قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے · محمد متین خالد
Qadiyaniyo sy Fasla Kun Manazaray · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

قَادِیَانیوں سے فَيصَلَہ کُن

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

مُناظَرے

شاہینِ ختمِ نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ اور قادیانی

مبلغین کے مابین علمی مناظروں کی دلچسپ روداد

ترتیب وتحقیق

محمّد متین خالد

PDF 2

وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

قادیانیوں سے فیصلہ کن

مناظرے

شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ اور قادیانی مبلغین کے مابین علمی مناظروں کی دلچسپ روداد

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان فون 4514122

PDF 3

بسم الله الرحمن الرحيم

فیصلہ کن

مناظرے

PDF 4

”قادیانی مناظر لفظی ہیر پھیر کو نامناسب نہیں سمجھتے۔ اس کے برعکس اس دور میں مناظر بے بدل حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے ”ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ“ کو اپنا شعار بنایا۔ قادیانی سوقیانہ پن اور ابتذال کا مظاہرہ کرتے اور مولانا گھر سے یہ طے کر کے آتے کہ کووں کی کائیں کائیں سن کر عندلیب ہزار داستاں نے اپنی روش زمزمہ پیرائی کو ترک نہیں کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مناظرہ کو مناظرہ نہیں ”مناقرہ“ (چونچ بازی) سمجھتے ہیں۔ سو، حضرت مولانا اللہ وسایا، باطل کے ان وکیلان صفائی کے روبرو حق کے وکیل استغاثہ کے روپ میں پیش ہوتے رہے اور فاتح عیسائیت جناب احمد دیدات کی طرح مناظرے کو مقدمہ جان کر ایک ماہر وکیل کی طرح ہر پہلو سے اس کی تیاری کر کے میدان میں اترتے اور اُنھیں الٹے قدم بھاگنے پر مجبور کر دیتے۔ میں نے ان کے ایسے کئی مناظرے خود دیکھے اور سنے ہیں۔ بڑے بڑے قادیانی مبلغین ان سے گفتگو کرتے ہچکچاتے، گھبراتے بلکہ سٹپٹاتے دیکھے گئے ہیں۔ جب میں قادیانی مناظرین کو مولانا کے دلائل کی تاب نہ لا کر میدان سے مفرور ہوتے دیکھتا تو بے ساختہ قرآن کی ایک آیت کا یہ ٹکڑا میرے ذہن میں تازہ ہو جاتا ”اذا جاء الحق و زہق الباطل ان الباطل کان زہوقا“۔ سچ تو یہ ہے کہ حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ عصر حاضر میں وکیل صداقت ہیں۔ وکیلان صداقت ہی کو اکثر قتیلان صداقت ہونے کا اعزاز و افتخار حاصل ہوا کرتا ہے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے خون شہادت سے روشن شاہراہ پر جرات مندانہ اور دلاورانہ انداز میں گامزن ہیں۔ ان کا لسانی، قلمی اور عملی جہاد جاری و ساری ہے۔“

PDF 5

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب ............. قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے ترتیب وتحقیق ............. محمد متین خالد ناشر ............. عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ............. حضوری باغ روڈ، ملتان فون: 514122 سن اشاعت ............. 2006ء تعداد ............. 500 قیمت ............. -/150 روپے

ملنے کے پتے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان فون: 514122

خزینۂ علم وادب علم وعرفان پبلشرز الکریم مارکیٹ اردو بازار، لاہور 34-اردو بازار، لاہور فون: 7352332 کتاب گھر اشرف بک ایجنسی کمیٹی چوک راولپنڈی فون: 5552929 کمیٹی چوک راولپنڈی فون: 5531610 ویلکم بک پورٹ رحمٰن بک ہاؤس اردو بازار، کراچی فون: 2633151 اردو بازار، کراچی فون: 7766751

PDF 6

فہرست

PDF 7

انتساب!

کے نام

جو الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر گرانقدر اور نا قابل فراموش خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مستقبل کا مؤرخ انھیں اپنے قلم سے خراج تحسین پیش کیے بغیر اپنی تاریخ مکمل نہ کر پائے گا۔

PDF 8

تحفظ

صفحہ 9

”دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان“

انسان کو جس نے بھی حیوان ناطق قرار دیا تھا، یقیناً درست قرار دیا تھا۔ یوں تو بہت سے اوصاف انسان کو دیگر معاصر مخلوقات سے ممیز کرتے ہیں لیکن وہ وصف جو امتیاز خصوصی کی حیثیت اسے شرف و مجد عطا کرتا ہے، وہ ہے اس کی شخصیت کا نطق و بیاں کے زیور سے مرصع ہونا۔ مخلوقات عالم میں انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کی زباں، ابلاغ اور اظہار کی فطری اہلیت اور جبلی استعداد رکھتی ہے۔ اس اہلیت اور استعداد کے رنگ کو شوخ و شنگ بنانے میں ”لفظ“ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ میں تو یہ کہنے کی بھی جسارت کروں گا کہ خالق کائنات کی اولین تخلیق ”لفظ“ ہے۔ انسانی معاشروں میں ایسے انسان ہی منفرد مقام کے حامل ہوتے ہیں جو اس فطری اہلیت اور جبلی استعداد کو بروئے کار لا کر مثبت نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ یوں تو تمام خصائص و اوصاف اللہ ہی نے انسان کو عطا کیے ہیں۔ ان میں سے چند چیدہ اور چنیدہ اوصاف جنھیں انسان کو ودیعت کرنے کے عمل کو اس نے اپنی شان رحیمی کا مظہر قرار دیا ہے، ان میں سے ایک قوت بیاں ہے۔ ایمانیاتی کیفیات اور روحانیاتی محسوسات رکھنے والی باخبر شخصیات کے نزدیک سورۃ رحمٰن قرآن پاک کی دلہن ہے۔ اس سورۃ میں بار بار مختلف نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد خدائے رحمٰن و رحیم انسانوں سے استفسار کرتا ہے ”تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔“ اس سورۃ کی ابتدائی چار آیات انتہائی اہم ہیں: ”وہ رحمٰن ہے 0 اس نے قرآن سکھایا 0 اسی نے انسان کو پیدا کیا 0 اس نے اس کو بات کرنا سکھایا 0“

بات کرنا اور سلیقے سے بات کرنا بلاشبہ ایک فن ہے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ عطیات خداوندی میں سے ہے۔ یونانی تو اسے باقاعدہ Gift of the Gab سے تعبیر کیا کرتے

صفحہ 10

تھے۔ بات برائے بات تو کوئی بات نہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ادھر کوئی لفظ اور جملہ آپ کے ہونٹوں کا الوداعی بوسہ لے اور اُدھر وہ مخاطب اور سامع کے دل میں یوں اتر جائے جیسے صدف کی آغوش میں ابر نیساں کا قطرہ اترتا ہے۔ بات کرنے کا سلیقہ یونہی نہیں آ جاتا۔ یہ سلیقہ سیکھنے کے لیے شائق کو ریاضت اور مشق کی کئی جانکاہ وادیوں کا پُر مصائب اور جانگسل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ اولین دور میں صرف اور صرف الفاظ ہی سب سے بڑی میڈیائی قوت ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں جب انسان قبائلی زندگی بسر کر رہا تھا، قبائل کی تنظیم و تشکیل اور نظام قبائل کا قیام و استحکام ایسے ہی افراد کی مرہونِ منت ہوا کرتا تھا، جو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ڈھنگ جانتے تھے۔ قبائل بات کرنے کے فن سے آشنا فرد ہی کے سر پر سرداری کی دستار رکھا کرتے تھے۔ قبل از اسلام یونانیوں میں ڈیماستھنز، رومیوں میں سسرو اور عرب دنیا میں امراؤ القیس ایسے خطباء کو اہم مقام حاصل تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی خطابت کے پرستار ان کی شخصیت اور فن کی پوجا کیا کرتے تھے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ انسانی ہدایت کے لیے خدا نے ہر بستی میں کوئی نہ کوئی ہادی اور رہبر بھیجا۔ انھیں اسلامی اصطلاح میں رسول، نبی یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔ ہر رسول، نبی اور پیغمبر انفرادی و اجتماعی خوبیوں کے لحاظ سے اکمل شخصیت ہوتا۔ ہر لحاظ، ہر جہت اور ہر پہلو سے ایک مکمل ترین شخصیت۔ اکملیت ہی ان مکمل ترین شخصیات کو ریاست اور معاشرے کے دوسرے شہریوں پر فوقیت اور برتری عطا کرتی۔ ہر نبی زبردست قوتِ اظہار کا مالک ہوتا۔ اس کی فصاحت و بلاغت مسلم الثبوت ہوتی۔ عرب فصاحت و بلاغت اور اظہار و ابلاغ کے باب میں خود کو باقی اہل عالم سے افضل و اعلیٰ گردانتے۔ خاتم الانبیاء حضور سرور عالم محمد عربی ﷺ نے زعمِ زبان آوری اور حیطِ طلاقتِ لسانی میں مبتلا ان فصحائے عالم کے رو برو اعلائے کلمۃ الحق کیا ...... اور ....... اُس ناقابل تسخیر فصاحت و بلاغت میں کیا کہ وہ انگشت بدنداں دکھائی دیے۔ فصحائے عرب کی فصاحت و بلاغت کا نقطہ اختتام حضور ختمی مرتبت کی گفتگو کا نقطہ آغاز ٹھہرا۔ آپ ﷺ جب بھی لب کشا ہوتے، مجمع ساکت و صامت ہو جاتا۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجھے ”جوامع الکلم“ عطا کیے گئے ہیں۔ جہاں تک قرآن کی فصاحت و بلاغت کا تعلق ہے تو اس کا یہ چیلنج چودہ سو چالیس برس سے بدستور برقرار ہے کہ ”آپ (بطور چیلنج) ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور جن اس پر جمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو وہ اس جیسا ہرگز نہ لا سکیں گے، اگرچہ وہ ایک

صفحہ 11

دوسرے سے مدد لیں۔‘‘ (بنی اسرائیل: 88) ایک دوسرے مقام پر یہ چیلنج ان الفاظ میں دہرایا گیا ”اور اگر تم اس کلام کی نسبت جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے، شک میں ہو تو اس جیسی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اللہ کے سوا جو تمھارے مددگار ہیں، ان کو بھی بلالو، اگر تم سچے ہو، پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور تم ہرگز نہیں کرسکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور وہ کافروں کے واسطے تیار کی گئی ہے‘‘ (البقرہ: 23) داعی قرآن کا یہ فرمان بھی اسلام کے ہر داعی کے پیش نظر رہا ہے کہ ”بلاشبہ بعض دفعہ بیان میں بھی سحر ہوتا ہے“

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضور ختمی مرتبت ﷺ کی ختم نبوت کسی بھی دلیل کی محتاج نہیں۔ اس کے باوجود تاریخ کے مختلف ادوار میں ختم نبوت کے ناقابل تسخیر قلعہ میں بعض ”مہم جو“ سارقوں نے نقب زنی کی کوشش کی۔ ان میں سے ہر ایک کو منہ کی کھانا پڑی۔ ختم نبوت ایک واضح اور شفاف عقیدہ ہے۔ ایک حقیقی مومن اس عقیدے کے تحفظ کو اپنی حیات مستعار کا اولین فریضہ تصور کرتا ہے۔ قرنِ اوّل میں صحابہؓ نے منکرین ختم نبوت کے استیصال کے لیے جہاد بالسیف کیا۔ یہ جہاد بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا۔ انیسویں صدی کے آخری عشرہ میں برطانوی استعمار نے برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی نامی ایک طالع آزما شخص کو اپنے مخصوص اہداف وعزائم کے حصول کے لیے اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ اعلان نبوت کرے۔ تب سے جنوب مشرقی ایشیاء کے اس خطے کے پرستاران شمع ختم نبوت نے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام شروع کیا۔ بیسویں صدی کے پہلے عشرہ سے رد قادیانیت کا مسئلہ ایک نئے موضوع کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اس دور کے جید، اکابر اور مستند اعاظم رجال نے اس جھوٹے مدعی نبوت کے وکیلان صفائی سے مباحثوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان مباحثوں کو ہماری مخصوص مسلم معاشرت میں مناظرے کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ مناظروں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس تاریخ کی ایک اہمیت بھی ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جب اس خطے میں برطانوی ملوکیت کا غلبہ قائم ہوگیا تو عیسائی پادریوں نے بلا جواز مسلمانوں کو دعوت مناظرہ دینا شروع کی۔ اس ضمن میں کئی شہرہ آفاق مناظرے ہوئے یہ اسی تسلسل میں قادیانیوں نے بھی اپنے مربی عیسائی حکمرانوں کی روش پر چلتے ہوئے مسلمان اکابرین کو مباہلوں، مجادلوں اور مناظروں کے لیے چیلنج کرنا شروع کیا۔ بسا اوقات مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی ہزیمت اٹھانی پڑی اور وہ مسلمانوں کے ایسے دینی، علمی اور روحانی رہنماؤں اور

صفحہ 12

پیشواؤں کو مباہلے اور مناظرے کی دعوت دے بیٹھتے، جنھیں اسلامیان برصغیر اپنی ارادتوں اور عقیدتوں کا مرجع مانتے۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ گولڑہ شریف، حضرت پیر جماعت علی شاہؒ، حضرت مولانا احمد حسن امروہویؒ، حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے سینہ تان کر اس کی دعوت کو قبول کیا۔ خم ٹھونک کر شیرانہ اور مردانہ وار میدان میں آئے لیکن شغال صفت اور روباہ مزاج مرزا قادیانی ہر بار میدان سے روپوش رہا۔ وہ ذہنی طور پر ان بڑی شخصیات کے علمی شکوہ اور فکری طنطنے سے مرعوب اور ہراساں تھا۔ رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے جو چراغ اکابرین امت نے روشن کیا تھا، ان کے متبعین نے اس کی لوؤں کے طرے کو سر بلند رکھنے کے لیے ہر دور میں اپنے خون جگر کا روغن زرتاب فراہم کیا۔ اس موضوع پر انھوں نے کسی بھی قادیانی سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ سنجیدگی، ثقاہت اور علمی متانت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ اس وضع کے مناظرے نہیں تھے، جس کی ابتداء ایتھنز کے سوفسطائیوں نے رکھی تھی۔ مسلم مناظرین نے لفظی ہیر پھیر سے ہمیشہ اجتناب برتا۔ جبکہ قادیانی مناظر سوفسطائیوں کی پیروی کرتے ہوئے لفظی ہیر پھیر ہی کو اپنا کارگر ہتھیار تصور کرتے رہے۔ قادیانی مناظر لفظی ہیر پھیر کو نامناسب نہیں سمجھتے۔ اس کے برعکس اس دور میں مناظر بے بدل حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے ”ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة“ کو اپنا شعار بنایا۔ قادیانی سوقیانہ پن اور ابتذال کا مظاہرہ کرتے اور مولانا گھر سے یہ طے کر کے آتے کہ کووں کی کائیں کائیں سن کر عندلیب ہزار داستاں نے اپنی روش زمزمہ پیرائی کو ترک نہیں کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مناظرہ کو مناظرہ نہیں ”مناقرہ“ (چونچ بازی) سمجھتے ہیں۔ سو، حضرت مولانا اللہ وسایا، باطل کے ان وکیلان صفائی کے روبرو حق کے وکیل استغاثہ کے روپ میں پیش ہوتے رہے اور فاتح عیسائیت جناب احمد دیدات کی طرح مناظرے کو مقدمہ جان کر ایک ماہر وکیل کی طرح ہر پہلو سے اس کی تیاری کر کے میدان میں اترتے اور انھیں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیتے۔ میں نے ان کے ایسے کئی مناظرے خود دیکھے اور سنے ہیں۔ بڑے بڑے قادیانی مبلغین ان سے گفتگو کرتے ہچکچاتے، گھبراتے بلکہ سٹپٹاتے دیکھے گئے ہیں۔ جب میں قادیانی مناظرین کو مولانا کے دلائل کی تاب نہ لا کر میدان سے فرار ہوتے دیکھتا تو بے ساختہ قرآن کی ایک آیت کا یہ ٹکڑا میرے ذہن میں تازہ ہو جاتا ”اذا جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً“۔ سچ تو یہ ہے کہ

صفحہ 13

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ عصر حاضر میں وکیل صداقت ہیں۔ وکیلان صداقت ہی کو اکثر قتیلان صداقت ہونے کا اعزاز و افتخار حاصل ہوا کرتا ہے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے خون شہادت سے روشن شاہراہ پر جرات مندانہ اور دلاورانہ انداز میں گامزن ہیں۔ ان کا لسانی، قلمی اور عملی جہاد جاری و ساری ہے۔

”قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے“ ایسے ہی حقائق آفریں اور چشم کشا مناظروں کی فکر انگیز روداد ہے۔ میں تو اسے اردو میں دینی ادب کی ایک منفرد رپورٹاژ سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوں۔ حضرت مولانا اللہ وسایا کی سادہ لیکن علمی گفتگو، سلیس مگر دلوں میں اتر جانے والے طرز استدلال کا کمال یہ ہے کہ یہودیت کے چربہ مذہب قادیانیت کا بودا پن بتدریج راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ بلاشبہ حضرت مولانا اللہ وسایا، علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کی چلتی پھرتی تفسیر ہیں:

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان
ہمسایہ جبریل امیں بندہ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں
فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ رحمٰن
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں، وہ طوفان

محمد متین خالد

PDF 14

تحفظ

صفحہ ۱۵

قادیانیوں سے فیصلہ کن

مناظرے

PDF 16

تحفظ

صفحہ 17

مناظرہ منصور آباد، فیصل آباد

زیر نظر رپورٹ فیصل آباد شہر کے ایک علاقے منصور آباد میں محترم ڈاکٹر محمد جمیل صاحب کی قیام گاہ پر ہونے والے مناظرے پر مشتمل ہے۔ یہ مناظرہ 3 جنوری 1982ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ برادر محترم مولانا اللہ وسایا صاحب مرکز ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ اور مرزائیوں کے ساٹھ سالہ تجربہ کار اور گھاگ مربی (جو مغربی جرمنی میں مبلغ رہ چکے تھے اور فیصل آباد میں ایک سکول چلا رہے تھے) تاج محمد بی اے علیگ کے درمیان ہوا۔

مناظرہ کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ قادیانی مبلغ صاحب کے محترم ڈاکٹر محمد جمیل صاحب سے تعلقات تھے جن کی وجہ سے وہ ڈاکٹر صاحب کے پاس جا کر مرزائیت کی تبلیغ کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے سوچا کہ یہ صرف تصویر کا ایک ہی رخ پیش کر رہے ہیں، کیوں نہ مناظرہ و مباحثہ کی صورت پیدا کی جائے۔ چنانچہ باہمی رضامندی سے یہ طے پا گیا کہ کسی دن مجلس مباحثہ مقرر کر لی جائے۔

ڈاکٹر صاحب نے مباحثہ طے ہو جانے کے بعد جامعہ رضویہ جھنگ بازار اور دوسرے مدارس سے رابطہ قائم کیا تا آنکہ کسی نے انھیں جامعہ قاسمیہ غلام محمد آباد کے صدر مدرس حضرت مولانا فضل امین صاحب سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کہا۔

انھوں نے مولانا فضل امین صاحب سے ملاقات کی اور سارا ماجرا گوش گزار کیا۔ مولانا نے دو دن کا وعدہ فرمایا اور یہ یقین دہانی کرا دی کہ انشاء اللہ ضرور بالضرور بات چیت کریں گے۔

2 جنوری کو محلہ مصطفےٰ آباد میں ختم نبوت کانفرنس تھی جس میں مولانا اللہ وسایا

صفحہ 18

صاحب نے شرکت کرنا تھی۔ مولانا جب شام کو ربوہ سے وہاں پہنچے تو حضرت مولانا فضل امین صاحب بھی وہاں پہنچ گئے اور مولانا اللہ وسایا کو بتایا کہ منصور آباد میں مجلس مباحثہ طے ہو چکی ہے لیکن وقت کا تعین نہیں کیا۔ آپ وقت دیجئے تاکہ ڈاکٹر جمیل صاحب کو اس کی اطلاع کر دی جائے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے مولانا کو بتایا کہ اور کسی وقت کے تعین کی ضرورت نہیں۔ ”صبح وہاں چلیں گے۔“

مولانا نے ڈاکٹر صاحب کو اطلاع کر دی۔ اگلے روز مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا فضل امین صاحب کے ہمراہ ڈاکٹر صاحب کی قیام گاہ پر پہنچ گئے اور وہاں ایک گھنٹہ تک مرزائی مبلغ سے گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کو ریکارڈ کر لیا گیا تھا۔ جسے راقم نے ٹیپ ریکارڈ سے قلمبند کر کے ذیل میں پیش کیا ہے۔ اسے میں نے ان دنوں قلمبند کر لیا تھا لیکن بوجوہ (سفر کی وجہ سے) چھپ نہیں سکا تھا۔ تقریباً سوا سال بعد اسے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس مباحثہ میں مولانا اللہ وسایا صاحب نے جہاں علمی گرفت کی، وہاں نزدیک ترین راستہ اپناتے ہوئے زیادہ زور مرزا غلام احمد قادیانی کے حوالوں پر دیا۔

چنانچہ آئندہ صفحات میں آپ دیکھیں گے کہ ان حوالوں کی وجہ سے مرزائی مبلغ پر بری طرح بوکھلاہٹ طاری ہوئی یہاں تک کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ:

”مرزا قادیانی نے غلط کہا۔“

”میں ان کی اس بات کو نہیں مانتا۔“

اور یہ کہ:

”اس بحث کو چھوڑیں کوئی اور بات کریں۔“

تمہیدی خطاب مولانا محمد فضل امین صاحب

حضرت مولانا محمد فضل امین صاحب نے مرزائی مبلغ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی عیسائی مسلمان ہوتا ہے تو پہلے اسلام کی خوبیاں دیکھتا ہے اور بعد ازاں وہ دونوں (یعنی اسلام اور عیسائیت) کا تقابلی جائزہ لیتا ہے۔ اسے اسلام میں خوبیاں نظر آتی ہیں تو وہ عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ ”احمدیت“ ایک سچا مذہب ہے اور آپ ختم نبوت کا انکار کر کے ”احمدیت“ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ کم از کم آپ کا یہ فرض تو ہے کہ آپ یہ بتائیں اور ثابت کریں کہ ”احمدیت“ میں کیا خوبیاں ہیں۔“

صفحہ 19

ہمیشہ کسی مذہب کی خوبیاں ہی انسان کو دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ ”احمدیت“ میں کیا خوبیاں ہیں، وہ کونسا مقناطیسی مادہ اور دلائل موجود ہیں کہ آپ اسلام کو چھوڑ کر اور ختم نبوت جیسے مسلمہ اور اجتماعی مسئلے کا انکار کر کے اس کی طرف چلے گئے؟

مولانا اللہ وسایا صاحب نے بھی آپ کی ”احمدیت“ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے لٹریچر کی روشنی میں انھیں اس مذہب میں عیوب و نقائص نظر آئے اور اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا جو کردار سامنے آیا، اس کی وجہ سے ادھر آنا تو درکنار مولانا اس کی مخالفت پر کمربستہ ہیں اور اسے پوری ملت اسلامیہ کے لیے خطرناک ترین اور گمراہ کن تصور کرتے ہیں۔ تو لہٰذا آپ اپنے مذہب کی خوبیاں پیش کیجئے، مولانا نقائص۔

آپ مجھ سے پوچھیں کہ مولانا! آپ کیوں ختم نبوت کے قائل ہیں؟ اپنے علم اور سمجھ کے مطابق میرا فرض ہے کہ میں دلائل سے ثابت کروں کیونکہ میں حضور ﷺ کا ایک متوالا ہوں اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں بتاؤں کہ آقائے نامدار، تاجدار مدینہ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ میں کیا خوبیاں اور کیا کمالات تھے۔

آپ اپنے بانی سلسلہ (مرزا قادیانی) کے وہ کمالات اور خوبیاں پیش کیجئے جن کی وجہ سے آپ اپنے رشتہ داروں، قرابت داروں غرض پورے کنبے سے الگ ہوئے اور ان کی دشمنی مول لی اور کئی لاکھ روپے کی جائیداد کا نقصان اٹھایا۔ آخر کچھ خوبیاں دیکھ کر ہی آپ نے ایسا کیا ہوگا۔ جو بات بھی ذہن میں موجود ہے، اسے دلائل سے پیش کریں۔ مولانا اللہ وسایا، ان کو سنیں گے پھر وہ عیوب اور نقائص آپ کے سامنے پیش کریں گے۔

مرزائی مبلغ تاج محمد بی اے علیگ: مجھے صرف یہ دیکھنا ہے کہ میں نے کیوں تسلیم کیا۔ مجھے آپ کے شکوک یا کسی دوسرے سے واسطہ نہیں۔ وہ چاہے غلط ہے یا صحیح میں وہ پیش کروں گا۔

مولانا فضل امین: جو شخص کسی مذہب کو قبول کرتا ہے اس کی نگاہ کمالات پر ہوتی ہے اگر کمالات اور خوبیوں پہ نگاہ ہوگی۔ تبھی تو وہ دوسرے مذہب کو قبول کرے گا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دونوں پہلو سامنے آجائیں۔

تاج محمد: میں یہ پیش کرتا ہوں کہ میں نے مرزا قادیانی کو کیوں قبول کیا۔

ڈاکٹر محمد جمیل: دیکھو جی! انھیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے دیں جس طریقے سے

صفحہ 20

بھی کریں اور آپ ان کے پوائنٹس نوٹ کر لیں۔ سب نے کہا۔ ”اچھا تو شروع فرمائیں۔“

مولانا اللہ وسایا: جی آپ ارشاد فرمائیں۔

تاج محمد: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ نبوت بند ہے قرآن کریم اور مرزا قادیانی نے پیش کیا وہ یہی ہے کہ نبوت جاری ہے۔ شریعت والی نہیں بلکہ بغیر شریعت والی...... چنانچہ سورۃ حج لے لیجئے اس میں ہے۔ الله يصطفى من الملئكة رسلا و من الناس (الحج:75) اللہ تعالیٰ چنتا ہے رسول فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے۔ اس کو میں نے اپنے پروفیسر کے سامنے پیش کیا انھوں نے بھی یہی کہا ”چن چکا“ اب نہیں، وہ چونکہ عربی کے پروفیسر تھے میں نے کہا اچھا تو پھر ایاک نعبد و ایاک نستعین (الفاتحہ:4) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔ جس طرح سے یہ ہمیشہ کے لیے ہے، وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہے اس طرح سے ایک تو یہ کہ نبوت جاری ہے دوسرے یہ کہ ہم نے خاتم النبیین کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی نبوت کو کیوں قبول کیا۔ یہ نہیں ہم نے خاتم النبیین کو نہیں چھوڑا بلکہ ہم نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ لیکن خاتم ”بمعنی بند کرنا“ عربی میں آج تک استعمال نہیں ہوا اور خاتم کا لفظ جہاں کہیں بھی استعمال ہوا، وہ نفی کمال کے معنی میں ہے۔ چنانچہ اس وقت عربی زبان میں کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جا سکتی جس میں خاتم بمعنی خاتمہ مراد ہو۔ کم از کم میرے سامنے آج تک باوجود پوچھنے کے نہیں آئی، ہاں خاتم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

مولانا اللہ وسایا: آپ نے دو تین چیزیں بیان فرمائیں۔ میں آپ سے درخواست کروں گا...... ابھی مولانا اللہ وسایا اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ تاج صاحب پھر بولے۔ ”دوسری بات یہ ہے۔“ جس پر مولانا اللہ وسایا صاحب نے کہا میاں صاحب دوسری نہیں فی الحال پہلی سے نپٹ لیں۔ تاج محمد صاحب پھر بولے۔ ایک منٹ،...... اور کہا کہ...... میرا مطلب جو ہے وہ غلط یا صحیح میں نے جو کچھ سمجھا اپنی سمجھ کے مطابق وہ یہ سمجھا، اب ایک شخص آتا ہے وہ کہتا ہے۔ ”آپ نے غلط سمجھا“ میرے سامنے تو یہی ہے کوئی اور ہو تو میں اس پر غور کروں گا۔

مولانا اللہ وسایا: آپ نے جو بیان کیا میں نے اس میں سے تین چیزیں نوٹ کی ہیں۔

صفحہ 21

جاری ہے۔

نہیں۔

احمد کو نہیں مانا، حضور کی اتباع میں تسلیم کیا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی معلومات کی حد تک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یا تو آپ نے مرزا صاحب کے لٹریچر کا مطالعہ نہیں کیا، اگر کیا ہے تو اس پر غور و فکر کی زحمت گوارا نہیں کی۔

آپ کی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں، ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔ اختلاف مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت سے ہوا۔

یہ آپ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضور ﷺ سے لے کر مرزا قادیانی تک کسی کو نبوت نہیں ملی۔ میں یہ کہتا ہوں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ اگر نبوت جاری ہے تو اس عرصہ چودہ سو سال میں کسی اور کو ضرور نبوت ملتی اور آپ یہ بھی بیان کرتے ہیں بلکہ آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد بھی قیامت تک کسی اور کو نبوت نہیں ملے گی۔ ایسے میں اختلاف یہ نہ ہوا کہ نبوت بند ہے یا جاری ہے۔

ڈاکٹر جمیل صاحب: مولانا! ان کا عقیدہ ہے کہ نبوت جاری ہے۔

مولانا اللہ وسایا: نہیں ڈاکٹر صاحب! آپ ان سے کہلوائیں کہ غلام احمد کے بعد کوئی اور نبی آ سکتا ہے؟

مبلغ تاج محمد صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا پھر مولانا اللہ وسایا صاحب بولے گویا تمہاری کتابوں کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ:

حضور ﷺ آخری نبی ہیں یا مرزا غلام احمد قادیانی؟ نبوت ہمارے نزدیک حضور ﷺ پر بند ہے اور آپ کے نزدیک مرزا قادیانی پر بند ہے...... اس صورت میں اختلاف یہ سامنے آیا کہ ”ہم حضور ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور آپ مرزا قادیانی کو۔“

میرا خیال ہے اور اپنے لٹریچر کی بنیاد پر آپ بھی انکار نہیں کریں گے کہ چودہ سو سال کے اندر آپ سوائے مرزا غلام احمد قادیانی کے اور کسی کو نبی نہیں مانتے...... اور یہ

صفحہ 22

بھی آپ کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں۔ باقی یہ کہنا کہ خاتم النبیین کا معنی آخری! ختم کرنے والا کسی جگہ نہیں، صحیح نہیں ہے۔ جناب! ایک لفظ میں بولتا ہوں۔ ایک آپ بولتے ہیں، آپ کے اور میرے الفاظ کا، مولانا فضل امین صاحب ترجمہ کرتے ہیں۔ ممکن ہے ہمارے الفاظ کے معانی میں مولانا غلطی کر جائیں، یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی دوسرے صاحب ترجمہ کریں اور وہ بھی غلط کریں، لیکن جو لفظ میں نے یا آپ نے بولا ہے، اس کا عمدہ سے عمدہ ترجمہ میں خود بتا سکتا ہوں کوئی دوسرا نہیں، آپ جو لفظ بولیں گے اس کا ترجمہ بھی خود ہی بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

خاتم النبیین کا لفظ قرآن پاک میں حضور اکرم ﷺ کے بارے میں آیا اور خداوند قدوس نے انھیں پر نازل فرمایا، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کو میں حضور ﷺ کے دروازے پر لے چلتا ہوں جو حضور ﷺ ترجمہ فرما دیں، آپ اسے بلا چون و چرا تسلیم فرما لیں، پھر جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے شک میں پڑے کیونکہ بقول آپ کے مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ کا معنی وہ نہیں۔ بلکہ یہ ہے، پھر میں آپ کو، آپ کے مرزا قادیانی کے دروازے پر لے چلتا ہوں۔ آیئے! انھیں سے پوچھ لیں کہ وہ خاتم کا معنی کیا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں:

”میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد ہوں۔“

(تریاق القلوب ص 157 روحانی خزائن ج 15 ص 479)

وہاں خاتم النبیین کا لفظ ہے یہاں خاتم الاولاد کا لفظ۔ وہ کہتے ہیں کہ فلاں پیدا ہوا پھر فلاں پھر فلاں اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ”میری ہمشیرہ جنت بی بی نکلی۔“ یہ اس کے اپنے لفظ ہیں میں اس کی خواہ مخواہ کردار کشی نہیں کر رہا بلکہ خود ان کے الفاظ نقل کر رہا ہوں وہ خود یہ کہتے ہیں:

”پہلے میری ماں کے پیٹ سے وہ نکلی، پھر میں نکلا۔“

آپ تو پڑھے لکھے اور علی گڑھ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ آپ ”سلطان القلم“ کی اردو کا بھی اندازہ لگالیں۔

ماں...... جس کے بارے حضور سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر انسان جنت تلاش کرے تو یا میدان جہاد میں تلوار کے سائے میں کرے یا ماں کے قدموں میں،

صفحہ 23

اس کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں سے پہلے وہ نکلی پھر میں نکلا۔‘‘....... خیر! مجھے اس سے بحث نہیں مجھے اگلی درخواست کرنی ہے۔ پہلے وہ کہتے ہیں کہ میری ماں کے پیٹ سے جنت بی بی نکلی پھر میں نکلا اور پھر کہا کہ:

’’میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا۔‘‘

یعنی میرے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئے۔ یہاں انھوں نے خاتم الاولاد کا معنی آخری کیا ہے۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو یہاں خاتم الاولاد کا معنی لیتے ہو، وہی خاتم النبیین میں خاتم کا معنی بھی کیا جائے۔

یا تو آپ حضور ﷺ سے پوچھ کر خاتم النبیین کی تشریح قبول کر لیں اگر وہ قبول نہیں کرتے تو اپنے مرزا قادیانی کی تشریح کو قبول کر لیں۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں۔

’’الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمّی نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم الانبياء بغير استثناء و فسره نبينا صلى الله عليه وسلم فی قوله لا نبی بعدی.‘‘

(حمامة البشریٰ ص 34 خزائن ج 7 ص 200)

یہ حمامة البشریٰ کی عبارت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کی توضیح و تشریح حضور نے یہ فرمائی ہے۔ لا نبی بعدی۔ غلام احمد قادیانی کی اس عبارت کا یہ مطلب ہے کہ خاتم النبیین کا وہ ترجمہ صحیح ہے جو حضور ﷺ نے کیا ہے اور جو حضور ﷺ کے اس ترجمے کو نہیں مانتا وہ بقول ان کے کافر ہے۔ خاتم النبیین کے معنی والی بات بھی آ گئی۔

تاج محمد: نہ بالکل نہیں۔......

مولانا اللہ وسایا: میں نے ابھی مصطفی والی بات کرنی تھی کہ آپ درمیان میں بول اٹھے۔

تاج محمد: نہ....... نہ....... بہرحال میں اس سے بالکل مطمئن نہیں کیونکہ میں نے یہ کہا تھا کہ عربی زبان میں سے کوئی ایک مثال دیجئے کہ خاتم بمعنی خاتم ہو۔ اس معنی میں کہ خاتم النبیین لیتے ہیں اور یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہا۔ یہاں اردو یا فارسی بالکل نہیں، عربی زبان میں پیش کرو۔

مولانا اللہ وسایا: ’’اولاد‘‘ بھی عربی ہے ’’خاتم‘‘ بھی عربی ہے کیا ’’خاتم الاولاد‘‘

صفحہ 24

عربی نہیں؟ آپ اتنی بات کہہ دیں کہ مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے ”خاتم الاولاد“ وہ عربی نہیں۔ ہاں کرو، یا نہ کرو۔

تاج محمد: ہاں تو اولاد کی نفی نہیں ہے، اولاد کی نفی دنیا میں نہیں ہے۔

مولانا اللہ وسایا: اچھا تو میاں تاج صاحب کیا خاتم النبیین کا یہ معنی ہے کہ حضور مہر لگاتے جائیں گے اور نبی بنتے جائیں گے، اگر یہ معنی ہے تو پھر خاتم الاولاد کا بھی یہ ترجمہ کر لو کہ:

”مرزا قادیانی مہر لگاتے جائیں گے اس کی والدہ بچے جنتی جائے گی۔“ کرو ترجمہ۔ منٹ لگاؤ۔ میں نے ابھی اگلی بات بھی کرنی ہے۔

تاج محمد صاحب: میں نے عرض کی ہے۔

مولانا اللہ وسایا: آپ عرض کر رہے۔ میں نے بھی درخواست کی ہے۔ پہلے اس بات کا فیصلہ تو کر لیں۔

تاج محمد: یہ سن لیں یہ عجیب چیز ہے۔

مولانا اللہ وسایا: کیا ”خاتم الاولاد“ کا لفظ عربی نہیں۔

تاج محمد صاحب: دیکھو ڈاکٹر صاحب۔

مولانا اللہ وسایا: افسوس میاں صاحب! آپ میرے جذبات کی قدر نہیں کر رہے۔ میں آپ کے بچوں جیسا ہوں۔ میری آپ سے مخلصانہ درخواست ہے کہ ”خاتم الاولاد“ کا لفظ عربی ہے یا نہیں۔ بتائیے۔

تاج محمد: جی.....کیا۔

مولانا اللہ وسایا: ”خاتم الاولاد“

تاج محمد: خاتم الاولاد..... اردو عبارت میں ہے۔

مولانا اللہ وسایا: مجھے اردو عبارت سے بحث نہیں ”خاتم الاولاد“ کا لفظ عربی ہے یا نہیں۔

تاج محمد: دیکھو ڈاکٹر صاحب (ڈاکٹر محمد جمیل صاحب) چونکہ آپ نے مجھے بلایا ہے۔

صفحہ 25

اس واسطے میں میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محاورات عرب میں خاتم کا لفظ معنی خاتم کبھی استعمال نہیں ہوا۔

مولانا اللہ وسایا: میاں (تاج) صاحب۔

تاج محمد: نہ نہ نا نہ نہ نا میں ڈاکٹر صاحب میں، میں ڈاکٹر صاحب ذرا ٹھہریں میں ڈاکٹر صاحب۔

مولانا اللہ وسایا: جناب! اگر آپ کو حضور اکرم ﷺ کی زبان مبارک پر اعتبار نہیں تو میں آپ کو محاوروں کی طرف لے جاؤں گا۔ اگر آپ مرزا قادیانی کی بات نہیں مانتے تو میں آپ کو لغات والوں کی طرف لے جاؤں گا۔ آپ انکار کر دیں کہ میں حضور ﷺ کا ترجمہ نہیں مانتا۔

تاج محمد صاحب: میں ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہوں۔

مولانا اللہ وسایا: ڈاکٹر صاحب! آپ ان سے اتنی بات پوچھیں کہ کیا ان کو حضور ﷺ کا ترجمہ پسند نہیں۔ خاتم النبیین کا لفظ قرآن پاک میں استعمال ہوا، حضور ﷺ کا ترجمہ غلام احمد کی زبانی ان کی خدمت میں پیش کیا انھوں نے نہیں مانا۔“

غلام احمد قادیانی کی عبارت ان کی خدمت میں پیش کی، انھوں نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا جس میں مرزا صاحب نے خود کہا کہ خاتم النبیین کا ترجمہ حضور ﷺ نے لا نبی بعدی کیا ہے، اس کو مان لو جو اس ترجمہ کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

مولانا فضل امین صاحب: خاتم الاولاد کا لفظ عربی ہے، کوئی کالج کا پروفیسر اس سے انکار نہیں کر سکتا۔

مولانا اللہ وسایا: ڈاکٹر صاحب، بس تاج صاحب اتنی بات کہہ دیں کہ مجھے حضور ﷺ کا ترجمہ اور بعد ازاں مرزا غلام احمد قادیانی کا ترجمہ پسند نہیں، میں ان کو لغت کے دروازے پر لے چلتا ہوں، تاج صاحب! آپ مجھے جہاں فرمائیں، میں جانے کے لیے تیار ہوں، میں آپ کا خادم ہوں بابا جی۔

ڈاکٹر محمد جمیل صاحب: تاج صاحب دیکھئے! دو چیزیں ہیں۔ ایک دلیل سے بات کرنا اور دوسرے بغیر دلیل کے ہٹ دھرمی کرنا۔

صفحہ 26

تاج محمد : ٹھیک جی ...... آہو ...... اچھا۔

ڈاکٹر صاحب: تاج صاحب۔ مولانا صاحب آئے ہیں ان کو اپنی دلیل، کتابوں کے حوالے، قرآن وحدیث کے حوالے حدیث کے حوالے پیش کر کے کہیں کہ میں مطمئن نہیں۔ قرآن اور حدیث کی رو سے۔ دو ہی ہمارے پاس ”اہم ترین“ چیزیں ہیں۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ مولانا اللہ وسایا قرآن وحدیث کی رو سے آپ کو سمجھائیں گے لیکن پھر بھی کوئی مسئلہ رہ جائے تو پھر اس کا حل لیکن آپ گھبرائیں نہ۔ ہر بات بردباری اور تحمل مزاجی سے کریں۔ بچے گھبرایا کرتے ہیں آپ تو اس سٹیج سے نکل چکے ہیں۔ ماشاء اللہ تعلیم یافتہ ہیں۔

مولانا فضل امین صاحب: ہاں تو کیا خاتم الاولاد عربی نہیں، پنجابی لفظ ہے؟

تاج محمد : آپ عرب کے محاورات میں سے مثال دیں کہ اس میں خاتم بند کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

مولانا اللہ وسایا: بس آپ اتنی بات کہہ دیں کہ مرزا قادیانی نے خاتم الاولاد کا ترجمہ غلط کیا ہے۔

تاج محمد : پائی مینوں گل کرن دیو کی کردے او پے سس، سس سس سب نے کہا اچھا جی۔ ”تسیں گل کرو۔“

تاج محمد : دیکھو نہ۔ یہ کہتے ہیں لانبی بعدی یا جو کچھ بھی یہ کہتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ تو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔

مولانا اللہ وسایا: یہ قرآن کی تعلیم کی خلاف ورزی بھی، مرزا غلام احمد قادیانی نے کی ہے۔

تاج محمد : میں کہتا ہوں جس نے بھی کی۔

مولانا اللہ وسایا: یہ کہہ دو کہ انھوں نے غلط کہا۔

تاج محمد : دیکھو جی! مجھے یہ بات نہیں کرنے دیتے۔

ڈاکٹر صاحب: اچھا جی ان کو بات کرنے دیجیے۔

صفحہ 27

تاج محمد: میں کہتا ہوں کہ جس طرح سے آپ کہتے ہیں اور آپ نے یہ خاتم الاولاد کا لفظ پیش کیا ہے۔ جیسے ”غریب“ کا لفظ ہے اردو میں کچھ اور معنی میں، فارسی میں کچھ اور معنی میں اسی طرح سے خاتم الاولاد۔ میں کہتا ہوں کہ عربی زبان میں کسی عرب نے اس لفظ کو بند کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہو۔

ڈاکٹر صاحب: قطع کلامی معاف تاج صاحب! مولانا کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سب سے اعلیٰ ترین، افضل ترین اور افصح العرب حضور اکرم ﷺ ہیں۔ ان کی زبان میں بات کریں۔

تاج محمد: ٹھیک ہے حضور نے جو کچھ فرمایا وہ بالکل بجا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضور کیا فرماتے ہیں۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ یا علی انا خاتم الانبیاء وانت خاتم الاولیاء۔ اے علی میں تو خاتم الانبیاء ہوں اور تو خاتم الاولیاء ہے۔ اپنے چچا حضرت عباس کو فرمایا: اے چچا! میں خاتم النبیین ہوں نبوت میں اور تو خاتم المہاجرین ہے ہجرت میں۔

ڈاکٹر صاحب: تاج صاحب کیا یہ احادیث ہیں؟ اگر یہ احادیث ہیں تو پھر آپ نے خود ہی مان لیا۔

تاج محمد: جی ہاں! ”میں تے من لیا۔“ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خاتم کے معنی بند کرنے کے تو نہ ہوئے نہ۔

مولانا اللہ وسایا: تاج صاحب آپ نے بحث کو لمبا کر دیا۔

ڈاکٹر صاحب: ایک منٹ مولانا! انھیں اپنا جوش ٹھنڈا کر لینے دیں۔

تاج محمد: میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خاتم۔ دیکھو ناں ...... عرض کی کہ خاتم المہاجرین، ہجرت جاری ہے اور آج بھی جاری ہے۔ خاتم الاولیاء ...... آج بھی ولی ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ جس طرح حضور نے فرمایا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں تو خاتم الاولیاء ہے، جس طرح ولایت جاری ہے اس طرح نبوت بھی جاری ہے، جس طرح سے ہجرت جاری ہے اسی طرح سے نبوت بھی جاری ہے۔

اچھا...... دوسری بات یہ ہے کہ جب قرآن یہ کہتا ہے کہ:

صفحہ 28

”خدا تعالیٰ چنتا ہے۔ فرشتوں اور انسانوں میں سے“ اس کے ہوتے ہوئے اس کے معنی کر دینا ”لا نبی بعدی“ یہ بند کرنے کے معنوں میں قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے بلکہ اس کو ہم مطابقت میں لائیں گے کہ: ”ایسا نبی جو کہ حضور کی شریعت کو خارج کر دیوے وہ نہیں آ سکتا۔ دوسرا آ سکتا ہے۔“

مولانا اللہ وسایا: افسوس میاں صاحب! میں جس جذبہ و خلوص کے ساتھ حاضر ہوا تھا آپ نے میرے خلوص اور جذبے کی قدر نہیں کی اور بلاوجہ بحث کو طول دے رہے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ آپ مجھے سمجھانے کی کوشش کریں۔

آپ نے خاتم النبیین کا لفظ بول کر ساتھ ہی یہ ارشاد فرما دیا کہ خاتم النبیین کا یہ ترجمہ نہیں جو ہم کرتے ہیں۔ میں نے مرزا غلام احمد کی دو کتابوں سے حوالہ پیش کیا۔ ایک کتاب میں وہ وہی ترجمہ کرتے ہیں جو حضور ﷺ نے فرمایا یعنی یہ کہ خاتم النبیین کا ترجمہ یہ ہے کہ حضور کے بعد نبی کوئی نہیں۔

ایک خاتم الاولاد کا محاورہ مرزا قادیانی کی اپنی کتاب سے پیش کیا جو تریاق القلوب میں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اردو کا لفظ ہے، میں درخواست کرتا ہوں کہ گو میں غریب آدمی ہوں، مولانا فضل امین صاحب یا ڈاکٹر صاحب میری ذمہ داری دیں گے۔ میں اس شخص کو ایک ہزار روپیہ دوں گا جو یہ ثابت کر دے کہ خاتم الاولاد کا لفظ عربی نہیں، کوئی ماں کا لال جو عربی جانتا ہو، یہ کہہ دے کہ خاتم الاولاد جو مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ وہ بند کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ جو خاتم الاولاد کا معنی ہے، وہی ترجمہ خاتم النبیین کا کر لو۔ یعنی آخری، لیکن افسوس کہ آپ کو نہ حضور ﷺ کا ترجمہ پسند آیا نہ مرزا غلام احمد کا۔ رہی عرب کے محاورے کی بات، میں ایک نہیں، سینکڑوں محاورے پیش کر سکتا ہوں لیکن کم از کم اتنی بات تو فرما دیں کہ مجھے غلام احمد قادیانی کا ترجمہ پسند نہیں اور حضور ﷺ کا ترجمہ بھی پسند نہیں پھر بحث کر کے طے کر لیتے کہ یہ ہے ہمارا تمہارا مشترکہ ترجمہ اور پھر آگے چلتے ہیں۔

اس کے بعد جو حدیث یا کوئی آیت اس ترجمے سے ٹکرائے گی یا تو ہم اس ترجمے کو بدل لیتے یا پھر اس حدیث کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ افسوس کہ آپ نے کوئی

صفحہ 29

بات نہ مانی۔ کتنے صدمے کی بات ہے کہ حضور ﷺ کا ترجمہ بھی قبول نہیں کیا، مرزا غلام احمد قادیانی جس کو نبی مانتے ہیں جس کو مسیح موعود اور مجدد مانتے ہیں، اس کا ترجمہ بھی پسند نہیں آیا...... میں ان باتوں کو چھوڑتا ہوں...... آپ نے کہا کہ حضور نے خاتم المہاجرین کہا ہے۔ میاں صاحب! خدا سے ڈرو۔ اس وقت آپ کی کافی عمر بیت چکی ہے، گور کنارے پہنچ چکے ہیں، یہ لاکھوں یا کروڑوں روپیہ جو آپ نے دنیا میں کمایا، یہ کچھ کام نہیں آئے گا، خدا کے لیے احادیث میں تحریف نہ کیا کرو، یہ خاتم المہاجرین والی جو حدیث ہے، اس کے بارے میں بخاری شریف میں امام بخاریؒ ج 2 ص 715 نے باب فتح مکہ باندھا ہے کہ لا هجرة بعد الفتح یہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے۔ اب دیکھیں کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے سب سے آخر میں ہجرت کر کے مدینہ طیبہ جا رہے تھے، مدینہ طیبہ سے حضور ﷺ فتح مکہ کے لیے تشریف لا رہے تھے۔ حضرت عباس مکہ مکرمہ سے کئی میل دور نکل چکے تو سامنے حضور ﷺ تشریف لے آئے، حضرت عباسؓ دیکھ کر غمزدہ ہو گئے کہ افسوس مجھے ہجرت کا ثواب نہیں ملا۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔

اے عباسؓ! تو خاتم المہاجرین ہے اور تیرے بعد مکہ مکرمہ سے کسی نے ہجرت نہیں کرنی۔ مکہ سے ہجرت کرنے والوں میں سے تو سب سے آخری مہاجر ہے، اس لیے کہ مکہ مکرمہ نے قیامت تک دارالاسلام رہنا ہے۔ ہجرت دارالکفر سے ہوتی ہے دارالاسلام سے نہیں۔ یہ ہے مسئلہ۔

تاج صاحب! بحث برائے بحث اور ضد برائے ضد نہ کرو، آدھی آیت پڑھنی یعنی لا تقربوا الصلواۃ (نماز کے قریب نہ جاؤ) کچھ حصہ آیت کا پڑھ لینا اور کچھ نہ پڑھنا، یہ درست نہیں۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والوں میں حضرت عباسؓ سب سے آخری مہاجر ہیں، اس واسطے حضرت عباسؓ نے قیامت تک مکہ سے ہجرت کرنے والوں کے لیے خاتم المہاجرین رہنا ہے۔

باقی آپ نے فرمایا کہ حضرت علیؓ کو کہا گیا کہ وہ خاتم الاولیاء ہیں، اس کی کوئی روایت پیش کرتے، کوئی حوالہ دیتے۔ میں حضور ﷺ کی روایت پیش کرتا ہوں کہ حضور ﷺ جنگ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا اے علیؓ! میرے بعد تمام تر نظام کو سنبھالنا اور لوگوں کے فیصلے تو نے کرنے ہیں۔ میں جہاد پر جا رہا ہوں حضرت علیؓ کے دل میں خیال آیا کہ اپاہج، معذور، بچے، بوڑھے اور عورتیں سب یہاں ہیں، حضور ﷺ جہاد پر روانہ ہو رہے ہیں۔ میں ان کمزور لوگوں میں ہوں، میں جہاد کے

صفحہ 30

ثواب سے محروم رہ جاؤں گا؟ غمزدہ ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئے، حضور ﷺ نے فرمایا اے علیؓ انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں تجھے معذوروں اور اپاہج لوگوں میں چھوڑے جا رہا ہوں، یہ بات نہیں بلکہ تیری میرے ہاں حیثیت وہی ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تھی، دونوں خدا کے نبی ہیں، موسیٰ علیہ السلام تشریف لے جاتے تو اپنے بھائی کو اپنا قائم مقام بنا کر جاتے تھے۔ اس سے یہ بات پیدا ہو سکتی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام بھی نبی، ہارون علیہ السلام بھی نبی، جس طرح وہاں ایک نبی اپنے جس جانشین کو چھوڑے جا رہا ہے وہ نبی ہے تو کیا یہاں بھی یہی صورت ہے؟ فوراً حضور ﷺ نے اس کا ازالہ فرما دیا کہ "لانبی بعدی" اے علیؓ تو میرا انچارج بھی ضرور ہے اور بھائی بھی، لیکن میرے بعد نبی کوئی نہیں۔ یہ حضور ﷺ کی حدیث ہے، اب آپ بحث نہ کریں میری آپ کی خدمت میں مخلصانہ درخواست ہے کہ خاتم الاولاد اور خاتم النبیین کا معنی جب تک کلیئر نہ ہوگا، صاف نہ ہوگا، آپ اعتراضات کرتے چلے جائیں۔

تاج محمد: اچھا۔

مولانا اللہ وسایا: آپ نے فرمایا اللہ یصطفی، کہ یہ مضارع ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ چنتا ہے اور چنتا رہے گا ہر مضارع استمرار کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ اگر آپ نے یہی ترجمہ کر لیا کہ چن لیا اور چنتا رہے گا تو پھنس جائیں گے مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک الہام ہے وہ کہتے ہیں کہ: یریدون ان یروا طمثک. "بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص 143 خزائن ج 22 ص 581)

یعنی خون دیکھے، کیا اس کا یہ معنی ہے کہ مرزا قادیانی کو خون آتا رہے گا اور بابو الٰہی بخش دیکھتا رہے گا۔ یہ گفتگو شروع ہوئی تو ممکن ہے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے کیونکہ اس قسم کی باتیں اور مرزا قادیانی کی حضور ﷺ کی کمال اتباع۔ یہ باتیں میں بعد میں کروں گا۔ میں اس جذبے سے بیٹھا ہوں کہ میری گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کرو۔

تاج محمد: اچھا...... دیکھو...... میں سمجھا۔

مولانا اللہ وسایا: میں نے کچھ باتیں کرنا تھیں لیکن چلیئے آپ ارشاد فرمائیے۔

صفحہ 31

تاج محمد : جو کچھ میں نے دیکھا۔ ایک تو یہ بات ہے لا نبی بعدی یہ صرف جنگ تبوک کے واسطے ہی تھی۔ پھر دیکھو۔ یعنی جو۔ کہ جو۔ جو۔ جو۔

ڈاکٹر صاحب : تاج صاحب! تسیں گل کرو کھل کے کرو۔

تاج محمد : یعنی...... وہ نہیں...... وقتی طور پر کہ دیکھ بھائی جس طرح ڈاکٹر صاحب کسی کو بٹھا کے جائیں اور کہیں کہ میرے بعد تو ڈاکٹر تو نہیں لیکن میرا جانشین ہے میرا سب کچھ انتظام تیرا ہے گویا اسی طرح لا نبی بعدی ہے۔

دوسری بات کہ ہر مضارع...... نہیں۔ یہ تو ہر۔ ہر۔ ہر یہ کہہ رہا ہے دوسرے خاتم الاولاد آپ نے کہا۔

مولانا اللہ وسایا : کی کی ایہہ مضارع دی گل نوں کیویں پی گئے او، ہر ہر کر کے وچے چھڈ گئے اونوں مکاؤ۔

”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ میں تیرا خون دیکھوں۔“

تاج محمد : میں یہ کہتا ہوں کہ اگر انھوں نے کہا جو کچھ انھوں نے (یعنی مرزا قادیانی نے) کہا غلط کہا۔

مولانا اللہ وسایا : بس بس میاں صاحب اتنی بات نہ کرو اللہ واسطے۔

تاج محمد : بھیڑیو! گل تے کرن دیو۔ ڈاکٹر صاحب ایہہ گل نئیں کرن دیندے...... (جب اس نے کہا کہ مرزا قادیانی نے غلط کہا تو مولانا اللہ وسایا نے فوراً گرفت کر لی جس پر وہ پریشان ہوا)

مولانا اللہ وسایا : ڈاکٹر صاحب آپ ان سے کہیں کہ بس اتنی بات لکھ دیں۔ غلام احمد نے غلط کہا ہے۔“

تاج محمد : ٹھہر جاؤ، گل کرن دیو مینوں۔

ڈاکٹر صاحب : اچھا جی فرماؤ۔

تاج محمد : یہ کہتے ہیں کہ ہر مضارع...... گویا اس کا یہ مطلب ہے کہ چنتا ہے اب نہیں چنتا۔ لیکن میں کہتا ہوں۔ بار بار قرآن میں آتا ہے۔

صفحہ 32

ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ ...... مدینہ میں بھی اللہ تعالیٰ آ کے حضور کو یہ فرماتا ہے کہ:

’’اے مسلمانو! یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں اس حالت میں چھوڑ دے، اس حالت میں کہ تم ہو یہاں تک کہ وہ خبیث اور طیب میں تمیز کرے گا۔ اور تمیز بھی کیسے کرے گا۔ ’’رسول بھیج کر۔‘‘ آل عمران ...... پھر مسلمانوں کو مدینے میں آ کر یہ کہتا ہے کہ رسول بھیجے گا ......

اسی طرح یصطفی مضارع کا صیغہ ہے جس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ رسول چنے گا ...... رہا خاتم النبیین تو اس میں نفی جنس نہیں نفی کمال ہے۔

دنیا میں اب کوئی نبی نہیں آ سکتا بجز آپ کے ...... خاتم النبیین میں بھی ایک خاص نفی ہوئی۔ مطلق نبوت کی نفی نہیں، اس طرح سے خاتم الاولاد ہے جس طرح دنیا میں اولاد کی نفی نہیں ہے۔ اسی طرح سے خاتم النبیین میں نبوت کی نفی نہیں ہے۔ آپ کوئی ایسی بات پیش کرو۔

مولانا اللہ وسایا: آپ نے حوالہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا۔ ساری دنیا کی نفی نہیں کرتے بلکہ گھر کی بات کرتے ہیں کہ:

’’اپنے والدین کے ہاں میں خاتم الاولاد ہوں۔‘‘

تاج محمد: تو پھر خاص ہی ہوئی نہ نفی جنس تو نہ ہوئی۔

مولانا اللہ وسایا: تو پھر آپ یہ معنی کر لیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسا تو کوئی نہیں پیدا ہوگا۔ لیکن اس کی ’’ماں اور ضرور جنے گی۔‘‘ یہ ترجمہ کریں یا یہ ترجمہ کر لو کہ خاتم الاولاد میں خاتم کا معنی مُہر ہے مرزا قادیانی مہر لگاتے جائیں گے، ان کی ماں بچے جنتی جائے گی ...... کیا کر رہے ہیں آپ، کم از کم ’’ختم‘‘ کا معنی تو کریں ...... اور یہ جو آپ کہتے ہیں کہ لا نبی بعدی (جنگ تبوک کے) خاص واقعے سے متعلق ہے میری درخواست سنو ...... (درمیان میں مرزائی مبلغ نے شور مچا دیا) مولانا اللہ وسایا صاحب نے کہا کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ تبوک کے متعلق ہے، وہاں حضور ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ’’میرے بعد نبی کوئی نہیں، آپ نے قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔

’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ یہاں یہ شبہ پڑ سکتا تھا کہ کوئی بے دین اس

صفحہ 33

سے نبوت کے جاری ہونے کی دلیل نہ پکڑے۔ آپ ﷺ اس کی تردید فرماتے گئے جس طرح وہاں یہ تھا انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ۔ ہارون بھی نبی تھے، یہاں حضرت علیؓ بھی نبی ہو سکتے ہیں فوراً حضور ﷺ نے لانبی بعدی۔ اس اشکال کو رفع فرما دیا۔ باقی آپ کا یہ کہنا کہ ہر مضارع استمرار کے لیے ہے، آپ کو مطمئن رہنا چاہیے کہ میں آپ کو مطمئن کروں گا اور سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ آپ سے سمجھوں گا۔

تاج محمد: نہیں نہیں آپ میرے پاس تشریف لائیں۔ میں آپ کو سمجھاؤں گا۔

مولانا اللہ وسایا: میں کروڑ مرتبہ آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے یہاں کا تو تصفیہ کریں آیت میں تو اللہ یصطفی کے بارے میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ مضارع کا صیغہ ہے۔ لیکن یہاں مرزا کی عبارت میں بھی مضارع کا صیغہ ہے، آپ ترجمہ کر دیں کہ ”غلام احمد کو حیض آتا رہے گا اور بابو الٰہی بخش دیکھتا رہے گا۔“

یہاں بھی تو مضارع ہے...... میں ابھی اس بحث میں نہیں پڑتا کہ اللہ یصطفی کا معنی کیا ہے۔

تاج محمد: آپ مجھے سمجھائیں۔

ڈاکٹر صاحب: آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔

تاج محمد: جس طرح سے اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس میں اس کو انہی معنی میں استعمال کرتا ہوں جن معنی میں الحمد شریف میں استعمال ہوا کہ ایاک نعبد

ڈاکٹر صاحب: آپ اپنے ذہن سے یہ معنی لیتے ہیں۔ مولانا صاحب آپ سے دلیل سے بات کرتے ہیں۔ آپ مولانا صاحب سے حوالے پوچھو، حدیث کے پوچھو، قرآن کے پوچھو، آپ کا اپنا ذہن اپنی جگہ پر بالکل درست ہے لیکن آپ کا ذہن کوئی حرف آخر نہیں، آپ دلیل سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔

مولانا اللہ وسایا: ڈاکٹر صاحب! میں میاں تاج محمد صاحب سے افہام و تفہیم کی غرض سے بات کر رہا ہوں، میں باوضو بیٹھا ہوں اور اس جذبے کے تحت آیا ہوں کہ کوئی آدمی مجھے سمجھائے۔ اگر میرا آپ سے گفتگو کرنے کا موڈ نہ ہوتا تو میں آپ کو ایک منٹ میں بند کر دیتا۔ آپ کا یہ ترجمہ منٹ میں تسلیم کر لیتا کہ اللہ چنے گا فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے اور بتاتا کہ غلام احمد تو انسان ہی نہیں ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں یہ

صفحہ 34

لکھا ہے کہ:

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 97 خزائن ج 21 ص 127)

کہتا ہے کہ:

”میں بندے دا پتر ای نئیں جیہدی انسان دی سب توں شرم والی جگہ اے میں اوہ ہاں۔“

غلام احمد کو تو آپ ”بندے دا پتر“ ہی نہیں ثابت کر سکتے چہ جائیکہ اسے نبی ثابت کیا جائے۔

تاج محمد: ہیں، میں، میں ہیں (ہنس کر ٹالنے کی کوشش کی)

مولانا اللہ وسایا: ہنستے کیوں ہیں، حوالہ موجود ہے، حوالہ چاہو۔ بولو، حوالہ پیش کروں اگر یہ حوالہ نہ ہو تو دس ہزار روپے انعام دوں گا۔ کہتا ہے۔

کرم خاکی......

آپ کی بچیاں ہیں؟ بچیاں میری بھی ہیں، بچیاں سب کی ہوتی ہیں۔ کوئی اپنی نوجوان بچی کے سامنے کتاب کھول کے اس سے کہہ سکتا ہے کہ اس کا ترجمہ کرو۔

ڈاکٹر صاحب: آپ کی کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں، اس کا جواب دیں۔

مولانا اللہ وسایا: آپ مجھ سے کتاب کا حوالہ پوچھیں، مجھے کہیں مولوی صاحب سر کیوں مارتے ہو کتاب کا حوالہ دو۔ اگر حوالہ نہ دوں تو ڈاکٹر صاحب فیصلہ کر کے مجرم بنائیں اور یا پھر تاج صاحب آپ اس کا ترجمہ کریں۔

کہتا ہے....... ہوں بشر کی جائے نفرت....... میں نے تو ابھی اس کا ترجمہ کیا ہی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں تاج صاحب خود ترجمہ کریں۔

تاج محمد: میں آپ کے سامنے قرآن پیش کر رہا ہوں اور آپ مرزا قادیانی....... میں مرزا قادیانی....... میں کسی کو بھی نہیں مانتا، میں یہ کہتا ہوں کہ قرآن یہ ہے....... شور....... شور....... شور....... (سب نے کہا کہ دیکھو مرزا قادیانی سے ہی انکار کر بیٹھے)

مولانا اللہ وسایا: ڈاکٹر صاحب! میں نے ابھی مرزا قادیانی کا ایک ہی حوالہ پیش کیا

صفحہ 85

اور یہ پکار اٹھے ہیں کہ میں مرزا قادیانی کو نہیں مانتا...... انھوں نے تو کروڑ دفعہ مرزا غلام احمد قادیانی سے جان چھڑانے کی کوشش کرنی ہے، وہ تو ان کے گلے کا ہار بن جائے گا۔ آپ اب کیوں مرزا قادیانی کا انکار کرتے ہیں۔ سنو! سرور کائنات ﷺ کے تمام تر فرمان میرے سر آنکھوں پر، وہ تم میرے سامنے پیش کرو میرے ماں باپ میری روح میرا جسم قربان حضور ﷺ کے فرمان پر میں اس سے قطعاً انحراف نہ کروں گا؟ اور آپ فوراً بول اٹھے کہ میں غلام احمد کو نہیں مانتا۔ کیوں نہیں مانتے۔ اسے مانو ضرور مانو، میں نے ایک حوالہ دیا اور انکار کر بیٹھے۔ ابھی تو میں پندرہ مرتبہ آپ سے انکار کراؤں گا۔ مزا تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس مجلس میں اس سے انکار کر کے اٹھو...... تو جناب بس اس کا ترجمہ کریں۔ ”ہوں بشر کی جائے نفرت۔“

تاج محمد: میں صرف...... بس بس۔ ایں۔

مولانا اللہ وسایا: ذرا ہمت کرو۔ ایں آں میں وقت ضائع نہ کرو۔

تاج محمد: بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی انھوں نے کہا ہے خاتم الاولاد...... میں نے کہا کہ وہ نفی جنس نہیں یعنی ہمیشہ کے لیے نہیں...... اچھا...... جی...... آپ نے کہا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آپ کی گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیا اور دوسرے لا ھجرة..... آپ کہتے ہیں مکہ سے، میں کہتا ہوں ہجرت تو جاری ہے۔

مولانا اللہ وسایا: لا ھجرة بعد الفتح من المكة: یعنی مکہ مکرمہ سے کوئی ہجرت نہیں ہو سکتی۔ میاں صاحب! میری گزارشات کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ مکہ مکرمہ نے دارالاسلام رہنا ہے، ہجرت دارالاسلام سے نہیں ہوتی، دارالکفر سے ہوتی ہے۔ کافروں کے شہر سے نکل کر مسلمانوں کے شہر کی طرف جانا ہوتا ہے، مسلمان تو اپنے شہر میں رہتا ہے۔ اگر کوئی سفر کرے تو وہ اس کا پرائیویٹ سفر ہو سکتا ہے لیکن ہجرت میں شمار نہ ہوگا۔ حضور ﷺ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ:

”مکہ مکرمہ نے قیامت تک دارالاسلام رہنا ہے۔“

مکہ سے کوئی ہجرت نہیں ہوگی، مکہ سے ہجرت کرنے والے واقعی حضرت عباسؓ آخری مہاجر ہیں۔ ان کے بعد مکہ سے نہ کسی نے ہجرت کی اور نہ کسی کو ہجرت کا ثواب ملے گا۔

لیکن میں نے جو یہ گذارش کی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کے متعلق یہ

صفحہ 36

بحث چل رہی ہے اسے انسان تو ثابت کریں۔ ایک ہی حوالے میں پھنس گئے۔ رہی لغت۔ میں ان کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ ”تاج العروس“ والا یا یہ کوئی لغت کی کتاب لے آئیں خاتم کا معنی ان سے پوچھ لیں وہ اگر اس کا معنی آخری کر دیں تو پھر آپ کی سزا کیا ہوگی؟

چلیے! خاتم القوم ای آخرہم، لغت کا حوالہ ہے بولو۔

تاج محمد: کیا کیا....... تسیں....... آں۔ آں۔ جی۔ آں۔

ڈاکٹر صاحب: تاج یار گل سن!

