تحریک ختم نبوت (1934ء تا 1953ء) جلد 1 · مولانا اللہ وسایا
Tahreek Khatm-e-Nubuwwat · Vol. 1 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

تحریکِ ختمِ نبوّت

1934ء تا 1953ء

۱

ترتیب و تحقیق

شاہینِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا اللہ وسایا مُدظلہٗ

عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت

PDF 2

تحریک ختم نبوت

1934ء تا 1953ء

۱

ترتیب و تحقیق

شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

(۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء)

(۱)

ترتیب و تحقیق:

مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)

صفحہ ۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء) (جلد اوّل)

ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا

صفحات : ۷۰۴

قیمت : ۳۰۰ روپے

اشاعت اوّل : اکتوبر ۱۹۹۱ء

اشاعت دوم : جنوری ۲۰۲۰ء

مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور

ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء

جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء

جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء

جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء

جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء

جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء

جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء

جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء

Ph: 061-4783486

صفحہ ۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست

انتساب ۳۰ رشحات قلم ۳۰ دل کی بات ۳۱ سفر عشق ۳۴ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد کا پیغام ۳۸ باب اوّل ۳۹ اکتوبر ۱۹۳۲ء قادیان سے ۲۲؍ جنوری ۱۹۵۳ء لاہور کے حالات تک (چیدہ چیدہ حالات و واقعات) ۳۹ فتنہ قادیان ۴۰ خدا سے انکار بھی مذہب کی شاخ ہے ۴۲ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۳۴ء کے حالات و واقعات ۴۴ احرار کا قادیان میں داخلہ (اکتوبر ۱۹۳۴ء) ۴۵ مولانا عنایت اللہ (چشتی) ۴۶ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۳۵ء کے حالات و واقعات ۴۸ مسٹر کھوسلے کا فیصلہ ۴۹ مرزا اور مرزائیت ۴۹ قادیانیت کی تاریخ ۴۹ قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشتی ۴۹ سزائے اخراج ۵۰ عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل (۱۹۲۹ء) ۵۰ محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزائیوں کی نظر میں ۵۰ مرزا محمود کی دروغ گوئی ۵۱ عدالت عالیہ کی توہین ۵۱ محمد امین کا قتل ۵۱ قادیان کی صورت حالات اور مرزا کی دشنام طرازی ۵۱

صفحہ ۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت مفلوج ہو چکی تھی ۵۱

تبلیغ کانفرنس کا مقصد ۵۲

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقناطیسی جذب ۵۲

تقریر پر اعتراض ۵۲

عدالت کا استدلال ۵۳

تنقید کی جائز حدود ۵۳

مرزائی اور مسلمان ۵۴

تقریر کے اثرات ۵۴

تقریر کی قابل اعتراض نوعیت ۵۴

شراب اور مرزا ۵۴

عدالت کا تبصرہ ۵۴

فیصلہ ۵۵

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۳۶ء تا ۱۹۴۶ء کے حالات و واقعات ۵۶

تبلیغ کانفرنس کے بعد ۵۷

حکم مل گیا ۵۸

مجھے کیا کرنا چاہئے ۵۸

دیہات سدھار ۵۹

گل نور ۶۰

دوستوں کی تنبیہ ۶۰

چھ ماہ بعد ۶۱

مرزا محمود کی سخت گیری ۶۱

آسانیاں ۶۱

مرزا محمود کی مخالفت ۶۱

قادیان کا تاریخی مسلمان ۶۲

مرکزی امداد ۶۳

قادیان میں احرار کا مدرسہ اور کارخانہ ۶۳

ہینڈ لوم یعنی دستی کھڈیاں ۶۳

صفحہ ۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد حیات ۶۳ مرزا محمود کی بوکھلاہٹ ۶۴ قادیان سے آٹھ میل دور شاہ صاحب کی تقریر ۶۵ دوسرا جلسہ ۶۵ پابندی کی وجہ ۶۵ موضع بھانبڑی میں جلسہ عام ۶۶ قادیان کا موڑ ۶۶ قادیان میں داخلہ ۶۶ قادیان کی پولیس ۶۷ قادیانی محل کی سیر ۶۷ مرزا محمود کی مجلس مشاورت ۶۷ لٹھ بند مرزائی رضا کاروں کا مسجد میں داخلہ ۶۸ جلسے کے گہرے اثرات ۶۸ مرزائیوں کے ٹھاٹھ ۶۸ مرزائیوں کا حج ۶۹ رب جی، یا رب قادیان ۶۹ رب قادیان تھانے میں ۷۰ ہفت روزہ اخبار ۷۱ اچانک حادثہ ۷۱ گل نور کی آزمائش ۷۲ حنیف کی گمشدگی ۷۲ الفضل کا ضمیمہ ۷۳ حاجی عبدالرحمن کا گھر ۷۴ اخبارات میں مقدمے کی روئیداد ۷۴ مرزائیوں میں انتشار ۷۵ جمعہ کا دن ۷۶ مرزائیوں کے خطرناک ارادے ۷۷

صفحہ ۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا خوفناک سازش ۷۷ آزمائش کی رات ۷۸ خطرناک گیانی ۷۹ ہمارا کام اور تیزی پکڑ گیا ۷۹ نئی سازش ۸۰ مسجد شہید گنج کا حادثہ ۸۰ پاکستان میں تحریک ختم نبوت ۸۱ پیر شاہ چراغ ۸۱ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۴۷ء اور بعد کے حالات و واقعات ۸۲ تحریک تحفظ ختم نبوت اور پاکستان ۸۳ احرار کیا کرتے؟ ۸۳ پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر ۸۴ حکومت کی پریشانی ۸۴ واقعات کی رفتار ۸۵ تازیانہ ۸۶ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۴۹ء کے حالات و واقعات ۸۷ حضرت امیر شریعت کی رہنمائی ۸۸ مجلس احرار اسلام ۸۹ میں وی اوتھے ای پایا ۸۹ فیصلہ کے روشن پہلو ۹۰ قادیانی درویش ۹۰ کشمیر کا راستہ ۹۱ گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر ۹۱ دوسری ملاقات ۹۲ فرقان بٹالین ۹۳ کارتوس ختم ہو گئے ۹۳ ہندوستانی فوج پاکستان کی سرحد پر ۹۴

صفحہ ۷

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خوشگوار اثرات ۹۴ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ ۹۵ پنجاب اسمبلی کے انتخابات ۹۵ قائد ملت لیاقت علی مرحوم کی تشریف آوری ۹۶ مسلم لیگ نے ٹھوکر کھائی ۹۷ تین مرزائی امیدوار آگئے ۹۷ چک جھمرہ میں مرزائیوں کی غنڈہ گردی (اور مولانا محمد علی جالندھری) ۹۸ لیگی رہنماؤں کی بے خبری ۹۹ چک جھمرے میں دوسرا جلسہ ۱۰۰ یک نہ شد دو شد بلکہ سہ شد ۱۰۱ مرزائیوں کے حوصلے ۱۰۱ سیالکوٹ یعنی سر ظفر اللہ کی جنم بھومی میں درد ناک اور حوصلہ شکن واقعہ ۱۰۲ رام تلائی میں جلسہ عام ۱۰۲ دوسرا واقعہ ۱۰۳ سیالکوٹ میں مرزائیوں کا جلسہ عام ۱۰۳ مرزائیوں کی جانب سے فساد کا پروگرام ۱۰۴ جلسہ شروع ہوا ۱۰۴ سٹی مجسٹریٹ اور پولیس گارڈ کی آمد ۱۰۴ تیسرا واقعہ ۱۰۴ دو اہم گرفتاریاں ۱۰۵ شیخ صاحب جیل میں بیمار پڑ گئے ۱۰۷ بلا مقابلہ نشستوں کی پیشکش ۱۰۷ یوم تشکر ۱۰۸ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۵۰ء تا ۱۹۵۱ء کے حالات و واقعات ۱۰۹ تحریک کا دوسرا دور (اور مولانا محمد علی جالندھری) ۱۱۰ بی۔ پی۔سی رپورٹ ۱۱۰ خان لیاقت علی خاں کی خواہش ۱۱۱

صفحہ ۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دو مثالیں (قادیانی خلیفہ سے وفاداری) ۱۱۲ لائل پور میں ہنگامہ ۱۱۳ جہانگیر پارک کراچی میں قادیانیوں کا جلسہ عام ۱۱۴ کراچی میں قادیانیوں کا تاریخی جلسہ ۱۱۴ جلسے کا آغاز اور گڑبڑ ۱۱۴ اے. ٹی نقوی چیف کمشنر کراچی ۱۱۵ حکومت بھی حرکت میں آئی ۱۱۵ خواجہ ناظم الدین نے سرظفر اللہ خان کو روکا ۱۱۵ سخت گڑبڑ ۱۱۶ لیگ لیڈروں کا خوف ۱۱۶ سازشیں ۱۱۷ مری میں اجلاس ۱۱۷ تدبیر کند بندہ وتقدیر کند خندہ ۱۱۸ ۲؍ جون کراچی کنونشن ۱۱۸ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۵۳ء کے حالات و واقعات ۱۲۰ خانۂ خدا اور حکومت پاکستان کا فرض ۱۲۱ رمضان المبارک کی آمد ۱۲۱ صاحبزادہ سید فیض الحسن کی گرفتاری ۱۲۳ حضرت مولانا ابوالحسنات کی تائید ۱۲۴ مسجد میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ پر اعتراض ۱۲۴ حکومت کی گمراہی ۱۲۵ حکومت نے بڑھایا ہوا قدم واپس لیا ۱۲۶ مقدمہ اور سزا ۱۲۶ انتقام ۱۲۷ خداوندان جیل ۱۲۹ اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے ۱۳۱ ملتان کا فائرنگ کیس ۱۳۳

صفحہ ۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جلوس اور گڑبڑ ۱۳۳ ملتان کے جلوس میں گڑبڑ ہوئی ۱۳۴ نادانستہ الجھاؤ ۱۳۴ یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے ۱۳۴ مطالبات ۱۳۵ مسلمانان ملتان کے تین مطالبات ۱۳۵ وفد کی روانگی ۱۳۵ دو راستے ۱۳۶ علی حسین گردیزی کا استعفیٰ ۱۳۸ فیصلے بدلنے پڑے ۱۳۸ جملہ معترضہ ۱۳۹ ایک عجیب واقعہ ۱۳۹ خواجہ ناظم الدین کی تقریر ۱۴۲ دولتانہ صاحب سے ملاقات ۱۴۲ میر نور احمد کی آمد ۱۴۳ شیخ صاحب اور ماسٹر صاحب کی رہائی ۱۴۴ دولتانہ صاحب کا گناہ ۱۴۵ گرفتاریاں ۱۴۶ لاہور میں میٹنگ ۱۴۷ ۱۸ اگست ۱۹۵۲ء کو لاہور مجلس عمل کا اجلاس ۱۴۸ ۲۳ اگست ۱۹۵۲ء لاہور کا جلسہ عام ۱۴۸ مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری ۱۴۹ مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش ۱۵۱ ماسٹر تاج الدین انصاری ۱۵۱ شیخ حسام الدین ۱۵۲ نازک مسئلہ ۱۵۳ مرزائیوں کا پراپیگنڈا ۱۵۴

صفحہ ۱۰

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوسرا واقعہ ۱۵۴ وزیر اعلیٰ سے پہلی ملاقات ۱۵۵ میرا وعدہ ۱۵۵ حکومت کی جانبدارانہ سخت گیری ۱۵۶ ۲۳؍ اگست لاہور کے جلسہ عام کے بعد ۱۵۶ ہوائی حادثہ ۱۵۷ مالی نظام ۱۵۷ مولانا اختر علی خان کی اپیل ۱۵۸ ماہ دسمبر میں تحریک نے نئی کروٹ لی ۱۶۱ پنجاب کے نامور مشائخ کرام کی حمایت ۱۶۲ لاہور کنونشن ۱۶۴ شاہ جی کی آمد ۱۶۵ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ۱۶۵ شاہ جی کی تقریر ۱۶۶ کنونشن کا دوسرا اجلاس ۱۶۷ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام ۱۶۸ مجلس عمل کی مکمل تشکیل ۱۶۸ طریق کار ۱۶۹ مرزا محمود کو خواب آیا ۱۷۰ خواب کی تعبیر ۱۷۰ مرزا محمود نے مرزائیوں کو اکسایا ۱۷۱ مرزائی سرکاری ملازمین کو ہدایت ۱۷۱ ایک خطرناک واقعہ ۱۷۱ دوسرا خطرناک واقعہ ۱۷۲ خواجہ صاحب کی سادگی ۱۷۴ آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب کے منظور شدہ فیصلے ۱۷۵ قرارداد نمبر:۱ ۱۷۵

صفحہ ۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قرارداد نمبر: ۲ ۱۷۶ قرارداد نمبر: ۳ ۱۷۶ قرارداد نمبر: ۴...... اراضی ربوہ کی واپسی کا مطالبہ ۱۷۷ قرارداد نمبر: ۵ ۱۷۷ قرارداد نمبر: ۶ ۱۷۷ مسلم لیگ سے مطالبہ ۱۷۸ مولانا اختر علی خان کراچی میں ۱۷۸ مرکزی حکومت سے رابطہ ۱۷۹ مولانا عبدالحامد بدایونی ۱۷۹ احتشام الحق تھانوی ۱۸۰ مولانا مفتی محمد شفیع ۱۸۰ حسین امام ۱۸۰ مولانا اختر علی خان ۱۸۰ خواجہ ناظم الدین سے ملاقات ۱۸۱ وزیر اعظم کا جواب ۱۸۲ روزنامہ آزاد لاہور کی خبر ۱۸۳ چوہدری ظفر اللہ خان کا استعفیٰ ۱۸۳ ظفر اللہ کا پینترا ۱۸۵ ۱۴ اگست ۱۹۵۲ء ۱۸۶ خواجہ ناظم الدین کی تقریر ۱۸۶ مرکزی حکومت کا اعلان ۱۸۷ چور کی داڑھی میں تنکا ۱۸۷ مجلس عمل کی پالیسی ۱۸۹ مجلس عمل کے وفد کی روانگی ۱۸۹ ۱۴ اگست کا جلسہ ۱۸۹ خواجہ ناظم الدین سے ملاقات ۱۹۰ بھگت سنگھ کی پھانسی ۱۹۱ جسٹس ایم.آر.کیانی کی رپورٹ ۱۹۳

صفحہ ۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عوام کا اطمینان ۱۹۴ مشتعل ہجوم ۱۹۴ فائرنگ ۱۹۵ ۹؍ اگست ۱۹۵۲ء کا جلسہ عام ۱۹۶ شاہ جی کی تقریر ۱۹۷ سول ملٹری گزٹ کا ذکر ۱۹۸ قادیانیت کے کاسہ سر پر آخری ضرب ۲۰۰ باب دوم ۲۰۴ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۳ء سے ۱۰؍ مارچ ۱۹۵۳ء تک ۲۰۴ قراردادیں ۲۰۶ انڈیا ہاؤس ۲۰۹ قابلیت کا پراپیگنڈا ۲۱۰ سر ظفر اللہ خان کی لمبی تقریر ۲۱۰ ۱۹۵۲ء گزر گیا ۲۱۱ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے ۲۱۲ الٹی میٹم ۲۱۲ مطالبات نہ ماننے کی وجہ ۲۱۳ زمیندار اخبار ۲۱۴ کراچی سے واپسی ۲۱۴ پر امن رہنے کی تلقین ۲۱۵ خواجہ صاحب لاہور تشریف لائے ۲۱۵ ۱۶؍ فروری ۲۱۵ سرگودھا آنے کی وجہ ۲۱۶ رقت انگیز منظر ۲۱۷ لاہور میں مکمل ہڑتال ۲۱۷ مرزائیوں کا کالج ۲۱۸ خواجہ صاحب سے ملاقات ۲۱۸ کیا مسلمان فساد کرنا چاہتے تھے؟ ۲۱۹

صفحہ ۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الٹی میٹم کی تاریخیں ۲۲۰

شیخ حسام الدین دہلی روانہ ہو گئے ۲۲۰

کراچی میں تحریک تحفظ ختم نبوت ۲۲۱

لاہور میں جلسہ عام ۲۲۱

لاہور کے جلسہ عام میں زعمائے ملت کی ارباب حکومت سے آخری باتیں ۲۲۲

پروگرام بن چکا ہے ۲۲۲

تشنہ مضراب ہے ساز ۲۲۲

غازی علم الدین صاحب ثانی ۲۲۲

مولانا عبدالغفور ہزاروی ۲۲۲

طلباء کراچی کا درس ۲۲۳

نتائج کی ذمہ داری ۲۲۳

سید مظفر علی شمسی ۲۲۴

منصب ختم رسالت کا اقرار ۲۲۴

دیگر مقررین ۲۲۴

کراچی میں جلسہ عام ۲۳۴

کراچی کس کی ہے؟ ۲۳۴

۲۵ فروری دوسرے دن ۲۳۴

خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے پلٹا کھایا ۲۳۴

تیسرا اور آخری فیصلہ کن تاریخی جلسہ ۲۳۵

کراچی تیری ہے کہ میری؟ ۲۳۶

۶ فروری کا جمعہ ۲۳۹

مجلس عمل کے رہنماؤں کی گرفتاری ...... کراچی سنٹرل جیل سے لاہور سنٹرل جیل تک ۲۴۰

گرفتاری ۲۴۰

کراچی میں تحریک کا زور ۲۴۲

جیل کی مصیبت ۲۴۳

صبر و استقامت کا پہاڑ ۲۴۳

انتقام ۲۴۴

ذلیل قسم کا انتقام ۲۴۵

صفحہ ۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کراچی جیل سے روانگی ۲۴۶ بھوپت ڈاکو ۲۴۹ انسپکٹر جیل کی تشریف آوری ۲۵۰ خواجہ ناظم الدین کی برطرفی ۲۵۱ انسپکٹر جنرل کی دوبارہ تشریف آوری ۲۵۱ گفتگو ۲۵۲ بھوپت ہمارے پڑوس آ گیا ۲۵۳ سپرنٹنڈنٹ مان گیا ۲۵۴ بھوپت سے ملاقات کا سلسلہ ۲۵۵ کریکٹر کی بات ۲۵۶ بھوپت زندگی میں صرف ایک بار گھبرایا ۲۵۶ تبلیغ ۲۵۷ ہمارا شغل ۲۵۷ اچانک ملاقات ۲۵۹ دوسری ملاقات ۲۶۰ رمضان المبارک ۲۶۰ ایک عید جو ہم نے جیل میں گزاری ۲۶۱ ہمارا شریف انسپکٹر جنرل ۲۶۳ عدالت کا نوٹس ۲۶۵ مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد کے حالات ۲۶۶ لاہور کے حالات ۲۷۶ متضاد خواہشات کا تصادم ۲۷۷ لاہور میں حالات کی رفتار ۲۷۸ مجلس مشاورت ۲۷۸ عظیم الشان جلسہ عام ۲۷۹ ۲۸ فروری ۱۹۵۳ء ۲۸۰ مولانا مودودی صاحب کے مکان پر میٹنگ ۲۸۰ ایکشن ۲۸۱

صفحہ ۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سالار معراج الدین کی گرفتاری ۲۸۱

سالار محمد حسین بٹ ۲۸۲

یکم مارچ ۱۹۵۳ء ۲۸۳

دفتر زمیندار پر پولیس کا چھاپہ ۲۸۶

درمیان میں ایک بات ۲۸۹

ایک اعتراض اور اس کا جواب ۲۹۰

مولانا ابوالحسن ۲۹۱

مولانا بہاءالحق قاسمی ۲۹۲

فردوس شاہ کے قتل کا باعث ۲۹۵

دس ہزار؟ ۲۹۸

۵؍ مارچ کے حالات و واقعات منیر انکوائری کی نظر میں ۲۹۹

۶؍ مارچ کے حالات جسٹس منیر کی نظر میں ۳۰۱

مسٹر دولتانہ کی راہنمائی اور بیرونجات مسلم لیگوں کی پیروی ۳۰۵

مسٹر دولتانہ نے ۶؍ مارچ کا بیان واپس لے لیا ۳۰۶

۶؍ مارچ کے حالات ۳۰۷

مارشل لاء ۳۱۱

مارشل لاء کے بعد ۳۱۲

مولانا خلیل احمد قادری کی گرفتاری ۳۱۳

مولانا عبدالستار خان نیازی ۳۱۳

میاں ممتاز محمد خان دولتانہ ۳۱۵

باب سوم ۳۱۷

تحریک سے متعلق علاقائی رپورٹیں ۳۱۷

لائل پور کی رپورٹ مولانا تاج محمود مرحوم ۳۱۸

اوّل : دینی اعتبار سے مسئلہ کی صحت ۳۱۸

دوم : سیاسی طور پر مسئلہ کی اہمیت ۳۱۸

سوم : عوام کی تائید ۳۱۹

۱۹۵۳ء میرا ہے ۳۱۹

کچھ اپنے بارے میں ۳۱۹

صفحہ ۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لائل پور کی صورتحال ۳۱۹ حلف نامہ رضا کار مجلس عمل ۳۲۲ سید معظم علی شاہ ۳۴۰ قصہ ایک میت کا ۳۴۳ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی کہانی مولانا تاج محمود کی زبانی ۳۴۵ اہم واقعہ (پولیس کی سازش اور گولیوں کی بوچھاڑ) ۳۴۸ میری گرفتاری ۳۴۹ مقدمہ کی روئیداد (شاہی قلعہ لاہور اور مولانا تاج محمود) ۳۵۰ تحریک ختم نبوت کے بارے میں حکومت کا رویّہ ۳۵۲ نیک سیرت ۳۵۲ میانوالی کی رپورٹ مولانا محمد عبداللہ بھکر ۳۵۴ جہلم و چکوال مولانا قاضی مظہر حسین چکوال ۳۷۵ ملتان فقیر: اللہ وسایا ۳۷۶ مولانا مفتی محمود کی گرفتاری ۳۸۳ جیل سے رہائی ۳۸۶ مظفر گڑھ // // ۳۸۸ راولپنڈی // // ۳۸۹ سیالکوٹ // // ۳۹۱ گوجرانوالہ // // ۳۹۶ گرفتاری ۳۹۹ رہائی و گرفتاری ۴۰۱ منٹگمری (ساہیوال) فقیر: اللہ وسایا ۴۰۲ حالات تحریک ۴۰۲ بہاول نگر // // ۴۰۳ ضلع شیخوپورہ جناب سید امین گیلانی ۴۰۴ ایک مکار بڑھیا ۴۰۶ میری گرفتاری کی اطلاع ۴۰۷ روپوشی ۴۰۷

صفحہ ۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گرفتاری ۴۰۹

جیل ۴۰۹

ملاقات ۴۱۰

شہادت ملتے ملتے رہ گئی ۴۱۱

ننکانہ صاحب جناب قدیر شہزاد ۴۱۱

قصور حضرت مولانا سید محمد طیب ہمدانی ۴۱۳

چونیاں جناب حاجی میاں محمد محبوب الٰہی ۴۱۴

اندرون سندھ فقیر: اللہ وسایا ۴۱۵

صوبہ سرحد // // ۴۱۶

صوبہ بلوچستان // // ۴۱۷

باب چہارم ۴۱۸

تحقیقاتی کمیشن ۴۱۸

متفرقات ۴۱۹

مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی ۴۲۳

گرفتاری اور پھانسی کی سزا ۴۲۳

بیان مجلس عمل ۴۲۸

تنقیح نمبر ۱ ۴۲۹

تصریحات ۴۲۹

نقطہ نمبر:۱ ...... احمدیت کی تحریک اور احمدیوں کا اشتعال انگیز طرز عمل ۴۲۹

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور منکرین کی تکفیر ۴۲۹

مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت اور اس پر اجماع امت ۴۳۰

نصوص کتاب وسنت ۴۳۰

قرآن کریم ۴۳۰

خاتم النبیین کی لغوی تشریح ۴۳۱

قاموس ۴۳۱

تاج العروس شرح قاموس ۴۳۱

صحاح جوہری ۴۳۱

لسان العرب ۴۳۱

صفحہ ۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجمع البحار ۴۳۱ منتہی الارب ۴۳۲ خلاصہ کلام ۴۳۲ ارشادات نبوی ۴۳۲ اجماع امت ۴۳۴ قاضی عیاض ۴۳۴ مفتی بغداد سید محمود آلوسی کا فتویٰ ۴۳۴ حکیم الامت شاہ ولی اللہ دہلوی ۴۳۵ مدعیان نبوت کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سلوک ۴۳۵ نتائج ۴۳۶ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد مدعیان نبوت کے ساتھ سلوک ۴۳۶ مرزا غلام احمد قادیانی کا تدریجی دعویٰ نبوت ۴۳۶ دعویٰ نبوت کی راہ میں مشکلات کا احساس ۴۳۷ نبوت، رسالت اور وحی کا دعویٰ ۴۳۷ قرآن مجید کی برابری کا دعویٰ ۴۳۸ صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ ۴۳۸ محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ ۴۳۹ قادیانی جماعت کے مفتی اعظم کا فتویٰ ۴۳۹ نبی عربی ﷺ سے برتری کا دعویٰ ۴۴۰ قادیانی امت کا عقیدہ ۴۴۰ تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر ۴۴۱ مسلمانوں سے شادی بیاہ کی ممانعت ۴۴۲ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی ممانعت ۴۴۲ الگ دین اور الگ امت ۴۴۳ انتہائی اشتعال انگیز اور دل آزار تحریریں ۴۴۴ قادیانی جماعت کا ایمان ۴۴۵ دشنام طرازی کے چند نمونے ۴۴۷ اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال ۴۴۷

صفحہ ۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلم آبادیوں میں احمدیوں کی تبلیغی کانفرنس ۴۴۸

احمدیوں کی خطرناک سیاسی سرگرمیاں ۴۴۹

خونی ملا کے آخری دن ۴۵۲

انتقام لینے کا زمانہ ۴۵۲

نقطہ نمبر : ۲ ...... ضروری تصریحات ۴۵۲

نقطہ نمبر : ۳ ...... حکومت کی لاپرواہی اور مسائل متعلقہ کو حل کرنے میں ناکامی ۴۵۵

آل مسلم پارٹیز کنونشن پاکستان کی قرارداد ۴۵۸

منتخب ارکان ۴۵۹

نامزد ارکان ۴۵۹

روئیداد اجلاس مجلس عمل آل مسلم پارٹیز کنونشن کراچی منعقدہ ۲۶؍ فروری ۱۹۵۳ء ۴۶۰

نقطہ نمبر : ۴ ...... ضروری تصریحات ۴۶۲

شہادت ۴۶۳

زبانی شہادتیں ۴۶۴

شہادت ۴۶۴

نقطہ نمبر : ۵ ...... ضروری تصریحات ۴۶۴

شہادت ۴۶۴

نقطہ نمبر : ۶ ...... ضروری تصریح ۴۶۵

تحقیقاتی عدالت میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا بیان ۴۶۵

بے تدبیری کا قدرتی ردعمل ۴۶۶

عام ناراضی کے اسباب ۴۶۶

ذمہ داری تمام تر بارڈر پولیس کے ظلم و ستم پر ہے ۴۶۸

اصلاح حال کی کوشش ۴۶۹

مسلم عوام سر پھرے نہیں ہیں ۴۶۹

مارشل لاء ۴۷۰

(۲) اضطرابات کو روکنے اور بعد میں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے سول حکام کی تدابیر کا کافی یا ناکافی ہونا ۴۷۰

حکومت پنجاب کی پالیسی ۴۷۰

(۳) اضطرابات کی ذمہ داری ۴۷۱

ہنگامے کی ذمہ داری کے چار فریق ۴۷۱

صفحہ ۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۴) قادیانی مسئلے کے متعلق میرا اور جماعت اسلامی کا طرز عمل ۴۷۲ قادیانی گروہ مسلم ملت کا جزو نہیں ہے ۴۷۲ رواداری و نارواداری کا عجیب مفہوم ۴۷۳ تباہی کو روکنے کی بروقت کوشش ۴۷۳ ایک اصولی بات ۴۷۴ واقعات کی صحیح صورت اور تاریخی ترتیب ۴۷۴ آئینی طریق کار کی پابندی ۴۷۴ ڈائریکٹ ایکشن سے جماعت اسلامی کی بے تعلقی ۴۷۶ حکومت ۴۷۷ قادیانیوں کو مشورہ ۴۷۷ بیان صادق ۴۸۰ کراچی کنونشن ۴۸۱ سب کمیٹی کی میٹنگ ۴۸۱ مولانا محمد علی جالندھری نے کیا کہا ۴۸۲ انصاف فرمائیے ۴۸۳ انتخابات کا سوال ۴۸۴ مودودی صاحب کی جماعتی عصبیت ۴۸۴ کنونشن کا آخری اجلاس، سب کمیٹی کی تجویز اور مولانا مودودی ۴۸۵ تجویز کس طرح تیار ہوئی؟ ۴۸۵ ڈائریکٹ ایکشن کمیٹی (مجلس عمل) کا اجلاس ۴۸۷ اتفاقیہ دعوت ۴۸۷ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ کب فرمایا ۴۸۸ مجلس عمل (راست اقدام کمیٹی) ۴۸۸ جماعت اسلامی کی جانب سے مرکزی کارروائی کی تصدیق ۴۸۸ قرارداد ۴۸۹ حقیقت حال ۴۸۹ جماعت اسلامی کیا چاہتی تھی ۴۹۰ آخر یہ بھید کب کھلا ۴۹۰

صفحہ ۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پہلے ہی کیوں نہ بھانپ لیا ۴۹۱ دعوت مباہلہ ۴۹۲ غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد ۴۹۲ حلف شفاعت ۴۹۲ مولانا مودودی کی غلط بیانیاں ۴۹۲ جھوٹا الزام ۴۹۳ چیلنج ۴۹۳ مولانا مودودی توجہ فرمائیں ۴۹۴ ایک واقعہ ۴۹۴ مولانا نصر اللہ خان صاحب عزیز سے ملاقات ۴۹۴ اگر مگر کا چکر ۴۹۵ مارشل لاء کا ڈنڈا نظر آیا ۴۹۵ کسی کو حکم مانئے ۴۹۵ بزرگان دین کی توہین ۴۹۶ حرف آخر ۴۹۶ قلابازی ملاحظہ فرمائیے ۴۹۶ عدالت تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی رپورٹ پر تبصرہ ۴۹۷ ایک ضخیم اور متنوع دستاویز ۴۹۷ عدالت کن نتائج پر پہنچی ۴۹۷ حکومت کی کوتاہی ۴۹۷ فسادات کی ذمہ داری ۴۹۷ قادیانی ۴۹۸ حکومت پنجاب اور میاں ممتاز دولتانہ ۴۹۸ مرکزی حکومت اور خواجہ ناظم الدین ۴۹۸ مجلس عمل ۴۹۸ جماعت اسلامی ۴۹۸ مسلم لیگ ۴۹۹

صفحہ ۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس عمل کے مطالبات ۵۰۰ مسلمانوں اور قادیانیوں کے بنیادی مذہبی اختلافات ۵۰۰ احمدی، قادیانی یا مرزائی ۵۰۰ مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت ۵۰۱ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات ۵۰۱ جہاد کے بارے میں قادیانی عقائد ۵۰۲ اسلامی اصطلاحات کا استعمال ۵۰۲ پاکستان کی مخالفت ۵۰۳ مسلمانوں سے علیحدگی ۵۰۳ تکفیر مسلمین ۵۰۳ اشتعال انگیزیاں ۵۰۴ قادیانیوں کی ذمہ داری ۵۰۴ علمی، دینی اور نظریاتی حیثیت کے مسائل ۵۰۶ (۱) مجلس عمل کے مطالبات ۵۰۶ (۲) مسلم کی تعریف ۵۰۸ (۳) ارتداد ۵۰۸ (۴) مسئلہ جہاد اسلامی ۵۰۹ (۵) مال غنیمت اور خمس ۵۱۰ (۶) اسلامی ریاست ۵۱۱ (۷) لہو و لعب اور آرٹ ۵۱۱ (۸) جمہوریت، قیادت اور نمائندہ حکومت ۵۱۲ (۹) مغرب زدہ فکر کی خوف زدگی ۵۱۳ (۱۰) تجدید اسلام اور احیائے دین ۵۱۴ (۱۱) ارباب سیاست و قیادت کی کوتاہیاں ۵۱۵ (۱۲) علمائے دین ۵۱۶ خاتمہ کلام ۵۱۶ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کا تحقیقاتی عدالت میں تحریری بیان ۵۱۷ اسلام اور عیسویت ۵۱۷

صفحہ ۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انسانی راہنمائی کی تکمیل ۵۱۷ امام الانبیاء کی آمد ۵۱۸ خاتم النبیین کا اعزاز ۵۱۸ تکمیل دین کا اعلان ۵۱۸ اہل عالم کو دعوت ۵۱۸ خدائے برتر کی محبت کی صرف ایک صورت ۵۱۸ قرآن کی تفسیر رسول ﷺ کی زبانی ۵۱۸ صحابہ ؓ اور تابعین کا فیصلہ ۵۱۹ امت کا عمل ۵۱۹ نبی کا مفہوم ۵۲۰ وحی کا مفہوم ۵۲۰ وحی ختم ہے ۵۲۱ وحی نبوت کے معانی ۵۲۱ قرآن نظم و معنی کے مجموعے کا نام ہے ۵۲۱ صحابہ کرام ؓ کی تفسیر ۵۲۲ قرآن پاک کی حفاظت ۵۲۲ معانی کی حفاظت ۵۲۲ قرآن کی تفسیر بالرائے ۵۲۲ صحابہ ؓ کی شان ۵۲۲ مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار ہے ۵۲۴ مرزائی استدلال کی حیثیت ۵۲۴ مرزائی ڈھکوسلے ۵۲۶ مرزائیوں کے باقی دلائل کے بارہ میں قطعی فیصلہ ۵۲۶ نئے معانی الحاد و زندقہ ہے ۵۲۶ بقاء نبوت کی بحث، مرزائیوں کا صرف ساحرانہ فعل ہے ۵۲۷ مرزا قادیانی کا اصلی دعویٰ ۵۲۷ آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں ۵۲۸ عقل سلیم اور نقل صحیح ۵۲۹

صفحہ ۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نقل کا اعتماد ۵۲۹ عامۃ المسلمین کا عقیدہ ۵۳۰ مرزا قادیانی یہود و نصاریٰ کے قدم پر ۵۳۱ یہودی عقیدہ ۵۳۱ نصاریٰ کا عقیدہ ۵۳۱ مسلمانوں کا عقیدہ ۵۳۱ یہودی مغضوب علیہم ۵۳۱ نصرانی گمراہ ۵۳۲ قرآن کی حیثیت ۵۳۲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور خدائی مدد ۵۳۲ مرزائی عقیدہ ۵۳۲ آمدیم بر سر مطلب ۵۳۲ مرزا کا خود ساختہ عقیدہ ۵۳۳ قرآن پاک کا فیصلہ ۵۳۳ خدائی فیصلے کا خلاصہ ۵۳۶ رفع کی تصدیق ۵۳۶ مسلمان کا ایمان بالقرآن ۵۳۶ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ۵۳۷ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بیان ۵۳۹ مسیح سے مراد کون ہے؟ ۵۳۹ آنحضرت ﷺ کی معجزانہ نشان دہی ۵۴۲ غور فرمائیں ۵۴۲ مرزائی تاویلات ۵۴۳ امت محمدی کا فیصلہ ۵۴۴ تمام تفاسیر ۵۴۴ نئے مسیح موعود کی اصطلاح اور اس کی اپنی شریعت ۵۴۵ فیصلہ کن دعویٰ ۵۴۸ تواتر قومی کی قوت ۵۴۹

صفحہ ۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسلام کا انگریزی معیار ۵۵۰

کفر کی قطعی وجہ ۵۵۲

انگریزی معیار اسلام کی تردید ۵۵۲

خدا سے مقابلہ ۵۵۳

کفر کی قطعی وجہ ۵۵۳

مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر ۵۵۳

کافر کی امت ۵۵۶

مسئلہ کی مزید وضاحت ۵۵۶

ایک دجل و فریب کا جواب ۵۵۶

ناموس رسالت کا مسئلہ ۵۵۷

شجرۂ خبیثہ ۵۵۸

پاکستان بننے کے بعد ۵۵۹

خلاصہ کلام ۵۶۳

مسلمانوں اور مرزائیوں کے نظریے ۵۶۴

ظفر اللہ خان کے خلاف مطالبہ کی ہمہ گیری ۵۶۶

حکومت کی بے بسی ۵۶۹

مرکزی حکومت نے کیا کیا ۵۶۹

پاکستان حکومت مشینری کی بے اثری ۵۷۰

تجویز میں اعلیٰ افسروں کی بے چارگی ۵۷۰

مطالبات کے سلسلہ میں واقعات کی رفتار ۵۷۲

عمال حکومت کا طرز عمل ۵۷۳

مرکز اور صوبے کی بدگمانیاں ۵۷۴

مجلس عمل اور احرار کی برأت کا قطعی ثبوت ۵۷۵

مزید ثبوت ۵۷۵

مسئلہ مرزائیت اور اسلامی حکومت ۵۷۶

مجلس احرار اسلام کا مؤقف ۵۷۶

دفاع کانفرنس ۵۷۷

جنرل الیکشن ۵۷۷

صفحہ ۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس احرار اور لیاقت علی خان مرحوم ۵۷۷ دوسری بات ۵۷۸ تحریک کے سلسلہ میں احرار پر الزام ۵۷۹ بات کا جواب ۵۷۹ ارمان ۵۸۲ خلاف توقع حالات کی ذمہ داری ۵۸۲ مرزائی جرأت کی انتہاء ۵۸۳ احرار اور مرزائی کا مقابلہ ۵۸۴ احرار ۵۸۴ مرزائی ۵۸۵ عام بے چینی کے بارہ میں تمام پاکستان کی رائے ۵۸۵ احرار اور عام مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ ۵۸۶ راست اقدام کا جواز ۵۸۸ خلاصہ راست اقدام ۵۸۸ ضمیمہ ۵۸۹ اسلامی حکومت کا پہلا تصور ۵۸۹ اسلامی حکومت کا دوسرا تصور ۵۹۰ اسلامی حکومت کا عملی نمونہ ۵۹۱ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۵۹۱ بعثت انبیاء اور تبلیغ ۵۹۱ سیاست و مذہب ۵۹۲ کیا اب اس کا اعادہ ممکن نہیں ۵۹۲ ایک دھوکہ اور اس کا جواب ۵۹۲ خلافت راشدہ کی راہنمائی ۵۹۲ اسلامی حکومت اور غیر مسلم ۵۹۳ حکومت میں حصہ ۵۹۳ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ۵۹۴

صفحہ ۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تبلیغ کا حق ۵۹۴ اسلام اور دوسرے مذاہب ۵۹۴ کافر کے لئے دائمی جہنم ہے ۵۹۴ کافر کی بخشش نہیں ہو سکتی ۵۹۵ تبلیغ کی اہمیت ۵۹۵ معکوس ترقی ۵۹۵ تبلیغ کفر کی اجازت ۵۹۶ شہری آزادی کے نام سے شیطانی کام ۵۹۶ پہلا ازالہ ۵۹۶ دوسرا ازالہ ۵۹۶ تبلیغ کفر کی اجازت کا ایک اور خطرناک نتیجہ ۵۹۷ ایک اور خطرہ ۵۹۷ مرزائیت کی تبلیغ ۵۹۷ مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی کی تیار کردہ جرح ۵۹۸ ظفر اللہ قادیانی پر جرح ۵۹۸ مرزا محمود پر جرح ۶۰۰ سوالات ۶۰۲ سوال انکوائری رپورٹ نمبر: ۱ ۶۰۵ سوال نمبر: ۲ ۶۰۷ مسلمان مسلمان نہیں ۶۱۰ مسلمان کا لفظ ۶۱۰ ایک مثال ۶۱۲ ایک شبہ کا ازالہ ۶۱۳ (الف) فرقہ شیعہ ۶۱۴ (ب) فرقہ اہل سنت والجماعت ۶۱۴ (ج) مقلد ۶۱۴ (د) غیر مقلد ۶۱۵

صفحہ ۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(ہ) فرقہ احمدیہ ۶۱۵ سوال نمبر: ۳ ۶۱۶ سوال نمبر: ۴ ۶۱۷ سوال نمبر: ۵ ۶۲۰ سوال نمبر: ۶ ۶۲۲ سوال نمبر: ۷ ۶۲۳ ایک شبہ کا ازالہ ۶۲۸ الجواب ۶۲۹ مسلمان کی تعریف ۶۳۰ باب پنجم ۶۳۱ تحریک کے مخالفین کا انجام ۶۳۲ ملک غلام محمد ۶۳۲ سکندر مرزا ۶۳۲ مسٹر دولتانہ ۶۳۳ خان عبدالقیوم خان ۶۳۳ خواجہ ناظم الدین ۶۳۳ میاں انور علی ۶۳۳ جنرل اعظم ۶۳۴ ڈپٹی کمشنر غلام سرور ۶۳۴ راجہ نادر خان ۶۳۴ قدرت کی قہاریت کا عجیب واقعہ ۶۳۴ دس سوالات کے جوابات ۶۳۵ افہام و تفہیم کے مراحل ۶۳۸ متفرقات ۶۴۷ باپ اور بیٹے کی قربانی ۶۵۰ میرا کالی کملی والا ۶۵۰ مولانا محمد حیات فاتح قادیان ۶۵۲

صفحہ ۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خاتمۃ الکتاب ٦٦٠ اہل جنت سے خطاب ٦٦٠ تاریخی اشتہارات ٦٦١ ختم نبوت کے متعلق چند آیات واحادیث ٦٦٢ پاکستان اور مرزائی ٦٦٥ مرزائی کسی ادارہ میں مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہو سکتے ٦٦٩ یوم مطالبات ٦٧٠ مسلمانان پاکستان کا حکومت پاکستان سے مطالبہ ٦٧١ آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب کی مجلس عمل کی طرف سے محضر نامہ ٦٧٢ زکوۃ وصدقات کا بہترین مصرف ٦٧٩ مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان ٦٨٠ بیٹا جس نے باپ کا جنازہ نہیں پڑھا ٦٨٢ مولانا محمد علی جالندھری کا خط ٦٨٣ تحریک ختم نبوت کے بعد لاہور میں پہلی مرتبہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ٦٨٥ شہدائے ختم نبوت کانفرنس ٦٨٦ شہدائے ختم نبوت کانفرنس لاہور ٦٨٩ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی کا چیلنج منظور ٦٩٠ کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس باغ لانگے خان ملتان ٦٩١ احباب اور اصحاب خیر کی خدمت میں ضروری اپیل ٦٩٢ عکس تحریر خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ ٦٩٨ یادگار نظمیں ٦٩٩ عجمی اسرائیل ٧٠٠ ملتان پوچھتا ہے ٧٠١ بیاد شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء ٧٠٢ شہدائے ختم نبوت کے نام ٧٠٢ شہدائے ختم نبوت (مارچ ۱۹۵۳ء) کی نذر ٧٠٣ یہ جیت ان کی ہے جو خون میں نہائے تھے ٧٠٤

صفحہ ٣٠

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انتساب

تحفظ ختم نبوت کی خاطر بہنے والے ہر قطرۂ لہو کے نام!

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

رشحات قلم

مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود شیر بیشہ حریت حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری مجاہد اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی وکیل ختم نبوت مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش درانی

صفحہ ۳۱

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دل کی بات

الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء۔ اما بعد!

اسلام کے اساسی اور بنیادی عقیدہ ”ختم نبوت“ کے تحفظ کی جدوجہد کا آغاز خود رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس سے ہوا آپ ﷺ نے جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کے فتنہ کو فرو کرنے کے لئے سیدنا فیروز دیلمی ؓ کی ڈیوٹی لگائی۔ انہوں نے فرمان نبوی ﷺ کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے میدان تحفظ ختم نبوت میں قدم رکھا اور کامیابی و کامرانی نے ان کے ایسے قدم چومے کہ خود آپ ﷺ نے زبان اقدس سے فرمایا: ”فاز فیروز ؓ“ فیروز ؓ کامیاب ہوگیا۔

امت مسلمہ میں سب سے پہلے خلیفہ سیدنا صدیق اکبر ؓ نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا معرکہ برپا کیا اور اس فتنہ کے بانی مسیلمہ کذاب کو پیوند خاک کیا۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ ابتداء اسلام سے لے کر آج تک جب کبھی، کہیں، کسی بھی جھوٹے نے دعویٰ نبوت کیا، امت مسلمہ نے اپنا ایمانی فرض اولین سمجھ کر اس کذاب و دجال کا تعاقب کیا۔

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی داستان عشق و محبت کو ہمیشہ تاریخ اسلام کی امہات الکتب میں سال بہ سال اہم واقعات کے تذکروں میں محفوظ کیا گیا۔ ان جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکاروں کی دسیسہ کاروں کا تذکرہ تاریخ الکامل ابن اثیر، فتوح البلدان، طبری، طبقات، البدایۃ والنہایۃ، ابن خلدون، ابن عساکر اور دیگر کتب تاریخ میں جگہ جگہ موجود تھا۔ اسی طرح ابو المظفر الاسفرائینی کی ”التبصیر فی الدین“ ، محمد حسین العلوی کی ”بیان الادیان“ ، ابوالحسن الاشعری کی ”مقالات الاسلامیین“ اور ابی منصور عبد القاہر بن طاہر بن محمد البغدادی (متوفی ۴۲۹ھ) کی ”الفرق بین الفرق“ ان تمام کتب کو سامنے رکھ کر مولانا ابو القاسم محمد رفیق دلاوری (۱۸۸۳ء - ۱۹۶۰ء) نے خیر القرون کے دور سے لے کر اپنی وفات (۱۹۶۰ء) تک کے وہ تمام جھوٹے مدعیان نبوت، مسیحیت، مہدویت اور اس قسم کے دوسرے مدّعیان جنہوں نے ملت حنفی میں رخنہ اندازیاں کیں اور اسلام کے لئے مار آستین ثابت ہوئے۔ ان کے حالات ”آئمہ تلبیس“ میں قلمبند کر دیئے۔ ان کذاب مدعیان نبوت میں سے ایک اکذب الکذّابین، ملعون قادیان مرزا غلام احمد قادیانی بھی تھا۔ اس کے حالات و واقعات پر مشتمل مستقل کتاب ”رئیس قادیان“ بھی آپ نے تحریر کی جس میں قریباً ۳۵-۱۹۳۴ء تک حالات آگئے ہیں۔

مجلس احرار الاسلام کل ہند کی ختم نبوت کانفرنس قادیان ۱۹۳۴ء سے لے کر دسمبر ۲۰۱۹ء تک کی تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد یکجا کہیں سے مل جاتی تو گویا خیر القرون سے آج تک کی یہ تاریخ قلمبند ہو کر منصہ شہود پر آجاتی۔ یہ سعادت اللہ رب العزت نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حصہ میں لکھی تھی کہ سب سے پہلے ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ کی کتاب شائع کی جو ۱۹۳۴ء سے ۱۹۵۳ء کے حالات پر مشتمل ہے۔ پھر ۱۹۵۴ء سے ۱۹۷۴ء کے ابتدائی حالات تک کتاب مرتب کی جو ”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء جلد اوّل“ کے نام پر معرض وجود میں آئی۔ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء واقعہ چناب نگر سے لے کر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ تک کے حالات پر مشتمل کتاب ”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء جلد دوم“ کے نام پر شائع ہوئی۔ پھر ستمبر ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلہ کے بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء امتناع قادیانیت قانون کی منظوری تک کے حالات و واقعات کو ”تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء“ کے نام پر مرتب کر کے شائع کیا گیا۔

صفحہ ۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب ضرورت تھی کہ ۱۹۸۵ء سے ۲۰۱۹ء تک کے حالات و واقعات اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کی تاریخ کو مرتب کر دیا جائے تا کہ خیر القرون کے عہد مبارک سے لے کر ۲۰۱۹ء تک کی پوری تاریخ تحفظ ختم نبوت محفوظ ہو جائے۔ چنانچہ ”تحریک ختم نبوت“ کے نام پر اس پوری جدوجہد کی مبارک یادوں کو مرتب کرنے کا عزم کیا۔ پہلے خیال تھا کہ ”ائمہ تلبیس“ اور ”رئیس قادیان“ دونوں کتابوں کو بھی اس سیٹ کا حصہ بنا دیا جائے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، جناب محمد متین خالد، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی سے مشورہ کیا، لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچ پائے۔ پھر حضرت مولانا زاہد الراشدی سے رہنمائی کی استدعاء کی تو آپ نے فرمایا کہ اس کام کے لئے ملتان آؤں گا، دو تین دن رہ کر اس پر مشورہ بھی مکمل کریں گے۔ اس کا دیباچہ بھی لکھوں گا اور یہ کہ اس دوران میں لائبریری سے بھی استفادہ ہو جائے گا۔ اس کرم فرمائی کو نیک فال سمجھا اور باعث سعادت بھی۔ موعودہ دن گزر گئے۔ مصروفیت نے انہیں اس طرف آنے کا نہ چھوڑا۔

۲۸/ دسمبر ۲۰۱۹ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ کے ملک بھر کے رفقاء کا اجلاس تھا۔ سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی تیاری کے لئے مشاورت کے دوران ان حضرات نے فیصلہ کیا۔ اس سال شرکاء کورس کو تحریک ختم نبوت کا مکمل سیٹ دیا جائے۔ الحمد للہ ! جمع و ترتیب، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ کا کام تکمیل کے مراحل میں تھا۔ اجلاس نے مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد وسیم اسلم، جناب محمد عدنان سنپال پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی کہ وہ سنین کے اعتبار سے ۱۹۳۴ء سے ۲۰۱۹ء تک یوں چھیاسی سال (گویا) ایک صدی کی تحفظ ختم نبوت کی ایمان پرور، جہاد آفریں، حقائق افروز جدوجہد کی تاریخ کی ترتیب قائم کر دیں۔ جتنی جلدوں کا سیٹ تیار ہو جائے فوری پریس بھجوا دیا جائے۔ مارچ ۲۰۲۰ء کے آخر تک چھپ جائے تا کہ اپریل میں ختم نبوت کورس کے اختتام پر شرکاء کورس کو مجلس کی طرف سے پیش کر دیا جائے۔ چنانچہ ۲۹/ دسمبر ۲۰۱۹ء کو سہ رکنی کمیٹی نے ”تحریک ختم نبوت“ کتاب کے حجم اور سنین کو سامنے رکھ کر ترتیب قائم کی تو اس کی دس ضخیم جلدیں 20x30/8 کا سائز طے ہوا جس کی تفصیل یہ ہے:

جلد اول ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹/ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷/ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸/ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱/ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء

۱۹۷۴ء کے بعد سے ۲۰۱۹ء کے آخر تک التزام کیا ہے:

کے لئے صرف ہوئے) لیکن یہ چیزیں تاریخ و ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔

فہرست شامل کی گئی۔

صفحہ ۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

اسی طرح دیگر بہت سارے ایسے عنوانات جو معلومات کا بیش بہا خزانہ، تاریخ کا ورثہ، منہ بولتے حقائق، آپ پڑھیں تو محسوس ہو کہ آپ تحریکی جدوجہد کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

اعتراف ہے کہ سب کچھ جمع نہیں کر پائے ، لیکن اتنا کچھ جمع ہو گیا ہے جو کہیں بھی یکجا نہیں تھا۔ بلا مبالغہ قریباً صدی بھر کا بکھرا ہوا قیمتی اثاثہ یکجا کر کے جواہر کی مالا تیار کر دی ہے۔ مسلمانوں کے لئے روح پرور اور منکرین کے لئے روح فرسا ہے۔

عالمی مجلس کی پون صدی کی مجلس شوریٰ، مجلس عاملہ اور مجلس عمومی کے اجلاس کی قابل اشاعت کارروائیاں شائع کر دی گئیں۔ یہ تمام تر ریکارڈ عالمی مجلس کے ترجمان پہلے ہفت روزہ پھر ماہنامہ لولاک ، ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع سرمایہ سے لیا گیا۔ تمام اخبارات یا دیگر رسائل کا احاطہ نہیں کر پائے۔ اس سے بلاشبہ ضخامت کے بڑھنے کا خوف تھا۔ ہم نے ایک شاہراہ متعین کر دی ہے، اس کو مزید پھیلایا اور بڑھایا جاسکتا ہے۔ تمام مکاتب فکر کی جس جدوجہد کا جو ریکارڈ ملا وہ شامل کر دیا۔ جو نہیں ملا، یا تلاش نہ کر پائے وہ آپ عنایت کریں تو آئندہ شامل کیا جائے گا۔

جماعتی احباب توجہ کریں کہ یہ دس جلدوں پر مشتمل ہزاروں صفحات کی کتاب جہاں ”تحریک ختم نبوت“ کی رپورٹ ہے، وہاں مجلس کی کارکردگی بھی محفوظ کر دی ہے۔ جو کچھ ہم سے ہو پایا وہ جمع کر دیا ہے۔ جو رہ گیا ہے اس کی دلالت ، دلالت علی الخیر ہے جو شکریہ کے ساتھ قبول ہوگی ۔ ہمت کرو، کرنے کا کام ہے ۔ ورنہ مشورہ دینا اور اعتراض کرنا کیا مشکل ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اس محنت کو قبول فرمائیں۔ اپنے بزرگوں (جمعیۃ علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت) اور دیگر اکابر کی جدوجہد کے تذکرے پڑھیں اور آگے بڑھیں اور بڑھتے ہی چلے جائیں۔ حرکت کا نام زندگی ہے اور جمود کا نام ......

آخر میں بہت شکر گزار ہوں اپنے برادر مولانا محمد وسیم اسلم صاحب کا انہوں نے اس کتاب کی تکمیل کے لئے وہ محنت کی کہ میرا رواں رواں ان کے لئے سپاس گزار ہے۔ حق تعالیٰ تمام رفقاء و شریک کار حضرات کو بہت ہی جزائے خیر دیں۔ والسلام!

محتاج دعا : فقیر اللہ وسایا

۲۹؍دسمبر ۲۰۱۹ء، مطابق یکم؍ جمادی الاوّل ۱۴۴۱ھ

صفحہ ۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سفر عشق

الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ. اما بعد!

برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کی جانے والی جدوجہد میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کو جو اہمیت حاصل ہے اس سے کون واقف نہیں۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء بلاشبہ ایک ایسی عظیم تحریک تھی جسے قرونِ اولیٰ عہد صدیق اکبر ﷺ کی تحریک ختم نبوت کے بعد دوسری عظیم ترین تحریک قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاک وہند میں تحریک کے راہنما ایک صدی تک فتنہ عمیاء قادیانیت کے خلاف برسر پیکار رہے۔ انہوں نے اپنی بے بضاعتی اور فقر وفاقہ کے باوجود قادیانیت کو ایسے چرکے لگائے کہ قادیانیت وقادیانی نواز طبقہ چیخ اٹھا۔ تحریک کے راہنما ایسے خدا مست، درویش صفت، فرشتہ سیرت انسان تھے کہ اب اس دور میں ان کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ ان کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ انہوں نے دن رات ایک کر کے ایسی محنت واخلاص بھری کاوش کی، جو دیانتداری کی بات ہے کہ انہی حضرات کا ہی حصہ تھی۔ اپنے گھر بار، مال، جان، اولاد، عزیز واقارب، گرمی، سردی، دکھ، سکھ، دن، رات، یمین ویسار کی پرواہ کئے بغیر ایسی خدمات سرانجام دیں کہ اس پر وہ پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ ان حضرات کی زندگی ریل وجیل کی زندگی تھی۔ انہیں لمحہ بھر فرصت نہ تھی کہ وہ آرام واطمینان ویکسوئی سے بیٹھ کر تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے حالات قلمبند فرماتے۔ انہوں نے ایک سیکنڈ ضائع کئے بغیر اپنے سفر کو جاری رکھا۔ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ تاریخ تھا۔ وہ تاریخ ساز تھے۔ ان کی محنت تاریخ ساز تھی۔ وہ زندگی بھر تاریخ بناتے رہے۔ انہیں تاریخ لکھنے کی فرصت تھی نہ حالات اس کی اجازت دیتے تھے۔

اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء سے ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء تک دس سال اس قرارداد کی قانون سازی پر لگ گئے۔ تحریک ختم نبوت کے راہنما کامیاب وکامران ہوئے۔ قادیانی اور قادیانی نواز لوگوں کے لئے اپنے کئے کی پانے کا اور اپنے بیجے ہوئے کو کاٹنے کا وقت آگیا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، مفکر اسلام مولانا تاج محمود، مفکر ختم نبوت مولانا محمد شریف جالندھری ایسے بزرگ رہنما ایک ایک کر کے اس مشن پر اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر گئے۔ لیکن ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی تفصیلات پر مشتمل کتاب کا قرض تاحال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ تھا۔ اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد تحریکی جھمیلوں سے معمولی فرصت ملتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت نے چند سالوں میں اتنا کام کیا ہے جسے محض توفیق ایزدی ہی گردانا جاسکتا ہے۔ اردو، عربی، انگریزی ودیگر زبانوں میں عالمی مجلس کے لٹریچر کا انبار موجود ہے۔ قادیانیت کے خلاف تمام موضوعات پر لٹریچر کا پوری دنیا میں عالمی مجلس نے ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ سب اللہ رب العزت کے کرم، رحمت عالم ﷺ کی توجّہات عالیہ، شہدائے ختم نبوت کے مقدس خون کا صدقہ، عالمی مجلس کے امیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی نیم شبانہ دعاؤں اور شعبہ نشر واشاعت کے ناظم مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے اخلاص بھرے قلم کی برکت ہے۔ آپ دنیا کے کسی کونے میں تشریف لے جائیں ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے افراد کی لائبریری میں آپ کو عالمی مجلس کا لٹریچر ملے گا۔ فالحمدللہ ! گزشتہ سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت نے ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ نامی کتاب شائع کی۔ اس کے دیباچہ میں عرض کیا تھا کہ اب آئندہ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت کے حالات قلمبند کرنے کا ارادہ ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ ’’تذکرہ‘‘ کے

صفحہ ۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مواد کو جمع کرنے کے لئے میرے قابل احترام بھائی جناب محمد متین خالد نے دیگر جرائد ورسائل کی طرح ہفتہ وار لولاک فیصل آباد کے فائل کی ورق گردانی کی تو مفکر اسلام، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود کے مبارک قلم سے گاہے بگاہے شائع ہونے والی تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی اقساط کے بھی فوٹو لے لئے ۔ تذکرہ کے شائع ہوتے ہی جناب محمد متین خالد صاحب نے بڑے ہی اخلاص کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ (جانشین مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری) اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں صاحبزادہ طارق محمود (جانشین مجاہد اسلام مولانا تاج محمود) سے مطالبہ شروع کر دیا کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے سلسلہ میں مولانا تاج محمود کے رشحات قلم کو شائع کرنا چاہئے ۔ اتفاق سے ایک رات فیصل آباد میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، صاحبزادہ طارق محمود اور فقیر جمع تھے کہ ان کا لاہور سے فون آیا۔ انہوں نے اپنے مطالبہ کو منوانے کے لئے دلائل کے انبار لگا دیئے ۔ ہم تینوں کافی دیر اس پر سوچ بچار کرتے رہے ۔ حضرت مولانا تاج محمود میرے مربی و محسن تھے۔ صاحبزادہ طارق محمود ان کے فرزند ہیں تو مجھے بھی حضرت مرحوم سے معنوی طور پر یہ نسبت حاصل تھی۔ میرا بھی مجنونانہ حد تک اصرار تھا کہ حضرت مرحوم کی ان تحریروں کو شائع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ مخدوم زادہ طارق محمود کا حکم تھا کہ حضرت اقدس مولانا تاج محمود کی زندگی سراپا تحریک تھی ۔ انہوں نے جو کچھ ۱۹۵۳ء کی تحریک کے متعلق لکھا ہے وہ محض اشارات ہیں۔ اس پر جب تک بھر پور محنت نہ ہو ، اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا اتنا فائدہ نہ ہوگا جتنا کہ درکار ہے۔ رات گئے تک مولانا عزیز الرحمن جالندھری، ہم دونوں بھائیوں کے دلائل سنتے رہے۔ صبح چناب نگر (ربوہ) عالمی مجلس کے کسی کام کے لئے سفر درپیش تھا۔ کار میں بیٹھتے ہی پھر ہم نے اپنے اپنے دلائل دینے شروع کر دیئے ۔ مجھے یاد ہے کہ فیصل آباد سے چنیوٹ تک مولانا عزیز الرحمن صاحب ہم دونوں کے دلائل سنتے رہے اور پھر فیصلہ فرمایا کہ : ”لولاک“ کی تمام فائلوں سے مزید تحریک ۱۹۵۳ء کے متعلق مواد جمع کیا جائے اور پھر ترتیب دے کر اسے جتنی جلدی ممکن ہو شائع کر دیا جائے ۔ ”لولاک“ کی فائلوں سے مواد کو جمع کرنا میرے ذمہ ٹھہرا۔

اسی سفر سے واپسی پر فقیر نے کام شروع کیا تو تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی ۳۷ قسطیں مل گئیں ۔ (صاحبزادہ طارق محمود کی بات درست تھی کہ حضرت مولانا مرحوم کی زندگی واقعی سراپا تحریک تھی۔ تقریباً چار سال کے عرصہ میں ۳۷ قسطیں لکھیں ۔ آپ اتنے مصروف انسان تھے کہ بسا اوقات تحریک کی قسطیں چھ چھ ماہ تک نہ لکھ سکے ) فقیر نے ان کو جمع کر کے فوٹو کرائے ۔ دو سیٹ تیار کئے ۔ ایک صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا اور درخواست کی کہ آپ ان کو ترتیب دینے کا کام شروع کریں ۔ چند ماہ بعد ملاقات ہوئی تو صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ میں اپنی کتاب ”صدائے محراب“ ہفتہ وار لولاک اور گھریلو کاموں میں اتنا الجھا ہوا ہوں کہ میرے لئے یہ کام اتنی جلدی کرنا جتنا کہ آپ چاہتے ہیں ممکن نہیں اور ساتھ ہی یہ کہ ”صدائے محراب“ کے بعد مجھے ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ کتاب کو ترتیب دینا ہے۔ چھ ماہ بعد آپ حضرات فرمائیں گے کہ کام نہیں ہوا تو ابھی سے یہ نوٹ فرمائیں کہ اتنی جلدی یہ کام کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔ یہاں سے ”قرعہ فال“ فقیر کے نام نکل آیا ۔ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت کے کام کو چھوڑ کر اس کام کی بسم اللہ ہوئی۔

اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جائیں کہ حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے حالات قلمبند کئے تھے۔ جو قریباً چھ صد چھوٹے سائز کی سلپوں پر مشتمل تھے۔ ایک دن حاجی جہانگیر صاحب لاہور والوں کو بلا کر یہ مسودہ ان کے سپرد کر دیا اور اس کے ایک ہفتہ بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ حاجی جہانگیر نے سالہا سال مسودہ اپنے پاس رکھا اور پھر ”لولاک“ میں اشاعت کے لئے ایک ایک سو سلپ بھجوانے شروع کئے۔ تقریباً تین صد سلپیں شائع ہو چکیں تو مولانا تاج محمود صاحب مرحوم کو خط لکھا کہ بقیہ تمام مسودہ آپ منگوا لیں ۔ حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے فقیر کو لاہور بھیجا۔ بقیہ تین صد سلپیں لے کر فقیر فیصل آباد آیا تو عجیب اتفاق ہوا کہ ایک ہفتہ بعد حاجی جہانگیر صاحب کا انتقال ہو گیا۔ مزید ایک سو سلپیں شائع ہوئیں ۔ دو صد سلپیں شائع

صفحہ ۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہونی باقی تھیں کہ مرزائیت کے خلاف تحریک ۱۹۷۴ء شروع ہو گئی۔ اس میں ایسے منہمک ہوئے کہ سلسلہ اشاعت رک گیا۔ ایسا رکا کہ ۱۹۸۴ء تک بقیہ اقساط مکمل نہ ہوسکیں۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل مولانا تاج محمود صاحب نے مطبوعہ وغیر مطبوعہ تمام مسودہ فقیر کو دے دیا کہ یہ جماعت کی امانت ہے، آپ سنبھال لیں۔ فقیر ان دنوں چناب نگر میں مجلس کی طرف سے خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ چناب نگر لائبریری میں لاکر مسودہ رکھ دیا۔ ختم نبوت کانفرنس کے سلسلہ میں برطانیہ جانا ہوا۔ ان دنوں چناب نگر میں بھی کانفرنس تھی۔ برطانیہ میں مجھے مسودہ یاد آیا تو پوری رات استغفار میں گزار دی۔ مجھے وہم یہ تھا کہ لائبریری کے کمرہ کی صفائی کرنے کے لئے اگر کتابوں کو باہر نکالا گیا تو بوسیدہ کاغذ سمجھ کر کوئی انجان ساتھی اسے ردی نہ قرار دے دیں۔ ان دنوں چناب نگر فون ڈائریکٹ نہ تھا۔ ملتان دفتر کے تمام ذمہ دار حضرات چناب نگر تھے۔ اللہ توبہ کر کے رات گزار دی۔ صبح اللہ کے کرم پر معاملہ چھوڑا اور اپنے معمول کے کام پر لگ گیا۔ پاکستان واپسی پر سب سے پہلے وہ مسودہ چناب نگر سے اٹھا کر فیصل آباد صاحبزادہ طارق محمود صاحب کے سپرد کر دیا۔ چند ماہ بعد پھر فیصل آباد سے ملتان لے آیا۔ مکرم جناب عبدالرحمن یعقوب باوا ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت اور مخدوم محترم مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر سے متعدد بار اس کی اشاعت کے لئے مشورے ہوتے رہے۔ اب جب کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی اقساط (مولانا تاج محمود صاحب) کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری کا مسودہ بھی مکمل پڑھا۔ سنا ہے کہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے حکم پر مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی دونوں حضرات نے قرآن مجید کی تفاسیر لکھیں۔ دونوں کی تفاسیر کا ایک ہی نام ”معارف القرآن“ ہے۔ لیکن پڑھنے سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دونوں حضرات نے تفسیر لکھتے وقت باہمی مشورہ کر لیا ہو کہ جو مسائل ایک تفسیر میں ہیں دوسری میں اس کے علاوہ۔ حالانکہ ان حضرات نے مشورہ کیا، کیا ہوگا، محض قدرت کی طرف سے تقسیم کار تھی۔ بعینہ یہی بات حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری کے مسودہ جات میں پائی۔ جو واقعات ایک بزرگ نے لکھے، دوسرے نے اس کے علاوہ مزید لکھ دیئے۔ دونوں کو ترتیب دیں تو نور علیٰ نور کی مثال صادق آئے۔

اب طبیعت میں داعیہ پیدا ہوا کہ ان دونوں مسودہ جات کو ایسے طور پر ترتیب دیا جائے کہ ایک مربوط شکل بن جائے۔ دلی خواہش، جذبہ اور ان بزرگوں کے احترام کا تقاضہ یہ تھا کہ کسی بھی مسودہ سے کوئی بھی چیز ضائع نہ ہو۔ جو دوست اس میدان کے ہیں وہ جانتے ہیں کہ دو علیحدہ علیحدہ مسودہ جات کو باہم دیگر ”پرونا“ کتنا مشکل کام ہے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ حدیث شریف کی کتاب بخاری شریف کی یہ برکت ہے کہ اس کے ختم کے موقعہ پر جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ ہمارے ملتان کے مدرسہ قاسم العلوم میں بخاری شریف کا ختم تھا۔ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر ختم بخاری کے لئے تشریف لائے۔ فقیر اس نیت سے اس اجتماع میں شریک ہوا کہ اللہ رب العزت ”بخاری شریف“ کی برکت سے ان مسودات کی ترتیب کا کام میرے لئے آسان فرمادیں۔

قارئین کرام! اللہ رب العزت کا ایسا فضل ہوا کہ یہ کام جو پہاڑ سر کرنے سے زیادہ مشکل نظر آرہا تھا رحمت عالم ﷺ کے مقدس فرامین کے صدقے مجھ پر اتنا آسان ہوا کہ الفاظ میں اس کی وضاحت سوائے اس کے ممکن نہیں کہ سالوں کا سفر ہفتوں میں طے ہوا۔ فالحمد للہ!

حضرت مولانا تاج محمود صاحب مرحوم نے فیصل آباد اور ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم نے لاہور کے حالات لکھ کر آگے ختم کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ باقی اضلاع کی رپورٹیں ان حضرات کو میسر نہ آسکیں۔ اب فقیر نے باقی اضلاع کی رپورٹیں جمع کرنا شروع کیں تو جب کہ ۱۹۵۳ء سے ۱۹۹۱ء تک تحریک کے چوٹی کے رہنما ایک ایک کر کے اللہ رب العزت کو پیارے ہوچکے ہیں۔ مختلف حضرات کی ضلع وار فہرست مرتب کر کے جن حضرات سے کچھ حالات ملنے کی توقع تھی، خطوط لکھے تو سترہ خطوط میں سے صرف ایک خط کا جواب آیا۔ اپنے رفقاء جن کے ذمہ صوبوں یا اضلاع کی رپورٹ جمع کرنے کا کام لگایا وہ بھی اپنی گوناں گوں مصروفیات یا تحریک کے رہنماؤں کی وفیات کے

صفحہ ۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باعث یہ کام نہ کر پائے۔ باقی چھوڑیئے خود ضلع جھنگ جس میں چناب نگر (ربوہ) واقع ہے اس کے متصل سرگودھا تک کی مجھے ہزار کوشش کے باوجود رپورٹ نہ مل سکی۔ بہاول پور کو تحریک ختم نبوت میں جو اہمیت حاصل ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔ مگر تحریک کے رہنما حکیم محمد ابراہیم صاحب اور مولانا محمد شریف بہاول پوری کا انتقال ہو گیا۔ تحریک کا ریکارڈ دفتر ختم نبوت میں تھا۔ جس مارکیٹ میں دفتر تھا آتشزدگی سے وہ ضائع ہو گیا۔ اس کے باوجود مختلف اضلاع سے جتنا ممکن ہو سکا ریکارڈ جمع کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے مولانا محمد عبداللہ صاحب مہتمم دارالہدیٰ بھکر کا بطور خاص شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے میانوالی ضلع کی بھر پور اور جامع رپورٹ مرتب کر کے ارسال فرمائی اور مخدومی سید محمد امین گیلانی نے ضلع شیخوپورہ کی رپورٹ بھجوائی۔ اللہ رب العزت کا کرم ہوا کہ جناب بھائی محمد اقبال صاحب ایم۔اے کی نشاندہی پر مولانا تاج محمود صاحب مرحوم کی لائبریری سے مجلس عمل کا بیان جو انکوائری کمیشن میں داخل کرایا گیا تھا۔ صاحبزادہ طارق محمود صاحب کے توسط سے مل گیا۔ اسی طرح مولانا غلام محمد صاحب علی پوری سابق مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کتابوں سے مولانا محمد علی جالندھری کا بیان جو ۱۹۵۳ء کی تحریک میں جمع کرایا گیا تھا۔ مولانا منظور احمد الحسینی کے توسط سے مل گیا۔ یہ دونوں بیانات پہلی بار شائع ہو رہے ہیں۔ اسی طرح صوفی احمد یار صاحب بھلوال والوں کے ہاں سے چار صفاتی جرح جو مولانا غلام غوث ہزاروی کی مرتب کردہ تھی وہ مل گئی۔

حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری کے مسودہ جات کو باہم دیگر جوڑنے کے لئے جہاں سے مولانا تاج محمود اور ماسٹر صاحب کے مسودہ سے مواد لیا۔ ان کو ”مولانا تاج محمود فرماتے ہیں، ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں“ لکھ کر دونوں حضرات کے مسودہ جات کو ممتاز کر دیا۔ اس کوشش کے ساتھ کہ ان حضرات کے مسودہ جات کا کوئی بھی حرف ضائع نہ ہونے پائے۔ اس سے بعض جگہ آپ کو تکرار کی زحمت گوارہ کرنی ہوگی۔ مگر میری یہی خواہش اسی تکرار کا باعث ہوئی۔ باقی کتاب میں کیا کیا مضامین کہاں کہاں سے لئے گئے، ان کی تفصیل ہر باب کے شروع میں آپ ملاحظہ فرما سکیں گے۔

انسان کے لئے یہ ممکن نہیں اور شریعت میں بھی اس کی اجازت نہیں۔ ورنہ اپنے خون جگر سے محترم بھائی محمد متین خالد صاحب کی تواضع کرتا اور پھر بھی ان کا حق ادا نہ کر سکتا۔ جو انہوں نے اس کتاب کے لئے محنت کی۔ دن رات ایک کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر انہوں نے یہ معرکہ سر کیا۔ کتاب کی پروف ریڈنگ کے لئے جناب سید محمد صدیق شاہ صاحب کی مخلصانہ محنت رحمت عالم ﷺ سے ان کے مقدس رشتہ کا صدقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزائے خیر دیں۔ واقعی انہوں نے بڑا احسان فرمایا۔ اسی طرح میرے عزیز بھائی قدیر شہزاد، جناب ریاض مجاہد، محترمی حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (مبلغ عالمی مجلس لاہور) ، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ (مبلغ چناب نگر) ، ڈاکٹر حافظ محمد اسلم سوہدروی، سید منظور الحسن شاہ صاحب (لاہور) اور مولانا محمد اکرم طوفانی (مبلغ سرگودھا) بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پروف ریڈنگ کے لئے بڑی محنت ومحبت کا معاملہ فرمایا۔ اللہ رب العزت ان کو اس کی جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ آمین!

کتاب میں جو کچھ جمع پائیں گے یہ محض توفیق ایزدی ہے۔ ورنہ اتنے حالات کے جمع کرنے کا تصور بھی نہ تھا۔ مگر باایں ہمہ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ جن اضلاع کی رپورٹیں میسر نہیں آسکیں ان کو جمع کرنا اور مزید حالات اکٹھے کرنے سے ایک اور جلد تیار ہو سکتی ہے۔ دیکھئے کہ کسے اس کی توفیق ہوتی ہے؟ آخر میں عرض کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس کتاب کی ترتیب میں محبت وبغض سے یکسر دل ودماغ خالی کر کے جو میسر آیا جمع کر دیا ہے۔ کسی بھی واقعہ کو حاصل کرنے کے بعد شامل نہ کیا ہوا ایسے نہیں ہوا۔ جن حضرات کا تذکرہ رہ گیا ہے اس کا باعث یہی ہے کہ فقیر کو ان کا علم نہ تھا۔ والسلام !

فقیر : اللہ وسایا ، حال وارد چناب نگر ۲۸ / اگست ۱۹۹۱ء

صفحہ ۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد کا پیغام

تحریک ختم نبوت جو ۱۹۵۳ء میں شروع ہوئی، اس کے خاص عوامل تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے انگریز حکمرانوں نے اپنے خاص منصوبہ کے تحت مسلمان ملازمین کو خواہ وہ کسی محکمہ کے ہوں، ترقی مرزائیوں کے بڑوں کی سفارش پر دیتے تھے۔ جب پاکستان بنا اور انگریز نے سر ظفر اللہ خان قادیانی کو زبردستی وزیر خارجہ بنوایا تو وزیر خارجہ کی حیثیت سے اس نے قادیانیت کو پروان چڑھایا اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ پاکستان کہیں قادیانی ریاست نہ بن جائے۔ اس خطرہ کو احرار اسلام کے مرکزی حضرات نے بھانپا اور اس کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ پھر ۱۹۵۳ء میں تحریک کی صورت اختیار ہوئی۔ اس میں جو کچھ ہوا مسلمانوں نے جس قدر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اس وقت کی حکومت نے جو جو مظالم کئے اس کی تفصیل مولانا اللہ وسایا صاحب کی اس کتاب میں قارئین حضرات ملاحظہ کریں گے۔ اکثر حضرات اس تحریک کو ناکام کہتے ہیں۔ یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ اس تحریک کی وجہ سے عام مسلمانوں میں قادیانیوں سے جو نفرت پیدا ہوئی، یہ نفرت اس تحریک کی کامیابی کی دلیل ہے۔ اس کی وجہ سے ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکیں کامیاب ہوئیں۔

اللہ تعالیٰ مولانا اللہ وسایا صاحب کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے۔ آمین!

والسلام! فقیر خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف ضلع میانوالی

صفحہ ۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باب اوّل

اکتوبر ۱۹۳۴ء قادیان سے جنوری ۱۹۵۳ء لاہور و کراچی کے واقعات تک

(چیدہ چیدہ حالات و واقعات)

نوٹ: اس باب میں حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری اور حضرت مولانا تاج محمود صاحب مرحومین کے رشحات

قلم کو اس ترتیب سے باہم دیگر اس طرح پرویا گیا ہے کہ واقعات کا تسلسل بھی قائم رہے اور ان حضرات

مرحومین کے مبارک ہاتھوں سے اکٹھے کئے ہوئے موتیوں میں سے کوئی ضائع بھی نہ ہو۔ (مرتب)

صفحہ ۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں : ارادہ یہ تھا کہ جیل میں بیٹھ کر قید و بند کی تنہائیوں میں اطمینان سے تحریک ختم نبوت کے حالات قلمبند کروں۔ قید بھی ہوا، نظر بند بھی رہا۔ مگر میں اپنے اس ارادے کو لباس عمل نہ پہنا سکا۔ ارادوں کی تکمیل انسان کے اپنے بس میں نہیں ہوتی ۔ خالق کی مرضی کے بغیر تو پتا بھی ہل نہیں سکتا۔ اب لکھنے بیٹھا ہوں تو لکھ رہا ہوں ۔ خدا کو منظور ہوا تو مفصل حالات پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ یہ تحریک سیاسی سٹنٹ تھا۔ بعض بدطینت یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ تحریک سیاسی شعبدہ بازوں نے چلوائی تھی جو جیسا ہے ویسا ہی سوچتا ہے ۔

فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

قبل اس سے کہ میں وہ حالات لکھوں جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر پیش آئے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں پیش آنے والے حادثات اور واقعات پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ عام طور پر بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مجھے مفکر احرار چوہدری افضل حق مرحوم و مغفور نے خاص مقصد کے لئے قادیان بھیج دیا تھا۔ میں وہاں دو سال رہا ہوں۔ اس دو سال کے عرصہ میں میری آنکھوں نے کیا دیکھا اور اس فتنہ انگیز اور ”نبی خیز“ زمین کو دیکھ کر میں نے کیا سمجھا۔ شرح وبسط سے بیان کرنے کا ارادہ ہے ۔ جب تک تحریک تحفظ ختم نبوت کے محرکات اچھی طرح سمجھ میں نہ آ جائیں شک و شبہات کا پیدا ہونا ناگزیر ہے ۔ چوہدری صاحب نے ”فتنہ قادیان“ کے عنوان سے تحریک کے بارے میں جو کچھ خود تحریر فرمایا ہے اس سے ہمارے ارادوں اور جذبے کا پس منظر آسانی سے سمجھ میں آ سکے گا ۔ ہم نے اس تحریک کو کیوں شروع کیا ؟ کن دشواریوں اور دقتوں سے سابقہ پڑا۔ کس طرح یکہ و تنہا اس شیطانی جھاڑی کے کانٹوں میں الجھتے اور زخمی ہوتے رہے؟ اسے سمجھنے کے لئے سب سے پہلے احرار کے رہنما چوہدری افضل حق مرحوم و مغفور کی اپنی لکھی ہوئی روئیداد ملاحظہ فرمائیے۔ جہاں یہ ختم ہوگی اس سے آگے میں خود لکھ رہا ہوں۔ مجھے اس روئیداد کو قادیان سے شروع کر کے آنریری کورٹ تک لے جانا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے :

فتنہ قادیان

تقسیم ملک سے قبل ...... افضل حق

”لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ احرار کو کیا ہو گیا کہ مذہب کی دلدل میں پھنس گئے ۔ یہاں پھنس کر کون نکلا ہے جو یہ نکلیں گے؟ مگر یہ پوچھتے کون ہیں؟ وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے ۔ وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں۔ اس لئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور جاگیرداری کی دردناک کہانی ہے ۔ کسی کو کیا پڑی کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کر کے اسلام کی سوئی کو ڈھونڈے ۔ تا کہ انسان کی چاک دامانی کا رفو کر سکے ۔ اس کے پاس کارل مارکس کے سائنٹیفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے ۔ وہ اس کے ذریعے سے امراء اور سرمایہ داروں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے ۔ اسے اسلام کی اتنی لمبی تاریخ میں سے چند سال کے اوراق کو ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے پروگرام بنانے کی فرصت کہاں؟ سرمایہ داروں نے ان برسوں کی تاریخ کے واقعات کو سرمایہ داری کے رنگ میں رنگا اور مساوات انسانی کی تحریک جس کو اسلام کہتے ہیں مذہبی لحاظ سے عوام کی تاریخ نہ رہی اور نہ اس میں کوئی انقلابی سپرٹ باقی رہی ۔ عامتہ المسلمین ، امیروں ، جاگیرداروں کے ہاتھ میں موم کی ناک بن کر رہ گئے ۔ ہندوستان میں اس وقت بھی وہ سب سے زیادہ مفلوک الحال ، مگر

صفحہ ۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حال مست ہیں۔ انہیں اپنے حال کو بدلنے کا کوئی احساس نہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ خود علماء مذہب انقلابی سپرٹ سے نا آشنا ہیں اور وہ اب تک مذہب کی اموی اور عباسی عقائد کے مطابق تشریح کر رہے ہیں۔

تاہم کسی کی بے خبری یا کسی گروہ کا تعصب واقعات کو نہیں بدل سکتا۔ محمد رسول اللہ ﷺ نئے دور کے انقلابی تھے۔ درانتی اور کلہاڑا تو اب مزدوروں کی نشانی بنا لیکن جس نے سرمایہ داری پر پہلے کلہاڑا چلایا اور قومی امتیاز کے ان ریشوں کو کاٹ کر رکھ دیا۔ جس نے انسان کو انسان سے علیحدہ کر دیا تھا۔ صرف سرمایہ ہی طبقات پیدا نہیں کرتا بلکہ انسانوں میں گروہ بندی کرنے والے اور بھی محرکات ہیں۔ ان سب سے بڑا ذریعہ مختلف نبیوں پر ایمان ہے۔ قومیں خدا پر ایمان کے نزاع پر مختلف نہیں بلکہ مختلف نبیوں پر ایمان لانے کے باعث الگ الگ ہیں۔ پہلے آمد و رفت کے وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر ملک ایک الگ دنیا تھی۔ الگ الگ پیغمبروں کے ذریعے ہر ملک کی روحانی تربیت ضروری تھی۔ ایک ملک میں بیٹھ کر سب ملکوں میں پیغام نہ پہنچایا جا سکتا تھا۔ محمد رسول اللہ ﷺ پر دین مکمل ہوا۔ آپ ﷺ نے ’’لا نبی بعدی‘‘ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا اعلان کر کے دنیا کو اتحاد کا مژدہ سنایا کہ آئندہ نبیوں کی بناء پر قوموں کی تربیت ختم ہو گئی۔ ایک محکم دین کی طرف آؤ کہ یہ سب کے حالات کے مطابق ہے۔ اسلام تمہارے سارے عوارض کا مکمل نسخہ ہے۔ زمانے نے دیکھ لیا کہ حضور ﷺ کے بعد بتدریج دور دور کے ملک آمد و رفت کے سلسلوں میں آسانیوں کے باعث نزدیک تر ہوتے گئے۔ اب تو دور دراز ملک ایک شہر کے محلوں سے بھی قریب ہونے لگے ہیں۔ اس لئے ملک ملک کے لئے علیحدہ پیغمبر کی ضرورت نہ رہی تھی۔ اب انسانی دماغ کافی نشو و نما پا چکا تھا۔ لوگ اپنا بھلا برا خود سمجھنے لگے۔ اب ایک سچائی پیش کرنا کافی ہے۔ باقی معاملہ لوگوں کی سمجھ پر چھوڑنا کفایت کرتا ہے۔ مذہب کی سچائی اب سمجھ سے بالا نہیں بلکہ تعصب کے باعث اسے قبول کرنے میں دقت ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ سرور کائنات ﷺ کے آتے ہی اہل دنیا کی عقل اور علم نے حیرت انگیز ترقی کی۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے معنی یہ تھے کہ اب انسانیت سن شعور کو پہنچ چکی ہے۔ اب کسی سکول ماسٹر کی ضرورت نہیں جو لوگ دنیا کے حالات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ سچی اور جھوٹی بات میں فرق کر کے وہ صحیح راہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اب مکمل سچائی یعنی اسلام ہم تک پہنچ گیا اب کسی نبی کی ضرورت نہ رہی۔ اگر ہم نبوت کا سلسلہ ابھی تک جاری مان لیں تو پھر مختلف نبیوں پر ایمان کے باعث قوموں ، ملکوں اور انسانیت میں تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پہلے تو ملک ملک ایک الگ دنیا تھی۔ الگ الگ نبیوں کی ضرورت تھی۔ اب جب دنیا سمٹ کر ایک کنبہ میں رہتی ہے تو نبوت کے مختلف دعویداروں کا آنا دنیا کو تقسیم بلا ضرورت کرنے سے کم نہ تھا۔ رسول کریم ﷺ کا ’’لا نبی بعدی‘‘ کا ارشاد دنیا کے لئے رحمت کا پیغام اور انسانیت کے لئے خوشخبری تھی۔ ہندوستان کی سر زمین عجیب ہے۔ قادیان میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ تیس چالیس برس مسلمانوں کی توجہ تعمیری کاموں کی بجائے اس متنبی کی طرف لگی رہی۔ ایک حصہ کٹ کے الگ ہو گیا۔ انگریزی حکومت کے زیر سایہ جہاں چھوٹے بڑے راجے ، نواب پرورش پا کر سرکار کے گن گاتے ہیں اسی طرح حکومت کو اعتراض نہ تھا۔ اگر متعدد نبی اور کئی ایک سرکاری ولی پیدا ہو کر ان کے دعا گو بنے رہیں۔ انہیں امور سلطنت میں سہولت درکار تھی۔ مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کی تدبیروں میں سے یہ بھی حکومت انگریزی کی کارگر تدبیر تھی کہ روحانی اداروں پر ان کے ہوا خواہ قابض ہوں اور یوں سرکار انگریزی کی وفاداری مسلمانوں کا جزو مذہب بن جائے۔ پنجاب اور سندھ میں ہر پیر خانہ سرکاری تعلق داری اور وظیفہ خواری پر پرورش پا رہا ہے۔ یہ تو پیر تھے مگر حکومت کو قادیان کا پیغمبر ہوا خواہی کے لئے مل گیا۔ مسلمان سیاسی اور مذہبی طور پر انگریزی غلامی پر مطمئن ہو گئے۔ مسلمانوں کی موجودہ مدہوشی کی بڑی وجہ انگریز کی

صفحہ ۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ کامیاب تدبیر ہے۔ پھر تو ساری اسلامی آبادی حکومت کی منقولہ جائیداد بن کر رہ گئی تھی۔ جہاں سے اٹھائیں جہاں ڈالیں مخالفت کی ایک آواز نکالنا مشکل تھی۔ انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ حمایت قادیان کی جماعت کو حاصل تھی۔ یہ تائید اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے۔ بعض جگہ تو سارے کا سارا ضلع ان کے اثر و رسوخ میں آگیا۔ لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لئے قادیان کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ محکمہ سی آئی ڈی تو الگ رہا۔ قادیانی مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے۔ حکومت وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لئے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے۔ اس لئے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی آواز کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد خائف تھے۔ یہ لوگ معمولی آئینی ایجی ٹیشن کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کرتے تھے۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ جسے یہ تائید حاصل ہو گئی۔ اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی۔ پس قادیانی تحریک کی مخالفت سیاسی اور مذہبی دونوں وجوہات کی بناء پر تھی۔ جس اسلامی جماعت نے مسلمانوں کو آزاد اور توانا قوم دیکھنے کا ارادہ کیا ہو، اسے سب سے پہلے اس جماعت سے ٹکرانا ناگزیر تھا۔ اس جماعت کے اثر و رسوخ کو کم کئے بغیر آزادی کا تصور کرنا ناممکن تھا۔ شاید ہماری آئندہ نسلیں قادیانیوں کے خلاف ہماری جدوجہد کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے میں اس طرح کی غلطی کھائیں۔ جس طرح مذہب سے بیزار اور اشتراکیت کا شیدائی کھا رہا ہے۔ تعجب ہے کہ اقتصادی مساوات کے حامی لوگ صرف ہمارے مذہبی رجحانات کو دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ احرار سرمایہ داری کے مضبوط قلعے پر حملہ آور ہیں۔

خدا سے انکار بھی مذہب کی شاخ ہے

خدا کا شکر ہے کہ ہندوستان کا مذہب آشنا طبقہ احرار کی قادیان کے خلاف جدوجہد کو استحسان کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہاں! ایک طبقہ ہمیں مذہبی دیوانہ اور خود کو فرزانہ خیال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مذہب افیون ہے۔ اس سے قویٰ مضمحل ہو جاتے ہیں اور زندگی کے اصل مسائل کو سمجھنے کی قابلیتیں اور کامیاب جدوجہد کی فرصتیں کم ہو جاتی ہیں۔ مگر مذہب کیا ہے؟ خدا کے متعلق ایک خاص تصور اور عقیدہ، کوئی گروہ اس کا اقرار کر کے مذہبی ہے اور کوئی انکار کر کے، منکر خدا بھی تو خدا کے متعلق سوچتا ہے۔ وہ خدا کے اقراری کے خلاف ایسے ہی جذبات رکھتا ہے جیسے منکر خدا کے متعلق خدا کو ماننے والا۔ پس نفی و اثبات کی عملی دنیا میں بحث فضول ہے۔ کیونکہ ذہنی اعتبار سے دونوں کے خیالات کا مرجع و مرکز خدا ہی ہے۔ سب اسی کے متعلق نفی و اثبات میں سوچتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مذہبی دیوانہ کہنے والے خود بھی اسی طرح خطاب کئے جانے کے مستحق ہیں۔ لیکن عمل کی دنیا میں جو کمزور ہے۔ وہ بے شک اپنے مذہب میں کمزور ہے۔ پس احرار، اسلام کو دنیا و آخرت کی سیدھی راہ سمجھتے ہیں۔ مذہبی دیوانہ ہونا ہمارے لئے کچھ چڑ نہیں۔ بشرطیکہ عمل کی دنیا میں ہم مبارک سپاہی ثابت ہوں۔ اگر ہم کام چور اور بے ہمت ہیں تو بے شک مذہب اسلام کے افیونی ہونے کا ہم ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں۔ احرار، پختہ عمل مذہب کے دیوانے ہیں۔ وہ ہم جانتے ہیں کہ سرکاری نبی اور سرکاری ولی اس دور میں کیوں پیدا ہو رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ مسلمانوں میں وہی انتشار اور نئے نئے گروہ پیدا کرنے کا باعث ہوں اور کہیں مسلمانوں کی قوت ایک مرکز پر جمع نہ ہونے پائے۔ نئی نبوت کے دعوے کے ساتھ مسلمانوں کا ایک حصہ مستقل طور پر کٹ کر الگ ہو جاتا ہے۔

مرزائیوں کا کیا حال ہے؟ وہ سب مسلمان کہلانے والوں کو کافر کہتے ہیں اور ہر دم ان کی بیخ کنی کے در پے رہتے ہیں۔ کیونکہ وہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے کو کافی نہیں سمجھتے۔ جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے ان کے لئے وہ مسلمان بھی یہودی اور عیسائی کی طرح

صفحہ ۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ وہ مسلمان کو قریبی دشمن سمجھتے ہیں جس کو سب سے پہلے نیچا دکھانا اور اپنی ہستی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری قیاس کرتے ہیں۔ اگر ان کے مسلمانوں کے ساتھ باہم روابط ہیں تو وہ اس لئے کہ سیاسی طور سے مسلمانوں کا جزو بنا رہنا ان کو بے حد مفید ہے۔ اگر مسلمانوں سے علیحدہ رہیں تو ہندوستان میں انہیں کوئی دو کوڑی کو نہ پوچھے۔ اب وہ اکثر سرکاری محکموں میں نمایاں حیثیتوں میں نظر آتے ہیں ۔ مرزائی ہم مسلمانوں سے سیاسی اتحاد رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی ملازمتوں اور سیاست پر قبضہ رہے اور ان کی جڑ کاٹنے میں بھی آسانی ہو۔ عیسائی گو اہل کتاب ہیں۔ مگر نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لانے کے باعث ہم ان کو مذہبی لحاظ سے مخالف گروہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مرزائیوں کا ہمارے متعلق قیاس ہے۔

اس زمانے میں ہر قوم یہ حق سمجھتی ہے کہ اپنے اندر ففتھ کالم سے خبر دار رہے اور ان کی سازشوں سے بچے۔ ان کی میٹھی میٹھی باتوں اور ان کی ہمدردیوں سے دھوکہ نہ کھائے۔ کھلے دشمن کا مقابلہ آسان ہے۔ مگر بغلی گھونسوں کا کوئی علاج نہیں۔ بجز اس کے کہ انسان ہر وقت چوکس رہے۔ ہم مرزائیوں کے بحیثیت انسان مخالف نہیں، نہ ان کی عزت و آبرو کے دشمن ہیں۔ البتہ ان کی مضرت سے بچنا اپنا قدرتی حق سمجھتے ہیں۔ مرزائیت میں اگر فاش خامیاں نہ بھی ہوتیں اور وہ غلط دعوؤں کا عبرت انگیز مرقع نہ بھی ہوتی تو بھی نبوت کا دعویٰ بجائے خود اسلام پر ضرب کاری اور مسلمانوں میں انتشار عظیم پیدا کرنے کا سبب ہے۔ اس دعوے کے ساتھ ہی یہ گروہ مسلمانوں کی کڑی نگرانی کا سزاوار ہو جاتا ہے۔ پس ہم نے دیکھا کہ مرزائی لوگ:

اکثریت کے ارادے مخفی نہیں ہوتے۔ مگر کمزور اقلیتوں کے لئے جو اکثریت کے خلاف محاذ بنانا چاہیں ضروری ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو مخفی رکھیں۔ ان احتمالات کے پیش نظر خیال آتا تھا کہ ان مخالفین اسلام کی نگرانی ضروری ہے۔ قادیان میں مسلمانوں پر مظالم کی دلخراش داستان متواتر ہمارے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ مرزائی لوگ باہر سے آ کر دھڑا دھڑ وہاں آباد ہو رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ پر ایمان رکھنے اور غریب ہونے کے باعث مسلمانوں پر باہر سے آئے ہوئے سرمایہ دار مرزائی عرصہ حیات تنگ کر رہے تھے۔ یہ سب کچھ قادیانی خلیفہ کے ایماء پر ہو رہا تھا۔ تمام ہندوستان کے علماء فتویٰ بازی تو کرتے تھے مگر مقابلے کی جان نہ تھی۔ بٹالہ ضلع گورداسپور میں درد دل رکھنے والے مسلمانوں نے ”شبان المسلمین“ نام کی ایک جماعت بنائی۔ (جسے وہاں کے مشہور اور امیر خاندان نے بہت سہارا دیا۔ حاجی عبد الرحمن اور حاجی عبد الغنی اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ حاجی عبد الرحمن صاحب زندہ ہیں اور مہاجر کی حیثیت سے ان دنوں لاہور میں مقیم ہیں۔ حاجی عبد الغنی اس تحریک کے سلسلے میں تقسیم ملک سے بہت پہلے شہید ہو گئے تھے) علماء کو اکٹھا کرتے رہے۔ ایک سال ایسا ہوا کہ بٹالہ کے سالانہ اجلاس کے خاتمہ پر علماء ایک دن کے لئے قادیان بھی تشریف لے گئے۔ ان علماء کا قادیان جانا سرکاری نبوت کے حاملوں کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ دوسرے سال انہوں نے مار پیٹ کی پوری تیاری کر لی۔ چنانچہ مرزائی نوجوان بوڑھے علماء پر ٹوٹ پڑے۔ لاٹھیوں کا مینہ برسایا۔ ان کا بند بند توڑا۔ کس کی رپٹ کہاں کی رپورٹ؟ تھانہ مرزائیوں کا غلام تھا۔ داد رسی کی کیا توقع تھی۔ یہ بے چارے جوں توں کر کے بٹالہ پہنچے۔ جو قیامت ان پر گزری تھی اس کی داستان درد لوگوں کو سنائی پھر کئی سال کسی کا حوصلہ نہ ہوا کہ کوئی عالم دین قادیان کی جانب مارچ کرے۔

صفحہ ۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (١) ١٩٣٤ء تا ١٩٥٣ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

١٩٣٤ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احرار کا قادیان میں داخلہ (اکتوبر ۱۹۳۴ء)

جس طرح بے کسی کشمیر کی غریب آبادی کی مصیبتوں کو دیکھ کر فریاد و فغاں کر رہی تھی اور ہم اس کے دردناک نالوں کو سن کر اٹھے، اسی طرح ہم نے قادیان کے تباہ حال اور ستائے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کی پکار کو سن کر کان کھڑے کئے۔ قادیان کے مرزائی سرمایہ داروں کو یقین تھا کہ زمین کے دردناک نالے آسمان کے خداوند تک نہیں پہنچتے۔ انہیں دنیا کے خداوندوں کا سہارا تھا اور وہ من مانی کارروائیاں اس لئے کرتے تھے کہ حکام تک ان کی رسائی تھی۔ لیکن دیکھو، یوں معلوم ہوا کہ گویا آسمان کے خداوند نے کہا کہ اے ارباب غرور! یہ تمہاری متشددانہ زندگی کی انجیل کے اوراق اب بند ہو جانے چاہئیں۔ پس اس نے جھوٹے مسیحا اور اس کے حواریوں کے مظالم کو روکنے کے لئے ایک خاک نشینوں کی جماعت کے دل میں تحریک کی جس نے چند نوجوان والنٹیئروں کو قادیان میں بھیجا تا کہ مسلمانوں کی مساجد میں جا کر نماز ادا کریں۔ لیکن ایسا نہ کرنا کہ کہیں مرزائیوں کے معبد خانہ میں جا گھسو اور مرزائیوں کو تم پر تشدد کرنے کا معقول بہانہ مل جائے۔ لیکن قادیانی مرزائیوں کو مسلمانوں کی مساجد میں آوازۂ اذان کی برداشت کہاں تھی۔ مسلمانوں پر ان کا لاٹھی کا ہاتھ رواں تھا ہی، آئے اور لاٹھی کے جوہر دکھانے لگے۔ بے دردوں نے لاٹھیوں سے احرار والنٹیئروں کو اس قدر پیٹا کہ پناہ بخدا۔ بزدل دشمن قابو پا کر ایسے ہی غیر شریفانہ مظاہرے کرتا ہے۔ والنٹیئر جان سے تو بچ گئے مگر مدت تک ہسپتال میں پڑے رہے۔ اس کے بعد احرار نے بٹالہ میں کانفرنس کر کے حکومت اور قادیانی ارباب اقتدار کو للکارا۔ مرزائیوں اور سرکار نے سمجھا کہ احرار کی خاک میں شعلے کہاں؟ پرواہ تک نہ کی۔ کسی مرزائی کی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ لیکن اتنا ہوا کہ رپورٹروں نے حکام اور مرزائی صاحبان سے کہہ دیا کہ احرار کی کشمیر کی یلغار کو سامنے رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ گرد میں سوار نکل آئیں۔ احرار جس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں پھر پیچھا نہیں چھوڑتے اور ہموار کر کے دم لیتے ہیں۔ مار کھا کر چپکے بیٹھ جانا شریفوں کا شیوہ نہیں۔ اس لئے جولائی ۱۹۳۵ء میں امرتسر میں ورکنگ کمیٹی ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ جو ہو سو ہو۔ احرار کا قادیان میں مستقل دفتر کھولنا چاہئے۔ معلوم کیا ہم میں کون ہے جو علم میں پورا اور عمل میں پختہ ہے جو موت کی مطلق پرواہ نہ کرے اور اللہ کا نام لے کر کفر کے غلبے کو مٹانے کے عزم سے اس جگہ اقامت اختیار کرے اور مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کی نگرانی کرے۔ خدا نے مولانا عنایت اللہ (چشتی) کو توفیق دی۔ وہ شادی شدہ نہ تھے۔ اس لئے جماعت کو یہ غم نہ تھا کہ ان کی شہادت کے بعد کنبے کا بوجھ اٹھانا ہے اور بچوں کی پرورش کا سامان کرنا ہے۔

مولانا عنایت اللہ (چشتی)

غرض خطرات کے ہجوم میں مولانا کو دفاع مرزائیت کا کام سپرد کیا گیا اور دارالکفر میں اسلام کا جھنڈا گاڑنا معمولی سی اولوالعزمی نہ تھی۔ افسوس! مسلمانوں نے دنیا کے لئے زندہ رہنا سیکھ لیا ہے اور ان کے سارے تبلیغی ولولے سرد پڑ گئے ہیں۔ اب جب کہ فتنہ مرزائیت نے سر اٹھا لیا تو انہوں نے کوئی مصلحت اختیار کی۔ باوجودیکہ مرزائی مسلمانوں کو صریح کافر کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جنازہ تک پڑھنے کے روادار نہ تھے۔ لیکن لوگ انہیں انگریز کا سمجھ کر منہ نہ آتے تھے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے تو حد کر دی تھی۔ وہ اس خانہ برانداز قوم کا تعاون حاصل کرنے کو حصول ملازمت کا ضروری مرحلہ خیال کرتے تھے۔ بہت ہیں جنہوں نے دنیا حاصل کرنے کے لئے دین کو فروخت کر دیا۔

صفحہ ۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دین فروشوں کا گروہ ہر زمانے میں موجود رہا ہے۔ قوموں کے زوال میں اس گروہ کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ مرزائی لوگ انسانی فطرت کی اس کمزوری سے پورا فائدہ اٹھاتے رہے۔ ضلع گورداسپور کے سارے حکام ان کا اس وجہ سے پانی بھرتے تھے کہ قادیانی گمراہوں کی رسائی انگریزی سرکار تک ہے۔ ضلع کے حکام کے ذریعے عوام کو مرعوب کرنا۔ سرکار کا وفادار فریق بتا کر تعلیم یافتہ لوگوں کو ملازمتوں کے سبز باغ دکھانا ان کا کام تھا۔ انگریزی سلطنت کی مضبوطی کو دیکھ کر اور سرکار سے مرزائیوں کا گٹھ جوڑ دیکھ کر کسی تبلیغی جماعت کا حوصلہ نہ تھا کہ وہ خم ٹھونک کر میدان مقابلہ میں نکلتی۔ اللہ نے احرار کو توفیق دی کہ وہ حق کا علم لے کر کفر کے مقابلے میں نکلے۔ مرزائی متعدد قتل کر چکے تھے۔ قادیان میں انہیں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ مولانا عنایت اللہ کو دفتر لے دیا گیا۔ قادیان میں احرار کا جھنڈا لہرانے لگا۔ سرخ جھنڈے کو دیکھ کر مرزائی روسیاہ ہو گئے۔ آہ! ان کے سینوں کو توڑتی نکل گئی۔ یہ ان کی آرزوؤں کی پامالی کا دن تھا۔ مرزائیوں نے اپنی امیدوں کا جنازہ نکلتے دیکھا تو سر پیٹنے لگے۔ سرکار کی دہلیز پر سر رکھ کر پکارے۔ حضور ! قادیان مرزائیوں کی مقدس جگہ ہے۔ احرار کے وجود سے یہ سرزمین پاک کر دی جائے۔ جب مرزائیت نصرانیت کا سہارا ڈھونڈنے نکلی تو ہم نصرانیوں اور مرزائیوں کے اتحاد سے ڈرے ضرور، مگر خدا کو حامی و ناصر سمجھ کر اس کے تدارک میں لگ گئے۔ ڈرنا اور ہمت ہار دینا عیب ہے۔ ڈرنا اور پہلے سے زیادہ چوکنے ہو کر مقابلہ کرنا بڑی خوبی ہے۔ بساط سیاست پر نرد کو بڑھا کر اس کو تنہا چھوڑ دینا غلطی ہوتی ہے۔ ہم نے اوّل ان احباب کی فہرست تیار کر لی جو مولانا عنایت اللہ کی شہادت کے بعد یکے بعد دیگرے یہ سعادت حاصل کرنے کے لئے چوبیس گھنٹے کے اندر قادیان پہنچ جائیں۔ کیونکہ مرزائیوں نے قادیان کو قانونی دسترس سے پرے ایک الگ دنیا بنا رکھا تھا۔ جہاں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں پر بلا خطا مظالم توڑے جاتے تھے۔ قتل ہوتے تھے مگر مقدمات عدالت تک نہ جا سکتے تھے۔ دوسرے ہم نے فوراً مولوی عنایت اللہ کے نام قادیان میں مکان خرید دیا تا کہ مرزائیوں اور حکام کا یہ عذر بھی جاتا رہے کہ مولوی صاحب موصوف اجنبی ہیں اور ان کا قادیان سے کوئی تعلق نہیں۔ تیسرے قادیان کی تقدیس کے دعوے کو باطل کرنے کے لئے ہم نے ’’احرار تبلیغ کانفرنس قادیان‘‘ کا اعلان کیا۔ اس پر تو گویا قادیانی ایوان میں زلزلہ آ گیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مرزائی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور سر حکام کے پاؤں پر رکھ دیا کہ تمہاری خیر ہو ہماری خبر لو۔ خانہ خراب ہوا جاتا ہے۔ ہم سے کہا گیا کہ کانفرنس سے باز رہو۔ قادیان میں مرزائیوں کی اکثریت ہے۔ اقلیت کا حق نہیں کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ ہم نے حکام کو جواب دیا، سوائے قادیان کے مرزائیوں کی اکثریت کہاں ہے، سوائے قادیان کے سب جگہ ان کی تبلیغ بند کر دی جائے۔ اس جواب معقول سے وہ لاجواب ہو گئے۔ مگر رخنہ اندازیوں میں برابر مشغول رہے۔ گویا اٹھایا ہوا قدم واپس نہ ہو سکتا تھا۔ حکومت نے سراسر نا انصافی سے بچنے کے لئے کہا کہ کانفرنس کرو۔ لیکن مسلح ہو کر قادیان میں داخل نہ ہونا۔ اس میں ہمیں عذر ہی کیا تھا۔ کانفرنس کی کامیابی نے دوست اور دشمن کو حیران کر دیا۔ مرزائی تو جل گئے اور جلدی جلدی حکام کے پاس پہنچے کہ لو سرکار بخاری (سید عطاء اللہ شاہ بخاری) نے دل کا بخار نکالا۔ بڑے مرزا صاحب کی توہین کی، چھوٹے مرزا کے الگ بخیے ادھیڑے۔ اگر اب مدد نہ کی تو کب کام آؤ گے؟ سرکار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ بخاری صاحب کو گرفتار کر کے عدالت میں لا کھڑا کیا۔ خدا کی حکمت گنہگاروں کی عقل پر مسکراتی ہے۔ مرزائی تو احرار کو مرعوب کرنے کے لئے عطاء اللہ شاہ صاحب پر مقدمہ چلا رہے تھے۔ لیکن قدرت مرزائیت کے ڈھول کا پول کھولنے کے لئے بے تاب تھی۔ خدا کی مہربانی سے مرزائیت کے

صفحہ ۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خلاف وہ ثبوت بہم پہنچے کہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ہم میں ایسے ثبوت مہیا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہم نے اس مقدمہ میں مرزائیت کے مذہب واعتقاد پر بحث نہیں کی بلکہ مرزائیت اور اس کے اعمال کو پیش کیا جس سے ابتدائی عدالت بھی متاثر ہوئی۔ اگرچہ اس نے سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو چھ ماہ کی سزا دے دی۔ تاہم سننے والی پبلک پر گہرا اثر ہوا۔ سب کو یقین تھا شہادت صفائی ایسی مضبوط ہے کہ یہ سزا بحال نہیں رہ سکتی۔ لیکن مرزائی ہیں کہ شاہ صاحب کی سزایابی پر پھولے نہ سماتے تھے۔ ان کے گھر میں گھی کے چراغ جلائے گئے۔ لیکن سیشن جج مسٹر کھوسلہ نے مرزائیوں کی خوشیوں کو اپنے فیصلہ اپیل میں ماتم سے بدل دیا۔ اس نے وہ تاریخی فیصلہ لکھا جس سے اسے شہرت دوام حاصل ہوگئی۔ اس فیصلے کا ہر حرف مرزائیت کی رگ جان کے لئے نشتر ہے۔ اس فیصلے میں مسٹر کھوسلہ نے چند سطروں میں مرزائیت کی ساری اخلاقی تاریخ لکھ ڈالی۔ اس کے فیصلے کا ہر لفظ دریائے معانی ہے۔ اس کی ہر سطر مرزائیت کی سیاہ کاریوں اور ریا کاریوں کی پوری تفسیر ہے۔ مسٹر کھوسلہ کے قلم کی سیاہی مرزائیت کے لئے قدرت کا انتقام بن کر کاغذ پر پھیلی اور مرزائیت کے چہرے پر نہ مٹنے والا داغ چھوڑ گئی۔ ہر چند انہوں نے ہائیکورٹ میں سر سپرو جیسے مقنن کی معرفت چارہ جوئی کی تاکہ مسٹر کھوسلہ کے فیصلے کا داغ دھویا جائے۔ مگر انہیں اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ مرزائی آج تک یہی سمجھتے تھے قدرت ظلم ناروا کا انتقام لینے سے قاصر ہے۔ مگر اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ خدا کے حضور میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس فیصلے کو تاریخ احرار میں خاص اہمیت حاصل رہے گی۔ دراصل یہ فیصلہ مرزائیت کی موت ثابت ہوا جس غیر جانبدار نے اس کو پڑھا وہ مرزائیت کے نقش و نگار کو دیکھ کر اس سے نفرت کرنے لگا۔ علامہ سر اقبال اور مرزا سر ظفر علی کے بیانات نے بھی تعلیم یافتہ طبقے کے رجحان خیال کو بدل دیا۔ الیاس برنی نے قادیانی مذہب لکھ کر مرزائیت کے مقابلے میں اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مسٹر کھوسلہ نے جو مرزائیت کے قلعے پر بم پھینکا اس نے کفر کے اس قلعے کی بنیادیں ہلا دیں۔ ان قلعہ بندیوں کو مسمار کرنے میں آسانی ہوگئی۔ جہاں چار مرزائی بیٹھے ہوں ان میں مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ پھینک دو۔ یہ بم پھینکنے کے برابر ہوگا۔ وہ سراسیمہ ہو کر بھاگ جائیں گے۔‘‘

(تاریخ احرار ص۱۷۶ تا ۱۸۵، مطبوعہ ۱۹۶۸ء، چوہدری افضل حق مرحوم)

قارئین کرام! مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کا تاریخی فیصلہ ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو کر تقسیم ہو چکا ہے۔ آج بھی ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جنہیں اس تاریخی فیصلے کو پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا اور جن لوگوں نے اس سے قبل اس تاریخی فیصلے کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ بھی اذہان کی تازگی کے لئے اسے ایک بار پھر مطالعہ فرمائیں۔

(تاج الدین انصاری)

صفحہ ۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۳۵ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۴۹

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ

مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے تاریخی مقدمے میں ان کی اپیل پر مسٹر کھوسلہ جج سیشن گورداسپور نے بزبان انگریزی جو فیصلہ صادر کیا ہے اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

”مرافعہ گزار سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳-الف کے ماتحت مجرم قرار دیتے ہوئے اس تقریر کی پاداش میں جو انہوں نے ۲۱؍اکتوبر ۱۹۳۴ء کو تبلیغ کانفرنس قادیان کے موقعہ پر کی۔ چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔

مرزا اور مرزائیت

مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عائد کیا گیا ہے اس پر غور وخوض کرنے کے قبل چند ایسے حقائق وواقعات بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا تعلق امور زیر بحث سے ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال قبل قادیان کے ایک باشندے مسمی غلام احمد نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے اسقف اعظم کی حیثیت بھی اختیار کر لی اور ایک نئے فرقے کی بنا ڈالی۔ جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کے مدعی تھے۔ لیکن ان کے بعض عقائد اور اصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن تھے۔ اس فرقہ میں شامل ہونے والے لوگ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں اور ان کا مابہ الامتیاز یہ ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزائیہ کے بانی (مرزا غلام احمد) کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔

قادیانیت کی تاریخ

بتدریج یہ تحریک ترقی کرنے لگی اور اس کے مقلدین کی تعداد چند ہزار تک پہنچ گئی۔ مسلمانوں کی طرف سے مخالفت ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت نے مرزا قادیانی کے دعاوی بلند بانگ خصوصاً اس کے دعاوی تفوق دینی پر بہت ناک منہ چڑھایا اور مرزا نے ان لوگوں پر کفر کا جو الزام لگایا اس کے جواب میں ان لوگوں نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔ مگر قادیانی حصار میں رہنے والے اس بیرونی تنقید سے کچھ بھی متأثر نہ ہوئے اور اپنے مستقر یعنی قادیان میں مزے سے ڈٹے رہے۔

قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشتی

قادیانی مقابلةً محفوظ تھے۔ اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کر دیا۔ انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انہیں مقاطعہ، قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی۔ بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔ قادیان میں رضا کاروں کا ایک دستہ (والنٹیر کور) مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیان میں ”لمن الملک الیوم“ کا نعرہ بلند کرنے کے لئے طاقت پیدا کی جائے۔ انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی۔ کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہی ختم نہیں ہوتا بلکہ قادیانیوں کے

صفحہ ۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خلاف کھلے ہوئے طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا۔ جلایا اور قتل تک کے مرتکب ہوئے۔ اس خیال سے کہ کہیں ان الزامات کو احرار کے تخیل ہی کا نتیجہ سمجھ نہ لیا جائے ۔ میں چند ایسی مثالیں بیان کر دینا چاہتا ہوں جو مقدمے کی مثل میں درج ہیں۔

سزائے اخراج

کم از کم دو اشخاص کو قادیان سے اخراج کی سزا دی گئی۔ اس لئے کہ ان کے عقائد، مرزا کے عقائد سے متفاوت تھے۔ وہ اشخاص حبیب الرحمٰن گواہ صفائی نمبر ۲۸ اور مسمی اسماعیل ہیں۔ مسل میں ایک چھٹی (ڈی زیڈ:۳۳) موجود ہے جو موجودہ مرزا (محمود) کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور جس میں یہ حکم درج ہے کہ حبیب الرحمٰن گواہ نمبر ۲۸ کو قادیان میں آنے کی اجازت نہیں۔ مرزا بشیر الدین گواہ صفائی نمبر ۳۷ نے اس چھٹی کو تسلیم کر لیا ہے۔ کئی اور گواہوں نے (قادیانیوں کے) تشدد و ظلم کی عجیب و غریب داستانیں بیان کی ہیں۔ بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا ہے کہ قادیانیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص مسمی غریب شاہ کو قادیانیوں نے زدوکوب کیا۔ لیکن جب اس نے عدالت میں استغاثہ کرنا چاہا تو کوئی اس کی شہادت دینے کے لئے سامنے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کے فیصلہ کردہ مقدمات کی فیصلہ کردہ مسلیں پیش کی گئیں۔ (جو شامل مسل ہذا ہیں) مرزا بشیر الدین محمود نے تسلیم کیا ہے کہ قادیان میں عدالتی اختیارات استعمال ہوتے ہیں اور میری عدالت سب سے آخری عدالت اپیل ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کا اجراء عمل میں آتا ہے اور ایک واقعے سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ڈگری کے اجراء میں ایک مکان فروخت کر دیا گیا۔ اسٹامپ کے کاغذ قادیانیوں نے خود بنا رکھے ہیں جو ان درخواستوں اور عرضیوں پر لگائے جاتے ہیں جو قادیانی عدالتوں میں دائر ہوتی ہیں۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور کے موجود ہونے کی شہادت گواہ نمبر ۴۰ مرزا شریف احمد نے دی ہے۔

عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل (۱۹۲۹ء)

سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم (ایڈیٹر مباہلہ) کا ہے جس کی داستان، داستانِ درد ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں جا کر مقیم ہو گیا۔ وہاں اس کے دل میں (مرزائیت کی صداقت کے متعلق) شکوک پیدا ہوئے اور وہ مرزائیت سے تائب ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم وستم شروع ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ و تنقید کرنے کے لئے ’’مباہلہ‘‘ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں جو دستاویز (ڈی زیڈ) الفضل مورخہ یکم؍ اپریل ۱۹۳۰ء میں درج ہے مباہلہ شائع کرنے والوں کی موت کی پیش گوئی کی ہے اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا جو مذہب کے لئے ، ارتکابِ قتل پر بھی تیار ہوجاتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین جو اس کا معاون تھا اور ایک فوجداری مقدمے میں جو عبدالکریم کے خلاف چل رہا تھا اس کا ضامن بھی تھا اس پر حملہ ہوا اور قتل کر دیا گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا کا حکم ملا۔

محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزائیوں کی نظر میں

پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور اس کے بعد قاتل کی لاش قادیان میں لائی گئی اور اسے نہایت عزت و احترام سے بہشتی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ مرزائی اخبار ’’الفضل‘‘ میں قاتل کی مدح سرائی کی گئی۔ قتل کو سراہا گیا اور یہاں تک لکھا گیا کہ قاتل مجرم نہ تھا۔ پھانسی کی سزا سے پہلے ہی اس کی روح قفسِ عنصری سے آزاد ہو گئی اور اس طرح وہ پھانسی کی ذلت انگیز سزا سے بچ گیا۔ خدائے عادل نے یہ مناسب سمجھا کہ پھانسی سے پہلے ہی اس کی جان قبض کر لے۔

صفحہ ۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا محمود کی دروغ گوئی

عدالت میں مرزا محمود نے اس کے متعلق بالکل مختلف داستان بیان کی اور کہا کہ محمد حسین کے قاتل کی عزت افزائی اس لئے کی گئی کہ اس نے اپنے جرم پر تأسف و ندامت کا اظہار کیا تھا اور اس طرح وہ گناہ سے پاک ہو چکا تھا۔ لیکن دستاویز (ڈی۔زیڈ : ۴۰) اس کی تردید کرتی ہے جس سے مرزا کی دلی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔

عدالت عالیہ کی توہین

میں یہاں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس دستاویز کے مضمون سے عدالت عالیہ لاہور کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہے۔

محمد امین کا قتل

محمد امین ایک مرزائی تھا اور جماعت مرزائیہ کا مبلغ تھا۔ اس کو تبلیغ مذہب کے لئے بخارا بھیجا گیا۔ لیکن کسی وجہ سے بعد میں اسے اس خدمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی جو چوہدری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ۳۱ نے لگائی۔ عدالت ماتحت نے اس معاملے پر سرسری نگاہ ڈالی ہے۔ لیکن یہ زیادہ غور و توجہ کا محتاج ہے۔ محمد امین پر مرزا کا عتاب نازل ہو چکا تھا اور اس لئے مرزائیوں کی نظر میں وہ موقر و مقتدر نہیں رہا تھا۔ اس کی موت کے واقعات خواہ کچھ ہوں اس میں کلام نہیں کہ محمد امین تشدد کا شکار ہوا اور کلہاڑی کی ضرب سے قتل کیا گیا۔ پولیس میں وقوعے کی اطلاع پہنچی لیکن کوئی کارروائی عمل نہ آئی۔ اس بات پر زور دینا فضول ہے کہ قاتل نے حفاظت خود اختیاری میں محمد امین کو کلہاڑی کی ضرب لگائی اور یہ فیصلہ کرنا اس عدالت کا کام ہے جو مقدمہ قتل کی سماعت کرے۔ چوہدری فتح محمد کا عدالت میں بہ اقرار صالح یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا۔ مگر پولیس اس معاملے میں کچھ نہ کرسکی۔ جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ گواہ سامنے آ کر سچ بولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریق پر اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔

قادیان کی صورت حالات اور مرزا کی دشنام طرازی

یہ افسوسناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا۔ آتش زنی اور قتل تک کے واقعات ہوتے تھے۔ مرزا نے کروڑوں مسلمانوں کو جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا۔ اس کی تصانیف ایک اسقف اعظم کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا بھی مدعی تھا۔

حکومت مفلوج ہو چکی تھی

معلوم ہوتا ہے کہ (قادیانیت کے مقابلے میں) حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ دینی و دنیوی معاملات میں مرزا کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی۔ لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مسل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں لیکن یہاں ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔ اس مقدمے کے سلسلے میں صرف یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں جور ستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قطعاً کوئی توجہ نہ ہوئی۔

صفحہ ۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تبلیغ کانفرنس کا مقصد

ان کارروائیوں کے سدباب کے لئے اور مسلمانوں میں زندگی کی روح پیدا کرنے کے لئے تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی۔ قادیانیوں نے اس کے انعقاد کو بنظر ناپسندیدگی دیکھا اور اسے روکنے کے لئے ہرممکن کوشش کی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے ایک شخص ایشر سنگھ نامی کی زمین حاصل کی گئی تھی۔ قادیانیوں نے اس پر قبضہ کر کے دیوار کھینچ دی اور اس طرح احرار اس قطعہ زمین سے بھی محروم ہو گئے جو قادیان میں انہیں مل سکتا تھا۔ مجبوراً انہوں نے قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر اپنا اجلاس منعقد کیا۔ دیوار کا کھینچا جانا اس حقیقت پر مشعر ہے کہ اس وقت فریقین کے تعلقات میں کتنی کشیدگی تھی اور قادیانیوں کی شورہ پشتی کس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ وہ اپنی دست درازی کے قانونی نتائج سے اپنے آپ کو بالکل محفوظ خیال کرتے تھے۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقناطیسی جذب

بہر حال کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت کے لئے اپیلانٹ سے کہا گیا وہ بلند پایہ خطیب ہے اور اس کی تقریر میں بھی مقناطیسی جذب موجود ہے۔ اس نے اس اجلاس میں ایک جوش انگیز خطبہ دیا اس کی تقریر کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ بتایا گیا ہے کہ حاضرین تقریر کے دوران میں بالکل مسحور تھے۔ اپیلانٹ نے اس تقریر میں اپنے خیالات ذرا وضاحت سے بیان کئے اور اس کے دل میں مرزا اور اس کے معتقدین کے خلاف جو نفرت کے جذبات موجزن تھے۔ ان پر پردہ ڈالنے کی اس نے کوئی کوشش نہ کی۔ تقریر پر اخبارات میں اعتراض ہوا۔ معاملہ حکومت پنجاب کے سامنے پیش ہوا جس نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔

تقریر پر اعتراض

اپیلانٹ کے خلاف جو الزام ہے اس کے ضمن میں اس تقریر کے سات اقتباسات درج ہیں جنہیں قابل گرفت ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ اقتباسات یہ ہیں:

کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ پردے سے باہر آئے نقاب اٹھائے۔ کشتی لڑے۔ مولا علیؓ کے جوہر دیکھے۔ وہ ہر رنگ میں آئے وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے۔ میں ننگے پاؤں آؤں، وہ ریشم پہن کر آئے۔ میں گاندھی جی کی کھڈی کھدر شریف، وہ مزعفر اور کباب یاقوتیاں اور پلومر کی ٹانک وائن اپنے ابا کی سنت کے مطابق کھا کر آئے۔ میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آتا ہوں۔

نہیں کہتا بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ کو اکیلا چھوڑ دو پھر میرے اور بشیر کے ہاتھ دیکھو، کیا کروں۔ لفظ تبلیغ نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ یہ اجتماع سیاسی اجتماع نہیں ہے۔ او مرزائیو! اگر باگیں ڈھیلی ہوتیں میں کہتا ہوں اب بھی ہوش میں آؤ۔ تمہاری طاقت اتنی بھی نہیں جتنی پیشاب کی جھاگ ہوتی ہے۔

صفحہ ۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرافعہ گزار نے عدالت ماتحت میں بیان کیا کہ اس کی تقریر درست طور پر قلمبند نہیں کی گئی۔ جملہ نمبر ۵ کے متعلق اس نے بہ صراحت کہا ہے کہ وہ اس کی زبان سے نہیں نکلا اور اگر چہ اس نے تسلیم کیا کہ باقی جملوں کا مضمون میرا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ عبارت غلط ہے۔ عدالت ماتحت نے قرار دیا ہے کہ ایک جملہ کی رپورٹ غلط ہے اور اس کے سلسلہ میں مرافع گزار کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لہٰذا مرافع گزار کی سزایابی کا مدار دوسرے چھ فقروں پر ہے۔ مرافع گزار کے وکیل نے تسلیم کیا کہ فقرات ۱، ۲، ۶، ۷ مرافع گزار نے کہے۔ اب میرے سامنے یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ کیا یہ چھ جملے جو مرافع گزار نے کہے ۱۵۳۔الف کے ماتحت قابل گرفت ہیں اور یہ کہ یہ الفاظ کہنے سے مرافع گزار کس جرم کا مرتکب ہوا ہے۔

عدالت کا استدلال

میں نے اس سے قبل وہ حالات و واقعات بہ تفصیل بیان کر دیئے ہیں جن کے ماتحت تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرافع گزار نے بہت سی تحریری شہادتوں کی بناء پر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مرزا اور اس کے مقلدین کے ظلم وستم پر جائز اور واجبی تنقید کرنے کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ تھا۔ اس کا بیان ہے کہ اس کی تقریر کا مدعا سوئے ہوئے مسلمان کو جگانا اور مرزائیوں کے افعال ذمیمہ کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔ اس نے اپنی تقریر میں جا بجا مرزا محمود کے ظلم وتشدد پر روشنی ڈالی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جو مسلمان مرزا کی نبوت سے انکار کرنے اور اس کے خانہ ساز اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مورد آفات وبلیات ہیں ان کی شکایات رفع کی جائیں۔ میں نے قادیان کے حالات کی روشنی میں مرافعہ گزار کی تقریر پر غور کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ تقریر مسلمانوں کی طرف سے صلح کا پیغام تھی لیکن اس تقریر کے سرسری مطالعہ سے ہر معقول شخص اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اعلان صلح کی بجائے یہ دعوت نبرد آزمائی ہے۔ ممکن ہے کہ مرافع گزار نے قانون کی حدود کے اندر رہنے کی کوشش کی ہو۔ لیکن جوش فصاحت و بلاغت میں وہ ان امتناعی حدود سے آگے نکل گیا ہے اور ایسی باتیں کہہ گیا ہے جو سامعین کے دلوں میں مرزائیوں کے خلاف نفرت کے جذبے کے سوا اور کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتی۔ روما کے مارک انتھونی کی طرح مرافع گزار نے یہ اعلان تو کر دیا کہ وہ احمدیوں سے طرح آویزش نہیں ڈالنا چاہتا۔ لیکن صلح کا یہ پیغام ایسی گالیوں سے پر ہے جن کا مقصد سامعین کے دلوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔

تنقید کی جائز حدود

اس میں کلام نہیں کہ مرافع گزار کی تقریر کے بعض حصے مرزا کے افعال کی جائز اور واجبی تنقید پر مشتمل ہیں۔ غریب شاہ کو زدوکوب کرنے کا واقعہ محمد حسین اور محمد امین کے واقعات قتل اور مرزا کے جبر و تشدد کے بعض دوسرے واقعات جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایسے ہیں جن پر تنقید کرنے کا ہر سچے مسلمان کو حق ہے۔ نیز اس تقریر کے دوران میں ان توہین آمیز الفاظ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو قادیانی پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی شان میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔

صفحہ ۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی اور مسلمان

مسلمانوں کے نزدیک محمد ﷺ خاتم المرسلین ہیں۔ لیکن مرزائیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ محمد ﷺ کے بروز میں کئی نبی مبعوث ہو سکتے ہیں اور وہ سب مہبط وحی ہو سکتے ہیں۔ نیز یہ کہ مرزا غلام احمد نبی اور مسیح ثانی تھا۔ اس حد تک مرافع گزار کی تقریر قانون کی زد سے باہر ہے۔ لیکن جب وہ دشنام طرازی پر آتا ہے اور مرزائیوں کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتا ہے جنہیں سننا بھی کوئی آدمی گوارا نہیں کر سکتا تو وہ جائز حدود سے تجاوز کر جاتا ہے اور خواہ اس نے یہ باتیں جوش فصاحت میں کہیں یا دیدہ دانستہ کہیں قانون انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔

تقریر کے اثرات

مرافعہ گزار کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اس کے سامعین میں اکثریت جاہل دیہاتیوں کی تھی۔ نیز یہ کہ اس قسم کی تقریر ان کے دلوں میں نفرت وعناد کے جذبات پیدا کرے گی۔ واقعات مظہر ہیں کہ تقریر نے سامعین پر ایسا ہی اثر ڈالا اور مقرر کی لسانی سے متاثر ہو کر انہوں نے کئی بار جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سامعین نے اس وقت کیوں مرزائیوں کے خلاف کوئی متشددانہ اقدام نہ کیا۔ اگرچہ فریقین کے تعلقات عرصہ سے اچھے نہ تھے۔ مگر اس تقریر نے راکھ میں دبے ہوئے شعلوں کو ہوا دے کر بھڑکا دیا۔

تقریر کی قابل اعتراض نوعیت

فرد جرم میں جن سات فقروں کو قابل گرفت قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے تیسرا اور ساتواں سب سے زیادہ قابل اعتراض ہیں۔ ان میں اپیلانٹ نے مرزائیوں کو برطانیہ کے دم کٹے کتے کہا ہے۔ میرے نزدیک دوسرے حصے دفعہ ۱۵۳-الف تعزیرات ہند کے ماتحت قابل گرفت نہیں ہیں۔ پہلا حصہ یعنی فرعونی تحت الثرا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک قابل اعتراض نہیں۔ دوسرے حصے کا تعلق مرزا کی غذا اور خوراک سے ہے۔ اس کے متعلق یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرزائے اوّل (مرزا قادیانی) نے اپنے مریدوں میں سے ایک کے نام چٹھی لکھی تھی جس میں ان کی خوراک کی یہ تمام تفصیلات درج تھیں۔ یہ خطوط کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں اور ان کے مجموعے کا ایک مطبوعہ نسخہ اس مسل میں بھی شامل ہے۔

شراب اور مرزا

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ایک ٹانک استعمال کرتا تھا جس کا نام پلومر کی شراب تھا۔ ایک موقع پر اس نے اپنے مریدوں سے ایک کو لکھا کہ پلومر کی شراب لاہور سے خرید کر مجھے بھیجو۔ پھر دوسرے خطوط میں یاقوتی کا تذکرہ ہے۔ مرزا محمود نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے ایک دفعہ پلومر کی شراب دواءً استعمال کی۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ حصہ بھی قابل اعتراض نہیں۔ چوتھے حصے میں مرزا غلام احمد کے امتحان میں ناکام ہونے کا تذکرہ ہے۔ چھٹے حصے میں مرزا پر لابہ گوئی اور کاسہ لیسی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چاپلوسی اور لابہ گوئی پیغمبر کی شان کے خلاف ہے۔

عدالت کا تبصرہ

میری رائے میں تیسرے اور ساتویں حصے کے سوا اور کوئی حصہ تقریر کا قابل گرفت نہیں۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ مرافعہ گزار کی تمام تقریر میں صرف وہ حصے قابل اعتراض ہیں۔ تقریر کے انداز سے معلوم ہوا کہ جہاں مرافعہ گزار مرزائیوں کے افعال شنیعہ کی دھجیاں بکھیرنا

صفحہ ۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چاہتا تھا۔ وہاں وہ مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھی پیدا کرنا چاہتا تھا۔ یہ امر کہ سامعین اس کی تقریر سے متاثر ہو کر امن شکنی پر کیوں نہ اتر آئے۔ اس کے جرم کو ہلکا کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔

مجھے اس میں کلام نہیں کہ اپیلانٹ مرزائیوں پر تنقید کرنے میں حق بجانب تھا۔ لیکن وہ اس حق کو استعمال کرنے میں جائز حدود سے تجاوز کر گیا اور تقریر کے قانونی نتائج بھگتنے کا سزاوار بن گیا۔ مرافع گزار کے اس فعل کی مدح وثنا کرنا آسان ہے۔ لیکن ایسے حالات میں جہاں جذبات میں پہلے ہی سے ہیجان واشتعال ہو۔ اس قسم کی تقریر کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے اور اگر مرافع گزار نے صرف ایک اصطلاحی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن قانون کی ہمہ گیری کا احترام از قبیل لوازم ہے۔

فیصلہ

مقدمہ کے تمام پہلوؤں پر نظر غائر ڈالنے اور سامعین پر مرافعہ گزار کی تقریر کے اثرات کا اندازہ کرنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مرافعہ گزار تعزیرات ہند دفعہ ۱۵۳ کے تحت جرم کا مرتکب ہوا ہے اور اس کی سزا قائم رہنی چاہئے۔ مگر سزا کی سختی و نرمی کا اندازہ کرتے وقت ان واقعات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے جو قادیان میں رونما ہوئے۔ نیز یہ بات بھی نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں کہ مرزا (قادیانی) نے خود مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو بھڑکایا۔ میرا خیال یہی ہے کہ اپیلانٹ کا جرم محض اصطلاحی تھا۔ چنانچہ میں اس کی سزا کو کم کر کے اسے تا اختتام عدالت قید محض کی سزا دیتا ہوں۔‘‘

(۶؍ جون ۱۹۳۵ء، گورداسپور، دستخط جی، ڈی کھوسلہ سیشن جج)

(تاریخ احرار ص ۱۸۵ تا ۱۹۶)

صفحہ ۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۳۶ء تا ۱۹۴۶ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تبلیغ کانفرنس کے بعد

تبلیغ کانفرنس میں شمولیت کے لئے جب میں پہلی بار قادیان گیا تھا تب مجھے قادیان کو چل پھر کر دیکھنے کا موقعہ میسر نہ آیا۔ اس لئے کہ حکومت نے باہر سے آنے والوں پر کچھ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ جگہ جگہ پہرے بٹھا دیئے گئے اور اعلان کر دیا گیا کہ کوئی مسلمان قادیان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ مجھے کانفرنس میں تقریریں سننے یا رونق سے لطف اندوز ہونے کا اتنا خیال نہ تھا جتنا میں اس فساد انگیز بستی کے اندرونی حالات معلوم کرنے کے لئے بے تاب تھا۔ ایک میل دور ریلوے لائن پر کھڑا دیر تک ”منارۃ المسیح“ کو دیکھتا رہا۔ کانفرنس ختم ہوئی تو میں ایک رات کے لئے وہیں ٹھہر گیا۔ قادیان کے مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان سے باتیں ہوئیں میں ان غیر مرزائیوں کی باتوں میں بڑی دلچسپی لیتا رہا۔ میں ان مٹھی بھر غیر مرزائیوں کی جرأت اور حوصلہ مندی سے بہت متاثر ہوا۔ وہ سودیشی نبوت کے خوفناک سازشی ماحول اور شیطانی ہتھکنڈوں سے نبرد آزما تھے اور گوناگوں مصیبتوں کا پامردی سے مقابلہ کر رہے تھے۔ وہاں سے سیدھا لاہور چلا آیا۔ یہاں بھی شاہ صاحب کی تقریر کا بڑا چرچا تھا۔ یوں تو ان کی ہر تقریر ماسٹر پیس ہوتی ہے۔ مگر قادیان میں شاہ صاحب کی طبیعت بالکل حاضر تھی۔ بہت بڑے ہجوم کو حضرت شاہ صاحب نے ایسا مسحور کیا کہ جلسہ گاہ میں سمندر کے مدوجزر کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ قادیان کے ارد گرد کی مسلمان آبادی کانفرنس میں امڈ کر آ گئی تھی۔ شاہ صاحب کی تقریر نے ملحقہ آبادی کے ایمان مضبوط کر دیئے اور یہی بات مرزا محمود کی پریشانی کا باعث ہوئی۔ قادیان سے واپسی پر لاہور کے مرکزی دفتر میں مجھے چوہدری (افضل حق) صاحب مرحوم ومغفور کی خدمت میں ٹھہرنے کا موقعہ ملا۔ مرحوم اپنے کارکنوں اور رضا کاروں سے ہمیشہ بہت بے تکلف رہا کرتے تھے۔ وہ سب سے دریافت کرتے تھے کہ کہو بھئی کانفرنس کیسی رہی؟ سب کی یہی رائے تھی کہ کانفرنس کامیاب تو ہوئی ہے مگر قادیان میں سالانہ کانفرنس ہونی چاہئے۔ اس کانفرنس میں مسلمان ہندوستان کے کونے کونے سے آیا کریں گے۔ دو چار کانفرنسیں ہو گئیں تو مرزائیت کا بھرکس نکل جائے گا۔ میں چونکہ ایک دن کے لئے قادیان ٹھہر گیا تھا۔ وہ مجھ سے بھی دریافت کرتے رہے کہ اس کانفرنس کے بعد کیا ہوگا؟ کانفرنس کے انعقاد سے مرزائیوں پر کیا گزری؟ قادیان کے ارد گرد کے لوگوں نے کیا اثر قبول کیا؟ یہی سوالات وہ اپنے مخلص کارکنوں سے کر چکے تھے۔ ہم سب کا جواب تقریباً ملتا جلتا تھا۔ چوہدری صاحب خوش بھی تھے مگر وہ باتوں باتوں میں اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ بڑے خطرناک گروہ سے پالا پڑا ہے۔ انگریز اس کی پشت پر ہے۔ دیکھنا چاہئے کہ کیا ہوتا ہے۔

میں لدھیانے واپس چلا آیا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں از سر نو کارخانہ جاری کروں۔ دو سال سیاست سے کنارہ ہو کر دولت کماؤں اور پھر سے اس قابل ہو جاؤں کہ جماعت کی کچھ امداد کر سکوں۔ مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم ومغفور میرے بچپن کے ساتھی اور بے تکلف دوست تھے۔ ان سے مشورہ کیا وہ بھی ردوکد کے بعد راضی ہو گئے۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے چوہدری صاحب مرحوم نے لاہور بلا بھیجا۔ ملاقات ہوئی فرمانے لگے، تمہیں معلوم ہے کہ قادیان میں کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے آپ سے زیادہ کیا معلوم ہوگا۔ کیوں خیر تو ہے؟ فرمانے لگے مرزا محمود بہت کائیاں شخص ہے۔ وہ قادیانی خلیفہ ہونے کے علاوہ بہت بڑا پالیٹیشن بھی ہے۔ بڑے جوڑ توڑ کا آدمی ہے۔ ایک طرف اپنے مبلغوں کے ذریعے تبلیغ کا کام چلاتا ہے تو دوسری طرف سیاسی ہتھکنڈوں سے داؤ مارتا ہے۔ وہ ہم غریبوں سے دولت کے انبار پر برطانوی قوت کے سہارے کھڑے ہو کر کشتی لڑتا ہے۔ مولانا عنایت اللہ اپنی بساط سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ وہ جم کر بیٹھ گئے ہیں۔ مگر وہ تنہا ہیں۔ دینی مسائل اور مناظرہ میں تو وہ مات نہیں کھاتے۔ بڑی جرأت سے ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ان کی

صفحہ ۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امداد کے لئے ہمارے بہترین رفیق اور مناظر مولانا محمد حیات فاتح قادیان صاحب کے علاوہ دوسرے احرار مبلغ بھی موجود ہیں۔ انہیں بھی بھیج دیا جائے گا۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ مرزا محمود کی سیاست کا مطالعہ بھی کر لیا جائے۔ قادیانی تبلیغ اور قادیانی سیاست دو جدا جدا محاذ ہیں۔ جب تک دونوں محاذوں پر مقابلہ نہ کیا جائے۔ کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ اگر خدانخواستہ غفلت سے کام لیا گیا تو مرزائیت برطانوی اقتدار کے سہارے مسلمانوں پر امربیل کی طرح چھا جائے گی۔ میں نے عرض کیا چوہدری صاحب کیا ارادہ ہے۔ آپ نے کیا پروگرام بنایا ہے؟ فرمانے لگے تم یو. پی تو نہیں جا رہے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو مولانا حبیب الرحمٰن سے مشورہ کیا ہے۔ میں اب کہیں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میں دوسال کی رخصت چاہوں گا تاکہ اس عرصے میں کچھ دولت کمالوں تب میں اپنے رفیقوں کی امداد بھی کرسکوں گا اور وقتاً فوقتاً ہاتھ بھی بٹاتا رہوں گا۔ وہ میری جانب دیکھ کر سنجیدگی سے فرمانے لگے۔ تم بھی اس طرح سوچتے ہو؟ میں نے عرض کیا پھر کس طرح سوچوں آپ ہی فرمائیے؟ فرمانے لگے ارے اب تو مخالف کے پنجے میں پنجہ ڈال دیا ہے۔ یہ وقت مڑ کر دیکھنے کا ہے؟ مرحوم کچھ کبیدہ خاطر سے ہوگئے۔ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں انہیں اس حالت میں دیکھ کر بے قرار ہو جاتا تھا۔ میں نے عرض کیا چوہدری صاحب فرمائیے مجھے کیا حکم ہے؟ فرمایا قادیان چلے جاؤ۔

حکم مل گیا

میں نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی اور ہفتے بعد قادیان پہنچ گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ مولانا عنایت اللہ کو لاہور بلا کر مرحوم چوہدری صاحب نے کیا کہا۔ میں احرار کے تبلیغی دفتر میں ٹھہر کر اپنے پروگرام پر غور کرتا رہا۔ مجھے تبلیغ اور مناظروں سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ میں اس کا اہل تھا۔ علماء کی صحبت سے اسلام دل میں تو اتر جاتا ہے۔ مگر علم دین سے دماغ یکسر کورا رہتا ہے۔ دینی مسائل سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ علماء کے سامنے سالہا سال زانوئے تلمذ تہ کیا جائے۔ میں بھلا مولانا عنایت اللہ صاحب کا تبلیغی میدان میں کیا ہاتھ بٹاتا۔ میں اس کام کے لئے گیا ہی نہ تھا۔ میرا کام بالکل مختلف تھا۔ میں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں سے معمولی واقفیت کے بعد اپنے لئے جگہ کی تلاش میں تھا۔ چند دن بعد میں نے مولانا سے کہا کہ مجھے آپ سے الگ اور مرزائیوں کے قریب رہنا ہے۔ چنانچہ میری خواہش کے مطابق ایک ایسا مکان مل گیا جو سنگھم پر آباد تھا۔ یعنی جہاں مسلمان محلہ ختم ہوکر مرزائی محلہ شروع ہوتا تھا۔ میری رہائش بیچ کے مکان میں تھی۔ ایک دیوار مسلمان کے مکان سے ملحق تھی اور دوسری دیوار کے سائے میں مرزائیوں کا گھر تھا اور میں یقین رکھتا تھا کہ میں یہاں خود نہیں آیا اور نہ مجھے چوہدری صاحب نے اس ڈیوٹی پر مامور کیا ہے۔ مجھ گنہگار کی خوش نصیبی یہاں کھینچ لائی ہے۔ خدا ضرور میری امداد کرے گا۔ میں خدا کے حبیب کی آبرو کے مخالف کو پریشان اور زچ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ مایوسی اور خوف دونوں میرے دل سے نکل گئے۔

مجھے کیا کرنا چاہئے

آخر بیٹھ کر مرزائیوں کے منارۃ المسیح کو کب تک دیکھتا رہوں۔ اجنبی ہوں واقفیت کی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ جس گلی میں میرا قیام تھا اس کا نام تھا کوچہ شیخان، ہر محلہ ایک مرزائی تھا مگر مجھ غریب الوطن سے کوئی بات نہ کرتا تھا۔ کچھ دن بعد میں نے گھر سے باہر قدم نکالا۔ بیٹھک کے باہر کرسی بچھا کر بیٹھا تو محلے کے مسلمان آنے جانے لگے۔ تب مرزائی ہمسایوں کو پتہ چلا کہنے لگے۔ یہ کم بخت تو احراری معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال میں رہ گزروں کی نظروں کے سامنے اس لئے آگیا کہ اجنبیت ٹوٹ جائے۔ مگر واقفیت پھر بھی پیدا نہ ہوئی۔

صفحہ ۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیہات سدھار

قادیان میں (نام نہاد) خلیفہ صاحب کے مکان یعنی قصر خلافت اور خلافت کے متعلقہ دفاتر کے گرد و پیش تو اچھی صفائی رکھی جاتی ۔ مگر عوام کے مکانوں کے آس پڑوس اور گلی کوچوں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر مرزائیت کی طرح بکھرے نظر آتے تھے۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی آبادی میں صفائی کا اچھا انتظام نہ تھا۔ جب میں کانگرسی تھا تو دیہات سدھار کا پروگرام میرا محبوب مشغلہ تھا۔ میرے دل نے فیصلہ کیا کہ مجھے خدمت خلق کے جذبے سے کام شروع کرنا چاہئے۔ پہلے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ہی مکان کو صاف کرنا شروع کیا۔ مکان کی چھت سے لے کر نالی تک کو صاف کیا۔ حتیٰ کہ باہر دروازے کو جھاڑ پھونک کر صاف کیا۔ ہمسایہ مرزائیوں کے مکان اور میرے مکان کی نالی دونوں مکانوں کے باہر ایک گڑھے میں پڑتی تھی۔ گلی میں کوئی فرش نہ تھا۔ اس گڑھے میں غالباً مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے زمانے سے گندہ پانی جمع ہو رہا تھا۔ نیلے رنگ کی متعفن کھاد میں بلبلے اٹھتے تھے۔ ہوا کے جھونکے جب اس بدبودار کیچڑ کو چھو کر گلی میں گزرتے تو محلے داروں کی مزاج پرسی کر لیا کرتے تھے۔ میرے مکان کے دروازے پر اس نامعقول گندے گڑھے کا وجود بھی میرے دیہات سدھار کے احساسات کو جھنجھوڑتا تھا۔ ایک روز میں نے حوصلہ سے کام لیا اور آستینیں چڑھا کر دونوں ہاتھ اس گڑھے میں ڈال دیئے۔ الامان والحفیظ ! بدبو کا دماغ سوز بھبھوکا اٹھا۔ میری آنکھوں میں پانی آگیا۔ سر چکرا گیا۔ دل نے کہا یہ ”قادیانی نبی کی بستی ہے اپنا کام کرو۔ ادھر ادھر مت جھانکو۔“ میرے ہاتھوں پر کہنیوں تک نیلے رنگ کے دستانے چڑھ گئے۔ میں کام میں لگا ہوا تھا کہ ہمسائی نے اپنا دروازہ کھولا اور مجھے دیکھتے ہی فقرہ چست کیا۔ کہنے لگیں: ”ہم نے سمجھا تھا یہ احراری مولوی ہیں۔ آج معلوم ہوا کہ یہ تو بھنگیوں کے خاندان سے متعلق ہیں۔“ کم بخت نے خدمت گزاری کی کیسی بھونڈی قسم کی داد دی۔ وہ یہ فقرہ چست کر کے گلی سے باہر چلی گئی۔

جس گلی میں میرا مسکن تھا اس گلی میں زنانہ مدرسے کی طالبات گزرا کرتی تھیں۔ ہر قسم کے سیاہ برقعے، جتنے بھی دنیا بھر میں فیشن ہو سکتے ہیں وہ تمام اس بستی میں موجود تھے۔ ان طالبات کو نہ جانے کس نے بتا دیا کہ میں احراری ہوں۔ وہ نیک بختیں جب مجھے گندے گڑھے پر کام کرتے دیکھتیں مجھ پر چوٹ کئے بغیر نہ جاتیں نہ تو میں آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا اور نہ ان کی فقرے بازی پر توجہ دیتا تھا۔ دور سے انہیں آتے دیکھتا اور نگاہیں نیچی کر لیتا۔ دوسرے دن میں نے مسلمان ہمسایوں سے کدال مانگ کر اس سے کیچڑ نکالنا شروع کیا۔ گلی کے ایک کنارے کیچڑ کا ڈھیر لگا لیا۔ تیسرے دن مرزائی ہمسایوں کے خیالات بدلنا شروع ہوئے۔ اس گھر میں ملکہ کا راج تھا۔ میری ہمسائی دروازے پر آ کر کھڑی ہوگئی۔ کہنے لگی: ”مولوی جی بڑے اچھے آدمی ہو کہو تو ایک مزدور تمہارے ساتھ لگا دوں۔ مدتوں کا گند تھا جو آپ نے ٹھکانے لگا دیا۔“ میں نے کہا: بہن یہ کام میں خود ہی کرلوں گا۔ ایک مہربانی کیجئے دو دن کی خاطر نالی میں پانی بند کر دیجئے۔ گڑھا آج صاف ہو کر دوپہر کی دھوپ سے خشک ہو جائے گا۔ میں کل اسے خشک اینٹوں سے پر کر کے اوپر روڑی اور چونا ملا کر بہت عمدہ فرش بنا دوں گا۔ ہمسائی نے اپنی بہو بیٹیوں کو ڈانٹ پلائی اور تنبیہ کی کہ دو تین روز نالی میں پانی نہ گرایا جائے۔

میں نے اس کام سے فراغت پائی تو کوچے کی ناہمواری کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ کام بھی میں نے اپنے مسکن سے شروع کیا۔ دو چار گز زمین روز ہموار کر لیتا تا آنکہ سارے کوچے کا لیول درست ہو گیا۔ سکولوں کی لڑکیاں اور مرزائی عورتیں جو اونچی ایڑی کے جوتے پہنا کرتی تھیں اس کوچے کی ناہمواری سے اکثر ٹھوکریں کھایا کرتی تھیں۔ اب کوچہ ہموار ہوا تو بے دریغ تیزی سے گزرنے لگیں۔ وہ جو مجھے خواہ مخواہ

صفحہ ۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فقرے بازی کا نشانہ بنایا کرتی تھیں۔ رائے بدل کر اچھے الفاظ میں یاد کرنے لگیں۔ بعض نے برملا کہا کہ خواہ مخواہ احراریوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ یہ تو بڑے اچھے لوگ ہیں۔ میں نے مرزائیوں کو کوئی مسئلہ سمجھانے کی بجائے دیہات سدھار کی پٹڑی پر ہموار کر لیا۔ ہوتے ہوتے یہ بات خلیفہ صاحب کے کانوں تک پہنچی۔ وہ بہت ہوشیار آدمی ہیں۔ ان کے کان کھڑے ہوئے اور میرے گھر پر اپنی سی آئی ڈی کو بھیج دیا۔

گل نور

قادیان میں پیغمبری کا ایک اور دعویدار پیدا ہوا۔ شیطان نے ایک سرحدی پٹھان مسمی احمد نور کے کان میں پھونک ماری۔ وہ بہک گیا اور الہامات بیان کرنے لگا۔ خلیفہ صاحب نے اسے مد مقابل بننے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔ عام طور پر احمد نور کے خلاف پراپیگنڈا یہ کیا گیا کہ یہ شخص مرزا قادیانی کا بے حد عقیدت مند ہے۔ اسے مرزا قادیانی کے عشق میں دیوانگی کا دورہ پڑا ہے۔ اسے کچھ مت کہو۔ غرضیکہ اس بیچارے کی نبوت کو تدبر کے پتھر کے نیچے دبا کر رکھ دیا۔ احمد نور صاحب کے منہ پر ناک نہیں تھی۔ ربڑ کی مصنوعی ناک لگا کر وہ مدتوں پیغمبری کے گیت گنگناتے رہے۔ ان کا بیٹا گل نور بڑا ہوشیار اور صاحب تدبیر تھا۔ اسے خلیفہ صاحب نے مجھ پر بطور سی آئی ڈی متعین کر دیا۔ مگر وہ ایسا ہوشیار نکلا کہ میرے پاس براہ راست آنے کی بجائے میرے دوستوں کے سہارے مجھ تک پہنچا۔ وہ مولانا عنایت اللہ صاحب سے بھی راہ و رسم رکھتا تھا۔ مجھے چند روز بعد اس پر شک ہوا۔ وہ اعتبار جمانے کے لئے (نام نہاد) خلیفہ کے بارے میں بے سروپا جھوٹی باتیں بنا کر مجھے ہموار کر لینا چاہتا تھا۔ مجھے اس کی حرکات سے یقین ہو گیا کہ نام نہاد خلیفہ کا پکا جاسوس ہے تو میں اس سے گھل مل گیا اور بہت ہی بے تکلفی سے باتیں کرنے لگا اور اپنی جگہ چوکس ہو گیا۔ وہ مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش میں تھا اور میں اسے بے وقوف بنا رہا تھا۔ غرضیکہ میرا اور گل نور کا پیچ پڑ گیا۔ مگر یہ بڑا ہی خطرناک کھیل تھا۔

دوستوں کی تنبیہ

مجھے مولانا عنایت اللہ صاحب نے راز دارانہ انداز میں حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ ان کے بعد چند دوستوں نے گل نور سے بچ کر رہنے کی تلقین کی۔ میں نے نہ تو مولانا عنایت اللہ سے اور نہ دوسرے احباب سے حقیقت حال کی وضاحت کی بلکہ میں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور گل نور کی وکالت شروع کر دی۔ میں جانتا تھا کہ بات کو پر لگیں گے اور یہ شکوک گل نور تک ضرور پہنچیں گے۔ اسے میری رائے کا علم بھی ہو جائے گا۔ کوئی راز زیادہ دیر راز نہیں رہتا اگر وہ چند آدمیوں کی زبان تک آجائے۔ میں نے اپنے دوستوں اور ہمدردوں کو سمجھایا کہ گل نور بہت اچھا دوست ہے اور میرا بڑا ہمدرد ہے۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ذریعے محل کے اندر کی خبریں لاتا ہے۔ آپ کو کیا معلوم کہ وہ مجھے کیا بتا کر جاتا ہے۔ پٹھان جس کا دوست بن جائے عمر بھر دوستی نبھاتا ہے۔ اس قصے کو چھوڑو میں ایک اچھے دوست کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ میرا اندیشہ صحیح ثابت ہوا گل نور کو سب کچھ معلوم ہو گیا۔ اسے میری رائے کا علم بھی ہو گیا کہ میں گل نور کو کتنا اچھا دوست سمجھتا ہوں۔ گل نور مطمئن ہو گیا اور مجھے کچھ کچھ خبردار بھی کرنے لگا۔ وہ محل کی کچھ صحیح باتیں بھی بتانے لگا۔ دو سچی باتوں کے ساتھ چار جھوٹی باتیں ملا کر معاملے کو گڈ مڈ کر دیتا تھا۔ باتوں کے ڈھیر میں سے سچ تلاش کرنا بڑی دردسری کا کام تھا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا، پیچ پڑ گیا تھا۔ دونوں جانب سے ڈھیل دی جا رہی تھی جسے اللہ دے جو کام ہم ایک ہفتہ بعد کرنا چاہتے تھے اور جس کے ظاہر ہو جانے میں کوئی حرج نہ تھا یا جس نے بالآخر ظاہر ہو ہی جانا تھا۔ اسے گل نور سے کہہ دیا جاتا تھا۔ ان اطلاعات کی بہم رسانی سے گل نور زیادہ معتبر اور دربار خلافت میں زیادہ رسائی پا رہا تھا۔ وہ جس قدر نام نہاد خلیفہ کے قریب ہو رہا تھا یا اپنے بھائی کے ذریعے باخبر ہوتا تھا اس سے مجھے مناسب معلومات مل جایا کرتی تھیں۔

صفحہ ۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چھ ماہ بعد

میرے پاؤں جم گئے۔ ایک روز رات کے تقریباً بارہ بجے کسی نے آہستہ سے میرے مکان کی کنڈی کھٹکھٹائی۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے سمجھا خواب تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آواز آئی۔ میں چھت پر لیٹا ہوا تھا۔ نیچے اترا دروازہ کھولا تو دیکھا ہمارا مرزائی محلہ دار سامنے کھڑا ہے۔ اس نے دبی آواز سے کہا مولوی جی! اندر آ جاؤں؟ میں نے کہا: بسم اللہ۔ وہ کمرے میں بیٹھ گیا۔ مگر بالکل مبہوت، سانس پھولا ہوا۔ بالکل گھبرایا ہوا۔ میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ فرمائیے کیا حکم ہے؟ میں کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ آپ میرے محلہ دار ہیں۔ آپ کا مجھ پر حق ہے۔ فرمائیے کیسے تشریف لائے؟ کہنے لگا ہم بڑی مصیبت میں ہیں۔ شکایت نہیں کرسکتے۔ یہاں ہماری آبرو محفوظ نہیں۔ مگر ہم اف تک نہیں کرسکتے۔ میں نے کہا تنہا آپ کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہے؟ اس نے کہا یہاں اکثر لوگ زخمی ہیں۔ (نام نہاد) خلیفہ صاحب کے کارندے کھلے بندوں بے عزتی کرتے ہیں۔ آگے کچھ شنوائی نہیں ہوتی۔ میں نے اس سے کرید کرید کر دکھیا، مظلوم اور دل برداشتہ لوگوں کے نام اور پتے دریافت کئے۔ وہ مجھے بتا بھی رہا تھا اور ہاتھ باندھ کر یہ بھی کہتا تھا کہ میری آمد کا کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ جب وہ شخص باتیں کر کے میرے ہاں سے اپنے گھر کی طرف چلا تو میں نے دیکھا کہ وہ بار بار پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس پر خوف طاری تھا اور پاؤں ڈگمگا رہے تھے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ قادیان کی بستی میں غلام احمد کے ماننے والوں پر کیا گزرتی ہے۔ بہر حال اس کے بعد کام کی راہیں ہموار ہوگئیں۔

مرزا محمود کی سخت گیری

(نام نہاد) خلیفہ محمود بڑا سخت مزاج، خطرناک منتقم اور سخت گیر انسان تھا۔ انہیں کسی اپنے مرید پر شک ہو جائے تو سمجھئے کہ اس غریب کی شامت آئی۔ دفتر امور عامہ کے باہر بلیک بورڈ لگا ہوا ہے جو شخص زیر عتاب ہو۔ اس پر شخص مذکور کا نام لکھ کر آگے بائیکاٹ لکھ دیا جاتا تھا۔ بس پھر کیا تھا ایک ہی شخص کی وساطت سے کتنے اوروں کا خانہ تباہ ہوتا تھا۔ زار روس کے ہاں جس طرح جاسوسوں پر جاسوس لگا دیئے جاتے تھے۔ تقریباً وہی طریقہ قادیان میں رائج تھا۔ ہر شخص کو اپنی جگہ بڑا چوکس رہنا پڑتا۔ اس صورتحال نے مرزائیوں میں منافقت کا ذہن پیدا کیا۔ اس طرح قادیان کی چھوٹی سی بستی جس کی آبادی بارہ چودہ ہزار نفوس سے زیادہ نہ تھی۔ سیاسی داؤ پیچ کا اکھاڑہ بن گئی۔ ہر مہرے پر مرزا محمود کا ہاتھ تھا۔ وہ مہروں کو ہٹاتا، بڑھاتا اور پٹواتا۔ کوئی اس کا ہاتھ روک نہ سکتا تھا۔ ایسے شاطر کو میدان کھلا مل جائے پھر اس سے کون بازی جیتے۔

آسانیاں

میرے لئے اس صورتحال نے مشکل کی بجائے آسانیاں پیدا کردیں۔ مجھے پٹے ہوئے مہروں کو جمع کرنے کا موقعہ مل گیا۔ میں نے سوچا کہ یہی پٹے ہوئے مہرے اپنی بساط کی رونق بن سکتے ہیں۔

مرزا محمود کی مخالفت

قادیان کے غیر مرزائی یعنی مسلمان، ہندو اور سکھوں کو تو (نام نہاد) خلیفہ نے مخالف بنا ہی لیا تھا۔ وہ تو سب کے سب خار کھائے بیٹھے ہی تھے۔ خود مرزائیوں کو (نام نہاد) خلیفہ صاحب سے نفرت پیدا ہوچکی تھی۔ بعض شریف آدمی جو واقعی نبوت کے دھوکے میں بیعت کر

صفحہ ٦٢

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیٹھے تھے زندگی کے ”نازک گوشوں“ میں زخمی ہو گئے۔ ان میں بعض ایسے بھی تھے جو نمایاں حیثیت کے مالک تھے۔ زخم کو برداشت نہ کر سکے۔ چیخ اٹھے اور مقابلے پر آمادہ ہوئے۔ مگر مرزا محمود کا سخت گیر نظام، سرکار کی پشت پناہی، آگے کوئی سہارا نظر نہ آیا تو پیچ و تاب کھا کر خاموش ہو گئے۔ مگر زخمی سانپ کی طرح اندر ہی اندر بس گھولتے رہے۔

قادیان میں جب پہلے پہل مجلس احرار نے قدم رکھا، مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ مٹھی بھر غریب مسلمان احرار کی نہتی فوج تھی۔ یہ لوگ غریب تو تھے مگر بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ یہ لوگ بڑے بہادر اور جاں نثار تھے۔ میاں عبداللہ مسلمانوں کی مسجد کے امام اور بڑے باہمت اور سمجھ دار با حیثیت مسلمان تھے۔ مرزائیوں کے محلے میں ان کا اپنا دو منزلہ مکان بھی تھا۔ ان کے علاوہ ماسٹر عبداللہ ایک باحیثیت آدمی، بڑے ہمدرد اور احرار کے خدمت گزار تھے۔ شیخ برادری کے چند گھر تھے۔ غرضیکہ قادیان کی مسلمان آبادی جن میں نائی، دھوبی، چھوٹے دکاندار، درزی، رنگریز جو بھی تھے احرار کے ہمدرد کارکن اور رضا کار سبھی کچھ یہی لوگ تھے۔ ان لوگوں کا خلوص، ختم نبوت کا پختہ عقیدہ، احرار کا بہترین سرمایہ تھا۔ یہی ہماری فوج تھی اور یہی ہمارا خزانہ تھا۔ انہی غریبوں میں عبدالحق نامی ایک نوجوان احرار کے جلسوں کا گلی کوچوں میں ٹین بجا کر اعلان کیا کرتا تھا۔ ایک اور سمجھدار نوجوان ڈاکٹر عبدالسلام تھا۔ ان کا پختہ مکان مرزائیوں کے محلے میں تھا۔ یہ نوجوان بڑا دلیر تھا۔ ابتداء میں اس کی جرأت اور دلیری نے احرار کو قادیان میں پاؤں جمانے میں بڑا کام دیا۔

قادیان کا تاریخی مسلمان

مولوی مہر الدین مرحوم مرزا غلام احمد آنجہانی کے زمانے سے مرزائیت کے خلاف صف آرا تھے۔ غربت کے باوجود مولوی مہر الدین مرزائیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ بارہا انہیں مرزائی بہادروں نے پیٹا، ڈرایا، دھمکایا مگر وہ ڈٹے رہے۔ مولوی مہر الدین تو پھر بھی مولوی کہلاتے تھے۔ مگر یہ حقیقت معلوم کر کے مسلمانان پاکستان حیران ہوں گے کہ قادیانی کے نائی اور سقے بھی رد مرزائیت کے سلسلے میں اچھے خاصے مناظر تھے۔ ان پڑھ ہونے کے باوجود مرزائیوں کو ایسا الجھاتے تھے کہ انہیں لاجواب ہو کر میدان مناظرہ سے بھاگنے میں عافیت معلوم ہوتی۔ چند موٹے موٹے مسائل اور وزنی اعتراضات قادیان کے مسلمانوں نے رٹ رکھے تھے۔ انہی سے وہ اپنے ایمانوں کو بچائے ہوئے تھے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ ان لوگوں کے بزرگوں نے مرزا قادیانی کو اپنی آنکھوں کے سامنے نبی بنتے دیکھا۔ (نام نہاد) خلیفہ کی حرکتوں سے وہ بخوبی آگاہ تھے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ قصر خلافت میں کیا کیا گل کھلتے ہیں۔ مرزائیوں نے مسلمانوں پر رعب تو جما رکھا تھا مگر قادیان کے مسلمان، مرزائیوں کو پکا کافر اور مرتد سمجھتے تھے۔ یہی اسلامی جذبہ اور بنیادی عقیدے کی پختگی تھی۔ جس نے احرار کے مبلغوں اور کارکنوں کو بہت سہارا دیا تھا۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کشمیری خاندان میں چوہدری امام دین کشمیری اور ان کے بڑے بھائی بہت جری اور حضرت امیر شریعت کے مخلص فدائیوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ اسی خاندان کا ایک پڑھا لکھا نوجوان خواجہ عبدالحمید (بٹ) مرزائیوں کی نئی پود کا خوب واقف تھا۔ وہ مرزائیوں ہی کے سکول میں تعلیم حاصل کر کے میٹرک کے امتحان میں پاس ہوا۔ یہ نوجوان گل نور کا دوست اور میرا دست راست تھا۔ بڑا ذہین اور معاملہ فہم نوجوان تھا۔ وہ جب پاکستان آیا تو سیدھا لودھراں چلا گیا۔ یہاں اس نے اچھا خاصا اثر و رسوخ پیدا کر لیا۔ میونسپلٹی کا انتخاب ہوا تو عبدالحمید لودھراں میونسپلٹی کا صدر منتخب ہو گیا۔ (بفضلہ تعالیٰ ابھی تک زندہ سلامت ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں کے روح و رواں ہیں۔ قادیان کے حالات و واقعات پر مشتمل آپ کے قیمتی مضامین ہفتہ وار لولاک فیصل آباد، ہفتہ وار ختم نبوت کراچی اور

صفحہ ۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چٹان میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعض کتابچے بھی شائع کئے۔ اللہ رب العزت ان کو سلامت رکھے۔ مرتب) قادیان کے مسلمانوں کی یہ مختصر سی فہرست ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرزا محمود کے مقابلے میں احرار کی طاقت بظاہر آٹے میں نمک کے برابر تھی۔

مرکزی امداد

چوہدری افضل حق مرحوم ومغفور لاہور میں بیٹھ کر قادیان کی ڈائری سے حالات کا مطالعہ کررہے تھے۔ مولانا عنایت اللہ انہیں تبلیغی میدان کی کیفیت سے آگاہ کرتے اور کبھی کبھار لاہور آکر مرحوم سے ہدایات حاصل کرکے قادیان واپس چلے جاتے تھے۔ چوہدری صاحب نے تبلیغی میدان کو وسعت دینے کا پروگرام بنالیا۔ ایک مکان مولانا عنایت اللہ صاحب کے نام پر خریدا جاچکا تھا۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ احرار قادیان کے باشندے بن گئے۔ دل میں خلوص اور ارادے نیک ہوں تو قدرت امداد کرتی ہے۔ انہی دنوں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے دہلی کی تبلیغ کانفرنس میں مسلمانان دہلی سے قادیان کے محاذ کے لئے امداد کی اپیل کی۔ ایک مخیر اور نیک دل معزز خاتون نے زمین خریدنے کے لئے چھ ہزار روپے کا چیک بھی دیا۔ زمین خرید لی گئی۔ کچھ اور رقم آئی تو کچھ اور زمین خرید لی گئی۔ غرضیکہ احرار نے مضبوطی سے کفرستان میں جھنڈا گاڑ دیا۔

قادیان میں احرار کا مدرسہ اور کارخانہ

مسلمانوں کے بچے مرزائی سکولوں میں پڑھنے کے لئے مجبور تھے۔ احرار نے ایک مدرسہ کھول دیا۔ اب یہ مشکل سامنے آئی کہ کاروبار کے لئے مرزائیوں کے تعاون کی ضرورت رہتی تھی۔ یہ سوال بڑا ٹیڑھا تھا۔ احرار کا ذہن ابتدائی منزلیں طے کر رہا تھا۔ کامیابی کے بغیر تعمیری کام کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جاسکتی۔ آئے دن کی پکڑ دھکڑ سے فرصت ملے تو تعمیری کام بھی ہو سکتے ہیں۔ بہرحال مجبوری سب کچھ کرا دیتی ہے۔

ہینڈ لوم یعنی دستی کھڈیاں

بالآخر بیکار مسلمان نوجوانوں کو کام پر لگانے کے لئے احرار کو دیسی کپڑے کا کارخانہ بھی جاری کرنا پڑا۔ چنانچہ ہینڈ لوم پر کپڑا تیار ہونے لگا۔ اس طرح کچھ تعمیری کام شروع ہو گیا۔ مرزا محمود نے یہ دھندا پہلے سے کر رکھا تھا۔ مرزائیوں کی آبادی بڑھی تو ان کے ہاں بھی ہینڈ لوم پر کپڑا بننے لگا۔ مگر کہاں غریب جماعت اور کہاں قادیان کا رجواڑہ۔ ہمارا ان کا اس میدان میں مقابلہ ہی کیا تھا۔ تاہم احرار نے اچھی طرح پاؤں پسار لئے۔

مولانا محمد حیات

چوہدری صاحب مرحوم ومغفور نے تبلیغی محاذ کو زیادہ مضبوط کرنے کے لئے احرار کے بہترین مناظر مولانا محمد حیات صاحب کو قادیان بھیج دیا۔ مولانا محمد حیات درویش منش انسان اور بلند پایہ مناظر ہیں۔ قادیانی مبلغ ان کے نام سے گھبراتے تھے۔ مولانا محمد حیات کی سادہ اور پاکیزہ زندگی قابل رشک ہے۔ انہیں دیکھ کر سلف صالحین کا زمانہ یاد آتا ہے۔ مناظروں کے علاوہ مولانا موصوف نے قادیان میں درس وتدریس کا کام بھی جاری کیا۔ ان کی زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ کھدر کی قمیض کرتہ اور ٹوپی۔ سردی کا موسم آیا۔ کمبل اوڑھ لیا۔ قادیان

صفحہ ۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں احرار کا مقابلہ بڑی سج دھج والی جماعت سے تھا۔ ہم نے مولانا کو مجبور کیا کہ وہ گرم کوٹ بنوالیں۔ مولانا نے انکار کر دیا۔ تب حضرت شاہ صاحب سے کہلوایا گیا۔ مولانا نیم رضا ہوئے۔ سالہا سال کی کوششوں کے بعد مولانا محمد حیات ایک روز کوٹ میں نظر آئے۔ مگر مولانا اس طرح محسوس کرتے تھے کہ ان کے جسم کو پرائی امانت سے ڈھانپ رکھا ہے۔ یعنی اپنا کوٹ مولانا کو پرایا نظر آتا تھا۔ ایسے نیک خصال اور سادہ مزاج لوگ کہاں ملتے ہیں۔ مولانا محمد حیات بڑے بہادر اور حوصلہ مند انسان ہیں۔ وہ بارہا جیل جا چکے ہیں۔ مگر ان کی زبان پر قربانیوں کا تذکرہ بہت کم آتا ہے۔ بہرحال مولانا محمد حیات صاحب کی قادیان میں موجودگی سونے پر سہاگہ کا کام دے گئی۔ احرار کے دفتر میں مرزائی مناظر آکر مات کھا جایا کرتے تھے۔ مگر ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی تھیں۔ اس لئے وہ شکست کھا کر شکست کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ (مولانا محمد حیات تقسیم کے بعد قادیان سے مرزا محمود کے مجرمانہ فرار کے بعد پاکستان تشریف لائے۔ کچھ عرصہ سندھ میں زراعت کا کام کیا، مرزائیت نے پاکستان میں پر پرزے نکالنے شروع کئے تو حضرت امیر شریعت کے حکم پر مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری ان کو ملتان لائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی ارکان میں سے تھے۔ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں قادیانیت کے محاذ پر کام کرنے والے تمام مبلغین و مناظرین بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ کے شاگرد ہیں۔ مولانا لال حسین اختر مناظر اسلام کی رحلت کے بعد چھ ماہ تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکز یہ رہے۔ ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکز قائم ہوا تو فاتح قادیان سے فاتح ربوہ بن کر یہاں بھی تشریف لائے اور زندگی کے آخری لمحات تک ربوہ میں مرزائی قیادت کے لئے سوہان روح بنے رہے۔ تھوڑا عرصہ بیمار رہ کر شکر گڑھ کے دیہات میں اپنے بھائیوں کے ہاں انتقال فرمایا۔ ایک کامیاب مگر سستی شہرت سے کوسوں دور مرد قلندر نے پوری زندگی قادیانیت کے احتساب میں گزار دی۔

(مرتب)

مرزا محمود کی بوکھلاہٹ

جیسا کہ عرض کر چکا ہوں مرزا محمود بڑے کائیاں آدمی ہیں۔ وہ بھی حالات کا بغور مطالعہ کر رہے تھے۔ ان کی سی آئی ڈی بڑی مستعد تھی۔ جھوٹی سچی رپورٹوں کی بھر مار ہوئی تو وہ سیدھے لاہور پہنچے تا کہ حکومت کو مداخلت بیجا پر ابھار سکیں۔ چنانچہ وہ حفظ ما تقدم کے طور پر سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری پر قادیان میں داخلے کی پابندی لگوا دینے میں کامیاب ہو گئے۔ احرار نے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر جنگ شروع کر دی۔ باہر بھی جلسے ہوئے اور قادیان کے لئے الگ پروگرام بن گیا۔ یعنی ہر جمعہ باہر سے ایک عالم جاتا اور راستے ہی میں یعنی بٹالہ پہنچ کر پکڑا جاتا۔ اس طرح صاحبزادہ سید فیض الحسن، مولانا محمد قاسم شاہ جہان پوری، قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی کے علاوہ کارکنوں نے قادیان کا رخ کیا۔ جانباز اور ان کے دوسرے ساتھی گرفتار ہونے لگے۔ مرزا محمود کی تدبیر کا الٹا اثر ہوا۔ بالآخر یہ پابندی ڈھیلی پڑ گئی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ صاحب بخاری قید ہو چکے تھے۔ مرزا محمود کا بس چلتا تو وہ انہیں جیل سے باہر آنے کا موقعہ ہی نہ دیتا۔ مگر برطانوی قوم بڑی ترکیب اور احتیاط سے چلنے والی قوم ہے۔ اس نے مرزا (محمود) کی کھلم کھلا امداد تو کی مگر قانون سے آگے قدم نہیں بڑھایا۔ ضلع گورداسپور میں رد مرزائیت کی تحریک دیہاتوں تک پھیل چکی تھی۔ قادیان سے باہر بٹالہ احرار کا مضبوط قلعہ تھا۔ میاں حاجی عبدالرحمن صاحب رئیس بٹالہ اور ان کا خاندان احرار کی پشت پناہی پر موجود تھا۔ میں جب کبھی زیادہ پریشان ہوتا یا تھک جاتا تو دو ایک روز کے لئے بٹالہ چلا آتا۔ حاجی صاحب کا گھر میرا ریسٹ ہاؤس تھا۔ تازہ دم ہو کر پھر دارالفساد قادیان میں پہنچ جاتا۔ حضرت شاہ صاحب قید سے رہا ہو کر جب امرتسر تشریف لے آئے تو قادیان کے لوگوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر قادیان تشریف لانے

صفحہ ۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی دعوت دوں۔ میرا قادیان سے اس غرض کے لئے آنا تھا کہ مرزا محمود نے قادیان اور لاہور کے ڈانڈے ملا دیئے ۔ پیامی پر پیامی آنے جانے لگے۔ حتی کہ اس تگ و دو کے نتیجے میں حکومت پنجاب نے حضرت شاہ صاحب پر قادیان میں داخلے کی پابندی لگا دی۔ حکم ہوا کہ قادیان مرزائیوں کا مقدس مقام ہے۔ (یعنی مرزائیوں کا کعبہ ہے ) آٹھ میل کے رقبے میں بخاری صاحب کو داخل ہونے کی ممانعت ہے۔ دراصل یہ پابندی مرزا محمود اور حکومت کا اعتراف شکست تھا۔ اس حکم سے علاقہ بھر میں اداسی چھا گئی۔ مگر اس کا یہ ردعمل ہوا کہ اس علاقے میں شاہ صاحب کی محبوبیت اور مرزائیت کے خلاف جذبے میں اضافہ ہو گیا۔

قادیان سے آٹھ میل دور شاہ صاحب کی تقریر

جب قادیان کے گردو پیش کی آبادیوں میں مرزائیت کے خلاف بے پناہ نفرت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ قادیان کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر راضی ہیں کہ شاہ صاحب آٹھ میل دور کسی جگہ تشریف لے آئیں۔ ہم سب وہاں حاضری دے کر بخاری صاحب کے مواعظ حسنہ سے مستفیض ہوں گے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ مسانیاں میں یک روزہ تبلیغ کانفرنس کا بندوبست کیا جائے۔ یہ گاؤں سیدوں کی بستی ہے۔ سادات کی رگ عصبیت پھڑک اٹھی۔ ان میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ ہمارے معزز سید بھائی پر حکومت نے قادیان میں داخل ہونے کی پابندی لگائی ہے۔ ہمارے ہاں کانفرنس کا اہتمام ہو تو ہم خود بند و بست کریں گے۔ لیجئے کام بن گیا۔ ارد گرد کے علاقے سے مسلمان جوق در جوق آ پہنچے۔ مجھے یاد ہے کہ قادیان کے مسلمانوں کا قافلہ مسانیاں کے لئے پیدل ہی چل پڑا۔ کوئی دوست ایک اونٹ بھی لے آیا۔ کبھی مجھے اور کبھی مولانا عنایت اللہ کو اونٹ پر سوار کرایا گیا۔ بہر حال جب ہم مسانیاں پہنچے تو دیکھا چاروں طرف سے مسلمانوں کے گروہ چلے آ رہے ہیں۔ بہت بڑا اجتماع ہو گیا۔ حضرت شاہ صاحب نے یہاں بہت ہی پیارے انداز میں مسئلہ ختم نبوت بیان فرمایا۔ علاقے کے مسلمانوں میں بڑے پاکیزہ جذبات پیدا ہو گئے۔ مرزائیت کی تبلیغ کا سیلاب رک گیا۔ حضرت شاہ صاحب نے کفر کے اس سیلاب کے سامنے ایسا بند باندھا جسے مرزائیت توڑ نہ سکی۔

دوسرا جلسہ

قادیان کے مغرب کی جانب جب مسانیاں کے کامیاب جلسے کا چرچا ہوا تو مشرقی جانب کے مسلمانوں نے اپنے ہاں جلسے کے انعقاد کا بندوبست کیا۔ حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں التجا کی گئی کہ وہ موضع بھانبڑی میں تشریف آوری کی منظوری دیں تا کہ علاقے بھر میں اعلان کیا جا سکے۔ منظوری کے بعد میں ایک روز کے لئے حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ کافی عرصے سے پابندی لگ رہی ہے۔ آپ کب تک قادیان کے گرد گھومتے رہیں گے؟ شاہ صاحب نے فرمایا کہ جن ہاتھوں نے کفر کا یہ پودا لگایا ہے وہ حفاظت بھی کر رہے ہیں۔

پابندی کی وجہ

مرزائیوں نے حکومت پنجاب کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر سید عطاء اللہ شاہ بخاری قادیان میں داخل ہوں گے تو سخت فساد ہو گا۔ حکومت نے اس خدشے کا یقین کر لیا اور مسلسل پابندی لگتی رہی۔ حکومت اور مرزائی دونوں کو یقین ہو گیا کہ اب بخاری صاحب قادیان نہیں آئیں گے۔ ہم نے خود بھی قادیان میں پراپیگنڈا کیا کہ اب ہم نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ شاہ صاحب کو قادیان سے دور ہی رکھا جائے اور

صفحہ ۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیہات میں جلسے کر کے ہمیں بہت کامیابی ہوئی ہے۔ جب مرزائیوں اور حکومت کو یقین ہو گیا کہ احرار پابندی برداشت کر گئے ہیں۔ پابندی کی میعاد ختم ہونے پر نئی پابندی نہ لگائی گئی۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ شاہ صاحب بھانپڑی کے جلسے میں آئیں تو کسی کو بتائے بغیر انہیں اچانک قادیان میں لے آؤں اور قادیان کے گلی کوچوں میں پھرا کر اچانک جلسہ بھی کر لیا جائے اور پھر شاہ صاحب کو واپس امرتسر بھیج دیا جائے۔ گو میرا پروگرام بڑا خطرناک تھا۔ مگر اس پروگرام کے بغیر مرزائیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کا ہمارے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

موضع بھانپڑی میں جلسہ عام

میں اس ارادے سے بھانپڑی پہنچ گیا۔ رات کو زبردست جلسہ ہوا۔ شاہ صاحب نے تقریر فرمائی تو مجمع جھوم جھوم گیا۔ کافی دیر تک تقریر ہوئی۔ جلسے کے بعد اسی گاؤں میں رات گزاری۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے ارادے سے خبردار نہیں کیا۔ صبح اذان ہوئی تو میں نماز کے فوراً بعد اس لاری والے کے پاس پہنچا جس لاری میں بٹالے سے حضرت شاہ صاحب بھانپڑی تشریف لائے تھے۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ اگر سیدھے راستے کی بجائے قادیان کی طرف سے ہو کر بٹالے چلو تو کیا لوگے۔ ڈرائیور رات کو شاہ صاحب کی تقریر سن چکا تھا۔ اس نے جواب دیا مولوی صاحب ایک پیسہ فالتو لینا حرام ہے میری تو جان بھی حاضر ہے جونہی اس نے رضامندی کا اقرار کیا میں شاہ صاحب کے پاس پہنچا۔ میں نے ان کو نہیں بتایا کہ میرا ارادہ کیا ہے۔ شاہ صاحب عادتاً اگلی سیٹ پر بیٹھا کرتے تھے۔ میں نے ہمت سے کام لیا اور شاہ صاحب سے پہلے ڈرائیور کی برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ لاری چل پڑی۔ شاہ صاحب سے ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ شاہ صاحب کی تقریر بھی دلپذیر ہوتی ہے۔ ان کی باتیں بھی دلچسپ ہوتی ہیں۔

قادیان کا موڑ

باتوں باتوں میں وہ موڑ آ گیا جہاں سے ایک سڑک بٹالے کو جاتی ہے اور دوسری قادیان کو۔ ڈرائیور نے میری طرف دیکھا میں نے اسے اشارہ کیا کہ ہمت کرو۔ ہماری باتیں جاری ہیں۔ لاری نے فراٹے بھرنے شروع کئے۔ حتیٰ کہ ہم قادیان کے قریب پہنچ گئے۔ لاری آہستہ ہوئی۔ کیونکہ ہم قادیان کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جونہی لاری نے ریلوے لائن کراس کیا لاری ذرا اچھلی۔ شاہ صاحب فرمانے لگے ارے ہم کہاں آ گئے؟ ہمارے راستے میں ایسی ریلوے لائن تو تھی نہیں۔ لاری نشیب کی جانب اتری تو سامنے مرزا محمود کے ماموں ڈاکٹر محمد اسماعیل صبح کی سیر کے لئے ٹہلتے ہوئے نظر آئے۔ میں نے شاہ صاحب سے عرض کیا شاہ صاحب یہ ہیں مرزا محمود کے ماموں اور ادھر دیکھئے یہ ہے منارۃ المسیح ۔ شاہ صاحب کا چہرہ مارے خوشی کے جگمگا اٹھا۔

قادیان میں داخلہ

ہماری لاری جب قادیان کی آبادی میں جا کر رکی تو مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر قادیان کے کونے کونے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ شاہ صاحب کو چوہدری امام الدین کے گھر پر مرزائیوں کے قریب لے گئے۔ جوان، بوڑھے، عورتیں اور بچے تک شاہ صاحب کی زیارت کے لئے گھروں سے نکل آئے اور چوہدری امام الدین کی بیٹھک کے سامنے جمع ہو گئے۔ قادیان کے مسلمانوں نے عید کی سی خوشی منائی۔ ہندو، سکھ اور مسلمان دوڑے چلے آ رہے تھے۔ یہاں کا پروگرام بھی میرے ذہن میں تھا۔ مرزائیوں میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو حضرت شاہ صاحب کو کسی بہانے قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔ باقی وہ جو مرزا (محمود)

صفحہ ۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے خاص الخاص معتبر تھے ہم نے اپنے ہجوم کو کم کیا اور لوگوں کو منت سماجت سے بیٹھک کا دروازہ خالی چھوڑنے کو کہا تا کہ مرزائی راہ گزر حضرت شاہ صاحب کی زیارت کر سکیں۔

قادیان کی پولیس

قادیان کی پولیس چوکی کا ایک سکھ تھانیدار انچارج تھا۔ حضرت شاہ صاحب کی اچانک تشریف آوری سے تھانیدار بے چارہ گھبرا گیا۔ دوڑا دوڑا آیا اور مجھ سے دریافت کرنے لگا۔ اجی ماسٹر صاحب! کیا غضب کر دیا آپ حضرات نے۔ میں تو مارا جاؤں گا۔ خدا کے لئے بتاؤ کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا سردار جی! کیوں گھبراتے ہو۔ یہ تو سر راہ چائے کا پروگرام ہے۔ بس جونہی چائے سے فارغ ہوئے حضرت شاہ صاحب اسی لاری سے بٹالے روانہ ہو جائیں گے اور کوئی بات نہیں۔ تھانیدار دوڑا دوڑا مرزائیوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ جا رہے ہیں۔ مرزا محمود مطمئن ہو گئے۔ اگر میں پروگرام کا کوئی بھی حصہ اپنے ساتھیوں کو بتا دیتا تب بھی کام خراب ہو جاتا۔ میں نے ایک دوست سے کہا کہ شاہ صاحب تھوڑا سا آرام کریں گے۔ اتنے میں تم کھانا تیار کراؤ۔ شاید ہم ان کو کھانا کھلا کر روانہ کریں۔ پولیس والے باہر لاری کے پاس جمع ہو گئے تا کہ روانگی کے وقت کوئی گڑ بڑ نہ ہو۔ جب دو گھنٹے گزر گئے تو تھانیدار صاحب پھر تشریف لائے۔ میں نے کہا کھانا تیار ہو رہا ہے بس گھنٹہ آدھ گھنٹہ بعد کھانا کھلایا اور پروگرام ختم ہوا۔ گھبرائیے نہیں۔ وہ بے چارہ پھر لاری کے پاس جا پہنچا۔ مرزا محمود کو پھر تسلی ہو گئی۔

