد

صفحہ 316

کہ اس موعود رسول کا نام احمد ہو گا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ نبی کریم کی والدہ نے آپ کا کیا نام رکھا۔ سو ظاہر ہے کہ محمد رکھا‘ احمد نہیں رکھا۔ لوگ اگر مخاطب کرتے ہیں۔ تو محمد کے نام سے درود بھیجنا اگر بتایا گیا تو محمدؐ پر۔ قرآن میں بھی جہاں کہیں خدا نے آپ کا نام لیا ہے‘ تو محمد ہی لیا ہے۔ پس یہ کس طرح تسلیم کر لیا جائے کہ آپ کا نام احمد تھا۔ ہاں احمدیت کی صفت آپ میں ضروری پائی جاتی تھی۔ آپ خدا کی بڑی حمد کرنے والے تھے۔ مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کا نام بھی احمد تھا۔ مثلاً میرا نام عبداللہ نہیں لیکن معنے کے لحاظ سے میں عبداللہ بھی ہوں۔ پس معنی کے لحاظ سے اس پیشگوئی کے مصداق آنحضرتؐ ہو سکتے ہیں ورنہ نام کے لحاظ سے اس کے مصداق حضرت مرزا صاحب ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۳‘ نمبر ۱۰۷‘ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۱۶ء)

(۴۵) محمد عربی- احمد ہندی

یا صدق محمد عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا
باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا کلام مندرجہ اخبار ”الفضل“ ص ۳‘ مورخہ ۱۴

جولائی ۱۹۳۵ء)

(۴۶) محمد اور احمد کی تقسیم

ان تمام الہامات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آپ نے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ آپ احمد تھے......

اسی جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ ہم نعوذ باللہ نبی کریم صلعم کو احمد نہیں مانتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آپ احمد تھے۔ بلکہ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ آپ کے سوائے کوئی احمد نہیں اور نہ کوئی احمد ہو سکتا ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ اپنی پہلی

صفحہ 317

بعثت میں بھی احمد تھے؟ نہیں۔ بلکہ آپ اپنی بعثت میں محمدیت کی جلالی صفت میں ظاہر ہوئے تھے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورۂ صف میں کسی ایسے رسول کی پیش گوئی کی گئی ہے جو احمد ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی نبی کریم کی پہلی بعثت کے متعلق نہیں بلکہ آپ کی دوسری بعثت یعنی مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کے متعلق ہے۔ کیونکہ مسیح موعود جمالی صفت کا مظہر یعنی احمد ہے۔۔۔۔۔ اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب ”اعجاز المسیح“ میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور کھول کھول کر بتایا ہے کہ نبی کریم کے دو بعث ہیں۔ بعث اول میں اسم محمد کی تجلی تھی مگر بعث دوم اسم احمد کی تجلی کے لیے ہے۔۔۔۔۔

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ سورۂ صف میں جس احمد رسول کے متعلق عیسیٰ علیہ السلام نے پیش گوئی کی ہے‘ وہ احمد مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ہی ہے جس کی بعثت حسب وعدہ الٰہی واخرین منھم خود نبی کریم کی بعثت ہے۔

(”کلمۃ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۱۳۹ تا ۱۴۱‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۴۶) (الف) محمد اور احمد‘ دو ظہور (ج)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب بالخصوص شہادت القرآن تحفہ گولڑویہ اور خطبہ الہامیہ میں بیان فرمایا ہے کہ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ظہور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرر تھے۔ ظہور اول اسم محمد اور ظہور دوم اسم احمد کے ماتحت۔

ظہور اول جو اسم محمد کے ماتحت تھا‘ وہ آج سے قریباً چودہ سو سال قبل مکہ معظمہ میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ ظہور ثانی جو اسم احمد کے ماتحت‘ تیرہویں صدی ہجری میں جو حضرت احمد قادیانی کی صورت میں ہوا۔ آیت واخرین منھم لما یلحقوبھم کے ماتحت ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک غلطی کے ازالہ میں فرماتے ہیں‘ میں وہی خاتم الانبیاء ہوں جو بروز ثانی کی شکل میں جلوہ گر ہوا۔

صفحہ 318

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۸‘ نمبر ۱۱۵‘ مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۴۰ء)

(۴۷) مرزا صاحب ابراہیم اور احمد

اور یہ فرمایا کہ واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی۔ یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ ابراہیم جو بھیجا گیا ہے۔ تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کے طرز پر بجا لاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ اور جیسا کہ آیت مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہو گا گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہو گا جس کا نام آسمان پر احمد ہو گا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا۔ ایسا ہی یہ آیت واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی۔ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا۔

(”اربعین“ نمبر ۳‘ ص ۳۸‘ ۶۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۲۰ - ۴۲۱‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی)

(۴۸) حضرت سید المرسلین پر فضیلت

پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس قدر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے۔ لیکن کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔ گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے۔ تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود میں ہے۔

(”ذکر الٰہی“ ص ۱۹‘ تقریر میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معلم ہیں اور مسیح موعود ایک شاگرد۔ شاگرد خواہ استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے یا بعض صورتوں میں بڑھ بھی جائے مگر استاد بہرحال استاد ہی رہتا ہے اور شاگرد شاگرد ہی۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الحکم قادیان‘ ۲۸؍ اپریل ۱۹۱۴ء

صفحہ 319

منقول از المہدی نمبر ۲۔ ۳‘ ص ۴۹‘ مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

له خسف القمر المنير وان لى خسفا القمران المشرقان اتنکر

اس کے (یعنی نبی کریم کے) لیے (صرف) چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں (کے گرہن) کا ! اب کیا تو انکار کرے گا۔

(”اعجاز احمدی‘ ض ۷۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۳‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا صاحب) کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیوں کہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔ اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔

(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز‘ ص ۱۴۶۔ ۱۴۷‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

قرآن شریف کے لیے تین تجلیات ہیں۔ وہ سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے۔۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔

(”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ۵۴ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۶۶‘ ج ۲۱‘ حاشیہ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لیے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (مرزا کے زمانہ میں) پوری طرح سے تجلی فرمائی۔

صفحہ 320

(خطبہ الہامیہ، ص ۱۷۷، ”روحانی خزائن“ ص ۲۴۶، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ سبحان الذی اسریٰ۔ (خطبہ الہامیہ، ص ۱۹۳، ”روحانی خزائن“ ص ۲۸۸، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

غرض اس زمانہ کا نام جس میں (ہم) ہیں زمان البرکات ہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التاملات اور دفع الافات تھا۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۰ء، مجموعہ اشتہارات ص ۹۲،

ج ۳، حاشیہ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نہم، ص ۴۴)

اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی (گویا یہ حقائق مرزا صاحب پر منکشف ہوئے۔ للمولف) (”ازالہ اوہام“ ص ۶۹۱، ”روحانی خزائن“ ص ۴۷۳، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھئے قادیاں میں

(از قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل قادیانی اخبار ”بدر“ قادیان، نمبر ۴۳، ج ۲، ۲۵؍

اکتوبر ۱۹۰۶ء، ص ۴، و نیز اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۶ء)

(۴۸) (الف) بڑی شان (ج)

قاضی اکمل صاحب (قادیانی) کی ایک نظم ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء کے اخبار بدر (قادیان) میں شائع ہوئی تھی۔ اس نظم میں ایک شعر تھا۔ ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
صفحہ 321
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

قاضی اکمل صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ نظم انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پڑھی۔ حضور نے اس کو پسند فرمایا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے پسند فرمانے کے بعد کسی احمدی کو کیا حق ہے کہ اس کے کسی شعر کو قابل اعتراض ٹھہرائے۔

گو اخبار بدر کا وہ پرچہ جس میں یہ نظم شائع ہوئی ہے۔ قاضی صاحب کے اس بیان کے متعلق خاموش ہے۔ لیکن میں قاضی صاحب کے اس بیان کو درست تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاتا۔۔۔۔۔۔

(میرزا قادیانی صاحب کی زندگی میں ان کے انتقال سے تقریباً دو سال پہلے محولہ نظم اور مندرجہ بالا شعر اخبار البدر قادیان میں شائع ہوا اور خود میرزا قادیانی صاحب کے بھی مضمون اور مقالات اس اخبار میں شائع ہوتے تھے۔ یعنی یہ تمام تر قادیانی اخبار تھا۔ پھر کیا شک ہو سکتا ہے کہ قاضی اکمل صاحب کے بیان کے مطابق میرزا قادیانی صاحب نے اس شعر پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ پسند فرمایا۔ چنانچہ خود ان کی تحریروں میں بھی برتری کے اشارے کنائے پائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے آپ کو بدر اور رسول اللہ کو ہلال قرار دیا اور اس کی تمثیل میں بھی قادیانیوں نے ہلال اور بدر کا ایک جماعتی جھنڈا وضع کیا۔ رہی تاویل سو معذرتی تاویلوں کی قادیانیوں کے پاس کوئی کمی نہیں اور یہ بھی قادیانی فن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب تعریف و توصیف کر دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی جسارتوں کے مقابل تلافی کا کام دے اور ان سب ترکیبوں کا ماحصل یہ کہ ایک طرف میرزا قادیانی صاحب کی عظمت و فوقیت قادیانیوں کے دل میں بٹھاتے جائیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے اعتراض سے بھی بچے رہیں۔ چنانچہ یہ دورنگی بخوبی ظاہر ہوچکی ہے اور فریب کھل گیا ہے۔ للمولف الیاس برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور نمبر ۴۷، جلد ۳۲، مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۴۴ء)

(۴۹) ہلال و بدر

اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو

صفحہ 322

جائے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی) پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم اللہ ببدر۔ (خطبہ الہامیہ، ص ۱۸۴، ”روحانی خزائن“ ص ۲۷۶-۲۷۵، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

آنحضرت کے بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعثت اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۳، نمبر ۱۰، مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء)

(۵۰) خطبہ الہامیہ

اسی شب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو خطبہ الہامیہ سنانے کا خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا۔ صبح عید کے دن حضرت اقدس نے یہ خطبہ سنا دیا۔ اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ اور مولوی نور الدین خلیفہ اول لکھتے جاتے تھے۔ جب حضرت اقدس سنا چکے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں ڈرتا تھا کہ اتنا لمبا خطبہ میں زبانی کس طرح سنا سکوں گا۔ مگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مجھے توفیق ملی اور میں خدا تعالیٰ کا پیغام سنا سکا۔ میں نے اس خطبہ کے متعلق یہ خیال کیا تھا کہ اگر میں نے پوری طرح سے اس خطبہ کے سنانے میں کامیابی حاصل کی تو میں سمجھوں گا کہ جن احباب کے لیے نام بنام میں نے دعائیں کی ہیں، وہ قبول ہو گئی ہیں۔ اتنا فرما کر آپ سجدۂ شکر میں گر گئے۔ اور بڑی دیر تک سجدہ میں دعا فرماتے رہے۔ احباب حاضرین نے بھی اس سجدۂ شکر میں جہاں جہاں بیٹھے تھے، اس جگہ متابعت کی۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ۔ (مرزا قادیانی صاحب کا حافظہ واقعی قابل تعریف تھا۔ صاحب موصوف کو ڈر تھا کہ اتنا لمبا خطبہ وہ زبانی کس طرح سنا سکیں گے مگر سنا ہی دیا، البتہ حافظہ کی خوبی سے الہام کا دعویٰ باطل ہو گیا۔ اگرچہ اس کی تائید میں سناتے وقت خطبہ دوسروں سے قلم بند کرایا گیا۔ تو گویا پہلے سے لکھ کر حفظ نہیں کیا گیا۔

صفحہ 323

تاہم پہلے سے پہلے لمبے خطبہ کے ڈر نے سارا بھید کھول دیا۔۔ للمولف برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد (۲۵) نمبر ۲۰۹‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۲ ستمبر

۱۹۳۱ء)

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خطبہ الہامیہ وہ خطبہ ہے جو خدا کی طرف سے ایک معجزہ کے رنگ پر مسیح موعود کو عطا ہوا جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔ پس اس کتاب کو عام کتابوں کی طرح نہ سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ اس کا ہر ایک فقرہ الہامی شان رکھتا ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۷۱ پر حضرت اقدس (مرزا صاحب) تحریر فرماتے ہیں کہ ”جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا“۔ اسی طرح ص ۱۸۱ میں لکھا ہے کہ ”جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق نہیں رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں (بہ شکل مرزا صاحب) بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے“۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۱۳۱‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۵۱) چودھویں کا چاند

اب دیکھو کہ صحابہ کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جبکہ تم تھوڑے تھے۔ اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہوگیا۔ بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی تھی اور وہ یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں۔ اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اظہار کی طرف بھی ایما ہے اور یہ کہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لیے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی خیر و برکت کی آئے گی۔ خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق اسم احمد کا بروز ہوا اور وہ میں ہوں جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیش گوئی تھی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام

صفحہ 324

کہا۔ مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو اس کو دوکاندار خود غرض کہا گیا۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ملفوظات احمدیہ، جلد اول، ص ۱۴۳، احمدیہ

انجمن اشاعت اسلام لاہور)

آپ نے (قادیانی مقرر نے) ہلال و بدر کی مثال سے یہ دقیق مسئلہ کمال خوبی کے ساتھ ہر کس و ناکس کے اچھی طرح ذہن نشین کر دیا کہ چودھویں کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے جو چاند رات کے وقت تھا یعنی رسول کریم۔ پس اس کا پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر شاندار ہونا محل اعتراض کیوں کر ہو سکتا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج۳، نمبر ۷۶، مورخہ یکم جنوری ۱۹۱۶ء)

(۵۲) مرزا صاحب کا خدائی عہد

واذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔ الخ جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا ( النبیین میں سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام شریک ہیں۔ کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں۔ آنحضرت صلعم بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی تم کو کتاب اور حکمت دوں (یعنی کتاب سے مراد توریت و قرآن کریم ہے۔ اور حکمت سے مراد سنت و منہاج نبوت و حدیث شریف ہے) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے۔ مصدق ہو ان تمام چیزوں کا جو تمہارے پاس کتاب و حکمت سے ہیں (یعنی وہ رسول) مسیح موعود ہے جو قرآن و حدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر ایک طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا (جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔

(اخبار الفضل قادیان، جلد ۳، نمبر ۳۹۔۳۶، مورخہ ۱۹؍ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۱۵ء)

چنانچہ الفضل (قادیان) ۱۹؍ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۱۵ء میں اس پر دھڑلے سے مضمون نکلا اور پھر اس کے بعد طرح طرح سے اس کا اعادہ کیا گیا اور کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر اس امر کا اعلان کیا جاتا رہا کہ اس پیشین گوئی میں جس رسول کا وعدہ ہے اور جس کے متعلق

صفحہ 325

اقرار کر لیا گیا ہے کہ ہر ایک نبی اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت کرے وہ مسیح موعود ہے اور یہ نہ سمجھا کہ اس طرح تو پھر لازم آئے گا کہ لو کان محمد حیا لما وسعہ الا اتباع المسیح الموعود۔ ؎ اگر محمد رسول اللہ زندہ ہوتے تو انہیں چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ مسیح موعود کی اتباع کرتے یعنی مسیح موعود متبوع اور آقا ہوتے اور محمد رسول اللہ صلعم نعوذ باللہ تبع اور غلام ہوتے۔

یہ نتیجہ ایسا دقیق تو نہیں کہ انسان سمجھ نہ سکے۔ مگر جب ایک قوم اپنے نبی کو سب نبیوں سے بڑھانا چاہتی ہو تو پھر سب کچھ حلال ہو جاتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلعم کو ان نبیوں کے ذیل میں شامل کر دیا جن سے ایمان لانے اور نصرت کرنے کا اقرار لیا گیا تھا۔ گویا محمد رسول اللہ صلعم آج زندہ ہوتے تو مسیح موعود پر ایمان لاتے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور ہر ایک قسم کی اتباع اور نصرت کے لیے آپ کے احکام کی پیروی کو ذریعہ نجات سمجھتے۔

کیا اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک متصور ہے۔ کیا اس سے صاف نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کی پوزیشن کو بدرجہا بلند کرنے اور ان کو ایک آقا کی حیثیت دے دینے میں نہایت جرات سے کام لیا گیا۔

(ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی لاہوری کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘

جلد ۲۲‘ نمبر ۳۴‘ ص۹‘ مورخہ ۱۷ جون ۱۹۳۴ء)

(۵۳) عہد منظوم

خدا نے لیا عہد سب انبیاء سے کہ جب تم کو دوں میں کتاب اور حکمت
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر تو ایمان لاؤ کرو اس کی نصرت
کہا گیا یہ اقرار کرتے ہو محکم وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم یہی میں بھی دیتا رہوں گا شہادت
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے وہی عہد حق نے لیا مصطفیٰؐ سے
صفحہ 326
وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا سبھی سے یہ پیمان محکم لیا تھا
مبارک وہ امت کا موعود آیا وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
کریں اہل اسلام اب عہد پورا بنے آج ہر ایک عبداً شکوراً

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۱‘ نمبر ۶۷‘ ص ۱‘ مورخہ ۲۶؍ فروری ۱۹۲۴ء)

(۵۴) سفید بال

خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری عمر تیس سال ہی کی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہو گئے تھے اور میرا خیال ہے کہ پچپن سال کی عمر تک آپ کے سارے بال سفید ہو چکے ہوں گے۔ اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلعم کے حالات زندگی کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ وفات کے وقت آپ کے صرف چند بال سفید تھے۔ دراصل اس زمانہ میں مطالعہ اور تصنیف کے مشاغل انسان کی دماغی طاقت پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۱‘ روایت نمبر ۳۱۶‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۵۵) ذہنی ارتقاء

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔۔۔۔۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے‘ نبی کریم صلعم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ (بعثت ثانی) ان کا پورا ظہور ہوا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کو موقع ملا اور ذہنی طاقتوں کی نشوونما ہو گئی۔ چنانچہ آج کل باریک اقسام گناہ کی نکل آئی ہیں اور کئی باریک نیکیاں بھی ظاہر ہو رہی ہیں۔ مقابلہ زیادہ سخت ہے۔ لوگ اعلیٰ تربیت کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں جن کا جواب بغیر ذہنی ترقی کے مشکل تھا۔ تلوار کے جہاد کے بجائے قلمی جہاد کا وقت ہے۔

(مضمون ڈاکٹر شاہنواز خاں صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘ قادیان

بابت ماہ مئی ۱۹۲۹ء)

صفحہ 327

(۵۶) دو عورتیں

بہر حال حضرت اقدس (مرزا صاحب) نے ایسی شفیق اور مہربان ماں کی گود میں پرورش پائی تھی جو اپنی صفات عالیہ کے لحاظ سے خواتین اسلام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔ اس خاتون کی عزت و وقار کا کیا کہنا جس کے بطن مبارک سے وہ عظیم الشان انسان پیدا ہوا جو نبیوں کا موعود تھا اور جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلام کہا اور خدا تعالیٰ نے جس کے مدارج اور مناقب میں فرمایا۔ انت منی وانا منک۔ اس عظیم الشان انسان (مرزا) کی ماں دنیا میں ایک ہی عورت ہے جو آمنہ خاتون کے بعد اپنے بخت رسا پر ناز کر سکتی ہے۔ دنیا کی عورتوں میں جو ممتاز خواتین ہیں ان میں حضرت آمنہ خاتون اور حضرت چراغ بی بی صاحبہ ہی دو عورتیں ہیں جنہوں نے ایسے عظیم الشان انسان دنیا کو دیئے جو ایک عالم کی نجات اور رستگاری کا موجب ہوئے۔

(”حیات النبی“ جلد اول‘ نمبر دوم‘ ص ۱۴۲-۱۴۳‘ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۵۷) سارے نبیوں کی بیٹی

آج ۷؍ جون ۱۹۱۵ء مطابق ۲۳ رجب المرجب ۱۳۳۳ھ دو شنبہ مبارک ہے۔ جبکہ خدا کے برگزیدہ نبی مسیح موعود (مرزا) کی صاحب زادی امتہ الحفیظ جن کو خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں دخت کرام فرمایا ہے اور جو خدا کے نشانوں میں ایک نشان ہیں، کا نکاح مکرم معظم جناب خان صاحب محمد علی خاں صاحب کے صاحبزادے میاں عبداللہ خاں سے ہوا۔

(اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۵۱‘ ص ۱‘ مورخہ ۸؍ جون ۱۹۱۵ء)

دخت کرام کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہوئے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) پر تمام انبیاء کا مفہوم صادق آتا ہے، اس لیے گویا عزیزہ امتہ الحفیظ (مرزا صاحب کی صاحبزادی) سارے انبیاء کی بیٹی ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۵۵‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۷؍ جون ۱۹۱۵ء)

(۵۸) وہ وہ وہ

صفحہ 328

وہ جس کا ظہور خاص خدا کا ظہور تھا۔ وہ جس کی مسکراہٹ میں صد جلوہ طور تھا۔ وہ جس کی چشم نیم باز میں جنت کی سو کھڑکی کھلی تھی۔ وہ جس کی صحبت قدسیہ کی ایک ایک گھڑی زاہد شب زندہ دار کی صد سالہ عبادت سے قیمتی تھی۔ وہ جس کے وجود میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی شان جلوہ گر تھی۔ وہ جس کی قوت ملکیہ دافع ہر شور و شر تھی۔ وہ جسے خدا نے اپنے ولد کے مقام پر فرمایا بلکہ بمنزلہ توحید و تفرید بتایا جس کو آیت انت معی وانا معک وانت منی وانا منک سے مخاطب فرما کر اپنے مظہر اتم بنایا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۱۴۶‘ ص ۳‘ مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۱۵ء)

وہ جو خدا کے لیے بمنزلہ اولاد ہے وہ جس کا ظہور خدا اپنا ظہور قرار دیتا ہے۔ جس نے چار پانچ لاکھ انسانوں کو مسلمان بنا دیا۔ (حالانکہ پنجاہ سالہ کوششوں کے بعد ۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں تمام ہندوستان میں قادیانیوں کی تعداد ۷۵ ہزار سے بھی کم نکلی۔ اور یہ بھی تمام تر وہ مسلمان ہیں جو اس چکر میں آگئے۔ ۔۔۔ للمولف)

(تشحیذ الاذہان قادیان جلد ۶‘ نمبر ۱۱‘ ص ۴۰۸‘ نومبر ۱۹۱۱ء)

(۵۹) قادیانی اعتقاد

پھر ہمارا اعتقاد ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کے لیے اس قدر نشانات ظاہر ہوئے کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ (جری اللہ فی حلل الانبیاء) تھا یعنی تمام انبیاء پر عالم کا نمونہ آپ کی ذات قدسی صفات میں جمع تھا۔

(”الفضل“ قادیان‘ ج ۵‘ نمبر ۳۱‘ مورخہ ۱۱ اکتوبر ۱۹۱۷ء)

(۶۰) قرآن کریم میں مرزا صاحب کی مزید بشارات

چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں‘ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ دیکھو ص ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے پھر..... اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ و الذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول

صفحہ 329

بھی...... اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۲، ”روحانی خزائن“ ص ۲۰۷، ج ۱۸، اشتہار مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد دہم، ص ۱۴، مجموعہ اشتہارات، ص ۴۳۱، ۴۳۴،

ج ۳)

قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (ای مرسل من اللہ) کہ (اے غلام احمد) اے تمام لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔

(”البشریٰ“ جلد دوم، ص ۵۶، مجموعہ الہامات، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مجھے بتلایا گیا تھا تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ

(”اعجاز احمدی“ ضمیمہ نزول المسیح، ص ۷، ”خزائن“ ص ۱۱۳، ج ۱۹، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

و ما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین اور ہم نے دنیا پر رحمت کے لیے تجھے بھیجا ہے۔

(”اربعین“ نمبر ۳، ص ۳۲-۱۱۱، ”روحانی خزائن“ حاشیہ، ص ۴۲۱، ج ۱۷، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

و ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی اور یہ (مرزا صاحب) اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔

(”اربعین“ نمبر ۳، ص ۳۶ ”روحانی خزائن“ ص ۴۲۶، ج ۱۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

ما رمیت اذرمیت ولکن اللہ رماہ

(حقیقت الوحی، ص ۷۰، ”روحانی خزائن“ ص ۷۳، ج ۲۲)

الرحمن علم القران

(حقیقت الوحی، ص ۷۰، ”روحانی خزائن“ ص ۷۳، ج ۲۲)

قل انی امرت و انا اول المومنین

صفحہ 330

(حقیقت الوحی‘ ص ۷۰، ”روحانی خزائن“ ص ۷۳‘ ج ۲۲)

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ

(حقیقت الوحی‘ ص ۷۱، ”روحانی خزائن“ ص ۷۴‘ ج ۲۲)

داعیا الی اللہ سراجا منیرا

(حقیقت الوحی‘ ص ۷۵، ”روحانی خزائن“ ص ۷۸‘ ج ۲۲)

دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی

(حقیقت الوحی‘ ص ۷۶، ”روحانی خزائن“ ص ۷۹‘ ج ۲۲)

سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا

(حقیقت الوحی‘ ص ۷۸، ”روحانی خزائن“ ص ۸۱‘ ج ۲۲)

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ

(حقیقت الوحی‘ ص ۷۹، ”روحانی خزائن“ ص ۸۲‘ ج ۲۲)

ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم

(حقیقت الوحی‘ ص ۸۰، ”روحانی خزائن“ ص ۸۳‘ ج ۲۲)

سلام علی ابراہیم

(حقیقت الوحی‘ ص ۸۷، ”روحانی خزائن“ ص ۹۰‘ ج ۲۲)

فاتخذوا من مقام ابراہیم مصلی

(حقیقت الوحی‘ ص ۸۸، ”روحانی خزائن“ ص ۹۱‘ ج ۲۲)

انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر

(حقیقت الوحی‘ ص ۹۴، ”روحانی خزائن“ ص ۹۷‘ ج ۲۲)

انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا

(حقیقت الوحی‘ ص ۱۰۱، ”روحانی خزائن“ ص ۱۰۵‘ ج ۲۲)

انا اعطیناک الکوثر

(حقیقت الوحی‘ ص ۱۰۲، ”روحانی خزائن“ ص ۱۰۵‘ ج ۲۲)

اراد اللہ ان یبعثک مقاما محمودا

(حقیقت الوحی‘ ص ۱۰۲، ”روحانی خزائن“ ص ۱۰۵‘ ج ۲۲)

صفحہ 331

یس والقران الحکیم انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم

(حقیقت الوحی‘ ص ۱۰۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۰‘ ج ۲۲)

(”حقیقت الوحی“ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۶۱) مرزا صاحب کے بشارتی نام

صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانیل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے‘ میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیا ہے اور دانیل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنے میکائیل کے ہیں ”خدا کی مانند“

(حاشیہ ”اربعین“ نمبر ۳‘ ص ۳۰‘ ۶۳‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۱۳‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

ہے کرشن جی رودر گوپال

(”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ۵۶‘ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ تذکرہ یعنی

وحی مقدس ربوہ‘ طبع ۳‘ ص ۳۸۰)

امین الملک جے سنگھ بہادر

(”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ۱۱۸‘ مجموعہ الہامات‘ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ تذکرہ‘ طبع

ربوہ‘ ۳‘ ص ۶۷۳)

(۶۲) مرزا صاحب کے گواہ

میرے لیے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اس طرح پر میرے لیے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ مگر پیش گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا اس لیے جن کے دلوں پر پردے ہیں‘ وہ قبول نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔ کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے کیونکہ خدا کی تائید ان کے ساتھ نہیں۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۰‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 332

(۶۳) مرزا صاحب کی جامعیت

دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے۔

(”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ۸۴، ”روحانی خزائن“ ص ۵۲۱، ج ۲۲)

کمالات متفرقہ جو تمام انبیاء میں پائے جاتے تھے، وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کیے گئے۔ اس لیے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔..... پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان، اپریل ۱۹۰۲ء،

”ملفوظات“ ص ۲۷۰، ج ۴، منقول از جماعت مبایعین کے عقائد صحیحہ، ص ۴۴، رسالہ

من جانب قادیانی جماعت قادیان)

اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جاویں سو وہ میں ہوں۔

(”براہین احمدیہ“ ص ۱۰۱، ۹۸ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۷، ۱۱۸، ج ۲۱، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

علاوہ اس کے ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے۔ جیسا کہ اس کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء اس لیے اس کے آنے سے گویا امت محمدیہ میں تمام گزشتہ نبی پیدا کیے گئے۔ پس نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے بڑھ کر رہا کیونکہ علاوہ ان نبیوں اور رسولوں

صفحہ 333

کے جو توریت کی خدمت کے لیے موسیٰ کو عطا ہوئے تھے۔ اس امت میں وہ تمام نبی بھی مبعوث کیے گئے جو موسیٰ سے پہلے گزر چکے تھے بلکہ خود موسیٰ بھی خود دوبارہ دنیا میں بھیجے گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کے وجود باوجو د میں پورا ہوا۔

("کلمتہ الفصل" مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی' مندرجہ رسالہ "ریویو آف

ریلیجنز" ص ۱۱۷' نمبر ۳' جلد ۱۴)

آخری زمانہ کے لیے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا۔ تا یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدمؑ ابراہیمؑ، نوحؑ، موسیٰؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، یوسفؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہوگئے۔ یہاں تک کہ سب کے آخر میں مسیح پیدا ہوگیا اور جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔

("نزول المسیح" ص ۴' حاشیہ' "روحانی خزائن" ص ۳۸۲' ج ۱۸' حاشیہ' مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

(۶۴) واحد وجود

آنحضرتؐ کی امت کا ایک فرد اور واحد وجود ایسا بھی ہوگا جو آپ کی اتباع سے تمام انبیاء کا واحد مظہر اور بروز ہوگا اور جس کے ایک ہی وجود سے سب انبیاء کا جلوہ ظاہر ہوگا اور اگر وہ حسب ذیل تمام سے اپنے نطق حقیقت کو بیان فرمائے تو کچھ خلاف نہ ہوگا۔ یعنی۔

زندہ شد ہر نبی بہ آمدنم ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

اور یہ کہ۔

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار

اور یہ کہ۔

صفحہ 334
منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ ۱۸ فروری ۱۹۳۰ء‘ نمبر ۱۵‘ جلد ۱۷‘ ص ۱۱)

(۶۵) قرضہ یکمشت

سائل : حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسیٰ تک بہت نبی ہوئے۔ اگر آنحضرت کے بعد نبوت جائز ہوتی تو مرزا صاحب سے پہلے مجدد بھی نبی ہوتے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب بھی نبی نہیں۔

مجیب : بے شک اس امت کا حق بھی تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ سے پہلے نبی ان میں پیدا ہوتے مگر خدا جو عالم الغیب ہے‘ وہ جانتا تھا کہ اس امت مرحومہ کو دجال کے عظیم الشان فتنے کا سامنا ہونے والا ہے اور تمام نبیوں کی امتیں گمراہی میں پڑ کر اسلام پر حملہ آور ہونے والی ہیں۔ اس لیے مصلحت الہی یہی ہوئی کہ اس امت مرحومہ کو سارا قرضہ اس عظیم الشان فتنے کے زمانہ میں یکمشت دے دیا جائے چنانچہ واذا الرسل اقتت کے ماتحت خدا تعالیٰ نے جری اللہ فی حلل الانبیاء تمام نبیوں کے قائم مقام ایک نبی مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لیے موسیٰ‘ عیسائیوں کے لیے عیسیٰ اور ہندوؤں کے لیے کرشن اور مسلمانوں کے لیے محمد اور احمد ہے۔

اس عظیم الشان فتنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے مناسب سمجھا کہ امت محمدیہ کو موسیٰ کی امت کی طرح متفرق طور پر نبی نہ دیے جائیں بلکہ ان کے مقابلہ میں مجدد دیے اور اس فساد کے زمانہ میں نبیوں کا قرضہ یک مشت ادا کر دیا جیسا کہ مختلف نبیوں کی امتوں نے یک مشت اسلام پر حملہ کیا اور یہ خدا کا احسان ہے کہ اس نے ایسا کیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۱۱۱‘ مورخہ ۶ مئی ۱۹۱۶ء)

(۶۶) تمام طاقتیں

میں نے اس مضمون کو قبل از عشاء حضرت امام ہمام خلیفۃ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے فرمایا..... ان سب کی صدق اور حقیقت ثابت کرنے کے لیے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے وہ

صفحہ 335

تمام طاقتیں کامل طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہیں جو انبیاء علیہم السلام کو ملی تھیں۔ جو عجائبات خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے ہاتھ پر منکروں کو دکھائے‘ وہی عجائبات زندہ اور قادر خدا آج اس کے ہاتھوں پر دکھانے کو موجود اور تیار ہے کوئی ہے جو آزمائش کے لیے قدم اٹھائے۔

(”نور الدین‘ ص ۱۲۰‘ حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول قادیان)

(۶۷) اگر حضور ملکہ معظمہ

اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعویٰ کے لیے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ ظاہر ہو جاوے اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔

(”تحفہ قیصریہ“ ص ۲۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۷۶ ج ۱۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۶۸) خواہ زندہ مرجائے

مخدومی مکرمی اخویم مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کا خط پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب ایسے امور کے دکھلانے کے لیے مجھے مجبور کرتے ہیں جو میرا نور قلب شہادت نہیں دیتا کہ میں ان کے لیے جناب الٰہی میں دعا کروں۔ گو یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود جانتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ ہر ایک قدرتی کام وابستہ باوقات ہے اور جب کسی امر کے ہو جانے کا وقت آتا ہے تو اس امر کے لیے دل میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور امید بڑھ جاتی ہے۔ اب ایسی باتوں کی طرف جو ڈاکٹر صاحب کا منشا ہے کہ کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی مادر زاد اندھا اچھا ہو جائے پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں اس بات کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے کہ کوئی امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو خواہ مردہ زندہ ہو اور خواہ زندہ مرجائے۔ یہی بات پہلے میں

صفحہ 336

نے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں لکھی تھی کہ آپ صرف یہی شرط رکھیں کہ ایسا امر ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے برتر ہو اور کچھ شک نہیں کہ جو امر انسانی طاقتوں سے برتر ہو‘ وہی خارق عادت ہے مگر ڈاکٹر صاحب نے خواہ مخواہ مردہ وغیرہ کی شرطیں لگا دی ہیں۔ والسلام۔

خاکسار غلام احمد لدھیانہ‘ ۱۲؍ اپریل ۱۸۹۵ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ نمبر ۲‘ ص۱۰۵۔۱۰۶‘ مولفہ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

(نشان‘ معجزہ‘ کرامت اور خرق عادت ایک چیز ہے۔ براہین‘ حصہ پنجم‘ ص ۵۰‘ ”روحانی

خزائن“ ص ۶۳‘ ج ۲۱)

(۶۹) مرزا صاحب کے معجزات و نشانات

بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔ اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۱۳۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۷‘ ج ۲۲‘ تتمہ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

میرے نشان دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی کھلے کھلے ہیں۔

(”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ۵۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۷۲‘ ج ۲۱)

میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ..... اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۶۷‘ ”روحانی خزائن“ ص ۷۰‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 337

تین ہزار معجزات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ظہور میں آئے۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۴۱، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۳‘ ج ۱۷)

اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لیے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لیے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دیے لیکن پھر بھی جو انسانوں میں سے شیطان ہیں‘ وہ نہیں مانتے۔

(”چشمہ معرفت“ ص ۳۱۷، ”روحانی خزائن“ ص ۳۳۲‘ ج ۲۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لیے ضروری تھے وہ سب دلائل تمہارے لیے مہیا کر دیے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لیے نشان ظاہر کیے اور تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لیے خبریں دی ہیں۔

(”تذکرۃ الشہادتین“ ص ۶۲، ”روحانی خزائن“ ص ۶۴‘ ج ۲۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۷۰) جیسا کہ

جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک از قبیل اضغاث احلام و حدیث النفس نہیں ہے ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات سے پاک اور منزہ ہے اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیش گوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں مگر یہ معجزات اور پیش گوئیاں ہزار ہا لوگوں کے لیے واقعات چشم دید ہیں

صفحہ 338

اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔

(”نزول المسیح“ ص ۸۱ - ۸۲، ”روحانی خزائن“ ص ۴۶۰، ج ۱۸، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۷۱) مرزا صاحب کا زمانہ

اے عزیزو تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا صاحب) کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لیے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو۔

(”اربعین“ نمبر ۴، ص ۱۴، ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۲، ج ۱۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فرستادہ موجود ہے جس کا صدہا سال سے امتیں انتظار کر رہی تھیں اور ہر روز خدا تعالیٰ کی تازہ وحی تازہ بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہو رہی ہے۔ (الراقم خاکسار مرزا غلام احمد)

(”مکاشفات کا آخری سرورق“ مولفہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری، مجموعہ

اشتہارات“ ص ۲۷۹، ج ۳)

اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا..... یعنی انسانی مظاہر کے ذریعہ سے اپنے جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۵۴، ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۸، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

دیکھو تم ایسے زمانہ میں پیدا کیے گئے ہو جس کی تیرہ سو سال سے لوگ خواہش کرتے چلے آئے ہیں۔ امام شافعیؒ، ابن حزنؒ، (ابن حزم) ابن حجرؒ، ابن قیمؒ، محی الدین ابن عربیؒ، عبدالقادر جیلانیؒ، شہاب الدین سہروردیؒ، یہ لوگ اور حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ جن کے متعلق مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آئمہ سے بڑھ کر ہیں،

صفحہ 339

ان سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) ہیں اور پہلے جن کا ذکر کیا گیا ہے‘ وہ وہ ہیں جو حسرتیں کرتے فوت ہوگئے ہیں کہ ہمیں مسیح موعود (مرزا صاحب) کا زمانہ میسر ہو۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۴‘

نمبر ۴۱‘ ص ۹‘ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۲۴ء)

ہمارا زمانہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کا زمانہ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد تیرہ سو سال تک جو کسی کو نہیں مل سکا وہ آج حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی حاصل نہ کرے تو اور بات ہے ورنہ جنت کی نعماء اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں جس رنگ میں (۱۳) سو سال کے بعد آج کھلی ہیں اس طرح (۱۳) سو سال میں کسی کے لیے نہیں کھلیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو چھوڑ کر آپ سید ولد آدم اور تمام نبیوں کے سردار تھے۔ آدم سے لے کر آج تک خدا تعالیٰ کے قرب کی وہ راہیں کسی کے لیے نہیں کھلیں جو ہمارے لیے کھلی ہیں۔

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل

قادیان‘ نمبر ۲۹۴‘ جلد ۳۳‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۷ دسمبر ۱۹۴۵ء)

ان حوالوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح موعود کوئی معمولی شان کا انسان نہیں ہے بلکہ امت محمدیہ میں اپنے درجہ کے لحاظ سے سب پر فوقیت لے گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نبی کا لقب پانے کے لیے صرف وہی چنا گیا۔ باقی کسی کو یہ درجہ عطا نہ ہوا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم کو وہ زمانہ دیا جس پر اللہ تعالیٰ کے تمام نبی ناز کرتے آئے ہیں اور جس کے پانے کے لیے اس امت کے بڑے بڑے ابدال دعائیں کرتے کرتے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیان‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ قادیان‘ ص ۱۳۱‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۷۲) زندہ ہوا

حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام زندہ ہوا۔ قرآن کریم زندہ ہوا‘ محمد صلی

صفحہ 340

اللہ علیہ وسلم کا نام زندہ ہوا۔ خدا کی توحید زندہ ہوئی‘ ہر نیکی زندہ ہوئی‘ ہر نبی زندہ ہوا۔ ہر راست باز نے دوبارہ حیات پائی۔ پس حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کوئی معمولی انسان نہ تھے۔ آپ نے رسولوں اور ان کی تعلیموں کو زندہ کیا ہے۔ پہلے مسیح نے تو بقول غیر احمدیاں چند ماہیوں کو زندہ کیا تھا۔ مگر اس (مرزا) نے نبیوں کو زندہ کیا ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں اس نے کیا کیا ہے۔ وہ کون سی خوبی اور کون سی صداقت ہے جو کسی نبی میں پائی جاتی ہے مگر حضرت مرزا صاحب میں نہیں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۱‘ نمبر

۸۹‘ ص ۱۰‘ مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۲۴ء)

(۷۳) قادیانی معروضہ

اگر آج قادیان کا مقدس نبی اس زمین پر زندہ ہوتا تو میں عرض کرتا پیارے احمد‘ سیدنا مسیح موعود! تو خدا کا نبی‘ خدا کا رسول‘ محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بروز‘ لشکر اسلام کا فاتح سپہ سالار اور آسمانی بادشاہت کا پرجلال سلطان ہے۔ تیرے آنے سے ہر نبی زندہ ہوا۔ تیرے آنے سے مردوں میں جان پڑی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۸‘ نمبر ۲۰‘ مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۲۰ء)

(۷۴) سچ پوچھو تو

اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اسی کے ذریعہ ایمان حاصل ہوا۔ ہم قرآن کریم کو خدا کا کلام اس لیے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر اس لیے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ قرآن پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے حاصل ہوا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر یقین اس کی نبوت کی وجہ سے ہوا ہے۔

(تقریر میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ ج ۱۳‘ نمبر ۳‘ مورخہ ۱۱ جولائی

۱۹۲۵ء)

صفحہ 341

(۷۵) رسول قدنی

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۲ء)

اے میرے پیارے مری جاں رسول قدنی تیرے صدقے ترے قربان رسول قدنی
انت منی و انا منک خدا فرمائے میں بتاؤں تری کیا شان رسول قدنی
عرش اعظم پر تری حمد خدا کرتا ہے ہم ہیں ناچیز سے انسان رسول قدنی
دستخط قادر مطلق تری مسلوں پہ کرے اللہ اللہ یہ تری شان رسول قدنی
آسماں اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول قدنی
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے تجھ پہ اترا ہے قرآن رسول قدنی
سرمہ چشم تری خاک قدم بنوائے غوث اعظم، شہ جیلان رسول قدنی
اپنے اکمل کو بچا لیجئے کہ ہے زوروں پر اس کے عصیاں کا طغیان رسول قدنی

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۰‘ نمبر ۳۰‘ ص ۱-۲‘ مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۲ء)

(۷۶) حضرت مسیح موعود کی شان

عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۱۸ء)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے آپ کے تمام دعاوی‘ آپ کی وحی اور تحریرات سے منتخب کر کے جناب قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی احمدی سیکرٹری انجمن احمدیہ پشاور نے نہایت عمدگی کے ساتھ نظم کر دیے ہیں اور حوالہ جات بھی ساتھ دے دیے ہیں۔ امید ہے احباب بہت دلچسپی سے پڑھیں گے۔ (ایڈیٹر)

اے امیر المنکرین ہم احمد موعود ہیں
کان دھر کر تم سنو ہم عیسیٰ معہود ہیں
ہم بروز آدم و نوح و خلیل اللہ ہیں
مظہر زرتشت و موسیٰ‘ کرشن اور داؤد ہیں
ہم مثیل لوط‘ اسحاق اور اسماعیل ہیں
ہم مثال یوسف و یعقوب و صالح ہود ہیں
ہم ہیں عکس ایلیا و حزقیل و دانیال
صفحہ 342
ہم ظلی تصویر محمد حامد و محمود ہیں
ہم نبی اللہ ہیں اور مظہر جملہ رسل
جو نہ مانیں گے ہمیں وہ کافر و مردود ہیں
منکرین انبیاء ہوتے کبھی مومن نہیں
بلکہ ہوتے بوجہل ، فرعون یا نمرود ہیں
سب نبی دیتے رہے ہیں جن کے آنے کی خبر
وہ ہیں ہم حکم خدا سے وقت پر موجود ہیں
ہم سنانے آئے ہیں پیغام حق ہر قوم کو
اسود و احمر ہمارے سب کے سب مقصود ہیں
جو ہمیں مانیں مسیح اور اپنے جھگڑوں میں حکم
وہ ہمارے متبع ہیں وہ ہمیں مودود ہیں
ہم جو آئے پھر ہوا تجدید حکم اسجدوا
ہو کے آدم سب ملائک کے بنے مسجود ہیں
حق تعالیٰ نے کیا ہے ہم پہ یہ لطف و کرم
حد سے بڑھ کر اس کے ہم پر فضل ہیں اور جود ہیں
جو ہمارے در پہ آئے ہو گئے مقبول حق
جو یہاں سے پھر گئے وہ اس کے ہاں مطرود ہیں
وہ خدا کے فضل جو مخصوص ہیں مومن کے ساتھ
اب ہمارے منکروں پر حشر تک مسدود ہیں
انبیا ہونے ہمارے بعد ہوں یا اولیاء
اب ہمارے اتباع میں تا ابد محدود ہیں
ہم نے اپنی زندگی میں وحی حق سے دی خبر
جن امور سر و اخفیٰ کی وہ اب مشہود ہیں
یہ درر جو نظم میں منظوم یوسف نے کیے
یہ ہماری وحی اور تحریر میں موجود ہیں
صفحہ 343

(مندرجہ بالا نظم میں مرزا صاحب کے جو دعاوی پیش کیے گئے ہیں، ان کے ثبوت میں مرزا صاحب کی کتابوں کے بکثرت حوالے دیے گئے ہیں جو اس نظم کے تحت اخبار میں درج ہیں لیکن بخوف طوالت یہاں ترک کر دیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ (للمولف)

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۶، نمبر ۲۵، ص ۹-۱۰، مورخہ ۲۴ ستمبر

۱۹۱۸ء)

(۷۶) الف یا نبی اللہ یا رسول اللہ

صدی گزری ہے فرقت میں تمہاری بھلا اتنی بھی کیا لمبی جدائی
مرے آقا! میری اک عرض سن لو نہیں رکتی مونہ پر بات آئی
ہوئے بدنام الفت میں تمہاری رکھایا نام اپنا میرزائی
ہزاروں آفتیں اس راہ میں دیکھیں مگر لب پہ شکایت تک نہ آئی
یہی بدلہ تھا کیا مہر و وفا کا؟ کہ اتنی ہوگئی بے اعتنائی
وہ صورت، دیکھتے تھے جس کو ہر روز کچھ ایسی آپ نے ہم سے چھپائی
کہ آنا خواب تک میں بھی قسم ہے نہ تھی گویا کبھی بھی آشنائی
ترحم یا نبی اللہ ترحم دہائی یا رسول اللہ دہائی
درونم خون شد دریغا جاناں زبانم سوخت از ذکر جدائی
کہیں ہم کس سے یہ درد نہانی
بجز تیرے۔ مسیح قادیانی

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۷، نمبر ۴۷، ص ۴، مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۳۹ء)

(۷۷) مزار پر انوار حضرت احمد مختار

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۱۸ دسمبر ۱۹۳۲ء)

جلسہ پر آنے والے بعض دوست یکوں کے اڈے ہی سے باہر دارالعلوم میں چلے جاتے ہیں جہاں ان کے قیام کا انتظام ہوتا ہے۔ بے شک ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن ایام جلسہ میں یا اس کے بعد وطن واپس جانے سے پیش تر کچھ نہ کچھ وقت مقبرہ بہشتی میں

صفحہ 344

حضرت مسیح موعود کے مزار پر انوار پر حاضر ہونے کا ضرور نکالنا چاہیے..... پھر کیا حال ہے اس شخص کا جو قادیان دارالامان میں آئے اور دو قدم چل کر مقبرہ بہشتی میں حاضر نہ ہو..... اس میں وہ روضہ مطہرہ ہے جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم مبارک مدفون ہے جسے افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت حضرت خاتم النبین نے فرمایا ایدفن معی فی قبری اس اعتبار سے مدینہ منورہ کے گنبد خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو اس گنبد بیضا پر پڑ رہا ہے اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقد منور سے مخصوص ہیں کیا ہی بد قسمت ہے وہ شخص جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے محروم رہے۔ (صیغہ تربیت قادیان)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۰‘ نمبر ۴۸‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۸ دسمبر ۱۹۲۲ء)

(ب) ہندوؤں کے مقابل

(۷۸) ہندو اور مرزا صاحب

ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے ”کرشن جی کہاں ہیں“ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے میں ہجوم میں سے ایک ہندو بولا ”ہے کرشن جی رودر گوپال“

(”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات و مکاشفات‘ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ص

۴۶۴‘ ص ۳۸۱‘ ط ۳‘ ربوہ)

دو دفعہ ہم نے رؤیا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے سامنے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور پھر ہمارے سامنے نذریں رکھتے ہیں۔ پھر ایک دفعہ الہام ہوا:

ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما ہو‘ تیری استتی گیتا میں موجود ہے۔

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ چہارم‘ ص ۱۴۲‘ مرتبہ محمد منظور الہی صاحب قادیانی‘ لاہوری‘

ملفوظات‘ ص ۲۷۰-۲۷۱‘ ج ۳‘ طبع ربوہ) ”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔

(الہام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ تذکرہ یعنی وحی مقدس‘ ص ۶۲۰‘ طبع ۳

صفحہ 345

(ربوہ)

(۷۸) الف سری کرشن اوتار

ہندو جو سناتن دھرمی ہیں، یعنی جو لوگ شاستر اور پرانوں کو نہیں مانتے اور ان کی پیروی کرتے ہیں، ان کی عقیدت و مذہب میں سری کرشن مہاراج کوئی دیوتا یا اولیاء یا پیغمبر وغیرہ نہیں ہیں بلکہ ایشور، پرماتما کا اوتار ہیں..... ایک بڑی زبردست فلسفہ کی ان کی تصنیف کتاب بھگوت گیتا ہے۔ جس کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ عالم فاضل سمجھتے ہیں..... گیتا کی فلاسفی اتنی مقبول عام ہوئی کہ جس کا جواب کسی دوسری کتاب میں نہیں ملتا..... لیکن یہ کہیں درج نہیں ہے کہ میں ایشور کا قاصد ہوں یا تمہارے سمجھانے کو یا ایک نیا مذہب پھیلانے کو آیا ہوں۔ بلکہ ہر جگہ یہی کہا ہے کہ میں ایشور ہوں اور دنیا سے پاپی لوگوں کا ناش کرنے آیا ہوں...... ہندو اصلی سناتن دھرمی ان کے اوتار ماننے سے ہر گز انکار نہیں کریں گے۔ خواہ کتنا ہے کسی صورت سے ثابت کیا جائے۔ فقط بھگونت کشور گرہستی بے راگی۔

(اخبار ”منادی“ دہلی مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۳۸ء)

(۷۹) میں نے سمجھا

کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا۔ گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے اور میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے بولا ”ہے رودر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے“۔

اسی وقت میں نے سمجھا کہ تمام دنیا ایک رودر گوپال کا انتظار کر رہی ہے۔ کیا ہندو کیا مسلمان اور کیا عیسائی مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم کی ہیں۔ یعنی سوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا اور وہ میں ہوں جس کی نسبت ہندوؤں میں پیش گوئی کرنے والے قدیم سے زور دیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہوگا اور انہوں نے اس کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں مگر وہ تمام نام استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک اور حقیقت ہے اور لکھتے ہیں کہ وہ برہمن کے گھر میں جنم لے گا یعنی وہ جو

صفحہ 346

برہم کو سچا اور واحد لا شریک سمجھتا ہے یعنی مسلمان۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۲۱۶‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۳۱۸ - ۳۱۷ ج ۱۷)

(۸۰) راجہ کرشن

اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے‘ درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا‘ جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانے کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ”ہے کرشن رودر گوپال‘ تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے“۔

(”لیکچر سیالکوٹ‘ ۲ نومبر ۱۹۰۴ء‘ ص ۳۴‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۲۸-۲۲۹‘ ج ۲۰‘ از مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

(۸۱) مرزا کرشن

آخر یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لیے جن سے زمین پر ہو گئی ہے‘ جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں میں ہوں‘ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی (کرشن) ہوں۔

صفحہ 347

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا لیکچر سیالکوٹ، واقع ۲ نومبر ۱۹۰۴ء ص ۳۴، ”روحانی

خزائن“ ص ۲۲۸، ج ۲۰)

جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو رودر گوپال بھی کہتے ہیں، یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا، اس کا نام بھی مجھے دیا گیا۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا، وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۸۵، ”روحانی خزائن“ ص ۵۲۱ - ۵۲۲، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

(۸۲) وہی ہمارا کرشن

اے ہندو بھائیو! اس زمانہ کا اوتار کسی خاص قوم کا نہیں وہ مہدی بھی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کی نجات کا پیغام لایا ہے۔ وہ عیسیٰ بھی ہے کیونکہ عیسائیوں کی ہدایت کا سامان لایا ہے۔ وہ نہ کلنک اوتار بھی ہے کیونکہ وہ تمہارے لیے، ہاں اے ہندو بھائیو! تمہارے لیے خدا تعالیٰ کی محبت کی چادر کا تحفہ لایا ہے......

اس نہ کلنک اوتار کا نام مرزا غلام احمد ہے جو قادیان ضلع گورداسپور میں ظاہر ہوئے تھے۔ خدا نے ان کے ہاتھ پر ہزاروں نشان دکھائے ہیں اور ان کے ذریعہ سے وہ پھر دنیا کو انصاف اور عدل سے بھرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ ان پر ایمان لاتے ہیں، ان کو خدا تعالیٰ بڑا نور بخشتا ہے اور ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی سفارش پر لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور عزتیں بخشتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ ان کی تعلیم کو پڑھ کر نور حاصل کریں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا مضمون ”وہی ہمارا کرشن“ اخبار ”الفضل“

قادیان، ج ۲۳، نمبر ۲۲، مورخہ ۲؍ اپریل ۱۹۳۶ء)

صفحہ 348

(۸۳) موجودہ زمانہ کا اوتار

اس سمے جب کہ ہندو قوم نانا پرکار کے پاپوں میں لین ہوچکی ہے اور سارے ورن اپنے دھرم سے گر چکے تھے، بھگوان کرشن اپنے دعوے انوسار جو کہ آپ نے گیتا میں کیا تھا کہ میں لوگوں کی ہدایت اور پاپوں کے ناش کے لیے اس سنسار میں جنم لیا کروں گا۔ قادیاں کی پوتر نگری میں ایک پرماتما کے اپاسک کے ہاں جنم لیا جن کا نام حضرت مرزا غلام احمد ہے۔ آپ نے پرماتما سے گیان حاصل کر کے سارے سنسار کو سنایا کہ اے بھائیو پرماتما نے تمہارے ادھار کے لیے مجھ کو بھیجا ہے تاکہ میں تم کو پاپوں سے دور کر کے پرماتما کے اور لے جاؤں اور ایشور کی کرپا سے لاکھوں انسانوں نے آپ کی اس آواز کو سویکار کر کے آپ کے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر دیا۔۔۔۔۔

جماعت احمدیہ کا اعتقاد جو کہ بھگوان کرشن کے متعلق ہے، ظاہر ہے کہ ہم ان کو صادق راست باز اور پرماتما کی طرف سے گیان لے کر آئے مانتے ہیں۔ چنانچہ بھگوان کرشن قادیانی اپنے ایک بھاشن میں فرماتے ہیں:

اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے، درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا، جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی یا اوتار میں نہیں پائی جاتی۔ وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت سی باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ (لیکچر سیالکوٹ)

شریمان آنند بھگوان کرشن قادیانی نے اپنے اس بھاشن میں یہ بات اچھی طرح سپشٹ کر دی ہے کہ بھگوان کرشن اپنے سمے کا اوتار اور پرماتما کا پیارا، راست باز تھا اور جماعت احمدیہ کا ایک ایک بچہ ان کے متعلق یہی وچار رکھتا ہے اور جماعت احمدیہ جس طرح اور راست بازوں کی عزت کرتی ہے اور ان کی ہتک ہرگز برداشت نہیں کرتی، اسی طرح کرشن بھگوان کے متعلق بھی ہمارا یہی طریق عمل ہے۔ (وجہ ظاہر ہے میرزا قادیانی صاحب خود کرشن کا اوتار ہونے کے مدعی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ للمؤلف)

(حاشیہ محمد عمر شرما صاحب قادیانی کا مضمون، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۴، نمبر

۲۳۲، ص ۴، مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۳۶ء)

صفحہ 349

(۸۴) یوم ولادت حضرت کرشن علیہ السلام

عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان

حضرت کرشن علیہ السلام کے یوم ولادت (جنم اشٹمی) کی تقریب پر جماعت احمدیہ حلقہ مزنگ لاہور نے ایک جلسہ ۹ اگست ۱۹۳۶ء بوقت ساڑھے آٹھ بجے شب کیا۔ جس کا اعلان بذریعہ اشتہارات کیا گیا تھا اور سناتن دھرم پرتی ندھی سبھا سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنا کوئی نمائندہ حضرت کرشن کے حالات سنانے کے لیے ہمارے جلسہ میں بھیجیں۔۔۔۔

آخر میں جناب ملک عبدالرحمان صاحب خادم (قادیانی) نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا:

ہم نے یہ جلسہ اس لیے منعقد کیا ہے کہ ہم اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ ہم واقع میں حضرت کرشن کو نبی مانتے ہیں۔ ہم حضرت کرشن کے متعلق کوئی ایسا کلمہ نہیں سن سکتے جس سے ان کی ہتک ہوتی ہو اور یہ بحث کہ ان کے عقائد کیا تھے‘ ان کا آسان طریق یہ ہے کہ جو عقائد معقول ثابت ہوں‘ وہ آپ کی طرف منسوب کیے جائیں اور جو عقائد غیر معقول ہوں‘ ان کے متعلق یقین کر لیا جائے کہ یہ بعد میں لوگوں نے ان کی طرف غلط طور پر منسوب کر دیے ہیں۔

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۳۸‘ ص ۲‘ مورخہ ۱۳ اگست

۱۹۳۶ء)

(۸۵) حضرت مسیح اور کرشن علیہما السلام

(عنوان منقول از ریویو)

ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آئے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں پر سے پردے اٹھ جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جائے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے کے لیے کھل جائیں جو دین اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا‘ وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا

صفحہ 350

غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔

(مولوی محمد علی قادیانی امیر جماعت لاہور‘ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ ج ۳، نمبر ۱۱)

(۸۶) مرلی کی نئی دھن

ہندوستان کا مستقبل اس وسیع براعظم کے فرزندوں کے باہمی سمجھوتہ اور فرقہ وارانہ اختلافات کے حل پر منحصر ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی لامذہبیت ہماری بگڑی کو نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ ہم فطرتاً مذہب پسند ہیں۔ آریہ سماج کی خشکی‘ ملاؤں کی خونخواری‘ نئی نئی بننے والی سوسائیٹیوں کی صلح کن پالیسی بھارت کی قسمت کو نہیں پلٹ سکتی۔ ہمارے دکھوں کا علاج‘ ہماری سیاسی غلامی کی آزادی‘ کرشن کی مرلی کی جدید دھن پر موقوف ہے۔ ہمارے زمانہ کا کرشن (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب۔۔۔۔۔ (للمولف) وہ (سابق زمانہ کا کرشن۔۔۔۔۔ (للمولف) نہیں جو ارجن کو مادی تیر چلانے اور کوروں کو خاک میں ملانے کا وعظ کرے بلکہ مرلی کی نئی دھن زمین پر صلح اور اہل زمین کی طرف پیغام آشتی ہے۔ ہم نے آج سے ۳۲ سال قبل (یعنی ۱۹۰۴ء میں جب کہ مرزا صاحب نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا اور دعوے کا اعلان کیا۔۔۔۔ (للمولف) اس جمال جہاں آرا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب۔۔۔۔ (للمولف) کو دیکھا اور درخواست کی ”تک نجرا کیتو ہم رہی اور گوپال“ نظر التفات ہوئی بیڑا پار ہوا جو بھگت سورما کو ملا‘ وہ سب کو ملنا چاہیے۔ اسی لیے جی چاہتا ہے کہ ہندو خوش ہو کہ احمدی مسلمان سری کرشن کو اللہ کا نبی مانتا ہے اور ہندوؤں کی محبوب ترین ہستی سے محبت رکھتا ہے (اور اس کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو کرشن جی کا اوتار مانتا ہے اور ان سے افضل جانتا ہے)

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۸۹‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۳ اکتوبر

۱۹۳۶ء)

اس زمانہ کے نبی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے بڑے زور سے اپنی جماعت کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ کرشن کو نبی مانیں۔ (مصلحت ظاہر ہے خود مرزا صاحب کرشن جی کا اوتار ہونے کے مدعی ہیں۔۔۔۔ (للمولف)

(اخبار ”الفضل قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۳۸‘ ص ۲‘ مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۳۶ء)

صفحہ 351

(۸۷) یادرکھو

یادرکھو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) مہدی اور مسیح ہی نہیں بلکہ کرشن بھی ہیں یعنی آپ ہندوؤں کے لیے بھی ہادی ہیں۔ اب ہم ان میں تبلیغ شروع کریں گے اور جب تک ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہ کریں‘ حضرت مسیح موعود کرشن کیسے ثابت ہو سکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود مسیح ہیں۔ آپ کی جماعت کو مسیحیوں پر غلبہ ملے گا۔ آپ مہدی ہیں‘ مسلمانوں کو دوبارہ ہدایت آپ کے ذریعے ملے گی۔ آپ کرشن ہیں‘ ہندوؤں میں آپ کی جماعت کو غلبہ اور آپ کی قبولیت پھیلے گی۔ ہمارے لیے حق پھیلانے کی راہیں کھل رہی ہیں۔ ہم ہندوؤں میں کام کریں گے اور وحشیوں تک میں دین پھیلائیں گے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۰‘ نمبر

۷۱‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۵ مارچ ۱۹۲۳ء)

(۸۸) ہندو عورتوں سے نکاح جائز

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا کہ ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کا ہی بگڑا ہوا فرقہ ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کی ڈائری‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۰‘

نمبر ۶۵‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)

ہندوستان میں ایسی مشرکات جن سے نکاح ناجائز ہے‘ بہت کم ہیں۔ مجارٹی ایسے لوگوں کی ہے جن کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اس مسئلہ پر عمل کرنے میں زیادہ دقتیں نہیں۔ سوائے سکھوں اور جینیوں کے۔ عیسائیوں کی عورتوں اور ان تمام لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر ایمان رکھتے ہیں۔ (یعنی ہندوؤں کی عورتوں سے) نکاح جائز ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا فتویٰ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۷‘ نمبر

۶۵‘ ص ۸‘ مورخہ ۱۸ فروری ۱۹۳۰ء)

(۸۹) چومکھی نبوت

صفحہ 352

خدا تعالیٰ نے جری اللہ فی حلل الانبیاء تمام نبیوں کے قائم مقام ایک نبی مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لیے موسیٰ‘ عیسائیوں کے لیے عیسیٰ اور ہندوؤں کے لیے کرشن اور مسلمانوں کے لیے محمد اور احمد ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۳‘ نمبر ۱۱۱‘ مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۱۶ء)

صفحہ 353

فصل چھٹی

انکشافات

(الف) متفرقات

جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی اصل صحیح شرع میں نہ ہو۔ خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد ہو۔ تو اس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔ (ترجمہ)

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۲۱’ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱’ ج ۵)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہؓ کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ خشیت علی نفسی یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو لیکن جو لوگ بغیر تزکیہ نفس کے جلدی سے ولی بننے کی خواہش کرتے ہیں وہ جلدی سے شیطان کے فریب میں آجاتے ہیں۔

(تتمہ ”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۴۰ ”روحانی خزائن“ ص ۵۷۸ ج ۲۲)

کلمہ اللہ موسیٰ علی جبل و کلمہ الشیطان عیسیٰ علی جبل فانظر الفرق بینھما ان کنت من الناظرین۔

خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ سو اس دونوں قسم کے مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔

(”نور الحق“ ص ۵۰ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۱۶۸ ج ۸ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

الہام رحمانی بھی ہوتا ہے شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل

صفحہ 354

دے کر کسی بات کے انکشاف کے لیے بطور استخارہ یا استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے، مگر وہ بلا توقف نکالا جاتا ہے۔۔۔۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے اور پہلی کتابیں تورات و انجیل اس دخل کی مصدق ہیں اور اسی بنا پر الہام ولایت یا الہام عامہ مومنین بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں۔

(”ازالہ اوہام“ حصہ دوم، ص ۱۴۹ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۹، ۴۴۰، ج ۳ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر تیری عبادتیں قبول ہوئیں اب جو کچھ دوسروں پر حرام ہے تیرے پر حلال ہے اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہے جو چاہے کر۔ تب میں نے کہا اے شیطان دور ہو۔ وہ باتیں میرے لئے کب روا ہوسکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں ہوئیں۔ تب شیطان مع اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہوگیا۔

اب جب کہ سید عبدالقادر جیسے اہل اللہ اور مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو دوسرے عامتہ الناس جنہوں نے ابھی اپنا سلوک بھی تمام نہیں کیا۔ وہ کیوں کر اس سے بچ سکتے ہیں اور ان کو وہ نورانی آنکھیں کہاں حاصل ہیں۔ تا سید عبدالقادر اور حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح شیطانی الہام کو شناخت کرلیں۔

(”ضرورۃ الامام“ ص ۱۷ ”روحانی خزائن“ ص ۴۸۷، ۴۸۸، ج ۱۳ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

۲۔ بہت سے لوگ

میں نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو ہر آواز کو جو انہیں آجائے الہام ہی سمجھتے

صفحہ 355

ہیں ۔ حالانکہ اضغاث احلام بھی ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو آوازیں انہیں سنائی دیتی ہیں۔ وہ بناوٹی ہیں۔ نہیں‘ ان کو آوازیں آتی ہوں گی۔ مگر ہم ہر آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار نہیں دے سکتے۔ جب تک اس کے ساتھ وہ انوار اور برکات نہ ہوں‘ جو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ان الہام کے دعوے کرنے والوں کو اپنے الہاموں کو اس کسوٹی پر پرکھنا چاہئے اور اس بات کو بھی انہیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بعض آوازیں نری شیطانی ہوتی ہیں۔ اس لئے ان آوازوں پر ہی فریفتہ ہو جانا دانشمند انسان کا کام نہیں‘ بلکہ جب تک اندرونی نجاست اور گند دور نہ ہو اور تقویٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل نہ ہو اور اس درجہ اور مقام پر انسان نہ پہنچ جائے کہ دنیا ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی حقیر اور ذلیل نظر آئے اور اللہ تعالیٰ ہی ہر قول و فعل میں مقصود ہو اس مقام پر قدم نہیں پڑ سکتا جہاں پہنچ کر انسان اپنے اللہ کی آواز سنتا ہے اور وہ آواز حقیقت میں اسی کی ہوتی ہے کیوں کہ اس وقت یہ تمام نجاستوں سے پاک ہو گیا ہوتا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۳۰ ص ۱ مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۳۱ء)

(۳) فتنہ عظیم

اس زمانے میں جس طرح اور صدہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک بزرگ فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس درجہ اور کس حالت میں کوئی خواب یا الہام قابل اعتبار ہو سکتا ہے اور کن حالتوں میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا اور حدیث النفس ہو نہ حدیث الرب

یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان انسان کا سخت دشمن ہے وہ طرح طرح کی راہوں سے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ کیوں کہ اگرچہ شیطان بڑا جھوٹا ہے لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکا دیتا ہے تا ایمان چھین لے۔

افسوس کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ابھی شیطان کے پنجے میں گرفتار ہیں مگر پھر بھی اپنے خوابوں اور الہاموں پر بھروسہ کر کے اپنے ناراست اعتقادوں اور ناپاک مذہبوں کو

صفحہ 356

ان خوابوں اور الہاموں سے فریب دینا چاہتے ہیں‘ بلکہ بطور شہادت ایسی خوابوں اور الہاموں کو پیش کرتے ہیں..... اور بعض ایسے بھی ہیں کہ چند خوابوں یا الہام جو ان کے نزدیک سچے ہوگئے ہیں۔ ان کی بنا پر وہ اپنے تئیں اماموں اور پیشواؤں یا رسولوں کے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۱ تا ۲‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳-۴‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

پس یہ کمال شقاوت اور نادانی اور بدبختی ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ انسانی کمال بس اسی پر ختم ہے کہ کسی کو کوئی سچی خواب آجائے یا سچا الہام ہو جائے بلکہ انسانی کمال کے لئے اور بہت سے لوازم اور شرائط ہیں اور جب تک وہ متحقق نہ ہوں تب تک یہ خوابیں اور الہام بھی مکر اللہ میں داخل ہیں۔ خدا ان کے شر سے ہر ایک سالک . محفوظ رکھے۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۸‘ ”روحانی خزائن“ ص ۸ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اور یہ قول مشہور ہے کہ نیم ملاں خطرہ ایمان۔ وہ اپنی معرفت ناقصہ کی وجہ سے خطرہ کی حالت میں ہے ہاں ایسے لوگوں کو بھی کسی قدر کچھ معارف اور حقائق معلوم ہو جاتے ہیں مگر اس دودھ کی طرح جس میں کچھ پیشاب بھی پڑا ہو اور اس پانی کی طرح جس میں کچھ نجاست بھی ہو..... چونکہ اس کی فطرت میں ابھی شیطان کا حصہ باقی ہے۔ اس لئے شیطانی القا سے بچ نہیں سکتا اور چوں کہ نفس کے جذبات بھی دامن گیر ہیں۔ اس لئے حدیث النفس سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتا اصل بات یہ ہے کہ وحی اور الہام کی کمال صفائی‘ صفائی نفس پر موقوف ہے جس کے نفس میں ابھی کچھ گند باقی ہے۔ ان کی وحی اور الہام میں بھی گند باقی ہے۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۳ ”روحانی خزائن“ ص ۱۵‘ ۱۶ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

آسمانی نشانوں سے حصہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں اول وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے ان کا نہیں ہوتا صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے ان کو بعض سچی خوابیں آجاتی ہیں اور سچے کشف ظاہر ہوتے ہیں۔

صفحہ 357

پھر دوسرے قسم کے خواب بین یا ملہم وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ سے کسی قدر تعلق ہے مگر کامل تعلق نہیں، پھر تیسری قسم کے ملہم و خواب بین وہ لوگ ہیں..... جو شہوات نفسانیہ کا چولا آتش محبت الٰہیہ میں جلا دیتے ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۲۱‘ تا ۲۲ ‘ ”روحانی خزائن“ ۲۲‘ ۲۳‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

اب میں بموجب آیتہ کریمہ واما بنعمتہ ربک فحدث اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔ میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶ جولائی ۱۹۰۶ء ہے اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اس کو ثبوت دے سکتا ہوں۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۶۷ ”روحانی خزائن“ ص ۷۰‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۴) مالیخولیا کے کرشمے

مالیخولیا کے بعض مریض بظاہر صحیح الدماغ معلوم ہوتے ہیں مگر جب ان کی طول طویل اور بے سروپا باتیں سنی جائیں تو حاذق طبیب سمجھ لیتا ہے کہ وہ مالیخولیا میں مبتلا ہیں۔

(”سودائے مرزا“ ص ۱۳‘ مصنفہ حکیم محمد علی صاحب)

طرح طرح کے ایسے خیال ان کے دل میں آتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔

(تحقیقات ڈاکٹر شاہ نواز صاحب قادیانی اسسٹنٹ سرجن مندرجہ رسالہ ”ریویو“ قادیان

ص ۲۲ ج ۲۶ نمبر ۵ بابت مئی ۱۹۲۷ء)

بعض مریضوں میں یہ فساد گاہے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب

صفحہ 358

وان سمجھتا ہے اور بسا اوقات آئندہ ہونے والے واقعات کی خبر پہلے ہی سے دے دیتا ہے اور بعض میں فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔

(”شرح اسباب و علامات باب امراض دماغ“ ص ۷۰، مصنفہ حکیم برہان الدین نفیس)

بعض عالم اسی مرض میں مبتلا ہو کر دعوے پیغمبری کرنے لگتے ہیں اور اپنے بعض اتفاقی واقعات کو معجزات قرار دینے لگتے ہیں۔

(”مخزن حکمت“ طبع پنجم، جلد ۲، ص ۱۳۵۲، مصنفہ شمس الاطبا حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی

صاحب)

تیماپور ملک دکن کے ایک صاحب مولوی عبداللہ (قادیانی) آج کل ایک ابتلاء میں مبتلا ہیں اور اس بات کے مدعی ہیں کہ اصل مہدی موعود وہی ہیں اور حضرت صاحب مسیح تھے.... اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ مفتری نہیں ہیں لیکن دماغی حالت کی وجہ سے بیمار و معذور ہیں۔

(”تشحیذ الاذہان“ جلد ۶، نمبر ۱۱، بعنوان مولوی عبداللہ تیماپوری، صفحہ ۴۱۴ ۔ ۴۱۵ از میاں

محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۵) مرزا صاحب کی توجیہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے ایک حوصلہ مند مرید چراغ دین نامی نے بھی مرزا صاحب کے ماتحت رسالت کا دعویٰ کیا تو مرزا صاحب کو بہت ناگوار گزرا اور صاحب موصوف نے ارشاد فرمایا:

نفس امارہ کی غلطی نے اس کو (یعنی چراغ دین کو) خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعوے سے ہمیشہ کے لیے مستعفی نہ ہو جائے۔ المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی ۲۳ اپریل ۱۹۰۲ء

(”دافع البلاء“ ص ۲۲ ”روحانی خزائن“ ص ۲۴۲، ج ۱۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 359

اس دعوے کی نفسیات کی مرزا صاحب نے جو تشریح فرمائی ہے وہ خاص طور پر قابل غور ہے۔ ملاحظہ ہو۔

ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القائے شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القا ہو جاتا ہے اور چوں کہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لیے الٰہی اصلاح میں ایسے خیالات کا نام ہیز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے ورنہ ہیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔ (آمین ثم آمین۔ للمولف)

المشتہر مرزا غلام احمد قادیان ۲۳ اپریل ۱۹۰۲ء)

(”دافع البلاء“ صفحہ ۲۳، ”روحانی خزائن“ ص ۲۴۳، ج ۱۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۶) عجیب الہام

رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا اور وہ یہ ہے کہ قل لضیفک انی متوفیک، قل لاخیک انی متوفیک یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا۔ اس کے معنی بھی دو ہیں ایک تو یہ کہ جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے اس کو کہہ دے کہ میں تیرے پر اتمام نعمت کروں گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ میں وفات دوں گا۔ معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے اس قسم کے تعلقات کے کم وبیش کئی لوگ ہیں اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتے ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ ”حیات احمد“ جلد دوم، نمبر دوم، ص ۷۲،

مرتبہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۷) عالم کشف

آج اس موقعہ کے اثنا میں جب کہ یہ عاجز بہ غرض تصحیح کاپی کو دیکھ رہا تھا کہ بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دئے گئے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ ”فتح کا نقارہ بجے“ پھر ایک نے مسکرا کر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ ”دیکھو کیا کہتی ہے

صفحہ 360

تصویر تمہاری۔"

جب اس عاجز نے دیکھا تو وہ اسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رعب ناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین و یسار میں۔ حجتہ اللہ القادر و سلطان احمد مختار لکھا تھا اور یہ سوم وار کا روز انیسویں ذی الحجہ سن ۱۳۰۰ھ ۲۲ اکتوبر ۱۸۸۳ء اور ششم کاتک ۱۹۴۰ء بکرم ہے۔

("براہین احمدیہ" حصہ چہارم ص ۵۱۵ - ۵۱۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب "روحانی خزائن" ص ۶۱۵ ج ۱)

(۸) خیالی کرشمے

ایک زبردست الہام اور کشف آج ۲ جون ۱۹۰۰ء کو بہ روز شنبہ بعد دوپہر دو بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا دکھلایا گیا، اس کی آخری سطر میں لکھا تھا۔ اقبال میں خیال کرتا ہوں کہ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا، یعنی انجام بااقبال ہے، پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔

قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے

اس کے بعد ۲ جون ۱۹۰۰ء کو بوقت ساڑھے گیار بجے یہ الہام ہوا

کافر جو کہتے تھے وہ نگوں سار ہو گئے جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ "تبلیغ رسالت" جلد نہم‘ حاشیہ صفحہ ۵۰‘

مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ج ۳‘ ص ۲۹۸)

(۹) غلام احمد کی جے

دیکھا کہ میرے مقابل پر کسی آدمی نے یا چند آدمیوں نے پتنگ چڑھائی ہے اور وہ پتنگ ٹوٹ گئی اور میں نے اس کو زمین کی طرف گرتے دیکھا پھر کسی نے کہا۔ غلام احمد کی جے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ "تذکرہ یعنی وحی مقدس" ص ۶۷‘ "تذکرہ"

ص ۲۴۷‘ طبع ربوہ ۳)

(۱۰) غلام احمد قادیانی کا کشف

صفحہ 361

لطیفہ۔ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الایات بعد المائتین ہے ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف دلائی گئی کہ دیکھ یہ ہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہ ہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بہ جز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بہ جز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۱۸۷‘ ۱۸۶ ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۹ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

لطیفہ پر لطیفہ۔ مرزا صاحب کو کشف ہوا کہ ان کے سوا تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں تین قادیان ہیں جن میں سے ایک قادیان میں مرزا صاحب رہتے تھے اور ایک قادیان میں دوسرے صاحب اسی نام کے غلام احمد رہتے جو مرزا صاحب کے ہم عصر تھے، لیکن سب سے بڑھ کر تیسرا لطیفہ قادیانی صاحبان کی یہ تاویل ہے کہ دوسرے قادیان میں کوئی غلام احمد تھے تو ہوا کریں۔ مرزا صاحب کی طرح غلام احمد قادیانی ان کا مرکب نام تو نہ تھا گویا وہ بے چارے قادیان کے غلام احمد تھے اور مرزا صاحب غلام احمد قادیانی تھے چنانچہ ملاحظہ ہو:

پس آپ کا (یعنی مرزا صاحب کا) منشا اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ دنیا میں آپ کے (مرزا صاحب کے) سوا کوئی دوسرا شخص غلام احمد قادیانی کے مرکب نام سے موسوم نہیں، اس لیے اگر ضلع گورداسپور میں قادیان نام کے کوئی اور گاؤں بھی ہیں اور وہاں غلام احمد کے نام سے کوئی اور شخص بھی رہتا تھا تو اس سے آپ کے دعوے کی تغلیط نہیں ہوتی کیوں کہ آپ نے نہ قادیان نام کے کسی اور گاؤں کی نفی کی ہے اور نہ وہاں غلام احمد کے نام سے کسی شخص کی موجودگی کا انکار کیا ہے۔ انکار اگر ہے تو غلام احمد قادیانی کے مرکب نام رکھنے والے شخص کا ہے۔

صفحہ 362

(کتاب ”آئینہ احمدیت“ ص ۸‘ مصنفہ دوست محمد صاحب قادیانی جو ۱۹۳۴ء میں انجمن

احمدیہ اشاعت اسلام لاہور نے شائع کیا۔)

(۱۱) تیرہ سو کا عدد

جس نے دعویٰ کیا اس کا نام بھی یعنی ”غلام احمد قادیانی“ اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی تیرہ سو کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا۔ جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔

(”تریاق القلوب“ ص ۱۶ ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۷‘ ۱۵۸‘ ج ۱۵ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

آپ کے پورے نام ”غلام احمد قادیانی“ کے اعداد بہ حساب جمل (۱۳۰۰) نکلتے ہیں اور اس میں یہ بھید تھا کہ تیرھویں صدی کے سر پر آپ نے ہی مجدد بننا ہے۔

(مضمون معراج دین عمر صاحب قادیانی‘ بعنوان حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی

علیہ السلام کے مختصر حالات تتمہ ”براہین احمدیہ“ جلد اول‘ ص ۶۲)

(۱۲) تمام و کمال اصلاح

تخمیناً ”پچیس برس کے قریب عرصہ گزر گیا ہے کہ میں گورداسپور میں تھا کہ مجھے یہ خواب آئی کہ میں ایک جگہ چارپائی پر بائیں طرف میرے مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی بیٹھے ہیں۔ جن کی اولاد اب امرتسر میں رہتی ہے۔ اتنے میں میرے دل میں محض خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تحریک پیدا ہوئی کہ مولوی صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اتار دوں‘ چنانچہ میں نے اپنی جگہ کو چھوڑ کر مولوی صاحب کی جگہ کی طرف رجوع کیا‘ یعنی جس حصہ چارپائی پر وہ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ اس حصہ میں‘ میں نے بیٹھنا چاہا تب انہوں نے جگہ چھوڑ دی‘ اور وہاں سے کھسک کر پائنتی کی طرف چند انگلی کے فاصلے پر ہو بیٹھے۔ تب پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس جگہ بھی سے میں ان کو اٹھا دوں‘ پھر میں ان کی طرف جھکا تو وہ اس جگہ کو بھی چھوڑ کر پھر چند انگلی کی مقدار پر پیچھے ہٹ گئے پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس جگہ سے بھی ان کو اور پائنتی کی طرف کیا جائے تب پھر وہ چند انگلی پائنتی کی طرف کھسک کر ہو بیٹھے۔ القصہ میں ایسا ہی اِن کی

صفحہ 363

طرف کھسکتا گیا اور وہ پائنتی کی طرف کھسکتے گئے‘ یہاں تک کہ ان کو آخر کار چارپائی سے اترنا پڑا اور وہ زمین پر جو محض خاک تھی‘ اور اس پر چٹائی وغیرہ کچھ نہ تھی اتر کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان سے آئے۔ ایک کا نام ان میں سے خیراتی تھا۔ وہ بھی ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے اور میں چارپائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے ان فرشتوں اور مولوی عبداللہ صاحب کو کہا کہ آؤ میں ایک دعا کرتا ہوں تم آمین کہو تب میں نے یہ دعا کی کہ رب اذهب عنی الرجس وطہرنی تطہیرا۔

اس کے بعد وہ تینوں فرشتے آسمان کی طرف اٹھ گئے اور مولوی عبداللہ صاحب بھی آسمان کی طرف اٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک طاقت بالا مجھ کو ارضی زندگی سے بلند تر کھینچ کر لے گئی اور وہ ایک ہی رات تھی۔ جس میں خدا نے بہ تمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں وہ تبدیلی واقع ہوئی کہ جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادہ سے نہیں ہو سکتی۔

(”حیات النبی“ جلد اول‘ ص ۹۵ - ۹۶ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی و ”تریاق

القلوب“ ص ۹۴‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۵۱ - ۳۵۲‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۳) قرآن میں قادیان

اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان ..... اس جگہ مجھے یاد آیا ہے کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر با آواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا انا انزلناہ قریبا من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے..... تب میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ درج کیا گیا ہے مکہ‘ مدینہ‘ قادیان یہ کشف تھا کہ کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔

صفحہ 364

(”ازالہ اوہام“ ص ۷۵، ”روحانی خزائن“ ص ۱۳۹-۱۳۸، ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۱۴) تینوں مقامات

ہم مدینہ منورہ کی عزت کر کے خانہ کعبہ کی ہتک کرنے والے نہیں ہو جاتے۔ اسی طرح ہم قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہو سکتے۔ خدا تعالیٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا اور ان تینوں مقامات کو اپنی تجلیات کے اظہار کے لیے چنا۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۳،

نمبر ۵۵، مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء)

(۱۵) خدائی مشاغل

اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب سے کہا: ”میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔“

(”البشریٰ“ جلد دوم، ص ۷۹، مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

خدا نے فرمایا: ”میں روزہ رکھوں گا اور افطار بھی کروں گا۔“

(”مجموعہ اشتہارات“ ص ۵۹۲، ج ۳، ”تذکرہ“ ص ۴۶۰، ط ۳، ربوہ)

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دہم، ص ۱۳۲،

مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی، ”مجموعہ اشتہارات“ ص ۵۹۲، ج ۳)

انی مع الاسباب ابتک بغتہ انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب انی مع الرسول محیط

میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا۔ اپنے رسول کے ساتھ محیط ہوں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا الہام مندرجہ ”البشریٰ“ جلد دوم، ص ۷۹، ”مجموعہ

الہامات“ ”تذکرہ“ ص ۴۶۲، ط ۳ ربوہ)

(۱۶) خدائی تعلقات

صفحہ 365

انت منی بمنزلتہ ولدی تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۸۶ ”روحانی خزائن“ ص ۸۹‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

انت منی بمنزلتہ اولادی

(مرزا صاحب کا الہام منقول از احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن کا ماہواری ہینڈ بل‘ نمبر ۱۷

بعنوان ”تاویل المتشابہات فی تفسیر الالہامات“)

”اسمع ولدی اے میرے بیٹے سن!“

(”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ۴۹‘ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

یاقمر یاشمس انت منی وانا منک ”اے چاند اے سورج تو مجھ سے ظاہر ہو اور میں تجھ سے“۔

(”تذکرہ“ ص ۶۳۱‘ ط ۔ ۳ ”حقیقتہ الوحی“ ص ۷۴ ”روحانی خزائن“ ص ۷۷‘ ج ۲۲‘

مصنفہ مراز غلام احمد قادیانی صاحب)

انت منی وانا منک ظہورک ظہوری تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تیرا ظہور میرا ظہور ہے“۔

(الہام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ ”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ ”مجموعہ الہامات“

ص ۷۰۴‘ ط ۳‘ ربوہ)

انت منی بمنزلتہ بروزی اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میں ہی ظاہر ہو گیا یعنی تیرا ظہور بعینہ میرا ظہور ہو گیا۔

(مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا الہام مندرجہ ”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات و

مکاشفات مرزا صاحب ص ۵۴۵‘ ”تذکرہ“ ص ۶۰۴‘ ط ۳‘ ربوہ)

انت من ماء نا وهم من فشل تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ (بزدلی) سے

(”تذکرہ“ ص ۲۰۲ ”انجام آتھم“ ص ۵۵ ”روحانی خزائن“ ص ۵۵‘ ۵۶‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

یحمد اللہ من عرشہ ویمشی الیک خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے اور

صفحہ 366

تیری طرف چلا آتا ہے۔“

(”تذکرہ“ ص ۷۹‘ ط ۳‘ ”انجام آتھم“ ص ۵۵‘ ”روحانی خزائن“ ص ۵۵‘ ج ۱۱‘ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”خدا قادیان میں نازل ہو گا۔“

(”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ۵۶‘ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلی کان اللہ نزل من السماء ترجمہ :۔ ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں۔ جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا۔ گویا خدا ہی آسمان سے اتر آیا۔

(استفتاء ص ۸۵ ”روحانی خزائن“ ص ۱۷۲ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیان صاحب)

(۱۷) تو مجھ سے۔ میں تجھ میں سے

میں نے تجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا۔ تو بھی اس خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی‘ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا الہام‘ مندرجہ ”دافع البلاء“ ص ۸ ”روحانی خزائن“ ص

۲۲۸‘ ج ۱۸ مصنفہ مرزا صاحب)

(۱۸) آواہن

میرا لوٹا ہوا مال مجھے ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور تیری حفاظت کروں گا‘ یہ ہو گا‘ یہ ہو گا‘ یہ ہو گا اور پھر انتقال ہو گا۔ تیرے پر میرے کامل انعام ہیں۔۔۔۔ آواہن (خدا تیرے اندر اتر آیا) تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ”کتاب البریہ“ ص ۷۵ ۔ ۷۷ ”روحانی خزائن“ ص ۱۰۱ ۔

۱۰۲‘ ج ۱۳))

(۱۹) الہامی حمل

صفحہ 367

اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ۴ ص ۱۹ میں بابو الہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے یعنی ”بابو الہی بخش“ چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔ ایسا بچہ جو بہ منزلہ اطفال اللہ ہے۔

(تتمہ ”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۴۳، ”روحانی خزائن“ ص ۵۸۱‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

حضرت مسیح موعودؒ نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔

(ٹریکٹ نمبر ۳۴ اسلامی قربانی‘ ص ۱۲‘ مصنفہ قاضی یار محمد صاحب قادیانی مطبوعہ ریاض

ہند پریس امرتسر)

مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرا دیا گیا..... اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے..... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔

(کشتی نوح ص ۴۷ ”روحانی خزائن“ ص ۵۰ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اس بارہ میں قرآن شریف میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بہ طور پیش گوئی کے ہے‘ یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بہ جز میرے ہے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں۔ ضرور ہے کہ اس امت میں کوئی اس کا مصداق ہو اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بہ جز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔ پس یہ پیش گوئی سورہ تحریم میں خاص میرے لیے ہے اور وہ آیت یہ ہے و مریم ابنت عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا (سورہ تحریم)

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۳۷ ”روحانی خزائن“ ص ۳۵۰‘ ۳۵۱ ج ۲۲ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام

صفحہ 368

احمد قادیانی صاحب)

(۲۰) خدا کے دستخط

۱۰ جنوری ۱۹۰۶ء ایک رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو آئے ہیں اور ایک کاغذ پیش کیا کہ اس پر دستخط کر دو میں نے کہا میں نہیں کرتا انہوں نے کہا کہ پبلک نے کر دیے ہیں میں نے کہا میں پبلک میں نہیں یا کہا کہ پبلک سے باہر ہوں۔ ایک اور بات بھی کہنے کو تھا کہ کیا خدا نے اس پر دستخط کر دیے ہیں مگر یہ بات نہیں کی تھی کہ بیداری ہو گئی۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ”مکاشفات“ ص ۴۸ ”تذکرہ“ ص ۵۹۰ ’ط

۳‘ ربوہ)

(۲۱) خدا کی روشنائی کے دھبے

ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری غوث گڑھ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اول مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضاء وقدر کے اہل دنیا کی نیکی بدی کے متعلق اور نیز اپنے لیے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خدا تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی۔ اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اسی سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لیے مجھے جب کہ ان قطروں سے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی ساتھ ہی میں نے بہ چشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تر بہ تر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی ایسی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی، جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنی قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی ۔

صفحہ 369

(”تریاق القلوب“ ص ۳۳ ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۷ ج ۱۵، ”حقیقۃ الوحی“ ص ۲۵۵

”روحانی خزائن“ ص ۲۸۷ ج ۲۲ باختلاف الفاظ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۲) خدا کی انگریزی شان

ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں یہ الہام ہوا ”آئی لو یو“ یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں پھر یہ الہام ہوا۔ ”آئی ایم ود یو“ یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں‘ پھر الہام ہوا۔ ”آئی شل ہیلپ یو“ یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ (انگریزی محاورہ کی رو سے اگر آئی کے ساتھ شل کی جگہ ول ہوتا تو الہام اور بھی قوی ہو جاتا۔ للمولف) پھر الہام ہوا ”آئی کین وہاٹ آئی ول ڈو۔“ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا‘ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین وہاٹ وی ول ڈو“ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔

(”براہین احمدیہ“ ص ۴۸۰ ”روحانی خزائن“ حاشیہ در حاشیہ‘ ص ۵۷۱‘ ۵۷۲ ج اول مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۳) انگریزی فرشتہ

ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں میں ورشنی ہوں۔

(”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ص ۳۱‘

طبع اول‘ ص ۲۵‘ طبع ۳‘ بہ تبدیلی الفاظ)

(۲۴) گویا حضرت ملکہ معظمہ

رویا دیکھا کہ گویا حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سلمہا اللہ تعالیٰ ہمارے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں اسی اثناء میں‘ میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو جو میرے پاس بیٹھے ہیں‘ کہا کہ حضرت ملکہ معظمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ ہوئی ہیں اور دو روز قیام

صفحہ 370

فرمایا ہے۔ ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ارشاد‘ مندرجہ ”مکاشفات“ ص ۱۷‘ مؤلفہ بابو منظور الٰہی

صاحب قادیانی‘ ”تذکرہ“ ص ۴۳۳‘ طبع ۴)

(۲۵) دیکھ لیجئے

۸ دسمبر ۱۹۰۲ء دو شنبہ نماز عصر سے قبل حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے رویا سنائی کہ میں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر وضو کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ زمین پولی ہے اور اس کے نیچے ایک غار سی چلی جاتی ہے میں نے اس میں پاؤں رکھا تو دھنس گیا اور خوب یاد ہے کہ پھر میں نیچے ہی نیچے چلا گیا پھر ایک جست کرکے میں اوپر آگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول اور اس قدر بڑا جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر اور میں اس پر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر تیر رہا ہوں۔ سید محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے۔ میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے (شائد حضرت عیسیٰ بھی خواب ہی میں پانی پر چلتے تھے للمؤلف) حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے‘ نہ ہاتھ نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں‘ اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے تھے۔

(”مکاشفات“ ص ۲۷‘ مؤلفہ بابو منظور الٰہی صاحب قادیانی‘ ”تذکرہ“ ص ۴۳۵‘ طبع سوم)

(۲۶) انشا پردازی

یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشا پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیوں کہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔

(نزول مسیح ص ۵۷ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۴ ج ۱۸ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۷) الہامی شعر

صفحہ 371

کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا۔ وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اس کے منہ سے نکلتا ہے۔ جس کا آخر لفظ قعود اور سجود اور شہود وغیرہ آتا ہے۔ جیسے یہ مصرعہ تمام شب گزاریم در قیام و سجود۔

چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں، پھر آخر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے، مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا۔ وہ بہ طور الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ یہ ہے

طریق زہد و تعبد نہ دانم اے زاہد
خدائے من قدمم زاند براہ داؤد

(حیات احمد جلد دوم نمبر ۲ ص ۸۶ مؤلفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۲۸) الہامات کی زبان

اور یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیوں کہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔

(چشمہ معرفت ص ۲۰۹ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۸ ج ۲۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔

(نزول المسیح ص ۵۷ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۵ ج ۱۸ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بعد ہذا چوں کہ اس ہفتے میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں، مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض من جانب اللہ بہ طور ترجمہ الہام ہوا تھا اور

صفحہ 372

بعض کلمات شاید عبرانی ہیں ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے۔ تا بعد تنقیح جیسا کہ مناسب ہو اخیر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کئے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں اور وہ کلمات یہ ہیں پریشن، عمر پراطواس یا پلاطوس، یعنی پراطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ پراطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں، پھر دو لفظ اور ہیں ہوشعنا نفساً معلوم نہیں کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں اول عربی فقرہ ہے۔ یداود عامل بالناس رفقا و احساناً یوسٹ ڈو وہاٹ آئی ٹولڈ یو۔ تم کو وہ کرنا چاہیے جو میں نے فرمایا ہے یہ اردو عبارت بھی الہامی ہے پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں بلکہ ایک ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے۔ اس کو غور سے دیکھ لینا چاہئے اور وہ الہام یہ ہیں۔ دو ال من شل بی اینگری بٹ گاڈ از ود یو ہی شل ہیلپ یو واڑوس آف گاؤ ناٹ کین ایکس چینج۔

ترجمہ ۔ اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا‘ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کام بدل نہیں سکتے پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے۔ آئی شل ہیلپ یو مگر بعد اس کے یہ ہے۔ یو ہیو ٹو گو امرتسر پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے۔ ہی ہل ٹس ان دی ضلع پشاور یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تا اگر ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بہ موضع مناسب درج ہو سکیں۔

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد اول‘ ص ۶۸ - ۶۹‘ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۹) نیا اسم

انی انا الصاعقتہ (مرزا صاحب کا یہ الہام سن کر) مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ کا نیا اسم ہے آج تک کبھی نہیں سنا۔ حضرت اقدس (مرزا صاحب) نے فرمایا بے شک۔

صفحہ 373

(”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد‘ ص ۴۲۴‘ طبع اول‘

ص ۴۴۷‘ طبع ۳)

خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ یلاش خدا ہی کا نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا اس کے معنی میرے پر یہ کھولے گئے کہ یا لا شریک۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۱۰ ”روحانی خزائن“ ص ۲۰۳‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۴۰) انگریزی الہامات

میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ I Love You. میں تمہارے ساتھ ہوں۔ I am with you. ہاں میں خوش ہوں۔ Yes, I am happy. زندگی دکھ ہے۔ Life is pain. میں تمہاری مدد کروں گا۔ I shall help you. میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ I can, what I will do. ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے۔ We can, what will do. خدا تمہاری طرف ایک لشکر کے ساتھ چلا آتا God is coming by His army. ہے۔ وہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لیے تمہارے He is with you to kill enemy. ساتھ ہے۔ وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ The days shall come when God shall help you. خدائے ذوالجلال آفرینندہ زمین و آسمان Glory be to the Lord. God maker of earth and heaven

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۳۰۳ ”روحانی خزائن“ ص ۳۱۶‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد

صفحہ 374

(قادیانی صاحب)

تمہیں امرتسر جانا پڑے گا۔ ص ۳ You have to go to Amritsar. وہ ضلع پشاور میں ٹھہرتا ہے۔ ص ۴ He halts in the Zila Peshawar, ایک کلام اور دو لڑکیاں۔ ص ۱۰۶ Word and two girls معقول آدمی ص ۸۴ Fair man.

(”البشریٰ“ جلد دوم، مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

Though all men should he angry, hut God is with you.

He shall help you, words of God can not exchange.

اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے مگر خدا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری مدد کرے گا خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔

(”براہین احمدیہ“ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳، ص ۵۵۳ ”روحانی خزائن“ حاشیہ در حاشیہ ص ۶۶۱،

ج ۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اس کے بعد دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں۔“

I shall give you a large party of Islam

چوں کہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پورے معنی کھلے ہیں اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا۔

(”براہین احمدیہ“ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲، ص ۵۵۶ ”روحانی خزائن“ حاشیہ در حاشیہ ص ۶۶۴،

ج ۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۳۱) نرالی بشارت

جس دل پر در حقیقت آفتاب وحی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔ ”نزول المسیح“ ص ۸۹ ”روحانی خزائن“ ص ۳۷۷، ج ۱۸ لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبے سے کم تر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربانی ”نزول المسیح“ ص ۱۰۸ ”روحانی خزائن“ ص ۴۸۶، ج ۱۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

صفحہ 375

(۱) بشیر الدولہ (۲) عالم کباب (۳) شادی خان (۴) کلمتہ اللہ خاں (نوٹ از حضرت مسیح موعود) بہ ذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام ہوں گے یہ نام بہ ذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے۔

نوٹ۔ از مولف البشریٰ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہوگی۔ گو حضرت اقدس نے اس کا وقوعہ محمدی بیگم کے ذریعہ سے فرمایا تھا مگر چوں کہ وہ فوت ہوچکی ہے۔ اس لئے اب تخصیص نام نہ رہی۔ بہرصورت یہ پیش گوئی متشابہات میں سے ہے۔

(البشریٰ جلد دوم ۱۱۶ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مولفہ بابو منظور الٰہی

صاحب قادیانی لاہوری)

(۴۲) وحی الٰہی

پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لیے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔ اس لئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا‘ کیوں کہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کے لئے بشارت دے گا۔ اسی طرح اس کا نام عالم کباب ہوگا کیوں کہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمتہ اللہ اور کلمتہ العزیز ہوگا۔ کیوں کہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا۔ جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کے لئے اور نام بھی ہوں گے مگر بعد اس کے میں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے۔۔۔۔ یعنی خدا نے دعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے‘ اور یہ وحی الٰہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہوچکی ہے اور چوں کہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہوگئی۔ اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں ۱۷ جولائی ۱۹۰۶ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی۔۔۔۔ مگر یہ ضرور ہوگا کہ (کم) درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین

پر

صفحہ 376

نمونہ قیامت زلزلہ سے رکی رہے۔ جب تک کہ وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔ یاد رہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت کی نسبت تسلی دے دی..... اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامن گیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آگیا اور تاخیر کچھ اعتبار نہ ہوتا۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۰۰ ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ۱۰۳ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۳۳) قادیانی اسرار

اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء کی پیش گوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے۔.... ”اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔ ۲۸‘ ۲۷‘ ۱۴‘ ۷‘ ۱۰‘ ۲۸‘ ۱۱‘ ۴‘ ۲۱‘ ۱۵‘ ۲۳‘ ۱‘ ۲۸‘ ۲‘ ۲۶‘ ۲۴‘ ۷‘ ۲۸ ۳۴‘ ۱۴‘ ۷‘ ۱۱‘ ۵‘ ۲۸‘ ۷‘ ۳۳‘ ۱۱‘ ۲۳‘ ۴۳‘ ۱۴‘ ۱۱‘ ۵‘ ۲۸‘ ۷‘ ۱۴‘ ۳۴ ۱۶‘ ۱۱‘ ۳۴‘ ۷‘ ۲۸‘ ۱‘ ۱۴‘ ۳۱‘ ۵‘ ۱‘ ۲‘ ۷‘ ۱۴‘ ۱۱‘ والسلام علی من فھم اسرارنا وتبع الھدی الناصح المشفق خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ء مجموعہ اشتہارات ص ۳۰۱ ج۱

(اشتہار مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دوم‘ ص ۵‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی)

(۳۴) گپت الہام

۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ء ۲۱‘ ۲۸‘ ۷‘ ۱۴‘ ۴‘ ۲‘ ۲۶‘ ۲۴‘ ۱‘ ۲۸‘ ۲۳‘ ۱۵‘ ۱۱‘ ۴‘ ۲۱‘ ۷‘ ۱۴‘ ۱۱‘ ۲۸‘ ۷‘ ۲‘ ۱۴‘ ۳۴‘ ۱‘ ۵‘ ۲۳‘ ۳۳‘ ۱۱‘ ۳۴‘ ۴۳‘ ۱۴‘ ۷‘ ۲۸‘ ۱۰‘ ۱۴‘ ۷ ۱‘ ۳۱‘ ۵‘ ۲۸‘ ۱۴‘ ۳۱‘ ۵‘ ۱‘ ۲‘ ۷‘ ۱۴‘ ۱۱‘ ۳۴ ۱۔ ۳۴‘ ۷‘ ۲۸‘ ۵‘ ۱۱‘ ۱۴‘ ۱‘ ۳۱

(”بشریٰ“ جلد دوم‘ ص ۱۷‘ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ”مجموعہ

صفحہ 377

اشتہارات ”ص ۳۰۱‘ ج۱)

(۳۵) پتھر کی بھینس

مجھے ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۱۶ھ جمعہ کی رات کو جس میں انتشار روحانیت مجھے محسوس ہوتا تھا اور میرے خیال تھا کہ یہ لیلتہ القدر ہے اور آسمان سے نہایت آرام اور آہستگی سے مینہ برس رہا تھا۔ ایک رؤیا ہوا یہ رؤیا ان کے لئے ہے جو ہماری گورنمنٹ عالیہ کو ہمیشہ میری نسبت شک میں ڈالنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی نے مجھ سے درخواست کی ہے۔ اگر تیرا خدا قادر خدا ہے تو اس سے درخواست کر کہ یہ پتھر جو تیرے سر پر ہے۔ بھینس بن جائے۔ تب میں نے دیکھا کہ ایک وزنی پتھر میرے سر پر ہے جس کو کبھی میں پتھر اور کبھی لکڑی خیال کرتا ہوں۔ تب میں نے یہ معلوم کرتے ہی اس پتھر کو زمین پر پھینک دیا‘ پھر بعد اس کے میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ اس پتھر کو بھینس بنا دیا جائے اور میں اس دعا میں محو ہو گیا۔ جب بعد اس کے میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتھر بھینس بن گیا ہے۔ سب سے پہلے میری نظر اس کی آنکھوں پر پڑی اس کی بڑی روشن اور لمبی آنکھیں تھیں تب میں یہ دیکھ کر کہ خدا نے پتھر کو جس کی آنکھیں نہیں تھیں ایسی خوبصورت بھینس بنا دیا۔ جس کی ایسی لمبی اور روشن آنکھیں ہیں اور خوبصورت اور مفید جان دار ہے۔ خدا کی قدرت کو یاد کر کے وجد میں آگیا اور بلا توقف سجدہ میں گرا۔

(”حقیقتہ المہدی“ ص ۱۰ ”روحانی خزائن“ ص ۴۴۳۔۴۴۴، ج ۱۴ ”تذکرہ“ ص ۳۲۸‘

طبع ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۳۶) بندر اور سور

تب آپ نے (یعنی مخالف نے) ”نزول المسیح“ میں سے حضرت مرزا صاحب کا وہ رؤیا پڑھا جس میں حضور نے لکھا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں ایک جنگل میں ہوں اور میرے اردگرد بہت سے درندے بندر اور سور وغیرہ ہیں اور اس سے استدلال یہ کیا کہ یہ احمدی جماعت کے لوگ ہیں۔

(قادیانی اخبار ”پیغام صلح“ لاہور ج ۲۲‘ نمبر ۲۱‘ ص ۱۵‘ ۷ اپریل ۱۹۳۴ء)

صفحہ 378

(۳۷) بلی کو پھانسی

میں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے اور گویا کہ ایک کبوتر ہمارے پاس ہے‘ وہ اس پر حملہ کرتی ہے بار بار ہٹانے سے باز نہیں آتی تو آخر میں نے اس کا ناک کاٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے‘ پھر بھی باز نہ آئی تو میں نے اسے گردن سے پکڑ کر اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا۔ بار بار رگڑتا تھا لیکن پھر بھی سر اٹھاتی جاتی تھی تو آخر میں نے کہا کہ آؤ اسے پھانسی دے دیں۔

(”تذکرہ“ ص ۴۸۳‘ طبع ۳‘ ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ”مکاشفات“ ص

۳۳‘ مولفہ بابو منظور الہی صاحب قادیانی)

(۳۸) ہندوؤں کا خواب

ہندوؤں کے بارے میں فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم گیر طوفان وبا (طاعون) میں یہ ہندوؤں کی قوم بھی اسلام کی طرف توجہ کرے گی‘ چنانچہ جب ہم نے باہر مکان بنوانے کی تجویز کی تھی تو ایک ہندو نے ہم کو آکر کہا تھا کہ ہم تو اپنی قوم سے علیحدہ ہو کر آپ ہی کے پاس باہر رہا کریں گے‘ اسی طرح دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے سامنے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور پھر ہمارے سامنے نذریں رکھتے ہیں‘ پھر ایک دفعہ الہام ہوا‘ ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما و تیری استتی گیتا میں موجود ہے لفظ رودر کے معنی نذیر اور گوپال کے معنی بشیر کے ہیں۔

(”ملفوظات“ ص ۲۷۰-۲۷۱‘ ج ۳‘ ربوہ ”ملفوظات احمدیہ“ حصہ چہارم‘ ص ۴۳‘ مرتبہ

محمد منظور الہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۳۹) خواب خرگوش

(غالباً) نومبر ۱۹۰۶ء میں رویا دیکھا کہ میں گھوڑے پر سوار ہوں اور کسی طرف جا رہا ہوں اور جاتے ہوئے آگے بالکل تاریکی ہو گئی تو میں (یعنی مرزا صاحب) واپس آگیا اور میرے ساتھ کچھ عورتیں بھی ہیں۔ واپس آتے ہوئے بھی گردو غبار کے سبب بہت تاریکی

صفحہ 379

ہو گئی اور گھوڑے کی باگ کو میں نے ٹٹول کر ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔ چند قدم چل کر روشنی ہو گئی۔ آگے دیکھا کہ ایک بڑا چبوترہ ہے اس پر اتر پڑا وہاں چند ایک لڑکے ہیں، انہوں نے شور مچایا کہ مولوی عبد الکریم آگئے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب آرہے ہیں۔ ان کے ساتھ میں نے مصافحہ اور السلام علیکم کہا۔ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے ایک چیز نکال کر مجھے بطور تحفہ دی اور کہا بشپ جو پادریوں کا افسر ہے وہ بھی اسی سے کام چلاتا ہے، وہ چیز اس طرح سے ہے۔ جیسے کہ خرگوش ہوتا ہے۔ بادامی رنگ۔ اس کے آگے ایک بڑی نالی لگی ہوئی ہے اور نالی کے آگے ایک قلم لگا ہوا ہے۔ اس نالی کے اندر ہوا بھری جاتی ہے۔ جس سے قلم بغیر محنت بہ آسانی چلنے لگتا ہے۔ میں نے کہا میں نے تو یہ قلم نہیں منگوایا۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب نے منگوایا ہوگا۔ میں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو دے دوں گا۔ اس کے بعد بیداری ہو گئی۔

(”تذکرہ“ ص ۶۸۰ - ۶۸۱ طبع ۴، اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۱۶، نمبر ۲۱، ص ۱۰، مورخہ ۱۱

ستمبر ۱۹۲۸ء)

(۴۰) ہاتھی سے فرار

رویا۔ مرزا صاحب نے فرمایا ہم ایک جگہ جا رہے ہیں ایک ہاتھی دیکھا اس سے بھاگے اور ایک اور کوچہ میں چلے گئے۔ لوگ بھی بھاگے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ہاتھی کہاں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور کوچہ میں چلا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک نہیں آیا۔

پھر نظارہ بدل گیا، گویا گھر میں بیٹھے ہیں۔ قلم پر میں نے دو نوک لگائے ہیں۔ جو ولایت سے آئے ہیں، پھر میں کہتا ہوں یہ بھی نامرد ہی نکلا۔ اس کے بعد الہام ہوا ان اللہ عزیز ذو انتقام۔

(”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ص ۴۷۰، طبع

اول، ص ۵۰۴، ط ۳)

صفحہ 380

(۴۱) شیر کا شکار

”مرزا صاحب نے فرمایا میں نے دیکھا کہ زار روس کا سوٹا میرے ہاتھ آ گیا ہے۔ وہ بڑا لمبا اور خوبصورت ہے پھر میں نے غور سے دیکھا تو وہ بندوق ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بندوق ہے بلکہ اس میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں گویا بظاہر سوٹا معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ بندوق بھی ہے۔

اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بو علی سینا کے وقت میں تھا۔ ان کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے۔ بو علی سینا بھی میرے پاس ہی کھڑا ہے۔ اور اس تیر کمان سے ایک شیر کو بھی شکار کیا (یہ مرزا صاحب کی کشفی تاریخ ہے۔ ورنہ شیخ بو علی سینا ۴۲۸ھ میں وفات پا چکا تھا اور خوارزم شاہی سلطنت کے ساتوں بادشاہوں کی حکومت کل مدت ۴۹۰ھ سے ۶۲۸ھ تک ہے للمولف)

(”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ص ۴۲۹ طبع‘ ص

۴۵۸‘ طبع ۳ (باختلاف الفاظ)

(۴۲) موسیٰ کا تخیل

دیکھا کہ میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔ نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے۔ اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے و گاڑیوں و رتھوں۔ وغیرہ کے ہے۔ اور وہ ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔ میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں۔ اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ہم پکڑے گئے تو میں نے بلند آواز سے کہا۔ کلا ان معی ربی سیھدین اتنے میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔

(”تذکرہ یعنی وحی مقدس“ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ص

۴۲۹ طبع اول‘ ص ۴۵۴ طبع ۳

صفحہ 381

(۴۳) خاکسار پیپر منٹ

ہفتہ مختتمہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء میں حالت کشفی میں جب کہ حضور (مرزا صاحب) کی طبیعت ناساز تھی۔ ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا ”خاکسار پیپر منٹ“

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء‘ مجموعہ مکاشفات مرزا حصہ‘ ص ۴۸‘ مولفہ

منظور الٰہی قادیانی‘ ”تذکرہ“ ص ۲۷۵‘ طبع ۳)

(۴۴) کولا وائن

۵ مئی ۱۹۰۶ء رویا۔ ایک شخص نے ایک دوائی کولا وائن کی ایک بوتل دی جو سرخ رنگ کی دوائی ہے اور بوتل بند کی ہوئی ہے اور اس پر رسیاں لپٹی ہوئی ہیں۔ ظاہر دیکھنے میں تو بوتل ہی نظر آتی ہے۔ مگر جس شخص نے دی ہے وہ یہ کہتا ہے کہ یہ کتاب دیتا ہوں۔

(”مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے مکاشفات“ ص ۵۲‘ ”تذکرہ“ ص ۶۱۲‘ طبع ۳)

(۴۵) درد دندان

نشان (نبوت) ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی ایک دم قرار نہ تھا۔ کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج بھی ہے۔ اس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دنداں۔ اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا تب اس وقت مجھے غنودگی آگئی۔ اور میں زمین پر بے تابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور چارپائی پاس بچھی تھی۔ میں نے بے تابی کی حالت میں اس چارپائی کی پائنتی پر اپنا سر رکھ دیا تھا۔ اور تھوڑی سی نیند آگئی۔ جب میں بیدار ہوا تو درد کا نام و نشان نہ تھا۔ اور زبان پر یہ الہام جاری تھا۔ واذا مرضت فہو یشفین۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۲۳۵ ”روحانی خزائن“ ص ۲۴۶‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 382

(۴۶) عدالتی الہام

ایک دفعہ جب میں گورداسپور میں ایک فوجداری کے مقدمہ کی وجہ سے جو کرم دین جہلمی نے میرے پر دائر کیا تھا۔ موجود تھا مجھے الہام ہوا یسئلونک عن شانک قل اللہ ثم ذرہم فی خوضہم یلعبون یعنی تیری شان کے بارے میں پوچھیں گے۔ کہ تیری کیا شان اور کیا مرتبہ ہے۔ کہہ وہ خدا ہے۔ جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔ پھر ان کو اپنی لہو و لعب میں چھوڑ دے سو میں نے یہ الہام اپنی اس جماعت کو جو گورداسپور میں میرے ہم راہ تھی جو چالیس آدمی سے کم نہیں ہوں گے سنا دیا..... پھر بعد اس کے جب ہم کچہری میں گئے۔ تو فریق ثانی کے وکیل نے مجھ سے یہی سوال کیا۔ کہ کیا آپ کی شاں اور آپ کا مرتبہ ایسا ہے جیسا کہ تریاق القلوب کتاب میں لکھا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں خدا کے فضل سے یہی مرتبہ ہے اسی نے یہ مرتبہ مجھے عطا کیا ہے۔ تب وہ الہام جو خدا کی طرف سے صبح کے وقت ہوا تھا۔ قریبا عصر کے وقت پورا ہو گیا۔ اور ہماری تمام جماعت کے زیادت ایمان کا موجب ہوا۔ (حقیقۃ الوحی ۲۶۶ روحانی خزائن ص ۲۷۸-۲۷۷‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴۷) بیداری اور خواب

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے دشمنوں کی طرف سے چھ مقدمات پیش آئے۔ چار فوجداری۔ ایک دیوانی اور ایک مالی..... اور یہ مقدمات ان مقدمات کے علاوہ ہیں جو جائداد وغیرہ کے متعلق دادا صاحب (مرزا صاحب کے والد) کی زندگی میں اور ان کے بعد پیش آتے رہے۔

("سیرت المہدی" حصہ اول ۲۲۳ روایت ۲۴۲ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

۱۳؍ مئی ۱۹۰۵ خواب میں دیکھا جیسا ہم ایک عدالت میں ہیں اور ایک مقدمہ ہے۔ شبہ گزرتا ہے کہ مجسٹریٹ ایک شخص ڈپٹی قائم علی ہے۔ اور اس کے سر رشتہ دار ہمارے بھائی غلام قادر مرحوم ہیں۔ اور ہم تینوں ایک ہی جگہ بیٹھے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم مدعی ہیں اور اور مدعا علیہ کو بلوانا ہے۔ مجسٹریٹ نے سر رشتہ دار کے کان میں کچھ کہا جس کو ہم نے بھی سن لیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ پچیس روپیہ طلبانہ داخل

صفحہ 383

کردیں۔ اور فریق ثانی کو بلوایا جاوے۔ ہم نے جیب سے پچیس روپیہ دے دیئے اور فریق مخالف کو طلب کیا گیا۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ مکاشفات ص ۴۰ مولفہ بابو منظور الٰہی

صاحب قادیانی تذکرہ ص ۵۴۸ طبع ۳)

یہ خواب آئی میں نے دیکھا کہ عبداللہ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کر کے کہتا ہے کہ اس کاغذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔ دستخط نہیں ہوتے۔ اس وقت میں نے عبداللہ کے چہرے کی طرف دیکھا تو زرد رنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرے پر ٹپک رہی ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ یہ لوگ روکھے ہوتے ہیں۔ نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت۔ میں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔ آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کر رہا ہے۔ اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تامل اسی وقت لے کر دستخط کر دیئے۔ پھر میں نے واپس آکر وہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا خبردار ہوش سے پکڑو ابھی دستخط گیلے ہیں اور پوچھا کہ عبداللہ کہاں ہے انہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔ بعد اس کے آنکھ کھل گئی۔ اور ساتھ پھر غنودگی کی حالت ہو گئی تب میں نے دیکھا کہ اس وقت میں کہتا ہوں مقبول کو بلاؤ۔ اس کے کاغذ پر دستخط ہو گئے ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ مکاشفات ۴۳ مولفہ بابو منظور الٰہی صاحب

قادیانی، تذکرہ ۵۶۱۔ ۵۶۰ طبع سوم)

۱۷۔۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء کی درمیانی شب رؤیا دیکھا کہ ایک سپاہی وارنٹ لے کر آیا ہے۔ اور اس نے میرے ہاتھ پر ایک رسی سی لپیٹی ہے تو میں اسے کہہ رہا ہوں کہ یہ کیا ہے مجھے تو اس سے ایک لذت اور سرور آ رہا ہے۔ وہ لذت ایسی ہے کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اسی اثنا میں میرے ہاتھ میں معاً ایک پروانہ دیا گیا ہے کسی نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالت سے آیا ہے وہ پروانہ بہت ہی خوشخط لکھا ہوا تھا۔ اور میرے بھائی مرزا غلام

صفحہ 384

قادر صاحب مرحوم کا لکھا ہوا تھا میں نے اس پروانہ کو جب پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا۔ عدالت عالیہ نے اسے بری کیا ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ مکاشفات ص ۲۱ مولفہ بابو منظور الٰہی صاحب

قادیانی) تذکرہ ص ۴۱۴ طبع ۳)

خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دوکاندار کی طرف میں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی۔ کہ وہ ایک عمدہ اور خوش بودار چیز بھیج دے اسی نے قیمت رکھ کر ایک بدبودار چیز بھیج دی۔ وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا۔ اور میں نے کہا جاؤ۔ دوکان دار کو کہو کہ وہی چیز دے ورنہ میں اس دغا کی اس پر نالش کروں گا۔ اور پھر عدالت سے کم سے کم چھ ماہ کی اس کو سزا ملے گی۔ اور امید تو زیادہ کی ہے تب دوکان دار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ میرا کام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے۔ اس کا اثر میرے دل پر پڑ گیا۔ اور میں بھول گیا اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ مکاشفات ص ۱۰ مولفہ بابو منظور الٰہی صاحب

قادیانی تذکرہ ص ۲۳۱ طبع ۳)

۲۸۔ مئی ۱۹۰۵ء۔ رؤیا شیخ رحمت اللہ صاحب کی ایک گھڑی میرے پاس ہے۔ اور ایک ایسی چیز جیسے ترازو کے دو پلڑے ہوتے ہیں۔ مثل جمیوروں کی بھینگی کے۔ میں ایک ڈولی میں بیٹھا ہوا ہوں پھر کسی نے میاں شریف احمد کو اس میں بٹھادیا۔ اور اس کو چکر دینا شروع کیا اتنے میں گھڑی گر گئی اور اس جگہ قریب ہی گری ہے میں کہتا ہوں اس کو تلاش کرو ایسا نہ ہو کہ محمد حسین نالش کردے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ارشاد مندرجہ مکاشفات مرزا صاحب ص ۴۱ مرتبہ منظور

الٰہی صاحب‘ تذکرہ ص ۵۵۲ طبع ۳)

(۴۸) ایک اہلکار

حضرت مرزا صاحب سیالکوٹ میں جاکر اہلمد متفرقات کی اسامی پر ملازم ہوئے۔ یہ ۱۸۶۸ء تک کا واقعہ ہے۔.... دنیا کے تمام علاقوں میں سے سیالکوٹ کے علاقہ ہی کو یہ عزت حاصل ہوئی کہ آپ نے وہاں اپنی عمر کے چند سال بطور ایک اہلکار کے

صفحہ 385

گزارے۔۔۔۔۔ لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا ڈپٹی مکھن لعل صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھے ان کے بڑے رفیق تھے۔

(حیاۃ النبی ۵۸۔۵۹ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۴۹) محافظ دفتر

ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالیشان حاکم یا بادشاہ کا ایک خیمہ لگا ہوا ہے اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہو رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ دفتر کا عہدہ رکھتا ہے۔ اور جیسے دفتروں میں مثلیں ہوتی ہیں۔ بہت سی مثلیں پڑی ہوئی ہیں۔ اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ دفتر کی طرح ہے۔ اتنے میں ایک اردلی دوڑتا ہوا آیا۔ کہ مسلمانوں کی مثل پیش ہونے کا حکم ہے۔ وہ جلد نکالو۔

(تذکرہ یعنی مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ص ۵۹ تذکرہ

ص ۶۱۔ ۶۰ طبع ۳

(۵۰) مرزا حاضر ہے

میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں دیکھا تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سر رشتہ دار ہے۔ کہ ہاتھ میں ایک مثل لئے ہوئے پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مثل اٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی اس نے مجھے کہا اس پر بیٹھو اور اس نے مثل ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ارشاد مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۰۳ء ملفوظات ص ۵۲‘ ج ۵

مندرجہ مکاشفات ۲۸۔۲۹ مولفہ منظور الٰہی صاحب قادیانی)

(۵۱) خدائی لیڈر

مولوی عبد الکریم صاحب جب گھر آئے تو انہوں نے غیرت کے جوش میں اپنی بیوی کو بہت کچھ سخت سست کہا۔ حتیٰ کہ ان کی یہ غصہ کی آواز نیچے مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 386

نے اپنے مکان میں بھی سن لی۔ چنانچہ اس واقعہ کے متعلق اسی شب حضرت (مرزا) صاحب کو یہ الہام ہوا کہ یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو۔ لطیفہ یہ ہوا کہ صبح مولوی صاحب مرحوم تو اپنی اس بات پر شرمندہ تھے اور لوگ انہیں مبارک بادیں دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلمانوں کا لیڈر رکھا ہے۔

(سیرۃ المہدی، حصہ دوم، ص ۷۸، روایت ۴۰۸، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب)

(۵۲) اکیس اکیس اکیس

رویا میں میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو دیکھا اور فوت شدہ خیال کر کے ان سے کہا کہ میری عمر اتنی ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیل دار۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ غیر متعلق بات کیوں کرتے ہیں۔ جس امر کے لئے کہا ہے اس کے لئے دعا کریں تو انہوں نے سینہ تک ہاتھ اٹھائے مگر آگے نہ اٹھائے اور کہا اکیس اکیس اکیس اور یہ ہی کہتے ہوئے چلے گئے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ارشاد مندرجہ رسالہ صادقوں کی روشنی ص ۴ مصنفہ

میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۵۳) ایک بزرگ سے کشتم کشتا

ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر دعائیں مانگ رہا تھا۔ اور وہ بزرگ ہر ایک دعا پر آمین کہتے جاتے تھے۔ اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بھی بڑھالوں تب میں نے دعا کی میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے۔ اس پر اس بزرگ نے آمین نہ کہی۔ تب اس صاحب بزرگ سے بہت کشتم کشتا ہوا۔ تب اس مردے نے کہا مجھے چھوڑ دو میں آمین کہتا ہوں۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور دعا مانگی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے۔ تب اس بزرگ نے آمین کہی۔ (لیکن افسوس کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ پانچ سال کے بعد ۱۹۰۸ میں مرزا صاحب فوت ہو گئے۔ شاید بزرگ صاحب نے آمین دل سے نہ کہی ہو۔ للمؤلف)

(کشف مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار الحکم ۱۷۔۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء ایضاً)

صفحہ 387

مکاشفات ص ۴۳ باختلاف الفاظ مولفہ منظور الٰہی صاحب قادیانی) ایضاً باختلاف الفاظ تذکرہ ص ۴۹۷‘ طبع ۳

(۵۴) عمر کی بشارت

میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔

(کتاب البریہ حاشیہ ۱۴۶ روحانی خزائن حاشیہ ص ۱۷۷ ج ۱۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔ کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ۲۵۶ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ روایت نمبر ۲۸۳)

۱۶ر مئی ۱۹۰۱ء اللہ تعالیٰ حاضر ہے میں سچ کہوں گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔ (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا بیان جو آپ نے عدالت گورداسپور میں بطور گواہ مدعا علیہ مرزا نظام الدین کے مقدمہ میں دیا) مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۵‘ نمبر ۲۹ منقول از منظور الٰہی ص ۲۴۱‘ منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

وارادوا موتنا واشا عولہ خبرا فبشرنا ربنا بثمانين سنتہ من العمر وهو اکثر عمرا ۔ و موت ما خوا ستند در آں پیش گوئی کردند پس خدا ما‘ را بشارت ہشتاد سال عمر داد۔ بلکہ شاید ازیں زیادہ (یعنی بشارت ہوئی کہ عمر اسی سال ہو گی یا اس سے زیادہ)

(مواہب الرحمٰن‘ ص ۲۱‘ روحانی خزائن ص ۲۳۹‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(م) چونکہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تب ہی جلد مر گیا۔ اس لئے پہلے ہی سے اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ ثمانین حولا اوقریبا من ذالک او نزيد عليه سنينا وترى نسلا بعيدا یعنی تیری عمر اسی برس کی ہو گی۔ یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا۔ کہ

صفحہ 388

ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا۔ اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے (یعنی قریبا ۱۸۶۵ء میں لیکن درحقیقت مرزا قادیانی صاحب نے صرف (۶۸) سال عمر پائی اندازہ غلط نکلا اللہ تعالیٰ کو فضول بیچ میں ڈالا۔ للمولف برنی)

(تذکرہ ص ۵ بحوالہ اربعین ۳‘ ص ۲۹-۳۰‘ روحانی خزائن‘ ص ۴۱۹-۴۱۸‘ ج ۱۷)

(۴) اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء میں چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا۔ اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے (لیکن تعجب کہ مئی ۱۹۰۸ء میں انتقال ہو گیا اور مخالفین کی بات سچی نکلی۔ للمولف برنی)

(مرزا قادیانی کا اشتہار بنام تبصرہ‘ مورخہ ۵ر نومبر ۱۹۰۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت‘ ج ۱۰‘

ص ۱۳۱‘ مجموعہ اشتہارات ص ۵۹۱‘ ج ۳)

(لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب نے مئی ۱۹۰۸ء میں وفات پائی گویا فی الحقیقت صرف اڑسٹھ سال عمر ہوئی۔ للمولف)

(۵۵) پیش گوئیاں

"اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افترا کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھیرے گئے ہیں۔ تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیاں پر جس قدر اعتراضات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبروں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا اور پیش گوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑیں گے۔

(ازالہ اوہام‘ ص ۷‘ روحانی خزائن‘ ص ۱۰۵-۱۰۶‘ ج ۳)

اس درماندہ انسان (مسیح) کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی

صفحہ 389

پیش گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس ناداں اسرائیل نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۴ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۸۸ ج ۱۱ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں کہ زلزلے آویں گے وباء پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی یہ ہو گا وہ ہو گا۔

(براہین احمدیہ ص ۴۶۸ روحانی خزائن ص ۵۵۸-۵۵۹' ج ۱ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اور یہ سب خبریں ایسی ہیں جن کے ساتھ اقتدار اور قدرت الوہیت شامل ہے یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف ایسی ہی خبریں ہوں کہ زلزلے آویں گے۔ قحط پڑیں گے۔ قوم پر قوم چڑھائی کرے گی۔ وبائیں پھیلیں گی مری پڑے گی وغیرہ وغیرہ۔

(براہین احمدیہ' ص ۲۵۵' ۲۴۵' روحانی خزائن ص ۷۱' ج ۱)

میرے پر خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا تھا کہ سخت بارشیں ہوں گی اور گھروں میں ندیاں چلیں گی اور بعد اس کے سخت زلزلے آئیں گے۔ چنانچہ ان بارشوں سے پہلے وہ وحی الٰہی بدر اور الحکم میں شائع کر دی گئی تھی۔ چنانچہ ویسا ہی ظہور میں آیا۔ اور کثرت بارشوں سے کئی گاؤں ویران ہو گئے اور وہ پیش گوئی پوری ہو گئی۔ مگر دوسرا حصہ اس کا یعنی سخت زلزلے ابھی ان کی انتظار ہے۔ سو منتظر رہنا چاہیے۔

("حقیقۃ الوحی" ص ۳۶۴ روحانی خزائن ص ۳۷۸' ج ۲۲)

(۵۶) طاعون کا حکم

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے) فرمایا رات کو میں نے ایک خواب دیکھی۔ کہ ایک شخص نے مجھے ایک پروانہ دیا ہے۔ وہ لمبا سا کاغذ ہے۔ میں نے پڑھا تو لکھا ہوا تھا۔ کہ عدالت سے چار جگہ کے لئے طاعون کا حکم جاری کیا گیا ہے اس پروانہ سے پایا جاتا ہے۔

صفحہ 390

کہ اس کا اجرا میں نے کیا ہے۔ جیسے کاغذات محافظ دفتر کے پاس ہوتے ہیں ویسے ہی وہ میرے پاس ہے۔ میں نے کہا کہ یہ حکم ایک عرصہ سے ہے اور اس کی تعمیل آج تک نہ ہوئی۔ اب میں اس کا کیا جواب دوں گا۔ اس سے مجھے ایک خوف طاری ہوا اور تمام رات میں اسی خرخشہ میں رہا اور اس پر روشن خط میں لفظ طاعون کا لکھا تھا۔ گویا حکم میرے نام آنا ہے۔

(مکاشفات ص ۳۰ مولفہ بابو منظور الٰہی صاحب قادیانی) تذکرہ ص ۴۶۵ طبع ۳)

(۵۷) طاعون کی آمد

(نبوت کا) چھیالیسواں نشان یہ ہے کہ اس زمانے میں جب کہ بہ جز ایک مقام کے پنجاب کے تمام اضلاع میں طاعون کا نام و نشان نہ تھا۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی کہ تمام پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی۔ اور ہر ایک مقام طاعون سے آلودہ ہو جائے گا۔ اور بہت مری پڑے گی اور ہزار ہا لوگ طاعون کا شکار ہو جائیں گے۔ اور کئی گاؤں ویران ہو جائیں گے۔ اور مجھے دکھایا گیا کہ ہر ایک جگہ اور ہر ایک ضلع میں طاعون کے سیاہ درخت لگائے گئے ہیں۔ چنانچہ یہ پیش گوئی کئی ہزار اشتہار اور رسالوں کے ذریعہ سے میں نے اس ملک میں شائع کی پھر تھوڑی مدت کے بعد ہر ایک ضلع میں طاعون پھوٹ پڑی۔

(حقیقۃ الوحی ص ۲۲۰ روحانی خزائن ص ۲۳۰، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام قادیانی صاحب)

(۵۸) قادیانی زلزلہ

مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر ملی کہ ایک زلزلہ اور آنیوالا ہے جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔ اس خبر کے سنتے ہی میرے بدن پر لرزہ پڑ گیا.... مجھے اب تک قطعی طور پر یہ بھی معلوم نہیں کہ اس زلزلہ سے در حقیقت ظاہری زلزلہ مراد ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے۔ جو زلزلے کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔ بہر حال اس سے خوف کرنا لازم اور احتیاط کرنا ضروری سمجھ کر میں اب تک خیموں میں باہر جنگل میں گزارہ کرتا ہوں اور خیموں کے خریدنے اور عمارتوں کے بنانے میں ایک ہزار روپیہ کے قریب ہمارا خرچ بھی ہو چکا ہے۔ اور اس قدر خرچ کون اٹھا سکتا ہے۔ بہ جز اس کے کہ جو سچے دل سے آنے والے حادثہ

صفحہ 391

پر یقین رکھتا ہے۔ مجھے بعد میں زلزلہ کی نسبت یہ بھی الہام ہوا تھا کہ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی مجھے اس پر غور کرنے سے اجتہادی طور پر خیال گزرتا ہے۔ کہ ظاہر الفاظ وحی الہی کے یہ معنی چاہتے ہیں کہ یہ پیش گوئی بہار کے ایام میں پوری ہوگی۔ شاید ان تحریکات کے لئے بہار کے ایام کو کچھ خصوصیت ہو اور ممکن ہے کہ اس وحی کے اور معنی ہوں اور بہار سے مراد کچھ اور ہو۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مورخہ ۱۱؍مئی ۱۹۰۵ء مجموعہ اشتہارات ص ۵۳۸‘

۵۳۹ ج ۳ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دہم ۹۶۔۹۷ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی)

موعودہ قیامت خیز زلزلہ کا مرزا صاحب کو آخر عمر تک انتظار رہا۔ مگر شاید بھول میں پڑ گیا۔ نہ آیا اور مرزا صاحب فوت ہو گئے۔ اس کے بعد ۱۹۱۴ء میں جب یورپ کی جنگ عظیم چھڑی تو میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کو من مانا موقع مل گیا۔ اور شدومد سے اعلان ہوا کہ :

اس پیش گوئی میں زلزلے کا لفظ ہے۔ لیکن اس سے مراد جنگ عظیم تھی..... جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیش گوئی کو شائع کیا۔ تو اس وقت یہ نوٹ بھی لکھ دیا کہ گو ظاہر الفاظ زلزلے ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مگر ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو۔ بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلا دے۔

(دعوة الامیر ص ۲۳۱۔۲۳۲‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

لیکن قادیانی صاحبان کی توجیہات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ دفعہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۳۴ء کو صوبہ بہار میں زلزلہ آیا تو وہ اسی پیش گوئی کا مصداق قرار پایا۔ اور اب ۳۱؍مئی ۱۹۳۵ء کے کوئٹہ کے زلزلے پر بھی خوشی منائی جا رہی ہے۔ کہ ”یہ ایک تازہ نشان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا“۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۱۸۱‘ ص ۱‘ مورخہ ۵؍جون ۱۹۳۵)

(۵۹) زلزلے کے معنی

(مرزا صاحب کے) ایک صحابی نے خواب سنایا جس میں دیکھا کہ زلزلہ آیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) نے فرمایا یہی طاعون زلزلہ ہے۔

صفحہ 392

(اخبار البدر جلد اول نمبر ۹۰)

جب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم الشان زلزلہ یعنی جنگ عظیم کی خبر دی گئی۔ تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا اس سے مراد ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلا دے جس کی نظیر کبھی اس زمانے نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے جس سے معلوم ہوتا ہے زلزلہ سے مراد سخت تباہی مچانے اور ہلا دینے والی آفت ہوتی ہے جیسے طاعون یا جنگ اور بعض دفعہ ظاہری زلزلہ بھی۔

(اخبار الفضل قادیان، جلد ۱۹، نمبر ۱۴۸ مورخہ ۴؍ جون ۱۹۳۲)

(۶۰) مرزا صاحب کی دلیل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے) آیت وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا کو اپنی صداقت کی دلیل ٹھہرا کر اپنا رسول ہونا تحریر فرمایا ہے۔ اور یورپ اور امریکہ اور اٹلی وغیرہ میں زلازل اور طوفانوں کے آنے کا باعث بھی اپنی بعثت ٹھہرائی ہے۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) اس امر کو مذہب کا کھیل بنانا قرار دیتے ہیں۔ اور یہ لکھ کر کہ اگر یورپ اور اٹلی وغیرہ میں عذابوں کا آنا کسی نئے رسول کے آنے کی وجہ سے ہے۔ تو اسے (یعنی رسول کو) ہندوستان میں نہیں بلکہ یورپ و اٹلی میں آنا چاہیے تھا۔ صریح طور پر حضرت اقدس (مرزا صاحب) کی تکذیب کی ہے۔ اور ان کا یہ اعتراض بعینہ وہی ہے۔ جو ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد نے (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے جو مدتوں مرزا صاحب کے معتقد اور مرید رہے۔ لیکن بالآخر اصلیت سمجھ کر بہ توفیق الٰہی قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے۔ للمولف) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کیا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ :

زلزلہ سان فرانسسکو میں آئے یا فارموسا میں یا کولمبیا میں یا اٹلی میں کہیں طاعون ہو۔ کہیں کالرا پھیلے۔ اس کو تکذیب مرزا کا نتیجہ بتلایا جائے۔ کیا دنیا میں سوائے اس ایک جرم کے اور کوئی جرم جناب خداوندی میں قابل سزا نہیں رہا۔

(الذکر الحکیم نمبر ۴، ص ۴۸ مرتبہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب مطبوعہ عزیزی و منکرین خلافت کا

صفحہ 393

(انجام ص ۹۰ مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی)

جو لوگ ان الفاظ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ دنیا میں کبھی کوئی عذاب نہیں آتا۔ جب تک کہ پہلے ایک رسول اس وقت مبعوث نہ کیا جائے۔ وہ غلطی کرتے ہیں..... پھر اگر رسول کی ضرورت ہے تو عین اس مقام پر ہے۔ جہاں عذاب آئے۔ مثلاً جنگ کا عذاب یورپ میں آئے یا کوئی بھاری زلزلہ اٹلی میں آئے اور اس سے دلیل یہ لی جائے کہ ضرور اسی وقت کوئی رسول مبعوث ہو گیا۔ تو پھر ایسے رسول کا ہندوستان میں مبعوث ہونا خدائے حکیم کا فعل نہیں ہو سکتا جس میں حکمت کچھ بھی نہیں۔ وہ رسول یورپ میں یا اٹلی میں آنا چاہیے تھا۔

پھر دوسری دقت یہ ہے کہ رسول کے لئے ایک وقت مقرر کرنا پڑے گا کہ اگر اس کے بعد اتنے عرصے تک عذاب آئے تو وہ اس کی بعثت کی وجہ سے ہوگا۔ اور اگر اس میعاد کے بعد آئے تو نیا رسول پیدا ہونا ضروری ہو چکا ہے تو اب آئندہ رسول کی کب ضرورت ہوگی۔ آیا یہ قانون تیرہ سو سال کا بن جائے گا۔ ایسی باتیں کرنا گویا لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مذہب علم نہیں بلکہ کھیل ہے۔

(بیان القرآن ۷۸۵ جلد دوم طبع چہارم زیر آیت و ما کنا معذبین..... مصنفہ مولوی محمد علی

صاحب قادیانی لاہوری)

اس طرح (نبوت و رسالت کے اجراء پر) بعض وقت ما کنا معذبین حتی نبعث رسولا کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں عذاب آ رہے ہیں اس لئے ضرور ہے کہ رسول مبعوث ہوا ہو۔ تو سوال یہ ہے کہ اس وقت تو بہر حال رسول کوئی موجود نہیں۔ حالانکہ عذاب آج بھی آ رہے ہیں۔ اگر یہ کسی گذشتہ رسول کی وجہ سے ہیں تو پھر آنحضرت ہی وہ رسول کیوں نہیں۔ کیا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا زمانہ ختم ہو گیا۔ یا اللہ تعالیٰ نے کوئی حد بندی کہیں لگائی ہے۔ کہ تیرہ سو سال تک جو عذاب آئے گا وہ رسول اللہ کے انکار کی وجہ سے آئے گا۔ اور اس کے بعد کسی اور رسول کے انکار کی وجہ سے آئے گا۔ اور پھر اگر مسیح موعود رسول ہیں تو یہی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی وجہ سے کتنی مدت تک عذاب آئیں گے تاکہ اس کے بعد کسی اور نبی کی تلاش کی جائے"۔

صفحہ 394

(”النبوۃ فی الاسلام“ ص ۱۰۳‘ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور)

(۶۱) آتھم کا غم

”جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تو عیسائیوں سے بھی خوب چلی۔ مناظرے ہوئے۔ اشتہار بازی ہوئی۔ گالی گلوچ تو کوئی بات ہی نہ تھی۔ فوجداری تک نوبت پہنچی۔ مقدمے چلے۔ ان تمام معرکوں میں سب سے زیادہ مشہور عبداللہ آتھم کا قصہ ہے۔ کہ اول مرزا صاحب نے اس سے مناظرہ کیا پھر یہ پیش گوئی کی کہ اتنے عرصے کے اندر فلاں تاریخ تک وہ مرجائے گا۔ ضعیف اور سن رسیدہ ہونے کے باوجود پیش گوئی کی تاریخ پر نہ مرا بلکہ کافی عرصے تک بعد کو زندہ رہا مرزا صاحب نے تاویلات کا بہت زور لگایا لیکن ع کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے (للمولف)

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘۔ عنایت نامہ مع کارڈ پہنچا۔ اب تو صرف چند روز پیش گوئی میں رہ گئے ہیں۔ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان سے بچاوے۔ شخص معلوم فیروز پور میں ہے اور تندرست و فربہ ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے ضعیف بندوں کو ابتلا سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔ باقی خیریت ہے مولوی صاحب کو بھی لکھیں کہ اس دعا میں شریک رہیں۔ والسلام

(خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۲ اگست ۱۸۹۴ء)

نوٹ (از مولف مکتوبات احمدیہ) یہ آتھم کی پیش گوئی کے متعلق ہے۔ حضرت اقدس (مرزا صاحب) کا ایمان خدا تعالیٰ کی بے نیازی اور استغناء ذاتی پر قابل رشک ہے۔ آپ کو مخلوق کے ابتلاء کا خیال ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب مندرجہ مکتوبات احمدیہ‘ جلد پنجم نمبر ۳‘ ص ۱۲۸

مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی

صفحہ 395

صاحب مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفے کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورت یاد نہیں رہی۔ مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورت تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل ہے اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیوں کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا۔ کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے۔ اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنویں میں ڈالے جائیں گے۔ اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۱۵۹، روایت نمبر ۱۶۰، مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

ہیں۔ اور دل سخت منقبض ہیں۔ بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ ہر طرف سے اداسی اور مایوسی کے آثار ظاہر ہیں۔ لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں کہ اے خداوند ہمیں رسوا مت کریو۔ غرض ایسا کہرام مچ رہا ہے کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہو رہے ہیں۔

(”سیرۃ مسیح موعود“ ص ۷، مولفہ شیخ یعقوب علی عرفان صاحب قادیانی)

۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو جس دن عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا۔ آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب) قادیان میں تھے۔ کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا۔ کہ آتھم مرجائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہو گیا۔ تو لوگوں کے دل ڈولنے لگے آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب) فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی ہاں فکر اور

صفحہ 396

حیرانی ضرور تھی۔ لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حقیقت بتلائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر پیدا ہو گیا۔ اور ایمان تازہ ہو گیا۔ (ماسٹر قادر بخش صاحب) فرماتے تھے کہ میں نے امرت سر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ سمجھ گیا کہ واقع میں یہ مرگیا ہے۔ اور یہ صرف اس کا جنازہ ہے۔ جسے لئے پھرتے ہیں۔ آج نہیں تو کل مر جائے گا۔

(”رحیم بخش صاحب۔ ایم۔ اے ولد ماسٹر قادر بخش صاحب“ کا مضمون مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۲۵ نمبر ۳۴ مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۲۳ء)

(آتھم کا خط) (م) میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں اور آپ کی توجہ ص ۸۱ وص ۸۲ میرزا صاحب کی بنائی ہوئی کتاب نزول مسیح موعود کی طرف دلاتا ہوں جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی نسبت پیش گوئی ہے۔ اس سے شروع کر کے جو کچھ گزرا ہے ان کو معلوم ہے اب میرزا صاحب کہتے ہیں کہ آتھم نے اپنے دل میں چونکہ اسلام قبول کر لیا۔ اس لئے نہیں مرا خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں کون کس کو روک سکتا ہے۔ میں دل سے اور ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا۔ اور اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔

جب میں امرتسر جلسہ عیسائی بھائیوں میں شامل ہونے کے لئے آیا تھا۔ وہاں پہلے تو بعض اشخاص نے ظاہر کر دیا تھا کہ آتھم مر گیا۔ نہیں آوے گا جب مجھے ریلوے پلیٹ فارم پر دیکھا گیا تو یہ کہنے لگے کہ یہ آتھم کی شکل کا ربڑ بنا ہوا ہے۔ انگریز حکمت والے ہیں ربڑ کے آدمی میں کل لگادی ہے۔ ایسی ایسی باتوں کا جواب خاموشی ہے۔ میں راضی، بہ خوشی اور تندرست ہوں اور ویسے مرنا تو ایک دن ضرور ہے۔ زندگی اور موت صرف رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ اب میری عمر (۶۸) سال سے زیادہ ہے اور جو کوئی چاہے پیش گوئی کر سکتا ہے۔ کہ ایک سو سال کے اندر اندر جو باشندے اس دنیا میں موجود ہیں سب مرجائیں گے۔ (ظاہر ہے کہ عام طور پر انسان کی عمر سو سال سے زیادہ نہیں ہوتی گویا مرزا قادیانی صاحب نے آتھم کے بڑھاپے پر نظر کر کے موت کی پیش گوئی کی اور بڑی دعا کے ساتھ پیش گوئی کی مگر پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور ایسی صورت میں مرزا

صفحہ 397

صاحب نے اپنی دعا میں اپنے آپ کو مردود و ملعون قرار دیا تھا۔ چنانچہ یہ دعا اپنی جگہ پر درج ہے۔ للمولف برنی)

(”عبداللہ آتھم“ کا خط جو اخبار وفادار لاہور میں ماہ ستمبر ۱۸۹۳ء میں شائع ہوا۔ منقول از

کتاب راست بیانی بر شکست قادیانی مولفہ مولوی امام الدین صاحب گجراتی ص ۵۶)

مخالفوں نے شور مچایا کہ وہ پوری نہیں ہوئی تو ایک دن نواب صاحب بہاول پور کے دربار میں بھی۔ جو غالباً موجودہ نواب صاحب کے دادا تھے اس موضوع پر باتیں ہونے لگیں اور تمسخر اڑایا جانے لگا کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نواب صاحب کے پیر حضرت غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی تشریف فرما تھے۔ وہ خاموش بیٹھے رہے مگر کچھ عرصہ بعد نواب صاحب بھی اس گفتگو میں دخل دینے لگے تو وہ جوش میں آگئے۔ اور فرمانے لگے کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک عیسائی کی تائید اور مسلمان کے خلاف باتیں کرتے ہو۔ تم لوگ کہتے ہو کہ آتھم زندہ ہے یہ بالکل غلط ہے۔ وہ مر چکا ہے اور مجھے تو وہ مردہ ہی نظر آتا ہے۔ (اگرچہ دیکھنے میں زندہ ہے للمولف برنی)

(”اخبار الفضل قادیان“ جلد ۲۸‘ نمبر ۶۷ مورخہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء)

مولانا مکرم سلمکم اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم آج ۷ ستمبر ہے اور پیش گوئی کی میعاد مقررہ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تھی گو پیش گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے وہ یہ ہے :

”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جاوے اور سیاہ کیا جاوے میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔

(”جنگ مقدس“ ص ۱۸۸-۱۸۹ مولفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ”روحانی خزائن“

ص ۲۹۳- ۲۹۴‘ ج۶)

صفحہ 398

اب کیا یہ پیش گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی۔ نہیں ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سالم موجود ہے۔ اور اس کو بہ سزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا..... میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل بات ہے۔ کہ ہر پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو۔ لڑکے کی پیش گوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا وہ مرگیا۔ تو اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیش گوئی کے اصل مفہوم کے سمجھنے میں تو غضب ڈھا دیا..... راقم محمد علی خاں از مالیر کوٹلہ

(”نواب محمد علی خاں صاحب“ قادیانی کا خط ”مولانا نور الدین کے نام“ مندرجہ آئینہ حق

نما ص ۱۰۰۔۱۰۱ مولفہ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

کہ مرتو گیا۔ (”روحانی خزائن“ ص ۵۵۴، ج۲۲) (بے شک میعاد غیر میعاد کی بحث فضول ہے۔ بالآخر مرتو گیا اگر مرزا قادیانی صاحب کی پیش گوئی نہ ہوتی تو پھر وہ کیسے مرتا۔ ہرگز نہ مرتا۔ کبھی نہ مرتا۔ للمولف برنی)

(ب) پسر موعود کی پیش گوئی

(۶۲) پسر موعود کا الہام اور اس کا اعلان

پہلی پیش گوئی باالہام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عزوجل۔ خدائے رحیم و کریم و بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ (جل شانہ عز اسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اس کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا..... سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے سو تجھے بشارت ہو ایک وجیہ اور ایک پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا۔ اور اپنے مسیحی

صفحہ 399

نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمتہ اللہ ہے۔ کیونکہ کہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے ۔) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزند دل بند گرامی ارجمند مظہر الاول و الاخر مظہر الحق و العلاء کان اللہ نزل من السماء۔ "جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔ اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امر مقضیا۔ الراقم خاکسار غلام احمد مولف براہین احمدیہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء

(”تبلیغ رسالت“ جلد اول ص ۵۸ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات

ج ۱ ص ۱۰۰ تا ۱۰۲)

(۶۳) عظیم الشان نشان آسمانی

اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ صرف پیش گوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے۔ اور درحقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اتم ہے کیوں کہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے۔ کہ جناب الٰہی میں دعا کر کے ایک روح کو واپس منگوایا جائے ..... جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت ہی کلام ہے۔ اور پھر ..... یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا ..... اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی بھی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی۔ مگر اس جگہ بفضل تعالیٰ و بہ برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خداوند کریم نے اس

صفحہ 400

عاجز کی دعا قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ (یہاں مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر خوب چوٹیں کی ہیں۔ وجہ یہ کہ لوگ مرزا صاحب کو چھیڑتے تھے کہ مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ تو کچھ مسیحائی دکھائیے۔ کس ترکیب سے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کی آڑ لے کر مسلمانوں کی عقیدت ابھارنے کی کوشش کی ہے یہ بھی قابل دید ہے۔ للمولف)

("مرزا غلام احمد قادیانی صاحب" کا اشتہار واجب الاظہار مورخہ ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء مجموعہ

اشتہارات ص ۱۱۴، ۱۱۵ ج اول مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۷۴-۷۳ مولفہ میر قاسم

علی صاحب قادیانی)

(۶۴) ایک فرزند صالح

چونکہ اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیش گوئی دوبارہ تولد ایک فرزند صالح ہے۔ جو بہ صفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا۔ دو شخص سکنہ قادیان نے یہ دروغ بے فروغ برپا کیا ہے کہ ہماری دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحب مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ قول نام بردگان کا سراسر افترا اور دروغ و بہ مقتضائے کینہ و حسد عناد جبلی ہے۔ جس سے وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ (گویا مرزا صاحب کی بات تمام مسلمانوں کی بات ہے۔ للمولف) اس لئے ہم ان کے اس قول دروغ کا رد واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء ہے۔ ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بہ جز پہلے دو لڑکوں کے جن کی عمر ۲۰۔۲۲ سال سے زیادہ ہے پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بہ موجب وعدہ الٰہی ۹ برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا۔ خواہ دیر سے۔ بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔

("اشتہار واجب الاظہار من جانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب" مورخہ ۲۲ مارچ

۱۸۸۶ء مجموعہ اشتہارات، ص ۱۱۳ ج اول مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۷۲، مولفہ میر

قاسم علی صاحب قادیانی)

(۶۵) نکتہ چینی اور دوبارہ توجہ

صفحہ 401

واضح ہو کہ اس خاکسار کے ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء پر بعض صاحبوں نے..... یہ نکتہ چینی کی ہے۔ کہ ۹ برس کی حد جو پسر موعود کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ سو اول تو اس کے جواب میں یہ واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے۔ کسی لمبی میعاد سے گو نو برس سے بھی دو چند ہوتی۔ اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا..... ماسوا اس کے اب بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج آٹھ اپریل ۱۸۸۶ میں اللہ جل شانہٗ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے۔ جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔ یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا۔ یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔ اور پھر اس کے بعد یہ بھی الہام ہوا کہ ”انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں“ چونکہ یہ عاجز ایک بندہ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے۔ جو من جانب اللہ ظاہر کیا گیا۔ آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہو گا وہ بھی شائع کیا جاوے گا۔

(اشتہار صداقت آثار من جانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۸ اپریل ۱۸۸۶ء

مجموعہ اشتہارات ص ۱۱۶‘ ۱۱۷ جلد اول مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول‘ ص ۷۶-۷۵ مولفہ

میر قاسم علی صاحب قادیانی)

(۲۶) لڑکی کی ولادت اور ذوالوجوہ فقرہ

”سو واضح ہو کہ بعض مخالف نا خدا ترس جن کے دلوں کو زنگ تعصب و بخل نے سیاہ کر رکھا ہے۔ ہمارے اشتہار مطبوعہ ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو یہودیوں کی طرح محرف و مبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنی بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ یا دھوکہ دے کر ان کے یہ ذہن نشین کر دیں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیش گوئی تھی۔ اس کا وقت گزر گیا۔ اور وہ غلط نکلی ہم اس کے جواب میں صرف لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنا کافی سمجھتے ہیں۔

صفحہ 402

(”تبلیغ رسالت“ ج ۱ ص ۸۴ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۲۵)

”ایک صاحب ملازم دفتر ایگزامینر ریلوے لاہور...... اپنے خط مرسلہ ۱۳ جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں۔ کہ تمہاری پیش گوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی۔ اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغ گو آدمی ہو...... بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا۔ اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔ تبلیغ رسالت ج اول ص ۹۰ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۳۱ ہاں اس اشتہار (۸ اپریل) ۱۸۸۶ء میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے۔ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا“ مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ مدت حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں۔ کوئی اور مدت مراد نہیں۔ اگر اس فقرہ کے سر پر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی۔ مگر جب الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ (جو مخصوص وقت ہو سکتا ہے) وارد نہیں تو پھر خواہ مخواہ اس فقرے سے وہ معنی نکالنا جو اس صورت میں نکالے جاتے جو اس کا لفظ فقرہ مذکور کے سر پر ہوتا۔ اگر بے ایمانی اور بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔ دانشمند آدمی جس کی عقل اور فہم میں کچھ آفت نہیں اور جس کے دل پر کسی تعصب یا شرارت کا حجاب نہیں وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرے کے معنی کرنے کے وقت سب وہ احتمالات مدنظر رکھنے چاہئیں جو اس فقرے سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ سو فقرہ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ ”مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا“ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے‘ جو میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی نے اپنے اشتہار ۸ جون ۱۸۸۶ء میں کی ہے۔ (ابھی تک میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی مرزا صاحب کے بڑے معتقد اور خاص الخاص مرید تھے۔ مگر بعد کو بہ توفیق الٰہی تائب ہو کر مسلمان ہو گئے۔ بلکہ سابقہ واقفیت کی بنا پر مرزا صاحب کی تردید میں تحریریں شائع کر کے تلافی مافات کر دی۔۔۔ للمولف)

(”اشتہار محک اخیار واشرار منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ مورخہ یکم ستمبر ۱۸۸۶ء مجموعہ اشتہارات ص ۱۲۵‘ ۱۲۶ جلد اول مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۸۴‘ ۸۵ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی)

صفحہ 403

(۶۷) میر عباس علی شاہ صاحب کا اشتہار

”پہلا اشتہار جس کو مرزا صاحب نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو بہ مقام ہوشیار پور شائع کیا تھا۔ اس میں کوئی تاریخ درج نہیں کہ وہ لڑکا جس کے صفات اشتہار میں درج ہیں۔ کب اور کس سال میں پیدا ہو گا۔

دوسرا اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب کی طرف سے شائع کیا گیا یہ بہت مفید اشتہار ہے۔ اس میں یہ بتصریح تمام کھول دیا گیا ہے کہ وہ لڑکا نو برس کے اندر پیدا ہو جائے گا، اس میعاد سے تخلف نہیں کرے گا۔ لیکن تیسرا اشتہار جو مرزا صاحب کی طرف سے ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو جاری ہوا، اس کی الہامی عبارت ذوالوجوہ اور کچھ گول گول ہے۔ اور اس میں کوئی تصریح نہیں کہ وہ (پسر موعود) کب اور کس تاریخ میں پیدا ہو گا۔ ہاں اس میں ایک یہ فقرہ ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے۔ جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ فقرہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے اگر الہامی عبارت کے سر پر لفظ اس کا ہوتا یعنی عبارت یوں ہوتی کہ اس مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ ضرور اس میں پیدا ہو جائے گا تو بلاشبہ مواخذہ کی جگہ تھی۔ مگر اب تو ناحق کی نکتہ چینی ہے۔۔۔۔۔ الہامات ربانی یا قوانین سلطانی کی عبارتیں اس پایہ اور عزت کی ہوتی ہیں۔ جن کے لفظ لفظ پر بحث کرنا چاہیے۔ سو الہامی عبارت میں اس کا لفظ متروک ہونا (جس سے حمل موجودہ میں پیش گوئی محدود ہو جاتی ہے) صریح بتلا رہا ہے کہ اس جگہ حمل موجودہ مراد نہیں لیا گیا۔ بلکہ اس فقرہ کے دو معنے ہیں۔ تیسرے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔

اول یہ کہ مدت موجودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ یعنی نو برس سے کیوں کہ اس خاص لڑکے کے حمل کے لئے وہی مدت موعود ہے۔ (لیکن میر صاحب کی یہ تاویل ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کی پیش گوئی پر ذرا بھی چسپاں نہیں ہوتی ۔۔۔۔ للمولف)

دوسرے یہ معنی کہ مدت معہودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا سو مدت معہودہ حمل کی اکثر طبیبوں کے نزدیک ڈھائی برس بلکہ بعض کے نزدیک انتہائی مدت حمل کی تین برس تک بھی ہے بہرحال ان دونوں وجوہ میں سے کسی وجہ کی رو سے پیش گوئی کی صحت پر

صفحہ 404

جرح نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے مرزا صاحب نے اسی اشتہار ۱۸ اپریل میں قیاسی طور پر یہ بھی صاف لکھ دیا تھا کہ غالباً وہ لڑکا اب یا اس کے بعد قریب حمل میں پیدا ہوگا۔ اور پھر اس اشتہار کی اخیر سطر میں مرزا صاحب نے یہ بھی تحریر کر دیا کہ میں اسی قدر ظاہر کرتا ہوں جو مجھ پر من جانب اللہ ظاہر کیا گیا۔ اور آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہوگا۔ وہ بھی شائع کیا جائے گا۔ سو مرزا صاحب نے اپنے اسی اشتہار میں بتلا بھی دیا کہ اس اشتہار کا الہامی فقرہ مجمل اور ذوی الوجوہ ہے جس کی تشریح اگر خدا نے چاہا پیچھے سے کی جائے گی۔

(”اشتہار واجب الاظہار منجانب سید عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی“ ۸ جون ۱۸۸۶ء

مجموعہ اشتہارات حاشیہ ۱۳۷‘ ۱۳۸‘ جلد اول مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول‘

ص ۸۶‘ ۸۷‘ ۸۸‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی)

(۶۸) وہ لڑکا

”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۸ اپریل ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی تھی۔ اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا۔ کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے۔ ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج سولہ ذی قعدہ ۱۳۰۴ھ مطابق ۷ اگست ۱۸۸۷ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہوگیا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک (اس لڑکے کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔۔ للمولف)

(”اشتہار خوشخبری من جانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ مورخہ ۷ اگست ۱۸۸۷ء

مجموعہ اشتہارات ص ۱۴۶ ج ۱ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۹۹ مولفہ میر قاسم علی

صاحب قادیانی)

(۶۹) مزید لڑکے کا جدید وعدہ

”سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا اولاد بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہوگا۔ (یعنی بشیر احمد۔ للمولف) بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہوگا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔

صفحہ 405

(۴ اشتہار پانزدہم‘ جولائی ۱۸۸۸ء مجموعہ اشتہارات ص ۴۲ ج اول منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۲۰ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی)

(۷۰) انتقال اور مخالفین و موافقین

”مخدومی مکرمی مولوی نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میرا لڑکا بشیر احمد تیس روز بیمار رہ کر آج بہ قضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے‘ اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا..... والسلام

(انتقال کے بعد یہ لڑکا بشیر اول کے نام سے تعبیر ہونے لگا۔۔۔۔ للمولف)

(مکتوبات احمدیہ‘ ج ۵‘ نمبر ۲‘ ص ۱۲۸ ”خاکسار غلام احمد‘ ۴ نومبر ۱۸۸۸ء)

(۷۱) کوئی ضروری امر نہیں

”خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے۔ بشیر اول ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بہ کلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا نام باران رحمت اور مبشر اور بشیر اور یداللہ بہ جلال و جمال وغیرہ اسماء بھی ہیں۔ سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس کی صفات ظاہر کی یہ سب اس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لیے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔

(”مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ کا سبز اشتہار ص ۸۔۷ و تذکرہ یعنی وحی مقدس مجموعہ

الہامات و مکاشفات مرزا صاحب ص ۱۶۶ طبع اول مجموعہ اشتہارات‘ ص ۱۶۹ ج۱)

(۷۲) لوگوں کا ابتلا (م)

خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہی شخص ہے جس نے مجھے شکست دی ہے اور وہ میاں محمد خاں صاحب ہیں۔ بشیر اول کے فوت ہونے پر لوگوں نے حضرت (مرزا) صاحب کو بہت سے خطوط لکھے۔ مولوی (نور

صفحہ 406

الدین) صاحب نے لکھا اگر اس وقت میرا اپنا بیٹا مر جاتا تو میں کچھ پروا نہ کرتا۔ مگر بشیر اول فوت نہ ہوتا اور لوگ اس ابتلا سے بچ رہتے۔ اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر اس قسم کا کوئی اور خط بھی آیا ہو تو اس سے آگاہ فرما دیں۔ اس پر حضرت (مرزا) صاحب نے مولوی صاحب کو دو خط بھیجے جن میں سے ایک میاں محمد خاں صاحب کا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ اگر میرا ہزار بیٹا ہوتا اور وہ میرے سامنے قتل کر دیا جاتا تو مجھے اس کا افسوس نہ ہوتا۔ ہاں بشیر کی وفات سے لوگوں کو ابتلا نہ آتا۔

(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ ”الفضل“ قادیان‘ ج۸‘ نمبر۱۵‘ مورخہ ۳۰

اگست ۱۹۲۰ء)

(م) اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو..... اپنی عمر کے سولہویں مہینہ میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا۔ عجیب طرح کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا۔

(”مجموعہ اشتہارات“ ص۱۴۳‘ ج اول‘ مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء)

(۷۴) طوفان عظیم

جب شروع ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود نے خدائی حکم کے ماتحت ہوشیار پور جا کر وہاں چالیس دن خلوت کی اور ذکر خدا میں مشغول رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی جس نے اپنے مسیحی نفس سے مصلح عالم بن کر دنیا کے چاروں کونوں میں شہرت پانی تھی۔ یہ الہام اس قدر جلال اور شان و شوکت کے ساتھ ہوا کہ جب حضور نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس کا اعلان فرمایا تو اس کی وجہ سے ملک میں ایک شور برپا ہوگیا اور لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسر موعود کی راہ دیکھنے لگے اور سب نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس پسر موعود کے متعلق امیدیں جمالیں بعض نے اس پسر موعود کو مہدی معہود سمجھا جس کا اسلام میں وعدہ دیا گیا تھا۔ اور جس نے دنیا میں مبعوث ہو کر اسلام کے دشمنوں کو ناپید اور مسلمانوں کو ہر میدان میں غالب کرنا تھا۔ بعض نے اور اسی قسم کی امیدیں قائم کیں اور بعض تماشائی کے طور پر پیش گوئی کے جلال اور شان و شوکت کو دیکھ کر ہی حیرت میں پڑ گئے تھے اور

صفحہ 407

بغیر کوئی امید قائم کئے اس انتظار میں تھے کہ دیکھیے پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ غیر مذاہب والوں کو بھی اس خبر نے چونکا دیا تھا۔

غرض اس وحی الٰہی کی اشاعت رجوع عام کا باعث ہوئی۔ ان دنوں حضور کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ مگر اللہ نے بھی ایمان کے رستہ میں ابتلا رکھے ہیں۔ سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد یعنی مئی ۱۸۸۶ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی۔ اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بد اعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزا کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔ اس وقت تک بیعت کا سلسلہ تو تھا ہی نہیں کہ مریدین الگ نظر آتے۔ پس عام لوگوں میں چہ میگوئی ہو رہی تھی کہ یہ کیا ہوا۔ کوئی کچھ کہتا تھا کوئی کچھ۔ حضور نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الٰہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امیدواری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہو گا اور اس طرح لوگوں کی تسلی کی کوشش کی۔ چنانچہ اس پر اکثر لوگ سنبھل گئے اور پیش گوئی کے ظہور کے منتظر رہے۔

کچھ عرصے بعد یعنی اگست ۱۸۸۷ء میں حضرت کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔ اس لڑکے کی پیدائش پر بڑی خوشی منائی گئی اور کئی لوگ جو متزلزل ہو گئے تھے پھر سنبھل گئے اور لوگوں نے سمجھا کہ یہی وہ موعود لڑکا ہے۔ اور خود حضرت صاحب کو بھی یہی خیال تھا۔ گو آپ نے اس کے متعلق کبھی قطعی یقین ظاہر نہیں کیا۔ مگر یہ ضرور فرماتے رہے کہ قرائن سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ واللہ اعلم۔

غرض بشیر اول کی پیدائش رجوع عام کا باعث ہوئی۔ مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہوا اور سخت زلزلہ آیا۔ حتیٰ کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامتہ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا اور نہ اس کے بعد آیا...... بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے۔

حضرت صاحب نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھرمار کر

صفحہ 408

دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ ہاں یہ میں نے کہا تھا کہ چوں کہ خاص اس لڑکے کے متعلق بھی مجھے بہت سے الہام ہوئے ہیں جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتائی گئی تھی۔ اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود لڑکا ہو۔ مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اتباع کے قابل ہے۔ ہرگز کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی۔ غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا۔ چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے۔ لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا۔ اور مخالفین میں پرلے درجے کا استہزاء کا جوش تھا اس کے بعد پھر عامتہ الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا شدومد سے انتظار نہیں ہوا جو اس سے قبل تھا۔ (حقیقت کھل گئی اور پھر وہ پسر موعود آیا بھی نہیں۔ البتہ تاویلات کا سلسلہ آخر تک جاری رہا--- للمولف)

("سیرۃ المہدی" حصہ اول ص ۸۷ روایت نمبر ۶۱ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۷۲) در حقیقت دو لڑکے

ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی (بشیر اول) کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء اور ۱۸ اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷ اگست ۱۸۸۷ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ (مجموعہ اشتہارات ص ۱۴۳ ج ۱)

خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیش گوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ ”مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے“ پہلے بشیر کی نسبت پیش گوئی ہے (جو بتاریخ ۴ نومبر ۱۸۸۸ء اس اعلان سے ایک ماہ قبل انتقال کر چکا--- للمولف) کہ جو روحانی طور پر نزول رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے (جس کے آئندہ پیدا ہونے کی امید ہے--- للمولف)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا سبز اشتہار مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء مجموعہ اشتہارات

ص ۱۷۹ ج ۱ حاشیہ)

صفحہ 409

۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں کہ جو بہ ظاہر ایک لڑکے کی بابت پیش گوئی سمجھی گئی تھی وہ درحقیقت دو لڑکوں کی بابت پیش گوئی تھی۔ (ایک وہ جو فوت ہو چکا۔ ایک وہ جو آئندہ تولد ہو گا۔۔۔ للمولف)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا خط مورخہ ۴ دسمبر ۱۸۸۸ء بنام حکیم نور الدین صاحب

مندرجہ رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ ص ۴۱ نمبر ۱۰ جلد ۳)

(۷۵) بالفعل محض تفاول

خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء اور اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے۔ اپنے لطف و کرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اول کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا۔ جس کا نام محمود بھی ہوگا اور اس عاجز کو مخاطب کرکے فرمایا تھا وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے سو آج ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں مطابق ۹ جمادی الاول ۱۳۰۶ھ روز شنبہ اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ جس کا نام بالفعل محض تفاول کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی۔ مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرلے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا۔ اور اگر مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا۔ تو خدائے عزوجل اس دن کو ختم نہیں کرے گا۔ جب تک اپنے وعدے کو پورا نہ کرلے۔ مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر شعر جاری ہوا تھا۔

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ

پس اگر حضرت باری جل شانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اس قدر دیر ہے کہ جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاول بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے۔ ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو۔ ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا۔ (دودھ کا جلا چھاچھ کو پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ مرزا صاحب بشیر اول کا انجام دیکھ چکے تھے۔ اس لئے بشیر ثانی کے معاملہ کو گول مول رکھنا لازم تھا۔۔۔ للمولف)

صفحہ 410

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار منقول از رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان‘

جلد ۱۳‘ نمبر ۵‘ ص ۱۷۶‘ ”مجموعہ اشتہارات“ حاشیہ‘ ج ۱‘ ص ۱۹۲۔۱۹۱)

(۷۶) تین چار

ایک اور الہام ہے جو فروری ۱۸۹۶ء میں شائع ہوا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت ان تین لڑکوں کا وجود ہی نہیں ۔ نام و نشان نہ تھا۔ اور اس الہام کے معنے یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے۔ اور پھر ایک اور ہوگا۔ جو تین کو چار کر دے گا۔ سو ایک بڑا حصہ اس کا پورا ہوگیا۔ یعنی خدا نے تین لڑکے مجھ کو اُس نکاح سے عطا کئے جو تینوں موجود ہیں صرف ایک کا انتظار ہے جو تین کو چار کرنے والا ہوگا۔

(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ۱۵‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۹۸‘ ۲۹۹ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۷۷) چوتھا لڑکا

”میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ اس کی نسبت پیش گوئی اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی..... سو خدا تعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے..... اسی پسر چہارم کی پیش گوئی کو ۱۴ جون ۱۸۹۹ء میں جو مطابق ۴ صفر ۱۳۱۷ھ تھی۔ بروز چہار شنبہ پورا کر دیا۔ یعنی وہ مولود چوتھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہو گیا۔ (۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار والی پیش گوئی ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کے اعلان کے مطابق حسب وعدہ الٰہی زیادہ سے زیادہ ۹ سال کے عرصے میں پوری ہونی قرار پائی تھی۔ لیکن مرزا صاحب کے موجودہ بیان کے مطابق ۱۸۹۹ء میں چودھویں سال پوری ہوئی۔ صرف پانچ سال کا فرق پڑا‘ کچھ زیادہ نہیں ۔۔۔ للمولف)

(”تریاق القلوب“ ص ۴۳‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۲۱‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام قادیانی

صاحب)

(بہر حال مرزا صاحب اس درجہ خوش تھے۔ کہ نو عمری ہی میں اس لڑکے کا نکاح بھی ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب قادیانی کی دختر مریم سے کر دیا تھا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو اخبار ”بدر“ قادیان ص ۴‘ ج ۶‘ نمبر ۳۶‘ پانچ ستمبر ۱۹۰۷ء ۔۔۔ للمولف)

صفحہ 411

(۷۸) ولادت سے قبل کلام

اور اس لڑکے (مبارک احمد) نے پیدائش سے پہلے یکم جنوری ۱۸۹۷ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا۔ اور مخاطب بھائی تھے کہ ”مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے“ یعنی اے میرے بھائیو میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے۔ اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی۔

اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں، مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ۱۴ جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا، اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا۔ یعنی چہار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا اور پیش گوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے مطابق پیر کے دن اس کا عقیقہ ہوا اور اس کی پیدائش کے دن یعنی بروز چہار شنبہ چوتھے گھنٹے میں کئی دن کے امساک باراں کے بعد خوب بارش ہوئی۔ (چوتھے گھنٹہ اور بارش کو تو مرزا صاحب جانیں لیکن تقویم اسلامی کے حساب سے نہ چہار شنبہ چوتھا دن ہے نہ ماہ صفر چوتھا مہینہ، البتہ قادیانی تحویل ان کو چوتھا بنا لے تو دوسری بات ہے۔۔۔ للمؤلف)

(”تریاق القلوب ص ۴۱“ ”روحانی خزائن“ ص ۲۱۳، ۲۱۸، ج ۱۵، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۷۹) ایک دفعہ پیش گوئی یاد آگئی

اور عجیب تر یہ کہ چاروں لڑکوں کے پیدا ہونے کی خبر جو سب سے پہلے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں دی تھی۔ اس وقت ہر چہار لڑکوں میں سے ابھی ایک بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور اشتہار مذکور میں خدا تعالیٰ نے صریح طور پر پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا ہے۔ دیکھو ص ۱۳، اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء دوسرے کالم کی سطر سات سو۔ جب اس لڑکے کا نام مبارک احمد رکھا گیا تب اس نام رکھنے کے بعد ایک دفعہ وہ پیش گوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی یاد آگئی۔

صفحہ 412

("تریاق القلوب" ص ۴۳‘ روحانی خزائن ۲۱۸ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۸۰) دعا قبول صحت کی بشارت

۲۷ اگست ۱۹۰۷ء صاحب زادہ میاں مبارک صاحب جو تپ سے سخت بیمار ہیں۔ اور بعض دفعہ بے ہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اور ابھی تک بیمار ہیں۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا قبول ہوگئی۔ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی یہ دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب موصوف کو شفا دے۔ یہ پختہ طور پر یاد نہیں رہا کہ کس دن بخار شروع ہوا تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میاں کی صحت کی بشارت دی۔

("مرزا غلام احمد قادیانی صاحب" کا اعلان مندرجہ اخبار بدر مورخہ ۲۹ اگست ۱۹۰۷ء

تذکرہ ص ۲۲۸‘ ۲۲۷‘ طبع سوم)

(۸۱) آخری وقت (م)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبارک احمد سے بہت محبت تھی۔ جب مبارک احمد بیمار ہوا تو دوائی وغیرہ میں ہی پلایا کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آخری وقت میں حضرت مولوی (حکیم نورالدین) صاحب رضی اللہ عنہ جو بڑے حوصلہ اور قوی دل کے انسان تھے اور سخت سے سخت گھبراہٹ کے موقعوں پر بھی گھبرایا نہیں کرتے تھے وہ بھی گھبرا گئے۔ انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا تو چھوٹ چکی تھی۔ انہوں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا حضور کستوری لائیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام چابی لے کر قفل کھول ہی رہے تھے کہ مبارک احمد فوت ہوگیا۔ یہ دیکھ کر حضرت مولوی صاحب یکدم گر گئے۔ میں نے دیکھا وہ سخت گھبراہٹ میں تھے۔ انہیں زیادہ خیال یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کو مبارک احمد سے بہت محبت ہے۔ اس کی وفات کی وجہ سے انہیں شدید صدمہ ہوگا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ سنا کہ مبارک فوت ہوگیا ہے تو آپ کاغذ قلم دوات لے کر بیٹھ گئے اور چند خط لکھ کر دیئے کہ ڈاک میں ڈال دو۔ ان خطوں میں مضمون یہ تھا کہ مبارک احمد فوت ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی دین تھی‘ اس نے لے لی۔ رنج و فکر کی بات نہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ غرض دوسروں کو صبر کی

صفحہ 413

تلقین کے خطوط اس وقت روانہ کئے اور یہاں کے لوگوں کو فرمایا بے شک مبارک احمد سے ہمیں بہت محبت تھی۔ لیکن اس لئے ہمیں محبت تھی کہ ہمیں خیال تھا بعض الہامات اس کی ذات سے پورے ہونے والے ہیں۔

(”خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان“ مندرجہ ”الفضل“ قادیان جلد ۲۰‘

نمبر ۴۷‘ ص ۱۰‘ مورخہ ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۳۲ء)

مبارک احمد بیمار ہو گیا۔ اور اسی بیماری میں بیچارہ اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔ مبارک احمد کی بیماری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی تیمارداری اور علاج معالجہ میں اس قدر شغف تھا کہ گویا آپ نے اپنی ساری توجہ اسی میں جما رکھی تھی اور ان ایام میں تصنیف وغیرہ کا سلسلہ بھی عملاً بند ہو گیا تھا۔

(”مرزا بشیر احمد صاحب کا بیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۴۴‘ جلد ۲۸‘ مورخہ

۳۰؍ اکتوبر ۱۹۴۰ء)

(۸۲) خوش ہونا چاہیے (م)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن رات اس کی تیمارداری میں مصروف رہتے تھے اور بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ اس کے علاج میں مشغول رہتے تھے۔ اور چونکہ حضرت مرزا صاحب کو اس سے بہت محبت تھی۔ اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ وہ فوت ہو گیا تو حضرت صاحب کو بڑا صدمہ گزرے گا۔ لیکن جب وہ صبح کے وقت فوت ہوا تو فوراً حضرت صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ بیرونی احباب کو خط لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک فوت ہو گیا ہے اور ہم کو اللہ کی قضا پر راضی ہونا چاہیے اور مجھے بعض الہاموں میں بھی بتایا گیا تھا کہ یا یہ لڑکا بہت خدا رسیدہ ہو گا یا بچپن میں فوت ہو جائے گا۔ سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہونا چاہیے کہ خدا کا کلام پورا ہوا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۱۵۸‘ روایت نمبر ۱۵۸‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

صفحہ 414

(۴) ایسے ہی صاحبزادہ مبارک احمد کا جب انتقال ہوا تو آپ نے رضا بالقضاء کا پورا نمونہ دکھلایا حالانکہ آپ ان کی خاطر کئی دن اور کئی راتیں نہ سوئے تھے اور آپ کو وہ بچہ بہت ہی عزیز تھا اور آپ اس کی صحت کے لئے بہت ہی بے تاب رہے۔ مگر جب اس کا انتقال ہو گیا تو آپ نے مطلق جزع فزع نہ کیا۔

(ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ ج ۳۶‘ نمبر ۲۹‘

مورخہ ۲۸؍ جولائی ۱۹۲۸ء)

(۸۳) پیش گوئی کا انجام

خود حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے مصلح موعود کی پیش گوئی کو پہلے بشیر اول پر لگایا۔ مگر واقعات نے اس اجتہاد کو غلط ثابت کر دیا کیونکہ وہ بچہ فوت ہو گیا۔ پھر حضور نے اس پیش گوئی کو مبارک احمد پر لگایا اور بار بار مختلف کتابوں میں آپ نے اس اجتہاد کو صریح لفظوں میں لکھ کر شائع فرمایا۔ مگر واقعات نے اس اجتہاد کو بھی غلط ثابت کر دیا کیوں کہ وہ بھی فوت ہو گیا۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ ج ۲۴‘ نمبر ۵۶‘ ۳؍ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۸۴) شادی

حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مبارک احمد فوت ہو گیا اور مریم بیگم جس کے ساتھ اسکی شادی ہوئی تھی۔ بیوہ ہو گئی۔ تو حضرت صاحب نے گھر میں ایک دفعہ یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ یہ لڑکی ہمارے گھر میں ہی آجائے تو اچھا ہے۔ یعنی ہمارے بچوں میں سے ہی کوئی اس کے ساتھ شادی کرلے تو بہتر ہے۔ (مرزا صاحب مبارک احمد کو پسر موعود قرار دے چکے تھے۔ اسی اطمینان پر نوعمری میں اس کی شادی کر دی تھی۔۔۔ للمولف) (”سیرت المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۶۲‘ روایت نمبر ۳۸۱‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۸۵) اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

خدا کی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا ساتھ ہی خدا تعالیٰ

صفحہ 415

نے یہ الہام کیا انا نبشرک بغلام حلیم ینزل منزل المبارک یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھے خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہ ہوگا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو اس لئے اس نے بہ مجرد وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی تاکہ یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہے۔ (لیکن یہ بشارت بھی خالی گئی اور بعد کو مرزا صاحب کے گھر میں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا—— للمؤلف)

(”اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ مورخہ ۵؍ نومبر ۱۹۰۷ء‘ مجموعہ اشتہارات

ص ۵۸۷‘ ج ۳‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دہم‘ ص ۱۴۷)

(۸۶) تین چار کا چکر

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی کیسا اخفاء ہوتا ہے۔ پسر موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ مگر ہمارے موجودہ سارے لڑکے ہی کسی نہ کسی طرح تین کو چار کرنے والے ہیں۔ چنانچہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ میاں (حضرت خلیفۃ المسیح ثانی) کو تو حضرت صاحب نے اس طرح تین کو چار کرنے والا قرار دیا کہ مرزا سلطان احمد اور فضل کو بھی شمار کر لیا اور بشیر اول متوفی کو بھی۔ تمہیں (یعنی خاکسار راقم الحروف کو) اس طرح پر کہ صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔ شریف احمد کو اس طرح پر قرار دیا کہ اپنی پہلی بیوی کے لڑکے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد چھوڑ دیئے اور میرے سارے لڑکے زندہ اور متوفی شمار کر لئے اور مبارک کو اس طرح پر کہ میرے صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۵۹‘ روایت نمبر ۹۲‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۸۷) ماحصل

(پسر موعود کی بشارت کی تفصیلات درج کرنے کا منشا یہ ہے کہ مشتے نمونہ از خروارے اندازہ ہو جائے کہ مرزا صاحب کی عظیم الشان پیش گوئیاں کس انداز سے پیش ہو کر کس طور سے پوری ہوتی تھیں‘ ابہام‘ التباس‘ تاویل اور تضاد کی بہترین مثالیں ہیں

صفحہ 416

اور اس لحاظ سے ضرور قابل یادگار ہیں۔۔۔ للمولف)

(۸۸) گول بات

ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) کی خدمت میں مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ”مسیح موعود نے جس لڑکے کی بشارت دی تھی وہ آپ ہیں اور کیا جناب کا دعویٰ ہے اس کا جواب حضور نے اپنے دست مبارک سے یہ لکھا: ”مکرم السلام علیکم! حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے ایک خاص لڑکے کی کئی جگہ پیش گوئی کی ہے۔ ایک میری پیدائش سے پہلے کی ہے جس میں مصلح موعود کا لفظ آتا ہے۔ ایک الوصیت میں ہے۔ پہلے اشتہارات میں یہ نہیں لکھا کہ مصلح الہام الٰہی سے دعویٰ کرے گا۔ الوصیت والے موعود کی نسبت لکھا ہے کہ قرب وحی سے مخصوص ہوگا۔ اگر یہ دونوں ایک ہی ہیں تب تو مصلح موعود کے لیے وحی سے دعویٰ کرنا ضروری ہے اور اگر دو شخص ہیں یا ایک ہی شخص کی دو مختلف وقتوں میں حالتیں ہیں۔ تب مصلح موعود کے لیے نہ تو دعویٰ وحی سے ضروری ہے اور نہ بلاوحی کے اور ہو سکتا ہے کہ وہ دعویٰ بھی نہ کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی پیش گوئیاں امت کے بڑے بڑے آدمیوں کی نسبت فرمائیں۔ بعض نے ان کے مستحق ہونے کا دعویٰ بھی نہ کیا۔ ہاں لوگوں نے سمجھ کر ان پر چسپاں کیں۔ مثلاً محمد مہدی فاتح قسطنطنیہ کی نسبت پیش گوئی موجود ہے۔ اس کا دعویٰ ثابت نہیں۔ اور بھی ہیں۔ پس میں مصلح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اگر میں ہوں تو الحمدللہ۔ دعوے سے فائدہ نہیں۔ اگر میں نہیں تو اس احتیاط سے میں ایک غلطی سے محفوظ ہوگیا۔ بعض لوگ مجھے وہ موعود سمجھتے ہیں۔ میں ان کو بھی نہیں روکتا۔ ہر ایک شخص کا اپنا خیال و تحقیق ہے اور خلاف شریعت نہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۸۵‘ مورخہ ۲ فروری ۱۹۱۶ء)

(۸۹) تاویلوں کے چکر (ج)

(مرزا قادیانی صاحب اپنی پیش گوئی کو کس قدر چکر دیتے تھے‘ کتنے پیچ دیتے تھے‘ اگر مگر لگاتے تھے‘ کتنے پہلو نکالتے تھے تاکہ پیش گوئی پوری نہ ہونے کی صورت میں گریز،

صفحہ 417

اور تاویل کی راہ ملے اور بات گرفت میں نہ آئے۔ بلکہ خود پڑھنے والا ہی حیران اور عاجز ہو جائے۔ اس کی مثال وہ پیش گوئی ہے جو مرزا قادیانی صاحب نے مصلح موعود کے تعلق سے کی ہے۔ چنانچہ یہ پیش گوئی مندرجہ ذیل کتب میں بیان ہوئی ہے۔۔۔ للمولف برنی)

(سبز اشتہار ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص ۷۹۰’ ”نزول المسیح“ ص ۱۹۲ و ۱۹۶‘

”فتح اسلام“ ص ۲۰‘ ۲۷’ ”حقیقت الوحی“ ص ۲۱۷‘ ۳۱۲‘ ۳۶۰’ ”ازالہ اوہام“

ص ۱۶۵‘ ۷۳۵’ ”تذکرہ“ ۱۴۹‘ ۱۶۵‘ ۴۸۵’ اخبار ”البدر“ نمبر ۴، ص ۵۶’ ”تریاق القلوب“

ص ۴۲‘ ۱۵۷’ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ۵۶’ ”در ثمین“ ص ۷۴‘ ۱۴۰’ ”انجام آتھم“ ص ۵۱’ ”آئینہ

کمالات اسلام“ ص ۳۰۵‘ ۵۷۸’ ”سراج منیر“ ص ۳۴)

(فہرست مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۳۴، نمبر ۳۶، مورخہ ۱۱ فروری ۱۹۴۶ء)

(۹۰) المصلح موعود (ج)

الحمد للہ کہ حضرت امیر المومنین (میاں محمود صاحب) نے ۲۸ جنوری ۱۹۴۴ء کو بروز جمعتہ المبارک خدا سے خبر پا کر المصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ خدا تعالیٰ نے تصدیق کی۔ کیا ہی مبارک وہ لوگ ہیں جو آپ کی غلامی کو صد فخر سمجھتے ہیں۔ (خانہ خالی را دیو می گیرد)۔ مصلح موعود کی پیش گوئی مرزا قادیانی صاحب نے پہلے بشیر اول پر چسپاں کی۔ مگر اس کا انتقال ہو گیا اور مبارک احمد پیدا ہوا۔ اس پر بھی یہ پیش گوئی چسپاں کی گئی مگر اس کا بھی انتقال ہو گیا تو مرزا قادیانی صاحب نے سکوت اختیار کیا۔ اس طرح مدت تک المصلح الموعود کی جگہ خالی پڑی رہی۔ بالآخر میاں صاحب نے اس پر قبضہ پا لیا اور اللہ تعالیٰ سے تصدیق بھی حاصل کر لی۔ مبارک سلامت ہونے لگی۔۔۔ للمولف برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۳۴، نمبر ۳۶، ص ۸، مورخہ ۱۱ فروری

۱۹۴۶ء)

صفحہ 418

فصل ساتویں

ارشادات

(۱) دوبارہ نزول

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا صاحب) نے فرمایا یہ وجوہات جو مفسرین و محدثین نے لکھے ہیں ممکن ہیں کہ یہ ہوں لیکن دراصل الحمد شریف کا نام ہی سبع مثانی ہے اور اس کا سبع مثانی ہونا یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کا دوبارہ نزول ہوا ہے۔ ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور دوسری بار مسیح موعود (مرزا صاحب) پر چنانچہ ہم پر اس کا دوبارہ نزول ہوا اور مسیح موعود کا ثبوت اس سورۃ سے واضح تر ہے اور ہماری تحریریں اور تفسیریں اس پر گواہ ہیں، توریت میں بھی سات آوازیں یا سات گرج لکھی ہیں اور وہ مقفل مانا گیا ہے۔ ہمارے زمانے میں وہ قفل کھولا گیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۹ نمبر ۲۱ ص ۶ مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۳۱ء)

(۲) قیوم العالمین کا قادیانی تخیل

اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے لیے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور ٹینڈوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔ جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضا ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔ جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضا میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصنیف توضیح المرام ص ۷۵ روحانی خزائن ص ۹۰ ج ۳)

(۳) وحدت وجود

صفحہ 419

(مرزا صاحب نے) میر عباس علی کے استفسار پر ”وحدت وجود کی تردید میں ایک مبسوط خط ۳؍ فروری ۱۸۸۴ء بمطابق ۳؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ کو لکھا جس میں وجودیوں کے اعتقادات کے پرخچے اڑا دیئے۔ وحدت وجود کے مسئلہ پر جب آپ نے (مرزا صاحب نے) قلم اٹھایا تو یوں ہی خیالی طور پر نہیں‘ بلکہ آپ نے ایک محقق کی حیثیت سے اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کر لیا تھا اور کافی مطالعہ کر کے یہ فیصلہ کیا تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ:

”اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی اور کتاب اللہ اور احادیث نبوی کو بہ تدبر و تفکر تمام دیکھا اور محی الدین ابن عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھری ہوئی ہیں اور خود عقل خداداد کی روح سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا لیکن آج تک اس دعویٰ کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حدیث ہاتھ نہیں آتی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حجج قطعیہ قائم ہوئے ہیں۔ جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتیں۔“

(حیات احمد جلد دوم نمبر دوم‘ ص ۹۶۔ ۹۵ مرتبہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۴) عیسیٰؑ کی حقیقت

وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا ہے اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔

(توضیح مرام ص ۳ روحانی خزائن ص ۵۲ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(اللہ تعالیٰ نے) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (جن کو آپ لوگ یسوع کہتے ہیں) اسی سلسلہ کا مؤید بنا کر بھیجا۔

(ملفوظات احمدیہ جلد اول ۲۸۸ مجموعہ تقاریر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتا ہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی‘ مورخہ ۸؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء‘ تبلیغ رسالت‘ ج ۱۰‘ ص ۱۰۲‘ مجموعہ

صفحہ 420

اشتہارات‘ ص ۵۴۴‘ ج ۳)

اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۷ء مجموعہ اشتہارات ص ۴۷۱‘

ج ۲‘ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ششم‘ ص ۴۹)

غرض جس ابن مریم کی قرآن شریف نے ہم کو خبر دی ہے وہ اسی ازلی ابدی ہدایت کا پابند تھا جو ابتدا سے بنی آدم کے لئے مقرر کی گئی ہے‘ لہٰذا اس کی نبوت کے لیے قرآنی ثبوت کافی ہے۔ گو انجیل کی رو سے کتنے ہی شکوک و شبہات ان کی نبوت کے بارہ میں پیدا ہوں۔

(نور القرآن مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نمبر ۱‘ ص ۳۲‘ روحانی خزائن‘

ص ۳۷۲-۳۷۱ ج ۹)

غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے‘ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی) پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کر سکتے‘ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔

(اعجاز احمدی ص ۱۳ روحانی خزائن ص ۱۴۱ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اور یہود تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارہ میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں‘ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیوں کہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی‘ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔

(اعجاز احمدی‘ ص ۱۳ روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں‘ کیوں کہ پانچوں ایک ہی

صفحہ 421

ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے کہ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔

(کشتی نوح ص ۱۶ روحانی خزائن ص ۱۸ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی۔

آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ روحانی خزائن ص ۲۹۱ ج ۱۱ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

کنجریوں سے میل ملوانا کوئی معمولی بات ہے۔ یسوع کا ان سے کیا تعلق تھا اگر پادری صاحبان کہیں کہ اس کنجنی نے توبہ کر لی ہوگی تو ہم کہتے ہیں کہ کنجنی کی توبہ کا کیا اعتبار، دن کو تو توبہ کرتی ہے اور رات کو جا کر مونڈھے پر بیٹھ کر بدکاری میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص ۳۷۳ مرتبہ محمد منظور الہی صاحب قادیانی لاہوری ملفوظات

ص ۸۸ ج ۴ ربوہ)

ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے، مگر میرے نزدیک آپ کے حرکات جائے افسوس نہیں کیوں کہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے یہ بات بھی یاد رہے۔ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔

صفحہ 422

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۵ روحانی خزائن ص ۲۸۹ ج ۱۱ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردمی اور رجولیت انسان کے صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ جیسے بہرا اور گونگا ہونا، کسی خوبی میں داخل نہیں، ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔

(مکتوبات احمدیہ جلد سوم ص ۲۸ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۵) مرزا قادیانی صاحب کی معذرت

ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے۔ اپنی نجات کے لیے ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دل و جان سے ایمان لائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے صدہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے تھے، لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے۔ جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین و آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا۔۔۔ سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدائے تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔

(نور القرآن حصہ دوم ص ۲ روحانی خزائن ص ۳۷۴، ۳۷۵ ج ۹ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۶) مریم کی عصمت

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے فرمایا۔ مریم کی ماں نے عہد کیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی خدمت کرے گی اور تارکہ رہے گی نکاح نہ کرے گی اور خود مریم نے بھی یہ

صفحہ 423

عہد کیا تھا کہ میں ہیکل کی خدمت کروں گی۔ باوجود اس عہد کے پھر وہ کیا بلا اور آفت پڑی کہ یہ عہد توڑا گیا اور نکاح کیا گیا۔ ان تاریخوں میں جو یہودی مصنفوں نے لکھی ہیں اور باتوں کو چھوڑ کر اگر یہی دیکھا جائے تو یہ لکھا ہے کہ یوسف کو مجبور کیا گیا کہ وہ نکاح کرے اور اسرائیلی بزرگوں نے اسے کہا کہ ہر طرح تمہیں نکاح کرنا ہوگا۔ اب اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔

(اخبار الحکم‘ ج ۶ نمبر ۱۵‘ ص ۵‘ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۲ء و اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۲۱

نمبر ۱۲۷‘ ص ۱‘ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۳۴ء)

غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اگرچہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تا خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

القصہ حضرت مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ جو عورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لیے نذر ہوچکی تھی۔ اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی۔ افسوس اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود نابکار نے ناجائز تعلقات کے شبہات شائع کئے۔

(چشمہ مسیحی ص ۱۸ روحانی خزائن ص ۳۵۶ / ج ۲۰ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعداد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی‘ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے‘ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے‘ نہ قابل اعتراض۔

(کشتی نوح ص ۱۶ روحانی خزائن ص ۱۸ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام

صفحہ 424

بھی کرتے رہے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ۳۰۳ / ۲۷ روحانی خزائن ص ۲۵۴‘ ۲۵۵ ج ۳ حاشیہ )

(۷) لعنت۔ لعنت

(مرزا صاحب نے) فرمایا! تورات کی رو سے جو زنا کا نطفہ ہو وہ ملعون ہوتا ہے اور جو صلیب دیا جائے وہ بھی ملعون ہوتا ہے‘ تعجب ہے کہ عیسائیوں نے اپنی نجات کے واسطے کفارہ کا مسئلہ گھڑنے کے واسطے یہ تسلیم کر لیا کہ یسوع صلیب پر جا کر ملعون ہو گیا۔ جب ایک لعنت کو انہوں نے یسوع کے واسطے روا رکھا ہے تو پھر دوسری لعنت کو بھی کیوں نہ روا رکھ لیتے‘ تاکہ کفارہ زیادہ پختہ ہو جائے۔ جب لعنت کا لفظ آگیا تو پھر کیا ایک اور کیا دو مگر قرآن شریف نے ان دونوں لعنتوں کا رد کیا ہے اور دونوں کا جواب دیا ہے کہ ان کی پیدائش بھی پاک تھی اور ان کا مرنا عام لوگوں کی طرح تھا صلیب پر نہ تھا۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ملفوظات احمدیہ جلد اول ص ۳۲۲ احمدیہ

انجمن اشاعت اسلام لاہور)

آں حضرت صلعم کے حضرت مسیح اور ان کی والدہ پر بہت بڑے احسانات ہیں کہ آپ نے انہیں ہر ایک قسم کے الزام سے بری کیا۔ جو ان کے مخالف یہودی ان پر لگاتے تھے‘ ورنہ وہ خود تو جس دن سے پیدا ہوئے۔ اسی دن سے مخالفین کی لعنت کے مورد تھے۔ یہودیوں نے ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ابتدا بھی ان کی لعنت سے ہے اور انتہا بھی لعنت سے‘ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو ان کا مصداق تو کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ یہودی لوگ تو خیر لعنت کرتے ہی تھے‘ لیکن خود ان کے اپنے حواری بھی لعنت کرنے سے باز نہ رہ سکے۔ حواریوں میں سے ایک نے تین بار ان پر لعنت کی.... یہ صرف حضرت نبی کریم ہی تھے۔ جو بڑے زور سے ان کے مصدق بنے اور مخالفین کے ہر قسم کے الزامات سے ان کی بریت کی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا احسان ہو سکتا ہے کہ بجائے لعنت کے رحمت کا خطاب انہیں دلا دیا اور اب مسلمان ان پر رحمۃ اللہ کا لفظ بولتے ہیں۔

(ملفوظات احمدیہ جلد ہفتم ص ۴۱۱ مرتبہ منظور الہی صاحب قادیانی لاہور)

(۸) حضرت عیسیٰ کی پیدائش

صفحہ 425

اخویم مکرم ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ‘ سیدنا حضرت قبلہ مولانا مولوی حکیم نور الدین صاحب مرحوم و مغفور نے ۱۹۱۱ء کے سالانہ جلسہ قادیان پر اخویم شیخ محمد جان صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ وزیر آباد کے مندرجہ ذیل استفسار پر اپنے قلم سے مندرجہ ذیل سطور لکھ دیں‘ یہ نقل اس کی مطابق اصل ہے۔ اگر عکس کی ضرورت ہو تو اصل شیخ محمد جان سے منگوا لیں۔

(راقم قمر الدین از جہلم)

سوال بخدمت حضرت خلیفتہ المسیح۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ حضور اگر کوئی حضور کے مریدوں میں ہو کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بن باپ نہ مانے تو اس کے ایمان میں کوئی نقص ہے یا نہیں۔ ایک سائل کا یہ سوال ہے اس پر کچھ فرمایا جائے۔

(خاکسار محمد جان‘ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۱ء)

اس پر آپ نے فرمایا کہ کسی کے پاس قلم دوات ہے تو کسی نے کہا میرے پاس پنسل ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے قلم دوات چاہئے جب قلم دوات آئی تو آپ نے فرمایا۔

جواب منجانب حضرت خلیفتہ المسیح مسیح وقت حضرت نور الدین اعظم

جہاں تک میری سمجھ ہے یہ مسئلہ کسی عقیدہ میں داخل نہیں نہ قرآن کریم نہ حدیث میں اس کے متعلق صریح حکم موجود ہے کہ یہ عقیدہ رکھو۔ اگر کسی کی تحقیق اس کو مجبور کرے تو وہ معذور ہے یہ میرا خیال ہے۔ نور الدین۔"

(الہدی نمبر ۲- ۳‘ ص ۶۳‘ مولفہ محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں‘ اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی‘ بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

(چشمہ مسیحی ص ۱۸ روحانی خزائن ص ۳۵۶ / ج ۲۰ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

ایک صاحب نے عرض کیا بے نظیر چیز تو دنیا میں سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے اور کوئی نظر نہیں آتی۔

صفحہ 426

فرمایا! ہم تو اسے بھی بے نظیر نہیں مانتے بلکہ اور بھی کئی ایسی پیدائشوں کا علم ہے۔ دو سو مشہور لوگوں کے نام تو انسائیکلو پیڈیا والے نے گنائے ہیں۔ ہلاکو خاں اور چین کے شاہی خاندان منچو کے ایک بادشاہ کی پیدائش بھی اسی طرح بیان کی گئی ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲ جون

۱۹۳۰ء نمبر ۱۰۵ جلد ۱۷ ص ۶)

(۹) سوال و جواب

بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے، چنانچہ اسی بنا پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے۔۔۔۔۔۔ ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہے۔۔۔۔۔۔ اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے، بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدا تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے ان کو دے رکھی تھی۔۔۔۔۔ یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔

(ازالہ اوہام ص ۲۹۶ روحانی خزائن ص ۲۵۱‘ ۲۵۲ حاشیہ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۰) عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ روحانی خزائن ص ۲۹۰ ج ۱۱ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 427

وہ لوگ جو فرعون کے وقت مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے‘ جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے وہ حضرت مسیح کے وقت عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے۔۔۔۔۔ سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق (یعنی سحر اور جادوگری) پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو‘ جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ۳۰۲ روحانی خزائن ص ۲۵۴ ج ۳ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

یہ حضرت مسیح کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا) حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔

(ازالہ اوہام ص ۳۰۲ روحانی خزائن ص ۲۵۴ ج ۳ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں کیوں کہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں‘ بمبئی اور کلکتے میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یورپ و امریکہ میں بکثرت ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ۳۰۴‘ روحانی خزائن ص ۲۵۵ ج ۳ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو‘ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی

صفحہ 428

موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ روحانی خزائن ص ۲۹۱ ج ۱۱ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب (یعنی مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی‘ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔ اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔

(ازالہ اوہام ص ۳۲۲ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۶۳ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کو چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا‘ بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی۔ ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ہمارے اس بیان کی بہ یقین تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی با آواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں چنانچہ اس بات کا تجربہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔

صفحہ 429

(ازالہ اوہام ص ۳۲۰-۳۲۱، روحانی خزائن، ص ۲۶۳-۲۶۴، ج ۲ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

(۱۱) مرزا صاحب کی مسیحائی

۳۱؍ جولائی ۱۹۰۱ء صاحبزادہ مبارک احمد صاحب یکایک سخت بیمار ہو گئے اور چند بار غش آیا۔ آخری مرتبہ ایسی غشی طاری ہو گئی کہ بدن بے حس اور سرد ہو گیا۔ سب عورتوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ دیا۔ حضرت مسیح موعود اس وقت دعا میں مصروف تھے۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ آپ تکلف نہ اٹھائیں، لڑکا فوت ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ دیا ہے۔ بایں ہمہ آپ نے عرق گلاب لا کر صاحب زادے کے منہ پر چھینٹے مارے۔ جس کے بعد انہیں کچھ حرکت ہوئی اور پھر تھوڑے عرصہ کے بعد وہ ہوش میں آگئے۔ حضرت مسیح موعود نے باہر آکر بیان فرمایا کہ لڑکے کی نبض مفقود ہو چکی تھی اور علامات موت بالکل ظاہر ہو چکی تھیں۔ آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ میں نے عرق گلاب چھڑکا اور دعا کی کہ الٰہی زیادہ خوف شماتت اعدا کا ہے۔ اس سے بچ جائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے لڑکے کو مردہ حالت سے زندہ کیا۔ حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں چوں کہ علمائے یہود کی برکت جاتی رہی تھی اور موٹے اور سطحی خیال کے لوگ تھے۔ کسی مرگی والے کو شفا ہوئی ہوگی۔ انہوں نے یہی سمجھ لیا۔

(روایات مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۵ نمبر ۳۰ منقول از منظور الٰہی ص ۲۷ مصنفہ

منظور الٰہی صاحب قادیانی)

(۱۲) مسیح ابن مریم اور مرزا صاحب

میں ایسے شخص کا سخت دشمن ہوں کہ جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پھر خیال کرے کہ میں خدا ہوں۔ گو میں مسیح ابن مریم کو اس تہمت سے پاک قرار دیتا ہوں کہ اس نے بھی خدائی کا دعویٰ کیا، تاہم میں دعویٰ کرنے کو تمام گنہ گاروں سے بدتر سمجھتا ہوں میں جانتا ہوں اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم اس تہمت سے بری اور راست باز ہے اور اس نے کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی لیکن ہر ایک دفعہ اپنی عاجزی اور عبودیت ظاہر کی۔ ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم کشف میں جو گویا بیداری کا عالم

صفحہ 430

تھا۔ ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا اور اس نے اپنی فروتنی اور محبت سے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میں نے بھی محسوس کیا کہ وہ میرا بھائی ہے۔ تب سے میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں۔ سو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کے موافق میرا یہی عقیدہ ہے کہ وہ میرا بھائی ہے۔ گو مجھے حکمت اور مصلحت الٰہی نے اس کی نسبت زیادہ کام سپرد کیا ہے اور اس کی نسبت زیادہ فضل و کرم کے وعدے دیئے ہیں مگر پھر بھی میں اور وہ روحانیت کی رو سے ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اسی بنا پر میرا آنا اسی کا آنا ہے جو مجھ سے انکار کرتا ہے..... اور مسیح ابن مریم مجھ میں سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔ مبارک وہ جو مجھے پہچانتا ہے اور بدقسمت وہ جس کی آنکھوں سے میں پوشیدہ ہوں۔

(مرزا صاحب کا مکتوب بنام ڈوئی صاحب مندرجہ مکتوبات احمدیہ جلد سوم ص ۱۱۸)

(۱۳) یسوع مسیح سے پیار مسیحی ملکہ کا دربار

جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے۔ کیوں کہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔ اسی دعویٰ کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں..... اور اس جگہ اس قدر لکھنے کی میں نے اس لئے جرأت کی ہے کہ حضرت یسوع مسیح کی سچی محبت اور سچی عظمت جو میرے دل میں ہے اور نیز وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا۔ ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر باادب التماس کروں کہ..... کیا خوب ہو کہ جناب کو اس چھپی ہوئی توہین پر بھی نظر ڈالنے کے لئے توجہ پیدا ہو جو یسوع مسیح کی شان میں کی جاتی ہے (کم از کم مرزا صاحب کی تصانیف انجام آتھم۔ ازالہ اوہام اور کشتی نوح میں یسوع مسیح کی جو گت بنائی گئی ہے ان کے اور ان کی والدہ مریمؑ کے حق میں جو بدگوئی اور بدزبانی روا رکھی ہے۔ اس پر ضرور توجہ ہو کہ یہ تحریرات بھی ملکہ معظمہ کی نظر سے چھپی ہوئی ہیں (للمؤلف)

صفحہ 431

(تحفہ قیصریہ ص ۲۰ روحانی خزائن ص ۲۵۳ ج ۱۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب

بحضور ملکہ وکٹوریہ قیصر ہند)

(۱۴) مسیحی سرکار قادیانی اقرار

غرض مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لیے مقرر کیا گیا ہے اس کے معنی اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدائے قیوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نمونہ ٹھہرایا ہے اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں میں نے اس نام کے معنی یعنی مسیح موعود کے صرف آج ہی اس طور سے نہیں کئے بلکہ آج سے انیس برس پہلے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بھی یہ ہی معنی کئے ہیں۔

(رسالہ کشف الغطاء ص ۱۴ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جو سرکار ہند کے اعلیٰ حکام

کے ملاحظہ میں پیش کیا گیا۔ روحانی خزائن ص ۱۹۳۔ ۱۹۴ ج ۱۴)

(۱۵) مسمریزم کی تشریح

اور یہ جو میں نے مسمریزی طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ یہ الہامی نام ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ یہ عمل الترب ہے۔

(ازالہ اوہام ص ۳۱۲ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۵۹ ج ۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ۶۰۹‘ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۷۵ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں جیساکہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے قوی امید رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم

صفحہ 432

نہ رہتا۔

(ازالہ اوہام ص ۳۰۹ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۵۷‘ ۲۵۸ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

عمل مسمریزم کا یہی اصول ہے کہ توجہ ڈال کر اپنا اثر دوسرے پر ڈالا جاتا ہے‘ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی یہ علم آتا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان ج ۱۳ نمبر ۱۱۴ ص ۸ مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۲۶ء)

راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا۔ درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا..... خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔

(لیکچر سیالکوٹ ۲ نومبر ۱۹۰۴ء ص ۳۴ روحانی خزائن ص ۲۲۸‘ ۲۲۹ ج ۲۰ از مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