جب مولانا گرائمر کے حساب سے سمجھانے کی کوشش کر رہے تو پھر بھی کیوں نہیں سمجھتے۔

تاج محمد: خاتم کے یہ جو معنی کر رہے ہیں میں اس سے نفی جنس مراد نہیں لے رہا بلکہ نفی کمال مراد لے رہا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب: تسیں حرف آخر نہیں۔

تاج محمد: میری سنو بھی تو سہی....... بھائی۔ ایک شخص کلام سن رہا ہے وہ لیکچر کے معنی کچھ سمجھے گا یا نہیں۔ یعنی تقریر....... کچھ تو سمجھے گا۔

ڈاکٹر صاحب: بالکل سمجھے گا۔

تاج محمد: فرض کرو آپ نے خاتم الاولاد پیش کیا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اولاد کی نفی نہیں ہوئی۔

مولانا اللہ وسایا: میاں صاحب! آپ نے مرنا نہیں۔ ڈاکٹر صاحب! آپ حوالہ سمجھنے کی کوشش کریں مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ ”میرے والدین کے ہاں فلانی فلانی اولاد پیدا ہوئی۔ وہ کہتے ہیں، پھر پیدا ہوئی جنت بی بی....... اور مرزا قادیانی نے جنت بی بی کا تذکرہ بھی لکھا ہے کہ جس وقت وہ نکلنے لگی تو اس کے پاؤں تھے اور میرا سر تھا....... یہ بھی کتاب میں لکھا ہوا ہے ذرا نبی کا کلام ملاحظہ فرمائیں۔

ڈاکٹر صاحب: ان کی کتاب میں ہے؟

مولانا اللہ وسایا: ہاں ہاں ان کی کتاب میں....... ذرا مجھ سے حوالہ تو پوچھیں۔

صفحہ 37

ڈاکٹر صاحب: کیہڑی کتاب وچ لکھیا ہویا اے۔

مولانا اللہ وسایا: مسکراتے ہوئے...... تھوڑے چراں وچ پتا لگے گا۔ یہاں تاج

صاحب مداخلت کرتے ہیں...... مولانا اللہ وسایا انھیں کہتے ہیں۔

”ذرا ٹھہر تے سہی۔“

تاج محمد: نہیں۔

مولانا اللہ وسایا: مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں نے اس کے پاؤں سے سر ملایا ہوا

تھا۔ یہ نبی صاحب ہیں...... ”نکلن لگیاں سنگ لائی جاندا اے۔“ بہر حال وہ کہتا ہے کہ

میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا...... یہ ساری دنیا کی نفی نہیں کرتا اپنے والدین

کے ہاں سے نفی کرتا ہے...... میاں صاحب میں کہتا ہوں مجھ سے حوالہ تو پوچھیں...... میں

کتاب اس واسطے نہیں لایا کہ یہ انکار کریں اور یہ سمجھیں کہ مولوی کے پاس کچھ نہیں اور

اس طرح یہ مجھ پر سوار ہونے کی کوشش کریں، پھر میں ان کو جواب دوں...... مجھ سے

پوچھیں تو سہی۔ ڈاکٹر صاحب! ان سے پوچھیں کہ کیا انھیں اس حوالے کا علم نہیں۔

ڈاکٹر صاحب: تاج صاحب! اس حوالے کا پتہ ہے؟...... تسلیم کرتے ہیں؟

تاج صاحب: جی اس کا پتہ ہے۔ تسلیم کرتے ہیں۔

مولانا اللہ وسایا: وہ کہتا ہے کہ میں خاتم الاولاد تھا یعنی میرے بعد کوئی لڑکی یا لڑکا

میرے والدین کے ہاں پیدا نہیں ہوا...... یہاں لانفی کمال نہیں اس نے لانفی جنس ترجمہ

کیا ہے...... یعنی میں آخری آیا ہوں......

اب یہاں کر ترجمہ...... یہاں لا نفی کمال کہہ نہ دے۔ منٹ لگا......

رپڑ مکا۔

تاج محمد: مولوی صاحب ذرا ٹھہرو۔ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے۔

ایک اور صاحب: یہاں ایک اور صاحب بولے جو قادیانی تھے کہ یہ آپ سے خاتم

کے معنی ہیں آخر۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قومیں ختم نہیں ہوتیں۔

ڈاکٹر صاحب: تاج! میری بات سن۔ اتنی لمبی بات نہیں، ایک لفظ ہے۔ خاتم......

انھوں نے آپ کے سامنے لغات کے حوالے پیش کیے یا تو آپ ان لغات کو تسلیم

صفحہ 38

نہیں کرتے۔

تاج محمد: کس کو۔

ڈاکٹر صاحب: لغات والوں کو۔

تاج محمد: لغات والا ویسے جو کچھ بھی ہے لیکن محاورے میں وہ کبھی غلطی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ ایک چیز ہے جس میں کسی کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا وہ ہے کسی لفظ کا استعمال۔۔۔۔۔۔ یعنی میں کچھ کروں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کوئی معنی آخری کرے۔۔۔۔۔۔ وہ ہوتا ہے لفظ کا استعمال۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اسی طرح ان میں ایک خاتم کا ہے جس طرح خاتم القوم سے قومیں ختم نہیں ہو گئیں اسی طرح خاتم النبیین سے نبوت ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے ایک شخص کہتا ہے ای آخرہم وہ اپنی طرف سے کر رہے ہیں جہاں تک استعمال کا تعلق ہے وہ خاتم القوم، خاتم المہاجرین، خاتم الاولاد یہ بالکل نفی نہیں کرتے بلکہ ایک خاص قسم کی نفی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب: یہ آپ کے ذہن سے نفی کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کا ذہن یہ کہتا ہے میرے ذہن کے مطابق نفی نہیں۔

تاج محمد: جی ہاں۔

ڈاکٹر صاحب: مولانا آپ کو حوالے دے کر بتا رہے ہیں لغت کے، قرآن کے، حدیث کے، دنیا کے، آپ کے دین کے اور آپ کے مرزا قادیانی کے، لیکن یہ آپ کا ذہن ہے اگر آپ ساری زندگی یہ کہتے رہیں کہ ڈاکٹر میں یہ نہیں مانتا جو مولانا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ بات نہیں۔ یا تو آپ مولانا کی بات کی نفی کرو کہ یہ غلط کہتے ہیں، اسے ہم نوٹ کر لیتے ہیں کوئی اور مولانا صاحب سہی، پھر اگلی بات یہ کہ آپ حوالہ دیں قرآن اور حدیث کا ہم اسے نوٹ کر لیتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لئے کوئی اور مولانا سہی، لیکن یہ بات ٹھیک نہیں۔

مولانا صاحب آپ ساری باتیں غلط کرتے ہیں میں ہی ٹھیک کرتا ہوں۔ کوئی عربی زبان سے محاورہ پیش کرو، آپ خواہ مخواہ بات کو بڑھائے جا رہے ہیں۔

مولانا اللہ وسایا: میں نے انھیں لغت تاج العروس کا حوالہ دیا اور خاتم القوم کا محاورہ پیش کیا لیکن انھوں نے نہیں مانا۔ لغت والے اس کا ترجمہ کرتے ای آخرھم. یہ ترجمہ تمام لغت والوں نے کیا ہے۔ لغت والے نہ تیرے رشتہ دار نہ میرے، وہ غیر جانبدار

صفحہ 39

ہیں ۔ انھوں نے ادب کی خدمت کرنی ہے۔ میاں تاج صاحب نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ چلیے! میں کہتا ہوں خاتم القوم ای آخرھم. کر ترجمہ اس کا نفی جنس ہے یا نفی کمال ہے۔۔۔۔۔۔۔ خاموشی۔۔۔۔۔۔۔

مولانا اللہ وسایا: کر نہ کوئی ترجمہ۔۔۔۔۔۔ مُکا رپھڑ۔

تاج محمد: ذرا بات کرنے دیں۔۔۔۔۔۔۔ آرام سے۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب! خاتم القوم۔۔۔۔۔۔ کیا قومیں ختم ہو گئیں؟

مولانا اللہ وسایا: استغفر اللہ۔

تاج محمد: عجیب بات ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔ ایک شخص کے پاس۔۔۔۔۔۔ خاتم القوم۔

مولانا فضل امین: آگے تو کہیں وہاں ہے ای آخرھم.

تاج محمد: آپ ذرا میری بات سنیں۔۔۔۔۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا دنیا سے قومیں ختم ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔ کیا لغت سے بھاگا جا سکتا ہے میں عربی ٹیچر ہوں۔ میں بھی استاد ہوں۔۔۔۔۔۔ اچھا۔ اس طرح سے جس طرح سے خاتم القوم ہے۔

مولانا اللہ وسایا: از راہ مزاح۔ استاد جی واسطہ رب دا غلط سبق نہ پڑھائیو۔ خاتم القوم کا ترجمہ لغت والوں نے کیا ہے آخری۔ یہ معنی کسی لغت والے نے نہیں کیا کہ ”قومیں ختم ہو گئیں اس لیے کہ قوموں کے ختم ہونے کا سوال نہیں ورنہ لفظ ختم الاقوام ہوتا تب تو قومیں ختم ہو گئیں ترجمہ ہوتا۔ یہاں خاتم کا لفظ جمع قوم کی طرف مضاف کیا کہ یہ شخص قوم کا آخری ہے بلکہ یہ لفظ خاتم لکھ کر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ آخری۔ اسی طرح خاتم النبیین معنی ہے آخری۔ کہ حضورﷺ آخری نبی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آگے چل۔۔۔۔۔۔ یہ لغت ہے کر ترجمہ حضور کو نہیں مانا اب لغت پیش کر رہا ہوں کر ترجمہ خاتم القوم ای آخرھم.

ڈاکٹر صاحب: تاج صاحب! آپ میرے بچے کو پڑھاتے ہیں، اسے کسر کا پتہ نہیں یاد ہے آپ کو، تو آپ نے کہا، پتہ کیسے نہیں میں ابھی سمجھا کے جاتا ہوں۔

چنانچہ آپ نے وہ سمجھائی اور اسے پتہ چلا کہ کسر کسی چیز کا حصہ ہے اسی طرح مولانا آپ کو لغت کا، ان کے لفظی معنی اور بامحاورہ معنی کو سمجھا رہے ہیں پھر آپ کیوں

صفحہ 40

نہیں سمجھتے؟

تاج محمد: ٹھہرو ذرا بات سنو! ایک ہوتی ہے بحث برائے بحث۔

ڈاکٹر صاحب: یہ آپ کی تو بحث برائے بحث ہے۔

تاج محمد: ٹھہرو سنو۔ خدا کی قسم یہ میرے ہاتھ میں قرآن ہے۔ میں بحث برائے بحث نہیں کرتا جو میری سمجھ میں آ رہا ہے میں وہ کہہ رہا ہوں۔

مولانا اللہ وسایا: اچھا تو آپ وہی بات کہہ رہے ہیں جو آپ کی سمجھ میں آ رہا ہے۔

تاج محمد: جی۔

مولانا اللہ وسایا: اللہ واسطے مجھے اتنی بات سمجھا دو کہ مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ......

”میں بندے دا پتر نہیں ۔“

اس کا ترجمہ کیا ہے جو آپ کی سمجھ میں آئے، وہی ترجمہ کر دیں۔ چلیے میں آپ کی سمجھ کو مانتا ہوں۔ کیجئے اس کا ترجمہ کہتا ہے۔

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

تاج محمد: یہ ایک عاجزی کا انتہائی درجہ ہے۔

مولانا اللہ وسایا: آپ بھی ذرا اس عاجزی کا اظہار فرمائیں اور کہہ دیں کہ:

”میں بندے دا پتر نہیں“ کریں عاجزی، میرے نبی ﷺ نے جو انکساری فرمائی، میں، ڈاکٹر صاحب اور ہم جتنے مسلمان بیٹھے ہیں ایک دفعہ نہیں وہ ہم کروڑ مرتبہ انکساری یا عاجزی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جو حضور ﷺ نے لفظ فرمائے ہیں وہ کروڑ مرتبہ دہرانے کے لیے تیار ہوں...... جو غلام احمد قادیانی نے کہا آپ بھی کہیں۔ اس نے کہا ہے...... کرم خاکی...... اور...... نہ آدم زاد...... آپ بھی عاجزی کر کے یہ کہہ دیں کہ بندے دا پتر نہیں...... کر عاجزی...... چاچا آپ تو ٹیچر ہیں میں تو تیرے شاگردوں جیسا ہوں۔

تاج محمد: انھوں نے کہا ہے خاتم القوم کے معنی ہیں آخر۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قومیں ختم نہیں ہو گئیں۔

ڈاکٹر صاحب: تاج! میری بات سن۔ اتنی لمبی بات نہیں، ایک لفظ ہے۔ خاتم......

صفحہ 41

انھوں نے آپ کے سامنے لغات کے حوالے پیش کیے یا تو آپ ان لغات کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس میں قوموں کے ختم کی بات نہیں بلکہ جس شخص کو قوم کا خاتم کہا اس کا معنی لغت والوں نے کیا کہ قوم کا آخری۔ قوم کا آخری فرد۔ آنحضرت ﷺ انبیاء کے آخری فرد ہیں۔

تاج محمد: کس کو۔

ڈاکٹر صاحب: لغات والوں کو۔

تاج محمد: لغات والا ویسے جو کچھ بھی ہے لیکن محاورے میں وہ کبھی غلطی نہیں کر سکتا...... ایک چیز ہے جس میں کسی کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا وہ ہے کسی لفظ کا استعمال...... یعنی میں کچھ کروں....... اسی طرح کوئی معنی آخری کرے....... وہ ہوتا ہے لفظ کا استعمال....... چنانچہ اسی طرح ان میں ایک خاتم کا ہے جس طرح خاتم القوم سے قومیں ختم نہیں ہو گئیں اسی طرح خاتم النبیین سے نبوت ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے۔ ایک شخص کہتا ہے ای آخرہم وہ اپنی طرف سے کر رہے ہیں جہاں تک استعمال کا تعلق ہے وہ خاتم القوم، خاتم المہاجرین، خاتم الاولاد یہ بالکل نفی نہیں کرتے بلکہ ایک خاص قسم کی نفی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب: یہ آپ کے ذہن سے نفی کرتی ہیں....... آپ کا ذہن یہ کہتا ہے میرے ذہن کے مطابق نفی نہیں۔ بلکہ قوموں، اولادوں اور مہاجرین کے ختم کی بحث نہیں بلکہ جس شخص کو خاتم کہا وہ آخری ہے۔ یہ لغت کا فیصلہ ہے۔

تاج محمد: جی ہاں۔

ڈاکٹر صاحب: مولانا آپ کو حوالے دے کر بتا رہے ہیں لغت کے، قرآن کے، حدیث کے، دنیاوی۔ آپ کے دین کے اور آپ کے مرزا قادیانی کے لیکن یہ آپ کا ذہن ہے اگر آپ ساری زندگی یہ کہتے رہیں کہ ڈاکٹر میں یہ نہیں مانتا جو مولانا کہتے ہیں....... یہ بات نہیں یا تو آپ مولانا کی بات کی نفی کرو کہ یہ غلط کہتے ہیں، اسے ہم نوٹ کر لیتے ہیں کوئی اور مولانا صاحب سہی، پھر اگلی بات یہ کہ آپ حوالہ دیں قرآن اور حدیث کا ہم اسے نوٹ کر لیتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے کوئی اور مولانا سہی، لیکن یہ بات ٹھیک نہیں۔ آپ بلاوجہ کہتے رہیں میں نہیں مانتا۔ نہیں مانتا تو اس کا کیا علاج ہے کہ مولانا صاحب آپ ساری باتیں غلط کرتے ہیں صرف میں ہی ٹھیک کہتا ہوں۔

صفحہ 42

تاج محمد : نہیں نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ایک دلیل پیش کی ہے......

ڈاکٹر صاحب: یہ ایک ایسی علت ہے جسے ڈاکٹری زبان میں بڑا عجیب سا لفظ سمجھتے ہیں اور یہ اس عمر میں پیدا ہو جاتی ہے...... میں آپ کی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں...... میں آپ کی ہر بات مانوں گا لیکن علم کسی کا حرف آخر نہیں...... آپ اگر یہ کہیں کہ میں جو کہتا ہوں وہ حرف آخر ہے۔ مولانا جو کہتے ہیں وہ حرف آخر نہیں، انھوں نے پچاس حوالے دیے آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا...... سوال یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی حوالے پیش کریں...... وہ بھی پیش کریں پھر بھی اگر کسی پوائنٹ پر آپ کا ذہن مطمئن نہیں ہوتا اور دوسرے مولانا موجود ہیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے کہ آپ ہر بات پر یہ کہیں۔ ”میں نہیں مانتا۔“

تاج محمد: ذرا ٹھہرو...... ایک بات اور سنیں۔

ڈاکٹر صاحب: ایک نہیں ہزار سناؤ لیکن اس کو دلیل کے ساتھ قرآن تیرے پاس ہے اس کی رو سے بات کر، حدیث تیرے پاس ہے اس کی رو سے کر، اس سے پیش کر...... اگر آپ کے پاس نہیں ہمارے پاس موجود ہے اس سے حل کر۔ پھر اسے سمجھ اور مولانا کو سمجھا۔ میں اسے نوٹ کر لیتا ہوں کسی اور مولانا کو بلا لیتے ہیں۔ اگر یہ غلط کہتے ہیں تو دوسرا صحیح کہے گا اگر وہ بھی غلط کہیں گے تو تیسرا سہی۔ کوئی بات حرف آخر نہیں۔

تاج محمد: ٹھیک ہے......

ڈاکٹر صاحب: آپ جو مولانا کی دلیل کو رد کرتے ہیں وہ صرف دلیل سے کر سکتے ہیں، قرآن سے کر سکتے ہیں، حدیث سے کر سکتے ہیں، اپنے مرزا قادیانی کی کتابوں سے کر سکتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ”میں نہیں مانتا۔“

تاج محمد: پھر سنو! دیکھو...... میں نے...... میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انھوں نے خاتم القوم کے معنی یہ کیے۔ جس طرح قوموں کا خاتمہ نہیں ہوتا، قومیں جاری رہتی ہیں اسی طرح یہ خاتم کا معنی جو ہے نفی جنس نہیں...... اچھا۔

ڈاکٹر صاحب: یہ گرائمر...... روز پڑھاتے ہو...... کسی بھی زبان کو سیکھنے کے لیے اس کی گرائمر انتہائی ضروری ہے۔ انگریزی اردو، فارسی، سنسکرت، کوئی زبان بھی لیں گرائمر

صفحہ 43

کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

تاج محمد: ٹھیک ہے۔ ہاں۔ ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صاحب: اگر آپ یہ کہتے رہیں کہ ”میں نہیں مانتا“ مولانا اللہ وسایا کہیں کہ میں تجھ سے منواؤں گا...... یہ بات نہیں۔ یہ گرائمر موجود ہے ہم عربی کی گرائمریں منگوا لیتے ہیں اس کے لحاظ سے اس کا ترجمہ کریں۔ آخر کسی صورت تو ماننا، پڑے گا۔ میں آپ کو نہیں جانے دوں گا چاہے دو دن بھوکے رہو۔

مولانا جو بات منواتے ہیں وہ نہ مان اور کوئی کہتا ہے وہ نہ مان لیکن اس گرائمر کی رُو سے جو ترجمہ ہے وہ ماننا پڑے گا۔ نہیں تو میں نے تینوں نہیں چھوڑنا۔

تاج محمد: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صاحب: میں اپنی زبان سے کوئی مہمل کلمہ بول دیتا ہوں۔ دوسرا صحیح کلمہ بولتا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ یہ آپ کو گرائمر کی رو سے ماننا پڑے گا۔ آپ اپنے شاگردوں کو نمبر دیتے ہیں۔ ہم شاگرد ہیں کیا ان کے نمبر نہیں دیتے کہ اس بچے نے مہمل کلمہ لکھا ہے، اس بچے نے صحیح کلمہ لکھا ہے یہ حرف کی تعریف ٹھیک لکھی ہے یہ غلط لکھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سے انکار نہیں کر سکتے، اگر مولانا گرائمر نہیں جانتے یا گرائمر کے لحاظ سے نہیں سمجھاتے تو میں دوسرے مولانا کو ابھی منگوا لیتا ہوں لیکن یہ بات آپ نہیں کہہ سکتے کہ جو میں کہتا ہوں وہ حرف آخر ہے اور جو مولانا اللہ وسایا کہتے ہیں حرف آخر نہیں وہ آپ کو دلیل سے سمجھاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں...... ”میں نہیں مانتا“ یہ غلط ہے۔ دلیل سے اپنے دماغ کے خانے میں ان کی بات کو بٹھانے کی کوشش کرو۔

مولانا اللہ وسایا: آپ نے حضور اکرم ﷺ کی خاتم النبیین والی آیت کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ خاتم النبیین کا معنی آخری نہیں میں نے ابتداء میں آپ سے درخواست کی کہ حضور ﷺ سے اس کا ترجمہ پوچھ لیں مدینے والے رحمت عالم ﷺ جو اس کا ترجمہ فرما دیں آپ بھی مان لیں میں بھی مان لیتا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب: عکرمہؓ ابو جہل کے بیٹے تھے؟

تاج محمد: ہاں۔

صفحہ 44

ڈاکٹر صاحب: وہ کہتا تھا کہ حضور خاتم النبیین ہیں، میں ان کو مانتا ہوں۔ اس کا ابا الو کا پٹھا کہتا تھا میں نہیں مانتا...... وہ کہے جا رہا ہے میں نہیں مانتا اس کا بیٹا مانتا ہے کتنے ہی دلائل اس کے ابے کو دیے گئے وہ نہ مانا اگر آپ نے نہیں ماننا تو اس کا تو کوئی حل نہ مولانا کے پاس ہے نہ میرے پاس، آپ دلائل سے بات کریں اپنی کتابوں کا حوالہ دیں، اپنی احادیث کا حوالہ دیں اپنے پیغمبر کا حوالہ دیں اپنے (ہمارے نہ) اپنے آخری رسول کا حوالہ دیں یا ہمارے آخری رسول ﷺ کا دیں بات تو ہے سمجھنے کی، اپنے ذہن میں لانے کی، اپنی عقل میں بٹھانے کی، اپنے آپ کو ہوش میں لانے کی اگر وہ دلیل سے بات کرتے ہیں تو اس کا جواب دلیل سے دیں۔ چلیں۔

مولانا اللہ وسایا: اگر میں خاتم کا معنی وہی تسلیم کر لوں تو یہ بتائیں کہ کیا چودہ سو سال میں کوئی اور حضور کے بعد نبی بنا؟ اس کا جواب دیں۔

تاج محمد: یار ایہدا جواب میرے پاس نہیں۔

ڈاکٹر صاحب: تاج! خاتم النبیین کا جو ترجمہ آپ کرتے ہیں اس کا یہاں اردو میں ترجمہ لکھیں....... ڈاکٹر صاحب کے کہنے سے وہ قرآن پاک پر ترجمہ لکھنے لگا تو مولانا اللہ وسایا صاحب نے اسے روکا کہ ”قرآن پاک کو بطور تختی کے استعمال نہ کریں۔ چنانچہ انھوں نے لکھا۔

آواز آئی...... کی لکھیا۔

مولانا اللہ وسایا: انھوں نے لکھا ہے۔ خاتم النبیین کا معنی۔ نبیوں میں سب سے بڑا چلئے اس کے ثبوت کے لیے کوئی آیت پیش کریں۔ کوئی حدیث پیش کریں۔ کوئی لغت کی کتاب پیش کریں۔

تاج محمد: خاتم المہاجرین جو میں نے پیش کیا۔

ڈاکٹر صاحب: یہ آپ نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ قرآن پاک آپ کے پاس ہے، نکال لیں اس میں سے کہ ہے کہیں یہ ترجمہ۔

جتنے بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، سب نے تاج صاحب پر زور دیا کہ کڈھ کڈھ ایہہ ترجمہ...... جلدی کر۔ لیکن خاموشی جواب ندارد۔

صفحہ 45

مولانا اللہ وسایا: حضرت آدم ؑ سے لے کر حضور اکرم ﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے، وہ سب کے سب نسل انسانی میں سے تھے۔ یہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور مرزا قادیانی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ:

"میں بندے دا پتر ای نہیں۔"

اگر میں نے یہ عبارت غلط پڑھی ہے، ان کی کتاب میں نہیں، ان کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ کتاب سے انکار کر دیں...... میں مجرم۔"

اگر حوالہ نہ دکھاؤں جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ یا جو ڈاکٹر صاحب تجویز فرما دیں...... میرے واسطے حضور ﷺ کی حدیث حجت، تمھارے لیے غلام احمد کا کلام حجت، تم حضور کی حدیث پڑھو۔ "میں تہاڈا منہ چماں۔" میں غلام احمد قادیانی کی "حدیث" پڑھتا ہوں، آپ مجھے شاباش نہیں دیتے۔ اس کا ترجمہ تو کر دیں اب کیجئے ترجمہ۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

اردو ہے، آپ علی گڑھ کے پڑھے ہوئے ہیں کریں ترجمہ یا پھر علی گڑھ کی سندات پھاڑ ڈالیں۔

تاج محمد: بھائی ٹھیک ہے۔ یہ جو چیزیں ہیں، یہ آپ نے کچھ ریفرنس پیش کیے ہیں۔ ان پر غور کروں گا۔

ڈاکٹر صاحب: کر دیں ترجمہ۔

تاج محمد: نہیں...... ٹائم دیکھو۔

ڈاکٹر صاحب: ایہہ گل غلط اے۔ آپ کا کیا مطلب ہے کہ مولانا فارغ ہیں۔

تاج محمد: نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے علم ہوتا تو میں ایک دن فارغ کر لیتا...... دیکھو نہ۔

مولانا فضل امین: مولانا اللہ وسایا صاحب دوسرا حوالہ پیش کریں۔

تاج محمد: نہیں یار نہیں...... اس کے لیے مولانا کچھ وقت چاہیے۔

مولانا اللہ وسایا: میں آپ سے کوئی وقت کی پابندی نہیں لگاتا جو آپ ریفرنس پیش کریں میں سنوں گا۔ آپ پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن مجھ سے ریفرنس سننے کی آپ آمادگی

صفحہ 46

پیدا کریں۔

تاج محمد: میں آپ کا پابند نہیں۔

مولانا اللہ وسایا: میاں صاحب! آپ ساری دنیا سے یہ کہتے ہیں کہ مولوی ہم سے لڑتے ہیں۔ کونسا مولوی لڑتا ہے؟ میں نے تو ٹھنڈی ٹھنڈی باتیں کی ہیں۔ کہتے ہیں جی مولوی تو گالیاں نکالتے ہیں...... وہ کونسا مولوی ہے جو گالیاں نکالتا ہے۔ میں نے تو پیار سے گذارشات پیش کی ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ...... ”میں بندے دا پتر ای نئیں۔“

تاج محمد: ”یار اس توں علاوہ کوئی ہور گل کر۔“

مولانا اللہ وسایا: مرزا قادیانی کی اس بات کا مرزائی قیامت تک جواب نہیں دے سکتے۔ پوری دنیا کے قادیانی اکٹھے ہو جائیں، اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ کے گیا ہے۔

دوسری بات سنیے ۔ عام مسلمان چھوٹے سے چھوٹے مسلمان کسی سے پوچھ لیں اور تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی دھوکے باز نہیں ہوتا، نبی جھوٹ نہیں بولتا۔ فراڈ نہیں کرتا...... میری درخواست یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بیک وقت ایک کام میں دھوکہ اور فراڈ کیا اور فراڈیا نبی نہیں ہو سکتا۔

مرزا قادیانی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ”براہین احمدیہ“ ہے انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ مجھے پیسے دیں اور پیسے دے کر مطمئن رہیں میں حقائق اسلام پر ایک کتاب لکھنے لگا ہوں، اس کتاب کی پچاس جلدیں ہوں گی اور 50 جلدوں کی یہ قیمت ہے مجھے پیشگی بھیج دو، کیونکہ میرے پاس اس کی طباعت کے لیے رقم نہیں ہے..... لوگوں نے پیسے دیے۔ مرزا قادیانی نے ہمت کر کے صرف ایک بڑی موٹی اور ضخیم کتاب چار جلدوں میں لکھ دی اور اسے چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔

حصہ اوّل، دوم، سوم، چہارم چار حصوں میں چھاپ کر کہنے لگے کہ چار جلدیں آ گئیں باقی چھیالیس جلدیں بچ گئیں پیسے پچاس کے لیے اور کتاب چار حصے بنا کر ایک ہی دی۔

کافی عرصہ گزر گیا لوگوں نے خط لکھنے شروع کر دیے کہ حضرت صاحب کتاب نہیں آئی...... مرزا قادیانی خود بھی کہتے ہیں کہ نورالدین نے بھی مجھے خط لکھا کہ یا تو

صفحہ 47

کتابیں پوری کرو یا پیسے واپس کرو لوگ ہم سے بدظن ہیں۔ پھر بھی مرزا قادیانی نے نہ کتابیں پوری لکھیں اور نہ پیسے واپس کیے کافی عرصہ کے بعد پانچویں جلد لکھ دی اور اس میں اعلان کر دیا کہ پچاس اور پانچ میں ایک نقطہ کا فرق ہے لہذا پانچ سے وہ وعدہ پورا ہو گیا...... حوالہ موجود ہے۔

بات یہیں تک پہنچی تھی کہ مرزائی مبلغ وقت کی قلت بہانہ کر کے اٹھ کھڑے ہوئے اور مجلس برخاست ہو گئی۔ پھر کبھی گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

(نوٹ: یہ گفتگو ٹیپ ریکارڈ میں محفوظ اور من وعن نقل کی گئی از قلم مولانا محمد حنیف ندیم سہارنپوری)

۞......۞......۞

صفحہ 48

مناظرہ چنگا بنگیال

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات کی سہ ماہی میٹنگ میں 26 شوال سے 26 ذیقعدہ 1424ھ تک فقیر (مولانا اللہ وسایا) کے پروگرام شیخوپورہ، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، میانوالی، لیہ اور بھکر کے اضلاع کے لیے طے ہوئے۔ گجرات سے فراغت کے بعد مجھے راولپنڈی جانا تھا۔ درمیان میں جمعرات کا دن 15 ذیقعدہ 1424ھ مطابق 8 جنوری 2004ء سفر کے لیے فارغ رکھا تھا۔ چنگا بنگیال کے محترم جناب پروفیسر محمد آصف کو خط لکھ دیا کہ اس دن آپ کی لائبریری دیکھنے کے لیے حاضر ہونا ہے۔

چنانچہ چنگا بنگیال جانے کے لیے گوجر خان صبح دس گیارہ بجے جمعرات کو حاضر ہو گیا۔ محترم پروفیسر صاحب نے بتایا کہ چنگا بنگیال کے قادیانیوں سے میری رشتہ داری ہے۔ ان سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ آپ کا خط ملا تو آج ان سے قادیانیت پر گفتگو رکھی ہے۔ قادیانی اور مسلمان چند رشتہ دار بیٹھک میں جمع ہوں گے۔ قادیانی مربی آئے گا۔ آپ گفتگو کریں گے۔ لیکن ہم نے آپ کا نام نہیں بتانا۔ صرف یہ کہہ کر تعارف کرائیں گے کہ ہمارے دوست ہیں اور گفتگو شروع ہو جائے گی۔ فقیر نے عرض کیا کہ میرا آنا اختیاری تھا۔ آپ سے وعدہ نہ تھا۔ کوئی ضروری کام ہو جاتا تو سفر کینسل بھی ہو سکتا تھا۔ آپ نے گفتگو رکھی تو مجھے اطلاع ہونی چاہیے تھی، تاکہ سفر یقینی ہو جاتا۔ ورنہ حاضر نہ ہونے کی صورت میں آپ کو پریشانی ہوتی۔ خیر گفتگو کس عنوان پر ہوگی؟ انھوں نے بتایا کہ ہم مرزا قادیانی کے حوالہ سے گفتگو کریں گے۔ پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ میری گفتگو چل رہی ہے۔ میں ہی گفتگو کا آغاز کروں گا۔ جہاں ضروری ہوا آپ شامل گفتگو

صفحہ 49

ہو جائیں گے۔ طے ہوا کہ ظہر کے بعد گوجر خان سے چلیں گے۔ چنانچہ پروفیسر صاحب قادیانیوں کو گفتگو کا پابند کرنے کے لیے چنگا بنگیال چلے گئے۔ ہم حسب وعدہ ظہر کے بعد روانہ ہوئے۔ لیکن آگے سڑک پر گیس والے کھدائی کر رہے تھے۔ سڑک بند تھی۔ ٹریفک بلاک تھی۔ کچھ پیدل چلنا پڑا۔ ہمیں وہاں پہنچتے پہنچتے عصر ہو گئی۔ عصر پڑھ کر قادیانیوں کے مکان پر حاضر ہوئے اور گفتگو ہوئی۔

فضل احمد: چنگا بنگیال کے ایک قادیانی فضل احمد تھے۔ اچھے ذی استعداد عالم تھے۔ طبیعت آزاد پائی تھی۔ ایک کتاب ”اسرار شریعت“ کئی حصوں میں لکھی۔ مرزا قادیانی کا تعارف سنا، قادیان گئے اور قادیانیت کا طوق پہن لیا۔ الفضل قادیان کے کچھ عرصہ ایڈیٹر بھی رہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ الفضل قادیان کا نام بھی ان کی مناسبت سے الفضل رکھا گیا۔ اسرار شریعت میں انھوں نے اسرار و حکمتیں بیان کی ہیں کہ نمازیں پانچ کیوں ہیں؟ دن کو اتنی، رات کو اتنی، فرض اتنے، سنتیں اتنی، یہ کیوں؟ وغیرہ وغیرہ۔ مرزا قادیانی نے اس اسرار شریعت سے صفحات کے صفحات اپنی کتابوں، اسلامی اصول کی فلاسفی، برکات الدعا، کشتی نوح، نسیم دعوت اور آریہ دھرم میں ان کا نام ذکر کیے بغیر نقل کر کے اسے اپنی تصنیف ظاہر کیا۔

ایک بار قادیانیوں نے ”کمالاتِ اشرفیہ“ نامی کتابچہ شائع کیا۔ مرزا قادیانی کی کتاب اور حضرت تھانویؒ کی کتاب ”المصالح العقلیہ احکام اسلام عقل کی روشنی میں“ کے صفحات مقابلہ پر شائع کر کے اعلان کیا کہ مرزا قادیانی کی کتاب پہلے کی شائع شدہ ہے جبکہ حضرت تھانویؒ کی کتاب بعد کی ہے۔ ثابت ہوا کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا قادیانی کی کتابوں کے صفحات کے صفحات لے کر اپنی کتاب میں شائع کیے ہیں۔ اس انکشاف پر کہرام قائم ہو گیا۔ یہ قادیانی دجل کا شاہکار تھا کہ حضرت تھانویؒ کو مرزا قادیانی کی کتابوں سے سرقہ کرنے والا ظاہر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا علامہ خالد محمود صاحب نے اسرار شریعت پڑھی ہوئی تھی۔ انھیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر سے کتاب اسرار شریعت مل گئی۔ جب انھوں نے اس کتاب اور حضرت تھانویؒ کی کتاب کا تقابل کیا کہ فضل احمد چنگا بنگیال کے جب مسلمان تھے، یہ کتاب اسرار شریعت لکھی تھی۔ حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب میں اس سے عبارات نقل کیں اور مرزا قادیانی نے بھی اسرار شریعت سے نقل کی۔ اسرار شریعت حضرت تھانویؒ کی

صفحہ 50

کتاب اور مرزا قادیانی ملعون کی کتاب سے پہلے کی تصنیف کردہ ہے۔ دونوں نے اس کتاب سے اقتباس لیے۔ لیکن:

کی بدیانتی کا کھلا شاہکار تھا۔ لیکن اس کے مقابل پر حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں واضح طور پر لکھ دیا کہ مجھے ایک کتاب (اسرار شریعت) ملی ہے۔ اس میں رطب و یابس سب کچھ ہے۔ اس سے بعض چیزیں میں اپنی کتاب میں نقل کر رہا ہوں۔ حضرت تھانویؒ کی کمال دیانت اور مرزا قادیانی کے کمال دجل کا پول حضرت علامہ خالد محمود نے کھولا تو قادیانی امت بوکھلا گئی۔ قادیانیوں کی کمال عیاری اور کمال کذب کو دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی کہ قادیانی کس طرح ناواقف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ؎

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

یہ مولوی فضل احمد بعد میں ترقی کر کے خود مدعی الہام و مدعی نبوت ہو گئے۔ چنانچہ خود کئی رسالے لکھے جن میں اپنے الہام شائع کیے۔ قرآن مجید میں جہاں سیدنا موسیٰ ؑ کو حکم ہے کہ آپ (موسیٰ ؑ) جا کر فرعون کو ڈرائیں، فضل احمد نے ان آیات کو اپنے اوپر نازل شدہ بتا کر اپنے آپ کو موسیٰ اور چنگا بنگیال کے رہائشیوں کو فرعون قرار دیا۔ وغیرہ ذالک من الھفوات! مرزا قادیانی کی دیکھا دیکھی اور بھی قادیانیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان میں ایک فضل احمد بھی تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ فضل احمد نے مرنے سے پہلے قادیانیت کو ترک کر دیا تھا۔ واللہ اعلم!

اس فضل احمد کے ذریعہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں چنگا بنگیال میں قادیانیت پھیل گئی تھی۔ اب اسی فضل احمد کے خاندان کے بہت سارے گھرانے مسلمان ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پروفیسر محمد آصف بھی ہیں۔ پروفیسر صاحب کے پاس فضل احمد کی کتابیں ہیں۔ فقیر نے ان سے درخواست کی کہ عربی و فارسی، قادیانیت اور رد قادیانیت کی کتب مرکزی دفتر کی لائبریری کے لیے عنایت کر دیں۔ چنانچہ مناظرہ سے فراغت کے بعد لائبریری سے کتابیں لے کر مولانا مفتی محمود الحسن اسلام آباد لے گئے۔ وہاں سے دفتر ملتان انھوں نے بھجوائی تھیں۔ یہ ایک ضمنی بات تھی جو درمیان میں آ گئی۔

صفحہ 51

روئیداد مناظرہ چنگا بنگیال

عصر کی نماز پڑھ کر پروفیسر محمد آصف صاحب نے فقیر کو ساتھ لیا اور قادیانی راجہ سعید کے مکان پر گئے۔ آٹھ یا نو کل افراد تھے۔ جن میں مرزائی، مسلم موجود تھے۔ اکثریت پروفیسر صاحب کے رشتہ داروں کی تھی یا واقف کاروں کی۔ قادیانیوں نے گفتگو کے لیے سعید الحسن قادیانی مربی کو تیار کیا ہوا تھا۔ بہرحال پہنچتے ہی مختصر تعارف کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔

پروفیسر محمد آصف صاحب: ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سیدنا مہدی یا سیدنا مسیح ؑ کے متعلق کیا فرمایا ہے اور مرزا قادیانی ان علامات و معیار پر پورا اترتا ہے؟

قادیانی مربی سعید الحسن: ہمیں وفات و حیات مسیح پر گفتگو کرنی چاہیے۔ اگر مسیح ؑ کی حیات ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی کے تمام دعاوی جھوٹے۔

پروفیسر صاحب: آنحضرت ﷺ نے سیدنا مہدی و مسیح کی جو علامات بتائی ہیں، وہ مرزا قادیانی میں دکھا دیں۔ حیات مسیح سمیت ساری بحث مکمل ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی کو ان نشانیوں کی رُو سے سچا بتا دیں۔

قادیانی مربی: آپ مرزا قادیانی کو کس حیثیت سے جانچنا چاہتے ہیں۔

پروفیسر صاحب: نام، ذات، شخصیت اور دعاوی۔ ان چاروں حیثیتوں سے۔ پہلے مہدی کی علامات طے کر لیں۔

قادیانی مربی: پہلے حیات مسیح ؑ پر بحث کریں۔

پروفیسر صاحب: مرزا قادیانی کے دعاوی مہدی اور مسیح کے ہیں۔ منصب کے اعتبار سے پہلی سٹیج مہدی علیہ الرضوان کی ہے۔ سیدنا عیسیٰ ؑ تو ان سے بلند و بالاتر ہیں۔ اس لیے مہدی علیہ الرضوان کی علامات جو رحمت دو عالم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں، ان کو احادیث کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی میں وہ علامات دیکھیں گے۔ اگر ان میں پائی گئیں تو پھر مسیح ؑ کی علامات کو دیکھیں گے کہ وہ مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہیں؟ اس وقت حیات عیسیٰ ؑ پر بھی بحث ہو جائے گی۔

قادیانی مربی: آپ حیات مسیح ؑ پر بحث کا آغاز کریں۔

صفحہ 52

فقیر آپ لکھ کر دے دیں کہ رحمت دو عالم ﷺ نے سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں وہ مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتیں تو پھر ابھی حیات مسیح ؑ پر گفتگو کا آغاز ہو جائے گا۔

قادیانی مربی: مرزا قادیانی مہدی ہیں۔ ان میں علامات پائی جاتی ہیں۔ میں کیوں انکار کروں؟

پروفیسر صاحب: بہت اچھا، میں مولانا (اشارہ فقیر کی طرف) سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ احادیث شریف کی روشنی میں ہمیں سیدنا مہدی کی علامات بیان کریں۔

فقیر: بسم اللہ الرحمن الرحیم! اللھم صلی علی سیدنا محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اما بعد! یہ میرے ہاتھ میں صحاح ستہ میں شامل کتاب ابوداؤد شریف ہے۔ صحاح ستہ میں ابوداؤد شریف کا شامل ہونا مرزا قادیانی کو مسلم ہے۔ ابوداؤد شریف ج 2 ص 130، 131 پر سیدنا مہدی علیہ الرضوان پر مشتمل باب ہے۔ اس باب میں کل روایات گیارہ ہیں۔ جو حضرت جابر بن سمرہؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ، حضرت ام سلمہؓ اور حضرت ابی سعید خدریؓ جیسے جید صحابہ کرامؓ سے منقول ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے میں اس روایت کو تلاوت کرتا ہوں جس میں آپ ﷺ نے سیدنا مہدی کا نام، والد کا نام، قومیت اور جائے پیدائش کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ:

قال لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطول اللہ ذالک الیوم حتی یبعث اللہ فیہ رجل منی او من اھل بیتی یواطئی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی یملاء الارض قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلما وجورا...... الخ، ابوداؤد ج 2 ص 131 باب ذکر المہدی“ اس روایت کو امام ترمذیؒ نے ترمذی شریف ج 2 ص 47 باب ماجاء فی المہدی میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ یہی روایت متعدد کتب احادیث میں مذکور ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا فرمائیں گے (یعنی یقینی ہے کہ قیامت سے پہلے ایسے ضرور ہوگا) حتی کہ اللہ تعالیٰ اس میں ایک شخص کو بھیجیں گے (یقینی طور پر ایسے ہو کر رہے گا) جو مجھ سے یعنی میرے اہل بیت سے ہوگا۔ اس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ (یعنی محمد)

صفحہ 53

اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر (عبداللہ) ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جیسا (ان سے قبل) وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔

يقول المهدى من عترتى من ولد فاطمة ...... الخ“ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ سے میں نے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ مہدی میری عترت یعنی فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔

ایک خلیفہ کی وفات پر جانشینی کے مسئلہ پر اختلاف ہوگا تو مہدی مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ آ جائیں گے۔ اہل مکہ ان کی بیعت کریں گے۔ رکن یمانی و حجر اسود کے مقام پر ان سے بیعت ہوگی۔ ان کے پاس شام و عراق کے ابدال مقام ابراہیم پر آ کر بیعت ہوں گے۔“

متعدد کتب حدیث سے میں نے صرف ابوداؤد کی یہ روایتیں آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔ یہ کتاب ابوداؤد شریف مرزا قادیانی کی پیدائش سے صدیوں پہلے لکھی گئی۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اگر حضرت مہدی علیہ الرضوان کی آمد کا تذکرہ فرمایا تو اس کی علامات بھی بیان فرمائیں۔ چنانچہ ان روایات سے جو ابھی ابوداؤد شریف سے میں نے بمع ترجمہ کے آپ کے سامنے تلاوت کیں۔ ترجمہ غلط ہو تو قادیانی مربی مجھے ٹوک دیں اور اگر روایات نہ ہوں تو مجھے بولنے سے روک دیں۔ (قادیانی سامعین آپ بات مکمل فرمائیں)

فقیر: بہت اچھا۔ ان روایات سے ثابت ہوا کہ: (1)...... سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد ہوگا۔ (2)...... سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ (3)...... مہدی علیہ الرضوان آنحضرت ﷺ کی عترت سے ہوں گے۔ فاطمۃ الزہراؓ کی نسل سے ہوں گے۔ (4)...... مدینہ طیبہ میں پیدا ہوں گے۔ (5)...... مکہ مکرمہ تشریف لائیں گے۔ یہ پانچ بنیادی علامات آپ مرزا قادیانی میں دکھا دیں، تاکہ حضرت عیسیٰ ؑ پر گفتگو کا آغاز ہو سکے۔

قادیانی مربی: دیکھیں، مولانا صاحب نے ابوداؤد کھول کر روایات پڑھیں، ان کا ترجمہ کیا۔ لیکن کیا صرف یہی حضرت مہدی کی علامات ہیں؟ حضرت مہدی کی بہت ساری علامات ہیں۔ پھر ان میں اختلاف ہے۔ ان کو لیں تو وقت بہت لگے گا۔ اس لیے

صفحہ 54

حیات مسیح ؑ پر بحث کریں۔

فقیر: میں ان تمام علامات مہدی کو جو احادیث صحیحہ میں بیان کر دی گئی ہیں، ان کو مانتا ہوں۔ اگر ان میں آپ کے نزدیک اختلاف ہے تو محدثین نے اس کی تطبیق دی ہے۔ آپ میری باتوں کا جواب دیں۔ پھر اختلاف روایات بیان کریں۔ میں تطبیق بیان کروں گا۔ ابھی فیصلہ ہو جائے گا۔

قادیانی مربی: آپ لکھ کر دیں کہ مہدی کی علامات میں کوئی اختلاف نہیں۔ میں ابھی اختلاف بتاتا ہوں۔

فقیر: الحمدللہ! ہم نتیجہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے سامنے تشریف فرما میرے دوست، قادیانی مربی صاحب نتیجہ خیز مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ لائیں کاغذ میں لکھ کر دیتا ہوں کہ:

تمام احادیث متفق ہیں کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد ہوگا۔ کوئی ایک روایت اس کے خلاف ہے تو میرے دوست قادیانی کرم فرما بتائیں۔ میں بڑے ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ قیامت تک ایک روایت ایسی نہیں بتا سکتے۔ نہ صحیح، نہ غلط، جس میں مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد کے علاوہ کوئی ذکر ہو۔

الرضوان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ اس پر تمام احادیث متفق ہیں۔ اس پر کوئی اختلاف ہو تو میرے قادیانی دوست روایت بیان کریں۔ قیامت تک نہیں دکھا پائیں گے۔

فاطمی چشم و چراغ، سیدہ فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔ اس کے خلاف کوئی روایت ہے تو میرے قادیانی دوست مناظر پیش کریں۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کے خلاف قیامت تک روایت پیش نہیں کر سکتے۔

اختلاف نہیں۔ اس کے خلاف کوئی روایت ہے تو میرے قادیانی دوست پیش کریں۔ جبکہ میرا دعویٰ ہے کہ قیامت تک نہیں کر سکیں گے۔

صفحہ 55

اب میں تمام حضرات کے سامنے اعتراف کرتا ہوں، لکھ کر دیتا ہوں اور دسوں انگلیوں کے نشان لگا کر دیتا ہوں کہ میں نے جو علامات مہدی علیہ الرضوان حدیث سے پیش کی ہیں، یہ متفقہ ہیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ اب میں بھی اپنے قادیانی مربی و مناظر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان علامات کے خلاف کوئی روایت ہے تو بیان کریں۔ میرا دعویٰ ہے کہ وہ قیامت تک ان علامات کے خلاف کوئی روایت نہ دکھا سکیں گے۔ اب تمام سامعین محترم بالخصوص قادیانی دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے مربی سے فرمائیں۔ وہ بتائیں کہ:

محترم سامعین! احادیث کی روشنی میں میرے پانچ سوال ہیں، ان کو حل کر دیں، تاکہ ہم حیات مسیح ؑ پر گفتگو کریں۔ ہمت کریں کہ جیسے دو اور دو چار کی طرح میں نے ثابت کیا ہے یا تو آپ ان کا خلاف دکھائیں یا مرزا غلام احمد قادیانی میں یہ علامات دکھائیں یا فرما دیں کہ مرزا قادیانی میں مہدی علیہ الرضوان کی متفقہ بنیادی علامتوں میں سے ایک علامت بھی نہ پائی جاتی تھی۔ بات ختم کریں۔ میں دوسری بحث کے لیے ابھی تیار ہوں۔ ان سوالات کے جوابات ٹھوس، واضح اور دو اور دو چار کی طرح بیان کر کے ممنون فرمائیں۔ میں اپنا قلب و جگر آپ کے قدموں پر رکھنے کے لیے تیار ہوں۔

قادیانی مربی: دیکھیں صاحب! میں نے ابتداء میں بتا دیا تھا کہ حیات مسیح پر گفتگو شروع کریں۔ آپ مہدی کو لے کر آ گئے۔ آپ حیات مسیح پر گفتگو کریں، ورنہ میں چلتا ہوں۔ یہ کیا کہ ہمارے گھر آ کر دوسری بحث شروع کر دیں۔ بنیادی بحث کیوں نہیں

صفحہ 56

کرتے۔ بس میں چلتا ہوں۔

پروفیسر صاحب: دیکھئے اس وقت تک کی بحث سے ہم معاملہ کی تہہ تک پہنچ گئے۔ نتیجہ کیا ہے؟ موجود حضرات اور تمام رشتہ دار بعد میں بیٹھ کر قادیانی و مسلمان نتیجہ نکال لیں گے۔ میں قادیانی مربی سے درخواست کرتا ہوں کہ حیات مسیح ؑ پر ابھی اپنی گفتگو کا آغاز کریں اور دلائل دیں۔ ہمارے مولانا (فقیر) جواب دیں گے۔

فقیر: جی بسم اللہ مجھے منظور ہے۔

قادیانی مربی: خطبہ ...... تعوذ اور تسمیہ کے بعد آیت تلاوت کی ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (المائدہ: 75) کہ مسیح ؑ سے پہلے کے تمام رسول فوت ہو گئے۔ یہی آیت آنحضرت ﷺ پر اتری کہ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران: 144) کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کے رسول فوت ہو گئے۔ میں پوچھتا ہوں بلکہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میرے سامنے کے صاحبان انکار نہیں کر سکیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ ؑ آنحضرت ﷺ سے پہلے کے رسول نہ تھے۔ کریں انکار۔ قیامت تک نہیں کر سکیں گے۔ لہٰذا جب یہ ثابت ہو گیا کہ مسیح ؑ پہلے کے رسول ہیں تو وہ بھی فوت ہو گئے۔ جناب میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟

فقیر: محترم میرے کچھ کہنے سے قبل آپ فرما دیں کہ از روئے لغت، خلت کا معنی وفات ہے؟ کسی لغت سے یا کسی مجدد کے قول سے۔ میرا دعویٰ ہے کہ آج تک کسی مستند متفقہ مفسر نے یا تمھارے کسی مسلمہ مجدد نے اس آیت کا یہ معنی نہیں کیا جو آپ نے کیا ہے۔

قادیانی مربی: لغت اور مجددین و مفسرین کی بات نہ کریں۔ میری بات کا جواب دیں۔

فقیر: یہی تو آپ کی بات کا جواب ہے کہ اگر قد خلت کا معنی وفات ہے تو کسی مفسر یا مجدد نے جو مرزا قادیانی سے پہلے کے تھے، کسی نے اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال کیا ہے تو آپ نام پیش کریں۔ اس کی عبارت پڑھیں۔ ورنہ میں ترجمہ کر کے اپنے ترجمہ کی صداقت پر مفسرین و مجددین نہیں بلکہ قادیانیوں کی شہادت پیش کروں گا۔ کسی ایک مفسر و مجدد کا قول پیش کریں کہ انھوں نے اس کا یہی ترجمہ کیا جو آپ نے کیا۔ نہیں پیش کر سکتے تو میں صحیح ترجمہ پیش کرتا ہوں اور اس پر شہادتیں بھی پیش کروں گا۔

صفحہ 57

قادیانی مربی: مولوی صاحب! مجدد، مفسر، لغت کی بات کرتے ہیں۔ میں قرآن پیش کرتا ہوں۔ میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے۔

فقیر: بھائی آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ جو آپ نے ترجمہ کیا ہے، آج تک کسی متفقہ مفسر و مجدد نے کیا؟ ورنہ تسلیم کریں کہ اس ترجمہ پر پوری امت میں سے آپ کے ساتھ ایک قابل ذکر آدمی بھی نہیں۔ آخر قرآن آج نہیں اترا، بلکہ چودہ سو سال قبل اترا ہے۔ جو چودہ سو سال سے امت نے اس کا ترجمہ سمجھا، وہ بتا دیں۔ میں مان جاؤں گا۔ میں سامعین سے کہتا ہوں کہ میری بات معقول ہے تو قادیانی مناظر سے میرا مطالبہ منوائیں کہ وہ اپنے استدلال میں کوئی شہادت پیش کریں۔ ورنہ میں صحیح ترجمہ کر کے بیسوں شہادتیں پیش کرتا ہوں۔

سامعین: پروفیسر صاحب اور قادیانی! بات تو صحیح ہے۔ ہم معاملہ کو سمجھ گئے۔ آپ صحیح ترجمہ کریں۔

فقیر: یہی میں چاہتا تھا کہ آپ دوست معاملہ کی تہہ تک پہنچ جائیں۔ بسم اللہ! میں ترجمہ کرتا ہوں۔

قادیانی مربی: مولوی صاحب چکر نہ دیں۔ آپ یہ نہ کہیں کہ میرا ترجمہ غلط ہے۔ کسی مفسر یا مجدد کا ترجمہ ہم پیش تو تب کریں کہ ہم ترجمہ نہ جانتے ہوں یا ہمیں لغت نہ آتی ہو۔

فقیر: بھائی! غصہ نہ ہوں۔ ہم سے پہلے چودہ سو سال کے وہ بزرگ مفسر و مجدد لغت جانتے تھے۔ انھوں نے جو ترجمہ کیا۔ اگر وہ آپ والا ہے تو جی بسم اللہ! آپ پیش کریں میں مانتا ہوں۔ نہیں تو میری درخواست یہ ہے کہ آپ نے جو ترجمہ کیا ہے اس سے پوری امت میں سے کوئی ایک متفقہ مفسر و مجدد آپ لوگوں کے ساتھ نہیں۔ یہ آپ کے گھر کا ترجمہ ہے۔ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”چودہ سو سال سے جس طرح قرآن مجید مسلمانوں کے پاس موجود ہے، اسی طرح چودہ سو سال سے امت کے پاس فہم قرآن بھی رہا۔“ (مفہوم: ایام الصلح ص 55 مندرجہ روحانی خزائن ج 14 ص 288 از مرزا قادیانی) اب میری درخواست ہے کہ امت نے آج تک اس آیت سے کیا سمجھا؟ اگر آپ کا ترجمہ صحیح ہے۔ یہی امت نے سمجھا کہ اس آیت میں انھوں نے وفات مسیح لکھی ہے تو آپ وہ پیش کریں، میں مان جاؤں گا۔ آپ پیش نہیں کر سکتے تو آپ کا ترجمہ

صفحہ 58

غلط۔ میں صحیح ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ اس پر لغت، مفسرین و مجددین پیش کرتا ہوں۔

قادیانی مربی: مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ کہاں لکھا ہے؟

فقیر: آپ میری تردید کریں کہ یہ نہیں لکھا۔ میں مرزا قادیانی کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ آپ انکار کریں۔ اگر انکار نہیں کرتے تو میں پھر بھی مرزا قادیانی کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی کے حوالہ کے بعد جناب پابند ہوں گے کہ چودہ سو سال سے امت کے فہم قرآن سے کوئی ایک شہادت اپنے ترجمہ کے صحیح ہونے پر پیش کریں۔

قادیانی مربی: مولوی صاحب! آپ ترجمہ کریں۔

فقیر: بھائی میں مسافر ہوں۔ آپ یہاں کے مکیں۔ آپ تنگ کیوں پڑ گئے۔ لیجئے۔ خلا ...... خلوا ...... خلت! اس کا تمام لغت والوں نے ترجمہ کیا۔ مضا ...... مضوا ! گزر گیا۔ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا۔ گزر جانا۔ مضت، خلت کا معنی ہے۔ اب ترجمہ کریں کہ سیدنا مسیح ؑ یا آنحضرت ﷺ سے پہلے کے رسول گزر گئے۔ اس جگہ کو چھوڑ گئے۔ یہ جہان چھوڑ گئے۔ کوئی موت سے، کوئی رفع سے، اس جہان سے گزر گئے۔ اگر موت ترجمہ ہو تو قرآن کی آیت واذا خلوا الی شیاطینہم (البقرہ: 14) کیا ترجمہ کرو گے؟ وقد خلت سنۃ الاولین (الحجر: 13) کیا تمام پہلی شریعتیں مر گئیں؟ یا منسوخ ہو گئیں۔ وہ گزر گئیں یا فوت ہو گئیں؟ گزر گئیں یا منسوخ ہو گئیں۔ وہ شریعتیں آج موجود ہیں۔ لیکن منسوخ ہو گئیں۔ اگر فوت ہو گئیں ترجمہ ہوتا تو آج دنیا میں وہ موجود نہ ہوتیں۔ ان کا موجود ہونا دلیل ہے کہ خلت کا معنی موت نہیں۔ بلکہ مضت ہے۔ گزر گئیں منسوخ شدہ ہو گئیں۔ فرمائیے چودہ سو سال سے لغت اور مفسرین و مجددین نے اس کا یہی ترجمہ کیا ہے۔ جس مفسر و محدث کا فرمائیں میں اس کا یہی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ کوئی ایک نام لیں۔ میں اس کی تفسیر سے یہی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ میرا دعویٰ ہے کہ پوری امت نے جو ترجمہ کیا ہے وہ میرے والا ترجمہ ہے۔ آپ کے ساتھ کوئی ایک مفسر یا مجدد نہیں، جبکہ میرے ساتھ پوری امت ہے۔

قادیانی مربی: کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ گزر گئے کا معنی مر گئے نہیں۔

فقیر: ابھی گلی سے دو آدمی گزرے ہیں۔ کیا وہ مر گئے ہیں؟

قادیانی مربی: ٹھیک ہے۔ گزر گئے۔ لیکن پوری آیت کو دیکھیں۔ افائن مات

صفحہ 59

او قتل ! یہ آیت بتا رہی ہے کہ خلت دو صورتوں میں بند ہے۔ یا موت یا قتل؟

پروفیسر صاحب: مولوی صاحب نے جو آیت پڑھی واذا خلوا الیٰ شیاطینہم (البقرہ: 14) اگر خلت دو معنوں میں بند ہے تو پھر آپ بتائیں کہ موت و قتل کی کونسی صورت اذا خلوا الیٰ شیاطینہم میں ہے؟

قادیانی مربی: چلیں۔ اس آیت کو چھوڑیں۔ میں ایک آیت اور وفاتِ مسیح کی پیش کرتا ہوں۔

فقیر: پہلے آپ تسلیم کریں کہ اس آیت قدخلت! سے وفاتِ مسیح ثابت نہیں ہوتی۔ پھر دوسری پیش کریں۔

قادیانی مربی: میں کیوں تسلیم کروں۔ پہلے دوسری آیت پڑھتا ہوں۔

پروفیسر صاحب: دیکھئے مربی صاحب! آپ نے جو پہلی آیت پڑھی ہے۔ اس سے آپ کا مقصد واضح نہیں ہوا۔ آپ کا اس سے دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔ تب ہی تو آپ دوسری آیت کی طرف جاتے ہیں۔ اب ہم مولانا سے کہیں گے کہ حیاتِ مسیح پر دلیل دیں۔ پھر آپ اس کا جواب دیں۔

قادیانی مربی: بالکل ٹھیک ہے۔ مولوی صاحب! دیں حیاتِ مسیح ؑ کے دلائل۔

فقیر: جی! پہلی آیت: اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم. بسم اللہ الرحمن الرحیم. فبما نقضہم میثاقہم و کفرہم بایت اللہ وقتلہم الانبیاء بغیر حق وقولہم قلوبنا غلف. بل طبع اللہ علیہا بکفرہم فلا یؤمنون الا قلیلاہ وبکفرہم وقولہم علی مریم بہتانا عظیماہ وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناہ بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما. (نساء 155 تا 158) (ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے۔ سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کر دی ان کے دل پر کفر کے سبب۔ سو ایمان نہیں لاتے مگر کم اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور

صفحہ 60

نہ سولی پر چڑھایا۔ لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا )

ماقتلوہ...... ماصلبوہ...... ماقتلوہ یقیناً اور بل رفعہ اللہ! میں سیدنا مسیح نہ وہ قتل ہوئے نہ پھانسی دیے گئے۔ نہ وہ یقیناً قتل ہوئے۔ ظاہر ہے کہ قتل اور پھانسی کا عمل جسم ہے کہ روح پر وارد نہیں ہوتا۔ آج تک نہ کوئی روح قتل ہوئی نہ پھانسی دی گئی۔ یہ فعل زندہ جسم پر وارد ہوتا ہے۔ تین بار ”ہ“ ضمیر جسم کی طرف ہے تو چوتھی بار بل رفعہ اللہ! میں بھی جسم کی طرف ”ہ“ ضمیر راجع ہے۔ جو مسیح (جسم) نہ قتل ہوا، نہ پھانسی، نہ یقیناً قتل ہوا۔ بلکہ وہی جسم مسیح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

مجددین امت ومفسرین قرآن نے اس جگہ رفع سے مراد رفع درجات نہیں لیا۔

دلیل ہے کہ رفع کے لفظ کا درجات کی بلندی کے معنوں میں استعمال مجازی معنی ہے۔

جائے۔ یہود، مسیح کی روح کو قتل یا پھانسی دینے کے درپے تھے نہ مدعی، بلکہ وہ جسم مسیح کو قتل یا صلیب پر لٹکانا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کے دعوؤں کی تردید فرمائی کہ جس جسم مسیح کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اس کو میں نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

ثابت ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت جہت ہوگی تو مراد آسمان ہوگا۔ أأمنتم من فی السماء (الملک:16) (کیا بے خوف ہو تم اس ذات (اللہ تعالیٰ) سے جو آسمانوں میں ہے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن اترا۔ مراد من جانب اللہ آسمان سے اترا۔ خود رحمت دو عالم ﷺ جب اللہ تعالیٰ سے تحویل قبلہ کے لیے دعا کرتے تو آسمانوں کی طرف چہرہ اقدس فرماتے۔ سیدنا مسیح ؑ کی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مائدہ، سیدنا موسیٰ ؑ کی قوم کے لیے من وسلویٰ آسمانوں سے نازل ہوا تھا۔ سیدنا

صفحہ 61

آدم ؑ کا زمین پر آنا آسمانوں پر سے ہوا۔ اس پر تمام سماوی مذاہب کا اتفاق ہے۔

رفع اوپر اٹھانے کے معنی میں مستعمل ہے۔

جو یہاں اس کے علاوہ دوسرے معنی کو لیتا ہے وہ الحاد پر قدم مارتا ہے۔

دوسری آیت اسی صفحہ قرآنی پر ہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم. ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم (آل عمران:59) (حضرت عیسٰی ؑ کی مثال اللہ تعالیٰ کے ہاں آدم ؑ جیسی ہے)

باپ کے پیدا ہوئے۔

سے فقط عورت۔ ادھر فقط عورت سیدہ مریم علیہا السلام سے فقط مسیح ؑ پیدا ہوئے۔

پر گئے اور پھر آسمانوں سے زمین پر آئیں گے۔

اب میں آتا ہوں احادیث شریف کی طرف۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ سیدنا مسیح ؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اسی روایت کو امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں نقل کیا ہے تو صراحت فرمائی کہ: ”ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء“ کہ میرے بھائی سیدنا مسیح ؑ آسمانوں سے نازل ہوں گے۔

(یہاں تک بات پہنچی تو قادیانی مربی مارے ندامت کے غصہ سے لال پیلا ہو کر کرسی سے اٹھا)

قادیانی مربی: چھوڑیں جی اس بحث کو۔ نماز مغرب قضا ہو رہی ہے۔ گفتگو پھر سہی۔

فقیر: جی بسم اللہ! بہت اچھا۔ نماز میں واقعی بہت تاخیر ہو رہی ہے۔ ہم اپنی مسجد میں نماز پڑھ کر زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں واپس آتے ہیں۔ پھر بیٹھتے ہیں۔

قادیانی مربی: آج نہیں۔ پھر کبھی بیٹھیں گے۔

فقیر: ابھی نماز کے بعد بیٹھیں گے۔ ساری رات بیٹھنا پڑا تو فریقین بیٹھیں گے۔ ابھی تو

صفحہ 62

ابتداء ہے۔ دلائل شروع کیے ہیں۔ حیات مسیح پر آپ زور دے رہے تھے۔ میں نے آغاز کیا تو ، پھر، اور، کبھی کا چکر نہیں آنے دیں گے۔ ابھی ساری رات، کل کا دن، پھر رات دن چلیں ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک بات پوری نہ ہو، میری ایک ایک بات کا جواب دیں۔ آپ کی ایک ایک بات کا میں جواب دوں گا۔ ابھی دس منٹ میں ہم واپس آتے ہیں۔ ہمارا انتظار کریں۔

قادیانی مربی: میں پابند نہیں۔ پہلے بہت وقت لگ چکا ہے۔ پھر کبھی سہی۔

پروفیسر صاحب: قادیانی مربی سے اور اپنے رشتہ داروں سے کہ چلو پھر سہی لیکن وقت اور دن کا تعین تو کر دیں۔ آپ کو اختیار ہے۔

قادیانی حضرات: کرلیں گے۔ آپ جائیں نماز پڑھیں۔ ہماری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔

فقیر: اتنی جلدی گھبرا گئے۔ آپ اور آپ کے مربی پہلو تہی سے نکل رہے ہیں۔ ابھی گفتگو کریں۔ جب تک مجلس چلتی ہے چلنے دیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ آپ اپنے مربی کو تیار کریں کہ وہ میرے دلائل کو توڑے، جواب دے، اعتراض کرے اور مجھ سے جواب لے۔ ابھی تو حیات عیسیٰ ؑ ہے ۔ اس کے بعد ختم نبوت پر گفتگو ہوگی۔ مرزا قادیانی آپ کے سامنے پیش ہوں گے ۔ ان کے لٹریچر سے بتاؤں گا کہ مہدی مسیح ہیں یا.......!