قادیانی محل کی سیر

کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے حضرت شاہ صاحب سے عرض کیا کہ اب آپ باہر تشریف لے آئیں وہ باہر آنے کی تیاری کرنے لگے۔ میں نے عبدالحق کو الگ لے جا کر آہستہ سے کہا تم مسلمان محلوں میں اعلان کر دو کہ ” احرار کی مسجد میں حضرت شاہ صاحب تقریر فرمائیں گے ۔ مسجد میں جلدی پہنچ جاؤ ۔‘ عبدالحق بھاگا بھاگا گیا اور ٹین اور ڈنڈا لے کر بازار میں اعلان کے لئے نکل گیا۔ میں نے شاہ صاحب سے عرض کیا باہر تشریف لے آئیے۔ وہ باہر آئے تو لاری کی جانب جانے کی بجائے ہم نے مرزائیوں کی انار کلی کا رخ کیا۔ یہ سڑک سیدھی قصر خلافت کو جاتی تھی۔ پولیس باہر لاری کے پاس تھی۔ مرزا محمود کے خواب خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ حضرت شاہ صاحب اس جانب کا رخ کر سکتے ہیں۔ ایک ہجوم شاہ صاحب کے جلو میں آ رہا تھا۔ اگر محمود کو وقت سے پہلے پتہ چل جاتا تو وہ ضرور کوئی حرکت کر بیٹھتے۔ مگر انہیں تو تب پتہ چلا جب حضرت شاہ صاحب ان کے محل کے سامنے تھے۔ میں نے حضرت شاہ صاحب سے عرض کیا اوپر قصر خلافت پر بھی نگاہ ڈالئے اور دیکھئے آپ کا مد مقابل اس کھڑکی میں چلمن کے پیچھے بیٹھا ہے۔ شاہ صاحب مستانہ وار بڑھے چلے گئے۔ محل کے نیچے سے ہماری مسجد کا راستہ تھا۔ یہ بہت شارٹ کٹ تھا۔ مگر ہم کبھی اس راہ سے گزرے نہ تھے۔ نہ ہی مسلمانوں کو ادھر سے گزرنے کا حوصلہ تھا۔

ہم سب مسجد میں جا پہنچے۔ مسجد میں چند منٹ کے اندر تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ حضرت شاہ صاحب نے مسحور کن لے میں تلاوت قرآن پاک شروع کی تو سامعین پر وجد طاری تھا۔ ختم نبوت پر تقریر شروع ہو گئی۔

مرزا محمود کی مجلس مشاورت

شاہ صاحب کی بہت قریب سے زیارت کے بعد مرزا محمود کے طوطے اڑ گئے ۔ جاسوسوں پر لعن طعن ہوتی رہی۔ مگر جیسا کہ میں

صفحہ ۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے عرض کیا وہ بہت ہوشیار آدمی ہیں وہ سمجھ گئے کہ احرار نے میدان مار لیا۔ وہ پراپیگنڈا جس نے حکومت پنجاب کو گمراہ کر رکھا تھا شاہ صاحب کی تشریف آوری اور قصر خلافت کی راہ سے گزرنے کے باعث جھوٹا ثابت ہو گیا۔ مرزا محمود نے آخری کوشش کی اور اپنے لٹھ بند رضا کاروں کو حکم دیا کہ مسجد میں چلے جاؤ۔ جلسے میں گھس جاؤ اور اعتراضات کر کے جلسہ درہم برہم کر دو۔

لٹھ بند مرزائی رضا کاروں کا مسجد میں داخلہ

اچانک مسجد کے دروازے پر مرزائی نوجوانوں کا ہجوم نظر آیا۔ حضرت شاہ صاحب کو خدا نے بڑی سمجھ بوجھ اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ جونہی حضرت شاہ صاحب نے مرزائی نوجوانوں کو دروازے میں دیکھا فرمایا کہ راستہ دے دو اندر آنے دو ان نوجوانوں کو، بعض مسلمان نوجوانوں نے غصے میں مرزائیوں کی جانب دیکھا۔ مگر شاہ صاحب کی فراخ حوصلگی دیکھ کر وہ سب خاموش رہے۔ شاہ صاحب نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم آگے سمٹ کر آ جاؤ اور ان حضرات کے لئے جگہ دے دو۔ مرزائی نوجوان توڑنے آئے تھے مگر حضرت شاہ صاحب کے اخلاق کی بلندی نے انہیں ٹھنڈا کر دیا۔ پھر جو شاہ صاحب نے تقریر شروع کی تو پندرہ منٹ بعد مرزائی نوجوان جھومنے لگے۔ ایک جگہ حضرت شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے لفظ مرزائی استعمال کیا تو ایک مرزائی نوجوان چمک کر بولا کہ شاہ صاحب ہمیں مرزائی مت کہئے۔ ہم احمدی ہیں۔ شاہ صاحب نے انہیں احمدی کہنا شروع کر دیا۔ مگر شاہ صاحب نے تقریر فرمائی۔ علم وعرفان کے موتی بکھیرے اور مسئلہ اس خوبصورتی اور پیارے انداز میں سمجھایا کہ سامعین عش عش کر اٹھے۔ تقریر کے خاتمے پر حضرت شاہ صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ بیچارے مرزائی بھی پھنس گئے۔ ان کو دعا میں شامل ہونا پڑا۔ حضرت شاہ صاحب نے درد بھرے دل سے دعا مانگی۔ عجیب سماں تھا۔ جلسہ ختم ہوا ہم سب دوسرے راستے سے یعنی بازار کی راہ سے لاری تک پہنچ گئے۔ لاری بستی سے باہر کھڑی تھی۔ لاری چلنے لگی تو تکبیر کے نعروں کے ساتھ مجلس احرار، ختم نبوت اور حضرت امیر شریعت زندہ باد کے نعرے لگے۔ خدا جانے مرزا محمود کا کیا حال ہوا ہو گا؟ یہ ہماری پہلی فتح تھی اور مرزا محمود کی پہلی شکست۔

جلسے کے گہرے اثرات

قادیان میں حضرت شاہ صاحب کے جانے اور جلسہ کرنے کا یہ اثر ہوا کہ اخبارات نے مقالے لکھے۔ جلسوں میں حکومت کی مرزائیت نوازی اور مرزائیوں کے جھوٹے پراپیگنڈہ کا تذکرہ ہوا تو حکومت مجبور ہو گئی کہ وہ خود کو غیر جانبدار ثابت کرے۔ اس واقعے سے یہ بھی ہوا کہ اوپر کا دباؤ کم ہو گیا۔ مگر اندر خانے خود کاشتہ پودے کی آبیاری جاری رہی۔ ہمارے حوصلے بلند ہو گئے۔ ہمارے مبلغ کھلے میدان میں جلسہ کر کے مسئلہ ختم نبوت سمجھانے لگے۔ جوں جوں فضا ساز گار ہوتی گئی تبلیغ کا کام زوروں پر شروع ہو گیا۔ احرار نے ایک لاؤڈ سپیکر بھی خرید لیا۔ اس لاؤڈ سپیکر کے ذریعے قادیان کے گلی کوچوں میں حق کی آواز پہنچنے لگی۔ مولانا عنایت اللہ صاحب اور مولانا محمد حیات رات کو کئی مناسب مقامات پر لاؤڈ سپیکر لگا کر مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کر لیا کرتے۔ اس سے یہ فائدہ بھی پہنچا کہ مرزا محمود بھی اپنا ایمان تازہ کر لیا کرتے تھے۔ وہ بھی اپنے محل میں بیٹھے بیٹھے کلمہ حق سن لیتے تھے۔

مرزائیوں کے ٹھاٹھ

مگر ان سب باتوں کے باوجود مرزائیوں کا اس قدر رعب تھا کہ پولیس بھی ان سے مرعوب تھی اور قادیان کے غیر مرزائیوں پر

صفحہ ٦٩

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھی ایسا رعب تھا کہ انہیں ہر وقت مرزائیوں کے عتاب کا دھڑکا لگا رہتا۔ ”خاندان نبوت“ کا تو اس قدر رعب تھا کہ انہیں دیکھ کر امت مرزائیہ بھی کانپ جاتی تھی۔ مرزا محمود کے چھوٹے بھائی میاں محمد شریف اس معاملے میں بڑے دلیر تھے۔ وہ کچھ دن شاید فوج میں بھی گزار آئے تھے۔ ویسے وہ چھوٹے بھائی ہونے کی وجہ سے ناز پروردہ بھی تھے۔ ان میں اچھی خاصی اکڑ فوں تھی۔ مسلمانوں پر بھی ان کا اچھا خاصا رعب تھا۔ مرزا محمود کبھی پیدل باہر نہیں نکلتے تھے۔ وہ قصر خلافت کے دروازے پر کار میں بیٹھتے۔ یہ جس طرح آپ بڑے وزیروں یا گورنروں کو نکلتا دیکھتے ہیں۔ آگے آگے موٹر سائیکل پھر کاریں اور پھر گورنر صاحب یا وزیر اعظم یا صدر صاحب۔ انہی کی نقالی میں مرزا صاحب بھی بڑے طمطراق سے گزرتے تھے۔ اجی موٹر سائیکل یا جیپ کاریں نہ سہی سائیکل سوار ہی سہی۔ انہی کو آگے لگا کر ہو بہو سرکار، حضور اقدس، حضرت خلیفہ صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ لوگ دورویہ کھڑے ہو جاتے۔ کسی کھڑکی کا دروازہ بند ہو جاتا تو کوئی نیک بخت زیارت کے لئے پٹ کھول کر رکھتی۔ یوں ترکیبوں سے ساری بستی پر مرزائیوں نے رعب جما رکھا تھا۔ یہ رعب بھی بہت زبردست رکاوٹ تھی۔ جب تک یہ رعب اٹھ نہ جائے لوگ دل کی بات زبان پر کیسے لائیں گے۔ اگر کسی کو اختلاف ہو تو وہ اس کے اظہار کی جرأت کہاں سے لائے؟ تاہم رعب میں اس روز جنبش ضرور آئی۔ جس روز حضرت شاہ صاحب نے قادیان پہنچ کر قصر خلافت سے گزر کر جلسہ عام میں مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کی۔ مگر یہ تو حضرت شاہ صاحب کی بزرگی اور کرامت تھی کہ وہ ان مرزائیوں کو جو مرنے اور مارنے کے لئے لٹھ لے کر آئے تھے مسئلہ ختم نبوت اچھی طرح سمجھا کر دل و دماغ میں بٹھا کر گئے۔ ان کے تشریف لے جانے کے بعد مرزا محمود نے پراپیگنڈا کے زور سے دوبارہ ہوا باندھنے کے جتن کئے۔ میری نگرانی بہت سخت ہوگئی۔ مگر میں وہاں کرتا ہی کیا تھا۔ جس پر مجھے قادیان سے نکلوا دیا جاتا۔

مرزائیوں کا حج

مرزا محمود کی سی آئی ڈی یعنی گل نور صاحب نے میرے ہاں ڈیرے ڈال لئے۔ جس سے مجھے کچھ مشکل بھی پیش آئی۔ مرزائیوں کا سالانہ جلسہ جسے وہ دراصل حج سمجھتے تھے۔ (مرزا محمود نے قادیان کے سالانہ جلسہ کو ظلی حج قرار دیا اور حقیقت الرؤیا نامی کتاب میں کہا کہ مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا۔ اب رشد و ہدایت کے لئے قادیان کا ظلی حج مقرر ہو گیا ہے۔ اب جو قادیان سے رابطہ نہیں رکھے گا کاٹا جائے گا۔ مرتب) سر پر آرہا تھا۔ کم و بیش پانچ سات ہزار مرزائی بیرون جات سے قادیان میں آیا کرتے تھے۔ ہمیں یہ دقت درپیش تھی کہ جب مرزائیوں کا تین دن جلسہ ہوگا تو ہمیں حق کی آواز بلند کرنا چاہئے۔ مولانا عنایت اللہ صاحب سے مشورہ ہوا کہ ہم بھی لٹریچر تقسیم کریں اور ہوسکے تو جلسہ بھی کریں۔ مرکز کے پاس مرزائیوں کے مقابلہ میں اتنا فنڈ نہ تھا کہ مرزائیوں کے لٹریچر کا لٹریچر سے مقابلہ کیا جائے۔

رب جی، یا رب قادیان

ایک برہمن نوجوان مسمی برہمچاری اور چند ہندو دوست میرے مکان پر آیا کرتے تھے۔ برہمچاری صاحب میرے مکان کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے رب جی، رب جی کا ورد کیا کرتے تھے۔ ان کے دوستوں نے ورد سے متاثر ہو کر انہیں رب جی کہنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک روز برہمچاری صاحب سے کہا کہ آپ نے خود بھی اپنے کو رب جی کہلوانا پسند کیا ہے۔ یہ تو اچھی بات نہیں۔ برہمچاری صاحب نے سنجیدگی سے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں قادیانی رب جی ہوں۔ رب جی کہلوانا اتنا خطرناک نہیں، جتنا خواہ مخواہ نبی بن جانا

صفحہ ۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خطرناک ہے۔ رب جی کہلانے والا مرجائے تو قضیہ ختم ہو جاتا ہے۔ مگر نبی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آپ نہیں دیکھتے ہمارے ہاں قادیان میں کیسا فساد کھڑا ہو گیا ہے۔ میں یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اس لئے کہ میرے نزدیک مرزا غلام احمد کی نبوت بھی ایک سیاسی مذاق تھا۔ جس سے مسلمانوں کے دل مجروح ہوئے اور ایک عالمگیر فساد کھڑا ہو گیا۔ مگر اس بستی میں سبھی قسم کی گنجائش موجود تھی۔ جونہی جلسہ قریب آیا رب قادیان نے پر پرزے جھاڑے۔ ایک لمبا ترشول چوغہ، ماتھے پر تلک اور منہ پر داڑھی عجیب ہیئت بنائے وہ میرے مکان پر آ دھمکے۔ میں نے کہا بھئی برہمچاری آج تو بڑے ٹھاٹھ ہیں۔ کہنے لگا ہمارے نبی کا عرس ہونے والا ہے۔ یہ سب تیاریاں اس دن کے لئے ہیں۔

رب قادیان تھانے میں

چند روز بعد میں اپنے مکان پر موجود تھا۔ ایک دوست نے اطلاع دی کہ تھانے میں رب جی نے آپ کو بلایا ہے۔ میں تھانے پہنچا تو دیکھا کہ باہر کچھ لوگ کھڑے ہیں۔ اندر رب جی بھی موجود ہیں اور ان کے برابر والی کرسی پر ناظر امور عامہ اور چند اور مرزائی لوگ تشریف فرما ہیں۔ قصہ یہ ہوا کہ: ”رب قادیان“ ایک سٹول بغل میں دبائے ہاتھ میں چنے چور گرم والی گھنٹی لئے مرزائیوں کے جلسہ کے قریب جا دھمکے اور انہیں اپدیش دینے لگے۔ مرزائیوں نے اسے تفریح کا سامان سمجھا۔ کسی منچلے مرزائی نے رب قادیان پر اعتراض کیا کہ رب پاؤں سے لنگڑا بھی ہوتا ہے؟ برہمچاری نے حاضر جوابی کا شاندار ریکارڈ قائم کر دیا۔ ایسا الزامی جواب دیا کہ مرزائی بھنا گئے۔ کسی نے پھر اعتراض کیا کہ ذرا اپنے ٹیڑھے پاؤں کی طرف تو دیکھئے۔ رب قادیان نے اس پر ایک آسمانی وقوعہ کہہ سنایا۔ غرضیکہ برہمچاری نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ نبوت وغیرہ محض دھوکہ ہے۔ اس میں اگر حقیقت ہوتی تو ہم اسے سب سے پہلے قبول کرتے۔ دوسرے دن پھر برہمچاری جلسے کے قریب جا حاضر ہوئے۔ مرزا محمود صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے حواریوں کو بھیجا کہ برہمچاری کا دماغ درست کرو۔ یہ حضرات برہمچاری سے الجھے تو معاملہ تھانے تک جا پہنچا۔ مجھے دیکھتے ہی برہمچاری نے کہا کہ دیکھئے ماسٹر صاحب! مجھے تبلیغ سے روکا جا رہا ہے۔ مرزائی اپنے نبی کی تبلیغ کا کام کر سکتے ہیں۔ مگر مجھے خود اپنی تبلیغ سے روکا جا رہا ہے۔ میں خاموشی سے فریقین کی باتیں سنتا رہا۔ مرزائیوں نے تھانیدار سے کہا کہ صاحب ہماری رپورٹ لکھئے یہ برہمچاری خود کو رب قادیان کہہ کر ہماری دل آزاری بھی کرتا ہے اور نقص امن کا اندیشہ بھی پیدا کر رہا ہے۔ اس کی ضمانت لیجئے۔ اس پر میرا ذہن کیس کی جانب گیا۔ میں نے مرزائی نمائندے کی تائید کر دی۔ برہمچاری نے حیرانی سے میرا منہ تکنا شروع کیا۔ تھانیدار صاحب بھی حیران تھے کہ میں مرزائیوں کی تائید کیوں کر رہا ہوں۔ جب وہ رپورٹ درج کرانے لگے تو میں نے اپنی تائید کی وجہ بتائی۔ پھر تو رپورٹ کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ میرے ہمراہ ہمارے مخلص کارکن حافظ محمد خاں تھانہ میں موجود تھے۔ میں نے تھانیدار صاحب سے کہا کہ ہمارے حافظ صاحب یہ رپورٹ لکھوانے آئے ہیں کہ غلام احمد نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے اور یہ مرزائی حضرات کھلے بندوں اس نبوت کاذبہ کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ ان سب کی ضمانتیں ہونا چاہئیں۔ تھانیدار صاحب نے قلم سنبھالا اور فریقین سے کہا کہ دونوں رپورٹوں کی نوعیت ایک سی ہے۔ آپس میں بات کر لیجئے پھر رپورٹ لکھوائیے۔ مرزائیوں نے مجھ سے بات کی، برہمچاری کو رضا مند کیا گیا۔ سمجھوتے کے بعد فریقین رپورٹ لکھوائے بغیر تھانے سے واپس آ گئے۔ برہمچاری کو ہم نے سمجھایا کہ بھئی ان کے جلسے کے قریب نہ جاؤ۔ ذرا پرے ہی رہو اور بہتر یہ ہے کہ تم اب خاموش ہی رہو۔ کیونکہ یہ لوگ فساد پر آمادہ ہو گئے تو مٹھی بھر لوگ ان کا کیسے مقابلہ کریں گے؟ بہرحال باہر سے آئے ہوئے مرزائیوں میں سے بعض بھولے بھالے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ بھئی یہ ”رب جی“ بعض باتیں تو بڑے مزے کی کر رہا تھا اور جو مذبذب تھے یا جن مسلمانوں کو باہر سے ہموار

صفحہ ۷۱

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرنے کے لئے لایا گیا تھا انہیں قادیان کا سارا کھیل ہی فراڈ معلوم ہوا۔ بہرحال رب قادیان، قادیان سے باہر جلسے کرنے لگا اور اس کے جلسوں میں اچھی خاصی حاضری بھی ہونے لگی۔ برہمچاری صاحب بڑے سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ وہ پاکستان کی سیر کر گئے ہیں۔ یہاں وہ سید مظفر علی شاہ شمسی کے مہمان تھے۔ ایک روز میرے ہاں بھی چائے پر تشریف لائے تھے۔

ہفت روزہ اخبار

ہم نے انہی دنوں قادیان سے ہفت روزہ اخبار بھی جاری کیا۔ اس میں خواب تو میں لکھا کرتا تھا اور مضامین عالم سیاہ پوش لکھا کرتے تھے۔ ڈیکلریشن رب قادیان کے نام کا تھا۔ مجھے دو تین خواب آئے کہ مرزا محمود نے خفا ہو کر شاید بددعا کی۔ اسی وقت برہمچاری سے اخبار کی ضمانت طلب کر لی گئی۔ ہمارے پاس پھوٹی کوڑی نہ تھی کہ ضمانت داخل کر دیتے۔ اخبار بند ہو گیا۔ ورنہ مجھے خواب آنے لگے تھے۔ میرے خواب مرزا محمود کے رؤیا کے جواب میں آیا کرتے تھے۔ ہم پھر نہتے ہو گئے۔ الفضل مرزا محمود کے رؤیا شائع کرتا رہا۔ مرزا محمود کے خوابوں کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔ ہمیں قادیان کی نبی خیز زمین نے اس قابل بنا دیا تھا کہ مرزا محمود کے خواب کی صحیح تعبیر بتا سکیں۔ مذہبی حیثیت کا وہ رعب جو مرزائیوں نے بڑی محنت سے جما رکھا تھا اسے رب قادیان کے اعلان نے مجروح کر دیا۔ مگر مادی طاقت کا رعب علیٰ حالہ قائم تھا۔ احرار کے مبلغوں نے قربانی اور حوصلہ مندی سے اس رعب کو کم تو کر دیا۔ مگر جب تک بے رحمی نہ ہو۔ جمی ہوئی ہوا کا اکھڑنا محال ہے۔ قصر خلافت میں گڑبڑ ہوئی۔ اندر کی باتوں کو باہر لانا خلاف مصلحت بھی ہے اور اخلاق اور شرافت بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

اچانک حادثہ

مجھے اپنے مکان میں بیٹھے قادیان کے اندرونی حالات کی اکثر خبریں مل جایا کرتی تھیں۔ میں اب قادیانی فضاؤں کو سونگھ کر بتا سکتا تھا کہ درجہ حرارت کیا ہے۔ مولانا عنایت اللہ صاحب دورے پر تشریف لے گئے۔ حافظ محمد خاں اپنے وطن دس پندرہ روز کے لئے رخصت پر چلے گئے۔ باقی مبلغ بھی باہر مناظروں پر چلے گئے۔ میں اپنے مکان میں اکیلا تھا۔ میرے پاس گل نور بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان دھڑام سے میرے صحن میں آ کودا۔ وہ اچانک وارد ہوا۔ ہاتھ میں لاٹھی، سانس کچھ پھولا ہوا۔ کم بخت نے خود ہی ڈیوڑھی کا دروازہ بند کر کے کنڈی لگائی۔ میں گل نور کے لئے چائے بنا رہا تھا۔ چائے دانی میں چائے ڈال کر انگیٹھی پر دودھ رکھنے لگا تھا کہ یہ واقعہ ہوا۔ گل نور نے کہا حنیف کیا ہوا؟ حنیف نے جواب دیا گل ”تساڈے نبی دا پتر لمبا پا کے آیا واں“ (میں تمہارے نبی کے بیٹے کو لمبا لٹا آیا ہوں) میں نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا: ”ارے ظالم یہ کیا کیا تو نے؟“ اور پھر ایسی خباثت کر کے یہاں کیوں چلا آیا؟ حنیف اٹھارہ بیس سال کا نوجوان تھا اور ایک گداگر کا بیٹا تھا۔ اس کا باپ جمعرات کو ”فضل مولا“ کی صدا لگا کر مسلمانوں کے گھر سے روٹیاں مانگ کر لے جایا کرتا تھا۔ اس حنیف کا ایک بڑا بھائی تھا مگر وہ قادیان میں بہت کم رہا کرتا تھا۔ ہم نے سنا کہ وہ ڈاکو تھا۔ بہرحال لوگ اس کی بہادری اور جرأت کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ شاید ایسا ہی ہو میں نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ اس واقعے سے میرے تو حواس باختہ ہو گئے۔ میں نے خیال کیا کہ جاسوس میرے پاس موجود ہے اور یہ کمبخت حنیف گڑبڑ کر کے میرے ہی گھر کو خانہ انوری سمجھ کر آ کودا۔ اب گل نور نے چشم دید گواہ بن جانا ہے۔ میں خواہ مخواہ ملوث ہو کر دھر لیا جاؤں گا۔ واقعہ یہ ہوا کہ اس سے قبل حنیف کو غریب سمجھ کر مرزا شریف احمد نے ڈانٹا بھی اور شاید ایک آدھ چپت بھی رسید کیا۔ یہ بات بہت دن بعد جب حنیف اس مقدمہ میں پھنسا ہوا تھا اس نے خود مجھے بتائی۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ یہ بات درست بھی تھی یا نہیں۔ کیا معلوم کمبخت نے جھوٹ بولا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب! میں کچھ دیر تو گھبرایا رہا مگر چند منٹ بعد میں سنبھل گیا۔

صفحہ 72

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گل نور کی آزمائش

میں نے گل نور سے کہا کہ دیکھو بھئی گل نور میرے تمام ساتھیوں نے مجھے بہکانا چاہا اور تمہارے خلاف بہت کچھ کہا اور کھلے لفظوں میں کہا کہ گل نور مرزا محمود کی سی آئی ڈی ہے۔ مگر تمہیں معلوم ہے کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا۔ آج اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ میں صحیح سمجھا تھا یا وہ لوگ درست کہتے تھے۔ گل نور کھڑا ہو چکا تھا۔ وہ بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ بے شک آج میں بھی آپ کو یقین دلا دوں گا کہ آپ ہی نے سچ سمجھا تھا۔ بات ختم ہو گئی۔ میں نے کہا گل نور اب ہم کیا کریں؟ اس کم بخت کے بچے نے تو غضب ہی کر دیا۔ یہ اگر ہمارے مکان سے پکڑا جائے تو پھر اگر میں قرآن بھی سر پر رکھ کر کہوں کہ میرا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے کون یقین کرے گا اور تو اور میرے اپنے ساتھی کبھی یقین نہ کریں گے۔ یار بڑا غضب ہو گیا۔ کوئی ترکیب بتاؤ۔ گل نور نے حنیف سے دریافت کیا کہ واقعہ کیا ہے اور بتاؤ کہ وہاں کون کون تھا۔ حنیف نے بتایا کہ صاحبزادہ شریف احمد سائیکل پر سوار آ رہے تھے۔ میں میاں عبداللہ کے مکان کے باہر چبوترے پر بیٹھا تھا۔ یہ دیکھئے میری ران پر پھوڑا نکلا ہوا ہے اور اس لاٹھی کے سہارے چل کر وہاں تک پہنچا تھا۔ میں اٹھ کر بازار کی جانب چلنے لگا۔ پیچھے سے صاحبزادہ صاحب اچانک تشریف لے آئے۔ وہ چند روز قبل مجھے بے عزت کر چکے تھے۔ میں لنگڑاتا ہوا چلا جا رہا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی او حرامزادے راستہ چھوڑ کر چلو۔ صاحبزادہ صاحب میرے سر پر آ گئے۔ جونہی میں نے ان کی صورت دیکھی اور پہچانا مجھے پہلا واقعہ بھی یاد آ گیا اور تازہ گالی نے بھی مجھے گرما دیا۔ مجھے اپنا زخم بھی بھول گیا۔ جونہی وہ مجھ سے آگے بڑھنے لگے میں نے گھما کر اسفل پر لاٹھی رسید کی۔ وہ چکرا کر گرے۔ منہ دوسری طرف تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دو ایک اور رسید کر دیں اور لپک کر گلی میں سے ہوتا ہوا دوسری جانب بھاگ نکلنے کی بجائے ادھر چلا آیا۔ مجھے میاں صاحب نے بھی نہیں پہچانا اور نہ اس وقت وہاں کوئی اور موجود تھا۔ میں نے کہا ظالم تو نے ہمیں تو پھنسا دیا۔ حنیف نے مجھے دیکھ کر کہا: ”واہ مولوی جی تسی ڈردے او۔“ آکھو تے میں میدان وچ جا کھلوواں، کم بخت کی جرات نے ہم دونوں کو گرویدہ کر لیا۔ گل نور نے مشورہ دیا کہ ”استرے سے حنیف کے زخم لگا دیئے جائیں اور پھر کہہ دیا جائے کہ میاں شریف احمد نے چاقو سے حملہ کیا۔ تب حنیف نے بھی لاٹھی استعمال کی ۔“ حنیف نے کہا کہ لائیے میں خود ہی زخم لگا لیتا ہوں۔ میں نے اسے کہا ٹھہر جا کم بخت پہلے چائے تو پی لے۔ گل نور سے کہا کہ لو آغا تم بھی چائے پیو اور پھر جس طرح کہو کر لیا جائے گا۔ ابھی تک بازار میں صرف شور اور ہنگامہ تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ کس نے مارا، کیوں مارا اور ملزم کدھر گیا۔ یا ملزم کون ہے؟ چائے کے بعد میں نے گل نور سے کہا آغا ارے بھئی اگر کوئی ادھر آ نکلا تو غضب ہو جائے گا۔ خدا کے لئے تم چپکے سے نکل جاؤ۔ میں حنیف کو استرا دیتا ہوں یہ خود ہی زخم لگا لے گا۔ آغا نے حنیف کو تاکید کر دی کہ دیکھنا زیادہ گہرے زخم نہ لگا لینا۔ ایک زخم ذرا گہرا ہو اور دو تین معمولی زخم ہوں۔ بس گزارہ ہو جائے گا۔ لو میں جا رہا ہوں یہ کہا اور جانے لگا۔ میں نے اسے پھر تاکید کی کہ راز افشا نہ ہو وہ چلا گیا۔

حنیف کی گمشدگی

اس کے جاتے ہی حنیف نے مجھے کہا لاؤ استرا۔ میں نے اسے کہا کہ خبردار کسی زخم کی ضرورت نہیں۔ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کا ارتکاب کرنا چاہتے ہو؟ گل نور بیگانہ آدمی ہے۔ آؤ میں تم کو دوسری جگہ پہنچاؤں۔ میرے مکان سے کچھ فاصلہ پر اسی کوچے میں ایک مسلمان دکاندار کا گھر تھا وہ بٹالے گیا تو مجھے کہہ گیا کہ: ”میں اپنے مکان کے باہر کنڈی لگا کر اوپر سے چک ڈال چلا ہوں۔ دھیان رکھنا

صفحہ ۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رات کی گاڑی سے نہ آسکا تو کل آؤں گا ۔“ میں نے حنیف سے کہا کہ میرے پیچھے آؤ۔ چک اٹھا کر دروازہ کھولا اسے اندر داخل کر کے کہا کہ پچھلے کمرے میں چلے جاؤ۔ میں نے اوپر سے چک ڈال دی اور اپنے مکان واپس آ گیا۔ کچھ دیر بعد ہڑتال ہو گئی۔ مرزائی مسلح ہو کر میدان میں آگئے ۔ تھانہ بھی حرکت میں آ گیا۔ مسلمان گھبرا گئے ۔ رات کو مرزائیوں نے میرے مکان کے دونوں جانب لٹھ بند مرزائی رضا کاروں کا پہرہ لگا دیا۔ پولیس بھی گلی کوچوں میں گشت کرنے لگی ۔ غریب جان سے مارا جائے ۔ مرزائی سر بازار تھانیدار کی پگڑی اچھال دیں ۔ غریبوں کی آبرو لٹ جائے ۔ کوئی نہیں پوچھتا مگر بڑے آدمی کی نکسیر پھوٹ جائے تو ہڑتال ہو جاتی ہے۔ بستی بھر میں ہلڑ بازی ہوتی ہے۔ خلاف قانون چھریاں، چاقو، لاٹھیاں اور اسلحہ ہاتھ میں لے کر بے گناہوں کو دھمکایا جائے ، قانون خاموش رہتا ہے۔ حکام کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ اس واقعے سے قادیان میں سناٹا چھا گیا۔ رات کی تاریکی نے دہشت کے اثرات کو زیادہ گہرا کر دیا۔ صبح ہوئی تو بٹالے سے پولیس کی گارد کے ہمراہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی تشریف لے آئے ۔ میں نے علی الصبح چوبارہ کی کھڑکی کھول کر باہر جھانکا تو دیکھا کہ قادیان کا تھانیدار گلی میں گزر رہا ہے۔ میں نے تھانیدار کو آواز دی ۔ اجی سردار صاحب! کیا ماجرا ہے؟ تھانیدار نے گھبرا کر میری طرف دیکھا اور کہا کہ آپ کو نہیں معلوم بڑا غضب ہو گیا۔ چھوٹے میاں صاحب کو کسی نے مارا ہے۔ میں نے کہا ایسے واقعات تو یہاں ہر روز ہوتے ہیں۔ کبھی گاردیں باہر سے نہیں آتیں۔ کبھی پہرے نہیں لگتے ۔ بڑا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ میاں صاحب کو چوٹ آگئی ہے تو تھانے میں رپٹ لکھوا دی جائے ۔ ساری بستی کو پریشان کرنے کے کیا معنی ۔ تھانیدار نے مجھے اشارے سے کہا خاموش رہو۔ تھانیدار چلا گیا۔ صبح کا وقت تھا میں نے مسلمان ہمسایوں کو آوازیں دے کر باہر بلایا اور انہیں کہا کہ تمہیں کیا سانپ سونگھ گیا ہے۔ ارے بھئی کیا ہو گیا۔ ایک شخص کو کسی نے مارا اس پر یہ سناٹا کیوں ہے؟ کام شروع کرو۔ اپنی دکانیں کھولو کیا قیامت آگئی ہے۔ میں نے زور زور سے بلند آواز میں باتیں شروع کر دیں ۔ لوگ چلنے پھرنے لگے ۔ اس کے بعد بازار میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ عجیب عجیب قسم کی باتیں سننے میں آئیں۔ بہر حال حالات نارمل ہو گئے ۔ دن نکل آیا۔ صبح سویرے الفضل نکلا جس میں درج تھا کہ کسی شخص نے میاں شریف احمد کو سر بازار لاٹھیوں سے پیٹ ڈالا ۔ میں نے اندر کا کمرہ جہاں بیٹھ کر گل نور اور حنیف نے چائے پی تھی مقفل کر دیا اور خود اوپر چلا گیا تھا۔ دن کے وقت گل نور آیا۔ مجھ سے دریافت کرنے لگا کہ حنیف کا کیا بنایا۔ میں نے اسے کہہ دیا کہ حنیف نے زخم گہرے کر لئے تھے میں نے اسی وقت اسے گورداسپور کے ہسپتال بھجوانے کا بندوبست کر دیا تھا۔ وہ صبح ہسپتال میں داخل ہو گیا ہوگا۔ گل نور تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا ۔

الفضل کا ضمیمہ

شام کو الفضل کا ضمیمہ نکلا ۔ جس میں درج تھا کہ ملزم نے اپنے جسم پر خود ہی زخم لگا لئے تھے اور اب وہ گورداسپور کے ہسپتال میں داخل ہے۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو مجھے بے اختیار ہنسی آئی کہ سی آئی ڈی بڑی ہوشیار ہے۔ مجھے رات کو گل نور پھر ملنے آیا۔ اس کی زبانی معلوم ہوا کہ مرزائیوں کی ایک موٹر سول ہسپتال گورداسپور روانہ ہو چکی ہے۔ صبح موٹر بے نیل و مرام واپس آگئی ۔ گل نور صبح کے وقت آیا تو میں نے اسے بتایا کہ حنیف کے ساتھی بڑے بے وقوف اور بے حوصلہ لوگ ہیں۔ گورداسپور کی بجائے اسے بٹالے لے گئے ۔ اس خبر کو پا کر الفضل نے ضمیمہ نکالنے کی بجائے تصدیق کر لینا ضروری خیال کیا ۔ چنانچہ مرزائی کارندے بٹالے کے ہسپتال میں حنیف کے زخموں کی مرہم پٹی دیکھنے کے لئے ہسپتال کا کونہ کونہ تلاش کرتے رہے ۔ بات ٹھنڈی پڑ گئی ۔

صفحہ ۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حاجی عبدالرحمٰن کا گھر

دوسرے دن میرے ہمسائے نے بٹالے سے واپسی پر مکان کھولا تو اسے معلوم نہ تھا کہ آفت کا پرکالہ حنیف اس کی پچھلی کوٹھڑی میں موجود ہے۔ وہ شام کو حقہ لے کر میرے مکان کے باہر آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے اسے دیکھا تو وہ بڑا مطمئن تھا۔ میں نے سمجھا اس نے ابھی تک حنیف کی ”زیارت“ نہیں کی۔ میں نے اسے اوپر بلا لیا۔ چھوٹے میاں صاحب کی مرمت کا قصہ شروع ہوا تو وہ خدا کا شکر ادا کرنے لگا اور کہنے لگا کہ اچھا ہوا میں یہاں موجود نہ تھا۔ میں نے اسے کہا کہ بھئی شیخ جی میاں صاحب کو کس نے مارا۔ اس نے کہا اجی مرزائیوں کا آپس ہی کا قصہ ہوگا۔ وہ اطمینان سے حقے کے کش لگاتا رہا اور باتیں کرتا رہا۔ میں نے اسے بتایا کہ اس طرح اچانک یہ واقعہ ہوا۔ بے چارہ دکاندار تو تھا ہی گھبرا گیا۔ منتیں کرنے لگا میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ تمہاری طرح میں بھی خواہ مخواہ پریشان ہو رہا ہوں۔ کم بخت نے ہمیں بلا وجہ خراب کیا۔ میں اس کے مکان پر پہنچا اندر جا کر آواز دی کوئی جواب نہ ملا۔ مجھے بڑا فکر ہوا۔ کوٹھڑی میں داخل ہو کر دیکھا تو وہ سو رہا تھا۔ اسے جگایا اور عرض کیا کہ یہاں سے کھسک جاؤ۔ وہ مان گیا۔ اس نے کہا کہ میری تھوڑی سی امداد کرو۔ مجھے بٹالے کسی اچھے ٹھکانے پر پہنچا دو جہاں جا کر میں خود پولیس کے سامنے پیش ہو کر صحیح صحیح بات بتا کر اقرار کروں گا کہ میں نے میاں صاحب کی تواضع کی ہے۔ حاجی عبدالرحمٰن بڑے دلیر بڑے ہی بہادر انسان ہیں۔ چنانچہ حنیف ان کے ہاں راتوں رات پہنچا۔ صبح کو وہ تھانے میں حاضر تھا۔ مقدمہ چل پڑا۔ حاجی صاحب نے حنیف کی ضمانت کرا دی۔ اس قصے میں ہم بالکل بے قصور تھے۔ خلیفہ محمود کو بھی اپنے معتبر آدمی کے ذریعے معلوم ہو چکا تھا کہ حنیف نے سب کچھ خود ہی کیا ہے۔ مگر وہ کمبخت ضمانت پر رہا ہوا تو تیسرے دن بٹالے سے سیدھا میرے ہاں پہنچا۔ گل نور اس وقت بھی موجود تھا۔ حنیف نے آتے ہی زناٹے دار سلام کیا۔ ہم نے پوچھا کیوں بھئی اب کیا ہے؟ کہنے لگا اجی اب کوئی بات نہیں میں پیش ہو گیا تھا۔ مقدمہ چل پڑا ہے۔ حاجی صاحب نے ضمانت کا بندوبست کر دیا ہے۔ ایک وکیل کا بندوبست بھی ہو گیا ہے۔ حاجی صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں۔ میری بڑی خاطر تواضع ہوتی رہی وہ بڑے دلیر آدمی ہیں لوگوں کو بلا بلا کر مجھے دکھاتے رہے اور کہتے تھے کہ یہ ”صاحبزادہ حنیف“ ہے۔ میں اور گل نور اس کی باتیں سن کر ہنسنے لگے۔ میں نے اسے کہا کہ بابا تم وہیں رہتے۔ یہاں آ کر کیا لینا تھا۔ یہ تو مرزائیوں کا قلعہ ہے۔ مگر حنیف نہ مانا کہنے لگا مولوی جی میں اس لئے یہاں واپس آیا ہوں کہ لوگ یہ نہ کہیں حنیف بھاگ گیا۔

اخبارات میں مقدمے کی روئیداد

اخبارات نے حنیف کے مقدمے کی سرخیاں خوب جمائیں۔ اس قسم کے عنوان سے خبریں شائع ہوئیں۔ ”صاحبزادہ محمد حنیف اور صاحبزادہ محمد شریف کا مقدمہ“

مجھے یاد ہے بعض اخباروں نے صاحبزادگی پر تبصرہ بھی لکھا کہ دونوں صاحبزادگان نذر نیاز ہی پر گزارہ کرتے ہیں۔ ایک اعلیٰ پیمانے پر نذر وصول کرتا ہے۔ ایک گھٹیا طریقے سے نذرانے کی بجائے خیرات پر اکتفاء کرتا ہے۔ بہر حال قدرت نے ایک فقیر کے بیٹے کے ہاتھوں ہزیمت کا سامان کر دیا۔

مقدمہ چل رہا تھا۔ مگر حنیف پیشی بھگت کر قادیان چلا آتا تھا۔ میں نے حنیف سے کہا کہ میاں حنیف تم کام کیا کرو۔ ماشاء اللہ! جوان ہو دست و بازو سے کما کر کھانا چاہئے۔ اس نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں مگر کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کاروبار کروں۔ آموں کا

صفحہ ۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

موسم آ گیا۔ حنیف نے آم خرید کر (چھابڑی) خوانچہ لگا لیا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا حنیف بڑا دلیر تھا۔ وہ خوانچہ لے کر مسلمانوں کے محلوں سے ہوتا ہوا مرزائی محلوں میں پہنچ کر شرطی مٹھا کی آواز لگانے لگا۔ کوئی خریدتا یا نہ خریدتا مرزائیوں نے محسوس کیا کہ ہمارے حضرت صاحب کا مخالف قادیان میں کھلے بندوں دندناتا پھرتا ہے۔ غضب ہو گیا یہاں تو تھانیداروں کو ہماری منشاء اور اجازت کے بغیر بازاروں میں چلنے پھرنے کی اجازت نہ تھی۔ اسی غصے میں مرزا محمود کے ایلچی تھانے پہنچے۔ تھانیدار نے حنیف کو بلا بھیجا۔ وہ میرے پاس آیا۔ میں بھی ساتھ چلا گیا۔ تھانیدار نے کہا کہ تم مرزائی محلوں میں کیا لینے جاتے ہو؟ حنیف نے کہا جناب میں کچھ لینے نہیں جاتا بلکہ شرطی مٹھا آم دینے جاتا ہوں۔ تھانیدار نے منع کیا اور کہا کہ مرزائی خفا ہوتے ہیں۔ تم ادھر مت جایا کرو۔ میں نے بھی حنیف کو منع کیا اور کہا کہ مرزائی خفا ہوتے ہیں۔ تم ادھر مت جایا کرو۔ مگر میں نے تھانیدار سے دریافت کی کہ شاہراہ عام پر حلال روزی کمانے سے کسی غریب کو منع کرنا اس لئے کہ کوئی امیر اس سے ناراض ہے۔ یہ بات انصاف کے بالکل خلاف ہے۔ مسلمان قوم نے اگر حکومت سے یہی مطالبہ کر دیا کہ مرزائیوں نے ختم نبوت کے عقیدے سے انکار کر کے ہمارے ہادی، ہمارے آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی ہے جس سے ہمارے دل زخمی ہوتے ہیں انہیں ہمارے شہروں اور محلوں میں سے گزرنا نہ چاہئے، تب حکومت کیا جواب دے گی؟ چھوٹے صاحبزادے کے جسم پر چوٹ آئی تو قیامت بپا ہو گئی۔ مسلمانان عالم کے دل مجروح ہوئے تو سرکاری مشین میں کوئی حرکت نہ آئی۔ تھانیدار صاحب کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ مگر انتظامی معاملے میں وہ اپنی جگہ درست فرما رہے تھے۔ میں خود بھی یہ چاہتا تھا کہ چپقلش نہ ہو۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ اس واقعے کے بعد مرزائیوں کی اکڑ فوں اور کر و فر میں بہت کمی آگئی اور رعب تقریباً رخصت ہو گیا۔ مرزائی عام آدمیوں کی طرح رہنے لگے۔ اس سے پہلے ان کے پاؤں زمین پر ٹکتے نہ تھے۔ حنیف غریب کو چھ ماہ قید کا حکم ہوا۔ وہ جیل پہنچ گیا۔ اسی جیل میں حضرت شاہ صاحب بھی قید بھگت رہے تھے۔ حنیف کچھ دن کے لئے ان کا ”مشقتی“ بن گیا۔

مرزائیوں میں انتشار

خلیفہ محمود کے ہاتھوں زخم کھا کر کچھ لوگ میدان میں آ ہی گئے۔ عبدالرحمن مصری ان میں نمایاں حیثیت کے مالک تھے۔ وہ خود بھی بہت بھلے تھے۔ ان کی اولاد بھی تقریباً نیک ہی تھی۔ مصری صاحب کا ایک لڑکا تو ہمارا اچھا خاصا دوست اور عجیب و غریب طبیعت کا نوجوان تھا۔ (ان کا نام بشیر احمد مصری ہے۔ قرآن مجید کے حافظ ہیں۔ عربی، انگلش اور اردو پر عبور حاصل ہے۔ مرزا محمود کی اخلاق باختگی کا شکار ہوئے تو عبدالرحمن مصری اس کا والد لاہوری مرزائی بن گیا اور بشیر احمد مصری نے اپنے بیٹے کو لاہوری مرزائیوں کی عبادت گاہ لندن ووکنگ کا امام بنا دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اپنے شہرۂ آفاق تبلیغی دورہ پر انگلستان تشریف لے گئے تو حافظ بشیر احمد مصری کی دعوت پر ۱۱؍ فروری ۱۹۶۸ء بروز اتوار تین بجے تبلیغ اسلام کے لئے ووکنگ مسجد میں گئے۔ آپ کی تقریر کے دوران بشیر احمد مصری نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا اور مسجد مسلمانوں کے سپرد کر دی جو اُس وقت سے لے کر اس وقت تک تبلیغ اسلام کا مرکز ہے۔ کچھ عرصہ بعد بشیر احمد مصری امریکہ چلے گئے۔ آج کل انگلستان میں ہیں۔ ۱۰؍ جون ۱۹۸۸ء کو مرزا طاہر نے مباہلہ کا ڈھونگ رچایا تو بشیر احمد مصری کو بھی مباہلہ کا پمفلٹ بھیجا۔ جس کا بشیر احمد مصری نے جواب تحریر کر کے مرزائیت کی اخلاق باختگی و عیاشی کو طشت از بام کر دیا۔ جناب بشیر احمد مصری کے پمفلٹ ”قبولیت چیلنج مباہلہ“ کا اردو، انگلش ایڈیشن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان پاکستان سے بار ہا شائع ہو چکا ہے۔ مرتب!)

صفحہ ۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وہ خلیفہ صاحب کے سخت خلاف تھا۔ ان کے اور بہت سے ساتھی میدان میں کل آئے۔ خلیفہ صاحب کے حواریوں نے انہیں ڈرانا اور دھمکانا چاہا۔ احرار نے دشمن کے دشمن کو دوست بنالیا۔ پراپیگنڈا ہوتا رہا۔ خلیفہ محمود کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا۔ ہمارے مبلغوں کو دیکھ کر مرزائی حضرات دانت پیس کر رہ جاتے تھے۔ مولانا عنایت اللہ صاحب ان دنوں بڑے زوروں پر تھے۔ احرار کے جلسے کھلے میدان میں ہونے لگے۔ نماز عید بھی مرزائیوں کے مقابل ڈٹ کر ادا کی جاتی۔ اس میں شک نہیں مرزائی تعداد میں ہم سے بہت زیادہ تھے۔ ان کے ہاں دولت کی فراوانی تھی۔ پراپیگنڈا کے وسائل لامحدود تھے۔ مگر رونق اور پاکیزہ جذبے کے اعتبار سے کفر پر حق کا غلبہ ہوتا جا رہا تھا۔ اب میری گمنامی بھی ختم ہو چکی تھی۔ مجھ پر قادیان میں راہ چلتے انگلیاں اٹھنے لگیں۔ گل نور باقاعدہ مجھ سے چپکا ہوا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب و غریب نوجوان تھا۔ مجھے گل نور کی زبانی معلوم ہوا کہ دربار خلافت مجھ سے خفا ہے۔ اس لئے مجھے مشورہ دیا کہ میں اب قادیان چھوڑ دوں تو بہتر ہے۔ وہ بڑی ترکیب سے مجھے ہراساں کر رہا تھا۔ ایک روز کہنے لگا کل آپ چند روز کے لئے باہر چلے جائیں۔ آپ کا یہاں رہنا درست نہیں۔ میں نے کہا کیوں بھئی کیا بات ہے؟ کوئی بات اس کی زبان پر آ کر رک جاتی تھی۔

گل نور کا بھائی خلیفہ صاحب کی اردل میں تھا۔ وہ محل کے اندر بھی آیا جایا کرتا تھا۔ گل نور کا وہی ذریعہ معلومات تھا۔ گل نور خود اندرونی حالات سے کما حقہ واقفیت نہ رکھتا تھا۔ وہ مجھ پر سائے کی طرح سوار رہتا۔ مگر اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ مجھے اندر کی ایک آدھ اطلاع صحیح پہنچائے ورنہ اسے اپنا اعتبار اٹھ جانے کا خدشہ تھا۔ مرزائی تو وہ تھا ہی پھر کس طرح ممکن تھا کہ وہ مجھے پریشان کرنے میں سعادت نہ سمجھتا ہو۔ میں نے جب اسے زیادہ کریدنا شروع کیا تو اس نے کہا کہ آپ کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ آپ کو بتا چکا ہوں کہ حضرت صاحب خفا ہیں۔ میں نے کہا کہ میں یہاں اس لئے تو نہیں آیا کہ انہیں خوش دیکھوں۔ وہ خفا ہیں تو میرے لئے بہت خوشی اور تسلی کی بات ہے۔ پھر گل نور نے مجھے قادیان کے ظلم و ستم اور قتل و غارت کے قصے سنائے۔ میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔ میں نے مولانا عنایت اللہ صاحب سے کہا کہ کل جمعے میں خطبے سے پہلے مجھے بھی خطبہ دینا ہے۔

جمعہ کا دن

جب مجھے معلوم ہوا کہ مرزائیوں کے ارادے اچھے نہیں تو مجھے بھی مدافعت کی سوجھی۔ ہماری مسجد جہاں نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی۔ مرزائیوں کی عبادت گاہ کے بالکل سامنے واقع تھی۔ بیچ میں گلی ، سامنے ہماری مسجد تھی۔ مسجد کا ملحقہ مکان مرزائیوں کا اپنا مکان تھا۔ اس مکان میں مرزا محمود کا شارٹ ہینڈ رپورٹر ہماری مسجد کی تقریروں کو نوٹ کیا کرتا تھا۔ میں نے خطبے سے پہلے تقریر کرتے ہوئے ایک بے جوڑ سی بات کہی۔ میں نے کہا کہ یہ الہامات کی بستی ہے۔ مجھے ایک الہام ہوا ہے وہ سن لیجئے۔ ”آج کی بات یاد رکھئے گا کہ میری اور مرزا محمود کی زندگی ایک ہی ڈور سے بندھی ہے۔ ادھر میں مارا جاؤں گا۔ اسی وقت یا دو چار منٹ کے وقفے سے مجھے مروانے والے کی موت واقع ہو گی۔“ اس بے جوڑ جملے کے بعد میں نے اپنی تقریر کے ربط کو درست کر کے بولنا شروع کیا۔ مجھے نماز جمعہ کے بعد بعض دوستوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیا بات کہی تھی؟ میں نے ہنس کر ٹال دیا۔ دوسرے دن مجھے حاجی عبدالرحمن صاحب نے بٹالے بلا بھیجا۔ میں جب اسٹیشن کی جانب پیدل روانہ ہوا تو دو مرزائی والنٹیر میرے باڈی گارڈ بن گئے۔ وہ مجھ سے کچھ تھوڑے فاصلے پر تھے۔ مگر میرے پیچھے پیچھے چلے آ رہے تھے۔ بٹالے سے واپسی پر میں تانگے میں بیٹھ کر آ رہا تھا تو دو مرزائی سائیکل سوار تانگے کے پیچھے پیچھے چلے آئے۔ اس کے بعد کافی عرصہ میری حفاظت ہوتی رہی۔ تب گل نور کی معنی خیز گفتگو کا یقین آیا۔ اگر گل نور کی اطلاع درست نہ تھی تو میری حفاظت کے کیا معنی کیا معنی؟ تھی تو میری حفاظت کے کیا معنی تھے؟ اس

صفحہ ۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عرصے میں مرزا محمود کے مخالفین کی تعداد بڑھنے لگی۔ طبیعت شکی ہو تو اپنے خیر خواہ بھی مشکوک نظر آتے ہیں۔ مرزائیوں کے بلیک بورڈ پر کئی بے گناہوں کے نام لکھے جانے لگے۔

مرزائیوں کے خطرناک ارادے

میں اپنے مرزائی ہمسایوں سے گہری واقفیت پیدا کرنا چاہتا تھا۔ مگر وہ بنیا قسم کے آدمی تھے۔ سارا دن دوکان پر کتر بیونت میں لگے رہتے۔ تب میں نے یہ مناسب سمجھا کہ عورتوں کا کام عورتوں کے ہی سپرد کیا جائے۔ بیوی کو قادیان بلا بھیجا۔ عورتیں کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں۔ آپس میں بہت جلد گھل مل جاتی ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں کافی کامیابی ہوئی۔ ہمارے ہاں زنانہ جلسے بھی ہونے لگے۔ ہمسایوں سے تو بہت ہی بے تکلفی ہو گئی۔ قادیان کی فضا ہمارے لئے سازگار اور مد مقابل کے لئے کافی خراب ہو گئی۔ ان دنوں گل نور کی آمد و رفت ذرا کم ہو گئی۔ وہ مجھے ملتا تو تھا مگر پہلے سے کم۔ کچھ عرصے سے میری حفاظت کرنے والے بھی غائب تھے۔ بظاہر مجھے کوئی خطرہ بھی محسوس نہ ہوتا تھا۔ مگر ایک ایسا دن آیا جب میں اپنے مکان پر تنہا تھا۔ حتیٰ کہ تبلیغی دفتر میں نہ مولانا صاحب تھے اور نہ کوئی اور مبلغ موجود تھا۔ شام کے وقت میں باہر سے گھوم پھر کر آیا تو مجھے یہ شام بھی اداس اداس سی معلوم ہوئی۔ عشاء کے بعد سونے کی کوشش کی۔ مگر نیند نہیں آئی۔ میں اوپر بالا خانے میں تھا۔ دس گیارہ بجے کمرے سے باہر آیا۔ ہمسایوں کی دیوار کے ساتھ دارالخلاء تھا۔ میں پیشاب کر کے باہر نکلنے لگا۔ دیکھا تو آسمان پر گہرے بادل چھا رہے تھے۔ کچھ ترشح بھی ہو رہی تھی۔ مجھے دارالخلاء کی دیوار کے پاس ہی جہاں ایک اینٹ نکل جانے سے سوراخ ہو گیا تھا مدہم سے آواز آئی۔ یہ زنانہ آواز تھی۔ آہستہ آہستہ جیسے سرگوشیوں کی دبی ہوئی آواز ہو۔ کوئی لڑکی کہہ رہی تھی: ”مولوی جی، مولوی جی بھاگ جاؤ۔ مولوی جی جلدی سے بھاگ جاؤ۔ ہمارے مکان میں سات آٹھ آدمیوں کو بٹھا رکھا ہے۔ یہ آدمی رات کو تمہیں مار ڈالیں گے۔“ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ لڑکی نے پھر آواز دی تو میں نے اسے آہستہ سے کہا بیٹی میں نے سن لیا ہے۔ تم جلدی نیچے چلی جاؤ۔ کوئی تمہارے پیچھے نہ آ جائے اور تم کو دیکھ نہ لے۔ بادل گرجنے لگے۔ میں کمرے میں آ گیا۔ بارش تیز ہو گئی۔ یوں سمجھئے کہ بادل ٹوٹ پڑا۔ چھاجوں مینہ برستا رہا۔ جل تھل ہو گیا۔ آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ ملی۔ تھوڑی دیر کے لئے میرے دل میں خوف تو پیدا ہوا تھا مگر پھر دل نے کہا کہ جان پیاری تھی تو یہاں آئے ہی کیوں تھے۔ بارش نے زیادہ شدت اختیار کی تو اور تسلی ہو گئی۔

صبح اذان ہوئی تو بپھرے ہوئے بادل بھی نرم پڑ گئے اور بارش بھی بند ہو گئی۔ گلی میں پانی کی نہر چل رہی تھی۔ صبح میں نے تصدیق بھی کر لی کہ معاملہ تو واقعی خراب تھا۔ مگر یار لوگ شاید بارش کے تھمنے کا انتظار کرتے رہے کہ صبح ہو گئی۔ میں جس کے بھروسے پر قادیان میں رہتا تھا۔ وہ میرا سب سے بڑا محافظ تھا۔ اس گھر کی دو لڑکیاں مسلمان تھیں۔ میری بیوی کی موجودگی میں وہ تائب ہو چکی تھی۔ ایمان تو اس گھر کی بڑی بی کا بھی ”ڈانواں ڈول“ تھا۔ مگر وہ مرزائیت کے خلاف قدم اٹھانے سے ہچکچاتی تھی۔

خوفناک سازش

مرزا محمود اور اس کے حواریوں نے تنگ آ کر بڑے پیمانے کی سازش کا اہتمام کیا۔ اس سازش میں ”بڑے بزرگوں“ کا مشورہ شامل تھا۔ قادیان میں سکھوں کی آبادی بھی تھی۔ ایک سکھ ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹیشنر بھی موجود تھا۔ ایک دن باہر سے ایک گیانی صاحب تشریف لائے۔ بڑے باوقار آدمی تھے۔ اچھے کپڑوں میں ملبوس، بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہایت معقول ان حضرات نے قادیان میں ڈیرہ ڈال لیا۔

صفحہ ۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہندو اور سکھ دوستوں نے ان سے میرا تعارف کرایا تو مجھے گیانی صاحب کی آنکھوں میں سازش کے ڈورے نظر آئے۔ میں نے انہیں کریدا تو وہ کچھ گھبرائے مگر ہوشیار آدمی تھے۔ بہت جلد سنبھل گئے اور مجھے مطمئن کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہو گئے، بات ختم ہو گئی۔ مجھے خیال بھی نہیں رہا کہ قادیان میں باہر سے کوئی گیانی صاحب تشریف لائے ہیں۔ وہ سکھوں ہی میں اٹھتے بیٹھتے اور انہیں سے زیادہ میل جول رکھتے تھے۔

آزمائش کی رات

شام کو نماز مغرب کے فوراً بعد مولانا عنایت اللہ صاحب، چوہدری امام دین، دو تین اور ذمہ دار اور ہمدرد میرے مکان پر آئے۔ بڑے غصے میں آستینیں چڑھی ہوئیں اور بھنویں تنی ہوئیں۔ مولانا اور چوہدری امام دین نے مجھے آتے ہی غصے میں کہا کہ دیکھئے صاحب! اب آپ ہمیں نہ روکئے گا۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ہمیں ان سکھوں سے آج ہی نپٹ لینا ہے۔ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں۔ مگر اپنے بزرگوں کی قبریں نہیں اکھڑوا سکتے۔ وہ کھڑے کھڑے مجھ سے بات کر رہے تھے۔ میں نے انہیں بیٹھ کر آرام سے بات کرنے کے لئے کہا میں ان کی گفتگو سن کر سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا تھا۔ بات یہ ہوئی کہ شام کے وقت باہر سے آئے ہوئے سکھوں نے مسلمانوں کی قبریں کھود کر مردوں کی ہڈیاں باہر بکھیر دیں۔ وہ واپس ہو رہے تھے کہ دور سے کسی مسلمان نے انہیں دیکھا جو ادھر سے گزر رہا تھا۔ یہ اطلاع خاص اہتمام سے مولانا تک پہنچائی گئی۔ چوہدری امام الدین وغیرہ کو ہمراہ لے کر مولانا عنایت اللہ قبرستان پہنچے تو واقعہ صحیح اور اطلاع درست پائی۔ امام الدین غصے میں آ گیا۔ وہ جرنیلی طبیعت کا بہادر انسان تھا یہ تو غنیمت ہوا کہ وہ قادیان کے سکھوں سے بھڑ نہیں گیا۔ مولانا کو ہمراہ لے کر میرے پاس پہنچا۔ کسی اور کو اس حادثہ کی اطلاع نہ تھی۔ میں اس خبر سے بہت ہی پریشان ہوا۔ میں خاموشی سے اسی حیرانی کے عالم میں سوچ رہا تھا کہ یہ حضرات پھر بولنے اور کہنے لگے آپ کی سیاست کی وجہ سے ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہم آج اس قصے کو ختم کر کے چھوڑیں گے۔

میں نے اپنے لئے ایسے موقعوں پر ایک خاص ڈھب پر چلنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جب اس طرح جذبات برانگیختہ ہوں تو جذباتی رو کو فوراً روکنے کا فیصلہ کرنے سے نقصان ہوتا ہے۔ برانگیختہ جذبات دل و دماغ کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ صحیح مشورہ اس وقت سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے ان حضرات سے کہا کہ یہ ذلت تو واقعی ناقابل برداشت ہے۔ اس کا تو ابھی فیصلہ کر لینا چاہئے۔ آپ ذرا تشریف رکھیں تاکہ بدلہ لینے کا مناسب اور کامیاب پروگرام بنا لیا جائے۔ میرے رفیق مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ میں مصنوعی غصے میں تیزی دکھا کر انہیں کسی قدر ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آخری فیصلہ یہ ہوا کہ جو ہندو اور سکھ باہر بٹھالے گئے ہوئے ہیں وہ رات کو ساڑھے آٹھ نو بجے گھر پہنچیں گے۔ انہیں بھی آ لینے دیا جائے تا کہ کوئی باہر نہ رہ جائے۔ ان سے فیصلہ کن لڑائی صبح کو لڑ لی جائے گی۔ سب آمادہ ہو گئے۔ میں نے ساتھ ہی یہ کہا کہ اس غصے میں کوئی سازش کار فرما نہ ہو۔ کہیں ہم غلطی نہ کر بیٹھیں۔ سب نے کہا نہیں صاحب سکھوں نے یہ نامعقول حرکت کی ہے۔ سازش وازش کچھ نہیں ہے۔ میں نے انہیں جب وہ گھر جانے لگے سمجھایا کہ رات خاموشی سے گزارئیے اور صبح اکٹھے ہو کر میرے پاس چلے آئیے تا کہ جو کچھ ہو مشورے سے ہو۔ وہ سب چلے گئے۔ میں رات بھر کروٹیں لیتا رہا۔ یا الٰہی یہ کیا مصیبت آ گئی۔ مجھے رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ بڑی گہری اور کامیاب سازش معلوم ہوتی ہے۔ دعائیں مانگتا رہا اور پروردگار کے حضور التجائیں کرتا رہا کہ تو ہی اس مصیبت کے وقت سیدھا راستہ دکھا سکتا ہے۔ ہم عاجز بندے بالکل بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ صبح نماز کے بعد دعائیں مانگتا رہا کہ غیبی امداد ہی نجات دلا سکتی ہے۔ عقل عاجز آ چکی ہے۔ میں فارغ ہو کر بیٹھا ہی تھا کہ مولانا عنایت اللہ صاحب ہانپتے آئے اور کہنے لگے کہ غضب ہو گیا تھا۔ اللہ

صفحہ ۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے بچالیا۔ اپنے حبیب کے صدقے میں ہمیں بروقت گمراہی سے بچالیا۔ ماسٹر صاحب ہم بڑی گہری سازش کا شکار ہو گئے تھے۔ مجھے تسلی ہو گئی اور میں نے بے تابی سے دریافت کیا کہ بتائیے مولانا کیا قصہ ہوا؟

خطرناک گیانی

مولانا عنایت اللہ اذان سے قبل رفع حاجت کے لئے دور کھیتوں میں نکل جایا کرتے تھے۔ وہاں سے واپسی کے دو راستے تھے۔ ایک قبرستان کی جانب سے اور دوسرا اوپر سے یعنی ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چونکہ قبرستان کا واقعہ مولانا کے دل و دماغ پر سوار تھا۔ وہ قبرستان کے راستے سے گھر واپس آ رہے تھے۔ ابھی اندھیرا تھا کہ مولانا کو قبرستان میں دور سے دو تین آدمی نظر آئے۔ وہ دبے پاؤں درختوں کی آڑ میں وہاں پہنچے تو دیکھا کہ گیانی صاحب اور دو مرزائی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک غالباً ناظر امور عامہ یا کوئی اور ذمہ دار مرزائی تھا۔ مولانا درختوں کی اوٹ میں اور آگے بڑھے ان تینوں میں آہستہ آہستہ گفتگو ہو رہی تھی۔ پھر وہ آپس میں گفتگو کرتے ہوئے الجھے۔ گیانی صاحب فرماتے تھے کہ لائیے بقایا رقم دلوائیے۔ مرزائی کہتے تھے کہ کام مکمل نہیں ہوا جو دیا ہے اسی پر صبر کیجئے۔ گیانی صاحب نے فرمایا کہ میں اپنا کام کر چکا ہوں۔ سامنے سکھوں کے گاؤں میں اپنے آدمیوں کو تیار بٹھا کر آیا ہوں۔ قادیان کے مسلمان ہی کم بخت میدان میں نہ اتریں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ مولانا دبے پاؤں واپس لوٹے اور مسجد سے فارغ ہو سیدھے میرے پاس پہنچے اور مجھے یہ ساری داستان سنائی۔ تب میں نے مولانا سے عرض کیا کہ حضور والا کیا ہوتا۔ اگر میں بھی جذبات کی رو میں بہہ جاتا۔ الحمد للہ کہ ہم کو خدا نے کڑی آزمائش اور گہری سازش سے بچالیا۔ اگر قادیان میں سکھ مسلم فساد ہو جاتا تو ہندوستان کے کونے کونے میں یہ آگ پھیل جاتی اور مرزائیت دامن بچا کر صاف نکل جاتی۔

میں نے اس واقعے کے بعد چوہدری صاحب مرحوم کی خدمت میں لاہور ایک خط لکھا اور عرض کیا کہ قادیان میں سکھ مسلم فساد کی طرح ڈالی جا رہی تھی۔ اللہ نے بچالیا۔ خبردار رہئے گا! برطانوی شاطر سکھ مسلم فساد کا بیج بو رہے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہاں کی ناکامی کے بعد کسی اور جگہ بھی گل کھلایا جائے گا۔ مسجد شہید گنج کے حادثے سے کچھ دنوں پہلے قادیان میں یہ واقعہ ہوا تھا۔

ہمارا کام اور تیزی پکڑ گیا

گیانی صاحب تو دوسرے ہی دن نو دو گیارہ ہو گئے۔ ہمارے لئے میدان زیادہ ہموار ہو گیا۔ باہر حضرت شاہ صاحب اور مجلس احرار کے دوسرے رہنماؤں نے جلسے کانفرنسیں اور تقریروں سے مرزائیت کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی کا تاریخی بکس ہر جلسے میں موجود تھا۔ وہ مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کو بے نقاب اور مرزائی لٹریچر سے مذہبی فریب کا پردہ چاک کر رہے تھے۔ مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد حیات نے بھرے جلسے میں بار بار مرزائی مبلغوں کو مناظرے کے لئے للکارا۔ مرزائیت دبک کر رہ گئی۔ مگر برطانوی امداد سے مرزائیت کے پاؤں سرکاری دفاتر میں جم گئے۔ کلیدی آسامیوں پر مرزائیوں کے اڈے پختہ ہو گئے۔ ادھر مرزا محمود تو گھر چلے تھے۔ مگر سر ظفر اللہ کا طوطی بولنے لگا۔ یہ گوشہ احرار کی دسترس سے باہر تھا۔ عوام محفوظ ہو گئے۔ مگر خواص کو مرزائیت کے افعی نے ڈسنا شروع کر دیا۔ یہ کام بڑی احتیاط اور راز دارانہ انداز میں جاری رہا۔ مرزا محمود کا گرد و پیش خراب ہو گیا۔ وہ گھبرا کر کسی محفوظ پہاڑ کی چوٹی تلاش کرنے لگے۔

صفحہ ۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نئی سازش

گل نور کو مجھ پر زیادہ اعتبار جمانے کے لئے اندر کی خبریں بتانے کے سوا چارہ کار نہ تھا۔ ایک روز اس نے بتایا کہ کوئی سرکاری افسر موٹر میں آ کر واپس ہوا ہے۔ یہ کوئی بڑا افسر تھا جو لاہور سے قادیان آیا تھا۔ میں نے اپنے طور پر پتہ لیا تو بات کی تصدیق ہو گئی۔ کچھ دن بعد لاہور سے ہمارا ایک مخالف لیڈر قادیان پہنچا وہ بھی قصر خلافت کی سیر اور ”حضرت صاحب“ کی زیارت سے فیضیاب ہو کر واپس ہو گیا۔ اس خبر کی تصدیق ہو گئی۔ میں ان خبروں میں زیادہ دلچسپی نہ لیتا تھا۔

مسجد شہید گنج کا حادثہ

اچانک خبر ملی کہ سکھوں نے مسجد شہید گنج کو گرا دیا ہے۔ پنجاب میں آگ لگ گئی ہے۔ میں دوڑا دوڑا لاہور آیا۔ حالات خراب ہو چکے تھے۔ احرار کے قائد شہید گنج کی الجھن میں پھنسا دیئے گئے۔ مجلس احرار جس کا پنجاب میں طوطی بول رہا تھا۔ کڑی آزمائش سے دوچار تھی۔ بہادر اور نیک دل رہنماؤں نے ناسازگار حالات کا جرأت اور مردانگی سے مقابلہ کیا مگر قادیان کی تقدیر کا پانسہ پلٹ گیا۔ پہلے ہم نے انہیں دبا رکھا تھا۔ پھر انہوں نے ہم کو رگیدنا شروع کیا۔ لاہور اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں احرار کے خلاف جو قد آدم پوسٹر شائع ہوئے تھے۔ اسے میں نے قادیان کے ریلوے اسٹیشن سے مختلف شہروں کو بک ہوتے دیکھا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ خطرناک کھیل کیسے کھیلا جا رہا ہے۔ میرا روز کا یہ کام تھا کہ کسی ترکیب سے ان بلٹیوں کے نمبر محفوظ کروں۔ جن بلٹیوں کے ذریعے یہ پوسٹر قادیان سے بک ہوتے تھے۔ میں مسجد شہید گنج کی تباہی اور مسلمانوں کی آپس میں سر پھٹول کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ گڑے مردے اکھیڑے جائیں۔ میری ڈیوٹی ہی مرزائیت کے محاذ پر قادیان تک محدود تھی۔ غرضیکہ اس سازش سے احرار کے خلاف خوفناک آندھی اٹھی جو احرار کی ہر دلعزیزی، وقار اور محبوبیت کی چادر کو اڑا کر لے گئی۔ آندھی گزر گئی تو لوگوں نے آنکھیں مل مل کر دیکھنا شروع کیا۔ وہ آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ مسجد آج بھی نوحہ کناں ہے۔ شاید مسلمان اب سمجھ سکیں کہ مسجد شہید گنج کیا کہتی ہے؟ ایک دل گداز واقعہ، عبرت انگیز سانحہ، برطانوی سیاست کا ایک شاہکار جو سیاست کا رخ بدل کر چلتا بنا۔ فاعتبروا یا اولوالابصار!

جیتی بازی ہار جائے تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ مگر احرار تو خدا جانے کس مٹی کے بنے ہیں۔ بیگانوں نے زخمی کیا۔ اپنوں نے مارا۔ پھرنے کی راہیں ناہموار ہو گئیں۔ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں۔ مگر چلتے رہے۔ اس قافلے نے تھک ہار کر بیٹھ جانے والوں کو مڑ کر نہیں دیکھا،۔ تیز نہ چلا جاسکا تو رک رک کر چلتے رہے۔ اندازہ تو لگائیے کہاں مخالف کے سینے پر چڑھ کر بیٹھے تھے کہاں مخالف نے موقعہ پا کر خود بھی بھر پور وار کیا اور لطف یہ ہے کہ اپنوں سے بھی پٹوایا۔ بہر حال یہ صبر آزما منزل احرار کے لئے بڑی ہی کٹھن تھی۔ وقت گزر گیا۔ تا آنکہ پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ آبادیوں کا جبری تبادلہ ہوا تو قادیان کے مسلمانوں پر دوہری مصیبت آئی۔ مولانا محمد حیات صاحب ان دنوں قادیان میں امیر جماعت کی حیثیت سے قیام فرما تھے۔ مرزائیوں کی بن آئی انہیں تو سر ظفر اللہ کے بھیجے ہوئے ہوائی جہاز بھی قادیان پر پرواز کر کے حوصلہ اور سہارا دیتے رہے۔ باہر سے مسلمانوں کے لئے لاریاں اور ٹرک آئے۔ وہ بھی مرزائیوں نے سنبھال لئے۔ مرزا محمود تو برقعہ اوڑھ کر زنانہ سواریوں کے ہمراہ چل دیئے۔ غریب عقیدت مندوں کی وہاں بھی درگت ہوئی۔ بہر حال مرزائیوں کا کعبہ اپنی جگہ قائم رہا۔ مرزا محمود کو ولایت واپس جانے سے قبل انگریز گورنر نے دوسرا کعبہ (ربوہ) اس سے بھی زیادہ محفوظ عطاء کر دیا۔

صفحہ ۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان میں تحریک ختم نبوت

قادیان کی سرگزشت کہتے وقت بعض اہم گوشے سہواً نظر انداز ہو گئے۔ مجلس احرار کو قادیان میں مستقل طور پر قدم جمانے میں جس بزرگ اور قابل احترام ہستی نے ہمارا ساتھ دیا مجھے سب سے پہلے ان کا ذکر کرنا چاہئے۔

پیر شاہ چراغ

قادیان کے مسلمانوں کو مرزائیت سے محفوظ رکھنے کے لئے مخدوم و محترم پیر چراغ شاہ صاحب نے نہایت دانشمندی اور تدبر سے کام لیا۔ قادیان میں پیر صاحب کی اپنی جائیداد موجود تھی۔ مرزائیوں کے باغ کے بالکل متصل آبادی کے ایک کونے پر پیر صاحب موصوف کا چھوٹا سا باغ بھی تھا۔ پیر صاحب نے مرزائیوں سے بگاڑ پیدا نہ کیا بلکہ بڑی احتیاط سے لڑائی جھگڑے یا بحث مباحثے کے بغیر پیر صاحب مسلمانوں کو پیار و محبت اور حسن اخلاق سے اپنے گرد جمع رکھتے تھے۔ پیر صاحب حکمت بھی کرتے تھے۔ دور دراز سے لوگ علاج معالجے کی خاطر پیر صاحب کے پاس آتے رہتے تھے۔ قادیان کی بستی میں ارائیں برادری اور کمہار برادری کے اکثر لوگ ان کے معتقد اور مرید تھے۔ پیر صاحب کے معتقدین نے دل و جان سے احرار کا ساتھ دیا۔ احرار نے قادیان میں جو زمین خریدی پیر صاحب اس کے ٹرسٹی بھی تھے۔

ابتداء میں جب قادیان میں مجلس احرار کی بنیاد رکھی گئی تو مولوی علی محمد صاحب جو شیخ برادری کے معزز رکن تھے مجلس احرار قادیان کے صدر بنے۔ آپ نے آخر تک مجلس سے ہمدردی کا ثبوت دیا۔ آج کل مولوی علی محمد صاحب لائل پور (فیصل آباد) میں قیام پذیر ہیں۔ ایک شریف نوجوان فیض اللہ صاحب قادیان کے زرگر خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس بہادر نوجوان نے بڑی جرأت سے احرار کا ساتھ دیا اور مخلصانہ خدمت کی۔ آج کل فیض اللہ صاحب غالباً چنیوٹ میں قیام فرما ہیں۔ باہمت نوجوان ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ وہ چنیوٹ میونسپلٹی کے میونسپل کمشنر بھی ہیں۔

میاں لطیف الرحمن صاحب مجلس احرار قادیان کے جائنٹ سیکرٹری تھے۔ چوہدری محمد طفیل مجلس احرار کے آفس سیکرٹری تھے۔ مجھے اس وقت یہی چند نام یاد تھے۔ کافی مدت گزر چکی حالات بالکل بدل گئے۔ نہ وہ قادیان رہی نہ قادیان والے ہی رہے۔ عرصے کی بات ہے کہ جو کچھ حافظے میں محفوظ تھا نوک قلم پر آ گیا۔

ہمارے دل میں قادیان کے مسلمانوں کی اس لئے عزت و توقیر تھی کہ وہ کفر کے دہانے پر اپنے ایمانوں کو مضبوطی سے سنبھالے بیٹھے تھے۔ غریب تو تھے مگر دولت ایمان سے مالا مال تھے۔ عورتیں، مرد، بوڑھے، بچے سبھی مخلص تھے۔ مجلس احرار سے ان سب کو بے پناہ عقیدت تھی۔

صفحہ ۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۴۷ء

اور بعد کے

حالات و واقعات

صفحہ ۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک تحفظ ختم نبوت اور پاکستان

کفر کا پودا جس نے برطانوی اقتدار کے سائے میں پرورش پائی تھی برطانوی استعمار کی موجودگی میں کیوں کر مرجھا جاتا۔ تاہم ناسازگار حالات میں مجلس احرار نے رد مرزائیت کے محاذ پر بے جگری سے جنگ لڑی۔ جب بھی مجلس کو موقع ملا مرزائیت کے قلعے پر پرامن یلغار کی۔ مگر ہر بار یہی ہوا کہ برطانوی استعمار روک بن کر سامنے آیا۔ مجلس احرار کو مرزائیت کی بجائے برطانوی استعمار سے ٹکرانا پڑا۔ ہر بار احرار کو لہولہان کر دیا گیا۔ احرار کی جدوجہد سے مسلمانوں میں بیداری اور مرزائیت کے خلاف جذبہ تو پیدا ہوا مگر حکومت کے سہارے مرزائیت کی تبلیغ کے لئے دوسری راہیں نکل آئیں۔ عوام کی بجائے مرزائیت نے سرکاری دفاتر کا رخ کیا اور مسلمانوں کی دکھتی ہوئی رگ کو جا پکڑا۔ سر ظفر اللہ نے جب وہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بنے اونچے درجے کے مسلمان ملازمین پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ سر ظفر اللہ کی تبلیغ کا ڈھنگ بہت مؤثر تھا۔ اس نے براہ راست ایمان پر حملہ نہیں بلکہ بہت اچھوتی ترکیب سے مسلمان ماتحتوں کو ہموار کیا۔ اس نے مرزائیوں کو اپنے اثر و رسوخ سے ترقیاں دلوائیں۔ یہ ترقیاں بڑی حیرت انگیز تھیں۔ ترقی یافتہ مرزائیوں نے سر ظفر اللہ کی نوازشات کے گیت گائے۔ دوسرے مسلمان، سرکاری ملازمین ان ترقیوں کو دیکھ کر سوچ میں پڑ گئے۔ شکایت بیکار تھی۔ وہ مسلمان جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے اپنے ماتحت مسلمانوں کی دستگیری نہ کرتے تھے۔ ادھر مرزائیوں کے ہاں نقشہ بالکل الٹ تھا۔ مرزائی سرکاری ملازمین نے سر ظفر اللہ کی قصیدہ خوانی کے ساتھ ساتھ مسلمان ملازمین کو بہکانا پھسلانا شروع کیا۔ ایک آدھ مسلمان کا ہاتھ پکڑا اور اسے بام ترقی پر پہنچا دیا۔ بعض کی سفارش کی اور ملازمت دلوادی۔ اس طرح مسلمانوں ہی میں مرزائیت کے مبلغ پیدا کر لئے۔ جب یہ کام بڑی تیز رفتاری سے ہونے لگا اور یہ روح فرسا خبریں احرار کے کیمپ تک پہنچیں احرار نے پیچ و تاب کھایا۔ مگر وہ اس معاملے میں بے بس تھے۔ بڑے بڑے عہدہ دار مسلمان احرار کی باتوں پر بہت کم متوجہ ہوتے تھے۔ جو لوگ متوجہ ہوئے انہیں ظفر اللہ کی طرح حوصلے سے میدان میں اترنے کی جرأت نہ ہوئی۔ ہر مسلمان سر ظفر اللہ کے عقیدے پر بیزاری اور نفرت کا اظہار کر سکتا ہے۔ مگر جہاں تک مرزائیت کی تبلیغ کا کام ہے یہ ماننا پڑے گا کہ سر ظفر اللہ نے بڑی جرأت سے کام لیا۔ وہ اس میدان کے بہت بہادر مبلغ ہیں۔ اس قسم کی جرأت مرزا محمود میں بھی نہیں ہے۔ وہ بھی کسی نازک جگہ پھنس جائیں تو مصلحت کوشی سے دائیں بائیں جھانکنے لگتے ہیں۔ مگر یہ بات سر ظفر اللہ میں بالکل نہیں ہے۔ وہ بے دریغ طبیعت کے انسان ہیں۔ چنانچہ ریلوے ممبر کی حیثیت سے جب انہوں نے مواصلات کا کام سنبھالا تو مرزائیوں کے لئے بڑی اور چھوٹی سبھی قسم کی ملازمتوں کے دروازے کھل گئے۔ سر ظفر اللہ نے اپنے اثر و رسوخ سے بے پناہ کام لیا۔ مرزائیوں کو جگہ جگہ نوکر کروایا اور اس قدر ترقیاں دلوائیں کہ آج ریلوے کے اونچے عہدوں پر آپ کو مرزائی نظر آئیں گے۔ یہ بھی ہوا کہ بعض مسلمان افسر بھی محض سر ظفر اللہ کو خوش رکھنے کے لئے مرزا محمود کو حضرت صاحب کہہ کر ”ایمان تازہ“ کرنے لگے اور بعض ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

احرار کیا کرتے؟

مرزائی افسروں کا یہ حال کہ وہ تو خم ٹھونک کر حوصلے سے میدان میں اتر آئے۔ مگر اپنے مسلمان افسر دین سے تعلق نہ تبلیغ دین سے ہمدردی۔ جب کبھی دین کی حفاظت کی بات آئے تو بزدلی سے طرح دے جائیں۔ تب احرار کے لئے اس کے سوا چارہ کار ہی کیا تھا کہ وہ اس بے بسی کے عالم میں جہاں بھی انہیں معلوم ہو کہ کسی مسلمان ملازم کا ایمان تذبذب اور آزمائش میں ہے۔ وہاں اپنے مبلغوں کو بھیجیں اور

صفحہ ۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہیں ہدایت کردیں کہ احتیاط سے کام کرو۔ مرزائیت کے لٹریچر کا جواب دو۔ ان کے مبلغوں کو للکارو اور مرزائیت کے جال میں پھنسنے والوں کو حتی الوسع بچانے کی کوشش کرو۔ ہزار دشواریوں کے باوجود ہمارے مبلغوں کو بسا اوقات حیرت انگیز کامیابی بھی ہوئی۔ قاضی احسان احمد صاحب نے ایسے مشکل مرحلوں میں بڑی ہمت سے کام لیا اور بڑی دانشمندی کا ثبوت دیا۔ انہیں بڑے آدمیوں سے باتیں کرنے اور اپنی صحیح بات ذہن نشین کرا دینے کا ڈھنگ آتا ہے۔ مگر مرزائیت کی ”سرکاری فوج“ یعنی سرکاری مرزائی ملازمین کے مقابلے میں جو دفتروں پر خوبصورتی سے قبضہ کر چکے تھے۔ ہمارے پاس اتنے مبلغ نہ تھے کہ وہ ہر شہر میں مستقل اڈہ جما کر بیٹھیں اور مرزائیت کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کریں۔ ادھر انگریز کی سلطنت مرزائیت کا عروج اور ادھر احرار کی بے بسی اور قدم قدم پر مشکلات کا سامنا ان نامساعد حالات میں ہر مبلغ اور احرار کے ہر کارکن اور راہنماء کے دل سے یہی دعا نکلتی تھی کہ خدایا ایک بار برطانوی سائے کو سر سے ہٹا اور پھر ہمیں توفیق دے کہ ہم مرزائیت کے جال کو تار تار کرسکیں۔ دعا قبول ہوئی۔ برطانیہ چلا تو گیا مگر اپنے ”خود کاشتہ پودے“ کی جڑیں اس قدر مضبوط کر کے گیا کہ دنیا حیرت میں رہ گئی۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر

پاکستان کے ابتدائی حالات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مسلمانان پنجاب اپنے ہی خون میں نہا کر جس طرح پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہوئے۔ اس خوں چکاں داستاں کو دہرانے کا یہ موقعہ نہیں مقصد یہ ہے کہ غافل قوم کو معلوم تو ہو کہ جب زخمی اور مجروح دل مہاجر واہگہ پار کر کے پاکستان میں روزانہ ہزارہا کی تعداد میں داخل ہورہے تھے۔ وہ جس حال میں تھے اور جو ان پر گزر رہی تھی اس صورتحال سے دشمن بھی ترس کھانے پر مجبور تھا۔ مگر ان دنوں یہ مرزائی کیا کرتے تھے؟ مجھے خدا توفیق دے کہ میں تفصیلاً عرض کر سکوں کہ ان مرزائیوں نے مسلمانوں کو انتہائی پریشانیوں میں مبتلا پا کر کس طرح اپنے ہاتھ رنگے اور مرزائی افسروں نے کارخانوں، دکانوں، ملوں، کوٹھیوں اور مکانوں پر مرزائیوں کا کس طرح قبضہ کرایا۔

حکومت کی پریشانی

نیا ملک نئے حاکم نئی رعایا حالات کی ناسازگاری حکمرانوں کی ناتجربہ کاری اس پر مستزاد یہ کہ روزانہ ہزارہا مسلمانوں کے قافلے مسلمانوں کی حدود میں داخل ہورہے ہیں۔ یہ قافلے اپنے ساتھ دردناک داستانیں لے کر آ رہے تھے۔ بھائی کہتا تھا میری جوان بہن کو کافر اٹھا کرلے گئے۔ ماں بیٹی کی عصمت لٹ جانے کا حال سنا رہی تھی۔ یتیم بچے ماں باپ کے مارے جانے کا ہولناک واقعہ بتا کر ہچکیاں لے رہے ہیں جوان بیوائیں خاوند کے شہید ہو جانے پر نالاں ہیں۔ بوڑھے والدین اکلوتے بیٹوں کی دردناک موت پر آنسو بہا رہے ہیں۔ ڈرے اور سہمے ہوئے مسلمانوں نے گروہ درگروہ جب خالی ہاتھ پاکستانی شہروں کا رخ کیا تو حکومت کی نئی مشینری ان قافلوں کو سنبھال نہ سکی۔ تباہ حال لوگوں نے سڑکوں کے کنارے اور میدانوں میں ڈیرے ڈال لئے۔ اس بدحالی میں سینکڑوں مہاجر مرنے لگے۔ وہ جس راہ سے گزرتے مرنے والوں کی قبریں بنا کر راہ گزر کی نشاندہی کا غمگین اشارہ چھوڑ جاتے۔ ان روح فرسا حالات میں امت مرزائیہ نے دوسرے طریقے پر سوچنا شروع کیا۔ باقاعدہ سکیم بنا کر مرزائی لیڈروں اور مرزائی افسروں نے اس ہنگامی دور سے فائدہ اٹھایا۔ سر ظفر اللہ خاں وزارت خارجہ کے عہدہ جلیلہ پر فائز المرام تھے۔ خلیفہ محمود نے انگریز گورنر سے کہا کہ جاتے تو ہو ہمیں مستقل اڈہ بنا کر دے جاؤ۔ ازلی اور ابدی بہی خواہوں کو سہارا دو۔

صفحہ ۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گورنر نے ربوہ (چناب نگر) کا محفوظ مقام امت مرزائیت کے لئے کوڑیوں کے دام میں یعنی برائے نام قیمت پر فروخت کر ڈالا۔ چنیوٹ جو ربوہ (چناب نگر) سے بالکل قریب صرف دو تین میل کے فاصلے پر آباد ہے وہاں کا ایریا مرزائیوں کے لئے مختص کر کے مقامی افسروں کو ہدایت ہوئی۔ یہاں صرف احمدی آباد کئے جائیں گے۔ غرضیکہ جہاں بھی بس چلا مرزائیوں نے قبضہ جما لیا۔ مسلمان قوم اپنے زخموں پر پٹیاں باندھنے میں مصروف تھی۔ مگر یہ مرزائی ماڈل ٹاؤن سے لے کر کراچی کے ساحل تک بلندیوں پر آشیانے بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ملوں اور کارخانوں میں معمولی حیثیت کے مرزائی کو حصہ دار بنا دیا گیا۔ کچے مکانوں کے مالک کوٹھیوں میں جا بسے۔ اس لئے کہ وہ مرزائی تھے۔ مگر بعض مستحق مسلمان مہاجر آج بھی دس سال کی طویل مدت گزر جانے کے بعد سر چھپانے کو جگہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ مقامی مرزائیوں نے زمینوں اور مکانوں پر قبضہ کر لیا۔ ظفر اللہ کے رشتہ داروں نے خواہ مقامی تھے یا مہاجر زمینوں پر ناجائز قبضہ جمایا۔ آج بھی ڈسکے کی تحصیل میں کہیں نہ کہیں مرزائیوں کا قبضہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی بیسیوں مثالیں مل سکتی ہیں۔ ایک مرزائی مہاجر نے مختلف شہروں میں الاٹ منٹیں کرالیں۔ کوئی تحقیقات کرے تو مرزائیوں کی لوٹ مار کا پتہ چلے۔ مگر تحقیقات کون کرے؟ جو ذمہ دار لوگ ہیں وہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔ انہیں فرصت نہیں عوام کو سب کچھ معلوم ہے مگر وہ بیچارے بے بس ہیں۔

متروکہ جائیداد کی تقسیم میں ربوے کی سفارشیں بہت کامیاب ثابت ہوئیں۔ بڑا افسر اگر مسلمان ہے اور اہلمد مرزائی ہے تو سمجھئے کہ مرزائی ہی کی حکومت ہے۔ ہمارے مسلمان افسر الا ماشاء اللہ اس ذہن سے کبھی سوچتے ہی نہیں۔ ان میں عصبیت نام کو نہیں مرزائی اور مسلمان متروکہ جائیداد کے حصول میں الجھے تو مرزائی اس لئے کامیاب ہو جاتا تھا کہ اس کی پہنچ اور رسائی مضبوط ہوتی تھی۔ ہم ایسے مرزائیوں کو جانتے ہیں جو چھوٹے سے مکان کے مالک تھے۔ مگر آج وہ بہت بڑی مل میں حصے دار ہیں۔ ادھر مال متروکہ پہ یوں ہاتھ مارا ادھر ہندوستان میں آنے جانے کی کوئی پابندی نہ تھی۔ پاکستان اور قادیان کے ڈانڈے ملا لئے۔ حکومت پاکستان اس لئے خاموش تماشائی بن کر رہ گئی کہ کیبنٹ میں سر ظفر اللہ خاں کا طوطی بولتا تھا۔ کسی میں جرأت نہ تھی کہ مرزائیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔

واقعات کی رفتار

پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر مرزائیوں کی بن آئی۔ یعنی پاکستان کیا بنا۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ مسلمان مہاجر کی امنگیں اور آرزوئیں خواب پریشان بن کر رہ گئیں۔ مرزائی پاکستان پر چھا گئے۔ ادھر یہ صورتحال احرار مصیبت کے منہ آگئے۔ احرار کے خلاف مرزائیوں نے پراپیگنڈا کیا، لیگیوں کو اکسایا۔ عوام طعنہ زنی پر اتر آئے۔ حتیٰ کہ سنجیدہ طبقے کے لیگی بھی احرار سے کہتے سنے گئے کہ یہ لوگ یہاں کیا لینے آئے ہیں؟ مرزائیوں کے بہکانے سے عوام نے فرسودہ اور بے بنیاد قصے دہرائے ”ہندوؤں کے غلام‘ بھارت کے ایجنٹ’ ’اسلام کے دشمن“ جانے کن کن خطابات سے نوازا گیا۔ جب یہ طعنہ زنی ہورہی تھی میں اس وقت خوش قسمتی یا بد قسمتی سے پاکستان میں موجود نہ تھا۔ بلکہ بھارت میں ڈیرہ لگائے اور دھونی رمائے بیٹھا تھا۔ مسلمانوں کو معلوم ہے کہ میں لدھیانے میں ”پناہ گیروں“ کے کیمپ کا انچارج تھا۔ ( تقسیم ہند کے حالات جاننے کے لئے سرخ لکیر دیکھئے) مجھے تین ماہ نامساعد حالات میں تباہ حال مہاجرین کے ساتھ ٹھہرنے اور خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ کیونکہ مسلم لیگ کے راہنما تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر پاکستان میں چلے آئے تھے۔ تاکہ مال متروکہ کی ”صحیح فہرست“ تیار ہوسکے۔ تین ماہ بعد جب میرا کیمپ خالی ہو گیا تب مجھے پاکستان پہنچنے کا موقعہ ملا۔ یہاں پہنچا تو دیکھا کہ مسلم لیگی بھائی مست سرشار ہو کر ”اردو“ بول رہے ہیں۔ مگر ان بھائیوں نے میرا کچھ لحاظ کیا۔ جس کا مجھے آج بھی صدمہ ہے۔ میں اپنے عزیز ساتھیوں اور

صفحہ ۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بزرگوں کے ہمراہ مسلم لیگ کے طعنوں میں برابر کا شریک ہونا چاہتا تھا مگر اپنے بھائیوں کے طعنوں سے محروم رہا۔ بہرحال احرار کو پاکستان میں چلنا پھرنا دوبھر ہو گیا۔ احرار نے صبر سے وقت گزارا۔ وہ زیادہ پریشان اس لئے تھے کہ مرزائیت کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہیں اور مرزا محمود نے قادیان کے بجائے ربوہ (چناب نگر) کے قلعے کو زیادہ مضبوط کر لیا تھا۔ احرار کو یہ بھی معلوم ہوا کہ آزاد کشمیر میں بھی مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں پر بٹھا دیا گیا ہے۔ آنکھوں کے سامنے ملک وملت کی تباہی کو دیکھ رہے تھے۔ مگر حالات کی ناسازگاری اور جذباتی قوم کی بے رخی کی وجہ سے خاموشی کے سوا چارہ نہ تھا۔

تازیانہ

میں آپ بیتی لکھ رہا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں برسراقتدار آکر مرزائیوں کے دماغ کس طرح عرش پر پہنچ گئے تھے۔ ایک روز میں مرکزی دفتر احرار کے برآمدے میں کھڑا تھا کہ چند مرزائی نوجوان سامنے سڑک پر سے گزرے۔ جونہی دفتر کی جانب دیکھا اور مجھے برآمدے میں مجلس احرار کے بورڈ کے قریب کھڑا پایا۔ مرزائی نوجوان رک گئے۔ میری جانب دیکھا پھر بورڈ پر نگاہ ڈالی۔ ان میں سے ایک نے بڑے غرور اور تمکنت سے کہا: ”اوہو مجلس احرار ابھی تک موجود ہے ۔“ پھر بلند آواز سے کہا: ”بہت اچھا۔“ مرزائی نوجوان چلے گئے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ میرے دل پر مرزائی نوجوانوں کے اس غرور اور تمکنت اور توہین آمیز لہجے نے کیا اثر کیا۔ میرے جذبات کو سخت ٹھیس لگی۔ دماغ کھولنے لگا میں کافی دیر برآمدے ہی میں کھڑا سوچتارہا کہ یہ پاکستان تو مسلمانوں نے اپنے لئے بنایا تھا۔ یہاں مرزائیوں کا راج ہوتا جا رہا ہے۔ مرزا محمود تو بڑے ہوشیار آدمی ہیں۔ اگر مہلت مل گئی تو وہ پاکستان پر مکمل قبضہ جمالیں گے۔ ان مسلمانوں کو کس طرح سمجھایا جائے کہ وہ مرزائیت کے جال سے بچیں۔ ان دنوں احرار کو ایسے خطرناک طریقے پر بدنام کیا گیا کہ قوم کی آنکھوں پر پٹی بندھ گئی۔ ان حالات میں مرزائیت کے خلاف بات کرنا فائدے کی بجائے نقصان کا باعث تھا۔ مگر احرار کے لئے یہ بھی مشکل تھا کہ وہ بے خبر قافلے کو گہرے کنویں کی طرف قدم بڑھاتا دیکھیں اور خاموش رہیں۔ یہ خاموشی مجرمانہ خاموشی تھی۔ جسے احرار مناسب نہ سمجھتے تھے۔

صفحہ ۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۴۹ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت امیر شریعت کی رہنمائی

مجلس احرار کے اراکین، عہدہ داریوں کی الجھنوں میں کبھی نہیں الجھے۔ جس رفیق کو جس عہدے پر بٹھا دیا وہی کام کرتا رہا۔ باقی دوست اس کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ اعتماد کا یہ حال کہ ایک نے دوسرے کو کبھی یہ نہ پوچھا کہ تمہارا کس سے کیا تعلق ہے؟ یکجہتی کا یہ حال کہ ایک طرح سوچنا اور مل کر عمل کرنا عادت ثانیہ بن گئی ۔ حضرت شاہ صاحب امرتسر میں بھرا گھر چھوڑ کر لاہور تشریف لائے ۔ یہاں سے اٹھے تو دور افتادہ علاقے یعنی خانگڑھ ضلع مظفر گڑھ میں ڈیرہ ڈال دیا۔ جب میں لدھیانے سے لاہور چلا آیا تو حضرت شاہ صاحب نے مجھے خان گڑھ بلا بھیجا۔ وہ مجھے کوئی حکم دینا چاہتے تھے۔ دو روز ان کی خدمت میں ٹھہرا رہا۔ میں نے دریافت کیا شاہ جی کیا حکم ہے؟ فرمانے لگے دیکھو بھئی میری بات مانو تو میں نے عرض کیا فرمائیے تو سہی حکم تو کیجئے۔ حکم ہوا میں نے اچھی طرح غور کر لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے تم صدر بن جاؤ۔ میرے لئے شاہ صاحب کے ہر حکم کی تعمیل باعث مسرت اور سعادت تھی۔ مگر میں صدارت کے لئے خود کو آمادہ نہ پا کر خاموش ہو گیا۔ شاہ صاحب نے فرمایا بس تم مان ہی جاؤ۔ اسی طرح کام ٹھیک چل سکے گا ۔ مجھے انکار کی جرأت نہ ہوئی۔ لاہور میں مجلس احرار کی کونسل کا اجلاس ہوا اور استروں کی مالا میرے گلے میں ڈال دی گئی ۔ اس کے بعد مجھے شاہ صاحب نے پالیسی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ یہ تاریخی خط مجلس احرار کی نئی عمارت کا بنیادی پتھر بن گیا۔ اس خط میں حضرت شاہ صاحب نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ قوت حاکمہ ہے۔ مجلس احرار میدان سیاست مسلم لیگ کے سپرد کر کے اپنی جدوجہد کو خالصتاً تبلیغ کے لئے وقف کرتی ہے۔ احرار کے جس کارکن کو سیاسی کام کرنا مقصود ہو اسے مسلم لیگ کا ساتھ دینا چاہئے ۔ اس اعلان کو عام کرنے کے لئے مجلس احرار نے ۱۹۴۹ء میں عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ہزارہا سرخ پوش احرار رضا کاروں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ بھرے اجلاس میں حضرت شاہ صاحب کی تجویز منظور ہو گئی۔ یعنی مجلس احرار اور مسلم لیگ کشمکش ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجلس احرار نے بڑی جرأت ، دلیری اور حوصلہ مندی سے مسلم لیگ کی فتح کا اقرار کیا اور اسے قوت حاکمہ تسلیم کر لیا۔ یہ ایک حقیقت بھی تھی ۔ مگر احرار کا یہ صاف دلی کا اعلان مسلم لیگ کو راس نہ آیا۔ اس کے سامنے سے ’ٹارگٹ‘ (نشانہ بازی کا تختہ ) ہٹ گیا ۔ لیگی لیڈر اپنی نالائقیوں، کوتاہیوں اور بد دیانتیوں پر پردہ ڈالنے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے احرار کے خلاف پراپیگنڈا کر کے اپنی جان چھڑا لیا کرتے تھے۔ اب احرار تو سامنے سے ہٹ گئے ۔ لیگیوں کو تیر اندازی کی عادت پڑ چکی تھی سامنے احرار نظر نہ آئے تو وہ آپس میں الجھ پڑے ۔ لیڈر نے لیڈر کی پگڑی اچھالی اور کارکنوں نے کارکنوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال دیئے ۔ ہمیں مسلم لیگ کی اس تباہی سے کوئی خوشی نہ تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ وہ جماعت جو پاکستان کو معرض وجود میں لانے کی ذمہ دار ہے اسی کو قائم رہنا چاہئے ۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی نظام کو احسن طریقے پر چلائے۔ اس لئے کہ بنانے والے بگاڑنے سے پرہیز کریں گے ۔ انہیں دکھ ہو گا کہ کل جسے محنت سے بنایا ہے اسے تباہ نہ ہونا چاہئے ۔ مگر مسلم لیگ کے ذمہ داروں نے نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں شروع کیں ۔ مسلم لیگ کو مجلس احرار سے میدان سیاست میں مخالفت تھی ۔ جب احرار نے سیاست سے کنارہ کشی اور توبہ کر لی تو مخالفت ختم ہو گئی ۔ احرار کو تبلیغی میدان میں آسانیاں پیدا ہو گئیں ۔ تبلیغی کانفرنسیں ہونے لگیں ۔ احرار رہنماؤں نے چند مہینوں میں فضا سازگار بنا لی اور پنجاب کے کونے کونے میں مسلمانوں کو بیدار کیا ۔ مرزائیت بے نقاب ہونا شروع ہوئی ۔ مرزائی ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک ہونے لگا۔ مسلمانوں نے احرار کی بات سنی ۔ اسے جانچا تولا اور پرکھا۔ حق دلوں میں اترنے لگا۔ مرزائیوں کے پراپیگنڈے نے احرار کو جس مقام سے گرایا تھا وہ مقام

صفحہ 89

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احرار کو دوبارہ حاصل ہو گیا۔ احرار کے سخت جان اور آتش بیاں مقررین نے مرزائیت کی دھجیاں بکھیرنا شروع کر دیں۔ مخلص اور مذہبی ذہن کے مسلم لیگیوں نے احرار کا ساتھ دیا۔ مرزائیت کا مقابلہ اس لئے مشکل تھا کہ مرزائیت کا کھونٹا بڑا مضبوط تھا۔ چوہدری سر ظفر اللہ خاں وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالے بیٹھے تھے۔ وہ ہمارے مسلمان وزیروں حتیٰ کہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین پر بھی بھاری تھے۔ چوہدری صاحب نے ساری کیبنٹ پر رعب جما رکھا تھا۔ خواجہ ناظم الدین بیچارے نیک قسم کے بزرگ تھے۔ وہ بظاہر باحوصلہ نظر آتے تھے۔ مگر اندر خانے سر ظفر اللہ خاں سے مرعوب تھے۔ غرضیکہ مرکز میں سر ظفر اللہ کا طوطی بولتا تھا۔ ربوہ کی اہمیت بڑھنے لگی۔ مرزائیوں کے سالانہ جلسے پر مرزائی سرکاری ملازم دندنا کر جانے لگے۔ وہ اپنے ہمراہ مسلمان ماتحتوں کو بھی لے جاتے۔ بعض دلیر مرزائی افسر اپنے بڑے افسروں تک کو یہ جھانسہ دے کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے کہ چلئے سر ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ سے ملاقات کر لیجئے گا۔ چنانچہ ریل کے ایک بہت بڑے افسر کو ہانک کر ربوہ لے گئے۔ ایک مرزائی ریلوے افسر جس کا ہیڈ کوارٹر غالباً لائل پور تھا۔ ریل کا پورا ڈبہ دورے کے بہانے ربوہ لے گئے اور اسی میں مرزائیوں کو سوار کرا لیا۔ یہ دھاندلی کھونٹے کے زور پر تھی۔ احرار میں ابھی اتنی جان اور مقبولیت نہ آئی تھی کہ وہ بڑے مرزائی افسروں کے منہ آتے یا اگر شور مچاتے تو شنوائی کی امید ہوتی۔ مگر مجلس احرار کے معزز رہنما جو کچھ ہو رہا تھا اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے اور ٹھنڈا سانس لے کر خاموش ہو جاتے۔ ابھی صرف یہ کیفیت تھی کہ کھویا ہوا مقام حاصل ہو گیا۔ عام تبلیغی کانفرنسیں ہونے لگیں۔ لوگ تحفظ ختم نبوت میں زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ مگر احرار میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اعلیٰ حکام یا مسلمان وزرائے کرام کو متوجہ کر سکتے۔ تاہم مرزائیت کے خلاف تبلیغ کے لئے میدان صاف ہو گیا۔

مجلس احرار اسلام

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: مجلس احرار اسلام جو اس مسئلہ کی بہت بڑی داعی تھی ۱۹۴۹ء میں اپنی سیاسی حیثیت ختم کر کے صرف اسی محاذ پر کوشاں تھی اور اس کے بے شمار کارکن سیاسی کام کرنے کے لئے مسلم لیگ میں شامل ہو چکے تھے۔ اگرچہ احرار کا یہ فیصلہ ایک بہت بڑی سازش کا نتیجہ تھا۔ حکومت کے افسروں میں بیوروکریسی کے نمائندوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ملک میں مسلم لیگ پر زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔ رد عمل کے طور پر لوگ دن بدن مسلم لیگ سے بدظن ہو کر قدرتی طور پر کسی اور جماعت کی حمایت کے لئے مجبور تھے۔ احرار کلمہ حق بلند کرنے کے عادی تھے۔ ان کے کلمہ حق کا آغاز ہو چکا تھا۔ مجلس احرار ملک کی اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے مقبول ہو رہی تھی اور اگر احرار لیڈر سازش کا شکار نہ ہوتے تو مسلم لیگ کے بعد احرار ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور ملک کی اپوزیشن پارٹی بن جاتے۔ لیکن وہ بیوروکریسی کی معنوی اولاد کی چالوں کو نہ سمجھ سکے اور نہایت سادہ لوحی کا مظاہرہ کر کے سیاسی طور پر مات کھا گئے۔

میں وی اوتھے ای پایا

مجھے یاد ہے کہ لاہور میں احرار کانفرنس ہوئی۔ دس ہزار رضا کار جمع تھے۔ جب کارکنوں کا خاص اجلاس منعقد ہوا تو اس میں جماعت کی سیاسی حیثیت ختم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔ اس کے الفاظ بڑے خوبصورت تھے کہ جماعت آئندہ تبلیغی کام کرے گی۔ کارکنوں اور رضا کاروں کو سخت صدمہ تھا۔ لیکن کوئی پیش نہیں جا رہی تھی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری پہلے تو کارکنوں اور رضا کاروں کے حق میں رہے۔ آخر انہیں بھی باقی لیڈروں نے خدا جانے کیا کہہ کر رام کر لیا۔ رات کو احرار کونسل کا اجلاس ہوا۔ تجویز پیش کی

صفحہ ۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گئی کہ جماعت کو سیاسی طور پر ختم کر دیا جائے۔ تبلیغی کام کرے اور جس نے سیاسی کام کرنا ہو۔ وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کرے شاہ صاحب کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ بھائی اپنی اپنی رائے دو، غالباً ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کا ایک کارکن کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا شاہ جی میں ایک بات سنانا چاہتا ہوں اور اس کے بعد اپنی رائے عرض کروں گا۔ ایک فقیر تھا نعت خوانی وغیرہ کر کے گداگری کیا کرتا تھا۔ اس کا ساتھی مر گیا۔ اب اسے کسی دوسرے ساتھی کی ضرورت پڑی۔ اس نے ایک راہ گیر کو کچھ معاوضہ پر ساتھ رکھ لیا۔ راہ گیر نے عرض کیا میری ڈیوٹی کیا ہوگی۔ نعت خواں نے کہا جو مصرعہ میں پڑھوں تو اسی طرح اسے دہرا دیا کرنا۔ راہ گیر نے کہا بہت اچھا۔ صبح سویرے ایک امیر کے دروازے پر جاکر اس نے کچھ پڑھنا شروع کیا اور یہ مصرعہ پڑھا، ’لوٹا بھریا نور داتے منڈھ بوٹے دے پایا‘ راہ گیر کو مصرعہ تو پڑھنا نہ آیا۔ اس نے جھٹ کہا: ”میں وی اوتھے ای پایا۔“ جنرل کونسل کے تمام مندوبین ہنس پڑے، کارکن نے یہ لطیفہ سنا کر سب کو ہنسا دیا۔ لیکن خود بڑی سنجیدگی اور گلو گیر آواز سے کہنے لگا: شاہ جی آپ ہم سے کیا رائے پوچھتے ہیں۔ جو فیصلہ آپ کا وہ ہمیں منظور ہے۔ ہماری سمجھ میں یہ فیصلہ نہیں آ رہا۔ لیکن اگر آپ کا حکم ہے تو ہمیں منظور ہے۔ بہرحال مجلس احرار اسلام سیاسی حیثیت سے ختم کر دی گئی۔ اس فیصلہ کے غلط ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ اس فیصلہ کا خیر مقدم افسر شاہی کے ہیڈ خواجہ ناظم الدین نے بذریعہ تار کیا اور نوائے وقت کے شہرہ آفاق ایڈیٹر حمید نظامی نے مقالہ تحریر کر کے لکھا کہ : ”یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔“

فیصلہ کے روشن پہلو

اگرچہ سیاسی طور پر یہ فیصلہ غلط تھا۔ لیکن اس فیصلے کے کچھ روشن پہلو بھی تھے۔ مجلس احرار کے منجھے ہوئے سیاسی کارکن مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ اگرچہ مسلم لیگ کے لیڈروں نے احرار لیڈروں پر اپنے دلوں کے دروازے بند رکھے۔ لیکن کارکن اور رضا کار لیگ میں کافی اثر ورسوخ حاصل کر گئے۔ مسلم لیگ اور احرار کی چپقلش ختم ہو گئی۔ تعصب کم ہو گیا۔ اب مجلس تحفظ ختم نبوت اور احرار کے رہنما جو بات عوام کو قادیانیت کے فتنہ عمیاء کے متعلق کہتے تھے وہ لوگ بلا تعصب سننے لگے۔ خود مسلم لیگ میں ایک بہت بڑا حلقہ اس خطرے کو سوچنے اور سمجھنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تحریک تحفظ ختم نبوت عوام میں مقبول ہونے لگ گئی۔ دوسری طرف تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے رہنماؤں نے اہل حدیث، بریلوی اور شیعہ مکاتب فکر کے علمائے کرام کا تعاون حاصل کرنا شروع کر دیا۔ پورے مغربی پاکستان میں عظیم کانفرنسیں ہوئیں۔ لاکھوں کے اجتماع حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سحر آفریں تقریریں، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا محمد علی جالندھری کی مدلل اور پرجوش تقریروں نے عوام کو حضور سرور کائنات ﷺ کی ناموس کی خاطر ہر قربانی کے لئے آمادہ کر دیا۔

قادیانی درویش

ماسٹر تاج الدین فرماتے ہیں: مجلس احرار کے ترجمان روزنامہ ”آزاد“ نے تحریک تحفظ ختم نبوت کو اچھا خاصا سہارا دیا۔ احرار کے کیمپ میں اطلاع ملی کہ دس بیس مرزائی روزانہ پاکستان سے قادیان جاتے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں روکتا۔ مسلمان اگر بھارت جانا چاہیں تو انہیں بہت ہی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم نے اس پر احتجاج کیا مگر بہرے قانون نے ہماری بات نہ سنی۔ مرزائیوں نے ربوے سے اعلان کیا کہ قادیان میں ۳۱۳ درویش مستقل طور پر قیام کریں گے۔ اس بہانے مرزائیوں نے پھر قادیان کا رخ کیا۔ آزاد نے پھر ایک نوٹ لکھا کہ بھئی یہ ۳۱۳ کی گنتی کبھی مکمل بھی ہوگی؟ تب دربار خلافت سے الفضل کے ذریعے اعلان ہوا کہ یہ لوگ قادیان میں ٹھہریں گے۔

صفحہ ۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ درویش کہلائیں گے ۔ آئندہ کے لئے یہ پروگرام ہے کہ دس درویش یہاں سے جائیں گے ۔ جب وہ قادیان پہنچیں گے تو پہلے دس درویش واپس آ جائیں گے ۔

یہ مرزائی دس دس کی تعداد میں درویش بن کر قادیان جاتے رہے ۔ اب کون چیک کرے کہ ادھر سے کوئی واپس بھی آتا ہے کہ نہیں ۔ غرضیکہ مرزائیوں کی بھارت میں آمد ورفت کے لئے پھاٹک کھلا رہا ۔ ان مرزائیوں کی راہ میں نہ کوئی سنگ گراں تھا اور نہ کوئی قدغن ۔ احرار نے اس پر بار بار احتجاج کیا مگر شنوائی نہ ہوئی ۔

کشمیر کا راستہ

یہی صورتحال کشمیر میں تھی ۔ ایسی خبریں سننے میں آتی رہیں کہ مرزائی اس پار سے اس پار آتے جاتے رہتے ہیں ۔ مگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی ۔ آزاد کشمیر سے اطلاع موصول ہوئی کہ وہاں مسلمانوں کی آپس میں دھڑا بندی اور چپقلش ہو رہی ہے۔ احرار کا ذہن فوراً اس طرف جاتا ہے جہاں اس قسم کی گڑبڑ ہو۔ اس میں اکثر بیگانہ ہاتھ ہوتا تھا۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اکثر کلیدی آسامیوں پر مرزائی حضرات کا قبضہ ہے۔ ہمیں اس اطلاع سے سخت تشویش ہوئی ۔ آزاد کشمیر میں بعض واقعات ایسے رونما ہوئے جنہیں دبا دیا گیا ۔ ہم بھی انہیں نظر انداز ہی کر رہے ہیں ۔ انہی دنوں کو ہاٹ میں ایک خطرناک حادثہ پیش آیا ۔ اس کا تعلق فوج سے تھا ۔ یہاں ایک مرزائی فوجی افسر نے خودکشی کر لی تھی ۔ اس واقعہ کی خبر ”الفلاح“ پشاور میں شائع ہوئی ۔ ہم نے اس خبر کو پڑھا تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ آزاد میں الفلاح کے حوالے سے یہ خبر شائع ہو گئی تو جس نے اس خبر کو پڑھا سناٹے میں آ گیا ۔ مسلمانوں نے مرزائیوں کو غیر معتبر سمجھنا شروع کیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مولانا محمد عبداللہ ایڈیٹر الفلاح کو مقامی حکام نے بلا کر کہا کہ آپ نے یہ خبر کیوں شائع کی۔ مولانا نے کہا یہ صحیح خبر ہے۔ اس لئے میں نے اسے شائع کر دیا تھا۔ بہر حال انہیں کہا گیا کہ ایسی خبریں شائع کرتے وقت ذرا احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ اس طرح سرکاری مشینری مرزائیت کے زیر اثر کام کر رہی تھی ۔ یعنی مرزائیوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کی بجائے الٹا مولانا کو بلا کر مہذب الفاظ میں تنبیہ کر دی ۔ احرار نے اس خبر کو ایک بار شائع کیا ۔ اس پر کوئی نوٹ نہیں لکھا اور نہ اس کا ذکر تبلیغی کانفرنسوں میں کیا ۔ اس لئے کہ اوپر کا طبقہ مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں پر توجہ نہ دیتا تھا اور سر ظفر اللہ کے اقتدار نے مرکز میں مضبوط بریک لگا رکھا تھا ۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں ۔ سر ظفر اللہ نے مرزائیت کے لئے بڑے حوصلہ سے کام کیا اور بے پناہ کام کیا۔

گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر

ملک تقسیم ہونے لگا تو امت مرزائیہ کو اپنی انفرادیت کے پراپیگنڈے کی سوجھی ۔ مرزائی یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ ایک علیحدہ اقلیت ہیں ۔ جسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ چنانچہ مرزائیوں نے اپنی اہمیت جتانے کے لئے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں مرزائی فوجی افسروں کی فہرست شائع کی۔ اس پمفلٹ کے ذریعے مرزائیوں نے خوب پراپیگنڈا کیا ۔ روزنامہ ”آزاد“ میں مرزائی فوجی افسروں کی فہرست شائع ہوئی تو سر ظفر اللہ خاں نے کان کھڑے کئے اور مرکزی حکومت کی مشینری حرکت میں آ گئی ۔ مرکز نے تار ہلایا تو گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر نے مجھے گورنمنٹ ہاؤس میں بلا بھیجا ۔ میں قیاس کے گھوڑے دوڑاتا ہوا حاضری کے لئے تیاری کرنے لگا ۔ مجھے کبھی یہ خیال آتا کہ سردار صاحب مذہبی قسم کے آدمی ہیں ۔ مرزائیت کے سلسلے میں ہمیں تھپکی دیں گے اور حوصلہ دلائیں گے ۔ کبھی خیال آتا کہ ہم

صفحہ ۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے سیاست سے کنارا کر لیا ہے۔ لیگ کے لئے کام کا میدان کھلا ہے۔ شاید تعاون کے بارے میں کوئی مشورہ ہوگا۔ کبھی خیال آتا کہ نشتر صاحب نے مذہبی ماحول میں پرورش پائی ہے۔ یہ پرانے خلافتی ہیں۔ سرظفر اللہ خاں کی مرزائیت نوازی دیکھ کر ان کی رگ حمیت پھڑک اٹھی ہوگی۔ شاید احرار کے لئے اپنی تنخواہ میں سے سرظفر اللہ کی طرح کچھ رقم وقف کر دیں گے، یا مالی امداد کا وعدہ فرمائیں گے۔ کبھی یہ گمان ہوتا کہ حضرت شاہ صاحب سے انہیں بڑی عقیدت رہ چکی ہے۔ شاید عقیدت کی رگ پھڑک اٹھی ہو اور میری معرفت خیریت دریافت فرمانے کو بلایا ہے۔ بہر حال میں تصورات کی دنیا میں خوش فہمی کے قلعے بناتا ہوا گورنمنٹ ہاؤس میں حاضر ہوا۔ نشتر صاحب شریف، ملنسار اور بڑے ہی خلیق انسان ہیں۔ جونہی میں نے کارڈ بھیجا مجھے فوراً بلا لیا۔ محبت سے ملے مگر علیک سلیک کے فوراً بعد وہ صرف گورنر رہ گئے۔ آزاد اخبار کی کاپی دکھا کر فرمانے لگے یہ آپ کا اخبار ہے؟ جی ہاں! یہ فہرست آپ نے شائع کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ، فرمانے لگے معلوم ہے آپ نے اس فہرست کو شائع کر کے کتنا بڑا جرم کیا ہے اور اس سے پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچا ہے؟ میرے تو طوطے اڑ گئے۔ یا الٰہی وہ فہرست جسے مرزائیوں نے ہزار ہا کی تعداد میں شائع کر کے دفتروں میں تقسیم کیا، شہروں میں بانٹا اور جس فہرست کے خود مرزائیوں نے خوب ڈھول پیٹے اسے مجلس احرار نے شائع کر دیا تو کیا جرم کیا؟ میں نے سنبھل کر عرض کیا کہ سردار صاحب! میں نے اسے کچھ اہمیت نہیں دی۔ اس سے کیا نقصان ہوا ہے؟ یہ بے ضرر سی چیز ہے۔ اخبارات میں ایسا کچھ چھپتا ہی رہتا ہے۔ فرمانے لگے کاش تمہیں معلوم ہوتا کہ اس سے کیا نقصان ہوا؟ میں نے باادب عرض کیا مجھے سمجھائیے تاکہ آئندہ کے لئے احتیاط کی جائے۔ سردار صاحب نے دو باتیں بتائیں۔ ایک یہ کہ ان کے صوبہ سرحد میں میجر جنرل نذیر صاحب تمام سرحد کے انچارج فوجی افسر ہیں۔ یہ بتا کر فرمانے لگے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ صوبہ سرحد بارودی صوبہ ہے۔ مرزائیوں والی بات وہاں چل نکلے تو خدا جانے کیا قیامت آجائے۔ دوسری بات سردار صاحب نے یہ فرمائی کہ اس بات کا پراپیگنڈا کابل ریڈیو بھی کرتا رہا ہے۔ خدا کے لئے پاکستان کی رسوائی کا تو سامان بہم نہ پہنچاؤ۔ سردار صاحب کی پہلی بات کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مگر دوسری بات نے مجھے کسی قدر اپیل کیا۔ میں خود اسے پسند نہ کرتا تھا کہ ہمارا نام لے کر کابل ریڈیو ہمارے ہی ملک کے خلاف پراپیگنڈا کرے۔ ویسے کابل والوں کو شاید اس فہرست سے زیادہ لمبی اور تازہ فہرست کا علم ہی ہو۔ مگر مجھے آخری بات نے ضرور متاثر کیا اور میں نے سردار صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ میں حتی الوسع احتیاط سے کام لوں گا۔ سردار صاحب نے یہ بھی آخر میں فرمایا کہ انہیں مرکز سے ایکشن لینے کی ہدایت ہوئی تھی۔ مرکز کا نام سن کر سرظفر اللہ خاں کا تصور میری آنکھوں کے سامنے آ موجود ہوا۔

اس واقعے سے میں کسی قدر مایوس ہوا۔ مجھے یہ شک گزرا کہ مرکز مرزائیت کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ مسلمان وزیر محض وزیر ہیں۔ وہ سرظفر اللہ کے آڑے نہیں آسکتے۔ سرظفر اللہ کی پوری مشینری پر نگاہیں ہیں۔ وہ کسی پرزے کو ادھر ادھر ہلنے نہیں دیتے اور جس طرح چاہتے ہیں چلاتے ہیں۔ اس وقت تو صرف شک ہی تھا۔ مگر آخر میں یہ شک یقین میں بدل گیا۔

دوسری ملاقات

پہلی ملاقات میں سردار صاحب نے مجھے بحیثیت ملزم بلایا تھا۔ گو ان کا سلوک شریفانہ تھا۔ دوسری بار میں خود حاضر ہوا اور مرزائی افسر کی خودکشی کا ذکر ہوا تو سردار صاحب نے ”الفلاح“ کا وہ پرچہ جسے میں اپنے ہمراہ لے گیا تھا ملاحظہ فرمایا۔ جس میں اس واقعہ کی خبر درج

صفحہ ۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھی۔ چنانچہ انہوں نے پشاور سے اخبار منگوا کر شاید اپنے پاس کسی مثل میں رکھا یا اسے اوپر بھیج دیا۔ بہر حال اس واقعے کی اطلاع پا کر سردار صاحب کو مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کے بارے میں کھٹک ضرور پیدا ہوئی۔ شاید اسی کھٹک نے سردار صاحب کو جب وہ گورنری چھوڑ کر مرکز میں منسٹر بنے تو مولوی منسٹر کا خطاب دلوایا۔

فرقان بٹالین

ربوہ (چناب نگر) مرزائیوں کا قلعہ بن گیا۔ پہاڑیوں کے دامن میں دریا کے کنارے پر پل سے اس پار چنیوٹ سے بالکل قریب بہت بڑا خطہ زمین مرزائیوں کو جب تقریباً اللہ کے نام پر دستیاب ہو گیا تو مرزا محمود نے خود قادیان سے زیادہ محفوظ ، زیادہ طاقتور اور زیادہ باوقار محسوس کیا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، مرزا صاحب اعلیٰ درجے کے سکیم ساز ہیں۔ انہیں اس قلعے میں محفوظ بیٹھ کر سلطنت کے خواب آنے لگے۔ خواب کیا وہ جاگتے ہوئے اپنی آنکھوں سے اپنی سکیموں کو کامیاب ہوتے دیکھنے لگے۔ ربوے میں مرزائی نوجوانوں کو فوجی ٹریننگ دینے لگے۔ فوج میں اپنے آدمیوں کو داخل کرنے لگے۔ میں یہاں کسی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ مجھے صرف ایک واقعہ عرض کرنا ہے۔ کشمیر میں گڑبڑ کے بعد مرزا محمود نے اپنی انفرادیت قائم رکھنے اور انفرادیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے مرزائی نوجوانوں کی فرقان بٹالین فوجی محاذ پر پہنچا دی۔ ادھر الفضل نے فرقان بٹالین کا پراپیگنڈا کیا۔ ادھر احرار نے خطرے کا الارم کیا اور حکومت اور عوام کو خبردار کیا کہ دیکھو مرزا محمود کس طرح فوج کو متأثر کر رہا ہے۔ پراپیگنڈا اس قدر تیز ہوا کہ احرار رہنماؤں نے پشاور سے لے کر کراچی تک کے ڈانڈے ملا دیئے۔ مجبور ہو کر انگریز کمانڈر ان چیف کو فرقان بٹالین توڑنا پڑی۔ مگر یہ مرزائی بٹالین اب تک یہ ثابت نہ کرسکی کہ وہ سرکاری رائفلیں کہاں ہیں جو انہیں بٹالین میں استعمال کے لئے دی گئی تھیں۔ ان رائفلوں کے بارے میں چہ میگوئیاں ہوئیں۔ مگر اس وقت کی حکومت ان اعتراضات کو ٹھنڈا شربت سمجھ کر پی گئی۔ بٹالین ربوے (چناب نگر ) واپس آئی تو اس کا استقبال ہوا اور اس کے بعد ربوے (چناب نگر) کی پہاڑیوں کی اوٹ میں فوجی پریڈ ہونے لگی۔ ان پریڈوں کے اثرات کا یہ نتیجہ ہوا کہ مرزا محمود صاحب کو بڑے مزیدار خواب آنے لگے۔

کارتوس ختم ہو گئے

فوجی رائفلیں تو خیر فوجی ہوتی ہیں۔ امت مرزائیہ کے پاس لائسنس کا اسلحہ بھی کافی ہے۔ لائسنس کے اسلحہ کے لئے چونکہ کارتوس کی تعداد مقرر ہے۔ اس لئے ان سے گزارہ نہیں چلتا۔ خصوصاً اس صورت میں جب بٹالین بازی اور فوجی تیاریوں کا شوق حد سے بڑھ جائے تو گنتی کے کارتوس کام نہیں دیتے۔ ربوے میں کسی مسلمان کو بلا اجازت داخل ہونے کی ممانعت ہے۔

(موصوف نے یہ مسودہ ۱۹۵۸ء میں تحریر فرمایا۔ اب اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے قائم کردہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شامل تمام مکاتب فکر کی کاوشوں سے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساجد و مدارس، دفاتر وہاں پر قائم ہیں۔ ہر سال اکتوبر میں عالمی مجلس کے زیر اہتمام آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس بڑی شان و شوکت سے منعقد ہوتی ہے۔ ربوہ کی کمیٹی اور دیگر تمام محکموں کا سرکاری عملہ مسلمان ہے۔ اب وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ مرتب!)

صفحہ ۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ممانعت نہ بھی ہو کس کا دماغ پھرا ہے کہ وہ پرائے قلعے میں داخل ہو کر خطرہ مول لے اور اندر جا کر دیکھے کہ اس نئی بستی میں جو خشک پہاڑیوں کی آغوش میں واقع ہے کیا ہورہا ہے۔ بہر حال انسانی آنکھوں نے کسی نہ کسی طرح اندر جا کر دیکھ ہی لیا کہ ربوہ (چناب نگر ) دراصل مرزائیوں کی چھاؤنی ہے۔ کارتوس ختم ہوئے تو مرزائیوں کو دیسی ہتھکنڈوں کی سوجھی۔ کارتوس بنانے کی مشینیں عام طور پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ان کے ہاں بھی وہ مشین لگ گئی ہوگی ۔ یہ بات ہم اس لئے کہتے ہیں کہ ایک روز مرزائیوں نے چنیوٹ کے آتش باز سے جس کے پاس بارود کا لائسنس تھا ایک من دس سیر اور شاید دو چھٹانک بارود خریدا۔ بارود کی فروخت کا رجسٹر ہوتا ہے جس میں بارود کا وزن اور خریدار کا نام درج کیا جاتا ہے۔ احرار کو پتہ چلا تو انہوں نے کسی نہ کسی طرح رجسٹر کے اندراجات دیکھے۔ کسی تفتیش کے سلسلے میں تھانیدار سے بات ہوئی تو معاملہ طول پکڑ گیا۔ تھانیدار نے تحقیقات شروع کر دی۔ پولیس ربوے (چناب نگر ) میں بھی جا گھسی۔ معلوم ہوا کہ وہاں بارود خریدا گیا ہے۔ اس خریداری کا جواز ہمیں کوئی آج تک بتا نہ سکا۔ خواجہ ناظم الدین بھی آئیں بائیں شائیں کر کے بات کو ٹالتے رہے۔ عوام بیدار ہو گئے۔ مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں اور ان کے خوفناک ارادے عریاں ہونے لگے۔ احرار کے مبلغ ، احرار کے بلند پایہ رہنما مرزائیوں کا لٹریچر اور مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کے ثبوت کے پلندے لے کر تبلیغ کانفرنسوں میں مرزائیوں کا تار و پود بکھیرنے لگے۔ مگر مرزائی بے پروا ہو کر اپنے کام میں لگے رہے۔ وہ ہمارے وزراء کو گھیر گھار کر ربوے پہنچانے کی فکر میں تھے۔ وزراء حکومت کے نشے میں مست تھے۔ الا ماشاء اللہ احرار کلیجہ پکڑے پھرتے تھے کہ ملک وملت کو کس طرح مرزائیت کے جنگل سے چھڑایا جائے۔

ہندوستانی فوج پاکستان کی سرحد پر

اچانک یہ روح فرسا خبر آئی کہ پاکستان کی سرحد پر بھارتی فوجیں پرا جمائے بیٹھی ہیں۔ اس خبر سے سمجھدار اور سنجیدہ طبقے میں بے چینی پیدا ہوئی۔ بزدل ڈرے اور بہادروں نے ”بھنگڑا“ شروع کیا کہ اب جرات اور مردانگی کے جوہر دکھانے کا موقعہ آیا۔ پاکستانی فوج نے یہ سمجھا کہ شکار چل کر دروازے پر آگیا ہے۔ ایسے میں جنگ کے سوا کسی دوسری بات کا چرچا نہ تھا۔ اس سلسلے میں احرار نے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، صاحبزادہ فیض الحسن شاہ ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، شیخ حسام الدین اور دوسرے عام احرار رفیقوں نے پاکستان کے سرحدی شہروں اور دیہاتوں میں دفاع کانفرنسوں کا ایک جال بچھا دیا۔ خلوص سے کام کیا جائے تو نتائج بھی اچھے برآمد ہوتے ہیں۔ احرار کی دفاعی کانفرنسوں میں زبردست اجتماعات ہوئے۔ احرار کے بہادر اور مخلص رضا کاروں نے پاکستانی سرحدوں کے چپے چپے پر دفاعی تیاریوں کا پراپیگنڈا کیا۔ ان کانفرنسوں میں ہر مکتب خیال کے لوگوں نے نہایت پاکیزہ جذبے سے شرکت کی۔ حتیٰ کہ سرکاری افسر بھی احرار کی دفاع کانفرنسوں سے متاثر ہوئے اور بعض مقامات پر مخلص افسروں نے دفاع کانفرنسوں میں باقاعدہ شرکت بھی کی۔

خوشگوار اثرات

مرزائیوں نے احرار کے خلاف جو زہریلا پراپیگنڈا کر رکھا تھا جس کے اثرات مسلم لیگ کے کیمپ میں بھی سرایت کر چکے تھے۔ آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگا۔ حتیٰ کہ احرار کی مخلصانہ خدمت نے نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کو رائے بدلنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ مرحوم نے اپنے خاص ایلچی کے ذریعے تبادلہ خیال کے لئے بلا بھیجا۔ باتیں ہوتی رہیں۔ تعلقات بہت بہتر ہونے لگے۔ نوابزادہ مرحوم بڑی احتیاط سے

صفحہ 95

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گفتگو کرتے تھے۔ قاضی احسان احمد نے ایک روز ان کے سامنے مرزائیت کا پٹارہ کھول کر رکھ دیا۔ مرحوم بہت ذہین انسان تھے۔ مسائل کو بہت جلد سمجھ لیتے تھے۔ قاضی صاحب نے اس بڑی لمبی اور تفصیلی ملاقات کے بعد متعدد بار انہیں مرزائی ریشہ دوانیوں سے خبردار کیا۔ وہ احرار کے بالکل قریب آگئے۔ انہیں یقین ہوگیا کہ احرار کے خلاف سب سے زیادہ اور خطرناک قسم کا پراپیگنڈا صرف مرزائیوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ احرار کے سوا باقیوں سے مرزائی اچھی طرح نپٹ لیتے ہیں۔ آخری دنوں میں مرحوم طے کر چکے تھے کہ وہ احرار سے مکمل تعاون کریں گے اور تعمیری کاموں میں احرار کی خدمات حاصل کر لی جائیں گی۔ یہاں نوابزادہ مرحوم کا ذکر ضمناً آگیا ہے۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ احرار نے تبلیغی میدان میں اچھی خاصی طاقت حاصل کر لی تھی۔

صاحبزادہ فیض الحسن شاہ

جہاں تک دفاعی کانفرنسوں کے ذریعے عوام کو بیدار اور خبردار کرنے کا تعلق تھا احرار کے بڑے رہنماؤں سے لے کر آخری رضا کار تک سب نے انتہائی جانفشانی سے کام کیا۔ دفاع کے عملی میدان میں رضا کاروں نے مکمل تعلیم حاصل کر لی۔ مگر محاذ کی تیاری میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب نے گوجرانوالہ میں فوجی ٹریننگ کیمپ کے ذریعے بے مثال خدمت کی۔ مرزائیوں نے جب انہیں کشمیر کے محاذ پر آتے جاتے دیکھا تو فوجی افسروں کو بہکایا اور بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ خلوص اور دیانتداری بڑی شئے ہے۔ فوجی افسروں نے اس قسم کے اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب کے لائے ہوئے رضا کار بہت مخلص بہادر اور مستعد ثابت ہوتے ہیں۔ باقیوں پر ہمیں بھروسہ بہت کم ہے۔ مرزائیوں کا یہ پراپیگنڈا بھی ناکام ہوا۔ مجھے تفصیل یاد نہیں کہ صاحبزادہ صاحب نے رضا کاروں کے علاوہ کس قدر مالی امداد پہنچائی۔ ان دنوں صاحبزادہ صاحب خاکی کپڑوں میں ملبوس فوجی جرنیل معلوم ہوتے تھے۔ الحمدللہ! احرار نے اس گوشے میں کسی سے کم خدمت نہیں کی۔

پنجاب اسمبلی کے انتخابات

انتخابات کے بغیر جمہوری نظام کا دھندا نہیں چلتا۔ مگر ہمارے ہاں کے انتخابات نعمت کے بجائے لعنت ثابت ہوئے ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں جو کچھ ہوتا ہے اسے دیکھ کر شریف اور خود دار انسان کا میدان انتخاب میں کھڑا رہنا تقریباً محال ہو جاتا ہے۔ یوں انسان ضرورت سے مجبور ہو کر بیت الخلاء کے ایک دو چکر ہر روز کاٹتا ہے اور کامیاب واپسی پر دلی سکون محسوس ہوتا ہے۔ بعینہٖ بھلے لوگ موجودہ انتخابات میں ”طوعاً و کرہاً“ حصہ لیتے ہیں۔ ہر ہر قدم پر اس میدان میں روحانی کوفت کا سامنا ہوتا ہے۔ زندہ ضمیر پر اس قدر بوجھ پڑتا ہے کہ اگر قدرت نے اس میں لچک نہ رکھی ہو تو یہ بہت جلد دم توڑ دے۔

ایک امیدوار کو وہ سب کچھ کہنا پڑتا ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ ایک ووٹر وہ سب کچھ کرتا ہے جو اسے کرنا نہیں چاہئے۔ فریقین ایک دوسرے کو خوب جانتے اور پہچانتے ہیں۔ مگر منافقت کے نئے چولے پہن لینے میں ذرا عار محسوس نہیں ہوتی۔ انتخابات کے دنوں میں دولت اور آبرو دونوں ناچتی ہیں۔ ایمان اگر ہو تو اس کا الگ کچومر نکلتا ہے۔ ووٹ دیتے وقت عورتیں دس دس خاوند بدلتی ہوں تو نمائندے یہی ہوں گے جن کا آج رونا رویا جاتا ہے۔ بہرحال ہم نے عرض کیا کہ رائے کا حق جو ایک نعمت ہے لعنت بن کر رہ گیا ہے۔ صورتحال یہ ہو تو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری انتخابات میں کیونکر حصہ لیں؟ اور کون ہے جو انہیں مجبور کرے اور کہے کہ آئیے ہاتھ بٹائیے۔ ”یہ کارِ خیر“

صفحہ ۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے اس کارخیر کو شاہ صاحب نے خوب دیکھ اور پرکھ لیا ہے۔ ہزار قسم کے فسادات الیکشن ہی کے موسم میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی اور یہی مجبوری تھی جس کے پیش نظر حضرت شاہ صاحب نے مجلس احرار کے رفیقوں کو یہ حکم دیا کہ اس سیاست پر تین حرف بھیجو۔ یہ دھندا مسلم لیگ ہی کو چلانے دو۔ آؤ مل کر دین کی خدمت اور تحفظ ختم نبوت کے میدان میں بنیادی مسئلے کی تبلیغ کریں۔ دنیا ٹھیک ہونے سے رہی، عاقبت کو تو بچائیں۔ بات کہاں سے کہاں جانکلی۔ یہ عرض کر رہا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا اعلان ہوا۔ امیدوار اچکنوں اور شیروانیوں پر برش پھیرنے لگے۔ جنہیں خدا نے زیادہ توفیق دے رکھی تھی وہ نئے سوٹ سلوانے لگے۔ مجلس احرار کا واضح اعلان موجود تھا کہ اسے سیاست سے کوئی واسطہ نہیں۔ مگر انتخابات کے بارے میں ایک شرط تھی کہ مرزائی اگر مسلمانوں کی نمائندگی سے باز رہیں تو پھر ہمارے سیاستدان جانیں اور ان کا کام اور اگر مرزائیوں نے مسلمانوں کے ووٹ پر میدانِ انتخاب میں قدم رکھا تو احرار تیار کھڑے ہیں۔ وہ بیچ کھیت مرزائیوں کا مقابلہ کریں گے۔ تجویز میں چونکہ احرار کارکنوں کو ہدایت موجود تھی کہ اگر سیاست میں احرار کا کوئی کارکن حصہ لینا چاہے تو اسے مسلم لیگ کے کیمپ میں کام کرنا چاہئے۔ اس بناء پر احرار نے انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ کو واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ہمیں تو الیکشن لڑنا نہیں ہے۔ ہمارے سیاسی کام کرنے والے مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے۔ بشرطیکہ مسلم لیگ جو مسلمانوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے مرزائیوں کو مسلم لیگ کا ٹکٹ نہ دے۔ احرار کی یہ شرط بڑی وزنی اور بڑی جاندار تھی۔ گمانِ غالب یہی تھا کہ مسلم لیگ مرزائیوں کو ٹکٹ نہ دے گی۔ بحیثیت صدر مجلس احرار اسلام پاکستان میں نے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو مجلس احرار کی پوزیشن ذہن نشین کرا دی تھی۔ اخبار آزاد میں باقاعدہ اعلان بھی ہوتا رہا کہ دیکھنا مسلم لیگ مسلمانوں کی جماعت ہے۔ مرزائی غیر مسلم ہیں۔ مسلم لیگ کا ٹکٹ مرزائی کے ہاتھ میں جانے نہ پائے۔ اگر خدانخواستہ مسلم لیگ نے کسی مرزائی کو اپنا ٹکٹ دیا تو احرار اس مرزائی (مسلم لیگی) کی سخت مخالفت کریں گے۔ ایسے مرزائی امیدوار کے مخالف جو بھی مسلمان امیدوار کھڑا ہوگا احرار حتی المقدور اس کی امداد کریں گے۔ امیدوار مسلمان ہونا چاہئے۔ ختم نبوت پر اس کا صحیح عقیدہ ہو۔ خواہ وہ کسی جماعت سے متعلق ہو۔ احرار کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ مرزائی امیدوار کے مقابلے میں اس کی امداد کی جائے گی۔ اس واضح اعلان کے بعد اگر پھر بھی مسلم لیگ کے رہنما مغالطے میں رہیں تو احرار کیا کریں؟

قائد ملت لیاقت علی مرحوم کی تشریف آوری

نوابزادہ مرحوم ہفتہ بھر کے تقاضوں اور سخت انتظار کے بعد لاہور تشریف لائے تو مسلم لیگ کے سوکھے دہانوں میں گویا پانی آگیا۔ نوابزادہ مرحوم بڑی باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا اچھا خاصہ رعب تھا۔ الیکشن باز خوشامدیوں کے ٹھٹھ لگ گئے۔ لاٹھیوں سے ناپ کر خریدی ہوئی کاروں کی قطاریں سڑکوں پر دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ الیکشن کے امیدوار بڑی ٹھاٹھ سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ غرضیکہ لاہور میں بڑے بڑے لوگ آ موجود ہوئے۔ مخلص مگر غریب مسلم لیگی وہاں بھی دھکے کھا رہے تھے۔ سبھی حضرات امیدوں بھرا دل تسلی کے ہاتھ سے سنبھالے پھرتے تھے۔ لوگوں نے بڑے پیر کی منتیں بھی مانی ہوں گی۔ ہمیں اب تک وہ نظارہ بھولا نہیں۔ ایک دوست ہمیں بطورِ تبرک اپنی موٹر میں بٹھا کر لے گئے تھے۔ بہرحال ٹکٹوں کی تقسیم سے پہلے ہم نے نوابزادہ مرحوم کے معتمد علیہ کی معرفت پیغام بھیجا کہ: ”ہماری گزارشات نہ بھولئے گا۔ دیکھنا مسلم لیگ کا ٹکٹ مرزائی کو نہ دیجئے گا۔ مرزائیوں کو الیکشن کے لئے کھلا چھوڑ دیجئے۔ ہم ان سے نمٹ لیں گے۔ ہمیں تسلی دی گئی کہ کسی مرزائی کو مسلم لیگ کا ٹکٹ نہ دیا جائے گا۔ آپ مطمئن رہیں۔ چونکہ وعدہ خان لیاقت علی خان مرحوم کا تھا۔ اس

صفحہ ۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے ہم مطمئن ہو گئے۔ دو تین روز درخواستوں کی جانچ پڑتال ہوتی رہی۔ اس عرصے میں میں نے میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ اور مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری جناب یوسف خٹک سے ملاقات کی۔ میں مطمئن تھا۔ میں نے احباب کو مطمئن کر دیا۔ صورتحال یہ تھی کہ مسلم لیگ اگر مرزائی کو ٹکٹ نہیں دیتی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ مرزائی کو مسلمان نہیں سمجھتی۔ ہمیں اپنی فتح سامنے نظر آ رہی تھی۔‘‘

مسلم لیگ نے ٹھوکر کھائی

جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں ٹکٹوں کی تقسیم کے بارے میں یہ طے ہو چکا تھا کہ مسلم لیگ کسی مرزائی کو اپنا انتخابی نمائندہ نامزد نہ کرے گی۔ فرداً فرداً درخواستوں پر غور ہوا مسلم لیگ کے راہنماؤں کی محبوبیت کو خطرہ لاحق تھا۔ کسے قبول اور کسے رد کریں؟ ذمہ دار اور با اثر لوگوں کی ناراضگی اور مخالفت کیسے قبول کی جائے؟ باہمی مشورہ ہوا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے مشورے سے خان لیاقت علی خان مشکلات کے اس بھنور سے نکل گئے۔ طے یہ ہوا کہ ہر ضلع کی مسلم لیگ سیٹوں کی تعداد کے مطابق پورے ضلع کے امیدواروں کو نامزد کر کے سفارش کرے تاکہ خان لیاقت علی خان مرحوم منظوری کی آخری مہر ثبت کر کے نامزد امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیں۔ گویا گروپنگ سسٹم کے ذریعے ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ ہو گیا۔

تین مرزائی امیدوار آگئے

جب ضلع وار فہرستیں آ گئیں تو نوابزادہ صاحب نے منظوری دے کر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ ان فہرستوں کے ذریعے تین مرزائی کنکر بھی مسلمان موتیوں میں بندھ گئے۔ جونہی ان مرزائیوں کے ناموں کا اعلان ہوا احباب نے مجھے دفتر میں آ پکڑا۔ وہ سخت برہم تھے۔ انہوں نے غصے کے چھاج میں مسلم لیگ اور اس کے لیڈروں کے ہمراہ مجھے بھی ڈال لیا اور پھٹکنے لگے۔ مجھے مسلم لیگ کی اس حرکت پر تاؤ تو بہت آیا مگر میں نیلوفری طبیعت کا انسان ہوں۔ ایسے موقعوں پر زیادہ محتاط ہو جاتا ہوں۔ میں نے مختلف زاویوں سے سوچنا شروع کیا۔ ظاہر ہے کہ مسلم لیگ کا موجودہ فیصلہ ہماری منشاء کے خلاف اور مرزائیوں کی خواہش کے عین مطابق تھا۔ میرے سامنے ماضی کا تجربہ تھا۔ میں جانتا تھا کہ جب بھی احرار اور مرزائیوں کی ٹکر کا موقعہ آیا برطانوی کل پرزوں نے ہمیں براہ راست نبرد آزمائی کا کبھی موقع نہ دیا۔ بلکہ ہمیشہ یہی ہوا کہ برطانوی حکومت بیچ میں آ گئی۔ مرزائیوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔ خود ڈھال بن گئی۔ احرار نے غصے میں برطانوی پہاڑ سے ٹکر لی۔ زخمی ہو کر نڈھال ہوئے۔ جونہی زخموں کا اندمال ہوا۔ سنبھلے اور پھر ٹکر لی۔ یہی کچھ ہوتا رہا۔ مرزائیت پھلتی پھولتی رہی۔ برطانوی مالی نے اپنے پودے کو خوب پالا پوسا۔ اس تجربے نے مجھے دوسرے طریقے پر چلنے اور مختلف زاویہ نگاہ سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ حضرت شاہ صاحب موجود تھے۔ وہ کسی مسلمان کا مکان چالیس روپیہ ماہوار پر لے کے ملتان میں آباد ہو چکے تھے۔ میں اگر ملتان جاتا تو اس نازک مرحلے پر دو دن کی غیر حاضری میں مسلم لیگ کی اس بے سمجھی کا بہت برا نتیجہ نکل سکتا تھا۔ یعنی یہ کہ احرار کارکن مسلم لیگ سے بیزاری کا اعلان کر دیتے۔ مرزائیوں کی بن آتی۔ احرار کو مسلم لیگ سے لازماً جنگ کرنا پڑتی۔ میں نے احباب سے کہا کہ مجھے مہلت دو۔ ہم تنہا جنگ و پیکار کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اس لئے ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلانا ہو گا یا کم از کم حضرت شاہ صاحب سے مشورہ لازمی ہے۔ میں تنہا یہ ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ مسلم لیگ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جائے۔ احباب نے میری بات مان لی۔ مسلم لیگ کے راہنماؤں کو کچھ معلوم نہ تھا کہ گروپنگ سسٹم میں تین مرزائی بھی آ گئے ہیں۔ میں نے یوسف خٹک صاحب کو فون کیا۔ ان دنوں خٹک صاحب، نوابزادہ لیاقت علی خان

صفحہ ۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرحوم کے نفس ناطقہ تھے۔ میں نے انہیں کہا خٹک صاحب! ہمارا آپ کا تعلق ختم ہوگیا۔ جس کا مجھے بے حد افسوس ہے۔ حیران ہو کر خٹک صاحب نے فرمایا کیا کہا ماسٹر صاحب! میں نے معاملے کو صاف الفاظ میں کہہ ڈالا۔ خٹک صاحب نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور دریافت کیا کہ کیا نام ہیں؟ ان مرزائیوں کے مبلغ مولوی عصمت اللہ اور ان کے ساتھیوں کے نام بتائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ نے عصمت اللہ جیسے جغادری مرزائی کو ٹکٹ دیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے اس شخص پر کس قسم کے شبہات اور الزام ہیں۔ ہم نہ چاہتے تھے کہ جس مسلم لیگ سے کل یارانہ کیا تھا۔ آج اس سے جنگ کریں۔ مگر اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ آپ وعدہ سے منحرف ہو چکے ہیں۔ ہماری ایک شرط تھی جسے آپ نے ٹھکرا دیا۔ یہ غرور آپ کو بہت مہنگا پڑے گا۔ میں نے خٹک صاحب سے بڑی تیز کلامی کی۔ یوسف خٹک خلیق انسان ہیں۔ وہ فرمانے لگے خدا کے لئے کوٹھی پر آجاؤ۔ ورنہ میں خود لینے آؤں گا۔ میں بھی نوابزادہ صاحب سے بات کرتا ہوں۔ دانستہ کچھ نہیں ہوا۔ اس بارے میں سوچ سمجھ کر مناسب طریقہ اختیار کر لیا جائے گا۔ بتاؤ آتے ہو کہ نہیں؟ میں تو سر کے بل جانے کے لئے تیار تھا۔ یہ بلاوا میری منشاء کے عین مطابق تھا۔ میں کوٹھی پہنچا تو میاں دولتانہ موجود تھے۔ خٹک صاحب مجھے نوابزادہ صاحب سے بالمشافہ گفتگو کے لئے مجبور کر رہے تھے۔ میں کہتا تھا کہ جو غلطی ہوئی ہے اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ نہ بابا میں نہیں ملتا۔

مجھ سے پوچھا گیا کہ ٹکٹ واپس نہ لئے جائیں تو کیا کوئی ایسی صورت نکل سکتی ہے جس سے احرار مطمئن ہو جائیں اور تعلق نہ ٹوٹے۔ میں نے انکار کیا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر کوئی صورت قابل قبول نکل سکی تو کل دس بجے احباب سے دریافت کر کے بتا سکوں گا۔ یہ کہہ کر میں واپس چلا آیا۔ احباب کو جمع کیا۔ انہیں نفع و نقصان سب کچھ سمجھایا۔ ماضی کے واقعات کو دہرایا اور آخری بات یہ کہی کہ مقصد تو یہ ہے کہ مرزائیوں کو شکست دی جائے۔ اس کے لئے اگر مسلم لیگ ہماری کم از کم بات مان لے یعنی غیر جانبدار ہو جائے تو کام بن جائے۔ محبت، خلوص اور بھروسے کی بات ہے۔ احباب نے مجھے کھلی اجازت دے دی اور کہا کہ مناسب فیصلہ کر ہی لینا چاہئے۔

دس بجے سے قبل ہی خٹک صاحب کا فون آگیا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد انہوں نے فرمایا کہ : ”کہئے“ کیا فیصلہ ہوا؟ میں نے کہا کہ فیصلہ تو آپ نے کر ہی دیا ہے۔ اب کیا فیصلہ ہوگا۔ بھئی خٹک صاحب میرے دوست بہت بگڑ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ والوں کا اعتبار ہی کیا ہے۔ ادھر بات کرتے ہیں۔ ادھر مکر جاتے ہیں۔ مسلم لیگ کے لیڈروں نے وعدہ کیا تھا کہ مرزائیوں کو ہرگز ٹکٹ نہ دیں گے۔ اب ایک چھوڑ تین کو ٹکٹ دیئے ہیں۔

خٹک صاحب نے بڑی محبت سے مجھے کہا کہ میری خاطر آپ آجائیں اور بات کرلیں۔ میں تو دل سے چاہتا تھا کہ بات طے ہو جائے۔ چنانچہ میں گیا تو یہ طے ہوا کہ ٹکٹ تو بڑی عیاری سے مرزائیوں نے حاصل کر ہی لئے ہیں۔ مگر مسلم لیگ ان کی کوئی مدد نہ کرے گی۔ احرار کو حق ہے کہ وہ ان کی مخالفت کریں۔ میں یہی چاہتا تھا یہ ہو گیا۔

چک جھمرہ میں مرزائیوں کی غنڈہ گردی (اور مولانا محمد علی جالندھری)

احرار نے مرزائیوں کے خلاف انتخابی مہم کا آغاز کر دیا۔ احرار کے سحر آفرین مقرر اور اردو و پنجابی کے شاعروں نے مرزائیت کی متعفن لاش کا پوسٹ مارٹم کرنا شروع کیا۔ کانفرنسیں اور جلسے ہونے لگے۔ مولانا محمد علی جالندھری جید عالم، انتہائی جفاکش، بڑے منتظم اور پتے کی بات کہنے والے بہترین مقرر ہیں۔ پنجابی زبان میں ان کی تقریر ماسٹر پیس ہوتی ہے۔ وہ اردو میں بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔ مگر

صفحہ ۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اردو کی تقریر میں پنجابیت کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہ جس انداز میں اپنا مافی الضمیر سمجھاتے ہیں یہ انہی کا حق ہے۔ ان کی تقریر عام فہم ہوتی ہے۔ مگر جب وہ تقریر کرتے ہوئے چھا جاتے ہیں تو جاہل بھی جھومتا ہے۔ عالم پر بھی وجد طاری ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو احباب ان کا منہ تکنے لگتے ہیں کہ یہ سیدھا سادھا دیہاتی مولوی محمد علی بول رہا ہے۔

مولانا محمد علی جالندھری کے ساتھ سفر کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔ جب اپنا پروگرام بناتے ہیں تو اسے اس قدر ٹائٹ کرتے ہیں کہ اگر گاڑی لیٹ ہو جائے تو سارا کھیل خراب ہو جاتا ہے۔ مگر مولانا اپنے پروگرام کو ایسی صورت میں بھی ادھورا نہیں چھوڑتے۔ دس میل سائیکل پر سفر کرنا پڑے تو وہ تیار ہیں۔ دو چار میل پیدل چلنا پڑے تو انہیں انکار نہیں۔ کھانے کو ملے یا نہ ملے تو جو کچھ ہو کبھی ناک بھوں نہیں چڑھاتے۔ ہمارے ان مرد مجاہد نے چک جھمرے کا پروگرام بنایا۔ ٹائم ٹیبل دیکھا ہوگا۔ بیچ میں چک جھمرہ نظر آیا۔ فیصلہ کر لیا۔ جاتے جاتے یہاں بھی ایک تقریر کر جائیں۔ اطلاع کے مطابق جلسے کا اعلان ہو گیا۔ چک جھمرہ کی منڈی پر مولوی عصمت اللہ مرزائی کا ایسا رعب تھا کہ منڈی کے شریف مسلمان آڑھتی عصمت اللہ کے منہ آتے کتراتے تھے۔ حد یہ ہے کہ مالکوں سے دریافت کئے بغیر مولوی عصمت اللہ نوکر کو حکم دیتے تھے کہ کرسی اٹھا لاؤ۔ چارپائی کھینچ کر لے آؤ۔ ہم ذرا آرام کریں گے۔ کسی کو انکار کی جرأت نہ تھی۔ یہی مولوی عصمت اللہ چک جھمرے کی سیٹ کا مسلم لیگی امیدوار تھا۔

مولانا محمد علی حسب اعلان جلسہ گاہ میں پہنچے۔ یہ جلسہ بازار ہی میں ہو رہا تھا۔ بیچ میں تخت پوش بچھا کر کچھ دریاں وغیرہ بچھائی گئی تھیں۔ جونہی مولانا نے سٹیج پر پہنچ کر تلاوت شروع کی۔ عصمت اللہ صاحب آ دھمکے۔ فرمانے لگے یہاں جلسہ نہیں ہو سکتا۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ میں تو ضرور تقریر کروں گا۔ مجھے تقریر سے کون روک سکتا ہے؟ مولانا نے یہ سمجھا کہ مولوی عصمت اللہ کوئی بہت ہی شریف آدمی ہے۔ آداب محفل سے آشنا ہے اور قانون کی پابندی اپنے پر یہ فرض سمجھتا ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ یہ شخص قتل کی وارداتوں میں ماخوذ رہ چکا ہے اور چک جھمرے میں اس نے اپنا رعب جما رکھا ہے۔ مولوی عصمت اللہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ مولانا محمد علی نے کھدر کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ چادر سے پکڑ کر نیچے اتار لیا۔ لوگوں نے بیچ بچاؤ کر دیا۔ سب احباب کا مشورہ یہ ہوا کہ جلسہ ملتوی کر دیا جائے۔ جب ساتھی یہ فیصلہ کر لیں تو مولانا ضدی تو نہ تھے کہ اڑ جاتے اور لفنگے پن کا اسی وقت خاطر خواہ جواب دیتے۔ جلسہ ختم ہو گیا۔ بہر حال مولانا نے عصمت اللہ سے کہہ دیا کہ یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا اور ہم فلاں دن جلسہ کر کے اس کا آپ کو جواب دیں گے۔

لیگی رہنماؤں کی بے خبری

دو دن بعد نوابزادہ لیاقت علی خاں مرحوم کے انتخابی دورے کا پروگرام اخبارات میں شائع ہوا۔ وہ لیگی امیدواروں کے حلقہ ہائے انتخاب میں ایک ایک تقریر کرنا چاہتے تھے۔ اس پروگرام میں چک جھمرہ کا دورہ شائع ہوا تو میں دوڑا دوڑا نوابزادہ مرحوم کے پاس پہنچا۔ خٹک صاحب نے فرمایا۔ رات زیادہ دیر تک جاگتے رہے۔ وہ اس وقت سو رہے ہیں۔ میں نے چک جھمرے کے دورے کا ذکر کیا اور خٹک صاحب سے یہ کہہ کر چلا آیا کہ اگر نوابزادہ صاحب چک جھمرہ جائیں گے تو ہمارا اور مسلم لیگ کا ناتہ ٹوٹ جائے گا۔ نوابزادہ صاحب سے ایچ پیچ کے بغیر ہماری طرف سے کہہ دیجئے۔ اگر وہ دورہ منسوخ کر دیں تو ہمیں یقین ہو جائے کہ یہ تعاون دلی ہے اور نوابزادہ صاحب بات کے پکے ہیں۔ میں یہ کہہ کر واپس چلا آیا۔ دو گھنٹے بعد خٹک صاحب نے مجھے فون پر کہا کہ آؤ جلدی آؤ اور ایک خوشخبری سن جاؤ۔ کوٹھی

صفحہ ۱۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پہنچ کر معلوم ہوا کہ چک جھمرہ کے اعلان پر نوابزادہ صاحب بہت برہم ہوئے۔ فرماتے تھے کہ دوروں کا پروگرام بنا کر ان لوگوں سے کیوں شرمندہ کراتے ہو؟ احرار والے کیا کہیں گے۔ لیگ کے رہنما کیسی باتیں کرتے ہیں؟ چنانچہ دورہ صرف چک جھمرے کا منسوخ کر دیا۔ باقی دورہ اس طرح رہنے دیا۔ اگر سارا دورہ منسوخ کر دیا جاتا تو ہمارا کام ادھورا رہ جاتا۔ اب ہمیں عصمت اللہ کی نشست پر کام کرنے کا موقعہ مل گیا۔ چک جھمرے میں احرار کے پہلے جلسے کا واقعہ آپ پڑھ چکے ہیں۔

چک جھمرے میں دوسرا جلسہ

مولوی عصمت اللہ مرزائی کی اس نامعقول حرکت کی اطلاع جب مرکز میں پہنچی تو احرار کا سارا کیمپ تلملا اٹھا۔ احرار کے لئے اچنبھے اور حیرت کی بات تھی کہ وہ جلسہ کریں اور کوئی ہونے نہ دے۔ مرزائی بے چارے کی تو بات ہی کیا تھی۔ لاہور کے تمام کارکن اور رضا کار جمع ہوئے۔ میٹنگ ہوئی ، وہیں فیصلہ ہوا کہ چک جھمرہ میں جلسہ ہوگا اور مجھے حکم ہوا کہ صدر صاحب! تم کو وہاں چل کر تقریر کرنا ہے۔ ہمارے ہاں کبھی کبھی رہنماؤں کی بجائے نوجوان سالاروں کی لیڈری بھی چل جایا کرتی ہے۔

تیاری ہوگئی۔ ایک روز پہلے اعلان ہو گیا کہ چک جھمرہ کے کھلے میدان میں احرار کا جلسہ عام ہوگا۔ تقریباً سو رضا کاروں کا دستہ ریل کے ذریعے چل پڑا۔ لائل پور کے رضا کار اور ہمارے دوسرے معزز رفیق خواجہ جمال الدین بٹ کی سرکردگی میں چک جھمرے کے لئے سوار ہو گئے۔ جونہی گاڑی چک جھمرہ اسٹیشن پر پہنچی سٹیشن کی فضا تحفظ ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ میں ابھی گاڑی میں تھا کہ باہر ایک واقعہ بھی ہو گیا۔ مولوی عصمت اللہ کے بیٹے چند غنڈوں کو ہمراہ لے کر ریلوے اسٹیشن پر فساد کی نیت سے آگئے۔ جب احرار رضا کاروں نے تحفظ ختم نبوت کا نعرہ لگایا تو مرزائیوں نے کہا ”مردہ باد“ ختم نبوت کے خلاف اس قسم کا پاجیانہ نعرہ سننے کے لئے احرار کا ادنیٰ رضا کار بھی تیار نہ تھا۔ حکم ہوا ”بزن“ دونوں مرزائی پلیٹ فارم پر لیٹے ہوئے، ہائے ہائے کر رہے تھے۔ باقی غنڈوں نے جب دیکھا کہ احرار رضا کار باز کی طرح جھپٹ پڑے ہیں وہ دم دبا کر بھاگ گئے۔ گاڑی سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا ایک جگہ ہمارے کچھ رضا کار جمع ہو رہے ہیں۔ دریافت پر واقعہ معلوم ہوا تو میں نے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر واپس بلا لیا۔ ہمارا ہجوم سٹیشن سے باہر نکلا تو احرار کے چند فدائی پھولوں کے ہار بھی لے آئے۔ سلامی کے طور پر دو چار فائر بھی ہوئے۔ عصمت اللہ کے لڑکے خدا جانے واپس چلے گئے یا وہیں رہے۔ ہم بازار سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ کی جانب جلوس کی شکل میں چل پڑے۔ سنا ہے کہ عصمت اللہ نے اپنے قماش کے چند ساتھیوں کو باہر سے معہ رائفلوں کے بلا لیا تھا۔ انہیں بھی قریب ہی کہیں کسی مکان میں بٹھا رکھا تھا۔ ہماری اس سلامی میں بندوقوں سے جو فائر ہوئے تو عصمت اللہ کے وہ ساتھی بھی رفو چکر ہو گئے۔ عصمت اللہ نے تو انہیں شاید یہی کہا ہوگا کہ چند احراری مولوی آ رہے ہیں۔ ان کی خاطر تواضع کرنا مقصود ہے۔ مگر بندوقوں کے فائر ہوئے تو وہ نو دو گیارہ ہو گئے۔ جلسہ گاہ میں کافی لوگ آگئے۔ کیونکہ عصمت اللہ کا رعب خاک میں مل چکا تھا۔ تاہم بہت سے لوگ اب بھی دور دیواروں پر بیٹھے تھے کہ شاید جلسے پر عصمت اللہ حملہ کرے تو دور ہی سے بھاگ نکلنے میں آسانی ہو۔ جلسہ شروع ہوا۔ میں نے عصمت اللہ نے جو نازیبا حرکت کی تھی پہلے اس کی مذمت کی۔ پھر اصل موضوع پر اپنی عادت کے خلاف بقول شخصے ٹھوک بجا کر تقریر کر ڈالی۔ میں نے آخر میں مولوی عصمت اللہ کو چیلنج کیا کہ تم مسلم لیگ کا ٹکٹ عیاری سے آنکھ بچا کر اٹھا لائے ہو۔ اگر تم واقعی مسلم لیگ کے امیدوار ہو تو نوابزادہ لیاقت علی خاں کو اپنے حلقے میں ایک گھنٹے کے لئے لے آؤ۔ اگر تم ان کو لے آؤ تو ہم ہتھیار ڈال

صفحہ ۱۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیں گے اور تمہارے مخالفوں سے کہیں گے کہ وہ درخواستیں واپس لے لیں۔

جلسہ بہت ہی کامیاب ہوا۔ عصمت اللہ کی ہوا اکھڑ گئی۔ اس کا رعب جاتا رہا۔ منڈی کے آڑھتیوں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ عصمت اللہ کا نام سن کر کانپ جاتے تھے۔ لوگوں نے عصمت اللہ کو اعتراض کر کر کے زچ کر دیا۔ ہر شخص نے عصمت اللہ سے کہا کہ احرار کی بات تو سچ معلوم ہوتی ہے۔ تم اگر سچے ہو تو نوابزادہ صاحب کو لاتے کیوں نہیں؟ چک جھمرے کا دورہ شائع ہو چکا تھا۔ تم جاؤ اور انہیں کہو کہ میں مسلم لیگ کا امیدوار ہوں۔ آپ نے میرے حلقے میں دورے کا اعلان کیا تھا۔ اب اگر آپ نہ جائیں گے تو ہوا خیزی ہو گی۔ احرار نے میرے خلاف پراپیگنڈا کر رکھا ہے۔ جاؤ اور جا کر انہیں لاؤ۔ ورنہ کام خراب ہے۔ تمہیں اب کوئی ووٹ نہ دے گا۔ عصمت اللہ دوڑا دوڑا چٹھہ صاحب کے پاس پہنچا۔ میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ سے التجائیں کیں۔ سب نے اسے مایوس کن جواب دیا بلکہ ڈانٹ ڈپٹ کر وہاں سے نکالا۔ وہ مسلم لیگ کی امیدواری کے رعب میں لائل پور کے کپتان پولیس کے ہاں پہنچا۔ وہاں سے بھی ٹکا سا جواب ملا۔ اس کے بعد عصمت اللہ مرزائی جس نے شریف مسلمانوں کو تنگ کر رکھا تھا، کٹے ہوئے پتنگ کی طرح چک جھمرہ میں چکر کاٹتا نظر آیا۔

یک نہ شد دو شد بلکہ سہ شد

یعنی احرار تو یہ مطالبہ کر چکے تھے کہ کسی ایک مرزائی کو مسلم لیگ ٹکٹ نہ دے۔ اس مطالبے کا یہ حشر ہوا کہ اکٹھے تین مرزائیوں کو مسلم لیگ کی نمائندگی کا ٹکٹ مل گیا۔ مرزائیوں نے اس پر بس نہ کیا۔ مرزا محمود کو مغالطہ بہت کم ہوتا ہے۔ کیونکہ سارے خاندان کے مغالطے کا حصہ مرزا محمود کے والد بزرگوار استعمال کر چکے تھے۔ مگر اس مرتبہ مرزا محمود نے مغالطہ کھا ہی لیا۔ تین ٹکٹ مسلم لیگ کے وصول کر لینے کے بعد الیکشن کی گاڑی میں آٹھ بے ٹکٹ مرزائی سوار کرا دیئے۔ احرار کو مرزائیوں کے اس دوغلے پن سے نقصان کی بجائے فائدہ ہوا۔ کام تو بڑھ گیا۔ مگر پراپیگنڈا بہت وزن دار ہو گیا۔ مرزائیوں کے اس بے اصولے پن کو بے نقاب کیا گیا تو عوام کے علاوہ مسلم لیگ کا سارا کیمپ مرزائیوں کے خلاف باتیں کہنے لگا۔ احرار کے تمام راہنما بلکہ خود حضرت امیر شریعت بھی حلقہ ہائے انتخاب کا دورہ کرنے لگے۔ احرار کی بات دو طرح سے وزن دار تھی۔ سب سے بڑا اثر تو اسلام کے بنیادی عقیدے کا تھا۔ اس اثر میں دوسری کشش یہ تھی کہ احرار نے انتخاب کے میدان میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگا۔ احرار نے انتخابات سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔ اب اس خلوص اور نیک نیتی کے خلاف مرزائی کیا کر سکتے تھے؟ ان کے پاس دولت تھی مرزائی حکام کا اثر تھا۔ خلافت کی دعائیں اور مرزا محمود کے آئے دن کے عمدہ عمدہ خواب تھے۔ احرار، اللہ کی خوشنودی کے لئے میدان میں اتر آئے تھے۔ وہ سنت صدیقؓ پر عمل پیرا ہو کر عشق رسول ﷺ کی باتیں کرتے تھے۔ جدوجہد کا میدان کھلا تھا جسے اللہ دے۔

مرزائیوں کے حوصلے

عصمت اللہ مرزائی، مولانا محمد علی جالندھری پر دانت پیس رہا تھا۔ اسے شاید یہ خیال ہوگا کہ یہی مولانا صاحب ہیں جن کی وجہ سے اس کی ہوا اکھڑ گئی۔ عصمت اللہ خطرناک قسم کے لوگوں میں سے ہے۔ اس کے تعلقات بھی اس قسم کے تھے۔ مولانا محمد علی صاحب چک جھمرہ کے حلقہ انتخاب میں دورے پر نکلے۔ وہ ایک گاؤں سے تقریر کے بعد اگلے پروگرام پر جا رہے تھے۔ انہیں راہ میں ٹھہرنا پڑا۔ عصمت

صفحہ ۱۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اللہ اور اس کے ساتھیوں نے مولانا محمد علی صاحب کا پیچھا کیا۔ یہ لوگ جیپ یا کار میں سوار تھے اور مسلح بھی تھے۔ مولانا نے اتفاقیہ پروگرام بدلا مگر عصمت اللہ کی پارٹی نشاندہی کے مطابق دوسرے گاؤں میں جہاں مولانا کو جانا تھا جا پہنچی۔ وہاں لوگوں سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب تو نہیں آئے؟ نفی میں جواب پا کر عصمت اللہ کی پارٹی ناکام واپس ہو گئی۔ انہیں کیا معلوم کہ مولانا کو وہ راستے کے چھوٹے گاؤں میں چھوڑ آئے ہیں۔

جب مولانا پروگرام کے مطابق بڑے گاؤں میں پہنچے تو گاؤں والوں نے بتایا کہ عصمت اللہ اپنے مسلح ساتھیوں کی معیت میں آپ کے تعاقب میں آیا تھا۔ مایوس ہو کر واپس ہو گیا ہے۔ اس طرح مولانا محمد علی کو محافظ حقیقی نے بچالیا۔ جو خدا اپنے حبیب کی حفاظت کے لئے مکڑی کے کمزور جالے سے کام لے سکتا ہے۔ وہ خادمان محمد ﷺ کو دشمنوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کیوں نہیں بچا سکتا۔

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت

سیالکوٹ یعنی سر ظفر اللہ کی جنم بھومی میں دردناک اور حوصلہ شکن واقعہ

سیالکوٹ تحریک کشمیر کا سنٹر تھا۔ اس لئے سیالکوٹ کو اب بھی احرار کی چھاؤنی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ احرار کے جانباز ساتھی اب بھی بہتوں پر بھاری ہیں۔ غالباً ۱۹۴۸ء اور ۱۹۴۹ء کے درمیانی وقفے کی بات ہے۔ مسلم لیگ کی حکومت جوبن پر تھی۔ مسلم لیگ والوں کو ہر غیر لیگی کیڑا مکوڑا نظر آتا تھا۔ بزرگان لیگ گھروں سے نکلتے ہی آدم بو، آدم بو کا ورد کرتے تھے۔ اپنی حکومت اپنا راج مسلم لیگیوں کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ ہمارے یہ عزیز بھائی اس وہم میں مبتلا تھے کہ کسی صورت احرار کا خاتمہ کر دیا جائے۔ مرزائیوں نے انہیں اس طرح بھڑکا رکھا تھا کہ توبہ بھلی۔ ایک روز مجھے ٹیلی فون پر سیالکوٹ سے یہ روح فرسا خبر ملی کہ شیخ عبدالکریم نائب صدر مجلس احرار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس گرفتاری سے شہر میں ہراس پھیلا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ عبدالکریم کے گھر سے ٹرانسمیٹر پکڑا گیا ہے اور یہ کہ وہ ہندوستان سے نامہ و پیام کر رہا تھا۔ لیگیوں اور عام شہریوں کا ایک ہجوم عبدالکریم کے مکان پر جمع ہو گیا۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا۔ لوگوں نے شیخ عبدالکریم کا منہ کالا کیا، تھوکا، مارا، پیٹا اور جانے کیا کچھ کیا۔

قارئین کرام! اندازہ تو لگائیے اس ٹرنک کال سے میرا کیا حال ہوا ہوگا۔ میرے دل پر کیا گزری ہوگی؟ مجھ کو یقین تھا کہ یہ تہمت ہے۔ جھوٹا الزام ہے میرے عزیز ساتھی کو محض جماعتی تعصب کی وجہ سے ذلیل کیا گیا ہے۔ میں نے فون پر جواب دیا کہ میں پہلی لاری سے آ رہا ہوں۔ جلسہ عام کا اعلان کرو میں تقریر کروں گا۔ میں سیالکوٹ اسی شام پہنچ گیا۔ لوگ سہمے ہوئے تھے۔ ساتھی پریشان تھے۔

شیخ عبدالکریم نہایت نیک، بہت ہی شریف ساتھی ہے۔ اس کا بھائی عبداللہ مرحوم تقسیم ملک کے وقت فسادات میں شہید ہو گیا تھا۔

رام تلائی میں جلسہ عام

رات کو رام تلائی کی جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ لیگی اور احراری دونوں آ گئے۔ سیالکوٹ جی دار لوگوں کی بستی ہے۔ یہاں کا مسلمان بڑا بہادر ہے۔ احرار سے انہیں محبت ہے۔ ایک وقت تھا جب سارا شہر احراری تھا۔ واقعہ یہ نہ تھا جو مشہور کیا گیا۔ ٹرانسمیٹر کا افسانہ قطعاً جھوٹا تھا۔ ایک شریف مسلمان کو اسی دھوکے میں منہ کالا کر کے بازار میں گھسیٹا گیا۔ اس واقعہ سے میرے دل کو صدمہ تھا۔ میں نے اس جلسے میں حکومت اور مسلم لیگ دونوں کو خطاب کیا اور کہا کہ احرار کہلانا اگر جرم ہے تو ایک شہر کے نائب صدر کا کیا قصور ہے۔ میں ان سب

صفحہ ۱۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا صدر ہوں اور حاضر ہوں۔ میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اس طرح احراریوں کو بازار میں گھسیٹنا، مارنا، پیٹنا اگر پاکستان کی جڑوں کو مضبوط کرنا ہے تو لو میں خود کو پیش کرتا ہوں جو سلوک عبدالکریم سے کیا گیا ہے۔ مجھ سے بھی کرو۔ میں لکھ کر دیتا ہوں کہ مجھے مار بھی دو گے تو میرے وارث یا مجلس احرار تم پر دعویٰ نہ کرے گی۔

پاکستان ہماری جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔ اسے بہر حال مضبوط ہونا چاہئے۔ جلسہ گاہ میں شریف اور سمجھدار اور مسلم لیگیوں نے بھی توبہ توبہ کرنا شروع کی۔ مجھے اس ایک واقعے کی فکر نہ تھی۔ میرے پاس مختلف مقامات سے اطلاعات آ رہی تھیں کہ احرار کارکنوں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت مہاجروں کو آباد کرنے کی بجائے احرار کو برباد کرنے کی فکر میں گھلی جارہی تھی۔ اس واقعے کے بعد میں نے ذمہ دار افسران اور اعلیٰ حکام سے تبادلہ خیال کیا اور انہیں سمجھایا کہ مسلم لیگ کے اقتدار کا نشہ چار دن بعد اتر جائے گا۔ احرار وطن کے خادم ہیں۔ انہیں بیگانہ وار دیکھنا اچھا نہیں۔ یہ ناانصافی اور ظلم ہے اور ظلم کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔

دوسرا واقعہ

احرار کی تبلیغ کانفرنسیں مرزائیت کے زہر کا تریاق ثابت ہوئیں۔ مرزائیت بے نقاب ہونے لگی۔ اس عرصہ میں خلیفہ محمود نے صلاح مشورے کئے۔ ان مشوروں میں مرکزی کھونٹے کا سہارا بھی لیا گیا۔ بالآخر مرزائیت لنگ لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی۔ یعنی مرزا محمود نے کھلے بندوں مرزائیت کی تبلیغ کا فیصلہ کر لیا۔

سیالکوٹ میں مرزائیوں کا جلسہ عام

مسلمانوں کے لئے یہ اعلان باعث حیرت و استعجاب تھا۔ خصوصاً سیالکوٹ کے جیالے مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ ان کی غیرت اسلامی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مگر مرزا محمود نے بہت ہوشیاری سے کام لیا۔ اس جلسے کی پشت پناہی مرزا محمود ربوہ (چناب نگر ) سے خود فرما رہے تھے۔ مرکز میں سرظفر اللہ کی ہمدردیاں موجود تھیں۔ آپ اندازہ تو لگائیے کہ جلسے کے لئے کس شہر کو منتخب کیا گیا۔ سرظفر اللہ خاں دوہرے جذبے سے سرشار ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ مرزائیت کیل کانٹے سے لیس ہو کر پہلی بار میدان میں اتر رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ جلسہ ان کی جنم بھومی میں ہو رہا ہے۔ چنانچہ ربوہ (چناب نگر) میں فیصلہ ہوا کہ صدارت کے فرائض سرظفر اللہ خان کے چھوٹے بھائی اسد اللہ خاں (قادیانی) انجام دیں گے۔

غالباً جنوری ۱۹۴۹ء کا ذکر ہے جب گوجرہ ضلع لائل پور میں احرار کی تبلیغ کانفرنس ہو رہی تھی۔ ہمیں وہیں کانفرنس کے پنڈال میں معلوم ہوا کہ سیالکوٹ میں مرزائی جلسہ عام کر رہے ہیں۔ الہی! اب کیا ہوگا؟ یہ کیسا پاکستان ہے جس میں برسر عام ”لا نبی بعدی“ کے ارشاد کو جھٹلایا جائے گا۔ ہم سخت پریشان ہوئے۔ ہمیں گوجرہ ہی میں مرزائیوں کا پوسٹر دکھایا گیا۔ جس میں مسلمانوں کو جلسہ عام میں شمولیت کی دعوت کے ساتھ یہ بھی درج تھا کہ اس جلسہ میں ختم نبوت کا اقرار اور اعلان کیا جائے گا۔ ختم نبوت پر تقریریں ہوں گی۔ اس پوسٹر کے جواب میں سیالکوٹ کے احرار نے اعلان کیا کہ دعوت منظور ہے۔ اگر مرزائی واقعی نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں تو چشم ما روشن دل ما شاد، اور اگر یہ بات غلط ہے اور مرزائیوں نے منافقت سے کام لیا تو احرار اس کا جواب دیں گے۔ یہ پوسٹر بھی مرزائیوں کے (پوسٹر کے) برابر چسپاں ہو گیا۔ شہر میں ایک ہلچل ہوئی اور یہ قدرتی بات تھی۔

صفحہ ۱۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیوں کی جانب سے فساد کا پروگرام

مرزائیوں نے اعلان کر دیا کہ کوئی مرزائی عورت جلسے میں نہ آئے۔ مرزا محمود نے الفضل کے ذریعے تمام اضلاع کے مرزائیوں کو کہلا بھیجا کہ سیالکوٹ چلے آؤ۔ چنانچہ جلسے کے دن کبوتروں والی قادیانی عبادت گاہ سے مرزائیوں کا بہت بڑا ہجوم لاٹھیوں، تلواروں اور بندوقوں سے مسلح ہو کر مظاہرہ کرتا ہوا نکلا۔ تاکہ سیالکوٹ میں ہراس پھیل جائے۔ لوگ مرعوب ہو جائیں۔ اس طرح یہ غازیان مرزائیت دندناتے ہوئے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ اس جلسہ گاہ کے ایک کنارے پر زخمیوں کی مرہم پٹی کے لئے ڈسپنسری کھولی گئی۔ جس میں فرسٹ ایڈ کا تمام سامان موجود تھا۔ اس ڈھنگ سے مرزائیوں نے پاکستان میں تبلیغ مرزائیت کا افتتاح کیا۔

جلسہ شروع ہوا

اسد اللہ خان برادر سر ظفر اللہ خاں نے کرسی صدارت کو رونق بخشی اور اللہ دتہ جالندھری نے تقریر شروع کی۔ جب اللہ دتہ جالندھری نے یہ کہا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت تو ختم ہو گئی۔ اب غلام احمد کی نبوت جاری ہے تو جلسہ گاہ کے ایک کنارے سے حافظ محمد صادق رہنمائے احرار سیالکوٹ نے اعتراض کیا اور فرمایا کہ مولوی اللہ دتہ صاحب آپ نے اس جملے سے نبی کریم ﷺ کی توہین کی ہے۔ آپ تو کہتے تھے اور آپ نے پوسٹر میں لکھا بھی کہ آپ ختم نبوت پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ اب آپ منافقت سے کام لے رہے ہیں۔ مسلمانوں نے بیک زبان حافظ صاحب کی تائید کی صدر جلسہ اسد اللہ خان نے متکبرانہ انداز میں کہا۔ ”نہیں سننا چاہتے ہو تو جلسے سے چلے جاؤ۔ حافظ صاحب نے کہا کہ آپ نے دعوت دے کر مسلمانوں کو بلایا۔ اب آپ کہتے ہیں کہ چلے جاؤ۔ آپ نے ہمیں جلسہ عام میں بلا کر بے عزتی کی ہے۔ ابھی یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک مسلح مرزائی نے ایک مسلمان پر چاقو سے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔ ایک اور مرزائی نے لاٹھی چلائی جس سے ایک اور مسلمان زخمی ہو گیا۔“

سٹی مجسٹریٹ اور پولیس گارڈ کی آمد

اتنے میں سٹی مجسٹریٹ اور پولیس بھی آ موجود ہوئی۔ حافظ صاحب نے مجسٹریٹ صاحب سے کہا کہ ان لوگوں نے یہ جلسہ محض فساد کے لئے منعقد کیا ہے۔ ان کے ارادے بد ہیں۔ یہ نبی کریم ﷺ کا نام لے کر جلسہ عام میں توہین کرتے ہیں۔ آپ اس جلسہ کو بند کرا دیجئے۔ بڑی ردوکد کے بعد جلسہ بند کرا دیا گیا۔ مگر حافظ محمد صادق، سالار بشیر، عبد الغفور بٹ اور عبدالمجید کو گرفتار کر لیا گیا۔ فضا ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ان گرفتاریوں پر سیالکوٹ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مگر احرار کارکنوں اور رضا کاروں نے رات بھر پہرہ دیا۔ لوگوں کو صبر کی تلقین کی۔ مرزائیوں کی یہ سکیم کہ وہ شہر شہر جلسہ عام میں مسلمانوں کو مرتد کرنے کی تبلیغ کریں گے، ناکام ہو گئی۔ سیالکوٹ کے احباب نے ”گربہ کشتن روز اوّل“ کے مصداق پہلے ہی جلسہ میں مرزائیوں کی عیاری اور منافقت کو بے نقاب کر دیا۔

تیسرا واقعہ

انتخابی مہم شروع ہوئی جیسا کہ عرض کیا گیا تین مرزائی تو مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑے تھے۔ آٹھ مرزائی بے ٹکٹ یعنی مرزائیت کے ٹکٹ پر کھڑے ہو گئے۔ احرار کو گیارہ حلقوں میں کام کرنا پڑا۔ لائل پور اور سیالکوٹ میں مقابلہ سخت تھا۔ سیالکوٹ میں سر ظفر اللہ خان کے ہم زلف شاہ نواز صاحب، خاں بہادر مشتاق احمد مسلم لیگی امیدوار کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے۔ شاہ نواز صاحب کو پاکستان میں

صفحہ ۱۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دولت کمانے کا خوب موقعہ ملا۔ کچھ دولت کا بھروسہ، کچھ ہم زلف کا سہارا۔ اس میاں صاحب نے اپنے علاقے میں خوب اودھم مچایا۔ اس علاقے میں ہمیں کئی ایک جلسے کرنے پڑے۔