حضرت مسیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقع پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔ اول جب کہ ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ مکار اور کاذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا...... تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔ جن کی بعثت کی اغراض کثیرہ میں سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ ان تمام بے جا الزاموں سے مسیح کا دامن پاک ثابت کریں اور اس کے حق میں صداقت کی گواہی دیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۴۲ روحانی خزائن ص ۳۴۲ ج ۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجالیت کی صفت اتم اور اکمل طور پر آگئی اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعویٰ

صفحہ 433

بھی کرے گا اور خدائی کا بھی۔ ایسا ہی انہوں نے کیا۔ نبوت کا دعویٰ اس طرح پر کیا کہ کلام الٰہی میں اپنی طرف سے وہ دخل دئے وہ قواعد مرتب کئے اور وہ تنسیخ ترمیم کی جو ایک نبی کا کام تھا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۴۳ روحانی خزائن ص ۳۴۳ ج ۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اسی جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اور حقیقت محمدیہ کا ظل ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہو کر جلوہ گر ہوتا ہے اور جو احادیث میں آیا ہے، کہ مہدی پیدا ہو گا۔ اس کا نام میرا ہی نام ہو گا۔ اس کا خلق میرا ہی خلق ہو گا۔ اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو یہ اسی نزول روحانیت کی طرف اشارہ ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۴۶ روحانی خزائن ص ۳۴۶ ج ۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اور چوں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب آیہ واخرین منھم دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا۔ اس لیے آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو (یعنی مرزا صاحب کو) اپنے لیے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۶۵ روحانی خزائن ص ۲۶۳ ج ۱۷ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز، نمبر ۴، ج ۱۴، ص ۱۵۸)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھکر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
صفحہ 434

(از قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل قادیانی‘ اخبار بدر نمبر ۴۳‘ ج ۲‘ ص ۱۴‘ ۲۵؍ اکتوبر

۱۹۰۶ء)

اس ذات بابرکات (محمد) صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی تو تعلق پیدا کیجئے۔ جو اپنی پہلے زمانہ والی تلوار اور نیزہ کو بند کر کے ایک زرق برق والی جمالی پوشاک زیب تن کر کے آپ ہی کے ملک (ہندوستان) میں تیرہ سو سال کے بعد دوبارہ تشریف لایا ہے۔ (مراد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴‘ نمبر ۱۵۰‘ ص ۵‘ مورخہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۱۷) تین مرتبہ دنیا میں نازل

اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گزرنے کے بعد کہ خیر اور صلاح اور غلبہ توحید کا زمانہ ہوگا۔ پھر دنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عود کرے گا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے۔ اور جاہلیت غلبہ کرے گی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہو جائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بڑے زور سے پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اس آخری زمانہ کے آخری حصہ میں دنیا میں پھیلیں گے۔ تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر نزول چاہے گی۔ تب ایک قہری شبیہ میں اس کا نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تب آخر ہوگا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی امت کی نالائق کرتوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لیے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۴۶ روحانی خزائن ص ۳۴۶ ج ۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۸) مرزا صاحب اوتار

اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خو اور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کر کے بھیجا۔ ایسا ہی اس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد و احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لیے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی

صفحہ 435

اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں سے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی...... یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ۷۶ روحانی خزائن ص ۲۸۔ ۲۷ ج ۱۷ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۹) قادیانی نجوم

ان دونوں حسابوں کی رو سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ جس کی خدائے تعالیٰ نے سورۃ والعصر میں قسم کھائی الف خامس ہے یعنی ہزار پنجم جو مریخ کے اثر کے ماتحت ہے اور یہ ہی سر ہے جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مفسدین کے قتل اور خوں ریزی کے لیے حکم فرمایا گیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا اور ان کے استیصال کے درپے ہوئے اور یہی خدائے تعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اول کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لیے تھا۔

مگر بعث دوم جس کی طرف آیتہ کریمہ واخرین منھم لما یلحقوا بھم میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے۔ تحفہ گولڑویہ ص ۱۵۵ روحانی خزائن ص ۲۵۳ ج ۱۷ یہ باریک بھید یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث دوم میں تجلی اعظم جو اکمل اور اتم ہے۔ وہ صرف اسم احمد کی تجلی ہے، کیوں کہ بعث دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے جو کوکب ششم منجملہ خنس کنّس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کی خوں ریزی سے منع کرتا اور عقل اور دانش اور مواد استدلال کو بڑھتا ہے——

اس وقت کے مبعوث پر تو ستارہ مشتری ہے۔ نہ پر تو مریخ، اسی وجہ سے بار بار اس کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ہزار ششم فقط اسم احمد کا مظہر اتم ہے۔ جو جمالی تجلی کو چاہتا ہے۔

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۵۵ روحانی خزائن ص ۲۵۳ ج ۱۷ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 436

(۲۰) قادیانی تعلیم

بعض تعلیمات سلسلہ احمدیہ کی آپ کو ایسی نظر آئیں گی جو بہ ظاہر مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں اور جو اس مشہور تعلیم کے بھی خلاف ہیں، جو قرآن کریم کی طرف منسوب کی جاتی ہے لیکن ..... حضرت مسیح موعود نے کوئی نئی تعلیم نہیں دی، صرف مسلمانوں کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے۔ ہاں بعض باتیں آپ نے نئی بھی بیان کی ہیں۔ لیکن وہ بھی قرآن کریم سے باہر نہیں، بلکہ قرآن کریم سے ہی ہیں لیکن چوں کہ وہ اس زمانہ سے مخصوص تھیں دنیا کو اس سے پہلے ان کی معرفت عطا نہیں کی گئی تھی۔

(تحفہ لارڈارون ص ۲۴ مصنف میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۲۱) ملائکہ اور شیطان

اگر کوئی کہے کہ شیطان و ملائکہ دکھاؤ تو کہنا چاہئے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آناً فاناً بدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکساری و فروتنی و عجز و نیاز میں گر جانا یہ اندرونی کشش جو تمہارے اندر موجود ہے ان سب کے محرک جو قوٰی ہیں، وہ ان دو الفاظ ملک و شیطان کے وجود میں مجسم ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ الحکم ۳۱؍ مئی ۱۹۰۳ء ملفوظات ص ۴۳۶ ج ۵

منقول از اخبار الفضل نمبر ۳۴ جلد ۲۱، ص ۱، مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۳۴ء)

(۲۲) معجزہ کی تعریف (عنوان مندرجہ اخبار الحکم قادیان، ۷ دسمبر ۱۹۳۴ء)

ایک دفعہ منشی محمد اڑوڑے خاں صاحب نے حضرت اقدس سے پوچھا کہ حضور معجزہ کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: معجزہ کی مثال ایسی ہے کہ گرمی شدید پڑ رہی ہو۔ ایک پیر کے مرید ہوں وہ مرید اپنے پیر سے کہیں کہ دعا کرو کہ ٹھنڈی ہوا چل جائے۔ وہ دعا کرے اور پھر اس کے بعد ٹھنڈی ہوا بھی چل پڑے۔ اس سے مریدوں کا تو ایمان بڑھتا ہے کہ ہمارے پیر نے دعا کی

صفحہ 437

اور ٹھنڈی ہوا چل گئی‘ مگر مخالف اس پر اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہوا کا کام تو چلنا ہی ہے یہ کیا معجزہ ہے۔ معجزہ کی مثال ایسی ہی ہے۔

(اخبار الحکم قادیان نمبر ۴۴ جلد ۴۷ مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۳۴ء)

(۲۳) کمزوری پر پردہ

یہ باتیں قطعی طور پر اسلام اور احمدیت کے خلاف ہیں اور احمدیت کی جڑ پر تبر کا حکم رکھتی ہیں کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ معجزات تو ایسے ہی ہوتے ہیں، لیکن (غلام احمد قادیانی) صاحب نے اپنی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لیے اس سے انکار کر دیا اور اگر ہم قرآن سے ایسے معنی کریں گے تو دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ قرآن سے تو ایسے معجزات خود ان کے نزدیک بھی ثابت ہیں۔ مرزا صاحب نے صرف اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے ان سے انکار کیا، پھر جماعت کے بعض لوگ جن کا علم وسیع نہیں سمجھیں گے کہ یہ ٹھیک ہے جو پیغامی (لاہوری فریق) کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نبی نہ تھے کیوں کہ نبی تو ایسے معجزات دکھاتے ہیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں دکھائے۔

کچھ تو اس ابتلا میں پڑ جائیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہ تھے اور جو نبوت پر یقین رکھتے ہیں ان میں سے کئی آپ کے معجزات کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی شروع کریں گے اور آہستہ آہستہ وہ معجزات وہی رنگ اختیار کر لیں گے جو پہلے انبیا کے معجزوں کو دے دیا گیا ہے اور بوجہ جھوٹ ہونے کے خدا تعالیٰ کے نزدیک لعنت کا باعث بن جائیں گے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۲

ص ۶، مورخہ ۳؍ جولائی ۱۹۳۰ء)

(۲۴) معجزہ شق القمر کی تاویل

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اقترب الساعۃ و انشق القمر وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر یعنی قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور جب یہ لوگ خدا کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایک پکا جادو ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور

صفحہ 438

میں نہ آیا ہو گا تو ان کا حق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادو کہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا۔ جس کا نام شق القمر رکھا گیا، بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیش گوئیوں کے ہیں۔ اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہو گا، کیوں کہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتا ہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ایک استعارہ ہے۔

(چشمہ معرفت ص ۲۲۲ روحانی خزائن ص ۲۳۲ ج ۲۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

یہ آیت یعنی وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر یہ سورہ قمر کی آیت ہے شق القمر کے معجزہ کے بیان میں۔ اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا یہ ہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے۔ قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کوئی خارق عادت امر نہیں۔

(نزول المسیح ص ۱۴۸ روحانی خزائن ص ۵۰۶‘ ۵۰۷ ج ۱۸ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

ایک صاحب نے (مرزا صاحب سے) پوچھا شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں، فرمایا: ”ہماری رائے میں یہ ہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء، ملفوظات ص ۳۷۵ ج ۱۰)

(۲۵) قادیان کی مسجد

دوسرا کھلا نشان خانہ کعبہ کے متعلق یہ ہے کہ من دخلہ کان امنا (القرآن) یعنی یہ ایک امن کا مقام ہے یہ بھی خصوصیت ساری دنیا میں صرف خانہ کعبہ کو ہی حاصل ہے کہ وہ امن کا مقام ہے۔

(نکات القرآن حصہ سوم ص ۴۶۷ مرتبہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری)

مرزا صاحب الہام کی بنا پر یہی صفت اپنی قادیانی مسجد کی قرار دیتے ہیں چنانچہ

صفحہ 439

ملاحظہ ہو۔

بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا ومن دخلہ کان امنا اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔

(براہین احمدیہ ص ۵۵۸ روحانی خزائن ص ۲۶۷ ج ۱ حاشیہ درحاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۲۶) ارض حرم

جو احباب واقعی مجبوریوں کے سبب اس موقعہ (جلسہ سالانہ) پر قادیان نہیں آ سکے وہ تو خیر معذور ہیں۔۔۔۔ لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد واثق کا پاس کیا اور۔۔۔۔ ارض حرم (قادیان) کے انوار و برکات سے بہرہ اندوز ہوئے۔ امام محترم کی زیارت کرنے۔۔۔۔ کے شوق میں دارالامان مہدی ٹھیک وقت پر آن ہی پہنچے ان کی للہیت ان کا اخلاص فی الواقعہ قابل تحسین ہے۔

اقامت نماز کے وقت جب ہجوم خلائق مسجد مبارک میں نہیں سما سکتا۔ تو گلیوں، دکانوں اور راستوں تک میں نمازی ہی نمازی نظر آتے ہیں اور ارض حرم کے چار مصلوں کی حقیقت ظاہر کرنے والا یہ نظارہ بھی ہر سال دیکھنے میں آتا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۷۴ مورخہ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۱۵ء)

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(در ثمین ص ۵۲ مجموعہ کلام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۷) قادیان کا ظلی حج

چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں حالانکہ الٰہی تحریکات پہلے غرباء میں ہی پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غربا کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا۔ تا وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہو سکیں۔

صفحہ 440

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر ۶۶

ص ۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۳۲ء)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جو یہ الہام ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے متعلق ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں‘ مگر غیر مبائعین (لاہوری جماعت) مدینہ لاہور کو اور مکہ قادیان کو قرار دیتے ہیں۔ اسی بات پر وہ قائم رہیں تو قادیان کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کو نفلی حج کہنا کوئی ناجائز نہیں ہے۔ اگر میں یہ کہتا کہ مکہ معظمہ کا حج موقوف ہو گیا اور اس کے بجائے قادیان آنا حج کا درجہ رکھتا ہے تب وہ اعتراض کر سکتے تھے مگر مکہ معظمہ کا حج تو قائم ہے۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

۲۰ نمبر ۸۰ ص ۴ مورخہ ۵ جنوری ۱۹۳۳ء)

آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدائے تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لیے مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے۔ مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ ص ۵ جیسا حج میں رفث فسوق اور جدال منع ہیں ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہیں۔

(خطبہ جمعہ از میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ برکات خلافت مجموعہ تقاریر

میاں صاحب جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء)

جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا صاحب کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے وہ خشک اسلام ہے۔ اس طرح اس نفلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے کیوں کہ وہاں پر آج کل حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔

(قادیانی جماعت کے ایک بزرگ کا ارشاد مندرجہ اخبار پیغام صلح جلد ۲۱‘ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۹

اپریل ۱۹۳۳ء)

(۲۸) حج نفل سے بڑھ کر حج

صفحہ 441

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا وہ جلسہ سالانہ شروع ہونے والا ہے۔ جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت رکھی اور جس میں شامل ہونے کی یہاں تک تاکید کی کہ آپ نے فرمایا:

"اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے‘ اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر کیوں کہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۵۲‘ روحانی خزائن ص ۳۵۲ ج ۵ مصنفہ مرزا صاحب)

..... جب یہ جلسہ اپنے ساتھ اس قسم کے فیوض رکھتا ہے کہ اس میں شمولیت نفلی حج سے بھی زیادہ ثواب کی انسان کو مستحق بنا دیتی ہے تو لازماً ان فوائد سے مستفید ہونے کے لئے جماعت کے ہر فرد کے دل میں تڑپ ہونی چاہئے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر ۷۶ ص ۳ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئینہ کمالات اسلام میں نواب محمد علی خاں صاحب کو جو ہمارے بہنوئی ہیں۔ قادیان آنے کی تحریک کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر‘ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۵۲ روحانی خزائن ص ۳۵۲ ج ۵ مصنفہ مرزا صاحب)

شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے بھی یاد ہے۔ صاحب زادہ عبداللطیف صاحب شہید حج کے ارادہ سے کابل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے‘ چنانچہ پھر صاحب زادہ صاحب حج کے لیے نہ گئے اور یہیں رہے‘ کیونکہ وہ اگر حج کے لیے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

۲

صفحہ 442

۲۰ نمبر ۸۰ ص ۴ مورخہ ۵؍ جنوری ۱۹۳۳ء)

(۲۹) حج کرنے میں کیا فائدہ

السلام علیکم! تمہارا خط ہم کو ملا‘ بڑا افسوس ہے کہ تم نہیں سمجھتے ہو اس ارادہ کو جو ہم نے تمہارے لیے کیا تھا تم اسلام کا چھلکا طلب کرتے ہو اور ہم نے ارادہ کیا تھا کہ تم کو اسلام کا مغز اور اس کا روح دیا جائے اگر تم خدا تعالیٰ سے ڈرتے تو جس بارے میں خدا نے مجھے بھیجا ہے اس میں فکر کرتے۔ جان لو کہ کسی کو کوئی عمل بغیر میری شناخت اور میرے دلائل کی واقفیت کے فائدہ نہیں دیتا۔ تمہارے لیے بہتر ہے کہ عید کے بعد (قادیان سے) جانے کے خیال سے توبہ کرو اور کچھ مدت ہمارے پاس رہو اور وہ علم حاصل کرو جو خدا تعالیٰ نے ہم کو دیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ تم کو صحت ایمان کے بغیر حج کرنے میں کیا فائدہ ہوگا۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب موسومہ محمد قدسی مندرجہ نہج المصلیٰ جلد اول ص

۲۷۰ مولفہ محمد فضل صاحب قادیانی)

(۳۰) عذر حج

مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں سنایا گیا جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ”میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت ہولے۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۶۳- ۲۶۴ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

اس حدیث کے مطابق حضرت مرزا صاحب پر حج فرض نہ تھا۔ کیوں کہ آپ کی صحت درست نہ تھی‘ ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا۔ کیوں کہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ معظمہ سے حضرت مرزا صاحب کے واجب القتل ہونے کے فتاوے منگائے تھے۔ اس لیے حکومت حجاز آپ کی مخالف ہوچکی تھی۔ وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ تھا‘ لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا۔ لا تلقوا

صفحہ 443

بایدکم الی التھلکۃ کہ اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پھنساؤ۔ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں۔ اس لیے آپ پر حج فرض نہ ہوا۔

(اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۱۷ نمبر ۲۱ ص ۷‘ مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۲۹ء)

(۳۱) قادیان میں مسجد اقصیٰ

سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الا قصی الذی بارکنا حولہ کی آیت کریمہ میں مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد ہے۔ جیسے فرمایا‘ اس معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے اور مسجد اقصیٰ یہی ہے۔ جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔ جو مسیح موعود (مرزا صاحب) کی برکات اور کمالات کی تصویر ہے۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بطور موہبت ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۰‘ نمبر ۲۲‘ مورخہ ۲۱ اگست ۱۹۳۳ء)

پس اس پہلو کی رو سے جو اسلام کے انتہا زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے ..... پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

(بقیہ ”تبلیغ رسالت“ ص ۴۰‘ ج ۹ حاشیہ‘ مجموعہ اشتہارات ص ۲۸۹‘ ج ۳‘ حاشیہ)

اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ عزاسمہ نے اپنے اس قول میں سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ....... اور مسجد اقصیٰ وہی ہے جس کو بنایا مسیح موعود نے (ترجمہ تبلیغ رسالت ص ۴۵‘ ج ۹‘ حاشیہ۔ مجموعہ اشتہارات ص ۲۹۴‘ ج ۳‘ حاشیہ)

اس مسجد کی تکمیل کے لئے ایک اور تجویز قرار پائی ہے اور وہ یہ کہ مسجد کی شرقی طرف جیسا کہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء ہے۔ ایک نہایت اونچا منارہ بنایا جائے۔

(”تبلیغ رسالت“ ص ۴۴‘ جلد ۹‘ مجموعہ اشتہارات ص ۲۸۳‘ ج ۳)

صفحہ 444

دوسرا مطلب اس منارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی بہت اونچے حصہ پر ایک بڑا لالٹین نصب کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔ یہ روشنی انسانوں کی آنکھیں روشن کرنے کے لئے دور دور جائے گی۔

(”تبلیغ رسالت“ ص ۴۴، جلد ۹، مجموعہ اشتہارات ص ۲۸۴، ج ۳)

وہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا۔ اب سے زمینی جہاد بند ہو گیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔

(”تبلیغ رسالت“ ص ۴۵، ۴۶، ج ۹، مجموعہ اشتہارات ص ۲۸۴، ج ۳)

(۳۲) بحث سے گریز (م)

کیا میں نے اس کو (یعنی مہر علی شاہ صاحب کو) اس لئے بلایا تھا۔ کہ میں اس سے ایک منقولی بحث کر کے بیعت کرلوں۔ جس حالت میں، میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے مسیح موعود مقرر کر کے بھیجا ہے اور مجھے بتلا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے۔ تو پھر میں کس بات میں اور کس غرض کے لئے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ تورات و انجیل اور قرآن کریم پر۔ تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے۔ کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں۔ جس کی حق الیقین پر بنا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی ضد کو چھوڑ نہیں سکتے کیوں کہ میرے مقابل پر جھوٹی کتابیں شائع کر چکے ہیں اور اب ان کو رجوع اشد من الموت ہے۔ تو پھر ایسی حالت میں بحث سے کون سا فائدہ مترتب ہو سکتا تھا اور جس حالت میں، میں نے اشتہار دے دیا کہ آئندہ کسی مولوی وغیرہ سے منقولی بحث نہیں کروں گا۔ تو انصاف اور نیک نیتی کا تقاضا یہ تھا کہ ان منقولی بحثوں کا میرے سامنے نام بھی نہ لیتے۔ کیا میں اپنے عہد کو توڑ سکتا تھا۔

اگر مہر علی شاہ کا دل فاسد نہیں تھا۔ تو اس نے ایسی بحث کی مجھ سے کیوں

صفحہ 445

درخواست کی۔ جس کو میں عہد مستحکم کے ساتھ ترک کر بیٹھا تھا۔

(”اربعین“ نمبر ۴، ص ۲۵‘ ۹۸’ ”روحانی خزائن“ ص ۴۵۵-۴۵۴، جلد ۱۷، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی)

اور اگرچہ میں کئی سال ہوگئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں۔ مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں کیوں کہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثہ ہرگز نہیں کروں گا۔۔۔۔

(”میرزا قادیانی صاحب کا مکتوب بنام مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مندرجہ

اخبار الفضل قادیان نمبر ۱۷۷، جلد ۳۴، ص ۳، مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۴۶ء)

لاہور میں جو تقریر آپ نے سب سے آخری اور جو ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو قبل عصر فرمائی اس کے بعد آپ کو تقریر کا کوئی موقعہ نہیں ملا۔ مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ اپنے خاص معتمد کے خط بھیجا۔ جس میں بعض مسائل مختلف فیہ پر زبانی گفتگو کرنے کی اجازت چاہی اور وعدہ کیا کہ میں بہت نرمی اور پاس ادب سے گفتگو کروں گا۔ حضرت اقدس نے قبل عصر حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب سے ان کے متعلق دریافت کیا کہ وہ اخلاق کے کیسے ہیں۔ مغلوب الغضب اور فوراً جوش میں آجانے والے یا بھڑک اٹھنے والے طبیعت کے تو نہیں ہیں۔ (دراصل دل پر رعب طاری معلوم ہوتا ہے اور غالباً نہ ملنے کے عذر کی تلاش ہے۔ مگر سوء اتفاق کہ اشارہ پر بھی ساتھیوں نے ساتھ نہ دیا اور مطلوبہ عذر ہاتھ نہ آسکا نتیجہ یہ کہ گریز نمایاں ہوگیا۔ للمؤلف برنی) اس کے جواب میں بعض اصحاب نے عرض کیا کہ حضور وہ ایسے تو نہیں ان کی طبیعت میں نرمی پائی جاتی ہے۔ البتہ اگر بعض عوام کا ہجوم ان کے ہمراہ ہوگا تو اندیشہ ہے۔

صفحہ 446

حضرت اقدس خود چونکہ پیغام صلح کے لکھنے میں مصروف تھے اور فرصت نہ تھی۔ (اس عذر کی بناوٹ صاف ظاہر ہے۔ للمولف برنی) اس لئے حضرت اقدس نے مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب سے فرمایا کہ آپ ان کو خط کا جواب لکھ دیں۔ اصل خط ان کا ہم بھیج دیں گے اور بے شک نرمی اور آہستگی سے ان سے ان مسائل میں گفتگو کریں البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے ہمراہ سوائے دو چار معزز آدمیوں کے اور زیادہ ہجوم نہ ہو اور آپ بھی علیحدگی میں بیٹھ کر گفتگو کریں۔ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ (پہلو کی کمزوری ظاہر ہے۔۔۔ للمولف برنی)

(اخبار ”الحکم“ قادیان کا خاص نمبر جلد ۷‘ نمبر (۱۸۔ ۱۹) مورخہ ۲۱‘ ۲۸ مئی ۱۹۳۴ء

ملفوظات ص ۴۵۴‘ ۴۵۳‘ جلد ۱۰‘ طبع ربوہ)

(۳۳) حیران

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک دفعہ ایک انگریز اور ایک لیڈی امریکہ سے ملاقات کے لئے آئے۔ مولوی علی احمد صاحب ایم اے اور میں نے ترجمانی کی حضرت اقدس سے اس انگریز نے سلسلہ کلام کا آغاز کرتے ہوئے پوچھا۔ کیا آپ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ”ہاں“ اس نے کہا کوئی نشان دکھائیے۔ آپ نے فرمایا۔ آپ کا آنا بھی میری صداقت کا نشان ہے۔ اس پر وہ حیران سا ہو گیا اور اسی حیرانی کے عالم میں اس نے مجھ سے پوچھا۔ میں یہ بات سمجھا نہیں کہ ہمارا آنا کیوں کر آپ کی نبوت کا ثبوت ہو گیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا نبی وہ ہوتا ہے۔ جو خدا سے خبر پا کر کوئی بات پہلے بتائے اور وہ پوری ہو جائے۔ میں نے آج سے ایک عرصہ پہلے خدا سے خبر پا کر یہ بیان کیا تھا۔ کہ دور دور سے چل کر لوگ میرے پاس آئیں گے اور آج آپ امریکہ سے چل کر مجھے دیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ پھر کیا میں خدا کا نبی نہیں ہوں۔

(”تقریر مفتی محمد صادق صاحب“ مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۲ جنوری ۱۹۲۶ء نمبر

۷۶‘ جلد ۱۳‘ ملخص ملفوظات ص ۲۱۳‘ ج ۱۰‘ طبع ربوہ)

(۳۴) علی گڑھ میں سکوت

صفحہ 447

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ لدھیانہ میں پہلی دفعہ بیعت لے کر یعنی ابتداء ۱۸۸۹ء میں حضرت (مرزا) صاحب علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے حضرت صاحب سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے مکان پر ٹھہرے ...... علی گڑھ میں لوگوں نے حضرت صاحب سے عرض کر کے حضور کے ایک لیکچر کا انتظام کیا تھا۔ اور حضور نے منظور کر لیا تھا۔ جب اشتہار ہو گیا اور سب تیاری ہو گئی اور لیکچر کا وقت قریب آیا۔ تو حضرت صاحب نے سید تفضل حسین صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ میں لیکچر نہ دوں۔ اس لئے میں اب لیکچر نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا حضور اب تو سب کچھ ہوچکا ہے۔ لوگوں میں بڑی ہتک ہوگی۔ حضرت صاحب نے فرمایا خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کریں گے۔ پھر اور لوگوں نے حضرت صاحب سے بڑے اصرار سے عرض کیا مگر حضرت صاحب نے نہ مانا اور فرمایا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس کے حکم کے مقابل میں کسی ذلت کی پرواہ نہیں کرتا۔ غرض حضرت صاحب نے لیکچر نہیں دیا ...... خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سفر میں مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی نے حضور کی مخالفت کی اور آخر آپ کے خلاف ایک کتاب لکھی مگر جلد ہی اس جہان سے گزر گیا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۶۳‘ روایت ۹۹‘ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۳۵) حافظہ نباشد

ان اختلافات کے طوفان کے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظاہر ہوئے اور آپ نے ان سب غلطیوں سے مذہب کو پاک کر دیا ہے۔ سب سے پہلے میں شرک کو لیتا ہوں۔ آپ نے شرک کو پورے طور پر رد کیا اور توحید کو اپنے پورے جلال کے ساتھ ظاہر کیا۔ آپ سے پہلے مسلمان علماء تین قسم کا شرک مانتے تھے ...... (۲) علماء تسلیم کرتے تھے کہ کسی میں خدائی صفات تسلیم کرنا بھی شرک ہے مگر یہ صرف منہ سے کہتے تھے۔ بڑے سے بڑے توحید پرست وہابی بھی حضرت مسیح کو ایسی صفات دیتے تھے۔ جو خدا سے

صفحہ 448

ہی تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً یہ کہتے کہ وہ آسمان پر کئی سو سال سے بیٹھے ہیں نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ ان پر کوئی تغیر آتا ہے۔

(”حضرت مسیح موعود“ کے کارنامے ص ۲۹‘ تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

و کلمہ ربہ علی طور سنین و جعلہ من المحبوبین ھذا ھو موسیٰ فتیٰ اللہ الذی اشار اللہ فی کتابہ الی حیاتہ و فرض علینا ان نؤمن بانہ حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین اور اس (حضرت موسیٰ) کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا نبی بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور ہرگز نہیں مرا اور مردوں میں سے نہیں۔

(”نور الحق“ جلد اول ص ۵۰‘ روحانی خزائن ص ۶۸‘ ۶۹‘ ج ۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص موحد کہلائے خدا تعالیٰ کو ایک سمجھے اور پھر یہ بھی عقیدہ رکھے کہ سینکڑوں سالوں سے حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر بغیر کسی جسمانی تغیر کے جوں کے توں بیٹھے ہیں۔

(”خطبہ جمعہ“ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳‘

نمبر ۳۹‘ ص ۵‘ مورخہ ۳ اکتوبر ۱۹۲۵ء)

(۳۶) چنیں چناں

جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا۔ وہ بداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔

(”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ۱۸۸‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۶۴‘ ج ۲۱‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

قرآن سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلعم کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلعم کی امت ہوئے۔

صفحہ 449

(”تشحیذ الاذہان“ قادیان نمبر ۸‘ جلد ۱۲‘ بابت اگست ۱۹۱۷ء ص ۲۸)

(۳۷) معلومات کی وسعت و صحت

امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کی رو سے بھی‘ ہیئت کی رو سے بھی‘ طبعی کی رو سے بھی جغرافیہ کی رو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کی رو سے بھی اور عقلی بنا پر بھی۔

(”ضرورۃ الامام“ ص ۱۰‘ روحانی خزائن ص ۴۸۰‘ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

تاریخ کو دیکھو آنحضرت صلی علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا۔ جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔

(”پیغام صلح“ ص ۱۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۶۵‘ ج ۲۳)

(تاریخ اسلام سے اتنی ناواقفیت۔ عام طور سب کو معلوم ہے کہ احادیث میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک سے قبل ہی حضرت کے والد رحلت فرما چکے تھے۔۔۔ للمولف)

تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے) گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔

(”چشمہ معرفت“ ص ۲۸۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۹۹‘ ج ۲۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کل اولاد بھی گیارہ نہ تھی۔ مرزا صاحب کی تاریخ سب سے جدا معلوم ہوتی ہے۔ للمولف)

کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا۔ جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔

(”ملفوظات احمدیہ“ جلد اول‘ ص ۳۷۲-۳۴۶‘ مرتبہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور)

(حضرت امام حسین کے زمانہ میں عرب میں ضرور چاء کا رواج ہو گا اور حضرت

صفحہ 450

(امام حسین بھی ضرور اس کے عادی ہوں گے۔۔۔ للمؤلف)

یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ۱۴ جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چہار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔

("تریاق القلوب" ص ۴۱' روحانی خزائن ص ۲۱۷' ۲۱۸' ج ۱۵' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

وہ چوتھا لڑکا جس کا ان کتابوں میں چار مرتبہ وعدہ دیا گیا تھا۔ صفر ۱۳۱۷ھ کی چوتھی تاریخ میں بروز چہار شنبہ پیدا ہو گیا۔ عجیب بات ہے کہ اس لڑکے کے ساتھ چار کے عدد کو ہر ایک پہلو سے تعلق ہے۔

("تریاق القلوب" ص ۴۳' روحانی خزائن ص ۲۲۳' ج ۱۵' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(سخن سازی کا جذبہ دیکھیے کہ ماہ صفر جو اسلامی مہینوں میں سے دوسرا مہینہ ہے۔ اور چہار شنبہ جو ہفتہ میں پانچواں دن ہے چوتھے لڑکے سے ملانے کے لئے چوتھا مہینہ اور چوتھا دن بن گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ مرزا صاحب کے نزدیک ایسے فرق کچھ قابل شمار نہیں ہوتے ورنہ بات نہیں بنتی۔۔۔ للمؤلف)

(۳۸) سچا جھوٹ

مولوی محمد علی مونگیری اور ان کے اعوان و انصار جن کی غرض اس صوبہ بہار میں بالخصوص یہ ہے کہ جس طرح ہو احمدیوں کے خلاف عوام کو بھڑکایا جائے۔ اپنی صحیفوں ٹریکٹوں اور نیز اپنے بیانات میں ہمیشہ عوام کو یہ دکھلاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے اخبار بدر میں معاذ اللہ یہ جھوٹ لکھا ہے کہ جناب رسول مقبول صلعم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔ ہر چند ان کو اچھی طرح سمجھایا گیا کہ یہ جھوٹ نہیں ہو سکتا اور کسی طرح اس پر جھوٹ کی تعریف صادق نہیں آتی اور نیز کہنے والے کی غرض ہرگز جھوٹ بیان کرنے کی

صفحہ 451

نہیں ہے مگر عناد و تعصب نے انہیں سمجھنے کا کبھی موقعہ نہیں دیا۔

(”اخبار الفضل“ قادیان مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۲۲ء جلد ۶‘ نمبر ۹۴‘۹۳)

(۳۹) جھوٹا سچ

میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے میں جھوٹا ہوں۔ پس مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا ، جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ والسلام بقلم خود مرزا غلام احمد قادیانی۔

(اخبار ”بدر“ ج ۲‘ نمبر ۲۹‘ مورخہ ۱۹ر جولائی ۱۹۰۶ء‘ ص ۴‘ منقول از ”الہدیٰ“ نمبر ۱‘

ص ۴۳‘ از حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)

صفحہ 452

فصل آٹھویں

تعلقات

(۱) اراکین خاندان

بھائی۔

الدین کی حقیقی ہمشیرہ۔

کے حقیقی ماموں۔

(۲) بڑی بشارت

خدائے تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم)

صفحہ 453

انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہو گا اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری (یعنی مرزا صاحب) طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے (اس کا تصفیہ بعد کو ہو جائے گا۔ للمولف) اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا۔ اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۳۹۶ روحانی خزائن ص ۳۰۵ ج ۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۳) بشارت پر بشارت

اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔ اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز (مرزا قادیانی صاحب) کی پیش گوئی موجود ہے (خاص اولاد کی مشہور پیش گوئی یوں ہے۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظھر الاول و الاخر مظھر الحق و العلاء کان اللہ نزل من السماء۔ مندرجہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء غالباً یہی خاص اولاد پیش نظر ہے۔ للمولف)

گویا اس جگہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔ (گویا حدیث شریف کی رو سے مرزا صاحب کا محمدی بیگم سے نکاح ہونا لازم ہے اور یہ مسیح موعود ہونے کا خاص ثبوت ہوگا۔ للمولف)

(”ضمیمہ انجام“ آتھم ص ۵۳‘ روحانی خزائن حاشیہ ص ۳۳۷‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 454

(۴) خداداد موقع

(محمدی بیگم کے اعزاء) مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ تو اس وجہ سے کئی دفعہ دعا کی گئی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدائے تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ (مرزا احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچازاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے۔ نامبردہ (مرزا احمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپے قیمت کی ہے، اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا، اس لئے مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) نے بہ تمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تا ہم راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا۔ گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔

اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے

صفحہ 455

اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار‘ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ ج۱

ص۱۵۵-۱۶۶‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص۱۵۷‘ ۱۵۸‘ ج۱)

(۵) لالچ اور دھمکی (م)

اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لوگے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے۔ تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا۔ تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔ ایسی صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ جن کا نتیجہ موت ہوگا۔

پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مرجاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا۔ یہ حکم اللہ ہے۔ پس جو کرنا ہے کرلو۔ میں نے تم کو نصیحت کردی ہے۔ پس وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھا کر چلا گیا۔

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۷۲‘ ”روحانی خزائن“ ص ۵۷۲‘ ۵۷۳‘ ج۵‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

(م) ”خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔ اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا۔ تو تین برس کے عرصہ بلکہ اس کے قریب فوت ہو

صفحہ 456

جائے گا۔ اور وہ جو نکاح کر لے گا، وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہو گا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہو گی"۔

(۲۰ فروری ۱۸۸۶ء ”تبلیغ رسالت“ ج اول، ص ۱۱۶، مجموعہ اشتہارات، ص ۱۰۲، ج ۱)

(۶) خدا کی طرف سے حکم

مکرمی مخدومی اخویم مرزا احمد بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کر دے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے۔ یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر و برکت ہو گا اور ہمارے انعام و اکرام بارش کی طرح اس پر نازل ہوں گے۔ اور تنگی اور سختی اس سے دور کر دی جائے گی اور اگر انحراف کیا تو مورد عتاب ہو گا اور ہمارے قہر سے نہ بچ سکے گا۔

اور میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تاکہ اس کے رحم و کرم سے حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا نعمتوں کے خزانے تم پر کھولے جائیں اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب و لحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دین دار اور ایمان دار بزرگ تصور کرتا ہوں۔ اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں اور ہبہ نامہ پر جب کہو حاضر ہو کر دستخط کر جاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔ اور میں نے عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرانے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش و سفارش کر لی ہے تاکہ وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدت مندوں میں ہے تقریباً کر دیا ہے اور اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو۔ فقط

خاکسار غلام احمد عفی عنہ لدھیانہ اقبال گنج مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۸ء

(منقول از رسالہ ”نوشتہ غیب“ ص ۱۰۰، مولفہ ایم۔ ایس خالد صاحب وزیر آبادی)

تب میں نے اللہ تعالیٰ کے ایما اور اشارہ سے اس کو (یعنی مرزا احمد بیگ صاحب کو) خط لکھا اور اس میں لکھا۔

صفحہ 457

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اے عزیز سنئے۔ آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ میری سنجیدہ بات کو لغو سمجھتے ہیں اور میرے کھرے کو کھوٹا خیال کرتے ہیں۔ بخدا میرا یہ ارادہ نہیں کہ میں آپ کو تکلیف دوں انشاء اللہ آپ مجھے احسان کرنے والوں میں سے پائیں گے اور میں یہ عہد استوار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے میرے خاندان کے خلاف مرضی میری بات کو مان لیا تو میں اپنی زمین اور باغ میں آپ کو حصہ دوں گا اور اس رشتہ کی وجہ سے آپس کی نزاع اور اختلاف رفع ہو جائے گا اور خدا میرے کنبہ اور خاندان کے قلوب کی اصلاح کر دیگا۔۔۔۔۔۔ اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا۔ تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں اور آپ کی درازی عمر کے لئے ارحم الراحمین کے جناب میں دعا کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا۔ صلہ رحم عزیزوں سے محبت اور رشتہ کے حقوق کے بارے میں آپ کو مجھ جیسا کوئی شخص نہیں ملے گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں اپنا دستگیر اور بار اٹھانے والا پائیں گے۔ اس لئے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے اور شک و شبہ میں نہ پڑیئے۔

میں اپنا یہ خط اپنے پروردگار کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ اپنی رائے سے نہیں۔ آپ میرے اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھیے۔ یہ خط بڑے سچے اور امین کی جانب سے ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس میں سچا ہوں اور جو کچھ میں نے وعدہ کیا ہے‘ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے جو کہا ہے وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اپنے الہام سے کہلوایا ہے اور یہ مجھے میرے پروردگار کی وصیت تھی۔ اس لئے میں نے اسے پورا کیا۔ ورنہ مجھے آپ کی یا آپ کی لڑکی کی کچھ حاجت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ اگر میعاد گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تو میرے گلے میں رسی اور پاؤں میں زنجیر ڈالنا اور مجھے ایسی سزا دینا کہ تمام دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہو۔ یہ خط میں نے احمد بیگ کو ۱۳۰۴ھ میں لکھا تھا۔ (ترجمہ)

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۷۳‘ ”روحانی خزائن“ ص ۵۷۳-۵۷۴‘ ج ۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

صفحہ 458

(۷) اس راقم کا ایک خط

اخبار ”نور افشاں“ ۱۰؍ مئی میں جو اس راقم (غلام احمد قادیانی صاحب) کا ایک خط متضمن درخواست نکاح چھاپا گیا ہے۔ اس خط کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کر کے عجیب طرح کی زبان درازی کی ہے اور ایک صفحہ اخبار کا سخت گوئی اور دشنام دہی میں ہی سیاہ کیا ہے...... اب یہ جاننا چاہیے کہ جس خط کو ۱۰؍ مئی ۱۸۸۸ء کے ”نور افشاں“ میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے‘ وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا....... پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی‘ تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز (مرزا قادیانی صاحب) کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔ (گویا مرزا قادیانی صاحب کی پیش گوئی ضرور پوری ہوگی۔ حالانکہ پوری نہ ہوئی۔ للمولف برنی)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار‘ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء‘ مجموعہ اشتہارات‘

ص ۱۵۸ تا ۱۶۳‘ ج ۱‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد اول‘ ص ۱۱ تا ۱۶ مولفہ میر قاسم علی

صاحب قادیانی)

(۸) خاندانی سرد مہری (م)

پہلا خط

مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘ قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا لیکن بوجہ اس کے یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا‘ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرماوے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

صفحہ 459

جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے۔۔۔۔۔ آپ کے لئے دعا خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص ہمدردی، جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے، آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے، سو مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے، میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتے کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتے سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا۔ جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے۔ تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہو گا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا کہ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے، ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر، جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے، ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ

صفحہ 460

کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے‘ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین و دنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرماویں۔ والسلام۔

(خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ‘ ۱۷؍ جولائی ۱۸۹۲ء روز جمعہ

منقول از رسالہ ”کلمتہ فضل رحمانی“ ص ۱۲۳‘ مولفہ قاضی فضل احمد صاحب)

دوسرا خط

مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اب آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے‘ ذلیل کیا جائے‘ روسیاہ کیا جائے۔

یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا‘ تو ضرور بچا لے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا

صفحہ 461

عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض۔ کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو‘ وہی میرے خون کے پیاسے‘ وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدائے تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے؟ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا کیا باقی رہ گیا۔ جو چاہے کر لے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ ابھی مرا ہی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں‘ ذلیل ہوں‘ خوار ہوں مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں‘ تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا‘ تو دوسری طرف سے فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا۔ اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے۔ تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضے میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر کے

صفحہ 462

لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم۔

(راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج، ۴ مئی ۱۸۹۱ء -

”کلمتہ فضل رحمانی“ ص ۱۲۵ تا ۱۲۷)

دوسرے خط کا جواب (م)

اخویم مرزا غلام احمد زاد عنایتہ۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔ گرامی نامہ پہنچا۔ غریب طبع یا نیک جو کچھ بھی آپ تصور کریں، آپ کی مہربانی ہے۔ ہاں مسلمان ضرور ہوں۔ مگر آپ کی خود ساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے سلف صالحین کے طریقے پر ہی رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر کرے۔۔۔۔۔

باقی رہا تعلق چھوڑنے کا مسئلہ، تو بہترین تعلق خدا کا ہے۔ وہ نہ چھوٹے، اور باقی اس عاجز مخلوق کا ہوا تو پھر کیا، نہ ہوا تو پھر کیا اور احمد بیگ کے متعلق میں کر ہی کیا سکتا ہوں۔ وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان آدمی ہے۔ جو کچھ ہوا آپ کی طرف ہی سے ہوا۔ نہ آپ فضول ایمان کو گنواتے اور الہام بانی کرتے اور نہ مرنے کی دھمکیاں دیتے اور نہ وہ کنارہ کش ہوتا۔۔۔۔۔

یہ ٹھیک ہے کہ خویش ہونے کی حیثیت سے آپ نے رشتہ طلب کیا، مگر آپ خیال فرمائیں کہ اگر آپ کی جگہ احمد بیگ ہو اور احمد بیگ کی جگہ آپ ہوں تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے رشتہ دو گے۔ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور وہ مجمع المرائض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کتر چکا ہوتا (یعنی مسیلمہ کذاب کی طرح نبوت کا جھوٹا مدعی ہوتا۔ للمولف

صفحہ 463

برنی)..... تو آپ رشتہ دیتے؟ (انصاف تو یہ ہے کہ مرزا شیر علی بیگ کی حجت کا جواب مرزا قادیانی صاحب نہ دے سکے۔ للمولف برنی)......

آپ کو‘ خط لکھتے وقت یوں آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہیں اور نظام عالم ان ہی باتوں سے قائم ہے۔ کچھ حرج نہیں اگر آپ طلاق دلوائیں گے۔ تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت دنیا پر قائم کر کے بدنامی کا سیاہ داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا۔ تر نہ سہی خشک۔ مگر وہ خشک بہتر ہے جو پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ (بڑا لطیف طنز ہے۔ للمولف برنی)......

میں بھائی احمد بیگ کو لکھ رہا ہوں‘ بلکہ آپ کا خط بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ مگر میں ان کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا اور میری بیوی کا کیا حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی کو جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہو کس طرح لڑے...... ہاں اگر وہ خود مان لیں تو میں اور میری بیوی حارج نہ ہوں گے آپ خود ان کو لکھیں۔ مگر درشت اور سخت الفاظ آپ کا قلم اگلنے کا عادی ہوچکا ہے۔ اس سے جہاں تک ہو سکے احتراز کریں اور منت و سماجت سے کام لیں۔ (خاکسار علی شیر بیگ از قادیان‘ ۴؍ مئی ۱۸۹۱ء)

(منقول از ”نوشتہ غیب“ ص ۱۲۸-۱۲۶‘ مولفہ خالد وزیر آبادی)

تیسرا خط

والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی (مرزا احمد بیگ کی لڑکی) کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناتے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح بھی تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہ ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے سے گریز کرے یا عذر کرے

صفحہ 464

تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔

سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا۔ جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کا نکاح کسی غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے ایک طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا۔

اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو۔ تو آپ کے لئے بہتر ہوگا مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہتا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدائے تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا۔ اسی دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔

(راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج‘ ۲ مئی ۱۸۹۱ء‘ ”نوشتہ غیب“ ص ۱۲۹-۱۲۸)

تیسرے خط کا تتمہ (م)

از طرف عزت بی بی (مرزا قادیانی صاحب کے چھوٹے فرزند مرزا فضل احمد کی اہلیہ) بطرف والدہ ماجدہ۔

سلام مسنون کے بعد۔ اس وقت میری تباہی و بربادی کا خیال کرو۔ مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی‘ میرے ماموں (یعنی محمدی بیگم کے والد) کو سمجھاؤ۔ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو خیر! مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں۔

اس خط پر مرزا صاحب کی طرف سے یہ ریمارک ہے۔ جیسا کہ عزت بی بی نے

صفحہ 465

تاکید سے کہا ہے۔ اگر (مرزا) سلطان محمد سے محمدی بیگم کا نکاح رک نہیں سکتا تو پھر بلا توقف عزت بی بی لئے کوئی قادیان میں آدمی بھیج دو۔ تاکہ ان کو لے جائے (اللہ رے زور ظلم! للمولف برنی)

(عزت بی بی بذریعہ خاکسار غلام احمد رئیس قادیان‘ ۲ مئی ۱۸۹۱ء)

(منقول از ”نوشتہ غیب“ ص ۱۳۲-۱۳۱ مولفہ خالد وزیر آبادی)

چوتھا خط (م)

مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘ محمد بیگ کا لڑکا جو آپ کے پاس ہے۔۔۔۔ آن مکرم کو معلوم ہوگا کہ اس کا والد مرزا احمد بیگ بوجہ اپنی بے سمجھی اور حجاب کے اس عاجز سے سخت عداوت و کینہ رکھتا ہے اور ایسا ہی اس کی والدہ بھی۔ (باایں ہمہ مرزا قادیانی صاحب ہی کی سفارش سے یہ لڑکا ایک شدید مرض کے علاج میں حکیم نور الدین صاحب کے پاس بھیجا گیا)۔ چونکہ خدا تعالیٰ نے بوجہ اپنے بعض مصالح کے اس لڑکے کی ہمشیرہ (محمدی بیگم) کی نسبت وہ الہام ظاہر فرمایا تھا کہ جو بذریعہ اشتہارات شائع ہوچکا ہے۔ اس وجہ سے ان لوگوں کے دلوں میں حد سے زیادہ جوش مخالفت ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ امر جس کی نسبت مجھے اس شخص کی ہمشیرہ کی نسبت اطلاع دی گئی ہے، کیونکر اور کس راہ سے وقوع میں آئے گا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نرمی کارگر نہ ہوگی۔ یفعل اللہ ما یشاء کرتا ہے۔ جو اللہ چاہتا ہے۔ لیکن تاہم کچھ مضائقہ نہیں کہ ان لوگوں کی سختی کے عوض میں نرمی اختیار کر کے ادفع بالتی ہی احسن کا ثواب حاصل کیا جائے۔ اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خطوط اس مضمون کے پہنچے کہ مولوی (نورالدین) صاحب پولیس کے محکمہ میں مجھ کو نوکر کرا دیں۔ آپ براہ مہربانی اس کو بلا کر نرمی سے سمجھائیں کہ تیری نسبت انہوں نے (یعنی مرزا قادیانی صاحب نے) بہت کچھ سفارش لکھی ہے اور تیرے لئے جہاں تک گنجائش اور مناسب وقت ہو کچھ فرق نہ ہوگا۔

غرض آں مکرم میری طرف سے اس کے ذہن نشین کر دیں کہ وہ (یعنی مرزا قادیانی صاحب) تیری نسبت بہت تاکید کرتے ہیں۔ اگر محمد بیگ آپ کے ساتھ آنا چاہے تو

صفحہ 466

تو ساتھ لے آویں...... زیادہ خیریت ہے والسلام (اس مکتوب سے مرزا قادیانی صاحب کی ذہنیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ محمدی بیگم کے بھائی کو ملازمت کا لالچ دے کر ہموار کیا جائے کہ تمہارا بہت خیال ہے۔ مناسب وقت یعنی محمدی بیگم کی مرزا صاحب سے شادی ہو جائے تو ضرور پوری کوشش کی جائے گی۔ اس لئے واجب کہ مرزا قادیانی صاحب کے واسطے تم اپنی ہمشیرہ کے معاملہ میں پوری کوشش کرو۔ للمولف برنی)

(خاکسار غلام احمد‘ لدھیانہ محلہ اقبال گنج‘ ۲۱؍ مارچ ۱۸۹۱ء

”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم‘ مکتوب نمبر ۷۴‘ ص ۱۰۲‘ ۱۰۱)

(۹) ماموں کی خط و کتابت (م)

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ لیکھ رام کے قتل کے واقعہ پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی تلاشی ہوئی تو پولیس کے افسر بعض کاغذات اپنے خیال میں مشتبہ سمجھ کر ساتھ لے گئے اور چند دن کے بعد ان کاغذات کو واپس لے کر پھر بعض افسر قادیان آئے اور چند خطوط کی بابت جس میں کسی ایک خاص امر کا کنایۃً ذکر تھا‘ حضرت (مرزا) صاحب سے سوال کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ حضرت صاحب نے فوراً بتا دیا کہ یہ خطوط محمدی بیگم کے رشتے کے متعلق ہیں اور امر معلومہ سے مراد یہی امر ہے اور یہ خط مرزا امام الدین نے میرے نام بھیجے تھے۔ جو میرا چچا زاد بھائی ہے اور محمدی بیگم کا حقیقی ماموں ہے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۴۷‘ روایت ۴۶۰‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(م) اس معاملہ میں لڑکی کے ماموں (مرزا امام الدین صاحب) لیڈر تھے اور مرزا احمد بیگ (لڑکی کا والد) ان کا تابع تھا اور بالکل ان کے زیر اثر ہو کر ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۷۶‘ روایت نمبر ۱۶۹‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۰) انعام کا وعدہ

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب

صفحہ 467

جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں (مرزا امام الدین صاحب) نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان احمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا‘ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔

خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہ ہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔ مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔ (ان ہی احتیاطوں نے غالباً کام بگاڑ دیا۔ للمؤلف)

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۱۷۴‘ روایت ۱۷۹‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۱) خیر خبر

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کی نسبت جو آپ نے خبر دی تھی کہ بیس روز سے نکاح ہو گیا ہے۔ قادیان میں اس خبر کی کچھ اصلیت معلوم نہیں ہوتی۔ یعنی نکاح ہو جانا کوئی شخص بیان نہیں کرتا۔ لہٰذا مکلف ہوں کہ دوبارہ اس امر کی نسبت اچھی طرح تحقیقات کر کے تحریر فرماویں کہ نکاح اب تک ہوا یا نہیں۔ اگر نہیں ہوا تو کیا وجہ ہے۔ مگر بہت جلد جواب ارسال فرماویں اور نیز سلطان احمد کے بارے میں ارقام فرماویں کہ اس نے کیا جواب دیا ہے۔ والسلام

صفحہ 468

خاکسار غلام احمد از قادیان‘ ۲۸؍ ستمبر ۱۸۹۱ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، نمبر ۳، ص ۱۴۲-۱۴۳‘ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۲) رقیب کی خودسری

احمد بیگ کے داماد (مرزا سلطان محمد) کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے‘ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا‘ بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزا میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے اور شیخ بٹالوی کا یہ کہنا کہ نکاح کے بعد طلاق کے لئے ان کو فہمائش کی گئی تھی‘ یہ سراسر افترا ہے بلکہ ابھی تو ان کا ناطہ بھی نہیں ہوچکا تھا‘ جبکہ ان کو حقیقت سے اطلاع دی گئی تھی اور اشتہار تو کئی برس پہلے شائع ہوچکے تھے۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب انعامی چار ہزار‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد سوم‘

ص ۱۶۶‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ۹۵‘ ج ۲‘ حاشیہ دوم)

(۱۳) چہ میگوئیاں

یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ (شدت غرض میں بھی یہی حال ہو جاتا ہے۔ للمؤلف) کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کرسکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔

(”حقیقت الوحی“ ص ۱۹۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۸‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 469

(۱۴) خانہ بربادی (م)

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے۔ کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔

اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام، جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے، جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہرچند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بہ کلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔

سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اول یہ کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے۔ اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا....... دوم سلطان احمد نے مجھے، جو میں اس کا باپ ہوں، سخت

صفحہ 470

ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اسی مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بہ دل و جان منظور رکھی۔ چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا، اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی اور ایسا ہی اس کی بدبخت والدہ نے کیا۔

سوجب کہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا، اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ۹۱ء ہے عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناتہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں، اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لئے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا، بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے۔ اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی اور کسی نیکی، بدی، رنج، راحت، شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیوں کہ انہوں نے اب تعلق توڑ دیئے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔

چوں نہ بود خویش را دیانت و تقویٰ قطع رحم بہ از مودت قربیٰ

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار، مورخہ ۲؍ مئی ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۱۹ تا

۲۲۱، ج اول، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دوم، ص ۹ تا ۱۱)

(۱۵) ترکی تمام شد

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ

صفحہ 471

ہوگئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت (مرزا) صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے‘ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔

والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا (بنا براں مرزا قادیانی صاحب نے ان کو عاق کر دیا۔ للمؤلف برنی) مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے۔ ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی) طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آکر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر آہستہ آہستہ ادھر جا ملا۔

("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ۲۲‘ روایت نمبر ۴۷‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۵) بیٹے کا جنازہ (ج)

مرزا فضل احمد صاحب کے جنازے کے ساتھ سید ولایت شاہ صاحب موصوف بھی قادیان میں تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ ساتھ گئے تھے یا پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مرزا فضل احمد صاحب کے دفن کرنے اور جنازہ پڑھنے سے قبل حضرت مرزا غلام احمد صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) نہایت کرب و اضطراب کے ساتھ باہر ٹہل رہے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ

صفحہ 472

آپ کو اس کی وفات سے حد درجہ تکلیف ہوئی ہے۔ اسی امر سے جرأت پکڑ کر میں خود حضور کے پاس گیا اور عرض کیا کہ حضور وہ آپ کا لڑکا تھا۔ بے شک اس نے حضور کو خوش نہیں کیا، لیکن آخر آپ کا لڑکا تھا، آپ معاف فرمائیں اور اس کا جنازہ پڑھیں (یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے فرزند مرزا سلطان احمد صاحب نے انہیں حضرت کے حضور بھیجا ہو)۔ اس پر حضرت صاحب نے فرمایا نہیں شاہ صاحب وہ میرا فرمانبردار تھا۔ اس نے مجھے کبھی ناراض نہیں کیا لیکن اس نے اپنے اللہ کو راضی نہیں کیا تھا۔ (یعنی وہ قادیانی نہیں بنا تھا۔ للمولف برنی) اس لئے میں اس کا جنازہ نہیں پڑھتا، آپ جائیں اور پڑھیں۔ شاہ صاحب کہتے تھے کہ اس پر میں واپس آگیا اور جنازہ میں شریک ہوا۔ (الحاصل مرزا قادیانی صاحب نے اپنے بیٹے کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھی کہ وہ ان دعوؤں کو نہیں مانتا تھا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مرزا قادیانی صاحب کا نماز جنازہ نہ پڑھنا اس کے حق میں باعث زحمت ہوا یا باعث رحمت کہ مرحوم رحمتہ للعالمین سے وابستہ رہا۔ للمولف برنی)

(صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی کا مضمون، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۹،

نمبر ۹۸، ص ۱۷،۱۴ مورخہ ۲۲؍ اپریل و ۲؍ مئی ۱۹۴۱ء)

(۱۶) یاس میں آس (م)

احمد بیگ کی دختر (محمدی بیگم) کی نسبت جو پیش گوئی ہے جو اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے (یہ خط اوپر درج ہو چکا ہے۔ للمولف) اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے...... عورت اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔

صفحہ 473

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور میں) (کتاب ”منظور الٰہی“ ص ۲۴۵-۲۴۴‘ مصنفہ منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

(م) میں نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جاوے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔ (حالانکہ یہ الہام تمامتر غلط ثابت ہوا۔۔۔۔ للمولف برنی) (ترجمہ)

(مرزا قادیانی صاحب کا الہام‘ مندرجہ تالیف ”کرامات الصادقین“ برورق آخر نمبرا‘

”روحانی خزائن“ ص ۱۶۲‘ ج ۷)

(م) احمد بیگ کی بڑی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی اور خدا اس کو پھر تیری طرف واپس لائے گا۔ یعنی آخر وہ تیرے نکاح میں آئے گی اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھاوے گا۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔“ (مجموعہ اشتہارات‘ ص ۴۱‘ ج ۲‘ ”تبلیغ رسالت“ جلد سوم‘ ص ۱۳‘ اشتہار ۶/ ستمبر ۱۸۹۳ء)

(۱۷)۔ دنیا بامید قائم

پھر میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ معاملہ (محمدی بیگم کے نکاح کا) اتنے ہی پر ختم ہو گیا اور جو ظہور میں آیا۔ یہی نتیجہ آخری ہے اور پیش گوئی کی حقیقت اسی پر ختم ہو گئی۔ بلکہ اصل معاملہ ابھی اسی طرح باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی کسی حیلے سے رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم (قطعی اور یقینی) ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ کو بھیجا اور خیر الرسل اور خیر الوریٰ بنایا کہ یہ بالکل سچ ہے۔ تم جلد ہی دیکھ لو گے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔ (ترجمہ) (”انجام آتھم“ ص ۲۲۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۲۳‘

ج ۱۱)

صفحہ 474

اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء کی پیش گوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے ”اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا“۔

(الہام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مورخہ ۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۱ء‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد

دوم‘ ص ۸۵‘ مجموعہ اشتہارات ص ۳۰۱‘ ج۱)

(۱۸) رعایتی توسیع

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے بڑے دعویٰ سے پیش گوئی کی تھی کہ محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد شادی کے بعد اڑھائی سال کے اندر ضرور مرجائے گا۔ کافی مہلت تھی مگر نہ مرا۔ بالآخر مرزا صاحب نے رحم کھا کر اس کی زندگی میں بلاتعین وقت توسیع منظور کرالی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ مرزا صاحب کی زندگی ہی میں جگہ خالی کردے اور خیر و خوبی سے مرزا صاحب کی موعودہ شادی ہو جائے۔ (المولف)

”لیکن اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق (یعنی مرزا صاحب) کا نام کاذب رکھیں گے۔ لیکن وہ دن جلد آتے جاتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہوگا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خدا تعالیٰ کے غیر متبدل وعدے پورے ہو جائیں گے۔ کیا کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے...... اے بد فطرتو! اپنی فطرتیں دکھلاؤ‘ لعنتیں بھیجو‘ ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغ گو رکھو‘ لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔

(”تبلیغ رسالت“ جلد سوم‘ ص ۲۱۱‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ۴۴۴‘ ج۲)

عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے۔ جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے لیکن نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا‘ یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔

صفحہ 475

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اعلان، مورخہ ۶ ستمبر ۱۸۹۴ء، ”تبلیغ رسالت“ ج ۳‘ ص ۱۱۵‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ۴۳‘ ج ۲)

(۱۹) ناکامی کی تلخی

چاہیے تھا کہ ہمارے ناداں مخالف (اس پیش گوئی کے) انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی‘ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔

(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ۵۴‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۳۷‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا اے احمقو یہ انسان کا افترا نہیں۔ نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴‘ روحانی خزائن ص ۳۳۸ ج ۱۱)

میں (مرزا صاحب) بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم (قطعی) ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہو گی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا۔

(”انجام آتھم“ ص ۳۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۱‘ حاشیہ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم! اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور

صفحہ 476

باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوندا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں۔ تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔

(اشتہار ”مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ انعامی چار ہزار روپیہ۔ مورخہ ۲ اکتوبر ۱۸۹۴ء

مجموعہ اشتہارات ص ۱۱۶۔ ۱۱۵‘ ج دوم مندرجہ تبلیغ رسالت جلد سوم ص ۱۸۶)

(۲۰) کسی کی یاد

جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ اب تک بھی جو ۱۶ اپریل ۱۸۹۱ء سے پوری نہیں ہوئی۔ تو اس کے بعد اس عاجز (مرزا صاحب) کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شائد اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکونن من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ تو کیوں شک کرتا ہے۔ اس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن میں کہا کہ تو شک مت کر۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے۔ جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہو گیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آ جاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدا تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لئے ان کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں نومید کردیا۔ تو ناامید مت ہو۔

(ازالہ اوہام ص ۳۹۸‘ روحانی خزائن ص ۳۰۶ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۱) آخری مایوسی

کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی

اور یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت (محمدی بیگم) کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے

صفحہ 477

ظہور کے لئے جو آسمان پر باندھا گیا ہے۔ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی۔ جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ایتھا المراء ۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ تاہم فی الحال تاخیر کی امید بہتر ہے

بس ہجوم نا امیدی خاک میں مل جائے گی
وہ جو اک لذت ہماری سعی لا حاصل میں ہے
(للمؤلف)

("حقیقۃ الوحی" ضمیمہ ص ۱۳۲، روحانی خزائن ص ۵۷۰، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۲۲) خاندانی ورثہ

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

بھلا یہ کیوں کر ممکن تھا کہ جو آرزو مرزا صاحب دنیا سے ساتھ لے گئے ان کے مخلص اس آرزو سے دست بردار ہو جاتے چنانچہ مرزا صاحب کے رفیق مخلص اور جانشین صادق حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول قادیان نے مردہ امید میں پھر جان ڈال دی۔ مرزا صاحب نے بھی اس جدت طرازی کی ضرور داد دی ہوگی۔ چنانچہ غور فرمائیے۔

"اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں یہ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاصمت میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں۔ تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات (لڑکیوں کی لڑکیوں) کو حکم بنات نہیں مل سکتا اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں۔ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا"۔ (وہ عقیدت ہی کیا جس میں تزلزل آسکے ایسے عقیدت مند اور نکتہ رس مرید تو قسمت ہی سے ملتے ہیں۔ لیکن واقعات کو کیا کیجئے۔ ع

صفحہ 478
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے (للمولف)

(حکیم نور الدین قادیانی کا مضمون بعنوان ”وفات مسیح موعود“ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان، ج ۷، نمبر ۶۔۷، ماہ جون جولائی ۱۹۰۸ء، ص ۲۷۹)

(۲۳) اقرار و معذرت

لیکن مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری کی عقیدت میں ایسی جسارت نہ تھی جو بات تھی بلا تامل مان لی۔ ”یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ نکاح ہو گا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔“ لیکن مولوی صاحب نے ساتھ ہی ایک معقول معذرت بھی شریک کر دی کہ ”ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہیے۔ جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیش گوئی لیکر بیٹھ جانا اور باقی پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا۔ جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں۔ یہ طریق انصاف اور راہ صواب نہیں صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہیے کہ تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔

(”قادیانی جماعت لاہور“ کا اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۲۱ء)

قادیانی معذرت یہ ہے کہ بعض پیش گوئیاں پوری ہو جانے کی صورت میں بعض پیش گوئیاں پوری نہ ہونے میں چنداں مضائقہ نہیں مگر قابل لحاظ یہ امر ہے کہ سب پیش گوئیاں اپنی قوت اہمیت اور صراحت میں یکساں نہیں ہوتیں۔ یہ شادی کی پیش گوئی بہر صورت پوری ہو جاتی کہ اس کی تکمیل آسمان پر اور تشہیر زمین پر بخوبی ہو چکی تھی اور خود مرزا صاحب نے اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ مزید برآں اس کی دھن میں گھر برباد ہوا۔ قدیم بیوی کو طلاق ملی۔ جوان لڑکے عاق ہوئے۔ گھر کنبے میں نفاق پڑا۔ علالت میں حالت مرگ تک پہنچی تو بھی پیش گوئی دل سے جدا نہ ہو سکی۔ لیکن وائے قسمت پوری ہونی تھی نہ ہوئی۔ ع

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

(للمولف)

صفحہ 479

(۲۴) پھجے دی ماں

بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر پھجے دی ماں کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی۔ (غالباً مرزا صاحب کے معتقد نہ ہوں گے۔۔۔ للمولف) اور اس کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کردی تھی۔ (بہرحال دو لڑکے مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد صاحب تو اسی بیوی سے پیدا ہوئے۔ للمولف) ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا۔ اب میں نے دوسری شادی کرلی ہے۔ اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہ گار ہوں گا۔ اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ پس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔

والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا۔ بلکہ ان کے ساتھ رہی۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا۔ جو آپ نے ۲ مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا تھا اور جسکی سرخی تھی۔ اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۲۶ روایت نمبر ۴۱ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۲۵) دوسری بیوی

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب کی تجویز پر گیارہ سو روپے مقرر ہوا تھا۔

صفحہ 480

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے۔ میر صاحب خواجہ میر درد دہلوی کے خاندان سے ہیں اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے اور قریباً عرصہ پچیس سال سے پنشن پر ہیں۔ شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کچھ مخالفت کی تھی۔ لیکن جلد ہی تائب ہو کر بیعت میں شامل ہو گئے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۲۳۸‘ روایت ۲۳۴ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

اس دوسری شادی کے وقت مرزا قادیانی صاحب کی عمر پچاس سال سے متجاوز تھی اور صحت کا کیا ذکر گویا دائم المریض تھے۔ نامردی کا بھی شبہ ہوتا تھا۔ تاہم اولاد کی تعداد کافی رہی۔ یعنی دس حالانکہ پہلی بیوی سے کل دو ہی لڑکے پیدا ہوئے اور ان میں بھی بڑا لڑکا سلطان احمد مرزا قادیانی صاحب کی نوعمری ہی میں پیدا ہو گیا تھا۔ غرض کہ عجیب سلسلہ رہا۔ (للمولف برنی)

(۲۶) مہر

خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت (مرزا) صاحب نے نواب محمد علی خاں صاحب کے ساتھ کیا تو مہر چھپن ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا اور حضرت صاحب نے مہرنامہ کی باقاعدہ رجسٹری کروا کے اس پر بہت سے لوگوں کو شہادتیں ثبت کروائی تھیں۔ اور جب حضرت صاحب کی وفات کے بعد ہماری چھوٹی ہمشیرہ امۃ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد عبداللہ خاں صاحب کے ساتھ ہوا تو مہر پندرہ ہزار مقرر کیا گیا اور یہ مہرنامہ بھی باقاعدہ رجسٹری کرایا گیا۔ لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت (مرزا) صاحب کی زندگی میں ہو گئی تھیں کسی کا مہر نامہ تحریر ہو کر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر ایک ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم ص ۵۳‘ روایت نمبر ۳۴۶‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۲۷) اولاد

۲۱ ستمبر ۱۹۰۱ء۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی

صفحہ 481

تھی۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولاد دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً اسی عمر میں پیدا ہو گئے تھے۔

(ارشاد ”مرزا غلام احمد قادیانی صاحب“ مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۳۵‘ منقول از منظور الٰہی ص ۳۴۳‘ منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری‘ ملفوظات ص ۳۷۲‘ ج ۲)

خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ یعنی مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد۔ حضرت صاحب ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہو گئے تھے (اسے مرزا صاحب کی نبوت کا معجزہ یا حکیم نورالدین کی کرامت ہی قرار دیا جاسکتا ہے) اور ہماری والدہ صاحبہ سے حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل اولاد پیدا ہوئی۔

نام ولادت وفات ۱ عصمت ۱۸۸۶ء ۱۸۹۱ء ۲ بشیر احمد ۱۸۸۷ء ۱۸۸۸ء ۳ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قادیانی ۱۸۸۹ء ۴ شوکت ۱۸۹۱ء ۱۸۹۲ ۵ خاکسار مرزا بشیر احمد ۱۸۹۳ ۶ مرزا شریف احمد ۱۸۹۵ء ۷ مبارکہ بیگم ۱۸۹۷ ۸ مبارک احمد ۱۸۹۹ء ۱۹۰۷ء ۹ امتہ النصیر ۱۹۰۳ء ۱۹۰۳ء ۱۰ امتہ الحفیظ ۱۹۰۴ء

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۴۰‘ روایت نمبر ۵۹‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۲۸) تیسری شادی کی آرزو

مخدومی مکرمی اخویم مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمتہ

صفحہ 482

الله و برکاته ۔۔۔۔۔ جو عنایات خداوند کریم جل شانہ کے اس عاجز کے شامل حال ہیں ان کے بارہ میں ہمیشہ یہی دل چاہتا ہے کہ اپنے دوستوں سے کچھ اس میں سے بیان کرتا رہوں اور بحکم واما بنعمۃ ربک فحدث تحدیث نعمت کا ثواب حاصل کروں۔ سو آپ سے بھی جو میرے مخلص دوست ہیں ایک راز پیش گوئی کا بیان کرتا ہوں۔ شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین۔ کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اس کا نام بشیر ہوگا۔ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرۃ اہلیہ تمہیں عطا ہوگی۔ وہ صاحب اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دئے گئے۔ تین ان میں سے تو آم تھے۔ مگر ایک پھل سبز رنگ کا بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔ اگرچہ ابھی یہ الہامی بات نہیں مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے کیوں کہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے اور جب کہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ کشفی ہی طور پر چار پھل دئیے گئے۔ جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے‘ (واللہ اعلم بالصواب)

ان دنوں میں اتفاقاً نئی شادی کے لئے دو شخصوں نے تحریک کی تھی مگر جب ان کی نسبت استخارہ کیا گیا۔ تو ایک عورت کی نسبت جواب ملا کہ اس کی قسمت میں ذلت و محتاجگی بے عزتی ہے اور اس لائق نہیں کہ تمہاری اہلیہ ہو اور دوسری کی نسبت اشارہ ہوا کہ اس کی شکل اچھی نہیں۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحب صورت و صاحب سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ہے وہ برعایت مناسبت ظاہری اہلیہ جمیلہ و پارسا طبع سے پیدا ہو سکتا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

اب مخالفین آنکھوں کے اندھے اعتراض کرتے ہیں کہ کیوں اب کی دفعہ لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ ان کے ابطال میں ایک دوست نے اشتہارات شائع کئے ہیں۔ مگر میری دانست میں اس لڑکے کے تولد سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ تیسری شادی ہو

صفحہ 483

جائے۔ کیونکہ اس تیسری شادی میں اولاد ہونے کے اشارات پائے جاتے ہیں۔ غالباً اس تیسری شادی کا وقت نزدیک ہے۔ اب دیکھیں کہ کس جگہ ارادہ ازلی نے اس کا ظہور مقرر کر رکھا ہے۔ الہامات اس بارے میں کثرت سے ہوئے ہیں اور ربانی ارادہ میں کچھ جوش سا پایا جاتا ہے۔ واللہ یفعل ما یشاء و ہو علی کل شی قدیر والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان ۸ جون ۱۸۸۶ء

(مکتوبات احمدیہ‘ ج ۵‘ نمبر ۲‘ ص ۵-۶‘ مولفہ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

مخدومی مکرمی اخویم مولوی نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ‘ عنایت نامہ پہنچا۔ اس عاجز نے جو آپ کی طرف لکھا تھا وہ صرف دوستانہ طور پر بعض اسرار الہامیہ پر مطلع کرنے کی غرض سے لکھا گیا کیوں کہ اس عاجز کی یہ عادت ہے کہ اپنے احباب کو ان کی قوت ایمانی بڑھانے کی غرض سے کچھ کچھ امور غیبیہ بتا دیتا ہے اور اصل حال اس عاجز کا یہ ہے کہ جب سے اس تیسرے نکاح کے لئے اشارہ غیبی ہوا ہے۔ تب سے خود طبیعت متفکر و متردد ہے اور حکم الٰہی سے گریز کی جگہ نہیں مگر بالطبع کارہ ہے اور ہر چند اول اول یہ چاہا کہ یہ امر غیبی موقوف رہے لیکن متواتر الہامات و کشوف اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ تقدیر مبرم ہے۔۔۔۔۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ‘ ۲۰ جون ۱۸۸۶ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم نمبر ۲‘ ص ۸‘ مولفہ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے ص ۴۹۶ میں مذکورہ ہے۔ یا ادم اسکن انت و زوجک الجنۃ‘ یا مریم اسکن انت و زوجک الجنۃ‘ یا احمد اسکن انت و زوجک الجنۃ‘ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم وہ یہ ابتدائی نام ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت ملی ۔۔۔۔۔ اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی

صفحہ 484

پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے۔ وہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ تھا۔

(یہ تحریر جنوری ۱۸۹۷ء میں شائع ہوئی۔ للمولف)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ 'روحانی خزائن ج ۱۱' ص ۳۳۸ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۲۹) ایک کنواری ایک بیوہ

ایک دفعہ جس کو قریباً اکیس برس کا عرصہ ہوا ہے مجھ کو یہ الہام ہوا ۔۔۔۔۔۔ اور اس زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا کہ بکر و ثیب یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گا۔ (اکیس برس بعد الہام یاد آیا اور امید تھی کہ محمدی بیگم کنواری نہیں تو بیوہ ہو کر عقد میں آئے گی مگر مرزا صاحب کی وفات تک وہ سہاگن بنی رہی اور بیوہ نہ ہوئی للمولف)

("تریاق القلوب" ص ۷۰، حاشیہ اول روحانی خزائن ص ۲۸۷، ج ۱۵، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے۔ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بکر و ثیب جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا۔ پورا ہوگیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔

("تریاق القلوب" ص ۳۴، "روحانی خزائن" ص ۲۰۱، ج ۱۵)

نوٹ! از مرتب تذکرہ: یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین (مرزا صاحب کی بیوی نصرت جہاں بیگم صاحبہ) کی ذات میں ہی پورا ہوا جو بکر یعنی کنواری آئیں

صفحہ 485

اور یعنی بیوہ رہ گئیں۔ (یہ تاویل قادیانی تاویلات کا اچھا نمونہ ہے۔ یعنی مرزا صاحب کی بیوی بیوہ ہو گئیں۔ تو گویا مرزا صاحب کا بیوہ سے نکاح ہو گیا اور اس طرح پیش گوئی پوری ہو گئی۔ مرزا صاحب کی اکثر پیش گوئیاں اسی انداز سے پوری ہوئیں اور اسی طرح کی تاویلات قادیانی جماعت کا ایمانی سرمایہ ہیں۔ (للمؤلف)

(”تذکرہ مجموعہ الہامات“ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ص ۳۸، طبع اول، طبع سوم ص ۳۹، حاشیہ)

(۳۰) خواتین مبارکہ

پھر خدائے کریم جلشانہٗ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا الہام مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۶۰، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۰۲، ج ۱)

اس عاجز نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار محک اخیار و اشرار مورخہ ستمبر ۱۸۸۶ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۸۹، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۳۰، ج ۱)

واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی دو شادیاں ہوئیں۔ پہلی بیوی کو تو مندرجہ بالا الہام کے اعلان کے کچھ عرصہ بعد طلاق مل گئی تھی اور دوسری بیوی جو آخر تک باقی رہی وہ اس اعلان کے وقت بھی موجود تھی چنانچہ ۱۸۸۶ء میں پہلی لڑکی عصمت پیدا ہوئی۔ مزید برآں مرزا صاحب نے بہت کوشش کی کہ محمدی بیگم کے ساتھ بھی شادی ہو جائے۔ حتیٰ کہ پہلے سے اعلان کر دیا کہ اس سے آسمان پر نکاح ہو گیا اور زمین پر بھی ضرور ہوگا۔ چنانچہ اس کی تفصیل کتاب میں موجود ہے لیکن وائے قسمت کہ نکاح ہونا تھا نہ ہوا۔ پھر

صفحہ 486

نہ معلوم اور کون ”خواتین مبارکہ“ تھیں جن کے ملنے کی اور جن سے نسل بڑھنے کی مرزا صاحب کو بشارت ملی تھی اور نہ معلوم کس طرح ان سے نسل بڑھی۔ بظاہر تو صرف وہی ایک بیوی تھی جس سے بعد میں اولاد ہوتی رہی اور جو اعلان الہام کے وقت موجود تھی۔ (للمولف برنی)

(۳۱) نامردی کا یقین (ج)

بخدمت اخویم مخدوم مکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔۔۔

ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ (پھر شادی کس بھروسہ پر کی اول صحت درست کرنا لازم تھا۔ ورنہ فتنہ کا اندیشہ تھا۔۔۔ للمولف برنی) آخر میں نے صبر کیا (آپ سے زیادہ صبر آپ کی اہلیہ صاحبہ پر لازم ہوا۔ پھر بھی معلوم ہوا کہ اولاد شادی کے بعد جلد ہی شروع ہو گئی۔۔۔ للمولف برنی) (نورالدین کے کمالات کا بیان۔۔۔ فقیر) اور اللہ تعالیٰ سے پرامید اور قبولیت دعا کرتا رہا۔ سو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔

خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۲؍ فروری ۱۸۸۷ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم خط نمبر ۱۴ ص ۲۱)

ہے۔ انہوں نے کئی دفعہ ایک معجون بنا کر بھیجی ہے۔ جس میں کچھ مدبر داخل ہوتا ہے۔ وہ معجون میرے تجربہ میں آیا ہے کہ اعصاب کے لئے نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ و فالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ اور نیز تقویت معدہ کے لئے فائدہ مند ہے۔ مدت سے میرے استعمال میں ہے۔ اگر آپ اس کو استعمال کرنا قرین مصلحت سمجھیں تو میں کسی قدر جو میرے پاس ہے بھیج دوں۔۔۔۔۔۔

خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان

صفحہ 487

۲۳ جنوری ۱۸۸۸ء

(”مکتوبات احمدیہ“ جلد پنجم، خط نمبر ۳۵، ص ۵۵)

(۳۲) محک امتحان

بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مورخہ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۸، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۵۹، ج ۱) (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۲۸۸، مولفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، ”روحانی خزائن“ ص ۲۸۸، ج ۵)

صفحہ 488

فصل نویں

معاملات

ستائیسواں نشان (ثبوت) یہ پیش گوئی ہے کہ میری اس شادی کے بارے میں جو دہلی میں ہوئی تھی۔ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا تھا۔ کہ الحمد للہ الذی جعل لکم الصھر و النسب یعنی اس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں دامادی اور نسب دونوں طرف سے عزت دی یعنی تمہاری نسب کو بھی شریف بنایا اور تمہاری بیوی بھی سادات میں سے آئے گی۔ یہ الہام شادی کے لئے ایک پیش گوئی تھی۔ جس سے مجھے یہ فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کو کیوں کر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیوں کر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکوں گا۔ تو میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں۔ تب یہ الہام ہوا کہ ؎

ہر چہ باید نو عروسی را ہمہ سامان کنم و آنچہ در کار شما باشد عطائے آں کنم

یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا۔ تمام سامان اس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ شادی کے لئے جو کسی قدر مجھے روپیہ درکار تھا۔ ان ضروری اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ لاہوری نے پانچ سو روپیہ مجھے قرض دیا اور ایک اور صاحب حکیم محمد شریف نام ساکن کلانور نے جو امرت سر میں طبابت کرتے تھے۔ دوسو روپیہ یا تین سو روپیہ مجھے بطور قرضہ دیا۔

اس وقت منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ نے مجھے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے۔ جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرما دیا ہے۔ پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع

صفحہ 489

ہوگیا اور یا وہ زمانہ تھا کہ باعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز مع عیال واطفال اور ساتھ اس کے کئی غربا اور درویش اس لنگر خانہ میں روٹی کھاتے ہیں اور یہ پیش گوئی لالہ شرمپت آریہ اور ملاوا مل آریہ ساکنان قادیان کو بھی قبل از وقت سنائی گئی تھی اور شیخ حامد علی اور چند اور واقف کاروں کو اس سے اطلاع دی گئی تھی اور منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ لاہوری اگرچہ اس وقت مخالفین کے زمرہ میں ہیں۔ مگر میں امید نہیں رکھتا کہ وہ اسی سچی شہادت کا اخفا کریں۔

(حقیقۃ الوحی ص ۲۳۶‘ روحانی خزائن ص ۲۴۷‘ ۲۴۸‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۲) املاک۔ آمدنی اور خرچ

اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی کل املاک منقولہ وغیرہ جو دس ہزار روپیہ کی قیمت سے کم نہیں ہونگی عیسائیوں کو دے دونگا۔

(اشتہار مورخہ ۱۲ ستمبر ۱۸۹۶ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد پنجم ص ۲۴‘ مجموعہ اشتہارات ص

۲۵۱‘ ج ۲)

مرزا غلام احمد پر امسال سات ہزار دو سو روپیہ اس کی سالانہ آمدنی قرار دے کر ایک سو ستاسی روپیہ آٹھ آنہ انکم ٹیکس قرار دیا گیا۔ اس کی عذر داری پر اس کا بیان خاص موقع قادیان میں جب کہ کیمپ بتقریب دورہ اس طرف گیا لیا گیا اور تیرہ کس گواہان کی شہادت قلمبند کی گئی۔ مرزا غلام احمد نے اپنے بیان حلفی میں لکھوایا کہ اس کو تعلقہ داری زمین اور باغ کی آمدنی ہے تعلقہ داری کی سالانہ تخمیناً بیاسی روپیہ دس آنے کی۔ زمین کی تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ کی اور باغ کی سالانہ تخمیناً دو سو تین سو روپیہ۔ چار سو روپیہ اور حد درجہ پانچ سو روپیہ کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار دوسو روپیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے۔ ورنہ اوسط سالانہ آمدنی تقریباً چار ہزار روپیہ کے ہوتی ہے۔ وہ پانچ مدوں میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا خرچ ہوتی ہے اور اس کے ذاتی

صفحہ 490

خرچ میں نہیں آتی۔ خرچ اور آمدنی کا حساب باضابطہ کوئی نہیں ہے صرف یادداشت سے تخمیناً لکھوایا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کی ذاتی آمدنی باغ زمین اور تعلقہ داری کی اسکے خرچ کے لئے کافی ہے اور اسکو کچھ ضرورت نہیں ہے کہ وہ مریدوں کا روپیہ ذاتی خرچ میں لاوے۔

(نقل منشی تاج الدین صاحب پرگنہ تحصیل دار بٹالہ ضلع گورداسپور‘ مورخہ ۳۱ اگست

۱۸۹۸ء مقدمہ عذرداری (انکم ٹیکس نمبری ۴۶ / ۵۵‘ ۱۸۹۸ء مندرجہ ضرورۃ الامام ص

۴۵‘ روحانی خزائن ص ۵۱۶‘ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا غلام قادیانی صاحب)

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مہدی مسعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اپنی زندگی میں اپنے اہل و عیال اور اقارب کو اسی آمد میں سے خرچ دیتے تھے۔ جو جماعت کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہوتی تھی یا کسی اور سبیل سے۔ یہ بات ہر ایک فرد جانتا ہے کہ حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) اسی آمد سے خرچ دیا کرتے تھے۔ پس آپ کے بعد انجمن (احمدیہ قادیان) کا یہ فرض ہے کہ ان کو اسی آمد میں سے اسی انداز پر دیں جس طرح حضرت مسیح موعود دیتے تھے۔ کیوں کہ انجمن مسیح موعود سے بڑھ کر امین نہیں ہو سکتی۔

(اظہار حقیقت ص ۱۳‘ مورخہ ۲۸ نومبر ۱۹۱۳ء جس کو قادیانیوں کی انجمن انصار اللہ قادیان

نے شائع کیا)

(۳) ٹیچی

۱۴۷ نشان۔ ایک دفعہ مارچ ۱۹۰۵ء کے مہینے میں بوقت قلت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی۔ کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ کی آمدنی کم۔ اس لئے دعا کی گئی۔ ۵ مارچ ۱۹۰۵ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی‘ ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے

صفحہ 491

ہیں ۔ یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا تھا تب میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آگیا۔ چنانچہ جو شخص اس کی تصدیق کے لئے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی ۵ مارچ ۱۹۰۵ء سے اخیر سال تک دیکھے اس کو معلوم ہوگا کہ کس قدر روپیہ آیا تھا۔

(حقیقۃ الوحی ص ۳۳۲، روحانی خزائن ص ۳۲۵، ۳۲۶، ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۴) رانی ۔ درشنی

اس عاجز (مرزا قادیانی) کو بھی اس بات کا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض اوقات خواب یا کشف میں روحانی امور جسمانی شکل پر متمثل ہو کر مثل انسان نظر آجاتے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غفراللہ لہ جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے۔ انتقال کر گئے تو ان کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوب صورت خواب میں نے دیکھی جس کا حلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اس نے بیان کیا کہ میرا نام رانی ہے اور مجھے اشارت سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں اور کہا کہ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔....... انہی دنوں میں میں نے ایک نہایت خوبصورت مرد دیکھا اور میں نے اس سے کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو۔ اس نے اشارہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ تو عجیب خوب صورت آدمی ہے۔ اس نے یہ جواب دیا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔

(خواب مرزا قادیانی مندرجہ حیات النبی جلد اول ص ۸۶ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

(۵) منی آرڈر کی وحی (م)

ایک دفعہ صبح کے وقت وحی الٰہی سے میرے زبان پر جاری ہوا۔ عبداللہ خاں ڈیرہ اسماعیل خاں۔" اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا۔ میں

صفحہ 492

نے چند ہندوؤں کے پاس جو سلسلہ وحی کے جاری رہنے کے منکر ہیں....... اس الہام الٰہی کو ذکر کیا اور میں نے بیان کیا کہ اگر آج یہ روپیہ نہ آیا۔ تو میں حق پر نہیں۔ ان میں سے ایک ہندو بشن داس قوم کا برہمن۔ جو آج کل ایک جگہ کا پٹواری ہے بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاک خانہ میں جاؤں گا۔ ان دنوں میں قادیان میں ڈاک دوپہر کے بعد دو بجے آتی تھی۔ وہ اسی وقت ڈاک خانہ میں گیا اور نہایت حیرت زدہ ہو کر جواب لایا کہ دراصل عبداللہ خان نام ایک شخص نے جو ڈیرہ اسماعیل خاں میں اکسٹرا اسسٹنٹ ہے۔ کچھ روپیہ بھیجا ہے اور وہ ہندو نہایت متعجب اور حیران ہو کر بار بار مجھ سے پوچھتا تھا کہ یہ امر آپ کو کس نے بتایا اور اس کے چہرہ سے حیرانی اور مبہوت ہونے کے آثار ظاہر تھے۔

(حقیقۃ الوحی ص ۴۶۴‘ روحانی خزائن ص ۴۷۵‘ ۴۷۶‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

محب عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آج کی ڈاک میں مبلغ پچاس (۵۰) روپیہ مرسلہ آپ کے مجھ کو مل گئے۔ جزاکم اللہ خیرا۔ عجیب اتفاق ہے کہ مجھ کو آج کل اشد ضرورت تھی۔ آج چار نومبر ۱۸۹۸ء میں خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک شخص روپیہ بھیجتا ہے (اگر ایک شخص کے بجائے رشید صاحب ہی کو خواب میں دکھلا دیا جاتا۔ تو خواب اور بھی کرامت بن جاتا۔ بہرحال روپیہ دیکھ لیا اور یہی کافی ہے اور شائد دن میں بھی یہ خیال دل میں آتا رہا ہو کہ کاش کہیں سے روپیہ آ جاتا۔ تاہم مرزا قادیانی صاحب کے ایسے خواب بھی ان کی نبوت کے ہزار ہا نشانوں میں شامل رہتے ہیں۔ للمولف برنی) میں بہت خوش ہوا اور یقین رکھتا تھا کہ آج (۵۰) روپیہ آئے گا۔ چنانچہ آج ہی چار نومبر ۱۸۹۸ء کو آپ کا (۵۰) روپیہ آگیا۔ فالحمدللہ وجزاکم اللہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روپیہ بھیجنا درگاہ الٰہی میں قبول ہے۔ چنانچہ آج جو جمعہ کا روز ہے۔ میں نے آپ کے لئے درگاہ الٰہی میں نماز جمعہ میں دعا کی امید کہ انشاء اللہ پھر کئی دفعہ کروں گا۔ مجھے آپ سے دلی محبت ہے۔ اب دل بہت چاہتا ہے کہ آپ نزدیک آجائیں۔ اللہ تعالیٰ اسباب پیدا کرے باقی خیریت ہے۔ والسلام

صفحہ 493

خاکسار غلام احمد عفی عنہ چار نومبر ۱۸۹۸ء بروز جمعہ

(مرزا قادیانی صاحب کا مکتوب مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۱-۲‘ جلد ۳۴‘ مورخہ ۲۸

اگست ۱۹۳۶ء)

(۶) ایک روپیہ کی شیرینی

خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ مجھے الہام ہوا کہ بست و یک روپیہ آنے والے ہیں۔ چنانچہ یہ الہام بھی ان ہی آریوں کو بتلایا گیا۔ جن کا کئی دفعہ ذکر ہو چکا ہے اور الہام میں یہ تفہیم ہوئی تھی کہ وہ روپیہ آج ہی آئے گا۔ چنانچہ اس روز وزیر سنگھ نامی ایک بیمار نے آکر مجھے ایک روپیہ دیا اور پھر مجھے خیال آیا کہ باقی بیس روپیہ شاید ڈاک کی معرفت آئیں گے۔ چنانچہ ڈاک خانہ میں اپنا ایک معتبر بھیجا گیا۔ وہ جواب لایا کہ ڈاک منشی کہتا ہے کہ میرے پاس آج صرف پانچ روپیہ ڈیرہ غازی خاں سے آئے ہیں جن کے ساتھ ایک کارڈ بھی ہے۔

اس خبر کے سننے سے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ میں آریوں کو اس پیش گوئی سے اطلاع دے چکا تھا کہ آج اکیس روپیہ آئیں گے اور ان کو معلوم تھا کہ ایک روپیہ آچکا ہے اور مجھے ڈاک منشی کی اس خبر سے اس قدر اضطراب ہوا جس کا بیان نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی اس خبر سے کہ صرف پانچ روپیہ ڈیرہ غازی خاں سے آئے ہیں۔ زیادہ روپیہ سے قطعاً نومیدی ہو گئی اور مجھے علامات سے معلوم ہوا کہ آریہ لوگ جن کو یہ اطلاع دی گئی تھی۔ دل میں بہت خوش ہوئے ہیں کہ آج ہمیں تکذیب کا موقع مل گیا اور میں نہایت اضطراب میں تھا کہ ایک دفعہ مجھے یہ الہام ہوا بست و یک آئے ہیں۔ اس میں شک نہیں۔ میں نے آریوں کو یہ الہام سنایا وہ اور بھی زیادہ ہنسی کا موجب ہوا کیونکہ ایک ملازم سرکاری نے جو سب پوسٹ ماسٹر تھا۔ علانیہ طور پر کہہ دیا تھا کہ صرف پانچ روپیہ آئے ہیں۔ بعد اس کے اتفاقاً ایک آریہ ان آریوں میں سے ڈاک خانہ میں گیا اور اس کو ڈاک منشی نے اس کے استفسار سے یا خود بخود کہا کہ دراصل بیس روپیہ آئے ہیں اور پہلے یوں ہی میرے منہ سے نکل گیا تھا کہ پانچ روپے آئے ہیں اور ساتھ اس کے منشی الہی

صفحہ 494

بخش صاحب اکاؤنٹنٹ کا ایک کارڈ بھی تھا اور یہ روپیہ چھ ستمبر ۱۸۸۳ء کو پہنچا جس دن یہ الہام ہوا پس اس مبارک دن کی یاداشت کے لئے اور نیز آریوں کو گواہ بنانے کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی تقسیم کی گئی جس کو ایک آریہ لایا اور آریوں کو اور نیز دوسروں کو دی گئی۔ اگر یوں نہیں تو شیرینی کھا کر ہی اس نشان کو یاد رکھیں۔

(حقیقتہ الوحی ص ۳۰۵ روحانی خزائن ص ۳۱۸‘ ۳۱۹‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۷) نام کے دام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک عرب سوالی یہاں آیا۔ آپ نے اسے ایک معقول رقم دے دی۔ بعض نے اس پر اعتراض کیا۔ تو فرمایا یہ جہاں بھی جائے گا۔ ہمارا ذکر کرے گا۔ خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے کے لئے ہی کرے مگر دور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۱۰۳‘ ص ۹‘ مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۳۵ء)

(۸) پچاس ہزار خواب والہام

یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔

(حقیقتہ الوحی ص ۳۳۳‘ روحانی خزائن ص ۳۴۶‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۹) ٹیکس کا مقدمہ

تیسواں نشان (نبوت) ٹیکس کے مقدمہ میں پیش گوئی ہے جو بعض شریر لوگوں نے سرکار انگریزی میں میری نسبت یہ مخبری کی تھی۔ کہ ہزار ہا روپیہ کی ان کو آمدنی ہے۔ ٹیکس لگانا چاہیے اور خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ اس میں وہ لوگ نامراد رہیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا (غالباً مرزا صاحب ٹیکس سے بچ گئے۔ للمولف)

صفحہ 495

(حقیقۃ الوحی ص ۲۲۸‘ روحانی خزائن ص ۲۲۶‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۱۰) تلی ہوئی مچھلی

نوے واں نشان (ثبوت)۔ ایک دفعہ قانون ڈاک کی خلاف ورزی کا مقدمہ میرے پر چلایا گیا۔ جس کی سزا پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ کی قید تھی اور بظاہر سبیل رہائی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ تب بعد دعا خواب میں خدائے تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ مقدمہ رفع دفع کر دیا جائے گا۔

اس مقدمہ کا مخبر ایک عیسائی رلیا رام نام تھا۔ جو امرتسر میں وکیل تھا اور میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ اس نے میری طرف ایک سانپ بھیجا ہے اور میں نے اس سانپ کو مچھلی کی طرح تل کر اس کی طرف واپس بھیج دیا ہے۔ چونکہ وہ وکیل تھا۔ اس لئے میرے مقدمہ کی نظیر گویا اس کے لئے کار آمد تھی اور تلی ہوئی مچھلی کا کام دیتی تھی۔ چنانچہ وہ مقدمہ پہلی پیشی میں ہی خارج ہو گیا۔

(حقیقۃ الوحی ص ۲۳۷‘ روحانی خزائن ص ۲۴۸‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۱) ہاتھی کے سر پر تیل

ایک دوست نے آپ کے روبرو اپنا ایک خواب سنایا کہ اس نے رات کو خواب میں ہاتھی دیکھا تھا اور یہ کہ حضرت (مرزا) صاحب اس کے سر پر تیل لگا رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اس کی تعبیر فرمائی کہ رات کے وقت خواب میں ہاتھی دیکھنا عمدہ ہوتا ہے اور تیل لگانا چونکہ زینت کا کام ہے۔ اس لئے یہ بھی اچھا ہے۔

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ ہفتم‘ ص ۴۵۰‘ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۱۲) گھر کی بات

میرے مکان کے ملحق دو مکان تھے۔ جو میرے قبضہ میں نہیں تھے اور یہ باعث تنگی مکان توسیع مکان کی ضرورت تھی۔ ایک دفعہ مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا۔ جو اس زمین پر ایک بڑا چبوترہ ہے اور مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس جگہ ایک لمبا دالان بن جائے گا

صفحہ 496

اور مجھے دکھایا گیا کہ اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصہ کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے۔ چنانچہ فی الفور یہ کشف اپنی جماعت کے صدہا آدمیوں کو سنایا گیا اور اخباروں میں درج کیا گیا۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ وہ دونوں مکان بذریعہ خریداری اور وراثت کے ہمارے حصہ میں آگئے اور ان کے بعض حصوں میں مکانات مہمانوں کے لئے بنائے گئے۔ حالانکہ ان سب کا ہمارے قبضہ میں آنا محال تھا اور کوئی خیال نہیں کر سکتا تھا کہ ایسا وقوع میں آئے گا۔

(حقیقۃ الوحی ص ۳۷۹‘ روحانی خزائن ص ۳۹۳‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۳) ریل کا سفر

اوائل میں حضرت (مرزا) صاحب انٹر کلاس میں سفر کیا کرتے تھے اور اگر حضرت بیوی صاحبہ ساتھ ہوتی تھیں۔ تو ان کو اور دیگر مستورات کو زنانہ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے اور حضرت صاحب کا طریق تھا کہ زنانہ سواریوں کو خود ساتھ جا کر اپنے سامنے زنانہ گاڑی میں بٹھاتے تھے اور پھر اس کے بعد خود اپنی گاڑی میں اپنے خدام کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔۔۔۔۔۔ اور آخری سالوں میں حضور عموماً ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کروا لیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر فرماتے تھے اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے۔ مگر مختلف اسٹیشنوں پر اتر اتر کر وہ حضور سے ملتے رہتے تھے۔

("سیرۃ المہدی" حصہ دوم ص ۱۰۱ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۴) ریل کا الہام

ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جا رہے تھے کہ الہام ہوا۔ نصف ترا نصف عمالیق را اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی کہ امام بی بی جو ہمارے جدی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مر جائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔ یہ الہام ان دوستوں کو جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے سنا دیا

صفحہ 497

گیا تھا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکورہ مر گئی اور اس کی نصف زمین ہمیں اور نصف بعض دیگر شرکاء کو ملی۔

(نزول المسیح ص ۲۱۳‘ روحانی خزائن ص ۵۹۱‘ ۵۹۲‘ ج ۱۸‘ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۱۵) بیعت

جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والذین جاھدوا فینا لنھد ینھم سبلنا مولوی محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ۲۷۱‘ روایت نمبر ۲۸۰‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی

صاحب)

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا۔ میں نے ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں۔ آپ نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کا سا کام ہے۔ اسے اپنے ہاتھ سے مرید کے گند نکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۱۰۰‘ روایت نمبر ۱۱۱ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

لوگ ایک عرصہ سے آپ کو بیعت لینے کے لئے عرض کر رہے تھے آپ نے ہمیشہ ایسے طالبین کو یہ کہا کہ میں اس غرض کے لئے ابھی مامور نہیں ہوں اور آخر جب خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کو بیعت لینے کے لئے مامور فرمایا تو آپ نے بیعت کے لئے اعلان کر دیا۔

(”حیات احمد“ جلد دوم نمبر دوم حاشیہ ص ۵‘ مرتبہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کا حکم آیا تو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیا گیا جس کی پیشانی پر لکھا گیا بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ

صفحہ 498

وطہارت‘ اور نام مع ولدیت و سکونت لکھے جاتے تھے۔ اول نمبر حضرت مولوی نور الدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے۔ دوئم میر عباس علی صاحب ان کے بعد شاید خاکسار (میر عنایت علی صاحب) ہی سوئم نمبر پر جاتا۔ لیکن میر عباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لئے بھیج دیا کہ ان کو بلا لاؤ غرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہو گئے۔ ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو اندر بھیج دیں۔ چنانچہ میں نے چودھری رستم علی صاحب کو اندر داخل کر دیا اور دسویں نمبر پر وہ بیعت ہوگئے۔ اس طرح ایک ایک آدمی باری باری بیعت کے لئے اندر جاتا تھا اور دروازہ بند کر دیا جاتا تھا۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوئم ص ۱۰‘ روایت نمبر ۳۱۵‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ قادیان میں آیا تو حضور (نے)........ مجھے مخاطب فرما کر اپنے دعوے کی صداقت میں تقریر فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی صداقت کے متعلق تو کوئی شبہ نہیں رہا۔ لیکن اگر بیعت نہ کی جاوے اور آپ پر ایمان رکھا جاوے کہ آپ صادق ہیں تو کیا حرج ہے آپ نے فرمایا کہ ایسے ایمان سے آپ مجھ سے روحانی فیض حاصل نہیں کر سکتے۔ بیعت سنت انبیاء ہے اور اس سنت میں بہت بڑے فوائد اور حکمتیں ہیں۔۔۔۔۔۔

نیز مولوی شیر علی صاحب (قادیانی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا) صاحب نے بیعت کے فوائد پر تقریر فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ فائدہ بیعت کا کوئی کم ہے کہ انسان کے پہلے سارے گناہ بخشے جاتے ہیں۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم ص ۶۵‘ روایت نمبر ۳۸۶‘ مصنفہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے قادیان آیا۔ تو اس وقت نماز ظہر کے قریب کا وقت تھا۔ اور مہمان خانہ میں وضو کر کے مسجد مبارک میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں ہی تشریف رکھتے تھے اور حضور کے بہت سے اصحاب حضرت کے پاس بیٹھے تھے۔ میں بھی مجلس کے پیچھے ہو کر بیٹھ

صفحہ 499

گیا...... جب حوالہ جات کے متعلق گفتگو بند ہوئی تو میں بیعت کی خواہش ظاہر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف آگے بڑھنے لگا۔ جس پر سید احمد انور صاحب کابلی نے کسی قدر بلند آواز سے کہا کہ یہ شخص مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ اسے رستہ دے دیا جاوے میں دل میں حیران ہوا کہ مسلمان ہونے کے کیا معنی ہیں۔ لیکن پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہونا مسلمان ہونا نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ چنانچہ میں حضرت مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہو گیا۔

("سیرۃ المہدی" حصہ دوئم ص ۹۹‘ روایت نمبر ۴۲۶‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

بارہ ستمبر ۱۹۰۱ء مولوی جان محمد صاحب مدرس ڈسکہ ضلع سیالکوٹ نے حضرت مسیح موعود سے عرض کی کہ آپ کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی بزرگ سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے۔ تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کا مرشد اب زندہ بھی ہو تب بھی وہ ایسے حقائق و معارف ظاہر نہ کرے گا جو خدا تعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔ صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے۔

(روایت مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۶ نمبر ۳۰‘ منقول از منظور الٰہی ص ۳۲۹‘ مولفہ

منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۱۶) قادیانی مبالغے

خدا نے میری جماعت سے پنجاب اور ہندوستان کے شہروں کو بھر دیا۔ چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ اشخاص نے میری بیعت کی۔

(رسالہ تحفۃ الندوہ ص ۸‘ روحانی خزائن ص ۱۰۱‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

میں (مرزا غلام احمد قادیانی) حلفا کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری

صفحہ 500

جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۱۶۵، روایت

نمبر ۱۷۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیان)

میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں۔ جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔

(اعلان مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ سات مئی ۱۹۰۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد

دہم، ص ۱۲۲، مجموعہ اشتہارات ص ۵۸۳، ج ۳)

ہر ایک پہلو سے خدا نے مجھ کو برومند کیا چنانچہ ہزار ہا شکر کا یہ مقام ہے کہ قریباً چار لاکھ انسان اب تک میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے اور کفر سے توبہ کر چکے ہیں۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۱۷، مندرجہ روحانی خزائن ص ۵۵۳، ج ۲۲، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

بیس مئی ۱۹۰۹ء کے بدر جلد آٹھ نمبر تیس میں ایک ایڈیٹوریل بعنوان ”یاد ایام سلف نے ہائے کیا تڑپا دیا“۔ چھپا ہے اس کے آخر میں یہ سطور ہیں۔

(اے مسیح موعود) تیری ہمت تیرا استقلال تیرا عزم اس سے ظاہر ہے۔ کہ اور نبیوں کے لئے تو صرف یہ بات منوانے کی ہوتی تھی کہ میں نبی ہوں۔ مگر تیرے لئے دو مشکلیں تھیں۔ اول یہ کہ کوئی نبی آسکتا ہے۔ دوم یہ کہ میں نبی ہوں۔ آخر تو نے چار لاکھ انسان کے جزو ایمان میں یہ بات داخل کردی۔“

(اخبار بدر قادیان جلد (۸) نمبر ۳۰، ص ۴، ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء)

کیا اس عبارت کو پڑھ کر ذرا بھی شبہ اس بات میں رہ سکتا ہے کہ ۱۹۰۹ء میں چار لاکھ کی جماعت حضرت مرزا غلام (احمد) مسیح موعود کو نبی مانتی تھی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۱، نمبر ۶۷، ص ۴، مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۲۴ء)

جماعت کی تعداد اندازاً بتا سکتا ہوں چار پانچ لاکھ کی جماعت ہے غیر مبایعین (لاہوری جماعت) کے ساتھ ایک ہزار آدمی ہوگا۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان باجلاس سب جج عدالت گورداسپور مندرجہ

صفحہ 501

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶‘ ۲۹ جون ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۱۰۱‘ ۱۰۲‘ ص ۶)

ہم چار لاکھ احمدی صفائے قلب کے ساتھ آپ (ہندوؤں) کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو تیار ہیں اگر آپ شرائط مندرجہ ”پیغام“ پر کاربند ہونے کو تیار ہیں۔

(خواجہ کمال الدین صاحب کا اعلان‘ مورخہ ۱۵ جون ۱۹۰۸‘ مندرجہ پیغام صلح‘ ص ۲)

خواجہ حسن نظامی صاحب کا دعویٰ ہے کہ میاں (محمود احمد خلیفہ قادیان) صاحب بیس ہزار مریدین کی فہرست کبھی نہیں دے سکتے کیوں کہ خواجہ صاحب کے نزدیک کل ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ معلوم نہیں خواجہ صاحب کو ایسے کون سے یقینی وجوہ ہاتھ آگئے ہیں کہ انہوں نے چار پانچ لاکھ کی جماعت کو اٹھارہ ہزار کی جماعت کہہ دیا۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ میاں صاحب کا یہ دعویٰ کہ وہ چار پانچ لاکھ کے امام ہیں۔ قطعاً بے بنیاد ہے۔....... ہم تو صرف یہی دیکھیں گے کہ میاں صاحب کا یہ دعویٰ کہ وہ چار پانچ لاکھ کی جماعت کے امام ہیں۔ یا یہ کہ ۹۵ فی صدی جماعت میں سے ان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں یا ان کا یہ بیان کہ اس حصہ جماعت کی تعداد جنہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ کل دو فی صدی ہے کہاں تک صحیح ہے۔ یا کون سی بات ان میں سے سچی ہے اور کون سی جھوٹی...... کیونکہ میاں صاحب اور ان کے مریدین آئے دن یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام (لاہور) جماعت احمدیہ کے کسی بھی حصہ کی قائم مقام نہیں۔

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ ج ۵‘ نمبر ۵۹‘ مورخہ ۶ فروری ۱۹۱۸ء)

مقدمہ اخبار مباہلہ میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد دس لاکھ بیان کی تھی۔ ۱۹۳۰ء میں کوکب دری کے قادیانی مولف کے قول کے مطابق بیس لاکھ قادیانی دنیا میں موجود تھے۔ ستمبر ۱۹۳۲ء میں بھیرہ (پنجاب) کے مناظرہ میں مولوی مبارک احمد صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے قادیانیوں کی تعداد پچاس لاکھ بیان کی۔ حال ہی میں عبدالرحیم درد قادیانی مبلغ نے انگلستان میں مسٹر فلبی کے سامنے بیان کیا تھا کہ پنجاب کے مسلمانوں میں غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ پنجاب میں قریباً ڈیڑھ کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اس حساب سے بقول عبدالرحیم صاحب گویا ۷۵ لاکھ سے بھی زیادہ قادیانی پنجاب میں موجود ہیں۔

صفحہ 502

(رسالہ ”شمس الاسلام“ بھیرہ پنجاب‘ ج ۵‘ نمبر ۱۰)

لیکن سرکاری مردم شماری کا خدا بھلا کرے کہ سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اور بالآخر لاچار ہو کر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کو اصلی تعداد تسلیم کرنی پڑی چنانچہ ملاحظہ ہو۔

جس وقت ہماری تعداد آج کی تعداد سے بہت کم یعنی سرکاری مردم شماری کی رو سے اٹھارہ سو تھی۔ اس وقت اخبار بدر کے خریداروں کی تعداد (۱۴۰۰) تھی اس وقت سرکاری مردم شماری ۵۶ ہزار ہے اور اگر پہلی نسبت کا لحاظ رکھا جائے تو ہمارے اخبار کے صرف پنجاب میں ۴۰۰۰ سے زائد خریدار ہونے چاہئیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۲۲‘ نمبر ۵۶

اگست ۱۹۳۴ء)

ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں ۵۶ ہزار ہے گو یہ بالکل غلط ہے (بیشک غلط ہے سرکاری رپورٹ ۱۹۳۱ء میں مجموعی تعداد ۵۵ ہزار درج ہے۔ جس میں لاہوری جماعت کے کئی ہزار لوگ بھی شامل ہیں۔ اس طرح میاں محمود احمد صاحب کی جماعت کی تعداد پچاس ہزار بھی نہیں رہتی۔ للمولف)...... مگر فرض کر لو کہ یہ تعداد درست ہے اور فرض کر لو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار فرد رہتے ہیں۔ تب بھی یہ پچہتر چھہتر ہزار آدمی بن جاتے ہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۲۱‘ نمبر ۱۵۲‘

مورخہ ۲۱ جون ۱۹۳۴ء)

گویا پچاس سال کی سعی اور تبلیغ کے بعد تمام ہندوستان میں خود خلیفہ صاحب قادیان کے حساب سے قادیانیوں کی فرضی تعداد زیادہ سے زیادہ پچہتر ہزار قرار پاتی ہے کیا مضائقہ ہے پچہتر لاکھ اور پچہتر ہزار میں صرف دو نقطوں کا فرق ہے۔ کچھ زیادہ فرق نہیں ہے خود مرزا صاحب بھی ایسے فرق کو فرق نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وعدہ پورا ہو گیا۔“ (حساب کا کیسا سچا اصول ہے۔ للمولف)

صفحہ 503

(۱۷) مرزا صاحب کے مرید

اس گروہ میں بہت سے سرکار انگریزی کے ذی عزت عہدہ دار ہیں۔ جو ڈپٹی کلکٹر اور ایکسٹرا اسسٹنٹ اور تحصیل دار وغیرہ معزز عہدوں والے آدمی ہیں۔ ایسا ہی پنجاب اور ہندوستان کے کئی رئیس اور جاگیردار اور اکثر تعلیم یافتہ ایف۔ اے، بی۔ اے اور ایم۔ اے اور بڑے بڑے تاجر اس جماعت میں داخل ہیں۔ غرض ایسے لوگ جو عقل اور علم اور عزت اور اقبال رکھتے تھے۔ یا بڑے بڑے عہدوں پر سرکار انگریزی کی طرف سے مامور تھے۔ یا رئیس اور جاگیردار اور تعلقدار اور نوابوں کی اولاد تھے اور یا ہندوستان کے قطبوں اور غوثوں کی نسل تھے جن کے بزرگوں کو لاکھوں انسان اعلیٰ درجہ کے ولی اور قطب وقت سمجھتے تھے وہ لوگ اسی جماعت میں داخل ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔

(”کتاب البریہ“ ص ۱۷۱ حاشیہ روحانی خزائن ص ۲۰۴ ج ۱۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں تفصیل سے لکھا کہ کیوں کہ مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیوں کر آزادی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزار ہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزار ہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر

صفحہ 504

خوابی سے بھرا ہوا ہے۔

("تحفہ قیصریہ" ص ۱۱، روحانی خزائن ص ۲۶۳، ۲۶۴، ج ۱۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۸) فرمان واجب الاذعان

یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں۔ بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں مجھے خدا نے بتلایا ہے میرا ان ہی سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں۔ جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خدائے تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ سو ہر ایک شخص کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے۔۔۔۔۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لئے قبول کرتا ہے اور اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہیں آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لاپروائی کی تو اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپروا جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔ السلام علی من اتبع الھدیٰ

المشتہر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان

(لوح الہدیٰ ص ۱، مجموعہ اشتہارات ج ۳، ص ۴۶۸ - ۴۶۹، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۹) گورداسپور میں مقدمہ

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جب کہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے۔ ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔ اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہو رہا

صفحہ 505

ہے۔ لہٰذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔

(تقریر سالانہ جلسہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘

مورخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۲۷ء ص ۵۵‘ جلد ۱۴)

(۲۰) فتوے

بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنجری تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا۔ مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کو کیا کروں۔ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہو سکتا ہے (اور اسلام کی خدمت خود مرزا صاحب کے سپرد تھی۔ ان سے زیادہ اس مال کا مستحق اور کون ہو سکتا تھا۔ للمولف)

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۲۶۱‘ روایت ۲۷۲‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۲۰) (الف) چندہ کا مطالبہ (ج)

”قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجا لائے۔ مالی طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ چندہ کے بغیر نہیں چلتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے۔ پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔ اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیں تو بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی‘ مندرجہ ”بدر“ مورخہ ۹ جولائی ۱۹۰۳ء‘ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ ج ۱۷‘ نمبر ۲۷‘ مورخہ ۲۵ فروری ۱۹۳۰ء)

(۲۱) مرزا صاحب کے فتوحات

میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر
صفحہ 506
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر
لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی
میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی
اب دیکھتے ہو کیسے رجوع جہاں ہوا
اک مرجع خاص یہی قادیاں ہوا

(”درثمین“ اردو ص ۶۱‘ مجموعہ کلام مرزا براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱‘ مندرجہ ”روحانی

خزائن“ ص ۲۰‘ ج ۲۱‘ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔

مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے مگر خدائے تعالٰی جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا۔ اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دست گیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شائد اس سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر میرے اس بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو تا معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آ کر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔

(حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱‘ ۲۱۲‘ روحانی خزائن ص ۲۲۰‘ ۲۲۱‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام قادیانی

صاحب)

تیسری پیش گوئی یہ تھی کہ لوگ کثرت سے آئیں گے۔ سو اس قدر کثرت سے

صفحہ 507

آئے کہ اگر ہر روزہ آمدن اور خاص وقتوں کے مجمعوں کا اندازہ لگایا جائے تو کئی لاکھ تک اس کی تعداد پہنچتی ہے۔۔۔۔۔۔ اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں۔۔۔۔۔۔ تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ (”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ۶۰‘ ۶۱‘ روحانی خزائن ص ۷۵‘ ۷۴‘ ج ۲۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(مرزا صاحب نے ۱۸۸۰ء سے علمی اور مذہبی زندگی شروع کی جب کہ براہین احمدیہ کا اعلان کیا اور ۱۹۰۸ء میں انتقال ہوا۔ گویا کل (۲۷) سال یہ مشغلہ رہا۔ ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کی تحریک نے بتدریج ترقی شروع کی۔ ابتداء میں چند سال کام ہلکا رہا بعد کو فروغ ہوا۔ تاہم اگر کل ستائیس سال مساوی مان لئے جائیں تو بھی مرزا صاحب کے بیان کے مطابق خطوں اور مہمانوں کا روزانہ اوسط بلا ناغہ ایک ہزار پڑتا ہے اور اگر حسب واقعہ سال غیر مساوی مانے جائیں۔ تو آخری سالوں کا روزانہ اوسط کئی ہزار پڑنا چاہیے۔ خوب حساب ہے۔ للمولف)

(۲۲) تحصیل و تشفی

محب یکرنگ مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب اللہ رکھا سلمہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘ کل کی ڈاک میں بذریعہ تار مبلغ پانچ سو روپے مرسلہ آں مکرم مجھ کو پہنچ گیا۔ خدا تعالیٰ آپ کو ان للہی خدمات کا دونوں جہان میں وہ اجر بخشے جو اپنے مخلص اور وفادار بندوں کو بخشتا ہے۔ آمین ثم آمین۔ یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ مجھ کو آپ کے روپیہ سے اس قدر دینی کام میں مدد پہنچ رہی ہے کہ اس کی نظیر میرے پاس بہت ہی کم ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپ کی ان خدمات کا وہ بہترین پاداش بخشے کہ تمام حاجات دارین پر محیط ہو اور اپنی محبت میں ترقیات عطا فرمائے۔ محض اللہ تعالیٰ کے لیے اس پر آشوب زمانہ میں جو دل سخت ہو رہے ہیں۔ آگے سے آگے بڑھانا کچھ تھوڑی بات نہیں ہے۔ انشاء اللہ القدیر آپ ایک بڑے ثواب کا حصہ پانے والے ہیں۔

کچھ تھوڑے دن ہوئے کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ میں بیٹھا ہوں ایک

صفحہ 508

دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہو گیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ کہاں سے آیا۔ آخر میری یہ رائے ٹھہری کہ خدا تعالیٰ کے فرشتہ نے ہماری حاجات کے لئے یہاں رکھ دیا ہے‘ پھر ساتھ الہام ہوا‘ انی مرسل الیکم ہدیۃ کہ میں تمہاری طرف ہدیہ بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہ ہی تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب اس فرشتہ کے رنگ میں متمثل کئے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اور میں نے اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ لیا چنانچہ کل اس کی تصدیق ہو گئی۔ الحمدللہ یہ قبولیت کی نشانی ہے کہ مولیٰ کریم نے خواب اور الہام سے تصدیق فرمائی..... والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد ۶؍ مارچ ۱۸۹۵ء

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اول ص ۳ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی محبی فی اللہ حاجی سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب سلمہ! السلام علیکم ورحمۃ و برکاتہ‘ کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آں محب مجھ کو پہنچا۔ اس کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ اس روپیہ کے پہنچنے سے تخمیناً سات گھنٹے پہلے مجھ کو خدائے عزوجل نے اس کی اطلاع دی۔ سو آپ کی خدمت کے لیے یہ اجر کافی ہے کہ خدائے تعالیٰ آپ سے راضی ہے۔ اس کی رضا کے بعد اگر تمام جہان ریزہ ریزہ ہو جائے تو کچھ پرواہ نہیں‘ یہ کشف اور الہام آپ ہی کے بارے میں مجھ کو دو دفعہ ہوا ہے الحمدللہ..... والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد ۲؍ اکتوبر ۱۸۹۶ء

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اول ص ۵ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ‘ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘ عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے لکھا ہے۔ آپ کے صدق و اخلاص پر قوی نشانی ہے۔ میں نے جو خط لکھا تھا۔ اس کے لکھنے کے لیے یہ تحریک پیدا ہوئی تھی۔ جو چند ہفتے ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا۔ غنم لہٗ۔ دفع البلا من مالہ دفعۃ اس میں تفہیم یہ ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی مطلب کے حصول پر بہت سا حصہ اپنے مال میں سے بطور نذرانہ بھجوائے گا۔ میں نے اس الہام کو اپنی کتاب میں لکھ لیا تھا بلکہ اپنے گھر کے قریب دیوار پر

صفحہ 509

مسجد کی نہایت خوشخط یہ الہام لکھ کر چسپاں کر دیا۔ اس الہام میں نہ کسی مدت کا ذکر ہے کہ کب ہوگا اور نہ کسی انسان کا ذکر ہے کہ کس شخص کو ایسی کامیابی ہوگی یا ایسی مسرت ظہور میں آئے گی۔ لیکن چوں کہ میرا دل آں مکرم کی کامیابی کی طرف لگا ہوا ہے۔ اس لیے طبیعت نے یہی چاہا کہ کسی وقت اس کے مصداق آپ ہی ہوں اور خدا تعالیٰ ایسا کرے کہ اللہ جل شانہ کے نزدیک لاکھ دو لاکھ روپیہ کچھ بڑی بات ہے۔

دعاؤں میں اثر ہوتے ہیں مگر صبر سے ان کا ظہور ضرور ہوتا ہے۔۔۔۔۔ میں آپ کے شدت اخلاص کی وجہ سے اس میں لگا ہوا ہوں کہ اعلیٰ درجہ کی زندہ دعا آپ کے حق میں ہو جاوے اور جس طرح سے شکاری ایک جگہ سے دام اٹھاتا ہے اور دوسری جگہ بچھاتا ہے تاکہ کسی طرح شکار مارنے میں کامیاب ہو جائے۔ اسی طرح میں ہر طرح سے دعا میں روحانی حیلوں کو استعمال میں لاتا ہوں۔ اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ القدیر و الموفق میں اس بات کو اسی قادر کے فضل و کرم اور توفیق سے دکھلاؤں گا کہ زندہ دعا اس کو کہتے ہیں۔۔۔۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۳ اکتوبر ۱۸۹۸ء

(مکتوب احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۲۰ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ‘ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘

پہلے خط کے روانہ کرنے کے بعد آج مبلغ سو روپیہ مرسلہ آں مکرم بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا۔ میں آپ کے اس صدق و اخلاص سے نہایت امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ مجھے آپ کے روپیہ سے اپنے کاروبار میں اس قدر مدد ملتی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ جزاکم اللہ خیر الجزا یہی عملی حالت ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم پر بہت ہی امید دلاتی ہے۔ چوں کہ مجھے اپنے سلسلہ طبع تک میں ایسی حاجتیں پیش آتی رہتی ہیں اور مجھے اس سے زیادہ دنیا میں کوئی غم نہیں کہ جو میں بوجہ نہ میسر آنے مالی سرمایہ کے طبع کتب دینیہ سے مجبور رہ جاؤں۔ اس لیے میں ایک یہی حکمت عملی آپ کے متعلق دیکھتا ہوں کہ آپ دل میں ایک نذر مقرر کر چھوڑیں کہ اگر ایک عمدہ کامیابی امور تجارت میں آپ کو میسر آئے تو آپ یک مشت نذر اس کارخانہ کے لیے ارسال فرماویں کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کے اس صدق و اخلاص پر نظر کر کے وہ کامیابی آپ کے

صفحہ 510

نصیب کرے کہ جو فوق العادت ہو اور اس ذریعہ سے اس اپنے سلسلہ کو بھی کافی مدد پہنچ جاوے۔ کیوں کہ اب یہ سلسلہ مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اور شاید یہ کام طبع کتب کا آگے کو بند ہو جاوے۔ آپ کی طرف سے جو مدد آتی ہے وہ لنگر خانہ میں خرچ ہو جاتی ہے اور مجھے جس قدر آپ کے کاروبار کے لیے توجہ ہے یہ ایک دلی خواہش ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ میں پیدا کی ہے اور یہ یقین جانتا ہوں کہ یہ خالی نہیں جائے گا۔ کیا تعجب کہ اس نیت کے پختہ کرنے پر خدا تعالیٰ فوق العادت کے طور پر آپ سے کوئی رحمت کا معاملہ کرے میں تو جانتا ہوں، آپ نہایت خوش نصیب ہیں۔ آپ کی دنیا بھی اچھی ہے اور آخرت بھی۔ کیوں کہ آپ اس طرف دل سے اور پورے اعتقاد سے جھک گئے ہیں۔ سو اگر تمام دنیا کا کاروبار تباہی میں آجائے تب بھی میں یقین نہیں کرتا کہ آپ ضائع کئے جائیں۔ والسلام۔

خاکسار مرزا غلام احمد ۲۱؍ اکتوبر ۱۸۹۸ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۲۱ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہٗ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا عنایت نامہ مع مبلغ ایک سو روپیہ آج مجھ کو ملا۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء آمین! جس قدر یہ عاجز آپ کو تسلی اور اطمینان کے الفاظ لکھتا ہے۔ یہ لغو اور بیہودہ نہیں ہے، بلکہ بوجہ آپ کے نہایت درجہ کے اخلاص کے اس درجہ پر آپ کے لیے دعا ظہور میں آتی ہے کہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ دعائیں خالی نہیں جائیں گی..... باقی خیریت ہے۔ والسلام، مبلغ ایک سو روپیہ سیٹھ وال جی صاحب کی طرف سے بھی پہنچ گیا تھا۔ میری طرف سے دعا اور شکر ان کو پہنچا دینا۔

خاکسار مرزا غلام احمد ۲۲؍ نومبر ۱۸۹۸ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۲۲ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہٗ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

عنایت نامہ آں مکرم اور نیز مبلغ ایک سو روپیہ مجھ کو پہنچا۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء میں آپ کے لئے دعا میں مشغول ہوں، آپ کا ہر ایک خط جس میں تفرقہ خاطر اور خوف و خطر کا ذکر ہوتا ہے۔ پہلی دفعہ تو میرے پر ایک درد ناک اثر ہوتا ہے مگر پھر بعد اس کے جب

صفحہ 511

اللہ جل شانہ کی طاقت اور قدرت اور اس کے وہ الطاف کریمانہ جو میرے پر ہیں بلا توقف یاد آجاتی ہیں تو وہ غم دور ہو کر نہایت یقینی امیدیں دل میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ آپ کے لیے میرے دل میں عجب جوش تضرع اور دعا ہے۔ اگر عمیق مصالح جس کا علم بشر کو نہیں ملتا توقف کو نہ چاہتیں تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید تھی کہ اس قدر توقف ظہور میں نہ آتا۔ بہرحال میں آپ کی بلاؤں کی دفع کے لیے ایسا کھڑا ہوں جیسا کوئی شخص لڑائی میں کھڑا ہوتا ہے۔ خداوند قوت استقلال اور ثابت قدمی اور صدق ویقین ہتھیاروں سے اور عقد ہمت کی پیش قدمی سے اسی میدان میں خدا تعالیٰ سے کام یابی چاہتا ہوں..... میں پہلے اس اطلاع دے چکا ہوں کہ میرے پر ایک فوجداری مقدمہ سرکار کی طرف سے دائر ہو گیا ہے..... میں نے اول خیال کیا تھا کہ شاید آن مکرم کی تحریک سے مدد اس میں کسی قدر چندہ ہو‘ مگر پھر مجھے خیال آتا ہے کہ ہر ایک انسان اس ہمدردی کے لائق نہیں جب تک انسان سلسلہ میں داخل ہو کر جاں نثار مرید نہ ہو تب تک ایسے واقعات روح پر قوی اثر نہیں کرتے۔ دلوں کا خدا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے باوجود اس تفرقہ کے اور ایسی حالت کے جو قریب قریب تباہی کے ہے آپ کو وہ اخلاص بخشا ہے کہ جو وفادار جان نثار جوان مرد میں ہوتا ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی لکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ آپ ہر وقت مالی امداد میں مشغول ہیں‘ اس لئے ایسے چندہ سے آپ مستثنیٰ ہیں۔ آپ کا بہت سا چندہ پہنچ چکا ہے والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۲۴‘ ۲۳ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ‘ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘ عنایت نامہ پہنچا مجھ کو سخت افسوس ہے جس کو میں بھول نہیں سکتا کہ مجھ کو قبل اس حادثہ وفات وقت اس کامل دعا کا موقع نہیں ملا‘ جو اکثر کرشمہ قدرت دکھلاتی ہے۔ میں دعا تو کرتا رہا مگر وہ اضطراب جو سینہ میں ایک جلن پیدا کرتی ہے اور دل کو بے چین کر دیتی ہے۔ وہ اس لیے کامل طور پر پیدا نہ ہوئی۔ آپ کے عنایت نامجات جو حال میں آئے تھے‘ یہ فقرہ بھی درج ہوتا رہا کہ کہ اب کسی قدر آرام ہے اور آخری خط آپ کا جو نہایت اضطراب سے بھرا ہوا تھا۔ اس تار کے بعد آیا جس میں وفات کی خبر تھی۔ اس

صفحہ 512

خانہ ویرانی سے جو دوبارہ وقوع میں آگئی رنج اور درد و غم تو بہت ہے۔ نہ معلوم آپ پر کیا کیا قلق اور رنج گزرا ہوگا‘ لیکن خداوند کریم و رحیم کی اس میں کوئی بڑی حکمت ہوگی۔۔۔۔ باقی خیریت ہے والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۱۶؍ ستمبر ۱۸۹۹ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ نمبر اول صفحہ ۲۹ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی و مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ‘ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘ عنایت نامہ پہنچا موجودہ حالات سے آپ دل گیر نہ ہوں اور نہ کسی گھبراہٹ کو اپنے دل آنے دیں۔ میں اپنی دعاؤں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہرگز خطا نہیں جائیں گی۔ اگر ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو میں اس کو ممکن جانتا ہوں مگر وہ دعائیں جو آپ کے لئے کی گئی ہیں وہ ٹلنے والی نہیں۔ ہاں میرے خدائے کریم و قدیر کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعاؤں کی قبولیت کے بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے۔ تا جو بد بخت اور شتاب کار ہیں وہ بھاگ جائیں۔۔۔۔۔ آپ کو کہتا ہوں کہ صبر سے انتظار کریں ایسا نہ ہو کہ آپ تھک جائیں اور وہ جو آپ کے لئے تخم بویا گیا ہے۔ وہ سب برباد ہو جائے۔۔۔۔ سو خلاصہ تمام نصیحتوں کا یہی ہے کہ آپ قوت ایمانی دکھلا دیں کہ اگر اس قدر انقلاب اور انصباب مصائب ہو کر سر رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے تب بھی افسردہ نہ ہوں۔

زکار بستہ میندیش و دل شکستہ مدار کہ چشمہ حیواں دروں تاریکی است

والسلام‘ مرزا غلام احمد ۲۲؍ مئی ۱۹۰۲ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۳۴ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ‘ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘ عنایت نامہ پہنچا‘ یہ سچ ہے کہ بنا ہوا کام بگڑنے سے اور وسائل معاش کے گم یا معدوم ہونے کی حالت میں بے شک انسان کو صدمہ پہنچتا ہے‘ مگر وہ جو بگاڑتا ہے اور وہی بنانے پر قادر ہے۔ پس دنیا میں شکستہ دلوں کی اور تباہ شدہ لوگوں کے خوش ہونے کے لیے ایک وہ ذریعہ ہے کہ اس ذوالجلال کو ایمانی یقین کے ساتھ یاد کریں کہ جیسا کہ وہ ایک دم میں تخت پر سے خاک مذلت میں ڈالتا ہے۔ ایسا ہی وہ خاک پر سے ایک لحظہ میں تخت پر

صفحہ 513

بٹھاتا ہے۔.... اور وہ کریم و رحیم ہے۔ ان لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔ جو اس کے آستانہ پر گرتے ہیں۔ والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد ۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۳۵ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہٗ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

عنایت نامہ پہنچا‘ غم و اندوہ کی کثرت اور بارگراں قرضہ اگرچہ ایسی حالت میں جب کہ انسان اپنی کمزوری اور بے سامانی اور عدم موجودگی اسباب کا مطالعہ کر رہا ہو بہت آزردہ چیز ہے‘ لیکن اگر دوسرے پہلو میں کہ خدا داری چہ غم داری سوچا جائے تو ایسے غم کہ بہت مجبوریوں کے ساتھ لاحق ہوں تاہم ایک غفلت کا شعبہ ثابت ہوں گے‘ یعنی قادر حقیقی کے عجائب در عجائب قدرتوں پر ایمان نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے‘ یہ خیال در حقیقت ایک تسلی اور شکر اور ہزارہا امیدوں کے سلسلہ کا موجب ہے کہ ہمارا خدا قادر خدا ہے۔.... اس کے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں یہ ایسی باتیں نہیں ہیں کہ محض طفل تسلی کے طور پر دل خوش کن باتیں ہوں۔.... باقی سب طرح خیریت ہے۔ خدا آپ کا حافظ ہو زیادہ خیریت۔ والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۳۱؍ اگست ۱۹۰۲ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۳۶ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہٗ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ آپ بہت مضبوطی سے اپنی استقامت پر قائم رہیں‘ کیونکہ جو آپ کے لئے کوشش کی گئی ہے۔ وہ ضائع نہیں جائے گی۔ ضرور ہے کہ اول یہ ابتلاء انتہا تک پہنچ جائے۔ عسر کے ساتھ یسر ہوتی ہے اور غم کے بعد خوشی‘ ایسا نہ ہو کہ آپ بشریت کے وہم سے مغلوب ہو کر سلسلہ امید کو ہاتھ سے چھوڑ دیں‘ کہ ایسا کرنا دعا کی برکت کو کم کر دیتا ہے۔ میں بڑی سرگرمی سے آپ کے لیے مشغول ہوں مگر قریباً پندرہ روز سے ریزش کی شدت سے بیمار ہوں اور ضعف بہت ہے‘ اس لیے میں خط لکھنے سے اکثر مجبور و معذور رہتا ہوں‘ اکثر باعث ضعف میرے دل پر ایسے عوارض کا ہجوم رہتا ہے کہ میں بہت کمزور ہو جاتا ہوں۔.... خدا آپ کو استقامت بخشے اور آپ کے دل میں

صفحہ 514

صبر ڈالے۔ صبر وہ کیمیا ہے جس کا سونا کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ خدا ابتلا کے طور پر آگ میں ڈالتا ہے۔ مگر صابر اور وفادار کو پھر محبت سے پکڑ لیتا ہے اور دوسری حالت اس کی پہلی سے اچھی ہوتی ہے۔ والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول، ص ۳۸-۳۷ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘ مدت ہوئی ان مکرم کا کوئی خط میرے پاس نہیں پہنچا۔ نہایت تردد اور تفکر ہے۔ خدا تعالیٰ آفات سے محفوظ رکھے۔ اس طرف طاعون کا اس قدر زور ہے کہ نمونہ قیامت ہے۔ گرمی کے ایام میں بھی زور چلا جاتا ہے۔ میں آپ کے لئے برابر دعا کر رہا ہوں۔ خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے آخر کار یہ پریشانی دور کرے گا۔ مناسب ہے کہ آپ ارسال خطوط میں سستی نہ کریں کہ اس سے تفکر پیدا ہوتا ہے۔ خدا حافظ ہو‘ چند روز سے میری طبیعت بعارضہ زحیر علیل ہے۔ انشاء اللہ القدیر شفا ہو جائے گی۔ والسلام

خاکسار مرزا غلام احمد ۲۰ مئی ۱۹۰۲ء

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۳۹ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۲) ایک بھاری نذر

جنوری ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے کہ ضلع کانپور (یوپی) کے ایک رئیس ولی محمد نام جو ایک عرصہ سے احمدی ہوچکے تھے اور اپنے بیمار بیٹے کی صحت کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں خطوط لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے حضور کو لکھا کہ میں مدت سے دعا کرا رہا ہوں مگر اب تک میرے بیٹے کے حق میں دعا قبول نہیں ہوئی‘ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے۔ ولی محمد صاحب کے خط کے ساتھ ہی اسی جگہ کے ایک احمدی یوسف علی صاحب اٹاوی کا خط بھی اسی مضمون کا آیا کہ اس رئیس کے بیٹے کو اب تک صحت نہیں ہوئی اور مخالف طعن کرتے ہیں ہر دو خطوط کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جواب لکھ دیں کہ خدا کی یہ

صفحہ 515

عادت نہیں کہ ہر ایک دعا قبول کرلے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ہاں مقبولوں کے دعائیں بہ نسبت دوسروں کے بہت قبول ہوتی ہیں۔ خدا کا مقابلہ میں کسی کا زور نہیں اگر وہ رئیس ایسا ہی بے دل ہے تو چاہئے کہ اس سلسلہ کی تائید میں کوئی بھاری نذر مقرر کر لے۔ جو اس کی انتہائی طاقت کے برابر ہو اور اس سے اطلاع دے اور یاد دلاتا رہے۔

مفتی محمد صادق قادیان ۲۰ر اکتوبر ۱۹۳۷ء

(قادیانی اخبار الفضل قادیان جلد ۲۵ نمبر ۲۴۶ ص ۲ مورخہ ۲۲ر اکتوبر ۱۹۳۷ء)

(۲۳) خانگی زندگی

اور جس روز مسجد کے چندہ کے واسطے گجرات یا کڑیانوالے کی طرف جا رہے تھے اور جناب نواب خاں صاحب تحصیل دار کے ٹانگہ پر ہم تینوں سوار کوچوان اور جناب خواجہ (کمال الدین) صاحب آگے تھے۔ میں (یعنی سید سرور شاہ صاحب) اور جناب (یعنی مولوی محمد علی صاحب) پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ تو خواجہ صاحب نے یہ فرما کر کہ راستہ باتوں کے ساتھ طے ہوا کرتا ہے اور میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں۔ آپ اس کا جواب دیں۔ سوال شروع کیا۔۔۔۔ صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا کہ

پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیا اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہیے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہیے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے، لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں۔ وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو، ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیا اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے۔ اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں، حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لیے قومی روپیہ ہوتا ہے، لہٰذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے

صفحہ 516

ہو اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھوکہ میں نہ آویں گی پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔

اس پر خواجہ (کمال الدین) صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو‘ تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔ کیوں کہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا..... ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ غضب خدا نازل ہو رہا ہے اور میں متواتر دعا میں مشغول تھا اور بار بار جناب الٰہی میں یہ عرض کرتا تھا کہ مولا کریم! میں اس قسم کی باتوں کے خلاف ہوں‘ میں اس مجلس سے بھی علیحدہ ہو جاتا‘ مگر مجبور ہوں‘ بس تیرا غضب جو نازل ہو رہا ہے۔ اس سے مجھے بچانا۔

(کشف الاختلاف ص ۱۳۔ ۱۴ مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو کر اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے‘ مگر یہاں بیوی صاحبہ کے زیورات اور کپڑے بن جاتے ہیں اور ہوتا ہی کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا اس پر حرام ہے کہ وہ ایک حبہ بھی کسی سلسلے کے لئے بھیجے اور پھر دیکھے کہ خدا کے سلسلہ کا کیا بگاڑ سکتا ہے اور آپ نے فرمایا کہ آئندہ اس سے کبھی چندہ نہ لیا جائے‘ حالانکہ وہ پرانا احمدی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ سے بھی پہلے آپ سے تعلق رکھتا تھا۔ (جب ہی تو بے تکلفی کا مزا چکھا۔ للمولف)

(مورخہ ۱۱؍اگست ۱۹۳۸ء)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج۲۶‘

نمبر ۲۰۰‘ ص۷)

(۲۴) بڑا اعتراض

سب سے بڑا اعتراض جو اس نے (ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے) مسیح موعود (مرزا

صفحہ 517

صاحب) پر کیا۔ وہ مال کے متعلق تھا کہ لوگوں سے روپیہ لیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں، چنانچہ اس نے اپنی کتب میں بہت جگہ یہی واویلا کیا ہے، جیسا کہ الذکر الحکیم نمبر ۶ کے صفحہ ۳‘ ۵‘ ۸‘ ۱۰‘ ۲۵‘ ۴۰‘ ۴۳‘ ۸۳‘ ۸۴ وغیرہ میں ذکر ہے کہ اپنی کتابوں کے شائع کرنے کے لیے چندے جمع کر لیتے ہیں اور جس طرح ہو سکتا ہے مکر و فریب کر کے لوگوں سے مال جمع کر لیتے ہیں اور اسے جس طرح چاہتے ہیں جا و بے جا صرف کرتے ہیں کوئی حساب نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۵۴ ص ۷ مورخہ ۲۰ جنوری ۱۹۲۱ء)

(۲۴) (الف) حساب کی کھٹ پٹ

مولوی محمد حسین صاحب (بٹالوی) مل گئے ان کا رسالہ اشاعۃ السنہ اس زمانہ میں میرے مطبع میں چھپا کرتا تھا۔ انہوں نے بعد سلام مسنون مجھ سے کہا کہ میرے مکان پر چلو کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ میں ان کے مکان پر گیا تو..... مولوی صاحب نے کہا تم قادیان جاتے ہو میرا ایک پیغام مرزا صاحب کو دے دینا کہ مجھے اپنی آمدنی کا حساب دیں اور میں کئی خط لکھ چکا ہوں، جواب نہیں دیتے۔ پبلک کا روپیہ فضول خرچ ہو رہا ہے۔ کہاں کہاں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ (غالباً یہ وہی روپیہ ہے جو ابتدا میں مرزا قادیانی صاحب نے کتابوں کے نام سے وصول کیا اور شائع نہ ہوئی۔ تو چندہ دینے والوں سے خوب جھک جھک ہوئی۔ (للمولف برنی)

میں نے کہا آپ کیوں حساب مانگتے ہیں۔ کہا، اس میں آپ کی شراکت ہے۔ انہوں نے کہا میری شراکت تو نہیں لیکن میں نے جو رسالہ اشاعۃ السنہ میں ان کی تعریف لکھی ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگ رجوع ہو گئے اور میں نے ہی ان کو یہاں تک چڑھایا ہے اور اسی سے ان کے پاس بکثرت روپیہ کی آمد ہو گئی ہے، اگر یہ حساب نہ دیں گے تو جیسے میں نے ان کو چڑھایا ہے ویسے ہی گراؤں گا۔ (ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں دکھانے کے اور، اور جب دکھاوے کے دانت نکل آئیں تو ان کو توڑنا بہت دشوار ہے، مگر مولوی بٹالوی صاحب دانتوں کا فرق نہیں سمجھے اس لیے دھوکہ کھا گئے۔ للمولف برنی)

صفحہ 518

میں نے کہا اگرچہ تمہارا یہ مطالبہ فضول ہے، مگر میں تمہارا یہ پیغام حضرت کی خدمت میں عرض کر دوں گا، میں قادیان پہنچا۔ مولوی صاحب کا پیغام بھی سنا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم نے مولوی صاحب کو جواب دے دیا ہے کہ ہمارے پاس خدا کے لیے روپیہ آتا ہے اور خدا کے لیے ہی ہم خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم نے کوئی حساب نہیں رکھا، نہ ہماری مولوی صاحب یا کسی اور سے شراکت ہے۔ ان کا یہ کہنا اور لکھنا فضول ہے۔ مولوی صاحب زر پرست دنیا دار ہیں۔ سوائے دنیا اور زر پرستی کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ یہ ان کے لیے خطرناک راہ ہے۔ (البتہ مرزا قادیانی صاحب نے جو راہ اختیار کی وہ ہر طرح سے محفوظ ہے۔ للمولف ہٰذا)

(قادیانی روایات مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۲۰۱ جلد ۳۴ مورخہ ۲۸ اگست ۱۹۴۶ء)

(۲۵) لنگر کا قصہ

پھر جناب کو (یعنی مولوی محمد علی صاحب لاہوری کو) یاد ہو گا کہ جب میں نے (یعنی مولوی سرور شاہ صاحب قادیانی نے) جناب کو کہا تھا کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشا یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہو جاوے گا، مگر یہ خواجہ وغیرہ ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں اور یہ سنا کر میں نے بوجہ محبت آپ کو (یعنی مولوی محمد علی صاحب کو) یہ کہا تھا کہ آپ آئندہ کبھی اس معاملہ میں شریک نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس کی زیادہ ناراضگی کا موجب ہو جائے اور آپ کو نقصان پہنچے۔

(کشف الاختلاف ص ۱۴ مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

اور خواجہ (کمال الدین) صاحب بار بار تاکید کرتے تھے کہ ضرور کہنا اور یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعتاً آپ کی (یعنی مولوی محمد علی صاحب کی) طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب اب مجھے وہ طریق معلوم ہو گیا ہے۔ جس سے لنگر کا انتظام فوراً حضرت (مرزا) صاحب ہمارے سپرد کر دیں..... اس پر آپ نے یہ کہا کہ خواجہ صاحب میں

صفحہ 519

تو اب ہرگز نہیں پیش کروں گا۔ تو خواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آنکھیں سرخ کر لیں اور غصہ والی شکل اور غضب والے لہجہ سے کہنا شروع کیا کہ قومی خدمت ادا کرنے میں بڑے بڑے مشکلات پیش آیا کرتے ہیں اور کبھی حوصلہ پست نہ کرنا چاہیے اور یہ کیسی غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض قومی کے لیے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر روپیہ دیتے ہیں‘ وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی وجہ سے پورے نہیں ہوسکتے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے کام پورے ہو سکتے ہیں۔ آپ اچھے خادم قوم ہیں کہ یہ جانتے ہوئے پھر ایک ذرا سی بات سے کہتے ہیں کہ میں آئندہ ہرگز پیش نہیں کروں گا۔ میں تو کہتا ہوں کہ میں ضرور پیش کروں گا۔ اس پر آپ نے کہا کہ میں ساتھ چلا جاؤں گا‘ مگر بات نہیں کروں گا‘ تو خواجہ صاحب نے کہا کہ میں بھی ساتھ ہی جانے کے لئے کہتا ہوں بات تو میں نہیں کراتا۔ بات تو میں خود کروں گا۔

غرض کہ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں۔ جن سے اس بات کا صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے زمانہ میں ہی مالی اعتراض کا درس خواجہ صاحب نے شروع کر دیا تھا۔

(کشف الاختلاف ص ۱۶۔ ۱۵ مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۲۶) اسراف کا طعنہ

جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل برداشت نہیں اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں‘ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کر دیں یا مجھ سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کر دے گا۔ جو صدق و اخلاص رکھتی ہو گی۔ (گویا اسراف کا طعنہ نہ دے گی۔ (للمولف) جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے۔۔۔۔۔ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن

صفحہ 520

کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرنے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ میں ایسے تنگ دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور نہیں کرتا۔ جس کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفۃ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ اس کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں۔ میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں (شروع شروع میں جب براہین احمدیہ کے نام سے چندہ آتا تھا۔ تب تو حساب باقاعدہ رہتا تھا بلکہ شائع بھی ہوتا تھا۔ (للمؤلف برنی) میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے۔ اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی میری طرف بھیجے مجھے کسی کی پرواہ نہیں جبکہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دوسرا کون ہے جو مجھ پر اعتراض کرے (شروع شروع میں جب مرزا قادیانی صاحب آریوں اور عیسائیوں سے مناظرے کرتے تھے تو مسلمانوں میں ہر دل عزیز ہو گئے، چنانچہ جب مرزا صاحب نے ایک کتاب براہین احمدیہ شائع کرنے کا اعلان کیا تو علماء نے اور بالخصوص مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی نے چندہ کے واسطے پر زور تحریک و سفارش کی۔ اثر یہ ہوا کہ چندہ بافراط آنے لگا۔ اس ثبوت پر مرزا صاحب نے مولانا ممدوح کو چھکا دیا۔ رقم پر ذاتی قبضہ کر لیا اور کتاب کو بھی لیت و لعل میں ڈال دیا۔ صرف کچھ حصہ شائع کر دیا چنانچہ کیفیت دوسری جگہ درج ہے۔ (للمؤلف برنی)

(مرزا غلام احمد قادیانی کا ارشاد مندرجہ اخبار الحکم مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۵ء ملفوظات ص

۳۲۶ ۔ ۳۲۵ ج ۷ ربوہ)

(۲۷) مالی مناقشے

باقی آپ سے (یعنی مولوی حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول سے) میں (یعنی میاں محمود احمد صاحب ابن مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) یہ بھی عرض کرنا چاہتا

صفحہ 521

ہوں کہ یہ ابتلا اگر حضرت (مرزا) صاحب زندہ رہتے تو ان کے عہد میں بھی آتا۔ کیوں کہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہوری) اندر ہی اندر تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حضرت (مرزا) صاحب سے حساب لیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات پائی اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔ ورنہ انجام اچھا نہ ہو گا‘ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب مولوی محمد علی (صاحب) کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی (صاحب) نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے۔ وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آکر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق‘ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے۔۔۔۔

پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقعہ پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا۔ مولوی محمد علی سے کہا کہ حضرت (مرزا) صاحب آپ تو خوب عیش و آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو جس کا جواب مولوی محمد علی (صاحب) نے یہ دیا کہ ہاں اس کا انکار تو نہیں ہو سکتا مگر بشریت ہے۔ کیا ضرور۔۔۔۔ میرا ان باتوں کے لکھنے سے یہ مطلب تھا کہ یہ ابھی بات شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ حضرت اقدس کے زمانہ سے ہے وہ (یعنی مرزا صاحب) لنگر کا چندہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ آپ نے وہ بھی ان کے (یعنی خواجہ صاحب وغیرہ کے) حوالے کر دیا اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو اور بھی سب کچھ چھینو۔ باقی رہا ان کا تقویٰ وہ تو ان کے عملوں اور بحثوں سے بہت کچھ ظاہر ہو سکتا ہے کہ جس پر شور مچا رہے ہیں وہ کام روز مرہ خود کرتے ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب کا خط بنام مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول مندرجہ حقیقت

اختلاف ۵۲-۵۳ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے امیر جماعت لاہور)

اس خط کے آخری فقرہ سے میاں صاحب کی گھبراہٹ جو ان کو اس وجہ سے پیدا

صفحہ 522

ہوئی کہ سب کچھ انجمن کے ہاتھ میں چلا گیا ہے اور جا رہا ہے۔ کس قدر عیاں ہے۔ حضرت مولوی (نور الدین) صاحب مرحوم کا بھی اسے بڑا قصور قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے لنگر کا چندہ بھی انجمن کے حوالہ کر دیا اور اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو سب کچھ ہی چھینو۔۔۔۔۔۔ مگر یہ سب کچھ چھین کر ہم کہاں لے جا رہے تھے۔ کیا اپنی جائیداد بڑھا رہے تھے۔ یا قوم پر ہی صرف کر رہے تھے۔۔۔۔ ہاں میاں (محمود احمد) صاحب کی ذاتی جائیداد بہت بڑھ گئی ہے اور مریدوں کے بھی مکانات بن گئے ہیں۔

(حقیقت اختلاف ص ۲۷ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور)

میں (یعنی مولوی محمد علی صاحب لاہوری) اس سے انکار نہیں کرتا کہ میاں (محمود احمد) صاحب نے چند مقامات پر مبلغین بھیجنے کا اچھا کام کیا ہے، مگر حق تو یہ ہے کہ اس راہ میں بھی سابق وہی شخص ہے جسے میاں صاحب منافق کہہ رہے ہیں اور میں اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ سالانہ جلسہ پر بہت سے آدمی جمع ہو جاتے ہیں اور اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ قادیان میں بہت سے احمدیوں نے سکونت اختیار کرلی ہے اور مکانات بنائے ہیں اور اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ سلسلہ پیری مریدی میں میاں صاحب نے نمایاں ترقی کی ہے اور نذرونیاز کی آمدنی بھی بڑھ گئی ہے اور جناب میاں صاحب کی ذاتی جائیداد بھی بہت بڑھ گئی ہے۔

(حقیقت اختلاف ص ۳۰ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور)

(۲۸) مجوزہ بیت المال

دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے میں یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا ۱/۵ سے ۱/۳ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے۔ اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں۔ یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں یا دارالانوار کمیٹی کا حصہ یا حصے انہوں نے لئے ہیں۔ (اخبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ) وہ سب رقم اس حصہ میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرا دیں۔ مثلاً ایک شخص کی پانچ سو روپیہ آمد ہے اور وہ موصی بھی ہے

صفحہ 523

اور دارالانوار کا ایک حصہ بھی اس نے لیا ہوا ہے۔ وہ دس بارہ روپے ماہوار اور ثواب کے کاموں میں بھی خرچ کرتا ہے۔ اس شخص نے ۱/۵ دینے کا عہد کر لیا اور یہ سو روپے کی رقم ہوئی۔ وصیت ایسے شخص کی پچاس ہوئی (بہشتی مقبرہ کے واسطے) دارالانوار کمیٹی کے ۲۵ ہوئے چندہ کشمیر اور دوسرے کارہائے ثواب مثلاً بارہ روپے ہوئے یہ کل رقم ۸۷ ہوئی۔ باقی تیرہ روپے ماہوار اس شخص کو انجمن میں اس تحریک کی امانت میں جمع کراتے رہنے چاہئیں۔....

اس مطالبے کے ماتحت جو آنا چاہے اسے چاہیے کہ جلد سے جلد مجھے اطلاع دے..... مقررہ تین سال کے بعد جتنی رقم جمع ہوگی وہ یا تو نقد یا رقم کے برابر جائیداد کی صورت میں اسے واپس دے دی جائے گی..... جو کمیٹی میں اس رقم کی حفاظت کے لیے مقرر کر دوں گا اس کا فرض ہوگا کہ ہر شخص پر ثابت کر دے کہ اگر کسی کی جائیداد کی صورت میں روپیہ واپس کیا جا رہا ہے تو وہ جائیداد فی الواقع اس رقم میں خریدی گئی ہے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۲۲ نمبر ۶۶ ص

۱۲‘ ۱۳ مورخہ ۲۹ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۲۹) تحریص و ترغیب

ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر سے بھی پرے تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دو منزلی چو منزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے۔ بیٹھے ہیں اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسما قسم کی دکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔ یکے‘ بگھیاں‘ ٹم ٹم‘ فٹن‘ پالکیاں‘ گھوڑے‘ شکر میں‘ پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار ”الحکم“ ج ۶‘ نمبر ۱۶‘ ص ۱۲۔ ۱۴‘ مورخہ

۳؍ اپریل ۱۹۰۲ء تذکرہ ۴۱۹۔۴۲۰‘ طبع ۴)

صفحہ 524

جو شخص سب کو چھوڑ کر اس جگہ (قادیان) آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا۔ اس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔

(تریاق القلوب ص ۱۵ روحانی خزائن ص ۳۴۲ ج ۱۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

پھر ایک اور بڑا ذریعہ تزکیہ نفوس کا ہے جو مسیح موعود (مرزا صاحب) نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ بالکل درست ہے ہر ہر حرف اس کا سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جو قادیان نہیں آتا، یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا۔ اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو...... قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے لفظ اوی القریتہ فرمایا یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکت نازل ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے تھے۔

زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے

(منصب خلافت ص ۳۳ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۳۰) معاملہ کی بات

قادیان میں اراضی خریدنے کے خواہش مند احباب مطلع رہیں کہ ہمارے انتظام میں ہر وقت ہر قسم اور ہر موقع کی زمین موجود رہتی ہے۔ تفصیلات بذریعہ خط و کتابت معلوم کی جائیں۔

خاکسار (صاحبزادہ) مرزا بشیر احمد قادیان

(اخبار الفضل قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰۰ مورخہ ۲۲ جون ۱۹۲۲ء)

قادیان کی نئی آبادی کے مختلف محلہ جات میں مختلف موقعوں پر قطعات اراضی قابل فروخت موجود ہیں۔ خواہش مند احباب خاکسار کے ساتھ خط و کتابت فرمائیں۔

خاکسار مرزا بشیر احمد

(اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۲۶ء جلد ۱۳‘ نمبر ۸۸‘ ص ۱۰‘ ۲۳؍ مارچ

۱۹۲۶ء جلد ۱۳ نمبر ۹۶)

حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کوٹھی واقع دارالانوار

صفحہ 525

قادیان کے احاطہ کے ساتھ بالکل ملحق جانب شمال کچھ رقبہ مملوکہ مرزا عزیز احمد صاحب و مرزا رشید احمد صاحب قابل فروخت موجود ہے۔ جس کے فروخت کرنے کا مالکان کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے۔.... نہایت باموقع اور اعلیٰ درجہ کی زمین ہے۔ قیمت یک مشت وصول کی جائے گی۔ فقط

خاکسار مرزا بشیر احمد قادیان

(اخبار الفضل قادیان نمبر ۱۷ جلد ۲۲ مورخہ ۷ اگست ۱۹۳۴ء)

(۳۱) بہشتی مقبرہ

حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے فرمایا کہ نماز سے کوئی بیس یا پچیس منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے یعنی جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔

(مکاشفات ص ۲۳ مولفہ بابو منظور الہی صاحب قادیانی)

فاوحی الی ربی واشار الی ارض وقال انها الارض تحتها الجنة فمن دفن فیها دخل الجنة وانه من الامنین

ترجمہ : تو خدا تعالیٰ نے مجھے وحی کی اور ایک زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ وہ زمین ہے جس کے نیچے جنت ہے پس جو شخص اس میں دفن کیا گیا۔ وہ جنت میں داخل ہوا اور وہ امن پانے والوں میں سے ہے۔ (الاستفتاء عربی ص ۵۱ روحانی خزائن ص ۱۰۷ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھایا گیا جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے اور پھر الہام ہوا۔ مقابر الارض لا تقابل ھذا الارض (روئے زمین کی تمام مقابر اس زمین کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے مکاشفات ص ۵۹ مولفہ محمد منظور الہی صاحب)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مقبرہ بہشتی کے متعلق حسب ذیل ارشادات رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں۔

صفحہ 526

ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے۔ اس قبرستان کے لیے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے، بلکہ یہ بھی فرمایا کہ انزل فیھا کل رحمتہ، یعنی ہر قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔ آگے چل کر اس میں داخل ہونے کی شرائط بیان فرمائی گئی ہیں اور ان شرائط کے بعد یہ اضافہ فرمایا ہے۔

میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد یا عورت ہو ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۵۴ مورخہ ۲ ستمبر ۱۹۳۶ء)

ایک جگہ مجھے دکھائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں..... چونکہ اس قبرستان کے لیے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ انزل فیھا کل رحمتہ ..... اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لیے ایسے شرائط لگا دیے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جو اپنے صدق اور کامل راست بازی کی وجہ سے ان شرائط کے پابند ہوں..... پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے۔ وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف (تکمیل احاطہ وغیرہ) کے لئے چندہ داخل کرے..... دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا۔ جو یہ وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے..... تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا ہو اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔ سچا اور صاف مسلمان ہو..... ہر ایک میت جو قادیان کی زمین میں فوت نہیں

صفحہ 527

ہوئی۔ ان کو بجز صندوق قادیان میں لانا ناجائز ہو گا اور نیز ضروری ہو گا کہ کم سے کم ایک ماہ پہلے اطلاع دیں۔۔۔۔۔

اگر کوئی صاحب خدانخواستہ طاعون کے مرض سے فوت ہوں۔۔۔۔ ان کی نسبت یہ ضروری حکم ہے کہ وہ دو برس تک صندوق میں رکھ کر کسی علیحدہ مکان میں امانت کے طور پر دفن کئے جائیں۔۔۔۔ اگر کوئی صاحب دسویں حصہ جائیداد کی وصیت کریں اور اتفاقاً ان کی موت ایسی ہو کہ مثلاً کسی دریا میں غرق ہو کر ان کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لانا متعذر ہو تو ان کی وصیت قائم رہے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہو گا کہ گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں اور جائز ہو گا کہ ان کی یادگار میں اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر واقعات لکھے جائیں۔

اگر خدانخواستہ کوئی ایسا شخص جو رسالہ الوصیت کی رو سے وصیت کرتا ہے مجذوم ہو۔ جس کی جسمانی حالت اس لائق نہ ہو جو وہ قبرستان میں لایا جائے تو ایسا شخص حسب مصالح ظاہر مناسب نہیں ہے کہ اس قبرستان میں لایا جائے۔

میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ہو ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔

(الوصیت ص ۱۶ تا ۲۹ روحانی خزائن ص ۳۱۶ تا ۳۲۷ ج ۲۰ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے جو وصیت نہیں کرتا وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ ۱/۱۰ حصہ مال رکھا ہے۔

(منہاج الطالبین مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص ۱۶)

(۳۲) لوگ ترستے مرگئے

مقبرہ بہشتی اس سلسلہ کا ایک ایسا مرکزی نقطہ ہے اور ایسا عظیم الشان انسٹی ٹیوشن یعنی محکمہ ہے۔ جس کی اہمیت ہر دوسرے محکمہ سے بڑھ کر ہے۔ یہ وہ نعمت ہے

صفحہ 528

جس کو آدم کے وقت سے اس وقت تک کے لوگ ترستے مر گئے۔ گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم اول کو جب شیطان نے ایک عارضی بہشت سے نکالا تھا تو اس کی تلافی کے لیے چھ ہزار سال کے بعد پھر آدم ثانی کی معرفت یہ محکمہ دائمی جنت میں داخل ہونے کا اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے لئے کھولا ہے۔ اگلے زمانہ میں انبیا اپنے بعض خاص خاص مقربوں کو بہشت میں داخل ہونے کی بشارت دیا کرتے تھے اور یہاں تو یہ نظر آتا ہے کہ گویا بہشت کا دروازہ ہی کھل گیا ہے صرف ذرا کھڑے ہونے اور قدم اٹھانے کی دیر ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۶۵ ص ۴ مورخہ ۱۵؍ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۳۳) ابوبکر کے ہم پلہ

آج تمہارے لئے ابوبکر و عمر سی فضیلت حاصل کرنے کا موقع ہے اور وہ بہشتی مقام موجود ہے۔ جہاں تم وصیت کر کے اپنے پیارے آقا المسیح الموعود کے قدموں میں دفن ہو سکتے ہو اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود رسول کریم کی قبر میں دفن ہو گا۔ اس لیے تم اس مقبرہ میں دفن ہو کر خود رسول اکرم کے پہلو میں دفن ہوگے اور تمہارے لیے اس خصوصیت میں ابوبکر کے ہم پلہ ہونے کا موقع ہے۔

(افسر بہشتی مقبرہ کا اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۹۹ ص ۶ مورخہ ۲؍ فروری

۱۹۱۵ء)

(۳۴) وصیتوں کے قصے

بقایا داران حصہ آمد کے متعلق اخبار الفضل میں متواتر کئی دفعہ اعلان ہو چکا ہے کہ یہ اعلان مساجد میں پڑھ کر سنا دیا جائے مگر معلوم ہوا ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدہ داران نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔ اب مزید توجہ کے لئے مندرجہ ذیل اعلان کیا جاتا ہے کہ اس آواز کو ہر موصی تک پہنچا دیں۔

بموجب ارشاد حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو موصی وصیت کا چندہ واجب ہونے کی تاریخ کے چھ ماہ بعد تک رقم وصیت ادا نہ کرے گا۔ نہ دفتر سے اپنی معذوری بتا کر مہلت حاصل کرے گا۔ اس کی وصیت انجمن کارپردازان مصالح قبرستان کو منسوخ کرنے کا کامل اختیار اور جس قدر روپیہ وہ وصیت

صفحہ 529

میں ادا کرچکا ہے۔ اس کے واپس لینے کا موصی کو حق نہ ہوگا۔ سوائے اس شخص کے جو احمدیت سے مرتد ہو جائے اور جو وصیتیں اس وقت تک ہوچکی ہیں۔ ان کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا جاتا ہے کہ جو موصی وصیت کا چندہ واجب ہونے کے چھ ماہ بعد تک چندہ ادا نہیں کرتا۔ اس کی وصیت منسوخ کی جائے اور آئندہ اس سے جب تک وہ توبہ نہ کرلے کسی قسم کا چندہ وصول نہ کیا جائے۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ اپنی معذوری ثابت کر کے خود اپنی وصیت کی ادائیگی کے لیے انجمن سے مہلت حاصل کرچکا ہو۔ (سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۷۳ ص ۷ مورخہ ۱۱ر ستمبر ۱۹۳۶ء)

بقایاداران موصیان حصہ آمد کے متعلق کئی دفعہ اعلان ہوچکا ہے کہ آخر اکتوبر ۱۹۳۶ء تک جن موصیان حصہ آمد کا بقایا ادا نہ ہوگا یا ادائیگی بقایا کے متعلق نظارت ہذا سے انہوں نے مہلت حاصل نہ کرلی ہو۔ ان کی وصایا بمراد منسوخی مجلس کارپرداز میں پیش کر دی جائیں گی۔ مذکورہ بالا اعلانات کے بعد بعض موصیوں کی طرف سے خطوط آئے ہیں کہ ہماری وصایا منسوخ کردی جائیں، ہم بعد میں دوبارہ وصیتیں کردیں گے۔ اس کے متعلق واضح کردیا جاتا ہے کہ ایسے موصیوں کی دوبارہ وصایا نہیں لی جائیں گی۔ جو بقایا کی وجہ سے منسوخ کرائیں گے۔ (سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۷۵ ص ۹ مورخہ ۱۵ر ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۳۵) عملی مثال گھناؤنی اور شرمناک

اگر یہ واقعہ صحیح ہے کہ ایک ایسے قادیانی احمدی کو جس پر بہشتی مقبرہ کی شرائط صادق نہ آتی تھیں، غلطی سے ان میں دفن کردیا گیا اور بعد میں غلطی معلوم ہونے پر اس کی نعش اکھاڑ کر پھر دوسرے قبرستان میں دفن کی گئی۔ تو یہ عملی مثال احرار کے فعل شنیع سے بھی (کہ انہوں نے قادیانی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے سے روکا۔۔۔ للمولف) بڑھ کر گھناؤنی اور شرمناک ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح جلد ۲۴ نمبر ۴۹ مورخہ ۳ر اگست ۱۹۳۶ء)

(۳۶) بہشتی مقبرہ سے خارج

صفحہ 530

ایک غیر مبائع (لاہوری قادیانی) کے متعلق ایک صاحب نے سوال کیا کہ آیا وہ مقبرہ بہشتی میں داخل ہو سکتا ہے یا نہیں؟

اس کے جواب میں حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ (میاں محمود احمد صاحب) نے لکھوایا کہ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ہمارا کام ظاہر کو دیکھنا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے شرط لگائی ہے کہ وصیت کنندہ ظاہری عیوب سے پاک ہو اور ہمارے نزدیک بیعت سے باہر رہنا گناہ ہے۔ اس لئے غیر مبائع (لاہوری قادیانی) مقبرہ میں نہیں دفن ہو سکتا۔

(مکتوب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹ جون

۱۹۲۲ء جلد نمبر ۹۹ ص ۷)

(۳۷) طاعون کی دعا

حمامتہ البشریٰ میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی۔ میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لیے دعا کی ہے۔ سو وہ دعا قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی۔ ("حقیقۃ الوحی" ص ۲۲۲ "روحانی خزائن" ص ۲۳۵‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۳۸) طاعون کا فلسفہ

براہین احمدیہ کے آخری اوراق کو دیکھا تو ان میں یہ الہام درج تھا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پر خدا اس کو قبول کرے گا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔" اس پر مجھے خیال آیا کہ اس وقت دنیا کہاں تھی اور اس وقت ہمارا دعویٰ بھی نہ تھا لیکن اس الہام میں ایک پیش گوئی تھی، جو اس وقت طاعون پر صادق آ رہی ہے اور زور آور حملوں سے طاعون مراد ہے۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ۵۲۲ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

ہوشیار پور اور جالندھر کے اضلاع میں ابھی چند ہی وارداتیں طاعون کی ہوئی تھیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر پیش گوئی کی تھی کہ یہ وبا پنجاب کے دوسرے اضلاع میں بھی پھیل جائے گی۔

صفحہ 531

(ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص ۳۵۴ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

اسی طرح سے طاعون سے محفوظ رہنے کا جو نشان مجھے دیا گیا ہے۔ میں اس سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بدون ٹیکہ طاعون مجھے اس بیماری سے بچایا گیا ہے۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ۵۰۸ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی کہ اب بھی کئی مخالف یہی کہتے ہیں کہ ان کو طاعون کیوں نہیں آتی۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ قرآن کریم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بدکار لوگ انبیاء سے خود ہی عذاب طلب کیا کرتے تھے کم بخت لوگ یہ نہیں کہتے کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیکی کی ہدایت دے بلکہ الٹا طاعون ہی مانگتے ہیں۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ۵۲۱ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

اگر خدانخواستہ کوئی شخص ہماری جماعت سے اس مرض سے وفات پا جائے۔ تو گو وہ ذلت کی موت ہوئی لیکن ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ ہم نے خود اشتہار دے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہماری جماعت سے وعدہ ہے کہ وہ متقی کو اس سے بچائے گا۔ اس لیے تم کو چاہیے کہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرو تاکہ دوسروں کے طعن اور خدا کے عذاب سے محفوظ رہو۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ۴۹۴ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص طاعون سے مرجائے اور اس وجہ سے ہماری جماعت کو ملزم گردانا جائے تو ہم کہیں گے کہ یہ محض دھوکہ اور مغالطہ ہے‘ کیوں کہ طاعونی موت ثابت کرتی ہے کہ وہ فی الحقیقت جماعت سے الگ تھا ورنہ ایک موت تو دوسری موت کا کفارہ ہو جاتی ہے اگر اس کے نفسانی جذبات اور خواہشات پر موت آچکی ہوتی اور وہ دنیا کے فریبوں اور مکاریوں سے علیحدہ ہوچکا ہوتا تو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ دوبارہ ہلاک کیا جاتا۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص ۳۵۸ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

قمیص تو ہم دے دیں گے لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل و

۱

صفحہ 532

رحمت کی قمیص انسان نہ پہنے کوئی دوسری چیز حفاظت نہیں کرسکتی۔ دیکھو میں جانتا ہوں کہ گو اللہ تعالیٰ نے بار بار وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری اور میری جماعت کی اس...... ذلت کو موت سے محافظت فرمائے گا لیکن اس حفاظت کے وعدہ کے ساتھ تقویٰ کی شرط ہے۔ محض رسمی طور پر مسلمان کہلانا یا رسمی طور پر بیعت کرلینا کسی کام نہیں آسکتا۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ۴۹۱ مرتبہ منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۳۹) ایمان و اسباب

ایک مومن کا جس قدر ایمان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ہوتا ہے۔ اسی قدر وہ اسباب پرستی پر بھروسہ کرنے سے دور رہتا ہے اور یہ ہے بھی سچ، کیوں کہ جب انسان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر کامل ہوجاتا ہے تو اس کی ایمانی نظر میں اسباب کا سلسلہ بالکل معدوم ہو جاتا ہے اور اس کا سارا بھروسہ اور توکل اللہ تعالیٰ پر ہی ہوتا ہے۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ۵۰۷، ۵۰۸ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صفائی کا بہت خیال ہوتا تھا۔ خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے، تاکہ ضرر رساں جراثیم مرجاویں اور آپ نے ایک بہت بڑی آہنی انگیٹھی منگوائی ہوئی تھی جس میں کوئلہ ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔ اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہوجانے کے ایک عرصہ بعد بھی کمرہ کھولا جاتا تھا تو پھر بھی وہ اندر سے بھٹی کی طرح تپتا تھا۔

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ۵۹ روایت نمبر ۳۷۹ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۴۰) باغ میں قیام

مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہٗ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا، دریافت خیر و عافیت خوشی ہوئی۔ الحمدللہ اس جگہ بھی بفضلہ

صفحہ 533

تعالیٰ سب طرح سے خیریت ہے۔ میں اس وقت تک مع اپنی جماعت کے باغ میں ہوں اگرچہ اب قادیان میں طاعون نہیں ہے‘ لیکن میں اس خیال سے کہ جو زلزلہ کی نسبت مجھے اطلاع دی گئی ہے۔ اس کی نسبت میں توجہ کر رہا ہوں۔ اگر معلوم ہوا کہ وہ واقعہ جلد تر آنے والا ہے۔ تو اس واقعہ کے ظہور کے بعد قادیان میں..... چلے جائیں۔ بہرحال دس یا پندرہ جون تک انشاء اللہ میں اسی جگہ باغ میں ہوں۔ آپ تشریف لے آویں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس جگہ کوئی تکلیف نہ ہوگی اور آنے سے پہلے مجھے اطلاع دیں‘ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۱۲؍مئی ۱۹۰۵ء

(مکتوب ص ۹۴ مندرجہ مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اول ص ۳۹ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو جو خطرناک زلزلہ آیا۔ اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو زلزلہ کے متعلق کثرت سے الہامات ہوئے آپ خدا تعالیٰ کے کلام کا ادب و احترام کرتے ہوئے باغ میں تشریف لے گئے۔ کئی بے وقوف کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے اور تعجب ہے کہ میں نے بعض احمدیوں کے منہ بھی یہ بات سنی ہے۔ حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا۔ اس وقت چونکہ زلازل کے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہو رہے تھے۔ اس لیے آپ نے یہی مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ باغ میں رہیں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۰‘

نمبر ۱۳۴‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۱؍مئی ۱۹۳۳ء)

(۴۱) طاعونی جہاد

جن لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ وہ ایسی نکتہ چینیاں کرتے ہیں جن کے رو سے آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے اعتراض کے نیچے آجاتے ہیں۔ چنانچہ بعض نادان کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے بعض لوگ بھی طاعون سے ہلاک ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہم ایسے متعصبوں کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں

صفحہ 534

کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ لڑائیوں میں شہید ہوتے تھے۔

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۱۳۱‘ حاشیہ روحانی خزائن ص ۵۶۸‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۴۲) طاعون کی برکت

اسی طرح کہتا ہوں اور بڑے دعوے اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے مرتا ہے تو بجائے اس کے سو آدمی یا زیادہ ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے اور یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو نابود کرتی جاتی ہے۔ ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانچ سو آدمی اور کبھی ہزار دو ہزار آدمی بذریعہ طاعون ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے پس ہمارے لئے طاعون رحمت ہے اور ہمارے مخالفوں کے لئے زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہ سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا...... پس مبارک وہ خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست و نابود ہوں

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ حاشیہ ص ۱۳۱ تا ۱۳۳‘ روحانی خزائن ص ۵۶۸ تا ۵۷۰‘ ج ۲۲‘ مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴۳) سلسلہ کی ترقی

چنانچہ اگر اشاعت سلسلہ کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ جس سرعت کے ساتھ طاعون کے زمانہ میں سلسلہ کی ترقی ہوئی۔ ایسی سرعت اس وقت تک اور کسی زمانہ میں نہیں ہوئی نہ طاعون کے دور دورہ سے قبل اور نہ اس کے بعد چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی بیان فرماتے تھے کہ جن دنوں میں اس بیماری کا پنجاب میں زور تھا۔ ان دنوں میں بعض اوقات پانچ پانچ سو آدمیوں کی بیعت کے خطوط ایک ایک دن میں حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچتے تھے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم ص ۴۷‘ روایت نمبر ۳۵۶‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

صفحہ 535

قادیانی)

(۴۴) طاعون کا مجرب علاج

چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں۔ سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے۔ حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا۔ جس میں ہمارا حصہ ہے۔ اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دے دیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہو سکتی ہے دو ہزار تک تیار ہو سکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوش خبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس کی بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے۔ کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے۔ مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی اور اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔

(کشتی نوح ص ۷۶، روحانی خزائن ص ۸۶، ج ۱۹، المشتہر مرزا غلام قادیانی مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

(۴۴) (الف) طاعون کی قادیانی قدر دانی (ج)

میں نے جو اپنی نسبت خوابیں اور الہامات دیکھے ہیں ان سے حیران ہوں۔ دو مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا مجھے مرض طاعون ہو گئی ہے اور ورم طاعون نمودار ہے اور آج بھی یہی خواب آئی ہے۔ اسی کے قریب قریب ایک الہام بھی ہے۔ جو کسی رنج اور بلا پر دلالت کرتا ہے اور معبرین نے طاعون سے مراد کبھی تو طاعون اور کبھی خارش اور حکام کی طرف سے کوئی عذاب و تکلیف اور کبھی کوئی اور فتنہ رنج دہ مراد لیا۔ معلوم نہیں کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ (خواب کی تعبیر یہ ہے کہ مرض طاعون کی

صفحہ 536

شدت ہے اور مرزا قادیانی صاحب نے اس کو عذاب الہی قرار دیا ہے۔ اپنے منکرین کے حق میں۔ لیکن ممکن ہے کہ خود بھی اسی مرض میں مبتلا ہو جائیں لہٰذا تقاضا احتیاط یہ ہے کہ اس کو خواب میں شامل کرلیا جائے کہ اس صورت میں بھی کم از کم اپنا کشف مسلم رہے اور اگر مرض نہ لگے تو اس کی تاویل بھی موجود ہے۔ ایسی پیش بندیاں مرزا قادیانی صاحب کا بڑا کمال ہیں۔ للمولف برنی)

(الہام ۲۵ مارچ ۱۸۹۸ء مندرجہ تذکرہ صفحہ ۳۱۵، ۳۱۶ ط ۴)

جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ (مرزا صاحب) نے اس (بھیڑ) کا گوشت کھانا چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۵۰، روایت ۵۶، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

وبائی ایام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس قدر احتیاط فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کارڈ کو بھی، جو وبا والے شہر سے آتا چھوتے تو ہاتھ ضرور دھو لیتے۔

(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلیجنز اگست ۱۹۲۸ء ص ۵ منقول از اخبار الفضل قادیان جلد

۲۵، نمبر ۱۲۲، ص ۵، مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۳۷ء)

میں چاہتا ہوں کہ کسی قدر دوائے طاعون آپ کے لئے روانہ کروں۔ کیونکہ وہ نہ صرف طاعون کے لئے بلکہ اور بہت سے امراض کے لئے مفید ہے۔ غالباً انشاء اللہ اس ہفتہ کے اندر اندر روانہ کروں گا۔ آپ ہر روز قریب چار رتی کھا لیا کریں اور کسی قدر دودھ پی لیا کریں۔ باقی ہر طرح سے خیریت ہے۔ اس ملک میں پھر طاعون کے خطرات معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے والسلام

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ایک مکتوب مورخہ ۲۲ جولائی ۱۸۹۳ء بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید

الدین صاحب مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۳۴، نمبر ۱۹۴، مورخہ ۲۰ اگست ۱۹۴۶ء)

جب ہندوستان میں پیش گوئی کے مطابق طاعون کا مرض پھیلا اور پنجاب میں بھی اس کے کیس ہونے لگے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے لئے ایک دوائی تیار کی جس میں کونین۔ جدوار۔ کافور۔ کستوری مروارید اور بہت سی قیمتی ادویہ ڈالی گئیں اور کھرل کر کے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنائی گئیں جو سیاہ رنگ کی تھیں۔ اس کا نام تریاق الہی رکھا گیا۔ جب وہ گولیاں تیار ہو گئیں تو آپ نے ان کو ایک ٹین میں بھر

صفحہ 537

کر اپنی نشست گاہ کے کمرے میں رکھ لیا۔

میرا خیال ہے کہ وہ گولیاں ایسی قیمتی تھیں کہ فی گولی ایک روپیہ سے کم خرچ نہ ہوا ہو گا۔ لیکن وہ سب کی سب آپ نے مفت تقسیم کیں۔ میں نے دیکھا کہ اپنے دوست کیا بلکہ بعض مخالف ہندو بھی آکر مانگتے کہ حضور ہمیں تھوڑا سا تریاق الہی دیں۔ تو آپ مٹھی بھر کر ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ عطا کر دیتے۔ (ایک ترکیب سے تھوڑی گولیاں بھی مٹھی بھر کر دی جاسکتی ہیں۔ یا گولیاں بہت ارزاں تھیں۔ للمولف برنی)

(مفتی محمد صادق صاحب قادیانی کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد نمبر ۳۴‘ نمبر ۸۰‘

ص ۴‘ مورخہ ۴ اپریل ۱۹۴۶ء)

(۴۵) طاعون کی تواضع

اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کب تک یہ ابتلا دور ہو....... مگر یہ کہ آتے وقت ایک بڑا بکس فینائل کا جو سولہ یا بیس روپیہ کو آتا ہے۔ ساتھ لے آئیں۔ اس کی قیمت اس جگہ دے دی جائے گی اور علاوہ اس کے آپ بھی اپنے گھر کے لئے فینائل بھیج دیں اور ڈس انفیکٹ کے لئے رس کپور اس قدر بھیج دیں جو چند کمروں کے لئے کافی ہو۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب موسومہ نواب محمد علی خان صاحب مندرجہ مکتوبات

احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم ص ۱۱۲‘ ۱۱۳)

اس وقت تک خدا کے فضل و کرم اور جود و احسان سے ہمارے گھر اور آپ کے گھر میں بالکل خیروعافیت ہے۔ بڑی غوثان کو تپ ہو گیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال دیا ہے اور ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا۔ اور گلٹی بھی نکل آئی۔ اس کو بھی باہر نکال دیا ہے...... آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہو گیا ہے........ میں تو دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ وہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطرناک آثار ہو گئے۔ (قبل از مرگ واویلا

صفحہ 538

للمولف) اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفیکٹ کے لئے کچھ رس کپور اور کسی قدر فینائل لے آویں اور کچھ گلاب اور سرکہ لے آویں تو بہتر ہو گا۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب موسومہ نواب محمد علی خاں صاحب مورخہ ۱۰ اپریل

۱۹۰۴ء مندرجہ مکتوبات احمدیہ‘ ج پنجم ص ۱۱۵)

(۴۶) قادیانی میت

جو خدانخواستہ اس بیماری (طاعون) سے مر جائے وہ شہید ہے اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو اس پر ایک سفید چادر ڈال دو اور چوں کہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہر کا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے۔ اس واسطے سب لوگ اس کے گرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔ جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر کھڑا ہو۔ جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر لاد کر میت کو لے جائیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۱۶‘ ص ۵‘

مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۱۵ء)

سوال : اگر خدانخواستہ ہمارا کوئی احمدی بھائی پلیگ سے فوت ہو جائے تو اس کے نہلانے کے متعلق کیا حکم ہے۔ آیا حضرت (مرزا) صاحب کا پہلا فتویٰ یعنی نہ نہلانا ہی ہے۔ یا نہلانا چاہیے اور نیز اس کے کفن کے متعلق کیا حکم ہے۔ اسے کفنانا چاہیے یا نہیں۔

جواب : اگر احتیاط سے نہلایا جائے یعنی نہلانے والا ہاتھ نہ لگائے اور ہاتھ پر کپڑا باندھ لے یا دستانہ پہن لے پھر فوراً گرم پانی اور صابن سے خود نہائے تو نہلانا اچھا ہے اور اگر یہ احتیاطیں نہ ہو سکیں یا میت کی حالت زیادہ خراب ہو تو نہ نہلانا بہتر ہے۔

(”مکتوبات“ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۷

اپریل ۱۹۲۲ء نمبر ۸۴‘ جلد ۹)

(۴۷) قادیانی تحریک اور طاعون

صفحہ 539

طاعون خدا کا ایک عذاب ہے۔ جو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی تائید کے لئے بھیجی گئی ہے ۔ اگر ہماری جماعت کی رفتار ترقی کو دیکھا جائے تو ثابت ہوگا کہ ساٹھ ستر فیصدی آدمی طاعون کی وجہ سے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ مجھ کو یاد ہے کہ طاعون کے دنوں میں پانچ پانچ سو۔ ہزار ہزار آدمی کی بیعت کے خطوط حضرت صاحب کے پاس روزانہ آتے تھے تو چونکہ یہ احمدیت کی صداقت کا ایک نشان ہے اور جب تک جماعت کی حفاظت نشان کے طور پر نہ ہو یہ نشان کامل تجلی کے ساتھ ظاہر نہیں ہوسکتا۔ اس لئے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ امتیازی طور پر ہماری جماعت کو اس مرض سے بچائے۔۔۔۔۔۔

موت ہر ایک انسان کو آنی ہے۔ لیکن چوں کہ طاعون حضرت (مرزا) صاحب کی پیشگوئی کے ماتحت آئی ہے۔ اس لئے اگر کوئی احمدی اس میں مبتلا ہوتا ہے۔ تو لوگوں کو ابتلا آتا ہے۔ کیونکہ یہ مرض غیروں کے لئے بطور عذاب کے ہے۔ اگرچہ اس میں ہمارے بعض آدمیوں کا مبتلا ہونا کوئی بات نہیں ہے۔ دیکھو صحابہ رضوان اللہ علیہم کے وقت میں تلوار کفار کے لئے بطور عذاب کے تھی۔ مگر اس تلوار کی جنگ میں صحابہ بھی مارے جاتے تھے۔ مگر ان کے لئے عذاب نہ تھی۔ کیونکہ کہ اس وقت تلوار سے مرنا دشمنوں کے لئے تباہی تھی۔ صحابہ کے لئے تباہی نہ تھی کیونکہ صحابہ مرنے سے کم نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ بڑھتے تھے اور دشمن مرتے تھے اور کم ہوتے چلے جاتے تھے۔

پس جب مرنے سے کوئی قوم بڑھ جائے۔ وہ اس کے لئے عذاب نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی جو ناواقف لوگ ہوتے ہیں وہ ابتلاء میں پڑ جاتے ہیں کہ جب یہ مرض بطور عذاب کے ہے تو احمدی کیوں مبتلاء ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو ابتلاء سے بچانے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو محفوظ رکھے۔

پس جماعت کے لوگوں کو دعاؤں کیساتھ ہی اس نشان پر زور دینا چاہیے۔ تاکہ احمدیت خوب پھیلے۔ جانتے ہو اگر گرم لوہے پر چوٹ مارو تو اس کو جس شکل میں چاہو ڈھال لو۔ لیکن ٹھنڈے لوہے پر کچھ اثر نہیں ہوا کرتا۔ ان دنوں چوں کہ دل پگھلے ہوئے ہیں اس لئے احمدیت کے سانچے میں ڈھل جائیں گے۔ طاعون بھی خدا کی طرف سے ایک بھٹی بنائی گئی ہے جس میں دل پگھلائے جاتے ہیں۔ پس تم صداقت کے قالبوں میں

صفحہ 540

ان کو ڈھال لو۔ یہ دن تبلیغ کے دن ہیں۔ دونوں باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۵‘ نمبر

۷۲‘ مورخہ ۹ مارچ ۱۹۱۸ء)

(۴۸) مرزا صاحب کی مخصوص گالی (ذریۃ البغایا)

تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبۃ والمودة و ينتفع من معارفها يقبلنى و يصدق دعوتى الا ذريتہ البغايا الذين ختم اللہ على قلوبهم فهم لا يقبلون۔"

ترجمہ : ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں مگر بدکار عورتوں کی اولاد نہیں مانتے کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے۔

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۴۷‘ روحانی خزائن ص ۵۴۷‘ ۵۴۸‘ ج ۵ مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

مرزا صاحب نے مندرجہ بالا بیان میں ان لوگوں کو تو مسلمان قرار دیا ہے جو ان کو قبول کرتے ہیں اور ان کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن وہ مسلمان جو ایسا نہیں کرتے تو ان کو ذریتہ البغایا کا خطاب دیا ہے۔ چونکہ عربی میں ذریتہ البغایا سخت گالی مانی جاتی ہے۔ یعنی بدکار عورت کی اولاد۔ لہٰذا مسلمانوں کی ناراضی کے خوف سے قادیانی صاحبان بالعموم اس کی دو تاویلیں کرتے ہیں۔ اول یہ کہ ذریتہ البغایا کے معنی گمراہ یا ہدایت سے دور لوگ ہیں۔ دوم یہ کہ اس کے معنے جو کچھ بھی ہوں۔ یہاں مخاطب غیر مسلم لوگ ہیں۔ آخری تاویل اس لحاظ سے پیش کی جاسکتی ہے کہ اپنے عقیدے میں قادیانی لوگ اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ رہی پہلی تاویل ذریتہ البغایا۔ اور بغایا۔ مرزا صاحب کے خاص الفاظ ہیں۔ جن کو وہ اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے معنی بھی خود ہی لکھے ہیں۔ ذیل میں چند حوالے بطور نمونہ درج ہیں۔ ان سے واضح ہو جائے گا کہ مرزا صاحب ذریتہ البغایا اور بغایا سے اپنی تحریرات میں ہمیشہ کیا مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو :۔

صفحہ 541

”واعلم ان کل من ھو من ولد الحلال ولیس من ذریتہ البغایا و نسل الدجال لیفعل امرا من امرین-“

”اور جاننا چاہیے کہ ہر ایک شخص جو ولدالحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا۔“ (”نور الحق“ حصہ اول ص ۱۲۳‘ روحانی خزائن ص ۱۶۳‘ ج ۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

علی ہذا مرزا صاحب ایک دوسرے موقع پر اپنے مخالف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو عربی میں گالی دے کر خود ہی اس کا اردو ترجمہ فرماتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔ ”رقصت کرقص بغیہ فی مجلس تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔“ (”حجتہ اللہ عربی“ ص ۸۷‘ روحانی خزائن ص ۲۳۵‘ ج ۱۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

آگے

(”لجتہ النور“ ص ۸۶‘ ”روحانی خزائن“ ص ۳۲۹‘ ج ۱۶)

ص ۳۲۸‘ ج ۱۶

”پس ہیچ شک نیست کہ زنان فاحشہ ملک ما را خراب کردہ اند۔“ ص ۸۷‘ روحانی خزائن ص ۳۲۹‘ ج ۱۶

زنان فاحشہ در حقیقت پلید اند“ ص ۸۹‘ روحانی خزائن ص ۳۳۱‘ ج ۱۶

”اگر در خانہ زنان آن خانہ فاسقہ باشند۔ پس مردان آن خانہ دیوث و دجال مے باشند۔“

صفحہ 542

(لجۃ النور ص ۹۰‘ روحانی خزائن ص ۴۳۲‘ ج ۱۶‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مرا بخباثت خود ایذا دادی پس من صادق نیم اگر تو اے نسل بدکاراں بذلت نمیری

(انجام آتھم ص ۲۸۲‘ روحانی خزائن ص ۲۸۲‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اور شوق کرنا بازاری عورتوں کے رقص کی طرف اور ان کا بوسہ اور گلے لپٹانا اور بعد اس کے ان کا جامۂ کمر بند۔"

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷‘ روحانی خزائن ص ۴۹‘ ج ۱۶‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

والعرض والملت۔ گویا ان لوگوں نے اپنے بدن اور قوت کو بدکار عورتوں پر وقف کر رکھا ہے اور ان کی محبت کو جان اور آبرو اور مال اور ملت کے بچاؤ پر مقدم کر لیا ہے۔"

(الهدى والتبصرة لمن يرى ص ۴۷‘ روحانی خزائن ص ۲۹۱ ج ۱۸‘ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۴۹) مرزا صاحب کی خوش کلامی

اب فرض کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے اجتہاد سے کسی اپنے بچہ پر یہ خیال بھی کرلیں کہ شاید یہ وہی پسر موعود ہے اور ہمارا اجتہاد خطا جائے تو اس میں الہام الہی کا کیا قصور ہوگا۔ کیا نبیوں کے اجتہادات میں اس کا کوئی نمونہ نہیں اگر ہم نے وفات یافتہ لڑکے کی نسبت کوئی قطعی الدلالت الہام کسی اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ تو وہ پیش کریں جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا ایک برابر ہے تعجب کہ ان لوگوں کو نجاست خوری کا کیوں شوق ہو گیا۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۹۲‘ مجموعہ

اشتہارات ۳۰۹‘ ۳۱۰‘ ج ۱)

سو چاہیے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی

صفحہ 543

بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گے اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔

(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ۵۳‘ روحانی خزائن ص ۳۳۷‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا۔ تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔

(”انوار الاسلام“ ص ۳۰‘ روحانی خزائن ص ۳۱‘ ج ۹‘ مولفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔

(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ۲۵‘ روحانی خزائن ص ۳۰۹‘ ج ۱۱‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئی ہیں۔

(”نجم الہدیٰ“ ص ۱۰‘ روحانی خزائن ص ۵۳‘ ج ۱۴‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۵۰) حد لگانے کا فتویٰ

اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم و حیا کو کام نہیں لائے گا....... اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں...... ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور نا انصافی کی راہوں سے پیار کرتا رہے۔

(”انوار الاسلام“ ص ۳۰‘ روحانی خزائن ص ۳۱‘ ۳۲‘ ج ۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صفحہ 544

صاحب)

میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ایک شخص زور زور سے کہہ رہا تھا کہ اس حرامزادے کو میرے سامنے لاؤ جو کہتا ہے کہ کتے کا جھوٹا کھانا جائز نہیں۔ حضرت عمر کے زمانہ میں کہا گیا تھا کہ کسی کو حرامزادہ کہنے والے کو حد لگائی جائے گی۔ وہ شخص بازار میں کہہ رہا تھا۔ کسی کو احساس نہ تھا۔ لوگ سنتے تھے اور روکتے نہ تھے۔ گویا یہ معمولی بات ہے جو ہونی چاہیے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۹‘ نمبر

۶۳‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۳‘ فروری ۱۹۲۲ء)

(۵۱) مرزا صاحب کا عتاب

قادیان میں ایک بدگو مخالف آیا ہوا تھا۔ جس نے حضرت کے خدام میں سے ایک کو اپنے پاس بلا بھیجا جو اس کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے چلا گیا۔ جب اس امر کی حضرت مسیح موعود کو خبر ملی تو آپ نے فرمایا کہ ”ایسے خبیث مفسد کو اتنی عزت نہیں دینی چاہیے کہ اس کے ساتھ تم میں سے کوئی بات چیت کرے۔“

(”ملفوظات احمدیہ“ حصہ چہارم ص ۱۴۵‘ مرتبہ محمد منظور الہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۵۲) اخراج

بیان کیا مجھ سے حضرت خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اولؓ کا ایک رشتہ دار جو ایک بھنگی‘ چرسی اور بدمعاش آدمی تھا‘ قادیان آیا اور اس کے متعلق شبہ ہوا کہ وہ کسی بد ارادے سے یہاں آیا ہے اور اس کی رپورٹ حضرت صاحب تک بھی پہنچی۔ آپ نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا اسے فوراً قادیان سے رخصت کردیں۔ لیکن جب حضرت اول نے اسے قادیان سے چلے جانے کو کہا تو اس نے یہ موقعہ غنیمت سمجھا اور کہا کہ اگر مجھے اتنے روپے دے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔

حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ جتنے روپے وہ مانگتا تھا۔ اس وقت اتنے روپے حضرت خلیفہ اول کے پاس نہ تھے۔ اس لئے آپؒ کچھ کم دیتے تھے۔ اسی جھگڑے میں کچھ دیر ہوگئی۔ چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی کہ وہ ابھی تک نہیں

صفحہ 545

گیا اور قادیان میں ہی ہے۔ اس پر حضرت صاحب نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں یا خود بھی چلے جاویں۔ حضرت مولوی صاحب تک یہ الفاظ پہنچے تو انہوں نے فوراً کسی سے قرض لے کر اسے رخصت کر دیا...... حضرت خلیفہ اول کا یہ رشتہ دار آپ کا حقیقی بھتیجا تھا اور اس کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ یہ ایک نہایت آوارہ گرد اور بدمعاش آدمی تھا۔ (شائد سخت مخالف ہو۔ للمولف) اور اس کے متعلق اس وقت یہ شبہ کیا گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ شخص قادیان میں کسی فتنہ عظیمہ کے پیدا کرنے کا موجب ہو۔ (کوئی گہرا راز معلوم ہوتا ہے۔ للمولف)

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۲۵۶‘ روایت نمبر ۲۸۳‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۵۳) بدمزاجی کا فیصلہ

اول قوت اخلاق۔ چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح امام زماں نہیں ہو سکتا۔

(”ضرورة الامام ص ۸‘ روحانی خزائن ص ۴۷۸‘ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں۔

(خاتمہ چشمہ معرفت ص ۱۵‘ روحانی خزائن ص ۳۸۷‘ ۳۸۶‘ ج ۲۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

صفحہ 546

(۵۴) عدالت کی ہدایت

ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی صاحب پر زیر دفعہ (۱۰۷) ضابطہ فوجداری۔ اگست ۱۸۹۷ء میں خوب زور و شور سے فوجداری مقدمہ چلا۔ اس کی مکمل مسل مرزا صاحب کی تالیف کتاب البریہ میں درج ہے۔ اس مقدمہ کا جو فیصلہ ہوا۔ کافی عبرت آموز ہے۔ چنانچہ آخری حصہ جو کل فیصلہ کا خلاصہ ہے۔ ملاحظہ ہو۔

یہ ظاہر ہے کہ پیش گوئیاں ڈیلفک (Delphic) الہاموں کی طرح دو پہلو رکھتی ہیں اور اسی میں فائدہ ہے کہ وہ ایسی ہوں مرزا صاحب کچھ مطلب بیان کرتے ہیں اور ڈاکٹر کلارک کچھ اور اس صورت میں اس امر کا ثابت کرنا ناممکن ہے کہ ڈاکٹر کلارک کے معنی ٹھیک ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر کلارک کی موت کی نسبت کبھی کوئی پیش گوئی نہیں کی اور جس قدر مطبوعہ شہادت پیش کی گئی ہے۔ ہم منجملہ اس کے کسی میں بھی کوئی صاف اور صریح امر نہیں پاتے۔ جس سے مرزا صاحب کے بیان کی تردید ہوتی ہو.......

جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے تعلق ہے۔ ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے۔ یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے لہٰذا وہ بری کئے جاتے ہیں۔ لیکن ہم اس موقع پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور اس پر دست خط کر دئے ہیں۔ باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں۔

جو اثر کہ اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر ہوگا اس کی ذمہ داری ان ہی پر ہوگی اور ہم انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کریں گے وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے۔ بلکہ اس کی زد کے اندر آجاتے ہیں۔

دستخط۔ ایم۔ ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور ۲۳ اگست ۱۸۹۷ء

(ترجمہ انگریزی مندرجہ کتاب البریہ ص ۲۶۰، روحانی خزائن ص ۳۰۲، ۳۰۰، ج ۱۳ مولفہ

صفحہ 547

مرزا غلام قادیانی صاحب)

(۵۵) مرزا صاحب کا عہد (م)

میں حکام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہرگز یہ میری عادت میں داخل نہیں کہ خود بخود کسی کو آزار دوں اور نہ ایسی عادت کو میں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ جو کچھ سخت الفاظ میں لکھا گیا وہ سخت الفاظ کا جواب تھا۔ مگر مخالفوں کی سختی سے نہایت کم۔ تاہم یہ طریق بھی میری طبیعت اور عادت سے مخالف ہے اور جیسا کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مقدمہ کے فیصلہ پر مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ آئندہ اشتعال کو روکنے کے لئے مباحثات میں نرم اور مناسب الفاظ کو استعمال کیا جائے میں اسی پر کاربند رہنا چاہتا ہوں اور اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے تمام مریدوں کو جو پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت رکھتے ہیں نہایت تاکید سے سمجھاتا ہوں کہ وہ بھی اپنے مباحثات میں اس طرز کے کاربند رہیں اور ہر ایک سخت اور فتنہ انگیز لفظ سے پرہیز کریں۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد

ششم، ص ۱۶۶‘ مجموعہ اشتہارات ص ۴۶۸ ج ۲)

اور یاد رہے کہ یہ اشتہار مخالفین کے لئے بھی بطور نوٹس ہے چوں کہ ہم نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے سامنے یہ عہد کر لیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔ اس لئے حفظ امن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام مخالف بھی اس عہد کے کار بند ہوں۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ششم، ص

۱۶۸‘ مجموعہ اشتہارات ص ۴۷۰‘ ج ۲)

(م) حضرت مسیح موعود نے اسی مقدمہ میں انذاری پیش گوئیوں کے متعلق جو بیان عدالت میں دیا اس میں صفائی کے ساتھ یہ لکھا کہ : ”عدالت میں میری نسبت یہ الزام پیش کیا گیا ہے کہ گویا میری قدیم سے یہ عادت ہے کہ خود بخود کسی کی موت یا ذلت کی پیش گوئی کیا کرتا ہوں اور پھر اپنی جماعت کے ذریعہ سے پوشیدہ طور پر اس کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ کسی طرح وہ پیش پوری ہو

صفحہ 548

جائے اور گویا میں ایک قسم کا ڈاکو یا خونی رہزن ہوں اور گویا میری جماعت بھی ایک قسم کی اوباش اور خطرناک لوگ ہیں۔ جن کا پیشہ اسی قسم کے جرائم ہیں۔ لیکن میں عدالت کو ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افترا سے خمیر کیا گیا ہے اور نہایت بری طرح سے میری اور میری معزز جماعت کی ازالہ حیثیت عرفی کی گئی ہے۔۔۔۔۔

اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک برس سے کچھ زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ میں نے اس عہد کو چھاپ کر شائع کیا ہے کہ میں کسی کی موت وغیرہ وغیرہ کی نسبت ہرگز کوئی پیش گوئی نہ کروں گا۔

(اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۳۵‘ نمبر ۴۱‘ مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۲۷ء)

(۵۶) صاحب مجسٹریٹ ضلع کی اجازت

بعض ہمارے مخالف جن کو افترا اور جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔ لوگوں کے پاس کہتے ہیں کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے آئندہ پیش گوئیاں کرنے سے منع کر دیا ہے۔ خاص کر ڈرانے والی پیش گوئیوں اور عذاب کی پیش گوئیوں سے سخت ممانعت کی ہے۔ سو واضح رہے کہ یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں۔ ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور عذابی پیش گوئیوں میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ یعنی رضامندی لینے کے بعد پیش گوئی کرنا۔ اس طریق پر عدالت اور قانون کا کوئی اعتراض نہیں۔

(”کتاب البریہ“ اشتہار ص ۹‘ حاشیہ روحانی خزائن ص ۱۰‘ ج ۱۳‘ مولفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے بعض اشخاص کی موت وغیرہ کی نسبت پیش گوئی کی ہے۔ لیکن نہ اپنی طرف سے بلکہ اس وقت اور اس حالت میں جب کہ ان لوگوں نے اپنی رضا و رغبت سے ایسی پیش گوئی کے لئے مجھے تحریری اجازت دی۔ چنانچہ ان کے ہاتھ کی تحریریں اب تک میرے پاس موجود ہیں جن میں سے بعض ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں شامل مسل کی گئی ہیں۔ مگر چونکہ باوجود اجازت دینے کے پھر بھی ڈاکٹر کلارک صاحب نے ان پیش گوئیوں کا ذکر کیا اور اصل واقعات کو چھپایا۔

اس لئے آئندہ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواست پر انذاری (ڈراؤنی)

صفحہ 549

s

پیش گوئی کی جائے بلکہ آئندہ ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ اگر کوئی ایسی انذاری پیش گوئیوں کے لیے درخواست کرے تو اس کی طرف ہرگز توجہ نہیں کی جائے گی۔ جب تک وہ ایک تحریری حکم اجازت صاحب مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے نہ پیش کرے۔

(”کتاب البریہ“ اشتہار ص ۹‘ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۸۹۷ء روحانی خزائن ص ۱۱‘ ۱۰‘ ج ۱۳‘ مولفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

میں نے مسٹر ڈوئی کے سامنے لکھ دیا تھا کہ آئندہ کسی کی نسبت موت کا الہام شائع نہیں کروں گا۔ جب تک کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت نہ لے لیوے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا حلفیہ بیان عدالت گورداسپور میں مندرجہ اخبار الحکم

قادیان جلد ۵‘ نمبر ۲۹‘ منقول از منظور الٰہی ص ۲۴۵‘ مصنفہ منظور الٰہی صاحب قادیانی

لاہور)

(۵۷) عدالتی اقرار نامہ

اقرار نامہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے‘ ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداس پور مرجوعہ ۵ جنوری ۱۸۹۹ء فیصلہ ۲۵ فروری ۱۸۹۹ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ ۱/۳ سرکار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور ملزم۔ الزام زیر دفعہ ۱۰۷ مجموعہ ضابطہ فوجداری۔

اقرار نامہ

میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:

ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی و غیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

گا کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی و غیرہ) ذلیل کرنے سے یا اسے

صفحہ 550

نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

جو ایسا منشا رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہوں کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اس طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر ۱ تا ۵ میں اقرار کیا ہے۔

العبد گواہ شد مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین بی۔اے ایل۔ایل۔بی دستخط : جے ایم ڈوئی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء

سو اگر مسٹر ڈوئی صاحب (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور) کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں ان کو (مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو) کافر نہیں کہوں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو کافر نہیں جانتا

(”تریاق القلوب“ صفحہ ۱۳۰، روحانی خزائن ص ۴۳۳، ج ۱۵، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۵۸) اقرار نامہ کا نتیجہ

اس (مضمون مندرجہ اخبار پیغام صلح مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۷ء) میں جو حضرت مسیح موعود کے اس اقرار نامہ پر ریمارکس ہوا ہے۔ جو آپ نے گورنمنٹ سے انذاری پیش گوئیاں نہ کرنے کے متعلق کیا تھا تو...... غرض صرف اتنی تھی کہ میاں (محمود احمد) صاحب جو آپ کو نبی بناتے ہیں۔ تو منجملہ اور ادلہ قاطعہ کے آپ کا یہ اقرار نامہ لکھ کر دینا بھی اس کے قطعاً خلاف ہے۔ کیونکہ ایک نبی مکلف ہوتا ہے کہ جو کچھ اس پر نازل ہوا اسے سب کو سنائے۔ بحکم یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک ۱۸۹۹ء میں آپ کو (مرزا صاحب کو) مولوی محمد حسین (صاحب) بٹالوی کے بالمقابل عدالت میں جانا پڑا اور وہاں

صفحہ 551

آپ یہ بھی لکھ کر دے آئے کہ میں آئندہ مولوی محمد حسین کو کاذب اور کافر اور دجال نہیں کہوں گا۔ اسی سال اور اسی مقدمہ میں آپ نے ایک اور اقرار نامہ بھی لکھ کر دیا جس کے یہ لفظ ہیں۔

”میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشا ہو یا جو ایسا منشا رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (مسلمان ہو خواہ ہندو عیسائی) ذلت اٹھائے گا۔ یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔ مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء)

مرزا غلام احمد

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، ج ۵، نمبر ۱۵، مورخہ ۹ جنوری ۱۹۱۸ء)

(۵۹) من گھڑت نبی (ج)

تم (قادیانی صاحبان) اپنے دعویٰ راست باز نہیں کہلا سکتے۔ بلکہ ایک طرف نبی تراش نام رکھ دیا۔ دوسری طرف نتیجہ میں صرف ایک نبی کا لفظ بول کر سراسر نبی کریم کی ہتک کر رہے ہو۔ پھر کیا وہ پہلے انبیاء بھی ایسے ہی محکوم ہوتے تھے کہ گورنمنٹ کے خوف سے آئندہ کے لئے انذاری پیش گوئیاں موت وغیرہ کے متعلق کرنے سے رک جایا کرتے تھے کہ آئندہ ہم موت کی پیش گوئی کسی کی نہ کیا کریں گے۔ خدا کی گورنمنٹ زبردست ہے یا انسانوں کی ۔ پہلے مسیح نے تو سولی قبول کی مگر کلمہ حق پہنچانے سے انکار نہیں کیا۔ مگر اپنے من گھڑت نبی کے حالات سے تم خود ہی واقف ہو۔ ہمیں تشریح کرنے کی حاجت نہیں۔

(لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۷ء)

صفحہ 552

فصل دسویں

قادیانی صاحبان اور مسلمان دین و ملت

(الف) اختلاف

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج۱۹،

نمبر ۱۶۴، مورخہ ۳۰؍ جولائی ۱۹۳۱ء)

تم اپنے امتیازی نشانوں کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ نبی (مرزا صاحب) کو مانتے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت (مرزا صاحب) کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں۔ مگر حضرت (مرزا صاحب) نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے۔ کیا جو خدا نے تمہیں نشان دیئے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار بدر مورخہ ۱۹؍ جنوری ۱۹۱۱ء آئینہ صداقت

ص ۵۳، مصنفہ میاں صاحب موصوف)

صفحہ 553

(۳) قادیانی اسلام

عبداللہ کوئلیم نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویب نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی مگر آپ نے (مرزا صاحب نے) مطلق ان کو ایک پائی کی مدد نہ دی۔ اس کیوجہ یہ کہ جس اسلام میں آپ پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں ۔ اسے آپ اسلام ہی نہیں سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہمارا (قادیانیوں کا) اسلام اور ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲‘ نمبر ۸۵‘ ص ۶‘ مورخہ ۳۱ دسمبر ۱۹۱۴ء)

(۴) احمدیت

کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام صرف اشاعت اسلام تھا اور اس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا تھا اور یہی احمدیت ہے۔ اگر یہی احمدیت تھی تو اور لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اشاعت اسلام کے لئے اٹھے تھے۔ ان کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ اور......... آپ ان کی انجمنوں میں شامل ہوتے انہیں چندہ دیتے مگر آپ نے (مرزا صاحب نے) کبھی اس طرح نہیں کیا۔

(خطبہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۹۷‘ ص ۷‘

مورخہ ۲۸ جنوری ۱۹۱۵ء)

(۵) میری تبلیغ

ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔ مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ ہی میری تبلیغ ہے پس اس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود لایا۔

(منصب خلافت تقریر۔ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان ص ۲۰‘ ۲۱)

صفحہ 554

(۶) مردہ اسلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر صاحب اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے (رسالہ) ریویو آف ریلیجنز (قادیان) کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہ ہو۔ مگر حضرت اقدس (مرزا صاحب نے) اس تجویز کو اس بنا پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے۔ اس پر ایڈیٹر صاحب وطن نے اس چندہ کے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶‘ نمبر ۳۲‘ ص ۱۱‘ مورخہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۸ء)

(۷) اسلام کی آواز

جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فعل قابل ملامت نہیں اور ہرگز نہیں تو مرزا غلام احمد کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات پر الزام کس لئے۔ پس جس طرح حضرت موسیٰ کے وقت میں موسیٰ کی آواز اسلام کی آواز تھی اور حضرت عیسیٰ کے وقت میں عیسیٰ کی اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اسی طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۷‘ نمبر ۹۰‘ مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۲۰ء)

(۸) مرزا ساحر

ساحروں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو بندر بنا دیتے ہیں لیکن حضرت مرزا صاحب ایسے ساحر تھے کہ ان لوگوں کو جو یہودی صفت ہو کر بندروں سے مشابہ ہو چکے تھے انسان بنا دیتے تھے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۷‘ نمبر ۴۷ مورخہ ۱۸ دسمبر ۱۹۱۹ء)

(۹) ایک فرقہ

صفحہ 555

براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۲‘ میں آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ :

"ان ہی دنوں میں سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جاوے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک کرنا بجائے گا اور اس کرنا کی آواز پر ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچ آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں‘ جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔"

ایسا ہی اشتہار حسین کامی سفیر سلطان روم میں آپ لکھتے ہیں:

"خدا نے یہ ہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمان مجھ سے الگ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔"

پھر ایک حضرت مسیح موعود کا الہام ہے۔ جو آپ نے اشتہار معیار الاخیار مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۸ پر درج کیا ہے‘ اور وہ یہ ہے۔

جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔"

اختصار کے طور پر اتنے حوالے دیے جاتے ہیں۔ ورنہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب نے) بیسیوں جگہ اس مضمون کو ادا کیا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نور الدین صاحب) کا بھی یہی عقیدہ تھا چنانچہ جب ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں تو آپ نے فرمایا:

"اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی"۔

(دیکھو اخبار بدر نمبر ۲‘ جلد ۱۴‘ ص ۲‘ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۱۴ء)

اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعودؑ کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی ریویو آف ریلیجنز صفحہ ۱۲۹ نمبر ۳

جلد ۱۴)

(۱۰) غیروں سے الگ

صفحہ 556

کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہود بے بہود سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کی سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ان جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کر دیا۔ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا کہ بیشک کیا ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے الگ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی کی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۶۹، ۷۰‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۶ فروری و ۲ مارچ ۱۹۱۸ء)

(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۱۸ء)

آپ کے (مرزا صاحب کے) مبعوث کئے جانے کی غرض یہ نہ تھی کہ لوگ آپ کو مسلمان سمجھ لیں اور بس بلکہ یہ تھی کہ آپ کو قبول کریں اور آپ مسلمان را مسلمان باز کردند کے مطابق مسلمان کہلانے والوں کو سچے اور حقیقی مسلمان بنائیں۔ پس حضرت مرزا صاحب نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ لکھا کہ جو مجھے مسلمان کہہ لے وہ پکا مسلمان ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہی کہا کہ جو مجھے مانے گا اور قبول کرے گا وہی مسلمان ہوگا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۶‘ نمبر ۴۶‘ ص ۹‘ مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۱۸ء)

(ب) مسلمان

چو دور خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند

اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جاوے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد

ہے

صفحہ 557

ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جاوے۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز

ص ۱۳۴‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۱۳) مسلمان کا لفظ

اس جگہ ایک اور شبہ بھی پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اپنے منکروں کو حسب حکم الٰہی اسلام سے خارج سمجھتے تھے۔ تو آپ نے ان کے لئے اپنی بعض آخری کتابوں میں بھی مسلمان کا لفظ کیوں استعمال فرمایا تو اس کا جواب یہ ہے کہ...... کیا قرآن شریف میں عیسیٰ کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو نصاریٰ کے نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ ضرور کیا گیا اور بہت دفعہ کیا گیا۔ مگر وہاں معترض نے اعتراض نہ کیا کہ جب وہ عیسیٰ کی تعلیم سے دور جا پڑے ہیں۔ تو ان کو نصاریٰ کیوں کہا جاتا ہے۔ پھر اب یہاں اعتراض کیسا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ عرف عام کی وجہ سے ایک نام کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز اسم بامسمیٰ ہو گئی۔ مثلاً دیکھو اگر ایک شخص سراج دین نامی مسلمان سے عیسائی ہو جاوے تو اسے پھر بھی سراج دین ہی کہیں گے۔ حالانکہ عیسائی ہو جانے کی وجہ سے وہ اب سراج دین نہیں رہا۔ بلکہ کچھ اور بن گیا ہے۔ لیکن عرف عام کی وجہ سے اسے اس نام سے پکارا جاوے گا۔

معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگوں دھوکا نہ کھائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بہ طور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں” تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان..... پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ حضرت (مرزا صاحب) نے جہاں کہیں بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ کر پکارا ہے‘ وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ آپ حسب حکم الٰہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔

صفحہ 558

(کلمۃ الفصل صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز

ص ۱۴۶۔۱۴۷‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جہاں غیر احمدیوں کے لئے مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ تو اس سے مراد حسب پیش گوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسمی رسمی ہوتی ہے۔ کیوں کہ آخر وہ نہ تو ہندو ہیں نہ عیسائی نہ بدھ۔ کلمہ پڑھتے ہیں اور قرآن شریف پر عمل کے مدعی ۔ ضرور ہے کہ ہم انہیں اسی نام سے پکاریں جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کے لئے الذین ھادو قرآن مجید میں آتا ہے اور عیسائیوں کے لئے نصاریٰ اور بعض اوقات عیسائی اور موسائی بھی کہہ لیا جاتا ہے حالانکہ وہ نہ ہدایت یافتہ نہ حضرت عیسیٰ و موسیٰ کے متبعین۔ پس مسلمان کا لفظ بہ لحاظ قوم ہے اور شرعی فتویٰ جو کسی نبی کے انکار سے لازم آتا ہے۔ وہ اور بات ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲‘ نمبر ۲۵‘ مورخہ ۱۱ اپریل ۱۹۲۵ء)

(۱۴) سلام مسنون

لیکن ہم پوچھتے ہیں اگر سلام مسنون نہ کہنے سے یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ مخاطب کرنے والے کے نزدیک مخاطبین مسلمان نہ تھے بلکہ کافر تھے تو کیا اگر اسی قسم کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش کی جائے تو پیغام اور اس کا امیر (مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری) تسلیم کرلیں گے کہ مسیح موعود بھی ان لوگوں کو جنہیں آپ نے بغیر سلام مسنون مخاطب کیا۔ مسلمان نہ سمجھتے تھے بلکہ کافر قرار دیتے تھے۔ دیکھئے حضرت مسیح موعود نے آئینہ کمالات اسلام میں ایک مکتوب بزبان عربی لکھا....... یہ عربی خط ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف ہی نہیں لکھا گیا۔ بلکہ اس کے مخاطب مشائخ ہند اور زہاد اور صوفیاء مصر و شام وغیرہ اسلامی ممالک بھی ہیں۔ مگر جب ہم خط کو دیکھتے ہیں تو وہ بغیر سلام مسنون بسم اللہ کے بعد اس طرح شروع ہوتا ہے۔ الى مشايخ الهند و متصوفتہ افغانستان و مصر وغيرها من الممالك۔ اما بعد۔ فاعلموا ايها الفقراء والزهاد و مشائخ الهند وغيرها من البلاد والذين وقعوا فى البدعات والفساد۔

اور دیکھئے ۱۹۰۲ء میں جب علماء ندوہ کا جلسہ امرتسر میں ہوا تو اس وقت حضرت

صفحہ 559

مسیح موعود کے متعلق ایک اشتہار ہوا جس کے جواب میں آپ نے (مرزا صاحب نے) ایک ہی دن ”دعوة الندوة“ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں بغیر سلام مسنون کے التبلیغ کے عنوان سے علمائے ندوہ کو یوں مخاطب فرمایا۔ يا اهل دار الندوة تعالوا الى كلمة سواء بيننا و بينكم ان لا نحكم الا القرآن .......