قادیانی مربی: بس ہم مناظرہ نہیں کرتے۔ کرتے ہی نہیں۔ آپ کیس کرا دیں گے۔

پروفیسر صاحب: اب تک کی بات چیت پر اگر کیس نہیں ہوا تو بقیہ بات چیت پر بھی کیس نہیں ہوگا۔ میں ذمہ داری لیتا ہوں اور اپنے مولانا (فقیر) سے لکھوا کر دیتا ہوں۔

فقیر: قرآن مجید میرے سامنے ہے۔ کیس تو درکنار آپ فرمائیں تو میں اپنی پگڑی سے تمھارے گھر میں جھاڑو دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن گفتگو کریں، تا کہ قیامت کے دن آپ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں مسئلہ کسی نے سمجھایا ہی نہیں تھا۔ بات کو چلائیں۔ میں گاؤں نہیں چھوڑتا۔ اس وقت تک حاضر ہوں جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

قادیانی مربی: ہمارا گھر ہے۔ آپ قبضہ کرتے ہیں۔ ہم نہیں کرتے آپ سے مناظرہ

صفحہ 63

نہ تاریخ مقرر کرتے ہیں۔ آپ کیا کرلیں گے؟

فقیر: جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ اگر آپ اپنی شکست مانتے ہیں تو پھر آپ کی معذوری پر میں ترس کھاتا ہوں۔

بزرگ بابا قادیانی: ہم نے شکست کھائی۔ (ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ) آپ جائیں۔

پروفیسر صاحب: بہت اچھا۔ (یہ کہہ کر ہم وہاں سے مسجد چلے آئے۔ قادیانی مربی دوسرے راستہ سے مکان کے صحن میں چلا گیا تو مسلمان سامعین نے قادیانی سامعین سے کہا کہ تمہارا مربی ندامت سے پتلا کیوں ہو گیا۔ اتنی جلدی گھبرا گیا کہ بالکل ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گیا۔ قادیانی سامعین نے ندامت سے کہا کہ چلو چھوڑیں آپ بھی جائیں)

نماز سے فارغ ہو کر مسلمان حاضرین و سامعین نے فقیر کو ایک پر تکلف دعوت سے سرفراز فرمایا۔ ہر مسلمان خوش تھا۔ چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ پروفیسر صاحب نے کہا کہ مولانا! ہمارا مقصد پورا ہوا۔ ان شاء اللہ! اب یہ نظر اٹھا کر نہیں چل سکیں گے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ دروازہ کے دوسری طرف صحن میں ہماری بیسیوں قادیانی رشتہ دار مستورات بیٹھی ہوئی تھیں۔ اب انشاء اللہ محنت سے میدان لگے گا۔ فقیر نے اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد پروفیسر صاحب کی لائبریری دیکھی۔ ضروری کتب جن پر ہاتھ رکھا۔ پروفیسر صاحب نے دل و جان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی لائبریری کے لیے عنایت فرما دیں۔ رات گئے گوجر خان بخیر و عافیت واپسی ہوئی۔ فلحمدللہ اولاً و آخراً

۞......۞......۞

صفحہ 64

مناظرہ چھوکر خورد

چھوکر خورد ضلع گجرات میں تقریباً ایک برادری کے لوگ آباد ہیں، ان میں کچھ خاندان قادیانی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تبلیغی جماعت اور کچھ دوسرے اہل دل مسلمانوں نے قادیانی نمبردار کو دعوت دی کہ وہ قادیانی عقائد پر نظرثانی کرے۔ قادیانی نمبردار نے کہا کہ آپ کسی عالم دین کو بلائیں جو مجھے سمجھا دے، تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔ چنانچہ ان حضرات کے حکم پر فقیر 4 فروری 1998ء کو چھوکر خورد حاضر ہوا۔ حضرت مولانا محمد عارف صاحب استاذ الحدیث جامعہ عربیہ گوجرانوالہ (جو اس قصبہ کے رہائشی ہیں)، حضرت قاری حافظ محمد یوسف عثمانی، حضرت مولانا فقیر اللہ اختر، مدرسہ تعلیم القرآن و جامع مسجد چھوکر خورد کے خطیب اور دوسرے مسلمان نمازی موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں قادیانی نمبردار سے اڑھائی تین گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔ آج کچھ فراغت پا کر محض اپنی یادداشت سے قارئین کے لیے قلمبند کرتا ہوں۔ ابتدائی تعارف اور سابقہ گفتگو کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد ذیل کی گفتگو ہوئی۔

فقیر: محترم آپ نے قادیانیت کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے اور میں اسے باطل سمجھ کر اس کی تردید کرتا ہوں اور اس کی تردید و مخالفت کو دین کی خدمت سمجھتا ہوں۔ اللہ رب العزت نے مجھے تھوڑے بہت دنیاوی وسائل اتنے نصیب فرمائے ہیں جن سے میری گزر اوقات بحمدہ تعالیٰ کروڑوں انسانوں سے اچھی ہو رہی ہے۔ قادیانیت کی تردید میرا دنیاوی پیشہ نہیں، نہ اس سے میرا رزق وابستہ ہے بلکہ قادیانیت کی تردید اور ختم نبوت کی حفاظت میں دین سمجھ کر کرتا ہوں۔ آپ قادیانیت کو دین سمجھتے ہیں، اور میں قادیانیت کی تردید کو دین سمجھتا ہوں تو پھر دین کے معاملہ میں ہم دونوں کیوں نہ عہد کریں، کہ آج کی مجلس

صفحہ 65

میں ہم قادیانیت کو غور و فکر سے جانچیں، ناپیں، تولیں اور پرکھیں کہ قادیانیت کیا ہے؟ یہ اسلام کی تحریک ہے، یا غیر مسلموں کی سازش تاکہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔

قادیانی نمبردار: واقعی آپ نے صحیح فرمایا میں نے بھی قادیانیت کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے۔ اگر آپ مجھے سمجھا دیں کہ یہ حق نہیں تو میں اس پر غور کروں گا۔ جو نکات آپ اٹھائیں گے میں ان سے اپنے قادیانی رہنماؤں سے ہدایات لوں گا اور پھر اس پر سوچ و بچار کر کے فیصلہ کروں گا۔

فقیر: مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے۔ واقعتاً نظریہ و عقیدہ تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر مرزا قادیانی کی اردو کتب سے آپ پڑھ لیں کہ وہ شخص توہین رسول ﷺ کا مرتکب تھا۔ اللہ رب العزت کی ذات گرامی پر بہتان باندھتا تھا۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی کی توہین کرتا تھا۔ مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ لگاتا تھا۔ جھوٹ بولتا تھا، حرام کھاتا تھا، وعدہ خلاف تھا، شراب کے حصول کے لیے کوشش کرتا تھا، نبوت تو درکنار اس میں ایک اچھے انسان کے بھی اوصاف نہ تھے، تو پھر اس پر غور کرنے یا قادیانی مربیوں سے پوچھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قادیانی مربی جن کا وظیفۂ حیات ہی جھوٹ کو اپنانا اور پھیلانا ہے، وہ آپ کو کیوں کر صحیح رہنمائی دیں گے۔ اس لیے آپ وعدہ کریں اور ایک سچے طالب حق ہونے کے مجھ سے مطالبہ کریں کہ آپ مجھے یہ حوالے دکھائیں۔ اگر ایسے ہے تو میں قادیانیت ترک کر دوں گا۔ اگر آپ ایسا عہد نہیں کرتے تو میں سمجھوں گا کہ آپ گفتگو ضرور کریں گے مگر طالب حق ہونے کے رشتہ سے نہیں بلکہ محض اپنا بھرم رکھنے کے لیے۔ ایک طالب حق کو سمجھانا اور ایک بزعم خود بھرم رکھنے والے سے گفتگو کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ اسلوب ہیں۔ اب مجھ سے کیا اسلوب اختیار کرنے کے طالب ہیں، یہ آپ پر منحصر ہے۔

قادیانی نمبردار: مولانا مجھے تو آپ صرف حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ قرآن سے سمجھا دیں۔ باقی جو حوالہ جات آپ نے فرمائے ہیں، ان سے مجھے دلچسپی نہیں ہے۔

فقیر: محترم اب میں آپ پر اور سامعین پر انصاف چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ آپ طالب حق ہیں یا محض گفتگو کے خواہش مند۔ اس لیے کہ اگر آپ طالب حق ہوتے تو میری ان (متذکرہ) باتوں کے سنتے ہی چیخ اٹھتے۔ اور آپ کے ضمیر کی صدا آپ کی

صفحہ 66

زبان پر نوحہ کناں ہوتی کہ اگر مرزا ایسا ہے تو پھر مجھے مرزا اور قادیانیت سے کوئی سروکار نہیں۔ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو کروں گا، ضرور کروں گا مگر ان حوالہ جات کی تفصیلات آپ مجھ سے طلب کریں کہ کیا واقعی مرزا ایسا تھا؟ اگر ثابت ہو جائے کہ ایسا تھا تو پھر مرزائیت پر چار حرف۔ اس کے بعد میں آپ کو پھر ایک مسلمان ہونے کے حوالہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ سمجھاؤں گا۔

قادیانی نمبردار: مولانا میرے نزدیک اصل مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ہے، اگر یہ صحیح ثابت ہو جائے تو پھر مرزا کو چھوڑ دوں گا۔ باقی جن حوالہ جات کا آپ نے فرمایا ہے مجھے ان سے سروکار نہیں۔

سامعین میں سے ایک بزرگ نے کہا کہ مولانا خدا آپ کا بھلا کرے، ہم اس شخص کے متعلق رائے رکھتے تھے کہ یہ مسئلہ سمجھنا چاہتا ہے، مگر آپ نے اس سے اگلوا لیا کہ یہ بجائے مسئلہ سمجھنے کے محض دفع الوقتی کر رہا ہے۔

قادیانی نمبردار: ایسے نہیں آپ میرے ذمہ الزام نہ لگائیں۔ آپ لوگ مولوی صاحب کو پابند کریں کہ وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ سمجھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ، تو مرزا جھوٹا۔

فقیر: محترم آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ نے سنجیدگی سے قادیانیت کے کیس پر غور نہیں کیا۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات یا حیات سے مرزا قادیانی کے سچے یا جھوٹے ہونے کا کیا تعلق؟ یہ ایسے ہے کہ ایک مراثی کے بیٹے نے ماں سے پوچھا کہ اگر نمبردار مر جائے تو پھر کون نمبردار ہوگا۔ ماں نے کہا اس کا بیٹا۔ لڑکے نے کہا کہ اگر وہ بھی مر جائے تو پھر کون ہوگا؟ ماں نے تنگ آ کر کہا کہ بیٹا میں سمجھ گئی، کہ سارا گاؤں بھی مر جائے تو پھر بھی مراثی کے لڑکے کو کوئی نمبردار نہیں بنائے گا۔ آپ غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی حقیقت میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا منکر نہ تھا، بلکہ وہ اس کا قائل تھا۔ بعد میں جب اسے خود مسیح بننے کا شوق ہوا تو کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیٹ پر قبضہ کے لیے اپنی تقرری کے لیے سیٹ خالی کرانا چاہتا ہے۔ سیٹ کے جھگڑا سے قبل اس کی ”اسناد لیاقت“ چیک کر لیں کہ اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس لیے کہ خدا نہ کرے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت نہ بھی ہو تو تب بھی مرزا میں سچے ہونے کی، اس سیٹ پر براجمان ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔ حیات و وفات مسیح علیہ السلام کے بعد پھر بھی سوال پیدا ہوگا۔ مرزا اس منصب کا مستحق ہے یا نہیں۔ تو پہلے سے ہی مرزا کو کیوں نہ پرکھ لیں۔

صفحہ 67

قادیانی نمبردار: آپ میرے مرنے کی مثالیں نہ دیں۔ پہلے عیسیٰ ؑ کو زندہ ثابت کریں ۔ فرض کریں کہ مرزا جھوٹا تو کیا عیسیٰ ؑ کی اس سے حیات ثابت ہو جائے گی۔

فقیر: خوب کہا آنجناب نے، نمبردار کی مثال دینے سے آپ مر نہیں گئے۔ اس طرح جب ہم کہتے ہیں فرض کریں عیسیٰ ؑ فوت ہو جائیں تو تب بھی مرزا جھوٹا، اس سے عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہو جاتے۔ اس بات سے آپ بھی زندہ ہیں تو عیسیٰ ؑ بھی زندہ ہیں۔ اب آپ نے کہا فرض کریں کہ مرزا جھوٹا۔ فرض کریں نہیں یقین کریں اور اقرار کریں کہ مرزا جھوٹا ہے تو میں حیات عیسیٰ ؑ پر گفتگو کا آغاز کرتا ہوں۔

قادیانی نمبردار: چھوڑیں تمام بحث کو آپ حضرت عیسیٰ ؑ کا مسئلہ سمجھائیں۔

فقیر: محترم چھوڑیں سے کام چلتا تو کب سے آپ نے چھوڑ دیا ہوتا۔ بات یہ نہیں اس لیے کہ یہودی بھی حیات عیسیٰ ؑ کے منکر ہیں، پرویزی بھی حیات عیسیٰ ؑ کے منکر ہیں بعض ملحد و فلاسفر بھی حیات عیسیٰ ؑ کے منکر ہیں۔ نیچری (سرسید) بھی حیات عیسیٰ ؑ کے منکر ہیں پانچویں سوار قادیانی بھی حیات عیسیٰ ؑ کے منکر ہیں۔ اگر آپ کو حیات عیسیٰ ؑ کا انکار ہوتا تو آپ یہودی ہوتے، پرویزی یا ملحد ہوتے، نیچری ہوتے، مگر آپ قادیانی ہوئے تو اس کا باعث حیات عیسیٰ ؑ نہ ہوا بلکہ مرزا ہوا تو پہلے مرزا کو کیوں نہ دیکھیں۔

قادیانی نمبردار آپ نے ایک اور بحث شروع کر دی۔ نئی شق نکال لی۔ مجھے صرف حیات عیسیٰ ؑ سمجھائیں۔

فقیر: محترم! بندہ گنہگار آپ کو باور کرانا چاہتا ہے کہ حیات عیسیٰ ؑ کا مسئلہ آپ لوگوں کو محض اُلو بنانے کے لیے قادیانی گروہ نے بتایا اور سکھایا ہوا ہے تا کہ اس میں الجھ کر آپ مرزا کو نہ سمجھ سکیں۔ اس لیے کہ آپ مرزا کی طرف آئیں گے تو مرزا کا پول کھلے گا اس کی شامت آئے گی۔ قادیانیت الم نشرح ہو جائے گی ورنہ حیات عیسیٰ ؑ کا مسئلہ آپ لوگوں کے نزدیک بھی اہم نہیں۔ لیجئے یہ میرے ہاتھ میں مرزا قادیانی کی کتاب ازالہ اوہام ہے۔ اس کے ص 140 خزائن ج 3 ص 171 پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے:

”اوّل تو جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا

صفحہ 68

پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔‘‘

لیجئے نمبردار صاحب! مرزا قادیانی کی یہ عبارت پکار پکار کر آپ کو بلکہ تمام قادیانیوں کو متوجہ کر رہی ہے کہ رفع و نزول مسیح ؑ پر بحث کی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی ایمانیات کا مسئلہ نہیں۔ اس کا حقیقت اسلام سے کچھ تعلق نہیں۔ جب مرزا کے نزدیک ایسے ہے تو اس پر پھر بحث کے لیے آپ کیوں اصرار کرتے ہیں؟

قادیانی نمبردار: نہیں یہ مسئلہ ایمانیات کا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو لکھا ہے کہ حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ شرک ہے۔

فقیر: میرے بھائی آپ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایمانیات کا ہے۔ مرزا کہتا ہے کہ ایمانیات کا نہیں۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ آپ جھوٹے ہیں یا مرزا قادیانی جھوٹا ہے؟ آنجناب نے مرزا قادیانی کا قول نقل کیا ہے کہ حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ شرک ہے۔ یہ مرزا کی کتاب الاستفتاء کے ص 39 خزائن ج 22 ص 660 پر ہے۔ اصل عبارت یہ ہے:

”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ ما مات و ان ہو الا شرک عظیم۔“

اب آپ غور کریں کہ مرزا نے اس عبارت میں کہا کہ عیسیٰ ؑ کو زندہ سمجھنا اور مُردہ نہ سمجھنا شرک ہے اور براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ قرار دیا۔ مرزا اپنی عمر کے باون سال تک حیات عیسیٰ ؑ کا قائل رہا۔ آخری سترہ سال حیات عیسیٰ ؑ کا منکر رہا۔ اس پر توجہ فرمائیں کہ آپ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا عقیدہ باون سال تک غلط تھا۔ سترہ سال صحیح تھا۔ ہمارا موقف ہے کہ باون سال تک مرزا کا عقیدہ صحیح رہا۔ سترہ سال کا آخری عقیدہ غلط تھا۔ آپ کے اور مرزا صاحب کے نزدیک اگر حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ شرک ہے تو کیا مرزا قادیانی باون سال تک مشرک رہا؟

پہلی استدعا: لیجئے میں آپ سے پہلی استدعا کرتا ہوں کہ قادیانی مربیوں سے جا کر پوچھیں کہ نبی ماں کی گود سے قبر کی گود تک کبھی شرک میں مبتلا ہوتا ہے؟ کیا وہ شخص جو باون سال تک مشرک رہا، وہ نبی بن سکتا ہے؟

قادیانی نمبردار: مرزا صاحب کو چھوڑیں، آپ حیات عیسیٰ ؑ سمجھائیں۔

صفحہ 69

فقیر...... دوسری استدعا: جناب! میں نے حیات عیسیٰ ؑ پر ابتدائی نکات بتانے کے لیے گفتگو کا آغاز کیا ہے۔ آپ ابھی سے کہتے ہیں کہ مرزا کو چھوڑیں۔ ہم نے تو اس کو قبول نہیں کیا، اس لیے چھوڑنے کا ہم سے کیا تقاضا کرتے ہیں۔ آپ نے اسے پکڑا ہے، جس نے پکڑا ہے وہی اسے چھوڑے۔ اس لیے آپ چھوڑ دیں، پھر ابھی تو مرزا کی پہلی کتاب میرے ہاتھ آئی ہے۔ اسی ازالہ اوہام کے ص 190 خزائن ج 3 ص 192 پر مرزا نے لکھا ہے:

’’اس عاجز نے جو مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم مسیح موعود خیال کر بیٹھے۔‘‘ اسی کتاب کے ص 39 خزائن ج 3 ص 122 پر لکھا ہے کہ: خدا تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔ پھر اس کتاب کے ص 185 خزائن ج 3 ص 189 پر لکھا ہے: ’’سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھائیں۔‘‘

محترم آپ انصاف فرمائیں کہ میں نے ایک ہی کتاب کے تین مقامات سے حوالہ جات پیش کیے جو آپ کے سامنے ہیں۔ پہلے حوالہ میں کہا کہ جو مجھے مسیح موعود سمجھے وہ کم فہم ہے۔ اس لیے کہ میں مثیل مسیح موعود ہوں اور دوسرے حوالہ میں کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ فرمائیں کہ ان دو متضاد باتوں سے ایک صحیح ہے۔ اگر مثیل ہے تو عین نہیں، اگر عین ہے تو مثیل نہیں۔ دونوں باتیں صحیح نہیں ہوسکتیں۔ آپ فرمائیں کہ ان دو باتوں سے مرزا نے کون سی بات غلط کہی۔ آخر ایک ہی صحیح ہوگی؟ اور پھر مرزا نے چشمۂ معرفت ص 222 خزائن ج 23 ص 231 پر لکھا ہے:

’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘ لیجئے اب دونوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ حقیقت الوحی ص 184 خزائن ج 22 ص 191 پر ہے کہ: ’’مخبوط الحواس کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔‘‘

اب میری آپ سے دوسری استدعا ہے کہ قادیانی مربیوں سے پوچھیں کہ مرزا کی ان دو باتوں میں سے کونسی بات سچی ہے اور کون سی جھوٹی؟

قادیانی نمبردار: آپ تو مرزا قادیانی کا ایسا نقشہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ گویا ایک جاہل تھا۔ حالانکہ اس کی کتابیں ملفوظات، اشتہارات، کیا یہ سب فرضی ہیں۔

فقیر: جناب! میں نے مرزا قادیانی کو جاہل نہیں کہا بلکہ اس کی کتابوں کی عبارتیں پیش

صفحہ 70

کی ہیں۔ آپ نے خود نتیجہ نکالا ہے کہ وہ جاہل تھا۔ میرے نزدیک بھی کتابیں، ملفوظات اشتہارات سب ردی کی طرح ہیں۔ ان میں مجال ہے کہ کوئی علمی بات ہو اور سرسید نے مرزا قادیانی کی کتب کا صحیح تجزیہ کیا کہ ”مرزا قادیانی کے الہام اس کی کتابوں کی طرح ہیں نہ دین کے نہ دنیا کے۔“ اگر ناراض نہ ہوں تو میرا بھی یہ موقف ہے۔ لیجئے مرزا قادیانی کی یہ کتاب تریاق القلوب ہے، جس کے ص 89 خزائن ج 15 ص 217 پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے:

”اور اسی لڑکے (مبارک) نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری 1897ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمھیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے 14 جون 1899ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا اس مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا، یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چہار شنبہ۔“

لیجئے اب مرزا قادیانی کی اس عبارت کو جو آپ کے سامنے ہے، اسے پڑھیں اور بار بار پڑھیں اور پھر ان معروضات پر غور کریں۔

کہا ”اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمھیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے، تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی۔“ نمبردار صاحب اس عبارت میں مرزا قادیانی کے دجل و کذب کا آپ اندازہ فرمائیں کہ ایک دن سے مراد دو برس تیسرا برس وہ جس میں پیدائش ہوئی۔ ایک ہی سانس میں مرزا نے ایک دن کو تین سال پر پھیلا دیا۔ کیا اس سے بڑا کذاب و دجال کوئی ہو سکتا ہے؟ اس جگہ یکم جنوری 1897ء کی بات کو 14 جون 1899ء تک پھیلانا مقصود تھا تو ایک دن کو تین سال کر دیا اور جہاں پچاس دینے تھے وہاں پچاس کو پانچ کر دیا۔ اس دجالیت کی دنیا میں کوئی اور مثال پیش کی جا سکتی ہے؟

نے ماں کے پیٹ میں باتیں کیں۔“ میں یہ بحث نہیں کرتا کہ اگر اس نے ماں کے پیٹ

صفحہ 71

میں باتیں کیں تو آواز کہاں سے آئی تھی؟ اس لیے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں جب بولے گا، اگر ماں کے منہ سے آواز آئے، تو یہ بچے کی آواز یقین نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے کہ ممکن ہے کہ اس کی ماں منہ بگاڑ کر اپنی بات کو بیٹے کی بات کہہ رہی ہو۔ لہٰذا ماں کے منہ سے نہیں تو پھر آواز کہاں سے آئی تھی؟ یہ تو بحث نہیں، بحث یہ ہے کہ مرزا کے لڑکے نے بات کی یکم جنوری 1897ء کو، اور پیدا ہوا 14 جون 1899ء کو، جو لڑکا جون 1899ء کو پیدا ہوا، وہ یکم جنوری 1897ء کو تو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی نہیں آیا تو اس نے ماں کے پیٹ سے کیسے بات کی تھی؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ مرزا جھوٹ بولتا تھا، من گھڑت الہام بناتا تھا۔

یعنی ماہِ صفر۔“ اب آپ فرمائیں کہ معمولی شدھ بدھ والے عام آدمی کو بھی پتہ ہے کہ صفر اسلامی مہینہ چوتھا نہیں بلکہ دوسرا ہے۔ جو ”الو کا چرخا“ صفر کو چوتھا مہینہ کہے اس سے بڑھ کر کوئی جاہل ہوسکتا ہے؟

یعنی چہار شنبہ مرزا قادیانی کی جہالت مآبی کو ملاحظہ فرمائیں۔ چہار شنبہ ہفتہ کا چوتھا دن نہیں ہوتا بلکہ پانچواں دن ہوتا ہے اس اجہل نے جہل مرکب کا شکار ہو کر چہار شنبہ سے چوتھا دن باور کر لیا حالانکہ (1) ہفتہ (2) اتوار (3) پیر (4) منگل (5) بدھ (1) شنبہ (2) یک شنبہ (3) دوشنبہ (4) سہ شنبہ (5) چہار شنبہ؛ چہار شنبہ پانچواں دن ہوتا ہے نہ کہ چوتھا۔

تیسری استدعا: لیجئے میری آپ سے تیسری استدعا ہے کہ آپ قادیانی مربیوں سے پوچھیں کہ (اتنا بڑا دجال و کذاب جو ایک عبارت میں چار بار دجل و کذب کا مرتکب ہو) کیا دجال و کذاب نبی ہوسکتا ہے؟ جناب نمبردار صاحب! آپ نے مرزا کی جہالت کی بات کی۔ تو جو ماہ صفر کو چوتھا مہینہ اور چہار شنبہ کو چوتھا دن کہے، اس سے بڑا اور کوئی جاہل ہوسکتا ہے؟

قادیانی نمبردار: مولانا صاحب، میں معافی چاہتا ہوں، آپ حیات عیسیٰ ؑ کا مسئلہ بیان کریں اور وہ بھی قرآن سے، ورنہ مجھے اجازت۔

فقیر: اب مجھے یقین ہو رہا ہے کہ آنجناب مرزا قادیانی کے دجل و کذب سے تنگ آ

صفحہ 72

گئے ہیں اور فرار کا سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیجئے میں قرآن مجید سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے دلائل کا آغاز کرتا ہوں۔ پہلی دلیل قرآن مجید سے اور استدلال مرزا قادیانی کی کتب سے۔ لیجئے یہ میرے ہاتھ میں مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ چہار حصص ہے۔ اس کے ص 313 یہ لاہوری ایڈیشن کا صفحہ ہے، قادیان کے ایڈیشن کا ص 498 خزائن ج 1 ص 593 ہے۔ اس پر مرزا نے لکھا ہے:

”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔“

یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیجئے یہ قرآن مجید کی آیت کریمہ ہے جس سے مرزا استدلال کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ دوبارہ کے معنی، وہی پہلے والے آئیں گے، زندہ ہیں تب ہی آئیں گے۔ قرآن مجید کی آیت ہے اور مرزا کا معنی، اب آپ فرمائیں۔ قرآن سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔

قادیانی نمبردار: مرزا صاحب نے اس میں رسمی عقیدہ لکھ دیا، بعد میں ان کو وحی اور الہام سے معلوم ہوا کہ وہ خود مسیح موعود ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ آخر حضور ﷺ بھی تو پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، بعد میں بیت اللہ شریف کی طرف رخ کیا۔

فقیر: محترم! آپ نے بڑی سادگی سے یہ بات کہہ دی حالانکہ بات ایسے نہیں جیسے آنجناب نے کہا، بلکہ بڑی سنجیدگی سے غور کریں کہ اس کے یہ نتائج نکلتے ہیں۔ 1...... مرزا قرآن مجید کی آیت پڑھ کر کہتا ہے کہ یہ آیت مسیح علیہ السلام کے متعلق ہے۔ پھر کہتا ہے یہ مرزا کی کتاب اربعین نمبر 2 میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کے ص 27 خزائن ج 17 ص 369 پر مرزا نے لکھا ہے:

”میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی (الہامات) میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں، وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔“

صفحہ 73

مرزا نے قرآن پڑھ کر کہا کہ یہ آیات مسیح کے متعلق ہیں اور وہ زندہ ہیں۔ پھر کہا کہ الہامات سے معلوم ہوا کہ وہ فوت ہو گئے اور ان آیات کا میں مصداق ہوں۔ کیا مرزا قادیانی کے الہام سے قرآن مجید منسوخ ہو گیا؟

چوتھی استدعا: اب میری آپ سے چوتھی استدعا ہے کہ آپ اپنے قادیانی مربیوں سے معلوم کریں کہ جو شخص اپنے الہام سے قرآن مجید کو منسوخ کرے، اس سے بڑا کافر کوئی اور ہو سکتا ہے؟ باقی رہا آنجناب کا یہ کہنا کہ حضور ﷺ پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے پھر بیت اللہ شریف کی طرف رخ کیا۔ تو جناب! فلاں شخص زندہ ہے یہ خبر ہے۔ فلاں طرف رخ کر کے نماز پڑھو یہ حکم ہے۔ احکام میں نسخ ہوتا ہے اخبار میں نسخ نہیں ہوتا....... جب حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے وہ صحیح تھا۔ جب رخ بیت اللہ شریف کی طرف کیا تو یہ بھی صحیح تھا، اس لیے کہ یہ احکام ہیں اور یہ دونوں صحیح ہیں۔ لیکن فلاں شخص زندہ ہے، نہیں فوت ہو گیا ان دونوں میں سے ایک بات صحیح ہوگی دوسری غلط، دونوں صحیح نہیں ہو سکتیں۔ اس وضاحت کے بعد فقیر نے براہین احمدیہ چہار حصص کے لاہوری ایڈیشن ص 317 کی عبارت پیش کی۔

(قادیانی ایڈیشن ص 505 خزائن ج 1 ص 601)

”عسٰی ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا و جعلنا جھنم للکافرین حصیرا۔“

جس کی تفصیل میں مرزا نے الہامی طور پر اقرار کیا کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے“ لیجئے یہ دوسری آیت ہے۔

قادیانی نمبردار: آپ مرزا قادیانی کو کیوں لیتے ہیں۔ اس کو چھوڑیں قرآن سے ثابت کریں۔

فقیر: میں سمجھ گیا آپ مرزا سے اتنے الرجی ہو گئے ہیں کہ ان کا قرآنی ترجمہ بھی آپ کو قبول نہیں۔ لیجئے میں چند آیات قرآنی پیش کرتا ہوں۔ وما قتلوہ وما صلبوہ...... بل رفعہ اللہ وکان اللہ عزیزا حکیما....... وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ وانہ لعلم للساعہ (امکان نزول کے لیے ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم) آسمان کا لفظ کہاں ہے اس کے اثبات کے لیے مختلف آیات قرآنی مثلاً: قد نریٰ تقلب وجھک فی السماء آامنتم من فی السماء، یعیسیٰ انی متوفیک و رافعک،

صفحہ 74

وجيهاً في الدنيا والاخره. اذ علمتك الكتاب والحكمة. تكلم الناس في المهد وكهلا. پر تفصیل سے پون گھنٹہ تقریباً گفتگو کی (جس کی تفصیلات کے لکھنے کے لیے وقت چاہیے) اس پر قادیانی نمبردار نے کہا۔

قادیانی نمبردار: اچھا کافی وقت ہو گیا ہے میں غور کروں گا۔

فقیر: نہیں جناب یہ تو آپ کی ڈیمانڈ تھی۔ قرآن مجید کے بعد حدیث شریف کا نمبر آتا ہے وہ سنیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام کے ص 201 خزائن ج 3 ص 198 پر بخاری شریف میں 490 کی روایت نقل کی ہے۔ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير و يضع الحرب كيف انتم اذ انزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم. قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوگا، عادل، حاکم ہوگا، صلیب کو توڑ ڈالے گا، اور خنزیر کو قتل کر دے گا جنگ اٹھا دی جائے گی۔ اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا، اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

اور اسی کتاب ازالہ اوہام کے ص 206 خزائن ج 3 ص 201 پر صحیح مسلم شریف کی روایت ہے آخری الفاظ یہ ہیں۔ فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند منارة البيضا شرقى دمشق بين مهروزتين واضعا كفيه على اجنحة الملکین...... حتی یدركه بباب لد فیقتله. ان حالات میں عیسیٰ بن مریم کو اللہ تعالیٰ بھیجیں گے جو (جامع) دمشق کے سفید شرقی منارہ پر نازل ہوں گے وہ دو زرد رنگ کی چادریں پہنی ہوئی ہوں گے۔ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔...... دجال کو مقام ”لد“ پر پا کر قتل کر دیں گے۔

میرے محترم! یہ دونوں روایتیں صحیحین یعنی بخاری ومسلم کی ہیں۔ مرزا قادیانی نے خود ان کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ حضورﷺ قسم اٹھا کر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم تمھارے اندر نازل ہوگا۔ اب میں ان روایات میں بیان کردہ علامات پر بحث کو مرکوز رکھتا ہوں۔ ورنہ جہاں تک حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی علامات بیان کردہ قرآن و حدیث کا تعلق ہے وہ ایک سو اسی 180 کے قریب ہیں اور یہ کہ وہ ایک بھی مرزا میں نہیں پائی جاتی۔ دجل و تلبیس، تاویل و تحریف کر کے آپ کے قادیانی مربی جو کہتے پھریں، مگر جہاں تک حقائق کا تعلق ہے ایک بھی نشانی مرزا قادیانی آنجہانی میں نہیں پائی جاتی۔

صفحہ 75

قرآن مجید کی تیرہ آیات کی صراحۃ النص ، عبارۃ النص اور اشارۃ النص حضور سرور کائنات ﷺ کی 112 صحیح و صریح احادیث مبارکہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ثابت ہے۔ تفصیلات احادیث معلوم کرنے کے لیے التصریح بما تواتر فی نزول المسیح جو ملتان اور بیروت کی شائع شدہ ہے، اس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کراچی کے مولانا محمد رفیع عثمانی نے ”نزول مسیح اور علامات قیامت“ کے نام سے اس کا ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ خیر مجھے اس وقت مرزا کی کتاب ازالہ اوہام میں بیان کردہ دو حدیثوں کی علامات کا جائزہ لینا ہے۔

(1)...... حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم عیسیٰ بیٹا مریم کا نازل ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں مرزا کہتا ہے کہ ”حق کی قسم مر گیا ابن مریم“ مرزا قادیانی کا یہ شعر ازالہ اوہام ص 764 خزائن ج 3 ص 513 میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ہی شخصیت کے متعلق حضور ﷺ قسمیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نازل ہوگا زندہ ہے اور اس کے متعلق مرزا کہتا ہے کہ وہ مر گئے۔ اب آپ پر فیصلہ ہے کہ اپنے ایمان سے کہیں کہ کس کی قسم سچی ہے۔ حضور ﷺ کی یا مرزا بدمعاش کی؟

(2)...... حضور ﷺ فرماتے ہیں جو نازل ہوگا وہ مریم کا بیٹا ہے۔ مرزا کہتا ہے کہ وہ میں ہوں۔ وہ نازل ہوگا۔ یہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ کیا مرزا کی ماں کا پیٹ آسمان تھا؟ وہ مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں۔ مرزا قادیانی چراغ بی بی کا لڑکا ہے۔ وہ حاکم ہوں گے، یہ غلام ابن غلام تھا۔ ساری زندگی انگریز کی ذلت آمیز خوشامد و چاپلوسی کرتا رہا، پچاس الماریاں کتابوں کی انگریز کی مدح میں لکھتا رہا، عریضے بھیجتا رہا، درخواستیں کرتا رہا، ان کی اطاعت کو فرض گردانتا رہا۔ وہ عادل ہوں گے۔ یہ اپنی پہلی بیوی سے عدل نہ کر سکا، اپنی پہلی اولاد سے انصاف نہ کر سکا۔

(3)...... وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، ان کے آنے پر عیسائیت ختم ہو جائے گی جو صلیب کے پجاری ہیں وہ صلیب کے توڑنے والے بن جائیں گے۔ جو خنزیر خور ہیں وہ خنزیر کے قاتل بن جائیں گے۔ صلیب و خنزیر کا پجاری کوئی نہ رہے گا۔ مرزا کے زمانہ میں عیسائیت کو جو ترقی ہوئی، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب ”ربوہ“ چناب نگر میں مسیحی موجود ہیں۔ مرزا کا موجودہ جانشین مسیحیوں کی گود میں لندن بیٹھا ہے۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ یہ علامتیں مرزا میں موجود نہ تھیں؟

پھر لگے ہاتھوں براہین احمدیہ کی عبارت جو پیش کر چکا ہوں وہ سامنے رہے کہ

صفحہ 76

مسیح ؑ کی آمد پر دین اسلام کا غلبہ ہوگا اور اس کو حدیث شریف میں یوں بیان کیا گیا ہے: ”يهلك الملل كلها الا ملة واحدة الا فهي الاسلام“ کہ تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ پوری دنیا میں اسلام ہی کی فرمانروائی ہوگی۔ لیکن اس کے برعکس مرزا کو دیکھو، اس نے آتے ہی تمام مسلمانوں کو جو مرزا کو نہیں مانتے کافر قرار دیا جو مسلمان تھے، مرزا نے ان کو کافر بنا دیا۔ اپنے ماننے والوں کو ہی فقط مسلمان قرار دیا۔ اب مرزائیوں کے دو گروپ ہو گئے ہیں۔ ایک لاہوری دوسرا قادیانی۔ لاہوریوں نے کہا کہ مرزا نبی نہیں تھا۔ تو جو غیر نبی کو نبی مانے وہ کافر، تو گویا قادیانی کافر، قادیانیوں نے کہا کہ مرزا نبی تھا تو جو نبی کو نبی نہ مانے وہ کافر، تو گویا لاہوری کافر۔ مرزا نے کہا کہ تمام مسلمان کافر۔ لاہوریوں کے نزدیک قادیانی کافر، قادیانیوں کے نزدیک لاہوری کافر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا کے آنے پر دنیا میں ایک بھی مسلمان نہ رہا تو آپ فرمائیے کہ مسیح ؑ کی آمد پر اسلام کا بول بالا ہوگا۔ مرزا کے آنے پر کفر کا بول بالا ہوا تو مرزا مسیح ہدایت ہوا یا مسیح ضلالت۔

پانچویں استدعا: میری آپ سے یہ ہے کہ اس عقیدہ کو بھی قادیانیوں سے حل کرائیے گا۔

پھر جنگ کس سے؟ لیکن مرزا کے آنے پر کتنی جنگیں ہوئیں یہ آپ کے سامنے ہے۔

ہوں گے۔ اس سے مراد حضرت مہدی ہیں۔ معلوم ہوا کہ مسیح اور ہیں، مہدی اور ہیں۔ یہ دونوں جدا جدا شخصیات ہیں۔ ان کے نام و کام و زمانہ وغیرہ کی تفصیلات احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ مرزا نے کہا کہ وہ دونوں ایک ہیں اور وہ میں ہوں۔ یہ صراحۃً چودہ سو سالہ امت اسلامیہ کے تعامل سے ہٹ کر امر ہے جو سراسر کذب و دجل کا شاہکار ہے۔

کہا کہ دمشق سے مراد قادیان ہے اس لیے کہ یہ دمشق کے شرق میں واقع ہے۔ اس ”الو باتا“ سے کوئی یہ پوچھے کہ دمشق کے مشرق میں صرف قادیان ہے اور کوئی شہر نہیں؟ سفید مینار پر نازل ہوں گے۔ مینار کی مرزا نے تاویل تحریف کی بجائے اسے حصول زر کا ذریعہ بنا لیا کہ چندہ اکٹھا کرو، مینارہ بناتے ہیں۔ چندہ کا دھندا اور مینار کا اشتہار شروع ہوا۔ مینار مکمل نہ ہوا، مرزا قبر میں چلا گیا۔ مینار مرزا کے مرنے کے بعد مکمل ہوا۔

صفحہ 77

حدیث شریف کی رو سے مینار پہلے، ”مسیح ؑ“ بعد میں، مگر مرزا کہتا ہے کہ مسیح پہلے، مینار بعد میں۔ یہ تو بڑے میاں کی بات تھی اب چھوٹے میاں مرزا محمود کی سنو۔ یہ دمشق گیا، کہتا ہے کہ مینار کا دروازہ کھولو میں اس پر چڑھتا ہوں تاکہ حدیث کے ظاہری الفاظ پورے ہو جائیں۔ دنیا میں شرافت و دیانت نام کی کوئی چیز ہے تو میں اس کو دہائی دیتا ہوں کہ حدیث میں ہے کہ مسیح بن مریم مینار کے قریب نازل ہوں گے۔ یہاں خود ساختہ مسیح کا بیٹا ہے۔ وہ نازل ہوں گے۔ یہ نیچے سے اوپر جا رہا ہے۔ حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل ہو رہا ہے یا حدیث کو بازیچہ اطفال بنانے کے لیے شیطان کے ہاتھوں میں ابن الشیطان کھیل رہا ہے۔ اس کا فیصلہ آپ کریں۔

رکھی ہوں گی۔ مرزا کا نزول کی بجائے ولود ہوا۔ مگر چادروں کی بجائے الف ننگا۔ (قادیانیت کی طرح)

”ولود“ کے وقت دائی کے ہاتھ میں وصول شدہ پارسل کی طرح تھا۔

دجالی طاقتوں کا پروردہ اور دجال اکبر کا نمائندہ تھا۔ بیان کردہ ان روایات سے میں نے 9 علامتیں بیان کی ہیں۔ میری درخواست ہے کہ کیا کوئی علامت بھی مرزا قادیانی میں پائی جاتی تھی؟ نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر غور فرمائیں کہ مرزا مسیح تھا یا دجال تھا؟

مسیح کیسے بنا: اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا مسیح کیسے بنا۔ مرزا کی کتاب کشتی نوح میں درج ہے کہ اس (خدا) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا...... دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی۔ اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب دو برس گزر گئے...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا (کس نے؟) گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ (کشتی نوح ص 46، 47 خزائن ج 19 ص 50)

اب دیکھئے کہ غلام احمد سے مریم بن گئی۔ یعنی مرد سے عورت، دنیا کا نیا عجوبہ۔ پھر حمل ہو گیا۔ پھر مریم سے عیسیٰ بن گیا۔ یوں مرزا غلام احمد سے مسیح ابن مریم ہو گیا۔ میرا دعویٰ ہے کہ دنیا میں حیا نام کی کوئی چیز ہے تو مرزا قادیانی کو اس کی ہوا بھی

صفحہ 78

نہیں لگی۔

مرزا کی اخلاق باختگی: ’’مسیح موعود (مرزا ملعون) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔‘‘ (اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 ص 12 تصنیف قاضی یار محمد قادیانی) لیجئے صاحب یہ مرزا کی حدیث (معاذ اللہ) اس کا نام نہاد صحابی (معاذ اللہ) بیان کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ نے وہ کام کیا جو مرد اپنی عورت سے کرتا ہے۔ مرزا کا یہ کشف ہے۔ کشفی حالت میں مرزا سے کیا کچھ ہو رہا ہے؟ یہ وہ کشف ہیں جن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ کشف و الہام سے ثابت ہوا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گئے اور مرزا ہی مسیح موعود ہے۔ یہ مرزا کے کشوف ...... اب مرزا کا ایک اور کشف بھی ملاحظہ ہو۔ مرزا نے اپنی کتاب ازالہ اوہام کے ص 77 خزائن ج 3 ص 140 کے حاشیہ پر لکھا ہے:

’’کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھے بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں دیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا۔‘‘

محترم لیجئے! یہ مرزا قادیانی کا کشف ہے، جسے وہ عالم بیداری میں اپنے ہاتھ سے لکھ کر کتاب کی زینت بنا رہے ہیں اور فی الحقیقت کہہ کر اپنے کشف کو پکا کر رہے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کے مطابق نبوت کا مدعی تھا اور نبی کا کشف تو درکنار، بجائے خود خواب بھی شریعت کے اندر حجت اور قابل اعتماد ہوتا ہے، صحیح ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی نص قطعی ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل ؑ کی بابت خواب دیکھا۔ انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا

صفحہ 79

ترٰی قال یاابت افعل ما تومر ....... (الصّٰفّٰت: 102) اسماعیل علیہ السلام نے یہ خواب سن کر یہ نہیں فرمایا کہ یہ خواب ہے، بلکہ فرمایا کہ آپ کر گزریں جو اللہ رب العزت نے فرمایا ہے۔ اس کی روشنی میں اسماعیل علیہ السلام نے گردن جھکائی، ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلائی دونوں نبیوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ شریعت میں نبی کا خواب بھی حجت ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ کشف ہو۔ اب آپ فرمائیں تمام قادیانی مل کر اس عقدہ کو حل کریں کہ کیا قرآن مجید میں قادیان کا نام ہے؟ نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر مرزا کا کشف خلاف واقعہ ہوا، غلط ہوا۔ اب جس کے یہ کشف ہوں، اس آدمی کے ان جھوٹے کشوف پر اعتبار کر کے قرآن و حدیث کے خلاف نظریہ قائم کر لیا جائے۔ قرآن کہے مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزا قادیانی قرآن سے مسیح علیہ السلام کو زندہ کہے پھر اپنے الہام سے ان کی وفات کا اعلان کرے۔ فرمائیے ہم قرآن مجید کے اعلان کو مانیں یا مرزا کے ان جھوٹے کشوف و الہامات کو؟

کشف کی بات چل نکلی ہے تو لیجئے مرزا قادیانی کا ایک خواب جو تذکرہ طبع سوم کے ص 759 پر لکھا ہے ملاحظہ ہو: ”مجھے کشف ہوا تھا کہ اس (اسمعیل) نے میرے داہنے ہاتھ پر دست پھیر دیا۔“ اب اپنے نام نہاد مرزا قادیانی کو دیکھیں کہ کشف میں اپنے داہنے ہاتھ پر ”پاخانہ“ کی کہانی سنا رہا ہے۔ قادیانی اسے مرزا صاحب کے الہام و کشوف نامہ ”تذکرہ“ میں شائع کر رہے ہیں۔ مرزا کا ہاتھ کشف میں فلٹھہ ڈپو بنا ہوا ہے اور قادیانی اس مکروہ احمقانہ عمل کو بیان کر رہے ہیں۔ دونوں تابع و متبوع کی مت ماری گئی ہے کہ اس کریہہ عمل کو دہرایا جا رہا ہے۔

خیر! قادیانی نمبردار صاحب، میری درخواست ہے کہ اللہ رب العزت کے نبی کا ہاتھ بابرکت ہوتا ہے۔ نبی اشارہ کرے خدا تعالیٰ چاند کے ٹکڑے فرما دیں۔ نبی اپنا ہاتھ کسی صحابی کے ٹوٹے ہوئے بازو پر پھیر دے تو وہ ساری عمر کے لیے صحیح ہو جائے۔ نبی اگر ہاتھ کا اشارہ کرے تو درخت زمین چیر کر نبوت کے قدموں میں آ جائے۔ نبی ہاتھ اٹھائے خدا بارش برسائے۔ نبی اپنا ہاتھ صحابی کی ”سوٹی“ کو لگا دے تو وہ ٹیوب سے زیادہ روشن ہو جائے۔ نبی پیالے میں ہاتھ رکھ دے تو خدا تعالیٰ نبوت کی پانچوں انگلیوں سے پانی کے پانچ چشمے جاری فرما دیں۔ میں قادیانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ مرزا کو نبی مانتے ہیں تو مرزا سے درخواست کریں کہ مرزا یہی برکت والا ہاتھ جس پر اسمعیل نے تازہ تازہ پاخانہ پھرا ہے، یہ ہاتھ تمام قادیانیوں کے منہ پر پھیر دے تاکہ

صفحہ 80

قادیانیوں کے منہ پلستر ہو جائیں۔ ”میڈ ان قادیان“ معاذ اللہ۔

تو جناب! یہ ہیں مرزا کے کشوف و الہامات جو سراپا دجل و کذب کا شاہکار ہیں۔ ویسے بھی مرزا قادیانی جتنے جھوٹ بولتا تھا اس کی مثال نہیں۔ مثلاً (1)....... مرزا نے اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ص 181 خزائن ج 21 ص 359 پر لکھا ہے کہ: ”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودھویں صدی کا مجدد ہوگا“ میرا دنیا بھر کے قادیانیوں کو غیرت وحمیت کے نام پر چیلنج ہے کہ ہے کوئی ماں کا لال قادیانی؟ جو احادیث صحیحہ تو درکنار کسی ایک صحیح وصریح حدیث سے یہ دکھا دے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا اور اس چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔ سو سال سے امت محمدیہ یہ چیلنج کرتی آرہی ہے کہ قادیانی کوئی ایک صحیح حدیث میں چودھویں صدی کا لفظ دکھا کر مرزا قادیانی کے دامن سے کذب و افترا کے دھبہ کو صاف کریں۔ مگر کوئی حدیث ہو تو بیچارے بیان کریں۔ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ مرزا قادیانی کی خود غرضی ہے۔ چونکہ چودھویں صدی میں اس نے فراڈ و دھوکہ اور دجل و کذب سے جھوٹا دعویٰ کیا، اسے صحیح بتانے کے لیے حضور سرور کائنات ﷺ کے نام پر احادیث مبارکہ کا ذکر کر کے جھوٹ بول رہا ہے اور قادیانیوں کی مت ماری گئی کہ وہ اتنے بڑے سفید جھوٹ کو مرزا کے سیاہ منہ سے سن کر اپنے سیاہ دل میں جگہ دے کر اپنی قبر و آخرت کو سیاہ کر رہے ہیں۔

چھٹی استدعا: جناب نمبردار صاحب! میری آپ سے یہ چھٹی استدعا ہے کہ قادیانی مربیوں سے مل کر آپ وہ حدیث صحیح وصریح لائیں جس میں مسیح موعود کے چودھویں صدی میں آنے کے الفاظ ہوں، قیامت تک نہیں لاسکیں گے، چلو رعایت کرتا ہوں۔ صحیح نہیں ایک ضعیف یا موضوع روایت ہی دکھا دیں۔ جس میں چودھویں صدی کے الفاظ ہوں اور اربعین نمبر 2 ص 29 میں لکھا کہ ”انبیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور مزید یہ کہ پنجاب میں پیدا ہوگا۔ دیکھئے براہین احمدیہ میں کہا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔ اب اربعین میں کہا انبیاء گزشتہ کے کشوف میں ہے کہ چودھویں صدی میں ہوگا۔ اور پنجاب میں ہوگا۔“ ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی نبی کے کشف میں پنجاب و چودھویں صدی کا ذکر نہیں۔ یہ مرزا کا ڈھونگ ڈھکوسلہ، بدبودار جھوٹ اور متعفن بددیانتی ہے۔ سو سال سے ہمارے چیلنج کے باوجود قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکے۔ اب دیکھئے کہ اربعین کے

صفحہ 81

پہلے ایڈیشن میں ”انبیاء گزشتہ کے کشوف“ کے الفاظ تھے، اب حالیہ ایڈیشن میں ”اولیاء گزشتہ کے کشوف“ کر دیا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ مرزا قادیانی نے انبیاء علیہم السلام اور حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس پر افترا کیا۔ اب آپ انصاف فرمائیں کہ ایسے جھوٹے مفتری اور کذاب کے ایسے احمقانہ الہامات، ملحدانہ کشوف اور مرتدانہ رویا کی بنیاد پر ہم حیات عیسیٰ ؑ کے ایک اجماعی عقیدہ کو چھوڑ کر اس مرزا ملعون کو مسیح مان لیں۔ یہ کیسے ممکن ہے۔

جناب قادیانی نمبردار صاحب! اگر آپ نے منصفانہ فیصلہ کرنا ہو تو وہ کوئی مشکل نہیں، دو اور دو چار کی طرح بالکل حالات و واقعات کی بنیاد پر بھی مرزا کے کذب و صدق کو جانچا جا سکتا ہے۔ یہ دیکھئے میرے ہاتھ میں مرزا قادیانی کی کتاب حقیقۃ الوحی ہے۔ اس کے ص 193، 194 خزائن ج 22 ص 201 پر مرزا قادیانی نے لکھا:

”آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ آخری زمانہ ہے یا نہیں، یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے۔ اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو۔ مری پڑ رہی ہے زلزلے آ رہے ہیں ہر ایک قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں۔ پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے تیس سال گزر گئے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے۔ اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا ...... وہ مسیح موعود آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں ۔“

اب مرزا غلام احمد قادیانی کی اس بات سے یہ نتیجہ نکلا کہ:

موعود ہوگا وہ میں ہوں۔

میرے محترم! چودھویں صدی کے اختتام کے بعد قیامت نہیں آئی بلکہ اور صدی شروع ہو گئی تو پندرھویں صدی کے آغاز نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کو اور آشکارا کر دیا۔ پندرھویں صدی نے بتا دیا کہ چودھویں صدی آخری نہ تھی۔ لہٰذا چودھویں

صفحہ 82

کا جو مجدد ہوگا وہ آخری مجدد نہ تھا تو وہ مسیح موعود بھی نہ ہوا۔ پس مرزا کی متذکرہ عبارت کی رو سے یہ امر پایہ تکمیل تک پہنچا کہ نہ چودھویں صدی آخری صدی تھی نہ مرزا اس کا مجدد تھا اور نہ ہی مسیح موعود تھا۔

آخری بات: میں نے بالکل ابتداء میں عرض کیا تھا کہ مرزا قادیانی اللہ رب العزت کی توہین کا مرتکب ہوا۔ اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ضمیمہ ص 139 خزائن ج 21 ص پر یہ بحث کہ اس زمانہ میں وحی کیوں بند ہے پر سیخ پا ہو کر لکھتا ہے کہ: ”کوئی عقل مند اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں پھر بعد اس کے یہ سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا۔ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے۔“

یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مرزا کے دل میں ذرہ برابر اللہ رب العزت کا احترام نہیں تھا ورنہ مفروضے قائم کر کے یوں دریدہ دہنی کا مرتکب نہ ہوتا۔ اپنی کتاب دافع البلاء کے ص 11 خزائن ج 18 ص 231 پر مرزا نے کہا: ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خداوند کریم کی سچائی مرزا قادیانی کی رسالت سے بندھی ہوئی ہے۔ اگر مرزا قادیانی رسول نہیں تو پھر خدا بھی خدا نہیں۔ اس لیے سچے خدا کی یہ نشانی ہے کہ اس نے قادیان میں رسول بنا کر بھیجا۔ (معاذ اللہ) کتاب البریہ ص 85 خزائن ج 13 ص 103 پر لکھا ہے کہ: ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“

تلعب کیا؟

رسول اللہ و الذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

موعود (مرزا) اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں۔..... قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا۔“

اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“

صفحہ 83

پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

محترم! قادیانی نہ صرف یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ ﷺ کے روپ میں (معاذ اللہ) پیش کرتے ہیں بلکہ رحمت عالم ﷺ کے نام اعزازات و القابات کا بھی مرزا کو مستحق سمجھتے ہیں۔ درود و سلام، (تذکرہ ص 777) یٰسین، (تذکرہ 479) مدثر، (تذکرہ ص 51) انا اعطینٰک الکوثر، (تذکرہ 374) رحمۃ للعالمین، (تذکرہ ص 81) قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی۔ (تذکرہ ص 46) ان تمام کے بارہ میں مرزا کی نام نہاد وحی ہے کہ یہ اعزازات مجھے بخشے گئے۔

ہوا بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنا ان پر برتری ثابت کرنا مرزا قادیانی کا بدترین کافرانہ محبوب مشغلہ تھا۔ لیجئے میرے ہاتھ میں مرزا کی کتاب حقیقت الوحی ہے۔ اس کے ص 89 خزائن ج 22 ص 92 پر ہے: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“ مرزا نے اپنی کتاب نزول المسیح ص 100 خزائن ج 18 ص 477، 478 پر کہا:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
زندہ شد ہر نبی بامدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم

ترجمہ: اگرچہ بہت سارے نبی ہوئے ہیں لیکن میں عرفان (الٰہی) میں کسی (نبی) سے کم نہیں ہوں۔ ہر نبی کو جو جام (شریعت) دیا گیا مجھے وہ مکمل بھر کر دیا گیا، میرے آنے سے تمام رسول زندہ ہو گئے۔ ہر رسول میرے کرتہ میں پوشیدہ ہے۔ (معاذ اللہ)

دہنی کی۔ اس کی صرف ایک مثال ملاحظہ ہو۔ انجام آتھم کے ضمیمہ ص 7 خزائن ج 11 ص 291 پر لکھا ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ ؑ کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی

صفحہ 84

عورتیں تھیں۔“

(5)....... مرزا قادیانی کا ارشاد تذکرہ ص 607 پر درج ہے: ”خدا تعالیٰ نے میرے اوپر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“ جو میرا مخالف ہے وہ جہنمی ہے۔“ (تذکرہ ص 163) میرے دشمن جنگل کے خنزیر اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔ (نجم الہدی ص 53 خزائن ج 14 ص 53) جو مرزا کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمتہ الفصل ص 110) کل مسلمان جو مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے مسیح موعود (مرزا) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

(آئینہ صداقت ص 35 از مرزا بشیر الدین محمود)

(6)....... مرزا جھوٹ بولتا تھا، حرام کھاتا تھا، وعدہ خلافی کرتا تھا۔ اس پر ایک ہی واقعہ عرض کر دیتا ہوں۔ مرزا نے براہین احمدیہ کتاب لکھنے کا اعلان کیا کہ اس کی پچاس جلدیں ہوں گی۔ پیشگی قیمت لوگوں سے وصول کر لی۔ بجائے پچاس کے صرف چار جلدیں لکھیں۔ لوگوں نے مطالبہ کیا، سخت سست کے خطوط لکھے، تو بہت تاخیر سے پانچویں جلد کے ص 7 خزائن ج 21 ص 9 پر لکھا کہ پچاس لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس اور پانچ کے عدد میں نقطہ کا فرق ہوتا ہے۔ لہٰذا پانچ لکھنے سے پچاس کا وعدہ پورا ہو گیا۔ اب اس ایک واقعہ کو دیکھئے، اس سے تین باتیں ثابت ہوئیں۔ (1)....... پچاس کتابوں کے پیسے لیے، پانچ کتابیں دیں، باقی پینتالیس کے پیسے کھا گیا تو حرام خور ہوا۔ (2)....... پچاس لکھنے کا وعدہ تھا۔ پانچ لکھیں وعدہ خلافی کی۔ (3)....... کہا کہ پچاس اور پانچ میں نقطہ کا فرق ہوتا ہے حالانکہ پینتالیس کا فرق ہے، تو جھوٹ بولا۔ اب آپ انصاف کریں جو جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے، حرام کھائے وہ نبی کیسے ہو سکتا ہے؟

(7)....... مرزا نے اپنے لاہوری مرید کو خط لکھا جو ”خطوط امام بنام غلام ص 5“ میں چھپ گیا ہے۔ اس میں مرزا نے اس کو لکھا ہے کہ پلومر کی دوکان (لاہور ہائی کورٹ کے سامنے) سے میرے لیے ٹانک وائن (شراب) کی بوتل اصلی خرید کر بھجوائیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ شراب کے حصول کا رسیا تھا۔

صفحہ 85

(8)...... لاہوری مرزائیوں سے کسی نے مرزا محمود کو خط لکھا۔ مرزا محمود نے وہ خط خطبہ جمعہ میں پڑھ کر سنا دیا اور بعد میں الفضل قادیان نے وہ شائع کر دیا۔ قادیانی، لاہوری، مرزا محمود، الفضل سب کچھ یہ مرزا قادیانی کا ”ثمر“ ہے۔ مرزا کا ثمر کہتا ہے کہ:

”مسیح موعود (مرزا) ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انھوں نے کبھی کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔ پھر لکھا ہے ہمیں مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“ (الفضل قادیان ج 26 نمبر 200 ص 6، 31 اگست 1938ء) لیجئے میری بات اختتام کو پہنچی۔ آپ نے حوالہ جات نوٹ کر لیے ہیں آپ فرمائیں کیا خیال ہے؟

قادیانی نمبردار: میں ان پر غور کروں گا۔ (قادیانی نمبردار سے پندرہ دن کا وعدہ کیا مگر تا حال جواب نہیں ملا۔)

۞.......۞.......۞

صفحہ 86

مناظرہ ایبٹ آباد

داتہ ضلع مانسہرہ سرحد میں فاروق نامی ایک قادیانی رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ کوئی عالم دین میرے اشکال دور کردے۔ وہ ایبٹ آباد تشریف لائے تو وہاں کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران سے ملے اور اپنے مسلمان ہونے کے اعلان کے لیے شرط عائد کی کہ میری ملازمت اور رہائش کا انتظام کردیں۔ ویسے تو میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ اس نے بتایا کہ میں سمندری ضلع فیصل آباد کا رہائشی ہوں۔ فیصل آباد کے بریلوی مکتب فکر کے مدرسہ میں پڑھتا رہا ہوں۔ بعد میں مرزائی ہوگیا۔ میرے اشکال دور کردیں۔ رہائش بمع اہل وعیال اور ملازمت کا بھی اہتمام کریں۔ خلاصہ یہ کہ میں نے قادیانیت ترک کردی ہے۔ اسلام قبول کرنے کے اعلان سے قبل میرے اشکالات کا حل ہوجائے۔ ایبٹ آباد کے دوست چاہتے تھے کہ ہم اس کی مدد کریں۔ لیکن اس کی پوزیشن واضح ہوکہ اس نے قادیانیت کو ترک بھی کیا ہے یا کرنا چاہتا ہے یا صرف ہمیں دھوکہ دینے کے درپے ہے۔ جناب وقار گل جدون‘ جناب سید مجاہد شاہ‘ داتہ کے جناب سید شجاعت علی شاہ اور ایبٹ آباد کے علمائے کرام نے مجھے (فقیر کو) حکم فرمایا۔ فقیر (اللہ وسایا)‘ حضرت مولانا قاضی احسان احمد مبلغ اسلام آباد حال کراچی کے ہمراہ 18 دسمبر 2003ء بروز جمعرات صبح دس بجے ایبٹ آباد حاضر ہوا۔ یہ سب حضرات اور قادیانی فاروق جمع تھے۔ گفتگو ہوئی۔ بعد میں کیسٹوں سے نقل کرکے جناب سید شجاعت علی شاہ صاحب نے مجھے (فقیر کو) بھجوادی۔ قارئین کرام تین باتیں ملحوظ رکھ کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔

صفحہ 87

بیٹھتے ہی ہم نے ان کے وساوس دور کرنے سے بات کا آغاز کیا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم! جناب فاروق صاحب! وسوسے کو دور کرنا یا کسی کے وہم کو دور کرنا دنیا میں سب سے مشکل ترین کام ہے۔ وسوسہ سوائے توفیق الٰہی کے دور نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک آپ اپنی طبیعت کے اندر خود طلب پیدا نہیں کریں گے، ہماری معروضات کا فائدہ نہ ہوگا۔ کیونکہ ایک آدمی کمزور ہے۔ کمزور جسم کے اندر بیماری کے جراثیم اثر کرتے ہیں۔ اگر اس کے جسم کے اندر قوت مدافعت نہیں ہے تو جتنا چاہے اس کا علاج کرتے رہیں، اس کی بیماری کی جڑ کبھی دور نہیں ہوگی۔ بیماری کی جڑ اس دن دور ہوگی جس وقت جسم کے اندر قوت مدافعت پیدا ہوگی۔ آپ کسی عالم دین کے ہاں جائیں، وہ مجھ سے کروڑ گنا زیادہ آپ کو وعظ کرتا رہے۔ لیکن باہر نکل کر آپ نے کہہ دینا ہے کہ میں مطمئن نہیں ہوا۔ اس لیے کہ بیماری کی جڑ موجود ہے۔ جراثیم موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے کوئی دوائی اثر نہیں کررہی۔