ایک جلسہ میں سید فیض الحسن شاہ صاحب، مولانا محمد حیات صاحب اور مجھے شامل ہونے کا موقع ملا۔ یہاں شاہ نواز صاحب کے بھائی اپنے ساتھیوں کو لے کر آ دھمکے۔ وہ بار بار پستول دکھاتے تھے۔ علاقے کے مسلمان ان سے مرعوب تھے۔ جس گھر میں ہم ٹھہرے تھے، وہ مسلمانوں کا گھر تھا۔ اس کے رشتہ دار مرزائی تھے۔ یہی شاہ نواز ان کے برادری والے تھے۔ دیہاتوں میں برادریوں کا سلسلہ بہت چلتا ہے۔ صاحب خانہ نے ہمیں کہا کہ آپ اب جلسہ ملتوی ہی کر دیں۔ جلسہ گاہ میں گڑبڑ کے بعد دیہاتیوں کی آپس میں چلنے لگی۔ مگر ہم نے انہیں لڑنے نہیں دیا۔ شاہ نواز کے بھائی نے صاحبزادہ کو بھی مرعوب کرنا چاہا۔ اس روز ہمیں معلوم ہوا کہ صاحبزادہ کے سینے میں کتنا بہادر اور جری دل ہے۔ مرزائی پستول دکھا رہا تھا۔ صاحبزادہ صاحب، حقارت کی ہنسی سے اسے ذلیل کر رہے تھے۔ مڈبھیڑ نہ ہوئی۔ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ جلسہ برخاست کر کے ہم نے وہیں اعلان کیا کہ یہاں چند روز کے بعد پھر جلسہ ہوگا جسے الٹنا ہے یا زور آزمائی کرنا ہے۔ اسے چوکنا رہنا چاہئے۔ اس روز ضرور آ جائے ہم نے باقاعدہ دن تاریخ اور وقت کا اعلان کر دیا۔ اس عرصہ میں ہم نے اردگرد کے دیہاتوں میں جلسے کر کے بے پناہ پراپیگنڈا کیا۔ چنانچہ تاریخ مقررہ پر جب دوبارہ اسی گاؤں میں جلسہ ہوا جہاں مرزائیوں نے دھاندلی مچائی تھی تو ہجوم اس قدر تھا کہ لوگ دور دور تک کھیتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس تاریخی جلسے میں شمولیت کے لئے دس دس میل کے فاصلے سے لوگ کافی تعداد میں آگئے۔ سیالکوٹ کے احرار کارکن اور رضا کار بھی پہنچ گئے۔ چاروں طرف سے مسلمان گروہ در گروہ نعرے لگاتے ہوئے آ رہے تھے۔ مرزائی حضرات دیکھنے کو نظر نہ آئے۔ ان کی تمام کر و فر ختم ہو گئی۔ جلسہ بہت ہی کامیاب ہوا۔ اس جلسے کی کامیابی کے بعد مرزائیت کے پاؤں اکھڑ گئے۔ احرار نے مرزائیت کے خلاف ٹھوس پراپیگنڈا کے لئے پروگرام بنالیا۔ احرار کے لئے فضا سازگار ہوتی چلی گئی۔ بعض حلقوں سے مطالبہ ہوا کہ احرار کے نمائندے اسمبلی میں ضرور جانا چاہئیں۔ مگر احرار نے صرف انکار کیا اور بار بار اعلان کیا کہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا حق مرزائیوں کو نہ سونپا جائے۔ یہ غیر مسلم ہیں۔

دو اہم گرفتاریاں

شیخ حسام الدین صاحب مجلس احرار کے مسلمہ جرنیل ہیں۔ وہ جس قدر صاف دل ہیں اسی قدر سخت مزاج بھی ہیں۔ طبیعت بے دریغ ہے۔ جو دل میں ہو وہی زبان پر آتا ہے اور ضرور آتا ہے۔ دنیا انصاف سے کام لے تو یہ بہت بڑا وصف ہے۔ اعلیٰ درجے کی خوبی ہے۔ مومن کی بہترین نشانیوں میں سے ایک ہے۔ مگر آج کی دنیا اس کی متحمل نہیں۔ یہ سیاسی منافقت کی دنیا ہے۔ شیخ صاحب مسلم لیگ کے بارے میں اپنے خیالات اور ارادے چھپا کر نہ رکھتے تھے۔ وہ جو کچھ پرائیویٹ صحبتوں میں کہتے تھے اسے جلسہ عام میں بھی ضرور کہتے تھے۔ سچی بات مسلم لیگی لیڈروں کی طبیعت پر گراں گزری۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجلس احرار زیر عتاب تھی اور مسلم لیگ کا طوطی بولتا تھا۔ عوام انہی مسلم لیگیوں کو جنہیں آج برا بھلا کہہ رہے ہیں فرشتوں سے کم نہ سمجھتے تھے۔ مجلس احرار پاکستان کے سیکرٹری صاحبزادہ سید مخدوم شاہ بنوری لاہور میں قیام فرماتے تھے۔ بھارت میں ان کے کاروبار کی شاخ موجود تھی۔ وہ اکثر دہلی آیا کرتے تھے۔ مخدوم شاہ صاحب بہت کم گو مگر بہت ہی ذہین اور باعمل انسان ہیں۔ وہ بڑے بہادر نوجوان ہیں۔ پیر ہونے کے باوجود وہ پیری مریدی سے بھاگتے رہے۔ مجاہدانہ سیرت کے سید ہیں۔

صفحہ ١٠٦

تحریک ختم نبوت جلد (١) ١٩٥٣ء تا ١٩٥٣ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ہمیں معلوم ہے کہ قبائل کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگیں بھی لڑتے رہے ہیں۔ فقیر ایپی تک سے ان کی واقفیت ہے۔ تقدیر انہیں کوہاٹ سے لاہور لے آئی۔ یہاں احرار کے مرکز کے علاوہ ان کا اپنا کاروباری دفتر بھی موجود تھا۔ مخدوم شاہ صاحب ہمارے سیاسی کام میں بہت کم ہاتھ بٹاتے تھے۔ مسلم لیگ کے لیڈروں کے بارے میں ان کی رائے بھی اچھی نہ تھی۔ مگر چونکہ وہ مقرر نہ تھے اور یوں بھی کم گو تھے اس لئے کسی کو موقعہ نہ تھا کہ ان پر فضول اتہامات چپک سکے۔ مسلم لیگ کی اپنی حکومت تھی۔ اپنا راج تھا۔ حکم ہوا ان دونوں احرار لیڈروں کو پکڑ لو۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان دونوں کا بھارت آنا جانا ہے۔ یہ بھارت کے جاسوس ہیں۔ اس حکم کی تعمیل ہوئی۔ دونوں حضرات یعنی شیخ حسام الدین اور سید مخدوم شاہ بنوری جیل بھیج دیئے گئے۔ یہی نہیں کہ دو بے گناہوں کو پکڑا گیا۔ اس سے آگے یہ ہوا کہ احرار کے خلاف مسلم لیگ کے کیمپ سے طوفان بدتمیزی اٹھا۔ گلی کوچے میں یہ پروپیگنڈا ہوا کہ احرار وطن کے غدار ہیں۔ کسی منصف مزاج کو یہ توفیق نہ ہوئی جو مسلم لیگی حکومت سے یہ پوچھتا کہ ان دونوں نے کیا غداری کی ہے؟ میں نے آزاد میں اداریہ لکھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں صلاح مشورہ سے کرتے ہیں۔ اگر یہ دو ذمہ دار احرار لیڈر غدار ہیں تو اس غداری میں ہم سب کو شامل کیجئے۔ ہمیں آپ نے کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ خان افتخار حسین صاحب (نواب صاحب ممدوٹ) کی حکومت تھی۔ نواب صاحب بہت بھلے اور شریف آدمی ہیں۔ ملاقات ہو جائے تو اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ بات معقول کرتے ہیں۔ خاندانی شرافت بدرجہ اتم موجود ہے۔ گو آج کل وہ بہت کچھ بدل چکے ہیں۔ تاہم بہت غنیمت انسان ہیں۔ ہم نے نواب صاحب موصوف کے ہاں دستک دی۔ ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو عرض کیا۔ حضور نواب صاحب! میرے دو شریف ساتھیوں کو آپ نے بلاوجہ پکڑ لیا ہے۔ میں دریافت کرنے آیا ہوں ان کا کیا قصور ہے؟ اگر وہ غدار ہیں اور واقعی بھارت کے جاسوس ہیں تو انہیں چوراہے میں کھڑا کر کے گولی مار دیجئے اور لاشوں کو وہیں پڑا رہنے دیجئے تاکہ دیکھنے والے عبرت پکڑیں اور اگر یہ نہیں اور یقیناً نہیں تو حضور والا انہیں چھوڑ دیجئے۔ حکم ہوا ہم تحقیقات کریں گے کیا معاملہ ہے۔ میں واپس چلا آیا اور میں نے اپنے محولہ بالا خیالات کا آزاد کے ذریعے اعلان کیا اور حکومت کی نا انصافی کو کھلم کھلا چیلنج کیا۔ بعض اخبارات نے میری تائید میں مقالے لکھے۔ کچھ دنوں صبر سے انتظار کیا۔ جب دیکھا کہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ میری درخواست سردخانے میں محفوظ ہوگئی۔ تب میں نے پھر حوصلہ کیا اور نواب صاحب سے پھر درخواست کی۔ وہ فرمانے لگے تحقیقات ہو رہی ہیں میں انہیں چھوڑ دینا چاہتا ہوں۔ اطمینان ہو جانے دیجئے دو چار دن کی بات ہے۔ چنانچہ مجھے دو چار دن بعد حاضر ہونے کی گنجائش نکل آئی۔ میں پھر حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ کاغذات منگوائے ہیں۔ ابھی کاغذات آئے نہیں۔ میں نے عرض کیا میں دریافت کر جایا کروں۔ حکم ہوا بڑی خوشی سے آؤ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا نواب صاحب بڑے خلیق اور ملنسار انسان ہیں۔

مجھے روزانہ حاضری کا پاسپورٹ مل گیا۔ تقریباً تین ساڑھے تین مہینے نہ میں نے تھکن محسوس کی اور نہ نواب صاحب کے ماتھے پر بل آیا۔ میں نے ایک روز تنگ آکر نواب صاحب سے عرض کیا کہ نواب صاحب! اگر آپ میرے رفیقوں کو رہا نہ کر سکتے ہوں تو مجھے جواب دیجئے۔ وہ فرمانے لگے پولیس روڑے اٹکا رہی ہے۔ میں نے یہ سنا تو پولیس کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ میاں انور علی سے ملا تو معلوم ہوا کہ مثل تو نواب صاحب کے پاس ہے۔ میں پھر نواب صاحب کے پاس حاضر ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ مثل ابھی نہیں آئی۔ میں نے بیچ کا پردہ ہٹا دیا اور عرض کیا کہ حضور میں دریافت کر آیا ہوں۔ میاں صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے مثل سفارش کر کے بھیج دی ہے کہ انہیں رہا کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ نواب صاحب بہت خفا ہوئے۔ اپنے سٹینو کو بلایا اور غصے میں فرمایا کہ رہائی کا قصہ تو بعد میں ہوگا۔ پہلے انور علی سے تو نپٹ

صفحہ ۱۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے عرض کیا کہ حضور آپ بعد میں جو دل چاہے کیجئے گا پہلے رہائی کا حکم تو دیجئے ۔ میں نے نواب صاحب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اصل حقیقت کے آشکارا ہو جانے سے کچھ ندامت محسوس کر رہے تھے ۔ بہر حال کارندوں کو حکم ہوا مثل کو تلاش کرو۔ مجھے روزانہ حاضری دینا پڑی ۔ جماعت زیر عتاب تھی۔ قوم نشے میں تھی ۔ حاکم بدمست تھے ۔ ایسے میں اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ میں اپنے رفیقوں کو جس طرح ہو سکے جیل سے باہر لاؤں ۔ سب کو علم ہو چکا تھا کہ دونوں احرار بے گناہ ہیں۔

شیخ صاحب جیل میں بیمار پڑ گئے

میانوالی جیل سے اطلاع ملی کہ شیخ صاحب بیمار ہیں ۔ شیخ صاحب کے بھائی صاحبان اور ان کا بچہ کلیجہ پکڑے میرے پاس پہنچے اور مجھے تار دکھائی ۔ میں دوڑا دوڑا نواب صاحب کی کوٹھی پر پہنچا ۔ نواب صاحب نے مجھے اندر کمرے میں بلا لیا۔ چائے آگئی ۔ چائے کی پیالی میری طرف بڑھا کر نواب صاحب فرمانے لگے لو ماسٹر صاحب چائے پیو ۔ میں نے انکار کیا ۔ وہ فرمانے لگے کیوں؟ میں نے تار نکال کر میز پر رکھ دی اور ساتھ ہی ان سے عرض کیا کہ یہ چائے میرے لئے لہو کے گھونٹ ہیں ۔ میرا عزیز رفیق آپ کی جیل میں بیمار ہے۔ میں یہ چائے کیسے پیوں ۔ نواب صاحب نے اسی وقت سٹینو کو بلایا حکام جیل سے دریافت کیا کہ شیخ صاحب کی خیریت کی اطلاع دے دو۔ مجھے فرمایا کہ دو دن کے اندر انہیں رہا کر دیا جائے گا ۔ یہ دو دن بھی گزر گئے ۔ اس کے بعد میں نے خود پتہ لیا کہ مثل کہاں ہے۔ معلوم ہوا سٹینو کے کمرے میں مثلوں کے انبار لگے ہیں ۔ انہی مثلوں میں ہماری تقدیر دبی پڑی ہے۔ بہر حال سٹینوں کو ڈانٹ بھی پلوائی اور تلاش میں اس کا ہاتھ بھی بٹایا۔ ایک روز مثل مل ہی گئی۔ رہائی کے احکامات جاری ہوئے اور ہمارے بے گناہ ساتھی چار مہینے جیل کی ہوا کھا کر واپس آئے۔ مسلم لیگ کو پھر بھی لوگ زندہ باد کہتے رہے ۔ احرار کو تب بھی مردہ باد کہا گیا ۔

نوٹ: شیخ صاحب اور مخدوم شاہ صاحب کی گرفتاری کا واقعہ اس وقت عمل میں آیا جب مجلس احرار پر عتاب نازل تھا ۔ ان کی رہائی کے دن ہم وہ عظیم الشان کانفرنس منعقد کر رہے تھے جس میں احرار نے سیاسیات سے کنارہ کشی کا اعلان کیا ۔

بلا مقابلہ نشستوں کی پیشکش

کسی مسلم لیگی دوست نے انتخابات کے بارے میں مجھ سے تبادلہ خیال کیا۔ باتوں باتوں میں یہ بحث چل نکلی کہ احرار کتنی نشستیں حاصل کر سکتے ہیں؟ میں نے چند حلقوں کا حوالہ دے کر کہا کہ ان نشستوں پر لیگی اور مرزائی دونوں مل کر بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ یہ بحث دوستانہ انداز میں بے تکلفی سے ہو رہی تھی ۔ بات کو پر لگے وہ مسلم لیگ کیمپ تک پہنچتے پہنچتے کچھ کی کچھ بن گئی ۔ خان لیاقت خان مرحوم کی موجودگی میں مشورہ ہوا اور بالآخر یہ طے ہوا کہ احرار سے دریافت کر لیا جائے کہ وہ کون کون سی سیٹ چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ وہاں سے اپنا امیدوار واپس لے لے گی ۔ احرار کو بلا مقابلہ کامیابی حاصل ہو سکے گی ۔ میر خلیل الرحمٰن صاحب زبانی گفتگو کے لئے میرے پاس تشریف لائے ۔ وہ بے انتہاء شریف مخلص ترین مسلم لیگی ہیں ۔ ان کا ایک خاص ذہن ہے ۔ میرے دل میں ان کا بے حد احترام ہے ۔ وہ نہایت عمدہ تمہید کے بعد فرمانے لگے کہ آپ بے تکلفی سے فرمائیے کہ کس کس سیٹ پر آپ کی نگاہ ہے ۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ نے ہم کو ابھی تک سمجھا نہیں ۔ جس کا مجھے افسوس ہے۔ ہم تو اپنے سامنے صرف ایک مقصد رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کسی مرزائی کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ۔ میر صاحب نے فرمایا کہ ہمیں اس قسم کی اطلاع ملی تھی کہ احرار کچھ سیٹوں کے بارے کہہ رہے ہیں کہ یہ انہیں ملنی

صفحہ ۱۰۸

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چاہئیں ۔ میں نے اس بے تکلفی کی بحث کا ذکر کرنے کے بعد معاملے کو ختم کردیا ۔ میر صاحب دوسرے دن پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب اگر پسند فرمائیں اور بتادیں کہ وہ کس سیٹ پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں ہم وہ سیٹ خالی کردیں گے۔ میں نے میر صاحب کو جواب دیا کہ صاحبزادہ صاحب ہرگز کوئی سیٹ قبول نہ فرمائیں گے۔ وہ ہمارے مخلص رفیق ہیں۔ جب ہم نے فیصلہ ہی کرلیا ہے کہ الیکشن میں حصہ نہیں لینا تو اب کسی سیٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تاہم میں صاحبزادہ صاحب سے دریافت کرلیتا ہوں انہیں لاہور بلواتا ہوں ۔ وہ ان شاء اللہ! کل تشریف لے آئیں گے۔ ان سے دریافت کرلیا جائے گا۔ صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ آپ کو انہیں اسی وقت جواب دے دینا چاہئے تھا۔ ہم جو کچھ کر رہے ہیں خود نشستیں حاصل کرنے کے لئے نہیں کر رہے۔ ہمارا ایک مقصد ہے جس کا ہم بار بار اعلان کرچکے ہیں۔ میں نے صاحبزادہ صاحب کو ٹٹولا اور عرض کیا کہ صاحبزادہ صاحب آپ کو بلامقابلہ سیٹ مل جائے گی۔ حکم فرمائیے تو آگے بات کروں ۔ صاحبزادہ صاحب نے برہم ہوکر فرمایا آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ایک سیٹ کیا ہم کو سو سیٹیں خالی ملیں تو قبول نہ ہوں گی۔ صاحبزادہ صاحب کی گفتگو سے میرا دل بے حد مطمئن ہوا۔ میرے دل میں ان کا احترام اور زیادہ ہوگیا ۔ لوگ ایک ایک سیٹ کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلتے اور کیسے کیسے چولے بدلتے ہیں۔ میں نے میر صاحب سے عرض کردیا کہ صاحبزادہ صاحب انکار فرما گئے ہیں۔ قصہ ختم ہوگیا۔

یوم تشکر

انتخابات ختم ہوچکے تو نتیجے کے انتظار میں خون خشک ہونے لگا۔ ہر امیدوار امید لگائے بیٹھا تھا مسلم لیگ خوش اور مطمئن تھی۔ مسلم لیگ کے مخالف ہراساں تھے۔ مسلم لیگ کی اپنی حکومت تھی۔ اس لئے مسلم لیگ کی ”دعاؤں“ میں بڑا اثر تھا۔ مسلم لیگ کے امیدواروں کو ان ”زود اثر دعاؤں“ پر بڑا بھروسہ تھا اور یقین تھا (ہمارا اپنا کوئی امیدوار نہ تھا۔ مگر انتخابات کے نتیجہ پر احرار کی نگاہیں اس طرح لگ رہی تھیں جس طرح ۳۰۲ کے بے گناہ ملزم کے ورثا آخری عدالت کا فیصلہ سننے کے لئے مضطرب ہوں ) مرزائیوں کی کیفیت یہ تھی کہ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر بھی کھڑے تھے۔ اس کے علاوہ بھی چند نشستوں پر مقابلہ کر رہے تھے۔ مرزا محمود اور اس کے حواریوں کی پوری قوت اور توجہ انتخاب پر مرکوز تھی۔ دولت، اثر ورسوخ اور بے پناہ پراپیگنڈا کیا گیا۔ وہ بھی ہماری طرح انتخابات کے نتیجے کو موت وحیات کا فیصلہ سمجھے ہوئے تھے۔ انتظار کی گھڑیاں گنی جارہی تھیں۔ جوں توں کرکے وقت گزر گیا۔ نتیجے نکلنے شروع ہوئے تو احرار کی توجہ مرزائیوں کی سیٹوں پر مرکوز تھی۔ انہیں اس سے کوئی واسطہ نہ تھا کہ دوسری سیٹوں پر کیا ہورہا ہے۔

پہلا نتیجہ بہت ہی دل خوش کن تھا۔ یعنی ایک مرزائی امیدوار کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ احرار نے سجدہ شکر ادا کیا۔ یکے بعد دیگرے نتیجوں کا اعلان ہوتا رہا۔ الحمد للہ! کہ تمام سیٹوں پر مرزائی امیدوار خواہ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑے تھے یا آزاد ممبر کی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے ہار گئے۔ یعنی مرزائی سو فیصد شکست کھا گئے اور احرار سو فیصد کامیاب ہوئے۔ اعلان ہوا یوم تشکر منایا جائے گا۔ لاہور والوں نے احرار کے یوم تشکر کا شاندار نظارہ دیکھا ہے۔ احرار رضا کاروں نے سج دھج سے میدان میں قدم رکھا۔ کانفرنس کا کتنا بڑا پنڈال تھا اور لوگوں کا کتنا بڑا اجتماع تھا۔ یہ نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اسے ضبط تحریر میں لانا کم از کم میرے بس کی بات نہیں۔ مسلمانوں نے چراغاں کیا۔ مساجد میں دعائیں مانگی گئیں۔ غرضیکہ مرزائیت کی اس کھلی شکست نے ختم نبوت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ مرزائیوں پر اوس پڑ گئی۔ اقتدار میں حصہ دار ہوتے ہوئے وہ فقیروں اور بے نواؤں کے گروہ احرار سے بری طرح شکست کھا گئے۔ غلامان محمد ﷺ کو سرخروئی نصیب ہوئی اور باغیان مصطفیٰ ﷺ خائب وخاسر ہوئے۔

صفحہ ۱۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۵۰ء تا ۱۹۵۱ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۱۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک کا دوسرا دور (اور مولانا محمد علی جالندھری)

فتح و کامرانی کے نشے میں جو قوم غافل ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کی فتح کچھ عرصہ بعد شکست میں بدل جایا کرتی ہے۔ تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ احرار اس حقیقت سے باخبر تھے۔ فیصلہ ہوا کہ بنیادی عقیدے کی تبلیغ کا وسیع جال بچھا دیا جائے تا کہ پاکستان میں مرزائیت کے پنپنے کی تمام راہیں مسدود کر دی جائیں۔ تبلیغ کے لئے زیادہ سے زیادہ مبلغوں کی ضرورت تھی۔ تبلیغی نظام کے لئے کافی روپیہ درکار تھا۔ حضرت شاہ صاحب خدا انہیں مکمل صحت عطاء کرے۔ اٹھے دورہ شروع کیا۔ شہر بہ شہر، قریہ بہ قریہ، گھومے پھرے۔ کراچی تک پہنچے۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے دامن پھیلایا۔ الحمد للہ! کہ با مراد واپس لوٹے۔ مبلغوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

مولانا غلام غوث ہزاروی، صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب، مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے علاوہ مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد حیات ایسے بلند پایہ مقرر اور مناظر پہلے سے موجود تھے۔ اب دوسرے مبلغوں کا اضافہ ہوا تو کام وسیع ہو گیا۔ اخراجات بھی بڑھ گئے۔ مولانا محمد علی جالندھری اعلیٰ درجہ کے منتظم ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ادارہ کس طرح چلایا جاتا ہے۔ ضابطے کی پابندی ان کی عادت ثانیہ ہے۔ اس لئے وہ دوسروں کو بھی ضابطے کی پابندی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی ادارے کو مولانا کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت نے سنبھال لیا۔ تبلیغ کا ملک بھر میں وسیع جال بچھ گیا۔ مرزائیت کے مذہبی اور سیاسی پہلو بے نقاب ہونے لگے۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ ہم مرزائیت کی راہ روک کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے مرزائیت غوطہ لگا کر دوسرے کنارے کھڑی نظر آتی تھی۔ ہم نے کھلے میدان میں کام شروع کیا۔ مرزائی سرکاری ملازم، سرکاری دفاتر میں مرزائیت کا لٹریچر پہنچانے لگے۔ مثلاً کسی محکمہ میں اگر ہیڈ کلرک یا سپرنٹنڈنٹ مرزائی ہے تو وہ اپنی میز پر ”الفضل“ کے علاوہ تبلیغی لٹریچر بھی موجود رکھتا تھا۔ ماتحتوں میں اسے بڑی خوبصورتی سے تقسیم کرتا تھا۔ بے چارے ماتحت مسلمان اعلیٰ افسر کو خوش رکھنے کے لئے رواداری سے کام لیتے اور لٹریچر پڑھنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ وہ پڑھے لکھے مسلمان جو اپنے مذہب سے پوری واقفیت نہ رکھتے تھے مرزائیوں کے چکر میں آ جاتے۔ بعض ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ ربوہ کے سالانہ اجتماع پر مرزائی سرکاری ملازم، مسلمان ملازموں کو بڑی ترکیبوں سے اپنے ہمراہ لے جاتے تھے۔ لوگ پلے سے دام خرچ کر کے سرکس دیکھنے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تو کرایہ، رہائش اور خوردونوش کے علاوہ بھی بہت کچھ مفت میں تھا۔ بعض بد نصیب اسی چکر میں پھنس جاتے تھے۔ احرار کو ہر ہر گوشے پر نگاہ رکھ کر کام کرنا پڑا۔ اس طرح اسلام اور مرزائیت کی کشمکش تیز ہو گئی۔ حد یہ ہے کہ احرار کو اس قدر محنت کرنا پڑی کہ پہلے ہفتے میں کانفرنس یا جلسے کے بعد پھر ایک دن بھی خالی نہ رہا۔ یہ تو ہوا ایک دن میں دو کانفرنس یا دو جلسے ہو گئے۔ مگر ایسا دن شاذ ہی آیا ہوگا جس دن صوبے کے کسی شہر یا قصبے میں جلسہ یا تبلیغ کانفرنس منعقد نہ کی ہو۔

بی۔ پی۔ سی رپورٹ

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: ۱۹۵۲ء میں دو باتیں ایسی وقوع پذیر ہوئیں جس سے مسلمانوں کے دل ہل گئے اور ان کی روحیں کانپ اٹھیں۔ پہلی بات یہ ہوئی کہ خواجہ ناظم الدین نے ملک کے آئین کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی ایک رپورٹ تیار کروائی۔ جو بی۔ پی۔ سی رپورٹ کے نام سے موسوم تھی۔ اس بنیادی اصولوں کی رپورٹ میں نظریہ پاکستان کے تحفظ کے تقاضا کے مطابق ملک کے لئے جدا گانہ انتخاب تجویز کیا گیا تھا۔ جدا گانہ انتخاب کی صورت میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقلیتوں کے واسطے صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں میں

صفحہ ۱۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نشستیں مخصوص کی گئیں۔ چنانچہ اس بی. پی. سی رپورٹ میں اقلیتوں کا ایک چارٹ بھی شائع کیا گیا۔ جس میں ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی اور اچھوت بطور اقلیت درج تھے۔ لیکن قادیانیوں کو جو پورے عالم اسلام کے فیصلوں اور فتوؤں کی روشنی میں خارج عن اسلام ایک نئی امت تھے۔ انہیں اقلیتوں کے چارٹ میں درج نہ کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے انہیں مسلمانوں میں شامل کر دیا۔ تاکہ وہ مار آستین بن کر مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی کرتے رہیں۔ اونچے درجہ کی ملازمتیں ان کے نوجوانوں کو ملتی رہیں۔ جہاں سے ان کی مرضی ہو انتخاب لڑ کر اور عوام کو اسلام کے نام پر دھوکہ دے کر اسمبلیوں میں پہنچ جائیں اور جب نمائندگی اور خدمت کا موقعہ آئے تو صرف اپنی جماعت کی خدمت کریں اور صرف اپنوں کے کام آئیں۔ جیسا کہ ان کے ہاں رواج ہے۔ دوسری بات یہ پیش آئی کہ خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ایک خطبہ میں قادیانیوں کو اشتعال دلاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ایسی صورتحال اختیار کر لو کہ تمہارے مخالف ۱۹۵۲ء کے گزرنے سے پہلے پہلے تمہارے قدموں میں گرنے پر مجبور ہو جائیں۔ بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کے خواب، کشمیر میں قادیانی سلطنت کا خام خیال، سارے پاکستان پر قبضہ کی باتیں وہ کرتے ہی رہتے تھے۔ اب جب مخالفوں یعنی علمائے حق کو قدموں پر جھکانے کی دھمکی دی۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ دن آ پہنچے ہیں کہ قادیانی مقتولوں کے خون کا بدلہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احتشام الحق تھانوی، مفتی محمد شفیع اور مولانا عبدالحامد بدایونی سے لیا جائے گا۔ ان چیزوں سے مسلمانوں میں آگ لگ گئی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے دسمبر ۱۹۵۲ء چنیوٹ کی سالانہ کانفرنس میں فرمایا کہ مرزا محمود تیرا ۱۹۵۲ء گزر گیا۔ خدا نے ہمیں تیرے قدموں پر گرنے سے بچایا ہے۔ اب ۱۹۵۳ء ہمارا ہے۔ دیکھ اب ہمارا اللہ تجھ سے اور تیری جماعت سے کیا کرتا ہے۔

خان لیاقت علی خاں کی خواہش

خان لیاقت علی خاں مرحوم و مغفور کو اپنے آخری دور حیات میں چوہدری ظفر اللہ خاں کی حقیقت کا علم ہو چکا تھا اور وہ اس طرح ہوا کہ لیاقت علی خاں مرحوم ضلع سیالکوٹ کے ایک قصبہ نارووال کے ریلوے اسٹیشن پر اپنی گاڑی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق صدر قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی ضلع سیالکوٹ کے تبلیغی دورہ پر پہنچے ہوئے تھے۔ جب قاضی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ خان لیاقت علی خاں مرحوم نارووال کے پلیٹ فارم پر گاڑی میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور رات وہیں قیام ہے تو قاضی صاحب اپنا قادیانیت سے بھرا ہوا مشہور ٹرنک ساتھ لے کر پہنچ گئے۔ وقت مانگا تو ۱۵ منٹ کے لئے ملاقات کا وقت مل گیا۔ قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک صحیح مبلغ کا دماغ اور زبان عطاء کی ہوئی تھی۔

خاں صاحب سے قادیانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ قادیانیت کی مذہبی اور دینی حیثیت واضح کرنے کے بعد قادیانیت سے ملک اور اسلام کو جو سیاسی خطرات تھے وہ بیان کئے۔ جب گفتگو کرتے آدھ گھنٹہ گزر گیا تو نواب صدیق علی خان جو لیاقت علی خان مرحوم کے پولیٹیکل سیکرٹری تھے۔ اندر داخل ہوئے اور عرض کیا کہ قاضی صاحب کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے اور باہر ملاقاتی ملاقات کے لئے بہت بے چین ہیں۔ لیاقت علی مرحوم نے فرمایا کہ سب کی ملاقاتیں منسوخ ان سب کو پھر کوئی دوسرا وقت دیا جائے گا اور اب میں کسی اور سے ملاقات نہیں کروں گا۔ قاضی صاحب سے فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں۔ مجھے اطمینان سے یہ قضیہ سمجھائیں۔ آپ جتنا وقت لیں گے دیا جائے گا۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ قادیانی امت اور اس کا ایک فرد چوہدری ظفر اللہ خان سب سے پہلے اپنے خلیفہ کے فرمانبردار اور وفادار ہیں نہ کہ آپ کے یا مملکت پاکستان کے۔

صفحہ ۱۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دو مثالیں (قادیانی خلیفہ سے وفاداری)

پھر قاضی صاحب نے مثال کے طور پر دو واقعات کا ذکر کیا۔ پہلا علامہ اقبال کا کہ وہ کسی زمانہ میں کشمیر کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور خلیفہ قادیان مرزا محمود اس کمیٹی کے صدر تھے۔ بعد میں علامہ اقبال نے اس کمیٹی سے یہ کہہ کر استعفیٰ دیا کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ہر قادیانی اوّلین طور پر اپنے خلیفہ کا وفادار ہے اور دوسرے کسی شخص یا مقصد کا وفادار نہیں ہو سکتا۔ دوسری مثال قاضی صاحب نے یہ دی کہ کچھ عرصہ پہلے فلسطین کا مسئلہ یو.این.او میں پیش ہو رہا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ پاکستان کی ہر قیادت نے عربوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے وجود نامسعود کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی اسی پالیسی کی وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خاں کو جو یو.این.او میں پاکستان کے نمائندے تھے۔ عربوں کی ڈٹ کر حمایت کرنا تھی۔ لیکن چوہدری ظفر اللہ خان نے بلیک میلنگ کی اور عربوں کو کہا کہ میں آپ کی تب مدد کر سکتا ہوں جب میرا خلیفہ ربوہ مرزا محمود مجھے آپ کی مدد کرنے کا حکم دے۔ ان بے چاروں، ضرورت کے ماروں نے خلیفہ ربوہ سے بذریعہ تار امداد کی درخواست کی۔ خلیفہ ربوہ نے یو.این.او میں عرب ڈیلی گیشن کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ میں نے آپ کی درخواست کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ اس تار پر عرب ڈیلی گیشن نے ربوہ کے خلیفہ صاحب کو شکریہ کا تار بھیجا۔ خدا کی قدرت یہ دونوں تار ربوہ کے دفتروں سے کسی نہ کسی طرح اڑ کر ہمارے ہاتھ لگ گئے ہیں اور ان تاروں سے پتہ چلا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں تنخواہ پاکستان کے خزانہ سے حاصل کرتا ہے۔ نوکر آپ کا ہے لیکن وفاداری بشرط استواری خلیفہ ربوہ سے ہے اور کام اپنی جماعت کا کر رہا ہے۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ آپ کی بجائے خلیفہ ربوہ کا تعارف عربوں سے کراتا۔ لیاقت علی خاں مرحوم نے تاروں کو دیکھا اور درخواست کی کہ آپ یہ دونوں تار مجھے دے سکتے ہیں۔ قاضی صاحب نے دونوں تار دے دیئے۔

چنانچہ لیاقت علی خاں مرحوم کی شہادت کے بعد چندریگر صاحب نے قاضی احسان احمد صاحب کو پشاور گورنمنٹ ہاؤس میں کہا کہ جو باتیں چوہدری ظفر اللہ خاں کے متعلق آپ اور خاں صاحب مرحوم کے درمیان ہوئی تھیں وہ خاں صاحب مرحوم نے من و عن مجھے بتا دی تھیں۔ اس تفصیل سے بتانا یہ مقصود ہے کہ جب لیاقت علی خاں کو حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کا تھوڑا سا عوام میں طلسم توڑا جائے تاکہ اسے آسانی کے ساتھ وزارت سے نکال باہر کیا جائے۔

مجھے یاد ہے چنیوٹ کانفرنس کے بعد لاہور میں ایک بہت بڑے جلسہ سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری خطاب فرما رہے تھے۔ سر ظفر اللہ خان کا ذکر آیا تو حضرت شاہ صاحب نے یہ مصرعہ پڑھتے ہوئے اس امر کی طرف ایک بلیغ اشارہ فرمایا تھا۔ وہ مصرعہ یہ تھا ؎

پہلے میں مشکل میں تھا، اب یار تو مشکل میں ہے

لیکن خدا کی قدرت کہ لیاقت علی خاں اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔ فرنگی کی حکمت عملی کام کر گئی اور لیاقت علی خاں شہید کر دیئے گئے۔

چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کی تحریک پورے ملک میں جاری تھی۔ انہیں دنوں کچھ اور واقعات رونما ہوئے جنہوں نے جلتی پر تیل کا کام دیا۔ وہ واقعات بھی قادیانیوں کے بزعم خویش تبلیغی جنون کا نتیجہ تھے۔ خصوصاً قادیانی افسروں کا رویہ نہایت ہی جارحانہ ہو چکا تھا۔ سیالکوٹ کی طرح قادیانیوں نے لائل پور میں جلسہ کیا۔

صفحہ ۱۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لائل پور میں ہنگامہ

اس ضمن میں لائل پور کے ہنگامے کا مختصراً ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اگر قادیانی صاحبان اس معمولی واقعہ کو اپنی کرامت اور پیشین گوئی کی فتح قرار نہ دے لیں۔ کیونکہ یہ واقعہ بھی ۱۹۵۲ء کے موسم سرما کا ہے۔ اتوار کا دن تھا۔ ۱۲ بجے دن کے قریب اچانک اطلاع ملی کہ بوہڑانوالی گراؤنڈ میں قادیانی سیرت کے نام پر جلسہ کر رہے ہیں اور زیادہ حیرت اس پر ہوئی کہ اس جلسہ کے لئے انہوں نے شہر میں منادی بھی کروائی۔ اطلاع ملتے ہی خواجہ جمال دین صدر مجلس احرار کے ہاں بٹ موٹر ورکس پر احرار کارکنوں کا اجتماع شروع ہو گیا۔ سب ساتھی انتہائی غصے اور اشتعال میں تھے ہر ایک کا اصرار یہ تھا کہ ہم قادیانیوں کا کھلے بندوں جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔ قادیانی اگر جلسہ کرنا چاہتے ہیں تو اپنی عبادت گاہ میں کر لیں۔ مسلمانوں کے سواد اعظم کو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ ان کو پھر کھلے بندوں جلسہ کی کیسے اجازت دی جاسکتی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ بوہڑانوالی گراؤنڈ میں آج اسلامیان لائل پور کی طرف سے ڈیڑھ بجے سیرت کا جلسہ کیا جانا چاہئے۔ اس جلسہ میں مرزا غلام نبی جانباز نظم پڑھیں اور راقم الحروف (مولانا تاج محمود) کو کہا گیا کہ میں تقریر کروں۔ اس فیصلہ کا لاؤڈ سپیکر لگا کر شہر میں اعلان کر دیا گیا۔

یہ سب کچھ ۱۲ بجے سے ڈیڑھ بجے تک صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں ہوا۔ احرار کی طرف سے شہر میں منادی کا ہونا تھا کہ ہزاروں آدمی بوہڑانوالی گراؤنڈ کی طرف جانا شروع ہو گئے۔ میں نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کی اور جلسہ گاہ میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جلسہ گاہ پانی پت کا میدان بنا ہوا ہے۔ ہوا یہ کہ ۲۰۰ کے قریب احرار رضا کار بوہڑانوالہ گراؤنڈ کے ایک کنارے پر پنڈال بنا رہے تھے اور لاؤڈ سپیکر فٹ کیا جا رہا تھا۔ اس اثناء میں جو مسلمان احرار کے جلسے کو سننے کے لئے پہنچے وہ ایسے ہی ذرا دیکھنے کے لئے قادیانیوں کے جلسہ کے باہر جا کر کھڑے ہو گئے۔ قادیانی جلسہ میں بولنے والے مقرر نے کوئی بات مسلمانوں کے جذبات کے خلاف کی۔ مرزا غلام نبی جانباز نے احتجاج کیا۔ قادیانیوں نے سٹیج کے نیچے کوئی دو تین سو کے لگ بھگ لاٹھیاں چھپا رکھی تھیں۔ وہ نکال لیں اور جلسہ کے حاشیہ پر کھڑے ہوئے مسلمانوں پر برسانا شروع کر دیں۔ مسلمانوں نے بسم اللہ پڑھ کر وہی لاٹھیاں چھین لیں اور قادیانی سورماؤں کی پٹائی کر دی۔ اب دس ہزار مسلمانوں کا جم غفیر قادیانیوں کی اس اشتعال انگیزی کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ اتنے میں خان عبیداللہ خاں ایس پی اور احمد خان ترین ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر موقعہ پر پہنچ گئے۔ مرزائیوں کی طرف سے میاں محمود اختر ایڈووکیٹ بیس دوسرے قادیانیوں سمیت گرفتار کر لئے گئے۔ وزن کے لئے مسلمانوں کی طرف سے مجھے دس ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ جانباز صاحب چوہدری محمد عالم بٹالوی اور چوہدری محمد اکبر بٹالوی شامل تھے۔ ہمیں وہاں تھانہ اور تھانہ سے جیل بھیج دیا گیا۔ قادیانیوں نے ضمانت پر رہائی حاصل کر لی اور ہم نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہر میں زبردست اشتعال پھیل گیا۔ بالآخر حکومت نے اپنے ذرائع سے ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کو بیچ میں ڈال کر ہمیں ضمانتیں دینے پر آمادہ کر لیا۔ ماسٹر صاحب کا حکم ملتے ہی ہم نے ضمانتیں دے دیں اور باہر آ گئے۔ فریقین کا چالان عدالت میں پیش ہوا۔ مقدمہ چلا لیکن مقدمہ شیطان کی آنت کی طرح لمبا کیا گیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں ہم لوگ گرفتار ہو کر جیلوں میں چلے گئے اور یہ مقدمہ خود بخود ہی کہیں دفن کر دیا گیا اور اس مقدمہ میں محمد اعظم سیشن جج (مرزائی) کو پولیس نے خانہ نمبر ۲ میں چالان کیا تھا اور گرفتار نہ کیا تھا۔ حالانکہ مرزائیوں کے جلسہ کا بانی مبانی وہی تھا۔ اور اس نے جلسہ میں اپنے ریوالور سے گولیاں بھی چلائی تھیں۔

صفحہ ۱۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جہانگیر پارک کراچی میں قادیانیوں کا جلسہ عام

(حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی تقریر کر آئے تھے۔ وہاں تحریک ختم نبوت کے لئے ماحول سازگار تھا۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما، مناظر اسلام، مولانا لال حسین اختر کو کراچی میں جماعت کا انچارج بنا کر بھیجا گیا)

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں کہ کراچی کی اہمیت سب پر واضح ہے۔ حکومت کا دارالخلافہ ہونے کے علاوہ کراچی میں سر ظفر اللہ خاں کے وزیر خارجہ ہونے کی وجہ سے مرزائیت کا زبردست اڈہ بن گیا۔ بعض دوسرے اہم عہدوں پر بھی مرزائی مسلط تھے۔ حکومت کی مشینری قادیانی اشاروں پر رقص کرتی تھی۔ سندھ میں جناب فاروقی صاحب چیف سیکرٹری کی کلیدی آسامی پر مسلط تھے۔ کراچی پر سندھ کا بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ اس طرح پاکستان کا مرکز دراصل قادیانیوں کا گڑھ تھا۔ جب تک مجلس نے وہاں اپنا دفتر قائم نہ کر لیا لوگوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ مرزائیت کی امربیل کس طرح شجر اسلام پر چھا کر بسنت منا رہی ہے۔

کراچی میں قادیانیوں کا تاریخی جلسہ

سیالکوٹ اور لائل پور سے شکست کھانے کے بعد مرزائیت نے کراچی میں سر نکالا۔ یہی ان کا آخری اور مضبوط قلعہ تھا۔ پاکستان میں مرزائیت کا دارو مدار خلیفہ محمود کی دماغی قابلیت اور سر ظفر اللہ خاں کے بل بوتے پر تھا۔ ورنہ مرزائیت میں نہ ہی کوئی کشش ہے اور نہ جاذبیت۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ کراچی میں کھلے بندوں تبلیغ مرزائیت کے لئے جلسہ عام منعقد ہو جس میں سر ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان تقریر فرمائیں۔ اس حکم کی تعمیل میں مسلم لیگ کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں ارتداد پھیلانے کے لئے آمادہ و تیار ہو گئے۔ غیر ملکی سفارت خانوں میں دعوت نامے بھیجے گئے۔ حکومت کی ساری مشینی حرکت میں آ گئی۔ پولیس سے رضا کاروں کا کام لیا گیا۔ اس جلسے میں سر ظفر اللہ خاں کی تقریر کا عنوان تھا ”زندہ اسلام“ (یعنی مرزائیت زندہ اسلام اور اصل اسلام مردہ اسلام ) کراچی کی دیواروں پر جب اس جلسے کے قد آدم پوسٹر چسپاں ہوئے تو کراچی کے اسلامی حلقوں میں بڑی ہلچل ہوئی۔ مولانا لال حسین اختر کے پاس دیندار طبقہ اور مذہب سے محبت رکھنے والے مسلمانوں کا تانتا بندھ گیا۔ جلسہ گاہ کے ارد گرد پولیس کی گاردوں نے خاردار تاروں کا کام دیا۔ چنانچہ اس جلسے کا با قاعدہ اعلان ہوا۔ بازاروں میں پوسٹر لگائے گئے۔ مسلمانوں کو اس دعوت پر وہاں جانا ہی پڑا۔ مگر حکومت کو اس غیر معمولی طریقے پر متحرک دیکھ کر لوگوں میں چہ مگوئیاں ہوئیں۔ جلسہ گاہ کے ارد گرد لوگوں کا ٹھٹھ لگ گئے۔ کچھ لوگ جلسہ گاہ میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ مگر سب کی زبان پر یہی بات تھی کہ ان قادیانیوں کا اسلام زندہ ہے تو ہمارا اسلام کیا معاذ اللہ مردہ ہے؟

جلسے کا آغاز اور گڑ بڑ

مولانا لال حسین صاحب جلسے میں موجود تھے۔ وہ سننا چاہتے تھے کہ کیا ارشاد ہوتا ہے اور زندہ اسلام پیش کرتے ہوئے سر ظفر اللہ خاں کیا ارشاد فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کس طرح کوشش فرماتے ہیں۔ جلسے کا آغاز مسلمانوں کی طرح مرزائیوں نے بھی کلام پاک کی تلاوت سے شروع کیا۔ مگر مرزائیوں کی بسم اللہ ہی غلط ہوئی۔ یعنی مرزائی مبلغ نے قرآن مجید کی آیت ہی غلط پڑھی۔ مولانا لال حسین نے اٹھ کر ٹوکا اور فرمایا کہ خدا کے لئے قرآن تو صحیح پڑھئے۔ بس مولانا کا یہ کہنا تھا کہ مرزائی پل پڑے، پولیس چڑھ دوڑی اور لٹھ

صفحہ ۱۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ۱۱۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گھمانے لگی۔ لوگوں کے سر پھوڑ ڈالے۔ پکڑ دھکڑی شروع ہو گئی۔ گڑ بڑ میں جلسہ تو برخاست ہوا۔ مگر ساتھ ہی اعلان ہوا کہ کل پھر اسی جگہ جلسہ ہوگا۔ شہر میں مرزائیوں اور مقامی حکومت کی اس ملی بھگت اور دھاندلی پر غم و غصے کا اظہار ہوا۔ اب مسلمانوں میں یہ بات چل رہی تھی کہ کفر کو ارتداد پھیلانے کی کھلی اجازت کس نے دے رکھی ہے؟

اے ۔ ٹی نقوی چیف کمشنر کراچی

نقوی صاحب کو منٹ منٹ کی خبر پہنچائی جارہی تھی۔ سب کو سر ظفر اللہ خاں کی خوشنودی مقصود تھی۔ چنانچہ نقوی صاحب نے اعلان کیا کہ اب اگر کسی نے قادیانیوں کے جلسے میں گڑبڑ کی تو سختی سے کام لیا جائے گا اور شر پسند عناصر کو کچل کر رکھ دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ اعلان مولانا لال حسین اختر اور ان کے رفقاء کے لئے تھا۔ مولانا لال حسین نے دوسری جگہ جلسے کا اعلان کیا اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے یہ چاہا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کے جلسے سے دور رکھا جائے تاکہ کسی قسم کا بہانہ بنا کر سر ظفر اللہ مسلمانوں کو گزند نہ پہنچا سکے۔

حکومت بھی حرکت میں آئی

شہر کے مسلمانوں نے خواجہ ناظم الدین کو پچاسوں تاریں بھیجیں تاکہ مرزائیوں کے جلسے کی یہ نئی بدعت ہمارے شہر میں نہ پھیلائے۔ پاکستان کے مرکزی شہر میں اس طرح کھلم کھلا ارتداد پھیلانے کی اجازت دینا صریح ظلم ہے۔ خواجہ صاحب کی خدمت میں وفود بھی بھیجے گئے۔ معززین شہر نے ان سے زبانی بھی عرض کیا کہ آپ دیندار حاکم ہیں۔ آپ نے اپنے ماتحتوں کو ارتداد پھیلانے کی کس طرح اجازت دے رکھی ہے؟ خواجہ صاحب نے بات تو سمجھ لی مگر اب سوال یہ تھا کہ قادیانی بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

ان دنوں سردار عبدالرب نشتر جو اب مسلم لیگ کے صدر ہیں، مرکز میں وزیر تھے۔ کابینہ میں رات کے جلسے کا چرچا تھا۔ خواجہ صاحب نے بالآخر فیصلہ کیا کہ وہ سر ظفر اللہ خاں کو بلا کر یہ کہیں کہ آپ کابینہ میں شامل ہیں۔ بحیثیت وزیر خارجہ آپ کی ذمہ داریاں بہت نازک ہیں۔ مسلمانوں میں اشتعال ہے۔ آپ اس جلسے میں نہ جائیں۔ یہاں میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں ۔ احرار کی تبلیغی کانفرنسوں میں احرار کے راہنما بار بار حکومت سے کہہ رہے تھے کہ ہر مرزائی سرکاری ملازم خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا چپڑاسی ہو یا وزیر خارجہ اس کی پوزیشن مشکوک ہے۔ سب سے پہلے وہ ربوہ کا وفادار ہے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان کی وفاداری کا نمبر آتا ہے۔ اگر کسی وقت یہ مشکل درپیش آئی کہ ایک حکم ربوہ سے جاری ہوتا ہے۔ اس کے خلاف حکومت پاکستان نے کوئی حکم جاری کیا تو مرزائی ملازم ربوہ کے حاکم کا حکم مانے گا اور حکومت پاکستان کے حکم کو پس پشت ڈال دے گا۔ احرار نے یہ بات مرزائیت کے لٹریچر اور مرزا محمود کے ذہن کے مطالعہ کے بعد کہی تھی۔ مگر ان کے پاس اس کا کوئی واضح ثبوت موجود نہ تھا۔ خدا بڑا کارساز ہے۔ اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے قدم اٹھایا جائے تو وہ ضرور امداد کرتا ہے۔

خواجہ ناظم الدین نے سر ظفر اللہ خان کو روکا

کراچی شہر کے معززین کے وفود اور تاروں کا یہ اثر ہوا کہ خواجہ صاحب نے سر ظفر اللہ کو بلایا اور سردار عبدالرب نشتر کی موجودگی میں ان سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ عوام کے اشتعال اور ناراضگی کے پیش نظر آپ جلسہ میں شرکت نہ کریں تاکہ حکومت کی پوزیشن خراب نہ ہو۔ چوہدری صاحب نے خواجہ ناظم الدین کو کورا جواب دیا اور کہا کہ وہ وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے سکتا ہے۔ لیکن جماعت کے جلسہ میں جانا منسوخ نہیں کر سکتا۔ خواجہ ناظم الدین اپنی ذاتی نیکی اور شرافت کے باوجود پٹری سے اکھڑے اور خاموش ہو گئے۔ اگر اس دن ہی

صفحہ ۱۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظفر اللہ خاں سے استعفیٰ طلب کر لیتے تو آج تک یہ ملک مسلم لیگ کے قبضہ اقتدار میں ہوتا اور بعد میں ملک جتنی سیاسی بربادیوں اور اخلاقی تباہ کاریوں کا شکار ہوا ہے۔ وہ نہ ہوتا۔

چنانچہ ظفر اللہ خاں لوہے کی ٹوپی سر پر پہن کر اور پاکستان کی پولیس کی سنگینوں کے شدید ترین پہرے میں جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے تھے۔ بیرونی سفیروں اور نمائندوں کو کیا معلوم تھا کہ مرزائیت کیا بلا ہے؟ وہ سر ظفر اللہ کی دعوت پر جلسہ گاہ میں پہلے سے موجود تھے۔ اعلیٰ درجہ کی کاروں کی قطاریں لگ گئی تھیں اور بڑے بڑے جغادری مرزائی جلسے میں موجود تھے۔

سخت گڑبڑ

سر ظفر اللہ خاں جونہی تقریر کے لئے اٹھے ختم نبوت زندہ باد اور تاجدار ختم نبوت کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ پولیس حکم کی منتظر تھی۔ لاٹھی چلی۔ پکڑ دھکڑ شروع ہوئی۔ سر ظفر اللہ خاں اور ان کے ساتھیوں کو بھاگ جانے کی سوجھی تو میری کار میں اور تیری کار میں۔ ڈرائیور چلا رہا ہے کہ ہمارے صاحب کو تو آنے دیجئے۔ مگر صاحب وہاں تو نفسانفسی کا عالم تھا۔ بھاگم بھاگ کی گردان جاری تھی۔ جگہ جگہ پولیس متعین تھی۔ گلی کوچوں میں بھگدڑ مچ گئی اور مرزائیوں کا نہایت اہتمام سے منعقد کیا ہوا یہ جلسہ عام مرزائیت کے تابوت میں کیل ٹھونک کر ختم ہو گیا۔ پچاسوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ دوسرے دن صبح سویرے اس جلسے کی روئیداد پر لگا کر ملک بھر میں جا پہنچی۔ جب یہ خبر لاہور پہنچی تو یہاں سخت ہلچل ہوئی۔ مجلس احرار نے جلسہ عام کا اعلان کیا۔ اخباروں کے ذریعے کراچی کے جلسے کا سب کو علم ہو چکا تھا۔ لاہور میں احرار کی جانب سے باغ بیرون دہلی دروازہ میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ ہم نے لاہور کے اس جلسے میں سخت احتجاج کیا اور حکومت کو مرزائیت نوازی پر مطعون کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یا تو سر ظفر اللہ سے وزارت خارجہ کا قلمدان چھین لیجئے اور یا اسے منع کر دیجئے کہ وہ زندہ اسلام اور مردہ اسلام کی وعظ کہنا چھوڑ دے۔

احرار نے جو بات کہی تھی اس کا زندہ ثبوت سر ظفر اللہ خاں نے خواجہ ناظم الدین کی حکم عدولی اور مرزا محمود کے حکم کی بجا آوری سے بہم پہنچا دیا۔ اب تبلیغی کانفرنسوں میں کراچی کے جلسے کا خوب چرچا ہونے لگا۔

لیگ لیڈروں کا خوف

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں : تحریک کے جلسے اجتماع اور کانفرنسیں ہو رہی تھیں۔ لوگ ختم نبوت کے سوائے اور کسی موضوع کو سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اس موضوع پر کوئی جلسہ ہوتا ، لاکھوں لوگ امڈ کر جمع ہو جاتے۔ اس صورتحال سے لیگ لیڈروں نے اپنے دل میں ایک غلط قسم کا خوف محسوس کرنا شروع کر دیا۔ ان تھڑ دلوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ ختم نبوت کی آڑ میں احرار اور تحفظ ختم نبوت والے قبولیت عامہ کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔ گو اس وقت وہ مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ الیکشن کے موقع پر وہ مسلم لیگ سے متصادم ہو جائیں تو لیگ کی شکست یقینی ہے۔ اس واہمہ نے مسلم لیگ کو بعض نہایت غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا۔

چنانچہ میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ بنفس نفیس مسلم لیگ کے جلسوں کا پروگرام بنا کر نکلے۔ ان کے ساتھ پرجوش مقررین کی ایک کھیپ بھی ہوتی۔ لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ وہ جہاں جاتے لوگ جلسہ میں ان سے ختم نبوت کے متعلق سوال کرتے ۔ دولتانہ صاحب ختم نبوت کی تائید کرتے ۔ لیکن نہایت ہی بغض آمیز طریقہ سے تحریک کو غلط بتانے کی تاویلیں کرتے ۔ اس پر ہڑبونگ ہوتا۔ مسلم لیگ کے جلسوں میں اس

صفحہ ۱۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بدمزگی نے لیگ لیڈروں کے واہمہ کو اور بھی تقویت پہنچائی۔ دولتانہ صاحب کی اس مہم کا آخری جلسہ لاہور شاہی مسجد کے سامنے حضوری باغ میں تھا جو کچھ اس جلسہ میں ہوا اس نے مسلم لیگی لیڈروں کو بعض اہم فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا۔ صوبائی مسلم لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس لاہور میں بلایا گیا۔ صاحبزادہ محمود شاہ گجراتی اور مصطفیٰ شاہ گیلانی نے قادیانیوں کے خلاف زور وشور سے مطالبہ کی حمایت کی۔ ظفر اللہ خاں کی علیحدگی کا بھی کہا گیا اور مرکز کو بتا دیا گیا کہ وہ پنجاب کے نمائندے کی حیثیت نہیں رکھتا۔ افسوس ہے کہ لیگ کے کارکنوں کے اخلاص اور جرأت مندانہ بیانات کے باوجود میاں ممتاز خاں دولتانہ اور ان کے بعض ساتھی یہ سب کچھ سیاست کے طور پر کر رہے تھے۔ اصل ان کے دلوں میں جو گرہ لگ گئی تھی وہ اس کی فکر میں تھے اور وہ گرہ یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح تحریک تحفظ ختم نبوت کے لیڈروں کو کچل دیا جائے۔ تاکہ مسلم لیگ کی قبولیت عامہ کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کی تلافی کی کوئی صورت نکل آئے اور مسلم لیگ آئندہ انتخابات میں بلا روک ٹوک کامیاب ہوسکے۔

سازشیں

میاں محمد ممتاز خاں دولتانہ جب اپنے تھڑ دلے ساتھیوں کے مشوروں اور اپنے اندرونی واہمہ سے تحریک تحفظ ختم نبوت کو کچل دینے کے فیصلہ پر پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے دل کے اس روگ کو خان قربان علی خاں کے سامنے پیش کر کے مشورہ چاہا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلہ میں لیگ کی عزت برقرار رکھنے میں مدد کریں اور اسے مرنے اور شکست کھانے سے بچائیں اور اس کی عملی شکل یہی ہے کہ تحریک کے رہنماؤں کو کچل دیا جائے۔ خان قربان علی خاں دھڑلے کے پولیس افسر تھے۔ انہوں نے پنجاب پولیس کی بڑی خدمت کی تھی اور پنجاب پولیس کے وقار کو سر بلند رکھنے کے بڑے زبردست علمبردار تھے۔ انہوں نے دولتانہ صاحب کو کورا جواب دیا اور مشورہ دیا کہ اپنے سیاسی پلیٹ فارم سے احراریوں کا مقابلہ کریں اور انہیں سیاسی وجوہ اور دلائل سے شکست دیں۔ مگر دولتانہ صاحب کو تو خدا نے دماغ ہی دیا ہوا تھا دل کا خانہ خالی تھا۔ وہ اس جرأت کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔ بالآخر پوری کابینہ کو ہم خیال کیا گیا اور خان قربان علی خاں سے متفقہ طور پر درخواست کی گئی۔ خان صاحب نے اس شرط پر کابینہ کی درخواست مان لی کہ پھر کوئی لیڈر میرے کام میں مزاحم نہ ہو۔ میں جو کچھ چاہوں گا کر گزروں گا۔

مری میں اجلاس

کابینہ اور خان قربان علی خاں کی اس سازش کے بعد دولتانہ صاحب نے مری میں صوبہ کے اعلیٰ افسروں کا ایک اجلاس طلب کیا۔ جس میں آئی.جی، ڈی.آئی.جی پولیس، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، کمشنرز اور بعض اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس موجود تھے۔ اس میٹنگ میں صوبہ کے امن وامان کا مسئلہ پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے راہنما صوبہ کے امن وامان کو تہ و بالا کر دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اس کا سد باب کرنے کے لئے اس تحریک اور اس کے راہنماؤں کو کچلنا ضروری ہے۔ مجلس احرار اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام اراکین نے صَدَقْتَ اور احسنتَ کی آواز بلند کر کے تائید اور تحسین کردی۔ صرف ایک افسر یعنی آئی.یو خاں صاحب کمشنر نے اٹھ کر مختصر تقریر کی اور کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ جو فیصلہ آپ کو قادیانیوں کے متعلق کرنا چاہئے تھا وہ فیصلہ آپ احرار کے متعلق کر رہے ہیں۔ آئی.یو خاں نے قادیانیوں کی جارحیت کے چند واقعات کا تذکرہ بھی کیا۔ لیکن آئی.یو خان صاحب کی کسی نے نہ سنی اور فیصلہ تحریک کو کچل دینے کا ہوگیا۔

صفحہ ۱۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تدبیر کند بندہ و تقدیر کند خندہ

میاں ممتاز خاں دولتانہ، خاں قربان علی خاں، آئی. جی پولیس میاں انور علی، ڈی. آئی. جی، سی. آئی. ڈی اور دوسرے اس وقت کے ارباب اختیار نے ایک فیصلہ کر لیا لیکن وہ اللہ کے فیصلے سے غافل تھے۔ انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ آسمان کا فیصلہ زمین کے فیصلہ سے مختلف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آسمان کا فیصلہ ہی ہمیشہ زمین کے فیصلوں پر غالب آیا کرتا ہے۔ مری کی ٹھنڈی ٹھنڈی فضاؤں میں گرم گرم فیصلوں سے فارغ ہو کر یہ لوگ لاہور پہنچے اور پورے صوبہ میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔ تحریک کے قائدین پرامن رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کھلے میدانوں اور پارکوں کی بجائے مسجدوں میں جلسے کرنا شروع کر دیئے۔ ان کا خیال تھا کہ دفعہ ۱۴۴ مسجد کے اجتماع پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ لیکن انہیں یہ یاد نہ رہا کہ وہ تو انگریزوں کی کافر دفعہ ۱۴۴ تھی جو مسجد میں داخل نہیں ہوا کرتی تھی۔ اب تو مسلمان حکمرانوں کی صاحب ایمان دفعہ ۱۴۴ تھی جو بلا دھڑک مسجدوں میں بھی داخل ہو سکتی تھی۔ چنانچہ وہ مسجد میں داخل ہو گئی۔

۲/ جون کراچی کنونشن

۱۷، ۱۸/ مئی ۱۹۵۲ء کو جہانگیر پارک کراچی میں قادیانیوں نے ایک جلسہ عام کیا تھا۔ سواد اعظم کے جذبات اور احساسات مجروح تھے۔ سر ظفر اللہ خاں پولیس کی سنگینوں کے پہرے میں لوہے کی ٹوپی سر پر پہنے ہوئے جلسہ گاہ میں پہنچا۔ زندہ اور مردہ مذہب کے عنوان سے تقریر کرتے ہوئے اسلام کو مردہ اور احمدیت کو زندہ اسلام کہہ ڈالا۔ اسلامیان کراچی کی غیرت نے اسے برداشت نہ کیا۔ احتجاج ہوا، پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ عوام نے پولیس کا ظلم و تشدد برداشت کیا لیکن قادیانیوں کا جلسہ درہم برہم کر دیا گیا۔ کراچی کی تاریخ میں یہ جلسہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔

۲/ جون ۱۹۵۲ء کو مولانا لال حسین اختر کی مساعی جمیلہ سے تھیوسوفیکل ہال کراچی میں آل مسلم پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کانفرنس کے دعوت ناموں پر مولانا لال حسین اختر کے ساتھ مولانا احتشام الحق تھانوی (دیوبندی)، مولانا عبدالحامد بدایونی (بریلوی)، مولانا مفتی جعفر حسین مجتہد (شیعہ)، مولانا محمد یوسف (اہل حدیث) نے بھی دستخط کئے۔ اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ مندرجہ ذیل تین مطالبات بھی متعین کئے گئے۔

اسی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مندرجہ مذکورہ مطالبات کو منوانے کے لئے ایک آل مسلم پارٹیز کنونشن بھی طلب کی جائے۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم نے فرمائی۔ ایک بورڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جس کے ذمہ یہ تھا کہ وہ آل مسلم پارٹیز کنونشن کے جملہ انتظامات کا ذمہ دار ہوگا۔ اس بورڈ کے ممبران مندرجہ ذیل حضرات منتخب ہوئے۔

صفحہ ۱۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مندرجہ مذکورہ بورڈ کا ایک اجلاس ۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو الحاج ہاشم گزدر کے مکان پر ہوا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آل مسلم پارٹیز کنونشن میں مندرجہ ذیل جماعتوں کو دعوت نامے جاری کئے جائیں۔

۵؍ اگست ۱۹۵۲ء کو کراچی میں ایک مشترکہ میٹنگ ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ مستقبل قریب میں کل پاکستان سطح کی ایک آل پارٹیز کنونشن بلائی جائے۔ مولانا احتشام الحق تھانوی کو کنونشن بلانے کا مجاز قرار دیا گیا۔ مولانا موصوف نے ۱۱؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو پاکستان بھر کی دینی جماعتوں کے نمائندوں کا کنونشن بلانے کے دعوت نامے جاری کر دیئے کہ: ”آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن کا اجلاس کراچی میں ۱۶، ۱۷، ۱۸؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو منعقد ہوگا۔“

صفحہ ۱۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۵۳ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۱۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خانہ خدا اور حکومت پاکستان کا فرض

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں کہ : پنجاب، سندھ اور سرحد میں جگہ جگہ جلسے ہونے لگے۔ رد مرزائیت کے سلسلے میں پہلے سے تحریک جاری تھی۔ احرار کی تبلیغ کانفرنسوں نے مسلمانوں کو خاصا بیدار کر رکھا تھا۔ مگر مسجد میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ سے ایک اہم سوال پیدا ہو گیا۔

رمضان المبارک کی آمد

اس عرصے میں پنجاب کے کونے کونے میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کانفرنسیں ہوتی رہیں ۔ ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے چند روز پہلے ہمارے لاہور کے رفیق دفتر میں جمع ہوئے اور باتوں باتوں میں رمضان المبارک کا ذکر آیا تو سب نے وہی بات کہی جو عام طور پر کہی جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ اب ایک ماہ کے لئے چھٹی ہے۔ اب کوئی کام نہ ہو سکے گا۔ مجھے معا چوہدری افضل حق مرحوم کا ارشاد یاد آیا کہ یہ برکتوں والا مہینہ، کس طرح ہماری غفلت شعاری سے تحریک کشمیر کے لئے نقصان کا باعث ہوا تھا۔ چنانچہ اس موضوع پر بحث ہوتی رہی کہ ہمیں تحریک ختم نبوت کو جاری رکھنے کے لئے کس طرح پراپیگنڈا کرنا چاہئے۔ فیصلہ ہوا کہ اپنے ہم خیال ائمہ مساجد اور خطیب حضرات کو توجہ دلائی جائے کہ وہ مسئلہ ختم نبوت پر تقریر فرمائیں۔ میں نے شیخ صاحب سے عرض کیا کہ وقت کی تنگی کی وجہ سے زعمائے احرار کی مجلس مشاورت بلوانا مشکل ہے اور نہ اس وقت حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے سے مقصد حل ہو سکے گا۔ زعماء احرار جہاں کہیں بھی ہیں اپنا فرض ضرور ادا کریں گے۔ ہمیں یعنی مجھے اور شیخ صاحب کو رمضان المبارک کے چاروں جمعے خاص مقامات پر جہاں جامع مساجد کے خطیب حضرات ہمارے ہم خیال ہیں خود جانا چاہئے۔ اس مرتبہ پرانے تجربے سے سبق حاصل کر کے ہمیں مناسب قدم اٹھانا چاہئے۔ طے ہوا کہ پہلے جمعے تو حضرت مولانا احمد علی مدظلہ (شیرانوالہ باغ لاہور) کے ہاں اجازت لے کر خطبے سے قبل رد مرزائیت کے سلسلہ میں ہم دونوں تقریر کریں۔

چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم دونوں مولانا کے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت مولانا احمد علی صاحب نے جیسا کہ ہمیں توقع تھی خود تحریک کے بارے میں ارشاد فرمایا اور ہمیں بھی اجازت دی کہ ہم اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ روزہ دار کو گرمی کے دنوں میں لمبی چوڑی تقریر کے بعد جان پر بن جاتی ہے۔ مگر ہمیں ایک نشہ تھا۔ مسئلے کی برکت تھی کہ آگے بڑھنے کا حوصلہ ہوا۔ دوسرے جمعے ہم نے اوکاڑہ کی عید گاہ میں تقریر کی۔ اعلان ہو چکا تھا۔ عید گاہ میں بہت بڑے اجتماع کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ شیخ صاحب کی موٹر میں اوکاڑہ پہنچے۔ شام کو تقریر کر کے لاہور واپس آ گئے۔ مگر سفر میں ہمارا کچومر نکل گیا۔ تیسرا جمعہ سرگودھا کے لئے وقف تھا۔ فیصلہ یہ تھا کہ باغ میں جمعہ سے قبل جلسہ عام ہو جائے۔ ہم نے کہلا بھیجا کہ ہم سحری کھا کر چل پڑیں گے اور ان شاء اللہ صبح آٹھ بجے سرگودھا پہنچ جائیں گے۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم جامع مسجد کے سامنے جا حاضر ہوئے۔ احباب پریشانی کے عالم میں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ جونہی ہماری موٹر پہنچی ان سب حضرات نے موٹر کو گھیر لیا اور بتایا کہ جس باغ میں جلسے کا اعلان تھا۔ وہاں حکومت نے دفعہ ۱۴۴ لگا دی ہے۔ پولیس تانگے میں لاؤڈ سپیکر پر بازاروں میں اعلان کر رہی ہے کہ باغ مذکورہ میں جلسہ نہیں ہو سکتا۔ وہاں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی ہے۔ سرگودھا کے احرار مصر تھے کہ ” جلسہ وہیں ہو گا جہاں کا اعلان ہو چکا ہے۔ حکومت نے عین وقت پر بدنیتی سے دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کیا ہے تا کہ ہمیں یا تو قانون شکنی کرنا پڑے یا ہم عوام کی نگاہ میں ذلیل وخوار ہوں ہم جلسہ کریں گے اور قربانی دیں گے۔ حکومت ہمیں مذہبی تبلیغ سے روک نہیں سکتی ۔“

صفحہ ۱۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہم نے اس صورتحال پر غور کیا اور احباب سے عرض کیا دس منٹ کے لئے ہمیں سوچ لینے دیجئے تاکہ ہم کوئی مناسب فیصلہ کرسکیں۔ اس معاملے میں مجھے میرے دوست بہت نرم مزاج سمجھتے ہیں۔ میں جلدی سے بھڑک نہیں جاتا۔ مجھے گرمی بہت کم آتی ہے۔ آتی بھی ہے تو آہستہ آہستہ مگر جب آجاتی ہے تو پھر آ ہی جاتی ہے۔ میں اس مرحلہ پر تصادم نہ چاہتا تھا اس کی وجوہات تھیں۔ مجھے مجلس احرار کا صدر بنا دیا گیا تھا۔ اگر میں پکڑا جاؤں تو ساری جماعت پر فرض ہو جاتا کہ وہ سول نافرمانی کرتی۔ مجھے جماعت نے سول نافرمانی کا پروانہ نہیں دے رکھا تھا۔ میں تنہا یہ اقدام کیسے کرتا؟ سہارے کے لئے ہمراہ مجلس احرار کے جنرل سیکرٹری شیخ حسام الدین موجود تھے۔ مگر وہ تو جرنیل قسم کے بزرگ ہیں۔ انہیں تو مخالف کی صورت دیکھتے ہی تاؤ آ جاتا ہے۔ مجھے اس نازک مرحلے پر انہیں بھی ٹھنڈا کرنا تھا۔ بہر حال دس منٹ بعد ہم دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ حکومت الجھنا چاہتی ہے۔ ہمیں اس وقت طرح دے جانا چاہئے۔ ہمارے ہمراہ لاہور سے رضا کاران احرار کے سالار سعید اقبال بھی سرگودھا پہنچ چکے تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ سالار صاحب تم کار لے جاؤ اور سرگودھا کے بازاروں میں اعلان کرو کہ ”باغ جہاں جلسہ ہونا تھا وہاں حکومت نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی ہے۔ اس لئے باغ میں کوئی مسلمان نہ جائے۔ جنہیں احرار رہنماؤں سے ملاقات کرنی ہو وہ جامع مسجد میں آ جائیں۔ ہم وہیں بات کریں گے اور جو کہنا چاہتے ہیں وہیں کہہ لیں گے۔ کوئی سیاسی بات تو ہے نہیں جس کے لئے کھلے میدان کی ضرورت ہو۔ مذہب کی بات ہے خدا کا پیغام ہے آ جاؤ۔ خانہ خدا ہی میں آ کر سن جاؤ۔“

لوگوں کو تاکید کر دی گئی کہ ممنوعہ علاقے میں جمع ہو کر قانون شکنی سے پرہیز کریں۔ اس اعلان کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ ہزار ہا مسلمانوں کا ہجوم جامع مسجد میں جمع ہو گیا۔ ہمیں جامع مسجد سرگودھا میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ سے اجازت لینا تھی۔ وہ بہت ہی مہربان اور شفیق بزرگ ہیں۔ تحریک تحفظ ختم نبوت سے انہیں دلی لگاؤ ہے۔ اس بارہ میں انہوں نے کسی سے کم جدوجہد اور قربانی نہیں کی۔ وہ رد مرزائیت کے سلسلہ میں پیش پیش تھے۔

تقریباً دس بجے جامع مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ میں نے عوام کو صورتحال سے خبردار کیا اور عوام کے مشتعل جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ میں ابھی تقریر کر ہی رہا تھا کہ سرگودھا کے پولیس کپتان معہ دوسرے افسروں کے مسجد کے باہر آ کھڑے ہوئے اور وہیں سے شیخ عبداللہ صاحب کو باہر بلا بھیجا اور انہیں نوٹس دیا کہ مسجد کے اندر رد مرزائیت کے سلسلے میں کوئی تقریر نہیں ہو سکتی۔ میں تقریر کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ سرگودھا کے احرار سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کوئی کاغذ ہے۔ میں نے تقریر کرتے ہوئے دریافت کر لیا کہ کیا قصہ ہے؟ معلوم ہوا کہ جامع مسجد کے اندر دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی ہے۔ اسی کے متعلق نوٹس ہے میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔ میں نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ برطانوی راج میں دفعہ ۱۴۴ مسجد سے باہر رہا کرتی تھی۔ مگر پاکستان کی برکت سے دفعہ ۱۴۴ نے اب کلمہ پڑھ لیا ہے۔ اس لئے مسجد کے اندر چلی آئی ہے۔ میرے بعد شیخ حسام الدین صاحب نے تقریر کی اور دفعہ ۱۴۴ کی قانونی پوزیشن پر روشنی ڈالتے ہوئے احتجاج کیا اور حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات سے یوں بے دریغ کھیلنا چھوڑ دے۔ یہ سودا حکومت کو مہنگا پڑے گا۔ ہم قانون شکنی کے لئے یہاں نہیں آئے۔ اگر ہمیں یہ کام کرنا ہوتا تو ہم ۱۴۴ کی دھجیاں باغ میں تقریر کر کے اڑا سکتے تھے۔ مگر ہم نے ایسا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود سول نافرمانی کر رہی ہے۔ حکومت کی اپنی نیت اچھی معلوم نہیں ہوتی اور نادان حکام بلاوجہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ تقریر ختم ہوئی۔ خطبہ شروع ہوا۔ ہم نے وہیں نماز جمعہ ادا کی۔ مگر اس قدر گرمی تھی کہ زبانیں تالو سے جا لگیں۔ ہم مسجد سے فارغ ہو کر شیخ عبداللہ صاحب کی دوکان پر آ گئے۔ شیخ صاحب نے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بہتیرے جتن کئے مگر ہم تقریر، جلسہ اور ہجوم کی وجہ سے پسینے میں شرابور اور گرمی سے بے حال ہو رہے تھے۔ دوپہر ہی کو ہم سرگودھا سے چل پڑے۔ موٹر کی کھڑکیاں بند کیں تو اندر حمام بن گیا۔

صفحہ ۱۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کھڑکیاں کھولیں تو لو کے جھونکے طمانچے مارتے تھے۔ چنیوٹ سے کچھ فاصلہ پر تھے کہ زبانوں پر کانٹے پڑ گئے۔ آواز نکالنا دو بھر ہو گیا تھا کہ ہمیں دور سے کنویں پر راہٹ چلتا نظر آیا۔ ہم نے موٹر کو پٹڑی پر ڈال دیا اور کنویں کے چھوٹے سے تالاب میں کپڑوں سمیت داخل ہو گئے۔ آدھ گھنٹے بعد ہمیں ہوش آیا دوبارہ سفر شروع کیا۔ جب ہم انارکلی کے چوک میں پہنچے تو افطاری کا نقارہ بجا۔ وہیں سنگترے سے روزہ افطار کیا۔ چوتھا جمعہ گوجرانوالہ کے لئے وقف تھا۔ جامع مسجد میں باقاعدہ اعلان ہوا کہ ہم دونوں تقریر کریں گے۔ ہم گوجرانوالہ پہنچ کر سیدھے صاحبزادہ فیض الحسن کے ہاں پہنچے۔ کچھ دیر آرام کیا۔ صاحبزادہ صاحب کا پروگرام باہر کا تھا۔ مگر وہ ہماری وجہ سے ٹھہر گئے۔ بلکہ جامع مسجد کے جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔ یہاں مولانا عبد الواحد کا دم غنیمت ہے۔ وہ ہر جمعے میں مرزائیت پر بہت کھل کر تقریر فرماتے تھے۔ جلسے کا اعلان ہوا۔ صاحبزادہ نے صدارت فرمائی اور صدارتی تقریر میں بہت کھری کھری باتیں کہہ ڈالیں۔ ہم دونوں نے تقریر کی اور تقریر کے بعد دفتر احرار میں چلے آئے۔ گوجرانوالہ میں احرار کا دفتر بارونق بازار میں تھا۔ تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد ہم وہاں سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ پولیس ہمیں گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ گوجرانوالہ میں ہمیں معلوم ہو جاتا تو ہم وہاں ٹھہر جاتے اور پولیس کو لاری لے کر ہمارے پیچھے دوڑنے کی زحمت گوارا نہ کرنا پڑتی۔ مرید کے پہنچے تو شیخ صاحب نے فرمایا کہ میں نے مولوی محمد صدیق کو چاولوں کی بوری کے لئے کہہ رکھا ہے۔ آئیے اس سے پتہ لیں۔ اگر اب چاول مل جائیں تو ہمراہ لیتے چلیں۔ ہم مولوی محمد صدیق کے ہاں پہنچے۔ پولیس خلاف قانون رفتار سے سڑکوں پر موٹر دوڑا کر واپس ہو گئی۔ ہمارے فرشتوں کو بھی پتہ نہ تھا کہ پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ ہم مرید کے سے لاہور آگئے۔ بعد میں پولیس کی بھاگ دوڑ اور وارنٹوں کا پتہ چلا۔ ہم انتظار کرتے رہے۔ میاں ممتاز محمد دولتانہ کی حکومت نے ہمیں نماز عید پڑھنے کی مہلت تو دے دی۔ عید کے دوسرے دن سرگودھا اور گوجرانوالہ سے دو وارنٹ آگئے۔ مگر لاہور میں ہم پر ہاتھ ڈالتے ہوئے حکومت گھبراتی تھی۔ آخر کب تک! ایک روز حوصلہ کر کے مجھے اور شیخ صاحب کو پکڑ لیا۔ ہماری یہ گرفتاری سرگودھا کے وارنٹوں پر ہوئی تھی۔ چنانچہ کوتوالی پہنچے۔ وہاں سے ہمیں چیرنگ کراس کے تھانے کی اس بارک میں پہنچا دیا گیا جہاں میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ پاکستان میں وزیر بننے سے قبل مسلم لیگ کی تاریخی تحریک میں ایک رات گزار چکے تھے۔ مجھے خیال تھا کہ رات کو سوتے وقت شاید ہمیں بھی وزارتوں کے سنہری خواب آئیں مگر وہ تو قسمت کے پھیر ہیں۔ جسے اللہ دے۔ رات گزری، صبح ہوئی تو ہمیں پولیس کی لاری میں ادھر ادھر گھما کر سرگودھا کی سیدھی سڑک پر ڈال دیا گیا۔ دوپہر بعد ہم سرگودھا کی مختصر اور چھوٹی سی جیل میں بند تھے۔

صاحبزادہ سید فیض الحسن کی گرفتاری

ہم دونوں یعنی مجھے اور شیخ حسام الدین کو گرفتار کرنے کے فوراً بعد صاحبزادہ سید فیض الحسن کو گوجرانوالہ سے گرفتار کر لیا۔ صاحبزادہ صاحب سجادہ نشین آلومہار شریف بڑی خوبیوں کے مالک ہیں۔ بی۔ اے تک تعلیم پائی ہے۔ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں۔ بہترین خطیب اور محبوب ترین پیر ہیں۔ آپ کے مریدوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ پیران عظام میں یہی ایک پیر ہیں جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ رد مرزائیت کے سلسلے میں بارہا جیل گئے۔ صاحبزادہ صاحب بڑے ہی خوش خلق ، ملنسار اور احرار کے رہنماؤں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ احرار کارکنوں اور رضا کاروں سے انہیں بے حد محبت ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے حریت پسندی اپنے والد محترم سے ورثہ میں پائی ہے۔ ہم نے انہیں رضا کاروں کی وردی میں ملبوس اور فرش محمدی پر راتیں گزارتے اور رضا کاروں کے ہمراہ مظاہرہ کرتے دیکھا ہے۔

صفحہ ۱۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہمیں اقرار ہے کہ صاحبزادہ صاحب کی احرار میں شمولیت سے ایک خاص مکتب خیال کے مسلمان گروہ در گروہ احرار میں شامل ہوئے اور احرار کو بڑی تقویت حاصل ہوئی۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جونہی صاحبزادہ صاحب کو گرفتار کر کے جیل پہنچایا گیا ان کے مریدوں اور احرار کارکنوں کے بہت بڑے ہجوم نے جیل کا دروازہ گھیر لیا۔ مریدین کا یہ حال تھا کہ صاحبزادہ صاحب کا ایک مرید تقریباً دیوانہ ہو کر جیل کے دروازے پر یورش کر رہا تھا۔ جیل وارڈن اسے بار بار روکتے تھے۔ تنگ آکر اس دیوانے نے جیل کی دیواروں پر ٹکریں مارنا شروع کر دیں۔ وہ چلا کر دہائی دے رہا تھا کہ ظالمو! رسول مقبول ﷺ کے نواسے کو جیل میں بند کر کے اللہ کے عذاب کو کیوں دعوت دے رہے ہو؟ یا انہیں رہا کرو، یا مجھے اندر لے چلو۔ یہ خالص عقیدت اور غیر سیاسی ذہن کی بے تابانہ جرأت تھی۔ احرار کارکن اور رضا کار جانتے تھے کہ انہیں صاحبزادہ کے پاس پہنچنے کے لئے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ بہر حال گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر اضلاع میں ان گرفتاریوں سے آگ بھڑک اٹھی۔ ایک شور اٹھا کہ اسلامی حکومت غیر اسلامی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔ جگہ جگہ جلسے ہوئے۔ حتیٰ کہ مساجد میں علماء کرام نے ان گرفتاریوں پر احتجاج کرنا شروع کیا۔

حضرت مولانا ابوالحسنات کی تائید

بعض بلند پایہ شخصیتیں ایسی ہیں جو خود کو شہرت کے مقام سے دور رکھتی ہیں۔ دنیا ان کی خوبیوں سے کما حقہ واقفیت نہیں رکھتی۔ زیادہ قریب رہنے والے چند لوگ ان بزرگوں کی عظمت کو جانتے ہیں۔ مگر عوام بے خبر رہتے ہیں۔

آپ کو انہی بلند پایہ حضرات میں حضرت مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری خطیب جامع مسجد وزیر خاں کا نام نامی سرفہرست نظر آئے گا۔ مجھے پاکستان کے قیام سے بہت قبل بارہا ان کے ارشادات سننے کا موقع ملا۔ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جب بھی مسجد وزیر خاں میں گیا ان کا خطبہ سنا۔ وہ اختلافی مسائل میں بہت کم الجھتے ہیں۔ ان کا انداز بیان بھی اچھوتا ہوتا ہے۔ وہ صاحب زبان ہیں اور بہت دلچسپ اور عام فہم تقریر فرماتے ہیں۔ جو کچھ کہنا ہو بے دریغ فرما دیتے ہیں۔ ایچ پیچ نہیں ڈالتے۔ تحریک سے قبل بارہا مسجد وزیر خاں میں جانا ہوا۔ مگر میری ان کی ملاقات کبھی نہ تھی۔ غائبانہ تعارف تھا۔ حضرت مولانا ابوالحسنات نے جب یہ سنا کہ احرار کے رہنماؤں کو خانہ خدا میں دفعہ ۱۴۴ لگا کر گرفتار کیا گیا تو وہ بہت برہم ہوئے۔ نماز جمعہ میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مولانا نے حکومت کے اس ناروا، نامناسب اور خلاف اسلام اقدام کو بے نقاب کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے احرار کی جن باتوں سے اختلاف ہوتا ہے ان کے خلاف کہتا ہوں اور کبھی یہ پروا نہیں کرتا کہ احرار خفا ہوں گے۔ جسے حق سمجھتا ہوں اسے بے دریغ کہہ دیتا ہوں۔ مجھے احرار کی سرخ وردیوں پر اعتراض تھا۔ میں نے بھرے جلسے میں اعتراض کیا مگر احرار جو صحیح قدم اٹھاتے ہیں میں ان کی تائید کرتا ہوں۔

رد مرزائیت کے سلسلے میں احرار کو حق بجانب سمجھتا ہوں۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں حتی المقدور کوشاں رہے۔ یہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

مسجد میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ پر اعتراض

حضرت مولانا ابوالحسنات نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ مسجد خدا کا گھر ہے۔ خدا کے گھر میں خدا کا اپنا قانون رائج ہے۔ کوئی دنیوی قانون مسجد پر نافذ نہیں ہو سکتا۔ دفعہ ۱۴۴ کو مسجد کے اندر نافذ کرنا قطعاً غیر اسلامی فعل ہے۔ حکومت اس قانون کو مساجد پر نافذ نہیں کر

صفحہ ۱۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سکتی ۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو وہ بلاوجہ ہم سے الجھے گی ۔ ہم حکومت کی کسی دھمکی سے مرعوب نہ ہوں گے ۔ آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ ہارون رشید اپنی بیگم سے خفا ہو کر جذبات میں بہہ گئے اور تیز کلامی میں بیگم سے فرما دیا کہ آفتاب غروب ہونے سے قبل اگر تم میری سلطنت کے حدود سے باہر نہ چلی جاؤ گی تو تم پر طلاق عائد ہو گی ۔

جب غصہ فرو ہو گیا۔ جذبات کی آندھی گزر گئی تو ہوش آیا اور دست تاسف ملنے لگے۔ خلیفہ ہارون رشید بیگم کو طلاق نہ دینا چاہتے تھے۔ شتر سواری کا زمانہ تھا۔ ہوائی جہاز کسی کے خواب و خیال میں نہ تھے ۔ وہ سخت پریشان ہوئے ۔ علماء کو طلب فرمایا اور ان سے دریافت کیا کہ اب کیا صورت ہو سکتی ہے؟ سب نے بے بسی کا اظہار کیا ۔ بیگم کے ہمدرد اور خود خلیفہ کے درباری حیران تھے کہ اب کیا ہو گا ۔ بات سارے شہر میں پھیل گئی ۔ یہ زمانہ حضرت امام ابو یوسف کا تھا ۔ جب آپ سے کسی نے کہا کہ اس طرح ہارون رشید ایک مشکل میں پھنس گئے ہیں ۔ بیگم پریشان ہے اور حاضر ہو کر امداد کی خواہاں ہے ۔

امام ابو یوسف نے فرمایا کہ کوئی فکر نہ کرو ۔ غروب آفتاب سے کچھ عرصہ پیشتر ڈولی میں بیٹھ کر تیار رہنا ۔ تمہیں ہارون رشید کی سلطنت سے باہر پہنچا دیا جائے گا ۔ دنیا حیران تھی کہ گوشہ گمنامی میں بیٹھنے والا فقیر منش عالم دین طلاق سے بچنے کی کون سی راہ نکالے گا ۔ جب مغرب کا وقت قریب آ گیا تو بیگم کے حواس پریشاں ہوئے ۔ وہ پریشانی کے عالم میں ڈولی میں بیٹھی اور حضرت امام ابو یوسف کے ہاں پہنچی ۔ آپ نے بیگم سے فرمایا آؤ میرے ساتھ چلو ۔ آپ ، بیگم کو مسجد میں لے گئے ۔ جب بیگم مسجد میں داخل ہوئی تو امام ابو یوسف نے فرمایا بیگم اب تم ہارون رشید کی سلطنت سے باہر آ گئی ہو۔ اللہ کے گھر میں اللہ کی حکومت ہے ۔ یہاں ہارون رشید کے احکامات کا کوئی دخل نہیں ۔ اس واقعے کو بیان فرمانے کے بعد حضرت مولانا ابو الحسنات نے حکومت کو متنبہ کیا اور مسلمانوں کو صحیح صورتحال سے آگاہ کر دیا ۔ اس کے بعد ہر مسجد میں ہر خطیب نے حکومت کو آنکھیں دکھائیں ۔

حکومت کی گمراہی

پنجاب میں میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ کی حکومت تھی ۔ حکومت اپنی سیاست کو مسجد کے اندر تو لے گئی مگر واپسی کی راہیں بند ہوگئیں ۔ وقار کی دیوار بیچ میں حائل ہوگئی ۔ ہمیں گرفتار نہ کر لیا ہوتا تو واپسی کی گنجائش تھی ۔

مگر ہماری گرفتاری کے بعد حکومت اپنی شکست تسلیم کر کے ہمیں ہیرو بننے کا موقعہ کیسے دے ۔ حکم ہوا ان ملاؤں کو ڈپٹی کمشنر کی معرفت مرعوب کرو اور انہیں منع کرو کہ خطبات میں مرزائیت کا ذکر نہ کریں ۔ اس نامعقول حکم نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ غریب اور مظلوم ملاؤں کے پاس انگریز چھوڑ ہی کیا گیا تھا لے دے کر خانہ خدا اور مسند رسول ﷺ ہی باقی تھی ۔ اس پر بھی انگریزی خوانوں نے یورش کی تو ملاؤں کے ماتھے پہ شکن آ گیا ۔ حکومت کے اس حکم اور سرکلر کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھرنے لگیں تو حکومت کو ہوش آیا تب حکومت مکرنے اور تاویلیں کرنے پر اتر آئی ۔ اسنے ہر چند چاہا کہ احرار کے خلاف غداری کا پروپیگنڈا کر کے انہیں اکیلا کر دیا جائے اور پھر سختی اور تشدد سے انہیں کچل دیا جائے ۔ اوّل تو وہ تنہا ، بھی بڑے سخت جان واقع ہوئے ہیں ۔ برطانوی اقتدار انہیں دبا اور مٹا نہ سکا ۔ یہ بے چارے رنگروٹ احرار کو کیا مٹاتے ۔ مگر مشکل یہ ہوئی کہ ہر مسلمان نے دل کی بات کہی اور حکومت کو جتا دیا کہ ہم احرار کی حمایت نہیں کر رہے ۔ ہم تو مذہب کے بنیادی مسئلے کی حمایت کرتے ہیں ۔ یہ حمایت جاری رہے گی اور حکومت مسلمانوں کو اس مقام سے ہٹانے میں کبھی کامیاب نہ ہو گی ۔

صفحہ ۱۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت نے بڑھایا ہوا قدم واپس لیا

پنجاب میں آگ لگ چکی تھی۔ سرحد اور سندھ بھی اس آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ حضرت مولانا ابوالحسنات نے حزب الاحناف کے سالانہ جلسے میں ہماری گرفتاریوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے ایک تجویز پیش کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیت کی بے جا حمایت اور اسلام دشمنی سے باز آ جائے۔ اس روز تقریر کرتے ہوئے مولانا موصوف نے فرمایا کہ ہم اس صورتحال کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتے۔ احرار کا سارا کیمپ آتش زیر تھا۔ اخبارات نے مقالے لکھے۔ میاں دولتانہ بہت گھبرائے۔ چنانچہ حکومت نے ایک بیان جاری کیا کہ مساجد پر کوئی پابندی نہیں۔ یعنی حکومت نے بڑھایا ہوا قدم واپس لے لیا۔

ان بیانات کے باوجود عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ چکی تھی۔ خالی بیانات سے لوگ کیونکر مطمئن ہوتے۔ جب تک حکومت گرفتار شدگان کو رہا نہ کرتی۔ ہماری رہائی کے لئے حکومت پس و پیش کر رہی تھی۔

مقدمہ اور سزا

سرگودھا جیل میں میرے اور شیخ حسام الدین کے علاوہ شیخ محمد عبداللہ بھی ایک روز گرفتار ہو کر تشریف لے آئے۔ ان کے ہمراہ پراچہ صاحب بھی گرفتار ہو گئے۔ پہلے ہم دو تھے اب چار ہو گئے۔ مقدمہ چلتا رہا۔ گو اس مقدمہ میں کچھ جان نہ تھی مگر ہم دلچسپی نہ لیتے تھے۔ باہر احباب نے زور دیا کہ مقدمہ کی پیروی ہونی چاہئے ۔ چنانچہ شیخ ظہیر الدین انصاری ایڈووکیٹ سرگودھا نے پیروی شروع کی۔ پیروی کے لئے اکثر احباب جیل آجایا کرتے تھے۔ اس بہانے سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ایک روز معلوم ہوا کہ حکومت نے ٹیلی فون پر حکام جیل کو مطلع کیا ہے کہ گرفتار شدہ رہنماؤں کو رہا کر دیا جائے گا۔ مگر دو چار دن بعد اس خبر کی تردید ہو گئی۔ بہر حال ہم پیشیاں بھگتتے رہے۔ تا آنکہ مقدمے کے فیصلے کا وقت آ گیا۔ ہمارا کیس اے.ڈی.ایم کے سپرد تھا۔ فیصلے کے دن احباب کا ہجوم جیل سے باہر آ موجود ہوا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ رہائی لازمی ہے۔ اے.ڈی.ایم نے جب ہمیں چھ چھ ماہ قید سخت کا حکم سنایا تو ہمارے تمام رفیق جو فیصلہ سننے کے لئے آئے ہوئے تھے کچھ پژمردہ ہوئے۔ ہم نے اے.ڈی.ایم صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ سزا تو آپ نے چھ ماہ کی سنا دی ہے۔ کاش حکومت ہمیں چھ ہفتے جیل میں رکھ سکے۔

شیخ عبداللہ اور پراچہ صاحب سزا کا حکم سننے کے بعد کیمبل پور جیل تبدیل کر دیئے گئے۔ ہم دونوں سرگودھا جیل میں قید کاٹنے لگے۔ کلاس کا جھگڑا پیدا ہوا تو میں نے بی کلاس کی بجائے اے کلاس کے لئے مطالبہ کیا۔ ابھی حکومت پنجاب فیصلہ نہ کرسکی تھی کہ ایک رات بارہ بجے کے قریب سپرنٹنڈنٹ جیل نے ہمیں آ جگایا اور اسباب باندھنے کے لئے کہا۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمیں کسی بڑی جیل میں منتقل کیا جائے گا۔

جیل سے باہر آئے تو دیکھا دو پک اپ کاریں اور دو انسپکٹر پولیس اور پولیس گارد موجود ہے۔ حکم ہوا علیحدہ علیحدہ سوار ہو جاؤ۔ الگ الگ جیل میں جانا ہوگا۔ مجھے میانوالی اور شیخ صاحب کو جھنگ روانہ کر دیا گیا۔ یعنی میاں دولتانہ کی حکومت ہمیں اکٹھا نہ رکھنا چاہتی تھی اور سزا کے بعد بھی انتقامی جذبہ کارفرما تھا۔ راتوں رات ہمیں دو مختلف جیلوں میں پہنچا دیا گیا۔ صبح چار بجے کے قریب میانوالی جیل کا پھاٹک کھلا اور میں اس جیل میں اکتیس سال کے بعد دوسری مرتبہ داخل ہوا۔ ۱۹۲۰ء میں تحریک خلافت کے سلسلہ میں مجھے پہلی بار اس جیل میں قید کاٹنے کا موقعہ ملا تھا۔ ان دنوں میں بھی جوان تھا اور حضرت شاہ صاحب کی جوانی بھی پھوٹی پڑتی تھی۔ حضرت مولانا لقاء اللہ صاحب پانی

صفحہ ۱۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پتی، مولانا سید حبیب ، مولانا اختر علی خاں، مولانا عبدالمجید سالک ، مولانا احمد سعید، مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم و مغفور، مولانا محمد یحییٰ، سردار منگل سنگھ، ڈاکٹر سیتہ پال اور دیگر کانگریسی زعماء اس جیل میں محبوس تھے۔ وہ تحریک خلافت کا زمانہ تھا۔ جیل میں خوب رونق تھی۔ مگر اس مرتبہ میں یکہ و تنہا تھا۔ طبیعت پر کچھ بوجھ ضرور ہوا۔ مگر بے بسی تھی۔ جیل خانہ کوئی باغ جناح نہیں کہ دل گھبرایا تو گھر واپس چلے آئے۔ جیل میں کوئی ذمہ دار افسر موجود نہ تھا۔ سپرنٹنڈنٹ اور جیلر اپنے بنگلوں پر استراحت فرما رہے تھے۔ چھوٹے داروغہ نے ہمیں ڈیوڑھی ہی میں کرسی دے دی اور خود دفتر کے کاغذات کو الٹ پلٹ کرنے لگے۔ مجھے جس پولیس انسپکٹر کے ہمراہ میانوالی بھیجا گیا تھا وہ نہایت شریف انسان تھا۔ اس نے چلتے وقت سرگودھا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے برسبیل تذکرہ دریافت کر لیا کہ یہ کس کلاس کے قیدی ہیں؟ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ کل صبح ان کی کلاس کے احکامات مجھے مل جائیں گے۔ وہ میں میانوالی بھیج دوں گا۔ آپ میری جانب سے کہہ دیجئے گا کہ یہ اے کلاس کے قیدی ہیں۔ مجھے ٹیلی فون پر اطلاع مل چکی ہے۔ مگر جب تک کاغذات نہ آجائیں میں ان کے ٹکٹ پر کچھ بھی درج نہیں کر سکتا۔ چنانچہ انسپکٹر پولیس نے چھوٹے داروغہ کو تاکید کر دی۔ مگر یہ بے ضابطہ بات تھی۔ جیل کی دنیا باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ہے۔ جیل مینول جیل کی الہامی کتاب ہے۔ اس سے باہر کی کوئی بات قابل قبول نہیں ہوتی۔ جب ڈیوڑھی میں بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہوگئی تو میں نے داروغہ سے کہا کہ اذان کا وقت ہو رہا ہے۔ مجھے نماز کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ آپ نے مجھے یہاں کیوں بٹھا رکھا ہے۔ اندر لے چلئے۔ میں اب یہاں نہیں بیٹھوں گا۔ سوچ سوچ کر داروغہ نے فیصلہ کیا کہ ذمہ دار افسران کی تشریف آوری سے قبل وہ مجھے ہسپتال کے ایک کمرے میں جگہ دیں گے۔ چنانچہ مجھے اندر لے جا کر ہسپتال کے کمرے میں جو بی کلاس قیدیوں کے لئے وقف تھا پہنچا دیا گیا۔ یہاں مولانا عبدالستار خان نیازی کے دو عزیز نوجوان کسی قتل کے سلسلے میں سات سات سال کی سزا بھگت رہے تھے۔ یہ دونوں نوجوان نہایت خلیق اور رئیس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ تقدیر انہیں جیل لے آئی تھی۔ مجھے ان لوگوں نے عزت و احترام سے بٹھایا۔ نماز کے بعد میں نے ان سے کہا کہ رات بھر جاگا ہوں۔ سفر کی وجہ سے طبیعت میں کسل ہے۔ اجازت ہو تو آپ ہی کی چار پائی پر کچھ دیر آرام کرلوں۔

چنانچہ میں گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ دن نکل آیا چائے تیار ہوگئی تو ان نوجوانوں نے مجھے جگا دیا اور چائے پلائی۔ اس کے بعد وہ دونوں مجھ سے کہنے لگے کہ آپ تو مرزا ابراہیم کے پاس اے کلاس وارڈ میں چلے جائیں گے۔ کاش! آپ ہمارے پاس رہتے۔ میں نے ان کے محبت آمیز سلوک سے متاثر ہو کر جواب دیا کہ میرے بس میں ہو تو میں آپ کے ساتھ اگر سی کلاس میں رکھا جاؤں تو خوش ہوں گا۔ ایک گھنٹے کے بعد جمعدار آگیا۔ میرا نام لے کر پکارا اور کہا چلئے چکر میں آپ کو بلایا ہے۔ اسباب بھی لے چلئے۔ میں نے اسباب اٹھایا اور ان کے ہمراہ ہو لیا۔

انتقام

میں جب چکر میں پہنچا تو وہاں ہیڈ وارڈ اور داروغہ صاحب تشریف لے آئے۔ مجھے حکم ہوا کہ اسباب ہمارے حوالے کر دیجئے۔ میں نے کہا وہ کیوں؟ جواب ملا کہ گودام میں جمع ہوگا۔ میں چونکہ جیل کے رسم و رواج سے واقف تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ مجھے تمام اخلاقی قیدیوں میں سی کلاس کا قیدی بنا کر رکھا جائے گا۔ چنانچہ میں نے خود ہی ان سے کہا کہ اسباب سنبھال لیجئے اور درج کر لیجئے۔ میں نے سر سے قراقلی کی ٹوپی بھی اتار کر ان کے حوالے کی۔ جیل کی چادر لپیٹ کر کپڑے اتار دیئے اور جیل کے کپڑے پہن لئے۔ ایک چٹائی دو چادریں اور ایک لوٹا عطاء ہوا۔ زندگی مختصر ہوگئی۔ اب کوئی جھنجھٹ باقی نہ تھا۔ داروغہ اور ہیڈ وارڈ نے سرگوشیوں میں فیصلہ کر لیا کہ مجھے کہاں رکھا

صفحہ ١٢٨

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جائے گا۔ جیل کے سپاہی کو حکم ہوا کہ ان کو پھانسی کی کوٹھڑیوں میں لے جاؤ۔ میں سپاہی کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ شام ہونے والی تھی۔ قیدی بند ہو چکے تھے۔ میرے لئے ایک کوٹھڑی کا دروازہ کھلا تھا۔ میں اندر داخل ہوا تو سپاہی نے دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک سپاہی آیا اور کہنے لگا کہ ہاتھ سے گھڑی اتار کر دے دیجئے۔ داروغہ صاحب کا حکم ہے آپ کی گھڑی گودام میں رکھی جائے گی۔ مجھے غصہ آیا کہ ان بدبختوں کو میری گھڑی پہ کیا بم کا شبہ ہے؟ مگر یہ نہیں، یہ تو جیل کا قانون ہے۔ میں نے گھڑی اتار کر سپاہی کے حوالے کی۔

جون کا مہینہ، میانوالی کی گرمی، دیواریں تنور کا مزہ دینے لگیں تو چٹائی پر پسینے سے آدمی کا نقشہ بن گیا۔ انتہائی گرمی نے سونے نہ دیا۔ اتنے میں ساتھ والی کوٹھڑی سے حوالاتی نے پکارا۔ باباجی! اس عمر میں کیا کر بیٹھے؟ خود قتل کیا یا قتل میں شریک ہوئے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ یونہی تو پکڑ کر نہیں لے آئے۔ کچھ تو ہوا ہے۔ دوسرے نے کہا۔ بابا! اس ضعیفی میں اللہ اللہ کرتے یہ کام تو ہم جوانوں کا ہے۔ میں نے کہا کہ بھئی مجھے بھی جوانی یاد آ گئی تھی۔ اب تو ہو گیا جو ہونا تھا۔ ان بے فکرے نوجوانوں میں سے ایک نے گانا شروع کیا۔ انہی میں ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ وہ کوئی سکول ماسٹر تھا۔ رات کو ایسی گرمی میں نیند کیا آتی۔ خدا خدا کر کے دن نکلا۔ جیل کھلی تو میں چٹائی اٹھا کر باہر صحن میں آ گیا۔ فجر کی نماز کوٹھڑی کے اندر ہی ادا ہوئی۔ سب کوٹھڑیاں کھل گئیں۔ میرے ساتھی تھے تو قاتل اور ڈاکو مگر بڑی ادا کے لوگ تھے۔ وہ مجھ سے ہمدردی کرنے لگے۔ بعض نے یہ سمجھا کہ پولیس نے کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر قید کرا دیا۔ مگر جب میں نے انہیں بتایا کہ سزا کل چھ مہینے ہوئی ہے تو وہ کہنے لگے گیارھویں والے پیر نے ہاتھ بڑھا کر رکھ لیا۔ ان دو تین دنوں میں گرمی کی وجہ سے مجھے قطعاً بھوک نہ لگی۔ پانی پی کر گزارہ کرتا رہا۔ قیدیوں کو جیل میں تولا جاتا ہے۔ مجھے تولنے کے لئے قیدیوں کی قطار میں کھڑا کر لیا گیا اور پھر ہسپتال لے گئے۔ قیدیوں کا وزن ہونے لگا۔ جب میری باری آئی اور ڈاکٹر نے میری جانب دیکھا تو فرمایا کہ بھئی تم تو بیمار ہو۔ تم ہسپتال میں کیوں نہیں آ جاتے۔ میں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر صاحب! میں قیدی ہوں حکم کے بغیر ہسپتال کیسے چلا آتا؟ ڈاکٹر نے پھر کہا کہ نہیں تم کو ہسپتال آ جانا چاہئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر دوسرے قیدیوں کی طرف متوجہ ہوا اور مجھے بھول گیا جو وارڈ مجھے ہسپتال لے گیا تھا اس نے چلا کر کہا کہ چلو جو وزن کرا چکے ہیں وہ لائن میں کھڑے ہو جائیں۔ میں لائن میں آ گیا۔ وہ سب قیدیوں کو ہانک کر وارڈ کی طرف لے گیا۔ ہمیں پھر کوٹھڑیوں میں پہنچا دیا گیا۔ ہسپتال کی امید بندھ کر ٹوٹ گئی۔ میرے دل میں یہ شرک آ گیا تھا کہ ڈاکٹر مجھے پھانسی کی کوٹھڑی کی گرمی اور مصیبت سے بچالے گا۔ خدا نے اس کی توجہ کو میری طرف سے ہٹا دیا۔ تب میرے ضمیر نے مجھے ملامت کی کہ خدا کا بھروسہ چھوڑ کر ڈاکٹر کا بھروسہ کر کے دیکھ لیا؟

میں اپنی کوٹھڑی میں خاموش لیٹا رہا۔ دو تین راتیں اس طرح گزریں۔ تین چار دن کے بعد حکم ہوا چلو چکر میں مشقتیں ملیں گی۔ جب میں چکر جمعدار کے پاس پہنچا تو وہ کافی دیر میری مشقت کے بارے میں سوچتا رہا۔ مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تمہیں لکھنا آتا ہے۔ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ جمعدار نے کہا نہیں۔ ابھی منشی گیری نہیں مل سکتی۔ تم نئے قیدی ہو۔ بالآخر میرے ٹکٹ پر مرمت کی مشقت لکھ دی گئی۔ میں نے دریافت کیا کہ کاہے کی مرمت کرائے گا۔ حکم ہوا پھٹے ہوئے کپڑوں کی مرمت کیا کرنا۔ یہ سب سے آسان کام ہے۔ ڈاکٹر نے ٹکٹ پر سب سے ہلکی مشقت کی سفارش کی ہے۔ میں نے چکر جمعدار سے گفتگو کی اور اسے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات تو کرا دیجئے۔ اس کے بعد جن کپڑوں کی مرمت چاہو گے عذر نہ ہوگا۔ دل چاہے تو باہر سے وزیروں کی پھٹی ہوئی پتلونیں مرمت کے لئے منگوا لینا۔ مجھے کوٹھڑی میں واپس بھیج دیا گیا۔ جب سپاہی مجھے چھوڑنے آیا میں نے اس سے ملاقات کے بارے میں کہا اس نے کہا کل صبح میں جمعدار سے بات چیت کروں گا۔

صفحہ ۱۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خداوندان جیل

نہ ہو بندہ کوئی بندے کے بس میں

چکر جمعدار نے مجھے سپرنٹنڈنٹ جیل سے ملاقات کی اجازت دلوا کر صبح آٹھ بجے ایک وارڈر کے ہمراہ ڈیوڑھی کے دروازہ پر بھجوا دیا۔ جیل میں قیدیوں کو مجسم ’کیو‘ بنادیا جاتا ہے۔ وہ چلتے ہیں تو قطار میں کھڑے ہوں تو قطار بنانا پڑتی ہے۔ مجھے تین اخلاقی قیدیوں کے ہمراہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر کے سامنے دھوپ میں، قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔ ایک کھڑکی کے سامنے جس پر جالی لگی ہوئی تھی ہم چاروں کھڑے رہے۔ میانوالی میں جون کے مہینے صبح آٹھ بجے لاہور کے بارہ بجے دوپہر کا گمان ہوتا ہے۔ دھوپ میں اچھی خاصی شدت ہوتی ہے۔ قیدی بے چارے کی اوقات ہی کیا ہے کہ وہ فریاد کی جرأت کر سکے۔ میری حالت یہ تھی کہ تین چار روز سے بھوکا، نیند کا مارا ہوا عمر کے لحاظ سے بھی ضعیف اور ناتواں تھا۔ قریب کوئی درخت نہ تھا۔ سپاہی کی منشا یہ تھی کہ ہم ہاتھ پاؤں بھی نہ ہلائیں۔ دم بخود مؤدب کھڑے رہیں۔ جب اس عذاب میں کھڑے کھڑے دو گھنٹے گزر گئے تو مجھے آنکھوں کے سامنے تاروں کا رقص نظر آنے لگا۔ پیاس سے برا حال ہوگیا۔ میں نے سپاہی سے کہا کہ مجھے واپس لے چلو۔ اس نے جواب دیا باقیوں کی ملاقات ہوجائے۔ یہ لوگ عرض کرلیں تو اکٹھے واپس جانا ہوگا۔ یہاں سے کچھ فاصلہ پر ٹیوب ویل چل رہا تھا۔ میں نے سپاہی کو بمشکل رضامند کر لیا کہ وہ مجھے پانی پی لینے کی اجازت دے۔ سپاہی نے مجھے اس شرط پر کنوئیں تک جانے کی اجازت دی کہ میں ناک کی سیدھ سیدھا چلا جاؤں اور پانی پی کر سیدھا واپس چلا آؤں۔

میانوالی جیل کا پانی پنجاب کی تمام جیلوں سے بہتر ہے۔ دھوپ کی شدت برداشت کرنے کے بعد ٹھنڈا پانی اللہ کی نعمتوں کا اقرار کرا لیتا ہے۔ پانی پی کر دم میں دم آیا تو پھر دھوپ میں آکر کھڑا ہوگیا۔ میں نے سپاہی سے کہا دریافت کرو کہ کب ملاقات ہوگی؟ اس نے اشارے سے کہا آہستہ بولو۔ میں نے اور بلند آواز سے کہا کہ دھوپ میں کب تک کھڑے رہیں گے۔ ملاقات نہیں ہوتی تو واپس لے چلو۔ سپاہی مجبور ہوگیا۔ کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا تو صاحب موجود نہ تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کھانا کھانے گئے ہیں۔ آدھ گھنٹہ بعد آئیں گے۔ آدھے گھنٹے کے لئے ہمیں سرس کے قلاش درخت کے نیچے دم لینے کی اجازت مل گئی۔ سرس کے درخت میں پتے ہی کتنے ہوتے ہیں جو دھوپ کو روک سکیں۔ تقریباً بارہ بجے ہوں گے کہ فریاد کی اجازت ہوئی۔ میں سب سے پیچھے تھا۔ آواز آئی کہ عرض کرنا چاہتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ میں نہ قاتل ہوں نہ ڈاکو۔ آپ نے مجھے ۳۰۲ کے ملزموں میں کس گناہ کی پاداش میں بند کر رکھا ہے۔ میں پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ ایک روزنامہ کا چیف ایڈیٹر، ایک جماعت کا صدر، اخبارات کی انجمن کا رکن ہوں۔ حکومت نے جو ڈیفنس کمیٹی بنائی ہے اس کی رکنیت کا فخر بھی حاصل ہے۔ آج سے تیس اکتیس سال پیشتر اسی جیل میں سپیشل کلاس کے قیدی کی حیثیت سے قید کاٹ چکا ہوں۔ ڈاکو اور قاتل میری سوسائٹی کے لوگ نہیں ہیں۔ وہاں رہنا نہیں چاہتا۔ ان تمام گزارشات میں سپرنٹنڈنٹ کو صرف ایک بات پر تعجب ہوا وہ تھی اکتیس سال پہلے قید کاٹنے کی بات۔ صاحب بہادر بڑے حیران ہوئے۔ فرمانے لگے پھر آپ سی کلاس میں آگئے؟ میں نے عرض کیا بڑے وزیر یعنی میاں دولتانہ میرے کرم فرما ہیں۔ یہ ان کی ذرہ نوازی ہے۔ ورنہ میں تو اس قابل بھی نہیں ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب کچھ خفیف ہوئے۔ مجھے فرمایا کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔ آپ کے ہمراہ تو کلاس آئی نہیں۔ آپ کو کلاس لے کر آنا چاہئے تھا۔ میں نے عرض کیا کہ میں ایک مجبور قیدی ہوں۔ یہاں خود نہیں آیا بلکہ لایا گیا ہوں۔

پا بدستے دیگرے دست بدستے دیگرے
صفحہ ۱۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ میری کلاس کے لئے سرگودھا جیل سے دریافت فرما لیجئے۔ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ آپ ایک درخواست لکھیں، بھیج دوں گا۔ میں نے درخواست لکھنے سے انکار کیا اور واپسی کی اجازت چاہی۔ صاحب نے فرمایا بہت اچھا واپس چلے جاؤ۔ میں وارڈر کے ہمراہ اپنی کوٹھڑی میں آ کر بیٹھ گیا اور دل سے فیصلہ کر لیا کہ اب نہ کوئی درخواست لکھنا ہے اور نہ کوئی سہارا ڈھونڈنا ہے۔ صبر سے قید کاٹنا چاہئے رات گزری۔ صبح تالے کھلے تو ہم سب جو اس وارڈ میں تھے۔ باہر ہوا میں چٹائیاں بچھا کر بیٹھ گئے۔

۳۰۲ کے ملزم جو بڑے کڑیل جوان تھے۔ میرے گرد آ کر بیٹھ گئے۔ اب وہ میرا احترام کرتے تھے۔ دو ملزموں کو حکم سننے کے لئے عدالت میں جانا تھا۔ ان میں سے ایک نے یہ سمجھا کہ یہ بوڑھا قیدی نمازیں پڑھتا ہے۔ تسبیح کرتا ہے یہ کوئی نیک انسان ہے۔ اس سے دعائیں کرائیں۔ وہ میری چٹائی پر آ بیٹھا اور میرے پاؤں دبانے لگا۔ میں نے اسے منع کیا تو وہ اور زیادہ زور سے دبانے لگا اور بالآخر مجھے کہا کہ بابا دعا کرو کہ میں بری ہو جاؤں۔ میں نے اسے سمجھایا کہ جو تمہارے دل کو لگی ہے وہ میرے دل کو نہیں۔ جس خلوص سے تم اپنے لئے دعا مانگو گے میں اس درد، خلوص اور عجز سے کیوں دعا مانگنے لگا؟ اللہ کے سامنے جھکو اور صدق دل سے اقرار کرو کہ آئندہ خدا کی منشاء کے مطابق زندگی گزارو گے۔ سچے دل سے توبہ کرو۔ وہ قبول کرنے والا ہے۔ مجھے کیا معلوم تم نے کیا کیا ہے۔ تم خود ہی دعا مانگو۔ وہ وضو کر کے آیا۔ چٹائی میرے قریب بچھالی اور دعا کے لئے مجھے پھر مجبور کرنے لگا۔ میں نے ہر چند سمجھایا کہ نہ میں کوئی بزرگ ہوں اور نہ عالم دین۔ میں تو ایک گنہگار اور عاجز انسان ہوں۔ تم نہیں دیکھتے کہ تمہارے سامنے پھنسا بیٹھا ہوں۔ بھلا میں تمہارے لئے کیا دعا کروں گا اور کیا قبول ہو گی؟ اس نوجوان نے زبردستی میرے دونوں ہاتھ دعا کے لئے دراز کر دیئے۔ خدا جانے اس نوجوان نے کس خلوص سے دعا مانگی تھی کہ وہ عدالت میں جاتے ہی بری ہو گیا اور وہیں شور مچانے لگا کہ واہ بابا تمہاری دعا نے بیڑا پار کر دیا۔ اس نوجوان کے رشتہ داروں نے دریافت کیا کہ کس بابا نے بیڑا پار کر دیا۔ نوجوان نے میرا نام بتایا اور جیل کی مصیبت کا افسانہ سنایا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت مجلس احرار میانوالی کا ایک کارکن اپنے ذاتی کام سے عدالت سے باہر موجود تھا۔ اس نے جب رہا ہونے والے کے منہ سے میرا نام سنا تو اس نے کرید کرید کر دریافت کرنا شروع کیا اور حلیہ دریافت کیا تو اسے یقین ہو گیا کہ پھانسی کوٹھڑی میں کسے بند کیا گیا ہے۔ وہ دوڑا دوڑا دفتر احرار میں پہنچا۔ میٹنگ ہوئی۔ احرار کے صدر نے ایک زبردست جلوس نکال کر مظاہرہ کیا اور ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی کا رخ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ آپ نے ہمارے لیڈر سے ناروا بدسلوکی کی ہے۔ ہم احتجاج کرنے آئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سپرنٹنڈنٹ کو فون پر کہا کہ آپ نے کیا غضب کر دیا ہے۔ یہ لوگ تو سارے علاقے میں آگ لگا دیں گے۔ ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی سے یہ جلوس سیدھا جیل کی طرف چل پڑا۔

میانوالی بہادر پٹھانوں کا علاقہ ہے۔ پٹھان جب ڈھول بجا کر میدان میں اتر آئیں تو عقل و خرد بھاگ کھڑی ہوتی ہیں۔ ادھر یہ کچھ ہو رہا تھا ادھر میں جیل کی سختیاں اور مصیبتیں کاٹ کر ہسپتال کے کمرے میں بجلی کے پنکھے کے نیچے پلنگ دراز تھا اور محمد رمضان کی درد بھری کہانی سن رہا تھا کہ وہ کس طرح قتل کے قصے میں رشتہ داروں کی مہربانی سے پھانسی کے تختے پر پہنچا۔ محمد رمضان میرے احساسات کی دنیا میں درد بھری باتوں کی مضراب سے چوٹ لگا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ جب میں سپرنٹنڈنٹ جیل سے ملاقات کر کے مایوس لوٹا تو میرے دل کو از خود اطمینان ہو گیا تھا۔ میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ ہسپتال کا لمبردار آیا اور اس نے آ کر میرا نام لیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ اپنا اسباب بھی لے چلو۔ میں نے چٹائی بغل میں لپیٹ کر دبائی اور لوٹا اٹھا کر اس کے ہمراہ ہو لیا۔ ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھ جانے کا کہا۔ بڑی شفقت سے معائنہ کیا۔ نسخہ لکھا۔ دوائی تجویز کی اور کہا کہ تم اب ہسپتال میں داخل ہو۔ مجھ سے میرا پتہ

صفحہ ۱۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دریافت کیا۔ خود اٹھے اور ایک کمرہ جس میں لمبر دار اور قیدی رہتے تھے خالی کرنے کا حکم دیا اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ اس عرصے میں چکر جمعدار نے قیدیوں اور لمبرداروں کے لئے جگہ کا بندوبست کر لیا تو قیدی اور لمبرداروں نے کمرہ خالی کرنا شروع کیا۔ جب کمرہ خالی ہو گیا تو میں اس کمرے میں چلا آیا جو میرے لئے تجویز کیا گیا تھا۔ جب میں کمرے میں داخل ہوا تو وہاں سے آخری قیدی جو بہت بوڑھا تھا اپنا بستر لپیٹ رہا تھا۔ مجھے اس بوڑھے پر ترس آیا۔ میں نے اسے کہا: ”بڑے میاں ! ذرا ٹھہرو۔ میں ڈاکٹر صاحب سے عرض کرتا ہوں اگر وہ مان گئے تو آپ کو اسی کمرے میں ٹھہرنے کی اجازت مل جائے گی۔“

میں دوبارہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اس بوڑھے قیدی کو اگر آپ میرے پاس رہنے دیں تو میں تنہائی کی مصیبت سے بچ جاؤں گا۔ ڈاکٹر صاحب مان گئے ۔ وہ کافی دیر مجھ سے باتیں کرتے رہے ۔ مجھے اپنا تعارف خود ہی کرانا پڑا۔ کمرے میں بجلی کا پنکھا بھی موجود تھا اور پلنگ بھی موجود تھا۔ تھکا ہارا اور گرمی کا مارا میں پلنگ پر دراز ہو گیا۔ میرا بوڑھا ساتھی محمد رمضان عمر قید کی سزا بھگت رہا تھا۔ اس کی قید ختم ہو چکی تھی ۔ مگر آب و دانہ اسے جیل میں لئے بیٹھا تھا۔ اتنے میں جیل کا وارڈر میرے کمرے میں آیا اور مجھے کہا کہ چلئے آپ کی ملاقات ہے۔ میں نے دریافت کیا کون آیا ہے؟ وہ کہنے لگا بہت سے لوگ ہیں۔ چل کر دیکھ لیجئے۔ جونہی میں نے ڈیوڑھی میں قدم رکھا میانوالی کے احرار رہنما اور کارکن دوڑ کر مجھے لپٹ گئے۔ مجھے عام اخلاقی قیدیوں کے کپڑوں میں ملبوس دیکھ کر میرے احرار رفیق سخت مشتعل ہوئے ۔ ان میں سے ایک نے افسران جیل کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ میں نے بیچ بچاؤ کر کے انہیں صبر کی تلقین کی اور انہیں واپس بھیج دیا۔ اس ملاقات کے بعد جیل کی فضا میرے حق میں زیادہ سازگار ہو گئی ۔

ہمیں قید ہوئے ابھی ایک ماہ نہ گزرا تھا کہ ایک روز ڈیوڑھی سے اطلاع ملی کہ رہائی آ گئی ہے۔ بیچارہ بوڑھا محمد رمضان رہائی سے خوش اور جدائی سے غمگین ہو رہا تھا۔ ملے جلے جذبات سے اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا کہ خدا کو منظور ہوا تو میں بھی ایک روز رہا ہو ہی جاؤں گا۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا۔ مجھے اس بوڑھے قیدی سے بے حد ہمدردی تھی۔ وہ نہایت ہی شریف انسان تھا۔ میں نے اسے کہا کہ میاں رمضان اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں دولتانہ صاحب کی حکومت میں میرے ساتھ ناروا سلوک اور سختی ہوئی ۔ مگر یہ سیاسی رنجش کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ انہیں میری ذات سے کوئی عناد نہیں ۔ تمہاری خاطر میں ان سے ملوں گا ۔ جس روز بھی ملاقات ہوئی ۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان سے پہلی بات یہ کہوں گا کہ محمد رمضان کو رہا کر دو ۔ میں وعدہ کر کے جا رہا ہوں ۔ ان شاء اللہ ! میں بھولوں گا نہیں ۔ لو خدا حافظ ! اللہ کو منظور ہوا تو باہر ملاقات ہوگی ۔

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

میں ہسپتال میں دوستوں سے مل کر ڈیوڑھی پر آ گیا۔ دفتر میں داخل ہوا تو میرے داخلے کے فوراً بعد سی آئی ڈی کا انسپکٹر ایک وارنٹ کی تعمیل کے لئے آدھمکا۔ میں نے دریافت کیا، کیا وارنٹ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس سرگودھا نے آزاد کے آرٹیکل کے خلاف دعویٰ کیا کہ اس آرٹیکل سے سپرنٹنڈنٹ کی شہرت کو دھچکا لگا ہے اور یہ کہ اس دھچکے سے سرکاری کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ میں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے خلاف یہ لکھا تھا کہ ان حضرت پر مرزائیت کی ہمدردی کا جنون سوار ہے اور کہ یہ مرزائیت کی حمایت میں لٹھ لئے پھرتے ہیں۔ آخر میں میں نے یہ لکھا تھا کہ جب ایک ذمہ دار افسر نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے خلاف پراپیگنڈا ہو رہا ہے

صفحہ ۱۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ آپ مرزائی ہیں تو سپرنٹنڈنٹ نے فرمایا کہ میں مرزائی نہیں۔ میری بیوی مرزائی ہے۔ اس جرم کی پاداش میں سپرنٹنڈنٹ پولیس سرگودھا نے حکومت سے اجازت حاصل کی اور دعویٰ کر کے وارنٹ حاصل کر لیا۔

ٹھیک اس وقت جب میں رہا ہو رہا تھا سپرنٹنڈنٹ پولیس کا دعویٰ میری رہائی کی راہ میں حائل تھا۔ اخبار میں ایڈیٹر اور پرنٹر پبلشر دونوں برابر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ میں نے لکھ دیا کہ اس لیڈنگ آرٹیکل کا میں تنہا ذمہ دار ہوں۔ میں نے لکھا ہے مجھے اقرار ہے اور اگر جرم ہے تو میں اس کی سزا بھگتوں گا۔ شیخ صاحب کو بری الذمہ قرار دینا چاہئے۔ انہیں تو اس سے کچھ واسطہ نہیں کہ میں نے کیا لکھا ہے۔ مگر ضابطے نے ان کو بھی زنجیر میں باندھ لیا۔ مجھے انسپکٹر پولیس نے کہا ضمانت دے دیجئے، قابل ضمانت جرم ہے۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے لینے کے لئے کار لے کر آئے ہوں گے۔ میں ریل میں دھکے کھاؤں کرایہ پلے سے خرچ کروں اور آپ کار میں تنہا تشریف لے جائیں۔ یہ بات بہت خسارے کی ہے۔ میں ضمانت نہ دوں گا۔ مجھے عدالت میں پیش کرنے کے لئے لاہور چلئے۔ کپتان صاحب نے لاہور میں دعویٰ کیا ہے۔ اب لاہور ہی میں ان کی زیارت ہوگی۔

چنانچہ مقامی پولیس کے ایک تھانیدار اور تین سپاہی پک اپ، جیپ کار میں شام کے وقت میانوالی سے مجھے لے کر روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیں مغرب اور عشاء کے لئے خوشاب اور سرگودھا ٹھہرنا پڑا۔ جب ہم سرگودھا پہنچے تو لب سڑک ایک تھرڈ کلاس ہوٹل میں چائے پی۔ میں سفر میں کھانا کھانے کا عادی نہیں ہوں۔ ہوٹل سے کچھ فاصلے پر میدان میں جلسہ عام ہو رہا تھا۔ اس روز شیخ عبداللہ رہا ہو کر سرگودھا پہنچے تھے۔ وہ ہاروں میں لدے ہوئے تھے۔ مجھے ایک بار تو یہ خیال آیا کہ جلسے میں پیغام بھیج دوں کہ ایں جانب بھی تشریف رکھتے ہیں۔ پھر خیال آیا کہ تھانیدار نہایت شریف آدمی ہے۔ عزت و احترام سے لئے جا رہا ہے۔ اسے خواہ مخواہ جواب دہ ہونا پڑے گا۔

جلسے میں تقریر کرتے ہوئے میرا اور شیخ صاحب کا نام بھی لیا گیا۔ مگر تھانیدار بالکل غیر سیاسی آدمی تھا۔ بہت سیدھا سادہ سید تھا۔ میں نے تھانیدار سے کہا کہ یہ جگہ خطرناک ہے۔ اگر جلسہ گاہ میں کسی کو پتہ چل گیا کہ میں یہاں موجود ہوں تو سارا جلسہ اٹھ کر ادھر ہی دوڑ پڑے گا۔ چلئے کوئی دیکھ لے گا تو آپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔ ہم جب سرگودھا سے روانہ ہو کر لاہور پہنچے تو نولکھا تھانے کی مسجد میں فجر کی جماعت ہو چکی تھی۔ میں نے تھانیدار سے کہا کہ مجھے تھانے میں سپرد کرنے سے پیشتر نماز ادا کر لینے دیجئے۔ چنانچہ نماز ادا کر کے تھانے پہنچے تو سب کو ناواقف اور نووارد پایا۔ مجھے حوالدار نے نہ یہ پوچھا کہ کون ہو؟ کیسے ہو اور نہ بیٹھ جانے کو کہا۔ اس سلوک کے جواب میں میں نے بھی مناسب رویہ اختیار کیا اور کہا کہ حوالات میں بند کرنا ہو تو کر دیجئے۔ جو کچھ کرنا ہے کیجئے۔ میں رات کا جاگا ہوا ہوں۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔ حوالدار نے کہا ابھی بہت کچھ لکھنا پڑھنا ہے۔ افسران سے دریافت کرنا ہے۔ اس کے بعد حوالات میں بند کئے جاؤ گے۔ میں نے کہا تو بہت اچھا۔ یہ لو میں سونے لگا ہوں۔ وہیں بستر کی ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ اتنے میں ایس ایس پی مرزا نعیم الدین کا فون آیا کہ میں آ رہا ہوں۔ ماسٹر صاحب موجود ہیں۔ تب تھانے میں ہل چل ہوئی۔ مگر ان کی تشریف آوری سے قبل مجھے معلوم ہوا کہ لاہور میں گزری رات بڑا خوفناک ہنگامہ ہوا۔ مسلم لیگ کا اجلاس لکشمی بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ باہر سے لوگوں کے ہجوم نے لکشمی بلڈنگ کو گھیر لیا۔ خشت باری ہوئی۔ لیڈران کرام کو بڑی مشکل سے کوٹھیوں تک پہنچنا نصیب ہوا۔

کاریں ٹوٹ گئیں۔ سب سے بڑی شرمناک یہ بات ہوئی کہ مستورات بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ بیگم جی اے خاں کی کار پر حملہ ہوا کہ شیشے توڑ ڈالے گئے اور انہیں اور ان کے ڈرائیور کو زخمی کر دیا گیا۔ وہ ہسپتال پہنچ گئیں۔ مجھے تھانے ہی میں لوگوں کی سرگوشیوں سے اس واقعہ

صفحہ ۱۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا پتہ چل گیا۔ میں رہا ہو کر دفتر پہنچا۔ تھوڑی دیر آرام کیا اور سیدھا میو ہسپتال بیگم جی اے خاں کو دیکھنے کے لئے گیا۔ وہ میری ہم وطن اور میرے عزیز دوستوں کی بہن ہیں۔ مجھے ان سے دوہری ہمدردی تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں جیل سے آ رہا ہوں اور آج صبح پہنچا ہوں تو وہ حیران ہوئیں۔ فرمانے لگیں کہ تمہارے ذمے تو لگایا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ تمہیں نے کیا ہے۔ میں نہ مانتی تھی۔

بہر حال میں واپس لاہور آیا تو اس ہنگامے نے حالات خراب کر دیئے تھے۔ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا۔ پانچ آدمی اکٹھے مل کر چل نہیں سکتے تھے۔ شہر میں ہراس پھیلا ہوا تھا اور ایسا ہونا لازمی تھا۔

ملتان کا فائرنگ کیس

غالباً ۹؍ جولائی ۱۹۵۱ء کو پاکستان میں یوم انتباہ منایا گیا۔ لاہور کے بعد ملتان کو اچھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ ملتان میں بھی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے جامعہ مسجد جناح گاہ میں زیر صدارت جناب شوکت حسین سجادہ نشین دربار پیر صاحب جلسہ عام منعقد ہوا۔ حاضری بہت زیادہ تھی۔ مسجد کے وسیع میدان میں جب لوگ سما نہ سکے تو مسجد سے باہر دور تک پھیل گئے۔ اس عظیم الشان تاریخی جلسے میں مولانا ہدایت اللہ صاحب (خیر المدارس) اور مولانا عبد القادر کے علاوہ تمام ذمہ دار حضرات نے مطالبات کو دہرایا اور حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ ان بنیادی اور جائز مطالبات کو فوراً تسلیم کرے۔ ورنہ نتائج کی ذمہ داری اس پر عائد ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ! جلسے کے بعد یہ عظیم الشان اجتماع جلوس کی شکل میں چل پڑا۔

جلوس اور گڑ بڑ

میری رائے ہے کہ مذہب ہو یا سیاست، عوامی اجتماعات کو صرف جلوسوں تک محدود رکھنا چاہئے۔ جلسے بسا اوقات سر پھٹول اور دھینگا مشتی کا اکھاڑ بن جاتے ہیں۔ مگر جلسوں کو اس لئے قابو میں رکھا جا سکتا ہے کہ شرارتی عنصر عوام کے سامنے ہوتا ہے اور شرارت اس طرح منظر عام پر آتی ہے کہ حاضرین اسے دیکھ لیتے ہیں اور جان جاتے ہیں کہ کون شرارت کر رہا ہے اور کیونکر شرارت کی جا رہی ہے۔ اس لئے شرارتوں پر قابو پا لیا جاتا ہے۔

بہر حال جلسے کبھی خطرناک صورت اختیار نہیں کرتے۔ مگر جلوس ...... اللہ محفوظ رکھے۔ جلوس کو قابو میں رکھنا نیک نیت اور ذمہ دار لوگوں کے اپنے بس کا روگ نہیں۔ شرارتی یا مخالف لوگ شرارت نہ کر سکیں تو اور بات ہے۔ ورنہ دو تین شیطان سارے جلوس کو تباہ و برباد کرنے کے لئے کافی ہیں۔ تین آدمیوں میں سے دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو مارنا شروع کر دیں تو یہ مار پیٹ ان تین تک محدود نہیں رہ سکتی۔ فوراً ہٹو، بچو، پکڑیو، جانے نہ پائے کا شور ہوتا ہے۔ اس دھینگا مشتی میں لوگ ایک دوسرے پر گرتے ہیں اور گالی گلوچ سے معاملہ بڑھ کر دنگا اور فساد کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ تینوں شیطان یہ سب کچھ کرا کے پان فروش کی دوکان پر کیپٹن سگریٹ کا نرخ دریافت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے یا اگر خود پولیس نے انہیں اس کار خیر کے لئے متعین کیا ہے تو تھانے میں بیٹھ کر اس شاندار کارنامہ کی ڈائری مرتب کرنے میں مصروف ہوں گے اور سنہری سرٹیفکیٹ کے خواب دیکھنے لگیں گے۔ انگریز بہادر کے دور میں یہی کچھ ہوتا تھا۔ تعزیہ کے جلوس پر پتھر پھنکوا دیا اور شیعہ سنی فساد کا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ہولی کے دنوں میں سر بازار کسی تیز مزاج مسلمان پر رنگ پھینکوایا، گلا ملایا اور ہندو مسلمانوں کا منہ کالا کرا دیا۔ برطانیہ کے دور اقتدار میں جلوسوں اور تہواروں پر یہ داؤ آسانی سے چل جایا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ذاتی طور پر ہر قسم

صفحہ ۱۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے جلوسوں کے سخت مخالف ہوں۔ جلوسوں کو قابو میں رکھنا بے انتہاء مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ جلوس اسی وقت پر امن طریقہ پر نکل سکتا ہے جب کسی امن شکنی اور شرارت کی ضرورت نہ ہو یا جرأت نہ ہو۔ ورنہ گنجائش ہر وقت موجود ہے۔ جلوس نکالنے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ انتہائی ضرورت کے علاوہ کبھی جلوس نہ نکالنا چاہئے۔

ملتان کے جلوس میں گڑ بڑ ہوئی

جلسہ عام ختم ہوا تو لوگوں نے جلوس نکال لیا۔ یہ کام جلسہ عام کے سربراہوں کا تھا کہ وہ جلسے سے قبل فیصلہ کرتے کہ آیا انہیں جلوس نکالنا ہے یا نہیں۔ اگر نکالنا ہے تو وہ کون سی برگزیدہ اور با اثر شخصیت ہے۔ جو جلوس کی رہنمائی کرے گی۔ ذمہ دار حضرات اس جلوس کو کس طرح کنٹرول کریں گے۔ کن راہوں سے جلوس گزرے گا۔ راستہ زیادہ لمبا، تنگ اور خطرناک تو نہیں ان احتیاطی تدابیر کے بعد جلوس کو نہایت احتیاط سے کم از کم وقت اور زیادہ مختصر اور محفوظ راستے سے نکال کر بخیر و خوبی ختم کر دیا جاتا۔

بہر حال جلوس نکلا اور بڑا ہی پرامن جلوس تھا۔ عوام اور خواص سوائے مرزائیوں اور مرزائیوں کے پٹھوؤں کے، اس جلوس کے لئے چشم براہ تھے۔ حتی کہ جب جلوس حرم دروازے پہنچا تو وہاں شہر کوتوال موجود تھے۔ وہ آگے آئے۔ جلوس سے خطاب کیا اور فرمایا کہ میری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں۔ میں بھی مسلمان ہوں اور مسلمانوں کے جائز مطالبات کا مؤید ہوں۔ کوتوال کی اس فراست نے فضا کو اور زیادہ سازگار اور پر امن بنا دیا۔ جلوس آگے چل پڑا۔

نادانستہ الجھاؤ

جب یہ جلوس تھانہ کپ کے قریب پہنچا تو اس تھانے کے عقلمند تھانیدار نے حفاظت کے لئے تھانے پر مسلح گارد متعین کر رکھی تھی۔ یہ ضابطے کی بات تھی۔ مگر بندوقیں اور سنگینیں مست دیوانوں کو سرخ پھریرا دکھا کر خواہ مخواہ مشتعل کر دینے کی بات تھی۔ بہر حال یہاں تک غنیمت تھا۔ جلوس چلا۔ جب تھانہ کے دروازے پر آگیا تو چند نوجوانوں اور تھانے والوں میں کچھ تیز کلامی ہوگئی۔

یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے

جب جلوس چلتا ہے تو اس کی رفتار یکساں نہیں رہتی۔ آگے چلنے والے ذرا رفتار کو سست کر دیں تو پیچھے سے دھکا آتا ہے جو آخری سرے تک پہنچتا ہے اور نادانستہ طور پر یہ بھی ہوتا ہے کہ جلوس میں بعض افراد کے پاؤں اکھڑ جائیں۔ پاؤں اکھڑتے ہی جسم کا توازن درست نہیں رہتا۔ سنبھل گئے تو سنبھل گئے ورنہ گر پڑے جلوس میں ایک آدمی کے گرنے سے درجنوں اوندھے منہ ہو جاتے ہیں۔ یہی صورت تھانہ کپ کے سامنے ہوئی۔ تھانے کے باہر لکڑی کا پرانا بوسیدہ سا جنگلہ تھا۔ کچھ لوگ بے قابو ہو کر جنگلے پر گرے۔ جنگلہ کمزور تھا۔ جنگلہ ٹوٹنے سے جو تڑاخ کی آواز آئی۔ وہ بالآخر گولی کی آواز پر ختم ہوئی۔ چھ مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت کے جلوس کے موقعہ پر خون میں نہا کر جنت الفردوس کو سدھارنا تھا۔ سو وہ خوش نصیب سدھار گئے۔ اللہ انہیں کروٹ کروٹ چین اور راحت نصیب کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء کرے۔ مگر اس واقعے نے نہ صرف ملتان بلکہ سارے پاکستان میں آگ لگا دی۔ ملتان شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ تمام شہر بند ہو گیا۔ مخدوم صاحب اور دیگر زعماء نے اسی وقت ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب اس حادثے کے وقت باہر دورے پر تھے۔ مگر کچھ دیر بعد تشریف لے

صفحہ ۱۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آئے تھے۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ شہیدوں کی لاشیں ہمارے سپرد کیجئے۔ لاشیں مل گئیں۔ ہسپتال سے تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کا جلوس شہیدوں کے جنازوں کو لے کر قبرستان پہنچا۔

مطالبات

ملتان کے چھ مسلمانوں کی شہادت نے ایک کہرام مچا دیا۔ مسلمانوں نے پولیس کی فائرنگ پر شہر میں مکمل ہڑتال کر کے غم و غصے کا اظہار کیا۔ ہڑتالیں عام طور پر بہت برے نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ ہڑتال کے دن چونکہ کاروبار بند ہوتا ہے۔ اس لئے عوام کو چلنے پھرنے یا بیٹھ کر ہڑتال کے موضوع پر گفتگو کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس لئے شرارتی عنصر کے لئے لوگوں کو بہکانا یا مشتعل کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ مجھے اس بارہ میں ہمیشہ تامل ہوتا ہے۔ میں ہڑتال کے حق میں نہیں ہوں۔ البتہ جب کوئی چارہ کار باقی نہ رہے تو ہڑتال کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مثلاً ملتان کے خونی حادثے کے بعد ہڑتال ناگزیر تھی۔ چھ فدایان ختم نبوت کو سپرد خاک کرنے کے بعد کس کا دل گردہ تھا کہ وہ کاروبار میں مشغول ہوتا۔ زخمی اور مجروح دل مسلمان کیونکر دوکانیں کھولتے۔ صف ماتم بچھی ہو تو دنیا داری کسے سوجھتی ہے؟ چنانچہ مکمل ہڑتال ہو گئی۔ ہڑتال کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہڑتال کیوں ہے اور اب ہم کیا چاہتے ہیں؟ پولیس کی فائرنگ کے بعد مسلمانان ملتان نے مطالبہ کیا کہ ہمارے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اس کی تحقیقات ہونا چاہئے۔

مسلمانان ملتان کے تین مطالبات

ان ہر سہ مطالبات کی پنجاب پریس نے پر زور تائید کی۔ اس بارہ میں سرحد، پنجاب، بہاول پور اور سندھ میں جلسے ہوئے اور مطالبات کی تائید کی گئی۔ ملتان فائرنگ کے فوراً بعد مجلس عمل کی تشکیل ہو چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ مجلس عمل اس سلسلے میں خاموش نہ رہ سکتی تھی اور اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ چنانچہ جب ملتان کی ہڑتال نے طول کھینچا تو مجلس عمل نے فیصلہ کیا کہ حضرت مولانا ابوالحسنات کی سرکردگی میں ذمہ دار حضرات کا ایک وفد ملتان جا کر حالات کا جائزہ لے اور مطالبات پر زور دے کر سر دست ہڑتال کھلوا دے تا کہ فضا سازگار ہو اور تحقیقات کرائی جاسکے۔

وفد کی روانگی

۲۱؍ جولائی ۱۹۵۱ء کو مجلس عمل کا وفد زیر سرکردگی حضرت مولانا ابوالحسنات ملتان کے لئے روانہ ہوا۔ اس وفد میں مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش، صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب اور مولانا محمد علی جالندھری شامل تھے۔ ریلوے اسٹیشن ملتان پر بہت بڑے ہجوم نے وفد کا استقبال کیا۔ اسٹیشن سے باہر آئے تو جلوس نے نعرے لگائے۔ ان نعروں میں پولیس افسر کی معطلی کا نعرہ بھی لگ رہا تھا۔ یہ وفد جیپ کار میں بیٹھ کر سیدھا مخدوم شوکت حسین صاحب کے ہاں پہنچا۔ مخدوم صاحب سے تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ مخدوم صاحب بھی پولیس کے رویہ سے سخت

صفحہ ۱۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نالاں تھے۔ نماز ظہر کے بعد وفد مشورے میں مصروف تھا کہ ملتان کے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم نعرے لگاتا ہوا دربار حضرت پیر صاحب میں آموجود ہوا۔ اس جلوس کو حضرت مولانا ابوالحسنات نے خطاب کیا اور مطمئن کر کے واپس بھیج دیا۔ شام تک دو اور جلوس آگئے۔ شہر میں مکمل ہڑتال تھی۔ لوگ غم وغصے کے اظہار کے لئے جلوس مرتب کر کے رہنماؤں کو اپنے جذبات سے خبردار کرنا چاہتے تھے۔

دوسرے دن صبح کے وقت مخدوم صاحب کی معیت میں وفد کے ارکان نے زخمیوں سے ملاقات کی۔ ان زخمیوں میں ایک بچہ بھی تھا۔ جس کے سر میں چھروں کے زخم تھے۔ وہ زخموں کی ٹیس سے بے قرار ہو کر چلاتا اور اٹھ اٹھ کر دوڑتا تھا۔ یہ منظر دلخراش اور ناقابل برداشت تھا۔ غمگین جذبات لے کر وفد اپنی جائے رہائش یعنی دربار حضرت پیر صاحب میں واپس آ گیا اور باہمی مشورے سے طے ہوا کہ سب سے پہلے ہڑتال کھلوانے کا بندوبست ہونا چاہئے۔ چنانچہ حضرت مولانا ابوالحسنات نے مشورہ دیا کہ بازاروں کے چوہدریوں اور مکھیا لوگوں کو بلایا جائے اور ان سے بات کی جائے۔ جلسہ عام میں لوگوں کو سمجھانا خالی از خطرہ نہیں۔ اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے ہر بازار کے چوہدری اور ذمہ دار حضرات کو دربار حضرت پیر صاحب میں بلا لیا گیا۔ چوہدری صاحبان اپنے اپنے بازاروں اور منڈیوں سے ذمہ دار ساتھیوں کو اپنے ہمراہ لے آئے۔ حضرت مخدوم صاحب کا اندر والا صحن جو کافی وسیع ہے بھر گیا۔ اس قسم کے حادثات کے بعد لوگ اپنے مخلص رہنماؤں کو غیر نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ سرگوشیوں میں باتیں ہونے لگیں۔ حاضرین کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب نے صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب سے کہا کہ آپ ان بپھرے ہوئے شیروں کو خطاب کریں۔ ان کے دل زخمی ہیں۔ ان سب کی دلداری اور صحیح رہنمائی ہم پر فرض ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے نہایت ہی پیارے اور مؤثر انداز میں چوہدری صاحبان اور نمائندگان شہر کو خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ واقعہ تو ہو چکا مرنے والوں کو واپس نہیں بلایا جا سکتا۔ اب سوچنا چاہئے کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟

دو راستے

ہمارے سامنے دو ہی راستے کھلے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم سب یہاں سے اٹھیں۔ ہم وفد کے اراکین آگے آگے چلیں اور آپ سب حضرات ہمارے پیچھے چلیں ۔ اسلحہ ہمارے پاس تو ہے نہیں راستے سے اینٹ پتھر جو کچھ بھی میسر آئے اٹھا لیں اور تھانہ کپ پر دھاوا بول دیں۔ ان کے پاس بندوقیں، رائفلیں اور پستول موجود ہیں۔ وہ ہم سب کو موقعہ پا کر ہلاک کر دیں۔ یہ منظور ہے تو چلئے ہم آپ سے آگے ہوں گے۔ لوگوں کی سرگوشیاں ختم ہو گئیں۔ بدظنی کے خانے بند ہو گئے۔ اعتقاد، اعتماد اور محبت کے خانے کھل گئے۔ تیور درست ہو گئے۔ گردنیں جھک گئیں۔ صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ ہائی کورٹ کے جج صاحبان واقعے کی تحقیقات کریں۔ یہ مطالبہ حکومت نے تسلیم کر لیا۔ اب اگر آپ تحقیقات کے لئے تیاری نہیں کرتے تو حکومت اور پولیس دونوں مل کر پراپیگنڈا کریں گے کہ یہ لوگ کوئی معقول بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اگر آپ تحقیقات کا بندوبست کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے قانونی سہولت اور امداد موجود ہے۔ ملتان بار ایسوسی ایشن نے طے کیا ہے کہ وہ آپ کی ہر ممکن امداد فرمائیں گے اور ان کا مشورہ ہے کہ ایک دفتر قائم کر لیا جائے۔ جہاں شہر کے عینی شاہد آئیں اور انہیں اپنے بیانات لکھائیں۔ جن بیانات کو بار ایسوسی ایشن کے اراکین مناسب سمجھیں گے۔ مسٹر (محمد رستم) کیانی جج ہائی کورٹ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ مگر تحقیقات میں حصہ لینے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ آپ حالات کو سازگار کرنے میں امداد فرمائیں۔ اس امداد کی صورت یہ ہے کہ آپ ہڑتال ختم کر دیں۔ آپ حضرات آپس میں فیصلہ کر لیں اور ہمیں بتا دیں کہ آپ کیا پسند کرتے

صفحہ ۱۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں ۔ ہم سب جو مجلس عمل کی جانب سے آئے ہیں بہرحال آپ کا ساتھ دیں گے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔

صاحبزادہ صاحب کی اس تقریر کا خاطر خواہ اثر ہوا اور چوہدری صاحبان نے فیصلہ کیا کہ وہ کل صبح ہڑتال ختم کر دیں گے۔ چنانچہ دوسری صبح ملتان شہر نے ہڑتال ختم کر دی۔ مجلس عمل کا وفد تبادلہ خیال اور ہڑتال کھلوا کر لاہور واپس آ گیا۔ ملتان میں مسلمانوں پر گولی چلنے کے واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پاکستان بھر میں تحفظ ختم نبوت کا جذبہ تیز تر ہو گیا۔ حضرت مولانا ابوالحسنات کی قیادت میں مجلس عمل کی عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہونے لگیں۔ ان کانفرنسوں کی خصوصیت یہ تھی کہ پاکستان میں ہر مکتب خیال کے علماء اور رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے اور مجلس عمل کی کانفرنسوں میں جہاں حضرت مولانا ابوالحسنات عوام کو خطاب کرتے تھے وہاں حضرت مولانا محمد داؤد غزنوی (اہل حدیث)، علامہ مفتی حافظ کفایت حسین مجتہد اور سید مظفر علی شمسی (ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان)، حضرت مولانا محمد علی جالندھری (مجلس تحفظ ختم نبوت)، حضرت صاحبزادہ پیر سید فیض الحسن شاہ (سجادہ نشین آلو مہار شریف)، حضرت مولانا نور الحسن شاہ (تنظیم اہل سنت)، مولانا نصر اللہ خاں عزیز (جماعت اسلامی)، حضرت مولانا احمد علی لاہوری (جمعیۃ علماء اسلام)، مولانا غلام محمد ترنم (جمعیۃ علماء پاکستان)، حضرت مولانا عبدالغفور ہزاروی، مولانا غلام دین، مولانا محمد بخش (مسلم)، ضیغم احرار، شیخ حسام الدین، حضرت مولانا اختر علی خان (روزنامہ زمیندار)، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی (سرحد)۔

غرضیکہ ہر مکتب خیال کے جید علماء اور مسلمانوں کے مسلمہ رہنما اسلام کے بنیادی مسئلے پر عوام کو ایک ہی پلیٹ فارم سے خطاب کرنے لگے۔ اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسلمانوں نے باہمی اختلافات کی خلیج کو پاٹ دیا اور پیار و محبت سے آقائے نامدار، احمد مختار نبی کریم ﷺ کی آبرو پر کٹ مرنے کے لئے دیوانہ وار میدان میں نکل آئے۔

مجلس عمل کے ہر رہنما نے عوام کو پرامن رہنے اور تحریک کو صحیح لائن پر چلانے کی تاکید کی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائیوں کی اشتعال انگیزی اور حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے باوجود مسلمان کسی ایک مقام پر بھی مشتعل نہ ہوئے۔ جوش پر قابو تھا اس لئے کوئی ناخوشگوار واقعہ ظہور پذیر نہیں ہوا۔

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کہ: ملتان کے شہیدوں کے غم میں گیارہ بارہ روز تک ملتان میں مکمل ہڑتال رہی۔ کوئی پولیس، کوئی مجسٹریٹ، کوئی وزیر، کوئی سیاسی لیڈر اور کوئی شخص اس ہڑتال کو کھلوا نہیں سکا۔ مجلس عمل کے علمائے کرام کا ایک وفد لاہور سے ملتان پہنچا۔ جس میں مولانا ابوالحسنات، سید فیض الحسن اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش شامل تھے۔ ملتان سے اس وفد میں مولانا محمد علی جالندھری شریک ہوئے۔ اس وفد نے اسلامیان ملتان کی دلجوئی کی۔ انہیں تسلی دی اور ان کی طرف سے مطالبہ کیا کہ تھانہ کپ کے قریب فائرنگ کے حادثہ کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے۔ اسی وفد کی اپیل پر ملتان کی ہڑتال ختم ہوئی اور حکومت نے ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس ایم. آر کیانی مرحوم کو اس فائرنگ کی تحقیقات کے لئے متعین کر دیا۔

یہ وہ واقعات تھے اور یہ وہ طوفان تھا جو قادیانیوں کی اسلام دشمن اور توہین انبیاء و اہل بیت اطہار تعلیمات پر مشتمل سرگرمیوں اور سیاسی خطرناک عزائم کے ردعمل کے طور پر ملک میں اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ صدیوں کے باہمی دشمن اور مخالف علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ ملک کا بچہ بچہ جلسوں اور جلوسوں میں آبروئے محمد ﷺ پر مرنے، مٹنے اور پھانسی لٹک جانے کا متمنی تھا۔ جب دولتانہ اور بیوروکریسی کے فرزندوں نے یہ حالات دیکھے تو انہیں اپنا حشر اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگا۔

صفحہ ۱۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علی حسین گردیزی کا استعفیٰ

سب سے پہلے دولتانہ وزارت کے اراکین میں سے ملتان کے علی حسین گردیزی نے دولتانہ صاحب کی خدمت میں استعفیٰ پیش کرنے کی درخواست کی اور اس کی وجہ تھانہ کپ ملتان پر فائرنگ اور اس کے نتیجہ میں بپا ہونے والا ماتم اور قیامت تھی۔ ملتان کا بچہ بچہ اور خود گردیزی صاحب کے اہل وعیال جو بہر حال ایک شریف خاندان کے افراد تھے، اس روح فرسا واقعہ سے سخت متاثر اور متالم تھے۔ گردیزی صاحب کا اپنی قوم اور اپنے گھر والوں کے جذبات اور احساسات سے متاثر ہونا لازمی امر تھا۔

دولتانہ صاحب نے جب دیکھا کہ میری وزارت کی عمارت کی دیواریں گرنے لگی ہیں تو وہ شکست ماننے پر مجبور ہو گئے۔ ان کے اس وقت کی مرکزی حکومت کے ساتھ تعلقات اچھے نہ تھے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے حقوق کے تعین کی بحثیں چھڑی ہوئی تھیں۔ پنجاب ہی ایک ایسا یونٹ تھا جس کی مرضی کے بغیر مغربی پاکستان سے کچھ منوایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس لئے خواجہ ناظم الدین اور ان کے بنگالی گروپ اور دولتانہ صاحب اور ان کے پنجابی گروپ کے درمیان سخت کشیدگی تھی۔ ان حالات میں دولتانہ صاحب نہ تو مرکز سے کوئی بات منوا سکتے تھے اور نہ ہی تحریک کو کچل دینے کی ہمت اور طاقت اپنے اندر موجود پاتے تھے۔ وہ جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے کر کے دیکھ لیا۔ افسروں سے سازش کر کے انہوں نے جو سب سے بڑا ہتھیار استعمال کیا وہ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ اور جلوسوں کی رکاوٹ تھی۔ احرار بڑے آزمودہ کار تھے۔ انگریزوں کے خلاف نبرد آزمائی اور قربانیوں نے انہیں ایجی ٹیشن کا استاد بنا دیا تھا۔ چنانچہ احرار نے دولتانہ صاحب اور ان کے چچا خاں قربان علی خاں کی ساری سازش کو صرف ایک ہی جواب سے ختم کر کے رکھ دیا۔ احرار نے حکومت کے تمام اقدامات کو نظر انداز کر کے مسجدوں میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کو مداخلت فی الدین قرار دے کر سارے ملک میں اس کا پروپیگنڈا کر دیا۔ احرار کا یہ جوابی حملہ ایسا کامیاب ہوا کہ دولتانہ صاحب نے ۲؍ جون ۱۹۵۲ء کے فیصلوں سے ۱۵؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو باعزت پسپائی کا فیصلہ کر لیا۔

فیصلے بدلنے پڑے

اوپر ذکر آ چکا ہے کہ دولتانہ وزارت کے ۲؍ جون کے فیصلہ کی روشنی میں جب پورے صوبہ میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ ہوا تو تحریک کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ جلسے جاری رکھے جائیں۔ لیکن پبلک پارک میں نہیں بلکہ مساجد میں کئے جائیں۔ پالیسی یہ تھی کہ احرار جلسہ کریں خواہ مسجد میں ہو تو اسے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی اور جماعت یا گروہ جلسہ کرے گا تو اسے اجازت ہوگی اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا۔ حکومت کی اسی پالیسی کے تحت صاحبزادہ فیض الحسن شاہ کو گوجرانوالہ کی جامع مسجد اور ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین کو سرگودھا کی جامع مسجد میں تقریر کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ شیخ صاحب اور ماسٹر صاحب کو بڑی جلدی جلدی مقدمہ چلا کر غالباً چھ چھ ماہ کے لئے سزا بھی دے دی گئی۔ ماسٹر تاج الدین انصاری میانوالی جیل میں اور شیخ حسام الدین کو جھنگ جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ لیکن اب حالات کے انقلاب کے ساتھ پالیسی تبدیل ہونے لگی۔ گردیزی صاحب کے استعفیٰ کی درخواست نے دولتانہ صاحب کے دل و دماغ بدل دیئے۔ دولتانہ صاحب بڑے سمجھدار سیاسی لیڈر ہیں۔ انہوں نے گردیزی صاحب کو سمجھایا کہ آپ استعفیٰ نہ دیں۔ بلکہ یہ سارا بحران ہی کسی طرح ختم کرایا جائے۔ تحریک ختم نبوت اور اس کے رہنماؤں کا جو فیصلہ ہم نے مری میں کیا تھا اس کو واپس لے لیا جائے اور آپ ہی اس سلسلہ میں قربان علی سے بات کریں۔ گردیزی صاحب قربان خاں صاحب کے پاس تشریف لے گئے۔ انہیں جا کر دولتانہ صاحب کی تجویز بتائی۔ اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ تم سیاسی لوگ پنجاب پولیس کے وقار کو خراب کرنا چاہتے ہو۔ یہ

صفحہ ۱۳۹

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کام تمہارا تھا۔ تم سیاسی پلیٹ فارم سے ان کا جواب دیتے۔ لیکن جب احرار اور تحریک کو کچھ دینے کا فیصلہ ہو گیا تو اب میں ان کو کچھ کر کے ہی دم لوں گا۔

جملہ معترضہ

خان قربان علی خان کو دولتانہ صاحب چچا صاحب فرمایا کرتے تھے اور خاں صاحب دولتانہ صاحب کے کٹر حامی تھے۔ لیکن اس کے اسسٹنٹ میاں انور علی جو اس زمانہ میں ڈی۔آئی۔جی، سی۔آئی۔ڈی تھے وہ دولتانہ صاحب کے مخالف اور نواب افتخار حسن ممدوٹ کے مداح اور حامی تھے۔ لیکن احرار دشمنی میں دونوں شریک اور برابر تھے۔ سرکاری ریکارڈ اور منیر انکوائری رپورٹ میں ان دونوں کی رپورٹیں اٹھا کر پڑھی جائیں تو میرے اس خیال کی بالکل تصدیق ہوگی۔ ان دونوں صاحبان نے تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کے لئے اکثر و بیشتر سی۔آئی۔ڈی کے مرزائی افسر متعین کئے ہوئے تھے اور مرزائی جو سچی اور جھوٹی رپورٹیں گھڑتے رہے یہ دونوں ان رپورٹوں میں اپنے دل کا غیض اور نفاق شامل کر کے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو بھیجتے رہے۔

ایک عجیب واقعہ

تحریک کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کس طرح کی رپورٹیں اور من گھڑت افسانے تراشے جاتے تھے۔ اس کی ایک عجیب وغریب مثال سنئے۔ ایک دفعہ لائل پور کے ایس۔پی خان عبید اللہ خان نے مجھے طلب کیا اور بڑی گرمی سردی کا اظہار فرمانے لگے۔ خان صاحب سے بڑی بے تکلفی تھی۔ میں نے عرض کیا کہ خان صاحب کیا ہوا؟ کہنے لگے: بڑا افسوس ہے کہ آپ ملک کے دشمنوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا: کون دشمن اور کس سے میں نے ملاقات کی ہے جو آپ کو ناگوار گزری ہے؟ کہنے لگے: بہر حال آپ نے ملک کے کسی دشمن سے ملاقات کی ہے۔ تحقیقات ہورہی ہیں۔ تفصیل بعد میں بتاؤں گا۔ دو دن بعد قاضی احسان احمد شجاع آبادی مرحوم لائل پور تشریف لے آئے۔ مجھے ملے اور کہا غضب ہوا میں نے عرض کیا۔ قاضی صاحب! کیا ہوا۔ فرمایا یہاں ایس۔پی کون ہے۔ کوئی قادیانی ہے؟ میں نے کہا کہ قادیانی تو نہیں ہے۔ مسلمان ہے۔ قصہ کیا ہے؟ فرمایا بہت بڑی سازش ہوئی ہے۔ لائل پور سے پولیس نے رپورٹ کی ہے کہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا تاج محمود دونوں فلاں تاریخ کو اتنے بجے لائل پور کاٹن ملز گئے اور وہاں انہوں نے کاٹن ملز کے مالک لالہ مرلی دھر سے ملاقات کی جو کہ حال ہی میں دلی سے آئے تھے اور اس نے کوئی چیز ان دونوں کے حوالے کی۔ اب حکومت اس بات کی تحقیقات کررہی ہے۔

قاضی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ میں ملتان کے ایس۔پی کی تسلی تو کر آیا ہوں۔ لیکن چونکہ رپورٹ لائل پور سے ہوئی ہے۔ اس لئے یہاں کے ایس۔پی سے ملنا ضروری ہے۔ میں نے قاضی صاحب کو اپنی اور ایس۔پی لائل پور کی گفتگو سنائی اور ہم دونوں خان عبید اللہ خاں ایس۔پی لائل پور کے پاس چلے گئے۔ انہوں نے رپورٹ منگوائی اور بتایا کہ فلاں تاریخ فلاں وقت آپ لوگ کاٹن ملز گئے اور ہمارا آدمی جو آپ لوگوں کی نگرانی پر تھا۔ اس نے دیکھا کہ آپ دونوں مل مالک سے ملے۔ قاضی صاحب نے اپنا بیگ کھولا۔ کراچی کے اخبارات نکالے۔ ان میں شہ سرخیوں سے خبر چھپی ہوئی کہ خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کراچی پہنچ گئے۔ یہ خبر اس پولیس والی ڈائری سے ایک روز قبل کی تاریخ تھی۔ پھر قاضی صاحب نے وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین کا خط نکالا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ براہ کرم! آپ کل صبح ۱۰ بجے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر وزیر اعظم سے ملاقات کریں۔ یہ وہی تاریخ اور وہی وقت تھا جس وقت

صفحہ ۱۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پولیس کا ڈائری نویس ہماری دونوں کی دلی کے مل مالک ایک ہندو سے ملاقات کرا رہا تھا۔ خان عبید اللہ خاں ایس۔ پی لائل پور وزیر اعظم کے پی۔ اے صاحب کے دستخطوں کی چٹھی پڑھ کر بہت حیران اور کھسیانا ہوا۔ قاضی صاحب نے فرمایا: خان صاحب یہ الزام کوئی معمولی سا الزام نہیں ہے یا تو الزام ثابت کرو اور ہم دونوں کو منٹو پارک میں کھڑے کر کے گولی مارو اور یا اس کے ڈائری لکھنے والے کو جو یقیناً قادیانی ہے یہاں کے گھنٹہ گھر کے چوک میں کھڑا کر کے گولی مرواؤ۔

اس واقعہ کے بیان کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ دولتانہ وزارت کے زمانہ کے یہ دونوں افسر سرکار برطانیہ اور اس کے خود کاشتہ پودے کی نمک خواری کا کس طرح حق ادا کر رہے تھے۔

حد یہ کہ انگریز ملک سے چلا گیا ہے اور پاکستان معرض وجود میں آچکا تھا۔ لیکن خفیہ فائلیں، نگرانیاں اور پہرے انہی لوگوں کے جاری تھے۔ جو انگریزوں کے مخالف تھے۔ گویا ان بیوروکریسی کے فرزندوں کے نزدیک پاکستان بھی برطانوی حکومت کی کوئی کالونی یا صوبہ ہی تھا۔ اگر چہ اب کچھ فرق پڑ گیا ہے۔ لیکن ابھی تک نوکر شاہی کے سوچنے کا انداز کما حقہ نہیں بدلا ہے۔

صوبہ سرحد میں خاں برادران، بلوچستان میں عبد الصمد اچکزئی اور پنجاب میں احرار انگریز دشمنی میں سر فہرست تھے۔ گو اوّل الذکر دونوں کانگریس میں شامل تھے اور احرار نہ صرف یہ کہ کانگریس کے حامی ہی نہ تھے بلکہ کانگریس انہیں اسلام کے حق میں کلمۂ خیر کہنے اور مسلمانوں کی علیحدہ جماعت قائم کر لینے کی وجہ سے فرقہ پرست مسلمان کہتی تھی اور حقیقت بھی یہی تھی کہ احرار پنجاب میں مسلمانوں کے کانگریس میں شامل ہونے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے۔

صوبہ سرحد میں کانگریسی وزارت بن گئی تھی۔ لیکن پنجاب میں کانگریسی وزارت نہیں بن سکی تھی اور اس کی وجہ احرار تھے۔ پنجاب میں آزادی پسند مسلمان احرار میں تو شامل ہوئے تھے۔ لیکن کانگریس میں شامل نہیں تھے۔ بہر حال یہ تینوں گروہ انگریز دشمن ضرور تھے۔ خان برادران انگریز کی معنوی اولاد کے باعث قائد اعظم سے نہ مل سکے۔ حالانکہ سرخ پوشوں کا فیصلہ تھا کہ قائد اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان کی خدمت کریں گے۔ خان عبدالقیوم نے بیوروکریسی کے ان فرزندوں سے سازش کر لی اور ان کو بری طرح کچل دیا۔

پنجاب میں دولتانہ بھی انہی فرزندانِ بیوروکریسی کے ہتھے چڑھ گئے اور تحریک کے رہنماؤں کو کچل دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ لیکن دولتانہ نہ بیوقوف تھا اور نہ ہی بہادر۔ اس کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ عبد القیوم نے سرخ پوشوں پر الزام لگایا کہ یہ لوگ پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ اور قائد اعظم کے مخالف ہیں۔ لیکن احرار پر تو یہ الزام لگ ہی نہیں سکتا تھا۔ احرار تو سیاسی حیثیت ختم کر کے مسلم لیگ میں شامل ہیں۔ ملک کے دفاع کے لئے کام کر رہے ہیں۔ دولتانہ صاحب کو الٹا یہ فکر پڑ گئی کہ احرار کا نعرہ ختم نبوت زندہ باد ہے۔ اگر میں نے انہیں کچلنے کی پالیسی جاری رکھی تو یہ شہید اسلام ہوں گے۔ میں اور میرے ساتھی یزیدان عصر قرار پائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنا اختیار کیا ہوا موقف بدلنے لگا۔ چنانچہ میاں دولتانہ صاحب نے ۱۵؍ جولائی کو اعلیٰ حکام کی ایک میٹنگ بلائی جس میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی۔جی پولیس اور ڈی۔آئی۔جی پولیس شامل ہوئے اور فیصلہ کیا گیا کہ عوام کی مخالفت کے طوفان کو دولتانہ وزارت کے خلاف کم کرنے کے لئے صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب کو رہا کر دیا جائے۔ ہوم سیکرٹری سید غیاث احمد نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کو لاہور طلب کیا اور زبانی بتایا کہ حکومت تحریک کے ریلے کا مقابلہ کرنے سے ”یَرْکَعُو، یَرکَعُ شَدِیْدًا“ کی پالیسی اختیار کر چکی ہے۔ اس لئے اس نے صاحبزادہ فیض الحسن شاہ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے گوجرانوالہ واپس جا کر صاحبزادہ صاحب اور ان کے ساتھ گرفتار شدہ اٹھارہ رضا کاروں کو رہا کر دیا۔ یہ رہائیاں ۱۵؍ جولائی کے فیصلہ کے مطابق ۱۷؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو ہوئیں۔ اس ضمن میں مولانا سید عنایت اللہ شاہ

صفحہ ۱۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بخاری گجرات میں اور مولانا عبداللطیف صاحب کو جہلم میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ چنانچہ نئی پالیسی کے تحت انہیں بھی بمعہ ساتھ گرفتار ہونے والے رضا کاروں کو رہا کر دیا گیا۔ البتہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج دین انصاری جو سزا یاب ہو چکے تھے وہ جیلوں میں رہ گئے۔

لطیفہ کی یہ بات ہے کہ ہوم سیکرٹری نے ڈی سی گوجرانوالہ کو صاحبزادہ فیض الحسن کی رہائی کے متعلق ایک تحریری حکم بھی بھیجا۔ جس میں لکھا کہ چونکہ تحریک ختم نبوت کے دو بڑے سرغنے ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین قابو آ چکے ہیں اور انہیں سزائے قید بھی دی جا چکی ہے۔ امید ہے کہ باقی لیڈروں کا دماغ خود بخود درست ہو جائے گا۔ اس لئے آپ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ کو رہا کر دیں۔ حالانکہ ۱۵/ جولائی کی میٹنگ میں قبلہ دولتانہ صاحب اور اس کے مشیر سارے نظر بندوں اور قیدیوں کو رہا کر دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ (گوجرانوالہ)، مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری (گجرات) اور مولانا عبداللطیف (جہلم) کو رہا کر دینے کے بعد ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین کو رہا کرنے میں تھوڑی سی پیچیدگی تھی۔ اوّل الذکر گرفتار شدہ حضرات کے مقدمے زیر سماعت تھے۔ لیکن ماسٹر صاحب اور شیخ صاحب دونوں کو عدالت سے باقاعدہ چھ چھ ماہ کی سزا ہو چکی تھی۔ اب ان کی رہائی کے لئے معقول بنیاد کی ضرورت تھی۔ یہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ مذکورہ گرفتاریوں کے بعد مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا غلام غوث ہزاروی دونوں رہنماؤں نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ہدایات کے مطابق تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام سے رابطہ قائم کر لیا تھا اور ۱۳/ جولائی ۱۹۵۲ء کو برکت علی محمڈن ہال میں میٹنگ کے لئے ایجنڈا اور دعوت نامے جاری ہو چکے تھے۔ حکومت کو ان تمام سرگرمیوں کا علم تھا اور وہ جانتی تھی کہ حالات تحریک کے حق میں اور اس کے خلاف جا رہے ہیں۔ چنانچہ ایک طرف حکومت اپنے داؤ پیچ لڑانے میں مصروف تھی اور دوسری طرف تحریک کے رہنما اپنی تدبیروں میں مصروف تھے۔

آل پارٹیز کنونشن منعقدہ ۱۳/ جولائی ۱۹۵۲ء سے ایک ہفتہ پہلے ۵/ جولائی ۱۹۵۲ء کو مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اختر علی خاں ایڈیٹر زمیندار تحریک وغیرہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میاں انور علی ڈی.آئی.جی پولیس سے ملے۔ اس ملاقات کا محرک کون ہوا اور کیوں ہوا؟ ظاہر ہے کہ ایسے مرحلے پر مولانا غلام غوث ہزاروی کو تو ملاقات کی نہ ضرورت تھی اور نہ شوق کہ وہ ایک بے اختیار قسم کے افسر سے ملاقات کرتے جو تحریک اور قادیانی مسئلہ کے متعلق کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے خبث باطن کا اظہار فائلوں پر اوٹ پٹانگ قسم کی رپورٹیں کر کے کرتا رہتا تھا اور تو وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ مولانا اختر علی خان اس ملاقات کے محرک بنے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مولانا کو بھی میاں انور علی ہی نے مولانا غلام غوث ہزاروی کو لانے کے لئے کہا ہو۔ لیکن مولانا اختر علی خاں مرحوم ہو چکے ہیں۔ ان کے متعلق کوئی بدگمانی کرنا درست نہ ہوگا۔ سیدھی بات یہی ہو سکتی ہے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اختر علی خان دونوں میاں انور علی ڈی.آئی.جی کو ملے اور اس لئے ملے کہ دیکھیں حکومت کس پانی میں ہے اور ۱۳/ جولائی ۱۹۵۲ء کے کنونشن کے متعلق اس کے کیا ارادے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اتنی بات تو ان خفیہ رپورٹوں میں جو منیر انکوائری رپورٹ میں درج ہیں تسلیم کر لی گئی ہے کہ میاں انور علی ڈی.آئی.جی، سی.آئی.ڈی اور میر نور احمد ڈائریکٹر تعلقات عامہ کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ کنونشن میں شریک ہونے والے مندوبین کو کنونشن میں شریک ہونے سے سمجھا کر، پھسلا کر، ڈرا کر روکیں تا کہ کنونشن کامیاب نہ ہو اور ایسا وہ کرتے بھی رہے تھے۔

غرضیکہ ۵/ جولائی ۱۹۵۲ء کو جب مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اختر علی خان، میاں انور علی ڈی.آئی.جی صاحب سے ملے تو بحث یہ ہوئی کہ یہ تلخی جو تحریک کے رہنماؤں اور حکومت کے درمیان پیدا ہو گئی ہے اس میں زیادتی کس کی ہے؟ مولانا غلام غوث ہزاروی نے دلائل پیش کئے کہ قادیانیوں کی جارحیت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ پاکستان کے مسلمان اپنے دینی اور قومی تحفظ کے لئے ردّعمل کے طور پر مجبور

صفحہ ۱۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہو گئے ہیں کہ اس مسئلہ کا فیصلہ کرایا جائے۔ خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر اور دوسرے مرکزی رہنما حقیقت حال کو سمجھ چکے ہیں۔ عوام انتہائی صبر و تحمل، دلائل اور معقولیت کے ساتھ مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔

خواجہ ناظم الدین کی تقریر

خواجہ ناظم الدین نے ۱۴؍اگست ۱۹۵۲ء سے پہلے مولانا اختر علی خان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ۱۴؍اگست کو ختم نبوت کے مسئلہ کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ فیصلہ ایسا ہوگا کہ جو مسلمانوں کی امنگوں اور انصاف کے مطابق ہوگا اور یہ بھی فرمایا کہ اس فیصلہ سے مسلمان مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن ۱۴؍اگست کو جو تقریر خواجہ صاحب نے ریڈیو سے فرمائی وہ نہایت ہی مایوس کن اور حوصلہ شکن تھی۔ تحریک کو شر و فساد کہا گیا۔ تحریک کے رہنماؤں کو دھمکیاں دی گئیں۔ جس کا لازمی نتیجہ تھا کہ جذبات اور احساسات میں تیزی آگئی۔ عوام مختلف شبہات کا شکار ہونے لگے۔ وہ یہ سمجھے کہ ملک کی اصل قوت حاکمہ مسلم لیگ یا اس کے رہنما نہیں بلکہ اصل قوت پس پردہ کوئی اور ہی ہے جو اسلام کی تمام قدروں کو روند کر اور تمام مسلمانوں کو نظر انداز کر کے بھی قادیانیوں کے مفاد کا تحفظ کر رہی ہے۔ پھر رہی سہی کسر مرزا محمود نے خونی ملّا کے آخری دن کی دھمکی دے کر اور چوہدری ظفر اللہ خان نے جہانگیر پارک میں لوہے کی ٹوپی پہن کر مسلمانوں کو چیلنج کر کے نکال دی۔ مولانا نے فرمایا مسلمانوں کا ملک ہے۔ حکومت بھی مسلمان ہے اور ہم بھی مسلمان ہیں۔ ہمارے درمیان یہ تلخی بڑھنی نہیں چاہئے۔ ہم نے نہ کبھی بدامنی کی ہے نہ ہم بدامنی کو جائز سمجھتے ہیں۔ یہ تو حکومت خواہ مخواہ مداخلت فی الدین اور مسجد کی بے حرمتی کر کے صورتحال کو خراب کر رہی ہے۔ ہمارا مشورہ حکومت کو یہ ہوگا کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ گرفتار شدگان کو رہا کر دے۔ مسلمانوں کے مطالبات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرے۔ ہمارا مطالبہ حکومت پاکستان سے ہے اور پنجاب کی صوبائی حکومت ہمیں پرامن مطالبہ کرنے سے نہ روکے۔ میاں انور علی نے وہی باتیں کیں جو ایک فرعون مزاج پولیس افسر کو کرنی چاہئیں تھیں۔ میاں صاحب نے کہا کہ حکومت گرفتار شدگان کو رہا کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ، ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین معافی نامہ لکھ کر دے دیں کہ وہ آئندہ ان سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے، جن کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اختر علی خاں، میاں صاحب کی تجویز پر تھوک کر واپس آ گئے۔ یہ اپنی جگہ مطمئن تھے کہ حکومت کے دماغ پر جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس کا بڑا بوجھ ہے اور وہ کنونشن کو نہیں روکے گی۔ میاں انور علی اپنی جگہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بغلیں بجاتے ہوئے اوپر رپورٹ کی کہ وہ میرے پاس آئے تھے اور میں نے ان کو یہ جواب دیا ہے۔ ان حالات میں ۱۳؍ جولائی کی کنونشن ہوئی اور کامیاب ترین کنونشن ہوئی۔ جس سے حکومت ہل گئی۔ میاں انور علی کی ساری تعلی ختم ہوگئی۔ ۱۵؍جولائی یعنی کنونشن کے دو روز بعد دولتانہ صاحب نے اعلیٰ حکام کی میٹنگ بلائی اور صاحبزادہ فیض الحسن شاہ اور ایسے دوسرے تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا فیصلہ کر دیا گیا۔ جو ابھی سزایاب نہ ہوئے تھے۔ لیکن فضا سخت گرم تھی۔ گرفتار شدگان کی رہائیوں کے بعد بھی حکومت کے حق میں اچھا ردعمل نہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین ابھی جیل میں تھے۔ اس کے علاوہ قادیانی مسئلہ ابھی جوں کا توں پڑا ہوا تھا۔

دولتانہ صاحب سے ملاقات

جب میاں انور علی ڈی۔آئی۔جی، سی۔آئی۔ڈی نے رپورٹ کی کہ میرے پاس مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اختر علی خاں آئے تھے اور انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ حکومت اور تحریک کے رہنماؤں کے درمیان خواہ مخواہ کی غلط فہمیاں ہیں، تلخی ہے اور حکومت

صفحہ ۱۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ دولتانہ صاحب کو پہنچی۔ وہ پہلے ہی چاہتے تھے کہ کسی صورت میری اس مصیبت سے جان چھوٹے۔ انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ بڑی مشکل سے ملی تھی اور اب تحریک ختم نبوت کی بدولت نہ صرف وہ وزارت اعلیٰ خطرے میں تھی بلکہ انہیں شہر شہر، قریہ قریہ اور گلی گلی کوسا جا رہا تھا۔ رائے عامہ ان کے خلاف ہو رہی تھی۔ انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت جانا۔ اتفاق سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم ان دنوں لاہور آئے ہوئے تھے۔ کسی کے ہاں شادی وغیرہ کی تقریب تھی۔ دولتانہ اس تقریب میں وہاں مدعو تھے اور حضرت شاہ صاحب، صاحبزادہ فیض الحسن شاہ اور غازی محمد حسین بھی اس تقریب میں وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ ان حضرات کی کھڑے کھڑے مختصر سی ملاقات ہو گئی اور مختصر سا تذکرہ ہو گیا۔ دولتانہ صاحب نے بھی کہا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ اس بناء پر کیا گیا ہے کہ امن و امان کا مسئلہ ہمارے پیش نظر ہے۔ شاہ صاحب اور صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ امن و امان آپ ہی کی ذمہ داری نہیں ہمارا سب کا فرض ہے اور ہم تو ملک کے امن و امان کو قائم رکھنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ البتہ قادیانیت جو ملک اور اسلام دونوں کے لئے خطرہ ہے، اس خطرہ سے عوام اور حکومت کو آگاہ کرنا اور اس مسئلہ کا مناسب حل بھی ہماری قومی ملکی اور دینی ذمہ داری ہے۔

میر نور احمد کی آمد

جس ملاقات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں تھی بلکہ اتفاقی ملاقات تھی اور اس میں جو گفتگو ہوئی تھی وہ گلہ گزارا اور ایسے ہی لحاظ ملاحظہ کی بات چیت تھی۔ لیکن اس گفتگو کا ایک فائدہ فریقین کو پہنچا کہ دونوں کو ایک دوسرے کے مصالحانہ خیالات کا پتہ چل گیا۔ دوسرے روز میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ نے میر نور احمد صاحب ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ کو حضرت کے پاس بھیجا اور دولتانہ صاحب کی ۱۹؍ جولائی ۱۹۵۲ء والی ملاقات کا ذکر کیا کہ آپ نے جو بات میاں صاحب سے رات کہی ہے اور آپ سے پہلے مولانا غلام غوث ہزاروی نے ۵؍ جولائی کو میاں انور علی سے کہی ہے کیا واقعتاً یہی آپ کی پالیسی ہے۔ کیونکہ حکومت کو آپ حضرات کے متعلق جو رپورٹیں ملتی رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ جان بوجھ کر بدامنی کرانا چاہتے ہیں۔ اس ملاقات میں حضرت شاہ صاحب کے علاوہ مولانا محمد علی جالندھری، صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ اور غازی محمد حسین سالار احرار شامل تھے۔ میر صاحب کو تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ یہ سب سی۔آئی۔ڈی اور ہوم ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے ہوئے مرزائی افسروں کا کمال ہے کہ وہ ہمارے خلاف جھوٹی اور شر انگیز رپورٹیں بھیجتے رہتے ہیں۔ ہم ملک میں بدامنی کے سخت خلاف ہیں۔ ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مرزائی اس ملک کے دشمن ہیں۔ وہ ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی بلوچستان کے صوبہ کو احمدی صوبہ بنانے کا اعلان کرتے ہیں۔ کبھی کشمیر پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ملک کی تمام کلیدی آسامیوں پر ان کا قبضہ ہے۔ بھوکے ننگے ہو کر یہاں آئے تھے۔ اب کروڑوں روپیہ کے مالک ہیں۔ ملک میں کسی دوسرے فرقہ یا برادری کا مخصوص شہر نہیں ہے۔ ربوہ صرف مرزائیوں کا شہر ہے۔ جہاں کسی دوسرے عقیدہ کا کوئی آدمی رہ ہی نہیں سکتا۔ بارود اور اسلحہ چوری کر کے جمع کر رہے ہیں۔ ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ملک کو امریکہ، برطانیہ کی لونڈی بنا کر رکھ دیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ظفر اللہ کی وجہ سے الجھ گیا ہے اور اب مرزائی افسر اور مرزائی مبلغ جارحانہ رویہ اختیار کر کے تبلیغ کر رہے ہیں۔ بے شمار ان کی جارحانہ تبلیغ کی بدولت فساد ہو چکے ہیں۔ اسلام میں تحریک ارتداد کی تبلیغ، توہین انبیاء و اہل بیت اطہار کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لیکن تعجب ہے کہ فسادی اور ملک دشمن ہمیں بتایا جاتا ہے۔ میر نور احمد نے کہا کہ جو کچھ آپ یہاں کہتے ہیں کیا یہ پبلک طور پر کہنے کو بھی تیار ہیں۔ ان حضرات نے کہا ہم ہر جگہ یہ کہنے کو تیار ہیں۔ چنانچہ اخبارات کے لئے ایک بیان کا مسودہ تیار ہوا۔ جس میں لکھا گیا کہ احرار مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار

صفحہ ۱۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دلانے کی جدوجہد ایک مدت سے کر رہے ہیں۔ ان کا دوسرا مطالبہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ کے عہدہ سے علیحدہ کرانا ہے۔ انہوں نے ان مطالبات کے لئے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی۔ اس سلسلہ میں نہ انہوں نے تشدد، بدنظمی اور امن کے خلاف کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ارادہ رکھتے ہیں وہ اپنی تحریک کو پرامن چلا رہے ہیں اور جاری رکھیں گے۔ وہ ملک میں امن کو نہ صرف اپنا شہری بلکہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کے ہر شہری خواہ اس کا کسی مذہب اور فرقہ سے تعلق ہو، کی جان مال اور آبرو کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ بیان ”روزنامہ وفاق لاہور“ ۲۱ / جولائی میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوا۔ اس بیان کی اشاعت کے دوسرے ہی روز یعنی ۲۲ / جولائی کو وزیر اعلیٰ صاحب کا حسب ذیل بیان سول اینڈ ملٹری گزٹ میں شائع ہوا۔

مجلس احرار اسلام پنجاب کے لیڈروں نے اپنی پالیسی کے متعلق ایک تازہ اعلان کیا ہے۔ جس میں یقین دلایا ہے کہ وہ قانون اور انتظام کے قیام میں میری حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ مجلس احرار کے لیڈروں نے اس حقیقت پر بجا طور پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں مسلم اکثریت کا قومی ہی نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے کہ وہ بلا امتیاز عقیدے و ذات اس ملک کے ہر شہری کے جان و مال، آبرو اور شہری حقوق کے تحفظ کے ضامن ہوں۔

کچھ مدت سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں احراری کارکنوں کے عام جلسوں اور مظاہروں پر قیود عائد ہیں۔ ان قیود کے عائد کرنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ صوبے میں امن و امان اور انتظام محفوظ رہے۔ اب احرار لیڈروں کے اعلان کے پیش نظر یہ ضروری معلوم نہیں ہوتا ہے کہ جہاں تک اس جماعت کے ممبروں کا تعلق ہے ان قیود کو جاری رکھا جائے۔ لہذا متعلقہ حکام کے نام ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ احکام زیر دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کو واپس لے لیں یا ان میں مناسب ترمیم کر لیں۔