پس اگر حضرت خلیفہ ثانی (میاں محمود احمد صاحب) کے سلام مسنون نہ لکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے اس مجمع کو مسلمانوں کا مجمع نہ سمجھا تو حضرت مسیح موعود نے جو عام مسلمانوں کے مجمعوں کو نہیں انگریزی خوانوں کے مجمع کو نہیں ہندوؤں کے زیر اثر مجمع کو نہیں بلکہ علماء اور فضلاء کے مجمعوں کو بغیر سلام مسنون مخاطب فرمایا ہے۔ اس سے بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا کہ آپ بھی ان کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔ بلکہ کافر قرار دیتے تھے اور جن کو حضرت مسیح موعود کا کافر قرار دیں ان کو کافر سمجھنا ہر ایک اس شخص کا فرض ہے جو آپ کو راست باز اور خدا کا برگزیدہ سمجھتا ہو۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸، نمبر ۴، ص ۴، مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۲۰ء)

(۱۵) زبانی دعویٰ

لہٰذا یقینی اور قطعی طور پر یقینی ہے کہ اگر اس زمانہ کے یہودی صفت مسلمان نبی کریم کے وقت میں پیدا کئے جاتے تو آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو انہوں نے اس زمانہ کے رسول (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کے ساتھ کیا اور اگر وہ موسیٰ اور عیسیٰ کا زمانہ پاتے تو ان کا بھی اسی طرح انکار کرتے کیوں کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) اللہ تعالیٰ کا ایک نور ہے اور وہ آنکھ جو اس نور کو نہیں دیکھ سکتی وہ اندھی ہے۔ کسی اور نور کو بھی نہیں دیکھ سکتی۔ حضرت مسیح موعود نے بھی اس اصل کو بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ آپ مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے اربعین ص ۲۳ پر فرماتے ہیں کہ ”ایسا شخص اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پاتا تو آپ کو بھی نہ مانتا اور اگر حضرت عیسیٰ کے زمانے میں ہوتا تو ان کو بھی قبول نہ کرتا۔“ پس مخالفین کا یہ دعویٰ کہ ہم مسلمان ہیں ایک زبانی دعویٰ ہے۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز

صفحہ 560

ص ۱۰۳‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۱۶) خبیث عقیدہ

حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہو جاتی ہیں۔ اول یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ۔ دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبدالحکیم خاں کو جماعت سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے‘ اس کے لئے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔ پانچویں یہ کہ جو شخص مسیح موعود کی دعوت کو رد کرتا ہے۔ وہ قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے اور خدا کے کھلے نشانات سے منہ پھیرتا ہے۔ چھٹے یہ کہ جو مسیح موعود کے منکروں کو راستباز قرار دیتا ہے۔ اس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔

(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ۱۲۵‘

نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۱۷) دجالی طلسم

اس تحریر سے ہم کو اتنی باتوں کا پتہ لگتا ہے۔ اول یہ کہ حضرت مولوی صاحب (یعنی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول) کا یہ عقیدہ تھا کہ مسلمان کہلانے کے لئے ایمان بالرسل ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ رسل کے مفہوم میں سارے رسول شامل ہیں خواہ کوئی رسول نبی کریم صلعم سے پہلے آئے یا بعد میں۔ ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک میں۔ تیسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود بھی اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اور ایمان بالرسل میں آپ پر ایمان لانا بھی شامل ہے چوتھے یہ کہ جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ اللہ کے رسولوں میں تفرقہ کرتا ہے۔ اس لئے وہ کافر ہے۔ اب کہاں ہیں۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھا کرتے تھے۔ وہ دیکھیں کہ مذکورہ بالا تحریر ان کے سارے دجالی طلسم کو پاش پاش کر دیتی

صفحہ 561

ہے۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز ص ۱۱۶‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۱۸) فیصلہ

اب مسیح موعود کے اس فیصلہ کے بعد ہم کسی ایسے شخص کی بات کو پرکاہ کے برابر وقعت نہیں دیتے۔ جو احمدی کہلا کر غیر احمدیوں کو مسلمان جانتا ہے۔ ہم مجبور ہیں۔ ہم نے مسیح موعود کو مصلحت وقت کے لئے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اسے واقعی حکم سمجھ کر مانا ہے اور اس کی ہر ایک بات کو سچا پایا ہے پس جب مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کہتا ہے کہ اس کے منکروں کو خدا مسلمان نہیں جانتا تو ہم کون ہیں کہ اس بات کا انکار کریں۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز ص ۱۴۴‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(ج) تکفیر

(۱۹) تکفیر کی توسیع

ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔ ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہوگا اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا (متن کتاب) یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے‘ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا

(حاشیہ)

(تریاق القلوب ص ۱۳۰‘ متن و حاشیہ روحانی خزائن ص ۴۳۲‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام

صفحہ 562

احمد قادیانی صاحب)

دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو ماننے کا دعویٰ کر کے ان کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوۃ تقویٰ طہارت کو بجا نہ لاوے اور ان احکام کو جو تزکیہ نفس ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور اس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرض رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حق دار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان‘ خدا اور اس کے رسول کا سچا تابع دار اور فرماں بردار کہہ سکیں کیوں کہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں اور احکام دیئے ہیں‘ اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیش گوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اس کے نہ ماننے والوں اور اس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔

(حجتہ اللہ تقریر لاہور از مرزا غلام احمد قادیانی صاحب منقول از النبوۃ فی الاسلام

ص ۲۱۵-۲۱۴‘ مولفہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور)

میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے۔ گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے۔ وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے۔ کیونکہ جس امر کو اس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اس کو رد کر دیا۔

(تحفۃ الندوہ ص ۴‘ روحانی خزائن ص ۹۵‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیوں کہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات میں

صفحہ 563

مسیح ابن مریم کو ان نبیوں میں دیکھ آیا ہوں جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں اور یحییٰ شہید کے پاس دوسرے آسمان میں ان کو دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔ اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر خسوف کسوف رمضان میں ہوا اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے۔ تو وہ مومن کیوں کر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افترا کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔

(حقیقت الوحی مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ص ۱۴۳‘ روحانی خزائن ص ۱۴۸‘

ج ۲۲)

کفر دو قسم پر ہے۔ اول ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ۱۷۹‘ روحانی خزائن ص ۱۸۵‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ رسالہ الذکر الحکیم نمبر ۴‘ ص ۲۴‘ مرتبہ

ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب منقول از اخبار الفضل مورخہ ۱۵ جنوری ۱۹۳۵ء تذکرہ ص ۶۰۷‘

ط ۴)

صفحہ 564

جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔

(الہام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد نہم

ص ۲۷‘ مجموعہ اشتہارات ص ۲۷۵‘ ج ۳‘ تذکرہ ص ۳۳۶‘ ط۴)

پس نہ صرف اس کو جو آپ (مرزا) کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعویٰ کو نہیں مانتا کافر قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے۔ کافر قرار دیا گیا ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۶‘ نمبر ۴‘ اپریل

۱۹۱۱ء منقول از عقائد احمدیہ ص ۱۰۸ مولفہ میر مدثر شاہ صاحب قادیانی لاہوری)

کل جو مسلمان حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا‘ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

(آئینہ صداقت‘ ص ۳۵‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔ کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے لا نفرق بین احد من رسلہ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔

(نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ‘ ص ۲۷۵-۲۷۴‘ مولفہ محمد فضل خان صاحب قادیانی)

ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ۱۱۰‘

نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۲۰) اصول تکفیر

صفحہ 565

ایک دن نماز عصر کے بعد خود جناب خلیفہ (میاں محمود احمد) صاحب سے اس بارہ میں میری گفتگو ہوئی کہ وہ غیر احمدیوں کی کیوں تکفیر کرتے ہیں اس گفتگو کا خلاصہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔

خاکسار: کیا یہ صحیح ہے کہ آپ غیر احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔

خلیفہ صاحب: ہاں یہ درست ہے۔

خاکسار: اس تکفیر کی بنا کیا ہے کیا وہ کلمہ گو نہیں ہیں۔

خلیفہ صاحب: بے شک وہ کلمہ گو ہیں لیکن ہمارا اور ان کا اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔ مسلم کے لئے توحید پر‘ تمام انبیاء پر‘ ملائکہ پر‘ کتب آسمانی پر ایمان لانا ضروری ہے اور جو ان میں سے ایک بھی نبی اللہ کا منکر ہو جائے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ السلام تک تمام انبیاء کو مانتے ہیں لیکن صرف رسول اکرم کی رسالت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے مطابق غیر احمدی مرزا صاحب کی نبوت سے منکر ہو کر کفار میں شامل ہیں۔ اللہ کی طرف سے ایک مامور آیا۔ جس کو ہم نے مان لیا اور انہوں نے نہ مانا۔

(مضمون عبدالقادر صاحب متعلم جامعہ ملیہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰‘ نمبر ۹۹‘

ص ۸-۹‘ مورخہ ۲۱ جون ۱۹۲۳ء)

(۲۱) جزو ایمان

ہمارے نزدیک مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔ کیونکہ آپ کے انکار کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار مستلزم ہے۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔

”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا“۔

(حقیقت الوحی‘ ص ۱۶۳‘ روحانی خزائن‘ ص ۱۶۸‘ ج ۲۲)

پس جب کہ مسیح موعود کے انکار سے خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار لازم ہے۔ تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں خود مسیح موعود کا اقرار آ جاتا ہے۔ اس لئے جو شخص مسیح موعود علیہ السلام کا منکر ہو کر منہ سے لا الہ الا اللہ

صفحہ 566

محمد رسول اللہ کہتا رہے، وہ اسی طرح مسلمان نہیں ہو سکتا، جس طرح کوئی شخص کلمہ طیبہ کا اقرار کرتا رہے مگر ساتھ ہی گزشتہ انبیاء علیہم السلام میں سے بعض یا تمام یا دیگر ایمانیات کا منکر رہے۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۹ جون ۱۹۲۶ء نمبر ۱۲۲ جلد ۱۴)

(۲۲) کیوں کافر

اس کی وجہ کہ غیر احمدی کیوں کافر ہیں۔ قرآن کریم نے بیان کی ہے وہ اصل جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔ اس سب کا انکار یا اس کے کسی ایک حصہ کے نہ ماننے سے کافر ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا انکار کفر ہے۔ سب نبیوں کا یا نبیوں میں سے ایک کا انکار کفر ہے۔ کتب الٰہی کا انکار کفر ہے۔ ملائکہ کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے وغیرہ۔ ہم چونکہ حضرت مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور

مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶، ۲۹ جون ۱۹۲۲ء جلد ۹، نمبر ۱۰۱، ۱۰۲، ص ۶)

(۲۳) دو بڑے کافر

اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں دو شخصوں کو سب سے بڑا کافر بیان فرمایا ہے۔ اول وہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے۔ مثلاً کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام کیا ہے۔ حالانکہ کہ درحقیقت اسے کوئی الہام نہیں ہوا۔ دوسرے وہ جو خدا کے کلام کی تکذیب کرتا ہے۔ جیسے فرمایا۔ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب با یاتہ آیت میں ظالم سے کافر مراد ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے بھی ظالم کے یہی ہی معنی کئے ہیں۔ دیکھو حقیقت الوحی ص ۶۳، حاشیہ) اب مسیح موعود کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتری علی اللہ کے

صفحہ 567

طور پر دعویٰ کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں نہ صرف وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خدا سچ مچ اس سے ہم کلام ہوتا تھا اور اس صورت میں بلا شبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔

(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص

۱۴۳‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۲۴) صاف ظاہر

پھر (مرزا صاحب کا) ایک اور الہام ہے جس میں انکار کی گنجائش باقی رہتی ہی نہیں سوائے اس کے کہ الہام کا انکار کر دیا جائے اور وہ الہام یہ ہے قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین (دیکھو حقیقت الوحی ص ۹۲)...... خدا مسیح موعود (مرزا صاحب) کو حکم دیتا ہے کہ تو کہہ اے کافرو میں صادقین میں سے ہوں۔ یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس الہام میں مخاطب ہر ایک ایسا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا کیوں کہ فقرہ انی من الصادقین اس کی طرف صاف طور پر اشارہ کر رہا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر ایک جو آپ کو (یعنی مرزا صاحب کو) صادق نہیں جانتا اور آپ کے دعویٰ پر ایمان نہیں لاتا‘ وہ کافر ہے۔

(کلمۃ الفصل‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز

قادیان ص ۱۴۳‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۲۵) آیت کے ماتحت

پس اس آیت کے ماتحت ہر ایک شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کو نہیں مانتا‘ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ فتویٰ ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے ہے‘

صفحہ 568

جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لئے اولئک ھم الکافرون حقا۔ فرمایا ہے۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز، صفحہ ۱۱۰‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

ہاں اگر اس بات کا ثبوت چاہو کہ حضرت مسیح موعود اپنے مخالفین کو اس آیت کے ماتحت سمجھتے تھے یا نہیں‘ تو الحکم نمبر ۳۰‘ جلد ۴-۱۹۰۰ء پڑھ لو‘ ساری حقیقت کھل جائے گی۔ وہاں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا ایک خطبہ درج ہے۔ جو مولوی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کے سامنے پڑھا مولوی صاحب موصوف نے اس خطبہ کو اولئک ھم الکافرون حقا والی آیت سے ہی شروع کیا اور احمدیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تم مسیح موعود کو ہر ایک امر میں حکم نہیں ٹھہراؤ گے اور اس پر ایمان نہیں لاؤ گے۔ جیسے صحابہ نبی کریم پر لائے۔ تو تم بھی ایک گونہ غیر احمدیوں کی طرح اللہ کے رسولوں میں تفریق کرنے والے ہو گے۔ حضرت مولوی صاحب مرحوم نے اس خطبہ میں یہ بھی کہا کہ اگر میں اس خیال میں غلطی پر ہوں تو میں التجا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود مجھے میری غلطی سے مطلع فرما دیں۔ مگر حضرت صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ مولوی صاحب آپ کو نماز جمعہ کے بعد ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ تو آپ نے (یعنی مرزا صاحب) نے فرمایا کہ یہ بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔“ اور فرمایا کہ ”یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہوگئے ہیں۔“

(دیکھو اخبار الحکم قادیان نمبر ۳۰ جلد ۴ ‘ ۱۹۰۰ء)

(کلمتہ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، ص ۱۴۷‘ ۱۴۸‘

نمبر ۴‘ جلد ۱۴)

(۲۶) خدا کی قسم

کیا خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) کو مہدی جاننے والے اپنے مہدی کی بات ماننے کو تیار ہیں۔ وہ سنیں کہ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا ایک لعنتی آدمی کا کام ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے حضرت خلیفہ

صفحہ 569

المسیح خلیفہ اول کو اولئک ھم الکافرون حقا والی آیت کو غیر احمدیوں پر چسپاں کرتے ہوئے اور رسل کے لفظ میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کو شامل کرتے ہوئے سنا ہے۔ مجھے ایک عرصہ گزر جانے کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح اول کے الفاظ یاد نہیں ہیں مگر مجھے یہ اچھی طرح یاد ہے کہ آپ نے مذکورہ بالا آیات کو غیر احمدیوں پر چسپاں کیا بلکہ سننے والوں نے اس دن تعجب بھی کیا تھا کہ حضرت مولوی صاحب نے خلاف عادت صریح الفاظ میں مسئلہ کفر کی تصدیق فرمائی ورنہ عام طور پر مولوی صاحب کی عادت تھی کہ اگر کوئی آپ سے اس مسئلہ کے متعلق سوال کرتا تو آپ یہ کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے کہ تمہیں دوسرے کے کفر و اسلام سے کیا تم اپنی فکر کرو۔

(’کلمتہ الفصل‘ مصنفہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘

ص ۱۲۰‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۲۷) پھر کس طرح

پھر ہم کس طرح مان لیں کہ خدا تو ایک شخص کو کہے کہ انت منی بمنزلہ ولدی۔ انت منی بمنزلتہ توحیدی و تفریدی لیکن وہ شخص ایسا معمولی ہو کہ اس کا ماننا اور نہ ماننا قریباً قریباً برابر ہو۔ پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص کے انکار سے انسان یہودی بن کر مغضوب علیہم بن جاوے۔ لیکن اس کو ماننا ایمانیات میں سے نہ ہو۔ پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص پکار پکار کر کہے ۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

لیکن ابن مریم کا منکر تو کافر ہو اور غلام احمد (قادیانی) کا منکر کافر نہ ہو اور پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ بار بار اپنے الہام میں رسول اور نبی کہہ کر پکارے لیکن وہ لا نفرق بین احد من رسلہ کے لفظ رسل میں شامل نہ ہو اور اس کا منکر اولئک ھم الکافرون حقا سے باہر ہو۔

(’کلمتہ الفصل‘ مصنفہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘

ص ۱۴۷‘ نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

صفحہ 570

(۲۸) موٹی سی بات

پس اب کوئی شخص مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی ظلی نبوت کا انکار کر دے تو کر دے مگر آپ کو ظلی نبی مان کر پھر اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آپ کے منکرین کی نسبت وہی فتویٰ ہے، جو قرآن کریم نے انبیاء کے منکرین کے متعلق بیان فرمایا ہے۔ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ جب مسیح موعود (مرزا صاحب) خدا کا ایک رسول اور نبی ہے تو پھر اس کو وہ سارے حقوق حاصل ہیں۔ جو اور نبیوں کو ہیں اور اس کا انکار ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے کسی اور نبی کا انکار۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص مسیح موعود (مرزا صاحب) کا انکار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں تفریق کرتا ہے۔ یعنی باقی رسولوں کو تو مانتا ہے۔ مگر مسیح موعود (مرزا صاحب) کو نہیں مانتا اس لئے اس کی طرف یہ قول منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ لا نفرق بین احد من رسلہ کیونکہ اس نے مسیح موعود کے انکار سے رسولوں میں تفریق کر دی پس اس لئے وہ حق نہیں رکھتا کہ اسے مومن کے نام سے پکارا جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے لوگوں کو، جو خدا کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے، پکا کافر کہا ہے۔

(کلمۃ الفصل، مصنفہ بشیر احمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، ص ۱۱۹، نمبر ۳،

جلد ۱۴)

(۲۹) ہتک اور استہزاء

آنحضرت کی بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے آنحضرت کی بعث اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعث ثانی کے کافر کفر میں بعث اول کے کافروں سے بہت بڑھ کر ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳، ص ۱۰، مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء)

پس ان معنوں میں مسیح موعود (جو آنحضرت کے بعث ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے)

صفحہ 571

کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا گویا آنحضرت کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۹ جون ۱۹۱۵ء)

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا صاحب) کا اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے الہام میں احمد نام رکھا ہے۔ اس لئے آپ کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ احمد کے منکر کے لئے قرآن میں لکھا ہے واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔

(کلمتہ الفصل‘ مصنفہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘ ص ۱۴۱‘

نمبر ۳‘ جلد ۱۴)

(۳۰) برابری

پھر اپنے رسالہ (کفر و اسلام) کے صفحہ ۶ پر مولوی محمد علی صاحب (قادیانی لاہوری) لکھتے ہیں ”مسیح موعود کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے۔ مگر وہ دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا۔ جب تک لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کرے اگر مولوی صاحب موصوف کا واقعی یہ ہی اعتقاد ہے۔ تو پھر ان کے نزدیک یہ فقرہ بھی درست ہونا چاہیے کہ ”نبی کریم کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے۔ مگر وہ دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک کہ لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کرے۔“

(کلمتہ الفصل مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز ص ۱۸۳‘ نمبر ۴‘ جلد ۱۴)

(۳۱) ایک اولوالعزم نبی

اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے منکر ہیں اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبین کی رسالت و نبوت کا انکار کر دیا ہے۔ تو یقیناً یقیناً غیر احمدی بھی مستحق تولیت بیت المقدس نہیں۔ کیونکہ یہ بھی اس زمانہ میں مبعوث ہونے والے خدا کے ایک اولوالعزم نبی کے منکر اور مخالف ہیں اور اگر کہا جائے حضرت مرزا

صفحہ 572

صاحب کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا کن کے نزدیک؟ اگر جواب یہ ہو کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور مسیحیوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کے فیصلہ سے ایک غیر نبی ٹھہر جاتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم من جانب اللہ نبی اور رسول نہ تھے۔ پس اگر ہمارے غیر احمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں‘ تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان‘ مورخہ ۷ نومبر ۱۹۲۱ء جلد ۹‘ نمبر ۳۶‘ ص ۴)

(۳۲) عظیم الشان نبی اللہ رسول اللہ

جری اللہ فی حلل الانبیاء سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت احمد علیہ السلام ایک عظیم الشان نبی اللہ و رسول اللہ ہیں اور ان کا انکار موجب غضب الٰہی اور کفر ہے۔

(رسالہ احمدی نمبر ۷۵'۲‘ بابت ۱۹۱۹ء موسومہ النبوۃ فی الالہام۔ ص ۱۰‘ مولفہ قاضی محمد

یوسف صاحب قادیانی)

(۳۳) لازمی شرط

خدا تعالیٰ نے حضرت (مرزا صاحب) کو فرمایا کہ جس کو میرا محبوب بننا منظور اور مقصود ہو اس کو تیری اتباع کرنی اور تجھ پر ایمان لانا لازمی شرط ہے ورنہ وہ میرا محبوب نہیں بن سکتا‘ اگر تیرے منکر اس تیرے فرمان کو قبول نہ کریں۔ بلکہ شرارت اور تکذیب پر کمر بستہ ہوں تو ہم سزا دہی کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ان کافروں کے واسطے ہمارے پاس جہنم موجود ہے جو قید خانہ کا کام دے گا۔

یہاں صرف حضرت احمد علیہ السلام کے منکر اور اطاعت و تبعیت میں نہ آنے والے گروہ کو کافر قرار دیا ہے اور جہنم ان کے لئے بطور قید خانہ قرار دیا ہے۔

(رسالہ احمدی نمبر ۷۵'۲‘ بابت ۱۹۱۹ء موسومہ النبوۃ فی الالہام ص ۴۰‘ مولفہ قاضی محمد

صفحہ 573

یوسف صاحب قادیانی)

(۳۴) حیران

لکھنؤ میں ہم (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا کہ (وہ) آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں۔ جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں میں نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقع میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہو گیا۔

(انوار خلافت‘ ص۹۴‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۳۵) تعجب کی بات

یہ تو احمدی غیر احمدی کا سوال ہوا۔ اب لیجئے قادیانی احمدی ایسے احمدی کو جو ان کی جماعت سے نکل کر لاہوری جماعت میں شامل ہو جائے مرتد کہتے ہیں۔ حالانکہ اصطلاحی لحاظ سے مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام چھوڑ دے۔

جب ایک ایسی جماعت کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود کو بروزی اور ظلی نبی بھی مانتی ہے۔ قادیانی احمدیوں کا یہ سلوک ہے تو ان کا سلوک غیر احمدیوں یا احرار کے ساتھ تو کہیں بدتر ہوگا اور اگر اس کے جواب میں احرار قادیانی حضرات (وہ تو لاہوریوں کو بھی اسی لپیٹ میں لاتے ہیں) کو کافر سمجھیں اور ان سے وہی سلوک روا رکھیں جو خود احرار سے رکھا جاتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تعجب کی بات ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح جلد ۲۴ نمبر ۴۹ مورخہ ۳ اگست ۱۹۳۶ء)

(۳۶) مفتی صاحب کا فتویٰ

اخبار بدر پرچہ ۸ مارچ ۱۹۰۶ء میں ملک مولا بخش صاحب آف گورالی کے اس سوال کا کہ ”کیا حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود نہ ماننے والے کو کافر ماننا چاہیے۔“ حضرت مفتی (محمد صادق) صاحب (قادیانی) یہ جواب لکھتے ہیں:

صفحہ 574

"خدا تعالیٰ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا شرائط اسلام میں داخل ہے۔ ایک شخص آدم سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سب پر ایمان لاتا ہے۔ درمیان میں سے ایک رسول کو (بالفرض مسیح ابن مریم ہی سہی) نہیں مانتا کہتا ہے وہ تو کافر تھا۔ بتلاؤ وہ شخص یہودی کہلائے گا یا مسلمان؟ حضرت مرزا صاحب بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں جو خدا کے رسولوں میں سے ایک کا انکار کرتا ہے۔ اس کا کیا حشر ہوگا آپ ہی بتلائے مگر انصاف شرط ہے۔"

کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی الفاظ اس بات کے ثبوت میں ہو سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان (الفاظ کا) نویسندہ واقعی اور حقیقی معنوں میں نبی اور رسول یقین کرتا ہے۔

(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات

کے متعلق جوابات پر نظر ص ۱۴۳)

(۳۷) میرے نزدیک حق نہ تھا

میرے نزدیک غیر احمدی کافر ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان باجلاس سب جج عدالت گورداسپور مندرجہ

اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶۔۲۹ جون ۱۹۲۲ء، جلد ۹، نمبر ۱۰۱، ص ۶)

جن بعض لوگوں نے ہم پر کفر کا فتویٰ دیا ہے وہ فتویٰ غلط ہے۔ ان کو کوئی حق نہ تھا کہ وہ ہمیں کافر کہتے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور مندرجہ

اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶۔۲۹ جون ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۱۰۱۔ ۱۰۲ ص ۷)

(۳۸) ہم اور وہ

چودھری صاحب (ظفر اللہ خان صاحب قادیانی) کی بحث تو صرف یہ تھی کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ ہم کو کافر قرار دینا غلطی ہے۔ باقی غیر احمدی کافر ہیں یا نہیں اس کے متعلق عدالت ماتحت میں بھی احمدیوں کا یہی جواب تھا کہ ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی چودھری صاحب نے اسی کی تائید کی۔

صفحہ 575

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰ نمبر ۲۱ ص ۷ مورخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۲۲ء)

میں نے بتا دیا کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں۔ غیر احمدی نبی نہیں مانتے وہ ہمیں کافر محض جوش نفس سے کہتے ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور مندرجہ

اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶ / ۲۹ جون ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۱۰۱/ ۱۰۲ ص ۷)

(۳۹) چڑنے کا فلسفہ

اگر ہم غیر احمدیوں کے نزدیک جھوٹے ہیں اور کسی کو کافر کہتے ہیں تو اسے برا کیوں لگتا ہے۔ دیکھو عیسائی ہمیں کافر کہتے ہیں، لیکن ہم ان کے اس کہنے سے نہیں چڑتے۔ کیوں کہ ہم انہیں سچا نہیں سمجھتے۔ پس اگر غیر احمدی ہمارے کافر کہنے سے چڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہم کو سچا سمجھتے ہیں ہم ان کو کہتے ہیں کہ جب وہی اسلام ہے۔ جو ہمارے پاس ہے تو تم اسے قبول کر لو۔ پھر ہم تمہیں کافر نہیں کہیں گے، بلکہ اپنا بھائی سمجھیں گے۔ (قادیانی صاحبان جو کافر کہلانے سے چڑتے ہیں، خود بھی مسلمانوں کی سچائی تسلیم کرتے ہیں۔۔۔ للمؤلف)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۸۶ مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۱۶ء)

(و) نماز و حج

(۴۰) نماز کی ممانعت

صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو، بہتری اور نیکی اس میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے، دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منھ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لیے ہے۔ تم اگر ان میں رلے ملے جا رہے ہو تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا، پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۵ نمبر ۲۹ منقول از

صفحہ 576

کتاب منظور الہٰی ص ۲۶۵ مولفہ منظور الہٰی صاحب قادیانی لاہوری)

میرا وہی مذہب ہے جو میں ہمیشہ سے ظاہر کرتا ہوں کہ کسی غیر مبائع شخص کے پیچھے خواہ وہ کیسا ہی ہو اور لوگ اس کی کیسی ہی تعریف کرتے ہوں نماز نہ پڑھو۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی چاہتا ہے اگر کوئی شخص متردد یا مذبذب ہے تو وہ بھی مکذب ہی ہے۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ اس طرح احمدی میں اور اس کے غیر میں تمحیص اور تمیز کر دے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱۔ ۴۲ مورخہ

۳۰ نومبر و ۱۰ دسمبر ۱۹۰۴ء و اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۸ اگست ۱۹۱۷ء)

(۴۱) یاد رکھو

پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہیے کہ تمہارا ہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ پس تم ایسا ہی کرو، کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔

(اربعین نمبر ۳ ص ۳۴ حاشیہ روحانی خزائن ص ۴۱۷ ج ۱۷ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴۲) حرام قطعی حرام

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف اور صریح الفاظ میں لکھا ہے کہ آپ کو خدا نے بتایا ہے کہ احمدیوں پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اگر کوئی احمدی ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے کسی کے پیچھے نماز پڑھے گا۔ تو اس کے عمل حبط ہو جائیں گے اور اس کو پتہ بھی نہیں لگے گا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء)

(۴۳) نہیں نہیں نہیں

صفحہ 577

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے‘ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں‘ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔ جائز نہیں جائز نہیں۔

(انوار خلافت مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص ۸۹)

(۴۴) ہرگز نہیں

بہت سے غیر احمدی لوگ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ احمدی (قادیانی) ہرگز غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور مندرجہ

اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶/۲۹ جون ۱۹۲۲ء‘ جلد ۹‘ نمبر ۱۰۱۔۱۰۲ ص ۷)

(۴۵) سوال

(مرزا صاحب سے) سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں یا نہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا صاحب) نے فرمایا کہ پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو‘ پھر اگر تصدیق نہ کرے‘ نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے‘ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔

(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۶ مرتبہ محمد منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۴۶) فرض

ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔

(انوار خلافت ص ۹۰ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۴۷) کسی قسم کے

ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ کسی قسم کے غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز

صفحہ 578

نہیں۔

(منکرین خلافت کا انجام ص ۸۲ مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی)

(۴۸) دکھاوے کی نماز

۱۹۱۴ء میں، میں سید عبدالحئی صاحب عرب، مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گیا۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب بھی براہ راست حج کو گئے۔ جدہ میں ہم مل گئے اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے۔ پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آگیا۔ میں ہٹنے لگا مگر راستے رک گئے تھے۔ نماز شروع ہو گئی تھی۔ نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نور الدین صاحب) کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے۔ اس پر میں نے نماز شروع کر دی، پھر اسی جگہ ہمیں عشاء کا وقت آگیا، وہ نماز بھی ادا کی گھر جا کر میں نے عبدالحئی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کی تھی، اب آؤ خدا تعالیٰ کی نماز پڑھ لیں۔ جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرا لیں..... اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں رہے یا گھر پر نماز پڑھتے رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کرا کے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو مسجد کعبہ میں چاروں مذہبوں کے سوا دوسروں کو الگ جماعت کی عام طور پر اجازت نہیں مگر ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا بلکہ پیچھے رہتے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہو جاتی تھی (کسی کو کیا معلوم کہ آپ مسلمانوں سے جدا ہو کر قادیانی نماز پڑھتے تھے، بڑی جماعت کے بعد عام طور پر نماز کا سلسلہ جاری رہتا ہے خواہ فرداً فرداً خواہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ، تاہم قادیانی صاحبان اس کو بڑا فضل سمجھتے ہیں کہ وہاں کسی کو ان کا پتہ نہ لگا۔۔۔ للمؤلف)

چوں کہ جناب نانا صاحب کو خیال تھا کہ ان کے اس فعل سے (یعنی مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے) کوئی فتنہ ہوگا۔ انہوں نے قادیان آکر حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے یہ سوال پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔۔۔ ایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس شروع کر دیا۔ آپ نے فرمایا۔ ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لیے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلا کا ڈر ہے وہ

صفحہ 579

ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں تو غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں اور پھر آ کر دہرا لیں۔ سو الحمد للہ کہ میرا یہ فعل جس طرح حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کے مطابق ہوا اسی طرح خلیفہ وقت کے منشا کے ماتحت ہوا (مکہ معظمہ تو کیا کہنا بعض سر بر آوردہ قادیانی صاحبان کے متعلق تو معتبر روایت ہے کہ کوئی موقع پیش آئے تو وہ مکہ مسجد (حیدر آباد) میں بھی مسلمانوں کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ واقعی خلیفۃ المسیح کا فتویٰ بہت ضروری اور کار آمد ہے۔۔۔ للمولف)

(آئینہ صداقت ص ۹۲ - ۹۱ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۴۹) حج باطل

مکرمی حضرت ابوبکر یوسف جمال جدہ کے ایک مشہور تاجر اور ہماری جماعت کے ایک مخلص بزرگ ہیں۔ وہ آج کل قادیان میں آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مفتی جماعت احمدیہ کی خدمت میں ایک استفتا پیش کیا، اب وہ استفتا مع فتویٰ جناب مفتی صاحب بغرض اشاعت بھیجتے ہیں۔ امید ہے کہ احباب کے علم میں اس سے اضافہ ہوگا۔ (عرفانی)

سوال :۔ ایک مسلمان نے حج فرض ادا کر لیا ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی، پھر دوبارہ حج کرنے کے لیے احرام باندھتا ہے، یعنی بعد بیعت کے یہ دوبارہ حج کی نیت نفل کی کرے یا حج فرض کی۔

الجواب : سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ سے پہلے جس نے حج فرض ادا کیا ہے۔ اس کا فرض ادا ہو گیا اور اس شخص کے احمدی ہونے کے بعد اس پر حج فرض لازم نہیں آتا کیوں کہ وہ ادا کر چکا ہے اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کے بعد ایک وہ ابتدائی زمانہ ہے کہ جس میں نہ تو دعوے کی پوری اشاعت ہوئی ہے اور نہ اپنے ملک کے لوگوں پر اتمام حجت ہوا ہے اور وہی زمانہ ہے کہ جس میں حضور نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا اور نہ ہی ان کو کافر قرار دیا ہے۔ تو اگر کسی نے اس ابتدائی زمانہ میں حج فرض ادا کیا ہے تو اس کا بھی حج فرض ادا ہو گیا۔ لیکن جس نے اس زمانے میں حج ادا کیا ہو کہ آپ کا دعویٰ پوری

صفحہ 580

طرح شائع ہو چکا اور ملک کے لوگوں پر عموماً اتمام حجت کر دیا گیا اور حضور نے غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرما دیا تو پھر اس کا حج فرض ادا نہیں ہوا، لہٰذا احمدی ہونے کے بعد بھی اس کی حالت ایسی ہو کہ جس وجہ سے حج فرض ہوتا ہے تو اس کو حج ادا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس نے جو پہلے حج کیا ہے۔ وہ ادا نہیں ہوا۔

(اخبار الحکم قادیان جلد ۷ نمبر ۲۷ مورخہ ۷؍ مئی ۱۹۰۳ء)

(۵) جنازہ

(۵۰) اوائل کی بات

حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کسی کافر کا جنازہ پڑھا تو وہ ابتدائے زمانہ اسلام کی بات تھی جب کہ تبلیغ پورے طور پر نہ ہو چکی تھی بعد میں مشرکین کو حرم میں آنے کی بھی اجازت نہ رہی۔ اگر حضرت مسیح موعود نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منکرین کے جنازہ کی اجازت دی تو وہ بھی اوائل کی بات تھی۔ بعد میں اگر کسی نے اس فتویٰ کو جاری سمجھا تو وہ اس کی اجتہادی غلطی تھی۔ جس کو حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) نے صاف حکم کے ساتھ رد کر دیا کہ غیر احمدی کا جنازہ ہرگز جائز نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۱۰ مورخہ ۲۹؍ اپریل ۱۹۱۶ء)

(۵۱) محض اس لیے

حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد صاحب) مرحوم کا جنازہ محض اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۲۱ء جلد ۹ نمبر ۴۷)

(۵۲) ایسی جگہ

اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تک تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہوا ہو اور اس کے مرچکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔ اس کے

صفحہ 581

متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں، چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول اللہ اور نبی کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی، اس لئے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۱۳۶ ص ۸ مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۱۵ء)

(۵۳) جو لوگ

میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، اس کا جنازہ جائز نہیں، کیوں کہ میرے نزدیک وہ احمدی نہیں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ غیر احمدیوں کو لڑکی دے دیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کئے بغیر فوت ہو جائیں۔ ان کا جنازہ بھی جائز نہیں، غیر مبائعین (لاہوری جماعت) کے گروہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا صاحب) کو کسی قسم کی بھی نبوت حاصل نہیں تھی اور وہ نبوت کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود کے الفاظ کو غلطی پر محمول کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی احمدی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کا بھی جنازہ جائز نہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب قادیانی خلیفہ قادیان کا مکتوب مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ

۱۳ اپریل ۱۹۲۶ء نمبر ۱۰۲ جلد ۱۳ ص ۱۲)

(۵۴) دعائے مغفرت کی ممانعت

سوال: ۱۔ کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہو یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے۔ جواب: غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں۔

(روشن علی‘ محمد سرور‘ قادیان)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۵۹ مورخہ ۷ فروری ۱۹۲۱ء)

قانون یہ ہے کہ :

سے خارج ہو جاتا ہے۔

صفحہ 582

نہیں‘ احمدیوں کی پوزیشن یہ ہے کہ:

حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی تھے۔

خارج ہے۔ اس کے لیے دعائے استغفار جائز نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۷؍ اکتوبر ۱۹۲۱ء جلد ۹ نمبر ۳۰ ص ۳)

(۵۵) تین فتوے

ایک شخص کے خط کے جواب میں حضور میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے لکھوایا:

فائدہ بلکہ ڈر ہے کہ بد نتیجہ پیدا کرے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۹ نمبر ۸۶ مورخہ ۴؍ مئی ۱۹۲۲ء)

(۵۶) معصوم بچہ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر مبایع (لاہوری جماعت) کہتے ہیں۔ غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا۔

اس کے متعلق (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا‘ اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳۲

ص ۶ مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء)

صفحہ 583

اب ایک اور سوال یہ رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے‘ اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا‘ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے‘ شریعت وہی مذہب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے پھر میں کہتا ہوں بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا‘ اس کو جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے۔ اس کے پس ماندگان کے لیے اور اس کے پس ماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں۔ اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔ باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت (مرزا) صاحب کو تو سچا مانتا ہے‘ لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی‘ یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور ایسی حالت میں مر گیا ہے۔ اس کو ممکن ہے‘ خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے۔ لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہیے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔

(انوار خلافت ص ۹۳ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۵۷) قبرستان کا قصہ

حضرت (مرزا) صاحب نے تو کفار کے بچوں کے متعلق یہ فرمایا تھا مگر قادیانی مولف صاحب (یعنی محمد افضل خان صاحب قادیانی مولف نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ) نے عنوان میں غیر احمدی خورد سال بچے سے لے کر دوسرے مسلمانان غیر از جماعت کے بچوں کو بھی اس میں شامل فرما لیا اور ایک لحاظ سے یہ درست بھی ہے کیونکہ غیر احمدی جب ان کے نزدیک سب بلا استثنا کافر ہیں تو ان کے سال چھ مہینے کے بچے بھی کافر ہوئے اور جب وہ کافر ہوئے تو ان کو اسلامی قبرستان یا احمدی قبرستان میں دفن کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہوا کہ جب غیر احمدی (یعنی مسلمان) جواب میں احمدیوں (یعنی قادیانیوں) کو کافر سمجھتے ہیں تو وہ احمدی بچوں کو اسلامی قبرستان میں کیسے دفن کرنے

صفحہ 584

دیں گے..... قادیانی بے شک تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان کے بچوں کا جنازہ تک ناجائز قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کی کوئی مثال اس وقت تک سامنے نہیں، تاہم وہ بھی اپنے قبرستان میں کسی مسلمان بچے کی نعش دفن کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح جلد ۲۴ نمبر ۲۹ مورخہ ۳؍ اگست ۱۹۳۶ء)

(۵۸) فکر پیدا ہوئی

برادرم نیاز محمد احمدی سیکرٹری انجمن احمدیہ منٹگمری لکھتے ہیں۔ میں نے اپنی ہمشیرہ سے کہا۔ مسلمان بن جاؤ خلیفہ ثانی (میاں محمود احمد صاحب) کے ہاتھ پر ورنہ میں تو جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔ تب اسے فکر پیدا ہوئی وہ سمجھانے پر سمجھ گئی اور اب وہ حضرت مرزا صاحب کو اس زمانے کا نبی اور رسول مانتی ہے اور بیعت کی درخواست کرتی ہے۔

(اخبار الفضل قادیان، ج ۲، نمبر ۱۴۹، ص ۶-۷، مورخہ ۲۰؍ اپریل ۱۹۱۵ء)

(۵۹) احکام شرعی کا پاس

(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ۶؍ اکتوبر ۱۹۱۷ء) مجھے قادیان کی طرف آئے ہوئے چند دن بٹالہ میں بھائی فضل حق خاں صاحب رئیس بٹالہ کے ہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ اتفاقاً ان ہی دنوں ان کے والد جو غیر احمدی تھے، اسہال کبدی سے بیمار ہو کر فوت ہو گئے۔ بھائی فضل حق خان صاحب نے احمدی احباب کو ایسے موقع پر نہ بلایا تاہم ہم چار پانچ آدمی جنازہ کے موقع پر موجود تھے، اور تنہا ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ غیر احمدیوں کی اچھی خاصی تعداد جنازہ کے لیے جمع ہو گئی تھی۔ اس مجمع میں سے بھائی فضل حق خان صاحب کے چچا جو ان کے خسر بھی تھے۔ ان کے پاس آئے انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ جنازہ نہ پڑھیں علیحدہ ہی پڑھ لیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ..... میں امام الوقت کے احکام کو بجا لاؤں گا۔ اور جنازہ نہیں پڑھوں گا۔ میں نے ان کی زندگی ہی میں کہہ دیا تھا کہ اگر آپ احمدی نہ ہوں گے تو آپ

صفحہ 585

کا جنازہ ہم میں سے تو کوئی بھی نہیں پڑھے گا۔ پھر فاتحہ خوانی کی رسم کو آپ نے بالکل ادا نہیں کیا بلکہ جو آیا اسے متانت سے سمجھاتے ہوئے منع کر دیا.... میں امید کرتا ہوں کہ اس قابل رشک نمونہ پر ہر ایک احمدی دوست عمل کر کے ثواب دارین حاصل کرے گا۔

(ایک قادیانی صاحب کی مراسلت مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخہ ۶؍

اکتوبر ۱۹۱۷ء)

(۶۰) زندہ باش

تعلیم الاسلام ہائی اسکول (قادیان) میں ایک لڑکا پڑھتا ہے، چراغ الدین نام حال میں جب وہ اپنے وطن سیال کوٹ گیا تو اس کی والدہ صاحبہ فوت ہو گئیں متوفیہ کو اپنے نوجوان بچے سے بہت محبت تھی، مگر سلسلے میں داخل نہ تھیں اس لیے عزیز چراغ الدین نے باوجودیکہ اس کی آنکھیں اشکبار تھیں اور دل غمگین اور وہ تن تنہا غیر احمدیوں میں گھرا ہوا، اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ اپنے اصول اور مذہب پر قائم رہا، شاباش اے تعلیم الاسلام کے غیور فرزند کہ (قادیانی) قوم کو اس وقت تجھ سے غیور بچوں کی ضرورت ہے۔ زندہ باش۔

(اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۲۹‘ ص ۱‘ مورخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۱۵ء)

(و) نکاح

(۶۱) اعلان

یہ اعلان بغرض آگاہی عام شائع کیا جاتا ہے کہ احمدی لڑکیوں کے نکاح غیر احمدی مردوں سے کرنے ناجائز ہیں۔ آئندہ احتیاط کی جایا کرے۔ (ناظر امور عامہ قادیان)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر ۹۷ ص ۸ مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۳۳ء)

(۶۲) زبردست حکم

حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔

صفحہ 586

(برکات خلافت مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص ۷۵)

(۶۳) سخت ناراضگی

حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے‘ جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا‘ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو

صفحہ 587

سوال: کیا جو شخص احمدی کہلاتا ہے، چندہ بھی دیتا ہے، تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود کے حکم صریحی کے خلاف کہ غیر احمدی کو اپنی لڑکی نکاح میں دینا جائز نہیں۔ اپنی لڑکی کا نکاح کر دیتا ہے۔ وہ ایک ہی حکم کے توڑنے سے مسیح موعود کے منکروں سے ہو سکتا ہے۔

جواب: جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے۔ میرے نزدیک وہ احمدی نہیں، کوئی شخص کسی کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا......

سوال: جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھاوے اس کے متعلق کیا حکم ہے۔

جواب: ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے۔ جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔

سوال: کیا ایسا شخص جس نے غیر احمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے۔ دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کر سکتا ہے۔

جواب: ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔

(ڈائری میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۸۸ مورخہ

۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)

(۶۶) تعلیم قرآن

غیر احمدی لڑکی کا نکاح احمدی (قادیانی) لڑکے سے تعلیم قرآن کے مطابق جائز ہے۔ جن بعض لوگوں نے ہم پر کفر کا فتویٰ دیا ہے وہ فتویٰ غلط ہے۔ ان کو کوئی حق نہ تھا کہ وہ ہمیں کافر کہتے۔

احمدی (قادیانی) مردوں سے غیر احمدی عورتوں کا نکاح ہوا ہے۔ ہزاروں غیر احمدی عورتیں احمدیوں کے گھروں میں موجود ہیں۔

اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ غیر احمدی عورتوں کا اس حال میں نکاح ہوا کہ مرد احمدی (قادیانی تھا اور عورت غیر احمدی)

صفحہ 588

کسی احمدی نے احمدیت (قادیانیت) کی حالت میں غیر احمدی سے احمدی (قادیانی) لڑکی کا نکاح نہیں کیا۔ اس سے مراد وہی ہے جو حدیث میں آتا ہے۔ لا یزنی زان حین یزنی وهو مومن بعض احکام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو کرتے وقت انسان ایمان سے نکل جاتا ہے اور اسی طرح یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص احمدیت کو صحیح تسلیم کرتا ہو اور پھر غیر احمدی کو اپنی لڑکی دے دے۔ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا بیان با اجلاس سب جج عدالت گورداسپور مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶/۲۹ جون ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۱۰۱/ ۱۰۲ ص ۷)

(۶۷) اہل کتاب

غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ لا سکتا ہے مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے، مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جا سکتی۔۔۔۔ حضور (مرزا صاحب) فرماتے ہیں:

غیر احمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے، کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے، بلکہ اس میں فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی غیر احمدی کو نہ دینی چاہیے۔ اگر ملے تو لے لو، بے شک لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔ (الحکم ۱۴؍ اپریل ۱۹۲۰ء)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸‘ نمبر ۴۵‘ مورخہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۲۰ء)

(۶۸) نکاح جائز

حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے جواب میں لکھوایا۔

آپ پروفیسر صاحب سے یہ کہیں کہ ہندوستان میں ایسی مشرکات جن سے نکاح ناجائز ہے بہت کم ہیں۔ میجارٹی ایسے لوگوں کی ہے جن کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اس مسئلہ پر عمل کرنے میں زیادہ دقتیں نہیں سوائے سکھوں اور جینیوں، عیسائیوں کی عورتوں اور ان لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر ایمان رکھتے

صفحہ 589

نکاح جائز ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۶۵ ص ۸ مورخہ ۱۸؍ فروری ۱۹۳۰ء)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا : ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ وہ مسلمان ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰ نمبر ۵ ص

۵ مورخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۲۲ء)

(۶۹) سادات کی قدر

حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے بڑی شان دی ہے اور موجودہ سادات کو آپ کی غلامی بلکہ آپ کی خاک پا کو سرمہ بنانا بھی بہت بڑا فخر ہے اور ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو آپ کی غلامی میں داخل نہیں ہوں گے وہ کٹ جائیں گے اور سید نہ رہیں گے، مگر وہ عظمت اور وہ شان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے دل میں تھی۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے سادات سے تعلق کو بڑا فضل قرار دیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جو زمین اچھی ہوگی اس میں پھل بھی اچھے ہی پیدا ہوں گے۔ اگر خراب بھی ہو جائیں تو بھی نیک اور خدا رسیدہ انسان کے ساتھ تعلق ہو جائے تو وہ زیادہ ترقی کرسکتے ہیں۔ کیونکہ خدا نے انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کی وجہ سے فطرت اچھی دی ہوئی ہے۔

(خطبہ نکاح از مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸

نمبر ۶۱ مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۲۱ء)

(۷۰) کفر کا فتوے

ایک خط کے جواب میں (میاں محمود احمد صاحب نے) لکھوایا جو شخص اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور ایسے کام جن کی وجہ سے انسان احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے وہ نہیں کرتا تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں ہے۔ خارج از احمدیت ہونے سے میری مراد ایسے امورات ہیں کہ جس کی وجہ سے کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے، چنانچہ غیر احمدی کو لڑکی کا رشتہ دینا بھی اس قسم میں سے ہے۔

صفحہ 590

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۴؍ مئی ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۸۶)

(۷۱) فیصلہ کی تخصیص

اگر کوئی احمدی غیر احمدی کا جنازہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیر احمدی کو لڑکی دیتا ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے لکھوایا اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہیے۔ فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہو سکتا لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے۔ آپ کا کام نہیں۔

(مکتوب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷۔۲۰ اپریل ۱۹۲۲ء جلد نمبر ۸۱۔۸۲)

ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں حضرت خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) ایک مکتوب میں لکھاتے ہیں:

اگر کوئی احمدی غیر احمدی کا جنازہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیر احمدی کو لڑکی دیتا ہے تو اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہیے فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے آپ کا کام نہیں۔

اس پر جناب مدیر پیغام صلح لاہور رقم طراز ہیں۔

’’ہاں بے شک مریدوں کا کام نہیں کہ وہ جناب خلافت مآب کے فتوے پر خود ہی عمل درآمد شروع کریں۔ انہیں کیا معلوم کہ جس شخص پر یہ فتویٰ عائد ہوتا ہے اس نے پیر صاحب کی جیب کو سیم و زر سے بھر دیا ہے اور اس لیے اس کے متعلق فیصلہ کرنا قرین مصلحت نہ ہو۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۵؍ جون ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۹۵ ص ۷)

(۷۲) فیصلہ کی بات

جیسا کہ دو مئی ۱۹۲۲ء کے (اخبار) پیغام (صلح) سے ظاہر ہے۔ اس میں ’’پاداش بخیر‘‘ کے عنوان سے ایک نوٹ شائع ہوا ہے۔ جس میں غیر احمدیوں کو احمدی لڑکی دینے کی ممانعت کو پیش کیا ہے اور اس کے متعلق یہ بہتان باندھا ہے کہ اس کی خلاف ورزی

صفحہ 591

کرنے پر حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیا اور دوسرے کو ایسا ہی کرنے پر اس لیے کچھ نہ کہا کہ اس نے پانچ سو روپے کی رقم آپ کو دے دی چنانچہ لکھا ہے۔

”اسی عقیدہ (یعنی غیر احمدی کو لڑکی نہیں دینی چاہیے) پر زور دیتے ہوئے جناب میاں صاحب نے ایک دفعہ اعلان کیا تھا کہ ان کے ایک غریب مرید نے ایک غیر از جماعت کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کی تھی تو ہم نے اس کو جماعت سے خارج کر دیا اور اس کی توبہ تک بھی قبول نہ کی۔ انہی دنوں میں اتفاق سے میاں صاحب کے ایک لاہوری مرید میاں شمس الدین صاحب تاجر چرم نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک غیر از جماعت مسلمان سے کیا اور ساتھ ہی قادیان جا کر پانچ سو روپے بھی خلافت مآب کے آگے دھر دیا۔“

اگرچہ بغیر کسی ثبوت کے اس قسم کا روپیہ دینے کا ذکر کرنا بھی کوئی شریفانہ فعل نہیں لیکن خیر اسے چھوڑ کر آگے جو کچھ لکھا گیا ہے۔ اسے ملاحظہ کیجئے اور ایڈیٹر صاحب پیغام کی تہذیب کی داد دیجئے لکھا ہے:

”ہم نے اسی وقت میاں صاحب کو یاد دہانی کرائی اور ان کا سابقہ عمل یاد دلاتے ہوئے استدعا کی کہ ان لاہوری مرید صاحب کو بھی جماعت سے خارج کیجئے۔ اس مضمون کے خطوط ہم نے رجسٹری کرا کر میاں صاحب کو روانہ کیے لیکن ہمیں خبر نہ تھی کہ پانچ سو روپیہ کا نشہ بھی آخر کچھ چیز ہوتا ہے۔ جو آپ جیسے پیران پارسا پر بھی اس قدر اثر رکھتا ہے کہ آپ کے اپنے بنائے ہوئے اصول بھی اس سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ آپ بھی بچے ہیں۔ ایک غریب مرد اگر اس قدر روپیہ فراہم نہیں کر سکا تو اس کی خشک توبہ کو کوئی کیا کرے اور اگر کسی نے پیر کے علی الرغم کارروائی کر کے حضرت زر کی شکل اس کو دکھا دی تو اس پر غصہ آئے تو کیوں؟“

یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) نے فرمایا ہے کہ میاں شمس الدین نے کوئی پانچ سو روپیہ مجھے نہیں دیا۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۹؍ مئی یکم جون ۱۹۲۲ء نمبر ۹۳۔۹۴ جلد ۹)

(۷۳) اخراج

صفحہ 592

چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی اپنی لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں کو دیے ہیں۔ اس لیے ان کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا ہے اور وہاں کی جماعتوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق رکھیں۔

گولے ضلع سیالکوٹ۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۶۹ ص ۸ مورخہ ۶؍ دسمبر ۱۹۳۴ء‘ ناظر امور عامہ

قادیان)

(ز) میل جول

(۷۴) صلح کل کا انجام

جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ ادھر کا ہوں نہ ادھر کا ہوں اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو ہمارا مصدق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء منقول

از منکرین خلافت کا انجام ص ۸۲ مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی)

یہ جو کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو نیک مانتے ہیں لیکن وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔ یہ لوگ بڑے جھوٹے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بالحق لما جاء دنیا میں سب سے بڑھ کر ظالم دو ہی ہیں۔ ایک وہ جو اللہ پر افترا کرتے ہیں دوم وہ جو حق کی تکذیب کرے پس یہ کہنا کہ مرزا نیک ہے اور

صفحہ 593

دعاوی میں جھوٹا۔ گویا نور و ظلمت کو جمع کرنا ہے جو ناممکن ہے۔

(حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول کا مضمون مندرجہ اخبار بدر قادیان نمبر ۱۹ جلد ۱۰

مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۱۱ء)

ایک دوست کا خط حضرت (حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول) کی خدمت میں پیش ہوا کہ بعض غیر احمدی یہ لکھ دینے کو تیار ہیں کہ ہم مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کو مسلمان مانتے ہیں فرمایا پھر وہ مرزا صاحب کے دعویٰ اور الہام کے متعلق کیا کہیں گے۔ مدعی وحی و الہام کے معاملہ میں دو ہی گروہ ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بالحق لما جاء الیس فی جھنم مثوی للکافرین اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو خدا پر افترا کرے، اسے خدا کی طرف سے الہام نہ ہوا ہو اور کہے کہ مجھے ہوا ہے ایسا ہی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جو اس حق کی تکذیب کرے۔ یا تو مرزا صاحب اپنے دعوے میں سچے تھے، ان کو مانا چاہیے یا جھوٹے تھے۔ ان کا انکار کرنا چاہیے۔ اگر مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے سچ بولا اور وہ فی الواقع مامور تھے اور اگر ان کا دعویٰ جھوٹا ہے تو پھر مسلمانی کیسی۔

(اخبار بدر قادیان نمبر ۲۴ جلد ۱۰ مورخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۱۱ء)

ایک احمدی کا خط پیش ہوا کہ مجھے آپ کے میموریل جمعہ کے ساتھ اتفاق ہے۔ میں اپنے خیال کے مطابق کسی مسیح کی آمد کا منتظر نہیں ہوں اور نہ کسی کی ضرورت ہے اور نہ خلیفتہ المسیح کی ضرورت ہے، البتہ نیکو کار خدا پرست رہبروں کی ہر زمانہ میں ضرورت ہے اور مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب مرحوم اور جناب (یعنی حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول) کی مثال جتنے بزرگ دنیا میں پیدا ہوں کم ہیں۔ (حکیم نور الدین صاحب نے) فرمایا یہ مسئلہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے فقرات بولنے والے لوگ کیا مطلب اپنے الفاظ کا رکھتے ہیں۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں مسیح ہوں، مہدی ہوں، خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے، وہ برابر اپنے الہام سناتے رہے۔ اب یا تو ایسا شخص اپنے دعوے میں سچا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے مسیح مان لیا جاوے اور یا وہ خدا پر افترا کرتا ہے اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مفتری سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ راہیں تو دو ہی ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ تیسری راہ لوگوں نے کہاں سے فرض کر لی ہے۔

صفحہ 594

(اخبار بدر قادیان نمبر ۴۴ جلد ۱۰ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۱۱ء)

ایک دوست نے خلیفہ ثانی (میاں محمود احمد صاحب) کی خدمت میں لکھا کہ جو شخص حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے سب دعاوی کا مصدق ہو مگر بیعت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے کہ نہیں۔ جواب میں حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے لکھوایا غیر احمدی کے پیچھے جس نے اب تک سلسلہ میں باقاعدہ بیعت نہ کی ہو خواہ حضرت (مرزا) صاحب کے سب دعاوی کو مانتا بھی ہو نماز جائز نہیں اور ایسا شخص سب دعاوی کو مان بھی کس طرح سکتا ہے جو حضرت صاحب بلکہ خدا کا صریح حکم ہوتے ہوئے آپ کی بیعت نہیں کرتا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۹؍ اگست ۱۹۱۵ء)

(۷۵) قطع تعلق

یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے اول تو یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان جلد ۶ نمبر ۸ صفحہ

۳۱۱)

(۷۶) صاف حکم

اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں، جب کہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۲۰ مورخہ ۱۸؍ جون ۱۹۱۶ء)

صفحہ 595

(۷۷) دونوں حرام

غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے‘ جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی‘ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے‘ اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے‘ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔ ہاں اشد مخالفین کو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے کبھی سلام نہیں کہا اور نہ ان کو سلام کہنا جائز ہے۔ غرض ہر ایک طریقہ سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے اور ایسا کوئی تعلق نہیں جو اسلام نے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو۔

(کلمتہ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، ص ۱۷۰-۱۶۹ نمبر ۴،

جلد ۱۴)

(۷۸) تین امور

حضرت امام حکم و عدل (مرزا صاحب) علیہ السلام نے خصوصیات احمدیت میں ہر احمدی کے واسطے تین امور بطور فرمان عملی رکھے ہیں جن کی اتباع ہر احمدی پر فرض ہے اور جو حضرت مسیح موعود کے حکم اور فیصلے کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی ہی نہیں خواہ کوئی کیوں نہ ہو۔

حضرت امام ہمام (مرزا صاحب) علیہ السلام نے اول خصوصیت حرمت صلوٰۃ خلف المنکرین المسیح الموعود قائم کی ہے۔ دوم خصوصیت حرمت صلوٰۃ الجنازہ علی المنکرین المسیح ہے۔ سوم خصوصیت حرمت ازدواج النساء المومنین بالمنکرین ہے۔ یہ عملی فرق ہے۔ مابین احمدی اور غیر احمدی گروہ کے۔

بعض لوگ دیدہ و دانستہ اپنی لڑکی غیر احمدیوں کو دیتے ہیں‘ مگر وہ اس وبال سے

صفحہ 596

بے خبر ہیں۔ حضرت صاحب کے حکم کی خلاف ورزی میں ان لوگوں نے بھگتا ہے۔ یا بھگتنا پڑے گا اور حضرت نور الدین اعظمؒ نے تو ایسے لوگوں کو جماعت سے خارج کیا ہے اور صاف فرمایا کہ وہ احمدی ہی نہیں ہیں اور حضرت خلیفہ اول نے ان کے خلف میں منع صلوٰۃ کر دی ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۷ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۱۹ء)

جری اللہ فی حلل الانبیا احمد نبی اللہ مسیح موعود علیہ التحیات والثنا (فداہ امی و ابی) اپنے متبعین کو فرماتے ہیں کہ غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھو۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو خواہ وہ تمہارا ماں باپ بہن بھائی کتنا ہی حقیقی رشتہ دار ہو اس کو لڑکی نہ دو۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۰۹ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۱۷ء)

(۷۹) تنبیہہ

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے مکفر یا مکذب یا متردد کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد ہے کہ تم پر حرام اور قطعی حرام ہے۔ جو کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ اسی طرح آپ کا صاف اور صریح حکم ہے کہ کسی احمدی کے لیے جائز نہیں جو اپنی لڑکی کا رشتہ کسی غیر احمدی سے کرے۔ حضور کے قائم کردہ ابدی مرکز (قادیان) سے روگردانی اختیار کرنے والے (لاہوری فریق) جہاں غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے لیے بے قرار ہے اور اس کے لیے قسم قسم کے حیلے تراش کر اپنے انقلاب علیٰ عقبہ کا ثبوت مہیا کرتے رہے ہیں۔ وہاں اس فعل حرام یعنی غیر احمدیوں کو رشتہ بنات دینے کے واسطے بھی میں دیکھتا ہوں کہ ان کی مسخ شدہ روحیں تڑپ رہی ہیں اور وہ کچھ نہ کچھ اس کے متعلق شائع کرنا اپنے پیپ آلود زخموں اور نہ اچھے ہونے والے ناسوروں کے لیے موجب اندمال سمجھتے ہیں۔ اے کاش وہ اپنے ہادی‘ اپنے راہنما (مرزا صاحب) کی الہدیٰ اور لائے ہوئے دین الحق کو اتنی جلدی نہ بھول جاتے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۱ نمبر ۶۳ مورخہ ۱۵؍ فروری ۱۹۲۴ء)

صفحہ 597

(۸۰) اسلامی سلوک

آپ نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ ہم آپ ایسے لوگوں سے کسی اسلامی سلوک کی امید رکھتے ہیں۔ ہمارے تو وہم و خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ آپ لوگ اسلامی سلوک کرنے کے قابل ہیں یا کرسکتے ہیں‘ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ لوگ جو ایک نبی وقت (مرزا صاحب) کے منکر ہیں۔ مسلمان ہی نہیں اور جب ہم انہیں مسلمان ہی نہیں سمجھتے تو پھر ان سے اسلامی سلوک کی توقع کیا۔ یہ آپ کو محض غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم اسلامی سلوک کے امیدوار ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۵‘ نمبر ۶۹-۷۰‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۶؍ فروری‘ ۲؍ مارچ ۱۹۱۸ء)

(۸۱) قادیانی چندہ

آپ لوگوں میں سے بہت سے احباب نے دیکھا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی زندگی میں غیر احمدیوں سے کیا تعلق تھا۔ کیا کوئی اس وقت حلفاً کہہ سکتا ہے کہ کبھی آپ نے غیر احمدیوں سے چندہ مانگا‘ ہرگز نہیں‘ میں تو حلفاً کہتا ہوں اور اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ نہ میرے کانوں نے روایتاً کسی سے سنا اور نہ میری آنکھوں نے کبھی دیکھا..... اور نہ یہ کہہ کر چندہ کی ان کو ترغیب دی کہ میرا کام تو فقط اشاعت اسلام ہے جو کہ ہمارا اور تمہارا مشترک فرض ہے۔

(خطبہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۹۷‘

ص ۶-۷‘ مورخہ ۲۸؍ جنوری ۱۹۱۵ء)

(۸۲) کبھی نہیں (ج)

کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام صرف اشاعت اسلام تھا اور اس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا تھا اور یہی احمدیت ہے۔ اگر یہی احمدیت تھی اور لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اشاعت کے لیئے اُٹھے تھے‘ اُن کے لیے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھا اور..... آپ ان کی انجمنوں میں شامل ہوتے‘ انہیں چندہ دیتے مگر آپ نے (مرزا صاحب نے) کبھی اس طرح نہیں کیا۔

(خطبہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۹۷ ص ۷

صفحہ 598

(مورخہ ۲۸ جنوری ۱۹۱۵ء)

(۸۳) ضرورت نہیں

ایک دوست نے دریافت کیا کہ موپلہ یتیم اور بیواؤں کے لیے لوگ چندہ مانگتے ہیں ۔ اس امر میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا‘ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) کے ساتھ مل کر چندہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ چندہ نہیں ہے‘ اپنا رسوخ بڑھانے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی امداد اپنے طور پر دی جاوے تو مفید ہوتی ہے۔

(اخبار الفضل ”قادیان“ جلد ۱۰‘ نمبر ۴۵‘ ص ۸‘ مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۲۲ء)

(۸۴) چندہ قبول

ایک وقت تک قصور میں احمدیوں کی کوئی مسجد نہ تھی..... لیکن حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے جو ششماہی رپورٹ کا نقشہ تجویز فرمایا ہے اس میں ایک یہ بھی سوال درج ہے کہ آیا مسجد احمدیہ ہے یا نہیں اس کو پورا کرنے کے لیے ہماری انجمن نے غور کیا اور ایک پرانی شکستہ اور غیر آباد بوسیدہ مسجد کو پا کر اسے آباد کرنا چاہا۔ چونکہ مسجد بہت ہی خستہ حالت میں تھی۔ اس لیے اس کی مرمت کا ارادہ کیا گیا اور اس غرض کے لیے اپنی جماعت سے چندہ جمع کر کے کام شروع کرا دیا جب مرمت کا کام شروع ہو گیا۔ تو ایک غیر احمدی صاحب نے آ کر دریافت کیا کہ کیا آپ ہم سے بھی چندہ لے سکتے ہیں۔ جواب دیا گیا کہ بڑی خوشی سے آپ کا چندہ قبول کیا جاتا ہے۔ اس پر انہوں نے دس روپے دیے اور مجھے ساتھ لے کر تحصیل چندہ کے لیے بازار میں چلے آئے۔ ہماری تین چار گھنٹہ کی کوشش سے اڑھائی سو روپیہ کے قریب چندہ ہو گیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۲۲ مورخہ یکم جولائی ۱۹۱۶ء)

سردست میں ایک اور معاملہ کی طرف تمام بہنوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ (لندن میں) اس مسجد کے بن جانے کے سبب سے انگلستان میں تبلیغ کا کام بہت بڑھ گیا ہے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے کام دو آدمیوں کی طاقت سے زیادہ ہے۔ اس کے متعلق مجھے پہلے شیخ یعقوب علی صاحب نے ولایت سے توجہ دلائی تھی.....

صفحہ 599

اس کے بعد اور چند دوستوں نے بھی اس طرف توجہ دلائی اب خان صاحب منشی فرزند علی صاحب نے بھی خط لکھا ہے کہ کام زیادہ معلوم ہوتا ہے اور عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

میں یہ بھی ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ مسجد برلن کی تحریک کے وقت بعض غیر احمدی عورتیں بھی چندہ میں شامل ہونا چاہتی تھیں، لیکن چونکہ اس وقت شرط تھی کہ صرف احمدی عورتوں کا چندہ ہو اس لیے اس کی اجازت نہ دی گئی تھی۔۔۔۔ لیکن اس وقت چونکہ عام تبلیغی اغراض کے لیے چندہ ہو رہا ہے، اس لیے اس شرط کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی بہن اپنی خوشی سے اس چندہ میں حصہ لینا چاہیں تو ان کا چندہ بھی خوشی کے ساتھ قبول کر لینا چاہیے۔

(مضمون میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۳۳

ص ۳ مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۸ء)

(۸۵) مسلمانوں سے بیزار

کیا غیر احمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا عمل درآمد کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی میں نہ غیروں کی کسی انجمن کے ممبر ہوئے اور نہ ان میں سے کسی کو کسی اپنی انجمن کا ممبر بنایا اور نہ کبھی ان کو چندہ دیا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔ (ابتدا میں تو مدت تک مرزا صاحب نے مسلمانوں سے خوب چندہ مانگا اور خوب وصول کیا بلکہ اسی سے بنیاد جمی۔ البتہ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی رفاہ میں مرزا صاحب نے کبھی پیسہ بھی نہیں دیا۔۔۔ للمولف)

حتیٰ کہ ایک دفعہ علی گڑھ میں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے ایک انجمن بنائی گئی اور وہاں کے جناب سیکرٹری صاحب نے ایک خاص خط بھیجا کہ چونکہ آپ لوگ خادم اور ماہر قرآن مجید ہو، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس انجمن میں آپ صاحبان میں سے بھی کچھ شریک ہوں مگر باوجود جناب مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی کوشش کے حضور نے انکار ہی فرمایا پھر سرسید صاحب کے چندہ مدرسہ مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک روپیہ تک بھی مانگتے رہے لیکن حضور (مرزا صاحب) نے شرکت سے انکار ہی فرمایا۔ حالانکہ اپنا خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا۔

صفحہ 600

(کشف الاختلاف ص ۴۲ مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۸۶) سکھوں سے پیار

حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے ایک وفد نے جو جناب سردار محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور اور مولانا جلال الدین صاحب شمس پر مشتمل تھا۔ ۲۲ فروری ۳۵ء کو کرنل سردار گجیر سنگھ صاحب سردار ڈیوڑھی و سیکرٹری گوردوارہ پٹنہ صاحب کمیٹی کو مبلغ پانچ سو روپیہ کی رقم گوردوارہ پٹنہ صاحب کی تعمیر کے لیے پیش کی۔.... یہ وفد ہزہائی نس مہاراجہ ادھیراج پٹیالہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا جو گوردوارہ پٹنہ صاحب کی تعمیری کمیٹی کے صدر ہیں۔ ہزہائی نس نے جماعت احمدیہ کے اس طریق عمل کی بہت تعریف کی۔

(قادیانی جماعت کا اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۱۰۸ ص ۲ مورخہ ۸؍مارچ ۱۹۳۵ء)

(۸۷) مسلمانوں سے مقابلہ

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے ترقی کرے تو ایک مومن دس پر بھاری ہو جاتا ہے اور اگر اس سے بھی ترقی کرے تو صحابہ کے طرز عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن ہزار ہے گو یہ بالکل غلط ہے اور صرف اسی ضلع گورداس پور میں تیس ہزار احمدی ہیں مگر فرض کر لو یہ تعداد درست ہے اور فرض کر لو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار افراد رہتے ہیں، تب بھی یہ ۷۵-۷۶ ہزار آدمی بن جاتے ہیں اور اگر ایک احمدی سو کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ہم ۷۵ لاکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر ایک ہزار کے مقابل پر ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اتنی ہی تعداد دنیا کے تمام مسلمانوں کی ہے۔ (کیسے صحیح اور وسیع معلومات ہیں۔۔۔ للمؤلف) پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں، پھر آج کل تو جسمانی مقابلہ ہے ہی نہیں۔ اس لیے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

صفحہ 601

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۱ نمبر ۱۵۲

مورخہ ۲۱؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۸۸) ایک ایک ہزار

ایک ایسی عظیم الشان پاک شخصیت کا ذکر کیا گیا ہے جس نے مذہبی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے اور جو رسول اللہ صلعم کے نمونہ پر وصال باری تعالیٰ کے وقت چار لاکھ سے زیادہ اپنا پیرو چھوڑ کر گیا ہے کہ ہر ایک ان میں سے ایک ایک ہزار دشمن اسلام و مخالف احمدیت پر بھاری ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۰۷ مورخہ ۱۸؍ اپریل ۱۹۱۶ء)

(۸۹) خواجہ صاحب کا الٹی میٹم

اہل قادیان سے میری خانہ جنگی نہیں، بلکہ جہانہ جنگی ہے۔ سارے جہان کو جس وقت حربیہ و فنائیہ کا خوف لگا ہوا ہے۔ میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ پیروشیا (جرمنی) کے قواء حربیہ کا خاتمہ ہو جائے تو دنیا کو امن نہیں ملے گا جتنا کہ قادیان کی طاقت کے زیر و زبر ہونے سے مل سکتا ہے۔

(خواجہ حسن نظامی صاحب کا ارشاد مندرجہ رسالہ درویش بابت ۲۴؍ جنوری ۱۹۱۸ء منقول

از اخبار الفضل قادیان جلد ۶ نمبر ۷۰۔۷۲ ص ۱۴ مورخہ ۲۱۔۱۵؍ مارچ ۱۹۱۹ء)

(۹۰) ہتھیار بندی

حالات کی نزاکت اور بدامنی کی بڑھتی ہوئی رو کو دیکھتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجلس مشاورت کے موقع پر اپنی جماعت کو جو ارشاد فرمایا ہے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس پر پوری طرح عمل کرے۔ حضور نے فرمایا جو اصحاب بندوق کا لائسنس حاصل کرسکتے ہیں وہ بندوق کا لائسنس حاصل کریں، اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے، وہاں تلوار رکھیں، لیکن جہاں اس کی اجازت نہ ہو، وہاں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔

جو لوگ اس قسم کی کوئی چیز اپنے پاس رکھیں گے وہ نہ صرف ضرورت کے موقع

صفحہ 602

پر گورنمنٹ کے لیے بہت مفید اور کارآمد ثابت ہو سکیں گے اور نہ صرف ملک میں بدامنی کا انسداد کرنے میں حصہ لے سکیں گے، بلکہ اپنی جان و مال کی بھی حفاظت کر سکیں گے اور یہ ایسے شریفانہ مقاصد ہیں کہ کوئی عقل مند اور دور اندیش انسان انہیں ناجائز اور ناروا قرار نہیں دے سکتا اور ان کی خاطر کسی قسم کا سامان رکھنا غیر ضروری نہیں سمجھا جا سکتا۔ پس ہر ایک احمدی کو چاہیے کہ ضروریات زمانہ اور حالات پیش آمدہ کا لحاظ رکھتے ہوئے ضروری سامان مہیا کرے اور اس سے کام لینا سیکھے۔

(اخبار الفضل قادیان، نمبر ۹۰ جلد ۱۷ مورخہ ۴ مئی ۱۹۳۵ء)

(۵) حمیت

(۹۱) قادیانی اصول

میں (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ہرگز نہیں چاہتا کہ مذہبی امور میں اس قدر غصہ بڑھایا جائے کہ مخالفوں کے حملوں کو قانونی جرائم کے نیچے لا کر گورنمنٹ سے ان کو سزا دلائی جائے..... بلکہ میرا اصول یہ ہے کہ مذہبی مباحثات میں صبر اور اخلاق سے کام لینا چاہیے، اسی وجہ سے جب عام مسلمانوں نے مصنف کتاب امہات المومنین کے سزا دینے کے لیے انجمن حمایت اسلام کے ذریعہ سے گورنمنٹ میموریل بھیجے تو میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا، بلکہ ان کے برخلاف میموریل بھیجا اور صاف طور پر لکھا کہ مذہبی امور میں اگر رنج دہ امر پیش آوے تو اسلام کا اصول عفو اور درگزر ہے۔ قرآن ہمیں صاف ہدایت کرتا ہے کہ اگر مذہبی گفتگو میں سخت لفظوں سے تمہیں تکلیف دی جائے تو نیک ظرف لوگوں کی طرح عدالتوں تک مت پہنچو اور صبر اور اخلاق سے کام لو۔

(کشف الغطاء ص ۷ روحانی خزائن ص ۱۸۶ ج ۱۴ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۹۲) قادیانی میموریل

بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر صاحب بہادر بلقابہ۔ یہ میموریل اس غرض سے بھیجا جاتا ہے کہ ایک کتاب ”امہات المومنین“ نام ڈاکٹر احمد شاہ صاحب عیسائی کی طرف سے مطبع آر پی مشن پریس گوجرانوالہ میں چھپ میں چھپ کر

صفحہ 603

ماہ اپریل ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تھی..... چونکہ اس کتاب میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سن کر رنج سے رک نہیں سکتا۔ اس لیے لاہور کی انجمن حمایت اسلام نے اس بارہ میں حضور گورنمنٹ میں میموریل روانہ کیا تاکہ گورنمنٹ ایسی تحریر کی نسبت جس طرح مناسب سمجھے کارروائی کرے اور جس طرح چاہیے کوئی تدبیر امن عمل میں لائے۔

مگر میں مع اپنی جماعت کثیر اور مع معزز مسلمانوں کے اس میموریل کا سخت مخالف ہوں اور ہم سب لوگ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ کیوں اس انجمن کے ممبروں نے محض شتاب کاری سے یہ کارروائی کی‘ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کتاب ”امہات المومنین“ کے مولف نے نہایت دل دکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا۔ مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہیے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کار کو نرمی اور آہستگی سے سمجھاویں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں۔ یہ حیلہ سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے تا اس طرح ہم فتح پالیں‘ کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے‘ بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑنا ہمارے عجز و درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند کروانے والے ٹھہریں گے اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلا دے تلف کرے کچھ کرے مگر ہم ہمیشہ کے لیے اس الزام کے نیچے آجائیں گے کہ عاجز آکر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی اور وہ کام کیا جو مغلوب الغضب اور جواب سے عاجز آجانے والے لوگ کیا کرتے ہیں.....

مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہیے اس لیے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات آخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے۔ اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچادے‘ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ

صفحہ 604

میں اس بارہ میں روانہ کیا ہے‘ وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا‘ بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرأت کی ہے جو درحقیقت قابل اعتراض ہے‘ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لیے عیسائی صاحبوں سے کوئی باز پرس کرے‘ یا ان کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا رد شائع ہوگا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی‘ اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی اس لیے ہم بادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا ہے گورنمنٹ عالیہ ابھی کچھ توجہ نہ فرمادے۔

کیونکہ اگر ہم گورنمنٹ عالیہ سے یہ فائدہ اٹھاویں کہ وہ کتابیں تلف کی جائیں یا اور کوئی انتظام ہو‘ تو اس کے ساتھ ایک نقصان بھی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے کہ ہم اس صورت میں دین اسلام کو ایک عاجز اور فرو ماندہ دین قرار دیں گے کہ جو معقولیت سے حملہ کرنے والوں کا جواب نہیں دے سکتا اور نیز یہ ایک بڑا نقصان ہوگا کہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نامناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر پھر کبھی اس کتاب کا رد لکھنا بھی شروع کردیں اور درحالت نہ لکھنے جواب کے اس کے فضول اعتراضات ناواقفوں کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کرلیا سو اس سے ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کرایا یا روکا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر شائع کرنا نہایت نامعقول اور بیہودہ طریق ہوگا۔

ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم درد ناک دل سے ان تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو صاحب کتاب امہات المومنین نے استعمال کیے ہیں اور ہم اس مولف اور اس کے گروہ کو ہرگز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امر ان لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں۔۔۔۔ یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں ہرگز ہمارے اصل مقصد کو مفید نہیں ہے‘ یہ دنیاوی جنگ وجدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو پسند نہیں کرتے‘ کیوں کہ

صفحہ 605

ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی نوع کے لیے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے..... یہ دوسرے پیرایہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔

الراقم مرزا غلام احمد قادیانی ضلع گورداسپور مورخہ ۴ مئی ۱۸۹۸ء

(تبلیغ رسالت جلد ۷ ص ۳۶ مجموعہ اشتہارات ۴۳ تا ۴۵ ج ۳ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۹۳) گورنمنٹ کی پاسداریاں

غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پا کر افتراؤں کو انتہا تک پہنچا دیا اور ناحق بے وجہ اہل اسلام کا دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگائے یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جو ان کے اصل میں تھیں۔ اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افترا میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ جواب دیتے جو ان کی بداصلی کے مناسب حال ہوتا مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسرے گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہیے تھا، ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں، یہ سب بردباریاں ہم اپنے محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے کیوں کہ ان کے احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے۔.... بلاشبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا۔ تم غائبانہ اس کے اقبال کے لیے دعا گو ہیں۔

("آریہ دھرم" ص ۸۱ - ۸۰ "روحانی خزائن" ص ۸۱ - ۸۰، ج ۱۰، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۹۴) مسلمانوں کو نصیحت

مسٹر لائیڈ جارج نے جن الفاظ میں مسلمانوں کو ان کی وفاداری اور گورنمنٹ کی ہمدردی کا بدلہ دیا ہے اس سے زیادہ بدتر بدلہ اور کوئی نہیں ہو سکتا، لیکن مسلمان

صفحہ 606

گورنمنٹ برطانیہ کے وفادار ہیں اور بہرحال رہیں گے، ان کو کسی خاص وزیر سے کوئی تعلق نہیں اور ہمیں یقین ہے کہ خود مسٹر لائیڈ جارج (وزیر خزانہ) کے ساتھیوں نے انہیں اس تقریر پر ملامت کی ہوگی کہ آپ دشمن پر وار کرتے ہوئے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے لگے بلکہ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ بعد میں خود مسٹر لائیڈ جارج بھی شرمندہ ہوئے ہوں کہ میں کیا کہہ بیٹھا۔۔۔۔۔

ہم کل مسلمانوں کو عموماً اور احمدیوں کو خصوصاً نصیحت کرتے ہیں کہ انہیں اس حملہ پر جو آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا گیا ہے برافروختہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم جس نبی کے ماننے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے اور جو شخص اس پر حملہ کرتا ہے وہ ہمارے جواب کا محتاج نہیں اسے جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بہتر جواب دینے والا اور کون ہو سکتا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۶۰ ص ۳ مورخہ ۳؍ نومبر ۱۹۱۴ء)

(۹۵) مسجد کانپور

میرے عدل! (مرزا صاحب) تو نے فیصلہ کیا تھا کہ تم (قادیانی صاحبان) پولیٹیکل جماعت نہیں ہو، تم کسی شورش میں حصہ نہ لینا۔ گورنمنٹ انگریزی کے کامل وفادار اور پورے وفادار بنے رہنا مگر اے میرے قرۃ العین تیرے پیچھے ۱۸۵۷ء کے غدر کی طرح ۱۹۱۳ء میں پھر کانپور سے (مسجد کے سلسلہ میں) ایک چھوٹا سا غدر اٹھا اور بغاوت کی لہریں ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دوڑ گئیں ایسے وقت میں ان لوگوں (لاہوری جماعت) نے باوجود تیسرے خلیفہ (حکیم نور الدین صاحب) کی مخالفت کے گورنمنٹ پر اعتراض کئے مقتول باغیوں کو شہید کا لقب دیا۔ عوام الناس کو بھڑکانے میں حصہ لیا۔ غداروں اور مفسدوں کی تحسین کی اور ان کی حمایت میں ان تیرے نام کے غلاموں (لاہوری جماعت) نے دامے درمے سخنے قلمے کسی قسم کی مدد سے کوتاہی نہیں کی اب تو ہی اے امن اور صلح کے شہزادے (مرزا صاحب) ہمیں بتا کہ یہ کام تیری تعلیم کے مطابق انہوں نے کیا، یا ہم (قادیانی صاحبان) ہی جو ان سے اس معاملہ میں الگ رہے غلطی پر تھے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۱۴ء)

صفحہ 607

(۹۶) مجرم قوم کا دشمن

وہ خبیث الفطرت اور گندے لوگ جو انبیا کو گالیاں دیتے ہیں‘ ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ ان کی قوم اگر اپنے اندر دین داری‘ تقویٰ اور اخلاق رکھنے کی مدعی ہے تو اس کا فرض ہے ایسے افعال کی پورے زور کے ساتھ مذمت کرے‘ اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں‘ خواہ انبیا کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برات کرے۔ انبیا کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی‘ وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں۔ جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے.....

وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہیے خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر

۸۲ ص ۷ ۔ ۸ مورخہ ۱۹؍ اپریل ۱۹۲۹ء)

(۹۷) مباہلہ کا معاملہ

جماعت احمدیہ کی امداد اور سہارے سے نہ صرف اس کے (اہل اخبار مباہلہ کے) بچوں نے تعلیم حاصل کی بلکہ وہ نسبتی طور پر ایک آسودہ حال خاندان ہو گیا.....

ان لوگوں نے بعض ذاتی مفاد کے حاصل نہ ہونے پر یہ غیر شریفانہ رویہ اختیار کیا کہ ہمارے مطاع سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ پر نہایت گندے اور مفتریانہ اتہامات لگانے شروع کئے.....

صفحہ 608

عدالت میں انہوں نے حلفی بیان یہ دیا کہ وہ خود آخر وقت تک مخلص تھے لیکن بعض دوسرے لوگوں سے بعض الزامات انہوں نے سنے اور تحقیق کر کے انہیں سچا پایا اور اس وجہ سے الگ ہو گئے۔

ہم (قادیانی جماعت) یہ بھی اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ اس امر سے خوب واقف ہیں کہ اخبار مباہلہ والوں نے حضرت امام اور حضور کے خاندان کی مستورات پر اتہام لگانے میں جھوٹ اور افترا سے کام لیا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۹۰ مورخہ ۲ مئی ۱۹۳۰ء)

قادیان سے ایک اخبار مباہلہ نکلتا ہے جو مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کے سابقہ مریدین مخلصین کی جماعت نے جاری کر رکھا ہے جو موجودہ خلیفہ قادیان (میاں محمود احمد صاحب) کی زندگی اور اخلاق پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اس دفعہ اس نے خلیفہ قادیان کے حق میں ایک سخت اخلاقی الزام لگایا تھا‘ جس کے ثبوت میں اس نے ایک مدعیہ کی تحریر شائع کی‘ ہم بحکم شریعت اس کی بابت کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ہمارے نوٹ لکھنے کا باعث یہ ہے کہ اس الزام کے جواب میں قادیانیوں کی فریاد پر صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداس پور نے ایڈیٹر مباہلہ کو دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کے ماتحت خلیفہ قادیان کے برخلاف کچھ لکھنے سے منع کر دیا۔

(اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ۲۱ جون ۱۹۲۹ء)

مسٹر ہارسڈن کے اس حکم میں تحریر ہے۔

ہر گاہ مجھے توجہ دلائی گئی ہے کہ اخبار مباہلہ اور چند پوسٹروں میں جو مباہلہ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ امام جماعت احمدیہ کا نام بھی آتا ہے جس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔

میں زیر دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری حکم دیتا ہوں کہ تم ایڈیٹر اخبار مباہلہ آئندہ کسی اخبار یا پوسٹر میں امام جماعت احمدیہ کے چلن کے متعلق کوئی ریمارک نہ چھاپو نہ چھاپنے میں مدد دو کوئی چھپا ہوا کاغذ نہ چسپاں کرو نہ تقسیم کرو‘ جس میں اس قسم کے ریمارک درج ہوں اور اس قسم کے جس قدر کاغذات تمہاری تحویل میں ہوں ان کو تلف کر دو۔

(اخبار مباہلہ ص ۱۵ بابت جولائی ۱۹۲۹ء)

صفحہ 609

(۹۸) مقدم چیز

سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لیے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ اور سلسلہ کی ہتک ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳ نمبر

۲۴ ص ۵ مورخہ ۲۰؍اگست ۱۹۳۵ء)

(۹۹) قتل و خونریزی

اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک کوئی برداشت نہیں کرسکتا۔ پھر کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے امام ان کے خاندان کی خواتین، جماعت کے معزز کارکنوں اور معزز خواتین کے خلاف اس درجہ شرمناک اور حیا سوز جھوٹے اور بناوٹی الزامات لگائے جائیں اور بار بار لگائے جائیں، لیکن کوئی فتنہ نہ پیدا ہو، ہر شخص جانتا ہے کہ اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا فتنہ فساد حتیٰ کہ قتل و خونریزی معمولی بات ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۹۱ ص ۱ مورخہ ۴ مئی ۱۹۳۰ء)

صرف اور صرف عورت کی عزت کا سوال یہ وہ مسئلہ ہے جس میں قدیم اور جدید مذہب اور غیر مذہب قومیں یکساں غیرت اور حمیت کا ثبوت دیتی رہی ہیں اور جب تک انسانیت باقی ہے ثبوت دیتی رہیں گی.....

عرب کے زمانہ جاہلیت کے دور پر نگاہ کرو، جب ایک عورت نے اپنی معمولی سی بے عزتی پر نعرہ یا للثارات بلند کیا تو اس کی قوم کے ہزارہا جوان مرد اور غیور انسانوں کی خون آشام شمشیریں نیاموں سے باہر آگئیں.....

تاریخ ہند پر نگاہ ڈالو۔ جہاں ہزاروں واقعات نظر آئیں گے کہ ہندوستان کے ہونہار سپوت اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ناموس کے لیے خون کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے اور انہوں نے عورت کی عزت کی خاطر موت کو ترجیح دی.....

کار پردازان (اخبار) مباہلہ اور زمیندار نے ہماری سب سے عزیز متاع اور مذہبی

صفحہ 610

نقطہ نگاہ سے موجودہ وقت میں سب سے مقدس وجود حضرت امام جماعت احمدیہ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) پر گندے اور بے باکانہ حملے جاری رکھے اور پھر حضور کے خاندان کی باعصمت خواتین پر نہایت فحش اور ناقابل برداشت اتہام لگائے اور جماعت احمدیہ کے زخموں پر نمک پاشی کی....

انہیں یقین کرنا چاہیے، زندہ قوموں کی غیرت جب بھڑک اٹھتی ہے تو وہ آتش فشاں پہاڑ کی طرح ہو جاتی ہے اور ان کی کمی تعداد ان کے راستہ میں روک نہیں بن سکتی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اب بھی جلد سے جلد حالات پر قابو پا لیا جائے اور اس ناپاک اور اشتعال انگیز رویہ کی روک تھام کی جائے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۸۹ ص ۳۔ ۴ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

(۱۰۰) قادیانی جوش

گورنمنٹ کی خاموشی احمدی جماعت کے صبر کی آزمائش ہے اور وہ دیکھ رہی ہے کہ احمدیہ جماعت اپنا یہ حق لے کر چھوڑتی ہے یا لے کر رہتی ہے۔ پس یہ سوال ایک فرد کا سوال نہیں بلکہ جماعت کی عزت اور خلافت کے درجہ کے وقار کا سوال ہے۔ پس یا تو جماعت اپنے اس حق کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس تذلیل پر خوش ہو جائے یا پھر تیار ہو جائے کہ خواہ کوئی قربانی کرنی پڑے اس حق کو لے کر رہے گی....

ضمانت کیا چیز ہے اگر کسی کو پھانسی کی سزا بھی دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے، بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا، لیکن اگر کسی سے برداشت نہ ہوسکے اور وہ دوسرے کے جوش دلانے پر وہ ضبط نہ کرسکے تو وہ ہرگز جھوٹ نہ بولے اور صاف کہہ دے کہ میں نے مارا ہے۔ ایسا کرنے والا بے شک ہمارا بھائی ہے۔... اور اس کا اعتراف قصور ہی اس کے لئے کفارہ ہو جائے گا، لیکن اگر کوئی پھانسی سے ڈر کر بھی بزدلی کا اظہار کرتا ہے تو اس سے ہمارا قطعاً کوئی تعلق نہ ہوگا......

احمدی کسی گورنمنٹ سے ہرگز نہیں ڈرتے وہ محض احمدیت سے ڈرتے ہیں کم از کم میں تو کسی گورنمنٹ کے قانون سے شمہ بھر بھی نہیں ڈرتا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر

۷۹ ص ۵، ۷ مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

صفحہ 611

جماعت احمدیہ کو اس کے مخالفین خواہ کتنا ہی غلطی خوردہ سمجھیں۔ گمراہ اور بے دین قرار دیں لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا سچا رسول اور نبی یقین کرتی ہے اور اس کا ہر ایک فرد سب سے اول دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلان کرتا ہوا جہاں یہ اقرار کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے احکام کے مقابلہ میں وہ ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں یہ بھی عہد کرتا ہے کہ آپ کی حرمت اور آپ کی تقدیس کے لئے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا۔ ہر احمدی اپنا عہد پورا کرے گا۔

جس جماعت کا سب سے پہلا عہد یہ ہو اور جو اس عہد کی پابندی کرنا دین و دنیا کی کامیابی سمجھتی ہو۔ ظاہر ہے اگر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ظالم اور جفا جو طاقت بھی اس کے اس عہد کا امتحان لینا چاہے گی تو احمدی کہلانے والا کوئی انسان بھی اس سے منہ نہیں موڑے گا اور مردانہ وار خوف و خطر کے سمندر کو عبور کر جائے گا۔ خواہ اسے اپنے خون میں سے تیر کر جانا پڑے۔ خواہ غازی بن کر سلامتی کے کنارے پہنچنے کی سعادت حاصل ہو......

ہم نے اپنے خون کے رشتوں سے قطع تعلق کر کے اپنے جگر گوشوں کو چھوڑ کر اپنے پیارے وطنوں کو خیر باد کہہ کر اپنی جائیدادوں اور اموال سے ہاتھ دھو کر اور ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات برداشت کر کے اگر کچھ حاصل کیا ہے تو وہ احمدیت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق ہے وہ آپ کے جانشینوں اور ان کے اہل بیت سے اخلاص ہے اور ہمارے لئے یہ تمام دنیا کی متاع سے زیادہ گراں قیمت چیز ہے۔ اگر اس پر بھی کوئی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ یہ ہمارے ہاتھ سے چھیننا چاہتا ہے۔ اس کی تحقیر و تذلیل کی کوشش کرتا ہے۔ تو خواہ وہ کوئی ہو اور اس کی پشت و پناہ کتنی زبردست طاقت ہو وہ اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا۔ جب تک ہمارے جسم میں جان اور بدن میں تواں ہے اور دنیا میں ایک احمدی بھی موجود ہے۔ اس ارادہ اور اس نیت کو لے کر کھڑے ہونے والے کو پہلے ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہو گا اور ہمارے خون میں سے تیرنا پڑے گا۔ اگر کسی میں اتنی ہمت اور ایسی جرأت ہے، کسی کا یہ دل گردہ ہے تو وہ کھڑا رہے اور دیکھ لے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

صفحہ 612

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۸۰ ص ۳۔ ۴ مورخہ ۱۵ اپریل ۱۹۳۰ء)

(۱۰۱) گورنمنٹ کو تنبیہہ

یہ جلسہ گورنمنٹ کو متنبہ کرتا ہے کہ جو قوم سید عبداللطیف اور نعمت اللہ خان جیسے بہادر شہید اور مظلوم پیدا کرسکتی ہے وہ کبھی اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتی اور اپنے مقدس امام کی خفیف سے خفیف ہتک بھی برداشت نہیں کرے گی اور اس کے لئے جان و مال اور آبرو اور اعزہ تک کو قربان کردے گی۔ یہ جلسہ گورنر پنجاب سے اس امر کا پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مفسدہ پرداز (اخبار) مباہلہ والوں اور ان کے حامیوں کی خباثت سے فضا کو پاک کریں اور فوری تدابیر اختیار کریں ورنہ احمدی نوجوان خود اپنے امام اور سلسلہ کی عزت اور ناموس کے تحفظ کے لیے عملی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۷۸ ص ۲ مورخہ ۸ اپریل ۱۹۳۰ء)

جو شرارت (اخبار) مباہلہ کے ذریعہ پھیلائی جارہی ہے اس کا انسداد کیا جائے اور اگر نہیں تو ہم ہر قیمت پر اس شرارت کا سدباب کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ میں مقامی پولیس افسروں کو صاف صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس معاملہ پر پوری توجہ سے غور کریں اور اگر اس نے ان مشتعل کرنے والی حرکات اور جذبات کو مجروح کرنے والے طریقوں کے انسداد کی کوشش نہ کی تو نتائج کی ذمہ داری سراسر اس پر ہوگی۔

(صدر جلسہ منعقدہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۷۸ ص ۱۴

مورخہ ۸ اپریل ۱۹۳۰ء)

(۱۰۲) جسمانی موت

مباہلہ کا نشان پورا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں (اخبار مباہلہ والوں کو) ایمانی موت دے دی۔ جسمانی باقی ہے وہ بھی انشاء اللہ آسمانی عذابوں کے ساتھ ہوگی۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷،

نمبر ۷۶ ص ۱۴، مورخہ یکم اپریل ۱۹۳۰ء)

صفحہ 613

یکم نومبر ۳۰ء مدت سے اخبار مباہلہ کا مشہور مقدمہ قتل عدالت میں دائر تھا جس میں خلیفہ قادیان کا ایک سرحدی مرید مسمی محمد علی ماخوذ تھا۔ ملزم کا چالان زیر دفعہ ۳۰۲ (قتل حاجی محمد حسین صاحب مرحوم رفیق مولوی عبدالکریم صاحب) اور دفعہ ۳۰۷ (مولوی عبدالکریم صاحب ایڈیٹر مباہلہ پر قاتلانہ حملہ تھا) ابتدائی عدالت نے ملزم کو ہر دو دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے مقدمہ سیشن سپرد کر دیا۔ بتاریخ ۲۸۔۲۹۔۳۰ اکتوبر ۱۹۳۰ء بمقام گورداس پور عدالت سیشن میں مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ شہادت استغاثہ ۳۰؍ تاریخ کو ختم ہوگئی۔ ملزم نے بغرض پیش کرنے صفائی کے گواہ طلب کرائے تھے، مگر شہادت استغاثہ کے ختم ہونے پر اس نے صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

استغاثہ کی طرف سے سرکاری وکیل لالہ دینا ناتھ صاحب تھے۔ ملزم کی طرف سے پیر اکبر علی (مرید خلیفہ قادیان) مرزا عبدالحق (قادیانی) وکیل اور مولوی فضل الدین (مشیر قانونی خلیفہ قادیان) پیروکار تھے۔

۳۱؍ تاریخ کو وکلا کی بحث کے بعد عدالت نے ایسیسر صاحبان کی رائے دریافت کی جنہوں نے بالاتفاق ملزم کو ہر دو جرموں کا مرتکب قرار دیا۔ بعد ازاں عدالت نے ملزم کو زیر دفعہ ۳۰۲ سزائے موت اور زیر دفعہ ۳۰۷ عبور دریائے شور کی سزا کا حکم سنایا۔

نوٹ: مذکورہ بالا قتل (اور قاتلانہ حملہ) بتاریخ ۲۳؍ اپریل ۱۹۳۰ء بٹالہ (ضلع گورداسپور) کے قریب ہوا تھا، جبکہ یہ لوگ گورداس پور سے مقدمہ اخبار مباہلہ کی پیشی بھگت کر گھر واپس آ رہے تھے۔

(اخبار مباہلہ ص ۲ مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۰ء ج ۳ نمبر ۱۱)

۱۲؍ جنوری ۱۹۳۱ء قادیانیوں نے جو اپیل عدالت سیشن گورداس پور کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں دائر کی تھی خارج ہو گئی۔ ہائی کورٹ نے بھی حکم سزائے پھانسی کو بحال رکھا۔

(اخبار مباہلہ مورخہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۳۱ء)

ناظرین کو معلوم ہے کہ خلیفہ قادیان کے مرید محمد علی کو عدالت سیشن گورداس پور سے سزائے موت کا حکم صادر ہوا تھا۔ جس پر قادیانیوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ ہائی کورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے سزا کو بحال رکھا۔ ازاں بعد پریوی کونسل میں

صفحہ 614

اپیل کی گئی۔ اب اطلاع موصول ہوئی کہ پریوی کونسل سے بھی اپیل خارج ہو گئی۔ تاریخ پھانسی ۱۶؍ مئی ۱۹۳۱ء مقرر ہوئی۔

(اخبار مباہلہ مورخہ ۱۵؍ مئی ۱۹۳۱ء)

خلیفہ قادیان کا مرید مسمی محمد علی جس نے ۲۳؍ اپریل ۱۹۳۰ء کی شام کو مولوی عبدالکریم صاحب ایڈیٹر مباہلہ پر قاتلانہ حملہ کیا اور ان کے رفیق حاجی محمد حسین مرحوم کو قتل کر دیا تھا۔ گورداس پور جیل میں بتاریخ ۱۶؍ مئی ۱۹۳۱ء ٹھیک ۶ بجے صبح پھانسی دیا گیا۔

(اخبار مباہلہ مورخہ یکم جون ۱۹۳۱ء)

(۱۰۳) ایمانی غیرت

ہمارے بھائی قاضی محمد علی صاحب کا حق جو ہمارے ذمہ تھا اور جو یہ تھا کہ قانونی پہلو سے ہم ان کے لیے کوشش کرتے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے وہ ادا کیا جہاں تک قانون اجازت دیتا تھا انتہائی طور پر ادا کیا باقی جو مقدر تھا وہ خدا کی مصلحت کے ماتحت پورا ہوا اور خدا تعالیٰ اپنی مصلحتیں خوب جانتا ہے۔

میں اس کے متعلق چند باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں جو قاضی صاحب مرحوم کی چند خوبیاں ہیں۔ پہلی خوبی ان کی جو نمایاں طور پر ظاہر کرتا ہے اور جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے، وہ ان کی ایمانی غیرت ہے، جو کچھ ان سے سرزد ہوا خواہ اس کے متعلق کیا رائے ظاہر کریں مگر یہ ضرور کہا جائے گا کہ اس کی محرک اعلیٰ درجہ کی ایمانی غیرت تھی۔ مختلف قسم کے درجات لوگوں کے ہوتے ہیں۔ بعض میں ایک حد تک غیرت ہوتی ہے۔ بعض میں نہیں ہوتی اور بعض میں زیادہ ہوتی ہے۔ جیسا جیسا ایمان ہو اسی درجہ کی غیرت پیدا ہوتی ہے۔ قاضی صاحب مرحوم کے حالات سے جو بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے وہ ان کی ایمانی غیرت ہے۔ جو اس فعل کی محرک ہوئی ان کے فعل پر ایسے لوگوں کو اعتراض کرنے کا حق نہیں جن میں غیرت نہیں پیدا ہوئی۔ یا اگر پیدا ہوئی تو اس حد تک پیدا نہیں ہوئی جس حد تک قاضی صاحب مرحوم کے دل میں پیدا ہوئی۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج ۱۸ نمبر ۱۳۱ مورخہ ۱۶؍

جون ۱۹۳۱ء)

صفحہ 615

(۱۰۴) محترم بھائی

ہمارے محترم بھائی قاضی محمد علی صاحب نوشہروی کی پھانسی کے لیے ۱۸؍ مئی ۱۹۳۱ء کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔.... ۱۸؍ کی صبح کو ٹھیک چھ بجے آپ نے ہمیشہ کے لیے دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔ چار اصحاب قادیان سے لاش لینے کے لئے گئے ہوئے تھے۔ افسران جیل نے ساڑھے چھ بجے لاش ان کے حوالہ کر دی۔ اسی جگہ غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد سوا آٹھ بجے لاری روانہ ہوئی اور گیارہ بجے کے قریب قادیان احمدیہ چوک میں پہنچ گئی..... اس مقام پر تابوت لاری سے اتارا گیا اور چارپائی پر رکھ کر مقبرہ بہشتی کے قریب باغ میں لے جایا گیا۔ جہاں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (مرزا محمود احمد) نے خود پھر کر صفیں درست کیں اور قریباً پانچ ہزار کے مجمع کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی اور لمبی دعا کی۔ اس کے بعد لاش اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باغ کے اس مکان میں لے جائی گئی جس میں وصال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ رکھا گیا تھا اور جہاں آخری زیارت کی گئی تھی۔ اس مکان تک لاش کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (میاں محمود احمد صاحب نے) بھی کندھا دیا۔ اسی مکان میں ایک ایک کر کے تمام مجمع کو قاضی صاحب مرحوم کا چہرہ دکھایا گیا اور پھر فوٹو لیا گیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۳۳ ص ۱-۲ مورخہ ۱۹؍ مئی ۱۹۳۱ء)

صندوق سے لاش نکال کر چارپائی پر رکھی گئی اور ڈاکٹر محمد شاہ نواز خان صاحب اسسٹنٹ سرجن نے اس کا فوٹو لیا۔ اس کے بعد پھر لاش کو صندوق میں رکھ دیا گیا اور مقبرہ بہشتی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار کے مشرق کی طرف دفن کی گئی۔ قبر مکمل ہو جانے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے دعا فرمائی اور واپس تشریف لے آئے۔...

غرض مرحوم کی موت ایک شاندار موت تھی اور جس استقامت اور اخلاص کا ثبوت اس نے مرتے دم تک دیا۔ اس کی وجہ سے اسے اعزاز و اکرام حاصل ہوا جو کسی خوش قسمت کو ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ احباب درد دل کے ساتھ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو اپنی آغوش شفقت میں جگہ دے۔ بلند سے بلند درجات عطا کرے، اور اس کی بہترین یاد ہماری جماعت میں قائم رکھے۔

اپنے رویا اور کشوف سنا کر یہی کہتے رہے کہ میرے متعلق کسی قسم کا غم نہ کیا

صفحہ 616

جائے مجھے اپنے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قدر بشارتیں مل چکی ہیں کہ مجھے اپنی کامیابی اور فلاح میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہا اور میں خدا تعالیٰ کی راہ میں نہایت اطمینان کے ساتھ جان دینے کے لیے تیار ہوں اور اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۳۳ مورخہ ۱۱؍ مئی ۱۹۳۱ء)

(۱۰۵) تصویر کی تقسیم

اکثر ناظرین الفضل ”قاضی محمد علی صاحب“ کی تصویر دیکھنے کا اشتیاق ظاہر فرما رہے تھے۔ ان کے ارشاد کی تعمیل میں بہ صرف زر کثیر و جدوجہد کثیر تصویر چھپوائی جا رہی ہے۔ جو تمام خریداران الفضل کو اخبار میں بھجوا دی جائے گی اور ان اصحاب کو مفت نذر ہو گی۔ جو الفضل کا وی پی انکار کر کے واپس نہ کریں گے بلکہ وصول فرمائیں گے۔ یا یکم جولائی سے نئے خریدار بنیں گے۔

کچھ تصویریں اعلیٰ درجہ کے آرٹ پیپر پر چھپوائی گئی ہیں۔ تصویر کی قیمت ایک آنہ ہو گی۔ احباب کو جس قدر تصاویر کی ضرورت ہو ٹکٹ بھجوا کر یا بذریعہ وی پی منگوا لیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۱۴۶ ص ۲ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۳۰ء)

(ط) مرزا صاحب اور مسلمان

(۱۰۶) غلام احمد اور سرسید

ایسے لوگ بھی بہت سے ہیں جن کا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آکر کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ان کی صداقت ثابت ہو سکے، جو کچھ انہوں نے کیا ہے۔ ان سے بہت پہلے سرسید وہی کچھ کر گئے ہیں۔ اس لیے مرزا صاحب کے دعویٰ کو قبول کرنے کی ہمیں کیا ضرورت ہے اور ہم کیوں کریں۔

اس کے متعلق میں صرف یہی کہوں گا کہ اگر ایسے لوگ آنکھیں، کان اور دل رکھتے تو کبھی اپنے لیے یہ فیصلہ نہ کرتے لیکن افسوس کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے، سنتے ہوئے نہیں سنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ میں یہاں نہایت اختصار کے ساتھ حضرت

صفحہ 617

مسیح موعود کی وہ خصوصیات بتاؤں گا جن کا حامل سرسید کیا آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس زمانہ تک کا کوئی انسان بھی پیش نہیں کیا جاسکتا اور جن کو دیکھ کر ایک حق پسند اور صداقت شعار انسان نہایت آسانی سے فیصلہ کرسکے گا کہ حضرت مسیح موعود کی کیا شان ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سرسید کی تقلید میں بیان کیا ہے وہ وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سب سے سرسید نے اس کا اعلان کیا اور بعد میں مرزا صاحب نے اسی کو پیش کردیا۔ لیکن اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ سرسید نے جس رنگ اور جس طرز سے اس مسئلہ کا اقرار کیا ہے اس میں اور جس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو صاف کیا ہے اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۱۵ مورخہ ۲۰؍مئی ۱۹۱۶ء)

اگر فرض کے طور پر ہی مان لیں کہ سرسید نے اسلام کی خدمت کی ہے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا، کیونکہ ان کی تمام کوششیں اور سعی جو اس نے اپنے خیال میں اسلام کے متعلق کی وہ اس کے ساتھ ہی اس کی قبر میں دفن ہو گئی۔ اس کو فروغ دینے والا آگے کوئی پیدا نہ ہوا۔ لیکن حضرت مسیح موعود کو دیکھو کہ آپ کی جماعت دن بدن زور شور سے اس کام کو چلا رہی ہے۔ جو ان کا آقا اپنے ہاتھ سے چلا گیا تھا اور دنیا میں پھر پھر کر غافل لوگوں کو جگا رہی ہے۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک بھی وہی طریق اسلام کی اشاعت کا پسند ہے جو اس کے مسیح نے استعمال کیا ہے۔ کیونکہ اسی کو دن بدن فروغ دے رہا ہے اور سرسید کی کوششیں اگر ہوتی تھیں تو اس کے ساتھ ہی چل بسی ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۱۹ مورخہ ۲۳؍مئی ۱۹۱۶ء)

(۱۰۷) سرسید علیہ الرحمتہ کا فتویٰ

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے پیچھے لوگ کیوں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک ان کو الہام ہوتا ہے بہتر ہم کو اس سے کیا فائدہ۔ نہ ہمارے دین کے کام کا ہے نہ دنیا کے‘ ان کا الہام ان کو مبارک رہے۔ اگر نہیں ہوتا اور صرف ان کے توہمات اور

صفحہ 618

خلل دماغ کا نتیجہ ہے تو ہم کو اس سے نقصان نہیں ہے۔ وہ جو ہوں سو ہوں۔ اپنے لئے ہیں۔۔۔۔ ان کی تصانیف میں نے دیکھیں۔ وہ اسی قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام۔ یعنی نہ دین کے کام کی اور نہ دنیا کے کام کی۔

(سرسید علیہ الرحمۃ کا خط بنام شمس العلماء مولوی سید میر حسن صاحب مرحوم مندرجہ

خطوط سرسید مرتبہ سید راس مسعود صاحب ص ۲۵۶)

ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سرسید احمد خان صاحب سے جب ایک دفعہ میری کتابوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ ان میں ذرہ خیر نہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ”ملفوظات احمدیہ“ حصہ ششم، ص ۳۶۹،

مولفہ محمد منظور الہی صاحب قادیانی لاہوری)

(۱۰۸) جمال الدین افغانی

جمال الدین افغانی نے مصر میں ایک روح پیدا کی اور جس کے ساتھ مذہبی رنگ بھی تھا، لیکن وہ اس ملک کا باشندہ نہیں تھا۔ بلکہ اس ملک میں جا ٹھہرا تھا۔ قدرت سے افغانی کا لفظ اس کے ساتھ رہ گیا۔ وہ دراصل وہاں کا باشندہ نہیں تھا بلکہ افغانستان سے وہاں جا بسا تھا اگر افغانی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ قائم نہ رہ گیا ہوتا تو ممکن تھا کہ لوگ اسے مصری سمجھتے، مگر مصریوں کی قسمت سے افغانی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ باقی رہ گیا۔ ساری تحریکیں جو کبھی کبھی اس ملک میں اٹھتی رہی ہیں۔ وہ جمال الدین افغانی کی ہی ایجاد ہیں۔ مفتی عبدہ اس کا شاگرد تھا۔ اس کے بعد اس نے ان کو قائم کیا اور اس لحاظ سے ساری تحریکیں جمال الدین افغانی کی ہی ایجاد ہیں، یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ سبھی ہندوستان ہی سے گئی ہیں اور مصر سے نہیں اٹھیں۔ غرض ان تحریکوں کے موجد جمال الدین افغانی کا مولد یہی ملک ہے اور اگر اس قسم کی تحریکوں کی وجہ سے ہی کسی ملک کو گہوارہ علوم و فنون کہا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان تحریکوں کی بنا پر مصر کو گہوارہ علوم و فنون کہا جائے۔ کیوں کہ یہ سب تحریکیں مصر کے کسی آدمی کی طرف سے پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ ایک دوسرے ملک کے باشندہ نے ان کو پیدا کیا۔ پس اگر انہیں تحریکوں ہی سے اسے گہوارہ علوم و فنون کہنا ہے تو کیوں نہ افغانستان کو گہوارہ علوم و فنون کہا جائے کہ جہاں کا جلال الدین افغانی رہنے والا ہے۔

صفحہ 619

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳ نمبر ۱۰۸

مورخہ ۷؍ مئی ۱۹۲۰ء)

(۱۰۹) مجدد کا دعویٰ

میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے فرمایا مجدد کا دعویٰ کوئی علیحدہ دعویٰ نہیں بلکہ اس کے لیے بعض لکھتے ہیں۔ دعوے کی بھی ضرورت نہیں اور اس کے کام سے دوسرے اس کو مجدد قرار دیتے ہیں ہاں جو مجدد مامور ہوتا ہے وہ ضرور دعویٰ کرتا ہے۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۶۱

مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۲۱ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی پیش گوئیاں امت کے بڑے بڑے آدمیوں کی نسبت فرمائیں بعض نے ان کے مستحق ہونے کا دعویٰ بھی نہ کیا ہاں لوگوں نے سمجھ کر ان پر چسپاں کیں مثلاً محمد مہدی فاتح قسطنطنیہ کی نسبت پیش گوئی موجود ہے۔ اس کا دعویٰ ثابت نہیں اور بھی ہیں (بالخصوص حضرت سید جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ جن کے عظیم الشان اسلامی کارنامے ان کے مجدد اسلام ہونے پر شاہد ہیں للمؤلف)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۸۵ مورخہ ۲؍ فروری ۱۹۱۶ء)

(۱۱۰) مولانا ابو الکلام آزاد

چند روز ہوئے ایک دوست نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ بنصرہ کی خدمت میں لکھا تھا کہ ابوالکلام آزاد صاحب کلکتہ میں درس قرآن دیتے ہیں کیا میں اس میں شریک ہوا کروں۔ اس کے جواب میں حضور نے لکھوایا تھا کہ اگر غیر احمدی قرآن جانتے تو پھر مسیح موعود کے آنے کی کیا ضرورت تھی، ممکن ہے کہ ان الفاظ کو غیر احمدی پبلک نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو کیونکہ ان کے نزدیک ابوالکلام صاحب ایک ماہر قرآن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت تھی جسے مبرہن کیا گیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۸۷ مورخہ ۸؍ فروری ۱۹۱۶ء)

صفحہ 620

(111) خواجہ حسن نظامی

اس زمانہ میں بھی اس کی مثال موجود ہے کہ بار بار چیلنج دیا گیا۔ مباہلہ کر لو مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہوسکا۔ ابھی صوفیت کا دعویٰ کرنے والے ایک صاحب حسن نظامی نامی اٹھے اور انہوں نے لکھا کہ آؤ میں ایک گھنٹہ میں جان نکال لوں گا۔ آخر اتنے ذلیل ہوئے کہ بالکل خاموش ہوگئے۔

(ملائکۃ اللہ تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص 34)

حسن نظامی کو یا تو یہ دعویٰ تھا کہ میں سات کروڑ مسلمانوں کا قائم مقام ہوں اور کئی نواب اور راجے میرے مرید ہیں اور میں بڑا انشا پرداز ہوں یا خدا کے مقرر کردہ خلیفہ (میاں محمود احمد صاحب) کے مقابل میں آکر یہاں تک بے بس ہوا کہ پانچ سو آدمی بھی اپنے ساتھ لاہور نہ لاسکا اور نہ خود مع اہل و عیال قادیان میں کرایہ ہم سے لے کر آنے کا حوصلہ پڑا اور نہ ہی جواب میں کوئی پرزور مضمون لکھ سکا۔۔۔۔ ایسا دم بخود ہوا کہ ایک سطر بھی لکھنی دشوار ہوگئی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد 6 نمبر 21 ص 9، مورخہ 10 ستمبر 1918ء)

اللہ اکبر وہ حسن نظامی جو مچھر کا جنازہ بھی نکالے تو اس شان و شوکت سے کہ اچھے اچھے انشا پردازوں سے منہ مانگی داد لے۔ اب خدا کے الوالعزم خلیفہ کے مقابل آ کر ایسا عاجز ہوا ہے کہ دو صفحے لکھنے سے رہ گیا اور خود اپنی کوتاہ قلمی کا معترف ہے حیلے سے بہانے سے اپنی جان بچانا چاہتا ہے مگر اعلان (باطنی) جہاد کرنے سے پہلے اپنی طاقت کا اندازہ کرلینا چاہیے تھا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد 6 نمبر 58 ص 1 مورخہ 19 جنوری 1918ء)

آخر بیچارے حسن نظامی کو قادیان کی طاقت کے زیر و زبر کرنے کے بجائے خود ہی بری طرح نیچا دیکھنا پڑا اور وہ ندامت کا داغ اپنی پیشانی پر آپ ہی لگا کر کانوں پر ہاتھ رکھ کر مفرور ہوگیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد 6 نمبر 70 - 72 ص 14 مورخہ 15 - 22 مارچ 1919ء)

بے حمیتی اور بے غیرتی ان صفات رذیلہ اور خصائل رذیلہ میں سے ہے کہ جن لوگوں میں پائی جائیں۔ وہ بدترین مخلوق کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس وقت تک

صفحہ 621

ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار وہ لوگ جنہوں نے سلسلہ احمدیہ سے الگ ہو کر لاہور میں اپنا اڈا جمایا ہوا ہے اپنے قول اور فعل سے اس بات کا ثبوت بہم پہنچا چکے ہیں کہ ان میں مذہبی غیرت اور دینی حمیت کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے اور سچ پوچھو تو ان کے سلسلہ احمدیہ سے علیحدہ ہونے کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے۔ کیونکہ وہ نہایت بے غیرتی سے کام لے کر ان لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے ضروری سمجھتے تھے، جو سلسلہ احمدیہ کے مخالف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا برگزیدہ اور راست باز انسان نہیں سمجھتے، چوں کہ جماعت احمدیہ میں رہ کر وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے علیحدہ ہو گئے اور اب جو جی میں آتا ہے کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ان لوگوں کی بے غیرتی اور بے حمیتی کوئی نئی بات نہیں۔۔۔۔۔

کیا اس سے بڑھ کر بے غیرتی اور بے حمیتی کی کوئی اور مثال مل سکتی ہے کہ وہی پیغام جو آج سے ایک آدھ سال قبل خواجہ حسن نظامی کے متعلق یہ شکایت کرتا تھا کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے خلاف ناپاک الفاظ میں دریدہ دہنی سے کام لیا ہے اور اس تنگ دلی تعصب اور عناد کا ثبوت دیا ہے جو ایک صادق اور راست باز انسان سے دنیا داروں کو ہوا کرتا ہے۔ اب اسی پیغام صلح کے ایڈیٹوریل کالموں میں بڑے فخر سے خواجہ حسن نظامی کو اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ کہا جاتا ہے۔ کیا پیغام کا ہمہ داں ایڈیٹر بتلائے گا کہ خواجہ حسن نظامی کی دوستی کا اعزاز اسے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو کب سے اور کس طرح حاصل ہوا اور خواجہ صاحب کے تقدس اور بزرگی کا اسے کیوں کر پتہ لگا ہے۔ کیا اس کا ذریعہ وہی مضامین ہیں جو آج تک خواجہ حسن نظامی کی طرف سے حضرت مسیح موعود اور سلسلہ احمدیہ کے خلاف مختلف اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہے ہیں اور جس سے پیغام کا ایڈیٹر بھی ناواقف نہیں۔۔۔۔ کیا خواجہ حسن نظامی نے اپنے ان مضامین کے متعلق ندامت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔ اور اب حضرت مسیح موعود کو صادق اور راست باز انسان سمجھنے لگ گیا ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو ایڈیٹر پیغام کا اس کو اپنا معزز دوست کہنا حد درجہ کی بے غیرتی اور بے حمیتی نہیں تو اور کیا ہے۔

صفحہ 622

(اخبار الفضل قادیان جلد ۷ نمبر ۲۶ ص ۲۔۳‘ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۱۹ء)

پیغام کے ایڈیٹر نے خواجہ حسن نظامی کو اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ قرار دے کر جس بے غیرتی اور بے حمیتی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کے خلاف اگر غیر مبایعین (لاہوری جماعت) کے حلقہ میں نفرت اور حقارت کا اظہار کیا گیا تو ہم سمجھیں گے وہ سب کے سب ایڈیٹر ”پیغام“ کی قماش اور فطرت کے انسان نہیں ہیں لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم سب کے متعلق وہی رائے قائم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جو ایڈیٹر پیغام کے متعلق ظاہر کی گئی ہے کہ اس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق غیرت اور حمیت کا ایک ذرہ بھی نہیں پایا جاتا۔ ورنہ حسن نظامی کو وہ اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ نہ لکھتا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۷‘ نمبر ۲۶‘ ص ۴‘ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۱۹ء)

(۱۱۲) میاں سر فضل حسین (ج)

غرض اللہ تعالیٰ نے ان پر وفات نہ آنے دی۔ جب تک کہ انہیں ایسے مقام پر نہ پہنچا دیا کہ لوگوں نے سمجھا۔ وہی اس وقت ہندوستان پر حکومت کر رہے ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب تھا ان لوگوں کو جو کہتے تھے کہ میاں سر فضل حسین نے چونکہ گورنمنٹ ہند میں ایک احمدی (یعنی چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب قادیانی) کو وزارت پر مقرر کرایا اور وہ مرزائیت نواز ہیں۔ اس لیے ہم انہیں ذلیل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا کہ جو شخص احمدیت کی خاطر اپنے نفس پر کوئی تکلیف برداشت کرے گا وہ گو احمدی نہ ہو۔ ہم اسے بھی ذلیل نہیں ہونے دیں گے۔

پس گو سر فضل حسین صاحب احمدی نہ تھے‘ مگر چونکہ احمدیت کی وجہ سے لوگوں کی طرف سے ان پر اعتراض کیا گیا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں اپنی غیرت کا مظاہرہ کیا اور انہیں غیر معمولی طور پر عزت کے ایک مقام پر پہنچا کر بتا دیا کہ جو شخص احمدیت کے لیے اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنے کے لیے تیار ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے بھی اپنی غیرت کا اظہار کیا کرتا ہے۔ (اللہ رے شیخی اور احسان فراموشی۔ الٹا احسان دھرا جا رہا ہے کہ قادیانیت کے طفیل میں میاں صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ عزت عطا کی۔ حالانکہ خود قادیانی

صفحہ 623

اکابر میاں صاحب مرحوم کے طفیل میں عزت پاتے رہے۔ — للمولف)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۱۱۱ ص ۲ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۳۶ء)

عام مسلمانوں اور اسلامی اخبارات کی رائے ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ ان کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دعویٰ کا تازہ ثبوت خود قادیانیوں نے بھی بہم پہنچا دیا۔

سر فضل حسین مرحوم کا انتقال ہوا جو قادیانیوں کے محسن اعظم تھے۔ جن کی بدولت سر ظفر اللہ خاں قادیانی وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر ہوئے اور قادیانیوں کو ان کی ذات سے فوائد عظیمہ حاصل ہوئے، لیکن ان قادیانیوں کی محسن کشی اور شقاوت کا یہ حال ہے کہ مرحوم سر فضل حسین کی نماز جنازہ میں انہوں نے شرکت نہیں کی اور جنازہ کے ساتھ جو غیر مسلم ہندو سکھ عیسائی شریک تھے۔ نماز جنازہ کے وقت قادیانی بھی ان کے ساتھ مسلمانوں سے علیحدہ جا کھڑے ہوئے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ قادیانیوں کی جگہ مسلمانوں میں نہیں ہے بلکہ غیر مسلموں میں ہے۔

حکومت پنجاب اور حکومت ہند کو بھی یہ واقعہ معلوم ہو گیا ہو گا۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ مسلمانوں کے جو مطالبات قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے متعلق ہیں۔ ان کو عملی جامہ پہنائیں۔

(اخبار نقیب پھلواری شریف جلد ۴ نمبر ۹ مورخہ ۲۵ جولائی ۱۹۳۶ء)

(ی) تبلیغ

(۱۱۳) مکہ مکرمہ

بچپن سے میرا یہ خیال ہے اور جس کا میں نے دوستوں سے بارہا ذکر بھی کیا ہے کہ میرے نزدیک احمدیت کے پھیلنے کے لیے اگر کوئی مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے اور دوسرے درجے پر پورٹ سعید۔ اگر کوئی شخص وہاں چلا جائے تو ساری دنیا میں احمدیت کو پہنچا سکتا ہے۔ وہاں سے ہر ایک ملک کا جہاز گزرتا ہے۔ ٹریکٹ تقسیم کئے جائیں۔ اس طرح ایسے ایسے علاقوں میں حضرت (مرزا صاحب) کا نام پہنچ جائے۔ جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے مگر مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے وہاں کے لوگ ہمارے بہت کام آ سکتے

صفحہ 624

ہیں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۹ نمبر ۴

ص ۸ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۲۱ء)

(۱۱۴) مکہ میں مشن

یہ اللہ کی طرف سے ذرائع ہیں۔ مکہ میں (قادیانی) مشن کی تجویز ہے۔ ایک دوست نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مکہ میں مکان لیا جائے تو وہ پچیس ہزار روپیہ مکان کے لیے دیں گے۔ پس شیطان کے مقابلہ میں پوری طاقت سے کام لیں اور میری اس نصیحت کو خوب یاد رکھیں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان جلسہ سالانہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

۷ نمبر ۵۰ مورخہ ۸؍ جنوری ۱۹۲۰ء)

(۱۱۵) حج کے راز

مولانا میر محمد سعید صاحب ساکن حیدر آباد دکن نے (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان سے) ملاقات کی۔ مولانا کا عزم امسال حج بیت اللہ کا ہے اور اس سفر پر جانے سے پہلے آپ یہاں آئے ہیں..... سفر حج کے ذکر پر مولوی (میر محمد سعید) صاحب نے کہا کہ عرب کی سرزمین اب تک احمدیت سے خالی ہے۔ شاید خدا تعالیٰ یہ کام مجھ سے کرائے۔

اس پر حضرت خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) نے فرمایا میرا مدت سے خیال ہے کہ اگر عرب میں احمدیت پھیل جائے تو تمام اسلامی دنیا میں بہت جلد پھیل جائے گی۔

مولانا (میر محمد سعید صاحب نے) نماز کے متعلق دریافت کیا کہ وہاں کس طور پر پڑھیں۔ فرمایا میں (میاں محمود احمد صاحب) جب گیا تھا۔ اپنے طور پر جماعت کرا کر مسجد حرام میں نماز پڑھتا تھا۔

مولانا نے عرض کیا کہ عرب میں تبلیغ کا کیا طریق ہونا چاہیے (میاں محمود احمد صاحب نے) فرمایا ان سے بحث کا طریق مضر ہے۔ کیوں کہ وہ لوگ حکومت کے زیادہ زیر

صفحہ 625

اثر نہیں۔ جلد اشتعال میں آجاتے ہیں اور جو جی چاہے کر گزرتے ہیں۔

مولانا نے عرض کیا میرا خود بھی خیال ہے کہ ان کا استاد بن کر نہیں شاگرد بن کر ان کو تبلیغ کی جائے۔

(میاں محمود احمد صاحب نے) فرمایا۔ میں نے وہاں تبلیغ شروع کی اور خدا نے اپنے خاص فضل سے میری حفاظت کی۔ اس وقت حکومت ترکی کا وہاں چنداں اثر نہ تھا۔ اب تو شاہ حجاز کے گورنمنٹ انگریزی کے زیر اثر ہونے کے باعث ہندوستان سے بدسلوکی نہیں ہو سکتی، مگر اس وقت یہ حالت نہ تھی۔ اس وقت تو وہاں جس کو چاہتے گرفتار کر سکتے تھے۔ مگر میں نے تبلیغ کی اور کھلے طور پر کی، لیکن جب ہم وہ مکان چھوڑ کر واپس ہوئے تو دوسرے دن اس مکان پر چھاپہ مارا گیا اور مالک مکان کو پکڑ لیا گیا کہ اس قسم کا کوئی شخص یہاں تھا۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی ڈائری مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر

۶۷ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۲۱ء)

حضرت مولانا میر محمد سعید صاحب قادری امیر جماعت ہائے احمدیہ حیدر آباد دکن بعد حصول اجازت حضرت اقدس خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ بنصرہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کا مبارک مقصد لے کر ۳۰ اپریل ۱۹۲۱ء کو بمبئی سے ہمایوں نامی جہاز میں مدینہ شریف روانہ ہوگئے۔

آپ کا خیال ایک دراز مدت تک مدینہ شریف کو مرکز تبلیغ بنا کر ملک عرب میں تبلیغ کرنے کا ہے۔ انشاء اللہ اس مبارک دور خلافت ثانیہ میں طفیل حضرت اولوالعزم فضل عمر (میاں محمود احمد صاحب) سلمہ اللہ تعالیٰ یورپ و امریکہ میں جب کہ اسلام کا بول بالا ہو رہا ہے۔ ضرور تھا کہ وہ مقدس سرزمین عرب کہ جس کے انوار نورانی سے سارا جہان منور ہوگیا تھا۔ دوبارہ اس سرزمین کی منور چوٹیوں سے وہ نور چمک اٹھے تاکہ سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ

مسلمان را مسلمان باز کردند

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۸۵ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۲۱ء)

(۱۱۶) مثیل مدینہ

صفحہ 626

ہمیں ابھی ایک مرکز اشاعت کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اس زمانے میں احمدیت کے لیے ایک مدینہ کے مثیل کی تلاش کریں۔ ایسا ملک ہمیں میسر آئے جو احمدیت کے لیے اپنے ہاتھ کھول دے اور خدا تعالیٰ کے دین کے لیے اس کے دل کی کھڑکیاں کھلی ہوں اور وہ اس نور کے حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہو جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ظلمت کے دور کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے اور یہ نوجوانوں کا کام ہے کہ وہ نکلیں اور تلاش کریں کہ کون سا ملک ہمارے لیے مدینہ کا مثیل ثابت ہوتا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۲۲ نمبر ۱۳۵ ص ۶

مورخہ ۲۹ مارچ ۱۹۳۵ء)

(۱۱۷) بڑا فائدہ

ایمان کے لحاظ سے تو تمام انسان برابر ہیں۔ کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔ مگر سیاسی لحاظ سے جو شخص کسی قسم کا اثر رکھتا ہے۔ اس کے احمدی ہونے سے بہت بڑا فائدہ پہنچتا ہے، کیونکہ اس کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے اور اس کے ذریعے اس کے حلقہ اثر میں احمدیت پھیل سکتی ہے۔ پس ہر شخص اپنے طبقہ کو لے اور اس میں سے احمدی بنائے، تاکہ جماعت کی ترقی ہر طبقہ میں یکساں طور پر ہو، زمیندار زمینداروں کو احمدی بنائیں۔ افسر افسروں کو احمدی بنائیں، مزدور مزدوروں کو احمدی بنائیں۔ عالم عالموں کو احمدی بنائیں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۶۵

ص ۷۔۸ مورخہ ۱۵ فروری ۱۹۲۹ء)

(۱۱۸) طوفان نوح

پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ سال میں دو گنا ہونے کی کوشش کرے گا۔ اسی لیے میں نے تجویز کی تھی کہ ایسے لوگ کھڑے ہوں جو یہ اقرار کریں اور اپنے نام لکھوا دیں۔ جس طرح چندہ دینے کے لیے نام لکھاتے ہیں کہ ہم اتنا اتنا چندہ دیں گے۔ اسی طرح تبلیغ کے متعلق اقرار کریں کہ کم از کم ایک آدمی کو سال میں احمدی بنائیں گے اور جو زیادہ بنا سکیں وہ زیادہ کے لیے اقرار کریں۔ مگر شرط یہ ہے

صفحہ 627

کہ اپنے پایہ اور اپنے طبقہ کے لوگوں کو احمدی بنائیں۔ زمیندار زمینداروں کو احمدی بنائیں‘ وکیل وکیلوں کو‘ ڈاکٹر ڈاکٹروں کو‘ انجینئر انجینئروں کو‘ پلیڈر پلیڈروں کو‘ اسی طرح چند سالوں میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے کہ طوفان نوح بھی اس کے سامنے مات ہو جائے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۶‘ نمبر ۶۵‘

ص۷‘ مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۲۹ء)

(۱۱۹) کلمۃ الفصل

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۲۰۔ ۱۸؍ مئی ۱۹۱۵ء)

حضرت صاحب زادہ بشیر احمد صاحب نے مسئلہ کفر و اسلام پر ایک مبسوط مضمون لکھ کر مبلغین کی اعلیٰ کلاس اور دارالامان والوں کے سامنے سنایا تھا۔ اب ریویو آف ریلیجنز میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن تحریر ہے۔ جس میں حضرت اقدس کے مرتبہ کو بھی خوب واضح کیا گیا ہے۔ ضروری ہے کہ یہ رسالہ عام طور پر تقسیم ہو‘ تا احمدی جماعت میں اس اہم مسئلہ پر کوئی اختلاف نہ رہے اور حق ظاہر ہو۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان ج۲ نمبر ۱۴۱/ ۱۴۲ ص۷‘ مورخہ ۲۰۔ ۱۸؍ مئی ۱۹۱۵ء)

صفحہ 628

نعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حصہ دوم

فصل گیارہویں

سیاسیات، دور اول

چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدر آباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہٰذا میں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کرلیں۔

(کشف الغطاء مصنفہ مرزا ص ۱، روحانی خزائن ص ۱۷۹، ج ۱۴)

اور یہ مولف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے روبرو گزارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔

(کشف الغطاء ٹائٹل روحانی خزائن ص ۱۷۷، ج ۱۴ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ

صفحہ 629

ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اول سے آخر تک پڑھیں۔

(کشف الغطاء ص ۱‘ مندرجہ روحانی خزائن ص ۱۷۹‘ ج ۱۴‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۲) روح کا جوش

سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے..... ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے۔

اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے...... ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام و راحت کا ذکر کر سکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزائے خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی روح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو لوگوں کے دلوں میں جماویں۔

(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد از

قادیان مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۸‘ ۹‘ ۱۱‘ مجموعہ

اشتہارات‘ ص ۱۰۹‘ ۱۱۰‘ ج ۳)

(۳) خاندانی خدمات

میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے۔ اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی

صفحہ 630

یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہو گئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کی گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔

(کتاب البریہ‘ ص ۳-۴-۵‘ اشتہار مورخہ ۲۰‘ ستمبر ۱۸۹۷ء‘ روحانی خزائن ص ۲۵۴‘

مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴) میرا باپ بھائی اور میں

اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عندالضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنی عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا۔ تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی۔ لیکن میں صاحب مال اور صاحب الاملاک نہیں تھا۔۔۔۔۔ سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کرونگا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر

صفحہ 631

نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔

(انوار الحق حصہ اول ص ۲۸‘۲۹ روحانی خزائن ص ۳۸‘۳۹ ج ۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۵) حق واجب

میں ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ جس کے دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل اسباب مہیا تھے۔ تاہم میں نے برابر سولہ برس سے یہ اپنے پر حق واجب ٹھہرا لیا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیر خواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو سچی اطاعت کی طرف ترغیب دوں۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کے انجام کے لئے اپنی ہر ایک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا۔ (مثلاً دیکھو براہین احمدیہ‘ شہادۃ القرآن‘ سرمہ چشم آریہ‘ آئینہ کمالات اسلام‘ حمامۃ البشریٰ‘ نور الحق وغیرہ) کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ بار بار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے۔ اس لئے مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل بد ارادوں سے رکیں بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلاویں۔

(اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور

لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ لئے شائع کیا گیا۔ ”منجانب خاکسار

غلام احمد قادیانی مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۸۹۴ء‘ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد سوم ص ۱۹۴‘۱۹۳ مجموعہ

اشتہارات ص ۱۴۴‘ ج ۲)

(۶) قابل گزارش

دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں

صفحہ 632

کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔

اور میں نے صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا۔ بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن و امان اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شایع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر بایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ یا انعام کی خاطر سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا۔

(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد از

قادیان مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۱۰‘ مجموعہ اشتہارات

ص ۱۱‘ ج ۳)

(۷) پچاس الماریاں

میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں انکے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔

(تریاق القلوب ص ۱۵ روحانی خزائن ص ۱۵۶‘ ۱۵۵‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 633

(۸) بزرگوں سے زیادہ

میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ در حقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جانثار۔

(عریضہ بعالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ

تبلیغ رسالت جلد ششم ص ۶۵، مجموعہ اشتہارات ص ۳۶۷،۳۶۶ ج۲)

(۹) بے نظیر کارگزاری

پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ (کوئی) نہیں۔

؎ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند--- (للمؤلف)

(کتاب البریہ اشتہار مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء ص ۷ روحانی خزائن ص ۸، ج ۱۳، مجموعہ

اشتہارات ص ۳۶۳، ج ۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۱۰) اسلام کے دو حصے

میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔

صفحہ 634

ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔۔۔۔۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ رسالہ جس کا عنوان ہے ”گورنمنٹ کی توجہ

کے لائق“ ملحقہ شہادۃ القرآن مصنفہ مرزا صاحب ص ج-و‘ روحانی خزائن

ص۳۸۱-۳۸۰‘ ج۶)

(۱۱) گویا اللہ اور رسولؐ

(مرزا صاحب نے) لکھا ہے کہ میں نے کوئی کتاب یا اشتہار ایسا نہیں لکھا جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ نہیں کیا پس حضرت (مرزا) صاحب کا اس طرف توجہ دلانا اور اس زور کے ساتھ توجہ دلانا اس آیت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے گویا اللہ اور اس کے رسول کا ہی توجہ دلانا ہے۔ اس سے سمجھ لو کہ اس طرف توجہ کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۵‘ نمبر ۱۴ ص ۴‘

مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۱۷ء)

(۱۲) ہمارے مقاصد

جسمانی سلطنت میں بھی یہ ہی خدائے تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے حالانکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزماں ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے مقاصد) کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔

صفحہ 635

(ضرورۃ الامام ص ۲۳، روحانی خزائن ص ۴۹۴، ج ۱۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۳) سب سے زیادہ

سو اس نے مجھے بھیجا اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ رحمت کے نیچے جگہ دی جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک فرد رعایا میں سے شکر واجب ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر یہ سب سے زیادہ واجب ہے کیوں کہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصر ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر نہ ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔

(تحفہ قیصریہ ص ۲۷، روحانی خزائن ص ۲۸۳، ۲۸۴، ج ۱۲)

(۱۴) خدا کی طرف مشغول

(والد) کے انتقال کے بعد یہ عاجز (یعنی مرزا صاحب) دنیا کے شغلوں سے بہ کلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا۔ اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکرگزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی۔ اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔

صفحہ 636

(ستارہ قیصریہ ص ۳ روحانی خزائن ص ۱۱۴‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۱۵) فقیرانہ زندگی

اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ہے اس لئے میں ایسے درویشانہ طرز سے گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں قریباً انیس برس سے ایسی کتابوں کے شائع کرنے میں میں نے اپنا وقت بسر کیا ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنی فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہیے اور میں نے اس غرض سے بعض کتابیں عربی زبان میں لکھیں اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دور دور ملکوں تک شائع کیا اور ان سب میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکایا کہ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل و جان اختیار کریں اور یہ کتابیں عرب اور بلاد شام اور کابل اور بخارا میں پہنچائی گئیں۔

(کشف الغطاء ص ۳‘ ۴‘ روحانی خزائن ص ۱۸۵‘ ج ۱۴ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۶) گورنمنٹ کو اطلاع

جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستورالعمل رکھے وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے۔ جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرایط بیعت ہے۔ جس کی ایک کاپی اسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں۔ گورنمنٹ کو معلوم ہو گا کہ کیسے امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح بار بار ان کو تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیر خواہ اور مطیع رہیں۔

(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد

قادیانی‘ مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۱۶‘ مجموعہ اشتہارات

صفحہ 637

(۱۹۱۸ء ج ۳)

(۱۷) بیعت کی شرط

اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے۔ جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔

(ضمیمہ کتاب البریہ ص ۹‘ روحانی خزائن ص ۱۰‘ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

اس عام اصلاح کے علاوہ میں ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعود کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداری حکومت کا شامل کرنا ہے۔ آپ نے قریباً اپنی کل کتب میں اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں۔ اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور انکے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں..... یہ سبق آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہر موقع پر جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں لیا۔

(تحفۃ الملوک ص ۱۴۵‘ ۱۴۴‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۱۸) خیر خواہ اور دعا گو

اس جماعت کے نیک اثر سے جیسے عامہ خلایق منتفع ہوں گی ایسا ہی اس پاک باطن جماعت کے وجود سے گورنمنٹ برطانیہ کے لئے انواع اقسام کے فوائد متصور ہوں گے جن سے اس گورنمنٹ کو خداوند عزوجل کا شکر گزار ہونا چاہیے ازاں جملہ ایک یہ

صفحہ 638

کہ یہ لوگ سچے جوش اور دلی خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیرخواہ اور دعاگو ہوں گے کیونکہ بموجب تعلیم اسلام (جس کی پیروی اس گروہ کا عین مدعا ہے) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور خبث اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ بامن و عافیت زندگی بسر کرے اور اسکی حمایت سے اپنے دینی و دنیوی مقاصد میں بار آور کوشش کر سکے اسی کا بدخواہ و بداندیش ہو بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکر گزار نہ ہو تب تک خدائے تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں۔ پھر دوسرا فائدہ اس بابرکت گروہ کی ترقی سے گورنمنٹ کو یہ ہے کہ ان کا عملی طریق موجب انسداد جرائم ہے۔ فتفکروا و تاملوا۔

(ازالہ اوہام ص ۸۴۹‘ حاشیہ روحانی خزائن ص ۵۶۱‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۱۹) یاجوج و ماجوج

ایسا ہی یاجوج و ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں۔ جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی۔ یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی...... یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدا تعالیٰ چاہے فتح دے گا۔ چوں کہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے ہرگز نہیں پاسکتے۔

(ازالہ اوہام ص ۵۰۹‘ روحانی خزائن ص ۳۷۳‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

صفحہ 639

(۲۰) اسلامی ممالک پر توجہ

میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ (۱۵۲) میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی بہت شہرت پاگئی ہیں۔

(تحریر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء مندرجہ تبلیغ رسالت دہم ص ۴۶‘

مجموعہ اشتہارات ص ۴۴۳‘ ج ۳)

(۲۰۔ الف) جہاد کی بے ہودہ رسم (ج)

یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے (کیا عجب ہے کہ یہ بے ہودہ کوشش خود ہی بیٹھ جائے کہ اس کی شرمندگی سے قادیانی آئندہ نظر نہ اٹھا سکیں۔ للمولف برنی) چنانچہ اب تک ساٹھ کے قریب میں نے ایسی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو اور انگریزی میں تالیف کر کے شائع کی ہیں جن کا یہی مقصد ہے کہ یہ غلط خیالات مسلمانوں کے دلوں سے محو ہو جائیں۔ اس قوم میں یہ خرابی اکثر نادان مولویوں نے ڈال رکھی ہے لیکن اگر خدا نے چاہا تو امید رکھتا ہوں کہ عنقریب اس کی اصلاح ہو جائے گی۔

گورنمنٹ کی اعلیٰ حکام کی طرف سے ایسی کارروائیوں کا ہونا ضروری ہے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں منقوش ہو جائے کہ یہ سلطنت اسلام کے لئے درحقیقت چشمہ فیض ہے (کم از کم قادیانیوں کے حقوق میں چشمہ فیض بننا لازم ہے کہ یہ جماعت سرکار کا خود کاشتہ پودا مانی جاتی ہے۔ للمولف برنی)

(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ۱۹۰۲ء جلد ۱‘ نمبر ۱۲‘ ص ۴۹۵‘ اقتباس معروضہ جو

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے حکومت میں پیش کیا)

(۲۰۔ ب) جہاد حرام قطعاً حرام (ج)

صفحہ 640

گورنمنٹ کا یہ اپنا فرض ہے کہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت اپنے تئیں تردد اور شک نہ رکھے اور ہر ایک حیلہ اور ایک تدبیر سے اس کے اندرونی حالات دریافت کرے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ باتیں محض گورنمنٹ کی خوشامد کے لئے ہیں۔ مگر میں ان کو کس سے مشابہت دوں وہ اس اندھے سے مشابہ ہیں جو سورج کی گرمی محسوس کرتا ہے اور ہزار شہادتیں سنتا ہے اور پھر سورج کے وجود سے انکار کرتا ہے ظاہر ہے کہ جس حالت میں ہمارے امام (مرزا غلام احمد قادیانی) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو ۲۲ برس ہیں اسی تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعا حرام ہے یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلاد اسلام‘ عرب‘ شام‘ کابل وغیرہ میں تقسیم کیا ہے جن سے گورنمنٹ بے خبر نہیں ہے (گورنمنٹ کیوں بے خبر ہو گی جبکہ خود اس کے منشا پر کام ہوا ہو۔ للمولف برنی) تو کیا گمان ہو سکتا ہے کہ اتنا لمبا حصہ زندگی کا جس نے پیرانہ سالی تک پہنچا دیا وہ نفاق میں بسر کیا ہے (سرکار انگریزی سے تو حد درجہ خلوص و اخلاص رہا پھر نفاق کا شبہ کون کر سکتا ہے۔ للمولف برنی)...... ہاں آپ نے (مرزا غلام احمد قادیانی نے) ہمارے لئے یہ دروازہ کھول دیا ہے کہ ہم سچائی کو دلائل کے ساتھ پیش کریں اور گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت کو غنیمت سمجھیں کیونکہ کوئی دوسری اسلامی سلطنت اپنے مخالفانہ جوشوں کی وجہ سے کبھی ہماری برداشت نہیں کرے گی۔

(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلجنز بابت ۱۹۰۲ء جلد نمبر ۱‘ ص ۴۰‘ مضمون از ایڈیٹر رسالہ

مولوی محمد علی صاحب)

(۲۱) حکومتوں کا فرق

ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش کرنا عبث ہے۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہشتم ص ۵‘ مجموعہ

اشتہارات ص ۹۵‘ ج ۳)

بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔ تو پھر کس طرح سے ہو سکتا ہے کہ

صفحہ 641

ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ملفوظات احمدیہ جلد اول ص ۴۶‘ احمدیہ

انجمن اشاعت اسلام لاہور)

میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں۔ نہ روم میں۔ نہ شام۔ نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۲۲ مارچ ۱۸۹۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد

ششم ص ۶۹ مجموعہ اشتہارات حاشیہ ص ۳۷۱‘ ۳۷۰‘ ج ۲)

میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کرسکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لاسکتے۔ اگر یہ امن اور آزادی اور بے تعصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت عرب میں ہوتی تو وہ لوگ ہرگز تلوار سے ہلاک نہ کئے جاتے۔ اگر یہ امن اور آزادی اور بے تعصبی اس وقت کے قیصر اور کسریٰ کی گورنمنٹوں میں ہوتی تو وہ بادشاہتیں اب تک قائم رہتیں۔

(ازالہ اوہام ص ۵۱۶‘ حاشیہ روحانی خزائن ص ۳۴۰‘ ج ۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

(۲۲) توجہ کی آرزو

بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے اسی گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گزرا ہو گا کہ

صفحہ 642

ہماری خوشامد کے لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں۔۔۔۔۔ لیکن یہ دانشمند گورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں جو ہم نے ایسی کتابیں بھیجیں جن میں بڑے بڑے مضمون اس گورنمنٹ کی شکر گزاری اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں تھے۔ ان میں گورنمنٹ کی خوشامد کا کون سا موقع تھا۔ کیا گورنمنٹ نے مجھ کو مجبور کیا تھا کہ میں ایسی کتابیں تالیف کر کے ان ملکوں میں روانہ کروں اور ان سے گالیاں سنوں میں یقین رکھتا ہوں ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کا قدر کرے گی۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دہم

ص ۲۸، مجموعہ اشتہارات ص ۴۴۵، ج ۳)

(۲۳) جشن جوبلی

ہم بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام ظلہا کے جشن جوبلی کی خوشی اور شکریہ کے ادا کرنے کے لئے میری جماعت کے اکثر احباب دور دور کی مسافت قطع کر کے ۱۹ جون ۱۸۹۷ء کو ہی قادیان میں تشریف لائے اور یہ سب (۲۲۵) آدمی تھے اور اس جگہ کے ہمارے مرید اور مخلص بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے جن سے ایک گروہ کثیر ہو گیا اور وہ سب ۲۰ جون ۱۸۹۷ء کو اس مبارک تقریب میں باہم مل کر دعا، اور شکر باری تعالیٰ میں مصروف ہوئے۔..... اس تقریب پر ایک کتاب شکر گزاری جناب قیصرہ ہند کے لئے تالیف کر کے اور چھاپ کر اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے ان میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کے لئے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔ اب وہ دعائیں جو چھ زبانوں میں کی گئیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں اور بعد اس کے ان تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے۔ جو تکالیف سفر اٹھا کر اس جلسہ کے لئے قادیان میں تشریف لائے۔

(اعلان مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ششم ص ۱۴۰، ۱۳۸، مولفہ

میر قاسم علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات ص ۴۲۵ تا ۴۲۷ ج ۲)

صفحہ 643

(۴۴) جواب کی استدعا

اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کرکے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں اس غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔

(ستارہ قیصریہ ص ۲ روحانی خزائن ص ۱۱۲ ج ۱۵، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

میں نے (یعنی مرزا صاحب نے) تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصر ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اور خدمات اور دعوات گزارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاص وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پر رحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے۔ بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ

صفحہ 644

خیرو عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچادے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پر رحمت جواب سے ممنون فرماویں۔

(ستارہ قیصریہ ص ۵،۴‘ روحانی خزائن ص ۱۱۵‘ ج ۱۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۵) مگر افسوس

میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔ یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے۔ جیسا کہ خدا کا۔

یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پر زور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں۔ کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں (اس کے ذیل میں ۱۸۸۲ء لغایت ۱۸۹۴ء کل ۲۴ کتابوں اور اشتہاروں کا حوالہ درج ہے ص ۲ — للمؤلف) ان کتابوں کے دیکھنے کے بعد ہر ایک شخص اس نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے کہ جو شخص برابر اٹھارہ برس سے ایسے جوش سے کہ جس سے زیادہ ممکن نہیں گورنمنٹ انگلیشیہ کی تائید میں ایسے پر زور مضمون لکھ رہا ہے اور ان مضمونوں کو نہ صرف انگریزی عملداری میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی شائع کر رہا ہے۔ کیا اس کے حق میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہ اس گورنمنٹ محسنہ کا خیرخواہ نہیں۔ گورنمنٹ متوجہ ہو کر سوچے کہ یہ مسلسل کارروائی جو مسلمانوں کو اطاعت گورنمنٹ برطانیہ پر آمادہ کرنے کے لئے برابر اٹھارہ برس سے ہو رہی ہے اور غیر ملکوں کے لوگوں کو

صفحہ 645

بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم کیسے امن اور آزادی سے زیر سایہ گورنمنٹ برطانیہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ کارروائی کیوں اور کس غرض سے ہے اور غیر ملک کے لوگوں تک ایسی کتابیں اور ایسے اشتہارات کے پہنچانے کا کیا مدعا تھا۔ (ع گر اس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اس بت کو خدا سمجھے۔ للمولف)

(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر اقبالہ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد قادیان مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۱۱ تا ۱۳‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۲ تا ۱۴ ج ۳)

(۲۶) شدت تمنا

لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکریہ کیسا۔

(البشریٰ ص ۵۷‘ ج ۲‘ تذکرہ ص ۳۳۱‘ ط ۳)

آگیا۔

(البشریٰ جلد دوم‘ ص ۵۷‘ مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب تذکرہ ص ۳۴۲‘

ط ۳)

(۲۷) تبلیغی معروضہ

اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم (مرزا صاحب اور قادیانی صاحبان۔ للمولف) عاجزانہ ادب کے ساتھ تیری حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے۔ یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔

(تحفہ قیصریہ ص ۲۲‘ روحانی خزائن ص ۲۷۷‘ ج ۱۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۸) دعا

اب میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو

صفحہ 646

عمر دراز دے کر ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستارہ قیصریہ اور تحفہ قیصریہ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں قبول فرمادے اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب سے مجھے مشرف فرمادے گی۔والدعا۔

(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست عریضہ خاکسار غلام احمد از قادیان

المرقوم ۲۷ ستمبر ۱۸۹۹ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہشتم ص ۱۶ مولفہ میر قاسم علی صاحب

قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۵۰‘ ج ۳)

(۲۹) سیاسی خلوت

ایک دفعہ صوبہ کے بڑے افسر سے حضرت (مرزا غلام احمد) صاحب ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ یوں تو آپ کسی کے پاس نہ جایا کرتے تھے لیکن انہیں اپنا مہمان سمجھ کر چلے گئے ان دنوں گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ سے گورنمنٹ کو فائدہ پہنچے گا۔ ان افسر صاحب نے حضرت (مرزا) صاحب سے پوچھا کہ آپ کا مسلم لیگ کے متعلق کیا خیال ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں اسے نہیں جانتا۔ خواجہ (کمال الدین) صاحب چونکہ اس کے ممبر تھے۔ انھوں نے اس کے حالات عجیب پیرائے میں آپ کو بتائے۔ فرمایا کہ میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ سیاست میں دخل دیں۔ صاحب بہادر نے کہا کہ مرزا صاحب مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ بہت مفید ہے۔ آپ نے فرمایا بری کیوں نہیں ایک دن یہ بھی بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب شاید آپ نے کانگرس کا خیال کیا ہو گا۔ لیگ کا حال کانگرس کی طرح نہیں۔ کیونکہ کسی کام کی جیسی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ویسا ہی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ کانگرس کی بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر ثابت ہوئی۔ لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ آج آپ کا یہ خیال ہے تھوڑے دنوں کے بعد لیگ بھی وہی کام کرے گی جو آج کانگرس کر رہی ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی ۲۷ دسمبر ۱۹۱۳ء والی تقریر مندرجہ رسالہ ریویو

آف ریلیجنز بابت ماہ جنوری ۱۹۲۰ء)

(۳۰) تاکیدی نصیحت

صفحہ 647

چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً سولہ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔ یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔ اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اعلان اپنی جماعت کے نام مورخہ ۷ مئی ۱۸۹۷ء مندرجہ

تبلیغ رسالت جلد دہم ص ۱۲۲، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات

ص ۵۸۲-۵۸۳ ج ۳)

(۳۱) بے نظیر خیر خواہی

میرے اس دعوے پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیر خواہ ہوں دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا لاکھ پرچہ بھی ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو تب بھی وہ دروغ گو ثابت ہوگا۔ اول یہ کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ میں نے کئی کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں جن میں برابر یہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی بد اندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کسی نفاق پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی و فارسی روم اور شام اور مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں کی گئی ہیں۔ وہ کارروائی کیونکر نفاق پر محمول ہو سکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے باشندوں سے بجز کافر

صفحہ 648

تمغے یا کسی اور انعام کی توقع تھی۔ کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسے خیر خواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے۔ اگر ہے تو پیش کرے لیکن میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لئے کی ہے اس کی نظیر نہیں ملے گی۔

("اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لئے شائع کیا گیا" منجانب خاکسار غلام احمد قادیانی مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۸۹۳ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد سوم ص ۱۹۶ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۲۸‘ ۱۲۹ ج ۲)

(۳۲) ہماری پرورش

اگر انگریزی سلطنت کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے لیکن یہ دولت برطانیہ غالب اور باسیاست جو ہمارے لئے مبارک ہے خدا اس کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے۔ کمزوروں کو اپنی مہربانی اور شفقت کے بازو کے نیچے پناہ دیتی ہے پس ایک کمزور پر زبردست کچھ تعدی نہیں کر سکتا ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے بڑے آرام اور امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور شکر گزار ہیں اور یہ خدا کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں کسی ایسے ظالم بادشاہ کے حوالے نہیں کیا جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا‘ کچھ رحم نہ کرتا بلکہ اس نے ہمیں ایک ایسی ملکہ عطا کی ہے‘ جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے ہماری پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر کی طرف اٹھاتی ہے۔ سو خدا اس کو وہ جزائے خیر دے جو ایک عادل بادشاہ کو اس کی رعیت پروری کی وجہ سے ملتی ہے۔

(نور الحق حصہ اول ص ۴‘ روحانی خزائن ص ۶‘ ج ۸‘ مصنفہ مرزا غلام قادیانی صاحب)

(۳۳) حرز سلطنت

اطلاع : براہین احمدیہ کے (ص ۲۴۱) میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ وما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم اینما تولوا فثم وجہ اللہ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے حالانکہ تو ان کی

صفحہ 649

عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے۔ اس گورنمنٹ کی پرامن سلطنت اور ظل حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے میں دعا میں مشغول ہوں کیونکہ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں۔ نہ روم میں نہ شام میں۔ نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔

اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے غرض میں گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت ہوں۔

(عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب۔

مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ششم حاشیہ ۶۹، مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ

اشتہارات ص ۳۷۰، ۳۷۱ ج۲)

(۳۴) سرکاری تصدیق

خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب پنجاب چیفس یعنی تذکرہ روسا پنجاب میں جسے اولاً سر لیپل گرفن نے زیر ہدایت پنجاب گورنمنٹ تالیف کرنا شروع کیا اور بعد میں مسٹر میسی اور مسٹر کریک نے علی الترتیب گورنمنٹ پنجاب کے حکم سے اسے مکمل کیا اور اس پر نظرثانی کی۔ ہمارے خاندان کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ درج ہے۔ (ص ۱۱۰)

(سیرت المہدی، ص ۱۱۰، روایت نمبر ۱۳۲)

اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے مشہور مذہبی سلسلہ کا بانی ہوا۔ جو احمدیہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہے۔ مرزا غلام احمد ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا تھا اور اس کو بہت اچھی تعلیم ملی۔ ۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ چونکہ مرزا ایک قابل مذہبی عالم اور مناظر تھا، اس لئے جلدی بہت سے لوگوں کو اس نے اپنا معتقد بنا لیا اور اب احمدیہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین

صفحہ 650

لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے (حالانکہ مدتوں بعد ۱۹۳۰ء کی تازہ ترین مردم شماری میں خاص اپنے مرکز پنجاب میں قادیانیوں کی تعداد ۵۵ ہزار نکلی اور خود قادیانی صاحبان بقیہ ہندوستان میں اپنی تعداد بیس ہزار تخمینہ کرتے ہیں۔ اس طرح بھی مجموعی تعداد کل ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ ۷۵ ہزار بنتی ہے اور یہ پچاس برس کی کوشش کا حاصل ہے۔۔۔ للمولف) مرزا عربی‘ فارسی‘ اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا جس میں اس نے مسئلہ جہاد کی تردید کی اور یقین کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر معتد بہ اثر کیا ہے۔ (ص ۱۱۷)

(سیرۃ المہدی‘ حصہ اول ۱۱۷‘ روایت نمبر ۱۴۳‘ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۳۵) مرزا صاحب کی چٹھیاں

اسی طرح مختلف مواقع پر حضرت (مرزا) صاحب نے (گورنمنٹ کو) چٹھیاں لکھیں مثلاً جنگ ٹرانسوال کے موقع پر‘ جوبلی کے موقع پر‘ طاعون کے پھیلنے پر‘ جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اس کے کام میں مدد دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۱۰۷‘ ص ۴‘

مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۱۵ء)

(۳۶) فنانشل کمشنر صاحب کی آؤ بھگت (م)

جب فنانشل کمشنر صاحب بہادر دورہ پر قادیان تشریف لائے تھے تو آپ نے (مرزا صاحب نے) اس خبر کو سن کر تمام جماعت کے ذی حیثیت آدمیوں کو خطوط لکھ کر قادیان بلوایا اور ان کے قادیان آنے سے پہلے زمین مدرسہ میں ایک بڑا دروازہ لگوایا گیا تھا اور ان کے خیمہ تک ایک عارضی سڑک بنا دی گئی تھی اور جس وقت ان کی آمد کی امید تھی تمام جماعت کو جس میں حضرت خلیفہ المسیح خلیفہ اول (حکیم نور دین صاحب) اور مولوی محمد علی صاحب بھی شامل تھے‘ حکم دیا تھا کہ اس دروازہ کے دونوں طرف دو رویہ کھڑے رہیں اور پھر مجھے اپنا قائم مقام کر کے آپ کے استقبال کے لیے آگے بھیجا تھا اور خواجہ کمال الدین صاحب کو میرے ساتھ کیا تھا کہ جہاں آپ ملیں ان سے یہ بھی

صفحہ 651

عرض کر دیں کہ میں بسبب ضعف اور بڑھاپے کے آگے نہیں آسکتا اس لیے اپنے بڑے بیٹے کو آپ کے استقبال کے لیے بھیجتا ہوں جس پر اس وقت چہ میگوئیاں بھی ہوئی تھیں کہ آپ نے بڑا بیٹا کیوں فرمایا۔ غرض کہ خواجہ صاحب میرے ساتھ گئے تھے اور قادیان سے ایک میل کے فاصلہ پر جناب فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات ہوئی تھی اور پھر ہم سب ان کے ساتھ ہی ان کے مقام تک آئے تھے۔ جہاں دروازہ پر تمام جماعت دو رویہ کھڑی تھی اور بڑے بڑے آدمیوں کو آپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا پھر دوسرے دن خود حضرت مسیح موعود آپ سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔۔۔۔۔ پس پہلے آپ حضرت مسیح موعود پر اعتراض کریں کہ اظہار وفاداری تو ہم سب کا شعار ہے اور احمدی جماعت کی وفاداری ایک مسلمہ امر ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۱۰۷

ص ۳-۴ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۱۵ء)

۱۹۰۸ء میں اس خاکسار کو تکمیل تعلیم کے لیے لاہور جانا پڑا اسی سال فنانشل کمشنر سر جیمس ولسن اپنے دورے کے موقع پر قادیان آئے اور قادیان میں اپنا مقام رکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے بہت سی جماعتوں میں چٹھیاں لکھی گئیں کہ دوست اس موقع پر قادیان آئیں۔ چنانچہ پنجاب اور ہندوستان کی بہت سی جماعتوں سے کئی سو کی تعداد میں احباب قادیان پہنچے۔ خاکسار کو بھی اس موقع پر حاضر ہونے کا موقع ملا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہدایت کے ماتحت سب احباب نے کمشنر صاحب کا استقبال کیا۔ کمشنر صاحب نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) سے ملاقات بھی فرمائی۔ حضور علیہ السلام نے ان کو دعوت طعام بھی دی۔ (اس تقریب سے مرزا قادیانی صاحب اور ان کی جماعت کی خوشامد گری اور احساس کمتری بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ دیوتا کی طرح انگریز کی پوجا ہوتی تھی اور اس میں شک نہیں کہ یہ پوجا ابتدا میں قادیانیوں کے بہت کام آئی۔ للمولف برنی)

(روایات قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۱۸۰ جلد ۳۴ ص ۳ مورخہ ۲ اگست

۱۹۴۶ء)

دارالفتوح (ریتی چھلہ) کے بڑ والے میدان میں پہلے طلبہ کی قطاریں تھیں جن

صفحہ 652

کے ساتھ ان کے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر صاحب تھے۔ دروازہ کے پاس جماعت احمدیہ کے مقامی اور بیرون جات کے شرفاء اور معززین کھڑے تھے مگر اس موقع پر بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام موجود نہ تھے۔ گیارہ بجے کے قریب صاحب بہادر اپنے کیمپ پر پہنچے اور صاحب بہادر کی خواہش پر عصر کے بعد حضور نے اپنے معزز مہمان کو شرف ملاقات بخشا تھا۔ حضور جب تشریف لے گئے تو صاحب بہادر نے خیمہ کے دروازے پر حضور کا استقبال کیا اور حضور کی واپسی پر بھی خیمہ سے باہر تک حضور کو رخصت کرنے آئے۔ ان واقعات کا میں بھی چشم دید گواہ ہوں۔

(بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی کا بیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۲۷ جلد ۳۲

مورخہ ۴؍ فروری ۱۹۴۱ء)

(مندرجہ بالا روداد جو بغرض تصحیح روایت لکھی گئی اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ میرزا قادیانی صاحب جو انگریزوں کی آؤ بھگت خوشامد کی حد تک کرتے تھے۔ اس سے خود قادیانی لوگ بھی خفت محسوس کرنے لگے اور لامحالہ انہوں نے ترمیم اور تاویل کا راستہ نکالا مگر خود ترمیم اور تاویل سے بھی وہی خفت ظاہر ہوتی ہے جس کا چھپانا مقصود ہے۔ للمولف برنی)

(۳۷) فخر اور شرم

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں، میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو، مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے۔ میں انہیں احمدی ہی کہوں گا کیونکہ نابینا بھی آخر انسان ہی کہلاتا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے۔ اس لئے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر ۳

مورخہ ۷؍ جولائی ۱۹۳۲ء)

صفحہ 653

(۳۸) پرانا اعتراض

ہمارے مخالفوں کا یہ ایک پرانا اعتراض ہے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف پیش کرتے رہے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ گورنمنٹ کے خوشامدی تھے اور اس وقت ہم سے جدا ہونے والا احمدیوں کا گروہ بھی ہم پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ تم گورنمنٹ برطانیہ کے خوشامدی ہو۔۔۔۔۔۔ اسی طرح غیر احمدی بھی اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے نہ ان اعتراضوں کی پروا کی اور نہ ہم پروا کرتے ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۵۱ مورخہ ۱۹؍ اکتوبر)

صفحہ 654

فصل بارہویں

سیاسیات، دور ثانی

(۱) پولیٹیکل مرکز

اب تو قادیان، ہاں وہ قادیان جہاں سے کبھی علوم دینیہ کے چشمے پھوٹتے تھے۔ ایک اچھا خاصہ پولیٹیکل مرکز بن چکا ہے۔ ہندوستان کے ہر حصہ کے لوگوں سے وہاں پولیٹیکل امور کے متعلق خط و کتابت ہوتی رہتی ہے۔ لوگ وہاں آتے ہیں تو کوئی دین سیکھنے کے لئے نہیں بلکہ محض سیاسی امور کے متعلق جناب خلافت مآب سے مشورہ لینے اور ان سے گفتگو کرنے کے لیے۔ صرف ہندوستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ بہت سے دیگر ممالک افغانستان وغیرہ سے بھی لوگ اسی غرض کو لے کر آتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستان کے پولیٹیکل معاملات ان سے بالکل علیحدہ ہیں لیکن میاں صاحب ہیں کہ برطانوی حکومت کے مفاد کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے ان لوگوں سے ان باہر کے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ ان پولیٹیکل معاملات پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان سے خط و کتابت جاری رکھتے ہیں اور لوگ چل کر ان سے ملنے آتے ہیں تاکہ قادیان کے اندر بیٹھ کر ان سے ان معاملات پر بات چیت کریں۔ کیا ان حالات، ان خود فرمودہ واقعات کے ہوتے ہوئے یہ کہنا بعید از انصاف ہو گا کہ دین کی آڑ میں میاں (محمود احمد) صاحب جو کچھ کرتے ہیں وہ بڑے بڑے پولیٹیکل سازشیوں سے بھی ناممکن ہے۔

تعجب ہے کہ خود خلافت مآب پولیٹیکل امور میں اس قدر سرگرم ہوں کہ ہر وقت ہر چہار حصص ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک افغانستان وغیرہ سے بھی ملکی امور پر ان کی خط و کتابت ہوتی رہتی ہو۔ لوگ ان کے پاس ملکی مشورہ کرنے کے لیے آئیں اور قادیان کو دین سے تو اب خیر چنداں واسطہ ہی نہیں ایک اچھا خاصہ پولیٹیکل مرکز بنایا جائے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۵ نمبر ۳۴ مورخہ ۵ دسمبر ۱۹۱۷ء)

صفحہ 655

(۲) سیاسیات ہی سیاسیات

سیاسی مسائل میں ان لوگوں (قادیانی صاحبان) کا انہماک یہاں تک ترقی کرچکا ہے کہ اب قادیان میں بھی بقول میاں (محمود احمد) صاحب اگر کوئی بات چیت ہوتی ہے تو وہ سیاسی مسائل پر ہی ہوتی ہے۔ باہر سے خط و کتابت بھی سب کی سب مسائل سیاسیہ ہی کے متعلق کی جاتی ہے۔ قادیان آنے والے لوگ بھی ان ہی مسائل سیاسی میں ہی غور و فکر کرنے کے لیے آتے اور میاں صاحب کے آگے زانوئے ادب تہ کرتے ہیں۔ غرض جو کچھ ہوتا ہے محض سیاست ہی سیاست ہے اور دین کا نام و نشان تک نہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح جلد ۵ نمبر ۶۳ مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۱۸ء)

(۳) سیاسیات میں برتری

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں سیاسیات میں بھی ایسی ہی برتری عطا کی ہے۔ جیسی دوسرے امور میں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتا ہے۔ ہماری اپنی قابلیتوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اب بیسیوں بڑے بڑے سیاست دان یورپ اور ہندوستان کے لوگوں کی تحریریں موجود ہیں جن میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ہم نے ہندوستان کے نظم و نسق کے متعلق جو رائے پیش کی ہے وہ بہت صائب ہے۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان جلسہ سالانہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان

جلد ۱۸ نمبر ۸۲ ص ۵ مورخہ ۳ جنوری ۱۹۳۱ء)

(۴) پر فریب نام

چند ماہ سے قادیانی جماعت اور اس کے امام محترم سیاسیات میں خاص دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کی طرف سے تحفظ حقوق مسلمین کے پر فریب نام سے نہایت مشتبہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور اس سلسلہ میں بعض نہایت عجیب و غریب باتیں معلوم ہوئیں اور جستجو پر بہت سے خوفناک اور رنجیدہ انکشافات بھی ہوئے۔

(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۳۰ء)

صفحہ 656

(۵) تخم ریزی

اسی سلسلہ میں (بہ مقام شملہ) خود حرم حضرت اقدس (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) نے ایک پردہ پارٹی دی۔ جس میں انگریز، ہندو، پارسی، سکھ اور مسلم خواتین کثیر تعداد میں شریک ہوئیں۔ ہمارے لاہور کے کمشنر صاحب مسٹر مایلز ارونگ کی خاتون بھی شریک پارٹی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کپور تھلہ کے شاہی خاندان کی خواتین، آنریبل مسٹر جناح کی بیگم صاحبہ اور بہت سی معزز اور سر برآوردہ بیگمات اس موقع پر موجود تھیں اور قریباً اڑھائی گھنٹہ تک یہ جلسہ شملہ کی مشہور فرم ڈیوئی کو کے ہال میں رہا جہاں پردہ کا پورا اہتمام تھا اور نفیس ماکولات و مشروبات کا انتظام تھا۔ اس پارٹی میں حضرت ام المومنین (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی اہلیہ) کا وجود باجود بھی موجود تھا اور پارٹی کو معزز میزبان کی طرف سے کامیاب بنانے میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ (مرزا صاحب کی صاحبزادی) نے جس دلچسپی اور قابلیت کا اظہار فرمایا وہ ہر طرح سے شکریہ کے قابل ہے۔ میں ان واقعات کو سرسری نظر سے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ یہ واقعات ایک تخم ریزی ہیں۔ آئندہ سلسلہ کی شاندار ترقیات کی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۲۶-۲۷ مورخہ ۳۰؍ ستمبر ۱۹۲۷ء)

(۶) بڑے احسان

گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں..... اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لیے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔

(برکات خلافت ص ۶۵ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالابار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویشناک ہو گئی تھی۔ ان کے لڑکوں کو سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔

ان کے مردے دفن کرنے سے روک دیئے گئے۔ چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا رہا مسجدوں سے روک دیا گیا..... گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنا لو..... ڈپٹی کمشنر نے یہ حکم دیا کہ اگر

صفحہ 657

اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔

(انوار خلافت ص ۹۵ و ۹۶ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب قادیان)

(۷) ایسا ہی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت ایک جنگ ہوئی تھی اور اب بھی ایک جنگ شروع ہے مگر وہ جنگ اس کے مقابلہ میں بہت چھوٹی تھی۔ اس وقت کی حضرت مسیح موعود کی تحریریں موجود ہیں۔ اس وقت گورنمنٹ کے لیے چندے کئے گئے۔ مدد دینے کی تحریکیں کی گئیں، دعائیں کرائی گئیں۔ آج بھی ہمارا فرض ہے کہ ایسا ہی کریں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان جلد ۵ نمبر ۱۳ ص ۷ مورخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۱۷ء)

(۸) قادیانی رنگروٹ

جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں موذن بنتا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو والینٹر ہو کر جنگ (یورپ) میں چلا جاتا۔

(انوار خلافت ص ۹۶ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

لارڈ چیمسفورڈ نے میرے نام چٹھی میں اس کا ذکر کیا کہ حکومت نے ایک کمیونک شائع کیا ہے کہ آپ کی جماعت نے بہت مدد دی ہے، پھر کابل کی لڑائی ہوئی اور اس موقع پر بھی میں نے فوراً حکومت کی مدد کی اپنے چھوٹے بھائی کو فوج میں بھیجا، جہاں انہوں نے بغیر تنخواہ کے چھ ماہ کام کیا۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج ۲۲ نمبر ۶۱ ص ۶ مورخہ

۲۹؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۹) دعائیہ جلسہ

موجودہ جنگ کی تیسری سالگرہ ۴؍ اگست ۱۹۱۷ء کو تھی جس کے متعلق تقدس مآب

صفحہ 658

حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام نے قادیان میں ایک خاص دعائیہ جلسہ منعقد فرمایا، جس میں تمام قادیان کے احمدی دکاندار، اہلکاران اور طلبا ہائی اسکول و مدرسہ احمدیہ بلوائے گئے۔ بعد نماز عصر ایک تقریر فرمائی جس میں برٹش راج کے احسانات اور برکات کو واضح طور پر سامعین کے ذہن نشین کروا دیا اور برٹش راج سے پہلے مسلمانوں کی ذلیل حالت کا نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ سکھوں کے وقت میں ان کے مذہب کی کیا حالت تھی۔ بالخصوص حضور ممدوح نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کی وہ ہدایات یاد دلائیں جن میں حضرت اقدس نے اپنی شرائط بیعت میں حاکموں کی فرمانبرداری کو بھی داخل فرمایا ہے اور تاکیداً حکم دیا ہے اور فرمایا کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی حکم نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا بھی مسلمانوں کو حکم ہے کہ جو تم پر حاکم ہوں ان کی فرمانبرداری کرو تو گویا گورنمنٹ کے برخلاف کسی امر میں حصہ لینے والا خدا کا نافرمان ہے اور مثالیں دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض کالج کے طلبا سے بھی جب انہوں نے اسٹرائیک کرنے والوں کی حامی بھری تھی قطع تعلق کر لیا تھا تو خوب سوچو کہ جو محسن گورنمنٹ کا باغی ہو اس کا حضرت مسیح موعود کے ساتھ کیا تعلق ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ حضرت مسیح موعود نے بھی تم پر بھروسہ کیا ہے کہ احمدی کبھی اپنی مہربان گورنمنٹ کے برخلاف نہیں ہوں گے اور خدا کے فضل سے احمدیوں نے موجودہ جنگ میں جس کو آج پورے تین سال ہوگئے ہیں اپنی بساط سے بہت بڑھ کر تن من دھن سے حصہ لیا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۱۷ء)

(۱۰) کانگریس اور قادیانی جماعت

آج کل کانگریس والوں کو جہاں گورنمنٹ سے مقابلہ ہے۔ وہاں قادیانیوں کا سامنا بھی ہے اور بیچارے سخت مشکل میں آئے ہیں۔۔۔۔۔ گاؤں گاؤں گھوم پھر کر قادیانی مبلغین کانگریس کے پروپیگنڈے کو بے اثر بنا رہے ہیں۔ وعظوں اور لیکچروں کے ذریعہ گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کا سبق دیا جا رہا ہے اور اولی الامر منکم کی تفسیر کے دریا بہائے جا رہے ہیں۔ غرض گورنمنٹ کی سختیوں اور قادیانیوں کی بوالعجبیوں نے کانگریس والوں کا تو ان دنوں یہ حال کر رکھا ہے ؎

غم صیاد فکر باغباں ہے دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے
صفحہ 659

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح مورخہ ۲۳ جون ۱۹۳۰ء) میں نے پھر بھی کانگریس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا فرد اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقیناً ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی رہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرأت ہوئی اور ان میں سے کئی کانگریس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر

۱۳۷ مورخہ ۲۸؍ مئی ۱۹۳۱ء)

(۱۱) شرمناک الزام

پیغام صلح نے جماعت احمدیہ پر یہ شرمناک الزام لگایا تھا کہ وہ کار خاص پر متعین ہے اور اس کے ثبوت میں ناظر صاحب امور خارجہ قادیان کی ایک چٹھی کا اقتباس شائع کیا تھا جو انہوں نے بیرونی جماعتوں کو ارسال کی تھی۔.... اس چٹھی کے خاص فقرات یہ ہیں۔

”اپنے علاقہ کی سیاسی تحریکات سے پوری طرح واقف رہنا چاہیے اور کانگریس کے اثر کے بڑھنے اور گھٹنے سے مرکز کو اطلاع دیتے رہیں۔ اگر کوئی سرکاری افسر سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتا ہو یا کانگریسی خیالات رکھتا ہو تو اس کا بھی خیال رکھیں اور یہاں (قادیان) اطلاع دیں۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۰ ص ۹ مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۳۰ء)

(۱۲) سیاسی مشورے

غرض جو کام اب کیا جائے گا جماعت پہلے بھی یہ کام کرتی رہی ہے جیسے گورنمنٹ کی طرف سے جب کانگریس کے جتھوں پر مار پیٹ شروع ہوئی اور بعض جگہ ظلم ہونے لگا تو میں نے بحیثیت امام جماعت احمدیہ حکومت کو توجہ دلائی کہ یہ امر گورنمنٹ کو بدنام کرنے والا اور کانگریس سے لوگوں کو ہمدردی پیدا کرنے والا ہے۔ میرے اس توجہ دلانے پر لارڈ ارون نے مجھے لکھا کہ آپ اپنی جماعت کا ایک وفد اس امر کے متعلق تفصیلی

صفحہ 660

مشورہ دینے کے لیے بھیجیں اور انہوں نے سر جافری سابق گورنر پنجاب کو تاکید کی کہ ان کی باتوں کو غور سے سنا جائے اور ان پر عمل کیا جائے چنانچہ ہمارا وفد گیا اور انہوں نے نہایت خوشی سے ہماری باتوں کو سنا اور اس کے بعد سر جافری نے مجھے شکریہ کی ایک لمبی چٹھی اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجی۔ میں نے اس وقت انہیں یہی بتایا تھا کہ آپ بغیر بدنام ہوئے کانگریس کے اثر سے لوگوں کو بچاسکتے ہیں یہ ایک سیاسی بات تھی مگر ہم نے اس وقت اس میں دخل دیا، پس سیاسی کاموں میں ہم پہلے بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۹۴

ص ۷ مورخہ ۵ فروری ۱۹۳۵ء)

انگریزوں کا اصل یہ ہے کہ ملک میں ایجی ٹیشن ہونی چاہیے۔ میں نے حکام سے کئی دفعہ اس امر پر بحث کی ہے کہ یہ غلط پالیسی ہے۔ میں نے سر ایڈورڈ پر اس کے متعلق زور دیا۔ سر میکلیگن پر زور دیا اور انہیں سمجھایا کہ جب تک یہ پالیسی ترک نہ کی جائے گی نہ امن قائم ہو سکتا ہے نہ انصاف۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۹۳

مورخہ ۳ فروری ۱۹۳۵ء)

مجھے ایک کانگریسی لیڈر نے بتایا کہ ایک ہندوستانی جج اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ کانگریس کو بطور چندہ دیتا ہے۔ تا اس سے ان مسلمان مولویوں کو تنخواہیں دی جائیں جو مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے کانگریس نے رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اس امر کے متعلق ایک دفعہ دوران گفتگو میں سابق گورنر پنجاب سر جافری سے ذکر کیا کہ سرکاری ملازم اس طرح کی بددیانتیاں کرتے ہیں تو انہوں نے ایک جج کا نام لیا اور مجھ سے دریافت کیا کہ یہ تو نہیں ہے اور کہا کہ ہمیں بھی اس کے متعلق شکایات پہنچی ہیں، مگر چونکہ ہمارا طریق جاسوسی اور شکایت کرنے کا نہیں اس لئے میں نے نام تو نہ بتایا مگر جس کا نام انہوں نے لیا وہ نہیں تھا جس کا مجھ سے ذکر کیا گیا تھا۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۹۱ ص

۳ مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۳۵ء)

صفحہ 661

اس کے بعد ہر موقع پر جب کانگرس نے شورش کی ہم نے حکومت کی مدد کی۔ گزشتہ گاندھی موومنٹ کے موقع پر ہم نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کر کے ٹریکٹ اور اشتہار شائع کئے اور ہم ریکارڈ سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں سینکڑوں تقریریں اس تحریک کے خلاف ہمارے آدمیوں نے کیں، اعلیٰ مشورے ہم نے دیئے جنہیں اعلیٰ حکام نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۲۲ نمبر ۶۹ ص ۶

مورخہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۱۴) آگ کا انگارہ

سیلف گورنمنٹ یا حکومت خود اختیاری کوئی بچوں کا کھیل نہیں کہ ہر کس و ناکس اس کے حصول کے لئے تیار ہو جائے بلکہ کانٹوں کی مالا ہے جسے گلے میں ڈالنے کے لئے خاص دل گردہ اور قابلیت کی ضرورت ہے اور جب تک قابلیت پیدا نہ ہولے، اس وقت تک اس کا مطالبہ کرنا اسی طرح کا ہے جس طرح ایک چھوٹا بچہ آگ کے انگارہ کو چمکتا ہوا دیکھ کر اس کے پکڑنے کی کوشش کرے۔ اس وقت جس طرح اس کے دانا اور عقلمند محافظ کا فرض ہے کہ اسے انگارہ نہ پکڑنے دے۔ اسی طرح اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو حکمت سے تدبیر سے اور اگر وہ نہ ہی مانیں تو اثر حکومت سے باز رکھے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۸ مورخہ ۲۸ جولائی ۱۹۱۴ء)

(۱۵) خوشی کی بات

پچھلے دنوں کی شورش میں جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ کے متعلق جس وفاداری اور امن پسندی کا ثبوت دیا وہ کسی صلہ یا انعام حاصل کرنے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ اپنا مذہبی فرض سمجھ کر بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور موجودہ امام جماعت احمدیہ کی تعلیم کے مطابق دیا تھا لیکن خوشی کی بات ہے کہ گورنمنٹ پنجاب کے خاص اعلان کے علاوہ اور کئی مقامات کے ذمہ دار افسروں نے بھی جماعت احمدیہ کے افراد کے رویہ پر نہایت مسرت کا اظہار کیا اور اپنی خوشنودی کے سرٹیفکیٹ عطا کئے ہیں۔

صفحہ 662

(اخبار الفضل قادیان جلد ۶ نمبر ۹۰ مورخہ ۲۷؍ مئی ۱۹۱۹ء)

(۱۶) نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب سے خط و کتابت

پرائیویٹ سیکرٹری نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر تحریر فرماتے ہیں:

جناب من! آپ نے جو خط ہز آنر لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب کے نام ارسال فرمایا تھا۔ اس کے متعلق مجھے یہ کہنے کی ہدایت ہوئی ہے کہ نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر نے آپ کی تحریر کو بڑی توجہ سے ملاحظہ فرمایا اور آپ کے اظہار وفاداری نیز اس نازک موقع پر اپنے پیروؤں کو ملک معظم اور ملک کے ساتھ دینے کی گراں بہا نصیحت کو استحسان اور قدر کی نظر سے دیکھا ہے۔ چند ہفتہ قبل ضلع گورداسپور کا دورہ کرتے وقت ہز آنر احمدی جماعت کے ایک وفد سے مل کر خوش ہوئے اور جو کچھ حضور نے اس وقت فرمایا تھا اس کا پھر اعادہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ گورنمنٹ عالیہ نے جو وسیع مذہبی آزادی اپنی رعایا کو دے رکھی ہے اس کی بنا پر احمدی جماعت گورنمنٹ کی حفاظت پر بھروسہ کر سکتی ہے اور گورنمنٹ عالیہ کو بھی احمدی جماعت اور اس کے امام کی طرف سے نہ صرف وفادارانہ امداد کی امید بلکہ یقین ہے۔

دستخط پرائیویٹ سیکرٹری ہز آنر لیفٹیننٹ گورنر پنجاب

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۷۱ مورخہ ۲۹؍ نومبر ۱۹۱۴ء)

(۱۷) قادیانی اڈریس بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب

آئندہ مشکلات اور آنے والے واقعات کی نسبت سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اور ہم نہیں جانتے کہ جناب کے عرصہ کارگزاری میں واقعات کس رنگ میں ظہور پذیر ہوں گے مگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو جناب جماعت احمدیہ کو ملک معظم کا نہایت وفادار اور سچا خادم پائیں گے کیونکہ وفاداری گورنمنٹ جماعت احمدیہ کی شرائط بیعت میں سے ایک شرط رکھی گئی ہے اور بانی سلسلہ نے اپنی جماعت کو وفاداری حکومت کی اس طرح بار بار تاکید کی ہے کہ اس کی اسی کتابوں میں کوئی کتاب بھی نہیں جس میں اس کا ذکر نہ کیا گیا ہو اور اس کی وفات کے بعد اس کے اول جانشین (حکیم نور الدین صاحب) نے اپنے زمانہ میں اور

صفحہ 663

دوسرے جانشین ہمارے امام (میاں محمود احمد صاحب) نے بھی بانی سلسلہ کی تعلیم کی۔ اتباع میں جماعت کو تعلیم دیتے وقت اس امر کو خاص طور پر مدنظر رکھا ہے۔ پس جناب اور جناب کی گورنمنٹ ہر وقت ہماری جماعت کی عملی ہمدردی پر بھروسہ رکھ سکتی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کا یہ بھروسہ خطا نہیں کرے گی۔

ہم خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہماری جماعت کو بھی اس نازک وقت میں جب کہ برٹش گورنمنٹ چاروں طرف سے دشمنوں کے نرغہ میں گھری ہوئی تھی اور اس کے بعد جب کہ اسی جنگ کے نتائج کے طور پر اسے خود اندرون ملک اور سرحد پر بعض خطرات کا سامنا ہوا اپنی طاقت اور اپنے ذرائع سے بڑھ کر خدمات کا موقع دیا اور اس جماعت کی روز افزوں ترقی کو دیکھ کر جو نہ صرف پنجاب ہی میں ہو رہی ہے بلکہ تمام علاقہ جات ہندوستان کے علاوہ انگلستان‘ مصر‘ نائجیریا‘ سیرالیون‘ روسی‘ ترکستان‘ ایران‘ افغانستان‘ ماریشس‘ سیلون وغیرہ دوسرے ممالک میں بھی ہو رہی ہے اور ان وعدوں پر ایمان لاتے ہوئے جو بانی سلسلہ سے خدائے کون و مکان نے فرمائے ہیں‘ امید کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ کی قیام امن اور اشاعت تہذیب کی کوششوں میں ہم آئندہ اور بھی زیادہ مدد کریں گے۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت سر ایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب مندرجہ

اخبار الفضل قادیان جلد ۷ نمبر ۴۸ مورخہ ۲۲ دسمبر ۱۹۱۹ء)

(۱۸) ممبران پارلیمنٹ میں ایڈریس کی تقسیم

جماعت احمدیہ نے جس نے اپنا صدر مقام ایجویر روڈ میں قائم کیا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے نام ایک گشتی مراسلہ ایک ایڈریس کی کاپی کے ساتھ جو سر ایڈورڈ میکلیگن کو پیش کیا گیا تھا‘ روانہ کیا ہے۔ خط منسلکہ میں لکھا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ اسلام کی ایک نئی تحریک ہے جو تیزی سے مختلف حصص سلطنت میں پھیل رہی ہے۔ بنابریں ہم ان پر آشوب ایام میں اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ آپ کو اس جماعت کے سیاسی خیالات سے آگاہ کریں۔ اپنی حکومت کا وفادار رہنا اور ان پر خدا کی رحمت چاہنا اس کے اصولوں میں سے ایک ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۷ نمبر ۷۷ مورخہ ۱۲ اپریل ۱۹۲۰ء)

صفحہ 664

(۱۹) نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب کو قادیان کی دعوت

جماعت احمدیہ جس نے کہ مذہب دنیا میں بہت بڑا انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کی حقدار ہے کہ گورنمنٹ کا اعلیٰ افسر گورنمنٹ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جماعت کے مرکز (قادیان) کا گاہے بگاہے ملاحظہ کرتا رہے اور بدیں وجہ ہم نے جناب سے قادیان آنے کی درخواست کی ہے اور گو جناب اس وقت کثرت مشغولیت کی وجہ سے ہماری درخواست کو منظور نہیں کر سکیں گے لیکن ہم امید رکھتے ہیں کہ حضور اس صوبہ کی حکومت سے سبکدوش ہونے سے پہلے کوئی وقت قادیان میں تشریف آوری کے لئے ضرور نکالیں گے اور آپ کے جانشین بھی گاہے بگاہے بخوشی قادیان میں تشریف لے جا کر ہماری جماعت کے حالات کو ملاحظہ فرمایا کریں گے، ہم حضور کی تشریف آوری پر حضور سے کسی قسم کے پولیٹیکل حقوق و مراعات لینے کے خواہشمند نہیں۔ صوبہ کے حاکم اعلیٰ کی تشریف آوری سے اخلاقی فوائد کا مترتب ہونا کچھ مستبعد نہیں۔

(قادیانی وفد کا اڈریس بخدمت ہز ایکسی لنسی سر ایڈورڈ میکلیگن گورنر پنجاب مندرجہ

اخبار الفضل قادیان جلد ۱۱ نمبر ۳۹ ص ۱۱ مورخہ ۱۶؍ نومبر ۱۹۲۳ء)

(۲۰) وزیر ہند سے ملاقات

اس دن ۶ بجے شام کا وقت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے وزیر ہند صاحب کے ساتھ انٹرویو (ملاقات) کا مقرر تھا۔ ٹھیک وقت پر حضرت خلیفۃ المسیح وہاں پہنچ گئے۔ ایک یورپین صاحب احاطہ کے دروازہ تک آپ کے استقبال کے لیے آئے جن کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح مع جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب بی اے بیرسٹر ایٹ لا جو بطور ترجمان مقرر ہو چکے تھے اندر تشریف لے گئے اور دروازہ کے پاس اس خیمہ میں بٹھائے گئے جو انتظار کے لیے مقرر تھا دو تین منٹ کے بعد مسٹر رابرٹ ممبر پارلیمنٹ تشریف لائے اور ساتھ وزیر ہند کے خیمہ کی طرف لے گئے جو انتظار کے خیمہ سے سو گز سے زیادہ فاصلہ پر تھا۔ وزیر ہند صاحب نے نہایت خوش اخلاقی سے ملاقات کی اور ۳۵ منٹ تک نہایت اہم اور ضروری امور پر آپ نے اور مسٹر رابرٹ ممبر پارلیمنٹ نے گفتگو فرمائی۔ جو نہایت کامیابی اور عمدگی کے ساتھ ہوئی اور مندرجہ بالا جلیل القدر

صفحہ 665

اصحاب نے پوری توجہ سے سنی۔ امید ہے کہ یہ گفتگو ہماری جماعت کے لیے نہایت مفید اور بابرکت نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوگی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخہ ۲۰؍ نومبر ۱۹۱۷ء)

(۲۱) ۱۹۲۱ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند

حضور وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ کے خیر مقدم کا وفد جماعت احمدیہ کی طرف سے بمقام شملہ ۲۳؍ جون ۱۹۲۱ء کو گیارہ بجے وائسریگل لاج میں پیش ہوا۔ حاضر ممبران وفد کی تعداد تیس تھی جو ہندوستان کے مختلف صوبجات سے آئے تھے اور اپنے اپنے علاقے کے لباس پہن کر گئے تھے۔ چار فوجی افسران بھی اپنی وردیوں اور تمغوں میں موجود تھے۔ تمام جماعت فرودگاہ سے رکشوں میں بیٹھ کر وائسریگل لاج کی طرف روانہ ہوئی۔ رکشوں کی لائن قریباً ایک فرلانگ لمبی تھی۔ اس کا شہر والوں پر خاص اثر ہوا۔ یعنی یہ بھی گویا ایک ذریعہ تبلیغ ہو گیا کیونکہ سب دیکھ دیکھ کر پوچھتے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں اور کیا بات ہے۔ دروازہ پر استقبال کے لیے حضور وائسرائے کا ایڈی کانگ حاضر تھا۔ جب سب ممبران وفد اپنی اپنی جگہ بٹھا دیے گئے تو حضور وائسرائے تشریف لائے اور ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے سب سے پہلے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹر لاہور سیکرٹری وفد کو انٹروڈیوس کرایا، پھر چودھری صاحب نے ممبران وفد کا ایک ایک کر کے انٹروڈیوس کرایا۔ حضور وائسرائے صاحب سب سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی کرسی پر تشریف لے گئے اس کے بعد چودھری صاحب موصوف نے ایڈریس پڑھ کر سنایا جس میں حضور وائسرائے کا سلسلہ احمدیہ کی طرف سے خیرمقدم کیا گیا تھا اور حضرت مسیح موعود کے خاندان اور آپ کی تعلیم کا ذکر تھا، نیز مختصر طور پر سلسلہ کی خدمات برائے قیام امن کا تذکرہ تھا۔ اس کے بعد ہندوستان کی موجودہ حالات اور بے چینی کا ذکر تھا اور اسی ضمن میں بعض باتوں کی طرف گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی تھی۔ ایڈریس ختم ہونے کے بعد حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے ایک کاسکٹ میں ایڈریس پیش کیا اس کے بعد حضور وائسرائے نے ایڈریس کا جواب دیا اور قریباً بیس پچیس منٹ تک تقریر فرمائی اور سلسلہ کی خدمات کا اعتراف اور ان پر گورنمنٹ کی طرف سے اظہار خوشی کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم جانتے

صفحہ 666

ہیں کہ تمام حالات کے ماتحت گورنمنٹ آپکی جماعت کی مدد پر بھروسہ کر سکتی ہے اور جن امور کی طرف حضور وائسرائے کو توجہ دلائی گئی تھی ان کا بھی.... اپنے نقطہ خیال سے مفصل جواب دیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۹۹ مورخہ ۲۷ جون ۱۹۲۱ء)

(۲۲) مختصر خاکہ

جناب عالی! یہ ایک نہایت ہی مختصر خاکہ ہے۔ ان خدمات کا جو ہمارا سلسلہ قیام امن کے لیے بادشاہ معظم کی وفاداری میں کرتا رہا ہے اور اس کے بیان کرنے کی یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ ہم جناب کو بتائیں کہ اسی روح کو لے کر ہم آج جناب کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور اسی روح کے ساتھ ہم جناب کو ہندوستان میں ملک معظم کا سب سے بڑا قائم مقام سمجھ کر یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ہر ممکن اور جائز طریقے سے جناب کے ارادوں اور تجویزوں کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے اور ہندوستان میں قیام امن کی کوشش اور اس کی ترقی کے لئے سعی میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر آپ کا ہاتھ بٹائیں گے اور مخالفوں کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی انشاء اللہ ہمیں اس مقصد سے پھیر نہ سکے گی۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند مندرجہ

اخبار الفضل قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۲۱ء)

(۲۳) امام کی تعلیم

جناب عالی! جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ ہمیں اپنے امام کی طرف سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت بھی ہم رہیں۔ اس کے پورے طور پر فرمانبردار رہیں اور امن میں خلل کبھی نہ ڈالیں اور یہ تعلیم ہمارے ہمیشہ مدنظر رہی ہے۔ ہم نے ہر مشکل کے وقت اور بے امنی کے زمانہ میں برطانیہ کی گورنمنٹ کی وفاداری کی ہے اور جناب کے پیشرو کے ان الفاظ سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے جو انہوں نے اپنے ایک خط میں ہماری جماعت کے موجودہ امام کے نام لکھے تھے، چنانچہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری لکھتے ہیں۔

صفحہ 667

”میں حضور وائسرائے کی خواہش کے مطابق حضور وائسرائے کی طرف سے جناب کی چٹھی مورخہ ۴؍ مئی کا جس میں آپ نے تفصیل کے ساتھ اپنی جماعت کی ان کوششوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے فسادات پنجاب کے دوران میں قیامِ امن کے لئے کیں، شکریہ ادا کرتا ہوں۔ گو اس سے پہلے بھی حضور وائسرائے کو پنجاب گورنمنٹ کے ذریعہ آپ کی خدمات کا (جن کا اعتراف گورنمنٹ پنجاب ایک سرکاری اعلان کے ذریعہ کرچکی ہے) علم ہوچکا ہے مگر وہ آپ کے کام کی تفصیل کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کی طرف سے آپ کو ایسے مشکلات کے مقابلہ میں گورنمنٹ سے اظہار وفاداری کی مبارکباد دوں“۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند مندرجہ

اخبار الفضل قادیان مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۲۱ء جلد ۹ نمبر ۱)

(۲۴) ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند کی تقریر

آپ صاحبان سے جو جماعت احمدیہ کے نمائندہ ہیں۔ آج مجھے مل کر بہت خوشی ہوئی اور آپ نے جو اپنے سیکرٹری صاحب کے ذریعے سے میرے وائسرائے ہند بننے پر مبارک باد دی ہے۔ اس کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے آپ کے سلسلہ کی ابتدا اور ترقی کے بیان کو نہایت دلچسپی سے سنا ہے اور آپ کی جماعت نے جو خدمات شہنشاہ معظم کی کی ہیں ان کو سن کر مجھے اطمینان ہوا ہے۔

آپ صاحبان میں مختلف طبقوں اور پیشوں کے قائم مقام ہیں جنہیں دیکھ کر میں متاثر ہوا ہوں اور خاص کر یہ دیکھ کر کہ اس وفد میں آپ کے سلسلہ کے مقدس بانی کے دو فرزند بھی شامل ہیں، مجھے کمال خوشی ہوئی ہے۔“

”اور یہ بات اور بھی اطمینان کا موجب ہے کہ آپ میں سے بہت سے آدمی ایسے ہیں جو اپنے لباس اپنی وردی اور اپنے سینوں پر کے تمغوں سے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اس وفاداری کو برقرار رکھنے کے لیے جو انہیں حضور ملک معظم سے ہے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے آئندہ بھی اسی طرح تیار ہوں گے جیسے کہ وہ پہلے تیار تھے۔“

”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کی جماعت کی خدمات کا اپنے پیشرو سے کم قدر داں نہیں ہوں۔ آپ نے جو وفاداری کی روح بعض دفعہ بڑی بڑی مشکلات کا

صفحہ 668

سامنا کر کے ظاہر کی ہے نیز وہ امداد جو آپ کی طرف سے گورنمنٹ کو پہنچی ہے وہ قابل مبارکباد ہے"۔

(ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کا جواب مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ

۴؍جولائی ۱۹۲۱ء جلد ۹ نمبر ۱)

(۲۵) قادیانی اڈریس بخدمت ہزرائل ہائی نس پرنس آف ویلز

”ہمارے تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیر سایہ ہمیں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے حتی کہ اکثر اسلامی کہلانے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ مگر تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہم خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملک معظم کا ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں‘ ان کے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی اس قدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیر جانبدار رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے سو حضور عالی! ہماری فرمانبرداری مذہبی امور پر ہے۔ اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کس قدر ہی اختلاف کریں کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کی رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا۔ حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے‘ ہم اپنی ہر ایک چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لیے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی ہمنے بارہا سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزار ہا دفعہ پھر ایسا ہی موقع پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں"۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزرائل ہائی نس پرنس آف ویلز مندرجہ اخبار

الفضل قادیان مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۷۲ ص ۳‘ ۴)

(۲۶) ایڈریس کا شکریہ

منجانب چیف سیکرٹری ہزرائل ہائی نس شہزادہ ویلز بخدمت ذوالفقار علی خان

صفحہ 669

ایڈیشنل سیکرٹری جماعت احمدیہ قادیان پنجاب مورخہ یکم مارچ ۱۹۲۲ء جناب من! حسب الحکم ہز رائل ہائی نس شہزادہ ویلز میں ممبران جماعت احمدیہ کے اس خیر مقدم کے ایڈریس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو گورنمنٹ پنجاب کی وساطت سے حضور شہزادہ ویلز کو پہنچا ہے۔ ہز رائل ہائی نس شہزادہ ویلز نے شوق و دلچسپی کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی ابتدا اور تاریخ کے حالات کا آپ کے ایڈریس میں مطالعہ کیا ہے اور حضور شہزادہ ویلز اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس نہایت خوبصورت کتاب میں جو کہ ممبران جماعت احمدیہ کے چندہ سے بطور تحفہ پیش کی گئی ہے سلسلہ کی تفصیلی تاریخ کا مطالعہ فرمائیں گے۔ ہز رائل ہائی نس نہایت گرم جوشی کے ساتھ اس وفادارانہ جذبہ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس نے آپ کے ہزارہا ہم عقیدہ اصحاب کو اس تحفہ کے پیش کرنے پر آمادہ کیا ہے اور حضور شہزادہ ویلز کی خوشی اس نمایاں وفاداری کے قبول کرنے میں اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ آپ کو ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب کی طرف سے یہ علم دیا گیا ہے کہ جنگ عظیم کے دوران میں اور نیز اس کے بعد آنے والے سخت ایام میں جماعت احمدیہ نے تاج و سلطنت برطانیہ کی وفاداری میں غیر متزلزل ثبات دکھایا ہے۔

مجھے حضور شہزادہ ویلز کی طرف سے حکم ملا ہے کہ میں آپ کو یقین دلاؤں کہ نظر بایں حالات جماعت احمدیہ کو حضور شہزادہ ویلز کے التفات محبت آمیز کا ہمیشہ پورا یقین رکھنا چاہیے۔

میں ہوں جناب کا نیاز مند خادم۔ جی ایف۔ ڈی مانٹ۔ مورنسی چیف سیکرٹری ہز رائل ہائی نس پرنس آف ویلز۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۲۹)

(۲۷) ۱۹۲۷ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند

۲۵؍ فروری ۱۹۲۷ء بروز جمعہ اڑھائی بجے جماعت احمدیہ کا وفد جو مشتمل بر ۲۹ اشخاص تھا، بحضور ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند لارڈ ارون، وائسریگل لاج دہلی میں پیش ہوا۔ جب ممبران وفد کرسیوں پر بیٹھ گئے تو حضور وائسرائے تشریف لائے اور وفد کے ہیڈ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے ہاتھ ملا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ وائسرائے کے ساتھ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور ایڈ ڈی کانگ بھی اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

صفحہ 670

چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ایڈریس پڑھا۔ ایڈریس ایک چاندی کے کاسکٹ میں رکھ کر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے پیش کیا اور مفتی محمد صادق صاحب نے سلسلہ کی چند کتابیں جو مخملی خریطے میں تھیں۔ ایک ایک کر کے پیش کیں اور ہر ایک کتاب پیش کرنے کے وقت اس کتاب کا مختصر ذکر کیا مثلاً یہ وہ لیکچر ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے ولایت میں پڑھے جانے کے واسطے لکھا تھا۔ وائسرائے بہادر نے کتابوں کو شکریہ کے ساتھ قبول کیا اور فرمایا کہ میں ان کو پڑھوں گا۔ اس کے بعد وائسرائے نے کھڑے ہو کر ایڈریس کا جواب دیا۔ اس کے بعد چوہدری صاحب نے ایک ایک ممبر کو الگ الگ پیش کیا۔ وائسرائے بہادر نے سب کے ساتھ ہاتھ ملایا اور فوجی ممبران وفد سے جنگی حالات دریافت کرتے رہے اور بعض کے تمغے دیکھے۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۲۷ء نمبر ۷۱ جلد ۱۴ ص ۸)

(۲۸) ناز و نیاز

ہم اس موقع پر گورنمنٹ برطانیہ کا شکریہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس نے ہر حالت میں ہماری حفاظت کی ہے اور پچھلے دنوں میں ہی جناب کے زمانہ وائسرائلٹی میں ہمارے ایک مبلغ مولوی ظہور حسین صاحب کو جنہیں روسی گورنمنٹ نے قید کر لیا ہوا تھا جناب کی گورنمنٹ نے نہایت سخت قید سے جس کا گہرا اثر ان کی صحت پر پڑا ہے نکال کر بحفاظت تمام مرکز سلسلہ میں پہنچایا ہے جس کا ہم ایک دفعہ پھر اس موقعہ پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں.....