وساوس کو دور کرنے کا علاج

وساوس اور وہم کو دور کرنے کے لئے صرف اور صرف ایک طریقہ ہے کہ آپ اپنے طور پر سٹڈی کرنی شروع کردیں۔ زنگ اترتا جائے۔ سٹڈی ہوتی جائے۔ زنگ اترتا جائے۔ تیاری ہوتی جائے۔ ایک ایسا وقت آئے گا کہ آپ بہترین جواب دینے والے بن جائیں گے۔ میں درخواست کرتا ہوں آپ سے کہ آپ نے ان (مقامی رفقاء) کے کہنے پر اسلام قبول کرلیا۔ لیکن حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ پر ابھی آپ کی طبیعت صاف نہیں ہوئی۔ ہمارا فرض بنتا ہے۔ ہم بیٹھیں گے اور یہ آج کی مجلس کوئی فیصلہ کن نہیں ہوگی۔ ہم بیٹھیں گے، کوئی چار چیزیں آپ کی خدمت میں عرض کریں گے۔ آپ جو ارشاد فرمائیں گے، ہم سنیں گے۔ کسی نتیجہ پر پہنچ گئے تو ٹھیک ہے۔ نہیں تو اور کتابوں کے مطالعہ کی آپ کو سفارش کریں گے۔ اس کے بعد اور کتابوں کا آپ مطالعہ کریں گے۔ تب جاکر آپ کے اشکالات دور ہوں گے۔ لیکن طبعاً آپ آمادہ ہوں کہ میں نے مسئلہ سمجھنا ہے۔ دوستوں کے کہنے پر نہیں، بلکہ اپنی طلب سے۔

دوسری درخواست

میری دوسری درخواست یہ ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام پر آپ کو اشکال ہے۔

صفحہ 88

مرزا قادیانی پر بھی کوئی اشکال ہے؟ اسے آپ ابھی بھی سچا مانتے ہیں یا جھوٹا سمجھتے ہیں؟ فاروق: ”جب چھوڑ دیا تو بس اب ٹھیک ہے۔ جھوٹا سمجھتا ہوں۔“ مولانا: یہ نہیں۔ یہ کہ: ”جب چھوڑ دیا تو بس اب ٹھیک ہے۔ جھوٹا سمجھتا ہوں۔“ اس طرح نہیں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہیں کہ: ”میں مرزا قادیانی کو کافر سمجھتا ہوں۔“ فاروق: ٹھیک ہے جی! مولانا: دیکھیں۔ جتنی مجلس بیٹھی ہے ان سب کا مرزا قادیانی کے متعلق یہی عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے۔ فاروق: ”ٹھیک ہے جی!“ اس میں کوئی اشکال نہیں۔ مولانا: یہ دو علیحدہ علیحدہ باتیں ہیں۔ میں آپ پر جبراً اور ظلماً کوئی بات مسلط نہیں کروں گا۔ میں آپ کے اندر کی بات باہر لانا چاہتا ہوں۔

تیسری درخواست

اب میں تیسری یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر حیات عیسیٰ یا وفات عیسیٰ کی بنیاد پر کسی کو سچا ماننا ہے تو سب سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انکار یہودیوں نے کیا ہے۔ اس مسئلہ کی بنیاد پر اگر اسلام کو چھوڑ کر کسی گروپ میں جانا ہے تو پھر یہودیت میں جانا چاہئے۔ اس مسئلہ کے انکار سے اگر کسی کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ یہودی ہیں۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ انا قتلنا المسیح! کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے مسیح علیہ السلام کو قتل کیا۔ اس کو تو قرآن نے خود نقل کیا ہے۔ اگر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے آپ انکاری ہیں اور اس کی وجہ سے کسی گروپ کے اندر جانا ہے تو سب سے پہلے یہودیت میں جانا چاہئے۔ پھر بعض ایسے بھی تھے مسیحوں میں سے جو یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب پر موت واقع ہوگئی تھی۔ ان کو قبر میں رکھا گیا۔ تین دن بعد زندہ ہوئے اور آسمانوں پر چلے گئے۔ تین دن تک وہ بھی ان کو مردہ مانتے ہیں۔ ان کی وفات کے تین دن تک کے وہ بھی قائل ہیں۔ اگر مسیح علیہ السلام کی وفات کی بنیاد پر ہی کسی کے ہاں جانا ہے تو پھر مسیحی (عیسائی) بننا چاہئے۔ علاوہ ازیں سرسید خاں بھی اس ملک میں ایسے تھے اور مرزا غلام احمد قادیانی سے پہلے انہوں نے حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا۔ سب سے پہلے مرزا قادیانی نے ان کے اگلے ہوئے نوالے، ان کی چبائی ہوئی اور چھچھوڑی ہوئی ہڈیوں کا رس چوسا اور پھر اس بنیاد پر اس کو جرأت ہوئی حیات مسیح علیہ السلام کے انکار کی۔ اگر وفات

صفحہ 89

مسیح علیہ السلام کی بنیاد پر آپ نے عقیدہ تبدیل کرنا تھا تو پھر آپ کو پرویزی ہونا چاہئے تھا یا نیچری ہونا چاہئے تھا۔ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر ہماری گفتگو ایک دفعہ نہیں، بیسیوں دفعہ ہوگی اور میں بڑے کھلے دل کے ساتھ اس پر گفتگو کے لیے تیار ہوں۔ اخلاص کے ساتھ ہم آپ کو قریب کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ ہمارے قریب بیٹھنے کی کوشش کریں۔ جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہے، وہی ہوگا میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے انکار کی وجہ سے کہیں جانا تھا تو یہودیت مستحق تھی، عیسائیت مستحق تھی، پرویزی تھے، سرسید خاں تھے۔ آپ وہاں کیوں نہیں گئے؟ مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس کیوں آئے؟ پہلے اس وسوسے کو دور کریں کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے یا مسئلہ کے سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے آپ مرزا قادیانی کے پاس گئے ہیں؟ قادیانیت قبول کرنے کا یہ مسئلہ باعث نہیں۔ اگر آپ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باعث ہے تو پھر آپ اپنے نفس کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ ضمیر کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ اپنے آپ کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ قطعا اس کا باعث نہیں۔ اس کے عوامل اور ہوں گے۔ عوامل کیا ہیں؟ مثلاً سگریٹ والوں کے پاس جاکر بیٹھتا ہوں تو مجھے بدبو آئے گی۔ بعد میں، میں یہ کہوں کہ مجھے بدبو بہت آتی تھی۔ بھائی میں جس ماحول کے اندر گیا تھا۔ اس ماحول کے تو میرے اوپر اثرات پڑنے تھے۔ جس وقت آپ کی طبیعت نے قادیانیوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ سوچنا شروع کردیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا فلاں مسئلہ بھی سچا ہوسکتا ہے۔ بس اس دن سے آپ کو جراثیم لگنا شروع ہوگئے۔ پھر چل سو چل۔ میری درخواست سمجھتے ہیں: پہلے ان جراثیم کو دفع کرنے کا تہیہ کریں۔

مرزا قادیانی اور حیات مسیح علیہ السلام

اگر واقعتاً آپ کے اندر دین اسلام کی طلب ہے اور قادیانیوں کو چھوڑا ہے تو پہلے ان جراثیم سے اپنے آپ کو پاک کریں۔ ان جراثیم سے پاک ہونے کے بعد پھر آپ کی طبیعت بحال ہوگی۔ میں اسی کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ مثلاً مرزا غلام احمد قادیانی اور حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو لیجئے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ مجددیت کے بعد بارہ سال تک کہتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ قرآن مجید کی آیتیں پڑھ کر کہتا تھا کہ زندہ ہیں۔ پھر خود لکھتا ہے کہ بارہ سال کے بعد اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی اور الہام نے مجھے کہا کہ تو مسیح ہے۔ بارہ سال سادگی کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ

صفحہ 90

مسیح بناتا رہا اور میں انکار کرتا رہا۔ (نزول المسیح ص 7، 8 خزائن ج 19 ص 113، 114) وہ خدا بھی کیا خدا ہوا کہ جو الہام کرتا ہے اور مرزا قادیانی انکار کرتا ہے اور یہ صاحب بھی کیا مسیح ہوئے کہ جو اللہ تعالیٰ سے متواتر الہام کو بارہ سال تک پس پشت ڈالتے رہے؟ بابو فاروق صاحب! یہ مذہب نہیں، تماشا ہے۔ اللہ رب العزت کے نبی سب سے پہلے اپنی وحی کے اوپر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی بارہ سال تک کہتا ہے کہ میں اسی عقیدے کے اوپر قائم رہا یعنی رسمی عقیدہ پر۔ لیکن رسمی عقیدہ نہیں قرآن مجید کی آیتیں پڑھ کر کہتا تھا کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح جس وقت دوبارہ اس جلالت شان کے ساتھ اس دنیا میں آئیں گے تو اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔ (براہین احمدیہ ص 499 خزائن ج 1 ص 593) مرزا قادیانی کہتا ہے کہ بارہ سال اللہ تعالیٰ مجھے سمجھاتا رہا اور میں اسے اپنے (اس) وہم پر محمول کرتا رہا۔ یعنی رسمی عقیدہ پر قائم رہا۔ بارہ سال کے بعد جس وقت بارش کی طرح اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے مجھے کہا کہ تو مسیح موعود ہے تو پھر مجھے یقین ہوا اور پھر یہ بھی اعلان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اس بات کو لے کر مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود سیرت مسیح موعود کے اندر لکھتا ہے کہ: ”الہاماً مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔“ (سیرت مسیح موعود ص 30 از مرزا محمود قادیانی)

میں (فقیر) آپ سے بڑے درد کے ساتھ استدعا کرتا ہوں کہ اس پر توجہ فرمائیں کہ ایک آدمی قرآن کی بنیاد پر بارہ سال کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ پھر الہام کی بنیاد پر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ پھر اپنے الہام پر قرآن کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ میری درخواست سمجھ رہے ہیں؟ دنیا میں اس سے بڑھ کر بڑا کافر کون ہو سکتا ہے جو اپنے الہام کی بنیاد پر قرآن مجید کی تغلیط کرے؟ پہلے یہ کہے کہ یہ مسئلہ یوں ہے۔ پھر الہام کی بنیاد پر کہے کہ یہ مسئلہ یوں نہیں یوں ہے۔ میرے عزیز! دنیا میں سب سے بڑا کافر وہ ہے جو اپنے الہام کی بنیاد پر قرآن کو منسوخ کرے۔ چلیں اس کو بھی چھوڑتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی میرے اندر خو بو ہے۔ میں ان کی طرز پر آیا ہوں۔ اس وقت مرزا قادیانی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام فتح اسلام ہے۔ اس کے اندر کہتا ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا تو قرآن میں تین جگہ ذکر ہے۔“

(فتح اسلام ص 8 خزائن ج 3 ص 54)

صفحہ 91

یاد رکھئے تین جگہ ! جس وقت آگے چل کر اگلی کتاب لکھی۔ اس کتاب کا نام ہے ازالہ اوہام۔ اس کے اندر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ جس وقت کہا کہ میں مسیح موعود ہوں تو کہتا ہے کہ: ”قرآن مجید کی تیس آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص 598 خزائن ج 3 ص 423)

ایک ساتھ جوں جوں اس کے دعاوی بڑھتے جا رہے ہیں۔ توں توں قرآن مجید کی آیات کو وہ غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ان کے اندر تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے آپ یہ سمجھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دل و دماغ شیطان کے ہاتھوں کس طرح شیطانی کھیل، کھیل رہا تھا؟ جب تک مسیح کی خو بو یا نقش قدم یا صفات کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو حیات مسیح علیہ السلام کا قائل تھا۔ جب خو بو کا دعویٰ کیا تو کہتا ہے کہ تین آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ جس وقت کہا کہ میں وہی مسیح ہوں تو اب کہہ دیا کہ تیس آیتوں سے ثابت ہوتا ہے۔ تین کو تیس کر دیا۔ اس سے آپ خود سمجھ سکتے ہیں اور اس پر آپ سٹڈی کریں۔ میں آپ کے لیے لائنیں متعین کر دیتا ہوں۔ آپ اس پر سٹڈی کریں کہ یہ خود غرض آدمی ہے جو قرآن مجید میں اپنی خود غرضی کی بنیاد پر تحریف کرتا چلا جا رہا ہے۔

ایک اصولی بات

آپ کے میں اعتراض سنوں گا۔ ان کو دور کرنے کی کوشش بھی کروں گا۔ آپ کے استدلال سنوں گا۔ اس کے جواب عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن اعتراض اور جواب سے پہلے کسی بھی مسئلہ سے متعلق قرآن مجید کی آیت کریمہ پر ایک اس کا ترجمہ آپ کریں گے۔ ایک میں اس کا ترجمہ کروں گا۔ میرے ترجمہ سے ممکن ہے آپ اتفاق نہ کریں۔ آپ کے ترجمہ سے ممکن ہے میں اتفاق نہ کروں۔ اسلام کا مسلمانوں کا اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ: ”جس طرح چودہ سو سال سے یہ قرآن امت مسلمہ کے ہاتھوں میں موجود ہے اسی طرح اس کا فہم بھی امت کے ہاتھوں میں موجود ہے۔“ (ایام الصلح ص 55 خزائن ج 14 ص 288) کبھی چودہ سو سال میں ایک سیکنڈ بھی امت پر ایسا نہیں آیا کہ کائنات کے اندر قرآن مجید کو سمجھنے والا کوئی آدمی موجود نہ ہو۔ ہر دور کے اندر تفسیریں لکھی گئیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے پر حیات مسیح کے مسئلہ پر امت مسلمہ کا اور مرزا قادیانی کا اختلاف ہوا۔ اس

صفحہ 92

سے پہلے کے جو بزرگ تھے جن کی مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش سے پہلے کی تفسیریں ہیں۔ وہ تو متنازعہ نہیں؟ ٹھیک ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے بہتر ہوگا کہ جو آیت آپ پیش کریں اس کو ہم پہلے لے کر چلیں گے حضرت علامہ فخرالدین رازیؒ کے دروازے پر۔ ان سے پوچھیں گے کہ آپ بتادیں ترجمہ کیا ہے۔ جو وہ ترجمہ کردیں گے آپ بھی مان لیں میں بھی مان لوں گا۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی سے پہلے کے آدمی ہیں۔ حضرت علامہ طبریؒ اور میں ان کا نام اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے متعلق مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ فلاں صدی کا مجدد تھا‘ یہ فلاں صدی کا مجدد تھا۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ سے پوچھ لیں گے۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ کو بھی مرزا غلام احمد قادیانی مجدد مانتا ہے۔ صاحب روح المعانی سے پوچھ لیں گے۔ مرزا قادیانی ان کی بھی تائید کرتا ہے۔ تو یہ میں نے پانچ تفسیروں کے نام لیے ہیں۔ روح المعانی‘ طبری‘ تفسیر رازی‘ جلالین‘ درمنثور۔ یہ تفاسیر عام موجود ہیں اور ہر ایک آدمی کو مل جاتی ہیں۔ یہ پانچ سات تفسیریں ہیں اور ان کے مصنفین کو مرزا قادیانی مجدد مانتا ہے اور یہ سارے مرزا قادیانی سے پہلے کے لوگ ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ جس آیت کو آپ پیش کریں یا میں پیش کروں۔ اس کی توضیح وتشریح ان متذکرہ حضرات سے پوچھیں گے۔ وہ آپ کے اور میرے فیصل ہوں گے۔ جو وہ فرمادیں، آپ بھی مان لیں گے اور میں بھی مان لوں گا۔ اس سے آگے گفتگو میں آسانی ہوگی کہ آخر کوئی تو فیصل ہو۔ لیکن اگر ان لوگوں نے بھی قرآن نہیں سمجھا، اور فاروق بھائی کہیں کہ میں نے سمجھنا ہے اور ان لوگوں سے ہٹ کر سمجھنا ہے۔ تو فاروق بھائی ساری زندگی کوشش کرتا رہے یتخبطہ الشیطان من المس والی کیفیت ہوجائے گی۔ قرآن مجید کو کبھی بھی نہیں سمجھ سکے گا۔ نہ میں اور نہ آپ۔ آخر کسی نہ کسی آدمی کے اوپر تو ہمیں اعتماد کرنا ہوگا۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ میں نے بہت ہی آپ کی خیر خواہی اور اخلاص کے ساتھ ایسی دوتین چیزیں پیش کی ہیں۔ مثلاً میں نے اتنا کہہ دیا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے ان چار پانچ تفسیروں کو سامنے رکھ لیں۔ میں تو فارغ ہوگیا۔ جس آیت کو سمجھنا ہے ان تفسیروں کو اٹھائیں۔ یہ وہ تفسیریں ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی سے پہلے کی ہیں۔ یہ وہ تفسیریں ہیں جن کو مرزا قادیانی بھی مانتا ہے۔ جو وہ کہتے جائیں آپ ان کو مانتے جائیں۔ مجھ سے نہ پوچھیں۔ کسی سے بھی نہ پوچھیں۔ میں بھی فارغ اور آپ بھی فارغ۔

صفحہ 93

چوتھا آسان راستہ

اس کے بعد چوتھا اور آسان راستہ سٹڈی کرنے کا ہے کہ کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ایک مجدد ہونے کا بھی ہے؟ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں مجدد ہوں۔ ہمارے نزدیک مجدد کوئی ایسی حیثیت نہیں کہ جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ رحمت دوعالم ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے۔ اس کے مطابق کوئی شخصیت بھی ہوسکتی ہے، کوئی ادارہ بھی ہوسکتا ہے، کسی کے لیے دعویٰ مجددیت کرنا ضروری نہیں۔ مرزا قادیانی سے بھی پوچھا گیا کہ: ”گزشتہ بارہ صدیوں کے مجدد کون ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔“ (حقیقت الوحی ص 193 خزائن ج 22 ص 201) جب معلوم نہیں اور خود مجدد ہونے کا مدعی ہے تو معلوم ہوا کہ مجدد پر ایمان لانا مومن ہونے کے لیے ضروری نہیں۔ لیکن یہ اصولی طور پر مانتے ہیں کہ مجدد ہوسکتا ہے۔ اب ہر صدی میں مجدد تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی آیا ہے چودہویں صدی میں۔ اس سے پہلے تیرہ صدیوں میں مجدد تھے یا نہیں؟ اگر تھے تو کون تھے؟ مرزا قادیانی کا ایک مرید جس کا نام مرزا خدا بخش ہے اس نے مجددین کی ایک فہرست مرتب کی۔ مرزا قادیانی نے مکمل کتاب پڑھوا کر سنی اور تصدیق کی۔ (عسل مصفیٰ ج 1 ص 7) عسل مصفیٰ شاید آپ نے پڑھی ہو یا سنی ہو۔ پہلے اس پر آپ توجہ کریں کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ تیس آیات سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ یہ خدا بخش اتنا دجال نکلا ۔ یہ کہتا ہے کہ ساٹھ آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ (عسل مصفیٰ ج 1 ص 280 تا 300) یہ جملہ معترضہ تھا۔ توجہ فرمائیں کہ اس کتاب کے اندر اس نے گزشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست دے دی۔ (عسل مصفیٰ ج 1 ص 162 تا 165) بھائی! سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ اس پورے تیرہ صدیوں کے مجددین کی (فاروق بھائی! جاگ رہے ہیں؟) تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست کو رکھ لیتے ہیں۔ اس میں انہوں نے کسی صدی کے پانچ مجدد لکھے ہیں۔ کسی کے تین لکھے ہیں۔ کسی کے دو، کسی کے چار، کسی کے گیارہ اور کسی کے نو مجددین کی فہرست دے دی۔ یہ فہرست منگوا لیتے ہیں۔ اس کو سامنے رکھ لیتے ہیں۔ اس فہرست کو دیکھ کر آپ ٹک مارک کرتے رہیں کہ اس صدی سے یہ مجدد اور اس صدی سے یہ مجدد ۔ تیرہ آدمیوں کے ناموں پر ٹک مارک کر دیں اور کہہ دیں کہ جو ان مجددین کا عقیدہ تھا وہی میرا عقیدہ ۔ ان سے پوچھ لیتے ہیں

صفحہ 94

کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟ ان سے پوچھ لیتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ اگر تیرہ صدیوں کے مجدد کہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ اور چودہویں صدی کا مجدد کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے تو یا تیرہ صدیوں کے مجددین کو جھوٹا کہو یا اس ایک صدی کے مجدد کو جھوٹا کہو۔ اب یہ میرا سوال آپ کے ضمیر سے ہے کہ آپ اس پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ چلیں یہاں اس کو بھی چھوڑتے ہیں۔ آگے چلتے ہیں......! میں درخواست کروں گا آپ سے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق آپ وضاحت کر دیں کہ آپ اس کو کیا مانتے ہیں؟ پھر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ پر آ جائیں گے۔ میں مرزا قادیانی کی دلدل میں پھنسوں گا ہی نہیں۔ اگر آپ کو غلام احمد قادیانی کے مسئلہ کے متعلق بھی اشکال ہے تو پھر اسے صاف کرنا ہو گا۔

مجاہد شاہ: حضرت! ان کو ایک کورس یا ڈوز مرزا قادیانی کے متعلق ضرور دے دیں۔

مولانا: نہیں۔ میں کھلے دل سے کہتا ہوں کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ یہ خود بتائیں۔

فاروق: پہلے تو میں آپ کا مشکور ہوں۔ آپ دور سے آئے ہیں۔ ہمیں ٹائم دیا۔ آپ ہمارے بزرگ ہیں۔ ہم نے آپ کو تکلیف دی اور آپ صرف اور صرف میرے لیے آئے۔ ہم نے آپ کو بلایا ہے۔ میں آپ کا مشکور ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ آئے۔ میں جس طرح قادیانیوں میں شامل ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ دوبارہ میں واپس لوٹوں۔ اچھا اس کے متعلق میں عرض کرتا ہوں۔ عقل اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کو دی ہے۔ عقل سلیم صرف انسانوں کو دی ہے۔ حیوانوں کو کیوں نہیں دی اور عقل کے ذریعہ بڑے فسادات ہو جاتے ہیں۔ اسی ضلع ایبٹ آباد میں بھی فساد ہوا۔

مولانا: آپ کی بات بڑی واضح ہے۔ اس پر مثالیں دینے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس مجلس سے ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ نتیجہ کی بات کہیں۔ میاں! عقل سلیم کا تو میں بھی قائل ہوں۔

فاروق: جی ہاں! اگر ایک آدمی آ جائے دکانوں سے چندہ وصول کرنے کے لیے یا نوٹس جاری کر دے۔ ہو وہ جھوٹا تو وہ عوام کیا کرتی ہے۔ اس کو پکڑ کے مارتی

صفحہ 95

ڈرتی نہیں۔ اس کو ڈی سی یا اے سی کے حوالے کر دیتی ہے کہ یہ بندہ ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے ڈی سی یا اے سی نے بھیجا ہے۔

مولانا: فاروق بھائی! یہ پہلے زمانے کی باتیں ہیں۔ اب تو لوگ قبروں کے نام پر بہشتی مقبرہ کے نام پر چندے کا دھندہ کر رہے ہیں۔ چندہ وصول کرتے ہیں۔ اسے ڈی سی یا اے سی کے پاس نہیں لے جاتے۔ بلکہ لوگ اسے مسیح موعود مان لیتے ہیں۔

فاروق: اچھا اب دیکھنا ہے کہ ایک اتنا جھوٹ بول کر چلا جا رہا ہے۔ دنیا کو گمراہ کرتا چلا جا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ مسیح موعود ہوں۔ مجدد ہوں۔ یہ کیا بات ہے؟ اور کہہ رہا ہے کہ خدا مجھے متواتر وحی کر رہا ہے۔ دیکھیں خدا کا نام لے کر دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔ خدا کی مخلوق کو گمراہ کر رہا ہے اور خدا اس سے بے خبر ہے؟ وہ لگاتار 68/69 سال کی زندگی پاتا ہے اور اس میں اپنے دعویٰ سے پھرتا نہیں۔ دنیا مخالفت کرتی ہے۔ اس پر اس کو قتل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس پر حملے کرنے کے دعوے کرتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں کہ تمہارے قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایک وہ جو خدا کے نام پر جھوٹ بولتا چلا جا رہا ہے۔ وہ ترقی کرتا جا رہا ہے۔ وہ اس اپنے دعوے پر قائم ہے۔ ذرا پھرتا نہیں۔ اس کو خدا کیوں نہیں پکڑ رہا۔ کیا خدا کا اس کے متعلق کوئی حق نہیں کہ خدا اس کو پکڑے اور تباہ کرے۔

مولانا: جزاک اللہ! آپ کی اس بات سے میں یہ سمجھا کہ آپ کو غلام احمد کے متعلق بھی ابھی شرح صدر نہیں تو ٹھیک ہے۔ کوئی حرج نہیں بھائی۔

فاروق: میں کہتا ہوں کہ میں سیٹس فائی (Satisfy) ہوں۔ میرا دل صاف ہے۔

مولانا: بابو!......میاں! مرزا قادیانی کو بعد میں لیتے ہیں۔ اس سے پہلے شیطان کو لے لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی سے کہیں زیادہ اس کا جھوٹ و فریب چل رہا ہے۔

فاروق: اصل بات یہ ہے کہ آپ مرزا قادیانی کی خبر لیں۔

مولانا: اچھا ایک سیکنڈ۔ میرے خیال میں میری بات پوری ہونے دیں۔ چلو شیطان کے ساتھ آپ اتفاق نہیں کرتے۔ اس کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی سے پہلے جو مدعی نبوت آئے ہیں، ان کو لے لیتے ہیں۔ فرعون کو لے لیتے ہیں۔ یہ مرزا قادیانی تو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ فرعون خدائی

صفحہ 96

کا دعویٰ کرتا تھا۔ جھوٹا مدعی نبوت صالح بن طریف ایک آدمی گزرا ہے۔ تین سو سال تک وہ خود اور اس کی پشت در پشت اولاد نے ایران کے اندر حکومت کی ہے۔ اس نے بھی مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور پھر خدائی کا دعویٰ کیا۔ باقی آپ کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی کو اللہ رب العزت نے نہیں پکڑا تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کیس کو لے لیں۔ یہ ایسا پکڑا گیا کہ ابھی آپ کے سامنے اس کا کیس آجائے گا۔ پہلے آپ ایک بنیادی بات سمجھیں۔ دیکھئے! اللہ میاں اگر چاہتے تو دنیا میں کفر پیدا ہی نہ ہوتا۔ آپ اور میں ایک معیار مقرر کریں اور پھر کہیں کہ اس معیار کے مطابق خدا نے نہیں کیا۔ پھر خدا آپ کا اور میرا پابند ہوا۔ اپنی مرضی کا مالک و مختار نہ ہوا کہ اللہ میاں یوں کردے۔ یا اللہ ! یہ سو سال ہوگیا ہے۔ ہم قادیانیوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں، ابھی تک قادیانی مسلمان نہیں ہورہے تو پھر خدا پر شک کرنا شروع کردیں۔ اس کا آپ کو اور مجھے حق حاصل نہیں۔ سمجھے بھائی! چلو اور آگے۔ اس کو لیتے ہیں.....! بہاء اللہ مرزا قادیانی سے پہلے کا تھا۔ اس کا بھی مسیح موعود ہونے کا اور نبی ہونے کا دعویٰ تھا۔ بہاء اللہ کے ماننے والے اب بھی ایران اور پاکستان کے علاقہ مکران کے اندر موجود ہیں۔ وہ ترقی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ترقی کی بنیاد پر اگر کسی جماعت میں شامل ہونا ہے تو پھر شیطانی جماعت مستحق ہے۔ فرعونی جماعت مستحق ہے۔ صالح بن طریف کی جماعت مستحق ہے۔ بہاء اللہ یا ان کی جماعت جو اس سے پہلے تھے۔ چلو اب میں عرض کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر آجائیں۔ اللہ میاں دنیا میں کسی کو پکڑ کر اور اسے کان سے اٹھا کر کہے کہ لوگو! یہ جھوٹا ہے۔ یوں نہیں کرتا بلکہ کسی کے سچا اور جھوٹا ہونے کے لیے اللہ رب العزت فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے نظر چاہئے:

تو میرا منہ کالا کیا جائے، اور دنیا میں سب بدتروں سے بدتر ٹھہروں۔ (جنگ مقدس ص 210، 211 خزائن ج 6 ص 292، 293) اللہ میاں نے اس تاریخ تک عبداللہ آتھم کو نہیں مارا۔ مرزا قادیانی بدتر سے بدتر اپنی زبان سے ٹھہرا۔

صفحہ 97

جھوٹا۔ یہ میرے سچے اور جھوٹا ہونے کا معیار ہے۔ (انجام آتھم ص 223 خزائن ج 11 ص 223) محمدی بیگم کے ساتھ نکاح نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ثابت کردیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مرزا قادیانی خود معیار مقرر کرتا چلا گیا اور میرا رب اس کو جھوٹا کرتا گیا۔ اس سے آگے یعنی کان سے پکڑ کر تو اللہ تعالیٰ نے لٹکانا نہیں تھا کہ دیکھ لو کہ یہ جھوٹا ہے۔ چلیں ایک اور معیار ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ اگر تثلیث کے بت کو نہ توڑ دوں۔ یعنی میں جس امر کے لیے مبعوث ہوا ہوں جب تک اس کام کو مکمل نہ کرلوں اور میں اس دنیا سے مرجاؤں تو ساری دنیا گواہ رہے اس بات کی کہ میں جھوٹا ہوں۔ (اخبار بدر قادیان ج 2 نمبر 29 ص 4 /19 جنوری 1906ء) مرزا قادیانی مرگیا۔ تثلیث اسی طرح قائم ہے یہ تو آپ کے اور میرے سمجھنے کی بات ہے۔ ٹھیک ہے ناں جی؟ آگے چلتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی مثال اس شاطر کی طرح تھی کہ میرے خیال میں دنیا کے اندر گرگٹ بھی اتنی تیزی کے ساتھ اپنے رنگ نہیں بدلتا جتنا مرزا قادیانی بدلتا تھا۔

فاروق: معاف کرنا۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جو آپ سوال کا جواب دیتے ہیں تو اس پر مجھے کچھ کہنا ہے، تاکہ دوستوں کو پتہ چلے۔ جی ہاں!

مولانا: ضرور۔ بات ضرور کریں لیکن آپ کا کہنا کہ دوستوں کو پتہ چلے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ مناظرہ کے موڈ میں ہیں، نہ کہ سمجھنے کے موڈ میں۔

فاروق: نہیں۔ نہیں۔ تاکہ مجھے سمجھ آئے سوال کی۔

مولانا: آپ کے ان دوستوں پر بھی یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہئے کہ اس وقت آپ کس پوزیشن میں ہیں؟ چلیں دوستوں نے آپ کی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے مجھے بلایا تو اس بات سے مسئلہ حل ہوا۔

فاروق: میرے ذہن میں جو سوالات ہیں کلیئر ہوجائیں۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ عبداللہ آتھم عیسائی تھا اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ اس نے میرے نبی کی شان میں گستاخیاں کیں اور میں نے اسے کہا کہ تو باز آجا۔ اگر تو باز نہ آیا تو مجھے خدا نے چھ سال کا وقت دیا

صفحہ 98

ہے ۔ تقریباً چھ سال کا کہ چھ سال کے اندر اندر تیری ہلاکت واقع ہو جائے گی۔ اگر اس سے تائب نہیں ہوتا۔ عبداللہ آتھم جو تھا، اس سے خاموش ہوگیا۔ گالیاں دینے سے رک گیا۔ مرزا قادیانی نے جو میعاد مقرر کی تھی، اس میعاد تک وہ خاموش رہا تو خدا تعالیٰ نے اس کو موت سے بچالیا۔

مولانا: شاباش! یہ سمجھنے کی کوشش کریں تو تب فائدہ ہوگا آپ کو۔

فاروق: جی ہاں!

مولانا: مرزا غلام احمد قادیانی نے 5 ستمبر 1894ء اس کے لیے تاریخ موت مقرر کی۔ پندرہ مہینے کی۔ پندرہ مہینوں میں وہ نہیں مرا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ آتھم ڈر گیا ہے۔

فاروق: جی ہاں!

مولانا: اس نے کہا کہ یہ ڈر گیا ہے۔ میرے عزیز! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔ یہ ڈر گیا ہے والی بات مرزا غلام احمد قادیانی کو پہلے سے کہہ دینی چاہئے تھی کہ اب یہ نہیں مرے گا۔ آخری دن کے گزرنے کے بعد تاریخ ختم ہوجانے کے بعد یوں کہا۔ اسی نقطہ کو اگر آپ لیں گے تو شاید آپ کا عقدہ حل ہو جائے گا۔ پانچ ستمبر کی جو تاریخ مقرر ہوگئی کہ ستمبر کی فلاں تاریخ کو مرے گا۔ اس دن قادیان کے اندر چنے پڑھے گئے۔ آیات کے وظیفے کیے گئے کہ یہ آدمی مر جائے اور وہ چنے اور وظیفے پڑھ کر قادیان کے کنویں کے اندر ڈالنے کے لیے مرزا قادیانی نے مرید کو بھیجا۔ مرزا محمود کہہ رہا ہے کہ اُس دن قادیان میں ماتم ہو رہا تھا کہ یا اللہ آتھم مرجائے۔ یا اللہ آتھم مرجائے۔ دس محرم الحرام شیعہ اتنا ماتم نہیں کرتے جتنا ہم نے قادیان میں اس دن کیا۔ (خطبہ مرزا محمود الفضل قادیان 20 جولائی 1930ء، سیرت المہدی ج 1 ص 178 طبع دوم) میری درخواست سمجھے ہیں۔ عبداللہ آتھم نہ مرا۔ اب اس نے کہا کہ عبداللہ آتھم نہیں مرا تو اس نے رجوع بحق کرلیا ہوگا۔ وہ خدا بھی کیا خدا ہے جس نے مرزا قادیانی کو اس دن نہیں بتایا کہ وہ ڈر گیا ہے۔ بلکہ اس تاریخ کو عیسائیوں نے جلوس نکالے۔ مرزا قادیانی کا پتلا تیار کیا۔ اس کا منہ کالا کیا۔ اس کے گلے میں جوتیوں کے ہار ڈالے جو مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ میرا منہ کالا کیا جائے۔ انہوں نے وہ کیا۔ مرزا قادیانی کو اب بچنے

صفحہ 99

کا راستہ کوئی نہ تھا۔ کہتا ہے یہ اندر سے ڈر گیا ہے۔ یہ اندر سے ڈر گیا ہے۔ میں اب آپ سے استدعا کرتا ہوں۔ اگر واقعتاً مرزا غلام احمد قادیانی سچا تھا تو اس تاریخ سے پہلے اسے اعلان کر دینا چاہئے تھا کہ یہ نہیں مرے گا۔ یا مرنے کے بعد یہ تاویل کرنی چاہئے تھی؟ آپ فیصلہ کریں۔

فاروق: آپ دیکھیں جب پیش گوئی کر دی اور وہ اتنی دیر تک جب اس نے رجوع اللہ کی طرف کیا اور حضور ﷺ کو گالیاں نہیں دیں۔ خاموش رہا۔ تو وہ بچایا گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے کہا کہ میں نے یہ بات نہیں کی۔ اسی طرح گالیاں نکالتا ہوں، محمد ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ اب تم صرف لکھ کر دے دو۔ تم صرف اپنی زبان سے منہ کھولو گے، میں گالیاں اسی طرح دیتا ہوں۔ توبہ نہیں کی۔ صرف اتنا لکھ کے دے دو۔ تو اب تمہارا جو حشر ہوگا وہ خدا جانے۔ اب وہ اس بات سے ڈر گیا۔ اس نے جواب نہیں دیا اور مرزا قادیانی نے کہا کہ اب یہ موت واقع ہوگی اور مر گیا پھر وہ مرا۔ پھر......!

مولانا: ایک سیکنڈ۔ آپ نے بہت اچھی وہ (وضاحت) دی۔ لیکن آپ یا میری گفتگو کو نہیں سمجھ رہے یا سمجھنے کے موڈ میں نہیں۔ اگر آپ بحث کرنے کے موڈ میں سارا دن بیٹھے رہیں۔ زندگی میں کبھی آپ مسئلہ نہیں سمجھ پائیں گے۔ سمجھنے کی کوشش کریں۔ جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ مرزا قادیانی آخری وقت تک انتظار میں بیٹھا رہا۔ مرے گا۔ مرے گا۔ مرے گا۔ جب تاریخ گزر گئی اس دن مغرب کی نماز تک اطلاع آتی رہی۔ پیغام آتے رہے کہ بھئی اس کا کیا ہوا ہے۔ آخر وقت تک اسے یقین تھا کہ یہ مرے گا۔ اس کے بعد جب نہیں مرا تو یہ جواب تیار کیا گیا کہ یہ ڈر گیا ہے۔ آتھم نے کہا میں کیسے ڈر گیا ہوں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر نہیں ڈر گیا تو قسم اٹھا۔ آتھم نے کہا کہ عیسائیوں کے مذہب میں قسم اٹھانا ممنوع ہے۔ مرزا قادیانی کو کہا بہت اچھا۔ تمہارے مذہب کے اندر خنزیر کھانا ممنوع ہے اور ہمارے مذہب کے اندر قسم کھانا ممنوع ہے۔ میں (آتھم) کہتا ہوں کہ تو (مرزا) اندر سے ڈر گیا ہے۔ ورنہ تو خنزیر کھا۔ آتھم نے مرزا قادیانی کو کہا کہ اگر تو نہیں ڈرا۔ اگر خنزیر نہیں کھاتا تو اس کا معنی ہے تو ڈر گیا۔ یہ اس زمانے کی پخ پخ اور چخ چخ ہے۔ غلام احمد قادیانی کی اور عبداللہ آتھم کی۔ میں درخواست کرتا ہوں۔ آپ

صفحہ 100

دیکھیں، رب کریم اور اس کے نبی ﷺ کے حالات کیسے ہوتے ہیں؟ نبی کا معجزہ تو یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے رحمت عالم ﷺ نے کہا کہ فلاں فلاں یہاں یہاں مرے گا۔ شام مرے گا۔ صبح مرے گا۔ یہاں پر عتبہ مرے گا۔ یہاں پر امیہ مرے گا۔ اگلے دن جنگ ہوئی۔ جہاں جس کے متعلق نبوت نے کہا تھا، وہ وہیں مرا ہوا تھا۔ یہ بھی نہیں کہ چلو اس جنگ میں نہیں مرا۔ مر تو گیا۔ مر تو مرزا غلام احمد قادیانی بھی گیا۔ مرنا تو آپ نے بھی ہے۔ مرنا تو میں نے بھی ہے۔ چھ سال کے بعد پیشین گوئی پندرہ مہینے کے بعد یوں جا کر پوری ہوئی؟ پندرہ ماہ کی چھ سال میں اور آپ بھی سوچیں کہ اس کی بات سچی ثابت ہوگئی؟ سچی ثابت ہوگئی؟ پھر آپ سمجھ نہیں پائیں گے۔ آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا نبی کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ کہہ دے تو اللہ تعالیٰ پوری کردیتے ہیں، جیسے کسی کی موت کی۔ لیکن نبوت کی یہ شان نہیں کہ کسی کے مرنے جینے کے اوپر اپنی صداقت کے دلائل رکھے۔ سب سے پہلے نبی اپنی ذات کو پیش کرتا ہے کہ ھل وجدتمونی صادقاً اوکاذباً نبوت کسی کے مزاج کا بھی استہزاء نہیں کرتی۔ فلاں مرگیا۔ فلاں مرگیا۔ یہ نبوت کی شان کے خلاف ہے۔ غلام احمد قادیانی کا اس طرح کی بھڑکیں لگانا دراصل شیطان اس کو سبق پڑھاتا تھا، وہ اسے الہام سمجھتا تھا۔ یہی اس عبداللہ آتھم کو دیکھ لیں۔ یہ ساری باتیں کہ رجوع کرے۔ گالیاں نکالے۔ فلاں کرے۔ پھر رجوع بحق اس کو کہتے ہیں کہ وہ عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلے۔ تثلیث کا بھی وہ قائل ہے۔ الوہیت مسیح کا بھی قائل ہے۔ اب اس کو اکسا کر میں یہ کہوں کہ اگر تو ڈرا نہیں تو حضور ﷺ کو گالیاں نکال۔ (نعوذباللہ) میرے خیال میں کسی کے ایمان کو پرکھنے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ مرزا قادیانی ایک عیسائی کو برانگیخت کرتا ہے کہ یا تو جھوٹا ہے۔ اگر جھوٹا نہیں تو حضور ﷺ کو گالیاں نکال کر دکھا۔ میں آپ سے یہ بات کہوں کہ آپ اپنے والد صاحب کو گالی نکال کر دکھائیں۔ اس وقت آپ کے دل و دماغ کی کیفیت کیا ہوگی؟ ساری کائنات کے رشتے رحمت عالم ﷺ کے نعلین مبارک پر قربان۔ آپ اسی نکتہ نظر سے دیکھیں کہ گویا ایک عیسائی کا بازو پکڑ کر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو۔ تم نے توبہ نہیں کی تو حضور ﷺ کو گالی نکال کر دکھاؤ۔ یہ

صفحہ 101

آدمی جو عیسائیوں کو اکساتا ہے کہ حضور ﷺ کو گالی نکال کر دیکھو۔ اس کی اپنی ذہنیت کیا تھی؟ کہا تھا پانچ ستمبر کو مرے گا۔ نہیں مرا۔ وجہ کچھ ہو۔ مرزا قادیانی کی بات تو پوری نہ ہوئی۔ اس نے کہا تھا کہ اگر نہیں مرے گا تو میں ذلیل ہو جاؤں گا۔ پھر اس کے بعد دو سال کی شرط۔ پھر چار سال کی۔ پھر چھ سال کی۔ میرے عزیز! یہ اس طرح کے کام اٹکل پچو کے مداری کیا کرتے ہیں۔ اللہ کے نبی نہیں کیا کرتے۔ اس کو اور آگے لے کر چلتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مثال کے طور پر کہا کہ اگر خدا نے قرآن میں میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا۔ (تحفۃ الندوہ ص 5 خزائن ج 19 ص 98) پورے قرآن میں کہیں آج تک تیرہ سو سال میں امت نے کہا کہ غلام احمد قادیانی کا نام قرآن میں ہے؟ مرزا قادیانی نے کہا کہ کشفاً مجھے بتایا گیا کہ قرآن میں قادیان کا نام ہے۔ (ازالہ اوہام حاشیہ ص 77 خزائن ج 3 ص 140) اب یا تو قرآن میں قادیان کا نام ہونا چاہئے یا غلام احمد قادیانی کا کشف جھوٹا ہونا چاہئے۔ دونوں باتیں سچی ثابت نہیں ہو سکتیں۔ ان عنوانات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کریں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ گفتگو نہ کریں۔ میں آپ کے اوپر گفتگو کا قدغن نہیں لگا رہا۔ میرے بس میں نہیں۔ آپ مجھ سے ویسے بھی دور بیٹھے ہیں۔ میں آپ کے پاؤں پر ہاتھ رکھ کر آپ سے استدعا کروں گا کہ آپ ان چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کے دل کے اندر مرزا قادیانی کے متعلق نرم گوشہ ہے یا یہ چیزیں موجود ہیں کہ اس نے یہ کہا یہ کہا۔ پھر آپ اپنے دوستوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپ نے پھر اسلام قبول نہیں کیا۔

فاروق: قادیانیوں کے ساتھ جو میری گفتگو ہو تو یہ سوال جو میرے ذہن میں ہیں، ان سے بیان کروں۔ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

مولانا: آپ قادیانیوں سے سوال تو تب کریں کہ پہلے قادیانیت سے جان چھڑالیں۔ آپ تو ان کے وکیل صفائی ہیں۔

فاروق: اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مجھے صفائی دی گئی ہے۔ جو صفائی مجھے دی، وہ میں آپ کے سامنے رکھوں۔ تاکہ میری وہ دور ہو جائے۔ یہی تو عرض ہے۔

مولانا: میں یہی آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ کا پھر یہ کہنا کہ میں نے قادیانیت

صفحہ 102

کو چھوڑ دیا ہے، قرین قیاس نہیں۔

فاروق: مطلب یہ ہے کہ اس طرح مجھے کسی نے سیٹس فائی (Satisfy) کیا ہی نہیں۔

مولانا: کیا نہیں.......! مرزا غلام احمد قادیانی آپ کے دل ودماغ میں موجود ہے اور پھر آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ میں نے اسلام کا اعلان کیا۔ آپ کی ان دونوں باتوں کے اندر تضاد ہے۔ میں تو اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔

فاروق: آپ دیکھیں نا۔ میں عرض کروں کہ اطمینان چاہتا ہوں۔

مولانا: جب تک غلام احمد قادیانی.......! جب تک کتا کنویں کے اندر پڑا ہے، اس کو آپ باہر نہیں نکالیں گے۔ ساری زندگی پانی کو نکالتے رہیں، کنواں کبھی پاک نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی کو خدا نے نہیں پکڑا مگر میں عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو قدرت نے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ شیطان کی بھی مرزا قادیانی کے ساتھ چیخیں نکل گئیں۔ کیسے؟ مرزا قادیانی ہمیشہ نبوت کا دعویٰ کرتا اور پھر انکار کر دیتا۔ میں نبی ہوں۔۔نہیں امتی نبی ہوں۔ نہیں تشریعی نبوت کی شرائط مجھ میں پائی جاتی ہیں۔ نہیں میں مدعی نبوت کو لعنتی اور کافر سمجھتا ہوں۔ یہ ہاں! ناں! اقرار وانکار کا شیطانی کھیل مرزا قادیانی ساری زندگی کھیلتا رہا۔ زندگی میں ایک بار اور صرف ایک بار اس نے کہا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔ موت تک اس سے انکار نہیں کروں گا۔ یہ آخری خط جو اخبار عام کو لکھا۔ جس دن اخبار عام میں یہ خط چھپا کہ: ”میں دعویٰ نبوت پر قائم ہوں اور کبھی انکار نہ کروں گا۔“ (خط مطبوعہ اخبار عام 26 مئی 1908ء، ضمیمہ نمبر 2 حقیقت النبوۃ ص 270) اسی دن ہیضہ کی موت سے بیت الخلاء کے اندر غلاظت سے لت پت قے کرتے ہوئے مرگیا۔ تو قدرت نے اسے پکڑا۔ فرمائیں تو حوالے آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

فاروق: اس کا پھر ایک ہی جواب ہے کہ میں ایسے ماحول میں رہوں۔ آپ لوگوں کے ماحول میں۔ چوبیس گھنٹے جن کے پاس تعلیم حاصل کروں۔ وہاں پر آپ لوگوں کے ساتھ صحبت میں رہوں۔ تاکہ جہاں سے قادیانیت کی ہوا بھی نہ لگے اور میں ان کا مطالعہ کروں۔ ایک مبلغ بنوں۔ اپنے آپ کو وقف کروں۔

مولانا: ایک سیکنڈ بھائی....... ٹھہر جائیں....... ٹھہر جائیں.......! میں مسلمان تب ہوتا ہوں

صفحہ 103

کہ میرے کھانے کا انتظام کریں۔ میری رہائش کا انتظام کریں۔ میرے مکان کا انتظام کریں۔ میری ملازمت کا انتظام کریں اور میں یہ کام کروں اس پر بھی آپ سوچ لیں کہ اسلام قبول کرنے کے لیے یہ شرائط عائد کی جاتی ہیں؟ مہربانی فرمائیں۔ جس راستے سے گئے ہیں، اسی راستہ سے واپس آئیں۔ سمجھے! اب انہوں نے دروازے بند کر دیئے ہیں تو اس مقام کو جرأت کے ساتھ پھلانگنا ہوگا اور اگر کسی اور مقام کے اندر داخل ہونا ہے تو اس کے دروازے سے اندر داخل ہونا ہوگا۔ میری درخواست سمجھ رہے ہیں؟ (مجاہد شاہ صاحب! آپ پر اب کچھ معاملہ الم نشرح ہو رہا ہے؟) بہت سارا فرق ہے۔ اس کو نکالنے کی کوشش کریں اور یہ میرے خیال میں آپ دوستوں کو خود نکال لینا چاہئے۔ اگر ایک ایک کام کے لیے مجھے ہی آنا پڑے تو میرے لیے مشکل ہوگا۔ فاروق بھائی! میں آپ سے استدعا کرتا ہوں۔ کوئی حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ آپ کے دل و دماغ میں نہیں۔ یہ وہاں جا کر بیماری لگی ہے۔ یہ وہاں سے آپ کو جراثیم ملے ہیں۔

فاروق: میں مانتا ہوں۔

مولانا: جزاک اللہ! اور وہ جراثیم آپ میں بعینہ اسی طرح پورے موجود ہیں۔ جب کوئی آدمی کہتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ آپ کہتے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا۔ جب جاتے ہیں اور جراثیم کا حملہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا۔ فلاں مرگیا۔ فلاں زندہ ہے۔ آپ اس دلدل میں ہیں۔ آپ نے نہ قادیانیت کو چھوڑا ہے۔ میرے عزیز! نہ آپ نے اسلام کو قبول کیا ہے۔ جس طرح قرآن کی آیت ہے (میں معافی چاہتا ہوں) قرآن کہتا ہے کہ: ”بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں کہ ان کے دل و دماغ کے اندر شیطانی وساوس اس طرح قبضہ کر لیتے ہیں ”یتخبطہ الشیطن من المس“ (البقرہ: 275) پاگلوں کی طرح دنیا کے اندر۔ کیا ہو گیا؟ کیا ہو گیا؟ بس وہ کیفیت ہو جاتی ہے اور اس سٹیج پر ہو ہی جایا کرتی ہے۔ میں اس موقع پر آپ سے نفرت نہیں کر رہا۔ یہی تو وہ موقع ہے کہ میں سب سے زیادہ آپ سے محبت کروں۔ پھر کبھی آپ اس عنوان پر بھی سوچیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی آپ کی کھوپڑی میں ابھی تک موجود ہے۔ اس کے وساوس بھی آپ کی

صفحہ 104

کھوپڑی میں موجود ہیں۔ ایک آدمی نے کہا کہ کہو غلام احمد قادیانی کافر۔ آپ نے کہہ دیا کافر۔ لکھ کر دے دیا اور کہہ بھی دیا کافر۔ میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ کائنات کے کسی حصہ میں چلے جائیں۔ کسی مسلمان کو جاکر کہہ دیں کہ تم اپنے نبی علیہ السلام کے متعلق (معاذ اللہ) یہ بات کہو۔ وہ ذبح تو ہوجائے گا مگر رحمت دو عالم ﷺ کے متعلق یہ لفظ نہیں کہے گا۔ آپ کا خود اتنی بات کہہ دینا مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا سمجھنے کے باوجود ایک مجلس میں کہہ دینا کہ کافر ہے۔ بعد میں اٹھ کر کہنا نہیں وہ ایسا سچا ہوگا۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر اور جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے۔ اگر اس پر سمجھنا چاہیں گے تو میں حاضر ہوں۔ اب آپ کی تشخیص ہوگئی۔ بے شک سوال کریں۔ مجلس ہے۔ علمی مجلس چلتی رہتی ہے۔ سوالات چلتے رہتے ہیں۔

مولانا: آپ اپنا تعارف کرائیں اور بتائیں کہ آپ قادیانی کیوں ہوئے؟

فاروق: اصل میں سمندری کے قریب ایک گاؤں ہے۔ میں وہاں کا رہنے والا تھا۔ جامعہ رضویہ میں دین کی کتابیں پڑھیں۔ پھر مل میں ملازم ہوا۔ ایک قادیانی سے دوستی ہوگئی۔ ماں باپ مسلمان ہیں۔ خاندان مسلمان ہے۔ صرف میں قادیانی ہوا۔ پھر مرزائیوں میں شادی ہوئی۔ اعوان برادری سے میرا تعلق ہے۔ اب ربوہ میں تبلیغ کے لیے قادیانی جماعت نے مقرر کیا تھا۔

مولانا: کتابیں کہاں تک پڑھیں۔

فاروق: کئی سال جامعہ رضویہ فیصل آباد میں بہت ساری کتابیں پڑھیں۔

مولانا: کہاں تک۔ کچھ کتابوں کے نام۔

فاروق: خاموش!

مولانا: مجھے اس پر بھی شبہ ہورہا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا طالب علم جو معمولی پڑھا ہوا ہو، اگر ہمارا طالب علم قدوری پڑھتا ہو تو اس کو ہدایہ تک کی اور ہدایہ تک کی شروحات کے نام یاد ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کون سی کتابیں۔ کتابوں کے نام ایک بھی آپ نہیں بتا سکے۔ یہ محل نظر ہے کہ آپ نے جامعہ رضویہ میں دینی کتابیں پڑھیں۔ آپ اوروں کو تو غلطی میں ڈالیں لیکن مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں۔ آپ نے کسی دینی ادارہ سے نہیں پڑھا۔ قادیانیوں سے کچھ پڑھا ہو تو مجھے انکار نہیں۔ آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ قرآن مجید کی کسی بھی تفسیر کو

صفحہ 105

سمجھنے کے لیے جو ہماری امہات التفاسیر ہیں، ان میں سے کسی ایک تفسیر کا انتخاب کرلیں۔ اس کو دیکھنا شروع کردیں۔ اگر اپنے طور پر سٹڈی کرنی ہے تو آپ کا تشریف لانا ہمارے لیے خوشی کا باعث ضرور ہے کہ آپ ہمارے بھائی ہیں۔ جب آجائیں گے آپ کی مدد کرنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ لیکن آپ اسلام پر کوئی احسان نہیں کررہے کہ پہلے اہل اسلام میرا یوں انتظام کریں تو پھر میں یوں ہو جاؤں گا۔ ایک مفاد کی خاطر وہاں گئے تھے۔ وہ مفاد وہاں پورا نہیں ہوا، انہوں نے ٹھڈا مارا اور ادھر آگئے۔ یہ اسلام لانا نہیں پھر یہ تماشا ہے۔ میں گفتگو تلخی کی کر رہا ہوں۔ مجھے احساس ہے۔ اس موقع پر مجھے آپ کے دل کو نہیں توڑنا چاہئے۔ لیکن جب تک لوہے کو گرم کر کے اس پر ہتھوڑا نہ مارا جائے اس سے کوئی اوزار نہیں بنا کرتا۔ جب تک میں یہ گفتگو نہ کروں آپ تب تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ آپ کا یہ کہنا کہ پہلے میرے لیے یہ انتظام کرو۔ پہلے میرے لیے چھ مرلے کا مکان بناؤ۔ پہلے مجھے پلاٹ لے کر دو۔ پھر میری ملازمت کا انتظام کرو۔ کیوں بھائی! کیا اسلام نے ٹھیکہ لے رکھا ہے آپ کا؟ میرے لیے یہ چندہ کرو۔ میرے لیے یہ انتظام کرو۔ نوکر ہے اسلام آپ کا؟ یا میرا؟ مجھے تو اسلام کی ضرورت ہے۔ اسلام کو میری کیا ضرورت؟ کیا آپ اور میں مسلمان نہیں ہوں گے تو اسلام جھوٹا ہو جائے گا؟ اگر اسلام کو ان بنیادوں پر کام کرنا ہوتا تو یہ رفاہی ادارہ ہوسکتا ہے، اسلام نہیں۔ پھر یہ قادیانیت ہو سکتی ہے جو چندہ کے نام پر' نکاح کے نام پر' فلاں چیز کے نام پر' فلاں چیز کے نام پر قادیانیت کو پھیلاتی ہے۔ یہ لمیٹڈ کمپنی اور فرم ہو سکتی ہے اسلام نہیں۔ اسلام تو کہتا ہے اس راستے آؤ گے تو میرے ہو۔ اگر راستے سے ذرا بھٹکو گے تو جاؤ جہنم میں۔ بای وادی یہیمون! جہاں چاہو پھرتے رہو۔ کوئی پرواہ نہیں تمہاری' اور جتنے آسمانی مذاہب ہیں وہ معاف کرنا لالچ کی بنیاد پر' چندوں کی بنیاد پر اور یوں کرنا' یوں کرنا۔ ایک ہے مسلمان ہونے کے ناطے کہ آپ میرے بھائی ہیں۔ ڈوب رہے ہیں۔ آپ کو اٹھا کر کھڑا کرنا اور ڈوبنے سے نکالنا میرا ایک مسلمان ہونے کے ناطے فرض بنتا ہے۔ لیکن آپ یہ شرط نہیں لگا سکتے اور نہ ہی اسلام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کو مکان اور رہائش مہیا کرے۔ اگر اسلام کی

صفحہ 106

ذمہ داری ہوتی تو جتنے بھی مسلمان ہیں، وہ سب سے پہلے سارے ملک کے اندر ہتھوڑی چھینی لے کر سارے ملک میں پہلے مکان بناتے پھر لوگوں کو دعوت دیتے۔ حضور ﷺ بھی یہی کام کرتے کہ پہلے مکان بناتے پھر حضرت ابوبکرؓ کو کہتے کہ یہ مکان موجود ہے۔ اور شادی کا انتظام کرتے۔ آپ مہربانی کریں۔ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان چیزوں کو سوچیں۔ آپ کا چکر مفادات کی بنیاد پر ہے۔ کوئی مسائل وسائل نہیں ہیں۔ مفادات کی بنیاد پر آپ نے اسلام کو چھوڑا تھا۔ اب آپ اگر اسی پر قیاس کرکے مفادات کی بنیاد پر اسلام کی طرف آنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں اور ہمارے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیجئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا ہے۔ اپنے رب سے استغفار کیجئے۔ معافی مانگیں۔ میں آپ کو اور آپ مجھے۔ انسان انسان کو کروڑ دفعہ دھوکا دے سکتا ہے۔ لیکن انسان کبھی اپنے رب کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ آپ اپنے رب کے ساتھ معاملہ کو درست کریں۔ دعا کریں کہ یا اللہ! ایک شخص نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور مجدد وہ کہ 13 صدیوں کے مجدد کچھ کہتے ہیں، یہ کچھ کہتا ہے۔ 13 صدیوں کے مجدد کچھ لکھتے ہیں۔ یہ کچھ لکھتا ہے۔ وہ سچے تھے حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر تو یہ جھوٹا ہے۔ یہ سچا ہے تو نعوذ باللہ! تیرہ صدیوں کے مجددین جھوٹے ہیں۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ڈنکے کی چوٹ پر کافر کہتا ہوں۔ یہاں پر کھڑے ہوکر نعرہ لگائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے جھوٹے ہیں، کذاب ہیں، بے ایمان ہیں۔ ان کو چھوڑیں۔ پھر مسلمانوں کے علماء کے پاس آئیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو میں نے چھوڑ دیا ہے۔ اب میں نے سٹڈی کرنی ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ میرا راستہ کیا ہے؟ اگر آپ اپنی شرائط پر آئیں گے کہ مجھے اپنے ماحول میں رکھیں۔ مجھے اپنے ساتھ رکھیں۔ پھر مجھے فلاں جگہ پر بٹھائیں۔ اگر اس طرح کریں گے تو برادر عزیز! آپ کی یہ دنیاوی ڈیمانڈیں بڑھتی جائیں گی۔ کوئی آدمی پوری نہیں کر سکے گا۔ اب فرمائیں۔ اب حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ تو نکل گیا درمیان سے جس کے لیے ہم بیٹھے تھے۔ یہ تو چکر ہی اور نکل آیا۔ چلیں! میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جی!

صفحہ 107

فاروق: مسلمان کی تعریف کیا ہے۔ مسلمان کون ہوتا ہے؟۔

مولانا: تصدیق الرسول بما جاء بہ! محمد عربی ﷺ جو کچھ لائے اس سب کو ماننے کا نام مسلمان ہے۔ ان میں کسی ایک چیز کا انکار کفر ہے۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں اور آپ بھی میرے ساتھ اتفاق کریں گے۔ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو سچا سمجھے۔ کافر ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ پورے قرآن کا انکار کرے۔ اگر ایک آیت کا انکار کرے گا تو کافر ہو جائے گا۔ وہ قرآن کو ماننے والا نہیں کہلائے گا۔ قرآن کو ماننے والا وہ ہے جو پورے قرآن کو مانے۔ ایک آیت کے انکار سے بھی کفر لازم آتا ہے۔ پورے دین کو سچا سمجھ کر قبول کرنا اس کا نام اسلام ہے۔ کسی ایک دینی مسئلہ کا جسے ضروریات دین کہتے ہیں، کسی ایک کا انکار کرنا کفر ہے۔ اب فرمائیں۔

فاروق: قادیانی جو ہیں سارا کچھ سچ سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اور سارا کچھ۔ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ کیوں کافر؟

مولانا: آپ نے سو فیصد صحیح کہا۔ ہم قادیانیوں کو قرآن پر ایمان لانے کی وجہ سے کافر نہیں کہتے کہ تم قرآن کو کیوں مانتے ہو۔ ہم قادیانیوں کو یہ نہیں کہتے کہ نماز پڑھتے ہو اس لیے کافر۔ ہم ان کو یہ نہیں کہتے کہ تم کلمہ پڑھتے ہو اس لیے کافر۔ بلکہ ہم ان کو اس لیے کافر کہتے ہیں کہ تم مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا سمجھتے ہو اس لیے کافر۔ قرآن پڑھنے کی بنیاد پر تو ہم نے کسی کو کافر نہیں کہا۔ قادیانی ہمیں کہتے ہیں کافر۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ تم قرآن کو مانتے ہو اس لیے کافر۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو تم مانتے ہو اس لیے تم کافر۔ قرآن کے ماننے کی وجہ سے ہم کسی کو کافر نہیں کہہ رہے۔ میرے خیال میں یہ ایسا جواب ہے یہاں پر آپ کا نکتہ حل ہو جانا چاہئے اور کچھ ہو نہ ہو۔ یہاں اس کو حل ہو جانا چاہئے۔ یہ آپ کو کس نے کہہ دیا کہ قادیانی فلاں چیز کو مانتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمان ہیں۔ ان بنیادوں پر تو ہم کافر کہہ ہی نہیں رہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کو ماننے کی وجہ سے قادیانیوں کو کافر کہتے ہیں۔

وقار: فاروق بھائی اپنے لیے رستہ نکال رہے ہیں۔

فاروق: نہیں! نہیں!

مولانا: اگر یہ راستہ نکلے کہ وہ ساری چیزوں کو مانتے ہیں۔ لیکن ساتھ مرزا قادیانی کو

صفحہ 108

بھی مانتے ہیں تو بھی ان کے ساتھ گزارا کر لیا جائے۔ یہ تو پھر بہت مشکل بات ہو جائے گی۔ بات سمجھ رہے ہیں؟

فاروق: ہاں!