دولتانہ صاحب کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پانی میں بہتے ہوئے جس کمبل کو پکڑنا چاہتے تھے اب اس سے جان چھڑانے کی فکر میں تھے۔ احرار کے لیڈروں کے بیان میں اور دولتانہ صاحب کے بیان میں تھوڑا سا فرق ہے۔ احرار لیڈروں نے اپنے عقیدے کا اظہار خلوت اور جلوت دونوں طرح کر دیا یعنی وہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے اور سر ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کروانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس بات سے وہ کبھی اور کسی صورت باز نہیں آسکتے۔ البتہ بدامنی تشدد اور ملک کو نقصان پہنچانا نہ ان کے مقصد میں ہے نہ انہوں نے ایسا پہلے کیا ہے اور نہ اب کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن دولتانہ صاحب نے اپنی سیاسی اور قانونی ضرورتوں کے لئے اسے یوں دہرایا کہ احرار نے یقین دلایا ہے کہ وہ میری حکومت کے ساتھ امن اور انتظام کے قیام میں مکمل تعاون کریں گے۔

شیخ صاحب اور ماسٹر صاحب کی رہائی

۲۲ / جولائی ۱۹۵۲ء کو ہوم سیکرٹری جناب سید غیاث الدین احمد کی طرف سے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو بذریعہ وائرلیس اطلاع دے دی گئی کہ چونکہ مجلس احرار پاکستان نے چیف منسٹر صاحب سے ایک وعدہ کیا ہے اور چیف منسٹر صاحب نے اس وعدے کو قبول کر لیا ہے۔ اس لئے عام جلسوں کے امتناع کے جو احکام زیر دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کئے گئے تھے، واپس لے لئے جائیں۔ قارئین نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ احرار نے کیا بیان دیا۔ چیف منسٹر صاحب نے اس کا مطلب کیا بیان کیا اور ہوم سیکرٹری نے اس کی تفسیر کیا کر دی۔ احرار نے اپنا مؤقف بیان کیا کہ مطالبات جاری رکھیں گے اور تشدد بدنظمی ہمارا طریقہ کار نہیں۔ ملکی امن کے مسئلہ میں حکومت سے تعاون

صفحہ ۱۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوگا۔ دولتانہ صاحب نے بیان داغ دیا کہ احرار نے یقین دلایا ہے کہ احرار میری حکومت سے مکمل تعاون کریں گے اور ہوم سیکرٹری ایک قدم اور آگے بڑھ گئے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو مطلع کیا کہ احرار نے چیف منسٹر سے ایک وعدہ کیا ہے اور انہوں نے وہ وعدہ قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا دفعہ ۱۴۴ واپس لے لو۔ اس کو کہتے ہیں شاندار پسپائی، کسی زمانہ میں جب انگریزوں اور جرمن کی جنگ ہو رہی تھی اور جرمن برطانیہ کا کچومر نکال رہا تھا تو ہمارے ایک جماعتی ساتھی نے نظم لکھی تھی جس کا ایک مصرعہ تھا۔

قدم جرمن کا بڑھتا ہے فتح برٹش کی ہوتی ہے

بس کچھ ایسا ہی حساب کتاب دولتانہ صاحب اور تحریک کے لیڈروں کی لڑائی کا ہوا اور بالآخر ان شاندار اور خوبصورت حیلوں بہانوں سے ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین کو رہا کرنے کے لئے گراؤنڈ مہیا کیا گیا اور ان دونوں رہنماؤں کو ۲۶/ جولائی ۱۹۵۲ء کو میانوالی اور جھنگ جیل سے رہا کر دیا گیا اور باقی سزائیں از راہ کرم نوازی معاف کر دی گئیں۔

دولتانہ صاحب کا گناہ

میں کہیں آگے چل کر اس پر مفصل بحث کروں گا کہ تحریک ختم نبوت کے متعلق نہایت ہی گھناؤنا اواور بہت بڑا الزام جو سیاہ دل شیطانوں نے سفید جھوٹ کی شکل میں گھڑا۔ وہ یہ تھا کہ تحریک ختم نبوت کا بانی مبانی دولتانہ صاحب تھے۔ مولوی صاحبان اور اخبارات کو استعمال کیا گیا اور ایک مقدس نام کی تحریک دولتانہ صاحب نے اپنے سیاسی حریف خواجہ ناظم الدین کو پریشان اور ناکام کرنے کے لئے شروع کروائی تھی۔ لیکن اس موقعہ پر اشارۃً میں صرف اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ تحریک دولتانہ صاحب کی نہ تھی بلکہ تحریک بالکل اخلاص پر مبنی تھی۔ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے اولین مجوز حکیم الامت علامہ محمد اقبال تھے اور جیسا کہ ہمارا ایمان ہے کہ حضور ﷺ کی ساری امت گمراہی پر کبھی جمع نہیں ہوسکتی۔ تمام علمائے کرام، مشائخ عظام اس مطالبہ کی تائید، تصدیق میں متفق تھے۔ احرار اس مسئلہ کے اٹھانے میں پیش پیش تھے۔ ان کی کوئی سیاسی غرض نہ تھی۔ وہ تو سیاسیات ہی کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل تھے۔ دولتانہ تحریک کا حامی نہ تھا بلکہ تحریک کے اجتماعات سے سخت خائف اور تحریک کی کامیابی پر حسد کر رہا تھا۔ اس نے تحریک کو کچلنے کے لئے نہایت خوفناک سازش کی۔ لیکن اس کی توقع اور اندازے کے برعکس چونکہ مسئلہ کا تعلق تاجدار مدینہ ﷺ کی ذات کے ساتھ تھا۔ جس طرح حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں حضور ﷺ کو معجزانہ کامیابیاں نصیب ہوئی تھیں، اسی طرح چودہ سو برس کے بعد حضور ﷺ کے غلاموں اور نام لیواؤں کو بھی کامیابیاں نصیب ہو رہی تھیں۔ اس لئے اس کے پہلے ہی اقدام کے بعد جب پورے صوبہ میں ہلچل مچ گئی، ملتان کے شہیدوں کے خون نے تمام مسلمانوں کو اپنی رگوں کے خون بہانے پر آمادہ کر دیا۔ منبر ومحراب سے حسین ؓ اور یزید کی کہانی از سر نو شروع ہوگئی تو دولتانہ صاحب نے پسپائی اختیار کر لی۔

تحریک ختم نبوت کے خلاف اتہام طرازی کرنے والوں کی نگاہ میں دولتانہ صاحب کا یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انہوں نے ظلم وتشدد کا اٹھایا ہوا قدم واپس کیوں لے لیا۔ حد یہ ہے کہ اس اتہام طرازی میں اس وقت کی بیوروکریسی اور نوکر شاہی کے ہیڈ گورنر جنرل ملک غلام محمد بیوروکریسی کے فرزند ارجمند سکندر مرزا سے لے کر عدلیہ کے ہیڈ سابق چیف جسٹس منیر تک سب شامل ہیں۔ خواجہ ناظم الدین کی جگہ برسراقتدار آنے والے اور دولتانہ صاحب کی جگہ سنبھالنے والوں نے تو یہ پراپیگنڈا کرنا ہی تھا۔ ان کی کرسیوں کا مفاد ہی اسی میں تھا۔ باقی ربوہ والوں نے صرف اس لعنتی پروپیگنڈے میں حصہ ہی نہیں لیا۔ بلکہ لاکھوں روپیہ خرچ کیا تاکہ تحریک عوام میں بدنام ہو۔ تحریک کے لیڈروں کا اخلاص اور ان کی قربانیاں ضائع چلی جائیں۔

صفحہ ۱۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملک غلام محمد، سکندر مرزا ، جسٹس منیر اور ربوہ کی سرکار تک سب کی خواہش یہ تھی کہ دولتانہ نے جو قدم اٹھایا تھا، وہ اسے واپس نہیں لینا چاہئے تھا۔ اسے چاہئے تھا کہ وہ احرار کو کچل دیتا۔ تحریک کے لیڈروں کو پھانسی لگا دیتا اور حضرت محمد ﷺ فداہ ابی وامی کی ناموس پر پروانہ وار قربان ہونے والوں کو گولیاں مار دیتا۔ خود قیامت تک کے لئے یزید ثانی کا لقب پالیتا۔ قوم کے غضب کا شکار ہوجاتا۔ لیکن اپنے مفاد، اپنے ضمیر اور جمہوریت کی آواز نہ سنتا بلکہ ربوہ سے ہدایات حاصل کر کے عمل کرتا رہتا۔ بس یہ پہلا گناہ تھا دولتانہ صاحب کا۔

احرار اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے رہنما تو گنہگار تھے ہی جو سرکار برطانیہ کے خود کاشتہ پودے کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ جو بیوروکریسی کے فرزندان ارجمند کے ابلیسی پنجہ کو مروڑ کر یہاں جمہوریت اور اسلام کا علم بلند کرنا چاہتے تھے۔ اب دولتانہ صاحب نے بھی ان کی خلاف ورزی کر دی تو وہ بھی احرار کے ساتھ ہی مغضوب قرار دے دیئے گئے اور آگے چل کر ان سے اس سلسلہ میں اور بھی بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں۔ جس کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ آئندہ چل کر آئے گا۔ پھر کیا ہوا، احرار اور دولتانہ صاحب دونوں کو کشتنی قرار دے دیا گیا اور عین ربوہ والوں کی مرضی کے مطابق بدترین قسم کا جھوٹ گھڑا گیا اور فضول قسم کے دلائل اس من گھڑت افسانہ کے حق میں تراشے گئے اور قادیانیوں کا لاکھوں روپیہ اس جھوٹ کو پھیلانے میں مصروف ہوا۔ ملک غلام محمد سے لے کر جسٹس منیر تک نے اس کار خیر میں خوب خوب حصہ لیا۔ ( قبل ازیں ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کی جیل کی روئیداد آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ ان حضرات کی گرفتاریوں کے بعد کیا ہوا ملاحظہ ہو، مولانا تاج محمود کے قلم سے)

گرفتاریاں

یہ گرفتاریاں کیا ہوئیں صوبہ میں قیامت آگئی۔ عوام میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی۔ روزنامہ آزاد میں ایک کارٹون شائع ہوا: ایک مسجد ہے۔ اس کا دروازہ ہے۔ دروازہ کے باہر ایک بزرگ مولانا کھڑے ہیں۔ ان کے دونوں لبوں میں سوراخ کر کے ایک بہت بڑا تالا لگا ہوا دکھایا گیا تھا۔ گویا وہ ۔

آہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیں

کی تصویر بنا کھڑا ہے۔ ان گرفتاریوں پر پورے صوبہ میں یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ پورے صوبہ میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ یوم احتجاج منایا گیا۔ یوم احتجاج کے موقعہ پر ملتان میں ایک زبردست جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس جب تھانہ کپ کے قریب پہنچا تو تھانہ والوں نے خواہ مخواہ وہم میں مبتلا ہو کر گولی چلا دی۔ جس سے کئی آدمی شہید ہو گئے۔ پھر کیا تھا کسی شاعر نے ملتان کے شہیدوں پر نظم لکھتے ہوئے کہا ۔

ملتان کے شہیدو ملتان رو رہا ہے

اس سانحہ کے بعد ملتان میں ہڑتال ہو گئی عظیم ماتم منایا گیا۔ ۱۰، ۱۲ دن تک ملتان میں مکمل ہڑتال رہی۔ ملتان کے علی حسین گردیزی بھی دولتانہ وزارت میں ایک وزیر تھے۔ ان کی والدہ بیوی بچوں اور دوسری خاندان کی خواتین نے گردیزی صاحب کو لاہور فون کیا اور مطالبہ کیا کہ ہمارا ملتان کربلا بن چکا ہے۔ ہمارے گھر کے ارد گرد ماتم ہو رہے ہیں۔ آپ مہربانی کر کے وزارت سے استعفیٰ دے کر واپس آئیں۔ گردیزی صاحب نے میاں دولتانہ سے عرض کیا۔ دولتانہ صاحب کا پتہ پہلے ہی پانی ہو رہا تھا۔ انہوں نے گردیزی صاحب سے فرمایا کہ قربان علی خان سے کہو کہ ایکشن ختم کرے۔ لیکن قربان علی خان نے کہا ہرگز نہیں۔ میں کبھی بھی اس ایکشن سے دستبردار نہیں

صفحہ ۱۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوسکتا۔ اس طرح پنجاب پولیس کا وقار خاک میں مل جائے گا۔ میں مزید گرفتاریاں کروں گا اور اس تحریک کو کچل کر دم لوں گا۔ دوسری طرف پورے صوبہ میں ملتان کے شہیدوں کا خون رنگ لانے لگا۔ جلسے جلوس قرار دادیں ، جمعہ کے خطبوں میں شہداء کو خراج تحسین اور دولتانہ وزارت کو یزیدی حکومت ثابت کرنے کا بیان ایک طوفان بپا ہو گیا۔

لاہور میں میٹنگ

مولانا محمد علی جالندھری ملتان سے لاہور پہنچ گئے۔ حضرت شاہ صاحب کو بھی لاہور بلایا گیا تاکہ کوئی فیصلہ کر لیا جائے۔ دفتر میں لاہور اور بیرون جات کے سینکڑوں کارکن اور رہنما نہایت رنجیدہ اور مضطرب ہو کر جمع تھے۔ جس گاڑی پر شاہ جی نے آنا تھا۔ وہ لاہور پہنچی تو شاہ جی اس میں نہ تھے۔ سخت مایوسی ہوئی۔ شبہ ہوا کہ شاہ جی کو راستے میں کہیں گرفتار نہ کر لیا گیا ہو۔ طرح طرح کی باتیں ہو رہی تھیں کہ شاہ جی کا بھیجا ہوا آدمی لاہور دفتر میں پہنچ گیا اور مولانا محمد علی جالندھری کے نام شاہ جی کا ایک خط لے آیا۔ افسوس کہ شاہ جی کا وہ خط محفوظ نہیں رہ سکا۔ اس میں شاہ جی نے لکھا تھا کہ حکومت کے تیور بگڑے ہوئے ہیں۔ اس نے غالباً ہمیں کچل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت اور ناموس پر قربان ہو جانے سے بڑھ کر سعادت کی بات ہمارے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ وہ اگر ہمیں مٹانے کے لئے تیار ہیں تو ہم حضور ﷺ کے نام پر مٹنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن یہ افسران انگریز کی معنوی اولاد ہے۔ یہ ہم پر جھوٹے الزام لگا کر ہماری تاریخ خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے لاہور اور ملک کے چند چیدہ چیدہ علمائے کرام سے ایک فتویٰ پر دستخط حاصل کر لئے جائیں کہ ختم نبوت کی اسلام میں کیا اہمیت ہے۔ مرزا قادیانی کے دعاوی اور اس کی امت کے جارحانہ رویہ سے اسلام اور ملک دونوں کو کیا خطرات درپیش ہیں اور ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس راہ پر قربان ہو جانے کی شرعاً حیثیت کیا ہے؟ اس فتویٰ پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے دستخط حاصل کر کے اسے محفوظ کر لیا جائے اور پھر اللہ پر توکل کر کے جو جدوجہد شروع ہے۔ اسے جاری رکھا جائے جو اللہ کو منظور ہوگا وہ ہو جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب کے خط کی روشنی میں مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے یہ مناسب خیال کیا کہ مختلف مکاتب فکر کے چند چوٹی کے علمائے کرام کو ایک جگہ مدعو کیا جائے اور ایک قرارداد منظور کر لی جائے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اہل حدیث حضرات میں سے مولانا داؤد غزنوی، شیعہ صاحبان میں سے علامہ حافظ کفایت حسین اور دیوبندی حضرات سے مولانا احمد علی لاہوری اور مفتی محمد حسن صاحب (اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کی قبروں پر اپنی رحمت کی بارش نازل فرماتا رہے) اس میٹنگ کے لئے آمادہ ہو گئے۔ بریلوی صاحبان میں سے کسی بزرگ کا اس میدان میں آنا بڑا مشکل نظر آتا تھا۔ بالآخر مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا غلام غوث ہزاروی جامع مسجد وزیر خان کے خطیب اور بریلوی مکتب فکر کے مشہور عالم دین حضرت مولانا ابوالحسنات کے پاس گئے۔ مولانا نے پرانے اختلافات کے پیش نظر انکار فرما دیا۔ ان دونوں بزرگوں نے اجازت چاہی۔ مولانا محمد علی جالندھری نے کہا کہ مولانا ایک بات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اس میں مرزائی مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں۔ حکومت کے مناصب جلیلہ پر قابض ہیں اور اب وہ اس ملک میں خونی انقلاب بپا کرنے کی باتیں کرتے اور مرزائی اسٹیٹ قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں ہم جو کچھ کر سکتے تھے ہم نے نعرہ حق بلند کر دیا ہے۔ حکومت ہمیں مٹا دینا چاہتی ہے اور ہم حضور ﷺ کے نام پر مٹنے کا فیصلہ کئے بیٹھے ہیں۔ ایسے حالات میں آپ کی خدمت میں آئے اور آپ نے انکار فرما دیا۔ قیامت کے دن ہم حضور سرور کائنات ﷺ شافع محشر کی خدمت میں آپ کی شکایت کریں گے کہ آپ ﷺ کی امت کے اکثریتی فرقہ کے راہنما نے ایسے نازک وقت میں ہمیں کورا جواب دے دیا تھا۔

صفحہ ۱۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا ابوالحسنات نے فرمایا آپ تشریف رکھئے اگر ایسے حالات ہیں تو آپ قیامت کے روز میری حضور ﷺ کے پاس شکایت نہ کرنا۔ میں ہرممکن تعاون کے لئے تیار ہوں۔ آپ جہاں مجھے بلائیں گے میں اس مقدس مقصد کے لئے وہاں حاضر ہوں گا۔ نہ صرف میں آؤں گا بلکہ میری ساری جماعت تعاون کرے گی۔

۱۸؍ اگست ۱۹۵۲ء کو لاہور مجلس عمل کا اجلاس

۱۸؍ اگست کو دفتر زمیندار میں مجلس عمل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اور طے پایا کہ دو کمیٹیاں بنائی جائیں۔ ایک پراپیگنڈے کا کام کرے اور دوسری کمیٹی فنڈ جمع کرے تاکہ تحریک کو پرامن طریقے پر چلانے میں آسانیاں ہوں۔ پوسٹر اور پمفلٹ شائع کئے جائیں اور ملک کے ہر گوشے تک پیغام پہنچایا جاسکے۔ ۱۹؍ اگست ۱۹۵۲ء کو ماسٹر صاحب اور شیخ صاحب کو اہل ملتان نے جلسہ عام کے لئے دعوت دی۔ یہ دونوں حضرات ملتان پہنچے اور رات کو مخدوم شوکت حسین کی صدارت میں جلسہ عام کو خطاب کیا۔ گولی چلنے کے واقعہ اور جیل کے باہر آنے کے بعد ان کو مجلس عمل کے رکن کی حیثیت سے پہلی بار عوام کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد پنجاب کے مشہور شہروں میں یعنی سیالکوٹ گوجرانوالہ اور راولپنڈی، شیخوپورہ وغیرہ میں مجلس عمل کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہوئیں جن میں تاریخی اجتماعات ہوئے۔ مطالبات کو دہرایا گیا۔ عوام کو پرامن جدوجہد کی تلقین کی گئی اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے متفقہ مطالبات کو منظور کرے۔ راولپنڈی میں جو کانفرنس منعقد ہوئی اس میں مجلس عمل کے تمام ذمہ دار اراکین نے شمولیت کی۔ ابھی کانفرنس جاری تھی کہ خواجہ ناظم الدین صاحب کا پیغام آیا۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی وساطت سے خواجہ صاحب نے مولانا ابوالحسنات صدر مجلس عمل اور مولانا محمد داؤد صاحب غزنوی کو دستور کے سلسلہ میں کراچی بلوا بھیجا اور تاکید فرمائی کہ ہوائی جہاز کے ذریعے فوراً تشریف لائیں۔ چنانچہ ہر دو حضرات راولپنڈی سے لاہور پہنچے اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی کو ہمراہ لے کر ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی تشریف لے گئے۔ کراچی میں خواجہ ناظم الدین صاحب نے علماء کرام سے بیک وقت ملاقات کرنے کی بجائے ہر مکتب خیال کے علماء سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔ مولانا مودودی علیحدہ ملے۔ مولانا ابوالحسنات اور مولانا بدایونی سے الگ ملاقات کی اور مولانا محمد داؤد غزنوی سے تنہا تبادلہ خیال کیا۔ غرضیکہ اس ملاقات میں برطانوی ڈپلومیسی کا مظاہرہ باقاعدگی سے ہوتا رہا۔ یہ ملاقاتیں ۱۹؍ نومبر ۱۹۵۲ء تک ہوتی رہیں۔ خواجہ صاحب دستور پر دستخط کرنے کے لئے اصرار فرما رہے تھے۔ (مولانا ابوالحسنات اور مولانا بدایونی کی ملاقات میں دستور کے علاوہ سر ظفر اللہ خان کی علیحدگی کے مطالبے پر زور دیا گیا تو خواجہ صاحب نے فرمایا کہ آپ مطالبہ تو کر رہے ہیں کہ سر ظفر اللہ کو علیحدہ کر دیا جائے مگر آپ اس مشکل کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اگر ہم سر ظفر اللہ کو علیحدہ کر دیتے ہیں تو ہمارے کتنے کام بگڑ جائیں گے۔ ان کے بغیر ہم کن مشکلات میں گرفتار ہوں گے۔ خواجہ صاحب کے اس ارشاد پر مولانا ابوالحسنات نے فرمایا کہ خواجہ صاحب ہم تو اللہ کے نیک بندے سے ملنے اور اپنی آرزو بیان کرنے آئے تھے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم سر ظفر اللہ کے بندے سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مولانا نے بگڑ کر فرمایا کہ چلئے مولانا بدایونی صاحب یہاں سر ظفر اللہ خان ہیں تو سب ٹھیک ہے۔ ورنہ سب کام چوپٹ ہو جائیں گے۔ اس پر خواجہ صاحب کچھ خفیف ہوئے اور مولانا سے نرم نرم باتیں کرنے لگے)

۲۳؍ اگست ۱۹۵۲ء لاہور کا جلسہ عام

۱۴؍ اگست ۱۹۵۲ء کو خواجہ ناظم الدین کے قادیانیوں کے متعلق متوقع اعلان کے نہ ہونے اور ۱۳؍ اگست ۱۹۵۲ء اور ۱۶؍ اگست

صفحہ ۱۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۵۲ء کو مجلس عمل کے وفد کی ملاقاتوں کے دوران خواجہ صاحب کا مطالبات ماننے سے معذوری کا اظہار کرنا، اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس کے بعد تمام واقعات اس سانحہ کے ردعمل میں رونما ہوتے چلے گئے۔ دوسرے لفظوں میں ۱۶؍ اگست ۱۹۵۲ء تک مجلس عمل اور ملک کی تمام دینی قوتوں کا مدمقابل اور مخالفت کا نشانہ صرف قادیانی تھے لیکن ۱۴؍ اگست کو متوقع اعلان کے نہ ہونے اور ۱۳، ۱۶؍ اگست کی ملاقاتوں کی ناکامی کے بعد اب صورتحال یہ ہوگئی کہ مجلس عمل اور ملک کی تمام دینی قوتوں کے غیض وغضب کا نشانہ قادیانی اور خواجہ ناظم الدین کی حکومت دونوں بن گئے۔ اس لئے ہم نے اس وفد کی ملاقات اور اس کی ناکامی کے حالات اور پورے پس منظر کو ذرا وضاحت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ آئندہ کے حالات کی رفتار اور عامتہ المسلمین اور خواجہ ناظم الدین کی حکومت کے مابین تلخی کی صورتحال کا صحیح اندازہ لگایا جاسکے۔ وفد جب لاہور واپس پہنچ گیا تو انہوں نے ۲۳؍ اگست ۱۹۵۲ء کو لاہور، دہلی دروازہ میں جلسہ عام کرنے کا اعلان کیا۔ اس جلسہ کے لئے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار کی عبارت درج ذیل تھی۔

آل مسلم پارٹیز کنونشن کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام بتاریخ ۲۳؍ اگست بروز ہفتہ ساڑھے آٹھ بجے شب باغ بیرون دہلی دروازہ میں زیر صدارت حضرت مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد صاحب منعقد ہورہا ہے۔ جس میں مجلس عمل کے وفد کی رپورٹ پیش کی جائے گی اور آئندہ کے لئے پروگرام اور طریق کار کا اعلان کیا جائے گا۔ اسمائے گرامی مقررین حضرات: (۱) ماسٹر تاج الدین انصاری، (۲) مولانا امین احسن اصلاحی، (۳) شیخ حسام الدین، (۴) صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ، (۵) مولانا غلام محمد ترنم، (۶) علامہ علاؤ الدین صدیقی، (۷) مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش، (۸) مولانا اختر علی خان، (۹) سید مظفر علی شمسی، (۱۰) مولانا عبد الحلیم قاسمی، ۲۳؍ اگست کی رات کو یہ عظیم جلسہ مولانا ابوالحسنات کی صدارت میں منعقد ہوا۔ بے پناہ حاضری تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا لاہور بلکہ پورا پنجاب امڈ کر آگیا ہے۔ اس جلسہ میں مجلس کے رہنماؤں نے تقریریں کیں۔ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ کراچی سے واپسی کے بعد رہنماؤں کے دلوں میں خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت کے خلاف گرہ بندھ چکی تھی۔ ان کے ارادے خوفناک ہوچکے تھے۔ لیکن عام شہرت حاصل کرنے والے سیاسی لیڈروں کی طرح ان میں شوخی اور چھچھورا پن پیدا نہیں ہوا تھا۔ حالانکہ اس وقت تحریک عروج پر تھی۔ لاکھوں کے اجتماع ہوتے تھے۔ ایسے حالات میں دماغی توازن پر قابو رکھنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن کیا کہنے ان بزرگوں کے ذرا گرمی سردی کا اظہار نہیں کیا۔ بڑی ٹھنڈی میٹھی اور متوازن تقریریں کیں۔ البتہ حقائق کو چھپایا نہیں صاف صاف باتیں بتادیں۔ لیکن ان میں مبالغہ آمیزی کا رنگ نہ تھا۔ نہ اشتعال انگیزی تھی اور نہ ہی مایوسی پیدا کرنے والی کوئی بات۔ یہی بزرگوں کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ ایسی تحریک جس کا تعلق مذہب کے نازک جذبات سے تھا اور جس تحریک میں لیڈر کی ذرا سی غلطی ملک اور ملت کی بربادی کا باعث بن سکتی تھی۔ یہ بزرگ بڑے محتاط اور ٹھنڈے دل و دماغ سے باتیں کرتے رہے۔ عوام کو صحیح صورتحال سے آگاہ بھی کرگئے۔ مشتعل بھی نہیں ہونے دیا۔ لیکن ان کی آتش شوق اور جذبہ قربانی کو ماند پڑنے بھی نہیں دیا گیا۔ جلسہ کی پوری کارروائی ملاحظہ فرمائیں۔

مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری

آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل کے زیر اہتمام باغ بیرون دہلی دروازہ میں ایک عظیم الشان اجتماع ہوا۔ صدارت کے فرائض مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری صاحب صدر مجلس عمل نے انجام دیئے۔ جلسہ گاہ میں ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید و جانثاران شمع رسالت جمع تھے۔ مولانا سید ابوالحسنات نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا: میں نے آپ کے سامنے آیت: ’ماکان محمد ابا

صفحہ ۱۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ تلاوت کی ۔ اس آیت پاک کی تلاوت اس لئے کی ہے کہ آج سے کچھ ماہ پیشتر اس خطہ ارضی میں ختم نبوت کا نام لینا جرم قرار دیا گیا تھا اور اس جرم کی پاداش میں کئی فرزندان توحید اور جانثاران شمع رسالت کو جیل کی کوٹھڑیوں میں بند کر دیا گیا۔ مولانا کا اشارہ ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین، صاحبزادہ فیض الحسن شاہ اور ان کے ہمراہ رضا کاروں کی گرفتاریوں کی طرف تھا۔ میں نے آج اس آیت کو پڑھ کر پھر اسی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ آپ حضرات ہمارے کراچی جانے اور واپس آنے کے حالات سننے کے لئے بے تاب ہیں۔ مسلمان فخر الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر جان قربان کرنا اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ اس معاملہ میں مولوی ہی پیش پیش نہیں بلکہ میرے نزدیک تو جنہیں پنجابی اصطلاح میں ماجے اور گامے کہا جاتا ہے وہ شاید محمد عربی کی عزت و ناموس کی خاطر سب سے زیادہ قربانی کر جائیں۔ اس معاملہ میں پڑھے لکھے آدمی کی طرح اگر مگر کی پالیسی ٹھیک نہیں۔ جب تاج و تخت ختم نبوت پر کوئی گستاخانہ حملہ ہو تو عشق و محبت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ؎

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

جب ناموس رسالت پر آنچ آتی ہو تو مسلمان کا فرض ہو جاتا ہے کہ گھر اور خاندان اولاد مال و جان سب کچھ نام مصطفیٰ ﷺ پر قربان کر دے۔ آپ نے فرمایا: اگر آج یہاں انگریز کی حکمرانی ہوتی تو اس سلسلہ میں ہمارا قدم جو اٹھتا وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا۔ مگر آج حکومت کے عہدیدار ہمارے اپنے ہیں۔ آج مسند اقتدار پر وہ لوگ براجمان ہیں جو گنبد خضریٰ کے مکین کے نام لیوا ہیں۔ وہ لوگ ہیں جو محمد عربی ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کے مقابلے میں ہمیں سوچ کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ ہم بے چین اضطراب اور ہیجان پھیلا کر ان کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہم یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک اسلامی ملک کے خارجہ معاملات ایک ایسے آدمی کے سپرد کر دیئے جائیں جو محمد عربی ﷺ کا باغی اور ملک وملت کا دشمن ہو اور جس کی وفاداریاں پاکستان کی بجائے ہندوستان سے وابستہ ہیں جو قادیان کی رسالت سے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر کے مسلمانان پاکستان سے غداری کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے ارباب اقتدار سوچیں ، سمجھیں اور خطرہ محسوس کریں۔ آپ نے فرمایا یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ مرزائیت کے خلاف تحریک صرف لاہور ، ملتان اور لائل پور (پنجاب) میں ہے۔ ارباب حکومت کان کھول کر سن لیں کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے اور ظفر اللہ خان کی علیحدگی کا مطالبہ پورے پاکستان کا مطالبہ ہے۔

آپ نے کراچی میں ہونے والی ملاقاتوں کا مفصل واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کراچی میں اوّل تو ہمیں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کرنے کے لئے کئی روز انتظار کرنا پڑا۔ خدا خدا کر کے بازیابی نصیب ہوئی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران مرزائیت کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کی گئی کہ مرزائی وزیر خارجہ نے خیر سے جونا گڑھ کے معاملہ میں وکالت کی تو اس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی؟ اور آج جونا گڑھ ایک انچ بھی ہم سے جدا نہیں ہے؟ حیدر آباد تو ہمارے لئے ظفر اللہ کی وزارت خارجہ کی بدولت ایسے ہو گیا ہے جیسے لاہور کے لئے ماڈل ٹاؤن جب چاہیں آئیں اور جائیں؟ چوہدری صاحب نے کشمیر تو ہمیں ایسا کر دیا کہ آج کشمیر کے ہمارے قبضہ سے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟ تو فضا سامعین کے قہقہوں سے گونج اٹھی۔ آپ نے فرمایا ہم نے وزیر اعظم سے کہہ دیا ہے کہ اب مسلمان زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکیں گے۔ پانچ سال انہی پریشانیوں میں گزر گئے۔ ہمیں یونہی ٹرخایا جا رہا ہے آپ نے فرمایا کہ ہم جب مرزائیوں اور مرزائی

صفحہ ۱۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کا ذکر کر رہے تھے تو خواجہ صاحب نہایت خاموشی کے ساتھ ہماری معروضات سنتے رہے اور بعد میں فرمایا کہ میں نے مفصل حالات سن لئے ہیں۔ میں کسی مناسب وقت میں اس کا جواب دوں گا۔

مولانا نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم نے کابینہ کے دوسرے وزراء سے ملاقاتیں کیں۔ ہم کراچی سے مطمئن ہو کر واپس آگئے ہیں۔ لیکن اس اطمینان کو حقیقتاً اسی صورت میں بتایا جاسکتا ہے۔ جب آپ حضرات مجلس عمل پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے اس کی ہدایات پر عمل کریں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ نے منظم ہو کر مجلس عمل کی ہدایات پر عمل کیا تو ہم اپنے مطالبات میں بہت جلد کامیاب ہو جائیں گے۔

مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش

مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش نے اس عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں تک وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے ملاقات اور کراچی میں ہماری کارکردگی کا تعلق ہے۔ صاحب صدر نے اس کی وضاحت کر دی جہاں تک مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا تعلق ہے۔ یہ مطالبہ جب وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ درست فرماتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ دستور سازی سے متعلق ہے اور مجلس دستور ساز ہی اس کا فیصلہ کرے گی۔ ہم نے ایک سوال کیا کہ اس سلسلہ میں آپ کی ذاتی روش کیا ہوگی۔ وزیر اعظم نے جواب دیا کہ میں پارٹی لیڈر کی حیثیت سے اس موقعہ پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جب یہ معاملہ دستور ساز اسمبلی میں جائے گا۔ اس وقت عرض کروں گا۔ مولانا میکش نے فرمایا کہ جب ہم نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ مرزائی پاکستان کی کلیدی آسامیوں پر قابض ہو کر اس کو لوٹ رہے ہیں اور مسلمانان پاکستان کا حق غصب کر رہے ہیں۔ اسی طرح حکومت نے ربوہ میں مرزائیوں کا اڈہ قائم کر دیا ہے اور وہاں مرزائیوں کو کوڑیوں کے مول قیمتی زمین دے دی گئی ہے۔ خواجہ صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ معاملہ صوبائی حکومت سے متعلق ہے۔ اسی معاملہ میں وہی کوئی قدم اٹھا سکتی ہے۔ مولانا نے فرمایا ہم نے جب سوال کیا کہ مرزائی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے ماتحت عملہ کو مرتد بنا رہا ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ حکومت پاکستان میں کوئی سیکرٹری یا انڈر سیکرٹری مرزائی نہیں ہے تو ہم نے وزیر اعظم کو مثال کے طور پر بتایا کہ وزارت خارجہ کا فلاں انڈر سیکرٹری جو پہلے مسلمان تھا اب وہ اپنی ترقی اور وزیر خارجہ کی خوشنودی کی خاطر اسلام سے نکل کر مرزائی بن گیا ہے۔ یہ بات سن کر وزیر اعظم نے حیرت و استعجاب کا اظہار کیا۔ مولانا نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ جہاں تک حکومت تک پیغام لے جانے کا تعلق تھا۔ وہ ہم نے پورا کر دیا ہے۔ اب عوام کا فرض ہے کہ وہ ان مرزائیوں کی فہرست مرتب کریں جنہوں نے مختلف چیزیں الاٹ کرا رکھی ہیں اور مہاجرین کے حقوق پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: کراچی سے واپسی کے بعد ہم نہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم پوری طرح کامیاب ہو کر آئے ہیں اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ناکام آئے ہیں۔

آپ نے ملاقاتوں کے ذکر میں یہ بھی فرمایا کہ ہم نے ایک وزیر سے ملاقات کی اور مرزائیت سے انہیں مطلع کرنا چاہا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے باپ نے مجھے مذہبی تعلیم سے بے بہرہ رکھا۔ مجھے اس مسئلہ سے کوئی واقفیت نہیں ہے۔ ہم اس کی یہ بات سن کر ہکے بکے رہ گئے۔ آپ نے فرمایا ہم اگر جد و جہد جاری رکھیں تو اپنے مقصد میں بہت جلد کامیاب ہو سکیں گے۔

ماسٹر تاج الدین انصاری

آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا۔ آپ شاید بھول گئے ہوں۔ لیکن مجھے اپنے الفاظ ابھی تک یاد ہیں۔ میں نے اس باغ میں ایک جلسہ میں (جو ہنگامہ کراچی پر احتجاجاً منعقد ہوا تھا) تقریر کرتے ہوئے کہا تھا اور میرے دل کی آواز تھی۔

صفحہ ۱۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جب مرزائیوں نے مسلمانوں کا ناطقہ بند کر دیا۔ مرزائیوں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو کر مسلمانوں کا دم گھٹنے لگا اور مرزائی وزیر خارجہ کفر و ارتداد پھیلانے کے لئے سرکاری لاؤ لشکر ساتھ لے کر کراچی کے ایک جلسہ عام میں آدھمکا۔ شمع رسالت کے پروانوں نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ محمد عربی ﷺ اور ملک کا باغی ہے۔ اسے مسلمانوں میں تقریر کرنے اور کفر و ارتداد پھیلانے کی اجازت کیوں دی گئی۔

جن مسلمانوں نے اس سلسلہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی تھی انہیں لاٹھیوں سے پیٹا گیا۔ ان پر اشک آور گیس پھینکی گئی۔ کراچی کے مسلمان بلبلا اٹھے۔ ان کی مظلومیت کا حال دیکھ کر ہمارے سینوں میں ایک آگ بھڑک اٹھی۔ ہم نے یہاں لاہور میں ایک اجلاس عام منعقد کر کے صدائے احتجاج بلند کی۔ میں نے اس اجتماع میں ایک بات کہی تھی کہ وزیر خارجہ پاکستان اس ملک کا باغی اس مملکت کا دشمن ہے، چور ہے، ڈاکو ہے۔ اگر یہ بات جھوٹی ہے تو حکومت مجھے سزا دے اور اگر میں سچا ہوں تو پھر مرزائی وزیر خارجہ کو لگام دی جائے۔

آپ نے فرمایا اب آپ لوگ ہی فیصلہ کریں کہ کس کی زبان بند کی گئی۔ (ماسٹر صاحب کا اشارہ اپنی گرفتاری کی طرف تھا) اب اگر سرکاری حکم کی موجودگی میں مرزائی وزیر خارجہ کسی کھلے اجلاس میں تقریر کرے گا تو ہم اسے قطعاً برداشت نہ کریں گے۔ (ماسٹر صاحب کا اشارہ اعلان اور حکم نامے کی طرف تھا جس میں افسروں پر اپنے فرقے کی تبلیغ وغیرہ کی پابندی عائد کی گئی تھی) اب دو ہی صورتیں ہیں یا سر ظفر اللہ خان وزارت خارجہ پر رہے گا اور یا یہ سرکاری حکم نامہ۔

ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ سرکاری حکم نامہ ہماری کامیابی کی پہلی منزل ہے۔ کیا یہ معجزہ نہیں کہ ہم پہلے جب ان وزراء کے پاس جایا کرتے تھے تو عمائدین حکومت ہمیں یہ کہہ کر ٹال دیتے تھے کہ ابھی مسئلہ کشمیر حل کرنا باقی ہے اور یہ وزیر خارجہ ہمارا کیس لڑ رہا ہے۔ مگر اب آکر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ وزیر خارجہ کی چھ چھ گھنٹے کی تقریروں سے کشمیر تو ہم سے دور ہوتا چلا گیا۔ جس قدر ظفر اللہ خان بولتا تھا۔ کشمیر ہم سے اتنا ہی دور ہو جاتا تھا۔

آپ نے فرمایا کہ ہم نے خواجہ ناظم الدین سے کہہ دیا ہے کہ مرزائی وزیر خارجہ آپ کی بغل میں میٹھی چھری ہے۔ یہ آپ کے ساتھ پھرتا ہے۔ لیکن یہ موقعہ پا کر آپ کو ضرور نقصان پہنچائے گا جو محمد ﷺ کا وفادار نہیں وہ آپ کا خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہم ہر وقت حکومت کو خبر دار کرتے رہے ہیں۔ لیکن ہماری معروضات پر توجہ نہیں دی گئی۔ آپ نے فرمایا کہ آج حکومت یہ آرڈیننس (سرکاری حکم نامہ کہ کوئی وزیر اور سرکاری افسر اپنے فرقہ کی تبلیغ نہ کرے) نافذ کر رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ سرکار مدینہ ﷺ کے طفیل ہوا ہے۔ آپ نے سرکاری کمیونک کا تذکرہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ حکومت کے اس پریس کمیونک نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپ بیدار رہے اور پرامن جدوجہد جاری رہی تو یقین کیجئے کہ خدا کے حبیب ﷺ کی آبرو بچ سکتی ہے۔ اب جو شخص اس میدان سے منہ موڑے گا وہ خدا اور اس کے رسول سے منہ موڑے گا۔ آپ نے پھر فرمایا یہ اتنی بڑی قوم کے لئے شرم کی بات ہے کہ وہ یہ سوچے کہ اب یہ کوئی وزارت خالی کرنا ہے یا نہیں اور اب مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانا ہے۔ یہ ایک طے شدہ بات ہے اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے گا اور ظفر اللہ وزارت پر متمکن نہ رہ سکے گا۔ اسے وزارت سے الگ ہونا پڑے گا۔

شیخ حسام الدین

محترم تاج الدین انصاری صدر مرکزیہ کی مؤثر تقریر کے بعد شیخ حسام الدین نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: مسئلہ کی اہمیت، معاملہ

صفحہ ۱۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی نزاکت اور کراچی کی کیفیت آپ لوگوں تک مختلف انداز میں تفصیل کے ساتھ پہنچ چکی ہے۔ ہم نے کراچی سے واپس آ کر مجلس عمل کا اجلاس منعقد کیا۔ بعد ازاں ملتان کا پروگرام مرتب کیا گیا۔ ملتان میں کچھ لوگ تو پہلے جام شہادت نوش کر چکے تھے اور ان کے بعد جن لوگوں نے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے شہادتیں دی تھیں۔ مقامی پولیس نے انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ ان کو غنڈہ ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے باشندگان ملتان میں خوف و ہراس پیدا کیا۔ تشدد کا پہلو موجودہ حالات میں ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی نازک اور ایسا خوفناک راستہ ہے کہ ادھر سے کبھی کسی کا گزر نہیں ہوا ہے۔ آج اگر ٹولیاں گروہ یا جماعتیں دشمن کو کمزور تصور کر لیں تو یہ سب سے پہلی کمزوری ہے۔ دشمن انگریز کی سیاست کا پلا ہوا مرغا ہے جسے انگریز کی منافقانہ سیاسی ضرورتوں نے جنم دیا ہے۔ انگریز کی شاطرانہ چالوں پر ناچنے والے مرزا غلام احمد کی ملعون سیاست نے جہاد بالسیف کو حرام قرار دیا۔

آپ نے فرمایا اس عیار دشمن کے مقابلہ کے لئے ہمیں جذبات سے کام لینے کی بجائے نہایت تدبیر سے کام لینا ہے۔ یہ جذبات کی جنگ نہیں یہ چومکھی لڑائی ہے۔ آپ نے فرمایا اب حکومت اپنا یہ اعلان کر کے ایک دلدل میں پھنس گئی ہے۔ اب اگر وہ اٹھے گی تو دلدل سے نکلنا ناممکن ہوگا۔ اب ایک صورت ہے کہ یہ لیٹ جائے۔ حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ قوم کے مطالبات تسلیم کرے۔ آپ نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ہماری حکومت بھی آج وہاں پہنچ گئی ہے۔ جہاں سے ہم چلے تھے حکومت کا موجودہ اعلان اس امر کی دلیل ہے کہ ہمارا آغاز سفر درست تھا۔ اب حکومت اپنے وعدہ کو پورا کرتی ہے یا نہیں۔ اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ حکومت کے اس اعلان کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزائیوں کی موجودہ صورتحال اور ظفر اللہ کے طرز عمل کو حکومت تشویشناک نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ اب ان میں سے کسی نے (وہ ظفر اللہ ہو یا کوئی اور) اگر ایسے جرم کا ارتکاب کیا اور بندوں میں کفر و ارتداد کی تبلیغ کی تو حکومت اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

آپ نے فرمایا، ہمیں قوی امید ہے کہ حکومت اپنے پریس کمیونک پر سختی سے عمل کرائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دے گی۔ آپ نے اپنی تقریر کے اختتام پر فرمایا۔ حکومت سے ہماری جو بات چیت ہوئی ہے اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ جو کچھ محسوس کر رہی ہے وہ اسے سمجھنے سے گریز کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا، ہمیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ آج قوم میں عجیب قسم کا اشتعال پایا جاتا ہے۔ وہ حکومت کے موجودہ طرز عمل سے مطمئن نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں اگر آپ کا کام لڑائی جھگڑے اور قربانی کے بغیر انجام پا جائے تو پھر کسی قربانی کی ضرورت کیا ہے۔ آپ نہایت صبر و تحمل کے ساتھ اپنا پرامن مطالبہ جاری رکھیں۔ ایک وقت آئے گا کہ حکومت ہمارے تمام مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کرے گی۔ آپ کی تقریر کے بعد حضرت مولانا اختر علی صاحب کا ایک مفصل پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ بعد ازاں اجلاس دعائے خیر پر اختتام پذیر ہوا۔

نازک مسئلہ

مجلس عمل ختم نبوت کو مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں میں سب سے زیادہ تشویش اور پریشانی اس بارہ میں تھی کہ یہ بیماری فوجوں میں نہ پھیل جائے۔ مگر یہ ایسا نازک مسئلہ تھا جسے چھیڑنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ قارئین کرام کو معلوم ہے کہ جب ہم نے مرزائی فوجی افسروں کی وہ فہرست جسے خود مرزائیوں نے ایک خوبصورت ٹریکٹ کی صورت میں شائع کر کے حکومت کو مرعوب کرنا چاہا تھا۔ روزنامہ ”آزاد“ میں شائع کی تھی تو گورنر پنجاب کو مرکزی حکومت نے مجبور کر دیا تھا کہ وہ آزاد اخبار کے ایڈیٹر کو بلا کر متنبہ کریں۔ مجلس عمل اس بارہ میں احتیاط

صفحہ ۱۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے کام لے رہی تھی۔ تاہم اس طرف سے آنکھیں موند لینا کسی صورت میں مناسب نہ تھا۔ سر ظفر اللہ خان کے ہم زلف میجر جنرل نذیر پاکستانی فوج میں چوتھے ستون کی حیثیت سے موجود تھے۔ خلیفہ محمود کو بہت ممکن ہے یہ وہم بھی ہو کہ موقعہ پا کر ایک روز میجر جنرل نذیر پاکستان کے کمانڈر انچیف ہی بن جائیں۔ خدانخواستہ ان کی یہ آرزو پوری ہو جاتی تو پاکستان کی قسمت پھوٹ جاتی مگر......

تدبیر کند بندہ و تقدیر زند خندہ

اچانک ایک صبح معلوم ہوا کہ کچھ فوجی افسر خوفناک سازش میں ملوث ہو کر پکڑے گئے ہیں۔ یہ وحشت ناک خبر پاکستان کے کونے کونے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاہور میں یہ کیفیت تھی کہ گلی کوچوں اور چوک چوک پر لوگوں کے جھمگٹے لگ گئے۔ واقعہ بہت اہم تھا۔ دوسرے دن لوگوں نے معلوم کرنا چاہا۔ اس سازش میں کون کون پکڑا گیا؟ جب یہ معلوم ہوا کہ میجر جنرل نذیر اس سازش میں شامل ہیں تو ہمارے حواس پراں ہو گئے اور ہر پاکستانی نے محسوس کیا کہ سازش کامیاب ہو جاتی تو کیا ہوتا؟

”آزاد“ میں اس سازش کے بارے میں مسلسل آرٹیکل لکھے گئے۔ ہم نے میجر جنرل نذیر کی شمولیت پر لکھا کہ مرزائیوں کی تنظیم کے ہم قائل ہیں۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ کوئی ذمہ دار مرزائی خلیفہ محمود سے مشورہ کئے اور پوچھے بغیر شادی بھی نہیں کرتا۔ اس نیک کام کے لئے اجازت لینا پڑتی ہے۔ بھلا ملکی نظام کے خلاف خوفناک سازش میں میجر صاحب از خود چپکے سے کیسے شامل ہو گئے؟ یہ عجیب بات ہے کہ خلیفہ محمود کو معلوم نہ سر ظفر اللہ خان کو خبر اور سر موصوف کے ہم زلف پاکستان کا تختہ الٹنے میں شامل ہو گئے۔ بہر حال وہ پکڑے گئے اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ واقعی سازش میں شریک تھے۔ عدالتی تحقیقات کے بعد انہیں تابرخاست عدالت بٹھا کر حکم ہوا کہ اب فوجی چھاؤنی کی بجائے ٹھنڈے ٹھنڈے گھر تشریف لے جائیں۔ یعنی انہیں فوج سے علیحدہ کر دیا گیا۔ ہمیں جو کھٹک تھی وہ درست ثابت ہوئی کہ ان مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں پر بٹھانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ مرزائی فوجی کپتان کا قصہ آپ سن چکے ہیں کہ وہ سرکاری اسلحہ چرا کر لئے جارہے تھے کہ اٹک کے پل پر پکڑا گیا اور سرحدی علاقے میں ایک فوجی کپتان کی خودکشی کا واقعہ جو اخبار میں شائع ہوا۔ اس سے بھی آپ باخبر ہیں۔ ان حالات میں مجلس عمل کس طرح مطمئن ہو کر بیٹھ جاتی۔ مجلس عمل نے دن رات ایک کر کے پاکستان کے عوام اور حکومت دونوں کو خبردار کیا اور اس حد تک مرزائیت کے خلاف صحیح پراپیگنڈا کیا کہ مرزائیت کے ناسور پر جو خوبصورت پٹیاں بندھی ہوئی تھیں وہ ایک ایک کر کے اتار ڈالیں۔ مسلمانوں نے مرزائیت کو جب اصل روپ میں دیکھا تو وہ چلا اٹھے۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب مسلمانوں کے ہر مکتب خیال کے لوگوں نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اسلام کے بنیادی مسئلے کے لئے یکجہتی کا مکمل ثبوت دیا۔

مرزائیوں کا پراپیگنڈا

راولپنڈی میں کسی جھگڑے کی بناء پر ایک مرزائی مارا گیا۔ ایک مسلمان پکڑا گیا۔ مرزائیوں کے ڈھنڈورچی الفضل نے زمین، آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ بے انتہاء پراپیگنڈا کیا کہ یہ مسلمان احراری ہے۔ احرار نے آدمی مروا دیا۔ مرنے والا نہ تو کوئی مقرر تھا اور نہ مبلغ۔ بہت ہی بے ضرر سا آدمی تھا۔ مارنے والا بھی نہیں جانتا تھا کہ احرار کہاں بستے ہیں۔ مگر مرزائیوں نے جھوٹا پراپیگنڈا اس زور سے کیا کہ توبہ بھلی۔

دوسرا واقعہ

اوکاڑہ کے قریب ایک گاؤں کے مرزائی سکول ماسٹر کو کسی نوجوان نے قتل کر ڈالا۔ روزانہ قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ ایک ایک

صفحہ 155

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۱۵۵ تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

دن میں کئی کئی قتل ہوتے ہیں۔ اسی دنیا میں مرزائی بھی رہتا ہے۔ مگر کسی مرزائی کو کوئی مار دے یا مرزائی کو مرزائی ہی مار ڈالے۔ خلیفہ محمود کا ڈھنڈورچی الفضل احرار کے خلاف پراپیگنڈے کا تہیہ کر کے بیٹھا رہتا ہے۔ (کوئی مرزائی خربوزے کے چھلکے پر سے پھسل جائے۔ الفضل کو شور مچانا ہے کہ احراریوں نے دھکا دے کر ٹانگ توڑ دی) چونکہ اس پراپیگنڈے کی کوئی اصلیت نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ چنانچہ تفتیش اور تحقیق کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ جو مرزائی ابھی قتل ہوا ہے اسے مارنے والا کوئی احراری نہ تھا۔

جب مجلس عمل میدان میں آ گئی تو احرار کا سوال جاتا رہا۔ مجلس عمل میں احرار کی حیثیت ۱-۹ سے زیادہ نہ تھی۔ احرار پر مرزائیوں کو براہ راست حملہ کرنے کی گنجائش باقی نہ رہی اور رد مرزائیت کے بارے میں جو قدم اٹھایا جاتا اسے مجلس عمل ذمہ دارانہ حیثیت میں خود اٹھاتی۔

وزیر اعلیٰ سے پہلی ملاقات

مجلس عمل نے مناسب سمجھا کہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ سے ملاقات کر کے انہیں بتائے کہ مطالبات کیا ہیں۔ ان مطالبات کی اہمیت کیا ہے؟ اور مجلس عمل کا طریق کار کیا ہوگا؟ چنانچہ میاں صاحب سے ملاقات کا وقت مقرر ہوا اور ان کی کوٹھی پر مجلس عمل کے وفد نے مولانا ابوالحسنات کی قیادت میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مطالبات کی شائع شدہ فہرست پیش کرتے ہوئے مطالبات کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ اس گفتگو کا ماحصل یہ تھا کہ ہمارے مطالبات اسلام کے بنیادی مسئلے سے متعلق ہیں۔ ان کا موجودہ سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مطالبات میں تنسیخ و ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرارداد مقاصد کی موجودگی میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان مطالبات کو تسلیم کر لے۔ ہماری تحریک نہایت پرامن ہے۔ ہمارا مقصد امن عامہ میں خلل اندازی ہرگز نہیں ہے۔ میاں صاحب نے وفد کی باتیں بہت غور سے سنیں اور آخر میں یہ فرمایا کہ میری ذمہ داری یہ ہے کہ امن کو بحال رکھوں۔ اس فرض کی ادائیگی مجھ پر لازم ہے۔ میں کسی صورت بدامنی نہیں ہونے دوں گا۔ بحیثیت مسلمان ان مطالبات سے مجھے ہمدردی ہے۔

میرا وعدہ

ماسٹر تاج الدین فرماتے ہیں: جونہی میاں صاحب (ممتاز دولتانہ) نے مجھے وفد کے ہمراہ جیل سے باہر آنے کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا وہ میری طرف بڑھے میں نے اندازہ لگایا وہ اس سلوک سے جو میرے ساتھ جیل میں روا رکھا گیا تھا۔ ندامت محسوس کر رہے تھے۔ چنانچہ مجھ سے مصافحہ کرتے ہی فرمانے لگے میں مجبور تھا۔ آپ کو بہت زحمت اٹھانا پڑی۔ میں نے گزرے واقعات کا تذکرہ ختم کرنے کے لئے ان سے کہا کہ میاں صاحب! چھوڑیئے اس قصہ کو، وقت گزر گیا۔ مجھے کوئی شکوہ نہیں۔ میری گزارش سنئے جو ہو چکا اسے دہرانے کی ضرورت نہیں اور جو ہونا ہے وہ ہوتا رہے گا۔ ایک نیک کام تو کیجئے؟ میاں صاحب نے فرمایا کہئے کیا بات ہے؟ میں نے ان سے عرض کیا کہ جیل سے رہائی کے وقت میں نے ایک بوڑھے عمر قیدی سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میری میاں صاحب سے ملاقات ہوگی۔ میں تمہاری رہائی کی سفارش ضرور کروں گا۔ پہلے تمہاری رہائی کا بندوبست کروں گا۔ پھر اور بات ہوگی۔ میں وعدہ کا پکا ہوں اس لئے آپ سے استدعا ہے کہ محمد رمضان نامی ایک مظلوم بوڑھا عمر قیدی چودہ سالہ میعاد کبھی کی پوری کر چکا۔ اس کا کوئی سفارشی نہیں جو اسے رہا کراتا۔ جیل والوں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ایک بے ضرر قیدی کو رہا کریں۔ میاں صاحب میں کچھ خرابیاں بھی ہوں گی۔ مگر بعض اوصاف ایسے ہیں جنہیں سراہنا لازم ہے۔

اسی وقت میاں صاحب نے سیکرٹری کو بلایا اور رہائی کا حکم لکھوا دیا۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے محمد رمضان کی رہائی

صفحہ ۱۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے حکم سے بے حد مسرت ہوئی۔ وفد کے ارکان میں سے حضرت مولانا ابوالحسنات ، مولانا محمد داؤد صاحب غزنوی اور مولانا بخش نے گفتگو اور تبادلہ خیال میں زیادہ حصہ لیا۔ مجلس عمل کے مطالبات وزیر اعلیٰ کے پاس پہنچ گئے تاکہ وہ مرکز کو ان مطالبات سے مطلع کر سکیں اور ہم سب میاں دولتانہ کے ہاں سے رخصت ہو کر واپس آ گئے۔

حکومت کی جانبدارانہ سخت گیری

۱۹۵۱ء کے وسط میں حکومت پنجاب نے جانبداری سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کو دبانا اور مرزائیوں کی حرکات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ حکومت کی گرفت سخت ہوتی گئی۔ ہمیں امید نہ تھی کہ میاں دولتانہ کی حکومت مغلوب الغضب ہو کر ہمارا پیچھا مساجد کے اندر تک کرے گی۔ مگر انتظامیہ کی مشین تحریک تحفظ ختم نبوت کے خلاف بہت تیزی سے گھومنے لگی۔ جہاں جو مرزائی افسروں کا بس چلا وہ وابستگان تحریک کو کچل دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ بالآخر جب پکڑ دھکڑ کی سختی سے الٹا اثر ہوا اور تحریک زیادہ تیز ہوگئی تو حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اپنا رویہ بدلتی مسلمانوں کے خلاف یک طرفہ کارروائی جاری رکھنے کی بجائے اسے مرزائیوں سے پوچھ گچھ کرنا چاہئے تھی۔ انہی دنوں جب حکومت نے سختی شروع کی تو مرزائیوں نے مسلمانوں کی دل آزاری میں ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ الفضل نے ان دنوں سخت نیش زنی سے کام لینا شروع کیا۔ مسلمانوں کو ہر ممکن طریقے سے مشتعل کرنے کا سامان پیدا کیا۔ مگر حکومت نے مرزائیوں کی جانب سے آنکھیں بالکل موند لیں تا آنکہ ملتان کا واقعہ ظہور پذیر ہوا۔

ہم ابھی سرگودھا جیل میں تھے کہ ایک روز آنے جانے والے قیدیوں نے یہ وحشت اثر خبر سنائی کہ ملتان میں گولی چل گئی اور بے شمار آدمی شہید ہو گئے۔ ہنگاموں، جلسوں، جلوسوں اور گولی چلنے کی خبروں میں غلط فہمی اور پراپیگنڈا بہت زیادہ ہوتا ہے۔ جس شہر میں واقعہ گزرا ہو اس شہر والے حقیقت حال سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ افواہیں پھیلتی ہیں اور ان افواہوں کو صحیح سمجھا جاتا ہے۔ افواہ پھیلانے والے سے کوئی نہیں پوچھتا کہ میاں تم کو کیسے معلوم ہوا کہ پچاسوں آدمی مارے گئے۔ جس کسی نے جو کہا اسی پر فوراً یقین کر لیا جاتا ہے۔ راوی کا معتبر ہونا ضروری نہیں خیال کیا جاتا۔

چنانچہ ملتان کے بارے میں بھی کہا گیا کہ پچاسوں مسلمان شہید ہو گئے۔ اوّل تو یہ خبریں ہم تک باہر سے آنے والے قیدیوں کی معرفت موصول ہوئیں۔ ہم ان خبروں پر نہ تو زیادہ اعتبار کر سکتے تھے اور نہ ان خبروں کو جھٹلا سکتے تھے۔ بہر حال اس اندوہناک حادثے کی اطلاع سے ہمیں بڑا دکھ ہوا۔ جیل میں بند تھے۔ ملتان کیسے پہنچتے کیا کرتے اور کیا نہ کرتے۔ بل کھا کر رہے گئے۔ ہم نے اندازہ لگا لیا کہ مسلمانوں کا برسر اقتدار طبقہ یا تو حکومت کی مشینری پر قابض نہیں۔ وہاں مرزائیوں کا قبضہ ہے یا یہ کہ وہ خود بھی مرزائیوں سے مرعوب ہو کر سر ظفر اللہ خان کی خوشنودی حاصل کر رہا ہے۔ بہر حال اندر بیٹھے کیا معلوم کہ ہمارے عزیز بھائیوں پر ملتان میں کیا گزری۔ باہر آئے تو معلوم ہوا کہ چھ مسلمان شہید ہوگئے اور اس خونی حادثے پر مسلمانان پاکستان نے خون کے آنسو بہائے۔

۲۳؍ اگست لاہور کے جلسہ عام کے بعد

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: ۲۳؍ اگست ۱۹۵۳ء کو دہلی دروازہ کے باہر مجلس عمل کا جو جلسہ ہوا تھا اس کی روئیداد ہم لکھ چکے ہیں۔ اس جلسہ کے بعد سرحد، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مجلس عمل کے زیر اہتمام جلسے کانفرنسیں ہونا شروع ہوگئیں۔ تمام بڑے بڑے شہروں میں لاہور کی مجلس عمل کی بنیاد پر مجالس عمل بھی قائم کر دی گئیں۔ مختلف مذہبی فرقوں کے اتحاد کے روح پرور اور ایمان افروز نظاروں نے

صفحہ ۱۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پورے ملک کے مسلمانوں کو اطمینان اور سکون بخشا۔

مطابق ۱۳؍جولائی ۱۹۵۲ء سے ۶؍مارچ ۱۹۵۳ء تک صرف صوبہ پنجاب کی حدود میں ۳۹۰ کانفرنسیں اور جلسے ہوئے۔ صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ اس کے علاوہ تھا۔ اس سے آپ تحریک کی تیاری اور عوام حکومت کا دماغ درست کرنے کے لئے جو ترتیب دی جارہی تھی اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف اس قسم کی فضا تیار ہوگئی کہ عوام جلسوں میں جمعہ کے خطبوں میں سوائے مسئلہ ختم نبوت کی تائید اور مرزائیت کی تردید کے اور کچھ سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔

جہاز میں ۱۸ مسافر سوار تھے جو سب کے سب سرکاری افسر تھے۔ کوئی شہری مسافر شامل نہ تھا، ہلاک ہو گئے۔ نوابزادہ اعتزاز الدین آئی. جی سپیشل پولیس اور ہلاک ہونے والے فوجی افسروں کا عوام کو بے پناہ صدمہ ہوا۔ اس سے پہلے ۱۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کو جنگ شاہی میں ہوائی جہاز کا حادثہ پیش آچکا تھا۔ جس میں میجر جنرل افتخار، بریگیڈئر شیر خان اور مصر، الجیریا اور مراکش کے نمائندے بھی اسی جہاز میں ہلاک ہوگئے تھے۔ عوام ان دونوں حادثوں کو قادیانیوں کی تخریب کار سرگرمیوں سے منسوب کر رہے تھے۔ پہلے ہی فضا بہت گرم تھی۔ اس حادثے کے بعد عوام کا غیض و غضب اور زیادہ ہو گیا۔ پڑھے لکھے لوگ بھی کھلے بندوں ان حادثوں کا ذمہ دار سرکاری مشینری میں گھسے ہوئے مرزائیوں کو بتارہے تھے۔

چنانچہ لاہور کے ایک مشہور شاعر جناب شریف جالندھری کی نظم تازہ ہوائی حادثہ ملاحظہ فرمائیے۔ اس نظم سے ہمارے خیالات کی تائید ہوتی ہے۔

ہوائی حادثہ

وطن کی آبرو دست قضا میں آ گئی کیوں کر گھٹا نالہ وشوں کی وطن پر چھا گئی کیوں کر
سرشک خوں ہمیں بار دیگر رلا گئی کیوں کر ستم تازہ دلوں پر موت آ کر ڈھا گئی کیوں کر
وطن کا ذرہ ذرہ محو استفسار ہے اب تک وفور غم میں ہر فرد جواں خونبار ہے اب تک
ابھی باقی تھا غم ارض وطن کے نوجوانوں کا ابھی عنوان قائم تھا سسکتی داستانوں کا
ابھی نقشہ تھا قائم کچھ شکستہ آشیانوں کا غبار منزل رفتہ تھا باقی کاروانوں کا
دفعتاً برق غم کڑکی فضائیں تھرتھرا اٹھیں جھپٹ کر موت یوں آئی ہوائیں تھرتھرا اٹھیں
ابھی تک شیر خان کی موت پر آنسو بہاتے ہیں ابھی تک افتخار قوم کی باتیں سناتے ہیں
وطن پر غازیوں کے اب بھی احسان یاد آتے ہیں انہی کے نام پر ہم قوم کو اب بھی جگاتے ہیں
ہوائی حادث مرگ لیاقت کس طرح بھولے جوانان وطن کی یہ شہادت کس طرح بھولے

مالی نظام

ایک اہم ترین مسئلہ تحریک کے لئے اخراجات کا تھا۔ اس سے قبل اب تک ملک میں جو کام ہوا تھا اس کے لئے بنیادی طور پر

صفحہ ۱۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اخراجات کا بڑا حصہ مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرار اسلام برداشت کرتی تھی جو کام ہو رہا تھا وہ دراصل ایک اہم ترین دینی مسئلہ کی تبلیغ تھی اور مذکورہ جماعتیں خصوصاً مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام فنڈز خالصتاً تبلیغی مد کے تھے۔ لیکن مجلس عمل کے سرگرم ہونے کے بعد ملک گیر تحریک بپا ہونے کے بعد ظاہر ہے کہ مذکورہ فنڈز متحمل نہ تھے۔ اس لئے مجلس عمل نے اپنا علیحدہ فنڈ قائم کیا۔ پنجاب مجلس عمل کے خزانچی مولانا اختر علی خان ایڈیٹر زمیندار تھے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک بھر پور اپیل شائع کی اور روپیہ کی فراہمی کی سہولت کے لئے ایک روپیہ اور پانچ روپیہ کی نوٹ نما رسیدیں شائع کی گئیں۔ ان رسیدوں کو پہلی نظر دیکھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا تھا کہ مجلس عمل تحریک تحفظ ختم نبوت نے اپنے نئے نوٹ جاری کر دئیے ہیں۔ لیکن دراصل وہ نوٹ نہ تھے، نوٹ نما رسیدیں تھیں۔ چنانچہ اس طریقہ سے ایک بہت بڑا فنڈ مجلس عمل کے پاس جمع ہو گیا۔

مولانا اختر علی خان کی اپیل

حضرات! آل مسلم پارٹیز کنونشن نے استیصال مرزائیت کی جس مقدس مہم کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ کسی فوری اور ہنگامی مصلحت کی پیداوار نہیں بلکہ تحفظ ناموس رسالت کے لئے ایک اجتماعی تحریک ہے جس کو سب سے پہلے زمیندار نے ۱۹۰۷ء میں شروع کیا تھا۔ مجھے مسرت ہے کہ جس فتنہ کی جانب آج سے ۴۵ برس پہلے مولانا ظفر علی خان نے ملت اسلامیہ کو توجہ دلائی تھی اس کی دسیسہ کاریوں کے تمام پردے اب چاک ہو چکے ہیں اور فرزندان توحید کے تمام فرقے آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انگریز کے اس خود کاشتہ پودے کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک زبان ہو چکے ہیں۔ جس کے منحوس سایوں نے مسلمانوں کے جوش جہاد کی چنگاریوں کو سرد کرنا چاہا۔

لیکن غالب کے الفاظ میں مجھے یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ؎

ہر چند سبکدوش ہوئے بت شکنی سے ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگ گراں اور

فتنہ مرزائیت کے استیصال کا کام اتنا وسیع ہے کہ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ابھی مسلمانوں کو بہت زیادہ صبر و استقلال اور ایثار و قربانی کا ثبوت دینا پڑے گا۔

اس میں شک نہیں کہ جہاں تک اخلاقی فتح کا تعلق ہے۔ وہ مکمل ہو چکی ہے اور تحریک تحفظ ختم نبوت کی ایک ہی ضرب نے قادیانیوں کے اخلاقی قوام (MORALE) کا شیرازہ پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ چنانچہ خلیفہ قادیان نے اعلان کیا ہے کہ اگر قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا گیا تو وہ نہ صرف احمدی کہلانا چھوڑ دیں گے بلکہ صدر انجمن احمدیہ کا نام بھی بدل دیا جائے گا۔ لیکن ظاہر ہے کہ مسلمان محض اخلاقی شکست پر مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ان کا اپنی قومی حکومت سے مطالبہ یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ سر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کی گدی سے الگ کر دیا جائے اور کسی مرزائی کو کلیدی آسامی پر قابض ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

حضرات! ان قومی مطالبات کی تکمیل کے لئے آل مسلم پارٹیز کنونشن نے جو عظیم الشان پروگرام مرتب کیا ہے اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کم از کم ایک کروڑ روپے کی ضرورت ہے جو پاکستان کے آٹھ کروڑ فرزندان توحید کے لئے چند ماہ کے اندر اندر مہیا کر دینا مشکل نہیں ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں پاکستان کے مسلمانوں نے قومی تحریکوں کی مالی تقویت کے لئے آج تک بخل سے کام نہیں لیا اور استیصال مرزائیت کی تحریک تو ایسی ہے کہ اسے مضبوط و مستحکم بنانا دین و دنیا دونوں میں سرفراز ہونا ہے۔ حضرات! آپ لوگوں نے قومی تحریکوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لیکن اس وقت ملت اسلامیہ کو حضور آقائے دو جہاں سرور کائنات نبی کریم ﷺ کی عزت

صفحہ ۱۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

و ناموس کے تحفظ کا سوال درپیش ہے۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہیں ہوگا جو حضرت خاتم النبیین ﷺ کے تاج وتخت کو مسیلمہ، اسود عنسی کی معنوی اولاد کی یورش سے محفوظ رکھنے کے لئے آگے نہیں بڑھے گا اور تحریک تحفظ ختم نبوت کو مضبوط بنا کر یہ ثابت نہیں کر دے گا کہ وہ اپنے آقا ومولا کی عزت و ناموس کی خاطر مال ومنال تو کیا چیز ہے سر دھڑ کی بازی بھی لگانے کو تیار ہے۔

لہٰذا اسلامیان پاکستان سے میری اپیل ہے کہ وہ اپنا روپیہ تحفظ ختم نبوت کی مد میں براہ راست پنجاب کواپریٹو بینک لاہور میں جمع کرائیں اور اس کی اطلاع مجھے بھی دے دیں۔ میں نے اپنی طرف سے پانچ سو روپے کی حقیر رقم اس فنڈ میں جمع کر کے اس کام کی ابتداء کر دی ہے۔ اب سے پایۂ تکمیل تک پہنچانا آپ کا کام ہے۔ در کار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست!

ممبران کی طرف سے متعدد قراردادیں مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں موصول ہوئی تھیں۔ راولپنڈی کے مشہور مسلم لیگی رہنماء سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی نے مسئلہ ختم نبوت کی تائید و حمایت میں قرارداد پیش کی۔ جو ۸ ووٹوں کی مخالفت اور ۲۸۴ ووٹوں کی حمایت سے منظور ہوئی۔

لیگ پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ ایک تقریر کی اور اس میں مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیوں کے متعلق کہا کہ ختم نبوت کے مسئلہ میں میرا وہی عقیدہ ہے جو ایک مسلمان کا ہونا چاہئے۔ میرے نزدیک وہ تمام لوگ خارج از اسلام ہیں جو رسول کریم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ میں اس سے بھی آگے بڑھ کے کہتا ہوں کہ عقیدہ ختم نبوت پر کوئی بحث اٹھانا خود کفر کے مترادف ہے۔ کیونکہ بحث کی گنجائش صرف اس مسئلے میں ممکن ہے جس میں کسی قسم کا شبہ وارد ہوتا ہو۔ یہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ اس لئے ہر بحث اور ہر منطق سے بالا تر ہے۔ مرزائیوں کے خلاف جو نفرت پیدا کی گئی اس کی ذمہ داری خود انہی پر ہے۔ کیونکہ ان کے رجحانات علیحدگی پسندانہ ہیں۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں ہم سے علیحدہ ہیں اور انہوں نے اپنی ذاتی سیاسی اور مجلسی سرگرمیوں کو صرف اپنی جماعت تک محدود کر رکھا ہے۔ قادیانی افسر اپنی جماعت کے آدمیوں کی طرف داری کے مجرم ہیں۔ کیونکہ انہوں نے بہت سی الاٹمنٹیں محض اسی بنیاد پر کی ہیں کہ الاٹی مرزائی تھا۔ گویا انہوں نے اپنی سرکاری حیثیت کا ناجائز استعمال کیا۔

دولتانہ صاحب نے مسئلہ ختم نبوت کی محض تائید ہی نہیں کی بلکہ جذبات پر قابو پانے کے بعد کچھ مخالفانہ باتیں بھی کیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ دوستو! یہ بتانے کی گنجائش نہیں ہے کہ دنیا میں تھوڑی تعداد کی قومیں بڑی تعداد کی قوموں سے محض اس بناء پر جدا ہوا کرتی ہیں کہ وہ ان سے ان کی بڑائی کی وجہ سے مرعوب ہوا کرتی ہیں۔ کیا باہر کی قومیں ہماری اس خواہش کو تو نہ لے اڑیں گی کہ یہ مسلمان بھی عجیب و غریب قوم ہے کہ ہر فرقے سے خائف رہتی ہے۔ جیسا کہ ہندوستان میں ہم نے کم تعداد میں ہونے کی وجہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اقلیت قرار دے دیا جائے اور آج اکثریت میں ہو کر ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے۔ میں پھر آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے سے آپ کی عظیم الشان قوم کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ یوں تو آپ ان لوگوں کو بڑی بڑی کلیدی ملازمتوں سے ہٹانے کا نعرہ لگا رہے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ اسمبلیوں میں نہ جائیں اور صورت بھی یہی ہے کہ ان کا اسمبلیوں میں پہنچنا مشکل ہے۔ مگر کیا یہ درست نہیں کہ آپ نے انہیں اقلیت بنا دیا تو ان کے وہ حقوق محفوظ ہو جائیں گے جو آپ انہیں نہیں دینا چاہتے۔ ایک اور بڑا سوال یہ درپیش ہے جس کے متعلق میں اکثر پوچھتا رہتا ہوں اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر احمدیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ تو مسلمان

صفحہ ۱۶۰

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں تو آپ انہیں کیونکر کافر کہہ سکیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے علاوہ اور کئی باتیں اور اندیشے ایسے ہیں جن کی موجودگی میں جلد بازی سے کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

(روز نامہ زمیندار مورخہ ۲؍ستمبر ۱۹۵۲ء)

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے علاوہ دوسرا بڑا مطالبہ چوہدری ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ سے علیحدگی کا مطالبہ تھا۔ اس مطالبے کے لئے عوامی دباؤ جاری تھا۔ لیکن چوہدری ظفر اللہ خان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے مولانا محمد علی جالندھری نے ان سے براہ راست مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اخبار آزاد میں چوکٹھے کی شکل میں شائع ہوتا رہا۔ یہ مطالبہ درج ذیل تھا۔

’’جناب چوہدری ظفر اللہ خان جو مرکزی کابینہ میں پنجاب کے نمائندہ ہیں پنجاب کے ایک نمائندہ اجتماع، جس میں تمام مذہبی ادارے، علمائے کرام، صوفیائے عظام، زعمائے ملت، ممبران اسمبلی اور کونسلران مسلم لیگ نے بالاتفاق رائے چوہدری صاحب کی علیحدگی کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

اور مجلس عمل میں شامل مختلف فرقوں کے علمائے کرام تو اپنے اپنے فرقوں کے جلسوں اور مجلس عمل کے مشترکہ اجتماعات میں ختم نبوت کی تائید و حمایت کر ہی رہے تھے۔ بیرونی ممالک میں بھی مسئلہ ختم نبوت کی صدائے بازگشت سنائی دینے لگی۔ چنانچہ ان ہی دنوں چین سے ۱۵ علمائے کرام کا ایک وفد پاکستان آیا۔ میاں افتخار الدین مرحوم نے انہیں دعوت عصرانہ دی۔ اس محفل اور اجتماع کی کارروائی بھی ملاحظہ فرمائیے۔

’’چین میں کسی جھوٹے نبی کو ماننے والا ایک فرد بھی موجود نہیں۔ تمام مسلمان حضرت محمد ﷺ کی ختم المرسلینی پر ایمان رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ چین کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص ایسا جھوٹ بھی بول سکتا ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے بعد نبی ہے۔‘‘

یہ ہیں وہ ارشادات جو چینی مسلمانوں کے وفد کے ایک ممتاز رکن مولانا طہ نے چائے کی ایک دعوت کے موقعہ پر فرمائے۔ یہ دعوت آزاد پاکستان پارٹی کے سربراہ میاں افتخار الدین مرحوم نے الحاج محمد عطاء اور دوسرے چینی مسلمانوں کے اعزاز میں دی۔ اس دعوت میں مقامی علماء، ماہرین تعلیم، سیاسی کارکنوں اور اخباری نمائندوں نے شرکت کی۔

(از: روزنامہ آزاد مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۵۲ء)

ستمبر کے آخری ہفتہ میں پھر یہ افواہ گرم ہوئی کہ حکومت چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کے بعد مرکز میں ہی وزیر صنعت و حرفت بنا رہی ہے۔ یہ بات بھی مسلمانوں کو قبول نہ تھی۔ چنانچہ اس پر ملک بھر میں احتجاج اور اظہار ناراضگی شروع ہو گیا۔

اسلامیان لاہور کا ایک اجتماع جامع مسجد نیلا گنبد میں زیر صدارت حضرت مفتی محمد حسن مرحوم منعقد ہوا اور اس میں درج ذیل قرارداد منظور کی گئی۔ ’’جامع مسجد نیلا گنبد لاہور کا یہ عظیم الشان اجتماع ’’آل مسلم پارٹیز کنونشن‘‘ کی مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق اس اندوہناک خبر پر سخت اضطراب اور پریشانی کا اظہار کرتا ہے کہ حکومت پاکستان اس سوال پر غور کر رہی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ کے عہدہ سے

صفحہ ۱۶۱

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الگ کر کے کابینہ کے اندر یا باہر نئی اہم ترین آسامی پر فائز کر دیا جائے۔ یہ کارروائی مسلمانان پاکستان کے متفقہ مطالبہ کی صریح توہین ہو گی۔ لہٰذا یہ اجتماع عظیم یہ امر واضح کر دینا اپنا فرض خیال کرتا ہے کہ چوہدری ظفراللہ خاں کی برطرفی کے متفقہ مطالبہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر حکومت نے چوہدری صاحب کو کابینہ کے اندر یا باہر کسی عہدہ پر فائز کیا تو اس سے ملک میں زبردست احتجاج اور اضطراب و بے چینی پیدا ہوگی اور ایسے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد ہو گی۔‘‘

(روزنامہ آزاد مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۵۲ء)

اس کے علاوہ مجلس عمل نے ملک بھر میں ایک سرکلر جاری کر دیا اور ۳؍اکتوبر ۱۹۵۲ء کے دن یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کر لیا۔

چنانچہ اس سرکلر کا متن بھی شریک اشاعت کیا جاتا ہے۔

’’اخبارات میں اس مضمون کی اطلاع شائع ہوئی ہے کہ حکومت پاکستان کے ارباب حل وعقد چوہدری ظفراللہ خاں قادیانی کی وزارت سے برطرفی کے متعلق جمہور مسلمین کے عام اور متفقہ مطالبہ کو اس صورت میں تسلیم کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں کہ چوہدری صاحب موصوف کو وزارت خارجہ کے منصب جلیلہ سے ہٹا کر وزارت صنعت وحرفت کے عہدے پر فائز کر دیا جائے۔ اس اخباری اطلاع کی بناء پر نیز اس بناء پر کہ حکومت پاکستان نے تحفظ ختم نبوت کے متعلق عامۃ المسلمین کے اہم مطالبہ کو منظور کرنے کے بارے میں زبانی جمع خرچ کرنے کے علاوہ ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب کی مجلس عمل عامۃ المسلمین سے اور بالعموم ان مذہبی انجمنوں سے جو اس کنونشن میں شامل ہیں، بالخصوص اپیل کرتی ہے کہ جمعۃ المبارک مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۵۲ء کو پنجاب کے طول وعرض میں حکومت پاکستان کی ظفراللہ نوازی کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے۔ اس روز تمام شہروں، قصبوں اور دیہات میں جلسے منعقد کر کے اس مضمون کی قراردادیں منظور کرائی جائیں کہ عامۃ المسلمین ظفراللہ خاں قادیانی کی ذات پر کسی قسم کا اعتماد نہیں کرتے اور اسے ایک عہدے سے ہٹا کر ذمہ داری کے دوسرے عہدے پر فائز کرنے کے مجوزہ اقدام کو سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حکومت کی اس روش کے خلاف پر زور صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں کہ وہ ظفراللہ کی برطرفی کے متعلق عامۃ المسلمین کے متفقہ اور پرزور مطالبہ کو تسلیم کرنے اور جامۂ عمل پہنانے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ نیز مجلس عمل کی تجویز یہ ہے کہ منظور شدہ احتجاجی قراردادوں کی نقول بغرض اطلاع اس مضمون کے محضرنامے تیار کر کے ان پر زیادہ سے زیادہ اشخاص کے دستخط ثبت کرانے کی مہم زور شور کے ساتھ ابھی سے شروع کر دی جائے اور ۳؍اکتوبر کے بعد یہ محضرنامے ہزار ہا دستخطوں کے ساتھ تیار کر کے ناظم اعلیٰ مجلس عمل آل مسلم پارٹیز کنونشن میں پہنچا دیئے جائیں۔ محضر ناموں کی شکل بصورت ذیل ہو۔

’’ہم دستخط کنندگان ذیل ظفراللہ خاں قادیانی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس شخص کو وزارت خارجہ کے منصب سے برطرف کر دیا جائے اور آئندہ اسے پاکستان میں ذمہ داری کا کوئی عہدہ نہ دیا جائے۔‘‘ اس عبارت کے نیچے دستخط ثبت کرائے جائیں اور ناخواندہ اشخاص کے نشان انگوٹھے چپ لگوائے جائیں۔

مجلس عمل اپیل کرتی ہے کہ یوم احتجاج پورے نظم وضبط کے ساتھ انتہائی پرامن اور باوقار طریق سے منایا جائے۔‘‘

ابوالحسنات احمد (صدر مجلس عمل آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب)، محمد داؤد غزنوی (ناظم اعلیٰ مجلس عمل)

ماہ دسمبر میں تحریک نے نئی کروٹ لی

مجلس عمل کی میٹنگ میں غور وفکر کے بعد یہ طے ہوا کہ حضرات پیران عظام کی عملی ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔ اس سلسلے میں ایک

صفحہ ۱۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریر لکھی گئی جس میں تحفظ ختم نبوت کے بنیادی مطالبات کو دہرایا گیا اور اعلان کیا گیا کہ حکومت ان مطالبات کو جن کی پشت پر ہر مکتب خیال کے مسلمانوں کی ہمدردیاں موجود ہیں، فوراً تسلیم کرے۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ سجادہ نشین حضرات کرام سے دستخط حاصل کرنے کے لئے وفد میں مجلس عمل کے کون کون حضرات تشریف لے جائیں۔ چنانچہ طے ہوا کہ حضرت مولانا ابوالحسنات، صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب اور مولانا عبدالغفور صاحب ہزاروی اس کار خیر کو سرانجام دیں۔ الحمدللہ! کہ تینوں بزرگ ہستیوں نے پیرانِ عظام کے دستخط حاصل کر لئے اور مجلس عمل نے اس تجویز کو پوسٹر کی صورت میں شائع کر کے پاکستان بھر میں مشتہر کیا۔ ان پوسٹروں کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ حکومت منہ دیکھتی رہ گئی۔ اس پوسٹر کو پمفلٹ کی شکل میں مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل سید مظفر علی شمسی نے شائع کیا جو یہ ہے۔

پنجاب کے نامور مشائخ کرام کی حمایت

حضرت دیوان سید آل رسول علی خان صاحب۔

سجادہ نشین و نبیرہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز اجمیر شریف۔

حضرت شیخ المشائخ شیخ الاسلام الحاج خواجہ قمر الدین صاحب سجادہ نشین سیال شریف۔

حضرت سرکار چشت الحاج سید غلام محی الدین صاحب زیب سجادہ گولڑہ شریف۔

حضرت شیخ طریقت ابوالبرکات سید فضل شاہ صاحب سجادہ نشین جلال پور شریف و امیر حزب اللہ۔

حضرت شیخ طریقت سالک حقیقت سید علی حسین صاحب سجادہ نشین ثانی صاحب علی پور سیداں شریف۔

حضرت سالک مسالک طریقت سید الخادم مخدوم سید شوکت حسین صاحب حسنی الحسینی الگیلانی سجادہ نشین حضرت پیر پیراں موسیٰ پاک شہید ملتان شریف سرپرست مجلس عمل نے اپنے اعلان میں مندرجہ ذیل بیان پر دستخط ثبت فرمائے اور میدانِ عمل میں آگے آنے کے وقت ہر قسم کی قربانی کا وعدہ فرمایا۔

حضرت دیوان صاحب سجادہ نشین سلطان الہند خواجہ غریب نواز اجمیر شریف نے علیحدہ ایک ولولہ انگیز مضمون تحریر فرمایا۔ جس کی نقل مندرجہ ذیل ہے۔

سبحان من تمت حکمتہ وعمت نعمتہ الحمدللہ والصلوٰۃ علی رسولہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین

الحمدللہ ! میں مسلمان ہوں اور حضور نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کا ادنیٰ حلقہ بگوش اور امتی ہوں۔ میرا ایمان واعتقاد ہے کہ قرآن منزل من اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس کلام پاک میں کوئی اعتقاد ایسا نہیں چھوڑا جو انسان کی نجات کے لئے شرط ٹھہرایا گیا ہو اور وہ صاف و صریح الفاظ میں بیان نہ کر دیا گیا ہو۔ قرآن کی یہی غایت منشاء ہے۔ اگر کسی نئی شرط اعتقاد یا کسی نئے نبی کی بعثت وظہور پر ایمان لانا ضروری ہوتا تو لازم تھا کہ قرآن اس کو بھی واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کر دیتا۔

تمام مخالفین اسلام اور قادیانی مل کر قرآن کی ایک آیت یا اس کے کسی جز سے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ حضور نبی آخر الزمان ﷺ کے بعد کسی زمانے میں کوئی نبی ہو گا اور اس پر ایمان لانا نجات کے لئے شرط اعتقاد ہے۔ ایسا عقیدہ فرمانِ الٰہی اور قرآن کے کھلے ہوئے اعلان: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ کے قطعی منافی ہے۔ جس کی قرآن میں گنجائش نہیں۔

صفحہ ۱۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اللہ تعالیٰ کی آخری ہدایت جس کا نام قرآن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ،حضور محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے، آچکی ہے۔ اس کے خلاف قول وعمل کرنے والا خواہ وہ قادیانی ہو یا کوئی اور، بلا اختلاف کفر و ارتداد کے حکم میں آتا ہے۔

اشتہار زیر نظر میں جو حالات اور واقعات اور ان سے برآمد شدہ خطرات و نتائج فتنہ قادیانیت کے متعلق بیان کئے گئے ہیں اور اس حقیقت کے ماتحت جو مطالبات کئے گئے ہیں اتنی وقیع شہادت اور کثیر مشاہدات کی موجودگی میں ان سے انکار عقل و خرد سے بعید ہے اور مذہب و سیاست کے بھی منافی ہے۔

مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ ارباب حکومت اپنی حیثیت محض ایک اجنبی ثالث کی اختیار نہیں کر سکتے اور پاکستان کی اکثریت اس حیثیت کو تسلیم نہیں کر سکتی۔ اس لئے وہ دین کی حفاظت اور حدود اللہ کی نگہداشت کی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتے ۔ کیونکہ وہ خود مدعی اسلام ہیں اور اس قوم کی اکثریت کے منتخب کئے ہوئے نمائندہ ہیں جس کا متفقہ مطالبہ ہے کہ پاکستان کا آئین صرف وہی سازگار ہو سکتا ہے جو کتاب وسنت سے ماخوذ ہو۔ کوئی دوسرا قانون برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ یہ چیز ذہنوں سے فراموش نہیں ہو سکتی کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ اور اس کا وجود محض نظام شریعت کی امیدوں کے ساتھ وابستہ ہے اور اسی ایقان کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے ۔ اس میں تاخیر وتاویل روز افزوں بددلی کا موجب ہوگی اور اندیشہ ہے کہ اس کی ضرب پاکستان پر نہیں ۔ ارباب حکومت کے اقتدار پر پڑے گی۔ اگر خدا نخواستہ یہی لیل و نہار رہے تو ایک فتنہ مرزائیت ہی نہیں بلکہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بے اندازہ اور بے قیاس فتنے پیدا ہوں گے جو خدا نہ کرے پاکستان کی سالمیت ہی کو فنا کر سکتے ہیں۔

بنا بریں میں آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل پر اور خصوصاً صدر مجلس عمل مولانا ابوالحسنات صاحب پر اظہار اعتماد کرتا ہوں اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ خیر اندیش: فقیر دیوان سید آل رسول علی صاحب سجادہ نشین سلطان الہند خواجہ غریب نواز ( اجمیر شریف )

باقی حضرات مشائخ عظام نے عرس سیال شریف کے موقع پر مندرجہ ذیل مضمون مرتب فرما کر دستخط کئے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم

امت محمدیہ (کثرھا اللہ ) کا تیرہ صدیوں سے یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ سرور کائنات و فخر موجودات سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور سلسلہ نبوت ورسالت آپ ﷺ کی ذات گرامی پر ختم ہو چکا ہے اور قصر نبوت جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ناتمام تھا وہ آپ ﷺ کی بعثت مبارک سے مکمل ہوا اور آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص کسی معنی سے نبی کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ امت محمدیہ کے اس عقیدہ کے خلاف مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس امر کا مدعی ہوا کہ اسے وحی ہوتی ہے اور اس کی وحی کو (معاذ اللہ ) وہی درجہ حاصل ہے جو قرآن کریم کا درجہ ہے اور اسے نبی اللہ نہ ماننے والے (معاذ اللہ ) ویسے ہی کافر ہیں جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو نہ ماننے والے کافر ہیں اور اسی عقیدہ کی بناء پر اس نے اپنے ماننے والوں کی بطور ایک امت کے الگ تاسیس کی اور نہ ماننے والوں کو دشمن قرار دے کر دینی اور دنیاوی معاملات میں مقاطعہ کا حکم دیا۔

بنابریں ہم دستخط کنندگان ذیل کی رائے میں مرزائی جماعت ( جو اپنے آپ کو احمدیہ جماعت کہتی ہے ) مسلمانوں سے الگ ایک دوسری قوم ہے ۔ ہم یہ صورتحال قطعاً برداشت نہیں کر سکتے کہ امت محمدیہ کے اندر دوسری امت کے طور پر مرزائی شامل ہوں اور اسلامی مملکت کی فوج اور سول محکموں میں امت مسلمہ کے طور پر شریک ہوں اور اپنی جتھہ بندی کے ساتھ مزید مرزائیوں کو ملازمتوں میں داخل کریں

صفحہ ۱۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور مسلمانوں کو دھکیل دھکیل کر مرزائیوں کی ترقی کے لئے راستہ صاف کریں اور اس بارے میں ان کی سازشیں اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہوں ۔

ہم دستخط کنندگان ذیل کی رائے میں تمام محکموں پر مرزائیوں کے چھا جانے اور مرزائی حکومت کے منصوبے تیار کرنے کا سب سے بڑا باعث چوہدری ظفر اللہ خان کا عہدہ وزارت خارجہ پر متمکن ہونا ہے جو سرکاری ملازمتوں میں مرزائیوں کو گھسانے اور اپنی سرکاری پوزیشن کو مرزائیت کی تبلیغ میں استعمال کرنے کے لئے پہلے ہی سخت بدنام تھے اور اب اس عہدہ پر فائز ہونے سے مرزائیت کے فروغ کا بہت بڑا ذریعہ بن گئے ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ وزیر خارجہ ہونے کی حیثیت سے متعدد مسلم ممالک کی تائید وحمایت کے جب مواقع اسے ملے تو اس سے فائدہ اٹھا کر باہر کے مسلم ممالک میں بھی تبلیغ مرزائیت کا دائرہ وسیع کرنا شروع کر دیا ہے اور چوہدری ظفر اللہ کے اس طرز عمل سے جو آگ مرزائیت کے خلاف پاکستان میں بھڑک رہی ہے۔ وہ بیرون پاکستان میں بھی نہ بھڑک اٹھے۔ اس لئے ہم دستخط کنندگان ذیل دستور ساز اسمبلی کے اراکین اور وزارت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:

”مرزائی جماعت کو امت محمدیہ سے الگ غیر مسلم فرقہ قرار دے کر چوہدری ظفر اللہ کو عہدہ وزارت سے برطرف کر دے اور مرزائیوں کو فوج اور سول محکموں کی کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر دے اور مرزائیوں کو ان کی اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ ملازمتوں میں حصہ نہ دے۔“ اس سلسلہ میں ہم آل مسلم پارٹیز کنونشن کے ان فیصلوں کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں جو قادیانیوں کو قانونی حیثیت سے غیر مسلم اقلیت قرار دینے، چوہدری ظفر اللہ کو عہدہ وزارت سے برطرف کرنے ، قادیانیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر دینے اور ایسے قادیانی لٹریچر کو ضبط کر دینے کے متعلق ہے جس میں انبیاء کرام اور اہل بیت اطہار کی توہین کی گئی ہے اور آل مسلم پارٹیز کنونشن کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مجلس عمل پنجاب کی مساعی کو ہم پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور مجلس عمل کے اراکین اور بالخصوص صدر مجلس عمل حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب پر کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے تمام احباب ویاران طریقت سے امید کرتے ہیں کہ وہ مجلس عمل کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں گے اور تحریک کو کامیاب بنانے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ فقیر قمر الدین سجادہ نشین سیال شریف مسافر چند روزہ غلام محی الدین عفی عنہ گولڑہ ابوالبرکات سید احمد سجادہ نشین جلال پور شریف وامیر حزب اللہ علی حسین بقلم خود علی پور سیداں، فقیر شوکت حسین ملتان!“

مرزائیوں کے ہاں بڑی ہلچل ہوئی ۔ مرزا محمود قادیانی سخت پریشان ہوا۔ تحریک نے ایک نئی کروٹ لی۔ پاکستان کے گوشے گوشے میں تحریک سے دلچسپی لی جانے لگی ۔ تحریک کی مخالفت کے لئے مرزائیوں اور حکومت کے دامن بالکل خالی ہو گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سجادہ نشین حضرات کے اعلان نے مرزائیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ پیر صاحب گولڑہ شریف ، پیر سیال شریف ، پیر چورا شریف اور دیوان صاحب سرگودھا کے وسیع حلقہ اثر میں تحریک تحفظ ختم نبوت پورے شباب پر آگئی ۔

لاہور کنونشن

۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو اتوار کے دن صبح آٹھ بجے آل مسلم پارٹیز کنونشن کا ہنگامی اجلاس برکت علی محمڈن ہال لاہور میں زیر صدارت حضرت مفتی محمد حسن صاحب منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف ، دیوان صاحب اجمیر شریف ، غرضیکہ پیران عظام اور حضرات علماء کرام بتعداد کثیر ہر گوشے سے تشریف لائے ۔ اس اجتماع میں تقریباً سات سو جید علماء اور پیران عظام نے شرکت

صفحہ ۱۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی۔ اجتماع کے دعوت نامے پر حسب ذیل حضرات کے اسمائے گرامی درج تھے۔ مولانا غلام محمد ترنم ، مولانا مفتی محمد حسن ، مولانا احمد علی ، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا سید نور الحسن بخاری، سید مظفر علی شاہ۔

یہ دعوت نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی کے دستخط سے جاری ہوا تھا۔ اجلاس میں تمام مدعوین پہنچے ہوئے تھے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تمام فرقوں کے رہنما موجود تھے۔ وہ نظارہ بڑا ہی رقت انگیز اور ایمان افروز تھا۔

شاہ جی کی آمد

تمام مدعوین ہال میں آ کر بیٹھ گئے اور آخر میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری پہنچے۔ تمام حضرات احتراماً کھڑے ہو گئے۔ شاہ جی کو اسٹیج کے سامنے کرسیوں کی پہلی قطار میں جگہ دی گئی۔ شاہ جی بیٹھنے لگے تو کسی نے بتایا کہ آپ کے دائیں طرف صاحبزادہ غلام محی الدین سجادہ نشین گولڑہ شریف تشریف فرما ہیں۔ شاہ جی پھر اٹھے اور احتراماً صاحبزادہ صاحب کے پاؤں کی طرف دونوں ہاتھ بڑھا دیئے۔ صاحبزادہ صاحب نے فوراً شاہ جی کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے اور اوپر اٹھا کر شاہ جی سے گلے ملے۔ اس وقت شاہ جی اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کا یہ مصرعہ بار بار پڑھ رہے تھے۔

کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں

اس اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اجلاس میں چار پیش شدہ مطالبات کی حمایت کی۔ وہ چار مطالبات یہ تھے:

مسئلہ ختم نبوت کی برکتوں کا ظہور ہو رہا تھا۔ صدیوں کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام ایک جگہ جمع تھے۔ حضور کی ختم نبوت کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت کے استیصال کے لئے ایک دوسرے کی تائید کر رہے تھے۔ صاحبزادہ گولڑہ شریف اور راولپنڈی کے مشہور عالم دین مولانا غلام اللہ خان کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں۔ لیکن حضرت پیر گولڑہ شریف نے اعلان کیا۔

’’حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے میں مولانا غلام اللہ خان کے جوتے بھی اٹھانے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘

علماء کرام اور مشائخ عظام کا یہ تاریخی اور مثالی اجتماع تھا۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری

۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء برکت علی ہال میں منعقد ہونے والا آل مسلم پارٹیز کنونشن دراصل حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تجویز کے مطابق بلایا گیا تھا۔ مختلف الخیال علماء مشائخ کا ایک جگہ اکٹھا کرنا آگ ، پانی کو یکجا کرنے سے بھی مشکل تھا۔ یہ حضرت شاہ جی کی شخصیت ہی تھی اور ان کے اخلاص کی برکت تھی کہ ایک ناممکن بات وقوع پذیر ہو گئی۔ یہاں ایک بات اشارتاً عرض کرنا چاہتا ہوں

صفحہ ۱۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ آج کل جو حالات مملکت پاکستان کے ہیں وہ کسی شخص پر مخفی نہیں ہیں۔ اس ملک میں مسلمانوں اور اسلام ہر دو کا وجود خطرہ ہے۔ بے دین اور دیندار مسلمانوں کی کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ اس وقت بھی ضرورت ہے کہ علماء مشائخ کو یکجا جمع کیا جائے۔ اس کی ضرورت ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ بلکہ علماء آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہی وقت ان کے اتحاد کا تھا۔ ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ اصل وجہ یہ ہے کہ اسلام کے علمبردار ہونے کے مدعی تو موجود ہیں۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسا بے نفس سراپا، اخلاص اور بھرپور شخصیت کا مالک ان میں موجود نہیں ہے۔

اپنی تجویز کے مطابق منعقد ہونے والے آل مسلم پارٹیز کنونشن کی منتخب کردہ مجلس عمل کو کامیاب بنانے میں حضرت شاہ جی نے بھرپور حصہ لیا۔ آپ نے پیرانہ سالی اور صحت کی خرابی کے باوجود طوفانی دورے کئے۔ اپنی شعلہ نوائی سے پورے ملک کے عوام کو تحریک کے حق میں بیدار اور منظم کر دیا۔

چنانچہ تھانہ کپ کی فائرنگ تحریک کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور اس پر صوبہ بھر میں قیامت خیز جلسوں، جلوسوں، لاہور میں آل مسلم پارٹیز کنونشن کے انعقاد، حکومت پنجاب کی شکست اور پسپائی کے بعد حضرت شاہ صاحب نے اپنی تازہ سرگرمیوں کا آغاز اس جلسہ سے کیا جو ملتان میں تھانہ کپ کے حادثہ کے سلسلہ میں حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس پر قربان ہو جانے والے چھ شہیدوں کی یاد میں بلایا گیا تھا۔ لاکھوں کا اجتماع اور بخاری کی تقریر آج اس کیفیت کا کون تصور کر سکتا ہے؟ شاہ صاحب نے ملتان کے شہدائے ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا۔ ”شہدائے ملتان نے تحفظ ناموس رسالت کے لئے خون بہا کر تاریخ اسلام کو رنگین بنا دیا ہے۔“

”حضرت صدیق اکبرؓ نے تحفظ ختم نبوت کے لئے سات سو حافظ قرآن صحابہ کرام کو قربان کروا دیا تھا۔“ میں شہدائے ملتان کے والدین کو مبارک باد دیتا ہوں جن کے نذرانے سرکار دو عالم ﷺ کے حضور قبول کر لئے گئے ہیں۔“

”یوں تو ہزاروں بچے جنم لیتے اور مرتے ہیں۔ مگر ان شہیدوں کی موت حیات جاوداں بن کر آئی ہے۔“

عوام میں اتنا جذبہ اور جوش تھا کہ شاہ صاحب کی تقریر سننے والا ہر سامع تمنا کر رہا تھا کہ اے کاش ناموس مصطفیٰ ﷺ کے لئے میں بھی ان شہیدوں کے ہمراہ قربان ہو گیا ہوتا۔

شاہ جی کی تقریر

حضرت شاہ صاحب نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قرآن مجید کی یہ آیت پاک تلاوت فرمائی۔ ”احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وھم لا یفتنون ولقد فتنا الذین من قبلهم فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکذبین“ کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ محض ایمان لانے سے ہی نجات حاصل کر لیں گے اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہوگی۔ حالانکہ وہ تمام لوگ آزمائے جا چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ پس معلوم کرے گا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو حق و صداقت پر ہیں اور ان لوگوں کو جو کاذب اور مفتری ہیں۔

آپ نے حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسلام کے بنیادی عقیدہ کو گزند پہنچانے کی ناپاک کوشش کی تو حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کاذب اور مفتری سے کسی قسم کا مناظرہ کر کے دعویٰ نبوت کے جواز میں دلیل طلب نہیں کی۔ اگر کیا تو یہ کیا کہ سات سو سے زائد حافظ قرآن، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ناموس رسالت اور

صفحہ ۱۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاج وتخت ختم نبوت پر قربان کروا دیئے اور اس طرح مسلمانوں کی متاع دین وایمان کو ایک عیار اور مکار کی دست برد سے بچالیا اور آئندہ کے لئے ملت اسلامیہ کو سبق دیا کہ جو شخص اس قسم کی ناپاک کوشش کرے۔ اس کے متعلق اسلام اور ملت اسلامیہ کا فیصلہ کیا ہے۔

ملتان کے غیور اور صاحب ایمان مسلمانوں نے بھی اس دور پر آشوب میں جب کہ کفر وارتداد کی سیاہ گھٹاؤں نے ایمان وایقان کو پریشان کر رکھا تھا۔ اسلام کی لاج رکھ لی اور اپنے جگر گوشوں کو شمع رسالت پر پروانہ وار نثار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان آج بھی فخر دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر گولیوں کی بارش میں مسکرا سکتا ہے۔ شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں ترنم سے یہ شعر پڑھا۔

رتبہ شہید ناز کا گر جان جائیے قربان جانے والے کے قربان جائیے

اور اپنے ایثار واخلاص سے جمہور مسلمین کے دینی مطالبہ میں روح پھونک دی۔ حضرت شاہ صاحب نے نہایت ہی رقت آمیز اور جذبات انگیز لہجہ میں فرمایا خدا کی نعمتیں نچھاور ہوں تم پر اے شہیدان ناموس رسالت ، سلام ہو تم پر اے ختم المرسلین کی عزت و آبرو پر قربان ہونے والو۔ مبارک ہیں تمہارے والدین جن کے نذرانے سرکار رسالت مآب ﷺ میں شرف قبولیت حاصل کر گئے۔ شاہ صاحب نے آخر میں فرمایا یوں تو اس دنیا میں ہزاروں بچے جنم لیتے اور مرجاتے ہیں۔ ہزاروں کلیاں کھلتی ہیں اور بادِ سموم کی تھپیڑوں کی تاب نہ لا کر مرجھا جاتی ہیں۔ مگر وہ موت جو حق اور راستی کی راہ میں آئے حیاتِ جاوداں بن کر آتی ہے۔“

(روزنامہ آزاد مورخہ ۲۸ / جولائی ۱۹۵۲ء)

کنونشن کا دوسرا اجلاس

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں کہ: دوسرا اجلاس بعد از دو پہر مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد صاحب قادری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ ہال سے باہر فدایان ختم نبوت کا بے پناہ ہجوم تھا۔ اس اجلاس میں تین مطالبات متفقہ طور پر پیش کئے گئے۔ مطالبات یہ تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ علماء کرام اور پیران عظام کا یہ تاریخی اجتماع بہت ہی نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ حکومت کی جانب سے یہ پراپیگنڈا ہوتا تھا کہ احرار وطن دشمن ہیں۔ انہیں بھارت سے روپیہ ملتا ہے۔ یہ مرزائیوں کے بہانے اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس گمراہ کن اور لغو پراپیگنڈے نے اپنی جڑیں مضبوط کر لیں تھیں۔ اس پراپیگنڈا کو مرزائی اپنے اثر و رسوخ سے مسلم لیگ کے کیمپ سے ملاتے تھے۔ مسلم لیگ کی حکومت تھی۔ سر ظفر اللہ کا طوطی بولتا تھا۔ خواجہ ناظم الدین دیندار ہونے کے باوجود اس پراپیگنڈا سے متاثر تھے۔ مگر جب آل مسلم پارٹیز کے اس تاریخی اجتماع میں علماء کرام اور پیران عظام نے احرار سے بھی زیادہ سخت رویہ اختیار کیا اور لگی لپٹی رکھے بغیر حکومت کو واضح الفاظ میں سمجھا دیا کہ یہ مطالبات ساری قوم کے مطالبات ہیں۔ اگر ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو حکومت کو رائے عامہ سے ٹکر لینا ہو گی تو حکومت نے کان کھڑے کئے۔ خواجہ ناظم الدین نے بھی ہوش سنبھالا اور غلط اور گمراہ کن پراپیگنڈا کا زور ٹوٹ گیا۔ اس شاندار اجتماع کے بعد تحریک کا رخ بدل گیا۔ کوئی مسجد ایسی نہ تھی جس میں رد مرزائیت کے سلسلے میں جلسہ یا وعظ نہ ہوا ہو۔ کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہ تھا۔ جہاں احتجاج کے بعد یہ مطالبات نہ دہرائے گئے ہوں۔ ساتھ ساتھ ہم لوگوں کی رہائی کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا۔ تا آنکہ حکومت مجبور

صفحہ ۱۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوگئی اور اس نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس تاریخی اجلاس کی کیفیت ہی عجیب تھی۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے بے پناہ جذبہ موجود تھا۔ آتش بیانوں نے عشق رسول ﷺ میں سرشار ہو کر حرمت رسول پر کٹ مرنے کے لئے کیا کچھ نہ کہا ہوگا۔

اس اجلاس کے انعقاد سے قبل حکومت تذبذب میں مبتلا تھی۔ کبھی وہ یہ خیال کرتی کہ سب مکتب خیال کے علماء اور پیران عظام اگر ایک جگہ جمع ہوگئے اور کوئی فیصلہ کر بیٹھے تو حکومت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ اس لئے اس اجتماع پر پابندی لگا دی جائے۔ پھر خیال آیا کہ اگر پابندی لگا دی گئی تو یہ پراپیگنڈا ختم ہو جائے گا کہ یہ سوال احراریوں نے طالع آزمائی کے لئے کھڑا کیا ہے۔ اس لئے کہ پابندی ان لوگوں پر لگائی جائے گی جنہیں احرار کے خلاف یا کم از کم احرار سے آج تک دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غرضیکہ اس تذبذب میں حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اور وزراء مشورے کرتے رہے اور کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ تا آنکہ اجلاس کی متعین تاریخ سر پر آپہنچی۔ تب حکومت نے براہ راست مداخلت کی ٹھانی یعنی یہ کہ سرکاری کارندے اجلاس میں شریک ہوں۔ احرار کے تجربہ کار سالاروں اور رضا کاروں نے جرأت، جوانمردی اور سیاسی فراست کا ثبوت دیا اور کسی سرکاری آدمی کو ہال کے اندر جانے نہ دیا۔ اس پابندی پر جھگڑے کا احتمال تھا۔ مگر بھرے ہوئے مسلمانوں اور مذہبی رہنماؤں کے اجتماع نے حکومت کو ایسا مرعوب کیا کہ وہ دبک گئی۔ یہ اجتماع بہت دور رس نتائج کا حامل ہوا اور سارا پنجاب سرحد اور سندھ بے حد متاثر ہوا اور مسئلہ تحفظ ختم نبوت پوری آب و تاب سے مسلمانوں کا قومی اور مذہبی مسئلہ قرار پا گیا۔ ان حالات میں یہ چرچا عام ہو گیا کہ اس گرانقدر بوجھ کو تنہا احرار کے کندھوں پر نہ ڈالا جائے۔ ساری ملت تحفظ ختم نبوت کے مقدس فرض کی ادائیگی میں بقدر استطاعت حصہ لے اور تنہا احرار کو مرزائیوں اور حکومت کی ملی بھگت کا ہدف بننے کا موقع نہ دے۔

اس بارے میں ذمہ دار حضرات نے تگ و دو شروع کردی۔ اب سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کی کس کس جماعت کو دعوت دی جائے۔ اندیشہ یہ تھا کہ آج تک اختلافی مسائل کے جھمیلوں میں مسلمانوں نے جو گروہ بندی یا الگ الگ جماعتیں بنا رکھی ہیں یہ کیونکر ایک دوسرے کے قریب آئیں گی۔ مگر برکت علی محمڈن ہال کے مشترکہ اجتماع نے حوصلہ دلایا کہ مسئلہ ختم نبوت ہی ایک ایسا متفقہ اور بنیادی مسئلہ ہے جس میں شیعہ، سنی، اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی سب کے سب متفق ہیں۔ سرکار مدینہ ہی کے نام کی برکت سے مسلمانوں کی تمام جماعتوں کو خواہ وہ کسی بھی مکتب خیال سے تعلق رکھتی ہوں، آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے۔

آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام

مسلمان جماعتوں کا جب یہ جذبہ انتہائی عروج کو پہنچ گیا کہ سب کو مل کر ختم نبوت کے بنیادی مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تو اس کنونشن کی تجاویز کی روشنی میں مندرجہ ذیل جماعتوں کے نمائندوں کا اجتماع منعقد ہوا۔ جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ علماء اسلام، مجلس احرار، جماعت اسلامی، جماعت اہل حدیث، مجلس تحفظ ختم نبوت، تنظیم اہل سنت والجماعت، ادارہ تحفظ حقوق شیعان پاکستان، اخباری نمائندگان، مولانا اختر علی خان، مولانا میکش پہلا اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری کارخانہ حاجی دین محمد بادامی باغ میں منعقد ہوا۔ ابتدائی گفتگو نہایت ہی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ نمائندگان نے اپنی جماعتوں سے اجازت حاصل کر لی تھی کہ وہ ذمہ دارانہ حیثیت سے اس گفتگو میں شمولیت فرمائیں گے۔ حضرت مولانا محمد داؤد صاحب غزنوی علالت طبع کے باوجود اس اجلاس میں شامل ہوئے۔

مجلس عمل کی مکمل تشکیل

صدر: حضرت مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری (جمعیۃ العلماء پاکستان)

صفحہ ۱۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نائب صدر: مولانا محمد طفیل صاحب (جماعت اسلامی) ناظم اعلیٰ: مولانا محمد داؤد صاحب غزنوی (جمعیۃ اہل حدیث) ناظم: سید مظفر علی شمسی (ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان)

ہر جماعت سے دو دو نمائندے لئے گئے۔ جن کی فہرست درج ذیل ہے۔

اخبارات کی جانب سے مولانا اختر علی خان اور مولانا میکش

جونہی مجلس عمل نے میدان عمل میں قدم بڑھایا مسلمانوں کے اس اقدام سے قادیانی محل کی دیواریں متزلزل ہونے لگیں۔ خلیفہ محمود نے اس صورتحال کو بھانپا اور جب محسوس کیا کہ مسلمانوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ رد مرزائیت اور تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں مل کر کام کریں گے تو وہ بوکھلا گئے اور اول، فول بکنا شروع کیا۔ انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کے باوا کی تربت پر مایوسی اور ہراس چھا رہا ہے تو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے انہیں کراچی اور سر ظفر اللہ خاں کو ربوہ آنا جانا پڑا۔ خاموش بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے کی بجائے انہوں نے مسلمانوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے۔ مرزا محمود کو الہامی خواب آنے لگے۔

طریق کار

خلیفہ محمود اپنی کامیابی کے لئے ایک پروگرام مرتب کرتے ہیں اور انہیں لباسِ عمل پہنانے کے لئے اعلان کرنا چاہتے ہیں تو وہ کھل کر بات نہیں کہتے بلکہ الفضل کے ذریعے اپنا مافی الضمیر استعاروں میں بیان فرماتے ہیں۔ پروگرام کے مطابق انہیں خواب آتا ہے۔ وہ اپنے خواب کو رویاء کہتے ہیں۔ ان کے ماننے والے اور عقیدت مند جانتے ہیں کہ خلیفہ محمود قادیانی نبی کا کامیاب بیٹا ہے۔ الفضل ان خوابوں کو نہایت اہتمام سے چھاپتا ہے۔ مرزائی حضرات اس خواب کا مطلب سمجھ جاتے ہیں اور بیگانے شور مچا کر حکومت کو متوجہ کرتے ہیں کہ دیکھئے مرزا محمود کیسے خطرناک خواب بیان فرما رہے ہیں۔ حکومت سنتی ہے تو اسے مرزا محمود کے کھونٹے کی جانب دیکھنا ہوتا ہے۔ اگر عوام کے احتجاج میں زیادہ زور ہوا تو حکومت بحالتِ مجبوری قانون کو حرکت میں لانا چاہتی ہے۔ قانونی مشیر سے دریافت کیا جاتا ہے کہ مرزا محمود اور اس کا

صفحہ ۱۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آرگن قانونی گرفت میں آسکتا ہے۔ جواب ملتا ہے قانون عاجز ہے۔ مرزا محمود یا الفضل قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ خواب کی بات ہی کیا، خواب گیا بات گئی۔ اس طرح مروجہ قانون منہ تکتا رہ جاتا ہے اور مرزا محمود اپنا پروگرام سمجھا اور چلا لیتے ہیں۔

مرزا محمود کو خواب آیا

مجلس عمل کے قیام سے قبل جب احرار نے مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کو طشت از بام کر کے یہ ثابت کر دکھایا کہ امت مرزائیہ، ملت اسلامیہ کی بدترین دشمن ہے وہ اسلام کے بنیادی مسئلے کو تسلیم نہیں کرتی تو مرزائیوں نے بھی احرار کے خلاف اتہامات کا طوفان کھڑا کر دیا۔ کبھی احرار کو پاکستان کا دشمن بنایا اور کبھی بھارت کا ایجنٹ بتا کر عوام میں احرار کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر حق کی فتح ہوئی اور مرزائیوں کے اوچھے وار ناکام ہو گئے۔ امت مرزائیہ مسلمانوں کی نگاہوں میں کھٹکنے لگی۔ تا آنکہ مرزائیوں کے کیمپ میں ہراس پھیل گیا اور مرزا محمود خود بھی پریشانیوں میں مبتلا ہو گئے۔ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں۔ مرزا محمود نے محسوس کیا کہ زمین ان کے پیروں تلے سے نکلی جا رہی ہے اور یہ کہ مرزائی کیمپ پر مردنی چھا گئی ہے تو خلیفہ صاحب نے خوابوں کا پروگرام چالو کر لیا۔ خواب بیان کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس خواب کا پس منظر بیان کر دیا جائے۔ حالات ایسے ہو گئے تھے کہ امت مرزائیہ کو پاکستان کی سرزمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود تنگ نظر آنے لگی۔ مرزا محمود نے اپنے خطبوں میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: ”مرزائیوں کو پاکستان سے باہر رشتے ناتے تلاش کرنا چاہئیں تا کہ مصیبت کے وقت پاکستان سے جانا پڑے تو باہر کے رشتہ داروں کے ہاں ٹھکانا مل سکے۔“

(الفضل لاہور ج ۳۸ نمبر ۱۸۵ ص ۴، کالم ۳، مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۵۰ء)

ان پیش بندیوں نے امت مرزائیہ کو بالکل بے حوصلہ کر دیا۔ اب مرزا محمود کو نئی ترکیب سوجھی۔ اس نے بھارت کا سہارا لینا چاہا۔ ظاہر ہے کہ بھارت اور پاکستان دو ہمسایہ ملک ہیں۔ سرحدیں ملتی ہیں۔ چنانچہ مرزا محمود نے ایک روز بڑا عجیب و غریب خواب دیکھا۔ مرزا محمود نے خود ہی فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوں: ”میں ایک چار پائی پر لیٹا ہوا ہوں۔ اتنے میں مہاتما گاندھی جی میری طرف آئے اور چار پائی پر میرے ساتھ لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر لیٹے۔ پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ ان کا جسم کس قدر موٹا ہے۔“

(الفضل قادیان ج ۳۵ نمبر ۷۸ ص ۲ کالم ۱، مورخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۴۷ء)

خواب کی تعبیر

خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے مرزا محمود نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ”پاکستان اور بھارت دونوں ملک پھر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ان دونوں ملکوں کی علیحدگی عارضی ہے۔“

(الفضل قادیان ج ۳۵ نمبر ۱۱۶ ص ۲ کالم ۱، مورخہ ۱۶؍ مئی ۱۹۴۷ء)

دیکھا مرزا محمود نے کتنی خوفناک پیشین گوئی کی اور کس خوبصورتی سے اپنے باوا کی امت کو تسلی دی کہ پاکستان میں اگر آج مرزائیوں کی ریشہ دوانیاں طشت از بام ہو چکی ہیں تو کیا ہوا۔ ہم بھارت سے تعلق پیدا کر لیں گے اور یہ پاکستان ہے۔ کیا بلا یہ تو رہے گا نہیں۔ چند دنوں کی بات ہے دونوں ملک ایک ہو جائیں گے۔ اس قسم کی باتیں ملک سے غداری اور صریح بغاوت کا پیش خیمہ ہیں۔ مگر مرزا محمود کو کسی نے ٹوکا تک نہیں۔ کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ مرزا صاحب آپ کے منہ میں کتنے دانت ہیں؟ اس خواب کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ مرزائیوں کو ایک امید بندھی کہ پاکستان تھوڑے عرصے میں ختم ہو جائے گا۔ گاندھی جی مرزا محمود کی چار پائی پر لیٹ کر پیار کر گئے ہیں۔ مرزا محمود نے بادل نخواستہ ان کے ساتھ رہنا قبول کر لیا۔ اب مرزائیوں کا بھارت سے پکا یارانہ ہو جائے گا۔ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔

صفحہ ۱۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں۔ حوصلے سے چند دن گزارا کرو۔ غرضیکہ خواب بیان کرتے ہوئے مرزائیوں کو خلیفہ محمود نے جگا لیا اور مطلب حل کر لیا۔

مرزا محمود نے مرزائیوں کو اکسایا

مرزا محمود کے پہلے خواب یعنی گاندھی جی کے قرب والے خواب سے امت مرزائیہ نے نئے انداز فکر سے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی۔ کہیں مناظروں کا چیلنج، کہیں ظفر اللہ خاں کا دورہ اور کہیں مرزائی افسروں کے سہارے۔ غرضیکہ مرزائیوں نے اودھم مچانا شروع کیا جس کھاتے پیتے مرزائی کو دیکھو پستول لٹکائے پھرتا ہے اور جس مبلغ کو دیکھو لٹھ لئے پھرتا ہے۔ اچھی خاصی ہلچل شروع ہو گئی۔ مرزا محمود نے ایک خوفناک تقریر کی۔ اس تقریر میں مرزا محمود نے بڑے حوصلے سے امت مرزائیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے باوا کی امت! ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے مرزائیت کے ہر مخالف کو مجبور کر دو کہ وہ مرزائیت کے سامنے جھک جائے اور ہتھیار ڈال دے۔ اس تقریر سے کافی حد تک تلخی پیدا ہوئی اور حالات بگڑ گئے۔ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں۔ حکومت مرعوب تھی۔ سر ظفر اللہ خان سب پر بھاری تھے۔ حکومت کے کل پرزے مرزائیت کے مقابلے میں شل ہو چکے تھے۔ مرزا محمود کو نہ کوئی نوٹس جاری ہوا اور نہ حکومت نے مرزا محمود کو اس قسم کی فساد انگیز تقریر کرنے سے منع کیا۔ اگر کوئی مسلمان عالم کہیں اتنی سی بات کہہ دیتا کہ: ”۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے۔ ختم نبوت کے منکر جانے نہ پائیں اور انہیں اس قدر مجبور کر دیا جائے کہ وہ اسلام کے سامنے جھک جائیں اور ہتھیار ڈال دیں اور فاسد عقیدے سے تائب ہو جائیں۔“ (الفضل لاہور ج ۲۰ نمبر ۱۴ ص ۲، مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۵۲ء) تو ایک قیامت بپا ہو جاتی۔ حکومت کی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی اور مسلمان عالم کو خانہ خدا کی بجائے جیل میں قیدیوں کے سامنے وعظ کہنے پر مجبور ہو جانا پڑتا۔ ”آزاد“ ایسی تقریریں شائع کر دیتا تو وہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتا اور اس کے ایڈیٹر کو جیل کی ہوا کھانا پڑتی۔ حکومت نے ایک آنکھ موند رکھی تھی۔ اسے بالکل نظر نہ آتا تھا کہ مرزائی کیا گل کھلا رہے ہیں۔ اس کا عتاب صرف مسلمان جماعتوں پر تھا۔

مرزائی سرکاری ملازمین کو ہدایت

خلیفہ محمود ایک قدم اور آگے بڑھے اور الفضل کے ذریعے مرزائی سرکاری ملازمین کے نام ہدایات جاری کیں جن کا مفہوم یہ تھا کہ ملازمت کے یہ معنی نہیں کہ اس ذریعے سے صرف روٹی کمائی جاوے بلکہ اس ذریعے سے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ مرزائیت کی کیا خدمت ہوئی۔ یعنی مرزائی سرکاری ملازمین کو سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے مرزائیت کے مبلغ کا کام بھی کرنا چاہئے۔ یہ ہدایت ایسی تھی جس پر حکومت کو فوراً نوٹس لینا چاہئے تھا۔ تبلیغ کانفرنسوں میں علماء حضرات نے احتجاج کیا۔ اخبارات نے مقالے لکھے۔ ”آزاد“ نے مسلسل اداریئے لکھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ حکومت کیوں خاموش ہے اور مرزا محمود کو کیوں کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ مگر حکومت کی مشینری میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی اور خلیفہ محمود من مانی کارروائیاں کرتے رہے۔

ایک خطرناک واقعہ

اٹک کے پل پر پولیس کے علاوہ فوجی پہرہ بھی موجود رہتا ہے۔ آنے جانے والوں کی سختی سے دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ایک روز پل کے پہرہ داروں نے ایک مشکوک ٹرک کو روک لیا۔ تلاشی لینے پر اس ٹرک سے تھری ناٹ تھری کی رائفلیں برآمد ہوئیں۔ یہ رائفلیں ایک مرزائی کپتان چرا کر لے جا رہا تھا۔ ٹرک پکڑا گیا اور فوجی کپتان کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے بعد ضابطے کے مطابق مرزائی فوجی

صفحہ ۱۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کپتان کو فوج کے سپرد کر دیا گیا ہوگا تا کہ اس کے خلاف فوجی عدالت میں کارروائی ہو۔ ہمیں اتنا دور جانے کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہمیں یہ حق پہنچتا تھا کہ ہم دریافت کرتے کہ اس فوجی کپتان کا کیا حشر ہوا۔ مگر اس واقعے سے جب یہ اخبارات میں شائع ہوا تو ایک سنسنی پھیل گئی۔ ہم نے اسے ایک بار شائع کیا۔ حکومت کو متوجہ کرنے کے بعد اسے اخبارات میں اچھالنا خلاف مصلحت سمجھا۔ مجلس عمل نے ایسی تمام شکایات پر غور کیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ مرزائیت نے ملکی نظام کو جس طریقے سے سبوتاژ کرنا شروع کیا ہے اس کا تدارک ہونا چاہئے۔ چنانچہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ مجلس عمل کا ایک وفد آپ سے ملاقات کی اجازت چاہتا ہے۔ موقعہ دیجئے کہ وفد حاضر خدمت ہو سکے۔ تاریخ اور وقت مقرر ہو گیا۔ وفد نے ملاقات کی اور حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کو مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں پر توجہ دینا چاہئے۔ خلیفہ محمود اور اس کے کارندے حدود سے آگے قدم بڑھا رہے ہیں۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ملک و ملت کو گزند پہنچائیں گے اور خطرناک پروگرام کو جامہ عمل پہنانے میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔ اس ملاقات میں جب فوجی ٹرک اور مرزائی کپتان کے بارے میں شکایت کی گئی کہ وہ سرکاری اسلحہ چرا کر لئے جا رہا تھا کہ پکڑا گیا تو خواجہ صاحب فرمانے لگے کہ آپ حضرات کس قسم کے افسانے سنا رہے ہیں۔ بھلا ایسی حرکت بھی ہو سکتی ہے۔ تب وفد نے انہیں یقین دلایا اور کہا کہ یہ خبر تمام اخباروں میں شائع ہوچکی ہے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں جسے ہم نے گھڑا ہے اور آپ کو گمراہ کرنے کے لئے سنا رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ حیرانی ہے کہ ایسے سنگین واقعات سے آپ کو بے خبر رکھا جاتا ہے۔ خواجہ صاحب نے اپنے سیکرٹری کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں بھئی ایسا کوئی واقعہ ہوا؟ ہمیں اس قسم کی کوئی خبر سرکاری ذرائع سے پہنچائی گئی ہے؟ سیکرٹری بڑا مستعد اور باخبر نوجوان تھا۔ اس نے کہا کہ: ”ہاں حضور! اٹک کے پل پر ایک ٹرک پکڑا گیا جس میں چوری کا اسلحہ تھا اور ایک کپتان اس اسلحے کو چرا کے لے جا رہا تھا۔ واقعہ درست ہے۔‘‘ اس پر ہمیں کچھ سہارا مل گیا اور ہم نے باقی شکایات کا دوبارہ تذکرہ کیا اور ہر شکایت پر ذمہ داری سے ثبوت پہنچانے کا وعدہ کیا۔ بشرطیکہ حکومت فوراً تحقیقات کا وعدہ کرے۔ خواجہ صاحب نے آخر میں فرمایا کہ ہم اپنے طریقے سے تحقیقات کریں گے۔

دوسرا خطرناک واقعہ

چونیاں ضلع لاہور کے ایک مرزائی ریلوے افسر نے ریلوے کا بہت سا سرکاری مال چرا کر ربوہ بھجوا دیا۔ وہ بہت سا پیتل اور سکہ بھی چرا چکا تھا۔ جسے اس نے گودام سے نکلوا کر باہر چھپا رکھا تھا۔ یہ خبر کسی طرح پولیس کے کانوں تک پہنچ گئی۔ پولیس نے چھاپہ مارا، مال برآمد کر لیا اور مرزائی ریلوے افسر کو دھر لیا گیا۔ تحقیقات شروع ہو گئی۔ ہمیں ریلوے کے باقی مال کے چرائے جانے کی چنداں پرواہ نہ تھی۔ مرزائی ربوہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔ جب سرکار نے انہیں لاکھوں کروڑوں روپے کی زمین کوڑیوں کے دام عطاء کر دی تو تھوڑا سامان بھی سرکاری گوداموں سے ربوہ پہنچ جائے تو کیا قیامت آ جائے گی؟ مگر ہمیں حیرانی تو یہ تھی کہ سکہ کس غرض کے لئے ربوہ لے جایا جا رہا ہے؟ ہمارا دھیان فوراً اس بارود کی طرف منتقل ہو گیا جو چنیوٹ سے مرزائیوں نے خریدا تھا۔

قارئین کرام بھولے نہ ہوں گے کہ ایک روز چنیوٹ کے لائسنس دار سے تقریباً سو من بارود مرزائیوں نے خریدا۔ جب احرار نے شور مچایا کہ مرزائی اس بارود کو ربوہ کس کام کے لئے لے گئے ہیں۔ حکومت تحقیقات کرے۔

اس بارود کا قصہ اخبارات میں بھی شائع ہوا اور لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں۔ سب کچھ ہوا۔ مگر ہماری حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ جب چونیاں میں سرکاری سکہ چوری ہوا تو چنیوٹ اور چونیاں کے واقعات نے صحیح صورتحال سمجھ لینے میں آسانی پیدا کر دی۔

صفحہ ۱۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بارود سے کارتوس اور سکے سے گولی بنتی ہے۔

مرزا محمود کا اعلان کہ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے۔ بہادر مرزائیو! تیاری کرلو۔ ہم نے بات کو سمجھا اور کوشش کی کہ مسلمان قوم بھی سمجھے اور خبردار ہوجائے۔ حکومت نہیں سنتی تو نہ سنے۔ ہم اپنا فرض تو ادا کرلیں۔ مسلم لیگ کی ”خالص اسلامی“ حکومت نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور کانوں میں تیل ڈال لیا کہ مجلس عمل کی آواز سنائی نہ دے۔ مگر مجلس عمل نے قوم کو بیدار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ کانفرنسوں کا ایک جال بچھ گیا۔ ”زمیندار“ اور ”آزاد“ کے صفحات تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف تھے۔ مجلس عمل کی قیادت میں جو کانفرنسیں ہوئیں ان میں حاضری کا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا۔ فدایان ختم نبوت کا ہجوم سنبھالے نہ سنبھلتا تھا۔ یہ کانفرنسیں کراچی سے لے کر پشاور تک کے سرحدی علاقے تک منعقد ہونے لگیں۔ پنجاب جہاں مرزائیت کا مرکز تھا تحفظ ختم نبوت کی تحریک کا مرکز بن گیا۔ راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، شیخوپورہ، لائل پور (فیصل آباد)، سرگودھا، منٹگمری (ساہیوال)، بہاول پور، ملتان، ڈیرہ غازی خان کے اضلاع میں کوئی شہر یا قصبہ ایسا باقی نہ رہا جہاں رد مرزائیت کے سلسلے میں عظیم الشان کانفرنسیں نہ ہوتی ہوں۔ جوں جوں تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی مرزا محمود بھی چوکس ہو کر مرزائیوں کے مورال کو قائم رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی حرکت کرتے رہتے تھے۔ مگر مجلس عمل کے رہنما ٹھوس بنیادوں پر تحریک چلا رہے تھے۔ ان تبلیغی کانفرنسوں میں چند اعتراضات پیش کئے جاتے تھے جن کا مرزائیوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور حکومت زبان حق کو بند کرتے ہوئے گھبرا رہی تھی ان اعتراضات کی نوعیت یہ تھی۔ مثلاً مجلس عمل کے رہنما کہتے تھے کہ سرظفر اللہ خان وزیر خارجہ ہیں یا مرزائیت کے مبلغ وہ بیرونی ممالک اور پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے بیرونی دنیا میں مرزائیت کو متعارف کرا رہے ہیں۔ پاکستان کے خزانے سے تنخواہ وصول کر کے انہیں اسلام کے خلاف تبلیغ کا کیا حق ہے؟ مرزائیت کی تبلیغ کرنا مقصود ہے تو سرظفر اللہ خان مستعفی کیوں نہیں ہو جاتے۔ مسلمان قوم مطالبہ کر رہی ہے۔

صفحہ ۱۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے مخالفوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دو۔ اس قسم کی اشتعال انگیز باتیں کرنے والے کی حکومت گوشمالی کیوں نہیں کرتی؟

یہ ٹھوس باتیں عظیم الشان کانفرنسوں میں کہی جاتی تھیں۔ نہ تو مرزائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب تھا اور نہ حکومت میں یہ جرأت تھی کہ مرزا محمود یا سر ظفر اللہ خان کے خلاف کوئی قدم اٹھاتی۔ حکومت سر ظفر اللہ کے سامنے عاجز تھی اور ہمارے نیک دل وزیراعظم خواجہ ناظم الدین یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کی عمارت کو سر ظفر اللہ خان سنبھالے کھڑے ہیں۔ اگر انہیں برطرف کر دیا گیا تو ساری عمارت ہی خدانخواستہ دھڑام سے نیچے آ گرے گی۔ یہ وہم یقین کا درجہ اختیار کر گیا تھا۔ بہرحال عوام چلاتے رہے۔ مجلس عمل خبردار کرتی رہی اور حکومت بے بسی کے عالم میں چپ چاپ بیٹھی تماشہ دیکھتی رہی۔ یہ صورتحال مرزائیوں کے لئے حوصلہ افزا تھی۔ چنانچہ خلیفہ محمود نے اپنے قلعے کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ ربوہ مرزائیوں کی چھاؤنی بن گیا۔ پہاڑیوں کی اوٹ میں باقاعدہ مسلح پریڈ ہونے لگی۔ مجلس عمل کو معلوم ہوا تو مجلس عمل نے خواجہ ناظم الدین کو پھر خبردار کرنا چاہا۔ چنانچہ ان سے ملاقات کا وقت مانگا گیا۔ اجازت مل گئی تو مجلس عمل کے وفد نے خواجہ صاحب سے پھر ملاقات کی اور انہیں سابقہ شکایات کے ساتھ یہ بھی کہا کہ مرزائی فوجی پریڈ کر رہے ہیں۔ ہمیں آپ کلہاڑی رکھنے کی اجازت نہیں دیتے اور ان کے پاس تھری ناٹ تھری کی رائفلیں موجود ہیں۔ ربوہ مرزائیوں کا بہت مضبوط قلعہ بن گیا ہے۔

خواجہ صاحب کی سادگی

خواجہ ناظم الدین بھلے اور شریف مگر کمزور آدمی تھے۔ وزارت عظمیٰ کو چلانا ان کے بس کا روگ نہ تھا۔ بیل گاڑی چل رہی ہو۔ گاڑی بان کسی بچے کو گاڑی ہانکنے کو بٹھا دے تو گاڑی چلتی رہتی ہے۔ بچہ نہ بھی ہو اور گاڑی بان سو جائے تب بھی بیل چلتے رہتے ہیں۔ مگر مشکل وہاں آتی ہے جب کوئی موڑ آجائے۔ پاکستان کی گاڑی چل رہی تھی۔ خواجہ صاحب کی جگہ کوئی اور سادہ مزاج ہوتا وہ بھی کام چلا لیتا۔ مگر مرزائیوں کی ریشہ دوانیاں اور حکومت پر قبضہ کرنے کے خواب نے پاکستان کی گاڑی کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں ایک ہوش مند، تجربہ کار اور باحوصلہ انسان کی ضرورت تھی۔ یہ حوصلہ خواجہ ناظم الدین میں موجود نہ تھا اور نہ وہ اس خطرناک صورتحال کو ٹھیک طرح سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب ہم نے یہ عرض کیا کہ مرزائیوں نے ربوہ کو مضبوط قلعہ بنا لیا ہے تو خواجہ صاحب نے چونک کر فرمایا: ”یہ بالکل غلط ہے۔ ہم سرگودھا کی سڑک پر سے موٹر میں گزرے ہیں۔ ہم نے راہ چلتے ربوہ دیکھا ہے۔ وہاں تو کوئی قلعہ نہیں۔ بے ہنگم سے پتھروں کی ایک چھوٹی سی چار دیواری ہے۔ آپ کو کس نے بتایا کہ وہاں قلعہ بن گیا ہے؟“ ہمیں خواجہ صاحب کی سادگی اور معاملہ فہمی پر ہنسی بھی آئی اور دکھ بھی ہوا کہ یہ ہمارے وزیراعظم ہیں۔ قلعہ کا مفہوم بھی نہیں سمجھتے۔ چنانچہ ہم نے انہیں سمجھایا کہ امت مرزائیہ ربوے میں قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئی ہے۔ باہر والوں کو کچھ معلوم نہیں ہو سکتا کہ اندر کیا ہو رہا ہے؟ ہم نے اس شکایت پر یہ بھی عرض کیا کہ وہاں بلا لائسنس کا اسلحہ بھی موجود ہے اور مسلح پریڈ ہوتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو آج ہی چھاپہ مارنے کا بندوبست کیجئے اور ہمارے ہمراہ کسی کو بھیج دیجئے۔ کل کے لئے ہم ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ اس لئے حکومت کی مشین پر سر ظفر اللہ خان چھائے ہوئے ہیں۔ وہ مرزا محمود کو خبردار کریں گے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو مرزا محمود کی اپنی سی آئی ڈی یعنی سرکاری مرزائی ملازم مرزا محمود کو قبل از وقت اطلاع کر کے احتیاطی تدابیر کر لینے کا موقعہ دیں گے۔ تب ہم جھوٹے ثابت ہوں گے۔“

صفحہ ۱۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خواجہ صاحب نے اس بارہ میں مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے طور پر تحقیقات کا بندوبست کریں گے ۔ ہم نے اسی وقت معذرت کی اور کہا کہ آپ کی تحقیقات بحالات موجودہ مکمل نہ ہوں گی ۔ بہر حال اس ملاقات میں بھی صرف اتنا ہوا کہ ہم نے خواجہ صاحب ایسے نیک انسان کو صرف خبردار کیا مگر ہم جانتے تھے کہ اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکے گا ۔

آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب کے منظور شدہ فیصلے

جو ۱۸/ جولائی کے یوم مطالبات برائے منظور پیش کئے جائیں اور ان کی منظوری کے بعد وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیجے جائیں ۔ شیخ محمد عبدالرشید صدیقی ، داعی بورڈ

قرارداد نمبر: ۱

محرک : مولانا غلام محمد صاحب ترنم مؤید : حضرت علامہ کفایت حسین صاحب

والوں کو اس طرح کافر قرار دیا ہے ۔ جیسے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکر کافر ہیں ۔

وجہ سے عیسائی کافر ہیں ۔ اسی طرح غلام احمد کے نبی نہ ماننے کی وجہ سے تمام اہل اسلام کو کافر قرار دیا ہے ۔ گویا جس طرح عیسائی اور مسلمان ایک قوم نہیں اسی طرح مسلمان اور مرزائی بھی ایک قوم نہیں ۔ اس لئے کوئی مرزائی بڑے سے بڑے مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتے ۔ چنانچہ چوہدری ظفر اللہ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا اور مسلمانوں کے کسی معصوم بچہ تک کا بھی جنازہ نہیں پڑھتے ۔

سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے ، مرتد قرار دے دیتے ہیں ۔

ختم نبوت ہونا تسلیم نہ کرے ۔ بلکہ تسلسل نبوت کا قائل ہو ۔ وہ اسلام سے خارج متصور ہوتا ہے ۔ برہمو سماج حضور نبی کریم ﷺ کو نبی تو مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے بعد تسلسل نبوت کے قائل ہونے کی وجہ سے خارج از اسلام سمجھتے ہیں ۔ ایسے ہی غلام احمد اور اس کی امت برہمو سماج وغیرہ کی طرح تسلسل نبوت کے قائل ہونے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔

اختلاف پایا جاتا ہے اور نبوت کی تقسیم سے قوم جدا ہو جاتی ہے ۔ جیسا کہ یہود میں سے کسی نے عیسیٰ علیہ السلام کو نبی تسلیم کر لیا تو وہ یہودی نہ رہا ۔ حالانکہ اسی نے موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں کیا ۔ کسی عیسائی نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی مان لیا تو عیسائیت سے انکار کیا ۔ اگر چہ عیسیٰ علیہ السلام کا اس نے انکار نہیں کیا ۔ اسی طرح جب کسی مسلمان نے مرزا غلام احمد کی نبوت کو قبول کر لیا تو وہ مسلمان نہ رہا ۔ اگر چہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نبی مانتا ہو ۔ اسی لئے نقاش پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے انگریزی دور

صفحہ ۱۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اقتدار میں مطالبہ کیا تھا کہ مرزائیوں کو اہل اسلام سے جدا غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جس طرح ہندو سے سکھ جدا کر دیئے گئے ہیں۔ (تفصیل حرف اقبال از لطیف شیرازی میں موجود ہے ) چنانچہ حضرت علامہ اقبال نے انجمن حمایت اسلام کی رکنیت اور دیگر ذمہ داریوں سے مرزائیوں کو غیر مسلم ہونے کی وجہ سے خارج کر دیا تھا۔

اس نے خود ذکر کیا۔ ”میں نے اپنے ایک نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو میں اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

(الفضل قادیان ج ۳۴ نمبر ۲۶۴، مورخہ ۱۳؍ نومبر ۱۹۴۶ء، خطبات محمود ج ۲۷ ص ۵۳۱)

بنابریں یہ کنونشن مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان کو علیحدہ غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے ان کے حقوق مسلمانوں سے جدا کر کے مسلمانوں کے حقوق دستبرد سے محفوظ کرے۔

قرارداد نمبر:۲

محرک: مولانا محمد بخش مسلم (بی۔اے) مؤید: مولانا داؤد غزنوی (صدر: جمعیۃ اہل حدیث)

آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب (منعقدہ لاہور) کا یہ اجلاس اس حقیقت کو پورے زور سے واضح کر دینا اپنا ایمانی، قومی، ملی اور ملکی فرض تصور کرتا ہے کہ ختم نبوت یا رد مرزائیت کے مضمون پر کسی فرد یا جماعت کا اظہار کرنا خواہ وہ مسجد میں ہو یا کسی جلسہ عام میں نہ صرف جائز بلکہ اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے کہ مسلمان جماعت خواہ وہ احرار ہوں یا غیر احرار، اس حق سے محروم کرنے صریحاً مداخلت فی الدین تصور کرتا ہے اور ہم اسے کسی صورت میں برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ نیز ہم اس امر کو مذموم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے مرزائیوں اور احرار کو یکساں قرار دیا ہے۔ امن عامہ کے پیش نظر حکومت کا یہ فرض ہے کہ دفعہ ۱۴۴ اٹھا کر گرفتار شدگان کو رہا کر کے فضا کے تکدر کو دور کرے۔ ورنہ کسی جماعت یا فرد پر پابندی جملہ اہل اسلام پر پابندی سمجھی جائے گی۔

قرارداد نمبر:۳

محرک: مولانا بہاؤ الحق صاحب قاسمی امرتسری مؤید: حضرت علامہ علاؤ الدین صاحب صدیقی (صدر: شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی لاہور)

آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب، چوہدری سر ظفر اللہ خان وزیر خارجہ کی پاکستان کے ساتھ وفاداری کو مشکوک جانتا ہے۔ نیز یقین رکھتا ہے کہ چوہدری سر ظفر اللہ خان نے وزارت خارجہ کے عہدہ کو مرزائیت کی تبلیغ اور اسلامی ملکوں میں مرزائیت کے دفتر کھلوانے اور ملازمتوں پر مرزائیوں کو قابض کرانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور یہ کہ پاکستان اور ہندوستان کو صرف قادیان کی وجہ سے ہی اکھنڈ بنانے پر مذہبی عقیدہ رکھتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کرانے میں ان کی ناکامی نہ صرف ان کی نا اہلیت کی وجہ سے ہے بلکہ برطانیہ سے سر ظفر اللہ خان

صفحہ ۱۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور ان کی جماعت کی قدیم مذہبی وفاداری کو اس میں بہت بڑا دخل ہے۔ اس لئے پاکستان، اسلامی ممالک اور کشمیر کے مفاد کا تقاضا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے جلد از جلد علیحدہ کر دیا جائے۔

قرارداد نمبر:۴...... اراضی ربوہ کی واپسی کا مطالبہ

محرک: مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش مؤید: قاضی مرید حسین (ایم۔ایل۔اے) آل مسلم پارٹیز کنونشن۔ مرزائی پارٹی کی گزشتہ تاریخ کے پیش نظر قادیان میں دن دہاڑے قتل کرانا، مکانات کا جلانا، مخالفین کو اخراج از شہر کی سزا، دیوانی، فوجداری مقدمات میں جرمانہ، قرقی جائیداد، سزائے بید زنی دینا اور باوجود ان سب باتوں کے پولیس کا گواہ مہیا کرنے سے عاجز رہنا اور قانون کا شل ہو جانا جس پر اس انگریزی زمانہ کی عدالتوں کے فیصلہ جات گواہ ہیں۔ اس خیال کو تقویت پہنچاتا ہے کہ ربوہ کی آبادی جو اب صرف قادیانیوں کی بنائی جا رہی ہے۔ اب جس کے اردگرد کے بارہ مواضعات کی متروکہ اراضی جو مہاجرین کو الاٹ ہوئی تھی ان سے چھین کر مرزائیوں کے حوالے کی جا رہی ہے۔ جس میں کسی دیگر فرقہ کی کوئی آبادی نہیں ہوگی۔ گزشتہ حالات واقعات کے اعادہ کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ اس لئے یہ کنونشن حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ تعمیر شدہ عمارتوں کے علاوہ باقی خالی زمین واپس لے کر دیگر فرقوں کو آباد کر کے آنے والے خطرات کا سدباب کرے۔

قرارداد نمبر:۵

محرک: مولانا محمد یوسف صاحب سیالکوٹی مؤید: مولانا عبدالستار نیازی (ایم۔ایل۔اے) آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب (منعقدہ لاہور) کا یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ تمام وہ مطالبات جو تجاویز کی شکل میں منظور کئے گئے ان کی تائید میں ۱۸؍ جولائی ۱۹۵۲ء کا جمعہ یوم مطالبات منایا جائے اور تمام مساجد اور علماء اکابر ملت سے استدعا کرتا ہے کہ اس کنونشن کی منظور کردہ قراردادوں کی تائید کر کے اپنے فیصلوں کی اطلاع حکام ضلع اور صوبہ کے وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں بھیج دیں۔

سر پر کفن باندھ کر اس قربانی کو پیش کریں گے۔ اگر جیلوں میں جانے کا سوال پیدا ہوا تو ہم جیلوں کو بھر دیں گے۔

قرارداد نمبر:۶

محرک: مولانا محمد ذاکر صاحب (ایم۔ایل۔اے) مؤید: علامہ محمد یعقوب صاحب آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب کا یہ اجلاس پاکستان کی سالمیت کو اپنا ملکی و ملی فریضہ تصور کرتا ہے اور مملکت پاکستان سے اس دلی محبت کے پیش نظر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو متنبہ کرتا ہے کہ چونکہ مرزائیوں کی وفاداری پاکستان کے ساتھ مشکوک ہے اور ان کے مذہبی سیاسی رہنما مرزا محمود کے عزائم سے جیسا کہ ان کے خطبات اور دیگر تدابیر سے عیاں ہے۔ یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستان پر اپنا تسلط جمانا چاہتے ہیں اور اسی کے لئے ممکن تیاریاں بھی کر رہے ہیں۔ جن کی تکمیل کے لئے انہوں نے ربوہ کو مسلمانوں سے بالکل الگ مخصوص مرکز بنا رکھا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان بالعموم اور ملازم طبقہ بالخصوص اپنے تجربات اور مشاہدات کی بناء پر مرزائیوں کو پاکستان اور ملت اسلامیہ کے

صفحہ ۱۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے غایت درجہ خطرناک تصور کرتا ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ مرزائیوں پر کڑی نگرانی رکھے اور ان کی خطرناک سرگرمیوں کی تفتیش و تحقیقات کے لئے ایک مجلس تحقیقات متعین کرے جس کے ارکان میں غیر سرکاری مسلمان عناصر بھی شامل ہوں۔ نیز جو مرزائی ذمہ دار عہدوں پر فائز ہیں ان کو اپنے منصب کی آڑ میں تبلیغ مرزائیت سے روکنے کا فوری اقدام کرے۔

مسلم لیگ سے مطالبہ

آل مسلم پارٹیز کنونشن کا یہ اجلاس ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ کی جنرل کونسل اور صوبہ کی نمائندہ اسمبلی کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اپنے قریبی اجلاس میں فتنہ مرزائیت کے سدباب کے سلسلہ میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور چوہدری ظفر اللہ کی وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کی تجویز کو پاس کر کے سنٹرل مسلم لیگ اور سنٹرل گورنمنٹ کو روانہ کر کے پنجاب کے تمام مسلمانوں کی ترجمانی کرنے کے فرائض سرانجام دے۔

مولانا اختر علی خان کراچی میں

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: پنجاب سرحد اور سندھ میں کانفرنسیں جلسے وغیرہ زوروں پر ہورہے تھے۔ مجلس عمل نے جولائی ۱۹۵۲ء کے اواخر میں مولانا اختر علی خان خازن مجلس عمل کو کراچی ایک خاص مشن پر بھیجا۔ اصل بات یہ تھی کہ پنجاب کے گزشتہ واقعات اور ان کے نتیجہ میں مجلس عمل کی تشکیل کے بعد مجلس عمل کے رہنماؤں نے سنجیدگی سے یہ محسوس کیا کہ مندرجہ ذیل چار مطالبات:

میں سے اوّل الذکر تین مطالبات کا تعلق مرکزی حکومت سے ہے۔ صوبائی حکومت نہ تو ظفر اللہ خان کو کابینہ سے علیحدہ کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی اور دوسرے قادیانی افسر کو کسی کلیدی عہدہ سے علیحدہ کرنے کی مجاز ہے۔ اسی طرح اقلیت قرار دینے کا تعلق دستور ساز اسمبلی سے ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا تھا کہ صوبائی حکومت اپنا نقطہ نظر یا اپنی تائید مرکز کو پہنچادے۔ چنانچہ صوبائی لیڈروں نے اپنے صوبائی مسلم لیگ کے اجلاس میں اس مقصد کے لئے ایک ریزولیوشن قادیانیت کے متعلق منظور کر ہی دیا تھا۔ ممکن ہے صوبائی حکومت کو کچھ اور فرصت مل جاتی تو وہ اسی مضمون کی ایک قرارداد صوبائی اسمبلی سے بھی منظور کروا کر تائید مزید کر دیتی۔ بہرحال یہ ایک حقیقت تھی کہ اوّل الذکر مطالبات اس وقت تک تسلیم نہیں کئے جاسکتے تھے۔ جب تک کہ مرکزی حکومت ان مطالبات کے متعلق اپنی رائے درست نہ کر لیتی اور پھر مطالبہ نمبر ۱ کو دستور ساز اسمبلی کے ذریعہ حل کیا جاتا اور ۲، ۳ کو انتظامیہ کے طور پر مان لیا جاتا۔ البتہ صرف چوتھا مطالبہ ایسا تھا جس کا تعلق صوبائی حکومت سے تھا۔ یعنی ربوہ کی بقیہ زمین کی واپسی اور اسے عام مسلمانوں میں رہائشی مقاصد کے لئے تقسیم کر کے ربوہ کو کھلا شہر بنانے کا مسئلہ اس کے علاوہ کچھ مقامی شکایات بھی تھیں۔

یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ جب تک مرکز قادیانی مسئلہ کے مضر پہلوؤں پر یقین نہ کر لیتا اور ان کے متعلق حوصلہ شکن پالیسی اختیار نہ

صفحہ ۱۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر لیتا۔ اس وقت تک غالباً صوبائی حکومت کے لئے بھی چوتھا مطالبہ ماننا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور تھا۔ اگر مرکزی حکومت ملک کے سواد اعظم کے مطالبات کو درست تسلیم نہ کرتی اور برابر مرزائیت کی حوصلہ افزائی والی پالیسی پر گامزن رہتی اور صوبائی حکومت مرزائیوں کے خلاف اقدامات شروع کر لیتی تو صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان ایک ہی مسئلہ کے متعلق دو مختلف پالیسیوں کے اختیار کرنے کی وجہ سے ”من چہ گویم و طنبورہ من چہ می سرائید“ کی کیفیت کے علاوہ بے شمار الجھنیں پیدا ہو جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت آخری وقت تک مرکزی حکومت کی اس مسئلہ کے سلسلہ میں کسی واضح ہدایت کی عدم موجودگی میں مسلسل گومگو کی پالیسی میں رہی اور بالآخر ہوا جو کچھ ہوا۔

مرکزی حکومت سے رابطہ

اس لئے مجلس عمل نے صوبائی حکومت کے علاوہ مرکزی حکومت سے رابطے کو ضروری خیال کرتے ہوئے مولانا اختر علی خان کو کراچی بھیجا تھا۔ مولانا اختر علی خان نظر بظاہر کچھ غیر جانبدارانہ سے ذاتی قسم کے دورہ کی شکل میں کراچی گئے۔ لیکن یہ سب کچھ طے شدہ امر تھا۔ مولانا کا اس وقت زمیندار اخبار کی وجہ سے تحریک، عوام اور سرکاری حلقوں پر بڑا اثر و رسوخ تھا۔ اس لئے کراچی انہیں بھیجنا مفید سمجھا گیا۔ مولانا لال حسین اختر کراچی میں تھے۔ مرزائیوں کے جہانگیر پارک والے جلسہ سے کراچی کے مسلمانوں میں قادیانیوں کے خلاف بے پناہ جذبہ پیدا ہوچکا تھا۔ مولانا لال حسین اختر اس جذبے کو منظم کرنے کے لئے مسلسل کوشش کررہے تھے۔ جب مولانا اختر علی خان کراچی پہنچے تو مولانا لال حسین اختر نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ان کے اعزاز میں نگار ہوٹل میں ایک شاندار عصرانہ دیا۔ اس تقریب میں کراچی کے علمائے کرام، معززین اور اخبارات کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس عصرانہ کی مختصر روئیداد ملاحظہ فرمائیے۔

کراچی: مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے روزنامہ زمیندار لاہور کے ایڈیٹر مولانا اختر علی خان کے اعزاز میں نگار ہوٹل میں عصرانہ دیا گیا۔ جس میں مقامی مدیران جرائد کے علاوہ سید حسین امام، مسٹر محمد ہاشم گزدر رکن دستور ساز اسمبلی، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا احتشام الحق، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا لال حسین اختر، عبدالمجید سالک، مولانا نورانی میاں اور کراچی کے معزز تاجران اور علماء کرام نے شرکت کی۔

آغاز: سب سے پہلے مولانا لال حسین اختر ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے فتنہ مرزائیت کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے، روزنامہ زمیندار حضرت مولانا ظفر علی خان مدظلہ العالی اور مولانا اختر علی خان کی ان خدمات کو سراہا جو انہوں نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کے سلسلہ میں سرانجام دی ہیں۔

مولانا نے فرمایا: زمیندار لاہور بجا طور پر یہ فخر کر سکتا ہے کہ اس نے ہمیشہ قادیانی فتنہ کو بیخ و بن سے اکھاڑنے میں ہر ممکن جدوجہد کی ہے۔ آپ نے فرمایا: مولانا اختر علی خان بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اخبارات کی روایات کو زندہ رکھا ہے۔ آپ امت مسلمہ کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اس مؤثر اخبار سے مسلسل کام لے رہے ہیں۔

مولانا نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے مرزائیوں کے ترجمان خصوصی الفضل کی ۱۵؍ جولائی کی اشاعت میں سے اس مضمون کے چند اقتباسات پڑھ کر سنائے جس میں پاکستان کے پانچ علماء کرام کو قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس رویہ پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے الفضل کی اس ذلیل اور مجرمانہ تحریر کا کوئی محاسبہ نہیں کیا۔

مولانا عبدالحامد بدایونی

مولانا عبدالحامد بدایونی نے ختم نبوت کے بارے میں حکومت پنجاب کے رویّہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ

صفحہ ۱۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسئلہ محض مجلس احرار کا نہیں بلکہ تمام مسلمانان عالم کا متفقہ مسئلہ ہے جو لوگ مسئلہ ختم نبوت کو احرار کا سٹنٹ قرار دیتے ہیں۔ وہ بالکل غلط راہ پر ہیں۔ آپ نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ مرزائی خود بھی اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں سے ایک علیحدہ گروہ ہے۔ جو اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہلاتا ہے۔ جن لوگوں نے باؤنڈری کمیشن کی رپورٹ کو اچھی طرح پڑھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مرزائیوں کے مرزا بشیر الدین محمود نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں اور ان کے بیان ہی کا نتیجہ تھا کہ گورداسپور کو پاکستان سے الگ کر دیا گیا۔ پاکستان سے گورداسپور کی علیحدگی کی تمام ذمہ داری مرزائیوں پر عائد ہوتی ہے۔

احتشام الحق تھانوی

آپ کے بعد مولانا احتشام الحق تھانوی نے زمیندار اور کراچی کے اس معزز پریس کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فتنہ مرزائیہ کے قلع قمع کرنے کے لئے قوم کی صحیح ترجمانی کے فرائض سر انجام دیئے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ آپ نے مفتی اعظم مصر کے فتوے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتی مصر نے مرزائیوں کے متعلق فتویٰ دے کر اسلام کے بنیادی احکام کو واضح فرمایا ہے۔

مولانا مفتی محمد شفیع

مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت بہت جلد مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرے اور ملک میں بڑھتی ہوئی پریشانی کا انسداد کرنے اور پاکستان کے زیر ترتیب دستور میں اس امر کی قطعی صراحت کر دی جائے کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ انہوں نے آخر میں فرمایا کہ فتنہ مرزائیت کو ختم کرنے کی تحریک آج سے نہیں بلکہ ۱۹۰۷ء سے چل رہی ہے اور زمیندار نے ۱۹۲۴ء سے علماء کے وفد کا رد مرزائیت کے سلسلہ میں ساتھ دیا تھا۔

حسین امام

آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت صرف مجلس احرار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہم مسلم لیگی اسے دنیائے اسلام کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ہم متحد و متفق ہو کر فتنہ رذیلہ مرزائیت کو ختم کر کے دم لیں گے۔ آپ نے فرمایا: میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے وزراء کیا کر رہے ہیں؟ وہ ظفر اللہ سے کیوں دبتے ہیں۔ اگر ظفر اللہ کفر کی تبلیغ جرأت سے کرتے ہیں تو ہمارے وزراء تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں مسلمانوں کا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟ اگر ہمارے وزراء مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو عوام کی نظروں میں ان کا وقار باقی نہیں رہ سکے گا۔ اس وقت تمام جمہور مسلمان اس بات پر متفق ومتحد ہیں کہ فتنہ مرزائیت کو ختم کر دیا جائے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

مولانا اختر علی خان

آپ نے اپنی تقریر کے آغاز میں فرمایا کہ سب سے پہلے میں علماء کرام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے فتنہ مرزائیت کے انسداد کے لئے جدوجہد جاری رکھی ہے۔ آپ نے یقین دلایا کہ میری اور زمیندار کی خدمات دین اسلام کی ترقی اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف ہیں۔ آپ نے فرمایا میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کے مطالبہ کی حمایت میں اپنی تمام قوت صرف کروں گا۔ آپ نے فرمایا اب دو ہی صورتیں ہیں یا مرزائیت زندہ رہے گی یا ہم زندہ رہیں گے۔ اب تمام مسلمانوں نے مرزائیت کو ختم

صفحہ ۱۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلہ میں فرزندان توحید سر دھڑ کی بازی لگانے سے بھی گریز نہ کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ میں حیران ہوں کہ پاکستان کے وزراء خاموش کیوں ہیں؟ وہ واضح الفاظ میں اعلان کریں کہ وہ مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کریں گے یا قادیانیت کا ساتھ دیں گے۔ ان کو ایک راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے وزراء اگر جمہور مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم نہ کریں گے تو یہ ان کرسیوں پر بیٹھنے کے حقدار نہیں ہوں گے۔ آپ نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اب وقت آ گیا ہے کہ مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے الگ کر دیا جائے۔ اس کی وجہ سے مرزائی ناجائز فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ جب تک حکومت سر ظفر اللہ خان کو علیحدہ نہیں کر دیتی اس وقت تک نہ پاکستان ترقی کر سکتا ہے اور نہ اسلام۔

آپ نے فرمایا: اگر مرزائیت کی مخالفت کرنے سے کوئی آدمی احراری ہو جاتا ہے تو میں سب سے پہلا احرار ہوں۔

آپ نے فرمایا: ماسٹر تاج الدین انصاری صدر مرکزیہ مجلس احرار، اسلامیان پاکستان اور شیخ حسام الدین ناظم اعلیٰ مجلس احرار امسال ختم نبوت پر مسجد میں تقریر کریں تو انہیں جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بند کر دیا جائے اور مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ لاہور میں دفعہ ۱۴۴ کے باوجود مسلمانوں کے خلاف جلسہ عام میں اشتعال انگیز تقریر کریں تو ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔

خواجہ ناظم الدین سے ملاقات

مولانا اختر علی خان نے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان اور دوسرے وزراء سے ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں انہیں عوام کے جذبات سے آگاہ کیا۔ مجلس عمل کا نقطۂ نگاہ بھی عرض کیا اور ان پر زور دیا کہ چونکہ مطالبات بالکل درست ہیں۔ اس لئے انہیں مان لیا جائے۔ اسی میں آپ کی عزت ہے۔ اسی میں مسلم لیگ کا بھلا اور اسی میں ملک کا مفاد ہے۔ خواجہ ناظم الدین مولانا اختر علی خان کی مخلصانہ اور دوستانہ عرضداشت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے تسلیم کر لیا کہ مطالبات درست ہیں اور وعدہ کر لیا کہ ۱۴؍ اگست قریب ہے۔ میں ۱۴؍ اگست کو اس کے متعلق اعلان کر دوں گا۔ عوام کو مطمئن رہنا چاہئے۔ ۱۴؍ اگست کا اعلان ان کی خواہش کے مطابق ہوگا اور ملت کی ساری بے چینی جاتی رہے گی۔ مولانا اختر علی خان اور خواجہ ناظم الدین کی اس ملاقات کی خبر ’’روزنامہ زمیندار‘‘ اشاعت ۱۴؍ اگست ۱۹۵۲ء کو شائع ہوئی جو من و عن درج کی جاتی ہے۔

کراچی: (ڈاک سے) مولانا اختر علی خان کی قیادت میں تحریک تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد وزیر اعظم پاکستان الحاج خواجہ ناظم الدین سے ملاقاتی ہوا۔ مولانا اختر علی خان نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ وزیر اعظم کی خدمت میں مرزائیت کے متعلق مسلمانوں کے احساسات و جذبات پیش کئے اور کہا کہ مسلمانوں کے یہ مطالبات ہیں۔

مولانا اختر علی خان نے کہا کہ ربوہ میں جو اراضی مرزائیوں کو ٹکے گز کے حساب سے دی گئی ہے وہ علاقہ گولی مار کے ۷۵ ہزار

صفحہ ۱۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مہاجروں کو دے دیا جائے تاکہ وہ اسی اراضی پر مکانات بنا کر آرام اور امن کی زندگی بسر کر سکیں۔ وزیر اعظم نے وفد کی معروضات کو نہایت اطمینان اور ہمدردی سے سنا۔

وزیر اعظم کا جواب

وزیر اعظم نے تمام معروضات سننے کے بعد فرمایا: مجھے ملک کے جذبات و احساسات کا پورا علم ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مسلمان کیا چاہتے ہیں۔ لیکن میں انہیں اپیل کروں گا کہ حکومت ان کے جذبات کا پورا پورا احترام کرتی ہے۔ لیکن ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے راستے میں کچھ آئینی دشواریاں ہیں۔ ان دشواریوں کو دور کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس لئے مسلمانوں کو توقف اور اطمینان سے کام لینا چاہئے۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے میں حکومت سے تعاون کرنا چاہئے۔ ہم جو بھی فیصلہ کریں گے وہ متفقہ ہوگا اور مسلمانوں کے لئے قابل قبول ہوگا۔ آپ نے قدرے زوردار الفاظ میں فرمایا: ہمارا فیصلہ علمائے کرام اور علمائے اسلام کی مرضی کے عین مطابق اور قانون شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوگا۔ مسلمانوں کو اطمینان اور امن سے حالات کا جائزہ لینا چاہئے اور قانون کا احترام کرنا چاہئے۔

آپ نے فرمایا کہ ۱۴ اگست تک اپنی بنیادی حکمت عملی کا اعلان کر دیں گے۔ ۱۴ اگست تک حکومت اپنے مؤقف کی وضاحت کر دے گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت ملک کی رائے عامہ کو مطمئن کر دے گی۔

وزیر اعظم الحاج خواجہ ناظم الدین کے ارشادات گرامی سننے کے بعد مولانا اختر علی خان نے جواباً کہا: ہم نے بہت زیادہ توقف، اطمینان اور صبر کیا۔ ہم نے انتہائی افسوس ناک واقعات پر بھی صبر کیا ہے۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے وزیر اعظم جو انتہائی دین دار ہیں جن کے دل میں اسلام کی بے حد محبت ہے اور جو اس تاریک دور میں باشندگان پاکستان کے لئے واحد روشنی کی کرن ہیں، اگر یہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو مزید توقف کرنا چاہئے اور صبر سے کام لینا چاہئے تو ہم اپنے زاہد و عابد اور شب زندہ دار وزیر اعظم کو یقین دلاتے ہیں کہ مسلمان ان سے پورا پورا تعاون کریں گے۔ صبر وضبط اور نظم ونسق کا پورا ثبوت مہیا کریں گے۔ مسلمان ان کی حکومت سے پورا تعاون کریں گے۔

مولانا اختر علی خان کا بیان ہے کہ وزیر اعظم الحاج خواجہ ناظم الدین ملکی حالات اور وفد کی معروضات سے بے حد متأثر نظر آتے تھے۔ مولانا اختر علی خان کی ملاقات سے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان بہت متأثر ہوئے اور انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کے عہدہ سے علیحدہ کرنے اور قادیانیوں کے متعلق اصولی طور پر اقلیت کا مطالبہ مان لینے کا فیصلہ کر لیا۔

جب چوہدری ظفر اللہ خان کو وزیر اعظم سے مولانا اختر علی خان کی ملاقات اور وزیر اعظم کے خیالات اور مشوروں کا علم ہوا تو وہ سر پر پاؤں رکھ کر کراچی سے لاہور اور لاہور سے ربوہ پہنچے۔ ربوہ پہنچنے کا مقصد مرزا محمود خلیفہ ربوہ سے مشورہ کرنا تھا۔ چوہدری صاحب کے سامنے دو صورتیں تھیں: (۱) ۱۴ اگست کو وزیر اعظم اعلان کر دیں کہ عوام کے مطالبہ کے پیش نظر چوہدری ظفر اللہ خان کو علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ (۲) چوہدری صاحب ۱۴ اگست سے پہلے پہلے خود ہی رضا کارانہ طور پر وزارت سے مستعفی ہو جائیں۔

اغلب یہی ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے چوہدری صاحب کے سامنے یہ دونوں حالتیں پیش کی گئی ہوں گی اور چوہدری صاحب فیصلہ سے قبل ربوہ کے مشورہ کے لئے ڈرامائی انداز میں ربوہ پہنچ گئے۔ اس سلسلہ میں روزنامہ آزاد لاہور اشاعت ۳؍ اگست ۱۹۵۲ء میں جو خبر شائع ہوئی تھی ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ ۱۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روزنامہ آزاد لاہور کی خبر

(لاہور، یکم /اگست) نہایت معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان جنہوں نے آج قادیانی عبادت گاہ نور بیرون دہلی گیٹ میں پروگرام کے ماتحت جمعہ کے موقع پر تقریر کرنا تھی، پراسرار طریق سے ربوہ تشریف لے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے چونکہ مرزائیوں کے ”امیر المومنین“ مرزا بشیر الدین محمود آج کل ربوہ میں قیام پذیر ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان اپنے استعفیٰ کے متعلق آخری مشورہ کرنے اور استعفیٰ دینے کے لئے ”تاریخ“ اور ”دن“ کے تعین کے لئے مرزا محمود کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ مرزا محمود کی اجازت اور حکم نامہ کے بعد سر ظفر اللہ خان وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے کر کرسی وزارت کسی مسلمان کے لئے خالی کر دیں گے۔ سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ سر ظفر اللہ کے وزارت خارجہ سے استعفیٰ کے بعد عنقریب پاکستان کی مرکزی کابینہ میں نمایاں قسم کی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ ملک کے حالات کے پیش نظر اس مسئلہ پر نہایت اہتمام کے ساتھ غور و فکر کی جا رہی ہے کہ سر ظفر اللہ خان کے وزارت خارجہ کا عہدہ کس کے سپرد کیا جائے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ سر فیروز خان نون کا رخصت لے کر انگلستان جانا اور ان کی جگہ مشرقی بنگال میں نئے گورنر کے تعین کا پس منظر یہی ہے کہ سر فیروز خان نون کو وزارت خارجہ کے عہدہ پر متمکن کر دیا جائے گا۔ بعض حلقوں میں سردار عبدالرب نشتر کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ لیکن اب تک ان میں سے کسی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکومت عنقریب خود اعلان کر دے گی۔ چوہدری صاحب سے جب ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا کہ لاہور میں آپ کی آمد کا مقصد کیا ہے؟ تو چوہدری صاحب نے اس پر روشنی ڈالنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے اس کا بھی جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آپ کتنے دن لاہور میں قیام پذیر رہیں گے۔ رتن باغ لاہور میں تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کے ایک وفد کو آپ نے شرف ملاقات بخشا۔ طلباء نے زار و قطار رو کر چوہدری صاحب کی خدمت میں عرض کی۔ حضور! آپ کے استعفیٰ کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟ چوہدری صاحب نے قرآن کی آیت پڑھ کر لڑکوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت پر یہ سخت ابتلاء اور آزمائش کا دور ہے۔ ہمیں صبر وتحمل سے کام لینا چاہئے۔ اس سلسلہ میں حضرت صاحب خصوصی دعاؤں میں مشغول ہیں۔ ان شاء اللہ بہتری ہوگی۔

چوہدری ظفر اللہ خان کا استعفیٰ

بہر حال یہی امر واقع ہے کہ وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین نے چوہدری صاحب کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور قادیانیوں کو اگر چہ فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا وہ اعلان نہیں کر رہے تھے۔ تاہم اصولی طور پر اس مطالبہ کو تسلیم کر لینے کا وہ اعلان کر دینا چاہتے تھے۔ البتہ ان کا خیال یہ تھا کہ فیصلہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہونا چاہئے بلکہ پورے عالم اسلام کا متفقہ ہونا چاہئے۔ اگر پاکستان میں مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے اور ترکی انڈونیشیا یا کسی دوسرے اسلامی ملک کی حکومت انہیں مسلمان ہی قرار دے تو صورتحال کیا ہو گی۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ عالم اسلام کی بنیاد پر کوئی متفقہ فیصلہ کیا جانا چاہئے۔

چوہدری ظفر اللہ خان کے کراچی سے ربوہ جاتے ہی ملک میں چوہدری صاحب کے استعفیٰ کی افواہیں پھیلنے لگیں۔ کراچی کے اخبارات نے چوہدری صاحب کے استعفیٰ کی خبریں بھی شائع کر دیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل خبر بھی ملاحظہ فرمائیں۔

کراچی، ۸/اگست: آج کراچی کے تمام اخبارات نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا کہ مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مرکزی کابینہ کا اجلاس خاص طور پر طلب کیا گیا جس میں سر ظفر اللہ کے استعفیٰ پر خصوصی غور کیا گیا۔ اگر چہ

صفحہ ۱۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم پاکستان نے چوہدری کو ترغیب دی ہے کہ آپ اپنا استعفیٰ واپس لے لیں۔ لیکن چوہدری صاحب اس بات پر راضی نہیں ہو رہے ہیں۔ باخبر سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ چوہدری صاحب کے مستعفی ہونے کا فیصلہ قطعی ہے۔ چوہدری صاحب نے یہ اقدام مرزا بشیر الدین کے مشورہ کے تحت کیا ہے۔ پچھلے دنوں جب لاہور سے ہوتے ہوئے اپنے استعفیٰ کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے ربوہ گئے تو مرزا محمود کے ساتھ ایک بند کمرے میں دو گھنٹہ تک بحث و مذاکرہ ہوتا رہا۔ بالآخر مرزا محمود نے چوہدری صاحب کو مجبور کر دیا تھا کہ اب ملک کے حالات ایسی صورت اختیار کر گئے ہیں کہ اس وقت مستعفی ہو کر جماعتی کام کرنا زیادہ مناسب ہے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ چوہدری صاحب نے پروگرام کے مطابق لاہور میں کئی روز تک قیام کرنا تھا۔ مگر جب وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین صاحب نے یہ ”اعلان حق“ کیا کہ ۱۴؍ اگست کو حکومت مرزائیوں کے متعلق اپنی واضح پالیسی کا اعلان کر دے گی تو چوہدری ظفر اللہ خان، مرزا محمود سے مشورہ کرنے کے بعد اسی وقت کراچی روانہ ہو گئے اور اس بدنامی سے بچنے کے لئے کہ اگر حکومت نے مسلمانان پاکستان کے متفقہ مطالبہ کو منظور کر لیا اور مجھ سے وزارت خارجہ کی کرسی چھین کر کسی دوسرے رکن کے سپرد کر دی تو اس طرح میری توہین ہو گی۔ بہتر یہی ہے کہ ایسے حالات پیدا کرنے سے پیشتر ہی اس وزارت کو چھوڑ دیا جائے۔ چوہدری صاحب کے استعفیٰ کی خبر سن کر مرزائی حلقوں میں بے حد اضطراب پایا جاتا ہے۔ ان کا یہ اضطراب اس بناء پر ہے کہ اگر چوہدری صاحب سے وزارت خارجہ کا منصب چھین لیا گیا تو سلسلہ احمدیہ کا وہ کام جو آج تک اس عہدہ کے باعث انجام پاتا تھا اب وہ آخری دم توڑتا نظر آتا ہے اور اب آئندہ ایسے مواقع کا دستیاب ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر مرزائیوں کے مشہور مبلغین اور قائدین چوہدری صاحب سے مسلسل ملاقاتیں کر کے انہیں مجبور کر رہے ہیں کہ آپ اپنا استعفیٰ واپس لے کر مرزائیوں کے اضطراب کو دور کریں۔ آج چوہدری صاحب کے استعفیٰ کی خبر سن کر مسلمانوں میں ایک مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ آج انہیں اپنے مطالبہ کی کامیابی کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی۔

(روزنامہ آزاد مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۵۲ء)

لیکن چوہدری ظفر اللہ خان، خواجہ ناظم الدین سے نہ نکالے گئے۔ پوری قوم کی نگاہیں ۱۴؍ اگست پر لگی ہوئی تھیں کہ اس قومی دن کے موقعہ پر خواجہ ناظم الدین ان کے مطالبات کو مان لیں گے۔ لیکن اندر ہی اندر اس قسم کے حالات پیدا ہو گئے جن حالات میں خواجہ ناظم الدین بے دست و پا ہو کر رہ گئے اور وہ چوہدری ظفر اللہ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

لیاقت علی خان مرحوم خواجہ ناظم الدین سے زیادہ مضبوط اور ذی رائے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے بھی ایک مرحلہ پر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ چند وزراء کو مرکزی کابینہ سے نکال دیں گے۔ جن میں چوہدری ظفر اللہ خان شامل تھے۔ حال ہی میں سرحد کی مشہور شخصیت سردار بہادر خان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیاقت علی خان مرحوم راولپنڈی میں اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر کرنے گئے اور شہید کر دیئے گئے۔ آج بچے بچے کی زبان پر ہے کہ لیاقت علی خان مرحوم کی شہادت کا خاص پس منظر تھا۔ انہوں نے ظفر اللہ خان کو وزارت سے ہٹانا چاہا۔ لیکن خود راستے سے ہٹا دیئے گئے۔ خواجہ ناظم الدین ایک شریف کمزور وزیر اعظم تھے اور پھر کوئی ذی رائے لیڈر بھی نہیں تھے۔ جس طاقت نے لیاقت علی خان کو گولی مروادی تھی اس طاقت نے اب خواجہ ناظم الدین کو بغیر گولی مارے ہی ٹھنڈا کر دیا اور محض سیاسی دباؤ ڈال کر انہیں ظفر اللہ کو نکالنے سے روک دیا گیا۔ ظفر اللہ خان اگست کے پہلے ہفتہ ربوہ پہنچے تھے اور مرزا محمود سے استعفیٰ کے متعلق اجازت اور مشورہ لینے آئے تھے۔ مرزا محمود یہ کس طرح مان سکتے تھے کہ ظفر اللہ خان وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیں اور اس کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ مرزا محمود نے ظفر اللہ خان کو ڈٹے رہنے کا مشورہ دیا اور خود سرکار امریکہ اور

صفحہ ۱۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

برطانیہ سے خفیہ رابطہ پیدا کیا۔ پاکستان کی سیاست میں امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت کا اندازہ لیاقت علی خان مرحوم کی موت سے کیا جاسکتا ہے۔ اس مداخلت کا اعتراف خواجہ ناظم الدین نے انکوائری کورٹ میں اپنی شہادت کے دوران بھی کیا۔ انہوں نے اپنی شہادت میں صاف صاف تسلیم کیا کہ ظفر اللہ خان کو نکالنے کے بعد امریکہ کی طرف سے ایک دانہ اناج پاکستان کو نہیں مل سکتا تھا اور کشمیر کے مسئلے میں بھی امریکہ نے کوئی مدد نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ چنانچہ مرزا محمود خلیفہ ربوہ کی فریاد پر امریکہ اور برطانیہ دونوں نے خواجہ ناظم الدین پر دباؤ ڈالا اور خواجہ صاحب گول ہوگئے۔

ظفر اللہ کا پینترا

چوہدری ظفر اللہ خان کی یہ ہمیشہ پالیسی رہی کہ وہ حکومت پاکستان کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہوتے ہوئے بھی بڑے دھڑلے سے مرزائیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے اور کھلم کھلا مرزائیوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ وہ اپنی اس روش سے کبھی باز نہ آئے۔ انہیں معلوم تھا کہ میرا کھونٹا مضبوط ہے جب انہیں معلوم ہو جاتا کہ میرے نکالنے کا سوال ٹل گیا ہے اور میں اب خطرہ میں نہیں ہوں تو وہ اپنی دیدہ دلیری اور مسلمان وزراء کی بے غیرتی پر مہر ثبت کرنے کے لئے اس طرح کا بیان دے دیتے۔ ذیل میں ہم چوہدری ظفر اللہ خان کے وہ الفاظ نقل کر رہے ہیں جو انہوں نے احمدیہ ہال کراچی میں اس موقعہ پر کہے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں کہ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد ’’مجھے قائد اعظم محمد علی جناح نے وزیر خارجہ مقرر کیا تھا۔ بناء علیہ میں اس عہدہ کو انعام غیبی سمجھتا ہوں اور اس سے مستعفی ہونا میرے لئے کفران نعمت کے مترادف ہے۔ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پریشان نہ ہونا چاہئے۔ وزارت خارجہ سے میرے مستعفی ہونے کی اطلاع سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ میں کسی مخالفت یا شور وشغب کے خوف سے ہرگز مستعفی ہونے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔ میں دھمکیوں اور مخالفتوں سے مرعوب ہونے کا عادی نہیں ہوں۔ لیکن اس معاملہ کی ایک آئینی صورت بھی ہے۔ وہ یہ کہ وزیر اعظم پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کابینہ کے جس رکن سے چاہیں استعفیٰ طلب کر سکتے ہیں۔ اس کا امکان بھی بہت کم ہے۔ اس لئے کہ میرے اور خواجہ ناظم الدین کے درمیان بہت گہرے روابط ہیں۔ وہ اس ہنگامہ اختلاف سے پہلے جس خلوص اور فراخ دلی کے ساتھ مجھ سے پیش آیا کرتے تھے۔ اب بھی پیش آ رہے ہیں۔ لیکن اگر وہ میرے خلاف پھیلی ہوئی ناراضگی سے پیدا شدہ صورت حالات کا دلیری سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو اس صورت میں وہ مجھ سے استعفیٰ بھی طلب کر سکتے ہیں۔ اگر یہ صورت پیش آئی تو میں فوراً وزارت خارجہ سے کنارہ کش ہو جاؤں گا اور پھر یہاں ٹھہروں گا بھی نہیں۔ میرے ایک دوست نے حال ہی میں مجھے ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ تم ان قدر ناشناسوں میں کہاں پڑے ہوئے ہو۔ چھوڑو اس وزارت خارجہ کو اور یہاں چلے آؤ۔‘‘

چوہدری ظفر اللہ خان کی اس تقریر کے ایک ایک لفظ سے چوہدری صاحب کی پختہ زناری اور خواجہ ناظم الدین اور اس کے ہمراہیوں کی بزدلی، منافقت اور بے غیرتی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ وہ اس وزیر اعظم کے ساتھ اپنے گہرے روابط بتا رہا تھا۔ جس کے جہانگیر پارک والے جلسہ میں شمولیت کے منع کرنے پر یہ باز نہیں آیا تھا۔ ساری قوم ناراض، مضطرب اور برافروختہ تھی اور یہ اسے صورت حالات کا دلیری سے مقابلہ کرنے یعنی اپنی قوم کو گولیوں سے کچل دینے کے مشورے دے رہا تھا۔ استعفیٰ کی صورت میں ملک چھوڑ دینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور پاکستان کی پوری باغیرت قوم کو قدر ناشناسی کا طعنہ سنایا جا رہا تھا۔

صفحہ ۱۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۴/ اگست ۱۹۵۲ء

جوں جوں ۱۴/ اگست کا دن قریب آتا جا رہا تھا۔ عوام ایک عجیب قسم کا اضطراب محسوس کر رہے تھے۔ مرزائیت کے متعلق چونکہ عوام کو معلوم تھا کہ اس کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں۔ جب تک پاکستان میں انگریز، امریکہ کا اثر موجود ہے۔ مرزائیت کا مستقبل محفوظ ہے۔ لیکن دوسری طرف ختم نبوت کے مسئلہ کی اہمیت اور اس مسئلہ پر پوری قوم کی یکجہتی اور اتفاق، خواجہ ناظم الدین کی دینداری اور شرافت سے کچھ امید بندھتی تھی کہ مطالبات ضرور مان لئے جائیں گے۔ عوام کے اضطراب کو مدنظر رکھتے ہوئے مجلس عمل نے فیصلہ کیا کہ مجلس عمل کا ایک وفد ۱۴/ اگست سے قبل خواجہ ناظم الدین صاحب سے کراچی میں پہنچ کر ملاقات کرے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ عوام کے اس دینی مطالبہ کو مان لیں اور ۱۴/ اگست کی تقریر میں اس کا اعلان کر دیں۔

چنانچہ ۱۳/ اگست ۱۹۵۲ء کو یہ وفد وزیر اعظم سے کراچی میں ملا۔ اس وفد میں ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری، مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش، شیخ حسام الدین اور مولانا عبدالحامد بدایونی شامل تھے۔ اس وفد نے آل مسلم پارٹیز کے تین مطالبات تحریری طور پر خواجہ صاحب کو پیش کئے۔ خواجہ صاحب اس وفد کی ملاقات سے پہلے امریکہ بہادر کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ اگلے دن یعنی ۱۴/ اگست کو اپنی تقریر میں کیا کہنے والے ہیں۔ اس لئے انہوں نے وفد کو ٹرخا دیا اور کہا کہ کل ۱۴/ اگست یوم پاکستان ہے۔ بعض مصروفیات میں الجھا ہوا ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ یوم پاکستان کے گزر جانے کے بعد آپ تشریف لائیں تاکہ اطمینان کے ساتھ باتیں ہو سکیں۔ وفد واپس چلا آیا اور کراچی میں ٹھہرا رہا تاکہ ۱۴/ اگست کی تقریب گزر جانے کے بعد وزیر اعظم سے دوبارہ ملاقات کر سکے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ انہوں نے ۱۴/ اگست سے پہلے ملاقات کر لی تھی۔ اپنے مطالبات کی یاد دہانی کرا دی تھی۔

خواجہ ناظم الدین کی تقریر

۱۴/ اگست کو جشن آزادی کے سلسلہ میں وزیر اعظم پاکستان کی تقریر ہوئی۔ مولانا اختر علی خان کے اعلان کی روشنی میں ساری قوم اس بات کی منتظر تھی کہ خواجہ صاحب انگریز کی یادگار یعنی ظفر اللہ خان کو کابینہ سے علیحدہ کرنے اور مرزائیوں کے متعلق قوم کے مطالبہ کو تسلیم کر لینے کا اعلان کریں گے۔ لیکن یہ بات ان کے بس کا روگ ہی نہ تھی۔ ۱۵/ اگست ۱۹۵۲ء کے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں۔

۱۴/ اگست جہانگیر پارک میں ایک عظیم الشان اجتماع سے خواجہ ناظم الدین نے خطاب کیا۔ مسلمانان کراچی بے پناہ جوش، عقیدت اور جذبہ اسلامی کے تحت جہانگیر پارک میں جمع ہوئے تھے کہ آج وزیر اعظم پاکستان مسلمانوں کے مطالبہ اور اپنے کئے گئے وعدہ کے مطابق مرزائیوں کے متعلق اپنی واضح پالیسی کا اعلان کریں گے۔ مگر جب تقریر میں مرزائیوں کے ذکر کا فقدان پایا بلکہ اس تقریر میں جب لوگوں نے وزیر اعظم کے منہ سے یہ الفاظ سنے کہ ”جلسے اور مظاہرے اس بات کو ظاہر نہیں کرتے ہیں کہ ان کے مطالبہ کے ساتھ عوام کی اکثریت بھی شامل ہے۔“ خواجہ صاحب نے اخبارات کی مہم اور مجلس عمل کی مساعی کے متعلق مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان چیزوں سے ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ بس پھر کیا تھا۔