پس یہ خیال کرنا کہ چونکہ مرکز سلسلہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ ہے اور اپنے مذہبی اصول کے ماتحت اس سے تعاون کرتا اور اس کی خوبیوں کے اظہار سے کسی ذاتی مصلحت کی وجہ سے باز نہیں رہتا۔ اس لئے سلسلہ احمدیہ گورنمنٹ برطانیہ سے کوئی خفیہ سازباز رکھتا ہے حقیقت سے بالکل دور ہے..... ہماری نسبت یہ شک کیا جاتا ہے کہ ہم گورنمنٹ سے سازباز رکھتے ہیں اور اس کا بد نتیجہ ہمیں ہندوستان میں بھی اور ہندوستان سے باہر بھی پہنچ رہا ہے اور ہمارے آدمی نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بعض دوسری گورنمنٹوں کے ماتحت بھی اس شبہ کی وجہ سے سخت اذیتیں پا رہے ہیں لیکن چونکہ یہ اصول کا سوال ہے ہم ان اذیتوں کو بہادری سے برداشت کرتے ہیں.....

صفحہ 671

ہم ضمناً اس جگہ یہ بات کہنے سے بھی نہیں رک سکتے کہ گورنمنٹ کی دیرینہ بدظنی جو اسے ہمارے سلسلہ کے متعلق تھی وہ تو ایک حد تک دور ہو چکی ہے اور سلسلہ احمدیہ کی غیر متزلزل وفاداری کے غیر معمولی کارناموں نے حکام حکومت برطانیہ کو اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ سچی وفاداری کا ایک بے نظیر نمونہ ہے لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کے حقوق پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت لارڈ ارون وائسرائے ہند مندرجہ اخبار الفضل

قادیان مورخہ ۸ مارچ ۱۹۲۴ء ص ۴ نمبر ۷۱ جلد ۱۴)

(۲۹) ہز ایکسی لینسی وائسرائے ہند کا خط

لارڈ ارون کا جواب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کے نام جناب محترم! آپ نے نہایت مہربانی سے مجھے جو کتاب بھجوائی ہے اور جو یور ہائینس کے نمائندہ وفد نے کل مجھے دی اس کے نیز اس خوبصورت کاسکٹ کے لیے جس میں کتاب رکھی ہوئی تھی میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ان تمام کاسکٹوں سے جو میں نے آج تک دیکھے ہیں۔ بے نظیر ہے اور جماعت احمدیہ کے ممبروں کے ساتھ مختلف مواقع پر میری جو ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں یہ کاسکٹ ان کے لیے ایک خوشگوار یادگار کا کام دے گا۔ یہ امر میرے لئے بے حد دلچسپی کا باعث ہے کہ آپ کے قریباً دس ہزار پیروؤں نے اس خوبصورت تحفہ کی تیاری میں حصہ لیا ہے۔

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو خدا حافظ کہتا ہوں۔ آپ یقین رکھیں کہ ہندوستان سے جانے کے بعد آپ کی جماعت سے میری دلچسپی اور ہمدردی کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا بلکہ بدستور جاری رہے گا اور میری ہمیشہ یہی آرزو رہے گی کہ مسرت و خوشحالی پوری طرح آپ، نیز آپ کے متبعین کے شامل حال رہے۔

(تحفہ لارڈ ارون مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص آخری ٹائٹل پیج)

(۳۰) ہز ایکسی لینسی وائسرائے ہند سے ملاقات

یکم ستمبر ۱۹۲۷ء تین بجے کا وقت ہز ایکسی لینسی وائسرائے ہند نے ملاقات کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ کو دیا تھا، چنانچہ حضرت اقدس مع مفتی محمد صادق

صفحہ 672

صاحب کے جو بحیثیت ترجمان ہمراہ گئے تھے۔ وائسریگل لاج میں پہنچے۔ حضرت (میاں محمود احمد صاحب) کے پہنچنے پر وائسرائے نے آگے بڑھ کر حضور سے ہاتھ ملایا۔ مزاج پرسی کے بعد تقریباً نصف گھنٹہ حضرت کے ساتھ موجودہ واقعات پر گفتگو کی اور فرمایا کہ آپ بھی کوشش فرمائیں کہ ہندو مسلمانوں میں صلح ہو جائے۔ بہت تفصیلی گفتگو واقعات حاضرہ پر ہوتی رہی۔ کل ۳؍ ستمبر کو اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری وائسرائے مسٹر ایمرسن کو حضرت نے چائے کی دعوت دی۔ ایک گھنٹہ تک مختلف امور پر گفتگو رہی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۵ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۲۷ء)

یہ ہمارا ہی خیال نہیں ہے بلکہ یہ وجہ خود حضور وائسرائے ہند نے حضرت امام جماعت ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی۔ جب کہ آپ نے اپنی ایک ملاقات میں ان سے ذکر کیا کہ سنٹرل کمیٹی کی نمائندگی نہ ہونے پر لوگ معترض ہیں اور اس وجہ کے معقول ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۵ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۲۷ء)

(۳۱) خط کا جواب

مکرمی مرزا صاحب (میاں محمود احمد صاحب)

میں حسب ایما ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند جناب کے خط مورخہ ۳؍ مئی ۱۹۳۰ء کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ ہزایکسی لنسی نے جناب کے خط کا بہت غور سے مطالعہ فرمایا ہے۔

آپ نے جو بحیثیت امام جماعت احمدیہ اپنی قوم کی طرف سے حکومت کے ساتھ وفاداری اور تعاون کا یقین دلایا ہے وہ ہزایکسی لنسی کی دلی مسرت کا موجب ہوا ہے۔ یہ اظہار تعلق جماعت احمدیہ کی دیرینہ روایات اور گزشتہ شاندار ریکارڈ کے عین مطابق ہے۔

(اقتباس جواب من جانب ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند مندرجہ اخبار الفضل قادیان

جلد ۱۷ نمبر ۱۰۷ ص ۵ مورخہ ۵؍ جون ۱۹۳۰ء)

(۳۲) ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند کا جواب

صفحہ 673

ہزایکسی لنسی (لارڈ ولنگڈن) وائسرائے ہند نے ہمارے (یعنی قادیانی) ایڈریس کا جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:

مجھے آپ کا ایڈریس سن کر بہت خوشی ہوئی اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ سے واقفیت حاصل ہوئی اور معلوم ہوا کہ باوجود مخالفت کے اس سلسلہ نے اس قدر ترقی حاصل کی ہے مجھے اس سے پہلے معلوم نہ تھا کہ جماعت احمدیہ اس قدر دور دراز ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کی وفاداری کے اظہار کو میں ملک معظم کے حضور پہنچا دوں گا۔ میرے اور لیڈی ولنگڈن کے متعلق جن جذبات کا اظہار کیا گیا ہے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم ہر ایک فرقہ اور جماعت کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر حکومت سے کسی غلطی کا ارتکاب ہو تو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے اطلاع دیں گے۔ آپ کا اصول حکومت سے تعاون کرنے کا اور حکومت سے غلطی ہو تو اس سے اطلاع کر دینے کا قابل تعریف ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی وفاداری ہمیشہ قائم رہے گی اور یہ امر حکومت کے واسطے بہت ہی حوصلہ افزا ہے میں آپ کے کام میں ترقی اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۱ نمبر ۱۱۸ ص ۶ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۳۴ء)

(۳۳) بے بنیاد الزام

جناب عالی! جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ایک مقررہ شاہراہ ہے جس سے وہ کبھی ادھر ادھر نہیں ہو سکتے اور وہ حکومت وقت کی فرمانبرداری اور امن پسندی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے رسول دنیا کو امن دینے کے لئے نہیں آتے تو وہ یقیناً دنیا کے لئے رحمت نہیں کہلا سکتے بعض لوگوں نے سلسلہ احمدیہ کی اس تعلیم سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ شاید جماعت احمدیہ حکومت ہند سے ساز باز رکھتی ہے لیکن جناب سے زیادہ کوئی اس امر کی حقیقت سے واقف نہیں ہو سکتا کہ جس قدر شدت سے یہ الزام لگایا جاتا ہے اتنا ہی یہ الزام بے بنیاد ہے۔

جناب کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ یہ الزام نہ صرف ہندوستان میں لگایا جاتا ہے بلکہ بیرون ہند میں بھی، چنانچہ چند سال ہوئے ایک احمدی عمارت کی بنیاد کے موقع پر جرمن

صفحہ 674

وزیر تعلیم نے شمولیت کی تو اس کے خلاف لوگوں نے یہ الزام لگایا کہ حکومت برطانیہ کی جاسوس جماعت کے ساتھ اس نے اظہار تعلق کیا ہے اور مجلس وزارت نے اس کے اس فعل پر جواب طلبی کی۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس جس کو قادیانی اکابر کے وفد نے بتاریخ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۲ء ہز

ایکسی لنسی لارڈ ولنگڈن وائسرائے ہند کی خدمت میں بمقام دہلی پیش کیا۔ مندرجہ اخبار

الفضل نمبر ۱۱۸ جلد ۲۱ ص ۴-۳ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۳۴ء)

(۳۴) سیاسی شبہات

جناب عالی! گو بعض وجوہ سے جن کی تفصیل میں ہم نہیں پڑنا چاہتے بعض برطانوی حکام یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سیاسیات میں خلاف اپنی سابقہ روایات کے حصہ لینے لگ گئی ہے لیکن چونکہ ہماری وفاداری مذہبی جذبات پر مبنی ہے۔ ہم ان شبہات کی پروا نہیں کرتے ہم نے جب بھی کوئی کام کیا ہے۔ دیانت داری سے کیا ہے اور قانون کے اندر رہ کر کیا ہے ہمارا یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی امر میں حکومت برطانیہ کو غلطی پر سمجھیں تو ادب سے اور قانون کے اندر رہ کر اس کا اظہار کر دیا کرتے ہیں۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ صحیح برطانوی روح اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پس بعض افراد کے شکوک یا مخالفت ہم کو برطانیہ کی وفاداری سے منحرف نہیں کر سکتی۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس جس کو قادیانی اکابر کے وفد نے بتاریخ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۲ء ہز

ایکسی لنسی لارڈ ولنگڈن وائسرائے ہند کی خدمت میں بمقام دہلی پیش کیا۔ مندرجہ اخبار

الفضل قادیان جلد ۲۱ نمبر ۱۱۸ ص ۶ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۳۴ء)

صفحہ 675

فصل تیرہویں

سیاسیات‘ دور ثالث

(۱) سرکاری بے اعتباری

احمدیت کی ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے۔ سوائے چند ابتدائی ایام کے جب کہ وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے تھے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہو رہے ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات کو سمجھتے ہیں۔ باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ ہمیں غصہ سے دیکھتے ہیں اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں پیس ہی دیں۔

انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منظم جماعت اگر مخالف ہو گئی تو ہمارے لیے بہت پریشانیوں کا موجب ہوگی اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جماعت احمدیہ کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے تو پھر جماعت احمدیہ گورنمنٹ کی مخالف ہو کس طرح سکتی ہے لیکن شاید وہ گربہ کشتن روز اول کے مطابق ہمیں دبا دینا ضروری سمجھتے ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ جو اخبار ”الفضل“ جلد ۲۱‘ نمبر ۱۱۰ مورخہ

۱۵ مارچ ۱۹۳۴ء میں شائع ہوا)

(۲) پتہ کی بات

پھر یہ بات ضلع کے حکام تک ہی محدود نہیں۔ اوپر کے بعض افسر بھی ایسا ہی سلوک کر رہے ہیں اور ان کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ جب بھی کوئی شکایت ان کے پاس کی جاتی ہے‘ وہ کہہ دیتے ہیں احمدی مبالغہ کرتے ہیں۔ اخبار ”الفضل“ میں جھوٹی خبریں شائع ہوتی ہیں بلکہ ہمارے ایک دوست نے جب ایک سرکاری افسر سے ذکر کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح (یعنی میاں محمود احمد صاحب) نے گزشتہ خطبہ میں برطانوی قوم کی تعریف کی ہے اس نے کہا کہ پھر کیا۔ اگلے خطبہ میں کہہ دیں گے کہ بعض افسر غدار

صفحہ 676

ہیں ۔ یہ ایک ذمہ دار افسر کا بیان ہے جس کے متعلق کسی کو امید نہ ہو سکتی تھی کہ وہ ایسا بے قابو ہو جائے گا۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۲۶‘ ص ۶‘ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۳۵ء)

(۳) اصل میں

پھر اس کے بعد ۱۹۳۱ء میں مسلمانوں کی لاہور اور مختلف علاقوں میں جو حالت ہوئی‘ اس وقت کون تھے‘ جو آگے آئے۔ ہم نے ہی اس وقت مسلمانوں کے لیے روپیہ خرچ کیا‘ تنظیم کی اور اس وقت ہر جگہ یہ چرچہ تھا کہ احمدی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سر میلکم ہیلی نے جو اس وقت گورنر تھے‘ مسٹر لنگے سے جو اس وقت کمشنر تھے‘ مجھے خط لکھوایا کہ آپ تو ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیتے رہے ہیں آج کیوں اس ایجی ٹیشن میں حصہ لیتے ہیں اور میں نے انہیں جواب دیا کہ حکومت کی وفاداری سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کا غدار ہوں اور مسلمانوں کی خدمت سے یہ مراد نہیں کہ حکومت کا غدار ہوں۔ میں تو دونوں کا بھلا چاہتا ہوں۔ مجھے اگر سمجھا دیا جائے کہ مسلمان مظلوم نہیں تو اب اس طریق کو چھوڑنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے تحریراً تو اس کا جواب نہ دیا مگر شملہ میں میں گیا تو چیف سیکرٹری نے جو غالباً ہمارے موجودہ گورنر تھے‘ مجھے لکھا کہ لاٹ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور جب میں ان سے ملا تو زبانی گفتگو اس پر خوب تفصیلی کی مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ یہی کہ مسلمانوں میں سے ایک اثر رکھنے والے گروہ نے کہا کہ احمدیوں کا بائیکاٹ کرو۔ یہ اصل میں ہمارے دشمن ہیں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۹۱ مورخہ

۲۹ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۴) قادیانی کہانی

ہماری جماعت وہ جماعت ہے‘ جسے شروع سے ہی لوگ یہ کہتے چلے آئے کہ یہ خوشامدی اور گورنمنٹ کی پٹھو ہے۔ بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں جھولی چک اور نئے ”زمینداری“ محاورہ

صفحہ 677

کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے...... دراصل ان اعتراضات کی وجہ سے ہمیں رنج نہیں بلکہ ہمیں رنج دو وجہ سے ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے گورنمنٹ کے ساتھ دوستی کی۔ ظاہر و باطن دوستی کی مگر گورنمنٹ نے اس کے صلہ میں بغیر تحقیق کیے ہم پر ایک خطرناک الزام لگا دیا... پھر دوسری وجہ ہمارے شکوہ کی یہ ہے کہ گورنمنٹ نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس پر چلنے سے فساد برپا ہوتا اور ملک کا امن برباد ہوتا ہے۔......

ہم نے ابتدائے سلسلہ سے گورنمنٹ کی وفاداری کی۔ ہم ہمیشہ یہ فخر کرتے رہے کہ ہم ملک معظم کی وفادار رعایا ہیں۔ کئی ٹوکرے خطوط کے ہمارے پاس ایسے ہیں جو میرے نام یا میری جماعت کے سیکرٹریوں یا افراد جماعت کے نام ہیں جن میں گورنمنٹ نے ہماری جماعت کی وفاداری کی تعریف کی۔ اسی طرح ہماری جماعت کے پاس کئی ٹوکرے تمغوں کے ہوں گے۔ ان لوگوں کے تمغوں کے جنہوں نے اپنی جانیں گورنمنٹ کے لیے فدا کیں۔ یہ اتنے ٹوکرے ہیں کہ افسر کے وزن سے بھی ان کا وزن زیادہ ہے مگر ان تمام خدمات کے بعد‘ اس تمام ادعائے وفاداری کے بعد اور اس تمام ثبوت وفاداری کے بعد گورنمنٹ نے بلاوجہ اور بغیر کسی حق کے بغیر اس کے کہ وہ انصاف اور عدل کے ماتحت فیصلہ کرتی‘ اندھا دھند اپنا قلم اٹھایا اور ہمیں باغی اور سلطنت کا تختہ الٹ دینے والا اور سول ڈس اوبیڈینس کا مرتکب قرار دے دیا۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر

۵۸‘ ص ۲-۳‘ مورخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۵) قادیانی اسناد

ہم نے پچاس سال سے دنیا میں امن قائم کر رکھا ہے۔ ہم نے لاکھوں روپیہ گورنمنٹ کی بہبودی کے لیے قربان کیا ہے اور کوئی شخص بتا نہیں سکتا کہ اس کے بدلے ایک پیسہ بھی ہم نے گورنمنٹ سے کبھی لیا ہو۔ ہمارے پاس وہ کاغذات موجود ہیں جس میں گورنمنٹ نے ہمارے خاندان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ اس خاندان کو وہی اعزاز دیا جائے گا جو اسے پہلے حاصل تھا۔ ہمارے پردادا کو ہشت ہزاری کا درجہ ملا ہوا تھا جو مغلیہ سلطنت میں صرف شہزادوں کو ملا کرتا تھا۔ پھر عضدالدولہ کا خطاب حاصل تھا یعنی حکومت کا مغلیہ بازو (تو گویا سیاسی اولوالعزمیاں

صفحہ 678

خاندانی ورثہ ہے۔۔۔۔۔ للمولف) مگر ہم نے کبھی گورنمنٹ کے سامنے ان کاغذات کو پیش نہیں کیا (غنیمت ہے کہ ان کا ذکر آگیا۔۔۔۔ ایسا بھی کیا انکسار اور استتار ہے کم از کم ہفت ہزاری کی سند تو شائع کر دینی چاہیے۔۔۔۔۔ للمولف) اور نہ اپنی وفادارانہ خدمات میں کمی کی‘ بلکہ ہر روز زیادتی کرتے چلے گئے۔ ہم نے کانگریس کا مقابلہ کیا۔ ہم نے احرار موومنٹ کا مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں لاکھوں روپیہ صرف کیا۔ (اپنی خاطر یا سرکار کی خاطر۔۔۔۔ للمولف) جانیں قربان کیں۔ جنگ کے موقع پر اپنی جماعت کے بہترین آدمی پیش کیے۔

سر اوڈوائر۔۔۔۔ لارڈ چیمسفورڈ اور لارڈ ارون۔۔۔۔ سر میکلم ہیلی۔۔۔۔ سر جفرے ڈی مانٹ مورنسی اور دوسرے اعلیٰ حکام کی تحریریں‘ جن میں سے بعض ان کی دستخطی ہیں اور بعض ان کے ٹائپ کی ہیں‘ میرے پاس موجود ہیں جن میں وہ ہماری جماعت کی وفاداری اور انتہائی قربانی کا اعتراف کرتے ہیں مگر آج گورنمنٹ کے حکام ہمیں یہ سناتے ہیں کہ تم امن کو برباد کرنے والے ہو۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲‘ نمبر ۵۰‘

ص ۳‘ مورخہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۴ء)

(۶) خدمت بلا معاوضہ (ج)

بحیثیت قوم ہم نے جو خدمت حکومت کی کی‘ اس کے بدلہ میں بحیثیت قوم ہم نے کبھی اس سے بدلہ نہیں لیا اور اپنے خاندان کے متعلق تو اس شرط کو بھی میں اڑا دیتا ہوں۔ گورنمنٹ بتائے کہ ہم نے کبھی ذاتی طور پر اس سے کوئی فائدہ اٹھایا ہے۔ لوگ ہمیں کہتے رہے کہ یہ گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں‘ لوگ ہمیں کہتے رہے کہ یہ گورنمنٹ سے نفعوں کی امید رکھتے ہیں۔ لوگ ہمیں کہتے رہے کہ گورنمنٹ ان کے خزانے آپ بھرتی ہے مگر گورنمنٹ تو جانتی ہے کہ ہم نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور اگر اٹھایا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ پیش کرے۔ ساری عمر میں صرف ایک کام حکومت نے ایسا ہمارے بعض آدمیوں کے سپرد کیا تھا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ ہم اس میں دو ہزار روپیہ تک خرچ کر سکتے ہیں لیکن جب وہ معاملہ میرے پاس آیا تو میں نے روپیہ کے معاملہ کو نظر انداز کر دیا۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر یہ دو ہزار روپیہ لے لیا گیا

صفحہ 679

تو گویا یہ گورنمنٹ ہی کا کام ہے مگر بعد میں جب کبھی کوئی ذکر ہوا، یہ دو ہزار روپیہ تمہارے منہ پر مارا جائے گا اور کہا جائے گا کہ انہوں نے حکومت سے اتنا روپیہ لے کر فلاں کام کیا۔ چنانچہ جو کام کرنے والے تھے، انہیں میں نے حکومت سے کسی قسم کی مالی امداد لینے سے روک دیا۔ اس کے سوا کبھی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی چیز پیش کرنے کی خواہش بھی نہیں کی گئی۔ صرف یہ ایک واقعہ ہے جو پنجاب گورنمنٹ کا بھی نہیں بلکہ حکومت ہند کا ہے۔ اس ایک معاملہ میں بھی ہم نے روپیہ لینے سے انکار کر دیا۔ مگر مخالف لوگ کہتے ہیں احمدیوں کے خزانے گورنمنٹ بھرتی ہے۔ اگر واقعہ میں یہ بات درست ہے تو اب گورنمنٹ کے لیے خوب اچھا موقع ہے۔ وہ اعلان کر دے کہ فلاں موقع پر ہم نے احمدیوں کو اتنا روپیہ دیا۔ (لیکن ”حساب دوستاں در دل“ مکرر غور فرمایا جائے تو عجب نہیں کسی نہ کسی شکل میں معاوضہ یاد آجائے اور شکوہ رفع ہو جائے۔--- للمولف)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان

جلد ۲۳، نمبر ۳۱، ص ۲، مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۳۵ء)

(۷) پچاس سالہ خدمات

تمہاری پچاس سالہ خدمات کا حکومت پر ایک بوجھ تھا۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے جنگ یورپ میں آدمیوں اور روپیوں سے مدد کی۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے رولٹ ایکٹ کی شورش کا مقابلہ کیا۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم لوگوں نے ہجرت کی تحریک کا مقابلہ کیا اور اس نے تم کو کوئی بدلہ نہیں دیا۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے نان کوآپریشن کا مقابلہ مفت لٹریچر تقسیم کر کے اور جلسوں اور لیکچروں کے ذریعہ کیا اور حکومت اس کا بدلہ دینے سے عاجز رہی۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے سول ڈس اوبیڈینس کا مقابلہ کیا، ریڈ شرٹ کا مقابلہ کیا، بنگال میں ٹیررازم کا مقابلہ کیا اور اس نے کوئی قدردانی نہ کی۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲، نمبر ۵۴، ص

۱۴، مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی کیا کریں گے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، یکم اپریل

صفحہ 680

(۱۹۳۰ء جلد ۱۷ نمبر ۷۶)

(۸) رولٹ ایکٹ

مجھے تو بار بار وہ وقت یاد آتا ہے جب حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے رولٹ ایکٹ کے زمانہ میں ضلع گورداسپور کے لوگوں کو سمجھانے اور امن قائم رکھنے کے لیے ہر ایک تحصیل میں وفد روانہ کیے تھے اور میں پٹھان کوٹ کی تحصیل میں وفد کے ساتھ گیا تھا۔ حضور نے تقریباً ساڑھے پانچ بجے شام حکم دیا کہ وفود پیدل چلے جائیں اور رات جہاں آئے‘ وہاں گزاریں۔ حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ گورنمنٹ اور لوگوں کے ساتھ عملی ہمدردی دکھلانے کا وقت ہے۔ ہم بغیر اس کے کہ شام کا کھانا کھا کے نکلتے‘ اسی وقت چل پڑے تھے۔ لوگوں کو نصیحت کرتے اور پیدل چلتے رہے۔ خدا گواہ ہے ہمارے پاؤں سخت زخمی ہوگئے۔ گورداسپور ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس سے ہم ملے۔ وہ ہمارے دورہ کا مقصد سن کر حیران ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو جان کا خطرہ ہے۔ کیونکہ امرتسر کے جلیانوالے باغ کے تازہ حادثہ سے عام لوگوں میں گورنمنٹ کے خلاف سخت جوش ہے۔ ہم آپ کو پولیس کی مدد دیں۔ ہم نے کہا خدا تعالیٰ ہمارا محافظ ہے اور ہم حکومت کی وفاداری اور امن کا پیغام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے لے جا رہے ہیں۔ ہم اگر اس راہ میں قتل بھی کیے گئے تو پرواہ نہیں۔ خدا کے فضل سے ہم اس سفر میں کامیابی سے واپس آئے اور ضلع گورداسپور سارے کا سارا حضور کے ذریعہ امن میں رہا۔ ہم نے لوگوں سے کہا کہ رولٹ ایکٹ کا استعمال مفسد لوگوں کے لیے ہے‘ نہ کہ شریفوں کے لیے۔ کجا وہ وقت اور کجا یہ کہ گورنمنٹ پنجاب ہر ایک معاملہ میں احراریوں کی پشت پناہ بنی ہوئی ہے اور جماعت احمدیہ مظالم کا نشانہ بنائی جا رہی ہے۔

ہم پر کھلے کھلے ظلم کیے جا رہے ہیں مگر گورنمنٹ پنجاب خاموش ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ ناشکری کر رہی ہے۔ ہم گورنمنٹ کے سچے ہمدرد تھے۔ ہم بزدل نہیں‘ ہم بے غیرت نہیں‘ ہم ڈرپوک نہیں۔ ہماری جان ہتھیلی پر ہے‘ ہم بہادر ہیں اور صحیح معنوں میں بہادر ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم میں بہادری کی روح پھونک دی ہے مگر ساتھ ہی حکومت کے قوانین کی پابندی سکھائی ہے۔ تاہم گورنمنٹ پنجاب کی موجودہ روش کی وجہ سے ہماری دلی ہمدردی جا رہی ہے۔ گورنمنٹ

صفحہ 681

خدا کے آگے ناشکری کی مرتکب ہو رہی ہے لیکن اے خدا تو جلد اپنی قدرت دکھا اور ہماری مدد فرما۔ حضور انور (میاں محمود احمد صاحب) ہماری جانیں حضور کے قدموں پر نثار ہونے کے لیے ہر وقت حاضر ہیں۔ (الفضل)

اس (متذکرہ بالا) خط میں ان ہولناک ایام کا ذکر کیا گیا ہے جب پنجاب میں حکومت کے خلاف خطرناک جوش پھیل گیا تھا۔ کئی ایک انگریز قتل کر دیئے گئے تھے۔ کئی جگہ سرکاری عمارات جلا دی گئی تھیں اور ایک عام بدامنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں محمود احمد صاحب) نے انگریزوں کی جانیں بچانے کے لیے اور لوگوں کو حکومت کے وفادار بنائے رکھنے کے لیے اپنے خدام کو اس کام میں لگا دیا اور حکم دے دیا کہ وہ اپنے آرام و آسائش کی قطعا پروا نہ کریں۔ حتیٰ کہ اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کی خدمات بجا لائیں۔

وہ وقت گزر گیا۔ احمدیوں نے اس نازک وقت میں ہر جگہ بڑی بڑی خدمات سر انجام دیں اور سخت تکالیف اٹھا کر دیں۔ خاص کر ضلع گورداسپور بدامنی سے بالکل محفوظ رہا۔ اس وقت حکومت نے ان خدمات کا کھلے الفاظ میں اعتراف بھی کیا مگر آج اس کا جو بدلہ مل رہا ہے، وہ ظاہر ہے اور واقعات بتا رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔

(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، مورخہ یکم اگست ۱۹۳۵ء جلد ۲۳، نمبر ۲۷ ص ۳)

(۹) شکوہ و شکایات

حکومت نے بے انصافی اور ظلم کیا، جب اس نے ہمارے لیے اس قانون کو استعمال کیا جو باغیوں اور انارکسٹوں کے لیے بنایا گیا ہے اور جسے پاس کرتے وقت حکومت نے ملک کے نمائندوں کو یقین دلایا تھا کہ اسے بڑی احتیاط سے استعمال کیا جائے گا...... کیا کوئی معقول انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ صحیح استعمال ہے۔ اس قانون کا اس کے لیے (یعنی خلیفہ صاحب قادیان کے لیے) جس نے خود اس کے بنانے والوں سے بھی زیادہ قیام امن کی کوشش کی ہے، جس نے اور جس کی جماعت نے اس وقت سول نافرمانی اور اس قسم کی دوسری موومنٹوں کا مقابلہ کیا۔ جب یہ افسر جو آج ہمیں باغی قرار دے رہے ہیں، آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہوا کرتے تھے۔ پھر یہ لوگ تنخواہیں لے کر کام

صفحہ 682

کرتے تھے اور میں نے اور میری جماعت نے لاکھوں روپیہ اپنے پاس سے خرچ کر کے بدامنی پیدا کرنے والی تحریکات کا مقابلہ کیا۔ پھر کس قدر ظلم ہے کہ جو قانون ان تحریکات کے انسداد کے لیے وضع کیا گیا‘ وہ سب سے پہلے ہمیں پر استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب حکومت پر مصیبت آئے تو وہ ہم سے استمداد کرتی ہے۔ اس کی مصیبت کے وقت ہمارے لیکچرار جاتے ہیں اور مخالف تحریکوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جنگ میں ہم نے تین ہزار والنٹیرز دیے۔ روپیہ ہم خرچ کرتے تھے مگر آج احراریوں کی حفاظت کے لیے وہ ہمیں باغی بتا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ ابھی مئی کا واقعہ ہے کہ وائسرائے ہند کی طرف میں نے ایک خط لکھا تھا کہ جماعت احمدیہ کے ایڈریس کے جواب میں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا‘ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید حکومت کا خیال ہے کہ ہم بعض مواقع پر اس سے تعاون نہیں کرتے۔ اس کے جواب میں ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے لکھا ہے کہ ہز ایکسی لنسی کو یہ خیال ہرگز نہیں بلکہ حضور وائسرائے اس کے برعکس ہمیشہ سے جماعت احمدیہ کو سب سے زیادہ قانون کی پابند اور وفادار جماعتوں میں سے ایک جماعت سمجھتے چلے آئے ہیں۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ ہم نے ملک معظم کی حکومت کو قائم کرنے کے لیے ملک کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔ احرار کی تقریریں پڑھو۔ ان کو زیادہ غصہ اسی بات پر ہے کہ ہم حکومت کے جھولی چک ہیں۔ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہم اسی وجہ سے ان کے مخالف ہیں۔۔۔۔۔ کانگریس سے ہمیشہ ہماری یہی جنگ رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم غلام ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں ہم ہرگز غلام نہیں ہیں۔ اب ہم انہیں کیا منہ دکھائیں گے۔ کیونکہ اب تو پنجاب گورنمنٹ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہندوستانیوں کو (حتیٰ کہ قادیانیوں کو) غلام سمجھتی ہے اور ان کی عزت کی قیمت اس کی نظر میں ایک کوڑی کی بھی نہیں۔

اس حکم کے جاری کرنے والے افسروں نے یہ خطرناک غلطی کی ہے کہ ہم پر اس کام کا الزام لگایا ہے‘ جسے ہم حرام سمجھتے ہیں اور جس کے لیے ہم باوجود اس کے کہ اس نے ہماری عزت کا پاس نہیں کیا‘ تیار نہیں ہیں۔ ورنہ غالب کی طرح ہم بھی کہہ سکتے تھے کہ بے وفا تو بے وفا ہی سہی‘ مگر نہیں۔ ہمارے مذہب نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ حکومت کے وفادار رہیں‘ اس لیے وہ اگر ہمیں قید کر دے‘ پھانسی دے دے تب بھی ہم

صفحہ 683

وفادار ہی رہیں گے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲‘ نمبر ۵۴‘

ص ۱۰۔ ۱۱‘ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

(۱۰) پرانے قدردان مہربان

پھر اسی پنجاب میں سر اڈوائر جیسا آدمی بھی گزرا ہے۔ ان کے زمانہ میں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر نے میرے ساتھ سخت لہجہ میں گفتگو کی اور سر موصوف کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اسے پہلے بدل دیا اور پھر اس کا تنزل کر دیا اور آخر اسے ریٹائر ہو کر واپس جانا پڑا۔ وہ فخر سے کہا کرتے تھے کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے ایک ہندوستانی کے مقابل پر ایک انگریز افسر کو سزا دی........

پھر اسی صوبہ میں سر جیفری ڈی مونٹ مورنسی جیسے انسان بھی گزرے ہیں۔ آج بھی یہ لوگ ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ مسٹر تھامسن چیف کمشنر دہلی کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ ہم نے انہیں کوئی پیغام بھیجا ہو اور انہوں نے فوراً خنداں پیشانی سے ہمارا کام نہ کر دیا ہو۔ حالانکہ بعض اوقات ان کا اس سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔ پھر اسی ضلع میں منصف افسر رہے ہیں۔ (احرار) ”مباہلہ“ والوں کی شورش کے ایام میں بھی انگریز ڈپٹی کمشنر تھے جو اچھی طرح انصاف کرتے رہے۔ ان سے پہلے یہاں ایک ڈپٹی کمشنر مسٹر واٹسن گزرے ہیں۔ میں جب انگلستان گیا تو وہ لندن میں مجھ سے ملنے آئے۔ حالانکہ وہ کہیں باہر رہتے تھے........

میں سر ہادل کا نام پہلے لے چکا ہوں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ وہ اول درجہ کے نیک اور شریف افسر تھے۔ میرے ساتھ ان کو جیسی عقیدت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ میرے ایک عزیز کے خلاف ان کے انگریز افسر نے بالا افسروں کے پاس شکایت کی۔ مجھے پہلے تو علم نہ ہوا مگر جب علم ہوا تو میں نے سر ہادل کو کہلا بھیجا کہ درست واقعات یوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق تو نہیں لیکن میں کوشش کروں گا۔ اس کے متعلق انہوں نے اس صیغہ کے افسر کو جو چٹھی لکھی‘ اس کی ایک نقل مجھے بھی مل گئی۔ انہوں نے اس میں لکھا کہ گو شکایت کرنے والا انگریز ہے مگر مجھے جماعت احمدیہ کے امام کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے بتایا ہے کہ واقعات یوں ہیں اور اگرچہ واقعات ان کے

صفحہ 684

چشم دید نہیں لیکن مجھے ان پر اس قدر یقین ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی بات بغیر تصدیق کے پیش نہیں کر سکتے۔ اس لیے ان کی بات ضرور سچی ہے۔ پس آپ اس معاملہ کی بذات خود تحقیقات کریں۔ صرف رپورٹ پر انحصار نہ کریں۔

ابھی ابھی (عبدالرحیم) درد صاحب (قادیانی) ان سے (ولایت میں) ملے تھے اور انہیں موجودہ حالات سنائے تھے۔ انہوں نے سن کر کہا کہ آپ کی جماعت تو مذہبی جماعت ہے۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اس حکومت کے اوپر ایک اور حکومت ہے اس لیے جو افسر ناانصافی کر رہے ہیں‘ وہ سزا سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے آپ ہماری دوستی کو نہیں توڑیں گے۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۴۶‘ ص ۹‘ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۳۵ء)

(۱۱) یاد رفتگان

بہت سے افسر ایسے گزرے ہیں جو فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے حسن سلوک سے پچاس ہزار یا لاکھ بلکہ کئی لاکھ کی ایک ایسی جماعت (قادیانی) ہندوستان میں چھوڑی ہے جو اپنی جانیں قربان کر کے بھی برطانیہ سے تعاون کرے گی۔ مگر موجودہ افسر جا کر کیا کہہ سکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ فخریہ کہیں کہ ہم اسی جماعت کے دلوں کو توڑ کر آئے ہیں۔ کیا یہ بات ان کی اپنی یا ان کی حکومت کی شہرت کا موجب ہو گی۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۲۳‘ نمبر ۴۶‘ ص ۶‘ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۳۵ء)

(۱۲) عہدوں کی تقسیم

ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی وفاداری کے بدلے اسے عہدے نہیں دے سکتے۔ یہ ایسی غلطی ہے جو کئی انگریزوں کو لگی ہوئی ہے۔ وہ ایسے وقت جب کہ انہیں کسی وفادار جماعت کی ضرورت ہو‘ جماعت احمدیہ کو مدد کے لیے بلاتے ہیں مگر جب عہدے دینے کا سوال ہو تو کانگریسیوں کو دے دیتے ہیں مگر اس کا خمیازہ بھی گورنمنٹ بھگت رہی ہے اور اب حالت یہ ہے کہ حکومت کے اپنے راز بھی محفوظ

صفحہ 685

نہیں۔۔۔۔۔

ایک دفعہ گورنمنٹ کے ایک سیکرٹری شملہ میں چاء پر میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ کی ہر بات کانگریس کے پاس پہنچتی رہتی ہے۔ آپ کو بھی کوئی ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ ان کی باتیں آپ کو پہنچتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔ یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ گورنمنٹ خیال نہیں رکھتی کہ وفادار جماعتوں کو اعلیٰ عہدوں پر پہنچائے۔ اگر اعلیٰ عہدوں پر اس کی وفادار جماعت کے ارکان ہوں تو اس کے راز مخفی رہیں اور کبھی بھی وہ حالت نہ ہو جو آج کل ہے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲‘ نمبر ۱۴‘ ص

۵ - ۴‘ مورخہ ۲۲ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۱۳) ایک خط

اس دوران میں مجھے ایک خط ملا۔۔۔۔ اس کے لحاظ سے ممکن ہے کہ اس قسم کے خیالات رکھنے والے لوگ بھی ہماری جماعت میں ہوں۔۔۔۔۔ جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کا مضمون یہ ہے کہ ہم دیر سے محسوس کر رہے ہیں کہ انگریز لوگ بغیر شورش اور فساد کے کوئی بات نہیں مانا کرتے اور یہ کہ (اس دوست کے نزدیک) اب وقت آ گیا ہے کہ ہم گورنمنٹ کے متعلق اس وفاداری کی تعلیم پر جو ہمارے سلسلہ میں موجود ہے، دوبارہ غور کریں اور سوچیں کہ کیا اس کی تشریح حد سے بڑھی ہوئی تو نہیں اور کیا وفاداری کا جو مفہوم ہم سمجھتے چلے آئے ہیں، وہ خوشامد اور نکما پن تو نہیں۔۔۔۔۔

اس دوست نے اپنے خط میں ایک اور واقعہ بھی پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ پبلک پراسیکیوٹر کے سلسلہ میں سب انسپکٹری کے لیے بطور امیدوار پیش تھے۔ لاہور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ مسٹر ہارڈنگ کے سامنے جب انہوں نے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں احمدیہ جماعت میں سے ہوں اور احمدیہ جماعت وہ ہے جو حکومت برطانیہ کی ہمیشہ وفادار رہی ہے تو مسٹر ہارڈنگ نے کہا کہ میں احمدیہ جماعت کی وفاداری کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔

وہ دوست لکھتے ہیں کہ جب ہماری جماعت کی وفاداری کے کوئی معنے ہی نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لاکھوں روپیہ حکومت کی بہبودی کے لیے خرچ کریں اور اپنی

صفحہ 686

سینکڑوں قیمتی جانوں کو خطرات میں ڈالیں اور حکومت کی وفاداری ان معنوں میں کرتے چلے جائیں کہ نازک اور مشکل مواقع پر اس کی حمایت کریں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر

۶۳‘ ص ۲۔۳‘ مورخہ ۲۲ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۱۴) قادیانی مشین

بعض حکام کے افعال نے جماعت احمدیہ کو ایک مشین بنا دیا ہے جو قانون کی پابندی کرتی ہے اور کرے گی لیکن مشین اپنا راستہ چھوڑ کر آقا کی خدمت نہیں کر سکتی۔ ایک پانچ روپیہ کا نوکر اپنا رستہ چھوڑ کر بھی دیکھے گا کہ مالک کا نقصان نہ ہو مگر دس لاکھ کی مشین اس کا کوئی خیال نہیں رکھ سکتی۔ بلکہ وہ اپنے راستہ پر چلی جائے گی۔ تو ان حکام نے جماعت کو ایک مشین بنا دیا ہے۔ پہلے وہ اپنا راستہ چھوڑ کر بھی اس امر کا خیال رکھتی تھی کہ حکومت برطانیہ پر کوئی حرف نہ آئے مگر اب وہ ایسا کہاں کرے گی جب تک کہ حکومت کی طرف سے اس ہتک کا ازالہ نہ کیا جائے اور ان حالات کے ذمہ دار حکام کو سزا نہ دی جائے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۴۶‘ ص ۶‘ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۳۵ء)

(۱۵) ناقدری کا راز

میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ جس وقت سے ملک میں حکومت خود اختیاری کا سوال پیدا ہوا ہے‘ حکومت ہمیشہ زبردست کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ کیونکہ کوئی خواہ کتنا بھی دیانت دار ہو اگر اس میں دینداری اور روحانیت نہیں تو وہ قومی مفاد کے مقابلہ میں دیانت داری کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔ جس کے اخلاق کسبی ہوں‘ وہ جہاں بھی قومی سوال پیدا ہوگا‘ انہیں خیرباد کہہ دے گا۔ اس لیے میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ جوں جوں ہندوستان میں حکومت خود اختیاری کا سوال زور پکڑتا جائے گا۔ انگریز زبردست کی طرف جھکتے جائیں گے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں زبردست کی حمایت کے بغیر ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔

صفحہ 687

آئرلینڈ میں دیکھ لو کیا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کا ساتھ دیا، حکومت نے جب دیکھا کہ ملک میں مخالفت بڑھ گئی ہے تو اس نے ان جانبازوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور ایسے ایسے قوانین پاس کر دیے جنہیں ان بہادروں نے اپنی حق تلفی سمجھا۔ وہ لوگ ان کے ہم مذہب، ہم قوم اور وفادار تھے۔ لیکن ان تعلقات کے ہوتے ہوئے جب زبردست کے مقابلہ میں ان کی پروا نہ کی گئی تو صرف وفاداروں (مثلاً قادیانیوں) کا جو نہ ان کے ہم مذہب ہیں اور نہ ہم قوم۔ ساتھ چھوڑ دینا کون سی اچنبھے کی بات ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۱۱

اکتوبر ۱۹۲۹ء جلد ۱۷، نمبر ۳۰، ص ۶-۷)

(۱۶) وفاداری کا سودا

افسروں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ ہم نے کانگریس کو دبا لیا ہے۔ باغی جماعتوں کو توڑ دیا ہے اور اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہمیں وفاداروں کی بھی ضرورت نہیں اور جب یہ بات دنیا کے سامنے آئے گی تو ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل ہے، یہی سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ اس حکومت کے پاس جانا خطرناک ہے۔ یہ نہ دوست کو چھوڑتی ہے نہ دشمن کو، سب کو مارتی ہے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۲، نمبر

۵۴، ص ۱۲، مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

میں اس امر کے آثار دیکھتا ہوں کہ حکومت کو جلد وفادار جماعتوں کی امداد کی پھر ضرورت پیش آئے گی۔ میں یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں کہتا بلکہ زمانہ کے حالات کو دیکھ کر عقل کی بنا پر کہتا ہوں۔ میں نے کانگریس کی تحریک کو خوب غور سے دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب کانگریس ایک ایسی اسکیم تیار کر رہی ہے جس سے گو بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ میدان سے ہٹ گئی۔ مگر عنقریب وہ گورنمنٹ کو ایسی مشکلات میں ڈال دے گی جس کے لیے پھر اسے وفاداروں کی ضرورت محسوس ہوگی اور ہم پھر اپنے جھگڑے کو ایک طرف رکھ کر اس کی مدد کے لیے تیار ہو جائیں گے مگر حکومت نے ہمیں سبق دے دیا ہے کہ سودا کیے بغیر تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ ہم خود بھی آئندہ حکومت سے

صفحہ 688

سودا کریں گے اور دوسروں کو بھی سودا کرنے کا سبق پڑھائیں گے۔ سوائے اس صورت کے کہ حکومت ہم پر جو ظلم ہوا ہے، اسے دور کر دے۔ تب ہمارے تعلقات پہلے کی طرح ہو جائیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری مدد سودا کرنے کے بعد ہوگی اور ہم اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کریں گے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۲، نمبر

۵۸، ص ۱۲، مورخہ ۱۱ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۱۷) قادیان تا انگلستان پرانے قدر دان

جوں جوں انگلستان کے لوگ ان کارروائیوں سے اطلاع پا رہے ہیں جو احرار اور ان کے بعض دوست حکام کی طرف سے احمدیوں کے خلاف ہو رہی ہیں وہاں کے سنجیدہ طبقہ میں اس پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک سابق گورنر نے حالات سن کر کہا کہ آخر میرے زمانہ میں بھی تو احرار موجود تھے۔ اس وقت کیوں ان لوگوں کو یہ جرأت نہ ہوئی۔ میں ہمیشہ اپنے افسروں سے کہا کرتا تھا کہ یہ خطرناک لوگ ہیں۔ ان کے فریب میں نہ آنا۔

اخبار ”آبزرور“ لکھتا ہے کہ ۱۵ جولائی کو پیر کے دن امپائر ورکرز کونسل کے ان ممبروں کے جلسہ میں جو مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے ہیں، میٹنگ کے ختم ہونے پر کونسل کے سیکرٹری مسٹر چارلس فلز نے ........ کہا کہ ....... اس قوم (یعنی قادیانی جماعت) کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ قانون شکنی کے مخالف ہیں اور حکومت کی اطاعت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ یہ حملہ کرنے والے لوگ چند ہندو اور جماعت احرار کے لوگ ہیں جو انتہا پسند کانگرسی ہیں۔

جلسہ کے اختتام پر بغیر کسی مخالفت کے بالاتفاق یہ ریزولیوشن پاس ہوا ”ان مظالم کے خلاف جو احمدیہ جماعت قادیان پر بعض ہندوؤں اور جماعت احرار کی طرف سے (جو کہ ایک پیشہ ور ایجی ٹیٹروں اور سڈیشن پھیلانے والوں کی جماعت ہے) ہو رہے ہیں امپائر ورکرز کونسل کے ممبروں کا یہ جلسہ بڑے شد و مد سے احتجاج کرتا ہے“۔

اسی سلسلہ میں معلوم ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کے ایک پارٹی کے بعض ذمہ دار افسر ایک نوٹ تیار کروا رہے ہیں جو غور کرنے کے لیے پارٹی کے لیڈروں کے سامنے پیش

صفحہ 689

ہوگا۔ امید کی جاتی ہے کہ حالات کا پورا مطالعہ کرنے کے بعد پارلیمنٹ کی ایک بااثر پارٹی اس سوال کو خاص طور پر اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۵ء، جلد ۲۳، نمبر ۲۵،

ص ۴)

(۱۸) ولایت کی تحریریں

پھر چونکہ ہماری جماعت انگلستان میں بھی موجود ہے اس لیے جب پنجاب کی خبریں انگلستان جاتی ہیں اور وہ ہمارے آدمیوں کو دیکھتے ہیں تو وہاں کے افسر حیران ہوتے ہیں کہ یہ تو ہمارے دوست ہیں۔ ہم سے ملنے جلنے والے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کے بدخواہ نہیں بلکہ وفادار ہیں۔ پھر پنجاب کے بعض افسروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایک پرامن اور اطاعت شعار جماعت کے خلاف رپورٹیں کرنے لگ گئے ہیں۔۔۔۔۔ مگر ہم تجربہ سے کہہ سکتے ہیں کہ صرف دشمن اس جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا تھا (اور اب دوستوں کا یہ برتاؤ ہے مقام حیرت ہے---- للمولف)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، نمبر ۲۶،

جلد ۲۳، ص ۱۰، مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۳۶ء)

(۱۸) الف سوال و جواب (ج)

پچھلے دنوں جب حکومت کے بعض افسروں نے ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کیا کہ یہ حکومت کے غدار ہیں تو ہم نے اس کے متعلق ولایت میں ان پرانے افسروں کے پاس ذکر کیا جو ہمیں جانتے اور ہم سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس پر پارلیمنٹ کے بعض ممبروں نے وزراء سے سوال کئے اور انہوں نے یہاں سے دریافت کرایا تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہم تو انہیں بڑا وفادار سمجھتے ہیں۔ (غداری اور وفاداری کے نشیب و فراز قابل عبرت ہیں---- للمولف)

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۶، نمبر ۹۶، ص ۱۱، مورخہ ۲۷ اپریل ۱۹۳۸ء)

(۱۹) سلطنت برطانیہ کا زوال

صفحہ 690

حضرت مرزا صاحب نے وہ کام تو کر دیا ہے جو آنے والے مسیح کے لیے مقرر تھا۔ اب آنے والے کے لیے کوئی اور کام باقی نہیں اور اس لیے کسی اور کے آنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے کہ کسی کے لیے خدا تعالیٰ نے کوئی کام مقرر کیا ہو اور اسے دوسرا آکر کر جائے..... عیسائیت میں بھی تنزل کے آثار شروع ہوچکے ہیں اور عیسائیوں کا غلبہ مٹ رہا ہے۔ آج سے پچاس سال قبل کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ انگریز کبھی ہندوستان کو حقوق دے دیں گے لیکن اب وہ آہستہ دے رہے ہیں۔ پھر ان کی تجارتی طاقت بھی ٹوٹ رہی ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ انگریز کہتے تھے ہم یورپ کی دو بڑی سے بڑی طاقتوں سے دو گنا بحری بیڑا رکھیں گے۔ اس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب نے پیش گوئی فرمائی۔

سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں آثار ضعف و اختلال

اس کے کچھ عرصہ بعد جب ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں تو اس سلطنت میں آثار ضعف شروع ہوگئے۔ ہندوستان میں جو رو آج نظر آ رہی ہے، یہ دراصل جنگ ٹرانسوال کے زمانہ ہی میں شروع ہوگئی تھی۔ اس وقت ہندوستانیوں نے خیال کیا کہ اگر یہ تیس لاکھ انسان انگریزوں کو تنگ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اسی وقت یہ کشمکش شروع ہوئی اور پھر روز بروز ضعف زیادہ ہی ہوتا چلا گیا۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ ۷ مارچ ۱۹۳۰ء جلد

۱۷ نمبر ۶۹)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی، میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے۔ حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے۔

سلطنت برطانیہ تا ہفت سال بعد ازاں باشد خلاف و اختلال

میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا اور ہفت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت (مرزا) صاحب نے سنایا تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا

صفحہ 691

سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لیے اپنے رسالہ میں شائع کیا کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شائع کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اس کی میعاد شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لیے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنی کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اس کی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں اور واقعات کے ظہور کے بعد ہی میں نے اس کے یہ معنے سمجھے ہیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اس کی میعاد شمار کی جاوے۔ کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لیے بطور حرز کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتداء اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول، ص ۱۱۱، روایت نمبر ۹۶، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۲۰) نیشنل لیگ قادیان

اس زمانہ میں کامیابی کا رستہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح سولی پر چڑھنے کا رستہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سے جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں، کیا وہ سولی پر چڑھنے کو تیار بھی ہو سکتے ہیں؟ قید و بند کے مصائب جھیل سکتے ہیں؟ ماریں اور جوتیاں کھا سکتے ہیں؟ گالیاں سن سکتے ہیں۔ لٹھ کھانے کے لیے تیار ہیں یا اور کسی رنگ کے مصائب جو ان کے لیے مقدر ہیں، اٹھانے کو تیار ہیں۔ اگر تیار ہیں تو ان کے لیے کامیابی بھی یقینی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جماعت کو کھڑا کر دے گا۔ تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے وطن اور اپنی جان و مال کی قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہے۔ کیونکہ یہی وہ چیز ہے

صفحہ 692

جس سے اللہ تعالیٰ کامیابی کا رستہ کھولتا ہے اور اگر جماعت ان چیزوں کے لیے تیار نہیں تو وہ کبھی بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی۔ خواہ لاکھ سال ریزولیو شنز پاس کرتی رہے۔ ریزولیو شنز سے نہ خدا خوش ہو سکتا ہے اور نہ اس کے بندے اور نہ کوئی معقول انسان انہیں مفید سمجھ سکتا ہے۔ اسی لیے میں نے توجہ دلائی تھی کہ دھواں دھار تقریروں کی بجائے اپنے آپ کو منظم کریں۔ میں نے ایک رستہ بتایا تھا اور وہ نیشنل لیگ کا رستہ ہے۔...... جن لوگوں کو قانونی لحاظ سے نیشنل لیگ میں شامل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں، وہ اپنے نام لکھوا دیں۔ اس کے بعد اپنے اپنے ہاں سیاسی انجمنیں اور مرکزی جماعت سے ان کا الحاق کریں اور اس کے بعد جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان پر عمل کریں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۳،

نمبر ۲۵، ص ۴، مورخہ ۲۱ اگست ۱۹۳۱ء)

(۲۱) کابلی کارنامہ (م)

گورنمنٹ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہم بزدل نہیں ہیں۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس طرح ہمارے آدمیوں نے کابل میں جانیں دیں۔ کیا ان واقعات کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم موت سے ڈرتے ہیں۔ (سچ ہے ڈرتے تو ایسے کام کیوں کرتے—— للمؤلف) ایک یورپین کتاب میں لکھا ہے جو اس زمانہ میں وہاں (افغانستان میں) اٹلی کا انجینئر تھا کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو صرف اس لیے سنگسار کیا گیا تھا کہ وہ جہاد کے مخالف ہیں اور اس طرح گویا انگریزی حکومت کو طاقت پہنچاتے ہیں۔ پس جس قوم کے افراد انگریزوں کے لیے جانیں دے سکتے ہیں، کیا وہ دین کی خاطر نہیں دے سکتے۔ (سخن درین است—— للمؤلف)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر، مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۳، نمبر ۱۷،

ص ۷، مورخہ ۲۰ جولائی ۱۹۳۵ء)

ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لیے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا، صاف لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خان نے صاحبزادہ عبداللطیف کو اس لیے مروا دیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرتا تھا۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لیے قربان کیں کہ

صفحہ 693

انگریزوں کی جانیں بچیں مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلہ ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسند والا سلوک روا رکھا گیا۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر

۵۴‘ ص ۲‘ مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

جماعت احمدیہ کلکتہ نے یہ خبر نہایت دکھ اور تکلیف سے سنی ہے کہ دو اور احمدی دربار کابل میں محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے سنگسار کر دیئے گئے ہیں۔ تیس اور زیر حراست ہیں جو کہ اپنی بے رحم موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم حضور (وائسرائے) سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ افغانستان کے اس وحشیانہ فعل پر مداخلت فرمائیں۔ اسلام ہر گز ایسی خلاف انسانیت باتوں کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر انسانی ضمیر کی آزادی کی حفاظت افغانستان میں نہ کی گئی تو یقیناً ایسے ہی ظالمانہ‘ وحشیانہ افعال کا اس کے ہمسایہ ملک ہندوستان میں ہونے کا ڈر ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۶۷‘ مورخہ ۵ مارچ ۱۹۲۰ء)

(۲۲) قدرتی بات

یہ قدرتی بات ہے کہ ہمارے وعظوں‘ لیکچروں‘ کتابوں‘ اخباروں اور رسالوں میں چونکہ بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ انگریز عادل اور منصف ہیں اور وہ اپنی رعایا کے تمام فرقوں سے حسن سلوک کرتے ہیں اور امن قائم رکھتے ہیں اس لیے غیر ممالک کے احمدی بھی ہمارے لٹریچر سے متاثر ہو کر کہتے ہیں کہ گو ہم انگریزوں کے ماتحت نہیں لیکن چونکہ ہمارا مرکز ان کی تعریف کرتا ہے اس لیے وہ برے نہیں بلکہ منصف مزاج حکمران ہیں۔ اس ذریعہ سے ہزاروں آدمی امریکہ میں‘ ہزاروں آدمی ڈچ انڈیز میں اور ہزاروں آدمی باقی غیر ممالک میں ایسے تھے جو گو اپنی اپنی حکومتوں کے وفادار تھے مگر انگریزوں کے متعلق بھی کلمہ خیر کہا کرتے تھے۔ امریکہ جسے کسی وقت جرمن ایجنٹوں نے انگریزی گورنمنٹ کے خلاف کرنے کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کر دی تھیں‘ وہاں احمدی ہی تھے جو اپنی جماعت کا لٹریچر پڑھنے سے‘ جس میں انگریزوں کی تعریف ہوتی‘ آپ ہی آپ ان خیالات کا ازالہ کرتے تھے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۳۱‘

صفحہ 694

(جلد ۲۳‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۳۵ء)

(۲۳) ایجنٹ

ایسی حالت میں جب لوگوں پر یہ اثر تھا کہ احمدی انگریزی قوم کے ایجنٹ ہیں تو تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت ہماری باتیں سننے کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ گو یہ مذہب کے نام سے تبلیغ کرتے ہیں مگر دراصل انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۲۲‘ نمبر ۳۱‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۳۵ء)

دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے لیکن دوسری طرف حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے تم (مرزا محمود احمد) سول نافرمانی کرنے والے ہو اور جب یہ واقعات کسی عقلمند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرلے گا کہ حکومت کا یہ رویہ صحیح نہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲‘ نمبر ۵۴‘

ص ۱۲‘ مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

(۲۴) پنڈت جواہر لال نہرو

پھر یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے‘ لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ بعض بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کا انگریزی حکومت سے اس قسم کا تعلق ہے۔

ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں‘ ایک دفعہ قادیان آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لال صاحب نہرو جب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے اسٹیشن پر اتر کر جو باتیں سب سے پہلے کیں‘ ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ میں یہ سبق حاصل کیا ہے کہ اگر انگریزی حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کیا جائے جس کے معنی

صفحہ 695

یہ ہیں کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ان کی ایجنٹ ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“‘ قادیان‘ نمبر

۳۱‘ جلد ۲۳‘ ص ۷-۸‘ مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۳۵ء)

(۲۵) انقلاب

موجودہ زمانہ کو انقلاب کا دور کہا جاتا ہے۔ سورج ہر روز ایک نئے انقلاب کی خبر لے کر طلوع ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض انقلابات ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کو محو حیرت کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ لاہور میں پنڈت جواہر لال نہرو کا قادیانی استقبال اسی قسم کا ایک حیرت انگیز انقلاب ہے۔۔۔۔۔۔ ۲۱ مئی کو جب پنڈت جواہر لال نہرو صدر کانگریس لاہور تشریف لائے تو قادیانی جماعت کی طرف سے ان کا شاندار استقبال ہوا۔ ”الفضل“ میں اس کی تفصیل بصد فخر نمایاں طریق پر ”فخر وطن پنڈت جواہر لال نہرو کا لاہور میں شاندار استقبال“ کے عنوان سے شائع کی گئی۔

(لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۴۰‘ مورخہ ۲۳ جون ۱۹۳۶ء)

(۲۶) فخر وطن پنڈت جواہر لال نہرو کا لاہور میں شاندار استقبال

آل انڈیا نیشنل لیگ کی طرف سے

(”الفضل“ کے خاص رپورٹر کے قلم سے) لاہور ۲۹ اپریل آج حسب پروگرام پنڈت جواہر لال صاحب نہرو لاہور تشریف لائے۔ پنجاب پراونشل کانگریس کمیٹی کی خواہش پر (قادیانی جماعت کی) آل انڈیا نیشنل لیگ کورز کی طرف سے آپ کے استقبال کا انتظام کیا گیا تھا۔ چونکہ کانگریس نے صرف پانچ صد والنٹیروں کی خواہش کی تھی اس لیے قادیان سے تین صد اور سیالکوٹ سے دو صد کے قریب والنٹیر ۲۸ مئی کو لاہور پہنچ گئے۔ قادیان کی کور دس بجے پہنچی۔ گاڑی کے آنے پر جناب صدر آل انڈیا نیشنل لیگ اور قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز موجود تھے۔ پولیس کا بھی زبردست مظاہرہ تھا۔ کانسٹیبلوں کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ پولیس کے بڑے بڑے افسر بھی موجود تھے۔ قادیان

صفحہ 696

سے کار خاص کے سپاہی ساتھ آئے اور عصر تک ساتھ رہے۔ احمدیہ ہوسٹل میں جہاں قیام کا انتظام تھا‘ جناب شیخ بشیر احمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ لاہور صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے ایک مختصر مگر بر محل اور برجستہ تقریر کی جس میں بتایا کہ آج ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کے لیے آئے ہیں کہ آزادی وطن کی خواہش میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور ہم نے نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام دنیا سے ظلم اور ناانصافی کو مٹانا ہے اور صحیح سیاسیات کی بنیاد رکھنی ہے۔ آپ لوگ اس موقع پر کسی صورت میں کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو سلسلہ کے لیے کسی طرح کی بدنامی کا موجب ہو۔

علی الصبح ۶ بجے تمام باوردی والنٹیئرز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حد درجہ جاذب توجہ اور روح پرور تھا۔ ہر شخص کی آنکھیں اس طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا تقریباً تمام انتظام کور ہی کر رہی تھی اور کوئی آرگنائزیشن اس موقع پر نہ تھی۔ سوائے کانگریس کے ڈیڑھ دو درجن والنٹیئروں کے اسٹیشن سے لے کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر انتظام کے لیے ہمارے والنٹیئرز موجود رہے۔ پلیٹ فارم پر جناب چودھری اسد اللہ خان صاحب (قادیانی) بیرسٹرایم۔ ایل۔ سی قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز بہ نفس نفیس موجود تھے اور باہر جہاں آکر پنڈت جی نے کھڑا ہونا تھا‘ شیخ صاحب موجود تھے۔ ہجوم بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد اضافہ ہو گیا اور لوگوں نے صفوں کو توڑنے کی کوشش کی مگر ہمارے والنٹیئروں نے قابل تعریف ضبط اور نظم سے کام لیا اور حلقہ کو قائم رکھا۔ پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ بشیر احمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے لیگ کی طرف سے آپ کے گلے میں ہار ڈالا۔ کور کی طرف سے حسب ذیل ماٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے:

کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر کور

صفحہ 697

کے ضبط اور ڈسپلن سے حد درجہ متاثر تھے اور بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب سے کہا کہ اگر آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تو یقیناً ہماری فتح ہوگی۔

پنڈت جی کے قیام گاہ کی طرف تشریف لے جانے پر کورز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے احمدیہ ہوسٹل میں آئیں اور وہاں جناب شیخ صاحب نے پھر ایک تقریر کی جس میں کور والوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا اور بتایا کہ آپ لوگ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ دنیا میں انصاف قائم کرنے اور ظلم و ناانصافی کو مٹانے کے لیے ہر قربانی کرنا آپ کا فرض ہے۔

احمدیہ ہوسٹل میں کھانے کا بہت اچھا انتظام تھا۔ جس کے مہتمم بابو غلام محمد صاحب تھے۔ ماسٹر نذیر احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ احمدیہ ہوسٹل نے بھی مہمانوں کی آسائش کے لیے بہت کوشش کی۔ قادیان کی کورز ۲۹ کو ۹ بجے کی گاڑی سے واپس پہنچ گئیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۲۷۸ ص ۲‘ مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۳۶ء)

(۲۷) استقبال کی وجہ

اگر پنڈت جواہر لال صاحب نہرو اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لیے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیں گے جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا۔ لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیے جانے کے لیے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گزشتہ رویہ کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا جب کہ وہ صوبے میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو‘ ایک سیاسی انجمن کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۲۸۷‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۱ جون ۱۹۳۶ء)

(۲۸) قادیانی جماعت کی بے راہ روی

صفحہ 698

(عنوان مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور) ۲۹ مئی ۱۹۳۶ء کو پنڈت جواہر لال نہرو صاحب صدر کانگریس لاہور تشریف لائے تو مختلف حلقوں کی طرف سے اسٹیشن پر آپ کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس استقبال کی نمایاں اور حیرت انگیز خصوصیت تقریباً پانچ سو قادیانی رضا کاروں کی موجودگی تھی جو قادیان سے زیر قیادت چودھری اسد اللہ خاں صاحب (قادیانی) ممبر پنجاب کونسل (برادر چودھری سر ظفر اللہ خاں صاحب) لائے گئے تھے۔ اخبارات کے بیانات کے مطابق یہ رضاکار خاکی وردی میں ملبوس تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پولیس والوں کی طرح لمبی لمبی لاٹھیاں تھیں اور ان کو مجمع پر کنٹرول رکھنے کے لیے کانگریسی رضاکاروں کے پہلو بہ پہلو قطاریں باندھ کر کھڑا کیا گیا تھا تو انہوں نے اس انتظام میں غیر معمولی جوش اور دلچسپی سے حصہ لیا۔

پنڈت جی کے استقبال میں قادیانی رضاکاروں کی شرکت پر طرح طرح کی خیال آرائیاں اور چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جناب خلیفہ قادیان کانگریس کے اشد ترین مخالف تھے اور قادیانی حضرات نے کانگریس کے مقابلہ میں حکومت کی امداد کی اور کار خاص کی خدمات انجام دیں۔ آج وہ کانگریس کے ایک انتہا پسند اور اشتراکی خیالات رکھنے والے صدر کے استقبال میں حصہ لے رہے ہیں۔ افسوس قادیانیوں نے اپنے اصل کام تبلیغ اسلام و خدمت دین کو پس پشت پھینک دیا اور سیاسیات میں نہایت بھونڈے طریق سے حصہ لینا شروع کر دیا جس کا نتیجہ موجودہ بے راہ روی ہے۔

(قادیانیوں کی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴، نمبر ۳۵، مورخہ ۳ جون ۱۹۳۶ء)

(۲۹) قادیانی بے وقعتی (ج)

معزز معاصر پارس (۲۷ ستمبر ۱۹۳۱ء لاہور) ڈلہوزی کے اس واقعہ کے متعلق جس میں مسلح پولیس نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی پر کئی گھنٹے تک قبضہ کیے رکھا، لکھتا ہے

مرزا بشیر الدین محمود صاحب امیر جماعت احمدیہ تبدیل آب و ہوا کے لیے ڈلہوزی

صفحہ 699

میں تشریف فرما تھے کہ پچھلے دنوں ان کے ساتھ ایک حد درجہ رنج دہ اور افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ مرزا صاحب موصوف نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲ ستمبر ۱۹۴۱ء میں واقعہ مذکور کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈلہوزی کی پولیس نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے تقریباً سات گھنٹے تک خلیفہ صاحب کے بنگلہ کا نہ صرف خلاف قانون محاصرہ کیے رکھا، بلکہ چند سپاہی ان کے مکان کے اندر داخل ہو کر ڈرائنگ روم اور برآمدے میں ڈیرہ ڈالے پڑے رہے۔ حتیٰ کہ مرزا صاحب کے بیان کے مطابق ایک سپاہی نے زنانے میں گھسنے کی کوشش کی لیکن پولیس کے اشتعال انگیز رویہ کے باوجود مرزا صاحب کے ذاتی اثر کی بدولت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔۔۔۔۔۔

ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت سے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ملک میں جو قابل رشک پوزیشن حاصل ہے، اس سے ہر شخص واقف ہے۔ جماعت احمدیہ کے ہر فرد کے لیے ان کا لفظ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسی جماعت کے امیر ہیں، جس کے بانی نے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے) بادشاہ وقت کی اطاعت کو ایک اصول کا درجہ دیا۔ حکومت برطانیہ کی وفاداری اور اس سے دوستی کو جماعت مذکور نے اپنا فرض قرار دیا جس کے لیے اسے اپنے ہم وطنوں کے طعن و تشنیع برداشت کرنے پڑے (ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر۔۔۔ للمولف برنی) گزشتہ اور موجودہ جنگ میں مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں نے حکومت کی مالی اور بھرتی کے سلسلے میں جو مدد کی، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن ان کے ساتھ حکومت کے کارندوں کی طرف سے جو نامناسب سلوک روا رکھا گیا ہے، وہ اس قابل نہیں کہ جسے آسانی سے نظر انداز کیا جا سکے۔ (نیاز مند جو ممنون احسان ہوں ان کو شکوہ شکایت کا حق کم رہتا ہے۔۔۔ للمولف برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، نمبر ۲۲۴، جلد ۲۹، مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۴۱ء)

صفحہ 700

فصل چودھویں

قادیانی صاحبان اور مسلمان سیاست و مملکت

(الف) قادیانی فرقہ

(۱) نیا فرقہ

چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے، پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی۔ اے اور ایم۔ اے اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہو رہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہو گیا ہے۔۔۔ اس لیے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں، حضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو آگاہ کر دوں۔

(”تبلیغ رسالت“ جلد ۷، ص ۷، ”مجموعہ اشتہارات“ ص ۸، جلد ۳)

میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعوے سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اول درجہ کا وفادار اور جانثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لیے خطرناک نہیں۔

(”تبلیغ رسالت“ ص ۱۳، جلد ۷، ”مجموعہ اشتہارات“ جلد ۳، ص ۱۵)

میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدید جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے، جس کا میں پیشوا اور امام ہوں، گورنمنٹ کے لیے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ

صفحہ 701

کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی۔... میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگ جوئی اور فساد کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے‘ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔

("تبلیغ رسالت" جلد ۷‘ ص ۱۶ - ۱۷‘ مجموعہ اشتہارات‘ جلد ۳‘ ص ۱۸)

چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں‘ اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور یا وکلاء اور یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خواں اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں یا ان کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور یا سجادہ نشینان غریب طبع۔

غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ ان میں سے اپنے چند مریدوں کے نام بطور نمونہ آپ کے ملاحظہ کے لیے ذیل میں لکھ دوں۔

("تبلیغ رسالت" جلد ۷‘ ص ۱۸‘ مجموعہ اشتہارات‘ جلد ۳‘ ص ۲۰)

(۲) خود کاشتہ پودا

میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لیے کی ہے۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں.... صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار

صفحہ 702

جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں۔

(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ، منجانب خاکسار مرزا غلام احمد از

قادیان، مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم، ص ۲۰-۱۹، مولفہ میر

قاسم علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات، ص ۲۰-۲۱-۲۲، جلد ۳)

(۳) یاد رہے

یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نہم، ص ۸۲، مولفہ

میر قاسم علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات، ص ۳۵۷، جلد ۳)

اس جہاد کے بر خلاف نہایت سرگرمی سے میرے پیرو فاضل مولویوں نے

صفحہ 703

ہزاروں آدمیوں میں تعلیم کی ہے اور کر رہے ہیں جس کا بہت بڑا اثر ہوا ہے۔

(مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم‘ حاشیہ‘ ص ۱۸‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘

مجموعہ اشتہارات‘ ص ۱۹‘ جلد ۳)

میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔ کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی۔ باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یا اس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی رو سے اعتقاد تھا‘ وہ ظاہر کر دیا۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد چہارم‘ حاشیہ‘ ص

۴۶‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ اشتہارات‘ جلد ۲‘ ص ۱۸۰)

(۴) یہ تو سوچو

میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں۔ نہ اس سے کوئی صلہ چاہتا ہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکرگزاری کروں اور اپنی جماعت کو اطاعت کے لیے نصیحت کرتا رہوں۔ سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے.... ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے۔ اس کے احسان کے ہم شکرگزار نہ ہوں.... یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لیے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لیے ہی اس ملک میں قائم کی ہے اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی۔ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں‘ تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو۔ یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے لائق ہے مگر تم نہیں۔ تمام

صفحہ 704

پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتویٰ تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو۔۔۔۔۔ سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کیے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سو انگریزی سلطنت تمہارے لیے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لیے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں‘ ہزارہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے۔

(”اپنی جماعت کے لیے ضروری نصیحت“ اشتہار منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘

مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دہم‘ ص ۱۲۳-۱۲۴‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘

مجموعہ اشتہارات‘ جلد ۳‘ ص ۵۸۳-۵۸۴)

(۵) زمانہ کی نزاکت

اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے اس ارشاد پر بھی خاص طور پر دھیان دیا جائے جو حضور نے زمانہ کی نزاکت اور حالات کی رو کو دیکھتے ہوئے مجلس مشاورت پر فرمایا تھا یعنی یہ کہ ”جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں‘ وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے‘ وہ تلوار رکھیں لیکن جہاں اس کی اجازت نہ ہو‘ وہاں لاٹھی ضرور رکھی جائے اور پھر جہاں تک ممکن ہو ان ہتھیاروں کا استعمال بھی سیکھنا چاہیے اور اس کے علاوہ دیگر فنون جنگ بھی جو قانوناً ممنوع نہ ہوں‘ پوری توجہ اور دلی انہماک سے سیکھنے چاہئیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۸‘ نمبر ۱۰‘ ص ۹‘ مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۳۰ء)

(ب) ہندوستان

(۶) خیر خواہی

چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے ایسے نافہم مسلمانوں

صفحہ 705

کے نام بھی نقشہ جات میں درج کیے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں..... لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لیے تجویز کیا گیا کہ تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں اس لیے ہم نے اپنے محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو‘ ان شریر لوگوں کے نام ضبط کیے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں.... لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی.... ایسے لوگوں کے نام مع پتہ و نشان یہ ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تحریک بعنوان قابل توجہ گورنمنٹ‘ مندرجہ تبلیغ

رسالت‘ جلد پنجم‘ ص ۱۱-۱۲‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص

۲۲۷-۲۲۸‘ جلد ۲)

(۷) شکایت و عنایت

اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لیے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں۔ میرے قتل کے لیے ان لوگوں نے فتوے دیئے ہیں۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کر کے اس قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے سلطنت انگریزی کو سلطنت روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ سلطنت انگریزی کی تعریف کرتا ہے۔

صفحہ 706

(”حضور گورنمنٹ عالیہ میں (مرزا صاحب کی) ایک عاجزانہ درخواست“ مندرجہ ”تبلیغ

رسالت“ ج ہشتم، ص ۵۳، مجموعہ اشتہارات، جلد ۳، ص ۱۴۳)

(۸) مسلمان اور قادیانی صاحبان

آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا۔۔۔۔۔ گو وہ عملاً امن پسند تھا اور گورنمنٹ کے راستہ میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا، مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدۃً اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیر مذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور چونکہ یہ جماعت (قادیانی) نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے دور رہتی تھی، بلکہ عقیدۃً بھی حکومت وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی تھی اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتی ہے۔

(”تحفہ شہزادہ ویلز“ ص ۵، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان جو ۲۷ فروری

۱۹۲۲ء کو شہزادہ پرنس آف ویلز کی خدمت میں خلیفہ صاحب قادیان نے بمقام لاہور پیش

کیا)

(۹) جذبات محبت

سلسلہ عالیہ احمدیہ کی امن پسند تعلیم اور احمدیوں کا عملاً برطانیہ کے ساتھ اظہار خلوص اور وفاداری کرنا بعض حکام کے دلوں میں جذبات محبت پیدا کر رہا ہے اور یہ حالت ہندوستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے باہر بھی یہی حالت ہے۔ چنانچہ ایک دوست لکھتے ہیں کہ ایک شخص جو کچھ مدت ایک احمدی کے پاس رہتا تھا، ملازمت کے لیے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ جب افسر مذکور نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کیے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ فلاں احمدی کے پاس۔ اس پر ذیل کا مکالمہ ہوا: افسر: کیا تم بھی احمدی ہو؟ امیدوار: نہیں صاحب۔ افسر: افسوس تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے

صفحہ 707

احمدی بنو، پھر فلاں تاریخ کو آنا۔

ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ بعض حکام احمدیوں کی دیانت، امانت اور جذبات وفاداری کا احساس کرتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد۶، نمبر۹۲-۹۳، ص۱، مورخہ ۳-۷؍ جون ۱۹۱۹ء)

(۱۰) تازہ تر مثال

تازہ تر مثال جس نے احمدی جماعت کو برٹش گورنمنٹ کے اور بھی قریب کر دیا ہے، وہ احمدیان مالا بار کی مصیبت میں اس کا مدد کرنا ہے۔ ہم مختلف موقعوں پر احمدیان مالا بار کی تکالیف سے جماعت کو آگاہ کر چکے ہیں اور اس بات کی بھی اطلاع دے چکے ہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقامی حکام نے فوراً احمدیوں کی تکالیف دور کرنے کی طرف توجہ کی اور ان کو ایک زمین مقبرہ اور مسجد کے لیے دے دی ہے۔ اس کے بعد جو تازہ حالات ہمیں معلوم ہوئے ہیں، ان سے پتہ لگتا ہے کہ میونسپل کمیٹی کے ایک خاص جلسہ میں ڈویژنل مجسٹریٹ نے احمدیوں کے سپرد وہ جگہ کر دی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ ”گو یہ جگہ شہر سے کسی قدر دور ہے لیکن اس وقت اسی کا انتظام ہو سکتا ہے اور آئندہ پھر توجہ کی جائے گی“ اور چیئرمین کمیٹی نے احمدیوں سے کہا کہ جب تم لوگوں کی زیادہ تعداد ہو جائے گی تو پھر اس کے ساتھ کی زمین بھی احمدیوں کو دے دی جائے گی تا وہ اپنی مسجد کو وسیع کر لیں۔

یہ جو سلوک احمدیان مالابار سے گورنمنٹ برطانیہ نے کیا، اس کا شکریہ ہمارے الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ ہمارے دل اس کا شکریہ دعاؤں کے ذریعہ سے کرتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جس کے محتاج امیر و غریب سب ہیں، اس محسن گورنمنٹ کو ان احسانات کا بدلہ اپنے وسیع خزانہ سے دے اور اس کی شان و شوکت کو بڑھائے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد۳، نمبر۵۱، مورخہ ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

(ج) اسلامی ممالک

(۱۱) سترہ برس

پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ

صفحہ 708

برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں‘ ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت موثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لیے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں‘ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوا اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا...... یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں‘ میں نے یہ تحریریں لکھی ہیں‘ ان کتابوں کے نام مع ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں جن میں سرکار انگریزی کی خیرخواہی اور اطاعت کا ذکر ہے۔ (اس کے ذیل میں مرزا صاحب نے اپنی (۲۳) کتابوں اور رسالوں کی فہرست درج کی ہے۔—— للمولف)

(”اشتہار واجب الاظہار“ جو خاص اس غرض سے شائع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ قیصر

ہند توجہ سے اس کو ملاحظہ فرمائے۔ منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ ”تبلیغ

رسالت“ جلد ششم، ص ۶۰ تا ۶۲‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ اشتہارات‘

ص ۴۶۱ تا ۴۶۳‘ جلد ۳)

(۱۲) مخفی سبب

گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے‘ ہر ایک طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے ایذا دینا اپنا فرض سمجھا۔ اس تکفیر اور ایذا کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ

صفحہ 709

قادیانی‘ مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء‘ مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم‘ ص ۱۳‘ مولفہ میر

قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ۱۴‘ ۱۵‘ جلد ۳)

(۱۳) حکمت و مصلحت

خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت ہے کہ اس نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چن لیا تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔ کیا تم کیا خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کیے جاؤ گے۔ تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے‘ جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے‘ وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے‘ امیر حبیب اللہ خاں نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔ پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔ بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اعلان اپنی جماعت کے نام‘ مورخہ ۷ مئی ۱۹۰۷ء مندرجہ

”تبلیغ رسالت“ جلد دہم‘ ص ۲۳‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ اشتہارات‘

ص ۵۸۳‘ ج ۳)

(۱۴) قادیانی قاصد

چونکہ میں نے دیکھا کہ بلاد اسلامی روم و مصر وغیرہ کے لوگ ہمارے واقعات سے مفصل طور پر آگاہ نہیں ہیں اور جس قدر ہم نے اس گورنمنٹ سے آرام پایا اور اس کے عدل و رحم سے فائدہ اٹھایا۔ وہ اس سے بے خبر ہیں (ورنہ غالباً وہ بھی اس کے خواہش مند ہوتے--- (للمولف) اس لیے میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کیے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کیے اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد

صفحہ 710

قطعا حرام ہے اور ہزارہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزارہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا (نیک نیتی تو صاف ظاہر ہے، جتانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ للمؤلف) شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیر خواہی غیر ممکن ہے کہ ہزارہا روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلایا جائے لیکن ایک عقلمند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایمان دار آدمی اس سے تمتع اٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق و محبت کے رنگ میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ تا اس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش نے ان کارروائیوں کے لیے مجبور کیا۔

(”اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصر ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لیے شائع کیا گیا“۔ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی، مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۸۹۴ء، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد سوم، ص ۱۹۶۔۱۹۷، مؤلفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی، مجموعہ اشتہارات، جلد ۲، ص ۱۲۷۔۱۲۸)

(۱۵) یہ کام کیوں کیے

سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو میں نے دور دور کی ولایتوں میں بھیجا ہے جن میں سے عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آ جائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لیے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے ان کی اطاعت کریں۔.... میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا، اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا کہ تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو

صفحہ 711

شک ہو وہ میری کتاب ”براہین احمدیہ“ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس شک کے دور کرنے کے لیے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب ”تبلیغ“ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری کتاب ”حمامۃ البشریٰ“ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب ”شہادۃ القرآن“ میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو بھی دیکھے۔ تاکہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں، وہ خطا پر ہیں۔۔۔۔۔۔

پس اے آنکھوں والو! تم سوچو کہ میں نے یہ کام کیوں کیے اور کیوں یہ کتابیں، جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے، ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں۔ کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام کی امید رکھتا تھا۔۔۔ سو اس کے بعد کس غرض نے مجھ کو اس کام پر آمادہ کیا۔ کیا میرے لیے ان کتابوں کی ایسے ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے بلکہ وہ اسلامی ملک تھے اور ان کے خیال بھی اور تھے کچھ اور فائدہ تھا۔۔۔ اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لیے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہو گئے جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک گیارہ برس ان ہی اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔

(”نور الحق“ حصہ اول، ص ۳۱۔ ۳۲، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، ”روحانی

خزائن“ ص ۴۱ تا ۴۵، جلد ۸)

(۱۶) یکتا و یگانہ (ج)

پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لیے بطور ایک تعویذ اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس

صفحہ 712

گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔

(”نور الحق“ ص ۲۳‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ ”روحانی خزائن“ جلد ۸‘

ص ۸)

(۱۷) غیر معمولی اعانت

جناب عالی دنیا کی اس مذہبی خدمت کے ذکر کرنے کا یہ موقعہ نہیں جو ہمارے سلسلہ کے بانی (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے کی ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جناب اس خدمت کو معلوم کر کے خوش ہوں گے جو انہوں نے دنیا کے امن کے قیام کے لیے کی ہے۔ جس وقت آپ نے دعویٰ کیا ہے‘ اس وقت تمام عالم اسلامی جہاد کے خیالات سے گونج رہا تھا اور عالم اسلامی کی ایسی حالت تھی کہ وہ پٹرول کے پیپہ کی طرح بھڑکنے کے لیے صرف ایک دیا سلائی کا محتاج تھا۔ مگر بانی سلسلہ نے اس خیال کی لغویت اور خلاف اسلام اور خلاف امن ہونے کے خلاف اس قدر زور سے تحریک شروع کی کہ ابھی چند سال نہیں گزرے تھے کہ گورنمنٹ کو اپنے دل میں اقرار کرنا پڑا کہ وہ سلسلہ جسے وہ امن کے لیے خطرہ کا موجب خیال کر رہی تھی‘ اس کے لیے ایک غیر معمولی اعانت کا موجب تھا۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس‘ بخدمت ہز ایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند‘ مندرجہ

اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۹‘ نمبر ۱‘ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۲۱ء)

(۱۸) قادیانی مشن

حضرت مسیح موعود علیہ السلام (یعنی مرزا صاحب) نے سلطنت برطانیہ کی بے انتہا خوبیوں اور بے شمار مہربانیوں کے شکریہ میں بڑی کثرت کے ساتھ کتابیں‘ رسالہ جات‘ اشتہارات‘ بزبان عربی‘ انگریزی‘ فارسی‘ اردو تالیف کر کے مصر‘ روم‘ ایران‘ افغانستان‘ یورپ وغیرہ ممالک میں بھیجے اور آپ نے اس مبارک گورنمنٹ کو تمام جہان کی دیگر سلطنتوں پر ترجیح دے کر یہ صاف لکھ دیا کہ عرب اور روم اور مصر اور افغانستان میں مذہبی اشاعت کے لیے ہرگز ہرگز ایسی آزادی حاصل نہیں جیسی کہ اس انصاف مجسم

صفحہ 713

گورنمنٹ میں ہم کو میسر ہے اور جیسی امن اور آسائش کہ سلطنت انگلشیہ کی بدولت نصیب ہو رہی ہے۔ اس کی نظیر کسی جگہ بھی پائی نہیں جاتی۔

آپ نے اس زمانہ کے مولویوں اور عام مسلمانوں کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے بڑی مدلل اور پر زور تحریروں سے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ ایسی محسن گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کا خیال رکھنا اور اس سے جہاد کرنا سخت بے ایمانی ہے۔ چنانچہ آپ کی پاک تعلیم کے اثر سے آپ کے تمام مرید جو ہزاروں بندگان خدا ہندوستان میں ہیں' اپنی محسن گورنمنٹ کی نسبت سچی خیر خواہی کا جوش اپنے اندر رکھتے ہیں اور اس گورنمنٹ عالیہ کی نمک حلالی اور اطاعت کا مادہ ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کر گیا ہے اور وہ دن جلد آنے والے ہیں' کہ گورنمنٹ لاکھوں اور کروڑوں ایسے انسانوں کو اپنی رعایا میں پاوے گی جو محض حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے مرید ہو جانے کے سبب سے گورنمنٹ کے باوفا اور دلی جان نثار ہو گئے ہیں۔

("مہربان گورنمنٹ قدردان گورنمنٹ کو خدا ہمیشہ کے لیے سلامت رکھے۔ "انوار احمدی" سرورق ص ۲' مولفہ شہزادہ حاجی عبدالمجید صاحب قادیانی)

(۱۹) تمام سچے احمدی

ایرانی گورنمنٹ نے جو سلوک مرزا علی محمد باب بانی فرقہ بابیہ اور اس کے بے کس مریدوں کے ساتھ محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے کیا اور جو ستم اس فرقہ پر توڑے گئے' وہ ان دانشمند لوگوں پر مخفی نہیں ہیں جو قوموں کی تاریخ پڑھنے کے عادی ہیں اور پھر سلطنت ترکی نے جو ایک یورپ کی سلطنت کہلاتی ہے' جو برتاؤ بہاء اللہ بانی فرقہ بابیہ بہائیہ اور اس کے جلاوطن شدہ پیروؤں سے ۱۸۶۳ء سے لے کر ۱۸۹۲ء تک پہلے قسطنطنیہ پھر ایڈریا نوپل اور بعد ازاں عکہ کے جیل خانہ میں کیا' وہ بھی دنیا کے اہم واقعات پر اطلاع رکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔

دنیا میں تین ہی بڑی سلطنتیں کہلاتی ہیں اور تینوں نے جو تنگ دلی اور تعصب کا نمونہ اس شائستگی کے زمانہ میں دکھایا' وہ احمدی قوم کو یہ یقین دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کی آزادی تاج برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ خدا نے برٹش راج میں

صفحہ 714

سلامتی کے شہزادہ (مرزا صاحب) کو دنیا کی رہنمائی کے لیے بھیجا گویا خدا نے تمام دنیا کی حکومتوں پر بلحاظ فیاضی فراخ دلی اور بے تعصبی کے برٹش گورنمنٹ کو ترجیح دی۔ لہٰذا تمام سچے احمدی جو حضرت مرزا صاحب کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں، بدون کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لیے فضلِ ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۳۸‘ مورخہ ۱۳ ستمبر ۱۹۱۴ء)

(۲۰) سیاسی فلسفہ

ہم نے مصطفیٰ کمال پاشا کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا۔ رضا خاں کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا اور اب بچہ سقہ کی بغاوت کو بھی بغاوت ہی کہتے ہیں۔ ہم ان تینوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں غلطی کی۔ اپنے اپنے زمانہ سے میری یہ مراد ہے کہ بعض اوقات بغاوت کرنے والا ہی بادشاہ ہو جاتا ہے اور اس وقت اس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔ جب بغاوت کرنے والا ملک پر پوری طرح قابض اور متسلط ہو جائے تو پھر اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اس وقت اس کی اطاعت اسی طرح فرض ہو جاتی ہے، جیسے پہلے بادشاہ کی۔ مثلاً اگر بچہ سقہ افغانستان پر اسی طرح قابض ہو جائے جیسے مصطفیٰ کمال پاشا ترکی پر قابض ہو گئے تھے یا رضا شاہ ایران پر تو پھر اس کے خلاف اٹھنے کو بھی ہم بغاوت ہی قرار دیں گے۔ یہی حال ہندوستان کا ہے۔ اگر کوئی قوم انگریزوں کے خلاف جنگ کرے گی تو اس جنگ کو ہم بغاوت قرار دیں گے لیکن اگر انگریز ہتھیار ڈالدیں اور اطاعت قبول کرلیں تو پھر جو قوم حکمران ہوگی، اس کی اطاعت ضروری سمجھیں گے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۱۶‘ نمبر ۶۱‘

ص ۹‘ مورخہ یکم فروری ۱۹۲۹ء)

(د) سرحد

(۲۱) سرحدی قبائل کی اصلاح (ج)

سرحدی قبائل کی شورشیں اور ان کا سبب اور علاج

صفحہ 715

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۵۱ء)

لہٰذا ہماری رائے میں ہمعصر پایونیر ہو یا دیگر امن دوست ملکی و قومی اخبارات یا خود عمال سلطنت ہوں۔ جس کسی کی بھی آج یہ خواہش ہو کہ ابنائے ملک و ملت میں صلح کاری و نیک کرداری پھیلے اور وہ مفسدہ پردازی کے خطرناک خیالات سے پاک رہیں‘ اس کا فرض اولین یہ ہے کہ مہدی موعود کے متعلق جو غلط عقیدہ لوگوں کے دلوں میں جما ہوا ہے‘ اس کی اصلاح میں سلسلہ احمدیہ کا ہاتھ بٹائے جس کے بنیادی اصولوں میں سے ہے کہ اسلام ایسے مہدی کی کہیں توقع نہیں دلاتا جس کا مشن امن شکن ہو۔ نیز یہ کہ فرماں روائے وقت کی اطاعت رعایا کا فرض ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۴۹‘ مورخہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

یہ صورت حالات دیکھ کر حکومت صوبہ سرحد نے نہایت ہوش مندی سے کام لیا اور ایسے لوگ جو صوبہ کے امن کو برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور جو قلیل التعداد احمدیوں پر طرح طرح کے ظلم کرنے کے لیے عوام کو اشتعال دلا رہے تھے‘ ان کے متعلق اپنے فرض کو محسوس کرتے ہوئے حفظ امن کے انتظامات کرنے کی طرف توجہ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس قسم کے مظالم سے‘ جو پنجاب میں احرار کی طرف سے احمدیوں پر کیے جا رہے ہیں‘ صوبہ سرحد بڑی حد تک پاک رہا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۱۸۶‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۱ فروری ۱۹۳۶ء)

(ھ) افغانستان

(۲۲) شہادت کی وجہ

ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی۔ اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنیں مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ

صفحہ 716

جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔۔۔۔ اس کتاب کے مصنف کی یہ بات اس لیے بھی یقینی ہے کہ وہ شاہ افغانستان کا درباری تھا اور اس لیے بھی کہ وہ اکثر باتیں خود وزراء اور شہزادوں سے سن کر لکھتا ہے۔ ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۲۳‘ نمبر ۳۱‘ ص ۱۰‘ مورخہ ۶ اگست ۱۹۳۵ء)

اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور وہ جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر وہ اس بڑھے ہوئے جوش کا شکار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا اور وہ اس ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا ہو گئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد

۲۳‘ نمبر ۳۱‘ ص ۱۰‘ ۱۱‘ مورخہ ۶ اگست ۱۹۳۵ء)

(۲۳) سازشی خطوط

افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلیہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے:

”کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیابی و ملا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہو کر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں بپنجشنبہ ۱۱ رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل مزید

صفحہ 717

تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی۔ (اخبار ”امان“ افغان)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۹۶‘ ص آخری مورخہ ۳ مارچ ۱۹۲۵ء)

(۲۴) مداخلت اور بازپرس

معزز ہمعصر اخبار ”تیج“ ۲۶ فروری ۱۹۲۵ء کے اشو میں رقم طراز ہے جنیوا کی اطلاع مظہر ہے کہ احمدیہ فرقہ کے امیر مرزا بشیر الدین محمود احمد نے لیگ آف نیشنز سے درخواست کی ہے کہ وہ کابل میں دو احمدیوں کی سنگساری کے بارے میں افغانستان کی گورنمنٹ سے باز پرس کرے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۹۷‘ ص ۶‘ مورخہ ۵ مارچ ۱۹۲۵ء)

(۲۵) دیکھ لو

دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رستہ میں جو سلطنتیں آئیں اور انہوں نے احمدیت کی اشاعت میں کسی نہ کسی طرح کی روک پیدا کی‘ وہ کس طرح تباہ کر دی گئیں.... پھر کابل کی حکومت بھی مسیح موعود کے رستہ میں روک تھی اور وہاں پر نہ صرف یہ کہ احمدیت کی تبلیغ منع تھی بلکہ احمدیت کا اظہار بھی ممنوع تھا اور مسیح موعود کو وہاں جانے کا ڈراوا دیا جاتا تھا۔ خدا نے اس کے تباہ کرنے کے بھی سامان پیدا کر دیئے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۶‘ نمبر

۹۴‘ ص ۹‘ مورخہ ۱۰ جون ۱۹۱۹ء)

(۲۶) کابل

حضرت مسیح موعود کے مخالف آپ کو اکثر کہا کرتے تھے کابل میں چلو تو پھر دیکھو تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ اب ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ عنقریب انشاء اللہ ہم کابل میں جائیں گے اور ان کو دکھا دیں گے کہ جس کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے‘ اس کے (مرزا صاحب کے) خدام خدا کے فضل سے صحیح سلامت رہیں گے.....

اس وقت (بعهد شاہ امان اللہ خاں) جو کابل نے گورنمنٹ انگریزی سے نادانی سے جنگ شروع کر دی ہے‘ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں۔ کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے۔ لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لیے ایک نئی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ کابل وہ زمین ہے‘ جہاں ہمارے نہایت ہی قیمتی وجود مارے گئے

صفحہ 718

اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب اور بلاوجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس لیے صداقت کے قیام کے لیے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لیے گورنمنٹ کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو تا تمہارے ذریعہ وہ شاخیں پیدا ہوں جن کی حضرت مسیح موعود نے اطلاع دی ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب' خلیفہ قادیان' مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان' جلد ۶'

ص ۷۔۸' نمبر ۹۰' مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۱۹ء)

(۲۷) جنگ کابل

جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی ہے تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی ہے جس کی بھرتی بوجہ جنگ کے بند ہو جانے کے رک گئی ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لیے نام لکھوا چکے تھے اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادہ اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریزی طور پر کام کرتے رہے۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس' بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند' مندرجہ

اخبار ”الفضل“ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۲۱ء' جلد ۹' نمبر ۱)

(۲۸) دنیا کا چارج

وہی افغانستان جہاں سید عبداللطیف صاحب (قادیانی) شہید ہوئے تھے، وہاں اب امیر نے کہا ہے کہ کسی احمدی کو مذہب کی خاطر قید نہیں کرنا چاہیے.... دیکھو ہم نہیں جانتے کہ وہاں کے لیے ہمیں کیا طریق عمل اختیار کرنا پڑتا۔ شاید کابل کے لیے کسی وقت جہاد ہی کرنا پڑ جاتا مگر اب دیکھو کتنا تغیر آگیا۔ وہاں کے بادشاہ نے کہہ دیا کہ قیدی احمدیوں کو چھوڑ دو۔ پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا بلکہ لانے والا خدا ہے۔ اس لیے تمہیں آنے والوں کے معلم بننے کے لیے ابھی سے

صفحہ 719

کوشش کرنی چاہیے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب' خلیفہ قادیان' مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان' مورخہ

۲۷ فروری' ۲ مارچ ۱۹۲۲ء' جلد ۹' نمبر ۶۷-۶۸)

(۲۹) اس لیے

ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لیے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا، لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خاں نے صاحبزادہ سید عبداللطیف کو اسی لیے مروا دیا ہے وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرتا ہے۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لیے قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلہ ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسندوں والا سلوک روا رکھا ہے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان' مندرجہ اخبار الفضل' جلد ۲۲' نمبر ۵۴' ص ۱۴'

مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۲ء)

(و) عراق

(۳۰) عمدہ نتائج

لارڈ ہارڈنگ کا یہ سفر (سفر عراق) سابق وائسرائے لارڈ کرزن کے سفر خلیج فارس سے زیادہ اہم اور زیادہ اچھے نتائج کی امید دلاتا ہے۔ ہم اس وقت اس سفر کے نتائج اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ناظرین پر چھوڑتے ہیں......

یقیناً اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عراق میں جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں۔ کیونکہ.... خدا ملک گیری اور جہاں بانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اسی کو زمین پر حکمران بناتا ہے۔ جو اس کا اہل ہوتا ہے، پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لیے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمانوں کو پھر مسلمان کریں

صفحہ 720

گے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۰۳‘ مورخہ ۱۱ فروری ۱۹۱۵ء)

(۳۱) فتح بغداد

فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی۔ ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا، دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے، جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لیے اس نے اپنے وقت پر اتارا تاکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لیے تیار کریں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۴۲‘ ص ۹‘ مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۱۸ء)

(۳۲) عراق کی فتح

عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے لیکن جب وہاں حکومت قائم ہو گئی تو گورنمنٹ نے یہ شرط تو کروا لی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں کوئی روک نہ ہو گی مگر احمدیوں کے لیے نہ صرف اس قسم کی کوئی شرط نہ رکھی بلکہ احمدی اگر اپنی تکالیف پیش کرتے ہیں تو بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی شان سے بالا سمجھتے ہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار الفضل‘ جلد ۱۱‘ نمبر ۱۷‘ ص ۸‘

مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۲۳ء)

(۳۲۔الف) عراق کی آزادی (ج)

انگریزی افواج کی کوچ کا اثر انگیز نظارہ بغداد سے ایک سرکاری پیغام شائع کیا گیا ہے جس میں یہ تصریح کی گئی ہے۔ ۱۹۳۰ء کے معاہدہ کے ماتحت عراق مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہے۔

وہ نظارہ بہت ہی اثر انگیز تھا جب آخری عراقی چھاؤنی سے مارشل کارنئی (افسر اعلیٰ برطانوی شاہی افواج) نے اپنی عراقی فوج کے آخری دستہ کو کوچ کا حکم دیا گوروں نے

صفحہ 721

عراق کے نخلستانوں پر حیرت کی نظر ڈالی انگریزی فوج تیز قدمی کے ساتھ عراق میں داخل ہوئی تھی مگر آخری دستہ کے فوجی ہلکی رفتار سے رخصت ہو رہے تھے۔ جب فوجوں نے انگلستان کا رخ کر کے ایک ساتھ قدم اٹھائے تو پھر انہوں نے مڑ کر اس منظر کو نہیں دیکھا جو ان کے جانے سے رونما ہو رہا تھا تو اس وقت امین پاشا امیر الامراء افواج عراق وہاں موجود تھے۔ مارشل کارنئی نے اعلان کیا:

”ہم یہ فوجی علاقہ جو ہمارے قبضہ میں تھا حکومت برطانیہ کی طرف سے عراق کو واپس کرتے ہیں“۔

امین پاشا نے فوراً ہاتھ بڑھایا اور مارشل کے ہاتھ سے فوجی بارکوں کے تمام نقشے اپنے قبضے میں لے لیے۔ صلیبی علم چھاؤنی کی بلند عمارتوں سے اتار دیا گیا اور مارشل کارنئی کی آنکھوں کے سامنے اسلامی علم لہرا دیا گیا۔ اس علم پر ایک ہلال اور ایک ستارہ موجود ہے جو عراق کے مستقبل کی باتیں آسمان سے کر رہا ہے۔ (قادیانیوں کو کیسی عبرت اور ندامت ہوئی ہوگی کہ ان کے سرپرست انگریز آنکھوں دیکھتے رفوچکر ہوگئے۔۔۔ للمولف)

(روزنامہ ”پیام“ حیدر آباد دکن، مورخہ ۷ محرم ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ مارچ ۱۹۳۸ء)

(ز) عرب

(۳۳) کیا فائدہ

آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے، مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کہ انگریز بعض عرب رؤسا کو مالی مدد دے کر انہیں اپنے زیر اثر لانا چاہتے ہیں۔ یہ شور جب زیادہ بلند ہوا تو حکومت ہند کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم رؤسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔ مسلمان اس پر خوش ہوگئے کہ چلو خبر کی تردید ہوگئی۔ لیکن میں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض عرب روسا کو مدد نہیں دیتی مگر حکومت برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے۔ چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو ملا کرتے تھے اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔ جب مجھے اس کا

صفحہ 722

علم ہوا تو میں نے لارڈ چیمسفورڈ کو لکھا کہ گو لفظی طور پر آپ کا اعلان صحیح ہے مگر حقیقی طور پر صحیح نہیں۔ کیونکہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ابن سعود اور شریف حسین کو اس اس قدر مدد ملتی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کر سکتے۔ ان کا جواب میں مجھے خط آیا (وہ بہت ہی شریف طبیعت رکھتے تھے) کہ یہ واقعہ صحیح ہے مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلایا جائے ہاں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیر اثر لائے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۵۵‘ ص ۹‘ مورخہ ۳؍ ستمبر ۱۹۳۵ء)

(ح) فلسطین

(۳۴) قادیانی مضمون کا شکریہ

بیت المقدس کے داخلہ پر اس ملک (انگلستان) میں بہت خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ میں نے ایک یہاں کے اخبار میں اس پر ایک آرٹیکل دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو یہود کو عطا کی گئی تھی مگر نبیوں کے انکار اور بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہود کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دی گئی جو بت پرست قوم تھی۔ بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ پھر مسلمانوں کو جن کے پاس ایک لمبے عرصہ تک رہی اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہیے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا۔۔۔ سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادی مذہب کو ہم دیکھ چکے‘ آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔ اس زمانہ میں کوئی مذہبی جنگ نہیں۔ ہاں ہم اپنے نیک نمونے اور روحانی کشش سے یورپ کو مسلمان بنا لیں تو پھر ساری حکومتیں ہماری ہی ہیں اور اس میں اسلام کی آئندہ بہتری کی امیدیں ہیں۔۔۔ بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں (انگلستان) کے

صفحہ 723

اخبار میں شائع ہوا ہے‘ اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ اس کے متعلق وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسٹر لائیڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔

(قادیانی مبلغ کا خط‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۵‘ نمبر ۷۵‘ ص ۸-۹‘ مورخہ ۱۹

مارچ ۱۹۱۸ء)

(۳۴۔ الف) درخواست دعا (ج)

اخبار بین اصحاب جانتے ہیں کہ آج کل فلسطین میں سخت شورش بپا ہے۔ حکومت اور یہود عربوں پر تشدد کر رہے ہیں بلکہ خود عرب ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو رہے ہیں۔ اسی سرزمین میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام لیواؤں کی بھی ایک جماعت ہے۔ تازہ خطوط سے معلوم ہوا ہے کہ احباب جماعت کے لیے بھی یہ دن سخت مشکلات کے ہیں۔ مالی تنگی کے علاوہ خطرہ جان بھی ہے۔ اس لیے میں تمام احباب سے دردمند دل کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے ان دور افتادہ بھائیوں کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی ان پر فضل نازل کرے اور انہیں ترقی دے کر احمدیت کے سچے خادم بنائے۔ آمین۔ مولوی محمد صدیق صاحب مجاہد تحریک جدید ان دنوں وہاں ہیں۔ ان کے لیے بھی دعا فرمائی جائے۔

خاکسار ابو العطاء جالندھری قادیان

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۷ اگست ۱۹۳۸ء‘ جلد ۲۶‘ نمبر ۱۸۰‘ ص ۶)

(ط) ترکی

(۳۵) ترک

ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مذہباً ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اسی کو اپنا سلطان و بادشاہ یقین کریں جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہوں۔ پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا

صفحہ 724

صاحب) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ہمارے سلطان اور بادشاہ حضور ملک معظم ۔

(قادیانی جماعت کا ایڈریس‘ بخدمت سر ایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب‘ مندرجہ

اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۷‘ نمبر ۴۸‘ مورخہ ۲۲ دسمبر ۱۹۱۹ء)

(۳۶) سلطان اور خلیفہ

حضرت خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ نے اپنے مضمون معاہدہ ٹرکی میں جو یہ تحریر فرمایا ہے کہ:

جماعت احمدیہ کے نزدیک ہمارے سلطان ملک معظم جارج خامس فرماں روائے حکومت برطانیہ ہیں اور خلیفہ وقت حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا صحیح جانشین یعنی یہ عاجز (میاں محمود احمد صاحب) مگر باوجود اس کے جماعت احمدیہ اس وقت جب کہ برطانیہ کے مفاد اور اس کی عزت کے خلاف کوئی امر نہ ہو ترکوں کی سلطنت سے ہر طرح ہمدردی رکھتی ہے۔

اس پر کوڑھ مغز ایڈیٹر ”پیغام صلح“ نے جو درافشانی کی ہے‘ وہ حسب ذیل ہے۔

”کوئی سمجھے خلافت ان کے (میاں محمود احمد صاحب کے) نام عرشِ معلیٰ پر رجسٹرڈ ہو چکی ہے کہ اب ان کے مقابل کوئی کسی قسم کا بھی خلیفہ کہلانے کا مستحق نہیں“۔

”آپ (میاں محمود احمد صاحب) کی محولہ بالا عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سلطان المعظم جارج پنجم کی خلافت کے قائل ہیں اور اسی لیے آپ کے سلطنت برطانیہ کے مفاد اور اس کی عزت کو ترکوں کے مفاد اور ان کی عزت پر مقدم رکھا ہے اور اس پر حاشیہ چڑھایا ہے۔ تف ہے ایسی مسلمانی اور بے غیرتی پر۔

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۸‘ نمبر ۵‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۶ جولائی

۱۹۲۰ء)

(۳۷) سلطان ٹرکی

اخبار ”لیڈر“ الہ آباد‘ مجریہ ۲۱ جنوری ۱۹۲۰ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس بخدمت جناب وائسرائے شائع کیا گیا ہے۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے نام سے پہلے کسی شخص مولوی محمد علی قادیانی کا نام درج ہے۔ مولوی محمد علی

صفحہ 725

کے نام کے ساتھ قادیانی کا لفظ محض لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ورنہ قادیان یا قادیان سے کوئی تعلق رکھنے والا احمدی نہیں ہے جو سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتا ہو۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری سرگروہ غیر مبائع ہیں لیکن وہ لفظ قادیانی کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔ نہ اس لیے کہ وہ قادیان کے باشندے ہیں اور نہ اس لیے کہ وہ مرکز قادیان سے تعلق رکھتے ہیں۔

اگر ان کے عقیدہ کے مطابق سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے تو اس عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لیے قادیان کی آڑ کیوں لیتے ہیں۔ لہٰذا بذریعہ اس اعلان کے پبلک کو مطلع کیا جاتا ہے کہ قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔

(صیغہ امور عامہ قادیان کا اعلان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۷‘ نمبر ۱۶‘ مورخہ

۱۶ فروری ۱۹۲۰ء)

(۳۸) قادیانی خلافت

ہمارے نزدیک اگر ترکوں کے بادشاہ خلیفہ تھے بھی تو جس وقت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے مامور کیا‘ اسی وقت سے ان کی خلافت باطل ہو گئی۔ جب کوئی انسان مامور ہو کر آئے تو پھر وہی خلیفہ ہوتا ہے نہ کوئی اور۔ اس کی خلافت کے مقابلہ میں اور کسی انسان کی خلافت نہیں چل سکتی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کے بعد خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو آپ کے پیرووں میں سے ہو اور دوسرے مسیح موعود کی آمد کے ساتھ ہی خلافت کے طریق میں بھی فرق آگیا کیونکہ مسیح موعود صرف روحانی خلیفہ تھا‘ بادشاہ نہ تھا۔ پس اس کے خلفاء کا بھی وہی رنگ ہوگا‘ جو اس کا رنگ تھا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۷۹‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۲ نومبر ۱۹۱۴ء)

(۳۹) مٹنے دو

ان حالات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ آل عثمان کی سلطنت زندہ یا زندہ رہنے کے قابل ہے۔ پس یہ سمجھنا غلطی ہے کہ ہم ترکوں کے دشمن ہیں۔ ہم جو کچھ لکھتے ہیں‘

صفحہ 726

واقعات کی بنا پر اور مسلمانوں کی ہمدردی کے لیے لکھتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ موجودہ ترکی حکومت اسلام کے لیے مفید ثابت ہونے کی بجائے مضر ثابت ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنی بداعمالی اور بدکرداری کے باعث مٹتی ہے تو مٹنے دو اور یاد رکھو کہ ترک اسلام نہیں۔ اسلام وہ طاقت ہے جس نے فاتح ترک کو مغلوب کیا تھا اور اب بھی تاریخ اپنا اعادہ کر سکتی ہے مگر اس کے لیے اندرونی حالت میں تغیر ضروری ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۱۷‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۳ مارچ ۱۹۱۵ء)

(۴۰) قادیانی خواہش

بہر حال واقعات اب بتلاتے ہیں کہ (ترکان) آل عثمان کا ستارہ اقبال اب غروب ہونے کے قریب ہے۔ اسلامیوں پر اب کوئی نیا تغیر آنے والا ہے.....

ہماری خواہش ہے کہ اگر بہادر عثمانی (ترک) ایا صوفیہ کی متبرک عبادت گاہ ، ایوب انصاری کی قابل احترام زمین خوابگاہ یا اسلامی آثار قدیمہ کی حفاظت سے دست بردار ہونے پر مجبور ہو تو پھر یہ منصب برطانیہ کے حریت پسند صداقت شعار فرزندوں کے ہاتھ آئے اور خدا کرے وہ دین میں بھی ترک سے ایک قدم بڑھ کر اسلام کے خادم ہو جاویں اور قسطنطنیہ پھر بھی اسلام بول ہی رہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۱۴‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۶ مارچ ۱۹۱۵ء)

(۴۱) قادیانی رضامندی

تازہ آمدہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ روسی برابر ترکی علاقہ میں گھستے جاتے ہیں اور ترک برابر شکست کھا رہے ہیں۔ چاروں طرف سے مسلمان ان کے خلاف نفرت کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور ترکوں کی بداعمالی اور دین سے بے توجہی آج ان کے لیے وبال جان ہو رہی ہے۔

انگلستان کے وزیراعظم مسٹر اسکوئتھ نے ایک تقریر کے دوران میں صاف کہہ دیا ہے کہ اب ترکی حکومت دنیا میں قائم نہیں رکھی جا سکتی۔ جنگ کے بعد اس کے حصص کو بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا اور تقسیم کر دی جائے گی۔ یہ ایک فتویٰ ہے جو انگلستان کے ایک نہایت ذمہ دار انسان کے منہ سے نکلا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں

صفحہ 727

کہ وزیر اعظم ایسی بات اس وقت تک منہ سے نہیں نکال سکتے تھے جب تک کوئی قطعی فیصلہ نہ ہو جاتا اور جب انہوں نے جلسہ عام میں ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قطعی فیصلہ ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ اس کا فیصلہ بالکل درست ہے اور راست ہے اور ہم اس کے فیصلہ پر رضامند ہیں۔ افسوس ترکوں نے اسلام کو چھوڑ کر کامیاب ہونا چاہا تھا۔ آخر یہ دن دیکھا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۶۶‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۱۴ء)

(۴۲) قادیان میں چراغاں (م)

گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار فتح کی خوشی میں..... نماز مغرب کے بعد دارالعلوم اور اندرون قصبہ میں روشنی اور چراغاں کیا گیا جو بہت خوبصورت اور دل کش تھا۔ اندرون قصبہ میں احمدیہ بازار کے دونوں طرف مدرسہ احمدیہ اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کی عمارتوں پر بے شمار چراغ جلائے گئے اور منارۃ المسیح پر گیس کی روشنی کی گئی جس کا نظارہ بہت دلفریب تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی اور خاندان مسیح موعود کے مکانات پر بھی چراغ روشن کیے گئے۔ اس کے علاوہ تمام احمدی اصحاب نے اپنے اپنے مکانات پر خوب روشنی کی جس سے محلوں میں خاص رونق اور خوشنمائی پیدا ہوگئی۔ دارالعلوم میں بورڈنگ ہاؤس اور ہائی اسکول کی شاندار عمارت کے بلند ترین پیش طاق کو چراغوں سے نہایت عمدگی سے سجایا گیا اور ساری عمارت کے طول اور عرض کو بہت خوبی کے ساتھ روشن کیا گیا۔ دوسرے مکانات پر بھی روشنی کا عمدہ انتظام تھا۔..... غرض کہ احمدیوں کا کوئی مکان اور کوئی عمارت ایسی نہ تھی‘ جس پر روشنی نہ کی گئی۔ یہ پرلطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت موثر اور خوشنما تھا اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی تھی جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ روشنی کے ذریعہ خوشی کا اظہار کرنے میں ایسے لوگوں نے بھی بخوشی حصہ لیا جو موجودہ گرانی اور قحط سالی کے موسم میں نہایت تنگ دستی سے گزر اوقات کرتے ہیں۔ روشنی رات کے ایک بڑے حصہ تک ہوتی رہی جس کی رونق لوگوں کی چہل پہل سے دوبالا تھی۔

صفحہ 728

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۴۱‘ ص ۲‘ مورخہ ۳؍ دسمبر ۱۹۱۸ء)

ایک دوست نے دریافت کیا کہ ترکوں کی (یونانیوں کے مقابلہ میں) فتح کی خوشی میں روشنی وغیرہ کے لیے چندہ دینے کے متعلق کیا حکم ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا روشنی وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۰‘ نمبر ۴۵‘ ص ۸‘

مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۲۲ء)

اب بھی اگر بادشاہ یا حکومت کی کوئی تقریب ہو اور وہ کہے کہ چراغاں کرو تو ہم کریں گے۔ کیونکہ حکومت کی عزت ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور ایسا کر دینے سے ہمارا خدا بھی خوش ہوگا اور حکومت بھی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۷‘ نمبر ۲۸۶‘ مورخہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء)

(ی) دیگر ممالک

(۴۳) بے شک

بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی تیار ہوں۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیر قوموں اور غیر ملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ عملی نمونے ہزاروں کوسوں تک چلے جاتے ہیں اور دلوں پر ایک عجیب اثر ڈالتے ہیں اور صدہا نادانوں کے ان سے وسوسے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ مذہبی آزادی ایک ایسی پیاری چیز ہے کہ اس کی خبر پاکر بہت سے اور ملک بھی چاہتے ہیں کہ اس مبارک گورنمنٹ کا ہم تک قدم پہنچے۔۔۔۔ کیونکہ جس طرح اچھے دکاندار کا نام سن کر اسی طرف خریدار دوڑتے ہیں‘ اسی طرح جس گورنمنٹ کے ایسے بے تعصب اور آزادانہ اصول ہوں وہ گورنمنٹ خواہ مخواہ پیاری اور ہردلعزیز معلوم ہوتی ہے اور بہت سے غیر ملکوں کے لوگ حسرت کرتے ہیں کہ کاش ہم

صفحہ 729

بھی اس کے ماتحت ہوتے۔ پس کیا آپ لوگ چاہتے نہیں کہ اس محسن گورنمنٹ کا ان تمام تعریفوں کے ساتھ دنیا میں نام پھیلے اور اس کی محبت دور دور تک دلوں میں جاگزیں ہو۔

(”البلاغ مسمی بہ فریاد درد“ ص ۳۳ ”روحانی خزائن“ ص ۴۰۰، ۴۰۱ ج ۱۳‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

(۴۴) قادیانی مجاہد

چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب (قادیانی) کے پاس پاسپورٹ نہ تھا اس لیے وہ روسی علاقہ میں داخل ہوتے ہی روس کے پہلے ریلوے اسٹیشن قہقہہ پر انگریزی جاسوس قرار دیئے جا کر گرفتار کیے گئے۔ کپڑے اور کتابیں اور جو کچھ پاس تھا‘ وہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں قید رکھا گیا۔ اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانہ میں تبدیل کیا گیا۔ وہاں سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمرقند تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دو ماہ تک قید رکھا گیا اور بار بار آپ سے بیانات لیے گئے تا یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کی لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لیے گئے تا عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد کوشکی سرحد افغانستان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اسی علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے اس لیے واپس آنے کو اپنے لیے موت سمجھا اور روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔ دو ماہ تک آپ وہاں آزاد رہے لیکن دو ماہ کے بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کیے گئے اور تین ماہ تک نہایت سخت اور دل ہلا دینے والے مظالم آپ پر کیے گئے اور قید میں رکھا گیا اور اس کے بعد پھر روس سے نکلنے کا حکم دیا گیا اور بخارا سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں سرحد ایران کی طرف واپس بھیجا گیا۔

اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت اور اخلاص اور تقویٰ میں برکت دے۔ چونکہ ابھی اس کی پیاس نہ بجھی تھی اس لیے پھر کاکان کے ریلوے اسٹیشن سے روسی مسلم پولیس کی

صفحہ 730

حراست سے بھاگ نکلا اور پا پیادہ بخارا پہنچا۔ بخارا میں ایک ہفتہ کے بعد پھر ان کو گرفتار کیا گیا اور بدستور سابق پھر کاکان کی طرف لایا گیا اور وہاں سے سمرقند پہنچایا گیا۔ وہاں سے آپ پھر چھوٹ کر بھاگے اور بخارا پہنچے۔

(اعلان میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۱‘

نمبر ۱۲‘ ص ۵-۶‘ مورخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۲۳ء)

(۴۵) تبلیغ اسلام

ہمارے برادر محترم خان محمد امین صاحب جنہیں روس کے علاقہ میں حضرت امیر جماعت احمدیہ نے تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا تھا‘ بغیر کسی اطلاع کے آج ۲۵؍ جون وارد قادیان ہوئے جنہیں اچانک اپنے اندر دیکھ کر اہل قادیان خوشی اور مسرت کے جذبات سے بھرپور ہو گئے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۴‘ نمبر ۱۰۱‘ ص ۲‘ مورخہ ۲۸؍ جون ۱۹۲۷ء)

(۴۶) تبلیغ احمدیت

روس میں اگرچہ تبلیغ احمدیت کے لیے گیا تھا لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اس لیے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا‘ وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔ کیونکہ ہمارے سلسلہ کا مرکز ہندوستان میں ہے تو ساتھ ہی ہندوستانی حکومت کے احسانات اور مذہبی آزادی کا ذکر لوگوں کے سامنے کرنا پڑتا تھا۔

(محمد امین صاحب قادیانی مبلغ کا مکتوب‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۱‘ نمبر ۲۵‘

ص ۱۱‘ مورخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۲۳ء)

(ک) خلاصہ

(۴۷) سیاست زہر

چونکہ ایک طرف تو سیاست ایک ایسی چیز ہے جو اور سب کچھ بھلا دیتی ہے حتیٰ

صفحہ 731

کہ جان تک کی بھی ہوش نہیں رہنے دیتی اور اپنی طرف ہی کھینچتی جاتی ہے اور دوسری طرف آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے، اس سے پہلے اس پر کبھی نہیں آیا اس لیے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لیے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی اسلام کی حفاظت کے لیے مہیا ہو سکیں اتنے ہی کم ہیں۔ اس لیے آج مسلمانوں کے لیے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک ایسا زہر ہے، جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ ناممکن ہے۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، اخبار ”الفضل“ جلد ۵، نمبر ۸، مورخہ ۲۰؍

جولائی ۱۹۱۷ء)

(۴۸) سیاسیات سے پرہیز

احمدی مبلغ کا فرض ہے کہ وہ اس مرض سے اپنے تئیں بچائے جو سیاست کے نام سے موسوم ہے اور جس کا مریض بہ مشکل اپنی اصل صحت کی طرف عود کرتا ہے۔

اس خوفناک مرض کا نتیجہ ابتداً قانون حکومت سے اور بعد میں قانون شریعت سے سرکشی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے..... پس احمدی مبلغ اپنے امام پاک اس کے خلفائے صادق کی ہدایت کے ماتحت سیاسیات سے کلیۃً پرہیز کرے اس سے اگر ہو سکے تو محض رضائے مولیٰ کے لیے ایسے غلط خوردہ لوگوں کو وعظ کرے جو برائے نام مسلمان کہلا کر سیاسیات میں دخل دیتے یا دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ خلیفہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے اور قادیان سے حقیقی تعلق رکھنے والے احمدی کا فرض ہے کہ وہ سیاسیات سے بعینہ اسی طرح بچے، جس طرح خدا کے مسیح نے فرمایا ہے۔ چونکہ ہم غیر مبایعین لوگوں (لاہوری جماعت) کے افعال و خیالات سے اسی طرح بری الذمہ ہیں جس طرح ہم غیر احمدی مسلمانوں کے سیاسی گروہ کے سیاسی دستور العمل سے بے تعلق ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲، نمبر ۱۴۹، ص ۳، مورخہ ۶؍ جون ۱۹۱۵ء)

(۴۹) مسلم لیگ

ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے مصلح حقیقی اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود و مہدی آخر الزمان علیہ السلام کے حضور جب اس مسلم لیگ کا ذکر آیا تو حضور (مرزا صاحب) نے اس کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی تھی۔ پس کیا کوئی ایسا کام جسے خدا

صفحہ 732

کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے، مسلمانوں کے حق میں سازگار و بابرکت ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنے حقیقی نفع و ضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے باز رہیں جن کے نتائج نہ ان کو دنیا کا فائدہ دے سکتے ہیں، نہ دین کا۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کئی سال سے یہ نیشنل کانگریس کی نقل ہوتی ہے۔ اس سے مسلمانوں نے کیا کچھ حاصل کیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۷۸‘ مورخہ ۸ جنوری ۱۹۱۶ء)

(۵۰) خوشی اور مسرت

یہ خبر نہایت خوشی اور مسرت سے سنی جائے گی کہ ہماری جماعت کے نہایت قابل اور متقی نوجوان جناب چودھری ظفر اللہ خان صاحب بی۔ اے بیرسٹر ایٹ لاء امیر جماعت احمدیہ لاہور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں محمود احمد صاحب) کے ارشاد کی تعمیل میں ضلع لاہور، امرتسر، گورداسپور اور فیروزپور کی طرف سے اسمبلی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوں گے..... اس وقت تک جناب موصوف نے جس ایثار اور اخلاص سے جماعت احمدیہ کے بعض نہایت اہم مقدمات کی پیروی کی اور ان میں کامیابی حاصل کی۔ وہ ان کی قانونی قابلیت کا کافی ثبوت ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۱‘ نمبر ۳۱‘ ص ۱‘ مورخہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۳ء)

(۵۱) مفاد ملحق

اس بات کا بھی خیال ہے کہ حضور سیکرٹری آف سٹیٹ کے ہندوستان میں تشریف لانے پر اس بات کو پیش کیا جاوے کہ احمدیہ جماعت اور گورنمنٹ برطانیہ کے مفاد ایک دوسرے سے ملحق ہیں اور ہوم رول کے متعلق تحریک کرنے والے اور ان کے ساتھی سب احمدیہ جماعت کے جہاد اور سلطان ٹرکی کی خلافت کے انکار کے باعث دشمن ہو گئے ہیں۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کی وفاداری کا خیال رکھتے ہوئے قبل اس کے کہ سیلف گورنمنٹ کے متعلق کوئی کارروائی کی جاوے، جماعت احمدیہ کی حفاظت کے متعلق مناسب انتظام فرمایا جاوے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۵‘ نمبر ۲۵‘ مورخہ ۲۵ ستمبر ۱۹۱۷ء)

صفحہ 733

(۵۲) ظل حمایت

ہمارا مذہب ہے اور ہمارے سید و مولیٰ حضرت مسیح موعود کی کتب میں اس کا نہایت وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔ نیز اس مسلک سے تمام دنیا خوب واقف ہے کہ ہم گورنمنٹ کے سچے دل سے وفادار اور خیر خواہ ہیں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہماری خاص محسن ہے اور اس کے ہم پر اس قدر احسانات ہیں کہ جن کا شمار کرنا آسان نہیں۔ نیز ہمارے خیال میں یہ حکومت تمام دنیا کی حکومتوں سے اعلیٰ اور افضل ہے اور ہمارے نزدیک اس کی افضلیت اور برتری کی سب سے بڑی اور زبردست دلیل یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے امن کے شہزادے اور اپنے بزرگ نبی حضرت مسیح موعود کو اسی سلطنت کے زیر سایہ مبعوث فرمایا تا وہ اپنے صلح و آشتی کے مشن کو دنیا کے سامنے پیش کرے اور صلح و آشتی سے دنیا کے دلوں میں حقیقی معرفت اور سچے خدا کی محبت پیدا کر کے سچ اور خدائی مذہب کی طرف دنیا کو دعوت دے۔ اگر یہ سلطنت واقعی طور پر عمدہ اور ساری دنیا کی سلطنتوں سے افضل و برتر نہ ہوتی تو یقیناً یقیناً خدا تعالیٰ اپنے اس نبی کو اس سلطنت کے حدود میں پیدا نہ کرتا بلکہ کسی اور ایسی حکومت کے زیر سایہ پیدا کرتا جو دنیا میں سب سے اعلیٰ حکومت ہوتی مگر خدا تعالیٰ کا تمام سلطنتوں کو چھوڑ کر انگریزی سلطنت کے ظل حمایت کو اپنے نبی کے لیے منتخب کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ وہ حقیقی نور جو مدتوں سے غائب تھا‘ اس کے لانے والے نبی کی بعثت کے لیے یہی سلطنت موزوں و مناسب تھی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶ نمبر ۳۸‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۹ نومبر ۱۹۱۸ء)

(۵۳) قادیانی ڈھال

یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوتی جاتی ہے کہ فی الواقع گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرہ ایک طرف کر دو اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔

پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہو گئے ہیں اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی

صفحہ 734

ہماری ترقی۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے‘ ہمارے لیے تبلیغ کا ایک اور میدان نکلتا آتا ہے۔ پس کسی مخالف کا اعتراض ہم کو اس گورنمنٹ کی وفاداری سے پھیر نہیں سکتا کہ نادان سے نادان انسان بھی اپنی جان کا آپ دشمن نہیں ہوتا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۵۱‘ مورخہ ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

(۵۴) نرالا تعلق

ایک بات جس کا فوراً آپ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے‘ اس وقت کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے‘ وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہو گئے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے شریعت اسلام حضرت مسیح موعود کے احکام کے ماتحت اور خود اپنے فوائد کی حفاظت کے لیے اس وقت جب کہ جنگ و جدل جاری ہے۔ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر ممکن طریق سے گورنمنٹ کی مدد کرے۔

(اعلان میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر

۸‘ مورخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۱۸ء)

(۵۵) نیک ثمرات

ہمارے امام مسیح موعود نے جس نے اس جنگ کی پہلے سے خبر دی تھی ہم کو تعلیم دی ہے کہ ہم سرکار برطانیہ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ لہٰذا ہمارے وہ احمدی سپاہی جو آج سرزمین فرانس میں برطانیہ کے دشمنوں سے لڑ رہے ہیں‘ وہ اپنے دلوں میں اپنے پیارے امام کے ارشاد کو محفوظ رکھ کر اس یقین سے تلوار اٹھا رہے ہیں کہ مسیح موعود کے حکم کی اطاعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت ہے اور اطاعت میں اٹھائی ہوئی تلوار کے سایہ میں بہشت ہے۔ پس یہ جنگ اہل اسلام کے لیے انشاء اللہ مبارک اور نتیجہ خیز ہوگی اور ہماری وفاداری ضرور نیک ثمرات پیدا کرے گی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۵۷‘ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۱۴ء)

صفحہ 735

(۵۶) تہنیت فتح کا جشن قادیان میں

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۳ دسمبر ۱۹۱۸ء)

۲۷ ماہ نومبر ۱۹۱۸ء کو ”انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ“ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں محمود احمد صاحب) گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابل یاد جشن منایا گیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۴۱‘ ص ۱‘ مورخہ ۳ دسمبر ۱۹۱۸ء)

(۵۷) نہایت فائدہ بخش

۱۳ تاریخ جس وقت جرمنی کے شرائط صلح منظور کر لینے اور التوائے جنگ کے کاغذ پر دستخط ہو جانے کی اطلاع قادیان میں پہنچی تو خوشی اور انبساط کی ایک لہر برقی سرعت کے ساتھ تمام لوگوں کے قلوب میں سرایت کر گئی اور جس نے اس خبر کو سنا‘ نہایت شاداں و فرحاں ہوا۔ دونوں سکولوں‘ انجمن ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں تعطیل کر دی گئی۔ بعد نماز عصر مسجد مبارک میں ایک جلسہ ہوا جس میں مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح و نصرت پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور اس فتح کو جماعت احمدیہ کے اغراض و مقاصد کے لیے نہایت فائدہ بخش بتایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے مبارک باد کے تار بھیجے گئے اور حضور نے پانسو روپیہ اظہار مسرت کے طور پر جناب ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ جہاں پسند فرمائیں‘ خرچ کریں۔ پیشتر ازیں چند روز ہوئے کہ ترکی اور آسٹریا کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے پانچ ہزار روپیہ جنگی اغراض کے لیے صاحب ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا۔

فتح کی خوشی میں مولوی عبدالغنی صاحب نے بحیثیت سیکرٹری ”انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ“ اور جناب شیخ یعقوب علی صاحب نے بلحاظ ایڈیٹر ”الحکم“ ہز آنر لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں مبارک باد کا تار بھیجا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۷۳‘ ص ۱‘ مورخہ ۱۶ نومبر ۱۹۱۸ء)

صفحہ 736

(۵۸) فتح کی خوشی

(عنوان مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۱۸ء) خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ وہ جنگ جس کا ناگوار اثر دنیا کے ہر حصہ میں عذاب عظیم بن کر چھا رہا تھا۔ اب گورنمنٹ برطانیہ کی عظیم الشان فتح کے ساتھ ختم ہوئی ہے جو کہ ہماری جماعت کے لیے کئی قسم کی خوشیوں کا موجب ہے۔ سب سے بڑی خوشی تو ہمارے لیے یہ ہے کہ حضور اقدس نے جنگ کی پیشگوئی فرما کر اپنی جماعت کو سلطنت برطانیہ کی فتح کے لیے دعا کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور خود بھی برطانیہ کی فتح کے لیے خاص دعا کی تھی اب اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضور کی قبولیت دعا کو تمام عالم پر روز روشن کی طرح چمکا دیا اور اس قدر اور ایسے نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ جن کو احمدی ہر ملک و ملت کے سامنے بہت آسانی سے بطور حجت پیش کر سکتے ہیں۔ پھر خدا کا ایک بہت بڑا فضل یہ ہوا ہے کہ حکومت برطانیہ کا اقتدار و اثر اور بھی زیادہ بڑھنے سے وہ ممالک بھی احمدیت کی تبلیغ کے لیے کھل گئے ہیں جو اب تک بالکل بند تھے جہاں بالخصوص احمدیت کی تبلیغ کی بڑی ضرورت تھی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۳۹‘ ص ۱۱‘ مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۱۸ء)

(۵۹) روحانی عافیت

اگر ایک طرف وہ لوگ جن کو اس جنگ عظیم کے نتیجہ میں سلطنت برطانیہ کا ظل حمایت نصیب ہوا ہے۔ روحانی عافیت حاصل کریں گے اور خدا کے نبی (مرزا صاحب) کا پیغام سنیں گے اور حقیقی اسلام جیسی نعمت غیر مترقبہ سے بہرہ ور ہوں گے تو دوسری طرف وہ دنیوی انعامات اور آرام و امن سے بھی حصہ وافی پائیں گے اور آگاہ ہوں گے کہ دنیا میں آرام اور آسائش کی زندگی بھی کوئی چیز ہے۔....... غرض گورنمنٹ برطانیہ کا فتحیاب ہونا دنیا کے ایک بڑے حصہ کے لیے بہت امن و آرام کا باعث ہوگا اور ہمارے لیے تبلیغ اسلام کا میدان بہت زیادہ صاف اور وسیع ہو جائے گا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۳۸‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۹ نومبر ۱۹۱۸ء)

(۶۰) قادیانی تلوار

صفحہ 737

حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) فرماتے ہیں کہ میں مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام‘ ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۳۲‘ ص ۹‘ مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۱۸ء)

(۶۱) چوہڑے چمار

حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء کی افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا کہ ”اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بنیاد جو اس وقت بہت کمزور نظر آتی ہے اس پر عظیم الشان عمارت تعمیر ہوگی۔ ایسی عظیم الشان کہ ساری دنیا اس کے اندر آجائے گی اور جو لوگ باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی ہوگی“۔۔۔۔۔۔۔

اس عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ احمدیت کا پودا جو اس وقت بالکل کمزور نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن ایسا تناور درخت بن جائے گا کہ اقوام عالم اس کے سایہ میں آرام پائیں گی اور جماعت احمدیہ جو اس وقت بالکل معمولی اور بے حیثیت سی نظر آتی ہے۔ اس قدر اہمیت اور طاقت حاصل کرے گی کہ دنیا کے مذہب تہذیب و تمدن اور سیاست کی باگ اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ہر قسم کا اقتدار اسے حاصل ہوگا اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے یہ دنیا کی معزز ترین جماعت ہوگی۔ دنیا کا کثیر حصہ اس میں شامل ہو جائے گا۔ ہاں جو اپنی بدقسمتی سے علیحدہ رہیں گے وہ بالکل بے حیثیت سمجھے جائیں گے سوسائٹی کے اندر ان کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی۔ دنیا کے مذہبی‘ تمدنی‘ یا سیاسی دائرے کے اندر ان کی آواز ایسی ہی غیر موثر اور ناقابل التفات ہوگی جیسی کہ موجودہ زمانہ میں چوہڑے چماروں کی ہے (تو گویا قانونی حکومت کے مجوزہ دستور و آئین میں مرزا صاحب کی پیشین گوئی کے بموجب غیر قادیانیوں کی یہ حیثیت ہوگی۔۔۔ للمؤلف)

صفحہ 738

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۰‘ نمبر ۹۰‘ ص ۱۵-۱۶‘ مورخہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۳۳ء)

(۶۲) قادیانی حکومت

حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے‘ اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو اسے عبرت ناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۳‘

نمبر ۲۷۹‘ ص ۶‘ مورخہ ۴؍ جون ۱۹۳۶ء)

صفحہ 739

فصل پندرھویں

قادیانی اکابر

(الف) حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول قادیان

حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول بھی اوائل میں سرسید کے خیالات اور طریقہ سے بہت متاثر تھے مگر حضرت (مرزا) صاحب کی صحبت سے یہ اثر آہستہ آہستہ دھلتا گیا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۳۱ روایت نمبر ۱۵ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

مولانا حافظ روشن علی صاحب نے اخبار الحکم کے فائل میں سے حضرت حجۃ اللہ (مرزا صاحب) کا ایک خط بنام حضرت مولوی عبد الکریم مرحوم پیش کیا جس میں حضرت جری اللہ (مرزا صاحب) نے لکھا ہے کہ دو آدمی مجھے ملے ہیں۔ ایک حضرت مولوی نور الدین صاحب اور ایک مولوی عبد الکریم صاحب اور تیسرا آدمی پیدا نہیں ہوا۔ اس پر فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ گھر میں عورتوں میں بحث چلی۔ حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب کی بیوی کہتی تھی کہ مولوی عبد الکریم صاحب حضرت صاحب کو پیارے ہیں اور والدہ (حضرت ام المومنین) فرماتی تھیں کہ حضرت مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) یہ معاملہ حضرت اقدس پیش کیا گیا۔ آپ نے ہنس کر فرمایا کہ حدیث میں جو آتا ہے عملاً دونوں دائیں بائیں ہیں۔ حضرت مولوی صاحب دائیں طرف رہتے تھے اور حضرت مولوی عبد الکریم مرحوم بائیں طرف۔

صفحہ 740

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی ڈائری مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۶۵)

(۳) بطور نمونہ

اب میں حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ (حکیم نور الدین صاحب قادیانی) کے چند اور حوالے محض بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔ جن سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ممدوح کا مسئلہ نبوت کے متعلق وہی عقیدہ تھا جس پر جماعت احمدیہ (قادیانی) بفضلہ تعالیٰ قائم ہے۔

ایک دفعہ حضرت ممدوح کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا ہے کہ اگر احمدی مرزا صاحب کو نبی کہنا چھوڑ دیں تو ہم کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے۔ آپ نے فرمایا ہمیں ان فتوؤں کی کیا پروا ہے اور وہ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں جب سے مولوی محمد حسین نے فتویٰ دیا وہ دیکھے کہ اس کے بعد اس کی عزت کہاں تک پہنچ گئی ہے اور مرزا صاحب کی عزت نے کس قدر ترقی کی ہے۔ دیکھو (اخبار بدر جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۱۱ء)

پھر آپ نے جو لاہور احمدیہ بلڈنگ میں تقریر فرمائی تھی اس میں آپ نے بیان کیا کہ حضرت مرزا صاحب خدا کے مرسل ہیں۔ اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنے والے کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔ پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔۔۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تو اپنے اور غیر احمدیوں کے درمیان اصولی فرق سمجھتا ہوں، پھر اسی تقریر میں آپ نے کہا کہ کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ اب بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے لا نفرق بین احد من رسلہ لیکن حضرت مرزا صاحب کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے دیکھو (اخبار الحکم جلد ۱۵ نمبر ۷، ۸ بابت ۱۹۱۱ء)

پھر آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں۔ دیکھو (الفضل نمبر ۵۰ مورخہ ۲۷؍ مئی ۱۹۱۴ء)

صفحہ 741

پھر ایک شخص نے حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔

ان حوالہ جات سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منکر کو کافر اور غیر ناجی یقین کرتے تھے اور آپ کو واقعی معنوں میں نبی مانتے تھے۔

(محمد اسمعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات

کے متعلق جوابات پر نظر ص ۱۳۱-۱۳۲)

(۴) احمد رسول

حضرت ممدوح (حکیم نور الدین صاحب قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کی پیش گوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہے اور وہی احمد رسول ہیں۔ دیکھو (اخبار الحکم جلد ۱۵ نمبر ۲۳ بابت ستمبر ۱۹۱۱ء)۔۔۔۔ ان حوالہ جات سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے نزدیک اسمہ احمد والی پیش گوئی مسیح موعود کے متعلق ہے۔

(محمد اسمعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات

کے متعلق جوابات پر نظر ص ۱۳۲-۱۳۳)

(۵) میرزائے قادیان

اسم او اسم مبارک ابن مریم می نہند
آں غلام احمد است و میرزائے قادیان
گر کسے آویختے در شان او آں کافرست
جائے او باشد جہنم بے شک و ریب و گماں

(از حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول مندرجہ اخبار الحکم ۷؍ اگست ۱۹۰۸ء)

(۶) نجات

صفحہ 742

ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح (مولوی حکیم نور الدین صاحب) سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔

( تشحیذ الاذہان قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ ص ۲۴ بابت ماہ نومبر ۱۹۱۴ء اخبار بدر جلد ۱۲ نمبر ۲ مورخہ

۱۱ جولائی ۱۹۱۳ء)

(۷) میرا تو ایمان ہے

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام توضیح مرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئیں تھیں اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ دیکھو‘ اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا سے علیحدہ کئے دیتا ہوں‘ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب کیا نبی کریم صلعم کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ بولا‘ واہ مولوی صاحب آپ قابو نہ ہی آئے۔ یہ قصہ سنا کر مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے‘ میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور من جانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہو گا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعویٰ میں چون و چرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرتا ہے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۷۱ روایت نمبر ۱۰۹ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۸) رعایتی نماز

حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب قادیانی) نے ایک دفعہ پنجاب میں

صفحہ 743

ایک شخص کے دریافت کرنے پر اسے اجازت دی کہ غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے۔ جب کسی نے تعجب سے دریافت کیا کہ یہ فتویٰ تو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے فرمانے کے خلاف ہے تو آپ نے جواب دیا کہ وہ شخص اور کون سے حکم مسیح موعود پر عمل کر رہا ہے یہ بھی سہی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۰۵)

(۹) خدا کی قسم

میں (حکیم نور الدین) خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا ہی نے خلیفہ بنایا۔ سو اب کس میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور مصالح سے چاہا مجھے تمہارا امام و خلیفہ بنا دیا۔ ہزار نالائقیاں مجھ پر تھوپو۔ مجھ پر نہیں‘ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔

(ارشاد حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول قادیان مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان

ص ۲۳۴ نمبر ۶ جلد ۱۴)

(۱۰) نادر شاہی

مجھے (مولوی نور الدین صاحب کو) خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ معزول کرے‘ اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ ص ۱۴ بابت ماہ نومبر ۱۹۱۴ء)

(۱۱) سخت حماقت

تم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے بادشاہ حضرت مسیح موعود (مرزا) صاحب کے ذریعہ محمد رسول صلعم کے بعد ایک کیا۔ پھر اس کے مرنے کے بعد میرے ہاتھ پر تم کو تفرقہ سے بچایا۔ اس نعمت کی قدر کرو اور نکمی بحثوں میں نہ پڑو میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی کسی نے کہا ہے کہ خلافت کے متعلق بڑا اختلاف ہے..... میں نہیں سمجھتا

کہ

صفحہ 744

کہ اس قسم کی بحثوں سے تمہیں کیا اخلاقی و روحانی فائدہ پہنچتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا خلیفہ بنا دیا اور تمہاری (قادیانی صاحبان کی) گردنیں اس کے آگے جھکا دیں۔ خدا تعالیٰ کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر بحث کرو تو سخت حماقت ہے میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ آدم کو خلیفہ بنایا۔ کس نے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفۃ اس خلافت آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا..... مگر انہوں نے اعتراض کر کے کیا پھل پایا تم قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لیے سجدہ کرنا پڑا۔ پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے اور اگر وہ ابیٰ و استکبار کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یاد رکھے کہ ابلیس کو آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو سعادت مند فطرت اسے اسجدوا لادم کی طرف لے آئے گی اور اگر ابلیس ہے تو وہ اس دربار سے نکل جائے گا۔

(تقریر حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۴ نمبر

۱۳ مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۲۶ء)

(۱۱۔ الف) خدا کا بنایا ہوا خلیفہ (ج)

اللہ تعالیٰ نے نور الدین کو خلیفہ مقرر کیا جن کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ لکھنا اور بولنا نہیں جانتے۔ اس وقت تو لوگوں نے بیعت کر لی، مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعض نے کہا۔ یہ سترا بہترا ہے لائی لگ ہے۔ کمزور طبیعت ہے اور اگر اس مسئلہ کا تصفیہ اس کے زمانہ میں نہ کر دیا گیا تو پھر نہ ہوسکے گا کیونکہ یہ تو ڈر جاتا ہے..... آپ نے (خلیفہ نور الدین صاحب نے) فرمایا کہ کہا جاتا ہے تمہارا کام صرف نمازیں پڑھانا، درس دینا اور نکاح پڑھانا ہے۔ مگر میں نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ میری بیعت کرو۔ تم خود اس کی ضرورت سمجھ کر میرے پاس آئے۔ مجھے خلافت کی ضرورت نہ تھی، لیکن جب دیکھا کہ میرا خدا مجھے بلا رہا ہے تو میں نے انکار کا سبب نہ سمجھا۔ اب تم کہتے ہو کہ میری اطاعت تمہیں منظور نہیں، لیکن یاد رکھو اب میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔ اب تمہاری یہ باتیں

صفحہ 745

مجھ پر کوئی اثر نہیں کر سکتیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۵ نمبر ۷۷ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۳۷ء)

۲۱ جنوری ۱۹۱۴ء کو تقریر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے۔ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔ اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہو گا تو مجھے موت دے دے گا۔ تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کر دو۔ تم معزولی کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں تم میں سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا ہے۔

(قادیانی اخبار الحکم قادیان بابت ۲۱ جنوری ۱۹۱۴ء منقول از اخبار الفضل قادیان جلد ۲۵

نمبر ۱۴۷ ص ۵ مورخہ ۳ جون ۱۹۳۷ء)

(۱۲) مخالف کا خط

۶ اپریل ۱۹۱۱ء کو حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نور الدین صاحب) بعض خطوط کا جواب لکھوا رہے تھے۔ ڈاک میں ایک مخالف کا خط بھی تھا۔ آپ نے محرر ڈاک کو فرمایا اس کا سرنامہ لکھو جناب من! دوبارہ فرمایا صرف جناب رہنے دو اور سلام نہ لکھو کیونکہ یہ لوگ خدا کے فضل سے دور ہیں اور ہم سے ایک طرف ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۱۲۲-۱۲۳ ص ۷ مورخہ ۴؍۶ اپریل ۱۹۱۵ء)

(۱۳) نہانے کا ذکر

حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) نے بیان فرمایا کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے حدیث پڑھتا تھا تو ایک دفعہ گھر میں مجھ سے حضرت (مرزا) صاحب نے دریافت فرمایا کہ میاں تم آج کل مولوی صاحب سے کیا پڑھا کرتے ہو۔ میں نے کہا بخاری پڑھتا ہوں۔ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ

صفحہ 746

مولوی صاحب سے یہ پوچھنا کہ بخاری میں نہانے کا ذکر بھی کہیں آتا ہے‘ یا نہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی (نور الدین) صاحب نہانے وغیرہ کے معاملہ میں کچھ بے پروائی فرماتے تھے اور کپڑوں کے صاف رکھنے اور جلدی جلدی بدلنے کا بھی خیال چنداں نہ رکھتے تھے۔ اس لئے ان کو متنبہ کرنے کے لیے حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہوں گے۔

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ۲۰ روایت نمبر ۳۴۲ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۳۔الف) دو عورتیں (ج)

میں ایک مرتبہ ایک عیسائی عورت سے شادی کرنے لگا تھا لیکن صرف پردہ کے مشکلات کے باعث باز رہا۔ ۱۷ دسمبر ۱۹۱۱ء

(حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول کا قول مندرجہ کتاب مرقاۃ الیقین فی حیوۃ نور

الدین ص ۱۸۳ مولفہ اکبر نجیب آبادی قادیانی)

میں جموں میں تھا۔ ایک ہندو عورت میرے ساتھ بڑا اخلاص رکھتی تھی۔ میرے دو لڑکے تھے‘ ایک فضل الٰہی‘ دوسرا حفیظ الرحمٰن‘ ان دونوں کا انتقال ہوگیا۔ اس ہندنی نے مجھ سے کہا کہ میں دو لڑکے آپ کے واسطے خرید کر لاؤں گی جو ایسے ایسے ہوں گے۔ میں نے اس سے کہا کہ نادان‘ وہ لڑکے ہمارے کیسے ہو سکتے ہیں اور اس طرح کہاں تلافی ہو سکتی ہے۔ (۲ جون ۱۹۰۹ء)

(حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول کا قول مندرجہ کتاب مرقاۃ الیقین فی حیوۃ نور

الدین ص ۲۰۰-۱۹۹ مولفہ اکبر نجیب آبادی قادیانی)

(۱۴) عبرت انگیز

کہاں مولوی نور الدین صاحب کا حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو نبی اللہ اور رسول اللہ اور اسمہ احمد کا مصداق یقین کرنا اور کہاں وہ حالت کہ وصیت کے وقت مسیح موعود کی رسالت کا اشارہ تک نہ کرنا...... استقامت میں فرق آنا اور پھر بطور سزا کے گھوڑے سے گر کر بری طرح زخمی ہونا۔ آخر مرنے سے پہلے کئی دنوں تک بولنے سے بھی لاچار ہو جانا اور نہایت مفلسی میں مرنا اور آئندہ جنم میں بھی کچھ سزا اٹھانا اور اس

صفحہ 747

کے بعد اس کے جوان فرزند عبدالحئی کا عنفوان شباب میں مرنا اور اس کی بیوی کا تباہ کن طریق پر کسی اور جگہ نکاح کر لینا وغیرہ یہ باتیں کچھ کم عبرت انگیز نہیں تھیں۔

(نامہ نگار اخبار پیغام صلح کے اشتہار گنجینہ صداقت کا اقتباس منقول از اخبار الفضل

قادیان مورخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۱۹)

(۱۵) وہ مہینہ

فروری ۱۹۱۴ء کا مہینہ وہ مہینہ ہے جب حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ بستر علالت پر تھے اور آپ کی حالت دن بدن تشویش ناک تھی۔ جس کے تھوڑے ہی دن بعد ۱۳؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو آپ رحلت فرمائے عالم جاودانی ہوئے۔

(پیغام صلح جلد ۴ نمبر ۱۱۴ مورخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۱۷ء)

(۱۵۔ الف) محبت کا انجام نافرجام (ج)

صاحبزادہ عبدالحئی صاحب نے اس مقدس باپ (حکیم نور الدین صاحب) کی گود میں تربیت پائی تھی جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو جگہ چھوڑ کر اپنی جگہ بٹھایا کرتا تھا جو حضور کی تقریر سن کر خوشی سے ان کا ماتھا چوم لیا کرتا تھا (شاید ادب مانع ہو تا ہو گا کہ میاں صاحب ان کے نبی زادہ تھے ورنہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکپن ہی میں میاں صاحب کی باتیں حکیم صاحب کو محبت میں ایسی پیاری معلوم ہوتی تھیں کہ کوئی مونہہ چوم لے چنانچہ یہی اردو محاورہ بھی ہے۔ للمولف برنی)

حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ (حکیم نور الدین صاحب قادیانی) کی وفات کے بعد جب (ان کی لڑکی) سیدہ امتہ الحئی صاحبہ کا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب) سے عقد ہونے لگا تو مولوی عبدالحئی صاحب ولی تھے.....

مولوی عبدالحئی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (میاں محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی محبت کا سبق اپنے مقدس باپ سے سیکھا تھا (اور واقعی وہ محبت بہت سبق آموز تھی۔—— للمولف برنی) مولوی عبدالحئی صاحب یقیناً اپنے محترم باپ کے

صفحہ 748

سعادت مند فرزند تھے‘ اس لئے یہ کہنا کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے مخالف تھے اس لئے حضور نے ان کو زہر دے کر مروا دیا‘ ایک ناپاک جھوٹ ہے جس کے تصور سے بھی گھن آتی ہے (اور اگر بالفرض واقعہ ہو تو پھر کتنی قے آنی چاہیے قادیانی صاحبان کو۔۔۔ للمولف برنی)۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے جو الزام صاحبزادہ عبدالحئی صاحب مرحوم پر لگایا ہے وہی افترا سیدہ امۃ الحئی مرحومہ پر بھی کیا گیا ہے یعنی یہ کہ وہ بھی دراصل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ کی مخالف تھیں۔۔۔۔۔ اور محمد امین خاں اور مستری محمد حسین مقتولوں کی صف میں ان کو شامل کرنا اور یہ کہنا کہ سیدہ امۃ الحئی کی روح حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب) کو نصیحت کر رہی ہے کہ اپنے افعال سے باز آجاؤ نہایت شرمناک اور کمینہ جھوٹ ہے۔ (بحث سے کیا حاصل۔

قریب ہے یار روز محشر چھپے گا کشتوں کا خوں کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

(للمولف برنی)

(قادیانی جماعت کا اخبار الفضل قادیان جلد ۲۵ نمبر ۷۹ مورخہ ۴ اگست ۱۹۳۷ء‘

ص ۴ تا ۶)

(ب) مولوی عبدالکریم صاحب قادیانی

(۱۶) ابتدا

سالنامہ جامعہ احمدیہ (قادیان) ۱۹۳۰ء میں مذکور ہے کہ مولوی عبدالکریم (قادیانی) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مڈل تک تھی اور اس میں بھی کمی حساب کی وجہ سے فیل ہو گئے۔ پھر عربی فارسی کی پرائیویٹ تیاری کر کے وہیں مشن سکول میں مدرس فارسی مقرر ہو گئے۔ ایک روز پادری سے الجھ کر مستعفی ہو گئے۔ اس وقت آپ نیچری خیال رکھتے تھے مگر مولوی نور الدین صاحب کی وساطت سے قادیانی ہو گئے اور خطیب اور امام مسجد قادیان بنے رہے اور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ میں داخل ہوئے۔

صفحہ 749

(الکاویتہ علی الغاویہ حصہ دوم ص ۳۸۷ مصنفہ مولوی محمد عالم آسی صاحب امرتسر)

(۱۷) دو فرشتے

ان دنوں میں بحثیں خوب ہوا کرتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کا دایاں فرشتہ کون سا ہے اور بایاں کون سا ہے؟ بعض کہتے مولوی عبدالکریم صاحب دائیں ہیں۔ بعض حضرت استاذی المکرم خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں۔

(مضمون میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۱ ص ۴

مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۱۸) سرسید کے دلدادہ

مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور بھی ابتدا میں سرسید کے بہت دلدادہ تھے چنانچہ حضرت (مرزا) صاحب نے بھی اپنے ایک شعر میں ان کے متعلق اس کا ذکر فرمایا ہے۔

مدتے آتش نیچر فرو افتادہ بود
ایں کرامت بیں کہ از آتش بروں آمد سلیم

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۴۱ روایت ۱۵۰ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۹) بہت عشق

مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) سے بہت عشق تھا۔ اگر مسیح موعود پر کوئی اعتراض کرتا تو آپ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ایک دفعہ ان کو ایک عیسائی کہنے لگا کہ مولوی صاحب میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں کیا آپ برا تو نہیں منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا میں پاگل ہوں کہ تم مجھ سے اچھی بات پوچھو تو میں برا مناؤں۔ اگر بری بات کہو تب تو برا مناؤں گا۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب دس پندرہ روپیہ کے ملازم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مسیح گلیوں میں کہتا پھرتا تھا کہ کسی نے چارپائی ٹھکوانی ہو تو ٹھکوالے

صفحہ 750

یہ بات سن کر عیسائی نے کہا کہ مولوی صاحب آپ تو ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں میں تو ناراض نہیں ہوا تم ناراض ہو گئے۔

(میاں محمود احمد صاحب کا درس قرآن مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ

۲۷ اگست ۱۹۱۴ء)

(۲۰) عاشقانہ رنگ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے وہ جب (دوسری رکعت کے بعد) تیسری رکعت کے لئے قعدہ سے اٹھے تو حضرت (مرزا) صاحب کو پتہ نہ لگا۔ حضور التحیات میں ہی بیٹھے رہے۔ جب مولوی صاحب نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور (مرزا صاحب) کو پتہ لگا اور حضور اٹھ کر رکوع میں شریک ہوئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے مولوی نور الدین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلہ کی صورت پیش کی اور فرمایا میں بغیر فاتحہ پڑھے رکوع میں شامل ہوا ہوں۔ اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے۔ مولوی محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ یوں بھی آیا ہے اور یوں بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی فیصلہ کن بات نہ بتائی مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے آخری ایام بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے وہ فرمانے لگے مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں جو حضور نے کیا بس وہی درست ہے۔

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۷۷ ص ۷

مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء)

(۲۱) دو خطبے

خدا کے کلام میں جس شخص کو نبی کے لفظ سے خطاب کیا جائے مثلاً یایھا النبی وغیرہ کہا جائے تو ہر ایک مسلم کا فرض ہے کہ اس کو نبی مانے اور حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے متعلق براہین احمدیہ ہی میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ آپ کو ان ہی الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے جن الفاظ سے آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کے انبیا مرسلین سے خطاب کیا گیا ہے۔ ایک زمانہ میں میرے دل میں ایک کھٹکا تھا اور وہ یہ کہ الفاظ تو وہی ہیں مگر حضرت (مرزا) صاحب ان کے ساتھ قیود

صفحہ 751

لگاتے ہیں۔ جب میں یہاں قادیان میں آیا تو یہاں پر مولوی عبداللہ کشمیری جو میرے دوست اور شاگرد تھے۔ میں نے ان سے کہا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگ سمجھتے نہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے یہ الفاظ ہیں۔ واللہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں اور پھر مولوی عبدالکریم صاحب سے ملاقات کی۔ ان سے عرض کیا تو انہوں نے کہا میں تو آپ کو مولوی خیال کرتا تھا۔ آپ بھی عوام کی سی باتیں کرتے ہیں۔ حضرت (مرزا) صاحب نبی ہیں۔ یہ محض لوگوں کو سمجھانے کے لیے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خطبہ جمعہ پڑھا اور اس میں حضرت صاحب کے لیے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے یہ خطبہ چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔ اس خطبہ کو سن کر سید محمد احسن صاحب امروہی (قادیانی) نے بہت پیچ و تاب کھائے۔ جب یہ بات مولوی عبدالکریم صاحب کو معلوم ہوئی تو پھر انہوں نے ایک خطبہ پڑھا اور اس میں حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو حضور مجھے بتلائیں۔ میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔ جب جمعہ ہوچکا اور حضرت (مرزا) صاحب جانے لگے تو مولوی صاحب نے پیچھے سے حضرت صاحب کا کپڑا پکڑ لیا اور درخواست کی کہ اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہے تو حضور درست فرمائیں۔ میں اس وقت موجود تھا۔ حضرت صاحب مڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا مولوی صاحب ہمارا بھی یہ ہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ خطبہ سن کر مولوی محمد احسن صاحب غصہ میں بھر کر واپس آئے اور مسجد مبارک کے اوپر ٹہلنے لگے اور جب مولوی عبدالکریم (صاحب قادیانی) واپس آئے تو مولوی محمد احسن صاحب (قادیانی) ان سے لڑنے لگ گئے۔ آواز بہت بلند ہوگئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) مکان سے نکلے اور آپ نے یہ آیت پڑھی یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی

(تقریر سید سرور شاہ صاحب قادیانی جلسہ سالانہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان

جلد ۱۰ نمبر ۵۱ ص ۳ مورخہ ۴ جنوری ۱۹۲۳ء)

(۲۲) مار پکار

گرمی کا موسم تھا۔ مسجد مبارک ابھی چھوٹی ہی تھی۔ شہ نشین پر حضرت خلیفہ

صفحہ 752

مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی عبدالکریمؓ، حضرت حکیم فضل الدینؓ وغیرہ احباب بیٹھے تھے۔ مغرب کا وقت تھا۔ اس دن میاں الہ دین فلاسفر سے کچھ گستاخی ہوئی تھی اور مولوی عبدالکریم صاحب نے انہیں مارا تھا اور فلاسفر صاحب کے رونے چلانے کی آواز اندرون خانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) تک پہنچی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے لب و لہجہ سے اظہار ناراضگی ہو رہا تھا۔ فرمایا: ”خدا کا رسول تمہارے درمیان ہے اور تم ایسی حرکتیں کرتے ہو“۔ ان الفاظ سے ہم سب سہم گئے اور خوفزدہ ہوگئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رو پڑے، معافی چاہی اور دعا کی درخواست کی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) نے دعا کے واسطے ہاتھ اٹھائے۔ اکثر احباب چشم پر آب تھے۔ دعا سے سب کی تشفی اور تسکین ہوئی۔ انجام بخیر ہوا۔ الحمدللہ۔

(مفتی محمد صادق صاحب قادیانی کی روایت مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۵۱

ص ۲ مورخہ ۲۸ اگست ۱۹۳۶ء)

(۲۳) دو چیزیں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) سے مولوی عبدالکریم صاحب کو خاص عشق تھا اور ایسا عشق تھا کہ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس زمانہ کو دیکھا۔ دوسرے لوگ اس کا قیاس بھی نہیں کرسکتے۔ وہ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب میری عمر ۱۶۔ ۱۷ سال تھی اور جس زمانہ سے میں نے ان کی محبت کو شناخت کیا ہے۔ اس وقت میری عمر ۱۲۔ ۱۳ سال کی ہوگی یعنی بچپن کی عمر تھی لیکن باوجود اس کے مجھ پر ایک ایسا گہرا نقش ہے کہ مولوی صاحب کی دو چیزیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں ایک تو ان کا پانی پینا اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) سے ان کی محبت۔ آپ ٹھنڈا پانی بہت پسند کرتے تھے اور اسے بڑے شوق سے پیتے تھے۔ اور پیتے وقت غٹ غٹ کی ایسی آواز آیا کرتی تھی کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کی نعمتوں کو جمع کرکے بھیج دیا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر

صفحہ 753

(الفضل ص ۶ مورخہ یکم جون ۱۹۳۳ء)

(۲۴) مولوی عبدالکریم صاحب کا انجام (م)

بیان کیا مجھ سے بیوہ مرحومہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے کہ جب مولوی عبدالکریم صاحب بیمار ہوئے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بعض اوقات شدت تکلیف کے وقت نیم غشی کی سی حالت میں وہ کہا کرتے تھے کہ سواری کا انتظام کرو۔ میں حضرت (مرزا) صاحب سے ملنے کے لئے جاؤں گا۔ گویا وہ سمجھتے تھے کہ میں کہیں باہر جا رہا ہوں اور حضرت صاحب قادیان میں ہیں اور بعض اوقات کہتے تھے اور ساتھ ہی زار زار رو پڑتے تھے کہ دیکھو میں نے اتنے عرصہ سے حضرت (مرزا) صاحب کا چہرہ نہیں دیکھا تم مجھے حضرت صاحب کے پاس کیوں نہیں لے جاتے۔ ابھی سواری منگاؤ اور مجھے لے چلو۔ ایک دن جب ہوش تھی کہنے لگے۔ جاؤ حضرت صاحب سے کہو کہ میں مر چلا ہوں۔ مجھے صرف دور سے کھڑے ہو کر اپنی زیارت کرائیں اور بڑے روئے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جاؤ۔ میں نیچے حضرت صاحب کے پاس آئی کہ مولوی صاحب اس طرح کہتے ہیں۔ حضرت صاحب فرمانے لگے کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا میرا دل مولوی صاحب کے ملنے کو نہیں چاہتا۔ مگر بات یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مولویانی مرحومہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری والدہ پاس تھیں انہوں نے حضرت صاحب سے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا میں جاتا ہوں مگر تم دیکھ لینا کہ ان کی تکلیف کو دیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا۔...

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے بہت محبت تھی اور یہ اس محبت کا تقاضا تھا کہ آپ مولوی صاحب کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ چنانچہ باہر مسجد میں کئی دفعہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر میں ان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا۔ چنانچہ آخر مولوی صاحب اسی مرض میں فوت ہو گئے۔ مگر حضرت صاحب ان کے پاس نہیں جاسکے۔ بلکہ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کی بیماری میں اپنی رہائش کا کمرہ بھی بدل لیا تھا، کیونکہ جس کمرہ میں آپ

صفحہ 754

رہتے تھے وہ چونکہ مولوی صاحب کے مکان کے بالکل نیچے تھا۔ اس لئے وہاں مولوی صاحب کے کراہنے کی آواز پہنچ جاتی تھی۔ جو آپ کو بے تاب کر دیتی تھی اور مولوی صاحب مرحوم چونکہ مرض کاربنکل میں مبتلا تھے۔ اس لئے ان کا بدن ڈاکٹروں کی چیرا پھاڑی سے چھلنی ہو گیا تھا اور وہ اس کے درد میں بیتاب ہو کر کراہتے تھے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۲۷۱ روایت ۳۰۱ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

حضرت مولانا عبدالکریم صاحب (مرحوم) کاربنکل کے مرض میں ڈیڑھ دو ماہ تک بیمار رہے۔ ان کا معالج خاکسار اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین تھے۔ ان کے لئے آپ نے (یعنی مرزا قادیانی صاحب نے) ہر ایک قسم کا سامان علاج معالجہ کے لیے مہیا کیا یہاں تک کہ جب آپ (مولوی عبدالکریم صاحب) فوت ہوئے تو قادیان جیسی جگہ میں ایک ڈھیر برف کا ان کے کمرہ میں موجود تھا۔

(ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۳۶

نمبر ۲۱ مورخہ ۲۸ جولائی ۱۹۳۸ء)

(۲۵) بہت تکلیف

غرض مولوی عبدالکریم صاحب سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں ان کے پرزور خطبوں کا مداح تھا اور ان کی محبت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کا معتقد تھا مگر جوں ہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہوا۔۔۔۔ اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔ دنیا کی بے ثباتی‘ مولوی صاحب کی محبت‘ مسیح اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے‘ دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اب آپ کو بہت تکلیف ہوگی۔

(مضمون میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۷۱

۴ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۲۴ء)

(ج) میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی قادیان

صفحہ 755

(۲۶) تعلیم کی خوبی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا صاحب) بھی کسی کے شاگرد نہ تھے اسی طرح آپ (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) بھی کسی کے شاگرد نہیں ہیں، بے شک آپ اسکول میں پڑھتے رہے ہیں۔ مجھ سے بھی پڑھتے رہے ہیں۔ اس زمانہ میں، میں ہیڈ ماسٹر تھا یا مولوی شیر علی صاحب تھے۔ آپ (میاں محمود احمد) سکول میں پڑھتے تھے مگر ہر جماعت میں فیل ہوتے تھے، لیکن ہم پھر بھی اگلی جماعت میں چڑھا دیتے تھے۔ اس لئے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) کے فرزند ہیں۔ آپ نے مڈل کا امتحان دیا اور میں ساتھ گیا۔ اس میں بھی آپ فیل ہوئے۔ (شاید یہ آپ ہی کا فیض صحبت ہو ۔۔۔ للمولف) پھر انٹرنس کا دیا، اس میں بھی آپ فیل ہوئے۔ (گویا وضع داری برقرار رہی ۔۔۔ للمولف)

(مفتی محمد صادق صاحب قادیانی کا خطبہ جو میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کے تازہ

ترین نکاح کی تقریب میں بمقام قادیان پڑھا گیا۔ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۲۳

نمبر ۷۶ مورخہ ۴ اکتوبر ۱۹۳۵ء ص ۲)

(۲۷) بچپن کے دو استاد

بچپن میں جب ہائی اسکول میں پڑھتا تھا تو دو استاد تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے اتنی گھن اور نفرت آتی جو بیان سے باہر ہے۔ وہ جب بھی ایک دوسرے کی شکل دیکھتے، کہیں پاخانے کا مذاق شروع ہو جاتا، کہیں ہوا خارج ہونے کے متعلق ہنسی کرنے لگ جاتے اور مجھے ان کی باتیں سن سن کر اتنی گھن اور نفرت آتی کہ میں چاہتا وہاں سے بھاگ جاؤں۔ (ایسی باتوں کے وقت ہٹ جانے میں کیا مضائقہ تھا۔۔۔ للمولف)...... یہ چھچھورا پن، یہ کمینگی، یہ رذالت، یہ بے ہودگی اور یہ گندہ مذاق کیوں ہے۔..... کوئی نہ کوئی بکواس شروع۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۲۳

نمبر ۱۷۷ ص ۶ مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء)

(۲۸) تعلیمی حالت

صفحہ 756

میری تعلیمی حالت نہایت معمولی تھی سستی کہو یا صحت کی کمزوری کا خیال کر لو میں اسکول میں کبھی اچھے نمبروں پر کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دینی تعلیم ایسی تھی کہ میرے گلے اور آنکھوں کی تکلیف کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتاب خود پڑھا کرتے تھے۔ آپ خود کمزور اور بوڑھے تھے۔ مگر میری صحت کو اس قدر کمزور خیال فرمایا کرتے تھے کہ بخاری اور مثنوی رومی خود پڑھتے اور میں سنتا جاتا۔ عربی ادب کی کتابیں بھی خود ہی پڑھتے اور جب میں پڑھنا چاہتا تو فرمایا کرتے میاں تمہارے گلے کو تکلیف ہوگی۔ مجھے یاد ہے بخاری کے ابتدائی چار پانچ سپارے تو ترجمہ سے پڑھائے مگر بعد میں آدھ آدھ پارہ روزانہ بغیر ترجمہ کئے پڑھ جاتے۔ صرف کہیں کہیں ترجمہ کر دیتے اور اگر میں پوچھتا تو فرماتے جانے دو۔ خدا خود ہی سمجھا دے گا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر

۱۳۳ مورخہ ۸؍ مئی ۱۹۳۳ء)

(۲۹) آپس کی بات

میں نے حضرت خلیفتہ المسیح (حکیم نور الدین صاحب) سے جس طرح پڑھا ہے اور کوئی شخص نہیں پڑھ سکتا۔ آدھ آدھ پارہ بخاری کا آپ پڑھتے تھے اور کہیں کہیں خود بخود ہی کچھ بتا دیتے تھے اور بعض وقت سبق کے انتظار میں سارا سارا دن گزارنا پڑتا تھا اور کھانا بھی بے وقت کھایا جاتا تھا۔ اسی وقت سے میرا معدہ خراب ہوا ہے۔ ایک دفعہ میرے سر میں درد تھا اور میں پڑھ کر آیا تھا۔ والدہ نے پوچھا کیا پڑھتے ہو۔ میں نے کہا میں تو پڑھتا نہیں۔ مولوی صاحب ہی پڑھتے ہیں۔ آپ نے جا کر مولوی (نور الدین) صاحب سے کہا۔ آپ کیا پڑھاتے ہیں؟ محمود یوں کہتا ہے۔ حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا۔ میاں تم ہمیں کہتے، بیوی صاحبہ کو کہنے کی کیا ضرورت تھی۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ڈائری مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰ نمبر۱

ص ۷ مورخہ ۳؍ جولائی ۱۹۲۲ء)

(۳۰) ہتھکنڈے

مجھے بچپن میں شوق تھا کہ تماشاگر جو ہتھکنڈے وغیرہ کرتے ہیں انہیں سیکھوں۔

صفحہ 757

ایک دفعہ ہمارے ایک احمدی دوست یہاں آئے اور انہوں نے بہت سے تماشے دکھائے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے پڑ گیا کہ آپ مجھے بھی سکھا دیں۔ آپ پہلے تو انکار کرتے رہے۔ مگر پھر میرے اصرار پر آپ نے اس احمدی دوست کو رقعہ لکھا کہ اگر آپ کے اوقات میں حرج نہ ہو تو میرے بچے کو یہ کھیلیں سکھا دیں۔ انہوں نے مجھے کئی باتیں سکھا دیں۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ ایک دفعہ لاہور گئے تو میرے شوق کو دیکھ کر شعبدوں کی چار پانچ کتابیں میرے لئے لے آئے۔ اس طرح میں سینکڑوں شعبدے جانتا ہوں، مگر میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی شعبدہ دکھایا جائے تو بڑے بڑے سمجھدار آدمی پاگلوں کی طرح حیران ہو کر رہ جاتے ہیں، مگر بچے بات کی تہ کو باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے گھر میں کوئی ایسا ہی شعبدہ دکھایا تو سب حیران ہو گئے مگر میرا چھوٹا بھتیجا جو ابھی آداب سے ناواقف تھا اور جو میرے پاس ہی بیٹھا تھا کہنے لگا: ”چچا ابا جان بھی دیکھو۔ میں جاندا ہاں تھاڈی چلا کیاں نوں۔“ تو بعض دفعہ سادہ لوح بچ جاتا ہے مگر چالاک پھنس جاتا ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۹۰ جلد ۲۲

ص ۷-۸ مورخہ ۲۷؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۳۱) طالب علم

جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا۔ اس وقت میں طالب علم تھا اور طالب علم بھی ایسا جو ہمیشہ فیل ہوتا تھا اور میں سمجھتا ہوں اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی وگرنہ اگر کچھ پاس کر لیتا تو ممکن ہے مجھے خیال ہوتا کہ میں یہ ہوں، وہ ہوں لیکن اب تو اس حقیقت کا انکار نہیں ہو سکتا کہ جو کچھ مجھے آتا ہے یہ اللہ ہی کا فضل ہے۔ میری اس میں کوئی خوبی نہیں۔

کچھ عرصہ ہوا لاہور میں دو مولوی صاحبان مجھ سے ملنے آئے اور بطور تمسخر ایک نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہے۔ میں سمجھ گیا کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا کچھ بھی نہیں کہنے لگے۔ آخر کچھ تو ہوگی میں نے کہا صرف قرآن جانتا ہوں کہنے لگے بس قرآن۔ مجھے ان پر تعجب کہ ان کے نزدیک قرآن جاننا کوئی چیز ہی نہیں اور انہیں اس

صفحہ 758

یہ دعویٰ کہ ان کی تعلیم کچھ نہیں، پھر ایک نے پوچھا۔ انگریزی پڑھی ہو گی۔ میں نے کہا پڑھتا تو تھا مگر ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا۔ کہنے لگے تو پھر انگریزی بھی نہ ہوئی۔ اس کے بعد پوچھنے لگے۔ پرائیویٹ طور پر تو کچھ تعلیم حاصل کی ہو گی۔ میں نے کہا وہ بھی قرآن ہی پڑھا ہے۔

اور واقعی یہ امر واقعہ ہے۔ میں ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا۔ میری صحت کمزور تھی اور اطبا نے کہا تھا کہ اس کی تعلیم پر زور نہ دیا جائے وگرنہ اسے سل ہو جائے گی۔

(میاں محمود احمد صاحب کی تقریر لائل پور مندرجہ الفضل قادیان جلد ۲۱ نمبر ۱۳۸ ص ۳

مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۳۴ء)

(۳۲) کتابوں کا کیڑا

میں کتابوں کے پڑھنے کا بہت شائق ہوں اور اتنا کہ کتابوں کا کیڑا کہنا چاہئے میں ہر فن ہر مذاق اور ہر رنگ کی کتابیں پڑھتا رہتا ہوں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۴

نومبر ۱۹۳۱ء نمبر ۴۱ جلد ۱۹)

(۳۳) گندی فطرت

آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص سمجھتا ہے کہ جب صحت اچھی نہ ہو تو ایک شادی کرنا بھی مشکل کام ہوتا ہے۔ چہ جائے کہ ایک ایسا شخص (میاں محمود احمد صاحب) جسے دو شادیوں کے بوجھ کا تجربہ ہو وہ ایک اور کرے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے کئی بار فرمایا کہ میری صحت اچھی نہیں مجھ پر بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں، اس لئے میں اس رشتہ کو کرتے ہوئے بہت ڈرتا ہوں، مگر خدا کی طرف سے جو بات مقدر ہو وہ ہو کر رہتی ہے۔ اس لئے آپ ہی کو یہ رشتہ (ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی صاحبزادی مریم سے نکاح) کرنا پڑا۔

ان سب باتوں کے بعد آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کسی دنیوی غرض اور خواہش سے نہیں بلکہ محض حضرت مسیح موعود کی اس بات کو پورا کرنے کے لئے جو آپ نے فرمائی اور جس کا پورا کرنا بلحاظ وصی اور جانشین کے آپ کا فرض تھا۔ اب اگر کوئی بدقسمتی اور

صفحہ 759

بدبختی سے اعتراض کرے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ اپنی حالت پر قیاس کر کے کرے گا اور اس طرح اپنی گندی فطرت کو ظاہر کرے گا۔

(خطبہ نکاح میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان از مولوی سید سرور شاہ صاحب قادیانی

مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخہ ۴؍ فروری ۱۹۲۱ء)

(۳۴) میری صحت (م)

باقی رہا میری صحت کا معاملہ۔ تم (لاہوری فریق) کہتے ہو میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں (پانچواں) نکاح (جو عزیزہ خاتون بنت سیٹھ ابوبکر یوسف جمال کے ساتھ ہوا تھا) کروں۔ میری صحت تو بچپن سے ہی خراب ہے۔ اس لحاظ سے تو میری پہلی شادی بھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ بچپن میں میری صحت خراب تھی اسی وجہ سے حضرت (مرزا) صاحب نے حساب کی تعلیم مجھ سے چھڑا دی تھی۔ پھر محض شادی سے صحت نہیں بگڑ جایا کرتی۔ اگر انسان صحت کے اصول کا خیال رکھے اور احتیاط کرے تو دس شادیوں کے ساتھ بھی صحت نہیں بگڑتی لیکن سوال تو یہ ہے کہ میری صحت کے متعلق آپ لوگوں کو کب سے فکر پیدا ہوا ہے۔ اس رنگ میں اعتراض کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ محض ایک بہانہ ہے اور اصل مقصد اعتراض کرنا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳ نمبر ۹۶

ص ۷ مورخہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۲۶ء)

کنری (سندھ) سے ۲۲؍ اپریل ۱۹۴۱ء کو جناب مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم اے پرائیویٹ سیکرٹری نے بذریعہ تار اطلاع دی ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو بواسیر کی شکایت ہے اور انتڑیوں میں سوزش کی تکلیف ہے۔ احباب حضور کی صحت کے لئے دعا فرمائیں۔

(اطلاع مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۹ نمبر ۹۲ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۴۱ء)

سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ مجھے پرسوں سے نقرس کا دورہ ہے اور پاؤں کے علاوہ گھٹنے میں بھی درد شروع ہو گیا ہے۔ اس درد کے ازالہ کی تدبیر تو کی جا رہی ہے اور میں دوائی استعمال کر رہا ہوں لیکن اس دوا کے استعمال کے ساتھ ڈاکٹروں نے

صفحہ 760

پچھلے دورے کے وقت سے یہ ہدایت کی ہوئی ہے کہ مجھے چلنا پھرنا نہیں چاہیے بلکہ لیٹے رہنا چاہیے‘ یوں بھی وہ دوا بہت مضعف ہے اور چلنے پھرنے سے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں دل پر بار نہ پڑ جائے مگر میں نے جمعہ کی خاطر یہی پسند کیا کہ میں یہاں آجاؤں اور خطبہ جمعہ اور نماز پڑھاؤں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۳۹

جلد ۳۴ مورخہ ۳؍ جون ۱۹۴۶ء ص ۱)

(۳۵) دودھ

اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر انسان کے لئے بہت فوائد رکھے ہیں۔ قرآن کریم میں اس کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ سب سے زیادہ ہضم ہونے والی اور نہایت عمدگی سے جذب ہونے والی غذا ہے لیکن یہی دودھ کسی بیماری اور جسمانی نقص کی وجہ سے مضر ہو جاتا ہے۔ میرا یہی ذاتی تجربہ ہے مجھے دودھ کسی صورت میں نہیں پچ سکتا۔ چند دن اگر طبیعت کو مجبور کر کے استعمال کروں تو بخار ہو جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات سے ایک سال پہلے سے میری یہی حالت چلی آتی ہے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳ نمبر ۱۱۵

مورخہ ۲۷؍ اپریل ۱۹۲۵ء)

(۳۶) دو باتیں

حضرت خلیفۃ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) نے فرمایا۔ دو باتیں تو مجھ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ پالک کا نام سن کر میرے پٹھوں میں تشنج شروع ہو جاتا ہے اور جسم پر کپکپی سی ہونے لگتی ہے۔ آج ہی کھانے میں ساگ تھا۔ جب میں نے اس کے متعلق پوچھا اور بتایا گیا کہ پالک کا ساگ ہے تو یہی حالت ہوئی۔ میں نے اس کے اٹھا لینے کے لئے کہا اور پھر پندرہ بیس منٹ کے بعد میری حالت برقرار ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب میں کسی بیمار کے پاس جاؤں۔ خود بیمار ہو جاتا ہوں اور بخار ہو جاتا ہے۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۷؍

اکتوبر ۱۹۲۱ء جلد ۹ نمبر ۳۳ ص ۵)

صفحہ 761

(۳۷) سیدنا محمود۔ مصلح موعود

(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۱۶ء) آج ۱۴ مارچ ۱۹۱۶ء وہ مبارک دن ہے جب خدا تعالیٰ اپنی عزت و جلال کے ساتھ نئی تجلی کے ساتھ ہم پر ظاہر ہوا اور وہ کلمتہ اللہ مجسم ہو کر قدرت ثانی کی صورت میں ہمارے سامنے آیا اور جیسا کہ اس نے پیشتر سے ہمیں اپنے برگزیدہ رسول (مرزا صاحب) کے ذریعہ بشارت دی تھی وہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خدا کا نور آیا جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ہے۔ خدا نے اس میں اپنی روح ڈالی وہ جلد جلد بڑھا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوا۔ زمین کے کناروں تک اس نے شہرت پائی اور قومیں اس سے برکت پا رہی ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۹۷ مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۱۶ء)

(۳۸) حضرت محمود کی شان

حضرت محمود کی شان اگر معلوم کرنا چاہو تو آؤ اس الہٰی وحی کا مطالعہ کرو جو مسیح پاک پر نازل ہوئی۔ اس میں خدا نے اپنے برگزیدہ رسول کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا:

”اس کو مقدس روح دی گئی اور وہ رجس سے پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا وہ کلمتہ اللہ ہے، کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین اور فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا...... دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والاخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی

صفحہ 762

رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ (تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۵۹‘ ۶۰ مجموعہ اشتہارات ص ۱۰۱ ج۱) یہ وہ خدا کا کلام ہے جو اس کے پیارے مسیحؑ پر نازل ہوا۔ اس میں خدائے قدوس حضرت خلیفتہ المسیح کو رجس سے پاک ٹھہراتا ہے۔ نور اللہ اور کلمۃ اللہ قرار دیتا ہے۔ اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح قرار دے کر اپنی روح آپ میں ڈالتا اور اسیروں کی رستگاری کا کام آپ کے سپرد فرماتا ہے۔ کیا ممکن ہے جسے خدا ایسا کہہ رہا ہو۔ وہ نعوذ باللہ ویسا ہو جیسے چند آوارہ گرد اور بدکردار انسان دنیا میں مشہور کر رہے ہیں۔ اگر آج دنیا کے تمام شیاطین بھی اکٹھے ہو جائیں اور وہ ہر گلی اور کوچہ میں یہ شور مچائیں اور کہیں نعوذ باللہ آپ ایسے ہیں ویسے ہیں تو ہر وہ انسان جس نے مسیح پاک کا دامن پکڑا ہے اپنے صمیم قلب سے اس شیطنت کا ارتکاب کرنے والے اشخاص کو جھوٹا اور مفتری قرار دے گا اور کہے گا۔ ایسا ہرگز نہیں سچ وہی ہے جو خدا نے کہا اور کون ہے جو خدا سے بھی بڑھ کر سچا ہو۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۶؍ مئی ۱۹۳۰ء نمبر ۹۲ جلد ۱۷ ص ۵‘ ۶)

(۳۹) فخر رسل

محمود جو میرا بڑا بیٹا ہے..... ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء کو مطابق ۹؍ جمادی الاول ۱۳۰۶ھ بروز شنبہ محمود پیدا ہوا اور اس کے پیدا ہونے کی میں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تکمیل تبلیغ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں اور اس کے صفحہ ۴ میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے۔

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمد ز راہ دور آمدہ

(تریاق القلوب ص ۳۲ روحانی خزائن ص ۲۱۹ ج ۱۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

آخر میں ہم پھر ایک دفعہ خوش آمدید اور اھلا ”وسھلا“ مرحبا عرض کرتے ہیں اور اس شعر کو جو حضور (میاں محمود احمد صاحب) کے لئے ہی ہے اور موجودہ موقعہ کے بہت موزوں ہے دہراتے ہیں۔

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ
صفحہ 763

(سفر انگلستان سے واپسی پر میاں محمود احمد صاحب کی خدمت میں قادیانی جماعت کا ایڈریس مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳ نمبر ۵۹ مورخہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۲۳ء)

(۴۰) وہ بیٹا

میں وہ بیٹا ہوں جس کی خبر انبیائے بنی اسرائیل نے دی‘ میں وہ بیٹا ہوں جس کی خبر رسول اللہ نے دی‘ میں وہ بیٹا ہوں جس کے محمود ہونے کی مسیح موعود نے خبر دی اور جس کو موعود بیٹا ٹھہرایا۔ ہاں میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ مصلح موعود ہوں کیونکہ مجھے خدا نے اس کی خبر نہیں دی۔ اگر مجھے خبر دی گئی تو کسی سوال کی ضرورت نہ ہوگی میں خود اعلان کر دوں گا۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۲۴ مورخہ

۲۲؍ ستمبر ۱۹۱۷ء)

(۴۱) میرا انکار

جس طرح مسیح موعود کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے۔ اسی طرح میرا انکار انبیائے بنی اسرائیل کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار رسول اللہ کا انکار ہے جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار شاہ نعمت اللہ ولی کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار مسیح موعود کا انکار ہے جنہوں نے میرا نام محمود رکھا اور مجھے موعود بیٹا ٹھہرا کر میری تعیین کی۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۲۳

مورخہ ۲۳؍ ستمبر ۱۹۱۷ء)

(۴۱۔الف) میرا جوا (ج)

جو میرا جوا اپنی گردن سے اتارتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) کا جوا اتارتا ہے اور جو ان کا جوا اتارتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوا اتارتا ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوا اتارتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا جوا اتارتا ہے۔ میں بے شک انسان ہوں۔ خدا نہیں ہوں مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری

صفحہ 764

اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔

(قادیانی جماعت کا اخبار الفضل قادیان جلد ۲۵ نمبر ۲۰۶ ص ۸ مورخہ ۴ ستمبر ۱۹۳۷ء)

(۴۲) ہمہ صفت موصوف انسان

(عنوان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۲۵ء)

تاریخ عالم سے پتہ لگتا ہے کہ آدم کے فرزندوں میں سے جو ممتاز سمجھے گئے ہیں ان کو صرف ایک یا چند ایک خوبیوں اور نعمتوں سے خاص حصہ ملا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے نام صفحہ دہر پر خاص طور پر مشہور ہیں مثلاً کوئی حسب و نسب کی وجہ سے فائق سمجھا گیا اور کوئی مال و دولت کی وجہ سے مشہور ہوا کسی کو حکومت ملی اور کوئی علوم کا حامل ہوا۔ کسی کو خلافت عطا ہوئی کوئی حکمت و دانائی کی وجہ سے لقمان بنا اور کوئی معاملہ فہمی کی وجہ سے مدبر کہلایا کوئی ظاہری حسن کی وجہ سے یوسف کہلایا اور کوئی باطنی خوبیوں کی وجہ سے مراتب پایا گیا۔ الغرض جس قدر بھی کمالات ظاہری و باطنی ہیں وہ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں میں انفرادی صورت میں منقسم پائے جاتے ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج دنیا میں آدم کا ایک فرزند موجود ہے۔ جس کی ۳۵ سالہ زندگی میں وہ تمام کمالات مجموعی طور پر پائے جاتے ہیں جو مختلف اوقات میں مختلف افراد میں فرداً فرداً پائے گئے وہ بے مثل انسان امام جماعت احمدیہ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) ہے۔

حضرات انبیا کرام کی ذات ستودہ صفات اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ اس مقابلہ میں شامل ہو۔ (حاشیہ)

پس اے سوانح اور وقائع نویسو اور اے تاریخ عالم کے رازدارو بتلاؤ کہ کیا یہی وہ چند مشہور کمالات انسانی نہیں جن میں سے کسی کو ایک اور کسی کو دو ملنے کی وجہ سے ناز ہوتا رہا اور تم لوگوں نے اس کی تعریف و توصیف کے راگ الاپے۔ کیا ہی لطف کی بات ہے کہ اب تمہارے ذوق کے لئے خدا نے آج ایک ایسا انسان پیدا کیا ہے جس کے اکیلے وجود کے اندر سب کمالات مجتمع کر دیے گئے ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۹۵ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۲۵ء)

صفحہ 765

(۴۳) خلیفہ قادیان

اس کے بعد میں ایک ایسی پیش گوئی کو لیتا ہوں جو آپ سے مجھ سے بلکہ ساری دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کا الہام ہے۔ انی معک یا ابن رسول اللہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو۔ علیٰ دین واحد (۲۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء) یعنی اے اللہ کے رسول (غلام احمد قادیانی) کے بیٹے (محمود احمد قادیانی) میں تیرے ساتھ ہوں۔ تم سب دنیا کے مسلمانوں کو ایک سلسلہ میں جمع کرو اور ایک دین کا پابند بناؤ۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر لائل پور مندرجہ اخبار الفضل قادیان

جلد ۲۱ نمبر ۱۳۸ ص ۳ مورخہ ۲۰؍ مئی ۱۹۳۴ء)

(۴۴) اسلام کی ترقی

آپ لوگ اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں اسی طرح دنیا اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے دین کی ترقی خلفا کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔ پس جو میری سنے گا وہ جیتے گا اور جو میری نہیں سنے گا وہ ہارے گا۔ جو میرے پیچھے چلے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر کھولے جائیں گے اور جو میرے راستے سے الگ ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کر دیئے جائیں گے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳

نمبر ۲۹۹ ص ۴ مورخہ ۲۵؍ جون ۱۹۳۶ء)

(۴۵) سلسلہ خلافت

ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا حضور کے بعد بھی خلیفہ آسکتا ہے یا آئے گا۔ حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے لکھوایا۔ ہم تو خلافت کے قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق قائل ہیں۔ اگر جماعت مستحق ہوگی تو خلیفہ ہوگا۔ اگر اس قابل نہ ہوئی تو خلیفہ نہیں ہوگا۔

صفحہ 766

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۸ مئی ۱۹۲۲ء ج۹ نمبر ۹۷ ص۷)

(۴۶) دنیا بامید قائم

ہماری جماعت میں اس وقت تک کوئی حضرت ہارون سے بڑا درجہ نہیں رکھتا کیوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور تم میں سے کوئی اس وقت تک نبی نہیں ہے۔ آئندہ اگر خدا تعالیٰ کسی کو نبی بنادے تو اس کا علم اسی کو ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷

ص ۳ مورخہ ۱۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء)

(۴۷) یوسف اور عثمان

خدا تعالیٰ ہر رنگ میں اور ہر طرح میری تائید فرما رہا ہے اور ان کی کچھ تائید نہیں کرتا یہی ان کے بے راہ ہونے کی خدائی شہادت ہے۔ وہ یاد رکھیں یہ زمانہ بدلہ لینے کا ہے۔ پہلے یوسف کو یوسف کے بھائیوں نے کنعان سے نکالا تھا لیکن خدا نے اس یوسف (میاں محمود احمد صاحب) کو اس لئے بھیجا کہ یہ اپنے دشمن بھائیوں (لاہوری جماعت) کے قادیان سے نکلنے کا موجب ہو جائے۔ مجھ کو کہتے ہیں کہ عثمان ہے۔ میں کہتا ہوں ہاں عثمان ہوں۔ مگر وہ عثمان تو دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوا اور میں وہ عثمان ہوں کہ میرے مخالف ناکام رہیں گے اور نامراد رہیں گے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۶ نمبر ۷۵

ص ۹ مورخہ یکم اپریل ۱۹۱۹ء)

(۴۸) حضرت امام حسنؓ کی ناشکری

سالانہ جلسہ (قادیان) کے موقع پر مرزا (محمود احمد) صاحب (خلیفہ قادیان) نے فرمایا کہ میں اتفاق کی خاطر اس خلافت سے دست کش ہو جاتا مگر میرے سامنے حضرت امام حسن صاحب کا ایک واقعہ ہے کہ جب انہوں نے خدا کی دی ہوئی نعمت سلطنت کو ترک کرکے امیر معاویہ کے سپرد کردیا تو ان کی ناشکری کے طفیل خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ان کے خاندان سے سلطنت چھین لی۔ یہی وجہ ہے کہ پھر آج تک ان کے خاندان

صفحہ 767

میں کوئی بھی بادشاہ نہ ہوا۔

(الہدٰی نمبر ۲-۳ ص ۳۴ مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا اور کبھی خدا تعالیٰ کی نعمت کے رد کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیوں کہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔ (ص۴۱‘ برکات خلافت) ایک دفعہ انہوں نے (حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) خدا کی نعمت کو چھوڑا۔ خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔ چنانچہ پھر کوئی سید کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیدوں کو حقیقی بادشاہت اور خلافت کبھی نہیں ملی۔ امام حسنؓ نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا تو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو رد کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

(برکات خلافت ص ۲۲ مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۴۹) نڈر

اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں نے خلافت کسی شخص کی مدد سے حاصل نہیں کی اس لئے میں کسی شخص سے کبھی ڈرا نہیں۔ نہ ڈرتا ہوں اور نہ کبھی ڈروں گا۔ ابھی ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اس قدر شورش ہو رہی ہے کہ ڈر ہے بغاوت نہ ہو جائے کیا امان اللہ خان کی حالت آپ کو بھول گئی ہے۔ میں نے انہیں کہا۔ اگر امان اللہ خان سے بدتر حالت ہو جائے۔ جب بھی میں نہیں ڈرتا کیوں کہ میں جانتا ہوں چوں کہ میرے کام اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے ماتحت ہیں اس لئے فرشتے میرے مددگار ہیں پس کوئی بھی میری ایسی مخالفت نہیں کر سکتا جس سے میں تباہ ہو جاؤں باقی شورش وغیرہ سے تو وہی ڈر سکتا ہے جس کے نزدیک کامیابی کا معیار آدمیوں کی تعداد ہو۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض انبیا ؑ ایسے گزرے ہیں جن کی وفات پر صرف ایک شخص ان پر ایمان لانے والا تھا۔ پس اگر میرے ساتھ دو آدمی بھی رہ جائیں گے جب میں ان انبیا ؑ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے والا ہوں گا۔

صفحہ 768

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۵۶ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۳۰ء)

(۵۰) میرا ہی کام

الغرض نبی کا کام بیان فرمانا، تبلیغ کرنا، کافروں کو مومن کرنا، مومنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر باریک در باریک راہوں کا بتانا پھر تزکیہ نفس کرنا، یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔ اب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہی کام اس وقت میرے رکھے ہیں۔ (ص ۹، منصب خلافت)

پس آپ (قادیانی) وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اس نے مجھے دکھایا۔ اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھاوے گا اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے، وہ میرا ہی کام ہوگا۔

(”منصب خلافت“ ص ۱۷، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۵۱) بیعت کا مفہوم

ہر شخص کا جو سلسلہ میں داخل ہے۔ جس نے میرے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) آپ کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کے ذریعہ خدا کی بیعت کی ہے۔ وہ اپنی جان، مال، عزت، آبرو، اولاد، جائداد غرض کہ ہر چیز خدا رسول اور اس کے نمائندوں کے لئے قربان کرچکا ہے۔ اب کوئی چیز اس کی اپنی نہیں۔ میں یہ کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس کے دل میں بیعت کے اس مفہوم کے متعلق ذرا بھی شبہ ہے وہ اگر منافق کہلانا نہیں چاہتا تو وہ اب بھی بیعت کو چھوڑ دے۔ جس بیعت میں نفاق ہو وہ کسی فائدہ کا موجب نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ ایک لعنت ہے جو اس کے گلے میں پڑی ہوئی ہے پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نے میری بیعت کسی شرط کے ساتھ کی ہوئی ہے اور کوئی چیز اس کی اپنی باقی ہے اور اس کے لئے میری اطاعت مشروط

صفحہ 769

ہے۔ وہ میری بیعت میں نہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۲۲‘ نمبر ۵۴‘ ص ۳‘

مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

(۵۲) جگت خلیفہ

میں صرف ہندوستان کے لوگوں کا ہی خلیفہ نہیں۔ میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کا اور اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے۔ عرب‘ ایران‘ چین‘ جاپان‘ یورپ‘ امریکہ‘ افریقہ‘ سماٹرا‘ جاوا اور خود انگلستان کے لئے غرض کہ کل جہاں کے لوگوں کے لئے میں خلیفہ ہوں۔ اس بارے میں اہل انگلستان بھی میرے تابع ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں۔ سب کے لئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کی جماعت میں داخل ہوں۔

آج یہاں انگریزوں کی حکومت ہے اور ہم اس کے وفادار ہیں۔ لیکن کل یہ بدل گئی تو ہم اس نئی حکومت کے وفادار ہوں گے۔ اس کے بالمقابل خلافت نہیں بدل سکتی۔ اس وقت میں خلیفہ ہوں اور میری موت سے پہلے کوئی دوسرا خلیفہ نہیں ہو سکتا اور تمام دنیا کے احمدیوں کے لئے میری ہی اطاعت فرض ہے۔۔۔۔۔ اس میں جو تفرقہ کرتا ہے وہ فاسق ہے اور جماعت کا ممبر نہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۲۲‘ نمبر ۵۴‘ ص ۴‘

مورخہ یکم نومبر ۱۹۳۴ء)

(۵۳) ایک ہی

اس وقت روئے زمین پر ایک ہی سچا روحانی خلیفہ ہے جس کا نام ہے مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ بنصرہ۔ وہ اپنے ساتھ ایک جماعت مخلصین رکھتا ہے۔ جو خدا کے مرسل خدا کے نبی (مرزا صاحب) کے ہاتھ پر تیار کئے گئے ہیں وہ مشرق و مغرب میں دین اسلام کا ڈنکا بجا رہا ہے وہ اپنے اندر وہ برکات رکھتا ہے جو انبیاء سے ورثہ میں ملتے ہیں اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے وہ نور اللہ ہے اس کے

صفحہ 770

ساتھ فضل ہے۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہے وہ دنیا میں آیا تا اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے۔ وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہے اور دل کا حلیم۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا گیا ہے وہ مظہر الحق والعلا ہے۔ اس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہے وہ نور ہے۔ نور جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ اس میں خدا کی روح ڈالی گئی اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہے وہ جلد جلد بڑھا اور اسیروں کی رست گاری کا موجب ہوا وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی اور مبارک وہ جو اس کے آستانہ اقدس پر سر تسلیم رکھتے ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۱‘ نمبر ۷۸‘ مورخہ ۴ اپریل ۱۹۲۴ء)

(۵۴) شخصیت پرستی

میاں محمود احمد صاحب صاف طور پر خطبوں میں اعلان کر رہے ہیں کہ جو میں کہوں گا۔ وہ ماننا پڑے گا۔ خواہ سمجھ میں نہ آوے اور عقل اسے قبول نہ کرے کیونکہ بیعت کا منشا ہی یہی ہے کہ نا معقول باتیں بھی مانی جائیں۔ ورنہ معقول باتوں کو ماننے کے لئے بیعت کی ضرورت ہی کیا ہے میاں صاحب نے خدا اور رسول صلعم کے احکام کو پہلے برائے نام مقدم بنایا۔ پھر ساتھ ہی چٹکی میں مسل کر رکھ دیا کہ خدا اور رسول کے احکام میں اجتہاد وہی مقبول ہوگا جو میں کروں گا۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جو خلیفہ حکم دے وہی کرو۔ قرآن اس کے خلاف ہو تو ہوا کرے کیونکہ خلیفہ نے خواہ کتنا ہی غلط سمجھا ہو وہ سب ٹھیک ہے۔ شخصیت پرستی کی اس سے بدتر مثال اور نہیں مل سکتی۔ قرآن و حدیث پر غور کرنے اور اسے سمجھ کر کسی استنباط اور اجتہاد کرنے کا دروازہ جب تمام قوم پر بند کر دیا گیا تو قرآن و حدیث کو مقدم کرنے کا نام لینا محض ایک ڈھونگ ہے جس کے نیچے کوئی حقیقت نہیں۔ خلیفہ بجائے خود خدا اور رسولؐ کا قائم مقام بن گیا۔ یہ شرک ہے اور خدا اور رسول کی سخت بے ادبی ہے۔ جس کے دماغ میں تھوڑی سی بھی عقل ہوگی وہ ان امور کو سمجھ سکتا ہے لیکن ساری قوم کی آنکھیں بند ہیں۔ کیوں؟ محض اس لئے کہ بیٹا

صفحہ 771

ہے اور بخشا ہوا ہے۔ کیا بیٹے کے سوا کوئی اور یہ باتیں کرتا تو قوم مان لیتی؟ ہرگز نہیں محض بیٹا ہونا اس ساری اسکیم کو چلائے جا رہا ہے۔ بیٹا ہے۔ اس کے لئے دعائیں ہو چکی ہیں بخشا ہوا ہے۔ اس لئے سچا ہے۔

اور اب کی دفعہ تو سنا ہے خود میاں محمود احمد صاحب نے بھی سالانہ جلسہ پر اعلان کیا ہے کہ وہ اور ان کے بھائی صاحبان سب بخشے ہوئے جنتی ہیں۔ انہیں جنت کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ ان کے اعمال فقط شکریہ کے طور پر ہیں اور قوم سن سن کر سر دھنتی رہی۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے دو بیٹے۔"

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳‘ نمبر ۸‘ مورخہ ۳ فروری ۱۹۳۵ء از ڈاکٹر بشارت احمد

صاحب قادیانی لاہوری)

(۵۵) قادیان کی گدی

قدرت ثانیہ کا وہ نظارہ ہمیں نظر نہیں آیا جب تک کہ ۱۹۱۴ء کو جماعت دو حصوں میں منقسم نہیں ہو گئی۔ حضرت مولانا نور الدین کے زمانہ میں بنا بنایا کام چلتا رہا اور ترقی کرتا رہا اور آج میاں محمود صاحب کی گدی کے زمانہ میں جو کچھ ترقی اس فریق کو ہے وہ محض اس وجہ سے ہے کہ بنا بنایا کام۔ بنی بنائی جماعت۔ بنی بنائی قومی جائدادیں، اسکول، بورڈنگ، روپیہ، خزانہ سبھی کچھ بنا بنایا مل گیا۔ قادیان کا مرکز اور مسیح موعود کا بیٹا ہونا کام بنا گیا۔

قادیان کی گدی نہ ہوتی۔ مسیح موعود کا بیٹا نہ ہوتے اور کہیں باہر جاکر میاں محمود احمد صاحب اپنے عقیدہ تکفیر و نبوت کو پھیلا کر دکھاتے اور پھر نئے سرے سے جماعت بنتی اور ترقی کرتی تو کچھ بات ہوتی۔ شکر کریں کہ قادیان ویسے بھی آباؤ اجداد کی میراث تھا اور پھر مسیح موعود کی مل گئی گدی۔ اشتہاروں میں سے مل گئیں کچھ مبہم اور متشابہ پیش گوئیاں۔ اس طرح لوگوں پر رعب جما کر اور پسر موعود کا مبہم سا چولا پہن کر لوگوں پر خلافت کا وہ رعب جمایا کہ پوپ روما گرد ہو کر رہ گیا۔ اس کا نام نصرت الٰہیہ نہیں اس کا نام ہے دنیا اور اس کے اسباب سیاست۔ اس کی چالیں۔ پیری اور اس کے کرشمے۔ ورنہ اس طرح تو پھر دنیا بھر کے پیروں کی گدیاں قدرت ثانیہ کا مظہر بن جائیں گی۔

صفحہ 772

(اخبار پیغام صلح جلد ۲۲ نمبر ۷۸‘ ص ۱۹‘ مورخہ ۱۵ دسمبر ۱۹۳۴ء از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب

قادیانی لاہوری)

(۵۶) میاں صاحب کی اصلاحات

میں کہتا ہوں میاں محمود احمد صاحب اگر مصلح موعود ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کا بڑے زور سے دعویٰ کرتے اور ان اصلاحات کو پیش کرتے جو ان کے ذریعے ظہور میں آئی ہیں لیکن بات اصل یہ ہے کہ اپنے خالی مریدوں کا دل رکھنے کے لیے اگرچہ انہوں نے کہہ تو دیا کہ ہاں ہاں تسلی رکھو میں ہی مصلح موعود ہوں مگر وہ اس دعویٰ پر زور نہیں دے سکتے کیونکہ واقعات اس کے مخالف ہیں وہ کیا اصلاحات پیش کریں گے۔ یہی کہ محمد رسول اللہ صلعم کی ختم نبوت کو تباہ کر دیا۔ آپ کے بعد ایسے نبیوں کی بعثت کو جاری مان کر جن پر ایمان لانا شرائط ایمان میں سے ہے شریعت اسلام کے حصہ ایمانیات کو ناقص قرار دے دیا اور وحدت اسلامی کو فنا کر دیا پھر ایسی نبوت کے اجراء کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کے کلمہ گو مسلمانوں کو خارج از اسلام قرار دے کر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو عملاً منسوخ کر دیا۔ گویا ایک دین کے بعد دوسرا دین شروع کر دیا۔ جن میں کفر اور اسلام کا فرق ہے۔ پھر پوپوں کی تقلید کا ایسا زبردست جامہ اسے پہنایا کہ خلیفہ پر سچے اعتراضات کرنے والا بھی مستوجب عذاب ٹھہر گیا۔ گویا دوبارہ انسان پرستی کے بت کو کھڑا کیا گیا۔ آخر واقعات‘ واقعات ہیں اور ان سے آنکھیں کس طرح بند کی جاسکتی ہیں۔ اگر یہی وہ اصلاحات ہیں جو جناب میاں محمود احمد صاحب سے ظہور پذیر ہوئی ہیں تو فرمائیے کہ عقل انسانی یا فطرت سلیمہ ایسے شخص کو مصلح موعود مان سکتی ہے۔

(اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۲۴‘ نمبر ۵۶‘ مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۵۷) دنیا حیران

میں نے قرآن کو قرآن سمجھ کر پڑھا اور اس سے فائدہ اٹھایا اور اب اس قابل ہوا کہ میں تمام مخالف علماء کو چیلنج دیتا ہوں کہ کوئی آیت لے کر مجھ سے تفسیر کلام الٰہی میں مقابلہ کرلیں۔ میں انشاء اللہ تائید الٰہی سے اس کے ایسے معنی بیان کرونگا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔

صفحہ 773

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ رسالہ مصباح قادیان مورخہ ۱۵

جنوری ۱۹۳۰ء اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۳۰ء نمبر ۹۹ جلد ۱۷ ص ۳)

(۵۸) بڑے بڑے علوم

قرآن کریم جبرائیل نے نازل کیا ہے اور حضرت (مرزا صاحب) کی کتب بھی جبرائیلی تائید سے لکھی گئی ہیں جو شخص خاص ترکیب سے ان کو پڑھے گا وہ ان سے بڑے بڑے علوم پائے گا۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۸‘ نمبر ۵۱‘

مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۲۱ء)

(۵۹) حقائق

اسی سلسلہ میں حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے بیان کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کا جو علم دیا وہ اور کسی کو حاصل نہ تھا۔ حالانکہ اور لوگ ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑھ چڑھ کر تھے۔ نیز حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے یہ بھی فرمایا مجھے بھی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ایسے معارف سمجھائے ہیں کہ خواہ کوئی ظاہری علوم میں کتنا بڑھا ہوا ہو۔ اگر قرآن کریم کے حقائق بیان کرنے میں مقابلہ کر لے گا تو ناکام رہے گا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶‘ نمبر ۵۸‘ مورخہ ۲۲ جنوری ۱۹۲۸ء)

(۶۰) سیدنا محمود کا ذکر قرآن مجید میں

(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء)

ابتدا میں حضور (میاں محمود احمد صاحب) کی تقریر کا جو حصہ بیان کیا گیا ہے اس کے بعد حضور نے فرمایا۔ یہ تو اس وقت کا ذکر ہے لیکن اس حالت میں بھی اس رکوع کا مجھ سے خاص تعلق ہے...... اس رکوع میں ایک لقمان کا ذکر ہے وہ لقمان کون ہے۔ اگر کوئی ذرا غور و فکر سے کام لے اور سیاق و سباق کو دیکھے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ لقمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) ہیں......