مولانا: میں نماز پڑھتا ہوں، روزہ رکھتا ہوں، داڑھی ہے، مسلمان ہوں، یہ چار میرے دوست ہیں، میرے ایمان و اسلام کے گواہ ہیں، قادیانی مجھے بھی کافر کہتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نہیں مانتے۔ ہم قادیانیوں کو قرآن پڑھنے کی وجہ سے کافر نہیں کہہ رہے۔ ہم یہی کہتے ہیں کہ تم مرزا قادیانی کو مانتے ہو، لہٰذا تم کافر۔

فاروق: قادیانیوں کو اگر مسلمان بنانا ہو تو آپ کیا کہلائیں گے؟

مولانا: خدا کے بندے قادیانیوں کی کیوں شرط لگاتے ہو۔

فاروق: مسئلہ ہی قادیانیوں کا ہے۔

مولانا: ارے میاں! سیدھے راستے سے آؤ۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ عیسائی کو مسلمان کرنا ہو۔ یہودی کو مسلمان کرنا ہو۔ ہندو کو مسلمان کرنا ہو یا قادیانی کو۔ توبہ کراتے ہیں۔ توبہ کس چیز کا نام ہے۔ گناہ کو چھوڑنا۔ گناہ کو چھوڑنا اور آئندہ نہ کرنے کا نام توبہ ہے۔ یا اللہ میں چوری سے توبہ کرتا ہوں اور ارادہ یہ ہو کہ جاتے ہوئے جس کی اچھی جوتی ملے گی، لے جاؤں گا۔ یہ توبہ نہیں پھر مذاق ہے۔ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ بعینہٖ اسی طرح اگر کوئی عیسائی ہے تو جن کفریات پر وہ ہے ان کفریات کو ترک کرے۔ اسلام قبول کرے۔ جو کچھ پہلے تھا وہ غلط۔ آئندہ یہ نہیں ہوگا۔ اس کا نام ہے اسلام۔ اب اگر ایک عیسائی توبہ کرے گا تو جہاں وہ وحدانیت کا اقرار کرے گا وہاں تثلیث کا انکار کرے گا۔ جہاں وہ رب کریم کے محمد عربی ﷺ کے رسول برحق ہونے کا اقرار کرے گا وہاں سیدنا مسیح علیہ السلام کے الہ ہونے کا اسے انکار کرنا ہوگا۔ اب مسیح علیہ السلام کو بھی صرف اللہ کا رسول مانے گا۔ اگر ایک عیسائی کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ نمازیں پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں۔ لیکن مسیح اللہ تھے۔ استغفر اللہ! تثلیث سچی تھی۔ کفارہ سچا تھا۔ یہ آدمی پھر مذاق کر رہا ہے اسلام قبول نہیں کر رہا۔ آپ ایک ہندو کو مسلمان کرنا چاہیں گے تو اس کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہوگی کہ وہ کہے کہ خدا ایک ہے۔ یہ جتنے میں نے بُت

صفحہ 109

بنا رکھے ہیں یہ سارے جھوٹے۔ جب تک وہ جتنی زیادہ شدت کے ساتھ اپنی ان مانی ہوئی چیزوں پر کلہاڑا نہیں چلائے گا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی توحید کا کلہاڑا چلا کے ان اپنے معبودان باطلہ کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرے گا، تب تک وہ مسلمان نہیں ہوگا۔ ایک آدمی اب اگر قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام میں آنا چاہتا ہے تو قادیانیت اور اسلام میں واضح نزاع مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دنیا کی غلیظ ترین شے سمجھ کر اسلام کی طرف آئے گا تو اس کے دل و دماغ میں دنیا کی محبوب ترین شخصیت محمد عربی ﷺ کی محبت پیدا ہوجائے گی۔ بھائی! یہ ہے کہ کنویں سے پہلے پانی کی گندگی نکالو جس سے یہ کنواں پلید ہوا۔ خدا کے بندے میں نے تو پہلے کہہ دیا کہ وہ پڑا ہے۔ پہلے اسے نکالو۔ پھر پاک ہی پاک۔ اسی کا نام اسلام رکھ لیں۔ اسی کا نام توبہ رکھ لیں۔

فاروق: کیا وحی جاری ہے یا بند؟

مولانا: 13 سو سال سے جاری تھی یا بند تھی؟

فاروق: جاری۔

مولانا: کس کس پر؟

فاروق: قرآن حکیم سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وحی جاری ہے۔

مولانا: بھائی میاں! میں قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے تو اصول طے کر رہا ہوں۔ آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ جس آیت سے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جاری ہے۔ اس کے لیے کسی غلام احمد قادیانی سے پہلے مجدد کی کتاب پڑھ لیں۔ وہ کہہ دے جاری ہے تو جاری ہے نہیں تو نہیں۔ میں تو یہ پوچھ ہی نہیں رہا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سے وحی بند ہے یا کون سی آیت سے وحی جاری ہے۔ میں تو یہ سوال ہی نہیں کر رہا۔ بلکہ ان کے نام بتادیں۔ کون کون سی وحی تھی۔ کس کس پر تیرہ سو سال میں جاری رہی۔ اگر وحی تیرہ سو سال سے جاری ہے تو کس کس پر وحی ہوئی۔ نام بتلائیں؟ اور اگر تیرہ سو سال میں بند تھی اور ایک آدمی کہتا ہے کہ مجھے ہوئی اور میرے بعد کسی کو نہیں ہوگی۔ یہ آدمی پھر جھوٹا ہے۔ مکار اور عیار ہے۔ یہ صرف اپنی دکان چمکانے کے لیے ایسی ایک بات کہہ رہا ہے۔ تیرہ سو سال سے امت اس کو کبھی جاری نہیں مانتی۔ اگر نبوت

صفحہ 110

جاری تو پھر تیرہ سو سال میں کون بنا؟ کوئی نہیں صرف مرزا غلام احمد قادیانی اس کے بعد کوئی نبی؟ نہیں! اب کہتے ہیں کہ خلیفے ہیں، نبی نہیں تیرہ سو سال میں مرزا قادیانی کی خاطر نبوت کو جاری رکھنا تھا؟ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا بھی انکار کیا، تیرہ سو سالہ امت کے تعامل کو بھی چھوڑا۔ امت کے فہم قرآن کو اور امت کے نظریہ کو بھی رد کیا۔ ایک آدمی کی خاطر؟ اور جب وہ گزر گیا تو کہتے ہیں، اب پھر بند۔ نہیں تو اس کے بعد جتنے نبی ہوئے! چلو میاں! میں تیرہ سو سال کا نہیں پوچھتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو گئے ہوئے سو سال ہو گئے ہیں۔ آپ بتائیں سو سال کے بعد کتنی وحی آئی؟ یا کتنے نبی بنے؟ نبوت جاری ہے یا وحی جاری ہے۔ فرمائیں کتنے نبی بنے ہیں؟ اے کاش! آپ ٹھنڈے دل ودماغ سے اس پر غور فرمائیں۔ میں کہتا ہوں قوت مدافعت پیدا کرو۔ آپ کے ان سوالوں کا جواب آپ کا ضمیر دیتا چلا جائے گا۔

فاروق: وحی جو ہے وہ غیر نبی کو بھی ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی یا نبی ہونا ضروری ہے۔

مولانا: آپ بتائیں۔

فاروق: آپ سے سوال ہے۔

مولانا: بھائی میاں! بتادیں جو آپ کے دل و دماغ کے اندر ہے۔

فاروق: قرآن حکیم میں کیا ہے؟

مولانا: وحی شرعی۔ وحی شرعی جس کا انکار کفر ہو۔ وہ سوائے نبی کے کسی کو نہیں ہو سکتی۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ تیرہ سو سال میں کسی کو ہوئی نہ قیامت تک ہوگی جس کے انکار کی وجہ سے کفر لازم آئے۔ باقی خواب ہے، الہام ہے، ان کا ماننا ہمارے لیے ویسے بھی ضروری نہیں۔ مجھے الہام ہو کہ مولوی صاحب! آپ کے پاس روٹی رکھی ہوئی ہے اس کے اندر زہر ملا ہوا ہے۔ آپ اس کو نہ کھائیں۔ اس کے باوجود میں کھالوں اور واقعتاً زہر ملا تھا۔ میں مرجاؤں تو مجھے خودکشی کا مرتکب نہیں کہا جائے گا۔ اس لیے کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ میرا الہام صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے خواب دیکھا ہے۔ میرا خواب سچا بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹا بھی ہو سکتا ہے۔ جناب محترم فاروق صاحب! دین اسلام، امتی کے یا امت کے خوابوں پر نہیں چلا کرتے۔ اگر

صفحہ 111

خوابوں کی بنیاد پر دین اسلام چلا کرے تو پھر اسلام نہ ہوا، مذاق ہوا۔ ان کی حیثیت مبشرات کی ضرور ہوسکتی ہے۔ آپ اور میں کبھی خواب دیکھتے ہیں تو صبح کو نہانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ پھر کبھی خواب دیکھتے ہیں کہ بیت اللہ شریف کا طواف کررہے ہیں۔ وہ بھی خواب تھا اور یہ بھی خواب ہے۔ یہ انسانی دل و دماغ ہیں۔ اچھے خواب بھی آسکتے ہیں اور برے بھی۔ خوابیں کبھی بنیاد نہیں ہوا کرتیں اور کسی بڑے سے بڑے آدمی ماسوائے اللہ رب العزت کے نبی کے کسی اور کا خواب قطعاً شرعی حجت یا دلیل نہیں۔ ہاں! نبی کا خواب حجت ہوتا ہے اور اسی لیے رؤیا الانبیاء وحی! بخاری شریف کے اندر ہے۔ صرف نبی کا خواب شریعت کے اندر حجت ہوا کرتا ہے۔ باقی بڑے سے بڑے آدمی کا، میرے استاد کا، کسی مجدد کا خواب وہ بیان کرے اور میں کہوں نہیں مانتا میں اس کو۔ اسلام مجھے یہ نہیں کہے گا کہ تم اس کے خواب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہوگئے ہو۔ صرف نبوت کی ذات کو ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر کفر اور اسلام کے فیصلے ہوتے ہیں۔ باقی دنیا کے کسی آدمی کی یہ اتھارٹی نہیں کہ اس کو ماننے یا نہ ماننے کی وجہ سے کفر لازم آئے۔ حضرت مولانا خان محمد صاحب ہمارے بزرگ ہیں۔ ہمارے امیر ہیں۔ ساری دنیا کے ولیوں میں میری نظر کے مطابق وہ سب سے اچھے ہیں۔ کل میں کہہ دوں کہ جی میں حضرت مولانا خان محمد صاحب کو نہیں مانتا۔ ان کو نہ ماننے کی وجہ سے مجھ پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔ میں کہتا ہوں کہ میں مجدد الف ثانیؒ کو نہیں مانتا۔ ان کو نہ ماننے کی وجہ سے میرے اوپر کفر لازم نہیں آئے گا۔ ارے میاں میری بات سمجھ رہے ہو؟ بھائی! اسلام میں صرف نبوت کی ذات ہوا کرتی ہے جس کے اقرار یا انکار سے اسلام و کفر کے احکام مرتب ہوتے ہیں اور جس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کہے کہ جو مجھے نہ مانے وہ کافر۔ چاہے حضور ﷺ کو ہزار دفعہ مانے، مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ کافر۔ اس کا پھر معنی یہ ہوا کہ یہ حضور ﷺ کی مسند پر بیٹھ گیا ہے۔ جو اعزاز حضور ﷺ کا تھا، وہ اس نے لے لیا۔ اس لیے تو میں کہتا ہوں کہ پہلے اس کو نکالو۔ گاڑی تب چلے گی۔

فاروق: وہ کہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے مقابلہ پر نہیں ہوں۔ میں امتی ہوں۔ ان کی غلامی کی وجہ سے نبوت ملی ہے۔

صفحہ 112

مولانا: یہ کیا فرما رہے ہیں آپ؟ فاروق: ان کا غلام ہوں۔ خادم ہوں۔ حضور کا خادم۔ وہ کہتا ہے۔ مولانا: لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھے اعزاز وہ دو جو مخدوم اور آقا کو ملتا ہے۔ ہم نے کہا کہ اس آقا کے انکار سے کفر لازم آئے گا۔ اس نے کہا کہ: ”میرے انکار سے بھی کفر لازم آئے گا۔“ (تذکرہ ص 607 طبع سوم) قرآن مجید نے کہا کہ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین! وہ کہتا ہے کہ میں ہوں غلام لیکن مجھے کہا گیا ہے کہ تو بھی وماارسلناک الا رحمۃ للعالمین! ہے۔ (تذکرہ ص 81) اس کی وحی پڑھی ہے کہ نہیں؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ وما رمیت اذ رمیت! غلام کہتا ہے کہ مجھے بھی کہا گیا ہے کہ ومارمیت اذرمیت (تذکرہ ص 43، 131) یہ بدنصیب غلام ہے یا آقا بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ غلام کہتا ہے کہ ظلی طور پر مجھے بھی محمد کہا گیا ہے؟ (ایک غلطی کا ازالہ ص 5، خزائن ج 18 ص 209) منصب بھی ان کا، ٹائٹل بھی ان کا، اختیارات بھی ان کے استعمال کرے مرزا قادیانی اور کہے کہ میں غلام ہوں۔ جناب! یہ پھر دھوکے بازی ہی ہو سکتا ہے۔ غلامی والی بات غلط ہے۔ سمجھے؟ فاروق: عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو وہ نبی اللہ ہوں گے یا غیر نبی اللہ! مولانا: مرزا غلام احمد قادیانی کا قصہ حل ہوا کہ نہیں؟ فاروق: جی ہاں! بس ہو گیا۔ مولانا: ہاں.....! بس ہو گیا! یہ نہیں۔ شاہ صاحب فرمائیں.....! فاروق: حدیث میں ............! مولانا: بھائی! مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ حل ہوا؟ فاروق: جی! مولانا: ٹھیک ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو محمد رسول اللہ بھی کہے اور یہ بھی کہے کہ میرے ماننے یا نہ ماننے کی وجہ سے کفر و اسلام کے فیصلے ہوں گے۔ یہ بھی لکھے کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی“ (تذکرہ ص 163) فلاں مجھ کو نہیں مانتا۔ تیرا کلمہ باطل، تیرا اسلام باطل، حج باطل، مرزا غلام احمد قادیانی کو پہلے مان۔ تو یہ اختیار تو حضور سرور کائنات ﷺ کے استعمال کر رہا ہے۔ دھوکہ میں رکھا گیا ہے آپ کو۔ میرے عزیز! ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔ دعویٰ

صفحہ 113

ان کا کچھ ہے۔ کر یہ کچھ رہے ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی کہا کہ: ”جس اسلام میں میرا تذکرہ نہیں، وہ مردہ اسلام ہے۔“ (الفضل قادیان ج 16 نمبر 32 ص 11 مورخہ 19 اکتوبر 1928ء) تیرہ سو سال میں مرزا قادیانی کا کوئی تذکرہ نہیں تھا تو تیرہ سو سال میں اسلام مردہ تھا۔ زندہ اسلام وہ جس میں مرزا قادیانی ہو۔ میرے عزیزو! نبوت، قوموں کو دھوکہ نہیں دیا کرتی۔ نبوت دھوکوں سے نکالنے کے لیے آیا کرتی ہے۔ نبی حق اور باطل کی تمیز قائم کرتا ہے۔ دھوکہ میں قوموں کو نہیں رکھتا۔ ایک قادیانی کے ساتھ جس طرح آپ کے ساتھ گفتگو ہورہی ہے، گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا جی میں قادیانی ہوں۔ پکا، ٹھکہ سکہ بند قادیانی ہوں۔ مجھے حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ سمجھا دیجئے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں کہ فوت ہو گئے ہیں؟ کہنے لگا فوت ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا مانتے ہو؟ کہنے لگا کہ مسیح۔ میں نے کہا کہ وہ کیوں؟ کہتے ہیں کہ اس کی جگہ آیا ہے۔ میں نے کہا کہ جو فوت ہو گیا، اس کی جگہ اس کا بیٹا، پوتا، پڑپوتا، اگر آنا تھا، اس کو آنا تھا۔ یہ کیسے آ گیا؟ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسے آ گیا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک آئے گا۔ میں نے کہا جو آدمی فوت ہو گیا، وہ حضور علیہ السلام سے پہلے کا تھا یا حضور علیہ السلام کے بعد؟ کہتا ہے کہ حضور علیہ السلام سے تو پہلے تھا تو حضور علیہ السلام سے پہلے مرا ہوگا۔ میں نے کہا کہ حضور علیہ السلام کا یہی کام رہ گیا تھا کہ جو آدمی مر گیا ہے، حضور علیہ السلام اس کے متعلق کہیں کہ وہ آئے گا۔ پھر نبی علیہ السلام معاذ اللہ! معاذ اللہ! دنیا کو دلدل سے نکال رہے ہیں یا دلدل میں ڈال رہے ہیں کہ جو شخص فوت ہو گیا ہے اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ آئے گا۔ وہ قادیانی چپ ہو گیا۔ میں نے کہا کہ پھر اس کا کوئی نام بھی حضور علیہ السلام نے بتایا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں! حضور نے فرمایا تھا کہ وہ آئے گا اور اس کا نام یہ ہوگا۔ میں نے کہا پھر اسی نام والا آئے گا۔ اسی نام والا آیا؟ نہیں! نہیں آتا کروڑوں سال نہ آئے۔ ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہم تو جب مانیں گے کہ اسی نام والا انہی شرائط کے ساتھ آئے۔ مانیں گے اسی کو جو حضور علیہ السلام کی شرائط پر آئے گا اور ایسا چمکتا دمکتا ہوا آئے گا کہ آسمان

صفحہ 114

والے بھی دیکھ کر رشک کریں گے اور زمین والے بھی دیکھ کر اس پر رشک کریں گے۔ اب رہا عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا تو میرے خیال میں یہ مسئلہ مجھ سے نہ پوچھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی سے جو پہلے کے لوگ ہیں، ان سے پوچھتے ہیں اور وہ ہیں مثلاً علامہ محمود آلوسیؒ۔ وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا حضور علیہ السلام کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اس لیے کہ کسی ایک شخص کو جب اللہ نبی بنادیں پھر ابدالآباد تک وہ اللہ کا نبی ہوگا۔ اس اعزاز سے اسے محروم نہیں کیا جائے گا کہ کل نبی تھا آج نبی نہ ہو۔ یہ تحصیل داروں کے یا ڈی سی کے عہدے تو ہو سکتے ہیں، نبوت کوئی عہدہ نہیں۔ جو نبی ہے وہ ابدالآباد کے لیے نبی۔ اب عیسیٰ علیہ السلام جو تشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نہیں۔ اگر نبی ہوں گے تو حضور علیہ السلام کی ختم نبوت کے بعد ایک نبی آگیا۔ یہ سوال آج کا نہیں چودہ سو سال کا ہے۔ امت سے پوچھیں کہ انہوں نے اس کا کیا کہا؟ تو علامہ آلوسیؒ جس کا میں تذکرہ کر رہا ہوں بالکل ابتدائی صدیوں کے یہ آدمی ہیں۔ آج سے سینکڑوں سال پہلے کے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے آباؤ اجداد بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا۔ کہتے ہیں کہ ان عیسیٰ ممن نبی قبلہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ یہ اللہ رب العزت کے وہ نبی ہیں جو حضور علیہ السلام سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ مثلاً کل قیامت کے دن ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء موجود ہیں۔ سب کی موجودگی میں خاتم النبیین پھر بھی حضور علیہ السلام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی موجود ہیں پھر بھی محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں۔ آپ ﷺ کی ختم نبوت پر حرف تو تب آئے گا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی بنایا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں اپنے ماں باپ کے ہاں خاتم الاولاد ہوں۔ (تریاق القلوب ص 157، خزائن ج 15 ص 479) حالانکہ اس کا بھائی غلام قادر اس وقت زندہ تھا۔ غلام قادر کے زندہ ہونے کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کی خاتمیت پر کوئی فرق نہیں آیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری یا ان کے موجود ہونے پر محمد عربی ﷺ کی خاتمیت پہ فرق نہیں۔ خاتمیت پہ فرق یہ ہے

صفحہ 115

کہ ایران یا قادیان کا یہ کہے کہ حضور ﷺ کے بعد میں نبی ہوں۔ یہ رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہے۔

فاروق: خاتم جو ہے اس کے معنی کیا ہیں۔ ختم کرنے والا۔

مولانا: مجھ سے کیوں پوچھتے ہو، وہ تو اصول طے ہو گیا۔

فاروق: قرآن کہتا ہے کہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین!

مولانا: دیکھیں آپ کے ذہن میں کوئی چیز متعین نہیں ہے۔ جو چیزیں آتی ہیں آپ اس پر بول پڑتے ہیں۔ میں نے آپ کے بہت سارے اشکالات کا جواب دیا۔ اس کا جواب دیتا ہوں۔ لیکن جو چیزیں جس پر سٹڈی کرنی ہو، آپ کھلے دل کے ساتھ کہیں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو کھلے دل کے ساتھ جھوٹا سمجھتا ہوں۔ ہم آپ کو رستہ بتاتے ہیں۔ بھائی! یوں چل پڑیں منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔ اسی میں سے ایک سٹڈی کا راستہ بھی بتا دیا۔ چلو آپ نے لفظ خاتم کہہ دیا ہے۔ میں اس پر درخواست کر دیتا ہوں۔ سب سے پہلے قرآن سے پوچھیں گے کہ اس کا ترجمہ کیا ہے۔ قرآن اگر نہیں بتائے گا تو حدیث کے دروازے پر جائیں گے۔ پھر صحابہؓ کے دروازے پر اور پھر امت کے دروازے پر۔ یہ قرآن مجید کے ترجمہ کے راستے ہیں۔ ختم کا لفظ قرآن مجید میں سات مقام پر استعمال ہوا ہے۔ یہ ختم کا لفظ ختامہ مسک! یہ ختم کا لفظ ختم الله علی افواہہم! یہ ختم کا لفظ ختم الله علی قلوبہم! یہ ختم کا لفظ رحیق مختوم! وغیرہ! ان سب میں قدر مشترک ترجمہ یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا کہ نئی چیز اس میں ڈالی نہ جا سکے اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر نہ نکالا جا سکے۔ اس موقعہ پر عربی میں ختم کا لفظ آتا ہے۔ اصل اس کا معنی یہ ہے۔ ہاں! انگشتری کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مہر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ زیب و زینت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن سب سے اس کا قدر مشترک قواعد کی رو سے جن مقامات پر ختم کا لفظ قرآن مجید میں آیا، وہ یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ مثلاً اب مہر لگائیں گے تب بھی بند ہوگا۔ سیل کریں گے تب بھی بند ہوگا۔ ٹھیک ہے نا جی؟ آپ نے کسی کو اپنی انگشتری دی۔ وہ بھی کسی

صفحہ 116

زمانے میں مہر کا کام دیتی تھی۔ اس لیے یہ ان معنوں میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا کہ نئی چیز ڈالی نہ جاسکے اور جو کچھ ہے باہر نہ نکالا جاسکے۔ عربی زبان میں اس پر ختم کا لفظ بولتے ہیں۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ! اللہ نے ان کے دلوں پر مُہر کر دی یا بندش کردی۔“ میں اب لغوی معنی لے رہا ہوں۔ قرآن مجید کی رُو سے کر رہا ہوں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مُہر کردی۔ فلاں! فلاں! یہ متعین افراد تھے۔ ان کے دلوں سے کفر نکل نہیں سکتا۔ وہاں ختم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ خاتم النبیین کا اگر اس اعتبار سے ترجمہ دیکھا جائے تو پھر یہ ہوگا کہ رحمت دوعالم ﷺ کی تشریف آوری پر حق تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت کی ایسے طور پر بندش کردی کہ حضور ﷺ کے آنے کے بعد کسی نئے شخص کو سلسلۂ نبوت میں داخل نہیں کیا جاسکتا اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے اس سلسلہ میں داخل تھے کسی کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ جائیے کائنات کی تمام لغت کی کتابیں اٹھا کر اس معنی کے خلاف نکالیں۔ نہیں نکال سکیں گے۔ میں نے آپ کو چیک دیا ہے۔ وہ بلینک چیک ہے۔ ساری کائنات کی کتابیں اٹھا کر لغت کو کھنگال ماریں جس وقت یہاں پر آئیں گے کوئی آپ کو اشکال باقی نہیں رہے گا۔ جہاں کہیں خاتم کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہوگا وہاں اس کا معنی سوائے آخری کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جائیے اس اصول کو کبھی نہ بھولیے۔ اس طرح توفی کے لفظ کو لے لیتے ہیں کہ توفی کہتے کس کو ہیں۔ اس توفی کے لفظ کو سمجھنے کے لیے علامہ رازیؒ کے دروازے پر جاتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ حضرت آپ فرمائیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ: التوفی جنس تحته انواع! یہ اب آپ کی بغیر ڈیمانڈ کے میں اس مسئلہ پر شروع کر رہا ہوں۔ تاکہ آپ کو یقین ہوکہ میں اس مسئلہ سے بھاگ نہیں رہا۔ کروڑ دفعہ میں اس پر گفتگو کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن آپ کا یہ علاج نہیں۔ علامہ فخر الدین رازیؒ یہ کہتے ہیں کہ التوفی جنس تحته انواع! یہ توفی ایک جنس ہے۔ اس کے تحت کئی انواع ہیں۔ نیند کے معنی میں بھی توفی استعمال ہوا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی کہتا ہے کہ اماتت یعنی موت نیند کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ (ازالہ اوہام ص 943، خزائن ج 3 ص 621) توفی موت کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ توفی استیفاء

صفحہ 117

کے معنوں میں اخذ الشیئ وافیا! کسی چیز کو پورا پورا لینا کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ وہ آدمی دنیا کا سب سے بڑا دجال اور مکار ہے کہ جو قرآن کی دس آیتوں کو اکٹھا کر کے کہے کہ یہاں چونکہ توفی کا معنی موت ہے لہذا اس آیت میں بھی معنی موت ہے۔ وہ دنیا کا دجال تو ہو سکتا ہے قرآن مجید کو سمجھانے والا نہیں۔ قرآن مجید کو سمجھانے والا وہ ہوگا جو ہر آیت کو سمجھنے سے پہلے موضوع کو، محل کو اور مقام کو دیکھے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے کس موضوع، کس ماحول میں اپنے نبی کو یہ بات کہہ کے، کس بات کی نشاندہی کی تھی۔ ترجمہ پھر سمجھ میں آئے گا۔ مثلاً یہ میرے استاد ہیں۔ یار تم بڑے استاد ہو۔ لفظ ایک ہے، لیکن اس کے ترجمے دو ہو گئے۔ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ میرے عزیز! اب استاد کا معنی ہمیشہ فراڈ کرتے چلے جانا ہے یا استاد کا معنی ہمیشہ یہ کریں جس نے اس کو پڑھایا، یہ کرتے چلے جانا ہے۔ استاد کا لفظ کبھی برے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ کبھی شیخ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جس کے پاس پڑھا جائے اس کے معنوں میں بھی استعمال ہوا۔ کبھی کبھی اس کو کسی اور معنی میں بھی لے لیتے ہیں۔ جس موقع پر توفی کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آیا اس کو دیکھیں۔ اس ماحول کو دیکھیں کہ یہودی پکڑنا چاہتے ہیں اور میرا رب بچانا چاہتا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یا عیسیٰ انی متوفيك! یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکیں گے۔ آپ میرے قبضے میں ہیں۔ کامل، مکمل، بالکل آپ میرے قبضے کے اندر ہیں۔ اگر اس کا معنی یہ کہ انی متوفيك! اور وہ یہودی بھی آپ کو مارنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہیں کہ میں بھی آپ کو مارنا چاہتا ہوں تو پھر رب کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نمائندگی نہیں فرما رہے پھر تو یہودیت کی ترجمانی ہو رہی ہے؟ معاذ اللہ! یہودی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کو تکلیف نہیں دیتا، میں آپ کو مار دیتا ہوں اور مارنے کے بعد پھر جو چاہیں آپ کے جسم کے ساتھ کریں۔ یہ تو پھر یہودیت کی تمنا پوری ہو رہی ہے۔ میں نے یہ صرف خاتم النبیین کا لفظ اور یہ صرف آپ کے دل و دماغ کو کھولنے کے لیے کہا۔ ختم کے لفظ کو بھی آپ لے کر چلیں گے جتنا لے چلیں یا اسی توفی کے ایک لفظ کو لے لیں۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی

صفحہ 118

سات عبارتیں ایسی رکھ دوں گا جس میں توفی ہے لیکن موت کا معنی نہیں۔ انہوں نے اس کے دوسرے ترجمے کیے۔ ایک لفظ مثلاً ”اسد“ لغت میں 28 معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ”عقرب“ کا لفظ 35 سے زیادہ لفظوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے یا میں کہتا ہوں کہ فاروق صاحب نہیں آئے۔ یہ شاہ صاحب مجھے کہتے ہیں شیر آ رہا ہے۔ میں کہتا ہوں یار وہ دیکھو بکری کو کیا ہوا ہے۔ کہتے ہیں شیر آیا تھا۔ یہاں بھی شیر کا لفظ استعمال ہوا، وہاں بھی شیر کا لفظ استعمال ہوا۔ وہاں کا ماحول بتا رہا ہے کہ درندے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں شیر کا لفظ بتا رہا ہے کہ بہادر کے معنوں میں استعمال ہوا۔ اب ایک آدمی مثلاً ایک شاعر کہتا ہے

صبح دم چوں رخ نمودی شد نماز من قضا
سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آمد بروں

کہتا ہے صبح صبح میں نے اپنے دوست کو دیکھ لیا میری تو نماز قضا ہو گئی۔ جب سورج نکل آتا ہے نماز تو جائز نہیں ہوا کرتی۔ شاعر اس شعر میں دوست کے رخ کو سورج کے معنوں میں لے رہا ہے۔ رخ محبوب کو یہ آفتاب کے معنوں میں لے رہا ہے۔ اب کوئی دنیا کا لال بجھکڑ کھڑا ہو جائے اور وہ کہے کہ آفتاب کا معنی ہی رخ محبوب ہوتا ہے۔ اس آدمی کو فالو نہیں کریں گے۔ مجدد اور مسیح نہیں بنائیں گے۔ بلکہ اس احمق کو کہیں گے کہ پہلے تو اپنے دماغ کا علاج کرا۔ سوچنا یہ ہے کہ کن معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مفہوم کو قرآن کے سیاق و سباق کو پالیا۔ فقد فاز فوزاً عظیما! لغت کو اٹھایا اور اپنی مرضی کے ساتھ اس کے ترجمے کرنے شروع کر دیئے۔ نہ کبھی وہ قرآن کو سمجھ سکتا ہے نہ حدیث کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اس بات کی روح کو پاسکتا ہے۔ آپ ان بنیادوں پر جب سٹڈی کریں گے تو پھر ان شاء اللہ! میرے بھی استاد بن جائیں گے۔ یہ ہو سکتا ہے۔ وہ ہو سکتا ہے۔ جو ایمان کی حلاوت ہے۔ وہ ابھی تک دل میں اتری نہیں۔ وہ کڑواہٹ ابھی کفر کی باقی ہے۔ وہ زنگ ابھی باقی ہے اور زنگ آلود میں فولاد کا شربت ڈالتے ہیں۔ اسے بھی زنگ بنا دیتا ہے۔ پہلے وہ نکلے گا۔ تو دل دماغ صاف ہو گا۔ میں اللہ رب العزت کی ذات کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ میرے دل میں آپ کے لیے بے پناہ احترام ہے۔ حتیٰ کہ اگر مجھے اپنے جسم اور جان سے چمڑا جدا کر کے جوتی بنا کر دینے کی ضرورت پیش آجائے، میں اس وقت کم از کم اس

جذبہ سے گفتگو کر رہا ہوں کہ میں اس اس پر پورا اتر سکتا ہوں یا نہیں، میں میرے یہ جذبات ہیں کہ اگر آپ کو ا وقت میرے جذبات یہ ہیں کہ میں ا کوشش تو کریں۔ میرے عزیز! یہ دی قادیانی کو کافر کہتے رہے۔ چار قادیا آدمی نے مانسہرہ کے اندر کھڑے ہوکر کے بعد کہتا ہے جی وہ ذرا ابھی تک ہیں۔ وہ جی لیکچرار کو اس نے یہ کہہ د ہے۔ میں اپنی داڑھی کے سفید بالوں اور سب کچھ برے خیالات کو نکالیں۔ ولولے کے ساتھ جس وقت آپ تکبیر گے اور کوئی نہیں ہوگا۔ کر سکتے ہیں؟ نہی ہے۔ یہ جملہ سخت کہا ہے۔ ناراض ن چلوں۔ ہاں! کیا فرماتے ہیں آپ۔

اب میں آپ سے کہتا ہوں کہ پہلے وقت کی کیفیت کو اور اس وقت جو آپ دیکھا ہوتا۔ اس وقت بھی دیکھا ہوتا ہوں آپ یہ دیکھیں رزق میرے سا احمد قادیانی کی جتنی کتابیں چھتیس سال میں دیانتداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ اتنے اقدام نہیں کیے ہوں گے جتنے دیانت رہی اپنی جگہ، میں کہتا ہوں کمانے کے لیے وہ خباثتیں نہیں کرت ایک حوالہ ملا ہے۔ چھتیس سال ہو گ قادیانی رہتا تھا قادیان میں اور حکیم بھجواتے تھے قادیان میں۔ اب پیسے

صفحہ 119

جذبہ سے گفتگو کر رہا ہوں کہ میں اس سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔ جب یہ مرحلہ آجائے اس پر پورا اتر سکتا ہوں یا نہیں، میں اس کا تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اس وقت کم از کم میرے یہ جذبات ہیں کہ اگر آپ کو اس طرح بھی منت معذرت کر کے سمجھانا پڑے، اس وقت میرے جذبات یہ ہیں کہ میں اس کام کے لیے بھی تیار ہوں۔ لیکن آپ سمجھنے کی کوشش تو کریں۔ میرے عزیز! یہ دین ہے یا تماشا کہ ساری زندگی اس مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہتے رہے۔ چار قادیانیوں نے چکر دیا تو ان کے ساتھ چلے گئے۔ ایک آدمی نے مانسہرہ کے اندر کھڑے ہو کر کہا کہ کہو کافر۔ کہتا ہے غلام احمد قادیانی کافر۔ اس کے بعد کہتا ہے جی وہ ذرا ابھی تک میرے شک باقی ہیں۔ اب تک میرے شکوک باقی ہیں۔ وہ جی لیکھرام کو اس نے یہ کہہ دیا۔ فلاں کو اس نے یہ کہہ دیا تھا۔ نکلیں اس دلدل سے۔ میں اپنی داڑھی کے سفید بالوں کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ نکلیں اس دلدل سے اور سب کچھ برے خیالات کو نکالیں۔ نئی طلب کے ساتھ نئے جذبے کے ساتھ اور نئے ولولے کے ساتھ جس وقت آپ نکلیں گے تو پھر پورے ماحول میں آپ ہی آپ ہوں گے اور کوئی نہیں ہوگا۔ کر سکتے ہیں؟ نہیں کر سکتے تو نہ اسلام آپ کا محتاج ہے نہ میرا محتاج ہے۔ یہ جملہ سخت کہا ہے۔ ناراض نہ ہوں۔ لائیے مسکراہٹ لبوں پہ۔ میں آگے بھی چلوں۔ ہاں! کیا فرماتے ہیں آپ۔ اب وہ رخ محبوب تو آپ ہو گئے نا فاروق بھائی! اب میں آپ سے کہتا ہوں کہ پہلے جس وقت آپ آئے تھے، وہاں پر بیٹھے تھے، اس وقت کی کیفیت کو اور اس وقت جو آپ کے چہرے کے حالات ہیں، اس وقت بھی آئینہ دیکھا ہوتا۔ اس وقت بھی دیکھا ہوتا تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں درخواست کرتا ہوں آپ یہ دیکھیں رزق میرے سامنے ہے۔ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جتنی کتابیں چھبیس سال میں قادیانیت اور رد قادیانیت پر میں نے پڑھیں، میں دیانتداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ شیطان نے بھی شاید دین اسلام کی بربادی کے لیے اتنے اقدام نہیں کیے ہوں گے جتنے یہ مرزا غلام احمد قادیانی کرتا تھا۔ دین اسلام اور دیانت رہی اپنی جگہ، میں کہتا ہوں کہ پرلے درجے کا کمینہ دنیادار ہندو بنیا بھی دنیا کمانے کے لیے وہ خباثتیں نہیں کرتا جو مرزا غلام احمد قادیانی کرتا تھا۔ مجھے کچھ دن پہلے ایک حوالہ ملا ہے۔ چھبیس سال ہو گئے میں نے کبھی یہ حوالہ نہیں پڑھا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی رہتا تھا قادیان میں اور حکیم نورالدین رہتا تھا کشمیر میں۔ اس نے کشمیر سے پیسے بھجوانے تھے قادیان میں۔ اب پیسے بھجوانے کے دو ذریعے ہیں۔ ایک پرائیویٹ اور ایک

صفحہ 120

گورنمنٹ کا۔ پرائیویٹ یہ ہے کہ کوئی آپ کا بااعتماد دوست آ رہا ہے۔ آپ اس کو دے دیں۔ وہ ان تک پہنچا دے گا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو گورنمنٹ کے دو ذریعے ہیں۔ ایک بینک کے ذریعہ آپ بھیجیں گے یا منی آرڈر کے ذریعہ۔ بینک کے ذریعہ بھیجیں تو ڈرافٹ بنوائیں۔ ڈرافٹ کو پھر ڈاک میں ڈالیں۔ خرچہ آئے گا۔ اس زمانے کا پانچ سو روپیہ جس زمانے میں مرزا قادیانی کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ ایک آنے کا کلو گوشت ملتا تھا۔ سولہ آنے کا روپیہ ہوتا تھا۔ روپے کا سولہ کلو گوشت ملتا تھا۔ پانچ سو کا معنی یہ ہے کہ پانچ سو کا آٹھ ہزار کلو گوشت ملتا تھا۔ آٹھ ہزار کلو گوشت آج کے دور میں ڈیڑھ سو روپے کے حساب سے لگایا جائے تو وہ بارہ لاکھ روپے کا بنتا ہے۔ اتنی رقم بھجوانی تھی اس زمانے میں۔ اب ڈاک سے بھیجیں تب پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ بینک سے بھیجیں تب خرچ ہوتے ہیں۔ لفافے میں ڈال کر بھیج دیں۔ لفافہ چیک ہو جائے تب بھی آدمی پکڑا جائے گا اور اگر اسے کوئی نکال لے تو پانچ سو روپے ضائع گئے۔ نورالدین نے پانچ سو کا نوٹ پھاڑا اور اس کا ایک ٹکڑا لفافے میں ڈال کے بھیج دیا۔ آدھا نوٹ جب قادیان میں پہنچا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے خط لکھا کہ پانچ سو روپے کے نوٹ کا ایک حصہ پہنچ گیا ہے۔ اب دوسرا بھی محفوظ طریقے سے بھیج دیں اس لیے کہ بارشیں ہورہی ہیں کہیں خراب نہ ہو جائے۔ اس نے لفافے کے اندر پانچ سو کے نوٹ کا ٹکڑا ڈال کے بھیج دیا۔ (مکتوبات احمدیہ ج 5 نمبر 2 ص 35، 43، 44، 45، 52) یہ آدمی جو گورنمنٹ کا ٹیکس بچانے کے لیے، بینک کے پیسے بچانے کے لیے اتنی خبیث سے خبیث حرکتیں کر رہا ہے یہ نبی ہے؟۔ نبوت اس کو کہتے ہیں کہ ایک ہاتھ میں چاند لا کے رکھ دو اور دوسرے پہ سورج لا کے رکھ دو۔ پھر بھی اپنے منصب کو نہیں چھوڑوں گا۔ نبوت اس کو کہتے ہیں کہ پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے اسے سونے کا بنادے۔ اس کی طرف اشارہ کر کے اسے چاندی کا بنادے۔ نبی کہتا ہے مجھے سونا چاندی نہیں چاہئے۔ رب چاہئے۔ مرزا قادیانی تو اس غلیظ بنئے کی طرح ہے جس کے چار آنے گٹر کے اندر گر گئے تھے تو چار آنوں کو تلاش کرنے کی خاطر اپنے ہاتھوں کو آلودہ کر رہا تھا۔ یہ نبی ہے؟ محض اپنی اولاد کو جو پہلی بیوی سے تھی، محروم کرنے کے لیے اپنی ساری جائیداد نصرت بیگم کے نام پر لگوادی۔ اس کے نام رہن رکھ رہا ہے۔ (سیرۃ المہدی ج 2 ص 52 روایت نمبر 366) پہلی اولاد میں سے بیٹا مرتا ہے تو بیوی کو جاکر کہہ دیتا ہے کہ یہ ایک رہ گیا تھا جو تیری اولاد کے ساتھ وارث ہوتا۔ وہ بھی مر گیا ہے۔ (سیرۃ المہدی ج 1 ص 22 روایت نمبر 25) اب تیری اولاد اکیلی میری

صفحہ 121

وارثہ ہوگی۔ یہ نبی ہے؟ ایک بے دین، پتھر دل آدمی اپنی اولاد کے متعلق بھی یہ سوچا کرتا ہے؟ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو غیروں کے درد کے اندر تڑپا کرتے تھے۔ اسے اپنی اولاد کا درد نہیں۔ سوچیں گے؟ بہت سارے آپ کے لیے راستے کھلیں گے۔ میں دیانتداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ نبوت اور یہ منصب تو اپنی جگہ، کائنات میں شرافت نام کی کوئی چیز ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کو تو اس شرافت کا ادنیٰ حصہ بھی نہیں ملا۔ اپنے مرید حکیم نورالدین کو کہتا ہے کہ: ”رات میں نے فلاں دوائی کھائی ہے۔ اس دوائی کے کھانے کے بعد اتنی دیر اپنی بیوی کے ساتھ...... قوت باہ کو مفید ہے۔“ (مکتوبات احمدیہ ص 14 ج 5 نمبر 2) تم بھی استعمال کرو فائدہ بہت دے گی۔ یہ نبی ہے؟ یہ اپنے خلیفہ کو یہ کہہ رہا ہے کہ میں......! تم بھی......! یہ نبی ہے؟ کیا نبوت کی یہی گفتگو ہوا کرتی ہے؟ ہاں! نبی اس کو کہتے ہیں کہ سامنے کوئی بچی آرہی ہے۔ نبوت اپنی چادر دیتی ہے کہ جاؤ جا کر اس بچی کے سر پر ڈال دو۔ یارسول اللہ ﷺ کافر کی بیٹی ہے۔ فرمایا بیٹی کافر کی ہے دربار تو محمد عربی ﷺ کا ہے۔ یہاں جو آئے گا عزت پائے گا۔ سوچو! ماننے پر آئے تو کس کو مانا؟ تمہیں رحمت دو عالم ﷺ کے گھر میں کون سی کمی تھی جسے چھوڑ کر قادیانیت قبول کی؟ فاروق بھائی! دین دیانت نام کی اگر کوئی چیز ہے......! سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قضیہ تو اس وقت ہوگا جس وقت وہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس وقت تو ان کا قضیہ ہی نہیں۔ جس وقت وہ تشریف لائیں گے اور جن مسلمانوں کو ان کے ساتھ پالا پڑے گا......! میں کہوں فاروق صاحب آئیں گے، اور آجائیں مولانا شفیق الرحمٰن صاحب، تو مجھ سے کوئی پوچھے کہ مولوی صاحب آپ نے تو فاروق صاحب کا کہا تھا۔ میں کہوں فاروق سے مراد میری مولانا شفیق الرحمٰن تھا تو دنیا کا کوئی آدمی مجھے سچا کہے گا یا مکار کہے گا؟ میں پوچھتا ہوں آپ سے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ میں کہتا ہوں عیسیٰ علیہ السلام سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ پھر معاذاللہ مکر کس نے کیا؟

فاروق: وہ اس سے استدلال لیتے ہیں کہ قرآن کریم میں جو پیش گوئی حضرت محمد ﷺ کے لیے آئی ہے کہ یأتی من بعدی اسمہ احمد آپ کا نام تو قرآن مجید میں احمد رکھا ہے۔ آئے محمد۔ پیش گوئی احمد کی ہے۔ آئے محمد۔ پھر کلمہ پڑھنا چاہیے لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ۔ یہ محمد کا کلمہ کیوں پڑھتے ہو۔

مولانا: اگر ہمیشہ سے یہ ہو رہا ہے کہ نام محمد کا کہا گیا، آئے احمد۔ تو اس کا معنی یہ ہے

صفحہ 122

کہ اللہ میاں کی سنت یہ چلی آرہی ہے کہ نام فاروق کا لیتے ہیں، مراد شفیق کی ہوتی ہے؟ یعنی لفظ کوئی بولا جاتا ہے مراد کچھ ہوتی ہے۔ یہی ہے مفہوم آپ کے نزدیک قرآن مجید کا؟

فاروق: نہیں میرے نزدیک تو یہ نہیں۔

مولانا: میری بات کو سمجھیں جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ ایک ہے مبشرا برسول یاتی! کا لفظ۔ میں اس کو چھوڑتا ہوں۔ میں آپ سے استدعا کرتا ہوں۔ حضور علیہ السلام فرمائیں کہ میرے بعد ابوبکرؓ آئیں گے اور کوئی ایک آدمی کھڑے ہوکر کہہ دے کہ ابوبکرؓ سے مراد اسماعیل صاحب تھے۔ کوئی آدمی مانے گا اس بات کو؟ بھائی عربی لغت کے پاس جائیں، علم کلام کے پاس جائیں، علم بلاغت کے پاس جائیں۔ انہوں نے تو سب سے پہلے اصول ہی یہ مقرر کیا ہے کہ: لا استعارة فی الاعلام! ناموں میں استعارہ نہیں چلا کرتا۔ نام کسی کا ہو اور مراد کوئی ہو؟ اگر اسی طرح ہو تو ساری دنیا کا نظام ہی چوپٹ ہوجائے۔ اسلام، دین، مذہب، شریعت، یہ چیزیں دنیا کے نظام کو سیٹ کرنے کے لیے آتی ہیں۔ بگاڑنے کے لیے نہیں آتیں۔ اگر پرویز مشرف سے مراد ضیاء الحق ہو، ضیاء الحق سے مراد ذوالفقار علی بھٹو ہو، ذوالفقار علی بھٹو سے مراد نواز شریف ہو، نواز شریف سے مراد مولانا فضل الرحمن، مولانا فضل الرحمن سے مراد مولانا سمیع الحق۔ مریں مولانا سمیع الحق اور کہیں کہ جائیداد مولانا فضل الرحمن کی ہے، تو کیا کائنات کا نظام چل سکتا ہے؟ اگر احمد نے آنا تھا، احمد نہیں آئے، محمد آئے۔ احمد کوئی اور تھا محمد کوئی اور ہے؟ پھر اس کا معنی یہ ہوا کہ دین اسلام نہیں پھر یہ تماشا ہے۔ معاذ اللہ! اب اگر آیت کے مفہوم کو سمجھنا چاہتے ہو تو پھر محمد عربی ﷺ کے دروازے پر چلیں۔ پھر تفسیر آپ بھی نہ کریں میں بھی نہ کروں۔ یہ دنیا کا دجال ہے جو اس طرح کی مثالیں دے کے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ محمد اور ہیں احمد اور ہیں۔ یہاں سے خرابی پیدا کر کے آپ کو وہ آگے لے جا رہا ہے۔ جس وقت آپ نے یہ بات مان لی کہ محمد اور ہے احمد اور ہے۔ اسی وقت آپ مان لیں گے کہ نام دمشق کا لیا تھا مراد قادیان ہے۔ نام اترنے کا لیا تھا مراد پیدا ہونا ہے۔ نام مینار کا لیا تھا مراد اس سے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا ہے۔ جس وقت ایک بات انہوں نے منوالی تو

پھر چل سو چل۔ گمراہی ہیں تو حضور علیہ السلا پوچھتے ہیں کہ یا رسول سے مراد کیا ہے۔ تو مح یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ ہوں، احمد بھی میں ہوں فرماتے ہیں کہ میں محمد ہ انہوں نے راستہ نکالا ا نام کا۔ پھر وہ آپ کو او اختیار کر لی تھی۔ رخ ام نہیں پہنچیں گے۔ کبھی نہ نے آپ سے یہ منوالیا۔ مسیح کا معنی غلام احمد۔ یہ

فاروق: وہ حوالہ پیش کرتے ہیں ک ہوگی اور وہ فاران کی چ مراد لیتے ہیں۔ وہ کہتے جیسے نازل ہونے سے م تک نزول کا لفظ آیا ہے جیسے اللہ نے فرمایا کہ لوہا

مولانا: خدا کے بندے اب لفظ سے منتقل ہو کر دوسری ج بھی نازل ثابت۔ وہ اس پر اترے تب بھی نازل معلوم ہو گیا اب آپ جائیں گے۔ اگر کسی ہے۔ اس کے لیے آسما وہ پہاڑوں سے آئے گا

صفحہ 123

پھر چل سو چل۔ گمراہی ہی گمراہی۔ اگر اسی لفظ احمد کے مراد کو آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو حضور علیہ السلام کے دروازے پر چلے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ پہ قرآن مجید اترا ہے۔ آپ بتائیں اس سے مراد کیا ہے۔ تو محمد عربی ﷺ ایک نہیں بیسیوں تواتر کی احادیث کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ انا محمد وانا احمد محمد بھی میں ہوں، احمد بھی میں ہوں۔ آپ کہیں کہ آنا احمد تھا مراد محمد ہے۔ حضور ﷺ خود فرماتے ہیں کہ میں محمد ہوں۔ میں احمد ہوں۔ قصہ ہی ختم ہو گیا۔ اس دجل سے ۔ انہوں نے راستہ نکالا اور آپ چل پڑے کہ محمد و احمد کو کہا کچھ گیا تھا۔ آیا کسی نام کا۔ پھر وہ آپ کو اور آگے لے کر چلیں گے۔ جب آپ نے بنیاد ہی غلط اختیار کر لی تھی۔ رخ امرتسر کا کر لیا تھا۔ سوچا یہ تھا کہ میں مکہ جا رہا ہوں۔ مکہ نہیں پہنچیں گے۔ کبھی نہیں پہنچیں گے۔ امرتسر ہی پہنچیں گے۔ اسی سے انہوں نے آپ سے یہ منوالیا۔ دمشق کا معنی قادیان۔ نازل ہونے کا معنی پیدا ہونا۔ مسیح کا معنی غلام احمد۔ بس پھر چل سو چل۔

فاروق: وہ حوالہ پیش کرتے ہیں کہ محمد ﷺ نبی آئے گا۔ اس کے معنی آپ کی شریعت ہوگی اور وہ فاران کی چوٹیوں سے نازل ہوگا۔ اس سے وہ حضرت محمد ﷺ مراد لیتے ہیں۔ وہ کہتے کہ آپ کب فاران کی چوٹیوں سے نازل ہوئے۔ جیسے نازل ہونے سے مراد آسمان سے نازل ہونا ہے۔ قرآن حکیم میں جہاں تک نزول کا لفظ آیا ہے۔ کہیں بھی یہ نہیں کہ وہ آسمان سے نازل ہوا ہو۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ لوہا ہم نے نازل کیا۔ کبھی لوہا نازل ہوا؟

مولانا: خدا کے بندے اب لفظ نازل کیا ہے۔ اس کے اصل معنی کیا ہیں۔ ایک جگہ سے منتقل ہوکر دوسری جگہ جانے کو نازل کہتے ہیں۔ آسمانوں سے آئے تب بھی نازل ثابت۔ وہ اسلام آباد سے چل کر آئے تب بھی نازل۔ قرآن کسی پر اترے تب بھی نازل۔ یہ ایک لفظ جس کو کہتے ہیں قدر مشترک۔ جب وہ معلوم ہو گیا اب آپ بڑھتے جائیں گے ساری قرآن مجید کی آیتیں کھلتی جائیں گے۔ اگر کسی کے لیے قرینہ موجود ہے کہ یہ آسمانوں سے آنے کا ہے۔ اس کے لیے آسمانوں سے وہ آئے گا۔ کسی کے لیے نزیل کا لفظ ہے۔ وہ پہاڑوں سے آئے گا۔ کسی کے لیے فاران کا لفظ ہے۔ تو ایک جگہ کو چھوڑ کر

صفحہ 124

دوسری جگہ تو آ رہا ہے۔ اسی کو نازل ہونا کہتے ہیں۔ جس کے متعلق ہے وہ پہاڑوں سے آئے گا، وہ پہاڑوں سے آئے گا۔ جس کے متعلق ہے اسلام آباد سے آئے گا، وہ اسلام آباد سے آئے گا۔ جس کے متعلق آسمانوں سے ہے، وہ آسمانوں سے آئے گا۔ جس کے متعلق پیدا ہونے کا ہے، وہ پیدا ہوگا۔ میں یہی کہتا ہوں کہ آپ سمجھنے کے لیے میری ایک درخواست یاد رکھیں۔ قرآن مجید کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کا صحیح ترجمہ کرتے چلے جائیں۔ آیات منکشف ہوتی جاتی ہیں۔ ایک آیت کا ترجمہ غلط کرلو قرآن مجید آگے اڑنگا لگا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ چلنے ہی نہیں دیتا۔ جب ایک غلط معنی کریں گے تو قرآن مجید کا ترجمہ ایسی پٹڑی ڈالے گا کہ آپ کو چلنے ہی نہیں دے گا۔ سوائے اس کے کہ پھر جو آدمی تحریف کا قائل ہو جائے۔ جو چاہے جب چاہے جو بکواس کر دے۔ پھر وہ قرآن فہمی نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کی ایک آیت کا صحیح ترجمہ کرلو پھول پھول، کلیاں کلیاں کھلتی جائیں گی۔ گلدستہ بنتا چلا جائے گا اور آپ اس کی خوشبو سے دل و دماغ کو اور ایمان کو معطر کرتے چلے جائیں گے۔ یہ قرآن مجید کی خوبی ہے۔ مرضی سے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر فقط لغت کو لے کر بیٹھ جائیں اور اس کا ترجمہ کرنے لگ جائیں تو کبھی ہماری کشتی کنارے صحیح سالم نہیں اترے گی۔ ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

فاروق: آیتوں کے جو معنی اور مفہوم دیتے ہیں، وہ ساتھ تفسیروں کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ علماء کے جو اقوال ہیں، پرانے علماء کے نقل کرتے ہیں۔

مولانا: میں ان کے علماء کے ساتھ، وہ میرے ساتھ ہیں۔ یہی میرا آپ سے رونا ہے۔

فاروق: اور مولانا قاسم نانوتویؒ نے جو یہاں کہا۔

مولانا: بھائی میاں! حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ نے نہیں ملاں علی قاریؒ کو لے لیں فلاں کو لے لیں ان کی بات نہیں کر رہا۔ میں آپ سے استدعا کرتاہوں کہ آپ ان کی بات کیوں کرتے ہیں کہ یہ علماء کے نام لیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی بات کرتاہوں کہ محمد عربی ﷺ کا نام لیتا ہے۔ حضور علیہ السلام کی حدیث نقل کرتا ہے۔ اس حدیث شریف میں آسمان کا لفظ تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ ص 146، 148، خزائن ج 7 ص 312، 314 پر

صفحہ 125

حضرت ابن عباسؓ کی روایت نقل کی۔ جب کنزالعمال ج 14 ص 619 حدیث نمبر 39726 پر اس کو دیکھا جائے تو مرزا قادیانی کی بددیانتی سامنے آتی ہے کہ لفظ من السماء! کو کھا گیا جن کا سربراہ اتنا بڑا غدار اور اتنا بڑا خائن تھا ان چھوٹے قادیانیوں کی بات کو میں کس طرح مان لوں۔ اصل کتاب بھی آپ کے سامنے نہیں۔ مفہوم اور اس کا قول بھی آپ کے سامنے نہیں۔ فلاں نے یہ کہا‘ فلاں نے یہ کہا۔ ایک ٹکڑا نقل کرتے گئے آپ کے سامنے رکھتے گئے آپ نے کہا اگر اتنے قائل تھے تو میں بھی قائل ہوں۔ آپ کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ جائیں میں آپ سے استدعا کرتا ہوں۔ ملا علی قاریؒ کو لیتے ہیں۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کو لیتے ہیں۔ اگر ملا علی قاریؒ ختم نبوت کا قائل نہیں میں بھی آج چھوڑ دوں گا۔ لائیے ملا علی قاریؒ کسی عبارت پر ٹک لگائیے، کسی پر تو نشان لگائیے کہ یہ ہے۔ میں کہتا ہوں ملا علی قاریؒ کو مان لیتے ہیں، ان کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ وہ کہہ دیں کہ زندہ ہیں تو مان لیں۔ وہ کہہ دیں کہ فوت ہو گئے تو چھوڑ دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کافر ہے۔ مولانا نانوتویؒ کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے۔ یہ حوالے میں دکھاتا ہوں۔ قادیانی نامکمل‘ ادھوری‘ اگر‘ مگر‘ چونکہ‘ محال فرض محال کی بات کرتے ہیں۔ اس سے دھوکہ دیتے ہیں۔ میں فیصلہ کی بات دیکھتا ہوں کہ مسیح زندہ ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی کافر ہے۔ اس فیصلہ پر ملا علی قاریؒ مولانا نانوتویؒ کے دستخط دکھاتا ہوں۔ قادیانیوں کی طرح فرض محال کی بحث نہیں۔ فیصلہ کی بات سمجھئے۔ اس کو سمجھ لیں۔ مدار بنالیں۔ تب بھی آپ پر حق واضح ہو جائے گا۔

فاروق: چہ جائے کہ وہ امتی نبی کی حیثیت سے۔ وہ جب آئیں گے تو امتی نبی ہوں گے۔ یہ آیت نہیں ہے۔

مولانا: بھائی یہی میں سمجھاتا ہوں۔ آپ دماغ سے کام نہیں لے رہے۔ دماغ کو استعمال کریں۔ میں کہتا ہوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں، سارے نبی کل قیامت کے دن موجود ہوں گے۔ پھر بھی حضور ﷺ خاتم ہیں۔ پہلے کے کسی نبی کی آمد سے رحمت دو عالم ﷺ کی خاتمیت پر فرق نہیں آتا۔ آپ میرے

صفحہ 126

چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ مجھے اجازت دیں میں آپ کو سمجھا دوں کہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی نیا نبوت کا دعویٰ کرے ایران کا یا قادیان کا تو یہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کے خلاف ہے۔

فاروق: بالکل صحیح۔

مولانا: اسی ملاعلی قاریؒ کو لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالاجماع! حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ اجماعی طور پر کافر ہے۔ یہ ملاعلی قاریؒ کہتے ہیں۔ اس لیے وہ کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری حضور ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہوگی۔ وہ پہلے کے نبی ہیں جب وہ آئیں گے تو محمد عربی ﷺ کی شریعت کو فالو کریں گے۔ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں دعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالاجماع! انہیں حضرت ملاعلی قاریؒ سے پوچھا گیا۔ ان کی کتاب شرح فقہ اکبر ہے۔ اس کے اندر کہتے ہیں انہ نازل من السماء فهو حق کائن! عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے اتریں گے۔ یہ پکی بات ہے۔ ہو کر رہے گی۔ وہ حیات مسیح کے بھی قائل ہیں۔ یہی ملاعلی قاریؒ جن کو قادیانی اپنا گواہ بنا کے پھر رہے ہیں۔

فاروق: آسمان کا ذکر ہے؟

مولانا: جزاکم اللہ! اگر مل جائے تو۔

فاروق: آسمان کا لفظ ......!

مولانا: میں کہتا ہوں آسمان اتنا بڑا آسمان کہ ساتوں آسمان آپ کو ساتھ نظر آجائیں اور ایک کتاب نہیں پانچ سات امہات الکتب ہیں۔ بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات کے اندر موجود ہے۔ کنزالعمال کے اندر موجود ہے اور میں ایک دو کتابوں کا نہیں کہہ رہا حضرت امام بخاریؒ کی تاریخ البخاری کے اندر موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور علیہ السلام کے روضہ اقدس میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ دفن ہوں گے اور حضرت ابن عباسؓ جن کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے، وہ کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ان اخی عیسی ابن مریم ینزل من السماء! حضرت ابن عباسؓ نقل کرنے والے ہیں اور حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا

صفحہ 127

بھائی عیسیٰ بن مریم آسمانوں سے نازل ہوگا۔ اتنا بڑا آسمان کا لفظ کہ ساری دنیا کی زمین اس کے نیچے آجائے۔ اتنا بڑا آسمان کا لفظ موجود ہے۔

فاروق: تو پھر وہ کہتے ہیں کہ آسمان سے عیسیٰ نازل ہوگا اور سب نے دیکھ لیا پھر تو ایمان لانے میں شک ہی کوئی نہ ہوگا۔ ایمان بالغیب کا تو فائدہ ہی کوئی نہ ہوا۔ پھر تو ظاہر ہے کہ لوگ مان لیں گے۔ سب تو مان لیں گے۔

مولانا: بھائی اس وقت یہی تو ہے کہ وہ جس وقت آئیں گے ان کے آنے کے بعد تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ اس کے بعد فوت ہوں گے۔ ان کے بعد وہ ساری قیامت کی نشانیاں پوری ہو رہی ہیں۔ توبہ کے دروازے بھی بند ہوں گے۔ وہ تو پیریڈ ہی قیامت کا شروع ہوگا۔

فاروق: پھر ان کے آنے کا فائدہ کوئی نہیں۔

مولانا: خوب بھائی! بالکل اسی طرح ہے کہ ان کے آنے کا فائدہ کوئی نہیں ہوگا۔ وہ نہیں آئیں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو مان لو۔ اس کے آنے کا بڑا فائدہ ہے؟

فاروق: میں عرض کرتا ہوں کہ وہ آئیں گے تو مخلوق کی ہدایت کے لیے آئیں گے۔

مولانا: محض مخلوق کی ہدایت کے لیے نہیں آئیں گے۔ قرآن اور سنت مخلوق کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ وہ آئیں گے رحمت دو عالم ﷺ کی امت کو ساتھ لے کر دجال کے قتل کے لیے۔

فاروق: تو دجال......!

مولانا: دجال جو ہے اتنا بڑا فتنہ ہوگا۔ اس کو قتل کرنے کے لیے آئیں گے۔ جس کی پشت پر ستر ہزار یہودی ساتھ ہوں گے۔

فاروق: دجال کے ساتھ۔

مولانا: ہاں! ہاں!

فاروق: دجال کیا چیز ہے؟

مولانا: آپ بتائیں کیا چیز ہے۔

فاروق: میں نے تو جو پڑھا ہے، سنا ہے

مولانا: مرزا غلام احمد قادیانی کیا کہتا ہے؟ کیا چیز ہے؟

فاروق: وہ کہتا ہے کہ دجال کے معنی ہیں فریبی‘ جھوٹا‘ کذاب‘ ڈھانپ لینے والا‘ سیر و سیاحت کرنے والا‘ اندھا‘ کذاب‘ ایک آنکھ اس کی اندھی ہوگی۔ اس سے

صفحہ 128

وہ مراد لیتا ہے کہ اسلام کی جو آنکھ ہو گی، وہ اندھی ہو گی۔

مولانا: اسلام کی آنکھ اندھی ہو گی۔

فاروق: اندھی ہو گی۔ اسلام کو پڑھتا نہیں ہو گا۔ دیکھتا نہیں ہو گا اور دنیا کی آنکھ اس کی بہت تیز ہو گی۔ دنیا میں اتنی ترقی کرے گا کہ بہت بے شمار ترقی کر جائے گا اور اسلام کی طرف سے بے بہرہ ہو گا۔

مولانا: تو اس کو قتل کرنے کا معنی پھر یہ ہوگا کہ اس کی اندھی آنکھ کو ٹھیک کر دیا جائے گا۔ مسیح آ کر اس کو ٹھیک کر دے گا۔ یعنی قتل کر دے گا۔ قتل کا معنی ٹھیک کر دے گا۔ معنی یہ ہے کہ اس کی آنکھ کو وہ تیز کرے گا کہ ایسے مسلمان کرے گا۔

فاروق: اس کے عقائد سے لوگوں کو آگاہ کر دے گا۔ اس سے مراد ہے اس کے باطل عقائد لوگوں کو معلوم ہو جائیں گے۔

مولانا: اس کے باطل عقائد اگر محمد عربی ﷺ آگاہ کیے بغیر اس دنیا سے چلے گئے پھر تو دین پورا ہی نہ ہوا۔

فاروق: آپ اس کی تفصیل بتائیں۔

مولانا: میں وضاحت سے پہلے یہی کہتا ہوں کہ جرح سے فارغ ہوں۔ تو پھر صفائی دوں گا۔

فاروق: دوسرا حدیث میں ہے يقتل الخنزير ......! حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے۔

مولانا: پہلے دجال سے فارغ ہو لینے دیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہ جائیں۔ پہلے دجال سے فارغ ہولیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دجل سے تو نکلیں۔

فاروق: ہاں جی! عام آدمی جو کہتے ہیں کہ دجال گدھے پہ سوار ہوگا اور وہ بہت بڑا گدھا ہوگا۔

مولانا: گدھے پہ، سوار ہوگا۔ وہ اس کو بعد میں لیں گے۔ پہلے اس لفظ کو لیں کہ بھائی آپ یہ بتائیں کہ یہ دجال کیا چیز ہے؟

فاروق: دجال ایک گروہ ہے، جن کا عقیدہ اسلام کے مخالف ہے۔

مولانا: عیسائی دجال ہیں۔ ایک گروہ ہے۔

فاروق: ہاں!

صفحہ 129

مولانا: ٹھیک ہے۔ مرزا قادیانی انہی عیسائیوں کو کہتا تھا میں آپ کی رعایا ہوں۔ ملکہ وکٹوریہ کو کہتا تھا کہ تو زمین کا نور ہے میں آسمان کا نور ہوں۔ دجال نور ہوگا؟

فاروق: پھر کیوں کہا؟

مولانا: چلیں، چلیں۔ شاباش! آپ میری انگلی پکڑیں گے۔ جہاں اب میں سوال کروں گا۔ چلیں!

فاروق: وہ کہتے ہیں ملکہ وکٹوریہ جھوٹی تھی۔ وہ انگریزنی تھی جو حکمران تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ،سکھ آزادی نہیں دیتے تھے اور بہت زیادتی کرتے تھے۔ ظلم کرتے تھے۔ ٹھیک ہے نا! اور اسی کے ساتھ ملکہ جو تھی، اس نے مسلمانوں کے لیے اذان کھلوادی۔ اذان سرعام دینے لگ گئے۔ نمازیں پڑھنا شروع کر دیں اور انہوں نے سکھوں کو منع کیا ملکہ وکٹوریہ نے۔

مولانا: یہ بات واقعات کے خلاف ہے۔ واقعات یہ ہیں کہ یہاں ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ دوچار علاقوں میں سکھوں کی مسلمانوں سے ضرور لڑائی ہوئی تھی۔ دہلی وغیرہ سارے علاقہ میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ اذانیں ہوتی تھیں۔ انگریز آیا۔ پھر بھی اذانیں ہوتی رہیں۔ اس نے کون سی کھلوائی تھی۔ آپ تاریخ پر بھی نظر رکھیں۔ یہ تو ہندوستان کی تاریخ ہے۔ آپ کشمیر کو لے کر بیٹھ گئے۔ میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ دجال کے بارے میں چلتے ہیں رحمت دو عالم ﷺ کی خدمت میں۔ ان سے پوچھتے ہیں۔

فاروق: جی ہاں!