کراچی کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ مسلمانان کراچی نے اسی شب آرام باغ میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ جس کی صدارت کے فرائض مولانا احتشام الحق تھانوی نے سرانجام دیئے۔ یہ اجتماع اپنی نوعیت کا تاریخی جلسہ تھا۔ حضرت مولانا عبدالحی (ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی وکیل)، نوابزادہ ولایت علی خان، مولانا صدیق وہاب اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے

صفحہ ۱۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنی تقاریر میں خواجہ ناظم الدین کے مایوس کن رویہ کی پرزور مذمت کی اور زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے اور سر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ کر دے۔ جب تک مسلمانوں کے خالص دینی مطالبات منظور نہیں کر لئے جاتے۔ اس وقت تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مرکزی حکومت کا اعلان

خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت کو معلوم تھا کہ ۱۴؍اگست کی تقریر عوام کی امیدوں اور توقعات کے برعکس ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس صورتحال سے عوام پہلے سے زیادہ ناراض اور برافروختہ ہو جائیں گے اور ملک میں تحریک بھڑک اٹھے گی۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ آل مسلم پارٹیز کا وفد بھی کراچی میں موجود ہے اور دو ایک روز میں پھر ملاقات کرنے والا ہے۔ اس لئے حکومت نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے ۱۵؍اگست کو ایک اعلان جاری کیا۔ اس اعلان کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا اور آل مسلم پارٹیز کی کچھ تسلی و تشفی کرنا تھا۔ حکومت کے اعلان کی عبارت درج ذیل تھی۔

’’حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی یا مرکزی وزارتوں کا کوئی رکن ان اشخاص میں جن کے ساتھ اس کا واسطہ پڑتا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ عقیدے کی تبلیغ کے لئے اپنی سرکاری پوزیشن کو استعمال نہ کرے گا۔ ہر گورنر کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ فیصلہ تمام متعلقہ وزیروں تک پہنچا دیں اور حکومت توقع رکھتی ہے کہ آئندہ کوئی وزیر اس قاعدے کی خلاف ورزی نہ کرے گا۔ حکومت پاکستان کو اکثر اس امر کی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے بعض افسر جو ایک خاص فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اپنے ماتحتوں اور ان دوسرے اشخاص کے درمیان جن کے ساتھ سرکاری حیثیت میں ان کا واسطہ پڑتا ہے، اپنے فرقہ وارانہ عقائد کی تبلیغ کے لئے اپنی سرکاری حیثیت کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت اس معاملے کو سخت نامناسب خیال کرتی ہے۔ چنانچہ اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ناپسندیدہ سرگرمی کو فی الفور ختم کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے اس قابل اعتراض طریقے سے فرقہ وارانہ عقائد کی تبلیغ کو ممنوع قرار دیا جائے۔

گورنمنٹ سروس کنڈکٹ رولز (قواعد کردار ملازمان سرکاری) میں اس منشاء کے مطابق ترمیم کر دی گئی ہے۔ حکومت اعلان عام کر دینا چاہتی ہے کہ جو شخص خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتا ہو اس قاعدے کی خلاف ورزی کرے گا۔ اس کے خلاف شدید کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کی صوبائی اور ریاستی حکومتوں کو بھی اس قسم کے اقدام کی ہدایت کی گئی ہے۔‘‘

چور کی داڑھی میں تنکا

حکومت کے اس اعلان کا مسلمانوں نے تو کوئی خاص اثر نہ لیا۔ اگرچہ سرکاری حلقے اسے عوام کی بہت بڑی فتح سے تعبیر کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اب قادیانی سرکاری افسر جارحانہ تبلیغ نہیں کر سکیں گے۔ لیکن عوام اسے حکومت کی ایک چال اور سلا دینے والی تھپکی سے زیادہ نہیں سمجھ رہے تھے۔

البتہ چور کی داڑھی میں تنکا کی مشہور مثل کے مصداق چوہدری ظفر اللہ خان بول اٹھے۔ چوہدری ظفر اللہ اور دوسرے کلیدی آسامیوں پر متعین سرکاری افسران جانتے تھے کہ اگرچہ سرکاری اعلان میں ظفر اللہ خان اور مرزائی افسروں کا نام نہیں لیا گیا۔ لیکن اس اعلان کا روئے سخن انہیں کی طرف ہے۔ اس لئے انہوں نے جھٹ ایک بیان داغ دیا۔ وہ بیان کیا تھا، سرکاری اعلان کا ترکی بہ ترکی جواب اور تردید تھی۔ گویا خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت کے منہ پر چپت تھی۔ جسے کمال درجہ کی بے غیرتی سے برداشت کر لیا گیا۔ وہ بیان حسب ذیل ہے۔

صفحہ ۱۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

’’میں ان تعلیمات اسلامی کے مطابق جو قرآن مجید میں درج ہیں اور جن کا نمونہ رسول پاک ﷺ کی حیات طیبہ میں موجود ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے آزادی ضمیر پر پورا اعتقاد رکھتا ہوں۔ میرے خیال میں سرکاری اثر ونفوذ کا استعمال بھی براہ راست دباؤ تشدد ہی کی مانند آزادی ضمیر میں مداخلت کا حکم رکھتا ہے، بلکہ اسلام نے تو ہر مسلمان پر یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں قول وفعل سے احکام اسلامی کی تعلیم کا ثبوت دے۔ یہ وہ فرض ہے جس کی طرف سے مسلمانوں نے اپنے دور زوال میں افسوسناک غفلت برتی۔ جس کے نتائج ان کی انفرادی اور قومی زندگیوں پر بالکل واضح ہیں۔

خود میرے عقائد میرے جاننے والوں سے (خواہ وہ مجھے شخصاً جانتے ہوں یا میری شہرت کی وجہ سے واقف ہوں) کبھی پوشیدہ نہیں رہے۔ گو پچھلے دنوں بعض حلقوں میں ان کا بگاڑ کر پیش کرنے اور ان کے متعلق غلط بیانی کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں میں اس امر کو خلاف دیانت اور خلاف تعلیمات اسلامی سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے سرکاری عہدہ واختیار کو بالواسطہ یا بلا واسطہ استعمال کر کے اپنے مذہبی عقائد کو دوسروں پر زبردستی منڈھ دے یا اسی قسم کے اثر ونفوذ سے کام لے کر کسی شخص کو اس کے حقیقی عقائد کے ترک پر مجبور کرے۔ میں جس جماعت سے تعلق رکھتا ہوں اس میں اصولوں کی وسیع تعلیم دی جاتی ہے اور اس کو مسلمہ اصول سمجھا جاتا ہے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ اس جماعت کا کوئی فرد اس صحیح اور مفید اصول کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو مجھے یقیناً بے حد حیرت اور انتہائی اذیت ہوگی۔

یہ صحیح ہے کہ جہاں تک ہمارے محدود وسائل اجازت دیتے ہیں، ہمارے خیالات وعقائد کی وسیع تبلیغ کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس فریضے کی بجا آوری میں کیا جاتا ہے جو صحیح الخیال لوگوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ جن عقائد کو تہ دل سے صحیح سمجھیں، ان کی مسلسل اور مخلصانہ نشر واشاعت اپنے قول وفعل سے کرتے رہیں تا کہ راست بازی پھیل جائے اور نیکیاں قائم ہو جائیں۔ اگر اس مقصد کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے گا جس سے جبر اور دباؤ اور ناواجب وسائل کے استعمال کی بو آتی ہو تو خود یہ مقصد ہی فوت ہو جائے گا جس شخص کے متعلق ایسا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ اس کا ردعمل لازماً مخالفانہ ہوگا اور وہ محسوس کرے گا کہ اس کو آزادی اور خوش دلی سے بنیادی صداقتوں کا مطالعہ اور ان پر غور وخوض کرنے کی دعوت نہیں دی جارہی ہے، بلکہ ایک ایسے عقیدے کے ظاہری قبول پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا۔

اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس جماعت کے خلاف بعض حلقے جو عظیم اکثریت ہونے کے دعویدار ہیں، برابر غلط بیانی اور جبروظلم میں مصروف ہیں۔ اس جماعت کے ارکان اس قسم کے طور طریقے اختیار ہی نہیں کر سکتے۔ جب انہیں ایسی باتوں کے لئے اتہام، استہزاء اور نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ان کے عقائد میں بھی شامل نہیں اور جن پر انہوں نے کبھی عمل بھی نہیں کیا تو پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ ان طور طریقوں کو اختیار اور استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ جو نہ صرف اسلام کے بلکہ عقل صحیح کے بھی خلاف ہیں اور جن سے ان کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ پھر ایسی حالت میں شدید سزا اور شدید مذمت سے بچنے کی کیونکر توقع رکھ سکتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے جو اعلان کیا گیا ہے، میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے باشندگان پاکستان کے تمام طبقے اس اعلان کو ہر دم پیش نظر رکھیں گے اور دین و ایمان کے متعلقہ امور میں سکون ومتانت اور سنجیدگی ورواداری کی فضا قائم کرنے میں معاون ہوں گے۔ جن موضوعات سے انسانی ذہن کا تعلق ہے اور جن کا اثر ذہن قبول کرتا ہے ان میں بلند ترین موضوعات ایمان واعتقاد ہیں۔ اس دائرے میں انتہائی حزم واحتیاط لازمی ہے۔ مبادا اللہ کی نظروں میں ہم اس گناہ کے مرتکب قرار پائیں کہ ہم نے کسی شخص کو ایسے عقیدے کے اعلان پر مجبور کیا جسے اس کا ضمیر قبول نہیں کرتا اور ان عقائد سے انکار کی ترغیب دی جن کو اس کا قلب وضمیر مخلصانہ قبول کرتا تھا۔ کوئی شخص

صفحہ ۱۸۹

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جو اس قسم کے فعل کا مرتکب ہے وہ وزیر ہو، حاکم ہو یا کوئی غیر سرکاری فرد ہو۔ حقیقت میں مومنین ، مخلصین کی نہیں بلکہ منافقین کی جماعت پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔“

مجلس عمل کی پالیسی

ماسٹر تاج الدین فرماتے ہیں: مولانا اختر علی خان کراچی سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے ظفر اللہ خان کے متعلق خواجہ ناظم الدین کی ملاقات سے اخذ کردہ نتائج ومواعید کو اخبار زمیندار میں شائع کر دیا۔ اس کے شائع ہوتے ہی مسلمانوں میں خوشی دوڑ گئی۔ لیکن قبل از وقت خبر کے افشاء سے دشمن چوکنا ہو گیا۔ ربوہ سے لندن و امریکہ تک کی ڈوری ہلنے لگی اور خواجہ ناظم الدین ایسے کمزور انسان کو پھانسنے کے لئے یہ جال تیار ہونے لگا۔ مجلس عمل ان حالات میں سوائے اس کے اور کیا کر سکتی تھی کہ خواجہ صاحب کو مل کر اپنے وعدہ پر قائم رہنے کی تسلی اور حوصلہ دے۔

مجلس عمل کے وفد کی روانگی

۱۱؍اگست ۱۹۵۲ء کو مجلس عمل کا وفد خواجہ صاحب سے ملاقات کے لئے کراچی پہنچا۔ اس وفد میں حضرت مولانا ابوالحسنات ، شیخ حسام الدین ، مولانا میکش ، مولانا عبدالحامد بدایونی شامل تھے۔ مجھے وفد میں شامل ہونے کا موقعہ ملا۔ میں اس وفد میں بھی شامل ہوا۔ خواجہ صاحب نے مصروفیت کی وجہ سے فرمایا کہ کل کی بجائے پرسوں ملاقات ہوسکے گی ۔ چنانچہ ۱۳؍اگست کو خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی تو وفد نے انہیں مجلس عمل کی جانب سے میمورنڈم پیش کیا۔

مختصر سی گفتگو کے بعد خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مفصل گفتگو تو میں آپ سے ۱۶؍اگست کو کر سکوں گا۔ آپ ۱۶ کو ضرور تشریف لے آئیں۔ ان شاء اللہ! دل کھول کر گفتگو ہوگی ۔ ہم ۱۶؍اگست تک کے لئے ٹھہر گئے۔

۱۴؍اگست کا جلسہ

۱۴؍اگست کے جلسے کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس دن پاکستان کے کونے کونے میں عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ کراچی کے جلسہ عام کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس دن حکومت کی جانب سے وزیر اعظم بعض اہم ملکی مسائل پر حکومت کی پالیسی کا اعلان کرتے ہیں۔ ملک بھر میں اس مرتبہ سر ظفر اللہ خان کی علیحدگی کے بارے میں عام چرچا تھا۔ خواجہ صاحب نے چونکہ مولانا اختر علی سے وعدہ فرمایا تھا۔ اس لئے مسلمانوں کی آنکھیں کراچی کے جلسے پر لگی ہوئی تھیں ۔عظیم الشان جلسہ ہوا ۔مگر خواجہ صاحب خلاف امید اس مطالبہ کو گول کر گئے اور تحفظ ختم نبوت کے بارے میں ایک لفظ تک نہ فرمایا۔ حاضرین جلسہ سخت مایوس ہوئے ۔ جلسے میں گڑ بڑ ہوئی۔ لوگوں نے اٹھ اٹھ کر جانا شروع کیا۔ منتظمین یعنی سرکاری لوگوں نے عوام کو بٹھانا چاہا۔ لوگ مانتے نہ تھے۔ خواجہ صاحب گھبرا تو چکے تھے اس صورتحال نے جلسے کو اور بھی بدمزہ کر دیا۔ نہایت افسردگی کے عالم پہ جلسہ ختم ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑی بھد ہوئی۔

ہمیں اس جلسے میں جانے کے بجائے دوسرے پروگرام پر عمل کرنا تھا۔ یعنی ہم باقی وزراء سے ملاقاتوں کا پروگرام بنا کر چل پڑے۔ ہم نے ۱۴؍اگست کو جناب مشتاق احمد گورمانی، سردار عبدالرب نشتر ، فضل الرحمٰن کو خطوط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگا۔ ان حضرات نے ۱۴؍اگست کی بجائے ۱۵؍اگست کو ملاقات کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ سردار عبدالرب نشتر سے طویل ملاقات ہوئی ۔ خوب بحث ہوئی ۔ سردار صاحب کو مسئلے سے ہمدردی تھی۔ وہ مرزائیوں کو کافر سمجھتے تھے۔ مگر انہیں طریق کار سے کسی قدر اختلاف تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ مرزائیوں کو

صفحہ ۱۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اقلیت قرار دلوانا خسارے کی بات ہے۔ بلکہ اسی طرح رہنے دیجئے۔ مگر کوشش کیجئے کہ انہیں کسی سیٹ پر آنے نہ دیا جائے۔ احرار نے انہیں شکست دے کر حال ہی میں یوم تشکر منایا تھا۔ اسی طرح ان کو نمائندگی سے محروم کیجئے۔ اگر آپ نے انہیں اقلیت قرار دلوایا تو انہیں نمائندگی دینا پڑے گی۔ خواہ ایک ہی سیٹ دی جائے۔ مگر ان کا وجود تسلیم کرنا پڑے گا۔ ہم انہیں سمجھاتے تھے کہ یہ بے اصولے پن کی بات ہے۔ مسلمانوں کے اندر بحیثیت مسلمان رہتے ہوئے ان مرزائیوں نے کلیدی آسامیوں پر بحیثیت مسلمان قبضہ کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ وزارت خارجہ پر مرزائی قابض ہے۔ علاوہ ازیں آپ ہمیں یہ سمجھائیے کہ جب مسلمان ووٹروں کی فہرست بنے گی ان مرزائیوں کو کس کھاتہ میں ڈالئے گا؟ اگر آپ انہیں مسلمانوں کی فہرست میں درج کرتے ہیں تو یہ فرمادیجئے کہ اسلام کے کس اصول اور ضابطے کے مطابق آپ ان کافروں کو مسلمانوں کی فہرست میں درج کرائیں گے۔

ہم یہ بھی کہتے تھے کہ اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد اور بیرونی ممالک میں مرزائیوں نے مسلمانوں کو جو دھوکہ دے رکھا ہے اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جب اسلامی دنیا کو معلوم ہو گا کہ مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ ایک الگ قوم ہے تو مرزائیت کے اڈے ختم ہو جائیں گے۔ بحالات موجودہ مرزائی بہت مزے میں ہیں۔ وہ پاکستان اور اسلام کے نام پر بیرونی دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے اور اسلام ہی کے نام پر کفر کا جال پھیلا رہے ہیں۔ یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔ اس مصیبت سے اسی صورت چھٹکارا مل سکتا ہے کہ مرزائیوں کو مسلمانوں کی فہرست میں درج نہ ہونے دیا جائے۔ صبح ۹ بجے سے ایک بجے دوپہر تک نشتر صاحب سے مفصل گفتگو ہوتی رہی۔ گو مقصد میں ہم ایک تھے۔ مگر انداز فکر بالکل جدا ہم مرزائیوں کو علیحدہ کر کے مرزائیت کا گلا گھونٹ دینا چاہتے تھے۔ سردار صاحب بیچ میں رکھ کر دم نکال دینے کے حق میں تھے۔

خواجہ ناظم الدین سے ملاقات

۱۶ اگست کی صبح خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے ایک کمیونک شائع کیا جس میں وزراء اور حکام کو مذہبی اجتماعات اور جلسوں وغیرہ میں جانے سے روکا گیا اور سرکاری عہدوں اور وزارتوں کے نام سے ایسے اجتماعات میں شمولیت کو ممنوع قرار دے کر قابل مواخذہ گردانا۔ یہ کمیونک دراصل خواجہ صاحب کے دلی جذبات کی کمزور سی جھلک تھی۔ خواجہ صاحب مرزائیت کے خلاف تھے۔ خواجہ صاحب دل سے چاہتے تھے کہ سر ظفر اللہ خان کی بلائے ناگہانی از خود ٹل جائے۔ اسے یا تو دوسری دنیا سے بلاوا آ جائے یا وہ معذور ہو کر خود ہی گھر چلا جائے۔ مگر خواجہ صاحب میں یہ حوصلہ ہی نہ تھا کہ وہ آگے بڑھیں اور سر ظفر اللہ خان کو دھکا دے کر باہر نکال دیں۔ ایک نیک نمازی، شریف انسان مگر بہت ہی کمزور۔ تبھی تو کہا کہ بزدل کا ایمان ہی کیا ۔ کسی نے ڈرایا تو ڈر گئے اور دھمکایا تو دبک گئے۔ بیچارے چاہتے تو تھے کہ علماء کرام کی بات مان لی جائے۔ مگر دائیں، بائیں دیکھ کر صبر کر جاتے تھے۔

اس کمیونک کے جواب میں سر ظفر اللہ خان نے سب سے پہلے بیان دیا اور بہت مزیدار بیان دیا۔ یعنی وہ یہ سمجھ کر کہ کمیونک صرف انہی کی ذات گرامی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسے ماننے پر مجبور تھے۔ اس لئے کہ عہدہ سے مستعفی ہونے پر آمادہ نہ تھے۔ مگر جب یہ محسوس کرتے تھے کہ اس کمیونک سے وہ ریشہ دوانیاں اور پراپیگنڈا جو وہ بحیثیت وزیر خارجہ کر لیتے تھے ان پر قدغن لگ گئی ہے تو بل کھا کر کہتے تھے کہ مذہبی آزادی کا دور ہے ہر شخص اپنے عقیدے پر قائم رہنے کا حق رکھتا ہے۔ غرضیکہ سر ظفر اللہ خان نے کمیونک پر بل کھاتے ہوئے تسلیم اور انکار کے ملے جلے جذبات کا مظاہرہ کیا۔ ہمیں چونکہ خواجہ صاحب نے ۱۶ اگست کی شام کو بلا بھیجا تھا۔ اس لئے ہمارا وفد شام کو خواجہ صاحب کی کوٹھی پر حاضر ہوا۔ جہاں سر ظفر اللہ خان اور سردار بہادر خان کے علاوہ باقی وزراء موجود تھے۔ ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے

صفحہ ١٩١

تحریک ختم نبوت جلد (١) ١٩٥٣ء تا ١٩٥٣ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جاری رہی۔ اس ملاقات میں سردار عبدالرب نشتر بڑی خوبصورتی سے ہماری تائید فرماتے تھے۔ ہمیں یہ خیال تھا کہ اس ملاقات میں مولانا اختر علی خان والی بات کی صفائی ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ ہم نے خواجہ صاحب پر اچانک سوال کر دیا کہ آپ نے مولانا اختر علی خان صاحب سے فرمایا تھا کہ سر ظفر اللہ خان کو علیحدہ کر دینے کا مطالبہ مان لیا جائے گا۔ خواجہ صاحب نے کسی توقف کے بغیر فوراً جواب دیا کہ میں نے ان سے اخبار میں شائع کرنے کو کب کہا تھا؟ اس جملے سے ہم نے اندازہ لگا لیا کہ مولانا اختر علی خان بالکل درست تھے۔ خواجہ صاحب نے وعدہ ضرور فرمایا تھا مگر اخبار میں شائع کر دینے سے بات کھڑی ہو گئی اور سر ظفر اللہ خان نے اودھم مچا دیا اور خواجہ صاحب کو اس قدر ڈرایا اور معلوم ہوتا ہے کہ اوپر سے ایسا دباؤ ڈلوایا کہ خواجہ صاحب فیصلے پر قائم نہ رہ سکے۔ قبل از وقت اگر خوشی سے بے قابو ہو کر بات منہ سے نکل جائے یا راز افشاء ہو جائے تو بنا بنایا کام بگڑ جایا کرتا ہے۔ ہمیں اس صورتحال پر ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔

بھگت سنگھ کی پھانسی

بھگت سنگھ کو کون نہیں جانتا کہ یہ نوجوان سردار کشن سنگھ کا لخت جگر جوان اور بھارت سبھا کا سب سے بڑا ہیرو تھا۔ جس نے اسمبلی ہال کے بھرے اجلاس میں بم پھینک کر انگلستان کے وقار کی چولیں ڈھیلی کر دی تھیں۔ بھگت سنگھ پکڑا گیا۔ اسے جب پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا تو ہندوستان میں کہرام مچ گیا۔ کانگریس کیمپ میں آگ لگ گئی اور کانگریس کے رہنماؤں کو سخت مصیبت کا سامنا ہوا۔ ہندوؤں یا مسلمان سب کے دلوں میں عام طور پر بھگت سنگھ ایسے بہادر نوجوان سے ہمدردی تھی۔ ہندوستان میں جگہ جگہ احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کی بھرمار ہوئی۔ انگریز بہادر بھی گھبرایا مگر وہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار تھا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ان دنوں جوش کا یہ عالم تھا کہ لوگ اجلاس کے باہر دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔ اس اجلاس میں سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ مہاتما گاندھی جو عدم تشدد کے دیوتا مانے جاتے تھے اس بات پر مصر تھے کہ میں تو کسی قسم کے تشدد کی تائید میں ایک لفظ بھی نہیں کہوں گا۔ مگر جب قوم کسی مطالبے پر اتر جائے تو نیتا جھک جایا کرتے ہیں۔ بہت لمبی چوڑی بحث کے بعد گاندھی جی کو آمادہ کیا گیا کہ وہ وائسرائے سے مل کر پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرائیں۔ چنانچہ گاندھی جی وائسرائے سے ملے۔ اندر جو بات ہوتی ہے وہ مشکل سے اندر رہ سکتی ہے۔ بات کے پر ہوتے ہیں۔ بات اندر سے باہر آ ہی جایا کرتی ہے۔ برطانیہ نے اپنے جاسوس قدم قدم پر بٹھا رکھے تھے۔ چنانچہ وائسرائے نے گاندھی جی سے چھوٹتے ہی یہ فرمایا کہ آپ تو عدم تشدد کے پرچارک ہیں۔ آپ تشدد کرنے والوں کی حمایت میں کیسے تشریف لے آئے؟ گاندھی جی کو سیاسی زبان کے استعمال کا ڈھنگ خوب آتا تھا۔ گاندھی نے کہا کہ میں ورکنگ کمیٹی کی آرزو لے کر آیا ہوں اور اس سے میرے مشن کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ میں خون خرابے کے دروازے کو بند کرنے کے لئے اس تجویز کے حق میں ہوں کہ بھگت سنگھ کی پھانسی کی سزا بدل دی جائے۔ وائسرائے مان گیا۔ گاندھی جی نے ورکنگ کمیٹی کو مطلع کر دیا۔ خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مگر اسی میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ باہر بات نہ جانے پائے۔ تا آنکہ حکومت سزا کی تبدیلی کا خود اعلان نہ کر دے۔ ڈاکٹر ستیہ پال ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ بھگت سنگھ کی پھانسی کا چرچا پنجاب میں بہت زیادہ تھا۔ بھگت سنگھ بھی پنجابی تھے۔ ڈاکٹر ستیہ پال راتوں رات لاہور پہنچے اور یہ مژدہ جاں فزا کہہ سنایا۔ گھر میں نہیں کسی خاص دوست کو نہیں بلکہ جلسہ عام میں اعلان کر دیا۔

گورنر پنجاب کو معلوم ہوا تو اس نے وائسرائے کی خدمت میں استعفیٰ لکھ کر بھیج دیا اور لکھ دیا کہ اب بات سنبھالئے۔ اس پنجاب میں اب کوئی انگریز حکمرانی نہیں کر سکتا۔ وائسرائے مجبور ہو گئے اور پھانسی کا حکم بحال رکھا گیا۔ بھگت سنگھ کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔

ڈاکٹر ستیہ پال کے محبّ وطن ہونے میں کس کو شک ہے؟ مگر قبل از وقت راز کے افشاء ہونے سے بنا بنایا کام بگڑ گیا۔ یہی

صفحہ ۱۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صورتحال خواجہ ناظم الدین کے وعدے کی ہوئی۔ مولانا اختر علی خان جس خلوص سے تحریک ختم نبوت میں کام کر رہے تھے۔ مصروفیت کے باوجود وہ باہر کانفرنسوں میں تشریف لے جاتے اور اس راہ میں اپنی جیب سے روپیہ خرچ کرتے۔ اخبار زمیندار اسی تحریک کے لئے وقف تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس تحریک کو چار چاند لگانے میں مولانا اختر علی خان نے کسی دوست سے کم حصہ نہیں لیا۔ خواجہ ناظم الدین کے وعدے کو مولانا نے مرد آہن کا وعدہ سمجھا۔ حالانکہ ان کا وجود سیاسی روئی سے بنایا گیا تھا۔ وہ دور سے بڑے مضبوط انسان نظر آتے تھے۔ مگر ہاتھ لگانے سے معلوم ہوتا تھا کہ سارا جسم پلپلا ہے۔ بہر حال جس طرح اللہ کو منظور تھا وہی ہوا۔

اس ملاقات میں، میں نے سرکاری کمیونک کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ صاحب سے عرض کیا کہ خواجہ صاحب آپ اپنے کمیونک کی تعریف تو بہت فرماتے ہیں۔ مگر اس کمیونک کی سیاہی خشک ہونے سے قبل سر ظفر اللہ خان نے بیان دینا ضروری سمجھا۔ ان کی یہ حرکت کمیونک سے انحراف اور ضابطے کے خلاف ہے۔ وزیر اعظم کے اعلان کو کوئی وزیر استعفیٰ دیئے بغیر چیلنج نہیں کر سکتا اور نہ اپنی منشاء کے مطابق اس کی تشریح و توضیح کا حق رکھتا ہے۔ میرا اعتراض ختم نہیں ہوا تھا کہ سردار عبد الرب نشتر نے خواجہ صاحب کو سہارا دیتے ہوئے مسکرا کر فرمایا۔ ماسٹر صاحب! آپ یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ جس شخص کو چابک مارا جائے وہ فریاد بھی نہ کرے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اس کمیونک کی زد براہ راست چوہدری صاحب پر پڑتی ہے۔ سارا جھگڑا تو انہی کی ذات کا ہے۔ اس کمیونک کے دور رس نتائج ہوں گے اور آپ دیکھیں گے کہ حالات پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس کمیونک سے آپ کی بہت سی شکایات کا ازالہ ہو جائے گا۔

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: اس ملاقات میں خواجہ ناظم الدین نے اپنی ۱۴/ اگست کی تقریر کی روشنی میں وفد کو مایوس کن جوابات دیئے اور تقریباً وہی باتیں دہرائیں جو چوہدری ظفر اللہ خان نے اپنے بیان میں کہی تھیں۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والے مطالبہ کے دلائل کا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے صرف یہ کہا کہ یہ مسئلہ میری ذات کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ دستور ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار میں ہے۔ اس میں میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔ چوہدری ظفر اللہ خان کو بھی وزارت سے نہیں نکال سکتا۔ اسے قائد اعظم نے وزیر خارجہ بنایا تھا۔ میں اسے کس طرح نکال دوں۔ باقی ربوہ کی زمین والا مسئلہ یہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ اس کے متعلق صوبائی حکومت سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ غرضیکہ خواجہ ناظم الدین صاحب نے ۱۴/ اگست کی تقریر کی روشنی میں وفد کو حوصلہ شکن جواب دیا اور وفد بھی اتمام حجت کے لئے ملاقات کر کے اور دل میں گرہ باندھ کر اور کچھ اور ہی ٹھان کر لاہور واپس آ گیا۔ حکومت کی پالیسی اب بالکل واضح ہو چکی تھی۔

یہ مرحلہ تحریک کے رہنماؤں کے لئے بڑا کٹھن اور تکلیف دہ تھا۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ ادھر خواجہ ناظم الدین نے مطالبات تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا اور ادھر جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی نے ملتان فائرنگ کی تحقیقات کرنے کے بعد جو بڑی مایوس کن رپورٹ دی تھی اسے اخبارات میں شائع کر دیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین کا مطالبات تسلیم کرنے سے انکار اور جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی کی رپورٹ یکے بعد دیگرے اخبارات میں شائع ہوئیں۔ عوام پہلے ہی ناراض اور اشتعال میں تھے۔ ان دونوں خبروں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لوگ حکومت سے بالکل مایوس ہو گئے۔

ہم یہاں جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی کی وہ رپورٹ درج کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ تاریخ کس طرح پلٹے کھاتی ہے۔ یہ رپورٹ اسی جسٹس کیانی کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہے جو بعد میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف ہنستے مسکراتے ، طنز و تشنیع کے تیر پھینکتے اور اس کی سطوت و جلال کے خلاف نقد و جرح کی آگ برسانے لگ گیا تھا۔

یہ رپورٹ خالصتاً ایک ایسے جج کی لکھی ہوئی رپورٹ ہے جو قطعاً اپنا کوئی ضمیر نہ رکھتا ہو۔ بس سو فیصد پولیس کے حق میں فیصلہ

صفحہ ۱۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح پولیس چاہتی تھی اسی طرح کی یہ رپورٹ لکھ دی گئی۔ لیکن جب سکندر مرزا کا تخت و تاج الٹ گیا اور اس کے بنائے ہوئے خاکے بگڑ گئے تو جسٹس کیانی جو سکندر مرزا کے ہم مسلک اور ہمراز تھے کے دل کو ٹھیس لگی۔ پھر ان کا ضمیر جاگ اٹھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ دور ایوبی کا جمود سب سے پہلے جس شخص نے توڑا وہ جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی ہی تھے۔ اس برہمی کے اسباب خواہ کچھ ہوں اور ان کی جونسی بھی رگ پھڑک اٹھی ہو، بہر حال انہوں نے ہی ایوب خان کی آمریت کے قلعہ میں پہلا شگاف کیا۔

جسٹس ایم۔آر۔کیانی کی رپورٹ

مورخہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۵۲ء کی صبح کو ملتان کے ایک اجتماع پر پولیس کی فائرنگ کے متعلق حکومت پنجاب نے جو کمیشن مقرر کیا تھا۔ اس کی تحقیقات کے نتائج میں لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج مسٹر کیانی کی رپورٹ کو حکومت نے آج شائع کیا ہے۔ مسٹر جسٹس کیانی کی تحقیقات کے مطابق فائرنگ اس وقت عمل میں لائی گئی جب کہ ایسا کرنا قطعاً ضروری ہو گیا ہے۔ لیکن اس فائرنگ سے مناسب حد تک ہی نقصان ہوا۔ کمیشن کی رپورٹ حسب ذیل ہے۔

’’۱۹؍ جولائی ۱۹۵۲ء کی صبح کو ملتان شہر کے پولیس تھانہ کپ کے اردگرد لوگوں کے ایک بھاری ہجوم نے جمع ہوکر مصطفیٰ خان سب انسپکٹر کو تبدیل کئے جانے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ کیونکہ ان کے بیان کے مطابق سب انسپکٹر مذکورہ نے وقوعہ کے پہلے دن شام کو مجمع منتشر کرنے میں سختی برتی تھی۔ بعض وجوہ کی بناء پر ہجوم مشتعل ہو گیا اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے اشتعال میں تھانہ کی اندرونی عمارات پر اینٹیں برسانا شروع کر دیں اور آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔ جس کے نتیجہ میں پولیس کو موقع پر موجود سینئر فرسٹ مجسٹریٹ نے گولی چلانے کا حکم دیا۔ فائرنگ دس پندرہ منٹ تک جاری رہی۔ اس دوران میں ۷۰ گولیاں چلائی گئیں۔ جن میں ۶۷ گولیاں بندوق کی تھیں اور تین گولیاں ریوالور کی تھیں جنہیں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس استعمال میں لایا تھا۔

فائرنگ کے نتیجہ میں موقع پر ہی تین اشخاص جان بحق ہو گئے۔ تین زخموں کی وجہ سے بعد میں چل بسے اور پندرہ اشخاص زخمی ہوئے۔ ان اشخاص میں سے چودہ اشخاص کو بندوق کی گولی لگنے کے زخم تھے اور ایک شخص مسمی بشیر الدین کو شاید سنگین کے دو گہرے زخم آئے تھے۔ پولیس کے ساٹھ آدمی جن میں ایک انسپکٹر بھی شامل ہے، اینٹوں سے زخمی ہوئے جو غیر موثر لاٹھی چارج کے دوران میں ان پر برسائی گئی تھیں۔ عوام کے اس مطالبہ پر کہ ایک غیر جانبدار ٹربیونل کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے۔ حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات پر مجھے مامور کر کے حسب ذیل چار سوالات کا جواب مہیا کرنے کے لئے کہا۔

متذکرہ رپورٹ سے ان تفصیلات کی بھی وضاحت ہوتی ہے جو مسٹر جسٹس کیانی نے فریقین متعلقہ کے قانونی مشیروں کی معیت میں موقع واردات پر ملاحظہ کیں۔ رپورٹ میں فاضل جج کے سامنے جو شہادتیں پیش ہوئی ہیں ان پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فریقین کی جانب سے جو شہادتیں پیش ہوئی ہیں ان سے میں نے بادی النظر میں جو نتیجہ اخذ کیا ہے یہ ہے کہ شہر میں

صفحہ ۱۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ ۱۸؍ جولائی کی شام کو جو جلوس نکالا گیا اس پر سب انسپکٹر نے سختی برتی تھی۔ مبینہ زخمیوں میں سے ایک شخص کو چار پائی پر ڈالے ہسپتال لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ جس پر شاید اس کے وفات پا جانے کی افواہ پھیل گئی۔ چنانچہ ۱۹؍ جولائی کی صبح کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا اور لوگوں نے احتجاج کے طور پر پولیس تھانہ کے گرد جمع ہونا شروع کر دیا۔ جلوسوں پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے لئے جس کے نتیجہ میں پہلے دن شام کو ناخوشگوار حادثہ پیش آیا تھا عوام نے ایک شخص کا منہ کالا کر کے اسے گدھے پر سوار کیا اور کئی قسم کی مضحکہ خیز حرکات بھی کیں۔ جن میں پتلون وغیرہ کا جلانا بھی شامل تھا۔ مظاہرین نے کافی ہنگامہ آرائی پیدا کر دی اور ان کے ساتھ کم از کم یہ مطالبہ پیش ہوا کہ سب انسپکٹر کو تبدیل کر دیا جائے۔

عوام کا اطمینان

مسٹر عبدالغفور انوری (پی ڈبلیو) کے کہنے کے مطابق یوسف شاہ انسپکٹر جو عوام میں مقبول تھا اگر وہ مزید کمک مانگنا مناسب خیال کرتا تو اس کے خیال میں ہجوم کے تیور بدل جاتے۔ اس کے ساتھ ہی انسپکٹر مذکور نے مجمع کو مطمئن کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ اس نے ہجوم کو یقین دلایا کہ سب انسپکٹر کے رویّہ کے خلاف تحقیقات کی جائے گی۔ آیا اس نے سید اعجاز حسین کو مخدوم کے پاس بھیجا یا سید اعجاز حسین خود بخود مخدوم کے پاس چلا گیا۔ لیکن اس بات میں ذرا شک نہیں کہ اسے ٹیلیفون پر ایک پیغام بھیجا گیا جس میں اس سے استدعا کی گئی کہ موقع پر خود آ کر عوام کو مطمئن کریں۔ مخدوم کا یہ کہنا کہ انسپکٹر مذکور نے ٹیلیفون پر اس بات سے اتفاق کیا کہ سب انسپکٹر کا تبادلہ کیا جائے، بے معنی ہے۔ کیونکہ اگر انسپکٹر کی یہی رائے تھی تو اسے اس کے متعلق اپنے اعلیٰ افسروں کو مشورہ دینا چاہئے تھا۔

ظاہر ہے کہ اگر مخدوم موقعہ پر خود آ جاتا تو وہ مجمع کو منتشر ہونے پر رضا مند کر لیتا اور اس طرح سے تحقیقات کے لئے ایک پرامن فضا پیدا ہو جاتی۔ فریق ثانی پر الزام عائد کرنے کی غرض سے مخدوم یہ بات کہنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ اس نے سب انسپکٹر کے تبادلہ کے متعلق انسپکٹر کی اپنی رائے کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے آدمی بھیجے تھے۔ ہسپتال سے انسپکٹر کی طرف سے انکوائری کا نتیجہ بھیجنے سے مخدوم کا انکار متذکرہ بیان کی غمازی کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسپکٹر یہ بتانے میں حق بجانب ہے کہ مخدوم نے گفتگو کا سلسلہ فوراً منقطع کر دیا۔ جرح کے وقت انسپکٹر مذکورہ کے سامنے جو رائے ظاہر کی گئی کہ اگرچہ وہ مخدوم کی موجودگی کا طلبگار تھا تاہم اے۔ ڈی۔ سی اس اقدام کو غیر واجب خیال کرتا تھا۔ اس بات سے بھی انسپکٹر کے بیان کی صداقت تسلیم ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آغا احمد رضا نے اس بات کو مان لیا ہے کہ اس نے عوام کے نمائندوں کو یہ کہہ کر کہ اگر وہ ترغیب سے منتشر نہیں ہوتے تو انہیں منتشر کیا جائے گا۔ لیکن اس بات سے فقط یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسے مصمم ارادے کا مالک تھا جو ایک ایگزیکٹو افسر کے شایان شان ہے۔ اب صورتحال اس نہج پر آ گئی کہ عوام نے سب انسپکٹر کو تبدیل کئے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ اس نے ناجائز کارروائی کی ہے۔ اے۔ ڈی۔ سی پہلے جوڈیشل انکوائری کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ کسی افسر کے حق میں مناسب نہیں تھا کہ اسے پہلے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقعہ دیئے بغیر اس کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی کی جائے۔ اس ریکارڈ سے جو چیز ثابت ہوئی ہے یہ ہے کہ پہلے دن شام کو سب انسپکٹر کا طرز عمل اس کے فرائض کے مطابق تھا۔ ہجوم کا مطالبہ جس کی حمایت عبدالغفور انوری، شیخ کریم بخش گدوں اور مخدوم شوکت کر رہے تھے۔ سراسر بے جا تھا۔

مشتعل ہجوم

بہرحال اس مرحلہ تک کسی آدمی کو شبہ تک نہیں ہو سکتا تھا کہ ہجوم پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشتعل ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ ناواجب

صفحہ ۱۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطالبہ تھا مگر ہجوم کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ سب انسپکٹر کو تبدیل کیا جائے۔ دوسرے افسروں میں سے جب وہ باری باری تھانے میں آنے شروع ہوتے کبھی بھی کسی افسر کی بے حرمتی نہیں کی گئی تھی۔

آغا محمد رضا سے جرح کے دوران میں یہ سوال کیا گیا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ ابتداء میں ہجوم کی طرف سے غیر ارادی طور پر دباؤ پڑنے کے باعث تھانے کے جنگلے کا کم از کم ایک حصہ ٹوٹ گیا ہو۔ خواہ یہ امکان قابل قبول ہو یا نہ ہو۔ مگر سوال سے فی الاصل یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہجوم کے دباؤ سے جنگلے کا یہ حصہ ٹوٹ جانے کے بعد ہجوم نے غصہ واشتعال میں آکر دوسرے حصوں کو بھی گرا دیا ہو۔ اس کے بعد اینٹیں دستیاب ہو گئیں اور انہیں بے محابا پولیس پر برسانا شروع کر دیا۔ یہ مان لیا جائے کہ پہلے پہل ہجوم کی طرف سے غیر ارادی طور پر دباؤ پڑنے کے باعث جنگلے کا ایک حصہ گر گیا تو اس واقعہ کے ظہور پذیر ہونے کے بعد ہجوم کو منتشر کرنا ضروری تھا۔ اب یہ سوال ہے کہ آیا اس موقعہ پر لاٹھی چارج مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اصل میں کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا۔ لیکن اس سے پولیس کے آدمیوں کو جو چوٹیں آئیں تو ایسی صورتحال کی کوئی وجہ نہ تھی۔ یہ دلیل پیش کی جا سکتی تھی کہ لاٹھی چارج پہلے ہی کیا جانا چاہئے تھا۔ لیکن میرے خیال میں لاٹھی چارج کا کوئی موقعہ ہی نہ تھا۔ یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ اگر ہجوم کو واضح طور پر بتایا جاتا کہ سب انسپکٹر کو اولاً تحقیقات کے بغیر تبدیل نہیں کیا جائے گا تو مزید کوئی صورتحال پیدا نہ ہو پاتی ۔ لاٹھی چارج کے بے سود ثابت ہونے پر یہ واقعات کچھ فوری طور پر رونما ہوئے ۔ جب اصل میں گولی چلائی گئی اس وقت اور کوئی صورت نہیں رہی تھی۔ اس طرح اگر کسی نجی شخص کے مکان پر حملہ ہوتا تو مالک مکان کے لئے اپنی حفاظت کا حق پیدا ہو جاتا۔ غیر قانونی اجتماعوں سے متعلق قانون مجسٹریٹ یا پولیس کے افسر کو نہایت وسیع اختیارات دیتا ہے۔ دفعہ ۱۲۷ ضابطہ فوجداری کے ماتحت کوئی مجسٹریٹ یا تھانے کا افسر اعلیٰ کسی بھی پانچ آدمیوں یا اس سے زیادہ کے اجتماع کو جس سے نقص امن کا احتمال ہو، منتشر ہونے کا حکم دے سکتا ہے اور اس کے بعد اس قسم کے اجتماع میں شریک ہونے والوں کا فرض ہوگا کہ حکم کے بموجب وہ منتشر ہو جائیں۔ دفعہ ۱۲۸ کی رو سے اگر مذکورہ نوعیت کے حکم پر اس قسم کا اجتماع منتشر نہ ہو یا اس قسم کا حکم پائے بغیر اس اجتماع سے یہ ظاہر ہو کہ وہ منتشر نہ ہونے پر تلا ہوا ہے تو کوئی بھی مجسٹریٹ یا تھانے کا افسر اعلیٰ اس قسم کے اجتماع کو جبراً منتشر کرنے کے لئے کارروائی کر سکتا ہے۔ اس قسم کے معاملات میں سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ضرورت سے زیادہ قوت استعمال کی گئی ہے۔

ان حالات میں نہ لاٹھی چارج کارگر ہوتا نہ اشک آور گیس ۔ مزید براں یہ محض ایک مقام عامہ سے ایک غیر قانونی اجتماع کو منتشر کرنے کا معاملہ ہی نہیں تھا۔ یہ معاملہ ایک ایسے اجتماع کا تھا جو پولیس کے ایک دستے کی خارجی حدود وحفاظت میں گھس آیا تھا اور پولیس پر اینٹیں برسانے لگا تھا۔ یہ اجتماع ایسا تھا جو جبراً تھانے کی حدود میں غیر قانونی طور پر گھس آیا تھا اور جس نے اس کے دو دروازے توڑ ڈالے تھے اور شاید اسے آگ لگانے کی بھی کوشش کی تھی۔ یہ اجتماع ایسا تھا جو فتنہ وشر کی صلاحیت سے پر تھا۔ اگر پانچ یا دس منٹ تک یہ اجتماع جنگلے کو توڑ دیتا اور صحن کو اینٹوں سے بھر دیتا تو یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا کہ وہ آئندہ پانچ یا دس منٹ کے اندر کیا کچھ نہ کرتا ۔ اس قسم کی ایک فتنہ بدوش صورت حال کے امکانات کو سنہری ترازو میں نہیں تولا جاسکتا ۔ لہٰذا کارروائی کرنے میں مزید تاخیر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔

فائرنگ

اس امر کے پیش نظر کہ ستر گولیاں چلائی گئیں۔ لیکن موتیں صرف چھ ہوئیں۔ حالانکہ ۳۰۳ کی گولیوں سے بہ آسانی ستر اموات سے زائد ہو سکتی تھیں۔ لہٰذا واضح ہو جاتا ہے کہ پہلے گولی بلا نشانے کے چلائی گئی۔ جس سے اجتماع کو کافی حد تک تنبیہ ہو سکتی تھی۔ خواہ گولی

صفحہ ۱۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چلانے والوں کی یہ نیت نہ بھی ہوتی ۔ یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ نقصان ضرورت سے زیادہ نہیں ہوا۔ حکومت نے جو سوالات میرے سپرد کئے تھے اس سے ان سب کا جواب پیدا ہو جاتا ہے۔ صاحبزادہ نصرت علی عوام کے جونیئر وکیل نے اپنے استدلال میں اشارۃً کہا کہ ہجوم سرکاری کارکنوں کی سابقہ نرمی سے گمراہ ہوا۔ یہ میں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں کہ ۱۸/ جولائی کی شام کی آمد سے پہلے بدامنی ایک پورے مہینے سے قائم تھی۔ کچھ اسے صلح جوئی کے رویئے سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسرے اسے اگر جذب کی کیفیت پر محمول کرتے ہیں اور اچھا نظم و نسق صلح جوئی اور مضبوطی کے خوشگوار امتزاج ہی کا نام ہے۔ لیکن جہاں حکومت کا ایک خاص رویہ جو اس رویئے سے پیدا ہوا ہو جو اس کی رعایا کا ایک طبقہ دوسرے کے متعلق رکھتا ہو۔ جیسا کہ اس معاملے میں ہے صلح جوئی کے متعلق دونوں طبقوں کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اگر صاحبزادہ نصرت علی کے قول کے مطابق جن سے مجھے اتفاق ہے پہلی ترقی کو صرف نتائج میں کس قدر دخل ہے تو حکومت اس امر پر غور کر سکتی ہے کہ کیا ان مقدمات کو واپس لینا جو اجتماع میں شریک ہونے والوں میں سے بعض کے خلاف پولیس درج کر چکی ہے بہی خواہی کی ایک علامت ہوگا ؟“

جناب کیانی کی اس رپورٹ کو ملک بھر کے اخبارات نے شہ سرخیوں سے شائع کیا۔ تحریک کے کارکنوں پر بلاوجہ اشتعال کو عدالتی تحفظ دے کر صوبائی حکومت خود کو عوام کی نظروں میں گرا رہی تھی۔ ادھر خواجہ ناظم الدین کی ۱۴/ اگست کی مایوس کن تقریر اور پھر ۱۶/ اگست کو مجلس عمل کے وفد سے ملاقات کے دوران حوصلہ شکن جوابات کے بعد وفد لاہور واپس آ گیا تو مجلس عمل کے رہنماؤں نے اپنی پالیسی بڑی ٹھنڈی، نرم لیکن خوفناک حد تک خطرناک ارادوں اور عزائم پر مشتمل اختیار کر لی۔

ان عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پہلے مناسب سمجھا گیا کہ تحریک ختم نبوت کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے۔ مجلس عمل کے رہنما یہ چاہتے تھے کہ کسی دھماکہ نما اقدام سے پہلے بڑے ٹھنڈے اور دھیمے انداز میں ملک کے طول و عرض میں عوام کو تحریک ختم نبوت کے حق میں اچھی طرح باخبر کر دیا جائے اور ان کو ایسے طریقہ سے منظم کر دیا جائے کہ حکومت کی کسی ترغیب یا ترہیب کا کوئی حربہ عوام کو تحریک سے منقطع نہ کر سکے۔

اصل میں مجلس عمل کے رہنماؤں کو خواجہ ناظم الدین کی ۱۴/ اگست والی تقریر کا بہت زیادہ افسوس اور صدمہ تھا۔ خواجہ ناظم الدین کے متعلق مخالفت کے باوجود عمومی تاثر یہی تھا کہ وہ ایک شریف اور مسلمان قسم کے آدمی ہیں۔ لیکن جو بزدلی اور ہیرا پھیری انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خان اور قادیانیوں کے مسئلہ میں دکھائی اس کا کسی کو تصور تک نہیں تھا۔ خصوصاً مجلس عمل کا وفد جس عوامی تائید اور حمایت کے ساتھ لاہور سے روانہ ہو کر کراچی پہنچا تھا اس کے ساتھ خواجہ ناظم الدین کا روکھا برتاؤ ایک بہت بڑے حادثے کی حیثیت رکھتا تھا۔ مجلس عمل کے اس وفد کی عوامی تائید وحمایت کے نقشے کا ذکر کر دینا خالی از دلچسپی نہیں ہوگا۔ وفد کی کراچی روانگی سے پہلے لاہور میں جو جلسہ عام منعقد ہوا اس کی رپورٹ یہ ہے۔

۹/ اگست ۱۹۵۲ء کا جلسہ عام

۹/ اگست ۱۹۵۲ء کو آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل کے زیر اہتمام موچی دروازہ لاہور میں ایک بے مثال اجتماع منعقد ہوا تھا۔ اس عظیم اجتماع میں ایک لاکھ فرزندان اسلام نے شرکت کی تھی اور اس کھلے اجلاس میں ۱۴/ اگست سے پہلے پہلے خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کرنے کے لئے ایک وفد منتخب کیا گیا۔ وفد میں وہی حضرات شامل تھے جن کا تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔ صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کی خفیہ پولیس جلسہ میں موجود ہوگی۔ انٹیلی جنس بیورو کے نمائندوں نے یقیناً مرکزی حکومت کو خبر دار کیا ہوگا کہ وفد آ رہا ہے اور کس

صفحہ ۱۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قدر عوامی تائید وحمایت سے مسلح ہو کر آ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نشہ اقتدار میں چور، کرسی نشینوں نے عوامی بوریا نشین نمائندوں کا پورا پورا احترام نہ کیا اور انہیں انتہائی مایوس کر کے واپس بھیج دیا گیا۔

۹؍اگست کے عظیم الشان جلسے کا ذکر آیا تو اس جلسہ میں خطیب امت حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ہونے والی تاریخی تقریر کا بھی تذکرہ آ جانا چاہئے۔ تذکرہ کیا وہ تقریر ہی ان یادداشتوں میں محفوظ ہو جانی چاہئے۔ جس نے اسلامیان لاہور کے دل گرما دیئے تھے۔

شاہ جی کی تقریر

لاہور، مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۵۲ء ۔ گزشتہ شب موچی دروازہ کے باغ میں شمع رسالت کے ایک لاکھ سے زائد پروانوں کے ایک عظیم الشان اجتماع میں نعرہ ہائے ختم نبوت زندہ باد کے درمیان ساڑھے گیارہ بجے شب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر شروع کی ۔ انہوں نے مرزائیوں کے دجل وتلبیس کا تار و پود بکھیرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی نبی کے امتیوں نے ربوہ میں ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور ان کے اس نظام کے تحت ربوہ میں اسلحہ تیار ہو رہا ہے ۔ زمین دوز قلعے تعمیر ہورہے ہیں ۔ اپنی الگ عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن میں مجرموں کو سزائیں دی جاتی ہیں اور نظر بندی کی سزاؤں کے علاوہ جرمانے بھی وصول کئے جاتے ہیں ۔ ان عدالتوں میں با قاعدہ مقدمات سنے جاتے ہیں ۔ بعض ’’قومی مجرموں‘‘ کی جائیدادیں بھی ضبط کی جاتی ہیں ۔ دریائے چناب کے کنارے ربوہ کو ایک قلعہ بند شہر بنایا جا رہا ہے۔ آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آزاد حکومت میں اس متوازی حکومت کا قیام نا قابل برداشت ہے ۔ انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا کہ ارباب حکومت سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں ۔ آخر یہ کیا ماجرا ہے ۔ شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ملک میں اس اندھیر گردی کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی وجدانی کیفیات میں ختم نبوت کے مسئلہ پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں حکومت کے ارباب بست و کشاد اور مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ لاہور میں بیٹھ کر ان حالات سے بے خبر نہ رہیں جو بڑی سرعت کے ساتھ ایسا رخ اختیار کر رہے ہیں ۔ جن سے بعد میں ہمارے لئے نمٹنا مشکل ہو جائے گا ۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ربوہ کے نبی کو ماننے والے ان دنوں کیا لکھ رہے ہیں ۔ ان کا لٹریچر کس ڈگر پر شائع ہو رہا ہے ۔ ان کے ترجمان ’’الفضل‘‘ کی ان تحریروں اور مقالات پر بھی نگاہ رکھئے جن کے بین السطور میں انتقام، خون، فساد، بغاوت کے آثار پائے جارہے ہیں ۔ مجھے میرا ملک بے حد عزیز ہے ۔ اگر اس کے استقلال کے لئے بخاری کا خون بھی کام آجائے تو یہ سعادت ہوگی ۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ میرے عزیز ملک پر حضرت محمد ﷺ کی ناموس کے دشمن کیوں چھا رہے ہیں ۔ سرور کائنات کی ختم المرسلینی پر حملے کرنے والے میرے ملک کی کلیدی آسامیوں پر بیٹھے میرے ملک کو تباہی کے گڑھے میں ڈالنے کے منصوبے تیار کرتے ہیں ۔ مجھے بتاؤ ایسا کیوں ہے ۔ کیا مجھے اپنے وطن عزیز کے استقلال کے لئے اسے برداشت کر لینا چاہئے؟

مجھے بتایا جائے کہ میری حکومت دشمن کی ریشہ دوانیوں اور کارستانیوں سے بے خبر کیوں ہے؟ اگر وہ مرزائی فرقہ کی ہر حرکت کو جانتی ہے اور اس کی نگاہ میں ہے تو مجھے بتایا جائے کہ ربوہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے خلاف کوئی تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں ۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اگر آپ حکومت کرنا چاہتے ہیں تو باخبر رہ کر حکومت کیجئے اور اگر درویشی اختیار کرنے کا ارادہ ہے تو دونوں جہان سے بے خبر ہو جائیے ۔

صفحہ ۱۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ابھی تک ہم مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئے۔ ہم ابھی تک ڈومینین ہیں۔ کچھ عرصہ پیشتر ہم ایک آدمی کے وفادار نمائندے تھے۔ مگر اللہ کی شان ہے کہ ہم آج ایک عورت کے وفادار نمائندے ہیں۔ خدا کرے ہمارے گورنر جنرل کا دور جلد گزر جائے اور ہم بھی ایک بہادر اور آزاد ملک کہلا سکیں۔ آپ نے فرمایا کہ جب میں محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان میں ابھی کفر کا قانون ہے ابھی وہی تعزیرات پاکستان ہے۔ وہی پولیس ایکٹ اور وہی پرانی ڈگر، تو میرا کلیجہ خون ہو جاتا ہے۔ ہمیں جلد سے جلد اس نام نہاد دولت مشترکہ سے اپنا رشتہ توڑ کر اپنی کامل واکمل آزادی کا اعلان کرنا ہوگا۔ شاہ صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے میاں ممتاز دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے بزرگانہ انداز میں شکوہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غضب یہ ہے کہ میرے صوبے کا ہونہار وزیر اعلیٰ ہر بار یہ کیوں کہتا ہے کہ: ”احمدیوں اور احراریوں کا یہ جھگڑا۔“

میں کیوں کر بتاؤں کہ یہ جھگڑا احراری اور احمدی کا نہیں۔ یہ مرزائی اور کملی والے کے پجاریوں کا مسئلہ ہے۔ یہ عالم اسلام کا سوال ہے۔ یہ جس قدر بخاری کا مسئلہ ہے اسی قدر ممتاز دولتانہ کے گھر کا مسئلہ ہے۔ میں حیران ہوں کہ اسے محض ہمارے نام سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے۔ میں اس مرحلہ پر کہنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ تمہارے نزدیک مجلس عمل کا مسئلہ نہیں۔ مسلمانان عالم کا سوال نہیں اور یہ محض احراریوں کا مسئلہ ہے تو سن لو کہ میں اسے اپنا مسئلہ کہنے میں سعادت محسوس کرتا ہوں کہ ایک ایک احراری ختم ہو جائے مگر آن محمد ﷺ اور ناموس رسول ﷺ پر کسی بد بخت کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دوں گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ احراری فتنہ فساد، خونریزی سے اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ میں اور میرے رفیقان کار ہزار بار اس جذبہ کی مذمت کر چکے ہیں۔ جو خونریزی کا جذبہ ابھارے اور اس ملک کے امن کو پارہ پارہ کرنے کا موجب بنے۔

شاہ صاحب نے فرمایا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ ہم اس لئے میدان میں آئے ہیں کہ مسلم لیگ کو ختم کیا جاسکے۔ میں یہ بکواس سنتے سنتے تھک گیا ہوں۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ مجلس احرار کا کوئی کارکن اپنے جماعتی ٹکٹ پر ان ڈیپنڈنٹ یا کسی اور ٹکٹ پر کسی صورت کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ میں یہاں تک کہہ دینا چاہتا ہوں اگر مسلم لیگ نے مجلس احرار کے کسی کارکن کو کبھی بھی ٹکٹ دیا تو میں پہلا شخص ہوں گا جو اسے ناکام کرنے کے لئے اپنی آخری کوشش کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر آقائے نامدار ﷺ کا نام درمیان میں نہ ہوتا تو ہم کبھی آپ سے بات بھی نہ کرتے اور آج اسی کملی والے کے صدقے تمہارے آستانوں پر جانا پڑتا ہے۔ تمہارے سامنے جھکنا پڑ رہا ہے۔ یاد رکھو کہ محمد ﷺ کی ناموس کو بچانے کے لئے ہم تمہارے سامنے جھک جائیں گے۔ ایک ایک مسلمان تمہارے آستانوں پر جھک جائے گا۔ گڑگڑائے گا تا آنکہ ہر طریقہ استعمال کر کے تمہاری مدد حاصل کرے۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ بدگمانی کرنے سے باز آجاؤ۔ تمہیں اور تمہاری بڑائی کو یہ فعل زیب نہیں دیتا۔ ہم پر یقین کرو کہ ہم تمہارے راستے میں کبھی نہیں آئیں گے تم ہمیں ہر اعتبار سے مخلص پاؤگے۔ یاد رکھو کہ تم کو ہم ایسے مخلص رفیق نہیں مل سکیں گے۔

سول ملٹری گزٹ کا ذکر

شاہ صاحب نے کہا کہ ”ڈان“ کی طرح لاہور میں ایک اخبار ”سول“ راہ چلتے امن پسندوں کو بھونکتا ہے۔ میں حکومت سے کہوں گا کہ اس کے منہ کو لگام دے۔ یاد رکھو کہ جس خبیث نے محسن کائنات ﷺ کے خلاف کچھ کہا وہ مٹ جائے گا۔ یہ اخبار برابر بدگمانیاں پھیلا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ بدگمانیاں کبھی بھی اچھے نتائج پیدا نہیں کیا کرتیں۔

صفحہ ۱۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانو! پاکستان کے ایک ایک مقام پر ”ڈان“ جلایا جارہا ہے اور اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اب (سول) بھی جلایا جائے گا۔ ہم محمد ﷺ کی بے حرمتی کرنے والی کسی تحریر کو دیکھ نہیں سکتے۔ ہم یقیناً ہر اس اخبار کو جلائیں گے جو رسول خدا ﷺ کی ذات پر حملہ کرے گا اور مسلمانوں میں اس لئے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر ہم حضور ﷺ کے نام لیوا ہیں۔ حضور کا ہر دشمن ہمارا بدترین دشمن ہے۔

اس مرحلہ پر زمیندار کو خراج تحسین پیش کیا۔ آپ نے اپیل کی کہ کوئی شخص ”سول“ نہ خریدے اور اس اخبار کا پوری طرح بائیکاٹ کیا جائے۔ آپ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے ”سول“، ”ڈان“ اور ”الفضل“ کے منہ میں لگام نہ دی تو یاد رکھو ان کی فتنہ پروازی سے امن کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ یاد رکھو کہ ہمیں محمد ﷺ کی حرمت سے زیادہ کوئی چیز بھی عزیز نہیں۔

آپ نے فرمایا کہ مجھے بتایا جائے کہ میکلوڈ روڈ پر کس نے ہنگامہ کیا۔ کیا وہ مسلمان تھے؟ اینٹیں کہاں سے آئیں۔ کیا تم نے قریب قریب کے مکانات کی تلاشیاں لی تھیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ مسلمان اپنے گھروں سے اینٹیں ساتھ لے کر آئے تھے؟ ایک جانب سے آواز آئی کہ اینٹیں محمد حسین ٹین ساز کے مکان سے برسائی گئیں۔ اس سے پیشتر شیخ حسام الدین نے بھی اپنی تقریر میں چیلنج کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان دنوں محمد حسین کی سرگرمیاں کیا ہیں۔ حکومت نے آج تک اسے کیوں گرفتار نہیں کیا۔

حضرت امیر شریعت نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر وہ ختم نبوت کی تحریک کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو امن کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ گالی گلوچ اور سنگ باری سے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جس دستور ساز اسمبلی اور لیگ کونسل سے آپ قانون کے ذریعہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینا چاہتے ہیں۔ انہیں آپ اگر تشدد کا نشانہ بنائیں تو مجھے بتائیے کہ آپ اپنے مقصد میں کیونکر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آخر میں آپ نے میاں ممتاز دولتانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں ایک من ۱۷ سیر بارود ”ربوہ“ کیوں گیا۔ جب پولیس نے تحقیقات کی تو اسے مرزا بشیر نے بتایا کہ ہمارے رضا کاروں نے تربیت حاصل کرنا تھی۔ میں پوچھتا ہوں کہ رضا کاروں کی اس تربیت کے کیا معنی ہیں؟ مسلم نیشنل گارڈ نے ۱۹۴۷ء میں کتنا بارود مشق کے لئے خریدا تھا؟ یہ کیسا اندھیر ہے کہ آپ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں۔

چار من سکہ حال ہی میں چونیاں سے ربوہ لے جایا گیا۔ آخر اس سکہ کی ضرورت کیا تھی؟ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کی تحقیقات کی جائے کہ ان تیاریوں کے پس پردہ کیا جذبہ اور کیا پروگرام کارفرما ہے۔ تصویر کے نقاب کو ذرا سا تو سرکائیے۔

آپ نے وزیر اعظم سے کہا کہ آپ نے ہم سے تو ضمانت لے لی ہے اور اس کے بعد ۱۴۴ کو ختم کر دیا ہے۔ مجھے بتائیے کہ مرزا بشیر الدین سے بھی ضمانت لے لی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا کوئی بیان شائع کیوں نہیں ہوا۔ یہ کیا مذاق ہے کہ مطعون تو ہم دونوں ہیں مگر ایک پر زیادتی اور دوسرے کو کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔“

اسی جلسہ میں شاہ صاحب سے پہلے مشہور شیعہ لیڈر سید مظفر علی شمسی نے بھی تقریر کی تھی جس کے چند جملے ملاحظہ ہوں۔

حضرت امیر شریعت سے پہلے شیعہ قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے سید مظفر علی شمسی نے الفضل کی منافرت انگیزی اور کذب بیانی کا تار و پود بکھیر دیا۔ آپ نے کہا کہ مرزائی بالخصوص ان کا ترجمان ”الفضل“ سنی اور شیعہ فرقوں کو لڑانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے کہ سنیوں اور شیعوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ اس لئے شیعوں کو اس معاملہ میں سنیوں کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔ لیکن الفضل کی کوششیں خاک میں مل جائیں گی۔ اسے یہ کہہ کر مایوس کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسول ﷺ کی خاطر شیعوں کو زندہ دیوار میں چن دیا جانا ضروری ہو تو بھولو نہیں کہ تمام شیعہ یہ قربانی بھی خنداں پیشانی سے پیش کریں گے۔ لیکن ناموس رسول پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ختم نبوت کے سلسلہ میں ہم سنیوں کے دوش بدوش کھڑے ہو کر بڑی سے بڑی قربانی پیش کریں گے۔

صفحہ ۲۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحبزادہ فیض الحسن، شیخ حسام الدین، مولانا محمد بخش مسلم، مولانا غلام دین، مولانا احمد سعید قادری، مرتضیٰ احمد خان میکش اور مولانا غلام محمد ترنم نے بھی تقریریں کیں۔ کراچی جانے والے وفد کو ایک صحیح مسئلہ کے سلسلہ میں کس قدر عوامی تائید حاصل تھی۔ اس کا کچھ اندازہ آپ نے حضرت شاہ صاحب کے عظیم الشان جلسہ اور اس میں ہونے والی شاہ جی کی تقریر سے لگا لیا ہوگا۔ وفد کی عوامی تائید کا ایک دوسرا نمونہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جس سے صورتحال کا بالکل ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو جاتا ہے۔ روزنامہ زمیندار جو اس وقت پنجاب اور مغربی پاکستان کا عظیم ترین اور مقبول ترین اخبار تھا اس میں موچی دروازہ کے مندرجہ مذکور جلسہ کے متعلق ایک اداریہ شائع ہوا۔ وہ یہ من وعن یہاں محفوظ کیا جا رہا ہے۔

قادیانیت کے کاسہ سر پر آخری ضرب

’’آل مسلم پارٹیز کنونشن کے زیر اہتمام لاہور میں جو عظیم الشان جلسہ ہوا اس کی کامیابی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ استیصال مرزائیت کی تحریک کوئی پولیٹیکل سٹنٹ نہیں جس کے تار لاہور کے ’’اینگلو انڈین مرزائی‘‘ اخبار کے الفاظ میں پنجاب کے چند سرکاری افسر اور فتنہ پرداز ہلا رہے ہیں۔ بلکہ یہ تحریک عوام کی رگ رگ میں سرایت کرنے کے بعد ان کے ایمان کا جزو بن چکی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کو انگریز کے ایک خود کاشتہ پودے کے منحوس سایوں سے نجات دلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ تحریک ختم نبوت ’’احرار‘‘ نے شروع کی ہے اور ان کے پیش نظر سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہے۔ اس کے جواب میں کئی مرتبہ لکھا جا چکا ہے کہ استیصال مرزائیت کی تحریک کی داغ بیل سب سے پہلے ۱۹۰۷ء میں زمیندار نے ڈالی تھی اور احرار نے بھی اسی سے مستعار لی ہے۔ لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اس تحریک کے بانی مبانی احرار ہیں تو کیا تحفظ ناموس رسالت کوئی ایسا عیب ہے کہ اسے نفرت وحقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے؟ پاکستان تو کیا دنیائے اسلام میں شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جو حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر گردن تک کٹانے کے لئے تیار نہ ہو۔ اگر یہی عقیدہ احرار کا ہے تو مولانا اختر علی خان کے الفاظ میں کسی کو بھی یہ کہنے میں تامل نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کا ہر مسلمان احراری کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ مجلس احرار اسلام اس تحریک کے ذریعے سے ’’سیاسیات‘‘ میں آگے بڑھنے کے خواب دیکھ رہی ہے تو اس کی تردید بھی کئی مرتبہ ہو چکی ہے۔ پرسوں کے جلسہ میں بھی مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے پرزور الفاظ میں اعلان کیا۔ ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ جو قادیانیوں کا ترجمان ہے۔ برابر پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ احرار اس تحریک کے ذریعہ سے سیاسیات میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہم سیاسیات پر تین حرف بھیج چکے ہیں اور اس بات کا عہد کر چکے ہیں کہ مجلس احرار کا کوئی رکن انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لے گا۔

لیکن اس وضاحت کے باوجود اگر کوئی قادیانی یا قادیانیت نواز اخبار یہی رٹ لگائے جا رہا ہے کہ استیصال مرزائیت کی تحریک کا مقصد ’’حصول اقتدار‘‘ ہے تو اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے۔ مرزائی چونکہ خود پاکستان میں اپنی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس غرض کے لئے وہ ربوہ میں متوازی نظم و نسق قائم بھی کر چکے ہیں۔ اس لئے ان کا خیال ہے کہ جو مسلمان ان کے عزائم کو خاک میں ملانے پر کمر بستہ ہیں۔ ان کے پیش نظر بھی ’’سیاسی اقتدار‘‘ ہے۔ حالانکہ اگر کعبہ مقصود یہی ہو تو اس کے لئے اور بھی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ پنجاب کے مسلمان کثرت رائے سے اپنے اعتماد کا مستحق مسلم لیگ کو قرار دے چکے ہیں اور سردست ایسے حالات ہی پیدا نہیں ہوئے کہ یہ اعتماد زائل ہو سکے۔

صفحہ ۲۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان حالات میں یہ کہنا شرارت اور منافرت کی انتہاء ہے کہ تحریک ختم نبوت کا مقصد مسلمانوں کے کسی خاص گروپ کو منظر عام پر لانا ہے۔ البتہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ یہ تحریک ۱۹۵۲ء ہی میں شباب پر کیوں آئی؟ اس کا جواب واضح ہے مسلمانوں نے برابر پانچ سال تک انتظار کیا کہ ان کی قومی حکومت مرزائیوں کی ان سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا قلع قمع کرے گی جو ”زمیندار“ گزشتہ ۴۵ برس سے مختلف مواقع پر بے نقاب کرتا آیا ہے۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس نے توجہ نہ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حالات روز بروز دگرگوں ہوتے جارہے ہیں۔

چنانچہ ایک طرف اگر چوہدری ظفر اللہ کی انگریز نوازی کے طفیل مسئلہ کشمیر ابھی تک گفت وشنید ہی کے ”شیطانی چکر“ سے آزاد نہیں ہو سکا تو دوسری طرف مرزائیت کی تحریک برابر تقویت پکڑتی چلی جارہی ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ کی گئی تو خلیفہ قادیان کے اس نصب العین کو پورا ہونے سے کون روک سکے گا؟ کہ: ”ہمارے پیش نظر تبلیغ ہی نہیں ہے ملکوں کو فتح کرنا بھی ہے۔“

چنانچہ خلیفہ قادیان کے انکشاف کے مطابق مرزائی فوج میں اپنا تناسب پورا کر چکے ہیں۔ اب وہ سرکاری دفاتر پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنانچہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی بہت سی کلیدی آسامیاں پہلے ہی ان کے قبضہ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر ان کی نگرانی نہ کی گئی تو خلیفہ قادیان کے لئے اس سکیم کو بروئے کار لانا دشوار نہیں رہے گا کہ بلوچستان کی آبادی چونکہ کم ہے اس لئے سب سے پہلے اسی کو ”احمدی صوبہ“ بنایا جائے۔ غرض یہ حالات ہیں جن کے ماتحت فرزندان توحید نے ”سفینہ سوخت“ ہو کر یہ عہد و پیماں باندھا ہے کہ وہ تحریک تحفظ ختم نبوت کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کر کے چھوڑیں گے۔ خواہ اس راہ میں ان کی جان بھی چلی جائے۔ ان کے پیش نظر کوئی ”سیاسی غرض“ نہیں ہے۔ بلکہ وہ قائد اعظم کے فرمان کے مطابق صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جس ملک کو انہوں نے اپنا اور اپنے بال بچوں کا خون دے کر حاصل کیا ہے۔ اسے غیر ملکی ایجنٹوں اور انگریز کے گماشتوں کی ریشہ دوانیوں کی نذر نہ ہونے دیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس نصب العین کو حاصل کس طرح کیا جائے؟ ظاہر ہے یہ مقصد فتنہ و فساد یا ہنگامہ آرائی کے ذریعے سے پورا نہیں ہو سکتا بلکہ اس غرض کے لئے آہنی جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں مسرت ہے کہ آل مسلم پارٹیز کنونشن کے جلسہ عام میں بھی اس اصول کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور عوام نے مجلس کے اس فیصلہ کی تصدیق کر دی ہے کہ اس کا ایک وفد عزت مآب وزیر اعظم الحاج خواجہ ناظم الدین سے اولین فرصت میں ملاقات کرے اور ان پر زور دے کہ وہ عوام کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے نہ صرف چوہدری ظفر اللہ کو وزارت خارجہ کے عہدے سے برطرف کر دیں بلکہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دے کر اور ان کو کلیدی آسامیوں سے محروم کرنے کے لئے بھی جلد سے جلد کوئی قدم اٹھائیں۔ اس سلسلہ میں عوام نے جو قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ اس قابل ہے کہ حکومت پاکستان اس پر غور کرے۔ اس قرارداد میں قادیانیوں کے ہیڈ کوارٹر ربوہ میں صرف ایک فرقہ کی آبادکاری کو تشویش کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کی یہ نو آبادی پاکستان کی مملکت کے اندر ایک جداگانہ متوازی ریاست کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ اس فتنہ کو قیامت بننے سے پہلے ہی دبا دے۔ بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی تقسیم میں خصوصی مراعات دینے کی جو پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اسے فوراً ترک کر دیا جائے۔ یہ قرارداد چونکہ ایک کھلے جلسہ میں منظور کی گئی ہے۔ اس لئے ظاہر ہے اسے مسلمانوں کی تمام جماعتوں کی یکساں تائید حاصل ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ اس قومی مطالبہ پر جلد سے جلد غور کرے تاکہ مسلمانوں کا اضطراب سکون واطمینان کی کیفیت سے بدل سکے۔

ہمیں افسوس ہے کہ ایک مقامی اخبار نے یہ افواہ پھیلانے سے بھی دریغ نہیں کیا کہ وزیر اعظم پاکستان اپنے وعدے کے مطابق ۱۴ اگست کو قادیانیوں کے بارے میں حکومت پاکستان کی حکمت عملی واضح نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد وزیر اعظم کو بدنام کرنے

صفحہ ۲۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ لہٰذا وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس معاملہ کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

(روزنامہ زمیندار، مورخہ ۱۲/اگست ۱۹۵۲ء)

۱۱/دسمبر ۱۹۵۲ء کو مولانا احتشام الحق تھانوی کنوینئر مجلس عمل نے پاکستان کے چوٹی کے علمائے کرام اور مختلف دینی جماعتوں کے نمائندوں کے نام دعوت نامے جاری کئے اور کراچی میں کل پاکستان آل مسلم پارٹیز کنونشن کا اجلاس ۱۶، ۱۷، ۱۸/جنوری ۱۹۵۳ء کو طلب کیا۔

۱۹/دسمبر کو دفتر روزنامہ زمیندار لاہور میں مجلس عمل کی میٹنگ ہوئی جس میں طے پایا کہ آل پاکستان مجلس عمل کے زیر اہتمام ۱۶/جنوری کو آخری فیصلے کے لئے مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں کے نمائندے کراچی میں جمع ہوں گے۔ انہی دنوں حضرات علماء کرام دستور کے سلسلے میں کراچی آنے والے تھے اگر مجلس عمل ان تاریخوں کے علاوہ جنرل اجلاس کا بندوبست دوسری تاریخوں میں کرتی تو مجلس عمل کو بلاوجہ زیر بار ہونا پڑتا۔ علاوہ ازیں حضرات علماء کرام کو دوبارہ زحمت سفر اٹھانا پڑتی۔ دور دراز مقامات سے ان حضرات کی تشریف آوری مشکل ہو جاتی۔

۱۶/جنوری ۱۹۵۳ء کو بعد از نماز جمعہ حاجی مولا بخش سومرو کی کوٹھی پر آل مسلم پارٹیز کنونشن کا اجلاس شروع ہوا۔ حاجی مولا بخش سومرو کی کوٹھی قائد اعظم محمد علی جناح کے مقبرہ کے بالمقابل سڑک کے اس پار واقع ہے۔ حاجی صاحب موصوف مولانا احمد علی لاہوری کے مرید اور حاجی اللہ بخش سابق وزیر اعلیٰ سندھ مرحوم کے بھائی ہیں۔ اس کنونشن میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے ڈیڑھ پونے دوسو کے قریب علمائے کرام اور رہنمایان عظام شریک ہوئے جو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔

اس اجلاس میں مرزائیت اور تحفظ ختم نبوت کے مسئلہ پر غور کیا گیا۔ ۱۷/جنوری کو بعد نماز مغرب سبجیکٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور مختلف تجاویز پر تفصیلی غور ہوتا رہا اور باہم مشاورت جاری رہی۔ ۱۸/جنوری کو کنونشن کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جن نمائندہ اکابرین نے شرکت کی ان کے اسمائے گرامی (باب دوم میں آگے آئیں گے)

اس اجلاس میں آٹھ قراردادیں منظور کی گئیں۔

لئے جائیں گے۔ اس لئے آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان حالات میں مطالبات کو تسلیم کرانے کی غرض سے ’’راست اقدام‘‘ ناگزیر ہو گیا ہے۔

مرزائیہ کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا جائے۔ ان تدابیر میں سے ایک یہ ہے کہ فرقے سے کامل مقاطعہ کیا جائے۔

تاکہ مسلمانان پاکستان اپنے دینی عقائد پر عمل کر سکیں اور اسلامی روایات کی حفاظت کرنے کے قابل ہو جائیں۔

کے نمائندوں کو جنرل کونسل کا ممبر بنائے۔

صفحہ ۲۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جنرل کونسل ان ممبروں کو اختیار دیتی ہے کہ وہ بقیہ سات ممبروں کو اپنی مرضی سے نامزد کر لیں۔

کر کے اس کو لوگوں کے آخری فیصلے سے مطلع کر دے۔ اس وفد کو اختیار ہوگا کہ کابینہ کو آخری جواب کے لئے مزید وقت دے دے۔

یہ آٹھ قراردادیں منظور ہونے کے بعد اجلاس ختم ہو گیا۔ البتہ اس دن مغرب کی نماز کے بعد مجلس عمل کے لئے نامزد آٹھ ممبران نے ایک میٹنگ کی اور جنرل کونسل کی قرارداد اور ہدایت کے مطابق مندرجہ ذیل سات ممبران کو مجلس عمل کے لئے نامزد کر کے مجلس عمل کی مقررہ گنتی یعنی ۱۵ ممبران پورے کر دیئے۔

اس اجلاس میں دوسرا اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ جنرل کونسل کی ہدایت کے مطابق خواجہ ناظم الدین سے آخری ملاقات کرنے کے لئے ایک وفد مقرر کیا گیا۔ اس وفد میں مندرجہ ذیل حضرات شامل تھے۔ مولانا عبد الحامد بدایونی، رئیس وفد پیر صاحب سرسینہ شریف، ماسٹر تاج الدین انصاری، سید مظفر علی شمسی اور غیر ممبران میں سے مولانا لال حسین اختر مشیر خصوصی کی حیثیت سے وفد کے ساتھ شامل کئے گئے۔ ۲۲؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو اس وفد نے خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کی جس کا جنرل کونسل کی طرف سے اختیار دیا گیا تھا۔

صفحہ ۲۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باب دوم

۱۶؍ جنوری ۱۹۵۳ء سے ۱۰؍ مارچ ۱۹۵۳ء تک

نوٹ: اس باب میں بھی حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری کے مبارک ہاتھوں سے

جمع کئے ہوئے موتیوں کو اس ترتیب سے اکٹھا کیا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی ضائع نہ ہونے پائے۔

صفحہ ۲۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں: پس ۱۶، ۱۷، ۱۸؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں یہ عظیم الشان اور تاریخی اجتماع ہوا۔

مندرجہ ذیل اکابر نے اس میں شرکت کی۔

صفحہ ۲۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قراردادیں

۱۸؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو کنونشن کے آخری اجلاس میں حسب ذیل قراردادیں منظور کی گئیں:

لئے جائیں گے۔ اس لئے آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ان حالات میں مطالبات کو تسلیم کرانے کی غرض سے ”راست اقدام“ ناگزیر ہو گیا ہے۔

فرقہ مرزائیہ کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا جائے۔ ان تدابیر میں سے ایک یہ ہے کہ اس فرقہ سے کامل مقاطعہ کیا جائے۔

کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ مسلمانان پاکستان اپنے دینی عقائد پر عمل کرنے اور اسلامی روایات کی حفاظت کرنے کے قابل ہو جائیں۔

کے نمائندوں کو جنرل کونسل کے ممبر بنائے۔

اور ان ممبروں کو اختیار دیتی ہے کہ بقیہ سات ممبروں کو اپنی مرضی سے نامزد کریں۔

صفحہ ۲۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملاقات کر کے اس کو لوگوں کے آخری فیصلے سے مطلع کر دے۔ اس وفد کو اختیار ہو گا کہ کابینہ کو آخری جواب دینے کے لئے مزید وقت دے دے۔

اس دن نماز مغرب کے بعد مجلس عمل کے آٹھ ممبروں کا اجلاس ہوا اور مندرجہ ذیل سات مزید ممبر شامل کر لئے گئے۔

اسی اجلاس میں مجلس عمل نے ایک وفد مرتب کیا تا کہ خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کرے۔ چنانچہ ایک وفد جس کے رئیس مولانا عبدالحامد بدایونی اور جس کے شرکاء

مجلس عمل کا ایک وفد خواجہ صاحب سے ۲۲؍جنوری ۱۹۵۳ء کو ملا۔ اس مرتبہ خواجہ صاحب نے متاثر ہو کر یہ مہربانی کی کہ اپنی کیبنٹ کے معزز اراکین کو بھی بلا لیا۔ سر ظفر اللہ خان کے علاوہ باقی سب حضرات تشریف لے آئے۔ مولانا عبدالحامد بدایونی نے ایک اعتراض کیا اور کہا کہ سر ظفر اللہ خان انہی لوگوں کو سفارتوں میں آگے لاتے ہیں جو مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا : دیکھئے مولانا! وہ بات نہ کہئے جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچ سکے۔ ہم اپنے عقیدے پر پکے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔ میرا اس پر ایمان ہے۔ میرے ایمان اور سر ظفر اللہ خان کے ایمان میں بین فرق ہے۔ مگر میں ان کے خلاف غلط باتیں نہیں سن سکتا۔

مولانا بدایونی صاحب نے فرمایا۔ حضور والا اگر میں نام بتا دوں تو؟ خواجہ صاحب نے فرمایا بتائیے کوئی ایسا واقعہ؟ مولانا نے ایک ایک سفارت خانے کے افسر کا نام لیا۔ کیبنٹ کے ایک وزیر نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہم نے بھی سنی ہے اور یہ درست معلوم ہوتا ہے۔ تب خواجہ صاحب پر زیادہ اثر ہوا۔ وہ ہمیں زیادہ تسلی تو نہ دے سکے۔ مگر انہیں یہ یقین ہو گیا کہ مسلمان شکایات کرنے میں حق بجانب ہیں۔ اس ملاقات میں چونکہ سردار بہادر خان تشریف نہ لا سکے۔ اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ ان کے بنگلے پر بھی حاضری دیں۔ چنانچہ فون پر ان سے بات ہوئی اور ملاقات کا وقت مقرر کر کے ہم ان سے بھی جاملے۔ وہ بڑے صاف قسم کے انسان ہیں۔ فرمانے لگے کہ میری سر ظفر اللہ خان سے اچھی خاصی دوستی ہے۔ مگر میں اپنے عقیدے کا پکا ہوں۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ وزیر مواصلات ہیں۔

صفحہ ۲۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ کی موجودگی میں مرزائیوں کو ریلوے کے محکمے میں پھلنے پھولنے کا بہت موقع ملا ہے۔ سردار بہادر خان نے فرمایا کہ آج تک سرظفر اللہ خان نے مجھ سے کسی مرزائی کی سفارش نہیں کی پھر میں کیسے مان لوں کہ ان کے اثر و رسوخ سے مرزائیوں کا ریلوے میں تسلط ہو رہا ہے۔ ہم نے ان سے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا۔ واقعہ یہ تھا کہ (ریلوے میں غالباً بتیس ٹی ٹی کی اسامیاں خالی تھیں۔ درخواستیں مانگی گئیں۔ جب ان اسامیوں کو پر کیا جانے لگا تو بتیس مرزائی لے لئے گئے) اور صرف دو یا تین مسلمانوں کو لیا گیا ان میں بھی ایک ہوشیار نوجوان نے مرزائیوں کی سی اچھوتی داڑھی رکھ لی اور ملازم ہو کر حلیہ درست کر لیا۔ سردار بہادر نے تحقیقات کا وعدہ فرمایا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو ”آزاد“ میں شائع ہو چکا تھا۔ اس ملاقات میں ہمیں معلوم ہوا کہ سرظفر اللہ خان کتنے ہوشیار اور کس احتیاط سے کام کر رہے ہیں۔

سردار بہادر نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ سرظفر اللہ خان نے صرف ایک دفعہ مجھے ایک مرزائی افسر کے تبادلے بارے میں کہا تھا اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ مگر بعد میں مجھے وہ تبادلہ اس لئے منسوخ کرنا پڑا کہ خود مسلمانوں نے میری چوکھٹ گھسا ڈالی اور یکے بعد دیگرے میرے پاس آ کر اس تبادلے کی منسوخی کے لئے اس قدر تنگ کیا کہ میں نے تبادلہ منسوخ کر دیا۔ آپ کے مسلمان ہی مرزائی افسر کے لئے ہاتھ باندھ رہے تھے۔ فرمائیے میں کیا کرتا ؟ ہم نے حالات کی نزاکت کو اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہ مرزائی کس طرح مسلمان وزیروں کو ہموار کرتے ہیں اور کس طرح چیدہ مگر نامعقول قسم کے مسلمانوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔

ریلوے میں بڑے بڑے افسر جنہیں مسلمان سمجھا جاتا تھا۔ اچانک معلوم ہوا کہ انہیں ایک ایک کر کے کس طرح ربوے کی سیر کرائی اور پھر اندر ہی اندر انہیں کس ترکیب سے مرتد بنانے کی کوشش ہوئی۔ اس خطرناک صورتحال نے ہمیں اور چوکنا کر دیا۔ کوئی گوشہ نیک اور درددل رکھنے والے مسلمانوں سے خالی نہیں۔ چنانچہ ایک ذمہ دار مسلمان افسر نے ہمارے کیمپ میں اطلاع بھیجی کہ فلاں مسلمان افسر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔ اس کا ایمان ڈانواں ڈول ہو رہا ہے۔ کسی اچھے مبلغ کو بھیجئے تاکہ ایک باحیثیت مسلمان افسر کے ایمان کو بچایا جاسکے۔ قاضی احسان احمد صاحب اپنے بکس سمیت ان کے بنگلے پر تشریف لے گئے۔ ان کی واپسی پر معلوم ہوا کہ افسر مذکور کی باتوں سے ایسا اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مرزائیت کی روحانیت یا اصلیت کا زیادہ قائل نہیں جتنا کہ وہ موجودہ ماحول میں مرزائیت کے لئے فضا سازگار پا کر مرزائیت کی طرف مائل ہے۔ مگر قاضی صاحب نے انہیں ایمان کی قدر و قیمت بتادی۔ مبلغ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ واپسی پر قاضی صاحب سو فیصد مطمئن نہ تھے۔ مگر اتنا تو ہوا کہ افسر مذکور نے بہکی بہکی باتیں کرنا ترک کر دیں۔ یہ واقعہ میں نے اس لئے عرض کیا کہ قارئین کرام اندازہ لگا سکیں کہ ہم نے کن حالات میں اور کیسی دشواریوں میں رد مرزائیت کا کام کیا۔ مجلس عمل مرزائیت کے پھیلائے ہوئے جال کو کاٹنے اور سمیٹنے کی فکر میں تھی۔ مرزا محمود کو معلوم ہوا تو وہ بڑے متفکر ہوئے اور سرظفر اللہ خان کی معرفت انہوں نے اپنے مبلغوں کی ایک ٹولی جن میں اللہ دتہ جالندھری وغیرہ شامل تھے کراچی بھیج دی۔ ان مرزائیوں نے مسلمان وزراء پر تبلیغ کا ہلہ بول دیا۔ وہ ایک ایک وزیر کی کوٹھی پر جانے لگے۔

سردار نشتر نے تو ان سے باقاعدہ دو دو ہاتھ کئے۔ وہ اچھے خاصے مولوی ہیں اور ایسے ماں باپ کی آغوش میں پرورش پائی ہے جہاں دین کا باقاعدہ چرچا ہوتا تھا۔ ان سے مرزائی گھبراتے تھے۔ اگر سردار عبدالرب نشتر نے اپنی گورنری کے زمانے میں ”الشہاب“ ضبط نہ کی ہوتی (الشہاب وہ کتاب تھی جو شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے قتل مرتد کے بارے میں لکھی تھی) تو ہم سردار صاحب کو اپنا سردار مان لیتے۔ الشہاب کی ضبطی کا داغ ان کی گورنری کے دامن پر لگ ہی گیا۔ بہرحال وہ مذہبی ذہن کے وزیر تھے۔ اس لئے کیبنٹ اور مرزائی کیمپ

صفحہ ۲۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں انہیں مولوی منسٹر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ مرزائی مبلغوں نے غلام احمد کی کتابوں کا پلندا بغل میں دبا کر ہر مسلمان منسٹر کا پیچھا کیا۔ سب سے پر لطف اور مختصر مناظرہ فضل الرحمن صاحب وزیر تعلیم سے ہوا۔ مرزائیوں نے تبلیغ کے لئے ملاقات کی اجازت چاہی۔ سر ظفر اللہ کے ہوتے ہوئے کون کہتا کہ معاف کرو باوا ہم تمہیں اور تمہارے پیغمبر کو جانتے ہیں۔ چاروناچار موقع دینا ہی پڑتا تھا۔ فضل الرحمن صاحب کے ہاتھ جب مرزائی مبلغ پہنچے تو وہ چوکس ہو کر بیٹھ گئے۔

جب مرزائی مبلغ کتابوں کا پلندا کھولنے لگے تو فضل الرحمن صاحب نے فرمایا کہ سنئے مولوی صاحبان ہم زیادہ باتیں کرنا نہیں جانتے اور نہ زیادہ بحث میں پڑنا چاہتے ہیں۔ آپ میری ایک بات سن لیں اور وہ یہ ہے کہ اگر دنیا بھر کے مسلمان جو غلام احمد کو نبی نہیں مانتے کافر ہیں تو میں کافر ہوں۔ خدا کے لئے مجھے کافر ہی رہنے دو۔ میں مسلمانوں کے ساتھ کافر رہنا چاہتا ہوں۔ اب آپ فرمائیے آپ اور کیا کہتے ہیں؟

مرزائیوں نے بغلیں جھانکنا شروع کیں اور پلندے کو پھر سے باندھ کر رخصت چاہی۔ فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ شوق سے جاسکتے ہیں۔ مرزائی مبلغوں کے اس دورے میں یہ سب سے بڑھیا قسم کی ملاقات تھی۔ دراصل سر ظفر اللہ خان وزیروں کی نبض پر ہاتھ رکھ چکے تھے۔ ہمیں کیبنٹ کے مسلمان وزراء میں سے صرف ایک وزیر کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ربوہ تشریف لے گئے تھے یا کسی ترکیب سے وزیر صاحب کو ربوہ بھجوایا گیا تھا۔ مگر ہر چند کوشش کے بعد یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ وزیر کون تھا؟ مجلس عمل کی جدوجہد کے بعد یہ سلسلہ رک گیا اور ایسا بریک لگ گیا کہ مرزائی مبلغوں کو مسلمان وزراء کے بنگلوں پر جانے کی جرأت نہیں ہوئی۔

انڈیا ہاؤس

ہندوستان تقسیم ہوا تو ہندوستان کی غیر منقولہ جائیداد جو بیرون ممالک میں تھی وہ بھی تقسیم ہوئی۔ بغداد میں انڈیا ہاؤس کے نام کی شاندار عمارت پاکستان کے حصے میں آئی۔ چونکہ وزارت خارجہ کا قلمدان سر ظفر اللہ خان کے پاس تھا اور بیرونی سفارت خانے انہی کے ماتحت تھے۔ اس لئے بغداد کی اہمیت کے پیش نظر مرزائیوں نے بغداد کا رخ کیا اور مسلمانوں کو نکال کر مرزائیوں نے انڈیا ہاؤس پر قبضہ جمالیا اور اسے مرزائیت کا مستقل اڈہ بنالیا۔ مسلمان بہت سیخ پا ہوئے۔ وہ جب احتجاج کرنے پر اتر آئے اور بات مرکز تک پہنچی تو انڈیا ہاؤس پر مرزائیوں کے قبضے کا چرچا ہوا۔ صورت ایسی ہوئی کہ یہ علاقہ مرزائیوں کی دستبرد سے باہر ہو گیا۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کس مسلمان سفیر نے حوصلہ کیا اور مسلمانوں کی داد رسی کی کہ انڈیا ہاؤس پر مرزائیوں کا قبضہ نہ رہا۔ انہی دنوں مجلس عمل نے جس حد تک ہوسکا بیرونی سفارت خانوں پر دھیان دیا اور یہ جاننا چاہا کہ امت مرزائیہ جو اندرون ملک میں مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول ڈال کر جو کچھ نظر آتا ہے ہتھیا لیتی ہے۔ باہر جہاں وزارت خارجہ کی دیوار ہے خدا جانے کیسا اندھیرا ہوگا۔ معلوم ہوا کہ مرزائی لٹریچر سرکاری ذرائع سے بیرونی ممالک میں بھیجا جارہا ہے۔ اس صورتحال نے مسلمانان پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ سر ظفر اللہ خان کی علیحدگی کا مطالبہ سختی سے کریں اور سارا زور اس پر لگا دیں کہ کسی صورت میں سر ظفر اللہ خان سے وزارت خارجہ کا قلمدان چھین لیا جائے۔ رد مرزائیت کے سلسلے میں مجلس عمل کے راہنما حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر سر ظفر اللہ خان آج وزارت خارجہ سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو مرزائیت کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ آدھی فتح صرف اس مطالبے کے تسلیم کر لئے جانے میں مضمر ہے۔ عام اندازہ یہی تھا کہ سر ظفر اللہ کی علیحدگی سے مرزائیت کا پچاس فیصد زور ختم ہو جائے گا اور اقلیت قرار دیئے جانے پر بقایا کا صفایا ہوگا۔

صفحہ ۲۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قابلیت کا پراپیگنڈا

سرکاری کیمپ اور ولایتی قسم کے مسلمانوں نے پراپیگنڈا کیا کہ کشمیر کا کیس جس خوبصورتی اور تندہی سے ظفراللہ خان لڑ رہے ہیں یہ انہی کا حق ہے۔ اس پایہ کا دوسرا آدمی پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ کشمیر چاہتے ہو تو سر ظفر اللہ خان کی مخالفت کا نام نہ لو۔ سر موصوف بڑے نامور وکیل اور بہت بڑے اثر و رسوخ کے مالک ہیں۔ یہ پراپیگنڈا بظاہر سرکاری کیمپ اور پڑھے لکھے مسلمانوں کی طرف سے ہو رہا تھا۔ مگر اس پراپیگنڈا کی تہہ میں مرزائیت کارفرما تھی اور مرزائیوں کی پراپیگنڈا مشین سر ظفراللہ خان کی شہرت کو ہوا دے کر چار چاند لگانے میں مصروف تھی۔

مجلس عمل نے حقیقت کو بے نقاب کرنا شروع کیا اور مسلمانوں کو اس بارہ میں سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔ انہیں جب یہ سمجھایا گیا کہ ابتداء میں میدان کھلا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا کوئی مضبوط مورچہ نہ تھا۔ ایک ہی ہلے میں مظلوم کشمیریوں کی جان چھڑائی جاسکتی تھی۔ مگر یہ قیمتی وقت باتوں میں ضائع کر کے بھارت کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے غاصبانہ قبضہ کو مضبوط بنالے۔ چنانچہ ادھر باتیں اور صرف باتیں ہوتی رہیں۔ قانونی موشگافیوں میں وقت ضائع کیا گیا۔ ادھر بھارت بے کھٹک مورچے بناتا گیا۔ کھلے میدان میں دو دو ہاتھ ہو جاتے تو بھارت کے سورما دہلی کی راہ لیتے اب سیمنٹ کے مورچوں سے ٹکر مارنا ہوگی۔

سر ظفر اللہ خان کی لمبی تقریر

حفاظتی کونسل کا اجلاس ہوا تو پاکستان کی نگاہیں کونسل کے اجلاس پر مرکوز ہوگئیں کہ دیکھیں اب ہمارے وزیر خارجہ کس طرح موتی بکھیر کر حفاظتی کونسل کو مسحور کرتے ہیں اور کسی ترکیب سے کشمیر کو اپنی جھولی میں ڈال کر لے آتے ہیں اور پاکستان کو فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ لو ناقدرشناسو میرے خلاف تم شور مچاتے رہے ہو۔ یہ لو کشمیر لے آیا ہوں۔ سر ظفر اللہ خان نے حفاظتی کونسل میں بہت لمبی تقریر کی اس قدر لمبی تقریر کہ حفاظتی کونسل کے بعض ارکان اپنی نشستوں پر سوگئے اور بعض اخبارات کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔

اس تاریخی تقریر کے بعد پراپیگنڈے کا ایک طوفان اٹھا۔ سر ظفراللہ خان کے حمایتیوں نے فخریہ انداز میں کہا کہ دیکھا ہمارے شیر کی گرج جس محفل میں دم مارنے کی گنجائش نہ تھی وہاں ہمارا نمائندہ آٹھ گھنٹے گرجتا رہا اور مخالف کے دانت کھٹے کردیئے جن کے دانت کھٹے ہوگئے تھے۔ یعنی فریق مخالف ان کا نمائندہ یعنی مسٹر فین اٹھے اور آدھ گھنٹے میں ہمارے شیر کی گرج کا تیا پانچہ کر کے رکھ دیا۔ بیرونی ممالک میں چونکہ پاکستان کا کوئی پراپیگنڈا نہ تھا اور ہم دنیا کو اپنی مظلومیت سمجھا نہ سکے تھے اور نہ یہ وضاحت کر سکے تھے کہ کشمیر پر بھارت نے خلاف انصاف دھاندلی مچا کر قبضہ کر رکھا ہے۔ بیرونی ممالک کے نمائندوں نے ہمارے قابل وکیل کی لمبی تقریر کا کوئی اثر نہ لیا اور ہم جیسے گئے تھے ویسے ہی گھر کو واپس آگئے تھے۔

ولایت کے اخباروں نے سر ظفر اللہ خان کا قصیدہ کہا ان کی تصویریں چھپیں اور مرزائی ان تصویروں کو لئے پھرے اور سر ظفر اللہ خان کی قابلیت کے ڈھنڈورے پیٹتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خان کی لمبی تقریر نے ہمیں لمبے راستے پر ڈال دیا اور ہمارا نہایت ہی قیمتی وقت برباد ہوا۔ ہمیں نقصان اور بھارت کو فائدہ پہنچا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ بیرونی ممالک میں پراپیگنڈا کیا جاتا۔ ہمدردی حاصل کی جاتی۔ تعلقات بڑھائے جاتے۔ یہ کام وزارت خارجہ کا تھا۔ مگر وزارت خارجہ جہاں بھی موقع میسر آتا تھا مرزائیت کے وعظ کہتی رہی۔ بیرونی ممالک میں مرزائیت کے اڈے مضبوط کئے گئے۔ سر ظفر اللہ کی اس روش کے خلاف اسلامی پریس نے بارہا احتجاج کیا۔ مختصر یہ کہ سر ظفر اللہ

صفحہ ۲۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ۲۱۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خان کی لمبی تقریر پاکستان کو کشمیر کے بارے میں کوئی فائدہ نہ پہنچاسکی بلکہ مضر اور سخت نقصان رساں ثابت ہوئی۔ اس لئے کہ نتیجہ بھارت کے حق میں مفید ثابت ہوا۔ اسے مورچے بنانے کے لئے وقت کی ضرورت تھی۔ سر ظفراللہ خان نے اس ضرورت کو لمبی تقریر اور مقدمے کو طول دے کر پورا کر دیا۔

۱۹۵۲ء گزر گیا

مرزا محمود نے خدا جانے کس کس سے مشورہ کیا اور کس بل بوتے پر یقین کے ساتھ اعلان کیا کہ اسی سال مسلمانوں کو زیر کر کے پاکستان پر مرزائیت کا جھنڈا گاڑ دینا ہے۔ اس اعلان نے خطرناک صورت اختیار کر لی۔ جہاں کہیں مسلمانوں نے سرکاری دفاتر میں مرزائی ملازموں کو دندناتے دیکھا انہیں مرزا محمود کے اعلانات نے مرعوب کیا۔ ہم نے بعض کو یہ کہتے بھی سنا کہ اب کیا ہو گا۔ مجلس عمل کے لئے لازم ہو گیا کہ وہ اس خطرناک پراپیگنڈے کا اثر زائل کرے۔ اس پراپیگنڈے کا اصل کھونٹا سر ظفراللہ خان تھے۔ اس لئے تمام تر توجہ پراپیگنڈے کی بنیاد پر مرکوز کر دی گئی اور خواجہ صاحب وزیر اعظم پاکستان سے مجلس عمل کے ایک وفد نے اسی بارہ میں ملاقات کی۔ خواجہ صاحب کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضور ہم نے پہلی ملاقات میں آپ سے عرض کیا تھا کہ امت مرزائیہ کی وفاداریوں کی تار ربوے میں بندھی ہے۔ اگر کبھی احکامات کا تصادم ہوا تو آپ کے حکم کو پس پشت ڈال کر ربوے کا حکم مانا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا وقت بھی آجائے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہو اور ہر فرد کی وفاداری اور جانثاری از بس ضروری ہو۔ جان کی بازی لگا دینے کا تقاضا ہو تو امت مرزائیہ اپنے خلیفہ سے دریافت کرے گی۔ اگر خدانخواستہ خلیفہ صاحب کا دماغ اوندھا ہو گیا اور وہ اڑ گئے اور فرما دیا کہ خاموش رہو یا دوسرا طریقہ اختیار کرو۔ تب کیا ہو گا پاکستان کی کلیدی آسامیوں اور نازک ذمہ داری کے محکموں میں آپ نے مرزائیوں کو چوہدری بنا کر بٹھا رکھا ہے۔ فرمائیے اس وقت کیا ہو گا۔ خواجہ صاحب موصوف نے فرمایا کہ ایسی بے بنیاد باتیں اور مفروضے پیش کر کے ابتری اور بزدلی نہ پھیلاؤ۔ وفد نے واقعہ پیش کیا کہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ چوہدری ظفراللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے خلیفہ محمود کے حکم اور پروگرام کے مطابق کراچی میں یعنی راج دھانی میں تبلیغ مرزائیت کے لئے جلسہ عام کیا۔ اس میں پہلے ہی روز گڑبڑ ہوئی۔ دوسرے دن آپ سے معزز شہریوں کے وفود ملے۔ اخبارات نے احتجاج کیا۔ آپ نے مناسب سمجھا کہ سر ظفراللہ خان اس جلسے میں نہ جائیں۔ مگر کیا وہ مرزا محمود کے مقابلے میں آپ کا حکم مان گئے تھے؟

خواجہ صاحب کے پاس کوئی معقول جواب نہ تھا۔ وہ آئیں بائیں شائیں کر کے ٹالنے لگے۔ وفد نے اس ملاقات میں ایک اور شکایت کی اور وہ یہ تھی کہ اس جلسے کے لئے جو قد آدم پوسٹر شائع ہوئے اور الفضل وغیرہ میں جو پراپیگنڈا ہوتا ہے اس میں سر ظفراللہ خان کے نام کے ساتھ ان کا عہدہ ضرور لکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سر ظفراللہ خان نہیں بلکہ وزیر خارجہ پاکستان تبلیغ مرزائیت کے ڈھنڈورچی ہیں۔ پاکستان اس لئے معرض وجود میں نہیں آیا کہ اس کا وزیر خارجہ اینٹی اسلام پراپیگنڈا کا علمبردار ہو اور مسلمان خاموشی سے مرزائیت کو پھیلنے کا موقعہ دیں۔ اس ملاقات کے نتیجہ میں حکومت کی جانب سے اعلان ہوا کہ کوئی سرکاری افسر یا وزیر اس قسم کے جلسوں میں نہ جائے۔ یہ حکم بھی ہمارے مطالبے کے مطابق نہ تھا۔ انصاف کا تقاضا اس سے بہت زیادہ تھا۔ قرارداد مقاصد کے ملک میں اسلام کے خلاف ہر قسم کی ریشہ دوانیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے تھا۔ مگر ہم نے یہی غنیمت سمجھا کہ ہماری تگ و دو سے پاکستان کے وزیر اعظم نے اتنا تو محسوس کر ہی لیا کہ سر ظفراللہ خان حدود سے آگے بڑھ کر مرزائیت کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

صفحہ ۲۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۵۲ء کو اگر قادیانی دھمکیوں کا سال کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ۱۹۵۲ء میں مرزا محمود خلیفہ ربوہ بڑے زوروں پر تھا۔ اسے پکڑیں گے، اسے ماریں گے۔ قسم کے الہامات اور بیانات شائع کر رہے تھے۔ یہ تو وہ مدت سے ہی کہتے چلے آ رہے تھے کہ احمدیت کو غلبہ حاصل ہو گا اور قادیانیوں کی حکومت بنے گی اور یہ بھی کہ جب ہماری حکومت بنے گی تو موجودہ مسلمانوں کی حالت چوہڑوں چماروں جیسی بنا دی جائے گی۔ لیکن ۱۹۵۲ء میں تو انہوں نے حد کر دی۔ ۱۵؍جولائی ۱۹۵۲ء کے الفضل میں شائع کرایا گیا کہ وقت آن پہنچا ہے۔ بعض قادیانی مبلغوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ یہ اعلان ’’خونی ملاّ کے آخری دن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ قادیانی مبلغوں عبدالرحمان خان، صاحبزادہ عبداللطیف اور نعمت اللہ جنہیں افغانستان میں امیر عبدالرحمان امیر حبیب اللہ خان اور امیر امان اللہ خان والیانِ افغانستان کے دورِ اقتدار میں بجرمِ ارتداد شرعی سزا کے مطابق سنگسار کرایا گیا تھا ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ ملاّ عطاء اللہ شاہ بخاری، ملاّ بدایونی، ملاّ شفیع، ملاّ احتشام الحق اور پانچویں سوار ملاّ مودودی سے اس طرح پانچ مقتدر علمائے کرام کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا اور ان کا تذکرہ بڑے ہی حقارت آمیز طریقہ سے کیا گیا۔

۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے

مرزا محمود نے یہ بھی اعلان کر دیا بلکہ ایک گونہ اپنی جماعت کو حکم دے دیا کہ ملک میں ایسے حالات پیدا کر دو کہ ۱۹۵۲ء سے پہلے پہلے دشمن تمہارے قدموں میں آ کر گرنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ اعلان بھی الفضل میں شائع کرایا گیا۔ غرضیکہ یہ پورا سال اپنے مخالفین پر بجلیاں گرانے، آگ برسانے، انہیں ہاتھیوں کے پیروں تلے رندوانے اور تہس نہس کروا دینے کی مواعید میں گزرا۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ یہ سال مرزا محمود کی پیش گوئیوں کے برعکس خیریت سے گزر گیا۔ ان پانچوں علمائے کرام میں سے کوئی بھی تو نہ صلیب چڑھایا گیا اور نہ ہی تختہ دار پر لٹکایا گیا اور نہ ہی کسی کی کھلڑی اتارے جانے کا مژدہ جان فزا ربوہ پہنچ سکا۔ البتہ ساہیوال ضلع کے بعض ’’سنگدل‘‘ مسلمانوں نے ان مرزائی مبلغوں کے منہ ضرور کالے کئے جو مسلمانوں کے دیہات میں زبردستی تبلیغ کرنے پر مصر تھے۔ اسی طرح قادیانی صاحبان کی مختلف شہروں میں سیرت کے نام پر منعقد کی جانے والی کانفرنسوں کو بھی الٹا دیا گیا اور کسی شہر میں کوئی جلسہ یا کانفرنس کامیاب نہ ہو سکی۔

الٹی میٹم

مجلس عمل کی تشکیل کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق ۲۲؍جنوری ۱۹۵۳ء کو مجلس عمل کا ایک وفد وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو آل پارٹیز مسلم کنونشن کا ریزولیوشن اور مجلس عمل کا ایک ماہ کا نوٹس دینے کے لئے شام کے وقت پیر صاحب سرسینہ شریف کی سرکردگی میں ملا۔ اس دن چونکہ اس بارے میں ملاقات کا آخری موقع تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ بہت نیک آدمی ہیں۔ مذہبی ذہن کے انسان ہیں۔ مگر طبیعت کے کمزور اور گردو پیش کے حالات سے مرعوب ہو جانے والے بزرگ ہیں۔ علیک سلیک کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔ خواجہ صاحب نے وفد کے ہمراہ پیر صاحب سرسینہ شریف کو دیکھا تو وہ کچھ گھبرائے۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہوں کہ اب بنگال میں بھی مرزائیت کے خلاف آواز اٹھے گی اور اپنے گھر میں مرزائیت نوازی کا چرچا ہوگا۔ وفد نے خواجہ صاحب کو متعدد ملاقاتوں کا حوالہ دے کر بتایا کہ ہم کب کب حاضر ہوئے اور کیا کچھ عرض کیا۔ مرزائی کس طرح آگے بڑھے اور سرظفر اللہ خان کی وساطت سے وہ کلیدی اسامیوں پر کس طرح چھا گئے۔ مسلمانوں نے کتنی بار احتجاج کیا۔ آپ کے پاس کس طرح فریاد کی۔ مگر آپ نے سنی ان سنی کر دی۔ آپ کے لئے لازم تھا کہ آپ پہلے ہی دن صاف طور پر فرما دیتے کہ اس بارے میں آپ بے بس ہیں۔ حالات پر آپ کا قابو نہیں۔ تاکہ ہم بار بار آپ کو زحمت نہ دیتے۔ خود پریشان نہ ہوتے اور

صفحہ ۲۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ کی باتوں سے تسلی پا کر قوم کو اطمینان نہ دلاتے۔ جب بھی ہم سے بات کی آپ نے مطالبات کو درست تسلیم کیا۔ مگر مطالبات میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی ایسا قدم نہ اٹھایا جس سے تسلی ہوتی اور ہم مسلمانوں سے کہہ سکتے کہ مطالبات کو پورا کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ حکومت کو مہلت ملنا چاہئے۔ اس کے برعکس خلیفہ محمود اور اس کے حواری ربوہ کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور ریشہ دوانیوں کا قلعہ بناتے جارہے ہیں۔ اخبار الفضل میں آئے دن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اور مرزائیوں کے حق میں فضا بنائی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو تبلیغ حق کے لئے مسجدوں تک سے روکا گیا۔ اسلامی ملک میں جس کے سربراہ آپ ایسے متدین وزیر اعظم ہوں مسلمانوں پر طرح طرح کی پابندیاں ہیں۔ مگر مرزائیوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ ہم نے آپ سے ابتداء ہی میں عرض کیا تھا کہ سرظفر اللہ خان حکومت کے اسی حد تک وفادار ہیں جس حد تک حکومت کے احکامات خلیفہ محمود کے احکامات سے نہ ٹکرائیں۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ جب آپ نے سرظفر اللہ خان صاحب کو جہانگیر پارک کے جلسہ عام میں جانے سے روکا تو سر موصوف نے آپ کے حکم کی پرواہ نہ کی اور روکنے اور منع کرنے کے باوجود وہ جلسہ عام میں اسلام کا منہ چڑانے اور مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے جا حاضر ہوئے۔ اس صورتحال نے مسلمانوں کو مایوس کر دیا ہے۔ آخر میں خواجہ صاحب سے عرض کیا کہ آپ کے ساتھی بھی آپ کے وفادار ساتھی نہیں ہیں۔ انہیں بھی اسلام سے زیادہ اپنی کرسیاں عزیز ہیں۔ ہمیشہ اندیشہ ہے کہ وقت پر یہ بھی آپ کا ساتھ نہ دیں گے۔ سرظفر اللہ خان اور ان کے ہمدرد تو آپ کا تختہ الٹ کر رکھ دیں گے۔ وہ وقت کے منتظر ہیں۔ جب بھی موقعہ ملا وہ آپ کے اقتدار کو ختم کر دیں گے۔ کچھ عجب نہ ہوگا اگر وہ آپ کی ہستی ہی کا خاتمہ کر دیں۔ ان گزارشات کے سننے کے بعد خواجہ صاحب کچھ متفکر نظر آ رہے تھے۔ مگر وہ بری طرح جکڑے جا چکے تھے۔ ان پر واقعی سرظفر اللہ خان نے رعب بٹھا رکھا تھا۔

پیر صاحب سرسینہ شریف نے خواجہ صاحب کو تیس دن کا الٹی میٹم دیا۔ وہ فرمانے لگے کہ الٹی میٹم کیسا؟ پیر صاحب نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تو آل مسلم کنونشن کا فیصلہ ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے آپ کو یہ مطالبات مان لینا چاہیں۔ خواجہ صاحب نے پیر صاحب سے بنگالی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ میری بات سنیں۔ یہ کہہ کر وہ پیر صاحب کا ہاتھ پکڑ کر ہم سے کچھ دور لے گئے۔ گفتگو ہم نہ سن سکے۔ مگر ہم یہ دیکھ رہے تھے کہ پیر صاحب بات سن کر سر ہلا کر انکار کر رہے تھے۔ چند منٹ کے بعد پیر صاحب اور ہم سب خواجہ صاحب کے ہاں سے واپس آگئے۔ یہ ملاقات سیکرٹریٹ میں ہوئی تھی۔

مطالبات نہ ماننے کی وجہ

خواجہ ناظم الدین صاحب نے فرمایا کہ میں اگر قادیانیوں کے خلاف آپ کا مطالبہ مان لوں تو امریکہ ہمیں ایک دانہ گندم کا نہیں دے گا اور دوسرا یہ کہ وہ کشمیر کے مسئلہ میں ہماری کوئی مدد نہیں کرے گا۔ ملک میں پہلے ہی قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں اشتعال اور غصہ موجود تھا۔ جب عوام کو یہ معلوم ہوا کہ تین مطالبات کے حق میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے راہنما متفق ہو گئے۔ سنی اور شیعہ میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا۔ دیو بندی اور بریلوی کا ایک ہی فتویٰ صادر ہو گیا اور سب راہنماؤں نے متفقہ طور پر خواجہ ناظم الدین سے مطالبہ کیا۔ لیکن خواجہ صاحب نے مطالبات کے تسلیم کرنے سے معذرت کی ہے اور یہ کہ راہنماؤں نے اسے ایک ماہ کا الٹی میٹم دے دیا ہے تو اب عوام میں غصہ اور غضب کی ایک نئی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔ عوام کو اندازہ تھا کہ ایک ماہ گزر جائے گا۔ لیکن خواجہ ناظم الدین یہ مطالبات تسلیم نہیں کریں گے۔ اس لئے عوام تحریک کی تیاری میں لگ گئے۔ اگرچہ مطالبات کے تسلیم نہ کئے جانے کی ناراضگی پورے ملک میں تھی۔ لیکن پھر بھی اس ناراضگی کا اثر مغربی پاکستان میں

صفحہ ۲۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

زیادہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے لوگ قادیانیوں اور ان کے عقائد کے متعلق بہت کم جانتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ تحریک کے راہنماؤں نے بھی زیادہ کام مغربی پاکستان میں کیا تھا۔ مشرقی پاکستان میں بہت کم کام ہوا تھا بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوا تھا۔

پنجاب میں صحیح معنوں میں کام ہو چکا تھا اور مسئلہ بھی پنجاب ہی سے اٹھا ہوا تھا۔ پنجاب کے لوگ ہی اس فتنہ اور اس کے زہر سے کما حقہ آگاہ تھے۔ تاہم سرحد سندھ اور بلوچستان میں بھی کافی کام ہوا تھا۔ اس لئے دوسرے درجہ کا اثر اور تیاری ان صوبوں میں تھی۔

زمیندار اخبار

’’زمیندار اخبار‘‘ اس زمانہ میں مغربی پاکستان کا عظیم اخبار تھا جس طرح موجودہ دور میں جنگ، مشرق اور امروز بڑی کثرت سے شائع ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس زمانہ میں زمیندار چھپتا تھا۔ بڑے سے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے دیہات تک زمیندار اخبار کا طوطی بولتا تھا۔

الٹی میٹم دینے کے بعد لیڈر تو رضا کاروں کی تنظیم اور دوسری تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ زمیندار اخبار روزانہ ایک چوکٹا شائع کرتا تھا۔ جس کی عبارت حسب ذیل ہوا کرتی تھی۔ ’’مجلس عمل کے نوٹس کی میعاد میں صرف ...... دن باقی، حکومت اور وزراء کے جذبہ ایمان کا امتحان، مجلس عمل کے وفد نے ۲۲؍ جنوری کو عزت مآب الحاج خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کر کے علمائے پاکستان کی طرف سے مسلمانان پاکستان کے حسب ذیل مطالبات پیش کئے تھے۔

مرزائیت کی تبلیغ نہ کریں۔

ان مطالبات کے لئے ایک ماہ کا نوٹس دیا گیا تھا۔ اب اس نوٹس کی میعاد میں صرف اتنے دن باقی رہ گئے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت پاکستان مسلمانوں کی رائے عامہ کے صبر کو آزمانے کی بجائے ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور جلد از جلد اپنے فیصلہ سے آگاہ کرے گی۔‘‘

یہ ’’چوکٹا‘‘ روز شائع ہوتا جیسے جیسے نوٹس کی میعاد میں دن کم ہوتے جاتے لوگوں کے خون میں تیزی اور سرسراہٹ پیدا ہوتی جاتی۔

کراچی سے واپسی

کراچی سے واپسی پر لاہور پہنچے۔ میٹنگیں ہوئیں اور مشہور شہروں میں عظیم الشان جلسے ہوتے رہے۔ روز نامہ زمیندار نے تیس دن کے الٹی میٹم کو دیدہ زیب چوکٹوں میں شائع کرنا شروع کیا۔ پراپیگنڈے کا یہ طریقہ بہت ہی کامیاب رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ ’’زمیندار‘‘ اور مولانا اختر علی خان نے رفاقت اور فرض کا حق ادا کر دیا۔ روز نامہ آزاد تو تحریک کے لئے وقف تھا ہی، صوبہ پنجاب کے مسلمان دونوں اخباروں کا کثرت سے مطالعہ کرتے تھے۔ جوں جوں دن گزر رہے تھے اور زمیندار میں چوکٹے کے ذریعہ اعلان ہوتا تھا کہ اب الٹی میٹم کی میعاد ختم ہونے میں صرف اتنے دن باقی ہیں۔ لوگوں کی توجہ اور دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ مجلس عمل کے راہنماء جگہ جگہ جلسہ عام کے ذریعے تحریک کو تیز تر کرتے جا رہے تھے۔ حکومت کی مشین بھی افسران بالا کے مشورے سے روک تھام کی تجویزیں سوچ رہی تھی۔

صفحہ ۲۱۵

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پرامن رہنے کی تلقین

مجلس عمل یہ سمجھ چکی تھی کہ تحریک کی کامیابی کا انحصار پرامن ذرائع سے ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ہر جلسے میں ہر ذمہ دار مقرر نے لوگوں سے واضح الفاظ میں کہا کہ ہر قیمت پر پرامن رہو۔ اگر ذرا بھی گڑبڑ ہوئی تو تحریک کو نقصان پہنچے گا۔ لوگوں کو ذہن نشین کرایا گیا کہ جو شخص بھی امن شکنی یا اشتعال انگیزی کی بات کرے۔ سمجھ لو کہ وہ تحریک کا دشمن اور بیگانے کا آدمی ہے۔ ہم جانتے تھے کہ مرزائیوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ مسلمانوں اور حکومت کا تصادم کرادیں۔ حکومت کی مشینری میں بھی بعض مرزائی کلیدی آسامیاں پر قابض تھے۔ ہمیں اس مشین پر بھی شک تھا کہ امن برقرار رکھنے کی بجائے یہ بھی الٹا چکر چلائے گی۔ تاہم عوام نے مجلس عمل کی ہدایات کو دل کے کانوں سے سنا اور اس پر عمل کیا۔ انتہائی اشتعال انگیزی کے باوجود لوگ پرامن رہے۔

خواجہ صاحب لاہور تشریف لائے

اچانک معلوم ہوا کہ خواجہ صاحب کراچی سے سرگودھا اور لاہور کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔ تحریک پورے شباب پر آچکی تھی اور مجلس عمل نے اپنے حق میں فضا اس قدر سازگار کر لی تھی کہ مخالف عنصر دب کر رہ گیا اور کسی کو مخالفت کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ مجلس عمل کی میٹنگ ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ خواجہ صاحب کی تشریف آوری پر ہڑتال کی جائے۔ حالات کا تقاضا تھا کہ ہڑتال کے ذریعہ محترم خواجہ صاحب پر حقیقت حال واضح کر دی جائے وہ سرکاری غلط سلط رپورٹوں کی وجہ سے کسی مغالطہ میں نہ رہیں۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ چند مولوی صاحبان تحفظ ختم نبوت کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ یہ جان لیں کہ یہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے اور ساری قوم بنیادی مطالبے میں تحریک کی پشت پر موجود ہے۔ فیصلہ ہوا کہ عدیم النظیر ہڑتال کی جائے۔ حضرت مولانا ابوالحسنات، مولانا اختر علی خان صاحب اور مظفر علی شاہ شمسی کے علاوہ میں بھی (ماسٹر صاحب) اس سب کمیٹی کا رکن تھا جو منڈیوں کے چوہدریوں سے مل کر تمام منڈیاں بند کرانے کی اپیل کرے۔ چنانچہ مولانا اختر علی خان صاحب کی کار میں ہم سب منڈیوں کے چوہدریوں سے ملے۔ سب نے اطمینان دلایا کہ شاندار طریقے پر ہڑتال ہوگی۔ اسی دن ہم نے ایک پیامبر سرگودھا بھی بھیج دیا تا کہ وہاں بھی خواجہ صاحب کی تشریف آوری پر ہڑتال ہو جائے۔ ہمیں یقین نہ تھا کہ معمولی پیغام پر بغیر پراپیگنڈے کے سرگودھا میں ہڑتال کامیاب ہو سکے گی۔ مگر جب کوئی تحریک خصوصاً وہ تحریک جو ٹھوس بنیاد پر اٹھے۔ عوام اور خواص اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ جونہی خواجہ صاحب سرگودھا پہنچے شہر میں الو بول گیا۔ کوئی دوکان کھلی نہ رہی۔ اچانک ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف کا سامنا بھی ہوا۔ مگر سب نے خندہ پیشانی سے مکمل ہڑتال کر دکھائی۔ خواجہ صاحب بہت سٹ پٹائے۔ کوئی نوکر بازار سے کوئی چیز خریدنے کے لئے گیا تو دیکھا سارا شہر بند ہے۔ حکام اس ہڑتال کو چھپانا چاہتے تھے۔ مگر خواجہ صاحب کے اپنے آدمی نے بتا دیا کہ سرگودھا میں احتجاج کے طور پر آپ کی تشریف آوری کی وجہ سے ہڑتال ہے۔

۱۶؍ فروری

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: ۱۶؍ فروری ۱۹۵۳ء کو اچانک معلوم ہوا کہ خواجہ ناظم الدین کراچی سے بذریعہ طیارہ سرگودھا پہنچ رہے ہیں اور ملک خضر حیات کے ساتھ مل کر ملک صاحب کے علاقہ میں شکار کھیلیں گے۔ چنانچہ اس اطلاع کے مطابق خواجہ صاحب سرگودھا

صفحہ ۲۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پہنچ گئے۔ ملک صاحب انہیں اپنی جاگیر میں سارا دن شکار اور تفریح کراتے رہے۔ شام کو خواجہ صاحب لاہور پہنچ گئے۔ جونہی یہ خبر معلوم ہوئی کہ خواجہ صاحب ۱۶؍ فروری کو سرگودھا اور اسی شام کو لاہور پہنچیں گے۔ مجلس عمل نے موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے لاہور میں احتجاجی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ مجلس عمل کی اپیل پر اسلامیان لاہور نے لبیک کہتے ہوئے اتنی مکمل ہڑتال کی کہ لاہور کی تاریخ میں اتنی زبردست اور مکمل ہڑتال کبھی نہیں ہوئی ہو گی۔

سرگودھا آنے کی وجہ

بعد میں معلوم ہوا کہ خواجہ صاحب سرگودھا ملک خضر حیات کے مہمان محض تفریح کے لئے نہیں بنے تھے بلکہ اس میں بھی ایک سیاسی حکمت تھی اور وہ سیاسی راز یہ تھا کہ خواجہ ناظم الدین اور میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے درمیان رسہ کشی موجود تھی۔ اس رسہ کشی کا تعلق تحریک ختم نبوت سے نہ تھا۔ بلکہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں پیرٹی (مساوی حقوق) کا جو جھگڑا تھا اور جس میں پنجاب کے ہاتھ میں لیڈر شپ تھی۔ اس جھگڑے کے سلسلہ میں خواجہ ناظم الدین اور میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے تعلقات درست نہ تھے بلکہ سخت کشیدہ تھے۔ اب دوسری بدقسمتی یہ ہوئی کہ خواجہ ناظم الدین کو یہ وہم ڈال دیا گیا کہ تحریک ختم نبوت بھی دراصل ممتاز محمد خان دولتانہ کا ایک حربہ ہے۔ جو خواجہ صاحب کو مرعوب کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے تاکہ رعب تحریک ختم نبوت کا دیا جائے اور مسئلہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا حل کیا جائے۔

خواجہ صاحب جواب آں غزل کے طور پر سرگودھا آئے اور ملک خضر حیات کے مہمان ٹھہرے اس سے محبت کی پینگیں بڑھانے کا مظاہرہ سیر و شکار کی صورت کیا گیا۔ جس کا مطلب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو مرعوب کرنا تھا اور اس موقعہ پر افواہ بھی پھیلائی گئی کہ خواجہ صاحب کے اس دورہ کا مقصد ممتاز دولتانہ کو وزارت اعلیٰ کے عہدہ سے علیحدہ کر کے اس کی جگہ ملک خضر حیات کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے۔ اوّل تو خواجہ ناظم الدین کا یہ وہم ہی سرے سے غلط تھا کہ تحریک دولتانہ صاحب کی چلائی ہوئی تھی اور وہ اسے بطور سیاسی حربہ کے خواجہ صاحب کے خلاف استعمال کر کے اس سے خواجہ صاحب کو مرعوب کرنا چاہتے تھے۔

دوسرا ممتاز محمد خان دولتانہ اس وقت بڑی مضبوط پوزیشن میں تھے۔ پنجاب کے ممبران کی واضح اکثریت میاں صاحب کی حامی تھی۔ مسلم لیگ میں انہیں مضبوط مقام حاصل تھا۔ اس سے وہ خواجہ صاحب کے دورہ سے کیا مرعوب ہوتے۔ بہرحال خواجہ صاحب نے ایک دانہ پھینکا کہ شاید مطالبات تسلیم کئے بغیر صرف دولتانہ صاحب کو مرعوب کرنے سے ہی کام نکل آئے اور آئی ہوئی بلا سر سے ٹل جائے۔ لیکن یہ خواجہ کی ایک محض حسرت ہی تھی۔ کوئی صحیح اندازہ اور صحیح تدبیر نہ تھی۔ اس لئے اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ البتہ مجلس عمل نے خواجہ صاحب کے آنے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ہڑتال ہوئی۔ مظاہرہ ہوا اور دہلی دروازہ کے باہر باغ میں عظیم الشان جلسہ ہوا جو تقریباً سارا دن جاری رہا۔ آخری تقریر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ہوئی۔ صدر جلسہ امیر جماعت ناجیہ خلیفہ حاجی ترنگ زئی حضرت مولانا محمد امین صاحب سرحدی تھے۔ اس جلسہ کا وہ منظر بڑا ہی عجیب تھا۔ جب حضرت شاہ جی کی تقریر کے دوران حضرت مولانا ظفر علی خان کو ان کا بیٹا مولانا اختر علی خان جلسہ گاہ میں لے کر پہنچا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی مولانا ظفر علی خان سے جلسہ گاہ میں ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات مسجد شہید گنج کے سانحہ کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہی تھی۔ حضرت شاہ جی نے مولانا ظفر علی خان کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ مصافحہ کیا اور نعرہ تکبیر کے بعد مولانا ظفر علی خان کے لئے نعرہ لگوایا کہ ۱۹۱۴ء میں ستارہ صبح نکال کر میرے جگر میں عشق رسول ﷺ کی آگ لگانے والا

صفحہ ۲۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظفر علی خان ’’زندہ باد‘‘

تحریک آزادی کا بے باک سالار مولانا ظفر علی خان ’’زندہ باد‘‘ مرزائیت کے کاسہ سر پر کاری ضربیں لگانے والا ظفر علی خان ’’زندہ باد‘‘ فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ مجمع میں شاید ہی کوئی آنکھ ہو جو پرنم نہ ہوگئی ہو۔ شاہ جی نے دوبارہ تقریر شروع کی۔ مولانا ظفر علی خان پیچھے کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑھاپا اور کمزوری تھی۔ برسوں کے بعد شاہ جی کی آواز سنی۔ مرزائیت پر بیٹھے بیٹھے شعر ہو گیا۔ مولانا ظفر علی خان نے شعر پڑھا۔ شاہ جی نے اسے بلند آواز کے ساتھ مجمع میں پہنچا دیا۔ شعر یہ تھا؎

اپنا اپنا ہے مقدر اپنا اپنا ہے نصیب
کوئی مرزائی بنا اور کوئی مسلمان ہو گیا

رقت انگیز منظر

شاہ جی پورے جوبن پر تھے۔ بے انداز مجمع گوش بر آواز عشق رسول ﷺ کی بھٹی گرم اکابر اور اساطین ملت جلوہ افروز ، شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا تحریک ختم نبوت کے لئے مسلمان جانیں دینے کے لئے آمادہ کسی نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ گئے۔ شاہ جی نے فرمایا ساری باتوں کو چھوڑئیے لاہور والو کوئی ہے اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتار لی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا۔ ’’جاؤ میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی۔ اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو۔ اس سے کہو ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں۔ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں کوئی سور ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سوروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لئے بھی تیار ہے۔ مگر شرط صرف یہ ہے کہ تو حضور فداہ ابی وامی کی ختم رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے۔ کوئی آقا ﷺ کی توہین نہ کرے۔ آپ کی دستار ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔‘‘ شاہ جی بول رہے تھے اور مجمع بے قابو ہو رہا تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ چشم فلک نے اس جیسا سماں بھی کم دیکھا ہوگا۔ عوام و خواص سب رو رہے تھے۔ شاہ جی پر خاص وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔ جلسہ ختم ہوا مغرب کے بعد مجلس عمل کا ایک وفد حضرت شاہ صاحب کی تجویز کے مطابق خواجہ ناظم الدین سے ملنے کے لئے گورنمنٹ ہاؤس گیا۔ اس وفد میں مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری ، مولانا اختر علی خان ، ماسٹر تاج الدین انصاری ، سید مظفر علی شمسی اور حافظ خادم حسین شامل تھے۔ لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات خواجہ صاحب نے حسب سابق معذرت کی اور مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

لاہور میں مکمل ہڑتال

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں: خواجہ صاحب لاہور تشریف لائے تو لاہور میں وہ تاریخی ہڑتال ہوئی جس کی نظیر نہیں۔ لاہور پراپیگنڈے کا مرکز ہے جو تحریک لاہور والوں کو متاثر کرے۔ اسے ملک قبول کر لیتا ہے۔ مجلس عمل نے تاریخی ہڑتال کے لئے پروگرام بنا لیا تھا۔ باغ بیرون دہلی دروازہ میں جلسہ عام ہوا۔ بے پناہ ہجوم تھا باغ کا گوشہ گوشہ پر ہو گیا۔ کہیں تل دھرنے کو جگہ باقی نہ بچی۔ لوگوں کو مسئلے کی اہمیت اور حالات بتانے کے بعد انہیں بہر حال پرامن رہنے کی تلقین کی گئی۔ جلسہ عام ہو رہا تھا۔ مگر مجھے اور شمسی صاحب کو شہر میں گشت کر کے حالات پر قابو رکھنے کی ڈیوٹی پر لگا دیا گیا۔ گھوم پھر کر واپس آئے تو ایس. ایس. پی مرزا نعیم الدین صاحب کا پیغام آیا کہ

صفحہ ۲۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیوں کے کالج کے سامنے کچھ گڑ بڑ ہے۔ اسے فوراً سنبھالئے اور پولیس سے تعاون کیجئے۔

مرزائیوں کا کالج

ڈی۔ اے۔ وی کالج کی عظیم الشان بلڈنگ پر مرزائیوں نے قبضہ جما رکھا تھا۔ اسلامیہ کالج کے طلباء مارے مارے پھریں۔ مسلمانوں کے بچوں کو کالجوں میں جگہ نہ ملے۔ مگر چند مرزائیوں کے لئے ہندوؤں کا سب سے بڑا تاریخی کالج مرزائیوں کی سپردگی میں چلا جائے۔ اندھیر نہیں تو کیا ہے؟ عرض یہ کر رہا تھا کہ اس کالج کے سامنے گڑ بڑ تھی۔ قصہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ جلسے میں شمولیت کے لئے ادھر سے نعرے لگاتا ہوا گزرا تو کسی مرزائی لونڈے نے ان پر پتھر پھینک دیا۔ ہجوم وہیں رک گیا۔ ادھر سے نعرے لگے۔ ادھر سے اینٹ پتھر برسے۔ پولیس نے بیچ بچاؤ کر دیا اور درمیان میں کھڑے ہو کر حد فاصل کھینچ دی۔ اتنے میں شمسی صاحب موقع پر جا پہنچے اور مسلمانوں کو صبر کی تلقین کر کے چلے آئے۔ وہ شہر میں جہاں کہیں بھی ہجوم دیکھتے انہیں جلسہ گاہ میں پہنچنے کی تاکید کرتے۔ اس طرح یہ ہڑتال کا دن بخیر و خوبی گزر گیا۔ رات کو نسبت روڈ پر جلسہ عام تھا۔ جس میں حضرت مولانا ابوالحسنات، مولانا محمد علی جالندھری، مظفر علی شمسی، علامہ حافظ کفایت حسین اور یہ خادم ( ماسٹر صاحب ) جلسہ عام میں خطاب کرنے والے تھے۔ مجھے حضرت مولانا ابوالحسنات نے بلا کر فرمایا کہ جلسے میں میرے ساتھ چلنا میں ان کے در دولت پر حاضر ہوا۔ نماز عشاء کے بعد جب ہم جلسہ گاہ کے قریب پہنچے تو حاضرین سڑک پر دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ ہمارے لئے سٹیج تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ جوں توں کر کے لوگوں کو راستہ دینے کے لئے کہا تو کچھ آگے بڑھے۔ ابھی سٹیج ہم سے دور تھا۔ سٹیج کے گرد کچھ ہنگامہ سا نظر آیا۔ مگر دور کھڑے کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ کیا معاملہ ہے۔ ہمت کر کے ہم اور آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ جلسہ گاہ کے قریب ایک مرزائی کا مکان ہے۔ وہاں سے جلسہ گاہ پر خشت باری ہوئی۔ جس سے چند آدمی زخمی ہوئے اور ایک مسلمان بچی بری طرح زخمی ہو کر خون میں لت پت ہو گئی ہے۔ اس واقعے سے ہم سخت پریشان ہوئے۔ لوگوں میں اشتعال تھا۔ مگر جذبات پر پھر بھی قابو تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ لوگوں کو خطاب کیا اور انہیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ طائف میں حضور نبی کریم ﷺ کا زخمی ہو کر بددعا تک نہ کرنا۔ بیان کرنے کے بعد میں نے زخمی لڑکی کے ورثاء کو تسلی دی اور عوام کو صبر کی تلقین کی جلسہ قابو میں آ گیا اور باقاعدہ کارروائی شروع ہو گئی۔ حضرت مولانا ابوالحسنات نے عالمانہ انداز میں برجستہ تقریر فرمائی۔ مظفر علی شمسی اور دیگر مقررین کے بعد مولانا محمد علی جالندھری نے پنجاب میں نہایت ہی شاندار مدلل اور پر مغز تقریر کی جلسے پر سکوت طاری تھا۔ یہ جلسہ رات کے بارہ بجے بخیریت اختتام پذیر ہوا۔

خواجہ صاحب سے ملاقات

خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان، گورنمنٹ ہاؤس میں تشریف فرما تھے۔ مولانا ابوالحسنات صاحب نے ملاقات کے لئے وقت مانگا۔ خواجہ صاحب نے وفد کو ملاقات کی اجازت دے دی۔ جب ہم رات کے وقت گورنمنٹ ہاؤس پہنچے تو ہمارے ناموں کی پڑتال ہوئی۔ میرے نام پر کھٹک ہوئی۔ مگر جب مولانا ابوالحسنات نے فرمایا کہ مجھے تنہا ملنا مقصود نہیں۔ وفد ملاقات کرے گا۔ خواجہ صاحب گورنری کے کمرے سے نکل کر ہمارے کمرے میں تشریف لائے۔ باتیں شروع ہوئیں۔ مولانا اور خواجہ صاحب کی بات ہو رہی تھی۔ کسی مرحلے پر مولانا نے میری طرف دیکھا اور کسی بات کی تصدیق چاہی۔ میں نے خواجہ صاحب سے بات کہی تو وہ فرمانے لگے تاج الدین صاحب مجھے آپ سے بات نہیں کرنا ہے۔ میں تو مولانا سے بات کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا بہت بہتر۔ خواجہ صاحب، میں خاموشی سے بیٹھ کر آپ کی باتیں سنوں گا۔ مولانا نے اس ملاقات میں خواجہ صاحب سے فرمایا کہ آپ بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کو ان مطالبات کے قبول کر لینے میں کیا مشکل حائل

صفحہ ۲۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے ۔ ہم اس مشکل کا حل تلاش کریں گے ۔ ہمیں آپ سے ہمدردی ہے ۔ آپ نیک آدمی ہیں ۔ فرمائیے تو سہی آخر مشکل کیا ہے ۔

خواجہ صاحب نے فرمایا کہ آپ ہماری مشکلات کو نہیں سمجھ سکتے ۔ آپ تو مطالبات پیش کئے جارہے ہیں ۔ یہ ہم کو معلوم ہے کہ ملک کن مشکلات میں پھنسا ہے اور نجات کی صورت کیا ہے ۔ مولانا نے ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان مطالبات کو آج مان لیں تو پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے نام کے کس طرح ڈنکے بجتے ہیں ۔ پھر کسی کی طاقت بھی ہے جو آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔ ساری قوم آپ کی پشت پر ہوگی ۔

خواجہ صاحب نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں مطالبات کو مان لوں تو میں پھولوں سے لد جاؤں گا اور میرے نام کے زندہ باد کے فلک بوس نعرے لگیں گے ۔ مگر ملک مشکلات میں پھنس جائے گا ۔ مولانا نے دریافت کیا وہ کیسے؟ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مولانا صاحب آپ تو کہتے ہیں کہ سرظفر اللہ خان کو نکال دو۔ آپ کو معلوم ہے ملک کی غذائی صورت کیا ہے ۔ اگر ہم کو غلہ نہ ملا تو ملک بھوکوں مر جائے گا ۔ مولانا نے فرمایا اس بات کا سرظفر اللہ خان کی علیحدگی سے کیا تعلق ہے؟

خواجہ صاحب نے نہایت سادگی اور صاف دلی سے فرمایا کہ مولانا صاحب ظفر اللہ خان ہی امریکہ سے غلہ دلوا سکتے ہیں ۔ اگر انہیں علیحدہ کر دیا گیا تو گندم کا ایک دانہ نہ ملے گا۔ مجھ سے نہ رہا گیا اور میں بیچ ہی میں بول اٹھا اور خواجہ صاحب سے بہ ادب عرض کیا کہ خواجہ صاحب یہ دلیل تو مطالبات کے حق میں جاتی ہے۔ اگر بقول آپ کے آج یہ صورت ہے کہ سر ظفر اللہ خان کی وجہ سے ہم کو امریکہ سے گندم ملے گی تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ سرظفر اللہ خان پاکستان سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ اس صورتحال کو اگر چند دن اور برداشت کیا گیا تو ہماری زندگی سرظفر اللہ خان کی مٹھی میں ہوگی ۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ جس قدر جلد اس بلا سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ اسی قدر پاکستان اور ملت پاکستان کے حق میں مفید ہے؟ خواجہ صاحب خاموش ہو گئے ۔ آخر میں فرمایا کہ ہڑتال سنا ہے ۔ لاہور میں بھی ہوئی ہے ۔ پولیس والوں نے زبردستی دوکانیں بند کرائی ہیں ۔ یہاں کے حکام کا اس میں ہاتھ ہے ۔ ایسا سادہ مزاج اور نیک انسان جسے بند کمروں میں بٹھا کر یہ تک خبر نہ ہونے دی جائے کہ باہر شہر میں کیا ہورہا ہے ۔ بھلا ملکی سیاست کو کیا چلا سکتا تھا ۔ نیکی اور بات ہے پولیٹکس اس سے بالکل مختلف شئے ہے ۔ خواجہ صاحب پریشانی کے عالم میں لاہور سے کراچی تشریف لے گئے ۔

۱۶؍فروری کی رات کو ملاقات میں خواجہ ناظم الدین نے اگر چہ وفد کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ لیکن انہیں بالکل مایوس نہ کرنے کے لئے اتنا کہہ دیا کہ آپ اگر مجھ سے پھر بھی ملنا چاہیں تو مل سکتے ہیں ۔ یہ محض اس لئے تھا کہ تحریک کے رہنماؤں سے سلسلہ گفتگو منقطع نہ ہو جائے ۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ غالباً وہ کوشش تھی جو خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت کے کل پرزے اندر ہی اندر مجلس عمل کے مختلف رہنماؤں کو نرم کرنے یا انہیں تحریک سے علیحدہ کرنے کے لئے سرانجام دے رہے تھے ۔ بہرحال ۱۶؍فروری کی ملاقات میں مطالبات منظور نہ ہونے کے بعد اب صاف دکھائی دے رہا تھا کہ مجلس عمل اور حکومت کے درمیان ٹکر ناگزیر ہوگئی ہے ۔

کیا مسلمان فساد کرنا چاہتے تھے؟

نسبت روڈ کا واقعہ آپ نے پڑھا ۔ گنجان آبادی میں جہاں بہادر مسلمان مہاجر رہتے ہیں مرزائیوں کا ایک گھر ہو ۔ اس گھر سے تھوڑے فاصلے پر ہزارہا مسلمان جلسہ گاہ میں موجود ہوں ۔ تحریک تحفظ ختم نبوت شباب پر ہو ۔ مرزائی اپنے گھر سے اینٹیں برسائیں ۔ مسلمان زخمی ہوں ۔ ایک معصوم بچی کا سر پھٹ جائے ۔ فرمائیے وہاں فساد کیوں نہ ہو؟ فساد ہونا چاہئے تھا ۔ مشتعل ہو کر ہزارہا کا ہجوم مرزائیوں کے

صفحہ ۲۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا۔ لہولہان مسلمان بچی آنکھوں کے سامنے بلبلا رہی ہو۔ مگر بہادر اور غیور مسلمان زبان نہ ہلائیں۔ ہاتھ تک نہ اٹھائیں۔ آخر کیا وجہ؟ اے کاش اس وقت کی حکومت کے دل میں ذرہ برابر دیانت ہوتی تو وہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کے قدم چوم لیتی۔ جن رہنماؤں نے لوگوں کو اس حد تک پرامن رہنے پر آمادہ کرلیا۔ انہیں فسادی اور امن دشمن لکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ یہی ایک واقعہ اس بات کی منہ بولتی شہادت ہے کہ تحریک چلانے والے بہرحال تحریک کو پرامن رکھنا چاہتے تھے اور عوام نے پرامن رہ کر خلوص نیت کا ثبوت بہم پہنچا دیا۔ حکومت اور اس کی مشینری جو چاہے سو کہے۔ اسے کون روک سکتا تھا۔

جنون کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنون جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

تحریک چلانے والوں نے تو لوگوں کو اس حد تک متنبہ کیا کہ اگر کسی مرزائی کی نکسیر بھی پھوٹ گئی تو ہم تحریک کو ملتوی کردیں گے۔ پھر کیا کسی مرزائی پر ہاتھ اٹھایا گیا؟ ہمارے بعد جو کچھ کرایا گیا وہ سب پر ظاہر ہے کہ کس طرح کرایا گیا۔ اب اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ آج تک جتنی بھی تحریکیں اٹھیں ان میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوئی ہوگی۔ مگر اس مقدس تحریک میں اشتعال دلانے کے باوجود لوگ حتی الوسع مشتعل نہ ہوئے۔

الٹی میٹم کی تاریخیں

جوں جوں دن ختم ہوتے جارہے تھے۔ مسلمان بے قرار اور ان کی حکومت ہر آن سوچتی تھی کہ اب کیا ہوگا؟ حکومت فرض کی حدود پھاند کر من مانی کارروائی کرنا چاہتی تھی۔ مرکز اور صوبے ہمارے تو خلاف تھے ہی مگر وہ آپس میں بھی منافقت سے کام لے رہے تھے۔ کاش! حکومت مسئلے کی اہمیت اور مسلمانوں کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کرتی اور مطالبات کو تسلیم کرلینے پر آمادہ ہوجاتی۔ اس کے برعکس حکومت کا زاویہ نگاہ یہ تھا کہ ان مطالبات کو پس پشت ڈال کر مسلمانوں کو سختی سے دبا دیا جائے۔ اس کی پوری توجہ قوم کے جذبات کو کچل کر تشدد کے ذریعے تحریک کو دبا دینے پر مبذول ہوگئی۔ آخر میں حکومت کی مشینری دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اوپر کے لوگ مسئلے کی اہمیت کو نظرانداز کر کے تحریک سے ٹکرا جانا چاہتے تھے۔ دوسرے درجے کے لوگ مسئلے سے پوری ہمدردی کا اظہار کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ سرکاری دفاتر میں مرزائیوں کی ریشہ دوانیاں بے نقاب ہوگئیں اور مسلمان سرکاری ملازم ان ریشہ دوانیوں سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہیں تحریک تحفظ ختم نبوت سے گہرا لگاؤ ہوگیا۔ دفاتر میں جہاں کہیں بھی مرزائی افسر کلیدی آسامی پر موجود تھا۔ اس نے مرزائیوں کو حتی الواسع مراعات سے نوازا اور مسلمان غریب منہ دیکھتا رہ گیا۔

شیخ حسام الدین دہلی روانہ ہوگئے

تقسیم کے بعد کوآپریٹو سوسائٹیوں کا حساب کتاب بڑی ٹیڑھی کھیر ہوگیا۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے شیخ حسام الدین کی خدمات حاصل کیں۔ یہی ایک ایسی شخصیت تھی جو بھارت جاکر مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی رقوم کے بارے میں مل جل کر اپنے اثر ورسوخ سے خاطر خواہ تصفیہ کراسکتی تھی۔ چنانچہ حکومت نے شیخ صاحب کو چوبیس گھنٹے کے اندر پاسپورٹ مہیا کر دیا اور انہیں پاکستان کی جانب سے تصفیہ کے لئے بھیج دیا۔ شیخ صاحب موصوف نے حضرت مولانا ابوالحسنات صدر مجلس عمل کی خدمت میں اس صورتحال کو پیش کر کے اجازت چاہی۔ مولانا موصوف نے انہیں دہلی جانے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت کا اندراج آج بھی صدر مجلس عمل مولانا ابوالحسنات محمد احمد صاحب قادری کی ڈائری میں موجود ہے۔ شیخ صاحب دہلی تشریف لے گئے اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے آخری ایام میں حصہ لینے سے محروم

صفحہ ۲۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رہے۔ جب تحریک کے تمام رہنما گرفتار ہو کر جیلوں میں چلے گئے تو شیخ صاحب دہلی سے واپسی پر بارڈر پر گرفتار کر لئے گئے اور تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ لاہور جیل میں آ ملے۔ ان کی گرفتاری کے بعد حکومت نے مشہور کر دیا کہ تحریک کا ایک رہنما بھارت سے ساز باز کرتا ہوا پکڑا گیا۔ اس پر سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین!

کراچی میں تحریک تحفظ ختم نبوت

کراچی تجارتی شہر ہے۔ دراصل اسے مہاجروں کی بستی سمجھنا چاہئے۔ یو۔پی پنجاب اور بھارت کے دور افتادہ علاقوں سے لا تعداد مہاجر آئے اور کراچی میں آباد ہو گئے۔ جن کی رسائی تھی یا جو ہوشیار قسم کے لوگ تھے۔ وہ پیر جما کر رئیس بن گئے۔ مگر غریب بے سہارا اور خوددار مہاجروں کو کراچی ایسے مرکزی شہر میں مشکل سے جھونپڑیاں نصیب ہوئیں۔ کراچی کے اصل باشندے تقسیم ملک کے بعد آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے۔ آج بھی کراچی میں یو۔پی کے مسلمان ناقابل فراموش عنصر کی حیثیت سے آباد ہیں بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ کراچی کے پولیٹکس پر یو۔پی والوں کا اچھا خاصا اثر ہے۔ مجلس عمل کی جانب سے مولانا عبدالحامد بدایونی کراچی میں موجود تھے اور مجلس کے مبلغ مولانا لال حسین اختر کا ہیڈ کوارٹر بھی کراچی ہی میں تھا۔ مگر کراچی کی اہمیت کے پیش نظر جتنا پراپیگنڈا وہاں ہونا چاہئے تھا اس کا عشر عشیر بھی نہ ہو سکا۔ مجلس عمل نے اس بارے میں غور و فکر کے بعد ہر دو ذمہ دار حضرات یعنی مولانا بدایونی صاحب اور مولانا لال حسین اختر صاحب کو مشورے کے لئے لاہور بلوایا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ مولانا لال حسین اختر باقاعدہ رضا کاروں کی بھرتی کر چکے تھے۔ اندرون شہر اور نئی آبادیوں میں کافی رضا کار موجود تھے۔ مگر مرکز میں جلسہ عام نہ ہونے کی وجہ سے تحریک کا خاص چرچا جو ہونا چاہئے تھا وہ نہ ہو سکا۔ مولانا بدایونی کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ کراچی میں جلسوں کا بندوبست فرمائیں۔ خصوصاً الٹی میٹم کے خاتمے کے قریب تین دن کے لئے آرام باغ میں عام جلسے ہو جانا از بس ضروری ہیں۔ مولانا موصوف نے ذمہ داری لے لی اور کراچی تشریف لے گئے۔ اس عرصہ میں مولانا لال حسین اختر صاحب نے کراچی کے بااثر علماء حضرات سے گفتگو کی اور انہیں تحریک تحفظ ختم نبوت کے پراپیگنڈے کے لئے درخواست کی۔ مولانا احتشام الحق اور مفتی محمد شفیع صاحب دونوں حضرات کا ایک خاص حلقہ اثر ہے۔ جس میں ان حضرات کے سوا کسی اور کا گزر نہیں۔ بدقسمتی سے ان دونوں حضرات کے تعلقات خوشگوار نہ تھے۔ بڑے لوگوں کی ناخوشگواری بھی عوام کی خوشگواری سے بہتر ہوتی ہے۔ ان حضرات کے ہاں اختلاف کی حدیں مقرر ہوتی ہیں۔ مولانا لال حسین اختر کی ڈیوٹی تھی کہ وہ دونوں حضرات کی خدمت میں حاضر ہو کر تحریک کے لئے مشورہ اور امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

مولانا بدایونی کراچی میں بریلوی حضرات کے صف اول کے رہنما مانے جاتے تھے۔ وہ عوام میں کام کرنا ہی جانتے تھے اور بہت ہی باہمت بزرگ تھے اور بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ تحریک تحفظ ختم نبوت میں مولانا بدایونی پیش پیش تھے۔ اس طرح کراچی میں گو تحریک کی رفتار دھیمی تھی مگر عوام بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے اور ان کا تقاضا تھا کہ عام جلسے مختلف علاقوں میں ہونا چاہئیں۔ مولانا بدایونی و مولانا لال حسین اختر نے الٹی میٹم کے اختتام کی تین تاریخوں کے لئے جلسہ عام کی اجازت حاصل کر لی اور لاہور اطلاع بھیج دی کہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما آرام باغ کے جلسوں کو خطاب کرنے کے لئے کراچی تشریف لے آئیں۔

لاہور میں جلسہ عام

۵ فروری ۱۹۵۳ء کو بیرون باغ موچی دروازہ لاہور میں زیر صدارت حضرت مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری عظیم الشان جلسہ عام

صفحہ ۲۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

منعقد ہوا۔ جس میں مجھے اور مولانا عبدالغفور صاحب ہزاروی، سید مظفرعلی شاہ شمسی، مولانا غلام محمد صاحب ترنم، حافظ خادم حسین صاحب اور مولانا غلام دین صاحب کو عوام سے خطاب کرنے کا موقعہ ملا۔ اس جلسے میں بے پناہ حاضری تھی۔ باغ بھر گیا تو سڑک کے کنارے لوگوں کے سروں کی قطار نظر آتی تھی۔ تا حد نگاہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجود تھا۔ عوام کے جذبات کا یہ عالم تھا وہ مقرر کی زبان سے نرم بات سن کر ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ اس جلسے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ پر امن رہنے کی تلقین کی گئی اور حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے۔ اس جلسے کی مکمل روئیداد ۶ فروری کے آزاد میں شائع ہوئی تھی جسے آج کی صحبت میں ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

لاہور کے جلسہ عام میں زعمائے ملت کی ارباب حکومت سے آخری باتیں

”باغ بیرون موچی دروازہ لاہور کے عظیم الشان جلسہ عام میں سیال شریف، گولڑہ شریف، دیوان شریف، علی پور شریف کے سجادہ نشین حضرات اور دیگر مشائخ عظام کی طرف سے تحریری طور پر تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لئے حلف اٹھایا گیا اور ماسٹر تاج الدین انصاری نے مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

پروگرام بن چکا ہے

آپ نے فرمایا کہ مجلس عمل اپنا پروگرام مرتب کر چکی ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے آگے قدم بڑھانے سے روک نہیں سکتی اور हमारा ایمان ہے کہ مرزائیوں کو شکست ہو گی اور جو طاقت بھی ہمارے اس پروگرام میں حائل ہو گی ہم اسے بھی ہٹا دیں گے۔ جب تمام کلمہ گو اور محمد عربی ﷺ کے نام لیوا امتی ہمارے ساتھ ہیں تو کون کم بخت اور جہنمی ایسا ہے جو غلامان محمد عربی ﷺ کا راستہ روکے گا اور باغیان محمد عربی ﷺ کا ساتھ دے کر جہنم مول لے گا۔

تشنہ مضراب ہے ساز

تقریر ختم کرتے ہوئے ماسٹر صاحب نے یہ مصرعہ پڑھا

تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہیں ساز

اور کہا کہ ہتھکڑیاں پرانی ہو چکی ہیں اور انہیں زنگ لگ چکا ہے۔ ہم وہی جھنکار پھر سننا چاہتے ہیں۔ تقریر کے آخر میں آپ نے عامتہ المسلمین سے پر امن رہنے کی اپیل کی اور مجلس عمل کے حکم کا منتظر رہنے کی تلقین فرمائی۔

غازی علم الدین صاحب ثانی

ماسٹر تاج الدین انصاری کی تقریر سے متأثر محترم غازی علم الدین صاحب ثانی نے سٹیج پر آ کر اعلان کیا کہ میں اس عظیم الشان اجتماع میں غیر مبہم الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر حکومت نے مرزائیوں کے سلسلے میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ارباب حکومت کو اقتدار کی کرسیاں خالی کرنا ہوں گی اور اگر زعماء ملت کو گرفتار کیا گیا تو میں گرفتار ہونے والوں کی صف اوّل میں اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کروں گا۔

مولانا عبد الغفور ہزاروی

مولانا عبد الغفور ہزاروی نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وقت تقریروں کا نہیں ہے۔ جیسا کہ صاحب صدر اور ماسٹر

صفحہ ۲۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاج الدین انصاری فرما چکے ہیں میں کسی وزیر کی ذات پر نکتہ چینی نہیں کر رہا۔ میں مجلس عمل کے پروگرام پر عمل کروں گا اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں تعاون کروں گا۔

آپ نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ کھانے کو غریبوں کو آٹا نہیں ملتا۔ صرف بڑے بڑے پیٹ رکھنے والے پیٹو آٹا کھا گئے۔ اس لئے کہ صرف بڑے پیٹ والوں کو ہی آٹا میسر آتا ہے۔ اس پر بھی غریب چپ رہے۔ ملک کی کاروباری زندگی میں تعطل پیدا ہوا تو ہم خاموش رہے۔ حتیٰ کہ دستوری سفارشات پیش ہوئیں۔ ہم کچھ نہ بولے اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس سلسلے میں ہم نے اپنی رائے کا اظہار کیوں نہ کیا تو میرے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ جس کا دستور ہے جب اس کی شخصیت ہی محفوظ نہیں تو دستور کیا معنی رکھتا ہے۔ جب نبوت ہی محفوظ نہیں، ناموس ختم رسالت ہی کے تحفظ کا بندوبست جس دستور میں نہیں کیا گیا اسے دستور کہنا خود دستور کی توہین ہے۔ مسلمان اس دستور میں صرف ایک بات مانگتا ہے۔ محمد عربی ﷺ کی شخصیت اور ان کے مقام و منصب کی عزت و ناموس کا تحفظ، منصب ختم نبوت پر ڈاکا نہ پڑنے دو۔ ہمیں عہدے نہیں چاہئیں۔ یہ عہدے اور وزارتوں کی گدیاں خواجہ ناظم الدین اور ان کے ساتھیوں کو مبارک ہوں۔ وہ اگر اس اسلامی ملک کے اسلامی آئین میں منصب ختم نبوت کے تحفظ کا بندوبست کر دیں تو میں اور سارے پاکستانی مسلمان ان کے حامی اور معاون ہیں اور اگر وہ اس تحفظ کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری کو قبول کریں جو یقیناً خواجہ ناظم الدین پر ہوگی۔

آپ نے کہا: ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے جوتوں کے طفیل پاکستان ملا ہے اور ایسے ہزاروں اور کروڑوں پاکستان نبی کریم ﷺ کے کفش مبارک کے صدقے مل سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ان کے نام لیوا اور ان کے امتی کہلانے والے ناموس محمد ﷺ پر دنیا کا مال و متاع حتیٰ کہ سلطنتیں تک قربان کرنے کو تیار ہو جائیں۔

طلباء کراچی کا درس

کراچی میں طلباء پر پولیس فائرنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ جس پاکستان میں قوم کے نونہالوں کو فیس میں کمی کا مطالبہ کرنے پر گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہو وہاں یہ بات بھی بعید از عقل نہیں کہ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کا مطالبہ کرنے والوں پر گولیوں کی بارش کی جائے۔ لیکن ہم گولیوں سے ڈرنے والے نہیں۔ کراچی کے طلباء نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ اے مولویو! اور اے مسلمانو!! ہم فیس میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تو کیا تم ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کی خاطر قربانی دینے سے گھبراتے ہو؟

مولانا نے فرمایا کہ خواجہ ناظم الدین یا ممتاز کا نام طاقت نہیں۔ طاقت عوام کا نام ہے اور عوام کی طاقت کے سامنے حکومت کو جھکنا ہی پڑے گا۔ اگر تحفظ ختم نبوت کے لئے عامتہ المسلمین نے اپنی اس جمہوری طاقت کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ قیامت کے روز محمد عربی ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے اور کس منہ سے شفاعت کے امیدوار ہوں گے۔

نتائج کی ذمہ داری

مولانا عبدالغفور صاحب نے فرمایا کہ ہم ملک میں بدامنی نہیں چاہتے۔ لیکن ۲۲؍ فروری ۱۹۵۳ء کے بعد صورتحال کی ذمہ داری ارباب حکومت پر ہوگی۔ سول نافرمانی ہو یا بغاوت پہلے ان نتائج کی ذمہ داری خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ پر ہوگی۔

مولانا نے فرمایا کہ یہاں تحریک چلے گی تو گنبد خضرا میں کالی کملی والا (ﷺ) پوچھے گا کہ کون کون اس مقدس تحریک میں شامل ہیں جو میرے منصب کی عزت و ناموس کے تحفظ کے جذبہ سے سرشار ہیں۔ مولانا نے حاضرین سے پوچھا کہ تم میں سے ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ

صفحہ ۲۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے لئے کون جان دے گا۔ حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر عہد کیا کہ ہم ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے۔

سید مظفر علی شمسی

سید مظفر علی صاحب شمسی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وقت گزر چکا ہے اور باتیں کی جاچکی ہیں۔ مجھے تو آج اس حکومت سے آخری بار یہ کہنا ہے کہ ہم ذلت کی بجائے عزت کی موت مرنے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ خواجہ ناظم الدین اور مسلم لیگ کے باغیوں کو جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ خان عبدالغفار خان کو ملک کا باغی ہونے کے الزام میں قید کیا جاسکتا ہے۔ لیکن محمد عربی ﷺ کے باغیوں کو اقتدار کی گدی اور وزارت کی مسند پر بٹھایا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم بتا دیں کہ آج زمانہ بدل رہا ہے اور ایک نئی تاریخ کا باب کھل رہا ہے۔ خواجہ ناظم الدین اور اس کی حکومت پر ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ہم محمد عربی ﷺ کے باغیوں کو اس ملک کی مسند وزارت پر قابض ہوتے برداشت نہیں کریں گے۔ کیا پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں محمد عربی ﷺ کے دشمن اور ان کی توہین کرنے والے دندناتے پھریں۔

منصب ختم رسالت کا اقرار

سید مظفر علی صاحب شمسی نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ آج رسول خدا ﷺ اپنی امت سے اپنے منصب ختم رسالت کا اقرار مانگتے ہیں۔ حضور ﷺ امت سے اپنا حق طلب فرما رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے ہمیں اسلام دیا۔ قرآن بخشا اور ہمارے سینے نور ایمان سے منور کئے۔ آج اسی قرآن، اسلام اور خود تاجدار مدینہ کی ذات اقدس پر دشمنان رسول حملہ آور ہیں۔ آج دیکھنا ہے کہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کون آگے بڑھتا ہے۔ ہم حضور ﷺ کے نام کی عظمت برقرار رکھنے کے لئے زندہ ہیں اور اس عظمت کی خاطر ہم مرنے کو تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ شمع رسالت کے پروانوں کو تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لینے کے لئے رضا کارانہ طور پر اپنے ناموں کا اعلان کرنا چاہئے اور ختم نبوت کے محافظوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرانا چاہئے۔

دیگر مقررین

جلسہ میں مولانا محمد بخش مسلم ، مولانا غلام محمد ترنم ، مولانا حافظ خادم حسین اور مولانا غلام دین صاحب نے بھی تقریریں کیں۔ جلسہ کے آخر میں سیال شریف ، گولڑہ شریف ، دیوان شریف ، اجمیر شریف ، علی پور شریف کے سجادہ نشین حضرات اور دیگر مشائخ عظام کے عہدنامے پڑھ کر سنائے گئے۔ جن میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے عہد کئے گئے تھے۔

اس جلسے کے بعد رضا کاران ختم نبوت کی بھرتی کا کام شروع ہوا۔ ہر ضلع میں رضا کاروں کی بھرتی کے دفتر کھل گئے۔ مسلمان جب بھی سرکار مدینہ ﷺ کی آبرو پر قربان ہونے کے لئے میدان میں آیا ہے اسے کوئی طاقت انتہائی جبر و تشدد کے باوجود دبا نہیں سکی۔ ایک دن مجھے دفتر میں رضا کاروں کے حلف نامے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میری حیرت کی انتہاء باقی نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ ان حلف ناموں کو مسلمان نوجوانوں نے اپنے خون سے پر کیا ہے۔ یہی وہ نوجوان تھے جو ظلم و ستم کی آندھی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے تھے۔

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: مجلس عمل نے تحریک میں حصہ لینے والے رضا کاروں کا سربراہ صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ کو مقرر کر دیا تھا۔ صاحبزادہ صاحب نے رضا کاروں کی تنظیم اور ترتیب کا کام شروع کر دیا تھا۔ جونہی ۱۶؍ فروری کی گفتگو ناکام ہوئی صاحبزادہ صاحب نے فوراً اعلان کیا کہ ملک بھر کی مجالس عمل سے گزارش ہے کہ ۲۰؍ فروری ۱۹۵۳ء تک رضا کاروں کے حلف ناموں کی نقول مجھے براہ راست بھیج دیں۔ تساہل ہرگز نہ ہو۔ صاحبزادہ صاحب نے اپنے سرکلر میں یہ بھی وضاحت کر دی کہ پچاس ہزار رضا کاروں میں بھی ابھی

صفحہ 225

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھوڑی سی کمی ہے۔ وہ بیس تاریخ تک نہ صرف یہ کہ پوری کر دی جائے بلکہ مجھے ملک سے ایک لاکھ رضا کاروں کی فہرست پہنچنی چاہئے۔ جہاں مرکزی مجلس عمل کی طرف سے حلف نامے نہ پہنچیں وہاں کی مجلس عمل خود حلف نامے چھپوا لیں۔

لاہور، لائل پور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ساہیوال، راولپنڈی، سرگودھا اور دوسرے تمام شہروں اور قصبوں میں حالت یہ تھی کہ رضا کار اپنے اپنے بھرتی کے مراکز پر آتے۔ جسم میں بڑے دلیری سے زخم لگاتے اور خون سے حلف نامے پر دستخط یا انگوٹھا ثبت کر دیتے تھے۔ رضا کاروں کا وہ جذبہ گفتنی نہیں دیدنی تھا۔ بس ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان نوجوانوں کے سینوں میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے دل دھڑکنے لگ گئے ہیں اور یہ دنیا و مافیہا سے منہ موڑ کر خواجہ کونین ﷺ کی حرمت پر قربان ہو جانا چاہتے ہیں۔

یہ جوش وخروش ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ بلتستان کے مسلمانوں کا ایک وفد مولانا محمد علی نومسلم نگران اعلیٰ جمہوریہ پاکستان پارٹی سے ملا اور انہوں نے بلتستان کے مسلمانوں کی طرف سے مولانا کو یہ یقین دلایا کہ اگر حکومت پاکستان مرزائیوں کو مسلمانوں کے سروں پر مسلط کرنا چاہتی ہے تو اسے پہلے سات کروڑ مسلمانوں کو گولیوں سے اڑانا ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں سے منقطع بھی ہونا پڑے گا۔

راولپنڈی میں مجلس عمل کا ایک ہنگامہ خیز جلسہ زیر صدارت مولانا عارف اللہ شاہ قادری منعقد ہوا۔ اس میں مختلف مکاتب فکر کے مقررین نے کہا کہ مسلمان بھوکے پیاسے اور ننگے رہ سکتے ہیں۔ لیکن محمد عربی ﷺ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔ مقررین نے یہاں تک کہا کہ ہم پھانسی کے تختوں پر چڑھ کر ارباب حکومت کو نبوت کے معنی سمجھائیں گے۔

گوجرانوالہ میں آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اجلاس مشہور اہل حدیث رہنما مولانا محمد اسماعیل مرحوم کی صدارت میں ہوا۔ مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ باتوں کا وقت گیا۔ عمل کا دور آ گیا۔ ہم ماضی کی روشنی میں مستقبل کے گیسو سواریں گے۔ خواجہ ناظم الدین اور ان کے ساتھی ۲۲/ فروری تک اپنے اعمال نامے درست کر لیں۔ ورنہ باغیان رسالت کی حفاظت کرنے والوں کو اقتدار کی کرسیوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب جو ۱۶، ۱۷، ۱۸/ جنوری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں منعقد ہونے والی کنونشن میں بہ نفس نفیس خود موجود تھے اور بعد میں کئی لغزشوں کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے موچی دروازہ کے باہر ایک پبلک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے ۳۳ علمائے کرام کی پیش کردہ ترامیم و تجاویز پر تبصرہ کیا۔ آپ نے فرمایا مسئلہ دستور کے متعلق علمائے کرام اور دینی جماعتوں نے جس اتحاد و اتفاق اور یگانگت کا ثبوت دیا ہے وہ عدیم المثال ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتیں خود غرضی اور اقتدار کے لئے لڑتی جھگڑتی رہیں اور جن مسائل سے ملک کا مفاد وابستہ تھا۔ اس طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ آپ نے فرمایا یہ کہنا غلط ہے کہ ملک میں پر امن طریق پر انقلاب نہیں لایا جاسکتا۔ قوم نے پر امن مطالبات کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ قابل داد ہے۔ آپ نے مرزائیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں قوم نے جو مطالبات کئے ہیں وہ بنیادی اور اہم ہیں۔ مرزائی مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ مرزائیوں کے مسئلہ کے ساتھ ملک کے معاشی اور معاشرتی مسائل کا بھی تعلق ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں قوم کے متفقہ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو بہت ممکن ہے یہ مسئلہ ہندو مسلم فسادات سے بھی نازک صورت اختیار کر جائے۔ آپ نے فرمایا حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمان اور مرزائی سوال پیدا ہونے اور اس کے رونما ہونے والے حالات سے پہلے ہی قوم کے مطالبات تسلیم کرے۔ مولانا مودودی صاحب کے اس بیان پر لاہور کے مشہور مرزائی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ: ”تمام فرقے اسلامی ہیں

صفحہ ۲۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے اور ملک میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کی جو آگ بھڑکائی جارہی ہے وہ انصاف کے خلاف ہے اور مولانا مودودی کا یہ کہنا کہ اگر حکومت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا تو عین ممکن ہے کہ ملک میں قادیانی اور غیر قادیانی فسادات شروع ہو جائیں۔ اشتعال انگیزی کے مترادف ہے۔“

حضرت مولانا احمد علی مرحوم ومغفور نے اپنی جامع مسجد شیرانوالہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ: ”مطالبات کی صداقت کو واضح کرنے کے لئے متعدد بار محترم المقام سحر البیان خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کراچی تشریف لے گئے اور مرزائیت کے قلعہ کو پاش پاش کرنے والا توپ خانہ میں ساتھ لے گئے جو ایک وزنی ٹرنک میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا ہے۔ اس توپ خانہ کے گولوں سے انہوں نے مرزائیت کے قلعہ کی اینٹوں کو ہوا میں اڑا کر دکھایا ہے۔ حق کی فتح اور باطل کی اس شکست کا مظاہرہ مرکزی حکومت کے دوسرے ذمہ دار افسروں کے علاوہ خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان نے بھی دیکھا ہے۔ پچھلے ماہ جنوری میں پورے پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کا ایک کنونشن کراچی میں ہوا جس میں لاہور کی طرح مرزائیوں کے متعلق مطالبات متفقہ طور پر منظور کئے گئے اور مرکزی حکومت کے ذمہ دار لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے ایک وفد مرتب کیا۔ اس وفد کو وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔ مجلس عمل کے نمائندہ وفد نے وزیر اعظم کو مسلمانان پاکستان کی طرف سے ایک الٹی میٹم دے دیا کہ اگر ایک ماہ تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم راست اقدام کریں گے اور اس کے جو نتائج نکلیں گے مرکزی حکومت ان کی ذمہ دار ہوگی۔ میں پوچھتا ہوں کہ پاکستان اس واسطے بنایا تھا کہ اس میں محمد رسول اللہ ﷺ والا اسلام نافذ ہو یا مرزائیوں کے لئے مرزاستان بنایا تھا کہ اس میں غلام احمدی شریعت کا نفاذ ہو کہ قادیانی عقائد و خیالات کو علمائے کرام زیادہ سمجھتے ہیں یا غلام محمد اور ناظم الدین۔ کیا غلام محمد اور ناظم الدین عالم دین ہیں۔ جب عالم نہیں تو یہ مفتی کس طرح ہو گئے کہ مرزائیوں کے متعلق ہم ان کا فیصلہ مانیں۔ مولانا نے فرمایا خدا کا شکر ادا کرو۔ اگر علمائے دین نہ ہوتے تو آج سارا پنجاب مرتد ہو گیا ہوتا۔ انہوں نے انگریز کے زمانہ میں اس دشمن اسلام فرقہ کی بانگ دہل مخالفت کی۔ ان بزرگوں کی وجہ سے آج ہمارے ایمان سلامت ہیں۔ یاد رکھو اگر مسلمانوں کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ جب مستقبل کا مورخ پاکستان کی تحریک لکھے گا تو موجودہ برسر اقتدار لوگوں پر لعنت بھیجے گا اور اللہ والوں کی ان پر پھٹکار ہوگی۔ اگر یہ برسر اقتدار ناموس رسالت کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اقتدار کی کرسیاں چھوڑ دیں۔ پاکستان میں ان سے بہتر نظام قائم کرنے والے موجود ہیں۔“

غرضیکہ مجلس عمل میں شریک جماعتوں کے سربراہ اور دوسرے علمائے کرام نہایت ہی ولولہ انگیز لہجہ سے مسئلہ ختم نبوت کی تائید میں تقریریں کر رہے تھے۔ کسی فرقہ کسی نمائندہ یا کسی بھی عالم دین کی زبان سے ایک لفظ اختلاف کا نہیں نکل رہا تھا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سے لے کر ان کے ترجمان تسنیم تک اس تائید میں شامل اور شریک تھے۔ ہر شخص کو یقین تھا کہ حکومت کے مطالبات نہ ماننے اور علمائے کرام کے ایک ماہ کا الٹی میٹم دے دینے کے بعد اب عوام اور حکومت کی خوفناک ٹکر ناگزیر ہے۔ اسی طرح اس الٹی میٹم والے ایک ماہ کے دوران کسی شخص کو یہ وہم تک نہ تھا کہ الٹی میٹم ختم ہونے کے بعد اور حکومت کے ساتھ عوام کی جنگ شروع ہوتے ہی کچھ ایسی شخصیتیں اور جماعتیں جو با اصول ہونے کی مدعی ہیں۔ چپکے سے تحریک ختم نبوت کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور ایسا موقف اختیار کر لیں گی جس سے حکومت اور مرزائیوں دونوں کو فائدہ پہنچے گا اور اتنی عظیم تحریک اور اس میں کی گئی قربانیاں اور بہایا ہوا خون نظر بظاہر رائیگاں چلا جائے گا۔

تحریک تحفظ ختم نبوت کے رہنما ملک کے کونے کونے میں گونج گرج رہے تھے۔ نوٹس کی میعاد بڑی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ نہ

صفحہ ۲۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت مطالبات کو ماننے کے لئے آمادہ تھی اور نہ ہی تحریک کے رہنما سر مو پیچھے ہٹنے کو تیار تھے۔ دونوں طرف کچھ اس طرح کی کیفیت تھی؎

ملک الموت کو ضد ہے کہ میں جان لے کے ٹلوں
سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے

فریقین کو یقیناً کچھ نہ کچھ اندازہ تھا کہ تصادم کے بعد کیا کچھ ہوگا۔ اگرچہ حکومت کو ناز تھا کہ اس کے پاس فوج ہے، پولیس ہے، خزانے ہیں اور دوسرے وسائل ہیں۔ جن سے لوگوں کو دبایا جاسکتا ہے۔ توڑا اور خریدا جاسکتا ہے۔ لیکن مجلس عمل کے رہنماؤں ، کارکنوں اور رضا کاروں کو مسئلہ کی سچائی اور اہمیت پر مکمل یقین تھا۔ پھر مسئلہ انتہائی نازک تھا۔ جس کا تعلق براہ راست حضور ﷺ فداہ ابی وامی کی ذات اقدس اور حرمت پاک سے تھا۔ یہ میدان مسلمانوں کا ایک بار نہیں ہزار بار آزمایا ہوا تھا کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لئے ہر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کو تیار ہے۔ اس لئے تحریک کے رہنما بخوبی جانتے تھے کہ جس طرح مسیلمہ کذاب کے فتنہ کے مقابل حضرت صدیق اکبر ؓ نے شیدایان ختم نبوت کے خون کی قربانی پیش کی تھی۔ اسی طرح اس کے مماثل اور مشابہ فتنہ کے استیصال کے لئے اب بھی شیدایان ختم نبوت کو اپنا خون بہانا ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جلدی نہیں کر رہے تھے۔ بڑے تدبر سے اتمام حجت کر رہے تھے۔ ہر وہ گوشہ جہاں بات پہنچانا اتمام حجت کے لئے ضروری تھا وہاں بات پہنچائی جا رہی تھی۔ پہلے چند بزرگوں کے خیالات بطور نمونہ عرض کئے جاچکے ہیں۔ ذیل میں ہم خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کا ایک خطاب روزنامہ آزاد لاہور سے من وعن نقل کر رہے ہیں۔ قاضی صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتیں دی ہوئی تھیں۔ انہوں نے تحریک آزادی کے بعد تحریک ختم نبوت میں بے پناہ کام کیا تھا۔ اصل میں وہ تحریک ختم نبوت کے محاذ کی زبان تھے۔ ملک کے برسر اقتدار لوگوں میں سے ہر شخص تک وہ پہنچے۔ اپنا بھاری بھرکم صندوق لے کر پہنچے اور پھر ایسے دل نشین انداز اور مدلل طریقہ پر ختم نبوت کا کیس پیش کیا کہ ہر شخص کو مسئلہ کی اہمیت اور نوعیت کا کماحقہ علم ہوجاتا۔ بڑے بڑے لوگوں کو انہوں نے ختم نبوت اور قادیانیت کا مسئلہ سمجھایا اور انہیں اتنا متاثر کیا کہ وہ لوگ ہمیشہ کے لئے قاضی صاحب کے مداح اور معتقد بن گئے۔

جملہ معترضہ کے طور پر ایک واقعہ عرض کئے دیتا ہوں۔ جب خواجہ ناظم الدین سے قاضی احسان احمد صاحب کی متعدد ملاقاتیں اور گفتگوئیں ہو چکیں۔ خواجہ صاحب کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کا علم ہوا اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزائی افسروں کی سرگرمیاں سخت قابل اعتراض ہیں تو انہوں نے ایک سرکلر کیا کہ کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ کی تبلیغ میں حصہ نہیں لے گا۔ یہ سرکلر خاص طور پر مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغی سرگرمیوں کے خلاف جاری ہوا تھا۔ جیسا کہ اوپر ان کا ذکر ہو چکا ہے۔ ان دنوں قاضی صاحب مرحوم کوئٹہ پہنچے اور وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ میاں امین الدین سے ملے۔ میاں امین الدین لاہور کے مشہور کشمیری رہنما میاں امیرالدین کے بھائی تھے۔ میاں امیرالدین ، میاں صلاح الدین جو کہ علامہ اقبال کے داماد ہیں کے والد تھے۔

دونوں بھائیوں کی طبیعت میں بڑا فرق ہے۔ میاں امیرالدین عوامی قسم کے رہنما تھے اور میاں امین الدین متکبر قسم کے صاحب لوگ تھے۔ قاضی صاحب نے ان سے ملاقات کا وقت مانگا۔ ۱۵ منٹ وقت ملا۔ آپ بھاری صندوق جو قادیانیوں کی کتابوں اور رسالوں سے بھرا ہوا تھا، اٹھا کر اندر پہنچ گئے۔ میاں صاحب کی گردن اکڑی ہوئی تھی۔ بولے کہ مختصر بات کریں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ میں آپ سے ایک پاکستان گیر فتنہ کے متعلق بات کرنے آیا ہوں۔ جس کے عزائم میں یہ بات شامل ہے کہ وہ بلوچستان پر قبضہ کر لینا چاہتا ہے اور اسے احمدی صوبہ بنانے کا متمنی ہے۔ میاں صاحب نے بڑی رعونت سے کہا کہ آپ احمدیوں کی فکر نہ کریں۔ ہم اوپر بیٹھے ہوئے ہیں اور بلوچستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ قاضی صاحب نے فرمایا یہی تو بتانے آیا ہوں کہ خطرہ ہے۔

صفحہ ۲۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی سرکاری افسر تنخواہ حکومت کے خزانے سے وصول کرتے ہیں اور کام اپنی جماعت کا کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے بڑے عجیب طریقہ سے منہ بنا کر کہا کہ آپ اس کو چھوڑیئے۔ ہم نے اس کا بندوبست کر دیا ہے۔ ہم نے سرکلر کر دیا ہے کہ کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ کی تبلیغ نہ کرے۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ وہ سرکلر کرانے والا تو آپ کے سامنے بیٹھا ہے۔ میاں صاحب نے کہا کہ وہ کیسے قاضی صاحب نے فرمایا کہ میں اس سلسلہ میں خواجہ صاحب سے کئی ملاقاتیں اور بحثیں کر چکا ہوں۔ تب جا کر یہ سرکلر ہوا۔ اب مرحلہ اس سرکلر پر عمل درآمد کا ہے۔ جواب آپ حضرات کی ذمہ داری ہے اور میں آج اسی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میاں صاحب کی اکڑی ہوئی گردن میں خم آگیا اور ذرا متواضع ہو کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ فرمائیے۔ قاضی صاحب نے صندوق کھول لیا حوالے پڑھنے شروع کر دیئے۔ قادیانی کے کافرانہ عقائد، انبیاء و اولیاء کی توہین پر مشتمل عبارت ملک کے خلاف عزائم اور عمل سنانا شروع کیا۔ جوں جوں قاضی صاحب پڑھتے جاتے میاں صاحب کی گردن اور کمر میں خم بڑھتا جاتا۔ قاضی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مسئلہ ختم نبوت اس ذات عالی صفات کا مسئلہ ہے۔ جس کے جلال اور جمال کی عظمت کا صدقہ میں نے اس دن میاں امین الدین گورنر بلوچستان کے گریبان میں ہاتھ ڈال لیا۔ میں اسے شفقت سے کھینچتا تھا۔ پھر پیچھے لے جاتا۔ پھر کھینچتا تھا اور وہ بے چارہ خاموش، آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور روتا تھا۔

قاضی صاحب ہمیں ان چیزوں کی پہلے بالکل خبر نہ تھی۔ اڑھائی گھنٹے ملاقات ہوئی اور سمجھا کر واپس آئے۔ بہرحال تذکرہ حضرت قاضی صاحب کا آگیا تھا کہ اللہ نے ان کو بے پناہ صلاحیتیں بخشی تھیں اور وہ تحریک کی اصل جان تھے۔ اس لئے انہوں نے فروری کے مہینہ میں یہ بیان اخبار میں شائع کرا دیا اور اسے اتمام حجت کے لئے ملک بھر میں ارسال کرایا گیا۔ اس کتابچہ کا عنوان تھا: ”مجلس عمل راست اقدام پر کیوں مجبور ہے“

”ملتان: خطیب پاکستان قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی نے مجلس عمل سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: عزیزان من اس وقت مجلس عمل آخری انتباہ اپنے برسر اقتدار گروہ تک پہنچا چکی ہے۔ یقیناً آپ حضرات میں سے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو حالات سے کماحقہ آگاہ نہ ہوں۔ پاکستان بننے کے بعد تمام مسلمان فرقے اور جماعتیں حفاظت و استحکام پاکستان کے ساتھ تعمیری پروگرام پر عامل تھیں اور وہ ہنگامی صورت حالات جو پوری ملت کو گھیرے ہوئے تھی اس کا مقابلہ کر رہے تھے۔ لیکن مرزائی گروہ خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری، ملت اسلامیہ کے اس ابتلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نوزائیدہ مملکت پر قابض ہونے کے پروگرام بنا رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ حضرات کے سامنے صرف وہ مصدقہ واقعات عرض کردوں کہ اس گروہ نے ملک و ملت اور مذہب کی بربادی کا کیا پروگرام بنا رکھا ہے؟ پاکستان کے متعلق تو مرزا بشیر الدین محمود کا واضح بیان ہے کہ:

ہو جائے۔

(الفضل مورخہ ۷؍مئی ۱۹۴۷ء)

اس بیان کو بارہا چیلنج کیا گیا۔ لیکن مرزا محمود اور ان کے متبعین آج تک اس کی تردید یا تاویل نہیں کر سکے۔ کیونکہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مرزا غلام احمد کی بعثت کا تقاضا ہے کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔ پوری ملت اسلامیہ کے متعلق مرزا محمود اور ان کے متبعین کا عقیدہ یہ ہے۔ ”کل مسلمان خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

میرے ہاتھ میں الفضل مورخہ ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ء کا پرچہ ہے۔ اس میں مرزا محمود واشگاف اعلان کرتے ہیں کہ:

صفحہ ۲۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس عقیدہ پر علیحدہ شہر بسانے شروع کئے گئے۔ علیحدہ کالونیاں آباد ہونے لگیں۔ حتیٰ کہ علیحدہ ماہ وسال بھی بنا لئے گئے۔ لیکن ملت کے حقوق کو غصب کرنے کے لئے بظاہر اپنے آپ کو ہی صرف مسلمان جتلایا گیا اور یہ انوکھی دلیل دی جاتی رہی کہ عقیدہ وہی تسلیم کیا جائے جو کوئی شخص لوگوں میں بیان کرے۔ حالانکہ یہ قرآن کریم کی صریح مخالفت ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ”ومن الناس من یقول امنا باللہ وبالیوم الاخر وماہم بمؤمنین“

دوسری جگہ ارشاد ہے کہ: ”اذا جاء ک المنافقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ“ ایک شخص کہتا ہے میں اللہ پر ایمان لایا۔ یوم آخرت پر ایمان لایا۔ بارگاہ ایزدی سے جواب ملتا ہے کہ تو مومن نہیں۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کی رسالت کی حلفیہ گواہی دیتا ہوں۔ لیکن اسے جواب ملتا ہے کہ تو منافق اور جھوٹا ہے۔

اگر آج صرف ملزم کے بیان پر ہی فیصلہ ہونے لگے اور باقی دلائل وشواہد پر غور نہ کیا جائے تو شاید پوری دنیائے انسانیت ماتم کدہ بن جائے۔ ایک طرف تو آج یہ کہا جا رہا ہے کہ مرزائیوں کے اس فریب پر یقین کر لو کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اس طرف توجہ نہ کرو کہ وہ ساتھ ہی یہ کہتے ہیں:

ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اپنا اختیار نہیں۔“

(انوار خلافت ص۹۰، مصنفہ مرزا محمود)

ہیں جس طرح ہندو سے مسلمان۔“

(انوار خلافت ص۹۰، مصنفہ مرزا محمود)

۱۹۲۸ء میں جب مرزا محمود نے پر پرزے جھاڑ کر ارتداد کی تبلیغ شروع کی اور وہ تبلیغ جارحانہ اقدام کے ساتھ زن، زر، زمین کا لالچ بھی اپنے ساتھ لئے ہوئے تھی جسے صحیح معنوں میں اغواء تو کہا جا سکتا ہے لیکن تبلیغ نہیں۔ مملکت پاکستان کے تمام محکموں میں انگریز کے صحیح جانشین مرزائی افسروں نے مسلمان ملازمین پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو اس وقت زعماء ملت نے نوٹس لینا شروع کیا۔ مگر یہ مرزائی افسر، انگریز نہایت خوبصورتی سے کلیدی آسامیوں پر مسلط کر گیا تھا۔ اس کی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔

ہو کر ہندو افسر کی جگہ مرزائی کو متعین کر دیتا تھا۔ مسلمان خوش ہو جاتا تھا کہ ہندو کی جگہ مسلمان آ گیا ہے۔ اور انگریز مطمئن ہوتا تھا کہ میرا مہرہ ٹھکانے پر پہنچ گیا ہے۔

صفحہ ۲۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آج ہر جگہ کلیدی آسامیوں پر قادیانی نظر آ رہے ہیں تو یہ اس سازش کا نتیجہ ہے۔

جب مسلمان زعماء نے پاکستان میں مرزائیوں کے عقائد وعزائم سے ملت کو آگاہ کرنا شروع کیا تو ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ مرزا بشیرالدین محمود نے خطبہ نکاح دیتے ہوئے کہا کہ:

میں لڑکیوں کی شادیاں کرو تا کہ برا وقت آنے پر تمہیں باہر پناہ مل سکے۔“

(الفضل لاہور ج۳۸ نمبر ۱۱۶ ص۲ کالم۱، مورخہ ۱۶؍مئی ۱۹۴۷ء)

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب لیاقت علی خان گولیوں سے نہیں مروائے گئے تھے۔ مگر ان کی شہادت کے بعد وہی بشیرالدین محمود ظفر اللہ خان کو اسٹیج پر بٹھا کر اسلامیان پاکستان کو چیلنج کرتا ہے کہ:

اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی گئی تھی۔“

(الفضل لاہور ج۴۰ نمبر ۳ ص۴، مورخہ ۳؍جنوری ۱۹۵۲ء)

یقیناً چند ماہ پیشتر پاکستان سے باہر بھاگنے والے محمود کی یہ جسارت خالی از علت نہ تھی۔ لیکن ارباب بصیرت نے پھر بھی یہ سوچا کہ ہم اپنے وزراء کو مطلع کریں۔ کیونکہ یہی مرزا محمود اپنی کتاب عرفان الٰہی میں کہہ چکا ہے کہ:

موت کے گھاٹ اتارے۔“

(عرفان الٰہی از مرزا محمود ص۹۳، ۹۴)

اس عقیدہ کی تکمیل میں مرزائیوں کے آرگن الفضل نے ۱۵؍جولائی ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں پانچ ذی عزت علماء کا نام لے کر ان کے قتل کا پروگرام پیش کیا۔ جس کا عنوان تھا: ”خونی ملّا کے آخری دن“

مگر ہماری بے بس وزارتیں مرزا محمود کے منہ میں لگام نہ دے سکیں۔ مرزا محمود نے اپنی پارٹی کو پروگرام دیا کہ:

(الفضل مورخہ ۱۱؍جنوری ۱۹۵۲ء)

مگر پھر بھی پاکستان کی ضرورت سے زیادہ شریف عمال ٹس سے مس نہ ہوئے۔

مرزا محمود نے علی الاعلان حکومت کے تمام محکموں پر قبضہ کرنے کا پروگرام بھی الفضل میں شائع کر دیا۔ لیکن اس پر بھی ہماری محجوب وزارتیں کوئی نوٹس نہ لے سکیں۔ جب پوری ملت پاکستان نے ان کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تو یہ انوکھی دلیل دی گئی کہ:

حالانکہ چور اقلیت میں ہیں۔ پوری دنیاء انسانیت ان کے ڈر کے مارے اپنی پونجیاں مقفل بھی رکھتی ہیں اور مناسب پہرے کا انتظام بھی کرتی ہے۔ ایک کتا پاگل ہو جائے تو سارا شہر حفاظت کی سوچتا ہے۔ پورے قصبہ کو تباہ کرنے کے لئے صرف ایک چنگاری کافی ہوتی ہے۔ دودھ کے پورے مٹکے کو پیشاب کا ایک قطرہ ناپاک کر دیتا ہے۔ جب دلائل کا جواب نہ بن پڑا تو یہ عذر تراشا گیا کہ:

جب آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب، سرحد، بہاول پور، سندھ، کراچی وغیرہ مقامات پر منعقد ہوئیں اور تمام فرقوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ:

صفحہ ۲۳۱

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ہوئے ہیں اور وہ اپنے عہدے کی آڑ لے کر مسلمانوں کی متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ تو ہماری مرکزی وزارت نے بتایا کہ:

انہیں بتایا گیا کہ رشوت ستانی کے خلاف قوانین موجود ہونے کے باوجود اس کا دور دورہ ہے۔ لیکن اس فریب کو بھی کچھ وقت کے لئے قبول کر لیا گیا۔ حالانکہ اس کمیونک کے شائع ہوتے ہی ظفر اللہ خان نے اسے چیلنج کیا تھا اور اب تو حکومت سندھ کے چیف سیکرٹری سے لے کر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات تک، کیسٹوڈین سے لے کر ٹی بی سینیٹوریم کے انچارج تک عہدے کی آڑ لے کر حکومت کے کمیونک کی مٹی پلید کر رہے ہیں۔

لیکن وزارتیں ہیں کہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا مصداق بنی ہوئی ہیں۔

لیکن مرزائی سید الانبیاء ﷺ کی توہین کریں یا سیدۃ النساء رضی اللہ عنہا کی۔ ان کے لئے نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی تنبیہ۔

مجلس عمل نے جس میانہ روی کے ساتھ ملکی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے افہام و تفہیم پر عمل کیا ہے وہ یقیناً قابل صد مبارکباد ہے۔ حتیٰ کہ مسلمان یہاں تک بھی سوچنے لگ گئے کہ مجلس عمل بھی کچھ نہیں کرتی اور مرزائیوں کی ریشہ دوانیاں روز بروز ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔ اب ہماری وزارتوں کے لئے دو ٹوک فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ میں بہر حال دست بدعا ہوں کہ خدا ہمیں ابتلاء سے بچائے۔ لیکن حفاظت ناموس سید الانبیاء ﷺ کے لئے اگر ہمیں اپنی جانوں کی ناچیز قربانی بھی دینی پڑے تو خدا ہر مسلمان کو یہ سعادت نصیب فرمائے۔ ہم اپنے وزراء کو خطاب کرتے ہوئے یقیناً یہ کہہ سکتے ہیں ؎

نہ نبھی تو پھر اس میں ہے کس کی خطا یہ گلہ ہے میری ہی طرف سے بجا
میرے عشق کا رنگ تو خوب رہا مگر آپ میں بوئے وفا ہی نہ تھی

نوٹس کی میعاد ختم ہوگئی۔ ۲۲؍ فروری ۱۹۵۳ء کراچی میں مجلس عمل کا آخری اجلاس ہونا طے پایا۔ ۲۲؍ فروری سے ایک دن پہلے کراچی کے علمائے کرام کا ایک وفد جو مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا عبدالحامد بدایونی اور پنجاب مجلس عمل کے رکن مولانا اختر علی خان پر مشتمل تھا۔ خواجہ ناظم الدین سے ملا۔

سردار عبدالرب نشتر مرحوم بھی ملاقات کے وقت موجود تھے۔ خواجہ صاحب کو یاد دلایا گیا کہ آج ۲۱؍ فروری ہے۔ نوٹس کو ایک ماہ گزر گیا ہے۔ اب آپ مطالبات کے متعلق کوئی دو ٹوک فیصلہ کریں۔ خواجہ صاحب نے وہی پرانی باتیں دہرا دیں اور معذرت کی۔ ملاقات کے دوران مولانا احتشام الحق تھانوی نے کاغذ کے پرزہ پر کچھ لکھا اور دوسروں کو دکھایا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی کے علاوہ باقی سب نے

صفحہ 232

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رضامندی کے لئے سر ہلا دیئے۔ اگرچہ اس راز سے آج تک کسی رہنما نے پردہ نہیں اٹھایا کہ پرزے پر کیا لکھا گیا تھا جو مولانا بدایونی مرحوم کے علاوہ باقی لوگوں نے قبول کر لیا تھا۔

ایک روایت ہے کہ خواجہ ناظم الدین اس بات پر رضامند ہو گئے تھے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے متعلق وہ غور کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ البتہ سر ظفر اللہ خان کو نکالنا ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ اس لئے مجلس عمل کے رہنما سر ظفر اللہ خان کی برطرفی کے مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں۔ لیکن مولانا بدایونی اس کے لئے رضامند نہ ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تمام خرابیوں کی جڑ سر ظفر اللہ خان کو سمجھا جاتا تھا۔

اگر یہ واقعہ درست ہے اور نظر بظاہر درست ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ منیر انکوائری رپورٹ کے ص ۱۳۸ پر یہ واقعہ درج ہے اور آج تک کسی شریک وفد کی طرف سے اس واقعہ کی تردید نہیں کی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعض علمائے کرام کا خواجہ ناظم الدین کے ساتھ اس وقت خفیہ رابطہ قائم ہو چکا تھا۔ اس امر کی تصدیق ایک اور بات سے بھی ہوتی ہے۔ ۲۲؍ فروری یعنی اگلے روز پنجاب کے رہنما کراچی پہنچ گئے اور اس روز مولانا عبدالحامد بدایونی مرحوم نے خواجہ ناظم الدین کو ٹیلی فون پر مطلع کیا کہ پنجاب کے رہنما پہنچ گئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کل والے علمائے کرام میں سے کوئی اس میں شامل نہ ہو۔

مولانا بدایونی کا یہ فقرہ بھی منیر انکوائری رپورٹ کے صفحہ مذکور پر درج ہے۔ اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت تحریک کے شروع ہونے سے پہلے ہی تحریک کے لیڈروں کے درمیان کوئی تفریق پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ اور دلائل و شواہد بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مجلس عمل کے کچھ ممبران پارٹی مفاد کے خلاف خواجہ ناظم الدین سے راز و نیاز رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ خواجہ ناظم الدین نے منیر انکوائری کمیشن کے سامنے مولانا مظہر علی اظہر کے ایک سوال کے جواب میں اس امر کو تسلیم کیا ہے۔ ذیل میں ہم مولانا مظہر علی اظہر کا سوال اور خواجہ ناظم الدین کا جواب درج کر رہے ہیں۔

سوال: کیا مجلس عمل کے کسی رکن نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ مجلس عمل کا کوئی رکن راست اقدام کے الٹی میٹم کے خلاف تھا؟

جواب: جہاں تک مجھے علم ہے کسی نے رضا کارانہ طور پر یہ معلومات پیش نہیں کیں۔ مجھے جو باتیں معلوم ہوئی تھیں ان کے پیش نظر میں نے مجلس عمل کے بعض ارکان سے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ معلومات درست ہیں؟

تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ان ارکان میں ایک مولانا احتشام الحق ہیں۔

(از روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۳؍ دسمبر ۱۹۵۳ء)

خواجہ ناظم الدین کے اس واضح اور صریح انکشاف کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ بہر حال نوٹس کی میعاد ختم ہو گئی۔ اتمام حجت ہو گیا۔ مجلس عمل کے رہنما کراچی پہنچنا شروع ہو گئے۔ مولانا ابوالحسنات صدر مجلس عمل نے لاہور سے روانگی کے وقت تحریک کے رضاکاروں اور کارکنوں کے لئے جو آخری ہدایات جاری کیں وہ یہ تھیں:

تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے نظم ضبط اور صبر و تحمل سے کام لیں۔

صفحہ ۲۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان ہدایات پر فوراً عمل کیا جائے۔ میں کراچی جارہاہوں ۔ مزید ہدایات کا انتظار کیجئے۔

(مولانا ابوالحسنات صدر مجلس عمل)

جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے کہ ۲۲؍ فروری کو حسب پروگرام مجلس عمل کے رہنما کراچی پہنچ گئے اور جاتے ہی مولانا عبدالحامد بدایونی کے توسط سے ایک وفد خواجہ ناظم الدین سے ملا۔ اس وفد میں مولانا ابوالحسنات، مولانا عبدالحامد بدایونی، ماسٹر تاج الدین انصاری، سید مظفر علی شمسی، مولانا لال حسین اختر شامل تھے۔ خواجہ ناظم الدین نے مولانا اختر علی خان جو ایک روز پیشتر ملنے والے وفد میں شامل تھے ان کے متعلق بھی اصرار کیا کہ انہیں بھی بلا لیا جائے تاکہ وہ بھی اس وفد میں موجود ہوں۔ مولانا اختر علی خان کراچی سے روانہ ہوکر بہاول پور پہنچ چکے تھے۔ وہاں انہوں نے اخبارات کے نمائندوں کی جماعت پی.این.ای.سی کا قیام عمل میں لانا تھا۔ انہیں وہاں فون کیا گیا۔ مولانا اختر علی خان نے کہا کہ میری کل ملاقات ہوچکی ہے اور آج کی ملاقات میں مولانا ابوالحسنات، ماسٹر تاج الدین انصاری اور دوسرے دوست ہیں۔ آپ ان سے مل لیں اور اگر میری حاضری لازمی ہے تو پھر اپنا وائی کنگ طیارہ بھیج دیا جائے میں کراچی واپس آجاؤں گا۔ نہ خواجہ صاحب نے وائی کنگ بھیجا اور نہ مولانا واپس پہنچے۔ وفد کی ملاقات ہوئی۔ سردار نشتر مرحوم اس ملاقات میں بھی موجود تھے۔ اب کے ارکان وفد کو ذرا زیادہ وضاحت کے ساتھ انکار کیا گیا بلکہ یہ کہہ دیا گیا کہ یہ بھی وعدہ نہیں کیا جاتا کہ اس مسئلہ کو دستور ساز اسمبلی میں پیش کریں گے۔

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں کہ: خواجہ صاحب لاہوری مرزائیوں کے بارے میں تذبذب میں تھے۔ مجلس عمل کا مؤقف تھا کہ دونوں کریلے ہیں۔ ایک صرف کریلا ہے دوسرا نیم چڑھا ہے۔ سردار عبدالرب نشتر فرماتے تھے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا بڑے خسارے کی بات ہے۔ اگر ایسے کیا گیا تو ہمیں مرزائیوں کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے اور انہیں ایک دو سیٹیں دینا پڑیں گی۔ جب ہم نے اس کی شرعی پوزیشن بتا کر مطالبہ کیا کہ اب فرمائیے آپ کو یہ حق بحیثیت مسلمان کہاں پہنچتا ہے کہ آپ مرزائیوں کو اس خانے میں درج کرائیں جہاں صرف مسلمانوں کا نام درج ہو سکتا ہے۔ جداگانہ انتخاب میں سب سے پہلے مرزائیوں کو الگ کرنا چاہئے۔ تب جداگانہ انتخاب صحیح معنوں میں جداگانہ انتخاب ہوگا۔ سردار صاحب اسلامی نقطۂ نگاہ سے قطع نظر صرف سیٹوں کے قاعدے کی بات کرتے تھے۔ بہر حال کوئی بات طے نہ ہوسکی اور خواجہ صاحب اپنی بے بسی اور معذوری کا اظہار کرتے رہے۔ بات ختم ہوئی تو خواجہ ناظم الدین جو واقعی علماء حضرات کی عزت کرتے تھے۔ دروازے تک حضرت مولانا ابوالحسنات اور وفد کو چھوڑنے آئے اور موٹر کا دروازہ کھول کر کھڑے ہوگئے۔ مولانا کو خود سوار کرایا اور یہ حضرات ایک دوسرے سے کافی عرصے کے لئے جدا ہوگئے۔ حضرت مولانا ابوالحسنات خواجہ صاحب کے اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہوکر فرماتے تھے کہ کتنا نیک انسان ہے۔ مگر خدا جانے مطالبے کی مختصر اور سیدھی سی بات اس شریف آدمی کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی۔ اگر یہ شخص آج بھی کوئی ایک بات مان لے تو ہم سمجھوتے کی صورت پر غور کرسکتے ہیں۔ یہی باتیں کرتے ہوئے وفد دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ پر واپس آیا۔ مولانا بدایونی اپنی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔ مولانا بدایونی نے دوسرے دن (۲۴؍ فروری) کو پھر فون کیا اور کہا کہ خواجہ صاحب کے پی.اے نے پیغام دیا ہے کہ ہم مولانا صاحب اور ان کے دوسرے ساتھیوں سے دوبارہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پیغام کا انتظار کیجئے۔ مولانا ابوالحسنات نے فرمایا کہ ہم ہر وقت تیار ہیں۔ ہمارا سر تو نہیں پھرا کہ خواہ مخواہ جنگ خریدیں۔ خواجہ صاحب ان مطالبات میں سے کسی ایک کو آج مان لیں تو ہم بقایا کو دوسرے وقت کے لئے التواء میں رکھ سکتے ہیں۔ بہر حال ہمارے وفد کو خواجہ صاحب کے پیغام کا انتظار تھا۔

۱۷، ۱۸، ۱۹؍ فروری ۱۹۵۳ء کے لئے آرام باغ میں جلسہ عام کا بندوبست کیا گیا۔ ان تاریخوں میں تو اجازت نہ مل سکی۔ مگر

صفحہ ۲۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فروری کی ۲۴، ۲۵، ۲۶، ۱۹۵۳ء کے لئے اجازت مل گئی۔

کراچی میں جلسہ عام

۲۴؍ فروری ۱۹۵۳ء کو آرام باغ میں آل پارٹیز مجلس عمل کی جانب سے عظیم الشان جلسہ عام کا اہتمام ہوا۔ یہ جلسہ حضرت مولانا ابوالحسنات کی صدارت میں بعد از نماز عشاء شروع ہوا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری، صاحبزادہ سید فیض الحسن، سید مظفر علی شمسی، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا بدایونی اور ماسٹر تاج الدین انصاری نے کراچی کے مسلمانوں کو خطاب کیا۔

کراچی کس کی ہے؟

اس جلسے میں ہم نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی پوزیشن بتائی۔ مطالبات پر روشنی ڈالی اور حکومت کے رویہ کا ذکر کیا۔ ہر مقرر نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور ان مطالبات کو جن کی پشت پر ساری مسلمان قوم کھڑی ہے جو مطالبات اسلام کے بنیادی عقیدے سے متعلق ہیں، فوراً تسلیم کرے اور بلاوجہ مسلمانوں کے جذبات سے نہ کھیلے۔ جلسہ بخیروخوبی ختم ہوا اور اعلان ہو گیا کہ کل پھر جلسہ ہوگا۔

۲۵؍ فروری دوسرے دن

چونکہ پراپیگنڈا ہو چکا تھا۔ اس لئے بے پناہ ہجوم آ گیا۔ اس دن سید مظفر علی شمسی کو خواجہ صاحب نے بلوا بھیجا تھا۔ خواجہ صاحب کو حکومت کی مشینری نے ورغلا کر ان کے دماغ میں یہ غلط بات بٹھا دی تھی کہ حضور والا یہ کراچی تو آپ کی ہے۔ باہر سے آئے ہوئے چند ملانوں کو کون پوچھتا ہے۔ شمسی نوجوان تھے۔ اس کے خون میں حرارت تھی۔ سید زادہ تاؤ کھا گیا۔ دوسرے دن کے جلسے میں نہایت پیارے انداز میں اپنی نوجوانی کے مطابق شمسی صاحب نے تقریر کی اور حاضرین جلسہ پر ایسا اثر پیدا کیا کہ مجمع پر وجد طاری تھا۔ مگر اس جلسے میں شمسی صاحب نے خواجہ اور ان کے غلط حواریوں کے چیلنج کا ذکر تک نہ کیا۔ اس جلسے کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب دوسرے دن تقریر کے لئے سٹیج پر تشریف لائے تو ایک رضا کار نے ان کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیا۔ صاحبزادہ نے ہار کو توڑا اور سٹیج پر بیٹھتے ہوئے لوگوں کی جانب پھینک کر فرمایا میرے عزیز یہ وقت ہار پہننے کا نہیں سرور کونین محمد مصطفیٰ ﷺ کی آبرو کو خطرہ درپیش ہو اور میں ہار پہنوں، ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لاؤ۔ ہمیں پابہ زنجیر کر کے دیکھو کہ ہمارے ماتھے پر شکن بھی آتا ہے۔ اس کے بعد اپنے مخصوص انداز میں صاحبزادہ نے موتی بکھیرنے شروع کئے۔ جلسے پر ایک سکوت طاری تھا اور صاحبزادہ صاحب حسب عادت ساون بھادوں کی طرح برس رہے تھے۔ صاحبزادہ کی تقریر نے مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو اس طرح ابھارا کہ بسا اوقات لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس طرح رات کے ۱۲؍ بجے تک جلسہ ہوتا رہا اور جب خاتمے کا وقت آیا تو شمسی صاحب نے اعلان کیا کہ کل میری تقریر کے لئے تیار ہو کر آنا۔ جلسہ بخیروخوبی اختتام پذیر ہو گیا۔

خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے پلٹا کھایا

ادھر مجلس عمل کسی مناسب سمجھوتے کی راہیں تکتی رہی اور اس وہم میں مبتلا ہو گئی کہ خواجہ صاحب اب بلاتے ہیں اور اب مطالبات

صفحہ ۲۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے بارے میں کوئی مناسب اور درمیانی راہ تلاش کی جاتی ہے۔ ادھر خواجہ صاحب نے نئے انداز میں سوچنا شروع کر دیا۔ انتظامیہ مشن کے وہ کل پرزے جنہیں برطانوی انجینئر مناسب طریقے پر فٹ کر گیا تھا۔ گھومنے لگے اور مشورہ ہوا کہ کوئی بات نہ کی جائے اور مجلس عمل کے لگے بندھوں کو باندھ کر جیل میں بند کر دیا جائے۔ دوسرے دن قصہ ہی ختم ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہوا کہ کچھ علماء کو ہموار کیا جائے جو اس تحریک کی مخالفت پر آمادہ ہو جائیں۔ مگر اس بارے میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوسکی۔ تاہم اتنا ضرور ہوا کہ دو چار عالم کسی نہ کسی طرح بلوائے گئے اور پیار و محبت اور لالچ سے ڈرا دھمکا کر دو چار کو آمادہ کر لیا گیا کہ ہم مجلس عمل پر ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ تم وقت پر ہماری ہمنوائی کرنا یا ترکیب سے سہارا دینا۔ جس سے تمہاری پوزیشن بھی خراب نہ ہو اور حکومت کا بھی کام بن جائے۔ اس گفتگو کے بعد خواجہ ناظم الدین صاحب نے اعلان کیا کہ با اثر علماء میرے ساتھ ہیں۔ لوگوں نے حیرانی سے خواجہ صاحب کے اس بیان کو پڑھا اور معلوم کرنا چاہا کہ وہ علماء حضرات کون ہیں جو اسلام کے بنیادی مسئلے کی مخالفت کے لئے مسلمانوں کو نظر انداز کر کے حکومت کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ مگر جستجو کے باوجود یہ معلوم نہ ہو سکا کہ خواجہ صاحب نے کن علماء کے بارے میں اشارہ فرمایا ہے۔ یہ بھید بھی بعد میں کھلا ۔ جب ان علماء کے سب سے بڑے علمبردار نے اپنے سرکاری گزٹ میں نادانستہ طور پر بڑی ”ہیکڑی“ سے فرمایا کہ یہ اشارہ ان کی جانب تھا۔ بہر حال وقت پر سب کو سانپ سونگھ گیا اور کسی کو مخالفت کی جرأت نہ ہوسکی اور خواجہ صاحب کسی ایک عالم دین کو تحریک کی مخالفت میں اپنے دائیں یا بائیں لا کھڑا نہ کر سکے۔

تیسرا اور آخری فیصلہ کن تاریخی جلسہ

تلاوت کلام کے بعد جناب عبدالرحیم جوہر جہلمی نے اپنے کلام بلاغت نظام سے حاضرین جلسہ کو محظوظ فرمایا۔ ان کی تاریخی نظم (میں نہیں کہتا) نے بہت داد وصول کی ۔ اس دن حضرت مولانا ابوالحسنات اس قدر تھک گئے تھے کہ انہوں نے شرکت سے معذوری کا اظہار فرمایا مگر ہم مصر تھے کہ اس آخری جلسے میں چند منٹ کے لئے شرکت از بس ضروری ہے۔ مولانا موصوف بہت ہی مہربان انسان ہیں۔ وہ حتی الوسع انکار نہیں کرتے اور اپنی جان پر خندہ پیشانی سے تکلیف برداشت کر لیتے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے لئے وہ سٹیج پر تشریف لے آئے۔ اس جلسے میں رہنمایان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے یکے بعد دیگرے تقریریں کیں۔ یہ جلسہ ذرا دیر سے شروع ہوا۔ اس لئے کہ مجلس عمل کا آخری اجلاس جو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں منعقد ہورہا تھا۔ بہت طول کھینچ گیا۔ مولانا احتشام الحق تھانوی تذبذب کا اظہار فرمارہے تھے۔ وہ پروگرام کے ہر پہلو پر غور فرماتے ، اعتراضات کرتے تھے۔ اس طرح بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر گیا۔ جماعت اسلامی کے نمائندے جناب سلطان احمد صاحب اپنے دلی جذبات کو کچھ دیر چھپاتے رہے۔ مگر بالآخر وہ کھل کر سامنے آگئے اور فرمانے لگے کہ اگر آپ اب بھی پروگرام کو ملتوی کر دیں اور ۹؍ مارچ کو ہمیں پروگرام بنانے کا موقعہ دیں تو ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ ہم ۹؍ مارچ کو اسمبلی ہال پر ایسا ہنگامہ کر دکھائیں گے کہ باید و شاید، کم از کم پچیس ہزار لوگ اس ہنگامے میں شمولیت کر سکتے ہیں اور یہ ہنگامہ تاریخی یادگار رہے گا۔ شرکاء نے ان کے خیالات پر تعجب کا اظہار کیا اور مجھے یاد ہے میں نے ان کی خدمت میں صفائی سے عرض کیا کہ ہم ہرگز ہنگامہ نہیں چاہتے ۔ ہم تو تحریک کو پرامن طریقے پر چلانا چاہتے ہیں اور اب تاریخ کا مزید التوا بھی میرے یا آپ کے اختیار سے باہر ہے۔ جب پروگرام بننے لگا اور طے ہوا کہ پانچ پانچ رضا کار غیر آباد راستوں سے وزیر اعظم اور گورنر جنرل کی کوٹھیوں پر جائیں تو جماعت اسلامی کے نمائندے مولانا سلطان احمد نے فرمایا کہ یہ طریقہ درست نہیں ۔ میں یہ مشورہ دوں گا کہ رضا کار بارونق سڑکوں پر سے جانا چاہئیں اور ان کا جلوس شہر کے آباد حصوں سے گزرنا چاہئے ۔ ہم نے عرض کیا کہ اس طرح ہنگامہ اور بدامنی کا اندیشہ ہے۔ عوام کو کس طرح سنبھالا جائے گا اور اگر پولیس نے خود ہی

صفحہ ۲۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے آدمیوں کو جلوس میں داخل کر کے فساد کرا دیا تو تحریک کو دھکا لگے گا۔ مولانا سلطان احمد صاحب تنہا شخص تھے جو اس وقت بھی ہنگامہ پسندی کا اظہار فرماتے تھے۔ مگر وہ کسی کو اپنا ہم خیال نہ بنا سکے اور بالآخر انہیں مجلس عمل کے مجوزہ پروگرام کی تائید کرنا پڑی۔ آخر کار جماعت اسلامی کے اپنے ذمہ دار نمائندے نے آخری اجلاس پر مہر تصدیق ثبت کر کے گھر کی راہ لی اور اپنے جانشین ساتھیوں میں آرام سے جا بیٹھے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہیں گرفتار کرنے کوئی نہیں آیا۔ حالانکہ پولیس ان کا گھر جانتی تھی اور یہ بھی جانتی تھی کہ یہ مجلس عمل کے رکن ہیں۔ جب کہ تحریک کے دیگر راہنما رات ہی کو دھر لئے گئے تھے۔

کراچی تیری ہے کہ میری؟

آرام باغ کا آخری اور تاریخی جلسہ جب عروج پر پہنچ گیا تو لوگوں نے شور مچایا کہ شمسی صاحب تقریر کریں۔ چنانچہ شمسی صاحب سٹیج پر تشریف لائے تو انہوں نے تحریک ختم نبوت کے نوٹوں کے بارے میں اپیل کی۔ لوگ آگے بڑھ بڑھ کر نوٹوں کے عوض روپیہ ادا کرنے لگے۔ جلسہ درہم برہم ہونے لگا تو کہا کہ یہ کام جلسے کے بعد سہی، اب تقریر سنو۔ تحریک کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے شمسی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں حاضرین کو مسحور کرنا شروع کیا۔ جلسے میں مکمل خاموشی اور سکوت تھا کہ شمسی صاحب نے فرمایا: کیوں بھئی کراچی والو! خواجہ ناظم الدین صاحب نے تو ہمیں پرکاہ کے برابر بھی نہیں سمجھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ کراچی سے تمہارا کیا تعلق ہے ۔ یہ ہماری راج دھانی ہے ۔ میں آپ سے صرف ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ میں اور میرے بزرگ یہاں واقعی اجنبی ہیں۔ کیا تاریخ اپنے کو دہرا رہی ہے اور کراچی میں کوفے کا منظر دوبارہ پیش ہو گا۔ ہم یہاں سوداگری کرنے نہیں آئے۔ ہم تو اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ سرکار مدینہ نبی کریم ﷺ کا تاج نبوت خطرے میں گھرا ہوا ہے۔ ہم خواجہ صاحب کی حکومت سے تاج وتخت ختم نبوت کی حفاظت کی یقین دہانی کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ ہمیں وزارت نہیں چاہئے ۔ دولت نہیں مانگتے ۔ ہم اسلام کے بنیادی مسئلے کی خاطر خواجہ صاحب کے دربار سے بھیک مانگنے آئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں یہ کراچی میری راج دھانی ہے ۔ اگر آپ خواجہ کے ساتھ ہیں تو خیر ہم تنہا اس راہ میں ہر مصیبت برداشت کریں گے اور اگر آپ ہمارے ساتھ قربانی دینے کو تیار ہیں تو آپ حضرات میں سے جو شخص قربانی دینے کے لئے ہمارے رضا کاروں کی فہرست میں نام لکھوانا چاہتا ہے وہ سٹیج پر آ کر اپنا نام لکھا دے ۔ تا کہ حکومت کے نمائندے جو یہاں جلسے کے چاروں طرف موجود ہیں اور خواجہ صاحب کے خاص ایلچی جو جلسہ گاہ کے ایک کونے میں موجود ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ کراچی کس کی ہے ۔ شمسی صاحب کی اس اپیل پر ہزار ہا مسلمان اس طرح سٹیج کی طرف بڑھے جیسے باز تیزی سے شکار پر جھپٹتا ہے۔ جلسے میں ایک ہلڑ مچ گیا اور دس پندرہ منٹ شیدایان ختم نبوت کا سٹیج کے گرد اژدھام لگا رہا۔ بالآخر شمسی صاحب نے بمشکل لوگوں کو سمجھا بجھا کر دوبارہ جلسے میں بٹھا دیا۔ تقریر دوبارہ شروع ہوئی تو شمسی صاحب نے حاضرین جلسہ سے جو کم و بیش ایک لاکھ سے کیا کم ہوں گے پھر کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی خواجہ صاحب کی نہیں بلکہ فدایان ختم نبوت کی ہے۔ وہ ذرا ہاتھ تو کھڑا کریں ۔ جلسہ گاہ میں چاروں طرف ہاتھ لہرانے لگے اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک بوس نعرے لگنے شروع ہو گئے تو شمسی صاحب نے تب خواجہ صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ خواجہ صاحب! اب بتاؤ کہ کراچی میری ہے یا آپ کی؟

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے جذبات سے بھر پور تقریر کی اور عشق مصطفیٰ ﷺ کا حق ادا کر دیا۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو عشق مصطفیٰ ﷺ میں پرنم نہ تھی اور کوئی دل ایسا نہیں تھا جو عشق محمد ﷺ میں تڑپ نہیں رہا تھا۔ اس جلسے میں جوش کا یہ عالم تھا کہ لوگ اسی

صفحہ ۲۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وقت جیل جانے کو آمادہ و تیار تھے۔ ماسٹر تاج الدین انصاری نے خواجہ صاحب سے التجاء کی کہ وہ مطالبات پر غور فرمائیں۔ ابھی رات باقی ہے۔ صبح ہمیں بلوا لیجئے اور تسلی بخش جواب سے قوم کو سرفراز فرمائیے۔ ہم حکومت سے الجھنے کے لئے نہیں آئے۔ ہماری اب بھی دلی دعا ہے کہ صبح کو طلوع ہونے والا آفتاب سمجھوتے کی فضا میں نمودار ہو اور خدا آپ کو قوم کے متفقہ مطالبات کو ماننے کی توفیق ارزانی فرمائے۔ حضرت امیر شریعت کی خطابت اور مولانا محمد علی جالندھری کے دلائل نے قوم کے دل و دماغ کو جلا بخشی تقریباً رات کے ایک بجے جلسہ دعا کے بعد ختم ہوا اور رہنما دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ کراچی میں واپس آگئے۔

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ جب ۲۶؍ فروری اور ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کی درمیانی رات مجلس عمل کے زیر اہتمام آخری پبلک جلسہ ہو رہا تھا اور اس میں مولانا ابوالحسنات، ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا عبدالحامد بدایونی، حضرت امیر شریعت، مولانا محمد علی جالندھری اور سید مظفر علی شمسی تقریریں کر رہے تھے تو مرکزی حکومت کے دو سیکرٹری مسٹر سکندر مرزا اور مسٹر جی احمد دونوں جلسہ میں موجود تھے۔ ان دونوں کو جلسہ سے کیا دلچسپی تھی؟ حالانکہ ایک ڈیفنس سیکرٹری اور دوسرا غالباً کیبنٹ سیکرٹری تھا۔ پھر معاملہ یہاں تک ہی نہیں انہی دونوں صاحبان نے رات اڑھائی تین بجے کے قریب خواجہ ناظم الدین کو جو سو رہے تھے جگایا اور اطلاع دی کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے تحریک کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے اور صبح سے تحریک ختم نبوت شروع ہو جائے گی۔

سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ ڈیوٹی ان صاحبان کی نہ تھی۔ جلسہ کی رپورٹ لینا اور مجلس عمل کے پروگرام اور فیصلوں سے وزیر اعظم کو آگاہ کرنا انٹیلی جنس بیورو والوں یا حکومت کی دوسری خفیہ برانچوں کا کام تھا۔ سی.آئی.ڈی یا انٹیلی جنس والے یا کمشنر کراچی براہ راست ذمہ دار تھے کہ صورتحال سے باخبر رہیں اور خبردار رکھیں۔ متعلقہ محکموں کے کسی افسر نے خواجہ ناظم الدین کو راتوں رات اطلاع نہیں دی اور نہ ہی یہ جرأت کی کہ انہیں نیند سے بیدار کیا جائے۔ مسٹر سکندر مرزا اور مسٹر جی احمد کو کیا پڑی ہوئی تھی کہ یہ دونوں غیر متعلقہ ہونے کے باوجود ساری پخت و پز کرتے پھرے۔ خواجہ صاحب کو جگایا۔ کابینہ کا اجلاس طلب کرایا۔ گرفتاریوں کا فیصلہ کرایا اور تحریک ختم نبوت کو کچل دینے کی منصوبہ بندی کر کے گھروں کو گئے۔

اصل میں سکندر مرزا شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور جی احمد مبینہ طور پر قادیانی تھا۔ قادیانی صاحب نے اپنی روایتی تلبیس سے کام لے کر سکندر مرزا کو وسوسہ کا شکار کیا اور سمجھایا کہ اس وقت جو کچھ قادیانیوں کے خلاف ہو رہا ہے وہی کچھ کل کو شیعوں کے خلاف ہوگا۔ اگر شیعہ سنیوں کے مظالم اور برے سلوک سے بچنا چاہتے ہیں اور ایک آبرومند اقلیت کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو یہی وقت اس کے مداوا کا ہے۔ اگر موجودہ تحریک کو سبوتاژ کر دیا جائے۔ اس تحریک کے علمبرداروں کو جو فسادی ہیں کچل دیا جائے تو نہ صرف ہم محفوظ ہو جائیں گے بلکہ آئندہ کے لئے اقلیتوں کو تنگ کرنے کا راستہ ہی بند ہو جائے گا۔ کٹر شیعہ ہونے کے باوجود سکندر مرزا، صاحب ٹائپ آدمی تھے۔ ان کے متعلق مشہور تھا کہ وہ بالکل انگریزی دل و دماغ بود و باش اور رہن سہن رکھتے تھے۔ انگریز صاحبوں کی طرح ان کے ہاں بھی کھانے کا گھنٹہ بجتا تھا۔ مقررہ وقت پر گھنٹہ بجتے ہی سب لوگ کام کاج چھوڑ دیتے اور کھانا کھاتے۔ غرضیکہ انہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ شیعہ سنی کے اختلافات اور مرزائی مسلمان کے اختلاف میں کیا فرق ہے۔ انہیں یہ بات اپیل کر گئی کہ مرزائی سوادِ اعظم کے مقابل ایک اقلیت ہیں۔ سوادِ اعظم مذہبی تعصب کی بناء پر ان کے خلاف شور بپا کئے ہوئے ہے اور یہ اس وقت بڑے مجبور اور مظلوم ہیں۔ ان کی مدد انسانی، پاکستانی اور قومی فریضہ ہے۔ خصوصاً ایک شیعہ کو تو ان کی مدد ضرور کرنی چاہئے۔ کیونکہ ملک کا سوادِ اعظم شیعوں کے بھی خلاف ہے اور شاید قادیانیوں کے بعد ان کی بھی اسی سلوک کے لئے باری آجائے۔

صفحہ ۲۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس گٹھ جوڑ میں سکندر مرزا اور مسٹر جی احمد کے علاوہ ایک تیسرے مرکزی سیکرٹری مسٹر ایم. بی احمد بھی شامل تھے اور تینوں سازشی سیکرٹری صاحبان نے اپنے موقف اور اپنی سازش کو کامیاب بنانے کے لئے ملک غلام محمد گورنر جنرل پاکستان کی پناہ اور اس کا اعتماد حاصل کر رکھا تھا۔ ملک صاحب کو اپنی گورنر جنرلی کی حفاظت کے لئے ان سیکرٹریوں کی خوشامد اور ان کا تعاون درکار تھا اور خواجہ ناظم الدین اس راز سے واقف ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کے وزیراعظم ہونے کے باوجود اتنے کمزور تھے اور ان افسروں کے ہاتھ کا کھلونا بنے ہوئے تھے۔ ملک غلام محمد نے اپنے زمانہ اقتدار میں عجیب عجیب حرکتیں کیں۔ ان حرکتوں میں سے اس حرکت کا تذکرہ تو آپ نے سن لیا۔ ایک حرکت اور بھی ملاحظہ کریں۔ ملک غلام محمد بیمار، عمر رسیدہ اور جسمانی صحت کے لحاظ سے ناکارہ قسم کے آدمی تھے۔ لیکن اپنے عہدہ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس لئے اپنی کرسی اور عہدہ کی حفاظت کے لئے عجیب و غریب حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ اسے ہر وقت کھٹکا لگا رہتا تھا کہ کہیں فوج یا اور کوئی پارٹی میری حکومت کا تختہ الٹ کر مجھے اقتدار سے محروم نہ کر دے۔ اس خوف سے وہ مختلف کیمپوں سے خفیہ خبریں حاصل کیا کرتا تھا۔ چنانچہ کراچی میں مقیم ایک مشہور پیر صاحب کو اس نے اس ڈیوٹی پر متعین کیا کہ فلاں کیمپ کے لوگوں کے خیالات مجھے معلوم کر کے بتاؤ کہ وہ میرے متعلق کیا سوچ رہے ہیں۔ اس خدمت کے لئے ان پیر صاحب کو گورنر جنرل کے خفیہ فنڈ سے معقول معاوضہ ملتا تھا۔ عجیب اتفاق کہ اس کیمپ والوں کو معلوم ہو گیا کہ اعلیٰ حضرت غلام محمد صاحب نے پیر صاحب کو ہم پر متعین کر رکھا ہے۔ اس کیمپ کے بعض ذہین لوگوں نے پیر صاحب سے اس راز کا تذکرہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ جو کچھ ملک غلام محمد سے تنخواہ لیتے ہیں اس سے دوگنا خدمت ہم آپ کی کیا کریں گے۔ جو باتیں آپ سے وہ ہمارے متعلق دریافت کرے آپ وہ ہمیں بتا دیا کریں۔ پیر صاحب پہلے یک طرفہ خدمت کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے دوطرفہ خدمت سرانجام دینا شروع کر دی۔

بہر حال میں اس موقعہ پر اس بات کی نشاندہی کرنا چاہتا تھا کہ قادیانیوں نے دو مرکزی سیکرٹریوں سے فائدہ اٹھایا انہوں نے پہلے سکندر مرزا کو گانٹھا اور پھر ان تینوں نے ملک غلام محمد کو شیشہ میں اتارا اور خواجہ ناظم الدین کو مرعوب کرنے کے لئے اس کی مکمل حمایت حاصل کر لی۔ بعد کے واقعات سے ثابت ہو گا کہ تحریک کو کچلنے کے لئے جتنا ظلم ہوا اس میں مذکورہ تین مرکزی سیکرٹریوں، ملک غلام محمد اور جنرل اعظم جو خود یا ان کی بیگم صاحبہ قادیانی بتائے جاتے ہیں۔ ان کا براہ راست ہاتھ تھا۔ ورنہ تحریک کامیاب ہوتی اور ہزاروں بے گناہ یوں ظلماً نہ مارے جاتے نہ ہی مسلم لیگ کا اقتدار اس طرح تباہی کے گھاٹ اترتا اور نہ ہی آج ملک کا یہ نقشہ ہوتا جس صورتحال سے محبّ وطن اور سمجھدار لوگوں کے دل دہل رہے ہیں۔

خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ میں آگے چل کر تفصیلاً ذکر کروں گا کہ ان دشمنان ختم نبوت اور مرزائیوں کے ہمدردوں کا کیا حشر ہوا۔ سکندر مرزا کا جوان بیٹا انہی دنوں ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ ملک غلام محمد جس عذاب خداوندی میں گرفتار ہو کر مرا اس سے خدا دشمن کو بھی محفوظ رکھے۔ جب بعد از ذلت بسیار مر گیا تو خدا نے اس کے وجود اور اس کی قبر کو آئندہ نسلوں کے لئے عبرت بنا دیا۔ وہ ملک کا گورنر جنرل تھا۔ لاہور کی مشہور ککے زئی برادری کا رئیس آدمی تھا۔ لیکن اسے دفن ہونے کے لئے کہیں جگہ نہ مل سکی۔ اسے کراچی کے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کے لئے جگہ ملی۔ آج بھی ہزاروں لوگ روزانہ ڈرگ روڈ سے گزرتے ہوئے عیسائیوں کے قبرستان میں اس کی منحوس قبر کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتے ہیں۔ سکندر مرزا صاحب کی سنئے۔ آپ اس قسم کی غداریوں کی بدولت ترقی کرتے کرتے صدر مملکت پاکستان بن گئے۔ جب صدر مملکت بن گئے سہروردی (حسین شہید) صاحب اس وقت وزیراعظم تھے۔

صفحہ ۲۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظاہر ہے سکندر مرزا کسی سیاسی جماعت کی مدد یا کسی عوامی تائید سے تو صدر مملکت بنے نہیں تھے۔ وہ تو نوکر شاہی اور بیرونی طاقتوں کی سازشوں سے پروان چڑھے تھے۔ مسلم لیگ ان کے خنجر سے زخمی تھی۔ عوامی لیگ بھی ان کی مؤید نہ تھی۔ بائیں بازو کی جماعتیں انہیں ملک کی روشن پیشانی کا سیاہ داغ سمجھتی تھی۔ سکندر مرزا کو اب عوام میں کسی مقبول گروہ کی ضرورت تھی۔ ان کی نگاہ انتخاب احرار اور مجلس عمل پر پڑی۔ کیونکہ احرار اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے لوگ جیلوں سے تازہ تازہ نکلے تھے اور اپنے مستقبل کے متعلق ڈانواں ڈول تھے۔ سکندر مرزا نے مجلس عمل کے ایک مقتدر شیعہ رہنما سید مظفر علی شمسی کو درمیان میں ڈالا اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو پیغام بھیجا کہ آپ لوگ مجھ سے ملیں۔ میں قادیانیوں کا مسئلہ حل کئے دیتا ہوں۔ احرار کا وہ گروہ جو شیخ حسام الدین مرحوم اور ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کی قیادت میں سیاسی کام کرنا چاہتا تھا وہ (حسین ) شہید سہروردی صاحب کے ساتھ شامل ہو جانے کی مشاورتیں کر رہا تھا۔ سکندر مرزا نے شیخ صاحب اور ماسٹر صاحب دونوں کو کراچی میں بلایا اور اپنے خوبصورت جال میں پھنسانے کے لئے بڑے جتن کئے۔ لیکن مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جا سکتا۔ یہ حضرات سکندر مرزا کے دام فریب میں نہ آئے اور سہروردی صاحب کی جماعت میں شریک ہو گئے۔ سکندر مرزا نے شاہ جی سے ملنے کے لئے بڑے جتن کئے۔ لیکن شاہ جی ملاقات کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔ سکندر مرزا نے اپنے ہوائی جہاز کی پیشکش کی لیکن شاہ جی نہ مانے۔ آخر سکندر مرزا نے خود ملتان پہنچنے کا پروگرام بنایا اور شاہ جی تو پھر بھی نہیں مان رہے تھے۔ لیکن کارکنوں کے کہنے پر خاموش ہو گئے۔ اتنا فرمایا کہ میں اس دشمن خدا اور رسول سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک نہیں مانگوں گا۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا سکندر مرزا جس ٹرین سے ملتان آ رہے تھے جب وہ بہاول پور پہنچی تو اسے خبر ملی کہ لاہور میں ڈاکٹر خان صاحب قتل ہو گئے ہیں۔ سکندر مرزا سیدھا لاہور چلا گیا۔ ملتان کا پروگرام منسوخ ہو گیا اور یوں ملاقات ہی نہ ہو سکی۔ بالآخر سکندر مرزا کا جو حشر صدر ایوب نے کیا وہ دنیا نے دیکھا۔ مال بردار طیارے پر سوار کر کے پہلے کوئٹہ اور پھر بیرون ملک بھیج دیا گیا۔ جلاوطنی میں باقی زندگی بسر ہوئی اور بڑی عبرتناک بسر ہوئی اور آخر کار وہ شخص جو کراچی سے فون پر تحریک کو کچلنے والے افسروں سے پوچھتا تھا کہ مجھے بتاؤ کتنے لوگوں کو گولی سے اڑایا گیا ہے۔ اپنا حساب دینے کے لئے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار !

۶؍ فروری کا جمعہ

قارئین ایک بار پھر واپس چلیں۔ ملک بھر میں جلسے منعقد ہو رہے تھے اور ان میں ایمان افروز تقریروں کا سلسلہ شروع تھا۔ ۶؍ فروری ۱۹۵۳ء کو جمعتہ المبارک کا دن تھا۔ سارے ملک کے خطیب صاحبان نے ختم نبوت کے موضوع پر تقریریں کیں اور مجلس عمل کی طرف سے قراردادیں منظور کروائیں۔ جامع مسجد وزیر خان لاہور میں مولانا ابوالحسنات بڑی جرأت اور روانی کے ساتھ فرما رہے تھے۔ ’’ہمارا پروگرام تعمیری ہے تخریبی نہیں۔ اگر خواجہ ناظم الدین وقت کی نزاکت کے پیش نظر ملت کے مطالبات تسلیم کرلیں تو ہم سے زیادہ اس حکومت کا خیر اندیش اور بہی خواہ اور کون ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا؟ میں پوچھتا ہوں کہ خواجہ ناظم الدین صرف ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں۔ آخر انہیں کھوڑو کو وزارت سے علیحدہ کرنے کی جرأت کیسے ہوئی تھی۔ انہیں بنگال کے مسلمہ لیڈر فضل الرحمن کو نکالنے کا حوصلہ کہاں سے مل گیا تھا۔ خواجہ صاحب ظفر اللہ خان کو نکالنے سے پہلے ملت سے قربانیاں کیوں مانگ رہے ہیں۔ آپ نے کہا میں ایک بار پھر خواجہ ناظم الدین کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ کیا ملت اسلامیہ ختم نبوت کے مسئلہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار نہیں ہے۔ آخر میں ایک بار پھر

صفحہ ۲۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ علمائے کرام اپنا اٹھایا ہوا قدم واپس نہیں لیں گے۔ جب تک کہ مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔‘‘

(از: روزنامہ زمیندار مورخہ ۸ فروری ۱۹۵۳ء)

مجلس عمل کے رہنماؤں کی گرفتاری ...... کراچی سنٹرل جیل سے لاہور سنٹرل جیل تک

از: ماسٹر تاج الدین انصاری

۲۶؍۲۷؍فروری ۱۹۵۳ء کی درمیانی شب کراچی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی سے گرفتار کر لئے گئے۔ کراچی جیل سے لاہور جیل تک حالات کی بڑی مربوط اور دلچسپ داستان حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری نے قلم بند فرمائی ہے۔ اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے گرفتاریوں کے بعد تحریک کی رفتار کی رپورٹ کو روک کر پہلے اسے پیش کیا جارہا ہے۔ (مرتب)

گرفتاری

مسلسل دو دن خواجہ صاحب کے بلاوے کا انتظار کرنے کے بعد ہمیں مایوسی تھی۔ علاوہ ازیں خواجہ صاحب نے شمسی صاحب سے جو بات کی اس سے ظاہر ہو چکا تھا کہ حکومت ہر شیعہ نمائندے کو تحریک تحفظ ختم نبوت میں شامل ہونے سے روکنا چاہتی تھی۔ مقام حیرت ہے حکومت کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مسلمان من حیث القوم اس تحریک سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے لئے اب یہ اندازہ لگالینا مشکل نہ تھا کہ زبانی گفتگو کی بجائے حکومت ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی چھنکار میں گفتگو کرنا زیادہ پسند کرے گی۔ دو تین راتوں کے تھکے ماندے ہم سب دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں آ کر دراز ہو گئے۔ ہم میں سے اکثر سو چکے تھے کہ دفتر کے بند دروازے پر تحکمانہ انداز میں کسی نے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹا کر فرمایا کہ دروازہ کھولو۔ ورنہ اسے توڑ دیا جائے گا۔ دروازہ لوہے کی سلاخوں کا بنا ہوا بہت ہی مضبوط تھا۔ دروازے کے قریب عبدالرحیم جوہر سو رہے تھے۔ وہ اٹھے اور کہا کہ تحمل کرو دروازے پر تالا لگا ہوا ہے۔ چابی لا کر کھولتا ہوں۔ اس قدر بے تابی کیوں ہے؟ یہاں کوئی بھاگنے والی اسامیاں نہیں ہیں۔ ہم تو انتظار میں ہی تھے۔ آپ حضرات تو بڑی دیر سے تشریف لائے ہیں۔ پولیس افسران اس پر جلدی کھولو کی رٹ لگا رہے تھے۔ جوہر صاحب نے مولانا لال حسین اختر کو جگایا۔ کیونکہ چابی ان کے پاس تھی۔ اتنے میں اور دوستوں نے شور شرابا سن کر کروٹ لی۔ حضرت شاہ صاحب بھی جاگ پڑے۔ مگر وہ ابھی لیٹے ہوئے تھے۔ تالا کھول کر جب دروازہ کھولا گیا تو بہت سے پولیس اور سول افسران اندر داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک افسر نے داخل ہوتے ہی فون کنکشن پر ڈنڈا رسید کر کے کنکشن کاٹ دیا۔ ایک پولیس افسر نے پستول تھام لیا۔ غرضیکہ اچھا خاصا ڈرامہ کرنے کے بعد انہیں اس وقت خفت محسوس ہوئی۔ جب صاحبزادہ کو جگایا۔ صاحبزادہ صاحب نے آنکھ کھولی اور نقشہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ گرفتاریاں ہوں گی۔ وہ سنبھل کر چار پائی پر بیٹھ گئے اور ازراہ مذاق فرمانے لگے کہ آپ کو جن کی تلاش ہے۔ وہ بزرگ اس کونے میں استراحت فرما رہے ہیں۔ صاحبزادہ صاحب نے مولانا ابوالحسنات صاحب کی چار پائی کی جانب اشارہ کیا۔ میں (ماسٹر تاج الدین) اپنے کمرے سے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔ چنانچہ میں نے جلدی جلدی اپنا بستر لپیٹا۔ سامان سنبھالا اور لوٹا اٹھا کر استنجے کے لئے بیت الخلاء کی جانب جانے لگا۔ میں ابھی دو ہی قدم گیا تھا کہ ایک پولیس افسر میری طرف آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب آپ کہیں نہیں جاسکتے۔ میں ہنس پڑا اور پاس کھڑے ہوئے افسر سے کہا کہ آپ نے کبھی سیاسی لوگوں کو اس سے قبل گرفتار نہیں کیا؟ اگر گرفتار ہونا نہ چاہتے تو ہم سب یہاں سے بہت آسانی کے ساتھ جاسکتے تھے۔ آپ حضرات باہر دروازہ کھٹکھٹاتے رہتے اور جب اسے توڑ کر اندر آتے تو آپ کو مایوسی ہوتی۔ آئیے میں آپ کو دوسرا راستہ بتادوں جو دوسری سڑک پر نکلتا ہے۔ آپ جس سڑک پر

صفحہ ۲۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پہرہ لگائے کھڑے ہیں یہ اس بلڈنگ کا ایک حصہ ہے۔ افسران حقیقت حال سے آشکارا ہونے پر شرمندہ ہوئے اور فوراً اپنا رویہ بدل لیا۔ ہم نے اپنا اسباب درست کر لیا تو افسران سے کہا کہ نیچے سے کچھ سپاہی منگوائیے جو اسباب اتار لیں۔ ہم سب دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے نیچے اترے تو دیکھا کہ دفتر کی سڑک اور چوک میں مسلح پولیس کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ پولیس نے اچھا خاصا مظاہرہ کر رکھا تھا۔ کاریں، لاریاں تیار کھڑی تھیں۔ ہم سب تیار ہو رہے تھے تو ایک پولیس افسر نے کہا کہ مولوی نیاز صاحب کہاں ہیں؟ ہمارے کسی رفیق نے سادگی سے کہہ دیا کہ آپ آرام باغ ہوکر نہیں آئے۔ وہ تو وہاں جلسہ گاہ میں سامان کی نگرانی کے لئے ٹھہر گئے تھے۔ چنانچہ پولیس ان کو آرام باغ سے گرفتار کر کے لے آئی۔ جلسہ سے فارغ ہوتے ہی مولانا محمد علی جالندھری ملتان کے لئے اپنے پروگرام کے مطابق سفر پر روانہ ہوگئے تھے۔ دفتر سے گرفتار ہونے والے ہم آٹھ ارکان تھے۔ حضرت مولانا ابوالحسنات، حضرت امیر شریعت، حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن، جناب عبدالرحیم جوہر، جناب نیاز لدھیانوی، مولانا لال حسین اختر، اسد نواز ایڈیٹر حکومت اور تاج الدین انصاری۔ جب ہم کراچی جیل میں داخل ہوئے تو ڈیوڑھی پر افسران جیل موجود تھے۔ وہ ہمارے ناموں کا اندراج کر رہے تھے کہ مولانا عبدالحامد بدایونی بھی تشریف لے آئے۔ انہیں مقامی پولیس ان کے گھر سے گرفتار کر کے لے آئی۔ گویا اب ہماری تعداد نو ہو گئی۔ صبح کی اذان ہوئی تو ہم نے جیل والوں سے کہا کہ ہمیں اندر بھیجئے گا تاکہ ہم نماز کا بندوبست کریں اور آپ اندراج کرتے رہیں۔ جیل کے افسران نے جلدی جلدی کام ختم کیا اور ہم نے اندر کے پھاٹک پر بسم اللہ مجرہا و مرسہا کہتے قدم رکھا۔ اندر گئے۔ وضو کیا اور نماز باجماعت ادا کی۔ اس کے بعد ہم نے اپنے مستقل مسکن کا تقاضہ کیا۔ افسران جیل نے اے کلاس وارڈ جہاں کبھی مولانا محمد علی، شوکت علی مرحوم تحریک خلافت میں گرفتار کر کے رکھے گئے اس وارڈ میں ہمیں پہنچا دیا۔ تھکے ماندے تو تھے ہی زمین پر ہی بستر بچھا کر سو گئے۔ دن نکل آیا۔ باہر کا دروازہ کھلا تو وارڈ میں اچھی خاصی چہل پہل ہو گئی۔ جہاں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری موجود ہوں صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب ایسے خوش مزاج سجادہ نشین تشریف فرما ہوں۔ شمسی صاحب ایسا خوش مزاج اور سراپا ہنگامہ نوجوان موجود ہو وہاں جیل چیز ہی کیا ہے۔ کون محسوس کرتا ہے کہ ہم کہاں ہیں۔ جیل کے افسران بڑی احتیاط اور نہایت با رعب طریقے سے قیدیوں کی وارڈ میں آیا کرتے ہیں۔ پہلے شور ہوتا ہے۔ صاحب آ رہے ہیں۔ مشقتی قیدی اور پہرہ دار چوکس ہوکر با ادب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ باہر ہی سے کڑک دار آواز میں کسی قیدی یا ملازم کو ڈانٹ ڈپٹ کی آواز آتی ہے۔ تب وارڈ میں ایک سکوت طاری ہو جاتا ہے تو بڑے دل گردے کے قیدی بھی ایک بار سنبھل کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم فقیروں پر چونکہ ایسی وارداتیں زندگی بھر گزرتی رہی ہیں۔ اس لئے ہمیں گفتگو کرنا بھی آتی تھی اور ہم جیل کے آداب سے بھی واقف تھے۔ آیئے آیئے۔ السلام علیکم خیریت ہے، دولت خانہ کہاں ہے۔ غرضیکہ بے تکلفی کے مہذب سوالات میں افسران جیل کو بے تکلف دوست بنالیا جاتا ہے۔ تصنع اور منافقانہ گفتگو کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ اس صورتحال میں فریقین کو تکلیف کا سامنا نہیں ہوتا۔ نہ قیدی کو شکایت پیدا ہوتی ہے اور نہ افسر بالا پریشان ہوتا ہے۔ جیل افسران کے نزدیک اب ہم جانے پہچانے قیدی تھے۔ صبح کے ناشتے کے لئے ڈبل روٹیاں آگئیں۔ چائے آگئی۔ یہی لپٹن چائے جو کیکر کی مسواک کا کام بھی دے دیتی ہے اور جسے خالص چائے کے نام سے عام طور پر پیا جاتا ہے۔ ناشتے کے بعد کھانا آگیا۔ دوسرے دن سپرنٹنڈنٹ صاحب تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں خوبصورت تسبیح تھی۔ وہ کچھ پڑھتے ہوئے آ رہے تھے۔ ہم پڑھ کر فارغ ہوئے بیٹھے تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ وہ مولانا بدایونی صاحب کے معتقدین میں سے تھے۔ غالباً ان کی بیوی بڑے مولانا سے بیعت تھی۔ بہرحال وہ مولانا سے بہت بے تکلف ہوگئے۔ ہمارا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ہم نے باورچی خانے کے لئے درخواست کی اور راشن مانگ لیا تاکہ اپنا کھانا خود ہی پکا لیا کریں۔ وہ مان گئے۔ معمار آگیا۔ اینٹیں آگئیں۔ دو تین دن میں باورچی خانہ بن گیا۔ ہم ابھی جیل میں جم کر

صفحہ ۲۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ مولانا مہر الٰہی جو کراچی کے مشہور واعظ ہیں معہ مولانا عبدالرحمٰن صاحب خطیب اور میاں محمد صاحب سجادہ نشین داتا گنج بخش تشریف لے آئے۔ یہ تینوں حضرات کراچی میں گرفتار ہوئے اور شہر کراچی میں اچھا خاصا کام کرنے کے بعد پکڑے گئے۔

کراچی میں تحریک کا زور

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد کراچی میں ہڑتال ہو گئی۔ تب خواجہ صاحب بھی شاید سٹ پٹائے ہوں گے۔ مسلمانوں میں بے پناہ جوش تھا۔ پہلے ہی دن تقریباً چار ہزار مسلمانوں نے گرفتاریوں کے لئے خود کو میدان میں پیش کر دیا۔ کراچی کے حکام بہت ہوشیار ہوئے۔ وہ جب لوگوں کو گرفتار کر چکے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بعد اور بھی آئیں گے۔ شاید دوسرے دن اس سے بھی زیادہ لوگوں کو گرفتار کرنا پڑے۔ کچھ لوگوں کو وہ لاریوں میں بھر کر جیل بھیج چکے تھے۔ کراچی میں اے. ٹی نقوی کی حکومت تھی۔ انہوں نے بڑی عیاری کا فیصلہ کیا کہ گرفتار شدگان کو لاریوں میں بھر کر کراچی سے آٹھ دس میل دور غیر آباد علاقے میں چھوڑ دیا جائے۔ یہ ترکیب گو بڑی ظالمانہ تھی مگر بہت کارگر ثابت ہوئی۔ جیل میں اتنے لوگوں کے لئے گنجائش ہی کہاں تھی۔ باہر یہی کچھ ہوا اور اندر بھی یہی داؤ کھیلا گیا۔ جن لوگوں کو پہلے دن گرفتار کیا تھا انہیں کہا تمہارے ملاقاتی آئے ہیں۔ چلو دروازے پر چل کر ملاقات کر لو۔ دروازے پر لے جا کر ان لوگوں سے فارم پر دستخط کرائے اور جیل سے باہر نکال دیا۔ پہلے دن قید ہونے والوں میں شیعہ نوجوان کافی تعداد میں پکڑے گئے تھے۔ مگر ان سب کو جیل سے باہر نکال دیا گیا۔ قید ہونے والوں اور گرفتار ہونے والوں سے آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ اس طرح لوگوں کا آہستہ آہستہ جوش ٹھنڈا ہونے لگا۔ جب انہیں گرفتار ہی نہ کیا جائے تو وہ کیا کریں گے؟ دس پندرہ روز میں نقوی صاحب نے کراچی کو ٹھنڈا کر لیا۔ باہر رہنماؤں میں سے کون تھا۔ جماعت اسلامی، جس نے ”شرعی دھنیا“ پی رکھا تھا یا چند وہ بزرگ جنہیں خواجہ ناظم الدین نے گرفتار نہ ہونے دیا۔ بلکہ ترکیب سے باتوں باتوں میں ہمنوا بنانے کی کوشش کی۔ ہمیں اب کچھ معلوم نہ تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ پنجاب پر کیا گزر رہی ہے۔

اچانک آٹھ یا نو مارچ کو خان محمد عبداللہ سرکاری طور پر ہمارے پاس اندر بھیجے گئے۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ فرمانے لگے غضب ہو گیا۔ ہم سب ان کے گرد جمع ہو گئے اور دریافت کیا کہ خان صاحب کیا غضب ہو گیا؟ خان بہادر صاحب نے فرمایا کہ لاہور میں گولی چل رہی ہے اور میں وہیں سے سیدھا آ رہا ہوں۔ میں نے لوگوں کو خون میں لت پت ہوتے اور سڑکوں پر دم توڑتے دیکھا ہے۔ میں مسجد وزیر خان میں بھی ہو آیا ہوں۔ خدا کے لئے بتائیے یہ کیا ہوا ہے؟ کیوں ہوا ہے؟ اسے روکئے۔ صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب نے بے ساختہ جواب دیا کہ خان بہادر صاحب حکومت نے عقل کو پابہ زنجیر کر کے جیل میں بند کر دیا اور جذبات کو کھلا چھوڑ دیا۔ یہ سب کچھ جو آپ دیکھ کر آئے ہیں اس حماقت کا نتیجہ ہے۔ ہم یہاں بند ہیں۔ اب ہم اس بے بسی کے عالم میں کیا کر سکتے ہیں۔ تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے کسی کو نکسیر بھی پھوٹی؟ خان بہادر صاحب نے فرمایا کہ آپ کوئی بیان دے کر تحریک کو بند کر سکتے ہیں۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے بیانات جو جیل سے جائیں گے انہیں کون سنے گا اور کون اعتبار کرے گا۔ کیسی زبردستی ہے کہ ہمیں قید بھی کر رکھا ہے اور اپنی منشاء کے مطابق حماقت کرنے کے بعد ہم سے یہ توقع ہے کہ ہم لوگوں کو اندر بیٹھ کر سمجھائیں۔ حکومت کو چاہئے کہ باہر بے گناہ لوگوں پر گولیاں چلانے کی بجائے یہاں آ کر ہم کو توپوں سے اڑا دے تاکہ حکومت کا کلیجہ بھی ٹھنڈا ہو جائے۔ سر ظفر اللہ خان بھی خوش ہو جائیں اور ہمیں بھی یہاں بے بسی کے عالم میں اپنے بھائیوں کی دکھ بھری خونی داستان سن کر آنسو نہ بہانے پڑیں۔ خان بہادر صاحب اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گئے۔ مگر ہمیں اندوہ و غم میں مبتلا کر گئے۔ ہمارے ہاتھ ہر نماز میں بلکہ ہر وقت باہر والوں کے لئے دعا کے لئے اٹھتے۔ ہم اور کر بھی کیا

صفحہ ۲۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سکتے تھے۔ باہر بیدردی کا کھیل کھیلا جا رہا تھا اور ہم بے بسی میں بل کھا رہے تھے۔ ہمیں مسلمان حکومت سے یہ توقع نہ تھی کہ ظلم تو شاید انگریز بھی نہ کرتا۔ اسے بھی خیال آ ہی جاتا کہ بہت بدنامی ہوگی۔ مگر مسلم لیگ کی حکومت اپنے عوام کو لا الہ کا مطلب سمجھا رہی تھی۔ قیامت کے دن تھے۔ راتوں کو نیند نہ آتی تھی۔ وقت گزر گیا۔ مگر اس کے تصور سے آج بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔

جیل کی مصیبت

بہت سے ساتھیوں میں ایک ساتھی بھی کریکٹر کی پستی کا مظاہرہ کرے۔ زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ بہادر کافر سے محبت کرتا ہوں۔ مگر بزدل مسلمان سے مجھے سخت نفرت ہے۔ اس لئے کہ اسلام بہادروں کا مذہب ہے۔ مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس جامے کو کبھی بزدل بھی پہن لیتے ہیں تو دنیا کو دھوکہ دیتا ہے۔ گرفتار ہو کر آنے والا ایک ساتھی بزدل بھی تھا اور احمق بھی انتہاء درجے کا تھا۔ اس نے پہلے تو عقیدے کا چولا بدلا۔ پھر جب اسے معلوم ہوا کہ دوسری بیرکوں کے لوگ رہا کئے جا رہے ہیں تو اس نے ہمارا ساتھ چھوڑنا چاہا مگر ہم سب سراپا محبت تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کے شریک ہم پر تہمت لگانا بھی مشکل تھا۔ وہ لڑنے جھگڑنے کا موقعہ تلاش کر رہا تھا مگر جب اسے کوئی موقعہ میسر نہ آیا تو اسے معافی والی وارڈ میں پہنچنے کی بڑی اچھوتی ترکیب سوجھی۔ ”ہم یہاں اے کلاس میں ہیں اور جو رضا کار باہر سے آ رہے ہیں۔ وہ سی کلاس میں ہیں۔ اگر آپ اس وارڈ سے سی کلاس وارڈ میں نہیں جاسکتے تو مجھے اجازت دیجئے کہ میں وہاں چلا جاؤں۔ میرا ضمیر بوجھ محسوس کرتا ہے۔“ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم اس دلچسپ اور عجیب و غریب ساتھی کے حالات سے واقف نہ ہوتے تو اس ظالم نے ہمارا تو بیڑہ کر دیا تھا۔ بڑا عجیب داؤ مارا۔ ہم نے اسے کہا کہ ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں جانا قیدیوں کے اختیار کی بات نہیں ہے۔ سی کلاس تو یہاں بیٹھے بیٹھے بھی قبول کی جاسکتی ہے۔ ہمارے اس جواب سے اس بیچارے کا بنا بنایا قلعہ مسمار ہو گیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ مگر دو دن بعد اس نے ہم سے خواہ مخواہ الجھنا شروع کیا اور یہ کوشش کی کہ افسران جیل سے بالا بالا گفتگو کر کے باہر کھسک جائے۔ تحفظ ختم نبوت کی ہوا اور اس کے اثرات پھیل چکے تھے۔ شمسی صاحب بڑی خوبیوں کے نوجوان ہیں۔ وہ بیگانوں کو اپنا بنانے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ افسران جیل کو شمسی صاحب نے بہت جلد بے تکلف دوست بنا لیا تھا۔ افسران نے شمسی صاحب سے کہا کہ اپنے ساتھی کو سنبھالو۔ یہ ناک رگڑنے پر آمادہ ہے۔ شمسی صاحب نے افسران جیل کے سامنے حقیقت بیان کر دی کہ یہ شخص تو ریل پیل میں اندر چلا آیا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے ساتھ نتھی ہو گیا ہے۔ خدا کے لئے اسے جس قدر جلد ہو سکے چلتا کرو۔ یہ ایک مستقل لعنت ہے۔ مگر ایسے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بھی اس مرد عجیب و غریب سے دل لگی کر رہی تھی۔ معافی نامے پر معافی نامہ چلا جا رہا ہے اور حکومت انہیں فائل کرتی جا رہی ہے۔ ہمیں اندر جو کوفت ہو رہی تھی وہ بتدریج کم ہو گئی اور ہم نے سمجھ لیا کہ خوبصورت مکان پر حکومت کی جانب سے کالی ہنڈیا لٹکا دی گئی ہے۔ تاکہ مکان نظر بد سے بچا رہے تاہم یہ شخص ہم میں بالکل بیگانہ تھا۔

صبر و استقامت کا پہاڑ

حضرت مولانا ابو الحسنات پہلی بار جیل گئے تھے۔ ہمارے لئے تو جیل نئی بات نہ تھی۔ مگر حضرت مولانا ایسا نازک اور نفیس مزاج بزرگ جسے لوگ دیکھنے کو ترستے ہوں جن کے معتقدین کا ان کی دکان پر تانتا بندھا رہے۔ جدھر آنکھ اٹھے لوگ عقیدت سے جھک جائیں۔ پہلی بار پکڑے گئے تھے اور سنگ آمد و سخت آمد کے مصداق قید بھی ایسی جس کی میعاد کی کچھ خبر نہیں۔ اس پر ستم یہ کہ مولانا ابوالحسنات کا ایک ہی بیٹا جسے والدہ کی محبت بھری گود بھی بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئی۔ جسے حضرت مولانا نے بڑے لاڈ اور پیار سے خود ہی پالا پوسا ہو، اس جان سے پیارے لخت جگر اور اکلوتے جوان بیٹے کا کچھ پتہ نہیں کہ شہید ہو گیا ہے۔ پکڑا گیا تو کتنی قید ہوئی۔ مولانا موصوف کے علاوہ ہم سب

صفحہ ۲۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے سرگوشیوں سے مولانا کے صاحبزادے خلیل احمد کا تذکرہ کیا اور بار بار آپس میں باتیں کہیں کہ اگر خلیل احمد شہید ہو گئے یا لمبی قید میں چلے گئے تو مولانا کا کیا حال ہوگا؟ بے چارے پہلی بار جیل آئے۔ ان کی آزمائش بھی ایسی سخت ہوئی کہ جسے معمولی انسان برداشت نہ کرسکے۔مگر ہم سب کو حیرت ہوئی کہ مولانا کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔ مولانا نے کبھی ذکر تک نہ کیا۔ گھر سے کوئی اطلاع بھی نہ آئی۔ کچھ معلوم نہیں کہ خلیل پر کیا گزری۔ خلیل زندہ بھی ہے یا نہیں۔ مگر مولانا ابوالحسنات نہ گھبراتے ہیں نہ الگ بیٹھ کر آنسو بہاتے ہیں اور نہ ان کی زبان پر خلیل صاحب کا تذکرہ آتا ہے۔ ہم سب اس صورتحال کو دیکھ کر حیران تھے۔ حضرت امیر شریعت شاہ صاحب بخاری نے بارہا فرمایا کہ: ”اگر میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا تو خدا جانے میرا کیا حال ہوتا۔ مگر بھئی مولانا ابوالحسنات صاحب تو بڑی کوہ وقار شخصیت ثابت ہوئے۔ مولانا ہم میں بیٹھ کر خوش گپیاں اڑاتے یا الگ بیٹھ کر تسبیح و وظائف میں مصروف رہتے۔ اللہ جسے حوصلہ دے اور صبر عطاء کرے۔ جیل خانہ فخر و غرور کا مقام نہیں۔ یہاں بڑے بڑوں کے پاؤں ڈگمگا جاتے ہیں۔ مولانا اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جس کے نام پر آج تک روٹیاں توڑتے رہے اس کے نام کی لاج رکھنے کا وقت آیا تو اب گھبرانا کیسا ، نمک حرامی تو نہ ہونا چاہئے۔ اللہ اللہ کس جرأت اور حوصلے کے علماء آج بھی موجود ہیں۔ ہم نے حضرت مولانا کو صبر و استقامت کا پہاڑ اور شرافت و خلق کا بہترین نمونہ پایا۔ مولانا موصوف بڑے ہی صاف دل انسان ہیں۔ قریب ہونے سے آدمی کے جوہر کھلتے ہیں۔ ورنہ دور رہ کر اکثر دھوکہ ہوتا ہے۔ ایک روز ہم سب نے مشورہ کیا کہ ہم مولانا کو خلیل صاحب کے بارے میں صاف صاف بتا دیں کہ وہ آزمائش میں مبتلا ہے۔ ابھی کوئی معتبر اطلاع نہیں ہے۔ خدا کرے کہ وہ زندہ ہو۔ اس طرح کی گفتگو کر کے ہم مولانا کو حوصلہ دلائیں کہ موت کا وقت تو مقرر ہے۔ جسے مرنا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ وغیرہ وغیرہ ! ان خیالات کو لئے ہم مولانا صاحب کی کوٹھڑی میں جا دھمکے اور باتوں باتوں میں لاہور کا ذکر کیا۔ پھر خلیل صاحب کا تذکرہ آیا تو سوچی سمجھی سکیم کے مطابق ہم جب تسلی بخش الفاظ استعمال کر چکے تو مولانا موصوف نے نہایت آرام سے فرمایا کہ بھئی بات تو ٹھیک ہے۔ خلیل میرا اکلوتا بیٹا ہے اور مجھے اس سے بے پناہ محبت ہے۔ اس لئے کہ میں ہی اس کا باپ ہوں اور میں نے ہی ماں بن کر اسے پالا ہے۔ یوں بھی اولاد سے کسے محبت نہیں ہوتی۔ مگر اس مقام پر صبر کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا ہے۔ پھر اس نیک کام میں اگر خلیل قربان بھی ہوتا ہے تو سعادت دارین ہے۔ وہ بھی تو ماؤں کے لخت جگر تھے جو سرکار مدینہ ﷺ کی آبرو میں شہید ہوئے۔ ان میں خلیل بھی ہے تو میرے لئے فخر کی بات ہے۔ اللہ ہماری حقیر قربانی کو قبول فرمائے۔ مولانا کا صبر اور بے نظیر حوصلہ و استقامت دیکھ کر ہمارے حوصلے دگنے ہو گئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس روز کے بعد ہم سب مولانا کی اور زیادہ بے حد عزت کرنے لگے۔ ہمارے دوسرے بزرگ اور رفیق تو بارہا جیل بھگتے ہوئے تھے۔ انہیں تو اس قید و بند کو خندہ پیشانی سے کاٹ ہی لینا تھا۔ مگر مولانا جن کی پہلی آزمائش تھی اگر گھبراتے یا پریشانی کا اظہار کرتے تو یہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ مولانا کے دل میں دوہرا جذبہ تھا۔ وہ عالم دین بھی تھے اور سید زادے بھی تھے۔ آقائے نامدار نبی کریم ﷺ کے ایک مخلص عالم دین کے فرائض بھی سامنے تھے اور یہ بات بھی تھی کہ ان کے نانا ﷺ کی آبرو خطرے میں تھی۔ یہ دہرا جذبہ کارفرما تھا کہ مولانا ابوالحسنات آخر دم تک صحیح مقام پر ڈٹے رہے اور ان کے پاؤں میں لغزش نہیں آئی۔ اللہ جسے توفیق دے۔

انتقام

لاہور میں گولی چلی۔ خون خرابہ ہوا جو نہ ہونا تھا وہ ہو چکا تو مرکز نے اپنی خفت مٹانے کے لئے ہم بے بس لوگوں کو نشانہ ستم بنانے کی ٹھان لی۔ ہمیں جیل میں ٹھونس کر مرکزی وزارت جس پر سر ظفر اللہ خان چھائے ہوئے تھے دانت پیسنے لگی۔ وہ ہمیں زندہ دیکھنا نہ چاہتی

صفحہ ۲۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھی۔ جو گولی لاہور میں چلی اسے تشنہ سمجھا گیا۔ اس لئے کہ ہم ابھی زندہ تھے اور یہ ظالم محسوس کرتے تھے کہ اگر یہ لوگ کبھی زندہ باہر آ گئے تو عوام کو خونی قاتلوں کی نشاندہی کریں گے۔ اس طرح زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ اس بارہ میں مرکز نے مشورہ کیا کہ مجلس عمل کے رہنماؤں کو ایسی موت مارا جائے کہ اپنے دامن پر داغ بھی نہ آئے اور قضیہ بھی پاک ہو جائے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ ہمیں ایک ایک کر کے سندھ کی دور افتادہ دیہاتی حوالاتوں میں بند کر دیا جائے۔ جب انسان کے دماغ میں انتقام کا جذبہ پیدا ہو جائے تو عقل وخرد انصاف اور خدا کے خوف کے خانے بند ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نظر بندوں کو جیل ہی میں نظر بند رکھا جاسکتا ہے۔ انہیں پولیس کے تھانوں کی حوالاتوں میں بند کرنا قانون کی منشاء کے خلاف تھا۔ مگر صاحب جو کچھ لاہور میں ہوا۔ یہ کیا قانون اور حق وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا تھا یا صریح ظلم تھا؟ خود ہی حاکم خود ہی باز پرس کرنے والے تب کس کا کیا ڈر باقی تھا کہ قانون کی عظمت کا خیال رکھا جاتا۔ ہم بالکل بے خبر تھے۔ کراچی جیل میں ہم اکٹھے تھے اور سمجھتے تھے کہ نظر بندی کا ایک ایک سال ہمیں اسی جیل میں گزارنا ہے۔ اس لئے صاحب سپرنٹنڈنٹ تشریف لائے تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ایک پاخانہ ناکافی ہے اور اس پاخانہ کی ساخت ہی نہایت نامعقول ہے۔ اس میں پردہ نہیں ہے۔ ہم مولوی لوگ اس بے پردہ پاخانے میں تکلیف اور دقت محسوس کرتے ہیں۔ ایک پاخانہ اور بنادیجئے۔ بات معقول تھی۔ صاحب مان گئے۔ پاخانہ بن گیا۔ دوسرے پاخانہ کو درست کیا جارہا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب کچھ پریشانی کے عالم میں تشریف لائے اور مولانا بدایونی کو الگ لے گئے اور سرگوشیوں میں ان سے کچھ فرما کر واپس تشریف لے گئے۔ مولانا بدایونی صاحب نے ہم سب کو بلا کر بتایا کہ لو بھئی ہم سب کا کھیل خراب ہونے والا ہے۔ حکومت بدلہ لینے پر اتر آئی ہے۔ ہمیں سندھ کی دیہاتی حوالاتوں میں بند کیا جائے گا اور قید تنہائی میں رکھا جائے گا۔ ہم سے بدسلوکی بھی ہوگی۔ ہم سب نے خبر کو کس قدر فکرمندی سے سنا۔ جیل میں اصل تکلیف ساتھیوں سے علیحدگی اور قید تنہائی ہوتی ہے۔ کھانے پینے کی کوئی بات نہیں۔ بہر حال ہم متفکر ضرور ہوئے۔ مگر جیل کی زندگی تو بے بسی کی زندگی ہوتی ہے۔ صبر کے سوا کیا چارہ تھا۔ دوسرے دن سپرنٹنڈنٹ صاحب تشریف لائے اور فرمانے لگے میں نے آپ کو اے کلاس دے رکھی تھی۔ اپنے اختیارات سے میں جانتا تھا کہ آپ حضرات معزز قیدی ہیں اور اے کلاس کے مستحق ہیں۔ مگر اب میرے یہ اختیارات ختم ہورہے ہیں۔ آپ اپنی کلاس کے لئے درخواست کیجئے۔ ہم سب نے انکار کیا تو وہ واپس چلے گئے۔ شام کو ہم نے میٹنگ کی اور دیہاتی حوالاتوں کے تذکرے کے بعد سوچنا شروع کیا کہ اگر ہم کو الگ الگ کر دیا گیا تو اے کلاس ہی انتقامی کارروائی کے راستے میں رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ اس لئے درخواستیں حکومت کو بھیجنا ہی مناسب ہوگا۔ حضرت امیر شریعت نے انکار کر دیا کہ مجھے کوئی درخواست نہیں کرنا ہے۔ اس حکومت نے ہمیں گرفتار ہی اس لئے کیا ہے کہ ہمیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ تب آپ کلاسوں کے بارے میں کیوں درخواست کرتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ دوسرے دن پر چھوڑ دیا گیا۔ تیسرے دن سپرنٹنڈنٹ صاحب پھر تشریف لائے۔ جیل افسر قیدیوں کو بتایا نہیں کرتے کہ ان کی تبدیلی ہورہی ہے۔ اس خبر کو راز میں رکھا جاتا ہے۔ آخری دن بھی قیدی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کہاں لے جایا جارہا ہے۔ مگر سپرنٹنڈنٹ بھلا آدمی تھا۔ اس نے ہمیں قبل از وقت خبردار کیا اور یہ مشورہ بھی دیا کہ حکومت سے مصالحت کی بات کر لو تو اچھا ہے۔ اس گفتگو میں کچھ تیزی بھی ہوگئی۔ حکومت سے مصالحت کا لفظ سننا بھی ہم کو گوارا نہ تھا۔ جس حکومت کی آستینوں سے بے گناہ مسلمانوں کا خون ٹپک رہا ہو ہم اس سے کس طرح مصالحانہ گفتگو کر سکتے تھے؟

ذلیل قسم کا انتقام

اب ہمارے لئے کراچی جیل ریلوے کے پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہمارا حال ان مسافروں کا سا تھا جو گاڑی کے انتظار میں

صفحہ ۲۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیٹھے ہوں۔ ہم پر دوطرح کی اداسی تھی۔ سب سے زیادہ لاہور میں گولی چلنے کا غم اور چند ساتھیوں کا ایک دوسرے سے جدا ہو جانا۔ ہم نے افسران جیل سے کرید کرید کر جاننا چاہا کہ ہمیں کدھر بھیجا جا رہا ہے۔ مگر کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ جیل والے خود بھی نہیں جانتے تھے کہ بے کس قیدیوں کا ٹھکانا کہاں بننے والا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں شمسی صاحب بڑے جوڑ توڑ کے نوجوان ہیں۔ وہ برابر جستجو میں لگے رہے کہ حکومت ہم کو کہاں بھیج کر انتقام کی آگ بجھانا چاہتی ہے۔ مگر وہ بھی ناکام ہوگئے۔ البتہ یہ ہوا کہ شمسی صاحب نے کراچی کے ایک ایسے رہنما سے نامہ پیام کیا جسے حکومت بہت اچھی نظروں سے دیکھتی تھی۔ شمسی صاحب نے یہ تو معلوم کر لیا کہ واقعی ہمیں الگ الگ تین چار ٹولیوں میں باہر بھیجا جا رہا ہے۔ مگر یہ معلوم نہ ہوا کہ کون کس کے ساتھ ہوگا۔ شمسی صاحب اور میں ایک کوٹھڑی میں رہتے تھے۔ وہ مجھ سے بہت مانوس تھے۔ اس لئے شمسی صاحب نے ایک ٹھوکر کھائی اور باہر کہلا بھیجا کہ اگر ہم کو باہر بھیجنا ہے اور دو دو تین تین کی ٹولیوں میں بھیجنا ہے تو مجھے ماسٹر صاحب کے ہمراہ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ یہی شمسی صاحب کی غلطی تھی۔ منتقم حاکموں کو خبردار کرنا کہ کون کس کے ساتھ رہ کر خوش ہے۔ ”آ بیل مجھے مار“ کے مترادف تھا۔ چنانچہ اس خواہش کا الٹا اثر ہوا۔

کراچی جیل سے روانگی

ایک روز ہم آپس میں گھل مل کر بیٹھے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے تھے اور وارڈ اور افسران جیل قطار اندر قطار تشریف لے آئے اور فرمایا کہ بستر باندھ لیجئے۔ باہر لاریاں آچکی ہیں۔ پولیس گارڈ بھی آگئی ہے۔ اب دیر نہ کیجئے ہم نے دریافت کیا کہ آیا ہم سب جو اس وارڈ میں موجود ہیں۔ سب کے سب جارہے ہیں۔ حکم ہوا تین آدمی یعنی مولانا مہر الہی، سید محمد میاں سجادہ نشین گنج بخش لاہور اور مولانا قاری عبدالرحمن صاحب رہیں گے۔ باقی سب بستر باندھ لیں۔ ہم نے جلدی جلدی بستر باندھے، کھانے پینے کا سامان اپنے مشقتیوں کی جھولی میں ڈال دیا اور تیار ہو کر نماز ظہر کے لئے کھڑے ہوگئے۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم اپنے تین ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ جنہیں ہم کراچی جیل میں چھوڑ کر آگے جارہے تھے۔ تینوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہم نے کلیجے پر پتھر رکھا۔ ان سے جدا ہوئے اور پھاٹک پر پہنچ گئے۔ اس وقت تک کچھ معلوم نہ تھا کہ ہم کو تقدیر کدھر لے جارہی ہے۔ شمسی صاحب کو خیال تھا کہ وہ میرے ساتھ ہوں گے۔ مگر یہی شمسی صاحب کی بھول تھی اور مجھے یقین تھا کہ شمسی صاحب کو اب میرے ہمراہ ہرگز نہ چھوڑا جائے گا بلکہ اس سے الٹ ہوگا۔ چنانچہ ہماری روانگی کے وارنٹ پولیس افسر کے حوالے کر دیئے گئے۔ پھاٹک کھلا تو ہم سب کو ایک ہی لاری میں سوار کرا دیا گیا۔ جیل کے آفیسر شریف آفیسر تھے۔ ہمیں پھاٹک تک چھوڑنے آئے۔ لاری نے کراچی سے واپسی کا سفر شروع کیا۔ اب ہمارے لئے یہ دریافت کر لینا بہت آسان تھا کہ کون کدھر جا رہا ہے۔ خیال تھا کہ ہر دیہاتی تھانے پر سوداگروں کے مال کی طرح ایک ایک کو یا دو نظر بندوں کو اتار دیا جائے گا۔ اس طرح حکومت وقت تحریک ختم نبوت کے خادموں سے انتقام لے گی۔ مگر پولیس افسر نے بتایا کہ تین کے سوا باقی سب سکھر جیل میں بھیجے جارہے ہیں۔ مجھے فوراً خیال آیا کہ میرا نامہ اعمال بھی بڑا زرین ہے۔ شاید مجھے اپنے دیرینہ رفقاء سے الگ کیا جائے گا۔ میرا خیال درست ثابت ہوا۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ میں (تاج الدین انصاری) حیدر آباد سنٹرل جیل میں رکھا جاؤں گا۔ میرے ہمراہ مولانا لال حسین اختر اور نیاز لدھیانوی بھی حیدر آباد ہی میں رکھے جائیں گے۔ باقی حضرات یعنی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابوالحسنات، مولانا عبدالحامد بدایونی، سید مظفر علی شمسی، صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ، عبدالرحیم جوہر جہلمی اور اللہ نواز صاحب مدیر حکومت ان سات حضرات کو سکھر لے جایا جائے گا۔ میں لاری میں مولانا ابوالحسنات صاحب سے دور بیٹھا تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ بھئی ماسٹر جی ادھر آجاؤ۔ اب تو ہم

صفحہ ۲۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اکٹھے ہی رہیں گے۔ میں اٹھ کر مولانا کے قریب جا بیٹھا۔ دو روز پہلے مجھے ہلکا ہلکا بخار بھی ہو گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مولانا غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے ہمراہ سکھر جا رہا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ حضرت مولانا مجھ سے محبت فرماتے ہیں۔ اب اگر میں ان سے یہ عرض کر دوں کہ میں آپ سے الگ کیا جا رہا ہوں تو مولانا کو صدمہ ہوگا۔ مگر میں اس حقیقت کو کتنی دیر چھپا سکتا تھا۔ ادھر ادھر کی باتوں میں میں نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں تو حیدرآباد سنٹرل میں بھیجا جا رہا ہے تو مولانا نے فرمایا کہ یہ تو بڑی گڑبڑ ہوئی۔ کم بختوں نے جیل میں بھی اکٹھے رہنے نہیں دیا۔ بڑے گھٹیا قسم کے لوگ ہیں۔ بھلا اس سے کیا ہوتا ہے؟ تھوڑا سا صدمہ اور سہی۔ بہرحال لاری فراٹے بھرتی ہوئی حیدرآباد کی طرف جا رہی تھی اور ہم آپس میں باتیں بھی کرتے جارہے تھے اور حسرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ بھی رہے تھے۔ عصر کی نماز کے لئے ایک پتھریلے میدان میں لاری کھڑی ہوئی۔ پاس ہی پانی موجود تھا۔ نماز ادا کی، چل پڑے، نماز مغرب بھی راستے ہی میں ادا کرنا پڑی۔ ”ہالہ“ میں کچھ دیر کے لئے ٹھہرنے کی مہلت ملی۔ پولیس افسر نے دکاندار کو چائے بنانے کا حکم دیا اور اس کا بل بھی اپنے پاس سے ادا کیا۔ یہ ادائیگی اس سفر خرچ کی رقم سے تھی جو پولیس افسر کی تحویل میں تھا۔ تاہم افسر مذکورہ بہت خلیق اور اچھے مسلمان تھے اور ہم سے محبت کا سلوک کر رہے تھے۔ یہی افسر کراچی میں ان لاریوں پر ڈیوٹی دیتے رہے جو کراچی کے رضا کاروں کو لاری میں بھر بھر کر دور دراز سنسان علاقوں میں چھوڑ آتے تھے۔ اس افسر پر تحریک میں شامل ہونے والے دس بارہ سال کی عمر کے ایک بچے کے پاکیزہ جذبات کا بڑا گہرا اثر تھا۔ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے پولیس افسر نے بتایا کہ جب ہم رضا کاروں کو آٹھ دس میل کے فاصلہ پر اتار رہے تھے تو ان میں ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ وہ آخر دم تک ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا۔ جب رضا کاروں کو اتار کر لاری واپس ہونے لگی تو افسر مذکور جو خود بھی صاحب اولاد تھے، نے بچے کی طرف دیکھا۔ کہنے لگے آؤ بیٹا تم لاری میں سوار ہو جاؤ۔ بچے نے جواب دیا وہ کیوں؟ افسر نے کہا کہ تم بچے ہو۔ اتنا لمبا سفر بھوک پیاس میں کیسے کر سکو گے۔ تھک جاؤ گے۔ ہم تمہیں شہر میں اتار دیں گے۔ بچے نے بڑی جرات سے جواب دیا کہ ہمارے ساتھی بھی تو اتنا لمبا سفر کسی طرح طے کریں گے۔ میں تو قید ہونے کے لئے آیا تھا۔ میری اماں نے مجھے اجازت دی کہ جاؤ حضور ﷺ کے نام پر مسلمان قربان ہو رہے ہیں تم بھی جاؤ۔ میں تو اماں کی اجازت سے آیا ہوں۔ مگر تم ہمیں قید ہونے نہیں دیتے اور شہر سے باہر چھوڑ کر جارہے ہو۔ بچے نے بات ختم کرتے ہی نعرہ لگایا۔ ”تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد“ پولیس افسر نے لاری ڈرائیور کو کہا چلو بھئی یہ بچہ نہیں مانتا۔ ابھی لاری چالیس پچاس گز چلی ہوگی کہ پولیس افسر کو پھر خیال آیا کہ معصوم بچہ اتنا طویل سفر کیسے کر سکے گا۔ انسانی ہمدردی، اسلامی ہمدردی، یا پدرانہ شفقت کے جذبات نے پھر مجبور کیا۔ پولیس افسر نے لاری رکوادی اور پیدل واپس آکر بچے سے پھر کہا۔ آؤ بیٹا ضد نہیں کیا کرتے ساتھی رضا کاروں نے بھی بچے کو سمجھایا کہ بیٹا تم واپس چلے جاؤ۔ ہم تو تمہیں شہر ہی میں منع کرتے تھے۔ مگر تم اچھل کر لاری میں سوار ہو گئے تھے۔ اب تم واپس چلے جاؤ۔ بچہ بگڑ کر پھر بولا : صاحب! آپ زیادہ ایماندار ہیں اور مجھے آپ کمزور سمجھتے ہیں۔ بہرحال وہ بچہ نہیں مانا۔ اس واقعہ کا پولیس افسر کے دل پر اب تک اثر موجود تھا۔

دن کی روشنی رات کی آغوش میں گم ہو گئی اور ہم عشاء کے وقت حیدر آباد جیل کے قریب پہنچے تو پولیس افسر نے کہا کہ میں بلاوجہ آپ کو تکلیف نہ ہونے دوں گا۔ فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کروں گا۔ رات کے وقت جیل میں آپ کو کون کھانا دے گا۔ میں آپ کو جیل کے باہر محفوظ جگہ پر بٹھا کر کھانا کھلاتا ہوں اور پھر جیل کے حکام سے بات کرتا ہوں۔ راستے میں صاحبزادہ صاحب کی طبیعت خراب ہوئی۔ انہیں لاری ہی میں قے ہوئی۔ باہر نکلے تو ہلکا سا بخار بھی ہو گیا۔ پولیس افسر نے بازار سے کھانا منگوایا۔ پھر جیل افسران سے بات کی ڈاکٹر کو

صفحہ ۲۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بلوایا تاکہ صاحبزادہ صاحب کے لئے دوائی کا بندوبست کریں۔ ہم جیل کی بیرکوں کے سامنے کھلے میدان میں نماز سے فارغ ہوئے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مریض رات کے وقت سفر کے قابل نہیں ہے۔ ان کو ہسپتال میں ٹھہرنا ہوگا یا جیل کی کوٹھڑی میں صبح کو مریض سفر کے قابل ہو جائے گا۔ پولیس افسر نے کہا میں ایک کو چھوڑ کر باقیوں کو نہیں لے جاسکتا۔ باقی نظر بندوں کو بھی جیل ہی میں ٹھہرائیے تاکہ صبح سب کو اپنے ہمراہ لے جا کر سکھر جیل میں چھوڑ کر آؤں۔ تین (یعنی ماسٹر تاج الدین، مولانا لال حسین اختر اور نیاز لدھیانوی) حیدر آباد جیل میں ٹھہریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ہم سب کو حیدر آباد جیل میں رات گزارنا ہوگی۔ میں خوش ہوا کہ ایک رات اور اکٹھے رہنے کا موقع میسر آگیا۔

چنانچہ رات کے تقریباً دس بجے ہم سب حیدر آباد سنٹرل جیل میں داخل ہوگئے۔ میری (ماسٹر تاج الدین) صحت تین چار روز پہلے سے خراب تھی۔ سفر نے اور زیادہ مضمحل کر دیا۔ جوں ہی ہمیں ایک وارڈ میں پہنچایا گیا۔ وارڈر چابیاں لے کر آگیا اور ہمیں کوٹھڑیوں میں بند کر کے تالے ڈال دیئے گئے۔ جاگتے سوتے رات کٹ گئی۔ صبح ہوئی، کوٹھڑیاں کھلیں تو حکم ہوا کہ سکھر جانے والے آٹھ نظر بند اپنا اسباب سنبھال لیں۔ باہر پولیس کی لاری آ گئی ہے۔ جلدی جلدی وضو کیا نماز ادا کی اور ہماری عارضی جدائی کا تکلیف دہ وقت قریب آ گیا۔ ہم سب بناوٹی مسکراہٹیں تلاش کرنے کی کوشش میں تھے۔ مگر جب دل پژمردہ ہوں تو بناوٹ سے بھی کام نہیں چلتا۔ ہم سب ایک دوسرے کی کیفیت دل کو کن انکھیوں سے بھانپ رہے تھے۔ مولانا ابوالحسنات اور دیگر حضرات ہم سے بغل گیر ہوئے۔ شمسی صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جسے وہ پی نہ سکے۔ آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے شمسی صاحب کے رخساروں پر ڈھلکنے لگے۔ بہرحال اسے صدمہ تھا مگر وہ زیادہ ساتھیوں کے ہمراہ جارہا تھا۔ میں (تاج الدین) نے شمسی صاحب کو تسلی دی۔ وہ مولانا لال حسین اختر اور نیاز صاحب سے بغل گیر ہوتے رہے کہ ٹھنڈا سانس لے کر حضرت شاہ صاحب بھی اپنی جگہ سے اٹھے۔ مگر نہایت ہی غمگین حضرت صاحب ہمارے بہادر سردار ہمارے مدتوں کے رفیق اور غمگسار جوں وہ میرے قریب آئے میں نے محسوس کیا کہ یا تو میرے پاؤں ڈگمگا رہے ہیں یا حضرت شاہ صاحب کے، ایسے موقع پر شاہ صاحب بڑے حوصلے اور بردباری سے کام لے کر خود کو سنبھال لیا کرتے ہیں۔ چنانچہ میرے قریب آنے سے پہلے فرمانے لگے۔ اوہو! تمہارے لئے دو ایک پان تو لگا دوں۔ پریشانی میں یہ ضروری کام بھی بھول گیا۔ دیکھا شاہ صاحب نے خود کو کیسے سنبھالا اور مجھے کتنا خوبصورت سہارا دیا۔ وہ پان بھی لگا رہے تھے اور کچھ فرماتے بھی جاتے تھے۔ غرضیکہ میں نے پان وصول کرتے ہی معانقہ کیا۔ فی امان اللہ، فی امان اللہ کی صدا بلند ہوئی اور ہمارا کارواں دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ جب ڈیوڑھی کا دروازہ کھلا اور یہ سب حضرات حیدر آباد سنٹرل جیل سے باہر جانے لگے تو ہمیں ایسے محسوس ہوا جیسے دل پر آرے چلتے ہوں۔ اسی کا نام تو جیل ہے۔ اسی مجبوری اور بے بسی کو قید کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مجھے اس روز بخار تو تھا ہی اختلاج کا ہلکا سا دورہ بھی پڑا۔ میں نے اپنے دونوں رفیقوں سے کہا آپ حضرات میرے ہمراہ میری کوٹھڑی میں رات کے وقت بند ہونے پر رضامند ہوں تو میں جیل افسران سے ایک جگہ بند ہونے کے لئے کہوں۔ میرے ہمدرد اور شریف ساتھی بخوشی راضی ہو گئے۔ رات کے وقت مجھے تکلیف بڑھ گئی۔ نیاز صاحب میرے ہاتھ پاؤں دباتے رہے۔ مگر مجھے نیند نہ آئی۔ نیاز لدھیانوی میرا ہم وطن ہونے کے علاوہ میرا پیر بھائی بھی ہے۔ وہ میری خدمت کرتا رہا۔ مولانا لال حسین اختر بھی بار بار کہتے تھے کہ میں بھی ہاتھ پیر دباؤں مگر میں نے ہر بار انکار کیا۔ میرے دل میں مولانا لال حسین اختر کا بڑا احترام ہے۔ وہ عالم دین ہونے کے علاوہ زبردست مناظر ہیں۔ میرے ایسے گنہگار انسان کے لئے یہ کس طرح مناسب تھا کہ مولانا کو ایسی خدمات کی اجازت دیتا۔ نیاز سو گیا میں جاگتا رہا۔ جوں توں کر کے رات گزر گئی۔ صبح ہوئی تو اسی احاطے کے بی کلاس قیدیوں نے ہمیں چائے کی دعوت دی۔ دو لیڈر اس احاطے میں قید کاٹ رہے تھے۔ کچھ دیر چائے کے بعد ان سے گپ شپ ہوتی رہی۔ تیسرے دن اس احاطہ کا پہرہ سخت ہو گیا۔ نہ کسی کو باہر جانے کی

صفحہ ۲۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اجازت تھی اور نہ کوئی بیرکوں میں گھوم پھر سکتا تھا۔ ایک وارڈر اندر تعینات ہو گیا اور دوسرا دروازہ پر پہرہ دینے لگا۔ نمبرداروں کی تعداد بھی زیادہ ہو گئی۔ بی کلاس کے دوسرے قیدی گھبرا گئے اور اس اچانک تبدیلی پر متفکر ہوئے۔ ان کی آزادی میں بھی خلل پڑ گیا۔ ہم سے مل کر وہ جتنا خوش ہوئے تھے اس قدر پریشان بھی ہوئے۔ انہیں کسی نمبردار نے بتایا کہ یہ جو تین نظر بند مولوی اس احاطے میں آئے ہیں انہیں بہت خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ ان کو سب سے الگ رکھا جائے گا۔ ان پر نمبردار پہرہ بھی علیحدہ لگا دیا گیا ہے۔ اسے ہدایت ہے کہ یہ کسی سے ملنے نہ پائیں۔ ہم اس صورتحال سے واقف ہونے کے بعد خود ہی محتاط ہو گئے۔ اپنی کوٹھڑی سے پرے جانے کی ہمیں ضرورت بھی کیا تھی۔ دو تین دن بعد ہمارا نمبردار خبر لایا کہ ہمارے لئے ایک خاص احاطے میں بندوبست ہو رہا ہے۔ ہمیں وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ چنانچہ یہی ہوا کہ شام کے وقت وارڈر نے آ کر اطلاع دی کہ اسباب اکٹھا کر لیجئے۔ آپ کو دوسری وارڈ میں جانا ہے۔ چنانچہ ہمیں جیل کی ڈیوڑھی کے متصل وارڈ کے ملحقہ احاطے میں لے جایا گیا۔ یہاں بہت بڑا احاطہ تھا جس کے ایک کونہ پر دو کوٹھڑیاں تھیں۔ ان کوٹھڑیوں کی پشت پر ایک غسل خانہ اور ایک پاخانہ بنا ہوا تھا۔ یہاں عام طور پر ۳۰۲ کی ملزم عورتوں کو رکھا جاتا تھا۔ آڑے وقت میں مرد بھی کوٹھڑیوں میں بند کر دیئے جاتے تھے۔ بہر حال ہم اس نئے گھر میں آباد ہو گئے۔ یہاں آنے سے پیشتر ہمیں معلوم ہوا کہ اسلامی ملک کی خالص مسلمان سرکار نے ہمیں بی یا اے کلاس کی بجائے سی کلاس میں رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ قہر درویش بر جان درویش میں نیاز ایک کوٹھڑی میں بند ہو گئے اور مولانا لال حسین اختر ساتھ والی کوٹھڑی میں ڈیرہ جما کر بیٹھ گئے۔ سابق صوبہ سندھ (یہ تحریر ون یونٹ کے زمانہ کی ہے) میں نظر بندوں کو خواہ وہ اعلیٰ کلاس میں ہوں یا ادنیٰ میں، پلنگ ضرور ملتا ہے ہمیں بھی تین پلنگ مل گئے۔ گویا ہم عام قیدیوں کا کھانا کھا کر پلنگ پر لیٹنے کے حقدار تھے۔ میری صحت گرنا شروع ہوئی۔ ڈاکٹر بیچارہ آتا اور دیکھ کر چلا جاتا۔ ہم تین نظر بندوں پر سات پہرہ دار تھے۔ تین دن کے لئے تین رات کے لئے اور ان پر ایک جمعدار رکھا تھا۔ اس علاقے میں گیہوں کی بجائے سی کلاس کے قیدیوں کو چاول کی روٹی ملتی ہے۔ سالن بھی ماشاء اللہ قابل دید سالن ہوتا ہے۔ چاول کی روٹی کو سیدھا کھڑا کر کے آپ اس پر اگر چھوٹے بچے کو کھڑا کر دیں تو وہ خم نہیں کھاتی۔ مغرور افسر کی گردن معلوم ہوتی ہے۔ میرے دانتوں میں تکلیف ہو گئی۔ مجھ سے یہ روٹی توڑی نہ جاتی تھی۔ تھوڑی بہت زہر مار کر لیا کرتا تھا۔ بھوک کو سہارا دینے کے لئے دال پی لیا کرتا تھا یا سبزی دھو کر کھا لیتا تھا۔ دھوئے بغیر اس سبزی کا کھانا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ صحت اور زیادہ گر گئی۔ میرے رفیقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر نے میرے لئے دودھ لگا دیا۔ مجھے دودھ پینے کی عادت نہ تھی۔ میں چائے اور پان کا عادی تھا۔ مگر یہاں آ کر مزاج درست ہو گئے اور میں سب کچھ بھول گیا۔ یوں بھی اللہ کا مجھ پر کرم ہے۔ طبیعت پر قابو ہے۔ طبیعت میں محتاجگی نہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ حکومت کی بدسلوکی نے ارادے میں اور پختگی پیدا کر دی۔ برطانوی دور میں بارہا قید کاٹی ہے۔ مگر ہم سے یہ سلوک اس نے بھی نہیں کیا۔ قانون کے مطابق پکڑا ضابطے کے مطابق سزا دے کر شریفوں کی طرح برتاؤ کیا۔ مگر صاحب کافر اور آج کے مسلمانوں میں فرق تو ہونا چاہئے۔ چنانچہ یہ فرق ہم نے محسوس کر لیا اور بہت اچھی طرح محسوس کر لیا کہ یہ لوگ (لیگی) جو اسلام اسلام پکارتے ہیں ان کا اسلام سے کتنا تعلق ہے۔

بھوپت ڈاکو

ایک روز صبح سویرے جب ہمارے پہرہ دار بدل گئے اور نئے وارڈر آئے تو تھوڑی دیر باہر اجنبی آوازیں سنائی دیں۔ میں فارغ ہو کر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک داڑھی والا نوجوان حوالاتی دو سپاہیوں کے ہمراہ میری کوٹھڑی کے باہر کھڑا ہے۔ نیاز اور مولانا کچھ فاصلے پر کھڑے ہیں۔ میں نے اس نوجوان کو دیکھا تو مجھے ایسے معلوم ہوا کہ کہیں اسے میں نے ایک آدھ دفعہ دیکھا ہے۔ مگر حافظے نے کچھ کام نہ

صفحہ ۲۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیا۔ جیل کے سپاہی اس نوجوان کو ڈیوڑھی سے لائے تھے۔ ہمارے وارڈ میں اس رفع حاجت کے لئے اور منہ ہاتھ دھونے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ وہ فارغ ہو کر واپس جانے لگا تو میں نے اپنے رفیقوں سے دریافت کیا کہ یہ شخص کون ہے۔ وہ بھی میری طرح گومگو کی حالت میں تھے۔ جب وہ واپس جارہا تھا تو ہم نے پہرہ داروں سے پوچھا کہ بھئی یہ شخص کون ہے۔ ایک نے کہا مولوی صاحب ڈیوڑھی پر لوگ کہتے تھے کہ یہ بہت مشہور ڈاکو ہے۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ بھوپت ہے۔ ابھی وہ ہم سے زیادہ دور نہ گیا تھا میں نے بے تکلفی سے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔ ارے بھئی ! ٹھاکر یہیں آجاؤ نا۔ وہ مسکرا کر سپاہیوں کے ہمراہ چلا گیا۔ کچھ دن پہلے بھوپت ڈاکو کی فوٹو ڈان میں چھپی تھی اور اس کی گرفتاری کا بھی ذکر تھا۔ بہرحال وہ چلا گیا اور شام کو معلوم ہوا کہ اسے جیل کے درمیانی حصے میں نہایت احتیاط اور زبردست پہرے میں رکھا گیا ہے۔ حیدرآباد سنٹرل جیل ان دنوں خطرناک لوگوں کا سنٹر تھا۔ یعنی اس جیل میں ہم سے کچھ فاصلے پر ایک بیرک میں فوجی جرنیل بھی بند تھے۔ راولپنڈی سازش کیس کے تمام ملزم اسی جیل میں تھے۔ ان پر بھی بہت کڑا پہرہ تھا۔

انسپکٹر جیل کی تشریف آوری

جیل میں ڈپٹی کمشنر یا سیشن جج آجائے تو جیل والے اٹینشن ہو جاتے ہیں۔ مگر جب انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات دورے پر تشریف لائیں تو قیدیوں، نمبرداروں، وارڈروں اور افسران جیل میں اچھی خاصی بھاگڑ مچ جاتی ہے۔ قیدی خوش ہوتے ہیں کہ اب قید میں رعایت اور رہائی ملے گی۔ البتہ جیل والوں کو مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔ باورچی خانے سے لے کر پاخانے کی صفائی کا اہتمام ہوتا ہے۔ نمبرداروں اور قیدیوں کو اجلے کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ واڈر اپنی وردیاں اور پیٹیاں چمکا لیتے ہیں۔ افسران سہمے سہمے نظر آتے ہیں۔ البتہ سیاسی قیدی بے نیاز ہوتے ہیں۔ کوئی آئے کوئی جائے انہیں اپنا وقت گزارنا ہوتا ہے۔ شور ہوا کہ صاحب ’ماڑی‘ پر تشریف لے آئے۔ سندھ میں ڈیوڑھی کو ماڑی کہتے ہیں۔ اندر آ کر وہ وارڈوں میں تشریف لے گئے۔ ہمیں چونکہ الگ تھلگ رکھا ہوا تھا۔ ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ انسپکٹر جنرل صاحب تشریف لے آئے ہیں۔ اچانک جب وہ ہمارے وارڈ کے دروازے پر آگئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ کوئی بڑا افسر گشت کے لئے آیا ہے۔ زنانہ وارڈ اور ہمارے وارڈ کا باہر والا دروازہ ایک ہی تھا۔ اندر دو دروازے الگ الگ تھے اور دونوں کا صحن بھی الگ الگ تھا۔ صاحب زنانہ وارڈ میں تشریف لے گئے۔ پھر ہمارے ہاں کا دروازہ کھلا تو ایک سادہ مزاج نہایت شریف انسان بغیر کسی کروفر کے ہماری طرف بڑھا اور نہایت خندہ پیشانی سے کہا السلام علیکم۔ مولوی صاحبان ! کیسے مزاج ہیں ؟ ہم نے ابتداء میں یہ سمجھا کہ کوئی معزز جیل وزیٹر ہے۔ مگر جب جیل افسران کی قطار کو ان کے پیچھے کچھ فاصلہ پر مؤدب کھڑے دیکھا تو ہم نے سمجھا کہ یہی انسپکٹر جنرل صاحب ہیں۔ وہ ہم سے بار بار دریافت کرتے رہے کہ آپ کو کوئی تکلیف ہو تو بتائیے ۔ ہم سب نے یہی جواب دیا کہ ہم بہت اچھے ہیں۔ ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔ مگر وہ اصرار کرتے رہے کہ کوئی تکلیف ہو تو فرمائیے میں ہر جائز امداد کروں گا۔ ہم نے اس جیل میں پہلے دن یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کوئی درخواست نہیں کرنا اور نہ کسی چیز کے لئے ہاتھ پھیلانا ہے۔ صبر وشکر سے اللہ تعالیٰ کے بھروسے وقت گزار لینا ہے۔ جب ہم نے کوئی درخواست یا آرزو پیش نہ کی تو وہ کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔ پھر احاطے میں گھوم پھر کر ہماری کوٹھڑیوں کے گرد و پیش کو دیکھتے رہے۔ جب وہ پاخانے کی طرف گئے تو سپرنٹنڈنٹ کو آواز دی۔ اللہ بخش یہ پاخانہ بے پردہ ہے۔ یہ مولوی صاحب ہیں۔ تمہیں خود دیکھنا چاہئے تھا کہ یہ ان لوگوں کے لئے تکلیف دہ ہے۔ کل اسے درست کراؤ ہم پھر آ کر دیکھیں گے۔ پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ کھانا وغیرہ ٹھیک ہے۔ کوئی شکایت تو نہیں۔ ہم نے پھر وہی جواب دیا کہ اللہ کا شکر ہے۔ ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ صاحب نے بار بار ہماری طرف دیکھا۔ وہ

صفحہ ۲۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چاہتے تھے کہ ہم کوئی جائز مطالبہ کریں تو وہ اسے فوراً پورا کر دیں۔ بہر حال وہ واپس ہونے لگے تو ہم انہیں الوداع کہنے کے لئے آگے بڑھے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ وہ نہایت اخلاق سے فرمانے لگے اچھا مولوی صاحبان! آپ تشریف رکھیں۔ میں جا رہا ہوں۔ آپ نے تو خدمت کا کوئی موقعہ ہی نہیں دیا۔ ہم نے ان کی بلند اخلاقی کی تعریف اور شکریہ ادا کیا اور اپنی کوٹھڑیوں کے سامنے کھڑے ہو کر صاحب کی خوش اخلاقی اور شریفانہ گفتگو کی تعریف کرتے رہے۔ نہ ہم نے ان سے کچھ لیا اور نہ وہ ہمیں کچھ دے گئے۔ مگر محض اخلاق اور ہمدردانہ گفتگو سے وہ ہمیں اپنی تعریف کے لئے مجبور کر گئے۔

خواجہ ناظم الدین کی برطرفی

صبح نماز کے بعد ہم تینوں نہانے کے عادی تھے۔ جس روز مولانا لال حسین اختر سب سے پہلے غسل خانہ میں داخل ہو جائیں تو مجھے اور نیاز کو تقریباً ایک گھنٹہ غسل خانہ کے باہر خزانے کے پہرہ دار کی طرح انتظار میں ٹہلنا پڑتا تھا۔ مولانا موصوف انتہاء سے زیادہ صفائی پسند ہیں۔ مولانا غسل خانے میں داخل ہو کر چٹخنی لگا لیتے تھے تو سب سے پہلے وہ نلکے کی ٹونٹی دھوتے تھے۔ پھر فرش دھوتے تھے۔ اس کے بعد پھر لوٹا دھونے کا نمبر آتا تھا۔ پھر صابن کو بھی دھو لیتے تھے۔ تب کہیں مولانا صاحب جسم مبارک کو دھوتے اور خوب دھوتے تھے۔ نہانے کے بعد اگر انہیں خیال ہو جائے کہ کوئی غلط چھینٹ پڑ گئی ہے تو غسل از سر نو ہوتا تھا۔ ہم دونوں کی کوشش ہوتی تھی کہ ہم مولانا سے پیشتر ہی دس پندرہ منٹ میں فارغ ہو جائیں۔ اس کے بعد مولانا لال حسین اختر کو کھلی چھٹی دے دیں۔ مولانا کے گلاس کو اگر آپ باوضو بھی ہاتھ لگا دیں وہ تب بھی گلاس کو باقاعدہ مانجھیں گے۔ غرضیکہ اس بارہ میں وہ خطرناک حد تک محتاط ہیں۔ میں غسل خانہ میں تھا کہ باہر انہوں نے شور مچایا کہ جلدی باہر آؤ۔ ایک تازہ خبر ہے۔ بڑی اہم خبر ہے۔ میں نے جلدی جلدی پانچ لوٹے جسم پر انڈیلے اور غسل خانے سے باہر آ گیا۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ خواجہ ناظم الدین صاحب تخت وزارت سے لڑھک گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!

آخر وہی ہوا جو ہم آخری ملاقات میں خواجہ سے کہہ آئے تھے۔ گورنر جنرل نے ایک ہی جھٹکے میں خواجہ کا پتہ کاٹ کر رکھ دیا اور معلوم ہوا کہ خواجہ صاحب کی گدی پر بٹھانے کے لئے امریکہ سے کسی محمد علی کو بلا لیا ہے۔ اب وہ ہمارے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ ہمیں خواجہ صاحب کی علیحدگی سے کوئی خوشی نہیں ہوئی بلکہ افسوس ہوا کہ ایک نیک انسان محض بزدلی کی وجہ سے گمنامی کے گڑھے میں گر گئے اور خواہ مخواہ اپنے دامن پر شہیدوں کے خون کا داغ سمیٹ کر لے گیا۔

انسپکٹر جنرل کی دوبارہ تشریف آوری

پندرہ بیس روز کے بعد انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات جناب زیڈ زیڈ احمد صاحب دوبارہ تشریف لائے۔ اب وہ ہمارے جانے پہچانے تھے اور ہم بھی ان کے لئے نئے نہ تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ صبر سے کام لینا اور کچھ نہ کہنا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ صرف میں ان سے بات کروں گا۔ علیک سلیک کے بعد وہ فرمانے لگے میں آپ کے کمرے تو دیکھوں۔ ہم تھے تو سی کلاس کے قیدی مگر ہمارے بستر بہت صاف ستھرے ان پر پلنگ پوش بھی موجود تھے۔ کمرے میں صفائی رکھنے کا ہم تینوں کو بہت خیال رہتا تھا۔ جوں ہی وہ کمرے میں داخل ہوئے فرمانے لگے ماشاء اللہ! خوب صفائی ہے۔ مگر کرسیاں کہاں ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ کرسیاں کیسی؟ انہوں نے مجھے خطاب کرنے کی بجائے دور کھڑے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل کو آواز دی۔ اللہ بخش ادھر آؤ۔ مولوی صاحبان کے لئے کرسیاں میز کہاں ہیں۔ یہ غفلت کیوں۔ ابھی منگواؤ۔ ہم یہاں کھڑے ہیں۔ یہ فرما کر وہ تشریف لے گئے۔ پاخانے کی طرف گئے۔ اسے درست دیکھ کر کچھ مطمئن ہوئے۔ ہم نے ایک

صفحہ ۲۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چارپائی باہر نکال کر کہا جرنیل صاحب چارپائی پر تشریف رکھیں۔ وہ فرمانے لگے کوئی حرج نہیں۔ آئیے کچھ باتیں کرلیں۔ دن بھر آپ کا کیا شغل ہے۔ ہم نے عرض کیا معمول کے مطابق نماز اور تسبیح کے علاوہ یہاں اور شغل بھی کیا ہے۔ اللہ اللہ کرتے ہیں۔ گناہوں کی معافی چاہتے ہیں۔ ہمیں اب اور کرنا بھی کیا ہے۔ فرمانے لگے صحت قائم رکھنے کے لئے کوئی ورزش چاہئے۔ میں نے کہا یہ آپ کے بس کی بات ہے۔ ہم تو نظر بند ہیں۔ وہ کچھ سوچ کر فرمانے لگے آپ کو شام کے وقت دوسری بیرک میں بھیجنا بھی مناسب نہیں۔ دوسروں کو آپ کے پاس بھی نہیں لایا جاسکتا۔ تب کیا ہونا چاہئے؟ کچھ ہونا تو چاہئے۔ فیصلہ ہوا کہ احاطے میں باغبانی کی جائے۔ مشقتیوں حکم ہوا کہ وہ پتھریلی زمین کو کھود کر اس میں نئی مٹی ڈلوا دیں۔ جس میں چمن بنالیا جائے اور ضرورت کے مطابق سبزی ترکاری اگائی جائے۔ یہ کام ہماری منشاء کے مطابق تھا۔ اتنے میں ایک میز اور تین کرسیاں تین ڈولیاں آگئیں۔ جرنیل صاحب اس مغالطے میں تھے کہ ہم بی کلاس کے نظر بند ہیں نہ تو سپرنٹنڈنٹ کو حوصلہ ہوا کہ وہ صاحب سے کہتا کہ حضور یہ تو سی کلاس کے لوگ ہیں۔ انہیں کرسیاں اور میز کیسے دی جائیں اور نہ ہمیں تکلف میں یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ آپ جن نظر بندوں پر شفقت فرما رہے ہیں وہ حکومت کی نگاہ میں تھرڈ کلاس سمجھے گئے ہیں۔

گفتگو

جرنیل صاحب ہمارے ساتھ ٹہلتے ہوئے فرمانے لگے کیوں مولوی صاحب وزارتوں کا اٹھاپٹخ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا آپ بڑے آدمیوں کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ اندر بیٹھے ہمیں کیا معلوم باہر کیا ہورہا ہے؟ ڈان پڑھ کر کچھ معلوم ہوجاتا ہے۔ وہ بھی اخباری بات ہوتی ہے۔ اندر خانے خدا جانے کیا ہوتا ہے۔ جرنیل صاحب بار بار ارشاد فرماتے تھے کہ ہمارے مرکز میں کیا ہورہا ہے۔ جب جرنیل صاحب نے زیادہ اصرار کیا تو میں نے عرض کیا کہ حضور والا! میں نے جو سمجھا ہے وہ موٹی سی بات ہے۔ مرکزی سیاست کی باریکیوں کو تو میرے ایسا سی کلاس کا قیدی کیا سمجھے گا۔ مجھے اس اٹھاپٹخ کا نقشہ اس طرح سمجھ میں آتا ہے جسے ساون کا جھولا ڈلا ہوا ہو اور اسے ہم جولیوں نے گھیرے میں لے رکھا ہو۔ ایک جھولا جھولتی ہے باقی مل کر ملہار گاتی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد جب خیال آتا ہے کہ جھولنے والی تو مزے میں رہی، ہماری باری کب آئے گی۔ اس خیال کے آتے ہی گانے والیاں آگے بڑھ کر ٹانگ پکڑ لیتی ہیں اور ہم جولی کو کھینچ کر پرے پھینک دیتی ہیں۔ یہ سلسلہ اس طرح جاری رہے گا۔ جب تک ان سب کی باری ختم نہ ہوجائے یا برسات کا موسم ختم نہ ہو جائے۔ میری بات سن کر جرنیل صاحب بہت دیر تک ہنستے رہے۔ غرضیکہ وہ بے تکلف ہوگئے۔ کوئی آدھ گھنٹہ بعد جب وہ واپس جانے لگے تو ہم اخلاقاً دو چار قدم ساتھ ہوئے۔ جرنیل صاحب نے پھر فرمایا کہ آپ نہ کچھ کہتے ہیں اور نہ ہمیں خدمت کا موقعہ دیتے ہیں۔ مولانا لال حسین اختر سے رہا نہ گیا۔ وہ بول اٹھے اور فرمایا کہ صاحب ہمیں ایک تکلیف ہے۔ مولانا نے جب اتنا کہا تو میرے جسم میں جھرجھری سی ہوئی۔ دماغ چکرا گیا کہ لو بھئی سب سے زیادہ سمجھدار ساتھی نے لٹیا ہی ڈبودی۔ مگر میں کیا کرسکتا تھا۔ جرنیل صاحب نے فوراً لال حسین اختر صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دریافت کیا۔ فرمائیے مولانا جلد فرمائیے۔ مولانا نے کہا کہ آپ ہم دنوں سے جو دل چاہے سلوک کریں۔ مگر ماسٹر صاحب ہمارے بزرگ ہیں۔ ہم اس حال میں انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ چاول کی روٹی یہ کھا نہیں سکتے۔ ان کی عمر کا بھی خیال فرمائیے اور انہیں دانتوں میں بھی تکلیف ہے اور اختلاج بھی ہے۔ حکومت نے انتقاماً ہم کو سی کلاس میں رکھا ہے۔ مگر بحیثیت انسان ہمارے کچھ حقوق ہیں ۔ ہم سے جائز سلوک ہونا چاہئے۔ غور فرمائیے کہ ہم پنجاب کے رہنے والے چاول کی روٹی کیسے کھائیں۔ کیونکر ہضم کریں۔ ہم تو خیر کسی طرح گزارہ کرلیں گے مگر ان کو ہم اس مصیبت میں نہیں دیکھ سکتے۔ جرنیل صاحب پر حقیقت حال واضح ہوئی تو ان پر

صفحہ ۲۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک رنگ آئے اور ایک رنگ جائے۔ میری طرف دیکھ کر جرنیل صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ کو سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔ میں نے کہا۔ جی ہاں! کوئی حرج نہیں۔ ہمارے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہمیں منظور ہے۔ اب بات آپ پر ظاہر ہو گئی ہے تو گزارش بھی سن لیجئے۔ ہمیں کچھ نہیں چاہئے۔ کھانے کو جو ملتا ہے وہی غنیمت ہے۔ مگر میرے ایسے اختلاج قلب کے مریض کو کوٹھڑی میں بند کرنا ایسی سزا ہے جو میرے ٹکٹ میں درج نہیں۔

جرنیل صاحب نے اللہ بخش کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ آپ ان کو کیوں بند کرتے ہیں۔ کھلا رکھو بلاوجہ تکلیف دینے کے کیا معنی؟ ڈاکٹر بھی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ تب جرنیل صاحب ڈاکٹر کی جانب متوجہ ہوئے۔ تم نے اپنا فرض ادا کیا۔ جب یہ آئے تو کیا وزن تھا اور اب کیا وزن ہے۔ ان کو کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ڈاکٹر بے چارہ کانپ گیا۔ صاحب نے چاول روٹی بند کر کے گندم کی روٹی منظور کر دی اور ہم چاول کی روٹی کے دیدار سے محروم ہو گئے۔ سب سے بڑی تکلیف بند ہونے کی تھی وہ ختم ہو گئی۔ پہلی رات صحن کی کھلی فضا میں چار پائی بچھائی تو جنت کی ہوا نے لوریاں دیں۔ خوشی میں آسمان کے ستاروں کو دیکھتے رہے۔ نیاز کو ساحر لدھیانوی کا سارا کلام ازبر تھا۔ نظم پر نظم چلی آ رہی تھی۔ غرضیکہ مصیبت کے دن کس قدر راحت میں بدل گئے۔

بھوپت ہمارے پڑوس آ گیا

ایک دن صبح سویرے دو تین قیدی اور ایک جمعدار کچھ سامان اٹھائے ہمارے احاطے میں داخل ہوئے۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ بھوپت اور دو اور قیدی ساتھ والی بیرک میں آ رہے ہیں۔ سامان کے بعد بھوپت بھی آ گیا۔ اس کے ساتھی بھی آ گئے اور ہمارے پڑوس کی بیرک میں جس کے احاطے کا دروازہ ہمارے احاطے میں کھلتا تھا۔ بند کر دیئے گئے۔

بھوپت کو چار روپے دس آنہ یومیہ خوراک کے لئے ملتے تھے۔ کھانا پکانے کے لئے باورچی اور ایک وارڈر باہر سے ان کے لئے خورد و نوش کا سامان لانے کے لئے مقرر تھا۔ بہ بین تفاوت رہ از کجا تا بکجا افسران جیل سبھی مسلمان تھے۔ ویسے وہ محسوس کرتے تھے کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے اسیر جو باحیثیت مسلمان ہیں انہیں تو حکومت نے سی کلاس دے رکھی ہے۔ مگر ایک ڈاکو وہ بھی کافر اے کلاس سے اوپر اس درجے میں رکھا گیا ہے۔ جس میں فوجی جرنیل رکھے گئے تھے۔ ہمیں اس ناروا سلوک کا قطعی قلق نہ تھا۔ ہم نے بھوپت کی سہولت کو بہت پسند کیا۔ ہمارا انداز فکر بالکل مختلف تھا۔ بھوپت بہادر انسان تھا۔ ہم پسند کرتے تھے کہ اس سے بہتر سلوک کیا جائے۔ ہمارے دل میں از خود بھوپت کے لئے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اسی جذبہ کے تحت ہم نے افسران جیل سے درخواست کی کہ بھوپت کی وارڈ کا دروازہ جو ہمارے احاطے میں کھلتا ہے، کھلا رکھا جائے اور بھوپت کو اجازت دی جائے کہ وہ ہمارے پاس آسکے اور ہم اس کے پاس جاسکیں۔ ہماری درخواست پر ہمدردانہ غور ہوتا رہا۔ کئی دن گزر گئے۔ اس دروازہ پر ایک وارڈر چابی لئے کھڑا تھا۔ جب بھوپت کا باورچی ڈیوڑھی سے سودا سلف لینے کے لئے کھٹکھٹاتا تو تالا کھول دیا جاتا اور باورچی کو باہر نکال کر دوبارہ تالا لگا دیا جاتا۔ ایک روز تالا کھلا تو بھوپت دروازے پر آ گیا اور وارڈر سے کہنے لگا تالا نہ لگاؤ۔ ہم مولوی صاحبان سے ملنے کے لئے جا رہے ہیں۔ مل کر ابھی آجائیں گے۔ بھوپت کا رعب تو تھا ہی بے چارہ وارڈر منہ دیکھتا رہ گیا۔ بھوپت ہم سے مل کر بہت خوش ہوا۔ ہم نے چاہا کہ اس کی مدارت کریں۔ مگر ہمارے پاس رکھا ہی کیا تھا۔ ہم نے بھوپت سے رسمی طور پر پوچھا کہ ٹھا کر چائے پیو گئے یا دودھ ہمارے پاس اس وقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ بھوپت بڑا سیر چشم انسان ہے۔ بغیر کچھ کھائیے پیئے وارڈر کے حال پر رحم کھا کر بھوپت اپنے وارڈ میں چلا گیا۔ دوسرے دن شام کو بھوپت نے باہر کھڑے

صفحہ ۲۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوئے وارڈر سے کہا کہ تالا کھولو۔ ہم مولوی صاحبان کے پاس جائیں گے۔ وارڈر نے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہم آپ کی خاطر نوکری سے ہاتھ نہیں دھو سکتے۔ بھوپت نے اندر کھڑے کھڑے بلند آواز سے وارڈر کو ڈانٹا۔ ہم نے شور سنا تو ہم دروازے کے قریب آگئے۔ بھوپت نے وہیں سے آواز دی۔ دیکھو مولوی صاحب یہ تالا نہیں کھولتا۔ ہم دیوار کود کر باہر آ سکتے ہیں۔ ایسی دیواریں ہم کو نہیں روک سکتیں۔ میں نے بھوپت کو منع کرتے ہوئے کہا کہ ٹھاکر ایسا خیال بھی نہ کرو۔ یہ جیل خانہ ہے۔ یہاں قانون ہی ایسے ہیں۔ دیوار کودنا سخت جرم ہے۔ اس غریب وارڈر پر خفا ہونا بھی ناانصافی ہے۔ اس کی تو ڈیوٹی ہے ہم نے افسران جیل سے درخواست کی ہے کہ وہ ہم کو تمہارے ساتھ ملنے کی اجازت دے دیں۔ چاہو تو تم بھی جب وہ تمہارے پاس آئیں یہی درخواست کرو وہ مان جائیں گے تو پھر آسانی ہوگی۔ جیل والوں سے بگاڑ پیدا کر کے تکلیف کا سامنا ہوگا۔ ارے مولوی صاحب! ہمارے پیچھے گاردیں اور پولیس کے بڑے بڑے افسر رائفلیں لے کر گھیرا ڈالتے رہے۔ ہم ان سے تو ڈرے نہیں یہ جیل کے سپاہی جو ٹھیک سے بندوق سنبھالنا بھی نہیں جانتے۔ یہ ہم کو آپ کے پاس آنے سے روکیں گے۔ بھوپت کی ایسی باتیں سن کر ہم کچھ پریشان ہوئے۔ اس لئے کہ بھوپت اگر واقعی دیوار کود کر ہمارے پاس آجاتا ہے تو ہم بھی برابر کے مجرم گردانے جاتے۔ ہم اگر کہتے کہ ہم نہ چاہتے تھے مگر ہمارے اس بیان کو کون تسلیم کرے گا۔ بہر حال ہم نے باہر کھڑے وارڈر کو بھی ہموار کیا اور اسے کہا کہ بھوپت بے دریغ طبیعت کا بہادر انسان ہے۔ اس سے الجھنا اچھا نہیں۔ ہم اسے بالکل ہی ہموار کر لیں گے۔ تم اس سے تو تو میں میں کا تذکرہ ڈیوڑھی میں نہ کرنا۔ بلاوجہ بات کا بتنگڑ بن جائے گا۔ وہ بے چارہ مان گیا اور ہم نے بھوپت کو بھی منالیا۔ ملاقات نہ ہوسکی۔ بھوپت اپنی بیرک میں واپس چلا گیا۔ مگر واپسی پر تاؤ کھا کر بڑبڑاتا رہا اور بار بار کہتا تھا کہ ہم تھک گئے تھے۔ ورنہ ہم کو کوئی زندہ کیسے پکڑ سکتا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ مان گیا

سپرنٹنڈنٹ جیل شیخ اللہ بخش بہت بھلے آدمی تھے۔ وہ ہم سے زیادہ میل جول تو نہ رکھتے تھے۔ مگر ہماری سہولت کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ہمارے کچھ روپے جیل کے خزانے میں جمع تھے۔ ڈاکٹر جن چیزوں کی اجازت دے دے۔ ہم اپنی رقم سے باہر سے منگوا سکتے تھے۔ سپرنٹنڈنٹ نے وارڈر مقرر کر دیا تھا۔ جو ہمارے پرچے کے مطابق چیزیں منگوا دیتا تھا۔ ڈاکٹر نے اجازت دے دی تو ہم نے چائے کے برتن اور سامان باہر سے منگوا لیا۔ ایک روز ہم نے ان سے کہا کہ بھوپت کو ہمارے پاس آنے دیں۔ بہادر انسان اسلام بڑی جلدی قبول کر لیتا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ وہ اچھا اثر قبول کرلے۔ قلب ماہیت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسے فضل کرتے دیر نہیں لگتی۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر فرمایا کہ ضابطہ اور ہدایات تو اجازت نہیں دیتے۔ مگر آپ نے بات ایسی کہی ہے کہ میں انکار بھی نہیں کر سکتا۔ میں دیکھوں گا کہ اس بارہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ بھوپت کا وارڈ بدل دیا گیا۔ ایک شریف اور سمجھدار وارڈر آگیا۔ بھوپت نے ایک روز وارڈر سے کہا کہ ہم مولوی صاحبان سے ملاقات کریں گے۔ تالا کھولو۔ وارڈر نے کہا کہ میں تالا تو کھول دیتا ہوں۔ مگر جلدی آجانا۔ ارے کھولو تو سہی تم کو کوئی کھا تو نہیں جائے گا۔ ہم دروازے کے قریب ہی ٹہل رہے تھے۔ بھوپت کو لئے ہم اپنے کمرے میں آبیٹھے۔ بھوپت کی گفتگو میں جرات و مردانگی کا اثر نمایاں تھا۔ وہ خوش طبع انسان تھا۔ اس کا انداز گفتگو بڑا ہی دلچسپ تھا۔ پہلے دن ہم نے مناسب سمجھا کہ بھوپت کو جلدی واپس بھیج دیں۔ چنانچہ ہم نے خود ہی کہا کہ ٹھاکر روزانہ آنے کے لئے ضروری ہے کہ جلدی واپس چلے جاؤ۔ ماڑی کی کھڑکی ہمارے وارڈ کے صحن میں کھلتی ہے۔ ایسا نہ ہو دفتر والوں میں سے کوئی آپ کو ادھر آتا جاتا دیکھ لے۔ بھوپت اٹھا اور ہم سے ہاتھ ملا کر واپس ہو گیا۔

صفحہ ۲۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھوپت سے ملاقات کا سلسلہ

اب بھوپت کا معمول تھا کہ وہ دن میں ایک دو مرتبہ ہمارے پاس آتے اور کافی دیر ٹھہر کر جاتے۔ ہم نے اس سے معلوم کرنا چاہا کہ وہ ڈاکو کس طرح بن گیا۔ اس نے ہمیں سب کیفیت کہہ سنائی۔ بھوپت ابتداء میں معمولی سپاہی تھا۔ مگر وہ بہادر تھا۔ سپاہی گیری اس کی نگاہ میں جچتی نہ تھی۔ جاگیرداروں نے جب کانگریس کے خلاف محاذ قائم کیا تو انہیں ایسے بہادر انسانوں کی سخت ضرورت تھی۔ بھوپت کو سمجھایا گیا کہ کانگریس بنیا لوگوں کی جماعت ہے۔ یہ لوگ گاندھی ٹوپی اور کھدر پہن کر ٹھاکروں کو شودر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ موٹی سی اکسا دینے والی بات بھوپت کے دماغ میں اس طرح پیوست ہوئی اور اسے کانگریسیوں سے ایسا بغض و عناد ہوا کہ وہ سرکاری رائفل اٹھا کر میدان میں نکل آیا۔ پولیس نے پیچھا کیا۔ بھوپت کا نشانہ بہت اچھا ہے۔ اس کا ہاتھ رائفل پر پٹھانوں کی طرح اٹھتا ہے۔ بارہا پولیس کو مخبروں نے اطلاع دی کہ بھوپت فلاں علاقے میں موجود ہے۔ پولیس نے گھیرا ڈال لیا۔ مگر بھوپت نے ہر بار گھیرے کو توڑ ڈالا اور صاف بچ کر نکل گیا۔ جاتا ہوا ایک دو سپاہیوں کو ڈھیر کر گیا۔ ایک بار ایک رئیس نے بھوپت کو اپنے پاس بلایا۔ مخبر نے پولیس افسران کو اطلاع دی۔ بھاری تعداد میں پولیس نے ریاست کا ہیڈ کوارٹر گھیر لیا۔ بھوپت اس وقت محل میں تھا۔ بھوپت نے رئیس سے کہا کہ میں باہر نکل کر ان سے لڑ مرتا ہوں۔ میری وجہ سے آپ کی بے عزتی ہوگی۔ مجھے یہ منظور نہیں۔ رئیس جہاں اپنی آبرو بچانا چاہتا تھا۔ وہاں اسے بھوپت کی جان بھی عزیز تھی۔ اس لئے کہ بھوپت کانگریسیوں کے لئے سخت پریشانی اور ہوا خیزی کا باعث تھا۔ بھوپت نے ہمیں بتایا کہ پولیس کا گھیرا موجود رہا اور وہ صاف نکل گیا۔ ہم نے دریافت کیا کہ وہ کیسے۔ بھوپت نے ہمیں اس شرط پر گھیرے سے بچ نکلنے کا قصہ سنایا کہ ہم اسے راز سمجھیں۔ آج بھی وہ راز اسی طرح ہمارے سینے میں محفوظ ہے۔

ہم نے سمجھنا چاہا کہ بھوپت کا چال چلن کیسا ہے۔ اب وہ ہم سے بہت بے تکلف ہو چکا تھا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ میرے تمام ساتھی جو ایک ایک کر کے مارے گئے، تھے تو بڑے بہادر مگر انہیں شراب کی لت تھی اور ایک ساتھی تو محض اس لئے مارا گیا کہ اس کا ایک عورت سے ناجائز تعلق تھا۔ بھوپت نے کہا کہ حکومت کو للکارنے کے بعد پولیس سے مقابلہ بھی کرنا اور شراب پی کر مدہوش ہو جانا یا عورتوں سے تعلق رکھنا یہ دو کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ بھوپت کبھی کبھار پیتا تھا۔ وہ بھی بہت کم اسے بد چلنی کی بد عادت نہ تھی۔ بھوپت نے ایک واقعہ سنایا کہنے لگا ایک روز مجھے معلوم ہوا کہ فلاں گاؤں میں کانگریس کا جلسہ ہے۔ وہاں ضلع کے ایک کانگریسی رہنما نے تقریر کرنا تھی۔ وہ جگہ جگہ بھوپت کے خلاف لوگوں کو اکساتا تھا اور عوام سے کہا کرتا تھا کہ بھوپت کو پکڑ لو۔ بھوپت جلسے سے کچھ وقت پہلے گاؤں کے قریب کھیتوں میں جا کر بیٹھ گیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ جلسہ شروع ہے تو وہ رائفل کندھے پر ڈال کر گاؤں کے اندر پہنچ گیا۔ جلسے سے باہر کھڑے ہو کر اندازہ لگایا کہ کس طرح سٹیج تک رسائی ہو۔ اس جلسے میں وہی کانگریسی لیڈر تقریر کر رہا تھا۔ لوگوں نے چندہ بھی جمع کر کے سٹیج پر پہنچا دیا تھا۔ بھوپت سٹیج کے عقب سے آیا اور ایک دم سٹیج پر پہنچ کر کہنے لگا بھوپت آ گیا ہے۔ گاؤں والو میں تمہیں کچھ نہ کہوں گا۔ مجھے صرف کانگریسی لیڈر سے نمٹنا ہے۔ اس نے ہوا میں رائفل سے فائر کیا۔ بھوپت کے نام کی بڑی دھوم تھی۔ جان کس کو پیاری نہیں۔ سٹیج درہم برہم ہو گئی۔ بھوپت نے جمع شدہ چندہ بھاگتے ہوئے لوگوں کی جانب پھینکا اور کہا کہ غریبو یہ روپیہ لیتے جاؤ۔ بیچارہ کانگریسی لیڈر قابو آ گیا۔ کچھ جی دار لوگ فاصلے پر کھڑے تھے۔ بھوپت نے کانگریسی لیڈر کو مارا نہیں صرف اتنا کہا اب اس علاقے میں قدم نہ رکھنا۔ دوسری دفعہ اگر میں نے سن پایا کہ تم لوگ ادھر کا رخ کرتے ہو تو میں تمہیں موت کے گھاٹ اتار دوں گا۔ یہ کوئی بناوٹی کانگریسی لیڈر تھا جو بھوپت کی شکل دیکھ کر اور نام سن کر کانپ گیا۔

صفحہ ۲۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کریکٹر کی بات

اک روز ہم نے بھوپت سے کہا کہ جب تم ڈاکے ڈالتے تھے تو تمہیں کبھی رحم نہیں آیا۔ وہ ہنس پڑا۔ کچھ دیر سوچ کر کہنے لگا ایک دفعہ ایک ساہوکار کے گھر پر ڈاکہ ڈالا۔ یہ بڑا سود خور تھا اور مجھے معلوم ہوا کہ اس نے اردگرد کے گاؤں قلاش بنا رکھے ہیں۔ تب مجھے خیال آیا کہ اس کے پاس رقم بھی کافی ہوگی۔ میرے ہمراہ دو اور جوڑی دار تھے۔ ان میں سے ایک بہت سخت مزاج اور کسی قدر بے رحم بھی تھا۔ مکان کے دروازے پر پہنچ کر ہم نے نوکر کو باہر بلایا اور کہا کہ سیٹھ سے ایک ضروری کام کے لئے ملنا ہے۔ نوکر اندر گیا اور میرا ساتھی اس کے پیچھے پیچھے مکان کے اندر چلے گئے۔ باہر ایک ساتھی دروازے پر رائفل لے کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ہوا میں فائر کر دیا۔ گاؤں والوں نے سمجھ لیا کہ بھوپت آ گیا ہے۔ سب نے دروازے بند کر لئے۔ میں نے اندر جاتے ہی سیٹھ کے سینے پر رائفل کی نالی رکھ دی۔ اس غریب کی بساط ہی کیا تھی، نوکر کو ایک کونے میں کھڑا کر کے کہہ دیا کہ اگر تم ہلو گے تو گولی مار دی جائے گی۔ نوکر کی کیا مجال تھی کہ ہل جاتا یا اونچا سانس بھی لیتا۔ ہم نے پیٹیاں کھلوائیں۔ مال کا ڈھیر لگا لیا۔ اس سیٹھ پر غصہ بھی تھا۔ کیونکہ وہ کانگریس کو چندہ بھی دیا کرتا تھا۔ میں نے اس سے چندے کی رسیدیں بھی مانگیں۔ میں نے سیٹھ سے کہا تیار ہو جاؤ۔ کچھ کہنا چاہتے ہو تو کہو؟ سیٹھ نے ہاتھ باندھ کر کہا کہ مجھے چاہے مار دو بیٹی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ کنیا ہے اور میرے سوا اس کا کوئی نہیں ہے۔ بھوپت نے اس لڑکی کی طرف دیکھا تو وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگی میرے پتا پر رحم کرو۔ بھوپت کہتا ہے کہ انسانی ہمدردی کے جذبات نے مجھ پر قابو پا لیا۔ میں نے اس سے کہا تم ہماری بہن ہو۔ ہم اب نہ تم کو ماریں گے اور نہ تمہارے پتا کو۔ میرے ساتھی نے مال سمیٹنا شروع کیا۔ میں اس لمحے ڈاکو نہیں تھا بلکہ مجھ پر انسانیت کا غلبہ تھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ٹھہرو۔ پھر لڑکی کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس سونے کے زیور میں تمہارا بھی کوئی زیور ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا تم اپنا زیور نکال لو۔ میرے لالچی ساتھی نے لڑکی کو گھور کر دیکھا۔ میں نے اسے ڈانٹ پلائی اور کہا کہ میں نے اسے بہن کہا ہے اور تم آنکھیں دکھا رہے ہو۔ سب کچھ یہیں چھوڑ دو چلو۔ واپس چلو۔ واپس آتے ہوئے ہم نے سیٹھ سے کہا کہ غریبوں کا خون چوسنا چھوڑ دو اور دیکھو خبردار اگر کانگریس کو کبھی چندہ دیا۔

بھوپت زندگی میں صرف ایک بار گھبرایا

ہمیں جیل خانے میں فرصت تھی۔ بھوپت ہمارے لئے ایک ناول تھا۔ جسے ہم روز سنتے تھے۔ بھوپت زیادہ باتونی نہ تھا۔ نہ کبھی اپنی دلیری پر فخر کرتا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ مولوی صاحب میری شہرت اور میرے نام نے مجھے بڑا نام دیا۔ لوگوں کو صرف یہ معلوم ہونا چاہئے تھا کہ میں بھوپت ہوں۔ پھر میرے لئے راستہ ہموار ہو جاتا تھا۔ بعض مقامات کے پولیس افسر بھی بھوپت کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ جس سے عوام میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ بھوپت نے بتایا کہ ایک دن میں اکیلا تھا۔ گاؤں کے باہر ایک جھونپڑی تھی۔ میں اس میں ذرا سستانے کے لئے ٹھہر گیا تھا۔ شام ہوئی تو پولیس نے میرا کھوج لگا رکھا تھا۔ مگر اسے جھونپڑی کے قریب آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ پولیس کی گارد نے گھیرا ڈال لیا۔ میں نے جھونپڑی میں صورتحال کا مطالعہ کیا۔ جب دیکھا کہ بالکل گھر گیا ہوں تب مجھے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ لڑ بھڑ کر جان دے دوں۔ جھونپڑی سے کچھ فاصلے پر کانٹوں کی باڑ تھی۔ میں نے جھونپڑی سے نکلتے ہی رائفل اٹھا کر فائر کرنا چاہا مگر کارتوس مس ہو گیا۔ پھر کوشش کی رائفل کو نہ چلنا تھا اور نہ چلی۔ میں اسی طرح رائفل سنبھال کر دوڑا اور باڑ کی اوٹ میں جا بیٹھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب آخری وقت ہے۔ رائفل بھی جواب دے چکی ہے اور اکیلا ہوں۔ مگر پولیس کو گھوم کر آگے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ وہ شاید

صفحہ ۲۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ سمجھی کہ میں ان کو دھوکے سے قریب لا کر مارنا چاہتا ہوں۔ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ کٹیا سے باڑ تک لانے میں جس نے امداد دی ہے کیا وہ یہاں سے بچ نکلنے میں امداد نہ دے گا۔ اس خیال کے آتے ہی میں اٹھا اور ایک دم چھلانگیں لگاتا ہوا گھر کے کمزور حصے کی طرف لپکا۔ مجھ پر فائر بھی ہوتے رہے۔ مگر سب نشانے خطا گئے۔ کچھ فاصلے پر درخت تھے۔ جن کی اوٹ سے ہوتا ہوا پولیس کی دست برد سے نکل گیا۔ مولوی صاحب اس روز میں گھبرا گیا تھا اس کے بعد کبھی موقع نہیں آیا۔

تبلیغ

بھوپت جب بھی ہمارے پاس آیا اتفاق کی بات ہے اس وقت ہم اکثر نماز میں مشغول ہوتے تھے۔ وہ جوتا اتار کر ادب سے بیٹھ جاتا تھا اور ہمیں بڑے غور اور عقیدت سے دیکھتا رہتا تھا۔ کچھ دن بعد کہنے لگا مولوی صاحب میرا دل چاہتا ہے میں بھی آپ کی طرح نماز پڑھوں۔ میں نے کہا ٹھاکر یہ عقیدے کی بات ہے۔ عقیدہ پہلے اور نماز کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ بھوپت نے ایک روز پھر اسی سلسلے میں گفتگو کی۔ ہم نے اسے کبھی کچھ نہیں کہا۔ البتہ گفتگو میں ہمارا انداز ایسا ہوتا تھا جس سے وہ متاثر ہوتا تھا۔ ہم میں کوئی بھی دریدہ دہن نہ تھا۔ ہم بھوپت کے سامنے احتیاط سے گفتگو کرتے تھے اور حتی الوسع اسلامی روایات اور ہدایت پر عمل کرتے تھے۔ بہر حال بھوپت بہت متاثر ہوا۔ اسلام کے بارے میں اس نے مولانا لال حسین اختر سے کچھ باتیں دریافت کیں۔ میں نے بھوپت سے کہا کہ ٹھاکر اسلام بہادروں کا مذہب ہے۔ اسے بزدلوں کے حلق میں ٹھونسا نہیں جاتا۔ یہ بہادروں کے دل میں خود اترتا ہے۔ سوچ سمجھ کر قبول کرنا۔ کیونکہ بھلے لوگ بار بار مذہب بدلا نہیں کرتے۔ وہ اسلام کی طرف مائل تھا۔ اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ ایک روز اسے معلوم ہوا کہ پاکستان گورنمنٹ اسے بھارت حکومت کے حوالے کرنے والی ہے۔ بھوپت نے ہمیں صاف صاف کہہ دیا کہ مجھے یہ فیصلہ قبول نہیں۔ میں یہاں سے یا تو نکل بھاگوں گا، یا اس وقت جب مجھے بھارتی پولیس کے حوالے کیا جائے گا اس پولیس سے لڑ مروں گا۔ ہم نے اسے بہت تسلی دی۔ ایک روز اسے شک ہوا کہ اسے ضرور بھارت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ بھوپت نے داڑھی منڈوا ڈالی۔ ہم نے دریافت کیا ٹھاکر تم نے یہ کیوں کیا۔ وہ کہنے لگا۔ مولوی صاحب دشمن بے عزتی کرنے پر آتا ہے تو داڑھی پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ میں یہ بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں نے داڑھی کا صفایا کر دیا۔ ارے ٹھاکر تمہیں کیا وہم ہو گیا ہے۔ یقین کرو تمہیں بھارت کے حوالے ہر گز نہیں کیا جائے گا۔ تم یہاں کے شہری بن جاؤ اور شریفانہ زندگی گزارنے کا عہد کر لو۔ پھر کسی کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں ملک بدر کیا جائے، یا بھارت کے حوالے کر دیا جائے۔ کچھ دنوں بعد بھوپت کو پھر ہم سے دور دوسری بیرکوں میں بھیج دیا گیا۔ وہاں اس نے باقاعدہ اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ وہ جیل میں مسلمان ہو چکا تھا۔ باہر آ کر مولانا محمد یوسف کلکتوی کی صحبت میں رہنے لگا اور باقاعدہ مسلمان ہو گیا۔ اب وہ ایک شریف شہری مسلمان ہے اور کسب حلال سے گزارہ کرتا ہے۔

ہمارا شغل

جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ ہمیں اجازت تھی کہ اپنی وارڈ کے ایک حصے میں جسے مشقتیوں نے کھود رکھا تھا سبزی ترکاری لگائیں۔ کوٹھڑیوں کے دروازے پر رابیل لگی ہوئی تھی۔ مگر وہ نصف سوکھ چکی تھی۔ احاطے کے ایک کونے میں رابیل کا ذخیرہ تھا۔ وہ بھی خاتمے کے قریب تھا۔ ہم نے رابیل کو کھود کر اس میں کھاد ڈالی۔ ذخیرے کو روزانہ پانی دیا۔ وہ آہستہ آہستہ ہرا ہونے لگا۔ جیل افسروں نے ہمیں کدو کریلے بھنڈی توری اور ٹینڈے کے بیج مہیا کر دیئے۔ ہم نے باقاعدہ نشان لگا کر چمن بنایا۔ بیج بوئے اور وہ اگ آئے۔ صبح و شام

صفحہ ۲۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہم اپنے چمن کی آبیاری کرتے تھے۔ محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔ ہم نے اپنی بوئی ہوئی فصل خود کاٹی۔ ہمارے اس وارڈ میں نیم کے دو ٹنڈ منڈ درخت تھے۔ ان میں سائے کا کہیں نام نہ تھا۔ برسات کا موسم آیا تو ہم نے پتھریلی زمین کو کھود کر تین بڑے بڑے کھڈے بنائے۔ باہر سے نیم کے تین پودے منگوائے۔ انہیں اس نیت سے لگایا کہ ہم نہیں تو جب بھی کوئی اور اس وارڈ میں ٹھہرایا جائے گا اسے ان درختوں کے نیچے آرام اور سکون ملے گا۔ تو ہمارا یہ کام شاید نیکیوں ہی میں لکھا جائے۔ جب ہم پیڑ لگا رہے تھے تو افسران جیل نے ہمیں مسکراتے ہوئے کہا کہ مولوی صاحب آپ ان درختوں کے سائے میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ ہم نے انہیں ہارون رشید کے وقت کا ایک واقعہ سنایا۔ کھجور کا پیڑ بڑی دیر بعد پھلتا ہے۔ ایک بوڑھا شخص کھجور کا درخت بو رہا تھا۔ ہارون رشید نے اسے کہا کہ باوا تم عجیب انسان ہو۔ یہ کھجور کا درخت جب پھل لائے گا تب تم مرچکے ہوگے۔ بوڑھے نے یہ جواب دیا۔ یہ درست ہے۔ آقا مگر میں نے جو کھجوریں کھائی ہیں یہ بھی تو کسی نے اگائی تھیں۔ کسی کی اگائی ہوئی کھجوریں میں نے کھالیں۔ میری اگائی ہوئی کھجوریں جو آئندہ دنیا میں آئے گا وہ کھائے گا۔ ہارون رشید بوڑھے کی بات سن کر بہت خوش ہوئے اور وزیر کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو ایک ہزار اشرفیوں کا توڑا دے دو۔ بوڑھا ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا آقا! بے غرض خدمت کو کتنی جلدی پھل آتا ہے۔ میری بوئی ہوئی کھجوریں ابھی اگی بھی نہیں کہ مجھے پھل مل گیا۔ اس پر خلیفہ اور خوش ہوا اور حکم دیا کہ ایک ہزار اشرفی اور بطور انعام دے دو۔ ہمیں جیل والوں یا مسلم لیگ کی حکومت سے کوئی انعام لینا مقصود نہیں تھا۔ ہم جیل خانے میں یہ درخت اس لئے لگا رہے تھے کہ یہاں مجبور لوگ سائے میں آرام کرسکیں۔ جیل کی دنیا کیا ہے۔ انسان نے انسان کو حیوان سمجھ رکھا ہے۔ شدت کی گرمی میں جب جیل کی کوٹھڑیاں تپتی ہوئی بھٹی کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔ مجبور انسانوں کو ان کوٹھڑیوں میں رات کے وقت بند کر دیا جاتا ہے۔ قیامت کی ان طویل راتوں میں جب ڈنگر ڈھوروں کو مکانوں کے صحن یا کھلے میدان میں باندھا جاتا ہے۔ مجبور انسانوں کے ساتھ حیوانوں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ کوٹھڑی کی لو اور شدت گرمی سے تپتی ہوئی دیوار سے دور رہو کی صدا آتی ہے۔ بے بس قیدی آدھی رات گئے۔ آہنی دروازے کی سلاخیں پکڑ کر آسمان پر چمکتے ہوئے ٹھنڈے ستاروں کو دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر دیکھ نہیں سکتا۔ پانی کے برتن پیاس بجھانے کے لئے ابلا ہوا پانی پیش کرتے ہیں۔ آپ نے بار ہا دیکھا ہوگا کہ ڈنگر ڈھور بھی گرمی کے موسم میں ٹھنڈا پانی پیتے ہیں۔ پیاس کے باوجود گرم پانی کو منہ لگا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر قیدی مجبور ہے کہ صبر سے کام لے۔ ہمارے جیل خانے یورپ کے ٹھنڈے علاقوں کی نقالی میں تعمیر ہوئے ہیں۔ مگر ایک بار جیسے کیسے بن گئے۔ اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ کسی ایسے شخص کو جیل کا وزیر بنادینا جس نے زندگی میں کبھی جیل کا مزہ نہ چکھا ہو نا انصافی اور غیر دانشمندانہ فعل ہے۔ جیل کی اصلاح کمیٹیوں میں بھی وہی لوگ جاتے ہیں جو قید، قیدی اور جیل خانے کو باہر سے دیکھتے رہے ہیں۔ تب جیل کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟ جیل خانوں کی اصلاح کا کام ان لوگوں کے سپرد ہونا چاہئے جن خوش نصیبوں نے سی کلاس کے مزے لوٹے ہوں۔ یہاں مجھے مسلم لیگیوں کی قید کا زمانہ یاد آگیا۔ اللہ اللہ دو تین اٹھوارے مزے سے جیل میں گزار کر یہ لوگ جب باہر آئے تو انہیں جیل کے ذکر اذکار سے فرصت نہ تھی۔ کافی دن ڈینگیں مارتے رہے۔ جس طرح شہرت پسند حاجی بات بات میں کبھی عدن کی بندرگاہ، کبھی جہاز میں قے کا قصہ، کبھی بازار میں کھجوریں دیکھیں تو احباب کو عرب کی کھجوروں کا قصیدہ کہہ سنایا۔ مطلب کھجوروں کی تعریف سے نہیں بلکہ اپنے حج کا تذکرہ مقصود ہوتا ہے۔ تا کہ بلاتے وقت لوگ حاجی صاحب کہا کریں۔ ان مسلم لیگیوں کا بھی یہی حال تھا۔ حالانکہ ان بے چاروں کو نہ قید کاٹنا پڑی نہ جیل کی وہ دال کھانا پڑی جو دس منٹ میں پانچ رنگ بدلتی ہو۔ نہ ان حضرات کو موسم گرما اور لو کے تھپیڑوں سے پالا پڑا اور نہ ڈنگر ڈھوروں کی طرح مدتوں کوٹھڑیوں میں بند ہونا پڑا۔ جیل گئے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی پلٹ پلٹ کر

صفحہ 259

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیکھتے رہے کہ کب واپسی کا موقعہ ملے گا۔ اب آپ غور فرمائیے کہ ان حضرات کو جیل کی اصلاح کا کیسے خیال آسکتا تھا۔ خیال آئے بھی تو انہیں کیا معلوم کہ گرفتاران بلا پر کیا گزرتی ہے۔ بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ میں عرض کر رہا تھا کہ ہم تینوں ساتھی اپنے صحن کی کیاریوں میں باغبانی اور کاشتکاری میں وقت گزار رہے تھے۔ ورزش کر لیا کرتے تھے۔ ہمیں بار بار راولپنڈی سازش کیس کے جرنیلوں کا خیال آیا کہ ان میں ہمارے جانے پہچانے دوست بھی تھے۔ ہمیں سب سے زیادہ خیال کرنل فیض کا تھا۔ انہیں آپ کمیونسٹ کہیے یا کوئی رائے قائم کیجئے۔ وہ بہت اچھے دوست ہیں۔ شاعر اور ادیب ہونے کے علاوہ خلیق ہمدرد اور ملنسار پایا۔ مجھے وہ ایک بار ایسی جگہ ملے جب میں انہیں دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ تقسیم کے بعد میں لدھیانہ کیمپ کا انچارج تھا۔ رات دن کیمپ کی حفاظت اور انتظام میں منہمک رہتا تھا۔ ہزاروں مجبور ہم وطن میرے ہر وقت کے ساتھی تھے۔ باہر سے یعنی پاکستان سے نہ کوئی آتا تھا اور نہ کسی نے ہم سے آکر کبھی دریافت کیا کہ جی رہے ہو یا مر گئے ہو۔ اچانک ایک دن معلوم ہوا کہ لاہور سے کچھ لوگ آئے ہیں۔ وہ کیمپ کا معائنہ فرمائیں گے۔ میں آٹے کی تقسیم سے فارغ ہوا ہی تھا کہ فیض صاحب بڑی بے تابی کے ساتھ مجھ سے بغل گیر ہوئے۔ ہم دونوں کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا۔ ”تم کہاں“ بہر حال مجھے اس روز ان کی اچانک ملاقات نے بے حد متاثر کیا۔ ان کے خیال کچھ بھی ہوں فیض صاحب ایک مخلص بہادر شریف انسان ہیں۔ فیض اس جیل میں موجود تھا۔ مگر بڑی سخت قدغن تھی۔ ہمیں ان کی آواز تک سنائی نہ دیتی۔ حالانکہ ہماری اور ان کی بیرک میں فاصلہ نہ تھا۔ مگر کسی نے سچ کہا ہے کہ ”دیوار کے پیچھے پردیس“ ہم ایک دوسرے کے لئے واقعی پردیسی تھے۔

اچانک ملاقات

جس رات کراچی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا جلسہ عام تھا اس رات بڑا ہجوم تھا۔ ایسے ہجوم میں جیب تراشوں کو ہاتھ کی صفائی سے دہائی مچانے کا اچھا خاصہ اطمینان بخش موقعہ میسر آ جاتا ہے۔ میری جیب میں چشمہ تھا۔ جس پر چمڑے کا خول تھا۔ جیب تراش نے سمجھا مال ہے۔ اس دھوکے میں مال کی بجائے وہ میری آنکھیں نکال کر لے گیا۔ جلسہ ختم ہوا۔ اونگھتے ٹہلتے دفتر پہنچے تو دیکھا چشمہ ندارد۔ جیب تراش مال کے خیال میں اندھا ہو گیا اور میں چشمے کی محرومی سے نظر کھو بیٹھا۔ جیل میں چند ماہ گزر چکے تو ایک روز آئی جی صاحب نے جب وہ معائنہ کے لئے تشریف لائے مجھے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ روزنامہ آزاد کے ایڈیٹر ہیں۔ قیدیوں کی اصلاح پر کچھ لکھئے۔ ہم اسے کتابی صورت میں شائع کریں گے۔ تب میں نے چشمے کی چوری اور اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ وہ فرمانے لگے ہم آپ کو چشمے کا بندوبست کر دیتے ہیں۔ چنانچہ باہر سے چشمے کے دوکاندار اور ڈاکٹر کو آنکھوں کے معائنہ کے لئے بلایا گیا۔ اس عرصے میں جرنیلوں یعنی راولپنڈی سازش کے بعض قیدیوں نے نگاہ کا نمبر درست کرانے اور نئے چشمے منگوانے کی درخواست کی۔ باہر سے معائنہ کے لئے ڈاکٹر آیا۔ مجھے اطلاع دی گئی کہ کورٹ روم میں ڈاکٹر نے سیاہ پردے وغیرہ کا بندوبست کر لیا ہے۔ دوسرے قیدیوں نے بھی آنکھوں کا معائنہ کرانا ہے۔ آپ بھی چلئے۔ باری باری ڈاکٹر سب کا معائنہ کرے گا۔ میں اپنی وارڈ سے تیار ہو کر وارڈن کے ہمراہ کورٹ روم کے باہر کھڑا ہوا۔ کورٹ روم وارڈ کا وہ حصہ تھا جہاں جرنیلوں کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔ جیل والوں نے قیدیوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے کے لئے یہ بندوبست کیا تھا کہ ڈاکٹر کے پاس ہر قیدی دس منٹ ٹھہرتا تھا۔ جب ایک چلا جاتا تھا تب دوسرا آتا تھا۔ مگر جب بعض قیدیوں پر زیادہ وقت لگ گیا تو نظام درہم برہم ہو گیا۔ چنانچہ میری باری آگئی۔ مجھے ڈاکٹر موٹے چھوٹے حروف کا بورڈ دکھا ہی رہا تھا کہ ایک وارڈن کرنل فیض اور ان کے ایک ساتھی کو لے کر اندر آ گیا۔ جوں ہی میں نے بورڈ سے نظر ہٹائی فیض صاحب میرے سامنے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے میری طرف بڑھے اور بغل گیر

صفحہ ۲۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوتے ہی کہنے لگے۔ ماسٹر صاحب! آج بھی لدھیانہ کیمپ والی بات ہے۔ خوب ملاقات ہوئی۔ غرضیکہ میری آنکھوں کا چند منٹ دونوں طرف معائنہ ہوتا رہا۔ یہ اتفاقیہ ملاقات تھی۔ جسے وارڈن، داروغہ اور ہم سب نے مل کر دبا لیا۔ نہ وارڈن کہہ سکتا تھا کہ یہ لوگ اچانک ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ داروغہ صاحب خبر دار ہوئے کہ آنکھوں کے معائنے میں دو دلوں کا ملاپ بھی ہو گیا اور نہ ہم نے کانوں کان خبر ہونے دی کہ کیا خوشگوار حادثہ پیش آیا۔ بہر حال پابندیوں کے باوجود اچانک ملاقات ہو گئی۔

دوسری ملاقات

خوراک کی خرابی کی وجہ سے ہم تینوں یعنی ماسٹر تاج الدین، مولانا لال حسین اختر اور نیاز لدھیانوی کے دانت خراب ہو گئے۔ جیل کے ڈاکٹر نے معذوری کا اظہار کیا تو افسران جیل نے باہر سے دانتوں کے ڈاکٹر کو بلا بھیجا۔ ہمارے علاوہ ہمارے جرنیلوں میں سے اکثر کو دانتوں کی شکایت تھی۔ اس لئے انہی کی بیرک میں ڈاکٹر آ گیا اور ہمیں بھی وہیں بلا کر ڈاکٹری معائنہ کے لئے پیش کیا گیا۔ اس بارک میں پہنچے تو ہم سے پہلے جرنیل صاحبان بھی موجود تھے۔ یعنی ہم سب ایک ہی جگہ جمع ہو کر ڈاکٹر کو دانتوں کا معائنہ کراتے رہے۔ زبانوں پر تالے تو نہ تھے کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہ کرتے۔ وقت کو غنیمت سمجھ کر باتیں بھی ہوتی رہیں۔ ایک فوجی جرنیل نے ہم سے کہا کہ مولوی صاحبان ہم آپ کی تحریک کے سخت مخالف تھے۔ ہم نے یہ رائے قائم کی تھی کہ آپ نے بلا وجہ مذہبی جھگڑا کھڑا کر کے ملک میں انتشار پھیلا رکھا ہے۔ مگر اب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ مرزائی کیا بلا ہیں۔ میجر جنرل نذیر قادیانی کے علاوہ اب جو ہم گواہوں پر غور کرتے ہیں جو ہمارے خلاف گزرے ہیں تو ہمیں مرزائیوں کے بارے میں اپنی رائے بدلنا پڑی۔ ہمیں اب معلوم ہوا کہ یہ گروہ پاکستان میں کس طرح کام کر رہا ہے اور اس کے ارادے کیسے خطرناک ہیں۔ ہمیں ان جرنیلوں سے تبادلہ خیال کرنے میں بے حد مسرت محسوس ہوئی۔ ہماری معلومات میں اضافہ ہوا اور اس بارے میں ہمارا یقین اور پختہ ہو گیا کہ مرزائی ملک و ملت کے بارے میں نہایت خطرناک ارادے رکھتے ہیں اور مرزائیت کے اثرات پاکستان کے ہر گوشے میں موجود ہیں۔ ہمیں ڈاکٹر کے انتظار میں تقریباً ایک گھنٹہ اس بارک میں ٹھہرنا پڑا۔ کیونکہ ڈاکٹر باری باری سب کو دیکھ رہا تھا۔ ہم بعد میں پہنچے تھے۔ اس لئے ہماری باری سب کے بعد میں آئی۔

رمضان المبارک

جیل میں روزے رکھنے کا لطف آ جاتا ہے۔ ۱۹۲۰ء میں جب میں تحریک خلافت میں گرفتار ہو کر میانوالی جیل میں تھا ان دنوں بھی جیل میں رمضان المبارک گزارنے کا موقعہ ملا تھا۔ ابتداء میں جب سیاسی قیدیوں کے لئے کوئی کلاس نہ تھی۔ عام قیدیوں کا کھانا ملتا تھا۔ شام کو جو کی روٹی ملتی تھی وہ کچھ دیر بعد سوکھ جاتی تھی۔ ہم اس روٹی کو توڑ کر مٹی کے پیالے میں ڈال لیتے تھے۔ پیالے میں پانی بھر لیتے تھے۔ سحری کے وقت بھیگے ہوئے ٹکڑے نکال کر کھا لیا کرتے تھے اور بچا ہوا پانی پی کر الحمد للہ کا ورد کیا کرتے تھے مگر یقین جانئے کہ روزے رکھنے کا وہ لطف باہر رہ کر عمدہ کھانوں میں کبھی میسر نہیں آیا۔ قلب کو اطمینان حاصل تھا۔ زندگی میں ایک سکون تھا۔ دل مسرور تھا۔ صحت بھی اچھی تھی۔ شاید جوانی بھی سہارا دے رہی ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خیالات میں یکسوئی تھی۔ مقصد کے حصول میں خلوص اور دل کو یقین تھا کہ زندگی کا یہی حصہ قابل یاد اور باعث اطمینان ہے۔ مگر اب وہ صورت نہیں ہے۔ البتہ تحریک تحفظ ختم نبوت میں دل بہت مطمئن تھا۔ مگر جسم ساتھ نہیں دیتا تھا۔ شاید عمر کا تقاضا ہو کہاں بیس پچیس برس کی جوانی اور کہاں ساٹھ پینسٹھ سال کا بڑھاپا تاہم رمضان المبارک کا مہینہ بہت خوب گزرا۔ حیدر آباد جیل میں افسران جیل نے رمضان المبارک کا بہت احترام کیا۔ کھانا ہمیں سحری کے وقت تازہ ملتا تھا۔ مگر تھا وہی سی کلاس کا الم غلم

صفحہ ۲۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاہم تازہ روٹی بہت غنیمت تھی۔ شام کو تمام قیدیوں کو برف بھی ملتی تھی۔ شربت کے لئے گڑ بھی مل جاتا اور افطاری کے لئے کھجوریں ملتی تھیں۔ یعنی قیدیوں کی عیش تھی۔ اس عیش میں ہم برابر کے شریک تھے۔ مولانا لال حسین اختر نماز تراویح پڑھاتے تھے تو میں اور نیاز دو مقتدی تھے۔ نیاز ہمارا مؤذن تھا۔ نیاز کی آواز میں جوانی کی گھن گرج تھی۔ جیل کی ماڑی پر ایک وارڈن اذان دیا کرتا تھا۔ بعض ایسے غلط مؤذن بھی آجایا کرتے تھے جو اذان بھی غلط دے دیا کرتے تھے۔ اسی غلطی پر مولانا لال حسین اختر بہت برہم ہوتے تھے اور اپنے وارڈنوں کو بلا کر فرمایا کرتے تھے کہ اس بے وقوف کو بلا کر لاؤ۔ یہ اذان غلط کہتا ہے چنانچہ ہم نے جیل افسران سے کہا کہ ہمارا مؤذن حاضر ہے۔ نیاز صاحب کو اجازت دیجئے یہ اذان دے آیا کریں گے۔ اس کی اذان سارے جیل میں سن جایا کرے گی۔ شاید قریب کے علاقے والے بھی مستفیض ہوسکیں۔ مگر افسران جیل نے ہماری خدمت کو قبول نہیں کیا۔ بہرحال ماہ رمضان بخیریت گزر گیا۔ عید آگئی۔ عید کے لئے ہم نے بڑے جتن کئے کہ کسی طرح عید کے دن تمام قیدیوں کو ایک احاطے میں نماز کی ادائیگی کا موقعہ مل جائے گا۔ مطالبے میں اس لئے جان نہ تھی کہ جیل میں نماز عید ہوتی نہیں۔ عید آزادیوں کی نعمت ہے۔ جیل مجبوریوں کی دنیا ہے۔ یہاں جمعہ اور عید کا گزر نہیں ہوتا۔ بمشکل یہ طے ہوا کہ کچھ اخلاقی قیدی ہماری وارڈ میں بھیج دیئے جائیں گے۔ تمام افسران جیل اور چھوٹے ملازم بھی ہمارے ہاں آ جائیں گے۔ مولانا لال حسین اختر نے عید کا خطبہ دیا۔ نماز پڑھائی۔ عید کے دن ہم ایک دوسرے کے گلے ملتے رہے۔ ہمیں زیادہ افسوس اس بات کا ہوا کہ جرنیلوں تک کو عید کے دن ہم سے ملنے نہ دیا۔ اس بارے میں ہم نے افسران جیل سے التجائیں بھی کیں۔ مگر انہوں نے معذوری کا اظہار کیا۔

تحریک ختم نبوت کے دوران جیل میں آنے والی اس عید پر سید مظفر علی شمسی نے ایک مضمون تحریر فرمایا جو ہفتہ وار لولاک فیصل آباد مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۶۹ء سے پیش خدمت ہے۔

ایک عید جو ہم نے جیل میں گزاری

۱۹۵۳ء کا ذکر ہے۔ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں کراچی جیل سے ایک ماہ کے بعد ہمیں حیدرآباد جیل میں منتقل کیا گیا۔ میرے ہمراہ امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم، حضرت مولانا ابوالحسنات مرحوم، مولانا عبدالحامد بدایونی ممبر اسلامی مشاورتی کونسل، صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ سجادہ نشین آلو مہار شریف، مولانا عبدالرحیم جہلمی اور غازی اللہ نواز ایڈیٹر حکومت بھی تھے۔

حیدرآباد سے ایک دن بعد ہمارا چالان سکھر سنٹرل جیل بھیج دیا گیا اور ہمیں ایک جیل گاڑی میں سوار کرا کے سکھر لایا گیا۔ (جیسے بخاری صاحب مرحوم سقر کہا کرتے تھے) یہ نیو جیل کہلاتی ہے جو سکھر شہر سے دو میل کے فاصلہ پر کراچی لاہور روڈ پر ایک نہر کے کنارے آباد ہے۔ گرمی میں سخت گرم اور سردیوں میں سخت سرد اس کا مزاج ہے۔ دروازہ پر افسران جیل نے ہمارا استقبال کیا اور ہمارے سامان کی تلاشی لینے کے بعد ہمیں پانچ دروازے پار کرا کے ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں پہنچا دیا گیا جو طول وعرض میں آٹھ مربع فٹ تھی۔ باہر سے دروازہ بند کر کے تالا جڑ دیا گیا۔

اب ہم ساری دنیا سے نہیں بلکہ جیل کی آبادی سے بھی کٹ گئے تھے۔ پہلی شب ہم پر بہت ہی کٹھن گزری۔ مسور کی دال جس میں تیل کا تڑکا اور چاول کی روٹی غذا مقرر ہوئی۔ کمرہ کی کھڑکی بند تھی۔ روشندان ندارد صرف ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ جس کا بڑا قفل ہمیں اندر سے نظر آتا تھا۔ ہوا کبھی کبھی آتی تھی۔ جسے ہم سب باری باری تقسیم کر لیتے تھے اور جب کبھی دم گھٹنے لگتا تو سب ہی دروازہ کے ساتھ پھنس پھنسا کر منہ رکھ لیتے تھے۔ خواجہ ناظم الدین مرحوم کی حکومت نے ہمیں سی کلاس سے بھی بدتر درجہ عطاء فرمایا تھا۔

صفحہ ۲۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پہلی رات کٹ گئی۔ پھر در و دیوار مانوس ہو گئے۔ فضا آشنا ہو گئی۔ شاہ صاحب مرحوم نے فرما دیا کہ اب یہاں سے مر کر ہی چھٹکارا ہے۔ صبر و شکر کے ساتھ سب نے بستر کے ساتھ بستر جوڑے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ کئی ماہ اندر ہی گزر گئے۔ میں نے ایک دن صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ سے کہا کہ آج اگر سپرنٹنڈنٹ جیل آئے تو اسے کہیں کہ دوپہر کے وقت ہمیں چند منٹ کے لئے سامنے والے باغ میں بیٹھنے کی اجازت مرحمت فرما دیجئے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سکھر میں ان دنوں گرمی ۱۲۵ درجہ تھی۔ مرغی کے انڈے کو اگر پانی میں ڈال کر رکھ دیا جائے تو پانچ منٹ میں وہ ابل جاتا تھا۔ رات کو سرخ آندھی چلتی تھی جو کئی کئی دن مسلسل چلا کرتی اور سر، منہ، آنکھیں اور سارا بدن سرخ ہی سرخ ہو جاتا تھا۔

اب ذرا باغ کی کیفیت بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ جو ہماری نظروں میں باغ تھا ریت کا ایک چھوٹا سا قطعہ جس پر صرف دو درخت تھے۔ ان میں ایک تو ٹنڈ منڈ اور دوسرے کے البتہ کچھ برگ و بار تھے۔ جس سے گنجی کانی چھاؤں ہو جاتی تھی۔

سپرنٹنڈنٹ جیل کنیزورو ایک پادری بزرگ تھے اور بڑے ہی نیک اور شریف النفس انسان تھے۔ انہوں نے ہماری درخواست منظور فرمالی اور ایک بجے سے دو بجے تک ہمیں باہر بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ تصور فرمائیے کہ اس تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ہمارا کیا حال ہوگا جو ہم نے کڑکتی ہوئی دوپہر میں باہر آنے کی خواہش کی۔ ہم سب جب باہر آ کر بیٹھے تو اگر چہ سایہ اتنا نہ تھا جو ہمارے لئے کافی ہوتا۔ مگر ہم نے اپنے آپ کو جنت میں پایا۔ غازی اللہ نواز اس سایہ کو ”کانا سایہ“ کہا کرتے تھے۔ مگر اس جنت میں بھی گرمی اور لو، العیاذ باللہ یونہی دن گزرتے گئے اور ماہ رمضان آ گیا۔ سحری کے وقت جنگل کا ساگ تیل کا تڑکا اور چاول افطاری کے لئے کبھی بینگن اور یہی من وسلویٰ صبر وشکر کے ساتھ روزے رکھتے تھے۔

ڈیڑھ ماہ کے بعد ہمارے گھر والوں کو پتہ چلا کہ ہم سکھر جیل میں ہیں۔ ۴؍رمضان کو مجھے لاہور سے خط آیا کہ میری چھوٹی ہمشیرہ جاں بلب ہے اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ اس بچی کو میں نے ہی پرورش کیا تھا اور میں نے ہی اس کی شادی کی تھی۔ والدہ مرحومہ کے انتقال کے وقت یہ دو برس کی تھی اور والد مرحوم کی رحلت کے وقت اس کا سن چھ برس کا تھا۔ اس کی علالت کا پڑھ کر دکھ ہوا۔ مگر سوائے صبر وشکر کے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ تیسرے روز پتہ چلا کہ مسٹر نقوی چیف کمشنر کراچی کو لکھا گیا تھا کہ وہ ہمشیرہ کی علالت کے باعث مجھے چند دنوں کے لئے پیرول پر رہا کر دیں۔ گھر والوں کی یہ خواہش مسترد ہو گئی۔

ایک رات مجھے اچانک درد گردہ شروع ہو گیا اور اس نے ایسی شدت اختیار کر لی کہ میں ساری رات بے ہوش رہا۔ جیل کی زندگی بھی عجیب ہے۔ بخاری صاحب مرحوم نے لاکھ احتجاج کیا۔ صدائیں بلند کیں مگر ڈاکٹر کہاں۔ مولانا ابوالحسنات مرحوم نے شور مچایا۔ مگر کون سنے۔ میرے ساتھی مجھ سے بھی زیادہ تکلیف میں تھے۔ ان سے میری حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ مگر سب کے سب مجبور تھے۔ سوائے بارگاہ رب العزت میں تاجدار ختم نبوت کے واسطے سے التجا کے علاوہ اور کوئی علاج نہ تھا۔ صبح ہوئی۔ سات بجے ڈاکٹر صاحب تشریف لائے۔ دوائی دی الحمد للہ! تین چار دن کے بعد صحت ہو گئی۔

عید الفطر میں پانچ دن رہ گئے تھے۔ قیدیوں کے گھروں سے عید کارڈ آ رہے ہیں۔ ادھر سے بھی جواب لکھے جا رہے ہیں۔ چاند رات کو حکام جیل نے اعلان کیا کہ کل صبح تمام قیدیوں کو پلاؤ ملے گا۔ ہمارے مشقتی قیدی بڑے خوش ہوئے۔ مگر ہم نے وہی سحری وافطاری والی خوراک بحال رکھی۔ صبح ہوئی۔ تمام قیدیوں نے ایک جگہ نماز عید ادا کی۔ صرف ہم ”خطرناک اسیروں“ کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہم نے بھی نماز عید ادا کی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل خطوط لے کر آئے۔ انہوں نے ہماری ڈاک ہمارے

صفحہ ۲۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سپرد کی۔ مجھے بھی اپنی بیمار بہن کا خط ملا۔ جسے میں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ پڑھا اور رکھ دیا۔ اس میں لکھا تھا:

میرے بھیا! اس امتحان میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتی۔ اب قریب المرگ ہوں۔ بخار دامن نہیں چھوڑتا۔ ایک سو چار درجہ حرارت سے گرتا نہیں۔ کھانسی زوروں پر ہے۔ محبوب بھائی ڈاکٹر صاحب کو لائے تھے۔ ایکسرے میں ٹی۔بی کی ابتدائی منزل ہے۔ ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا اور اب موت مجھے لئے جا رہی ہے۔ کاش کہ میرے آخری وقت آپ میرے پاس ہوتے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے نام پر جو مصائب برداشت کر رہے ہیں اللہ آپ کو استقلال بخشے اور قیامت کے دن آپ کی قربانی ہمیں دربار رسالت میں سرخرو کرے۔ آپ بہادری سے قید کاٹیں۔ اگر زندگی رہی تو مل لوں گی۔ ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے۔ سب بچے سلام کہتے ہیں۔ اب ہاتھ میں طاقت نہیں۔ لہذا خط ختم کرتی ہوں۔ (بھیا سلام) آپ کی بہن