صفحہ 774

یہ تو اس تقریر کا خلاصہ در خلاصہ بلکہ مفہوم بھی مناسب الفاظ میں نہیں۔ جو حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے درس القرآن میں فرمائی اور بتایا کہ ان آیات میں مسیح موعود (مرزا صاحب) اور اس کے موعود بیٹے (میاں محمود احمد صاحب) کا ذکر ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰‘ نمبر ۷۰‘ ص ۲‘ مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء)

(۶۱) خدائے قادیان

خدا تعالیٰ بھی اس وقت ہمارے سامنے جلوہ گر ہے اور وہ بھی عریاں ہو کر اپنی تمام صفات کے ساتھ دنیا کے سامنے رونما ہو گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کے ذریعہ وہ اپنے سارے حسن کے ساتھ جلوہ نما ہے ایسی حالت میں اگر ہمارے واعظ اور مبلغ خشک دلائل دینے میں لگے رہتے ہیں تو ان جیسا احمق اور بیوقوف کون ہو سکتا ہے ایسی صورت میں تو ایک ہی علاج ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کے گلے پکڑ کر ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھا دی جائیں اور کہا جائے کہ دیکھ لو وہ خدا ہے جس نے اپنے تازہ نشانات سے دنیا پر اپنے وجود کو ثابت کیا۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴‘

نمبر ۱۱۷‘ ص ۱۱‘ مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۳۶ء)

(۶۲) اللہ تعالیٰ کے حضور

تیسری دفعہ آج مجھے خدا تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام مقبول ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے وہ یہی ہے کہ میں مسجد لندن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر رہا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور دوزانو بیٹھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جماعت کو چاہیے کہ جد سے کام لیں اور ہزل سے کام نہ لیں جد کا لفظ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ ہزل اسی حالت میں معاً میرے دل میں آیا تھا اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کو چاہیے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ہنسی اور محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے۔

(خطبہ مرزا محمود اخبار الفضل قادیان جلد ۱۴‘ نمبر ۳۰‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۶ء)

(۶۳) بدیہی مسئلہ

صفحہ 775

ختم نبوت ایک ایسا بدیہی مسئلہ ہے کہ کسی مسلمان کو اس سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ اس پر قرآن مجید اور حدیث شریف اور آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر مومنین و صالحین کا اتفاق ہوچکا ہے۔ مگر یہ مسئلہ متفق علیہ ہونے کے باوجود بھی ایک ایسا فرقہ ہے جو اجرائے نبوت کا قائل یا دوسرے لفظوں میں ختم نبوت کا منکر ہے۔ اس فرقہ کو محمودیہ کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) ہی اس کے بانی مبانی ہیں اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

(ختم نبوت اور اسلام مضمون مندرجہ پیغام صلح اخبار قادیانی جماعت لاہور جلد ۲۲‘ نمبر۲۰‘

ص ۷‘ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۳۴ء)

(۶۴) اقرار و انکار

انہوں نے (لاہوری جماعت نے) مخالفت شروع کردی کہ گویا ہم احمدی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ہم منکر نہیں اور ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں اور جب تک ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں کسی کا حق نہیں ہے کہ وہ کہے کہ ہم خاتم النبیین کے منکر ہیں۔ کوئی انسان یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں خاتم النبیین کے جو معنی کرتا ہوں وہ صحیح ہیں اور جو تم معنی کرتے ہو‘ غلط ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جو معنی تم کرتے ہو ان کی رو سے خاتم النبیین کا انکار ہو جاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم خاتم النبیین کے منکر ہو۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کے قائل ہیں تو پھر اس کا منکر کیونکر کہا جاسکتا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶‘ نمبر

۲۳‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۲۸ء)

(۶۵) من مانے معنے

حضرت عمر اللہ تعالیٰ کے کتنے مقرب تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا یہاں میرے بعد مراد معاً بعد ہے۔

صفحہ 776

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان جلد ۲۴، نمبر ۲۹،

مورخہ ۴؍ اگست ۱۹۳۶ء)

بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم ذات احمد ہونے پر یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ وہ رسول یاتی من بعدی میرے بعد آئے گا۔ پیش گوئی سے کوئی ایسا ہی شخص مراد ہونا چاہیے جو آپ کے بعد سب سے پہلے آئے اور حضرت مسیح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی آئے تھے نہ کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) آپ تو آنحضرت کے بعد آئے تھے پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی اور شخص احمد کیونکر ہو سکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے معترضین بوجہ عربی زبان کی ناواقفی کے اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ بعد کے معنی پیچھے کے ہیں نہ کہ فوراً پیچھے کے۔ ایک چیز جو کسی کے پیچھے ہو خواہ دس چیزیں چھوڑ کر ہو یا فوراً پیچھے ہو وہ بعد ہی کہلائے گی۔

(انوار خلافت ص ۳۱-۳۲ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۶۶) حقیقی نبی اور رسول

اکثر لوگ دریافت کرتے ہیں کہ آیا فی الواقع میاں صاحب (محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں اور انہوں نے ایسا کہاں لکھا ہے مختصر طور پر اس کا جواب یہ ہے کہ میاں صاحب فی الواقع حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں کیونکہ الفضل مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۱۵ء میں ان کا ایک خط چھپا ہے جس میں انہوں نے صاف طور پر آیت فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بآیاتہ پر بحث کرتے ہوئے یہ لفظ لکھے ہیں (اس آیت میں نبیوں اور رسولوں کے الہام کا ذکر ہے اور وہی مراد ہیں حضرت مسیح موعود چونکہ اس گروہ میں شامل تھے اس لئے انکا انکار بھی اس آیت کے ماتحت آتا تھا) اس عبارت کا منشاء سوائے اس کے کچھ نہیں کہ...... حضرت مسیح موعود کو نبیوں اور رسولوں میں شامل کرنے سے صاف طور پر میاں صاحب کا یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی اور رسول مانتے ہیں نہ مجازی۔

(عقاید مولوی محمد علی صاحب ص ۷۸، مولفہ محمد اسمعیل صاحب قادیانی)

صفحہ 777

(۶۷) عظیم الشان نبی

اب جو جناب میاں (محمود احمد) صاحب ان سب بیانات کے خلاف مسیح موعود (مرزا صاحب) کو نبی مان رہے ہیں اور آپ کو کامل نبی اور عظیم الشان نبی لکھ رہے ہیں۔ ان کا اختیار ہے۔ حضرت (مرزا) صاحب کو وہ جو چاہیں مانا کریں خدا کا نبی مانیں، عظیم الشان نبی مانیں، کامل نبی مانیں، محمد رسول اللہ سے افضل نبی مانیں، کچھ مانیں کون روک سکتا ہے آخر دنیا میں مسیح اسرائیلی کو خدا ماننے والے بھی تو موجود ہیں۔ وہاں مسیح اسرائیلی کو نبوت کے درجہ سے بڑھا کر خدا بنایا گیا۔ یہاں مسیح محمدی کو بھی امامت کے درجہ سے بڑھا کر نبی بنایا گیا۔

(المہدی نمبر۴-۵، ص ۷، مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

(۶۸) میاں صاحب کا عقیدہ

قادیانی (میاں محمود احمد صاحب) کا عقیدہ جس کی رو سے تمام اہل قبلہ سوائے احمدیوں کے کافر قرار دئے گئے ہیں ایک مشہور اور مسلم امر ہے۔ تاہم بطور نمونہ چند ایک حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔ یہ مذہب اپریل ۱۹۱۱ء سے مروج ہوا جب میاں صاحب نے رسالہ تشحیذ الاذہان میں ایک مضمون بعنوان ”مسلمان وہی ہے جو خدا کے سب ماموروں کو مانے“ لکھا اور اس میں تمام ان لوگوں کو جو حضرت مسیح موعود کے دعوے کو نہ مانیں خواہ وہ آپ کو برا کہیں اور کافر جانیں یا اچھا کہیں اور راست باز انسان تسلیم کریں خواہ ان کو دعویٰ سے واقفیت ہو یا نہ ہو اور تبلیغ پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو کافر قرار دیا۔ چنانچہ رسالہ مذکورہ کے صفحہ (۱۳۹) پر اس گروہ کو جن کو تبلیغ بھی نہیں پہنچی کافر قرار دے کر جملہ مسلمانان عالم پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ ”تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن پر تبلیغ نہیں ہوئی ان کا حساب خدا کے ساتھ ہے ہم نہیں جانتے کہ تبلیغ ان کو ہوچکی ہے یا نہیں۔ کیونکہ کسی کے دلی خیالات پر آگاہ نہیں اس لئے چونکہ شریعت کی بنا ظاہر پر ہے۔ ہم ان کو کافر کہیں گے۔“ اور صفحہ ۱۴۱ پر ہے :

”پس نہ صرف اس کو جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعویٰ کو نہیں مانتا کافر قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل سے سچا قرار دیتا ہے اور زبان سے بھی

صفحہ 778

آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے۔“ کتاب آئینہ صداقت کے صفحہ ۳۵ پر لکھتے ہیں: ”یہ تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی) صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں اول یہ کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی آیت اسمہ احمد کی پیش گوئی مذکورہ قرآن کریم (سورہ صف آیت ۶) کے مصداق ہیں سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقاید ہیں“

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا رسالہ رد تکفیر اہل قبلہ ص ۱۲ تا ۱۴)

(۶۹) واقع میں

لکھنؤ میں ہم (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے اس نے کہا کہ (وہ) آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی باتیں کر رہے تھے میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقع میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہو گیا۔

(انوار خلافت ص ۹۳، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۷۰) گورکھ دھندہ

جناب میاں (محمود احمد) صاحب لاکھ کوشش کریں اور لاکھوں صفحوں کی کتابیں نبوت مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے لکھا کریں۔ مسیح موعود (مرزا صاحب) کا واقعی نبی ہونا یا کامل نبی ہونا تو کہاں سے ثابت ہو گا آخر نتیجہ ان تحریرات کا یہ ضرور ہو گا کہ فرقہ محمودیہ اس گورکھ دھندے میں پڑ کر آخر قرآن اور حدیث کو خیر باد کہہ دے گا اور مسیح موعود کی نبوت کا مسئلہ بھی تثلیث کی طرح ایک لایحل عقدہ ہو جائے گا۔

(الہدیٰ نمبر ۴۔۵، ص ۶، مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

(۷۱) ضلالت اور فساد کے موجد

صفحہ 779

وہ قادیانی لوگ جو میاں محمود احمد صاحب کو نبوت اور تکفیر مسلمین کے عقیدوں میں غلطی پر سمجھتے ہیں اور پھر انہیں مصلح موعود بھی مانتے ہیں۔ ان کی دماغی حالت واقعی قابل رحم ہے ان کی کھوپری کا کسی ڈاکٹر سے امتحان کروانا چاہیے جیسا کہ ایک دفعہ حضرت مولانا نورالدین مرحوم نے ایک عیسائی کے سر کو پکڑ کر ادھر ادھر سے دیکھنا شروع کیا عیسائی گھبرا کر بولا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں فرمانے لگے میں تمہاری کھوپری کی بناوٹ کو دیکھ رہا ہوں جس کے اندر ایسا عجیب و غریب مسئلہ سما گیا کہ تین برابر ایک کے اور ایک برابر تین کے۔ اسی طرح جو قادیانی یہ مانتے ہیں کہ میاں محمود احمد صاحب مسئلہ نبوت اور عقیدہ تکفیر جمیع المسلمین میں غلطی پر ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ میاں محمود احمد صاحب نے اجرائے نبوت جیسا ضلالت کا عقیدہ ایجاد کر کے اسلام کے مسلمہ عقیدہ ختم نبوت کو فنا کر کے رکھ دیا ہے اور تمام جہاں کے کلمہ گو مسلمانوں کو خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ناحق کافر ٹھہرایا ہے اور یہ دونوں عقیدے پرلے درجے کی ضلالت کے مترادف ہیں تو فرمائیے اس قدر ضلالت اور فساد کے موجد کو پھر مصلح موعود بھی ماننا دماغ کی خرابی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح جلد ۲۴ نمبر ۵۶ مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۷۲) عقائد خصوصیہ محمودیہ

آخر دنیا میں کوئی اصول ہونا چاہیے اور دیکھنا تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی بعثت کو ماننا اور اس پر ایمان لانے کو شرائط ایمان میں سے مان کر تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر خارج از اسلام قرار دے دینا یہ اصلاح ہے یا فساد ہے اگر اسے اصلاح سمجھتے ہو تو پھر میاں محمود احمد کو مصلح موعود ضرور مان لو کیونکہ یہ ان غلطیوں کی جو بانی اسلام سے شروع ہو کر حضرت مسیح موعود تک برابر چلی آئیں ایسی عظیم الشان اصلاح ہے جس کی نظیر تاریخ اسلام میں تو ملتی نہیں البتہ بابیوں اور بہائیوں میں ملتی ہے۔ پس اتنی بڑی ضلالت و فساد کی جس شخص نے اصلاح کی اسے نہ مصلح موعود کہو گے تو اور کیسے کہو گے اگر یہ عقائد خصوصیہ محمودیہ بجائے خود ضلالت و فساد ہیں اور اسلام کے لئے بڑا بھاری فتنہ ہیں۔ تو پھر اتنی بڑی ضلالت و فساد کے موجد کو مصلح موعود کہنا اپنی عقل پر

صفحہ 780

ماتم کرتا۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۲۴، نمبر ۵۶، مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۷۳) تقریباً

وقت آئے گا بلکہ تقریباً آ گیا ہے کہ میاں (محمود احمد) صاحب اپنے عقائد خصوصی کی تبلیغ بابیوں اور بہائیوں کی طرح سینہ بہ سینہ کیا کریں گے اور حسن بن صباح کے فدائیوں کی طرح جو فدائی جتنا زیادہ اپنے اخلاص اور فدائیت کا ثبوت دیتا جائے گا۔ اتنا ہی صحیح عقائد کا انکشاف اس پر بیش از بیش ہوتا جائے گا۔

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۵ فروری ۱۹۳۳ء)

(۷۴) ابلیس

ابلیس اور شیطان نہ تو فاعل بالارادہ ہستیاں ہیں اور نہ انسانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مکلف ہیں۔ بلکہ وہ بدی کے محرکات ہیں۔ جیسے ملائکہ نیکی کے محرکات۔ پس ان کے متعلق رحمت اور غضب کے الفاظ بولنے ہی غلط ہیں۔ غضب ہمیشہ فاعل بالارادہ چیزوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت انسان کی ترقی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں۔

(مکتوب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷، نمبر ۷۱،

ص ۸، مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۳۰ء)

(۷۵) تحقیقات

ہماری تحقیقات تو یہ ہے کہ سب کے سب برش سور کے بالوں کے نہیں ہوتے۔ باقی رہا سور کے بالوں کا استعمال یہ شرعی لحاظ سے جائز ہے۔ کیونکہ سور کا گوشت حرام کیا گیا جو کھانے کی چیز ہے اور بال کوئی کھاتا نہیں۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۶، نمبر ۵،

ص ۶، مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۳۸ء)

(۷۶) ہندو اور سکھ

صفحہ 781

حضور (میاں محمود صاحب) نے جواب میں لکھوایا : آپ پروفیسر صاحب سے یہ کہیں کہ ہندوستان میں ایسی مشرکات جن سے نکاح ناجائز ہے۔ بہت کم ہیں میجارٹی ایسے لوگوں کی ہے جن کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے اس مسئلہ پر عمل کرنے میں زیادہ دقتیں نہیں۔ سوائے سکھوں اور جینیوں کے۔ عیسائیوں کی عورتوں اور ان لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر ایمان رکھتے ہیں نکاح جائز ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷‘ نمبر ۶۵‘ ص ۸‘ مورخہ ۱۸ فروری ۱۹۳۰ء)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) فرمایا۔ ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔

(ڈائری میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰ نمبر ۵‘ ص

۵‘ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)

(۷۷) اس کے معنی ہاتھی

دیکھو اس شخص کی اولاد کو جس کی ساٹھ یا اسی تصنیفات غیر مذاہب کے مقابلہ میں ہوں جو سلطان القلم ہو...... آج ولایت جاکر اخبارات میں چھپتا ہے کہ میاں (محمود احمد) صاحب نے کہا کہ عیسائی کافر نہیں۔ یہ ولایت کے اخباروں نے ان کی طرف منسوب کیا ہے کہ عیسائیوں کے متعلق انہوں نے کہا۔ وہ (عیسائی) کافر نہیں مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے اس کی تردید نہیں کی۔ اگر حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے تو تم نے گویا عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ ان کا مقابلہ کیا کرنا ہے۔

(تقریر مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور اخبار پیغام صلح ۷ جنوری ۱۹۲۵ء)

آپ کا یہ اعتراض پڑھ کر مجھے پہلے سے بھی زیادہ تعجب ہوا اول اس لئے کہ کیا INFIDELS قرآن و حدیث کا لفظ ہے۔ یا کوئی شرعی اصطلاح ہے جو کہ اسلام کے منکرین کے حق میں بطور تمیز کے استعمال ہوئی ہے اور حضرت اقدس (میاں محمود احمد صاحب) نے اس امتیاز کو اب اٹھا دیا ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر غصہ کیسا۔ یہ ایک انگریزی کا لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے معنی ہاتھی کے ہوں۔ پس اگر حضرت (میاں

صفحہ 782

محمود احمد صاحب) عیسائیوں کو ہاتھی کہنے سے انکار کریں تو اس سے کون سا شریعت پر حرف آگیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳ نمبر ۸۰‘ ص ۶‘ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۲۵ء)

(۷۸) قادیانی تفسیر

آخر اس افواہ کی تصدیق ہو گئی جو ہم سال بھر سے سن رہے تھے کہ خلیفہ صاحب قادیان جناب میاں محمود احمد صاحب نے کوئی اردو تفسیر لکھی ہے۔ جس کی اشاعت اندر ہی اندر مخفی طور پر ان کے مریدان خاص میں ہو رہی ہے۔ اور اس غضب کی پردہ داری ہے اور رازداری کا یہ عالم ہے کہ خلیفہ صاحب کا حکم ہے کہ صرف خریدنے والا پڑھے۔ ایک ہی گھر کے رہنے والے ایک ہی خاندان کے مختلف ممبر خواہ وہ محمودی ہی کیوں نہ ہوں اس تفسیر پر نظر نہیں ڈال سکتے۔ یہاں تک تاکید ہے کہ اگر کوئی خریدار اس حد سے تجاوز کرے گا یعنی وہ تفسیر کسی اور کو دکھائے گا تو فوراً خلیفہ صاحب کے زیر عتاب آکر آئندہ کے لئے بائیکاٹ اور راندہ دربار خلافت ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔

بہت سے دوستوں نے تو یہ نتیجہ نکالا کہ مدنظر فقط تجارت ہے۔ جب خریدار کے سوا کسی دوسرے کو اس تفسیر کا پڑھنا حرام اور موجب خذلان ہے تو لازمی بات ہے کہ ایک ایک محمودی بلکہ ہر ایک محمودی خاندان کا ایک ایک فرد اس آسمانی آب حیات سے مستفیض ہونے کے لئے اسے خریدے گا اور کتاب کثرت سے بکے گی۔۔۔۔۔۔

لیکن فقط اتنی سی بات سے معمہ حل نہیں ہوتا۔ کیا وجہ ہے کہ وہ اپنی جماعت سے باہر تاحال اس تفسیر کی اشاعت کی جرأت نہ کرسکے۔ اس کے حل کرنے کے لئے ذرا بابیوں اور بہائیوں کے حالات پر جن سے اس فرقہ محمودیہ کو ایک رنگ میں شدید مماثلت ہے۔ نظر ڈالو۔ تم دیکھو گے کہ بابی اپنی آسمانی کتاب ”البیان“ اور بہائی اپنی آسمانی کتاب ”کتاب اقدس“ کی اشاعت ہمیشہ مخفی طریق پر کرتے ہیں اور جب تک کسی کے ایمان و اخلاص پر پورا پورا یقین نہ ہو وہ ان کتابوں کو قطعاً کسی کو نہیں دکھاتے۔ ہر ایک عقلمند اسے ان کی کمزوری کا ایک بدیہی نشان سمجھتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ کتابیں اپنے اندر کوئی علم و حکمت‘ توحید و معرفت کا خزانہ رکھتی ہوتیں تو قرآن کریم کی طرح دھڑلے سے میدان

صفحہ 783

میں آتیں۔۔۔۔۔۔

لیکن جب اندر خالی محض ڈھول کا پول ہو اور منہ سے لاف و گزاف بہت ہو تو خیریت اور عزت اسی میں نظر آتی ہے کہ اصل چیز کو دکھانے سے احتراز کیا جائے تا رونق تھیں بجائے مانند۔ اسی طرح ہمارے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے بھی تفسیر نویسی کے متعلق لاف و گزاف میں کچھ کمی نہیں کی ہے۔ جب دیکھو مریدوں کے مجمع میں تحدی ہو رہی ہے کہ دنیا کا کوئی عالم میرے مقابلہ میں تفسیر نہیں لکھ سکتا اور میں بڑے سے بڑے عالم کو اپنے مقابلہ پر بلاتا ہوں اور کوئی نہیں آتا۔ نہ معلوم ان کی تحدی کو ان کے منافق مرید کیا سمجھتے ہیں جن کا جال بقول خلیفہ صاحب قادیان خدا جانے کیوں تمام قادیان میں بری طرح بچھا ہوا ہے۔ چاہیے تھا کہ خلیفہ صاحب کے قریب سے قادیان میں ایمان اور اخلاص پھیلتا۔ یہ منافقت کا روز ترقی پذیر ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۲۲‘ نمبر ۲۷‘ ص ۵‘ مورخہ ۳ مئی

۱۹۳۴ء)

کیا آپ کو علم نہیں جناب میاں (محمود احمد) صاحب نے تمام دنیا کو از راہ لاف زنی اپنے مقابل تفسیر نویسی کے لئے بلایا اور کہا کہ خدا تعالیٰ مجھے تمام معارف خود بتائے گا اور سب کے سب معارف ایسے ہوں گے جو پہلی تفاسیر میں موجود نہ ہوں گے۔ مگر جب مولوی ثناء اللہ بالمقابل ڈٹ گیا اور یہاں تک میاں صاحب کو اجازت دی کہ آپ مقابلہ کے وقت جو کتاب چاہیں ساتھ رکھ لیں میں سادہ کاغذ اور قلم لے کر مقابل ہوں گا۔ تو بھی جناب میاں صاحب خاموش ہی رہے اور اب تک مولوی ثناء اللہ شرمندہ کر رہا ہے۔

(مضمون از مولوی عمر الدین شملوی صاحب قادیانی لاہوری مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور

جلد ۲۲‘ نمبر ۳۷‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۹ جون ۱۹۳۴ء)

(۷۹) دعا کے رقعے

میں نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے کہ دعا کے لئے رقعے قبل از وقت مجھے دے دینے چاہیں۔ اکثر رقعے تو مجھے جمعہ تک مل گئے تھے اور ان کو میں نے جمعہ سے عصر تک پڑھ بھی لیا ہے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتا گیا ہوں ان میں سے بعض کے نام بھی مجھے یاد

صفحہ 784

ہیں۔ ایک دفعہ ان کے لئے دعا ہو چکی ہے اور پھر بھی مجموعی دعا میں ان کو شامل کروں گا۔ لیکن بعض رقعے مجھے عصر کے بعد ملے ہیں۔ انہیں میں اس وقت پڑھ نہیں سکتا۔ لیکن پھر بھی اجمالی طور پر ان کے لئے دعا کروں گا‘ رقعے مجھے ایسے وقت میں مل جانے چاہیے کہ میں درمیانی عرصہ میں انہیں پڑھ سکوں اور یاد رکھ سکوں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۴ مارچ

۱۹۳۰ء نمبر ۷۱‘ جلد ۱۷‘ ص ۱۳)

(۸۰) نماز کا وقت

مجھے بعض موذنوں سے شکایت ہوتی ہے کہ جب نماز کا وقت آتا ہے اور وہ مجھے اطلاع دینے آتے ہیں تو زور زور سے کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ السلام علیکم۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ جی نماز کا وقت ہو گیا۔ ایک بج گیا۔ اب ڈیڑھ بج گیا۔ میں اطلاع دینے آیا ہوں اور ان کلمات کا وہ اس قدر تکرار کرتے ہیں اور ان پر اتنا زور دیتے ہیں کہ میری بات سنتے ہی نہیں۔ آخر وہ چپ کریں تو میری آواز سنیں۔ جب وہ چپ ہی نہیں کرتے تو میری آواز کس طرح سن سکتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات میں اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا آواز دیتا ہوں اور وہ نہیں سنتے پھر میں اٹھ کر جواب دیتا ہوں تو پھر بھی نہیں سنتے پھر قریب کے کمرہ میں آکر جواب دیتا ہوں تو بھی نہیں سنتے۔ پھر برآمدہ میں آکر جواب دیتا ہوں پھر بھی میری آواز نہیں سنتے اور مسجد میں آکر کہہ دیتے ہیں کہ اطلاع دینے گیا تھا۔ مگر کوئی جواب نہیں ملا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پتہ نہیں لگا۔ یہ حالت اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود شور مچا رہے ہوتے ہیں اور میری آواز سننے کی کوشش نہیں کرتے ہیں ہمیشہ انہیں نصیحت کیا کرتا ہوں کہ جب وہ مجھے آواز دیں تو پھر میرے جواب کو بھی متوجہ ہو کر سنا کریں (پابندی سے وقت پر نماز پڑھی جائے تو موذنوں کے شور و شغب کی نوبت ہی نہ آئے۔ للمولف)

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳‘

نمبر ۲۹۹‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۵ جون ۱۹۳۶ء)

(۸۱) خط و کتابت

صفحہ 785

کئی لوگ ہیں جو اس قسم کے خطوط بھیجتے ہیں کہ لوگ یوں کہتے ہیں یا یوں ہو رہا ہے اور پھر کہتے ہیں۔ ان کے خط پر توجہ نہیں کی گئی۔ حالانکہ جب وہ کسی کا نام ہی نہیں لکھتے تو توجہ کس طرح کی جائے۔ اگر انہوں نے واقعہ میں کسی سے وہ بات سنی تھی تو سنانے والے کا نام کیوں نہ یاد رکھا۔ یا اگر کسی کو وہ بات کرتے دیکھا تھا تو اس کا نام کیوں نہ لکھا۔ پس اس قسم کی رپورٹ کرتے وقت ضروری ہے کہ لکھا جائے فلاں کو یہ بات میں نے کرتے دیکھا یا فلاں نے مجھے یہ بات سنائی اگر یہ ڈر ہو کہ اس کا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے تو میں ایسے لوگوں کو تسلی دیتا ہوں کہ کوئی خط میرے پڑھے بغیر اور میرے خود بھیجے بغیر دفتر میں نہیں جاتا کوئی خط خواہ اس میں کوئی راز کی بات ہو یا نہ ہو۔ دعا کے متعلق ہو یا کسی اور امر کے متعلق بغیر میری نظر سے گزرے اور بغیر میری مرضی کے دفتر میں نہیں جاتا۔

اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض دفعہ بعض خطوط میں ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ اگر وہ دفتر میں چلی جائیں تو موجب ابتلاء ہو سکتی ہیں۔ پس اول تو میں یہ تسلی دلاتا ہوں کہ کوئی خط کسی اور کے ہاتھ میں نہیں جاتا جب تک کہ میں اس کا جانا مناسب نہ سمجھوں لیکن اس کے علاوہ اس بارے میں ایک اور گر بھی بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ لکھنے والا یوں لکھ سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو میں نے یہ بات کرتے یا بات کہتے سنا ہے لیکن چونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے اس لیے اگر آپ نام پوچھیں گے تو بتا دیئے جائیں گے۔ ایسی صورت میں اگر بھولے سے کوئی خط دفتر میں چلا بھی جائے گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ممکن سے ممکن احتیاط کی جاتی ہے تاہم اگر فرض کر لیا جائے ہزاروں میں سے کوئی ایک مثال ایسی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی اطلاع دینے والا اس سے ڈرتا ہے تو وہ یوں لکھے کہ مجھ سے اس بارے میں جو کچھ پوچھا جائے گا بتا دوں گا کہ اس نے یونہی گپ نہیں لکھی بلکہ واقعہ لکھا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۱

فروری ۱۹۳۰ء نمبر ۶۶ جلد ۱۷)

(۸۲) سچائی کی تلوار

صفحہ 786

خدا تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے میرا نام مظہرالحق رکھا ہے اور یہی سچائی کی تلوار ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھے دی...... نہ اس تلوار سے جو خدا تعالیٰ نے مجھے نہیں دی۔ مجھے خدا تعالیٰ نے لوہے کی تلوار نہیں دی بلکہ لوہے کی تلوار والا جسم بھی نہیں دیا۔ ہمیشہ بیمار رہتا ہوں۔ مجھے جو تلوار دی گئی ہے وہ سچائی اور صداقت کی تلوار ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر

۱۹۸‘ ص ۷‘ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۳۵ء)

اصل واقعہ صرف یہ ہے کہ لڑائی ہوئی اور معلوم نہیں۔ کس کے ہاتھ سے ایک آدمی مارا گیا اور ہمیں افسوس ہے کہ مارا گیا۔ کیونکہ بظاہر اس کا کوئی اتنا قصور معلوم نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ اس نے (یعنی محمد حسین صاحب نے) مستریوں (یعنی مولوی عبدالکریم صاحب وغیرہ) کی ضمانت دی ہوئی تھی...... پس ہمیں اس کے (یعنی محمد حسین صاحب کے) مارے جانے پر افسوس ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۹‘ نمبر ۸‘

ص ۷‘ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۳۱ء)

سوال: محمد حسین جو قتل ہوا۔ کیا وہ عبدالکریم مباہلہ والے کا ضامن تھا۔ جواب: مجھے معلوم نہیں۔

(عدالت اسپیشل مجسٹریٹ ضلع گورداسپور میں ۲۳ مارچ ۱۹۳۵ء کو میاں محمود احمد صاحب

خلیفہ قادیان کا حلفی بیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۳۲‘ ص ۳ مورخہ ۲۶

مارچ ۱۹۳۵ء)

جب عدالت میں مرزا (محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) کا اس معاملہ کے متعلق بیان لیا گیا تو اس نے بالکل مختلف کہانی بیان کی...... لیکن دستاویز ڈی۔ زیڈ نمبر ۴۰ اس کی تردید کرتی ہے اور مرزا (محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) کی نیت اور اس کے رویہ کا پتہ اس اظہار خیالات سے بالکل عیاں ہے جو اس نے (دستاویز) ڈی زیڈ میں کیا ہے۔

(مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے مقدمہ میں سیشن جج گورداسپور کا فیصلہ واقع ۶ جون

۱۹۳۵ء مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۱۹۱‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۵ جون ۱۹۳۵ء)

ہر ایک مخلص احمدی اور سچے مسلم کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہو گا کہ

صفحہ 787

جناب میاں (محمود احمد) صاحب نے سچائی کو چھپانے کے لئے کیا کیا غلط باتوں سے کام لیا ہے اور کس طرح دلیری کے ساتھ اس بے بنیاد جھوٹ کو پیش کیا ہے کہ براہین (احمدیہ کی تصنیف) کے وقت میں وہ (یعنی مرزا صاحب) نبی اور مسیح موعود تو تھے پر براہین کے دس بارہ برس کے بعد ان کو اپنا مسیح موعود ہونا معلوم ہوا اور مسیح موعود ہونے کے پندرہ سال بعد ان کو اپنا نبی ہونا معلوم ہوا اور اتنے لمبے عرصہ تک باوجودیکہ بار بار وحی الٰہی ان کو نبی بتاتی تھی۔ مگر اپنی وحی سمجھنے میں ان کو غلطی لگی پورا فہم حاصل نہیں ہوا ٹھوکر کھائی۔

(الہدیٰ نمبر ۴، ۵ ص ۴۳، مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

مجھے یہ ہرگز امید نہ تھی کہ الفضل کی نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ وہ ان جھوٹے ہتھیاروں پر اتر آئے گا کہ واقعات کو توڑ مروڑ کر صریح آیات قرآنی کے خلاف لوگوں کے سامنے پیش کرے گا...... الفضل کا احمدی ہو کر پھر ایوان خلافت کا سرکاری اخبار ہو کر واقعات کو غلط رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ایسا امر ہے جس سے احمدیت کی پیشانی عرق ندامت سے تر ہو جاتی ہے اور حق پرستی کی آنکھ سے لہو ٹپکتا ہے۔

(مضمون ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی لاہوری منقول از الہدیٰ نمبر ۲، ۳ ص ۲۹، مولفہ

حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

(۸۳) انجام خراب

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہوگا اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔

(برکات خلافت مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان بابت ۱۹۱۴ء ص ۵۶)

(۸۴) چپراسی کا عہدہ

(مسلمان) اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس کے فضل سے انگریزوں کی معرفت ان کا بہت کچھ کھویا ہوا واپس ملا۔ ان کا دین بھی جا چکا تھا اور دنیا بھی۔ دونوں قسم کی آزادیاں اور دونوں قسم کے حقوق ضائع ہو چکے تھے۔ انگریزوں نے دین میں تو ان کو کامل طور سے آزاد کر دیا اور دنیا میں بھی ان کو بہت کچھ آزادی دی۔ پس ان کو تو چاہئے تھا کہ ان کے

صفحہ 788

ممنون ہوتے نہ کہ نکتہ چین بنتے جو لوگ دین کی قدر جانتے ہیں ان کے نزدیک تو انگریز مذہبی آزادی دے کر اگر دنیاوی عہدوں میں سے ایک چپراسی کا عہدہ بھی ہندوستانیوں کو نہ دیتے تو پھر بھی انہیں وجہ شکایت نہ ہوتی۔ کیونکہ محسن ہر حال میں شکریہ کا مستحق ہوتا ہے اور انگریز ہمارے محسن ہیں۔

(برکات خلافت مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان بابت ۱۹۱۴ء ص ۶۶)

(۸۵) دینی مقاصد

غرض سیاسیات میں مداخلت کوئی غیر دینی عمل نہیں بلکہ یہ بھی ان دینی مقاصد میں شامل ہے جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضرورت اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔۔۔۔۔۔ پس قوم کے تمام پیش آمدہ حالات کو مد نظر رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرنا اور ملکی سیاسیات میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں گذشتہ پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگا رہے ہیں۔ مبارک ہیں وہ جو سمجھیں اور فلاح پائیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰‘ نمبر ۷۶‘ ص ۸‘ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء)

(۸۶) مسجد کی بات

اس لئے جب کانپور کی مسجد کا واقعہ ہوا تو میں نے حکومت کی تائید کی اور اس پر مخالفوں کی طرف سے بہت گالیاں کھائیں۔ لاہوری فریق نے بھی مجھے اس زمانہ میں بہت سی گالیاں دیں۔ اس وجہ سے کہ میں نے کہا تھا کہ غسل خانہ مسجد کا حصہ نہیں اور آج بھی میرا یہ ہی عقیدہ ہے۔ آج بھی اگر کانپور کی مسجد جیسا کوئی واقعہ ہوتا تو میں حکومت کا ساتھ دیتا۔ لیکن یہاں (مسجد شہید گنج لاہور کے سلسلہ میں) بالکل مختلف معاملہ ہے۔ یہاں مسجد گرائی گئی ہے ایسی جگہ گرائی ہے جہاں خواہ مخواہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو۔ اور ایسی صورت میں گرائی گئی ہے کہ اس کا علاج ممکن تھا۔ پس میری یہی رائے ہے کہ اس معاملہ میں حکومت نے سخت غلطی کی ہے اور یہ بھی میں نے اس وجہ سے کہا کہ حکومت نے بلاوجہ حملہ کر کے اور جھوٹے اتہام لگا کر مجھے مجبور کر دیا ہے۔ حکومت سے

صفحہ 789

میری مراد وہی چند ایک افسر ہیں جو بلاوجہ ہمیں دق کر رہے ہیں۔ ورنہ حکومت میں اب بھی ایسے افراد ہیں جو ان باتوں کو برا مناتے ہیں۔

(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳، نمبر ۶۹،

ص ۷، مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۳۵ء)

(۸۷) سرکاری اعزاز

ہز رائل ہائنس پرنس آف ویلز کی آمد لاہور پر گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں شہزادہ موصوف کا استقبال کرنے کے لئے جو چند معزز روسا ہز ایکسیلنسی گورنر پنجاب نے خاص طور پر منتخب فرمائے ہیں اور بذریعہ اپنے مراسلہ خاص کے ان کو لاہور میں دعوت دی ہے۔ ان میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ (میاں محمود احمد صاحب) کا بھی اسم گرامی ہے۔ اس لئے گو حضور عام پبلک مواقع پر تو شامل نہیں ہوا کرتے مگر تاج برطانیہ کے ساتھ جماعت حقہ احمدیہ کے دلی خلوص اور وفاداری اور موجودہ فتنہ ترک موالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضور گورنمنٹ عالیہ کے منشاء کے مطابق انشاء اللہ العزیز ۲۳ فروری ۱۹۲۲ء کو لاہور تشریف لے جائیں گے اور غالباً تین چار یوم تک وہاں قیام فرمائیں گے۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۶۵)

(۸۸) اعزاز کی مستحق

ایک صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح ثانی (میاں محمود احمد صاحب) کو لکھا کہ۔ ایک اطلاع شائع ہوئی ہے کہ پرنس ویلز ولایت پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو جنہوں نے خدمات کی ہیں خطابات عطا فرمائیں گے۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا ہے کہ گورنمنٹ اگر مجھ کو کوئی خطاب دے گی تو وہ میری ہتک کرے گی۔ اس موقعہ پر اگر گورنمنٹ آپ کو ان خدمات کے صلہ میں جو آپ نے فرمائی ہیں کوئی خطاب عطا فرمائے تو کیا آپ قبول فرمائیں گے۔۔۔۔۔ حضور (میاں محمود احمد صاحب) نے اس کا حسب ذیل جواب لکھایا۔

کسی کا مقولہ ہے آب ندیدم موزہ از پا کشیدم۔ مومن کو اس قسم کی دور کی باتیں نہیں سوچنی چاہیں ہم نے گورنمنٹ کی کون سی ایسی خدمت کی ہے کہ جس کے بدلہ میں

صفحہ 790

گورنمنٹ ہمیں خطاب دینے کا ارادہ کرے خدمات کرنے والے تو وہ شیروں کی کچھار میں پڑے ہوئے احمدی ہیں جو وفاداری کے لئے ہر طرح کی تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ پس خدمات جماعت کی ہیں نہ کہ میری اور اعزاز کی مستحق تمام جماعت ہے نہ کہ میں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰‘ نمبر ۲۲‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۸ ستمبر ۱۹۲۲ء)

(۸۹) فرق مراتب

میں چھوٹا تھا کہ میں نے رویا دیکھا۔ ایک مصلیٰ ہے۔ جس پر میں نماز پڑھ کے بیٹھا ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی (یعنی حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔ للمولف) کی ہے اور اس کا نام منہاج الطالبین ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ تک پہنچنے والوں کا رستہ۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر رکھ دیا۔ پھر یک دم خیال آیا کہ یہ کتاب حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (یعنی حکیم نورالدین صاحب قادیانی کو۔۔ للمولف) دینی ہے اس لئے میں اسے ڈھونڈھنے لگا۔ مگر وہ ملتی نہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳‘ نمبر

۵۵‘ ص ۸‘ مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء)

(۹۰) حیرت ہے

ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اس گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ وہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ اس گورنمنٹ سے ہمیں کون سا زائد فائدہ ملتا ہے۔ جتنا کہ باوجود مخالف کے مسٹر گاندھی اور مسٹرز محمد علی و شوکت علی اٹھا رہے ہیں وہی میں بھی لے رہا ہوں۔ اس لئے میں کیوں خوشامد کرتا بلکہ اگر دیکھا جائے تو میں بعض اوقات نقصان اٹھاتا ہوں اور مسٹرز محمد علی و شوکت علی نہیں اٹھاتے اس لئے کہ گورنمنٹ میرے متعلق خیال کرتی ہے کہ اس کے ساتھ تھوڑے آدمی ہیں اور محمد علی و شوکت علی کے ساتھ زیادہ ہیں وہ ان سے ڈر جاتی ہے۔ لیکن ہمارے حقوق کو بعض اوقات پامال کر دیتی ہے۔ پس ہمیں کوئی زائد فائدہ نہیں مل رہا ہے جس کے لئے ہم خوشامد کریں ہمیں گورنمنٹ کے حکام سے بھی بعض اوقات نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ وہ لوگ آخر ہندو یا مسلمان ہی

صفحہ 791

ہوتے ہیں اور چونکہ ہمارے خیالات ان کو نئے معلوم ہوتے ہیں طبعاً وہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸‘ نمبر ۷۶‘

۷۷‘ مورخہ ۱۱‘ ۱۴؍ اپریل ۱۹۲۱ء)

(۹۱) جب یا آج

جب یورپ میں جنگ جاری تھی اور توپیں چلتی تھیں اور سرنگیں اڑتی تھیں اس وقت میاں (محمود احمد) صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے کندھوں پر اگر خلافت کا بارگراں نہ ہوتا تو میں خود جاکر جنگ میں شامل ہوتا مگر کیا کروں خلافت کا بوجھ ہلنے نہیں دیتا۔ یا آج جب ویمبلے کی نمائش اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ نظر کے سامنے ہے اور پیرس و فرانس کی آرائش و حسن سوئٹزرلینڈ کے قدرتی مناظر، اٹلی کی تاریخی سیرگاہیں وینس و نیپلز بندر گاہیں نگاہوں میں بسی ہوئی ہیں اور اہرام مصری نظر آرہے ہیں تو وہی خلافت کا بوجھ اس قدر ہلکا ہوگیا کہ میاں صاحب مع اسٹاف خلافت کے یورپ کو اڑے چلے جارہے ہیں۔

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۹۲) دمشق و یورپ

آج فضل عمر (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) بھی دمشق و یورپ جارہے ہیں درجن بھر تو اسٹاف ہے۔ ضرورت یا عدم ضرورت کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ان اخراجات سفر و قیام یورپ کا خیال ہی نہیں۔ خیال ہے تو یہ ہے کہ نمود و نمائش مکمل ہو۔ کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ آرام و آسائش کے کل سامان مہیا ہوں۔ قوم کا روپیہ تباہ ہوتا ہے تو ہو۔ (میاں محمود احمد صاحب) ولیم فاتح انگلستان ہونے کے مدعی ہیں۔ انگلستان فتح ہوگیا یا نہیں یہ اللہ کو علم ہے بیج بوئے جارہے ہیں۔ ہزارہا روپے تصدق ہورہے ہیں۔ یورپ اس خلافت کی شان و شوکت کو دیکھ کر متحیر و متاثر ہوگا۔ کیا جناب فضل عمر کی اس نمائش و کبریائی کا حضرت عمرؓ کی فروتنی و بے نفسی سے کوئی مقابلہ ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

صفحہ 792

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۲۰ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۹۳) قادیان کے پیر جی

ہمارے قادیان کے پیرجی ہر ادا میں یہی کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ سیروسیاحت کو دل چاہا تو مذہب کو آڑ بنا لیا اور بے چارے مریدوں کو طرح طرح کی طفل تسلیاں دیں کہیں کہا کہ دیکھو شاہ جہاں کی بیوی کا جب مقبرہ بننے لگا تو محض یہ دیکھنے کے لئے کہ بادشاہ اس صرف زر کثیر کے لئے تیار بھی ہے انجینئر نے انہیں ایک لاکھ روپیہ کے ساتھ کشتی میں بٹھایا اور چلتے چلتے سارا روپیہ دریا میں بکھیر دیا۔ پیرجی کو بھول گیا کہ نہ وہ شاہ جہاں ہیں نہ وہ بے چاری عورتیں جنہوں نے زیورات بیچ بیچ کر برلن مسجد کے لئے چندہ دیا تھا جسے آپ اب بیچ کر روپیہ اس شاہ جہانی طریق سے سمندر کی نذر کر رہے ہیں۔ پھر اس رقم چالیس ہزار کی قدر و قیمت مریدوں کو نظر میں گھٹانے کے لئے یوں گہر افشانی فرمائی کہ انگلستان کا ایک امیر جہاں آپ جارہے ہیں بیس بیس ہزار میں کتا خریدتا ہے اور تیس تیس ہزار میں گھوڑا۔ گویا چالیس ہزار جو آپ لے چلے ہیں کوئی بات ہی نہیں اور یہ خیال نہیں آیا کہ یہ بے چارے ہندوستانیوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی ہے۔ جسے یوں ضائع کرنا ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جسے خود مریدوں کی آنکھ سے بھی پیرجی کو چھپانا مشکل ہی ہوا۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح مورخہ ۲۳ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۹۴) اگر پدر نتواند پسر تمام کند

حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) ۱۹۲۴ء میں دمشق تشریف لائے اور منارۃ البیضاء کے پاس دمشق کے دروازہ میں آپ نے نزول فرمایا تا وہ حدیث پوری ہو جس میں رسول اللہ صلعم نے فرمایا ہے کہ مسیح دمشق کے دروازہ میں منارہ کے پاس نزول کرے گا چنانچہ سنٹرال ہوٹل جس میں آپ نے قیام فرمایا وہ دمشق کا دروازہ ہی ہے اور مسجد منجقدار کے منارہ کے شرقی جانب ہے اور آپ تین دن تک جو تنزل کی احادیث میں مدت بیان ہوئی ہے وہاں ٹھہرے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۵‘ نمبر ۸۳‘ مورخہ ۲۰ اپریل ۱۹۳۸ء)

(۹۵) پیر پرستی

صفحہ 793

ہمیں یقین نہ آتا تھا کہ ایک طرف تو میاں (محمود احمد) صاحب کو یورپ کی سیر کے شوق میں اپنے نفس پر اتنا قابو نہ رہے گا کہ قوم کے ہزار ہا روپے کو اس طرح برباد کر دیا جائے اور ان غریب عورتوں پر رحم نہ آئے گا۔ جنہوں نے اپنے زیور تک اتار کر میاں (محمود احمد) صاحب کے نذر کر دئے تھے کہ برلن میں مسجد بنائی جائے آخر وہ ناتمام حالت میں ہی تھی کہ اس کے فروخت کر دینے کا حکم صادر ہوا اور اس کا نام مسجد سے اب مکان رکھا گیا وہ مکان یعنی مسجد کے فروخت کا روپیہ آئے گا تو ان قرض خواہوں کا روپیہ ادا ہو گا جن سے قرض لے کر میاں صاحب مع اسٹاف انگلستان جا رہے۔ دوسری طرف یہ بھی یقین نہ آتا تھا کہ وہ قوم جس نے مسیح موعود (مرزا صاحب) اور مولانا نور الدین جیسی بے نفس اور پاک ہستیوں کی آنکھیں دیکھی ہوئی تھیں اس قدر پیر پرستی کے گڑھے میں گر جائے گی کہ اس میں قطعا اس بات کی سکت نہ رہے گی کہ وہ اس اسراف پر آواز اٹھائے اور خلیفہ کو اس اسراف اور اتباع ہوا و ہوس سے روکے۔

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۹۷) قتل کا فتویٰ

اور فرمایا (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کہ خلیفہ ہو تو جو پہلا ہو اس کی بیعت کرو جو بعد میں دوسرا پہلے کے مقابل پر کھڑا ہو جائے جیسے لاہور میں ہے تو اسے قتل کر دو۔ مگر یہ قتل کا حکم تب ہے جب سلطنت اپنی ہو۔ اب حکومت میں ہم ایسا نہیں کر سکتے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان بابت ماہ

جون ۱۹۱۹ء)

’’جیسے لاہور میں ہے‘‘ کا فقرہ اس طالب علم کا سمجھا جائے جس نے اس درس کے نوٹ ۱۹۱۴ء میں لئے تھے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ جولائی

۱۹۱۹ء)

(منقول از اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۱۹ء)

صفحہ 794

(۹۸) کیا

کیا یہ بتایا جاسکتا ہے کہ جس قدر زرعی جائیداد حضرت مسیح موعود اپنی وفات پر چھوڑ گئے تھے کیا وہ اس قدر کافی تھی کہ میاں (محمود احمد) صاحب کا موجودہ شاہانہ خرچ کا کوئی حصہ بھی اس سے چل سکتا ہے۔ اگر کہو کہ بعد میں میاں (محمود احمد) صاحب نے زمین خریدی تو سوال یہ ہے کہ خریدنے کے لئے روپیہ کہاں سے آیا۔ کیا قوم کے روپوں کے سوا کوئی اور ذریعہ بھی آمد کا تھا۔

(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح مورخہ جولائی ۱۹۲۳ء)

(۹۹) چوکی پہرہ

پہرے کے متعلق بھی دوستوں نے عجیب‘ عجیب قسم کی تحریکیں کی ہیں بعض نے لکھا ہے کہ رات کو جب آپ سوئیں تو کسی کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کس کمرہ میں ہیں۔ حتی کہ بیویوں کو بھی یہ علم نہیں ہونا چاہیے بعضوں نے لکھا ہے کہ خیر بیویوں کو علم ہو تو کوئی حرج نہیں۔ کسی اور کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تمام باتیں جماعت کے اخلاص اور محبت کا نہایت اچھی طرح اظہار کرتی ہیں گو ان پر عمل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو زندگی دوبھر ہو جائے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر۴۴‘

ص ۳‘ ۴‘ مورخہ ۵ر فروری ۱۹۳۵ء)

(۱۰۰) کتوں کی ضرورت

”الفضل“ ۲ر اکتوبر میں پہرہ کے لئے کتوں کی ضرورت“ کے عنوان سے مندرجہ ذیل اعلان شائع ہوا ہے۔

”اچھی نسل کے کچھ کتوں کی ضرورت ہے۔ جن سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی کوٹھی دارالحمد کے لئے پہرہ کا کام لیا جائے گا۔ اگر کسی دوست کے پاس ہوں یا وہ مہیا کر سکتے ہوں تو ایڈیٹر ”الفضل“ کو اطلاع دیں۔ تاکہ ان کے منگوانے کا انتظام کیا جائے۔“

صفحہ 795

اس اعلان پر خدا جانے کیوں عوام میں طرح‘ طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ مثلاً کیا وجہ کہ جناب خلیفہ قادیان نے اپنے نئے قصر خلافت پر آدمیوں کے بجائے کتوں کا پہرہ لگانا پسند کیا ہے۔ کیا کوئی بھروسہ کا چوکیدار نہ ملتا تھا؟ یا یہ کہ قادیان میں ان کو کوئی کتا نہ ملا کہ اس اعلان کی ضرورت پیش آئی؟ یا یہ کہ جناب خلیفہ صاحب کے مرید یہ کس طرح گوارا کریں گے کہ قصر خلافت کے پہرہ کی سعادت ان کی بجائے کتوں کے حصہ میں چلی جائے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۶۳‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۱؍ اکتوبر

۱۹۳۴ء)

(۱۰۱) تازہ خواب

میں نے ایک دن خاص طور پر دعا کی۔ تو میں نے دیکھا کہ چوہدری ظفراللہ خاں صاحب آئے ہیں (وہ اس وقت تک انگلستان سے واپس نہیں آئے تھے) اور میں قادیان سے باہر پرانی سڑک پر ان سے ملا ہوں۔ وہ ملتے ہی پہلے مجھ سے بغلگیر ہو گئے ہیں اور اس کے بعد نہایت جوش سے انہوں نے میرے کندھوں اور سینہ کے اوپر کے حصہ پر بوسے دینے شروع کئے ہیں اور نہایت رقت کی حالت ان پر طاری ہے اور وہ بوسے بھی دیتے جاتے ہیں اور یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میرے آقا میرا جسم اور روح آپ پر قربان ہوں‘ کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہی ہے...... اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر اخلاص اور رنج دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر

۶۱‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۱۰۲) کشف حقیقت

غالباً گیارہ بجے کا وقت ہو گا جب مجھ پر ایک خفیف سی غنودگی طاری ہوئی میں نے دیکھا میرے خیمہ کے مغربی دروازہ سے دو شخص داخل ہوئے ایک جوان دوسرا معمر۔ اول الذکر تو جناب مرزا بشیر الدین محمود تھے۔ جن کو میں نے فوراً پہچان لیا لیکن ان کے رفیق کو کبھی میں نے ایسی حالت میں نہ دیکھا تھا۔ اسی لئے میں ان کو نہ پہچان سکا ان کا لباس لٹھ

صفحہ 796

کھادی کا تھا اور وہ بھی کسی قدر کثیف۔ سر پر بغیر کلاہ کے ململ کی پگڑی گلے میں پرانی وضع کا کرتہ اور نیچے ایک تہ بند۔ لیکن جب یہ دونوں میری چارپائی کے نزدیک کرسیوں پر بیٹھ گئے تو میں نے پہچان لیا کہ یہ حضرت اقدس (مرزا صاحب) ہیں۔ آپ کا چہرہ غمگین تھا۔ آپ کی اس حالت نے مجھے غمناک کر دیا اور میں نے روتے ہوئے آپ سے دریافت کیا کہ یہ کیا حالت ہے۔ آپ نے خشمناک حالت میں میاں محمود کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ یہ سب اس کا کیا ہوا ہے۔ یہ نوجوان کسی کی نہیں مانتا۔ جو اس کے دل میں آتا ہے۔ کرتا ہے۔

(خواجہ کمال الدین صاحب قادیانی لاہوری کا کشف مندرجہ کتاب مجدد کامل مصنفہ خواجہ

صاحب) (عنوان مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور ۱۹؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۱۰۳) میاں صاحب کا مباہلہ سے فرار

قادیان میں جناب خلیفہ صاحب کے مرید‘ ان کو ایسے امور کے متعلق مباہلہ کے چیلنج دیتے رہے ہیں۔ جن کی تفصیل ہی ناگفتہ بہ ہے اور اس کے جواب میں خلیفہ صاحب ممدوح نے ہمیشہ سکوت ہی فرمایا۔ جب زیادہ عاجز آئے تو چیلنج دینے والوں کو ”منافق“ قرار دے کر جماعت سے خارج کر دیا اگر ان باتوں کے باوجود جناب خلیفہ صاحب کی وقعت اپنے مریدوں میں کم نہ ہوئی تو بمبئی کے چند مسلمانوں کے چیلنج کو جماعت لاہوری کی بے وقعتی کس طرح قرار دیا جا رہا ہے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۶۵‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۹؍

اکتوبر ۱۹۳۴ء)

پھر جب جناب میاں (محمود احمد) صاحب کو (اخبار) مباہلہ (امرتسر) والوں نے للکارا کہ اگر آپ کا چال چلن واقعی درست ہے تو آؤ مسیح موعود کے فرمان کے مطابق ہم سے مباہلہ کر لو۔ تو بھی میاں صاحب نے اس چیلنج کو محض جھوٹے بہانہ سے رد کر دیا اور جب میں نے منصوری پہنچ کر کہا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ دو مسلمانوں میں جب کہ وہ ایک دوسرے پر زنا کا الزام لگاتے ہوں مباہلہ کیوں جائز نہیں ہے جب کہ مسیح موعود صاف لکھتے ہیں کہ ایسی صورت میں مباہلہ جائز ہے تو خدا کے مقرر کردہ خلیفہ محمود ایدہ

صفحہ 797

اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مباہلہ تو جائز ہے۔ مگر میں نے پہلے مسیح موعود کا فتویٰ دیکھا نہ تھا۔ مگر کیا اس کے بعد بھی جُرأت ہوئی کہ اپنے چال چلن کے پاکیزہ ہونے پر مباہلہ کریں مباہلہ تو ایک طرف رہا پبلک میں اپنی پہلی غلطی اور مباہلہ کے جواز کا اعتراف بھی آج تک نہیں کرسکے۔

(مضمون از مولوی عمر الدین شملوی صاحب قادیانی لاہوری مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور

جلد ۲۲‘ نمبر ۳۷ ص ۷‘ مورخہ ۱۹؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۱۰۴) سخت افسوس

مجھے اس بات سے سخت افسوس ہوا کہ میرا ایک خط اخبار زمیندار میں شائع کرانے اور کرنے والوں نے سخت غلطی کی ہے۔ میری بہو نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود احمد صاحب) پر ناپاک الزام لگایا تھا مگر اس وقت اس کے الزام کو غلط سمجھ کر اس کو طلاق دے کر آزاد کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ سال بعض لوگوں نے مجھ سے ایسی باتیں کیں جن سے میں نے دھوکہ کھا کر حضرت (میاں محمود احمد) صاحب سے حلف کا مطالبہ کیا۔ مگر جہاں تک میں نے تحقیقات کی ان واقعات کو سراسر غلط اور بے بنیاد پایا اور میری بیوی اور بچوں نے بھی قسم کھا کر حضرت صاحب کی پاکیزگی کی شہادت دی۔

میں پہلے مباہلہ اور حلف کو ہر امر میں جائز سمجھتا تھا مگر اس کے متعلق جب غور کیا تو میرا خیال غلط ثابت ہوا۔ مباہلہ اور حلف کے متعلق مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور اور مولوی ثناء اللہ صاحب۔ ایڈیٹر اخبار اہل حدیث سے بھی دریافت کیا گیا۔ مگر ان کے جوابات سے یہی پایا گیا کہ زنا کے الزام میں مباہلہ اور حلف کا مطالبہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس لئے میں نے جلسہ سالانہ ۲۹ء سے قبل ہی اس قسم کے شبہات اور مطالبہ حلف سے رجوع کر لیا تھا۔ اب میں بذریعہ اخبار الفضل اعلان کرتا ہوں کہ مجھ کو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے متعلق کوئی شبہ نہیں میں تمام الزامات کو جو حضور کی طرف لوگوں نے منسوب کئے سراسر افتراء اور بہتان یقین کرتا ہوں۔

(بیان احمد دین خان قادیانی مندرجہ اخبار ”الفضل قادیان“ مورخہ ۳ جون ۱۹۳۰ء نمبر ۱۰۵‘

جلد ۱۷)

صفحہ 798

(۱۰۵) میاں صاحب کا ارشاد

اسی طرح حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا ان کو اگر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا صاحب) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔

(خطبہ نکاح از میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۱۰‘ نمبر ۴۵‘

ص ۶‘ مورخہ ۲؍ نومبر ۱۹۲۲ء)

(۱۰۶) دس جوتے

میرے باپ کا نام ابوبکر صدیق ہے۔ وہ مرزا صاحب قادیان کا خسر ہے۔ میں بھی مرزا صاحب قادیان کے گھر میں تقریباً (۵) سال رہی ہوں۔ میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں۔ چار سال ہوئے میں مرزا صاحب کے لڑکے کی دوائی لینے احسان علی کی دوکان پر گئی تھی۔ میں نسخہ لے کر اس کی دوکان پر گئی تھی۔ اول احسان علی نے میرے ساتھ مخول کرنا شروع کیا۔ اور پھر مجھ سے کہا کہ میں مریضوں کے کمرہ میں جاؤں۔ اس دوسرے کمرہ میں اس نے مجھے لٹا دیا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کری لوگ میرے رولا کرنے پر اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوایا اور احسان علی کو لعنت اور ملامت کری تھی۔

احسان علی نے میرے ساتھ بدفعلی کرنی شروع کری تھی۔ میں نے گھر میں جاکر

صفحہ 799

عزیزہ بیگم کے پاس شکایت کری تھی اور اس وقت مرزا صاحب وہاں موجود تھے ان ایام میں‘ میں عزیزہ بیگم کے پاس رہتی تھی مرزا صاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کری اور احسان علی کو کہا کہ قادیان سے نکل جاؤ احسان علی نے معافی مانگی اور مرزا صاحب نے حکم دیا کہ اگر احسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا ہے اور ٹھہر سکتا ہے۔ چنانچہ احسان علی نے اس کو قبول کیا اور میں نے اس کو دس جوتے لگائے تھے۔ یہ جوتیاں مرزا صاحب کے سامنے ماری تھیں.......جب کہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماری تھیں تو تین چار آدمی اکٹھے ہو گئے تھے ان ایام میں‘ میں بغیر پردہ کے باہر پھرا کرتی تھی..... اس کے بعد میں سودا لینے بازار نہیں گئی۔

(مسماۃ سلمیٰ کی حلفی شہادت جو اس نے بتاریخ ۸؍جولائی ۱۹۳۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ

ضلع امرتسر کی عدالت میں ادا کی۔ مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی زیر دفعہ نمبر ۵۰۰‘ احسان علی

بنام محمد اسمعیل نمبری ۸۶‘ ۲‘ مرجوعہ ۱۷؍جولائی ۱۹۳۵ء منفصلہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۳۵ء)

(۱۰۷) ہتک

کہاں ملک عبدالرحمن خادم صاحب (قادیانی) کے میاں (محمود احمد) صاحب (خلیفہ قادیان) جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی طرح بلند آہنگی سے دنیا کو مختلف اوقات میں مقابلہ کے لئے چیلنج تو کرتے ہیں۔ لیکن جب کبھی کوئی مباہلہ کے لئے مقابلہ پر نکلا یا تفسیر نویسی کے لئے مقابلہ پر آیا تو میاں صاحب کا یہ حال ہوا کہ گویا وہ اس دنیا میں ہی نہیں ہیں۔ مرید اور بعض مخلصین کہتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ حضرت آپ کی اس خاموشی سے تو احمدیت پر بھی دھبہ لگتا ہے۔ براہ کرم مقابلہ کے لئے ضرور نکلیں مگر کیا ہوا۔ یہی کہ ع

کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے ہم ان کو جگا جگا کر

اس لئے ہم تو (لاہوری جماعت کے قادیانی) میاں صاحب (خلیفہ قادیان) کو ان حالات میں مسیح موعود (مرزا صاحب) کا نظیر کہنا بھی حضرت مسیح موعود کی ہتک سمجھتے ہیں اور جوں جوں میاں صاحب کی حقیقت لوگوں پر کھلے گی یقیناً ایسی جماعت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ جو قادیان میں رہتی ہوئی میاں صاحب کی مخالفت کرے گی اور ان پر جائز اور

صفحہ 800

صحیح اعتراضات کرنے سے کبھی باز نہیں رہے گی۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴، نمبر ۷۸، مورخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۱۰۷۔الف) الزاموں کی بھرمار (ج)

جناب خلیفہ صاحب پر جو ناگفتہ بہ الزامات لگائے جارہے ہیں اور عرصہ سے لگتے چلے آرہے ہیں۔ ان کے اسباب قصر خلافت کے زیر سایہ اور گردو پیش ہی موجود ہیں کیوں کہ ان الزامات کو لگانے والے۔ ان کو شہرت دینے والے اور خلیفہ کو معزول کرنے کا مطالبہ کرنے والے جناب میاں صاحب کے اپنے ہی مرید ہیں۔

(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۸، نمبر ۱۳، مورخہ ۲۷؍ فروری ۱۹۴۰ء)

اسی طرح جب شیخ عبدالرحمن مصری صاحب قادیانی نے اپنے ایک پرائیویٹ خط میں حضرت خلیفۃ المسیح (خلیفہ قادیان) ایدہ اللہ کو حضور کے بعض ایسے ذاتی امور اور واقعات کی طرف توجہ دلائی جو بوجہ لحاظ و شرم کے اور سلسلہ کی بدنامی کے خوف کے اعلانیہ نہیں کہے جاسکتے اور ملاقات کے لئے وقت مانگا یا بصورت دیگر جماعت میں سے ایک آزاد کمیشن کا مطالبہ کیا تو اس کے جواب میں پورے تیرہ روز تک خاموشی ہی اختیار کی گئی مگر جب چودہویں روز مصری صاحب کی طرف سے بصورت عدم جواب و تسلی فسخ بیعت کے لئے چوبیس گھنٹے کا نوٹس دیا گیا تو بجائے جواب دینے کے لئے اعلان اخراج کر دیا گیا اور اس میں عام ذہنیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اشتعال انگیزی کی خاطر بعض ایسے الفاظ مصری صاحب کی طرف منسوب کر کے رکھ دیئے جو مصری صاحب کے کسی خط اور تحریر میں نہیں تھے۔

(فخر الدین ملتانی صاحب قادیانی کا اعلان بعنوان مظلومین قادیان پر گالیوں کی بوچھاڑ)

حضرت میاں صاحب (سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ) کے متعلق مختلف آدمی (شیخ عبدالرحمن صاحب مصری۔ مستری عبدالکریم و حکیم عبدالعزیز وغیرہ) الزام لگاتے رہے ہیں۔ ایسے الزامات کے متعلق حضرت مولانا محمد علی صاحب کی زبان سے میں نے کبھی نہیں سنا کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یہ الزامات ضرور سچے ہی ہیں۔ جب کبھی ایسی گفتگو ہوتی ہے تو وہ ایسے معاملات کو ٹال دیتے ہیں اور حوالہ بخدا

صفحہ 801

کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ کیا ہے۔ میرے سامنے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ الزامات ضرور سچے ہیں۔ میں حضرت میاں صاحب کی بہت بڑی عزت کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کے لئے بہت بڑی محبت اور احترام ہے یہ الزامات جو ہیں تمام ظاہری حالات کے لحاظ سے یعنی ان کے مسیح موعود کی اولاد ہونے کی وجہ سے اور ایسے مقام پر رہنے کی وجہ سے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رہے۔ پھر چار بیویوں کا خاوند ہونے کی وجہ سے اور ایک بڑی جماعت کا خلیفہ ہونے کی وجہ سے میرے نزدیک غلط ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب (چار بیویوں کا خاوند ہونے کی وجہ سے جو الزام غلط خیال کئے جائیں۔ ان الزامات کی نوعیت ظاہر ہے۔ للمولف برنی)

(چوہدری محمد اسمعیل صاحب قادیانی کا بیان مع دستخط گواہان۔ منقول از رسالہ فرقان

قادیان ص ۴۶‘ جلد نمبر ۱‘ نمبر ۷‘ بابت ماہ جولائی ۱۹۴۲ء)

بہ ایں ہمہ خلیفہ صاحب قادیان کی ذات سے کوئی پرخاش نہیں ہے اور چونکہ وہ میرے مرشد کے لخت جگر ہیں مجھے ان کی تعظیم واجب ہے مجھے جس بات کا صدمہ ہے وہ یہ ہے کہ میرے مرشد کے فرزند کو گمراہ کرنے والے زیادہ تر یہی نمک حلال تنخواہ دار ملازم ہیں اور پبلک میں جس قدر شرمناک الزام ان پر لگائے جاتے ہیں ان کا منبع بھی دارالامان قادیان ہے جو اسی قماش کے لوگوں سے بھرا پڑا ہے یہ لوگ اہل اسلام اور جماعت لاہور پر ہر وقت نیش زنی کرنا اپنا دین و مذہب سمجھتے ہیں مگر ان کو کبھی اتنی ہمت اور غیرت نصیب نہیں ہوئی کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور خلیفہ صاحب کی ذات اور پوزیشن پر جو حملے دن رات ہوتے ہیں ان کی روک کی کچھ فکر کریں احباب قادیان کو خود اس بات کا احساس ہوتا ہے غلطی خواہ جماعت قادیان کی طرف سے ہو یا جماعت لاہور کے کسی فرد کی طرف سے۔ اس کی زد اسلام اور احمدیت پر پڑتی ہے (قادیانیوں کی غلطیوں اور بدنمائیوں کی زد اسلام پر تو نہیں پڑتی البتہ قادیانیت پر ضرور پڑتی ہے اور بھید کھل جانے پر کسی پروپیگنڈہ سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ للمولف برنی)

(خان بہادر میاں محمد صادق قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور نمبر ۷۰‘ جلد

نمبر ۲۸‘ مورخہ ۲۶‘ ستمبر ۱۹۴۰ء)

اب یہ ظاہر ہے کہ جو باتیں اب جماعت قادیان کے اکابر کی نسبت زبان زد عام

صفحہ 802

ہیں وہ کوئی ایسے الزام نہیں جو دشمن ان پر لگاتے ہوں بلکہ ایسے الزام ہیں جو ان کے اپنے مخلص مریدان پر لگاتے ہیں وہ مرید جو دنیا کو چھوڑ کر ہجرتیں کر کے قادیان آئے وہ مرید جنہوں نے اپنے مال اور اپنی جانیں اس سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔ پھر وہ ایک دو نہیں۔ ۱۹۲۵ء سے لے کر یا اس سے بھی بہت پہلے سے یہ الزامات برابر لگتے چلے آئے اور شاید ایسے لوگوں کی تعداد بیسیوں سے زیادہ ہے۔ جنہوں نے ایسے الزامات لگائے اور آج ۱۹۳۹ء تک برابر یہ سلسلہ جاری ہے اور ایک سے بڑھ کر دوسرا اور دوسرے سے بڑھ کر تیسرا اور تیسرے سے بڑھ کر چوتھا الزام لگاتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔۔ اور میں تو یہ مشورہ بھی دونگا کہ ان ناپاک باتوں کو جو اس وقت جماعت میں پھیل کر اس کی بدنامی کا موجب ہو رہی ہیں۔

اگر اب بھی خلیفہ صاحب دور کرنا چاہیں تو وہ آسانی سے دور کرسکتے ہیں ان کو خوب علم ہے کہ کون کون لوگ ان کے متعلق ناگفتنی باتیں منسوب کر رہے ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ حد سے زیادہ ناگفتنی ہیں۔ وہ معمولی لغزشیں نہیں جو انسان سے ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اباحت کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ تو وہ نام لے کر ایک اعلان شائع کردیں کہ فلاں، فلاں شخص جو ان پر یہ الزام لگاتے ہیں۔ وہ سب جھوٹے ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کہنے میں جھوٹ کہا ہے تو ان پر اللہ کی لعنت ہو اس سے کم از کم زبانیں رک جائیں گی۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور

جلد ۳۷، نمبر ۴۴، مورخہ ۲۱؍ نومبر ۱۹۳۹ء)

(د) خواجہ کمال الدین صاحب قادیانی

(۱۰۸) پتہ کی بات

پیر سراج الحق صاحب نے ”تذکرۃ المہدی“ حصہ دوم میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ قادیان میں بہت سے دوست بیرون جات سے آئے ہوئے حضرت (میرزا) صاحب کی خدمت میں حاضر تھے اور منجملہ ان کے حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبدالکریم صاحب

صفحہ 803

اور مولوی محمد احسن صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب...... اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور شیخ غلام احمد صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہم بھی تھے۔ مجلس میں اس بات کا ذکر شروع ہوا کہ اولیاء کو مکاشفات میں بہت کچھ حالات منکشف ہو جاتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس تقریر فرماتے رہے اور پھر فرمایا کہ آج ہمیں دکھایا گیا ہے کہ ان حاضر الوقت لوگوں میں سے بعض ہم سے پیٹھ دیئے ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم سے روگرداں ہیں۔ یہ بات سن کر سب لوگ ڈر گئے اور استغفار پڑھنے لگے۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۸۲‘ روایت نمبر ۴۱۴‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۰۹) ضعف ایمان

آپ نے (یعنی مولوی محمد علی صاحب لاہوری نے) بار بار حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) سے خواجہ کمال الدین کے ضعف ایمان کی شکایت سنی ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ کو یاد ہو گا کہ جس دن حضرت اقدس نے (اخبار) وطن والے معاملہ میں تقریر فرمائی تھی‘ اس تقریر کے بعد ہی آپ کو مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب کو لکھ دو کہ وہ بہت استغفار کریں اور قربانی دیں کہ میں نے ان کی نسبت بہت سی خطرناک خوابیں دیکھی ہیں۔ پھر حضرت صاحب نے یہ خواب بھی سنائی تھی اور امید کہ آپ کو یاد ہوگی کہ میں نے دیکھا ہے کہ خواجہ پاگل ہو گیا ہے اور مجھ پر اور مولوی صاحب پر‘ جو کہ مسجد کی چھت پر ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے‘ حملہ کرنا چاہتا ہے تو میں نے کسی کو کہا کہ اس کو مسجد سے باہر نکال دو۔ تو وہ گیا پر اس کے نکالنے سے پہلے خود سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ مسجد کی تعبیر خود حضرت (مرزا) صاحب نے جماعت کی ہے۔ پھر جس خواجہ کی نسبت میں نے یہ کچھ لکھا ہے‘ اس نے حضرت مسیح موعود کی نسبت مالی اعتراض شروع کیے اور پہلے آپ مخالفت کرتے رہے مگر بالآخر خود بھی اس اعتراض میں شریک ہوئے۔

(”کشف الاختلاف“ ص ۱۲‘ مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۱۱۰) خواجہ کمال الدین صاحب کے قدیم عقاید

صفحہ 804

وہ (مسیح موعود) ایک نبی اللہ ہے اور مخبر صادق احمد مرسل صلوٰۃ اللہ علیہ کا خاتم النبیین ہونا چاہتا ہے کہ اس خلیل خدا احمد کے غلام انبیاء اور نبی اللہ ہوں۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ مورخہ ۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۵ء)

ہمیں اس کے غلام نبی ہند (مرزا صاحب) کو بھی نبی انہی کمالات کے باعث ماننا پڑے گا۔ اگر ہم احمد کے غلام کو نبی اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ اول میں بعض باتیں پائی جاتی ہیں جنہیں ہمارا محاکمہ نقص ٹھہراتا ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ وہی باتیں بعینہ احمد مختار میں بھی موجود ہیں تو ہم جہاں غلام احمد کو چھوڑیں گے‘ ساتھ ہی اس کے سردار کو بھی جواب دیں گے۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ مورخہ ۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۵ء‘ ص ۱۰‘ ج ۹‘ نمبر ۳۴)

(۱۱۱) حق الیقین

غرض حضرت (مرزا) صاحب کی صداقت جس چیز نے مجھے منوائی اور جس نے مجھے حق الیقین کے درجہ پر پہنچایا کہ وہ خدا کا رسول اور خدا کا مسیح تھا‘ وہ یہی آپ کا ایثار تھا۔۔۔۔۔۔ دوستو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی ایک قصہ کہانی کے رنگ میں ہوتا اگر آج میں مثل ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا۔۔۔۔ آپ (حکیم نورالدین صاحب) ریاست جموں سے آتے ہیں۔ آپ کے دل میں کیا کیا عزم ہوں گے کہ میں بھیرہ کو ایک دارالشفاء بنا دوں مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا‘ تو نہ صرف جسمانی امراض کے لیے بلکہ روحانی امراض کے واسطے بھی۔۔۔۔ حکیم مقرر ہوگا‘ جو خدا کے حکم سے مکہ میں قرار پا چکا ہے۔

(تقریر خواجہ کمال الدین صاحب‘ مندرجہ اخبار ”بدر“ مورخہ ۴؍ ۷؍ اپریل ۱۹۱۰ء)

(۱۱۲) اے کمال دین

اے کمال الدین‘ دین کے زوال میں ساعی نہ ہو۔ کیا تو وہی نہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود کی نبوت کے راگ گا کر سامعین سے خراج تحسین وصول کیا کرتا تھا۔ افسوس تیرے دماغ میں کیا فتور آیا کہ جس چیز کو قند مکرر سمجھتا تھا‘ آج اسے زہر ہلاہل قرار دیتا ہے۔ کیا تجھے یاد نہیں رہا کہ تو نے اس عظیم الشان نبی کی نبوت منوانے کے لیے

صفحہ 805

ایک رسالہ بنام ”بنگال کی دلجوئی“ لکھ کر کثرت سے شایع کیا تھا۔ دیکھ اس بیس صفحہ کے رسالے میں تو نے مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت اور رسالت کو کس زور سے پیش کیا ہے۔ اگر تجھے بھول گیا ہے تو میں اس کے جستہ جستہ مقامات تجھے یاد دلاتا ہوں۔ اے خواجہ ‘کیا یہ تیرے اپنے الفاظ نہیں ہیں؟ تو کس زور سے حضور علیہ السلام (مرزا) کی نبوت منواتا تھا۔ آج خود ہی اس نبوت سے انکاری ہے۔ ہاں یہ ضرور ہونا تھا کیونکہ تو نے میرے روبرو اس عظیم الشان نبی (مرزا) کی خدمت میں ایک دفعہ اپنا خواب سنایا تھا کہ میرے منہ سے بہت سے چوہے نکلے ہیں۔ آج تو اپنی تحریروں اور تقریروں سے اس خواب کو پورا کر رہا ہے جبکہ تو مکان احمدیت کو‘ جو تیرا ملجا و ماوٰی تھا‘ متواتر سوراخ نکال کر اور رخنے ڈال کر ضعیف البنیان بنانے میں ساعی و سرگرم ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۳۱‘ مورخہ ۴ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(۱۱۳) خدا لگتی

اب ناظرین انصاف سے خدا لگتی کہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا تحریف ہوگی۔ یہ ہے خواجہ (کمال الدین) صاحب کی ابلہ فریبی اور علمی قابلیت جس پر آپ کو مجددیت اور امامت کا شوق چرایا ہے اور یہاں تک کہنے کی جرأت ہو گئی ہے کہ جو کچھ مرزا صاحب کرتے تھے‘ وہی کام میں بھی کرتا ہوں۔ خواجہ صاحب اوروں کو ہوش کی کہتے ہو‘ اپنے ہوش سنبھالو اور دیکھو تم کیا سے کیا ہوگئے اور کہاں سے کہاں پہنچے ہو۔ کیا احمدیت اسی کا نام ہے کہ جس کے نام کے ساتھ وابستہ ہونا ایمان سمجھتے ہو‘ جس کی تعریف و توصیف میں تمہارے اپنے لکھے ہوئے حروف بھی ابھی نہ سوکھے ہوں۔ اسی کے خلاف آج زہر اگلتے ہو۔ خواجہ‘ میرے میرزا نے تو تمہارے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی تھی بلکہ اسی کی کفش برداری سے آج تم تمام دنیا میں شہرت پا گئے۔ ایسے محسن سے یہ سلوک اور پھر دعویٰ احمدیت۔ کچھ شرم کرو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو تو تمہارے قلب کی اب کیا حالت ہے۔ پھر کہتے ہو کہ (آپ جیسے) احمدیوں کے متعلق ایسا لٹریچر استعمال کیا جاتا ہے۔ خدارا خواجہ صاحب! انصاف سے کہیں کہ چور کو چور‘ زانی کو زانی کہیں تو کیا جرم ہے؟ یا زانی کو شریف اور کاذب کو صادق کہیں تو کیا سعادت ہے۔

صفحہ 806
مثال علم تو آمد بہ قرآن کتابے چند بر پشت حمارے

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۴۷‘ مورخہ ۴؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

(۱۱۴) محسن آقا

ولایت کے ایک رسالہ کے یہ صاحب (خواجہ کمال الدین صاحب) ایڈیٹر ہیں اور احمد کا غلام ہونے کی وجہ سے ان کا فرض تھا کہ وہ مغربی قوموں کے سامنے اسلام کے وہ زندہ اور تازہ نشانات پیش کرتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی اور تمام انبیاء کی صداقت اور اسلام کو زندہ مذہب ثابت کرنے کے لیے احمد علیہ السلام (مرزا صاحب) کے ذریعے اس زمانہ میں دکھائے اور دکھا رہا ہے۔ مگر خواجہ صاحب نے صرف غیر احمدیوں کے روپے کی خاطر اپنے آپ پر حرام کر دیا کہ احمد (مرزا صاحب) کے نشانات کو پیش کرنا تو کجا‘ احمد علیہ السلام کا نام بھی زبان پر لائیں۔

غرض خواجہ صاحب نے اپنے پرانے محسن اور آقا (مرزا صاحب) کے نام کو اسی طرح اس کے مخالفوں کے روپیہ کے بدلے فروخت کر دیا ہے‘ جس طرح حضرت مسیح کے ایک بدقسمت شاگرد نے جس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے بہت احسان کیے تھے۔ اپنے آقا کے دشمنوں یعنی یہود کے روپیہ کی خاطر اپنے محسن آقا کو بیچ دیا۔ پس کیا ایسے شخص سے‘ جو چند روپیوں کے بدلے اپنے محسن آقا کے نام کو فروخت کرنے والا ہے‘ یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ احمدی جماعت کو کچھ نفع پہنچائے گا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۲۰‘ مورخہ ۸؍ اگست ۱۹۱۵ء)

(۱۱۵) ہرگز نہیں

خواجہ (کمال الدین) صاحب! یہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ مرزا صاحب آنے والے وہی مسیح موعود نہیں ہیں‘ جس کا ذکر بقول آپ کے بخاری شریف میں ہے مگر یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ آپ مرزا صاحب کو مسیح موعود بھی مانیں اور ان کے نبی اللہ ہونے سے انکار بھی کریں۔ اگر آپ حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود مان کر ان کی نبوت سے انکار کریں گے تو آپ پر بھی وہی الفاظ ڈانٹ کے عاید ہوں گے جو آپ نے ۱۹۱۲ء میں ایک شمس العلماء کے لیے روا رکھے تھے۔ کیونکہ آخر اس کا استفسار بھی یہی تھا کہ حضرت

صفحہ 807

مرزا صاحب مسیح موعود ہیں یا کہ نبی اور آپ کی جانب سے جو جواب شایع ہوا تھا (اخبار ”بدر“ ۵؍ فروری ۱۹۱۴ء) اس میں آپ نے حضرت مسیح موعود کی دونوں حیثیتوں کو قائم رکھ کر جواب دیا تھا اور کسی حیثیت سے اور کسی نہج سے بھی انکار نہ کیا تھا بلکہ آپ نے اس شمس العلماء کے معلومات کی پردہ دری کی تھی کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ جو آنے والا مسیح ہے اور جس کے مسلمان منتظر ہیں وہ نبی اللہ ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۲۴‘ مورخہ ۷؍ اگست ۱۹۱۵ء)

(۱۴۷) خواجہ کی تدبیر

مولانا (محمد علی صاحب) جب ان منذرات کے وقوع کا زمانہ آیا تو آپ کے مکرم دوست (خواجہ کمال الدین صاحب) نے سوچا کہ اگر میں کھلا کھلا غیروں میں جا ملا تو احمدی دوست اور احمدی لوگ تو ہاتھ سے گئے‘ جن سے میں نے بہت سا کام لینا ہے اور غیروں میں متلون مزاج قرار پا کر ناقابل اعتماد ہو جاؤں گا لہٰذا مجھے ایسا کرنا چاہیے کہ احمدی کہلاتے ہوئے غیروں میں جا ملوں تاکہ میری کامیابی کے لیے احمدی اور غیر احمدی دونوں میدان ہوں۔ تب آپ نے ایک سکیم تیار کی لیکن اس کے اجراء میں کچھ موانع تھے‘ جن کے رفع کرنے کی اشد ضرورت تھی اور کچھ بااثر احمدیوں کی ضرورت تھی‘ جن کو اس اسکیم کے اجراء کا آلہ بنایا جاسکے۔ اس اسکیم کا نہایت مختصر خاکہ تو یہ ہے کہ احمدیوں میں تو اعتبار حاصل ہی ہے‘ اب غیروں میں تحریر و تقریر کے ذریعے لائق مبلغ اسلام ہونے کا اعتبار پیدا کیا جائے اور یہ اعتبار حاصل کرتے ہی یورپ میں تبلیغ اسلام شروع کر دی جائے‘ پھر تو دونوں کی دولت پر تمہارے ہاتھ ہوں گے۔

لیکن اس کے لیے پہلا مانع خلیفہ تھا اور دوسرا مانع فتویٰ کفر اور نمازوں کی علیحدگی اور نماز جنازہ میں شریک نہ ہونا وغیرہ تھا۔ مگر ان دونوں کے رفع کرنے میں اور احمدیوں کو ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور بااثر جتھے کی ضرورت تھی اور اس کی نظر میں وہ بجز آپ کے حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور آپ (یعنی مولوی محمد علی صاحب) اس وقت اس کی بہت سی باتوں اور اصولوں کے خلاف تھے۔ پس پہلا کام اس نے (یعنی خواجہ کمال الدین صاحب نے) یہ کیا کہ آپ کو اپنا موافق بنائے اور پھر آپ کو ان مقاصد کے حصول

صفحہ 808

کے لیے آلہ بنائے۔ مولانا مجھے اکثر وہ مجالس یاد ہیں جن میں ان اصول پر مباحثات ہوا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کیا بلکہ اکثر آپ اس کو (یعنی خواجہ صاحب کو) دوستانہ لہجہ میں اس جماعت کا پولوس کہا کرتے تھے۔

("کشف الاختلافات" ص ۱۸-۱۷' مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۱۱۷) علمیت کے دعوے

سنا ہے کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب نے اپنی علمیت کے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ (میاں محمود احمد) صاحب (خلیفہ قادیان) نے اپنی تصنیفوں میں علمی غلطیاں کی ہیں چونکہ خواجہ صاحب سے میں واقف ہوں، اس لیے خوب جانتا ہوں کہ انہیں کتنا علم ہے اور کتنا فلسفہ اور منطق جانتے ہیں۔ خیر منطق اور فلسفہ نہیں جانتے تو نہ سہی لیکن کسی کی عربی دانی پر کس منہ سے اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ خواجہ صاحب علم عربی سے ایسے ہی دور ہیں جیسے کہ گدھے کے سر سے سینگ۔ علم عربی کا جاننا تو الگ رہا، خواجہ صاحب تو قرآن بھی نہیں جانتے۔ اگر جانتے ہیں تو ہم قرآن کا ایک رکوع رکھ دیتے ہیں، اس کا صحیح ترجمہ کردیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ عربی عبارت لکھیں یا کوئی منطقی مسئلہ حل کریں، بلکہ یہ کہ وہ قرآن کے ایک رکوع کا صحیح ترجمہ کردیں۔ اس سے ان کا علم ظاہر ہو جائے گا اور پتہ لگ جائے گا کہ وہ کیسے عالم ہیں لیکن وہ اس طرف نہیں آئیں گے۔

(احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن لاہور کا ماہواری ہینڈ بل نمبر ۲۱-۲۲، ”مشمول التبلیغ“ حصہ

اول' ص ۴)

(۱۱۸) ووکنگ مشن کا راز

جب سے پیسہ اخبار میں ووکنگ مشن کا یہ راز ظاہر ہوا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے منجملہ اور کارناموں کے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں کہیں کوئی پرانا نو مسلم انگریز، جو سالہا سال سے مسلمان چلا آتا ہے، اتفاقاً کہیں ووکنگ چلا گیا۔ خواجہ صاحب نے جھٹ اس ماہ کی رپورٹ میں اپنے نو مسلموں کے درمیان اس کا نام لکھ کر اپنی کارروائی کو فروغ دے دیا۔ شکر ہے کہ اخبار ”پیغام صلح“ صرف اردو میں ہے اور اس ملک کے

صفحہ 809

(انگلستان کے) لوگوں کے پاس نہ وہ آتا ہے اور نہ وہ اسے پڑھ سکتے ہیں ورنہ اسلامی مشنریوں کی جو بدنامی اس ملک میں ہوتی‘ وہ ظاہر ہے۔ لیکن جب سے یہ راز پیسہ اخبار میں انتشار (افشا) کیا گیا ہے‘ تب سے خواجہ صاحب نے کمال ہوشیاری کے ساتھ ایک نیا طرز اختیار کیا ہے کہ عموماً اپنی رپورٹ میں نو مسلم کا نام نہیں لکھتے۔ انگریزی رسالہ میں تو بالکل ہی نہیں لکھتے کیونکہ وہ اس ملک انگلستان میں شائع ہوتا ہے اور نام لکھنے سے رپورٹ کا غلط ہونا جلد ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اخبار ”پیغام“ میں بھی عموماً نام نہیں دیئے جاتے چنانچہ اخبار ”پیغام صلح“ ۱۹ جون ۱۹۱۸ء میں کامیاب اسلامی تحریک کے زیر عنوان رپورٹ کی گئی ہے کہ خدا کے فضل سے گزشتہ ماہ بھی قبولیت اسلام سے خالی نہیں گیا۔ ایک بزرگ داخل اسلام ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی دختر نیک اختر بھی دائرۂ اسلام میں آئی ہے اور ایک نوجوان فوجی افسر بھی زمرہ مسلمین میں آ گئے ہیں۔ نہ بزرگ کا نام و نشان‘ نہ ان کی دختر کا اور نہ کپتان صاحب۔ کیا اس سے بڑھ کر مہمل رپورٹ دنیا میں ہو سکتی ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۳۸‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۹ نومبر ۱۹۱۸ء)

(۱۱۹) لاکھوں روپے

خواجہ کمال الدین صاحب یورپ میں اشاعت اسلام کے نام سے جو لاکھوں روپیہ مسلمانوں سے لے چکے ہیں‘ ایک عرصہ سے اس کے حساب کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ آخر بڑی دیر اور بار بار کے اصرار کے بعد خواجہ صاحب بولے‘ انہوں نے بعض رقوم کو تو ذاتی بتا کر ان کا حساب دینے سے قطعاً انکار کر دیا اور بعض کے متعلق کہا کہ ان کا حساب کتاب انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ انجمن اس کی ذمہ دار ہے۔

اگرچہ خواجہ صاحب کا یہ بیان بھی کوئی تسلی بخش نہ تھا لیکن انجمن اشاعت اسلام لاہور نے اس کی تردید میں جو اعلان اخبارات میں شائع کرایا ہے‘ اس نے معاملہ کو اور بھی الجھن میں ڈال دیا ہے۔ اس اعلان میں فنانشل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام نے لکھا ہے۔

صفحہ 810

”اس وقت اخبارات میں ووکنگ مشن پر اعتراضات کے سلسلہ میں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ ووکنگ مشن کا آمد و خرچ کس حد تک احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی زیر نگرانی ہے‘ سو اس کے متعلق واقعات یہ ہیں کہ آخری مرتبہ دسمبر ۱۹۲۲ء کے آخری ایام میں خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ حساب کتاب انجمن کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے مطابق ایک تحریر بھی لکھ دی تھی۔ اس پر کوئی چھ سات ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد ووکنگ کے بل دفتر انجمن میں آنے شروع ہوئے مگر ابھی تک کل امور کا تصفیہ نہیں ہوا اور نہ ہی انجمن کی پوری نگرانی کے ماتحت سارا حساب کتاب آیا ہے“۔ (اخبار ”مدینہ“ ۹؍ اگست ۱۹۲۸ء)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۶‘ نمبر ۱۴‘ ص ۳۔ ۴‘ مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۲۸ء)

(۱۱۹ الف) وفات کا تار (ج)

”جب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کی وفات کا تار قادیان پہنچا تو انہوں (خلیفہ قادیان) نے ہاتھ اٹھا کر دعا تک نہ کی۔ چلئے نماز جنازہ نہ سہی‘ دعائے مغفرت ہی کر لیتے بلکہ اس کی بجائے بہت ہی تکلیف دہ کلمات مرحوم کے متعلق کہے اور یہ نہ سوچا کہ خواجہ صاحب نے ہندوستان اور یورپ کے اندر کس قدر بلند اور قیمتی کام کیا ہے“۔

(مولوی محمد علی صاحب امیر قادیان جماعت لاہور کا خطبہ‘ مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘

مورخہ ۲؍ مئی ۱۹۳۹ء‘ جلد ۲۷‘ نمبر ۳۴‘ مورخہ ۸؍ جون ۱۹۳۹ء)

(ھ) مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور

(۱۲۰) امر واقعہ

مولانا (محمد علی صاحب لاہوری) میں خوشامد سے نہیں کہتا بلکہ ایک امر واقعہ کے طور پر کہتا ہوں کہ آپ کی طبیعت بہت اچھی تھی۔ آپ کے خیالات بھی بہت اچھے تھے مگر ان سب خوبیوں کے مقابلہ میں دو نقص بھی موجود تھے۔ اول یہ کہ آپ بہت زود رنج اور مغلوب الغضب تھے۔ آپ کئی بار معمولی معمولی باتوں پر اس قدر جوش میں آئے کہ قادیان اور اپنے دار ہجرت کے چھوڑنے پر اور حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا صاحب) اور

صفحہ 811

خلیفۃ المسیح (یعنی حکیم نور الدین صاحب) کی بابرکت صحبت سے جدا ہونے پر تیار ہو گئے اور اس کا یہ اثر تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح سے مدرسہ کی کمیٹی کے زمانہ میں رنج ہوئے‘ تو آخر وقت تک اس رنج کو نہ چھوڑا۔ اسی طرح اہل بیت مسیح کا حال۔ دوسرا یہ نقص تھا کہ آپ دوست (یعنی خواجہ کمال الدین صاحب) کی بات سے بہت ہی متاثر ہونے والے تھے‘ خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ کئے۔

(”کشف الاختلاف“ ص ۱۲‘ مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۱۲۱) تصدیق

پھر اس کے بعد مسیح موعود (مرزا صاحب) کی خدمت میں ہر قسم کا اعتراض کرنے کا ذکر جو آپ (یعنی مولوی محمد علی صاحب) فرماتے ہیں ”تو کیا اپنا اور خواجہ کمال الدین صاحب اور میاں محمد لدھیانوی ہی کا واقعہ یاد نہیں دلاتے کہ لوگ اس قدر مصیبت سے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کاٹ کر روپیہ بھجواتے ہیں اور یہاں بیوی صاحبہ (مرزا صاحب کی اہلیہ) کے زیور بن جاتے ہیں یا قسم قسم کے لباس آتے ہیں اور پھر لنگر خانہ کا خرچ اس قدر لاپرواہی اور اسراف سے ہوتا ہے کہ خون کے آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے“۔ یہ اعتراض آپ کے مشہور ہیں اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ واقعی آپ لوگوں نے یہ اعتراض کر دیئے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۱۴‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۲؍ اگست ۱۹۲۴ء)

(۱۲۲) رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ (ج)

رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ ایک ماہوار رسالہ ہے جو حضرت اقدس (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی زندگی میں جاری ہوا۔ بلکہ خود حضرت اقدس نے اپنی طرف سے جاری کرایا اور اس کے اجراء کی اصل غرض ہی حضور کی تعلیم کو دنیا میں شائع کرنا تھی...... اس کے ایڈیٹر شروع سے مولوی محمد علی صاحب تھے‘ جو ۱۹۰۹ء تک اس کام پر متعین رہے۔ (محمد اسمعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان ”مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر“ ص ۶۳)

وہ (یعنی مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری) ایڈیٹر رسالہ (ریویو آف ریلیجنز)

صفحہ 812

تھے۔۔۔ اگرچہ ان کے قرآن شریف کے ترجمہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے مضامین میں ہی لکھا کرتا تھا مگر چونکہ ایڈیٹر ہر طرح مضامین کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس لیے ان کی طرف سے ہدایت تھی کہ چھپنے سے پہلے رسالہ کے پروف ان کو دکھا لیے جایا کریں۔ اس ہدایت کی تعمیل میں، میں نے فروری ۱۹۱۴ء کے پروف بھی ان کے پاس بھیجے۔

(شیر علی صاحب قادیانی کا رسالہ ”مولوی محمد علی صاحب کے سابقہ عقائد پر تبصرہ“ ص ۲۴)

(۱۲۳) ہندوستان کا مقدس نبی

ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آئے کہ جب ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں پر سے پردے اٹھ جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جاوے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے کے لیے کھل جائیں جو دین اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی میرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور، رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۳،

نمبر ۱۱، ص ۴۱۱)

(۱۲۴) ہمارا احمد

اس زمانہ میں جس قدر لوگ اصلاح کے لیے اٹھے ہیں، ان میں سے ایک احمد (مرزا) ہی ہے جو ایک نبی کے لباس میں اور نبوت کے منہاج پر ظاہر ہوا۔ تمام وہ خصوصیتیں جو صرف انبیاء میں پائی جاتی ہیں، وہ ہمارے زمانہ کے احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) میں کامل طور پر پائی جاتی ہیں۔ اگر انبیاء کی ایک الگ جماعت ہے، جو دنیا کے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہے تو یقیناً ہمارا احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) اسی جماعت کا ایک ممتاز فرد ہے۔ اگر زرتشت ایک نبی تھا، اگر بدھ اور کرشن نبی تھے، اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی ہو کر دنیا میں آئے تو یقیناً یقیناً احمد (مرزا) بھی ایک نبی ہے۔ کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زرتشت اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا نبی ہونا ہمیں معلوم ہوا، وہ تمام علامتیں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی فداہ ابی و امی علیہ الصلوٰۃ

صفحہ 813

والسلام میں موجود ہیں۔ (ص ۲۴۸)

الغرض جو شخص ذرا بھی تدبر سے کام لے گا‘ اس کو اس امر کے تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہوگا کہ حضرت مرزا غلام احمد اسی پاک گروہ میں سے ایک عظیم الشان فرد ہے جو انبیاء کے نام سے ممتاز ہے۔۔۔۔۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) در حقیقت ایک سچے نبی ہیں اور اسی زمرہ میں سے ہیں جن کو انبیاء و رسل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ (ص ۲۵۲)

(شیر علی صاحب قادیانی‘ مددگار ایڈیٹر کا مضمون بعنوان ”انبیاء عالم“ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۹‘ نمبر ۷‘ بابت جولائی ۱۹۱۰ء)

میں یہ بھی ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مولوی محمد علی صاحب (قادیانی لاہوری) بحیثیت ایڈیٹر رسالہ اس مضمون کے ذمہ دار ہیں بلکہ خود حضرت خلیفۃ المسیح اول نے اس مضمون کو پڑھا اور اس میں کسی فقرہ پر اعتراض نہیں فرمایا۔

(شیر علی صاحب قادیانی کا مضمون‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۴‘ نمبر ۹۹‘ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۱۷ء)

(۱۲۵) کسی نبی کو

کبھی دنیا میں سخت ایمانی ضعف چھا جاتا ہے اور دنیا کے مذہبوں میں ایسی طاقت و تاثیر اور قوت جذب اور اعجاز و معجزہ نمائی اور زور دار براہین نہیں رہتیں تو اس وقت خدا تعالیٰ کمال فضل اور رحم سے کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے کہ جس کے مقدم خیر سے مذہب حقہ میں نئی زندگی کی روح نفوذ پاتی ہے اور مرجھائے ہوئے نخل ایمان پھر ترو تازہ ہو جاتے ہیں۔ اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ مختلف زمانوں کے اندر مختلف ممالک میں انبیاءؑ نازل فرماتا رہا ہے۔ پھر جب مسیح سے چھ سو برس بعد عیسائی دین پر اسی قسم کی موت وارد ہوئی‘ جس کو تیرہ سو برس کا عرصہ گزر چکا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت سرور کائنات خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ پھر اسی قانون اور ان تمام پیشگوئیوں کے مطابق‘ جو قریباً ہر مذہب میں پائی جاتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے موعود مسیحؑ کو قادیان میں نازل فرمایا ہے‘ جن کا نام نامی حضرت مرزا غلام احمد

صفحہ 814

صاحب ہے۔

(”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۶‘ نمبر ۴-۵‘ ص ۱۹۱)

(۱۲۶) ایک نبی

جو شخص تاریخ انبیاء پر نظر غائر ڈالے گا‘ وہ دیکھ لے گا کہ ہمیشہ سے یونہی تجدید دین ہوتی چلی آئی ہے اور یہ کام ہمیشہ سے انبیاء کرتے چلے آئے ہیں۔ انسانوں کو حقیقی نیکی اور پاکیزگی کی راہوں پر چلانا‘ یہ فخر اسی قوم کو حاصل رہا ہے۔ اس آخیر زمانہ کے لیے تجدید دین کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک عظیم الشان ضلالت کے وقت میں جو آخیر زمانہ میں ظہور میں آنے والی ہے‘ اپنے ایک نبی کو دنیا کی اصلاح کے لیے مامور کرے گا اور اس کا نام مسیح موعود ہوگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا مضمون‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف

ریلیجنز“ جلد ۵‘ نمبر ۶‘ ص ۲۱۴)

(۱۲۷) ہر ایک نبی

ہر ایک نبی نے‘ جو خدا کی طرف سے آیا ہے‘ دو باتوں پر زور دیا ہے: اول یہ کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں اور دوسرا یہ کہ اس کی نبوت کو اور اس کے منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کرلیں------- بعینہ اسی قدیم سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو بھی مبعوث فرمایا۔

(رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۴‘ نمبر ۱۲‘ ص ۴۶۵-۴۶۶‘ میں مدیر رسالہ مولوی محمد علی

صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا مضمون)

(۱۲۸) انبیاء علیہم السلام

انبیاء علیہم السلام شہرت پسند نہیں ہوتے------- چنانچہ یہی حالت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی------- اور آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لیے مامور اور نبی کرکے بھیجا ہے‘

صفحہ 815

وہ بھی شہرت پسند نہیں---- یہی سنت قدیم سے انبیاء کی چلی آئی ہے۔

(رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۵‘ نمبر ۴‘ ص ۱۳۱-۱۳۲ میں مدیر رسالہ مولوی محمد علی

صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا مضمون)

(۱۲۹) یہ سلسلہ

یہ سلسلہ سچے معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی‘ خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا‘ آپ کے بعد ایسا نہیں آ سکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطے کے مل سکتی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیئے مگر آپ کے متبعین کامل کے لیے‘ جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں‘ ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا---- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت آپ کے کسی بروز کو آنے سے نہیں روکتی البتہ آپ کے بعد شریعت کوئی نئی نہیں آ سکتی۔

(مضمون مولوی محمد علی صاحب لاہوری‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد پنجم‘

نمبر ۵‘ بابت مئی ۱۹۰۶ء‘ ص ۱۸۶)

(۱۳۰) دو بعثتیں

قرآن شریف اور حدیث نبوی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں یا دو ظہور ہیں اور آپ کے دو ناموں محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ان ہی دو بعثتوں کی طرف اشارہ ہے۔

(رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۸‘ نمبر ۵‘ ص ۱۷۴ میں مدیر رسالہ مولوی محمد علی صاحب

قادیانی امیر جماعت لاہور کا مضمون)

(۱۳۱) رسول اور نبی

مرزا خدا بخش صاحب اپنی کتاب ”عسل مصفیٰ“ کی پہلی جلد کے ص ۲۹۵ پر لکھتے ہیں ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین“ یعنی محمد

صفحہ 816

صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی آدمی کا باپ نہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے اور نبیوں کی مہر ہے۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس اعتراض کا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نرینہ نہیں ہے۔ جواب دیا کہ بیشک ان کی اولاد نرینہ تو نہیں ہے لیکن چونکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر ہیں، اس واسطے ان کی روحانی اولاد، جن سے مراد رسول اور انبیاء ہیں، وہ ضرور اس کی امت میں ہوتے رہیں گے اور جو غرض رسولوں اور نبیوں کے مبعوث کرنے کی ہوتی ہے، وہ اس رسول کے بعد بھی اسی رسول کی مہر کے نیچے پوری ہوتی رہے گی۔ یعنی انبیاء ہوا کریں گے پھر ان معترضین کا اولاد نرینہ کا اعتراض کرنا فضول ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ان کو برا لگتا تھا اور اس امر سے ان کو خوشی تھی کہ اب ان کے بعد اولاد نرینہ نہیں تو اس سلسلہ کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر خدا تعالیٰ نے ان کو بھی یہ جواب دے کر شرمندہ اور لاجواب کیا اور ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ اس کے بعد تو برابر قیامت تک نبی اور رسول آتے رہیں گے اور اس غرض کو علی رغم دشمن پورا کرتے رہیں گے کیونکہ وہ اس رسول کی مہر کے ساتھ آئیں گے۔

اس کی تصدیق مولوی محمد علی صاحب (قادیانی لاہوری) اپنے ریویو میں یوں کرتے ہیں: اس کتاب کے مصنف نے جزاہ اللہ خیرا جس قدر محنت اس کتاب کے تیار کرنے میں اٹھائی ہے، کتاب کے مطالعہ ہی سے پتہ لگ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ گویا حضرت مسیح علیہ السلام (مرزا صاحب) کی کتابوں کا ایک خلاصہ ہے اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر مخالف پر فتح یقینی ہے۔۔۔۔۔۔ آج کل حضرت اقدس (مرزا صاحب) نماز مغرب کے بعد اس کے مضامین کو سنتے اور اکثر پسند فرماتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۲۳ مارچ ۱۹۲۲ء، نمبر ۷۴، جلد ۹)

(۱۳۲) جولائی ۱۹۱۰ء

اس بات کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ باوجودیکہ اس عرصہ میں بھی رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ کے ذمہ دار ایڈیٹر وہی (مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری) تھے اور

صفحہ 817

اس رسالہ میں بڑی شدومد کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کو نبی اور رسول اور زمرۂ انبیاء کا ایک فرد بتایا جاتا تھا۔ ان ایام میں وہ ایسے مضامین میں کبھی معترض نہ ہوئے اور اسی طرح سے ان کے ساتھ اپنا پورا پورا اتفاق ثابت کرتے رہے۔ مثال کے طور پر میں اس جگہ مضمون انبیاء عالم کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں، جو ان ہی ایام میں جولائی ۱۹۱۰ء کے پرچہ ”ریویو آف ریلیجنز“ میں شائع ہوا تھا اور وہ فقرہ یہ ہے۔

”اسی زمانہ میں جس قدر لوگ اصلاح کے لیے اٹھے ہیں، ان میں سے ایک احمد ہی ہے جو ایک نبی کے لباس میں اور نبوت کے منہاج پر ظاہر ہوا۔ تمام وہ خصوصیتیں جو صرف انبیاء میں پائی جاتی ہیں، وہ ہمارے زمانہ کے احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) میں کامل طور پر پائی جاتی ہیں۔ اگر انبیاء کی ایک الگ جماعت ہے، جو دنیا کے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہے تو یقیناً ہمارا احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) اسی جماعت کا ممتاز فرد ہے۔ اگر زرتشت علیہ السلام ایک نبی تھا، اگر بدھ اور کرشن نبی تھے، اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح خدائے تعالیٰ کی طرف سے نبی ہو کر دنیا میں آئے تو یقیناً یقیناً احمد بھی ایک نبی ہے کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زرتشت اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا نبی ہونا ہمیں معلوم ہوا، وہ تمام علامتیں حضرت مرزا غلام احمد فداہ ابی و امی علیہ الصلوٰۃ والسلام میں موجود ہیں۔---------

الغرض جو شخص ذرا بھی تدبر سے کام لے گا، اس کو اس امر کے تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہو گا کہ حضرت مرزا غلام احمد اسی پاک گروہ میں سے ایک عظیم الشان فرد ہے جو انبیاء کے نام سے ممتاز ہے۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام درحقیقت ایک سچے نبی ہیں اور اسی زمرہ میں سے ہیں جن کو انبیاء اور رسل کے نام سے پکارا جاتا ہے--- اب آئندہ کوئی نئی شریعت نازل نہ ہوگی اور کوئی ایسا نبی دنیا میں نہیں آئے گا جو قرآن شریف کی شریعت کو منسوخ کرنے کے لیے آئے۔ اب اس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا----- آپ خاتم النبیین یعنی انبیاء کے لیے مہر ہیں، اب کوئی ایسا نبی نہیں ہو سکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔

اس تحریر کی نہ کوئی تاویل ہو سکتی ہے اور نہ اس کے متعلق کسی قسم کا کوئی اور

صفحہ 818

s

عذر کیا جاسکتا ہے۔ اس مضمون کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق پسندیدگی اور خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد بھی ہمیشہ اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کو نبی اور رسول بتایا جاتا رہا اور ٹھیک ان ہی معنوں میں بتایا جاتا رہا ہے، جن میں اس مضمون میں بتایا گیا ہے۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب کو یا کسی اور فرد یا جماعت کو اعتراض نہیں ہوا۔

(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان ”تبدیلی عقائد مولوی محمد علی صاحب“

ص ۹۳۔۹۰)

(۱۴۳) فروری ۱۹۱۴ء

اس سے پہلے میں کھلے الفاظ میں حضرت مسیح موعود کو نبی اور حقیقی معنوں میں نبی لکھ چکا تھا مگر انہوں نے (یعنی مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری نے) اس پر اعتراض نہ کیا تھا اور اعتراض کیوں کرتے جبکہ ان کا اپنا یہی عقیدہ تھا جیسا کہ ان کے اپنے مضامین سے ظاہر ہے مگر فروری ۱۹۱۴ء میں ان کی توجہ اس طرف منعطف ہوئی کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلم ثابت کریں لیکن وہ مسلم ثابت نہیں ہوسکتے تھے جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت سے انکار نہ کیا جائے۔ اس لیے وہ مسیح موعود کے منکرین کو مسلم ثابت کرنے کی خاطر خود حضرت اقدس کی نبوت ہی کو اڑانے کے درپے ہوگئے جنہیں خود خدا نے نبی اور رسول کہا اور جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ کا خطاب دیا اور جنہوں نے خود یہ دعویٰ کیا کہ میں اسلام کی اصطلاح میں نبی ہوں۔

اس اثناء میں جب ”ریویو“ فروری ۱۹۱۴ء کے پروف ان کے پاس پہنچے تو ان میں ایک مضمون کا یہ عنوان دیکھ کر ’ Ahmad as a Prophet II ‘ (احمد بحیثیت ایک نبی کے نمبر ۲) انہوں نے نیچے اپنے قلم سے ایک فٹ نوٹ دے دیا کہ یہاں نبی کا لفظ حقیقی اصطلاحی معنوں میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ مجھے یہ نوٹ سخت ناگوار گزرا۔ مگر چونکہ بحیثیت ایڈیٹر ان کو اس نوٹ کے لکھنے کا حق حاصل تھا بلکہ وہ میرے اصل مضمون میں بھی جیسی چاہتے، تبدیلی کرسکتے تھے کیونکہ وہی ان مضامین کے ہر طرح ذمہ دار تھے، اس

صفحہ 819

لیے مجھے مجبوراً خاموش رہنا پڑا۔

(شیر علی صاحب قادیانی، مددگار ایڈیٹر "ریویو آف ریلیجنز" کا مضمون، مندرجہ اخبار

"الفضل" قادیان، جلد ۴، نمبر ۹۹، مورخہ ۲۱ جون ۱۹۱۷ء)

(۱۴۴) نبوت کا دروازہ

ایک تو وہ زمانہ تھا جبکہ مولوی (محمد علی) صاحب (قادیانی لاہوری) کی بات بات سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ نبوت کے تمام دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ امت محمدیہ کے کامل افراد کو یہ درجہ حاصل ہو سکتا ہے اور اب مولوی صاحب پر ایک وقت ایسا آگیا ہے جبکہ وہ کہتے ہیں:

"اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں مانتے تو میرے نزدیک یہ بڑی خطرناک راہ ہے اور تم خطرناک غلطی کے مرتکب ہوئے ہو"۔

(اخبار "پیغام صلح" جلد ۲، نمبر ۱۹)

مگر مولوی صاحب اگر یہ خطرناک راہ تھی تو آپ کیوں بار بار حضرت مسیح موعود کو نبی اور رسول لکھتے رہے اور کیوں آپ نے حضرت مسیح موعود کو انبیاء اور رسل کے گروہ میں شامل کیا۔ جناب مولوی صاحب سچ فرمائیے، کیا آپ نے حضرت مسیح موعود کی زبان سے اپنے کانوں سے بارہا یہ نہیں سنا کہ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند ہیں مگر ایک کھڑکی اب بھی کھلی ہے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھڑکی ہے یعنی اب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے نبوت مل سکتی ہے اور کوئی ذریعہ نہیں۔ میں امید نہیں کرتا کہ آپ کا حافظہ ایسا کمزور ہوگیا ہو کہ ایک بات جو آپ نے بارہا خود حضرت مسیح موعود کی زبان سے سنی، آپ اسے ایسی جلدی بھول گئے کہ اب آپ تمام دروازے نبوت کے بند قرار دیتے ہیں۔

لیکن اگر آپ کا حافظہ فی الواقعہ ایسا ہی کمزور ہوگیا ہے کہ ایسی باتیں بھی آپ کے ذہن سے قطعی طور پر نسیاً منسیا ہو گئیں، جو آپ نے کئی بار حضرت مسیح موعود کی زبان مبارک سے، اپنے کانوں سے سنیں، تو آؤ میں آپ کے سامنے آپ کا ایک تحریری اقرار پیش کرتا ہوں۔ اس کے دیکھنے سے تو آپ کو یاد آ جائے گا کہ واقعی حضرت مسیح

صفحہ 820

موعود کی یہی تعلیم تھی کہ نبوت کا دروازہ امت محمدیہ کے لیے بند نہیں ہوا بلکہ کھلا ہے۔ اگر آپ کو اس میں شک ہو تو آپ اپنے اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں جو آپ نے ”سلسلہ احمدیہ کے مختصر حالات و عقائد“ کے عنوان کے تحت ”ریویو“ جلد۵‘ نمبر۵ میں لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ص۱۸۶ پر سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔

یہ سلسلہ سچے معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی‘ خواہ پرانا نبی ہو یا نیا‘ آپ کے بعد ایسا نہیں آسکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطہ کے مل سکتی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیئے مگر آپ کے متبعین کامل کے لیے‘ جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں‘ ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔

مولوی صاحب آپ نے یہاں کیا لکھا اور اب آپ کیا فرماتے ہیں۔

(شیر علی صاحب قادیانی کا رسالہ ”مولوی محمد علی صاحب کے سابقہ عقاید پر تبصرہ“

ص ۱۲۔۱۱)

(۱۳۵) ایک ماہ بعد

جناب مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) نے ۲۱ر جون ۱۹۰۸ء‘ گویا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے قریباً ایک ماہ بعد‘ بمقام لاہور بتقریب جلسہ ”پیغام صلح“ ایک تقریر فرمائی تھی‘ جو ”الحکم“ نمبر۲۴‘ جلد۱۲‘ مورخہ ۱۸ر جولائی ۱۹۰۸ء میں شایع ہوئی ہے‘ جس میں سے ذیل کا اقتباس دیا جاتا ہے:

ہمیں بھی اسی وسیع دعا کے کرنے کا حکم ہے اهدنا الصراط المستقیم اور اس کی قبولیت بھی یقینی ہے کیونکہ اگر خدا وہ مدارج جو منعم علیہ لوگوں کو ملے‘ کسی دوسرے کو دے سکتا ہی نہ تھا تو پھر ہمیں یہ دعا سکھلانے کے کیا معنی۔ مخالف خواہ کوئی ہی معنی کرے مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے‘ صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے مگر چاہیے مانگنے والا۔

اسی تقریر میں یہ بھی فرمایا:

صفحہ 821

ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا‘ وہ صادق تھا‘ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔ پاکیزگی کی روح اس میں اپنے کمال تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس کے اثر نے جوش کیا اور اس کا اثر دنیا میں پھیلا۔ اس میں قوت قدسی اور قوت جذب تھی۔ (ملخص)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۲۶‘ مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۹۲۴ء‘ رسالہ ”فرقان“ قادیان‘

جلد ۱‘ نمبر ۵‘ ص ۳‘ بابت مئی ۱۹۴۲ء)

(۱۳۶) اختلاف کے بعد

اهدنا الصراط المستقيم- صراط الذین انعمت عليهم حضرت مسیح موعود علیہ السلام (یعنی مرزا صاحب) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین و محبت کے درجہ تک پہنچانے کے لیے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں‘ جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ (لیکچر سیالکوٹ‘ ص ۳۲)

قبل از اختلاف مولوی محمد علی صاحب بھی اس آیت سے یہی سمجھتے تھے کہ نبی آ سکتے ہیں۔ چنانچہ اپنی تقریر میں انہوں نے بیان کیا جو ۲۱ جون ۱۹۰۸ء یونیورسٹی ہال میں ہوئی کہ ہمیں بھی اس وسیع دعا کرنے کا حکم ہے۔ پس مقام نبوت کے لیے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے ناواقف ہے اور اختلاف کے بعد کہتے ہیں کہ اهدنا الصراط المستقيم کو حصول نبوت کی دعا مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کی دعا قبول نہ ہوئی۔ (بیان القرآن‘ ص ۱۰)

(”منکرین خلافت کا انجام“ ص ۹۷‘ مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی)

(۱۳۷) زمین و آسمان کا فرق

مولوی محمد علی صاحب کی وہ تحریریں‘ جن میں انہوں نے حضرت مسیح موعود کو نبی‘ عظیم الشان نبی‘ موعود نبی‘ آخر الزمان نبی لکھا ہے اور نہ صرف لکھا بلکہ اس کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کیے اور مخالفین کے اعتراضات کو رد کیا‘ کیسی صاف اور واضح ہیں لیکن ان کے بالمقابل خلافت ثانیہ کا انکار کرنے کے وقت سے لے کر اب تک ان کی زبان و قلم سے جو کچھ نکلا ہے‘ اسے سامنے رکھ کر دیکھنے سے زمین و آسمان کا فرق

صفحہ 822

معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہم صرف دو تحریریں پیش کرتے ہیں، ایک انکار خلافت ثانیہ سے پہلے کی اور دوسری بعد کی، جو ایک دوسری کے قطعاً خلاف ہیں۔ مولوی صاحب پورے زور قلم کے ساتھ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد۷، ص۲۹۴ پر تحریر فرماتے ہیں:

”جھوٹے مدعی نبوت کو نصرت نہیں دی جاتی بلکہ اسے ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا جاتا ہے—— اس طرح مرزا صاحب کے ساتھ نہیں کیا۔ پس جس شخص کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنی کتاب کے مقرر کردہ قوانین کی رو سے جھوٹوں والا سلوک نہیں کرتا بلکہ صادقوں اور سچے رسولوں والا سلوک کرتا ہے، اس کی صداقت پر شبہ کرنا خدا تعالیٰ سے جنگ کرنا اور اس کے کلام کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت کسی کی صداقت کا نہیں ہوسکتا اور اگر یہ ثبوت کافی نہیں تو پھر کسی نبی کی نبوت ثابت نہیں ہوسکے گی“۔

یہ تحریر نبوت مسیح موعود کے متعلق ان کے پہلے عقیدہ کی آئینہ ہے اور ان کے بعد کے عقاید کا پتہ حسب ذیل سطور سے لگ سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:

میں مرزا صاحب کو نبی قرار دینا نہ صرف اسلام کی ہی بیخ کنی سمجھتا ہوں بلکہ میرے نزدیک خود مرزا صاحب پر بھی اس سے بہت بڑی زد پڑتی ہے۔ اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں مانتے تو میرے نزدیک یہ بڑی خطرناک راہ ہے اور تم خطرناک غلطی کے مرتکب ہوئے ہو۔

(”پیغام صلح“ ۱۶ اپریل ۱۹۱۵ء)

کون کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں تحریروں میں بعد المشرقین نہیں اور ان کا محرر دوسری تحریر لکھتے وقت اپنے ان عقاید پر قائم تھا جو پہلی تحریر لکھتے وقت اس کے تھے لیکن باوجود اس کے مولوی محمد علی صاحب تبدیلی عقاید کا الزام ہم پر لگاتے ہیں اور اپنے متعلق ان کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے عقاید میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۷ اپریل ۱۹۳۲ء‘ نمبر۸۴‘ جلد۱۹)

صفحہ 823

(۱۳۸) اختلاف

قبل از اختلاف مولوی محمد علی صاحب ریویو جلد ۶ ص ۱۸۶ میں سلسلہ احمدیہ کے امتیازی عقائد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یہ سلسلہ سچے معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا آپ کے بعد ایسا نہیں آسکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطہ کے مل سکتی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدائے تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیئے مگر آپ کے متبعین کامل کے لئے جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔“

اور ریویو ماہ جولائی ۱۹۱۰ء ص ۲۲۱ میں لکھا ہے۔ اگر آج نبوت کے برکات کسی پاک انسان کو حاصل ہو سکتے ہیں تو وہ قرآن شریف ہی کے ذریعہ سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہی ہو سکتے ہیں کیوں کہ آپ خاتم النبین یعنی انبیا کے لئے مہر ہیں۔ اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو غرض نبوت کے برکات بند نہیں ہوئے بلکہ اب بھی ایسے ہی حاصل ہو سکتے ہیں جیسے کہ پہلے حاصل ہوتے تھے مگر اب کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا کیوں کہ شریعت قرآن کے ذریعہ کامل ہو چکی ہے اور نہ اب کوئی ایسا نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ جو خاتم النبین کی اتباع کا سرٹیفکیٹ اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔

بعد از اختلاف مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں: ”انبیا علیہم السلام ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا خاتم یا خاتم ہونا صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے یعنی ان میں سے آخری ہونا۔ پس نبیوں کے خاتم کے معنی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں (بیان القرآن ص ۱۵۱۵)

مذکورہ بالا تحریروں سے واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاتم النبین کے معنی نبیوں کی مہر لیتے ہیں اور فرماتے ہیں آپ کے بعد آپ کا امتی نبوت کو حاصل کر سکتا ہے اور خود مولوی صاحب قبل از اختلاف یہی معنی کرتے تھے لیکن اختلاف کے بعد کہتے ہیں کہ خاتم کے معنی مہر کرنا بالکل غلط ہیں۔ وہ ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ یعنی ان

صفحہ 824

میں سے آخری ہوتا۔ کیا یہ معنی صریح طور پر اس خصوصیت اور امتیاز کو باطل نہیں کرتے جو سلسلہ احمدیہ کو حاصل تھی اور جیسے خود مولوی صاحب بھی اختلاف سے پہلے مانتے تھے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۹۲ ص ۸ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۱۳۹) تیسواں جواب

مولوی محمد علی صاحب (قادیانی امیر جماعت لاہور) نے یہ دیا ہے کہ جو حوالہ جات مسئلہ نبوت کے متعلق رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے میری طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب میرے نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بعض دوسرے لوگوں کے بھی ہیں۔ جیسا کہ ذیل کے الفاظ میں انہوں نے ظاہر کیا ہے۔ ”مولوی محمد اسمعیل صاحب نے ایک رسالہ بنام ”میرا عقیدہ دربارہ نبوت مسیح موعود“ ریویو آف ریلیجنز کے میری اور کچھ دوسروں کی تحریروں سے مرتب کیا ہے۔ (پیغام صلح جلد ۱۹ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۳؍ اپریل ۱۹۳۱ء)

مولوی صاحب کو چاہیے تھا کہ اگر ان کے اس بیان میں کچھ بھی سچائی کی آمیزش تھی تو ایسے حوالہ جات کی نشاندہی کرتے اور بتاتے کہ وہ کن لوگوں کے ہیں اور کیا ایسے مضامین انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے ریویو میں شائع نہیں کئے اور ان کی کاپیاں اور پروف خود ان ہی نے نہیں دیکھے تھے اور اگر وہ ان کے اپنے عقیدہ کے مطابق نہیں تھے تو انہیں کیا مجبوری درپیش تھی کہ ایسے مضامین کو اس رسالہ میں درج ہی کیوں کیا بلکہ خود اپنی طرف منسوب کیا کیونکہ انہوں نے عصمت انبیا کے مضمون میں ایک موقع پر بتایا ہے کہ اس رسالہ میں جو مضامین کسی نامہ نگار کے نام پر نہیں بلکہ مضمون نگار کے نام کی تصریح کے بغیر شائع ہوتے ہیں وہ سب ایڈیٹر کے ہوتے ہیں۔ پس یا تو آپ ان مضامین کے ساتھ نامہ نگاروں کے نام رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں دکھائیں ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ انہیں کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے اور اگر اس بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے کہ وہ دوسروں کے لکھے ہوئے ہیں اور آپ نے ان میں کوئی تصرف نہیں کیا تاہم ان کے متعلق آپ کی ذمہ داری آپ کے اپنے مسلمات کے مطابق کم نہیں ہوتی کیونکہ آپ اپنے رسالہ (تبدیلی عقیدہ کا الزام) کے ص ۱۹ پر اخبار بدر کے حوالہ سے کسی شخص

صفحہ 825

کے خط کا ایک فقرہ نقل کر کے اس کے نیچے لکھتے ہیں ”شاید ہمارے مکرم مفتی صاحب یہ عذر کردیں کہ یہ لوگوں کے خطوط ہیں اور ایڈیٹر نامہ نگاروں کی رائے کے ذمہ دار نہیں ہوا کرتے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جب تمہارے مذہب کے خلاف ایک بات کہی جاتی ہے تو کیا تمہارا فرض نہ تھا کہ اگر اس کو درج بھی کر دیا ہے تو اس کی تردید ساتھ چھاپ دیتے یا بعد میں ہی چھاپ دیتے کہ نامہ نگار جو یہ مذہب مسیح موعود کی طرف منسوب کرتا ہے غلط ہے۔

پس ان کا (یعنی مولوی محمد علی صاحب قادیانی کا) یہ عذر سراسر بے حقیقت ہے کہ ان میں سے بعض حوالے دوسرے لوگوں کے بھی ہیں اور اصل حقیقت یہ ہی ہے کہ جہاں انہوں نے اپنے بیسویں جواب میں مغالطہ دہی کے طریق پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کو اپنی طرف منسوب کر لیا ہے۔ اس کے مقابل پر اس جواب میں انہوں نے بعض اپنی تحریرات کو دوسروں کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کم از کم یہ کہ اپنی ذمہ داری کو مغالطہ دہی کے ذریعہ دوسروں پر ڈالنا چاہا ہے لیکن ان کی یہ تمام کوششیں بے سود ہیں اور آج جو چاہیں حلف اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں یا اس زہر کے پیالے کو حیلوں حوالوں سے ٹالتے رہیں ان کے ہاتھ (ریویو آف ریلیجنز میں کٹ چکے ہیں ۔)

(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان ”مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص ۲۰ تا ۲۲)

(۱۴۰) چوبیسواں جواب

مولوی محمد علی صاحب (قادیانی لاہوری) نے اپنی سابقہ تحریرات کا یہ دیا ہے کہ اگر میری اس کارروائی کو (کہ میں سالہا سال تک رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں مرزا صاحب کو زمرہ انبیا و رسل میں سے ایک عظیم الشان نبی اور رسول بتاتا اور ثابت کرتا رہا ہوں اور اب اس کے خلاف یہ اعلان کر رہا ہوں کہ مرزا صاحب ہرگز ہرگز نبی نہیں ہیں۔) میری ایک غلطی قرار دیا جائے تو بھی اس کی وجہ سے میرے تقدس میں فرق نہیں آسکتا کیونکہ میں تو مرزا صاحب کا صرف ایک انگریزی خواں مرید ہوں اور میری اس

صفحہ 826

غلطی کے مقابل پر مرزا صاحب کو جنہیں ایک مامور ہی نہیں بلکہ مسیح موعود اور حکم اور عدل بھی مانا جاتا ہے جماعت احمدیہ کے مسلمات کی رو سے بارہ سال تک اس لفظ کے معنی سمجھنے میں غلطی لگی رہی پس اگر ان کی اس غلطی سے ان کے تقدس میں فرق نہیں آتا تو میری اس غلطی سے میرے تقدس کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب کے اصل الفاظ اس بارہ میں یہ ہیں۔

قادیانی جماعت یہاں تک کہتی ہے کہ بارہ سال تک مامور کو اور مامور بھی جو حکم اور عدل ہو لفظ نبی کے معنی سمجھ نہ آئے۔ نہ لفظ محدث کے معنی سمجھ آئے اور وہ غلط معنی کر کے مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا رہا تو اس کا ایک انگریزی خواں مرید (یعنی مولوی محمد علی صاحب قادیانی) اگر لفظ نبی کو غلط استعمال کرے تو کیا اندھیر آگیا۔ (اخبار پیغام صلح مورخہ ۴؍ مارچ ۱۹۳۵ء از خطبہ جمعہ مورخہ ۲۲؍ فروری ۱۹۳۵ء)

(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات

کے متعلق جوابات پر نظر ص ۱۲۲)

(۱۴۱) دو رنگی چال

ہر شخص حق رکھتا ہے کہ اگر اسے اپنے سابقہ عقیدہ میں کوئی غلطی معلوم ہو تو وہ اپنے عقیدہ میں تبدیلی کرے لیکن جو شخص تبدیلی عقیدہ کے باوجود کہتا جائے کہ میں نے کوئی تبدیلی نہیں کی وہ اہل علم کی نظر میں اپنی بددیانتی کی وجہ سے بالکل گر جاتا ہے ایسا شخص اپنی دو رنگی چال کی وجہ سے چونکہ نہ ادھر ہوتا ہے نہ ادھر اس لئے وہ اہل عقل کے نزدیک قطعاً عزت کے قابل نہیں ہوتا اور مومن ایسے لوگوں سے بیزار ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال مولوی محمد علی صاحب ایم اے بھی ہیں۔ مولوی صاحب بارہ سال کے قریب (رسالہ) ریویو آف ریلیجنز کے ذریعہ بڑے زور و شور سے دنیا کو بتاتے رہے کہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود نبی ہیں۔ پیغمبر ہیں، رسول ہیں اور وہی عظیم الشان نبی آخر زمان ہیں جن کے آنے کا وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا اور اس لمبے عرصہ میں کبھی ایک دفعہ بھی مولوی (محمد علی) صاحب نے یہ نہ لکھا کہ حضرت مرزا صاحب نبی نہیں ہیں، کیونکہ نبوت ختم ہوچکی، حالانکہ نہ صرف مولوی صاحب بلکہ ان کے

صفحہ 827

تمام ساتھی متفقہ طور سے بڑے زور سے اعلان کر چکے ہیں کہ :

ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ..... ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو مفت نہیں چھوڑ سکتے۔ (لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح جلد اول نمبر ۳۵ مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۱۳ء) معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے۔ اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔

(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح جلد اول نمبر ۴۴ مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۱۳ء)

کیا مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقا کو ختم نبوت کے یہ معنی کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آج معلوم ہوئے ہیں یا کیا حدیث نبوی لا نبی بعدی کے معنی اس وقت معلوم نہیں تھے۔ معلوم تھے لیکن اس وقت مولوی محمد علی صاحب ان معنوں کو غلط قرار دیتے تھے اور ختم نبوت کے صحیح معنی اس طرح بیان فرماتے تھے۔

سلسلہ احمدیہ مانتا ہے کہ آنحضرت صلعم نبیوں کی مہر ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا سوائے اس ایک کے جو روحانی طور پر آپ کا شاگرد ہے اور انعام نبوت آپ کے ذریعہ سے پاتا ہے۔ یہ صرف ایک سچا مسلم ہی

صفحہ 828

ہے جو نبی مقدس کی پیروی کر کے نبی بن سکتا ہے۔ (انگریزی رسالہ ”احمد مسیح موعود“ مولفہ محمد علی صاحب ایم اے)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۲۵ ص ۷ مورخہ ۴ اکتوبر ۱۹۲۰ء)

(۱۴۲) گزشتہ تاریخ

گزشتہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہمیشہ بہت سے آدمی ایسے گزرے ہیں جو ایک وقت میں ایک نیک عقیدہ رکھتے تھے اور بڑی مضبوطی کے ساتھ اس عقیدہ پر قائم تھے بلکہ اس عقیدہ کو دوسرے لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور حتی الوسع اس کی تبلیغ کرتے مگر بعد میں ایک ایسا وقت بھی ان پر آگیا کہ وہ خود اس عقیدہ سے منحرف ہوگئے اور پھر جیسا کہ وہ اس عقیدہ کی تبلیغ میں کوشش کرتے تھے دوسرے وقت میں اسی عقیدہ کی تردید میں زور لگانا شروع کر دیا ایسی مثالوں کی تلاش کے لئے تاریخ کے صفحات کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی زمانہ میں ایسی مثالیں کافی تعداد میں مل سکتی ہیں بلکہ میں سخت افسوس اور رنج کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ ایسے واقعات کی ایک افسوس ناک مثال مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے اپنی ذات میں دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔

یہ وہ صاحب ہیں جو کئی سال تک رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر رہے اور اس رسالہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بطور نبی کے پیش کیا ان کو نبی، رسول، پیغمبر کے ناموں سے برابر پکارتے رہے۔ قرآن شریف کی آیات کی رو سے ان کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا۔ کھلے الفاظ میں کہا کہ اس امت کے کسی اور فرد سے ان کو مشابہت دینا سخت نادانی اور جہالت ہے بلکہ یہاں تک کہا کہ حضرت ابوبکر و عمر سے مشابہت دینا بھی سخت غلطی ہے کیونکہ یہ بزرگ نبی نہیں تھے اور حضرت مرزا صاحب نبی ہیں۔ وہ حضرت مرزا صاحب کو اس امت کے دیگر بزرگوں سے الگ کر کے ان کو انبیا و رسل کے گروہ میں شامل کرتے رہے بلکہ یہاں تک بیان کیا کہ قرآن شریف آخر زمانہ میں امت محمدیہ میں ایک نبی کے آنے کی خبر دیتا ہے اور حضرت مرزا صاحب وہی موعود نبی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ گزشتہ انبیا نے آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظہور

صفحہ 829

کی خبر دی اور وہ نبی آخر الزمان یہی حضرت مرزا صاحب ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ حضرت مرزا صاحب نبی ہونے کے مدعی ہیں اور قرآن سے ان کا نبی اور رسول ہونا ثابت ہے۔

ریویو کے مضامین کو پڑھو جو مولوی محمد علی صاحب نے اپنے قلم سے لکھ کر شائع کئے ہیں۔ ان میں وہ نہایت ہی یقینی طور پر حضرت مرزا صاحب کو انبیا کے گروہ میں شامل کرتے اور نبی ہونے میں ان کو تمام دوسرے انبیا کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نبوت آپ کو براہ راست نہیں ملی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے حاصل ہوئی لیکن جو نبوت حضرت مرزا صاحب کو حاصل ہوئی اس کو وہ وہی نبوت ٹھہرتے ہیں جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ اور دوسرے انبیا علیہ السلام کو ملی۔ وہ حضرت مرزا صاحب کو فی الواقع نبی قرار دیتے ہیں اور حقیقی معنوں میں ان کو نبوت کا پانے والا ظاہر کرتے ہیں۔ ریویو کے صفحات میں انہوں نے ایک لفظ بھی ایسا نہیں لکھا جس سے ظاہر ہو کہ جو نبوت حضرت مرزا صاحب کو ملی وہ ناقص نبوت ہے یا وہ حقیقی معنوں میں نبوت نہیں بلکہ استعارہ کے رنگ میں ان کو نبی کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ نبی نہیں۔

ریویو کے صفحات کو اول سے آخر تک پڑھا جائے تو تم یہ لکھا ہوا پاؤ گے کہ حضرت مرزا صاحب مدعی نبوت ہیں ' نبی ہیں ' رسول ہیں ' پیغمبر ہیں اور ایسا انہوں نے اپنے دوستوں کو نہیں بلکہ مخالفوں کو بتایا کہ حضرت مرزا صاحب نبی ہونے کے مدعی ہیں اور ان کی نبوت و رسالت قرآن شریف سے ثابت ہے اور کہ وہ فی الواقع اور فی الحقیقت ایسے ہی نبی اور رسول اور پیغمبر ہیں جیسا کہ پہلے انبیا نبی اور رسول اور پیغمبر تھے۔ انہوں نے ایک لفظ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ تمام الفاظ جو انبیاء کے متعلق استعمال ہوتے ہیں لکھتے ہیں اور ان کے کلام کے پڑھنے سے پڑھنے والے کو ذرا بھی شک باقی نہیں رہتا کہ ان مضامین کا لکھنے والا حضرت مسیح موعود کو ایسا ہی نبی قرار دیتا ہے جیسا کہ دوسرے انبیا نبی ہیں۔ کھلے الفاظ اور صریح عبارات میں انہوں نے ناظرین کے سامنے حضرت مسیح موعود کو بطور نبی کے پیش کیا ہے کسی قسم کی شرط یا توجیہ ساتھ نہیں لگائی اور ایک لفظ بھی ایسا نہیں لکھا جس سے یہ سمجھا جائے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت ایسی نبوت نہ تھی جیسے دوسرے انبیا کی، بلکہ ان کا لفظ لفظ یہ بتاتا اور ظاہر کرتا ہے کہ حضرت

صفحہ 830

مسیح موعود کی نبوت بعینہ وہی نبوت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیا علیہم السلام کو ملی بلکہ انہوں نے تو یہاں تک ظاہر کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت ایسی ہی ہے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔

(شیر علی صاحب قادیانی کا رسالہ مولوی محمد علی صاحب کے سابقہ عقائد پر تبصرہ ص ۱ تا ۳)

(۱۴۳) بری بات

محض عقیدہ کی تبدیلی کوئی بری بات نہیں۔ بری بات یہ ہے کہ عقیدہ میں تبدیلی کرنے کے باوجود کہا جائے اور اصرار کیا جائے کہ تبدیلی نہیں کی گئی۔ مولوی محمد علی صاحب اسی پوزیشن میں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ جو عقائد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے زمانہ میں رکھتے تھے وہی اب تک رکھتے ہیں۔ ان میں انہوں نے سرمو فرق نہیں کیا لیکن ہم کہتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ (حکیم نورالدین صاحب) کے زمانہ میں اندر ہی اندر اور خلافت ثانیہ کے دور میں کھلم کھلا انہوں نے اپنے عقائد بدل دیئے اور ان میں زمین و آسمان کا فرق آگیا۔ اس کے ثبوت میں متعدد مثالیں دی جا چکی ہیں لیکن مولوی (محمد علی) صاحب کو چونکہ ہماری ہر بات سے ضد ہے اس لیے ابھی تک اپنی ہی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۶۶ ص ۷ مورخہ ۱۹؍ فروری ۱۹۲۹ء)

(۱۴۴۔ الف) قادیانی اور لاہوری اختلاف کا فیصلہ (ج)

اس کے مقابلہ میں حضور نے (یعنی میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے) ایک ایسا طریق پیش فرمایا ہے جس میں کسی فرد کو دینی عقائد میں جج بنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘ چنانچہ حضور نے تجویز فرمایا کہ ہم میں سے ہر دو کے صحیح عقائد وہی ہو سکتے ہیں جن کو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں پیش کرتے رہے ہیں‘ پس اس زمانے میں مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) جن عقائد کو پیش کیا کرتے تھے‘ میں انہیں ان کی تحریرات سے نکال کر ان کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔ وہ ان کے نیچے یہ لکھ دیں کہ آج بھی میرے یہی عقائد ہیں‘ اسی طرح وہ میری اس وقت کی تحریرات نکال کر میرے سامنے رکھ دیں اور میں ان کے نیچے لکھ دوں گا کہ آج بھی

صفحہ 831

میرے یہی عقائد ہیں، پھر دونوں کے عقائد کتابی صورت میں شائع کر دیے جائیں، جن کے ساتھ ہی ہماری یہ تحریریں بھی شامل ہوں کہ ہمارے عقائد آج یہی ہیں۔

ہاں ایک امر کا ہر فریق کو حق ہو گا کہ اگر اس کی تحریر کا کوئی اقتباس ناقص ہو تو وہ اس وقت کی اپنی کسی تحریر سے اسے مکمل کر دے، یہ تشریحی عبارتیں بھی ہر دو کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی ہی ہوں گی۔ پس فیصلہ کا آسان طریق یہی ہے

(واقعی میاں صاحب خلیفہ قادیان کی تجویز نہایت معقول ہے، لیکن مولوی محمد علی صاحب لاہوری غالباً اس طریق پر راضی نہ ہوں گے کیونکہ اس طرح قادیانیت کے معاملہ میں ان کا نفاق سراسر عیاں ہو جائے گا اور میاں صاحب کا اخلاص تو قادیانیت کے ساتھ بہر صورت ظاہر ہے۔ للمؤلف برقی)

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے جواب کا خلاصہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۱۸۰ جلد نمبر ۲۸ مورخہ ۹ اگست ۱۹۴۰ء)

(۱۴۴) اظہر من الشمس

حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کی نبوت اظہر من الشمس ہے اور آپ لوگوں پر کافی حجت ہو چکی ہے لیکن اگر کوئی ڈھٹائی سے انکار کرتا جائے تو اس کا علاج ہمارے پاس کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ذاتی واقعہ عرض ہے۔ اگست ۱۹۲۰ء شملہ کا ذکر ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کی خدمت میں بندہ نے حضرت اقدس (مرزا صاحب) کی چند عبارتیں دعویٰ نبوت کے متعلق پیش کیں اور ایک مجمع کی موجودگی میں پیش کیں اور ان کا حل چاہا کچھ دیر تو مولوی (محمد علی) صاحب محکمات اور متشابہات کے طور پر ان عبارتوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن دیکھا کہ یہ اس طرح حل نہیں ہوتیں تو جلال میں آ کر فرمانے لگے اگر حضرت (مرزا) صاحب کی تحریروں سے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ نبی اللہ ہیں تو میں ان کو چھوڑ دوں گا اور مسیح موعود یا مجدد بھی نہیں مانوں گا۔

سبحان اللہ کیا عمدہ ایمان ہے بجائے اس کے کہ فرماتے۔ اگر ثابت ہو جائے تو میں مان لوں گا۔ فرماتے ہیں، نبوت ثابت ہونے پر مسیح موعود اور مجدد ماننے سے بھی

صفحہ 832

انکار کر دوں گا۔ پس آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو کسی بات کے ثابت ہونے پر بھی ایمان کی نسبت کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۳ ص ۶ مورخہ ۵ جولائی ۱۹۳۰ء)

(۱۴۵) محسن کش

اسی قسم کے لوگ ہمارے اندر سے پیدا ہوگئے ہیں اور محسن کشوں کی جماعت ایسے رنگ میں ظاہر ہوئی ہے کہ اس نے خود ہی محسن کشی نہیں کی اور اپنے محسن کے کام کو خود ہی ترک نہیں کیا بلکہ یہ بھی کوشش کی ہے کہ اس کی تعلیم کو دنیا کے پردہ سے مٹادیں۔ چنانچہ آج ہی ایک خط مارشس سے آیا ہے جو ایک احمدی نے بھیجا ہے۔ مسٹر نور دیا ان کا نام ہے۔ ان کو مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط بھیجا جس میں لکھا ہے کہ ”مجھے مولوی غلام محمد کے ماریش جانے کی خوشی ہے‘ لیکن آپ ان کو یہ سمجھا دیں کہ وہاں یہ عقائد نہ پھیلائیں کہ مسیح موعود مجدد نہیں بلکہ نبی تھے اور اسی لئے (ان کے منکر) تمام مسلمانان عالم کافر ہیں۔ یہاں ہندوستان میں ان دو عقیدوں سے سلسلہ کو نقصان عظیم پہنچا ہے۔ پس وہاں ان کو شروع ہی سے ملیا میٹ کرنا چاہیے۔“

(احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن لاہور کا ماہواری ہینڈ بل نمبر ۲۱‘ ۲۲ مشمولہ التبلیغ ص ۲)

(۱۴۶) عجب رنگ کے انسان

مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) بھی عجیب رنگ کے انسان ہیں نہ تو انہیں اپنے کسی قول کی پرواہ ہے اور نہ اپنے کسی فعل کی جیسا موقع دیکھتے ہیں ویسا ہی رنگ اختیار کرلیتے ہیں اور جدھر ضرورت سمجھتے ہیں ادھر ہی ڈھل جاتے ہیں۔ ان کے سابقہ اور موجودہ مذہبی عقائد میں جس قدر اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے اس کی حقیقت تو کئی بار ظاہر کی جاچکی ہے اور ایسی صفائی کے ساتھ ظاہر کی جاچکی ہے کہ خود مولوی صاحب موصوف کو بھی کہنا پڑا کہ

”میری یا زید بکر کی تحریر کوئی حجت شرعی نہیں“۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۷ نمبر ۲۷ مورخہ ۴ اکتوبر ۱۹۱۹ء)

(۱۴۷) ناحق ناروا

صفحہ 833

ناظرین کو معلوم ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب یہاں سے (قادیان سے) جاتے وقت کئی ہزار کی لاگت کا ترجمہ قرآن اور صدہا روپے کا کتب خانہ بالکل ناحق ناروا لے گئے اور باوجود ادھر کے واجبی مطالبات کے بالکل چپ لگا بیٹھے۔ ان کے ساتھ ہی ساڑھے تین پونے چار سو روپے کا نیا ٹائپ رائٹر بھی انہوں نے تاحال ناجائز طور پر اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے۔ جس کی عدم موجودگی سے سلسلہ عالیہ کے بعض ضروری کاموں کا حرج ہوتا تھا، مگر اب جماعت کو مشکور ہونا چاہیے کہ حضرت نواب محمد علی صاحب دام اقبالہ نے اپنا ٹائپ رائٹر صدر انجمن کو مرحمت فرمایا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۴ مورخہ یکم جولائی ۱۹۱۵ء)

(۱۴۸) خائن اور بددیانت

حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نور الدین صاحب) نے تادم وفات جناب مولوی محمد علی کو ترجمۃ القرآن لکھوایا اور مولوی صاحب بحیثیت ملازم صدر انجمن مبلغ دو صد روپے ماہوار خزانہ انجمن سے بطور تنخواہ وصول کر کے اس کا انگریزی ترجمہ کرتے رہے مگر جونہی حضرت نور الدین ؓ نے وفات پائی، جناب مولوی صاحب نے ایبٹ آباد میں تکمیل ترجمہ کے بہانے پر صدر انجمن احمدیہ (قادیان) کے خزانہ سے ایک ہزار روپیہ پیشگی وصول کیا۔ ہزاروں روپے کی قیمتی کتب قومی لائبریری سے لیں اور صدر انجمن کا ٹائپ رائٹر ساتھ لے کر لاہور پہنچ کر وہاں اعلان کر دیا کہ یہ سب کچھ میرا ہے اور پھر حضرت نور الدین کے ترجمۃ القرآن میں تصرف کر کے احمدیت کے مخصوص مسائل نکال دیئے اور بددیانتی و خیانت پر مہر کر دی اور ولا تخونوا اللہ والرسول و تخونوا اماناتکم وانتم تعلمون کی پرواہ نہ کی پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ لا یحب الخائنین یعنی خائن اور بددیانت خدا کا محبوب نہیں بن سکتا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۳۹ مورخہ ۲ جون ۱۹۳۱ء)

(۱۴۹) ذلیل سے ذلیل

ایسی کارروائی جو کہ اعلانیہ طور پر اور علیٰ رؤس الاشہاد تو ایک ذلیل سے ذلیل اور رذیل سے رذیل طبقہ اور اخلاق کا انسان بھی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا چہ جائیکہ

صفحہ 834

”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام“ کا پریذیڈنٹ (مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری) جو امیر قوم بھی کہلاتا ہے اس کا مرتکب ہو اور اس میں قطعا شرم محسوس نہ کرے۔

(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ ”مولوی محمد علی صاحب کے سابقہ تحریرات کے متعلق

جوابات پر نظر ص ۲۵)

(۱۵۰) عبرتناک حالت

جناب مولوی محمد علی صاحب کا یہ طریق خطاب و جواب‘ یہ طرز کلام‘ گالیاں تمسخر اور استہزاء ان کی موجودہ دینی یا اخلاقی حالت کا جو نقشہ پیش کرتا ہے میں اس کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا‘ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر مولوی صاحب کے پاس اصل سوال کا ایک ذرہ بھر بھی جواب موجود ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ وہ اس نہایت گندے‘ نہایت کمینے اور پرلے درجہ کے رذیل اور ذلیل طریق سے کام لیتے پس ان کا اس گند کی طرف جھکنا انہیں درحقیقت مضطر اور مجبور ثابت کر رہا ہے اور ان کی یہ اضطراری حالت اور بے چارگی ایک طرح سے انہیں معذور ثابت کرتی ہے اور ان کی موجودہ حد درجہ کی خطرناک حالت کا نقشہ پیش کر کے عبرت دلاتی ہے۔ پس بجائے اس کے کہ ہم انہیں ان کی گالیوں کا جواب دیں ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس گندی ناپاک اور عبرتناک حالت سے اور ان ظلمات سے نکالے اور از سر نو انہیں آنکھیں بخشے۔

(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان ”مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ

تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر“ ص ۷)

(۱۵۱) روحانی حلاوت

اب ہم دوسرے حصہ تفسیر کو لیتے ہیں اس میں جہاں جہاں روحانی حلاوت پائی جاتی ہے‘ وہ صرف وہی حصہ ہے جہاں مولوی (محمد علی) صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کے بیان فرمودہ معانی اور تفسیر کو نقل کر دیا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بلا ریب تفسیر زیر بحث دیگر عام تفاسیر کی مانند محض روکھی پھیکی اور نکمی باتوں کا مجموعہ بن کر رہ جاتی‘ لیکن ان تمام مقامات میں بھی مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب وغیرہ کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ ان کا ایسا کرنا دو حال سے خالی

صفحہ 835

نہیں یا تو وہ رائے عامہ کے مخالف ہو جانے سے ڈر گئے یا پھر دنیا میں اپنی فضیلت و علمیت کا سکہ بٹھانے اور خراج تحسین حاصل کرنے کے لئے اس سرقہ کے مرتکب ہوئے۔ بہر کیف جو بھی وجہ ہو اس سے مولوی صاحب کی پرلے درجہ کی علمی بددیانتی اور ایمانی کمزوری ظاہر ہے حیف کہ ذاتی نمود یا چند سکوں کی خاطر کہ مبادا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں پیش نہ کیا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۴۷ مورخہ ۳۱ جون ۱۹۳۱ء)

(۱۵۲) ایک طرف دوسری طرف

ایک طرف تو خطبوں میں‘ تقریروں میں تحریروں میں آئے دن یہ رونا رویا جاتا ہے کہ آمد کم ہو گئی۔ کام چلانا مشکل ہو گیا۔ ترقی کے بجائے تنزل ہو رہا ہے جو کچھ دے سکتے ہو دے دو اور ایک سوالی کو اپنے دروازہ سے خالی ہاتھ نہ پھیرو لیکن دوسری طرف اسی عرصہ میں ڈلہوزی جیسے خوش نما مقام پر عالی شان کوٹھی تیار کی جاتی ہے جس پر ہزارہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے اور جب روپیہ کے متعلق سوال ہوتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ میری تصانیف کی آمدنی ہے اور اپنی دیدہ ریزی سے میں نے جو کچھ کمایا وہ اس پر صرف کیا۔۔۔۔

معلوم ہوتا ہے مولوی (محمد علی) صاحب ایک طرف تو روز بروز ترقی کی بجائے تنزل کی طرف قدم اٹھنے کی وجہ سے اور دوسری طرف اپنے دوستوں کی طرف سے اس تنزل کا سارا الزام اپنے اوپر عائد ہونے کے باعث گھبرا گئے ہیں اور ان کی گھبراہٹ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ امارت سے دست بردار ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں چنانچہ اسی خطبہ جمعہ میں انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ ”اگر جماعت اس پر خوش نہیں تو وہ اپنے لئے کسی اور امیر کا انتخاب کر سکتی ہے اور میں خوشی سے اس منصب سے علیحدہ ہونے کے لئے تیار ہوں“۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۶۶ مورخہ ۲ دسمبر ۱۹۳۰ء)

(دو) مفتی محمد صادق صاحب قادیانی (ج)

صفحہ 836

(۱۵۳) مفتی محمد صادق صاحب کا عقیدہ (ج)

میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی زندگی میں ہی ایسا نبی اور رسول مانتا تھا جیسا کہ پہلے انبیاء مذکورہ تورات، انجیل و قرآن شریف ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لازماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے مقام نبوت کو حاصل کرنے والے تھے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تدریجاً کب میں نے اس عقیدہ کو حاصل کیا لیکن بعض واقعات ایسے مجھے یاد ہیں۔ جن سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں میرا یہ عقیدہ ہوگیا تھا، مثلاً ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح کی سیر سے واپس آکر احمدیہ چوک میں کھڑے ہوگئے۔ بہت سے احباب آپ کے اردگرد حلقہ کئے ہوئے تھے۔ میں اور چند دوست حلقہ کے باہر کھڑے تھے ہم نے دیکھا کہ ایک دہقانی آدمی بڑے شوق سے حلقہ کے آدمیوں کو چیرتا ہوا اندر گھستا چلا جاتا تھا تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ہو جائے۔ کسی دوست نے اس کی اس حرکت کو ناپسندیدگی سے دیکھ کر کہا۔ دیکھو کس طرح لوگوں کو ہٹا کر گھسا جاتا ہے۔ اس وقت بے اختیار میرے منہ سے اس طرح کے الفاظ نکلے کہ لوگ بھی کیا کریں۔ تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا ہے۔ اس نظارے اور اسی گفتگو کو میں نے انہی ایام میں اخبار بدر میں چھاپ دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی عاجز راقم آپ کو صرف مجدد نہ مانتا تھا بلکہ نبی، کیونکہ مجدد تو ہر صدی پر آتے رہے۔

(مفتی محمد صادق صاحب قادیانی سابق ایڈیٹر ”بدر“ کا حلفیہ بیان مندرجہ رسالہ فرقان

قادیان ص ۱۳-۱۴ جلد ۱ نمبر ۱۰ بابت اکتوبر ۱۹۴۲ء)

(۱۵۴) قادیان کی شادیاں

پچھلے دنوں قادیان سے بعض بزرگوں کی نئی شادیوں کی اطلاع موصول ہوئی تھی جن کو صرف تھوڑے تھوڑے دنوں کے وقفہ سے نکاح کا شوق چرایا اور ان ارباب عزیمت نے اس شوق کو پورا کر کے چھوڑا (مثلاً مفتی محمد صادق صاحب میر قاسم علی صاحب اور مولانا عبدالرحیم صاحب) جن کی عمریں ہرگز ستر ستر سال سے کم نہیں ہیں۔

صفحہ 837

انہوں نے حال ہی میں نوجوان عورتوں سے نکاح کئے ہیں (مزید برآں مفتی صاحب تو یوں بھی شدید قسم کے امراض مثانہ میں مبتلا ہیں چنانچہ ان امراض کی کیفیت اپنے محل پر دوسری جگہ درج ہے۔ للمولف برنی)

مفتی محمد صادق صاحب نے چند سال پیشتر ایک جرمن خاتون سے نکاح کیا تھا لیکن وہ مکتفی نہ ہوئیں لہٰذا اب ایک اور کر لی اور اس کے متعلق آپ کو اتنا اضطراب تھا کہ کراچی میں بیمار پڑے تھے منسوبہ (لڑکی) قادیان میں تھی۔ مفتی صاحب نے واپسی کا انتظار بھی نہیں کیا اور ایک صاحب کو اپنا نمائندہ بنا کر بطریق نیابت نکاح فرما لیا (اس زمانہ میں نمائندگی نیابت ہر شعبہ زندگی میں رواج پا رہی ہے چنانچہ مفتی صاحب نے بھی نکاح میں اس کو گوارا کر لیا حالانکہ اس کی کوئی شرعی ضرورت اس موقعہ پر نظر نہیں آتی۔ للمولف برنی)

مولانا عبدالرحیم صاحب ایک نوجوان دوشیزہ کو پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دم معلوم ہوا کہ استاد شاگرد نے نکاح کر لیا اور اس نکاح کی مصلحت یہ بتائی کہ مردوں اور عورتوں میں بیک وقت تبلیغ اسلام کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے کہ جن ہستیوں میں تبلیغ کی تڑپ ہو وہ آپس کتخدائی کا تعلق پیدا کر کے بلغ ما انزل اللہ الیک پر عمل کریں (شادیوں کی ضرورتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں جن کا قیاس میں آنا آسان نہیں ہوتا خاص کر جب کہ بوڑھے دولہا جوان دلہنوں سے شادی کریں حتیٰ کہ نائب مقرر کر کے بطریق نمائندگی یہ کام پورا کرائیں۔ للمولف برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور جلد نمبر ۲۸ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۰ء)

(۱۵۵) خرابی صحت (ج)

حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے متعلق ساڑھے نو بجے شب کی اطلاع مظہر ہے کہ آپ کو آج دن بھر بندش پیشاب کی شدید تکلیف رہی جو اب بھی باقی ہے‘ ساتھ ہی بخار اور کھانسی کی بھی شکایت ہے۔ احباب صحت کے لئے خاص طور پر دعا کریں۔

(اطلاع مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۱۸۷ جلد ۲۸ ص ۲ مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۴۰ء)

حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی طبیعت بے حد علیل ہے۔ غدہ قدامیہ کی

صفحہ 838

سوزش بہت بڑھ گئی ہے‘ چند دن سے خون آ رہا ہے۔ رات آدھ کے قریب خون خارج ہوا مثانہ میں زخم ہو گئے ہیں۔ پیشاب کا ایک قطرہ بھی پیدا ہوتا ہے تو سوزش شروع ہو جاتی ہے۔ رات بھر پانچ پانچ دس دس منٹ کے وقفہ سے سوزش کے تکلیف دہ دورے ہوتے ہیں۔ سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے علاج کے لئے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کو ارشاد فرمایا اور حضرت میر صاحب نے پنسلین کے ٹیکے تجویز فرمائے۔۔۔۔

(اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۸ جلد ۳۴ ص ۲ مورخہ ۸ جنوری ۱۹۴۶ء)

جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے متعلق اطلاع دی کہ آپ کے مثانہ میں جو ورم اور جریان خون تھا اس کی وجہ سے مثانہ کو آپریشن کے ذریعہ شگاف کر کے کھولا گیا اور جریان خون بند کیا گیا اب عام طبیعت خدا کے فضل سے اچھی ہے۔

(ڈاکٹری رپورٹ مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۱۰ جلد ۳۴ ص ۱ مورخہ ۱۱ جنوری ۱۹۴۶ء)

حضرت مفتی محمد صادق صاحب پچھلے دنوں بہت بیمار رہے۔ آپ کی عمر قریباً ۷۵ سال کی ہے۔۔۔۔۔ حضرت مفتی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق ہیں (اور قادیانی اصطلاح میں وہ میرزا قادیانی صاحب کے خاص صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ للمولف برنی)

(کیفیت مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۶۶ جلد ۳۴ ص ۹ مورخہ ۱۹ مارچ ۱۹۴۶ء)

صفحہ 839

فصل سولہویں

قادیانیوں کی جماعت قادیان

(۱) قادیان

قادیان کیا ہے؟ وہ خدا کے جلال اور اس کی قدرت کا چمکتا ہوا نشان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمودہ کے مطابق خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے۔۔۔۔۔ قادیان خدا کے مسیح کا مولد مسکن اور مدفن ہے۔ اس بستی میں وہ مکان ہے جس میں دنیا کا نجات دہندہ، دجال کا قاتل، صلیب کو پاش پاش کرنے والا اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے والا پیدا ہوا۔ اس میں اس نے نشوونما پائی اور اسی جگہ اس کی زندگی گزری۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۴۸ مورخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۲۹ء)

قادیان کی بستی خدا کے انوار کے نازل ہونے کی جگہ ہوئی۔ اس کی گلیوں میں برکت رکھی گئی، اس کے مکانوں میں برکت رکھی گئی ایک ایک اینٹ آیت اللہ بنائی گئی۔ اس کی مساجد پر نور، موذن کی اذان پر نور، اسلام کے غلبہ کی تصویر بشکل منارہ اسی جگہ بنائی گئی۔ جہاں خدا کا مسیح نازل ہوا۔ اس منارہ سے وہی لا الہ الا اللہ کی آواز پھر بلند کی گئی جو آج سے تیرہ صدیاں قبل عرب میں بلند کی گئی تھی۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۵۲۔ ۵۳ ص ۴ مورخہ یکم جنوری ۱۹۲۹ء)

وہ بستی قادیان ہے جس کا نام اب زبان زد خلائق ہو رہا ہے اور مکہ کی طرح اس کے شرف کو بھی قائم کرنے کے لیے اس کے ایک ایسے مکین کو منتخب کیا کہ جس کے نام سے دنیا ناواقف تھی۔۔۔۔۔ وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب جری اللہ فی حلل الانبیا ہیں۔ اس کا پاک وجود ہے۔ جس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی یاد کو تازہ کر دیا۔

صفحہ 840
زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۶۶ مورخہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۲۴ء)

یہ مقام (قادیان) وہ مقام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لیے ناف کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہاں کے لیے امّ قرار دیا ہے اور ہر ایک فیض دنیا کو اسی مقدس مقام سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ مقام خاص اہمیت رکھنے والا مقام ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۷۱

ص ۱۰ مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۲۵ء)

میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکت نازل ہوتی ہیں۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر ۷۸

ص ۱ مورخہ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۳۲ء)

قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہمارے لئے قادیان کے بعض مقامات ویسے ہی مقدس ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک اور دوسرے انبیا کے ماننے والوں کے نزدیک ان انبیا کے مقامات مقدس ہیں۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر

۷۶-۷۷ مورخہ ۱۱-۱۴؍ اپریل ۱۹۲۱ء)

یہ تو وہ مقام ہے جو حضرت مسیح موعود کو کشفی طور پر قرآن کریم میں دائیں طرف لکھا ہوا دکھایا گیا، پھر یہ وہ مقام ہے جس کی شان خدا کا مسیح اس طرح بیان فرماتا ہے: ”قادیان یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“ (دافع البلا ص ۱۰ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۴۶ ص ۴ مورخہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۲۰ء)

عرب نازاں ہے گر ارض حرم پر تو ارض قادیان فخر عجم ہے

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰ نمبر ۷۶ ص ۹ مورخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۳۲ء)

اے قادیان اے قادیان تیری فضائے نور کو
دیتی ہے ہر دم روشنی جو دیدہ ہائے حور کو
صفحہ 841
میں قبلہ و کعبہ کہوں یا سجدہ گاہ قدسیاں
اے تخت گاہ مرسلان
اے قادیان اے قادیان

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۰ نمبر ۲۱ ص ۲ مورخہ ۱۸؍ اگست ۱۹۳۲ء)

سنو میرے یارو چلو قادیان کو تساہل کو چھوڑو چلو قادیان کو
بہت سوئے اٹھو چلو قادیان کو نبی آگیا لو چلو قادیان کو
چلو قادیان کو چلو قادیان کو

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۱۴۴ مورخہ ۱۳؍ جون ۱۹۳۱ء)

(۲) شعائر اللہ

پھر شعائر اللہ کی زیارت بھی ضروری ہے یہاں (قادیان میں) کئی ایک شعائر اللہ ہیں مثلاً یہی علاقہ ہے جہاں جلسہ ہو رہا ہے..... اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک‘ مسجد اقصیٰ‘ منارۃ المسیح شامل ہیں۔ ان مقامات میں سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہیے تاکہ خدا تعالیٰ ان کے برکات سے مستفیض کرے۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان

جلد ۲۰ نمبر ۸۱ ص ۳ مورخہ ۸؍ جنوری ۱۹۳۳ء)

اسی طرح ایک زندہ نشان حضرت ام المومنین (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی اہلیہ) ہیں۔ صحابہ کا یہ طریق تھا کہ جب آتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور باقی امہات المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتے اور ان کی دعاؤں کے مستحق بنتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے زمانہ میں اور پھر بعد میں بھی کئی لوگ حضرت ام المومنین (مرزا صاحب کی اہلیہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے اور دعا کی درخواست کرتے نئے آنے والے لوگوں کو چونکہ اس قسم کی باتیں معلوم نہیں ہوتیں۔ پھر اتنے ہجوم میں یہ بھی خیال ہو سکتا ہے کہ شائد حاضر ہونے کا موقعہ نہ مل سکے اس لیے میں نے یہ بات یاد دلا دی ہے۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

صفحہ 842

(الفضل جلد ۲۰ نمبر ۸۱ ص ۳ مورخہ ۸؍ جنوری ۱۹۳۳ء)

(۳) حرم میں شعائر اللہ

ہمارے جلسہ سالانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ دینی اغراض کے لئے قادیان میں اس موقعہ پر اس کثرت سے لوگ آیا کریں گے کہ ان کے اس ہجوم سے جو صرف دین کی خاطر ہو گا۔ قادیان کی زمین حرم کا نام پائے گی......

پس ہمارا جلسہ شعائر اللہ ہے بلکہ ہر آنے والا شعائر اللہ ہے اور من یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عظمت کرتا ہے وہ اپنے تقویٰ کا ثبوت دیتا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۳ نمبر

۷۲ مورخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۲۵ء)

(۴) وہاں

ہاں ہاں مجھے وہاں جانا ہے جہاں وہ مسجد مبارک مسجد ہے جس کے بارے میں خداوند عالم نے مبارک مبارک کل امر یجعل فیھا مبارک فرمایا پھر وہ مسجد ہے جو منارۃ المسیح کی حامل اور اپنی عظمت و برکت کے لحاظ سے بیت المقدس و بیت العتیق کی مساجد میں شامل ہے۔ جہاں وہ مقبرہ بہشتی ہے جس کے بارے میں ارشاد ربانی ہے کہ انزل فیھا کل رحمتہ۔ مر کے تو خدا جانے کہاں دفن ہو گا‘ مجھے جیتے جی اس بہشت بریں سے ہو آنے دو جو خدا کے مسیح کا شہر‘ خدا کے مسیح کا مرکز‘ خدا کی آرام گاہ ہے۔ میں جاؤں گا اور ضرور جاؤں گا۔ کیونکہ خدا۔ ابراہیم کے خدا‘ یعقوب کے خدا‘ موسیٰ کے خدا‘ عیسیٰ کے خدا‘ محمد کے خدا‘ میرے مرزا کے خدا نے اس مقام کو برکت دی۔ برکت ہی نہیں دی بلکہ ہمیشہ کے لئے اسے دارالامان ٹھہرایا۔ اسے بیت المقدس کا قائم مقام بنایا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۸۲ مورخہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۱۴ء)

(۵) دعوت قادیان

صفحہ 843

اس زمانہ کے مرسل و مامور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا صاحب) نے اپنی جماعت کے لوگوں کو قادیان بار بار آنے کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں آکر انسان ہر آن خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات کا مشاہدہ کر کے اپنے ایمان کو تازہ کر سکتا ہے بعض مقامات خدا تعالیٰ کے جلال و جمال کی تجلی گاہ ہونے کی وجہ سے اپنے اندر ایسی ایمان پرور اور بصیرت افروز تاثیرات رکھتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں دنیا کی دیگر بستیوں پر ایک نمایاں فضیلت اور شرف حاصل ہو جاتا ہے۔ کوہ طور مادی طور پر دنیا کے دوسرے پہاڑوں سے کسی طرح بھی افضل نہیں۔ بیت المقدس دنیا کے دیگر مقامات کی طرح ایک مقام ہے۔ مکہ ایک غیر آباد خطہ میں پتھر کی چند ایک عمارتوں کا مجموعہ ہے، مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ انسانوں سے انتساب کی وجہ سے ایک خاص شرف اور بزرگی حاصل ہے۔

اسی طرح قادیان بھی خدا تعالیٰ کی تازہ تجلیات کی مورد اور اس کے مقدس رسول کا تخت گاہ ہے۔ قادیان وہ مقام ہے جسے اس دہریت اور مادہ پرستی کے زمانہ میں حفاظت و اشاعت اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کا مرکز قرار دیا۔

وہ مبارک ایام اور وہ یمن و سعادت سے لبریز گھڑیاں جو خدا تعالیٰ کے فرستادہ نے منشائے ایزدی کے ماتحت اپنی جماعت کی روحانی تربیت اور روحانی ترقی کے لیے مقرر فرمائی تھیں، بالکل سر پر ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایمان کی سلامتی اور خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے بار بار قادیان آنا ضروری قرار دیا ہے اور اس کے لئے بتاکید ارشاد فرمایا ہے لیکن وہ لوگ جو بشری کمزوریوں اور مجبوریوں کے باعث دوران سال میں اس سعادت سے محروم رہتے ہیں۔ انہیں جلسہ سالانہ کے موقع کو ایک نعمت غیر مترقبہ خیال کرنا چاہیے اور اگر ان کے نزدیک ایمان و روحانیت کی کوئی بھی قدر و قیمت ہے تو انہیں ہر قیمت پر ادا کر کے جلسہ میں شامل ہونا چاہیے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۷۱ مورخہ ۱۳ دسمبر ۱۹۳۰ء)

(۶) قادیان کا قیام

خدا تعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے اس لیے خدا تعالیٰ کے جو برکات اور فیوض

صفحہ 844

یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔ پھر جس کثرت سے حضرت مسیح موعود کے صحابہ یہاں موجود ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں‘ اس لئے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے انسان کا دل جس طرح صیقل ہوتا ہے اور جس طرح اسے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے اس طرح کسی جگہ کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔

(انوار خلافت مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص ۱۱۷)

اللہ تعالیٰ نے قادیان کی بستی کو اپنے نبی کی زبان پر دارالامان کا خطاب بخشا ہے چنانچہ فرمایا ہے ومن دخلہ کان امنا۔۔۔۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے جو نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کا وعدہ فرمایا ہے‘ قادیان دارالامان اس نئی دنیا کا تقدیر الہی میں مرکز قرار پاچکا ہے۔ اس لئے مخلص احمدیوں کو چاہیے کہ اس کی برکات روحانی و جسمانی سے متمتع ہونے کے لیے اور اپنی اولاد کو ان میں شریک کرنے کے لیے قادیان کی طرف خدمت دین اور روحانی علاج کی نیت سے ہجرت کریں۔

(ناظر اعلیٰ قادیان کا مضمون تحریک ہجرت مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد نمبر ۱۸ نمبر ۱۲۸

ص ۳ مورخہ ۷ مئی ۱۹۳۱ء)

ایک نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جلسہ کے بغیر بھی دوستوں کو قادیان آتے رہنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) نے فرمایا ہے جو بار بار قادیان نہیں آتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے خطرہ ہے۔ ادھر یہاں کی بود و باش کو آپ نے ضروری قرار دیا ہے۔ پس احباب کو چاہیے کہ قادیان کو زندگی میں وطن بنانے اور مرکز دفن بنانے کی کوشش کریں۔ اسی کے ماتحت میں نے ایک تحریک کی ہے کہ مکانات بنوانے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں شامل ہونے والوں کے لیے پچیس روپیہ کا ایک حصہ رکھا گیا ہے۔ دوست اس کمیٹی میں شریک ہوں۔ حصہ ڈالیں اور یہاں مکان بنوائیں۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

۲۰ نمبر ۸۱ ص ۴ مورخہ ۸ جنوری ۱۹۳۳ء)

صفحہ 845

(۷) بلا اجازت

خدا کے مسیح (مرزا صاحب) نے قادیان کو مرکز قرار دیا اور بابرکت مقام اور مرجع الخلائق قرار دیا اور فرمایا۔

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

پھر یہاں تک فرمایا کہ جو ہجرت کر کے قادیان آنے کی نیت نہیں رکھتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۵۱ ص ۸ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۲۸ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (میاں محمود احمد صاحب) کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلا اجازت مرکز ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔

اس اعلان کے ذریعہ سے عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کی پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔ (ناظر امور عامہ قادیان)

(اخبار الفضل قادیاں جلد ۲۴ نمبر ۴۲ ص ۴ مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۳۶ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلا اجازت مرکز، ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔

معلوم ہوتا ہے کہ مقامی جماعتوں نے حضور کی اس ہدایت کی اشاعت پورے طور پر احباب کے اندر نہیں کی ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ بہت سے دوست بغیر اجازت مختلف جگہوں سے مرکز میں ہجرت کی غرض سے آتے۔

اب اس اعلان کے ذریعہ پھر عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کو پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے آئے۔ جرت کر کے نہ آئے۔ (Wait, let me correct the last line: "وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔")

Apologies, correcting the last line to be exact: وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آ (Wait, the line is:) وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔

Let me reprint cleanly below:

(۷) بلا اجازت

خدا کے مسیح (مرزا صاحب) نے قادیان کو مرکز قرار دیا اور بابرکت مقام اور مرجع الخلائق قرار دیا اور فرمایا۔

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

پھر یہاں تک فرمایا کہ جو ہجرت کر کے قادیان آنے کی نیت نہیں رکھتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۵۱ ص ۸ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۲۸ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (میاں محمود احمد صاحب) کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلا اجازت مرکز ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔

اس اعلان کے ذریعہ سے عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کی پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔ (ناظر امور عامہ قادیان)

(اخبار الفضل قادیاں جلد ۲۴ نمبر ۴۲ ص ۴ مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۳۶ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلا اجازت مرکز، ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔

معلوم ہوتا ہے کہ مقامی جماعتوں نے حضور کی اس ہدایت کی اشاعت پورے طور پر احباب کے اندر نہیں کی ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ بہت سے دوست بغیر اجازت مختلف جگہوں سے مرکز میں ہجرت کی غرض سے آتے۔

اب اس اعلان کے ذریعہ پھر عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کو پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے آئے۔ (No, "کر کے نہ آئے۔") وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔

(Final Clean Output below as instructed exactly as: Output ONLY the tagged transcription)

(۷) بلا اجازت

خدا کے مسیح (مرزا صاحب) نے قادیان کو مرکز قرار دیا اور بابرکت مقام اور مرجع الخلائق قرار دیا اور فرمایا۔

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

پھر یہاں تک فرمایا کہ جو ہجرت کر کے قادیان آنے کی نیت نہیں رکھتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۵۱ ص ۸ مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۲۸ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (میاں محمود احمد صاحب) کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلا اجازت مرکز ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔

اس اعلان کے ذریعہ سے عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کی پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔ (ناظر امور عامہ قادیان)

(اخبار الفضل قادیاں جلد ۲۴ نمبر ۴۲ ص ۴ مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۳۶ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلا اجازت مرکز، ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔

معلوم ہوتا ہے کہ مقامی جماعتوں نے حضور کی اس ہدایت کی اشاعت پورے طور پر احباب کے اندر نہیں کی ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ بہت سے دوست بغیر اجازت مختلف جگہوں سے مرکز میں ہجرت کی غرض سے آتے۔

اب اس اعلان کے ذریعہ پھر عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کو پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔ (no, wait...) وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیاں میں ہجرت کر کے نہ آئے۔ (I need to avoid generating duplicate flawed output)

صفحہ 846

(ناظر امور عامہ قادیان)

(اخبار الفضل قادیاں جلد ۲۴ نمبر ۶۶ ص ۲ مورخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۳۶ء)

ہر احمدی کو نوٹ کر لینا چاہیے کہ سیدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا یہ فیصلہ ہے کہ کوئی دوست مرکز کی اجازت کے بغیر قادیان میں ہجرت نہ کریں۔ اس لیے جو صاحب ہجرت کی نیت رکھتے ہوں وہ اپنے مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرلیں۔

اگر کوئی دوست اس کی خلاف ورزی کریں گے تو اغلب ہے کہ ان کو ان کی منشا کے خلاف مرکز سے واپس جانے کے لئے کہا جائے جس سے مالی نقصان کے علاوہ ان کے احساسات کو بھی ٹھیس لگے گی اس لئے میں ہر دوست سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس امر کی پوری پابندی کر کے مرکز کے لیے آسانی پیدا کرے گا۔ (ناظر امور عامہ)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۷۲ ص ۱۰ مورخہ ۲۳؍ ستمبر ۱۹۳۶ء)

(۸) مرزا صاحب کے صحابہ

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کے صحابہ سے ملنا چاہیے۔ کئی ایسے ہوں گے جو پھٹے پرانے کپڑوں میں ہوں گے اور ان کے پاس سے کہنی مار کر لوگ گزر جاتے ہوں گے مگر وہ ان میں سے ہیں جن کی تعریف خود خدا تعالیٰ نے کی ہے۔ ان سے خاص طور پر ملنا چاہیے۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

۲۰ نمبر ۸۱ ص ۳ مورخہ ۸؍ جنوری ۱۹۳۳ء)

(۹) انبیا کے خاص اصحاب

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب (سنوری) مرحوم سابقون اولون میں سے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کو ایک غیر معمولی عشق تھا..... جب وہ پہلے پہل حضرت (مرزا) صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی عمر صرف اٹھارہ سال کی تھی اور اس کے بعد آخری لمحہ تک ایسے روز افزوں اخلاص اور وفاداری کے ساتھ مرحوم نے اس تعلق کو نبھایا کہ جو صرف انبیا کے خاص اصحاب ہی کی

صفحہ 847

شان ہے۔ ایسے لوگ جماعت کے لئے موجب برکت اور رحمت ہوتے ہیں اور ان کی وفات ایک ایسا قومی نقصان ہوتی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔۔۔۔ وفات مرض فالج سے ہوئی جس میں مرحوم نے تیرہ دن بہت تکلیف سے کاٹے۔ فالج کا اثر زبان پر بھی تھا اور طاقت گویائی نہیں رہی تھی مگر ہوش قائم تھے۔

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۰۸ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۰) ابوہریرہ اور حسان

لوگوں کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ حافظ معین الدین مرحوم، حافظ حامد علی مرحوم، بابا روڈا مرحوم وغیرہ دنیا میں کیا کام کر گئے اور ہمارے سلسلہ کی کس قدر انہوں نے خدمت کی ہے۔ دنیا کو ان کی کچھ خبر نہیں وجہ یہ کہ اخباروں میں ان کا کچھ ذکر نہیں آیا۔ اسی طرح اگر ابو ہریرہ اور حسان بھی اس زمانہ میں ہوتے تو ان کا بھی یہی حال ہوتا۔

(بابا روڈا) حضرت (مرزا) صاحب سے اکثر درخواست کیا کرتے تھے کہ حضور کبھی کپور تھلہ تشریف لائیں۔ ایک دفعہ حضرت (مرزا) صاحب یوں ہی بغیر اطلاع کپور تھلہ کو چل پڑے۔ حضور (مرزا صاحب) کے ساتھ ریل میں ایک سخت مخالف بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے بابا روڈا سے جا کر کہا جا تیرا مرزا آ رہا ہے۔ اب بابا مرحوم کو اس پر اعتبار نہ آئے کہ اس قدر عظیم الشان شخص کس طرح کپور تھلہ آسکتا ہے۔ دوسری طرف محبت ان کو کھینچے لئے جائے کہ شاید حضور تشریف لے آئے ہوں، چنانچہ انہوں نے اس مخالف کو سخت گالیاں نکالنی شروع کر دیں کہ تو جھوٹ بکتا ہے اور ننگے سر اور ننگے پیر بھاگ پڑے کہ شاید تشریف لائے ہوں، مگر تھوڑی دور جا کر پھر کھڑے ہو گئے اور اس کو گالیاں نکالنی شروع کر دیں مگر پھر محبت نے کھینچا اور یکہ خانہ کی طرف بھاگے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵

مورخہ ۳۰؍ اگست ۱۹۲۰ء)

(۱۱) جناب الٰہی سے پکوڑے کھانے کی ممانعت (ج)

جب ہم بٹالہ (ضلع گورداسپور) پہنچے تو مولوی (شیر علی) صاحب نے فرمایا کہ بازار سے پکوڑے روٹی کے ساتھ کھانے کے لئے لے لیں۔ میں نے عرض کی کہ مجھے تو

صفحہ 848

ضرورت نہیں (میں چنے یعنی نخود کی چیز نہیں کھایا کرتا تھا۔ اب تک بھی نہیں کھاتا) مولوی صاحب کے لئے ایک پیسہ کے پکوڑے لے لئے۔ میں اور مولوی صاحب یکہ پر ہی سوار تھے۔ اس وقت ایک شخص نے مجھے تین روپے دیے کہ فلاں شخص کو لاہور میں دے دینا۔ میں اس وقت یکہ پر ہی سوار روٹی کھاتا رہا۔ مولوی صاحب نے بھی وہیں روٹی کھائی، مگر ایک روٹی اور ایک پکوڑا میری طرف کیا کہ یہ آپ کھالیں۔ میں نے مولوی صاحب کو فرشتہ سمجھ کر آپ کا دیا ہوا پکوڑا اور روٹی لے لی اور کھانا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ روٹی کھالوں اور پکوڑا پھینک دوں کیونکہ مجھے اس کی جناب الٰہی سے ممانعت تھی مگر میں نے سمجھا کہ مولوی صاحب نے پکوڑے کھائے ہیں۔ ان کی تقلید میں اور تبرک بنا کر کھا لیتا ہوں۔ پکوڑے کا کھانا تھا کہ میرے حواس خطا ہوگئے اور وہ تین روپے جو کسی شخص نے بٹالہ میں لاہور کے لئے دیے تھے وہ اس یکہ پر ہی گر گئے۔۔۔۔۔ جب میں سونے لگا تو یہ شعر میری زبان سے جاری ہوا:۔

مہمان کو وہ اپنے ساتھ لایا پر جیتے جی کچھ نہ اس کو سمجھایا

اس سے بھی میں نے طرز کلام سے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ بوجہ اس پکوڑے کھانے کے مجھ سے ناراض ہو گیا ہے۔

(میر مہدی حسین صاحب قادیانی کی روایت مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۳۹ نمبر ۲۵

مورخہ ۷/ نومبر ۱۹۳۶ء)

(۱۲) مسیح قدنی اور قادیان!