مولانا: یہ روایت بخاری شریف سے لے کر مسلم شریف تک اور مشکوٰۃ شریف سے لے کر بخاری شریف تک موجود ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایک ابن صیاد تھا۔ اس کے متعلق مشہور ہو گیا کہ وہ دجال ہے۔ حضور علیہ السلام اس کی تفتیش کے لیے گئے۔ اس کی والدہ اسے آواز دے دیتی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام ابوالقاسم تشریف لائے۔ وہ گول مٹول سا ایک بچہ ہے۔ اس کے اوپر چادر ڈالی ہوئی ہے۔ رحمت دو عالم ﷺ نے کوئی بات پوچھی۔ اس نے آگے سے غوں غوں کر دی۔ دُخ کا لفظ کہا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا اس پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ ابھی آپ ﷺ کی ذات اقدس پر پوری تفصیلات جو آگے احادیث میں آئی ہیں۔ یہ اس پیریڈ کی بات نہیں اس سے پہلے کی بات ہے۔

صفحہ 130

ابن صیاد پر معاملہ خلط کر دیا ہے۔ مدینہ کے اندر نہیں آئے گا۔ یہ نہیں ہوگا۔ یہ تفصیلات آپ ﷺ کو بعد میں بتائی گئیں اور یہ مکہ میں نہیں بتائیں، مدینہ طیبہ میں آخری عمر میں آپ ﷺ نے بتائی تھیں۔ اس وقت ان تفصیلات کا اعلان نہیں تھا۔ اتنا معلوم تھا دجال ہوگا۔ لیکن کون، کہاں۔ اتنا مشہور ہو گیا کہ ایک عجیب وغریب ہے۔ کسی نے کہا دجال ہے۔ رحمت دوعالم ﷺ دیکھنے کے لیے چلے گئے۔ عام روٹین کی بات ہے۔ وہاں گئے تو فرمایا کہ اس کے اوپر معاملہ خلط ہوگیا۔ جب پوچھا تو اس نے کوئی ایسی الٹی پلٹی بات کہہ دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اس کے اوپر معاملہ خلط کر دیا گیا ہے۔ چھوڑیں اس کو۔ اس موقع پر حضرت سیدنا رحمت عالم ﷺ اور صحابہ کرام کی موجودگی میں حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے تلوار نکال لی اور درخواست کی کہ آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کو قتل کردوں۔ حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کے ہاتھ میں تلوار ہے۔ ایک یہ چیز موجود ہے۔ جس کے متعلق یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص دجال ہے۔ پروپیگنڈہ ہوا اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں تلوار لیے کھڑے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے حضرت عمرؓ کی طرف دیکھ کر کہا عمرؓ اگر یہ وہ ہے تم اس کو قتل نہیں کرسکتے۔ لست صاحبہ! تم اس کو قتل نہیں کرسکتے۔ اس کو عیسیٰ بن مریم قتل کرے گا۔ اگر یہ وہ نہیں، تو اپنے ہاتھ خون ناحق سے تم کیوں رنگین کرتے ہو۔ اس حدیث شریف نے یہ بتادیا کہ اس کو قتل آلے کے ساتھ کیا جائے گا۔ قلم کی لڑائی اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔ اس حدیث شریف نے بتادیا کہ دجال وہ شخص معین کا نام ہے۔ کسی گروہ کا نام نہیں۔ حضور علیہ السلام کی موجودگی کے اندر ایک کیس پیش ہوا ہے۔ دنیا میں وہ بڑا ظالم ہے جو رحمت دوعالم ﷺ کے فیصلے کو نہ مانے۔ کیس حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا ہے۔ علیٰ روس الاشہاد پیش ہوا ہے۔ صحابہ اس کی گواہی دینے والے ہیں۔ اور کتاب بھی ایسی کہ مشکوٰۃ سے لے کر بخاری شریف تک وہ روایت موجود ہے۔ حضور علیہ السلام نے اسے فرمایا، یہ بتاتا ہے کہ یہ شخص معین کا نام ہے۔ اس کے بعد آگے چل کر اس کی اتنی نشانیاں اور علامتیں بتادیں کہ وہ شام اور عراق کے درمیانی راستہ سے خروج کرے گا۔ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی دونوں آنکھوں میں نقص ہوگا۔ ممسوح العین! ایک آنکھ بے نور

صفحہ 131

ہوگی اور انگور کے دانے کی طرح باہر کو ابھری ہوئی ہوگی۔ ایک اسلام والی نہیں ہوگی، ایک فلاں والی نہیں ہوگی۔ پھر تو دنیا میں جس شخص کو جتنے کافر ہیں سارے پھر دجال ہوگئے اور اگر یہ دجال تھے تو یہ دجال تو حضور ﷺ کے زمانے میں بھی موجود تھے۔ حضور علیہ السلام نے کیوں فرمایا کہ وہ آئے گا۔ اگر عیسائی دجال تھے تو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھے۔ فاروق میاں! جاگ رہے ہو؟ اس سے مراد نصرانیوں کا گروہ ہے تو نجران کے اندر تو عیسائی حضور علیہ السلام کی موجودگی میں موجود تھے۔ پھر یہ کیوں حضور علیہ السلام نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اگر دجال میرے زمانے میں آیا تو میں اس سے نپٹ لوں گا اور اگر میرے زمانے میں نہ آئے تو تم یہ پڑھا کرو۔ پھر رحمت دو عالم ﷺ نے کیوں ان کو فرمایا تھا؟ عیسائی اگر ہوتے یہ تو حضور علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے۔ میں نے یہی درخواست کی ہے آپ اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے تو قرآن وحدیث کھلتا چلا جائے گا۔ قرآن مجید تو ہے سدا بہار پھول۔ یہ تو ایک ایسا باغ ہے آدمی جائے اس میں معطر ہو جائے۔ الا یہ کہ وہ شخص جو مزکام ہو جائے۔ پھول پھول کرتا ہو۔ سارے جہاں کی گندگی سر پہ اٹھائے پھر رہا ہو اور کہے پھولوں سے خوشبو نہیں آتی۔ سر میں تو تیرے رکھی ہے گندگی۔ ناک تیرا بند ہے۔ پھلاں وچوں خوشبو کتھوں آئے۔ سمجھیں! یہ سب دجل ہے۔ مکر ہے۔ دجال ...... قادیان ...... مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ اسی سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کبھی کہتا ہے اس کی قبر شام کے اندر ہے۔ کبھی کہتا ہے یروشلم میں ہے۔ کبھی کہتا ہے کشمیر کے اندر ہے۔ کبھی کہتا ہے فلاں گرجا ہے۔ اس گرجا کے ساتھ والدہ کی قبر کے ساتھ بنی ہوئی ہے۔ یتخبطہ الشیطان من المس! ساری کائنات یہ کہے کوئی نبی آسکتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد کوئی نبی بن سکتا ہے۔ ساری کائنات غلط کہتی ہے۔ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ باقی یہ بات کہ مولانا قاسم نانوتویؒ نے کہی یا نہیں کہی۔ آپ ایک عبارت پیش کریں گے میں دس پیش کروں گا۔ نہ آپ کی بات کا اعتبار نہ میری بات کا اعتبار۔ خود مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے پوچھ لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب لکھی۔ ان کی زندگی میں اس پر ایک اعتراض ہوا۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس کا جواب دیا۔ وہ

صفحہ 132

جواب چھپا ہوا موجود ہے۔ وہ ان کی زندگی کے اندر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور علیہ السلام کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے میں اسے کافر سمجھتا ہوں۔ اس عبارت سے میرا یہ معنی ہی نہیں۔ یہی عبارت جب خواجہ قمر الدین سیالویؒ کے سامنے پیش ہوئی تو خواجہ سیالویؒ نے کہا کہ مولانا قاسم نانوتویؒ کی جوتیوں کے اندر جو علم ہے یہ اعتراض کرنے والی کی کھوپڑی ان کی جوتیوں تک بھی نہیں پہنچی۔ مولانا قاسم نانوتویؒ نہیں ساری کائنات اگر کہے قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ نہیں مانتے۔ بھائی! میرے عزیز! نبوت تماشا نہیں۔

مجاہد شاہ: ہمارے یہاں بھی ایک مولوی صاحب نے کہا تھا کہ نبوت کا دروازہ تو قاسم نانوتویؒ نے کھولا ہے۔

مولانا: بھائی! یہی مولانا صاحب کا جواب ہی تو آ گیا۔ ہاں بھائی! چلیں۔

فاروق: کیا مسیح اور عیسیٰ ایک ہی وجود ہیں یا دو الگ الگ۔

مولانا: حضور علیہ السلام سے پوچھ لیتے ہیں۔ وہ فرما دیں ایک ہے۔ آپ بھی مان لیں۔ وہ فرما دیں دو ہیں۔ ٹھیک ہے۔ آپ فرما دیں انہوں نے کیا فرمایا تھا: ایک ہے کہ دو ہیں؟

فاروق: یہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ لا مہدی الا عیسیٰ! اس حدیث شریف کو لے لیں۔

مولانا: ایک ہی حدیث پیش کی نا آپ نے۔ میں اس کے مقابلہ میں چالیس حدیثیں پیش کروں گا۔ ایک کا اعتبار یا چالیس کا؟

فاروق: چالیس کا۔

مولانا: وہی حدیث جس کو پیش کرتے ہیں پہلے اس کو لے لیتے ہیں۔ کون سی کتاب میں جس کتاب کے اندر وہ روایت ہے اگر اسی کتاب میں آگے لکھا ہوا ہو کہ اس کے اندر فلاں فلاں راوی ہیں۔ فھما کذاب لا یحتج بہ! اس کے اندر فلاں راوی ہیں۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسی جھوٹی روایتوں کے اوپر ایمان چلا کرتا ہے؟ چالیس صحیح روایتوں کو چھوڑ کر اس روایت پر ایمان کی بنیاد رکھی جارہی ہے جو سرے سے ضعیف ہے۔ چالیس روایتیں مجھ سے پوچھیں وہ کیا ہیں حضور علیہ السلام کے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق۔ بخاری کو لینا ہو۔ فرمایا ینزل عیسیٰ ابن مریم فیکم وامامکم

منکم! عیسیٰ بیٹا مریم کا آ روایتیں بتا رہی ہیں۔ ایک ہیں ایک نہیں۔ جو وہاں سے ہوگا اس کا نام محمد فاروق۔ نام دو ہیں۔ ایک صاحب! یہ مرزا قادیانی میں ہوں۔ میری بات سمجھ اندر روایت ہے قال قـ ابیہ اسم ابی او کما قـ ان کا نام میرے نام پر ا من ولد فاطمہ! وہ سید بھی اس روایت کو لیا ہے حضرت مہدی جن کے متـ مہدی نہیں ہوں ۔“ (ضمیـ 356) اگر تو حدیثوں والـ تو پھر انگریز کا مہدی ہـ قادیانی خود مان رہا ہے اگر تو حدیثوں والا نہیں گے۔ پھر مرزا قادیانی حـ ہے ایسا مسیح بھی آجا۔ (ازالہ اوہام ص 199، اندر بھی نازل ہو۔“ (اَ دوسرا معنی یہ ہے کہ میں نہیں آ رہیں تو تمہاری جاؤ۔ تم پھر دجال کے فتـ و عناد سے خالی ہو تو ان سے بھی زیادہ۔ وہاں تو

صفحہ 133

منکم! عیسیٰ بیٹا مریم کا تم میں نازل ہوگا۔ اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ یہ روایتیں بتارہی ہیں۔ ایک ہم میں آ رہا ہے۔ ایک ہم میں سے ہوگا۔ آدمی دو ہیں ایک نہیں۔ جو وہاں سے آئے گا اس کا نام عیسیٰ ابن مریم بتایا۔ جو ہم میں سے ہوگا اس کا نام محمد بتایا۔ نام بھی دو۔ ایک کا نام اللہ وسایا، ایک کا نام فاروق۔ نام دو ہیں۔ ایک آدمی کہتا ہے یہ دو ایک تھے۔ یہ فراڈ ہوگا۔ چوہدری صاحب! یہ مرزا قادیانی کھڑے ہوگئے۔ کہتے ہیں یہ دو ایک ہیں اور وہ ایک میں ہوں۔ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ابو داؤد کے اندر روایت ہے قال قال رسول اللہ ﷺ یواطئ اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی او کما قال! کہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان آئیں گے ان کا نام میرے نام پر ہوگا۔ ان کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔ من ولد فاطمہ! وہ سیدہ فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس روایت کو لیا ہے۔ مرزا قادیانی براہین احمدیہ کے اندر کہتا ہے کہ: ’’وہ حضرت مہدی جن کے متعلق ولد فاطمہ کے الفاظ آئے ہیں میں حدیثوں والا مہدی نہیں ہوں۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 185، خزائن ج 21 ص 356) اگر تو حدیثوں والا مہدی نہیں تو پھر ہمیں حدیثوں والا مہدی چاہئے۔ تو پھر انگریز کا مہدی ہوسکتا ہے، حدیثوں والا نہیں۔ اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی خود مان رہا ہے کہ میں حدیثوں والا نہیں ہوں۔ انگریز کے کارندے اگر تو حدیثوں والا نہیں تو پھر تجھے مانیں کیسے؟ ہم تو حدیثوں والے کو مانیں گے۔ پھر مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہتا ہے کہ: ’’ممکن ہے ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ فٹ آجائیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص 199، خزائن ج 3 ص 197) ’’ممکن ہے کہ وہ دمشق کے اندر بھی نازل ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام ص 295، خزائن ج 3 ص 251) جس کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس پر حدیثیں فٹ نہیں آ رہیں۔ فٹ نہیں آ رہیں تو تمہاری ڈگری بھی غلط، تمہاری سندیں بھی جعلی، تم تشریف لے جاؤ۔ تم پھر دجال کے نمائندے ہو، ہمارے نمائندے نہیں۔ آپ کا دماغ بغض و عناد سے خالی ہو تو ان کی کتابوں سے ایسی شاہراہیں کھلیں گی کہ موٹروے سے بھی زیادہ۔ وہاں تو بریک بھی نہیں لگانی پڑے گی۔

صفحہ 135

فاروق: حضرت امام باقر کی روایت ہے سورج اور چاند کے گرہن کی۔ مولانا: ہاں! فاروق: امام مہدی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ مولانا: کیا۔ فاروق: جب وہ نازل ہوگا تو اس کی نشانی یہ ہوگی۔ مولانا: نازل ہوگا یا پیدا ہوگا؟ فاروق: پیدا ہوگا۔ مولانا: اچھا چلو۔ فاروق: اس کے لیے خدا نے یہ مقرر کیا ہے کہ جب سے کائنات پیدا کی گئی ہے، تب سے لے کر اس کے زمانے تک وہ نشانی کسی کے لیے ظاہر نہیں کی گئی۔ مولانا: ہاں! فاروق: اور اس کے بعد بھی ظاہر نہیں کی جائے گی۔ وہ صرف اور صرف میرے امام مہدی کے لیے ہے۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے۔ مولانا: ابھی آپ کہہ رہے کہ امام باقر۔ فاروق: وہی نا کہ امام باقر روایت کر رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ مولانا: روایت کے اندر اگر یہ لفظ ہو کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ حضرت امام باقر یہ کہیں کہ آنحضرت علیہ السلام نے فرمایا، تو حضرت امام باقر سے بڑھ کر اور کوئی سچا راوی نہیں ہوسکتا۔ پھر ہم آپ کو مان لیں گے۔ اگر اس میں آنحضرت ﷺ کا لفظ نہ ہو تو پھر آپ یہ نہ کہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام فرماتے ہیں۔ اس میں تو یہ لفظ ہی نہیں ہے۔ فاروق: روایت یہ کرتے ہیں کہ امام باقر سے روایت ہے۔ مولانا: چلیے......! یہی تو میں عرض کرتا ہوں میرے عزیز! آپ نے روایتوں کو پڑھا نہیں ان کو لے لیا۔ یہ دارقطنی کی روایت ہے اور الحمدللہ! دارقطنی کے تین نسخے میرے پاس ہیں۔ بیروت کا چھپا ہوا بھی ہے۔ پاکستان کا چھپا ہوا بھی ہے اور جس کے حواشی لکھے گئے ہیں، وہ بھی موجود ہے۔ حضرت امام باقر کا قول ہے اور اس کے اندر فلاں راوی ہے وہ جھوٹ بولتا تھا۔ پھر روایت میں اول لیلة من رمضان ہی ہے، روایت صحیح بھی ہوتی۔ امام باقر کا قول بھی

ہوتا تو پھر قول یہ ہے کہ رمضان المبا آگے الفاظ موجود ہیں۔ جب سے د پہلی رات کو گرہن نہیں لگا۔ حضرت ا نہیں لگا۔ پہلی رات کو چاند گرہن ہو زمانے میں اگر روایت صحیح ہو تو لگے گ فاروق: وہاں جو پہلی رات کا چاند ہوتا ہے ا جی اس کو۔ مولانا: اب قرآن کے دروازے پر چلتے ہ نے منازل مقرر کیے ہیں۔ پہلی رات لیکن چاند کا لفظ پہلی رات پر بھی بولا تیس تک چاند بولا جاتا ہے۔ قرآن نے چاند کی منازل مقرر کیے ہیں۔ مجید کہہ رہا ہے کہ پہلی رات کے چان ہے) قرآن مجید کہہ رہا ہے۔ فاروق: ٹھیک ہے۔ جزاکم اللہ! آپ اچھ مولانا: سمجھا نہیں رہا۔ دل چیر کے آپ کے یہی کہا کہ دجل نہ کریں۔ روایت لگا ہے۔ تیرہ تاریخ کو لگا ہے۔ حضر ساتھ دفعہ لگ چکا ہے۔ اس دفعہ بھ دنیا کے اندر موجود ہیں۔ تیرہ رمضا کو روایت کے الفاظ پڑھیں۔ اس ہوں۔ چلیں......! امام باقر نہ ہو یا چھوڑتا ہوں۔ حضور علیہ السلام کا ہوں۔ امام باقر کے قول کو سچا مان ہو گیا ہے۔ میں ماننے کے لیے تیا فاروق: روایت بالکل ہے۔ آپ کہتے ہیں مولانا: بھائی! میں کہتا ہوں روایت ہے۔

صفحہ 135

ہوتا تو پھر قول یہ ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی رات کو چاند گرہن لگے گا اور آگے الفاظ موجود ہیں۔ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے کبھی رمضان المبارک کی پہلی رات کو گرہن نہیں لگا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک نہیں لگا۔ پہلی رات کو چاند گرہن کبھی نہیں لگا۔ لگتا ہی نہیں ہے۔ مہدی کے زمانے میں اگر روایت صحیح ہو تو لگے گا۔

فاروق: وہاں جو پہلی رات کا چاند ہوتا ہے اس کو ہلال کہا جاتا ہے۔ ہلال کہتے ہیں نا جی اس کو۔

مولانا: اب قرآن کے دروازے پر چلتے ہیں۔ والقمر قدرناہ! چاند کے لیے ہم نے منازل مقرر کیے ہیں۔ پہلی رات کو چاند کہتے ہیں۔ ہلال بھی کہتے ہیں۔ لیکن چاند کا لفظ پہلی رات پر بھی بولا جاتا ہے۔ دوسری پر، چوتھی پر۔ اول سے تیس تک چاند بولا جاتا ہے۔ قرآن کہہ رہا ہے والقمر قدرناہ منازل! ہم نے چاند کی منازل مقرر کیے ہیں۔ پہلی رات کا دوسری کا تیسری کا۔ قرآن مجید کہہ رہا ہے کہ پہلی رات کے چاند کو بھی چاند ہی کہا جاتا ہے۔ (قمر کہا جاتا ہے) قرآن مجید کہہ رہا ہے۔

فاروق: ٹھیک ہے۔ جزاکم اللہ! آپ اچھی طرح سمجھا رہے ہیں مجھے۔

مولانا: سمجھا نہیں رہا۔ دل چیر کے آپ کے قدموں پر نچھاور کر رہا ہوں۔ میں نے یہی کہا کہ دجل نہ کریں۔ روایت صحیح ہو۔ پچھلے رمضان کے اندر بھی گرہن لگا ہے۔ تیرہ تاریخ کو لگا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ساٹھ دفعہ لگ چکا ہے۔ اس دفعہ بھی لگا ہے۔ اس کے شیڈول اس کے نقشے دنیا کے اندر موجود ہیں۔ تیرہ رمضان المبارک کو اور اٹھائیس رمضان المبارک کو روایت کے الفاظ پڑھیں۔ اس کے الفاظ کے مطابق ہے۔ میں مان لیتا ہوں۔ چلیں ......! امام باقر نہ ہو یا چھوٹا راوی سہی۔ میں جھوٹے راوی کو بھی چھوڑتا ہوں۔ حضور علیہ السلام کا فرمان نہیں۔ چلو میں اس قید کو بھی اڑاتا ہوں۔ امام باقر کے قول کو سچا مان کے کہتا ہوں۔ اس کے مطابق چاند گرہن ہو گیا ہے۔ میں ماننے کے لیے تیار ہوں۔ روایت کے الفاظ کو پڑھیں۔

فاروق: روایت بالکل ہے۔ آپ کہتے ہیں۔ نہیں۔ امام مہدی کے متعلق۔

مولانا: بھائی! میں کہتا ہوں روایت ہے۔ لیکن جھوٹی ہے۔ سچی نہیں۔ حضور علیہ السلام

صفحہ 136

کی حدیث نہیں۔ امام باقر کا قول اور وہ بھی ان کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔ ان کی طرف منسوب ہو بھی تو قول کے صحیح الفاظ کے مطابق گرہن نہیں ہوا۔ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ اول ليلة من رمضان! کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن لگے گا۔ میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ جائیں تشریف لے جائیں۔ دنیا جہان میں آج تک جتنی قادیانی روایتیں پیش کرتے ہیں یا ان کے معانی کے اندر تحریف کرتے ہیں یا سرے سے وہ روایتیں ہی غلط ہیں۔ ایک صحیح اور صریح روایت قادیانیوں کے پاس نہیں۔ میں نے اتنا بڑا دعویٰ کیا ہے۔ رہتی دنیا تک سارے قادیانی ماں کے لال اکٹھے ہو جائیں میرے اس دعوے کو نہیں توڑ سکتے۔ کوئی ایک صحیح صریح روایت ان کے پاس اپنے عقیدے کے اثبات کے لیے نہیں۔ جتنی روایات پیش کرتے ہیں یا سرے سے جھوٹی ہیں یا سرے سے ان کے اندر دجل کرتے ہیں۔ کوئی صحیح صریح روایت قادیانیوں کے پاس خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں نہیں ہے۔ اللہ معاف فرمائے! اللہ معاف فرمائے! میں پھر اس دعوے کو دہراتا ہوں آپ کے ایمان کی زیادتی کے لیے کہتا ہوں میرا قادیانیت کی تردید کرنا کوئی میرا معاشی مسئلہ اس کے ساتھ وابستہ نہیں۔ میرا کوئی یہ پیشہ نہیں۔ پروفیشنل ملاں نہیں ہوں کہ میں قادیانیت کی تردید کرتا ہوں تب مجھے رزق ملتا ہے۔ اللہ نے میرے رزق کے لیے اور دروازے کھولے ہیں۔ میری اپنی زمین ہے۔ اللہ کا فضل ہے۔ کھانا پینا میرا زمین کی آبادی سے آ جاتا ہے۔ میں جو قادیانیت کی تردید کرتا ہوں، دین ایمان سمجھ کر کرتا ہوں۔ میں قادیانی مربی کی طرح چندے کے دھندے کی خاطر تردید نہیں کرتا۔ میری درخواست سمجھ رہے ہیں؟ میرا یہ کام آخرت کی نجات کے لیے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے لیے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ ایک سچی روایت، صحیح صریح روایت قادیانیوں کے موقف کی سچائی کے لیے ان کے پاس ہو مجھے اللہ قیامت کے دن معاف نہ کرے میری نجات نہ ہو اتنا بڑا آپ کے سامنے چیلنج کر رہا ہوں۔ ایک صحیح صریح روایت ان کے پاس نہیں۔ یا سرے سے روایت جھوٹی ہوگی یا اس کے اندر دجل کریں گے۔ دو چیزوں سے ان کی روایت خالی نہیں ہوگی۔ یہی امام باقر کی روایت یہ حضور علیہ السلام کا فرمان نہیں بلکہ امام باقر کا اپنا قول ہے۔

صفحہ 137

اس کے اندر جھوٹے راوی موجود ہیں۔ ان کا اعتبار نہیں اور یہ روایت چالیس روایتوں کے متضاد ہے۔ ایک قول وہ بھی کسی امام کا‘ نبی علیہ السلام کے معاملہ میں جھوٹا آدمی اس امام کی طرف قول کو منسوب کرے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں دنیا میں کہیں انصاف نام کی اگر کوئی چیز ہے تو آپ ارشاد فرمائیں۔ حضور علیہ السلام کی چالیس صحیح روایتوں کو دیکھا جائے گا یا ایک امام کے قول کو جس کو جھوٹا راوی روایت کر رہا ہے اس کو دیکھا جائے گا؟

فاروق: اگر یہ واقعہ ہو جاتا ہے۔ اگر جھوٹا بھی ہے۔

مولانا: شاباش!

فاروق: اگر یہ واقعہ ہو جاتا ہے اور اس کی تصدیق کر دیتا ہے تو پھر سچا مانیں گے یا جھوٹا۔

مولانا: آپ فرما دیں۔ واقعہ ہو گیا۔

فاروق: ہاں ان کے مطابق واقعہ ہو گیا اور تاریخ کے مطابق واقعہ ہو گیا۔

مولانا: شاباش! اب روایت کے الفاظ پڑھ لیں۔ پھر واقعہ کو دیکھتے ہیں۔

فاروق: اخباروں میں، وہ میرے پاس موجود ہیں۔

مولانا: بھائی! یہاں اخبار نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام‘ حضرت نوح علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ نبوت پر ایمان تو لوگوں کے بدلتے رہے کہ پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے تھے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے تھے پھر محمد عربی ﷺ کو۔ نبوتوں پر ایمان بدلتا رہا۔ یہ قیامت کا اور توحید کا عقیدہ تو ایسا ہے یہ ایک دو عقیدے ایسے ہیں کہ کبھی یہ نہیں بدلے اور دنیا کا کون سا آدمی ہے جو قیامت کے متعلق اتنی بات کہہ دے کہ اس دن میری نجات نہ ہو۔ یہ تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ میں نے اتنا بڑا آپ کے ساتھ دعویٰ کیا ہے تو آخر کسی بنیاد پر کیا ہوگا۔ جائیں میری اس بنیاد کو توڑنے کی کوشش کریں۔ لیں ہتھوڑا پھر بھی نہیں ٹوٹے گی۔ انشاء اللہ! اس قول میں اول ليلة من رمضان! کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں پہلی رمضان کو چاند گرہن ہوا؟ مل کر پوری کائنات کے قادیانی اس کو ثابت نہیں کر سکتے۔ میں اب آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ یہ ساری چیزوں سے کسی کے رعب میں آنے کی وجہ سے نہیں۔ کسی کے دھمکانے سے نہیں‘

صفحہ 138

دلائل اور حقائق کی بنیاد پر کہہ دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا۔ ٹھیک ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کافر تھا دجال تھا تثلیث غلط ہے فلاں غلط ہے وہ کہہ کر عیسائی مسلمان ہوگا۔ پہلے جو اس کے کفریہ نظریات ہیں ان کو چھوڑے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے کی وجہ سے کفر ہے، وہ اس کو چھوڑ دیں۔ یہ آپ کے مسلمان بھائی ہیں۔ اب یہ راستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان کو تبلیغی جماعت کے ساتھ بھیج دیا جائے۔ جتنا عرصہ آسانی کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں کریں۔ اس کے بعد آپ دوست اس کی مدد کریں۔ پھر اس کو کتابیں نصاب میں متعین کر کے دوں گا۔ لائن میں متعین کر کے دوں گا۔ اس پر سٹڈی کریں۔ ان شاء اللہ! جب ایمان آتا ہے وہ اپنے راستے خود بناتا ہے۔ جہاں دنیا کے اندر مخالفت ہو رہی ہو، وہاں قرآن مجید کی تعلیم شروع کر دیں۔ قرآن مجید اپنے راستے خود بناتا چلا جاتا ہے۔ یہ جس وقت تبلیغ سے واپس آئیں گے، سارے وسوسے ان کے دور ہو چکے ہوں گے۔ اس لیے کہ ایمان کی حلاوت ان کے دل کے اندر اتر چکی ہوگی۔ یہ اب اس کی ہمت پر ہے۔ یہ جوان آدمی ہے۔ اس نے جتنا وقت قادیانیت پر لگایا ہے اب اتنا وقت اسلام کو سیکھنے پر بھی لگائے۔ اس راستے کو لیں۔ پھر کوئی اشکال رہ گئے ہیں، میں ایک دفعہ نہیں ساری دنیا جہاں کے پروگرام چھوڑ کر ان کے پاس آؤں گا۔ آج بھی میں نے اپنی کئی مصروفیات ترک کی ہیں۔ پھر یہاں کے لیے وقت نکالا ہے۔ حسن اتفاق تھا کہ اٹک آ رہا تھا۔ یہ تو وقار گل صاحب اور مجاہد شاہ صاحب کا حکم تھا کہ آپ نے ہر حال میں پہنچنا ہے۔ اگلا مہینہ میرا دن رات صبح شام مصروف ہے۔ میں آج بھی اتنی مصروفیات کو ترک کر کے آیا ہوں۔ لیکن ان کی خاطر جہاں پر جس وقت آواز دیں گے، ساری مصروفیات چھوڑ کے آؤں گا۔ ایک آدمی بھی اگر ہماری کوشش کی وجہ سے ہدایت پر آ جائے تو ہماری نجات کے لیے کافی ہے۔ میں ان کے ایمان اور اسلام پر نہیں کہہ رہا، پہلے مجلس میں بیٹھے تھے ان کے دل و دماغ کی اور کیفیت تھی۔ اب بیٹھے ہیں تو ان کے دل و دماغ کی اور کیفیت ہے۔ یہ ایک مجلس کا نتیجہ ہے۔ اگر اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں تو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ حکیم کے نسخہ کو استعمال کریں۔ یہ کہہ دیں کہ میں فلاں جگہ رہنا چاہتا

صفحہ 139

ہوں۔ میرا یہ انتظام کیا جائے۔ میرا یہ انتظام کیا جائے۔ آپ کی ڈیمانڈ اسلام نہیں مانے گا۔ اسلام والے مانیں گے۔ لیکن وہ بھی آپ سے درخواست کریں گے کہ ہمارے بھائی بنیں! ہمارے قانون میں داخل ہوں۔ پھر آپ کے راستے کو متعین کیا جائے گا۔ پہلے کیفیت اور تھی اب اور ہے۔ آئندہ کیا ہو گی یہ آپ جانیں اور یہ جانیں۔ میں فارغ۔ راستہ صرف اور صرف یہی ہے۔

فاروق: مسائل جی۔ فقہی مسائل جو ہیں نماز کے بارے میں ......!

مولانا: لو بھائی! اب ایک اور آفت کہ شافعی کچھ کہتے ہیں، حنفی کچھ کہتے ہیں، مالکی کچھ کہتے ہیں، دیوبندی کچھ کہتے ہیں، بریلوی کچھ کہتے ہیں اور اہل حدیث کچھ کہتے ہیں۔

فاروق: ہزاروں قسم کے ہیں پرابلم۔

مولانا: ہزاروں قسم کے نہیں۔

فاروق: لیکن میں ابھی کسی میں داخل نہیں ہونا چاہتا۔

مولانا: بالکل میں یہی کہتا ہوں کہ قادیانیوں میں بھی تو کئی قسمیں ہیں۔

فاروق: ہر جگہ کئی قسمیں ہیں۔

مولانا: وہاں پر تو جانے کے لیے آپ نے شرط یہ نہیں لگائی۔ اسلام میں آنے کے لیے شرط لگا رہے ہیں۔ چلو بھائی! پہلے میں آپ کے اس کانٹے کو نکالتا ہوں۔ آپ کی یہ شرط بھی دور ہو جائے گی۔

فاروق: میں کہتا ہوں کہ کتنے فرقے ہیں۔

مولانا: وہ میں فرقوں کی بات کر لیتا ہوں۔ بھائی! اگر نیت بات سمجھنے کی ہو تو ایک سیکنڈ لگتا ہے۔ میں آپ کے اسی نقطہ کو بھی حل کر دیتا ہوں۔ کوئی فرقے نہیں۔ کوئی کچھ بھی نہیں۔ سمجھے نا جی! ایک آدمی قتل ہوا۔ اس کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ ایک اس کی طرف سے۔ اب دس وکیل کھڑے ہو گئے۔ واقعہ بھی ہوا ہے۔ قتل بھی موجود ہے۔ دس وکیل کھڑے ہوئے۔ ملزم کی طرف سے وہ کہتے ہیں کہ ایف آئی آر بھی صحیح ہے۔ واقعہ بھی صحیح۔ لیکن اس نکتہ سے یہ نکتہ نکلتا ہے کہ اس کو رہا ہونا چاہئے۔ دس وکیل اس کے خلاف کھڑے ہوکر دلائل دے رہے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آدمی کو پھانسی ملنا چاہئے۔ اب بیس وکیل کھڑے ہیں۔ ہر وکیل اپنی بات کر رہا ہے۔ کوئی ان کو نہیں کہتا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ کوئی ان کو یہ نہیں کہتا کہ تم غلط ہو۔ یہ صحیح ہے۔ یہ غلط

صفحہ 140

ہے۔ کوئی اس کو نہیں کہتا۔ سارے یہ کہتے ہیں کہ یہ قانون کی تعبیر و تشریح کر رہے ہیں۔ یہ قانون کے شارع ہیں۔ جو جس کو فالو کرے گا نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ امام ابو حنیفہؒ امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ یہ جتنے ہمارے طبقات ہیں یہ سارے ایک کہتا ہے قانون کو میں یہ سمجھا ہوں۔ دوسرا یہ کہتا ہے کہ میں یہ سمجھا ہوں۔ وہ کہتا ہے یہ آسان راستہ ہے مدینہ طیبہ جانے کا۔ دوسرا کہتا ہے یہ آسان راستہ ہے جانے کا۔ جس نے امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق کے متعلق کہا کہ میں اس کو فالو کروں گا۔ نتیجہ اس کا بھی مدینہ طیبہ جانے کا ہے۔ اصول کو وہ بھی مانتا ہے۔ ان کی تحقیقات پر عمل کرتا ہے۔ اسی کا نام حنفیت ہے۔ جو حضرت امام شافعیؒ کے متعلق کہتا ہے کہ ان کی تحقیقات کو فالو کرتا ہوں۔ اس کا نتیجہ بھی وہی ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ میں دیوبندی مدرسہ میں پڑھ کر آیا ہوں۔ ان کی تحقیقات کو فالو کرتا ہوں۔ اس کا نام دیوبندیت ہے۔ جو کہتا ہے میں بریلوی حضرات کے یہاں پڑھ کر آیا ہوں۔ میں ان کو فالو کرتا ہوں۔ اسی کا نام بریلویت ہے۔ کوئی فرقے نہیں۔ کوئی طبقے نہیں۔ کچھ نہیں۔ اصول کو مانتے ہیں کہ واقعہ ہوا ہے۔ اب واقعہ کی تشریحات ہیں۔ وہ مختلف تعبیر و تشریح قانون کے اندر ہو سکتی ہے تو قرآن و سنت کے اندر کیوں نہیں ہو سکتی۔

فاروق: یہ تو ہونی چاہئے۔

مولانا: میں آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ جو بریلوی بنے گا کافر ہو جائے گا۔ جو دیوبندی بنے گا کافر ہو جائے گا۔ جو حنفی بنے گا کافر ہو جائے گا۔ سمجھے نا جی! یہ ان کو میں نہیں کہہ رہا۔ جو اصول کو مانتے ہیں وہ مسلمان ہیں۔ مدینہ طیبہ جانے کا راستہ ہے۔ اٹھارہ ہزار ملک ہیں دنیا کے اندر۔ اٹھارہ ہزار راستے ہیں مدینہ طیبہ کو جا رہے ہیں۔ سفر مرکز کی طرف ہو رہا ہے۔ راستہ جونسا چاہے اختیار کر لیں۔ میں کبھی آپ کو نہیں کہہ رہا کہ آپ فلاں مسلک کے اندر شامل ہو جائیں۔ جونسے مسلک کو چاہیں اختیار کرلیں۔ دین اسلام کی حلاوت اترنی چاہئے۔ اس وقت آپ کے لیے علاج یہی تجویز ہے کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ جائیں۔ واپس آنے کے بعد آپ مجھے کہیں کہ نہیں میں فلاں کو فالو کروں گا۔ میں آپ کو اجازت دوں گا۔ ایک دفعہ نہیں کروڑ دفعہ کریں۔ اس

صفحہ 141

وقت علاج یہ ہے اُس دلدل سے نکلنے کا‘ اس راستہ سے نکلنے کا کہ یہ کفر کی غلاظت چھٹے۔ اسلام کی عظمت آئے۔ یہ پہلے اسلام کو اپنے دل کے اندر گھر کرنے دیں۔ اس کے بعد کہہ دیں کہ فلاں مسلک کو فالو کرتا ہوں۔ کوئی حرج نہیں۔ وہ بھی مسلمان ہیں۔ تبلیغ والے غیر مسلم نہیں ہیں۔ بریلوی حضرات کو میں غیر مسلم نہیں کہتا۔ دیوبندیوں کو غیر مسلم‘ شافعی وامام مالک کو نہیں کہہ رہا۔ میں صرف اس وقت یہ عرض کر رہا ہوں کہ اس وقت بہتر علاج آپ کے لیے صرف اور صرف یہ ہے اور اگر آپ یہ کہیں کہ ان میں جانے سے فرقہ واریت کے اندر چلا جاؤں گا تو پھر میں درخواست کروں گا کہ ابھی تک پھر کانٹا آپ کے اندر موجود ہے۔ جیسا کہ پہلے میں نے آپ کی تشخیص کر کے کہہ دیا تھا کہ آپ ابھی تک دلدل سے نکلے نہیں۔ یہ سب شیطان کے بہکاوے ہیں کہ پہلے یوں ہو جائے پھر یوں ہو جائے اس کے بعد یوں ہوگا۔ مہربانی کریں کہ اسلام شرائط کا محتاج نہیں۔ اس راستہ پر چل پڑیں ساری چیزوں کو چھوڑ کر اس راستہ پر چل پڑیں۔ قادیانیت کو قبول کرتے ہوئے آپ نے شرط نہیں لگائی تھی کہ جناب لاہوری کون ہیں۔ قادیانی کون ہیں۔ فلاں کون ہیں۔ فلاں کون ہیں۔ اس وقت تو شرط نہیں لگائی تھی۔ اب آتے ہوئے شرطیں لگاتے ہو۔

فاروق: شرط نہیں ہے۔

مولانا: میں یہی استدعا کرتا ہوں کہ ان کانٹوں کو بالکل سرے سے آگ لگائیں۔ ان کی راکھ اُڑا دیں جس طرح اُڑتی ہے۔ اب بالکل اگر مجھے معالج سمجھ کر بلایا ہے تو نسخہ تجویز کرنے کا اختیار تو مجھے ہوگا۔ کڑوا دوں تب‘ کسیلا دوں تب‘ میٹھا ہو تب‘ کھٹا ہو تب‘ وہ آپ اس کو اپنے حلق سے اتار دیں۔ اتارنے کے بعد آپ کی صحت بحال ہو جائے گی۔ جراثیم جاتے رہیں گے۔ اب مقوی غذا چاہئے۔ اس مقوی غذا کے متعلق آپ اور میں فیصلہ کر لیں گے بیٹھ کر کہ آپ کو کونسا خمیرہ اور کونسی معجون دینی ہے۔ ضرور دیں گے۔ لیکن یہ سب بہانے ہیں اور ہاں! ابھی یہاں سے نکلنے کے بعد اور میری ساری باتیں سننے کے بعد بھی شیطان نے ایسا حملہ کرنا ہے آپ پر کہ یہ کیا اور وہ کیا۔

فاروق: محفل کا آدمی پر اثر ہوتا ہے نا جی۔

صفحہ 142

مولانا: اس وقت جو آپ کے قلب وجگر کی کیفیت ہے خود رحمت دوعالم ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آقا ﷺ ہم جب آپ کے پاس بیٹھتے ہیں کیفیت اور ہوتی ہے جب باہر جاتے ہیں کیفیت اور ہوجاتی ہے۔ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہر وقت اگر یہ کیفیت رہے تو پھر فرشتے آسمانوں سے آکے تم سے مصافحہ کریں۔ پھر تو تمہاری یہ کیفیت ہو کہ ملکوتی بن جاؤ۔ سمجھے ناجی! آپ نے اچھا کیا کہ آپ کے ذہن کے اندر جتنے اشکالات تھے، آپ نے ان کو بیان کیا۔ میں ان کے جواب آپ کی خدمت میں عرض کرتا رہا۔ ایک ماحول بن گیا ہے۔ یہی وقت ہے۔ لوہا گرم ہے۔ ہتھوڑا ماریں۔ اس کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔ سارے خیالات کو یکسر چھوڑ کر سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر، کتے کو نکالیں پہلے کنویں سے۔ وہ نکلے گا اس کے کفر کا علی الاعلان ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کریں۔ نہ مانسہرہ والوں کو دیکھیں نہ داتہ والوں کو۔ نہ ایبٹ آباد والوں کو نہ اس کے طرز عمل کو نہ میرے طرز عمل کو ساری چیزوں سے بالاطاق ہوکر ڈنکے کی چوٹ پر کھڑے ہوکر پہاڑ پر کھڑے ہوکر پکاریں بلند آواز کے ساتھ کہ آپ کی آواز جائے پورے کرۂ ارض پہ کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس کو چھوڑ دیا ہے۔ اب اتنا عرصہ میں رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اب جو ہے وہ میرے اندر رنگ آنا چاہئے رنگین ہونے کا وہ راستہ ہے۔ اس کو اختیار کریں۔ واپس آئیں۔ پھر کبھی ادویات کی ضرورت ہوگی تو بیٹھ کر طے کرلیں گے۔ چلو پھر آپ جونسی دوا کہیں گے تجویز کرلیں گے۔ چلو میں بھی نسخے میں تبدیلی کرلوں گا۔ میں نہیں کہوں گا کہ میرے والا ہی نسخہ استعمال کریں۔ تب آپ کے گوڈے گٹے ٹھیک ہوں گے۔ ممکن ہے کوئی اور دوائی مل جائے۔ وہ بعد کے مسئلے ہیں کہ راستہ کونسا۔ میں فلاں راستہ میں نہیں جانا چاہتا۔ یہ مہربانی کرلیں بھائی! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ہدایت کاملہ نصیب فرمائے۔ (آمین)

صفحہ 143

مناظرہ چک 98 شمالی، سرگودھا

فقیر گوجرانوالہ، لاہور، حافظ آباد کے تبلیغی و تنظیمی سفر سے واپس (ربوہ) چناب نگر حاضر ہوا تو جناب قاری منیر احمد خاں مدرس مدرسہ ختم نبوت (ربوہ) چناب نگر نے اطلاع دی کہ چک نمبر 98 شمالی سرگودہا سے مولانا ممتاز حسن صاحب خطیب چک مذکور تشریف لائے تھے اور کہا کہ قادیانیوں سے 19 فروری 1982ء بروز جمعہ گفتگو ہے۔ فقیر کو تشویش ہوئی کہ جمعہ کو ریلوے جامع مسجد فیصل آباد، اور (ربوہ) چناب نگر جامع مسجد محمدیہ میں عظیم اجتماع ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب اور فقیر اگر چک نمبر 98 شمالی جائیں تو جمعہ کا کیا بنے گا...... کوفت ہوئی کہ احباب نے پوچھے بغیر ایسے وقت کا تعین کیا جس سے پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ 18 فروری 1982ء صبح حضرت مولانا خدا بخش صاحب تشریف لائے۔ اور پنڈی رسول سٹیشن پر مولانا ممتاز حسین سے ملاقات و تفصیلات سے آگاہ فرمایا۔ مولانا سرگودھا روانہ ہو گئے۔ طے ہوا کہ فقیر بھی 19 فروری صبح سرگودھا سے سوار ہوگا اور مولانا خدا بخش صاحب، مولانا محمد اقبال بھی سرگودھا سے اسی ٹرین پر سوار ہو جائیں گے۔

18 فروری 82ء دوپہر کو مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری ملتان سے تشریف لائے۔ وہ (ربوہ) چناب نگر جامع مسجد ختم نبوت کی تعمیرات کے انچارج ہیں۔ وہ میری درخواست پر آمادہ ہو گئے کہ ریلوے کالونی جامع مسجد فیصل آباد کا جمعہ پڑھا دیں گے۔ جبکہ جامع مسجد محمدیہ ربوہ کے جمعہ کے لیے مولانا احمد یار چار یاری کو پیغام بھجوایا۔ 18 فروری ظہر کے قریب میرے معتبر ذرائع نے اطلاع دی کہ جامعہ احمدیہ (ربوہ) چناب نگر میں چک نمبر 98 شمالی کی گفتگو کے لیے بڑی تیاریاں ہو رہی ہیں اور لٹریچر کے

صفحہ 144

مبلغین کتابیں لے کر چک نمبر 98 شمالی جانے کے لیے پا برکاب ہیں۔ اسی روز مغرب کے قریب معروف مبلغ اسلام حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب خطیب چک نمبر 99 اور حضرت مولانا حافظ ممتاز حسین تشریف لائے۔ ہر دو حضرات مُصر تھے کہ فقیر ابھی ان کے ساتھ چک نمبر 98 شمالی چلے کیونکہ ان کا موقف تھا کہ فریق مخالف کے مبلغ پہنچ گئے ہوں گے۔ ہمارے مسلمان حضرات کو پریشانی نہ ہو۔ فقیر نے اپنی مصروفیات کا عذر کر کے صبح حاضری کا وعدہ کیا۔ دونوں بزرگ شام کو چناب ایکسپریس سے چک 98 شمالی تشریف لے گئے۔ فقیر صبح جناب برادر عزیز قاری منیر احمد خان کے ہمراہ کتابوں کے بکس لے کر عازم سرگودھا ہوا۔ شدید بارش تھی۔ تاہم اڈہ بس (ربوہ) چناب نگر پر صاحب علم و فضل دوست پروفیسر حافظ محمد یوسف کتابیں لے کر تشریف لائے ہوئے تھے۔

اتفاق سے وہ بھی اسی بس میں سوار ہوئے، خوشی ہوئی۔ ان حضرات سے بھی طے تھا کہ فقیر کے ہمراہ تشریف لے جائیں گے۔ شدید بارش میں خدا خدا کر کے ریلوے سٹیشن سرگودھا پہنچے۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب، مولانا محمد اقبال تشریف لائے ہوئے تھے۔ ٹرین کے ذریعہ تقریباً ساڑھے دس بجے تک نمبر 98 شمالی پہنچے۔ احباب سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ فقیر نے اپنے مسلمان احباب کو بلوایا جن سے قادیانیوں نے گفتگو کا کہا ہوا تھا۔ وہ احباب آئے ان سے ملاقات و تفصیل کا سن کر فقیر نے ان کو بھیجا کہ جا کر آپ قادیانی مرتدین کے ذمہ دار حضرات کو کہیں کہ مسلمانوں کے علماء آ گئے ہیں۔ آپ اپنے مبلغ سمیت تشریف لائیں تاکہ گفتگو ہو سکے۔ وہ حضرات گئے تو انھوں نے کہا کہ جناب جمعہ کے بعد گفتگو کریں گے۔ فقیر نے اپنے مسلمان احباب سے کہا کہ آپ ان سے کہیں کہ گفتگو بیشک جمعہ کے بعد ہوگی۔ مگر شرائط تو پہلے طے کر لیں، تاکہ ان شرائط کی روشنی میں جمعہ کے بعد گفتگو ہو سکے۔ جمعہ کے بعد اگر شرائط طے کرنے لگے تو وقت ضائع ہو گا۔ یہ کام جمعہ سے پہلے نپٹا لیں۔ چنانچہ نصراللہ بھلی ایڈووکیٹ قادیانی، ملک محمد اسلم قادیانی، محمود انور بھلی قادیانی، مبارک احمد قادیانی مبلغ (ربوہ) چناب نگر، یہ چار حضرات شرائط کے لیے تشریف لائے۔ چوہدری محمد اشرف گھمن، چوہدری محمد علی، حاجی سردار خان، اور راقم الحروف نے شرائط پر گفتگو شروع کی۔ نصر اللہ بھلی ایڈووکیٹ قادیانی نے کہا کہ گفتگو صرف حیات و وفات مسیح پر ہوگی۔ فقیر نے عرض کیا کہ ہم اس جذبہ سے آپ حضرات کے گاؤں حاضر ہوئے ہیں کہ تمام مختلف فیہ مسائل پر گفتگو ہو جائے۔ وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس پر فقیر نے عرض کیا کہ پہلے حیات مسیح پر گفتگو ہو

صفحہ 145

جائے۔ پھر آپ کے رہنما اور مدعی نبوت مرزا کے کذب پر پھر ختم نبوت تینوں مسائل پر گفتگو ہو جائے گی۔ حاضرین نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ وہ حضرات مُصر تھے کہ مرزا قادیانی کے صدق و کذب پر بحث نہ ہو۔ اس پر فقیر نے تفصیل سے عرض کیا کہ ہم بازار میں ہانڈی لینے کے لیے جاتے ہیں۔ دو روپے کی ہنڈیا لینی ہوتی ہے۔ بار بار اسے ٹھونکتے ، بجاتے ہیں کہ کہیں کھوکھلی تو نہیں کچی تو نہیں۔ یہ دنیا داری کی بات ہے مرزا قادیانی جس نے کہا ہے کہ مجھے مانو گے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ جہنم میں جاؤ گے، اسے ذرا ٹھونکنے بجانے تو دو۔ اس کو مل کر ہم اس کے لٹریچر کی روشنی میں دیکھیں کہ وہ کیا تھا اور یہ اس لائق بھی ہے کہ ایسی عظمت کا مستحق قرار دیا جاسکے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کا لٹریچر ہی اس کی جانچ پڑتال کے لیے کافی ہے۔ آپ کو اس پر بحث کرنی چاہیے۔ ہم بڑے خلوص سے آپ کے پیشوا مرزا قادیانی کو جانچنا پرکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر انھوں نے کہہ دیا کہ آپ کی مرضی گفتگو کرو یا نہ کرو صدق و کذب مرزا پر بحث نہیں کریں گے۔ فقیر نے اپنے احباب کی طرف دیکھا۔ وہ حیران کہ ان حضرات کے بلند و بانگ دعاوی اب اس طرح انحراف، فقیر نے فوراً کہا کہ آپ حضرات جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ میں بغیر گفتگو آپ کی جان نہیں چھوڑوں گا۔ لیجئے جو مضمون آپ پسند کریں فقیر حاضر ہے۔ اس بات سے اپنے احباب کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے اور ان لوگوں پر اوس پڑ گئی۔ جو مرزا قادیانی مدعی نبوت کو سچا ثابت کرنے کے لیے آئے تھے کہ اب تو سوائے گفتگو کے چارہ کار نہیں رہا۔ شرائط لکھنے شروع کیے فقیر نے تحریر شروع کی۔ حوالہ جات کے لیے فریقین کی کتابیں پیش ہوں گی۔ اس پر قادیانیوں نے کہا کہ حوالہ جات صرف قرآن و حدیث سے پیش ہوں گے۔ فقیر نے عرض کیا کہ بھائی قرآن و حدیث ہمارے سر آنکھوں پر، آپ کا لٹریچر آپ کے سر آنکھوں پر، آپ اپنے لٹریچر سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ ایک نے کہا کہ ہم تو صرف خدا و رسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں۔ فقیر نے کہا کہ جس خدا کو آپ مانتے ہیں اس کی تفصیل کا مجھے علم ہے۔ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ (خدا) معاذ اللہ آپ کے نبی کے ساتھ وہ کارروائی کیا کرتا تھا، جو مرد اپنی عورت سے کرتا ہے۔ کتاب میرے پاس ہے۔ فرمائیں تو حوالہ دکھاؤں۔ اس پر وہ گھبرا گئے۔ کہنے لگے کہ صاحب اب جمعہ کا وقت ہو رہا ہے۔ جمعہ کے بعد تحریر کریں گے۔ گفتگو ہو نہ ہو، ہم جمعہ نہیں چھوڑ سکتے۔ میں نے کہا آپ جمعہ کی جماعت کو روتے ہیں آپ کے مرزا قادیانی تو چھ ماہ تک نماز کے تارک تھے۔ دکھاؤں حوالہ؟ بہرحال 3 بجے واپسی کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ حضرت مولانا خدا

صفحہ 146

بخش صاحب خطیب ربوہ نے جمعہ سے قبل حیات عیسیٰ ؑ پر فاضلانہ خطاب کیا۔ پورے گاؤں کے اہل اسلام نے آپ کی امامت میں جمعہ پڑھا۔ 3 بجے تک وہ حضرات تشریف نہ لائے۔ فقیر نے اہل اسلام کی طرف سے شرائط لکھ کر بھیج دیں کہ ان کا کوئی نمائندہ بھی اس پر دستخط کر دے تاکہ گاؤں کے چند معززین آئیں۔ ہم ان سے مشاورت کے بعد دستخط کر دیں گے۔ ہمارے ساتھی وہاں گئے۔ ان حضرات کا اصرار یہ تھا کہ گفتگو ہمارے مکان پر ہو۔ اہل اسلام کا مؤقف تھا کہ پچھلے جمعہ کی گفتگو مقامی مسلمان حضرات اور قادیانیوں کی ان کے مکان پر ہوئی تھی، یہ گفتگو مسلمانوں کے مکان پر ہوگی۔ جس پر وہ آمادہ نہ ہوئے اور راہ فرار اختیار کی۔ ہمارے حضرات نے پیغام بھجوایا کہ سکول، گاؤں کے چوک، گرجا جو غیر جانبدار جگہ ہے، وہاں آ جائیں۔ وہ اس پر بھی آمادہ نہ ہو سکے۔

ہمارے احباب نے طے کیا کہ گاؤں کے وسط میں دو مکان ایک دوسرے کے سامنے واقع ہیں۔ درمیان میں چند فٹ کی گلی ہے۔ مسلمانوں کی بیٹھک میں مسلمان بیٹھ جائیں اور قادیانی اپنے ساتھی کی بیٹھک میں۔ ہر ایک کا اجتماع اپنے اپنے مکان پر ہوگا اور گفتگو کرنے والے حضرات سامنے بیٹھ جائیں۔ گفتگو دونوں فریق بآسانی سن سکیں گے کیونکہ ان مکانات کا محل وقوع ایسا ہے اس پر ہمیں اطلاع ملی کہ اس شرط پر وہ آمادہ ہیں۔ چنانچہ ہم اپنی کتابیں لے کر جملہ حاضرین سمیت وہاں پہنچ گئے۔ وہ حضرات بھی متذکرہ بیٹھک کے ساتھ والے مکان میں موجود تھے۔ لیکن پورا پونا گھنٹہ انتظار کے باوجود نہ آئے۔ مرزائیوں نے پیغام بھیجا کہ گاؤں کے اہل اسلام کے خطیب مولانا حافظ ممتاز حسین آئیں۔ ہم ان سے کچھ طے کرنا چاہتے ہیں۔

مولانا مولوی ممتاز حسین تشریف لے گئے۔ ان کے مبلغ مبارک منگلا اور مبشر احمد نے کہا کہ حوالہ جات صرف قرآن و حدیث سے پیش ہوں گے۔ ہمارے مولانا کچھ کہنا چاہتے تھے کہ ان کا اپنا آدمی مسٹر بھلی ایڈووکیٹ بول پڑا اور اپنے قادیانی مولویوں کو کہا کہ کچھ خدا کا خوف کرو۔ بات کسی طرف لگنے بھی دو۔ شرم کی بات ہے کہ ہم طے کر آئے ہیں کہ حوالہ جات کے لیے فریقین کے مسلمات پیش ہوں گے۔ آپ اپنی کتابوں سے کیوں بھاگتے ہیں؟ مسلمان عالم دین کی موجودگی میں مرزائی کا اپنے مرزائی مناظرین کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا، مرزائی مناظر کھسیانے ہو گئے۔ مولانا ممتاز حسین صاحب کو کہا کہ آپ تشریف لے چلیں، ہم آ رہے ہیں۔ مولانا ممتاز حسین نے ہمیں آ کر تمام حاضرین کی موجودگی میں ان کا پیغام سنایا کہ وہ آ رہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی کتابیں

صفحہ 147

میز پر لگانی شروع کر دیں۔ فقیر نے قرآن مجید، بخاری شریف منگوا کر اپنی گود میں رکھ لی اور درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ پندرہ بیس منٹ انتظار کے باوجود قادیانی تشریف نہ لائے، گلی میں دونوں طرف فریقین کے آدمیوں کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے۔ فقیر نے ایک ہاتھ میں قرآن مجید دوسرے میں بخاری شریف اٹھائی۔ سامعین کے درمیان کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ او ختم نبوت کے منکرو اپنے مبلغین کو باہر نکالو، وہ کیوں نہیں نکلتے، کیا رکاوٹ ہے؟ فقیر دعویٰ سے کہتا ہے کہ وہ مر جائیں گے باہر نہیں آئیں گے۔ قرآن ہمارے ساتھ ہے۔ حدیث ہمارے ساتھ ہے۔ چودہ سو سال سے پوری امت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ آسمان پر تشریف فرما ہیں۔ قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ اور حضور ﷺ کی شریعت کی غلامی میں زندگی گزاریں گے اور مدینہ طیبہ میں ان کی وفات ہوگی۔ میں یہ شریعت محمدیہ سے ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مرزا قادیانی کے لٹریچر سے ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہے ہمت تو باہر آئیں۔ لیکن وہ ذلت آمیز شکست سے بچنے کے لیے میرا سامنا نہیں کر رہے۔ گاؤں کے مرزائیو! میری تم سے درخواست ہے کہ اپنے مبلغین کو نکالو باہر، تاکہ آج حق و باطل کا معرکہ اس گاؤں کے لوگ بھی دیکھ لیں۔ ہے ہمت تو آئیں۔ کیوں نہیں آتے۔ آؤ ہم تمہارے انتظار میں ہیں۔ اس اثنا میں مولوی مبارک قادیانی مناظر آیا اور کہا کہ جی ہمیں خطرہ ہے کہ آپ گالی نکالیں گے، لوگ مشتعل ہو جائیں گے۔ فقیر نے کہا کہ جناب بہانہ نہ بنائیں۔ آپ کی اگر بات صحیح ہے تو آپ کے لیے سنہری چانس ہے، ضائع نہ کریں۔ آپ دلائل سے بات کریں۔ میں گالی سے گفتگو کروں تو گاؤں کے لوگ آپ کو سچا کہہ دیں گے۔ آپ آئیں گفتگو کریں۔ آپ کے لیے گولڈن چانس ہے ضائع نہ کریں، فریقین نے ٹھیک ہے ٹھیک ہے کہہ کر میری اس معقول بات کی بھی تصدیق کی۔ مبارک صاحب واپس گئے۔ اب ان کے لیے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ پریشان ہو کر گھر میں گھس گئے۔ فقیر اپنے احباب سمیت میدان میں کھڑا ہے۔ اس وقت کا منظر قابل دید تھا۔ فقیر نے کہا کہ لوگو! قادیانی اور مسلمان سب گواہ رہیں کہ قادیانی مبلغین زہر کا پیالہ پی لیں گے لیکن میرے سامنے نہیں آئیں گے۔

میں چیلنج کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا میں نمائندہ ہوں۔ ان کا نمائندہ مرزا ناصر ہے۔ وہ مجھ سے جہاں چاہے میں مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔ اگر مباہلہ نہ کرے تو فیصلہ کا آسان راستہ یہ ہے کہ آپ گاؤں والے مل کر آگ کی بھٹی تیار کریں، ناصر کو کہو وہ دادا

صفحہ 148

کی صداقت کا دم بھر کر اس میں چھلانگ لگائے، میں اپنے آقا و مولا کی ختم نبوت کا اقرار اور مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اعلان کر کے چھلانگ لگاتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں گے۔ آگ میرے اور مرزا ناصر کے درمیان فیصلہ کر دے گی کہ کون حق پر ہے؟ اس چیلنج سے موجود قادیانیوں نے شرم کے مارے سر جھکا دیے۔

اہل اسلام خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ زندہ باد کی فضا میں فقیر کو ہجوم نے گھیر لیا۔ مبارکباد شروع ہو گئی۔ احباب خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملے۔ فوری طور پر چائے کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں شریک تھے کہ ایک مرزائی آیا۔ فقیر نے کہا کہ فرمائیے آپ کے مبلغین کیوں نہ نکلے؟ کہا جی وہ آپ سے ڈر گئے تھے۔ میں نے کہا کہ کیا میں نے ان کو کھا جانا تھا؟ دلائل کی بات تھی وہ کیوں نہ آئے؟ ان کو آنا چاہیے تھا۔ میں اب بھی حاضر ہوں۔ اگر وہ اپنی طے شدہ بیٹھک میں نہیں آتے تو میں آپ کو ایک حوالہ دکھاتا ہوں آپ یہ لے جائیں ان سے اس کا ترجمہ پوچھ کر آئیں۔ آپ کی کتاب، آپ کا حوالہ، آپ اپنے مولوی سے اس کا مطلب پوچھ آئیں۔ وہ بیچارہ بڑا پریشان ہوا کہ پتہ نہیں مولوی صاحب کیا حوالہ نکالیں گے۔ فقیر نے بیگ منگوایا حوالہ نکالنا چاہا لیکن اس دوران معلوم ہوا کہ قادیانی مناظر ربوہ جانے کے لیے گاؤں چھوڑ کر سٹیشن چلے گئے ہیں۔

مسلمانوں میں ان کے فرار کی خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور قادیانی شرم کے مارے ایک ایک کر کے کھسکنے شروع ہو گئے۔ فقیر نے احباب سمیت جماعت سے نماز عصر پڑھی۔ (وہ لیٹ ہو رہی تھی) نماز کے بعد اجتماعی دعا کی گئی۔ بیسیوں احباب کے جلو میں ہمارا قافلہ سٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ان کے فرار کے دلچسپ تذکرے ہوتے رہے۔ احباب کی خوشی و انبساط قابل دید تھی۔ فالحمد للہ۔ سٹیشن پر پہنچے تو قادیانی مناظر سٹیشن پر بیٹھے خاک چاٹ رہے تھے۔ ان کی درماندگی و پریشانی قابل رحم تھی۔ وہ بیچارے اکیلے تھے۔ صرف ایک آدمی ساتھ تھا۔ ہمارے احباب کا اجتماع دیکھ کر وہ سخت پریشان ہوئے۔ مگر یہ عزت ہماری نہ تھی۔ حق کی عزت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کا ایسا نظارہ کر دیا کہ انگشت بدنداں ہوں کہ آخر ان کو کیا ہو گیا۔ اتنی بڑی ذلت کے باوجود سامنے نہ آئے۔ فالحمد للہ۔

۞......۞......۞

صفحہ 149

مناظرہ چک عبداللہ ضلع بہاولنگر

مجلس تحفظ ختم نبوت ایک عالمی تبلیغی اصلاحی مذہبی جماعت ہے، جس کا ملک کی سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ مجلس کی بنیاد حضرت امیر شریعتؒ نے رکھی تھی اور خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے مردان حق نے اپنے اپنے دور میں اس کی قیادت و سیادت کا فریضہ سرانجام دیا، بحمدہ تعالیٰ آج اس کی امارت شیخ طریقت مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ فرما رہے ہیں۔ مجلس ختم نبوت کا طرۂ امتیاز ملک عزیز و بیرون ملک میں رحمت عالم ﷺ کے وصف خاص ختم نبوت کی حفاظت و اشاعت کا فریضہ سرانجام دینا ہے اور بس۔ اللہ رب العزت نے مجلس کو اس عظیم کام کے صدقہ میں کس کس طرح اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمایا، کیا کیا بشارتیں سنائی گئیں، اس کی طویل فہرست ہے۔

مجلس کے اکابر نے یوم تاسیس سے اعلان کیا تھا کہ کائنات کے کسی حصہ میں کوئی منکر ختم نبوت کسی مسلمان کو تنگ کرے، اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈالے، مجلس کے دفتر کو ایک کارڈ لکھ کر اطلاع کر دی جائے۔ مجلس کے فاضل مبلغین اسلام اور مناظرین ختم نبوت اس دور دراز کے علاقہ میں پہنچ کر اہل اسلام کے ایمانوں کو بچائیں گے۔ قادیانیوں کے ہر چیلنج کا منہ توڑ جواب دیں گے اور ان کو عبرتناک شکست سے دوچار کریں گے۔ اندرون و بیرون ملک مجلس نے اپنے اس اعلان کی کس طرح لاج رکھی اور کس طرح دشوار گزار اطراف و اکناف کے سفر طے کر کے دنیائے اسلام سے خراج تحسین، حضور سرور کائنات ﷺ کی خوشنودی اور اللہ رب العزت کی رضا کا سرٹیفکیٹ

صفحہ 150

حاصل کیا، اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ آج بھی بحمدہ تعالیٰ مجلس کا پوری دنیا میں لٹریچر، وعظ و تبلیغ کے ذریعہ اشاعت اسلام و تحفظ عقیدہ ختم نبوت کا مربوط نظام موجود ہے۔ مجلس کے فاضل اجل مبلغین کی سرگرمیوں اور تبلیغی کاوشوں کی تفصیلات مجلس کے ترجمان ہفت روزہ (اب ماہنامہ) ”لولاک“ فیصل آباد کے ذریعہ اسلامیان پاکستان تک پہنچتی رہتی ہیں۔ آج کی مجلس میں ہم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے شعبہ تبلیغ کی ایک عظیم الشان کامیابی و کامرانی سے اسلامیان پاکستان کو باخبر کرنا چاہتے ہیں جس کے پڑھنے سے جہاں دلوں کو تازگی، ایمانوں کو حرارت، قلب و جگر کو فرحت میسر آئے گی، وہاں دشمنان دین، منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی ذلت آمیز شکست کا بھی نقشہ سامنے آ جائے گا۔

مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں ایک اطلاع!