اس خط سے میرے دل میں ایک ہوک اٹھی۔ شاہ صاحب آبدیدہ ہو گئے۔ سب نے عزیزہ کی صحت کے لئے دعا کی۔ اس خط کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو وطن سے دور اور پھر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو۔

ہمارے تمام خطوط سنسر ہوتے تھے۔ مگر اس خط کو سنسر نہ کیا گیا۔

قیدی کی عید اس کے گھر والوں کی صحت و سلامتی کی خاطر ہوتی ہے۔ مگر ہم سب کے دلوں میں ایک سمندر موجزن تھا اور دعا تھی کہ پروردگار! تاجدار ختم نبوت کے صدقہ میں ہمیں ہمارے مقصد میں کامیاب کرے، یہی ہماری عید ہوگی۔

(لولاک مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۶۹ء)

ہمارا شریف انسپکٹر جنرل

ماسٹر تاج الدین فرماتے ہیں: مسٹر زیڈ زیڈ احمد خدا انہیں خوش رکھے۔ بہت ہی بلند کریکٹر کے مسلمان ہیں۔ عید کے دن جب ہمارے بڑے بڑے افسر اپنے جیسوں سے ملنے کے عادی ہیں کلبوں میں جاتے ہیں اور کوٹھیوں پر ماتحتوں کے سلام وصول کرتے ہیں۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ، قیدیوں سے عید ملنے کے لئے تشریف لے آئے۔ وہ دوسرے وارڈوں میں بھی گئے اور مسکراتے ہوئے جب ہمارے وارڈ میں تشریف لائے اور دور سے عید مبارک کہتے ہوئے ہماری طرف بڑھے۔ ان کی بلند اخلاقی کا ہم پر بے حد اثر ہوا۔ انہیں ہم مجبور قیدیوں سے کیا لینا تھا۔ ہمارے دل میں اس وقت بھی یہی خیال آیا کہ یہ سب رسول مقبول نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکات کا صدقہ ہے۔ ورنہ کون پوچھتا ہے۔ قیدی تو قیدی ہوتا ہے اور پھر سی کلاس کے تھرڈ کلاس قیدی۔ عید کے دن شہر کے لوگ جیل کے قریب سے نہیں گزرتے۔ مبادا ان کی خوشی پژمردہ ہو جائے اور مسرتوں پر اداسی چھا جائے۔ آپ شاید یہ خیال کرتے ہوں کہ ہمیں اپنے عزیز واقارب یا دوست احباب کی یاد نے ستایا نہ ہوگا۔ آہ! یہ بے بسی کے لمحے جس پر گزرتے ہیں وہی جانتا ہے۔ ہمیں بار ہا خیال آیا کہ ہمارے دوست ہمارے اہل وعیال آج یقیناً اداس ہوں گے۔ مگر ایک تصور ایک روح فرسا خیال آیا جس نے ہمیں چونکا دیا۔ ہم نے شہیدوں کا خیال کیا۔ ان کے ورثا کے تصور نے ہمیں تڑپا دیا۔ وہ مائیں جن کے جوان بیٹے شہید ہو کر جنت کو سدھار گئے آج کس حال میں ہوں گی۔ وہ یتیم بچے جن کے سہارے اٹھ گئے وہ جوان بیوائیں جن کے سہاگ لٹ گئے۔ ان خیالات کے ہجوم سے دل بیٹھنے لگا۔ تب قدرت نے سہارا دیا اور وہ یہ خیال تھا کہ یہ سب کچھ تو رسول مقبول ﷺ کی آبرو کی خاطر ہوا اور اس مبارک اور مقدس ”جرم“ کی پاداش میں آج ہم جیل میں بیٹھے ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی اپنی خوش نصیبی پر مطمئن ہو گئے۔ اس روز خواجہ ناظم الدین اور ان کے ساتھیوں نے بھی عید منائی ہوگی۔ ان کے ضمیر نے انہیں کیا کہا ہوگا۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ وہ ان بھیدوں اور غیب کے جاننے والا ہے۔ بہر حال قیدیوں اور نظر بندوں کی عید آئی اور گزر گئی۔

صفحہ ۲۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہرچہ آید برسر فرزند آدم بگذرد

اسلامی مساوات کی روح کو کچلنے اور انسانیت کی تذلیل کی خاطر برطانوی دور میں جیل کے اندر ۱۹۲۰ء میں جب درجہ بندی کا آغاز ہوا۔ سیاسی رہنماؤں نے ٹھوکر کھائی اور اس خلاف انسانیت فعل کو بطیب خاطر قبول کر لیا۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو درجہ بندی قبول کرنے کی بجائے قیدیوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور مساوات قائم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے تھی۔ بہر حال درجہ بندی قائم ہو گئی اور اب وہ ایک مستقل صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہم سی کلاس میں وقت گزار ہی رہے تھے۔ مگر افسران جیل نے خود محسوس کیا اور ہمیں درخواست لکھنے پر آمادہ کرنا چاہا۔ ایک بار ہم درخواست بھی کر چکے تھے۔ مگر ہماری درخواستوں کو حکومت وقت کا انتقامی جذبہ چاٹ گیا۔ اب ان درخواستوں کا کھوج لگانا بھی مشکل تھا۔ بار بار درخواستیں کرنا وہ بھی ان لوگوں سے جن سے ہم سخت بیزار تھے۔ ہمیں گوارا نہ تھا۔ زیادہ اصرار ہوا تو ہم نے احتجاج کے طور پر بہتر سلوک کے لئے لکھا۔ جیل کے افسران نے بڑی ہمت سے کام لیا اور چند روز بعد کراچی سے بہتر کلاس کی منظوری آ گئی۔ اب ہمیں ملاقات اور خط لکھنے کی سہولت مل گئی۔ اخبار بھی علی الصبح مل جاتا تھا۔ جس سے ہم باہر کی دنیا کا اندازہ لگا کر سمجھ لیتے تھے کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ اب ہمیں کچھ کچھ معلوم ہونے لگا کہ ہمارے بعد ہمارے بھائیوں پر کیا گزری۔ ایک جیل کے قیدی جب دوسری جیل میں جاتے ہیں تب قیدیوں کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسری جیل کا کیا حال ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے معززان مولانا ابوالحسنات اور حضرت امیر شریعت اور دوسرے ساتھی کوٹری جیل میں ہیں۔ مگر یہ خبر بعد میں غلط ثابت ہوئی۔ پھر معلوم ہوا کہ انہیں سکھر جیل میں رکھا ہوا ہے۔ بھوپت سکھر جیل بھی رہ آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ سکھر جیل کی جس بارک میں وہ رہتا تھا۔ اس میں سخت گرمی ہوتی تھی۔ کمرہ سیمنٹ شدہ لو سے اتنا گرم ہو جاتا ہے کہ دیوار کے قریب بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے رفقاء کو اس بارک میں رکھا گیا تھا۔ اس کا صحن بھی بہت چھوٹا تھا۔ بہر حال اس مجبوری میں صبر کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔ ابھی چند ہی روز گزرے ہوں گے کہ ایک روز ڈان میں یہ خبر شائع ہوئی کہ انکوائری کورٹ کا بندوبست ہو گیا ہے۔ چیف جسٹس پنجاب کی سرکردگی میں فسادات پنجاب کی تحقیقات ہو گی۔ یہ خبر ۶/ جون ۱۹۵۳ء کو ڈان میں شائع ہوئی۔ دو دن بعد ڈان میں ایک اور خبر شائع ہوئی۔ جس سے معلوم ہوا کہ سر ظفر اللہ خان وزیر خارجہ قادیانی لاہور جارہا ہے۔ اس خبر سے ہمارا ماتھا ٹھنکا جیل میں ہم تینوں نظر بند مشورہ کر لیتے تھے اور تو کوئی مشیر تھا نہیں۔ ہمیں یہ خیال گزرا کہ سر ظفر اللہ قادیانی کا ٹھیک اس وقت لاہور جانا جب کہ تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان ہوا ہے۔ خطرے کا باعث ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی موجودہ حیثیت سے تحقیقات پر اثر انداز ہو۔ ہمارے تمام ساتھی جیل میں ہیں۔ باہر مرزائی بھی کھلے بندوں دندنا رہے ہیں اور حکومت پنجاب جو خون خرابے کی ذمہ دار تھی وہ بھی بحیثیت حکومت موجود ہے۔ ہمارے برخلاف خدا جانے کیا کچھ کیا جائے ہمیں اس صورت میں کیا کرنا چاہئے۔ مگر اس مجبوری میں ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔ بڑی ردوکد کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ میں بحیثیت صدر احرار جسٹس منیر کو جو تحقیقاتی کمیٹی کے صدر اور پنجاب کے چیف جسٹس ہیں ان کو ایک خط تحریر کروں۔ چنانچہ ایسا ہوا جیل حکام کی معرفت ان کو خط تحریر کیا۔ یہ خط تحقیقاتی عدالت کے ریکارڈ میں اب بھی موجود ہوگا۔ اس کا مفہوم یہ تھا کہ عین اس وقت جب کہ تحقیقاتی عدالت کا اعلان ہوا ہے۔ ظفر اللہ کا لاہور پہنچنا ہمارے لئے خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ایسے وقت میں لاہور کیوں آیا ہے۔ ہم کو حق تو نہیں حاصل کہ ہم ان سے یہ کہیں کہ آپ تحقیقات کے دوران میں لاہور نہ آئیں اور نہ روکنے کے مجاز ہیں۔ مگر ان کی شخصیت اور حیثیت کے رعب کی وجہ سے ہمیں خدشہ ضرور لاحق ہے کہ ہمارے خلاف کیا گل کھلایا جانے والا ہے۔ خط کا تقریباً یہی مفہوم تھا۔

صفحہ ۲۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عدالت کا نوٹس

میرے نام تحقیقاتی عدالت کی جانب سے ایک مراسلہ حکام جیل کی معرفت موصول ہوا کہ احرار ایک فریق شمار کیا گیا ہے۔ مجھ سے عدالت نے دریافت کیا کہ تمہیں فریق بننا منظور ہو تو عدالت کو مطلع کرو۔ میں چیف جسٹس کے نام خط لکھنے والا تھا کہ ڈان میں ایک اور خبر شائع ہوئی اور وہ یہ تھی کہ حکومت پنجاب نے مجلس احرار کو خلاف قانون جماعت قرار دے کر مجلس کے تمام دفاتر پر تالے ڈال دیئے ہیں۔ مجھے اس خبر سے سخت صدمہ ہوا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ حکومت پنجاب سکھا شاہی کا ریکارڈ مات کر دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ میں نے حکومت پنجاب کے اس اقدام کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھا۔ جس میں لکھا کہ آپ نے اپنے اطلاع نامہ میں مجھ سے یہ دریافت فرمایا ہے کہ آیا مجھے تحقیقاتی عدالت کے سامنے بحیثیت فریق حاضر ہونا منظور ہے اور ساتھ ہی حکومت پنجاب نے جو اس تحقیقاتی عدالت میں ایک فریق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے دوسرے فریق (یعنی ہمیں) انتقام کا نشانہ بنایا ہے اور ہمارے دفاتر سر بمہر کر دیئے ہیں۔ تحقیقات کے دوران ایک فریق کا دوسرے فریق کو انصاف حاصل کرنے کی راہ میں مشکلات پیدا کرنا۔ دوسرے فریق کو ہراساں کرنا نا انصافی اور زیادتی ہے۔ حکومت پنجاب کے اس نامناسب اقدام پر میرا احتجاج قبول فرمائیے۔

اچانک ایک روز جیل کے داروغہ نے ایک اردلی بھیجا کہ اسباب باندھ کر تیار ہو جاؤ۔ آپ کو لاہور بھیجا جا رہا ہے۔ اب مجھے اپنے عزیز معزز رفقاء سے ملنے کی خوشی تھی۔ لاہور میں میرا گھر بھی تھا۔ مگر میں اپنے دو عزیز ساتھیوں کی جانب دیکھتا تھا تو دل بیٹھتا تھا۔ میں نے جیل کے افسران سے درخواست کی کہ میرے ان دو ساتھیوں کو دوسرے بی کلاس قیدیوں کے پاس بھیج دیجئے۔ میں ہی خطرناک نظر بند تھا جو اس محفل سے اٹھ رہا ہوں۔ اب ان دو نظر بندوں پر اس قدر عتاب، احتیاط اور پابندی کی کیا ضرورت ہے۔ میری یہ درخواست زیر غور فہرست میں رکھ لی گئی۔ دوسرے دن مجھے حکم ہوا کہ پولیس ڈیوڑھی پر آگئی ہے۔ ڈیوڑھی پر چلئے۔ میں نے بڑی حسرت سے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور خدا حافظ کہتے ہوئے ان سے جدا ہوا۔ جیل کے دروازے پر ایک تھانیدار اور دو حوالدار سپاہی موجود تھے۔ قیدی اگر خود شرافت کا ثبوت بہم پہنچائے تو وارڈن اور پولیس والوں کا دماغ نہیں پھر گیا کہ وہ بدسلوکی کریں۔ بعض پولیس والے دماغی طور پر ناکارہ ہوتے ہیں۔ مگر ایسے بہت کم ہوتے ہیں۔ میری طبیعت میں یوں بھی بہت نرمی ہے۔ جگہ جگہ لڑنا بے وقوفی سمجھتا ہوں۔ ایک جگہ دل کھول کر لڑ لینا چاہئے۔ قدم قدم پر ہر شخص سے الجھنے والا بڑا خراب ہوتا ہے۔ مجھے نہایت آرام سے لاہور لایا گیا۔ دوسرے دن لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو بھولی بسری یاد تازہ ہوگئی۔ پولیس والوں کو جیل کا راستہ معلوم نہ تھا۔ میں انہیں دہلی دروازے کی طرف لاسکتا تھا۔ وہ مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ جیل کس راستے سے جانا ہوگا۔ میں نے انہیں اوپر کا راستہ بتایا اور خود ہی کہا کہ شہر کے اندر جاؤ گے تو بڑی مشکل کا سامنا ہوگا۔ مجھے سب لوگ جانتے ہیں۔ بڑا بدنام شخص ہوں۔ سنسان راہوں سے زندوں کے قبرستان تک لے چلو۔ جیل کے دروازے پر پہنچے تو پہلے سے اطلاع ہو چکی تھی۔ ڈیوڑھی ہماری دیکھی بھالی تھی۔ افسر نئے تھے مگر تھے بھلے۔ دفتر میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ موجود تھے۔ وہ اخلاق سے پیش آئے۔ لسی پلائی اور حکم ہوا کہ دیوانی گھر میں ڈیرا لگائیے۔ میں نے کہا مجھے تو فوجداری میں پکڑا گیا ہے۔ دیوانی گھر کے کیا معنی۔ وہ ہنس کر فرمانے لگے۔ وہاں پہنچو گے تو معلوم ہو جائے گا کہ دیوانی گھر میں کیوں بھیجے جا رہے ہو۔ اچھا بھئی! لے چلو۔ اسباب اٹھوا کر اندر پہنچے۔ جونہی دیوانی گھر کا باہر کا دروازہ کھلا بلند قہقہوں اور مسرتوں کے ہجوم میں کھو گیا۔ مولانا ابوالحسنات، حضرت امیر شریعت، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا محمد علی جالندھری، شیخ حسام الدین ۔ غرضیکہ جدھر نگاہ اٹھتی ہے دوست

صفحہ ۲۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احباب اور غمگسار نظر آتے ہیں۔ دیوانی احاطے میں مکانیت تو بہت کم ہے۔ صرف دو بڑے کمرے مگر صحن بہت کھلا تھا۔ باغیچہ کیاریاں درخت پھول پھلواری اس پر لطف یہ کہ یہاں جو معزز ہستیاں موجود تھیں وہ باغ و بہار اور ایمان کو تازہ کرنے والی خوش خلق اور محبوب ہستیاں تھیں۔ ایک بار تو مجھے ایسے محسوس ہوا کہ خواب دیکھ رہا ہوں۔ آنکھ کھلے گی اور میں سندھ کی دور افتادہ جیل میں ہوں گا۔ آہستہ آہستہ جب باتیں شروع ہوئیں تو مجھے یقین آگیا کہ میں واقعی لاہور آگیا ہوں۔

مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد کے حالات

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کہ: مزید گرفتاریوں اور فریقین یعنی مجلس عمل اور حکومت دونوں کی طرف سے کیا کیا معرکہ آرائیاں ہوئیں۔ یہ بیان کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت کے اندر جو کچھ ہو رہا تھا اسے بھی قارئین کرام کے پیش کر دیا جائے۔ یہ سب معلومات حکومت کی خفیہ فائلوں کی کارروائی ہے جو ہم تک منیر انکوائری کمیشن کے توسط سے پہنچ پائی ہے۔

اس کارروائی سے آپ اندازہ لگائیں گے کہ محکمہ سی آئی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو کے کارندے کس قسم کی رپورٹیں مرتب کر رہے تھے۔ ان کا مبلغ معلومات کیا تھا اور ان میں سے بعض افسروں کا جذبہ کتنا قابل مذمت تھا۔ ملاحظہ از انٹیلی جنس بیورو حکومت پاکستان مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۵۳ء ذرائع خبر رسانی کی ایک رپورٹ جو کسی قدر قرین حقیقت معلوم ہوتی ہے مظہر ہے کہ تحریک ختم نبوت کے علم بردار پنجاب اور کراچی میں ۲۲؍فروری ۱۹۵۳ء سے اپنے پانچ مطالبات کے سلسلے میں سول نافرمانی کی ایک تحریک جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطالبات یہ ہیں۔

جس کے تیس ہزار مرید ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے تمام مرید اس تحریک میں اس کی پیروی کریں گے۔

چوبیس ہزار روپیہ صرف کر دینے کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔ ایک شخص محمد جوہر نائب ناظم اعلیٰ جماعت ختم نبوت اس شورش کے آغاز کے منصوبوں کی تکمیل کرے گا۔ لیکن محمد جوہر اس عمل کو شروع کرنے میں مشکلات محسوس کر رہا ہے۔ کیونکہ رضا کار کافی تعداد میں دستیاب نہیں ہوتے۔ آئندہ چند روز کے دوران میں اس کی واحد کوشش یہی ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ رضا کار بھرتی کرے۔ جو اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر سکیں۔ کل اس نے ایک شخص نیاز احمد کو بولٹن مارکیٹ کی میمن مسجد جمعہ کے نمازیوں کے سامنے تقریر کرنے کے لئے بھیجا۔ لیکن نیاز احمد تقریر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ خداداد اور قائد آباد کالونیوں کے بعض باشندوں کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ وہ بطور رضا کار بھرتی ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی پوری تعداد اب تک معلوم

صفحہ ۲۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہیں ہوسکی۔ تجویز یہ ہے کہ آئندہ چند روز کے اندر جہانگیر آباد میں جو عثمانیہ کالونی کے قریب ہے رضا کاروں کو بھرتی کرنے کی غرض سے ایک جلسہ منعقد کیا جائے۔

نصف شب کے وقت روانگی کے لئے تیار ہو جائیں۔

پاکستان کے دوسرے مقامات پر کیا منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔ لہذا استدعا کی جاتی ہے کہ تمام صوبوں کی سی آئی ڈی از راہ نوازش ضروری اقدام کی غرض سے فوری تحقیقات کرے۔

مندرجہ ذیل انتہائی خفیہ، نہایت فوری اور مرموز حروف میں ایک تار فارن کراچی کی طرف سے ۱۹/ فروری ۱۹۵۳ء کو پنجاب میں موصول ہوا۔

بعض تازہ مثالیں یہ ہیں۔ زمیندار مورخہ ۱۶، ۱۷/ فروری میں علی الترتیب مقالہ افتتاحیہ اور احمدیوں کے خلاف مضامین درج ہیں اور ۴، ۸، ۱۱/ فروری کے آزاد میں ایک سلسلہ مضامین اور نظمیں شائع ہوئی ہیں۔ اس سے قبل آزاد میں جو قابل اعتراض مضامین شائع ہو چکے ہیں ان کی طرف صوبائی حکومت کو توجہ دلائی جا چکی ہے۔

۲۲/ فروری سے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کریں گے۔ مرکزی حکومت کو مسرت ہوگی۔ اگر صوبائی حکومت اس اطلاع پر اپنے خیالات ظاہر کرے اور مرکزی حکومت کو یقین ہے کہ اخبارات کو شورش کی آگ بھڑکانے سے روکنے کی ضروری تدابیر اختیار کی جائیں گی۔

اس تار کے موصول ہونے پر چیف منسٹر، ہوم سیکرٹری اور مسٹر انور علی نے (جو اب مسٹر قربان علی خان کی جگہ انسپکٹر جنرل پولیس تھے) گفت و شنید کی۔ جس کا نتیجہ ۲۰/ فروری ۱۹۵۳ء کو مسٹر انور علی نے ان الفاظ میں قلمبند کیا۔ اس کیس پر آج صبح میں نے اور ہوم سیکرٹری نے چیف منسٹر صاحب سے گفتگو کی۔ چیف منسٹر صاحب نے مسودے میں جو ترمیمات تجویز کیں وہ کر دی گئی ہیں۔ کیا چیف سیکرٹری صاحب از راہ کرم اس پر دستخط کر دیں گے تاکہ اسے فوراً جاری کر دیا جائے۔

موصولہ ۱۹/ فروری ۱۹۵۳ء کے جواب میں ایک مرموز تار بھیج دیا جائے۔ مسودہ شامل ہے۔

ان کی مناسب اشاعت ہونی چاہئے۔ چیف منسٹر کی خواہش ہے کہ ہوم سیکرٹری ”آفاق“ مغربی پاکستان اور ”احسان“ کے ایڈیٹروں کو طلب کر کے انہیں مناسب ہدایات دیں۔ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ ڈی پی آر صاحب سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر سے بات کر کے ان کو مشورہ دیں کہ وہ صورتحالات کے متعلق زیادہ مقصدی انداز میں ایسے مضامین لکھیں جن سے عوام

صفحہ ۲۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہت زیادہ بے رخی کا اظہار نہ کریں۔

کریں اور بتائیں کہ ان کی شورش اب پرامن نہیں رہی اور ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جن سے عوام کے دلوں میں حقیقتاً خوف و دہشت کا احساس پیدا ہو گیا ہے۔ ان کو یہ بھی بتا دیا جائے کہ اگر امن و قانون کی حدود کو توڑا گیا تو صوبائی حکومت اس کے لئے براہ راست اس شورش کے علمبرداروں کو ذمہ دار قرار دے گی۔

انہیں ایسی تقریریں کرنے سے پرہیز کا مشورہ دیں جن میں عوام کو قانون و انتظام کی خلاف ورزی پر اکسایا گیا ہو۔ ڈائریکٹر تعلقات عامہ مولانا اختر علی خان کو علیحدہ طلب کر کے ان سے مناسب گفتگو کریں۔

عامہ کو ہدایات دے دیں۔

جو مرموز سائیفر تار ۱۹؍فروری کو کراچی سے موصول ہوا تھا۔ اس کے جواب میں چیف سیکرٹری نے ۲۱؍فروری کو مندرجہ ذیل تار ارسال کیا۔

’’جس شورش کی دھمکی دی گئی ہے وہ غالباً کراچی میں شروع کی جائے گی۔ لیکن اس کے اثرات اس صوبے (پنجاب) اور دوسرے صوبوں میں بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت صورتحال سے برابر مطلع ہے۔ آپ کی راہنمائی حاصل کرنے کی غرض سے مفصل چٹھی آج ارسال کی جارہی ہے۔‘‘

اس تار کے ساتھ چیف منسٹر کی منظوری سے مندرجہ ذیل چٹھی بھی ارسال کی گئی۔ نمبر 2249BDSB پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۵۳ء مکرمی احمد صاحب از راہ کرم غیاث الدین کی ڈی۔ او چٹھی نمبر BDSB مورخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۵۲ء بنام حمید الدین احمد احرار شورش کے موضوع پر لکھی گئی تھی۔ بغرض حوالہ پیش نظر رکھ لیجئے۔

دوبارہ جاری کر دی گئی ہیں۔ صوبے بھر میں بے شمار کانفرنسیں اور جلسے منعقد کئے گئے ہیں اور آتش ریز تقریریں کی گئی ہیں۔ ملاؤں کی تائید و حمایت حاصل کر لی گئی ہے اور احمدیوں کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔ گوجرانوالہ میں مطبوعہ اشتہارات نشر کئے گئے جن میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا جائے اور کھانے پینے کی چیزوں کی دکانوں پر ان کے لئے علیحدہ برتن رکھے جائیں۔ کچھ مدت تک ضلع گوجرانوالہ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ احمدیوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ صرف پولیس کی مداخلت ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ایسے واقعات نہ ہونے پائے۔ احمدیوں نے جو اس نئی حرکت سے بہت زیادہ مضطرب ہو گئے تھے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ انہیں اپنا علیحدہ قبرستان بنانے کے لئے زمین الاٹ کی جائے۔ یکم؍فروری ۱۹۵۳ء کو سرگودھا میں مسلمانوں کے قبرستان میں ایک احمدی کی میت کی تدفین کے خلاف مزاحمت کی گئی۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ جس سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ احمدیوں کے مجلسی مقاطعہ کی تلقین کھلم کھلا کی جارہی ہے۔ منٹگمری میں ایک مقرر نے کہا کہ احمدیوں کی دکانوں پر پکٹنگ کیا جائے اور ان کو عوامی کنوؤں سے پانی بھرنے کی

صفحہ ۲۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اجازت نہ دی جائے۔ شورش کا لہجہ قطعی طور پر نہایت پست اور مبتذل صورت اختیار کر گیا ہے۔ صوبے بھر میں رضا کاروں کی بھرتی کے لئے ایک مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور صاحبزادہ فیض الحسن پہلا ڈکٹیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ رضا کاروں سے ایک حلف نامے پر دستخط کرائے جاتے ہیں کہ اگر رسول پاک ﷺ کی عزت کے لئے جان دینے کی ضرورت پڑے گی تو وہ اس میں دریغ نہ کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض رضا کاروں نے حلف نامہ اپنے خون سے لکھ کر پیش کیا ہے۔ لاہور میں کوئی ڈیڑھ سو اشخاص بھرتی ہوئے ہیں۔ صوبے کے دوسرے حصوں میں اب تک جو رضا کار بھرتی ہوئے ہیں ان کی تعداد کا اندازہ پانچ سو کے قریب کیا جاتا ہے۔ صوبے بھر میں پچاس ہزار رضا کاروں کو بھرتی کرنا مقصود ہے۔ ماسٹر تاج الدین انصاری ( صدر آل پاکستان مجلس احرار )، سید مظفر علی شمسی (سیکرٹری ادارہ تحفظ حقوق شیعہ ) اور صاحبزادہ فیض الحسن کا رویہ خصوصاً جارحانہ ہو رہا ہے۔

کراچی میں منعقد ہوا جس میں حسب معمول مطالبات کی قراردادیں منظور کی گئیں۔ اس کنونشن کے مندوب جب سے پنجاب واپس آئے ہیں۔ ان کا طرز عمل پہلے کی نسبت زیادہ سرکشانہ ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کراچی میں علماء کی کانفرنس نے احمدیوں کو ایک اقلیت قرار دینے کی جو حمایت کی ۔ اس سے ان لوگوں کو بہت تقویت پہنچی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ وزیر اعظم نے جن سے وہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کے مطالبات سے ہمدردی نہیں کی۔ لہٰذا انہوں نے صاحب موصوف کو الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ ۲۳؍ فروری کو راست اقدام کریں گے۔ وہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کراچی کے عوام ان کے حامی ہیں اور اگر تحریک شروع کی گئی تو وہ جوق در جوق اس کی حمایت کریں گے۔ وہ مرکزی حکومت کے ارکان پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے وعدے کئے لیکن ان کا ایفا نہ کیا۔ کراچی سے مندوبین کی واپسی کے بعد اس شورش میں ایک نئے پہلو کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یعنی عزت مآب وزیر اعظم پاکستان کے خلاف بدگوئی اور دشنام طرازی کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ شورش کے ابتدائی مرحلوں میں سر ظفر اللہ خان کی موقوفی کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ لیکن اب بعض مقررین یہ کہہ رہے ہیں کہ عزت مآب وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔

جائیں گے۔ ”ڈائریکٹ ایکشن“ احمدیوں کی دکانوں پر پکٹنگ کی شکل اختیار کرے گی۔ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر دفعہ ۱۴۴ کے ماتحت احکام جاری کئے گئے تو ان کی خلاف ورزی کی جائے گی۔ مطالبات حسب ذیل ہیں۔

راولپنڈی ) پیر صاحب سیال شریف (ضلع سرگودھا ) پیر صاحب علی پور سیداں (ضلع سیالکوٹ ) پیر شوکت حسین (سجادہ نشین ملتان ) اور دیگر حضرات نے اس شورش کو برکت کی دعا دی ہے۔ سرمایہ جمع کیا جا رہا ہے اور ایک روپے کے نوٹ چھاپ کر فروخت کئے جا رہے ہیں۔ بازاری اور غنڈہ عناصر نے بھی شورش پسندوں کی تائید اختیار کر لی ہے۔ آزاد پاکستان پارٹی کی شاخ نے شورش پسندوں کو ایک ہزار روپے کی رقم عطاء کی ہے۔

صفحہ ۲۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وزیر اعظم کے دورہ کی تاریخ کو ہڑتال کی جائے اور مکانوں کی چھتوں پر کالی جھنڈیاں لگائی جائیں۔ مقررین نے احتیاطاً اس بات پر زور دیا کہ تشدد سے کام نہ لیا جائے۔ لیکن عملاً وہ عوام کے احساسات کو مشتعل کرنے میں برابر مصروف رہے۔ بعض مقررین نے اپنی تقریروں میں کہا کہ نافرمانی شروع ہونے کی حالت میں پولیس جن ملازموں کو گرفتاریاں کرنے کا حکم دے۔ تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ روز قیامت انہیں ان افعال کے لئے جوابدہی کرنی پڑے گی۔ جو ان کے فرائض مذہبی کے منافی ہوں گے۔ ۱۶ تاریخ کی صبح کو سکولوں کے لڑکوں اور بازار کے لونڈوں کے دستے ادھر ادھر بھیج دیئے گئے اور دکانداروں کو دکانیں بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بہت سے لوگ اپنی دکانیں کھلی رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کو دھمکایا گیا اور غریب ان لڑکوں اور دوسرے لوگوں کے سامنے جو بازاروں میں چکر کاٹ رہے تھے۔ عاجز آکر دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چند سکول بھی بند کر دیئے گئے۔ دو ایسے واقعات بھی ہوئے۔ جن میں تشدد اور خونریزی تک نوبت پہنچ گئی۔ ایک واقعہ دیال سنگھ کالج کے باہر اور دوسرا تعلیم الاسلام (احمدیوں کی درسگاہ) میں رونما ہوا۔ جب ان کالجوں کے طلبہ نے ہڑتال کرنے سے انکار کیا تو طرفین کی طرف سے خشت باری ہوئی اور لوگ زخمی ہوئے۔ سر ظفر اللہ خان کا ایک جنازہ بھی نکالا گیا اور متعدد چھوٹے چھوٹے جلوس بازاروں میں چکر لگانے لگے۔ پابند قانون شہری ان مظاہروں کو پسند نہ کرتے تھے۔ لیکن محض اس خوف سے ناپسندیدگی کا اظہار نہ کرتے تھے کہ مبادا ان کو بھی احمدی قرار دے دیا جائے۔

کے غیظ وغضب کو اس حد تک مشتعل کر دیا ہے کہ اب ان کے لئے پیچھے ہٹنا بے حد مشکل ہے۔ وہ بڑی تیز تند اور جنگجویانہ تقریریں کرتے رہے ہیں اور انہیں محض اپنی عزت سلامت رکھنے کی خاطر بھی ۲۳ تاریخ کو کوئی نہ کوئی ڈرامائی اقدام کرنا پڑے گا۔

تقریریں کی جاتی ہیں۔ ۱۶ تاریخ کو بعض دکانداروں کے منہ کالے کر دیئے گئے۔ کیونکہ انہوں نے دکانیں بند کرنے سے انکار کیا تھا۔ دیال سنگھ کالج کے قریب مظاہرین نے ایک موٹر کار کو بھی کسی قدر نقصان پہنچایا۔ ۱۸ تاریخ کو نارتھ ویسٹرن ریلوے کی ورکشاپ میں ایک احمدی جو کئی روز سے طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ غصے میں بھر گیا اور اس نے ایک غیر احمدی کو لوہے کی ایک سلاخ مار کر بیہوش کر دیا۔ اس وقت سے یہ احمدی مفرور ہے اور اس کا کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں۔ لاہور میں ایک ڈپو ہولڈر نے ایک احمدی عورت کے ہاتھ گیہوں فروخت کرنے سے انکار کر دیا اور آخر اس وقت مہربان ہوا جب عورت نے یہ وعدہ کر لیا کہ احمدیوں کے خلاف جو تحریک شروع کی جائے گی۔ وہ اس میں شامل ہو گی۔ سنت نگر کے پرائمری سکول کے ایک طالب علم کو اس کے ہم جماعتوں نے گھیر لیا۔ اس کو تھپڑ مارے اور مرزائی کتا کے نعرے لگائے۔

داخل ہیں۔ اس لئے حکومت کو اس صورت حالات کا مداوا کرنے میں سخت دقت محسوس ہو رہی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اگر مرکزی حکومت ان مطالبات کے متعلق ایک مضبوط پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کرے تو صوبائی حکومت کے ہاتھ کافی مضبوط ہو جائیں گے۔ وہ پالیسی کچھ بھی ہو لیکن اس کے اعلان کے بعد کسی کو اس بارے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے گا کہ حکومت پاکستان کا ارادہ کیا

صفحہ ۲۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے اور وہ کیا رویہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔ صوبائی حکومت محسوس کرتی ہے کہ وہ صوبے کے اندر اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے کے لئے کافی طاقتور ہے۔ آپ کا مخلص : دستخط ایچ اے حمید

بخدمت جی. احمد اسکوائر سیکرٹری حکومت پاکستان۔ وزارت داخلہ کراچی

اسی دن مسٹر انور علی انسپکٹر جنرل پولیس نے چیف سیکرٹری کو یہ یاداشت لکھ کر ارسال کی۔

”حکومت غالباً اس تقریر کی روئیداد پر مطلع ہونے کی خواہاں ہوگی جو مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵؍ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور کے ایک جلسے میں کی۔ ایک بات خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے کہ ایک دفعہ زور خطابت میں اس مقرر نے اعتراف کیا کہ وہ اور ان کی جماعت تقسیم ملک کے خلاف تھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جن وجوہ کی بناء پر وہ تقسیم کے خلاف تھے۔ وہ لوگوں پر ظاہر ہونے چاہئیں۔ لیکن اگر اب تک انہیں ان کا شعور حاصل نہیں ہوا تو ایک یا دو سال کے اندر انہیں سب معلوم ہو جائے گا۔ اس نے حکومت کی شدید مذمت کی اور اس کے حملوں کا سب سے بڑا ہدف وزیراعظم پاکستان تھے۔ اس جلسے میں مقررین نے پنجاب اور صوبہ سرحد کے چیف منسٹروں کو بھی برا بھلا کہا۔ وزیراعظم پاکستان کو کھلم کھلا مرزائی کہا جا رہا ہے۔ ایک اور جلسے میں عطاء اللہ شاہ بخاری نے ان کو بدھو الدین احمقون کہا۔ ان تقریروں کی خصوصیت صرف تحقیر تھی۔“

ہیں ۔ جو شخص بدنظمی اور ابتری پھیلانے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ احرار اور دیگر علماء جو ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں عوام کی توجہ کو ان سنگین مسائل کی طرف سے جو آج ملک کو درپیش ہیں۔ منحرف کرنے میں خاص طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اس ابتری کی وجہ سے عوام کا وہ عزم کمزور ہو جائے گا جو ان مسائل کا مقابلہ اور ان کا مداوا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ ہمارے پاس اس امر کی شہادت موجود ہے کہ احرار نے آزاد پاکستان پارٹی کی شاخ بہاول پور سے روپیہ لیا۔ یہ لوگ پاکستان کی بیخ کنی کر رہے ہیں۔ حکومت کو کمر ہمت باندھ کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ حکومت پڑھے لکھے طبقے کی ہمدردی کھو چکی ہے اور اب غیر ملکی لوگ بھی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حکومت غالباً اس بحران کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی جو علماء نے پیدا کر رکھا ہے۔ ”لندن ٹائمز“ کے نمائندے نے حکومت پنجاب کے ایک افسر سے یہ کہا کہ مرکزی حکومت کمزور ہے اور موجودہ مسائل کے مؤثر مداوا کی قوت نہیں رکھتی۔ رات لاہور کے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی صورتحال بے حد تشویش انگیز ہے اور ایک عام ہنگامہ عنقریب برپا ہونے والا ہے۔ حسین شہید سہروردی، ملک خضر حیات خان اور نواب ممدوٹ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ہم نے مرکزی حکومت کو صورتحال کی نزاکت سے مطلع کر دیا ہے۔ امید ہے کہ وہ کوئی مضبوط طرز عمل اختیار کرے گی۔

میں جو تقریر کی تھی اس کی بناء پر اس کے خلاف زیر دفعہ ۱۲۴-الف مقدمہ چلایا جائے۔ میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ کیس اب کس مرحلے میں ہے۔

یہ واضح تھا کہ ”ڈائریکٹ ایکشن“ کسی وقت بھی صورت اختیار کرے گا۔ مسٹر انور علی نے پولیس کے تمام سپرنٹنڈنٹوں اور سی آئی ڈی کے گروپ افسروں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ چوکنے رہیں اور صورتحال کا مطالعہ احتیاط سے کرتے رہیں۔ ان افسروں سے استدعا

صفحہ ۲۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھی کی گئی کہ رضا کاروں کی بھرتی کے متعلق معلومات فراہم کریں اور بعد میں جو اعداد و شمار موصول ہوئے وہ مظہر تھے کہ صوبہ بھر میں پچپن ہزار سے زیادہ رضا کار ہو چکے ہیں۔

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ۱۴۱ تا ۱۴۶)

سی۔ آئی۔ ڈی کی ان خفیہ رپورٹوں کو پڑھ کر دکھ ہوتا ہے کہ کتنی ناقص اور ادھوری معلومات ہیں۔ سی۔ آئی۔ ڈی کی اطلاعات نہیں۔ کسی دیوانے شخص کی قیاس آرائیاں معلوم ہوتی ہیں۔ ان اطلاعات اور معلومات پر کوئی سربراہ مملکت ملک کے اندرونی حالات اور نظم و نسق کا خاک اندازہ لگا سکے گا اور فیصلہ کر سکے گا۔ ان تمام اطلاعات میں صرف ایک ہی بات حسب حال اور درست تھی جو انسپکٹر جنرل پولیس کو لاہور کے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے دی تھی اور جس کا ذکر اوپر آئی۔ جی صاحب کی رپورٹ بنام چیف سیکرٹری میں آیا ہے۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے قبل از وقت بتا دیا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی صورتحال بے حد تشویش انگیز ہے اور ایک عام ہنگامہ برپا ہونے والا ہے۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو اس کی انٹیلی جنس نے کتنی صحیح رپورٹ کی ہوئی تھی۔ اس نے جو کچھ بتایا وہ خبر نہیں پیش گوئی معلوم ہوتی ہے۔ یہ بحث اس لئے چھڑ گئی ہے کہ سی۔ آئی۔ ڈی کی مذکورہ رپورٹوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر ملک کے اندر جو کچھ ہو رہا تھا اس کے متعلق ان لوگوں کو مطالعہ مشاہدہ اور معلومات یہ ہیں تو ملک کے متعلق بیرون ملک جو کچھ ہوتا ہو گا پاکستان کا دشمن ملک انڈیا جو کچھ سازشوں کے جال بنتا رہا ہو گا اس کے متعلق ان کی معلومات کا ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔ جن دنوں آغا شورش کاشمیری کراچی میں ختم نبوت کے سلسلہ میں نظر بند تھے اور ان کی بھوک ہڑتالیں اور ہنگامے جاری تھے۔ آخر آغا صاحب کی آخری لمبی بھوک ہڑتال کے بعد حکومت نے انہیں رہا کر دیا۔ ان دنوں وہ سول ہسپتال کراچی میں تھے۔ راقم الحروف (مولانا تاج محمود) ان کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔ رہائی کے بعد کراچی کے مشہور صنعت کار حافظ حبیب اللہ پراچہ تقریباً روزانہ ہمارے پاس آتے اور حال پوچھ کے چلے جاتے۔ ایک روز انہوں نے ہمیں بتایا کہ میں چونکہ ایک زمانہ میں ہانگ کانگ رہا ہوں اور وہاں میرا وسیع کاروبار تھا۔ اس تعلق کی بنیاد پر مجھے وہاں کا ایک انگریزی اخبار اب تک یہاں کراچی آتا ہے۔

غالباً اس کا نام ہانگ کانگ ٹائم بتایا تھا۔ پراچہ صاحب نے بتایا کہ آج جو اخبار ہانگ کانگ سے آیا ہے اس میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ آئندہ مارچ کے قریب پاکستان میں ایک زبردست تحریک چلنے والی ہے۔ پراچہ صاحب نے غالباً یہ بتایا تھا کہ اخبار میں ہے تحریک ختم نبوت چلنے والی ہے۔ جس کی وجہ سے پورا پاکستان ہنگاموں کی لپیٹ میں آجائے گا اور حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔ یہ دسمبر ۱۹۶۸ء کے آخری ہفتہ کی بات ہے۔ اس وقت صدر ایوب خان کے خلاف کسی وسیع تحریک کے چلنے اور چلانے کا کسی کو خواب و خیال تک نہ تھا۔ لیکن انگریزوں کی خفیہ تنظیم کا کمال ملاحظہ ہو۔ گویا خبر نہیں پیشین گوئی کر دی تھی۔ خدا کرے کہ ہمارے ملک کی انٹیلی جنس اور سی۔ آئی۔ ڈی کی تنظیم کی اصلاح کر دی گئی ہو۔

ان پڑھ اور قیاس آراء قسم کے افسروں کی بجائے پڑھے لکھے حقائق اور واقعات کا مطالعہ اور مشاہدہ کرنے والے لوگ برسرکار ہوں۔ تاکہ ملک کے خلاف کوئی ادنیٰ سازش بار آور نہ ہو سکے۔

قادیانی جو کچھ اس ملک میں کر رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ شاید ہمارے ملک کی انٹیلی جنس اور سی۔ آئی۔ ڈی کا اگر محکمہ درست کام کر رہا ہے تو بر سر اقتدار لوگ بابر بہ عیش کوش میں ان رپورٹوں سے غافل ہیں۔

ابھی حال ہی میں جب مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ افریقہ اور یورپ کے دورہ سے واپس آئے تو انہوں نے مرزائیوں سے بیس لاکھ روپے کے قریب چندہ کی اپیل کی اور کہا کہ یہ رقم بیرونی ممالک میں تعلیم اور تبلیغ کے لئے درکار ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت

صفحہ ۲۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہمیں زر مبادلہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں دیتی۔ لیکن حکومت کا کیا ہے حکومتیں ایک رات میں بدل جایا کرتی ہیں۔ تم فوراً روپیہ دے دو جس رات حکومت بدل جائے گی۔ اس صبح کو میں یہ رقم فوراً بھیج سکوں گا۔ مرزا ناصر احمد نے یہ رقم زیادہ سے زیادہ نومبر ۱۹۷۰ء تک طلب کی ہے۔ اگر چہ مرزائیت کی تنظیم کا کمال ہے کہ انہوں نے دو ہفتوں میں مطلوبہ رقم جمع کر کے خلیفہ کے حوالے کر دی ہے۔ لیکن بات انٹیلی جنس کی ہو رہی ہے۔ نومبر سے پہلے رقم جمع کرنا چاہتا ہے۔ روپیہ باہر جائے گا۔ زر مبادلہ ملتا نہیں۔ لیکن اسے یقین ہے۔ حکومتیں بدل جایا کرتی ہیں اور ایک رات میں بدل جایا کرتی ہیں۔ اس پر راقم الحروف نے لولاک میں ایک اداریہ سپرد قلم کیا کہ ہمیں اس جملہ سے سازش کی بو آتی ہے۔ یہ کہیں صدر یحییٰ خان کی حکومت کا تختہ تو راتوں رات الٹنا نہیں چاہتا۔ لیکن اس ملک میں کوئی اس طرح کی بات کرنا۔ قبرستان میں اذان دینے کے مترادف ہے۔

غور کرے حکومت اس جملہ کے مفہوم اور مطلب کو سمجھے اور ربوہ سے اس کی وضاحت کرائے کہ راتوں رات حکومت بدل جایا کرتی ہے کا مفہوم کیا ہے۔ کیا نومبر ۱۹۷۰ء سے پہلے ملک میں کوئی گل کھلنے والا ہے۔ جس میں مرزا ناصر احمد یا اس کے سرپرستوں امریکہ اور برطانیہ کا ہاتھ ہوگا۔ یہ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر بات آ گئی تھی۔ آمدم برسر مطلب بہر حال ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کی صبح کو کراچی میں تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ ان گرفتاریوں سے پہلے کا کچھ پس منظر بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ کس طرح مرکزی حکومت کے تین سیکرٹری ملک غلام محمد گورنر جنرل کی تائید سے سازشوں میں مصروف تھے اور کس طرح مسلم لیگ کی حکومت ان افسروں کے ہاتھوں کا کھلونا بنی ہوئی تھی۔ الٹی میٹم کے دن پورے ہو گئے۔ لیکن انہیں چار روز مزید انتظار کرنے کو کہا گیا تا کہ مشرقی پاکستان کے نمائندے بھی شرکت کر سکیں۔

۲۶؍ فروری ۱۹۵۳ء کو مجلس عمل کا آخری اجلاس ہونا تھا اور اس میں فیصلہ کو عملی جامہ پہنا کر اس کا اعلان کرنا تھا۔ اسی لئے ۲۶، ۲۷؍ فروری کی درمیانی شب آرام باغ میں جلسہ عام بھی بلایا ہوا تھا۔ تا کہ پروگرام کا اعلان عام ہو جائے۔ آثار و قرائن اور خفیہ اطلاعات سے حکومت ان تمام حالات کا اندازہ لگا چکی تھی اور ان انتظار کے چار دنوں میں بعض لیڈروں کو تحریک سے توڑنے میں بھی کامیاب ہو چکی تھی۔ ۲۶؍ فروری کی صبح کو مجلس عمل کا اجلاس تھا۔ ۲۶؍ فروری کی شام کو خواجہ ناظم الدین نے اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کیا۔ تا کہ تحریک کی صورتحال کا آخری جائزہ لیا جا سکے اور کوئی آخری فیصلہ بھی کیا جا سکے۔

کابینہ کے اس اجلاس میں مرکزی وزراء کے علاوہ سرحد اور پنجاب کی حکومتوں کے سربراہوں کو بھی طلب کیا گیا تھا۔ چنانچہ خواجہ شہاب الدین گورنر سرحد اور خان عبدالقیوم خان وزیر اعلیٰ سرحد دونوں اجلاس میں شریک ہوئے۔ پنجاب کے دونوں سربراہ آئی آئی چندریگر گورنر اور میاں محمد ممتاز خان دولتانہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ البتہ انہوں نے اپنے نمائندوں مسٹر محمد حسین چٹھہ وزیر مال، مسٹر غیاث الدین مرحوم ہوم سیکرٹری، میاں انور علی انسپکٹر جنرل پولیس کو اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے بھیج دیا۔ مسٹر آئی آئی چندریگر اور میاں ممتاز دولتانہ صاحب نے اپنے نمائندوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ اجلاس میں حکومت پنجاب کا نقطہ نگاہ پیش کر دیں کہ یہ مطالبات غیر معقول ہیں اور سختی سے ان کی مزاحمت ہونی چاہئے۔ کابینہ کا اجلاس رات ۹ بجے تک کئی گھنٹے جاری رہا۔ لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور اجلاس دوسرے روز پر ملتوی ہو گیا۔ بعد میں جب سکندر مرزا اور مسٹر جی احمد نے خواجہ ناظم الدین کو جلسہ ختم ہونے کے بعد جگایا اور اجلاس فوری طلب کیا گیا۔ کابینہ کے اس اجلاس میں بھی سرحد اور پنجاب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ گورنر سندھ، سیکرٹری وزارت داخلہ ڈپٹی چیف آف سٹاف اور کمشنر کراچی بھی اجلاس میں شامل ہوئے۔ اس اجلاس میں مندرجہ ذیل باتوں کا فیصلہ کیا گیا ۔

صفحہ ۲۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا احتمال ہو۔

مجلس عمل کے الٹی میٹم کی رو سے اصولی طور پر ۲۲؍ فروری کو تحریک کا آغاز ہو جانا چاہئے تھا۔ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ صاحب پنجاب سے پہلا جتھہ لے کر کراچی چلے گئے تھے۔ ان کے بعد دوسرا جتھہ لے کر سالار معراج الدین بھی روانہ ہو گیا ہے۔ یہ دونوں جتھے سلامتی کے ساتھ کراچی پہنچ گئے۔

پنجاب اور سرحد میں بڑی ہلچل اور بے چینی تھی۔ لوگوں کو مجلس عمل کے پروگرام کا انتظار تھا۔ تفصیل کے ساتھ کوئی اطلاع نہیں آرہی تھی۔ در حقیقت مجلس عمل کے راہنماء مشرقی پاکستان کے ممبران کے منتظر رہے اور ۲۲ کی بجائے چار روز تاخیر سے ۲۶؍ فروری کو اجلاس منعقد ہوا۔ ۲۷؍ فروری صبح کو مجلس عمل کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہو گئیں۔ لیکن اخبارات وغیرہ میں خبر نہ آسکی۔ ٹیلی فون کے رابطہ سے صرف محدود لوگوں کو معلوم ہوسکا۔ اگلے دن ۲۸؍ فروری کو جب پنجاب کے مختلف شہروں میں گرفتاریاں ہوئیں تو لوگوں کو پتہ چلا کہ اب تحریک شروع ہو گئی ہے۔

صوبائی حکومتوں میں پنجاب کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ کیونکہ پنجاب ہی دراصل اس تحریک کا گڑھ تھا۔ مسٹر محمد حسین چٹھہ وزیر مال، مسٹر غیاث الدین احمد ہوم سیکرٹری اور مسٹر انور علی آئی۔جی پولیس کراچی کے فیصلوں سے آگاہ اور مسلح ہو کر ۲۷؍ فروری کو لاہور پہنچ گئے۔ مسٹر انور علی آئی۔جی پولیس نے مرکزی فیصلوں کی روشنی میں اپنا پروگرام بنایا اور چند تجاویز مرتب کیں۔ اسی روز یہ تجویز ایک اجلاس میں پیش ہو کر منظور ہوئیں۔ اس اجلاس میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مسٹر محمد حسین چٹھہ وزیر مال، ہوم سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، اے ۔ جی ۔ سی ۔ آئی ۔ ڈی ، ایس ۔ پی ، سی ۔ آئی ۔ ڈی شریک تھے اور اس اجلاس میں منظور ہونے والی تجاویز حسب ذیل تھیں ۔

ایکٹ گرفتاریاں کرنی چاہیں ۔ لاہور میں صوبائی حکومت گرفتاریوں کی مجاز ہو گی۔

کریں اور انہیں سمجھائیں کہ ان گرفتاریوں پر خوشی کا اظہار نہ کیا جائے اور آئندہ ایک یا دو ماہ انتہائی ضبط و تحمل سے کام لیا جائے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ اصالتاً خلیفہ بشیر الدین محمود کو تنبیہ کر دیں کہ وہ اپنی جماعت کے ممبران کو خصوصاً اپنی سیکرٹریٹ کے عملے کو ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے باز رہنے کی تلقین کر دیں ۔

صفحہ ۲۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گرفتاریوں کا بندوبست کر سکیں۔

بتائیں اور ان سے استدعا کی گئی کہ عوام میں سے معقول لوگوں کا تحریک کے خلاف تعاون حاصل کیا جائے۔

چنانچہ ان فیصلوں کی روشنی میں ۲۷ فروری کی شام مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں اور پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو سرگرم رہنماؤں کی گرفتاریوں کے احکام بذریعہ وائرلیس بھیج دیئے گئے ۔ جن میں مولانا محمد علی جالندھری ملتان ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا غلام اللہ خان راولپنڈی ، مولانا عبداللہ ، مولانا لطف اللہ منٹگمری ، مولوی محمد اسماعیل گوجرانوالہ ، قاضی منظور احمد سیالکوٹ ، ولی محمد جرنیل سیالکوٹ ، شیخ محمد سعید خانیوال ، مولوی عبیداللہ لائل پور ، غازی محمد حسین تاندلیانوالہ ، مرزا غلام نبی جانباز لائل پور ، مولوی عبداللہ سرگودھا اور قاضی محمد امین شیخوپورہ شامل تھے ۔

۲۷، ۲۸؍ فروری ۱۹۵۳ء کی درمیانی رات ۲ بجے کے قریب ان لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ صرف سیالکوٹ کے ولی محمد جرنیل کو سیالکوٹ پولیس نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر گرفتار نہ کیا۔ اگر چہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے رہنماؤں کی گرفتاریوں کی خبر ۲۷ فروری ہی کو بذریعہ ٹیلی فون کراچی سے لاہور پہنچ چکی تھی ۔ لیکن جب ۲۸ فروری کو پنجاب کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کی خبر عوام کو معلوم ہوئی تو اس وقت انہیں یہ معلوم ہوا کہ تحریک ختم نبوت شروع ہو چکی ہے ۔ پھر کیا تھا پنجاب کے تمام شہروں میں ہڑتالیں ہو گئیں۔ صبح سویرے ہی بازاروں ، گلیوں ، کوچوں میں دس دس ، بیس بیس آدمیوں کی ٹولیاں بن کر لوگ کھڑے ہو گئے ۔ تحریک ختم نبوت اور مرزائیت کا مسئلہ ہر شخص کا موضوع سخن بن گیا۔ لوگوں کو انتہائی قلق اور صدمہ ہوا کہ حکومت نے مطالبات کو تسلیم کرنے کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مٹ جانے اور مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

لاہور ، راولپنڈی ، سیالکوٹ ، لائل پور ، ملتان ، سرگودھا ، منٹگمری ، گوجرانوالہ ، گجرات ، جہلم تقریباً تمام شہروں اور قصبوں میں مکمل ہڑتالیں ہوئیں اور وسیع پارکوں اور میدانوں میں مجلس عمل کے جلسے منعقد ہوئے ۔ لیکن ۲۸ فروری کے جلسوں اور ان میں ہونے والی تقریروں کا مضمون ، لب ولہجہ ، انداز سب کچھ بدل چکا تھا ۔ اس سے پہلے ہونے والے جلسوں میں تقریریں ہوتی تھیں ۔ تبلیغ ہوتی تھی ۔ مرزائیوں کا کفر زیر بحث آتا تھا ۔ قرآن مجید اور حدیث پاک کی روشنی اور دلائل میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور ثبوت بیان ہوا کرتا تھا ۔ زیادہ سے زیادہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ہوتا تھا ۔ لیکن اب تقریریں نہیں مقررین آگ برسا رہے تھے ۔ مرزائیت کے خلاف گولہ باری شروع تھی ۔ اب چار مطالبات (۱) مرزائیوں کو اقلیت قرار دو۔ (۲) مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کرو۔ (۳) چوہدری ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے الگ کرو۔ (۴) ناظم الدین پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دیں ۔ لاہور دہلی دروازہ کے باہر جلسہ ہوا ۔ بیرونجات سے ہزاروں کی تعداد میں رضا کار لاہور پہنچنے لگے ۔ مرکزی رہنماؤں کی گرفتاریوں کی خبر سن کر ۲۷ فروری کو جو جتھہ لاہور سے غازی علم دین (ادارہ خدمت خلق والے) کی زیر سرکردگی روانہ ہوا تھا ۔ اسے ۲۸ فروری کو لودھراں ریلوے اسٹیشن پر اتار کر گرفتار کر لیا گیا ۔

صفحہ ۲۷۶

تقریباً ہر جگہ ۲۸؍ فروری کے جلسوں میں تحریک ختم نبوت کے شروع کر دینے کا اعلان ہوا۔ جتھوں کی روانگی، اخراجات کی فراہمی، تحریک چلانے والے ڈکٹیٹروں اور انچارجوں وغیرہ کے فیصلے ہوئے۔ نیز یہ طے کر لیا گیا کہ اگر پہلا ڈکٹیٹر گرفتار کر لیا جائے تو اس کے بعد تحریک کا سربراہ کون ہوگا۔ ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ مجلس عمل کا فیصلہ یہ تھا کہ گرفتاریاں کراچی میں دی جائیں گی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ تینوں مطالبات ایسے تھے جن کا تعلق مرکزی حکومت سے تھا۔ تحریک کے سلسلہ میں جو قیامت صوبہ میں بپا تھا اس سے صوبائی حکومت تو متاثر تھی اور آہستہ آہستہ اپنی گردن جھکاتی ہی چلی آئی تھی۔ لیکن مرکزی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ جس کی ایک وجہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں میں اختلاف تھا۔ وہ اختلاف اگر چہ دوسرے سیاسی مسائل کی وجہ سے تھا۔

لیکن اس کا اثر تحریک پر پڑ رہا تھا۔ پھر ایک ظلم یہ ہوا کہ حمید نظامی مرحوم نے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کو کہا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ دولتانہ صاحب کروا رہے ہیں تاکہ مرکزی حکومت کو گرایا اور پچھاڑا جائے۔ حمید نظامی کے اس قصہ کے پیچھے نواب ممدوٹ اور دولتانہ کا اختلاف اور باہمی دشمنی تھی۔ حمید نظامی صاحب ممدوٹ کے ساتھی اور دولتانہ کے دشمن اور دولتانہ صاحب سے زخم خوردہ تھے۔ دولتانہ نے نوائے وقت کو بند کیا تھا اور کئی چرکے نظامی صاحب کو ممدوٹ کی حمایت کے جرم میں پہنچائے تھے۔ اب جب دولتانہ کی وزارت کے دور میں ختم نبوت کی تحریک منظم ہوئی اور چل نکلی تو ممدوٹ صاحب اور نظامی صاحب کے دولتانہ صاحب کو گرانے اور پچھاڑنے کا وقت آن پہنچا۔ ویسے بھی نوائے وقت میں مرزائیوں کے شیئرز تھے۔ مال روڈ لاہور کی ایک دوائیوں کی بہت بڑی دوکان ’’فضل دین اینڈ سنز‘‘ کے مالکان اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ نوائے وقت کے حصہ دار تھے۔ خود نظامی صاحب پر بھی میاں انور علی آئی. جی پولیس نے انکوائری کمیشن کے سامنے یہ الزام عائد کیا کہ وہ لاہوری مرزائی ہیں۔ گو اگلے روز نظامی صاحب نے کمیشن کے سامنے تردیدی درخواست دی کہ وہ نہ لاہوری اور نہ قادیانی مرزائی ہیں۔ لیکن نوائے وقت پر مرزائیوں کا اثر تھا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت تھی۔

فیصلہ یہ تھا کہ مجلس عمل مرکزی حکومت سے ٹکر نہ لے اور اس کی شکل یہ ہوگی کہ تمام جتھے کراچی جائیں گے اور وہاں گرفتاریاں دی جائیں گی۔ لیکن یہ مجلس عمل کا صرف فیصلہ تھا۔ اس فیصلہ کی پبلسٹی نہ ہوئی تھی۔ جب تحریک کا آغاز ہوا تو تمام جتھے لاہور جانا شروع ہو گئے۔

لاہور کے حالات

ماسٹر تاج الدین انصاری فرماتے ہیں کہ: ہماری نادان مسلم لیگی حکومت نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سرکردہ راہنماؤں کو کراچی میں گرفتار کر لیا تو لاہور میں جو اس تحریک کا مرکزی مقام تھا۔ جذبات کی آندھی چلی۔ لوگوں کو سخت صدمہ ہوا۔ اب انہیں سنبھالنے والا کوئی نہ تھا۔ لاہور میں تحریک کے راہنما مولانا ابوالحسنات، ماسٹر تاج الدین، سید مظفر علی شمسی، ملتان سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری اور دیگر ملک کے تحریک کے چوٹی کے راہنما جب کراچی جانے لگے تو وہ اس جذبہ کے تحت گئے تھے کہ اب یا تو حکومت مطالبات تسلیم کرلے گی یا ناکام واپس نہیں لوٹنا۔

ان حضرات کے کراچی میں گرفتار ہوتے ہی ملک بھر میں سخت مظاہرے، احتجاج، جلوسوں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لاہور کی تمام بڑی مساجد اور بازاروں سے جلوس نکلنے شروع ہو گئے۔ مولانا ابوالحسنات صدر مجلس عمل کے صاحبزادے مولانا خلیل احمد قادری جو اس وقت طبیہ کالج میں زیر تعلیم تھے اپنے والد کی جامع مسجد وزیر خان میں پہنچے۔ لوگوں کا انبوہ کثیر پہلے سے جمع تھا۔ مولانا خلیل احمد کو نعروں کی گونجتی فضا میں سٹیج پر لایا گیا۔ اس سے پہلے انہیں کبھی تقریر کا موقعہ نہ ملا تھا۔ مگر ضرورت ایجاد کی ماں ہے کے مصداق اللہ کا نام

صفحہ ۲۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لے کر خطاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کون بول رہا ہے۔ وہی کچھ کہا جو لوگ سننا چاہتے تھے۔ دل کو چوٹ لگی ہو اندر خلوص ہو تو زبان پر جو کچھ آتا ہے وہ لوگوں کے کانوں کی راہ سے دل میں اترتا چلا جاتا ہے۔ فریاد کی کوئی لے نہیں۔ نالہ پابند نے نہیں۔

کام چل نکلا۔ مسجد وزیر خاں میں جلسے پر جلسہ ہونے لگا۔ اب سارے شہر کا رخ مسجد وزیر خاں کی طرف تھا۔ باہر سے گرفتاری دینے کے لئے جو قافلے مختلف اضلاع سے آتے وہ بھی سیدھے مسجد وزیر خاں کا رخ کرتے تھے۔ مولانا خلیل احمد کے ہمراہ احرار کے بچے کھچے کارکن سالار اور رضا کار بھی ہر وقت موجود تھے۔ مسلمانوں میں عام جوش تھا۔ جامع مسجد وزیر خاں تحریک کا ایسا مرکز بن گئی جس کے خلاف حکومت وقت کو خطرناک منصوبہ بندی سے کام لینا پڑا۔

متضاد خواہشات کا تصادم

مجلس عمل نے ابتداء ہی سے اس حقیقت کو اپنا لیا تھا کہ تحریک کی کامیابی کا انحصار پرامن ذرائع اور قیام امن پر موقوف ہے۔ چنانچہ مجلس عمل کی جس قدر بھی کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان میں ہر مقرر نے عوام کو سمجھایا کہ فساد انگیزی اور بدامنی تحریک کی ناکامی کا باعث ہے جو شخص بھی فساد و بدامنی کی بات کرتا ہے وہ ہمارا نہیں بلکہ مرزائیوں کا ممدومعاون ہے اور اس مقدس تحریک کا دشمن ہے۔ اس بات کو اس طرح عوام کے ذہن نشین کرایا گیا کہ انہیں ہر خطرے سے کماحقہ آگاہ کر دیا گیا۔ تحریک کے قائدین چاہتے تھے کہ عوام بہر حال پرامن رہیں۔ حکومت غلطی کرے یا مرزائی اشتعال انگیزی سے کام لیں۔ عوام کو صبر وتحمل سے کام لینا چاہئے اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جب پنجاب میں تحریک کے پروگرام کی ممکنہ شکل پر غور ہورہا تھا تو مجلس عمل کے سامنے یہ سوال بھی آیا کہ کراچی جانے کی کیا ضرورت ہے۔ مرکز سے مطالبات اپنی جگہ مگر ربوہ میں خالصتاً مرزائی آبادی کا مسئلہ تو پنجاب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مسئلہ پر پنجاب حکومت سے فیصلہ کن قضیہ چھیڑ لیا جائے کہ اسلام کے نام پر بننے والے اسلامی ملک میں اسلام کے مخالفوں اور ختم نبوت کے منکروں کو علیحدہ ریاست بنانے کا کیا حق حاصل ہے۔

مجلس عمل نے اپنے تمام مطالبات پر غور وفکر کر کے ان کی ترجیحات طے کیں اور اصولی و بنیادی مطالبات مرکزی حکومت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے مرکز سے بات کرنے کا طے ہوا۔ مجلس عمل کو بدامنی ہرگز منظور نہ تھی۔ اس کا مطمح نظر یہ تھا کہ امن بحال رہے اور تحریک پرامن چلائی جائے۔ جس میں بدامنی کا قطعاً اندیشہ نہ ہو۔ کراچی میں جب مرکزی مجلس عمل نے ڈائریکٹ ایکشن کا فیصلہ کرنا چاہا تو اس وقت جماعت اسلامی کے نمائندے نے گرفتاری دینے والے پانچ پانچ رضا کاروں کے جتھوں کو شہر کے با رونق بازاروں سے گزرنے کا مشورہ دیا تھا تو مجلس عمل کے قائدین جن کا دل و دماغ اس بارے میں بالکل صاف تھا، فوراً کہا کہ اس طریق کار سے بدامنی کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا یہ تجویز اس وقت ردّ ہو گئی تھی۔ مگر مرزائی اور حکومت کا انداز فکر مجلس عمل کے قائدین سے بالکل مختلف تھا۔ وہ بدامنی اور اشتعال انگیزی کے ذریعہ پرامن تحریک کو کچلنے کا جواز پیدا کرنے کی راہیں تلاش کرنے میں منہمک تھے۔ چنانچہ امن برقرار رکھنے کی بجائے انہیں دوسرے انداز سے کام کرنا پڑا۔ چوک دالگراں لاہور کا واقعہ سب پر عیان ہے کہ کس طرح قرآن پاک کے اوراق اور پھٹی ہوئی گرد پوش کو ایک ”بزرگ“ دہلی دروازے کے باغ میں مجمع عام میں پیش کر کے کیا کچھ ارشاد فرما رہے تھے اور کس طرح عوام کو بھڑکا رہے تھے۔ لاہور کے پرامن شہریوں کو کس طرح اشتعال دلایا جا رہا تھا۔ یہ کیوں کیا گیا؟ یہ کوئی راز نہیں۔ نیت واضح تھی اور نتیجہ سامنے موجود تھا۔ غضب تو یہ ہے کہ ”بزرگ“ کو نہ کسی نے پکڑا اور نہ جیل میں بند کیا۔ جمالو بیچاری خدا جانے تھی یا نہ تھی۔ مگر یہ ”بزرگ“ جمالو کا کام کر گیا۔ لاہور نے تب بھی صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ پھر کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ مجلس عمل کے رہنماؤں کی ہدایت پر اہل لاہور نے انتہائی بردباری اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔

صفحہ ۲۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاہور میں حالات کی رفتار

۲۲؍ فروری ۱۹۵۳ء کو چوہدری معراج الدین سالار اعلیٰ مجلس احرار کی نگرانی میں رضا کاروں کی بھرتی کے لئے بیرون دہلی دروازہ میں کیمپ کھول دیا گیا تھا۔ بھرتی کا اعلان ہوتے ہی پنجاب کے گوشہ گوشہ سے لوگ جوق در جوق، فوج درفوج آنے لگے کیمپ کے دروازے پر فدایان ختم نبوت کا ہجوم رہتا تھا۔ لوگ آتے تھے اور نام درج کرا کر واپس ہو جاتے تھے۔

۲۷؍ فروری بروز جمعہ بیرون جات سے شمع رسالت کے پروانوں کا بے پناہ ہجوم رضا کاروں میں بھرتی ہونے اور نام لکھانے کے لئے آموجود ہوا۔ چوہدری صاحب اور ان کے رفقاء نے بڑی مستعدی سے انہیں سنبھالا اور اندراج کا کام جلدی جلدی ختم کرنے کی فکر کی۔ ابھی یہ کام تیزی سے جاری تھا کہ مجلس عمل کے قائدین کی کراچی میں گرفتاری کی اطلاع آئی۔ گرفتاری کی خبر نے جذبات کی بھڑکی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح منٹوں میں شہر کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ اسی وقت رضا کاروں نے شہر کی تمام اہم مساجد میں تقریباً یہ اطلاع پہنچا دی اور خطیب حضرات اور ائمہ کرام سے مجلس عمل کی جانب سے یہ درخواست کی کہ وہ لوگوں کو پر امن رہنے اور صبر وتحمل سے کام لینے کی سخت تاکید فرمائیں۔ حکومت کے اس نامناسب اور غیر دانشمندانہ فعل سے مسلمان بھڑک اٹھے ہیں اور وہ سخت ناراضگی اور برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس لئے آپ حضرات عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کریں۔ لاہور ایسا شہر ہے جس کا فیصلہ سارے ملک کو متاثر کرتا ہے۔ اگر لاہور کسی تحریک کو قبول نہیں کرتا تو سیاستدانوں کی رائے یہ ہے اور تجربہ سے بھی ثابت ہوا ہے کہ وہ تحریک کبھی پروان نہیں چڑھتی اور اگر لاہور کسی تحریک کو اپنا لے تو اس کی کامیابی میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لاہور کی عوام جب کچھ کرنے پر آجائیں تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی لاہور والوں کو آگے چلنے سے نہیں روک سکتی۔ تحریک مقدس ختم نبوت اپنے اندر اتنی کشش رکھتی تھی کہ لاہور نے اس تحریک کو دل میں جگہ دی۔ مخالف بھی یا دم بخود تھا یا رائے بدلنے پر مجبور ہو گیا۔ ہمارا یقین ہے کہ حبیب کبریا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی اور نام کی برکت سے فضا اس قدر سازگار تھی کہ اس مقدس تحریک کو چلانے کے لئے محنت یا زیادہ پراپیگنڈا کرنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ تحریک کو سنبھالنا اور پرامن رکھنا بے حد ضروری تھا۔ جونہی کراچی میں تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور یہ اطلاع لاہور پہنچی تو لاہور آتش فشاں پہاڑ کی طرح ابل پڑا۔ سارے شہر میں غم وغصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ دوسرے شہروں نے بھی لاہور کی طرح اس صدمہ کو محسوس کیا اور حکومت کی اس نادانی کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کیا۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، شیخوپورہ چونکہ ملحقہ اضلاع تھے۔ اس لئے ان شہروں میں جذبات نسبتاً زیادہ برانگیختہ تھے۔ حکومتی نامناسب و غیر دانشمندانہ اقدام سے تحریک پورے شباب پر آگئی۔ حد یہ ہے کہ بغیر کسی اعلان کے باغ بیرون دہلی دروازہ لاہور میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم ہو گیا اور اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا کہ جلسہ عام منعقد کرکے عوام کے جذبات کو نظم میں رکھا جائے۔ اس اجتماع کو مولانا خلیل احمد قادری، حافظ خادم حسین اور چوہدری معراج دین نے خطاب کیا اور انہیں پرامن رہنے کی تلقین کی۔ لوگوں کو پرامن منتشر ہو کر گھروں کو واپس چلے جانے کا کہا گیا۔ چونکہ جذبات کو حکومتی اقدام نے ٹھیس پہنچائی تھی۔ عوام یہ چاہتے تھے کہ جابرانہ اور غیر منصفانہ فعل کی پر زور مذمت کے ساتھ مؤثر اقدام بھی کیا جائے۔ مگر مجلس عمل کے رہنماؤں نے انہیں سمجھا بجھا کر واپس کر دیا۔

مجلس مشاورت

لوگ منتشر ہو کر گھروں کو چلے گئے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بیرون دہلی دروازہ لاہور کے موجودہ دفتر میں مجلس مشاورت ہوئی۔

صفحہ ۲۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جس میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا خلیل احمد قادری، حضرت مولانا حاجی امین ترنگزئی اور دوسرے حضرات نے شرکت فرمائی۔ ان حضرات کی اس مجلس مشاورت میں بحث وتمحیص کے بعد فیصلہ ہوا کہ مرکزی مجلس عمل کی ایکشن کمیٹی کے تین ذمہ دار ارکان یعنی مولانا داؤد غزنوی، مولانا اختر علی خان، مولانا مودودی لاہور میں موجود ہیں۔ ہمیں ان کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور ان ذمہ دار حضرات سے مشورے کے بعد مناسب اقدام کرنا چاہئے۔ باہمی مشورہ کے بغیر قدم اٹھانا نامناسب سمجھا گیا۔ چنانچہ وفد کی صورت میں الحاج خادم حسین اور مولانا خلیل احمد قادری، مولانا محمد داؤد غزنوی کے پاس گئے۔ مگر وہ فیصل آباد گئے ہوئے تھے۔ اس لئے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ پھر یہ دونوں حضرات مولانا مودودی صاحب کے ہاں اچھرہ تشریف لے گئے۔ بعد نماز مغرب ان سے ملاقات ہوئی۔ مولانا نے تبادلہ خیال کے بعد فرمایا کہ مجھے کراچی سے مولانا احتشام الحق کا فون آنے والا ہے۔ یہ فون آجائے تو کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ جب مولانا مودودی نے فیصلے کو مولانا احتشام الحق تھانوی کے فون سے باندھ دیا تو ان حضرات نے آخری فیصلہ دوسرے دن پر ملتوی کر دیا اور شہر واپس تشریف لائے۔ چنانچہ اچھرے سے لوٹ کر یہ حضرات مولانا اختر علی خان کے دفتر روزنامہ زمیندار میں حاضر ہوئے اور مطلع کیا کہ مولانا مودودی کی وجہ سے فیصلہ کل پر اٹھا رکھا ہے۔ اب ہم آپ تینوں حضرات کی راہنمائی کے محتاج ہیں۔

عظیم الشان جلسہ عام

۲۷؍ فروری بعد نماز جمعہ جب عوام کا بے پناہ ہجوم کراچی میں رہنماؤں کی گرفتاری کی اطلاع پا کر باغ بیرون دہلی دروازہ جمع ہوا تھا تو اسے چوہدری معراج الدین نے منتشر کرتے ہوئے اسی جگہ جلسہ عام ہونے کا اعلان کیا تھا۔ چنانچہ شام کے چھ بجے اس باغ کے تمام حصے کھچا کھچ بھر گئے۔ اس حد تک کہ ہجوم سڑک کے کنارے تک آ گیا۔ اتنا بڑا اجتماع اس سے قبل دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ اس جلسے میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو پرامن رہ کر تحریک چلانے کی ہدایت کی تھی اور ہر ممکن قربانی کا بھی عہد لیا تھا۔ میٹنگ کے فیصلے کے مطابق پچیس رضا کاروں کا ایک جتھہ زیر قیادت غازی علم الدین رات کی گاڑی سے کراچی کے لئے روانہ کر دیا۔ اس جتھے کو کراچی کے راستہ میں ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ۲۷، ۲۸؍ فروری کی درمیانی شب حافظ خادم حسین، مولانا غلام محمد ترنم اور مولانا اختر علی خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر مولانا اختر علی خان کو چند گھنٹے بعد رہا کر دیا۔ ان کا بڑا عجیب قصہ ہوا۔ وہ اب مرحوم ہو گئے ہیں۔ ان کے متعلق کیا کہا جائے۔ بس عجیب طبیعت کے راہنماء تھے۔ اگرچہ مولانا ظفر علی خان جیسے بہادر اور مجاہد لیڈر کے بیٹے تھے۔ لیکن بڑے ہی جذباتی اور غیر مستقل قسم کی طبیعت پائی تھی۔

۲۳؍ جولائی ۱۹۵۳ء کو برکت علی محمڈن ہال میں آل پارٹیز کنونشن ہونے کے بعد وہ تحریک ختم نبوت کے معاون ہوئے اور اس تحریک کے ساتھ تعاون کا حق ادا کر دیا۔ زمیندار اخبار نے جو اس وقت ملک کا سب سے بڑا اخبار تھا ختم نبوت کی تائید میں بے پناہ اور بے مثال خدمات سرانجام دیں اور مولانا ظفر علی خان کے جانشین اور وارث کی حیثیت سے اس میں کسی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ تحریک کے پرزور حامی رہے۔ کانفرنسوں اور جلسوں میں بڑی ولولہ انگیز تقریریں کرتے رہے۔

مجلس عمل کے خزانچی تھے۔ ایک ایک روپیہ دو دو روپیہ اور پانچ پانچ روپیہ کے مجلس عمل کی طرف سے نوٹ چھپوائے۔ جن پر خازن کی حیثیت سے مولانا اختر علی خان کے دستخط ثبت تھے۔ اس دوران مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے مولانا کو ہر طرح تحریک سے جدا کرنے کی کوششیں کیں۔ لیکن مولانا نے پرواہ نہیں کی۔ ۱۶؍ فروری کے بیرون دہلی دروازہ کے جلسہ میں جب شاہ جی تقریر کر رہے تھے تو

صفحہ ۲۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے والد مولانا ظفر علی خان کو جلسہ گاہ میں لے آئے اور شاہ جی سے ملاقات کرائی۔ یہ ملاقات شہید گنج کی تحریک کے بعد پہلی ملاقات تھی اس کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔ غرضیکہ بڑے اخلاص اور عقیدت کے ساتھ تحریک کا ساتھ دیا۔

۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کو مرکزی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں تو مجلس عمل کے رہنماؤں کی دو فہرستیں تھیں۔ ایک وہ جنہیں گرفتار کیا جانا تھا اور ایک وہ جنہیں نامعلوم مصلحتوں کے تحت گرفتار نہیں کیا جانا تھا۔

مولانا اختر علی خان کے متعلق خاص طور پر مرکزی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے۔ چنانچہ یہ اکیلے ممبر تھے جو ۲۷؍ فروری کو لاہور میں گرفتار کئے گئے۔ میاں انور علی آئی جی پولیس تھے۔ جو نہایت ہی گھناؤنا کردار ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے مولانا اختر علی خان کو گرفتاری کے بعد خدا جانے کیا جھانسہ دیا اور ان سے ایک لکھی لکھائی تحریر پر دستخط کرا لئے۔ بعد کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ دستخط دھوکہ سے کروائے گئے۔ مولانا کو سول لائنز کے تھانہ ہی سے رہا کر دیا گیا اور ساتھ ہی سارے شہر میں یہ مشہور کر دیا کہ مولانا معافی مانگ کر رہا ہوئے ہیں۔ غرضیکہ یہ حالات تھے جن میں تحریک شروع ہوئی۔

۲۸؍ فروری ۱۹۵۳ء

ماسٹر تاج الدین فرماتے ہیں: ۲۸؍ فروری کو رضا کاران ختم نبوت کے کیمپ پر پولیس نے چھاپہ مارا۔ تمام کاغذات اور سامان ضبط کر لیا۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد اور مولانا ابراہیم نے مولانا مودودی صاحب کے مکان پر اچھرے میں میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور فرداً فرداً علماء حضرات کو مطلع کیا گیا۔ بعض ذمہ دار علماء کے پاس یہ دونوں حضرات خود بھی گئے۔ مولانا محمد داؤد صاحب غزنوی فیصل آباد سے واپس تشریف لے آئے تھے۔ ان سے ملاقات کی۔ مولانا محمد اسماعیل (گوجرانوالہ) کو دعوت دی۔ مولانا اختر علی خان کو مطلع کیا اور مولانا مفتی محمد حسن کو خود حاضر ہو کر دعوت دی۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے فرما دیا کہ میٹنگ میں میری حاضری ضروری نہیں۔ آپ حضرات میٹنگ کرلیں جو فیصلہ ہو مجھے منظور ہوگا۔ اگر گرفتاری کا فیصلہ ہو تو مجھے جب اور جس وقت حکم کرو گے میں حاضر ہوں۔

مولانا مودودی صاحب کے مکان پر میٹنگ

پروگرام کے مطابق دن کے گیارہ بجے مولانا مودودی کے مکان پر مندرجہ ذیل حضرات جمع ہوئے۔ مولانا محمد داؤد غزنوی، مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ، سید خلیل احمد قادری، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا عبدالستار خان نیازی، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ۔ مجلس مشاورت کی کارروائی شروع ہوئی تو مولانا مودودی نے تقریر فرماتے ہوئے کہا کہ میں سردست تحریک سے اس لئے معذرت چاہتا ہوں کہ عوام میں تاحال تحریک کے لئے پوری ہمدردی کے جذبات نہیں ہیں۔ اس لئے میں تحریک میں اس وقت حصہ نہیں لینا چاہتا۔ لمبی چوڑی تقریر جو عمدہ الفاظ سے مرصع تھی اس کا مفہوم تقریباً یہی تھا۔ اس تقریر کے جواب میں مولانا خلیل احمد قادری نے فرمایا کہ مولانا ذرا باہر تشریف لے چلیں اور عوام کے جذبات کا اندازہ لگالیں تاکہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے۔ عوام دل و جان سے تحریک کے ہمدرد اور ہر ممکن قربانی کے لئے تیار ہیں۔ مولانا مودودی نے پھر فرمایا کہ مجھے تحریک سے ہمدردی ہے۔ مگر میں شامل ہونا نہیں چاہتا۔ اس پر مولانا خلیل احمد نے کہا کہ یہ فیصلہ تو آپ کو ایکشن کمیٹی میں شامل ہونے سے قبل کرنا چاہئے تھا۔ اب آپ بہت نازک وقت میں کنارہ کشی کر رہے ہیں۔ بڑے ردوکد کے بعد مولانا مودودی زچ ہو گئے تو فرمایا کہ اچھا یوں کیجئے کہ جمعیۃ علماء اسلام، جمعیۃ اہل حدیث اور جماعت اسلامی پیچھے رہ کر کام کریں۔ لٹریچر وغیرہ شائع کریں اور جمعیۃ علماء، مجلس احرار اور ادارہ تحفظ حقوق شیعہ چونکہ اقدام کر چکے ہیں اس لئے وہ محاذ پر لڑتے

صفحہ ۲۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رہیں۔ ہم ان کے لئے پراپیگنڈا کریں گے۔ اس پر مولانا محمد اسماعیل نے فرمایا کہ جمعیۃ اہل حدیث تو اقدام کر چکی ہے اور اس کے علماء فیصل آباد وغیرہ میں گرفتاری بھی دے چکے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے صدر مولانا احمد علی لاہوری جلسہ عام میں تقریر کر کے محاذ کھول چکے ہیں۔ جمعیۃ علماء تو اب پیچھے نہیں رہ سکتی۔ اس پر مولانا مودودی نے کھسیانے ہو کر فرمایا کہ بہت اچھا۔ جناب یہ سب کچھ درست ہے۔ مگر جماعت اسلامی تو آگے آنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسے تو پیچھے رہ کر اپنے ڈھب سے کام کرنا ہے۔ جماعت لٹریچر وغیرہ چھپائے گی۔ غرضیکہ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کو منشی گلاب سنگھ کا چھاپہ خانہ ثابت کر دیا۔

تب دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے حاضرین نے ایک دوسری تجویز رکھی۔ وہ یہ تھی کہ مرکز کے ارکان کی موجودگی میں ایک کمیٹی بنا دی جائے۔ جس کو اختیار دیا جائے کہ وہ مناسب اقدام کرے۔ چنانچہ اس پر سب کا اتفاق ہو گیا اور مندرجہ ذیل حضرات کی ایک کمیٹی بنا دی گئی۔ عبد الستار خان نیازی، مولانا محمد طفیل، مولانا بہاؤ الحق قاسمی، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا خلیل احمد قادری، مولانا خلیل احمد کو اس کمیٹی کا کنونیئر بنا دیا گیا۔

ایکشن

اس کمیٹی نے باغ بیرون دہلی دروازہ میں عظیم الشان جلسہ عام کا فیصلہ کیا اور یہ بھی طے کیا کہ لاہور شہر میں گرفتاری کے لئے مجلس عمل کی جانب سے پچیس رضا کاروں کا جتھہ مولانا غلام دین کی قیادت میں روانہ کیا جائے۔ یہ جتھہ جلوس کی شکل میں کھلے بازاروں سے ہوتا ہوا چیرنگ کراس کے تھانے تک جائے اور خود کو پرامن طریقہ سے گرفتاری کے لئے پیش کرے۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق بعد نماز ظہر تقریباً تین بجے تلاوت قرآن پاک کے بعد باقاعدہ جلسہ شروع ہو گیا۔ تقریباً ساڑھے تین بجے مولانا غلام دین نے اس عظیم الشان اجتماع کو خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو سخت تاکید کی کہ آپ سب حضرات پرامن رہ کر تحریک کو جاری رکھیں۔ امن برباد کرنے کی دشمن سازش کرے گا اور اس طرح تحریک کو سخت دھچکا لگے گا۔ آپ اپنی صفوں میں اتحاد اور امن برقرار رکھیں اور تحریک کو پرامن طریقے پر جاری رکھیں۔ بدامنی پھیلانے والا اس تحریک کا، اسلام کا اور سرکار مدینہ ﷺ کا باغی سمجھا جائے گا۔ ہماری اس مقدس تحریک کی کامیابی کا دارومدار امن برقرار رکھنے پر ہے۔ لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر کے پرامن رہنے اور ہر ممکن قربانی دینے کا اعلان کیا۔

مولانا کی قیادت میں پچیس رضا کاروں کی چیرنگ کراس کی جانب روانگی ہوئی۔ کم و بیش ایک لاکھ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جو دہلی دروازہ سے روانہ ہوا اور چیرنگ کراس پر جا کر رک گیا۔ جلوس کا نظم و ضبط حیرت انگیز تھا۔ جذبات پر قائدین کا مکمل کنٹرول تھا۔ اس پرامن جلوس نے مخالفین کو دم بخود کر دیا اور حکومت پریشان ہو گئی کہ یہ کون سی طاقت ہے جو انسانوں کے اس متحرک جنگل کو سنبھالے ہوئے ہے۔ نماز عصر کا وقت آیا۔ میدان میں جس قدر لوگ سما سکتے تھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ مولانا غلام دین نے نماز پڑھائی اور خود کو معہ رضا کاروں کے گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔

سالار معراج الدین کی گرفتاری

حکومت جانتی تھی کہ رضا کاران ختم نبوت کے نظام کو درہم برہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سالار اعلیٰ کو گرفتار کر لیا جائے۔ چنانچہ چوہدری (معراج الدین) صاحب کو گرفتار کر کے سنٹرل جیل میں بند کر دیا گیا۔ قارئین! آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ سی آئی ڈی کی رپورٹوں میں سالار صاحب کراچی جتھہ لے کر گئے تھے اور وہاں سے گرفتار ہوئے۔ حالانکہ وہ نہ صرف غلط بلکہ سی آئی ڈی کی نااہلی کی

صفحہ ۲۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دلیل تھی۔ مرتب!

مولانا غلام دین کو گرفتار کر کے سنٹرل جیل بھیجا گیا تو اندر سالار معراج الدین، مولانا غلام محمد ترنم، حافظ خادم حسین پہلے سے موجود تھے۔ مولانا کے ہمراہ جو رضا کار گرفتار ہوئے تھے انہیں حکومت نے لاری میں بٹھایا اور جیل میں بند کرنے کی بجائے چھانگا مانگا اور ادھر ادھر لاہور کے دور علاقوں میں چھوڑتے ہوئے کہا کہ لاہور کی بجائے اور جدھر جانا چاہتے ہو چلے جاؤ۔ اب تم آزاد ہو۔

سالار محمد حسین بٹ

چوہدری معراج الدین کی گرفتاری کے بعد سالار محمد حسین بٹ، سالار سعید اقبال اور دوسرے ساتھیوں کے کندھوں پر بوجھ آن پڑا۔ انہوں نے اس ذمہ داری کو سنبھالا اور خوب سنبھالا۔ پنجاب بھر سے ٹرینوں، بسوں اور ویگنوں کے ذریعے گرفتاری کے لئے رضا کار دھڑا دھڑ مسجد وزیر خان پہنچنے لگے۔ ان کی رہائش و خوراک کا تمام تر نظم ان حضرات کے ذمہ تھا۔ ان حضرات نے بطریق احسن اس ذمہ داری کو پورا کیا۔

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: ۲۸؍ فروری کو دہلی دروازہ کے باہر ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ نوجوان مقررین نے تقریریں کیں اور رضا کاروں کو ترتیب دیا گیا اور جلوس کی شکل میں سول سیکرٹریٹ کی طرف پرامن طور پر چلتے ہوئے مال روڈ پر پہنچے تو منتظمین نے یہ اعلان کر دیا کہ جلوس گورنمنٹ ہاؤس کی طرف جائے گا۔ رضا کار گلے میں ہار پہنے ہوئے تھے۔ صف بستہ اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جارہے تھے۔ پچاس ساٹھ ہزار عوام رضا کاروں کے ہمراہ تھے۔ جب رضا کار چیئرنگ کراس پر پہنچے تو وہاں تمام افسر موجود تھے اور وہاں جلوس کو روک لیا گیا۔

ایک نہایت ہی اہم بات یہ ہے کہ تحریک پرامن تھی یا نہ تھی اور اگر پرامن نہ تھی تو کیا اتنی مقدس تحریک کو پرامن کیوں نہ رکھا گیا۔ یہ وہ سوال ہے جو حکومت ، مرزائی اور بعض حالات سے ناواقف لوگ اٹھاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تحریک مقدس تھی۔ مذہبی تھی۔ پرامن تھی۔ گالی گلوچ، کوئی غلط نعرہ ، کوئی تشدد، کوئی توڑ پھوڑ اور کوئی غلط بات پروگرام میں سرے سے شامل ہی نہیں تھی۔ تحریک میں صرف دفعہ ۱۴۴ کو توڑنا اور گرفتار ہو جانا شامل تھا۔

لیکن یہ کہ تحریک پر امن ہو اور رضا کار صرف سول نافرمانی کر کے جیل چلے جائیں یہ بات حکومت کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ اگر تحریک کو پرامن رہنے دیا جاتا تو اندازہ ہے کہ کم از کم پچاس لاکھ رضا کار گرفتار ہوتے اور حکومت کو اتنے نظر بندوں کے لئے جیلوں اور خوراک وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتا جو کہ حکومت کے لئے ناممکن تھا۔ حکومت زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ رضا کاروں کو وہ کہاں لے جاتی۔ حکومت نے پہلے دن ہی کمینگی کا فیصلہ کیا اور تحریک کو پرامن نہ رہنے دینے کے لئے اور اسے تشدد کی راہ پر ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔

حالانکہ وہ گورنمنٹ ہاؤس پہنچ کر راست اقدام کا فرض ادا کرنا چاہتے تھے۔ یعنی گورنر صاحب سے مل کر خود انہیں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت قادیانیوں کی سرگرمیاں وغیرہ بتانا چاہتے تھے۔ حکومت کا اخلاقی فرض تھا کہ دو کاموں میں سے ایک سرانجام دیتی۔ جب چیئرنگ کراس پر ہجوم کو روک لیا گیا اور رضا کاروں کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا گیا تو وہاں نعرہ بازی ہوئی۔ ختم نبوت زندہ باد۔ مرزائیت مردہ باد کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس مردہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے اور یہ بات زیادتی کے باوجود ایک قدرتی امر تھا اور ایسا ہوا آخر لوگ جوش میں تھے وہ کیا کرتے۔

صفحہ ۲۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب جب پولیس مردہ باد ہوئی اور ہجوم کی پریشانی اور جوش و خروش حد سے بڑھ گیا تو حکومت نے دوسری کمینگی یہ کی کہ رضا کاروں سے کہا گیا کہ اچھا آئیے گرفتاری دے دیجئے ۔ ٹرک لائے گئے اور ان میں رضا کاروں کو سوار کر کے لاہور سے باہر ۲۰، ۲۰، ۲۵، ۲۵ میل دور لے جا کر ٹرکوں سے اتار کر جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا ۔ ان بے چاروں کے پاس نہ پیسے نہ خرچ ۔ نہ کھانے کو کھانا وہاں سے وہ پیادہ چل کر راتوں رات پھر لاہور پہنچے اور لاہور تحریک کے کیمپ میں پہنچ کر حکومت کی بدنامی ، رسوائی اور اشتعال انگیزی کا اشتہار بن گئے ۔

یاد رہے کہ جونہی ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کو کراچی اور ۲۸؍ فروری کی شب کو لاہور میں تحریک کے رہنماؤں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں تو پورے ملک کی طرح لاہور شعلہ جوالا بن گیا۔ لاہور میں دکانیں بند ہو گئیں ۔ جنرل پولیس ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ۔ ایس ۔ پی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا حکومت بے ہوش ہوگئی اور وہ پرامن تحریک کو تشدد کے راستے پر ڈالنے کی راہیں سوچنے اور سازشیں تیار کرنے لگی ۔ کیونکہ پرامن تحریک سے پولیس زچ اور حکومت بے بس ہو جاتی ہے ۔ پرامن تحریک زیادہ دیر چل سکتی ہے۔ تحریک کا الاؤ زیادہ دیر روشن رہے تو حکومت کے اوسان جواب دے جاتے ہیں ۔ اس صورت میں ضروری تھا کہ پرامن تحریک کو تشدد کی راہ پر ڈالا جائے ۔ پولیس خود تشدد کی نیو اٹھا کر اپنے تشدد کا راستہ نکالتی ہے۔ چنانچہ جلوس کے فوراً بعد کمشنر ، ہوم سیکرٹری ، آئی ۔ جی پولیس ، ڈی ۔ آئی ۔ جی ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ۔ ایس ۔ پی سول لائن کے تھانہ میں جمع ہوئے اور آنکھوں دیکھی صورتحال پر نہایت بے قراری کے عالم میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کا اعلان کر دیا ۔ عام جلسوں اور جلوسوں کو ممنوع قرار دے دیا اور شہر بھر میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کی منادی کرا دی گئی ۔ حالانکہ خود حکومتی مشینری یہ جانتی اور سمجھتی تھی کہ ختم نبوت کے فدا کاروں کے جذبات کو دفعہ ۱۴۴ کے ذریعہ نہیں روکا جا سکتا ۔ مگر ان کا پروگرام ہی یہی تھا کہ یہ لوگ دفعہ ۱۴۴ کی یقیناً خلاف ورزی کریں گے ۔ گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی ۔ اشتعال پھیلے گا اور تشدد کرنے کا حکومتی شہزادوں کے لئے راستہ کھل جائے گا ۔

یکم مارچ ۱۹۵۳ء

دہلی دروازے کے باہر ایک بہت بڑا اجتماع ہوا حد نظر تک عوام جمع تھے ۔ حضرت مولانا احمد علی اپنی پیرانہ سالی اور بیماری کے باوجود جلسہ گاہ میں آئے اور فرمایا کہ آج رضا کاروں کا جتھہ لے کر گرفتاری کے لئے میں جاؤں گا ۔ مولانا نے حکومت کو تنبیہ کی کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور عوام سے ٹکرا جانے کے نتائج سوچ لے ۔ تمام مسلمان تحریک ختم نبوت میں حضور ﷺ پر اپنی جانیں قربان کر دینے کو سعادت سمجھتے ہیں اور وہ ہر قربانی پیش کرنے کے لئے آموجود ہوئے ہیں ۔ مولانا نے رضا کاروں کو صبر و تحمل اور اللہ کی راہ میں سختیاں برداشت کرنے کی تلقین کی ۔ مولانا نے عوام کو نظم و ضبط برقرار رکھنے ، تحریک کے مخالفوں کی اشتعال انگیزیوں سے بچنے کی نصیحت فرمائی اور قافلہ لے کر گورنمنٹ ہاؤس روانہ ہو گئے ۔ آج پولیس نہایت ہی اوچھے ہتھکنڈوں پر اتری ہوئی تھی ۔ جلوس کی ابتداء ہی میں پہنچ کر مداخلت اور اشتعال انگیزی کرنے لگی ۔ عوام کو معلوم ہو چکا تھا کہ انہوں نے کل والے پرامن رضا کاروں کے ساتھ کیسا ظالمانہ سلوک کیا ہے ۔ لہٰذا لوگ مشتعل ہو گئے ۔ کیونکہ پولیس جلوس کو آگے بڑھنے ہی نہیں دینا چاہتی تھی ۔ کہا یہ جاتا تھا کہ ۲۸؍ فروری یعنی پہلے روز شہر میں دفعہ ۱۴۴ نہ تھی ۔ لیکن آج دفعہ ۱۴۴ لگ چکی ہے ۔ لہٰذا اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے ۔

حالانکہ حکومت کو علم تھا کہ پورا ملک اس دفعہ ۱۴۴ کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیرنے کا فیصلہ کر چکا ہے ۔ بہر حال جلوس کو ابتداء ہی میں روک لیا گیا اور حضرت مولانا پبلک سیفٹی ایکٹ دفعہ نمبر ....... ۳۰ رضا کاروں کو ۱۰۷، ۱۵۱ کے تحت گرفتار کر لیا گیا اور باقی رضا کاروں کو

صفحہ ۲۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کل کی طرح پھر ٹرکوں اور لاریوں میں بھر کر شہر سے باہر دور مقامات پر جا کر چھوڑ دیا گیا۔ حضرت مولانا احمد علی صاحب کا جلوس اگر نکلنے دیا جاتا اور اسے گورنمنٹ ہاؤس تک پہنچ جانے دیا جاتا اور وہاں گرفتاریاں ہوتیں تو پھر سارا دن شاید کوئی اور جلوس نہ نکلتا۔ لیکن اس جابرانہ کارروائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ تحریک کے منتظمین کے علاوہ چھوٹے بڑے جلوس نکالنے لگ گئے۔ چنانچہ یکم / مارچ کو حضرت مولانا احمد علی صاحب والے جلوس کے علاوہ تین چار عظیم جلوس نکالے گئے۔ جن کے ساتھ ہزار ہا رضا کار پھول پہنے ہوئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے تھے۔ لیکن ان سب جلوسوں کو سختی سے منتشر کر دیا گیا۔ دو دو ہزار رضا کاروں میں سے صرف ۱۰، ۱۵، ۲۰، ۲۵ رضا کاروں کو کسی الٹی سیدھی دفعہ کے تحت گرفتار کیا گیا اور باقی رضا کاروں کو ٹرکوں اور لاریوں میں بھر کر باہر چھوڑ آتے۔ جس سے حالات میں تلخی تندی اور تیزی آتی چلی گئی اور دراصل حکومت کا منشا ہی یہ تھا کہ تحریک پر امن کی بجائے بدامنی۔ اشتعال اور جوش کی راہ پر آجائے تاکہ اسے سختی کے ساتھ کچل دینے کا بہانہ ہاتھ آجائے۔ بہر حال یکم / مارچ کا دن گزر گیا۔ لاہور کی تاریخ میں اتنے جلوس اور اتنے اجتماعات اور ان میں بے پناہ جوش وخروش شاید کبھی نہ ہوا ہوگا۔

یکم / مارچ کی شام تک یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حکومت نے مجلس عمل کے لیڈروں کا جو چیلنج قبول کیا تھا۔ اس میں ہار چکی ہے۔ محض روباہی اور ذلیل حربوں سے تحریک کو ناکام بنانے کی راہیں سوچ رہی ہے۔ حضرت شیخ التفسیر امام لاہوری کو گرفتار کر کے پہلے ملتان سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ ملتان سے آپ کو انکوائری کمیشن مقرر ہونے پر لاہور سنٹر جیل منتقل کیا گیا۔ جس کے متعلق مولانا مجاہد الحسینی بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء میں مجھے چند دنوں کے بعد لاہور کے تہ خانہ سے نکال کر ’’بم کیس وارڈ‘‘ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایک روز اخبارات میں خبر پڑھی کہ ملتان سنٹرل جیل میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور ان کے دیگر ساتھیوں کی حالت یکا یک سخت خراب ہوگئی ہے۔

تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لینے والے ان ممتاز رہنماؤں کو مسلسل قے اور اسہال کی تکلیف تھی۔ ڈاکٹر ان حضرات کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چند روز بعد اطلاع ملی کہ حضرت لاہوری کو لاہور جیل میں منتقل کیا جارہا ہے۔ چنانچہ ایک روز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے (جو حضرت لاہوری کے مرید تھے) مجھے یہ خوشخبری دی کہ حضرت شیخ التفسیر کو بغرض علاج لاہور سنٹرل جیل میں منتقل کیا جارہا ہے۔ میں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات سے درخواست کی کہ حضرت لاہوری کو ہمارے وارڈ ’’بم کیس احاطہ‘‘ میں رونق افروز کیا جائے۔

چنانچہ حسب پروگرام جب حضرت لاہوری سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے تو ’’بم کیس وارڈ‘‘ کو آپ کی ذات سے شرف بخشا گیا۔ یہ وارڈ تاریخی نوعیت کا حامل تھا۔ بھگت سنگھ اور دت وغیرہ تحریک آزادی کے جن نوجوانوں نے اسمبلی میں بم پھینک کر انگریزوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ وارڈ ان کے لئے تعمیر کیا گیا تھا اور ’’بم کیس‘‘ کے عنوان سے انہی کے نام موسوم ہوا۔ حضرت مولانا احمد علی جب سنٹرل جیل میں تشریف لائے تو کڑکڑاتی گرمی کا سخت موسم تھا۔ گرمی کی شدت کے باعث پورا ماحول آتش فشاں تھا۔

بم کیس وارڈ حضرت کے معتقدین اور مریدوں کے نگاہ شوق و عقیدت کا مرکز بن گیا۔ نماز عصر کے بعد میں نے جیل کے ذمہ دار افسروں سے رابطہ قائم کر کے حضرت لاہوری کے لئے چار پائی کا انتظام کرنے کو کہا۔ کیونکہ تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہونے والے تمام نظر بندوں کے بستر تپتی زمین کے فرش پر ہی دراز کئے جاتے تھے۔ ان بستروں کے درمیان جب میں نے حضرت شیخ کی چار پائی بچھائی تو آپ نے اسے دیکھتے ہی دریافت کیا، یہاں صرف ایک چار پائی کیوں بچھائی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا یہ حضرت کے لئے ہے۔

صفحہ ۲۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ جان نثاران محمد ﷺ تپتے فرش پر ہوں اور احمد علی ان کے درمیان چار پائی پر آرام کرے؟ آپ نے یہ چند جملے ...... کچھ اس انداز میں فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ تعمیل ارشاد میں آپ کا بستر خصوصی اہتمام کے ساتھ زمین پر ہی بچھا دیا گیا اور پائنتی کی جانب اپنا بستر رکھا تو حضرت نے اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر سرہانے کی جانب کر دیا۔

نماز مغرب کے بعد راقم الحروف نے علیحدگی میں ملتان جیل میں یکا یک صحت خراب ہونے کے اسباب معلوم کئے تو حضرت لاہوری نے فرمایا: ایک روز شام کے کھانے کے بعد سب کی حالت غیر ہوگئی۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے جیل کے حکام سے جب پرزور مطالبہ کیا کہ ہمارا طبی معائنہ ہونا چاہئے اور جیل کی خوراک بند کر دینے کا فیصلہ کیا تو ان سب کو مختلف بارکوں میں تبدیل کر دیا گیا اور مجھے یہاں سنٹرل جیل لاہور پہنچا دیا گیا ہے۔ جیل کے ارباب اختیار کے بقول اگر ہماری صحت کا بگاڑ غذائی سمیت (فوڈ پوائزن) کے باعث تھا تو طبی معائنہ کرانے میں کیا قباحت تھی؟ اور پھر چند روز کے بعد مختلف جیلوں کے دوسرے نظر بندوں نے بھی قے اور اسہال کی تکلیف کا شکوہ کیا۔

وسیع پیمانہ پر ایک ہی شکایت کا اظہار درحقیقت تحریک تحفظ ختم نبوت کے نظر بندوں خصوصاً ممتاز رہنماؤں کے خلاف کسی سازش کا غماز تھا۔ حضرت شیخ التفسیر لاہوری نے فرمایا۔ ملتان کی تکلیف کے بعد میرے اعصاب میں کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے اور گھٹنے میں مسلسل درد نے اگرچہ سخت پریشان کر رکھا ہے۔ لیکن حضرت خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے خطرناک صعوبتیں وجہ سکون قلب اور باعث راحت جاں ہیں۔ مولانا ظفر علی خان نے ہمارے انہی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا:

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

شیخ التفسیر حضرت لاہوری قریباً ایک ماہ بم کیس وارڈ میں رونق افروز رہے۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ملک فیروز خان نے خرابی صحت کی بناء پر حضرت کی رہائی کے احکام جاری کر دیئے اور پھر زندگی بھر آپ کو صحت وتندرستی کی وہ پہلی حالت نصیب نہ ہوسکی۔ اسی طرح قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی مسلسل بیمار رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی فرماتے ہیں۔ ۲۲ سال ہوئے میرا بایاں بازو ٹوٹ گیا تھا۔ جڑنے کے بعد وہ تقریباً سیدھا رہتا تھا۔ اس میں لچک نہ تھی۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں حضرت لاہوری کے ساتھ میں بھی ملتان جیل میں تھا۔ ایک روز حضرت نے فرمایا: قاضی صاحب! نماز آپ پڑھایا کریں۔ میں نے معذرت کی کہ حضرت میرا یہ بازو خم نہیں کھاتا۔ وضو میں بھی مشکل پڑتی ہے اور ہاتھ باندھنے میں بھی۔ حضرت نے میرا بازو تھام کر ٹوٹی ہوئی جگہ پر دست مبارک پھیر کر دو تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا: ’’اچھا یہ ٹھیک نہیں ہوتا‘‘ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ بہتر کریں گے۔ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے بعد نماز کا وقت آیا۔ میں وضو کرنے بیٹھا تو بالکل بے دھیانی میں ناک صاف کرنے کے لئے میرا بایاں ہاتھ بے تکلف ناک تک پہنچ گیا۔ یک دم میرے ذہن میں آیا کہ آج میرا بازو صحیح کام کرنے لگ گیا ہے۔ میں نے ہلا جلا کر دیکھا تو وہ صحیح کام کر رہا تھا۔ یقین ہو گیا کہ یہ حضرت کی توجہ کی برکت اور کرامت کا نتیجہ ہے۔

مولانا تاج محمود اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر قطب دوراں، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی خدمت میں حاضر تھے۔ کچھ ختم نبوت کے ساتھیوں کا تذکرہ آ گیا۔ حضرت لاہوری نے فرمایا کہ: ’’میں ختم نبوت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں اور

صفحہ ۲۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پھر فرمایا کہ میں کیا ان سے تو خود سرکار دوعالم ﷺ محبت کرتے ہیں۔‘‘

نوجوانوں کے ساتھ بہت محبت سے ملتے اور قدم قدم پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ مولانا عبدالستار نیازی کو تحریک ختم نبوت کے دوران پھانسی کی سزا ملی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہوئی اور پھر آخر رہا ہو گئے۔ مولانا نیازی کہتے ہیں، میری رہائی کے بعد حضرت لاہوری میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ آپ کی نشست کا نیچے انتظام کیا ہوا تھا۔ واپس جانے لگے تو فرمایا، مولانا اوپر کے کمرے میں مجھ کو اپنی چارپائی تک بھی لے چلو تاکہ مجھے قدم قدم کا ثواب ملے۔ میں ایک مجاہد سے ملنے آیا ہوں۔ مولانا نیازی سے یہ کہہ کر حاضرین کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔ حضرات! آپ بھی اپنے آپ کو تلوار کی دھار پر لائیے اور دل سے کہئے۔ ’’ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للّٰہ رب العالمین‘‘

یکم/ مارچ کو ہی مولانا محمد یوسف سیالکوٹی نے باغ بیرون دہلی دروازہ میں عظیم الشان جلسے میں مسلمانوں کو خطاب کیا اور پچاس رضا کاروں کا دستہ لے کر گرفتاری کے لئے جلوس کی شکل میں نکلے۔ مگر مولانا کو گرفتار نہ کیا گیا۔ البتہ پچاس رضا کار جو مولانا کے ہمراہ تھے انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ مسجد وزیر خان میں ہزار ہا رضا کار موجود تھے۔ چنانچہ مولانا موصوف شام کو دوبارہ پچاس رضا کاروں کا دستہ لے کر نکلے مگر اس مرتبہ بھی یہی ہوا کہ رضا کاروں کو گرفتار کر لیا گیا اور مولانا پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا۔ گرفتاریوں کی گنگا الٹی بہنے لگی۔ رضا کاروں کی کمی ہوتی تو یہ ترکیب گرفتار کرنے والوں کے راس آتی۔ مگر مسجد وزیر خان میں اس قدر رضا کار موجود تھے کہ یہ سلسلہ مہینوں جاری رہتا تو بھی گرفتار کرنے والے تھک جاتے۔ جیلوں میں جگہ نہ رہتی اور پرامن تحریک سے زچ ہو کر حکومت ہتھیار ڈال دیتی۔ تحریک کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ اب پچاس کی بجائے سو سو رضا کاروں کے دستے صبح و شام گرفتاری کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ گرفتار کرنے والوں نے بحالت مجبوری رضا کاروں کو گرفتار کر کے لاہور سے دور لے جا کر چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ فریقین نے اپنے اپنے فیصلہ پر صبح و شام عمل کیا۔

آج کے جلوسوں کی کارروائی کو روکنے اور تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے کمشنر، آئی. جی، ڈی. آئی. جی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے علاوہ ہوم سیکرٹری سمیت شیطانی دماغ ہمراہ رہا اور جلوس کی کارروائی براہ راست دیکھی۔

دفتر زمیندار پر پولیس کا چھاپہ

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: مولانا ظفر علی خان ان دنوں کرم آباد میں مقیم تھے۔ ان کی طبیعت ناساز تھی۔ علم و ادب کا یہ چراغ ٹمٹما رہا تھا۔ مولانا اختر علی خان تقریباً ہر ہفتے ان کی مزاج پرسی کرنے کرم آباد حاضر ہوتے تھے۔ چنانچہ مولانا یکم/ مارچ کو کرم آباد میں مقیم تھے کہ آدھی رات گئے پولیس نے لاہور دفتر زمیندار پر چھاپہ مارا۔ مولانا تو وہاں پر موجود نہ تھے۔ اس لئے پولیس رعب داب جما کر ناکام واپس ہوئی۔ اس شام جب کہ رضا کاروں کے عام جلوس سڑکوں پر گشت لگاتے پھرتے تھے۔ مولانا اختر علی خان کے کسی مہربان نے جلوس والوں کو اکسایا اور کہا کہ تم کدھر گھوم پھر رہے ہو۔ ذرا تم مولانا اختر علی خان سے تو پوچھو کہ وہ اب جیل میں کیوں نہیں جاتے۔ جاؤ ان کے دفتر انہیں باہر لاؤ اور انہیں کہو کہ وہ جلوس کی قیادت کریں۔ جلوس زمیندار دفتر کی طرف چل پڑا۔ یہ جلوس بہت بڑا تھا۔ جب جلوس دفتر زمیندار کے قریب پہنچا تو پھر کسی نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت مختصر سی تقریر کر کے شرکاء کو مشتعل کیا۔ کچھ لوگ دفتر زمیندار کے اندر جانا چاہتے تھے۔ اخبار کا عملہ اندر سہم گیا اور انہوں نے دروازے بند کر لئے۔ باہر جس نے جو چاہا کیا اور جس نے جو سمجھا رائے زنی کی۔ جب مخالف کو

صفحہ ۲۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

موقعہ مل جائے تو کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ اس طرح روزنامہ زمیندار اور مولانا اختر علی کی ہوا خیزی کا بندوبست ہو گیا۔

حالانکہ مولانا اختر علی خان کو مجلس عمل کے رہنماؤں کی ہدایت کے مطابق باہر رہ کر کام کرنا تھا۔ عوام اور تحریک کے رہنماؤں کے درمیان رابطے اور تحریک کے شباب کو برقرار رکھنے اور تحریک کی آواز کونے کونے میں پہنچانے کے لئے روزنامہ زمیندار کی اشاعت کی غرض سے مولانا اختر علی خان کا گرفتار نہ ہونا ہی بہتر تھا۔ چنانچہ کراچی سے گرفتاری کی فضا میں بو سونگھ کر ماسٹر تاج الدین انصاری نے فون اور خط کے ذریعے اختر علی خان کو ہدایت کر دی تھی کہ وہ گرفتار ہونے کی بجائے باہر رہ کر تحریک کے شباب کو قائم رکھیں۔ روزنامہ زمیندار اور مولانا ظفر علی خان کے لگائے ہوئے چرکوں سے مرزائیت کراہ رہی تھی۔ مگر بایں ہمہ مولانا گرفتار ہوئے۔ شام کو رہا ہو گئے۔ اس لئے حکومت کو ان کے معافی مانگنے کے پراپیگنڈا کا موقعہ ملا۔ چنانچہ موقعہ پا کر مرزائی اور حکومت نے یہ ساز باز کر کے عوام کو مشتعل کرنے کی نامراد کوشش کی۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ اس واقعہ سے زمیندار نے مشتعل ہو کر تحریک کی مخالفت شروع کر دی تو بھی ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے اور تحریک کے لوگ ان کی ہمدردی سے محروم ہو جائیں گے اور یہ کہ تحریک کے رہنماؤں اور ان کے درمیان نفرت کی دیوار حائل ہو جائے گی۔ ۲؍مارچ کو مولانا اختر علی جو گرفتاری سے رہائی کے بعد اپنے آبائی گاؤں کرم آباد چلے گئے تھے، واپس لاہور پہنچ گئے۔ انہیں یہ معلوم کر کے انتہائی صدمہ ہوا کہ ان کے متعلق عوام میں معافی مانگ لینے کا پراپیگنڈا کیا گیا۔ مولانا نے اعلان کیا کہ وہ ۲؍مارچ کو رضا کاروں کا جتھہ لے کر سول نافرمانی کریں گے اور اپنی گرفتاری پیش کریں گے۔

یکم ؍ مارچ کے بعد جو حالات در پیش آئے اور حکومت جس طرح ذلیل حربوں کو آزمانے لگی اس کی روشنی میں مناسب یہ سمجھا گیا کہ تحریک کا کیمپ دہلی دروازہ کی بجائے جامع مسجد وزیر خان میں منتقل کر دیا جائے۔ تمام رضا کار جامع مسجد میں پہنچ گئے۔ وہیں سے قافلوں اور جتھوں کا پروگرام بنتا۔

اس اثناء میں مولانا عبدالستار خان نیازی جامع مسجد وزیر خان میں پہنچ گئے اور اسی طرح حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی بھی جامع مسجد وزیر خان کے اس مرکز میں تشریف لے آئے اور ان دونوں بزرگوں نے تحریک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ مولانا نیازی شعلہ مزاج اور بے باک قسم کے مرد غازی اور مولانا بہاء الحق قاسمی نہایت دھیمے محتاط اور گہری سوجھ بوجھ کے عالم دین تھے۔ تیسرے اور چوتھے نمبر پر مولانا خلیل احمد قادری اور چوہدری ثناء اللہ بھٹہ تھے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی بھی کسی نہ کسی طرح لاہور پہنچ گئے اور وہ جامع مسجد وزیر خان کے علاوہ کسی مخفی مقام پر ٹھہر گئے۔ ان پانچ بزرگوں نے لاہور میں تحریک ختم نبوت کی کمان کی۔ دماغ مولانا غوث ہزاروی کا تھا۔ شعلہ بیانی مولانا نیازی کی تھی اور ہدایات و کارکردگی مولانا قاسمی، مولانا قادری، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ اور دوسرے سینکڑوں کارکنوں کی تھی۔ ہزاروں رضا کاروں کو ٹھہرانا، ان کے لئے کھانے کا انتظام کرنا، انہیں ترتیب و تنظیم سے روانہ کرنا۔ پولیس سے تصادم کے بعد جو نت نئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں۔ انہیں حل کرنا، غرضیکہ تحریک کیا تھی یہ لوگ آگ کے ایک سمندر یا پانی کے ایک سیلاب یا ہوا کے ایک طوفان کی قیادت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

۲؍مارچ کو تیسرے پہر جامع مسجد وزیر خان سے مولانا اختر علی خان کا جلوس نکلا۔ صفیں بندھی ہوئی تھیں۔ کوئی دو لاکھ انسانوں کا سمندر ہوگا جو مولانا کے ہمراہ چیرنگ کراس پر جا پہنچا۔ ہزاروں رضا کار پھول پہنے ہوئے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گرفتاری کے لئے ہمراہ تھے۔ وہاں وہی کل والا فیصلہ تھا۔ آئی جی، ایس پی اور باقی حکومت کی پوری مشینری جمع تھی۔ وہ اس ضد پر تھے کہ ہم رضا کاروں کو گرفتار نہیں کریں گے۔ صرف مولانا کو گرفتار کریں گے۔ حکومت کا مطالبہ تھا کہ باقی لوگ منتشر ہو جائیں اور مولانا اختر علی خان اکیلے گرفتاری پیش کر دیں۔

صفحہ ۲۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عوام نے ہر چند کہا کہ جب حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے اور مجلس عمل کے لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے تو اب حوصلہ کر کے عوام کے راست اقدام کے چیلنج کو قبول کرے یا ہمیں گورنمنٹ ہاؤس گورنر صاحب کی خدمت میں جانے دیا جائے اور یا ہمیں گرفتار کیا جائے۔ بالآخر اس کشمکش میں پولیس نے ڈنڈا برسانا شروع کیا۔ بے شمار لوگ زخمی ہو گئے۔ پولیس کی پر امن ہجوم پر اس ڈنڈا بازی سے عوام زیادہ مشتعل ہو گئے تو انہوں نے بھی جواباً روڑے مارنے شروع کر دیئے۔ جس سے دو سپر نٹنڈنٹ پولیس مسٹر ذوالقرنین اور مسٹر ٹیلر اور متعدد سپاہی بھی معمولی زخمی ہو گئے۔ اس خرابی بسیار کے بعد انہوں نے پھر وہی کمینہ حربہ کہ رضا کاروں کو ٹرکوں میں بھر کر لاہور سے دور دراز بے آباد علاقوں میں چھوڑ آئے۔

۲ / مارچ شام کے وقت کی اس جھڑپ کے بعد حکومت پنجاب کے افسران بہادر دل چھوڑ گئے۔ مولانا اختر علی کو جیل بھیجنے کے بعد انہوں نے تھانہ سول لائن میں اعلیٰ سطح کی ایک میٹنگ منعقد کی جس میں کمشنر، ڈی سی، ایس۔ پی، آئی ۔جی اور ہوم سیکرٹری سب شریک ہوئے اور انہوں نے طے کیا کہ پوزیشن یہ ہے کہ حکومت پنجاب کی رائے کو کوئی مانتا نہیں۔ مرکزی حکومت کو کوئی پریشانی نہیں اور دولتانہ صاحب سے بالا بالا میاں انور علی، ڈی ۔آئی۔ جی صاحب خواجہ ناظم الدین صاحب کے پاس جو بڑ مار آئے تھے وہ صرف بڑ ہی تھی۔ عملاً وہ کچھ کر نہیں سکتے۔ اگر ظلم پر اتر آئیں اور مشین گنیں کھول دیں تو اپنی قوم ہے اور پھر ہمیں اپنا حشر بھی سوچنا پڑے گا۔ لہٰذا ہمیں کیا ضرورت ہے کہ میاں انور علی صاحب کی بڑ کے جھوٹے وقار میں پھنسے رہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اس مصیبت کی ذمہ داری فوج پر ڈال دیں۔

یہاں سے ملک کی بدقسمتی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ ۱۹۵۳ء کا مارشل لاء موجودہ مارشل لاء یہ سب مارشل لاء تھا۔ جو سول لائنز کی اس میٹنگ سے جنم لے رہے ہیں۔ کتنی بے بسی ہے کہ کوئی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ حکومت کی مشینری اس طوفان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اپنی قوم کو اجتماعی طور پر قتل کرنے کی بجائے اور اس ملک سے جمہوریت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی بجائے عوام کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔ جس میں ملک کی بھلائی قوم کی بھلائی۔ مذہب کی بھلائی اور خود مرزائیوں کی بھی بھلائی مضمر ہے۔ حکومت موج سے حکومت کرتی رہے۔ اسلام کا بول بالا ہو جائے۔ عوام خوش ہوں کہ ان کا جمہوری حق ان کو مل گیا۔ افسر خوش ہوں کہ ان کے گلے سے بلا ٹل گئی۔ علماء خوش ہوں کہ ان کی عزت و احترام کو بچا لیا گیا اور مرزائی بھی خوش ہوں کہ وہ اس ملک میں ایک اقلیت کے طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔ لیکن درست فیصلہ کی بجائے فیصلہ کیا ہوتا ہے کہ حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ سول حکومت حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لہٰذا فوج کو طلب کیا جائے اور اس کے لئے جنرل آفیسر کمانڈنگ دہم ڈویژن مسٹر اعظم خان سے درخواست کی گئی۔ وہ خود تو میٹنگ میں نہ آئے، البتہ انہوں نے لیفٹیننٹ کرنل شریں خان اور بعض دوسرے افسروں کو میٹنگ میں بھیجا۔ کرنل شریں خان ابھی حال ہی میں میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ سرحد کشمیر کے انچارج تھے۔ پکے قادیانی ہیں۔ اب مسلمانوں کا مقدر کہ فوج کا نمائندہ کے طور اعظم خان صاحب نے انہیں بھیجا۔ اب یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ فوج مانگ سکتا ہے یا کہ نہیں۔

کرنل صاحب کا مطالبہ یہ تھا کہ فوج کی طلبی کی درخواست حکومت پنجاب کو دینا چاہئے۔ کیونکہ فوج کے اخراجات کی ادائیگی کا قصہ بھی ہوگا۔ بہرحال تھوڑی ردوکد کے بعد آئی۔ جی پولیس اور ہوم سیکرٹری صاحب نے ایک درخواست صوبائی حکومت کی طرف سے تحریر کر دی۔ کرنل صاحب نے جب پکا کام کر لیا تو وہ واپس تشریف لے گئے۔ لیکن افسروں کی بدحواسی کا یہ عالم کہ انہوں نے درخواست میں یہ نہیں لکھا کہ کتنی فوج آئے، کہاں آئے اور سول انتظامیہ کی کس طریق کار سے امداد کرے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ فوج کے حوالے کرنے کی صورت کر دی گئی اور خود معطل ہو کر بیٹھ جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔

صفحہ 289

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھانہ سول لائن میں پنجاب کے اعلیٰ حکام کی یہ میٹنگ جس میں فوج کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا اور جو بالآخر پاکستان میں پہلے مارشل لاء کے نفاذ کا باعث ہوا۔ میاں انور علی صاحب آئی. جی پولیس کے کردار کا ایک حصہ تھا۔ جو وہ اس تحریک میں ادا کر رہے تھے۔ اسی دن شام کو میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوٹھی پر کابینہ کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں آئی. جی پولیس، ہوم سیکرٹری صاحب اور بعض دوسرے افسران شریک ہوئے۔ کابینہ نے افسروں کے فیصلوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ ان فیصلوں کی رو سے باقی ماندہ شہر میں بھی دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی اور فوج کو طلب کر لیا گیا۔

درمیان میں ایک بات

میاں ممتاز خان دولتانہ اور بیوروکریسی کے فرزندان ارجمند (نوکر شاہی) کے درمیان سازش مکمل ہو کر صوبہ بھر میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کی گئی اور مسجد میں بھی دفعہ ۱۴۴ کو داخل ہو جانے کے ذلیل ترین اختیارات دے دیئے گئے تو مسجدوں میں دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں صاحبزادہ فیض الحسن شاہ صاحب گوجرانوالہ میں ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین مرحوم سرگودھا میں گرفتار کر لئے گئے تھے۔ کاش لیلائے جمہوریت کے ناقدوں اور مشتاقوں نے کبھی اس امر پر غور کیا ہوتا کہ یہاں جمہوریت کس کے ہاتھوں قتل کی گئی اور کن کن ہتھیاروں سے اسے ذبح کیا جاتا رہا۔ انگریزوں کی معنوی اولاد (نوکر شاہی) انگریزوں کے پرانے مخالفوں سے انتقام لے رہی تھی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ قوم ”ضل ضلالاً بعیداً“ کے مصداق گمراہی اور تباہی میں بہت دور نکل آئی ہے اور کوئی امید حالات کے درست ہونے کی نظر نہیں آ رہی۔ ورنہ اگر یہاں عدل وانصاف کے مطابق کبھی عوام کی بالا دستی قائم ہوتی اور ان کے حقیقی نمائندوں کو موقعہ ملتا تو بعض افسروں کو درد ناک سزائیں ملتیں۔ ذیل میں اس قسم کے ایک ذلیل ذہنیت رکھنے والے پولیس افسر کی ایک مفصل رپورٹ سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔

قریب دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی طور پر مسلم لیگ کی ہم زبانی اختیار کر لی اور اس کے ساتھ مرزائیت کے خلاف ایک وسیع مہم جاری کر دی۔ اوّل الذکر سے انہیں ایک عوامی برسر اقتدار جماعت کی حمایت حاصل ہو گئی اور آخر الذکر رویے نے انہیں مسلمان عوام میں ہر دلعزیز بنا دیا جو اسلام میں ایک نئی نبوت کے عقیدے کے خلاف تضحیک وطنز کو بے انتہاء پسند کرتے ہیں۔

کے جلسوں کی صدارت نہ کریں بلکہ اپنے رویے سے عوام کو اس امر کا واضح ثبوت دے دیں کہ وہ کسی طریقے سے بھی احراریوں کی مدد نہیں کریں گے۔ بدقسمتی سے عام مسلمانوں کا ذہنی رجحان احمدیوں کے خلاف ہے اور مسلم لیگ کے کارکن بعض اوقات میں اپنے اثر ونفوذ کو محفوظ رکھنے کی خاطر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کے جذبات سے کھلم کھلا ہم آہنگی اختیار کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے ٹکٹ مل جانے کے باوجود کوئی احمدی اسمبلی کے انتخاب میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ احراری مقرر کا عوام پر بہت اثر ہے۔

صفحہ ۲۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جلسوں کے لئے نہ دیئے جائیں۔

ہیں ۔ لیکن ماسٹر تاج الدین انصاری ہمیشہ اعتدال کا مشورہ دیتے ہیں اور موجودہ مرحلے پر مسلم لیگ سے کھلم کھلا علیحدگی کے خلاف ہیں ۔ اب تک ماسٹر تاج الدین انصاری کا گروہ زیادہ قوی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب احرار کو معلوم ہوگا کہ اب عوام میں کافی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں تو علی الاعلان مسلم لیگ سے منقطع ہو کر اپنی آزاد پارٹی قائم کر لیں گے۔ (مسٹر قربان علی آئی جی پولیس کے استفسار پر سی آئی ڈی کے مسٹر خدا بخش سپرنٹنڈنٹ پولیس بی کی خفیہ رپورٹ) ان خفیہ رپورٹوں سے آپ ان افسروں کی ذہنیت کا اندازہ لگائیں کہ یہ کون سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ تمام سرکاری ملازمین افسران اسٹیٹ کے ملازم ہوتے ہیں۔ ان کا کام سپرد شدہ اپنی ڈیوٹیوں کو سرانجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کام یہ نہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو برسر اقتدار رکھنے اور کسی دوسری جماعت کو برسراقتدار آنے سے روکنے کے لئے کام کریں۔ لیکن ۱۹۵۳ء کی مسلم لیگ اور اس کے لیڈر بیوروکریسی کے فرزندوں سے ساز باز کر کے جمہوریت کی جڑیں کاٹنے میں مصروف تھے۔ ان شریف آدمیوں سے کوئی پوچھے کہ اگر ملک کے عوام احرار کو پسند کرتے تھے اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا تھا تو اس سے تمہیں کیا تکلیف تھی۔ یہ وہ بنیادی اسباب ہیں جن کے باعث جمہوریت کا گلہ کاٹا گیا۔ مسلم لیگ کے لیڈر خوش ہوتے رہے کہ یہ افسر ہمیں برسر اقتدار رکھنے اور جمہوریت پسند لوگوں کو نیچا دکھانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ ان افسروں نے سوچا کہ اگر ان بے جان لاشوں کو ہم اپنی کوشش سے برسر اقتدار رکھنا ہے تو کیوں نہ خود ہی اقتدار سنبھال لیں۔ انہوں نے مسلم لیگیوں کے حصہ اسفل پر دو لاتیں رسید کیں اور سکندر مرزا سے رشید آئی جی پولیس تک سب کے سب برسر اقتدار آگئے ۔ جب ملک میں یہ اندھیر مچ گیا تو صدر ایوب صاحب آگئے اور اب رسم چل نکلی ہے۔ دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

ضرور کھودنی پڑیں گی۔ جنہوں نے اس دور میں سازشوں کے جال پھیلا کر عوام اور ملک سے بدترین غداری کی تھی۔ یہ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر ساری تفصیل اس لئے بیان کی گئی ہے کہ جب ۱۳ / جولائی ۱۹۵۲ء کو پنجاب کے تمام دینی اور روحانی راہنما جمع ہو گئے اور پورے ملک میں حکومت کے خلاف آگ لگ گئی۔ کراچی اور پنجاب کے دینی راہنماؤں کے رابطے کی صورتیں پیدا ہونے لگیں تو مسلم لیگ کے راہنماؤں کو اپنا زوال نظر آنے لگا۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب

اس مرحلہ پر جو بات کہی جاتی تھی اس کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ کہا جاتا تھا کہ مطالبات کو منوانے کا یہ کوئی دستوری اور جائز طریقہ نہیں ہے۔ دستوری اور جائز طریقہ یہ ہے کہ عوام اپنے نمائندوں سے عرض کرتے ۔ نمائندے اس مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کرتے ۔ اسمبلی میں تجویز اور تائید کے بعد یہ مطالبات پورے ہو جاتے ۔ نظر بظاہر یہ بات معقول ہے۔ لیکن یہ بات کہنے والوں سے میں دریافت کرتا ہوں کہ جب ایوب خان کمانڈر انچیف پاکستان اور اس کے ساتھیوں نے راتوں رات ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دن ایوب خان کو تو کسی نے یہ نصیحت نہیں کی تھی کہ اگر آپ نے قوم کے اندر کچھ خرابیاں دیکھی ہیں تو ان کی اصلاح کا یہ طریقہ نہیں کہ آپ زبردستی ملک

صفحہ 291

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر قبضہ کرلیں اور ملکی دستور کو توڑ دیں۔ قوم کے نمائندوں کو بے اثر کر کے گھر بھیج دیں۔

ان بوجھ بجھکڑوں کو اس دن تو یہ درس یاد ہی نہ رہا کہ خان صاحب کو کہتے کہ آپ پہلے نمائندوں کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ جناب ممبر صاحبان ملک میں یہ خرابیاں ہیں۔ آپ انہیں اسمبلی میں پیش کر کے ان کا اعلان کرادیں۔ اس دن تو خیر سے بقول جسٹس کیانی سب سے حیران کن بیان جناب چیف جسٹس محمد منیر کا ہی تھا۔ جنہوں نے مارشل لاء کے پہلے ہی دن ایوب خان صاحب کی تائید میں بیان دے دیا تھا اور فرمایا تھا کہ جو کچھ ایوب خان نے کیا ہے وہ از روئے قانون درست ہے۔ اب کیا ہوا ہے۔ ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر ہٹایا ملک کو اسمبلی دی۔ دستور دیا۔ الیکشن کرایا۔ بے پناہ کام کیا۔ ملک نے ترقی کی۔ دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو گیا۔ ۱۹۶۵ء میں صدر ایوب کی زیرکمان بھارت کی کمر توڑ دی گئی۔ عوام بعض باتوں سے ناراض ہو گئے۔ انہوں نے ایوب خان کے خلاف وہ کچھ کہا اور وہ کچھ کیا جو تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں نے نہ قادیانیوں کے حق میں کہا تھا اور نہ کیا تھا۔ حالانکہ ایوب خان مسلمان تھا۔ ملک کا وفادار تھا۔ اس نے ملک کی بے پناہ خدمت بھی کی تھی۔ صرف یہی کہ اس کے بیٹوں نے اسے بدنام کیا اور اس میں چند خامیاں تھیں۔ لیکن قادیانی تو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج تھے۔ اسلام اور ملک دونوں کے غدار تھے۔ ایوب خان کے خلاف عوام کے جلسوں، نعروں، جلوسوں اور منافرت انگیزی پر تو جسٹس منیر صاحب نہیں بولے اور نہ ہی اس کے چلے جانے پر انہوں نے کوئی آنسو بہایا۔ حالانکہ ایوب خان نے جسٹس منیر کو بے حد نوازا تھا اور ان پر ایوب خان کا حق نمک ونعمت بھی مسلم تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ملک کی جمہوریت کے قتل کا مرتکب جہاں اس وقت کے سیاستدانوں اور بعض افسروں کو گردانتا ہوں تحقیقاتی عدالت کو بھی ان کے سامنے شامل اور شریک سمجھتا ہوں۔

مولانا ابوالحسن

۲؍مارچ کو حافظ آباد سے مولانا ابوالحسن عیسیٰ معہ رضا کاروں کے تشریف لے آئے۔ مولانا موصوف اس دن گرفتاری دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہیں موقعہ دیا گیا جب وہ جلوس کی شکل میں جیل کی طرف جا رہے تھے۔ انہیں راستے میں گرفتار کر کے لاریوں میں بٹھایا اور باہر لے جا کر چھوڑ دیا۔ چنانچہ موصوف حافظ آباد واپس جا کر وہیں سے گرفتار ہوئے۔

۳؍مارچ کو شہر میں فوج گشت کر رہی تھی اور اس نے باغ جناح اور بعض دوسری جگہوں پر اپنے کیمپ قائم کئے تھے۔ جامع مسجد وزیر خان سے رضا کاروں کے قافلے گرفتاری کے لئے گورنمنٹ ہاؤس کو جاتے رہے۔ جن کے ہمراہ ہزاروں عوام بھی جلوس کی شکل میں جاتے رہے۔ ۳، ۴؍مارچ کی درمیانی شب جامع مسجد وزیر خان میں ایک عظیم اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں تحریک ختم نبوت کی صورتحال پر اور حکومت کے رویہ پر مولانا عبدالستار خان نیازی نے ایک معرکۃ الآراء تقریر کی۔ اس تقریر سے حکومت کے ایوان ہل گئے اور انہوں نے مولانا کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن وزیر خان کی مسجد میں داخل ہو کر مولانا کی گرفتاری ناممکن ہو چکی تھی۔

ماسٹر تاج الدین فرماتے ہیں: ۳؍مارچ سے ہی شہر میں کرفیو لگ چکا تھا۔ مگر صورتحال یہ تھی کہ باہر سڑکوں پر تو عوام کرفیو کی حکم برداری میں تھے اور اندرون شہر میں کرفیو پولیس پر لاگو تھا۔ تمام کاروبار بند، لوگ شہر میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔ مگر پولیس کا رویہ سخت ہو گیا۔ شہر کے اندر و باہر ہراس پھیل گیا۔ مسلمان عوام پولیس تشدد کے باوجود تلخی اور کشیدگی کی فضا میں بے قابو نہ تھے۔ مسجد وزیر خان میں جو تقریریں ہو رہی تھیں اگر ان تقریروں میں ذرا سا عوام کو اکسا دیا جاتا تو پورے شہر میں بلوہ ہو سکتا تھا۔

صفحہ ۲۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت پر تشدد کا الزام لگانے والے کیا اس حقیقت سے انکار کرنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ لاہور میں گنے چنے چند مٹھی بھر مرزائیوں کے گھرانے تھے جنہیں ختم کر دینا کون سی بڑی بات تھی۔ مگر اس خطرناک دور میں جب کہ جگہ جگہ ختم نبوت کے پروانوں کی نعشیں بکھری پڑی تھیں۔ مسلمان آتش زیر پا تھا۔ مگر کسی ایک مسلمان نے لاہور شہر کے محلوں میں قابو آئے ہوئے مرزائیوں کو ہاتھ تک نہ لگایا بلکہ مجلس عمل کی ہدایت کے مطابق مرزائیوں کی حفاظت کی۔ کسی مرزائی کی نکسیر تک نہ پھوٹی۔ اس حقیقت کے پیش نظر اب بھی اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ ختم نبوت کی تحریک مرزائیوں کے قتل اور فساد انگیزی کی تحریک تھی تو اس سے بڑی ناانصافی اور کیا ہو سکتی ہے؟ تحریک تحفظ ختم نبوت کا لاہور میں بڑا مرکز دہلی دروازہ کا پارک تھا جہاں ہر روز جلسہ ہائے عام منعقد ہوتے تھے اور صبح و شام ہوتے تھے۔ اس کے متصل مرزائیوں کی گلی تھی۔ اس گلی میں مرزائیوں کے چار پانچ گھر ہیں۔ اسی میں مسلمانوں کی قدیم مسجد پر مرزائیوں نے قبضہ کر کے اسے اپنی عبادت گاہ بنالیا ہے۔ مگر ان مرزائیوں کی جانب کسی نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ تحریک کے دوران میں جب کبھی ان مرزائیوں کا ذکر آیا، رہنماؤں نے عوام کو یہی ہدایت کی کہ یہ لوگ ہمارے ہمسائے بطور امانت کے ہیں۔ ہم پر ان کی حفاظت لازم ہے۔ ہماری تحریک جسموں کے خلاف نہیں بلکہ باطل عقیدے کے خلاف ہے۔

دہلی دروازے کی بیسیوں دکانوں کے درمیان ایک مرزائی کی دکان ہے۔ اس دکان پر کسی مسلمان نے دھاوا نہیں بولا۔ مظاہرہ نہیں کیا۔ حالانکہ اس مرزائی دکان اور جلسہ گاہ کے درمیان چند گز کا فاصلہ ہے۔ مگر ان حقائق کے باوجود زبردست لوگ اگر ہم زیر دستوں پر زبان طعن دراز کریں یا بلا وجہ جھوٹے الزامات لگائیں تو انہیں کیا کہا جائے؟ بلاشبہ ملک کے بعض مقامات پر اس تحریک میں چند مرزائی کام آئے۔ مگر وہاں ان مقامات پر ہر جگہ شرارت و فتنہ فساد انگیزی کا باعث خود مرزائی تھے۔ بہرحال سخت ہنگاموں میں بھی لاہور کے مرزائی اس تحریک میں محفوظ رہے۔ اس سے بڑھ کر مجلس عمل کی اور کیا کارگزاری ہو سکتی ہے۔ اس کی امن پسندی اور کامیابی سے کیا اب بھی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کسی دیانتدار مورخ کے لئے انکار ممکن ہے؟

۳؍مارچ: صبح و شام سینکڑوں رضا کاروں کے دستے گرفتاری کے لئے نکلنے لگے۔ دن بھر سارا شہر تحریک سے وابستہ رہتا۔ شہر میں تمام کاروبار بند ہو گیا۔ سیکرٹریٹ، لوکو شیڈ اور حکومت کے دوسرے ادارے بھی تقریباً معطل ہو گئے۔

مولانا بہاء الحق قاسمی

موصوف خوش بیان مقرر، جید عالم، اخلاق و محبت کا مجسمہ اور سیاسیات کے پیچ و خم سمجھنے والے بزرگ تھے۔ شہرت سے کوسوں دور بھاگنے والے۔ بے لوث خدمت کے عادی تھے۔ مجلس عمل کے اکثر رہنما جب گرفتار کر لئے گئے تو مولانا بہاء الحق قاسمی میدان میں اتر آئے۔ آپ نے ۲۷؍فروری کی ابتدائی مجلس مشاورت میں جو موجودہ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور میں منعقد ہوئی تھی حصہ لیا۔ اس کے بعد وہ واپس گھر نہیں گئے بلکہ مسجد وزیر خان میں ڈیرہ ڈال دیا۔ مولانا صلاح و مشورہ میں شریک ہوتے اور مسجد وزیر خان کے اجتماعات میں تقریر کرتے۔ حالات جونہی مخدوش ہوئے اور پولیس انتظامیہ، حکومتی عجلت پسند ارکان اور مرزائی تیزی سے سارے نظام کو درہم برہم کرنے کے درپے تھے۔

۳؍مارچ کو فوج جناح گارڈن پہنچ گئی اور اس نے صبح کو سول لائنز اور کارپوریشن کے مجوزہ علاقہ میں گشت شروع کر دیا۔ اندرون شہر فوج نے بھی مداخلت مناسب نہ سمجھی۔ بارڈر پولیس بھی حرکت میں آگئی۔ نہ معلوم کون کون سی ایجنسیاں اور ان کے گماشتے تحریک مقدس کو

صفحہ ۲۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ناکام بنانے کی خاطر اپنی دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کا سامان کرنے لگے۔ ادھر اندرون شہر سارا دن جلوس نکلتے رہے اور محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے دیوانہ وار رقص کرتے رہے۔ انارکلی میں اکتیس آدمی ۱۴۴ کی خلاف ورزی میں پکڑے گئے۔ نیلا گنبد کی طرف سے مال روڈ کی طرف جب جلوس آ رہا تھا تو اس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ظلم یزید کی یاد تازہ کر دی۔

ٹولٹن مارکیٹ کے قریب جلوس پر بے پناہ مظالم روا رکھے گئے۔ ڈی۔ایس۔پی، ایم۔اے چوہدری اس ظلم کی کمان کر رہا تھا۔ اس کی شخصیت اور کردار سے دنیا واقف ہے کہ یہ صاحب کون تھے۔ دو اور جلوس بھی نکلے ان پر بھی ظلم و ستم کی انتہاء کر دی گئی۔ ان دونوں جلوسوں پر لاٹھی چارج کے احکامات ”عزت مآب“ آئی۔جی پولیس نے صادر فرمائے تھے۔ ان مظالم کے باوجود بھی جب تحریک کے کارکنوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور تحریک کو پر امن جاری رکھا تو میکلوڈ روڈ سے منٹگمری روڈ کی طرف آنے والے جلوس پر فائرنگ کی گئی اور اس کی قیادت و سیادت آغا سلطان احمد انسپکٹر نولکھا کر رہے تھے۔ کیا دنیا نہیں جانتی کہ یہ کون بزرگ تھے۔ قارئین! خدا گواہ ہے کہ پرامن تحریک کو کچلنے کے لئے مسلم لیگی قیادت، ظفر اللہ خان کی شیطانیت، مرزائی و مرزائی نواز افسروں کی کمینہ فطرت کا ایک ایسا لاوا آتش تیار کیا گیا جس میں تحریک کے کارکنوں کو بھون ڈالنے کی کوشش کی گئی اور رب العزت کی کروڑ رحمتیں ہوں۔ صاحب ختم نبوت کے گنبد خضراء پر جن کی روحانی پشت پناہی اور اللہ رب العزت کی رحمت کے سوا ان کارکنوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ مگر اس کے باوجود اپنی منزل کی طرف خون کا سمندر پار کر کے بھی رواں دواں رہے۔

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: ۴ / مارچ کو حسب سابق پر امن رضا کاروں کا ایک بہت بڑا جلوس روانہ ہوا اور چوک دالگراں کے راستہ ریلوے اسٹیشن جانا چاہتا تھا۔ یہ رضا کار زیادہ تر دیہات سے آئے ہوئے تھے۔ پھولوں کے ہار پہنے ہوئے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے بالکل پر امن جا رہے تھے۔ چوک دالگراں میں انہیں روکا گیا اور منتشر ہونے کے لئے کہا گیا۔ رضا کاروں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ حکام نے گرفتاری سے انکار کیا اور ان کے منتشر ہونے پر اصرار کیا۔ پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ لاٹھی چارج کیا۔ لیکن وہ رضا کار جن کی تعداد ایک ہزار (۱۰۰۰) کے قریب تھی۔ بڑی ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہے اور ظلم سہہ کر بھی منتشر نہ ہوئے۔ بالآخر جب ظلم حد سے گزر گیا اور پولیس نے اکیلے اکیلے رضا کاروں کو ڈنڈوں سے پیٹنا شروع کر دیا تو رضا کار زمین پر دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔ جب زمین پر بیٹھے ہوؤں پر بھی ڈنڈے برسائے گئے تو وہ زمین پر لیٹ گئے۔

سید حسنات احمد سٹی مجسٹریٹ، سید فردوس شاہ ڈی۔ایس۔پی اور ملک خان بہادر سپرنٹنڈنٹ پولیس تینوں افسر برابر ظلم کر رہے تھے اور رضا کاروں کو ٹھوکریں مار مار کر زخمی اور لہولہان کر رہے تھے۔ پولیس رضا کاروں کو گھسیٹ گھسیٹ کر لا رہی تھی اور اٹھا اٹھا کر ٹرکوں پر ڈال رہی تھی۔ اس اثناء میں ایک بوڑھے رضا کار جس کے گلے میں حمائل شریف پڑی ہوئی تھی اسے فردوس شاہ ڈی۔ایس۔پی نے گھسیٹا، پیٹا اور پاؤں سے ٹھوکریں ماریں۔ حمائل شریف غلاف میں سے نکل کر دور جا پڑی اور ورق ورق ہو گئی۔ بوڑھے کو زبردستی ٹرک میں ڈال دیا گیا اور قرآن مجید بازار کے ساتھ بہنے والی گندی نالی میں گر پڑا۔ اس صورتحال کو چوک دالگراں کے لوگ دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کی تصدیق منیر انکوائری رپورٹ کے مطابق گواہ نمبر ۳۲ محمد نذیر صاحب، گواہ نمبر ۳۳ محمد حنیف صاحب، گواہ نمبر ۳۴ محمد رفیق صاحب، گواہ نمبر ۳۷ سراج دین صاحب نے بھی کی۔

تحریک ختم نبوت کے بعد کے زمانہ کو آج کل کے یا عام حالات پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ ظلم و تشدد سے تحریک کو کچلا گیا۔ وسیع

صفحہ 294

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پیمانے پر پکڑ دھکڑ ہوئی۔ پولیس نے جس کو چاہا پکڑ کر اندر کر دیا۔ لوگوں کو ڈرایا گیا۔ منیر انکوائری کورٹ نے تحقیقات شروع کی تو کوئی شخص گواہی دینے کو تیار نہ تھا۔ اس خوف و ہراس کے ماحول میں اور پھر گواہی بھی پولیس کے خلاف۔ کس کی جرأت ہو سکتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود چار معتبر گواہوں نے اس واقعہ کے متعلق چشم دید گواہ ہونے کی حیثیت سے گواہی دی۔ نہ صرف قرآن مجید کی بے حرمتی کی، بلکہ ایک معصوم بچے کو وہیں چوک دلگراں میں اس قدر پیٹا گیا کہ وہ وہیں جاں بحق ہو گیا۔ اس کی لاش پولیس نے ہضم کر لی۔ ان چاروں گواہوں نے اس معصوم لڑکے کی موت کی بھی تصدیق کی اور ڈٹ کر گواہی دی۔ لیکن قربان جائیں چیف جسٹس محمد منیر کے۔ چونکہ اس بچے کے قاتلین اور دوسرے کئی بے گناہ مسلمانوں کو قتل عام کرنے والے ملک خان بہادر خان سپرنٹنڈنٹ پولیس اس واقعہ کو تسلیم نہیں کرتے اور موقعہ پر موجود مجسٹریٹ سید حسنات احمد بھی ان واقعات کی تصدیق نہیں کرتے۔ لہٰذا وہ لکھتے ہیں: ”ہم تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی مسلمان پولیس افسر خواہ وہ کتنا لامذہب کیوں نہ ہو کہ وہ کتاب اللہ کو ٹھوکر مار سکتا ہے اور اس شدید ترین کافرانہ حرکت کا مجرم بن سکتا ہے۔ ہمارے سامنے بحث میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ کتاب اللہ نادانستگی کی حالت میں پامال کر دی گئی ۔ اس لئے ہم قبول نہیں کر سکتے کہ کسی نے قرآن مجید کو ٹھوکر ماری تھی یا کسی لڑکے کو مار مار کر ہلاک کیا تھا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ۱۵۹)

بہر حال یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن مجید کو فردوس شاہ ڈی۔ایس۔پی کی ٹھوکر لگی تھی اور قرآن مجید پارہ پارہ ہو کر گندی نالی میں گر گیا تھا۔ یکی دروازے کے اندر کا ایک نوجوان محمد اشرف عرف کا کا چوک دالگراں کے قریب کسی دوکان یا ورکشاپ میں ملازم تھا۔ یہ پھٹے ہوئے ورق اس نے جمع کئے۔ اصل حمائل شریف گندی نالی سے نکالی اور دہلی دروازہ کے باہر ہونے والے جلسہ میں لے گیا۔

محمد شریف کا کا میرے ساتھ قلعہ میں قید رہا ہے۔ وہ سید فردوس شاہ کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوا اور اسی کے پاس سے شاہ صاحب موصوف کا ریوالور برآمد ہوا تھا۔ میں تحریک ختم نبوت کے متعلق جب اپنے ذاتی واقعات کے بارے میں لکھوں گا تو وہاں اشرف کا کا کے حالات بھی مفصل آئیں گے۔ اس نے ان تمام واقعات کی تصدیق کی تھی۔ قرآن مجید کی بے حرمتی اور معصوم بچے کے قتل ناحق کے واقعہ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر بلکہ سارے ملک میں آناً فاناً پہنچ گئی۔ لوگ قابو سے باہر ہو گئے۔ اس قیامت خیز واقعہ کے علاوہ اس روز ایک اور بدترین واقعہ یہ ہوا کہ چند مرزائی نوجوان جیپ میں سوار فوجی وردیوں میں ملبوس فوجی قسم کے اسلحہ سے مسلح ہو کر بڑی تیز رفتاری سے شہر میں گشت کرتے رہے۔ جہاں کہیں کوئی جلوس یا باہر سے آئے ہوئے رضا کاروں کی کوئی ٹولی انہیں نظر آتی اس پر اندھا دھند گولیاں چلاتے اور قتل عام کرتے رہے۔ پولیس حواس باختہ تھی اور فوج خدا جانے کہاں تھی۔ لاکھوں کی آبادی کے شہر میں یہ قتل عام ہو رہا تھا اور کوئی ان کو روکنے یا پکڑنے والا نہ تھا۔

اور اس جیپ میں بیٹھ کر کھلے بندوں فائرنگ کرنے والوں کے متعلق شہادتیں ہوئیں۔ مسٹر گبن ممبر صوبائی اسمبلی تک نے اپنی شہادت میں اس واقعہ کی تصدیق کی۔ لیکن جو کچھ جج صاحبان نے اپنے انصاف رقم قلم سے اس واقعہ کے متعلق لکھا ذرا وہ بھی پڑھ لیں۔ ”یہ بیان کہ بعض احمدی فوجی وردیاں پہنے ایک جیپ میں سوار ہو کر لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ ہمارے سامنے موضوع ثبوت بنایا گیا اور اس کی تائید میں متعدد گواہ پیش کئے گئے۔ اگرچہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک پراسرار گاڑی میں بعض نامعلوم آدمی اس دن شہر میں گھومتے رہے۔ لیکن ہمارے سامنے اس امر کی کوئی شہادت نہیں کہ اس گاڑی میں احمدی سوار تھے یا وہ گاڑی کسی احمدی کی ملکیت تھی۔“

(تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ص ۱۸۹)

صفحہ ۲۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ۲۹۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیکھا آپ نے جسٹس منیر صاحب کا انصاف ۔ متعدد شہادتیں پیش ہوئیں اور انہوں نے واقعہ کی تصدیق کی لیکن عدالت نے یہ نکتہ پیدا کرلیا کہ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس گاڑی میں احمدی سوار تھے۔

ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی عقل اس بات کو سمجھ سکتی ہے کہ کوئی مسلمان یہ قتل عام نہیں کر سکتا تھا۔ فوج اس واقعہ کی ذمہ داری نہیں لیتی۔ ظاہر ہے کہ یہ مرزائی تھے۔ جو اصلی فوجی تھے یا جعلی اور انہوں نے کرنل شریں خان انچارج فوج کے مرزائی ہونے سے فائدہ اٹھایا اور تحریک کو گزند پہنچانے کے لئے یہ قتل عام کیا۔ قرآن مجید کی بے حرمتی، معصوم بچے کا قتل اور فوجی وردیوں میں ملبوس مرزائیوں کا قتل عام، یہ تین واقعات تھے جس سے لاہور کے عوام بے حد مشتعل ہو گئے۔ دہلی دروازہ کے باہر جلسہ ہوا۔ بے پناہ لوگ جمع ہو گئے تھے۔ لوگ مارے غصہ کے پاگل ہورہے تھے کہ مصری شاہ کے ایک مولوی صاحب جن کا نام محمد سلیم اور دوسرے ان کے ہمراہ سیالکوٹ کے مولوی محمد یوسف تھے۔

علام الغیوب خدا کی ذات ہے۔ اصل کیا تھا اسے وہ علیم اور خبیر ذات ہی جانتی ہے۔ لیکن واقعات کو بلا رعایت لکھ دینا ضروری ہے۔ مولوی محمد سلیم صاحب اپنی ظاہری دینی وجاہت اور پوزیشن کے باوجود اصل پولیس کے آدمی تھے وہ کسی نہ کسی حیثیت سے پولیس کی کسی تنظیم کے ممبر بھی تھے۔ مولانا عبد الستار خان نیازی کے مقدمہ میں سرکاری گواہ بھی تھے۔ انہی مولانا صاحب نے اجتماع عام میں پھٹے ہوئے قرآن مجید کے ورق لوگوں کو دکھائے اور انہیں مشتعل کیا اور جب ان کا پارہ انتہائی درجہ پر پہنچا تو جلسہ ختم کر دیا گیا۔ لوگ وزیر خان کی مسجد میں چلے گئے ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جلسہ کے لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم مسجد وزیر خان کے قریب پہنچا تو آگے سے کوئی تھانیدار صاحب معہ چند سپاہیوں کے آ رہے تھے۔ لوگوں نے جلسہ میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے متعلق جو کچھ سنا تھا اس سے متاثر ہو کر انہیں مردہ باد کہا۔ وہ ڈر گئے اور بھاگ کر پچھلی گلی میں لوگوں کے گھروں میں گھس گئے۔ وہاں سے تھانیدار صاحب نے کوتوالی میں فون کیا کہ ہم مسجد وزیر خان کے نواحی مکان میں گھر گئے ہیں اور ہماری جان کو خطرہ ہے۔ ہمیں یہاں سے چھڑایا جائے۔ بدقسمتی کہ فردوس شاہ ڈی۔ ایس۔ پی کوتوالی میں موجود تھا۔ وہ ایک دستہ پولیس کا لے کر مسجد وزیر خان میں پہنچ گیا۔ جب وہ مسجد وزیر خان کے سامنے بڑے دروازہ میں پہنچے تو رضا کاروں نے کہا یہ ہے وہ بے ایمان جس نے قرآن مجید کو ٹھوکر ماری تھی۔ بس پھر کیا تھا وہ سارا ہجوم فردوس شاہ پر پل پڑا۔ اس زمانہ میں مسجد وزیر خان کے سامنے کھلی جگہ میں چھوٹی چھوٹی چھپریاں ہوتی تھیں۔ جن کے نیچے لوگ مختلف دوکانیں کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے ان چھپروں کے بانس نکال لئے اور فردوس شاہ کو مارنا شروع کر دیا۔ ہجوم زیادہ تھا۔ لاٹھی کی سیدھی ضرب نہیں ماری جاسکتی تھی۔ لوگوں نے بانسوں اور لاٹھیوں سے چوک مار مار کر شاہ صاحب کا قیمہ کر دیا۔ شاہ صاحب بڑے دروازے کے قریب گندے نالے میں گر کر ختم ہو گئے۔ خدا کی قدرت ان کی ٹھوکر سے قرآن مجید گندی نالی میں گرا تھا اور لوگوں کی ٹھوکروں سے ان کی لاش بھی گندے نالے ہی میں جا گری۔ جہاں کافی دیر پڑی رہی۔ یہاں تک کہ پولیس نے ہی وہاں سے آ کر انہیں نکالا۔

فردوس شاہ کے قتل کا باعث

۴؍ مارچ کو ایک اہم اور خوفناک واقعہ ظہور پذیر ہوا۔ مستی دروازے کا باوردی تھانیدار مشتعل ہجوم میں گھر گیا۔ یہ اطلاع جب لاہور کے سالار سعید اقبال کو ملی تو وہ چند رضا کاروں کو لے کر فوراً موقع پر پہنچ گیا۔ ابھی گفتگو ہی ہورہی تھی کہ ادھر کیا لینے آئے ہو۔ ہمارے بھائیوں پر لاٹھیاں برساتے ہو ہمارے ساتھ کیا انصاف کرو گے۔ تھانیدار بے بس سا نظر آ رہا تھا۔ سعید اقبال صاحب نے لوگوں کو منتشر کیا۔ تھانیدار کو سیڑھی کے ذریعے پچھلے دروازے کی چھت پر چڑھا دیا اور بڑی مستعدی سے اس کی وردی تبدیل کروا کر سفید کپڑوں میں اسے واپس پہنچا دیا۔

صفحہ ۲۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوتوالی میں یہ اطلاع پہنچی کہ تھانیدار گھر گیا ہے تو فردوس شاہ ڈی.ایس.پی نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ گارد کو لیا اور جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ اس سے قبل چوک دالگراں میں قرآن مجید کو ٹھنڈے مار کر شہید کر کے اس کے اوراق کو گندی نالی میں ڈال دینے کا وقوعہ ہو چکا تھا اور مبینہ طور پر اس کا ملزم فردوس شاہ کو گردانا جا رہا تھا۔ فردوس شاہ وہاں پر پہنچا تو کسی نے کہہ دیا کہ یہی وہ شخص ہیں جس نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی تھی۔ یہ افواہ اڑنی تھی کہ فردوس شاہ قتل کر دیا گیا۔ مرزائی اور حکومت یہی چاہتی تھی۔ انہیں بدامنی کرانا مطلوب تھی۔ چنانچہ خدا دے اور بندہ لے۔ پولیس کو تشدد کرنے مسلمانوں پر بے تحاشا گولیاں چلانے کا بہانہ میسر آ گیا۔

یہ سب کچھ مرزائی اور حکومت کے کارندے کر رہے تھے۔ فردوس شاہ کا قتل تحریک مقدس کی سفید چادر پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو مرزائی اور مرزائی نواز انتظامیہ نے لگایا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک کے ذمہ دار حضرات تو پہلے سے ہی گرفتار تھے۔ تحریک کے لوگوں کا اس افسوسناک واقعہ سے قطعاً تعلق نہ تھا۔

۴؍ مارچ کو کابینہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی.جی، ڈی.آئی.جی بھی شریک ہوئے۔ آئی.جی پولیس نے ایک تقریر پڑھ کر کابینہ کے اجلاس میں سنائی جو مولانا عبدالستار خان نیازی نے کی تھی۔ فوج نے بظاہر ہیڈ کوارٹر کے حکم کے تحت گشت لگانا بند کر دیا۔ بلکہ ایک یا دو کمپنیاں جناح گارڈن سے واپس چھاؤنی بھی چلی گئی تھی۔ آج پورا دن جلوس نکلتے رہے اور پولیس ان پر گولیاں کی بوچھاڑ کرتی رہی۔ وہ خاک و خون میں تڑپ کر بھی محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کر گئے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک راستہ متعین کر گئے کہ اگر قانون آپ ﷺ کی عزت و ناموس سے گریزاں ہو تو مسلمان اپنے خون و جگر سے یہ فریضہ ادا کر کے دکھاتے ہیں۔ اب ٹرینوں اور لاریوں سے رضا کاروں کے بے شمار دستے لاہور میں داخل ہو رہے تھے۔ سرگودھا کے رضا کاروں کے دستے پر نولکھا تھانہ کے سب انسپکٹر محمد حامد نے لاٹھی چارج کیا۔ فردوس کی نعش تھانہ میں لائی گئی تو ہوم سیکرٹری، آئی.جی، ڈی.آئی.جی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ موقع پر پہنچ گئے۔ اتنے میں جنرل اعظم، جنرل آفیسر کمانڈنگ دہم بھی ان سے آ ملے۔ جس وقت یہ افسر صورتحال پر غور کر رہے تھے تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کہا کہ فردوس شاہ کے قتل کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب لاہور فوج کے سپرد کر دیا جائے جو افسر اس وقت موجود تھے انہوں نے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر شہر میں پولیس نے گشت شروع کیا۔ پولیس کا کئی جلوسوں سے سابقہ پڑا۔ انہوں نے دل کھول کر فائرنگ کی اور مسلمانوں نے سینہ کھول کر پولیس کے مظالم کو برداشت کیا۔ دونوں طرف سے مقابلہ جاری ہوا۔ پولیس گولیوں اور سنگینوں کے استعمال سے تحریک کو ٹھنڈا کرنے پر عمل کر رہی تھی۔ مسلمان خون جگر دے کر تحریک کی آبیاری کر رہے تھے۔ قدرت مسکرا رہی تھی کہ حق و باطل کے اس عظیم معرکہ میں پولیس کس طرح دنیا و آخرت کی اپنی رسوائی کا سامان کر رہی تھی۔ بھاٹی دروازے کے قریب ایک جلوس گزر رہا تھا۔ انتظامیہ نے اسے کرفیو کی خلاف ورزی قرار دے کر بھون ڈالا۔ نولکھا بازار میں بھی ایک جلوس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ سرکلر روڈ بیرون دہلی دروازہ کے ایک جلوس پر گولیاں چلائی گئیں۔ چوہدری محمد حسین ایس.پی نے میکلوڈ روڈ کے ایک جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ نسبت روڈ پر انسپکٹر آغا سلطان احمد نے فائرنگ کی اور کئی لوگوں کے جلوس پر گولیاں چلائیں۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس موچی دروازہ نے ایک اور جلوس پر گولیاں چلا کر شرکاء کے قلب و جگر کو چھید ڈالا۔ غرضیکہ پورا شہر سراپا احتجاج تھا۔ کرفیو نافذ ہونے کے باوجود اس کا نام و نشان نہ تھا۔ پولیس باؤلے کتے کی طرح شرکاء جلوس مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر رہی تھی۔ چشم فلک نے

صفحہ ۲۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاہور میں حق و باطل کا یہ معرکہ دیکھا کہ حق والے کس طرح اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کر رہے تھے۔ رات بھر دور دور تک مہیب و ہولناک شور اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ مسلمان اذانیں دے کر رحمت کردگار کے طلبگار تھے۔ پولیس فرعون کا جدی پشتی کردار ادا کر رہی تھی۔ آدھی رات سے کچھ بعد چیف منسٹر کی کوٹھی پر ایک اجلاس منعقد ہوا۔ وہی ہوم سیکرٹری، آئی۔جی، ڈی۔آئی۔جی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ایس۔پی اور جنرل اعظم اور بعض دوسرے فوجی افسران شریک اجلاس ہوئے۔ یہ اجلاس صبح تین بجے تک جاری رہا۔ آئی۔جی نے جنرل اعظم کو بتایا کہ ہزارہا گولیاں ہزارہا مسلمانوں کا سینہ چھلنی کرنے کے باوجود تحریک کو گولیوں سے کچلنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ مدہم ہونے کی بجائے تحریک میں مزید شدت پیدا ہو رہی ہے۔ شدید حادثات کا اندیشہ ہے۔ اب پولیس کی گولیوں میں جان نہیں رہی یا مسلمان کا ایمان اتنا سخت جان واقع ہوا ہے کہ اس پر یہ اثر نہیں کرتیں۔ اب فوج کو توپ و تفنگ سمیت رہی سہی کسر نکالنے کے لئے میدان میں آنا چاہئے۔ بھارت کی سرحد پر بمباری کی بجائے مسلمانوں کے سینوں کو میدان زار بنا کر ان کو لالہ زار بنایا جائے۔ ادھر تحریک کے کارکنوں میں غیر مرئی جذبہ اس طرح موجزن تھا کہ وہ ختم نبوت کے تحفظ کی جنگ گویا رحمت عالم ﷺ کی براہ راست نظر کرم سے لڑ رہے تھے۔ مسلمان اپنی جانوں پر کھیل کر ثابت کر رہے تھے کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کا رشتہ اتنا مقدس رشتہ ہے کہ اس میں مال، عزت، آبرو، اولاد تو درکنار جان بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ”لا یؤمن احدکم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعین (الحدیث)“ کا مسلمان عملی مظاہرہ کر رہے تھے۔

فردوس شاہ ڈی۔ایس۔پی کے قتل کے بعد افسروں کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ غصے، غضب، سراسیمگی اور پریشانی کی حالت میں کوتوالی جمع ہوئے۔ ان میں ہوم سیکرٹری سید غیاث الدین احمد، آئی۔جی پولیس میاں انور علی، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس مرزا نعیم الدین، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرنل عالم، آفیسر کمانڈنگ فرسٹ بلوچ رجمنٹ آفیسر جنرل کمانڈنگ اعظم خان شامل تھے۔

خاص افسروں کی اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک کو تشدد کے ساتھ کچل دیا جائے اور ڈی۔ایس۔پی کے قتل کا انتقام لیا جائے۔ چنانچہ کافی بحث کے بعد شہر میں فوری طور پر کرفیو کا اعلان کر دیا گیا اور ساتھ ہی اندھا دھند فائرنگ بھی شروع کر دی گئی۔ دہلی دروازے کے باہر چوک میں رضا کاروں کے ہجوم پر اندھا دھند فائرنگ ہوتی رہی۔ میکلوڈ روڈ پر چوہدری محمد حسین سپرنٹنڈنٹ پولیس، مال روڈ پر ملک حبیب اللہ، بھاٹی دروازہ، نولکھا بازار اور موچی دروازہ کے قریب فائرنگ کرواتے رہے اور مسلمانوں کے قتل عام میں لگے رہے۔ حد یہ ہے کہ اس قتل عام میں براہ راست خود میاں انور علی بھی شریک رہے۔ رات گئے تک یہ قتل جاری رہا۔ لاشے گرتے رہے اور تڑپتے رہے۔ کلمہ طیبہ کی آوازیں بلند ہوتی رہیں اور یزیدی ظلم و تشدد کی بدولت خاموش ہوتی رہیں اور اس طرح فردوس شاہ کے قتل کا انتقام بے گناہ مسلمانوں سے لیا جاتا رہا۔ جب رات ہو گئی، لوگ اپنے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور حکومت کے ظلم و تشدد سے جو مصیبت عظمیٰ بن کر ان کو گھیرے ہوئے تھا نجات حاصل کرنے کے لئے بلند آواز کے ساتھ اذانیں پڑھنے لگے۔ لاہور میں کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں فائرنگ سے شہید ہونے والوں کا ماتم نہ بپا ہو اور رد بلا کے لئے اذان کی آواز نہ گونج رہی ہو۔ چنانچہ اس رات کے متعلق منیر انکوائری رپورٹ میں جج صاحبان نے لکھا کہ: ”غرض پورا شہر شور و غوغا کا ایک ہنگامہ زار بنا ہوا تھا۔ رات بھر دور دور تک مہیب و ہولناک شور کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔“ (منیر انکوائری رپورٹ ص ۱۶۰) میاں ممتاز خان دولتانہ کی صدارت میں اجلاس ہوتے تھے۔ تحریک کو کچلنے اور عوام کی ناراضگی کے سیلاب کو روکنے کے لئے مشورے ہوتے تھے۔ لیکن صحیح بات کسی کی زبان پر نہ آتی تھی کہ مرکزی حکومت اور اس کے سربراہ

صفحہ ۲۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خواجہ ناظم الدین کو لاہور بلایا جائے اور اسے بتایا جائے کہ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے جو ہم عوام پر ڈھائیں ۔ لیکن مطالبہ تسلیم کرنا، عوام کی بات ماننا اور قادیانیوں کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا تو کسی کے اختیار میں ہی نہ تھا اور نہ اس پر کوئی بات ہوتی تھی۔ اگر کسی کو اختیار حاصل تھا تو صرف یہ کہ اپنے عوام کو صد فیصد درست ہونے کے باوجود گولیوں اور سنگینوں سے خاموش کرادو۔ ۴؍ مارچ کو پولیس قتل عام کرتی رہی۔ سارا دن گولی چلتی رہی۔ رضا کار با قاعدہ جتھے بناتے اور پھولوں کے ہار پہنے کلمہ طیبہ پڑھتے مختلف راستوں سے نکلتے تھے۔ پولیس اور فوج انہیں روکتی ۔ وہ گرفتاری پیش کرتے تھے۔ لیکن انہیں گرفتار کرنے کی بجائے گولیاں ماری جاتیں تھیں۔

۵؍ مارچ : اس روز پہلے سے کہیں زیادہ ظلم روا رکھا گیا۔ اس ظلم تشدد اور بے گناہوں کے قتل عام کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام سرکاری دفاتر بند ہو گئے۔ سول سیکرٹریٹ کے تمام چھوٹے بڑے ملازموں نے بھی ہڑتال کر دی اور اپنے اپنے دفتروں سے باہر نکل آئے۔ ایشیاء کی تاریخ کا یہ پہلا اور انوکھا واقعہ تھا کہ عوام کے مطالبات اور احتجاج میں کسی ملک کا صوبائی سیکرٹریٹ بند ہو گیا ہو اور اس کے چھوٹے بڑے تمام ملازمین بھی تحریک میں شریک ہو گئے ہوں ۔ اس بات کا اعتراف میاں انور علی آئی۔ جی پولیس نے بھی اپنی شہادت میں کیا ہے۔

لاہور کے عوام تحریک ختم نبوت کے رضا کاروں اور حضور خاتم المرسلین کے شیدائیوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر صبر اور ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھے اور سول نافرمانی کی تحریک بغاوت میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دینے لگی ۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے اور سینے تان کر کھڑے ہو گئے۔

اب حکومت کے سامنے کوئی چارہ نہ تھا کہ عوام کے اس نئے اقدام کو ناکام کرے ۔ چنانچہ پولیس نے اپنے کرائے کے غنڈوں اور ٹاؤٹوں سے اومنی بسوں کو آگ لگوائی ۔ پولیس کی اپنی ایک گاڑی بھی جلوادی گئی ۔ کچھ مرزائیوں کی دوکانیں جلوائی گئیں اور چند دوکانیں لٹوائی گئیں۔ ان واقعات کا مقصد یہ تھا کہ فوج کو یقین دلوایا جا سکے کہ یہ تحریک کوئی دینی اور پر امن تحریک نہیں ہے۔ تاکہ فوج شرح صدر کے ساتھ طاقت استعمال کر سکے ۔ نیز پولیس کے جوان جو ۴؍ مارچ کے ظلم و تشدد پر نادم اور افسوس کناں تھے اور مزید گولی چلانے پر آمادہ نہ تھے، انہیں بھی مزید مظالم ڈھانے پر آمادہ کیا جا سکے ۔ چنانچہ یہ اسکیم بنانے والے کامیاب ہوئے اور غنڈوں کے ان چند واقعات کے بعد پولیس نے تین دن تک بے پناہ ظلم ڈھایا اور بے گناہوں کو گولیوں اور سنگینوں سے قتل کیا۔

دس ہزار؟

یہ کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے کہ غنڈہ گردی ، لوٹ مار ، ساڑ پھونک اور توڑ پھوڑ کی یہ کارروائیاں تحریک ختم نبوت کے رضا کاروں نے کی ہوں یا عوام نے رضا کاروں پر ظلم ہوتا دیکھ کر اشتعال میں آ کر یہ سب کچھ کیا ہو ۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ اگر تحریک ختم نبوت سے تعلق رکھنے والے رضا کار یا عوام ان واقعات کا ارتکاب کرتے تو وہ شروع سے لے کر آخر تک ہوتا ۔ صرف ایک دن ۵؍ مارچ کو صبح سے دوپہر تک ان واقعات کا ہونا اور پھر بالکل بند ہو جانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ واقعات کرنے والے کسی اسکیم کے تحت ان جرائم کا ارتکاب کر رہے تھے ۔ رضا کار صرف دفعہ ۱۴۴ توڑ کر گرفتاری دینا چاہتے تھے ۔ وہ پہلے دن سے لے کر آخری دن تک ایسا کرتے رہے ۔ حکومت نے یا ان کی گرفتاری لی اور یا ان کی جان لے لی ۔ اگر توڑ پھوڑ ، ساڑ پھونک اور مار دھاڑ بھی پروگرام میں شامل ہوتی تو وہ صرف ایک دن چند گھنٹے جاری رہ کر بند نہ ہو جاتی جو رضا کار کرفیو توڑتے رہے اور مارشل لاء لگ جانے کے بعد بھی توڑتے رہے۔ گرفتاری یا جان دینے کے لئے سینے تان کر جتھے نکالتے رہے ۔ اگر تشدد کے یہ واقعات بھی ان کے پروگرام میں شامل ہوتے وہ انہیں شروع سے آخر تک ہر قیمت

صفحہ ۲۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور ہر قربانی ہنسی خوشی سرانجام دیتے رہتے۔ لیکن یہ صبح سے دوپہر تک کے واقعات اور صرف ایک دن کے لئے پولیس کے اپنے منظم کرائے ہوئے واقعات تھے۔ جن کا مقصد صرف یہ تھا کہ پولیس اور فوج کے جوان تحریک کے رضا کاروں کو ان واقعات کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں غنڈے سمجھ کر شرح صدر کے ساتھ گولی چلاتے رہیں اور قتل کرتے رہیں۔ چنانچہ ۴/مارچ اور ۵/مارچ کو پولیس نے شرح صدر کے ساتھ گولی چلائی۔ سنگینیں استعمال کیں۔ ریڈیو کے اعلانات میں تحریک کے رضا کاروں کو غنڈے کہا جاتا رہا۔ پولیس کے جوان بزعم خویش غنڈوں کو قتل کرتے رہے۔ محتاط اندازہ کے مطابق ۱۰ ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور ان کی نعشیں ٹھکانے لگائی جاتی رہیں۔ بعض ذمہ دار سیاسی لیڈروں نے اس کی تصدیق کی۔ ملک فیروز خان نون نے پبلک طور پر بیان دے کر اسی بات کی تصدیق اور تائید کی۔

سب سے زیادہ ظلم گوالمنڈی کے علاقہ میں جہاں عبدالکریم مرزائی اے.ایس.آئی اور خان بہادر سپرنٹنڈنٹ بارڈر پولیس گولی چلانے میں مصروف رہے۔ گوالمنڈی کے قتل عام کی تحقیقات تحقیقاتی عدالت میں بھی خاص طور پر پیش ہوئی۔ اس قتل عام کے متعلق پندرہ چشم دید گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے شہادتیں دیں۔ حکومت نے اس واقعہ کی تفتیش انکوائری کورٹ کے علاوہ کرائی۔ لیکن بدقسمتی کہ تفتیش کرنے والوں میں عطاء محمد نون ڈی.آئی.جی (مرزائی) مسٹر عبدالحئی مجسٹریٹ مرزائی اور ایک فوجی شامل تھے۔ فوجی افسر کا نام بھی معلوم نہ ہوسکا۔ میرا یقین ہے کہ وہ یقیناً مرزائی ہوگا اور اگر وہ مرزائی نہ بھی ہو، جہاں دو سول گھاگ قسم کے افسر مرزائی ہوں، وہاں تیسرے فوجی افسر نے کیا کرنا تھا۔ ان تینوں افسروں نے اس سارے قتل عام کو ہی غتر بود کردیا اور تقریباً یہی کارروائی تحقیقاتی عدالت نے بھی کی۔ ۵/مارچ کے قتل عام کا دن گزر جانے کے بعد جب رات آئی تو وہ بھی گزشتہ رات کی طرح بڑی وحشت ناک اور مہیب رات تھی۔ ساری رات لوگوں نے جاگ کر گزاری۔ اپنے مکانوں کی چھتوں سے ردّ بلا کے لئے اذانیں پڑھتے رہے۔

۵/مارچ کے حالات و واقعات منیر انکوائری کی نظر میں

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کرفیو لگا کر حکم دیا کہ ۵، ۶/مارچ کی درمیانی شب کو ساڑھے تین بجے شام سے چھ بجے صبح تک اور ۶ تا ۱۱/مارچ تک ۶/بجے شام سے ۶/بجے صبح تک کوئی شخص کسی سڑک، بازار، گلی، چھوٹی گلی، شارع عام یا کسی پبلک مقام پر باہر نہ نکلے۔ اس حکم کا اطلاق پورے شہر پر ہوتا تھا۔ صرف سول لائنز کا ایک حصہ مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اس رقبے کے اندر کسی پبلک مقام پر پانچ یا پانچ سے زیادہ اشخاص کا اجتماع اور دن اور رات کے کسی حصے میں بھی اسلحہ اٹھا کر چلنا بھی دو مہینے کے لئے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

صبح کو گورنر نے کابینہ کا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری جنرل آفیسر کمانڈنگ دہم ڈویژن، بعض سٹاف آفسر، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی طلب کئے گئے۔ اس جلسے میں جو وزراء و حکام شریک ہوئے ان سے گورنر نے کہا کہ قوت کا استعمال نہایت مضبوطی سے کرو۔ کیونکہ میرا بمبئی کا تجربہ یہی ہے کہ اگر فساد کے اولین مرحلوں پر بلوائی کثیر تعداد میں ہلاک کر دیئے جائیں تو بلوہ وہیں ختم ہوجاتا ہے۔ اس اجلاس میں طویل بحث و مباحثہ کے بعد مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے۔

کے لئے زیادہ سے زیادہ جتنی قوت کا استعمال ضروری ہو اس سے کام لے کر شدید اقدام کرے۔ پولیس کے گشتی دستوں کی امداد کے لئے فوجی دستے بھی مامور ہوں گے جو اپنے کمانڈروں کے ماتحت رہیں گے۔

صفحہ ۳۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صورت حالات کا انتظام اپنے ساتھ کے فوجی کمانڈر کے حوالے کردے۔

قابو نہ پاسکے تو فوج سے کہا جائے گا کہ وہ شہر کا چارج لے۔

گے اور اپنے فرائض کو امتیاز اور دیانتداری سے انجام دیں گے۔ ان کو مناسب انعامات دیئے جائیں گے۔ ان کو یہ بھی بتا دیا جائے کہ اگر ادائے فرض کے دوران میں کوئی جانی نقصان ہو گیا تو وارث کو کافی معاوضہ عطاء کیا جائے گا۔ سید فردوس شاہ مرحوم کے وارثوں کو حکومت کسی قریب کے ضلع میں دو مربعے اراضی عطاء کرے گی۔

کرنے میں اپنے اثر کو استعمال کریں۔

چیف سیکرٹری سے کہا گیا کہ وہ ایک بیان کا مسودہ تیار کریں جو ان معزز شہریوں کے دستخطوں سے جاری کیا جائے جو آج سہ پہر کے وقت مدعو کئے گئے ہیں۔ لیکن چونکہ چیف سیکرٹری صاحب سیکرٹریٹ میں بلالئے گئے تھے۔ جہاں کلرکوں نے ہڑتال کر رکھی تھی۔ اس لئے اس بیان کا مسودہ ہوم سیکرٹری نے تیار کیا۔ ہوم سیکرٹری کے لکھے ہوئے مسودے کے متعلق گورنر نے یہ رائے دی کہ اس میں مطالبات کی اس قدر زیادہ مذمت کی گئی ہے کہ نمائندگان عوام سے اس کی منظوری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ سیکرٹریٹ سے واپسی پر چیف سیکرٹری نے بھی مسودہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بالآخر یہ خیال ترک کر دیا گیا۔

سہ پہر کے جلسے میں گورنر اور چیف منسٹر کے ایماء پر انسپکٹر جنرل پولیس نے صورت حالات کی مفصل کیفیت بیان کی۔ ان کے بعد دو اور مقررین مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مسٹر احمد سعید کرمانی ایم۔ایل۔اے نے تقریریں کیں۔ مولانا نے صورت حالات کو حکومت اور عوام کے درمیانی خانہ جنگی سے تعبیر کیا اور بتایا کہ جب تک حکومت عوام کے مطالبات کے متعلق غور کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کرے گی۔ میں کسی اپیل میں شریک نہیں ہو سکتا۔ مسٹر کرمانی نے کہا کہ اس تحریک کی قیادت اب زیادہ تر بازاری غنڈوں اور دوسرے غیر ذمہ دار اشخاص کے ہاتھ میں ہے اور تعلیم یافتہ لوگ اس کے ساتھ نہیں ہیں۔ جب مسٹر کرمانی تقریر کر چکے تو چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس نے باہر جانے کی اجازت طلب کی۔ تاہم یہ اجلاس جاری رہا۔ مولانا مودودی ایک اپیل کا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہو گئے۔ لیکن وہ مسودہ گورنر اور چیف منسٹر نے قبول نہ کیا۔

گورنر ہاؤس میں شام کو ایک اور اجلاس ہوا جس میں وزراء جنرل آفیسر کمانڈنگ بریگیڈیئر حق نواز، بریگیڈیئر ایف۔آر کلو، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اور ملک حبیب اللہ سپرنٹنڈنٹ پولیس سی۔آئی۔ڈی شامل تھے۔ صورت حالات پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ لاقانونیت کا آخری واقعہ اڑھائی بجے بعد دوپہر ہوا تھا۔ جس میں پولیس کے ایک دستے پر حملے کئے گئے تھے اور پولیس کی ایک گاڑی جلا دی گئی تھی۔ اس لئے جہاں تک ممکن ہو اب گولی چلانے سے پرہیز کی جائے۔ گورنر نے کہا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کے معمولی واقعات پر توجہ نہ کی جائے اور حکام میں سے ایک نے یا خود گورنر نے یہ تجویز بھی کی کہ گولی چلانا بند کر دیا جائے۔ فائرنگ کو نرم کر دینے کا فیصلہ ان پولیس افسروں کے لئے بے حد پریشان کن ثابت ہوا جو صورت حالات پر قابو پانے میں

صفحہ ۳۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مصروف تھے۔ صبح کے احکام تو یہ تھے کہ پولیس کو مضبوط تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ چنانچہ مسٹر ایس. ایم عالم اور ملک حبیب اللہ کی کمان میں پولیس کے گشتی دستے انہی ہدایات کے ساتھ بھیج دیئے گئے تھے جب شام کے احکام کوتوالی کے مرکز میں پہنچے اور وہاں سے ان افسروں کو پہنچائے گئے جو عملی اقدامات میں مصروف تھے تو وہ بالکل ششدر مبہوت رہ گئے اور ان کی سمجھ کچھ نہ آیا کہ اب کیا کریں۔ پولیس کی بکھری ہوئی ٹولیاں بالکل پریشانی کی حالت میں تھیں۔ رات کے وقت صرف ایک موقع پر گولی چلائی گئی جب ریلوے ملازمین کے ایک ہجوم نے ہڑتال کر دی تھی اور ایک سگنل اور ایک ٹرین کو تباہ کرنے میں مصروف تھے۔

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۱۶۲ تا ۱۶۴)

۶؍ مارچ کو لاہور میں بعض واقعات ظہور پذیر ہوئے مثلاً خلیفہ شجاع الدین کی معیت میں بعض لوگ مسجد وزیر خان میں آئے اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک کو بند کرنے کا مشورہ دیا اور یہ کہ ہمیں تحریک سے ہمدردی ہے۔ لیکن توپوں کے دہانوں کے سامنے سینہ سپر مجاہدین رضا کاران ختم نبوت کے لئے یہ باتیں حوصلہ شکن اور خلاف توقع تھیں۔

عوام نے انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ دروازے پر بعض لوگوں نے ان پر فقرے بھی ممکن ہے چست کئے ہوں کہ آپ کی اب آنکھ کھلی ہے اتنے دنوں سے تحریک جاری ہے۔ آپ حضرات کیا ہمارا تماشہ دیکھتے رہے اور اب ہمارے کئے کرائے پر پانی پھیرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ با ایں ہمہ خلیفہ شجاع الدین کے لئے احترام لوگوں کے دل میں پہلے سے موجود تھا۔ اس لئے ان حضرات کو مسجد کے اندر آتے ہوئے زیادہ مشکل کا سامنا نہ ہوا۔ مسجد کے حجرے میں خلیفہ شجاع الدین، شیخ سردار محمد، احمد سعید کرمانی، خورشید اور بیگم سلمیٰ تصدق تشریف لائے۔ مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا بہاء الحق قاسمی، مولانا خلیل احمد قادری اور دیگر مجلس عمل کے رہنماؤں نے ان سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو تلخ ماحول میں ہوئی۔ شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں تو اچھے نتیجہ کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ اس وفد سے کہا گیا کہ آپ حضرات جو ہمیں فرمانے کے لئے گھروں سے نکلے ہیں۔ راستہ میں آپ نے لیگی حکومت سے بھی کچھ فرمایا ہوتا کہ اپنی رعایا سے یہ سلوک اور اپنوں پر گولیوں کی یہ اندھا دھند موسلا دھار بارش مناسب ہے۔ آپ ہمیں کیا فرمانے آئے ہیں۔ کیا ہمارا مطالبہ اسلام کا بنیادی مطالبہ نہیں۔ ان سوالات کے بعد کچھ مایوسی سی چھا گئی۔ مولانا بہاء الحق قاسمی نے بیگم سلمیٰ تصدق سے فرمایا کہ بیگم صاحبہ یہ مسلم لیگ کا جلسہ تو نہیں کہ آپ کھلے بندوں بے پردہ ہو کر مسجد میں تشریف لے آئی ہیں۔ آپ نے قدم رنجہ فرمانا ہی مناسب خیال کیا تو پردہ کا بھی خیال فرما لیا ہوتا۔ باہر صحن مسجد میں عوام اس بے پردگی پر سخت معترض تھے۔ چنانچہ جب اس قصے نے طول پکڑا تو مجلس عمل کے رہنماؤں کو یہ فکر ہوا کہ ان لیگی رہنماؤں ناصحین کرام کو واپسی کے لئے پارسل کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت ایک رضا کار کہیں سے برقعہ لے آیا جو بیگم صاحب کو اوڑھایا گیا۔ مسجد کے برآمدے میں ایک بغلی دروازہ تھا۔ اس دروازہ سے لیگی وفد کو بڑی احتیاط سے واپس باہر پہنچایا گیا۔