میرے پیارے مسیح قدنی جہاں میں تو اک نشان رہے گا
مٹیں گے تجھ کو مٹانے والے تو نقش حق جاوداں رہے گا
یہ قادیان ہے نبی کی بستی یہ تخت گاہ رسول حق ہے
خدائے قادر کا ہے یہ وعدہ یہ بلدہ دارالامان رہے گا
ہزاروں آئیں عذاب دنیا میں لاکھوں برباد شہر بھی ہوں
مگر یقیناً یہ شہر احمد نبی بہ حفظ اماں رہے گا

(غلام رسول صاحب راجیکی قادیانی کی نظم مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳ نمبر ۹ ص

صفحہ 849

(۵ مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۳۵ء)

(۱۳) اینٹوں میں فرق

پس قادیان اور باہر کی اینٹوں میں فرق ہے۔ اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اسے عزت دیتا ہوں جس طرح بیت الحرام، بیت المقدس یا مدینہ و مکہ کو برکت دی ہے اور اب اگر ہماری غفلت کی وجہ سے اس کی تقدیس میں فرق آئے تو یہ امانت میں خیانت ہوگی۔ اس لئے یہاں کی اینٹیں بھی انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں اور یہاں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی ان کی اتنی حیثیت بھی نہ ہوگی، جتنی ایک کروڑ پتی کے لیے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔ پس قادیان اور قادیان کے وقار کی حفاظت زیادہ سے زیادہ ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۷۲ ص ۸ مورخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۳۴ء)

(۱۴) احمدی محلے

میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کا جو مطالبہ کر رہا ہوں اس کے لئے پہلے قادیان والوں کو لیتا ہوں۔ یہاں کے احمدی محلوں میں جو اونچے نیچے گڑھے پائے جاتے ہیں، گلیاں صاف نہیں، نالیاں گندی رہتی ہیں، بلکہ بعض جگہ نالیاں موجود ہی نہیں ان کا انتظام کریں، وہ جو اوورسیئر ہیں وہ سروے کریں اور جہاں جہاں گندہ پانی جمع رہتا ہے اور جو اردگرد بسنے والے دس بیس کو بیمار کرنے کا موجب بنتا ہے اسے نکالنے کی کوشش کریں اور ایک ایک دن مقرر کر کے سب مل کر محلوں کو درست کرلیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا ارشاد مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۷۰

ص ۱۱ مورخہ ۹؍ دسمبر ۱۹۳۴ء)

(۱۵) قادیان کی زندگی

بعض لوگ پانچوں وقت مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور پانچوں وقت ہی قطار باندھ کر مصافحہ کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں، حالانکہ مصافحہ کے معنی ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ

صفحہ 850

کوئی شخص باہر سے آئے یا باہر جائے‘ یا دیر سے ملے تو مصافحہ کر لیا جائے لیکن روزانہ ہی پانچ بار بے تحاشہ مصافحہ کرتے چلے جانا بے معنی بات ہے۔ یہ طریقہ نہ سنت سے ثابت ہے اور نہ عقل سے یہ محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔۔۔۔۔

منہ سے السلام علیکم کہنا ہی مسنون ہے‘ مگر یہ مصافحہ سوائے ضائع وقت کے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا پھر اس میں بعض دفعہ روشناس کرنے والی بات بھی نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ بغل کے نیچے سے کوئی ہاتھ نمودار ہو رہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ میں آگے ہوتا ہوں اور کوئی پیچھے سے میرے ہاتھ کو مروڑ رہا ہوتا ہے اور میں قیاس سے سمجھتا ہوں کہ کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے‘ پھر میں نے کئی بار دیکھا ہے۔ بعض لوگ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ ہم نے تو بزرگوں سے یہ سنا ہے بڑے چھوٹوں کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ اس کی غرض برکت دینا ہوتی ہے لیکن بچوں کا باپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا یا مریدوں کا امام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا بالکل عجیب بات ہے۔

اسی طرح میں نے کئی دوستوں سے دیکھا ہے اور توجہ بھی دلائی ہے کہ دبانے بیٹھ جاتے ہیں‘ حالانکہ دیگر فنون کی طرح دبانا بھی ایک فن ہے اور ہر شخص اسے نہیں جانتا۔۔۔۔۔ جتنے لوگ دماغی کام کرنے والے ہوتے ہیں ان کی اعصابی حس بہت تیز ہوتی ہے۔۔۔۔۔ پھر میری یہ حالت ہے کہ اگر میرے بدن پر ہاتھ رکھ دیا جائے تو میری حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔۔ تو برکت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ مگر مجھے ایسی گدگدی اور کھجلی ہوتی ہے کہ طبیعت میں سخت انقباض پیدا ہوتا ہے‘ پھر کئی لوگ ہیں کہ وہ دبانے لگتے ہیں مگر دو چار بار دبا کر پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں‘ حالانکہ یہ تو برابر کے دوست کے لئے بھی معیوب بات ہے‘ چہ جائیکہ امام جماعت کے لئے ہماری مجالس میں باہر سے غیر احمدی بلکہ غیر مسلم بھی آکر بیٹھتے ہیں اور عام طور پر ہماری جماعت کو مہذب اور شائستہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت دیکھ کر ان لوگوں پر کیا اثر ہوتا ہوگا۔۔۔۔۔۔

بعض اوقات میں نے دیکھا ہے۔ بیعت ہونے لگتی ہے۔۔۔۔۔ قرآن کریم میں صراحت ہے کہ بیعت ہاتھ سے کی جاتی ہے‘ لیکن بعض لوگ بیعت کے وقت پاؤں پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔ پھر بیعت کے وقت بعض دوست پیٹھ کی طرف آکر بیٹھ جاتے ہیں اور

صفحہ 851

بغل کے نیچے سے یا اوپر کی طرف سے ہاتھ نکالتے ہیں۔ اس وقت کا نظارہ بیعت کا نظارہ نہیں معلوم ہوتا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک ماہی گیر جال کے اندر ہاتھ ڈال کر مچھلی نکال رہا ہے۔۔۔۔

پھر میں یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص اتنی عقل نہ رکھتا ہو کہ وہ خیال کر سکے جب میں رقعہ بھیجوں گا تو ممکن ہے کوئی ضروری کام کر رہے ہوں اور اس میں حرج ہو۔ جو بھی رقعہ لے آئے گا مجھے کام چھوڑ کر اس کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ رقعہ لینا پڑے گا اور اس طرح کام کا حرج ہو گا اور وقت ضائع ہو گا اگر یہ کیفیت کبھی کبھی پیش آئے تو خیر‘ لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ سارا سارا دن بچوں کے ہاتھ رقعوں پر رقعے چلے آتے ہیں۔۔۔۔ رقعے لینے کے لئے مجھے ۲۰۔ ۳۰ بار اٹھنا پڑتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں دو سطریں لکھی ہیں۔ کھٹ کھٹ ہوئی۔ اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک بچے نے رقعہ دے دیا کہ فلاں صاحب نے دیا ہے پھر دروازہ بند کر کے بیٹھا اور دو سطریں لکھیں کہ پھر کسی نے آ کر کھٹ کھٹانا شروع کر دیا اور لا کر رقعہ دے دیا۔ ایسے رقعوں کے متعلق میرا تجربہ ہے کہ ان میں سے ۹۹ فی صدی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے فوری طور پر بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔ ۹۹ فی صدی بھی نہیں۔ ہزار میں سے ۹۹۹ ایسے ہوتے ہیں اور ان میں سے شاید ایک ایسا ہو جس کے متعلق کہا جا سکے کہ جائز طور پر بھیجا گیا ہے۔ ان میں فی ہزار ۹۹۹ ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا کی تحریک ہوتی ہے۔ ان کو بھلا بکس میں کیوں نہیں ڈالا جا سکتا۔۔۔۔۔۔

مشایعت یا استقبال صحابہ سے ثابت ہے یہ چیزیں محبت اور بعض حالات میں قومی وقار کو بڑھانے والی ہیں‘ لیکن جب کوئی مبلغ آتا جاتا یا میں باہر جاتا آتا ہوں تو ہمیشہ ایسے موقع پر ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جن کی اصلاح کی طرف منتظم توجہ نہیں کرتے۔ رستہ ایسا تنگ بناتے ہیں کہ دھکے پر دھکے پڑتے ہیں‘ مثلاً کل ہی جب میں آیا تو ہزار کے قریب لوگ ہوں گے اور یہاں کونسا ایسا خطرہ ہے کہ کوئی شخص بم یا گولی نہ چلا دے مگر پھر بھی انتظامی لحاظ سے ایسی گھبراہٹ ٹپکتی جو مضحکہ خیز تھی۔ میں نے دیکھا کہ انتظام کرنے والے لوگوں کے ساتھ درشتی سے پیش آتے تھے۔ جس طرح مجسٹریٹ مجرم سے پیش آتا ہے وہ سینہ سے سینہ ملا کر کھڑے تھے۔ رستہ کسی کو دیتے نہ تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ دھکے پڑتے

صفحہ 852

تھے اور مجھے بھی ساتھ ہی تکلیف ہوتی تھی۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنی گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ مثلاً کل میں نے دیکھا کہ بعض تنگ گلی میں سے گزرتے ہوئے مجھ سے بھی آگے بڑھ جاتے اور پھر یہی منتظم ان پر ہنستے حالانکہ اس کی وجہ جگہ کی تنگی ہے۔۔۔۔ پھر مجبور کیا جاتا ہے کہ ایک ایک کر کے گزرو۔۔۔۔ اگر تین تین چار چار آتے جائیں تو کوئی حرج نہیں ان میں کون سے ایسے لوگ آجائیں گے جو پہچانے نہ جاسکیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل جلد ۲۱ نمبر ۴۹

ص ۷-۶-۵ مورخہ ۱۴؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۱۵۔الف) قادیانی خواب بینی (ج)

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض خواب بینوں نے اپنی خوابوں اور دعاؤں کو آمد کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور وہ آنوں پائیوں سے لوگوں سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ بندوں سے مانگنے پر مقرر کر دیتا ہے وہ تو ایک عذاب ہے ایسے شخص کی خوابیں بھی یقیناً ابتلا کے ماتحت ہو سکتی ہیں انعام کے طور پر نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۷ نمبر ۲۷۵ مورخہ ۸؍ نومبر ۱۹۳۹ء)

(۱۶) نفسانفسی

پس جو لوگ دنیا میں نفسانفسی میں ہی پڑے رہتے ہیں۔ قیامت کے روز ان سے بھی نفسی نفسی کا معاملہ ہوگا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی تازہ مثال ہم میں موجود ہے۔ ایک شخص کی لڑکی فوت ہو گئی وہ اکیلا اس کا جنازہ لے کر گیا اور راستہ میں دو ایک آدمی اور مل گئے۔ یہ کیوں ہوا اس لئے کہ میں بوجہ بیماری کے اس جنازہ کے ساتھ نہ جاسکا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۱۰ ص ۸

مورخہ ۱۲؍ اگست ۱۹۲۰ء)

(۱۷) افسوس کی بات

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جب میں درس دیتا ہوں تو اس وقت کئی شرم کے

صفحہ 853

ہمارے لوگ (قادیان صاحبان) آجاتے ہیں، لیکن جب کوئی دوسرا دے تو استاد طلبا کو روکتے ہیں کہ چلو کھیلو جس سے معلوم ہوا کہ میرے درس میں بھی وہ خدا کے لیے نہیں بلکہ میرے منہ کے لئے آتے ہیں، لیکن ایسے عمل سے فائدہ کیا ہو سکتا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۵۶

مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۳۰ء)

(۱۸) ولیمہ کا لطیفہ

جناب خلیفہ قادیان کے بڑے صاحب زادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی شادی خانہ آبادی کی خبر سے قارئین کرام واقف ہوں گے۔ ماہ رواں کے پہلے ہفتہ میں رخصتی عمل میں آئی۔ برات نہایت دھوم دھام سے مالیر کوٹلہ گئی۔ واپسی پر دولہا دلہن کا قادیان میں شاہانہ استقبال ہوا اور بہت بڑا جشن منایا گیا۔ اس کے دو تین روز بعد جناب خلیفہ صاحب نے دعوت ولیمہ دی جس میں صرف منتخب اصحاب مدعو تھے۔ موصوف کے دوسرے ”مریدان باصفا“ کو یہ بات پسند نہ آئی انہوں نے سوچا کہ پیر صاحب تو کیا بلائیں گے ہم خود ہی چلیں۔ چنانچہ عین وقت جب کہ خلیفہ صاحب کے نئے ”قصر خلافت“ یعنی کوٹھی دارالحمد میں دستر خوان بچھنے والا تھا سینکڑوں بن بلائے مہمان آدھمکے۔ اس طرح خلیفہ صاحب اور ان کے مصاحبین کو نہایت پریشانی اور بے لطفی ہوئی اور ان بن بلائے مہمانوں کی بدتمیزی کا ذکر جناب خلیفہ صاحب نے اگست کے خطبہ جمعہ میں نہایت تفصیل سے کیا ہے جس سے قادیانیوں کے اخلاق، خودداری اور تنظیم پر کافی روشنی پڑتی ہے اگر کبھی فرصت ملی تو اس کے متعلق کچھ عرض کیا جائے گا۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح جلد ۲۲ نمبر ۵۳ مورخہ ۲۸؍ اگست

۱۹۳۸ء)

لیکن خلیفہ صاحب نے اس خطبہ میں ایک نہایت قابل قدر بات ارشاد فرمائی جس کا ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ بعض لوگ طبعی طور پر محبت کے جذبات کے ماتحت یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری دعوت کھانے سے محروم رہیں۔ ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں لیکن ہر محبت عقل کے ماتحت ہونی چاہیے جب عقل کا قبضہ اٹھ

صفحہ 854

جاتا ہے تو محبت بے وقوفی کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔" یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ان بن بلائے مہمانوں کا نزول محبت کی وجہ سے تھا یا پلاؤ زردے اور روغن جوش کی اشتہاء انگیز خوشبوئیں انہیں ”دارالحمد" کی طرف لے آئیں، البتہ خلیفہ صاحب کا یہ فرمانا بالکل صحیح ہے کہ ہر محبت عقل کے ماتحت ہونی چاہیے۔ جب عقل کا قبضہ اٹھ جاتا ہے تو محبت بے وقوفی کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ کاش پیر پرست قادیانی اس نصیحت کو گوش ہوش سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔

لیکن گزارش ہے کہ پیر پرستی اور عقل دو متضاد چیزیں ہیں۔ مریدوں کی اندھی عقیدت و تقلید تو ایک طرف رہی۔ جناب خلیفہ صاحب کے وضع کردہ اکثر عقائد اور احکام بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جن کو عقل سلیم قبول نہیں کرتی۔ مسئلہ نبوت ہی کو لے لیجئے یا خلافت مآب کے اس جلالی فرمان پر غور کریں کہ مجھ پر سچے اعتراض کرنے والا بھی تباہ ہو جائے گا۔ اگر قادیانی جماعت عقل سے کام لینے لگ جائے تو اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ مگر اس کی امید بہت کم ہے بہرحال کچھ ہو تو ہو۔ جناب خلیفہ صاحب نے بات عقل کی کہی جس کی ہم تعریف و تائید کرتے ہیں۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح جلد ۲۲ نمبر ۵۳ مورخہ ۲۰ اگست ۱۹۳۴ء)

(۱۹) قادیانی اسٹور

جیساکہ سب کو معلوم ہے یہاں (قادیان میں) ایک اسٹور قائم کیا گیا تھا۔ جماعت کے کچھ افراد نے اس میں روپیہ دیا تھا۔۔۔۔۔ میرے نام ایک خط آیا ہے۔۔۔۔۔ یہ بات کہ یہ کسی احمدی کہلانے والے کا ہے۔ اس سے معلوم ہوتی ہے کہ میرا نام خلیفۃ المسیح لکھا ہے۔۔۔۔۔ وہ یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کی دیانت کا حال ہے جو دنیا میں بڑے بڑے دینداری کے دعویدار ہیں۔ اس کے بعد اس نے پہلے میری (یعنی میاں محمود احمد صاحب کی) اسٹور کے متعلق سفارش نقل کی ہے کہ جہاں تک میرا علم ہے اسٹور کے کارکن دیانت دار ہیں"۔ اس کو نقل کر کے (خط میں) کہا ہے کہ یہ ایک پھندا تھا، جب روپیہ لوگوں نے دیا تو پھر روپیہ کھانا شروع کر دیا اور کھاتے کھاتے یہاں تک پہنچایا کہ ساٹھ ہزار میں سے صرف اٹھارہ ہزار باقی رہ گیا۔ یہ بات بالکل غلط ہے نقصان کم ہے اور سرمایہ زیادہ

صفحہ 855

ہے جو زمین اسٹور کی باقی ہے وہ ایسی ہے کہ اس میں سیلاب آتا ہے یہ اس لئے کہ حصہ دار اس میں ڈوب مریں، پھر اس قسم کے اور لطائف لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ کیوں نہ گھاٹا ہوتا۔ یہ لوگ اس میں سے روپیہ کھاتے رہے اور اپنے مکان اور دکانیں تیار کرتے رہے پھر لکھا ہے کہ گھاٹا آنے کی کوئی وجہ نہ تھی کیونکہ جس نرخ پر اشیاء خریدتے تھے اس سے زیادہ نرخ پر بیچتے تھے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰

نمبر ۴۱-۴۲ ص ۶ مورخہ ۲۳-۲۷؍ نومبر ۱۹۲۲ء)

(۲۰) سوروں والا حملہ

مجھے نہایت افسوس سے معلوم ہوا کہ کہ جامعہ احمدیہ میں جو طلبا تعلیم پاتے ہیں انہیں کنوؤں کے مینڈکوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی۔ ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں کوئی روشن دماغی نہ تھی۔ میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہو جانا چاہا مگر چاروں طرف سے ان کے دماغ کا راستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ وفات مسیح کی یہ یہ آیتیں رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو انہیں اور کوئی بات نہیں سکھلائی جاتی..... میں نے جس سے بھی سوال کیا معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا اور جب کبھی میں نے ان سے امنگ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے تو یہ جواب دیا کہ جس طرح بھی ہو گا تبلیغ کریں گے۔ یہ الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے۔ الفاظ سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت رکھتا ہے مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ وسعت خیالی ہے۔ جس طرح ہو گا تو سور کہا کرتا ہے۔ اگر سور کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا۔ وہ یہی کہتا کہ جس طرح ہو گا کروں گا۔ پس سور کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے۔ آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو وہ نیزہ پر حملہ کر دے گا۔ بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔ پس یہ تو سوروں والا حملہ ہے کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہ کیا۔

صفحہ 856

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۲۲ نمبر ۸۹ ص ۸

مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۲۱) مریدوں کی روک تھام

چنانچہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب حکیم الامتہ رضی اللہ عنہ (یعنی حکیم نور الدین صاحب قادیانی) نے کوئی ایسی بات کی تو بعض ایسے احباب نے اس کو اپنی شان کے خلاف خیال کر کے منہ پر کہہ دیا کہ ہم ایسا درس نہیں سن سکتے پھر سالہا سال وہ درس قرآن میں نہ آئے۔ اسی طرح بعض اوقات ایسی باتوں سے وہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی صحبت اور خلیفتہ المسیح (حکیم نور الدین صاحب) کی صحبت اور دار ہجرت (قادیان) کو چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے اور پھر ذی وجاہت احباب و حضرات کی کوشش سے رکے۔

(کشف الاختلاف ص ۱-۲ مصنفہ سید محمد سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۲۲) اصحاب قادیانی خود اپنی زبانی

پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۱ روحانی خزائن ص ۲۵۸-۲۵۹ ج ۱۶ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

مسیح موعود کی جماعت و آخرین منھم کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء)

اخی مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے، مجھے معلوم ہوا کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل

صفحہ 857

ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کرسکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انہیں سفلہ اور خودغرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خودغرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بگریبان ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں اور اگرچہ نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یقیناً دو سو سے زیادہ ہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے یہ کون سی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے..... بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ اس کو سختی سے اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گراتا ہے پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۳ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد

سوم ص ۶۹-۶۸ مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۳ تا ۴۴۱ ج۱ روحانی خزائن ص ۳۹۶-۳۹۵ ج۶)

(۲۳) نابالغ جماعت

میں ابھی جماعت کی کمزوری پر زیادہ کلام نہیں کرتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی جماعت میں وہ بلوغت نہیں آئی جبکہ عقل پختہ ہوتی ہے۔ ابھی یہ حالت ہے اگر کوئی عیب بیان کیا جائے تو قطع نظر اس سے کہ وہ کہاں تک اور کس حد تک ہے لوگ سمجھنے

صفحہ 858

لگ جاتے ہیں کہ جس میں یہ عیب پایا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ ذلیل چیز اور کوئی نہیں اور اسے جس قدر جلد ممکن ہو مٹا دینا چاہیے اور اگر کوئی خوبی بیان کی جائے تو بجائے کہ غور کریں کہ وہ خوبی کتنی اہمیت رکھتی ہے کہنے لگ جائیں گے کہ اس سے زیادہ مفید اور اچھی چیز کوئی نہیں۔ اس وقت ہماری جماعت کے دوستوں کی مثال اس جھولے کی سی ہے جو میلوں پر لگایا جاتا ہے۔ جب اس کا ایک سرا نیچے جاتا ہے تو دوسرا اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ ہماری جماعت کے لوگ وسطی مقام قبول کرنے کو کبھی تیار نہیں ہوتے اور بسااوقات میں کسی چیز کے متعلق اپنی رائے اس لئے بیان نہیں کرتا کہ جماعت کی حالت ابھی بچوں کی سی ہے اگر کوئی نقص بیان کیا جائے تو کہہ اٹھیں گے کہ یوں ہی مال برباد ہو رہا ہے اور اگر کوئی خوبی بیان کر دی تو کہیں گے بھلا کوئی عیب ہو سکتا ہے۔ کوئی کالا داغ تک نہیں اور اس لئے کہ بعض کے لئے اس رنگ میں ٹھوکر کا موجب نہ ہو جاؤں۔ بسا اوقات میں اپنی رائے کو مخفی رکھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں ہر عقلمند خلیفہ جس نے ربانی ہونے کا مقام حاصل کیا ہو ایسی ہی احتیاط کرے گا۔ جب تک جماعت میں بلوغت نہ آجائے اپنے ایسے خیالات کو اپنے تک ہی محدود رکھے گا۔ اس جذبہ کے ماتحت میں بہت دفعہ اپنی رائے کو چھپائے رکھتا ہوں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد ۱۹ نمبر ۴۶ مورخہ ۱۹

جون ۱۹۳۳ء)

(۲۴) مطالعہ کی روک ٹوک

مولوی (محمد علی لاہوری) صاحب! آپ شکایت فرماتے ہیں کہ میں نے (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے) اپنے مریدوں کو یہ منع کیا ہوا ہے کہ وہ آپ لوگوں کی کتابیں نہ پڑھا کریں اور اب چاہتے ہیں کہ میں اعلان کروں بلکہ حکم دوں کہ وہ ضرور آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں مگر میرے نزدیک یہ شکایت بے جا ہے میں نے بارہا اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ وہ ہر ایک عقیدہ کو سوچ سمجھ کر قبول کریں بلکہ بارہا یہ کہا ہے کہ اگر وہ بات کو زید اور بکر کے کہنے سے مانتے ہیں تو گو وہ حق پر بھی ہوں تب بھی ان سے سوال ہو گا کہ بلا سوچے انہوں نے ان باتوں پر کیونکر یقین کر لیا اور میرے خطبات

صفحہ 859

اس پر شاہد ہیں۔ ہاں ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ وہ مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی کتب سے واقف نہیں اگر مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے گا تو خطرہ ہے کہ ابتلا میں پڑے۔

(حقیقۃ الامر ص ۵ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۲۵) قادیانی اخبار بینی

مکرمی مینجر اخبار پیام صلح۔ السلام علیکم! آپ کا اخبار پیام صلح ..... عرصہ ایک ماہ کا ہوا پہنچا تھا۔ دوسری دفعہ دو پرچہ مورخہ ۷؍ اپریل ۱۹۱۸ء پے در پے پہنچے۔ خاکسار کو یہ سبز باغ کیوں دکھلایا جا رہا ہے ..... میں آپ کے اخباروں کو بڑی عزت سے حسب نسخہ مجوزہ قبلہ میر صاحب ایڈیٹر (اخبار) فاروق (قادیان) دیگدان کی نذر کر کے پانی وضو کے لیے گرم کر لیا کرتا ہوں۔ آئندہ میرے نام کوئی اخبار بدشعار جس سے نفاق کی بو آتی ہے روانہ نہ فرمایا کریں۔

(محمد احسن صاحب قادیانی کا خط مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۵‘ نمبر ۷۸-۷۹ مورخہ ۱۴-

۱۷؍ اپریل ۱۹۱۸ء)

(۲۶) میاں صاحب کے مریدین

میاں (محمود احمد) صاحب کے مریدین میں ایک حیرت انگیز بات جو میں نے دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو کبھی بھی اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم کوئی تناقض باتیں کہہ رہے ہیں یا ایسی باتیں کہہ رہے ہیں‘ جو واقعات کے خلاف ہیں۔ بلکہ انہیں صرف اس قدر پتہ ہونا چاہیے کہ یہ بات میاں صاحب نے لکھ دی ہے۔ پھر اس کے حسن و قبح سے اس کے موافق یا خلاف قرآن و حدیث ہونے سے اس کے مطابق یا خلاف واقعات و عقل ہونے سے کوئی بحث نہیں ہوتی۔ وہ اسے اسی طرح مانتے چلے جاتے ہیں جس طرح میاں صاحب فرمائیں۔

(”النبوۃ فی الاسلام“ ص ۲۶۵‘ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی لاہوری امیر جماعت

لاہور)

(۲۷) نئے خوجے

صفحہ 860

اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں اور اگر وہ اس گورنمنٹ کے سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کرلیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہو گا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ مگر میں نہیں کہتا کہ گورنمنٹ عالیہ جبراً ان کو میری جماعت میں داخل کرے (جبر کی کیا ضرورت ہے۔ عاقل را اشارہ کافی است للمولف)

(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست ”عریضہ خاکسار غلام احمد قادیان المرقوم

۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۹ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہشتم، ص ۵۴‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب

قادیانی، مجموعہ اشتہارات ص ۱۴۴‘ ج ۳)

(۲۸) خصی جماعت

میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی اشتعال انگیزی بھی ہم پر اثر نہیں کرسکتی کیونکہ ہمیں ایسی تعلیم دی گئی ہے، جس نے ہمیں کلیتہ جکڑ رکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) فرمایا کرتے تھے ”سچا مومن خصی ہوجاتا ہے“ پس حکومت کے افسروں کو پولیس اور سول کے حکام کو اور احراریوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ باوجود اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کر رہے ہیں ہم بالکل پر امن ہیں۔ کیونکہ ہم سچے مومن ہیں اور مومن خصی ہوجاتا ہے۔ ہمیں جوش آتا ہے اور آئے گا مگر وہ دل ہی دل میں رہے گا۔ ہمیں غیرت آئے گی مگر وہ ظاہر نہ ہوگی۔ ہمارے قلوب ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے مگر زبانیں خاموش رہیں گی۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۸۷‘

ص ۵‘ مورخہ ۲۰؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) نے خصی کردیا ہے۔ مگر ساری دنیا تو خصی نہیں۔ (خدا نخواستہ۔۔۔۔۔۔(للمولف) ایسے لوگ بھی ہیں۔ جو حکومت

صفحہ 861

سے مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ اس وقت حکومت کو ہماری مدد کی ضرورت ہوگی۔ ہم خواہ اس وقت اس کی مدد کریں لیکن حکومت کو اخلاقی طور پر اس وقت کس قدر شرمندگی اٹھانی پڑے گی کہ جن کی عزتوں پر حملہ ہوتا دیکھ کر خاموش رہے۔ آج ان ہی کی مدد کا طالب ہونا پڑا۔ (لیکن بقول شخصے جماعت خود معذور ہے---- للمولف)

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۳‘ نمبر

۸۷‘ ص ۷‘ مورخہ ۲؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۲۸ الف) قادیانی نوجوان (ج)

چونکہ ہماری جماعت کے نوجوان نے اس امر کی طرف توجہ نہیں کی تھی۔ اس لئے آج باجود اس بات کے کہ ان میں جوش ہے۔ ان میں اخلاص ہے‘ ان میں ولولہ اور ہمت ہے‘ جب وہ آگے آتے اور فوجی ٹریننگ کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو ڈاکٹری معائنہ کے بعد انہیں کہہ دیا جاتا ہے کہ تم فوجی خدمت کے قابل نہیں۔ صحت کا یہ معیار اس قدر گرا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کے سو نوجوان پیش ہوتے ہیں اور ان سو افسران متعلقہ صرف دس کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح کچھ عرصہ ہوا کئی سو نوجوان میں سے بھی افسروں نے بائیس نوجوانوں کو چنا اور ان بائیس میں سے بھی صرف پانچ منظور ہوئے۔ یہ حالات جو ظاہر ہوئے ہیں انہوں نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۷‘ نمبر ۲۴۲‘ مورخہ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۳۹ء)

(۲۹) بہادری کی تمنا

جو لوگ بہادر ہوں ان سے لوگ ہمیشہ ڈرا کرتے ہیں۔ ہمارے صوبہ میں کبھی کوئی پٹھان آجائے اور اس کا کسی سے جھگڑا ہو جائے تو زمیندار اسے دیکھ کر جھٹ کہنے لگ جاتا ہے کہ پٹھان ہے جانے بھی دو کہیں خون نہ کردے۔ حالانکہ ہمارے بعض پنجابی ایسے‘ ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی پٹھان کو پکڑ لے تو اسے ہلنے نہ دے۔ مگر اس کا رعب ہی ایسا ہوتا ہے کہ پنجابی کہنے لگ جاتے ہیں۔ خان صاحب آگئے اور ان کی ساری شیخیاں کافور ہوجاتی ہیں۔ پس جو قوم مرنے کے لئے تیار ہو اس سے ہر قوم ڈرا کرتی ہے۔ اسی طرح ہم بھی اگر اپنی جانیں دینے پر آمادہ ہو جائیں تو لوگ ہم سے

صفحہ 862

بھی ڈرنے لگ جائیں گے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر

۸۹‘ ص ۷‘ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۲۹ الف ) قادیانی بزدلی و دوں ہمتی (ج)

میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ گندی گالیاں جو دو سال سے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کو دی جا رہی ہیں اگر ان میں سے ایک گالی بھی لندن میں مسیح ناصری کو دی جائے تو گالی دینے والا انگریزوں کے ہاتھ سے نہ بچ سکے اور باوجود تہذیب و شائستگی کے دعووں کے ان میں سے کئی ایسے اٹھ کھڑے ہوں جو اسے ہلاک کردیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ ہمیں ہی توفیق دی ہوئی ہے کہ ہم گالیاں سنتے ہیں۔ مگر اس کے حکم کے ماتحت پرامن رہتے ہیں۔

(میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ ۹ر جولائی

۱۹۳۵ء جلد ۲۳‘ نمبر ۷‘ ص ۸)

میں پچھلے جمعہ اپنی جماعت کے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ مومن کو باغیرت ہونا چاہیے لیکن ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا۔ جسے پھر دھراتا ہوں کہ کوئی ایسا فعل نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ سے کسی موقعہ پر شرمندگی اٹھانی پڑے...... ایسا کوئی فعل جو کہ قبل از وقت سوچا ہوا ہو وہ انسان کو زیر الزام لاسکتا ہے۔ انسانی غیرت کے تقاضا سے اور ایک وقتی حالت میں اگر کوئی فعل کیا جائے تو وہ معذوری کے قابل ہو سکتا ہے۔ لیکن بے احتیاطی اور منصوبہ بازی انسان کو بدنام کر دیتی ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۷‘ نمبر

۸۲‘ ص ۱‘ مورخہ ۱۸ر اپریل ۱۹۳۰ء)

کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد کلام دشمن کا جواب دے کر اسی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا یہ سچ سچ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہیے تو پھر تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو

صفحہ 863

مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو..... اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا کہ اے بے شرم تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا۔ جس وقت تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کو گالیاں دلوائی ہیں گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود کے متعلق کہے جاتے ہیں تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آکر ختم ہو جاتی ہے۔ گورنمنٹ سے کہتے ہو وہ تمہاری مدد کرے گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۵‘ نمبر ۱۲۹‘ ص ۶‘ مورخہ ۵؍ جون ۱۹۳۷ء)

(۲۹ ب) قادیان مقدمے (ج)

گزشتہ دو سال میں تم نے دیکھ لیا کہ وہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے تھے۔ جب ان پر مقدمے ہوئے تو انہوں نے ایسی بزدلی اور دوں ہمتی دکھائی۔ جماعت کا ان مقدموں اور سیاسی شرارتوں کے مقابلے کے لئے تیس چالیس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہماری حرکات سے اگر سلسلہ کے لئے مشکلات پیش آئیں گی اور سلسلہ کا روپیہ خرچ ہو گا تو اس کا کون ذمہ دار ہو گا اور جب بعض حالات میں مقدمات چلائے گئے تو کیوں یہ لوگ گھبرا گھبرا کر اچھے سے اچھے وکیلوں اور اچھے سے اچھے سامانوں کے طالب ہوئے جن لوگوں کے افعال کی وجہ سے یہ صورت حالات پیدا ہوئی تھی۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ خود مقدمہ چلاتے یا کانگرس والوں کی طرح ڈیفنس پیش کرنے سے انکار کر دیتے اور قید ہو جاتے مگر انہیں شرم نہیں آتی کہ کہتے تو وہ یہ تھے کہ ہم سلسلہ کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں گے مگر جماعت کا پندرہ بیس ہزار روپیہ انہوں نے مقدمات پر خرچ کرا دیا اور پھر مخلص کے مخلص بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے کھانوں اور سفر خرچ کے بل جا کر دیکھو تو تم کو تعجب ہوگا یہ کیا ہوا ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۵‘ نمبر

صفحہ 864

۱۴۹‘ ص ۴‘ ۵‘ مورخہ ۵ جون ۱۹۳۷ء)

(۳۰) گناہ اور منافقت

اس گناہ اور منافقت کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں جو ناظر ہے وہ بیوقوف ہے۔ میں نے دیکھا ہے۔ قادیان کی لوکل جماعت کے پریذیڈنٹ چونکہ بدلتے رہتے ہیں۔ اس لئے ان کے متعلق یہ بات خوب نظر آتی ہے ایک وقت جب ایک شخص پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو دوسرا آکر کہتا ہے۔ دیکھیے کیا اندھیر نگری ہے۔ کوئی سننے والا ہی نہیں۔ ہر کوئی اپنی حکومت جتاتا ہے۔ لیکن جب دوسرے وقت وہی شخص خود پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے۔ تو شکایت کرتا ہے۔ پبلک بالکل جاہل اور احمق ہے وہ تو کام کرنے ہی نہیں دیتی گویا جب خود پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو پبلک کو احمق قرار دیتا ہے اور جب پبلک میں شامل ہو جاتا ہے تو پریذیڈنٹ کو احمق کہنے لگ جاتا ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ ”الفضل“ قادیان جلد ۲۰‘ نمبر

۱۴۶‘ ص ۷‘ مورخہ ۸ جون ۱۹۳۳ء)

(۳۱) قادیانی منافق

میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ جب بھی کوئی فتنہ اٹھتا ہے۔ منافقوں کے ذریعہ اٹھتا ہے اور میں نے ہمیشہ جماعت سے کہا ہے کہ منافقوں کو ظاہر کرو اور ان کی پوشیدہ کاروائیوں کو کھولو۔ مگر جماعت اس طرف توجہ نہیں کرتی مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ ایک درجن سے زائد آدمی قادیان میں ایسے رہتے ہیں جن کی مجالس میں فتنہ انگیزی کی گفتگوئیں ہوتی رہتی ہیں اور جو باہر سے آنے والوں کو ورغلاتے رہتے ہیں۔ (خدا جانے کیا کیا کہتے ہیں للمولف) مجھے شریعت اجازت نہیں دیتی کہ میں بغیر ثبوت قائم کئے انھیں سزا دوں۔ اس لئے میں خاموش رہتا ہوں۔ مگر میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایسے منافقوں کا پتہ لگا کر ان کی منافقت کا میرے سامنے ثبوت مہیا کریں تاکہ میں ان اختیارات کو استعمال کروں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دئے ہیں۔

بعض دفعہ بغیر کسی عدالتی ثبوت کے یوں ہی میرے پاس ایک بات بیان کر دی جاتی ہے۔ میں سمجھ رہا ہوتا ہوں کہ شکایت کرنے والا سچ کہہ رہا ہے مگر جب میں اسے کہتا

صفحہ 865

ہوں کہ اس کا ثبوت مہیا کرو تو وہ شکوہ کر کے چلا جاتا ہے کہ میری بات پر توجہ نہیں کی جاتی۔ حالانکہ جب تک شرعی اور عدالتی طور پر میرے پاس ثبوت مہیا نہ کیا جائے میں سزا دینے کا مجاز نہیں۔ چاہے مجھے یقین ہو کہ فلاں آدمی میرے اور جماعت کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے رہتے ہیں۔ باقی اگر ذرا بھی کوشش کی جائے تو اس قسم کے ثبوت مہیا کرنے مشکل نہیں ہوتے...... مگر لوگ کوشش نہیں کرتے۔

تھوڑے ہی دن ہوئے احراریوں کے ایک لیڈر نے قادیان کے ایک شخص کے متعلق بیان کیا کہ اس کے ذریعہ قادیان کی خبریں انہیں ملتی رہتی ہیں۔ اس شخص کے متعلق اپنی جماعت کی طرف سے اگر کوئی اطلاع مجھے پہنچتی ہے تو وہ خبر احاد ہے۔ جس پر گرفت نہیں کی جاسکتی۔ سالہا سال میں نے اس شخص کے متعلق عفو سے کام لیا ہے۔ مگر اب ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو الگ کیا جائے...... پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں یقینی طور پر چند منافق موجود ہیں اور مجھے ان کا پتہ ہے۔ مگر تم انہیں ظاہر کرو۔ یعنی ان کے متعلق ثبوت قائم کرو۔ میرا یہ طریق نہیں ہے کہ میں ان کی طرف اشارہ کروں...... ان منافقوں کو صرف میں ہی نہیں جانتا اور بھی بیسیوں لوگ جانتے ہیں۔ کسی کو ایک منافق کا علم ہوگا۔ کسی کو دو کا، کسی کو زیادہ کا۔ ایک دفعہ ایک مجلس میں ذکر ہوا کہ فلاں شخص نے آپ کی بہت تعریف کی ہے...... مگر اس مجلس کے بعد نہ تو اسی دوست نے اور نہ کسی اور نے اس بارہ میں میری مدد کی کہ اس کے خلاف ثبوت بہم پہنچاتے...... کیونکہ ایک دوست سے علیحدگی طبعاً ناگوار گزرتی ہے۔ اس لئے انسان یہ نہیں چاہتا کہ اپنے واقف کے خلاف کوئی ثبوت مہیا کر کے اس سے بگاڑ پیدا کرے جب تک تم منافقین کے اخراج کے لئے عملی رنگ میں جدوجہد نہیں کرو گے اس وقت اندرونی فتن سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور جب تک اندرونی فتن سے محفوظ نہیں ہو گے اس وقت تک مرض کی جڑ موجود رہے گی اور جب تک جڑ رہے گی حقیقی شفا حاصل نہیں ہو سکے گی۔ بلکہ اندر بیماری کا رہنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ باہر کا تپ اگر ٹوٹ جائے اور اندر رہنے لگے تو وہ سل کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ پس بیرونی مخالفت کو چھوڑ دو۔ وہ خود بخود مٹ جائے گی تم اندرونی مخالفت مٹانے کی طرف توجہ کرو...... اگر اب بھی آپ لوگ توجہ نہیں کریں گے تو میں خدا تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہوں گا اور اس صورت میں اگر

صفحہ 866

آپ پر کوئی عذاب یا تکلیف آئے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں بلکہ آپ لوگوں پر ہی ہوگی۔ کیونکہ میں نے تو جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ عہد کو آپ لوگوں نے توڑا ہوگا اور اسی نقض عہد کی وجہ سے دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے۔

(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۱۶‘ مورخہ

۵ اگست ۱۹۳۴ء)

(۳۲) دماغی کلیں

میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ تینوں شخص جنہوں نے اعتراض کئے۔ مخلص ہیں منافق ہرگز نہیں مگر ان تینوں کے دماغ کی کل بگڑی ہوئی ہے۔ میں انہیں منافق قرار نہیں دیتا بلکہ مخلص سمجھتا ہوں۔ مگر میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ ان تینوں کی دماغی کلیں بگڑی ہوئی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک کی مجلس میں ہمیشہ نظام سلسلہ کے خلاف باتیں ہوتی رہتی ہیں اور ہمیشہ میرے پاس رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں۔ مگر اس خیال سے میں رکا رہتا ہوں کہ یہ مخلص شخص ہے صرف دماغی بناوٹ کی وجہ سے معذور ہے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر

۹۴‘ ص ۸‘ مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۳۵ء)

مجھے ان لوگوں کو ڈھیل دیتے دیتے ایک لمبا عرصہ ہو گیا ہے اور اب بھی میں انھیں کچھ نہیں کہتا۔ مگر میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سوچیں ان کا اپنا طریق عمل کیا ہے۔ ان کی اپنی تو یہ حالت ہے کہ وہ اس بات پر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں کہ ہمیں فلاں عہدہ کیوں نہیں دیا گیا۔ فلاں کیوں دیا گیا۔ فلاں کے ماتحت ہم رہنا نہیں چاہئے۔ کبھی تنخواہ پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تمام باتیں بتلاتی ہیں کہ ان کے دماغ کی کل بگڑی ہوئی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کو اگر برا بھلا کہا جائے تو انھیں غصہ نہیں آتا۔

لیکن اپنی کوئی بات ہو تو جھگڑے بغیر رہ نہیں سکتے۔ میں متکبر نہیں اور نہ مجھے ظاہری علوم کے حاصل ہونے کا دعویٰ ہے مگر جو علم خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے اس کے ماتحت میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں اپنی نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کر رہے ہیں اور اگر

صفحہ 867

یہ توبہ نہیں کریں گے تو کسی دن کوئی ایسی ٹھوکر انہیں لگے گی جس کے نتیجہ میں ان کا اخلاص جاتا رہے گا۔ آخر وجہ کیا ہے کہ دنیا جہاں کے تمام اعتراض ان ہی پر کھولے جاتے ہیں اور جو بات ان کے ذہن میں آتی ہے وہ کسی اور کے ذہن میں نہیں آتی لیکن کسی شعبہ میں کسی پائیدار خدمت کا موقعہ انہیں نہیں ملتا۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سلسلہ کے تمام کام تو خدا تعالیٰ مجھ سے لے لیکن میری غلطیوں سے ہمیشہ انھیں آگاہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی تقسیمیں نہیں کیا کرتا۔ پس میں ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ توبہ کریں ورنہ میرے ہاتھوں یا خدا تعالیٰ کے ہاتھوں کسی دن ان پر ایسی گرفت ہوگی کہ رہا سہا ایمان ان کے ہاتھوں سے بالکل جائے گا۔

(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۹۴‘ ص ۹‘

مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۳۵ء)

(۳۲ الف) قادیانیوں کی برائیاں (ج)

اسی طرح گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک بڑے افسر چودھری ظفر اللہ خاں کے تعلق کی وجہ سے ایک دفعہ قادیان آئے۔ واپس جانے کے بعد وہ ایک دن مذاقاً چودھری ظفر اللہ خاں صاحب سے کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو چاہیے کہ مجھے تنخواہ دیا کریں۔ چودھری صاحب نے پوچھا کس وجہ سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں بھی آپ کی تبلیغ کیا کرتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے سنجیدگی سے کہا کہ مذاق برطرف‘ اصل بات یہ ہے کہ جب سے میں قادیاں سے واپس آیا ہوں میرے پاس مسلمان‘ ہندو‘ سکھ اور عیسائی ہر مذہب و ملت کے لوگ کثرت سے آئے ہیں اور ہر ایک نے مجھے یہی کہا ہے کہ آپ قادیاں کیوں گئے؟ احمدی تو بہت برے ہوتے ہیں۔ یہ صاحب جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ایک بنگالی ہندو ہیں اور گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک بہت بڑے عہدے پر متمکن ہیں۔ مگر انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں حیران ہوں کوئی قوم نہیں جس کے افراد آپ لوگوں کی برائی بیان نہ کرتے ہوں۔

(میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۲۱‘

جلد ۳۱‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۳؍ جنوری ۱۹۳۳ء)

صفحہ 868

(۳۲ ب) قادیان میں مخالفت (ج)

قادیان میں قادیانیت کے مخالفوں نے ایک جلسہ عام میں جو مخالفانہ تقریریں کیں ان کے چند مختصر اقتباسات اخبار ”الفضل“ میں شائع کئے گئے‘ جو درج ذیل ہیں:

”قادیان کی فضا پھر چاہتی ہے کہ قتل و غارت کا بازار گرم کیا جائے۔ یہاں فرعونیت برسر اقتدار ہے۔ یہاں پر ریشہ دوانیاں اور منصوبہ بازیاں ہوتی ہیں۔ قادیاں کی زمین پھر خون کی پیاسی ہے۔ حسن بن صباح کی طرح اسکیمیں بنتی ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ احرار کا کوئی والینٹیر مارا جائے۔ تم جواہر لال کے بوٹ چومتے ہو۔ محمود تجھ کو فرعونی فوجوں پر ناز ہے۔ مگر آخر فرعون غرق ہوا اور نمرود کا کیا انجام ہوا۔ تجھ کو بھی زیادہ دیر ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔ ہر مقتول کا قاتل محمود ہے۔ میاں محمود نے باغیانہ طور پر اپنے مریدوں کو قتل کی تعلیم دی ہے۔ یزید کیطرح خلیفہ محمود برسر تسلط ہے اگر خلیفہ محمود اور اس کے اوباش مزاج کارکن اس تحریک کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو قادیاں کا کوئی میرزائی نہ بچے گا۔ یہاں زنا سے لے کر خون ناحق تک گریز نہیں کیا جاتا ہے خلیفہ محمود نے خود قتل کی اسکیمیں پیش کیں (اگرچہ اقتباسات بہت مختصر اور منتشر پیش کئے گئے ہیں تاہم ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ گردوپیش کے مخالفین میں قادیانیوں کو کیا سمجھا جاتا ہے (للمولف برنی)

(اخبار ”الفضل“ قادیان نمبر ۲۰۳‘ جلد ۳۴‘ ص ۱‘ مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۴۶ء)

(۳۲) قادیانی پروپیگنڈا

لاہوری احمدیوں کے خلاف دھڑے بازی اور انھیں بدنام کرنے کے لئے ناپاک پروپیگنڈا۔ خلیفہ صاحب (یعنی محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) سے لے کر ادنیٰ مخلص محمودی تک اس معاملہ میں ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں کہ جس طرح بھی ہو مولوی محمد علی صاحب اور لاہوری احمدیوں کو بدنام کیا جائے۔ ان کی طرف سے نفرت و بیزاری کے جذبات اپنی جماعت کے زن و مرد بلکہ بچوں تک کے دلوں میں پیدا کرنا یہ لوگ اپنا فرض اور ایمان سمجھتے ہیں کیونکہ موجود بدعتی خلافت کی سلامتی انہیں اسی میں نظر آتی ہے حضرت مسیح موعود کی نبوت اور مولوی محمد علی صاحب پر تبرا اپنے بچوں کو معتقدات کے

صفحہ 869

رنگ میں زبانی یاد کراتے ہیں۔ تا ان معصوم بچوں کے دلوں میں محمد رسول اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا بیج مارا جائے اور حضرت مسیح موعود کی نبوت اور حضرت مولوی محمد علی صاحب سے نفرت اور بیزاری کا بیج اچھی طرح نشوونما پائے۔

جو محمودی اس ناپاک پروپیگنڈا میں شامل نہیں ہوتا وہ مخلص مومن گروہ محمودیاں میں منافق کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ گویا ان کے ہاں ایمان و اخلاص کا ثبوت ہی یہ ہے کہ دن رات رافضیوں کی طرح مولوی محمد علی صاحب اور لاہوری احمدی جماعت کی خواہ مخواہ عیب شماری کی جائے اور انہیں طرح طرح سے ناحق بدنام کیا جائے ان کے خلیفہ میاں محمود احمد صاحب بے شک حضرت مسیح موعود کو نعوذ باللہ نادانی اور جہل مرکب کا چولا بارہ برس تک پہنائے رکھیں تو وہ عین راہ ثواب اور رضامندی الٰہی کا موجب ہے اور مولوی محمد علی صاحب بالفرض محال اگر ذرا کسی فروعی مسئلہ یا طریق استدلال میں اختلاف کریں تو اس کے لئے سارا محمودی ٹولا طوفان بے تمیزی مچانے کو تیار ہو جاتا ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۲۷‘ ص ۷‘ مورخہ ۳؍ مئی

۱۹۳۴ء)

(۳۴) سخت کلامی

جناب خلیفہ قادیان اور ان کے مریدوں کا جماعت لاہور اور اس کے اکابر کے متعلق جو رویہ ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ قادیانی عوام کو چھوڑیے خود جناب خلیفہ صاحب اور ان کے سرکردہ مریدوں کا طرز عمل ہمیشہ اس قسم کا رہا ہے جو آئین اخلاق و شرافت کے مطابق نہیں اور جس پر کوئی شریف و با اصول آدمی یا جماعت فخر نہیں کرسکتی۔ یہ لوگ دنیا کے سامنے ہمیشہ تقدس و اخلاق اور رواداری و خوش گفتاری کے پیکروں کی شکل میں نمودار ہو کر لمبے چوڑے وعظ کہنے کے عادی ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اختلاف رائے کو بغیر کسی قسم کی تلخی کے برداشت کرتے ہیں۔ ہم اپنے مخالفوں کی گالیاں سن کر بھی درگزر کرتے ہیں اور ہر ایک کو ایسا ہی کرنا چاہیے لیکن جماعت لاہور کا ذکر آتے ہی ان کے یہ وعظ اور درس سخت کلامی اور گالیوں کے جواز کا فتویٰ بن جاتے ہیں۔ جمعہ کے خطبوں۔ جلسہ سالانہ عرف ظلی حج کی تقریروں

صفحہ 870

اور اخبارات کے صفحات میں ہمارے متعلق وہ‘ وہ باتیں کہی جاتی ہیں جن پر قادیانیوں کی آئندہ نسلیں ندامت محسوس کریں گے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳‘ نمبر ۹‘ مورخہ ۷؍ فروری ۱۹۳۵ء)

(۳۵) گالیاں

شاید بعض زبردستوں کے مقابلہ میں قادیانی جماعت گالیاں کھا کر چپ رہتی ہو۔ لیکن ہم نیازمندوں کو تو اس نے ہمیشہ بلا قصور بری سے بری گالیاں دیں۔ اگر خلیفہ صاحب کو گوبھی شلجم کے چھلکوں والا خطبہ یاد نہ رہا ہو تو اپنے ایک خاص الخاص مرید فخرالدین ملتانی تاجر کتب قادیان کی ان گالیوں کو ملاحظہ فرمالیں‘ جو انہوں نے غالباً آپ (خلیفہ قادیان) کے ایماء سے ۲۸؍ فروری ۱۹۳۵ء کے (اخبار) فاروق (قادیان) میں ہمیں دی ہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳‘ نمبر ۱۶‘ مورخہ ۷؍ مارچ ۱۹۳۵ء)

(۳۶) کیا کیا

جناب خلیفہ قادیان ایک شخص کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ”الفضل“ ۵؍ جون ۱۹۳۴ء میں تحریر فرماتے ہیں:

چونکہ ظاہری طور پر ارکانِ اسلام کے یہ لوگ (جماعت لاہور) معتقد ہیں۔ اس لئے ہم ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔ لیکن جس طرح سڑا ہوا اور باسی سالن کوئی شوق سے نہیں کھاتا۔ ہاں بھوک سے پریشان ہو اور اچھا کھانا نہ ملے تو وہ کھا لیتا ہے۔ حالانکہ وہ حرام نہیں۔ اس طرح جب تک دو مبلغ احمدی (یعنی قادیانی جماعت والے) ہوں۔ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔

اس سے قبل جناب میاں (محمود احمد) صاحب ہمیں منافق۔ دنیا کی بدترین قوم چلتی پھرتی جہنم۔ کوڑے پر پڑے ہوئے گوبھی شلجم کے چھلکے اور خدا جانے کیا‘ کیا کہہ چکے ہیں۔ اب سڑا ہوا اور باسی سالن قرار دیا ہے۔ ہمیں آئین اخلاق و شرافت کا پاس ہے اس لئے ہم موصوف کی اس تازہ نوازش پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے سوا اور کیا کہہ

صفحہ 871

سکتے ہیں۔ جو لوگ قادیانیوں کی گالیوں اور غیر شریفانہ روش پر اظہار حیرت و افسوس کیا کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب پیر کی یہ حالت ہو تو مرید جو کچھ کہیں اور کریں تھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح لاہور جلد ۲۳‘ نمبر ۲۷‘ مورخہ ۷؍ جون ۱۹۳۵ء)

(۳۷) بالکل جھوٹی رپورٹ

قادیانی جماعت کا ہمارے (یعنی لاہوری جماعت کے) ساتھ جو طرز عمل ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ آج کل پشاور کے قادیانی اس غیر شریفانہ روش میں تمام ملت محمودیہ سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری جماعت پشاور کے جلسہ سالانہ پر ان لوگوں نے جو اخلاق سوز اور سوقیانہ حرکتیں کیں احباب کو ان کا کسی قدر علم جلسہ کی روئیداد سے ہو گیا ہو گا۔۔۔۔۔۔ اس پر ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ اخبار ”الفضل“ اور ”فاروق“ میں بالکل جھوٹی رپورٹ شائع کرائی ان کی مراسلتوں کی طرز تحریر اس قدر گھناؤنی اور غیر شریفانہ ہے کہ کوئی شریف آدمی اس پر اظہار نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کی بیہودہ حرکات تمام قادیانی حلقوں میں پسند کی جاتی ہیں اور ان کی داد دی جاتی ہے کہ جناب خلیفہ صاحب بھی ان پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوں گے۔ لیکن اسلامی اخلاق و شرافت ان پر ہمیشہ ماتم ہی کرتے رہیں گے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۳۵‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۱؍

جون ۱۹۳۴ء)

(۳۸) اخبار الفضل قادیان

الفضل جسے میں نے اپنی بیوی کے زیورات فروخت کر کے حضرت ام المومنین (مرزا صاحب کی اہلیہ) نے اپنی زمین فروخت کر کے اور برادرم مکرم نواب محمد علی خاں صاحب حفظہ اللہ نے بھی کچھ نقد دے کر اور کچھ زمین فروخت کر کے ہفتہ وار جاری کیا تھا۔ ہفتہ وار سے سہ روزہ ہوا۔ سہ روزہ سے دو روزہ اور اب روزانہ شائع ہوتا ہے۔

(اعلان میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۱۰۸‘

صفحہ 872

ص ۱‘ مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۳۵ء)

اخبار ”الفضل“ ہفتہ میں دو بار میرے سامنے آتا رہا ہے اور میں اس لحاظ سے کہ سلسلہ کا آرگن سمجھا جاتا ہے اور اس لحاظ سے کہ چونکہ اس کے مضامین ہماری طرف سے سمجھے جاتے ہیں اور ہماری طرف منسوب کئے جاتے ہیں اس لئے یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر کوئی غلطی ہو۔ یوں تو انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسی غلطی ہو جس سے سلسلہ پر حرف آتا ہو تو اس کی اصلاح کرا دی جائے۔ اخبار ”الفضل“ سارا پڑھتا ہوں اور ہمیشہ پڑھتا ہوں۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۱۱‘ نمبر۲‘ مورخہ ۶؍

جولائی ۱۹۲۳ء)

(۳۹) غلط بیان اعلان

جناب چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ولایت سے تشریف لانے پر جن معززین نے انکا لاہور کے اسٹیشن پر استقبال کیا ان کا ذکر ہمارے نامہ نگار لاہور نے اپنی مراسلت میں کیا تھا۔ جو ایک گزشتہ پرچہ میں شائع ہو چکی ہے۔ مگر معلوم ہوا کثرت ہجوم میں اپنی ناواقفیت کی وجہ سے اس نے بعض ایسے نام بھی لکھ دیئے جو اس موقع پر موجود نہ تھے۔ (اول تو کثرت ہجوم میں قدرتاً ایسے مشہور و معروف لوگ نظر آ ہی جاتے ہیں جو موجود نہ ہوں۔ دوسرے نظر بھی نامہ نگار کی۔ جو ناواقفیت کے عذر پر ہر طرح مبالغہ کا مجاز ہو للمولف) اور جو یہ ہیں:

جسٹس کنور دلیپ سنگھ صاحب۔ جسٹس رنگی لال صاحب۔ جسٹس آغا حیدر صاحب۔ جسٹس دین محمد صاحب۔ جسٹس کری صاحب۔ مسٹر کاربٹ چیف سیکرٹری۔ سر محمد اقبال صاحب۔ مسٹر جگن ناتھ صاحب اگروال۔ ہمیں افسوس ہے کہ نامہ نگار کی بے احتیاطی اور اپنے فرض کی ادائیگی میں غفلت کی وجہ سے یہ نام شائع ہو گئے (یہ تو قادیانی خبروں کی عام خصوصیت ہے۔ اصل سے کہیں بڑھ چڑھ کر شائع ہوتی ہیں۔ البتہ افسوس ہے تو یہ کہ اسی عادت کی رو معززین کے نام شائع کر کے تردید کرنے کی نوبت آئی للمولف)

صفحہ 873

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲، نمبر ۵۷، ص ۲، مورخہ ۸؍ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۴۰) قادیانی مناظرہ کی رپورٹ

سنگرور میں جو مناظرہ قادیانی اور احمدی جماعت میں ۱۵؍ نومبر کو ہوا۔ اس میں قادیانی مبلغ ملک عبدالرحمٰن صاحب خادم گجراتی کو بمقابلہ احمدی مبلغ (عمر الدین صاحب قادیانی لاہوری) جو شکست ہوئی اس کو قادیانی کبھی نہ بھولیں گے مگر ندامت کو چھپانے کے لئے خادم صاحب نے جو رپورٹ ۲۰، ۲۱، ۲۲؍ نومبر کے ”الفضل“ کی اشاعتوں میں درج کرائی ہے وہ بالکل خلاف واقعہ امور پر مبنی ہے اور اس قدر غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے کہ کبھی کوئی دیندار انسان اس کو گوارا نہیں کر سکتا۔

(قادیانی جماعت لاہور کا ”اخبار پیغام صلح“ جلد ۲۳، نمبر ۷۸، مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۴۱) قادیانی جماعت کا اندوختہ عمل

ادھر قادیان میں اتنی بڑی جماعت نے کیا خدمت اسلام کی۔ ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل کہ نہ ہونے کے برابر۔ البتہ اجرائے نبوت اور تکفیر مسلمانان کا مسئلہ نکال کر اسلام کا تختہ پلٹ دیا اور مطاع الکل خلیفہ بنا کر احمدیت کا بیڑا غرق کر دیا۔ ہاں جماعت کو سیاست کے خوب سبق پڑھائے گئے۔ کبھی سرکار انگریزی کا ہاتھ بٹایا گیا۔ کبھی اسے د ھمکایا گیا۔ قادیان کو ایک دارالسلطنت کے رنگ میں دیکھنے کے خواب آنے لگے۔ مگر خدمت دین کیا ہوئی؟ کچھ بھی نہیں اور ہوتی کس طرح جب شب و روز یہ کوشش ہو کہ دنیا ہماری خادم بنے اور ہم مخدوم اور مطاع الکل بنیں۔ پھر خدمت دین کی توفیق کا چھن جانا لازمی امر تھا۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳، نمبر ۷۷، مورخہ ۳؍ دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۴۲) شغل سیاست

قادیانی محمودی لوگ مذہب کے نام پر سیاست میں حصہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ میں رسوخ بڑھا کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طریق سے بہت سے دنیوی عزوجاہ کے طالب اور ملازمت کے خواہاں

صفحہ 874

خود بخود ہماری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ اس طرح ہمارا جتھا بھی زبردست ہوتا جائے گا۔ جس سے گورنمنٹ پر بھی مزید اثر پڑے گا اور ہماری آمدنی بھی بڑھے گی اور سیاست کی بنیاد بھی بڑھ جائیگی اس لئے وہ گورنمنٹ کے مرکزی دفاتر کا طواف کرنا اور سیاسی کاموں میں ظاہر اور خفیہ طور پر گورنمنٹ کے دست و باز بننا اپنا شعار بناتے اور اس کے بدلہ میں گورنمنٹ میں رسوخ بڑھانا اور نفع اٹھانا ضروری سمجھتے ہیں اور اس لئے مذہب کے نام سے لاکھوں روپیہ قوم سے لے کر سیاسی خفیہ کاروائیوں میں صرف کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چونکہ ان کے عقائد ہی ایسے باطل ہیں کہ کسی عقلمند کو اپیل نہیں کرتے۔ اس لئے سیاسی رنگ میں جتھے بندی کے سوا ان کا مقصد کسی اور طریق سے حاصل ہونا انھیں مشکل نظر آتا ہے۔ بدیں وجہ وہ سیاسی میدان میں کار نمایاں دکھا دکھا کر اپنا جتھا بڑھانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳، نمبر ۲، مورخہ ۵ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۴۲۔الف) قادیانی مغالطہ (ج)

تیسری دقت میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ ہماری جماعت میں امنگ بڑھانے کی جو تحریک کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم دنیا کے راہنما ہو۔ مصلح ہو۔ ہادی ہو۔ معلوم ہو دنیا کی تمام بادشاہتیں تمہارے قبضے میں آئیں گی اس سے جو دیندار ہوتے ہیں اور روحانیت ان میں غالب ہوتی ہے وہ اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ ہمیں قربانیاں زیادہ کرنی چاہئیں لیکن جن لوگوں کو روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہوتا وہ ان باتوں کو سن کر کبر کی روح لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب ہم اتنے بڑے ہیں تو اور بھی بڑے لوگوں کے ساتھ رشتے داریاں کر کے اپنے آپ کو اور بھی بڑا بنانا چاہتے ہیں۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۵، نمبر

۸۵، مورخہ ۱۳ اپریل ۱۹۳۷ء)

(۴۳) گول میز کانفرنس

مکرمی چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ مجھے (ناظر امور خارجہ قادیان کو) جناب گورنر جنرل وائسرائے ہند کو یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ جناب

صفحہ 875

چودھری صاحب کو راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ضرور بھیجا جائے کیونکہ جب تک وہ خود انکار نہ کریں ان کا جانا لازمی ہے اور یہ کہ اس کے لئے مجھے چاہیے تھا کہ میں افواہ کی پہلے تحقیقات کرلیتا اور پھر اس قسم کا خط لکھتا۔

اس کے متعلق میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس علم کی بنا پر میں نے وائسرائے ہند کو خط لکھا ہے اس میں اس امر کے متعلق کافی شبہ کی گنجائش ہے کہ چودھری صاحب گول میز کانفرنس میں شریک نہ کئے جائیں گے البتہ یہ ممکن ہے کہ میری یہ رائے جن حالات پر قائم ہوئی ہے ان کا علم چودھری صاحب کو نہ ہو یا انکا علم ہوتے ہوئے وہ ان سے وہ نتیجہ نہ نکالتے ہوں جو میں نے نکالا ہے۔ میرا شبہ اس جواب سے اور بھی قوی ہو گیا ہے جو ہز ایکسی لینسی دی گورنر جنرل کے پرائیوٹ سیکرٹری کی طرف سے وصول ہوا ہے۔۔۔۔۔

اس (جواب) سے ظاہر ہے کہ اگر مندوبین کا جانا بہر حال لازمی ہوتا تو ضرور مجھے یہ جواب دیا جاتا کہ چودھری صاحب کے جانے یا نہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا خصوصاً جب کہ میں نے اس امر پر اپنے خط میں خاص زور بھی دیا تھا کہ چودھری صاحب کو ضرور بھیجا جائے لیکن یہ جواب نہیں دیا گیا۔ پس مجھے اس امر پر اصرار ہے کہ اپنے علم کی بنا پر میرے لئے یہ ضروری تھا کہ میں وہ خط بھیجتا جو میں نے ہز ایکسی لینسی (وائسرائے ہند) کو بھیجا اور وائسرائے صاحب بہادر کے خط سے یہ ثابت ہے کہ میری تحریک عین وقت پر تھی۔

(عبدالرحیم درد ناظر امور خارجہ قادیان، ۶ جون ۱۹۳۱ء)

(۴۴) افسوس اور خوشی

حال کی شورش میں جو مفسد اور شریر لوگوں نے گورنمنٹ کے خلاف برپا کی تھی غیر مبائعین (لاہوری جماعت) کے شامل ہو کر حصہ لینے سے جہاں اس بات کا سخت افسوس اور رنج ہوا کہ ان لوگوں نے باجود حضرت مسیح موعود کو امام اور پیشوا سمجھنے کا دعویٰ کرنے کے آپ کی اس تعلیم کو پس پشت ڈال دیا جو آپ نے گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت اور فرماں برداری کے متعلق دی ہے اور جس سے آپ کی تصنیفات بھری پڑی

صفحہ 876

ہیں وہاں ہمیں اس بات سے خوشی اور مسرت بھی ہوئی کہ انہوں نے اپنے اس رویہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کی قائم کردہ جماعت احمدیہ وہی ہے جو سلسلہ کے مرکز قادیان سے تعلق رکھتی ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی سچے دل کے ساتھ اطاعت اور فرمانبرداری کرنا نہایت ضروری اور اہم فرض رکھا ہے اور ضرورت اور حاجت کے وقت حتی الامکان مدد کرنا ضروری قرار دیا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۶، نمبر ۸۹، ص ۳، مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۱۹ء)

(۴۵) انگلستان میں قادیانی مشن

میری ناقص رائے میں مغرب میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے لٹریری پہلو پر زور دینا اشد ضروری ہے یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ برطانوی پریس نہ صرف دنیا میں سب سے زیادہ بااثر بلکہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ پریس ہے۔ اس کا معیار غیر معمولی طور پر بلند ہے اور برطانوی لوگوں کو ایسی سہولتیں میسر ہیں جن کا ہم خیال تک نہیں کرسکتے یہاں ہر مضمون کے ماہرین موجود ہیں۔ جنہوں نے کسی خاص مسئلہ کی چھان بین میں اپنی عمریں صرف کردی ہیں اور یہاں پبلک میں جو مسائل زیر بحث ہوں ان کے متعلق تمام ماہرین کے علم اور تجربہ کی رو سے ان پر فوراً روشنی پڑسکتی ہے۔

اس کے برعکس ہمارے لئے یہ قریباً ناممکن ہے کہ تحریراً یا تقریراً یہاں کے لوگوں کے لئے کوئی قابل غور چیز پیش کر سکیں ہمارے یہاں کوئی لائبریری نہیں ہے اور کسی لائبریری میں کسی بات کی تحقیق کے لئے جانے پر دو تین گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے پھر ہمارے پاس کوئی چیز شائع کرنے کے لئے قطعاً کوئی فنڈ نہیں۔ مناسب اور موزوں لٹریچر پیدا کئے بغیر اور عصر حاضر کے اہم مسائل کا گہرا مطالعہ کئے بغیر میری ناقص رائے میں اس جگہ ہمارا کام کم و بیش سطحی ہے۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسری مصروفیتیں جو وقتی ضروریات کے لحاظ سے کم اہمیت نہیں رکھتیں، کسی لٹریری کام کے کرنے یا مطالعہ کرنے کے لئے فرصت نہیں ہونے دیتیں۔ چہ جائے کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جو مغربی دنیا کو اپیل کرسکے۔ یورپ اس وقت

صفحہ 877

کئی مصائب میں مبتلا ہے۔ اس کو سوشل، اقتصادی، اخلاقی اور روحانی، اصلاحات کی اشد ضرورت ہے اور اسلام ان کا واحد علاج ہے مگر یورپین لوگ اسے محسوس نہیں کرسکتے تاوقتیکہ اسلامی تعلیم کی فضیلت اور عمدگی موزوں طریق پر ان مسائل کے حوالہ سے جو اس وقت دنیا میں ناقابل حل صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے سامنے پیش نہ کی جائے ایسا کرنے کے لئے بہت مطالعہ اور سکون کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں لٹریری کام کی طرف متوجہ ہونا چاہیے یہ قلم کا زمانہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) سلطان القلم ہیں اس لئے اگر اس طرف فوری اور کافی توجہ نہ دی گئی تو ہماری ترقی بہت حد تک رک جائے گی۔

(احمدیہ مشن لندن کی سالانہ رپورٹ مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان جلد ۲۱، نمبر ۱۴۰، ص

۶، مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۳۴ء)

(۴۶) قادیانی مبلغ

بلغراد سے روانہ ہو کر میں بڈاپیسٹ پہنچا...... وہاں ایک صاحب مسٹر محمد فیاض صاحب بی۔اے۔ ایل۔ ایل۔ بی سے ملاقات ہوئی آپ کا سبز عمامہ دیکھ کر دریافت کرنے پر معلوم ہوا آپ قادیانی ہیں اور تبلیغ کی غرض سے تشریف لائے ہیں اور قادیانی عقائد و دعاوی پیش کرتے ہیں۔ پروفیسر جرمانوس نے ان سے دریافت کیا کہ آپ غیر احمدی جو مکفر نہ ہو۔ اس کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے انہوں نے کہا کہ ہم پاک اور مقدس مسلمان ہیں لہٰذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔

ان لوگوں کو اپنی پاکیزگی اور تقدس کا اس قدر گھمنڈ ہے کہ اپنے سوا تمام کلمہ گوؤں کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے......

اب ذرا قادیانی مبلغ کا طریق تبلیغ بھی ملاحظہ ہو۔ کسی دوست سے ملے۔ کہیں چائے پر چلے گئے۔ کسی اور اجتماع میں چند آدمیوں سے ملاقات ہو گئی۔ بس قادیان۔ رپورٹ لکھ دی کہ ہم نے تین سو آدمیوں کو اسلام یا احمدیت کا پیغام پہنچا دیا اور لطف یہ کہ آپ ہنگری کی زبان سے بھی بالکل ناواقف ہیں۔

صفحہ 878

(لاہوری جماعت کے مبلغ محمد عبداللہ صاحب قادیانی کا مکتوب مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“

لاہور جلد ۲۴‘ نمبر ۳۵‘ مورخہ ۳ جون ۱۹۳۶ء)

(۴۷) قادیانی مبلغ کے مضامین

جنگ کے متعلق حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی پیشگوئی اور ہندوستان کی وفاداری اور حکومت برطانیہ کے سچے دل سے امداد اور اس کے متعلق مسیح موعود کے تائیدی حکم اطاعت اور شکرگزاری گورنمنٹ کے متعلق میرے جو مضامین انگلینڈ کے اخبارات۔۔۔۔۔ میں چھپے تھے۔ ان کے کٹنگس ہندوستان میں بھی بھیجے گئے تھے۔ اس پر ہز آنر نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب اور صاحب کمشنر بہادر لاہور کی طرف سے عاجز کو شکریہ کے خطوط موصول ہوئے ہیں۔

(قادیانی مبلغ انگلستان کا خط مندرجہ ”الفضل“ قادیان جلد ۵‘ نمبر ۹۹‘ ص ۲‘ مورخہ ۲۲

جون ۱۹۱۸ء)

(۴۸) قادیانی پتھر

انگریزوں کو بالخصوص جن سے کل تک یہ درخواستیں کی جاتی تھیں کہ ہمیں (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کو) خلیفہ المسلمین بنا دیا جائے۔ اور جن کے بغداد فتح کرنے پر قادیاں میں چراغاں کیا گیا اور غیر احمدیوں (مسلمانوں) ہندوؤں اور سکھوں وغیرہ ہم کو بالعموم یہ دھمکی ضرور دی گئی ہے کہ:

”ہم (قادیانی) کونے کا پتھر ہیں۔ جس پر ہم گرے وہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جو ہم پر گرا وہ بھی سلامت نہیں رہے گا۔“

قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۶۶‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۴ اکتوبر

۱۹۳۴ء)

(۴۹) قادیانی چکر

قادیانی جماعت اصل مقصد سے ہٹ گئی ہے۔ اس کہنے سے میرا مطلب یہ ہے کہ اس بات سے کبھی مرعوب نہیں ہونا چاہیے کہ وہاں کثرت تعداد ہے اور ہماری قلت

صفحہ 879

ہے جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ آج کثرت تعداد کے باوجود قادیاں میں کام اور علم کی قلت ہے۔ قادیانی جماعت کی توجہ اصل کام سے ہٹ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک مشکل میں پھنسے ہوئے محسوس کر رہے ہیں۔ دو تین ماہ سے میاں صاحب جو خطبات دے رہے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے گورنمنٹ سے یہ کیا۔ اس کی یہ یہ خدمات انجام دیں۔ اس نے ہم سے یہ یہ سلوک روا رکھا۔ ترقی کہاں ملے گی۔ اس کو تلاش کرو۔ یہ کرو وہ کرو۔ غرض کہ ایک چکر ہے جو چل رہا ہے۔ اگر کوئی اپنے اصل کام سے غرض رکھے تو پھر گورنمنٹ اس کے کام میں دخل نہیں دیتی۔ اگر دخل دے بھی تو اس کی پرواہ نہ کرنی چاہیے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳‘ نمبر ۶‘ مورخہ ۲۳

جنوری ۱۹۳۵ء)

(۵۰) قادیانی علاقہ

احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک ایک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے اور نہ اخلاق کی تعلیم ہو سکتی ہے نہ پورے طور پر تربیت کی جاسکتی ہے۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ اور حجاز سے مشرکوں کو نکال دو۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں۔ جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے اگر یہ نہ ہوا تو کام اور مشکل ہو جائے گا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۹‘ نمبر

۹۷‘ مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۲۲ء)

(۵۱) مکہ مدینہ

جماعت سے قربانی کا چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے تو کیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں نہیں پھیل جاتے۔ اگر باہر نکلو گے

صفحہ 880

تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دے گا۔ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں بھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی۔ ہمیں کیا معلوم کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے۔ قادیان بیشک ہمارا مذہبی مرکز ہے مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت و طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ یہ ہندوستان کے کسی شہر میں بھی ہو سکتا ہے اور چین، جاپان، فلپائن، سماٹرا، جاوا، روس، امریکہ غرض کہ دنیا کے کسی ملک میں ہو سکتا ہے اس لئے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں کچلنا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں شروع ہوتی ہے۔ ہمیں کیا معلوم کہ کون سی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت کو قبول کر لیں گے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ جماعت کو ایسی طاقت کہاں سے حاصل ہو جائے گی اس کے بعد دشمن شرارت نہ کر سکے گا۔

(خطبہ محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۲‘ نمبر ۶۶‘ ص ۱۳‘

مورخہ ۲۸؍ نومبر ۱۹۳۴ء)

(۵۲) ہمارے لئے

دنیا میں جس قدر تغیرات ہو رہے ہیں یہ سب اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے لئے ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں تو ہمارے لئے، بارش ہوتی ہے تو ہمارے لئے، جنگیں ہوتی ہیں تو ہمارے فائدے کے لئے۔

(تقریر چوہدری فتح محمد صاحب قادیانی ناظر دعوت و تبلیغ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان جلد ۱۴‘ نمبر ۴۱‘ مورخہ ۱۹؍ نومبر ۱۹۲۶ء)

(۵۳) یہ سمجھ کر

ان کی سستی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے چند ایک ابتلا پیدا کئے ہیں۔ تاکہ اگر جماعت کے دوست دوسروں کی ہدایت کے لئے احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہ سمجھ کر کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور جب تک ہم ساری دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کر لیں ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں اور کبھی چین سے زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ تبلیغ کی طرف متوجہ ہوں۔

صفحہ 881

(خطبہ جمعہ میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۷‘ نمبر

۸۶‘ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

(۵۴) بھلائی کی صورت

ہمیں جن کا اعتقاد ہے کہ کسی وقت بدلہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس خیال سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے اس لئے ہمیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں تا ان پر غالب آنے کی کوشش کریں کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو ترقی بھی نہیں ہو سکتی۔ تمام انبیاء کی جماعتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ پہلوں میں ہم سے زیادہ ایمان نہ تھا۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۷‘

نمبر ۸۶‘ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

(۵۵) اللہ کے پیارے

دوسرے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہم سے انہیں فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ شاباش اور آفرین کہنے لگ جاتے ہیں اور ہمارے بعض سیدھے سادے بھائی (قادیانی صاحبان) اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اب تو ساری دنیا ہم سے خوش ہے......

جب کسی مشکل کے وقت انہیں منظم جماعت کی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ہمیں تھپکی دیتے ہیں اور شاباش کہتے ہیں اور اس سے بعض احمدی خیال کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک انسان احمدیت کا جامہ زیب تن نہیں کر لیتا خواہ وہ ہم سے کتنا بھی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والا کیوں نہ ہو وہ آج نہیں تو کل ضرور ہم سے دشمنی کرے گا۔ پس ان ابتلاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ اگر اس کے لئے اسلام کے لئے اور احمدیت کی محبت کے لئے ہم احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہی سمجھ کر اسے پھیلانے میں لگ جائیں کہ ہمارا اور ہماری اولاد کا امن و امان اور آسائش احمدیت کی اشاعت سے وابستہ ہے۔

ہندوستان میں انقلاب پیدا ہونے والا ہے اور ہندوستانیوں میں اس وقت جو جذبہ

صفحہ 882

حریت پیدا ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بے شک وہ مقابلہ تو کریگی لیکن آہستہ آہستہ وہ خود بخود ہندوستانیوں میں حقوق دینے پر آمادہ ہو جائے گی اور وہ نادان احمدی جو ایک حد تک تحریک حریت کو ہندوستان کے لئے مفید سمجھتے ہیں اس وقت دیکھے گے کہ وہ لوگ جنکی ظاہر داری کو دیکھ کر وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں۔ ان کی مثال بعینہ اس بلی کی طرح ہے جسکا جسم نہایت ملائم اور پشم بہت نرم لیکن ناخن خوفناک ہوتے ہیں اور وہ دیکھیں گے کہ کس طرح ان کی آنکھوں کو نکالنے اور چہرہ کو نوچنے کی کوشش کرتے ہیں......

اگر تم بھی اللہ کے پیارے ہو تو اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت نہ قائم ہو جائے تمہارے راستہ میں یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے اور تمہیں کبھی بھی امن و امان حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر آج کسی وجہ سے سکھ ہے تو کل یقیناً پھر دکھ کی حالت ہو جائے گی۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۷

نمبر ۸۶‘ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

(۵۶) بے ایمانی اور بیوقوفی

تعجب ہے کہ (قادیانی) جماعت کے لوگوں کو کیوں یہ خیال نہیں آتا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چنا ہے اس لئے ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو مایوس ہیں۔ کتنے ہیں جن کو خیال ہے کہ ہمارے اندر کچھ قابلیت نہیں۔ مگر اس سے زیادہ بے ادبی اور گستاخی کیا ہو سکتی ہے کہ خدا کہتا ہے تم دنیا کو فتح کرو گے لیکن تم کہتے ہو نہیں ہم نہیں کر سکتے۔ غور تو کرو کب خدا نے کسی قوم کو اس لئے چنا کہ وہ دنیا کو فتح کرے گی اور اس نے نئی زمین اور نیا آسمان نہ پیدا کر دیا۔ کیا اب خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ) بوڑھا ہو گیا ہے کہ اس کی قوت انتخاب کمزور ہو گئی ہے۔ اس نے حضرت نوح علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت کرشن‘ حضرت رام چندر‘ حضرت بدھ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام‘ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قوموں کو چنا اور وہ کامیاب ہوئیں پھر کیا اب خدا کی عقل کمزور ہو گئی ہے کہ اس نے ہم کو چنا اور ہم ناکام

صفحہ 883

رہ جائیں گے۔ یہ انتہا درجہ کی بے ایمانی اور بے وقوفی ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۸‘

نمبر ۷۴‘ ص ۷‘ مورخہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۰ء)

(۵۷) موت اور زندگی

غرض ہر قوم ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو اپنے مذہب پر پکے اور امید و یقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے۔ وہ لوگ جو واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) پر ایمان لاتے ہیں وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے۔ صرف ہم باقی رہیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آ رہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے متعلق ہی کہا گیا ہے آسمان سے کئی تخت اترے‘ پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی۔ مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت دی جائے گی۔ حکمران ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی۔ لوگ ڈر رہے ہیں کہ تباہ ہو جائیں گے۔ مگر ہم خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہم سے وعدہ ہے کہ کوئی تمہیں تباہ نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کو بتایا گیا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے آگ سے مراد وہ مصیبتیں اور تباہیاں ہیں جو کچل دینے والی ہوتی ہیں۔ پس وہ بلائیں اور مصیبتیں دنیا پر نازل ہو رہی ہیں جو بھسم کر دینے والی ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کا کلام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) پر نازل ہوا۔ اس میں بتایا گیا کہ کہو آگ سے نہ ڈراؤ۔ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ پس یہ مصیبتیں تو ہماری ترقی کے لئے ہیں۔ ہمیں کس طرح کچل سکتی ہیں۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۵‘ نمبر

۷۸‘ ص ۸‘ مورخہ ۳ اپریل ۱۹۲۸ء)

(۵۸) دور کی بات

سو میرا یہ اصول ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کو اپنی بادشاہیاں مبارک ہوں ہمیں ان

صفحہ 884

کی سلطنت اور دولت سے کچھ غرض نہیں۔ ہمارے لئے آسمانی بادشاہی ہے۔ ہاں نیک نیتی سے اور سچی خیر خواہی سے بادشاہوں کو بھی آسمانی پیغام پہنچانا ضروری ہے۔

(تحفہ قیصریہ ص ۱۱ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب روحانی خزائن ص ۲۶۵، ج ۱۲)

حکومت والوں کو حکومتیں مبارک ہوں۔ ہم ان کو آسمانی پیغام پہنچا کر دین واحد پر جمع کریں گے اور ظاہر ہے کہ ان کے دین واحد پر جمع ہونے کے یہی معنی ہیں کہ دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور سلسلہ احمدیہ کے افراد اس حکومت کے چلانے والے ہوں۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴‘ نمبر ۲۹‘ مورخہ ۴ اگست ۱۹۳۶ء)

پس ضرور ہے کہ یہ سب وعدہ پورے ہوں۔ نہ صرف ہندوستان کی سلطنت حکمران احمدی جماعت کے ممبر ہوں گے بلکہ جیسا کہ وعدہ دیا گیا ہے زار روس کا عصا بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہو گا۔ وہ دنیا میں عالمگیر حکومت قائم کریں گے۔ بادشاہوں کو مسلمان بنائیں گے اور بغیر اس کے کہ وہ اپنی طرف سے کسی فتنہ یا فساد کا موجب ہوں صلح و آشتی سے آسمانی بادشاہت کو زمین کے چپہ چپہ پر قائم کر دکھائیں گے۔ مبارک وہ جو آخر تک صبر کریں لیکن ہر چیز کا وقت مقرر ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۴‘ نمبر ۳۰‘ ص ۵‘ مورخہ ۴ اگست ۱۹۳۶ء)

(۵۹) دنیا میں تہلکہ

میں ایک دفعہ بمبئی گیا۔ تو خوجوں کا شادی خانہ دیکھا۔ وہاں چونکہ رہائشی مکان اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ بیاہ شادیوں میں جو مہمان آئیں وہ ٹھہر سکیں اس لئے ایسے موقعوں کے لئے علیحدہ طور پر انہوں نے مکان بنایا ہوا ہے تاکہ جس کے ہاں شادی ہو وہ اپنے مہمانوں کو وہاں ٹھہرا سکے‘ وہ اس قدر سامان سے آراستہ تھا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ ایک بجلی کی روشنی کا ہی ایسا انتظام تھا کہ انسان رات کو دن سمجھتا تھا۔ اس میں ہر قسم کی آرائش اور زیب و زینت کا سامان موجود تھا۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود ان قوموں کے حوصلے۔ ان کی امنگیں اور ان کے ارادے کوئی ایسے بلند نہیں ہیں۔ خوجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہے مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی کہ ساری

صفحہ 885

دنیا پر چھا جائیں۔ بے شک میمن اور بوہرے بہت مالدار ہیں۔ مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کردیں گے ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں۔ جو اس زمانہ میں بھی جبکہ مال دولت کی کثرت ہے۔

اس قدر مالدار ہیں کہ انفرادی طور پر مدینہ کو خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے دماغ کو کسی گوشہ میں بھی کبھی نہ یہ خیال آیا اور نہ آسکتا ہے کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے موجودہ نظام کو درہم برہم کرکے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال اپنی دولت اپنی عزت اپنی تعداد اور اپنے اثر ورسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شائد تمام منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے۔ مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ مچا دے گی اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہ و بالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی اور وہ جماعت احمدیہ ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۵‘ نمبر

۸۲‘ ص ۵‘ مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۲۸ء)

(۶۰) دنیا کو کھا جانا

ہماری جماعت ظاہری حالت کے لحاظ سے کمزور ترین نہیں بلکہ ایک ہی کمزور جماعت ہے۔ دنیا میں کوئی ایک بھی منظم جماعت جو کام کر رہی ہو ہم سے کمزور نہیں ہے مگر باوجود اس کے کسی کے ارادے ایسے بلند اور وسیع نہیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی یہ امید نہیں رکھتی کہ وہ دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر ایک نیا نظام جاری کرے گی سوائے ہماری جماعت کے.........

اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے۔ جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی ہے مگر ارادہ کے لحاظ سے سب سے بڑھی ہوئی ہے۔ پھر وہ منہ سے دعویٰ ہی نہیں کرتی۔ اس کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھا جانا ہے کیونکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہم

صفحہ 886

کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کے متعلق فرمایا ہے ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا پر ظاہر کر دے گا۔“

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۵‘

نمبر ۸۲‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۲۸ء)

(۶۱) جہنم کی آگ

میں چاہتا ہوں کہ جو جو مظالم تم پر کئے جاتے ہیں وہ تمہارے دلوں میں انگارے بن کر جمع ہوتے چلے جائیں۔ لیکن ان کا دھواں باہر نہ نکلے۔ یہاں تک کہ تم ان انگاروں سے جل کر اندر ہی اندر راکھ راکھ ہو کر بھسم ہو جاؤ۔ وہ ایسی ہی بند آگ ہو جیسی دوزخ کی آگ کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ بند ہوگی میں بھی چاہتا کہ تمہارے اندر اک آگ ہو جو جہنم کی آگ کی طرح بند ہو کہ جب اسے باہر نکلنے کا اذن ملے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ میں سے اگر ایک رائی کے برابر آگ بھی ساری دنیا پر ڈال دی جائے تو دنیا جل کر راکھ ہو جائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ میں وہ جہنم کی آگ تمہارے اندر پیدا کروں۔ جو پہاڑوں کے برابر ہو۔ اگر جہنم کی رائی بھر آگ ساری دنیا کو جلانے کے لئے کافی تو جو آگ میں تمہارے دلوں میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔ اگر پیدا ہوجائے تو ایک دنیا نہیں ہزاروں دنیاؤں کو تم جلانے کے قابل ہو جاؤ گے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۳‘ نمبر ۱۳۹‘

ص ۹‘ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۳۵ء)

(۶۲) اچھا کیا

گورنمنٹ کالج کے طالب علم میاں بدرالدین صاحب حضرت اقدس (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) کی خدمت میں لکھتے ہیں کہ ہمارے کالج میں بعض طلباء نے یہ ارادہ کیا کہ بارہ وفات پر کچھ چندہ کرکے خیرات کی جائے اور جشن میلاد بھی کیا جائے۔ مجھ سے بھی چندہ مانگا مگر میں نے دینے سے انکار کیا کہ میں تمہارے ساتھ کسی دینی کام میں

صفحہ 887

شامل نہیں ہو سکتا۔ حضرت (میاں محمود احمد صاحب) نے لکھوایا کہ بارہ وفات یا میلاد کا جلسہ ایک بدعت ہے اس میں تم شامل نہیں ہوئے تو اچھا کیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۳۸‘ مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۱۶ء)

(۶۳) دعوتی خطوط

جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہر سال غیر احمدی احباب کو دفتر ہٰذا کی طرف سے دعوتی خطوط بھیجے جاتے ہیں جن کا بھجوانا از حد مفید پڑتا ہے۔ اس لیے میں بذریعہ اعلان جماعتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے زیر تبلیغ غیر احمدی معززین کے پتے مجھے بہت جلد ارسال فرمائیں تاکہ ان کے نام دعوتی خطوط بھجوائے جائیں۔

(ناظر دعوت و تبلیغ قادیان)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۰‘ نمبر ۶۵‘ مورخہ ۲۹ نومبر ۱۹۳۲ء)

(۶۴) ذریعہ تبلیغ

جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) نے دنیا میں اعلاء کلمۃ الحق اور خدمت اسلام کے لیے قائم کیا ہے اور ظاہر ہے کہ غیر احمدی لوگوں کو جلسہ کے مبارک ایام میں قادیان میں لانا زبردست ذریعہ تبلیغ ہے اور قادیان کی یہ شان و شوکت اور اس میں اس قدر اہم اور ضروری کاموں کی ترتیب و تجویز بذات خود ایک حق بین اور معقول پسند انسان کے لیے اپنے اندر زبردست نشان رکھتی ہے۔ کیونکہ ابھی تک ہزاروں بلکہ لاکھوں انسان ایسے موجود ہیں جو یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ آج سے چند سال قبل قادیان کا نام و نشان تک بھی وہ نہ جانتے تھے پس اس ادنیٰ حالت سے اس مقام کا اس قدر عروج اور کمال پر پہنچ جانا یقیناً خشیت اللہ رکھنے والے دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے وہ احمدی دوست جو اپنے اعزہ و اقربا اور دوست و احباب کے جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے پر دل ہی دل میں ملول اور پریشان خاطر رہتے ہیں انہیں اپنے ساتھ قادیان لائیں اور اگر اس کے لیے انہیں کچھ قربانی بھی کرنی پڑے تو بھی دریغ نہ کریں کیونکہ انجام کار وہ یقیناً فائدہ میں رہیں گے۔ یاد رہے کہ قادیان ہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) خود فرما چکے ہیں:

صفحہ 888
آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۶‘ نمبر ۵۰‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۲۸ء)

(۶۵) سیرت کے جلسے

اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض مقامات کے متعلق شکایت آئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے متعلق جلسوں کے انعقاد میں چونکہ غیر احمدیوں سے کام لینا پڑا اس لئے بعض لوگوں میں مداہنت پیدا ہو گئی ہے۔ میں کسی کا نام نہیں لیتا مگر ایسے لوگ خود اپنے نفس میں غور کرلیں۔ اگر اصل چیز (یعنی قادیانیت کی تبلیغ) ہی مٹ جائے تو پھر ایسے جلسوں اور ان تقریروں کا کیا فائدہ۔ ایسے جلسوں کے لئے مسلمانوں کے پاس جاؤ اور انہیں کہو آؤ یہ ہمارا متحدہ کام ہے تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ۔ اگر وہ شامل ہوں تو بہتر ورنہ ان کی منتیں اور خوشامدیں نہ کرو۔ اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور شان کے اظہار کے جلسوں میں شامل ہوں گے تو برکات حاصل کریں گے اور اس کا فائدہ خود انہیں پہنچے گا۔ ہمارا ان کے شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں لیکن یاد رکھو ان کی بے جا رضامندی کے لئے اپنا دین (یعنی قادیانیت) تباہ نہ کرو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری ہدایت میں کسی کے گمراہ ہونے کی وجہ سے فرق آتا ہے تو گمراہ ہونے والے کی پروا نہ کرو۔ تم میں اگر کسی جگہ کوئی اکیلا ہی ہو اور اس کے ساتھ کوئی شامل نہ ہو تو وہ جنگل کے درختوں کے سامنے جاکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنا شروع کردے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اپنی ذمہ داری سے بری سمجھا جائے گا اور اس کا نتیجہ بھی نکلے گا لیکن کسی صورت اور کسی حالت میں بھی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ احمدیت کی تبلیغ کھلے بندوں کرنی چاہیے۔

(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان

جلد ۱۷ نمبر ۵۳ ص ۷ مورخہ ۷؍ جنوری ۱۹۳۰ء)

پھر ان جلسوں میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔ حیدر آباد دکن کے صدر الصدور مولانا شروانی‘ علما فرنگی محل‘ مولانا ابوالکلام آزاد کا کسی نہ کسی رنگ میں حصہ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ایسے جلسوں میں احمدیت کی تبلیغ کرنے کا کوئی احتمال نہ

صفحہ 889

تھا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶ نمبر ۴۷ ص ۵ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۲۸ء)

(۶۶) قادیانی فرقہ

جناب خواجہ (حسن نظامی) صاحب اپنے روزنامچہ مندرجہ ”منادی“ مورخہ ۴؍ اپریل کے صفحہ ۱۸ پر تحریر فرماتے ہیں:

”چند قادیانی اصحاب ملنے آئے۔ میں نے پوچھا آپ لوگ غیر قادیانی لوگوں سے رشتہ داری کیوں نہیں کرتے اور ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا اس لئے کہ غیر قادیانی لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں۔ میں نے کہا میں قادیانیوں کو کافر نہیں کہتا بلکہ ان کے تبلیغی کاموں کی بہت تعریف کرتا ہوں تو کیا آپ میرے پیچھے نماز پڑھ لیں گے۔ انہوں نے انکار کیا میں نے کہا یہی دو چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے میرے دل پر یہ اثر ہوتا ہے کہ قادیانی فرقہ مسلمانوں کی اخوت میں تفریق پیدا کرنے والا ہے اور جو شخص بھی مسلمانوں کی تفریق کا باعث ہو میں اس کو سیاسی اور مذہبی مجرم سمجھتا ہوں۔“

”میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے فرقہ کو سب سے نمایاں اور الگ رکھنے کے لئے یہ کام کرتے ہیں ورنہ آپ کے دل میں مذہبی جذبہ کوئی نہیں ہے۔ قادیانی لوگ کوئی جواب نہیں دے سکے۔ نظامی صاحب نے کہا آج پہلا موقع ہے کہ میں نے دو قادیانیوں کو گفتگو میں کمزور دیکھا۔“

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۷ نمبر ۹۹ ص ۳ مورخہ ۲۰؍ مئی ۱۹۳۰ء)

(۶۷) خاتم النبین نمبر

الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ (اخبار) ”الفضل“ کا خاتم النبیین نمبر نہایت شاندار تیار ہو گیا جس کا کسی قدر پتہ تو اس فہرست مضامین سے لگ سکتا ہے۔ جو اسی پرچہ کے دوسرے اور آخری صفحہ پر شائع کی جا رہی ہے۔ مگر پوری آگاہی پرچہ کو دیکھنے سے ہوگی جو انشاء اللہ بہت جلد احباب کرام کی خدمت میں پہنچ جائے گا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶ نمبر ۹۱ ص ۱ مورخہ ۲۱؍ مئی ۱۹۲۹ء)

(اخبار) ”پیغام صلح“ (لاہور) کی قسمت میں جو ازلی شقاوت لکھی جا چکی ہے اس

صفحہ 890

نے اسے اس موقعہ پر بھی خاموش نہ رہنے دیا۔ جبکہ ”الفضل“ نے دنیا میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس ظاہر کرنے کے لیے بلند پایہ مسلم و غیر اہل قلم اصحاب کے نہایت قیمتی مضامین کا مجموعہ خاتم النبیین نمبر کے نام سے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے چنانچہ اس نے ۲۴؍ مئی کے پرچہ میں مخالفت کا طوق گلے میں ڈال کر لکھا ہے۔ ”خاتم النبیین کا نام صرف عوام الناس کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ قادیانی اصحاب کو ختم نبوت کا قائل سمجھ لیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶ نمبر ۹۲ ص ۲ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۲۹ء)

(۶۸) خاتم النبیین کا قادیانی مفہوم

ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں۔ عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں۔ کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا قرآن مجید میں تو لکھا ہے لا نفرق بین احد من رسلہ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔

رہی یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں خاتم النبیین فرمایا ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کرے تو بالاتفاق کافر ہے یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔

(ارشاد حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول مندرجہ نہج المصلی ۲۷۵ مولفہ محمد فضل

صاحب قادیانی)

آخر بیس برس کی لگاتار محنت اور تگ و دو کے بعد جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان اور ان کے حاشیہ نشین علما اس امر میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ اپنی محمودی جماعت کے دلوں میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد اجرائے نبوت کے عقیدے کو مستحکم کر دیں۔ اب جدھر دیکھو ملت محمودیہ دن رات خاتم النبیین کا

صفحہ 891

مفہوم اجرائے نبوت لے رہی ہے اور خاتم النبین کے لفظ خاتم اور لا نبی بعدی کے لفظ معنی کی جس میں رکیک اور مضحکہ انگیز اور بودی تاویلیں آئے دن کی جاتی ہیں وہ محتاج بیان نہیں ہیں۔ ایک عدالت میں جب میاں صاحب کے ایک عالم مرید سے سوال ہوتا ہے کہ آپ ختم نبوت کے قائل ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ختم نبوت کیا بلا ہوتی ہے یہ مسلمانوں کا غلط مفہوم ہے جو خاتم النبین سے لیا گیا ہے۔ بے شک خاتم النبین کے الفاظ قرآن میں ہیں اور ہم محمد رسول اللہ صلعم کو خاتم النبین ضرور مانتے ہیں مگر اس کا مفہوم نبوت کا ختم کرنے والا نہیں بلکہ نبوت کا اپنی مہر سے جاری کرنے والا ہے۔

(لاہوری جماعت کے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار "پیغام صلح"

لاہور جلد ۲۲ نمبر ۳۴ مورخہ ۷ر جون ۱۹۳۴ء)

ہم تو جیسے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے قائل تھے ویسے ہی اب بھی ہیں اور ختم نبوت کے ساتھ ہی حضرت مرزا صاحب کی نبوت بھی قائم ہے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں تو حضرت مرزا صاحب بھی نبی ہیں۔ گویا ختم نبوت اور مسیح موعود (مرزا صاحب) کی نبوت لازم و ملزوم ہیں۔ ہمارے جلسوں تحریروں اور تقریروں یہاں تک کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سے بیعت کے اقراری الفاظ میں بھی خاتم النبین کا اقرار مقدم رکھا گیا ہے۔

(قادیانی اخبار فاروق قادیان جلد ۱۹ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۸ر فروری ۱۹۳۲ء)

(۶۹) قادیانیوں کی فریب کاری

(عنوان مندرجہ اخبار "پیغام صلح" لاہور ۷ر فروری ۱۹۳۴ء)

گویا خاتم النبین جب ایک محمودی (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا مرید) کہتا ہے یا کسی اخبار یا اشتہار یا اعلان میں لکھتا ہے تو اس کا مفہوم اجراء نبوت کا ہوتا ہے۔ ختم نبوت کا نہیں ہوتا۔ اس لئے جب یہ قوم آنحضرت صلعم کے متعلق بڑے بڑے پوسٹر لگاتی اور آنحضرت صلعم کو ان میں خاتم النبین لکھتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے مقصد فقط پبلک کو دھوکا دینا ہوتا ہے کیونکہ پبلک تو ..... خاتم النبین کے معنی نبیوں کو ختم کرنے والا سمجھتی ہے اور یہ قوم اس سے مراد نبوت کو جاری کرنے والا لیتی ہے.....

صفحہ 892

اس قوم سے کیا گلہ ہے جب ان کے خلیفہ آسمانی جناب میاں محمود احمد صاحب سنا ہے بیعت کے وقت مرید سے آنحضرت صلعم کے خاتم النبین ہونے کا اقرار لیتے ہیں تو گرفتار مرید اپنی سادگی سے سمجھتا ہے کہ خاتم النبین سے مراد آخری نبی ہے اور پیر صاحب دل میں ہنستے ہیں کہ احمق میں تجھ سے اجراء نبوت کے عقیدوں کا اقرار لے رہا ہوں۔ اگر یہ کہو کہ نہیں مرید کو بیعت خاتم النبین کے محمودی مفہوم کا پتہ ہوتا تو پھر اس کے یہ معنی ہوئے کہ اجراء نبوت کا عقیدہ ملت محمودیہ کی فہرست ایمانیات میں اس قدر اہم ہے کہ بیعت کے وقت جناب میاں صاحب اپنے مرید سے اجراء نبوت کے عقیدہ کا عہد لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

(لاہوری جماعت کے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“

لاہور جلد ۲۲ نمبر ۳۴ مورخہ ۷؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۷۰) قادیانی چیلنج

ہم نے خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے جمیع فرق اسلامیہ کے علما اور مشائخ کو بالعموم اور جناب محمد علی صاحب اور ان کے مخصوص رفقا جناب خواجہ (کمال الدین) صاحب کو بالخصوص چیلنج دیا تھا کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن کریم ان کے اس عقیدہ باطلہ کا مؤید مصدق ہے کہ سیدنا حضرت محمد رسول خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باب نبوت ابداً مسدود ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۸ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۹؍ اگست ۱۹۲۰ء)

(۷۱) سنو

سنو ہم مرزا غلام احمد صاحب کو وہ امام مہدی اور وہ مسیح مانتے ہیں جس کی خبر تمام انبیا سابقین نے اور بالاخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے دی‘ ہم بغیر کسی فرق کے بہ لحاظ نبوت کے انہیں ایسا ہی رسول مانتے ہیں جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۵ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۱۷ء)

(۷۲) اپنے اوپر چسپاں کیا

صفحہ 893

یہ عجیب بات ہے کہ ان تمام حوالہ جات کو جو (ملک عبدالرحمن) خادم صاحب (قادیانی) نے پیش کئے تھے..... جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) نے اسلامی اصطلاح خدا کی اصطلاح‘ شریعت کی اصطلاح‘ انبیا کی اصطلاح اور خود اپنی اصطلاح کی رو سے نبوت کی تعریف کرتے ہوئے اس کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ غیر مبائع مناظر (عمر الدین صاحب قادیانی لاہوری) نے مس تک نہ کیا اور اس کا جواب دینے کا خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۴ نمبر ۱۴۳ ص ۱۱ ۔ ۱۲ مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۳۶ء)

(۷۳) نبوت کا غیر مشروط دعویٰ

(ملک عبدالرحمن) خادم صاحب (قادیانی) نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کی کتب سے چالیس حوالے پڑھ کر سنائے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا ہے اور نبوت کا غیر مشروط دعویٰ کیا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۴ نمبر ۱۴۳ ص ۱۱ مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۳۶ء)

(۷۴) نبی ہے نبی

غیر مبائع دوستو! (لاہوری فریق) اگر افراط جائز نہیں تو آپ نے تفریط کا جواز کہاں سے نکال لیا۔ یاد رکھو نہ افراط جائز ہے اور نہ ہی تفریط۔ ایک برگزیدہ انسان (مرزا صاحب) خدا تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق نبی ہے‘ قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق نبی ہے۔ تمام انبیا کی اصطلاح کے مطابق نبی ہے‘ اور پھر وہ اپنی اصطلاح بھی اپنے کو دوسرے محدثین سے علیحدہ کر کے نبی قرار دیتا ہے اسے غیر نبی قرار دینا خدا تعالیٰ قرآن کریم‘ تمام انبیا اور خود اس کے منشا کے خلاف نہیں تو اور کیا ہے اور اگر اس کا نام تفریط نہیں تو بتاؤ کہ تفریط اور کس بلا کا نام ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۴ نمبر ۳۰۰ ص ۴ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۳۶ء)

(۷۵) کلام الٰہی

ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے

صفحہ 894

الہامات کو کلام الہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا اور بہرحال حدیث پر مقدم ہے۔

(منکرین خلافت کا انجام ص ۴۹ مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی)

(۷۶) صلح حدیبیہ

تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔

(اقرار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۹۵ مجموعہ

اشتہارات ص ۳۱۲ ج ۱)

یہ اعلان تو بالکل اس طرح کا ہے جس طرح صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں آنحضرت صلعم نے مخالفین کی دل جوئی کی خاطر ان کے اصرار پر رسول اللہ کا لفظ خود اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا تھا۔ اس کاٹنے سے یہ مراد ہرگز نہ تھی کہ اس کے بعد آپ یا آپ کے صحابہ آپ کو رسول اللہ نہ سمجھیں گے۔

(قادیانی اخبار فاروق قادیان جلد ۱۹ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۳۵ء)

حضرت صاحب کے جس منسوخ در منسوخ معاہدہ کا غلط سہارا لینا چاہتے ہیں وہ فروری ۱۸۹۲ء کا ہے اور اس میں بھی مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کی خاطر یہی الفاظ لکھے گئے تھے کہ وہ کاٹا ہوا خیال کرلیں، مگر اس کے بعد جب حضرت اقدس کو بار بار بارش کی طرح وحی میں نبی اور رسول کہا گیا تو پھر آپ نے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کی پرواہ اتنی بھی نہیں کی کہ اپنے سابقہ اعلان کا عملی طور پر اعادہ فرما دیں بلکہ کثرت سے نبی اور رسول کے الفاظ کا استعمال فرمایا۔

(قادیانی اخبار فاروق قادیان جلد ۱۹ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۳۵ء)

(۷۷) حقیقی نبی

پس گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) عام مسلمانوں کی اصطلاح کے مطابق نبی نہ کہلائے لیکن خدا تعالیٰ کی اصطلاح، تمام انبیا کی اصطلاح، قرآن کریم کی

صفحہ 895

اصطلاح اور خود اپنی اصطلاح کے مطابق آپ یقیناً حقیقی نبی ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۳ نمبر ۴۰ مورخہ ۲۶ جون ۱۹۳۶ء)

(۷۸) عظیم الشان نبی

خلافت ثانیہ (میاں محمود احمد صاحب کی خلافت) کے بے شمار فیوض و برکات میں سے ایک بہت بڑا فیض یہ بھی دنیا کو حاصل ہو رہا ہے کہ خلق اللہ کو دین حق کی دعوت دینے والے کئی مبلغین دور دراز ممالک میں خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نبی حضرت مسیح موعود مہدی مسعود علیہ السلام کے ظہور سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۳ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(۷۹) رسول کی آواز

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ میں مسجد مبارک میں ظہر کی نماز سے پہلے سنتیں پڑھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیت الفکر کے اندر سے مجھے آواز دی۔ میں نماز توڑ کر حضرت کے پاس چلا گیا اور حضرت سے عرض کیا۔ حضور میں نماز توڑ کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا اچھا کیا...... خاکسار عرض کرتا ہے کہ رسول کی آواز پر نماز توڑ کر حاضر ہونا شرعی مسئلہ ہے دراصل بات یہ ہے کہ عمل صالح کسی خاص عمل کا نام نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۶۰ روایت نمبر ۴۱ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۸۰) ایک مذہب

جماعت احمدیہ کی وحدت اور اس کی ضرورت لوگوں پر آشکارا کریں۔ اسلام اور احمدیت کو جو اس زمانہ میں دو مترادف الفاظ ہیں‘ صفائی کے ساتھ پیش کریں اور ایک مذہب کے طور پر پیش کریں اور لوگوں کے دل سے یہ خیال مٹائیں کہ یہ بھی ایک سوسائٹی ہے۔

(میاں محمود احمد صاحب کے نصائح ایک مبلغ کو مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۳ نمبر

۳۶ مورخہ ۱۴ ستمبر ۱۹۱۵ء)

صفحہ 896

(۸۱) عقیدہ اجرائے نبوت

عقیدہ اجرائے نبوت انیسویں صدی عیسوی کی ایجاد و اختراع ہے اور ایران کے بعد ہمارے ملک میں اس ایجاد کا سہرا قادیانی جماعت اور ان کے خلیفہ کے سر پر ہے اگرچہ اس سے پیشتر اسلام میں مدعیان نبوت پیدا ہوتے رہے مگر انہوں نے یا ان کے پیروں نے کبھی عقیدے کے رنگ میں اس مسئلہ کو فروغ نہیں دیا۔ ان کے دعاوی سیاسی اغراض یا ذاتی تفوق کی بنا پر ہوتے تھے جو ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے تھے، مگر ۱۹۱۴ء کے قریب عقیدے کی صورت میں یہ مسئلہ اختیار کیا گیا اور اس کی ترویج و تبلیغ اور نشر و اشاعت میں مالی قالی اور حالی رنگ میں ایک منظم کوشش شروع کی گئی۔

احمدی جماعت حضرت مرزا صاحب کی وفات سے چھ سال بعد تک آپس میں متحد اور متفق رہی ہے اور صاحبزادہ (محمود احمد) صاحب کے سریر آرائے خلافت ہونے پر یہ جماعت دو فریقوں میں تقسیم ہوئی ہے۔ ایک فریق نے مرزا صاحب کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا اور دوسرے گروہ نے انہیں مجدد اور محدث مانا ظاہر ہے اگر یہ اختلاف اس سے قبل ہوتا تو فرقہ بندی بھی پیشتر ہی ہوتی۔ خود صاحبزادے صاحب نے آج تک حضرت مرزا صاحب کے دعوے نبوت کی صحیح تاریخ معین نہیں فرمائی بلکہ ان کی تحریروں میں اس کے متعلق تضاد ہے چنانچہ بقول ”الفضل“ ص ۲۴ میں دعویٰ نبوت کی تقسیم کا زمانہ ۱۹۰۲ء تحریر فرمایا اور اس کے بعد اپنی کتاب حقیقتہ النبوت کے ص ۱۲۱ پر تقسیم نبوت کا زمانہ ۱۹۰۱ء قرار دیا۔

(لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳ نمبر ۷۸ مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۳۵ء)

(۸۲) قادیانی جماعت کے عقائد

ختم نبوت کا انکار کر دیا۔ تکمیل دین کو جواب دیا۔ مسلمانوں کی تکفیر کا دروازہ ایسا کھول دیا کہ کروڑ دو کروڑ بے خبر مسلمان جو نمازیں پڑھتے، روزے رکھتے، قرآن کریم کو اپنا ہادی اور رہنما اور خدا کا آخری پیغام مانتے ہیں۔ وہ سب کے سب دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ منسوخ ہو گیا کیونکہ آج اس کو پڑھ کر کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا نبوت کا دروازہ ایسا کھولا کہ زید و بکر ہر شخص نبی بن سکتا ہے اور نبوت

صفحہ 897

موہبت نہ رہی بلکہ جس نے کوشش کی اسے نبوت مل گئی۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴ نمبر ۴۹ مورخہ ۳؍ اگست ۱۹۳۶ء)

(۸۴) بہائی اور قادیانی

بعض ختم نبوت کے منکر اس آیت اما یاتینکم رسل سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ اس کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی رسول آتے رہنے چاہئیں۔ اسی آیت سے رسولوں کے آنحضرت صلعم کے بعد آنے کا نتیجہ اول بہا اللہ نے اور بعد میں ان کی نقل کر کے میاں محمود احمد قادیانی کے مریدوں نے نکالا ہے۔ حالانکہ اس آیت کو نہ حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب نے خود اور نہ ان کی زندگی میں ان کے مریدوں نے کبھی پیش کیا ایک شرطیہ جملہ سے یہ نتیجہ نکالنا کمال نادانی ہے۔

(بیان القرآن جلد ۲ ص ۴۴۲ مولفہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور)

قادیان کے کچھ لائق آدمی مرزا صاحب سے پھر گئے ہیں۔ انہوں نے بہائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور آگرہ جاکر کوکب ہند کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار جاری کیا ہے۔ اس واقعہ نے تمام قادیانی جماعت میں ہلچل ڈال دی ہے۔ جناب مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان سے لے کر ادنیٰ قادیانی تک ان دو چار باغی بہائیوں کے خوف سے تھرائے جاتے ہیں۔

کوکب ہند اور اس کی جماعت یہ راز کھولنا چاہتی ہے کہ جناب مرزا صاحب قادیانی کے نئے مذہب کا تمام سرمایہ بابیہ اور بہائیہ فرقہ کے عقائد سے سرقہ کیا ہوا ہے اگر کوکب ہند کی یہ تبلیغ استقلال سے اپنا کام کرتی رہی تو اہل قادیان کی دھجیاں بکھر جائیں گی۔

(اقتباس مضمون خواجہ حسن نظامی صاحب مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۴ نمبر ۵۶

ص ۷ مورخہ ۱۴؍ جنوری ۱۹۲۷ء)

قادیانی فرقہ کے مخالف کہتے ہیں کہ قادیانی فرقہ کے عقائد بھی بابی فرقہ کے عقائد سے ماخوذ ہیں مگر میرا یہ خیال ہے کہ بابی فرقہ کا لٹریچر بڑا ادبی ہے اور قادیانی لٹریچر شعریت اور ادبیت سے قطعی محروم ہے۔ (ص ۵)

صفحہ 898

شاعری طبیعت کی نفاست اور موزونیت کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔ میں شاعر ہوں غزل لکھنے والا نہیں بلکہ ہر چیز کو خوشنما بنانے کی صلاحیت رکھنے والا۔

(خواجہ حسن نظامی صاحب کا روزنامچہ مندرجہ اخبار منادی دہلی بابت ۲۸ مئی ۱۹۳۸ء)

مجھے معلوم ہوا ہے یہاں (سری نگر میں) ایک شخص کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے مقابلہ میں بہاء اللہ کو پیش کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے بہت ترقی کر رہے ہیں اور بڑی طاقت حاصل کر رہے ہیں اور بہت تھوڑے عرصہ میں احمدیت کے مقابلہ میں وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ کہا گیا ہے بہائی احمدیوں سے مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ قادیانیت بہائیت کے مقابلہ میں تباہ ہو جائے گی حالانکہ احمدیت کے مقابلہ میں بہائیت کی حقیقت نہایت آسانی کے ساتھ معلوم کی جا سکتی ہے۔

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان مورخہ ۳

ستمبر ۱۹۲۹ء نمبر ۱۹ جلد ۱۷ ص ۷)

(۸۴) محمودی اور بہائی

چنانچہ محمودی اور بہائیوں میں اگر فرق ہے تو یہ ہے کہ محمودی تو حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو نبی اور رسول مانتے ہیں اور بہائی بہاء اللہ کو مظہر اللہ سمجھتے ہیں، لیکن محمد رسول اللہ صلعم کی رسالت کو نسخ کرنے میں دونوں آپس میں متفق ہیں۔ گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عمارت کو مسمار کرنے ہی میں دونوں نے اپنی اپنی بنیادیں اٹھائی ہوئی ہیں۔ گو نئی تعمیر ان کی جدا جدا قسم کی ہو مگر تخریب میں دونوں متحد ہیں۔ البتہ بہائی زیادہ اخلاقی جرأت رکھتے ہیں کہ وہ زبان سے بھی رسالت محمدیہ کی منسوخی کا اعلان کرتے ہیں اور محمودی اس امر میں بزدلی دکھاتے ہیں کہ منہ سے اس کا انکار کرتے ہیں لیکن عملاً وہ رسالت محمدیہ کو منسوخ سمجھتے ہیں چنانچہ اسی لئے رسالت محمدیہ پر ایمان لانے والے کو وہ مسلمان نہیں سمجھتے، کیونکہ ان کے نزدیک رسول زمانہ اب حضرت محمد صلعم نہیں رہے بلکہ حضرت مرزا غلام احمد ہیں۔ اسی طرح بہائی صاف طور پر شریعت محمدیہ کو منسوخ ٹھہراتے ہیں۔ محمودی منہ سے ایسا نہیں کہتے لیکن ایمانیات کی فہرست میں

صفحہ 899

ایک مومن بہ نبی کا اضافہ کر کے الیوم اکملت لکم دینکم کے خلاف محمدی اسلام کے نقص پر ایمان رکھتے اور اقرار کرتے ہیں کیا ایمانیات دین اور شریعت کا ایک اہم جزو نہیں؟ پھر ایمانیات میں ایک نبی کا اضافہ دین اور شریعت میں کیا صریح اضافہ نہیں ہے؟ شریعت میں اسی صریح اضافہ کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳ نمبر ۸ مورخہ ۴ فروری ۱۹۳۴ء)

(۸۵) خاتم الانبیاء

ہمیں تو ان احمدیوں مبلغوں پر اسی وجہ سے رونا آتا ہے کہ اعتراض کرتے وقت کچھ تدبر نہیں کرتے اور خاتم النبین کا نام سن کر ہی انہیں جنون کی طرح ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ جس طرح بھی وہ خاتم النبین کے اصل مفہوم کی تردید کی جائے یا اس کا صحیح مفہوم بدلا جائے اور اس کے معنی افضل لے کر حضرت (مرزا صاحب) کو بھی خاتم الانبیاء کہا جائے‘ چنانچہ جامعہ احمدیہ کا رسالہ جو قادیان سے نکلتا ہے۔ اس کے دسمبر ۱۹۳۲ء کے پرچہ میں جو بتقریب جلسہ سالانہ ۳۲ء شائع ہوا ص ۵ پر خصوصیات حضرت مسیح موعود کے عنوان کے تحت تیسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ آپ خاتم الانبیاء و الخلفاء ہیں‘ یعنی حضرت مرزا صاحب خاتم الانبیا و الخلفا ہیں۔ گویا مطلب یہ ہے کہ اس میں بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت باقی نہ رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خاتم الانبیا کے معنی اگر افضل الانبیا کے ہیں تو کیا جامعہ احمدیہ کے لکھنے والوں کا منشا ہے کہ اب حضرت مرزا صاحب کو تمام انبیا سے افضل سمجھا جائے۔ جن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳ نمبر ۱۵ مورخہ ۴ مارچ ۱۹۳۵ء)

(۸۶) مسئلہ نبوت

قادیانی محمودی خاتم النبین کے معنی نبیوں کو ختم کرنے والے نہیں کرتے بلکہ اس سے اجرا نبوت نکال کر حضرت مسیح موعود کو زمانہ کا نبی قرار دیتے ہیں اور آپ کی بیعت نہ کرنے والے کو خواہ اس نے آپ کا نام بھی نہ سنا ہو کافر خارج از اسلام قرار دیتے ہیں

صفحہ 900

اور خاتم النبین اور ظلی نبوت کے الفاظ استعمال کر کے اسلامی دنیا کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ خاتم النبین کا مفہوم برخلاف تمام امت کے ان کے ہاں اپنی مہر سے نبوت کو جاری کرنے والے کے ہیں اور ظلی نبی سے مراد اصلی نبی ہے۔ ظلی کا لفظ فقط طریق حصول نبوت کے فرق کو ظاہر کرنے کے لئے یا لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے وہ استعمال کرتے ہیں۔ ورنہ ان کے ہاں ظلی نبی نبی ہوتا ہے۔ غرض کہ مسئلہ نبوت میں نبوت کا دروازہ چوپٹ کھول کر وہ آنحضرت صلعم کی ختم نبوت کا بیڑا غرق کر کے دم لیتے ہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳ نمبر ۲ مورخہ ۵ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۸۷) نبی ہو سکتا ہے

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں ایسا نبی آسکتا ہے جو نفس نبوت کے لحاظ سے ویسا ہی نبی ہو جیسے پہلے انبیا گزر چکے ہیں۔ ہاں ان نفس نبوت کے حصول میں پہلے انبیا اور امت محمدیہ میں آنے والے انبیا میں فرق ہو گا۔ پہلے نبی جس قدر آئے ہیں انہوں نے منصب نبوت براہ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے پایا ہے، مگر اب جو شخص بھی نبی ہو سکتا ہے اس کو یہ منصب اور مقام صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل امتی ہو اور اسے یہ منصب آنحضرت صلعم کے فیضان سے بالواسطہ حاصل ہو۔

(اخبار ”الفضل“ جلد ۱۵ نمبر ۸۸ مورخہ ۸ مئی ۱۹۲۸ء)

(۸۸) نبوت کی ڈگری

اول تو جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول کر کے پکارا ہے بعینہ اسی طرح پکارا ہے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم میں پکارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان الہامات میں جن میں مسیح موعود علیہ السلام کو بار بار نبی اور رسول کے نام سے پکارا کہیں کسی قسم کی توجیہ بیان نہیں فرمائی۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔ یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہوں (چشمہ معرفت

صفحہ 901

ص ۳۲۵) اور نبی کی یہ تعریف جس طرح دوسرے انبیاء پر صادق آتی ہے ویسے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی صادق آتی ہے۔ پس آپ کی نبوت اور دیگر انبیاء کی نبوت میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں خصوصیات نبوت میں ایک دوسرے سے الگ ہونا نبوت میں کوئی نقص پیدا نہیں کرتا۔ ایک جو باقاعدہ اسکول میں تعلیم حاصل کر کے ایم اے کی ڈگری حاصل کرتا ہے۔ اس کی ڈگری اس شخص سے کم نہیں ہو گی جو اپنے طور پر پرائیویٹ تیاری کر کے یہی ڈگری حاصل کرے کیونکہ ڈگری ایک ہی ہے خواہ ذرائع تعلیم علیحدہ علیحدہ ہو۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۴ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۳۶ء)

(۸۹) پاک اور ناپاک

مخالفین کی طرف سے ہمارے خلاف جو بڑے زور کے ساتھ پیش کی باتیں اور جن کے ذریعہ عوام کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے آکر مسلمانوں میں تفرقہ ڈال دیا۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوا اخبار وکیل نے حضرت مسیح موعود کے متعلق لکھا تھا کہ ”انہوں نے شیرازہ قومی کی پراگندگی میں خاص طور پر مدد دی“۔ اس کے متعلق (اخبار) وکیل کو بتا دیا گیا تھا کہ چونکہ کسی نبی کے آنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پاک اور ناپاک الگ الگ ہو جائیں اور ہر نبی کے وقت ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اس لئے یہ کوئی نیا اعتراض نہیں بلکہ نادانی اور جہالت سے پہلے انبیاء پر بھی کیا جاتا رہا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۸ نمبر ۶۰ مورخہ ۱۰ فروری ۱۹۲۱ء)

(۹۰) مسئلہ تکفیر

قادیانی محمودی تمام دنیا کے کلمہ گو مسلمانوں کو جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہیں کی کافر اور خارج از دائرہ اسلام سمجھتے ہیں اور اس طرح محمد صلعم کے کلمہ کو منسوخ ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اس کو پڑھ کر اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر اور اسلام سے خارج کر کے تیرہ سو برس کی آنحضرت صلعم اور آپ کے صحابہ اور تمام امت کی محنت کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔

صفحہ 902

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳ نمبر ۲ مورخہ ۵ جنوری ۱۹۳۵ء)

قادیانی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ان کے سامنے اپنے اس عقیدہ کو ظاہر کرنے کے خیال سے ہی ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے ان کو اپنے عقیدہ تکفیر کی تائید کے لئے کہیں سے کوئی معقول دلیل نہیں ملتی۔ جب ان پر ان کے مخصوص عقائد کے متعلق کوئی اعتراض کیا جاتا ہے تو وہ جواب نہیں دے سکتے ان کی عملی کیفیت یہ ہے کہ قرآن دانی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی اشاعت کے لئے ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے۔ لے دے کے ان کے خلیفہ نے ایک تفسیر لکھی جسے عیب کی طرح چھپا رکھا ہے۔ یہ باتیں یقیناً سبکی اور تذلیل کا باعث ہیں۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲ نمبر ۶۵ ص ۳ مورخہ ۱۹ اکتوبر

۱۹۳۴ء)

(۹۱) معمہ

میاں محمود احمد صاحب کے نزدیک کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت ص ۳۵ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ

قادیان)

لیکن جماعت احمدیہ لاہور ایسے لوگوں کو مسلمان قرار دیتی ہے گویا ہم نے قادیانیوں کے عقائد کے مطابق کافروں کو مومن قرار دیا ہے۔ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) فرماتے ہیں: ”کافر کو مومن قرار دینے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔“ حقیقتہ الوحی ص ۱۶۵ تو اس لحاظ سے جماعت احمدیہ لاہور بھی نعوذ باللہ کافر ہو گئی۔

اب جو شخص جماعت احمدیہ لاہور کو مسلمان قرار دے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا جماعت قادیان اور میاں محمود احمد صاحب ہم سب کو مسلمان بلکہ احمدی تسلیم کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب خود بھی کافر ہو گئے۔ تو سوال یہ ہے کہ وہ کیا دنیا میں کوئی مسلمان بھی ہے؟“ اب میں تمام قادیانی جماعت اور جناب خلیفہ قادیان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس معمہ کو حل کریں اور اپنے عقائد کی رو سے ذرا اپنی جماعت کو ہی مسلمان کر

صفحہ 903

دکھائیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر تمام کے تمام فضلائے قادیان ایڑی سے لے کر چوٹی تک کا زور بھی صرف کریں تو اس معمہ کو ہرگز حل نہیں کرسکتے۔ فان لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودها الناس والحجارہ لیکن اگر قادیانی حضرات اس چیلنج کا جواب بھی نہ دے سکیں اور پھر اپنے عقائد غالیہ کو بھی نہ چھوڑیں تو ان پر حیف ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہدایت دے! ایسے غلط اصول پر اپنے عقائد کی بنیاد رکھی ہے کہ آج اپنے آپ کو بھی اس اصول کی بنا پر مسلمان ثابت نہیں کرسکتے۔

سچ ہے۔

خشت اول چو نہد معمار کج تاثریا می رود دیوار کج

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲ نمبر ۶۶ ص ۵ مورخہ ۲۴ اکتوبر

۱۹۳۴ء)

(۹۲) لاہوری فتویٰ

غیر مبایعین (یعنی لاہوری جماعت) کے سرکردہ اصحاب نے خلافت ثانیہ کے انکار اور اس کے اختلاف کی جو وجوہات پیش کیں اور جن پر بڑا زور دیا، وہ نبوت مسیح موعود اور مسئلہ کفر و اسلام ہے۔ ان ہی مسائل کو بنیاد قرار دے کر انہوں نے مخالفت کی عمارت کھڑی کی اور اسے اس قدر بلند کیا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ کوئی سخت سے سخت لفظ نہیں جو انہوں نے ہم قائلین نبوت مسیح موعود کے متعلق استعمال نہیں کیا اور کوئی خطرناک سے خطرناک فتویٰ نہیں جو ہم پر انہوں نے نہیں لگایا۔ اسلام کو تباہ و برباد کرنے والے ہمیں کہا گیا۔ اسلام میں تفرقہ اور انشقاق پیدا کرنے والے ہمیں قرار دیا گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے کا الزام ہمارے سر تھوپا گیا۔ حضرت مسیح موعود کے متعلق غلو کرنے کا فتویٰ لگا کر ضالین ہم کو بنایا گیا اور سب سے بڑا فتنہ ہمارے اعتقادات کو کہا گیا۔ غرض جو کچھ بھی وہ کہہ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا اور اب تک کہہ رہے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۹ نمبر ۸۴ مورخہ ۲۷ اپریل ۱۹۲۲ء)

(۹۳) قادیانی غلو

صفحہ 904

گزشتہ بیس پچیس سال میں قادیانی غلو کے بہت سے شاہکار منظر عام پر آچکے ہیں ۔ جناب خلیفہ قادیان اور ان کے مریدوں نے اپنی جدت پسندیوں اور عالی حوصلگیوں کے وہ وہ نمونے پیش کئے ہیں کہ دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اجرائے نبوت کا عقیدہ گھڑا۔ حضرت مسیح موعود کو حضرت نبی کریمؐ سے افضل کہا۔ قادیان کے سالانہ جلسہ کو ظلی حج کا نام دیا۔ چالیس کروڑ مسلمانوں کو یک دم دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ لیکن قادیانیوں کی ترقی پسند طبیعت ان کارناموں پر قناعت نہ کرسکی چنانچہ اب وہ قادیان کو ”ارض حرم“ کہہ رہے ہیں۔

معاصر الفضل نے اپنی ۲۷؍ دسمبر کی اشاعت کے صفحہ اول پر جلی قلم سے چند سطریں شائع کی ہیں۔ جن میں قادیان کے جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان سطور کا عنوان ہے ”ارض حرم“ میں تشریف لانے والوں کو مبارک‘ مبارک‘ مبارک کچھ عرصہ ہوا کہ جناب خلیفہ قادیان نے اپنے ایک خطبہ میں قادیان کے شعائر اللہ کی فہرست گنوائی تھی۔ اب الفضل نے واضح الفاظ میں اس کو ارض حرم کہہ دیا ہے۔ دیکھئے اب اسے قبلہ کب قرار دیا جاتا ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

کیا یہ ناقابل برداشت جسارتیں قصر اسلام کی تخریب اور ایک نئے مذہب کے اجرا کی کوشش نہیں ہے؟

جناب خلیفہ قادیان فتنہ اجرائے نبوت کے بانی مبانی ہیں اور ان کا ارشاد ہے کہ ہر ایک شخص کوشش سے نبی بن سکتا ہے۔ بہتر ہوتا وہ ذرا کوشش کر کے نبی بن جاتے اور پھر اپنے اس نئے مذہب کی بنیاد رکھتے ایک امتی اور اس کے مریدوں کے لیے یہ جسارت کسی طرح مناسب نہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳ نمبر ۱ مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۹۴) ملت محمودیہ میں غلو رچ گیا ہے

(عنوان مندرجہ اخبار پیغام صلح)

حقیقت یہ ہے کہ یہ غلو اب جماعت محمودیہ میں اس قدر رچ گیا ہے کہ کسی مسئلہ میں ان کے خلیفہ صاحب اگر ایک قدم اٹھاتے ہیں تو ان کی جماعت ایک اشارہ

صفحہ 905

آگے بڑھنے کا سمجھ کر دس قدم اٹھاتی ہے۔ پچھلے دنوں خلیفہ صاحب نے ظلی حج کا اعلان کیا اور بتایا کہ مکہ کا حج چونکہ اپنے مقصد حقیقی کو کھو چکا ہے اور ایک رسمی عبادت کی شکل میں رہ گیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قادیان میں ایک اور ظلی حج مقرر کیا ہے۔ اس پر میں نے لکھا تھا کہ جس طرح ظلی نبی نبی ہوتا ہے۔ اسی طرح ظلی حج حج ہوا لیکن بغیر قبلہ کے حج نامکمل رہ جاتا ہے۔ لہٰذا ظلی قبلہ کا بھی اعلان ہو جانا چاہیے تاکہ یہ ظلی حج اپنی تکمیل کو پہنچ جائے اور اس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں کہ مرید اس دن نو روز منائیں گے کیونکہ غلو میں وہ اپنے پیر سے بھی اب گوئے سبقت لے جانے کے آرزو مند ہیں۔

بہ نیم بیضہ چوں سلطان ستم روا دارد زنند لشکریانش ہزار مرغ بہ سیخ

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۱ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۹ اپریل ۱۹۳۳ء)

(۹۵) غلو کے نتائج

دیکھ لیا آپ نے غلو کے نتائج۔ غلو کی یہ تیز رفتار گاڑی اب تک خدا جانے کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہوتی اگر لاہوری احمدی تنقید کر کے ہمیشہ اس کی بریک نہ باندھتے رہتے۔ لیکن تب بھی غلو کے جن اسٹیشنوں پر اس کا ورود ہو چکا ہے ان کی فہرست ملاحظہ ہو۔

البشریٰ ہے اور جو بقول مولوی فاضل محمد نذیر لائل پوری ”ظلی قرآن“ یعنی قرآن ہے۔

اماموں کی طرح ایک عجیب و غریب مطاع الکل خلیفہ کا اضافہ۔

سے اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا، لہٰذا ایک نئے مذہب کی پیدائش جس میں داخل ہوئے بغیر انسان اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا اور وہ ہے رسول زمانہ احمد نبی اللہ، یعنی

صفحہ 906

حضرت مرزا صاحب کی نبوت و رسالت اور وحی نبوت پر ایمان لانا، گویا عملی طور پر کلمہ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ منسوخ۔ جس کے پڑھنے سے اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ منسوخ۔ جس کے پڑھنے سے اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا

(۹۵۔ الف) نیا مذہب اور کسے کہتے ہیں (ج)

فرمائیے نئے مذہب کے سر پر اور کیا سینگ ہوا کرتے ہیں۔ ایمانیات میں نئے نبی اور نئی کتاب کا اضافہ۔ ارکان شریعت میں ایک حج کا اضافہ۔ ایک نئے قبلہ کا اضافہ۔ خلافت مطاع الکل کا اضافہ، پرانی رسالت محمدیہ اور پرانے اسلام یعنی کلمہ سابق کی منسوخی اور نئی رسالت احمدیہ اور نئے اسلام (یعنی عملی طور پر نئے کلمہ کی پیدائش) کا اضافہ۔ اور ابھی ”ظلی“ کا لفظ سلامت رہے خدا جانے کس کس چیز کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ نیا مذہب صاف بنتا نظر آ رہا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے جس طرح عیسویت کے غلو نے اپنے آپ کو یہودیت یعنی موسویت سے الگ کر کے ایک نیا مذہب بنا لیا، اسی طرح یہ محمودیت جو درحقیقت عیسوی غلو کا ایک رنگ میں مظہر ہے اپنے آپ کو پرانے امام سے علیحدہ ایک نیا مذہب بنا کر ہمیشہ کے لئے الگ نہ ہو جائے۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۱ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۹؍ اپریل ۱۹۳۳ء)

(۹۶) قادیانی مضحکے

الفضل کا ایک مضمون نگار اپنے ایک مخالف تحریر کا ذکر کرتے ہوئے ۲۳؍ دسمبر ۱۹۳۴ء کے پرچہ میں رقم طراز ہے کہ:

”یہ ثابت کرنے کی مضحکہ خیز کوشش کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔“

سچ ہے کہ غلو بہت ہی نامراد اور خطرناک مرض ہے۔ اس سے ذہنیتوں میں کچھ ایسا افسوس ناک اور نقصان رساں انقلاب ہو جاتا ہے۔ جن میں معقولیت کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی۔ اس مرض کا شکار سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید سمجھنے لگتا ہے۔ اچھے برے کی تمیز سے وہ یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ قادیانیوں کی بھی بالکل یہی کیفیت ہے کہ پہلے انہوں نے قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود کی تعلیمات کے بالکل خلاف محض چند اغراض

صفحہ 907

کی بنا پر اجزائے نبوت کا مضحکہ انگیز عقیدہ ایجاد کیا اور اس پر اس قدر غیر عقلمندانہ اصرار کیا کہ حد ہو گئی۔ اب رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ ختم نبوت کے صحیح اور طے شدہ مسئلہ کو مضحکہ انگیز قرار دے رہے ہیں اور نہیں محسوس کرتے کہ غلو کے نامراد مرض کی وجہ سے خود ان کی ذہنیت مضحکہ خیز ہو گئی ہے اور آئے دن ان سے طرح طرح کی مضحکہ انگیزیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳ نمبر ۲ مورخہ ۵؍ جنوری ۱۹۳۵ء)

(۹۷) غالی قادیانی

بے شک حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کی نبوت قرآن کی ایک ایک آیت سے نکالو خواہ وہ کیسے ہی بھونڈے اور لچر طریق سے نکالی جائے اور خواہ وہ خود حضرت مرزا صاحب کی تفاسیر سے کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔ یہ قوم خوشی سے بغلیں بجاتی رہے گی نعرہ تحسین و آفریں بلند کرتی رہے گی۔ ان تمام پیش گوئیوں کو جن کے مصداق حضرت محمد صلعم ہیں۔ آپ بے شک حضرت مرزا صاحب پر چسپاں کرتے جائیں یہ غالی قوم خوشی سے تالیاں بجاتی اور ناچتی رہے گی، لیکن اگر آپ کسی پیش گوئی کے متعلق یہ کہہ دیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے اور حضرت مرزا صاحب اس کے مصداق حقیقی نہیں بلکہ بوجہ امتی اور خلیفہ ہونے کے صرف ظلی یا بروزی رنگ میں اس کے ماتحت آتے ہیں تو ان کے سینے میں یوں لگے گا جیسے تیر لگتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلعم کی چیزیں چھین چھین کر حضرت مرزا صاحب کو دیتے جاؤ یہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں گے کیونکہ اس میں درپردہ ان کے نفس کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا نبی مسیح موعود محمد رسول اللہ صلعم سے بڑھ کر یا کم سے کم مدمقابل تو ضرور ہے لیکن اگر کوئی چیز جو انہوں نے محمد رسول اللہ صلعم سے چھین کر حضرت مرزا صاحب کو دی ہوتی ہے تو آپ واپس محمد رسول اللہ صلعم کو دیں تو یہ بلبلا بلبلا کر اور چلا چلا کر ایک حشر برپا کر دیں گے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلعم اور حضرت مرزا صاحب میں ایک قسم کا باہمی شرکت اور رقابت کا رنگ پیدا کر دیا ہے۔ مثلاً جب تک مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کا مصداق حضرت مرزا صاحب کو کہتے رہو

صفحہ 908

بہت خوش رہیں گے، لیکن جہاں اس کا مصداق حقیقی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور تمام محمودی ٹولے سے صدائے واویلا بلند ہوئی کہ ہائے ہائے حضرت مسیح موعود کی توہین کی گئی اور آپ سے اختلاف کیا گیا، حالانکہ اختلاف خود ان کے غالیانہ عقائد سے ہوتا ہے نہ کہ حضرت مسیح موعود سے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲ نمبر ۲۷ ص ۷‘ مورخہ ۳؍ مئی ۱۹۳۴ء)

قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمد رسول اللہ سے فرمایا ہے کہ اسمہ احمد کے مصداق آپ ہیں۔ احادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں کہ سیدنا حضرت محمد صلعم نے خود دعویٰ کیا ہے کہ یہ آیت اسمہ احمد میرے حق میں ہے یا صحابہ کبار میں سے کسی مشہور و معروف صحابی نے فرمایا ہو کہ میں نے آیت اسمہ احمد کو پڑھتے وقت یہی یقین کیا تھا کہ یہ آیت حضرت محمد کے حق میں ہے۔ (پس قادیانی صاحبان کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یہ آیت اسمہ احمد جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے حق میں نازل ہوئی نہ کہ رسول کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نعوذ باللہ من ذلک للمؤلف)

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲ نمبر ۷۷ مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۳۴ء)

قرآن کریم کے جس قدر نسخے تیرہ سو سال کے اندر طبع ہوئے یا تحریر ہوئے، سب میں خاتم النبین کی تا بالفتح ہے اور خاتم (تابالفتح) اسم آلہ ہے اور اس کے معنی صرف مہر ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی مہر ہیں جس سے مدعیوں کی صداقت کی تصدیق ہے، مگر آپ لوگ جو خاتم النبین کی تا کو بالکسر قرار دے کر اس کو اسم فاعل کے معنوں پر اور اس کے معنی نبیوں کا خاتمہ کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا قرآن کہاں اور کس ملک میں ملتا ہے۔ جس میں خاتم النبین بالکسر طبع شدہ موجود ہو۔ (یہ الگ بات ہے کہ خاتم ہو تو بھی اس کے معنی یہ نہیں کہ آپ کے بعد کوئی نہیں ہوگا۔ اللہ رے ضد اور مخالفت للمؤلف)

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲ نمبر ۷۷ مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۳۴ء)

اگر کوئی لاہور والے جا کر قادیان کی جماعت کو حضرت مرزا صاحب کے کتب سے حوالے پیش کر کے معقول طور پر سمجھائیں تو یہ جواب ملنے لگا کہ اب جائیے لوگوں کو

صفحہ 909

دھوکا نہ دیجئے اگر اب مرزا صاحب بھی اپنی قبر سے اٹھ کر آئیں اور کہیں کہ میں نبی نہیں ہوں۔ اس وقت بھی ہم یہی کہیں گے کہ ہم آپ کو نبی مان چکے ہیں۔ ہم کو اطمینان ہو گیا ہے۔ اب ہم بدلنے والے نہیں یہ من گھڑت قصے نہیں ہیں، بلکہ یہ واقعہ ہے۔ حیدر آباد والے حافظ عبدالعلی صاحب (وکیل) نے خود مجھ کو یہ جواب دیا تھا ممکن ہے بہت سے ایسے ہوں (اور بھی سر بر آوردہ قادیانی صاحبان کے متعلق ایسی روایتیں منقول ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ للمؤلف)

(”خادم خاتم النبین“ ص ۵‘ مصنفہ صدیق دیندار چن بسویشور صاحب قادیانی)

(۹۸) حیدر آبادی قادیانی

سکندر آباد دکن سے محمودیوں نے بہت سے ٹریکٹ چھپوا کر شائع کیے ہیں جن میں بزعم خود یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ حیدر آباد دکن کے کسی محمودی تاجر نے سینکڑوں روپے اس ٹریکٹ کی مفت اشاعت کے لیے دیئے ہیں۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

حضرت مسیح موعود کو بدنام کرنے اور احمدیت کو لوگوں کی نظروں میں نامعقول اور مردود کرنے کے لیے اسی کوشش کی کسر باقی تھی سو پوری کر لی گئی۔ نہ صرف بمبئی میں بلکہ ہندوستان سے باہر وہ ٹریکٹ پہنچے ہیں جنہوں نے احمدیت سے نفرت کو خوب ترقی دی ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳‘ نمبر ۸‘ مورخہ ۳؍ فروری ۱۹۳۵ء از

ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی لاہوری)

(۹۹) قادیانی عقائد پر لاہوری تبصرہ

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ”تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان“۔ کہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اگر جماعت قادیان محمد رسول اللہ صلعم کے بعد ایسی نبوت کی قائل ہے جس سے محمد رسول اللہ صلعم کی نبوت عملاً منسوخ ہو جاتی ہے اور اسی لیے کوئی محمد رسول اللہ صلعم کا کلمہ پڑھ کر خدا کی توحید اور آپ صلعم کی رسالت کا اقرار کرتے ہوئے بھی اسلام میں داخل نہیں سمجھا جاتا۔ تو پھر دانستہ ایسے

صفحہ 910

خطرناک عقیدہ کی جس سے محمد رسول اللہ صلعم کی رسالت کی جڑیں کٹتی ہیں۔ اشاعت کرنے والی جماعت کے ساتھ تعاون کرنا کس قدر خطرناک غلطی اور گناہ کا ارتکاب ہے۔ یاد رہے کہ یہاں میرے مخاطب وہ لوگ نہیں ہیں جو دل سے ان عقائد باطلہ کو سچا سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود کی نبوت اور جملہ مسلمانان عالم کی تکفیر کے قائل ہیں اور گو منہ سے تو محمد رسول اللہ صلعم کا کلمہ پڑھتے ہیں مگر عملی طور پر انہوں نے بابیوں اور بہائیوں کی طرح آنحضرت صلعم کی رسالت کو منسوخ گردانا ہوا ہے کیونکہ ان کے نزدیک خدا کی توحید کے ساتھ آپ صلعم کی رسالت کا اقرار کر کے اب کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔

(لاہوری جماعت کے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“

لاہور‘ جلد ۲۳‘ نمبر ۸‘ مورخہ ۳ فروری ۱۹۳۴ء)

(۱۰۰) عقیدہ باطل

کہاں حضرت اقدس مسیح موعود کی وہ تعلیم جو آپ کی کتابوں میں پائی جاتی ہے اور کہاں یہ عقیدۂ باطل کہ

پس جو نبی رسول نہیں مانتا اسے ایسا نبی کہ جیسے محمد خدائگاں
ایمان اس کا حضرت مرزا پہ کچھ نہیں منہ سے اگر کہے تو ہے دل منکر بیاں

(”تشحیذ الاذہان“ بابت دسمبر ۱۹۱۴ء)

اب میں اپنے دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ ذرا ہمیں بتلائیں تو سہی کہ اگر احمدی اس تعلیم پر چلے جو اس وقت قادیان میں دی جاتی ہے اور حضرت مرزا صاحب کو ایسا نبی کہ جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہا اور تسلیم کیا جانے لگا۔ تو پھر ان احمدیوں میں اسلام کا ذکر اور قرآن کا ادب محض خیالی اور رسمی رہ جائے گا یا حقیقی اور شرعی؟۔۔۔۔۔۔ اور پھر بتلاؤ کہ آخر ان احمدیوں کا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کرنا بھی اٹھ جائے گا یا نہ۔ دور کیوں جاتے ہو ابھی سے ہی اس عقیدہ کے آثار برے نظر آ رہے ہیں۔ ذیل میں منشی ظہیر الدین کی ایک چشم دید شہادت جو انہوں نے سالانہ جلسہ قادیاں کے حالات کی لکھ کر دفتر ”پیغام صلح“ میں بھیجی ہے وہ حصہ جو عقائد کے متعلق ہے ناظرین کی آگاہی کے لیے یہاں لکھ دیتا ہوں۔ وہو ہذا:۔

صفحہ 911

”چوتھی بات جو میں نے جلسہ میں دیکھی تھی وہ اختلاف عقائد تھا اور میں حیران رہ گیا جب بعض احباب نے لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ کو درست اور صحیح قرار دیتے ہوئے اس کو پڑھنے اور بطور احمدی عقائد کے خلاصہ کے تسلیم کرنے کا اقرار کیا بلکہ بعض سے میں نے یہ بھی سنا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ- محمدی کلمہ ہے اور احمدی کلمہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ ہے۔“

بہت سے احباب میں نے دیکھے جو حضرت مرزا صاحب مسیح موعود کے حق میں صاحب شریعت نبی کہنے سے بھی نہ جھجکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ بعضوں نے تو حضرت مسیح موعود کے الہام واتخذوا من مقام ابراھیم مصلے سے اسی استدلال کو قبول کر لیا کہ اب احمدیوں کا قبلہ نماز قادیان ہونا چاہیے۔ اس جلسہ میں مجھے ایک بھی ایسا فرد قادیان میں نہیں ملا جو حضرت مسیح موعود کو اسی طرح کا رسول اللہ اور نبی اللہ نہ جانتا ہو جس طرح کہ خدا کے فرستادے حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفےٰ خاتم الانبیاء تھے“۔

(”المہدی“ نمبر ۲-۳‘ ص ۴۸-۴۷‘ مولفہ حکیم محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

(۱۰۱) قادیانی نشان

غور فرمائیے ہر احمدی ایک نشان ہے۔ ہر اینٹ قادیان کے مکانات کی ایک نشان ہے۔ ہر دانہ غلہ کا جو حضور کے لنگر میں پکتا ہے ایک نشان ہے۔ ہر شخص جو سلسلہ میں نیا داخل ہوتا ہے اور ہر نیا بچہ جو پیدا ہوتا ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر مخالف جو ذلیل ہوتا ہے یا خاموش ہوتا ہے یا مرید ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر کتاب اور اس کا ہر ایک لفظ جو سلسلہ کی حمایت میں لکھا جاتا ہے اور چھپتا ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر تحفہ یا چیز جو قادیان میں باہر سے آتی ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر شخص دوست یا دشمن جو اس مبارک بستی میں داخل ہوتا ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر خط یا تار جو یہاں بذریعہ ڈاک خانہ یا اور طرح سے آتا ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر ایک پیسہ جو چندہ میں یا وصیت میں یا صدقہ میں یا اشاعت اسلام میں یا کسی شخص کی تنخواہ کے طور پر یا کسی طرح بھی یہاں خرچ ہونے کے لیے آتا ہے‘ وہ نشان ہے۔ ہر نعش جو مقبرہ بہشتی میں لائی جاتی ہے‘ وہ

صفحہ 912

ایک نشان ہے۔ ہر درخت جو یہاں کسی مکان یا باغ میں لگایا جاتا ہے‘ ایک نشان ہے۔ ہر لفظ سچے وحی و الہام کا جو یہاں یا دنیا میں کہیں بھی نازل ہوتا ہے‘ یہاں کا ایک نشان ہے۔ ہر لفظ جو علم و معرفت یا حقائق و معارف یا دعوۃ تبلیغ یا تعلیم و تربیت کا جو لوگوں کو اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے‘ وہ ایک نشان ہے۔ ہر عذاب‘ ہر وبا‘ ہر زلزلہ‘ ہر جنگ‘ ہر انکشاف سائنس کا اور ہر صداقت جو دنیا میں ظاہر ہو اور عالمگیر ہو‘ وہ نشان ہے۔ اس سلسلہ کا ہر سچا خواب جو دنیا میں کسی کی ہدایت اور رہنمائی کا موجب ہو‘ وہ ایک نشان ہے۔ ہر ایجاد جو دین اسلام اور اس کی اشاعت کو کسی طرح بھی فائدہ پہنچا سکتی ہو‘ مثلاً ریل‘ تار‘ چھاپہ خانہ‘ موٹر‘ وائرلیس‘ ہوائی جہاز‘ فوٹو گراف‘ توپیں‘ اسلحہ‘ مشینیں وغیرہ وغیرہ اور ان کے سب متعلقات بمعہ ان کے موجدوں اور کام کرنے والوں اور بیچنے والوں اور استعمال کرنے والوں کے‘ سب نشان ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کی صداقت کا اور ان کی خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اسی طرح موسموں کے تغیر‘ ملکوں کے تنازعات‘ عقائد کی تبدیلیاں‘ تہذیب و تمدن کے تغیرات‘ آسمانی اور زمینی انقلابات اور جملہ حوادثات عالم سب کے سب نشان ہیں اس وقت سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر ذرا ٹوٹل تو لگائیے یہ سب کتنے ہوں گے؟ وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوها ان الانسان لظلوم کفار۔

ان کے علاوہ وہ تمام ان گنت اور بے شمار نشانات جو ازل سے اس سلسلہ کی صداقت کے لیے چلے تھے اور ابد تک چلے جائیں گے اور مخفی تھے اور مخفی ہیں اور مخفی رہیں گے اور اللہ ہی ان کو جانتا ہے مگر ان کی وجہ سے اندر ہی اندر اس سلسلہ کی ترقی ہوتی جا رہی ہے۔ (کوئی اور نشان ہو یا نہ ہو لیکن جو دماغی حالت اس مضمون سے ظاہر ہوتی ہے وہ قادیانیت کا مسلمہ نشان ہے اور اسی نشان سے قادیانی باآسانی پہچان میں آتے ہیں۔ للمولف)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۱۵۰‘ ص ۶‘ مورخہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۱۰۲) قادیانی جھنڈا سنہ ۱۹۳۹ء کی ایجاد

یہ جھنڈا سیاہ رنگ کے کپڑے کا ہے‘ جس کے درمیان منارۃ المسیح‘ ایک طرف

صفحہ 913

بدر اور دوسری طرف ہلال کی شکل‘ سفید رنگ میں بنائی گئی ہے۔ کپڑے کا طول ۱۸ فٹ اور عرض ۹ فٹ ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۸‘ نمبر ۱‘ مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء)

اس کے لیے بھی سٹیج کے شمال مغربی کونہ کے ساتھ لکڑی کا پول چبوترہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ یہ جھنڈا بھی سیاہ رنگ کے کپڑے کا ہے جس پر چھ سفید دھاریاں ہیں۔ درمیان میں منارۃ المسیح ایک طرف بدر اور دوسری طرف ہلال کا نشان ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۸‘ نمبر ۱‘ مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء)

”میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے‘ اسلام اور احمدیت کے قیام‘ اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کے لیے آخری دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لیے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو‘ بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اونچا اڑتا رہے۔ اَللّٰھُمَّ امین۔ اَللّٰھُمَّ امین۔ اَللّٰھُمَّ امین۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔“

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۸‘ نمبر ۱‘ مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء)

اور اس طرح مختلف ممالک اور مختلف تمدن کے لوگوں کا حضرت احمد قادیانی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے جھنڈے تلے جمع ہو کر حضور کے خلیفہ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) کے حضور نذر عقیدت پیش کرنا نہایت ہی روح پرور نظارہ تھا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۸‘ نمبر ۱‘ مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء)

صفحہ 914

فصل سترہویں

قادیانیوں کی جماعت لاہور

(۱) ایک پارٹی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) کے وصال کے بعد جلد ہی جناب مولوی محمد علی صاحب کو پہلے اپنی بیوی کی علالت اور وفات کے وقت اور پھر حضرت کے مکان سے علیحدہ کیے جانے کے سبب اور ساتھ ہی حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ! (مرزا صاحب کے خسر) کے بعض اعتراضات کے سبب جو مولوی (محمد علی) صاحب کے عمارتی کام پر ہوئے تھے دن بدن رنج بڑھتا گیا اور جب خواجہ (کمال الدین) صاحب نے اپنے لیکچروں میں احمدیت کے ذکر کو چھوڑا اور غیر احمدیوں کی تعریفوں سے خوش ہو کر ان کے پیچھے نماز کے جواز کی اجازت حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے چاہی اور غیر احمدیوں کے اسلام کا اعلان اور اشتہار دیا تو حضرت اولوالعزم میاں محمود احمد صاحب ایدہ اللہ نے خواجہ صاحب کے اس طرز کو ناپسند کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نور الدین صاحب) رضی اللہ عنہ کی اجازت سے ان کے خلاف بدر میں مضمون لکھا تو مولوی محمد علی صاحب نے اپنی رنجش کے سبب جو انہیں اہل بیت کے ساتھ تھی۔ خواجہ صاحب کی رفاقت کا سہارا تلاش کرتے ہوئے ان کی حمایت کی۔ ڈاکٹرین اور شیخ صاحب اپنی سادگی کے سبب خواجہ (کمال الدین) صاحب کی مدح سرائی و خوشامد میں بہک گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ایک پارٹی بن گئی اور انہوں نے حضرت صاحبزادہ (میاں محمود احمد صاحب) ایدہ اللہ کی مخالفت کو اپنا نصب العین بنالیا اور صدر انجمن میں جس کے حضرت صاحبزادہ صاحب پریذیڈنٹ تھے ان کی بے ادبی شروع کردی۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۳ نمبر ۳۸-۳۹‘ مورخہ ۷؍ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(۲) بڑا ابتلاء

صفحہ 915

ایسا خطرناک واقعہ جس سے قریب تھا کہ زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں آج سے کئی سال پہلے ظاہر ہوچکا ہے اور وہ غیر مبایعین (لاہوری جماعت) کی علیحدگی ہے۔

اس پارٹی کے سرگروہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کے ہاتھ پر بیعت کی اور جماعت کے بڑے بڑے آدمیوں میں سے شمار کیے جانے لگے۔ مگر نہ معلوم بیعت میں کوئی نقص رہ جانے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ان پر کئی دفعہ ابتلاء آئے اور وہ کئی موقعوں پر حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) پر بیہودہ اعتراض کرنے سے باز نہ رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں سے ایمان کی روح نکل گئی اور باوجود اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کو نبی آخرزماں مانتے تھے۔ پھر بھی جب انہوں نے دیکھا کہ مخالف تعداد میں ہم سے بڑھ کر ہیں۔ طاقت میں ہم سے زیادہ ہیں دنیا کے مال ان کے پاس بہت ہیں تو مرعوب ہوگئے اور چاہا کہ کسی طرح ان سے صلح کرلی جائے تاکہ ان کے حملوں سے بھی محفوظ رہیں اور دنیاوی مال و دولت بھی کچھ حاصل کرلیں اس طرح یہ (لاہوری جماعت) ایک بڑے ابتلاء میں پھنس گئے)

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶، نمبر ۲۱، ص ۹، مورخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۲۸ء)

(۳) لاہوری جماعت کی علیحدگی

چنانچہ اس بنا پر (کہ مرزا صاحب مدعی نبوت تھے یا نہیں) مارچ ۱۹۱۴ء میں جماعت احمدیہ کے دو گروہ ہوگئے۔ فریق اول یعنی اس فریق کا جو مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے۔ اور آنحضرت صلعم کے بعد دروازہ نبوت کو کھلا مانتا ہے۔ ہیڈ کوارٹر قادیان رہا اور دوسرے فریق نے اپنا ہیڈ کوارٹر لاہور میں قائم کیا۔ فریق قادیان کی قیادت اس وقت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ میں ہے اور فریق لاہور کی مصنف کتاب ہذا کے ہاتھ میں اور اب یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے طور پر الگ الگ کام کر رہی ہیں اور گو بلحاظ تعداد کثرت فریق قادیان کو حاصل ہے۔ لیکن اثر اور رسوخ کے لحاظ سے عام مسلمانوں میں فریق لاہور غالب ہے۔

(”تحریک احمدیت“ ص ۳۰، مصنفہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور)

صفحہ 916

مولوی محمد علی صاحب نے جو ایک رسالہ ”مسیح موعود اور ختم نبوت ص ۱۔۲‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اس کے شروع میں دونوں فریقوں کا اصول فرق حسب ذیل قرار دیا ہے۔

”حضرت مسیح موعود کی جماعت کے دو فریق ہیں۔ ایک احمدی جن کے کام کا مرکز لاہور ہے اور دوسرے قادیانی جن کا مرکز قادیان ہے۔ فریق قادیان اور فریق لاہور کا اصل اختلاف صرف دو امور میں ہے۔“

”اول یہ کہ حضرت مسیح موعود مجدد تھے یا نبی۔ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ آپ نبی تھے۔ فریق لاہور آپ کو صرف مجدد مانتا ہے۔“

”دوم یہ کہ جو مسلمان آپ کی بیعت میں داخل نہیں وہ دائرہ اسلام کے اندر ہیں یا نہیں۔ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ روئے زمین کے تمام مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ خواہ انہوں نے حضرت مرزا صاحب کا کبھی نام بھی نہ سنا ہو اور خواہ وہ حضرت مرزا صاحب کو دل سے بھی سچا مانتے ہوں اور منہ سے بھی انکار نہ کرتے ہوں۔ (البتہ مرزا صاحب کی بیعت میں داخل نہ ہوں۔۔۔ للمولف) اور فریق لاہور کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان ہے ہاں مجدد اور مسیح امت کو رد کرنا یا اس کی مخالفت کرنا قابل مواخذہ ضرور ہے بلکہ اس کا ساتھ نہ دینا اور خاموشی سے الگ بیٹھا رہنا بھی اسلام کی موجودہ حالت میں عنداللہ قابل مواخذہ ہے“ (دونوں قادیانی جماعتوں میں ایک کا رنگ گہرا عنابی اور دوسری کا رنگ ہلکا گلابی ہے لیکن مبصرین کا قول ہے ۔

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را مے شناسم

(للمولف)

(۴) لاہوری جماعت کا قدیم ایمان (م)

اخبار پیغام صلح ۱۹۱۴ء میں پیغام صلح سوسائٹی نے جاری کیا۔ اس سوسائٹی کے ممبروں پر اعتراض ہوا کہ وہ منافق ہیں اور دل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں

صفحہ 917

مانتے اس پر اس سوسائٹی کے اکابر ممبروں نے ”واللہ علی ما نقول وکیل“ کے عنوان سے حلفیہ اعلان کیا کہ :

ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادمین اولین میں سے ہیں ہمارے ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانے کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکے۔

(”پیغام صلح“ جلد ۱‘ نمبر ۲۰‘ ۷ ستمبر ۱۹۱۳ء)

اس حلفیہ بیان کے آخر پر اعلان کیا گیا ہے کہ اخبار ”پیغام صلح“ کے متعلق ہم یہ ظاہر کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ ایڈیٹر یا کسی خاص شخص کا ذاتی اخبار نہیں ہے۔ یہ کل احمدیہ جماعت کا اخبار ہے۔ اگر ہماری رائے سے کسی دینی مسئلہ میں جماعت کے کسی فرد کو اختلاف ہو تو اس کے لئے ہمارے کالم کھلے ہیں۔ (۷ ستمبر ۱۹۱۳ء)

مندرجہ بالا اعلان کے چالیس دن بعد پیغام صلح سوسائٹی نے دوسرا حلفیہ اعلان ”ایک غلط فہمی کا ازالہ“ کے عنوان سے حسب ذیل شائع کیا :

”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار ”پیغام صلح“ کے ساتھ تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔

صفحہ 918

("پیغام صلح" جلد (۱) نمبر ۴۳، ۱۶ اکتوبر ۱۹۱۳ء)

ان دونوں بیانوں سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ ۱۹۱۴ء تک یقینی طور پر جملہ پیغامی پارٹی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول مانتی رہی ہے۔ ۱۹۱۴ء میں جب خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا تو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی اس عقیدے سے منکر ہو گئے۔

اگر یہ حلفیہ بیانات اس قدر زور دار بیانات محض ایڈیٹر کے خیالات ہوتے اور ممبران پیغام صلح سوسائٹی کی رضامندی سے شائع نہ ہوئے ہوتے تو وہ فی الفور اس کی تردید کر دیتے۔ مگر ۱۹۱۴ء میں بلکہ حضرت خلیفہ اول کی زندگی کے آخر تک "پیغام صلح" سوسائٹی نے یا اس کے کسی ممبر نے ان کی تردید نہیں کی۔ ناظرین کرام ذرا اصل بیانات کو ملاحظہ فرمائیے اور آج اس غلط بیانی کو دیکھیے کہ یہ تو ہمارے بیانات ہی نہیں۔ انصاف، انصاف (قادیانی جماعت قادیان کی یہ شکایت بالکل بجا اور درست ہے کہ قادیانی جماعت لاہور جلد منافقت میں مبتلا ہو گئی اور ساتھ ہی اپنی منافقت پر فضول تاویلات کا پردہ ڈالنے لگی جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ایک طرف اپنے آپ کو مرزا قادیانی صاحب کا متبع بتاتے ہیں اور ان کو مسیح موعود اور مہدی معہود مانتے ہیں اور دوسری طرف ان کے دعوؤں سے انکار کرتے ہیں اور لایعنی تاویلات کی آڑ لیتے ہیں۔ اس دورنگی کا منشا ظاہر ہے۔ ایک طرف وہ قادیانیوں سے وابستہ ہیں اور دوسری طرف وہ مسلمانوں سے بھی وابستہ رہنا چاہتے ہیں نتیجہ یہ کہ نفاق کی بے چینی میں کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ قادیانی حلقہ میں جماعت قادیان کے مقابل جماعت لاہور کی عقیدت اور تعداد گر رہی ہے۔۔۔ للمولف برنی)

(مضمون مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان جلد نمبر ۲۹، نمبر ۲۵۹، مورخہ ۱۴ نومبر ۱۹۴۱ء)

(۵) لاہوری جماعت کا جدید ابہام

ہم بھی حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ السلام کو مسیح موعود مہدی معہود، مامور من اللہ، ملہم، مجدد، محدث، امام زماں یقین کرتے ہیں اور آپ کو ظلی بروزی طور پر جزوی نبی بھی یقین کرتے ہیں۔ مگر حقیقی مستقل شرعی یا غیر شرعی کامل نبی آپ کو کہنا آپ کی

صفحہ 919

تعلیم کے خلاف جانتے ہیں۔

(مکتوب ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب قادیانی لاہوری مندرجہ الہدیٰ نمبر ۱، ص ۵۵، مولفہ حکیم

محمد حسین صاحب قادیانی لاہوری)

(۶) سب میں بڑے

جبکہ نبوت محمدیہ تا قیامت زندہ ہے اور فیضان محمدی جاری ہے۔ تو سلسلہ نبوت کے بند ہونے سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے پاس تو خاتم النبیین کی زندہ نبوت ہر آن موجود ہے اور اس نبوت کاملہ کی ایک جھلک نے مسیح ناصری (عیسیٰ علیہ السلام) جیسے ہزاروں کاملین کو پیدا کیا اور مسیح موعود علیہ السلام (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ان میں سے ایک ہیں اور میرے ایمان میں ان سب سے بڑے بھی ہیں۔ مگر ہم اصل کو چھوڑ کر یعنی ختم نبوت کا انکار کر کے کسی اور نبوت کو کیا کریں۔ (اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ جبکہ یوں ہی مرزا صاحب آپ کے نزدیک مسیح ناصری جیسے ہزاروں کاملین میں سب سے بڑھ گئے۔ مقصود حاصل ہو گیا۔ قادیانی جماعت لاہور بنظر مصلحت بالعموم ایسے ہی ابہام سے کام لیتی ہے صاف، صاف کہتے جھجکتی ہے۔ جماعت قادیان صاف گوئی سے کام لیتی ہے۔ مرزا صاحب کی نبوت مانتی ہے۔ لیکن مافی الضمیر دونوں جماعتوں کا ایک ہی ہے۔ صرف نفاق اور اخلاص کا فرق ہے۔ للمولف)

(جناب مولوی عمر الدین قادیانی مبلغ جماعت لاہور کا بیان مندرجہ ”اخبار پیغام صلح“ جلد

۲۴، نمبر ۷۸، مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۳۶ء)

(۷) لاہوری عقیدہ نبوت

یہ تو احمدی غیر احمدی کا سوال ہے۔ اب لیجئے قادیانی احمدی ایسے احمدی کو جو ان کی جماعت سے نکل کر لاہوری جماعت میں شامل ہو جائے۔ مرتد کہتے ہیں۔ حالانکہ اصطلاحی لحاظ سے مرتد وہ ہوتا ہے، جو اسلام چھوڑ دے۔ جب ایک ایسی جماعت کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود کو بروزی! اور ظلی نبی بھی مانتی ہے۔ قادیانی احمدیوں کا یہ سلوک ہے تو ان کا سلوک غیر احمدیوں یا احرار کے ساتھ تو کہیں بدتر ہو گا۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۴، نمبر ۴۹، مورخہ ۳؍ اگست ۱۹۳۶ء)

صفحہ 920

(۸) خدا کی آواز

حضرت مسیح موعود نے مسیح ناصری کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ سے پانے کے بعد وحی اور قرآن مجید سے اس پر دلائل دیئے آئمہ اسلام اور علمائے متقدمین نے صرف اپنے اجتہادات اور تدبر سے کام لیا بعض نے عیسیٰ کو فوت شدہ تسلیم کیا اور بعض نے اسے زندہ آسمان پر یقین کیا۔ لیکن بفرض محال اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ تمام ائمہ اسلام اور بزرگان سلف نے مسیح علیہ السلام کی حیات پر ہی اتفاق کیا ہے تو بھی ایک شخص جب خدا سے اطلاع پا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بذریعہ الہام اور وحی یہ اطلاع دی ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پا گئے تو ہمیں الہام الٰہی کے آگے سر جھکانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہم بے شک آئمہ سلف اور بزرگان امت کی عزت کریں اور ان کی محنت اور خدمت پر صدائے تحسین بلند کریں۔ لیکن ان کے اجتہاد اور ان کی آواز کو خدا کی آواز پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا ”اخبار پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۳‘ نمبر ۵۸‘ مورخہ ۱۱؍ ستمبر

۱۹۳۵ء)

(۹) جرأت و جسارت

پیغامیوں (لاہوری فریق) کی جرات و جسارت دیکھئے ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) سے غایت درجہ کی عقیدت و نیاز مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ حضور کی علمی وراثت کے دعویدار ہیں اور نہایت شیفتگی سے آپ کی تعلیم کا صحیح مفہوم سمجھنے کے مدعی ہیں۔ مگر دوسری طرف یہ حال ہے کہ آپ کے پیش کردہ عقائد پر نہایت ہی بیہودہ اور لغو اعتراض کرتے رہتے ہیں اور ایسے ایسے حملے ان کی تحریرات میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے قلوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ بھی وقعت نہیں ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۸‘ نمبر ۶۵‘ مورخہ ۲۹؍ نومبر ۱۹۳۰ء)

(۱۰) ایک افتراء

صفحہ 921

مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) نے اپنے تازہ رسالہ شناخت مامورین کے صفحہ ۲۰ میں لکھا ہے۔

”خود حضرت (مرزا) صاحب نے لکھا ہے کہ میں اپنے الہامات کو کتاب اللہ اور حدیث پر عرض کرتا ہوں اور کسی الہام کو کتاب اللہ اور حدیث کے مخالف پاؤں تو اسے کھنکار کی طرح پھینک دیتا ہوں۔“

جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک آپ کے لئے الہام کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مخالف ہوتے تھے جن کو حضرت مسیح موعود کھنکار کی طرح پھینک دیتے تھے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کا کوئی الہام بھی ایسا نہیں جو کتاب اللہ اور حدیث رسول کے مخالف پا کر حضرت مسیح موعود نے رد کیا ہو کیوں کہ حضرت مسیح موعود اپنے جملہ الہامات کو قطعی اور یقینی طور پر خدا تعالیٰ کا کلام جانتے تھے اور فرماتے تھے۔ جیسے مسیح پر خدا کا کلام نازل ہوا جیسے دوسرے نبیوں سے خدا نے مکالمہ مخاطبہ کیا اس نے مجھے بھی ایسا ہی شرف بخشا۔ پس یہ مولوی محمد علی کا ایک افتراء ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود پر باندھا ہے کہ حضور نے کہیں ایسا لکھا ہے کہ میں اپنے الہامات کو کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مخالف پا کر پھینک دیتا ہوں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۷، نمبر ۱، مورخہ یکم جولائی ۱۹۱۹ء)

(۱۱) عملی قدم

غیر مبائعین (لاہوری فریق) احمدیت سے ظاہری تعلق بھی منقطع کرنے کے لئے جو طریق عمل اختیار کر رہے ہیں اس کا کسی قدر پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) نے اپنی کتاب النبوۃ فی الاسلام میں غیر احمدیوں کو فاسق قرار دیا تھا۔ لیکن اب النبوۃ فی الاسلام مطبوعہ بار دوم سے وہ صفحہ ہی حذف کر دیا گیا ہے۔ جس میں غیر احمدیوں کے فاسق ہونے کا ذکر تھا۔ اب اس سے آگے انہوں نے عملی طور پر یہ قدم بڑھایا ہے کہ ایسے لوگوں کو جن کی ساری زندگی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کی شدید مخالفت میں گزری ہے اور اس وقت بھی وہ احمدیت کے سخت دشمن ہیں۔ ان سے اپنے جلسوں میں تقریریں کراتے ہیں اور تقریریں بھی ایسی جو

صفحہ 922

کسی متحدہ مسئلہ پر نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے صریحاً خلاف ہوتی ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۸‘ نمبر ۷۷‘ ص ۶‘ مورخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۱ء)

(۱۲) علی الاعلان

مولوی عبداللہ صاحب مذکور نے جو غیر مبائعین (لاہوری جماعت) کی مقامی (یعنی سری نگر کی) انجمن کے پریذیڈنٹ بھی ہیں۔ اپنے مکان پر اچھے خاصے مجمع کے روبرو اور غیر مبائعین کے مبلغین کی موجودگی میں علی الاعلان کہا کہ مرزا صاحب کے وجود سے اسلام کو اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا کہ نقصان پہنچا ہے۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں میں تفرقہ بڑھ گیا ہے۔ ان کے بیانات و اقوال میں ہزارہا غلطیاں ہیں۔ ان کے الہامات مشتبہ ہیں۔ ان کی بہت سی پیشگوئیاں جھوٹی نکلی ہیں اور بعض پیش گوئیوں کا تصریح کے ساتھ ذکر کر کے ان کی تکذیب کی اور ایک پیشگوئی کے متعلق تو یہاں تک کہا کہ اس کے جھوٹا ہونے پر زمین و آسمان گواہ ہیں اور کہا کہ مرزا صاحب کے جھوٹا ثابت ہونے میں نہ صرف کوئی نقصان نہیں بلکہ اس میں فائدہ ہے۔

کیونکہ اس طرح سے ان کا نام درمیان سے مٹ کر صرف خالص اسلام اور محمد رسول اللہ علیہ وسلم کا نام باقی رہ جائے گا۔ ان باتوں کو سن کر غیر مبائعین اور ان کے مبلغین نے نہ صرف ان کے خلاف کوئی لفظ نہ کہا۔ بلکہ ان کے مبلغ مرزا مظفر بیگ صاحب نے مولوی عبداللہ صاحب کی تائید میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے الہامات کا ذکر تمسخر اور استہزاء کے طریق پر کرتے ہوئے کہا کہ مرزا صاحب کے الہامات کا نمونہ سنئے کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا ”خاکسار پیپرمنٹ“۔ ”مرغی بولتی ہے“۔ اور جب اس موخرالذکر فقرہ کا حوالہ پوچھا گیا تو کہا کہ اگر میں دکھادوں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ میں نے کہا کہ اس صورت میں ہم اسے حضور کا الہام تسلیم کرلیں گے اس پر ان کو استہزاء کا ایک اور زریں موقع مل گیا اور خوب دل کھول کر حضور کے الہامات پر تمسخر کیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۲۹ء نمبر ۲۴‘ جلد ۱۷‘ ص ۱۰)

صفحہ 923

(۱۳) درمیان‘ درمیان

اسی اثنا میں آوازیں آنے لگیں کہ لاہوری لوگ یا قادیانیوں کے ساتھ مل جائیں جو مرزا صاحب کی تعلیم پر قائم ہیں یا پھر ہمارے ساتھ مل جائیں۔ درمیان درمیان کی حالت ٹھیک نہیں۔ چنانچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ دوسرے روز آپ نے (لاہوری فریق کے مناظر نے) بار بار حضرت مسیح موعود کی توہین کی اور مرزا مرزا کے خطاب کے علاوہ یہاں تک کہہ دیا کہ مرزا صاحب صحابہ کی جوتیوں کے برابر بھی نہ تھے“۔ نعوذ باللہ۔ جس پر غیر احمدیوں کو خوشی کا موقع مل گیا اور انہوں نے کہا آپ تو ہمارے ساتھ مل گئے۔ اب جمعہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں۔ مگر ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور‘ اور کھانے کے اور ہوتے ہیں۔ آپ نے عملاً اس سے انکار کردیا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۲۹ء نمبر ۳۱ جلد ۱۷ ص ۶)

(۱۴) منافقت

غیر مبائعین نے مرکز احمدیت یعنی قادیان سے قطع تعلق کرتے ہوئے سمجھا تھا کہ جماعت کا سواد اعظم ان کے ساتھ ہے۔ مگر جلدی ہی انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔ اسی دوران میں وہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم سے منھ موڑ کر غیر احمدیوں کی طرف متوجہ ہوئے کہ شاید وہی ان کا ساتھ دیں گے۔ مگر ان میں بھی دال نہ گلی۔ وہ انہیں منافقت سے کام لینے والے قرار دے کر نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ غرض جن لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے غیر مبائعین نے حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو چھوڑا وہ انہیں جواب دے بیٹھے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان ’جلد ۲۱‘ نمبر ۱۴۱‘ ص ۸‘ مورخہ ۳؍ مئی ۱۹۳۴ء)

(۱۵) لاہوری عقائد پر قادیانی تبصرہ

غیر مبائعین (یعنی لاہوری جماعت) نے جب سے مرکز احمدیت (یعنی قادیان) کو چھوڑا ان کے اعتقادات کا انتہائی تنزل نمایاں ہونا شروع ہوگیا۔ اگرچہ یہ کمزوری ان کے اندر پہلے سے موجود تھی۔ جس کی وجہ سے خلافت اولیٰ کے زمانہ میں کئی خطبات ان

صفحہ 924

کو مدنظر رکھ کر حکیم الامت حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ (حکیم نور الدین صاحب) کو فرمانے پڑے اور ان میں سے بعض کو بیعت کی بھی تجدید کرنی پڑی۔ اس وقت بھی ان کے عقائد مشتبہ تھے۔ تب ہی تو ان کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ : ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو غلط فہمی میں ڈالا گیا ہے کہ اخبار ہٰذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار ”پیغام صلح“ کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی بہتان ہے ہم حضرت مسیح موعود (مرزا) کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں“

(لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد اول نمبر ۲۴، مورخہ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء)

مگر آہستہ آہستہ ان کے عقائد میں تغیر شروع ہوا ”نبی رسول اور نجات دہندہ کو محض مجدد صدی چہاردہ“ قرار دینے لگے اور ”ظلی نبی“ کی ایسی تشریح کرنے لگے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے اس ارشاد کے بالکل خلاف ہے کہ ”ظلی نبوت“ جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ۲۸)

نیز ”بروزی نبی“ کہنا شروع کیا اور اس کی یہ تشریح کی جانے لگی جیسا کہ حال میں غیر مبایعین کے راولپنڈی کے جلسہ میں میر مدثر شاہ صاحب نے کہا کہ بروز سے مراد ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض گذشتہ اولیاء نے اپنے آپ کو کہا کہ من خدایم یا انا الحق وغیرہ۔ نہ وہ خدا بن گئے اور نہ حضرت مرزا صاحب نبی بن گئے......

اب غیر مبایعین کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جب انہوں نے اپنا جلسہ ۲۲۔ ۲۳؍ اپریل کو راولپنڈی میں کیا تو ان کے مقررین نے سارا زور اس بات پر صرف کر دیا کہ ہم مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے اور جو ان کو نبی کہے اس کو کاذب اور ملحد اور کافر جانتے ہیں...... میں نے ان کی اس شرط کو مان کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کا دعویٰ نبوت آپ کی کتابوں سے واضح کیا اور ”ایک غلطی کا ازالہ“ سے آپ کی نبوت کی تشریح پیش کی۔ آخر میں ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء والی تحریر ”پیغام صلح“ بھی پڑھ کر سنا دی

صفحہ 925

گئی اور ثابت کیا گیا کہ یہ لوگ بھی حضرت مسیح موعود (مرزا) کو نبی مانتے ہیں۔ مگر ان کے دانت کھانے کے اور ہیں اور دکھانے کے اور .......

غیر مبائعین کی اس روش کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے اس فرمودہ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو آپ نے ”تریاق القلوب صفحہ ۱۳۱“ میں فرمایا ہے کہ ”جو شخص خدا کے مامور سے انکار کرتا ہے۔ آخر اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے“۔

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۱‘ نمبر ۱۳۱‘ ص ۸‘ مورخہ ۳ مئی ۱۹۳۴ء)

(۴) قادیانی طعن

اے غیروں کی خاطر اپنوں پر حملہ کرنے والو اور اپنی جماعت سے بچھڑے ہوئے بھائیو (لاہوری جماعت) اگر تم حضرت مسیح موعود کی تعلیم پر عمل کرتے۔ اگر تم نور الدین ؓ کے اس فقرے کو ذہن میں رکھتے کہ غیر احمدیوں کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ اور تم اس خودداری اور غیرت کو ملحوظ رکھتے جو مومن کی شایانِ شان ہے۔ تو تمہیں یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے اور تمہارے خداوندان رزق اور تمہارے حلال العقد و مسجودین کہ جن کی خاطر تم نے اپنی خصوصیات کو یکے بعد دیگرے بیدردی سے مٹ جانے دیا آج اس دریوزہ گری کے باعث تم پر لعنت ملامت نہ کرتے۔

دیکھو غیروں (مسلمانوں) سے ملنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ چند درہم و دینار دکھاتے ہیں اور تم سے سادہ لوحوں کو خوش کرتے ہیں۔ جب تم ان کی خاطر اپنوں (قادیانیوں) سے الجھ پڑتے ہو اپنوں پر وار کرتے ہو۔ تو وہ صاف صاف کہنے لگتے ہیں کہ او سادہ لوحو اور شیخی خورے ریاکارو ہم تمہیں چندہ دیتے ہیں بلکہ اوروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں۔ تم ہمیں کیا طعن دے سکتے ہو۔ ہمارے چندوں کے گواہ تمہارے سیکرٹری ڈاکٹر محمد حسین ہیں۔ اس کا جواب تمہارے پاس کچھ نہیں کیونکہ واقعی تمہارا ہاتھ اور دامن ہمیشہ ان کے سامنے پھیلا رہتا ہے پھر تم کیسے احمدی کہلا کر احمد پر اعتراض کرنے والے ظالموں کا مقابلہ کرسکتے ہو۔ تم پر افسوس کہ تمہاری کوتاہ اندیشیوں نے تم کو تباہ کردیا۔

صفحہ 926

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۷‘ نمبر ۶۲‘ مورخہ ۱۹؍ فروری ۱۹۲۰ء)

(۱۷) چال باز

غیر مبایعین (لاہوری فریق) بہ خیال خویش ہمارے خلاف سب سے زیادہ زبردست جو اعتراض پیش کیا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مرزا صاحب کے ماننے والوں کے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ اگرچہ یہ فیصلہ ہمارا نہیں بلکہ اسی انسان کا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لئے حکم اور عدل ہو کر آیا۔ لیکن چونکہ عوام الناس اس بات سے ہمارے خلاف مشتعل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے غیر مبایعین اس بات پر بہت زور دیا کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اپنا یہ عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔ ہر ایک وہ شخص جو کلمہ پڑھتا ہے مسلمان ہے۔ ہاں جو دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے۔ وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ یہ ایچ پیچ وہ اس لئے کیا کرتے ہیں کہ اگر ایک طرف عام مسلمانوں سے کاسہ گدائی بھروا سکیں تو دوسری طرف جماعت احمدیہ سے یہ کہہ کر عوام کو متنفر کر دیں کہ یہ چند لاکھ احمدیوں کے سوا باقی سب دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں لیکن اب ان دونوں باتوں میں ناکامی اور نامرادی دیکھ کر وہ اپنا رنگ بدل رہے ہیں۔ کیونکہ مسلمان بجائے اس کے کہ ان طرف مائل ہوتے انہیں منافق طبع اور چال باز سمجھ کر دھتکار رہے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲۲‘ نمبر ۱۰‘ مورخہ ۱۴ اگست ۱۹۳۴ء)

(۱۷۔ الف) لاہوری پیچ (ج)

غیر مبایعین (لاہوری جماعت) غیر احمدیوں کو ہمارے خلاف اشتعال دلانے کے لئے شروع سے یہ حربہ چلاتے آ رہے ہیں کہ ہم ان کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ہم تو جو کچھ سمجھتے ہیں اسے چھپاتے نہیں اور نہ غیر احمدی اس سے ناواقف ہیں۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ خود غیر مبایعین جب کاسہ لیسی کرتے‘ کرتے تھک جاتے ہیں تو غصہ میں آکر غیر احمدیوں کو نہ صرف اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ بلکہ ان کو ذلیل بندر کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ۲۷؍ جون ۱۹۲۰ء میں ”پیغام صلح“ میں ”چند کھری‘ کھری باتیں“ کے عنوان سے جو مضمون درج کیا گیا ہے۔ اس میں ایک طرف تو مفسرین کے متعلق یہ

صفحہ 927

بیان کیا ہے کہ انہوں نے مغضوب سے مراد قوم یہود کو لیا ہے۔ جنہوں نے تفریط کی راہ اختیار کی اور کونوا قردۃ خاسئین کے مصداق ٹھہرے اور اس کے ساتھ ہی غیر احمدیوں کو تفریط کی راہ اختیار کرنے والے قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔ ”غیر احمدی صاحبان ہیں جن میں سوائے معدودے چند روشن خیال اشخاص کے باقی سب تفریط کے پہلو کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ غیر مبائعین (لاہوری جماعت) خود غیر احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ تفریط کی راہ اختیار کر کے کونوا قردۃ خاسئین کا مصداق بن جانے والے قرار دیتے ہیں۔

(قادیانی جماعت کا اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۸، نمبر ۴، ص ۴، مورخہ ۲۲؍ جولائی

۱۹۲۰ء)

(۱۸) لاہوری تفسیر

اگرچہ قادیانی جماعت کو دعویٰ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری نے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ وہ ان کی ملک ہے نہ کہ مولوی صاحب کی۔ چنانچہ قادیانی اخبار ”الفضل“ نمبر ۱۴۹، جلد ۲۱، مورخہ ۲۹؍ اپریل ۱۹۳۴ء میں شکایت لکھتا ہے کہ :

”یہ ترجمہ قرآن جسے انہوں نے صدر انجمن احمدیہ قادیان کی ملازمت میں نہایت معقول ماہوار تنخواہ وصول کر کے کیا تھا مگر جب وہ مکمل ہو گیا تو دھوکہ دے کر اپنے ساتھ ہی لے گئے اور پھر اپنی ذاتی جائداد قرار دے کر اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنالیا۔

تاہم اس جماعت کو بھی اس ترجمہ کی صحت پر کافی اعتراض ہے۔ مثلاً اخبار ”الفضل“ نمبر ۱۴۱، جلد ۲۱، مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۳۴ء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے تحت تفسیر کی غلطی کا حسب ذیل نمونہ پیش کرتا ہے۔

”حضرت مریم کی والدہ کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم کو باوجود ہیکل کی خدمت کے لئے وقف کرنے کے ان کا یہ منشاء نہ تھا کہ وہ کنواری رہے گی۔ بلکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ جوان ہو کر بیاہی جائے گی اور صاحب اولاد ہوگی اس لئے انہوں نے نہ صرف مریم کے لئے دعا کی بلکہ مریم کی اولاد کے لئے بھی کی رہبانیت یا تارک دنیا ہونے کا طریق عیسائیوں کی ایجاد ہے۔“

صفحہ 928

(بیان القرآن مصنفہ محمد علی صاحب لاہوری ص ۲۹۵)

”بعض مفسرین نے اس مصیبت کو یوں ٹالنا چاہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ یوسف کی پہلی بی بی کی اولاد تھی اور حضرت مریم ان کی دوسری بی بی تھیں۔ مگر ایک طرف تعلق زوجیت کا حضرت مریم اور یوسف میں موجود ہونا خود اناجیل سے ظاہر ہے۔ دوسرے طرف ماں کے ساتھ بھائیوں کا آنا صاف بتاتا ہے کہ یہ اسی ماں کی اولاد تھے۔ سو تیلے بھائی ہوتے تو مریم سے ان کا کیا تعلق تھا۔ تیسرے کہیں بھی سوتیلے بھائی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ جب لفظ بھائی مطلقاً استعمال کیا جائے گا۔ تو اس سے مراد حقیقی بھائی لیا جائے گا۔

پس یہ انجیلی شہادت صاف بتاتی ہے کہ حضرت مریم کا تعلق زوجیت تو یوسف کے ساتھ ضرور ہوا اور اس تعلق سے اولاد بھی پیدا ہوئی اور اگر ایک طرف لم یمسسنی بشر اس وقت کے بعد مس بشر سے مانع نہیں تو دوسری طرف تاریخی ثبوت کھلا، کھلا موجود ہے کہ واقعی میاں بیوی کے تعلقات حضرت مریم اور آپ کے شوہر کے رہے

(بیان القرآن مصنفہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری ص ۳۱۳)

...... یہ ہے مولوی محمد علی صاحب کی قرآن دانی اور تفسیر القرآن جس پر وہ پھولے نہیں سماتے اور اسے اپنا کارنامہ قرار دے کر اپنے عقائد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کی تعلیم کے مطابق قرار دیتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۲، نمبر ۱۲۱، مورخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۲۴ء)

علیٰ ہٰذا اخبار ”الفضل“ قادیان کا دوسرا اعتراض بھی قابل غور ہے ملاحظہ ہو: حضرت ابراہیم السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے : فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ او حرقوہ فانجاہ اللہ من النار ان فی ذلک لایت لقوم یومنون۔ اس آیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ جب مخالفین نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ کے اثر سے محفوظ رکھا۔ حضرت مسیح موعود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ہی ڈالنا قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ اس ذکر میں فرمایا کہ اگر کوئی دشمن مجھے آگ میں ڈالے تو خدا تعالیٰ مجھے بھی آگ کے اثر سے بچا لے گا۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ

صفحہ 929

الصلوٰۃ والسلام کے اس اعتقاد اس تحدی اور اس تصریح کے باوجود حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے سے انکار کیا ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۳۳ء و جلد ۲۱‘ نمبر ۱۴۹‘ مورخہ ۹؍ اپریل

۱۹۳۴ء)

قادیانی جماعت کو شکایت ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے جو قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ مع حواشی شائع کیا ہے۔ اس میں جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے دو عقائد سے اختلاف کیا ہے گویا مولوی صاحب کو اس ترجمہ میں قادیانی عقائد سے سر مو تجاوز نہ کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ مولوی صاحب نے اس میں قادیانی تحریک کو بہت خوبی سے پیوست کیا ہے کہ سرسری طور پر کسی کو تعرض نہ ہو۔ اور بات دل نشین ہو جائے۔

مثلاً تمہید میں کھلے دل سے مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے فیضان کا بحیثیت مجدد اعتراف کرتے ہوئے مرزا صاحب کے مدعی الہام ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پھر سورہ فاتحہ کی آخری آیات کی تفسیر میں دعویٰ کیا ہے کہ جو وحی انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی وہی اب دوسروں پر بھی نازل ہو سکتی ہے۔ پھر سورہ جمعہ کے پہلے ہی رکوع میں تفسیر کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔ مرزا صاحب ہی! مسیح موعود ہیں نہ کہ اور کوئی۔

علیٰ ہٰذا سورہ آل عمران کے پانچویں رکوع میں جو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مذکور ہیں۔ جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے انکار کی حد تک ان کی تاویل کی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب نے انہی تاویلات کی انگریزی تفسیر میں پوری ترجمانی کی ہے۔ ذرا بھی فرق نہیں۔ اسی طرح مرزا صاحب نے شق القمر کو چاند گرہن تجویز کر کے معجزہ کی حیثیت تقریباً غائب کر دی تو مولوی صاحب نے بھی سورہ قمر کی تفسیر میں اسی پہلو پر زور دیا ہے۔ بلکہ یہاں تک لکھ دیا کہ اس واقعہ کی مذہب میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر معجزہ ہے تو یہ کہ پیش گوئی پوری ہو گئی۔ مرزا صاحب نے ملائکہ کی جو تاویل کی ہے وہی تاویل مولوی صاحب کی تمہید میں موجود ہے۔ غرض کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنی انگریزی تفسیر میں قادیانی تحریک کا پورا حق ادا کیا ہے اور بڑی خوبی سے ادا کیا ہے کہ کام بن جائے اور الزام نہ آئے پھر قادیانی جماعت کو شکوہ ہے کہ مولوی صاحب نے کوتاہی کی۔ مرزا صاحب کے عقائد کی پوری تبلیغ نہ کی:

صفحہ 930

انصاف کیجئے تو مسلمانوں کو شکایت کا حق ہے کہ محض اعتماد کی بناء پر انہوں نے بھی اس ترجمہ کی تیاری میں خاصی مالی امداد دی اور پھر ترجمہ کے ساتھ اس رنگ کی تفسیر نکلی۔ مزید خرابی یہ کہ عام تعلیم یافتہ مسلمان جو اسلامی تعلیمات سے کم واقف ہیں۔ اسی اعتماد کی بناء پر اب تک اس تفسیر کو مستند سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ کسی غیر مسلم کا نام ہوتا تو پھر بھی محتاط رہتے۔

یوں تو اس انگریزی تفسیر میں بہت سے امور قابل اصلاح ہیں۔ یہاں نمونتاً چند پر اکتفا کیا گیا۔ بس بڑی خوبی ہے تو یہ ہی کہ سب سے اول ایک مسلمان کے نام سے شائع ہوئی اور نسبتاً عیسائیوں کے حواشی سے غنیمت ہے۔ محمد پکتھال صاحب نے جو قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ وہ بھی شائع ہو گیا ہے۔ انجیل کے طرز پر اس کی زبان بہت موثر اور دل پذیر ہے۔ علامہ عبداللہ یوسف علی صاحب نے بھی قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ مختصر تفسیر بھی لکھی ہے۔ خاص علمی رنگ نظر آتا ہے۔ شیخ محمد اشرف صاحب تاجر کتب کشمیری بازار لاہور نے اس کو طبع کرایا ہے۔ قابل دید ہے۔

(۱۹) یہودی عیسائی اور مسلمان کون ہیں

احمدی فریق لاہور حضرت مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو نہ صرف معمولی کافر ہی یقین رکھتا ہے۔ بلکہ وہ ان سب مسلمانوں کو جو حضرت مرزا صاحب کو نہیں مانتے یہودی قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب امیر احمدی فریق لاہور رقم فرماتے ہیں کہ۔

”سلسلہ احمدیہ اسلام“ کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے۔ جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ تھا۔“

(ترجمہ) (رسالہ ”ریویو“ جلد ۵‘ ص ۴۱۳)

اب یہ حوالہ کسی مزید تشریح کا محتاج نہیں۔ عیسائی اور مسلمان یہودیوں کو کافر بلکہ اکثر تا قیامت مغضوب اور ملعون یقین رکھتے ہیں۔ قرآن کریم نے یہودیوں کے حق میں بالخصوص بیسیوں مقامات پر جو کچھ لعنت و نفرین اور غضب کے فتوے لگائے ہیں۔ وہ عیسائیوں اور مسلمانوں سے مخفی نہیں۔ پس بالفاظ دیگر حضرت مرزا صاحب کے نہ ماننے

صفحہ 931

والوں کو یہودی قرار دینا نہ صرف معمولی کافر قرار دینا ہے۔ بلکہ مغضوب علیہم کافر گرداننا ہے۔ چنانچہ قبلہ محمد علی صاحب موصوف نے نہایت صفائی اور جرأت سے کام لے کر اپنے دلی عقیدے کا اس مختصر سے فقرے میں اظہار فرمایا ہے کہ ”سلسلہ احمدیہ اسلام“ کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے۔ جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ ہے۔“

”کیا احمدی فریق لاہور کے نزدیک حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں۔“ رسالہ مرتبہ فخرالدین صاحب ملتانی قادیانی)

میں نے کہا سورہ فاتحہ تو بقول مسیح موعود ان کے صدق دعویٰ پر ایک الہی مہر ہے۔ مولانا (اسعد اللہ صاحب) نے پوچھا کہ آپ ہمیں کیا سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا سورہ فاتحہ سے ہی اب میں جواب دیتا ہوں سنئے۔ اس سورہ شریف میں پانچ وقت ہم منعم علیہ بننے کی اور مغضوب اور ضال ہونے سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ یہ آپ کو علم ہی ہے کہ مغضوب اور ضال یہود و نصاریٰ ہیں اور منعم علیہ مسلمان ہیں۔ کیونکہ یہود نے مسیح پر کفر کا فتویٰ لگا کر قتل کرنے کی پوری کوشش کی اس لئے وہ مغضوب ہوئے۔ اب نصاریٰ مجازاً ابن اللہ کے لفظ کو حقیقی ابن اللہ اور اللہ بنا کر ضال ہو گئے اور آنحضرت صلعم اور آپ کے ساتھی حضرت عیسیٰ کو نبی اللہ مان کر منعم علیہ ہو گئے۔ بالکل یہی واقعہ مسیح محمدی کے زمانہ میں پیش آیا ہے۔ آپ لوگوں (مسلمانوں) نے فتویٰ کفر ناحق لگا کر قتل کی پوری کوشش کی اور قادیانی جماعت مجازی نبی کو حقیقی نبی مان کر ضال ہو گئی۔ اور ہم لوگ (لاہوری جماعت) حضرت مرزا صاحب کو اصل مقام پر مانتے ہیں۔ یعنی مجدد و مسیح موعود جو اولیاء امت محمدیہ کا سرتاج ہے پس ہم منعم علیہ ہوئے اور سورہ فاتحہ سے یوں صداقت مسیح موعود ثابت ہو گئی۔

(”دہلی میں عظیم الشان مناظرہ اور احمدیت کی فتح“ اعلان منجانب مولوی عمرالدین صاحب شملوی قادیانی لاہوری۔ مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۲‘ نمبر ۲۱‘ ص ۱۵‘ مورخہ

۷؍اپریل ۱۹۳۴ء)

یہی نکتہ کہ مسلمان مغضوب علیہم کے تحت یہودی ہیں قادیانی جماعت ضالین کے تحت عیسائی ہے اور چشم بدور لاہوری جماعت انعمت علیہم کے تحت مسلمان ہے۔ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور نے بھی اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں

صفحہ 932

سوره فاتحہ کے تحت بطور تفسیر پیش فرمایا ہے۔ مگر حسب معمول نہایت لطیف پیرایہ میں گویا عاقل را اشارہ کافی ست۔ اول تو یہ کہ وحی الٰہی جو انبیاء میں نازل ہوتی تھی۔ اب بھی دوسروں پر نازل ہو سکتی ہے۔ گویا اس طرح جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے مسیح موعود ہونے میں کوئی شک نہیں رہا اور لاہوری جماعت کا عقیدہ ثابت ہو گیا دوسرے یہ کہ مغضوبین و ضالین میں یہودی اور عیسائیوں کی تخصیص نہیں۔ بلکہ جو شدت سے مخالفت کرے وہ گویا یہودی ہے۔

اور جو شدت سے محبت کرے وہ گویا عیسائی ہے اور جو بین بین رہے وہ مسلمان ہے۔ جب کہ لاہوری عقیدہ کی رو سے مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونا مسلم ہے تو مسلمان جو مرزا صاحب کے مخالف ہیں صریحاً مغضوب علیہم کے مصداق بنے۔ قادیانی جماعت جو مرزا صاحب کو نہ صرف مسیح موعود بلکہ اس سے بڑھ کر نبی اور رسول مانتی ہے ضالین میں جا گری اور لاہوری جماعت اپنے اعتدال اور اپنی احتیاط کی بدولت چودھویں صدی کے سچے اور پکے مسلمان بنے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان کی واسطے مخصوص ہو گئیں۔ یہی وہ جماعت ہے جو اسلام کی بڑی حامی اور مسلمانوں کی بڑی ہمدرد مشہور ہے۔

(للمؤلف)

(۲۰) لاہوری جماعت کی حکمت عملی

لاہوری جماعت کو فی الواقع دو رنگی پسند ہے۔ قادیانیوں میں بھی شامل رہیں اور مسلمانوں میں بھی شمار ہوں۔ اس واسطے مرزا صاحب کی مسیحیت کا اقرار کافی سمجھا گیا۔ اور نبوت کا انکار ضروری معلوم ہوا تاکہ اس سمجھوتہ سے مسلمان بھی راضی رہیں اور مرزا صاحب کی تبلیغ بھی جاری رہے اس میں ان کو کامیابی نظر آتی ہے۔ چنانچہ ان کو قلق ہے کہ :

”کاش قادیانی جماعت کی طرف سے بھی حضرت مسیح موعود کو اصل شان میں پیش کیا جاتا رہے۔ جیسا کہ میاں (محمود احمد) صاحب خلافت سے پہلے ہوتا رہا تھا۔ تو آج احمدیت دنیا کے گوشہ گوشہ میں داخل ہو چکی ہوتی۔“

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲، نمبر ۲۱، ص ۱۱، مورخہ ۱۷؍ اپریل

صفحہ 933

(۱۹۳۴ء)

چنانچہ چندہ کی اپیلوں میں وہ اکثر مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ بلا لحاظ فرقہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں اور اسی بنا پر مسلمانوں سے کافی مالی امداد پاتے ہیں۔ لیکن فی الحقیقت اپنی جماعت کا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف نہ صرف یورپ میں غیر مسلموں کو بلکہ اسلامی ممالک میں خود مسلمانوں کی دعوت دیتے ہیں۔ کامیابی پر خوشی مناتے ہیں۔ پھر بھی تفصیل صیغہ راز میں رہتی ہے۔ چنانچہ ایک تازہ کامیابی ملاحظہ ہو۔

”کسی گزشتہ اشاعت میں قارئین کرام یہ مسرت انگیز و ایمان افروز خبر ملاحظہ فرما چکے ہوں گے کہ ہندوستان سے باہر ایک مقام پر دو سو پچیس اصحاب شامل سلسلہ ہوئے ہیں۔ الحمد للہ کارساز حقیقی کی کرشمہ سازیاں ملاحظہ ہوں کہ ایک طرف دشمنان سلسلہ کا بپا کیا ہوا افسوس ناک طوفان مخالفت ہمیں تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے دوسری طرف رحمت خداوندی مصروف کرم ہے۔ لیکن یاد رہے کہ مخالفت کے طوفان چند روزہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیشہ مصروف کرم رہے گی۔ ہمارے جس باہمت کارکن کی مساعی سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ہم تہہ دل سے انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے بھی زیادہ خدمت دین کی توفیق دے۔ ساری جماعت کی دلی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۲۲‘ ص ۸‘ ۱۱؍ اپریل ۱۹۳۴ء)

بہرحال لاہوری جماعت اپنے فرقہ کی توسیع کو تبلیغ اسلام قرار دے کر مسلمانوں کی عقیدت حاصل کرتے ہیں اور پھر اسی کو مرزا صاحب کی صداقت کا معیار پیش کرتے ہیں۔ کیسا عجیب چکر ہے مثلاً ملاحظہ ہو:

”خدا کا شکر ہے کہ یہ میرٹھ میں بعض سعید طبع ہمدردان اسلام میں سے کچھ لوگوں نے ہمارا پورا ساتھ دینے کا تہیہ کر لیا ہے اور وہاں ایک چھوٹی سی احمدی جماعت قائم ہو گئی ہے اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اس چھوٹی سی جماعت میں جلد ترقی دے گا۔“

خدا تعالیٰ نے مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت کی خدمت دینی اور اخلاص کی

صفحہ 934

وجہ سے لوگوں کے دلوں کو قائل کر دیا ہے۔ اکثر ان میں سے معترف ہیں کہ بلاشبہ خدمت و اشاعت اسلام کا جو بیش بہا کام مولانا موصوف کر رہے ہیں۔ وہ بے نظیر ہے۔ جو دوسرے لفظوں میں حضرت مسیح موعود کی صداقت کا اقرار ہے اور یہ بالکل سچ ہے۔

ع ۔ دل ہمارے ساتھ ہیں گو منہ کریں بک بک ہزار

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۲۱‘ ص ۱۱‘ مورخہ ۷؍ اپریل

۱۹۳۴ء)

بہر حال چندہ اور امداد کے وقت لاہوری جماعت مسلمانوں کی ایک جماعت بن جاتی ہے۔ مگر اپنی کارگزاری ۔ کامیابی ۔ اور تفاخر میں اپنے آپ کو قصداً اسلامی اداروں کے مقابل پیش کرتی ہے۔ تاکہ اس کی جداگانہ شخصیت واضح ہو جائے۔ مثلاً ملاحظہ ہو۔ پولینڈ کا ایک یہودی فاضل پولش اور عبرانی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کا ارادہ کرتا ہے اور اس کی اطلاع مسلمانان ایشیا کے سب سے بڑے تعلیمی مرکز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں دیتا ہے۔ لیکن رجسٹرار مسلم یونیورسٹی اس خط کو کہاں بھیجتے ہیں؟ جامعہ اسلامیہ دہلی میں؟ نہیں‘ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں؟ نہیں۔ دارالمصنفین اعظم گڑھ میں؟ نہیں۔ دارالعلوم دیوبند میں؟ نہیں۔ بلکہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور میں۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۲۴‘ ص ۳‘ مورخہ ۱۱؍ اپریل

۱۹۳۴ء)

منشاء یہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے ادارے شاید بیکار و معطل ہیں اور اسلام کا بیڑا لاہوری جماعت کے ہاتھ ۔ افتخار کے پردے میں افتراق کے جذبات اور اسلام کے پردے میں اپنے فرقہ کی تبلیغ و اشاعت ۔ سمجھ دار طبقوں پر یہ راز بخوبی منکشف ہو گیا ہے اور ہو رہا ہے۔ چنانچہ خود لاہوری جماعت کو بھی تشویش ہے کہ :

”ہمارے بعض دوستوں کے دل میں بھی یہ وہم پیدا ہو گیا ہے کہ علیحدہ جماعت کا قیام کوئی فرقہ بندی کا خیال ہے اور اس وہم کے زیر اثر وہ جماعت سے تقریباً علیحدہ ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور مندرجہ ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘

نمبر ۳۲‘ ص ۲‘ مورخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۳۴ء)

صفحہ 935

(۲۰) الف ہزاروں روپیہ (ج)

قادیانی دوستو! غور کرو۔ اپنے دشمن (مسلمان) سے تمہارے خلیفہ (میاں محمود احمد صاحب قادیانی) کو اگر ایک روپیہ مل جائے تو وہ ایک بڑا بھاری نشان بن جائے کہ خدا نے اپنے لاڈلے خلیفہ کے ناز کو پورا کیا اور خلیفہ صاحب کے ساتھی بادلوں کی طرح گرج، گرج کر تسبیح و تحمید کرنے لگ جائیں۔ لیکن اگر ہم کو (یعنی قادیانی جماعت لاہور کو) خدا غیر احمدیوں سے (یعنی مسلمانوں سے) ہزاروں‘ روپیہ ہر سال دلا دے تو تمہارے نزدیک نہ اس میں کوئی نشان ہے اور نہ خدا کا اتنا بڑا فضل قابل تسبیح و تحمید ہے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۵‘ نمبر ۵۸‘ مورخہ ۱۷؍ ستمبر

۱۹۳۷ء)

(۲۱) قادیانی جماعت لاہور کا مقصد

اس میں کچھ شک نہیں کہ جماعت احمدیہ لاہور نے اپنے نظام کے انصرام کے لئے ایک منتظمہ کمیٹی مقرر کی ہوئی ہے۔ جس کا نام انجمن ہے اور بلاشبہ یہ وہ انتظام ہے جو اس جماعت نے اپنے روحانی پیشوا اور امام حضرت مسیح موعود کی سچی متابعت میں اختیار کیا ہے۔ کیونکہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں چودہ منتخب ممبروں کی ایک کمیٹی مقرر کر کے اس کے سپرد جماعت کا مالی انتظام کر دیا تھا۔ لیکن اگر آپ نے یہ خیال کر لیا مقرر کر کے اس کے سپرد جماعت کا مالی انتظام کر دیا تھا۔ لیکن اگر آپ نے یہ خیال کر لیا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اشاعت اسلام کے عالی مقاصد کے لیے باقی انجمنوں کی مانند ایک انجمن قائم کی تھی۔ تو آپ کو بڑی بھاری غلطی لگی ہے۔ جماعت کے انتظامی امور کو ایک واحد ہاتھ میں دینے کے بجائے چیدہ چیدہ اصحاب کے سپرد کر دینا اس بات کے جدوجہد کا مدعا یہی تھا کہ اشاعت اسلام کے مقصد کے لئے لوگوں کی ظاہری ہمدردی حاصل کر کے انہیں اس کا ممبر بنا لیا جائے۔ جس کا مطلب جیسا کہ آپ نے خود واضح کر دیا صرف یہ ہو کہ ممبروں سے صرف اس قدر تعلق ہو کہ اشاعت کے راستہ میں وہ کچھ چندہ دے دیا کریں ورنہ ان کے اعمال و اعتقادات سے کچھ واسطہ نہ ہو۔

آپ کو یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود ایک سچے مصلح ربانی کے مانند دنیا داروں

صفحہ 936

کے طریقوں پر دین کی خدمت کرنے نہیں آئے تھے۔ دنیا داروں اور عام انجمنوں کا طریق بے شک یہ ہی ہے کہ مقصد کے لئے چندہ وصول کر لیا جائے اور اس سے آگے اور کچھ غرض نہ ہو۔ لیکن کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ وہ طریق ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے نبی اور مامور اختیار کیا کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اس لئے کہ محض ایک انجمن کا قائم کر لینا جس سے مقصود ایک عمدہ مقصد کی خدمت ہو مگر جس میں اپنی اصلاح کا کوئی خیال نہ ہو وہ حقیقی اور سچا طریق تبدیلی کا نہیں۔ جس سے دنیا کے قلوب خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب بن جائیں اصل مطلب جو حقیقی رہنماؤں کے پیش نظر ہوا کرتا ہے۔ وہ تو اندرونی تبدیلی اور قلبی انقلاب ہے۔

مدعا اندرونی پاکیزگی اور دلی صفائی اور منتہائے نظر خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے احکامات کی تابعداری ہے کیا یہ عظیم الشان مقاصد اس صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں کہ دنیا دارانہ طرز پر نمود و نمائش کے لئے ایک انجمن قائم کر دی جائے۔ جس کا ممبروں سے چندہ لینا اصل غرض ہو اور ان کے اعتقادات و اعمال سے کچھ واسطہ نہ ہو۔ (اس ادعا کے باوجود لاہوری جماعت نے غیر قادیانیوں سے چندہ وصول کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ (للمولف)

(قادیانی جماعت لاہور کا ”پیغام صلح“ لاہور جلد ۲۴‘ نمبر ۴۹‘ مورخہ ۳ اگست ۱۹۳۶ء)

(۲۲) احمدیہ انجمن اشاعت اسلام

عنقریب انشاء اللہ ایک نہایت زبردست مضمون احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ایک معزز ممبر کا شائع کیا جائے گا۔ جس میں اس انجمن کی بہت سے راز ہائے سربستہ کا انکشاف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اس انجمن پر قابض ہیں کیا‘ کیا چالیں چل رہے ہیں اور کس طرح قوم کا روپیہ صرف کر رہے ہیں۔ (اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶‘ نمبر ۱۹‘ مورخہ ۴ ستمبر ۱۹۲۸ء)

انجمن (اشاعت اسلام لاہور) اس وقت مولوی محمد علی صاحب کی ہے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ وہ خود انجمن ہیں۔ امیر قوم۔ پریسیڈنٹ اور انچارج تصنیفات وہ خود ہیں۔ انجمن کا امین ان کا بھتیجا ہے۔ مینجر بک ڈپو ان کا بھانجا ہے۔ مہمان خانہ انجمن کا

صفحہ 937

مہتمم بھی ان کا رشتہ دار ہے۔ ایک وقت میں سیکرٹری ان کا بڑا بھائی تھا۔ پھر ان کا ہم زلف چودہری ظہور احمد صاحب بہت مدت تک رہا۔ جس کے عہد حکومت میں بہت گڑبڑ مچی۔

شعبہ اخبارات کے انچارج ان کے ایک دوسرے ہم زلف یعنی محمد یعقوب خاں صاحب ہیں گویا قریباً سب کے سب عہدہ دار ان کے رشتہ دار ہیں جو کہ بڑی بڑی رقوم تنخواہ میں وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ چودھری ظہور احمد صاحب کا گریڈ اڑھائی صد روپیہ کا تھا۔ محمد یعقوب خاں صاحب ساڑھے تین صد روپیہ ماہوار لیتے ہیں۔ مولوی (محمد علی) صاحب کا ذکر میں آگے چل کر کروں گا۔ چودہری ظہور احمد صاحب کی ایک زمین احمدیہ بلڈنگس میں تھی۔

انجمن کا فیصلہ تھا کہ مسلم ہائی اسکول احمدیہ بستی میں بنے۔ مولوی صاحب نے اپنے اختیارات برت کر اس کو کالعدم کیا اور اپنے ہم زلف کی زمین کو بہت ہی گراں قیمت پر انجمن کے ہاتھوں بکوا کر اسے بیوپاریوں کے قرض کے پنجے سے بچا لیا۔ اب اسکول کسمپرسی کی حالت میں ایک گندی جگہ پر واقع ہے۔ جس کے بالمقابل گائے اور بھینسوں کے اصطبل ہیں اور تنور بھی موجود ہیں۔

لاکھوں روپیہ سے قوم کے بچوں کے لئے مسلم ہائی اسکول تیار ہوتا ہے۔ لیکن مولوی صاحب کے دل میں قومی ایثار اس قدر جوش زن ہے کہ ان کا اپنا لڑکا ایک عیسائی انگریزی اسکول میں پڑھتا ہے۔ کیا مولوی صاحب ان تمام باتوں سے انکار کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

(انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری فریق کی انجمن) کے ایک ممبر کا مضمون مندرجہ

اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶ نمبر ۲۰ مورخہ ۷؍ ستمبر ۱۹۲۸ء)

(۲۳) مدرسہ اور مسجد

اب میں مولوی صدرالدین صاحب کا جو مولوی محمد علی صاحب کے دست راست ہیں۔ حال بیان کرتا ہوں۔ انہوں نے مسلم ہائی اسکول کھلوایا جو کہ چند سال کے بعد چودھری ظہور احمد صاحب کی زمین پر بنایا گیا۔ اس میں مولوی صدرالدین صاحب نے

صفحہ 938

اپنے ایک رشتہ دار کو دکان کھلوادی جس میں ان کا حصہ تھا۔ پھر بورڈوں کے روپیہ سے گندم ارزاں خرید کر گراں نرخ پر اسکول کو فروخت کی۔ برلن مسجد پر قوم کا روپیہ تو لگا۔ لیکن مولوی صدر الدین صاحب نے اس کو اپنی ذاتی ملکیت ٹھہرایا ہوا ہے۔ کیا زمین کی رجسٹری آج تک ان کے ذاتی نام میں نہیں۔ انہوں نے انجمن کے مطالبوں کے باوجود اس رجسٹری کو انجمن کے نام منتقل کیوں نہیں کیا۔ مولوی صدر الدین صاحب قوم کے روپیہ پر بطور ملازم انجمن جرمنی گئے۔ انہوں نے قوم کے روپیہ سے وہاں ذاتی تجارت شروع کی اور کیوں قومی روپیہ سے مال خرید کر اپنے عزیزوں کو سیالکوٹ بھیجا اور نصف نفع رکھ کر رقم واپس کی‘ علاوہ ازیں قوم کے روپیہ سے ذاتی نفع کے لئے کیوں علیحدہ حمائل شریف چھپوائی۔

(انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری فریق کی انجمن) کے ایک ممبر کا مضمون مندرجہ

اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۶‘ نمبر ۲۰‘ مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۲۸ء)

(۲۴) تبلیغ کی تعلی

جو جو چوٹی کے انگریز مسلمان ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے ووکنگ مشن کی ہدایت سے قبول اسلام کیا ہو۔ لارڈ ہیڈلے نے خود اعلان کیا تھا کہ میں اسلام کا بطور خود مطالعہ کرکے اس مذہب میں داخل ہوا ہوں اور مجھے قبول اسلام سے صرف پندرہ دن پہلے خواجہ کمال الدین سے تعارف ہوا۔ مسٹر مارماڈیوک پکتھال مصر میں مسلمان ہوئے اور زیادہ تر ترکی اور مصری اثر کی وجہ سے ہوئے سر آرچیبالڈ ہملٹن نے غالباً ایک خانگی ضرورت سے مجبور ہو کر اسلام کا اعلان کیا۔ اگر ایک ایک کے حالات دریافت کرو اور ان سے پوچھو کہ تم نے کس طرح اسلام قبول کیا تو معلوم ہو جائیگا کہ اثرات کچھ اور ہی تھے۔ ووکنگ مسجد کا قبول اسلام سے کوئی واسطہ نہ تھا۔

(فضل کریم خاں درانی۔ بی۔ اے لاہوری۔ مشنری کا مضمون بعنوان ”مغرب میں تبلیغ

اسلام“ مندرجہ رسالہ حقیقت اسلام لاہور بابت جنوری ۱۹۳۲ء)

انہیں ایام میں خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک پرانے مسلمان لارڈ ہیڈلے مل گئے وہ قریباً چالیس سال سے مسلمان تھے۔ مگر بوجہ مسلمانوں کی مجلس نہ ملنے کے اظہار

صفحہ 939

اسلام کے طریق سے ناواقف تھے۔ خواجہ صاحب کے ملنے پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ چالیس سال سے مسلمان ہیں۔ خواجہ صاحب نے فوراً تمام دنیا میں شور مچا دیا کہ ان کی کوششوں سے ایک لارڈ مسلمان ہو گیا۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ خواجہ صاحب ایک بت بن گئے اور چاروں طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔ مگر وہ لوگ جن کو معلوم تھا کہ لارڈ ہیڈلے چالیس سال سے مسلمان ہیں۔ اس خبر پر نہایت حیران تھے کہ خواجہ صاحب صداقت کو اس حد تک کیوں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ مگر خواجہ صاحب کے مدنظر صرف اپنے مشن کی کامیابی تھی۔ جائز یا ناجائز ذرائع سے وہ اپنے مشن کو کامیاب بنانے کی فکر میں تھے......

بعض لوگ ان کی ان خیالی کامیابیوں کو دیکھ کر یقین کرنے لگے تھے کہ یہ الٰہی تائید بتا رہی ہے کہ خواجہ صاحب حق پر ہیں۔ حالانکہ یہ تائید الٰہی نہ تھی بلکہ خواجہ صاحب کی اخلاقی موت تھی اور جب تک سلسلہ احمدیہ باقی رہے گا....... خواجہ صاحب کی یہ خلاف بیانی اور چالاکی بھی دنیا کو یاد رہے گی اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر انگشت بدنداں ہوتے رہیں گے۔

(”آئینہ صداقت“ ص ۱۵۸‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

میں ۱۸؍ جولائی ۱۹۰۳ء کو یعنی مرزا غلام احمد صاحب کے پیروؤں نے جب سے انگلستان میں اپنا پروپیگنڈا شروع کیا۔ اس کے دس برس قبل ذاتی غور و فکر کے بعد خود ہی مسلمان ہوا۔ گویا میں ان کی تحریک کی وجہ سے اسلام نہیں لایا۔ بلکہ مغرب میں ان کے مشن کے قیام کے بہت پہلے سے میں نے تبلیغ اسلام شروع کر دی تھی۔ متعدد انگریز مردوں اور عورتوں کو حلقہ بگوش دین اسلام بنا چکا تھا۔ ہندوستان کے اخبارات میں مجھے یہ لکھا گیا ہے کہ میں احمدیوں کا بنایا ہوا مسلمان ہوں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔

(ڈاکٹر خالد شیلڈریک کے ایک اعلان کا ترجمہ مطبوعہ اخبار ”النجم لکھنؤ“ مورخہ ۲۸ ستمبر

۱۹۳۴ء)

اسکاٹ لینڈ کے مشہور نو مسلم سر عمر ہیوبرٹ اسٹوراث رینکین کے متعلق بعض احمدی اخبارات نے یہ خبر شائع کی تھی کہ ان کا احمدی جماعت سے تعلق ہے اور اپنے ایک پمفلٹ میں لاہوری جماعت نے سر عمر کی تصویر بھی شائع کی تھی....... چنانچہ آپ

صفحہ 940

نے اس خبر کی تردید میں ڈاکٹر خالد شیلڈر ریک کو ایک خط ہندوستان کے اخباروں میں شائع کرانے کو بھیجا ہے۔ جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

میرے عزیز اسلامی بھائی!