از چک سرکاری ضلع بہاولنگر بتاریخ 17 فروری 1981ء

بخدمت جناب من۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ہمارے قریب ریلوے سٹیشن چک عبداللہ پر ایک نائب سٹیشن ماسٹر رانا صاحب عرصہ ایک سال سے آئے ہیں، وہ قادیانی ہیں اور سال بھر سے اہل اسلام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے ایمانوں کو خراب کر رہے ہیں۔ مرزائی مذہب کی کتابیں و لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اب اس نے ہمیں مناظرہ کی دعوت دی ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ ہماری مدد کریں۔ کوئی ماہر تجربہ کار عالم مقرر فرمائیں جو ان کو شکست فاش دے کر مسلمانوں کے ایمان کو محفوظ کرے۔ وہ ہمیں آئے دن تنگ کرتا ہے۔ آپ کا فرض ہے کہ ہماری مدد کریں اور جماعت کے خرچ پر مناظرہ کا انتظام کریں کیونکہ ہم غریب آدمی ہیں۔ ایک آدھ آدمی کے قیام طعام سے زائد خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ جواب ہر حالت میں دیں۔ مہربانی۔ آپ کا مخلص: چوہدری محمد رانجھا۔

ادائیگی فرض کا احساس: جب یہ خط مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم دفتر و خازن حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو ملا، تو انھوں نے سوچا کہ اگر خط لکھ کر تاریخ کا تعین کیا جائے تو خط جانے اور جواب آنے پر دس پندرہ دن لگ جائیں گے، اس عرصہ میں اگر کوئی شخص مرتد ہو گیا تو قیامت کے دن اس کا جواب ہمارے پاس کیا ہوگا؟ اس لیے جواب لکھنے کی بجائے آپ نے فوراً مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ زون کے کنوینر مولانا خدا بخش شجاع آبادی اور مجلس کے مایہ ناز مبلغ و مناظر مولانا اللہ وسایا خطیب

صفحہ 151

جامع مسجد محمدیہ ربوہ کو حکم فرمایا کہ آپ حضرات وہاں تشریف لے جا کر اسلامیان علاقہ کے ایمانوں کو بچائیں۔

چنانچہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا خدا بخش صاحب 25 فروری 81ء کو بہاولنگر تشریف لے گئے۔ وہاں سے بہاولنگر مجلس کے امیر حضرت مولانا قاری عبدالغفور صاحب اور جنرل سیکرٹری مجلس بہاولنگر جناب مولانا فیض احمد صاحب مدرسہ سٹیشن کے مولانا شہاب الدین کے ہمراہ چک عبداللہ تشریف لے گئے۔

قصہ زمین برسرزمین: چک عبداللہ ریلوے سٹیشن ہے۔ چشتیاں اور بہاولنگر کے درمیان واقع ہے۔ قرب و جوار کے دیہاتوں کا مرکزی اڈہ بھی ہے۔ مجاہدین ختم نبوت کا یہ قافلہ جب چک عبداللہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ نائب سٹیشن ماسٹر رانا بشارت احمد واقعتاً قادیانی ہے اور وہ اپنی جماعت کے جلسہ پر ڈاہرنوالہ گیا ہوا ہے۔ صبح آیا اور حاضری لگا کر جلسہ پر چلا گیا ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے احباب کے مشورہ سے کچھ پمفلٹ کانٹے والے کو دیے کہ رانا صاحب تشریف لائیں تو ان کو دے دینا اور ان سے کہنا کہ آپ سے ملنے کے لیے کچھ ساتھی آئے تھے۔ اب مسئلہ درپیش تھا کہ اس علاقہ میں کام کی راہیں تلاش کی جائیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ چنانچہ مشاورت کے بعد وفد کے ارکان نیشنل بنک، مل آفس، کینال ریسٹ ہاؤس، پٹوار خانہ، اڈہ پر دکاندار و تاجر حضرات سے ملے۔ ان میں مجلس کا لٹریچر فری تقسیم کیا۔ اپنی آمد کی غرض بیان کی۔ مقامی احباب کے اصرار پر اڈہ کی مسجد میں مختصر تبلیغی مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ ظہر کی نماز کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ اور مرزائیوں کے عقائد باطلہ پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اپیل کی کہ تمام مسلمان، قادیانیوں کے عقائد و نظریات سے خود بچیں اور دوسروں کو بچائیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر قادیانی ایک جھوٹے اور خود ساختہ نبی کے غلط و خلاف اسلام عقائد کو پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں تو پھر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پیروکار اپنے سچے نبی کی عزت و ناموس اور آپ ﷺ کے وصف خاص ختم نبوت کے تحفظ کے لیے بھی کوشش کریں۔ اس پر تمام حاضرین نے تردید قادیانیت کی اور حفاظت و اشاعت عقیدۂ ختم نبوت کا وعدہ کیا۔ اس اثناء میں معلوم ہوا کہ رانا بشارت احمد بھی اپنے جلسہ سے واپس آ گئے ہیں۔ انھیں پیغام بھجوا دیا چنانچہ وہ مسجد میں آگئے۔

قادیانی سے گفتگو کا آغاز: تعارف کے بعد، حضرت مولانا خدا بخش صاحب

صفحہ 152

خطیب اسلام کے کہنے پر مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے رانا بشارت احمد سے گفتگو کا آغاز کیا۔ آپ نے فرمایا کہ رانا صاحب ممکن ہے آپ کی جماعت کا کوئی مولوی صرف اور صرف اپنے پیٹ کے لیے کاروباری طور پر مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہو، یا مسلمانوں سے کوئی صاحب کاروبار کے طور پر آپ کی جماعت کی تردید کرتے ہوں لیکن میرا آپ کے متعلق خیال ہے کہ آپ نے کاروبار کے لیے پیشہ وارانہ طور پر نہیں بلکہ حق سمجھ کر مرزائیت کو قبول کیا ہوگا (رانا صاحب فرط مسرت سے سر ہلا کر کہنے لگے جی بالکل آپ نے صحیح فرمایا ہے۔ واقعہ میں احمدیت کو حق پر سمجھتا ہوں) مولانا نے فرمایا کہ بالکل اسی طرح میں قبر کو سامنے رکھ کر یوم جزاء وسزا کے مالک کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ہماری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بھی آپ کی جماعت مرزائیت کے عقائد و نظریات کی تردید، دین سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا، حضور علیہ السلام کی خوشنودی اور اپنی نجات سمجھ کر کرتی ہے۔ ہمارا بھی یہ کاروبار یا پیشہ نہیں (رانا صاحب نے کھسیانا ہو کر کہا جی صحیح ہے) مولانا نے فرمایا اس لیے میں آج کی محفل میں آپ سے درخواست گزار ہوں کہ آپ مہربانی کر کے یہ ارشاد فرمائیں کہ آپ کو مرزائیت میں کیا کیا خوبیاں نظر آئیں جس کی بنیاد پر آپ نے یہ مذہب قبول کیا اور میں دیانتداری سے آپ کو بتاؤں گا کہ مجھے کیا کیا عیوبات اور مکر و فریب قادیانیت میں نظر آئے جس کی بنیاد پر میں اس فرقۂ ضالہ کی تردید میں دن رات ایک کیے ہوئے ہوں۔ آپ قادیانیت کی خوبیاں بیان کر دیں، میں اس کے عیوبات اور قبائح آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ پھر میری بات آپ کی سمجھ میں آجائے تو آپ قبول فرمالیں۔ آپ کی بات میری سمجھ میں آگئی تو میں اس پر غور کروں گا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا کی اس تمہیدی گفتگو کے بعد جناب رانا بشارت احمد نے کہا کہ حضرت مولانا! میں نے احمدیت کو قبول اس لیے کیا ہے کہ مرزا قادیانی میرے نزدیک عاشق رسول تھے۔ احمدیت قبول کرنے سے مجھے فرقہ واریت سے نجات ملی اور تیسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے وقت کے مجدد و مہدی ہیں۔

حضرت مولانا اللہ وسایا کی جوابی تقریر: حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے جواباً فرمایا کہ رانا صاحب آپ کی تینوں باتوں سے مجھے نہ صرف شدید اختلاف ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے شاید اپنے مذہب کا صحیح معنی میں مطالعہ نہیں کیا یا آپ کو نہیں کرنے دیا گیا، یا آپ سے آپ کی جماعت کے بانی مرزا قادیانی کی کتب کو اوجھل رکھا

صفحہ 153

گیا ہے۔ اگر آپ دیانتداری سے ان کتابوں کو پڑھتے تو میری طرح آپ بھی اس نتیجہ پر پہنچتے کہ مرزا قادیانی نبی، رسول، مجدد تو درکنار ایک شریف انسان اور قابل اعتماد و اعتبار آدمی بھی نہ تھا۔ دیکھئے آپ نے تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ 1...... مرزا قادیانی عاشق رسول تھے۔ 2...... فرقہ واریت سے نجات ملی۔ 3...... وہ مجدد و مہدی تھے۔ اس وقت سردست میں پہلی بات کو لیتا ہوں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ (الف) مرزائیت کے قبول کرنے سے فرقہ واریت سے نجات ملتی ہے یا مرزا غلام احمد کے خود ماننے والے کس بری طرح فرقہ واریت کا شکار ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے پر نہ صرف زنا، شراب، لواطت، بددیانتی، اخلاق باختگی کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے پر کافر، منافق، بے دین کے فتوے بھی لگاتے ہیں۔ مرزائیت میں مذہبی و اخلاقی فرقہ واریت کی جو کیفیت ہے اس کی تو نظیر پیش نہیں کی جاسکتی (ب) باقی رہی یہ بات کہ وہ مجدد تھے یا مہدی بلکہ وہ تو اپنے لکھے کے مطابق نسل انسانی (آدم زاد) بھی نہ تھے۔ انسان کے تخم ہی نہ تھے۔ ہاں البتہ وہ اپنے کو انسان کی شرم والی جگہ (تعین خود کیجئے وہ کونسی جگہ ہوتی ہے) تھے وہ خود لکھتے ہیں کہ ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے، نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 97 خزائن ج 21 ص 127)

لیکن جناب رانا صاحب اس وقت میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا تاکہ وقت ضائع نہ ہو، آپ کی پہلی بات کہ ”مرزا قادیانی عاشق رسول تھے“ کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھئے رانا صاحب مجھے بحمدہ تعالیٰ مرزائیت کے لٹریچر کا بھرپور مطالعہ ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کائنات میں اگر کوئی انسان حضور سرور کائنات ﷺ کی توہین کرنے والا ہے تو وہ مرزا قادیانی ہے۔ میرے نزدیک وہ حضور ﷺ کا بدترین دشمن بلکہ معاف رکھیں، آپ ﷺ کا وہ بدزبان دشمن ہے۔ جتنی رحمت عالم ﷺ کی توہین مرزا قادیانی نے کی ہے، اس کرۂ ارض میں اور کسی بدبخت نے نہیں کی۔

جناب رانا صاحب نے مولانا کی تقریر کو درمیان میں ٹوک کر کہا، مولانا آپ تفصیل میں نہ جائیں بلکہ اس کی مثال پیش کریں کہ مرزا قادیانی واقعتاً حضور ﷺ کے گستاخ تھے۔ زیادہ تقریر سے کیا فائدہ۔

صفحہ 154

مولانا اللہ وسایا: نے اپنی گفتگو کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ رانا صاحب مجھے شدید صدمہ ہے کہ آپ نے میری بات کو پورا نہیں ہونے دیا۔ ورنہ آپ کا جو مطالبہ ہے کہ مرزا قادیانی کی کتب سے توہین حضرت سرور کائنات ﷺ کے حوالہ جات پیش کریں۔ میں وہ عرض کرنا چاہتا تھا مگر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔ آپ غصہ تھوک دیں۔ ٹھنڈے دل سے میری معروضات سنیں۔ میرا فرض ہے کہ میں آج اپنی ہر بات اور دعویٰ کا ثبوت پیش کروں۔

ان شاء اللہ العزیز ایسا ہی ہوگا آپ اطمینان فرمائیں۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ مرزا قادیانی نے حضور ﷺ کی توہین کی ہے اور اپنی کتاب خطبہ الہامیہ میں حضور ﷺ کی نبوت کے زمانہ کو پہلی رات کے چاند سے تشبیہ دی ہے اور اپنے زمانہ کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دی ہے۔

رانا صاحب نے پھر بات ٹوک کر کہا۔ مولانا یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ مولانا نے مسکرا کر فرمایا۔ رانا صاحب اطمینان رکھیں آپ پریشان کیوں ہو گئے وہ تو حضور ﷺ کے متعلق لکھتا ہے کہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ سور کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔

رانا صاحب نے استغفراللہ کہتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مولانا نے مسکرا کر کہا آپ کا یہ سوال غلط ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ یہ سوال مرزا قادیانی سے کریں کہ اس نے حضور ﷺ کی یہ توہین کیوں اور کس طرح کی؟ آپ تو مجھ سے یہ سوال کریں کہ یہ حوالہ ہے یا نہیں۔ اگر حوالہ ہے تو مرزا قادیانی مجرم۔ اگر حوالہ نہیں تو میں مجرم۔ رانا صاحب آپ کی جماعت کا عقیدہ ہے کہ ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

رانا صاحب نے کہا مولانا میری درخواست ہے کہ آپ حوالہ اگر لا کر دکھا دیں تو بات پھر بنے گی، مولانا نے فرمایا۔ رانا صاحب میں ایک بار نہیں ہزار بار آپ کے مطالبہ کو تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کو حوالہ جات لا کر دکھاؤں مگر میری ایک درخواست ہے کہ اگر میں حوالہ لا کر نہ دکھاؤں تو میری کیا سزا ہوگی؟ اور اگر حوالہ جات دکھا دوں تو ان

صفحہ 155

حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد آنجناب کا کیا ردعمل و رویہ ہوگا؟ دونوں باتوں کا میں آپ کو اختیار دیتا ہوں، آپ طے کر دیں پھر تحریر ہو جائے۔

رانا صاحب : نے فرمایا۔ مولانا تحریر کی کیا ضرورت ہے۔ یہ لوگ مجھے جانتے ہیں آپ ان حاضرین سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں ایک سال سے یہاں پر قیام پذیر ہوں۔ میرے سال بھر کے ریکارڈ سے یہ لوگ ثابت نہیں کر سکتے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہو۔ تحریر کی کیا ضرورت ہے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ حوالہ جات لا کر مجھے دکھا دیں تو میں قادیانیت سے تائب ہو کر غلام احمد کے جھوٹے ہونے کا اعلان کروں گا۔

مولانا اللہ وسایا نے کہا۔ رانا صاحب مجھے تو آپ کی یہ بات سن کر بجائے خوشی کے سخت صدمہ ہوا ہے کہ آپ ایسے انسان ہیں کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر افسوس، صدمہ اور دکھ کی میرے لیے بات یہ ہے کہ آپ مانتے ایسے آدمی کو ہیں جو ہر قدم پر جھوٹ بولتا تھا۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کائنات میں اگر جھوٹے لوگوں، کذاب انسانوں کا کنونشن بلایا جائے تو جھوٹوں کے عالمی چیمپیئن کا اعزاز مرزا قادیانی کو ملے گا۔

رانا صاحب نے پھر بات کاٹ کر کہا کہ وہ کیسے؟

مولانا نے فرمایا۔ رانا صاحب! مرزا قادیانی کے سینکڑوں جھوٹ ہوں گے مگر اس وقت ایک جھوٹ کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب شہادت القرآن میں لکھا ہے کہ آخری خلیفہ کے وقت آسمان سے آواز آئے گی۔ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی. لکھا ہے کہ یہ روایت بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ میں ہے۔ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ پوری بخاری شریف میں اگر یہ روایت دکھا دی جائے تو میں دس ہزار روپیہ انعام دینے کے لیے تیار ہوں۔ مگر میرا دعویٰ ہے کہ پوری کائنات کے مرزائی اکٹھے ہو کر بلکہ خود مرزا قادیانی اپنی قبر سے نکل کر بھی بخاری شریف سے یہ روایت نہیں دکھا سکتے۔ جناب مرزا قادیانی نے سفید جھوٹ بولا ہے۔ جسے اس کی جماعت کے زلہ خوار و وظیفہ خور مرزائی مبلغ سچا ثابت نہیں کر سکتے۔ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار. رانا صاحب اس کا ایک اور کرارہ جھوٹ بھی سنیے۔

رانا صاحب : نہ۔ نہ مولانا چلو آپ تحریر کریں۔

مولانا نے مسکرا کر فرمایا۔ بہت اچھا لائیے قلم دوات میں تحریر کرنے کے لیے تیار ہوں....... تمام حاضرین کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔ کاغذ قلم لانے کو ساتھی

صفحہ 156

اٹھے۔ مولانا نے پہلو بدلا۔ تیار ہوئے آپ کے پہلو میں ایک کتاب ’’وصال ابن مریم‘‘ مصنفہ مرزا طاہر احمد قادیانی پڑی تھی۔ آپ نے اسے ہٹانا چاہا تو پھر رانا صاحب نے فرمایا:

دلچسپ لطیفہ: مولانا آپ کتاب کو پیچھے کیوں دھکیل رہے ہیں۔ کیا آپ اس سے الرجک ہیں؟ مولانا پھر مسکرائے اور فرمایا رانا صاحب میں کتاب سے کیا الرجک ہوں۔

رانا صاحب: تو آپ اس کو دھکیلتے کیوں ہیں؟ پڑھتے کیوں نہیں۔

مولانا: رانا صاحب میں نے نہ صرف اس کتاب کو پڑھا ہے بلکہ اس کے مصنف کو اس کے باپ کو اور اس کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی پڑھا ہے۔ اگر فرمائیں اور طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو بیچارے مصنف کتاب ہذا تو درکنار اس کے بڑے صاحب یعنی جناب مرزا قادیانی کے متعلق اس کے اپنے لٹریچر سے سنیے۔ اس کے اپنے ایک مرید نے جو اس کو مسیح موعود اور ولی اللہ مانتا ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت مرزا قادیانی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے۔ پنجابی میں یعنی کبھی کبھی حضرت صاحب ڈگ لا لیندے سی گے۔

رانا صاحب نے فوراً کہا مولانا چھوڑیئے اس گفتگو کو۔ آپ اگر حوالہ جات دکھا دیں تو میں لکھ کر دیتا ہوں کہ میں مرزائیت کو چھوڑ دوں گا۔

مولانا: مجھے خوشی ہوگی۔

کاغذ قلم آتا ہے۔ مولانا تحریر کے لیے شروع ہوتے ہیں۔ فرماتے ہیں رانا صاحب آپ فرمائیں کہ کون کون سے حوالہ جات میں دکھاؤں تو آپ مسلمان ہو جائیں گے؟

رانا صاحب: مولانا آپ دکھا دیں کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہو کہ حضور ﷺ نعوذ باللہ سور کی چربی استعمال کرتے تھے۔ دوسرے وہ شعر کہ مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل ہیں۔ تیسرا کہ مرزا قادیانی جھوٹ بولتے تھے۔ چوتھا کہ وہ زنا کیا کرتے تھے۔

مولانا نے قلم پکڑا کاغذ سامنے رکھا اور فرمایا رانا صاحب اس کے علاوہ بھی اگر کوئی حوالہ ارشاد فرمائیں تو اس کا بھی میں تحریر میں ذکر کر دوں۔

رانا صاحب: نہ نہ مولانا یہ کافی ہیں۔

بہت اچھا (مولانا نے کہا۔)

مناظرہ کے لیے فریقین کی متفقہ تحریر کا متن

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ باعث تحریر آنکہ۔

صفحہ 157

اللہ وسایا ولد محمد رمضان مبلغ ختم نبوت اور جناب رانا بشارت احمد ولد رانا محمد ابراہیم نائب سٹیشن ماسٹر چک عبداللہ (مرزائی) کے درمیان آج 2/81۔ 25 کو مسجد اڈہ چک عبداللہ میں بیسیوں مسلمانوں کی موجودگی میں گفتگو ہوئی جس میں مندرجہ ذیل حوالہ جات پیش ہوئے۔

مکتوب ان کی اپنی جماعت کے رسالہ میں چھپا ہوا موجود ہے کہ حضور ﷺ نعوذ باللہ سور کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔

چھپا ہوا موجود ہے کہ

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

لائیں گے تو آسمان سے آواز آئے گی۔ هذا خليفة الله المهدی، یہ روایت بخاری شریف میں موجود ہے۔ مولوی اللہ وسایا نے دعویٰ کیا کہ یہ روایت ساری بخاری شریف میں موجود نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امام بخاری پر جھوٹ بولا ہے۔

موجود ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے۔

ان ہر چار حوالہ جات کو ثابت کرنا مولوی اللہ وسایا کے ذمہ ہے کہ یہ مندرجہ عبارتیں ان کے لٹریچر میں موجود ہیں۔ اس لٹریچر کی کتب کو ساتھ لانا بھی مولوی اللہ وسایا کے ذمہ ہے۔ رانا بشارت احمد نے اعلان کیا کہ اگر مجھے یہ حوالہ جات دکھا دیے جائیں تو میں احمدیت کو چھوڑ کر مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اعلان کر دوں گا۔ اگر فریقین میں سے کوئی (یعنی اللہ وسایا یا رانا بشارت احمد) نہ آئے تو اس فریق کی شکست تصور ہو گی اور وہ دوسرے فریق کو پانچ صد روپیہ دینے کے پابند ہوں گے۔

یہ حوالہ جات مسجد لاری اڈہ چک عبداللہ ضلع بہاولنگر میں مورخہ 9 مارچ 81ء بروز پیر بوقت 3 بجے دن بعد از ظہر پیش ہوں گے۔ یہ حوالہ جات جناب ماسٹر شفیق احمد انصاری ولد حاجی محمد بخش انصاری ماسٹر ہائی سکول چک سرکاری کو دکھائے جائیں گے۔ وہ پڑھ کر فیصلہ دیں گے کہ یہ حوالہ جات صحیح ہیں یا نہیں۔ ان کا فیصلہ ہر دو کے لیے قابل

صفحہ 158

قبول ہوگا۔ العبد اللہ وسایا بقلم خود العبد بشارت احمد رانا بقلم خود گواہ شد گواہ شد (مولانا) شہاب الدین چک مدرسہ (مولانا) فیض احمد محمد بشیر شفیق احمد

انتظار ۔ انتظار ۔ انتظار: اس تحریر کے بعد فریقین پرلطف اور خوشگوار محفل سے فارغ ہوئے۔ رانا صاحب سٹیشن پر تشریف لے گئے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا فیض احمد، مولانا عبدالغفور نے احباب کے ہمراہ نماز پڑھی۔ مولانا شہاب الدین نے نماز پڑھائی۔ اس تحریر و کامیابی پر تمام ساتھیوں کے دل مسرت سے اچھل رہے تھے۔ وہ خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے احقاق حق و ابطال باطل کے لیے موقع فراہم فرمایا ہے۔ مولانا اللہ وسایا اور مولانا خدا بخشؒ نے تمام احباب سے اجازت لی۔ 9 مارچ کو آنے کا وعدہ کیا اور چشتیاں ملتان کے سفر پر روانہ ہوئے، اب کیا تھا پورے ضلع بہاولنگر میں 9 مارچ کا انتظار ہونے لگا۔ تمام مدارس و مساجد میں 9 مارچ کو ہونے والے مناظرہ کے تذکرے ہونے لگے۔ اس خبر کو سن کر پورے ضلع کے مجاہدین ختم نبوت چک عبداللہ پہنچنے کے لیے انتظار کی گھڑیوں کو گننے لگ گئے۔

آج 9 مارچ ہے: اللہ رب العزت نے فضل فرمایا 9 مارچ 81ء آیا۔ بہاولنگر سے مولانا فیض احمد، مولانا عبدالحفیظ، مولانا قاری عبدالغفورؒ، مولانا سید بشیر حسین شاہ، مولانا قاری شریف احمد، مجاہد ختم نبوت صابر علیؒ، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد امیر جھنگویؒ عظیم الشان قافلہ کی قیادت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ فقیر والی، منچن آباد، ہارون آباد، چشتیاں سے قافلے آ رہے ہیں، وہاں کے جید علماء کرام قیادت فرما رہے ہیں۔ آج 9 مارچ ہے، صبح دس بجے ہی لاری اڈہ مسجد و سڑک پر انسانوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے ہوئے ہیں۔ ضلع بھر سے پچاس ساٹھ علماء کرام کی تشریف آوری سے عوام دل کی گہرائیوں سے تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد، اکابرین مجلس ختم نبوت زندہ باد، مبلغین ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے ہیں۔ لوگ وجد میں آ کر اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نام کے جلال سے در و دیوار کانپ اُٹھتے ہیں۔ یہ دیکھو کون ہیں انھیں مولانا فیض احمد بہاولنگری کہا جاتا ہے۔ یہ مجلس بہاولنگر کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

صفحہ 159

تقریر کے لیے تشریف لاتے ہیں، دو گھنٹے خطاب فرماتے ہیں، ان کے بعد باری باری ضلع بھر کے علماء کرام تشریف لا رہے ہیں۔ عوام موقع بموقع زندہ باد کے ایمان پرور نعروں سے مجمع کو سراپا غلغلہ بنا دیتے ہیں۔

مبلغین ختم نبوت کی آمد: عوام کی نظریں چشتیاں سے آنے والی بسوں پر لگی ہیں۔ آج وہاں سے ان کے محبوب مبلغین ختم نبوت نے تشریف لانا ہے۔ اسی اثناء میں یکدم بس رکتی ہے۔ نظریں اٹھتی ہیں۔ مبلغین کے چہروں پر پڑتی ہیں۔ زندہ باد کے فلک شگاف نعرے شروع ہو جاتے ہیں۔ مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا بس سے اپنے احباب سمیت اترتے ہی مسجد تشریف لے جا کر اعلان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھی خطیب اسلام مولانا خدا بخش، مبلغ اسلام مولانا قاضی اللہ یار خان اور خطیب اہل سنت مولانا قاری عبدالسلام اس مسجد میں چار بجے تک اعتکاف کی نیت سے قیام کریں گے۔ مولانا نے فرمایا ظہر کی نماز پڑھیے۔ نماز پڑھی جا رہی ہے۔ مسجد کا اندر و باہر کا صحن بھرا ہوا ہے۔ گلیوں میں شمالاً جنوباً دونوں سائیڈوں پر سڑک کی جانب صفیں ہی صفیں، نماز سے فارغ ہوتے ہی مولانا قاری عبدالغفور کی صدارت کا اعلان کیا جاتا ہے۔

حضرت مولانا ولی محمد صاحب: نے فرمایا میں آج سید عطا اللہ شاہ بخاری کی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام کی آمد کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میرے پیر قطب الاقطاب حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”ختم نبوت کا کام کرنے والی جماعت کے تمام مبلغین اور کارکن بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔“

مولانا قاضی اللہ یار خاں: مجلس کے مایہ ناز بزرگ رہنما حضرت مولانا قاضی اللہ یار خاں اپنی آمد کی غرض و غایت قادیانیوں کی اسلام دشمنی کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔

مولانا خدا بخش شجاع آبادی: ربوہ زون کے کنوینر خطیب اسلام مولانا خدا بخش شجاع آبادی اپنے ایمان پرور خطاب سے لوگوں کے دلوں میں جذبۂ عشق رسالت مآب ﷺ پیدا کرتے ہیں۔ عوام سامعین زار و قطار رو رہے ہیں اور حضور سرور کائنات ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے دن رات کام کرنے کا عہد کر رہے ہیں۔

مولانا قاری عبدالسلام حاصل پوری: یہ تنظیم اہلسنت کے مایہ ناز خطیب و رہنما اور مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولنگر کے مجاہد و بہادر عالم دین ہیں۔ خطبہ پڑھتے ہی اپنی

صفحہ 160

گرجدار آواز سے لوگوں کے دلوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ آپ کے جہاد آفریں بیان پر تین بج جاتے ہیں۔ یہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایثار و خلوص، محنت و دیانت کی مثالیں دے کر لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ دیکھئے آج کے دور میں جب تبلیغ مہنگی ہے۔ فقط ایک یہ جماعت ہے جہاں ضرورت پڑے اپنے جماعتی خرچ پر مبلغین و مناظرین کا اہتمام کرتی ہے۔ مجلس کا نہ صرف کراچی سے پشاور تک بلکہ پوری دنیا میں وعظ و تبلیغ لٹریچر و نشر و اشاعت کا مربوط نظام ہے۔

مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا: تین بج گئے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نعروں کی گونج میں سٹیج پر تشریف لاتے ہیں۔ قادیانیوں کا لٹریچر میز پر سلیقہ سے رکھا ہے۔ آپ مجاہد اسلام کی حیثیت سے کھڑے ہیں، گھڑی پر نظر ہے۔ پوچھتے ہیں کیا ٹائم ہے۔ آوازیں آتی ہیں جی سوا تین بج گئے ہیں۔ فرمایا رانا بشارت احمد کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی معززین ثالث کو لے کر اسے لینے کے لیے گئے ہیں۔ آپ مسکرا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ آج کے دن رانا بشارت احمد تو درکنار کوئی قادیانی ماں کا لال میرے سامنے نہیں آئے گا ؎

نہ خنجر اُٹھے گا، نہ تلوار اُن سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

لوگ مولانا اللہ وسایا زندہ باد، اسلام زندہ باد، مبلغین ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کرتے ہیں۔ حضرت مولانا خدا بخشؒ اٹھتے ہیں۔ اعلان کرتے ہیں کہ رانا بشارت احمد کے آنے تک میں اپنے بھائی مولانا اللہ وسایا کو حکم دیتا ہوں کہ وہ تقریر شروع کر دیں بیان جاری رکھیں، جب رانا صاحب آ جائیں گے تو گفتگو شروع ہو جائے گی۔ ٹھیک ہے ٹھیک ہے کی مجمع سے آوازیں آتی ہیں۔ مولانا اللہ وسایا تقریر شروع کرتے ہیں۔ ساڑھے تین بجے سے پونے پانچ بجے تک مولانا کی تقریر جاری رہتی ہے۔ مولانا کی تقریر کیا تھی۔ معلومات کا خزینہ تھی۔ حضور سرور کائنات ﷺ کا ذکر ہوتا لوگ جھوم اُٹھتے۔ صحابہ کرامؓ کا ذکر آتا عوام پھڑک اٹھتے۔ اہل بیتؓ کا ذکر آتا تو عوام میں محبت کی لہر دوڑ جاتی ہے، قادیانیوں کے عقائد و نظریات کا پوسٹ مارٹم ہوتا تو لوگ ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے، مرزائیت مردہ باد کے نعروں سے فلک جھوم اٹھتا، ابھی دیکھو وہ ایک دیوانہ اٹھا ہے۔ چشمِ پُرنم سے کہتا ہے لوگو ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ زور سے

صفحہ 161

لگاؤ، مجھے اس نعرے سے محمد عربی ﷺ کی خوشنودی و شفاعت کا استحقاق نظر آتا ہے۔ نعرہ لگاؤ جو مدینہ پہنچے محمد عربی ﷺ کے دربار میں پہنچے حضور ﷺ سن کر خوشی منائیں کہ آج میرے نام لیوا چک عبداللہ میں میرے ختم نبوت کے دشمنوں کے مقابلہ میں آ گئے ہیں۔ اب دیکھو ختم نبوت زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد، قاضی مرحوم زندہ باد، مجاہد ملت حضرت جالندھریؒ زندہ باد، مناظر اسلام مولانا لال حسینؒ زندہ باد، فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ زندہ باد، شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ زندہ باد، پیر طریقت مولانا خان محمد زندہ باد، مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ زندہ باد، مولانا قاضی اللہ یارؒ زندہ باد، مولانا خدا بخشؒ زندہ باد، اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے ایمان پرور نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ آج کی اس تقریب پر فرشتے بھی رشک کر رہے ہوں گے کہ کس طرح محمد عربی ﷺ کے دیوانے آپ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے میدان عمل میں آئے ہوئے ہیں۔

ٹیپ ریکارڈیں لگی ہوئی ہیں۔ مولانا اللہ وسایا بڑے تسلسل سے حوالہ پر حوالہ دیتے جا رہے ہیں۔ سی آئی ڈی والے کارروائی لکھ رہے ہیں۔ مولانا کی ایمان پرور تقریر کا سلسلہ جاری ہے۔ پونے پانچ بجنے کو ہیں۔ اطلاع ملتی ہے کہ رانا بشارت احمد اور مرزائیوں نے مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب کیا ہے۔ زندہ باد اور مردہ باد کے فلک شگاف ایمان پرور جہاد آفریں، حقائق افروز نعرے لگ رہے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا زندہ باد، مرزائیت مردہ باد ہو رہی ہے۔ مولانا اللہ وسایا لوگوں کو منفی نعروں سے روک رہے ہیں۔ ملک عزیز کی سلامتی و استحکام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے دعا کی اپیل کر رہے ہیں۔ علماء کرام مولانا کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔ مولانا قاضی اللہ یارؒ، مولانا خدا بخشؒ، قاری عبدالسلام، قاری عبدالغفور، مولانا فیض احمد کے چہرے عوام کی طرح خوشی سے دمک اٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو خوشی سے گلے مل رہے ہیں۔

مولانا اللہ وسایا اس کامیابی پر اللہ رب العزت کے حضور سر جھکائے کھڑے ہیں۔ آپ کی آواز رندھ گئی ہے۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

مولانا اللہ وسایا نے سر اٹھایا اور اعلان فرمایا حضرات خوش نصیبی کی بات ہے کہ اس اجلاس میں میرے اور رانا بشارت احمد کے متفقہ ثالث جناب ماسٹر شفیق احمد انصاری تشریف فرما ہیں۔ میں ان سے درخواست گزار ہوں کہ وہ سٹیج پر تشریف لائیں۔ حوالہ

صفحہ 162

جات دیکھیں اور فیصلہ لکھ کر دے دیں۔ ماشاء اللہ ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے، کی آوازیں زندہ باد کی صداؤں میں ماسٹر شفیق احمد صاحب تشریف لاتے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا تحریر پڑھ کر سناتے ہیں۔ پھر حسب تحریر حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ ایک ایک حوالہ پر جب ماسٹر شفیق احمد صاحب ٹھیک ہے، صحیح ہے، کا اعلان کرتے تو لوگوں کے جذبہ و ایمانی حرارت کی کیا کیفیت ہوتی وہ بیان سے باہر ہے۔ وہ میری پوری ہمت کے باوجود بھی تحریر سے بالاتر ہے۔ وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ مولانا پہلا حوالہ نکالتے ہیں: ماسٹر صاحب لیجئے یہ مرزائیوں کا اخبار الفضل ہے، قادیان سے چھپا ہے۔ تاریخ اشاعت 22 فروری 1924ء ہے صفحہ نمبر 9 پر مرزا قادیانی کا مکتوب ہے کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ سور کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔ ماسٹر صاحب آبدیدہ ہو کر اعلان کرتے ہیں لوگو حوالہ صحیح ہے، واقعی لکھا ہے، پڑھ کر سناتے ہیں۔ لوگ مرزا قادیانی پر لعنت لعنت کی آوازیں کستے ہیں، مولانا اللہ وسایا روک رہے ہیں۔ مولانا پھر دوسرا اخبار اٹھاتے ہیں حوالہ نکالتے ہیں لیجئے ماسٹر صاحب یہ اخبار بدر ہے قادیان سے چھپا ہے۔ تاریخ اشاعت 25 اکتوبر 1906ء ہے اس کے صفحہ 14 پر نظم ہے۔ یہ اس کے شعر ہیں پڑھ کر سنائیں۔ ماسٹر صاحب اخبار لیتے ہیں۔ حوالہ پڑھ کر سناتے ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

لوگو حوالہ صحیح ہے، مولانا اللہ وسایا صاحب مرزا غلام احمد کی کتاب شہادت القرآن اٹھاتے ہیں۔ صفحہ 41 کھول کر ماسٹر صاحب کو دکھاتے ہیں کہ یہ کتاب ربوہ کی چھپی مرزا کی لکھی ہوئی ہے۔ اس میں جس حدیث کا تذکرہ ہے وہ ھذا خلیفۃ الله المهدی والی حدیث ساری بخاری شریف میں موجود نہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ میں ہر اس قادیانی کو دس ہزار روپیہ انعام دینے کو تیار ہوں جو بخاری شریف سے یہ روایت مجھے دکھا دیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کے تمام قادیانی، مرزا قادیانی سمیت دس دفعہ ماں کے پیٹ سے بھی نکل کر آئیں تو پھر بھی میرے اس چیلنج کو قبول نہیں کر سکتے ...... لیجئے ماسٹر صاحب یہ چوتھا آخری حوالہ ہے اخبار الفضل ہے قادیان کا چھپا ہوا۔ تاریخ اشاعت 31 اگست 1938ء ہے اس کے صفحہ 6 پر مرزا قادیانی کے ایک مرید کا خط موجود ہے جو

صفحہ 163

یہ کہتا ہے کہ مرزا قادیانی کبھی کبھی زنا بھی کر لیا کرتے تھے۔ ماسٹر صاحب نے چوتھا اور آخری حوالہ پڑھا لوگ مولانا اللہ وسایا زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ماسٹر صاحب اعلان کرتے ہیں۔ حضرات آپ انتظار کریں۔ میں فیصلہ کا اعلان کرتا ہوں۔ کاغذ قلم لا کر سامنے رکھ دیا جاتا ہے ماسٹر صاحب موصوف درج ذیل فیصلہ فرماتے ہیں۔

اہل اسلام کی فتح اور قادیانیوں کی ذلت آمیز شکست کا اعلان

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آج 9 مارچ 81ء بروز پیر تین بجے دن مسجد لاری اڈہ چک عبداللہ ضلع بہاولنگر میں حسب تحریر وعدہ مولانا اللہ وسایا مبلغ ختم نبوت ربوہ، مولانا خدا بخش، مولانا قاضی محمد اللہ یار خان، مبلغین ختم نبوت کتابیں لے کر تشریف لائے مگر رانا بشارت احمد (فریق ثانی) مرزائی وعدہ تحریر کے باوجود نہ آئے۔ مولانا اللہ وسایا نے سینکڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں ہر چہار حوالہ جات دکھائے۔ میں نے ان کو تمام مسلمانوں کی موجودگی میں دیکھا پڑھا، حوالہ جات صحیح ہیں۔ مبلغین ختم نبوت کا موقف صحیح ہے رانا بشارت احمد نہ آنے کی وجہ سے پانچ صد روپیہ مبلغین ختم نبوت کو ادا کرے اور اپنے سابقہ وعدہ و تحریر کی بنا پر مرزائی مذہب سے بھی تائب ہو جائے۔ بہر حال مبلغین ختم نبوت کا موقف صحیح ہے۔ میں ان کی فتح اور رانا بشارت احمد قادیانی کی شکست کا اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مبلغین ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان مساعی کو قبول کرے۔

دستخط ثالث شفیق احمد انصاری بقلم خود 81ء-3-9 / 5 بجے شام اس دستاویز پر پچیس تیس گواہوں نے دستخط کیے۔

(رپورٹ: حافظ محمد حنیف ندیم)

صفحہ 164

مناظرہ چناب نگر

30 ستمبر 1982ء تقریبا صبح دس بجے کے قریب راقم (اللہ وسایا) اپنے دفتر مسلم کالونی چناب نگر میں بیٹھا مطالعہ کر رہا تھا کہ سامنے ایک سفید ریش، پگڑی باندھے، سفید کپڑے پہنے، سائیکل پر معمر آدمی آیا۔ اس کی وضع قطع دیکھ کر میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص قادیانی ہے۔

اس نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اٹھ کر خیر مقدم کیا۔ ان کا سائیکل لے کر سائے میں رکھا۔ وہ دفتر کے کمرہ میں تشریف لائے۔ ان کے لیے میں نے سفید چادر بچھانا چاہی۔ اصرار سے انھوں نے روک دیا، بیٹھ گئے۔ خیر خیریت کے بعد وہ گویا ہوئے کہ مجھے روشن دین کہتے ہیں۔ میں کوئٹہ میں جماعت احمدیہ کا مربی رہا ہوں۔ عرصہ سے میں جماعت کی تبلیغی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ اب میری ڈیوٹی خلیفہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں لگ گئی ہے۔ ربوہ (چناب نگر) میں سیر و سیاحت کے ارادے سے نکلا تھا۔ آپ کے لیے یہ مٹھائی لایا ہوں۔ قبول فرمائیں۔ آپ سے مجھے مل کر خوشی ہوئی۔ راقم نے بھی جوابا ان کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا، ان کی زحمت فرمائی پر دل و نگاہ بچھا دیے۔ مگر مٹھائی لینے پر معذرت کی۔ انھوں نے اصرار کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ اپنی جماعت کے اصول و ضوابط کے پابند ہیں۔ میں اپنی جماعت کے اصول و ضوابط کا پابند ہوں۔ میری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کی ربوہ (چناب نگر) کے محاذ پر کام کرنے والے مبلغین و کارکنوں کو ہدایت ہے کہ وہ آپ حضرات کا کوئی تحفہ، ہدیہ قبول نہ کریں۔ اس پر وہ گویا ہوئے۔

روشن دین قادیانی: مولانا آپ کے یہاں پر کھانے کا کیا انتظام ہے؟

صفحہ 165

راقم: ہمارے مدرسہ ختم نبوت میں جہاں آپ تشریف رکھتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے لنگر قائم کیا ہوا ہے۔ باورچی ہے جو اساتذہ، مبلغین، طالب علموں و مہمانوں کا کھانا صبح و شام تیار کرتا ہے۔ جملہ مصارف مجلس خود برداشت کرتی ہے۔

روشن دین قادیانی: مولانا یہاں ربوہ (چناب نگر) میں ہماری جماعت نے کھانا کھلانے کے لیے وسیع لنگر کا انتظام کیا ہوا ہے۔ آپ مسافر ہیں، ضرورت ہو تو وہاں سے آپ کھانے کی تکلیف کر لیا کریں۔

راقم: مکرم آپ بزرگ سفید ریش ہیں، میرے قابل احترام ہیں۔ آپ ایسی بات نہ کریں جس سے مجھے تکلیف پہنچے، میں نے عرض کیا ہے کہ نہ صرف میرے بلکہ جملہ مبلغین، مدرسین، طلباء کرام اور مہمانوں کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت نے لنگر کا یہاں پر انتظام کر رکھا ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کسی کے دروازہ پر جانے کی۔ اگر آپ برا نہ منائیں تو آپ پہلے آدمی ہیں جن کو یہ جرات ہوئی ہے جو مرزائیوں کے لنگر سے کھانے کی ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ آپ میرے جذبات کا خیال رکھیں۔ ایسی گفتگو نہ فرمائیں جس سے تلخی ہو۔

روشن دین قادیانی: مولانا ایک ہوتے ہیں عقائد، ایک ہوتے ہیں معاملات۔ آپ کا ہمارا عقائد کا اختلاف ہے۔ معاملات میں تو باہمی پیار و محبت کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ اس لیے میں اپنے موقف پر قائم ہوں۔

راقم: مکرمی میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ اس تلخ موضوع کو چھیڑیں۔ آپ میری درخواست کے علی الرغم اگر مصر ہیں تو سنیئے کہ مجھے آپ حضرات کے عقائد و معاملات دونوں سے اختلاف ہے، اور یہ ہو بھی سکتا ہے کوئی ایسی بعید بات نہیں بلکہ بسا اوقات عقیدہ میں متفق و متحد ہوتے ہوئے بھی انسان معاملات میں مختلف ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید ہم عقیدہ و ہم مشرب خواجہ کمال الدین، سرور شاہ، مولوی محمد علی تھے۔ تینوں مرزا قادیانی کے مرید با صفا تھے مگر مرزا قادیانی کے معاملات پر ان کو نہ صرف اختلاف تھا بلکہ وہ شاکی تھے کہ چندہ کی رقم جو لنگر کے لیے جاتی ہے مرزا کی بیوی اس سے زیورات بنواتی ہے۔

(کشف الاختلاف از سرور شاہ قادیانی ص 13، 14)

صفحہ 166

یہ گفتگو قادیانی جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ آپ انکار نہیں کریں گے۔ اگر انکار فرمائیں تو حوالہ میرے ذمہ، تو میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی عقیدہ میں متحد، معاملات میں مختلف ہو سکتا ہے جبکہ میری پوزیشن یہ ہے کہ عقیدہ و معاملات میں مجھے آپ حضرات کے رویہ پر اعتراض ہے۔

روشن دین قادیانی: مولانا آپ نے خواجہ کمال الدین، مولوی محمد علی کے مرزا قادیانی کی ذات پر اعتراض کا ذکر کیا تو دیکھئے عیسائی حضور ﷺ کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں۔

راقم: جناب مکرم، آپ تمام گفتگو میں یہ خیال رکھیں کہ حضور ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا تقابل نہ کریں۔ میں اسے سُوء ادبی سمجھتا ہوں۔ اس کا بطور خاص خیال رکھیے گا۔ نمبر 2...... جہاں تک اعتراض کا تعلق ہے تو عیسائی حضور ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین جو آپ ﷺ کے جان نثار تھے وہ تو اعتراض نہیں کرتے مگر یہاں تو الٹی گنگا ہے کہ:

مرزا غلام احمد قادیانی پر کوئی مسلمان یا عیسائی فریق نہیں بلکہ اس کے اپنے جان نثار و فدا کار معترض ہیں کہ ان کی زندگی فقر و فاقہ کی نہیں، شاہانہ و عیاشانہ ہے تو آپ عیسائیوں اور مولوی محمد علی، خواجہ کمال الدین کو ایک لاٹھی سے کیوں ہانک رہے ہیں؟

روشن دین مرزائی: مولانا اچھا آپ کی مرضی، نہ کھائیں کھانا ہمارے لنگر سے۔

راقم: میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ آپ اس موضوع کو نہ چھیڑیں۔

راقم: کوئی گفتگو علمی ہونی چاہیے۔

روشن دین: ٹھیک ہے ضرور میرا خیال بھی یہی ہے۔

راقم: خیال نہیں بلکہ پروگرام و مقصد آمد بھی یہی ہے۔

روشن دین ہنس کر آپ ٹھیک کہتے ہوں گے تو گفتگو میں قرآن مجید سے حوالہ جات پیش ہوں۔

راقم: مکرمی مجھے خوشی ہے مگر آپ اتنا ارشاد فرمائیں کہ جس طرح قرآن مجید اور احادیث صحیحہ ہمارے لیے قابل قبول علی الرأس والعین، مرزا غلام احمد کی کتب و تحریرات

صفحہ 167

آپ کے لیے قابل قبول ہونی چاہئیں۔ قرآن مجید و احادیث سے آپ مجھے ملزم کریں۔ مرزا قادیانی کی تحریرات سے میں آپ کو ملزم کروں گا۔ آپ مرزا قادیانی کی کتب سے جان نہ چھڑائیں۔ میرے نبی ﷺ کا فرمان میرے لیے سر آنکھوں پر، مرزا قادیانی کی کتب آپ کے لیے۔

روشن دین مرزائی: مولانا صرف قرآن مجید، آپ یوں سمجھئے کہ میں صرف قرآن مجید کو ہی مانتا ہوں۔

راقم: مجھے انتہائی خوشی ہوگی۔ میں قرآن مجید سے ہزار بار آپ سے گفتگو کروں گا مگر آپ لکھ دیں کہ میں مرزا قادیانی کی تحریرات کو نہیں مانتا، یا ان کی تحریرات غلط ہیں تا کہ صرف قرآن مجید سے گفتگو ہو سکے۔

نوٹ: یاد رہے اس موقع پر موجود ایک ساتھی نے کہہ دیا کہ جناب مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام ص 76 خزائن ج 3 ص 140 کہا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان قرآن مجید نصف کے قریب صفحے کے دائیں جانب لکھا ہوا ہے، وہ کہاں ہے؟ قرآن مجید میں لاتا ہوں۔ آپ روشن دین صاحب مجھے نکال دیں۔

روشن دین مرزائی: وہ تو کشف یا خواب کی بات ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

راقم: تو جناب روشن دین صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کا دینی طور پر مستقبل بھی روشن کرے۔ آپ یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا کشف صحیح تھا یا غلط؟ اگر صحیح تھا تو قرآن مجید حاضر ہے۔ آپ انا انزلنا قریباً من القادیان نکال کر دکھا دیں یا اعتراف کریں کہ مرزا قادیانی کے کشف کا حقیقت سے تعلق نہیں جیسا کہ آپ نے ابھی فرمایا مگر یہ لکھ بھی دیں۔

روشن دین مرزائی: چھوڑیئے اگر آپ بحث علمی نہیں کرنا چاہتے تو میں چلتا ہوں۔

راقم: جناب کیوں اتنی خوشی و تمناؤں سے آئے، اتنی جلدی بھاگم بھاگ، آپ تشریف رکھیں اگر آپ کو یہ گفتگو پسند نہیں تو جو آپ کی پسند۔

روشن دین قادیانی: دیکھئے حضور ﷺ سب سے افضل و اعلیٰ ہیں۔

راقم: معاف رکھیں، میں آپ کی بات درمیان سے کاٹ رہا ہوں۔ کیا کوئی شخص

صفحہ 168

حضور ﷺ سے شان میں بڑھ سکتا ہے؟

روشن دین قادیانی: توبہ توبہ، معاذ اللہ، یہ تصور بھی نہیں ہو سکتا۔

راقم: تو ان شعروں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کہ ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے، قادیان میں

(اخبار بدر قادیاں نمبر 43 ج 2 ص 14۔ 25 اکتوبر 1906ء)

ان اشعار میں اکمل قادیانی نے مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور ﷺ سے افضل و اعلیٰ اور شان میں بڑھ کر کہا ہے۔ کیا اس سے حضور ﷺ کی توہین نہیں ہوئی؟ آپ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سے شان میں کوئی نہیں بڑھ سکتا۔ مگر آپ کی جماعت کا شاعر کہتا ہے کہ غلام احمد، حضور ﷺ سے بڑھ کر ہے تو آپ صحیح کہتے ہیں یا آپ کی جماعت کا اکمل قادیانی؟ ایک صحیح، ایک غلط، صحیح کون ہے غلط کون، فیصلہ فرمائیں؟

روشن دین قادیانی: مولانا۔ آپ تو محض اعتراض کرتے ہیں۔ ہماری جماعت کے دوسرے سربراہ جناب بشیر الدین محمود احمد نے صاف کہا ہے کہ یہ شعر غلط ہیں۔ ان سے واقعۃً حضور ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے، یہ غلط ہیں۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

(احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک ص 208)

راقم: جناب دیکھئے کہ بشیر الدین محمود صاحب نے تو کہا کہ یہ شعر غلط ہیں مگر اکمل شاعر کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حضور میں نے یہ شعر پڑھے، مرزا قادیانی نے تحسین کی۔ مجھے جزاک اللہ کہا۔ ان شعروں کو جو خوبصورت قطعہ کی شکل میں لکھے ہوئے تھے، وہ گھر میں لے گئے۔ (الفضل قادیان 22 اگست 1944ء ج 32 نمبر 196 ص 4)

بیٹا بشیر الدین کہے شعر غلط، باپ غلام احمد کہے جزاک اللہ اور کرے تحسین، تو اب آپ فرمائیں کہ باپ غلط یا بیٹا غلط، کون صحیح، کون غلط؟ ایک شاعر، ایک شعر، اس کی باپ کرے تحسین، بیٹا کرے تغلیط، تو صحیح کون غلط کون؟ وضاحت فرمائیے۔

روشن دین قادیانی: مولانا آپ حوالہ دیں کہ مرزا قادیانی نے کہاں تحسین کی ہے۔

صفحہ 169

راقم: فقیر ہزار بار حوالہ دکھانے کا پابند ہے مگر آپ لکھ کر دے دیں کہ اگر حوالہ دکھا دوں تو آپ باپ بیٹے میں سے کس کو صحیح اور کس کو غلط فرمائیں گے۔

روشن دین قادیانی: دیکھئے مولانا آپ حوالہ دکھائیں تو سہی۔

راقم: جناب فقیر حوالہ کا پابند ہے مگر آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ وہ لکھوا دیں۔

روشن دین قادیانی: مولانا حوالہ ہے نہیں۔

راقم: بالکل صحیح۔ اگر حوالہ نہ دکھا سکوں تو میری سزا تجویز کر دیں۔ میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔ سزا تجویز کرنے کا بھی آپ کو اختیار دیتا ہوں۔ اگر حوالہ دکھا دوں آپ بشیر الدین اور غلام احمد سے کس کو غلط، کس کو صحیح فرمائیں گے؟ وہ آپ لکھ دیں۔

وہ لکھنے پر قطعاً آمادہ نہ ہوئے، ہزار جتن کیے مگر وہ نہ مانا۔ گدی کھجلائے، سر ہلائے، ہاتھ پاؤں مارے، ناک بھوں چڑھائے، مگر حوالے دیکھنے کے بعد ردعمل کیا ہوگا کی تحریر پر آمادہ نہ ہوا۔ فقیر کی آواز قدرتاً بلند ہے، آہستہ سے آہستہ گفتگو بھی دور تک سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ کڑاکم کڑاک آواز خوبی ہے تو قدرت کا عطیہ، اگر عیب ہے تو فہو منی، میری آواز سن کر حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب ظفر بھی اپنے گھر سے آگئے۔ راقم نے پوری تفصیل عرض کی۔ مولانا نے از راہِ انصاف مکرم روشن دین صاحب سے فرمایا کہ بات صحیح ہے حوالہ نہ دکھا سکیں تو مولانا کی سزا اور اگر دکھا دیں تو آپ کا ردعمل تحریر ہو جائے مگر وہ صاحب نہ مانے۔ گم صم بنے بیٹھے رہے۔ راقم کا جب اصرار ہوا تو وہ بولے۔

روشن دین قادیانی: دیکھئے ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق.......

راقم: میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود نہ کہیں اور نہ ہی علیہ السلام۔

روشن دین قادیانی: تنگ نظری کی انتہا ہے۔ میرا عقیدہ ہے، آپ کیوں روکتے ہیں؟

راقم: میری تنگ نظری نہیں، آپ کا بھلا اسی میں ہے۔

روشن دین قادیانی: تو مجھے اپنے عقیدہ کا برملا اظہار کرنے دیں کہ مرزا قادیانی، مسیح موعود علیہ السلام تھے۔

راقم: جناب اگر آپ کو اپنے عقیدہ کے اظہار کا حق حاصل ہے، تو کیا آپ مجھے بھی

صفحہ 170

آپ میرے عقیدہ کے اظہار کا حق دیتے ہیں؟

روشن دین قادیانی: بالکل کیوں نہیں۔

راقم: میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ الفاظ کہوں مگر آپ نے مجبور کر دیا تو آپ کے نزدیک مرزا قادیانی مسیح موعود، میرے نزدیک دجال۔ آپ کے نزدیک مرزا قادیانی علیہ السلام میرے نزدیک مستحق لعنت و نفرین ہیں۔ اب آپ اپنے عقیدہ کا اظہار کریں۔ میں اپنے عقیدہ کا۔ اب آپ کو ناگوار نہ گزرے، دونوں اپنے اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے رہیں۔ میں یہ نہیں چاہتا تھا، یہ آپ نے مجبوراً مجھ سے کہلوایا ہے۔

روشن دین قادیانی: جو کسی پر لعنت کرے وہ کہنے والے پر پڑتی ہے۔

راقم: مجھے آپ کا یہ اصول بھی قابل قبول۔ میں نے کہا ایک دفعہ لعنتی۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہزار بار، لفظ لعنت، لعنت لعنت لعنت کی گردان نور الحق ص 158 تا 162 خزائن ج 8 ص ایضاً تو وہ ہزار بار لعنتی، ناراض نہ ہوں یہ شخصیت پر اعتراض نہیں، اس کی تحریر موجود ہے وہ اپنی تحریر کی زد سے اب جانچے پرکھے، ناپے تولے، کریدے کھودے جا رہے ہیں۔

روشن دین قادیانی: آپ کی تنگ نظری کا تو یہ عالم ہے کہ آپ ہمیں مرزائی کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم احمدی ہیں۔

راقم: ناراض نہ ہوں کہ یہ آپ کی جماعت کے متعلق مرزائی کا لفظ، ہم مسلمانوں نے نہیں بلکہ آپ نے خود تجویز کیا ہے۔

روشن دین قادیانی: جھوٹ کی انتہا ہوگئی۔

راقم: نہیں سچ کی ابتداء ہے کہ آپ کے مرزا قادیانی کی زندگی میں، قادیان میں آپ کی جماعت کا سالانہ جلسہ ہوا۔ آپ کا مرزا، آپ کا قادیان، آپ کا سالانہ جلسہ، آپ کا شاعر، آپ کا شعر، آپ کے سامعین، آپ کا مولوی محمد علی ایم اے۔ اس کے متعلق شاعر نے کہا۔ شعر ؎

کیا جس نے راز طشت از بام عیسائیت کا
یہی وہ ہیں یہی وہ ہیں یہی ہیں پکے مرزائی

(اخبار بدر قادیان 17 جنوری 1907ء)

صفحہ 171

مرزا قادیانی کے زمانہ میں مرزا قادیانی کے قادیان میں مرزا قادیانی کے جلسہ پر مرزا قادیانی کے مرید نے اپنی جماعت کے متعلق مرزائی پکے مرزائی، پکے مرزائی کا لفظ کا استعمال کیا، مرزا قادیانی آپ کی جماعت نے آج تک ان شعروں پر اعتراض نہ کیا تو یہ میرا قصور نہیں، آپ کی جماعت کا یہ پسندیدہ نام ہے۔ گھبرائیں نہ، میں حکیم نورالدین کا بھی حوالہ پیش کر دوں۔ وہ بھی کہتے ہیں۔ (میں اور اکثر عقلمند مرزائی.....) (کلمۃ الفصل ص 153)

روشن دین قادیانی: نا۔ نا۔ نا مولانا بس مجھے اجازت، میں پھر حاضر ہوں گا۔ راقم: آپ کی مرضی اگر جانا چاہیں تو بخوشی جا سکتے ہیں۔ آپ کو میں پابند نہیں کر سکتا مگر کنری ضلع میرپور خاص سندھ کی ایک بات سن لیں۔

روشن دین قادیانی: نہ۔ نہ۔ نہ مجھے اجازت، یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ راقم نے مٹھائی کا لفافہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ انھوں نے کہا کہ اچھا آپ نہ رکھیں کسی کو دے دیں۔ فقیر نے عرض کیا کہ مرزائی جماعت میں اس کے بے شمار غریب لوگ مستحق موجود ہیں، ان کو آپ اپنے ہاتھوں سے دے دیں۔

روشن دین قادیانی: اچھا جی۔ اجازت۔

راقم: ٹھیک ہے۔ راقم سائیکل اٹھا کر سڑک پر لے گیا۔ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب ظفر بھی ہمراہ الوداع کہنے کے لیے گئے۔ جاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جی میں پھر حاضر ہوں گا۔ راقم نے عرض کیا کہ میں آپ کے لیے سراپا انتظار ہوں۔ مگر راقم کا وجدان کہتا ہے کہ سینکڑوں مرزائی مبلغین یہ وعدہ کر کے گئے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ ان کی بھی حالت یہی ہوگی۔ خدا کرے آ جائیں۔ اگر تشریف لائیں گے تو بخاری کے خدام پھر بھی حاضر خدمت پائیں گے۔ ان کو رخصت کر کے آئے تو مولانا عبدالرحمن صاحب ظفر نے فرمایا کہ وہ کنری کا آپ کیا واقعہ سنانا چاہتے تھے جو انھوں نے نہ سنا۔

فقیر نے عرض کیا کہ ہوا یوں کہ آج سے برسوں پہلے کنری سندھ میں ایک مسلمان لوہار کی دکان پر ایک مرزائی آ گیا۔ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی مدح و توصیف شروع کر دی اور کہا کہ مرزا قادیانی تمام نبیوں کا سردار تھا۔ مسلمان لوہار دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کرتا رہا۔ جب مرزائی مبلغ کی تبلیغ کرتے کرتے منہ میں جھاگ تیرنے لگی تو مسلمان نے کلہاڑی لہرا کر مرزا قادیانی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مرزائی

صفحہ 172

سے مطالبہ کیا کہ جو گالیاں مرزا قادیانی کو میں نے دیں ہیں، تم بھی دہراتے چلو تا کہ سبق یاد ہو جائے۔ مرزائی ڈر کے مارے گفتنی و نا گفتنی ان گالیوں کی گردان مرزا قادیانی کو سنانے میں مسلمان لوہار سے بھی چند قدم آگے۔

اب مسلمان نے وہ تیز دھار کلہاڑی مرزائی کے ہاتھ تھما دی اور گردن جھکا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ مجھ سے یہ مطالبہ کریں کہ میں نعوذ باللہ حضور ﷺ کی توہین کروں ورنہ کلہاڑی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کہہ کر لوہار رو پڑا کہ میں مر جاؤں گا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہونا قبول کر لوں گا لیکن حضور ﷺ کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ مرزائی مبلغ صاحب آپ کے اور ہمارے سچے جھوٹے ہونے کی یہی دلیل ہے۔ سچے ہی کی توہین ناقابل برداشت، جھوٹے کی جتنی توہین کیے جاؤ، اس جھوٹے کے ماننے والوں پر اس کا اثر نہ ہوگا۔

قارئین کی دلچسپی و معلومات کے لیے وہ حوالے نقل کر دیتا ہوں جو روشن دین نے تطویل کے خوف سے دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ اکمل کے شعر اخبار بدر قادیان شمارہ نمبر 43 جلد نمبر 2 تاریخ 25 اکتوبر 1906ء میں ہے۔ اخبار دفتر ختم نبوت ملتان میں اصل موجود ہے۔ ان شعروں کو غلط کہنے کی تفصیل قاضی نذیر مرزائی کی احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک میں بشیر الدین محمود کا انکار اور ان اشعار سے اظہار لاتعلقی اس میں موجود ہے، جبکہ ان اشعار کی تحسین، اور تعریف از مرزا غلام احمد قادیانی اخبار الفضل قادیان مورخہ 22 اگست 1944ء جلد 32 شمارہ 196 میں دیکھی جا سکتی ہے یہ اخبار بھی اصل دفتر ختم نبوت ملتان میں موجود ہے۔ اب مرزائی احباب بھی ہر سہ حوالہ جات دیکھ کر فیصلہ کر لیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین میں سے کون جھوٹا تھا اس لیے کہ مرزا قادیانی ان شعروں کو صحیح کہتا ہے۔ بیٹا غلط۔ کیا انصاف پسند مرزائی اس کی وضاحت کریں گے۔ تا قیام قیامت مرزائی حضرات پر میرا یہ قرض ہے۔ الیس منکم رجل رشید۔

۞......۞......۞

صفحہ 173

مناظرہ جناح کالونی فیصل آباد

”یہ مناظرہ دو مجلسوں میں حافظ محمد حنیف (ندیم سہارنپوری) اور فیصل آباد کے مشہور مرزائی مبلغ اکرام صاحب کے درمیان ہوا۔ یہ صاحب مرزائیوں کی نام نہاد عبادت گاہ جو امین پور بازار میں ہے، اس کے متولی محمد یوسف کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ پہلی نشست جمعہ 2 دسمبر 1983ء بعد نماز عصر طاہر صاحب کے مکان پر اور دوسری نشست مراد کلاتھ ہاؤس والے مشہور مرزائیوں کی کوٹھی پر ہوئی۔ دوسری نشست میں مولانا اللہ وسایا صاحب بھی شریک ہوئے۔ ذیل میں اس مناظرہ کی مکمل روداد پیش خدمت ہے۔“

محمد طاہر صاحب جناح کالونی کے ایک مسلمان نوجوان ہیں۔ ان کی ایک مرزائی نوجوان سے دوستی اور تعلقات تھے۔ طاہر صاحب نے ایک دن باتوں باتوں میں اپنے دوست کو کہا کہ آپ مرزائیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ مرزائی نوجوان نے کہا میں ضرور سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ ان سے ایک مجلس میں گفتگو کا طے ہو گیا۔

طاہر صاحب نے حضرت مولانا تاج محمود صاحب سے فون پر رابطہ قائم کر کے صورت حال ان کے سامنے رکھی۔ مولانا نے اسے کہا کہ آپ اس نوجوان کو لے کر آ جائیں۔ حافظ محمد حنیف یہاں موجود ہیں، وہ گفتگو کریں گے اور اس نوجوان کو سمجھائیں گے۔ مولانا نے حافظ صاحب کو بتا دیا تھا کہ دو نوجوان آ رہے ہیں۔ آپ ان سے گفتگو کریں۔ وہ یہاں انتظار کرتے رہے۔ لیکن وہ اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے یہاں نہ آ سکے۔ اس کے بعد جمعہ 2 دسمبر کو طاہر صاحب مرزائی نوجوان سے گفتگو کا وقت طے کر کے آئے۔ ان کے ساتھ بخاری مسجد جناح کالونی کے خطیب مولانا محمد یونس صاحب بھی تھے۔ حافظ صاحب کے بارے میں پوچھا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ ہر چند حافظ صاحب نے

صفحہ 174

اصرار کیا کہ کوئی اور وقت مقرر کر لیں۔ اس دوران میں کچھ کتابیں بھی ربوہ سے منگوا لوں گا لیکن چونکہ وقت طے تھا اس لیے انکار پر ان کا اصرار غالب آ گیا اور حافظ صاحب ان کے ساتھ چلے گئے۔

نماز عصر کے بعد وہاں پہنچے۔ تھوڑی دیر بعد مرزائی نوجوان بھی آ گئے۔ ان کے ہمراہ مرزائی جماعت فیصل آباد کے ایک سرکردہ رہنما اکرام صاحب بھی تھے۔ ان کے پہنچنے پر مرزائی دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے حافظ صاحب نے سلسلۂ کلام یوں شروع کیا۔

حافظ محمد حنیف: مجھے خوشی ہے آپ تشریف لائے۔ گفتگو شروع کرنے سے پہلے میری آپ سے گزارش ہے کہ میں اور میرے تمام دوست مسلمان اور محمدی ہیں۔ اگر ہمیں کسی کافر، مشرک، عیسائی وغیرہ کو تبلیغ کا موقع ملے گا تو ہم اس کے سامنے سرکارِ دو عالم ﷺ کی خوبیاں، کمالات اور اپنے سچے مذہب اسلام کی صداقت اور حقانیت کو واضح کریں گے۔ یہ نہیں کہ اس کو ہم یہ تو بتا دیں کہ ہم محمدی ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام ہے۔ اور بحث ہم شروع کر دیں حضرت موسیٰ ؑ کی کہ حضرت موسیٰ ؑ خدا کے پیغمبر تھے یا نہیں تھے۔ اسی طرح اگر کوئی عیسائی ہمارے پاس آتا ہے اور ہمیں تبلیغ کرتا ہے تو وہ بھی حضرت عیسیٰ ؑ سے کسی پہلے نبی پر گفتگو نہیں کرے گا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی خوبیاں اپنے مذہب کے مطابق پیش کرے گا۔ اسی طرح آپ لوگ (مرزائی) ہمیں دعوت تو یہ دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھا۔ یہ تھا، وہ تھا اور جھگڑا شروع کر دیں حضرت عیسیٰ ؑ کا ...... یہ گفتگو خلاف اصول اور خلاف ضابطہ ہے۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔ ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ ان میں کیا کیا خامیاں تھیں۔ ان کا کردار کیسا تھا۔ اخلاق کیسا تھا، وغیرہ وغیرہ۔

کسی باقاعدہ اور باضابطہ گفتگو سے پہلے ہمیں یہ موضوع متعین کرنا ہوگا کہ ہم فلاں موضوع پر گفتگو کریں گے۔

اکرام مرزائی: مولوی صاحب! ہمارا اور آپ کا اختلاف یہ ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ مانتے ہیں اور یہ قرآن کے خلاف ہے اور ہم نے گفتگو حیات و وفات عیسیٰ کے موضوع پر کرنی ہے اور میرا یہ دعویٰ ہے کہ آپ اس موضوع کی طرف نہیں آئیں گے۔