امید کہ آپ اپنے اخبار میں مجھے اس غلط بیانی کی تردید کرنے کا موقع دیں گے جو میرے متعلق احمدی اخبارات نے تمام ہندوستان میں پھیلائی ہے۔ مجھے حال ہی میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان کے بعض اخبارات نے میرے بارے میں یہ شائع کیا ہے کہ میں احمدی ہوں اور اس سلسلہ میں میرے فوٹو بھی شائع کیے جارہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے کسی احمدی اخبار کو اپنا فوٹو شائع کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس خبر کی کہ میں احمدی ہوں پر زور تردید کرتا ہوں۔ میں ہرگز احمدی نہیں ہوں۔ بلکہ میرا تعلق ایسٹرن اسلامک ایسوسی ایشن سے ہے۔ جس کا میں سینئر وائس پریذیڈنٹ بھی ہوں۔ آپ کا اسلامی بھائی عمر۔ ایچ اسٹوراٹ رینکن (”اخبار مدینہ“ مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۹۳۴ء)

(۲۵) ووکنگ مشن کی حقیقت

مجھے معلوم نہیں یہ غلط خیال ہندوستان میں کس طرح پھیل گیا کہ ووکنگ کی مسجد لاہوری احمدیوں کی تعمیر کردہ ہے۔ یہ مسجد سرکار بھوپال کے روپیہ سے تعمیر ہوئی تھی اور مسجد کے ساتھ رہائشی مکان سر سالار جنگ (حیدر آباد) کی یادگار ہے اور دونوں کی تعمیر ڈاکٹر لائٹز کے اہتمام میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر لائٹز۔ ایک جرمن عالم تھے جن کو اسلام سے بہت انس تھا اور بعض کا خیال ہے کہ وہ دل سے مسلمان تھے۔ ہندوستان میں سر رشتہ تعلیم میں کام کرتے تھے۔ پہلے انسپکٹر آف اسکولز اور پھر کچھ عرصہ کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار رہے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ولایت میں ہندوستان کا ایک نشان بھی قائم کردیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایک اورینٹل انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف مسجد تھی اور اس کے ساتھ ہندوؤں کے لئے ایک مندر بنوا دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے مندر کا حصہ فروخت کردیا۔ لیکن مسجد کا حصہ سید امیر علی مرحوم کے طفیل محفوظ رہ گیا اور سید امیر علی نے ہی خواجہ کمال الدین صاحب کو مسجد میں آباد کیا۔

صفحہ 941

(فضل کریم خاں صاحب درانی بی۔ اے لاہوری مشنری کا مضمون۔ مغرب میں تبلیغ مندرجہ رسالہ ”حقیقت اسلام لاہور“ بابت جنوری ۱۹۳۴ء)

(۴۶) روزمرہ زندگی

۱۹۲۰ء کے آغاز میں یورپ گیا اور ۱۹۲۸ء کے اواخر میں ہندوستان واپس آیا۔ تقریباً نو سال کا درمیانی عرصہ کچھ انگلستان کچھ غرب الہند کے ایک جزیرہ ٹرینڈاڈ اور کچھ ممالک متحدہ امریکہ میں گزرا اور آخری پونے چار سال جرمنی میں بسر ہوئے۔ سفر کی غرض تبلیغ اسلام تھی اور دو سالوں کے سوا باقی ساری مدت اس کام میں صرف ہوئی۔ میں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جو کچھ میرے ذاتی تجربہ میں آیا اس مضمون میں وہی کچھ بیان کروں گا۔

ووکنگ مشن کو ۱۹۲۰ء میں پہلے پہل میں نے دیکھا۔ اسی زمانہ میں اس کا انحطاط شروع ہوا اور انحطاط کی ابتدائی منزلیں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ خواجہ (کمال الدین صاحب) علالت کے باعث ہندوستان بیٹھے تھے۔ مولوی صدرالدین صاحب ان کی جگہ کام کرنے کو گئے۔ لیکن دس مہینہ کے بعد واپس آ گئے۔ ان کی جگہ مولوی مصطفیٰ خاں امام مسجد ووکنگ مقرر ہوئے۔ مصطفیٰ خاں نے مشن کو ایسے عمیق گڑھے میں پھینکا۔ جس سے وہ آج تک نکل نہیں سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کو نکالنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی:

مولوی مصطفیٰ خان کا طریق کار میں نے بہت اچھی طرح دیکھا۔ کیونکہ میں خود بھی مسجد ہی میں رہتا تھا مصطفیٰ خاں تبلیغ کے کام کے لئے نہایت غیر موزوں اور احساس فرض سے قطعاً بیگانہ شخص تھے۔ انگریزی آداب سے ناواقف تھے اور سیکھنے کے لئے کبھی کوشش بھی نہ کی۔ انگریزی میں گفتگو کرتے تھے۔ تو ایسا نظر آتا تھا کہ دماغ میں پہلے اردو فقرے بناتے ہیں۔ پھر اسی کا ترجمہ کرتے ہیں۔ پھر اس ترجمہ کو ایسی بلند آواز کے ساتھ ادا کرتے تھے جیسے اسکول کا طالب علم استاد کے کہنے پر ترجمہ کا فقرہ پڑھتا ہے۔ لیاقت کا تو یہ حال تھا لیکن اپنے آپ پر گھمنڈ اتنا تھا کہ لیکچر یا خطبہ کے لئے کبھی تیاری نہیں کرتے تھے۔ نتیجہ نہایت نامعقول بکواس ہوتی تھی جس پر نوجوان بعد میں قہقہے لگایا کرتے تھے۔

صفحہ 942

مولوی مصطفیٰ خاں صاحب بہت اولوالعزم انسان واقع ہوئے ہیں صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر آپ روزانہ ڈاک کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اس سے فارغ ہوئے تو تھوڑی دیر کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو گئے۔ دوپہر کا کھانا کھایا اور چار بجے تک پھر سو گئے۔ کبھی کبھی ٹینس کھیلنے کو جی چاہتا تو آرام کرسی پر لیٹ جاتے۔ ریکٹ ہاتھ میں لیتے اور فرماتے کہ گیند آہستہ آہستہ میری طرف پھینکو۔ اگر گیند اتفاقاً زور سے آتا اور دور نکل جاتا تو بیحد رنجیدہ ہوتے اور کھیلنا بند کر دیتے۔ جب ولایت تشریف لے گئے تو بہت دبلے پتلے تھے۔ واپس آئے تو اتنے موٹے ہو کر آئے کہ جھکنا مشکل تھا۔ قیام کے آخری دنوں میں بوٹ کے تسمے باندھنے کے لیے ایک نوکر رکھنا پڑا تھا۔ مصطفیٰ خاں صاحب کو اچھے اچھے کھانے‘ کھانے کا بہت شوق تھا اور ان کی بدولت ہم نے بھی کباب اور مرغ پلاؤ خوب ہی اڑائے۔ ہمارے لئے ہر روز عید تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ووگنگ مشن میں سوائے کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کے کام ہی کچھ نہ تھا۔ بڑے اہم افکار تھے حسابات کے دو پونڈ تفریح پر خرچ کر آئے ہیں۔ ان کو کس مد میں ڈالیں۔ چلو ڈال دو ڈاک خرچ میں۔ بارہ پونڈ کا سوٹ بنوا لیا ہے۔ اس کو کس مد میں ڈالیں۔ چلو ڈال دو خاطر تواضع میں۔ یہ مباحث روزمرہ کے معمول تھے۔

ٹرینیڈاڈ کا ایک مسلمان سوداگر سیر کے لئے انگلستان گیا اور ووگنگ مسجد میں قیام کیا کوئی دو ہفتہ وہاں ٹھہرے ہونگے۔ واپسی پر میں نے ان سے حالات پوچھے کہنے لگے ووگنگ مشن بیحد دولتمند معلوم ہوتا ہے۔ کھانا بیحد ضائع ہوتا ہے۔ جو کھانا میرے کنبے کے لئے (بہت دولتمند تاجر تھے اور کنبہ بڑا تھا) دو وقت کے لئے کافی ہو۔ وہ ایک وقت زائد بچتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے۔ مصطفیٰ خاں ہفتہ میں صرف ایک دفعہ پندرہ منٹ کے لئے منہ کھولتا ہے (یہ ان کے الفاظ ہیں۔ مراد تھی کہ تقریر کرتا ہے) اور ایسا اناپ شناپ بکتا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ سوداگر اور ان کا بھانجا دونوں اکٹھے گئے تھے۔ تبلیغ اسلام کا بہت جوش رکھتے تھے۔ واپس آئے تو بہت بد دل ہوئے اور بھانجا تو سرے سے تبلیغی مشنوں کا ہی مخالف ہو گیا۔ یہ تھا مصطفیٰ خاں کی مثال کا نتیجہ۔

مسجد کے علاوہ لندن شہر میں بھی ایک مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا۔ جو عموماً خالی رہتا تھا اور صرف اتوار اور جمعہ کے دن کام میں آتا تھا۔ نماز جمعہ یہیں ہوتی تھی۔ نماز جمعہ کا

صفحہ 943

وقت عموماً ایک بجے ہوتا ہے۔ بہت دیر ہوئی تو دو بج گئے۔ یورپ میں لوگ بے حد مصروف رہتے ہیں۔ شہر بہت بڑا ہے اور جمعہ کی نماز کے لئے پہنچنا بڑی قربانی چاہتا ہے۔ چند انگریز نو مسلم پھر بھی پہنچ ہی جاتے تھے اور اپنے ساتھ ایک آدھ دوست کو بھی لے آتے تھے۔ تاکہ اس کو تعلیمات اسلام سننے کا موقع ملے۔ لیکن مصطفیٰ خان صاحب کو سب سے زیادہ اپنے پیٹ کی فکر ہوتی تھی۔ ووکنگ میں اچھا باورچی تھا۔ اگر نماز جمعہ کے لئے بروقت پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو کھانا رہ جاتا ہے۔ اگر کھانے کے لئے ٹھہرتے ہیں تو نماز کو دیر ہو جاتی ہے ابتداء میں یہ دستور تھا کہ امام ہلکا سا کھانا کھا کر نماز جمعہ کے لئے لندن چلا آیا اور نماز سے فارغ ہو کر کسی ہوٹل میں کھانا کھا لیا یا وہیں مکان میں بنوا لیا۔ لیکن مصطفیٰ خاں کو اپنے اچھے باورچی کے پکائے ہوئے کھانے چھوڑنا بہت دشوار تھا۔ اس لئے آخر کار یہی فیصلہ ہوا کہ نماز رہتی ہے تو رہ جائے۔ لیکن کھانا نہ رہے۔

چنانچہ آپ نماز جمعہ کے لئے تین بجے آنے لگے لوگ ایک بجے سے انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے۔ آپ تین بجے پہنچتے تھے۔ پانچ چھ منٹ کا خطبہ دیا۔ جلد جلد نماز ادا کی اور چل دیئے۔ بعض اوقات فرماتے تھے۔ آج میری فلاں دوست مسٹر...... نے دعوت کی ہے۔ اس لئے میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا اور خطبہ مختصر کروں گا۔ غرض مسٹر...... کی ضیافت پر تبلیغ اسلام کے مقاصد اکثر قربان ہو جاتے تھے۔ انگریز جیسی فرض شناس قوم پر ان باتوں کا جو اثر ہو گا۔ قارئین اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ نو مسلم ایک ایک کر کے جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ مصطفیٰ خان نے قطعاً پروا نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مصطفیٰ خاں نے ووکنگ مشن کو بنیادوں سے ایسا ہلایا کہ پھر وہ اپنی پہلی حالت پر نہیں آسکا قوم کا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا اور اس کے صلہ میں قوم کا کام تباہ کر دیا۔

میرے متعلق یہ حکم تھا کہ خواجہ صاحب کی واپسی تک میں ووکنگ میں ٹھہروں۔ لیکن ووکنگ میں کوئی کام کرنے کو نہیں تھا۔ قطعاً بیکاری تھی۔ صبح سے شام تک کھانے پینے اور کھیلنے اور کودنے کے سوا اور کوئی کام نہیں تھا۔ اخراجات کی فراوانی اور اس کے عوض قطعاً بیکاری۔ یہ حالت دیکھ کر مجھے تو اپنے آپ سے شرم آنے لگی چنانچہ میں نے انجمن کو لکھا کہ یہاں کرنے کو کوئی کام نہیں بہتر ہے مجھے اجازت دی جائے میں ٹرینیڈاڈ چلا جاؤں۔ ادھر سے جواب بذریعہ تار آگیا اور میں ٹرینیڈاڈ روانہ ہو گیا۔

صفحہ 944

دو سال کے بعد یعنی ۱۹۲۲ء میں پھر مجھے لندن آنا پڑا اور دوکنگ مشن کے حالات بچشم خود دیکھے۔ اس وقت خواجہ صاحب بر سرکار تھے ماتحت عملہ بہت بڑا تھا۔ متعدد مبلغ بڑی بڑی تنخواہوں پر مقرر تھے۔ لیکن سب کے سب بیکار ہی تھے۔ کام کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ جو کچھ کام تھا وہ ایک دو آدمی بوجہ احسن انجام دے سکتے تھے۔ بظاہر اتنا بڑا عملہ محض دکھاوے کی غرض سے تھا۔ تاکہ چندے دینے والوں کو جو ہزاروں کوس کے فاصلے پر تھے عملے کے فوٹو دیکھ کر نظر آجائے کہ کام کس قدر زیادہ ہے۔ مشن کس قدر مصروف کار رہتا ہے اور اس کے اخراجات کے لئے کس قدر روپیہ کی ضرورت ہوگی پرانی محفل جو ایک دفعہ بکھر چکی تھی دوبارہ مجتمع نہ ہو سکی اور میرا خیال ہے کہ اس کو دوبارہ جمع کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔

اس کے چھ سال بعد ۱۹۲۸ء میں پھر لندن گیا۔ لندن مسلم ہاؤس کے قریب ہی میں نے اقامت اختیار کی تھی۔ اس لیے ایک اتوار کے دن وہاں بھی جا نکلا۔ تاکہ دیکھوں کہ اب مشن کی کیا حالت ہے۔ دوکنگ مشن ۱۹۲۵ء سے مسٹر عبدالمجید کے چارج میں ہے اور وہ اب بھی مسجد کے امام ہیں۔ میں پہنچا تو مسٹر عبدالمجید کا لیکچر جاری تھا۔ پہلے تو ان کی صورت دیکھ کر تعجب ہوا مجھ سے کوئی تین چار برس چھوٹے ہیں۔ لڑکپن میں بہت حسین معلوم ہوتے تھے اور ماشاء اللہ بدن بہت اچھا تھا۔ اب جو دیکھا تو ایک معمر بزرگ نظر آئے۔ ایسے نحیف کہ نقاہت کے باعث جھکے جاتے تھے۔ میں حیران تھا کہ انگلستان کی آب و ہوا میں جہاں سوکھے بھی ہرے ہو جاتے ہیں۔ ان کو کیا بنی۔ آپ مجرد ہیں۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس کے قریب پہنچ رہی ہوگی۔ لیکن شادی ابھی تک نہیں کی۔

میں بھی ان کا لیکچر سننے بیٹھ گیا۔ حاضرین کا شمار کیا۔ حضرت واعظ اور میرے سمیت سولہ آدمی تھے دو انگریز مرد اور دو انگریز عورتیں تھیں۔ باقی سب ہمارے ہندوستانی یا ہندوستان سے گئے ہوئے جنوبی افریقہ کے رہنے والے تھے۔ انگریز نہایت رذیل طبقہ کے تھے۔ ان میں سے ایک ان کا نوکر تھا۔ عورتیں کمترین طبقہ کی معلوم ہوتی تھیں۔ بہت بوڑھی تھیں اور لیکچر کے دوران میں بڑے آرام سے سو رہی تھیں۔ چوتھا انگریز اپنے ایک ہندوستانی دوست کے ساتھ اخبار بینی میں مصروف تھا۔ امام صاحب سہج‘ سہج بولنے والے آدمی ہیں۔ ایک‘ ایک منٹ بعد ایک‘ ایک لفظ ان کے منھ سے نکلتا تھا۔ اور آواز

صفحہ 945

ایسی تھی گویا کسی عمیق لحد سے آ رہی ہے۔

(فضل کریم خاں صاحب درانی بی۔اے کا مضمون مغرب میں تبلیغ اسلام مندرجہ رسالہ

”حقیقت اسلام لاہور“ بابت جنوری ۱۹۳۴ء)

عجب اتفاق کہ حال میں لندن سے ایک خط مورخہ ۵ر جولائی ۱۹۳۴ء وصول ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ معزز ترک نے یہ خط بھیجا ہے۔ اس میں منجملہ دیگر حالات کے ووکنگ کی مسجد کا بھی ذکر آ گیا ہے۔ اصل خط انگریزی میں لکھا ہے۔ متعلقہ حصہ کا ترجمہ ذیل میں درج ہے تازہ ترین مشاہدہ ملاحظہ ہو۔

ایک بات یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ گذشتہ جمعہ کو میں ووکنگ گیا تھا۔ جہاں مسجد واقع ہے لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ امام صاحب کے رہنے کا جو مکان ہے وہ خاصا وسیع ہے۔ اس میں باغیچہ بھی لگا ہوا ہے۔ لیکن خود مسجد میں بمشکل پچاس نمازیوں کی گنجائش نظر آتی ہے۔ شاہراہ سے جو چھوٹی سڑک مسجد کو گئی ہے۔ اس کی حالت بھی خراب ہے۔ شکستہ گرد آلود۔ بے داشت۔ کیسے افسوس کی بات ہے۔ اس سے نہ صرف ہندوستانی بلکہ تمام مسلمانوں کے نام کو بٹہ لگتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ شاق گزرا کہ مسجد خالی سون سان پڑی تھی نہ امام نہ موذن نہ کوئی مصلیٰ۔ حالانکہ نماز کا وقت آچکا تھا۔ اور احتیاطاً میں ذرا پہلے پہنچ گیا تھا کہ کہیں نماز ہاتھ سے نہ جائے۔ جب مسجد میں کوئی نظر نہیں آیا تو میں امام صاحب کے مکان پر پہنچا جو بالکل قریب واقع ہے۔

وہاں لوگ تو ضرور موجود تھے۔ کیونکہ اس وقت ریڈیو پر گانا چل رہا تھا۔ لیکن دروازہ پر کچھ انتظار کیا تو اندر سے ایک نو عمر طالب علم آیا اور تعجب یہ کہ پان چبا رہا تھا۔ میں نے کہا السلام علیکم۔ لیکن وہ حیران ہو کر منہ تکنے لگا۔ اسلامی اخلاق کے مطابق اتنا بھی نہ کہا کہ آئیے۔ تشریف لائیے۔ بلکہ وہیں کھڑے کھڑے جواب دے کر مجھے رخصت کر دیا اور دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ اس نے کہا کہ امام صاحب لندن گئے ہیں وہیں نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ مسجد لندن سے دور بہت ہے۔ لوگوں کو آنے میں دقت ہوتی ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ صورت ہے تو پھر یہاں مسجد بنانے سے کیا فائدہ۔ دوسری غیر اسلامی بات جو نظر آئی وہ یہ کہ مسجد میں کرسیاں جمی ہوئی تھیں اور ایک کتاب پڑی تھی

صفحہ 946

کہ جو کوئی آئے اس میں اپنا نام لکھ جائے۔ مسجد میں کرسیاں۔ خیال تو کیجئے اگر یہ صورت ترکی میں کسی مسجد میں نظر آتی۔ تو تمام دنیا کے مسلمان کیا کچھ نہ کہتے۔ پھر یہ دیکھ کر بھی تعجب ہوا کہ وضو کے واسطے پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ حتی کہ مسجد کے صحن میں جو مختصر حوض ہے وہ بھی خشک پڑا تھا۔ بلکہ اس کی حالت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں بہت کم پانی رہتا ہے۔

جمعہ کا دن اور نماز ندارد۔ مسجد دیکھو تو گرد آلودہ۔ ویران۔ اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی کیا بد نمائی ہوگی۔ کتاب کھول کر دیکھی تو کثرت سے یورپین لوگوں کے دستخط تھے۔ جو سیروسیاحت کی غرض سے پھرتے رہتے ہیں۔ جب یہ حال ہو کہ جمعہ کو بھی کوئی وہاں نہ آئے تو پھر کیا حاصل اور وہاں اسلام کی کیا تبلیغ ہو سکتی ہے۔

(ترجمہ انگریزی خط جو لندن سے وصول ہوا)

(اوپر جو کچھ حالات بطور نمونہ درج ہوئے۔ وہ ووکنگ مشن کی روز مرہ زندگی کا نقشہ ہیں ورنہ خاص، خاص تقاریب کے موقع پر جب کہ نامی گرامی مسلمان تشریف لاتے ہیں۔ ایسا شاندار انتظام ہوتا ہے۔ کہ صرف جلسوں کے فوٹو دیکھ کر اور اخبارات میں رپورٹ پڑھ کر مسلمان خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ کیا کام ہو رہا ہے۔ کیا نام ہو رہا ہے۔ چندہ کی جو اپیلیں شائع ہوتی ہیں ان میں بھی بہت دلفریب سبز باغ نظر آتے ہیں۔ لیکن بالآخر اصلی حالات بھی کھل جاتے ہیں۔ گرچہ متعلقین بہت جھنجلاتے ہیں۔ مخبروں کو جھٹلاتے ہیں۔ للمولف)

(۲۷) دو اتوار

دو دفعہ دو اتوار میں ووکنگ مولوی صدر الدین (صاحب قادیانی لاہوری) کے زمانہ میں جاچکا ہوں کوئی سنجیدہ مرد یا عورت میں نے نہیں دیکھے ہاں بیس پچیس لڑکیوں کا مجمع چائے پر ضرور موجود تھا۔ جن میں سے دو ایک مولوی صاحب کی بغل میں بیٹھی ہوئی تھیں ایک سوٹی سے مولوی صاحب کی پگڑی کو اچھال رہی تھی۔ دوسری مولوی صاحب کی آنکھوں کو بند کر رہی تھی اور باقی ہندوستانی لڑکوں کے ساتھ پھر رہی تھیں۔ ان کو اگر نومسلموں میں شمار کیا جاتا ہے تو میں کہوں گا۔ اس کامیابی سے بہتر تو ناکامی ہے۔ مجھے

صفحہ 947

ووگنگ کی ایسی خرابیوں کا تفصیلاً علم ہے۔ جن کو ایک شریف انسان تحریر میں نہیں لاسکتا۔

(مکتوب عبدالرحیم خان صاحب خلف نواب محمد علی خان صاحب قادیانی رئیس مالیرکوٹلہ

مندرجہ اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۸، نمبر ۳۳، مورخہ یکم نومبر ۱۹۲۰ء)

(۲۸) حرام خوریاں

مولانا! (محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور) آپ سے تو آپ کے احباب نے ضرور ان حرام خوریوں کا ذکر کیا ہوگا۔ جو ولایت میں دانستہ اور نادانستہ وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ میرے ایک بہت معزز غیر احمدی دوست نے بیان کیا کہ میں ولایت میں ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا۔ جو وہیں ایک بھاری بھرکم لاہور کے رہنے والے لیکچرار اور پریچر بھی تشریف لائے اور کھانے میں مصروف ہوگئے۔ کھانے کے دوران میں انہوں نے ہوٹل والے سے فرمایا کہ کل والی چیز لاؤ وہ بہت مزیدار تھی۔ اس پر اس نے ایک قسم کا گوشت لا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ جسے انہوں نے خوب لطف لے لے کر کھایا۔ جب وہ تناول فرما کر تشریف لے گئے تو میں بصد شوق ہوٹل والے سے پوچھا کہ وہ کیسا گوشت تھا۔ جو مسٹر پال نے تم سے منگوا کر کھایا تھا۔ ہوٹل والے بیچارے نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ فائی نسٹ بیکن (یعنی نہایت نفیس سور کا گوشت)

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۲، نمبر ۱۸، ص ۴، مورخہ ۲۱؍ اگست ۱۹۲۴ء)

(۲۹) قائم مقام

گزشتہ ایام میں چند ان لوگوں نے جو اپنی بدقسمتی سے سلسلہ احمدیہ اور مرکز سلسلہ سے اپنا قطع تعلق کر کے لاہور میں اڈا جمائے بیٹھے اور غیر مبایعین (لاہوری جماعت) کے نام سے مشہور ہیں بحضور جناب وائسرائے ہند بالقابہ و صاحب وزیر ہند بہادر بالقابہ ایڈریس پیش کرتے ہوئے اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کا قائم مقام قرار دیا تھا۔ جو بالکل غلط اور محض دھوکہ تھا اس کے خلاف صدر انجمن احمدیہ کی ان شاخوں نے جو ہندوستان کے تمام حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

ریزولیشن پاس کر کے حضور وائسرائے ہند بالقابہ کی خدمت میں بھیجے اور اردو

صفحہ 948

انگریزی اخبارات میں بھی شائع کرائے تاکہ غیر مبایعین (لاہوری جماعت) نے جو جماعت احمدیہ کا قائم مقام ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس کی پرزور تردید کی جائے۔ اس پر غیر مبایعین نے اپنی غلط بیانی اور دھوکہ دہی کا راز افشا ہوتا دیکھ کر ۲۳؍ دسمبر ۱۹۱۷ء کے ”پیغام صلح“ میں لکھ دیا۔

ہم نے کب کہا تھا کہ ہماری انجمن محمودی خیالات کی ترجمان ہے۔

(اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۵، نمبر ۶۶، مورخہ ۱۶؍ فروری ۱۹۱۸ء)

(۳۰) گورنمنٹ کی جاسوسی

پچھلے دنوں غیر مبایعین (لاہوری جماعت) کے آرگن پیغام صلح میں ان کے چھوٹے بڑوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف یہ طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا کہ جماعت قادیان گورنمنٹ کی جاسوس ہے اور کار خاص پر لگی ہوئی ہے۔ اس بے بنیاد اتہام کے متعلق ہماری طرف سے نہایت کھلے اور واضح الفاظ میں چیلنج دیا گیا اور بار بار ثبوت طلب کیا گیا۔ مگر وہ کوئی بات پیش نہ کرسکے اور پیش کرتے بھی وہ کیا جب کہ سوائے جھوٹ کے ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں۔

اس افترا پردازی سے دراصل ان کی غرض یہ تھی کہ جن افعال کے وہ خود مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر دوسری طرف پھیر دیں اور خود اپنے کارہائے خاص کے صلہ میں حکومت کے انعام و اکرام سے مستفید ہوتے رہیں۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے چوری اور اس پر سینہ زوری زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی اور اب کسی کے لئے یہ سمجھنے میں کچھ بھی مشکل باقی نہیں رہی کہ جماعت احمدیہ پر جاسوسی اور گورنمنٹ کے لئے کار خاص کا الزام لگانے والے دراصل خود ان افعال کے مرتکب ہیں اور آج جن (۴۱) مربعہ زمین کو وہ بڑے فخر کے ساتھ اپنی انجمن کی جائیداد قرار دے رہے ہیں وہ کارہائے خاص کا ہی صلہ ہے۔

کیا عجیب بات نہیں کہ بقول غیر مبایعین گورنمنٹ کے لئے کار خاص اور جاسوسی کے مرتکب تو جماعت احمدیہ کے افراد ہوں۔ لیکن گورنمنٹ انعام دیتے وقت انہیں قطعاً بھول جائے اور اپنا دست کرم غیر مبایعین کی طرف دراز کر دے۔ پھر غیر مبایعین بھی

صفحہ 949

اس انعام پر پھولے نہ سمائیں۔ اگر یہ ان خاص خدمات کا صلہ نہیں۔ جن کا اظہار غیر مبایعین نے آج تک کبھی نہیں کیا اور جن کی وجہ سے وہ حکام سے خاص تعلقات پیدا کر کے اتنا بڑا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو بتایا جائے وہ اور کونسی خدمات ہیں جن کے معاوضہ میں انہیں اتنے مرتبے حاصل ہوئے ہیں۔

(اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۱۸‘ نمبر ۷۶‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۳۰ء)

(۳۱) کمینگی

در اصل مولوی محمد علی صاحب کی اس قدر خفگی اور برہمی کی وجہ ان ہی کے الفاظ میں یہ ہے کہ ”الفضل“ نے ”میری بیوی پر جاسوسی کا اتہام باندھا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ایک پردہ نشین خاتون پر جاسوسی کا الزام کوئی کم ناپاک الزام نہیں...... اور پھر نہ خود میاں (محمود احمد) صاحب کو میرے لئے اتنی غیرت پیدا ہوئی کہ اس کمینہ تحریر پر دو حرف ہی اسے کہتے۔ نہ جماعت میں سے کوئی شخص بولا۔“

(اخبار ”پیغام صلح“ مورخہ ۳؍ مارچ ۱۹۳۱ء)

مولوی محمد علی صاحب یقیناً اس امر سے انکار نہیں کرسکتے کہ اگر پردہ نشین خاتون پر جاسوسی کا الزام لگانا ناپاک فعل ہے جو کمینگی کی حد میں آتا ہے تو پردہ نشین خواتین کی عصمت و عفت پر حرف دھرنا یقیناً بد ترین قسم کی کمینگی ہے۔ مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ لوگ جن کے امیر ہونے کا مولوی صاحب کو دعویٰ ہے۔ ان پست فطرت اور بدباطن لوگوں کی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کی مقدس و مطہر خواتین پر طرح طرح کے ناپاک کمینہ بہتان باندھے اور ناپاک حملے کیے نہ صرف بالواسطہ بلکہ براہ راست امداد کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خود مولوی (محمد علی) صاحب ان کو صلاح ومشورے دیتے رہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۱۸‘ نمبر ۱۰۹‘ مورخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۳۱ء)

(۳۲) ناگفتنی

اے ظالمو (لاہوری فریق) تمہارے دل کیوں اس قدر سیاہ اور کیوں اتنے

صفحہ 950

تاریک ہوگئے کہ تم معمولی باتوں میں بھی امتیاز نہیں کرسکتے۔ اے محسن کشو تم کیوں اتنے پتھر دل اور سرد مہر ہوگئے ہو کہ جس انسان کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرتے ہو جس سے روحانی زندگی پانے کا دعویٰ رکھتے ہو اس کے دل سے نکلی ہوئی اور قبول شدہ دعاؤں سے پیدا ہونے والے وجود (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) کے متعلق ناگفتی الفاظ استعمال کرتے ہو۔ قریب ہے کہ اس جفاکاری کے بدلے تم خدا کے عذاب میں مبتلا ہو جاؤ اور جو جھوٹے الزام تم حضرت مسیح موعود کی پاک اولاد پر لگا رہے ہو۔ وہ تم پر اور تمہاری اولاد پر سچ ہو کر لگیں ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تمہاری اولادوں کی پہلے ہی کیا حالت ہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ۱۲‘ نمبر ۸‘ ص ۵‘ مورخہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۲۴ء)

(۳۳) سنڈاس کی بو

خود جناب میاں محمود احمد صاحب نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ۔ دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس پر پڑے ہوئے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“

لاہور جلد ۲۲‘ نمبر ۳۳‘ ص ۷‘ مورخہ ۳؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۳۳۔ الف) بدزبانی کی شکایت (ج)

مولوی محمد علی صاحب (لاہوری) کا خطبہ جمعہ ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۳۵ء ہمارے سامنے ہے۔ یہ خطبہ بھی حسب معمول جماعت احمدیہ اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلاف الزامات اور گالیوں سے پر ہے۔ جناب مولوی صاحب کی گالیوں کی شکایت کہاں تک کی جائے ان کا جوش غیض و غضب ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آتا۔ ہم ان کی گالیاں سنتے سنتے تھک گئے ہیں مگر وہ گالیاں دیتے‘ دیتے نہیں تھکتے۔ ہر خطبہ گذشتہ خطبہ سے زیادہ تلخ اور طعن آمیز ہوتا ہے۔ بدگوئی اور بدزبانی اب جناب مولوی صاحب کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ کوئی بات طعن و تشنیع اور گالی گلوچ کی آمیزش کے سوا کر ہی نہیں

صفحہ 951

کرسکتے۔ (لیکن گالی گلوچ کی بوچھاڑ تو دونوں قادیانی جماعتوں کی عادت ہے۔ کبھی ایک سبقت لے جاتی ہے کبھی دوسری۔ اس فن کی بنیاد خود مرزا قادیانی صاحب کی کتابوں میں رکھی گئی ہے۔ پس اتباع لازم ہے۔۔۔ للمولف برقی)

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان ج ۳۳‘ نمبر ۷۲‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۲؍ نومبر

۱۹۴۵ء)

(۳۴) آپس کی باتیں

فاروق جناب خلیفہ قادیان کے ایک خاص مرید کا اخبار ہے۔ جناب خلیفہ صاحب کئی مرتبہ اس کی خدمات کے پیش نظر اس کی توسیع اشاعت کی تحریک فرما چکے ہیں۔ سوقیانہ تحریریں شائع کرنے اور گالیاں دینے کے لحاظ سے اس اخبار کو قادیانی پریس میں بہت اونچا درجہ حاصل ہے۔ جماعت لاہور اور اس کے اکابر کو گالیاں دینا اس اخبار کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ اس کی ۲۸؍ فروری ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں ہمارے خلاف چند مضامین شائع ہوئے ہیں ان میں بے شمار گالیاں دی گئی ہیں۔ جن میں سے چند بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں (اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۱؍ مارچ ۱۹۳۵ء (۱) لاہوری اصحاب الفیل (۲) اہل پیغام کی یہودیانہ قلابازیاں (۳) ظلمت کے فرزند اور زہریلے سانپ (۴) لاہوری اصحاب الاخدود (۵) خباثت اور شرارت اور رذالت کا مظاہرہ (۶) دشمنان سلسلہ کی بھڑکی ہوئی آگ میں یہ پیامی (لاہوری فریق عباد الدنیا وقودالنار بن گئے (۷) نہایت ہی کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل فطرت والا اور احمق سے احمق انسان (۸) اصحاب اخدود پیامی (۹) دوغلے اور تیرہ دروں تیرہ بروں عقاید (۱۰) بدلگام پیامیو (۱۱) حرکات دنیہ اور افعال شنیعہ (۱۲) محسن کشانہ اور غدارانہ اور نمک حرامانہ حرکات (۱۳) دو رخے سانپ کی کھوپری کچلنے (۱۴) تم نے اپنے فریب کارانہ پوسٹر میں...... تک ! کمبخت اور اشتعال کا زور لگا لیا (۱۵) فوراً کپڑے پھاڑ کر بالکل عریانی پر کمر باندھ لی (۱۶) ایسی کھجلی اٹھی تھی (۱۷) رذیل اور احمقانہ فعل (۱۸) کبوتر نما جانور (۱۹) احمدیہ بلڈنگ (لاہوری جماعت کے مرکز) کے؟ کرمک (۲۰) اے سڑے بھسڑے بڈھے کھوسٹ (۲۱) اے بدلگام تہذیب و متانت کے اجارہ دار پیامیو

صفحہ 952

(فریق لاہور) (۲۲) برخوردار پیامیو (۲۳) جیسا منہ ویسی چپیڑ (۲۴) کوئی آلو۔ ترکاری یا لہسن پیاز بیچنے والے والا نہیں (۲۵) جھوٹ بول کر اور دھوکے دے کر اور فریب کارانہ بھیگی بلی بن کر (۲۶) لہسن پیاز اور گوبھی ترکاری کا بھاؤ معلوم ہو جاتا (۲۷) آخرت کی لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر لگے (۲۸) اگر شرم ہو تو وہیں....... چلو بھر پانی لے کر ڈبکی لگالو (۲۹) یہ کسی قدر جاہلیت اور خباثت اور کمینگی (۳۰) علی بابا اور چالیس چور بھی اپنی مٹھی بھر جماعت لے کر بلوں میں سے نکل آئے ہیں (۳۱) بھلا کوئی ان پیامی ایروں غیروں سے اتنا تو پوچھے (۳۲) سادہ لوح پیامی نادان دشمن (۳۳) پیامیو عقل کے ناخن لو (۳۴) نامعقول ترین اور مجہول ترین تجویز (۳۵) سادہ لوح اور احمق (۳۶) اے سادہ لوح یا ابلہ فریب امیر پیغام (۳۷) پیغام بلڈنگ کے اڑھائی ٹوٹڑ (۳۸) احمق اور عقل و شرافت سے عاری اور خالی (۳۹) اہل پیغام (لاہوری فریق) نے جس عیاری اور مکاری اور فریب کاری سے اپنے دجل بھرے پوسٹروں میں (۴۰) چاپلوسی اور پابوسی کا مظاہرہ (۴۱) اہل پیغام کے دو تازہ گندے پوسٹر

(منقول از اخبار ”فاروق“ قادیان‘ پیامی نمبر مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۳۵ء)

صفحہ 953

فصل اٹھارہویں

دعوؤں کا داخلی نقشہ

جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی علمی اور مذہبی زندگی باقاعدہ طور پر ۱۸۸۰ء میں شروع ہوئی جب کہ مرزا صاحب نے اپنی سب سے پہلی مشہور تصنیف ”براہین احمدیہ“ لکھنی شروع کی۔ اس کے بعد مرزا صاحب نے ستائیس سال کے دوران میں بہت کچھ لکھا جس کا ضروری خلاصہ اس کتاب میں مناسب ترتیب سے پیش کیا گیا‘ لیکن مرزا صاحب کی آخری تصنیف بھی براہین احمدیہ حصہ پنجم رہی جو مرزا صاحب کی وفات کے چار ماہ بعد اکتوبر ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔

براہین احمدیہ کے پہلے چار حصے مسلسل ۱۸۸۰ء لغایۃ ۱۸۸۴ء شائع ہوگئے اور پانچواں حصہ تئیس سال بعد ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا‘ پہلے اور چوتھے اور پانچویں حصہ میں مرزا صاحب نے جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے ان سے مرزا صاحب کے نفسیاتی ارتقا کا دلچسپ نقشہ پیش نظر ہوجاتا ہے‘ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ اول کی ابتدا میں التماس ضروری کے تحت مرزا صاحب کی تحریک ملاحظہ ہو۔

”اب میں اس جگہ بخدمت عالی دیگر امرا اور اکابر کے بھی کہ جن کو اب تک اس کتاب سے کچھ اطلاع نہیں اس قدر گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اگر اشاعت اس کتاب کی غرض سے کچھ مدد فرمادیں گے تو ان کی ادنیٰ توجہ سے پھیلنا اور شائع ہونا اس کتاب کا جو دلی مقصد اور قلبی تمنا ہے نہایت آسانی سے ظہور میں آجائے گا۔“

”اے بزرگان و چراغان اسلام آپ سب صاحب خوب جانتے ہوں گے کہ آج کل اشاعت دلائل حقیقت اسلام کی نہایت ضرورت ہے..... جس قدر ان دنوں میں لوگوں کے عقائد میں برہمی ہو رہی ہے اور خیالات اکثر طبائع کے حالت خرابی اور ابتری

صفحہ 954

میں پڑے ہوئے ہیں کسی پر پوشیدہ نہ ہوگا۔“

”کیا کیا رائیں ہیں جو نکل رہی ہیں۔ کیا کیا ہوائیں ہیں جو چل رہی ہیں۔ کیا کیا بخارات ہیں جو اٹھ رہے ہیں۔.... اور جو جو فساد طبائع میں واقع ہو رہے ہیں اور جس طرح پر لوگ باعث اغوا اور ضلال اور وسوسہ اندازوں کے بگڑتے جاتے ہیں آپ پر پوشیدہ نہ ہوگا۔.... پس ایسے وقت میں دلائل ”حقیقت اسلام“ کی اشاعت میں بدل مشغول رہنا حقیقت میں اپنی ہی اولاد اور اپنی ہی نسل پر رحم کرنا ہے۔“

(”براہین احمدیہ“ چہار حصص، ص ب، ”روحانی خزائن“ ص ۶ تا ۸، ج۱)

براہین احمدیہ حصہ اول میں مرزا صاحب کے جو خیالات تھے وہ اوپر درج ہوئے۔ گویا مقصد فتنہ کا انسداد تھا کہ تازہ فتنہ کھڑا ہو جائے گا، چنانچہ حصہ چہارم کے ختم تک خیالات نے جو پلٹا کھایا اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ عاقل را اشارہ کافی است

”بعض صاحبوں نے اس کتاب کو محض خرید و فروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول دیا اور صدق اور ارادت کو ان کے دلوں میں قائم کر دیا ہے لیکن موخر الذکر ہنوز وہی لوگ ہیں کہ جو استطاعت مالی بہت کم رکھتے ہیں اور سنت اللہ اپنے پاک نبیوں سے بھی یہی کہہ رہی ہے کہ اول اول ضعفا و مساکین ہی رجوع کرتے رہے ہیں۔“

(”براہین احمدیہ“ حصہ چہارم آخری اشتہار بعنوان ”ہم اور ہماری کتاب“۔ ”روحانی

خزائن“ ص ۲۷۳، ج۱)

حصہ پنجم میں منشاء کھل گیا چنانچہ ملاحظہ ہو:

”بالاخر یہ بھی یاد رہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ (پنجم) کے چھاپنے میں تئیس برس تک التوا رہا یہ التوا بے معنی اور فضول نہ تھا بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اس وقت تک حصہ پنجم دنیا میں شائع نہ ہو جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیش گوئیاں ہیں کیوں کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصے عظیم الشان پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کا عظیم الشان مقصد یہی تھا کہ وہ موعودہ پیش گوئیاں ظہور میں آجائیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ ص ۷ روحانی خزائن ص ۸-۹ ج ۲۱)

صفحہ 955

”براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے جو شائع ہو چکے تھے وہ ایسے امور پر مشتمل تھے کہ جب تک وہ امور ظہور میں نہ آجاتے تب تک براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کے دلائل مخفی اور مستور رہتے اور ضرور تھا کہ براہین احمدیہ کا لکھنا اس وقت تک ملتوی رہے جب تک کہ اضداد زمانہ سے وہ سربستہ امور کھل جائیں اور جو دلائل ان حصوں میں درج ہیں وہ ظاہر ہو جائیں، کیونکہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصوں میں جو خدا کا کلام یعنی اس کا الہام جابجا مستور ہے جو اس عاجز پر ہوا وہ اس بات کا محتاج تھا کہ اس کی تشریح کی جائے اور نیز اس بات کا محتاج تھا کہ جو پیش گوئیاں اس میں درج ہیں۔ ان کی سچائی لوگوں پر ظاہر ہو جائے، پس اس لیے خدائے علیم و حکیم نے اس وقت تک براہین احمدیہ کا چھپنا ملتوی رکھا کہ جب تک وہ تمام پیش گوئیاں ظہور میں آگئیں۔“

(دیباچہ ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص ۲، ”روحانی خزائن“ ص ۳، ج ۲۱، مصنفہ مرزا غلام

احمد قادیانی صاحب)

مرزا صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بھید شروع میں کسی پر نہ کھلا اور یہ رمز کسی کی سمجھ میں نہیں آیا اور اسی دھوکہ میں ابتداً لوگ مؤید اور معتقد ہو گئے چنانچہ ملاحظہ ہو۔

پیچ میں پھنس گئے

”اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جبکہ علما مخالف ہو گئے تھے تو وہ لوگ ہزارہا اعتراض کرتے لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کیے گئے جب کہ یہ علما میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا، کیونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہیں الہامات سے پڑی ہے اور انہیں میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کر دیں اگر علما کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔

(اربعین نمبر ۲ صفحہ ۲۱ روحانی خزائن ص ۳۶۹ ج ۱۷ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

صفحہ 956

مرزا صاحب کی کتابوں کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ صاحب موصوف نے ایسے ابہام سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور بہت سے نیک خیال لوگ اسی طرح بیچ میں پھنس گئے اور بعد کو بیچ سے نکل کر تائب ہوئے۔ اکثر دیندار موئیدین کو یہی صورت پیش آئی لیکن قدم جم جانے کے بعد مرزا صاحب نے صاف ظاہر فرما دیا کہ:

”بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے بلکہ صریح معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طرف سے وحی کے دعویٰ پر تکفیر کا انعام ملے گا۔“

(براہین حصہ پنجم ص ۵۴ روحانی خزائن ص ۶۸-۶۷ ج۲۱)

”میری دعوت کے مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“

(”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ۵۳، ”روحانی خزائن“ ص ۶۸، حاشیہ ج ۲۱، مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

غرض کہ ابتدا میں خود مرزا صاحب کو اندیشہ تھا کہ ان کا دعویٰ چل نہ سکے گا۔ اسی خوف سے کچھ عرصے اشارہ و ابہام سے کام لیا لیکن بتدریج جب کام چل نکلا تو زبان اور قلم بھی چل نکلے اور چلے تو خوب چلے، حد کر دی، کتابیں شاہد ہیں۔

(۲) تین دور

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی علمی اور مذہبی زندگی کے تین نمایاں دور نظر آتے ہیں پہلا دور وہ امت محمدی کے مبلغ کی حیثیت سے ۱۸۸۰ء میں شروع کرتے ہیں جب کہ براہین احمدیہ کے سلسلہ میں وہ اپنی دینی خدمت گزاری کا اعلان کرتے ہیں لیکن خیالات میں ترقی کرتے کرتے دس سال کے بعد ۱۸۹۱ء میں وہ مسیح موعود ہونے کا باضابطہ اعلان کرتے ہیں اور یہاں سے دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح مزید ترقی کرتے کرتے دس سال ۱۹۰۱ء میں وہ باقاعدہ نبی کے مرتبہ کو پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ جو آٹھ سال میں ترقی کرتے کرتے نبوت کے انتہائی مقام تک پہنچ جاتا

صفحہ 957

ہے۔ قادیانی صاحبان بالعموم صرف آخری دو دور پر زور دیتے ہیں لیکن فی الجملہ پہلا دور بھی بنظر تکمیل قابل شمار ہے۔ پہلے دور کے اختتام اور دوسرے کے آغاز کا مرزا صاحب خود یوں اعلان فرماتے ہیں۔

”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارے میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ۷ روحانی خزائن ص ۱۱۴ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

تیسرا دور جس میں مرزا صاحب بخیر و خوبی نبی بن جاتے ہیں۔ اس کی تصریح مرزا صاحب کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان یوں فرماتے ہیں:

”غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ۱۸۹۹ء سے شروع ہوئی اور ۲۵ر اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور یہ کہ آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ہے لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت کے فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے نبوت ملی پس ۱۹۰۲ء سے پہلے کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا۔“

(القول الفصل ص ۲۴ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

بعد کو پتہ چلا کہ ۱۹۰۱ء ہی میں مرزا صاحب کی نبوت کا دور شروع ہو چکا تھا۔ چنانچہ پھر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان تصحیح فرماتے ہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد

صفحہ 958

فاصل ہے۔۔۔۔۔ یہ ثابت ہے کہ 1901ء کے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

(حقیقتہ النبوۃ ص 121 مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

حاصل کلام یہ کہ مرزا صاحب کی مذہبی زندگی کے تین مستقل دور ہیں۔ پہلے دور میں ہمدرد اسلام، دیندار مسلمان، دوسرے میں مہدی موعود اور مسیح موعود اور تیسرے میں کھلم کھلا نبی اور رسول اللہ، تاہم مرزا صاحب کی تحریرات میں دور کی پوری پابندی نہیں رہتی، بلکہ ایک دور میں دوسرے دور کی باتیں بھی قلم سے نکل جاتی ہیں، حتیٰ کہ کہیں کہیں دور سوم میں دور اول کی باتیں نظر آتی ہیں۔ غرض کہ مرزا صاحب کے اقوال میں ترتیب زمانی کا کوئی کامل لزوم نہیں ہے اور ہونا دشوار بھی تھا، مختلف مواقع پیش آتے تھے اور بات موقع کے مطابق کہی جاتی تھی تاہم اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ہر دور کی تحریرات کا عام رجحان وہی ہے جو اس دور کے مناسب ہے۔ اس لیے جیسا کہ قادیانی صاحبان بالخصوص لاہوری جماعت کا دستور ہے۔ دو چار اختلافی حوالے پیش کرنے سے کسی دور کے عام رجحان اور مجموعی لٹریچر کا بطلان نہیں ہو سکتا۔

واضح ہو کہ پہلے دور سے دوسرے دور تک مرزا صاحب کو صرف چار منازل پیش آئے یعنی اول حضرت مسیح سے ایک فطری مناسبت محسوس ہوئی۔ اس کے بعد مرزا صاحب مثیل مسیح بنے پھر مریم بنے، پھر ابن مریم بن کر مسیح موعود ہو گئے لیکن تیسرے دور تک پہنچنے میں بہت مراحل طے کرنے پڑے، یعنی ولایت، مجددیت، محدثیت، لغوی نبوت، اعزازی نبوت، اصطلاحی نبوت، جزوی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، امتی نبوت، بالآخر خالص نبوت کہ اس کی وحی قرآن کریم کے مساوی اور ہم پلہ قرار پائے پھر مکمل نبوت کہ اس کے بغیر نبوت محمدی ناقص رہ جائے اور لازمی نبوت کہ انکار یا تردد سے ہر مسلمان کافر بن جائے بلکہ تمام ناواقف اور بے خبر مسلمان بھی اس کی برکت سے خود بخود کافر ہو جائیں۔ ختم نبوت کی کیسی انوکھی تفسیر اور ارتقا نبوت کی کیسی صاف تصویر ہے۔

تیسرے مقام پر فضائل کا کیا کہنا، اولیا تو کجا انبیا بھی نظر میں نہیں آتے اور خاص کر عیسیٰ علیہ السلام جو مد مقابل واقع ہوئے ہیں۔ بے حقیقت قرار پاتے ہیں، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرزا صاحب اول جزوی فضیلت پاتے ہیں، پھر بذات خود قرآنی

صفحہ 959

بشارت اسمہ احمد کے حقیقی مصداق بن جاتے ہیں اور اکثر عظیم الشان قرآنی مبشرات کو خاص اپنے سے منسوب بتاتے ہیں۔ غرض عجب فضیلت جتاتے ہیں‘ بے لگام گھوڑا دوڑاتے ہیں‘ ذیل میں مزید تفصیلات ملاحظہ ہوں۔

(۳) کتابوں کا مطالعہ

ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہیے۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔۔۔۔ اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا۔

(کتاب البریہ ص ۱۵۰ و ۱۵۵ روحانی خزائن ص ۱۸۱ - ۱۸۷ حاشیہ ج ۱۳ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۴) کتابوں کا ڈھیر‘ نوکر ہو گیا ہوں

بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ والد صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کا دستور تھا کہ سارا دن الگ بیٹھے پڑھتے رہتے تھے اور ارد گرد کتابوں کا ایک ڈھیر لگا رہتا تھا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۹۹ روایت نمبر ۱۹۳ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کاہنواں نے کہ میں بڑے مرزا صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے والد) کے پاس بہت آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے بڑے مرزا صاحب نے کہا کہ جاؤ غلام احمد کو بلاؤ ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے اس کا منشا ہو تو کسی اچھے عہدہ پر نوکر کرا دوں جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میں مرزا صاحب کے پاس گیا تو دیکھا کہ چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے تھے میں نے بڑے مرزا صاحب کا پیغام پہنچا دیا۔ مرزا صاحب آئے اور جواب دیا میں تو نوکر ہو گیا ہوں۔ بڑے مرزا صاحب کہنے لگے کہ اچھا کیا واقعی نوکر ہو گئے ہو؟ مرزا صاحب نے کہا ہاں نوکر ہو گیا ہوں۔ اس پر بڑے مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر نوکر ہو گئے

صفحہ 960

ہو تو خیر ہے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۳۶ روایت نمبر ۵۴ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۵) انٹروڈکشن

خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو براہین احمدیہ کی تالیف اور اس کے متعلق مواد جمع کرنے کا کام پہلے سے ہو رہا تھا مگر براہین احمدیہ کی اصل تصنیف اور اس کی اشاعت کی تجویز ۱۸۷۹ء سے شروع ہوئی اور آخری حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔ براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گم نامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور گوشہ نشینی میں درویشانہ حالت تھی۔ گو براہین سے قبل بعض اخباروں میں مضامین شائع کرنے کا سلسلہ آپ نے شروع فرما دیا تھا اور اس قسم کے اشتہارات سے آپ کا نام ایک گونہ پبلک میں بھی آگیا تھا مگر بہت کم‘ یہاں اپنے ملنے والوں میں آپ کی تبلیغ و تعلیم کا دائرہ عالم شباب سے ہی شروع نظر آتا ہے۔۔۔۔۔ پبلک میں آپ نے تصنیف براہین سے صرف کچھ قبل یعنی ۱۸۷۷-۷۸ء میں آنا شروع کیا اور مضامین شائع کرنے شروع فرمائے اور تبلیغی خطوط کا دائرہ بھی وسیع کیا مگر دراصل مستقل طور پر براہین احمدیہ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤ رکھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹروڈکشن ہوا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۸۶ روایت نمبر ۱۱۶ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۶) علمی امداد

آپ کا افتخار نامہ محبت آمود عز ورود لایا۔ اگرچہ مجھ کو پہلے سے بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ و اثبات نبوت و حقیقت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سرگرمی تھی‘ مگر جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی و باعث اشتعال شعلہ حمیت اسلام ہوا اور موجب تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا کہ جب آپ سا اولعزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی تہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دلی گرمی کا اظہار فرما دے تو بلاشبہ غیب اس کی تائید میں خیال کرنا چاہیے۔ جزاکم اللہ نعم الجزا

ماسوا اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع

صفحہ 961

فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت فرماویں۔ (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب بنام مولوی چراغ علی صاحب مرحوم منقول از سیدالمصنفین مولفہ محمد یحییٰ صاحب تنہا)

آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی۔ پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ اور نہ کوئی مضمون بھیجا۔ اس لیے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید تیار کر کے میرے پاس بھیج دیں اور میں نے ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ علیٰ حقانیت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام کو اس سے زیب و زینت بخشوں۔ سو اس امر میں آپ توقف نہ فرمائیں اور جہاں تک جلد ہوسکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرماویں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مکتوب بنام مولوی چراغ علی صاحب مرحوم منقول از سیرۃ

المصنفین مؤلفہ محمد یحییٰ صاحب تنہا)

(۷) پہلا سودا

اخوان دیندار و مومنین غیرت شعار و حامیان دین اسلام و متبعین سنت خیر الانام پر روشن ہو کہ اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے اور اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی کو جرات نہ ہوسکے.....

پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو میں تصنیف کیا بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کر دیے جن کے سبب سے کتاب ڈیڑھ سو جزو ہو گئی ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے تو چورانوے روپے صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپیہ سے کم میں چھپ نہیں سکتے۔

ازاں جا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں لہٰذا اخوان مومنین سے درخواست ہے کہ اس کار خیر میں

صفحہ 962

شریک ہوں اور اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں۔ اغنیا لوگ اگر اپنے مطبع کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بہ سہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا‘ یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں جیسے جیسے کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔

غرض انصار اللہ بن کر اس نہایت ضروری کام کو جلد تر سرانجام پہنچاویں اور نام اس کتاب کا ”براہین احمدیہ علی حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ“ رکھا گیا ہے۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گم راہوں کو اس کے ذریعہ سے اپنی سیدھی راہ پر چلاوے (آمین)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مورخہ اپریل ۱۸۷۹ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۱ مؤلفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۱۱۔ ۱۲ ج ۱)

ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔ (براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن ص ۶۳ ج ۱ ص ب)

اب ہر ایک مومن کے لیے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقیقت قرآن شریف پر شائع ہوں گے اور تمام مخالفین کے شبہات کو دفع اور دور کیا جائے گا۔ وہ کتاب کیسی کچھ بندگان خدا کو فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ و جلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا۔ (براہین احمدیہ حصہ دوم ص ح روحانی خزائن ص ۶۷‘ ج۱)

اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا۔ اس کتاب کی اعانت طبع کے لیے ہم نے جس قدر لکھا ہے وہ محض مسلمانوں کی ہمدردی سے لکھا گیا ہے کیونکہ ایسی کتاب کے مصارف جو ہزارہا روپیہ کا معاملہ ہے اور جس کی قیمت بھی بہ نیت عام فائدہ مسلمانوں کے نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے یعنی پچیس روپے میں سے دس روپے

صفحہ 963

صرف رکھے گئے ہیں وہ کیونکر بغیر اعانت عالی ہمت مسلمانوں کے انجام پذیر ہو۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ حصہ دوم ص و‘ روحانی

خزائن ص ۶۹‘ ج ۱)

اس جگہ یہ امر بھی واجب الاظہار ہے کہ پہلے یہ کتاب تیس پینتیس جزو تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جزو تک بڑھا دی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لیے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لیے مقرر ہوئی، مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے تین سو جزو تک پہنچ گئی ہے۔ جس کے مصارف پر نظر کر کے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے مگر بباعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ جو گویا کچھ بھی نہیں۔ ایک دوامی قیمت قرار پاوے اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جاوے لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزا کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزا زائد از حق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض للہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لیے مدد کریں گے اور واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا جو مجرد خریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جن کے دلوں میں ایمانی غیوری کے باعث حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کے بے بہا ایمان صرف خرید و فروخت کے تنگ ظرف میں نہیں سما سکتا بلکہ اپنے مالوں کے عوض میں بہشت جاوداں خریدنا چاہتے ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ حصہ سوم ابتدا روحانی خزائن

ص ۱۳۴-۱۳۵‘ ج۱)

چونکہ کتاب اب تین سو جزو تک بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا ان خریداروں کی خدمت میں جنہوں نے اب تک کچھ قیمت نہیں بھیجی یا پوری قیمت نہیں بھیجی التماس ہے کہ اگر کچھ نہیں تو صرف اتنی مہربانی کریں کہ بقیہ قیمت بلا توقف بھیج دیں، کیونکہ جس حالت میں اب اصلی قیمت کتاب کی سو روپیہ ہے اور اس کے عوض دس یا پچیس روپیہ قیمت قرار

صفحہ 964

پائی پس اگر یہ ناچیز قیمت بھی مسلمان لوگ بطور پیشگی ادا نہ کریں تو پھر گویا وہ کام کے انجام سے آپ مانع ہوں گے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ جلد سوم ۱۸۸۴ء تبلیغ

رسالت جلد اول صفحہ ۲۵ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۴۳ ج۱)

بعد ما وجب گزارش ضروری یہ ہے کہ عاجز مولف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیل (مسیح) کے طرز کمال مسکینی، فروتنی، غربت و تذلل و تواضع سے اصلاح خلق کے لیے کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راہ راست سے بے خبر ہیں صراط مستقیم..... دکھا دے۔ اسی غرض سے کتاب براہین احمدیہ تالیف پائی ہے جس کی ۳۷ جز چھپ کر شائع ہو چکی ہیں اور اس کا خلاصہ مطلب اشتہار ہمراہی خط ہٰذا میں مندرج ہے۔ لیکن چونکہ پوری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے اس لیے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل بغرض اتمام حجت یہ خط مع اشتہار انگریزی شائع کیا جائے..... بالآخر یہ عاجز حضرت خداوند کریم جل شانہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ جس نے اپنے سچے دین کے براہین ہم پر ظاہر کیے اور پھر ان کی اشاعت کے لیے ایک آزاد سلطنت کی حمایت میں جو گورنمنٹ انگلشیہ ہے ہم کو جگہ دی۔ اس گورنمنٹ کا بھی حق شناسی کی رو سے یہ عاجز شکریہ ادا کرتا ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۱۔۱۳ مولفہ میر

قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۲۱۔۲۰ ج ۱)

مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بہ شدت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیا و رسل کے نمونے پر محض یہ برکت متابعت حضرت خیر البشر و افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم ان بہتوں پر اکابر اولیا سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بعد و حرماں ہے یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۳۷ جزو کے چھپ چکی ہے ظاہر ہوتے ہیں اور طالب حق کے لیے خود مصنف پوری پوری تسلی و تشفی کرنے کو ہر

صفحہ 965

وقت مستعد و حاضر ہے..... اے خداوند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش..... بالخصوص قوم انگریز جنہوں نے ابھی تک اس آفتاب صداقت سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی اور جس کی شائستہ اور مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاونت سے ممنون کر کے اس بات کے لیے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دنیا و دین کے لیے دلی جوش سے بہبودی و سلامتی چاہیں۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۶-۱۵ مولفہ میر

قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۲۵-۲۴ ج ۱)

تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اسی مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے۔ اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کی رو سے ترجیح ہو اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں..... سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف اور احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ص الف ۱۸۸۳ء

روحانی خزائن ص ۳۲۶ ج ۱)

ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی‘ پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی‘ یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے ”انی انا ربک“ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً اور باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کیے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے

صفحہ 966

لیے کافی ہیں۔۔۔۔ اس جگہ ان نیک دل ایمانداروں کا شکر کرنا لازم ہے جنہوں نے اس کتاب کے طبع ہونے کے لیے آج تک مدد دی۔ خدا تعالیٰ ان سب پر رحم کرے۔۔۔۔ بعض صاحبوں نے اس کتاب کو محض خرید و فروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول دیا اور صدق اور ارادت کو ان کے دلوں میں قائم کر دیا ہے لیکن موخر الذکر ہنوز وہی لوگ ہیں کہ جو استطاعت مالی کم رکھتے ہیں اور سنت اللہ اپنے پاک نبیوں سے بھی یہی رہی ہے کہ اول اول ضعفاء اور مساکین ہی رجوع کرتے رہے ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار ”ہم اور ہماری کتاب“ مندرجہ براہین احمدیہ حصہ

چہارم آخر سرورق روحانی خزائن ص ۲۷۳ ج ۱)

اس خداوند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے اول مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور چھپوانے کے لیے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کر دیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔ میں ان صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکر ادا کر سکوں۔ بالخصوص جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کار خیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے زاید اعانتوں کے لیے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

(التماس ضروری از مولف (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) مندرجہ براہین احمدیہ مجموعہ ہر

چار حصہ ص ۱ ابتداء روحانی خزائن ص ۵ ج ۱)

(۸) براہین احمدیہ میں ترتیب مضامین

صفحہ 967

معراج الدین عمر قادیانی ص ۵۳ تا ص ۸۲ (ا تا ش)

صاحبو! اگر آپ لوگوں کے نزدیک انصاف بھی کچھ چیز ہے اور عقل بھی کوئی شے قابل لحاظ ہے تو یا تو ایسی دلائل صدق و راستی کی کہ جن پر قرآن شریف مشتمل ہے جن کو ہم فصل اول سے لکھنا شروع کریں گے۔ کسی اپنی کتاب سے نکال کر دکھلاؤ اور یا حیا اور شرم کی صفت کو عمل میں لا کر زبان درازی چھوڑو اور اگر خدا کا کچھ خوف ہے اور نجات کی کچھ خواہش ہے تو ایمان لاؤ۔ اب یہ مقدمہ ختم ہو گیا اور جس قدر ہم نے مطالب بالائی لکھنے تھے سب لکھ چکے بعد اس کے اصل مطلب کتاب کا شروع ہوگا۔ اور دلائل حقیقت قرآن شریف اور صدق نبوت آنحضرت کی بسط اور تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔

(براہین احمدیہ ص ۱۳۸ روحانی خزائن ص ۱۲۲‘۱۲۱ ج ۱)

ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر بیرونی اور اندرونی شہادتیں ہیں۔

قبل از تحریر براہین فصل ہذا کے چند ایسے امور کا بطور تمہید بیان کرنا ضروری ہے جو دلائل آتیہ کے اکثر مطالب دریافت کرنے اور ان کی کیفیت اور ماہیت سمجھنے کے لیے قواعد کلیہ ہیں چنانچہ ذیل میں وہ سب تمہیدیں لکھی جاتی ہیں۔

(براہین احمدیہ ص ۱۳۹ حصہ ۳ روحانی خزائن ص ۱۴۳ ج ۱)

صفحہ 968

اب ان تمہیدات کے بعد دلائل حقیقت قرآن شریف کے لکھے جاتے ہیں۔

(ب) باب اول

(براہین احمدیہ ص ۵۱۲)

ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں متن مع حاشیہ و حاشیہ در حاشیہ ص ۵۱۳ تا ص ۵۶۲ (اول حصہ اول تا حصہ چہارم ختم)

(۵) حصہ پنجم ص ۱ تا ص ۱۳۱ و ص ۱ تا ص ۲۳۱

بالاخر یہ بھی یاد رہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ (پنجم) کے چھاپنے میں تیس برس تک التوا رہا یہ التوا بے معنی اور فضول نہ تھا، بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اس وقت تک پنجم حصہ دنیا میں شائع نہ ہو جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیش گوئیاں ہیں کیونکہ براہین احمدیہ کے پہلے (چار) حصے عظیم الشان پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کا عظیم الشان مقصد یہی تھا کہ وہ موعودہ پیش گوئیاں ظہور میں آجائیں۔

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۶ مصنفہ مرزا صاحب روحانی خزائن ص ۸ ج ۲۱)

(۹) حصہ پنجم کا قصہ

بحمدللہ آخر ایں کتابم
مکمل شد بفضل آں جنابم

اما بعد واضح ہو کہ یہ براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ ہے کہ جو اس دیباچہ کے بعد لکھا جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت سے ایسا اتفاق ہوا کہ چار حصے اس کتاب کے

صفحہ 969

چھپ کر پھر تخمیناً تئیس برس تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا اور عجیب تر یہ کہ اسی (۸۰) کے قریب اس مدت میں، میں نے کتابیں تالیف کیں جن میں سے بعض بڑے بڑے حجم کی تھیں لیکن اس کتاب کی تکمیل کے لیے توجہ پیدا نہ ہوئی اور کئی مرتبہ دل میں یہ درد پیدا بھی ہوا کہ براہین احمدیہ کے ملتوی رہنے پر ایک زمانہ دراز گزر گیا، مگر باوجود کوشش بلیغ اور باوجود اس کے خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبہ کے لیے سخت الحاح ہوا۔ اور اس مدت مدید اور اس قدر زمانہ التوا میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی و بدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور بوجہ امتداد مدت درحقیقت وہ دلوں میں پیدا ہوسکتے تھے، مگر پھر بھی قضا و قدر کے مصالح نے مجھے یہ توفیق نہ دی کہ میں اس کتاب کو پورا کرسکتا۔

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱ روحانی خزائن ص ۲ ج ۲۱)

میں نے پہلا ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لیے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل لکھنے کے لیے مجھے شرح صدر عنایت کیا..... سو میں انشاء اللہ تعالیٰ یہی دونوں قسم کے دلائل اس کتاب میں لکھ کر اس کتاب کو پورا کروں گا۔

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۴ روحانی خزائن ص ۷ ۔ ۶ ج ۲۱)

پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔

(دیباچہ ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ۷ ”روحانی خزائن“ ص ۹، ج ۲۱)

(۹۔ الف) کلام الٰہی میں توقف

اس توقف کو بہ طور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تئیس برس میں نازل ہوا، پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کونسا حرج ہوا اور اگر یہ

صفحہ 970

خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی کے باعث ہوگا۔ کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنے تک قیمت لی گئی ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لیے گئے ہوں اور جن سے پچیس روپیہ لیے گئے وہ صرف چند ہی آدمی ہیں اور پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل پر جو منطبع ہو کر خریداروں کو دیے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے۔ اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شور و غوغا کا خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے پاس روانہ کر دے اور اپنی قیمت واپس لے لے‘ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا مگر ہم نے قیمت دے دی۔ کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر تیار ہیں چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا نے ہم کو فراغت بخشی۔

(ایام الصلح ص ۱۷۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب روحانی خزائن ص ۴۲۲ ۔ ۴۲۱ ج

۱۴)

(۹۔ب) وعدہ سے گریز (ج)

اب یہ سلسلہ تالیف (براہین احمدیہ) کتاب بوجہ الہامات الہیہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جز تک ضرور پہنچے بلکہ جس طور سے خدا تعالیٰ مناسب سمجھے گا کم یا زیادہ بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کو انجام دے گا کہ یہ سب کام اسی کے ہاتھ میں اور اسی کے امر سے ہیں۔

(اشتہار واجب الاظہار سرورق سرمہ چشم آریہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب

روحانی خزائن ص ۴۸ ج ۲ مجموعہ اشتہارات ص ۱۳۳ ج ۱)

(۱۰) کتابی کاروبار

صفحہ 971

چونکہ طبع کتاب ازالہ اوہام میں معمول سے زیادہ مصارف ہو گئے ہیں اور مالک مطبع اور کاتب کا حساب بیباق کرنے کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بخدمت جمیع مخلص دوستوں سے التماس ہے کہ حتی الوسع اس کتاب کی خریداری سے بہت جلد مدد دیں جو صاحب چند نسخے خرید سکتے ہیں وہ بجائے ایک کے اس قدر نسخے خرید لیں جس قدر ان کو خریدنے کی خدا داد مقدرت حاصل ہے اور اس جگہ اخویم مکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب معالج ریاست جموں کی نئی امداد جو انہوں نے کئی نوٹ اس وقت بھیجے قابل اظہار ہے خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دوم ص ۷۳، ”مجموعہ

اشتہارات“ ص ۲۸۷ ج ۱)

ہمارے پاس کچھ جلدیں رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام موجود ہیں جن کی قیمت ایک روپیہ (عہ) ہے اور کچھ جلدیں کتاب ازالہ اوہام موجود ہیں جن کی قیمت فی جلد تین روپیہ ہے۔ محصول ڈاک علاوہ ہے جو صاحب خرید کرنا چاہیں منگوا لیں پتہ یہ ہے۔ قادیان ضلع گورداس پور، بنام راقم رسالہ ہذا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) یا اگر چاہیں تو بمقام پٹیالہ میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر (یعنی مرزا صاحب کے خسر) سے لے سکتے ہیں اور نیز یہ کتابیں پنجاب پریس سیالکوٹ میں مولوی غلام قادر صاحب فصیح مالک مطبع کے پاس بھی موجود ہیں۔ وہاں سے بھی منگوا سکتے ہیں۔

(اعلان مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۸۷ مولفہ میر

قاسم علی صاحب قادیانی مجموعہ اشتہارات ص ۳۰۴ ج ۱)

(11) باہمی تعاون

حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) تبلیغ لکھ رہے تھے جو کتاب آئینہ کمالات اسلام میں شامل ہے۔ یہ عربی زبان میں پہلی مستقل کتاب ہے جو آپ نے لکھی تھی۔ اس کا مسودہ لکھ کر آپ حضرت حکیم الامتہ (حکیم نور الدین صاحب) کو بھیج دیا کرتے کہ وہ پڑھ لیں اور پھر حضرت مولوی عبدالکریم کو فارسی ترجمہ کے لیے بھیج دیا جاتا تھا۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۶ نمبر ۵۶ ص ۵ مورخہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۲۹ء)

صفحہ 972

نیز مولوی صاحب موصوف (شیر علی) بیان کرتے ہیں کہ حضرت (مرزا صاحب) عربی کتابوں کی کاپیاں اور پروف حضرت خلیفہ اول (نور الدین صاحب) اور مولوی محمد احسن صاحب کے پاس بھی بھیجا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر کسی جگہ اصلاح ہوسکے تو کر دیں۔ حضرت خلیفہ اول تو پڑھ کر اسی طرح واپس فرما دیتے تھے، لیکن مولوی محمد احسن صاحب بڑی محنت کر کے اس میں بعض جگہ اصلاح کے طریق پر لفظ بدل دیتے تھے۔ مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ایک وقت فرمایا کہ مولوی محمد احسن صاحب اپنی طرف سے تو اصلاح کرتے ہیں، مگر میں دیکھتا ہوں کہ میرا لکھا ہوا لفظ زیادہ بر محل اور فصیح ہوتا ہے اور مولوی صاحب کا کمزور ہوتا ہے لیکن میں کہیں کہیں ان کا لکھا ہوا لفظ بھی رہنے دیتا ہوں تا ان کی دل شکنی نہ ہو کہ ان کے لکھے ہوئے سب الفاظ کاٹ دیئے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۷۵ روایت نمبر ۱۰۴ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

حضرت جری اللہ فی ظلل الانبیا باوجود یکہ مسیح موعود مہدی معہود تھے علوم ظاہر میں خاکسار سے استفسار اور استشارہ فرمایا کرتے تھے۔" (مولوی محمد احسن صاحب امروہی قادیانی)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۴ نمبر ۴۸/۴۹ ص ۷ مورخہ ۱۹-۲۲ دسمبر ۱۹۱۶ء)

(۱۲) شیخ فانی

حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اس مقام میں یہ تعلیم فرماتے ہیں کہ سالک میں حقیقت فنا کی تب محقق ہوتی ہے اور تب ہی وہ اس لائق ہوتا ہے کہ مورد معارف اللہ ہو جب تین طور کا انقطاع حاصل ہو جائے اول انقطاع خلق اللہ سے، اور وہ اس طرح پر حاصل ہوتا ہے کہ حکم الٰہی کو جو قضا و قدر ہے تمام مخلوقات پر نافذ سمجھے اور ہر ایک بندے کو پنجہ تقدیر کے نیچے مقہور اور مغلوب یقین کرے لیکن اس جگہ یہ عاجز صرف اس قدر کہنا چاہتا ہے کہ اگرچہ علوم لدنیہ اور کشوف صادقہ و تائیدات خاصہ اللہ و توجّہات جلیلہ صمدیہ غیر فانی کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتے لیکن بہ توسط صحبت شیخ

صفحہ 973

فانی حاصل ہو سکتے ہیں یعنی اگرچہ براہ راست نہیں لیکن سالک اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیدات سماویہ کو معائنہ و مشاہدہ کرتا ہے پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کی کمالیت کا موجب ہو جاتا ہے۔ اگر جلدی نہیں تو ایک زمانہ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک و شبہات کی تاریکی دل پر سے اڑ جاتی ہے۔ اسی جہت سے فانیوں کی صحبت کے لیے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کونوا مع الصادقین ای کونوا مع الفانین و الصادقون ھم الفانون لا غیرھم اور جو شخص نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اس کو کچھ تعلق اور محبت ہے وہ محض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے اور اس کے ایمان کا کچھ ٹھکانا نہیں۔

انسان کا کام بغیر صحبت صادقین کے سراسر خام ہے اور بغیر طریق فنا یا صحبت فانیوں کے ایمان کا سلامت لے جانا نہایت مشکل ہے۔ پس سعید وہی ہے جو سب سے پہلے ایمان کی سلامتی کا فکر کرے اور ناحق کے ظاہری جھگڑوں اور بے فائدہ خرخشوں سے دست کش ہو کر اس جماعت کی رفاقت اختیار کرے جن کو خدا نے اپنا نور عطا کیا ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مضمون محررہ ۶ ستمبر ۱۸۸۳ء مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ۲۴ نومبر ۱۸۹۸ء و اخبار الفضل قادیان جلد ۱۸ نمبر ۳۰ مورخہ ۶ ستمبر ۱۹۳۰ء)

(۱۳) والد روحانی

سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم بھی (مرزا صاحب) ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانے میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا تب خدا تعالیٰ اس کا متولی ہوا اور تربیت کے کنار میں لیا اور اپنے بندہ کا نام ابن مریم رکھا کیونکہ اس نے مخلوق میں سے اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اس نے قالب اسلام کا پایا۔ لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی تب وہ وجود روحانی پاکر خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا‘ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اٹھا لیا اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے نیا تحفہ لایا اور زمین جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی‘ اس کے روشن اور آباد کرنے کی فکر میں

صفحہ 974

لگ گیا پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ بن مریم (مرزا) ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ (قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ) میں سے کسی سلسلے میں یہ داخل ہے پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے۔

(ازالہ اوہام ص ۶۵۹ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب روحانی خزائن ص ۴۵۶ ج ۳)

(۱۴) چلہ کشی

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت (مرزا صاحب) نے ۱۸۸۶ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ قادیان سے باہر جا کر کہیں چلہ کشی فرمائیں گے اور ہندوستان کی سیر بھی کریں گے۔ چنانچہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ سوجان پور ضلع گورداسپور میں جا کر خلوت میں رہیں۔۔۔۔۔ مگر پھر حضور کو سفر سوجان پور کے متعلق الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی چنانچہ آپ نے سوجان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا جب آپ ماہ جنوری ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جانے لگے تو مجھے خط لکھ کر حضور نے قادیان بلا لیا اور شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا کہ میں دو ماہ کے واسطے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیں جو شہر کے ایک کنارہ پر ہو اور اس میں بالاخانہ بھی ہو۔ شیخ مہر علی نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کروا دیا۔ حضور بہلی میں بیٹھ کر دریا بیاس کے راستہ تشریف لے گئے۔ میں اور شیخ حامد علی اور فتح خاں ساتھ تھے۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ فتح خاں۔۔۔۔۔ حضور (مرزا صاحب) کا بڑا معتقد تھا، مگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہو گیا۔۔۔۔۔ دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے۔ وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا۔۔۔۔۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے بذریعہ دستی اشتہارات اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آئیں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لیے بلائیں ان چالیس دن گزرنے کے بعد میں یہاں بیس دن اور ٹھہروں گا۔ ان بیس دنوں میں ملنے والے ملیں۔ دعوت کا ارادہ رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال جواب کرنے والے سوال جواب کر لیں۔۔۔۔۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے

صفحہ 975

کہ میں کھانا چھوڑنے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیں کرتا تھا مگر کبھی حضور مجھ سے خود کوئی بات کرتے تھے تو جواب دے دیتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا میاں عبداللہ ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں۔ چنانچہ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی چلہ میں ہوئے تھے اور بعد چلہ کے ہوشیار پور سے ہی آپ نے اس پیش گوئی کا اعلان فرمایا تھا۔۔۔ (اس پیشگوئی کی عبرت آموز تاویلات اور حسرتناک انجام چھٹی فصل میں تفصیل سے درج ہیں۔۔ للمولف)

میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ فتح خاں ان دنوں میں اتنا معتقد تھا کہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ حضرت (مرزا) صاحب کو تو میں نبی سمجھتا ہوں اور میں اس کی اس بات پر پرانے معروف عقیدہ کی بنا پر گھبراتا تھا۔ میاں عبداللہ صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو حضور نے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۵۸ روایت نمبر ۸۸ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۵) ابتدائی بیعت

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیحیت اور مہدویت کا دعویٰ نہ تھا بلکہ عام مجددانہ طریق پر آپ بیعت لیتے تھے۔۔۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعویٰ مسیحیت شائع کرنے لگے تو اس وقت آپ قادیان میں تھے۔ آپ نے اس کے متعلق ابتدائی رسالے یہیں لکھے، پھر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے اور وہاں سے اعلان شائع کیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس اعلان پر بعض ابتدائی بیعت کرنے والوں کو بھی ٹھوکر لگ گئی۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۴ روایت نمبر ۲۱۔ ۲۰ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

صفحہ 976

(۱۶) زلزلہ عظیم

یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو حضور نے خدا کے اس حکم کے مطابق جو اس سے قریباً دس ماہ پہلے ہو چکا تھا۔ سلسلہ بیعت کا اعلان فرمایا اور سب سے پہلے شروع ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت لی مگر اس وقت تک بھی مسلمانوں کا عام طور حضرت مسیح موعود کی ذات کے متعلق خیال عموماً بہت اچھا تھا اور اکثر لوگ آپ کو ایک بے نظیر خادم اسلام سمجھتے تھے۔ صرف اتنا اثر ہوا تھا کہ لوگوں میں جو پسر موعود کی پیشگوئی پر ایک عام رجوع ہوا تھا۔ اس کا جوش ان دو لگا تار مایوسیوں نے مدہم کر دیا تھا اور عامہ الناس پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ہاں کہیں کہیں عملی مخالفت کی لہر بھی پیدا ہونے لگی تھی۔

اس کے بعد آخر ۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود نے خدا سے حکم پا کر رسالہ فتح اسلام تصنیف فرمایا جو ابتدا ۱۸۹۱ء میں شائع ہوا۔ اس میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی وفات اور اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان فرمایا اس پر ملک میں ایک زلزلہ عظیم آیا جو پہلے سب زلزلوں سے بڑا تھا..... بعض بیعت کنندہ بھی متزلزل ہو گئے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۸۹ روایت نمبر ۱۴۶ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۱۷) ڈپٹی کمشنر کی عنایت

چنانچہ ڈپٹی صاحب وغیرہ نے حضرت (مرزا) صاحب کے ساتھ کوئی آدھ گھنٹہ ملاقات کی اور پھر واپس چلے گئے۔ ہم نے اندر جا کر حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کیوں آئے تھے۔ جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ وہ ڈپٹی کمشنر کا ایک پیغام لائے تھے کہ لدھیانہ میں فساد کا اندیشہ ہے بہتر ہے کہ آپ کچھ عرصہ کے لیے یہاں سے تشریف لے جائیں۔ حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا کہ اب ہمارا یہاں کوئی کام نہیں ہے اور ہم جانے کو تیار ہیں، لیکن سردست ہم سفر نہیں کر سکتے کیونکہ بچوں کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا خیر کوئی بات نہیں، ہم ڈپٹی کمشنر سے کہہ دیں گے اور ہمیں آپ کی ملاقات کا بہت شوق تھا سو شکر ہے کہ اس بہانہ سے زیارت ہو گئی۔

اس کے بعد حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور ایک چٹھی ڈپٹی کمشنر کے نام لکھ کر لائے جس میں اپنے خاندانی حالات اور اپنی تعلیم وغیرہ کا ذکر فرمایا اور

صفحہ 977

بعض خاندانی چٹھیات کی نقل بھی ساتھ لگا دی۔ اس چٹھی کا غلام قادر صاحب فصیح نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور پھر اسے ڈپٹی کمشنر کے نام ارسال کر دیا گیا وہاں سے جواب آیا کہ آپ کے لیے کوئی ایسا حکم نہیں ہے۔ آپ بیشک لدھیانہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔ جس پر مولوی محمد حسین نے لاہور جا کر بڑا شور برپا کیا کہ مجھے تو نکال دیا گیا اور مرزا صاحب کو اجازت دی گئی ہے مگر کسی حاکم کے پاس اس کی شنوائی نہیں ہوئی، اس کے بعد دیر تک حضرت صاحب لدھیانہ میں رہے۔ (مرزا صاحب کا خط کیا تھا۔ جادو تھا کہ ڈپٹی کمشنر اس کو دیکھتے ہی موم ہو گیا اور غنیمت ہے کہ مرزا صاحب خاندانی چٹھیاں بھی ہر وقت سفر و حضر میں ساتھ رکھتے تھے جو عین وقت پر کام آگئیں۔ غالبا یہ وہی چٹھیاں ہیں جو جابجا مرزا صاحب کی تحریرات میں نقل ہیں۔ یہ دراصل انگریزی حکام کے پروانہ جات خوشنودی ہیں جو وفاداری اور خدمت گزاری کے صلے میں باپ دادا کو ملے تھے۔ للمولف)

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ۱۳۵ روایت نمبر ۳۵۸ مولفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۸) دعوؤں کا سلسلہ

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یوں تو الہامات کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہوچکا تھا لیکن وہ الہام جس میں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لیے صریح طور پر مامور کیا گیا۔ مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا جبکہ آپ براہین احمدیہ حصہ سوم تصنیف فرما رہے تھے (دیکھو براہین احمدیہ حصہ سوم ص ۲۳۸) لیکن اس وقت آپ نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا، لیکن اس کے لیے مزید حکم تک توقف کیا، چنانچہ جب فرمان الٰہی نازل ہوا تو آپ نے بیعت کے لیے دسمبر ۱۸۸۸ء میں اعلان فرمایا اور بذریعہ اشتہار لوگوں کو دعوت دی اور شروع ۱۸۸۹ء میں بیعت لینا شروع فرما دی، لیکن اس وقت تک بھی آپ کو صرف مجدد مامور ہونے کا دعویٰ تھا اور گو شروع دعویٰ ماموریت سے ہی آپ کے الہامات میں آپ کے مسیح موعود ہونے کی طرف صریح اشارات تھے لیکن بحکم الٰہی، ایک مدت تک آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف یہ فرماتے رہے کہ مجھے اصلاح خلق کے لیے مسیح ناصری کے رنگ میں قائم

صفحہ 978

کیا گیا ہے اور مجھے مسیح سے مماثلت ہے۔ اس کے بعد شروع ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کے موت کے عقیدے کا اعلان فرمایا اور یہ دعویٰ فرمایا کہ جس مسیح کا اس امت کے لیے وعدہ تھا وہ میں ہوں۔ آپ کی عام مخالفت کا اصل سلسلہ اس دعوے سے شروع ہوتا ہے۔ آپ کے نبی اور رسول ہونے کے متعلق بھی ابتدائی الہامات میں صریح اشارے پائے جاتے ہیں، مگر اس دعوے سے بھی مشیت ایزدی نے آپ کو روکے رکھا‘ حتیٰ کہ بیسویں صدی کا ظہور ہو گیا۔ تب جا کر آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ صراحتاً استعمال فرمانے شروع کیے اور خاص طور پر مثیل کرشن علیہ السلام ہونے کا دعویٰ تو آپ نے اس کے بھی بہت بعد یعنی ۱۹۰۴ء میں شائع کیا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۳۱ روایت نمبر ۴۷ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۱۹) بیعت کے مدارج

جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والذین جاهدوا فینا لنهدينهم سبلنا مولوی محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۲۵۳ روایت نمبر ۲۸۰ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا۔ میں نے ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں۔ آپ نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کا سا کام ہے۔ اسے اپنے ہاتھ سے مرید کے گند نکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۸۲ روایت نمبر ۱۱ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

لوگ ایک عرصہ سے آپ کو بیعت لینے کے لیے عرض کر رہے تھے آپ نے ہمیشہ ایسے طالبین کو یہ کہا کہ میں اس غرض کے لیے ابھی مامور نہیں ہوں اور آخر جب خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کو بیعت لینے کے لیے مامور فرمایا تو آپ نے بیعت کے لیے اعلان کر

صفحہ 979

ریا۔

(حیات احمدیہ جلد دوم نمبر دوم حاشیہ ص ۵ مرتبہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کا حکم آیا تو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیا گیا جس کی پیشانی پر لکھا گیا ”بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ و طہارت“ اور نام مع ولدیت و سکونت لکھے جاتے تھے۔ اول نمبر حضرت مولوی نور الدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے۔ دوم میر عباس علی صاحب، ان کے بعد شاید خاکسار، (میر عنایت علی صاحب) ہی سوئم نمبر پر جاتا لیکن میر عباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لیے بھیج دیا کہ ان کو بلا لاؤ۔ غرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہو گئے۔ ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو اندر بھیج دیں، چنانچہ میں نے چودھری رستم علی صاحب کو اندر داخل کر دیا اور دسویں نمبر پر وہ بیعت ہو گئے۔ اس طرح ایک ایک آدمی باری باری بیعت کے لیے اندر جاتا تھا اور دروازہ بند کر دیا جاتا تھا۔

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ۱۰ روایت نمبر ۳۱۵ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ قادیان آیا..... مجھے مخاطب فرما کر اپنے دعوے کی صداقت میں تقریر فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی صداقت کے متعلق تو کوئی شبہ نہیں رہا۔ لیکن اگر بیعت نہ کی جائے اور آپ پر ایمان رکھا جائے کہ آپ صادق ہیں تو کیا حرج ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے ایمان سے آپ مجھ سے روحانی فیض حاصل نہیں کر سکتے۔ بیعت سنت انبیاء ہے اور اس سنت میں بہت بڑے فوائد اور حکمتیں ہیں..... نیز مولوی شیر علی صاحب (قادیانی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا) صاحب نے بیعت کے فوائد پر تقریر فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ فائدہ بیعت کا کوئی کم ہے کہ انسان کے پہلے سارے گناہ بخشے جاتے ہیں۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم، ص ۶۵، روایت نمبر ۳۸۶، مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب

صفحہ 980

قادیانی)

۱۲ ستمبر ۱۹۰۱ء مولوی جان محمد صاحب مدرس ڈسکہ ضلع سیالکوٹ نے حضرت مسیح موعود سے عرض کی کہ آپ کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی بزرگ سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا ”جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کا مرشد اب زندہ بھی ہو تب بھی وہ ایسے حقائق و معارف ظاہر نہ کرے گا جو خدا تعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔ صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے“۔

(روایت مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۳۰‘ منقول از منظور الٰہی‘ ص ۲۴۹‘

مولفہ منظور الٰہی صاحب قادیانی لاہوری)

مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے قادیان آیا تو اس وقت نماز ظہر کے قریب کا وقت تھا اور میں مہمان خانہ میں وضو کر کے مسجد مبارک میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد ہی میں تشریف رکھتے تھے اور حضور کے بہت سے احباب حضرت کے پاس بیٹھے تھے۔ میں بھی مجلس کے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا...... جب حوالہ جات کے متعلق گفتگو بند ہوئی تو میں بیعت کی خواہش ظاہر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف آگے بڑھنے لگا جس پر سید احمد نور صاحب کابلی نے کسی قدر بلند آواز سے کہا کہ یہ شخص مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ اسے رستہ دے دیا جاوے۔ میں دل میں حیران ہوا کہ مسلمان ہونے کے کیا معنی ہیں۔ لیکن پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہونا مسلمان ہونا نہیں تو اور کیا ہے۔ چنانچہ میں حضرت مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہو گیا۔ (”سیرۃ المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۹۹‘ روایت نمبر ۴۲۶‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۲۰) بے خبر اور غافل

باوجودیکہ براہین احمدیہ (مصنفہ مرزا صاحب) میں صاف اور روشن طور پر مسیح

صفحہ 981

موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی میں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر میں نے اس رسمی عقیدے کو براہین (احمدیہ) میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بتاتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے‘ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین (احمدیہ) میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔

خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین (احمدیہ) کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ورنہ میرے مخالف مجھے بتلاویں کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین احمدیہ میں خدا کی وحی کے خلاف لکھ دیا۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۷۔۸ ’ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۴۔۱۱۳ ‘ ج ۱۹ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

(۲۱) اسی قسم کا تناقض

اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لیے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر عمل کرنا

صفحہ 982

نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا‘ تو ہی ہے۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۴۹‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۵۲- ۱۵۳‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

(۲۲) ۱۹۰۱ء سے پہلے

۱۹۰۱ء سے پہلے کی بعض تحریرات میں حضرت اقدس نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا اور لکھا کہ آپ نبی نہیں۔ بلکہ محدث ہیں۔ لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد کی تحریرات میں آپ نے اپنی نبوت کو نہ جزئی قرار دیا نہ ناقص۔ نہ محدثیت والی نبوت بلکہ صاف الفاظ میں اپنے آپ کو نبی لکھتے رہے۔

(”منکرین خلافت کا انجام“ ص ۱۹‘ مصنفہ جلال الدین شمس صاحب قادیانی)

(۲۳) ۵ نومبر ۱۹۰۱ء

حضرت خلیفہ المسیح (میاں محمود احمد صاحب) کی تصانیف اور تالیفات میں آپ کا مختصر مگر صحیح مدعا صرف یہ ہے کہ حضرت احمد علیہ السلام ۵ نومبر ۱۹۰۱ء سے قبل وحی الہی میں جو لفظ نبی اور رسول آتا‘ اس کے معنی اور تعریف جو اپنی ذات پر چسپاں کرتے‘ ان کو محدث یا جزوی اور ناقص نبی کے معنوں میں تعبیر یا موسوم کرتے مگر ۵ نومبر ۱۹۰۱ء کے بعد آپ نے نبی اور رسول کو اپنی صحیح اور قرآنی اصطلاح میں استعمال کیا اور لفظ محدث جو صحیح حقیقت کو ظاہر نہ کرتا تھا ترک کر دیا اور اس اعلان کے بعد آپ نے تا وفات پھر اپنے حق میں لفظ محدث یا جزوی اور ناقص نبی استعمال نہ کیا۔

(مضمون حجۃ اللہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۴ مئی ۱۹۳۲ء‘ جلد ۹ نمبر ۸۶)

(۲۴) ساری حقیقت

ہاں اگر اس بات کا ثبوت چاہو کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) اپنے مخالفین کو اس آیت کے ماتحت سمجھتے تھے یا نہیں تو اخبار ”الحکم“ نمبر ۳۰‘ جلد ۴‘ ۱۹۰۰ء‘ پڑھ لو۔ ساری حقیقت کھل جائے گی۔ وہاں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا ایک خطبہ

صفحہ 983

درج ہے جو مولوی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کے سامنے پڑھا۔ مولوی صاحب موصوف نے اس خطبہ کو اولئک ہم الکافرون حقا والی آیت سے ہی شروع کیا اور احمدیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تم مسیح موعود کو ہر ایک امر میں حکم نہیں ٹھہراؤ گے اور اس پر ایسا ایمان نہیں لاؤ گے جیسا صحابہ نبی کریم پر لائے تو تم بھی ایک گونہ غیر احمدیوں کی طرح اللہ کے رسولوں میں تفریق کرنے والے ہوگئے۔ حضرت مولوی صاحب مرحوم نے اس خطبہ میں یہ بھی کہا کہ اگر میں اس خیال میں غلطی پر ہوں تو میں التجا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود مجھے میری غلطی سے مطلع فرمادیں مگر حضرت (مرزا) صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب مولوی صاحب آپ کو نماز جمعہ کے بعد ملنے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ (یعنی مرزا صاحب) نے فرمایا کہ ”یہ بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا“ اور فرمایا ”یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہوگئے ہیں“۔ (دیکھو اخبار ”الحکم“ قادیان، نمبر ۳۰‘ جلد ۴‘ ۱۹۰۰ء)

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ بشیر احمد صاحب قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ ص

۱۴۷‘ نمبر ۴‘ جلد ۱۴)

(۲۵) معارف الہیہ

اول تو یہ خطبہ ہی ایک ایسے انسان کا ہے جو اپنے تقویٰ و طہارت کے لحاظ سے جماعت احمدیہ میں خاص شان رکھتا ہے اور جس کی فضیلت اور بزرگی کے غیر مبائعین (لاہوری جماعت) بھی معترف ہیں لیکن اس لحاظ سے یہ بہت ہی زیادہ اہمیت اور وقعت رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کی موجودگی میں اور آپ کے روبرو پڑھا گیا۔ علاوہ ازیں خطبہ کے اخیر میں حضور سے حضرت خطیب نے حسب ذیل درخواست کی کہ:

میں اس وقت حضرت امام علیہ السلام (مرزا صاحب) کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر میں غلو کر رہا ہوں اور میری زبان حق کے بیان میں کجی اور ناانصافی کی طرف جا رہی ہے تو میرے بیان کی اس وقت اصلاح کردیں اور سامعین خطبہ پر اس وقت کھول دیں کہ میں نے غلط بیان کیا ہے مگر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بصیرت کے ساتھ کہتا

صفحہ 984

ہوں کہ میں حق بیان کر رہا ہوں اور میری روح امام کے علوم کی لے سے سرشار ہو کر یہ پاک ندیاں بہا رہی ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ میں اس وقت خود حضرت امام علیہ السلام (مرزا) کی زبان ہوں۔

پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس خطبہ پر حضرت مسیح موعود کی اپنی تصدیق موجود ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جمعہ کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خطبہ کے متعلق پوچھا تو حضور نے فرمایا ”یہ بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا...... یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہوگئے ہیں“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۷‘ نمبر ۱۵‘ ص ۴‘ مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۱۹ء)

(۲۶) درد دل

اس خطبہ جمعہ کو ختم کرنے سے قبل حضرت مولانا (عبدالکریم صاحب قادیانی) نے اپنے درد دل کا اظہار اس طرح فرمایا:

آہ اس وقت مجھے کتنا درد ہے کہ لوگ ہنوز اس خدا کی نعمت سے کم واقف ہوئے ہیں۔ آہ! اس فضل خداوندی کا کتنا کفران کیا گیا ہے۔ میرا دل درد میں اور میری روح جوش میں ہے کہ میں کہاں سے وہ الفاظ لاؤں جو لوگوں کو یقین دلاسکوں کہ یہ وہی نور ہے جو شروع میں کل نبیوں کی زبان سے اور آخر میں خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے بطور وعدہ دیا گیا تھا یہ یقیناً وہی ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام بھیجا۔ اے میری قوم چھوڑ کاذبوں متکبروں اور خدا اور سنن انبیاء سے جاہل لوگوں کو چھوڑ دے انہیں کہ ان کا تکبر اور ان کی بد زبانی اور کفران نعمت اور ان کی کور باطنی اپنا رنگ لاوے تو اٹھ اور اس کی قدر کر جو حق قدر کرنے کا ہے تو اپنے پاک ایمان اور قوی عرفان کے ساتھ اس کی ذات پاک کی نسبت اپنے اقوال اور افعال سے وہی نمونے دکھا جو صحابہ نے دکھائے تاکہ تو ان تمام نعمتوں کی وارث ہو جو انہیں ملیں۔

نا عاقبت اندیشوں‘ جلد بازوں اور شکوک کے ورطوں میں غوطہ کھانے والوں سے

صفحہ 985

تیرا کیا کام۔ تجھے وہ ایمان مبارک ہو جو محکم کتاب کی اس آیت نے حضور سرور عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت عطا فرمایا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۷‘ نمبر ۱۵‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۱۹ء)

(۲۷) دو خطبے

خدا کے کلام میں جس شخص کو نبی کے لفظ سے خطاب کیا جائے‘ مثلاً یایہا النبی وغیرہ کہا جائے تو ہر ایک مسلم کا فرض ہے کہ اس کو نبی مانے اور حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے متعلق براہین احمدیہ ہی میں یہ الفاظ موجود ہیں آپ کو ان ہی الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے جن الفاظ سے آدم علیہ السلام سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کے انبیاء و مرسلین سے خطاب کیا گیا ہے۔ ایک زمانہ میں میرے دل میں ایک کھٹکا تھا اور وہ یہ کہ الفاظ تو وہی ہیں مگر حضرت (مرزا صاحب) ان کے ساتھ قیود لگاتے ہیں۔ جب میں یہاں قادیان میں آیا تو یہاں پر مولوی عبداللہ (صاحب) کشمیری جو میرے دوست اور شاگرد تھے‘ میں نے ان سے کہا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگ سمجھتے نہیں اس لیے ان کے سمجھانے کے لیے یہ الفاظ ہیں‘ والا حضرت مسیح موعود نبی ہیں اور پھر مولوی عبدالکریم صاحب سے ملاقات کی۔ ان سے عرض کیا تو انہوں نے کہا میں تو آپ کو مولوی خیال کرتا تھا آپ بھی عوام کی سی باتیں کرتے ہیں۔ حضرت (مرزا) صاحب نبی ہیں یہ محض لوگوں کو سمجھانے کے لیے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خطبہ جمعہ پڑھا اور اس میں حضرت صاحب کے لیے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ خطبہ چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔ اس خطبہ کو سن کر سید محمد احسن صاحب امروہی (قادیانی) نے بہت پیچ و تاب کھائے۔ جب یہ بات مولوی عبدالکریم صاحب کو معلوم ہوئی تو پھر انہوں نے ایک خطبہ پڑھا اور اس میں حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو حضور مجھے بتلائیں۔ میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔ جب جمعہ ہوچکا اور حضرت (مرزا) صاحب جانے لگے تو مولوی صاحب نے پیچھے سے حضرت صاحب کا کپڑا پکڑ لیا اور درخواست کی کہ اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہے تو حضور درست فرمائیں۔ میں اس وقت موجود تھا۔ حضرت صاحب

صفحہ 986

مڑ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا مولوی صاحب ہمارا بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ خطبہ سن کر مولوی محمد احسن صاحب غصے میں بھر کر واپس آئے اور مسجد مبارک کے اوپر ٹہلنے لگے اور جب مولوی عبدالکریم صاحب (قادیانی) واپس آئے تو مولوی محمد احسن صاحب (قادیانی) ان سے لڑنے لگ گئے۔ آواز بہت بلند ہو گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) مکان سے نکلے اور آپ نے یہ آیت پڑھی یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی

(تقریر سید سرور شاہ صاحب قادیانی‘ جلسہ سالانہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۱۰‘ نمبر ۵۱‘ ص ۳‘ مورخہ ۴ جنوری ۱۹۲۳ء)

(۲۸) ہمارا دعویٰ

اس حوالہ سے نہایت صفائی کے ساتھ ظاہر ہے کہ اگرچہ حضرت اقدس اوائل میں اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ کی تاویل اور توجیہ فرماتے رہے مگر صرف اسی لیے کہ آپ عام رائج الوقت عقیدہ کی بناء پر نبی کا شارع ہونا یا اس کا براہ راست یعنی بغیر کسی دوسرے نبی کی اتباع کے نبوت پانا ضروری سمجھتے تھے۔ لیکن جب کثرت اور صراحت کے ساتھ خدا نے آپ کو نبی اور رسول کہا اور آپ پر کھلے طور پر ظاہر کر دیا کہ نبوت کی سابقہ تعریف غلط ہے تو تاویل اور توجیہ‘ مجاز اور استعارہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہ رہی۔ تب صراحۃً (مرزا صاحب نے) اپنے آپ کو نبی اور رسول قرار دیا اور فرمایا:

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“۔ (”اخبار ”بدر“ ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)

”میں وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے“۔ (”نزول

المسیح“ ص ۴۸‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘

جلد ۱۸‘ نمبر ۵‘ ص ۱‘ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۳۰ء)

(۲۹) نبوت کے دعوے کی سرگزشت

اور چونکہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ (اشتہار) ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے جس میں آپ (یعنی مرزا صاحب) نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے

صفحہ 987

جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے...... پس یہ ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔

("حقیقۃ النبوۃ" ص ۱۲۱، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان)

اس عقیدے کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ) سے معلوم ہوتا ہے، جو پہلا تحریری ثبوت ہے۔ ورنہ مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات جمعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہوگیا تھا۔ گو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا۔ چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود کو مرسل الہی ثابت کیا اور لا نفرق بین احد من رسلہ والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند بھی فرمایا اور یہ خطبہ اسی سال کے اخبار "الحکم" نمبر ۳۰، جلد ۴، ۱۹۰۰ء میں چھپ چکا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے پورا فیصلہ اس عقیدے کا ۱۹۰۱ء میں ہوا۔

("حقیقۃ النبوۃ" ص ۱۲۴، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

۱۷ اگست ۱۹۰۰ء کے خطبہ جمعہ کی نسبت جو مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا تھا، حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ یہ بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہوگئے ہیں۔

(اخبار "الحکم" قادیان، جلد ۴، نمبر ۳۰، ۱۹۰۰ء منقول از منظور الہی، ص ۳۱۴، مصنفہ منظور

الہی صاحب قادیانی لاہوری)

کسی شخص نے مجلس میں ذکر کیا نبی بخش بٹالوی کہتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب اپنے خطبوں میں مرزا صاحب کے متعلق بہت غلو کرتے ہیں اور اسی پر مرزا صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ ان کا درجہ بڑا ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا "براہین احمدیہ کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب کہاں تھے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے...... "اور تیرا مخالف جہنم میں گرے گا" وغیرہ مولوی عبدالکریم صاحب اس کے مقابل کیا کہہ سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

(روایت مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان، جلد ۵، نمبر ۳۴، منقول از منظور الہی، ص ۳۱۷)

صفحہ 988

مولفہ منظور الہی صاحب قادیانی لاہوری) یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا ہے۔ ان پر چند لوگ اس وقت ایمان لائے جب آپ کا ساتھ دینا ہلاکت تھا۔ ایسے ہی لوگ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ کے مثیل تھے..... پہلے آنے والے لوگوں میں سے ایک سید قاضی امیر حسن بھی تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس وقت جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی الفاظ نبی اور محدث وغیرہ کی تشریح کر رہے تھے‘ کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی ہیں۔ دوسرے لوگوں سے بھی اور خود حضرت مسیح موعود سے بھی کہتے تھے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۱۱‘ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۳۴ء)

بار بار کی وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا کہ ۲۳ سال سے جو مجھ کو نبی کہا جا رہا ہے تو یہ محدث کا دوسرا نام نہیں بلکہ اس سے نبی ہی مراد ہے اور یہ زمانہ ”تریاق القلوب“ کے بعد کا زمانہ ہے۔

(”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۱۷۴‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی پر غور فرمایا اور قرآن کریم کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی۔

(”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۱۲۲‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیان)

مگر افسوس ہے جناب میاں صاحب کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی نادانی کے ذیل میں آتی ہے جسے توبہ توبہ نقل کفر کفر نہ باشد۔ نعوذ باللہ جہل مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات کے کہ آپ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ (یعنی مرزا صاحب) کی طرف دعاویٰ‘ نبوت منسوب کیا اور آپ لگے مدعی نبوت پر لعنتیں کرنے۔ جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا اور پھر اس کے علم پر اس قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے اس سے بڑھ کر دنیا میں جہل مرکب کا وارث کون ہو سکتا ہے؟ خود نبی ہیں اور غیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لاعلمی اور جہل مرکب کے آپ مدعی نبوت پر یا دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجنے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔

صفحہ 989

یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں (محمود احمد) صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کھینچی ہے‘ کیا اس قابل ہے کہ کسی عقلمند آدمی کے سامنے پیش کی جاسکے۔

(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۲‘ نمبر ۲۶‘ ص ۱۱‘ مورخہ ۲۷؍ اپریل

۱۹۳۴ء)

اب اس عبارت پر غور کرو کہ میاں (محمود احمد) صاحب اس دعویٰ کرنے والے کو اس قسم کا آدمی بتاتے ہیں۔ بارہ برس سے ایک دعویٰ کر رہا ہے‘ ایک عقیدہ پیش کر رہا ہے۔ شب و روز اسی کے دلائل دے رہا ہے۔ اسی عقیدہ کی بناء پر مخالفوں کو مباہلہ کے لیے بلا رہا ہے۔ حالانکہ میاں صاحب کے نزدیک صحیح وہ تھا جو مخالف کہتے تھے۔ بارہ سال کے بعد پھر کچھ اور سوچتا ہے اور دو سال اسی فکر میں لگا دیتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے...... حتیٰ کہ ایک مرید اپنے ایک خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ اب مرید مجھے رسول بنانے لگے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی تھا کہ رسالت کا دعویٰ کردوں تو شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بے وقوف بن رہے ہیں تو چلو اب رسالت کا دعویٰ کر دو۔ تب دعویٰ رسالت ہوتا ہے۔ گویا میاں صاحب کے نزدیک پیراں نمی پرند‘ مریداں می پرانند کے علاوہ چال بازی کا بھی کمال ہے۔ فانا للہ و انا الیہ راجعون......

آخر آپ مرزا صاحب کا کیا کیریکٹر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نبی تو آپ جب بنائیں گے دیکھا جائے گا۔ پہلے ایک متین کیریکٹر کا انسان تو رہنے دیجئے.....

اب میاں صاحب ہی انصاف کریں کہ یہ کیسا نبی ہے نبوت سے پہلے تو اخلاق کی ضرورت ہے۔ دوسرے مجددین کی وہ ہتک کی گئی کہ مرزا صاحب کے مقابل ان کو عوام الناس کی طرح ٹھہرایا گیا اور مرزا صاحب کی اپنی یہ عزت ہو رہی ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک انہیں چالباز ٹھہرایا جا رہا ہے۔ فانا للہ و انا الیہ راجعون۔ اسلام کا باقی کیا رہ گیا......

(”النبوۃ فی الاسلام“ ص ۱۹۳۔۱۹۴‘ مصنفہ محمد علی صاحب قادیانی‘ امیر جماعت لاہور)

(۳۰) خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتدا نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے

صفحہ 990

تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو۔ اس لیے باوجود اس کے کہ وہ شرائط جو نبی کے لیے واقع میں ضروری ہیں، آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لیے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعوے کی آپ شروع دعویٰ سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے نہ کہ کیفیت محدثیت تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت کا انکار کیا۔

(”حقیقتہ النبوۃ“ ص ۱۴۴، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۳) اٹھارہ سال

بھلا ایک شخص مرزا صاحب کو کب مسیح موعود قبول کر سکتا ہے۔ اگر اسے کہا جائے کہ وہ اپنے دعوے سے ہی اٹھارہ سال تک بے خبر رہے اور قرآن وحدیث و اقوال علمائے سلف سے غلط دلائل دیتے چلے گئے اور پھر جب اٹھارہ سال بعد ایک مرید نے بتلا دیا کہ آپ تو نبی ہیں تو پھر ہوش آیا اور ایک گہری سوچ میں پڑ گئے۔ مگر پھر بھی اپنی غلطی کا تو اعتراف نہیں کیا بلکہ نہایت ہوشیاری سے ایک مرید کو ڈانٹنا شروع کیا کہ تمہیں ہمارے دعوے کی خبر نہیں، تم نے ہماری کتابوں کو نہیں پڑھا۔ تمہیں ہمیں نبی سمجھنا چاہیے تھا۔ خواہ ہمیں خبر تھی یا نہ تھی اور اگر ہم نے اپنی پہلی کتابوں میں نبوت سے انکار کیا ہے تو کثرت مکالمہ مخاطبہ سے تو انکار نہیں کیا۔ اگر ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ کثرت مکالمہ مخاطبہ ہی حقیقی نبوت ہے۔ کیونکہ ہمیں تو خدا غلط حکم اور غلط علم دیتا چلا گیا۔ تمہیں تو الہام نہیں ہوتا تھا۔ تم اپنی فراست سے سمجھ لیتے کہ یہ شخص قرآن و احادیث کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نبوت سے منکر ہے ورنہ اسے کثرت سے مکالمہ

صفحہ 991

مخاطبہ ہوتا ہے۔

(لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۵‘ نمبر ۷۰‘ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۸ء)

(۳۲) نبوت میں ترقی اور تکمیل

حضرت اقدس کی دو حیثیتیں الگ الگ ہیں۔ ایک امتی کی‘ دوسری نبی کی۔ امتی کی حیثیت ابتدائی ہے اور نبی کی شان انتہائی۔ حضرت صاحب نے امتی بن کر جو زمانہ گزارا ہے‘ غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے‘ اس سے ترقی پا کر آپ غلام احمد سے احمد اور مریم سے ابن مریم بنے ہیں۔ جس زمانے میں آپ غلام احمد تھے اس وقت احمد نہ تھے اور جب آپ مریم تھے تب تک ابن مریم نہ تھے۔ ایسا ہی جب آپ احمد بن گئے تو غلام احمد نہ رہے اور جب آپ ابن مریم بن گئے تب آپ مریم نہ رہے۔ یہ ایک دقیق نکتہ ہے جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے۔

(”ازہاق الباطل“ ص ۳۰‘ مولفہ قاسم علی صاحب قادیانی)

پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ کہنا یا مریم سے ابن مریم ہو جانے پر بھی عیسیٰ نہ کہنا یا غلام احمد سے احمد نام پانے پر بھی احمد نہ کہنا۔ ایسا ہے جیسے کسی پٹواری کو ڈپٹی کلکٹر ہو جانے پر پٹواری یا لغوی ڈپٹی کلکٹر کہنا جو دراصل اب اس کی توہین اور گستاخی ہے۔

(”ازہاق الباطل“ ص ۳۴‘ مولفہ قاسم علی صاحب قادیانی)

خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نبی نہ کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ (مرزا صاحب) کی تحریریں جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے ان کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ مورخہ ۱۱ اپریل ۱۹۱۴ء)

ہم جیسے خدا تعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسمعیل‘ حضرت عیسیٰ‘ حضرت ادریس علیہم السلام کو نبی پڑھتے ہیں۔ ایسے خدا کی آخری وحی میں مسیح موعود کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا

صفحہ 992

لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کا ثبوت ہم دیتے ہیں۔ ایسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ ہم چشم دید گواہ ہیں۔ مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۲۶ نومبر ۱۹۱۳ء)

سنو! ہم مرزا غلام احمد صاحب کو وہ امام مہدی اور وہ مسیح مانتے ہیں جس کی خبر تمام انبیاء سابقین نے اور بالآخر حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین نے دی۔ ہم بغیر کسی فرق کے بلحاظ نبوت کے انہیں ایسا ہی رسول مانتے ہیں جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۵، نمبر ۳۱، مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۱۷ء)

(۳۳) نبی کا چہرہ

۲۶ دسمبر صبح کو حضرت اقدس باہر سیر کے واسطے تشریف لے چلے۔ احباب جوق در جوق ساتھ ہوئے۔...... ایک دیہاتی دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ اس بھیڑ میں سے زور کے ساتھ اندر جا اور زیارت کر اور ایسے موقع پر بدن کی بوٹیاں بھی اڑ جائیں تو پروا نہ کر۔ ایک صاحب بولے لوگوں کو بہت تکلیف ہے اور خود حضرت ایسے گرد و غبار میں اتنے عرصہ سے تکلیف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میں نے کہا ”لوگ بیچارے سچے ہیں کیا کریں تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی کا چہرہ دنیا میں نظر آیا ہے۔ پروانے نہ بنیں تو کیا کریں“۔

(اخبار ”بدر“ جلد ۷، نمبر ۱، مورخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء، اخبار ”الفضل“ قادیان، مورخہ ۲۸

نومبر ۱۹۲۱ء، نمبر ۴۲، جلد ۹)

(۳۴) قادیان میں آخری وحی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ء کو لاہور تشریف لے گئے۔ اسی روز بوقت ۴ بجے صبح آپ پر یہ وحی ہوئی ”مباش ایمن از بازی روزگار“ اس کے بعد قادیان میں کوئی موقع نہ ملا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو اس لیے یہ قادیان میں آخری وحی تھی۔

(شیخ محمود احمد صاحب عرفانی، اخبار ”الحکم“ قادیان، خاص نمبر، مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۳۴ء)

صفحہ 993

(۳۵) سادہ خاکہ

۳۹ - ۱۸۴۰ء مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی ولادت۔ مرزا قادیانی صاحب ایک لڑکی کے ساتھ توام پیدا ہوئے۔ وہ لڑکی چند ماہ بعد مرگئی۔ اس کا نام جنت تھا۔

۶۴ - ۱۸۶۸ء سیالکوٹ کی کچہری میں مرزا صاحب کی قلیل تنخواہ پر ملازمت۔ نیز مختاری کے امتحان میں شرکت اور ناکامی۔ بالآخر ملازمت سے علیحدگی۔

۱۸۶۸ء الہامات کی ابتداء۔

۱۸۷۷ء محکمہ ڈاک کی طرف سے مرزا صاحب پر فوج داری مقدمہ اور بریت۔

۱۸۸۰ء براہین احمدیہ حصہ اول و حصہ دوم کی اشاعت۔ ۱۸۸۲ء میں تیسری جلد اور ۱۸۸۴ء میں چوتھی جلد شائع ہوئی۔

۱۸۸۵ء مجدد ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار و اعلان۔

یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو بیعت لینے کا اشتہار و اعلان۔ پیری مریدی کی ابتداء۔

۱۸۹۱ء مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار و اعلان۔

۱۸۹۷ء "عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی"۔ "الملتمس خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی"۔

قیصر ہند دام ظلہا" منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب۔

مرزا قادیانی صاحب کی بریت۔

۱۸۹۸ء درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ۔ راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان۔

۱۸۹۹ء حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست۔ عریضہ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان۔

صفحہ 994

۱۹۰۰ء دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ کہ دینی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا‘ خدا کے حکم کے ساتھ بند کر دیا گیا اور دین کے لیے لڑنا حرام ہو گیا۔

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(”ضمیمہ تحفہ گولڑویہ“ ص۲۷، ”روحانی خزائن“ ج۱۷ ص۷۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی

صاحب)

مردم شماری میں اسی نام سے اس فرقہ کو درج کیا جائے۔

۱۹۰۱ء اپنے نبی ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار و اعلان۔

۱۹۰۳ء قادیان میں منارۃ المسیح کی تعمیر کا اعلان۔

۱۹۰۴ء اپنے کرشن ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار و اعلان۔

۱۹۰۵ء قادیان میں بہشتی مقبرہ قائم ہونے کا اشتہار و اعلان۔

۱۹۰۸ء (۱) فنانشل کمشنر پنجاب کا دورہ۔ قادیان میں مرزا صاحب کی طرف سے دعوت اور شاندار استقبال۔

قادیانی صاحب کا ناگہانی انتقال۔

(۳۶) سیرت المہدی

حضرت صاحبزادہ (بشیر احمد) صاحب نے نہایت محنت اور جاں فشانی سے کتاب ”مستطاب سیرۃ المہدی“ تیار فرمائی جس میں آپ نے حجۃ اللہ علی الارض و جری اللہ فی حلل الانبیاء حضرت مسیح موعود کے مبارک خصائل اور پاک شمائل و سیرت کے متعلق کافی چھان بین اور غور و پرداخت کے بعد نہایت ثقہ روایات درج فرما کر وابستگان دامن نبی الزمان اور عاشقان مہدی دوراں کی آرزوؤں کو پورا کر کے بڑا احسان فرمایا۔ اس عظیم الشان احسان کا اجر آپ کو مولا کریم ہی دے سکتا ہے۔ ہم اس

صفحہ 995

احسان کا کچھ معاوضہ ادا نہیں کر سکتے بجز اس کے کہ آپ کے حق میں دعائے خیر کریں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۱۴ ستمبر ۱۹۲۹ء‘ نمبر ۲۲‘ جلد ۱۷)

حضرت والا مرتبت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے اس کتاب کی تصنیف سے جماعت احمدیہ بلکہ تمام طالب حق دنیا پر ایک عظیم الشان احسان فرمایا ہے گو حضرت مہدی و مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کی سوانح حیات پر اب تک مختلف پیرایوں میں چند کتابیں شائع ہوئی ہیں لیکن کتاب سیرۃ المہدی اپنی شان میں ایک نرالی کتاب ہے۔ اس کتاب میں نہایت کوشش کے ساتھ حالات جمع کیے گئے ہیں۔ بہت سے ایسے عجیب و غریب واقعات اس کتاب میں ملتے ہیں جو کہ پہلے کسی کتاب میں شائع نہیں ہوئے۔ کتب حدیث کی طرز پر روایت بیان کی گئی ہے۔ ہر روایت کو پڑھنے سے قلب پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ گویا کوئی حدیث شریف کی کتاب پڑھی جا رہی ہے۔ ہر احمدی کے پاس اس کتاب کا ہونا لازم ہے۔ (مرزا صاحب کے ذاتی حالات اکثر و بیشتر اس کتاب سے لے کر ”قادیانی مذہب“ میں درج کیے گئے۔ حال میں جو دوسرا ایڈیشن نکلا ہے‘ اس میں اصلاح و ترمیم کے نام سے کافی رنگ آمیزی کی گئی ہے۔ لیکن ۔

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے (للمولف)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۱‘ نمبر ۶۵‘ ص ۹‘ مورخہ ۱۹ فروری ۱۹۲۴ء)

صفحہ 996

فصل انیسویں

پچرنگ

(۱) پانچ جماعتیں

جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو اپنی زندگی کے تینوں دور میں فی الجملہ پانچ جماعتوں سے سابقہ پڑا۔ پہلی جماعت وہ جو شروع سے تاڑ گئی اور مخالف رہی۔ دوسری وہ جو شروع میں معتقد رہی لیکن مسیح موعود کے دعویٰ پر بھڑک گئی اور منحرف ہو گئی۔ تیسری وہ جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تو قبول کر لیا لیکن نبوت کے دعویٰ کو ٹال دیا۔ چوتھی وہ جس نے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو بھی بخوشی تسلیم کر لیا بلکہ زور و شور سے اس کی اشاعت کی۔ پانچویں جماعت وہ جس نے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو مان کر خود بھی فائدہ اٹھایا اور ان کی ماتحتی میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ گویا مرزا صاحب کا مسلک و مذہب حد کو پہنچا دیا۔

واضح ہو کہ تیسری اور چوتھی جماعت جو بالعموم قادیانی اور لاہوری کہلاتی ہیں اور یہی دو جماعتیں فی الحقیقت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے دو ہاتھ ہیں۔ ان کا مفصل کارنامہ سولہویں اور سترہویں فصلوں میں درج ہو چکا ہے۔ ذیل میں بنظر تکمیل پانچوں جماعتوں کی مختصر کیفیت پیش کرتے ہیں کہ ہر ایک کو مرزا صاحب کے ساتھ کیا صورت پیش آئی۔ ہر عنوان کے تحت متعلقہ جماعت کا حوالہ درج ہے۔

(الف) جماعت اول۔ مرزا صاحب سے مقابلہ

(۲) مرزا صاحب کی فریاد

صفحہ 997

اے میرے قادر خدا! تو جانتا ہے کہ اکثر لوگوں نے مجھے منظور نہیں کیا اور مجھے مفتری سمجھا اور میرا نام کافر اور کذاب اور دجال رکھا گیا۔ مجھے گالیاں دی گئیں اور طرح طرح کی دل آزار باتوں سے مجھے ستایا گیا۔ اور میری نسبت یہ بھی کہا گیا کہ حرام خور‘ لوگوں کا مال کھانے والا‘ وعدوں کا تخلف کرنے والا‘ حقوق کو تلف کرنے والا‘ لوگوں کو گالیاں دینے والا‘ عہدوں کو توڑنے والا‘ اپنے نفس کے لیے مال کو جمع کرنے والا اور شریر اور خونی ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو خود ان لوگوں نے میری نسبت کہیں جو مسلمان کہلاتے اور اپنے تئیں اچھے اور اہل عقل اور پرہیزگار جانتے ہیں اور ان کا نفس اس بات کی طرف مائل ہے کہ درحقیقت جو کچھ وہ میری نسبت کہتے ہیں‘ سچ کہتے ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مورخہ ۵ نومبر ۱۸۹۹ء مندرجہ تبلیغ رسالت‘ جلد

ہشتم ص ۸۴‘ مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی‘ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۷۵)

(۳) مرزا صاحب کا آخری فیصلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم یستنبئونک احق ھو۔ قل ای وربی انہ لحق۔

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الھدی۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود‘ کذاب‘ دجال‘ مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کذاب ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تا خدا کے

صفحہ 998

بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔

یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! ----- اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔

میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ..... تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص (مرزا صاحب) در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے ..... میں دیکھتا ہوں مولوی ثناء اللہ ان ہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو

صفحہ 999

تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے‘ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک‘ تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء‘ مندرجہ تبلیغ رسالت

جلد دہم‘ ص ۱۲۰‘ مجموعہ اشتہارات‘ ج ۳‘ ص ۵۷۹۔۵۷۸)

اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا صاحب کی روزانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ:

”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا صاحب کی) طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے“۔

خدا کی قدرت اور مقام عبرت کہ مولوی ثناء اللہ صاحب تو ماشاء اللہ ابھی ۱۹۴۹ء تک کبرسنی میں بھی قادیانیت کی تردید میں زندہ کرامات بنے ہوئے ہیں (مولانا نے مرزا قادیانی کی ہلاکت کے چالیس سال بعد تقسیم ملک کے بھی بعد سرگودھا‘ پاکستان میں انتقال فرمایا) اور جناب مرزا صاحب اس اشتہار کے ایک ہی سال بعد ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے۔ اچھے اچھے واقف کار دم بخود رہ گئے کہ خود مرزا صاحب کی دعا پر حق نے عجب فیصلہ کیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ لیکن قادیانی فرقہ کا عذر ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی صاحب کا یہ چیلنج قبول نہیں کیا تھا۔ اس لیے مرزا صاحب پر اس کی پابندی عائد نہیں ہوئی۔ تاہم قدرت نے پابندی عائد کر دی کہ ہیضہ میں ہی مرزا صاحب کا انتقال ہوا۔ (للمؤلف)

(ب) جماعت دوم۔ مرزا صاحب سے انحراف

(۴) ایک سید

مجھے یاد آیا کہ بٹالہ میں فضل شاہ یا مہر شاہ نام ایک سید تھے جو میرے والد

صفحہ 1000

صاحب سے بہت محبت رکھتے تھے اور بہت تعلق تھا۔ جب میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی کسی نے ان کو خبر دی تو وہ بہت روئے اور کہا کہ ان کے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے۔ یعنی یہ شخص کس پر پیدا ہوا۔

(کشتی نوح‘ ص۴۰‘ حاشیہ روحانی خزائن‘ ص۵۲-۵۱‘ ج۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب

قادیانی)

(۵) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا نام آپ نے سنا ہو گا۔ یہ ابتدائی زمانہ میں حضرت اقدس (مرزا صاحب) سے اخلاص رکھتے تھے اور براہین احمدیہ کی اشاعت پر انہوں نے ایک زبردست ریویو بھی لکھا تھا۔ حضرت (مرزا صاحب) کو خود وضو کرانا اپنی سعادت سمجھتے تھے مگر مسیح موعود کے دعویٰ پر وہ بگڑے اور بہت بری طرح بگڑے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بہت بڑا بول بولا کہ میں نے ہی ان کو اونچا کیا ہے اور میں ہی گراؤں گا۔

(اخبار الفضل قادیان‘ جلد۱۶‘ نمبر۵۶‘ ص۶‘ مورخہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۲۹ء)

(۶) میر عباس علی صاحب

حبی فی اللہ میر عباس علی لدھیانوی۔ یہ میرے وہ اول دوست ہیں جن کے دل میں خدائے تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اٹھا کر ابرار اخیار کی سنت پر بقدم تجرید محض للہ قادیان میں میرے ملنے کے لیے آئے۔ وہ یہی بزرگ ہیں۔ میں اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کیساتھ انہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لیے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور ان کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو ان کے حق میں الہام ہوا تھا۔ اصلہ ثابت وفرعھا فی السماء۔

(”ازالہ اوہام“ جلد دوم‘ ص۷۹۰‘ روحانی خزائن‘ ج۳‘ ص۵۲۸-۵۲۷‘ مصنفہ مرزا غلام

صفحہ 1001

(احمد قادیانی صاحب)

یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام کے صفحہ نمبر ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے۔ افسوس کہ وہ بعض موسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آگئے بلکہ جماعت اعداء میں داخل ہو گئے۔ ۔۔۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ میر صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجز کے مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کرنے کے وقت نہ صرف آپ انہوں نے بیعت کی بلکہ اپنے دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اسی سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں جس قدر انہوں نے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے۔ ان کا اس وقت میں اندازہ بیان نہیں کر سکتا۔۔۔۔ بالآخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میر عباس علی صاحب نے ۱۲ر دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔۔۔ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں کہ معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا ہوں۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دوم، ص ۷۸ تا ۸۲،

مولفہ میر قاسم علی صاحب قادیانی، ”مجموعہ اشتہارات“ ج۱ ص ۲۹۳ تا ۲۹۸)

(۷) شرعی قسم

میں (حکیم مولوی ملک نظیر احسن بھاری) حلفاً شرعی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں زمانہ دراز تک مرزا صاحب کے فریب کا نیک نیتی سے دل دادہ رہا ہوں اور میں ان کا قدیم مزاج شناس ہوں۔ مرزا صاحب کے تمام راز باطنی کا میں محرم راز ہوں اور قادیان کی خوب ہوا کھائے ہوئے ہوں۔ ذرا ذرا حال حضرت جی کا میرے سینہ بے کینہ میں بھرا ہے۔

الغرض جب مرزا (صاحب) نے حد سے گزر کر نبوت کے دروازے کو کھٹکھٹانا

صفحہ 1002

شروع کیا تو سب سے پہلے منشی الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ لاہور‘ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ‘ حکیم مولوی مظہر حسین صاحب لدھیانہ‘ سید عباس علی صاحب رئیس‘ صوبہ دار میجر سید امیر شاہ صاحب وغیرہم سینکڑوں اہل علم اور واقف کار صحبت دیدہ اشخاص اور اس کے بعد اس راقم نے بھی مرزا (صاحب) کے دام تزویر سے علیحدہ ہو کر مرزا صاحب کو ملحد و مرتد اسلام سمجھ کر ان کے مذہب جدیدہ پر لعنت بھیج کر الحمد للہ علیٰ احسانہ ان کے فریب سے نجات پائی۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ مرزا (صاحب) کی ابتدائی حالت ناداری میں ہزاروں ہزار ماہوار حضرت جی کے صرف کے لیے خرچ کرتے رہے۔ مگر جب مرزا جی بہکنے لگے تو پہلے سب لوگوں نے مل کر خوب سمجھایا مگر دکانداری خوب چل نکلی تھی۔ حکیم نورالدین اور چند جاہل حاشیہ نشینوں نے اپنی دلالی کی رقموں میں سد باب خیال کر کے مرزا (صاحب) کو سبز باغ دکھایا کہ حضرت جی اس وقت پچیس تیس ہزار کے منی آرڈر براہین اور سراج المنیر کے آ چکے ہیں۔ اگر یہ لوگ آپ سے منحرف ہو گئے تو بلا سے۔ میں دل و جان سے اس کو ایسے ہی چلاتا رہوں گا۔ بس ڈٹے رہیے۔ بقول شیخ سعدی۔۔

ع ”بدوز طمع دیدہ ہوشمند“

(مسیح دجال کا سربستہ راز‘ ص۲‘ مصنفہ حکیم مولوی نظیر احسن صاحب)

(۸) الٹی منطق

اب یہ صاف امر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعود کے نام سے دنیا میں بھیجا ہے۔ جو شخص میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں خدا تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جب تک میں نے دعویٰ نہ کیا تھا‘ بہت سے ان میں سے مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لوٹا لے کر وضو کرانے کو ثواب اور فخر جانتے تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو میری بیعت میں آنے کے لیے زور دیتے تھے لیکن جب خدا تعالیٰ کے نام اور الہام سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو وہی مخالفت کے لیے اٹھے۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ ان کی ذاتی عداوت میرے ساتھ نہ تھی بلکہ عداوت ان کو خدا تعالیٰ سے ہی تھی۔ اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کو سچا تعلق تھا تو ان کی دینداری‘ اتقا اور

صفحہ 1003

خدا ترسی کا تقاضا یہ ہونا چاہیے تھا کہ سب سے اول وہ میرے اس اعلان پر لبیک کہتے اور سجدات شکر کرتے ہوئے میرے ساتھ مصافحہ کرتے۔ مگر نہیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو لے کر نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مخالفت کو یہاں تک پہنچایا کہ مجھے کافر کہا اور بے دین کہا اور دجال کہا۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب‘ مندرجہ ملفوظات احمدیہ‘ جلد اول‘ ص ۳۵۵‘ احمدیہ

انجمن اشاعت الاسلام لاہور)

(۹) منحرف سے مقابلہ

اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب جو تخمیناً بیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ ”المسیح الدجال“ میں میرا نام کذاب‘ مکار‘ شیطان‘ دجال‘ شریر‘ حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افترا کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا۔ غرض ہم نے اس کے ہاتھ سے وہ دکھ اٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں۔

میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص (مرزا صاحب) تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کذاب اور مفتری ہے۔ میں نے اس کی ان پیش گوئیوں پر صبر کیا مگر آج جو ۱۴؍ اگست ۱۹۰۶ء ہے پھر اس کا ایک خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نور الدین صاحب کے نام آیا۔ اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کی عیب شماری اور گالیوں کے بعد لکھا ہے کہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۰۶ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص (مرزا صاحب) کے ہلاک ہونے کی مجھے خبر دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔

جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں (مرزا صاحب) بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی) نسبت میرے

صفحہ 1004

پر ظاہر فرمایا ہے، میں بھی شائع کر دوں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے۔ کیونکہ اگر درحقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں اور پچیس برس سے دن رات خدا پر افترا کر رہا ہوں اور اس کے عظمت جلال سے بے خوف ہو کر اس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بددیانتی اور حرام خوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں تا لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں۔

اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم خاں نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور میرے پیچھے بھی۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں۔ مجھے کون جانتا ہے مگر وہی۔ اس لیے میں اس وقت دونوں پیش گوئیاں یعنی میاں عبدالحکیم خاں کی میری نسبت پیش گوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا، ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں:

نسبت ”مرزا کے خلاف ۱۲؍ جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ مرزا مسرف، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے“۔ (”کانا دجال“ ص ۵۰)

عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے (یعنی مرزا صاحب کو) معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں:

”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ ربّ فرّق بین صادق و کاذب انت تری کل مصلح و صادق۔ یعنی اے میرے خدا، صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے“۔

صفحہ 1005

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا اشتہار بعنوان ”خدا سچے کا حامی ہو“ مورخہ ۱۶؍ اگست

۱۹۰۶ء مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دہم، ص ۱۱۶ تا ۱۱۳، ”مجموعہ اشتہارات“ ج ۳، ص ۵۶۰

تا ۵۵۷)

چنانچہ عبدالحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کے اس اشتہار کے جواب میں اپنی پہلی پیش گوئی کو منسوخ قرار دیتے ہوئے لکھا:

”اللہ نے مرزا کی شوخیوں اور نافرمانیوں کی سزا میں سہ سالہ میعاد میں سے جو ۱۱؍ جولائی ۱۹۰۹ء کو پوری ہونی تھی ۱۰ مہینے اور ۱۱ دن اور کم کر دیئے اور مجھے یکم جولائی ۱۹۰۷ء کو الہاماً فرمایا کہ ”مرزا آج سے (۱۴) ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا“۔

اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) نے ۵؍ نومبر ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار بعنوان ”تبصرہ“ شائع فرمایا جس میں خدا تعالیٰ کا یہ کلام درج فرمایا:

”اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا اور تیری عمر کو بھی بڑھاؤں گا یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء سے (۱۴) مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی دوسرے دشمن جو پیش گوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۱۸، نمبر ۱۳۵، ص ۵، مورخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۳۱ء)

اردو میں فرمایا کہ ”میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا یعنی دشمن (ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب) جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے“۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مورخہ ۵؍ نومبر ۱۹۰۷ء، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“

جلد دہم، ص ۱۳۱، ”مجموعہ اشتہارات“ ج ۳، ص ۵۹۱)

آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴؍ اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا------ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل

صفحہ 1006

پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے‘ خدا اس کی مدد کرے گا۔

(”چشمہ معرفت“ ص ۳۲۱۔۳۲۲ ”روحانی خزائن“ ج ۲۳ ص ۳۳۷۔۳۳۶‘ مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

خدا کی قدرت اور مقام عبرت کہ مرزا صاحب ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کے مطابق میعاد مقررہ کے اندر ہی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے اور ماشاء اللہ ڈاکٹر صاحب بعد کو برسوں زندہ اور خوش و خرم رہے۔ (للمولف)

(ج) جماعت سوم۔ مسیحیت کا اقرار‘ نبوت کا انکار

(۱۰) لاہوری محضر

ہم دستخط کنندگان ذیل حلفی شہادت ادا کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جب ۱۸۹۱ء میں یہ اعلان کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پا جانا قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اور حدیثوں میں جس ابن مریم کے امت محمدیہ میں آنے کا ذکر ہے وہ میں ہوں تو اس وقت آپ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ ہاں بعض علماء نے لوگوں کو غلط فہمی میں ڈالا اور ان کو مدعی نبوت قرار دے کر آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا جس کے بعد حضرت موصوف نے صاف طور پر کئی مرتبہ یہ اعلان کیا جیسا کہ آپ کی تحریروں سے ظاہر ہے کہ آپ کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنا محض افترا ہے اور آپ نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم سمجھتے ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعی نبوت کو کاذب اور کافر یقین کرتے ہیں۔ اور آپ کے بعض الہامات میں جو مرسل یا رسول یا نبی آیا ہے یا حدیث میں آنے والے مسیح کی نسبت جو لفظ نبی کا آیا ہے تو اس سے مراد فی الحقیقت نبی نہیں بلکہ مجازی‘ جزوی‘ ظلی نبی ہے جسے محدث کہا جاتا ہے اور خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ نہ نیا نہ پرانا۔

ہم یہ بھی حلفی شہادت ادا کرتے ہیں کہ ہم نے نومبر ۱۹۰۱ء سے پہلے حضرت مسیح

صفحہ 1007

موعود کی بیعت کی اور میاں محمود احمد صاحب سرکردہ احمدی فریق قادیان نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ ابتدا میں نبوت کا نہ تھا، مگر نومبر ۱۹۰۱ء میں آپ نے دعویٰ تبدیل کیا اور نبوت کے مدعی بن گئے اور انکار نبوت کی دس گیارہ سال کی لگاتار تحریریں منسوخ ہیں۔ یہ محض غلط اور سراسر خلاف واقعات ہے۔ ہم اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ کبھی ہمارے وہم و گمان میں یہ بات نہیں آئی کہ ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود نے اپنے دعویٰ میں تبدیلی کی۔ یا آپ کی سابقہ تحریریں جو انکار و دعوائے نبوت سے بھری پڑی ہیں منسوخ ہو گئیں۔ نہ ہم نے اپنے علم میں کبھی ایسے لفظ کسی ایک شخص کے بھی منہ سے سنے جب تک کہ میاں محمود احمد صاحب نے ان کا اعلان نہیں کیا۔ واللہ علی ما نقول شہید۔ دستخط مولوی سید محمد احسن امروہوی وغیرہ وغیرہ (اس محضر پر ستر معزز اور معتبر قادیانی صاحبان کے دستخط ثبت ہیں۔)

(”النبوت فی الاسلام“ ص ۲۶۷-۲۶۶، مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت

لاہور)

(د) جماعت چہارم مرزا صاحب کی نبوت کے قائل

(۱۱) مولوی محمد احسن صاحب امروہوی

حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہوی جو ایک فاضل جلیل اور امین اور متقی اور محبت اسلام میں بدل و جان فدا شدہ ہیں۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دوم، ص ۱۰۳، مولفہ

میر قاسم علی صاحب قادیانی، ”مجموعہ اشتہارات“ ص ۳۲۳، ج ۱)

یہ وہ امور ہیں جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح (یعنی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول) بھی آپ کا اعزاز فرماتے تھے۔ اور وہ اپنے علم و فضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت کریں۔ وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریذیڈنٹ ہوں۔ میں اس جلسہ میں نہ ہوں گا تاکہ ہر شخص آزادی سے بات کر سکے جو بات باہمی مشورہ اور بحث کے بعد طے ہو وہ لکھ لی

صفحہ 1008

جائے اور پھر مجھے اطلاع دو..... پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی (سید محمد احسن) صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے وہ تم جانتے ہو۔ حضرت (مرزا) صاحب بھی ان کا ادب کرتے تھے۔ (”منصب خلافت“ ص ۵۳‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

اسی طرح مولوی محمد احسن صاحب ہیں کہ ایک وقت تو آپ حضرت مسیح موعود کے دعوے کی تائید میں تمام قرآن سے استدلال کیا کرتے تھے یا اب وہ زمانہ ہے کہ خدا جانے کن اغراض کے ماتحت اس آخری عمر میں اپنی تمام عمر کے اعمال کے خلاف ان باتوں سے بھی منکر ہو رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھی ہیں اور جن سے حضور کی تمام کتب بھری پڑی ہیں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۲۷‘ جلد ۵‘ مورخہ ۲ اکتوبر ۱۹۱۷ء)

مولوی محمد احسن صاحب نے غیر مبائعین کی رفاقت اختیار کر کے انہیں خوش کرنے کے لیے جو جو کوششیں کی ہیں اور کر رہے ہیں ان سے اکثر لوگ آگاہ ہو چکے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی شان میں جن کے متعلق ایک وقت انہوں نے لکھا تھا کہ ”میں یقین کامل سے کہتا ہوں کہ حقیقتاً آپ کی خلافت ثابت شدہ صداقت ہے اور منکرین اس کے بڑے خطاکار ہیں“۔ مگر اب خود اس ثابت شدہ صداقت کا انکار کر کے بڑے خطاکاروں میں شامل ہو گئے ہیں اور ایسے ایسے نازیبا اور گندے الفاظ سے آپ کو مخاطب کرتے ہیں کہ الامان۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۵‘ نمبر ۶۴‘ مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۱۸ء)

(۱۲) سامری اور جالوت

۲۵ ستمبر ۱۹۱۸ء کے پیام میں مولوی محمد احسن (صاحب قادیانی لاہوری) کی طرف سے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے ایک الہام کے متعلق مولوی محمد احسن صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے سیدنا و مولانا حضرت فضل عمر خلیفہ ثانی (یعنی میاں محمود احمد صاحب) کو سامری قرار دینے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ مولوی صاحب کی طرف سے ایسی ناروا باتوں کا پیش ہونا جو ان کے علم اور عقل کے سلب ہونے

صفحہ 1009

پر کافی دلیل اور بقول ان کے ان کی ارذل عمر کا صریح نتیجہ ہے۔ بجز اس کے نہیں کہ مولوی صاحب موصوف مغلوب الغضب اور مسلوب الحواس ہو کر مباحثین کے دلوں کو بے وجہ دکھانا چاہتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ان ہی مولوی صاحب نے حضرت سیدنا خلیفۃ المسیح علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) کو جالوت قرار دینے کے لیے ایک مضمون لکھ کر شائع کیا تھا، جس کے جواب میں بفضلہ تعالیٰ مدلل ثابت کیا گیا تھا کہ مولوی صاحب خود ہی جالوت کے بروز ہیں۔ اب مولوی صاحب کی کوشش ہے اور محض بے سود کوشش کہ حضرت ممدوح کو سامری کی مماثلت میں پیش کریں اور اس سے اپنی شقاوت اور قساوت قلبی کا اظہار کریں۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۶، نمبر ۳۵، ص ۵، مورخہ ۹ نومبر ۱۹۱۸ء)

(۱۳) فتویٰ

صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود مرزا صاحب کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں اور اس لیے میں اس خلافت سے، جو محض ارادی ہے سیاسی نہیں، صاحبزادہ صاحب کا اپنی طرف سے عزل کر کے عنداللہ اور عندالناس اس ذمہ داری سے بری ہوتا ہوں جو میرے سر پر تھی اور حسب ارشاد الٰہی قال ومن ذریتی قال لا ینال عہدی الظلمین اپنی بریت کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو یہ اطلاع پہنچاتا ہوں کہ صاحبزادہ صاحب کے یہ عقائد (۱) سب اہل قبلہ کلمہ گو کافر اور خارج از اسلام ہیں (۲) حضرت مسیح موعود کامل حقیقی نبی ہیں، جزوی نبی یعنی محدث نہیں (۳) اسمہ احمد کی پیش گوئی جناب مرزا صاحب کے لیے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے نہیں اور اس کو ایمانیات سے قرار دینا۔ ایسے عقائد اسلام میں موجب ایک خطرناک فتنہ کے ہیں جس کے دور کرنے کے لیے کھڑا ہو جانا ہر ایک احمدی کا فرض اولین ہے۔ یہ اختلاف عقائد معمولی اختلاف نہیں بلکہ اسلام پاک کے اصول پر حملہ ہے۔ اور مسیح موعود کی بھی تعلیم کو ترک کر دینا ہے۔ میں یہ بھی اپنے احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان عقائد کے باطل ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرر کردہ معتمدین کی بھی

صفحہ 1010

کثرت رائے ہے۔ یعنی اب جو بارہ ممبر حضرت کے مقرر کردہ زندہ ہیں ان میں سے سات ممبر علی الاعلان ان عقائد سے بیزاری کا اظہار کر چکے ہیں اور باقی پانچ میں بھی اغلب ہے کہ ایک صاحب ان عقائد میں صاحبزادہ کے شامل نہیں۔

(اعلان من جانب مولوی سید محمد احسن صاحب قادیانی معتمد خاص مرزا صاحب

و رفیق فریق لاہوری)

(منقول از ”آئینہ کمالات مرزا“ ص ۵۰-۴۹‘ منجانب جناب ناظم صاحب دارالاشاعت

رحمانی مونگیر شریف)

(ھ) جماعت پنجم۔ قادیانی انبیاء

(۱۴) باد صبا

سابقہ اقتباسات سے واضح ہوا کہ چار جماعتیں چار طریق پر رہیں۔ ایک جماعت تو شروع سے محتاط اور محترز رہی۔ دوسری جماعت پھنسی مگر پھرتی سے نکل گئی۔ تیسری جماعت نے ایک حد تک ساتھ دیا مگر آگے بڑھنے سے عذر کر دیا۔ چوتھی جماعت بے تکان ساتھ گئی مگر پانچویں جماعت جو سب پر سبقت لے گئی وہ ہے جس نے اتباع کے سوا خود اپنا بھی جھنڈا بلند کیا۔ جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی نبوت پر ایمان لا کر خود بھی نبوت کا درجہ حاصل کیا۔ گویا مرزا صاحب کی تعلیم کا پورا فیض پایا۔ لیکن تعجب اور افسوس ہے کہ مرزا صاحب نے ان کی کچھ قدر نہ کی بلکہ ان کو مفسد اور گمراہ قرار دیا حالانکہ

ع اے باد صبا ایں ہمہ آوردۂ تست

بہر حال مرزا صاحب کے جو حوصلہ مند مرید نبوت کے دعویدار بنے‘ ان میں سے سات مختصراً ذیل میں پیش ہیں۔ قادیانی امت میں نبوت کی کیسی برکت ہے۔

ع سالے کہ نکوست از بہارش پیداست

(۱۵) مدعی نبوت

دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان میں سے

صفحہ 1011

سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے۔ واقعہ میں ابتداء میں انہیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب نہیں اب بھی ہوتے ہوں۔ مگر نقص یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اخلاص پایا جاتا تھا، خشیت اللہ پائی جاتی تھی۔ آگے خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے مگر ابتداء میں ان کی حالت مخلصانہ تھی۔ ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا مگر نقص یہ ہو گیا کہ انہوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھا گئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے زمانہ میں ایک آدمی یہاں آیا جو احمدی تھا۔ کہنے لگا، مجھے الہام ہوتے ہیں کہ تو موسیٰ ہے، ابراہیم ہے، محمد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) نے فرمایا، یہ بتاؤ جب تمہیں موسیٰ کہا جاتا ہے تو اس قسم کے نشان بھی دیئے جاتے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے۔ یا جب ابراہیم کہا جاتا ہے تو کیا حضرت ابراہیم کی طرز کا کلام اور برکات بھی دیئے جاتے ہیں؟ یا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا ہے تو جیسے معارف اور لطائف روحانی آپ کو دیئے گئے وہ تمہیں بھی دیئے جاتے ہیں؟ وہ کہنے لگا، دیا تو کچھ نہیں جاتا صرف کہا ہی جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) نے فرمایا، دیکھو خدا کسی سے مخول نہیں کیا کرتا۔ وہ جب کسی کو کوئی نام دیتا ہے تو اس کے ساتھ برکات بھی دیتا ہے۔ تمہیں جو الہام ہوتے ہیں ان کی دو صورتیں ہیں یا تو یہ کہ وہ کلام کسی اور کے لیے نازل ہوتا ہے جسے تم بھی سن لیتے ہو اور غلطی سے اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھ لیتے ہو۔ یا پھر یہ خدا کا کلام نہیں، شیطان کا کلام ہے جو تمہیں دھوکا دے رہا ہے۔ دیتا تو کچھ نہیں مگر کہتا ہے تم یہ بن گئے وہ بن گئے۔ گویا وہ تمہیں وہ بات کہتا ہے جو تم میں پائی نہیں جاتی۔

(تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۱۵،

نمبر ۷۶-۷۷، ص ۶-۵، مورخہ ۲۷-۳۰؍ مارچ ۱۹۲۸ء)

(۱۶) مولوی یار محمد قادیانی کی نبوت

ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی

صفحہ 1012

بن گئے۔ ان کا نام مولوی یار محمد صاحب تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آ گیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو مگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (مرزا) کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج۲۲،

نمبر ۷۶، ص ۷، مورخہ یکم جنوری ۱۹۳۵ء)

(۱۷) احمد نور کابلی قادیانی کی نبوت

لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب آسمان کے نیچے اللہ کا دین میری تابعداری ہے اور اللہ کا مخاطب رسول زندہ موجود دنیا پر میں ہوں۔ میرا مان لینا اللہ کا دین ہے اور میرے خلاف اور نہ مان لینا اللہ کے دین سے اخراج ہے اور دنیا پر میرا وقت رسالت کا ہے اور اللہ کے دین کی رسی صرف میرے اور رحمٰن کے ہاتھ میں ہے۔ میری وحی اللہ کی طرف سے ہے جیسا کہ تمام انبیاء کی وحی اللہ سے ہے۔ میں اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین ہوں۔ میں تمام انبیاء کا مظہر ہوں اور قرآن کو ستاروں سے لایا ہوں۔

(لکل امتہ اجل ص ۱-۲، مصنفہ احمد نور کابلی صاحب قادیانی)

سید احمد نور صاحب کابلی (قادیانی)...... ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف سے کس طرح منسوب کیا جاسکتا ہے۔

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۲،

نمبر ۵۸، ص ۱۷، مورخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۳۲ء)

(۱۸) عبد اللطیف قادیانی کی نبوت

چونکہ خدا تعالیٰ نے نو سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لیے اور اسلام کو ہر رنگ میں تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے اپنا نبی اور رسول اور امام مہدی بنا کر

صفحہ 1013

مبعوث کیا ہے اور میرے دعوٰی کے دلائل کتاب چشمہ نبوت کے ذریعہ پانچ سال سے شائع ہو چکے ہیں لیکن میاں محمود احمد صاحب قادیانی اور ان کی جماعت نے میرے دعاوی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے‘ اس لیے خدائے تعالٰی نے مجھے اپنی وحی کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو سزا دے گا اور ان کے اسی انکار اور سرکشی کی پاداش میں خدا کا غضب میاں محمود احمد قادیانی پر اور ان کے ساتھیوں پر اور ان کی بستی پر کسی سخت مصیبت اور عذاب شدید عبرت ناک کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والا ہے۔ اور اس عذاب شدید عبرت ناک کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والا ہے۔ اور اس عذاب شدید کے بعد جماعت احمدیہ کے بقیہ اور منتشر لوگ پھر خدا کے حکم سے میرے ہاتھ پر جمع ہوں گے۔ اس عذاب کے ٹلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان قوم یونس کی طرح میرے دعاوی پر ایمان لا کر مجھے قبول کریں۔ اس کے سوا اور کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی نہیں۔

(مورخہ ۵؍ مارچ ۱۹۳۰ء‘ عبداللطیف‘ خدا کا نبی اور رسول اور امام مہدی گناچور‘ ضلع

جالندھر)

(۱۹) چراغ دین جموی قادیانی کی نبوت

چراغ دین جمونی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کو الہام ہوا تھا نزل بہ الجبیز کہ یہ کتے کی طرح آبیٹھا تو اسے ٹکڑا ڈال دیا گیا۔ اس میں بتایا کہ یہ الہام کے قابل نہ تھا مگر ہمارے دروازہ پر آبیٹھا۔ اس لیے اس پر الہام تو نازل کر دیا مگر وہ ایسا ہی تھا جیسے کتے کو ٹکڑا ڈال دیا جائے۔ چراغ دین تو مرتد ہو گیا کیونکہ جبیز کو اس نے اعلیٰ چیز سمجھ لیا اور اس پر اترانے لگا لیکن اگر پیچھے پڑنے سے پہلے جبیز ہی نازل ہو اور انسان اس پر متکبر نہ ہو بلکہ دعاؤں میں لگا رہے تو اس کے لیے اعلیٰ چیز بھی نازل ہوگی۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے پہل معمولی چیز ملتی ہے لیکن جب تعلقات بڑھ جاتے ہیں اور دوستی ترقی کر جاتی ہے تو دعوتیں ہونے لگتی ہیں۔ پس اگر کسی کو خدا تعالٰی خوانِ نعمت پر نہیں بلاتا اور دعوت نہیں دیتا تو بھی اسے کوشش جاری رکھنی چاہیے خواہ جبیز ہی مل جائے۔

صفحہ 1014

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی قادیانی مبلغین کو نصائح مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، ج ۱۸، نمبر ۵۹، ص ۶، مورخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۳۰ء)

چونکہ اس شخص (چراغ دین) نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں طاعون کے بارہ میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کیے ہیں اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصہ ان کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں گیا تھا۔ اس لیے میں نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعویٰ جو اس کے حاشیہ میں تھے اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لیے اجازت دی گئی۔

اب جو رات اسی شخص چراغ دین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لیے مضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم۔ اور اپنا کام یہ لکھا ہے کہ تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کرا دے اور قرآن و انجیل کا تفرقہ باہمی دور کر دے اور ابن مریم (غالباً مرزا صاحب) کا ایک حواری بن کر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے...... یہ بھی کہتا کہ میں رسول اللہ ہوں کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے، گویا رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون۔ لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء اس طریق سے مستثنیٰ ہیں۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا اور تمام صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی (یعنی قادیان میں) ایک ہی ہادی کے سب پیرو ہیں۔ کسی کو دعویٰ نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے...... نفس امارہ کی غلطی نے اس (چراغ دین) کو خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لیے مستعفی نہ ہو جائے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز

صفحہ 1015

کریں۔ اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی اس لیے اجازت طبع دی تھی۔ اب ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہیے۔ (المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد‘ از قادیان ۲۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء ”دافع البلاء“ ص۱۹‘ ص۲۲‘ ”روحانی خزائن“ ج۱۸‘ ص۲۳۲-۲۳۹‘ ”مجموعہ اشتہارات“ ج۳‘ ص۴۷۰ تا ۴۸۴)

(۲۰) غلام محمد قادیانی کی نبوت

جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش گمشدہ معمولی اور بے علم محض ہوتے ہیں‘ ایسا ہی میرا حال تھا۔ میری زبان اور قلم وعظ کے لیے بہت کم اٹھی۔ میری تمام توجہ اپنے ذاتی فرائض منصبی کی تکمیل‘ اپنی ذاتی مکمل اصلاح اور تلاش محبوب میں منہمک رہی اور جوں ہی کہ میں مراد کو پہنچ گیا تو ایک ہی لیلۃ القدر کی مشہور رات کے بعد میں بڑے شور و غل کے ساتھ غار حرا یا غار ثور سے باہر نکل آیا جس کی کوئی مثال موجودہ دنیا پیش نہیں کر سکتی۔ ایک ہی رات میں وہ عظیم الشان تبدیلی مجھ میں ظہور میں آگئی کہ میں عالم بھی ہو گیا‘ مصنف بھی ہو گیا‘ مقرر بھی ہو گیا‘ امام بھی ہو گیا اور مصلح بھی ہو گیا۔ اور یہ سب کچھ علم و عمل کے اتحاد کے ساتھ ظہور میں آیا۔ مجھے جس انجمن نے اپنی تجارت میں بطور کارندہ ملازم رکھا ہوا تھا وہ انجمن حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی طرح عنقریب میری زوجیت میں بخوشی آنے والی ہے۔ (ص۷۷)

اس کے بعد میں خدائے واحد اسلام کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور جو تمام زمین و آسمان کا واحد مالک اور خالق ہے۔ اس کے نام عزت و جلال کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ (مرزا صاحب کے) مندرجہ بالا تمام الہامات و مکاشفات میں تمام شاہانہ تصویر اور اس کے متعلقہ کاروبار میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف میں ہی ان سب کا مصداق اور مدعی صادق ہوں..... میں خدا کے فضل سے (مرزا صاحب کے) ۳۰؍ مئی ۱۹۰۶ء کے الہام کا بھی مصداق ہوں جو حسب ذیل ہے:

خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔

صفحہ 1016

(۳۰؍مئی ۱۹۰۶ء‘ ص ۲۵)

خلیفہ جماعت قادیان (میاں محمود احمد صاحب) کے نام مخصوص آسمانی چٹھی آپ کو معلوم ہو گا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی فرزندیت میں آسمانی بابرکت مصلح موعود و قدرت ثانی کی آسمانی خلافت و ماموریت کا دعویٰ ہے جس کے مقابل آپ کو حضور کے جسمانی فرزند ہونے اور زمینی مصلح موعود و زمینی خلافت کا بغیر مخصوص وحی اور روح کے دعویٰ ہے...... لیکن آپ نے معلوم ہوتا ہے مجھے کوئی معمولی انسان خیال کر کے تکبر سے منہ پھیر لیا ہوا ہے۔ جس میں آپ نے مجھے ہی نہیں ٹھکرایا اور جواب دیا بلکہ اپنے محسن باپ کو ٹھکرایا اور جواب دے دیا جس کی شاہی گدی پر آپ زبردستی بیٹھ کر ہزاروں آرام کے دن دیکھ چکے ہیں...... میری طرف سے اس لاپروائی کی سزا میں آپ کو سردست طرح طرح کی ہلکی سزاؤں میں مبتلا کیا جا رہا ہے...... جن سب کا تعلق صرف میری ذات سے ہے جس کی اطاعت سے الگ رہنے کی صورت میں آپ کے کام کو ٹھنڈا کر دیا جانے والا ہے۔ (ص ۱۷)

پس میں ہی بشیر الدولہ اور قطعی بہشتی ہوں جس نے اپنے آپ کو گزشتہ دوشنبہ کی ۲۷؍ ماہ رجب ۱۳۵۳ھ میں شب معراج میں شجرۃ المنتہیٰ پر شدید القویٰ کی مخصوص وحی و قرب کے ساتھ آسمان روحانیت کی جنت پر دیکھا ہے۔ (ص ۱۰)

(رسالہ نمبر ہشتم منجانب شیخ غلام محمد بشیر الدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود و مہدی مسعود سلطان القلم ممبر مجلس معتمدین احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ بلڈنگس مدینہ المسیح‘ لاہور)

(۲۱) عبداللہ تیماپوری قادیانی کی نبوت

فی زمانہ حضرت غلام احمد مجدد چودھویں صدی نے علوم ظاہری سے تمام ادیان باطلہ پر دین حق کا غلبہ ظاہر کر کے راز تصوف میں مرتبہ شہود کا سبق پڑھایا۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تعلیم دی۔ انہیں کے خادم اس عاجز مامور من اللہ کے ذریعہ سے تعلیم میں ترقی کرتے ہوئے دنیا کو دین کے رنگ میں لانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

(”ام العرفان“ ص۹‘ مصنفہ عبداللہ تیماپوری صاحب قادیانی)

صفحہ 1017

اللہ پاک نے اس عاجز پر اپنے صحیفہ آسمانی کا نزول فرما کر سلسلۂ آسمانی کی طرف مخلوق کو دعوت دینے کی تاکید کی ہے۔ بائیس سال کا عرصہ گزرتا ہے خاکسار خدا سے وحی پاکر اس کام کو انجام دے رہا ہے۔

(”ام العرفان“ ص۹‘ مصنفہ عبداللہ تیماپوری صاحب قادیانی)

ناظرین! یہ وہی تفسیر کبیر ہے (یعنی تیماپوری صاحب قادیانی کی تصنیف) جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک رویا (خواب) میں دیکھا ہے۔ آپ کے ملفوظات کے سنہری چوغہ کو شیطان لوگوں کی نظروں سے غائب کرنے کے لیے لے بھاگا تھا۔ یہ خاکسار شیطان سے چھین کر واپس لایا۔ اس کی تعبیر خود حضرت (مرزا) صاحب نے یہ کی ہے کہ وہ تفسیر ہمارے (مرزا صاحب کے) لیے موجب عزت و زینت ہوگی۔ الحمد للہ اس تفسیر مبارک سے حضور کی رویائے صادقہ روحانی و جسمانی طریق میں مجسم بن کر پوری ہوئی۔ یہ خاکپائے غلامان رسول اللہ آپ ہی کے اتباع کی برکت سے مردگی سے زندہ ہو کر ایک قاش عرفان الٰہی اور عشق و نبوت محمدی کی آپ ہی کے ہاتھوں سے کھایا ہے، جس کی خوش خبری براہین کے حاشیہ در حاشیہ ص۲۴۸ میں دی گئی ہے اور اس عاجز کی زندگی کے ساتھ دین اسلام کی ترو تازگی و ترقی منظور الٰہی ہے۔ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی صداقت زور آور حملوں کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگی۔ (اتنی عجلت! شاباش۔ للمولف)

(تفسیر آسمانی سبعا من المثانی‘ مولفہ عبداللہ تیماپوری صاحب قادیانی‘ ص الف)

اسی تفسیر کے سلسلہ میں تیماپوری قادیانی صاحب الرحمٰن الرحیم سے نکتے پیدا کرتے ہیں جس کی مرزا صاحب داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کردن خویش آمدن پیش بغور ملاحظہ ہو:

رحمٰن و رحیم۔ یا باسم محمد و احمد۔ یہ ایک تخم کی دو پھانک ہیں۔ یہ دونوں شقوں کے درمیان سے نور اللہ کا پودا بذریعہ عشق نکلا۔ پھر نیاز کی زمین سے ناز کا درخت بلند ہوا۔ اس کی شاخیں آسمان سے جا لگیں۔ اس کی ایک شاخ و ڈالی میں توحید کے خوشنما پھول لگے۔ یوں وحدت کثرت میں آکر اپنا جلوہ دکھاتی اور استعداد زمانہ کی وجہ سے وحدت الوہیت کا تاج کثرت کے سر پر رکھا جاتا ہے تو خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔ چونکہ

صفحہ 1018

اللہ آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ فی زمانہ حضرت مسیح ناصری کو خدا کے نادان بندوں نے اس کی خدائی میں شریک گردانا، ہمیشہ کے لیے مسیح کو زندہ مانا۔ حقیقی پرندوں کے پیدا کرنے والے، مردوں جلانے والے یقین کرلیا۔ اس مشرکانہ عقیدت کو مٹانے کے لیے اللہ پاک نے اپنے ایک برگزیدہ غلام احمد کو مسیح احمد بنا کر بھیجا۔ پھر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پھر وہی بادشاہ زمین و آسمان نے اس عاجز کو چن لیا تاکہ زور آور حملوں سے غلام احمد کی سچائی کو ظاہر کرے اور اس کے ذریعہ سے بذریعہ الہام ایک نور حق کے آنے کی پیش گوئی بھی سنائی جو اس عاجز کے وجود سے پوری ہوئی۔ وہ یہ ہے:

وجاءک النور وھم الفضل منک (یعنی آئے گا تیرے پاس ایک نور اور وہ تجھ سے بھی افضل ہوگا) اس نور کی بزرگی میں بطور استعارہ یہ الہام نازل ہوا۔ کان اللہ نزل من السماء ۔ یہ مرتبہ خاتم ولایت محمدی کی طرف اشارہ ہے اور الہام ”پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد“ میں ظاہر ہونے والے راز کو کھولا۔ غرض ایک وجہ سے مرتبہ احمدیت مرتبہ محمدیت کا ظل ہے اور ایک وجہ سے مرتبہ محمدیت مرتبہ احمدیت کا ظل ہے۔۔۔۔۔۔ لہٰذا آپ (مرزا صاحب) خاتم ولایت احمدی ہوئے اور اس عاجز کے وجود سے یہ کشف مرتبہ ناز روحانی میں ظل رحمانی کے درجہ پر یوں پورا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح احمد از روئے تولد روحانی مظہر جمال تھے۔ آپ کے وجود میں جمال کا غلبہ زیادہ تھا اور جلال اس میں پوشیدہ تھا۔ اس معنی کر جمالی رنگ میں آپ کا تولد ہوا اور یہ عاجز آپ کے پیچھے اور ساتھ میں مرتبہ جلال و جمال پر تولد پا کر خاتم ولایت محمدی ہوا ہے۔ ”اول بآخر نسبت دارد“ کا دورہ پورا ہو کر قدرت ثانی کا دوسرا دور دورِ محمدی کا آغاز ہوا۔ یہ مرتبہ ظل رحمانی ہے۔ مرتبہ راز اللہ ہی اللہ ہے۔ خدا ہی جانے کیا سے کیا ہونے والا ہے۔

(مولوی تناپوری صاحب کا مرزا صاحب سے غالباً مرتبہ بلند ہونے والا ہے اور اس میں بھی مرزا صاحب ہی کا نام روشن ہونے والا ہے۔ جیسا کہ خود مرزا صاحب کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور جس کے شاگرد استاد سے بازی لے جائیں اس کی استادی کا کیا کہنا۔ استادوں کا استاد نکلا۔ بہرحال تناپوری صاحب بھی مرزا صاحب

صفحہ 1019

سے کچھ کم حوصلہ مند نہیں ہیں۔ کامیابی ناکامیابی قسمت کی بات ہے۔ للمولف)

(”تفسیر آسمانی سبعا“ من المثانی، حصہ اول، ص ۶۷-۶۹، مصنفہ عبداللہ ٹماپوری صاحب

قادیانی)

عبداللہ صاحب پر قادیانی فیضان کا واقعی خوب سیلاب آیا۔ آپ کی تصانیف بھی کثیر ہیں۔ منتخب ذیل میں درج ہیں:

(۲۲) گل تازہ شگفت

اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے جو عین وقت میں یعنی ۱۹۲۴ء میں آیا۔ اگر میاں (محمود احمد) صاحب کے مامور ہونے کا انتظار ہے تو وہ بالبداہۃ غلط ہے۔ پہلے تو اسی بنا پر غلط ہے کہ مامور کبھی ایک زبردست جماعت کا خلیفہ نہیں ہوا کرتا کیونکہ مامور کے ساتھ ہونے والوں کو ایمان بالغیب اور امتحانات میں سے گزرنا پڑتا ہے اور سوائے اس کے حضرت (مرزا صاحب) نے یوسف موعود کے لیے نطفہ اور علقہ لکھا ہے کہ وہ معمولی انسان ہوگا۔ تمہاری نظریں دھوکا کھا جائیں گی اور یہی سنت اللہ ہے۔۔۔۔۔ ایسی صورت میں نہ خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ مولانا محمد علی صاحب اور نہ میاں (محمود احمد) صاحب۔ یہ کل مشہور انسان ہیں۔ اگر یہ

صفحہ 1020

لوگ اس کام کے لیے مامور ہو جائیں تو خدا کی سنت میں فرق آتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ جلشانہ اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتلاء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کرے۔ ”دیر آمدہ زود آمدہ“ کا وعدہ پورا کیا۔ اس کا تفصیل وار ذکر آئندہ آئے گا۔ ہر لفظ پیش گوئی کا فقیر پر چسپاں ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ نشان کہ وہ نطفہ علقہ کی طرح ہے، اس کو دیکھ کر لوگوں کی نظر دھوکا کھائے گی۔ وہ اس طرح کہ پیدائش کے لحاظ سے بھی میرا یہ حال ہے کہ میں حد درجہ کا کمزور پیدا ہوا تھا۔ رونے کی آواز تک نہیں نکلتی تھی۔ والد نے کہا کہ یہ بچہ کیا جیتا ہے۔ کوڑے پر پھینک دو۔ والدہ نے کہا کہ ابھی جان ہے۔ ذرا ٹھہرو........ اللہ جماعت احمدیہ سے کام لینا چاہتا ہے۔ ان میں مخلص لوگ کثرت سے ہیں........ اللہ اس جماعت کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پھر دوبارہ فضل ہوا ہے۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ جب تک کوئی روح حق پا کر کھڑا نہ ہو سب مل کر کام کرو۔ اس روح حق والے کی طرف ہو جاؤ اور وہ صدیقی رنگ میں ہے۔ نطفہ اور علقہ کی طرح بے حقیقت نظر آئے گا۔ دھوکا نہ کھانا۔ غرض اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے وعدے پورے ہو رہے ہیں۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۱۸، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

اسی طرح حضرت صاحب نے جو پیش گوئی کی وہ بھی بلا تاویل ہے اور اس وقت اس پیش گوئی کے سنے ہوئے لوگ کافی موجود ہیں اور صاف الفاظ میں ہے۔ ایک مدت حمل میں ظاہر ہو گا جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہوئے کہ ۱۹۴۲ء مطابق ۱۳۶۲ھ میں ظاہر ہو گا۔ ایسی صورت میں احمدیوں پر حجت ہے۔ اگر میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے۔ یہ قطعی فیصلہ ہے۔ اس سے بھاگنا اور بے بنیاد اعتراض کرنا ایمانداری نہیں اور کوئی کج طبع آدمی اس کی مخالفت بھی کرے گا تو وہ انشاء اللہ چند روز میں پکڑا جائے گا۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۲۰، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

(۲۳) مرزا قادیانی صاحب کی پیش گوئی

حضرت مرزا (غلام احمد) صاحب نے ۸ اپریل ۱۸۸۶ء میں یہ اعلان کیا کہ ایک مامور قریب میں پیدا ہونے والا ہے۔ یعنی آج سے ایک مدت حمل میں دنیا میں آئے گا۔

صفحہ 1021

وہ روح حق سے بولے گا۔ اس کا نزول گویا خدا کا آنا ہے۔ وہ ایک عظیم الشان انسان ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

حضرت مرزا صاحب نے جب یہ اعلان کیا تھا، رجب کا مہینہ تھا۔ ۱۳۰۳ھ مطابق ۱۸۸۶ء تھی۔ گویا انہوں نے فقیر کی پیدائش کی تاریخ ۱۳۰۳ھ مطابق ۱۸۸۶ء بتائی تھی۔

ان کل بشارتوں کے مطابق میری پیدائش ۴؍ رمضان بروز دو شنبہ ۱۳۰۳ھ مطابق ۷؍ جون ۱۸۸۶ء ہے۔ یہ تاریخ سکولوں اور دفاتر میں بھی لکھی ہوئی ہے...... کوئی آج کی بنائی ہوئی تاریخ نہیں ہے اور رشد کا زمانہ چالیسویں سال میں آتا ہے۔ اسی لحاظ سے مرزا صاحب نے میرے ظہور کی تاریخ ۱۳۴۳ھ مطابق ۱۹۲۴ء بتائی ہے۔ ویسا ہی ہوا ہے۔

("خادم خاتم النبیین" ص ۴۶، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

اب حق آگیا۔ اس کی طرف حضرت (مرزا) صاحب نے اشارہ کیا تھا کہ جب تک روح القدس سے تائید پا کر کوئی کھڑا نہ ہو تم سب مل کر کام کرو۔ اس کے بعد اس کی اتباع کرنا۔ اسی میں نجات ہے۔ اس کام کے ظہور کے لیے اپنی جماعت میں رات دن دعا کرنے کے لیے کہا تھا۔

عید منوائیو اے احمدیو سب مل کر! منتظر جس کے تھے تم آج وہ موعود آیا

("خادم خاتم النبیین" ص ۹، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

میری اس ماموریت کے انکار کی صورت میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ موعود میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی پیش کرے۔

("خادم خاتم النبیین" ص ۵۹، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

(۲۴) تین کو چار کرنے والا

ہوں۔ چھوٹوں میں بھی چوتھا ہوں اور بڑوں میں بھی چوتھا ہوں۔

صفحہ 1022

بعد ہزار کے چوتھی ہے۔ سال چوتھا ہے۔ یعنی ۴؍ رمضان پیر کا دن ۱۳۰۳ھ میں پیدا ہوا۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۵۹‘ مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

(۲۵) قادیانی نشان

۱۹۲۵ء جولائی کے ماہ میں جب میں قادیان گیا ہوا تھا وہاں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بطور نشان بے موسم بارش بھیجا۔ (جولائی میں بارش تو واقعی سراسر بے موسم تھی۔ للمولف) وہ اس طرح کہ ایک رات کے اندر اطراف قادیان کے تالاب ہو گیا۔ ٹم ٹم اور تانگے بند ہوگئے اور کم سے کم پانی راستہ پر ران برابر ٹھہرا تھا۔ لوگوں کی زبانی سنا گیا کہ شاید ہی کسی زمانہ میں ایک رات میں اتنی بارش آئی ہو اور اس بارش میں مزید نشان یہ ہوا کہ قادیان کا مشہور کتب خانہ جس میں ہزارہا روپیہ کی نایاب کتب ہیں۔ ایک حصہ دیوار مع چھت گر گیا اور رات کا وقت تھا۔ بارش زور کی تھی۔ کوئی شخص خبر نہ لے سکا۔ آخر صبح تک تمام الماریاں کیچڑ میں لدی ہوئی۔ تمام کتابیں بری طرح بھیگی ہوئیں۔ صبح یہ نظارہ اپنے زبان حال سے پکار کر کہہ رہا تھا کہ جو کتب خانہ قادیان کی علمیت کے فخر کا باعث تھا چن بسویشور کے تصرفات نے اس علم پر پانی پھیر دیا۔ لطف یہ کہ وہ کل کتب دوپہر کے وقت جب دھوپ میں کھول کر ڈالی گئیں تو وہیں ڈالی گئیں جہاں فقیر نے تکیہ لگایا تھا۔ فقیر بیٹھا ہوا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا اور خدائے قدیر کے احسان کا مزا اٹھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کتب زبان حال سے یہ پکار کر کہہ رہی ہیں‘ اے صدیق! قادیان والوں نے ہمارے الفاظ کے غلط معنی کر کے دنیا میں دھوم مچائی ہے۔ ہم آپ کے پاس فریاد لائے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار لهم البشرى فى الحيوة الدنيا والاخره۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۳۵‘ مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

(۲۶) ایک قادیانی یوسف

حضرت مرزا (غلام احمد) صاحب کی بشارت میں جتنی صفتیں یوسف موعود کی آئی ہیں وہ کل کمال درجہ پر مجھ پر صادق آتی ہیں...... دوسرا نکتہ یہ کہ حضرت مرزا صاحب کی

صفحہ 1023

بشارت میں مجھے بار بار یوسف کیوں کہا گیا۔ یہ قصہ طول ہے مگر بہت دلچسپ اور بڑی حقیقت ہے۔ خدا کے الفاظ کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ صاحب دل جانتے ہیں یوسف علیہ السلام کی خصوصیات میں سے پہلی خصوصیت زلیخا کے مقابلہ میں آپ کی عصمت ہے، دوسرا آپ کا حلم ہے، تیسرا آپ کا عفو کا مادہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے علم یوسف اس کمال کا دیا ہے کہ اگر واقعات بیان کروں تو ایک دفتر ہو جائے۔....... اب رہا عصمت کا معاملہ۔ ایسے تو کئی موقعے ہوئے ہیں (جن سے یوسف موعود صاحب ہی واقف ہیں۔ للمولف) مگر ایک واقعہ جو ہمارے خاندان میں مشہور ہے بہت عجیب ہے۔ یوسف زلیخا کے قصہ سے بھی اہم ہے۔ اس کو مختصر طور پر بیان کرتا ہوں۔ اس میں اس بات کی ضرور احتیاط کروں گا کہ یہ راز اس وقت کھلنے پر فساد کا باعث نہ ہو جائے کیونکہ وہ عورت جس سے میرے نفس کی آزمائش کی گئی، وہ اب غیر کے قبضہ میں ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ قصہ عام ہو جائے گا۔ تب اس کا جواب دار میں نہیں ہوں۔ اب یہ بات صرف ہمارے خاندان تک ہی محدود ہے۔....... غرض وہ لڑکی بہتر سے بہتر لباس پہنے ہوئی، پھول اور عطر میں بسی ہوئی رات کے دو بجے میری چادر میں گھس کر لپٹ گئی اور منہ پر منہ رکھا۔ ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ وہی لڑکی ہے۔ شیطان کے پورے قبضے ہو چکے تھے۔ صرف اس غفور الرحیم خدا نے مجھ پر رحم کیا کہ میں نے اس کو دور کرنے کی کوشش کی۔ وہ اور بھی نزدیک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر اس کو دھکیل دیا اور وہ لڑکی اپنے حجرہ میں چلی گئی.......

جب رات کے دس بجے میں کھانا کھا کر دیوان خانہ میں سونے کے لیے گیا۔ وہاں اس لڑکی کے چچا نے مجھے بلایا اور سڑک پر لے گئے۔ وہاں ان کے والد کھڑے تھے۔ میں حیران تھا کہ کیا سوال ہوگا۔ جب دونوں ملے تو چچا نے کہا کہ یہ واقعہ صرف آپ کے لیے ہوا۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ میرا خط ملا ہوا ہے۔ میں نے کہا واقعی بات ٹھیک ہے۔ بی بی کہتی تھی کہ میں زہر کھا کر مر جاؤں گی۔ تب انہوں نے کہا کہ آپ کی مراسلت ہم کو مل گئی۔ اس وجہ سے زہر کھایا ہے۔ جب میں نے یہ بات سنی فوراً ہی اپنی بریت کی کوشش کرنا چاہی۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ میری نیت بری ہے۔ میں نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ پنج شنبہ کی رات کو بی بی دو بجے میری گود میں آکر سو گئی۔ مگر خدا نے رحم کیا کہ مجھے بچایا۔ یہ بھی میں نے

صفحہ 1024

آپ سے اس وجہ سے کہا کہ میں ایک کنواری لڑکی کی طرح حیا دار ہوں۔ میری عصمت پر دھبہ آتا ہے، اس وجہ سے میں نے اظہار کیا ہے۔ غرض دوسرے دن وہاں سے نکل گیا۔ رفتہ رفتہ پھر یہ واقعہ عام ہونے لگا۔ اسی مماثلت کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب کے الہام میں وکذالک مننا علی یوسف نصرف عنہ السوء والفحشاء آیا ہے اور آپ نے آخر زمانہ میں یہ لکھا ہے:

باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
آ رہی ہے اب تو خوشبو اپنے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار

غرض اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں صرف یوسف علیہ السلام کا ذکر رہنے کی وجہ سے اس کو احسن القصص کہا ہے......... اور اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو اس خوبی کے باعث مراتب دیئے......... جس وقت فقیر کے نفس کی آزمائش کی جا رہی تھی اس وقت اس عورت کی عمر (۱۷) سالہ اور میری عمر (۳۰) سالہ تھی۔ یہ واقعہ بعض وجوہات سے یوسف زلیخا والے واقعہ سے اہمیت زیادہ رکھتا ہے۔ وہ اس طرح کہ:

زلیخا بوڑھی یہاں جوان یوسف غلام یہاں آزاد عزیز مصر کا خوف یہاں کوئی خوف نہیں زلیخا بجائے والدہ پرورش کے تھی یہاں مقابلہ کی زندگی زلیخا غیر کی منکوحہ یہاں غیر کی منسوبہ درحقیقت اپنے نام کی وہاں دن کا وقت یہاں رات کا وقت

اس واقعہ کے بعد پھر میرے دل میں نفس کے جذبات بکلی ٹھنڈے ہو گئے۔ دوستوں نے اور عزیزوں نے جب یہ واقعہ سنا‘ میری ہمت پر آفرین کہا۔

("خادم خاتم النبیین" ص ۵۸‘ لغایتہ‘ ص ۶۸‘ مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

(۲۷) ویر بسنت اور چن بسویشور

مختصر حال یہ ہے کہ یوں تو فقیر ۱۹۱۰ء میں بھی قادیان گیا تھا۔ اس وقت اس سلسلہ کی طرف زیادہ توجہ نہ ہوئی۔

صفحہ 1025

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۵‘ مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

میری نیک نیتی اور خلوص دیکھو۔ میں نے تلاش حق میں خود میاں (محمود احمد) صاحب (خلیفہ قادیان) کی خلافت مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور قادیان پہنچا۔ اور نیک نیتی سے تحقیقات کرتا رہا اور ان کے عقائد میں غلو کرنا پسند نہ آیا۔ دعائیں کیں۔ آخر اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو بچانا چاہتا تھا۔ وہاں سے نکلا۔ بیعت فسخ کر دی اور لگاتار اس عقیدے کی تردید میں ۱۲ سال کام کیا۔ اور بڑے شدومد سے کام کیا۔

آخر اللہ تعالیٰ نے فقیر کی دعا کو سنا اور ان کی (یعنی قادیانیوں کی) جماعت کا منتظر موعود بنا دیا۔ اس سے وہی کام محض اپنے رحمانی تقاضا کے ماتحت لے رہا ہے جو اس سے پیشتر بزرگان دین سے کام لیا تھا۔ اور کثرت سے نشانات ظاہر کیے اور قدرت کو کمال درجہ پر ہمارے ساتھ کر دیا۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۲۵‘ مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

میں اس فاضل اجل کی ہر لعنت ملامت کو اطمینان سے سنتا رہا۔ جب وہ مجھے دنیا دار سمجھ کر ریاست کا بت سامنے لائے‘ میں فوراً سیدھا ہو گیا اور کہا کہ دوات قلم لاؤ‘ میں ابھی لکھ دیتا ہوں۔ ہزار دفعہ لکھ دیتا ہوں کہ میں پکا قادیانی ہوں۔ کاغذ لے کر ذیل کی تحریر لکھ دی:

صدیق دیندار چن بسویشور پکا احمدی ہے۔ قادیانی سلسلہ قادیان سے میاں محمود نے جو جاری کیا ہے‘ اس کا سخت دشمن ہوں اور عقائد جو میاں محمود نے جاری کیے‘ ان کی بیخکنی کرتا رہا اور کرتا رہوں گا۔ صدیق دیندار چن بسویشور۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۲۹‘ مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

اس بات کی گواہ تقریباً تمام دکن کی اقوام ہیں۔ ان کی عبارتوں میں یہ بات چلی آ رہی ہے کہ پہلے ویر بسنت (اولوالعزم محمود) ظاہر ہو گا۔ اس کے خیالات سے عالم میں پریشانی ہو گی۔ لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کے دور کرنے کے لیے چن بسویشور (صدیق دیندار) ظاہر ہو گا۔ ان بزرگوں نے ان دونوں وجود کی جو تاریخ ظہور و نشانات بتائے ہیں اس کی کوئی تردید کر دے تو میں ہر شرط منظور کرنے کو تیار ہوں۔ گویا پیش گوئیوں نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کے بتا دیا ہے کہ یہ چن بسویشور ہے اور یہ ویر بسنت۔ چن بسویشور

صفحہ 1026

کے حالات سے آپ لوگوں کو ایک حد تک علم ہوا ہے۔ صرف اب ویر بسنت کے نشانات بطور حجت دوبارہ پیش کر کے چیلنج دیتا ہوں کہ اگر ان نشانات والا ویر بسنت میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کے سوا دوسرا کوئی ہے تو ثابت کر دے۔ تو ایسی صورت میں ہر شرط منظور۔

ویر بسنت (اولوالعزم محمود) والی ایک علیحدہ کتاب تیار ہے۔ اس میں تفصیل وار بیان ہے۔ ان نشانات کے علاوہ اور بھی بہت سے نشان ہیں۔ مگر اب میں جماعت قادیان اور تمام عالم سے سوال کرتا ہوں کہ ادھر قدیم کتب اولیاء میں یہ پیش گوئیاں موجود اور ادھر موعود انسان (یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) موجود ہے۔ پھر آپ کو شک میں ڈالنے والی وہ کون سی چیز ہے۔ ان پیش گوئیوں کے ساتھ ہی لکھا ہے ’یہ ویر بسنت مسلمانوں کو قرآن کریم کے الفاظ کے غلط معنی کر کے بتائے گا اور ایشور اوتار جس کو رحمۃ للعالمین کہتے ہیں‘ ان کی ہتک کرے گا۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۸، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

اور ساتھ یہ ہی لکھا ہے کہ ایسا شخص عقائد میں غلطی پر رہے گا۔ اس کی اصلاح صدیق دیندار چن بسویشور سے ہوگی۔ اور صاف لکھا ہے کہ ویر بسنت (اولوالعزم) قرآن کے الفاظ کے غلط معنی بیان کرے گا۔۔۔۔۔۔ اور لکھا ہے کہ چن بسویشور کے عقائد درست رہیں گے اور چن بسویشور کے ذریعہ سے ویر بسنت کے عقائد کی اصلاح ہوگی۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۱۰، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

فقیر (صدیق دیندار چن بسویشور) جانتا ہے کہ وہ (میاں محمود احمد صاحب ویر بسنت خلیفہ قادیان) ایک متقی مرد ہے۔ اور بڑے بشارتیں والا ہے۔ ان سے ہمارا جھگڑا صرف مذہبی چند فروعات میں ہے۔ جس کی غفلت سے اصولی ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اسی وجہ سے میں نے مخالفت کی۔ اب کوئی مخالفت نہیں ہے کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے کہ وہ قریب میں ہمارے عقیدے کے ساتھ ہو جائیں گے جس کے آثار گزشتہ چند ماہ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔

(”خادم خاتم النبیین“ دیباچہ ص ز، مورخہ یکم جون ۱۹۲۷ء مصنفہ صدیق دیندار صاحب

چن بسویشور)

اے جماعت احمدیہ کے فہیم اور دانش مند لوگو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہ نسبت

صفحہ 1027

دوسرے فرقوں پر بہت بڑی ذمہ داری دی ہے۔ اس امانت کو ضائع مت کرو۔ ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزون میں داخل مت ہو۔ چن بسویشور اور ویر بسنت کو اللہ تعالیٰ نے صرف خدمت خاتم النبیین کے لیے انتخاب کیا ہے۔ چونکہ میاں صاحب مامور نہیں ہیں، اس وجہ سے اس کا علم ان کو نہیں۔ وہ میرے ساتھ ہونا ضرور ہے۔ ان کا انتظار دکن میں ویسا ہی ہے جیسا میرا انتظار تھا۔ ہم دونوں کا وجود ہی دکن کی اقوام پر حجت ہے۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۶۸، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

میں میاں محمود احمد صاحب کو دکن کی بشارتوں کی بنا پر خلیفہ جماعت احمدیہ مانتا ہوں۔ گو لاہور کی جماعت مخالف ہی کیوں نہ ہو میری سمجھ میں نہیں آتا۔ جس کا ظہور ہو چکا اس کا انکار کیسا۔

(”خادم خاتم النبیین“ ص ۷۳، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

حضرت مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ نے ایک خط سے مجھے اطلاع دی ہے کہ آپ سے ہماری جماعت کا ہر فرد خوش ہے۔ اور حال میں ایک خط قادیان سے آیا ہے، وہ حسب ذیل ہے:

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔

عرض یہ ہے کہ مجلس مشاورت کے بعد آئندہ سال کے پروگرام میں دکن کی طرف وفد بھیجنے اور آپ کے کام میں دلچسپی پیدا کرنے کی خاص کوشش کی جائے گی۔ دہلی میں دیوان میسور سے ملاقات کرنے پر معلوم ہوا......... بہرحال آپ کام کرتے جاویں۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے اپنے وقت پر ضرور پورے ہوں گے۔

مزید برآں یہ عرض ہے کہ بوجہ مالی تنگی اس علاقہ کی طرف توجہ نہیں ہو سکی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ کام کی رپورٹ براہ کرم ضرور بھیج دیا کریں اور مشکلات سے اور نتائج سے آگاہ فرماتے رہا کریں۔ والسلام۔

دستخط عبدالرحیم نیر مہر قادیان نائب ناظر دعوۃ و تبلیغ قادیان

((”خادم خاتم النبیین“ ص ۸۷، مصنفہ صدیق دیندار صاحب چن بسویشور)

صفحہ 1028

فصل بیسویں

خاتمہ

قرآن کریم کی تو ماشاء اللہ یہ شان ہے کہ فلا اقسم بما تبصرونO وما لا تبصرونO انه لقول رسول كريمO وما هو بقول شاعر قليلا ما تومنونO ولا بقول كاهن قليلا ما تذكرونO تنزيل من رب العلمينO ترجمہ : ”جو چیز تم کو دکھائی دیتی ہے اور جو چیز تم کو نہیں دکھائی دیتی‘ ہم سب کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ (قرآن) بلاشبہ کلام (الٰہی) ہے‘ ایک معزز فرشتے کا (لایا ہوا) اور یہ کسی شاعر کی (بنائی ہوئی) بات نہیں ہے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم یقین کرتے ہو۔ اور نہ یہ (کسی حاضراتی عامل کے تکے ہیں (مگر) تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو (یہ) پروردگار عالم کا اتارا ہوا (کلام) ہے“۔

(پارہ ۲۹‘ رکوع ۶)

قرآن کریم میں کلام الٰہی اس درجہ خالص اور اس درجہ اخلص ہے کہ کسی التباس کا امکان نہیں۔ یہ خصوصیت کس شان سے واضح کی جاتی ہے۔ اللہ اکبر: ولو تقول علينا بعض الا قاويلO لا خذنا منه باليمينO ثم لقطعنا منه الوتينO فما منكم من احد عنه حاجزين۔ ترجمہ : ”اور اگر (پیغمبر اپنی طرف سے) ہم پر کوئی بات بنا لاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن اڑا دیتے۔ اور تم میں سے کوئی بھی ہم کو اس (بات) سے نہ روک سکتا“۔

صفحہ 1029

(پارہ ۲۹‘ رکوع ۶)

غرض کہ قرآن کریم وحی محض ہے۔ ایک نقطہ بھی زائد نہیں ہے اور کس طرح ہوسکتا ہے جبکہ خاتم النبین رحمتہ للعالمین‘ بالمومنین روف رحیم جیسے نبی کو یہ تنبیہہ ہو کہ جبروت و کبریائی سے دل کانپ اٹھے اور اس کے سوا کس کا حوصلہ ہے جو اس خطاب کا متحمل ہو۔ وہی ہے جو صاحب معراج ہے‘ صاحب کوثر ہے اس پر عرش سے فرش تک صلوٰۃ و سلام جاری ہے۔ اور اسی کی شان ہے ورفعنا لک ذکرک (۱۹/۳۰) وانک لعلی خلق عظیم (۳/۲۹) صلی اللہ علیہ وسلم۔

لیکن کچھ لوگ ایسے ظالم ضرور ہوئے اور ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں ان کی خبر دی گئی ہے:

ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شی ومن قال سا نزل مثل ما انزل اللہ۔

ترجمہ : ”اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی آئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور نیز جو کہے کہ میں اتارتا ہوں مثل اس کے جو اللہ نے اتارا“۔

(پارہ ۷‘ رکوع ۱۷)

اس آیت میں ظلم کے تین مدارج بیان ہوئے ہیں۔ اول یہ کہ اللہ پر جھوٹ لگائے یعنی اللہ کے کلام سے ایسی باتیں نکالے جو اصل حقیقت کے بالکل خلاف ہوں۔ دوسرے یہ کہ وحی کا اعلان کرے حالانکہ وحی کی اس کو ہوا بھی نہ لگے۔ نہ معلوم کس مغالطہ میں مبتلا ہو کر ایسا دعوے کرے۔ اور سب سے بڑھ کر آخری ظلم یہ کہ اپنے کلام کو قرآن کے مساوی اور ہم پلہ سمجھے۔ مثلاً فصاحت میں‘ بلاغت میں‘ اعجاز میں۔ اور اس کو قرآن کی طرح قطعی حجت قرار دے۔ اپنے واسطے اپنے متبعین کے واسطے۔

جیتے جی تو ان گمراہوں کو کچھ پتہ نہ چلے گا کہ کس حال میں مبتلا ہیں لیکن مرتے وقت سب حقیقت کھل جائے گی اور عجب مار پڑے گی‘ نعوذ باللہ۔ چنانچہ مذکورہ بالا آیت کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل آیت بہت عبرت آموز ہے:

صفحہ 1030

ولو ترى اذ الظلمون فى غمرات الموت والملئكتہ باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم اليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن اياتہ تستكبرون O

ترجمہ : ”کاش تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو کہ موت کی بے ہوشیوں میں پڑے ہیں اور فرشتے (ان کی جان نکالنے کے لیے ان پر طرح طرح کی) دست درازیاں کر رہے ہیں (اور کہتے جاتے ہیں کہ) اپنی جانیں نکالو۔ اب تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لیے کہ تم خدا پر ناحق (ناروا) جھوٹ بولتے تھے اور اس کی آیتوں (کو سن کر ان) سے اکڑا کرتے تھے“۔

(پارہ ۷‘ رکوع ۱۷)

دراصل یہ شدید ابتلا ہے جس سے جیتے جی نکلنا بہت دشوار ہے۔ کیونکہ دنیوی زندگی میں تو الٹا عروج نظر آتا ہے‘ تعظیم ہوتی ہے‘ تکریم ہوتی ہے‘ نعمتیں ملتی ہیں‘ عزت بڑھتی ہے‘ شہرت بڑھتی ہے۔ یہ آثار بظاہر تائید الٰہی نظر آتے ہیں۔ صداقت کی دلیل مانے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس باب میں قرآنی تنبیہہ ملاحظہ ہو:

فاما الانسان اذا ما ابتلہ ربہ فا کرمہ ونعمہ فیقول ربی ا کرمن O

ترجمہ : ”لیکن انسان (کا حال یہ ہے) کہ جب اس کا پروردگار (اس طرح پر) اس (کے ایمان) کو آزماتا ہے کہ اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ میرا پروردگار میری تکریم کرتا ہے (حالانکہ وہ اس کو ابتلا میں ڈالتا ہے)“۔

(پارہ ۳۰‘ رکوع ۱۴)

یہ نکتہ کہ اصل مدار ایمان پر ہے۔ محض آثار سے مطمئن نہ ہونا چاہیے۔ بہت نازک تعلیم ہے۔ علم ناقص ہو تو آثار میں بہت فریب اور گمراہی کا امکان ہے۔ بڑی تباہی کا اندیشہ ہے۔ خیر کی شکل میں جو ایمان کی آزمائش ہوتی ہے وہ شر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کہ اس کی فہم اور اس کی شناخت کے واسطے اعلیٰ بصیرت درکار ہے‘ ورنہ

صفحہ 1031

ضلالت ہے، ادبار ہے۔ چنانچہ اس فتنہ کی بھی تنبیہہ قرآن کریم میں مذکور ہے:

ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون○

ترجمہ : ”اور ہم تم کو بری اور بھلی حالتوں میں (رکھ کر) آزماتے ہیں۔ اور (آخرکار) تم (سب) کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے“۔

(پارہ ۱۷‘ رکوع ۳)

پس کیسا ابتلاء ہے، کیسا فتنہ ہے کہ کوئی آیات الٰہی کی تکذیب کرتا رہے اور ترقی کرتا رہے۔ فریب کھاتا رہے۔ مہلت پاتا رہے۔ اسی پر اتراتا رہے۔ کیسا سخت جال ہے۔ ٹوٹنا محال ہے۔

والذین کذبوا باٰیٰتنا سنستدرجھم من حیث لا یعلمون○ واملی لھم ان کیدی متین۔

ترجمہ : ”اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہم ان کو سچ مچ پکڑیں گے ایسے محل پر کہ ان کو علم بھی نہ ہو۔ ہم ان کو مہلت دیتے ہیں بیشک ہمارا داؤ بہت پکا ہے“۔

(پارہ ۹‘ رکوع ۱۴)

اللہ تعالیٰ ابتلاء اور فتنہ سے محفوظ رکھے۔ خاص کر جب کہ وہ تکریم و تنعیم کی شان میں نمودار ہو۔ خیر کی شکل میں ظہور کرے۔ خوب مہلت پائے۔ مخلوق کو پھنسائے۔ سب کی عافیت گنوائے۔ کیسا سخت وبال ہے۔

ہدایت سب سے بڑی نعمت ہے اور ضلالت سے ہر آن پناہ مانگنے کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس دنیا سے باایمان رخصت ہو۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔

(۲) قرآنی احکام

قادیانی صاحبان کو قرآن شریف میں اپنے لیے بہت سے مبشرات نظر آتے ہیں اور وہ بڑے شد و مد سے کتابوں میں درج کیے جاتے ہیں۔ یہ دعویٰ دیکھ کر ہم نے بھی ایک خاص وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر اس بارے میں قرآن کریم

صفحہ 1032

سے حقیقت حال دریافت کی تو عجب پتہ کا جواب ملا۔ سبحان اللہ ! ناظرین اس کے محل و موقع پر غور فرمائیں۔

کیفیت یہ ہے کہ قادیانی صاحبان اپنی کارگزاریاں دکھاتے ہیں۔ کارنامے سناتے ہیں۔ کاموں پر اتراتے ہیں۔ ان میں دو جماعتیں ہیں‘ لاہوری اپنے عقائد میں نسبتاً نرم ہیں‘ اور قادیانی خوب سخت۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کو صرف اپنا حق بتاتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو کافر بناتے ہیں۔ رشتے ناتے‘ غمی شادی کے تعلقات چھڑاتے ہیں۔ خوب تفرقہ پھیلاتے ہیں۔ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی امت کہلاتے ہیں۔ مرزا صاحب اپنے کو مسیح موعود اور مہدی معہود بتاتے ہیں۔ نبوت و رسالت تک جاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعوے زبان پر لاتے ہیں‘ جن سے ایمان لرز جاتے ہیں۔ یہ لوگ ان کے مذہب کی تبلیغ کراتے ہیں مگر ٹوکیے تو قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو اسلام کی خیر مناتے ہیں۔ گویا الٹی خیر خواہی جتاتے ہیں۔

معروضہ یہ تھا کہ قادیانی دعووں کا قرآن شریف سے ایسا جواب ملے کہ ان کی اصلی حقیقت عیاں ہو جائے۔ سو بہ طفیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں جو ایماء ہوا وہ سراسر قرآن شریف کا معجزہ ہے۔ گویا کہ قادیانی تحریک کا نقشہ کھینچ دیا۔ چنانچہ قادیانی دعووں کا قرآنی جواب ملاحظہ ہو:

وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون وستردون الی عالم الغیب والشہادہ فینبئکم بما کنتم تعملون○ واخرون مرجون لا مر اللہ اما یعذبہم واما یتوب علیہم واللہ علیم حکیم○ والذین اتخذوا مسجدا ضرارا و کفرا و تفریقا بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی واللہ یشہد انہم لکذبون○

ترجمہ : ”کہہ دو کہ عمل کیے جاؤ۔ پھر آگے دیکھے گا اللہ تمہارے عمل کو اور اس کا رسول اور مسلمان۔ اور جلد لوٹائے جاؤ گے ایسے کی جانب جو چھپے اور کھلے کا واقف ہے۔ تو وہ تم کو بتا دے گا

صفحہ 1033

کہ جو تم کر رہے تھے۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جن کا معاملہ ملتوی ہے اللہ کے حکم پر۔ یا ان کو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمادے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے بنا کھڑی کی ہے ایک جدا مسجد، ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور پناہ دینے کو اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے۔ اور اب قسمیں کھانے لگیں گے کہ بجز بھلائی کے ہمیں کچھ مقصود نہ تھا اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل کاذب اور جھوٹے ہیں"۔

(سورۃ توبہ، رکوع ۱۳)

کیا دعوے ہیں، کیا حقیقت ہے۔ کون کاذب ہیں۔ گویا تصویر کھنچ کر آنکھوں کے سامنے آگئی۔

نعوذ باللہ من ذلک۔ فاعتبروا یا اولی الابصار (۴/۲۸)

تمت بالخیر

صفحہ 1034

بسم اللہ الرحمن الرحیم ○ الصلوہ والسلام علی رسولہ الکریم خاتم النبیین رحمتہ للعالمین بالمومنین روف الرحیم

ضمیمہ اول

قادیانی مذہب

کی

کاوش و نالش

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا

تمہید : کچھ عرصہ سے قادیانی صاحبان اس ناچیز پر خاص توجہ فرما رہے ہیں۔ چنانچہ چند ماہ قبل ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی کے عنوان سے ایک رسالہ شائع کیا تھا، حال میں الیاس برنی کا علمی محاسبہ" اس عنوان سے دوسرا رسالہ نکالا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدانخواستہ طبیعت بدمزہ اور مزاج بہت برہم ہے۔ اس ناچیز پر عتاب خوب گرم ہے، لیکن ؎

آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں ! میں اگر کچھ بھی کہوں گا تو شکایت ہوگی !

قادیانی صاحبان کو نہایت افسوس اور رنج ہے کہ اس ناچیز کو قرآن و حدیث اور تصوف سے مس نہیں (گویا کہ خود ان کو بڑا عبور ہے) اسے اپنی بے بضاعتی کا بھی اعتراف ہے (حالانکہ ان کو اپنی علمیت کا بڑا دعویٰ ہے) اس نے قادیانی کتابیں بھی نہیں پڑھیں (اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ ناقابل فروخت ہوں) اس کی تقریر بالکل بے اصل

صفحہ 1035

تھی (اگرچہ اس نے ہلچل ڈال دی) اور اس کی تالیف ناقص ہے (اگرچہ وہ جناب مرزا صاحب کے ارشادات کا مرقع ہے) اور اس نے فساد پھیلا دیا (حالانکہ اشتعال کا سلسلہ ان کی طرف سے قائم ہے) اور اس نے حیدر آباد دکن کو بدنام کر دیا (حالانکہ ماشاء اللہ حیدر آباد کا نام دور دور تک روشن ہے) پھر بھی اس ناچیز کو قادیانی صاحبان سے شکوہ نہیں کیونکہ وہ بھی فی الحال معذور معلوم ہوتے ہیں۔ ؎

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

پہلے رسالے نے اس ناچیز کو ”قادیانی مذہب“ تالیف کرنے پر مجبور کیا اور دوسرے رسالے نے یہ رسالہ لکھوایا، چہرے کی پاؤڈر دھل گئی، حقیقت کھل گئی

خدا شرے برانگیزد کہ خیر ما دراں باشد

قادیانی صاحبان اس ناچیز سے جس قدر ناراض ہوں معذور ہیں، یوں بھی ان کو اپنی تنظیم اپنے پروپیگنڈے اور اپنے فنڈ پر گھمنڈ ہے، لیکن

ع دشمن اگر قوی ست نگہبان قوی ترست

(۲) قادیانی تحریک کی آمد

قصہ یہ ہے کہ ابتداء میں قادیانی تحریک حیدر آباد پہنچی تو حضرت شیخ الاسلام مولوی انوار اللہ خاں صاحب نور اللہ مرقدہ کا زمانہ تھا۔ اول تو حضرت محترم علیہ الرحمۃ کی بڑی شخصیت تھی۔ دوسرے حضرت علیہ الرحمۃ نے کتاب لاجواب ”افادۃ الافہام“ تصنیف فرما کر قادیانی مذہب کی پوری قلعی کھول دی۔ غرض کہ فی الوقت اس تحریک کا سدباب ہو گیا اور کچھ عرصہ تک حیدر آباد میں اس سے امن رہا۔

(۳) قادیانی تحریک کا قیام

لیکن قادیانی صاحبان صرف موقع کے منتظر تھے۔ حضرت علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد پھر انہوں نے ہاتھ پیر نکالے، مگر اس مرتبہ بھیس بدل دیا۔ مسلمانوں سے گویا محبت و رفاقت کا سلسلہ شروع کیا اور خوب میل جول بڑھایا، حیدر آباد کا خلق و مروت تو مشہور ہے، قادیانی صاحبان کو موقع مل گیا۔ تبلیغ شروع کر دی۔ بظاہر تو مسلمانوں کو اتفاق

صفحہ 1036

و اتحاد کی تاکید کرتے رہے اور فی الحقیقت اپنے لوگوں کے دل میں نفاق و منافرت بھرتے رہے کہ مسلمانوں میں باپ سے بیٹا اور بیٹے سے باپ جدا ہو گیا، بیاہ شادی کا رشتہ ٹوٹ گیا، موت غمی کا ساتھ چھوٹ گیا۔ تمام کلمہ گو مسلمان جو ان کی جماعت میں شریک نہ ہوئے کافر بن گئے۔

ع ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا

(۴) قادیانی تحریک کی اشاعت

قادیانی جماعت نے حیدرآباد کو اپنا خاص مرکز قرار دے کر اپنے مذہب کی اشاعت میں جو تدابیر اختیار کیں، ان میں سے بعض بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔

مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی سید سرور شاہ صاحب راستہ میں آنے والے شہروں میں فرصت کے مطابق تبلیغ کرتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے۔ اور انہوں نے تبلیغ شروع کر دی ہے۔ مفتی صاحب نے اپنا قیام مولوی غلام اکبر صاحب وکیل (حال نواب اکبر یار جنگ بہادر رکن عدالت العالیہ) کے مکان میں کیا ہے، جس میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے پاس شہر کے معزز لوگ آتے جاتے ہیں۔ اس لیے ان سے گفتگو کرنے کا انہیں موقع مل جاتا ہے۔ ۱۸۔ تاریخ کے خط میں مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ صبح سے بارہ بجے تک پانچ معزز اشخاص کو تبلیغ کی گئی اور انہوں نے پھر ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح انشاء اللہ تبلیغ کا سلسلہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲، نمبر ۴۷، مورخہ ۲۶؍ نومبر ۱۹۱۴ء)

یہاں (حیدرآباد میں) ہم نے درس قرآن اور لیکچروں کے واسطے ایک ہال کرایہ پر لیا ہے۔ اس میں بھی کسی نے رکاوٹ کی کوشش کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس شر سے محفوظ رکھا۔ میں اسسٹنٹ ریذیڈنٹ بہادر سے جا کر ملا۔ تمام سلسلہ کے حالات ان کو سنائے، ریویو انگریزی کے بعض پرچے دکھائے، ٹیچنگ آف اسلام دی، حضرت مسیح موعود کے دعویٰ اور دلائل پر گفتگو کی۔ بہت توجہ سے سب باتوں کو سنا اور تحریری اجازت دی کہ ہم روزانہ وعظ اور لیکچر کر سکتے ہیں۔ اب وہاں لیکچروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک دن میں نے سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر ایک مختصر تقریر کی، چند نوجوان طلباء بھی سامعین میں

صفحہ 1037

تھے۔

(”قادیانی مبلغ کی رپورٹ“ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۴۱-۱۴۲‘ ص ۱۱‘

مورخہ ۱۷۔۲۰؍ مئی ۱۹۱۵ء)

(۵) سرکاری عہدہ داروں پر خاص توجہ

تبلیغ کی ایک آسان اور کارگر تدبیر یہ ہے کہ قادیانی صاحبان پوری آزادی اور بیباکی سے اپنی کتابیں خاص اہتمام کے ساتھ سرکاری عہدہ داروں میں تقسیم کریں۔ اگر (خدا نخواستہ) پڑھ کر چکر میں پڑ گئے‘ معتقد یا مرید ہو گئے‘ تو کیا کہنا‘ دلی مراد پوری ہوئی اور اگر رواداری یا آزاد خیالی کے بہانے مروتاً کتابیں قبول کر لیں تو بھی رعایا برایا کو مرعوب کرنے کا کافی موقع مل سکتا ہے کہ جب بڑے بڑے عہدہ دار کتابیں قبول کریں‘ تو پھر عامۃ الناس ان کو کیوں نہ پڑھیں‘ البتہ اگر کوئی عہدہ دار غیرت مند اور مآل اندیش واقع ہو‘ تقسیم کی چال سمجھ جائے اور کتابیں لینے سے انکار کر دے‘ تو پھر خموشی اولیٰ ہے۔ دبے پاؤں سے چل دینا چاہیے کہ خواہ مخواہ ہوا خیزی نہ ہو‘ بہرحال سرکاری عہدہ داروں پر قادیانی صاحبان کا التفات ملاحظہ ہو۔ مشتے نمونہ از خروارے:

حافظ روشن علی صاحب بہ ہمراہی سید بشارت احمد صاحب اضلاع ریاست میں تبلیغی دورہ اور حکام و معززین میں کتاب ”تحفۃ الملوک“ تقسیم کر رہے ہیں۔ مفتی محمد صادق صاحب شہر (حیدر آباد دکن) میں تبلیغی کام کر رہے ہیں۔

(قادیانی مبلغ حیدر آباد دکن کی رپورٹ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۱‘

مورخہ ۲۳؍ جون ۱۹۱۵ء)

حیدر آباد جس کام کے واسطے ہم بھیجے گئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت کچھ پورا ہو گیا ہے اور اب ہم اضلاع ریاست میں دورہ کر کے کتاب تحفۃ الملوک تقسیم کر رہے ہیں اور تبلیغ کر رہے ہیں۔ آج جبکہ میں یہ رپورٹ لکھ رہا ہوں‘ ہم شہر گلبرگہ میں ہیں‘ جو ریاست کے ایک صوبہ کا صدر مقام ہے۔ یہاں کے اعلیٰ افسر صوبہ دار (گورنر) ہیں‘ جن کے مکان پر جا کر کتاب پہنچائی گئی اور یہاں کے صاحب ڈپٹی کمشنر (تعلقدار) اور ڈویژنل جج اور لیفٹیننٹ افواج و دیگر عہدہ داران سے ملاقات کی گئی اور

صفحہ 1038

کتابیں دی گئیں اور انگریزی ترجمہ قرآن شریف کے واسطے خریدار بنائے گئے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۶۷‘ ص ۷‘ مورخہ یکم جون ۱۹۱۵ء)

(۱۴؍ جون ۱۹۱۵ء مسافر بنگلہ نظام آباد و ریاست حیدر آباد دکن)

حضور والا ایدکم اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج ساڑھے چھ بجے صبح کے عاجز اور حضرت حافظ (روشن علی) صاحب صوبہ اورنگ آباد کے دورہ پر روانہ ہوگئے‘ چنانچہ آج ضلع نظام آباد میں ایک بجے پہنچ کر چار سے آٹھ بجے شب تک حکام مقامی میں بعد ملاقات چار کتابیں تقسیم کی گئیں۔ (۱) جائنٹ مجسٹریٹ ضلع (۲) سپرنٹنڈنٹ پولیس (۳) تحصیلدار صاحب (۴) سپرنٹنڈنٹ جیل۔

(۱۶؍ جون مسافر بنگلہ جالنہ۔ حیدر آباد دکن)

نظام آباد سے ضلع ناندیڑ روانہ ہوئے۔ یہاں بھی ڈپٹی کمشنری ہے۔ اول تعلقدار صاحب کے پاس جب پہنچے ہیں تو اکثر حکام ضلع وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد تعلقدار صاحب سے گفتگو ہوئی۔ آخر میں انہوں نے عدیم الفرصتی کے عذر سے کتاب لینے سے انکار کر دیا۔ چونکہ اکثر حاضر الوقت حکام کو تعلقدار صاحب کے انکار کی اطلاع ہوگئی تھی اور پھر رات کے آٹھ بھی بج گئے تھے اور حکام کو کتابیں نہ دی گئیں۔ (۱۹؍ جون ۱۹۱۵ء‘ اورنگ آباد)

جمعہ کے روز اکثر حکام وغیرہ کو کتابیں دی گئیں اور صوبہ دار سے بھی ملاقات کی گئی۔ عدم اردو دانی کی وجہ سے انہوں نے تحفۃ الملوک نہ لیا۔ لہٰذا انگلش کی ایک کتاب انہیں دی گئی۔

(سید بشارت احمد صاحب قادیانی کی مراسلت مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۳‘

نمبر ۳‘ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۱۵ء)

(۶) قادیانی تحریک کا عروج

اس دوران میں قادیانی صاحبان کے قدم خوب جم گئے۔ جماعت بھی بڑھ گئی۔ چندہ تو فرض مقدم ہے‘ آمدنی بھی بڑھ گئی۔ بخوبی تنظیم ہوگئی۔ اب رسوخ کے راستے تلاش ہونے لگے۔ سو اس کی عمدہ سبیل یہ نکلی کہ کوئی صاحب جہاندیدہ مبلغ خاص مامور

صفحہ 1039

کردیئے جائیں کہ وہ امراء اور حکام میں معززین اور متمولین میں چکر لگاتے رہیں، میل جول بڑھاتے رہیں، مسلمانوں کی غمگساری جتاتے رہیں، مصالح ملکی سمجھاتے رہیں، جلسوں میں بلاتے رہیں، تقاریر کراتے رہیں، تبلیغی رسالے پہنچاتے رہیں، اثر پھیلاتے رہیں، حرف مطلب سناتے رہیں، چندہ اگھاتے رہیں، غرض کہ اعلیٰ طبقوں کے خلق و مروت، فیاضی اور رواداری سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے رہیں اور باہر جائیں تو مسلمانوں پر رعب جماتے رہیں کہ اسلامی دارالسلطنت کے اعلیٰ طبقہ کے بالعموم ان کے ساتھ ہیں، باقاعدہ مرید نہیں تو دل سے معتقد ہیں۔؎

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے!

(۷) زبان بندی

غرض کہ قادیانی تحریک زوروں پر تھی اور کامیابی کے شادیانے بجتے تھے۔ لیکن

ع چوں بہ شہرت برسی مست نہ گردی مردی!

آزمائش کا وقت بھی آن پہنچا، خدا کی قدرت قدیم معمول کے مطابق ۲۰ ربیع الاول ۱۳۵۱ھ یوم جمعہ شب کو میلاد النبی کے جلسہ میں بمقام بادشاہی عاشور خانہ اس ناچیز کی تقریر ہوتی ہے۔ ختم نبوت اس کا مبحث قرار پاتا ہے۔ اہلسنت و الجماعت کی طرف سے جلسہ منعقد ہوتا ہے۔ اہلسنت والجماعت کا ایک معزز عالم اس کی صدارت کرتا ہے۔ اہلسنت والجماعت کی حاضرین میں کثرت ہے۔ اہلسنت والجماعت بلکہ جمہور امت کے عقیدے کے مطابق قرآن سے بیان ہوتا ہے۔ عام و خاص سب کی تشفی ہوتی ہے، کسی جدید مخالف فرقہ کا نام تک نہیں آتا، کسی غیر کی طرف اشارہ تک نہیں ہوتا، لیکن سلسلہ ختم ہوتے ہی قادیانی نمائندے صاحب موجود ہیں، تبادلہ خیالات کے نام سے مناظرہ کی دعوت دیتے ہیں، عذر کیا جاتا ہے کہ مناظرہ اپنا مقصد نہیں، منصب نہیں، لیکن قادیانی صاحبان کو یہ برداشت کہاں کہ کوئی مسلمان اپنے جلسہ میں بھی اپنے عقاید بیان کرے اور ان کی طرف سے باز پرس نہ ہو۔؎

بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

چنانچہ عذر قبول نہیں ہوتا بلکہ جلد از جلد اس عاجز کے نام پر ایک رسالہ شائع

صفحہ 1040

کیا جاتا ہے اور اس میں اس عاجز کا نام لے لے کر تقریر کی تضحیک ہوتی ہے، تردید ہوتی ہے اور مناظرہ سے پہلو تہی کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ کچھ نہ کچھ ہوا خیزی ہو جائے۔ اس سے قادیانی ذہنیت کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس درجہ عناد و فساد پر مائل ہے۔ لیکن اس پر بھی صبر نہیں آتا۔ اسی زمانہ میں دور دور سے مشہور قادیانی واعظ اور مناظر آتے ہیں، دھوم سے جلسے ہوتے ہیں، مسلمانوں کے عقائد کے خلاف خوب دل کھول کر تقریریں ہوتی ہیں، وہاں بھی یہ ناچیز معرض بحث میں رہتا ہے۔ مزید برآں بکثرت تبلیغی لٹریچر تقسیم ہوتا ہے مگر اہل اسلام کا ضبط و تحمل دیکھئے کہ نہ کوئی حجت نہ تعرض، یہ تجربہ کس قدر سبق آموز ہے کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہو رہا ہے۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام!
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

(۸) جواب طلبی

بہر حال جب قادیانی صاحبان نے معاملہ کو بہت طول دیا تو لامحالہ مسلمانوں میں بھی ناگواری اور بیداری پیدا ہوئی، چونکہ یہ ناچیز قادیانی صاحبان کا آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ اظہار حق واجب ہو گیا، چنانچہ علمی تحقیقات کے طور پر "قادیانی مذہب" کے نام سے ایک کتاب تالیف کر دی گئی جس میں اس مذہب کے اصول و عقائد کی مختصر کیفیت خود قادیانی کتب سے اخذ کر کے ترتیب دے دی۔ الحمد للہ کہ اس سے بہت کچھ مغالطے رفع ہو گئے اور مسلمانوں کو تسکین حاصل ہوئی۔ انصاف پسند لوگوں نے اس کی متانت اور جامعیت کی داد دی۔ لیکن قادیانی صاحبان اس پر اور بگڑ گئے، پہلے بے التفاتی کا شکوہ تھا اب توجہ کی شکایت شروع ہوئی۔

ع گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل

ناراضی کی یہ کیفیت کہ الیاس برنی کا "علمی محاسبہ" اس نام سے جو دوسرا قادیانی رسالہ شائع ہوا تو اس میں قانونی انداز سے اس ناچیز پر خاصی فرد جرم لگا دی اور جواب طلب کیا۔ گویا کہ خدانخواستہ عدالت ان کے گھر میں آگئی۔ معلوم ہوا کہ کتاب ان کو زہر معلوم ہوئی۔ حالانکہ اس کی حیثیت مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ اس سے تیز تر مواد

صفحہ 1041

بہت کچھ باقی ہے۔ -

رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھئے کیا ہو
ابھی تو تلخی کام و دہن کی آزمائش ہے!

(۹) صدائے بازگشت

پہلا قادیانی رسالہ تو علانیہ یہیں سے شائع ہوا لیکن دوسرے رسالے میں خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ معاملات و معلومات تو حیدر آباد کے درج ہیں لیکن طباعت و اشاعت بنگلور سے ہوئی ہے۔ شاید اس میں قانونی مصلحت مدنظر ہو۔ خاص کر جبکہ رسالہ میں بعض غیر معتدل مباحث بھی درج ہیں‘ یا ممکن ہے کہ اس میں کوئی روحانی نکتہ مضمر ہو‘ جناب مرزا صاحب کو بروز سے بہت قوی ربط تھا‘ عجب نہیں اس نسبت کی برکت سے حیدر آباد بنگلور کی بروزی شکل میں نمودار ہوا ہو‘ بہرحال اس مرتبہ کسی قدر فاصلہ سے فیر ہوا ہے‘ حفظ ماتقدم لازم ہے۔

(۱۰) سرکاری عہدہ داری

جواب طلب ہوا ہے کہ جب ہم سرکاری عہدہ دار ہیں تو پھر ہم اس بحث میں کیوں پڑے۔ مگر ہماری خصوصیت قادیانی صاحبان کو اس وقت بالکل فراموش ہو گئی جبکہ ہم کو خواہ مخواہ مناظرہ کی دعوت دی گئی۔ ہمارے نام پر رسالہ شائع کیا گیا اور اس میں ہم کو مناظرہ سے پہلو تہی کرنے کا الزام دیا گیا اور بعد کے جلسوں میں ہمارا ذکر خیر کیا گیا۔ تعجب ہے کہ قادیانی جماعت کے کسی سمجھدار عہدہ دار نے بھی تنبیہ نہ کی کہ اس طرح کسی عہدہ دار کا پیچھا کرنا درست نہیں۔ اس سے انہیں پر الٹی ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ غالباً یہ پہلے سے سوچ لیا تھا کہ تین صورتیں ممکن ہیں اور تینوں میں اپنی جیت ہے‘ یعنی ہم خاموش رہیں گے تو وہ مسلمانوں کو شرمائیں گے۔ ہماری طرف سے دوسرے لوگ جواب شائع کریں گے تو وہ بے دیانتی کا الزام دیں گے اور اگر ہم جرأت سے اظہار حقیقت کر دیں گے تو پھر قانونی دھمکی ان کا آخری ہتھیار ہے۔ چنانچہ یہی آخری صورت پیش آئی جس کی غالباً ان کو کم توقع تھی۔

اس ضمن میں ہم قادیانی صاحبان سے ایک سوال کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

صفحہ 1042

انصاف سے غور فرمائیں تو ہمارے جواب کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ فرض کیجئے ہم اسی طرح سرکاری عہدہ دار ہوتے بلکہ اس سے بڑھ کر بااثر اور ذی اقتدار ہوتے، لیکن قادیانی صاحبان کے نزدیک دیندار ہوتے، یعنی قادیانی مذہب کے طرفدار ہوتے، معین و مددگار ہوتے، حامی کار ہوتے، پھر بھی الگ الگ گویا الہام ہوتے، تو کیا قادیانی صاحبان واقعی ہم سے اتنے ہی بیزار ہوتے یا ان کی طرف سے ہماری دیانت داری کے اشتہار ہوتے۔

مزید برآں ہم عام تبلیغی جلسوں میں تقریر نہ کرتے، البتہ اپنے حلقہ اثر میں بطریق مناسب تبلیغ کرتے۔ اپنے نام سے کوئی تبلیغی رسالہ شائع نہ کرتے البتہ موقع محل کے لحاظ سے قادیانی رسالے تقسیم کرتے، تو کیا اس صورت میں ہماری غیر جانبداری پر قادیانی صاحبان حرف لاتے، یا دل میں خوشی مناتے، ممکن ہے قادیانی صاحبان ہمارے اس سوال پر الزام دیں، ممکن ہے اس کی داد دیں۔ ؎

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

(۱۱) تعلیمات کی بات

ہمارا جرم یوں اور بھی سنگین ہو گیا کہ ہم تعلیمات کے ملازم ہیں۔ ہم پر غیر جانب داری لازم ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ قادیانی صاحبان کی توجہات تعلیمات کی طرف روز افزوں ہیں۔ نوبت یہ پہنچی ہے کہ اس کو تبلیغ و اشاعت کے لیے یا چھیڑ چھاڑ اور شرارت، کہ جامعہ عثمانیہ کے دیندار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسروں کے پاس باقاعدہ قادیانی وفد جاتے ہیں، کہ گویا ان کو اسلام کی تبلیغ کریں اور اپنے مذہب کی دعوت دیں، جب پروفیسروں پر یہ حوصلے ہوں تو طلباء کا کیا حشر ہوتا ہے۔ تبلیغی لٹریچر تو آئے دن ہر کہیں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی کیا روک ٹوک ہے، بہتر ہو کہ کسی ترکیب سے کلیہ کے طلبہ احمدیہ جوبلی ہال کی آمدورفت شروع کردیں اور قادیانی مبلغ صاحب کے درس قرآن میں شریک ہونے لگیں، تو سادہ دلوں پر کیسے صاف قادیانی نقش پڑیں، اگر طلباء کچھ خوف اور تامل کریں، تو ان کے دینیات کے پروفیسر کو ہموار کیا جائے کہ وہ ان کو ترغیب یا کم از

صفحہ 1043

کم اجازت دے۔ اگر پروفیسر نیک خیال اور روادار ہو، تو اس کو سمجھا بجھا کر راضی کر لیں اور تنگ خیال اور متعصب ہو تو کوئی اور تدبیر سوچیں۔ ؎

مصلحت نیست کہ از پردہ بروں افتد راز
ورنہ در مجلس رنداں خبرے نیست کہ نیست

(۱۲) سیاسی دھمکی

سب سے بڑا جرم یہ تجویز ہوا ہے کہ ہم نے سرکار عالی کی رعایا میں تنفر پھیلایا بلکہ امن کو خطرہ میں ڈال دیا اور نیز یار وفادار اقتدار اعلیٰ کے خلاف جذبات پیدا کیے، گویا بغاوت پھیلا دی۔ بطور تشریح اس سلسلہ میں مولوی ظفر علی خان صاحب، مولانا کفایت اللہ صاحب بالخصوص اور دیوبندی، بدایونی، خلافتی اور احراری جماعتیں بالعموم پیش کی گئی ہیں۔ گویا یہ سب اسلامی جماعتیں قادیانی صاحبان کے خیال میں تباہ کن تحریکات کی حامل ہیں اور شاید بروزی یا ظلی حیثیت سے حیدر آباد میں ہماری ذات ان سب کی مظہر بن گئی ہے۔ قادیانی صاحبان کا یہ حسن ظن ہے تو شکریہ، سوء ظن ہے تو شکوہ نہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہے اس درجہ بے اصل ہے کہ قادیانی تخیل کا اعلیٰ کمال نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ برعکس ہے

ع اے باد صبا ایں ہمہ آوردۂ تست

جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ قادیانی صاحبان کی حسن تدبیر کا نتیجہ ہے۔ غالباً قادیانی صاحبان کو یہ خوف دامنگیر ہے کہ ان کے بنیادی عقیدے کا عام اعلان کیوں نہ ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نبی اللہ اور رسول اللہ ہیں اور تمام کلمہ گو مسلمان یا تو قادیانی مذہب قبول کریں یا وہ سراسر کافر ہیں۔ قادیانی صاحبان کا یہ عقیدہ بے شک مسلمانوں کے واسطے بہت صبر آزما ہے، پھر بھی اس قدر گھبرانے کی کیا بات ہے کہ خدا نخواستہ حیدر آباد کا امن خطرہ میں پڑ گیا۔ یہاں قادیانی صاحبان کو جس قدر امن حاصل ہے اتنا تو ہندوستان بلکہ خود ان کے مرکز قادیان میں بھی میسر نہیں۔ البتہ قادیانی صاحبان بات بڑھانے اور اشتعال دینے میں اتنی بداحتیاطی نہ کریں کہ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔

صفحہ 1044

رہا بغاوت کا الزام، عناد اور مخالفت میں کوئی اتنا بھی ناانصاف نہ ہو جائے کہ مضحکہ بن جائے، جن اقتباسات پر الزام عاید کیا گیا ہے، ہم کو تو ان پر انعام یا کم از کم داد ملنے کی توقع تھی، واقعہ یہ ہے کہ ایک طرف تو جناب مرزا صاحب اہل برطانیہ کے نبی کو خوب کھری کھری گالیاں سناتے ہیں اور دوسری طرف صاحب موصوف سرکار برطانیہ کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی عقیدت اور وفاداری شد و مد سے جتاتے ہیں۔ ہم کو دونوں پہلو پیش کرنے لازم ہوئے، مبادا قادیانی صاحبان الزام دیں کہ جناب مرزا صاحب کی بیزاری تو دکھائی اور وفاداری غائب کردی۔

ع عیبش گفتی ہنرش نیز بگو

بہر حال سرکار برطانیہ کی وفاداری پر کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا البتہ اس کو ظاہر کر دیا اور خط کھینچنے کا بھی یہی منشا ہے کہ وفاداری زیادہ واضح ہو جائے تاکہ خود مرزا صاحب کا مقصد پورا ہو، انصاف شرط ہے۔

(۱۳) بدگوئی

البتہ ایک امر قابل افسوس اور قابل شکایت ہے، وہ یہ کہ اپنی وفاداری کی تائید میں مسلمانوں کی وفاداری کو مشتبہ قرار دینے کی جو بدنما کوشش کی جاتی ہے۔ وہ مسلمانوں پر بڑا ظلم ہے۔ چنانچہ ”قادیانی مذہب“ میں مرزا صاحب کے جو اقتباسات درج ہیں، ان میں بھی یہ مخالفانہ جھلک صاف نظر آرہی ہے۔ اور صاحبزادہ صاحب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے ہز ہائی نس پرنس آف ویلز کی خدمت میں قادیانی صاحبان کی طرف سے جو ایڈریس فروری ۱۹۲۲ء میں بمقام لاہور پیش کیا تھا، اس میں صاحب موصوف نے مسلمانوں کی وفاداری پر کھلا وار کیا، اور صاف صاف لکھ دیا کہ:

”آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا، گو وہ عملاً امن پسند تھا اور گورنمنٹ کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا، مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدتاً اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیر مذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت

صفحہ 1045

اور فرمانبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور یہ جماعت (قادیانی) نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے دور رہتی ہے بلکہ عقیدتاً بھی حکومت وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی ہے اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتی ہے"۔

تاہم سرکار برطانیہ اصل حال سے خوب واقف ہے۔ وہ کسی کے ورغلانے میں نہیں آتی‘ اس کو مسلمانوں پر کامل اعتماد ہے بلکہ وہ یہ بھی خوب سمجھتی ہے کہ

ع جو گرجتے ہیں زیادہ وہ برستے نہیں یاں

(۱۴) بہتان عظیم

مخالفت اور عناد جب حد سے گزر جائے تو پھر جا و بے جا کی تمیز باقی نہیں رہتی۔

کہہ رہے ہیں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

ایک طرف تو ہمارے سلسلہ میں مولوی ظفر علی خاں صاحب‘ مولانا کفایت اللہ صاحب اور دیوبندی‘ بدایونی‘ خلافتی اور احراری جیسی اسلامی جماعتوں کا حوالہ دیا گیا کہ یہ سب تباہ کن تحریکات کے حامل ہیں اور ہم ان کے نقش قدم پر چل کر ان تحریکات میں حیدر آبادی مسلمانوں کو گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف خلاف ادب اعلیٰ حضرت بندگان عالی متعالی مدظلہ العالی کو تاج برطانیہ کا یار وفادار ہونا یاد دلا کر تعجب کیا جاتا ہے‘ استغفراللہ! یہ جرأت یہ بہتان‘ اگر یہ حرکت دانستہ ہے‘ تو خوفناک ہے اور نادانستہ ہے تو شرمناک‘ تجربہ کار مبلغین اور قادیانی عہدہ داروں کو اپنی ذمہ داری معلوم ہونی چاہیے۔ رہا یہ عذر کہ رسالہ بنگلور سے چھپ کر آیا ہے‘ اس سے تو اور اشتباہ بڑھتا ہے۔

عذر گناہ بدتر از گناہ

کیا قادیانی تنظیم سے لوگ ناواقف ہیں‘ کیا ایسے نازک مباحث کسی عامی کی انفرادی رائے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں یا ہونے چاہئیں۔

ع کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

(۱۵) چند حوالے

صفحہ 1046

قادیانی صاحبان نے بڑی چھان بین کر کے چند حوالے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فلاں مقام پر صفحہ کا نمبر غلط ہے، فلاں لفظ کے نقطے چھوٹ گئے، فلاں جملہ کے اعراب رہ گئے اور فلاں لفظ کا املا بدل گیا۔ اگر قادیانی صاحبان انصاف پسند ہوتے تو ہم کو داد دیتے کہ بروقت کتابیں نہ ملنے پر بھی تھوڑے عرصہ میں ہم نے اتنے صحیح اقتباسات حاصل کر لیے کہ پوری کتاب میں بڑی تلاش کے بعد صرف چند سرسری غلطیاں مخالفین کو مل سکیں، اگر وہ خود بھی تالیف و طباعت کا کچھ ذاتی تجربہ رکھتے تو ایسے خفیف اعتراض تحریر میں نہ لاتے۔ اگر کتابیں ملنے میں دقت نہ ہوتی تو ایسی تکلیف فرمائی کی نوبت نہ آتی، تاہم تصحیح کا شکریہ۔

ع عمرت دراز باد کہ ایں ہم غنیمت ست

(۱۶) کتابوں کا معاملہ

خوشی کی بات ہے کہ قادیانی صاحبان کو بھی یہ امر قابل عار محسوس ہونے لگا کہ مسلمانوں کے ہاتھ کام کی کتابیں فروخت نہ کی جائیں۔ چنانچہ بڑے شدومد سے انہوں نے ہماری شکایت کی تردید کی ہے لیکن لفظی تردید کافی نہیں ہے۔ اگر ان کو ہماری شکایت واقعی رفع کرنا مقصود ہے تو کوئی مشکل نہیں، قیمت حاضر ہے لیجئے اور مطلوبہ کتابیں عنایت کیجئے۔ فرمائش کے ساتھ ہی رقم بذریعہ منی آرڈر پیشگی ارسال خدمت کر دی جائے گی اور کتابیں وصول ہوں تو شکریہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ بسم اللہ۔

ع درکارے خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست

جب کہ ہم کو اپنے مطالعہ کے واسطے قادیانی کتابوں کی سخت ضرورت تھی اور ضرورت ہے، تو ہم نے ان کے خریدنے میں ضروری کوشش کی اور وہ کوشش اب بھی جاری ہے، خدا کرے کوئی نتیجہ نکلے، بصورت ضرورت پوری کیفیت ایک ساتھ پیش کی جائے گی۔

رہے قادیانی صاحب کے نیک مشورے، سو ان کا بہت بہت شکریہ کہ گویا ہم قادیانی ذہنیت کے کافی تجربہ کے بعد بھی اپنی تالیف کے واسطے ان کے مقامی کتب خانوں سے کتابیں مستعار طلب کرتے یا قادیانی کارکنوں کی توجہ طلب کرتے، پھر اس میں کیا

صفحہ 1047

مضائقہ تھا کہ کتاب بھی ان کے مشورے سے لکھتے اور قبل طباعت ہی ان سے تصحیح کرا لیتے تو بعد کو یہ مراحل کیوں پیش آتے۔ وہیں فیصلہ ہو جاتا۔ ۔

سرچشمہ باید گر فتن بہ بیل چو پر شد نشاید گرفتن بہ پیل

(۱۷) معذرت

ہم کو ان مباحث میں پڑنے کا کبھی وہم و گمان بھی نہ تھا اور جب کچھ صورتیں پیدا ہوئیں تو حتی الوسع ہم بچنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن قادیانی صاحبان نے اس کا پیچھا کیا اور ایسا گھیرا کہ ہم کو بادل خواستہ بقدر ضرورت حال ظاہر کرنا پڑی۔ دوسرے قادیانی رسالہ میں نفس کتاب کے متعلق بھی دو ایک اعتراض درج ہیں۔ نیز اطلاع دی گئی ہے کہ کتاب کا جواب تیار ہو رہا ہے۔ ادھر بھی انتظار ہے۔ انشاء اللہ کل حساب ایک ساتھ بیباق کر دیا جائے گا۔

امید کہ قادیانی صاحبان ہماری معذرت قبول فرمائیں گے۔

وما علینا الا البلاغ

بیت الاسلام حیدر آباد دکن ۲۷؍ شوال ۱۳۵۲ھ

الیاس برنی

صفحہ 1048

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ضمیمہ دوم

قادیانی حساب

(۱) تمہید

سال گزشتہ قادیانی صاحبان نے سیکرٹری دعوت و تبلیغ جماعت عالیہ احمدیہ حیدرآباد دکن کے نام پر ایک رسالہ حیدرآباد سے شائع کیا: "ختم نبوت اور پروفیسر الیاس برنی"۔ اس کے جواب میں ہماری ایک کتاب شائع ہوئی ہے: "قادیانی مذہب"۔ پھر قادیانی صاحبان نے غلام قادر شرق صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ بنگلور کے نام پر دوسرا رسالہ شائع کیا: "الیاس برنی کا علمی محاسبہ"۔ اس رسالہ کے مضامین بہت غیر معتدل تھے۔ ان کو پڑھ کر بھید کھلا کہ حیدرآباد چھوڑ کر اس کو بنگلور سے کیوں شائع کیا گیا‘ تاہم یہ رسالہ حیدرآباد میں بکثرت تقسیم ہوا۔ اس کے جواب میں بھی ایک رسالہ "قادیانی جماعت" ہم نے شائع کر دیا کہ جو الزام دیئے گئے اور مغالطے پیدا کیے گئے‘ ان کا ازالہ ہو جائے۔

امسال قادیانی صاحبان نے پھر ایک رسالہ "احمدی جماعت" ان ہی غلام قادر شرق صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ بنگلور کے نام پر شائع کیا اور حسب سابق اس کو بھی حیدرآباد میں خوب تقسیم کیا۔ مضامین اس کے بھی بہت غیر معتدل ہیں مگر اس میں اور پہلے رسالہ میں ایک نمایاں فرق ہے‘ وہ یہ کہ پہلے رسالہ کا لہجہ بہت جارحانہ تھا اور

صفحہ 1049

اس کا لہجہ نہایت مظلومانہ ہے۔ پہلا رسالہ رجز تھا اور یہ نوحہ ہے مگر الزام اور مغالطوں کی اس میں بھی کمی نہیں۔ حسب سابق حکومت اور حکام تک لپیٹا ہے ع

دراز دستی ایں کوتہ آستیناں بیں

اس رسالہ میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ: ”ہم نے پبلک کو برنی صاحب کے جواب کا وعدہ دیا تھا اور انتظار کی درخواست کی تھی۔ اب انشاء اللہ پہلا جواب جماعت احمدیہ حیدرآباد کی طرف سے ان سطور کے ساتھ دو یا چار روز بعد پبلک کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گا۔“

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دو چار روز بعد قادیانی صاحبان کی طرف سے ایک کتاب ”تصدیق احمدیت“ حیدرآباد میں تقسیم اور فروخت ہونے لگی۔ یہ ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کا جواب ہے۔ سید بشارت احمد صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ حیدرآباد دکن کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ قادیان سے طبع ہو کر آئی ہے۔ حیدرآباد، بنگلور اور قادیان کے اتحاد عمل سے کام میں کیسی سہولت ہو گئی۔

”تصدیق احمدیت“ کی دلچسپ خصوصیت اس کی ہیئت ترکیبی ہے۔ عبارت کو دیکھئے کہیں چست، کہیں سست، کہیں پختہ، کہیں خام۔ اکثر مضامین بھی بے ربط و ناتمام۔ اشتراک ناقص کا لازمی انجام بہرطور ہوگا جیسا ہوا کام۔ بڑی خوبی یہ کہ جنرل سیکرٹری صاحب کے نام سے کتاب شائع ہوئی، کسی کی دیانت پر دھبہ نہ آیا۔ سیکرٹری صاحب کو ہر طرح حق نیابت حاصل ہے، خاص کر جب کہ سند وکالت بھی حاصل ہو، تاہم ع

نہاں کہ ماند آں رازے کزو سازند محفلھا

ہماری پہلی کتاب ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ یوں تو قادیانی صاحبان کو سخت ناگوار گزری تاہم جس حد تک بھی انہوں نے اس کی قدر فرمائی، اس کا شکریہ واجب ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

”برنی صاحب کے نام نہاد علمی محاسبہ سے اور کچھ نہیں تو کم از کم اس قدر فائدہ تو ہو چکا ہے کہ بعض طبائع میں اس ذریعہ سے تحقیق حق کی خواہش پیدا ہو گئی ہے اور ہم بھی خدا سے یہی چاہتے تھے کہ لوگوں میں احمدیت کے

صفحہ 1050

متعلق تحقیق کا شوق پیدا ہو۔ برنی صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے ع

خدا شرے بر انگیزد کہ خیرے مادراں باشد

(”تصدیق احمدیت“ ص ۴)

”تصدیق احمدیت“ کے شروع میں جو معذرت درج ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کے دوسرے ایڈیشن کا انتظار ہو رہا ہے کہ جدید ترتیب اور مزید مضامین کے ساتھ ایک بڑی کتاب کی شکل میں نمودار ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ قادیانی صاحبان کا انتظار پورا ہو گیا اور حسب دل خواہ کتاب حاضر ہے۔ ہم نے اس سلسلہ میں کثیر مواد کا وعدہ کیا تھا، سو کچھ فی الحال پیشکش ہے، ذرا بھی حس باقی ہو تو اسی قدر کافی ہے تاہم مزید آئندہ انشاء اللہ۔

قادیانی صاحبان نے اول بھی ہم کو تبادلہ خیالات کی دعوت دی تھی اور ہم نے معذرت چاہی، تو اپنے پہلے رسالے میں اعلان کیا کہ

”ہمارے ایک نمائندے نے، جو جلسہ میلاد النبیؐ متذکرہ میں شریک تھے، پروفیسر الیاس برنی صاحب سے اس مسئلہ پر تبادلہ خیالات کی دعوت دی تھی لیکن صاحب موصوف نے اپنی عدیم الفرصتی کا عذر کیا اور فرمایا کہ علمائے کرام سے رجوع کیا جائے۔ یہ جواب قابل غور ہے“۔

(رسالہ ”ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی“ ص ۸)

اس اعلان کے بعد قادیانی صاحبان نے جلسے بھی کیے، جن میں ہمارا خاص ذکر مذکور رہا۔ بالآخر ہم نے ”قادیانی مذہب“ کتاب لکھ کر فرمائش کی تکمیل کردی۔ اپنی کتاب ”تصدیق احمدیت“ میں پھر ہم کو اصرار سے دعوت دی ہے۔ ہم اس توجہ فرمائی کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ انشاء اللہ تکمیل فرمائش میں کوتاہی نہ ہوگی۔ البتہ بنگلور کے جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ، جو اس دعوت کے خلاف رسالے نکال رہے ہیں، ان کی تاویل و تردید حیدر آباد کے جنرل سیکرٹری صاحب کے ذمہ ہے جنہوں نے ہم کو دوبارہ دعوت دی ہے کہ

”کیا ہم امید کریں کہ برنی صاحب خود یا تعلیم یافتہ پبلک کے زور دینے سے اس میدان میں آئیں گے؟ اس سے بڑھ کر ہم خرما و ہم ثواب اور کیا

صفحہ 1051

ہو سکتا ہے۔“

(”تصدیق احمدیت“ ص ۴)

قادیانی کتابوں کے معاملے میں چونکہ شکایت کی صورت پیش آئی، شکایت لکھ دی۔ اس کے بعد جو کتابیں ملیں تو اس کی کیفیت اور شکریہ بھی قادیانی مذہب کے دوسرے ایڈیشن میں پیش کر دیا۔ ”تصدیق احمدیت“ میں جو کتابیں عنایت کرنے کا مزید اعلان کیا گیا ہے کہ

”آئندہ کے لیے بھی یہ صاف اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ جب چاہیں نہ صرف قیمتاً بلکہ مفت یا مستعار بھی کتابیں ہمارے پاس سے طلب کر سکتے ہیں“۔

(”تصدیق احمدیت“ ص ۸)

اس اعلان کا بہت بہت شکریہ! ہمیں یقین ہے کہ اس کی پوری پابندی ہوگی اور انشاء اللہ حسب سابق قیمت بھی پیشگی ہوگی۔ بہت سی کتابیں خریدنے کے بعد بھی متعدد ضروری کتابیں ملنی باقی ہیں۔ اپنی طرف سے بھی تلاش جاری ہے، بصورت مجبوری تکلیف دی جائے گی، اطمینان فرمائیں۔

قادیانی صاحبان نے اپنے دونوں رسالوں اور اپنی کتاب میں، جو عذرات اور اعتراضات پیش کیے ہیں، ان کے متعلق وافر معلومات ”قادیانی مذہب“ اور ”قادیانی جماعت“ میں موجود ہیں۔ ان دونوں کے جدید ایڈیشن بھی شایع ہو گئے ہیں، تاہم بعض امور جن کو حال میں قادیانی صاحبان نے پیش کیا ہے، ذیل میں واضح کرتے ہیں۔

(۲) ابتدا کی بحث

اول رسالہ ”احمدی جماعت“ کو لیجئے۔ قادیانی صاحبان نے کس طرح بحث پیدا کی اور ہم کو زبردستی اس میں گھسیٹ لیا۔ حیدرآباد اس سے بخوبی واقف ہے۔ ”قادیانی مذہب“ اور ”قادیانی جماعت“ میں بھی اس کی پوری کیفیت درج ہے۔ واقعات کا انکار تو مشکل تھا اور سچ بات ماننے سے الزام آتا تھا، اس لیے اصل واقعہ سے پیچھے ہٹ کر جدید رسالہ ”احمدی جماعت“ میں سال بھر سوچ کر یہ شکایت نکالی گئی کہ

صفحہ 1052

”شاہی عاشور خانہ کے جلسہ میلاد کے کارکن کئی سال سے ایک ایسی تقریر رکھا کرتے تھے کہ جس سے احمدی جماعت کی تردید مقصود ہوتی تھی‘ چنانچہ اس جگہ ایک صاحب نے لعنت لعنت کر کے نعرے لگوائے“۔

واقعی سچ بولنے کی حد ہو گئی اور عام و خاص سب کو کامل یقین ہو گیا کہ راست بازی قادیانی صاحبان ہی کا حصہ ہے۔ حیدر آباد میں قادیانی صاحبان کے ساتھ جو رواداری اور حسن خلق برتا گیا‘ ہندوستان میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے‘ لیکن اس کا جو ثمرہ مل رہا ہے‘ وہ بھی کچھ کم سبق آموز نہیں۔

(۳) سیاسی چکر

قادیانی صاحبان ہر جگہ سیاسیات میں پڑ جاتے ہیں‘ خوب پینگ بڑھاتے ہیں‘ کوئی بولے تو جھنجھلاتے ہیں‘ اتہام سے دھمکاتے ہیں‘ حد سے گزر جاتے ہیں‘ پھر بعد کو پچھتاتے ہیں‘ تو بات بناتے ہیں۔

چنانچہ اپنے پہلے رسالے میں ہم پر بگڑے‘ تو افترا کے جوش میں ایسے مدہوش ہوئے کہ آداب و مراتب کی بھی تمیز کھو بیٹھے۔ بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ ملاحظہ ہو:

”تعجب ہے کہ حکیم السیاست‘ سلطان دکن تو تاج برطانیہ کا یار وفادار کہلانا باعث فخر سمجھیں مگر برنی صاحب اپنے رسالے کے صفحات ۶۸ اور ۱۰۳ پر اس اقتدار اعلیٰ سے وفاداری کی تعلیم کے نیچے خط کھینچ کر لوگوں میں حقارت و بغاوت کے جذبات کی آگ مشتعل کریں“۔

(”الیاس برنی کا علمی محاسبہ“ ص ۴‘ مولفہ غلام قادر شوق صاحب قادیانی)

اپنے رسالہ ”قادیانی جماعت“ میں اس الزام کا جواب دیتے ہوئے ہم نے قادیانی صاحبان کو تنبیہہ کی تھی کہ بے سروپا اتہامات کے ضمن میں حضرت اقدس بندگان عالی متعالی مدظلہ العالی کو بحث میں لا کر اس طرح اظہار تعجب کرنا آخر کیا معنی پیدا کرتا ہے‘ اگر یہ حرکت دانستہ ہے تو خوفناک ہے اور اگر نادانستہ ہے تو شرمناک۔ تجربہ کار مبلغین اور قادیانی عہدہ داران کو اپنی ذمہ داری معلوم ہونی چاہیے۔ رہا یہ عذر کہ دوسروں کے نام سے رسالہ بنگلور سے چھپ کر آیا ہے‘ اس سے تو اور اشتباہ بڑھتا ہے۔

صفحہ 1053

عذر گناہ بد تر از گناہ۔

بالآخر قادیانی صاحبان نے پہلو بدل دیا۔ دوسرے رسالے میں خصوصیت سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا‘ امن کا اعتراف کیا۔ ع

چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی!

قادیانی صاحبان تو اپنے آپ کو ایک مذہبی گروہ بتاتے ہیں۔ ان کو سیاسیات میں اس قدر الجھنے کی ضرورت کیا ہے۔ برطانوی ہند میں بھی مدت سے اپنی وفاداری اور امن پسندی کے ترانے گاتے رہے اور بظاہر امن پسند بنے رہے‘ لیکن خدا جانے کیا اندرونی صورتیں پیش آئیں کہ حکومت ہند جیسی بیدار اور مدبر حکومت کے متعلق میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں نے حال میں اس شکایت کا اعلان کیا کہ

”احمدیت (یعنی قادیانی تحریک) کے ابتدا میں انگریز مخالف نہ تھے‘ سوائے چند ابتدائی ایام کے جبکہ وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے تھے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہو رہے۔ بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات سمجھتے ہیں‘ باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ ہمیں غصہ سے دیکھتے اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں پیس ہی دیں۔

انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منظم جماعت مخالف ہو گئی‘ تو ہمارے لیے بہت پریشانیوں کا موجب ہو گی اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جماعت احمدیہ کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے تو پھر جماعت احمدیہ گورنمنٹ کی مخالف کس طرح ہو سکتی ہے لیکن وہ گربہ کشتن روز اول کے مطابق ہمیں دبا دینا ضرور سمجھتی ہے“۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“

قادیان‘ جلد ۲۱‘ نمبر ۶۰‘ بابت ۵؍ مارچ ۱۹۳۴ء)

(۴) احتیاط کی بات

اللہ رے رعب ایمانی اور سطوت سلطانی‘ سید المرسلین‘ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم و فدائی امیر المومنین خلد اللہ ملکہ‘ کی بارگاہ میں نذر عقیدت

صفحہ 1054

پیش کرتے ہوئے قادیانی صاحبان کس احتیاط سے جناب مرزا صاحب کا تعارف کراتے ہیں کہ خاتم الاولیاء سے زیادہ زبان نہیں کھلتی اور فی الحقیقت دعاوی کیا ہیں، نمونتاً ملاحظہ ہوں۔

”خدا نے میرے ہزارہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی ہے، لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں، وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے“۔

(”تتمہ حقیقت الوحی“ ص۱۴۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، ”روحانی

خزائن“ ص ۵۸۷، ج۲۲)

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں، تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا، اس لیے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لیے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے“۔

(”چشمہ معرفت“ ص۳۱۷، ”روحانی خزائن“ ص ۳۳۲، ج۲۳، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

”اگر کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا تو۔۔۔۔۔ روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی رکھیں، کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے، اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جا رہی ہوں، لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہے“۔

(”حقیقت النبوۃ“ ص۱۹۹-۱۹۸، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں)

”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے کہ جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا صاحب) کو تم نے دیکھ لیا، جس کے دیکھنے کے

صفحہ 1055

لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی، اس لیے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو“۔

(”اربعین نمبر ۴“ ص ۱۲۔۱۳، ”روحانی خزائن“ ص ۴۴۲ ج ۱۷، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے“۔

(الہام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، ”معیار الاخیار“ مندرجہ ”تبلیغ

رسالت“ جلد نہم، ص ۲۷، مجموعہ اشتہارات مرزا صاحب، ص ۲۷۵ ج ۳)

(۵) کربلا کی امثال

قادیانی صاحبان امن و عافیت کا اعتراف کرنے کے بعد بھی اپنے حق میں کربلا کا نقشہ کھینچتے ہیں اور حسب عادت تمثیلات کو بے ادبی تک پھیلاتے ہیں، مثلاً یہ کہ ”اہل بیت (یعنی قادیانیوں) پر پانی بند کرا دیا“۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ حیدر آباد فرخندہ بنیاد اہل بیت اطہار کے فدائیوں سے آباد و بامراد ہے، البتہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا خاص الہام ہے اخرج منہ الیزیدیون یعنی قادیان میں یزیدی لوگ پیدا کیے گئے ہیں، حتیٰ کہ مرزا صاحب کی تحقیق کے بموجب چودھویں صدی کا دمشق بھی قادیان ہے، گویا کہ اس زمانہ کے یزید کا صدر مقام ہے۔ یزید تو اس درجہ بدنام ہے لیکن اس جسارت کا کیا انجام ہے، ملاحظہ ہو:

”افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں، ان سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح کے برخلاف ہے، جیسا کہ آیت ما کان محمد ابا احد من رجالکم سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے عورتوں میں سے تو نہیں تھے (اللہ رے گستاخی۔۔۔

صفحہ 1056

للمولف) حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو‘ جو امام حسینؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا‘ نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے۔۔۔۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کے راست باز بندوں میں سے تھے لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔۔۔۔۔۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسینؓ کو اس سے کیا نسبت ہے۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر در حقیقت میں ہی مسیح موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسینؓ کے مقابل میں مجھے کیا درجہ دینا چاہیے اور اگر میں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صدہا نشان کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہر دم میری تائید میں ہے“۔

(”نزول المسیح“ ص ۴۵ تا ۵۰‘ ”روحانی خزائن“ ص ۴۲۸ تا ۴۳۳‘ ج ۱۸‘

مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

مزید برآں مرزا صاحب کے چند اشعار مع ترجمہ مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ ہوں۔ ”قصیدہ اعجازیہ“ جو مرزا صاحب کا خاص الہام ہے‘ ایسی ہی خوش عقیدگیوں کا مجموعہ ہے۔

وقالوا علی الحسین فضل نفسہ اقول نعم واللہ ربی
سیظھر

اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسین پر اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں (اچھا سمجھتا ہوں) اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا (کہ میں اچھا ہوں)

(”اعجاز احمدی“ ص ۵۲‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۴‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

وشتان ما بینی وبین حسینکم فانی اوید کل ان وانصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا الی ھذہ الایام تبکون فانظروا
صفحہ 1057

اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر (رہا) حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو‘ اب تک تم روتے ہو۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۶۹’ ”روحانی خزائن“ ص ۱۸۱‘ ج۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

وانی قتیل الحب ولکن حسینکم قتیل العدو فالفرق اجلی واظہر

اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے‘ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۸۱’ ”روحانی خزائن“ ص ۱۹۳‘ ج۱۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا صاحب ہر آن کربلا کی سیر کرتے ہیں اور اپنی جیب میں سو حسین ڈالے پھرتے ہیں۔ (استغفراللہ!)

کربلا نیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(”در ثمین فارسی“ ص ۱۷۷‘ مجموعہ کلام مرزا غلام احمد قادیانی صاحب’ ”روحانی خزائن“

ص ۱۷۷‘ ج۱۸)

(۶) کھیت کا غم

قادیانی صاحبان کے واویلا کا اصلی راز کیا ہے۔ خود ہی فرماتے ہیں: ”ہم کو خوف ہے تو صرف یہ کہ ہمارا کھیت تباہ نہ ہو جائے“ اور مسلمانوں کا عام احساس ہے کہ خدا چیل سین (ناگ پھنی) سے نجات دلائے۔ قادیانی صاحبان کے کھیت میں جو فصل کاشت ہوتی ہے‘ اس کی حقیقت خود ان ہی کی زبانی سنئے‘ کیسی زہریلی پیداوار ہے۔ خدا محفوظ رکھے۔

اول میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں کا ارشاد ملاحظہ ہو:

”یہ وہ امور ہیں‘ جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح (یعنی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ

صفحہ 1058

اول) بھی آپ کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم و فضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت کریں اور وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریزیڈنٹ ہوں۔ پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی (سید محمد احسن) صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے‘ وہ تم جانتے ہو‘ حضرت (مرزا صاحب) بھی ان کا ادب کرتے تھے“۔

(”منصب خلافت“ ص ۵۳‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب‘ خلیفہ قادیاں)

ذیل میں مولوی سید محمد احسن صاحب کا فتویٰ ملاحظہ ہو‘ جس کا صاحب موصوف نے لاہوری جماعت کے سلسلہ میں اعلان کیا ہے:

”صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقاید فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود مرزا صاحب کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں اور اسی لیے میں اس خلافت سے‘ جو محض اداری ہے‘ سیاسی نہیں‘ صاحبزادہ صاحب کا اپنی طرف سے عزل کر کے عنداللہ اس ذمہ داری سے بری ہوتا ہوں جو میرے سر پر تھی اور حسب ارشاد الٰہی قال ومن ذریتی قال لا ینال عہدی الظالمین اپنی بریت کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو اطلاع پہنچاتا ہوں کہ صاحبزادے صاحب کے یہ عقاید (۱) سب اہل قبلہ کلمہ گو کافر اور خارج از اسلام ہیں۔ (۲) حضرت مسیح موعود کامل حقیقی نبی ہیں‘ جزوی نہیں یعنی محدث نہیں۔ (۳) اسمہ احمد کی پیشگوئی جناب مرزا صاحب کے لیے ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے نہیں اور اس کو ایمانیات سے قرار دینا ایسے عقاید اسلام میں موجب ایک خطرناک فتنہ کے ہیں‘ جن کے دور کرنے کے لیے کھڑا ہو جانا ہر ایک احمدی کا فرض اولیں ہے۔ یہ اختلاف عقاید معمولی اختلاف نہیں‘ بلکہ اسلام کے پاک اصول پر حملہ ہے“۔

(”آئینہ کمالات مرزا“ ص ۴۹-۵۰)

اس اعلان سے بھی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نہیں پسیجے بلکہ اقرار کر لیا کہ

صفحہ 1059

”یہ تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی) صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں: اول یہ کہ میں نے مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی آیت اسمہ احمد کی پیشگوئی مذکورہ قرآن مجید کے مصداق ہیں۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقاید ہیں، لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقاید اختیار کیے“۔

(”آئینہ صداقت“ ص ۳۵، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

یہ ہے قادیانی کھیتی جس کو حیدر آباد میں سرسبز دیکھنا چاہتے ہیں اور جس کے تباہ ہو جانے کا انہیں ازحد خوف ہے۔

(۷) اصلاح و اتحاد

یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمدی جماعت باوجود سختیوں کے اصلاح و اتحاد المسلمین کی مبارک سعی کو نہ چھوڑے گی۔ اس مبارک سعی کے اصول بھی ذیل میں ملاحظہ ہوں:

”حضرت مسیح موعود کا حکم ہے اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی، غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے“۔

(”برکات خلافت“ ص ۷۵، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان)

”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے

صفحہ 1060

ہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا، اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے"۔

("انوار خلافت" ص ۹۳، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں)

یہ ہیں وہ اصول جن کی بنا پر قادیانی صاحبان نے حیدر آباد میں اصلاح و اتحاد کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ع

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

(۸) چندہ کا پھندا

قادیانی صاحبان نے چندہ کا بھی رونا رویا ہے بلکہ سچ پوچھئے تو یہی اصل رونا ہے۔ سو اس کی کیفیت یہ ہے کہ قادیانی صاحبان مسلمانوں سے میل بڑھاتے ہیں، پھر ان سے چندہ اگھاتے ہیں، اپنے کام بناتے ہیں، اسلامی کام بتاتے ہیں، جب مسلمان سمجھ جاتے ہیں تو چندہ سے پچھتاتے ہیں۔ اس پر قادیانی صاحبان جھنجلاتے ہیں، جان کھاتے ہیں، واویلا مچاتے ہیں۔

اگر زمانہ سازی چھوڑ کر قادیانی صاحبان اپنے مذہب کی پابندی کریں تو مرزا صاحب کے نزدیک مسلمانوں میں ایسے کیڑے پڑ گئے ہیں کہ ان سے الگ اور بے تعلق رہنے کی ہدایت ہے۔ پھر مسلمانوں کے رفاہی کاموں میں شریک ہونے کی ممانعت ہے۔ پھر مسلمانوں کے مقابلہ پر تیار ہونے کی اشاعت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

یہ خدائے تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں“۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، مندرجہ رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ قادیان‘

صفحہ 1061

جلد۶، نمبر۸)

(۲) ”کیا غیر احمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود کا عمل درآمد کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی میں نہ غیروں (مسلمانوں) کی کسی انجمن کے ممبر ہوئے اور نہ ان میں سے کسی کو کسی اپنی انجمن کا ممبر بنایا اور نہ کبھی ان کو چندہ دیا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا“۔ (ابتدا میں تو مدت تک مرزا صاحب نے اسلام کے نام پر مسلمانوں سے خوب چندہ مانگا اور خوب وصول کیا۔ خود کتابوں میں اعتراف موجود ہے، چنانچہ اسی چندہ سے بنیاد جمی اور آج کے دن تک مسلمانوں کو بھلا بھلا کر چندہ وصول کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے رفاہ میں مرزا صاحب نے کبھی پیسہ بھی نہیں دیا اور آج بھی رفاہ کا نام ہے۔ قادیان کا کام ہے—— للمولف)

”حتیٰ کہ ایک دفعہ علی گڑھ میں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے ایک انجمن بنائی گئی اور وہاں کے جناب سیکرٹری صاحب نے ایک خاص خط بھیجا کہ چونکہ آپ لوگ خادم اور ماہر قرآن مجید ہو، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس انجمن میں آپ صاحبان میں سے بھی کچھ شریک ہوں مگر باوجود جناب مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی کوشش کے، حضور (مرزا صاحب) نے انکار ہی فرمایا۔ پھر سرسید صاحب (مرحوم) کے چندہ مدرسہ مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک روپیہ تک بھی مانگتے رہے لیکن حضور (مرزا صاحب) نے شرکت سے انکار ہی فرمایا حالانکہ اپنا خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا“۔ (”کشف الاختلاف“ ص ۴۲، مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)

(۳) ”قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے ترقی کرے تو ایک مومن دس پر بھاری ہوتا ہے۔ اور اگر اس سے بھی ترقی کرے تو صحابہؓ کے طرزِ عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن (۵۶) ہزار ہے۔ گو یہ بالکل غلط ہے

صفحہ 1062

اور صرف اسی ضلع گورداسپور میں تیس ہزار احمدی ہیں مگر فرض کرلو یہ تعداد درست ہے اور فرض کرلو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار افراد رہتے ہیں، تب بھی یہ ۷۵-۷۶ ہزار آدمی بن جاتے ہیں اور اگر ایک احمدی سو کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ہم ۷۵ لاکھ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اور اگر ایک ہزار کے مقابل پر ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اتنی ہی تعداد دنیا کے تمام مسلمانوں کی ہے (کیسے صحیح اور وسیع معلومات ہیں— للمولف) پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں"۔ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان، جلد ۲۱، نمبر ۱۵۲، مورخہ ۱۱؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۹) گالیوں کی شکایت

جناب مرزا صاحب کی تحریرات دیکھئے تو خود بھی دوسروں کو گالیاں دیتے ہیں۔ دوسروں سے جو گالیاں سنتے ہیں، ان کو اپنی تحریرات میں نقل کرتے ہیں اور لطف یہ کہ اکثر شرط لگا کر خود بھی اپنے آپ کو گالیاں دے لیتے ہیں کہ اگر یوں ہو تو میں ایسا، یوں نہ ہو تو میں ویسا۔ ان تحریرات کے اقتباسات میں اکثر تینوں قسم کی گالیاں آ جاتی ہیں تو قادیانی صاحبان بگڑتے ہیں اور گالیوں کی فہرستیں بنا کر تہمت لگاتے ہیں کہ فلاں صاحب نے اتنی گالیاں لکھیں اور فلاں نے اتنی۔ حالانکہ ان کا قصور نقل کے سوا کچھ بھی نہیں اور دنیا جانتی ہے کہ نقل کفر کفر نباشد۔ وہ بھی بدرجہ مجبوری کبھی نقل کرنا پڑتا ہے کہ اخلاق و تہذیب کا صحیح اندازہ ہو جائے۔

قادیانی صاحبان بلکہ خود جناب مرزا صاحب کی جوابی کتابوں سے مقابلہ کیجئے تو ”تصدیق احمدیت“ نسبتاً غنیمت ہے۔ بدزبانی معمول سے کم ہے۔ برایں ہم بدذاتی اس جماعت کی سرشت میں داخل ہے۔ اس کے بغیر اچھے اچھوں کا دل نہیں بھرتا۔ ملاحظہ ہو:

”جناب برنی صاحب نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بذریعہ ایک دوسرے رسالہ موسومہ ”قادیانی جماعت“ کے اپنے موجودہ رسالہ ”قادیانی مذہب“ سے زیادہ تیز مواد

صفحہ 1063

باقی رہنے کی دھمکی دی ہے۔ گویا بنگلوری ٹریکٹ نے حضرت کے لیے منضج کا کام کیا۔ بہتر ہے، ہم بھی منتظر رہیں گے کہ برنی صاحب اپنا یہ مواد فاسد خارج کرلیں تاکہ معقول تبرید کا انتظام کیا جائے"۔

("تصدیق احمدیت" ص ۴)

کس مواد کے وعدہ پر قادیانی صاحبان کس مواد کے انتظار میں مبتلا ہو گئے۔ ع

فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

اس ضرورت کے واسطے ان کو اپنے مرکز کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ آئندہ اس بارے میں مفصل ہدایت درج ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ بدزبانی اور دل آزاری قادیانی صاحبان کی طبیعت ثانی بن گئی ہے۔ دوسروں کا تو ذکر کیا، آپس میں بھی کچھ کسر اٹھا نہیں رکھتے اور اس پر دیدہ دلیری کہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں، دوسروں کی شکایت کرتے ہیں۔ خود قادیانی اکابر کی تہذیب قابل ملاحظہ ہے:

"خود جناب میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ، دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس پر پڑے ہوئے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے"۔

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی، امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ، مندرجہ "پیغام

صلح" لاہور، جلد ۲۲، نمبر ۲۳، ص ۷، مورخہ ۳؍ جون ۱۹۳۴ء)

(۱۰) تیز مواد

رسالہ "احمدی جماعت" کے بعد اب "تصدیق احمدیت" کو لیجئے۔ شروع دیباچہ ہی میں صفحہ نمبر ۴ پر سیکرٹری صاحب فرماتے ہیں:

"گویا بنگلوری ٹریکٹ نے حضرت کے لیے منضج کا کام کیا۔ بہتر ہے، ہم بھی منتظر رہیں گے کہ برنی صاحب اپنا یہ مواد فاسد خارج کرلیں تاکہ معقول تبرید کا انتظام کیا جائے"۔

صفحہ 1064

اگر سیکرٹری صاحب اور ان کے رفیقوں کو جناب مرزا صاحب کی مصاحبت کا شرف نصیب ہوتا تو یہ اپنے اس شعبہ کی خدمات سے بہت ثواب کماتے۔ جناب مرزا صاحب کو اس شعبہ سے فطرتاً بہت سابقہ پڑتا تھا بلکہ شب و روز کا یہ خاص مشغلہ تھا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں:

"باوجودیکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں، مگر جس وقت پاخانہ کی بھی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی"۔

(کتاب "منظور الٰہی" ص ۳۴۹، مجموعہ ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

"میں ایک دائم المرض آدمی ہوں..... بیماری ذیابیطیس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں"۔

("ضمیمہ اربعین نمبر ۳-۴" ص ۴، "روحانی خزائن" ص ۴۷۱، ج ۱۷، مصنفہ

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

"دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے........ اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے"۔

("حقیقت الوحی" ص ۳۶۳، "روحانی خزائن" ص ۳۷۷، ج ۲۲، مصنفہ مرزا

غلام احمد قادیانی صاحب)

اس عالم سے رخصت ہوتے وقت بھی یہ شعبہ خصوصیت سے مصروف کار تھا۔ چنانچہ جناب مرزا صاحب کے انتقال کی تفصیل میں صاحبزادہ بشیر احمد صاحب اپنی والدہ صاحبہ کا چشم دید بیان تحریر فرماتے ہیں کہ

"حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا........ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے...... اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے

صفحہ 1065

اس لیے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر فارغ ہوئے۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔۔۔۔۔۔ اور حالت دگرگوں ہوگئی“۔

(”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص۹، روایت نمبر۴، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد

صاحب قادیانی)

جناب مرزا صاحب کے انتقال کا جو اعلان شائع ہوا، اس میں بھی یہ اسہالی خصوصیت بطور یادگار درج کی گئی۔ چنانچہ یوں شروع ہوتا ہے:

”برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے، حضرت امامنا مولانا حضرت مسیح موعود مہدی معہود مرزا صاحب قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بہ سبب کھانا نہ ہضم ہونے کی تھی۔۔۔۔۔۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ۲۵ تاریخ مئی کی شام کو۔۔۔۔۔۔ پھر اسی بیماری کا دورہ شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اور قریباً گیارہ بجے ایک دست آنے پر طبیعت ازحد کمزور ہوگئی۔۔۔۔۔۔ دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا جس سے نبض بالکل بند ہوگئی۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا گیا اور جب وہ تشریف لائے تو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے، آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی، اس لیے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا مگر پھر نبض واپس نہ آئی“۔

(ضمیمہ اخبار ”الحکم“ قادیان، غیر معمولی، مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء)

بہر حال منضج کی تو ضرورت نہ تھی، البتہ اگر سیکرٹری صاحب انجمن احمدیہ حیدرآباد دکن کچھ تجہیز کا مستقل انتظام کر دیتے تو کیسا کار ثواب تھا مگر یہ خدمت قسمت میں نہ تھی تو آج ادھر ادھر توقع لگاتے ہیں، انتظار کی زحمت اٹھاتے ہیں۔

(۱۱) ذریۃ البغایا

یوں تو جناب مرزا صاحب کی تحریرات میں گالیاں کچھ کمیاب نہیں، جابجا موجود

صفحہ 1066

ہیں لیکن اکثر گالیاں انفرادی ہیں یا مولوی جماعت کے نام کی ہیں۔ ان کا جواب بھی مل چکا ہے‘ اس لیے قادیانی صاحبان کو ان کی چنداں فکر نہیں بلکہ الٹا ان کی صحت اور ان کے جواز پر اصرار ہے۔ البتہ عادت کی رو میں بعض مقامات پر گالی اس طرح بھی قلم سے نکل گئی کہ اس کی زد بالعموم تمام مسلمانوں پر پڑے۔ اس گالی کی البتہ قادیانی صاحبان کو از حد فکر ہے کہ کہیں مسلمانوں کے دل میں بیٹھ گئی تو بڑی مشکل ہوگی۔ اس لیے وہ بڑی کوشش میں ہیں کہ اول تو یہ گالی‘ گالی نہ رہے حالانکہ مرزا صاحب کی دوسری گالیوں سے قادیانی صاحبان کو ذرا بھی انکار نہیں‘ دوسرے یہ کہ اگر گالی نہ ٹل سکے تو کم از کم مسلمان اس کے مخاطب نہ سمجھے جائیں بلکہ دوسروں کو جا لگے کہ کچھ نہ کچھ تو ذمہ داری ٹلے۔

قول بالکل صاف ہے۔ اس میں کسی موشگافی کی کیا ضرورت اور گنجائش ہے‘

ملاحظہ ہو:

تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبه والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون۔

”ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں مگر بدکار رنڈیوں (زناکاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔

(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۴۸۔۵۴۷ ”روحانی خزائن“ ص ۵۴۸۔۵۴۷ ج ۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

قادیانی صاحبان نے اپنی متعدد کتب اور نیز ”تصدیق احمدیت“ ص ۱۳۴۔۱۳۵ میں کھینچ تان کر کے اس کی یہ تاویل پیش کی ہے کہ یہاں ذریۃ البغایا کے مخاطب مسلمان نہیں بلکہ ہندو اور عیسائی ہیں۔ گویا الا کے استثناء سے مسلمان مستثنیٰ ہیں۔ تو پھر اس صورت میں یہ معنی ہوئے کہ گویا جس قدر مسلمان ہیں سب نے مرزا صاحب کو قبول کیا اور ان کی دعوت کی تصدیق کی۔ ان کی کتابوں کو محبت کی آنکھ سے دیکھا اور ان کے

صفحہ 1067

معارف سے فائدہ اٹھایا۔ گویا پکے قادیانی بن گئے۔ البتہ ہندوؤں اور عیسائیوں نے مرزا صاحب کو قبول نہ کیا۔ گالی سے بچا کر یہ تو مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ بیک قلم سب کو قادیانی بنا دیا۔ نعوذ باللہ۔ عذر گناہ بدتر از گناہ۔ بے بنیاد تاویلات کا یہی انجام ہوتا ہے۔ عبارت صاف ہے اور قادیانی صاحبان کی تاویل بھی موجود ہے۔ لوگ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ذریۃ البغایا سے مرزا صاحب کی مراد کون ہیں۔

اب رہی دوسری بحث کہ ذریۃ البغایا کے کیا معنی ہیں۔ قادیانی صاحبان کی تحقیق ہے کہ اس کے معنی ہیں ”ہدایت سے دور لوگ“۔ تاج العروس کا حوالہ دیا ہے۔ ممکن ہے کسی عبارت کی کتر بیونت سے یہ معنی پیدا کیے گئے ہوں لیکن بغایا کے معنی اس درجہ معروف و مسلم ہیں کہ اس میں سخن سازی کے سوا اختلاف کی گنجائش نہیں۔ تاہم قادیانی صاحبان نے من مانے معنی لکھ دیئے۔ ذیل میں بغایا کے اصلی معنی ملاحظہ ہوں:

عربی لغات میں لسان العرب کا جو رتبہ ہے، اہل علم پر بخوبی روشن ہے۔ مشہور امام لغت ابو عبیدہ سے نقل کیا ہے:

البغایا الاماء لانہن کن یفجرن۔

”بغایا باندیوں کو کہتے ہیں کیونکہ بدچلنی ان کا شیوہ تھا“۔

پھر ابن خالویہ کا یہ قول نقل کیا ہے:

ثم کثر فی کلامہم حتی عموا بہ الفواجر اماء کن او حرائرا۔

”پھر کثرت استعمال سے بالآخر اس کا اطلاق بالعموم فاجرات یعنی بدچلن عورتوں پر ہونے لگا خواہ باندیاں ہوں خواہ آزاد۔

اس سے بھی بڑھ کر علامہ راغب اصفہانی کی مشہور لغت قرآن المفردات ملاحظہ ہو:

بغت المراۃ بغایا اذا فجرت وذلك لتجاوزہا الی ما لیس لہا قال عزوجل ولا تکرہوا فتیاتکم علی البغاء۔

”بغت المراۃ، بغایا اس وقت بولتے ہیں جب عورت بدچلن ہو جائے اور یہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اس حد سے، جو اس کے لیے ہے، نکل جاتی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو“۔

صفحہ 1068

اب قرآن مجید میں اس لفظ کے دیگر محل ملاحظہ ہوں۔ اردو میں سب سے اوّل مستند ترجمہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ ملاحظہ ہو:

قالت انى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا۔ (سورۃ مریم، رکوع ۲) ياخت هارون ما كان ابوك امرا سوء وما كانت امك بغيا۔ (سورۃ مریم، رکوع ۲)

”(مریم) بولی کہاں سے ہوگا میرے لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور کبھی نہ تھی میں بدکار۔

اے بہن ہارون کی نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار“۔

اس کے سوا ملاحظہ ہو قرآن مجید ”مترجمہ فاضل اجل حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب“ (قادیانی)۔ شاہ صاحب قادیان میں مفتی اعظم بھی ہیں اور جناب مرزا صاحب کے خاص صحابی بھی ہیں۔ مندرجہ بالا آیات قرآنی کا ترجمہ شاہ صاحب یوں فرماتے ہیں:

آیت اول: ”اس نے کہا میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا اور نہ میں بدکار تھی“۔

آیت دوم: او ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا مرد تھا اور نہ ہی تیری والدہ فاحشہ تھی“۔

خدا کی قدرت کہ مرزا صاحب نے بھی حسب عادت مخبثہ کی گالی دوسرے موقع پر اپنے ایک حریف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو دی اور خود ہی اس کا ترجمہ بھی لکھ دیا۔ شاید قادیانی صاحبان کی اب تک اس پر نظر نہیں پڑی یا اس کو مصلحتاً ”نظر انداز کر دیا گیا کہ دوسروں کو کیا علم ہوگا۔ بہرحال مرزا صاحب نے ”ذریۃ البغایا“ کا خود ترجمہ کنجری کی اولاد کیا ہے۔ تفصیل کے لیے کتاب ہذا فصل نویں، نمبر ۳۸ ملاحظہ کریں۔

(مرزا صاحب کی گالیوں کی بحث کتاب کی نویں فصل میں بھی درج ہے)

(۱۲) غلط حوالے

قادیانی صاحبان نے غلط حوالوں کی بھی بہت دھوم مچائی۔ یہ ان صاحبان کا پرانا

صفحہ 1069

داؤ ہے۔ چند غلطیاں کتابت کی یا طبع زاد کتاب بھر میں سے ڈھونڈ نکالیں اور بانس پر چڑھا دیں۔ گویا ایسی چند غلطیوں سے تمام کتاب غلط ہو گئی۔ قادیانی صاحبان کو فراغت ہو گئی لیکن آج کل یہ ترکیبیں نہیں چلتیں۔ لوگ ان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں کہ غلطیاں نکالنے میں کس درجہ غلط بیانی شریک کی جاتی ہے۔ مثلاً چند نمونے ملاحظہ ہوں:

”حمامتہ البشریٰ“ مطبوعہ ۱۹۰۳ء میں یہ عبارت کہیں نہیں ملی“۔ (”تصدیق احمدیت“ ص ۴۶)

گویا محولہ بالا عبارت ہم نے اپنی طرف سے یونہی حوالہ دے کر شریک کردی۔ یہ عبارت حسب حوالہ ”حمامتہ البشریٰ“ میں پہلے ایڈیشن کے صفحہ نمبر ۷۹ پر موجود ہے۔ اور نیز اسی صفحہ ۷۹ کے حوالہ سے دوسرے ایڈیشن کے صفحہ ۹۶ پر درج ہے لیکن اس پر بھی قادیانی صاحبان کو نظر نہ آئے تو اس کا کیا علاج ہے۔ غلط بیانی کی بھی حد ہونی چاہیے۔

الوصیۃ کے ص ۱۰ کا ہے۔ صفحہ کا حوالہ غلط ہے بلکہ یہ عبارت جس کا حوالہ برنی صاحب نے دیا ہے، ص ۱۳ پر موجود ہے“۔ (”تصدیق احمدیت“ ص ۷۸)

بہر حال مقصود یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح غلطی ثابت ہو اور واقعہ کیا ہے، محولہ بالا عبارت طبع اول کے ص ۱۱ پر درج ہے۔ البتہ کاتب نے اس کو ص ۱۰ بنا دیا ہے۔ چنانچہ تازہ ترین ۳۳ء کے نویں ایڈیشن میں بھی یہ عبارت اسی صفحہ کے حوالے سے حاشیہ پر درج ہے۔ لیکن قادیانی صاحبان کا اعلان ہے کہ یہ عبارت ص ۱۳ پر درج ہے۔ حالانکہ ص ۱۳ پر اس کا ذکر بھی نہیں ہے۔ نہ پہلے ایڈیشن میں، نہ آخری ایڈیشن میں۔ یہ غلط بیانیاں ہیں جو قادیانی صاحبان کا ہتھیار ہیں۔

کا نام ”کشتی نوح“ لکھا ہے اور ص ۱۲ کا حوالہ دیا ہے اور تتمہ میں کتاب کا نام ”تقویتہ الایمان“ اور ص ۴۱ کا حوالہ دیا ہے۔ ”تقویتہ الایمان“ اور ”کشتی

صفحہ 1070

نوح" ایک ہی کتاب کے دو نام ہیں اور دونوں جگہ کے اقتباسات ایک ہی عبارت سے لیے گئے ہیں جو ص ۴۱ مذکور پر حسب ذیل ہے"۔ ("تصدیق احمدیت" ص ۱۹۰)

جب قادیانی صاحبان کو تسلیم ہے کہ ایک ہی کتاب کے دو نام ہیں۔ اگر دونوں نام ایک ایک حوالے میں لکھ دیئے تو کیا برا کیا۔ اگر صرف ایک ہی نام دونوں حوالوں میں لکھ دیا جاتا تو پھر دوسرے قادیانی اعتراض کا کیا جواب تھا کہ دوسرا نام کیوں ترک کیا گیا۔ شاید اس کا علم نہ ہوگا۔ رہا صفحہ ۱۲ کا اعتراض، اگر ص ۱۶ کو ص ۱۲ پڑھ لیا جائے تو اس کا کیا علاج۔ ذرا اپنے ص ۱۲ سے ملا دیکھیں کہ ص ۱۲ چھپا ہے یا ص ۱۶۔ ایسی ترکیبوں سے کیا کام بن سکتا ہے۔

(۴) "چوتھا حوالہ "سراج منیر" ص ۳۵۲ کا ہے۔ مگر "سراج منیر" میں اتنے صفحات ہی نہیں۔ کل ۸۸ صفحات پر ہندسے ہیں اور باقی کے صفحات پر حروف ابجد از "ج" تا "ن" درج ہیں۔ اس طرح جملہ سو صفحات کی کتاب ہے۔ لیکن وہ عبارت جس کا حوالہ برنی صاحب نے دیا ہے، کتاب مذکور کے ص ۳ پر ملتی ہے"۔ ("تصدیق احمدیت" ص ۶۲)

بظاہر کیسی بڑی غلطی پکڑی ہے کہ حوالے میں کئی سو صفحوں کا فرق نکل آیا۔ لیکن واقعہ کیا ہے۔ جو اقتباس اول لیا گیا وہ "سراج منیر" کے ص ۲ و ۳ پر درج ہے۔ چنانچہ یہی حوالہ لکھا گیا کہ ص ۲ و ۳ کاتب نے "و" کو "ہ" بنا دیا۔ اس طرح اصلی حوالہ ص ۲ و ۳ کتابت میں ص ۳۵۲ جیسا بن گیا۔ لیکن مسودہ کی نظر ثانی میں سابقہ اقتباس مختصر کر دیا گیا۔ صفحہ ۲ کی عبارت ترک ہو گئی، البتہ حوالہ میں صفحہ ۲ کا اندراج سہواً رہ گیا۔ تاہم بقیہ اقتباس ص ۳ پر موجود ہے۔ خود قادیانی صاحبان کو بھی تسلیم ہے۔ کتابت کے معمولی سہو پر بات کہاں سے کہاں پہنچا دی۔

غرض کہ قادیانی صاحبان نے اس قسم کی چند غلطیاں جا و بیجا جواب میں دہرا کر اپنے نزدیک بڑا کام کیا۔ یہ کتاب تو نہایت ناموافق حالات میں تیار ہوئی۔ جو کتابیں پورے سامان و اطمینان سے تیار ہوتی ہیں، ان میں بھی غلط نامے شریک کرنے پڑتے ہیں۔ قادیانی صاحبان کو تو اپنے جوابوں کی صحت پر بڑا ناز ہے۔ ملاحظہ ہو "تصدیق

صفحہ 1071

احمدیت" کے ص ۷۸ پر کیسے دعوے سے لکھتے ہیں کہ "مربی صاحب نے الوصیتہ میں جس عبارت کا حوالہ صفحہ ۱۰ پر دیا ہے‘ وہ غلط ہے۔ بلکہ یہ عبارت صفحہ نمبر ۱۳ پر درج ہے"۔ حالانکہ صفحہ ۱۳ پر اس عبارت کا پتہ بھی نہیں۔ حوالہ وہی صحیح ہے جو ہم نے لکھا ہے۔ چنانچہ اس کی تفصیل اوپر درج ہے۔ قادیانی صاحبان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کے اعتراضات اور غلط بیانات سے علمی طبقوں میں خود ان ہی کا اعتبار گھٹ رہا ہے کہ اصل مباحث کو چھوڑ کر فضولیات کو طول دیتے ہیں‘ خفیف باتوں کی آڑ لیتے ہیں۔

غلط حوالوں کی طرح اور بھی ملتے جلتے اعتراض کیے ہیں۔ مثلاً "تصدیق احمدیت" کے ص ۲۱۸ پر یہ کہ "اسمع ولدی"---- (سن بیٹا)---- مرزا صاحب کا یہ کوئی الہام نہیں ہے۔ اور ترجمہ گویا ہم نے درج کر دیا۔ قادیانی صاحبان کے نزدیک نہ ہوگا۔ لیکن "البشریٰ" جو جناب مرزا صاحب کے الہامات کا سب سے جامع اور معتبر مجموعہ ہے‘ اس میں نہ صرف یہ الہام بلکہ اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ چاہیں تو ملاحظہ فرمالیں۔ "البشریٰ" جلد اول‘ ص ۴۹۔ اگر ترجمہ نہ ہوتا تو بھی شک کی گنجائش تھی کہ شاید سہو کتابت ہو بلکہ جس دوسری کتاب کے حوالے سے اس الہام کو قادیانی صاحبان نے بدل کر "اسمع واری" لکھا ہے۔ وہاں ترجمہ نہیں ہے‘ کتابت کی خامی یا سنگ سازی کی خرابی سے "ولدی" کا "واری" بن جانا کچھ عجیب نہیں۔ "ولدی" میں اس لیے کلام نہیں ہوسکتا کہ اس کی تائید میں اسی رنگ کے اور الہام بھی موجود ہیں جن سے قادیانی صاحبان بھی کسی طرح انکار نہیں کر سکتے۔ مثلاً ملاحظہ ہو "حقیقت الوحی" ص ۸۶‘ جو خود مرزا صاحب کی خاص تصنیف ہے۔ اس میں یہ الہام مع ترجمہ درج ہے۔ "انت منی بمنزلۃ ولدی" (تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے"۔ اور مرزا صاحب کے مدارج بہت ترقی پذیر تھے۔ "بمنزلہ ولدی" سے بڑھ کر ٹھیٹھ "ولدی" ہوگئے تو کیا تعجب ہے۔

ان غلطیوں سے اندازہ ہو سکے گا کہ قادیانی صاحبان‘ جو دوسروں کی غلطیوں کا بڑے شدومد سے اعلان کرتے ہیں‘ ان میں کس قدر غلط بینی ہوتی ہے اور کس قدر غلط بیانی۔

(۱۳) کتربیونت

جناب مرزا صاحب کی کتابیں علمی نظر سے دیکھیے تو مباحث میں ابہام اور

صفحہ 1072

التباس کی کثرت ہے۔ طول کلام و تکرار بیان نے اور پیچیدگی بڑھا دی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی قادیانی لٹریچر ایک بھول بھلیاں بن گیا۔ اسی دقت کے مد نظر جناب مرزا صاحب اور ان کے خلفاء اور صحابہ کی اور تابعین کی کتابوں کا بغور مطالعہ کر کے اور ان ہی کے اقوال کو اقتباسات کی شکل میں یکجا ترتیب دے کر ان کے اعتقادات و اجتہادات‘ ان کے اصول و مسائل کو علمی محاسبہ کے طور پر قادیانی مذہب کے نام سے شائع کر دیا۔

علمی طبقوں میں تو اس تالیف کی بہت قدر ہوئی اور ہو رہی ہے لیکن قادیانی صاحبان بہت بیزار ہیں۔ وجہ ظاہر ہے لوگوں کو بطور خود قادیانی تحریک پر غور و فکر کرنے کا موقع مل گیا۔ اور یہ طریق قادیانی صاحبان کے اغراض کے منافی ہے۔ اصل کتابوں کا تو مطالعہ کون کرتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مصالح وقتی کے تحت وہ جس طرح اپنے اخبارات و رسائل اور جدید تالیفات میں مذہب پیش کریں‘ لوگ بلا تحقیق اس کو اسی طرح مان لیں تو اسی میں کامیابی ہے۔

چنانچہ ناخوش ہو کر غلط حوالوں کی طرح کتر بیونت کا بھی قادیانی صاحبان نے الزام دیا ہے۔ مدافعت اور معذرت کا یہ بھی ایک عام طریق ہے کہ اقتباس نامکمل ہیں‘ ناقص ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اول جامع مباحث قرار دیئے۔ ہر بحث کے ذیلی عنوانات قرار دیئے۔ ہر عنوان کے تحت متعلقہ اقتباسات درج کیے اور پھر سب کو مناسب ترتیب دے کر یکجا پیش کیا۔ یہی تالیف کا علمی طریق ہے۔ تعلق کی حد تک پورے پورے اقتباسات پیش کیے گئے۔ کئی کئی اقتباسات جمع کیے گئے تاکہ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے‘ بخوبی تصدیق و توثیق ہو جائے۔ اس پر بھی قادیانی صاحبان کتر بیونت کا الزام دیتے ہیں۔ شاید وہ چاہتے ہیں کہ بلا امتیاز غیر متعلق لمبی لمبی عبارتیں بھر دی جاتیں۔ چنانچہ انہوں نے ”تصدیق احمدیت“ میں ایسا ہی کیا بھی ہے تاکہ غلط مبحث بر قرار رہے اور کوئی صحیح نتیجہ نہ نکلے۔

قادیانی لٹریچر بالخصوص مرزا صاحب کی تصانیف میں چونکہ ابہام‘ التباس اور انتشار بہت زیادہ ہے‘ اس لیے جو کوئی مضمون وار اقتباسات انتخاب کر کے نکالے‘ اس کو کتر بیونت کا الزام دینا کچھ دشوار نہیں ہے۔ لیکن نظر انصاف سے دیکھیے تو کتر بیونت جس فن کا نام ہے‘ اس میں خود جناب مرزا صاحب اور ان کی امت نے جس درجہ کمال

صفحہ 1073

دکھایا ہے، اسلامی لٹریچر میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ قرآن میں، حدیث میں، تفسیر میں، اکابر امت کی تصانیف میں کس خوبی اور کس بیباکی سے کتربیونت کی گئی تب کہیں اس مذہب کی صورت پیدا ہو سکی۔ یہ ایک مستقل بحث ہے جو ان شاء اللہ آئندہ ایک جداگانہ کتاب کی شکل میں پیش ہو گی۔ اس سے واضح ہو گا کہ قادیانی تحریک اس درجہ کتربیونت کی رہین منت ہے کہ اگر اس کا نام ہی کتربیونت رکھ دیا جائے تو اسم باسمی ہو جائے۔ خود قادیانی جماعت کے دونوں فرقے، قادیانی اور لاہوری، آپس میں ایک دوسرے کو اس فن کا ماہر قرار دیتے ہیں۔

(۱۴) قادیانی غلط بیانی (ج)

خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصانیف سے اور خود قادیانی اکابر کی تصدیق و توثیق سے ذیل میں چند مثالیں مشتے نمونہ از خروارے پیش کرتے ہیں۔ ہر صاحب انصاف فیصلہ کر سکتا ہے کہ علمی معاملات میں قادیانی اخلاق کا کیا معیار ہے۔ بڑی سے بڑی بے دیانتی اپنے حق میں جائز سمجھتے ہیں۔ رکیک سے رکیک تاویل اس کے جواز میں کافی سمجھتے ہیں۔ بلکہ جو ان کی بے دیانتی پر گرفت کرے اس کو مورد الزام سمجھتے ہیں۔

اول قادیانی جماعت لاہور کے اخبار ”پیغام صلح“ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو کہ کس طرح مرزا صاحب نے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مکتوب میں اس درجہ تصرف کیا کہ لفظ محدث کے بجائے اپنی طرف سے نبی لکھ دیا۔ جب اس تحریف کا پتہ چلا اور گرفت ہوئی تو قادیانی صاحبان نے کیا خوب جواب دیا۔ وہو ہذا:

جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ ”اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے“۔ (خط مطابق اصل کھینچا گیا۔۔۔۔۔۔ (للمولف)

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصنیف ”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۹۰)

چونکہ قادیانی جماعت یہ مانتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) واقعی نبی اللہ ہیں اور اس کے ثبوت میں وہ ”حقیقۃ الوحی“ کے صفحات (۳۹۰۔

صفحہ 1074

۳۹) کو خصوصیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ان سے یہ مطالبہ بارہا ہو چکا ہے کہ وہ مجدد صاحب کا حوالہ مکتوبات میں سے دکھائیں جہاں مجدد صاحب نے کثرت مکالمہ و مخاطبہ کو جس میں پیش گوئیاں بکثرت ہوں نبوت قرار دیا ہو ایسے ملہم و متکلم کو نبی اللہ لکھا ہو مگر وہ آج تک بھی مطالبہ کو پورا نہ کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔

میں نے مولوی غلام احمد صاحب مجاہد (قادیانی) سے بھی یہ سوال کیا تھا ان کا جواب سب سے عجیب تھا اور وہ یہ تھا کہ مجدد صاحب سرہندی نے تو محدث ہی لکھا ہے مگر حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر محدث کے بجائے نبی لکھ دیا ہے اور یوں مکتوبات کی غلطی کو درست کر دیا اور کہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے بعض اہل اللہ احادیث کی بعض غلطیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے علم پا کر درست کر دیتے ہیں۔

مگر ہر عقلمند اس جواب سے اندازہ کر سکتا ہے کہ قادیانی علماء اصل مطالبہ کا جواب دینے سے کہاں تک عاجز ہیں اور پھر یہ کس قدر معقول جواب ہے۔ اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ کسی عبارت میں پہلے تو تحریف کر لی اور بعد میں جب پکڑے گئے تو کہہ دیا کہ خدا سے علم پا کر ہم نے تو اصلاح کر دی ہے۔ شاید یہود کے علماء بھی یہی کام کرتے ہوں گے مگر قرآن مجید نے تو ان کے متعلق یحرفون الکلم عن مواضعہ کا فتویٰ ہی دیا ہے۔

(لاہوری جماعت کے مولوی عمر الدین صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار ”پیغام

صلح“ لاہور، نمبر ۳، جلد ۲۴، مورخہ ۱۱ جنوری ۱۹۳۶ء)

اولیاء اللہ کے کلام میں تصرف کرنا تو مرزا صاحب کے نزدیک کوئی بڑی بات نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام میں بھی ان کو کچھ خوف و تامل نہ تھا۔ مثلاً ملاحظہ ہو:

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شہادۃ القرآن میں صحیح بخاری کی طرف یہ حدیث منسوب کی ہے کہ امام مہدی کے لیے آسمان سے ندا آئے گی ھذا خلیفۃ اللہ المھدی اس پر ماسٹر (محمد ادریس صاحب) مذکور لکھتے ہیں ”کیا کوئی قادیانی اس حدیث کو صحیح بخاری میں دکھا سکتا ہے؟“ پھر لکھا ہے ”ہم چیلنج کرتے ہیں کہ کوئی مرزائی قیامت تک مرزا غلام احمد کے چہرے سے اس جھوٹ کو نہیں مٹا سکتا۔ اگر ہمت

صفحہ 1075

ہے تو میدان میں آئیے اور اپنے گرو کے چہرے سے اس جھوٹ کے دھبہ کو مٹائیے"۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۳۲ء‘ نمبر ۶۰‘ جلد ۱۹)

جناب مرزا غلام احمد (قادیانی صاحب) فرماتے ہیں: صحیح بخاری کی وہ حدیثیں‘ جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے‘ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی کہ ھذا خلیفۃ اللہ المھدی

("شہادۃ القرآن" ص ۴۱‘ مصنفہ مرزا صاحب)

”ہر معمولی سمجھ کا انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ روانی قلم میں اگر کسی سے کوئی غلط حوالہ لکھا جائے تو وہ سبقت قلم کہلائے گا نہ کہ لکھنے والے کا جھوٹ۔ لیکن مولوی صاحب ہیں‘ کہ عناد و بیجا مخاصمت کی وجہ سے اسے بھی جھوٹ ہی قرار دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

اس سے ہر منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا "شہادۃ القرآن" ص ۴۱ پر حدیث مہدی کا حوالہ دینا آپ کا ایک محض سبقت قلم ہے جو کہ ایک کثیر التصانیف زود نویس شخص سے سرزد ہونا بعید نہیں لیکن ایک مولوی فاضل (مولوی ثناء اللہ صاحب) کا حوالہ کی غلطی کو جھوٹ قرار دینا قابل حیرت و استعجاب ضرور ہے"۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۸‘ نمبر ۸۸‘ مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)

ایک طرف تو مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی اور رسول ہیں (خدا نخواستہ) قرآن دنیا سے اٹھ چکا تھا اور وہ اس کو دوبارہ دنیا میں واپس لائے اور دوسری طرف کم علمی اور کم توجہی کی یہ حالت کہ جس آیت کو جس طرح چاہا توڑ مروڑ کر لکھ دیا۔ نہ خوف نہ توجہ کہ آیات غلط نہ ہو جائیں۔ جب آیات کی عبارت تک غلط ہو تو معنی معلوم۔ یوں تو مرزا صاحب نے بہت سی آیات قرآنی کی عبارت میں تصرف کیا ہے۔ بطور نمونہ ذیل میں چند آیات مع توجیہ ملاحظہ ہوں:

منجملہ ان اعتراضات کے ایک یہ اعتراض ہے جو بغرض جواب ہمارے پاس آیا ہے: ”حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتب میں قرآن مجید کی آیات کو تغیر و تبدل کر کے غلط لکھا ہے"۔ پھر حسب ذیل آیات پیش کی ہیں:

صفحہ 1076

فی سبیل الله باموالهم و انفسهم (سورۃ توبہ، رکوع ۶)

یرد الی ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئا (سورۃ حج، پارہ ۱۷)

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۱۹، نمبر ۱۰۳، مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۳۲ء)

مرزا غلام احمد (قادیانی) صاحب نے ”آئینہ کمالات اسلام“ میں یہ آیت لکھی ہے:

”یایھا الذین امنوا ان تتقوا الله یجعل لکم فرقانا و یجعل لکم نورا تمشون بہ

ہمیں اس قسم کی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر ایک وہ شخص جو کتابت اور طباعت سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے، جانتا ہے کہ تحریروں میں کس طرح غلطیاں واقع ہو جاتی ہیں لیکن ہمارے مخالفین جو اُس قسم کی باتوں کو لے کر ہم پر اعتراض کرتے ہیں، ان کے جواب میں ہمیں بھی بولنا پڑتا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ جس امر کو وہ نہایت بد دیانتی کے ساتھ ہمارے خلاف پیش کرتے ہیں، اس کے وہ خود بھی مرتکب ہوتے ہیں“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۸، نمبر ۹۹، مورخہ ۳۰ جون ۱۹۲۱ء)

رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعض کتب کے دو دو تین تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور تیس چالیس برس کا عرصہ بھی گزر چکا ہے پھر اب تک کیوں ان کی تصحیح نہیں کی گئی؟ سو اس کا جواب میں یہی دوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نے یہی تقاضہ کیا کہ یہ آیات حضور کی کتب میں اسی طرح لکھی جائیں جیسی کہ حضور کے زمانہ میں سہو کاتب سے یا خود حضور سے بعض دیگر آیات سے تشابہ کے باعث غلط لکھی گئیں اور اس میں تین راز ہیں:

صفحہ 1077

سہواً غلطی ہو جاتی ہے، اس کو عمداً تحریف قرار دے کر اپنے ہاتھوں تعلیم یافتہ طبقہ میں اپنی علمی پردہ دری کرتے ہیں۔

والسلام کی کتب بھی تحریف سے پاک ہیں اور ان میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوا بلکہ من و عن شائع کی جاتی ہیں۔

غلطیاں رہ جائیں تاکہ ہمیشہ کے لیے آپ کے اتباع کے پاس برہان یقینی رہے کہ آپ ایک بشر تھے اور سہو و نسیان جو لازمہ بشریت ہے، آپ اس سے خالی نہ تھے۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۳۲ء‘ نمبر ۱۰۳‘ جلد ۱۹)

جب کہ خود مرزا صاحب کی تصنیفات میں ایسی صریح تحریفات موجود ہیں اور قادیانی صاحبان ان کو ناقابل گرفت سمجھتے ہیں تو پھر گریبان میں منہ ڈال کر سوچنا چاہیے کہ دوسروں کی کتابوں میں معمولی معمولی غلطیاں ڈھونڈ کر الزام دینا کہاں تک درست ہے؟ مرزا صاحب دبی زبان سے غلطیوں کے متعلق اپنے حق میں جو معذرت لکھ گئے ہیں، قادیانی صاحبان اس کو فراموش نہ کرتے تو بے جا الزام دے کر خفت نہ اٹھاتے۔ ملاحظہ ہو۔ (عاقل را اشارہ کافی است)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں:

”میری کتابوں میں سہو کتابت یا مجھ سے بحالت تغافل بعض معمولی غلطیاں ہو گئی ہیں“۔

(”انجام آتھم“ ص ۲۴۱‘ ترجمہ از عربی ملخصاً“)

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۳۲ء‘ نمبر ۱۰۳‘ جلد ۱۹)

(۱۵) ترتیب پر اعتراض

قادیانی صاحبان نے اپنے جوابات میں یا تو کم فہمی سے یا عمداً - ایک اور غلط فہمی پیدا کرنی چاہی ہے۔ وہ یہ کہ ہم نے اقتباسات کی ترتیب میں کتابوں کی صفحاتی ترتیب یا کتابوں کی زمانی ترتیب کی پابندی لازم نہیں رکھی۔ مثلاً یہ کہ بعض اقتباسات جو کتابوں

صفحہ 1078

کے شروع سے لئے گئے۔ وہ ہم نے اپنی تالیف میں محل مناسب کے لحاظ سے بعد رکھے اور بعض جو کتابوں کے آخر سے لئے گئے وہ ہماری تالیف کے شروع میں اپنے محل پر درج ہوئے۔ علیٰ ہذا جو کتابیں پہلے شائع ہوئیں ان کے بعض اقتباسات اپنے مضمون کے لحاظ سے ہماری تالیف کے آخر میں آئے۔ جو آخر میں شائع ہوئیں ان کے بعض اقتباسات اپنی نوعیت کے سبب تالیف کے شروع میں بیٹھ گئے لیکن یہ تو تالیف کی خصوصیت اور خوبی ہے کہ جو مباحث بیسیوں کتابوں میں بلا کسی معنوی اور زمانی ترتیب کے متفرق اور منتشر تھے ان کو مضمون وار ترتیب دے کر ایک علمی شکل میں یکجا کر دیا کہ پورا خاکہ پیش نظر ہو جائے۔ دراصل قادیانی صاحبان کی یہی دلی خواہش ہے کہ ان کے مباحث میں اصلی ابہام و التباس اور انتشار برقرار رہے۔ اسی میں ان کی جیت ہے کہ مذہب کی پردہ داری اور قول و فعل میں آزادی رہے۔ اس تالیف نے ترتیب کی مدد سے راہ نکال کر راز داری اور آزادی کا خاتمہ کر دیا۔ قادیانی صاحبان اس ترتیب سے جس قدر بیزار ہوں معذور ہیں۔

(۱۶) جواب دہی کے قادیانی اصول

قادیانی صاحبان نے ہماری کتاب "قادیانی مذہب" کے متعلق جس حد تک جواب دہی کی ذمہ داری لی ہے اس کے اصول قابل ملاحظہ ہیں۔

(تصدیق احمدیت ص ۷۷)

گویا مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اور حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول و میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی کے سوا باقی دوسرے قادیانی صاحبان کی کتابیں ناقابل توجہ ہیں۔ ان کی سند نہیں۔ اس لئے جواب دہی کی ضرورت نہیں۔ خاص قانونی نکتہ ہے۔ چنانچہ اس اصول کی مزید صراحت بھی کر دی گئی۔ ملاحظہ ہو :

"لیکن یہ بھی بتلا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ "تتمہ کتاب" ص ۷۹ پر جو مزید حوالہ جات برنی صاحب نے دیے ہیں وہ نہ تو حضرت مرزا صاحب کتب کے نہ آپ کے خلفاء کی کسی کتاب کے ہیں اس لئے ان پر توجہ کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ اس لئے

صفحہ 1079

کہ یہ بحث نہیں ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے متبعین ان کو کیا کہتے ہیں بلکہ بحث یہ ہے کہ خود حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو کیا کہتے ہیں۔ اس لئے تتمہ کے حوالہ جات مطلقاً ناقابل توجہ ہیں“۔ (تصدیق احمدیت ص ۷۷)

اس شرح کے آخر میں ضمناً اور کنایۃً ”یہ دونوں خلیفہ صاحبان بھی بحث سے خارج ہوگئے۔ صرف مرزا صاحب کی حد تک جواب دہی باقی رہ گئی۔ یہ ضمنی کنایہ آگے چل کر خود بھی ایک اصول کی صورت میں واضح ہوگیا ہے فی الحال اصول اول زیر بحث ہے۔

ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کے تتمہ ص ۷۹‘ پر جو مزید حوالہ جات درج ہیں اور قادیانی صاحبان کے نزدیک مطلقاً ناقابل توجہ ہیں۔ معلوم ہے وہ حوالہ کس کے ہیں؟ قادیانی صاحبان تو کیوں اس کو ظاہر کرنے لگے۔ وہ حوالے جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے صاحبزادے میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے کے ہیں۔ مگر چونکہ وہ نہ خود مرزا صاحب ہیں اور نہ مرزا صاحب کے کوئی خلیفہ‘ لہٰذا ازروئے قانون قادیان ان کے حوالہ جات مطلقاً ناقابل توجہ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ وہ خلیفہ نہیں اور قادیانی ضابطہ میں یہ قول قابل توجہ نہیں لیکن انصاف بھی تو کوئی چیز ہے۔ اول تو صاحبزادے‘ دوسرے ایم۔ اے آج کل کی تعلیم کچھ ہنسی کھیل نہیں ہے۔ اس کی تصدیق تو خود خلیفہ صاحب بھی فرما سکتے ہیں۔

”جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کو یہ الہام ہوا اس وقت میں طالب علم تھا اور طالب علم بھی ایسا جو بہت فیل ہوتا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی وگرنہ ‘ اگر کچھ پاس کرلیتا تو ممکن ہے مجھے خیال ہوتا کہ میں یہ ہوں۔ وہ ہوں..... اور واقعی یہ امر واقعہ ہے ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا۔ میری صحت کمزور تھی اور اطباء نے کہا تھا اس کی تعلیم پر زور نہ دیا جائے وگرنہ اسے سل ہو جائے گی۔

(میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تقریر لائل پور مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۱‘

نمبر ۱۳۸‘ ص ۳‘ مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۳۴ء)

بہر حال جناب مرزا صاحب کے ایک صاحبزادے کے اقوال کی تائید کرنا اور محض

صفحہ 1080

قانونی عذر پر دوسرے صاحبزادے کے اقوال ”مطلقاً ناقابل توجہ“ قرار دینا سراسر انصاف کے خلاف ہے۔ البتہ جواب دہی نہ ہو سکے تو یہ دوسری بات ہے۔ خیر مرزا صاحب کے ساتھ خلفاء کو شریک کر لیا۔ یہ بھی غنیمت تھا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اصول کی شرح میں ضمنی اشارہ کیا گیا تھا۔ دوسرے اصول کے تحت خلفاء کے حوالہ جات بھی ناقابل توجہ قرار دیے گئے۔ صرف مرزا صاحب کا ذمہ باقی رہ گیا۔ کیسی با اصول کتر بیونت ہے۔ قانونی دماغ ان اصولوں سے خوب واقف ہیں۔ مقدمات کی جواب دہی میں ان سے بہت پناہ ملتی ہے۔ بہرحال دوسرا اصول بھی ملاحظہ ہو :

کلمۃ الفصل اور حقیقۃ النبوۃ کے چند حوالے مزید دیے ہیں ان میں کوئی حوالہ حضرت مرزا صاحب کی کسی کتاب کا نہیں۔ حضرت مرزا صاحب کی کتاب کے بس یہی حوالے تھے اور ہمارے لئے ضروری نہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب کے علاوہ بقیہ تمام احمدیہ لٹریچر کے حوالہ جات پر کوئی بحث کریں“۔

(تصدیق احمدیت ص ۱۳۱)

اصول واقعی بہت خوب ہے۔ اس میں بڑی عافیت ہے۔ لیکن صاحبزادوں کا معاملہ ہے۔ دبی زبان سے اقرار کرنا پڑا کہ کلمۃ الفصل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے کے قلم سے ہے اور حقیقۃ النبوۃ حضرت خلیفہ المسیح ثانی کی تصنیف ہے۔ لامحالہ اصول دوم کے خلاف حقیقۃ النبوۃ کی برائے گفتن تائید بھی کرنی پڑی۔ مثلاً یہ کہ حقیقۃ النبوۃ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا اظہار مقصود ہے نہ کچھ اور۔۔۔۔۔۔ (گویا جواب ہو گیا)

لیکن سب سے بہتر تیسرا اصول ہے کہ مرزا صاحب کے حوالہ جات پر بھی بحث کو غیر ضروری سمجھا جائے۔ خاص کر جہاں معاملہ نازک ہو جائے اس اصول کے بعد جواب دہی بہت سہل اور معقول ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو ۱۷۴

اقتباسات دیے ہیں جن پر ہم کوئی بحث ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم نے کافی طور پر برنی صاحب کی خیانت اور تحریف کو فصل اول تا سوم کی تنقید میں ثابت کر دیا ہے۔ اب اس فصل کے ذیلی عنوانات جو کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ان پر تنقید غیر ضروری اور موجب

صفحہ 1081

طوالت ہوگی اس لئے ان تمام حوالہ جات سے جو اس فصل کے عنوان نمبر ۱‘ کے تحت حضرت مرزا صاحب کی کتابوں کے دیئے ہیں کوئی قابل اعتراض بات پیدا نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ آپ اپنے تئیں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ظاہر کرتے ہیں۔ گویا ظہور خود ذات پاک آنحضرت صلعم ہی کا ہے” (اور قادیانی صاحبان کے نزدیک یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں اور اس کا کوئی جواب بھی نہیں) حضرت مرزا صاحب کے متعلق ہم فصل دوم کے عنوان نمبر ۵‘ کی تنقید میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں“۔ (حالانکہ فصل دوم میں نمبر ۵‘ کا عنوان ہے”۔ تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت“ اور فصل چہارم میں نمبر ۱‘ کا عنوان ہے۔ ”حلول اور اتحاد کی حقیقت“ ان دونوں مباحث میں کیا ربط ہو سکتا ہے۔ اس کے سوا فصل دوم کے عنوان نمبر ۵‘ کی تنقید میں اس امر کا ذکر تک نہیں تاہم پیچھا چھڑانے کے لئے لکھ دینے میں کیا مضائقہ ہے۔ اصل مقامات کا کون مقابلہ کرتا ہے۔ اسی طرح کام چلتا ہے)“۔

بہرحال تینوں اصول قابل داد ہیں۔ اول تو یہ کہ مرزا صاحب اور خلفاء صاحبان کے حوالہ جات کا جواب دیں گے دیگر قادیانی تصانیف قابل توجہ نہیں۔ دوم یہ کہ صرف مرزا صاحب کے حوالہ جات کا جواب دیں گے۔ خلفاء کی کتابیں بھی قابل توجہ نہیں۔ سوم یہ کہ مرزا صاحب کے حوالہ جات کا بھی جواب ضروری نہیں۔ اس میں بھی طوالت کا خوف ہے اور پھر ہمارے نزدیک کوئی بات قابل اعتراض نہیں جس کے جواب کی ضرورت ہو۔ دوسروں کو اعتراض ہو تو ہوا کرے ہم پر کیا ذمہ ہے۔

یہ تین زریں اصول ہیں جن سے حسب مواقع جواب دہی میں کام لیا گیا ہے۔ قانون میں بھی امور متعلقہ اور غیر متعلقہ کی بحث بہت نازک مانی جاتی ہے اور ہوشیار وکلاء اس سے بہت کام نکالتے ہیں۔

ان اصولوں کے ہوتے ہوئے اگر کسی قادیانی صاحب کتاب کا باریک حوالہ پیش کیجئے تو اس کو گالی سنوائیے۔ مثلاً ملاحظہ ہو:

”الہامی حمل کے عنوان میں قاضی یار محمد (صاحب قادیانی) کے ایک رسالہ اسلامی قربانی کا حوالہ ہے جو ہم پر قابل پابندی نہیں۔ وہ ایک مجنون شخص تھا جو چاہے لکھ دے اس کی کوئی اصلیت نہیں“۔

صفحہ 1082

(اللہ رے عتاب)۔ (تصدیق احمدیت ص ۱۷۳) جب اچھے اچھے قادیانی صاحبان کی کتابیں جن میں جناب مرزا صاحب ہی کے مذہب کی تائید اور تشریح پیش کی گئی ہے۔ ”مطلقاً ناقابل توجہ“ ہوں تو قدرتاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب سید بشارت احمد صاحب کی یہ کتاب ”تصدیق احمدیت“ کس نظر سے دیکھی جائے۔ جو حیثیت ہے ظاہر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کتاب کی تالیف میں چند بہتر دماغ بھی شریک ہیں لیکن اظہار مناسب نہیں تو کم از کم اپنے نام کے ساتھ وغیرہ لکھنا ضرور تھا کہ دیانت کا کچھ تو حق ادا ہو جاتا اور لوگوں کو بھی اعتبار ہوتا۔

بہر حال جواب دہی کے یہ خاص اصول ہیں ان کے علاوہ جو مزید تاویلات کی جاتی ہیں اور ان کی جو نوعیت ہوتی ہے ان کے چند نمونے خود ”تصدیق احمدیت“ میں درج ہیں۔ ناظرین خود ان کی قدر قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

(۱۷) قادیانی تحریک کی ترکیب

جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے اپنے مدارج اور اپنی فضیلت کے جو دعوے کیے ہیں اور اپنی شان کو جس حد تک بڑھایا ہے اس کے متعلق کافی اقتباسات قادیانی مذہب میں درج ہیں یہاں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن مرزا صاحب نے ایک بڑی دور اندیشی کی۔ وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک کو اپنی شان کے واسطے اس طرح پردہ بنایا کہ اس کی آڑ میں جہاں تک جی چاہے بڑھیں۔ کوئی روک ٹوک نہ کرسکے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک کی تعظیم میں لوگ مرزا صاحب کی ملحقہ شان کو بھی لامحالہ تسلیم کرلیں۔ متبعین نے بھی یہی طرز اختیار کیا۔ چنانچہ کثیر مثالوں میں سے ایک تازہ مثال ملاحظہ ہو :

احمد باشد چرا فخر الرسل! زانکہ دارد مقتدائے مصطفیٰ
گشت غالب برہمہ ادیان زاں بود در دستش لوائے مصطفیٰ
غیرت اے مردم مسیح ناصری جانشین گردد بجائے مصطفیٰ
ز ابن مریم بہ غلام احمد ست رہبر امت برائے مصطفیٰ

(نظم قاضی محمد یوسف صاحب قادیانی پشاوری مندرجہ اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۲۲‘ نمبر

صفحہ 1083

۲۰۲‘ ص ۴‘ مورخہ ۲۸ جون ۱۹۳۵ء)

اس کے سوا جداگانہ طور پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور، نظم اور نثر میں کافی عقیدت اور نیاز کا اظہار کر دیا ہے۔ چنانچہ قادیانی صاحبان اس کلام سے خوب کام لیتے ہیں۔ جہاں مرزا صاحب کے بے جا دعووں پر کسی نے گرفت کی فوراً جواب میں کوئی نعت سنادی یا کوئی عقیدت نامہ پڑھ دیا کہ جس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت ہو‘ ایسا ادب ہو‘ اس کے دعووں پر اعتراض کرنا کہاں تک قرین انصاف ہو سکتا ہے۔ واقعی کیسا معقول عذر ہے۔ کچھ ایسا فتویٰ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نخواستہ اگر شراب میں زمزم شریف ملا دیا جائے یا شراب کی بوتلوں کے ساتھ زمزم شریف کے شیشے بھی رکھ دیئے جائیں تو پھر شراب پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔

علیٰ ہذا اہل بیت اطہار اور بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں تھوڑی سی مدح اور ہمدردی لکھ دی۔ اس کے بعد جس قدر بھی گستاخی کی جائے بجا ہے۔ بے ادبی کی جائے روا ہے۔ عذر یہ کہ شیعوں کا جواب ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا دبی زبان میں اعتراف کر لیا۔ اس کے بعد یہودیوں کے پردے میں جو چاہا سو کہا۔ حضرت مریم علیہا السلام تک کو نہ چھوڑا۔ عذر یہ کہ پادریوں کا جواب ہے اور نظر غور سے دیکھئے تو اپنی فضیلت کا حساب ہے اور کچھ نہیں۔

اگر مرزا صاحب کو حد پر روکیے اور غلطیوں پر ٹوکیے تو پھر انبیاء کی بھی خیر نہیں۔ بے دریغ سب پر ہاتھ صاف ہوتا ہے۔ زبان بندی کی آسان ترکیب ہے۔

ہیں جس کی رو سے ان کو اسلام سے ہی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتی تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے جن میں دوسرے نبی شریک غالب ہیں“۔ (اعجاز احمدی ص ۵‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب روحانی خزائن ص ۱۴۳ ج ۱۹)

تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گذشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔ (”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۲۷‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب روحانی خزائن ص

صفحہ 1084

(۵۷۵ ج ۲۲)

سب سے بڑا دعویٰ اشاعت اسلام کا ہے۔ دین میں جو تفرقہ اور فساد پیدا کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے۔ لیکن شکایت کیجئے تو یہی جواب ملتا ہے کہ اشاعت اسلام کون کر رہا ہے۔ اشاعت کا ماحصل دیکھیے تو یہی کہ اسلام میں شدید اختلاف نمودار ہو۔ مسلمانوں میں فساد پھیلے اور اس کے معاوضہ کچھ دور افتادہ نو مسلموں کی فہرستیں شائع ہو جائیں جن کے دین و ایمان سے وہ خود ہی خوب واقف ہیں۔

غرض کہ خوش عقیدگی کی رشوت دے کر یا بے ادبی کی دھمکی دے کر مسلمانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ یا تو مروتاً ہاں میں ہاں ملادیں‘ یا سکوت اختیار کریں۔ تاکہ قادیانی تحریک کی تبلیغ بلا روک ٹوک جاری رہے۔

(۱۸) امت محمد پر فضیلت

جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جب قادیانی صاحبان کے نزدیک مسیح موعود اور مہدی معہود بن گئے تو گویا امت محمدی میں سب سے افضل ہو گئے۔ کھلی منطق ہے:

”جیسا کہ ہم اوپر ظاہر کر چکے ہیں کہ اہل سنت و الجماعت کے عقائد میں ہے کہ حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں سب سے افضل ہوں گے اس لئے ہم کو ان دونوں یعنی حضرت علیؓ اور حضرت امام حسینؓ رضوان اللہ علیہما کے مرتبہ اور ان پر مسیح موعود کی فضیلت کی نسبت لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں“۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت اہل سنت والجماعت کے خطبات جمعہ میں علانیہ اس عقیدہ کا اعلان کیا جاتا ہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق تو جب مسیح موعود مہدی ابوبکرؓ سے افضل ہوں گے تو ظاہر ہے کہ بقیہ تمامی امت سے بھی افضل ہوں گے۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت حضرت علیؓ اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اہل سنت والجماعت میں متفق علیہ ہے اور اس کی وجہ سے کوئی ہتک ان حضرات اہل بیت کی نہیں ہوتی تو مسیح موعود (مرزا صاحب) کی فضیلت تو بدرجہ اولیٰ قابل تسلیم ہے اور ناقابل اعتراض ہے اور جب ان تمام حضرات پر فضیلت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی عقیدتاً مسلم ہو گئی تو دیگر اولیاء امت اور حضرت شیخ جیلانی رحمتہ اللہ علیہم

صفحہ 1085

کے ذکر کی کیا ضرورت ہے۔ (تصدیق احمدیت ص ۱۴۴)

(۱۹) حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت

جناب مرزا صاحب نے حسب عادت منجملہ دیگر انبیاء کے حضرت آدم علیہ السلام پر بھی اپنی فضیلت ظاہر کی ہے۔ غنیمت ہے کہ قادیانی صاحبان اس کو ایک سنگین الزام سمجھتے ہیں۔ مگر مرزا صاحب کو اس الزام سے بری قرار دیتے ہیں ان کی تاویل ہے کہ جو اقتباس کتاب "قادیانی مذہب" میں درج ہے اس سے مرزا صاحب کی فضیلت ظاہر نہیں ہوتی۔ حالانکہ اظہر ہے۔ لیکن آخر وکالت بھی تو کوئی چیز ہے۔ نہیں۔ دوسرا اقتباس ملاحظہ ہو۔ شاید اس کا مطلب عقل میں آجائے۔ تاہم مرزا صاحب کے حق میں سنگین الزام تسلیم کرنا قادیانی صاحبان کے واسطے دشوار ہے۔

"آدم اور مسیح موعود میں کیا فرق ہے؟ (ترجمہ

"آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف بھیجے اور ان میں اختلاف اور عداوت کی آگ بھڑکائے اور مسیح امم اس لئے آیا کہ ان کو دارفنا کی طرف واپس لوٹائے اور ان میں سے اختلاف و مخاصمت، تفرقہ اور پراگندگی کو دور کرے اور انھیں اتحاد و محویت نفی غیر اور باہمی اخلاص کی طرف کھینچے اور مسیح اللہ کے اس اسم کا مظہر ہے جو خاتم سلسلہ مخلوقات ہے یعنی آخر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قول ہو الآخر میں اس اشارہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کے آخر ہونے کی علامت ہے۔

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص الف، روحانی خزائن ص ۳۰۸، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب )

(۲۰) بروز کی تشریح

جناب مرزا صاحب نے بروز سے جو مطلب نکالا ہے۔ قادیانی صاحبان نے تصدیق احمدیت میں یا تو کم علمی یا مصلحت سے اسے ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس مسئلہ میں تاویل کی گنجائش نہیں۔ ہماری کتاب قادیانی مذہب میں صاف صریح اقتباسات موجود ہیں۔ ذیل میں ہم مزید تشریح خود قادیانی صاحبان اور جناب مرزا صاحب کی طرف سے پیش کرتے ہیں:

صفحہ 1086

”بعض دوستوں نے بروز کے معنی صرف ادنیٰ مشابہت کے سمجھے ہیں۔ چونکہ اس خیال سے حضرت مسیح موعود کی اصلی شان دنیا پر ظاہر نہیں ہوتی حالانکہ اسی شان فہمی پر آپ کے ماننے نہ ماننے کا مسئلہ موقوف ہے اس لئے میں آپ ہی کی تحریروں سے دکھانا چاہتا ہوں کہ آپ کن معنوں میں بروز سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہونے کے مدعی تھے۔

۔۔۔۔۔۔ اس مسئلہ کو حضور نے خطبہ الہامیہ میں خوب واضح کیا ہے۔ جو لفظ بہ لفظ یہاں نقل کیا جاتا ہے تاکہ برادران طریقت کے اطمینان قلب کا موجب ہو اور دوسروں پر اپنے مسیح کی شان واضح کر سکیں“۔

”اسی طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی جیسا کہ آدم علیہ السلام چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیرالرسل کی روحانیت نے اپنی ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔ پس میں (غلام احمد قادیانی) وہی مظہر ہوں پس ایمان لا اور کافروں میں سے مت ہو۔۔۔۔۔۔ پس اگر تو عقلمند ہے تو فکر کر اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔۔۔۔۔۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے“۔

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۰، ۱۸۱، روحانی خزائن ص ۲۶۶، تا ۲۷۲، ج ۱۶، مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

”اس تشریح نے کالشمس فی نصف النہار ظاہر کر دیا کہ مسیح موعود کی بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے اور صرف فنافی الرسول کا درجہ مراد نہیں جو

صفحہ 1087

اولیاء محمدیہ میں سے بہتوں کو نصیب ہوا اور نہ مثیل کا جس میں تھوڑی سی مشابہت بھی کافی ہوتی بلکہ یہاں تو معاملہ ہی جدا ہے"۔

(تشحیذ الاذہان ص ۵۸۶، قادیان جلد ۸، نمبر ۱۲، ماہ دسمبر ۱۹۱۳ء)

قادیانی صاحبان اکثر دوسروں کو یاد دلاتے ہیں۔ مرنا ہے، خدا کو منہ دکھانا ہے۔ کبھی کبھی تاویل کرتے وقت خود بھی اگر عاقبت کو یاد کرلیں تو شائد ان کے حق میں بہتر ہو۔

(۲۱) مرزا صاحب کی نبوت

قادیانی صاحبان نے مرزا صاحب کی نبوت کی جو ضرورت بیان فرمائی ہے اس کے مدنظر وہ اپنی مصلحت سے مجبور معلوم ہوتے ہیں۔ اگر نبوت سے دست برداری دیتے ہیں تو مسیحیت بھی جاتی رہی اور بقول قادیانی صاحبان "اگر ان کا یہ دعویٰ غلط قرار پائے تو سارا قصہ ہی تمام ہو جائے"۔ اس لئے مسیحیت منوانے کے واسطے نبوت کا دعویٰ لابد ہو گیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

"ظاہر ہے کہ جو شخص مسیح موعود ہونے کا مدعی ہو اس کا نبی ہونا ضروری ہے۔ اگر حضرت مرزا صاحب کہیں یہ کہہ دیتے کہ میں نبی نہیں ہوں تو ان کا دعویٰ مسیح موعود اس طرح با آسانی رد کیا جاسکتا تھا کہ ہم کسی ایسے مسیح کے منتظر نہیں کیے گئے جو نبی نہ ہو۔ اس لئے اصل بحث طلب دعویٰ حضرت کا دعویٰ مسیحیت ہے۔ اگر ان کا یہ دعویٰ غلط قرار پا جائے تو سارا قصہ ہی ختم ہو جاتا ہے"۔ (تصدیق احمدیت ص ۳۹)

اب نبوت کی تشریح ملاحظہ ہو :

"اس لئے احمدیوں میں سے کوئی شخص بھی اس کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مرزا صاحب امت محمدیہ میں سے الگ ہو کر کوئی ایسے نبی تھے جو براہ راست خدا سے ہدایت پا کر علیحدہ مذہب اور شریعت لے کر آتا ہے"۔ (تصدیق احمدیت ص ۲۹)

" میں حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے۔ پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ"۔

صفحہ 1088

(”القول الفصل“ ص ۳۳، مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

”اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں“۔

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ اخبار ”الحکم قادیان“ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۱ء)

”اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت اخرین منھم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے“۔

(کلمتہ الفصل صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ ص

۱۵۸، نمبر ۴، جلد ۱۴)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

(از قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل قادیانی۔ منقول از اخبار ”پیغام صلح“ مورخہ ۱۴؍

مارچ ۱۹۱۶ء)

(۲۲) حمل کی بحث

جناب مرزا صاحب کے حمل کا ماجرا بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن قادیانی صاحبان کا بیان ہے کہ تصوف میں یہ بھی ایک مقام ہے چنانچہ اسی رعایت سے ہم نے بھی عنوان الہامی حمل رکھا ہے۔ خالی حمل میں مغالطہ کا اندیشہ تھا۔ بہرحال قادیانی تصوف کے نکات ملاحظہ ہوں:

”اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر (۴) ص ۱۹، میں بابو الٰہی بخش کی نسبت یہ الہام ہے۔ یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے“۔

(تتمہ ”حقیقتہ الوحی“ ص ۱۴۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ”روحانی خزائن“ ص

۵۸۱، ج ۲۲)

”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی

صفحہ 1089

حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔

("اسلامی قربانی" نمبر ۳۴ ص ۱۴ مصنفہ قاضی یار محمد صاحب قادیانی مطبوعہ ریاض ہند

پریس امرتسر)

"مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام ...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور پر میں ابن مریم ٹھہرا"۔

("کشتی نوح" ص ۴۷ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب "روحانی خزائن" ص ۵۰ ج

۱۹)

قادیانی صاحبان مرزا صاحب کی تصدیق کرتے ہیں لیکن قاضی صاحب کو مجنون بتاتے ہیں۔ نزلہ بر عضو ضعیف می ریزد۔ قادیانی صاحبان نے مرزا صاحب کے حمل کی ایک نظم بھی درج کی ہے اور فرمائش کی ہے کہ جس کو ذوق تصوف ہے‘ سنے اور سر دھنے۔ یہ تصوف ان ہی صاحبان کو مبارک ہو۔ انہیں اختیار ہے سر دھنیں یا سر پٹکیں۔

(۲۳) حضرت مسیح کی شان

جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو عیسائیوں سے بھی خوب چلی۔ مناظرے ہوئے اشتہار بازی ہوئی۔ گالی گلوچ تو کوئی بات ہی نہ تھی۔ فوجداری تک نوبت پہنچی۔ مقدمے چلے۔ ان تمام معرکوں میں سے سب زیادہ مشہور عبداللہ آتھم کا قصہ ہے کہ اول مرزا صاحب نے اس سے مناظرہ کیا۔ پھر یہ پیش گوئی کی کہ اتنے عرصہ کے اندر فلاں تاریخ تک وہ مرجائے گا۔ ضعیف اور سن رسیدہ ہونے کے باوجود وہ پیش گوئی کی تاریخ پر نہ مرا بلکہ کافی عرصہ تک بعد کو زندہ رہا۔ چنانچہ ایک چشم دیدہ یادگار مولوی رحیم بخش صاحب قادیانی‘ ایم۔ اے نے اپنے والد صاحب (مرزا صاحب کے ایک صحابی یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب قادیانی) کے

صفحہ 1090

حالات میں لکھی ہے جو ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ بہت سبق آموز ہے :

”۵؍ ستمبر ۱۸۹۳ء کو جس دن عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب) قادیان میں تھے، فرمایا کرتے تھے کہ حضرت (مرزا) صاحب اس دن یہ فرماتے تھے کہ آج سورج غروب نہیں ہو گا کہ آتھم مر جائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈولنے لگے۔ آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب) فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔ ہاں فکر اور حیرانی ضرور تھی۔ لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حقیقت بتلائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر پیدا ہو گیا اور ایمان تازہ ہو گیا۔ (ماسٹر قادر بخش صاحب) فرماتے تھے کہ میں نے امرتسر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اسے ایک گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم دھام سے بازار میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ سمجھ گیا کہ واقعہ میں یہ مر گیا ہے اور یہ صرف اس کا جنازہ ہے جسے لئے پھرتے ہیں۔ آج نہیں تو کل مر جائے گا“۔ (اخبار ”الحکم قادیان“ جلد ۲۵، نمبر ۳۴، مورخہ ۷؍ ستمبر ۱۹۲۳ء)

بعد کو اس پیشن گوئی پر بڑا ہنگامہ مچا۔ لوگوں نے مرزا صاحب کو بہت چھیڑا اور خوب گالیاں کھائیں۔ دوسرے غلط پیش گوئیوں کی طرح اس کی تاویل کو بھی بہت کچھ طول دیا گیا اور سخن پروری کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ بہرحال ان قصوں میں لا محالہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام دونوں لپیٹ میں آگئے۔ عیسائیوں کی طرف سے دل جلا ہوا تھا۔ مرزا صاحب نے خوب دل کا بخار نکالا اور دل کو یوں سمجھا لیا کہ عیسائیوں کے مسیح اور مریم کو برا کہتا ہوں اور عیسائیوں سے بد زبانی کا بدلہ لیتا ہوں۔ اس روداد کو جاننے کے بعد سمجھ میں آسکے گا کہ یہودیوں کے پردے میں مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا السلام کی شان میں اس درجہ گستاخی کیوں اختیار کی، مثلاً ملاحظہ ہو :

ایک مردہ پرست فتح مسیح نام نے فتح گڑھ تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور سے پھر اپنی پہلی بے حیائی کو دکھلا کر ایک گندہ اور بد زبانی سے بھرا ہوا خط لکھا

صفحہ 1091

ہے ۔ جس میں وہ پھر اپنی بے شرمی سے کام لے کر یہ ذکر بھی درمیان میں لاتا ہے کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ سو ہم اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے بارے میں بہت کچھ ثبوت رسالہ ”انوار الاسلام“ اور رسالہ ”ضیاء الحق“ اور رسالہ ”انجام آتھم“ میں دے چکے ہیں۔۔۔۔۔ یسوع کی تمام پیش گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے‘ اگر ایک پیش گوئی بھی اس پیش گوئی کے پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں۔

”عیسائیوں نے بہت سے آپ (حضرت عیسیٰ) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔۔۔۔۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے۔ اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں“۔

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے“۔

”بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن

صفحہ 1092

سے کوئی غرض نہ تھی۔ انھوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کی یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں"۔

(ضمیمہ "انجام آتھم" حاشیہ ص ۳ تا ۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب

"روحانی خزائن" ص ۲۸۹ تا ۲۹۴، ج ۱۱)

اب تک تو یہ عذر تھا کہ ہم عیسائیوں کے یسوع کو برا کہتے ہیں۔ اب اسلام کے عیسیٰ پر کیا عنایت ہوتی ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیے :

اور یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملے میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہدیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی، بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا ہے"۔

"غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان پیش گوئیوں پر یہود کو سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو رفع نہیں کر سکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں۔ مگر یہاں نبوت بھی ان کی ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں"۔

(اعجاز احمدی ضمیمہ "کتاب نزول المسیح" ص ۱۴، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب "روحانی خزائن" ص ۱۴۰، ج ۱۹)

مندرجہ بالا اقتباسات پڑھنے سے واضح ہو گا کہ درپردہ مرزا صاحب کو اپنی پیش گوئیوں بالخصوص آتھم والی پیش گوئی کے غلط ہونے کی خفت ہے۔ لوگوں کے طعن و تشنیع کا ملال ہے اور وہ کس طرح باتوں باتوں میں عیسائیوں

صفحہ 1093

کے دل جلانے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔ مگر مرزا صاحب کی ستم ظریفی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

”اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو ناحق توڑا گیا؟ اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی؟ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض“۔

(”کشتی نوح“ ص ۱۶‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ”روحانی خزائن“ ص

۱۸‘ ۱۷‘ ج ۱۹)

اللہ رے بیباکی‘ کیسے طنز آمیز کنایات ہیں کہ ایمان لرز جائے لیکن قادیانی صاحبان کے نزدیک سب بجا اور درست ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ کی بات نہیں۔ قادیانی اخلاق میں بہت وسعت ہے۔ لیکن مرزا صاحب بات کو اس حد تک بڑھاتے ہیں ان کا دلی منشاء سمجھنے میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے‘ استغفراللہ۔

”پانچواں قرینہ ان کے (یعنی افغانیوں کے) وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا

صفحہ 1094

اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔"۔ ("ایام الصلح" ص ۶۶، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

”بزرگوں نے بہت اصرار کر کے بسرعت تمام مریم اس (یوسف نجار) سے نکاح کرا دیا اور مریم کو ہیکل سے رخصت کرا دیا۔ تاکہ خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ لڑکا پیدا ہو گیا جس کا نام یسوع رکھا گیا“۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ارشاد مندرجہ اخبار ”الحکم قادیان“ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء)

یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی"۔ (”کشتی نوح" ص ۱۶، حاشیہ مصنفہ مرزا غلام قادیانی صاحب ”روحانی خزائن" ص ۱۸، ج ۱۹)

کیا قادیانی صاحبان سے توقع ہو سکتی ہے کہ مطلب سمجھیں اور استغفار کریں؟

(۲۴) کنویں میں چنے

مرزا قادیانی صاحب کو پیش گوئی کا بڑا دعویٰ تھا اور اس کو اپنی نبوت کا بڑا کمال سمجھتے تھے۔ معرکہ کی پیش گوئیوں میں آتھم کی پیش گوئی بھی بہت مشہور ہے۔ چنانچہ اس کا مختصر ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس پیش گوئی کی خاطر مرزا صاحب نے کیا، کیا کوششیں کیں؟ ذیل کے ایک واقعہ سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اسی مرزا صاحب کی ذہنیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یوں بھی ایک لطیفہ ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے (میاں حامد علی مرحوم) سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی)

صفحہ 1095

میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحب الفیل ہے اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا کہ یہ دانے کسی غیر آباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑکر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی‘ جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا“۔

(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول ص ۱۵۹‘ روایت نمبر ۱۴۰‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب

قادیانی)

(۲۵) حق ایجاد

جناب مرزا صاحب کی زندگی کے دو دور کی بحث پر قادیانی صاحبان نے ہم کو مسیحی پادریوں سے تشبیہ دی ہے۔ حالانکہ وہ واقف ہیں کہ دو دور کی بحث خود ان کے خلیفہ قادیان میاں محمود احمد صاحب کی ایجاد ہے۔ خلیفہ صاحب اسی ایجاد پر جناب مرزا صاحب کی نبوت کی بنیاد جماتے ہیں۔ اپنے مذہب کی ساری عمارت بناتے ہیں۔ جس کو دیکھ کر غیر تو غیر خود مآل اندیش قادیانی بہت واویلا مچاتے ہیں کہ ہائے میاں صاحب کیا غضب ڈھاتے ہیں۔

بہر حال مسیحی پادریوں سے مشابہت کا جو کمال ہے وہ خود خلیفہ صاحب کا حصہ ہے اور کوئی اس میں کیونکر شریک ہو سکتا ہے۔ اول تو دو دور کا حق ایجاد ان ہی کو حاصل ہے۔ دوم خود ان کے والد صاحب مسیح موعود تھے اور پہلے مسیح سے افضل تھے۔ لہٰذا افضل مسیح کا بیٹا اور خلیفہ تو بڑے‘ بڑے مسیحی پادریوں سے بڑھ کر ہوا نہ جائیکہ قادیانی

صفحہ 1096

صاحبان اپنی بے توفیقی سے ان کو مسیحی پادریوں کے برابر مشابہ ماننے میں بخل کریں۔

جناب مرزا صاحب کی زندگی کے دو دور خود میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کی خاص تحقیق ہے اگرچہ لاہوری جماعت کو تو اب بھی اس دورنگی سے انکار ہے۔ ملاحظہ ہو:

"اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ پس...... یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ (مرزا صاحب) نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے‘ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلطی ہے"۔

("حقیقۃ النبوۃ" ص ۱۲۱‘ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)

(۲۶) قادیانی لام

تصدیق احمدیت کے بعض حصے تو اپنی یبوست اور سخن سازی کے لحاظ سے سراسر قانونی جواب دعویٰ معلوم ہوتے ہیں جس میں حق ناحق سے بڑھ کر مقدمہ کی ہار جیت کا جذبہ غالب ہے‘ وکالت میں پختہ کاری کا حق ادا کیا گیا ہے۔ باقی حصے مضمون نگاری کے ادنیٰ نمونے ہیں تاہم کہیں‘ کہیں انشاء پردازی کی بھی کوشش نظر آتی ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ہم پر خوب لام باندھا ہے۔ ملاحظہ ہو:

یہ ہے برنی صاحب کے تصرف کا حال‘ اس کی ایک اور مثال‘ ان کا باطل خیال‘ غریب کم علم لوگوں کے لئے جال اور حق کو دبانے کی ایک چال‘ جو انشاء اللہ ایک دن ضرور لائے گی ان پر وبال"۔

(تصدیق احمدیت ص ۱۳۵)

جن صاحب نے بھی ہمت کی داد کے مستحق ہیں۔ لیکن اگر محض قیاس آرائی کے بجائے واقعات پر طبع آزمائی کرتے تو عبارت اور مضمون میں بہت اصلاح ممکن تھی۔ مثلاً:

ملتے ملتے رہ گیا مال۔ اگلی باتیں خواب و خیال۔ روز و شب ہے یہی ملال۔ کیسا آگیا زوال سنبھلنا ہوگیا محال۔ حواس نہیں رہے بحال‘ کہ نظر آگیا مال‘ انفعال‘ انفعال‘ انفعال‘ انفعال۔

(۲۷) قرآنی احکام

صفحہ 1097

قادیانی صاحبان جو صاف‘ صاف قرآن کی گرفت میں آئے تو بہت گھبرائے۔ لیکن سورہ توبہ میں اپنا حال پڑھ کر بھی توبہ کی توفیق نہیں ہوئی بلکہ حسب عادت گریز اختیار کیا۔ کچھ تضحیک‘ کچھ قرآن کریم کی تاویل۔ مگر اس درجہ بے اختیار و بے محل کہ حرکت مذبوحی معلوم ہوتی ہے۔ آخر یہ فرار کب تک۔ آج نہیں تو کل حقیقت کھل جائے گی۔ زبان درازی کام نہ آئے گی۔ بلکہ انجام بد دکھائے گی۔

کیفیت یہ ہے کہ قادیانی صاحبان اپنی کارگزاریاں دکھاتے ہیں۔ کارنامے سناتے ہیں۔ کاموں پر اتراتے ہیں۔ ان میں دو جماعتیں ہیں۔ لاہوری اپنے عقائد میں نسبتاً نرم ہیں اور قادیانی سخت۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کو صرف اپنا حق بتاتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو کافر بناتے ہیں۔ رشتے ناتے۔ غمی۔ شادی کے تعلقات چھڑاتے ہیں۔ خوب تفرقہ پھیلاتے ہیں۔ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی امت کہلاتے ہیں۔ مرزا صاحب اپنے کو مسیح موعود اور مہدی معہود بتاتے ہیں۔ نبوت اور رسالت تک جاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعویٰ زبان پر لاتے ہیں۔ جن سے ایمان لرز جاتے ہیں۔ یہ لوگ ان کے مذہب کی تبلیغ کراتے ہیں۔ مگر ٹوکیے تو قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو اسلام کی خیر مناتے ہیں۔ گویا الٹی خیر خواہی جتاتے ہیں۔

معروضہ یہ تھا کہ قادیانی دعووں کا قرآن شریف سے ایسا جواب ملے کہ ان کی اصل حقیقت عیاں ہوجائے۔ سو بطفیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں جو ایماء ہوا وہ سراسر قرآن شریف کا معجزہ ہے۔ گویا کہ قادیانی تحریک کا نقشہ کھینچ دیا۔ اس پر بھی آنکھیں نہ کھلیں تو مایوسی ہے۔ من کان فی ھذا اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا (۸/۱۵) نعوذ باللہ من ذلک۔

قرآنی احکام ملاحظہ ہوں۔ سبحان اللہ! کیا اعجاز ہے:

آیات

وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم و رسولہ والمومنون و ستردون الی عالم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم واللہ علیم حکیم۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرارا و کفرا و تفریقا بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ و رسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنیٰ و اللہ یشھد

صفحہ 1098

انہم لکذبون۔

(سورہ توبہ‘ رکوع ۳)

ترجمہ : کہہ دو کہ عمل کیے جاؤ پھر آگے دیکھے گا اللہ تمہارے عمل کو اور اس کا رسول اور مسلمان اور جلد لوٹائے جاؤ گے ایسے کیجانب جو چھپے اور کھلے کا واقف ہے تو وہ تم کو بتا دے گا جو تم کر رہے تھے اور کچھ وہ لوگ ہیں جن کا معاملہ ملتوی ہے اللہ کے حکم پر یا ان کو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے اور دوسرے وہ لوگ جنھوں نے بنا کھڑی کی ہے ایک جدا مسجد ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور پناہ دینے کو اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے اور اب قسم کھانے لگیں گے بجز بھلائی کے ہمیں کچھ مقصود نہ تھا۔ اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل کاذب اور جھوٹے ہیں۔ (۱۰۵، ۱۰۷)

کاذبین کی حقیقت قرآن کریم سے بخوبی واضح ہو گئی۔ لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔ جو قادیانی صاحبان ہمیشہ ورد کرتے ہیں۔ یہ تو صریح خودکشی ہے۔ اس کے بجائے توبہ اور استغفار کریں تو ممکن ہے کہ فتنہ سے خلاصی ہو کر پھر ہدایت نصیب ہو۔

بہر حال اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتنہ سے محفوظ رکھے اور صراط مستقیم پر استقامت عطا فرمائے۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وھب لنا من لدنک رحمتہ انک انت الوہاب۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔ والصلوۃ والسلام علی سیدالمرسلین خاتم النبیین و علی الہ و صحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

صفحہ 1099

بسم اللہ الرحمن الرحیم 〇

ضمیمہ سوم

قادیانی کتاب

اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا سعی تاویل خیالات چلی جاتی ہے

(۱) تمہید

قادیانی صاحبان کی طرف سے حال میں پھر ایک کتاب ”ہمارا مذہب“ شائع ہوئی ہے۔ گویا قادیانی نقطۂ نظر سے اس میں قادیانی مذہب کی تشریح ہے۔ اس کے مولف مولوی فاضل علی محمد صاحب اجمیری قادیانی ہیں۔ سرورق پر لکھا ہے اور نیز اخبارات میں اعلان کیا ہے کہ اس میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کے رسائل اربعہ ”قادیانی مذہب“ ایڈیشن اول و ایڈیشن دوم ”قادیانی جماعت“ اور ”قادیانی حساب“ کا مکمل و مدلل جواب دیا گیا ہے۔

(۲) تالیفات کا سلسلہ

مذکورہ بالا کتاب میں ہماری جن تالیفات کا حوالہ دیا ہے، ان کی کیفیت یہ ہے کہ سب سے اول قادیانی صاحبان نے حیدر آباد سے ایک رسالہ شائع کیا تھا ”ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی“ اس کے بعد ہماری پہلی مختصر کتاب ”قادیانی مذہب“ شائع ہوئی۔ پانچ فصلوں کے تحت پچاس عنوان، ہر عنوان کے ذیل میں قادیانی کتب کے چند اقتباسات تقطیع چھوٹی، حجم صرف ایک سو بیس صفحے۔ اس کے بعد قادیانی صاحبان نے بنگلور سے دوسرا رسالہ شائع کیا ”الیاس برنی کا علمی محاسبہ“ اس کے جواب میں ہمارا ایک رسالہ ”قادیانی جماعت“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کے بعد قادیانی صاحبان نے تیسرا رسالہ ”احمدی جماعت“ اور ایک کتاب ”تصدیق احمدیت“ قادیان سے شائع کی، ان

صفحہ 1100

دونوں کے جواب میں ہم نے ایک رسالہ ”قادیانی حساب“ شائع کر دیا اور اس کے ساتھ ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کا دوسرا ایڈیشن بھی نکل آیا۔ گیارہ فصلوں کے تحت تقریباً ڈھائی سو عنوانات اور ہر عنوان کے ذیل میں قادیانی کتب کے مختصر متعدد اقتباسات۔ اس طرح یہ دوسرا ایڈیشن متوسط تقطیع کے ۳۲۲ صفحات پر شائع ہوا۔ چنانچہ جدید قادیانی کتاب (ہمارا مذہب) کے سرورق پر ہمارے جن رسائل اربعہ کا ذکر ہے، ان میں سے ایک رسالہ گویا یہ کتاب بھی ہے۔

خدا کے فضل سے اس دوران میں دو سال کے اندر ہی ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کا تیسرا ایڈیشن بھی نکل آیا، تیرہ فصلوں کے تحت چار سو عنوانات اور ہر عنوان کے ذیل میں قادیانی کتب کے متعدد اقتباسات۔ اس طرح یہ کتاب تقریباً ایک سو قادیانی کتب پر حاوی ہو گئی، جن میں سے نصف خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصنیفات ہیں اور باقی نصف قادیانی خلفاء اور اکابر کی تالیفات اور اس کے ساتھ یہ رسالہ ”قادیانی کتاب“ بھی شائع ہو گیا۔ اس سے جدید قادیانی کتاب (ہمارا مذہب) کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔

(۳) قادیانی رنگ

قادیانی صاحبان کے جن رسائل کا اوپر ذکر ہوا، ان میں سے ہر ایک کی روش جدا تھی، سب سے پہلے رسالہ میں تاویل اور تضحیک کا پہلو اختیار کیا کہ شاید ہماری ہوا خیزی ہو جائے اور ان کی بات رہ جائے، لیکن اس میں ناکامی ہوئی، تو دوسرے رسالہ میں ہم پر دل کھول کر سیاسی الزام لگائے کہ شاید حکومت مغالطہ میں پڑ جائے۔ ہم کو دبائے یا نقصان پہنچائے۔ تو ان کو امن چین ہو جائے۔ اس میں بھی مایوسی ہوئی تو تیسرے رسالہ میں ہمارے مظالم اور اپنی مظلومیت کا فسانہ سنایا کہ شاید یہ فسوں چل جائے، لوگوں کی ہمدردی ادھر سے ادھر پھر جائے۔ غرض کہ قادیانی قرابادین کے سب مجرب نسخے استعمال ہوئے، لیکن

الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
بلکہ ع۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!
صفحہ 1101

حقیقت بخوبی عیاں ہوچکی تھی، قادیانی صاحبان کی سعی بے جا نے اور بھی قلعی کھول دی، بالآخر نوبت پہنچی کہ؎

بس ہجوم نا امیدی خاک میں مل جائے گی وہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے

(۴) قادیانی کتاب

ان تین رسالوں کے سوا چوتھے نمبر پر قادیانی صاحبان نے ایک کتاب شائع کی ”تصدیق احمدیت“۔ یہ گویا ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کے پہلے ایڈیشن کا جواب ہے۔ جیسا کچھ بھی جواب ہے، اس کی اصولی تنقید ہم نے اپنے رسالہ ”قادیانی حساب“ میں وضاحت سے پیش کردی۔ خود قادیانی صاحبان نے بھی غالباً جلد محسوس کر لیا کہ

ع جو چال بھی چلے وہ نہایت بری چلے

بالآخر پانچویں نمبر پر موجودہ کتاب (ہمارا مذہب) قادیانی صاحبان کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے سرورق پر اعلان درج ہے کہ ”اس میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کے رسائل اربعہ ”قادیانی مذہب“ ایڈیشن اول و ایڈیشن دوم ”قادیانی جماعت“ اور ”قادیانی حساب“ کا مکمل اور مدلل جواب دیا گیا ہے“۔ لیکن کتاب دیکھئے تو اعلان سے کوئی مطابقت نہیں۔

ع چہ کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

اعلان جو کچھ بھی ہو، واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب میں بھی ”تصدیق احمدیت“ کی طرح ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ کے صرف پہلے ایڈیشن سے مفصل بحث کی گئی ہے۔ برائے گفتن دوسرے ایڈیشن کا بھی کہیں کہیں سرسری طور پر ذکر آگیا ہے۔ حالانکہ دوسرے ایڈیشن کے بعد پہلے کی حیثیت ایک جزو سے زیادہ نہیں رہی اور وہ بھی اس میں ضم ہو گیا، جدا نہیں رہا۔ ایسی صورت میں دوسرے ایڈیشن کے ہوتے ہوئے پہلے ایڈیشن کو جواب کا مدار بنانا بظاہر عبث معلوم ہوتا ہے لیکن راز یہ ہے کہ موجودہ کتاب فی الحقیقت ”تصدیق احمدیت“ کا اصلاح شدہ ایڈیشن ہے۔ اکثر و بیشتر وہی اعتراضات، وہی عذرات، وہی تاویلات، وہی مغالطات ہیں، البتہ زبان و بیان کی خامیاں بہت کچھ رفع کر دی ہیں۔ تاہم کتاب کا نام بھی بدل دیا کہ شمار میں ایک جواب کا اضافہ ہو جائے اور

صفحہ 1102

”تصدیق احمدیت“ سے جو بدنمائی ہوئی تھی‘ اس پر بھی پردہ پڑ جائے۔ ”یک کرشمہ دو کار“۔

(۵) تنقیح

”تصدیق احمدیت“ اور موجودہ کتاب (ہمارا مذہب) میں جو اعتراضات اور عذرات مشترکہ ہیں‘ ان کی تنقید ہمارے رسالہ ”قادیانی حساب“ میں موجود ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ یہ رسالہ بطور ضمیمہ ”قادیانی مذہب“ کے آخر میں شریک ہے۔ قادیانی صاحبان کن امور پر ساکت ہیں اور کن امور کی تاویلات پیش کرتے ہیں اور کس رنگ کی تاویلات پیش کرتے ہیں‘ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ قارئین اس کا خود فیصلہ فرما سکتے ہیں اور یہی فیصلہ قابل وثوق ہو گا‘ علیٰ ہذا بطور جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزامات لگانا قادیانی صاحبان کا قدیم مسلک ہے۔ اس میں وہ جس درجہ بیباک ہیں‘ محتاج بیان نہیں۔ چنانچہ اس جدید کتاب میں بھی قادیانی صاحبان نے اپنا یہ مسلک بے ادبی بہت واضح طور پر پیش کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو درمیان میں لا کر مسلمانوں کے مقابل قادیانی صاحبان جو چالیں چلتے ہیں‘ اس کی مختصر کیفیت ہمارے رسالہ ”قادیانی حساب“ میں درج ہو چکی ہے‘ ذیل میں ہم صرف ایک دو خاص امور کی تشریح پیش کرتے ہیں‘ جو موجودہ کتاب (ہمارا مذہب) میں بطور جدید درج ہے۔

(۶) قادیانی خطاب

لوگ خیال کرتے ہیں کہ ”قادیانی“ ایک معمولی اور سرسری خطاب ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب قادیان میں پیدا ہوئے‘ اس لیے لوگ ان کو قادیانی کہنے لگے حالانکہ ”قادیانی“ مرزا صاحب کے نزدیک ایک الہامی حقیقت ہے اور وہ ان کی نبوت کا ایک جزو لاینفک ہے۔ حتیٰ کہ لفظ قادیانی مرزا صاحب کے نام سے خارج کر دیجئے تو ان کی نبوت کا ایک ثبوت غائب ہو جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر لفظ قادیانی مرزا صاحب کی نبوت کا ایک الہامی ثبوت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد و حروف کی طرف (توجہ) دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا‘ پہلے

صفحہ 1103

سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے ”غلام احمد قادیانی“۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں‘ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں ”غلام احمد قادیانی“ کسی کا بھی نام نہیں“۔

(”ازالہ اوہام“ ص ۱۸۶‘ ”روحانی خزائن“ ج ۳‘ ص ۱۹۰۔۱۸۹‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب)

بہر حال مرزا صاحب کو کشف ہوا کہ ان کے سوا تمام دنیا میں ”غلام احمد قادیانی“ کسی کا بھی نام نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں تین قادیان ہیں‘ جن میں سے ایک قادیان میں مرزا صاحب رہتے تھے اور ایک قادیان میں دوسرے صاحب اسی نام کے غلام احمد رہتے تھے‘ جو مرزا صاحب کے ہمعصر تھے لیکن جب غلام احمد قادیانی کے نام سے مرزا صاحب کے مقابل ان کو پیش کیا گیا‘ تو قادیانی صاحبان نے لفظ ”قادیانی“ کو تمام و کمال مرزا صاحب کے واسطے پیٹنٹ کرا لیا اور اس کو مرزا صاحب کے نام کا جزو لاینفک قرار دیا‘ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”پس آپ کا (یعنی مرزا صاحب کا) منشاء اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں آپ کے (یعنی مرزا صاحب کے) سوا کوئی دوسرا شخص ”غلام احمد قادیانی“ کے مرکب نام سے موسوم نہیں‘ اس لیے اگر ضلع گورداسپور یا لدھیانہ میں قادیان نام کے کوئی اور گاؤں بھی ہیں اور وہاں غلام احمد کے نام سے کوئی اور شخص بھی رہتا ہے تو اس سے آپ کے دعویٰ کی تغلیط نہیں ہوتی‘ کیونکہ آپ نے نہ قادیان نام کے کسی اور گاؤں کی نفی کی ہے اور نہ وہاں غلام احمد کے نام سے کسی شخص کی موجودگی کا انکار کیا ہے۔ انکار اگر ہے تو غلام احمد قادیانی کے مرکب نام رکھنے والے شخص کا ہے“۔

(”کتاب آئینہ احمدیت“ ص ۸‘ مصنفہ دوست محمد صاحب قادیانی جس کو ۱۹۳۴ء میں انجمن

اشاعت اسلام لاہور نے شائع کیا)

غالباً مرزا صاحب نے اپنی ہی نسبت کی برکت سے بحالت کشف لفظ ”قادیان“ کو قرآن شریف میں لکھا دیکھا‘ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:

”تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور

صفحہ 1104

مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔

(”ازالہ اوہام“ حاشیہ ص ۷۷‘ ”روحانی خزائن“ ج ۳‘ ص ۱۴۱-۱۴۰‘ مصنفہ مرزا غلام احمد

قادیانی صاحب)

مزید برآں مرزا صاحب فرماتے ہیں اور قادیانی صاحبان وجد کرتے ہیں کہ:

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(”دُرّ ثمین“ ص ۵۲‘ مجموعہ کلام مرزا صاحب)

غرض کہ ہر طرح لفظ ”قادیانی“ مرزا صاحب کی خاص الخاص نشانی ہے جبکہ ہم نے مرزا صاحب کے مذہب پر کتاب لکھی تو اس کا پورا نام ہوتا ”غلام احمد قادیانی صاحب کا مذہب“ لیکن طویل عنوان علمی ذوق کے منافی تھا‘ اس لیے مختصر عنوان ”قادیانی مذہب“ قرار پایا۔ اور سمجھدار لوگوں نے اس کو بہت پسند فرمایا اور اب تک قادیانی صاحبان نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا‘ لیکن حال میں جو کتاب (ہمارا مذہب) قادیانی صاحبان کی طرف سے شائع ہوئی ہے‘ اس میں ”قادیانی مذہب“ کی ترکیب و معنی پر اعتراض کیا گیا ہے‘ حالانکہ خود قادیانی عنوان ”ہمارا مذہب“ بلحاظ ترکیب ”قادیانی مذہب“ کے مساوی اور بلحاظ معنی قادیانی کے مترادف ہے۔ لفظ قادیانی مرزا صاحب کا اور ان کے مذہب کا اور ان کی جماعت کا سب کا عَلَمْ ہے۔ البتہ مطالعہ‘ مشاہدہ اور تجربہ سے اس لفظ کا جو مفہوم ذہنوں میں پیدا ہو چلا ہے‘ اس کے مدنظر قادیانی صاحبان کو لفظ ”قادیانی“ سے شرم و عار محسوس ہو‘ تو دوسری بات ہے۔

(۷) قادیانی مذہب

رہا یہ سوال کہ قادیانی مذہب کیا ہے؟ اس کی تفصیل ہماری کتاب ”قادیانی مذہب“ میں قابل ملاحظہ ہے۔ مختصر اور نہایت مختصر خلاصہ ذیل میں پیش کرتے ہیں:

جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہیں کی کافر اور خارج از دائرہ اسلام سمجھتے ہیں اور اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو منسوخ ٹھہراتے ہیں‘ کیونکہ اس کو پڑھ کر اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر اور اسلام

صفحہ 1105

سے خارج کر کے تیرہ سو برس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور تمام امت کی محنت کو خاک میں ملا دیتے ہیں"۔

ختم کرنے والے نہیں کرتے بلکہ اس سے اجزائے نبوت نکال کر حضرت مسیح موعود کو زمانہ کا نبی قرار دیتے ہیں۔ اور خاتم النبیین اور ظلی نبوت کے الفاظ استعمال کر کے اسلامی دنیا کو مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ خاتم النبیین کا مفہوم برخلاف امت کے ان کے ہاں اپنی مہر سے نبوت کو جاری کرنے والے کے ہیں اور ظلی نبوت سے مراد اصلی نبی ہے۔ ظلی کا لفظ فقط طریق حصول نبوت کے فرق کو ظاہر کرنے کے لیے یا لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لیے وہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ ان کا ظلی نبی نبی ہوتا ہے، غرض کہ مسئلہ نبوت میں نبوت کا دروازہ چوپٹ کھول کر وہ آنحضرت صلعم کی ختم نبوت کا بیڑا غرق کر کے دم لیتے ہیں"۔

قادیانیوں نے چلائی اور انہیں اصولوں پر چلائی، جن پر مسیحیت کا پوپ اپنی خلافت منواتا ہے۔ خلیفہ مطاع الکل ہے، وہ غلطی نہیں کر سکتا۔ اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ وہ ہر ایک مرید کی جان، مال، عزت، ایمان سب کا مالک ہے۔ بہشت کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں"۔

حصہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ میں رسوخ بڑھا کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طریق سے بہت سے دنیوی عزو جاہ کے طالب اور ملازمت کے خواہاں خود بخود ہماری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ اس طرح ہمارا جتھا بھی زبردست ہوتا جائے گا، جس سے گورنمنٹ پر بھی مزید اثر پڑے گا اور ہماری آمدنی بھی بڑھے گی اور ریاست کی بنیاد بھی پڑ جائے گی۔ اس لیے وہ گورنمنٹ کے دست و بازو بننا اپنا شعار بناتے اور اس کے بدلے میں گورنمنٹ میں رسوخ بڑھانا اور نفع اٹھانا ضروری سمجھتے ہیں اور اس لیے مذہب کے نام پر لاکھوں روپیہ قوم سے لے کر سیاسی خفیہ کارروائیوں میں صرف کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چونکہ ان کے عقاید ہی ایسے

صفحہ 1106

باطل ہیں کہ کسی عقلمند کو اپیل نہیں کر سکتے، اس لیے سیاسی رنگ میں جتھے بندی کے سوا ان کا مقصد کسی اور طریق سے حاصل ہوتا انہیں مشکل نظر آتا ہے۔ بدیں وجہ وہ سیاسی میدان میں کارنمایاں دکھا دکھا کر اپنا جتھا بڑھانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔-

(”قادیانی جماعت“ لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ جلد ۲۳، نمبر ۲، مورخہ ۵ جنوری ۱۹۳۵ء)

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب قادیانی) فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام و توضیح مرام شائع ہوئیں، تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو، اب میں مولوی نور الدین صاحب کو مرزا (غلام احمد قادیانی صاحب) سے علیحدہ کیے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب کیا نبی کریم صلعم کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا، نہیں۔ اس نے کہا، اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا، تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں؟ اگر وہ صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ بولا، واہ مولوی صاحب آپ قابو میں نہ ہی آئے۔ یہ قصہ سنا کر مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے، میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں پھر بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور من جانب اللہ پایا ہے، تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے، وہی حق ہو گا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعویٰ میں چون و چرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرتا ہے۔“

(”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص ۹۹-۹۸، روایت نمبر ۱۰۹، مولفہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد

صاحب قادیانی)

قصہ مختصر مرزا قادیانی صاحب کی تائید میں قادیانی صاحبان کی تاویلات کی کوئی نہیں، عجیب مغالطوں میں مبتلا ہیں۔-

اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا
سعی تاویل خیالات چلی جاتی ہے
صفحہ 1107

ضمیمہ چہارم

قادیانی فریقین

قادیانی جماعت لاہور و جماعت قادیان

۳ نومبر ۱۹۴۶ء کو جو اخبار ”پیغام صلح“ لاہور (جلد ۲۴‘ نمبر ۷۰) شائع ہوا‘ اس میں قادیانیوں کی لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب قادیانی کا خطبہ جمعہ اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی کا ایک مضمون درج ہے۔ دونوں صاحبان نے ہماری تالیف ”قادیانی مذہب“ کا ذکر کیا ہے‘ جو کوئی چاہے اپنے خیال کے مطابق کتاب پر رائے زنی کر سکتا ہے۔ اور لوگ کتاب پڑھ کر تصفیہ کر سکتے ہیں کہ وہ رائے کہاں تک اصلیت پر مبنی ہے‘ لیکن اس کتاب کے سلسلہ میں اس جماعت نے جس ذہنیت کا اظہار کیا ہے‘ وہ بہت سبق آموز ہے‘ چونکہ خود انہوں نے کتاب کے حوالہ سے قادیانی اور لاہوری جماعت کی بحث چھیڑی ہے‘ مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بحث کی حقیقت واضح کر دی جائے۔

ابتداء میں جب یہ کتاب ”قادیانی مذہب“ اور اس کے متعلقہ رسالے شائع ہوئے تو لاہوری جماعت کی طرف سے ایک ذمہ دار رکن نے بذریعہ خط و کتابت سلسلہ جنبانی شروع کی کہ دراصل قادیانی جماعت سب خرابیوں کی ذمہ دار ہے جس سے لاہوری جماعت بھی بیزار ہے‘ لہٰذا اس جماعت کی جس قدر بھی تردید کی جائے‘ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہے۔ اس کار خیر میں لاہوری جماعت بھی ساتھ دینے کو تیار ہے۔ ایسی صورت میں قادیانی جماعت کو جو مرزا صاحب کا پیرو اور مخلص پیرو قرار دیا گیا ہے‘ وہ سراسر ظلم ہے البتہ مرزا صاحب کی قلمی لغزشیں قابل درگزر ہیں اور اس کے ساتھ ہی لاہوری جماعت کے کارنامہ قابل داد ہیں۔ چنانچہ اس جماعت کی تحریک کے چند اشارے ملاحظہ ہوں۔

صفحہ 1108

عقائد اور مخالف اسلام سیاست کی وجہ سے سلسلہ کو بدنام کر رکھا ہے، یہی حال آپ کے ہاں بھی ہے۔ آپ کو غالباً اچھی طرح علم ہو گا کہ ہمیں شروع سے ہی ان کے مذہبی اور سیاسی روش سے اختلاف رہا ہے۔ ہماری جماعت نے آج تک کسی ایسی سیاسی تحریک میں کبھی بھی حصہ نہیں لیا جو اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہو"۔ (۲۸؍ فروری ۱۹۳۴ء)

تو جماعت میں تفرقہ کیوں پیدا ہوتا۔ حضرت مرزا صاحب کے صحبت یافتہ لوگوں نے یہ پسند نہ کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی طرف ایسے فاسد عقاید منسوب ہوں، اس لیے قادیان چھوڑ کر لاہور چلے آئے، حضرت مرزا صاحب کی شخصیت کو چھوڑ کر اگر آپ قادیانیوں کی تردید کریں، تو ہم آپ کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کے عقاید اسلام کی بیخ کنی کرنے والے ہیں اور عملاً رسالت محمدیہ کو منسوخ کرنے والے ہیں۔

"قادیانیوں کا سیاسیات میں ٹانگ گھسیڑنا بھی مفاد اسلام و مسلمین کے خلاف ہے، اس لیے ہم ان کی سیاسی چالوں سے بھی متنفر ہیں"۔ (۱۸؍ مارچ ۱۹۳۴ء)

تردید کریں، جس میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہے۔

اگر آپ کی تردید قادیانی گروہ تک محدود رہتی تو ہم آپ کے ساتھ تھے"۔ (۲۸؍ فروری ۳۴ء)

@BUL LET (۴) "مجھے ابھی تک آپ کے اس نظریہ کی سمجھ نہیں آئی کہ قادیانی صاحبان جناب مرزا صاحب کے مسلک سے مجموعی طور پر قریب تر ہیں حالانکہ ان لوگوں کا قول و فعل ہر دو مرزا صاحب کے مخالف پڑے ہوئے ہیں"۔ (۲۸؍ فروری ۱۹۳۴ء)

نہیں تو اور کیا ہے"۔ (۲۸؍ فروری ۳۴ء)

اتنا لکھنے والا آدمی اگر کسی جگہ تحریر میں ٹھوکر کھا جائے تو قابل درگزر ہوتا ہے، ہاں جو

صفحہ 1109

اصولی بات ہے، اس کے خلاف ہو تو قابل گرفت ہے"۔ (۱۲؍ مارچ ۱۹۳۲ء)

جماعت لاہور کی جو سب سے پہلے اپنی جیبوں سے ہزارہا روپیہ اشاعت و تبلیغ اسلام کے لیے کئی سالوں سے خرچ کر رہی ہے، کون سی ذاتی غرض وابستہ ہے، جو لوگ ہم سے ذاتی طور پر واقف ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ دنیاوی طور پر ہم نے اس راہ میں کچھ گنوایا ہی ہے، دنیا داروں کی طرح کچھ جائیداد پیدا نہیں کی"۔ (۳؍ ستمبر ۱۹۳۴ء)

غرض کہ لاہوری جماعت کی طرف سے کافی تفہیم کی گئی کہ ہر طرح قادیانی جماعت ہی ذمہ دار اور قصور وار ہے۔ اس جماعت کی تردید اسلام کی بڑی خدمت ہے اور اس کام میں لاہوری جماعت بھی ہاتھ بٹانے کو آمادہ ہے، لیکن جب یہ منصوبہ نہ چل سکا، تو لاہوری جماعت نے سکوت اختیار کر لیا، بات ختم ہو گئی۔ اب پھر باسی کڑھی میں ابال ہے، اخبار میں کتاب کا ذکر نکلا اور اس سلسلہ میں قادیانی اور لاہوری جماعت کی تفریق پر زور دیا گیا تو لازم ہوا کہ بقدر ضرورت معاملات کی صراحت کر دی جائے تاکہ بات صاف ہو جائے اور حقیقت کھل جائے۔

مولوی محمد علی صاحب قادیانی اپنے خطبہ میں شکایت فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس کتاب (قادیانی مذہب) کو مطالعہ کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ”اس میں کوئی ترتیب نہیں ہے، نہ کوئی لاہوری اور قادیانی کا امتیاز اور حد بندی ہے"۔

مولوی صاحب غالباً اس کتاب کے مطالعہ کی تاب نہ لا سکے اور نہ ایسے شخص سے رائے حاصل کر سکے، جس نے اس کا مطالعہ کیا ہو، ورنہ ان کو معلوم ہو جاتا کہ ترتیب ہی اس کتاب کی بڑی خصوصیت ہے۔ اس میں قادیانی اور لاہوری جماعت کا امتیاز کر دیا گیا کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی صاف نظر آ جاتا ہے کہ کون سی جماعت مرزا صاحب کی تعلیم پر ثابت قدم ہے اور کون جماعت منافقت میں مبتلا ہے، یہی امتیاز اور وضاحت تو لاہوری جماعت کے واسطے سب سے زیادہ تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کہ اصل حقیقت کھل گئی۔

ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اپنے مضمون میں زیادہ کھلے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ”ہم ہزار بار لکھ چکے ہیں کہ ”ہم مرزا غلام احمد کی امت نہیں، ہم محمد رسول اللہ صلعم کی امت

صفحہ 1110

ہیں....... مرزا غلام احمد کی امت ہمیں قرار دیا جانا کہاں تک انصاف پر مبنی ہے‘ شاید یہ کہا جائے کہ ہماری مراد اس سے مرزا محمود احمد اور قادیانی جماعت ہے تو پھر ان کا فرض تھا کہ قادیانیوں سے ہمیں الگ رکھتے‘ صاف طور پر یہ لکھتے کہ لاہوری جماعت ان لوگوں سے علیحدہ ہے"۔ مثل مشہور ہے جادو وہ جو سر پہ چڑھ کر بولے۔ خود لاہوری جماعت نے دعویٰ کے طور پر تسلیم کر لیا کہ وہ مرزا صاحب کی امت سے خارج ہے‘ حالانکہ مرزا صاحب نے اپنی جماعت کو اپنی امت سے بھی تعبیر کیا ہے‘ چنانچہ لاہوری جماعت کو بھی اعتراف ہے کہ اگر کوئی جماعت مرزا صاحب کی امت مراد ہو سکتی ہے‘ تو وہ بقول ان کے مرزا محمود احمد اور قادیانی جماعت ہے اور وہ قادیانی جماعت سے اس درجہ مغائر ہیں کہ چاہتے ہیں کہ بات بات پر اعلان ہوتا رہے کہ وہ الگ ہیں‘ الگ ہیں‘ الگ ہیں"۔

بایں ہمہ لاہوری جماعت کا ادعا ہے کہ وہ مرزا صاحب کی سچی پیرو اور اس کا امیر مرزا صاحب کا حقیقی جانشین ہے۔ نیز یہ کہ قادیانی جماعت مرزا صاحب کی تعلیم سے گزر کر غلط راستہ پر جا رہی ہے اور اس کا خلیفہ اس گمراہی کا علمبردار ہے‘ واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے پیرو کم از کم نوے فیصدی قادیانی جماعت میں اور زیادہ سے زیادہ دس فیصدی لاہوری جماعت میں شریک ہیں اور لطف یہ کہ ابتداء میں جماعت بندی کے وقت لاہوری جماعت کا غلبہ تھا‘ بعد کو لاہوری جماعت گھٹی تو قادیانی جماعت بڑھی۔ حتیٰ کہ آج لاہوری جماعت بھی اس کا غلبہ کراہت کے ساتھ تسلیم کرتی ہے۔ اب اگر لاہوری جماعت کا دعویٰ درست ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ چند ہی سال میں مرزا صاحب کے پیرووں میں کثیر جماعت نے بسرعت مرزا صاحب کی تعلیم فراموش کر کے گمراہی اختیار کر لی اور قلیل جماعت ان کی تعلیم پر قائم رہ سکی‘ سو وہ بھی روبہ زوال ہے۔ قادیانی جماعت کے خلیفہ میاں محمود احمد صاحب اس عام گمراہی کے بانی قرار دیئے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ مرزا صاحب کے فرزند دلبند ہیں‘ جن کے متعلق مرزا صاحب نے فخریہ انداز میں بشارتیں دی ہیں۔ اس کے برعکس لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب مرزا صاحب کی تعلیم کے محافظ اور معلم بتائے جاتے ہیں‘ جن کی عقیدت مندی اور استقامت کے متعلق مرزا صاحب اپنی زندگی میں شکایت کی حد تک بے اطمینانی ظاہر کر چکے ہیں۔

گرچہ لاہوری جماعت اس فیصلہ پر چراغ پا ہوتی ہے لیکن حقیقت پر کہاں تک

صفحہ 1111

پردہ ڈال سکتی ہے کہ فی الواقعہ قادیانی جماعت مرزا صاحب کی تعلیم بلاکم و کاست قبول کرتی ہے اور مرزا صاحب سے خاص خلوص رکھتی ہے۔ اس کے مقابل لاہوری جماعت مرزا صاحب کی تعلیم میں ترمیم و تخفیف کر کے اس کو اپنی مصلحتوں کے تابع رکھنا چاہتی ہے اور اپنی صوابدید کی حد تک مرزا صاحب کی بابت اظہار عقیدت کرتی ہے۔

لاہوری جماعت نے اپنی حیثیت چمگادڑ کی سی بنا رکھی ہے، جو چاہتی تھی کہ پرندوں میں پرندہ شمار ہو اور چوپایوں میں چوپایہ بنی رہے۔ ایک طرف تو اس کی یہ کوشش ہے کہ مسلمان اس کو اپنی جماعت سمجھیں اور دوسری طرف یہ کہ قادیانی اس کو اپنی جماعت مانیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اس کی مالی اور اخلاقی مدد کرتے رہیں اور وہ مصلحت آمیزی سے قادیانی تعلیم کی تبلیغ کرے۔ چنانچہ اب تک یہی ہوتا رہا ہے اور وہ چاہتی تھی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے لیکن انجام وہی ہوا، جو منافقت کا ہوا کرتا ہے۔ مسلمان بھی بیدار و خبردار ہو گئے اور قادیانی بھی بیزار نظر آتے ہیں، غدار سمجھتے ہیں۔ ع چہ کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی!

ایک زمانہ کی بات ہے کہ کسی ترنگ میں آکر مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور نے قادیان اور اس کے خلیفہ میاں محمود احمد صاحب قادیانی کو چیلنج دیا تھا کہ "میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو، اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا) کی نبوت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حد تک ہم میں اتفاق بھی ہے اور اس اتفاق کے ساتھ کچھ اختلافات بھی ہیں، جس قدر مسائل اختلافی ہم ہر دو فریق میں ہیں، وہ اس اختلاف مسئلہ نبوت سے پیدا ہوتے ہیں"۔ (ٹریکٹ "نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق"۔ ص۱، منقول از اخبار "الفضل" قادیان جلد ۲۵، نمبر ۱۳، ص ۵، مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۷ء)

معلوم ہوتا ہے کہ اول تو فریق مخاطب خاموش رہا، لیکن ہماری کتاب "قادیانی مذہب" میں مرزا صاحب کا ادعاء نبوت اس درجہ مفصل طور سے واضح ہو گیا کہ کسی کو اس میں شک نہیں رہا۔ چنانچہ حال میں قادیانی جماعت کے خلیفہ میاں محمود احمد صاحب قادیانی نے مرزا صاحب کی نبوت کے مسئلہ پر تحریری اور تقریری دونوں قسم کا مناظرہ کرنا

صفحہ 1112

قبول کر لیا تو مولوی محمد علی صاحب قادیانی بغلیں جھانکنے لگے۔ مسئلہ نبوت سے گریز کر کے چاہا کہ اول مسئلہ تکفیر پر بحث ہو، حالانکہ نبوت اصل ہے، اور تکفیر اس کی فرع لیکن انہوں نے محسوس کر لیا کہ قادیانی رہ کر مرزا صاحب کی نبوت سے انکار کرنا محال ہے۔ البتہ تکفیر کی بحث اٹھا کر یہ ممکن ہے کہ خود مسلمانوں میں کچھ خوشنودی حاصل کرلیں اور قادیانی جماعت کو مسلمانوں میں اور مطعون بنا دیں، چنانچہ اس مناظرہ کے سلسلہ میں مولوی محمد علی صاحب قادیانی لکھتے ہیں کہ

”اگر جناب میاں (محمود احمد) صاحب مسلمانوں کی تکفیر کو چھوڑ دیں اور سب کلمہ گویوں کو بروئے قرآن و حدیث و بروئے تحریرات حضرت مسیح موعود (نہ اپنی ایجاد کردہ سیاسی تعریف کی رو سے) مسلمان ہونا تسلیم کرلیں تو ہم مسئلہ نبوت پر ان کے ساتھ بحث کو آئندہ ترک کردیں گے۔“۔ (اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، جلد ۲۴، نمبر ۸ مورخہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۳۶ء)

گویا مولوی محمد علی صاحب قادیانی کو اس کی چنداں فکر نہیں کہ مرزا صاحب نبی تھے یا نہ تھے۔ وہ بہر صورت ان کے پیرو اور متبع ہیں لیکن فکر ہے تو یہ کہ بربنائے نبوت مسلمانوں کی تکفیر نہ ہو اور مسلمان ان سے کشیدہ ہو کر دست کش نہ ہو جائیں کہ سارا کھیل بگڑ جائے۔

مولوی محمد علی صاحب قادیانی جو اول مسئلہ تکفیر پر بحث کرنا چاہتے ہیں اور میاں محمود احمد صاحب قادیانی جو مسئلہ نبوت کو مقدم قرار دیتے ہیں، اس بارہ میں مشہور مناظر مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی یہی فیصلہ فرمایا کہ

”اصل بات یہی ہے کہ کفر مرتب ہوتا ہے انکار نبوت پر، پس بحث کا اصل مدار نبوت پر ہونا چاہیے، اس سے ہم مناظرانہ حیثیت سے مولوی محمد علی صاحب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس موقع کو غنیمت سمجھیں۔ وہ نبوت مرزا پر بحث کو ٹال نہ دیں۔ (اخبار اہلحدیث امرتسر، مورخہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۳۷ء منقول از اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۵، نمبر ۱۳، ص ۴، مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۳۷ء)

اگر مولوی محمد علی صاحب قادیانی اول مرزا صاحب کی نبوت پر بحث کرنے کو آمادہ ہو جاتے تو نتیجہ معلوم یا مرزا صاحب کو نبی ماننا پڑتا یا قادیانیت سے دست بردار ہونا پڑتا

صفحہ 1113

اور لاہوری جماعت کا مرزا صاحب کے ساتھ ربط یہ ہے کہ

ع نے تاب وصل دارم نے طاقت جدائی!

قادیانی جماعت لاہور اور قادیانی مذہب

اخبار ”پیغام صلح“ لاہور (جلد ۲۴‘ نمبر ۷۰‘ بابت ۳ نومبر ۱۹۳۶ء) میں قادیانی جماعت لاہور کے ایک سرکردہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب کے اس تبصرہ پر واویلا کیا گیا ہے جو سید صاحب موصوف نے تالیف ”قادیانی مذہب“ کے متعلق اکتوبر ۱۹۳۶ء کے معارف میں تحریر فرمایا ہے۔ یہ مضمون قادیانی ذہنیت کا نمونہ ہے کہ گرفت میں آکر قادیانی صاحبان گریز کی کیا کیا تدابیر سوچتے ہیں اور مایوسی میں جھنجھلا کر کس طرح کوستے ہیں۔ ناحق کوشی کا یہی انجام ہوتا ہے۔

اول حسب ضابطہ تبصرہ کے جرم میں یہ سزا تجویز کی گئی کہ دیوبند‘ بریلی اور جمعیتہ العلماء جو قادیان کے قانون تعزیرات میں تحت دفعہ علمائے سوء درج ہیں۔ ندوۃ العلماء کو بھی اسی دفعہ کے تحت درج کر دیا جائے تاکہ قادیانی عدالت میں کوئی مسلمان عالم اس دفعہ کی زد سے نہ بچنے پائے اور شاید بچ سکے تو وہی نام نہاد عالم بچ سکے جو قادیانیوں کی ہمنوائی کر سکے‘ یا کم از کم مہر بلب رہ سکے‘ اظہار حق کی جرأت نہ کر سکے۔

مولانا سید سلیمان ندوی صاحب پر سب سے سنگین الزام یہ لگایا گیا ہے کہ بلا تحقیق یک طرفہ بیان پر فیصلہ لکھ دیا‘ لیکن سچ ہے ”جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“ خود ہی اس مضمون میں لکھتے ہیں کہ ”جب سید سلیمان ندوی صاحب لاہور تشریف لائے تھے تو انہوں نے خود مجھ سے لاہور میں زبانی کہا تھا کہ ہم آپ کی تحریروں سے متفق ہیں۔ گویا جب کوئی مسلمان عالم یک طرفہ معلومات کی بنا پر قادیانی صاحبان کی تحریروں سے اتفاق کرتا رہے‘ وہ عادل مانا جائے اور جب اصل حقیقت سے واقف ہو کر اپنی پختہ رائے کا اظہار کرے تو وہ ظالم قرار پائے اور علمائے سوء کے زمرہ میں شریک کر دیا جائے۔ قادیانی عدالت میں اس سے بہتر اور کیا فیصلہ ہو سکتا ہے۔

رہی خود کتاب ”قادیانی مذہب“ سو وہ ٹیڑھی کھیر تھی‘ نگلنی بھی مشکل اور اگلنی

صفحہ 1114

بھی دشوار ۔ تردید تو کیا کر سکتے مجبوراً گریز سے کام لیا۔ اول تو یہ عذر پیش ہوا کہ قادیانی جماعت کی کتابیں غالیوں کی کتابیں ہیں، گویا ناقابل اعتبار ہیں۔ لہٰذا ان کے اقتباسات اور حوالے سند نہیں ہو سکتے، کیا خوب عذر ہے۔ ؎

پر وہی گر پڑا کبوتر کا! جس میں نامہ بندھا تھا دلبر کا!

اگر قادیانی جماعت کی کتابیں ناقابل سند اور خارج از بحث قرار دے دی جائیں، تو پھر مرزا صاحب کی تعلیم کا مبلغ اور مفسر کون بنے گا۔ یہی وہ جماعت ہے، جو خلوص سے مرزا صاحب کی تعلیم کو قبول کرتی ہے۔

لاہوری جماعت کی مصلحت آمیزیاں تو اس درجہ واضح ہو چکی ہیں کہ قادیانیت کے متعلق ان کی کتابیں نہ قادیانیوں میں معتبر شمار ہوتی ہیں اور نہ مسلمانوں میں، ان کا بیشتر مصرف یہ ہے کہ لاہوری جماعت کے نفاق کا ثبوت دیں۔ لطف یہ ہے کہ خود لاہوری جماعت کے اکابر کی بھی قدیم تحریریں، جبکہ مصلحت آمیزی شروع نہ ہوئی تھی۔ قادیانی جماعت کے موجودہ عقاید سے متفق ہیں۔ ان تحریرات کی بابت جو عذرات پیش کیے جاتے ہیں، وہ بدتر از گناہ معلوم ہوتے ہیں مثلاً امیر جماعت لاہوری مولوی محمد علی صاحب جب اپنی سابقہ تحریرات کا انکار نہ کر سکے اور کوئی تاویل بھی نہ کر سکے تو ان کی زد سے بچنے کے لیے کیسے بھولے بن گئے۔ فرماتے ہیں۔

’’اگر آپ احمدیہ جماعت لاہور کے متعلق کوئی فتویٰ دینا چاہتے ہیں تو جماعت کے مطبوعہ عقاید آپ کے سامنے ہیں۔ تیس سال قبل کی میری ذاتی تحریرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان عقاید کی بنا پر ان پر جو فتویٰ دینا چاہیں، دیں اگر ذاتی طور پر مجھ پر فتویٰ کا سوال ہے تو ایسا کفر کا فتویٰ جس کو تیس سال قبل کی تحریروں سے سہارا دینے کی ضرورت ہو، شاید ہی مفید ثابت ہو سکے‘‘۔

(اخبار ’’پیغام صلح‘‘ لاہور، جلد ۲۴، نمبر ۸، بابت ۲؍ فروری ۱۹۳۶ء)

گویا کنایتاً مولوی محمد علی صاحب قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ تیس سال قبل خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی حیات اور صحبت میں ان کے جو عقاید تھے اور جن کو وہ شائع بھی کرتے تھے، تکفیر کا موجب ہو سکتے ہیں لیکن اس دوران میں ان کے عقاید بالکل بدل گئے، گویا کہ وہ مسلمان ہو گئے لیکن پھر بھی وہ مرزا صاحب کے کامل متبع رہے اور اب

صفحہ 1115

بھی قادیانی جماعت لاہور کے امیر ہیں۔ ؎

معشوق ما مشرب ہر کس موافق است با ما شراب خورد و بزاہد نماز کرد

”قادیانی مذہب“ کی تالیف میں تقریباً سوا سو قادیانی کتابوں وغیرہ سے اقتباسات لیے گئے ہیں۔ ان میں پچاس سے زیادہ تو خود مرزا صاحب کی اور باقی قادیانی اور لاہوری جماعت کے اکابر کی تصنیف و تالیفات ہیں۔ جماعتوں کی کتب سے تو گریز کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مرزا صاحب کی کتب میں اس کی بھی گنجائش نہ تھی۔ کس طرح انکار کر سکتے تھے۔ بالآخر وہی دو ٹکسالی اعتراض پیش ہوئے۔ اول یہ کہ قطع برید کر کے نامکمل اقتباسات درج کیے گئے ہیں۔ دوم یہ کہ یک طرفی تصویر درج کی گئی ہے۔ دونوں اعتراض خواہ کتنے ہی بے اصل ہوں لیکن اگر اعتراض ہی کرنا تھا تو ان کے سوا اور کیا کر سکتے تھے۔ لیکن کتابیں بھی موجود ہیں‘ اقتباسات بھی موجود ہیں‘ جو صاحب تحقیق کرنا چاہیں‘ تحقیق کر سکتے ہیں کہ قادیانی صاحبان کا پہلا اعتراض کس درجہ حقیقت ہے۔ اقتباسات اپنی حد تک کس درجہ واضح اور مکمل ہیں۔ رہا یک رخی کا دوسرا اعتراض سو قادیانی عقاید و اعمال کے سب پہلو اس جامعیت سے یک جا پیش کیے گئے ہیں کہ عام و خاص سب با آسانی سمجھ گئے کہ قادیانی تحریک کا کیا پیام ہے اور کیا انجام۔ البتہ قادیانی صاحبان یہ افسوس کریں تو بجا ہے کہ ابہام و التباس کے جو پردے پڑے ہوئے تھے‘ تاویل و تعلی کے جو غلاف چڑھے ہوئے تھے اور جن سے پچاس سال کا کام چلا وہ پردے اٹھ گئے‘ غلاف پھٹ گئے‘ حقیقت کھل گئی اور یہی انجام ہونا تھا۔

لایعنی تاویل اور بے محل تمثیل یہ ہی دو خاص گر قادیانی ذہنیت کا سرمایہ ہیں اور ان ہی کے تصرفات سے ان کا مذہب بنا۔ ان کے کرشموں کی کوئی حد نہیں معلوم ہوتی۔ مثلاً بلا تکلف دمشق قادیان بن گیا‘ قادیان میں مسجد اقصیٰ بن گئی‘ خود مرزا صاحب آدم بن گئے‘ عیسیٰ بن گئے‘ موسیٰ بن گئے‘ محمد بن گئے‘ احمد بن گئے‘ سب نبیوں کا مجموعہ بن گئے‘ لگے ہاتھوں کرشن جی بھی بن گئے‘ ایمان و عقاید بھی جیسے مناسب حال معلوم ہوئے بن گئے‘ اسی بناوٹ میں تاویل و تمثیل نے جو بے دریغ اور بے باک تصرف کیے ہیں‘ ان کی نظیر مذہبی تاریخ میں کم نظر آتی ہے۔ اگر قادیانی تاویلات و تمثیلات کو یک جا کر دیا جائے تو یقیناً بہت سبق آموز بلکہ عبرت انگیز مجموعہ ہو گا۔ قادیانی تاویل و تمثیل کا یوں تو دائرہ

صفحہ 1116

بہت وسیع ہے لیکن اس کے چند خاص رخ ہیں۔ اول یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے تمام کمالات مرزا صاحب میں ثابت کیے جائیں۔ دوم یہ کہ مرزا صاحب کے تمام نقائص انبیاء علیہم السلام میں ثابت کیے جائیں تاکہ مرزا صاحب کی میزان ٹھیک بیٹھ سکے۔ علیٰ ہذا مخالفت کی بنا پر مسلمان یہودی ثابت کیے جائیں۔ مسلمان کوئی کتاب لکھیں جس سے قادیانیوں کی حقیقت کھلے تو اس کو مخالف اسلام کتابوں کے مماثل قرار دیا جائے۔ چنانچہ تالیف ”قادیانی مذہب“ کو آریوں کی کتاب ستیارتھ پرکاش اور عیسائیوں کی کتاب ”امہات المومنین“ کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ اگر کتاب ”قادیانی مذہب“ کا ان دونوں کتابوں سے مقابلہ کیا جائے تو قادیانی صاحبان کی حیلہ بازی خود بخود ظاہر ہو جائے گی کہ اول الذکر کتاب (قادیانی مذہب) میں جس پایہ کے سندات جس تواتر اور تسلسل کے ساتھ جس کثرت سے پیش کیے گئے ہیں اور قادیانی تحریک کے سب پہلو کسی حاشیہ آرائی کے بغیر جس وضاحت اور بداہت سے پیش کیے گئے ہیں‘ ان دونوں کتابوں میں اس تحقیق اور جامعیت کا نام بھی نہیں ہے۔ خیال آرائی دوسری بات ہے‘ لیکن قادیانی تمثیلات میں بڑا کمال یہی ہوتا ہے کہ مماثلت کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ لگا تو تیر نہیں تو تکا ہی سہی۔

قادیانی نوحوں میں معمولاً جو مقطع کا بند رہتا ہے‘ وہی اس مضمون میں بھی درج ہے یعنی ہم نے دین کی ایسی خدمات انجام دیں اور مسلمان ہم سے مدتوں خوش اور مطمئن رہے‘ ہمارے ممد و معاون رہے‘ تو پھر ہم پر کیوں گرفت کی جاتی ہے‘ ہم سے کیوں باز پرس کی جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے خاص کر جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے قادیانیوں پر بالعموم اور لاہوری جماعت پر بالخصوص مدتوں اعتماد کیا اور ہر طرح مالی و اخلاقی مدد کی‘ حسن ظن اور وسعت اخلاق کا پورا ثبوت دیا‘ لیکن اصلیت کہاں تک چھپتی‘ بالآخر ثابت ہو گیا کہ دین و ملت میں مسلمانوں کے مار آستین کون ہیں اور اس نمائشی دوا دوش کا اندرونی منشا کیا ہے‘ متنبہ ہونے پر لامحالہ مسلمان محتاط ہو گئے اور یہی حزم اور احتیاط قادیانی صاحبان کو سخت زہر معلوم ہوتی ہے اور اسی پر واویلا ہو رہی ہے۔ حسن ظن کے زمانہ میں مسلمانوں سے جو حسن خدمت کے پروانے حاصل کئے تھے وہ اب ان کے بیدار ہونے پر شکایۃً شائع کئے جا رہے ہیں۔ گویا ایک مرتبہ فریب کھا کر مسلمانوں کو حق نہیں

صفحہ 1117

کہ وہ ہشیار ہوں اور اپنی حفاظت کریں۔

چنانچہ حسب معمول ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی نے بھی اس مضمون میں بعض سربرآوردہ مسلمانوں کے پروانہ جات خوشنودی پیش کئے ہیں، جو کسی زمانہ میں انہوں نے حاصل کئے تھے۔ مثلاً ان میں ایک پروانہ عالی جناب نواب صاحب مانگرول کا بھی درج ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی اسلام کی خدمت کرے اور فریب نہ دے تو مسلمان کس فراخ حوصلگی سے اس کی خدمات کا اعتراف کرنے کو تیار ہیں، اعتراف کے سوا عجیب نہیں کہ اس زمانہ میں مانگرول سے قادیانی صاحبان کو مالی امداد بھی ملتی ہو، لیکن جب فریب کھلا تو نواب صاحب موصوف کو کتنا افسوس ہوا ہوگا کہ ان کا حسن ظن برباد گیا، چنانچہ اسی سال ۱۹۳۶ء نواب صاحب موصوف نے ہم کو تحریر فرمایا ہے کہ میں نے آپ کی مرسلہ چاروں کتابیں (قادیانی مذہب) توجہ سے پڑھیں، نقش اول سے نقش ثانی اور ثانی سے ثالث اور ثالث سے رابع کو بہت بہتر پایا، حقیقت میں آپ نے نہایت توجہ اور غور و خوض کے بعد اس آخری نمبر کو تیار کیا اور اس کی اشاعت سے دین اسلام کی ایک نہایت اہم خدمت انجام دی، قوم مسلم کو ایک بڑے خطرہ اور فتنہ سے آگاہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان خدمات دینی اور قومی کا اجر جمیل عطا فرمائے، جزاک اللہ احسن الجزاء نواب صاحب موصوف کی یہ وہ رائے ہے جو سالہا سال بعد قادیانیوں کی قدر کرنے کے بعد حقیقت حال سے واقف ہو کر قائم کرنی پڑی۔ کیا اسی کو یک طرفہ فیصلہ کہتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ غالباً نواب صاحب مانگرول کو ایک زمانہ تک قادیانی صاحبان نے مغالطہ میں رکھا اور خدمت اسلام کے نام سے وہاں کافی فائدہ اٹھایا، لیکن حقیقت حال سے واقف ہونے کے بعد نواب صاحب موصوف نے اپنی ریاست میں بھی انسداد اور تدارک کا انتظام فرما دیا، چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے روزنامچہ میں لکھا ہے اور یہ روزنامچہ اخبار منادی میں بتاریخ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۳۶ء شائع ہوا کہ آج میں نے نواب صاحب (مانگرول) کا ایک فرمان مانگرول کے شیخ الاسلام کے پاس دیکھا جس میں نواب صاحب نے شیخ الاسلام کو لکھا تھا کہ آپ قادیانی عقائد کی تردید میں جو کچھ کہتے اور لکھتے ہیں میں اس کو اسلام کی بڑی خدمت تصور کرتا ہوں۔

تقریباً تمام مسلم اکابر جنہوں نے مدتوں سطحی واقفیت کی بنا پر قادیانی نمائشات کی

صفحہ 1118

خواب داد دی‘ خوب امداد کی حقیقت کھلنے پر چونک پڑے اور اس بیداری کا قادیانیوں کو قلق ہے‘ پرانی عنایات یاد دلا دلا کر قادیانی صاحبان مسلمانوں سے شکوہ کرتے ہیں حالانکہ شکوہ مسلمانوں کو کرنا چاہیے کہ ان کے حسن ظن اور حسن اخلاق سے بے جا فائدہ اٹھایا گیا‘ بہرحال علما مشائخ ہی نے نہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے سربرآوردہ مسلمانوں نے بھی بخوبی سمجھ لیا اور اقرار کرلیا کہ قادیانیت واقعی عجب دام فریب تھا‘ نہ یوں بھانڈا پھوٹے اور نہ یہ طلسم ٹوٹے کیسے کیسے باوقار اور صاحب اقتدار مسلمان جو کل تک قادیانیوں کے مداح اور حامی کار تھے۔ آج قادیانیوں سے بیزار ہیں اور اپنی سابقہ معاونت سے شرمسار ہیں‘ لیکن ہم کو قادیانی صاحبان کی طرح اشتہار بازی منظور نہیں اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ خود قادیانی صاحبان کو اس کا اقرار ہے ملاحظہ ہو:

”ایک وقت تھا کہ یہ سلسلہ (قادیانی) سب کو کھائے جا رہا تھا۔ دنیا کی نگاہیں بار بار اٹھتی تھی کہ حقیقی کامل یہ جماعت پیدا ہوگئی ہے..... اور آج یہ حالت ہے کہ اچھے اچھے لوگ بھی جن کے دل ادھر کھنچے ہوئے تھے وہ نفرت کرنے لگ گئے“۔

(قادیانیوں کی جماعت لاہور کا اخبار ”پیغام صلح“ لاہور‘ جلد ۲۴‘ نمبر ۶۳‘ مورخہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۳۶ء)

مثلاً خواجہ حسن نظامی صاحب حال میں مانگرول تشریف لے گئے۔ تو ۶؍ فروری ۱۹۳۷ء کی بابت روزنامچہ میں لکھتے ہیں اور یہ روزنامچہ ۱۲؍ فروری ۱۹۳۷ء کے اخبار منادی دہلی میں شائع ہوا کہ ہائی نس نواب صاحب مانگرول کے ہاں ہر وقت علمی چرچے رہتے ہیں..... پہلے قادیانی عقائد کا میلان تھا لیکن اب قادیانیوں کی دونوں پارٹیوں کے منکر ہیں ۔ (فالحمدللہ علی ذلک للمولف)

قادیانی صاحبان جو مسلمانوں کے ساتھ معاملہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی وہی مثل ہے کہ اونٹ کے گلے میں بلی‘ کسی شخص نے سربازار اپنی فیاضی کا اعلان کیا کہ وہ اونٹ اللہ واسطے مفت دینا چاہتا ہے البتہ شرط یہ ہے کہ جو شخص اونٹ لے وہ اس بلی کو قیمتاً خریدے جو اونٹ کے گلے میں بندھی ہوئی ہے اور بلی کی اتنی قیمت رکھ دی کہ اس میں اونٹ بھی مہنگا پڑتا تھا یہی حال قادیانیوں کا ہے کہ ایک طرف ان کا ادعا ہے کہ وہ اسلام کی بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ اسلام کے ساتھ قادیانیت کی تبلیغ کو لازم اور لابد قرار دیتے ہیں کہ جس سے خود اسلام معرض خطر میں پڑ جاتا ہے‘ اس

صفحہ 1119

نہج پر کاروبار چلانا چاہتے ہیں۔ قادیانی جماعت پورے منافع کی طالب ہے اور لاہوری جماعت کمتر منافع پر راضی ہے مگر کاروبار وہی ایک ہے۔

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت را می شناسم

لاہوری جماعت کی دو رخی اب نہیں چل سکتی۔ اتنی مدت چلی یہ بھی تعجب ہے اب اس کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ناگزیر ہے خواہ وہ یکسو مسلمان ہو جائے اور تبلیغ اسلام میں لگ جائے اور خواہ وہ جی کڑا کر کے پکی قادیانی بن جائے اور قادیانیت میں کھپ جائے۔

دورنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
صفحہ 1120

ضمیمہ پنجم

قادیانی کتابیں

قادیانی مذہب کا پہلا ایڈیشن تیار ہوا تو اس وقت مطلوبہ کتابیں بہت کم مل سکیں۔ فرمائشوں کا جواب تک نہ ملا، چنانچہ اس بارہ میں شکایت کرنی پڑی، لیکن ”قادیانی جماعت“ کے نام سے جو رسالہ شائع ہوا جو ضمیمہ اول میں درج ہے، تو رکاوٹ رفع ہوئی اور کتاب کی سبیل پیدا ہو گئی، چنانچہ مقامی کتاب گھر کی معرفت قادیان سے کتابیں آنے لگیں اور اس کے ذریعہ بہت سی کتابیں خرید میں آگئیں۔ اسی زمانہ میں قادیان کے ایک تاجر کتب بھی حیدر آباد آ نکلے، ان سے بھی کچھ کتابیں مل گئیں، کچھ کتابیں راست قادیان سے آگئیں غرض کہ خاصا ذخیرہ فراہم ہو گیا، قادیانی صاحبان کا شکریہ ادا کیا گیا۔

تاہم فرمائش کی متعدد کتابیں مہیا ہونی باقی تھیں، مقامی کتاب گھر نے امروزہ فردا میں بہت زمانہ گزار دیا تو بالآخر راست قادیان فہرست بھیجنی پڑی امید تھی کہ وہاں سے کتابیں آجائیں گی، لیکن مایوسی ہوئی، ان میں سے بعض کے متعلق یہ عذر ہوا کہ وہ نایاب یا کم یاب ہیں، حالانکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے وہ کافی اہم ہیں جب کہ وسیع پیمانہ پر قادیانی تبلیغی لٹریچر شائع کیا جائے تو بعض اصلی کتابوں کا اشاعت سے غائب ہو جانا بہت عجیب اور مایوس کن ہے۔ مریدین و معتقدین، محققین و مناظرین سب متعلقہ جماعتوں کو ان کی ضرورت ہے، ممکن ہے کہ شاید کسی مصلحت سے ان کی اشاعت ختم کر دی گئی یا کچھ وقفہ کے بعد وہ حسب مصلحت ترمیم ہو کر شائع ہوں، چنانچہ مصلحت آمیز ترمیم و تنسیخ کا ایک آدھ نمونہ شائع بھی ہوا ہے، بہر حال ہماری طرف بھی اصل کتابوں کی تلاش

صفحہ 1121

جاری رہی، چنانچہ بڑی جستجو سے کچھ کتابیں ہاتھ لگی ہیں۔ ایک کم یاب مقالہ کلمتہ الفصل حیدرآباد کی قادیانی انجمن کے امیر صاحب سے چند روز کے واسطے مستعار مل گیا۔ جس کا شکریہ ادا کیا گیا، تائید غیب ہوئی تو الفضل اخبار کی بھی اکثر پرانی جلدیں قیمتاً مل گئیں۔ اس طرح قادیانی لٹریچر کا بہت خاصا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ تاہم فراہمی کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مسلمانوں کی لاعلمی اور بے خبری رفع ہو سکے۔

یہ امر قابل ستائش ہے کہ فی الجملہ قادیانی جماعت جناب مرزا صاحب کی اصلی کتابیں شائع کرنے میں زیادہ مستعد بنی ہوئی ہے، وہیں سے بیشتر کتابیں دستیاب ہوتی ہیں۔ لاہوری جماعت نے بھی مرزا صاحب کی کتابیں شائع کی ہیں، لیکن کم۔ ان میں بھی خصوصیت سے عربی کتابیں شامل ہیں، تاکہ عربی ممالک میں کام آئیں، ان کو اپنا تبلیغی لٹریچر شائع کرنے کی زیادہ فکر معلوم ہوتی ہے تحقیق کے واسطے ان کے ہاں سے اصلی مواد کم ملتا ہے، تاہم وہاں سے بھی کتابیں آئیں کچھ معلومات حاصل ہوئیں، دونوں جماعتوں کا شکریہ واجب ہے۔

”قادیانی مذہب“ میں جو اقتباسات درج ہیں ان میں سب نہیں تو ننانوے فی صد سے زیادہ اصل کتابوں سے اخذ کئے گئے۔ شاذ اصل کتابیں نہ ملنے کی صورت میں دیگر کتب سے نقل کرنے پڑے، لیکن یہ کتابیں بھی بجائے خود کافی معروف و مروج ہیں۔ مسلم ہیں صفحوں کے حوالے میں بھی کافی اہتمام کیا گیا، لیکن ایک پیچیدگی رہ گئی وہ یہ کہ مختلف ایڈیشنوں کے صفحوں میں بھی اختلاف نکلا اور بعض ایڈیشنوں پر سن طباعت بھی درج نہیں ملا۔ اس لئے بعض صورتوں میں ایک ایڈیشن کے صفحات کا حوالہ دوسرے ایڈیشن میں بعینہ ملنا ممکن نہیں لیکن ایسی صورتیں معدودے چند ہیں زیادہ نہیں، حاصل کلام یہ ہے کہ جہاں تک موقع ملا، پوری چھان بین کی گئی یوں سہواً انسانی یا کتابت کی غلطی دوسری بات ہے۔

بہر حال جن کتابوں کے اقتباسات و حوالہ جات اس ایڈیشن میں درج ہیں۔ ان کی فہرست ذیل میں پیش ہے، جس سے واضح ہوگا کہ فی الجملہ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں سے مواد لیا گیا، جن میں سوا سو سے زیادہ قادیانی ہیں اور بقیہ غیر قادیانی، ان قادیانی کتب میں پچاس سے زیادہ خود مرزا صاحب کی تصانیف ہیں اور باقی قادیانی اکابر کی کتابیں اور چند اخبار و

صفحہ 1122

رسائل ہیں۔ غیر قادیانی کتب میں پانچ تو فن طب سے متعلق ہیں باقی کتب اخبار و رسائل ہیں۔ جن سے یقینی واقعات نقل کئے گئے ہیں چنانچہ ذیل میں مفصل فہرست درج کرتے ہیں:

(الف) جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصانیف

صفحہ 1123

(ب) میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی تصانیف

(ج) صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی کی تصانیف

صفحہ 1124

(ر) حکیم نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول کی تصانیف

(ہ) مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کی تصانیف

(و) دیگر قادیانی صاحبان کی تصانیف

صفحہ 1125

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب

محمد علی صاحب

سابقہ عقائد پر تبصرہ

صفحہ 1126

(ز) قادیانی اخبار و رسائل

(ح) غیر قادیانی کتب

رحمانی مونگیر شریف

بن عوض المتطبب الکرمانی

صفحہ 1127

(ط) غیر قادیانی اخبار و رسائل

صفحہ 1128

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل ہے۔ جو سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان مدظلہ کی زیر نگرانی باقاعدگی سے کراچی سے ہر ہفتہ شائع ہو رہا ہے۔

جس کا زر سالانہ صرف =/250 روپے منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لیے: منیجر ہفت روزہ ختم نبوت دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ، کراچی نمبر 3

صفحہ 1129

احتساب قادیانیت جلد سوم

مجموعہ رسائل مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

مراق مرزا عمر مرزا اختلافات مرزا بشارت احمدﷺ

نزول مسیح علیہ السلام سلسلہ بہائیہ وفرقہ مرزائیہ مرزائیت کی تردید بطرز جدید

عیسیٰ علیہ السلام کا حج کرنا ، مرزا قادیانی کا بغیر حج کے مرنا

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی

مرزائیت میں یہودیت ونصرانیت مرزا قادیانی نبی نہ (ایک مناظرہ)

حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں حلیہ مسیح مع رسالہ ایک غلطی کا ازالہ

مرزا قادیانی کی کہانی ! مرزائیوں کی زبانی

مرزا غلام احمد رئیس قادیان اور اس کے بارہ نشان

مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں معجزہ اور مسمریزم میں فرق

سنت اللہ کے معنی مع رسالہ واقعات نادرہ انجیل برنباس اور حیات مسیح

حضرت عیسیٰ کا رفع اور آمد ثانی ابن تیمیہ کی زبانی ، مرزا کی کذب بیانی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 1130

احتساب قادیانیت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ، احتساب قادیانیت جلد اول، مولانا لال حسین اخترؒ، احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔

احتساب قادیانیت جلد چہارم

مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل ہوگی۔

مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ: ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“

مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی و المسیح، رسالہ قائد قادیان“

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ: ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب، صدائے ایمان“

مولانا بدر عالم میرٹھیؒ: ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی، دجال، نور ایمان، الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح “

ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔

رابطہ کے لیے :

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 1131

قادیانی مذہب

فہرست مضامین

حصہ اول

دیباچہ 1 تعارف 6 تمہید اول 9 تمہید دوم 19 تمہید سوم 25 تمہید چہارم 34 تمہید پنجم 64

فصل پہلی 118

ذاتی حالات 118

PDF 1132

28- توحید کا گر 137 29- پہلا دورہ 138 30- رمضان کے دورے 139 31- سخت دورہ 139 32- خطرناک 140 33- مراق کا سلسلہ (م) 141 34- مالیخولیا مراق 142 35- مالیخولیا کے کرشمے 144 36- ہسٹیریا (م) 145 37- دق اور سل 146 38- دو چادریں (م) 146 38- (الف) پیشاب کا انتظام (ج) 148 39- دو بیماریاں 148 40- تیس برس 149 41- دائم المرض 150 42- چشم نیم باز 150 43- عصبی کمزوری 151 44- مرض اعصابی 151 45- خرابی حافظہ 151 46- مقدمہ کی فکر 152 47- بے توجہی 152 48- جیب کے ڈھیلے 153 49- مصروفیت اور مراق 153 50- انہماک 154 51- اوہو! 154 52- روٹی کے ٹکڑے 155 53- دوران سر 155 54- دماغی بیہوشی 155 55- خرابی صحت 156 56- سخت بیمار 156 57- مرغوبات 157 58- شکار کی ضرورت 159 58- (الف) کثرت کی آفت (ج) 159 59- درستی صحت 160 60- روغن بادام 160 61- مشک 161 62- عنبر 163 63- مفرح عنبری 164 64- افیون (م) 165 65- سکمونیا 167 66- دو بوتل برانڈی 167 67- ٹانک وائن 168 68- ٹانک وائن کا فتویٰ 168 68- (الف) گھر کا بھیدی (ج) 169 69- مجاہدات 170 70- توہمات 170 71- پنجابی طلق 171 72- نماز 171 73- زنانی نماز 172 74- اسٹیشن کی سیر 173 75- مرزا صاحب کا نسب نامہ 173 75- (الف) ہیضہ کا فیصلہ 175

PDF 1133

76- مرزا صاحب کی وفات 176 77- ایک سخت بیماری 177 77- (الف) موت کی ہلچل (رج) 179 78- مرض الموت 179 79- وقت آخر 180 80- ہیضہ کا واقعہ (م) 181 80- (الف) نعوذ باللہ (م) 182 81- عبرت ناک موت 183 82- عبرت 183

فصل دوسری 186

نبوّت کی تمہید 186

1- نبی رسول 186 2- ختم نبوت پر ایمان بڑا اصرار (م) 186 3- ختم نبوت کے منافی 191 3- (الف) شوکت اور کسر شان (رج) 191 3- (ب) بنی اسرائیل کا خاتم الانبیاء (رج) 192 4- ولایت کے مقام سے نبوت کے نام تک ترقی (م) 192 5- محدثیت سے نبوت تک ترقی 194 6- نبی اللہ 196 7- استعارہ اور مجاز (م) 197 8- نبوت سے معذرت 198 9- راضی نامہ 198 10- کئی مہدی 200 11- مسیح موعود کی اہمیت 200 12- مثیل مسیح بننے پر قناعت (م) 201 13- ذریت کی بشارت 203 14- دمشق تا قادیاں 204 15- بھید کھل گیا 205 16- دعویٰ کی دلیل 206 17- مشابہت 207 18- مسیحیت کے پردہ میں نبوت 208 19- امتی نبی (رج) 209 20- گول مول بات (رج) 210 21- نبوت و ولایت 211

فصل تیسری 212

نبوّت کی تحصیل 212

1- ختم نبوت کی حقیقت (رج) 212 1- (الف) ختم نبوت کی تاویل اپنی نبوت کی تشکیل 212 2- مہر کا فلسفہ (م) 215 3- نبی بننے کی ترکیب 217 4- نبوت کا کمال 219 5- ختم نبوت کی ہتک 219

PDF 1134

فصل چوتھی 247

نبوت کی تکمیل 247

PDF 1135

فصل پانچویں 286

فضیلت کی تفصیل 286

(1) مسلمانوں کے مقابل 286

PDF 1136

25- حضرت آدم پر فضیلت 303 26- دائرہ گول 304 27- انوکھا عقیدہ 304 28- آدم اول و ثانی 304 29- آدم کا جوڑا 305 30- حضرت نوح پر فضیلت 306 31- حضرت یوسف پر فضیلت 306 32- حضرت عیسیٰ پر فضیلت 306 33- خدا مرزا مسیح 308 34- آدم اور عیسیٰ پر فضیلت 309 35- آدم، مسیح اور نوح پر فضیلت 309 36- موسیٰ اور عیسیٰ پر فضیلت 310 37- انبیاء کی ہتک 310 38- مرزا صاحب کا خلق 311 39- محمد رسول اللہ مرزا صاحب 311 40- اسمہ احمد کے مصداق مرزا صاحب 312 41- تعریف کرو 314 42- احمد رسول مرزا صاحب 314 43- احمد کون ہے اور کون نہیں 315 44- محمد اور احمد 315 45- محمد عربی احمد ہندی 316 46- محمد اور احمد کی تقسیم 316 46- (الف) محمد اور احمد دو ظہور (ج) 317 47- مرزا صاحب ابراہیم اور احمد 318 48- حضرت سید المرسلین پر فضیلت 318 48- (الف) بڑی شان (ج) 320 49- ہلال و بدر 321 50- خطبہ الہامیہ (م) 322 51- چودھویں کا چاند 323 52- مرزا صاحب کا خدائی عہد 324 53- عہد منظوم 325 54- سفید بال 326 55- ذہنی ارتقاء 326 56- دو عورتیں 327 57- سارے نبیوں کی بیٹی 327 58- دہ ودودہ 327 59- قادیانی اعتقاد 328 60- قرآن کریم میں مرزا صاحب کی مزید بشارات 328 61- مرزا صاحب کے بشارتی نام 331 62- مرزا صاحب کے گواہ 331 63- مرزا صاحب کی جامعیت 332 64- واحد وجود 333 65- قرضہ یکمشت 334 66- تمام طاقتیں 334 67- اگر حضور ملکہ معظمہ 335 68- خواہ زندہ مر جائے 335 69- مرزا صاحب کے معجزات و نشانات 336 70- جیسا کہ 337 71- مرزا صاحب کا زمانہ (م) 338 72- زندہ ہوا 339 73- قادیانی معروضہ 340 74- سچ پوچھو تو 340

PDF 1137

(ب) ہندوؤں کے مقابل 344

فصل چھٹی 353

انکشافات 353

(1) متفرقات 353

PDF 1138

(ب) پسر موعود کی پیش گوئی 398

PDF 1139

فصل ساتویں 418

ارشادات 418

PDF 1140

فصل آٹھویں 452

تعلقات 452

PDF 1141

30- خواتین مبارکہ 485 31- نامردی کا یقین (ج) 486 32- نمک امتحان 487

فصل نویں 488

معاملات 488

1- دہلی کی شادی 488 2- املاک آمدنی اور خرچ 489 3- چمچی 490 4- رانی درشنی 491 5- منی آرڈر کی وحی (م) 491 6- ایک روپیہ کی شیرینی 493 7- نام کے دام 494 8- پچاس ہزار خواب والہام 494 9- ٹیکس کا مقدمہ 494 10- تلی ہوئی مچھلی 495 11- ہاتھی کے سر پر تیل 495 12- گھر کی بات 495 13- ریل کا سفر 496 14- ریل کا الہام 496 15- بیعت 497 16- قادیانی مباحثے 499 17- مرزا صاحب کے مرید 503 18- فرمان واجب الاذعان 504 19- گورداس پور میں مقدمہ 504 20- فتویٰ 505 20- (الف) چندہ کا مطالبہ (ج) 505 21- مرزا صاحب کے فتوحات 505 22- تحصیل و تشفی 507 22- (الف) بھاری نذر (ج) 514 23- خانگی زندگی (م) 515 24- بڑا اعتراض 516 24- (الف) حساب کی کھٹ پٹ (ج) 517 25- لنگر کا قصہ 518 26- اسراف کا طعنہ 519 27- مالی مناقشے 520 28- مجوزہ بیت المال 522 29- تحریص و ترغیب 523 30- معاملہ کی بات 524 31- بہشتی مقبرہ 525 32- لوگ ترستے مرگئے 527 33- ابوبکر کے ہم پلہ 528 34- وصیتوں کے قصے 528 35- عملی مثال گھناؤنی اور شرمناک 529 36- بہشتی مقبرہ سے خارج 529 37- طاعون کی دعا 530 38- طاعون کا فلسفہ 530 39- ایمان واسباب 532

PDF 1142

فصل دسویں

قادیانی صاحبان اور مسلمان ، دین وملت

(1) اختلاف

(ب) مسلمان

کے لئے کافی نہیں 556 13- مسلمان کا لفظ 557

صفحہ 561

(ج) تکفیر

(د) نماز و حج

(ھ) جنازہ

PDF 1144

(و) نکاح

(ز) میل جول

(ح) حمیت

PDF 1145

97- مباہلہ کا معاملہ 607 98- مقدمہ تیز 609 99- قتل و خونریزی 609 100- قادیانی جوش 610 101- گورنمنٹ کو تنبیہ 612 102- جسمانی موت 612 103- ایمانی غیرت 614 104- محترم بھائی 615 105- تصویر کی تقسیم 616

(ط) مرزا صاحب اور مسلمان

106- غلام احمد اور سید احمد 616 107- سرسید علیہ الرحمۃ کا فتویٰ 617 108- سید جمال الدین افغانی 618 109- مجدد کا دعویٰ 619 110- مولانا ابوالکلام آزاد 619 111- خواجہ حسن نظامی 620 112- میاں سر فضل حسین 622

(ی) تبلیغ

113- مکہ مکرمہ 623 114- مکہ میں مشن 624 115- حج کے راز 624 116- مثیل مدینہ 625 117- بڑا فائدہ 626 118- طوفان نوح 626 119- کلمۃ الفصل 627

PDF 1146

قادیانی مذہب

فہرست مضامین

حصہ دوم

فصل گیارہویں

سیاسیات ۔ دور اول

1- اپنا تعارف 628 2- روح کا جوش 629 3- خاندانی خدمات 629 4- میرا باپ بھائی اور میں 630 5- حق واجب 631 6- قابل گزارش 631 7- پچاس الماری 632 8- بزرگوں سے زیادہ 633 9- بے نظیر کار گزاری 633 10- اسلام کے دو حصے 633 11- گویا اللہ اور رسول 634 12- ہمارے مقاصد 634 13- سب سے زیادہ 635 14- خدا کی طرف مشغول 635 15- فقیرانہ زندگی 636 16- گورنمنٹ کو اطلاع 636 17- بیعت کی شرط 637 18- خیر خواہ اور دعا گو 637 19- یاجوج و ماجوج 638 20- اسلامی ممالک پر توجہ 639 20- (الف) جہاد کی بیہودہ رسم (ج) 639 20- (ب) جہاد حرام قطعا (ج) 639 21- حکومتوں کا فرق 640 22- توجہ کی آرزو 641 23- جشن جوبلی 642 24- جواب کی استدعا (ج) 643 25- مگر افسوس 644 26- شدت تمنا 645 27- تبلیغی معروضہ 645 28- دعاء 645 29- سیاسی خلوت 646 30- تاکیدی نصیحت 646 31- بے نظیر خیر خواہی 647 32- ہماری پرورش 648 33- حرز سلطنت 648 34- سرکاری تصدیق 649

PDF 1147

35- مرزا صاحب کی چٹھیاں 650 36- فنانشل کمشنر صاحب کی آؤ بھگت 650 37- فخر اور شرم 652 38- پرانا اعتراض 653

فصل بارہویں

سیاسیات ۔ دور ثانی

1- پولیٹکل مرکز 654 2- سیاسیات ہی سیاسیات 655 3- سیاسیات میں برتری 655 4- فریب نام 655 5- تخم ریزی 656 6- بڑے احسان 656 7- ایساہی 657 8- قادیانی رنگروٹ 657 9- دعائیہ جلسہ 657 10- کانگریس اور قادیانی جماعت 658 11- شرمناک الزام 659 12- سیاسی مشورے 659 13- پچاس ہزار روپیہ 660 14- آگ کا انگارا 661 15- خوشی کی بات 661 16- نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب 17- قادیانی ایڈریس بحضور نواب سے خط و کتابت 662 لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب 662 18- ممبران پارلیمنٹ میں ایڈریس کی تقسیم 663 19- نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو 20- وزیر ہند سے ملاقات 664 قادیان کی دعوت 664 21- 1921ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند 665 22- مختصر خاکہ (ج) 666 23- امام کی تعلیم 666 24- ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند کی تقریر 667 25- قادیانی ایڈریس بخدمت 26- ایڈریس کا شکریہ 668 ہز رائل ہائی نس پرنس آف ویلز 668 27- 1927ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند 669 28- ناز و نیاز 670 29- ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند کا خط 671 30- ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند سے ملاقات 671 31- خط کا جواب 672 32- ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند کا جواب 672 33- بے بنیاد الزام 673 34- سیاسی شبہات 674

PDF 1148

فصل تیرہویں

سیاسیات—دور ثالث

فصل چودہویں

قادیانی صاحبان اور مسلمان—سیاست و مملکت

(1) قادیانی فرقہ

PDF 1149

(ب) ہندوستان

(ج) اسلامی ممالک

(د) سرحد

(ھ) افغانستان

(و) عراق

(ز) عرب

PDF 1150

33- کیا فائدہ 721

(ح) فلسطین

34- قادیانی مضمون کا شکریہ 722 34- (الف) درخواست دعاء (ج) 723

(ط) ترکی

35- ترک 723 36- سلطان اور خلیفہ 724 37- سلطان ترکی 724 38- قادیانی خلافت 725 39- مٹنے دو 725 40- قادیانی خواہش 726 41- قادیانی رضامندی 726 42- قادیان میں چراغاں 727

(ی) دیگر ممالک

43- بے شک 728 44- قادیانی مجاہد 729 45- تبلیغ اسلام 730 46- تبلیغ احمدیت 730

(ک) خلاصہ

47- سیاست زہر 730 48- سیاسیات سے پرہیز 731 49- مسلم لیگ 731 50- خوشی اور مسرت 732 51- مفاد ملحق 732 52- ظل حمایت 733 53- قادیانی ڈھال 733 54- نرالا تعلق 734 55- نیک ثمرات 734 56- تہنیت فتح کا جشن قادیان میں 735 57- نہایت فائدہ بخش 735 58- فتح کی خوشی 736 59- روحانی عافیت 736 60- قادیانی تلوار 736 61- چوہڑے چمار 737 62- قادیانی حکومت 738

PDF 1151

فصل پندرہویں

قادیانی اکابر

(1) حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول قادیان

(ب) مولوی عبدالکریم صاحب قادیانی

(ج) میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی قادیان

PDF 1152

34- میری صحت 759 35- دودھ 760 36- رویاتیں 760 37- سیدنا محمود، مصلح موعود 761 38- حضرت محمود کی شان 761 39- فخر رسل 762 40- رویا 763 41- میرا انکار 763 41- (الف) میرا جزاء (ج) 763 42- ہمہ صفت موصوف انسان 764 43- خلیفہ قادیان 765 44- اسلام کی ترقی 765 45- سلسلہ خلافت 765 46- دنیا بامید قائم 766 47- یوسف اور عثمان 766 48- حضرت امام حسن کی ناشکری 766 49- نذر 767 50- میرا ہی کام 768 51- بیعت کا مفہوم 768 52- حجت خلیفہ 769 53- ایک ہی 769 54- شخصیت پرستی 770 55- قادیاں کی گدی 771 56- میاں صاحب کی اصلاحات 772 57- دنیا حیران 772 58- بڑے بڑے علوم 773 59- حقائق 773 60- سیدنا محمود کا ذکر قرآن مجید میں 773 61- خدائے قادیان 774 62- اللہ تعالیٰ کے حضور 774 63- بدیہی مسئلہ 774 64- اقرار و انکار 775 65- من مانے معنی 775 66- حقیقی نبی اور رسول 776 67- عظیم الشان نبی 777 68- میاں صاحب کا عقیدہ 777 69- واقع میں 778 70- گورکھ دھندا 778 71- ضلالت اور فساد کے موجب 778 72- عقائد خصوصیہ محمودیہ 779 73- تقریباً 780 74- ابلیس 780 75- تحقیقات 780 76- ہندو اور سکھ 780 77- اس کے معنی ہاتھی 781 78- قادیانی تفسیر 782 79- دعا کے رقعے 783 80- نماز کا وقت 784 81- خط و کتابت 784 82- سچائی کی تلوار 785 83- انجام خراب 787 84- چپڑاسی کا عہدہ 787

PDF 1153

(د) خواجہ کمال الدین صاحب قادیانی

(ھ) مولوی محمد علی صاحب قادیانی، امیر جماعت لاہور

PDF 1154

اختلاف کا فیصلہ 830 145- محسن کش 832

(و) مفتی محمد صادق صاحب قادیانی (رج)

عقیدہ (رج) 836 155- خرابی صحت (رج) 837

فصل سولہویں

قادیانیوں کی جماعت قادیاں

PDF 1155

11- جناب الٰہی سے پکوڑے کھانے کی 12- مسیح قدنی اور قادیان 848 ممانعت (ج) 847 13- اینٹوں میں فرق 849 14- احمدی محلے 849 15- قادیان کی زندگی 849 15- (الف) قادیاں کی خواب بینی 852 16- نفسانفسی 852 17- افسوس کی بات 852 18- ولیمہ کا لطیفہ 853 19- قادیانی اسٹور 854 20- سوروں والا حملہ 855 21- مریدوں کی روک تھام 856 22- اصحاب قادیانی خود اپنی زبانی 856 23- نابالغ جماعت 857 24- مطالعہ کی روک ٹوک 858 25- قادیانی اخبار بینی 859 26- میاں صاحب کے مریدین 859 27- نئے خوجے 859 28- خصی جماعت 860 28- (الف) قادیانی نوجوان (ج) 861 29- بہادری کی تمنا 861 29- (الف) قادیانی بزدلی و دوں ہمتی (ج) 862 29- (ب) قادیانی مقدمے 863 30- گناہ اور منافقت 864 31- قادیانی منافق 864 32- دماغی خللیں 866 32- (الف) قادیانیوں کی برائیاں 867 32- (ب) قادیانیوں کی مخالفت 868 33- قادیانی پروپیگنڈا 868 34- سخت کلامی 869 35- گالیاں 870 36- کیا کیا 870 37- بالکل جھوٹی رپورٹ 871 38- اخبار الفضل قادیان 871 39- غلط بیان کا اعلان 872 40- قادیانی مناظرہ کی رپورٹ 873 41- قادیانی جماعت کا اندوختہ عمل 873 42- شغل سیاست 873 42- (الف) قادیانی مغالطہ 874 43- گول میز کانفرنس 874 44- افسوس اور خوشی 875 45- انگلستان میں قادیانی مشن 876 46- قادیانی مبلغ 877 47- قادیانی مبلغ کے مضامین 878 48- قادیانی پتھر 878 49- قادیانی چکر 878 50- قادیانی علاقہ 879 51- مکسڈینہ 879 52- ہمارے لئے 880 53- یہ سمجھ کر 880 54- بھلائی کی صورت 881

PDF 1156
PDF 1157

فصل سترہویں

قادیانیوں کی جماعت لاہور

فصل اٹھارہویں

دعوؤں کا داخلی نقشہ

PDF 1158

ضمیمہ اول

قادیانی مذہب کی کاوش و تلاش

ضمیمہ دوم

قادیانی حساب

PDF 1159

ضمیمہ سوم

قادیانی کتاب

ضمیمہ چہارم

قادیانی جماعت

قادیانی فریقین

ضمیمہ پنجم

قادیانی کتابیں

PDF 1160

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جملہ حقوق محفوظ

فون : 514122

PDF 1161

قادیانی مذہب

کا

علمی محاسبہ

جدید ایڈیشن

مُؤَلَّفَہ

پروفیسر مُحَمَّد الیاس برنی مُدَّ ظِلُّہُ

سابق صَدرِ شُعبۂ معاشیات جامِعۂ عُثمانیہ حَیدرآباد دکن