حافظ محمد حنیف: یہ آپ نے کیسے دعویٰ کر لیا کہ میں حیات عیسیٰ ؑ کی طرف نہیں

صفحہ 175

آؤں گا۔ میں اس موضوع پر ضرور گفتگو کروں گا لیکن پہلے موضوع کے تعین پر گفتگو ہو جائے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو مار کر بھی آپ نے یہی کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھا اس لیے کیوں نہ ہم پہلے ہی مرزا صاحب کی ذات پر گفتگو کر لیں، جس شخص نے سرکار دو عالم ﷺ کی مسند ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے اور امت میں انتشار پیدا کیا ہے، اس ذات پر کیوں بحث نہ کی جائے؟

مرزائی: دیکھا! میں کہتا تھا کہ حیات عیسیٰ پر گفتگو نہیں کریں گے، آپ اس کا ثبوت ہی نہیں دے سکتے کہ عیسیٰ زندہ ہے اور وہی عیسیٰ نازل ہوگا۔ کیا آپ قرآن میں دکھا سکتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ آسمان پر اٹھا لیے گئے؟

حافظ صاحب: اگرچہ ہمارا موضوع طے نہیں ہے اور آئندہ گفتگو کے لیے موضوع کا تعین کیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی میں یہ واضح کرتا چلوں کہ قرآن کی آیت:

”وما قتلوه يقيناً ۝ بل رفعه الله اليه و كان الله عزيزاً حكيماً.“

(النساء: 157، 158)

جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو یقیناً قتل نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ یعنی یہودی عیسیٰ ؑ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی عیسیٰ پیغمبر خدا کو اوپر اٹھا لیا جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے۔ رہی یہ بات اس میں آسمان کا ذکر کہاں ہے؟ تو اس سلسلہ میں میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ اگر میں آپ کو تفسیروں کے حوالے دوں تو آپ ان کا انکار کر دیں گے اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کو حدیث رسول اللہ ﷺ کی طرف لے چلوں کیونکہ قرآن میں ایک مسئلہ اجمالی رنگ میں بیان ہوا اور حدیث رسول اللہ ﷺ نے اسے تفصیل سے بیان کر دیا مثلاً حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے۔ ابھی حافظ صاحب یہیں تک پہنچے تھے کہ مرزائی اکرام درمیان میں بول پڑا۔

مرزائی: نہ ...... نہ ...... نہ ...... میرا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ رفع آسمانی ثابت کریں۔

حافظ صاحب: میں نے تو رفع ثابت کر دیا یہودی جس کو قتل کرنا چاہتے تھے، اللہ نے اس کا رفع فرمایا۔

صفحہ 176

مرزائی: رفع سے مراد بلندی مرتبت ہے نہ کہ روح اور جسم کا اوپر اٹھایا جانا۔

مولانا محمد یونس: یہ محض قیاس ہے۔ آپ قیاس کی طرف نہ جائیں اور من گھڑت ترجمہ نہ کریں۔

حافظ صاحب: خدا نے بہت سی چیزیں حلال کی ہیں۔ اور بہت سی حرام کی ہیں۔ قرآن میں کچھ چیزوں کے حلال اور حرام کا تذکرہ ہے۔ مثلاً ایک صاحب آپ سے سوال کرے کہ گدھا حلال ہے یا حرام اور ساتھ ہی یہ تقاضا بھی کرے کہ اس کا جواب قرآن سے دیں۔ مجھے آپ بتائیں کہ آپ قرآن سے دکھا سکتے ہیں کہ گدھا حلال ہے یا حرام؟ ظاہر ہے کہ ہمیں کسی چیز کی حلت یا حرمت پر قرآن پاک میں اشارہ نہیں ملتا تو ہمیں حدیث رسول اللہ کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

اگر آپ یہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ قرآن پاک میں آسمان کا ذکر کہاں ہے تو میں بھی دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ ؑ پر موت کا لفظ بھی کہیں نہیں آیا۔ ثبوت آپ کے ذمے؟ میں پھر آپ سے کہتا ہوں کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی سے جان نہیں چھڑانا چاہتے ہیں جو ہمارے اور آپ کے اصلی اختلاف کا سبب ہے۔

مرزائی: آپ نے سوال کیا کہ قرآن میں کہیں موت کا لفظ نہیں آیا حالانکہ قرآن مجید میں ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ موجود ہے۔ اس آیت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے پہلے کے رسول سب وفات پا چکے جیسا کہ ”قد خلت من قبلہ الرسل“ سے واضح ہے اگر سب نبی فوت نہیں ہوئے تو یہ اس آیت کے خلاف ہے کیوں جی ”قد خلت“ کا کیا معنی ہے؟

حافظ صاحب: قد خلت کا معنی جگہ چھوڑنا، خالی کرنا اور گزرنا ہے۔ موت نہیں ہے۔ میں نے آپ سے سوال یہ کیا تھا کہ آپ قرآن میں موت کا صحیح لفظ دکھائیں۔

مرزائی: گزرنا بھی موت کے معنی میں ہی استعمال ہوتا ہے۔

حافظ صاحب: اگر یہی معنی ہے تو پھر قرآن پاک کی اس آیت ”وکذالک ارسلنک فی امۃ قد خلت من قبلھا امم.“

(الرعد: ۳۰)

یہ حضور ﷺ کو فرمایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اے نبی ﷺ بھیجا ہم نے آپ کو ایک امت میں اس سے پہلے بہت سی امتیں ہو چکی ہیں۔ اگر قد خلت کا معنی

صفحہ 177

موت کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلی سب امتیں مر چکی ہیں۔ حالانکہ عیسائی اب بھی موجود ہیں جو اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امتی کہلاتے ہیں اور یہودی اب بھی ہیں جو حضرت موسیٰ کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں۔ اگر اس طرح معنی کیے جاتے رہے تو قرآن پاک معاذ اللہ غلط ٹھہرتا ہے۔

مرزائی: میں عالم نہیں ہوں لیکن بہر حال عیسیٰ کو زندہ ماننا اور یہ کہنا کہ انھیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا، خلاف معمول ہے (یعنی قانون قدرت کے خلاف ہے) جب یہ خلاف معمول ہے تو ہمیں پہلے اسی پر گفتگو کرنا چاہیے۔

حافظ صاحب: کہاں آپ موت ثابت کر رہے تھے، کہاں یہ کہنے لگ گئے کہ یہ خلاف معمول (یعنی قانون قدرت کے خلاف) ہے لیکن اگر واقعی یہ خلاف معمول ہے تو آپ کے مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔

"ولم یمت ولیس من المیتین" (نورالحق حصہ اوّل خزائن ج 8 ص 69) تو ذرا بتائیے کہ موسیٰ علیہ السلام کیسے زندہ ہیں اور آسمان پر کیسے پہنچ گئے؟

مرزائی: یہ غلط ہے مرزا صاحب نے کہیں نہیں لکھا۔

حافظ صاحب: یہ ذمہ داری میری ہے کہ میں حوالہ دکھاؤں۔ اگر میں حوالہ دکھا دوں تو پھر آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس بات پر گفتگو کے لیے تیار ہو جائیں گے کہ مرزا صاحب کیا تھے اور کیا نہیں تھے۔ ان کا کردار کیا تھا اور اخلاق کیسے تھے؟

مرزائی: نہیں پھر بھی ہم گفتگو اسی موضوع پر کریں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟

حافظ صاحب: آپ یہ کہہ چکے ہیں کہ میں عالم نہیں تو آپ ایک علمی بحث کیوں چھیڑنا چاہتے ہیں۔ آپ کا مقصد یہی ہے کہ مرزا قادیانی کے صدق و کذب کی آسان اور عام فہم بحث کو چھوڑ کر مشکل الفاظ کی بحث شروع کر دی جائے اور پھر لغت کی کتابوں تک نوبت پہنچ جائے، جو نہ آپ کی سمجھ میں آنے والی ہے اور نہ ہی ان لوگوں کی جو یہاں موجود ہیں۔

دیکھئے جناب! مرزا قادیانی آپ کے لیے حجت ہیں وہ جو کچھ فرمائیں گے۔ گو وہ ہم نہیں مانتے لیکن آپ کو بلا چون و چرا قبول کر لینا چاہیے۔ آپ کے مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے نہیں ہے۔ (ازالہ اوہام ص 140 خزائن ج 3 ص 171)

صفحہ 178

جب یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے ہی نہیں ہے اور جیسا کہ آپ کے مرزا قادیانی نے لکھا ہے تو اس پر بحث کیوں کرتے ہیں؟

مرزائی: یہ غلط ہے جھوٹ ہے، مرزا قادیانی نے نہیں لکھا۔

حافظ صاحب: حوالہ دکھانا، میری ذمہ داری ہے اگر میں نہ دکھا سکوں تو میں جھوٹا۔

مرزائی: تو پھر ٹھیک ہے، یہ حوالہ دکھائیں۔

سامعین: ٹھیک ہے، یہ حوالہ ضرور دکھائیں۔ چنانچہ مرزائیوں اور مسلمان دوستوں کے مشورہ سے طے پایا کہ یہ گفتگو اچانک طے ہوئی تھی، کتابیں وغیرہ موجود نہیں تھیں۔ اس لیے گفتگو جمعہ 9 دسمبر کو ایک دوسرے مسلمان دوست ایوب صاحب کے مکان پر ہوگی۔ اس مرزائی نے اصرار کیا کہ گفتگو میرے مکان پر ہو۔

حافظ صاحب: نہ آپ کی جگہ پر نہ میری جگہ پر بلکہ یہ غیر جانبدار قسم کے دوست ہیں، اس لیے گفتگو ایوب صاحب کے مکان پر ہوگی۔

نماز مغرب کا وقت تنگ ہوا جا رہا تھا کہ گفتگو آئندہ پر ملتوی کر کے یہ مجلس برخاست کر دی گئی۔

9 دسمبر: ہمارا اندازہ تھا جو بالکل صحیح نکلا کہ آئندہ جمعہ کو یہ گفتگو سے بچتے ہوئے ربوہ سے اپنا کوئی بڑا لیڈر بلوائے گا، چنانچہ میں نے بھی مولانا اللہ وسایا صاحب کو اطلاع دے کر لاہور سے بلوا لیا۔

9 بجے گفتگو کا طے تھا۔ طاہر صاحب جو اس گفتگو کا اصل محرک تھے، انھیں قدرے تاخیر ہو گئی۔ حافظ صاحب نے فوراً رکشہ کیا اور جناح کالونی پہنچ گئے تاکہ مرزائی دوست یہ نہ کہیں کہ دیکھو 9 بجے کا وعدہ کیا تھا اور نہیں آئے۔

معاملہ اُلٹ ہو گیا: یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایوب صاحب نے مکان پر گفتگو رکھنے کی بجائے فیصل آباد کے مشہور مرزائی مراد کلاتھ ہاؤس والوں کی کوٹھی پر رکھ دی ہے۔ ہم فوراً سمجھ گئے کہ حیلے بہانے سے یہ گفتگو سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ دونوں حضرات کتابیں اٹھا کر فوراً مرزائیوں کے مکان پر پہنچ گئے۔ مسلمان صرف پانچ یا چھ آدمی تھے اور مرزائی 15/16 وہ کچھ کمرے میں بیٹھ گئے، کچھ مکان کے صحن میں اور کچھ مکان سے باہر، یہ چھ مسلمان ان کے محاصرے میں تھے۔ اس پر مستزاد

صفحہ 179

یہ کہ ایک پروفیسر نور الحق نور کو ربوہ سے بلایا ہوا تھا۔ ان حضرات نے کتابیں میز پر رکھیں تو پروفیسر صاحب نے اپنا یوں تعارف کرایا۔ ”مجھے پروفیسر نور الحق نور کہتے ہیں۔ میں امریکہ، افریقہ اور دوسرے بہت سے ممالک کے دورے کر چکا ہوں۔“

مولانا اللہ وسایا: آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں۔

پروفیسر صاحب: میں ربوہ رہتا ہوں اور وہیں سے حاضر ہوا ہوں۔ اور آپ کا تعارف؟

مولانا اللہ وسایا: فقیر کا نام اللہ وسایا ہے۔ فقیر ربوہ میں ہی رہتا ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا ادنیٰ خادم ہے۔

چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں: مولانا اللہ وسایا نے جب اپنا نام اور تعارف کرایا تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ ایک رنگ آئے اور ایک جائے کہ یہ کون سی بلا ہمیں چمٹ گئی۔

پروفیسر صاحب: میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

مولانا اللہ وسایا۔ آپ دو چھوڑ تین باتیں کریں لیکن پہلے میری ایک بات سن لیں۔

طاہر صاحب: ہمارے اور اکرام صاحب کے درمیان ایک حوالے پر آ کر گفتگو ختم ہوئی تھی۔ حوالہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کا مسئلہ ایمانیات کا جز نہیں ہے۔ مولانا محمد حنیف صاحب یہ حوالہ دکھانے کے پابند ہیں۔ پہلے حوالہ، پھر کوئی اور بات، سب نے کہا اچھا تو سنائیے حوالہ؟

حافظ محمد حنیف: میرے اور اکرام صاحب کے درمیان موضوع کے تعین پر گفتگو ہو رہی تھی۔ یہ کہتے تھے کہ حیات و وفات عیسیٰ پر گفتگو ہونی چاہیے۔ میں نے یہ کہا تھا کہ وجہ اختلاف مرزا صاحب کی ذات ہے نہ کہ حیات و وفات کا مسئلہ...... اس پر میں نے کہا تھا کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ ایمانیات کا جز اور ارکان اسلام میں سے نہیں ہے۔ جب یہ ارکان اسلام میں سے نہیں ہے تو اس پر گفتگو کر کے کیوں وقت ضائع کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حوالہ غلط ہے۔ میں نے کہا صحیح ہے۔ اس لیے میں یہ حوالہ دکھانے کا پابند ہوں، لیجئے حوالہ حاضر ہے۔ یہ میرے سامنے مرزا صاحب کی کتاب ازالہ

صفحہ 180

اوہام ہے اس کے ص 140 خزائن ج 3 ص 171 پر لکھا ہے: ”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا نہیں جو ہمارے ایمانیات کی جڑ یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صد ہا پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانے تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانے تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“

یہ حوالہ انتہائی واضح ہے۔ ذرا سوچیے جب یہ مسئلہ دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن نہیں ہے اور اس مسئلہ کا حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر اختلاف اس پر نہ ہوا بلکہ مرزا صاحب کی ذات پر ہوا۔ مرزا صاحب خود فرماتے ہیں:

”كل مسلم يقبلنى ويصدق دعوتي الا ذرية البغايا.“

ہر مسلمان نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے قبول نہیں کیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص 547، 548 خزائن ج 5 ص ایضاً)

مرزا صاحب کو ساری دنیا کے مسلمان نہیں مانتے، اسی جرم کی وجہ سے مرزا صاحب نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو بیک قلم کنجریوں کی اولاد قرار دے دیا۔ کنجریوں کی اولاد اس لیے نہیں کہا کہ مسلمان حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ یہ گالی اس لیے دی کہ وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ آگے سنئے! ”مرزا صاحب کا ایک لڑکا بشیر احمد ایم اے ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو یہ میرے ہاتھ میں ہے کہ ہر وہ شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد رسول اللہ کو نہیں مانتا، محمد رسول اللہ کو مانتا ہے مگر مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا، نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص 110)

یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو جو کافر بلکہ پکا کافر قرار دیا گیا ہے، عیسیٰ ؑ کی حیات کی وجہ سے نہیں بلکہ مرزا صاحب کی ذات کی وجہ سے دیا ہے۔

حافظ صاحب کی گفتگو یہیں تک پہنچی تھی۔ ان سے اس کا جواب نہ بنتا تھا نہ بنا۔ البتہ گفتگو روکنے یا یوں سمجھئے کہ مزید ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے اکرام صاحب نے کترنی کی طرح زبان چلاتے ہوئے حضرت داؤد ؑ، حضرت یوسف ؑ، حضرت یونس ؑ، حضرت لوط ؑ اور کچھ دوسرے نبیوں پر اتنے گندے اور سوقیانہ الزام لگائے کہ الامان والحفیظ۔

مولانا اللہ وسایا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے یہاں کوئی

صفحہ 181

وارث نہیں ہیں۔ جب یہاں کسی دوسرے نبی کا ذکر ہی نہیں ہے تو اصل گفتگو سے فرار کیوں؟ اور غلط بحث کیوں کیا جارہا ہے۔ اگر آپ کا مطلب بحث برائے بحث ہے تو چشم ما روشن دل ماشاد۔ سنیے ! مرزا صاحب کی ایسی عبارتیں پیش کر سکتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ العیاذ باللہ خدا نے مرزا سے بدفعلی کی تھی۔ ابھی مولانا اللہ وسایا صاحب نے اتنی ہی بات کی تھی کہ مرزائیوں نے شور مچا دیا بکواس ہے، غلط ہے۔

مولانا اللہ وسایا: شرافت کا جواب شرافت ہے۔ یہ شخص اٹھارہ نبیوں کی توہین کر گیا آپ چپ رہے۔ میں نے مرزا کی ایک بات کی تو گالیاں دیتے ہو۔ مجھ سے حوالہ مانگو کہ مرزا نے یہ کہاں لکھا ہے؟

لیکن مرزائیوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم کوئی بات نہیں کرتے، ان کے انکار پر دوستوں نے کتابیں اٹھائیں اور بخاری مسجد میں آ گئے۔ ان حضرات کو دیکھ کر وہاں محلہ کے نوجوان جمع ہو گئے۔

مولانا اللہ وسایا صاحب نے کتابیں سامنے رکھ لیں اور حوالے سنانے شروع کیے۔ حوالے سن کر سب توبہ توبہ کر اٹھے۔ سب نوجوانوں نے اصرار کیا کہ رات کو درس قرآن پاک ہو جائے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے جمعہ سمندری پڑھانا تھا، وعدہ کر لیا گیا کہ میں سمندری سے شام کو واپس آ جاؤں گا۔ آپ درس قرآن پاک کا اعلان فرما دیں....... رات کو اچھا خاصا اجتماع ہوا، مولانا اللہ وسایا صاحب نے درس قرآن پاک دیا اور مرزائیت کا کچا چٹھا کھولا۔ اگرچہ مرزائیوں کی ذلیل اور کمینہ حرکت کی وجہ سے گفتگو ادھوری رہ گئی، تاہم دوستوں کے ساتھ مجلس اور رات کے درس قرآن سے وہ مقصد پورا ہو گیا۔

۞......۞......۞

صفحہ 182

مباہلہ کا چیلنج منظور ہے

قادیانی خلیفہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

بسم اللہ الرحمن الرحیم جناب مرزا طاہر احمد ہیڈ آف دی قادیانی جماعت ساکن لندن والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔

جون 1988ء کے وسط میں آپ کا چار سطری بیان مباہلہ کے عنوان سے پاکستان کے اخبارات میں شائع ہوا۔ پاکستان و برطانیہ کے متعدد علمائے کرام نے اپنے اپنے طور پر مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کا اعلان کیا۔ 6 جولائی 1988ء تک پاکستان کے کسی اخبار میں ان حضرات علمائے کرام کے مباہلہ قبول کرنے کے متعلق آپ کا ردعمل معلوم نہیں ہوا۔ بالآخر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے چار خدام وقفہ وقفہ سے لندن پہنچے۔ 9 جولائی 1988ء کے اخبار ”ملت“ لندن میں آپ کی طرف سے مباہلہ کا پھر اعلان شائع ہوا۔ پاکستانی اخبارات کی نسبت اس میں کچھ زیادہ تفصیلات تھیں۔

چنانچہ 12 جولائی 1988ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہم چار خدام نے ایک اخباری بیان اور اشتہار اردو اخبارات لندن کو بھیجا۔ 13 جولائی 1988ء کے روزنامہ ملت لندن کے آخری صفحہ پر اشتہار اور اردو روزنامہ ”جنگ“ لندن کے پہلے صفحہ پر بیان شائع ہوا اور 14 جولائی 1988ء کو روزنامہ ”جنگ“ لندن کے صفحہ 7 پر اشتہار اور ”ملت“ لندن کے پہلے صفحہ پر بیان شائع ہوا (جو لف ہذا ہیں) اس وقت ہمیں مباہلہ کی تفصیلات سوائے اخباری بیانات کے معلوم نہ تھیں۔ 13 جولائی 1988ء کو رجسٹر ڈاک سے

صفحہ 183

”جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین اور مکفرین اور مکذبین کو مباہلہ کا کھلا چیلنج“ نامی 26 صفحاتی پمفلٹ اور اس کے ساتھ آپ کے پریس سیکرٹری رشید احمد چوہدری کے دستخطوں سے 12 جولائی 1988ء کا لکھا ہوا ایک خط موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ:

”آپ کا شمار بھی انہی معاندین احمدیت میں ہوتا ہے۔ اگر آپ بدستور اپنے معاندانہ موقف پر قائم ہیں تو آپ کو جماعت کی طرف سے باقاعدہ یہ دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس چیلنج کو بغور پڑھ کر پوری جرأت کے ساتھ اس کی تشہیر کریں۔“

اس کو اول سے آخر تک غور سے پڑھا۔ اس میں آپ نے بعض امور کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے جن کی تصریحات ذیل میں پیش خدمت ہیں۔ انھیں ملاحظہ فرمائیں۔ ان تصریحات کے بعد ہمیں کلیتہً آپ کا مباہلہ کا چیلنج قبول ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ نے آمنے سامنے میدان میں آ کر مباہلہ کی بجائے تحریری مباہلہ کا راستہ اختیار کر کے قرآنی تصریحات کو کیوں نظر انداز کیا؟ یہی آپ کے دادا جان مرزا غلام احمد قادیانی سے شکایت تھی کہ انھوں نے بھی پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے سامنے لاہور آنے کی جرأت نہ کی۔ یہی شکایت آپ کے والد مرزا بشیر الدین سے تھی کہ وہ بھی آپ کی ہی جماعت کے ایک فرد (جو بعد میں مرزائیت سے تائب ہو گئے تھے) مولوی عبدالکریم مباہلہ کے سامنے تشریف نہ لائے۔ مولوی عبدالکریم نے مباہلہ کا چیلنج دیا۔ آپ کے والد نے قبول نہ کیا۔ انھوں نے ”مباہلہ“ نامی اخبار قادیان سے شائع کیا۔ ہم مباہلہ کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ وہ کن خفیہ امور، رنگین واردات اور سنگین الزامات پر آپ کے والد سے مباہلہ چاہتے تھے۔ تفصیلات اس لیے مناسب نہیں کہ آپ کی طبع نازک پر گراں گزریں گی (اگر تفصیلات کسی کو درکار ہوں تو وہ ”تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق“، ”کمالات محمودیہ“، ”ربوہ کا پوپ“، ”ربوہ کا راسپوٹین“، ”ربوہ کا مذہبی آمر“، ”عنبر سدوم“ وغیرہ نامی کتب کا مطالعہ فرمائے) آپ نے بھی آمنے سامنے نہ آ کر اپنے ان اکابرین کی سنت پر عمل کیا ہے۔

آپ نے 8 جون 88ء میں مباہلہ کا چیلنج دیا۔ قدرت کی شان بے نیازی کہ آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی جون 1893ء میں عبداللہ آتھم عیسائی کو چیلنج دیا تھا۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشینگوئی دربارۂ عبداللہ آتھم کا حشر ہوا، وہی آپ کے اس مباہلہ کا ہوگا۔ ان شاء اللہ العزیز۔ آپ کے دادا نے کہا کہ پندرہ دن سے مراد

صفحہ 184

پندرہ ماہ ہیں اور پندرہ ماہ میں عبداللہ آتھم مر جائے گا۔ اگر نہ مرا تو مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسّہ ڈال دیا جائے، مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ جب وہ پندرہ ماہ میں نہ مرا تو آتھم کی عیسائی پارٹی نے مرزا قادیانی کا پتلا بنا کر اس کے ساتھ وہی حشر کیا۔

مرزا طاہر صاحب! یقین جانیے کہ اس تحریر کے لکھتے وقت ہمارے قلوب اس طرح ایمان و یقین سے لبریز ہیں کہ صرف ایک سال کی مہلت نہیں، اگر ہمیں آپ اپنے ساتھ آگ میں کود جانے کا چیلنج دیتے تو اس کے لیے بھی ہم تیار تھے۔ اگر ہے شوق تو اعلان کیجئے اور پھر حضرت محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت کے ہم دیوانوں کا ذوق جنوں دیکھئے۔ اس بات کو دیوانوں کی بڑ نہ سمجھیں۔ پیدا کرنے والی ذات کی قسم اگر آپ آگ میں چھلانگ لگانے کا مباہلہ کا چیلنج دیں تو بھی ہمیں آگ کچھ نہیں کہے گی۔ جس پروردگار عالم نے محمد عربی ﷺ کے والد سیدنا حضرت ابراہیم ؑ پر آگ کو ٹھنڈا کیا تھا، وہ محمد عربی ﷺ کے صدقے آپ ﷺ کے غلاموں پر بھی آگ کو ٹھنڈا کر دیں گے۔ بہر حال آپ کا میدان میں آمنے سامنے نہ آنا اور جون کے مہینہ کو اپنے مباہلہ کے لیے منتخب کرنا یا قدرت کا آپ سے منتخب کروانا ایسے امور ہیں جس پر ہم اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہیں۔

تصریحات:

مرزائیت کے فرضی ناموں سے پکارا جا رہا ہے“....... آنجناب کے معرض وجود میں آنے سے پہلے آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ میں آپ لوگوں کی جماعت کے سالانہ جلسہ پر آپ کے ایک شاعر نے یہ شعر کہے تھے ۔

کیا راز ہے طشت از بام جس نے عیسویت کا
یہی وہ ہیں یہی وہ ہیں یہی ہیں پکے مرزائی

(اخبار بدر قادیان 17 جنوری 1907ء)

یہ شعر آپ کے اخبار میں شائع ہوئے۔ اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی سمیت کسی مرزائی نے اپنے آپ کو مرزائی کہلوانے پر اعتراض نہ کیا۔ تعجب ہے کہ مرزائی کا خطاب پا کر آپ کے دادا اور اس کے نام نہاد صحابہ تو خاموش رہیں اور آپ آج اس پر چیں بجبیں ہوں۔ آخر کیوں؟ جناب اگر مرزائی یا قادیانی کہنے سے آپ غصہ ہوتے ہیں

صفحہ 185

تو مرزا قادیانی پر غصہ نکالیں یا حکیم نورالدین پر جس کا قول کلمتہ الفصل کے ص 153 پر مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے آپ کے چچا نے نقل کیا ہے، جس میں آپ کی جماعت کے لیے ’’مرزائی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

آپ کی جماعت کو قادیانی کہنے میں بھی ہمارا قصور نہیں۔ حکیم نورالدین کی وفات پر آپ لوگوں کا ’’گدی نشین‘‘ ہونے پر اختلاف ہوا۔ ایک گروہ نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا اور دوسرے نے قادیان کو۔ اگر آپ لوگ نہ لڑتے تو یہ لاہوری اور قادیانی کا خطاب نہ پاتے، اور یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آپ لفظ قادیانی پر کیوں برا مناتے ہیں؟ آخر مرزا غلام احمد بھی تو اپنے نام کے ساتھ قادیانی لکھتا تھا۔ اگر قادیانی کا لفظ برا ہے تو جو شخص اپنے نام کے ساتھ اس کو شامل کرتا تھا اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

ہم آپ کو احمدی اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کہنا ہمارے لیے ممکن نہیں کیونکہ احمد آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کی امت تو اپنے آپ کو احمدی کہلا سکتی ہے، آپ لوگوں کے مرزا کا نام احمد نہیں تھا، بلکہ غلام احمد تھا، جس سے معلوم ہوا کہ احمد اور چیز ہے غلام اور چیز ہے۔ احمد کے ماننے والوں کو تو احمدی کہا جا سکتا ہے۔ مگر غلام کے ماننے والوں کو نہیں، انھیں غلامی کہیں غلمدی کہیں، قادیانی کہیں، مرزائی کہیں، کچھ کہیں یا کہلوائیں احمدی ان کو نہیں کہا جاسکتا۔

پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو طریق پر مباہلہ کا چیلنج شائع کر رہے ہیں۔ ہر مکذب، منکر کو کھلی دعوت ہے کہ مباہلہ کے جس چیلنج کو چاہے قبول کرے۔ ہمیں آپ کے مباہلہ کے دونوں پہلو قابل قبول ہیں۔ دادا کا بھی اور پوتے کا بھی۔

اس چیلنج کو غور سے پڑھ کر اس کو قبول کرنے کا اعلان کریں۔ ہم نہ صرف اس عبارت ص 6 تا 8 میں مندرجہ مرزا کے دعاوی کو غلط سمجھتے ہیں بلکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں جہاں کہیں جو دعاوی کیے ہیں، ان تمام دعاوی میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مفتری، دجال، کذاب، لعنتی، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اور پختہ ایمان و یقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر شیطان کا غلبہ تھا۔ اسے کوئی وحی نہ ہوتی تھی، وہ کذاب و دجال تھا اگر ہم اس اعلان میں جھوٹے ہیں تو ہمارے پر خدا کی لعنت، ورنہ مرزا طاہر اور اس کی تمام روحانی و جسمانی ذریت پر بے شمار لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ.

صفحہ 186

مرزا طاہر صاحب آپ کا چیلنج نمبر 2 آپ کے رسالہ کے ص 9 سے شروع ہو کر ص 18 پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں 9، 10 پر 9 باتوں کا ذکر ہے۔

نمبر 1…… مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا خدا تھے۔ نہ جانے مباہلہ کے شوق میں آپ نے اپنے دادا کے دعاوی سے انکار کیوں شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب البریہ ص 85 خزائن ج 13 ص 103 پر لکھا ہے کہ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی خدا ہوں۔“ اپنی کتاب کے اگلے صفحہ پر دعویٰ کیا کہ ”زمین و آسمان کو بھی میں نے بنایا۔“ (یاد رہے کہ نبی کا خواب بھی شریعت میں حجت ہوتا ہے)

نمبر 2…… مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا خدا تھے یا خدا کے بیٹے تھے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا کہ اسمع یا ولدی اے میرے بیٹے سن۔ (البشریٰ ج 1 ص 49 وحقیقۃ الوحی ص 86 خزائن ج 22 ص 89) پھر کہا کہ مجھے خدا نے کہا کہ انت منی بمنزلۃ ولدی تو مجھ سے میرے فرزند کے مانند ہے۔

نمبر 3…… مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا خدا کا باپ تھا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی ص 95 خزائن ج 22 ص 99 پر ”اپنے بیٹے کو خدا جیسا قرار دیا ۔“ جب مرزا کا بیٹا خدا ہوا تو مرزا قادیانی خدا کا باپ ہوا۔

جناب مرزا طاہر صاحب اگر طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو سینہ تھام کر سنیے کہ آپ کے دادا نے صرف خدا، خدا کا باپ یا بیٹا ہونے کا ہی دعویٰ نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وہ کام کیا جو مرد اپنی عورت کے ساتھ کرتا ہے۔

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 ص 12)

مرزا نے کہا کہ مجھے حمل ہو گیا (کشتی نوح ص 48 خزائن ج 19 ص 50) دس ماہ کے بعد درد زہ ہوا اور پھر کہا کہ ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے…… تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص 143 خزائن ج 22 ص 581)

نمبر 4…… مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا قادیانی تمام انبیاء کرام سے بشمول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے افضل و برتر ہے۔ حالانکہ جناب کے دادا مرزا قادیانی کی کتاب حقیقۃ الوحی ص 89 خزائن ج 22 ص 92 پر مرزا نے کہا کہ مجھے الہام ہوا کہ ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔“ کیا اس میں تمام انبیاء ؑ سے افضلیت کا دعویٰ نہیں؟ آپ کے باپ مرزا

صفحہ 187

بشیر الدین قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ النبوۃ کے ص 257 پر لکھا کہ ”مرزا بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا ۔“ مرزا نے اپنی کتاب نزول المسیح ص 9 خزائن ج 18 ص 477 پر لکھا ہے کہ ”اگرچہ دنیا میں بہت سارے نبی تھے مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔“ یہ شعر ہے کہ

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص 20 خزائن ج 18 ص 240)

اب بتائیے کہ اس نے انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا یا نہیں؟ لیجئے۔

رحمت عالم ﷺ کے متعلق اس شخص نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے ص 40 خزائن ج 17 ص 153 پر لکھا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے اور اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین ص 43 خزائن ج 20 ص 43 پر اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ لکھی ہے اور پھر تحفۃ الندوہ ص 5 خزائن ج 21 ص 63 پر لکھا ہے کہ ”نشان اور معجزہ ایک چیز ہے۔“ ان تینوں حوالوں کو ملائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضور ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے اور مرزا قادیانی کے دس لاکھ تھے۔

مرزا طاہر صاحب آپ کو بار بار سوچنا چاہیے کہ اب آپ صحیح کہتے ہیں یا آپ کے دادا؟ لیجئے مرزا قادیانی کی موجودگی میں آپ کی جماعت کے ایک شاعر اکمل نے کہا ۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(بحوالہ اخبار بدر قادیان ج 2 نمبر 43 ص 14۔ 25 اکتوبر 1906ء)

نیز مرزا نے اپنی کتاب الاستفتاء ص 87 خزائن ج 22 ص 715 پر لکھا ”اتانی مالم یوت احد من العالمین“ مجھ کو وہ کچھ چیز دی گئی جو دونوں جہانوں میں کسی کو نہیں دی گئی۔

مرزا کی وحی کے مقابلہ میں حدیث مصطفیٰ ﷺ کوئی شے نہیں۔ لیکن اے کاش اس عقیدۂ فاسدہ کی تردید سے پہلے آپ نے مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات کو پڑھ لیا ہوتا۔ مرزا

صفحہ 188

نے کہا کہ ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میرے دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن ہے اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص 30 خزائن ج 19 ص 140)

نمبر 6...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا کی عبادت گاہ عزت و احترام میں خانہ کعبہ کے برابر ہے۔۔۔۔ آپ نے یہاں غلط کہا، دھوکہ دینے کی کوشش کی، حالانکہ اصل حوالہ یہ ہے کہ آپ کے مرزا قادیانی نے قادیان کی اپنی عبادت گاہ کو (جسے آپ لوگ مسجد کہتے ہیں) مسجد اقصیٰ قرار دیا اور کہا سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ میں مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص 21 حاشیہ خزائن ج 16 ص ایضاً)

نمبر 7...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ قادیان کی سرزمین مکہ مکرمہ کے ہم مرتبہ ہے۔ حالانکہ مرزا نے کہا ہے کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ، مدینہ اور قادیان کا (خطبہ الہامیہ ص 20 حاشیہ خزائن ج 16 ص ایضاً)

مرزا طاہر صاحب! مرزا قادیانی کے اس حوالہ کے بعد فرمائیں کہ آپ کے مرزا کے نزدیک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور قادیان کی حیثیت ایک جیسی ہے یا نہیں؟ اور ساتھ ہی صرف مرزا طاہر نہیں بلکہ پوری مرزائی امت کو چیلنج ہے کہ وہ قرآن سے قادیان کا لفظ نکال کر دکھائیں ورنہ اقرار کریں کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔

نمبر 8...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ یہ ہمارا عقیدہ نہیں کہ سال میں ایک دفعہ قادیان جانا تمام گناہوں کی بخشش کا موجب ہے۔ حالانکہ آپ لوگوں کا صرف یہ عقیدہ نہیں کہ سال میں ایک دفعہ قادیان جایا جائے بلکہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ قادیان تمام بستیوں کی ماں ہے۔ (یعنی ام القریٰ) پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔

(حقیقۃ الرؤیا ص 46 از بشیر الدین والد مرزا طاہر)

اسی مرزا بشیر الدین نے کہا کہ جو قادیان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش

صفحہ 189

نہیں رکھتا اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو...... یہ بالکل درست ہے کہ یہاں (قادیان) میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔

(منصب خلافت ص 33)

کی بجائے قادیان کے جلسہ میں شمولیت ہی حج ہے۔ حالانکہ آپ کے والد نے کہا...... ”آج جلسہ (قادیان) کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔

(برکات خلافت ص 5)

اس (قادیان) جگہ نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص 352 خزائن ج 5 ص ایضاً)

مرزا قادیانی نے کہا ۔

زمین قادیان اب محترم ہے ؎ ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص 52 از مرزا قادیانی)

اس حوالہ میں حرمین شریفین مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ کی طرح قادیان کو ارض حرم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان تمام حوالہ جات کو سامنے رکھ کر اب مرزا طاہر آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے جن باتوں سے انکار کیا ہے...... کیا وہ آپ کا انکار صحیح ہے یا محض دھوکہ دہی اور فریب کاری ہے۔

مرزا طاہر صاحب! آپ نے تقریباً ہر صفحہ پر ایک ایک بات کے اختتام پر لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا ورد کیا ہے آپ کے دادا مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب (نورالحق ص 118 تا 122 خزائن ج 8 ص 158 تا 163) میں چار صفحات پر صرف لعنت لعنت کا ورد کیا ہے۔ جس کے جواب میں صرف اتنا عرض ہے کہ آپ کی ذکر کردہ نو باتوں کی وضاحت و حوالہ جات آپ کی ہی کتب سے عرض کر دیے ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ ان سے انکار کریں، تو ان کتابوں کے مصنفین اور آپ سب لوگوں کے لیے بموجب حکم قرآنی لعنۃ اللہ علی الکاذبین اب اگر ہے ہمت تو مرد میدان بنیں اور آمین کہیں۔

پمفلٹ مباہلہ کے ص 10 کی آخری سطر سے ص 11 کے آخر تک آٹھ باتوں کا ذکر ہے۔ ذیل میں اس کی وضاحت ملاحظہ ہو :

صریحی انکار نہیں کیا۔ حالانکہ مرزا کی کتاب دافع البلاء ص 231 خزائن ج 18 ص 231

صفحہ 190

پر ہے کہ ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ نیز ایک غلطی کا ازالہ ص 17 خزائن ج 18 ص 211 پر کہا کہ ”خدا تعالیٰ نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے۔“ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر دعویٰ نبوت و رسالت ختم نبوت کا صریح انکار نہیں تو اور کیا ہے۔

نمبر 2...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید میں لفظی و معنوی تحریف نہیں کی۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام کے ص 77 کے حاشیہ خزائن ج 3 ص 140 میں لکھا ہے کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ یہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ اس میں ایک ہی عبارت سے تحریف لفظی و تحریف معنوی ثابت ہوئی۔

نمبر 3...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ مرزا نے روضۂ رسول ﷺ کی توہین نہیں کی۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص 70 خزائن ج 17 ص 205 پر کہا کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“ مرزا کی یہ عبارت روضۂ رسول ﷺ کے متعلق ہے یا غار حرا کے متعلق۔ بہرحال بدترین قسم کی سفاکانہ گستاخی ہے۔

نمبر 4...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ مرزا نے حضرت حسینؓ کے ذکر کو گُوہ کا ڈھیر نہیں کہا۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنی کتاب ضمیمہ نزول المسیح جس کا دوسرا نام اعجاز احمدی ہے، اس کے ص 82 خزائن ج 19 ص 194 پر شیعہ قوم کو مخاطب ہو کر لکھتا ہے کہ ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے؟ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے کہ کستوری کی خوشبو کے پاس گُوہ (گندگی) کا ڈھیر ہے“ کیا اس میں مرزا نے خدا کے ذکر کو کستوری اور حضرت حسینؓ کے ذکر کو گُوہ سے تشبیہ نہیں دی۔ (نامعلوم مرزا طاہر انکار کر کے لوگوں کی آنکھوں میں کیوں مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔)

نمبر 5...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ مرزا نے جھوٹے مدعیان نبوت کا مطالعہ کر کے دعویٰ نہیں کیا۔

طاہر صاحب! آپ یہاں بھول گئے۔ دراصل ہمارا (مسلمانوں کا) موقف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے باعث اس کا روحانی رشتہ مسیلمہ کذاب سے ملتا

صفحہ 191

ہے۔ اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کا روحانی سلسلہ حضرت صدیق اکبرؓ سے ملتا ہے۔ پس جھوٹے مدعیان نبوت کا مرزا قادیانی جانشین اور زلہ خوار ہے۔

ایماء پر اسلامی نظریہ جہاد کو منسوخ نہیں کیا۔

نہ معلوم مرزا طاہر صاحب سیدھے ہاتھ سے کان پکڑنے سے کیوں شرماتے ہیں۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر وحی نہیں ہوتی تھی۔ وہ ایک دجال و کذاب، مفتری اور کاذب اور کافر تھا۔ اس لیے اس نے جہاد کو منسوخ کیا تو ظاہر ہے کہ انھیں لوگوں کے کہنے پر کیا جن کو منسوخی جہاد سے فائدہ پہنچ سکتا تھا، اور وہ انگریز تھے۔

کیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مرزا قادیانی تشریعی نبوت کا مدعی تھا۔ لیجئے عبارت یہ ہے ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر 4 ص 6 خزائن ج 17 ص 435)

کوئی حیثیت نہیں ہے، اور نہ ہی ہم اسے قرآن شریف کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔

مرزا! دو امور ہیں ایک یہ کہ مرزا قادیانی کے نزدیک اپنی وحی کا درجہ کیا ہے، آیا وہ قرآن کے برابر ہے یا نہیں۔ نزول المسیح ص 99 خزائن ج 18 ص 477 پر ہے کہ میں اپنی وحی کو قرآن مجید کی طرح خطاؤں سے پاک سمجھتا ہوں۔ حقیقۃ الوحی ص 211 خزائن ج 22 ص 220 پر ہے کہ قرآن شریف کی طرح میں اپنی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ تبلیغ رسالت ج 6 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 154 اور اربعین نمبر 4 ص 19 خزائن ج 17 ص 454 پر ہے کہ تورات، انجیل اور قرآن کی طرح اپنی وحی پر بھی ایسا ایمان ہے۔“ ان تمام حوالہ جات کو سامنے رکھ کر جلال الدین شمس مرزائی نے کہا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا۔

ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مرزا قادیانی کی وحی قرآن مجید کے ہم پلہ ہے۔ اب سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس کی وحی کے مجموعہ کا کیا نام ہے۔ ظاہر

صفحہ 192

ہے کہ اس کا نام تذکرہ ہے، تو صاف ظاہر ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک تذکرہ نامی کتاب قرآن مجید کے ہم پلہ ہے۔ اور پھر یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید کا ایک نام تذکرہ بھی ہے۔ کلا انھا تذکرۃ۔ مرزائیوں نے اپنی الہامی کتاب کا نام قرآن نہیں رکھا کہ مسلمان مشتعل نہ ہوں۔ قرآن مجید کا دوسرا غیر معروف نام تذکرہ رکھ دیا تا کہ یہ بھی ثابت کر سکیں کہ یہ ہماری کتاب بھی قرآن ہے۔

ص 10 سے ص 11 تک آٹھ باتوں سے مرزا طاہر نے انکار کر کے کہا ہے کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ ہم نے ان تمام باتوں کو مرزا قادیانی کی کتابوں سے ثابت کر دیا۔ اب ہم بھی کہتے ہیں مرزا طاہر بھی کہے کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین تا کہ دنیا کے سب سے بڑے کذاب مرزا قادیانی کی روح پر بھر پور لعنتوں کی بارش ہو۔ ایک بار پھر لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔

پمفلٹ کے ص 12 پر مرزا طاہر صاحب نے چار باتوں سے انکار کیا۔

دھوکے باز، بے ایمان، وعدہ خلاف و حرام مال کھانے والا ثابت کرنے کے لیے صرف ایک حوالہ کافی ہے۔ جس میں اس نے لکھا ہے کہ پچاس کتابیں لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس اور پانچ میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ لہذا پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہو گیا۔

(براہین احمدیہ ج 5 ص 7 خزائن ج 21 ص 9)

کتابوں کے پیسے کھا گیا۔ حرام خور و بے ایمان ہوا۔

وعدہ خلاف و دھوکہ باز ثابت ہوا۔

دیا تھا۔

مرزا طاہر صاحب! خوامخواہ کیوں غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے معاملہ کو خلط ملط کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے باپ کی پنشن سات سو روپے اس زمانہ میں وصول کر کے غبن کر لی جس کے باعث شرم کے مارے گھر سے باہر نکلا رہا۔ گھر کا مال غبن بھی کیا اور گھر سے باہر بھی نکلا رہا ...... اس بات کے انکار سے پہلے اپنے چچا مرزا بشیر احمد ایم۔ اے کی کتاب سیرۃ المہدی ج 1 ص 43 روایت نمبر 49 ہی کو پڑھ لیا ہوتا

صفحہ 193

تاکہ آپ کو شرمساری نہ ہوتی۔

کی اکثر پیشگوئیاں اور مبینہ وحی الٰہی جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ مرزا طاہر صاحب! بلاوجہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں، مرزا قادیانی کی اکثر نہیں، تمام پیشگوئیوں کو ہم غلط مانتے ہیں اور اس کو وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی یقین کرتے ہیں۔ اس لیے مرزا قادیانی ہمارے نزدیک اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا، مکار، عیار، دھوکہ باز، دجال، کذاب، مفتری و بے ایمان تھا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو لاکھوں ایکڑ زمینیں دی گئیں۔ مرزا طاہر صاحب آپ کیوں بلاوجہ ضد کر رہے ہیں۔ ربوہ کی زمین سر موڈی نے نہیں دی؟ اور سندھ اور تھر پارکر کی زمین کس نے کس خوشی میں آپ کو الاٹ کی تھیں؟

ان چار امور کو ذکر کر کے مرزا طاہر صاحب آپ نے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا ورد کیا ہے، جس کے جواب میں ہم نے تمام حوالے نقل کر دیے ہیں تاکہ آپ کو اپنا آئینہ دکھایا جا سکے۔ حوالہ جات غلط ہیں تو انکار کی جرأت کریں۔ ورنہ ہماری طرف سے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا تحفہ قبول کریں۔

پمفلٹ کے ص 12 کی آخری دو سطروں سے ص 13 مکمل پر گیارہ باتوں سے انکار کیا ہے۔

اپنی کتاب البریہ میں شامل درخواست ص 13 خزائن ج 13 ص 350 پر انگریز گورنر کو خط لکھا کہ سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے۔ اور ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

مرزا طاہر صاحب! مرزا قادیانی صرف اپنی جماعت کو نہیں بلکہ اپنے خاندان کو جس میں اب آپ بھی ہیں، انگریز کا خود کاشتہ قرار دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو پاکستان میں جب گرم ہوا لگی تو آپ نے بھی اپنے مالکان کے ہاں آ کر پناہ لی......

اب انکار چہ معنی دارد

صفحہ 194

صرف دشمن نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور ملت اسلامیہ کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے کہ تمام ملت اسلامیہ کو قادیانی جماعت نے کافر قرار دے دیا ہے۔

ملاحظہ ہو ...... مرزا طاہر صاحب آپ کے والد کی کتاب آئینہ صداقت کے ص 35 پر ہے کہ

”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ تمام مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے کنجریوں کی اولاد کہا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص 547، 548 خزائن ج 5 ص ایضاً)

فرمائیے اس سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی اور کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔

مرزا طاہر نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ نمبر 3: مرزائیت عالم اسلام کے لیے سرطان ہے۔ نمبر 4: یہودیوں کی اور انگریزوں کی اسلام دشمن سازش ہے نمبر 5: اسرائیل اور یہودیوں کی ایجنٹ ہے۔

مرزا طاہر صاحب! یقین فرمائیے کہ یہ تینوں آپ پر الزامات نہیں بلکہ حقائق ہیں۔ رہتی دنیا تک ہم مسلمان ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر ان کا انکار تو کر سکتے ہیں مگر حقائق کی دنیا میں سامنا کرنا آپ کے لیے مشکل ہے۔ نمبر 6...... یہ کہ یہ جماعت امریکہ کی ایجنٹ ہے۔ اس میں کیا کلام ہے۔ 1953ء کی انکوائری میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان کے سامنے پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ اگر میں مسلمانوں کے مطالبہ پر کہ چوہدری ظفر اللہ خاں قادیانی آنجہانی کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیتا تو امریکہ گندم کا ایک دانہ نہ دیتا۔ اور پھر آج کل امریکہ کی سینٹ کی وہ کمیٹی جو پاکستان کی امداد کی بندش کی رپورٹیں کر رہی ہے کہ وہاں پاکستان میں مرزائیوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو امداد نہ دی جائے۔ ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے آپ کا انکار کرنا شدید زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔

نمبر 7: اس جماعت اور روس میں خفیہ مذاکرات۔ نمبر 8: اسرائیلی فوج میں مرزائی جماعت کا وجود نمبر 9: چھ سو پاکستانی قادیانی اسرائیلی فوج میں موجود ہیں نمبر 10: قادیانی شر پسندی کے لیے اسرائیل میں ٹریننگ لیتے ہیں نمبر 11: جرمنی میں چار ہزار قادیانی گوریلا تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ان تمام امور کو ذکر کر کے مرزا طاہر نے ان سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ یہ تمام باتیں صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے نہیں بلکہ

صفحہ 195

پاکستان کے نامور سیاستدان، اخبارات وغیرہ کہہ چکے ہیں اور اخبارات نے فوٹو دیے ہیں کہ جب اسرائیل میں مرزائی مشن کا ایک سربراہ جانے لگا تو اپنے بعد آنے والے کو تعارف کے لیے اسرائیلی وزیراعظم سے ملوایا۔ یہ تمام فوٹو اخبارات میں چھپ چکے ہیں۔

کیا مرزا طاہر صاحب آپ اس پر مباہلہ کرتے ہیں کہ اسرائیل میں قادیانی مشن کام نہیں کر رہا ہے۔ مرزا طاہر صاحب کریں انکار ...... ہے ہمت تو میدان میں اتریں، آئیں بائیں شائیں کر کے بات کو ادھر سے اُدھر لے جا کر معاملہ کو الجھانا ہی دجل و فریب ہے، جس کا حصہ آپ کو اپنے دادا مرزا قادیانی سے ملا ہے۔ اسرائیل میں قادیانی مشن ہے۔ اور یہ کہ یہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ ایسے امور ہیں جن سے آپ جرأت سے انکار کریں، ہم جرأت سے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہیں۔

مرزا طاہر صاحب آپ نے ص 14 پر آٹھ باتوں سے انکار کیا ہے۔

مسلمانوں والا کلمہ نہیں۔

مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔

ان دونوں باتوں سے انکار کر کے آپ اپنے مجرم ضمیر کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں جن لوگوں کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ایک غلطی کا ازالہ ص 3 خزائن ج 18 ص 207 پر کہا ہے کہ مجھے دی ہوئی محمد رسول اللہ والذین معہ اس وحی الٰہی میں میرا نام (یعنی مرزا کا) محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ آیت کریمہ قرآن مجید کا جزو ہے اور اس میں محمد رسول اللہ سے مراد رحمتِ عالم ﷺ کی ذات اقدس ہے نہ کہ مرزا قادیانی۔ لیکن مرزا یہ کہتا ہے کہ ”اس سے مراد میں ہوں۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے لڑکے اور مرزا طاہر کے چچا مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے نے اپنی کتاب کلمۃ الفصل ص 158 پر کہا ہے کہ مسیح موعود (مرزا) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی ...... مسیح موعود (مرزا) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے۔ اور بس۔“ یہ عبارت صاف صاف پکار پکار کر بلکہ چیخ چیخ کر مرزائیوں کے عقیدہ کا اظہار کر رہی ہے کہ کلمہ طیبہ میں مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شریک ہو گیا۔ پس ثابت ہوا کہ جب مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مسلمانوں کے

صفحہ 196

نزدیک محمد رسول اللہ سے مراد صرف اور صرف رحمت عالم ﷺ ہوتے ہیں جس طرح کلمہ طیبہ کے جز اوّل لا الہ الا اللہ میں رب العزت کی ذات و صفات میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ جو شریک بنائے، وہ مشرک ہے۔ اسی طرح دوسرے جز محمد رسول اللہ میں رحمتِ عالم ﷺ کا بھی کوئی شریک نہیں جو اس میں کسی کو شریک بنائے وہ بھی مسلمان نہیں۔

اس لیے جب مسلمان کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ کا اقرار کرتے ہیں تو ان کی مراد آپ ﷺ ہوتے ہیں اور جب مرزائی کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں تو ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا کلمہ اور ہے اور مرزائیوں کا کلمہ اور ہے۔ اب ان واضح عبارتوں کے بعد مرزا طاہر صاحب آپ کے انکار پر ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔

نمبر 3....... مرزا طاہر نے کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہمارا خدا وہ خدا نہیں جو محمد رسول اللہ کا خدا ہے۔

نہ معلوم مرزا طاہر عمداً جھوٹ بول رہے ہیں یا اس سے دھوکہ دینا مطلوب ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا الہام ہے: ربنا عاج۔ ہمارا رب عاج ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ جبکہ لغت میں عاج کا معنی ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس الہام کے ہوتے ہوئے مرزائیوں کا خدا ہاتھی دانت یا گوبر سے بنا ہوا ہے۔ پس یہ عقیدہ خدا تعالیٰ کی ذات بابرکات کے متعلق نہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے اور نہ قرآن کا۔

مرزا طاہر کے والد مرزا بشیر الدین نے کہا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیلاً بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے (مسلمانوں سے) ہمارا اختلاف ہے“ (روزنامہ الفضل قادیان جلد 19 شمارہ 13 مورخہ 30 جولائی 1931ء) اس حوالہ کو مرزا طاہر پڑھیں اور سوچیں کہ باپ تو کہتا ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف ہے اور بیٹا کہتا ہے نہیں، اب فیصلہ کریں کہ باپ جھوٹا تھا یا بیٹا جھوٹا ہے جبکہ ہمارے نزدیک دونوں ....... اور مصداق لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔

نمبر 4....... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہمارے فرشتے وہ نہیں جن کا ذکر قرآن وسنت میں ہے۔

صفحہ 197

حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے ص 332 خزائن ج 22 ص 346 پر کہا کہ یہ میرے پاس آنے والے کا نام ٹیچی ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا کچھ نہیں۔ میں نے کہا کہ آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا ٹیچی۔

اس حوالہ سے دو باتیں ثابت ہوئیں ایک یہ کہ مرزا کے پاس آنے والا فرشتہ ٹیچی نامی تھا۔ دوسرا یہ کہ مرزا کا فرشتہ جھوٹ بھی بولتا تھا اس لیے کہ جب مرزا قادیانی نے اس سے نام پوچھا تو اس نے کہا کہ نام کچھ نہیں۔ اگر نام ٹیچی تھا تو یہ کہہ کر جھوٹ بولا کہ میرا نام کچھ نہیں۔ اگر نام کچھ نہیں تھا تو دوسری مرتبہ پوچھنے پر ٹیچی نام بتا کر جھوٹ بولا یا پہلے جھوٹ بولا یا بعد میں۔ بہرحال جھوٹ بولا۔ تو ٹیچی فرشتہ اور جھوٹ بولنے والا فرشتہ مرزائیوں کا ہو سکتا ہے قرآن وسنت کا نہیں کیونکہ قرآن تو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ لا یعصون اللہ ما امرھم فرشتے معصیت سے پاک ہوتے ہیں جبکہ مرزائیوں کے نزدیک فرشتے جھوٹ بولتے ہیں۔

نمبر 5....... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ یہ بھی غلط ہے کہ قادیانیوں کے رسول مختلف ہیں۔

حالانکہ چوہدری ظفر اللہ خان کا ٹریکٹ جو مارچ 1933ء میں بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا اس میں ہے کہ

خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو
خدا کے راستباز نبی کرشن پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو
خدا کے راستباز نبی زرتشت پر سلامتی ہو
خدا کے راستباز نبی کنفیوشش پر سلامتی ہو
خدا کے راستباز نبی احمد (یعنی مرزا) پر سلامتی ہو
خدا کے راستباز نبی بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو

(منقول از پیغام صلح لاہور ج 21 نمبر 22 مورخہ 11 اپریل 1933ء)

اب فرمائیے! مرزائیوں کے نزدیک یہ لوگ نبی تھے جبکہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن و حدیث میں کہیں ان کا ذکر نہیں اور ظلم یہ کہ مرزا قادیانی کو بھی نبیوں کی فہرست

صفحہ 198

میں مرزائی شامل کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کے نزدیک وہ دجال، کذاب، مفتری، کافر و بے ایمان تھا۔

نمبر 6...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہماری عبادت اسلامی عبادت سے مختلف نہیں۔ اس کا جواب اسی بحث کے نمبر 3 میں گزر چکا ہے۔

نمبر 7...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہمارا حج مختلف نہیں۔ حالانکہ آپ کے والد مرزا بشیر الدین نے کہا کہ ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔“

(خطبہ جمعہ مرزا محمود مندرجہ برکات خلافت ص ۵ تقاریر جلسہ سالانہ 1914ء)

شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے (مرزا محمود کو) بھی یاد ہے۔ صاحبزادہ عبداللطیف (کابلی) حج کے ارادہ سے کابل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے حج کرنے سے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لیے نہ گئے۔ اور یہیں رہے کیونکہ وہ اگر حج کے لیے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔

(تقریر جلسہ سالانہ مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان ج 2 شمارہ 8 مورخہ 5 جنوری 1922ء)

نمبر 8...... مرزا طاہر صاحب آپ نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ ہمارے تمام بنیادی عقائد قرآن وسنت سے جدا ہیں۔

دیکھئے۔ تمام بحث تفصیل سے پہلے گزر چکی ہے۔ قرآن و حدیث کا واضح حکم کہ رحمت عالم ﷺ اللہ رب العزت کے آخری نبی ہیں اور اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں رسول و نبی ہوں۔ قرآن و حدیث کی رُو سے رحمت عالم ﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہؓ ہیں جبکہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا کو دیکھنے والے صحابہ ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی گھر والیاں ام المومنینؓ ہیں...... مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی بیوی ام المومنین مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی اولاد در اولاد اہل بیت مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی اولاد اہل بیت

صفحہ 199

مسلمانوں کے نزدیک سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓ بنت نبی ﷺ مرزائیوں کے نزدیک مرزا کی بیوی سیدۃ النساء ہے

غرض یہ کہ مرزائیت کسی مذہب و عقیدہ کا نام نہیں بلکہ رحمت عالم ﷺ کے دین متین سے مکمل بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ جسے قادیانی احمدیت کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ جس کی کسی قدر تفصیلات اوپر بیان ہو چکی ہیں۔

ص 15 سے ص 18 تک مرزا طاہر صاحب آپ نے کچھ سیاسی اعمال و افعال کا ذکر کیا ہے کہ ہم لوگ آپ کی جماعت کی طرف یہ الزامات منسوب کرتے ہیں اور آپ نے بڑے شدومد سے ان کا انکار کیا ہے۔

انصاف کا خون نہ کریں۔ ان چیزوں کا مباہلہ سے کیا تعلق ہے۔ یہ ساری باتیں آپ میں نہ بھی پائی جائیں تب بھی مرزا قادیانی اور اس کی جماعت غلط اور اس کے عقائد جھوٹ پر مبنی ہیں۔ یہ ساری باتیں آپ میں پائی جائیں تب بھی مرزائیت جھوٹے عقیدہ کی حامل ایک جھوٹی جماعت ہے۔ یہ الزامات صحیح ہیں تو بھی مرزا قادیانی جھوٹا تھا یہ الزام سیاسی غلط ہیں تو بھی مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔

ص 19 سے ص 26 تک مرزا قادیانی کی دو عبارتیں اور آخر میں اپنی دعا تحریر کی ہے۔ آپ کے اصل عقائد بمعہ حوالہ جات کی تفصیل کے لیے، قادیانیوں کو دعوت اسلام، نامی کتابچہ لف ہذا ہے۔ اسے علیحدگی میں پڑھیں اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ اصل حقائق کیا ہیں۔

ضروری گذارش: بعض جگہ تحریر میں قدرے تلخی آ گئی ہے۔ دراصل وہ بھی آپ کی کرم فرمائی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے واضح اپنی عبارتوں کے باوجود ناحق انکار کر کے بلاوجہ معاملہ کو الجھایا ہے اور پھر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، آپ نے مسلمانوں کو غلط کار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

آخری گذارش: آپ کے مباہلہ کے پمفلٹ کے متعلق جتنی ضروری تصریحات تھیں وہ ہم نے عرض کر دی ہیں۔ ان حوالہ جات کو پڑھیں، اپنی کتابوں سے ملائیں، تمام تر حوالہ جات صحیح ثابت ہوں تو پھر فیصلہ کریں کہ آپ نے مباہلہ نامی پمفلٹ شائع کر کے مخلوق خدا کو دھوکہ دینے کی کیوں ناکام کوشش کی ہے؟

مرزا طاہر صاحب! یقین کیجئے کہ یہ تمام تر حوالہ جات ہم نے بڑی دیانت

صفحہ 200

داری کے ساتھ عرض کر دیے ہیں۔ اللہ رب العزت جن کے حضور ہم سب کو بالآخر پیش ہونا ہے اس کو حاضر و ناظر یقین کر کے دل کی گہرائیوں سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے کوئی بھی حوالہ نقل کرنے میں بددیانتی یا اس سے غلط مطلب براری کے لیے خیانت نہیں کی۔ یہ تمام تر آپ کے لٹریچر کے حوالہ جات ہیں۔ اب اگر ہے ہمت تو قرآنی تصریحات کو سامنے رکھ کر جگہ اور وقت کا تعین کریں، ہم آپ کے ساتھ آمنے سامنے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اللہ رب العزت کی ذات کو گواہ بنا کر پختہ ایمان و یقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کے تمام تر لایعنی دعاوی سب فریب جھوٹ، مکاری و عیاری کا مرقع تھے۔ اس کو وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہوتا تھا۔ وہ اور اس کے سارے ماننے والے ہر دو گروپ لاہوری و قادیانی کو ہم کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ مرزا ابوجہل و شیطان کی طرح رحمت عالم ﷺ کے دین کا دشمن تھا۔

اس پر آپ جب چاہیں مباہلہ کے لیے ہم تیار ہیں اگر آپ نے جگہ اور وقت کا تعین نہ کیا تو پھر مجبوراً یہ قدم ہمیں اٹھانا ہوگا تا کہ حق و باطل کا ایک بار پھر تصفیہ ہو۔ مباہلہ کے بعد ہم معاملہ اللہ رب العزت پر چھوڑ دیں گے کہ وہ باطل کو مٹانے والا ہے۔ اس عزم کے ساتھ ہم اس تحریر کو ختم کرتے ہیں کہ آپ بھی ہمیشہ اپنے باپ، دادا کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کبھی بھی ہمارے سامنے میدان میں آ کر قرآنی تصریحات کے مطابق مباہلہ نہیں کریں گے۔ نہ آپ کو اس کی جرأت ہوگی۔ آپ نقلی مسیحی ہیں۔ اصلی مسیحی، نصاریٰ نجران جس طرح رحمت عالم ﷺ کے سامنے مباہلہ کے لیے نہیں آئے تھے۔ نقلی مسیحی قادیانی بھی رحمتِ عالم ﷺ کے خدام کے سامنے کبھی آنے کی جرأت نہیں کریں گے۔

فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار

عبدالرحمن یعقوب باوا اللہ وسایا نذیر احمد بلوچ منظور احمد الحسینی

مورخہ 27 جولائی 1988ء

۞......۞......۞

PDF 201

شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ فتنہ قادیانیت کے خلاف ایک کامیاب مناظر کی حیثیت سے دنیا بھر میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کیے اور ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔ یہ بات کہتے ہوئے میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ اس وقت فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے میدان میں حضرت مولانا اللہ وسایا ایسا کوئی دوسرا مناظر نہیں۔ انداز گفتگو اور طرز استدلال میں وہ منفرد اور یگانہ ہیں۔ حافظہ اس قدر تیز ہے کہ ہزاروں حوالے انھیں ازبر ہیں۔ وہ بڑے بڑے جید قادیانی مبلغین کو اڑنگے پر لا کر ایسی پٹخنی دیتے ہیں کہ وہ چاروں شانے چت ہو جاتا ہے۔ یوں تو دجل و کذب کی لنکا میں ہر قادیانی باون گز کا ہوتا ہے لیکن لفظوں کے ہیر پھیر، باطل تاویلات اور کتمان حق میں وہ یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ ان سے مناظرہ و مباحثہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ حضرت مولانا اللہ وسایا کی علمی اور مناظرانہ صلاحیتوں سے ہر شخص استفادہ کرے۔ اللہ بھلا کرے عزیزی محمد متین خالد کا جنھوں نے مولانا کی خطابتی فتوحات کو ”قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے“ کے نام سے کتابی شکل دی۔ ناسازی طبع کے باوجود میں نے اس کتاب کا لفظ لفظ بلکہ حرف حرف پڑھا ہے، کتاب اتنی دلچسپ، رواں دواں اور معلوماتی ہے کہ اسے مکمل کیے بغیر ہاتھ سے چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ بعض مقامات پر میرا خون جوش مارنے لگتا اور میں خود کو مناظرے میں بیٹھا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ ان مناظروں سے جہاں حضرت مولانا کی علمی وجاہت، برجستہ گوئی اور قادیانی لٹریچر پر مکمل دسترس کا پتہ چلتا ہے، وہاں قادیانیوں کا خبث باطن، ہٹ دھرمی اور اسلام دشمنی بھی پوری طرح آشکارا ہوتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو قادیانیوں سے مناظرے کا ماہر بنا دے گا اور کسی بھی سنجیدہ قادیانی قاری کا ادنیٰ سا انہماک اس کی چشم بصیرت کے سامنے راہ ہدایت کو وا کر کے رکھ دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ عزیزی محمد متین خالد کی مرتب کردہ یہ کتاب حسب سابق ہر مکتبہ فکر میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ میں حضرت مولانا اللہ وسایا اور عزیزی متین خالد دونوں کے لیے دعا گو ہوں۔

فقیر ابو الخلیل (خواجہ) خان محمد خانقاہ سراجیہ کندیاں، میانوالی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان فون 4514122