۶؍ مارچ کے حالات جسٹس منیر کی نظر میں

مسٹر جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں ۶؍ مارچ کے واقعات جو مارشل لاء کا باعث بنے۔ وہ ص ۱۶۶ سے ۱۷۴ کے صفحات پر تحریر کئے ہیں۔ منیر نے تحریک کے رہنماؤں پر جو الزامات تشدد کے عائد کئے ہیں اور تحریک کے شرکاء کے لئے جو غلیظ زبان استعمال کی ہے اس پر کسی تبصرہ کے بغیر وہ ۸۰ صفحاتی رپورٹ پیش ہے۔ اس پر تبصرہ اس لئے نہیں کیا کہ وہ اپنی بد باطنی تحریک دشمنی کی جواب دہی کے لئے اس بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں جو بارگاہ سب کچھ جانتی ہے۔ اسے کسی گواہی و تبصرے کی ضرورت نہیں۔ وہ علیم بالذات الصدور ہے۔ منیر نے لکھا ہے کہ: ”۶؍ مارچ کو جمعہ کا دن تھا اور صبح سویرے ہی سے تمام اطراف سے جلوس مسجد وزیر خان میں دھڑا دھڑ پہنچ رہے تھے۔ حکومت

صفحہ ۳۰۲

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے دفاتر نے کام بند کر دیا۔ لوکو اور کیرج کی ورکشاپس بند ہوگئیں اور مزدور بڑی تعداد میں تحریک سے اظہار ہمدردی کے طور پر باہر نکل آئے۔ غیظ میں بھرے ہوئے ہجوم نے کوتوالی کا محاصرہ کر لیا۔ لوگ اس عمارت پر پتھر پھینک رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ جن سینئر پولیس افسروں نے گولی چلائی ہے۔ وہ ان کے حوالے کر دیئے جائیں۔ چونکہ تازہ ترین احکام یہ تھے کہ گولی چلانے سے حتیٰ الامکان احتراز کیا جائے۔ اس لئے ہجوم کو دور رکھنے کی غرض سے اشک آور گیس کے بم کوتوالی کی چھت سے پھینکے گئے۔ لیکن جونہی اشک آور گیس ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ ہجوم دوبارہ کوتوالی پر یورش کرنے لگا۔ جس وقت انسپکٹر جنرل پولیس کوتوالی کی طرف آ رہے تھے۔ ایک ہجوم نے جو کاروں تانگوں اور سائیکلوں پر سوار اشخاص کو روک رہا تھا۔ ان کی موٹر کار کو بھی ریلوے اسٹیشن کے قریب روکا۔ انہوں نے نولکھا تھانہ کے قریب ایک ٹینک دیکھا جس کے گرد کوئی محافظ حلقہ نہ تھا۔ لیکن کچھ فوجی سپاہی موجود تھے اور لوگ اس ٹینک کے ارد گرد گھوم رہے تھے۔ سرکلر روڈ کے ایک زیریں پل کے پاس ان کو ایک اور ہجوم نے روکا جس کی قیادت ایک داڑھی والا آدمی کر رہا تھا۔ لیکن وہ کسی نہ کسی طرح آگے نکل گئے۔ انہوں نے ایک ہجوم کو دیکھا جو ایک گھوڑا گاڑی کا تعاقب لاٹھیوں سے کر رہا تھا۔ آخر اس نے گاڑی کو جا لیا اور گھوڑے کو کھول دیا۔ کوتوالی کے قریب پہنچ کر انہوں نے سنا کہ ہجوم یہ نعرے لگا رہا ہے۔ شاہی پولیس زندہ باد پاکستان فوج زندہ باد، پولیس کانسٹیبلری اور بارڈر پولیس مردہ باد، کوتوالی میں آئی. جی نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس مرزا نعیم الدین سے ملاقات کی اور دونوں نے واقعات کے متعلق تبادلہ خیالات کیا۔ مرزا نعیم الدین نے اس گفتگو کے دوران میں کیا کہا۔ اس کے متعلق میاں انور علی انسپکٹر جنرل پولیس اور مرزا نعیم الدین سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کے بیانوں میں ایک شدید اختلاف ہے۔ اس نکتہ پر میاں انور علی کی شہادت درج ذیل ہے۔

انہوں نے (مرزا نعیم الدین نے) کہا کہ لوگوں کا کسی نہ کسی وجہ سے یہ خیال ہے کہ حکومت غلطی پر ہے اور نہ صرف غیر ہمدرد ہے۔ بلکہ عملاً مخالف ہے۔ ان حالات میں قوت کا استعمال عام احساسات کو تیز وتند کر رہا ہے اور تلخ کلامی میں اضافے کا باعث ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت نے مطالبات کے متعلق اپنا رویہ معین نہیں کیا نہ اس امر کے آثار نظر آتے ہیں کہ حکومت ان پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔ مرزا نعیم الدین کے نزدیک اس وجہ سے صورت حالات زیادہ دشوار ہو رہی ہے۔ وہ اس امر کے خواہاں تھے کہ اپنا خیال چیف منسٹر کی خدمت میں پیش کریں اور کہیں کہ حکومت پنجاب لوگوں کو اس بات کا یقین دلائے کہ وہ اتنی غیر ہمدرد اور سنگدل نہیں جتنا اس کو ظاہر کیا جا رہا تھا اور وہ مطالبات کا فیصلہ کرانے کے لئے اپنی پوری کوشش صرف کر رہی ہے۔ ان کے نزدیک اس قسم کی اپیل سے حکومت کے خلاف تلخی اور عناد کے جذبات فرو ہو جائیں گے۔ جو بحالت موجودہ واضح طور پر تیز تر ہو رہے ہیں۔ (گورنمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد) میں نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو چیف منسٹر کی خدمت میں پیش کر دیا اور انہوں نے وہاں بھی وہی باتیں دہرائیں جو مجھ سے کی تھیں۔ لیکن مرزا نعیم الدین نے آئی. جی سے اپنی گفت وشنید کے متعلق جو بیان دیا وہ درج ذیل ہے۔

’’میں کوئی سات بجے صبح کوتوالی پہنچا اور کوئی آدھ گھنٹے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس بھی وہاں پہنچ گئے۔ میں نے صورت حالات کے متعلق انسپکٹر جنرل سے بات چیت کی اور ان کو بتایا کہ صورت حالات نہایت خطرناک ہے اور حکومت کی کمزور پالیسی اب پولیس کے حوصلوں کو بھی پست کر رہی ہے۔ حالانکہ حکومت کی مشینری کا یہی پرزہ (یعنی پولیس) اب اس کی حمایت میں کھڑا ہے۔ میں نے ان پر زور دیا کہ وہ ہز ایکسی لینسی اور عزت مآب چیف منسٹر صاحب پر اس امر کی صراحت کر دیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ اگر حکومت اپنی پالیسی میں ترمیم نہ کرے گی تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ انسپکٹر جنرل نے مجھ سے اتفاق کیا اور ہم دونوں گورنمنٹ ہاؤس کو گئے۔‘‘

صفحہ ۳۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان دونوں بیانوں کا مقابلہ کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں مسٹر انور علی کے بیان کے مطابق مرزا نعیم الدین قوت کے استعمال کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ حکومت مطالبات کے متعلق اپنے رویئے کی وضاحت کرے اور اعلان کرے کہ وہ غیر ہمدرد اور سنگدل نہیں اور حتی الوسع کوشش کر رہی ہے کہ مطالبات کے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔ وہاں مرزا نعیم الدین کا بیان یہ ہے کہ میرے نزدیک حکومت کمزور پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ جس سے پولیس کا حوصلہ پست ہو رہا ہے اور اگر یہ پالیسی تبدیل نہ کر دی گئی تو میں مستعفی ہو جاؤں گا۔ علاوہ بریں مرزا نعیم الدین نے اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ وہ گورنمنٹ ہاؤس میں چیف منسٹر کے سامنے طلب کئے گئے اور انہوں نے چیف منسٹر سے کیا کہا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر انور علی کے قول کے مطابق مرزا نعیم الدین نے کوئی ایسی بات ضرور کی تھی۔ اگرچہ مرزا نعیم الدین اس سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن مسٹر چندریگر اور مسٹر دولتانہ کی شہادتوں سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔

اب سلسلہ حکایت پھر شروع ہوتا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوتوالی سے چیف منسٹر کی کوٹھی پر پہنچے۔ جہاں انہیں معلوم ہوا کہ وہ گورنمنٹ ہاؤس چلے گئے۔ راستے میں انہوں نے دیکھا کہ تمام دوکانیں بند ہیں اور آدمیوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں شرارت کی نیت سے ادھر ادھر گھوم رہی ہیں۔ چیف منسٹر کی کوٹھی سے یہ دونوں گورنمنٹ ہاؤس گئے۔ گورنمنٹ ہاؤس پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ چیف منسٹر اور دوسرے تمام وزراء وہاں موجود تھے۔ ان کے علاوہ لاہور کارپوریشن کے ممبر جن میں بعض خواتین مثلاً بیگم تصدق حسین اور بیگم جی. اے خان بھی تھیں۔ کارپوریشن کے میئر اور نواب مظفر علی خان قزلباش بھی حاضر تھے۔ عطاء اللہ جہانیاں بھی بعض طالب علم ورکروں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔

چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری صبح سیکرٹریٹ گئے تو انہوں نے دیکھا کہ سیکرٹریٹ کے ملازم احاطے میں جمع ہیں اور فائرنگ کو روکنے اور مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بلند آہنگی سے کر رہے ہیں۔ مسٹر عالم ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ ان تینوں نے کلرکوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان میں سے کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں یہی کہتے رہے کہ ہمارا مطالبہ پورا کیا جائے۔ یعنی فائرنگ بند کی جائے اور مطالبات پورے کئے جائیں اور یہ مطالبہ ٹیلی فون پر گورنر اور چیف منسٹر کو پہنچا دیا جائے۔ جب چیف سیکرٹری نے یہ وعدہ کیا کہ وہ ان کے کیس کی پوری نمائندگی حکومت سے کر دیں گے اور ہوم سیکرٹری نے یہ دھمکی دی کہ اگر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہ دی گئی تو فوج اور پولیس آ کر کارروائی کرے گی۔ جب جا کر کہیں سیکرٹری کی موٹر کاروں کو چلنے کا موقع دیا گیا۔ جن کو کلرکوں نے گھیر کر روک رکھا تھا۔ جب سیکرٹری گورنمنٹ ہاؤس میں پہنچے تو انہوں نے اس کو شور و شغب کا ہنگامہ زار پایا۔ جو کچھ وہاں ہو رہا تھا اس کی کیفیت ہوم سیکرٹری نے ذیل کے الفاظ میں بیان کی ہے۔

کثیر التعداد لوگ جن میں لاہور کے کونسلر بھی شامل تھے۔ وہاں موجود تھے اور جو شائستگی کی فضا گورنمنٹ ہاؤس میں ہوا کرتی ہے۔ وہ بالکل مفقود تھی۔ ہز ایکسی لینسی گورنر، چیف منسٹر اور ارکان کابینہ ہز ایکسی لینسی کے دفتر میں جمع تھے۔ میں نے اندر جا کر مختصراً ان کو بتایا کہ سیکرٹریٹ میں کیا واقعات پیش آئے تھے۔ شہر میں جو مختلف واقعات رونما ہو رہے تھے ان کی اطلاعات موصول ہونے لگیں۔ گورنر کی کوٹھی کی بجلی کاٹ دی گئی تھی اور کسی نے ٹیلی فون پر مسٹر ایس. ایس جعفری سی. ایس. پی کا یہ پیغام وصول کیا کہ انارکلی کی بعض دکانیں جل رہی ہیں۔ یہ اطلاع بھی ملی کہ ٹیلی گراف آفس اور ٹیلی گراف ایکسچینج کے ملازموں نے ہڑتال کر دی ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نے جو کوتوالی سے آئے تھے یہ بتایا کہ کوتوالی کم و بیش محاصرے میں ہے اور صورت حالات نہایت تشویش انگیز ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے مجھے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی رائے بتائی کہ شہر کا انتظام صرف قوت کے استعمال سے بحال نہ کیا جا سکے گا۔ اس لئے عوام کی تسکین

صفحہ ۳۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے لئے بھی کچھ کرنا چاہئے اور حکومت کو ایک بیان شائع کرنا چاہئے۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے یہ بھی کہا کہ میں اس رائے کو گورنر صاحب اور چیف منسٹر صاحب کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں۔ کچھ دیر بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس لاہور رینج بھی گورنمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ شہر کی صورتحال نہایت سرعت کے ساتھ نازک نقطے پر پہنچ رہی تھی۔ ریلوے کے ملازمین نے انجن شیڈ میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کر لیا اور کسی انجن کو باہر نکلنے کا موقع نہیں دیتے تھے۔ لاہور اور مغل پورہ کے درمیان ریلوے کی پٹڑی توڑ دی گئی تھی اور شاہدرہ سے آنے والی ایک ٹرین راستے میں روک لی گئی تھی۔ وائی۔ایم۔سی۔اے عمارت کے قریب آٹومیٹک ٹریفک سگنل کو ایک ہجوم نے جلا دیا تھا اور اب کمرشل بلڈنگ کو لوٹنے والا تھا۔ کچھ مزید سرکاری بسیں جلا دی گئی تھیں۔ چیف انجینئر الیکٹرسٹی کو کارکنوں نے ایک رسمی نوٹس دے دیا تھا کہ اگر گورنمنٹ ہاؤس اور جی۔او۔آر اسٹیٹ میں رہنے والے وزیروں اور افسروں نے رضامندی کے ساتھ بجلی نہ کاٹ دی تو شہر بھر میں اندھیر کر دیا جائے گا۔ ایک شخص چیف انجینئر کی طرف سے یہ اطلاع لے کر آیا اور اس نے مطالبہ کیا کہ اس نوٹس کا فوری جواب دیا جائے۔ عین اس وقت گورنمنٹ ہاؤس کی بجلی کاٹ دی گئی اور سیکرٹ فون بیکار ہو گیا۔

جب ہوم سیکرٹری گورنر کے سیکرٹری کے کمرے میں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ گورنر چیف منسٹر اور بعض وزراء کراچی کو ٹیلی فون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہوم سیکرٹری نے اس کمرے کے حاضرین سے بات چیت کی اور ان کو بتایا کہ صورت حالات پر اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے کہ مندرجہ ذیل کارروائی کی جائے۔

جائے کہ باہر نکلیں اور ختم نبوت کے نام سے جو لاقانونیت پھیل رہی ہے۔ اس کی علی الاعلان مذمت کریں۔

ہوم سیکرٹری نے مشورہ دیا کہ مرکز سے فی الفور گفتگو کی جائے ۔ کیونکہ اندیشہ ہے کہ ٹیلی فون کسی وقت بھی بیکار ہو جائے ۔ انہوں نے ملٹری ٹرنک لائن پر کراچی سے ٹیلی فون کا رابطہ قائم کرایا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد وہ دفعتاً منقطع ہو گیا۔ ہوم سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس بھی جو کمرے میں آگئے تھے اس وقت باہر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد گورنر نے ہوم سیکرٹری کو طلب کیا اور ان کو انگریزی میں کچھ نکات بتا کر کہا کہ ان کے مطابق اردو میں ایک بیان کا مسودہ تیار کریں۔ ہوم سیکرٹری نے جواب دیا کہ میں اردو میں مسودات لکھنے کی مہارت نہیں رکھتا۔ اس لئے یہ کام مسٹر ذوالقرنین خان سپرنٹنڈنٹ پولیس کے سپرد کیا جائے۔ چنانچہ چیف منسٹر کی ہدایات کا مفہوم ہوم سیکرٹری نے گورنر اور چیف منسٹر کے سامنے مسٹر ذوالقرنین خان کو سمجھا دیا۔ چیف منسٹر نے کہا یہ مسودہ فوراً لکھ کر پیش کیا جائے۔ کیونکہ وہ کراچی سے ٹیلی فون پر بات کرنے والے ہیں۔ مسٹر ذوالقرنین خان نے بیان کا جو ابتدائی مسودہ تیار کیا وہ یہ تھا۔

”وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی اور اپنی وزارت کی جانب سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کی حکومت تحفظ ختم نبوت کے لیڈران سے فوری گفت و شنید کے لئے تیار ہے اور وہ عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ ملک میں امن و امان قائم کرنے میں وہ ان کا ہاتھ بٹائیں۔ وہ عوام کو اطمینان دلاتے ہیں کہ پولیس اور فوج کوئی متشددانہ کارروائی بالخصوص فائرنگ نہیں کریں گے ۔ تا وقتیکہ ان کو کسی کے جان و مال کی حفاظت کے لئے ایسا کرنا نہ پڑے ۔ صوبائی حکومت مرکزی حکومت سے گفت و شنید کر رہی ہے اور میاں ممتاز محمد خان دولتانہ بہ حیثیت صدر صوبہ مسلم

صفحہ ۳۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لیگ، پاکستان کے صدر کے سامنے پنجاب کے عوام کی طرف سے یہ مطالبات فوری توجہ کے لئے پیش کر رہے ہیں۔‘‘

جب چیف منسٹر نے اس بیان کو پڑھا تو انہوں نے کہا کہ یہ بالکل غیر مؤثر ثابت ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے ذیل کے الفاظ بڑھا دینے کا حکم دیا ۔ ’’ پنجاب کے عوام کی طرف سے‘‘ کے بعد ’’اپنی تائید کے ساتھ‘‘ اور آخر میں ’’کیونکہ یہ قوم کے متفقہ مطالبات ہیں‘‘ کے الفاظ بڑھا دیئے جائیں۔

یہ بیان سائیکلو سٹائل کیا جارہا تھا کہ چیف منسٹر نے اس میں ذیل کے الفاظ کا اضافہ کرنے کی خواہش کی۔

’’صوبائی حکومت کا ایک وزیر طیارے کے ذریعے ان مطالبات اور ہماری تائید کے ساتھ آج ہی کراچی بھیجا جا رہا ہے۔ ہماری پر زور سفارش ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت سے مستعفی ہونے پر فوراً مجبور کیا جائے۔‘‘

گورنر اور چیف منسٹر دونوں کی خواہش یہ تھی کہ یہ بیان نماز جمعہ سے پہلے ہوائی جہاز سے مسجدوں میں گرایا جائے۔ گورنر نے چیف منسٹر اور کابینہ کی موجودگی میں ہوم سیکرٹری کو حکم دیا۔ یہ بیان ٹیلی فون پر خلیفہ شجاع الدین کو سنا دیں جو اسی دن یا ایک دن قبل کے ایک مطبوعہ اشتہار کے رو سے مجلس عمل کے چوتھے ڈکٹیٹر مقرر کئے گئے تھے۔ ہوم سیکرٹری نے حکم کی تعمیل میں یہ بیان خلیفہ شجاع الدین کو پڑھ کر سنا دیا اور گورنر کی خواہش کے مطابق اس کی نقلیں بھی خلیفہ صاحب کو کوٹھی پر بھجوا دیں۔ گورنر صاحب خلیفہ صاحب کو مطمئن کرنے کے لئے بہت فکر مند معلوم ہوتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے کئی دفعہ دریافت کیا کہ آیا خلیفہ صاحب کو بیان کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں یا نہیں۔ گورنر نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی کہ اس بیان کو لاؤڈ سپیکر والی گاڑیوں سے شہر بھر میں نشر کیا جائے۔ گورنر اور چیف منسٹر کے حکم کے مطابق اس بیان کا ترجمہ فی الفور اضلاع میں بھی پہنچا دیا گیا۔

اس دن کے واقعات کو دیکھ کر ’’سینٹ بارتھولومیو ڈے‘‘ یاد آتا تھا حتیٰ کہ ڈیڑھ بجے بعد دوپہر مارشل لاء کا اعلان کر دیا گیا۔ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ایک دن قبل ایک احمدی مدرس قتل کر دیا گیا تھا۔ ۶؍ مارچ کو ایک احمدی محمد شفیع برما والا مغل پورہ میں ہلاک کر دیا گیا اور کالج کے ایک احمدی طالب علم کو بھاٹی دروازے کے اندر لوگوں نے چھرے مار مار کر قتل کر دیا۔ ایک اور احمدی (یا مفروضہ احمدی) مرزا کریم بیگ کو فلیمنگ روڈ پر چھرا مار دیا گیا اور اس کی نعش ایک چتا میں پھینک دی گئی جو فرنیچر کو آگ لگا کر تیار کی گئی تھی۔ احمدیوں کی جو جائیدادیں اور دکانیں اس دن لوٹی یا جلائی گئیں وہ یہ تھیں۔ پاک ریز شفاء میڈیکل اور سوکو۔ موسیٰ اینڈ سنز کی دکان۔ راجپوت سائیکل ورکس، ملک محمد طفیل اور ملک برکت علی کے چوب عمارتی کے احاطے اور گودام۔ میسن روڈ پر ملک عبدالرحمن کا مکان اور مزنگ روڈ، ٹیمپل روڈ پر پانچ احمدیوں کے مکان جن میں شیخ نور احمد ایڈووکیٹ کا مکان بھی شامل تھا۔ تیسرے پہر ایک ممتاز ایڈووکیٹ مسٹر بشیر احمد امیر جماعت احمدیہ لاہور کا مکان گھیر لیا گیا۔ ہجوم اس مکان میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ مسٹر بشیر احمد نے اپنے دفاع میں چند گولیاں چلائیں۔ ایک خاص فوجی عدالت نے ان کے اس فعل پر مقدمہ چلایا۔ لیکن وہ بری کر دیئے گئے ۔ ۶، ۷؍ مارچ کی رات کو عبدالحکیم مالک پائونیر الیکٹرک اینڈ بیٹری سٹیشن کے مکان پر چھاپا مارا گیا اور ان کی بوڑھی والدہ قتل کر دی گئی۔

مسٹر دولتانہ کی رہنمائی اور بیرونجات مسلم لیگوں کی پیروی

جب ۶؍ مارچ کو چیف منسٹر کا بیان شائع ہو گیا تو اس کے بعد صوبے کے بہت سے مسلم لیگوں نے مطالبات کی تائید میں قراردادیں منظور کیں۔ اس طرح ۶؍ مارچ کو میاں چنوں مسلم لیگ نے ایک قرارداد منظور کی کہ اس مطلب کا ایک قانون منظور ہونا چاہئے

صفحہ ۳۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ کوئی شخص اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال نہ کرے گا اور اگر کرے گا تو جرم کا مرتکب ہوگا۔ ۷؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو سٹی مسلم لیگ وزیر آباد نے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں سے ایک قرارداد میں ہر کونسلر کا فرض قرار دیا گیا کہ وہ مقامی مجلس عمل کی مالی امداد کرے گا اور بوقت ضرورت تحریک ختم نبوت کی حمایت میں اپنی جان تک دینے سے دریغ نہ کرے گا۔ قرارداد میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ سٹی مسلم لیگ من حیث الجماعت مجلس کے پروگرام اور اس کی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کرے گی۔ دوسری قرارداد میں فیصلہ کیا گیا کہ بذریعہ تار وزیراعظم پاکستان اور وزیراعظم پنجاب کو اطلاع دی جائے کہ مجلس عمل کے مطالبات تین دن کے اندر تسلیم کئے جائیں۔ ورنہ سٹی مسلم لیگ کے ممبر متحدہ طور پر مستعفی ہو جائیں گے اور اپنے حلقہ انتخاب کے ایم۔ ایل۔ اے حضرات سے درخواست کریں گے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں حمایت حاصل کرنے کی تحریک شروع کردیں۔ اسی قرارداد میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ حکومت نے مسلمانوں کے مذہبی مطالبات کو دبانے کے لئے جو جابرانہ تدابیر اختیار کی ہیں۔ وہ سخت قابل مذمت ہیں۔ اسی دن سٹی مسلم لیگ جلال پور جٹاں نے ایک قرارداد منظور کی جس میں تحریک ختم نبوت کی اور وزیراعلیٰ کے بیان مورخہ ۶؍ مارچ کی غیرمشروط حمایت کی گئی اور کہا گیا کہ اس بیان کے مطابق وہ جو بھی قدم اٹھائیں گے لیگ اس کی تائید کرے گی۔ قرارداد میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ لیگ کے ممبر اپنے ہائی کمان کے احکام کے منتظر ہیں اور حصول مقصد کے لئے عملی قدم اٹھانے پر آمادہ ہیں۔ دوسری قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مجلس عمل کے مطالبات کو حتی الامکان جلد سے جلد تسلیم کرے۔ ۸؍ مارچ کو مسلم لیگ گکھڑ نے تین قراردادیں منظور کیں۔ ایک کا مطلب یہ تھا کہ لیگ کے وقار کو قائم رکھنے کے لئے اس کے ممبروں کا فرض ہے کہ عوام کا ساتھ دیں اور ختم نبوت کی تحریک میں حصہ لیں۔ دوسری قرارداد میں لیگ نے اپنے صدر میر محمد بشیر کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جنہوں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا اور تمام کونسلروں سے بھی اسی مطلب کی اپیل کی اور تیسری قرارداد میں حاکم علی ٹھیکیدار کو صدر مقرر کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ میر محمد بشیر کی گرفتاری کے بعد رضا کاروں کے مہیا کرنے کے لئے ضروری انتظامات کریں۔ سٹی مسلم لیگ کامونکی نے ۱۰؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو احمدیوں کو اقلیت قرار دینے اور چوہدری ظفر اللہ خان کو برطرف کرنے کے مطالبات کی حمایت کی۔

مسٹر دولتانہ نے ۶؍ مارچ کا بیان واپس لے لیا

۱۰؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو مسٹر دولتانہ نے حسب ذیل اعلان کیا: ’’اس مہینے کی ۶؍ تاریخ کو میں نے اپنی اور اپنی وزارت کی طرف سے اہل پنجاب سے اپیل کی تھی کہ قانون و انتظام کے قیام میں امداد دیں۔ میں نے ان کو یقین دلایا تھا کہ میری حکومت تحفظ ختم نبوت کے لیڈروں سے فی الفور گفت و شنید شروع کرنے پر آمادہ ہے اور میرے وزراء مطالبات کو مرکزی حکومت کے سامنے پیش کر کے سفارش کریں گے کہ ان کو تسلیم کر لیا جائے۔‘‘

یہ اپیل اس وقت کی گئی تھی جب لاہور میں قانون کے دشمن لوٹ، آتش زنی اور ضروری سروسوں کو تلپٹ کرنے میں مصروف تھے۔ پاکستان کے مخالف تفرقہ پرداز گروہ پاکستان کی سلامتی اور استواری کو نقصان پہنچانے کی غرض سے تحریک تحفظ ختم نبوت سے فائدہ اٹھا کر نظم حکومت کو درہم برہم کرنے اور مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے کے لئے بدنظمی کی آگ کو بھڑکا رہے تھے۔ میری اپیل کا مقصد یہ تھا کہ صوبے کے باشندے قانون و انتظام کے قیام کے لئے کوشش کریں۔ تاکہ دشمنان پاکستان اس قابل نہ رہیں کہ پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ایک مذہبی تحریک کے پردے میں اندرونی تفرقوں کو مشتعل کر کے لاقانونیت پھیلا دیں۔ لیکن بدقسمتی سے نتیجہ یہ ہوا کہ

صفحہ ۳۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میری اپیل کے باوجود لاقانونیت جاری رہی اور لاہور میں صورت حالات پر قابو پانے کے لئے مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ موجودہ حالات میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے لیڈروں سے گفت وشنید کرنے اور مطالبات پر غور کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ہر حکومت کا پہلا فرض یہ ہے کہ قانون کی اطاعت اور شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کا پختہ بندوبست کرے۔ صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں کا عزم یہ ہے کہ لاقانونیت جہاں بھی سر اٹھائے گی۔ اسے دبا دیا جائے گا اور صوبے میں قانون و انتظام کو بحال کیا جائے گا۔ حکومت موجودہ خطرے کو جو ملک کی سلامتی اور سالمیت کو درپیش ہے۔ ہر ممکن ذریعے سے کام لے کر دبائے گی۔

میں اس صوبے کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جہاں کہیں قانون و انتظام کو خطرہ درپیش ہو۔ وہاں اس کی بحالی کے لئے حکومت سے تعاون کریں اور ایسا انتظام کریں کہ دشمنان پاکستان ملک کی سلامتی اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے مسئلہ ختم نبوت کو استعمال نہ کر سکیں۔ مجلس عاملہ پنجاب مسلم لیگ نے اس بیان کی تائید کی اور اپنے اجلاس منعقدہ ۱۱؍ مارچ ۱۹۵۳ء میں یہ اعلان کیا کہ مجلس عاملہ اس اپیل کی دلی حمایت کرتی ہے جو باشندگان پنجاب سے کی گئی ہے اور مزید برآں پنجاب کے ہر مسلم لیگی کارکن کو ہدایت کرتی ہے کہ اس بیان کی ہدایات پر وفاداری سے عمل کرے۔‘‘

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۱۶۶ تا ۱۷۱)

۶؍ مارچ کے حالات

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: صبح ہوئی جمعہ کا دن تھا۔ ۴، ۵؍ مارچ کے ظلم اور تشدد کے ردعمل میں حکومت کے تمام دفاتر بند ہو گئے۔ ریلوے ورکشاپوں اور دوسرے کارخانوں کے مزدوروں نے ہڑتالیں کر دیں۔ تعلیمی درسگاہیں بند ہوگئیں۔ شہر اور بیرون جات سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جتھوں، قافلوں اور جلوسوں کی شکل میں لاہور پہنچنے لگے۔ ریلوے ورکشاپوں اور دوسرے کارخانوں کے مزدوروں اور تحریک ختم نبوت کے رضا کاروں کا ایک بہت بڑا اجتماع دہلی دروازہ کے باہر کوتوالی کے سامنے چوک میں جمع تھا۔ یہ سب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ ہم سب کو گرفتار کر لیا جائے اور بے گناہ مسلمانوں کے قاتل پولیس افسروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہ لوگ انتہائی طور پر پرامن تھے۔ حکومت کے اپنے ریکارڈ اور شہادت کے مطابق یہ لوگ شاہی پولیس زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، بارڈر پولیس مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہوگا کہ بارڈر پولیس جسے لوگ ملیشیا پولیس بھی بول دیتے ہیں۔ ملک خان بہادر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سرکردگی میں لاہور میں لائی گئی تھی اور سب سے زیادہ ظلم بھی ملک صاحب نے اور ان کے جوانوں نے کیا تھا۔

ملک خان بہادر وہی پولیس افسر ہیں جنہوں نے شہید گنج کے حادثے میں بھی مسلمانوں پر گولیاں چلائیں تھیں اور سینکڑوں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا کر انگریزوں کے ہاں نیک نامی اور عوام میں بدترین بدنامی حاصل کر چکے تھے اور ختم نبوت کی تحریک کو کچلنے کے عوض انہیں اور جنرل اعظم خاں دونوں کو ۵، ۵ مربعہ جات عطاء ہوئے تھے۔ اگرچہ تحریک ختم نبوت کے دوران دس ہزار فدایان ختم نبوت پر شاہی پولیس، فوج اور بارڈر پولیس تینوں نے گولیاں چلائی تھیں۔ لیکن لوگ بارڈر پولیس کے ظلم سے اتنی اذیت محسوس کر رہے تھے کہ وہ شاہی پولیس اور پاک فوج کو زندہ باد کہنے پر مجبور تھے۔ ادھر صوبائی سول سیکرٹریٹ آج پھر بند رہا۔ تمام چھوٹے بڑے ملازمین نے مکمل ہڑتال کی اور سیکرٹریٹ کی چار دیواری کے اندر جمع ہو کر مطالبہ کرنے لگے کہ شہر میں فائرنگ اور ظلم کو فوری طور پر بند کر دیا جائے اور تحریک کے مطالبات تسلیم کئے جائیں۔

حافظ عبدالمجید چیف سیکرٹری، سید غیاث الدین احمد ہوم سیکرٹری اور مسٹر ایس. این عالم ڈی. آئی. جی پولیس تینوں سیکرٹریٹ پہنچے۔

صفحہ ۳۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہوں نے ملازمین کو کام پر جانے اور ہڑتال ترک کرنے کے لئے ہر طرح کہا۔ لیکن سب نے متفقہ طور پر یہی جواب دیا کہ جب تک فائرنگ بند نہیں ہوتی اور مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے اس وقت تک ہم ہڑتال ترک نہیں کریں گے اور محکمہ بجلی کے تمام ملازمین نے چیف انجینئر کو نوٹس دے دیا کہ شہر میں ہونے والے ظلم کو بند کیا جائے۔ ورنہ ہم ہڑتال کرتے ہیں اور اس کے بعد بجلی کی سپلائی کا انتظام ناممکن ہوگا۔ چیف انجینئر کو اپنے محکمہ کے ہزاروں ملازمین کا مطالبہ گورنمنٹ ہاؤس گورنر صاحب کی خدمت میں تحریری طور پر بھیجنا پڑا۔ اسی طرح ٹیلی گراف آفس اور ٹیلی فون ایکسچینج کے ملازمین نے کام چھوڑ دیا اور اپنے دفتروں اور کمروں سے باہر نکل آئے۔ غرضیکہ سب سرکاری ملازمین نے ہڑتال کر دی اور مطالبہ یہی تھا کہ شہر میں ہونے والی اندھا دھند فائرنگ اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو بند کرو اور مطالبات تسلیم کرو۔ کوتوالی کے باہر چوک میں پچاس ہزار اور ایک لاکھ کے درمیان کا مجمع پولیس کے ۴، ۵؍ مارچ کے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا تھا اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر رہا تھا۔ صبح سات بجے کے دوران مرزا نعیم الدین سپرنٹنڈنٹ پولیس لاہور اور میاں انور علی آئی. جی پولیس پنجاب کوتوالی پہنچ گئے۔ مرزا نعیم الدین نے آئی. جی کو بتایا کہ کل اور پرسوں کے تاریخی ظلم کے بعد اب ہم مزید کوئی ظلم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر آج بھی ہمیں ظلم کرنے کا وہی حکم ہے تو کم از کم میرا استعفیٰ حاضر ہے۔

مرزا نعیم الدین نے آئی. جی پولیس سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے وزیر اعلیٰ کے پاس پیش کیا جائے تا کہ میں اسے اپنے ان خیالات سے آگاہ کر سکوں۔ مرزا صاحب نے کہا کہ حکومت اس وقت سخت غلطی پر ہے۔ ایک صحیح بات کو تسلیم نہ کر کے اپنے عوام کو قتل کر رہی ہے۔ عوام اس ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ حکومت جتنا ظلم کرے گی عوام اتنا ہی اور ابھریں گے اور جس کا زندہ ثبوت کوتوالی کے باہر ہونے والا مظاہرہ ہے۔ ۴، ۵؍ مارچ کو بے تحاشا گولی چلانے اور قتل عام کا نتیجہ ہے کہ لوگ باہر سینے تان کر کھڑے ہوئے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یا انہیں گرفتار کر لیا جائے یا انہیں گولی مار دی جائے۔

آئی. جی پولیس، مرزا نعیم الدین کو ہمراہ لے کر دولتانہ کی کوٹھی پہنچے۔ وہاں معلوم ہوا کہ وہ گورنمنٹ ہاؤس گئے ہوئے ہیں۔ وہ دونوں بھی گورنمنٹ ہاؤس پہنچ گئے اور وہاں مرزا نعیم الدین نے اپنے استعفیٰ اور ۴، ۵؍ مارچ کو یزیدیت کی انتہاء کا ذکر دہرایا اور دولتانہ صاحب سے کہا کہ عوام کو سختی سے دبایا نہیں جا سکتا یا عوام کو مطمئن کرنے اور ان کے ساتھ کوئی معقول رویہ اختیار کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے اور یا کم از کم میرا استعفیٰ قبول کر لیا جائے۔

مرزا نعیم الدین کے اس مشورہ اور استعفیٰ کی دھمکی سے پہلے گورنمنٹ ہاؤس کی فضا یہ تھی کہ وہاں حکومت کے ٹوڈیوں اور حاشیہ برداروں کی ایک کھیپ جمع تھی جو تحریک کو روکنے کی خواہشمند تھی۔ حکومت کی ہاں میں ہاں بھی ملاتی تھی۔ لیکن عملی طور پر کچھ کر نہیں سکتی تھی۔ جناب چندریگر گورنر پنجاب اور جناب دولتانہ صاحب وزیر اعلیٰ اور دوسرے وزراء اور اعلیٰ حکام بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ مرزا نعیم الدین نے جب خدا لگتی اور سچی بات کہی اور استعفیٰ کی دھمکی دی تو ان سب کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ یہ استعفیٰ صرف مرزا نعیم الدین کا ہی نہیں بلکہ یہ ساری شاہی پولیس کی طرف سے تحریک کے مطالبات کی تائید اور فائرنگ بند کرنے کا مطالبہ ہے۔ گورنر صاحب نے اس وقت کراچی سے رابطہ قائم کرنا چاہا تو فون کٹ چکا تھا۔ گورنر صاحب نے سیکرٹ فون (خفیہ فون) استعمال کرنا چاہا تو اس اثناء میں گورنمنٹ ہاؤس کی بجلی کے تار کاٹے جا چکے تھے اور سیکرٹ فون سے بات نہ ہو سکی۔ اب ملٹری ٹرنک کال سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد وہ سلسلہ بھی فیل ہو گیا۔ جمعہ کی نماز کا وقت قریب ہو رہا تھا۔ عوام کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد وزیر خان میں ہونے والا تھا۔ مولانا عبد الستار خان کی تقریر کے علاوہ یہ بھی اعلان ہو چکا تھا کہ خلیفہ شجاع الدین سپیکر پنجاب اسمبلی جمعہ کو نماز کے بعد جتھہ

صفحہ ۳۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لے کر گرفتاری کے لئے نکلیں گے اور دفعہ ۱۴۴، کرفیو، مارشل لاء جو کچھ بھی ہوگا اس کو توڑ دیں گے۔ اس خبر نے بھی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ خلیفہ شجاع الدین لاہور کے صحیح نمائندے تھے اور جس انداز میں وہ گرفتاری دینا چاہتے تھے۔ وہ حکومت کے خلاف بغاوت کی صورت کو پیدا کرنے کے مترادف تھی۔

اب ان سب عوامل اور محرکات میں دو طرح کے عوامل اور محرکات کام کر رہے تھے۔ ایک وہ جو پرامن احتجاج اور فائرنگ بند کرانے، مطالبات تسلیم کرانے یا گرفتاریاں پیش کرنے کے لئے جدوجہد پر مشتمل تھے۔ دوسرے وہ عوام تھے جو اومنی بسیں جلانے، پولیس کی گاڑیوں کو جلانے، غنڈہ گردی کے واقعات، توڑ پھوڑ، ساڑ پھونک وغیرہ کی کارروائیوں پر مشتمل تھے۔ اوّل الذکر کا مقصد حکومت پر مطالبات منوانے کے لئے دباؤ ڈالنا تھا۔ آخرالذکر کا مقصد تحریک کو بدامنی کی راہ پر ڈال کر:

بہرحال گورنمنٹ ہاؤس میں ارباب اختیار بے بسی اور بے کسی کی حالت میں بیٹھے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ مرکزی حکومت کو ان پر رحم آجائے اور وہ خود بخود انہیں اس مصیبت سے نکالے۔ کیونکہ گورنر صاحب سے لے کر آئی جی پولیس تک کوئی شخص مرکز سے سچی بات کرنے کی جرأت نہیں کر رہا تھا اور اس کی وجہ دولتانہ صاحب اور خواجہ ناظم الدین کے اختلاف اور غلط فہمیاں تھیں۔ مرکزی حکومت یہ فرض کر چکی تھی کہ جو کچھ پنجاب اور لاہور میں ہو رہا ہے وہ دولتانہ صاحب، مرکزی حکومت اور خواجہ ناظم الدین کو نیچا دکھانے کے لئے کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کو اوّل تو مرزائیوں کے متعلق کسی فیصلہ کی جرأت ہی نہ تھی لیکن اگر وہ اس سلسلہ میں کچھ سوچتے بھی تو انہیں دولتانہ کی فتح نظر آتی تھی۔ دولتانہ کی رقابت اور بیرونی طاقتوں کے ظالمانہ دباؤ کے تحت یہ خونین ڈرامہ ہوتا رہا۔ پاکستان کے حاکموں کے ہاتھوں پاکستان کی عوام قتل ہوتی رہی۔

مرزا نعیم الدین ایس. ایس. پی لاہور نے جب دولتانہ صاحب اور چندریگر صاحب کو استعفیٰ کی دھمکی دی اور صحیح صحیح واقعات اور حالات بتائے تو دونوں صاحبان نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ اب ظلم اور سختی سے نہیں دبایا جاسکتا تھا بلکہ مرزا نعیم الدین کے مشورہ کے مطابق کوئی معقول رویّہ اختیار کرنا پڑے گا۔ پولیس کے سربراہ نے ہتھیار ڈال دیئے اور جواب دے دیا کہ اب پولیس عوام پر اس سے زیادہ ظلم نہیں ڈھا سکتی۔

چنانچہ دولتانہ صاحب اور چندریگر کی اسے حکمت عملی سمجھا جائے یا نیک نیتی سے خون خرابہ بند کرانے کی ایک معقول اور سنجیدہ کوشش کہ انہوں نے ایک بیان تیار کروایا اور اسے جمعہ سے قبل سائیکلو سٹائل کروا کر مسجد میں پھینک دینے اور تقسیم کر دینے کا حکم دیا۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے لئے آمادگی اس قربانی اور عوامی اتحاد کی وجہ سے ہوئی جو سرکاری ملازمین اور باقی تمام لوگوں نے اختیار کر لی تھی اور یک زبان ہو کر مطالبہ کیا تھا کہ گولی چلانا بند کرو۔ مطالبات تسلیم کرو۔ حالانکہ ایک دن پہلے ۵؍مارچ کو گورنمنٹ ہاؤس میں جب گورنر صاحب نے شہر کے معززین اور حکومت کے پٹھوؤں کا اجتماع بلایا تو اس میں اسی قسم کا بیان دینے کی تجویز مولانا مودودی صاحب نے پیش کی تھی۔ لیکن وہ تجویز اس وقت نہ مانی گئی۔ ۵؍مارچ کو گورنمنٹ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں مولانا مودودی صاحب کی پوزیشن بھی عجیب تھی۔ وہ دراصل تو مجلس عمل کے ممبر تھے۔ لیکن معلوم وجوہات کی بناء پر انہیں گرفتار ہی نہ کیا گیا۔

صفحہ ۳۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حالانکہ مجلس عمل کے ممبروں کی گرفتاری کے ساتھ ان کی گرفتاری لازمی بات تھی۔ ۲۸؍فروری اور یکم ؍مارچ کو تحریک کے کارکنوں اور کچھ لوگوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آگے آئیں اور تحریک کی باگ ڈور سنبھالیں تو انہوں نے شرعی جھوٹ بول دیا کہ ہم نے اپنے ذمہ ایک ڈیوٹی لی ہوئی ہے اور اس تقسیم کار کے بعد ہم اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کی کوئی تقسیم کار نہ ہوئی تھی۔ محض چمڑی بچانے کے لئے یہ عذر تراشا گیا۔

۵؍مارچ کو گورنر صاحب نے معززین کو یاد فرمایا تو وہاں ختم نبوت کی تحریک کے لیڈر کی حیثیت سے پہنچ گئے۔ جب وہاں تقریر کے لئے کہا گیا اور حکومت نے امن کی اپیل کے لئے کہا تو فرما دیا کہ حکومت کے سامنے دو راستے ہیں۔ یا تو مطالبات کو تسلیم کر لیا جائے اور گفت وشنید شروع ہو اور یا جس طرح تشدد کے ساتھ تحریک کو کچلا جا رہا ہے۔ اس طرح کچل دو۔ دوسری صورت میں امن کی اپیل کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

۵؍مارچ کو ہی جماعت اسلامی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اس کے بعد جو بیان دیا گیا اس کا ماحصل بھی اسی سے ملتا جلتا تھا۔ یعنی عجیب پوزیشن اختیار کر رکھی تھی۔ دراصل چاہتے یہ تھے کہ جماعت اسلامی کو تحریک ختم نبوت کی کوئی نیک نامی ہاتھ میں آجائے تو اسے سمیٹ لے۔ لیکن اس کے لئے اگر کوئی تکلیف، مصیبت یا قربانی کرنا پڑے تو اس سے دامن بچا لیا جائے۔ بہرحال دولتانہ صاحب کا بیان چھاپا گیا اور تقسیم کر دیا گیا۔ ریڈیو سے ریلیز ہوا اور بیرون جات میں بھی پہنچا دیا گیا۔ عوام کے اس وقت دو ہی مطالبات تھے۔ فائرنگ بند کرو، مطالبات تسلیم کرو۔

دولتانہ صاحب کے اس بیان اور اعلان میں فائرنگ کے بند کر دینے کا واضح اعلان تھا اور مطالبات کی تائید تھی۔ اس بیان کا اہل لاہور اور بیرون جات میں خاطر خواہ اثر ہوا۔ عوام کو خیال ہونے لگا کہ حکومت ظلم و تشدد کے بعد راہ راست پر آنے لگی ہے۔ لوگوں کے اشتعال میں کمی ہونے لگی۔ لیکن عین جمعہ کی نماز کے وقت ایک بجے دن لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا اور لاہور کو فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ کہیں اس سے پہلے اس بات کا ذکر آچکا ہے کہ تحریک کو برباد کرنے میں کون کون سرکاری کارندے شامل تھے۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ حکومت کی صفوں میں تین حلقے جو تحریک کی مخالفت کر رہے تھے اور تینوں کی مخالفت کا انداز اور کیفیت مختلف تھی۔ پہلا گروہ غلام محمد گورنر جنرل، سکندر مرزا، سیکرٹری دفاع، جی احمد سیکرٹری داخلہ، میاں انور علی آئی جی پولیس، جنرل اعظم خان جی او سی لاہور اور تمام مرزائی افسر۔

دوسرا گروہ: خواجہ ناظم الدین اور مرکزی کابینہ تیسرا گروہ: میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ اور اس کا صوبائی گروہ۔

خواجہ صاحب کی مخالفت دو وجہ سے تھی۔ پہلی وجہ بیرونی دباؤ اور ملک غلام محمد اور ان کے ساتھی افسروں کی پالیسی، دوسری دولتانہ صاحب کی رقابت اور وہ وقتی چپقلش جو دولتانہ صاحب اور ناظم الدین صاحب کے درمیان موجود تھی۔ جوں جوں تحریک ختم نبوت شروع ہوتی گئی۔ نواب ممدوٹ مرحوم اور حمید نظامی مرحوم نے اس چپقلش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ حمید نظامی مرحوم نے ڈاکٹر اشتیاق حسین مرکزی وزیر اطلاعات کو وہ تمام مضامین اور تراشے مہیا کئے جو ان دنوں اخبارات میں چھپ رہے تھے۔ تحریک کے بہاؤ کی وجہ سے ہر اخبار اپنی مقبولیت بڑھانے اور ملک کے ایک اہم مسئلہ میں اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ بنانے کے لئے تحریک کے حق میں لکھ رہا تھا۔ لیکن اس سب کچھ کو دولتانہ کی شہ بتا کر خواجہ ناظم الدین کو گرانے کی سازش بنا کر پیش کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کے شکوک پختہ ہو گئے۔

صفحہ ۳۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حد یہ ہے کہ زمیندار اخبار جو مولانا ظفر علی خان کے زمانہ سے یعنی یوں کہنا چاہئے کہ اپنے روزِ اوّل سے ہی مرزائیوں کے خلاف لکھتا چلا آرہا تھا۔ اس کے وہ مضامین جو مرزائیوں کے خلاف تحریک کے زمانہ میں شائع ہوئے۔ دولتانہ کی سازش قرار دیئے گئے۔ شبلی بی کام ایک مرزائی نوجوان ’’زمیندار‘‘ میں بطور نائب ایڈیٹر گھسا ہوا تھا۔ سچی جھوٹی رپورٹیں اور کہانیاں افسانے تراشتا رہا اور مخبری کے فرائض سرانجام دیتا رہا۔ حالانکہ مرزائیت کے خلاف لکھنا زمیندار کا جزو ایمان تھا اور تحریک کے دنوں سے ہی نہیں، روزِ اوّل سے ہی وہ لکھتا چلا آرہا تھا۔

نواب ممدوٹ صاحب جب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ ان کے عہد سے ہی جو اخبارات مسلم لیگ اور حکومت کی تائید کرتے تھے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت کی تائید کی وجہ سے ہماری فروخت اور آمدنی پر برا اثر پڑتا ہے۔ حکومت نے ان اخبارات کو مختلف فنڈز سے امداد دینے کا رواج شروع کیا۔ نواب ممدوٹ صاحب کے بعد دولتانہ صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو انہوں نے بھی مسلم لیگ اور حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لئے اس قدیم رواج کو قائم رکھا اور اخبارات کی مالی امداد ہوتی رہی۔ اس فہرست میں روزنامہ زمیندار، روزنامہ احسان، روزنامہ آفاق، مغربی پاکستان شامل تھے اور کئی سالوں سے ہو رہی تھی۔

لیکن برا ہو اس عداوت کا کہ دولتانہ صاحب کے دور میں ان اخباروں کو جتنی مالی امداد ملی وہ تحریک ختم نبوت کے کھاتے میں لکھ دی گئی۔ یہی حال محکمہ اسلامیات کا ہے۔ حکومت پنجاب نے محکمہ اسلامیات میں کچھ علماء رکھے جنہیں تبلیغ اسلام، اصلاحی تقریروں وغیرہ کے سفر خرچ اور الاؤنس دیئے جاتے تھے۔ اب ان حضرات میں سے بعض علماء نے تحریک ختم نبوت میں بھی حصہ لیا۔ بدقسمتی سے یہ امداد بھی دولتانہ کی تحریک پروری کا حصہ شمار ہو گئی۔

حالانکہ اس سارے الزام کے رد کے لئے صرف اتنی ہی بات کافی ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سب سے بڑے داعی احرار تھے اور ان کا ترجمان اخبار روزنامہ آزاد تھا۔ احرار زبردست قسم کے عوامی مقرر بھی تھے۔ اگر یہ رقوم جو اخبارات کو امداد کے طور پر اور علماء کو سفر خرچ کے طور پر دی جا رہی تھی۔ تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ہوتیں تو ان میں سے بڑا حصہ روزنامہ آزاد کو ملتا اور سب سے زیادہ سفر خرچ اور الاؤنسز احرار کے مقرروں کو دیئے جاتے۔ لیکن احرار کے کسی مقرر کو کوئی پیسہ دیا جانا ثابت نہیں اور نہ ہی آزاد اخبار کو ایک پائی دی جانی ثابت ہو سکی۔

مارشل لاء

۶ تاریخ کو لاہور میں مارشل لاء کا اعلان ہو گیا۔ فوج نے شہر کے بیرونی حصہ پر پہرے لگا دیئے۔ مارشل لاء کے اعلان سے ایک بار تو شہر پر سناٹا چھا گیا۔ مگر مولانا بہاء الحق قاسمی، مولانا خلیل احمد قادری اور مولانا عبدالستار خان نیازی کی جرأت مندانہ اور ولولہ انگیز تقریروں سے یہ سناٹا بھی جرأت اور حوصلہ مندی کے جذبات میں گم ہو گیا۔ شہر کے اندرونی حصے میں تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں اور باہر فوج پہرہ دے رہی تھی۔ مارشل لاء کا نفاذ خطرناک حالات میں از بس ضروری ہوتا ہے۔ آج جب کہ حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ مارشل لاء کا مشورہ دینے والے بھی نہ رہے۔ مارشل لاء لگانے والے بھی انجام کو پا چکے ہیں۔ ان حالات میں تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو کیا مارشل لاء کا فیصلہ صحیح تھا؟ کیا ایسا تو نہیں کہ مرزائی اور مرزائی نواز انتظامیہ نے از خود حالات کو دگرگوں کرنے کا ناٹک رچایا۔ پھر مارشل لاء لگوا کر منتخب حکومت کے مستقبل اور تحریک کے لوگوں کی جانوں سے کھیل کر اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ تحریک ختم

صفحہ ۳۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت اگر بنیادی طور پر غلط تھی تو مسلم لیگ اور اس کی حکومت کا فرض تھا کہ وہ کھلے بندوں اس مطالبہ سے انکار کرتے۔ مطالبہ کرنے والے سمجھ لیتے کہ اب انہیں کیا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ باہر مسلم لیگ تائید کرتی تھی۔ اس کے حق میں قراردادیں پاس کیں۔ اندر مسلم لیگ کے صدر خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ اس راہ میں مشکلات حائل ہیں۔ انکار کی جرأت نہیں۔ البتہ تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ ہے۔ اس صورتحال کی موجودگی میں کیا یہ درست نہیں کہ تحریک چلانے والے اپنے مؤقف پر مطمئن تھے اور ان کا یہ خیال کرنا کہ جونہی مطالبے کی پشت پر قوم کی متفقہ آواز ہوئی اس مطالبے کے منظور کئے جانے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہوگی۔ تب مجلس عمل کو کس طرح مجرم گردانا جاسکتا ہے اور جو بدسلوکی اور بربریت کا مظاہرہ تحریک میں حصہ لینے والوں پر روا رکھا گیا۔ اس کے جواز کے لئے حکومت کے پاس کیا دلیل ہے۔ حکومت کی اس بارے میں روش قطعی نامناسب تھی۔ لاٹھی چارج، گرفتاری اور پولیس کی مار دھاڑ، خلاف حق و انصاف تھی۔ چہ جائیکہ حکومت لاہور پر مارشل لاء نافذ کر دیتی۔ پاکستانی فوج سے عوام کو دلی محبت و انس ہے اور یہ عوام اور فوج دونوں کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ اپنی فوج پر فخر محسوس کرتا ہے۔ فوج کے تصور ہی سے ہر پاکستانی مطمئن ہو جاتا ہے۔ جب کہ یوم استقلال کے موقعہ پر عوام کو اپنی فوج کے مارچ پاسٹ کا موقع ملا۔ کس طرح عوام فلک بوس نعروں سے جھوم جھوم جاتے ہیں۔ پھر کیا اس وقت کی حکومت کا یہ فعل دانشمندانہ تھا کہ اس نے اسی فوج کو اپنوں ہی کے سامنے لا کھڑا کر دیا اور بہادر قوم کی اپنی محبوب اور بہادر فوج سے مُڈ بھیڑ کرا دی۔ حکومت نے سخت حماقت کی اور بالآخر اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ اس وقت کی حکومت کے ذمہ دار اب کہاں ہیں۔ نہ وہ مرکز رہا اور نہ وہ صوبائی حکومت رہی۔ مسلمان عوام اب بھی موجود ہیں۔ اسلام موجود ہے۔ اسلام کا بنیادی مسئلہ ختم نبوت موجود ہے۔ اس کے خدام اور رضا کار، محافظ و نگہبان موجود ہیں اور موجود رہیں گے۔ لیکن فوج کی وردی اور احترام کو سب سے پہلے پاکستان میں جن لوگوں نے داغدار کرنا چاہا وہ لیگی بداندیش قیادت اور عیار مرزائی تھے۔ دونوں اپنے انجام بد کو سامنے رکھیں اور اپنے گریبان میں جھانکیں کہ کیا گولی کی سنسناہٹ سے حق کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں اور اس پر مجھے مزید دلائل کی بھی ضرورت نہیں۔ بہر حال جو کچھ ہونا تھا ہو کر رہا۔

مارشل لاء کے بعد

مسجد وزیر خان میں صبح و شام تقریریں ہوتیں۔ ہزارہا مسلمان مسجد میں ہر وقت موجود ہوتے تھے۔ مولانا بہاء الحق قاسمی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا سید خلیل احمد قادری رات کے جلسے کے بعد مسجد سے چلے جایا کرتے تھے اور ملحقہ محلے میں رات بسر کرتے تھے۔ مسجد کے ایک جانب الگ چھوٹا سا دروازہ تھا جہاں سے یہ حضرات چلے جایا کرتے تھے۔ شہر کے دروازے اندر سے عوام نے بند کر رکھے تھے۔ بہر حال بیرون شہر فوج کا قبضہ تھا اور اندرون شہر پر مجلس عمل اور شہر والے قابض تھے۔ جب شہر کے کسی گوشے پر گولی چلتی تو شہر کے ہر گوشے سے نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہونے لگتیں۔ راتیں دن بن گئیں اور مسلمان خود موت کی تلاش میں نکل آیا۔

دو دن بعد فوج کے ایڈمنسٹریٹر کو خدا جانے کس نے مشورہ دیا کہ مسجد وزیر خان پر قبضہ کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ پانی کے نل کاٹ دیئے جائیں تاکہ اندر رہ کر لوگ تنگ آ کر شہر کے دروازے کھول دیں۔ پانی بند کر دیا۔ جلسے پھر بھی ہوتے رہے۔ پھر بجلی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ تب گیس کے ہنڈوں سے مسجد جگمگانے لگی اور یہ انتظام چند منٹوں میں ہو گیا۔ اب پولیس اور فوج آگے قدم بڑھانا چاہتی تھی۔ فوج نے محاصرہ تنگ کرنا شروع کیا۔

۸؍ مارچ کو فوج نے مسجد کو پوری طرح محاصرہ میں لے لیا۔ مگر اس کے باوجود مسجد میں جلسے ہو رہے تھے۔ مسجد میں رضا کاروں

صفحہ ۳۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ موجود تھے۔ مقرر آتے اور خفیہ دروازے سے تقریر کر کے چلے جاتے۔ پولیس اور افواج کے لئے یہ صورتحال تشویش ناک تھی۔ وہ جلد سے جلد مسجد پر قبضہ کرنے کی راہیں تلاش کر رہی تھی۔ فوج نے خفیہ دروازے کا پتہ کر کے اس پر بھی پہرہ بٹھا دیا۔ مسجد میں مولانا خلیل احمد قادری اور مولانا بہاء الحق قاسمی موجود تھے۔ مولانا بہاء الحق قاسمی نے رضا کاروں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ اب گرفتار ہونے کے لئے ہم سب کو بڑے دروازے کو کھول کر خود کو پیش کرنا ہوگا۔ نہیں معلوم کہ فوج ہمارے لئے کیا ارادے رکھتی ہے۔ آپ سب حضرات مجھے آگے جانے دیں۔ میں باہر نکلتا ہوں۔ اگر مجھے گولی مار دی گئی تو آپ اپنے لئے خود فیصلہ کر لیں کہ آپ نے کس طرح گرفتاری یا قربانی دینی ہے۔ رضا کاروں نے جن میں سے اکثر و بیشتر بیرون لاہور کے تھے۔ مولانا کا فیصلہ قبول نہ کیا اور بڑی ردوکد کے بعد یہ طے ہوا کہ پرامن طریقہ سے پانچ پانچ رضا کار باہر نکلیں اور خود کو قربانی کے لئے پیش کر دیں اور مولانا سب سے بعد جائیں۔ تب مولانا نے پہرہ داروں کو اس فیصلے سے مطلع کیا۔ باہر والوں نے سب کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا بہاء الحق قاسمی نے رضا کاروں سے فرمایا کہ آپ سب حضرات وضو کر لیں اور باوضو ہو کر باہر نکلیں۔ پہرہ داروں نے تقاضا شروع کیا کہ جلدی باہر آؤ۔ مولانا نے انہیں سمجھایا کہ رضا کار وضو کر رہے ہیں۔ جونہی وضو سے فارغ ہوئے۔ سب کے سب پانچ پانچ کر کے باہر آتے جائیں گے۔ یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ تمام رضا کار گرفتار ہو چکے اور انہیں لاریوں میں بٹھا کر جیل پہنچا دیا گیا۔ آخر میں مولانا کو گرفتار کیا گیا۔ مولانا کو جیل میں لے جانے کی بجائے پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور پولیس مولانا کو شاہی قلعے لے گئی۔ مسجد خالی ہو گئی۔

مولانا خلیل احمد قادری کی گرفتاری

مولانا کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری نکل چکے ہیں اور شام کے وقت ایک میجر کے ہمراہ فوجی سپاہی مولانا کی گرفتاری کے لئے آئے تھے۔ مسجد میں یہ فیصلہ ہوا کہ مولانا کو پرامن طریقہ سے گرفتار ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ مولانا گرفتار ہونے کے لئے رضا کاروں سمیت موچی دروازہ پہنچ گئے۔ جہاں فوج کی پارٹی موجود تھی۔ مگر مولانا کے وہاں پہنچنے سے قبل فوجی افسر واپس جا چکے تھے۔ اس لئے مولانا دوبارہ مسجد میں واپس آ گئے۔ لاء کالج لاہور کے پروفیسر جناب قدوائی صاحب جو مولانا ابوالحسنات کے عقیدت مندوں میں شمار کئے جاتے تھے، مسجد وزیر خان میں تشریف لائے اور مولانا خلیل احمد قادری سے فرمایا کہ میجر جنرل اعظم خان (قاتل اعظم) سے مل کر آیا ہوں۔ آئیے میں ان سے آپ کی ملاقات کرا دوں شاید مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ مولانا ابوالحسنات اس سے قبل کشمیر محاذ پر امداد لے کر گئے تھے اور انہیں غازی کشمیر کا خطاب بھی ملا تھا۔ فوج کے حلقوں میں مولانا ابوالحسنات کا احترام پایا جاتا تھا۔ قدوائی صاحب کی چکنی چپڑی باتوں کو سن کر مولانا خلیل احمد قادری ان کے ہمراہ میجر جنرل اعظم (قاتل اعظم) سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ مسجد کا انچارج مولانا بہاء الحق قاسمی کو بنا دیا۔ قدوائی صاحب اور مولانا خلیل احمد جونہی مسجد سے باہر آئے باہر ایک میجر دو کپتان اور چند فوجی موجود تھے۔ ان فوجیوں نے مولانا خلیل احمد کو حراست میں لیا اور سیدھے شاہی قلعے میں لے گئے۔ قدوائی اپنی ڈیوٹی ادا کر کے بخریت اپنے گھر تشریف لے گئے۔ مولانا خلیل احمد صاحب سے ایک فوجی کرنل نے چند سوالات کئے جن کا جواب سن کر حکم ملا ان کو شاہی قلعے کی حوالات میں بند کر دیا جائے۔

مولانا عبدالستار خان نیازی

مسجد کا معرکہ فوج نے فتح کر لیا۔ مولانا بہاء الحق قاسمی اور مولانا خلیل احمد گرفتار ہو گئے تو اب مولانا عبدالستار خان نیازی کی تلاش شروع ہوئی۔ وہ چونکہ اس وقت مسجد میں موجود نہ تھے۔ تقریر کر کے اپنی آرام گاہ پر پہنچ چکے تھے۔ پولیس نے شہر کو کھنگال ڈالا۔ مگر انہیں

صفحہ ۳۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نیازی صاحب کا کچھ پتہ نہ چلا۔ فوج نے شہر کی ناکہ بندی کر لی۔ شہر لاہور کے لوگ بڑے منچلے اور بہادر ہیں۔ گلی کوچوں میں جاتے ہوئے پولیس کے افسران اور سی آئی ڈی کے کارندے گھبراتے تھے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے کہ مخدوش حالات میں قدم بڑھانا دل گردے کا کام ہے۔ ان دنوں پولیس کو بیگانہ وار دیکھا جاتا تھا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کا کھوج لگانا قدرے مشکل امر ہو گیا اور پھر طرفہ یہ کہ مولانا نیازی کے علاوہ مولانا محمد یوسف سیالکوٹی اور دوسرے حضرات کی بھی تلاش جاری تھی۔

شہر کے چاروں طرف ناکہ بندی تھی مگر لاہور شہر کوئی قصبہ تو نہ تھا کہ اسے آسانی سے گھیرے میں لے لیا جاتا۔ میلوں میں پھیلے ہوئے شہر، لاکھوں کی آبادی کہاں کہاں پہرہ بٹھایا جاتا۔ پولیس کو خیال تھا کہ مولانا عبدالستار خان نیازی رات کی تاریکیوں میں گم نہ ہو جائیں۔ مگر مارشل لاء اور کرفیو کی موجودگی میں رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ علاوہ ازیں مولانا عبدالستار خان نیازی ایسا جری انسان اس طرح چوروں کی طرح دبک کر روپوشی کے لئے کیونکر تیار ہو جاتا۔ پولیس اور فوج کی اس تیاری سے قبل ہی مولانا لاہور کے کنارے ایسی جگہ تشریف لے جا چکے تھے۔ جہاں سے جب چاہتے بغیر کسی خوف و خطر لاہور کو چھوڑ سکتے تھے۔ پولیس و فوج نے ادھر انتظامات کئے۔ ادھر مولانا نے رخت سفر باندھا اور بلا روک ٹوک شہر کراس کر گئے۔

اب فوج و پولیس نے شہر کی تلاشی لینا شروع کی۔ جس قدر تلاشی ہوتی اتنی داستانیں تیار ہوتی گئیں۔ مولانا بلند پایہ کریکٹر کے انسان ہیں۔ ان کی جرأت رندانہ سے متعلق جتنی داستانیں تیار ہوتیں لوگ اعتبار کر لیتے۔ پولیس و فوج کی مسلسل جدوجہد کے باوجود مولانا نہ ملے تو کسی نے مشہور کر دیا کہ وہ کراچی میں تقریریں کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا میں نے ان کو پنڈی دیکھا ہے۔ غرضیکہ کراچی سے پشاور تک کے شہروں کا نام لیا گیا۔ پھر افواہ ہوئی کہ وہ شہر ہی میں موجود ہیں۔

انہیں فلاں محلے میں دیکھا گیا ہے۔ تب اس محلے والوں کی شامت آئی۔ ہر شخص کو بلا کر ڈرایا دھمکایا اور بے عزت کیا گیا۔ پولیس افسران دانت پیستے اور آپے سے باہر ہو جاتے۔ بالآخر جب پولیس ناکام ہوئی تو اس کے غصہ کا پانی نشیب کی جانب بہہ نکلا۔ یعنی پولیس نے احرار کارکنوں کی پرانی لسٹ نکال کر میز پر رکھ لی اور جس شخص کو چاہا گرفتار کر لیا۔ جن کمزور لوگوں کو پکڑ کر تشدد کا شکار بنایا ان سے جو چاہا کہلوایا اور اس غلط طریقے سے پولیس خود ہی پریشانی میں مبتلا ہو گئی۔ ایک افسر اور اس کے ماتحتوں نے ایک کہانی تیار کر کے افسر بالا کو پیش کی۔ دوسرے افسر اور اس کے ماتحتوں نے اس سے مختلف تراشا، افسران بالا نے دونوں کو رد کر دیا اور پھر نئے سرے سے تفتیش شروع کی اس طرح افسانہ در افسانہ بنتا رہا اور معزز شہریوں کی وہ بے عزتی کی کہ خدا کی پناہ۔ ایک پولیس افسر نے تو شرافت، انسانیت اور اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر وہ حرکتیں کیں کہ تہذیب نے سر پیٹ لیا۔ قدرت یہ تماشا دیکھ رہی تھی اور ڈھیل دے رہی تھی۔ ہنگامہ ختم ہو گیا تو اس پولیس افسر کے برے دن آگئے۔ معطل ہوئے تنزلی ہوئی اور اب گھر بیٹھے ہیں۔ جب یہ دل آزار ڈرامہ ہو رہا تھا تو فرشتوں نے بھی یزدان سے عرض کیا ہو گا کہ ہم نہ کہتے تھے کہ یہ خاکی مخلوق بدتہذیبی کا مظاہرہ کرے گی۔ تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لینے والے علماء سے شاہی قلعے میں جس شرافت کا سلوک ہوا۔ عہد فرنگ میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ غرض یہ کہ مولانا عبدالستار نیازی کی تلاش تھی۔ وہ ملتے نہ تھے۔ لوگوں کو قلعے لے جا کر کہا جاتا تھا کہ جب تک نیازی صاحب نہیں ملتے۔ تمہارے ساتھ یہی سلوک ہو گا۔ بتاؤ وہ کس راہ سے نکلے اور انہیں کون شہر سے باہر لے گیا۔

جب پولیس کو سراغ ملا بھی تو کیا ملا کہ چوہدری عبدالرحمن نمبردار جو بہت ہی شریف اور معزز انسان تھا۔ انہیں پکڑ لیا اور ان کے رشتہ دار بھی دھر لئے گئے۔ انہیں قلعے میں لے جایا گیا اور پولیس نے اپنی دیرینہ عادت کے مطابق ”انتہائی شرافت“ کا سلوک کر کے یہ نتیجہ

صفحہ ۳۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نکالا کہ مولانا نیازی انہی کے گھر میں رہے ہیں اور انہی لوگوں نے مولانا کو شہر سے باہر نکلنے میں امداد دی ہے۔ چوہدری عبدالرحمن صاحب پر یہ الزام تھا کہ وہ عبدالستار خان نیازی کو ہمراہ لے کر لاہور سے باہر چھوڑ آئے ہیں۔ چوہدری صاحب آنکھوں سے معذور تھے۔ وہ کسی سہارے کے بغیر گھر سے باہر نہ نکل سکتے تھے۔ جب بھی انہیں اپنے مکان سے باہر بازار یا مسجد تک آنا ہوتا تھا وہ کسی ہوشیار بچے یا جوان کا ہاتھ پکڑ کر چل سکتے تھے۔ ان چوہدری صاحب سے دریافت کیا گیا کہ نیازی صاحب کہاں کہاں رہے اور کس طرح شہر سے باہر نکلے۔ اسی افسانے کو حقیقت کا لباس پہنانے کی کوشش کی گئی۔ مگر یہ لباس چوہدری عبدالرحمن کی معذور آنکھوں کی وجہ سے فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔ بہر حال حاکم لوگ جو چاہیں کہیں اور دل چاہے کریں۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب شہری آزادی دوعملی کی گرداب میں پھنسی ہوئی ہو۔ ہر قسم کے اختیارات مل جاتے ہیں۔ اس قلعے میں ان دنوں مسلمانوں اور ان کے علماء سے کیا کچھ ہوا۔ اس حقیقت سے یا وہ لوگ واقف ہیں جن پر گزری یا گزارنے والوں کو معلوم ہے اور سب سے بہتر وہ خدا جانتا ہے جو حاضر و ناظر ہے۔ آزمائش کا وقت تھا جو گزر گیا۔ اب دردناک قصوں کو دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے تحریک کے اس تکلیف دہ باب کو بند ہی رہنے دیا جائے تو اچھا ہے۔ لاہور کے قلعہ میں جہاں تحریک ختم نبوت کے کارکنوں، رہنماؤں اور علماء کو رکھا جاتا تھا۔ کمزور دل انسان پندرہ منٹ میں گھبرا کر چیخ اٹھتا تھا۔ مگر معزز علماء اور رضا کاروں نے دو دو تین تین ماہ صبر و استقامت سے گزار دیئے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

میاں ممتاز محمد خان دولتانہ

میاں صاحب نے ۱۹۵۱ء میں تحریک مقدس ختم نبوت کے خلاف بحیثیت وزیر اعلیٰ جو کچھ کیا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ میاں صاحب نے اس تحریک کو دبانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ حتیٰ کہ ہر مسجد کے خطیب کو ٹوڈی قسم کے متولیوں کے ذریعے روکا گیا کہ وہ مرزائیت کا تذکرہ تک نہ کریں۔ ظفراللہ کا نام لیں اور ختم نبوت کے بارے میں اپنے خطبوں میں کچھ نہ کہیں۔ جب اس سے بھی کام نہ چلا تو افسران کے ذریعے ڈرایا دھمکایا گیا۔ تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کیا۔ سزائیں دیں جب ملک میں آگ لگی تو بحالت مجبوری ان رہنماؤں کو رہا کرنا پڑا۔ ان سب باتوں کے باوجود ایک مکروہ پراپیگنڈا کیا گیا کہ اس کی پشت پر دولتانہ کا ہاتھ تھا۔ حالانکہ دولتانہ تو درکنار دولت کا بھی اس تحریک پر سایہ نہ پڑا تھا۔ اس مکروہ شر انگیز پروپیگنڈا سے مقصود یہ تھا کہ تحریک بھی کمزور پڑ جائے۔ دولتانہ بھی بدنام ہوتا کہ ایک تیر سے دو شکار کئے جاسکیں۔ اس قسم کا پروپیگنڈا تین گروہوں نے کیا۔

برسر اقتدار نہ دیکھ سکے اور خود اقتدار کے لئے ہاتھ مار رہے تھے۔

بڑی تیزی سے پھیلایا گیا۔ مگر اس کی جانب عوام نے قطعاً توجہ نہ دی اور اسے درخور اعتناء نہ سمجھا۔ اس لئے یہ پروپیگنڈا اس وقت اپنی موت آپ مر گیا۔

تحریک مقدس ختم نبوت کا دوسرا دور شروع ہوا جو ۱۹۵۲ء سے لے کر مارچ ۱۹۵۳ء تک کا ہے تو یہ تحریک کسی جماعت، مذہبی یا

صفحہ ۳۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیاسی گروہ کی تحریک نہ تھی۔ بلکہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت جس میں نو مسلمان جماعتیں شامل تھیں ۔ اس تحریک کو چلا رہی تھیں۔ ان نو جماعتوں میں سے کوئی ایک جماعت بھی دولتانہ کی ہمنوا نہ تھی۔ مگر بد طینت و بد روح لوگوں نے پھر بھی یہی کہا کہ اس تحریک کی پشت پر دولتانہ کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ ہاتھ کی بجائے دولتانہ حکومت کا کوڑا تھا۔ پولیس ہر وقت تحریک کو ختم کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی۔ جب تحریک نے زور پکڑا اور مسلم لیگ کے راہنماء ہر شہر اور ہر قصبے میں تحریک کی وجہ سے زچ ہو گئے اور خود ایماندار لیگی بھی یکے بعد دیگرے تحریک میں حصہ لینے لگے تو مسلم لیگ کے صوبائی راہنماء اپنی شاخوں کی شمولیت کی وجہ سے بے حد مجبوریوں اور الجھنوں میں پھنس گئے۔ میاں دولتانہ نہ بیوقوف تھا ، نہ بہادر۔ وہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ تحریک کے حق میں ہوا زیادہ تیز ہوئی تو اپنے ساتھیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ وہ راہ کا روڑا بننے کی بجائے اپنی عافیت تلاش کرنے لگے۔ بعض مواقع پر عوام کی ترجمانی بھی کرنی پڑی۔ مگر نیم دلی سے نہ کہ ایمان داری سے۔ جب خواجہ ناظم الدین امریکہ جانے والی گاڑی پر مکہ مکرمہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے ۔ سفر امریکہ کا ، ارادہ مکہ کا اور سٹیرنگ ظفر اللہ قادیانی کو پکڑا دیا ۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ حادثہ کا شکار ہو گئے ۔ حالات نے پلٹا کھایا۔ پر امن تحریک میں حصہ لینے والوں پر اس لئے بے جا تشدد ہوا کہ عوام نا قابل برداشت تشدد سے بلبلا اٹھیں یا تو بھاگ کھڑے ہوں یا خود تشدد پر اتر آئیں۔ مگر جب مسلمانوں نے زخمی ہو کر ، مرکر ، عزیز جانیں دے کر، بھی تشدد کا جواب تحمل اور بردباری اور صبر سے دیا تو دولتانہ حکومت نے یقین کر لیا کہ اب دنیا کی کوئی طاقت اس تحریک کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مطالبات بحالت مجبوری مان لئے جانے کی امیدیں دلانے لگے اور کراچی سے نامہ و پیام کی باتیں کرنے لگے۔ بے پناہ قربانی کے جذبے نے تحریک کو آندھی کی شکل دے دی۔ جس سے حکومت کی تمام مشینری متاثر ہو گئی تو صوبائی و مرکزی حکومتی ارکان نے مارشل لاء کے ذریعے نہتے عوام کو کرش کرنے کا پروگرام بنایا۔ جب فوج آ گئی۔ آگے چل کر حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فیروز خان نون براجمان ہوئے ۔ میاں صاحب اپنی بزدلی کے باعث دو طرفہ شکار ہو گئے۔ مسلمانوں نے انہیں تحریک کے مخالفوں کی فہرست میں درج کر لیا اور ان کے ذاتی مخالفوں نے یہ طعنہ دیا کہ تحریک دولتانہ نے چلوائی تھی۔ گویا دولتانہ کی اتنی بڑی جیب تھی جس میں نو جماعتیں سماگئیں۔ نو جماعتوں اور ساری مسلمان قوم کو یہ خبر نہ ہوسکی کہ وہ دولتانہ کی جیب میں ہیں۔

حقیقتاً یہ الزام دولتانہ پر نہیں بلکہ تمام مسلمان جماعتوں اور ساری قوم پر اتہام ہے کہ یہ سب لوگ دین کی خاطر اللہ جل شانہ اور اس کے رسول مقبول ﷺ کی خوشنودی کے لئے جانیں قربان نہیں کر رہے تھے بلکہ سب کو میاں دولتانہ کی خوشنودی مطلوب تھی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

تحریک ختم نبوت کا مقابلہ مسلم لیگی حکومت نے کیا مسلمان قوم سے جو بدسلوکی ہوئی اس کی تمامتر ذمہ داری لیگی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ دولتانہ صاحب اس وقت بھی لیگی تھے اور آج بھی لیگی ہیں۔ اگر صوبائی اور مرکزی حکومت کی چپقلش تھی یا دولتانہ و خواجہ کھٹ پٹ تھی تو یہ لیگ کا گھریلو تنازعہ تھا اور اقتدار کی رسہ کشی ، ابن الوقتی تو اس جماعت کے خمیر میں شامل ہے۔ اس رسہ کشی کا تحریک سے تعلق یا واسطہ نہ تھا۔ دنیا پاگلوں اور احمقوں سے کبھی خالی نہیں رہتی۔ اس قسم کے کوڑھ مغز اور جاہل آج بھی موجود ہیں اور کل بھی موجود رہیں گے جو ایک لغو اور نامعقول بات کہتے جائیں گے۔ لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں دنیائے انسانیت کے سامنے آنے والے حالات نے ثابت کر دیا کہ یہ تحریک کسی اشارے پر نہیں بلکہ صرف اور صرف عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے مقدس مشن کے لئے تھی۔ اس میں شریک ہونے والے دنیا و آخرت میں سرخرو ہوئے اور اس کے دشمن اپنے انجام سے دوچار ہوئے۔

صفحہ ۳۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باب سوم

تحریک سے متعلق علاقائی رپورٹیں

صفحہ ۳۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لائل پور کی رپورٹ

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: چنیوٹ میں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں تقریباً سارے احرار لیڈر شریک تھے۔ اس موقعہ پر پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا بند کمرہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ راقم الحروف بھی اس اجلاس میں شریک تھا۔ اجلاس میں شیخ حسام الدین مرحوم نے بی. پی. سی رپورٹ جو انگریزی زبان میں چھپا ہوا ایک کتابچہ تھا پیش کیا اور ممبران کو آگاہ کیا کہ ملک کے لئے دستور بنانے کے سلسلہ میں بنیادی اصولوں کو طے کرنے والی کمیٹی نے ملک کے لئے جداگانہ طریقہ انتخاب تجویز کیا ہے۔ جدا گانہ انتخاب کی صورت میں اقلیتوں کے حقوق متعین ہوتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے اس میں اقلیتوں اور ان کی نمائندگی وغیرہ کا ایک شیڈول بھی شامل کیا ہے۔ اس شیڈول میں ہندوؤں، عیسائیوں، پارسیوں وغیرہ کو اقلیت تسلیم کیا ہے۔ لیکن مرزائیوں کو اس شیڈول میں درج نہیں کیا۔ جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بی. پی. سی نے مرزائیوں کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے انہیں سواد اعظم میں شریک کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قادیانیوں نے پورے سال میں جو اودھم مچائے رکھا تھا واہ فیکٹری سے اسلحہ چرانا، بارود کی بہت بڑی مقدار ربوہ میں لانا، جی. ایچ. کیو پنڈی میں خفیہ ریشہ دوانیوں کا سلسلہ مرزائی افسروں کا تبلیغ اور مرزائیوں کی حمایت میں جارحانہ انداز ریلوے کا سامان لوٹ کھسوٹ کے ذریعہ ریل ہی کے ذریعہ ربوہ پہنچانا وغیرہ تمام امور پر غور و خوض ہوا۔ لیکن خاص توجہ دستور اور بی. پی. سی رپورٹ سے نمٹنے کی صورتحال پر دی گئی۔

چنیوٹ کے اس اجلاس میں بی. پی. سی کی رپورٹ پڑھ کر قائدین احرار کو سخت مایوسی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قیام پاکستان کے بعد سے اپنی تمام تر توجہات اسی مسئلہ پر مرکوز کئے ہوئے تھے۔ ان کے نزدیک قادیانیت انگریزی راج کا ایک ضمیمہ یا حصہ تھی اور برطانوی درخت ہی کی جڑوں کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس لئے وہ برطانوی درخت کی ان جڑوں کو بھی سرزمین پاکستان سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ احرار کی جدوجہد کے سلسلہ میں تین چیزیں مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتی تھیں۔

اوّل: دینی اعتبار سے مسئلہ کی صحت

اس میں کسی شخص کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے اور مسلمانوں کی تمام دینی جماعتوں کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کر کے اسلام کے اس بنیادی عقیدہ سے انحراف کیا۔ مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں نے مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لانے والوں کو کافر کہتے ہوئے اور اپنی الگ جماعت اور الگ نظام بناتے ہوئے ایک نئی امت کی بنیاد رکھ دی۔

دوم: سیاسی طور پر مسئلہ کی اہمیت

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے جانشینوں کے لٹریچر سے یہ بات ناقابل تردید حیثیت سے سامنے آگئی ہے کہ قادیان سے اٹھنے والی جماعت ایک سیاسی تنظیم ہے۔ اس کے مقاصد سیاسی ہیں اور برطانوی شاطر دماغوں نے اسے اپنے مخصوص مفادات کے لئے جنم دیا تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنی جماعت اور تحریک کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا کہہ دینا ہی بہت بڑا ثبوت ہے۔

صفحہ 319

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سوم: عوام کی تائید

قادیانی اپنے عقائد ونظریات کی روشنی میں مسلمانوں سے خارج ہیں۔ خود ان کا اپنا عمل اس کی تائید کرتا ہے۔ جہاں انہوں نے دینی اعتبار سے شادی اور مرگ تک کو بالکل جدا کر لیا اور یہ کہتے ہوئے کر لیا کہ جس طرح مسلمان عیسائیوں کو بیٹیاں نہیں دیتے اور ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اسی طرح ہمیں بھی مسلمانوں کو نہ بیٹیاں دینی ہیں اور نہ ہی ان کے جنازہ میں شرکت کرنا ہے۔ قادیانیوں کے اس عمل کا عوام پر شدید ردعمل ہوا۔ چنانچہ وہ قادیانیوں کے سلسلہ میں احرار کے زبردست حامی اور مؤید بن گئے۔ حالانکہ ان کی اکثریت احرار سے سیاسی اختلاف رکھتی تھی۔

۱۹۵۱ء کے انتخابات میں احرار نے لیگ کے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔ لیکن افسوس لیگی قیادت انتہائی احسان فراموش ثابت ہوئی۔ اس نے احرار کے تعاون کی کوئی قدر وقیمت نہ جانی اور تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ سے سخت سردمہری کا ثبوت دیتے ہوئے اس مطالبہ کو منظور نہ کیا بلکہ سرظفر اللہ خان کو بطور وزیر خارجہ ملک پر مسلط کئے رکھا۔ جس کے کھونٹے پر قادیانی ناچتے رہے۔ اس تمام صورتحال پر غور کرنے کے بعد اجلاس اس نتیجہ پر پہنچا کہ اب وعظ ونصیحت کو چھوڑ دیا جائے۔ اس لئے کہ اتمام حجت ہو چکا ہے۔ اب مزید وقت ضائع کئے بغیر اسلامیان پاکستان کو اپنا صحیح فرض ادا کرنا چاہئے۔

۱۹۵۳ء میرا ہے

یہ فیصلہ شرکائے اجلاس تک محدود رہا۔ اس کی تفصیلات سے کسی کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ البتہ مقررین کا انداز بیان بدل گیا۔ اسی چنیوٹ کانفرنس کے آخری اجلاس میں شاہ جی کی معرکۃ الآراء تقریر ہوئی۔ دسمبر کی آخری تاریخیں تھیں۔ دو تین روز بعد نیا سال شروع ہونے والا تھا۔ شاہ جی نے مرزا محمود کی اس دھمکی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ دشمن ہمارے قدموں میں گرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ جواب دیتے ہوئے کہا کہ مرزا محمود ۱۹۵۲ء تیرا تھا۔ اب ۱۹۵۳ء میرا ہے۔ سامعین میں اس تقریر سے انتہائی جوش وخروش پیدا ہو گیا اور وہ اجمالاً سمجھ گئے کہ اب جماعت کوئی اقدام کرنے والی ہے۔ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ واقعی ۱۹۵۳ء کا سال شاہ جی کا تھا۔

کچھ اپنے بارے میں

میں (مولانا تاج محمود) اس زمانہ میں کسب حلال کے لئے ایم. بی ہائی سکول لائل پور میں شعبہ اسلامیات کے انچارج کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ اس عظیم الشان تعلیمی ادارہ کے ہزاروں نونہال میرے خیالات وافکار سے متأثر ہو رہے تھے بلکہ ادبی مجالس اور مباحث میں حصہ لینے والے طالب علم مقررین کی ایک کھیپ تیار ہو گئی تھی۔ آگے چل کر وہ طلبہ پائے کے مقررین بن گئے اور انٹر کالجیٹ مباحثوں میں انہوں نے نام پیدا کیا۔ چنیوٹ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سے میں نے یہ تأثر لیا کہ مجھے سکول کی زندگی کو خیر باد کہہ کر تخت یا تختہ کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ میں نے لائل پور پہنچتے ہی سکول سے تین ماہ کی چھٹی لے لی اور ہمہ تن تحریک تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف ہو کر رہ گیا۔

لائل پور کی صورتحال

۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو برکت علی محمڈن ہال میں آل مسلم پارٹیز کنونشن منعقد ہوئی تھی۔ اس وقت سے ہی آل پارٹیز رہنماؤں کے

صفحہ ۳۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اتحاد کے لئے فضا سازگار ہوچکی تھی۔ اس کنونشن کے بعد ملک کے طول وعرض میں آل پارٹیز اجتماعات ہونے لگے اور ان میں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث متفقہ طور پر مطالبات کی تائید کرنے لگے۔ چنانچہ لائل پور میں بھی ۲۶، ۲۷ ستمبر ۱۹۵۲ء کو آل مسلم پارٹیز کنونشن کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور راہنماء شریک ہوئے۔

مختلف دینی فرقوں کے راہنماؤں نے ایک اسٹیج سے مسئلہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کی۔ اس مشترکہ کانفرنس کا دوسرے ملک کی طرح لائل پور کے عوام پر بھی بہت اچھا اثر پڑا بلکہ لائل پور کے عوام کو علماء کرام کا یہ اتحاد دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ لائل پور میں بریلوی فرقہ کے مولانا سردار احمد رہتے تھے۔ مرحوم اپنے فرقہ کے مخصوص مسائل میں سخت قسم کی عصبیت رکھتے تھے اور جٹ برادری سے تعلق کے باعث طبعاً بھی سخت مزاج تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد لائل پور میں اپنے قیام کے بعد ہی سے اختلافی مسائل کو اپنا موضوع بنالیا اور اپنے مخصوص رنگ میں بلا روک ٹوک خوب کام کیا۔ بہت جلد ہی انہیں یہاں کچھ مخلص ساتھی مل گئے جنہوں نے انہیں ہر لحاظ سے کامیاب بنانے میں حصہ لیا۔ دیوبندی مکتب فکر کے علماء میں اس وقت یہاں مولانا مفتی محمد یونس مرحوم جامع مسجد شہر کے خطیب تھے۔ بہت بڑے عالم اور شریف الطبع بزرگ تھے۔

اعتدال پسندی کا مخصوص رنگ تھا۔ فرقہ وارانہ مسائل میں غلو اور مسلمانوں کو باہم لڑانے سے سخت اجتناب کرتے تھے۔ اہل حدیث فرقہ کے راہنما مولانا حکیم نور دین صاحب تھے جو لائل پور کے مسلمہ بزرگ اور راہنما تھے۔ ان میں مذہبی تعصب بالکل نہ تھا۔ تمام مسلمانوں سے محبت کرتے اور سبھی لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ سنی وہابی لڑائی میں حصہ لینے کو گناہ سمجھتے تھے۔ ایسے حالات میں مولانا سردار احمد مرحوم نے بریلویت کے لئے کام کر کے اچھی خاصی ایک جماعت پیدا کرلی۔ ایک عظیم مسجد کی بنیاد رکھی۔ اپنا عربی مدرسہ جاری کر لیا۔ یہاں تک کہ وہ پاکستان میں بریلوی فرقہ کے لئے مرکزی حیثیت اختیار کر گئے ۔ اس میں شک نہیں کہ ان کا طرز بیان متشددانہ اور اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کے لئے دل آزارانہ ہوا کرتا تھا۔ ان کی اس مہم سے نہ صرف ان سے اختلاف رکھنے والے رنجیدہ تھے۔ بلکہ عام مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بھی سخت نالاں تھا۔ خصوصاً تعلیم یافتہ طبقہ تو بالکل ہی بیزار تھا۔ البتہ مولانا مرحوم کا اپنا مخصوص حلقہ ان کا بے حد احترام کرتا تھا۔ بلکہ ان کا شیدائی تھا۔

اسی زمانے میں لائل پور کے مشہور عربی مدرسہ اشرف المدارس میں مولانا عبدالرحمن ہزاروی بھی تھے۔ دیوبندی مکتب فکر سے تعلق تھا۔ اکابر دیوبند پر تنقید سے تنگ آکر انہوں نے امداد الاسلام نامی ایک جماعت بنائی اور مولانا سردار احمد مرحوم اور ان کی جماعت کے جلسوں کے جواب میں جلسے منعقد کرنا شروع کر دیئے۔ مولانا سردار احمد مرحوم کی اس وقت جماعت بڑی مضبوط ہو چکی تھی۔ وسائل بے پناہ تھے۔ مقابلہ شروع ہو گیا۔ جواب اور جواب الجواب اور پھر جواب جواب الجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسائل سے نوبت رذائل تک پہنچ گئی تو تکار، تھوکا فضیحتی، گالی گلوچ کا معرکہ گرم ہو گیا۔ ہر طرف سے یہی آوازیں سنائی دیتی تھیں کہ ؎

میں تیری نظر میں کافر تو میری نظر میں کافر

تمام خدام اسلام اور مبلغین امت بیضاء اسی خدمت اسلام میں لگ گئے ؎

کافر ہوں میں، اکفر ہے تو
صفحہ ۳۲۱

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شہری آبادی کے غیر جانبدار لوگ سخت ذہنی کرب میں مبتلا ہو گئے ۔ ضلعی حکام علماء کو طلب کرتے ۔ طنز آمیز الفاظ میں وارننگ دیتے اور فرماتے ۔ اے وارثان مسند رسول اس فی سبیل اللہ فساد سے باز آجاؤ ۔ انہی دنوں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کو بھی مولانا سردار احمد مرحوم کی طرف سے ہدف تنقید بنایا گیا اور ان پر رکیک حملے کئے گئے ۔ مجلس احرار اسلام کے بزرگ رہنما ء پر ان حملوں کی وجہ سے احرار سخت برہم اور ناراض ہوئے اور انہوں نے بھی جوابی کارروائی کرنے اور اس سارے فی سبیل اللہ جہاد کی حقیقت کے تار و پود بکھیر دینے پر غور کیا ۔ احرار رہنما ء مولانا عبید اللہ لائل پوری نے اس سلسلہ میں صاحبزادہ فیض الحسن شاہ صاحب سجادہ نشین آلو مہار شریف سے باقاعدہ گفتگو کی ۔ ان دونوں رہنماؤں کی گفتگو کے بعد مسئلہ کے تمام پہلو پر اچھی طرح غور وخوض کر لیا گیا ۔ لیکن امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ہمیں اپنی خدمت میں طلب فرمایا اور سختی سے منع کر دیا کہ اس سلسلہ میں ہم نے کوئی حصہ نہیں لینا ۔ اگر کچھ کر سکتے ہو تو عفو و درگزر سے کام لے کر امت محمدیہ کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑنے کا کام کرو ۔ امت میں کسی تخریب و انتشار ، تعصب اور تفریق کے لئے ہمیں ہرگز استعمال نہیں ہونا ہے ۔ یہ وہ پس منظر تھا جس کے بعد لائل پور میں مختلف فرقوں کے رہنماؤں کی متحدہ کانفرنس ہوئی ۔ لائل پور کے عوام کو معلوم ہوا کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے ہیں تو ان کے زخمی دلوں پر مرہم سی لگ گئی اور انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ نے انہیں اس پہلے والے ذہنی کرب اور عذاب سے نجات بخشی ہے ۔

یہ بات قابل افسوس ہے کہ اس عظیم اتحاد کے مظاہرے میں بھی لائل پور کے قابل احترام بریلوی مکتب فکر کے مخدوم مولانا سردار احمد نے کوئی حصہ نہ لیا اور اپنی علیحدہ حیثیت اور مخصوص حیثیت کو علیٰ حالہ قائم رکھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ فضا ء سے مجبور ہو گئے کہ فرقہ وارانہ مسائل بیان نہ کریں اور ختم رسالت کے مسئلے کو بیان کریں ۔ ہمارے لئے یہ صورتحال بھی ایک گونہ ان کا تعاون تھا اور ہم نے ان کے اس بالواسطہ تعاون کا تشکر اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ۔ علیحدگی اور امت کے اتحاد میں عدم شرکت پر کسی قسم کا طنز طعن و تشنیع ہرگز نہ کی گئی ۔ بلکہ یہ کہہ دیا گیا کہ الحمد للہ! وہ بھی حضور کی حفاظت ناموس کے کام میں اپنے محاذ پر ڈٹ کر گویا ہمارے ساتھ ہی ہیں ۔ ہماری اس بلند اخلاقی اور وسیع النظری کا مولانا مرحوم نے اچھا اثر قبول کیا اور بعد میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ انہوں نے اپنی ایک مسجد میں ختم نبوت کی تحریک کا کسی نہ کسی رنگ میں پارٹ ادا کیا ۔

جب لائل پور جیسے شہر میں اتحاد کی فضا قائم ہو گئی اور ہر طرف ختم نبوت زندہ باد ، مرزائیت مردہ باد کے نعرے گونجنے لگے ۔ دوسری طرف ملک میں تحریک ختم نبوت مستحکم ہورہی تھی ۔ حالات یہ تھے کہ ایک طرف حکومت ٹس سے مس نہیں ہونا چاہتی تھی اور دوسری طرف عوام تخت یا تختہ کے مقام پر پہنچ رہے تھے ۔

ایسے حالات میں مناسب خیال کیا گیا کہ لائل پور کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ چنانچہ میٹنگ بلائی گئی اور مجلس عمل قائم کر دی گئی ۔ جس میں :

صفحہ ۳۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گیارہ حضرات پر مشتمل اس مجلس عمل کا قیام لائل پور کی تاریخ کا ایک سنہری باب تھا۔ اب اس مجلس عمل کے عہدیداران کے لئے تجاویز پر غور و خوض ہوا۔ حضرت صاحبزادہ ظہور الحق صاحب اور مولانا مفتی محمد یونس مرحوم دونوں اکابر کی تجویز پر راقم الحروف کو اس مجلس عمل کا کنونیئر منتخب کر لیا گیا۔ مجلس عمل کے باقی اراکین نے بھی ان دونوں بزرگوں کی تجویز سے اتفاق کر لیا اور اس طرح ؎

قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند

ملک میں حالات روز بروز نئی کروٹ لے رہے تھے۔ یہاں تک کہ مرکزی مجلس عمل کا کراچی میں اجلاس ہوا اور اجلاس نے فیصلہ کر لیا کہ حکومت کو ایک ماہ کا نوٹس دے دیا جائے۔ خواجہ ناظم الدین کو جب مطالبات کے تسلیم کرنے کے لئے ایک ماہ کا نوٹس دے دیا گیا تو ملک بھر میں تحریک اور تصادم کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ مجلس عمل کے رہنماؤں کا اندازہ یہ تھا کہ اگر ایک لاکھ شمع ختم رسالت کے پروانے قید ہونے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیں تو حکومت مطالبات تسلیم کر لینے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس لحاظ سے اب میرے سامنے سب سے پہلا کام یہ تھا کہ تحریک کے لئے رضا کار بھرتی کئے جائیں۔ چنانچہ مجلس عمل کی میٹنگ طلب کر لی گئی اور اس میں رضا کاروں کی بھرتی کے لئے تجویز پیش کی گئی۔ مجلس عمل نے تجویز منظور کر لی اور یہ طے کیا کہ رضا کاروں کی بھرتی کے لئے باقاعدہ ریکارڈ بنایا جائے۔ اس رضا کار کو بھرتی کیا جائے جو پختہ عزم اور بلند حوصلہ رکھتا ہو۔ مشقت اور ابتلاء کے وقت صابر اور ثابت قدم رہ سکے۔ نیز اس کے کوائف وغیرہ لکھ لئے جائیں اور یہ اندازہ لگا لیا جائے کہ قید و بند کی صورت میں اس کے گھر والوں کا انتظام وغیرہ کیا ہوگا۔ چنانچہ مجلس عمل نے ایک حلف نامہ کی عبارت تجویز کی تاکہ اس پر دستخط کر کے تحفظ ختم نبوت کی راہ میں آنے والی جملہ ذمہ داریوں کا رضا کار کو پابند بنا دیا جائے۔ حلف نامہ کی عبارت یہ تھی:

حلف نامہ رضا کار مجلس عمل

”میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کر کے عہد کرتا ہوں کہ سید المرسلین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے منصب ختم نبوت کے تحفظ اور حضور ﷺ کے بعد مدعیان نبوت کے فتنوں کے استیصال کے لئے آل پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل کی راہنمائی میں ہر قسم کی جانی و مالی قربانی کے لئے تیار رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!“

دستخط رضا کار مکمل پتہ:

یہ بھی طے پایا کہ رضا کاروں کی بھرتی کا مرکز مقرر کر دیا جائے۔ چنانچہ حکیم حافظ عبدالمجید صاحب نابینا مرحوم کے شفا خانہ

صفحہ ۳۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نقشبندیہ کے اوپر والی عمارت جس میں پہلے مجلس احرار اسلام کا دفتر تھا۔ اسے اب مجلس عمل کے رضا کاروں کی بھرتی کا مرکز قرار دے دیا گیا اور وہاں ہر وقت بھرتی کرنے والے اور ضروری ہدایات بتانے والے ساتھیوں کا تعین بھی ضروری قرار دیا گیا۔ اخبارات اور مساجد کے ذریعہ اعلان کرا دیئے گئے کہ شمع رسالت کے پروانے دفتر میں پہنچ کر اپنے نام رجسٹرڈ کروائیں۔

ناموس رسالت پر جانیں نچھاور کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا اور اتنی کثیر تعداد میں لوگ دفتر پہنچنا شروع ہو گئے کہ حیرت ہوتی تھی دیہات اور قصبات کے لوگ چلے آتے تھے کہ ہمارا نام بھی لکھ لیا جائے اور تاکید کرتے تھے کہ خدا کے لئے کسی پکی فہرست میں ہمارا نام درج کر لیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم موقعہ آنے پر نہ بلائے جائیں یا ہمیں اس وقت قبول نہ کیا جائے۔ حد یہ ہوئی کہ لوگوں نے اپنے جسموں کو زخمی کر کے خون سے حلف نامے پر دستخط کرنا شروع کر دیئے۔ جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ملک میں خون کی بے پناہ قربانی دی جائے گی۔

۱۹۵۳ء کے سال کا آغاز تھا۔ پورے ملک کی فضا ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ وسط جنوری میں پنجاب سے مجلس عمل کے راہنماء کراچی روانہ ہوئے۔ کراچی میں مجلس عمل کی میٹنگ ہوئی۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے تمام نمائندگان پہنچے ہوئے تھے۔ اس میٹنگ کی تفصیل کہیں اوپر بیان ہو چکی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک ماہ کا نوٹس دے دیا گیا کہ اگر ۲۲ فروری ۱۹۵۳ء تک حکومت، ختم نبوت سے متعلق مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی تو آل پارٹیز کی مجلس عمل حکومت کے خلاف راست اقدام کرے گی۔ اس ایک مہینہ میں کراچی سے خیبر تک کوئی شہر اور کوئی قصبہ ایسا نہ تھا جس میں جلسوں جلوسوں کا ہنگامہ بپا نہ ہوا ہو۔ مجلس عمل نے یہ محسوس کرتے ہوئے نوٹس دیا تھا کہ حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرے گی بلکہ ایسا لگتا تھا جیسا کہ مطالبات تسلیم کرنا ان کے بس کی بات ہی نہ ہو۔ نوٹس ملنے کے بعد بھی حکومت نے خاموشی سادھے رکھی اور کچھ نہیں کیا۔ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ سجادہ نشین آلو مہار شریف کو مجلس عمل کے رضا کاروں کا سالار اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ صاحبزادہ صاحب نے اعلان کر رکھا تھا کہ پچاس ہزار رضا کار فوری نوٹس پر اپنی گرفتاری دینے کے لئے تیار رہیں۔ ۱۶؍ فروری کو خواجہ ناظم الدین لاہور آئے۔ اسلامیان لاہور نے اس روز مکمل ہڑتال کی۔ جس کی مثال لاہور کی تاریخ میں شاید ہی پیش آئی ہو۔ غرضیکہ لوگوں کا جوش وخروش ایک پہاڑ تھا جو پھٹ کر آتش فشاں بن جانا چاہتا تھا۔ ۱۶؍ فروری کو مجلس عمل کے راہنماؤں کی خواجہ صاحب سے گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں ملاقات ہوئی۔ کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا۔ اب ۲۲ فروری تک نوٹس کی میعاد تھی۔ ۲۲ فروری سے قبل ہی مجلس عمل کے راہنماء کراچی پہنچ گئے۔ میٹنگ شروع ہوئی۔ پنجاب کے لوگوں کو توقع تھی کہ ۲۲ فروری کو کراچی میں تحریک شروع ہو جائے گی۔ لیکن وہاں ایسا نہ ہوسکا۔ مرکزی مجلس عمل کی ہدایات یہ تھیں کہ جب تک کراچی میں تحریک شروع نہ کر دی جائے۔ اس وقت تک کہیں بھی کوئی تحریک شروع نہ کی جائے۔ ۲۳ فروری کو دوپہر کو حالات انتہائی خطرناک تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ خدا جانے لوگ کیا کر دیں گے۔ میں نے اخبارات میں ایک بیان بھجوا دیا کہ عوام صبر اور سکون سے کراچی کے فیصلہ کا انتظار کریں اور وہاں سے مصدقہ اطلاع آئے بغیر بالکل پرامن رہیں۔ دن گزر رہے تھے۔ قصبات اور دیہات کے لوگ جوق در جوق اپنی اپنی قربانی پیش کرنے کے لئے لائل پور آنا شروع ہو گئے۔ ۲۵ فروری کا دن انتہائی بے چینی کا دن تھا۔ سارا دن لاہور اور کراچی فون کرتے گزرا۔ لیکن وہاں سے کچھ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ صرف اتنا ہی کہتے تھے کہ ابھی انتظار کرو۔ راست اقدام کرنے کا فیصلہ ہورہا ہے۔

۲۵ فروری اور ۲۶ فروری کی درمیانی شب احرار ورکرز (فیصل آباد) کی میٹنگ مولانا عبید اللہ احرار کے مکان پر ہوئی۔

صفحہ ۳۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اگرچہ اب جو مشینری تحریک کے سلسلہ میں کام کر رہی تھی وہ مجلس عمل اور اس کے رضا کار تھے۔ لیکن اس کے باوجود احرار کارکنوں کو کچھ ہدایات دینے کے لئے علیحدہ بلایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اگرچہ تحریک مجلس عمل کے ہاتھوں ہی چلائی جائے گی۔ لیکن آپ لوگ بڑے بہادر اور تحریک کے معاملہ میں کافی تجربہ کار ہیں۔ عوام میں پھیل کر کام کریں۔ لوگوں میں نظم وضبط کی پابندی اور خصوصاً پرامن رہنے کا زور وشور سے پروپیگنڈا کریں۔ اس لئے اتنی زبردست تحریک کو سیدھا سامنے سے آکر روک لینا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ اپنے ایجنٹوں یا قادیانیوں کے ذریعہ کوشش کرے گی۔ فساد اور بدامنی ہو، تاکہ گورنمنٹ کو طاقت استعمال کرنے کا جواز مہیا ہوجائے۔ بس یہ خصوصی ڈیوٹی تھی جو احرار کارکنوں اور رضا کاروں کی لگائی گئی دیر تک مشاورت ہوتی رہی۔ میں کوئی ایک بجے کے قریب میٹنگ سے فارغ ہو کر ریلوے کالونی میں اپنے مکان پر پہنچا اور سو گیا۔ طلوع سحر سے پہلے مولانا عبیداللہ احرار کے بڑے صاحبزادے عزیزم سیف اللہ صاحب آئے اور آکر اطلاع دی کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے پولیس مکان پر پہنچی تھی اور ابا جی کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔ برخوردار کے اطلاع دیتے ہی میں سمجھ گیا کہ گزشتہ رات کراچی میں تصادم شروع ہوگیا ہے اور یہ گرفتاریوں کی پہلی قسط ہے۔ میں نے فوراً مجلس عمل کی میٹنگ بلائی اور حضرت مفتی محمد یونس کے مکان واقع عبداللہ پور پر جمع ہونے کے لئے ایجنڈا جاری کر دیا گیا۔ ۸؍ بجے صبح کے قریب مجلس عمل کے سب ارکان مفتی صاحب کے مکان پر پہنچ گئے۔ ابھی ہم نے میٹنگ کی کارروائی کا آغاز ہی کیا تھا اور پچھلے روز جو میٹنگ ہوئی تھی اس وقت سے لے کر اس صبح تک کے واقعات کی روئیداد ہی بیان کر رہا تھا کہ عزیزم محمد صادق بٹالوی جو بڑا مخلص بہادر اور بڑا سمجھدار احراری کارکن تھا۔ مفتی صاحب کے مکان پر پہنچ گیا۔ ہم بند کمرے میں میٹنگ کر رہے تھے۔ اندر اطلاع آئی۔ میں باہر آیا۔ اس نے مجھے کہا کہ پولیس چھاپہ مار کر آپ سب کو گرفتار کر لینا چاہتی ہے۔ ایس. پی صاحب کے دفتر سے مجھے کسی نے بتایا ہے۔ پولیس لائن سے گاردیں اور مجسٹریٹ وغیرہ کے پہنچنے کا انتظار ہورہا ہے۔ آپ جلدی جلدی یہاں سے منتشر ہو جائیے اور پھر مجھے ذرا ناراضگی کے لہجہ میں کہنے لگا کہ مولانا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ آپ نے اپنی یہ ساری طاقت جس نے تحریک کی قیادت کرنی ہے اسے ایک جگہ کیوں اکٹھا کر لیا ہے۔ آپ اس کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔ میں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ آپ کوتوالی کے دروازے کے باہر رہیں اور پولیس کی نقل وحرکت کو واچ کریں۔ ہماری آپ فکر نہ کریں۔ ہم ابھی منتشر ہو جاتے ہیں۔ میں اندر آیا۔ ساتھیوں کو بتایا سب نے صادق صاحب کے اس خدشے اور اتنی جلدی اطلاع کی تعریف کی اور طے ہوا کہ صرف ایک فیصلہ کرنے کے بعد میٹنگ برخاست کر دی جائے اور ۹ بجے ہم سب عید باغ میں پہنچ جائیں اور وہاں جلسہ عام منعقد کیا جائے اور اب لوگوں کو نظم وضبط کے ساتھ تحریک شروع کر دینے کے لئے کہا جائے۔

میرے لئے اب ایک عجیب الجھن پیدا ہوئی۔ میری اس روز اے. ڈی. ایم صاحب کے ہاں پیشی تھی۔ یہ پیشی بوہڑانوالہ گراؤنڈ کے مشہور کیس کے سلسلہ میں تھی۔ جس میں قادیانیوں کے جلسہ کو روک دینے کے سلسلے میں تصادم ہوا تھا۔ گیارہ مسلمان اور تیس قادیانی گرفتار کر لئے گئے تھے۔ میری دس دس ہزار کی دو ضمانتیں، عجیب مخمصے میں پڑ گیا۔ تحریک کا سب کچھ میرے ذمہ ڈال دیا گیا تھا۔ انتظامات پروگرام میرے پاس اور اگر میں اے. ڈی. ایم صاحب کے پیش ہوتا ہوں تو خطرہ یہ ہے کہ کہیں وہیں گرفتار نہ کر لیا جاؤں۔ اگر پیشی پر نہیں جاتا تو اے. ڈی. ایم صاحب اگر چاہیں تو میرے ضمانتیوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔

دل نے گواہی دی کہ پیشی پر چلو۔ عدالت کھلتے ہی میں کمرہ عدالت میں ساتھیوں سمیت ’ومن بین ایدیہم سداً ومن

صفحہ ۳۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خلفهم سداً فاغشينهم فهم لا يبصرون‘‘ پڑھتا ہوا پیش ہو گیا۔ حبیب صاحب اے. ڈی. ایم تھے۔ بڑے شریف پڑھے لکھے اور بردبار طبیعت کے افسر تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے۔ آئیے! مولانا آج تو آپ لوگوں نے ہمیں سونے ہی نہیں دیا۔ یہ کہا اور وہ وائرلیس نکال کر سامنے رکھ دیا کہ گزشتہ رات پنجاب میں انتیس کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ یہاں لائل پور سے مولانا عبید اللہ اور مرزا غلام نبی شامل ہیں۔ میں نے پوری فہرست پڑھی تو معلوم ہوا کہ سب حضرات کا تعلق پنجاب سے ہی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور ہم حاضر تو ہو ہی گئے ہیں۔ ہماری حاضری لگ جائے تو ذرا شہر جائیں۔ کیونکہ ابھی ابھی مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں نے شہر میں ہڑتال کر دی ہے۔ کہنے لگے بس مولانا آپ لوگوں کی حاضریاں لگ گئی ہیں۔ ذرا جائیے اور دیکھئے کہ کہیں کوئی فساد نہ ہو جائے۔ میں نے کہا کہ جناب مجھے اسی لئے جلدی ہے۔ بڑی مہربانی۔ میں اللہ کا شکر بجا لا کر باہر نکلا۔ باہر ساتھیوں کا ہجوم ہو چکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں مکمل ہڑتال ہے اور لوگ گرفتاریوں کی خبر سن کر خود بخود ہی عید باغ میں جمع ہو رہے ہیں۔ ہم عید باغ پہنچے۔ خدا کی شان بغیر کسی خاص اہتمام کے پچیس تیس ہزار کا مجمع ہو گیا۔ مفتی محمد یونس صاحب صاحبزادہ ظہور الحق صاحب، مولانا عبدالرحمن ہزاروی اور کئی ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ آخر میں نے مجمع سے کہا کہ آج ہمارا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے یا سر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کر دیا جائے۔ ان مطالبات کا وقت ختم ہو گیا۔ آج ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین مستعفی ہو جاؤ۔ میں نے کہا پاکستان جو اس بنیاد پر بنا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔ خواجہ ناظم الدین بحیثیت وزیر اعظم ملک کی اس بنیاد کی حفاظت کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس لئے وہ فوراً مستعفی ہو جائیں۔

ایک بجے تک جلسہ جاری رہا۔ لوگوں کو پروگرام بتایا گیا کہ کل صبح 9 بجے عید باغ سے رضا کاروں کا جتھہ راست اقدام کرنے کے لئے مارچ پاسٹ کرے گا اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر دے گا۔ میں نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ یہ تحریک کسی سیاسی مقصد کے لئے نہیں صرف حضور فداہ ابی وامی کے ختم رسالت کے عقیدہ کے تحفظ کے لئے ہے۔ اس لئے کسی ذاتی یا نفسانی خواہش کو درمیان میں نہ لایا جائے۔ میں نے اشارۃً اتنا ہی کہا کہ یہ پارٹی جسے مجلس عمل کہتے ہیں دراصل تمام مذہبی اور دینی جماعتوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ یہ کوئی ایسی تنظیم نہیں جس کے پاس کوئی زیادہ وسائل ہوں۔ عوام نے تحریک کے اخراجات کے لئے پیسے دینے شروع کر دیئے۔ خواجہ جمال دین بٹ نے بتایا کہ تین ہزار روپیہ نقد اور دو ہزار روپے کے وعدے ہو گئے ہیں۔

جلسہ ختم ہونے سے پہلے عوام کو آئندہ پروگرام کے متعلق بتایا گیا کہ کل یکم/ مارچ ۱۹۵۳ء صبح ۹ بجے جامع مسجد کچہری بازار سے رضا کاروں کا پہلا جتھہ حضرت مولانا محمد یونس خطیب جامع مسجد شہر لائل پور کی سرکردگی میں کراچی کے لئے روانہ ہوگا۔ عوام سے یہ بھی اپیل کی گئی کہ مجلس عمل کا مرکز عید باغ، دھوبی گھاٹ میں ہی ہوگا۔ رضا کار یہاں آ کر اپنے اپنے نام پیش کریں گے۔ عید باغ میں مجلس عمل کے دفاتر کے لئے خیمے لگوا دیئے گئے اور ان دفاتر میں کام کرنے کے لئے میاں محمد عالم منہاس لدھیانوی، جناب یعقوب اختر صاحب امرتسری اور فقیر محمد جالندھری کو انچارج بنا دیا گیا۔ ان کی امداد کے لئے رضا کاروں کا ایک چاک و چوبند دستہ متعین کر دیا گیا اور انہیں ہر قسم کی دفتری ضروریات بہم پہنچادی گئیں۔ عید باغ کے کیمپ لگانے میں ۲۸/ فروری کا دن صرف ہو گیا کیمپ میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ لوگ دھڑا دھڑ اپنا نام رضا کاروں میں لکھوا رہے تھے۔ ہمیں زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ تحریک کی کامیابی کا دارومدار سلجھے ہوئے کارکنوں پر ہے جو تحریک کی قیادت کریں اور اگر یہ کارکن گرفتار کر لئے گئے تو پھر کیا ہوگا۔ اکثر کارکنوں کو کہہ دیا گیا کہ وہ آج کا دن ذرا محتاط رہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ

صفحہ ۳۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گرفتاری ہو جائے تو بعد میں تحریک چلانے والے ساتھیوں کی بڑی دقت ہوگی۔ یہ ہم مجلس عمل میں طے کر چکے تھے کہ سول نافرمانی کرنے کے لئے مجلس عمل کے ممبران کس ترتیب سے اپنے آپ کو پیش کریں گے۔

مجلس عمل کی چند روز پہلے ایک میٹنگ دارالعلوم صابریہ سراجیہ میں ہوئی تھی۔ جس میں یہ تجویز پیش ہوئی تھی کہ مجلس عمل کے اراکین اپنے آپ کو سب سے پہلے گرفتاری کے لئے پیش کر دیں۔ یہ تجویز ایک ترمیم کے ساتھ منظور کر لی گئی کہ مجلس عمل کے اراکین اپنے نام گرفتاری کے لئے لکھوا دیں۔ لیکن ان کا پہلے دن گرفتاری دے دینا مناسب نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہر روز ایک رکن رضا کاروں کے جتھے کی قیادت کرے اور اس طرح باری باری سب حضرات اپنی قربانیاں پیش کر دیں۔ تاکہ تحریک میں جوش وخروش بھی باقی رہے اور کارکنوں، رضا کاروں کو مجلس عمل کے رہنماؤں کی ہمراہی سے ہمت اور حوصلہ بھی ہو۔

اس فیصلہ کے مطابق استاذی المکرم حضرت مولانا مفتی محمد یونس نے اپنا نام سب سے پہلے گرفتاری کے لئے لکھوایا۔ دوسرے دن کے لئے مجاہد اسلام حضرت صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ صاحب نے اپنا نام پیش کیا۔ تیسرے دن کے لئے مولانا عبدالرحمن ہزاروی مہتمم مدرسہ اشرف المدارس اور چوتھے دن کے لئے صاحبزادہ ظہور الحق صاحب سجادہ نشین ومہتمم دارالعلوم صابریہ سراجیہ نے اپنا نام پیش کیا۔ غرضیکہ سب حضرات نے اپنے اپنے نام اور اپنے لئے دن مخصوص فرما لئے۔ البتہ حکیم حافظ عبدالمجید صاحب نابینا بی۔ اے اور حضرت مولانا محمد یعقوب نورانی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں حضرات بھی ابتداً گرفتاری نہیں دیں گے اور مشیر کی حیثیت سے راقم الحروف کے ساتھ رہیں گے۔ گویا کہ ہم تینوں کے ذمہ یہ بات ڈال دی گئی کہ اہم امور باہمی مشورہ سے طے کر کے تحریک چلائی جائے گی۔ شہر میں سارا دن مکمل ہڑتال رہی۔ ہر جگہ لوگوں کی مختلف ٹولیاں کھڑی تحریک ختم نبوت کے متعلق ہی باتیں کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ لوگوں کو انتہائی افسوس تھا کہ حکومت نے اتنے صحیح اور درست مطالبات کو تسلیم نہیں کیا اور اب حکومت انتہائی ناعاقبت اندیشی کر کے تصادم پر آمادہ ہو گئی۔ لوگوں میں اتنا جوش وخروش تھا کہ ہر آدمی کی تمنا تھی کہ اس بے غیرت قادیانی نواز حکومت سے ٹکر لے کر شہادت کی موت حاصل کی جائے۔ یہ رات خدا خدا کر کے گزری۔ ساری رات شہر ایک عجیب کیفیت میں مبتلا رہا۔ صبح ہوئی شہر تقریباً پھر بند تھا۔ لوگ وقت سے پہلے ہی جامع مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ مجلس عمل کے سب راہنما بھی وقت سے کچھ پہلے ہی پہنچ گئے۔ مسجد کے صحن میں منبر بچھایا گیا اور لاؤڈ سپیکر لگا دیا گیا۔ کارروائی کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت اور حضور سرور کائنات ﷺ کی نعت پاک سے ہوا۔ جامع مسجد کھچا کھچ بھر گئی۔ حضرت مفتی محمد یونس جامع مسجد میں پہنچے۔ نعرہ ہائے تکبیر سے شہر کی فضا تھرا گئی۔ لوگوں نے حضرت کو پھولوں سے لاد دیا۔ آپ منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ راقم الحروف نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو للکارا کہ آج ہم جس تحریک کو شروع کر رہے ہیں وہ کسی سیاسی یا دنیاوی مقصد اور غرض کے لئے نہیں ہے۔ پاکستان میں حضور فداہ ابی وامی کی حرمت وناموس کے تحفظ اور مسلمانوں کے ملی وجود کو تفرقہ اور انتشار سے بچانے کے لئے شروع کر رہے ہیں۔ ہمارے اکابر نے اس مسئلہ کے سلسلہ میں جس تدبر، حلم اور اتفاق واتحاد کا ثبوت دیا ہے اس کی مثال پچھلی کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ آخر میں میں نے کہا کہ اب حق اور باطل کا معرکہ شروع ہو چکا ہے۔ ہم اتمام حجت کر چکے ہیں۔ حکومت نے ہماری معقول اور جائز بات کو نہیں سنا۔ وہ ہمیں کچلنے پر آمادہ ہو گئی ہے اور ہم حضور سرور کائنات ﷺ کی حرمت کی خاطر اپنی جانیں تک قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ ہمیں اب حکومت سے کسی انصاف، رحم اور ہوشمندی کی امید نہیں رہی ہے۔

ستم گر تجھ سے امید کرم ہو گی جنہیں ہو گی
ہمیں تو دیکھنا یہ ہے کہ تو ظالم کہاں تک ہے
صفحہ ۳۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لوگ اس قدر جوش اور اشتعال میں آ گئے کہ میں نے محسوس کیا کہ ہمیں اب لوگوں کو زیادہ جوش دلانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے جوش کو قدرے ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ نظم وضبط کے تحت قربانیاں پیش کرسکیں اور حکومت کو موقعہ نہ مل سکے کہ وہ تحریک کو بدامنی کی راہ پر ڈال کر تباہ و برباد کر دے۔ میرے بعد حضرت مفتی محمد یونس کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا: حاضرین آپ گواہ رہیں کہ آج جب کہ حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لئے مجلس عمل نے قوم سے قربانیاں طلب کی ہیں، میں اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کر رہا ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر حضور ﷺ کی محبت اور ختم نبوت کے سلسلہ میں میرے جسم کا قیمہ بھی کر دیا گیا تو میرے جسم کی ایک ایک بوٹی سے ختم نبوت زندہ باد کی آواز بلند ہو گی۔ حضرت مفتی صاحب کی تقریر کے بعد مفتی صاحب کی قیادت میں جانے والے قافلے کے حضرات کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا۔ ریکارڈ میں ان کی ولدیت سکونت اور راہ خدا میں شہید ہو جانے کی صورت میں ورثاء کے نام لکھ لئے گئے۔ اس مبارک قافلہ میں مندرجہ ذیل آٹھ صاحبان شریک تھے۔

لوگوں نے ان سب شمع رسالت کے پروانوں کو پھولوں سے لاد دیا۔ دیر تک ان حضرات پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں۔ بالآخر اس قافلے کو ریلوے اسٹیشن تک پہنچانے کے لئے بہت بڑا جلوس روانہ ہوا اور محبت وخلوص اور دعاؤں کے نذرانوں کے ساتھ انہیں لاہور جانے والی گاڑی پر سوار کرا دیا گیا تا کہ یہ حضرات وہاں پہنچ کر کراچی روانہ ہو جائیں۔

چوہدری محمد عالم بٹالوی ہمیشہ ہماری جماعت کے ایک اہم ترین ساتھی رہے۔ وہ مجلس احرار بٹالہ کے منجھے ہوئے کارکن اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے معتمد ترین رضا کاروں میں سے ہیں۔ میں انہیں لائل پور تحریک کے مرکز میں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا اور کئی ایسے نازک کام تھے جن کی نگرانی ان کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس پہلے قافلے میں حضرت مولانا مفتی محمد یونس مرحوم امیر قافلہ کی حیثیت سے جارہے تھے۔ مجھے بار بار ان کا خیال آتا تھا کہ آپ اس وادی پر خار کے کبھی مسافر ہی نہیں رہے۔ آپ مراد آباد شاہی مدرسہ اور دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل، حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کے خاص شاگرد انتہائی مرنجاں مرنج طبیعت کے عالم دین پہلے حصار کی جامع مسجد کے خطیب رہے اور اس کے بعد میاں نور اللہ کے بڑے بھائی میاں محمد فتح اللہ مرحوم کے توسط سے لائل پور کی جامع مسجد اور عید گاہ کے خطیب ہو کر لائل پور آ گئے۔ انتہائی ناز و نعمت کی زندگی اور اب وہ حوالاتوں، جیلوں، ہتھکڑیوں، گولیوں اور حکومت کے ظالمانہ

صفحہ ۳۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تصادم کی طرف جارہے تھے۔ وہ محض عشق رسول ﷺ کے جذبہ کے تحت چل پڑے تھے۔ ورنہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس راستے کے مصائب کس طرح برداشت کریں گے۔ آخر میں نے دوستوں کے مشورہ سے فیصلہ کیا کہ چوہدری محمد عالم جیسا پختہ کارکن اور رضا کار حضرت کے ساتھ کر دیا جائے تاکہ وہ ان کے شایان شان خدمت کا حق ادا کرتا رہے اور حضرت کا ہر طرح سے خیال رکھے اور انہیں وقت پڑنے پر مناسب مشورے بھی دیتا رہے۔ اس طرح راجہ محمد افضل صاحب جو چک ۲۲۴ آبادی راجہ غلام رسول کے کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ اور بڑے غیور و جسور نوجوان ہیں۔ ان کو بھی حضرت کے ساتھ بھیجا گیا تا کہ اگر کوئی وقت آجائے تو وہ اپنی جان پر کھیل کر بھی حضرت مفتی صاحب کے مقام و منصب کے احترام کو صدمہ نہ پہنچنے دے۔ بہرحال یہ پہلا مبارک قافلہ تھا جو لائل پور سے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں روانہ ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سات مزید صاحبان جو حضرت مفتی محمد یونس مرحوم کے فدائی اور مریدین میں سے تھے۔ وہ ہماری اجازت و اطلاع کے بغیر گاڑی میں ساتھ گئے اور یہ پندرہ شمع رسالت کے فدائیوں کا قافلہ لاہور اور لاہور سے کراچی کے لئے روانہ ہو گیا۔ آئندہ چل کر بتایا جائے گا کہ لائل پور کے ان صاحبان نے کراچی میں پہنچ کر کیسی کیسی شاندار خدمات سرانجام دیں۔

۲/مارچ کے لئے اعلان کر دیا گیا تھا کہ صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ صاحب کی قیادت میں دوسرا جتھہ روانہ ہو گا۔ صاحبزادہ صاحب صبح سویرے ہی ناموس رسالت ﷺ پر اپنا سب کچھ، بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جامع مسجد میں پہنچ گئے۔ جامع مسجد اس کی بیرونی گلیاں انسان ہی انسان نظر آ رہے تھے۔ تحریک کے دفتر نے ایک سو رضا کاروں کا قافلہ تیار کر دیا تھا۔ ان کی فہرست بنالی گئی جن پر ان تمام شمع رسالت کے پروانوں کے نام پتے درج کر لئے گئے۔ اس وقت وہ فہرست ہمارے سامنے ہے۔ تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے صرف ان کے نام یہاں درج کئے جارہے ہیں۔

صفحہ ۳۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صفحہ ۳۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صفحہ ۳۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صفحہ ۳۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہر حال دعائے خیر ہوئی۔ صاحبزادہ صاحب اور رضا کاروں کو پھولوں سے لاد دیا گیا۔ قافلہ روانہ ہوا۔ الوداع کہنے کے لئے کوئی ایک لاکھ انسانوں کا لہریں مارتا ہوا سمندر ہمراہ تھا۔ جامع مسجد سے ریلوے اسٹیشن تک تقریباً ایک میل کا فاصلہ بمشکل دو گھنٹے میں طے ہوا۔ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر صاحبزادہ صاحب نے مجمع سے ایک ایمان افروز خطاب کیا اور اپنے عہد کا اعلان کیا کہ ہم ناموس مصطفیٰ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لئے گھروں سے سروں پر کفن باندھ کر اور سفینے جلا کر نکلے ہیں۔ پاکستان میں ہمارے ہوتے ہوئے ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں کسی کو کسی قسم کی گستاخی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو سواد اعظم کا مطالبہ تسلیم کرنا ہوگا یا حکومت کی گدی چھوڑ دینا ہوگی۔ نعروں کی گونج اور انتہائی جوش وخروش کے عالم میں صاحبزادہ صاحب کی تقریر ہوئی۔ اسی اثناء میں بتلایا گیا کہ لاہور جانے والی ٹرین کا وقت ہو گیا ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے تقریر ختم کر دی اور لوگوں کی دعائیں ساتھ لیتے ہوئے گاڑی پر سوار ہو گئے۔ ایک سو رضا کار بھی ہمراہ سوار تھے۔ اس کے علاوہ گاڑی میں تمام سوار مسافر بھی وقتی طور پر تحریک میں شامل لوگ معلوم ہونے لگے۔ نعرے لگ رہے تھے۔ ختم نبوت زندہ باد مرزائیت مردہ باد کی آوازیں گاڑی کے شور وشغب پر غالب آ رہی تھی۔

۳؍مارچ ۱۹۵۳ء کو تحریک ختم نبوت کے تیسرے دن قافلہ سالار صاحبزادہ ظہور الحق مقرر کئے گئے۔ صبح سے ہی لوگوں کا ایک بہت بڑا اژدھام جامع مسجد میں جمع ہو گیا تھا۔ ایک سو رضا کاروں کا قافلہ ترتیب دیا گیا۔ جامع مسجد کے صحن میں ایک عظیم اجتماع منعقد ہوا۔ قافلے کو الوداع کرنے کے لئے تحریک کے رہنماؤں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ مولانا محمد یعقوب نورانی ، مولانا عبدالرحمن ہزاروی اور دوسرے کئی ساتھیوں نے شعلہ نوائی کی۔ آخر میں راقم الحروف نے حکومت کو ایک بار پھر للکارا کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ وہ سوچے کہ وہ مملکت خداداد پاکستان کے منتظم اور متولی ہو کر ارتداد کی حفاظت اور اسلام کے خلاف ہتھکڑیاں سنگینوں کے ساتھ پولیس اور فوج کو لے کر صف آراء ہو گئی ہے۔ مجھے اس حکومت کا وہی حشر نظر آ رہا ہے جو اس سے پہلے بڑے بڑے فراعنہ کا جنہوں نے حق کو مٹانے اور باطل کی حمایت کی راہ اختیار کی تھی ، ہوا تھا۔

میری ان دنوں حالت یہ تھی کہ فیصلہ کر لیا تھا کہ حضور ﷺ کے نام اور آپ ﷺ کی آبرو پر جان نچھاور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس لئے دل و دماغ زبان الفاظ بیان کچھ اور ہی کا طرح ہو گیا تھا۔ خود روتا تھا۔ دوسروں کو رلاتا تھا۔ یہ ایمان پرور اجتماع کوئی دو گھنٹے جاری رہا۔ جلوس روانہ ہوا اور مولانا ظہور الحق کو مشاورت کے نئے فیصلہ کی روشنی میں لاہور بھیجنے کی بجائے ڈپٹی کمشنر صاحب کے بنگلہ پر بھیجا گیا۔ ابن حسن ڈپٹی کمشنر صاحب تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مولانا صاحبزادہ صاحب ہاروں سے لدے ہوئے پچیس تیس ہزار شمع ختم نبوت کے پروانوں کے جلوس کے ہمراہ ان کے بنگلہ میں داخل ہو گئے ہیں تو انہوں نے منافقانہ حکمت عملی اختیار کی اور جلوس کے ہمراہ چل پڑے

صفحہ ۳۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور سیدھے جیل چلے گئے۔ جیل کے دروازے پر پہنچ کر صاحبزادہ ظہور الحق صاحب کو گرفتار کر کے جیل میں داخل کر لیا گیا۔ لیکن دوسرے رضا کاروں میں سے چند کو جیل کے اندر اور باقی رضا کاروں کو بسوں اور ٹرکوں میں بٹھا لیا گیا۔ لوگ یہ سمجھے کہ اب گرفتاریاں مکمل ہو گئی ہیں۔ اس لئے وہ واپس آگئے۔ لاریوں اور بسوں پر بٹھائے ہوئے رضا کاروں کو شہر سے دور لے جا کر دور دراز کے دیہات اور جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا جو شام تک یا اگلے روز تک پھر تحریک کے مرکز جامع مسجد لائل پور میں پہنچ گئے۔

صاحبزادہ ظہور الحق صاحب برصغیر کے مشہور بزرگ حضرت مولانا سراج الحق کرنال شریف والوں کے صاحبزادے اور خانقاہ صابریہ سراجیہ لائل پور کے سجادہ نشین ہیں۔ لائل پور کے مشہور مولانا سردار احمد مرحوم انہی کے والد مولانا سراج الحق صاحب سے بیعت تھے اور اسی تعلق کی بناء پر قیام پاکستان کے بعد مولانا مرحوم صاحبزادہ صاحب کے پاس تشریف لائے۔ قیام فرمایا اور انہی کے مدرسہ دارالعلوم صابریہ سراجیہ میں پڑھاتے رہے۔ پھر شاہی مسجد جھنگ بازار میں منتقل ہو گئے اور اپنے مستقل اداروں اور مساجد وغیرہ کا اہتمام کیا۔ صاحبزادہ ظہور الحق محلہ سنت پورہ لائل پور میں قیام پاکستان کے متصل ہی ایک گوردوارہ کے وسیع و عریض احاطہ میں آ کر فروکش ہو گئے۔ معمولی جگہ پر اپنی رہائش رکھ لی اور باقی وسیع و عریض احاطہ میں دارالعلوم صابریہ سراجیہ اور اسی طرح صابریہ سراجیہ ہائی سکول کی بنیاد رکھ دی۔ اس سکول کو بہترین تعلیم و تربیت اور نظم و نسق کے حامل ہونے کی وجہ سے اتنی شہرت ملی کہ یہ تعلیمی ادارہ پنجاب کے مثالی اداروں میں شمار ہونے لگا۔ پھر حضرت صاحبزادہ صاحب نے دوسرے مختلف مقامات پر چھ یا سات ہائی سکول اسی نام سے اور کھولے جو نہایت ہی کامیاب تعلیمی اور تربیتی ادارے ثابت ہوئے۔ جن پر اب حال ہی میں حکومت نے بلا معاوضہ قبضہ کیا ہے۔ صاحبزادہ صاحب پنجاب کے روایتی صاحزادوں کی طرح نہیں بلکہ ملک اور قوم کا درد رکھنے والے اور اسلام کی خدمت کرنے والے صرف زبان سے ہی نہیں عمل سے سرانجام دینے والے بزرگ ہیں۔ انہیں آغاز سے ہی تحریک تحفظ ختم نبوت کے ساتھ بڑی دلچسپی اور ہمدردی تھی۔ لائل پور میں جب تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مشترکہ میٹنگ ہوئی تو اس میں شریک ہوئے اور اپنی خدمات تحریک تحفظ ختم نبوت کے لئے پیش کر دیں۔ انہیں مجلس عمل لائل پور کا رکن نامزد کیا گیا اور وہ برابر مجلس عمل کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیتے رہے۔ جب تحریک ختم نبوت کے نوٹس کی میعاد ختم ہونے کو آئی تو صاحبزادہ صاحب نے اپنے مریدین متبعین اور اپنی جماعت سراجیہ کا اجلاس طلب کیا اور اس میں تحریک کے تعاون کا فیصلہ فرمایا اس اجلاس کی کارروائی جو مجھے بحیثیت کنوئیر مجلس عمل بھیجی گئی وہ حسب ذیل ہے۔

”آج ۲۵؍ فروری ۱۹۵۳ء جماعت سراجیہ لائل پور کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت حضرت صاحبزادہ محمد ظہور الحق صاحب چشتی سجادہ نشین دربار سراجیہ مرکزی دفتر جماعت سراجیہ میں منعقد ہوا اور متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ تحفظ ختم نبوت کے لئے وابستگان سلسلہ سراجیہ کو مجلس عمل کی ہدایات کا منتظر رہنا چاہئے اور پھر پورے جوش و خروش کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو کر محبّت تاجدارِ مدینہ رسول خداﷺ کا عملی ثبوت دینا چاہئے۔ امیر جماعت سراجیہ حضرت صاحبزادہ نے اعلان کیا ہے کہ وابستگان سلسلہ سراجیہ کا فرض ہے کہ وہ ہر جگہ مجلس عمل کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔“ سیکرٹری جماعت سراجیہ لائل پور

چنانچہ صاحبزادہ ظہور الحق صاحب ۳؍ مارچ کو رضا کاروں اور جلوس کی قیادت کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔ دوسرے تیسرے روز انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ غالباً ان کی بزرگی کے پیش نظر کیا گیا۔ ممکن ہے حکومت کے پیش نظر یہ مصلحت بھی ہو کہ لائل پور کے بریلوی مکتب فکر کا سب سے بڑا ادارہ اور مولانا سردار احمد صاحب تحریک میں شامل نہیں ہیں اور ان کی وجہ سے بہت سے بریلوی تحریک کے

صفحہ ۳۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ساتھ تعاون کرنے میں شامل ہیں۔ صاحبزادہ صاحب کی شرکت سے بریلویوں کی مولانا سردار احمد صاحب کے خلاف تلخی بڑھ رہی تھی۔ اسے کم کرنے کے لئے صاحبزادہ صاحب کو چھوڑ دیا گیا ہو۔ بہر حال جب وہ رہا ہوئے تو مجھے آ کر ملے اور فرمایا کہ میرے لئے اب کیا حکم ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کو دوبارہ رضا کاروں اور تحریک کے جلوس کی قیادت کر کے گرفتاری پیش کرنی ہے۔ فرمایا کہ میں بالکل حاضر ہوں ۔ چنانچہ ایک دن کے بعد آپ پھر رضا کاروں کے ہمراہ جلوس لے کر گئے اور دوبارہ گرفتار کر لئے گئے ۔ لیکن اس دفعہ چند دنوں کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا ۔ جس کا صاحبزادہ صاحب یا ہمارے پاس کوئی علاج نہ تھا۔

۳؍ مارچ کو ہی میں جلوس کو الوداع کہہ کر واپس آیا تو مجھے کسی خفیہ ذریعہ سے معلوم ہوا کہ ابھی ابھی ہوم سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر نے فون پر تبادلہ خیالات کیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ آج رات مولانا تاج محمود کو گرفتار کر لیا جائے ۔ میں یہ خبر سنتے ہی بٹ موٹر ورکس سرکلر روڈ پہنچا اور وہاں سے بس پر بیٹھ کر لاہور پہنچ گیا اور مولانا خلیل احمد قادری جو مولانا ابوالحسنات قادری صدر مجلس عمل کے صاحبزادے اور لاہور وزیر خان کی مسجد میں تحریک کے قائدین میں شامل تھے ان سے جا کر ملاقات کی ۔ میں نے مولانا کو قائل کیا کہ لاہور سے کراچی رضا کار بھیجئے اور صرف کراچی میں تحریک جاری رکھنا ہر طرح ناقابل عمل ہے ۔ ہمیں لاہور اور پنجاب کے ہر شہر میں تحریک کو جاری کرنا چاہئے ۔ جلوس اور رضا کاروں کے قافلے ریلوے اسٹیشن کی بجائے گورنمنٹ ہاؤس جائیں ۔ البتہ کراچی کے لئے رضا کاروں ، روپے اور دوسری ہر طرح کی امداد جاری رکھی جائے تا کہ وہاں بھی تحریک جاری رہ سکے ۔ مولانا قادری نے میری تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہم خود یہی سوچ رہے تھے۔ آپ نے ہماری تائید کر دی ہے اور اب فیصلہ یہی ہو گا۔

مولانا قادری کے ساتھ چوہدری ثناء اللہ بھٹہ ، مولانا بہاء الحق قاسمی اور دوسرے لوگ قیادت کر رہے تھے اور اسی روز مولانا عبدالستار خان نیازی بھی مسجد وزیر خان میں پہنچ گئے تھے۔ لیکن میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی ۔ مولانا خلیل احمد قادری سے عرض کیا کہ حضرت تحریک کو پر امن رکھنا ہمارا فرض ہے اور ہمارے مفاد میں ہے ۔ یہ حکومت کی کوشش ہو گی کہ توڑ پھوڑ ہو جائے ۔ گاڑیاں روکی جائیں ۔ بسیں جلائی جائیں تا کہ حکومت کو ظلم اور تشدد کا موقعہ مل جائے اور تحریک کو تشدد کے ذریعہ کچل دیا جائے ۔ شام کو میں لائل پور واپس آ گیا ۔ گھر کہہ دیا کہ آج رات کو میں نہیں آؤں گا ۔ البتہ پولیس آئے گی اسے بتا دینا کہ مولانا گھر نہیں ہیں۔ بلکہ جامع مسجد کی بالائی منزل اپنے دفتر میں ہیں ۔

میں رات کو حاجی غلام حسین بٹ مرحوم کے گھر پہنچ گیا ۔ وہیں چوہدری محمد عالم منہاس اور تحریک کے ضروری ضروری کارکنوں کو بلا لیا گیا اور رات گئے تک مشاورت ہوتی رہی ۔ رضا کاروں کی فہرستیں ، ان کے لئے روٹی ، ٹھہرنے کے انتظامات ، روپیہ کی فراہمی وغیرہ کے معاملات پر غور کیا گیا ۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ رات کو میرے مکان واقع ریلوے کالونی کو پولیس کی بھاری جمعیت نے تین گھنٹے تک گھیرے رکھا ہے ۔ بچوں کو پریشان کیا گیا ۔ گھر کی تلاشی لی گئی اور جب یقین ہو گیا کہ میں گھر میں نہیں ہوں تو واپس تشریف لے گئے ۔

۳؍ مارچ ۱۹۵۳ء کا ایک اور واقعہ یہ ہوا کہ اس روز خواجہ جمال دین بٹ صدر مجلس احرار اسلام لائل پور کو سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا ۔ خواجہ جمال دین بٹ امرتسر کے پرانے احرار اور نیشنلسٹ کارکن ہیں ۔ قیام پاکستان کے بعد لائل پور میں آباد ہوئے ۔ تقسیم ملک کے اثناء امرتسر میں بڑے سخت فسادات ہوئے تھے ۔ امرتسر شہر پورے ملک میں خاص اوصاف کا شہر تھا ۔ وہاں کے لوگ بہادر ، جذباتی اور انقلابی طبیعت کے تھے۔ فسادات کیا ہوئے ، باقاعدہ جنگیں ہوئیں۔ اس عرصہ میں خواجہ جمال دین بٹ نے بڑی قابل قدر خدمات

صفحہ ۳۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سرانجام دی تھیں اور انسانیت نوازی میں انہیں بڑی شہرت اور عزت حاصل ہوئی۔ لائل پور آئے تو جماعت کے دوستوں نے انہیں مجلس احرار اسلام کا صدر اور مولانا عبیداللہ صاحب کو جماعت کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک تک یہی لوگ جماعت کے عہدیدار رہے۔ خواجہ صاحب مقرر نہ تھے بلکہ خاموش ورکر تھے۔ اگرچہ انہوں نے کوئی نرم گرم تقریر نہ کی تھی لیکن جماعت کے ذمہ دار رہنما تھے۔ اس کے علاوہ ان کے میرے ساتھ گہرے روابط تھے۔ اس زمانہ میں وہ بٹ موٹر ورکس کے حصہ دار تھے اور ہمارا وہاں آنا جانا سی آئی ڈی نوٹ کر رہی تھی۔ اس لئے پکڑ لئے گئے۔ بہر حال ۳ / مارچ کا دن گزر گیا۔ مولانا مفتی محمد یونس صاحب ، صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ اور صاحبزادہ ظہور الحق صاحب سجادہ نشین حضرت مولانا سراج الحق صاحب ان تین دنوں میں گرفتار ہونے والے رضا کاروں کے قافلوں کی قیادت کرتے ہوئے اپنی گرفتاریاں پیش کر چکے تھے ۔ جب ۳ اور ۴/ مارچ کی درمیانی شب حکومت مجھے گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی تو اب تحریک کو دبانے کے لئے کچھ فیصلے کئے گئے۔ چنانچہ ۴/مارچ ۱۹۵۳ء کو حکومت نے صبح سویرے ہی منادی شروع کر دی کہ پورے ضلع کی حدود میں جلسوں اور جلوسوں پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ جو شخص قانون شکنی کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ہم نے حسب معمول ۹ بجے سے پہلے پہلے تحریک کے مرکز جامع مسجد میں گرفتاری کے لئے ۱۰۰ رضا کاروں کا قافلہ تیار کر لیا اور تحریک کے چوتھے قافلہ سالار مولانا عبد الرحمن ہزاروی کو جامع مسجد میں بلا لیا۔ حکومت کی طرف سے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام دیا اور بے پناہ ہجوم جامع مسجد میں جمع ہو گیا۔ تحریک کے انچارج کی حیثیت سے اور کسی حد تک گرفتاری سے محفوظ رہنے کے لئے میری رہائش جامع مسجد کی بالائی منزل میں تھی۔ رہائش کیا تھی پورا سیکرٹریٹ تھا۔ جامع مسجد کے عقب میں چترال ہاؤس کی طرف سے کھلنے والے دروازے پر اوپر جانے والی سیڑھیوں کے اوپر جا کر دو کمروں میں باقاعدہ ۲۴ گھنٹے کا دفتر اور عملہ کام میں مشغول رہتا۔ میں نے مجلس عمل کے جو ممبران باہر تھے انہیں بلوایا۔ مولانا محمد یعقوب نورانی ، حکیم حافظ عبدالمجید نابینا مرحوم اور مولانا عبد الرحمن ہزاروی ہی باہر رہ گئے تھے۔ ہم نے باہم مشورہ کیا کہ دفعہ ۱۴۴ کے متعلق کیا کرنا ہے۔ لوگوں کے ہجوم اور جوش وخروش نے رہنماؤں کے خون کو بھی گرمایا ہوا تھا۔ سب نے یہی مشورہ دیا کہ دفعہ ۱۴۴ کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر دی جائیں۔

ہم اللہ کا نام لے کر نیچے اترے اور جلسہ شروع ہوا۔ بڑی ولولہ انگیز اور ایمان پرور تقاریر کے بعد کوئی ایک لاکھ انسانوں کا سمندر جامع مسجد سے نکلا ۔ آج کا ہجوم اور جلوس بہت بڑا تھا اور اس کی ایک وجہ دفعہ ۱۴۴ کی ضد تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مولانا عبد الرحمن ہزاروی کا اس زمانہ میں دیوبندی مکتب فکر میں بہت احترام تھا اور وہ لوگ انہیں الوداع کہنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر کے بنگلے میں گئے۔ ڈپٹی کمشنر جلوس کے ہمراہ جیل تک گئے ۔ مولانا اور رضا کاروں کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں جیل میں بھیج دیا گیا۔ یہ تحریک کا چوتھا روز تھا۔ شہر کے علاوہ ضلع کے قصبوں اور دیہات سے بے شمار رضا کار سروں پر کفن باندھے جامع مسجد میں پہنچ رہے تھے۔ کوئی اڑھائی تین ہزار آدمی کا کھانا ایک وقت پکایا جانے لگا۔ اب ہم نے سوچا کہ اگر ۱۰۰ رضا کار روزانہ پیش کئے جانے لگے تو ان رضا کاروں کی باری کب آئے گی اور جو لوگ مزید آ رہے ہیں ان کا کیا بنے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ دن میں دو بار جلوس نکلے اور گرفتاریاں پیش کی جائیں ۔ ایک ۱۰ بجے صبح اور دوسرا ظہر کی نماز کے بعد ۔ اس نئے فیصلہ کی روشنی میں ۴ / مارچ کو ہم نے ایک دوسرا جلوس ترتیب دیا۔ ظہر کی نماز کے بعد مختصر جلسہ ہوا اور جلوس ۱۰۰ رضا کاروں کو لے کر چل دیا۔

صفحہ ۳۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ جلوس حسب معمول ڈپٹی کمشنر صاحب کے بنگلہ پر پہنچا۔ رضا کاروں کو وہیں بظاہر گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن انہیں جیل کے پھاٹک پر لے جا کر زدوکوب کیا گیا۔ ۱۵ رضا کار زخمی حالت میں میرے پاس مرکز میں واپس پہنچ گئے۔ باقی رضا کاروں کو مار پیٹ کر ان سے نقدی وغیرہ چھین لی گئی اور انہیں جڑانوالہ کے قریب لے جا کر جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا۔ رانا جہاں داد خان لائل پور میں ایس۔ پی تھے۔ میں نے انہیں پیغام بھجوایا کہ آپ کے جس اے ۔ ایس ۔ پی نے آج جیل کے قریب میرے رضا کاروں کو زدوکوب کیا ہے اسے فوراً یہاں سے تبدیل کیا جائے ۔ یہ شخص اگر کل تک یہاں ہوا تو اسے نہ صرف رضا کاروں کو زدوکوب کرنے کی سزا دی جائے گی بلکہ لاہور کراچی اور ڈھاکہ میں گولیوں سے جن طالب علموں کو شہید اور زخمی کیا ہے ان کا بدلہ بھی اس سے لے لیا جائے گا۔

میں نے رانا صاحب پر واضح کر دیا کہ جس تحریک کو عوام کی اتنی زبردست حمایت حاصل ہو اس کے رضا کاروں پر تشدد کے لئے جو ہاتھ اٹھے گا توڑ دیا جائے گا۔ رانا صاحب بڑے سمجھدار آدمی تھے۔ انہوں نے مجھے اسی وقت پیغام بھیجا کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہیں ہوگا اور اس پولیس افسر کو پولیس لائن میں تبدیل کر دیا گیا۔ ۵/ مارچ کو بھی دن میں دو دفعہ ۱۰۰، ۱۰۰ رضا کاروں کے جتھے زبردست جلوسوں کے ہمراہ جاتے رہے اور گرفتاریاں پیش کرتے رہے۔ آج کے جتھے کی قیادت ڈجکوٹ کے غلام رسول صاحب نے کی۔ اس طرح باہر دیہات سے بھی لوگ جلوسوں کی شکل میں شہر پہنچتے رہے اور دن خیریت سے گزر گیا۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ البتہ لائل پور کے مقامی روز نامہ غریب اخبار میں مولانا سردار احمد صاحب کا ایک بیان شائع ہوا جس میں لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی گئی تھی۔ ہم خود ہر جلوس روانہ ہونے سے پہلے لوگوں کو پر امن رہنے کی تاکید کرتے تھے۔ یہ بیان عوام میں چہ میگوئیوں کا باعث بنا رہا۔ اس بیان کے دونوں مطلب لئے جا سکتے تھے۔ اس لئے لوگ اپنے اپنے خیال کے مطابق مطلب نکالتے رہے۔ کچھ کا خیال تھا کہ وہ تحریک کے مخالف ہیں اس لئے انہوں نے دبے الفاظ میں پر امن کے الفاظ سے مخالفت کا اظہار کیا ہے اور کچھ کا خیال تھا کہ پر امن رہنا ہی ٹھیک بات ہے۔ اس لئے انہوں نے ٹھیک بات کہی ہے۔ اس بیان کا پس منظر کیا تھا، ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہی ہم نے اس بیان کے متعلق کوئی خاص تاثر قائم کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی اسے اپنے محاذ میں کوئی اہمیت دی۔ کیونکہ اس میں کھل کر ہماری مخالفت نہ تھی۔

تحریک ختم نبوت کے ابتدائی دنوں میں تحریک کے لئے اپنی فنانس کمیٹی قائم ہوئی تھی۔ بہتر ہے کہ میں اس کا تذکرہ ابتداء ہی میں کرتا ہوں۔ پہلے روز تحریک کا جلسہ عید باغ میں ہوا تو احقر نے اپنی جوشیلی تقریر میں جہاں عوام کو تحریک کے لئے جانی قربانی پیش کرنے کے لئے کہا وہاں مالی امداد کی بھی اپیل کی۔ کافی رقم کے وعدے ہوئے۔ لیکن جو اسی وقت سٹیج پر روپیہ جمع ہوا وہ تین ہزار کے قریب تھا۔ جسے ہم نے مجلس احرار لائل پور کے خزانچی شیخ خیر محمد صاحب کے سپرد کر دیا۔ شیخ خیر محمد صاحب چمڑہ منڈی امین پور بازار میں چمڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ لاکھوں پتی اور انتہائی شریف النفس ، نیک طبیعت اور دیانتدار ساتھی ہیں۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خاص معتقدین میں سے ہیں۔

دو تین دن تک تحریک کا حساب انہی کے پاس رہا۔ تیسرے یا چوتھے روز مولانا عبد الرحمن ہزاروی کی پارٹی کے ایک صاحب نے علیحدگی میں مشورہ دیا کہ ہزاروں رضا کار مسجد میں پہنچ رہے ہیں۔ آپ کے ساتھی ایک ایک کر کے گرفتار ہورہے ہیں۔ آپ کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ پولیس آپ کو آخر کار گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگی۔ کراچی بھی قافلے جا رہے ہیں۔ یہاں بھی کام ہو رہا ہے۔ بہت زیادہ اخراجات کی ضرورت ہے۔ آپ مالی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مخیر شہریوں کی ایک مالیاتی سب کمیٹی بنا دیں جو

صفحہ ۳۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آمد و خرچ کی ذمہ دار ہو اور مالیاتی کمیٹی میں ایسے لوگ ہوں جو اپنے پاس سے بھی خرچ کرنے والے ہوں۔ میں نے تجویز سے اتفاق کیا اور تین باتوں کے پیش نظر مالیاتی سب کمیٹی بنانے پر رضامند ہو گیا۔

بھی چندہ خوری کا الزام عائد کر دینا معمولی بات ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ جماعتوں میں چند بے ایمان قسم کے کارکن اچھے لوگوں کے اعتماد کو بھی خراب کرتے رہے ہیں اور اب تو دن بدن معاملہ اور بھی بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے یہ سوچا کہ اس طرح جماعت کے غریب اور مخلص کارکنوں کا دامن اس گندگی سے بچا رہے گا اور کسی بد باطن شخص کو ان کے ایثار قربانی اور زندگی کو داغدار کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملے گا۔

تحریک کے مالی تقاضوں کو پورا کرتے رہیں گے۔

چنانچہ میں نے اجلاس طلب کیا اور اس میں حسب ذیل مخیر حضرات کی ایک مالیاتی سب کمیٹی بنادی۔ حاجی عبدالعزیز لدھیانوی حاجی محمد اسماعیل لدھیانوی ، حاجی محمد ابراہیم لدھیانوی ، مستری عبدالرشید لدھیانوی ، حاجی عمر دین ، شیخ محمد عمر چنیوٹی ، شیخ محمد رفیق چنیوٹی۔ اس کمیٹی کو رسید بکیں چھپوا لینے اور رقوم وصول کر کے رسیدیں جاری کرنے کا اختیار دیا گیا اور حساب کتاب کا مکمل طور پر انچارج بنا دیا گیا اور انہیں یہ کہہ دیا گیا کہ وہ اہم اخراجات کے لئے مجھ سے مشورہ کر لیا کریں گے۔

ایک اور اہم واقعہ تحریک کے ابتدائی دنوں میں یہ ہوا کہ تحریک کے معاونین کو ہراساں کرنے اور انہیں تحریک کے تعاون سے علیحدگی پر مجبور کرنے کے لئے حکومت نے بعض ساتھیوں کے مکانوں اور دکانوں کی الاٹمنٹوں کی منسوخی کے احکامات جاری کرنا شروع کر دیئے۔ جب یہ بات میرے نوٹس میں آئی تو میں نے حکومت کو جھنجھوڑا اور اسے نمرود کی خدائی سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت کو عقل کے ناخن لینے کو کہا۔ میں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور حکومت کی ان کمینہ حرکتوں سے پریشان نہ ہوں اور نہ ہی کوئی برا اثر قبول کریں۔ اس سلسلہ میں حکومت کا نمونے کے طور پر ایک حکم یہاں نقل کئے دیتا ہوں۔

اجلاس ڈپٹی کمشنر بحالیات لائل پور

مقدمہ الاٹمنٹ دوکان نمبر ۲، ۳ لائل پور نوٹس بنام حاجی سلطان احمد ، محمد دین کریانہ والے لائل پور ۹/بجے ہمارے روبرو حاضر ہو کر وجہ ظاہر کریں کہ کیوں نہ آپ کو دوکان مذکورہ سے بے دخل کر دیا جائے۔ کیونکہ آپ اس الاٹمنٹ کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ بصورت عدم حاضری کارروائی ضابطہ عمل میں لائی جائے گی۔ ۵/ مارچ ۱۹۵۳ء انسپکٹر تعمیل کرائیں۔ سراج الدین نائب انسپکٹر پولیس

(مہر) برائے ڈپٹی کمشنر بحالیات لائل پور

حکومت نے یہ ایک ایسا حربہ استعمال کیا جس سے لوگوں کا پریشان ہونا لازمی تھا۔ چنانچہ مشورہ کے بعد معززین شہر کا ایک وفد ڈپٹی کمشنر صاحب لائل پور کے پاس بھیجا گیا اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ الاٹمنٹوں کی منسوخی کے سلسلہ کو بند کر دیں اور اس طرح کے کمینہ حربوں سے لوگوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔ ورنہ تلخی بڑھ جائے گی اور شہر میں اس کا شدید ردعمل ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب کا دماغ درست ہو گیا

صفحہ ۳۳۸

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ ایسا نہیں کیا جائے گا وفد نے مطالبہ کیا کہ آپ تحریری طور پر یقین دہانی کرائیں تاکہ ہم آپ کی تحریر مولانا تاج محمود کو دکھا سکیں اور وہ لوگوں کو مطمئن کرسکیں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے وفد کو ایک تحریر دے دی جس کے الفاظ حسب ذیل تھے۔

از : دفتر ڈپٹی کمشنر لائل پور

ختم نبوت کی تحریک کے چند معززین کا ایک وفد آج صبح مجھے ملا۔ انہوں نے بتایا کہ متروکہ جائیداد کے قابض کو اس وجہ سے نوٹس بے دخلی دیئے جارہے ہیں کہ وہ تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔ محض سیاسی بناء پر کوئی نوٹس نہیں دیا جارہا جو کہ گورنمنٹ کی پالیسی ہے،۔ اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو موجودہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اسے منسوخ تصور کیا جائے۔

دستخط انگریزی ڈپٹی کمشنر بحالیات مورخہ ۷؍ مارچ ۱۹۵۳ء

ایک اور بات جس کا تذکرہ ابتداء ہی میں کر دینا مناسب ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب ہم نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم کراچی رضا کار بھیجنے کے علاوہ لائل پور میں مقامی طور پر بھی سول نافرمانی کی تحریک چلائیں گے تو سید ابن حسن ڈپٹی کمشنر لائل پور نے جلوسوں میں لاکھوں انسانوں کی شرکت دن میں دو دفعہ رضا کاروں کے قافلوں کی روانگی اور عوام میں تحریک کی ہمدردی میں بے پناہ جوش وخروش کو دیکھ کر حکومت سے درخواست کی کہ اسے فوج کی امداد دی جائے۔ چنانچہ ۴، ۵؍ مارچ کی درمیانی شب ۸، ۹؍ پنجاب رجمنٹ کی ایک بٹالین فوج لائل پور پہنچ گئی۔ یہ بٹالین غالباً کیمبل پور سے لائل پور پہنچی تھی اور اس کا تعلق توپخانہ سے تھا۔ اس کے انچارج کرنل حبیب تھے۔ کرنل صاحب چک جھمرہ سے متصل رہنے والے ایک مشہور مرزائی خاندان عصمت اللہ کے عزیز تھے اور خود بھی مرزائی تھے۔ لائل پور پہنچنے سے پہلے ایک رات اس بٹالین نے ربوہ کے قریب پڑاؤ کیا تھا اور کرنل حبیب صاحب ربوہ میں اپنے پیر و مرشد مرزا بشیر الدین محمود اور دوسرے مرزائی رہنماؤں سے ملاقات کرکے آئے تھے۔ اس بٹالین کے لائل پور پہنچتے ہی چند مسلمان سپاہی میرے پاس جامع مسجد میں خفیہ طور پر ملاقات کے ذریعہ مجھے کرنل حبیب صاحب اور اس کی سرگرمیوں اور عزائم سے آگاہ کر گئے اور مستقل رابطہ رہنے کا بھی وعدہ کرگئے۔

کرنل حبیب کے آتے ہی سید ابن حسن ڈپٹی کمشنر صاحب لائل پور کا رویّہ انتہائی سخت ہو گیا اور وہ فوج کے آنے کے دو دن کے اندر بالکل بدل گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس سے پہلے خود فوج میں میجر تھا۔ ایک سابق فوجی افسر ہونے کی وجہ سے نہایت صاف دل دماغ کا آدمی تھا۔ سخت گو ہونے کے باوجود ہم لوگوں سے اس کا رویّہ کوئی اتنا نا معقول نہ تھا بلکہ فروری کے آخری ہفتہ میں جب تحریک شروع ہونے ہی والی تھی اس نے ایک رات مجھے اپنے بنگلہ پر بلوایا اور مجھے کہا کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم کچھ نہیں کرنے والے۔ ہمارے مطالبات مذہبی مطالبات ہیں۔ معقول مطالبات ہیں اور انہیں ملک کی بہت بڑی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ وہ پورے ہونے چاہئیں تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بالفرض اگر حکومت کسی مجبوری یا مصلحت کے باعث یہ مطالبات نہ مانے تو پھر کیا ہوگا۔ میں نے کہا راست اقدام کی تحریک ہوگی۔ وہ فرمانے لگے وہ کیا ہوگی میں نے کہا کہ سول نافرمانی ہوگی۔ جس میں ہمارے روزانہ کچھ رضا کار اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا کریں گے۔

ابن حسن صاحب نے کہا کہ مجھے بڑی فکر ہے کہ یہ شہر صنعتی شہر ہے۔ یہاں لیبر ہے بے کار اور بے روز گار لوگ بھی بہت ہیں۔ آپ کی جماعت کا کافی زور ہے۔ اگر ساڑ پھونک یا توڑ پھوڑ کی پالیسی اختیار کی گئی تو خدا جانے اس خوبصورت شہر کا کیا بنے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ پھوڑ اور ساڑ پھونک ہماری پالیسی نہیں ہے۔ تحریک پر امن گرفتاریوں تک محدود رہے گی اور کوئی توڑ پھوڑ نہ ہوگی۔ کوئی لوٹ مار نہ ہو

صفحہ ۳۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گی۔ کوئی شخص قتل نہ ہوگا۔ آگے جو اللہ کو منظور ہے ہوگا۔ اب کرنل حبیب مرزائی فوجی افسر تھے۔ انہوں نے ابن حسن صاحب کو تحریک اور مولانا تاج محمود دونوں کا نیا معنی مطلب سمجھایا اور دونوں کا ایک بھیانک تصور اس کے دماغ میں بٹھا دیا۔ فوجی کو فوجی بات اپیل کر گئی اور اس کا دماغ بالکل ہی پھر گیا۔

۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو یعقوب بٹ کی زیر قیادت رضا کاروں کا جتھا اور جلوس ریل بازار سے ہوتا ہوا ڈپٹی کمشنر صاحب کے بنگلہ پر پہنچا۔ صرف پچاس رضا کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ دوسرے لوگوں کو ادھر ادھر لے جا کر چھوڑ دیا گیا۔ ظہر کی نماز کے بعد دوبارہ جلوس گیا تو رضا کاروں کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ دور دراز جنگلوں میں جا کر چھوڑ آئے اور ڈی سی صاحب نے مجھے پیغام بھجوایا کہ آئندہ میرے بنگلہ پر رضا کار نہ بھیجے جائیں۔ میرے معصوم بچے نے آج اتنے دنوں سے دودھ نہیں پیا، وہ ڈرتا ہے۔ رات کو بچے سوتے نہیں ہیں۔ اگر آپ لوگ نیک نیت ہیں اور ملک دشمن نہیں اور اگر آپ کا مقصد گرفتاریاں دینا ہی ہے تو یہ جلوس جامع مسجد سے کوتوالی جایا کرے میں نے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور جلوس کا راستہ حکومت کے مطالبہ کے مطابق کر دیا۔

۶؍ مارچ کو ہی شہر کے ایک محلہ مائی کی جھگی میں جھگڑا ہوا۔ یہ علاقہ شہر سے دو میل باہر ہے۔ شہر کی ایک بیرونی آبادی کہہ لیجئے۔ وہاں پولیس پہنچ گئی۔ میں نے آدمی بھیجے۔ تحقیقات کرائی۔ مجھے شبہ ہوا کہ اس جھگڑے کی تہہ میں کوئی سازش کار فرما تھی۔ شہر سے دو میل دور کسی جلسے جلوس کا ہمارا کوئی پروگرام ہی نہ تھا۔ دونوں پارٹیاں پولیس کے زیر اثر تھیں۔ ایک نے تحریک ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ دوسری نے مردہ باد کہا اور ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ پولیس پہنچ گئی۔ ڈی سی صاحب نے رات کو ہوم سیکرٹری سے گولی چلانے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ تحریک کو تشدد کے ذریعہ ہی دبایا جا سکتا ہے۔ ورنہ اسے روکنے کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔ لوگ پر امن ہیں۔ رضا کار گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ اگر سب کو گرفتار کریں تو گنجائش نہیں۔ نہ کریں تو کریں کیا؟ ہوم سیکرٹری پنجاب نے ڈی سی صاحب کو تشدد کرنے کی اجازت دے دی۔ لیکن یہ ہدایت کی کہ شہر سے باہر جہاں عوام کا اژدہام نہ ہو بچ کر طاقت استعمال کی جائے۔ ڈی سی اور ہوم سیکرٹری صاحب کے درمیان رابطہ فون کے ذریعہ تھا اور مجھے محکمہ ٹیلی فون کے ساتھیوں کی حمایت حاصل تھی۔ ایک ایک منٹ کی خبریں مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔

۷؍ مارچ کی صبح ہوئی تو میرا دل ڈر رہا تھا کہ اب یہ بے گناہوں کو تڑپانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ خدا جانے کیا ظلم کریں گے۔ میں نے شہر کی تمام مساجد میں خطیب صاحبان کو چٹھیاں بھجوائیں کہ وہ اپنی اپنی مسجد کے لاؤڈ سپیکروں سے اعلان کریں کہ کوئی شخص مرکزی دفتر کے علاوہ کہیں کوئی جلوس، جلسہ، نعرہ بازی نہ کرے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا مرکزی دفتر جامع مسجد میں ہے۔ وہیں جلسہ ہوگا۔ وہیں سے جلوس نکلے گا اور وہیں سے رضا کار گرفتاریوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں گے۔ ۷؍ مارچ صبح ۹ بجے جامع مسجد میں جلسہ شروع ہوا۔ میرا گلا بیٹھا ہوا تھا۔ مسلسل تقریریں اور کئی راتوں سے آرام نہ کر سکنے کے باعث آواز خراب تھی۔ ہزاروں کا مجمع تھا۔ میں نے جلوس کے راستے کے بدل دینے کا اعلان کیا۔ حکومت کے مذموم ارادوں سے عوام کو خبردار کیا اور مرکزی جلوس کے علاوہ محلہ میں چھوٹے چھوٹے جلوسوں اور سرکاری سازشوں سے لوگوں کو آگاہ رہنے کی تلقین کی۔ آج کے جلوس کی قیادت گوجرہ کے مولانا عبد الکریم صاحب کر رہے تھے۔ اسی جلوس کے ہمراہ شیخ بشیر احمد صدر سٹی مسلم لیگ اور لائل پور کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد صاحب انوری بھی تھے۔ ۱۰۰ رضا کاروں کا قافلہ اور کوئی ایک لاکھ انسان کا جلوس کوتوالی جا پہنچا۔ گرفتاریاں ہو گئیں۔

مقامی طور پر تحریک چلانے کے علاوہ ہم مرکزی رہنماؤں کے فیصلہ کے مطابق برابر کراچی رضا کار بھیج رہے تھے۔ ہر دوسرے

صفحہ ۳۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روز ایک سو رضا کاروں کا قافلہ کراچی کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ کراچی میں تحریک کو جاری رکھنے کے لئے بڑے ثابت قدم اور پختہ قسم کے رضا کاروں کا انتخاب کرنا ہوتا۔ پھر ان کے لئے ہر قسم کے سازوسامان کی تیاری بڑی ضروری ہوتی تھی۔ اس لئے ایک دن ناغہ اور دوسرے روز قافلہ جاتا پھر ان رضا کاروں کو بالکل خفیہ بھیجنا ہوتا تھا تا کہ مقامی حکام کو کچھ علم نہ ہو سکے تا کہ ایسا نہ ہو کہ انہیں یہیں روک لیا یا راستے میں اتار لیا جائے۔ بڑی احتیاط سے یہ کام ہوتا تھا۔

۷؍ مارچ کو کراچی کے لئے ایک سو رضا کاروں کے قافلہ نے بھی روانہ ہونا تھا۔ دوپہر سے پہلے قافلہ کی روانگی جلوس اور گرفتاریوں سے فارغ ہو کر ہم نے ایک سو رضا کار بالکل سادہ لباس میں ریلوے اسٹیشن پر جانے کے لئے کہہ دیا تا کہ وہ متفرق طور پر چناب ایکسپریس کے وقت تک اسٹیشن پر پہنچ جائیں۔ ان رضا کاروں کو دوپہر کا کھانا جامع مسجد میں کھلا دیا گیا تھا۔ رات کے لئے روٹیاں اور خشک قسم کا سالن علیحدہ اسٹیشن پر بھیج دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھنے ہوئے چنے کی بوریاں علیحدہ بھیج دی گئیں۔ گڑ کی چھوٹی بوری الگ بھیج دی گئی۔ ان کے پچیس پچیس رضا کاروں کے دستے بنائے گئے۔ ہر پچیس آدمیوں میں ایک کو اس دستے کا سالار بنایا جاتا اور ان کے لئے ایک انچارج سالار ہوتا تھا۔ ہر رضا کار کی جیب میں پانچ روپے اور سالار کی جیب میں ایک سو روپیہ اور انچارج سالار کی جیب میں پانچ سو روپے ڈال دیئے جاتے تا کہ گرفتاری تک کے وقت میں انہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ہمارے یہ رضا کار ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس کے انتظار میں تھے۔ ہم نے ظہر کے بعد جلسہ جلوس کا پروگرام حسب سابق مکمل کیا۔ گرفتاریاں دے کر واپس اسٹیشن کا پروگرام معلوم کیا۔ گاڑی کچھ لیٹ پہنچی اور تمام رضا کار اور ان کے سالار معہ سامان وغیرہ کے گاڑی میں سوار ہو کر خاموشی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اچانک خبر آئی کہ ریلوے اسٹیشن جھال خانوالہ والے پھاٹک کے قریب پولیس والے گولی چلا رہے ہیں۔ کئی لوگ شہید اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ سخت صدمہ ہوا یہ صدمہ کم از کم میرے لئے بالکل متوقع تھا۔ میں رات سے ہی ڈپٹی کمشنر اور ہوم سیکرٹری کی باہمی گفتگو سے مطلع ہو چکا تھا۔

اب میرا خیال ادھر گیا کہ گاڑی میں ہمارے ایک سو رضا کار سوار تھے۔ حکومت کو ان کی خبر ہو گئی ہوگی۔ اس لئے حکومت نے پھاٹک پر گاڑی کو روک کر انہی لوگوں پر گولی چلائی ہے۔ میں نے اپنے سیکرٹری مسٹر شہزاد کو بھیجا کہ تم خود جاؤ اور فوراً سرسری جائزہ لے کر آؤ کہ کیا ہوا ہے۔ لوگ دوڑے ہوئے میرے پاس پہنچ رہے تھے۔ چیخ و پکار اور ایک واویلا بلند ہو رہا تھا۔ لوگ مشتعل تھے کہ حکومت نے ڈرامہ کیا ہے اور بہانہ بنا کر گولی چلائی ہے اور کئی ماؤں کے لال شہید کر دیئے ہیں۔

کچھ دیر بعد شہیدوں کو اٹھا کر جامع مسجد میں لے آئے۔ ان کی چارپائیاں ایک دوسرے کے پہلو میں رکھ دی گئیں۔ شہر میں کہرام مچ گیا۔ لوگ آ رہے تھے۔ انہیں پہچان رہے تھے۔ بالآخر مغرب کی نماز تک تین شہیدوں کے گھروں اور ورثاء کا پتہ چلا گیا۔ چوتھے جوان تھے ان کی شناخت نہ ہو سکی اور عشاء کی نماز کے بعد تک اس کا کوئی والی وارث نہ آیا۔ وہ رات ہمارے لئے انتہائی مصیبت کی رات تھی۔ کوئی دو اڑھائی ہزار رضا کار تھے جو مسجد میں مقیم تھے۔ سب نے یہ رات جاگ کر کاٹی۔ کچھ نفلیں پڑھتے رہے اور کچھ کلمہ طیبہ کے بلند آواز ذکر میں شامل رہے۔ شہر کے بے شمار لوگوں نے بھی یہ رات مسجد میں ہی گزاری۔ ایک ایسی غم انگیز کیفیت تھی جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

سید معظم علی شاہ

عشاء کے بعد میرے دفتر میں میرے ایک پرانے ساتھی سید معظم علی شاہ صاحب تشریف لائے۔ شاہ صاحب ایبٹ آباد کے

صفحہ ۳۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قریب بانڈا پیر خاں کے رہنے والے ہیں۔ وہ آج کل امین پور بنگلہ ضلع جھنگ کے قریب رہتے ہیں۔ ان دنوں وہ لائل پور کے قریب کے کسی گاؤں میں تھے۔ اس وقت چالیس سال عمر ہوگی۔ فدائی قسم کے مسلمان ہیں۔ پہلے بھی تحریک کشمیر اور تحریک پاکستان وغیرہ میں حصہ لے چکے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں قید وبند کی تکلیفیں بھی برداشت کر چکے ہیں۔ ان کے کپڑے خون میں لت پت میرے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوتے ہی اندر سے دروازے کو کنڈا لگا دیا۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کپڑوں پر خون کیسا وہ خاموش رہے۔ انہیں غور سے دیکھا تو انتہائی غضب ناک حالت میں تھے۔ آنکھیں سرخ ہورہی ہیں۔ فرمایا یہ شہیدوں کا لہو ہے۔ جب ان یزیدیوں نے گولی چلائی اور کئی ماؤں کے لال شہید ہوگئے، کئی زخمی ہوگئے۔ میں وہاں پہنچا مجھے پولیس نے روکا۔ مجھے جلال آ گیا میں نے کہا میں آگے جاؤں گا۔ کوئی دنیا کی طاقت مجھے شہیدوں اور زخمیوں کے پاس جانے سے نہیں روک سکتی۔ تمہیں مجھے آگے جانے دینا ہوگا۔ یا گولی مار دینا ہوگی۔ بالآخر میں آگے چلا گیا۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں کو پولیس اٹھا کر ہسپتال لے گئی ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ کچھ شہیدوں کو بھی اٹھا کر لے گئی ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہاں لے گئی ہے۔ یہ چار خاک وخون میں تڑپتے ہوئے لاشے مجھے وہاں ملے میں انہیں ایک ایک کر کے اکیلا ہی اٹھا کر لاتا رہا اور پولیس کے حلقہ سے نکال کر لوگوں کے سپرد کرتا رہا اور اس طرح ان شہیدوں کو مسجد میں پہنچایا جاچکا ہے۔

اب میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنے آیا ہوں یہ کہتے ہوئے انہوں نے اچانک اپنے کمبل میں سے ایک سٹین گن نکالی۔ اسے لوڈ کیا۔ میرے سامنے رکھ دی کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جس ابن حسن ڈپٹی کمشنر نے آج یہ گولی چلانے کا حکم دیا ہے اور ان بے گناہوں کو شہید کیا ہے۔ اس ظالم انسان کو اگر میں جا کر قتل کردوں اور پھر اس پاداش میں مجھے سزائے موت ہو گئی۔ وہ شہادت کی موت ہوگی یا نہیں ہوگی۔ میں پہلے ہی پریشان تھا۔ ننگے سر، بال بکھرے ہوئے اور کمر میں غم واندوہ کی وجہ سے ایک پٹکا کمر بند کے طور پر باندھ رکھا تھا۔ طبیعت انتہائی مضمحل اور نڈھال مجھے لائل پور کی بارونق جامع مسجد دشت کربلا نظر آرہی تھی۔ اب اس سوال سے میں اور بھی پریشان ہو گیا۔ میں نے اپنے حواس پر قابو پایا۔ تھوڑا غور کیا اور پھر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر میں اسے یہ کہہ دوں کہ شاہ جی ، ڈپٹی کمشنر کو قتل کرنا نامناسب اور جائز نہیں ہوگا تو عین ممکن ہے کہ یہ بھڑکا ہوا انسان مجھے ہی گولی مار کر ڈھیر کر دے۔ میں نے کہا شاہ جی! یہ مسئلہ بڑا اہم ہے۔ اس کا تعلق میری اور آپ کی عاقبت سے ہے۔ میں اس وقت بہت پریشان ہوں۔ میرا دماغ کام نہیں کر رہا۔ آپ مجھے تھوڑی مہلت دیں تاکہ میں ٹھنڈے دل و دماغ سے اس مسئلہ کا صحیح صحیح جواب دے سکوں۔

سید معظم علی شاہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ لائل پور کے اس قاتل ڈپٹی کمشنر جس نے گولی چلانے کا حکم دے کر ختم نبوت کے پروانوں کو خاک وخون میں تڑپا کر شہید کیا ہے۔ اس کے قتل کے جائز یا ناجائز ہونے کے متعلق آپ مجھے کب جواب دیں گے۔ میں کتنی دیر بعد آپ سے دریافت کروں۔ میں نے عرض کیا شاہ جی! آپ مجھے سوچنے کے لئے ایک گھنٹے کی مہلت دے دیں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ میں جاتا ہوں۔ میں نے کہا آپ کو کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس نے کہا آپ مجھے پابند نہ کریں۔ میں ایک گھنٹہ کے بعد پھر حاضر ہو جاتا ہوں۔ میں نے کہا نہیں اس وقت تحریک ختم نبوت کی مقامی مجلس عمل نے مجھے انچارج اور امیر بنایا ہوا ہے۔ یہ میرا حکم ہے آپ کہیں نہیں جاسکتے۔ آپ ساتھ والے کمرے میں آرام کریں اور مجھے مزید پریشان نہ کریں۔ وہ مان گئے اور ساتھ والے کمرہ میں لیٹ گئے۔ میں نے دو نفلیں پڑھیں۔ اللہ سے خاص مدد مانگی اور رو رو کر اور گڑگڑا کر دعا کی کہ الہی! اس عقدہ کو تو ہی حل کرنے والا ہے۔ دعاؤں سے میرے دل کو کچھ سکون اور اطمینان ہوا۔ اتنے میں ایک گھنٹہ گزر گیا۔ معظم علی شاہ صاحب دروازہ کھول کر سٹین گن ہاتھ میں تھامے آئے۔ میرے

صفحہ ۳۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سامنے آلتی پالتی بیٹھ گئے ۔ سٹین گن اپنے سامنے رکھ لی اور پھر انتہائی غضبناک آنکھوں اور لہجے سے پوچھا مولانا صاحب میرے سوال کا جواب دے دیجئے ۔ میں اس مردود ڈپٹی کمشنر کو قتل کر دینا چاہتا ہوں ۔ میرے دل میں ایک آگ سی لگی ہوئی ہے ۔ جب تک میں یہ اپنا فرض سرانجام نہیں دے لیتا مجھے چین نہیں آرہا اور میرا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو سکتا ۔

میں نے شاہ جی سے پھر محبت بھرے لہجے میں بات کی ۔ ان کے جذبے ، ان کی ایمانی غیرت اور حضور سرور کائنات ﷺ کے عشق میں جانی قربانی کے عزم کو سراہا اور پھر عرض کیا کہ حضرت ابھی میں کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ سکا ۔ اب مجھے اس کے متعلق استخارہ کرنا ہو گا ۔ جو اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیں گے اس کے مطابق مشورہ دوں گا ۔ شاہ جی خاموش ہو گئے ۔ پھر بولے آخر آپ مجھے کب جواب دیں گے ۔ میں نے کہا صبح ۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں بلکہ آپ مجھے رات دو اڑھائی بجے تک جواب دے دیں ۔ کیونکہ صبح سورج نکلنے سے پہلے میں اس شخص کے بوجھ سے زمین کو ہلکا کر دینا چاہتا ہوں ۔ میں نے کہا بہت اچھا! آپ ساتھ والے کمرے میں آرام کریں ۔ وہ وہاں جا کر لیٹ گئے ۔ میں اپنے ضروری کاموں میں مصروف ہو گیا ۔ رات ایک بجے کے قریب میں نے پھر وضو کیا ۔ نفل پڑھے ۔ اللہ سے دعا کی اور تھوڑی دیر لیٹ گیا ۔ دعائے استخارہ بھی پڑھ لی ۔ نیند تو آ ہی نہیں سکتی تھی ۔ کوئی آدھ گھنٹے تک بالکل خالی الذہن ہو کر سوچا حضرت امیر شریعت کا فرمان کانوں میں گونجتا تھا کہ تحریک کو بہر حال پر امن رکھنے کی کوشش کرنا ہے ۔ شرعاً بھی میرے ذہن میں یہ بات آتی تھی کہ اگر بالفرض سید ابن حسن ڈپٹی کمشنر کے حکم سے ہی ان مظلوموں کو قتل کیا گیا ہو تو بھی اس قصاص اور بدلے کا حق ہمیں کس طرح ہو سکتا ہے ؟ ہم اس کو قتل کر دینے کے مجاز نہیں ہیں ۔ بہرحال میرا ذہن صاف ہو گیا ۔ اب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جرأت کر کے اسے کہہ دینا چاہئے کہ یہ قتل ناحق ہو گا ۔ جس کا ہمیں حق حاصل نہیں ہے ۔

میں نے ایک رضا کار کو کہا کہ وہ جائے اور دیکھے کہ شاہ صاحب سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں ۔ اس نے دیکھ کر کہا کہ شاہ صاحب سو رہے ہیں ۔ لیکن ان کی سٹین گن کہیں پڑی ہے ۔ پشاوری کلے پر بندھی ہوئی پگڑی کہیں ہے اور شاہ صاحب کہیں ہیں ۔ میں نے اسے کہا کہ فوراً سٹین گن اٹھا لے اور میرے کمرہ کی الماری میں بند کر کے تالا لگا دے ۔ وہ سٹین گن لایا ۔ اسے تالے میں بند کر دیا گیا ۔ میں نے کہا اب جاؤ شاہ صاحب کو کہو کہ اٹھیں ہمارا استخارہ مکمل ہو گیا ہے ۔ وہ شاہ کو جگا لایا ۔ میں نے شاہ صاحب سے بڑی ہی محبت بھرے لہجے میں پھر بات چیت شروع کی ۔ ان کی خدمات کو سراہا ۔ ان کی جرأت ، ایثار ، قربانی اور عشق رسول ﷺ پر مر مٹنے کی تمنا کی تعریف کی اور عرض کیا کہ ڈپٹی کمشنر کو قتل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ظلم سہنا ہے ۔ ظلم کرنا نہیں ہے ۔ خود یزیدیوں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہے ۔ لیکن کسی پر ہاتھ نہیں اٹھانا ہے ۔ یہی شریعت کا مسئلہ ہے اور یہی مجھے میرے لیڈروں کی ہدایت ہے ۔ اب اگر خدانخواستہ یہ کام آپ کریں گے تو یہ خلاف شرع ہو گا ۔ ذاتی اور نفسانی غصے کی وجہ سے ہو گا اور آپ جب اس کی پاداش میں خدانخواستہ پھانسی پائیں گے تو وہ موت شہادت کی نہیں ہو گی ۔

شاہ جی سو کر اٹھے تھے ۔ ان کے رات کے جذبات اور غصہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا ۔ کہنے لگے اچھا ! پھر کہنے لگے آپ مجھے اجازت دے ہی دیں ۔ میں اس موذی کو ٹھکانے لگا دوں تا کہ دوسرے بے ایمانوں کو عبرت ہو ۔ میں نے کہا شاہ جی اب تو آپ نے مسئلہ کے فیصلہ کی پابندی کرنی ہے اور بس ، کہنے لگے لاؤ میری وہ سٹین گن کہاں ہے ۔ میں نے کہا آپ کے پاس تھی کہنے لگے کسی نے سوتے وقت اٹھا لی ہے ۔ اچھا! میں اب باہر جاتا ہوں ۔ میں نے دیکھا کہ حکمت عملی سے سمجھانا کارگر ہو گیا ہے تو میں نے آخر میں ایک بات اور بھی کہہ دی ۔ میں نے کہا شاہ

صفحہ ۳۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جی ! آپ کا غصہ اتر گیا ہے یا نہیں ۔ کہنے لگے غصہ تو اتر گیا میں نے کہا اگر رات کو غصے میں آپ یہ فعل کر گزرتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کو حکومت سرکاری گواہ بناتی اور شاید قتل کے جرم میں سزائے موت تحریک کے رہنماؤں کو ہوتی ۔ بہرحال رات گزر گئی ۔ صبح ۳ بجے کا وقت ہو گیا۔ سب رضا کار جاگ گئے ۔ مسجد بھری ہوئی کوئی نفلوں اور کوئی ذکر اذکار میں مصروف ہو گیا اور اس طرح بقول سودا ؎

اپنی تو رات کٹ گئی تیرے فسانہ میں

قصہ ایک میت کا

اس مصیبت اور الم کی رات میں میری دوسری پریشانی یہ تھی کہ ان چار میتوں میں ایک ایسے خوبصورت نوجوان کی میت بھی تھی جس کے ورثاء نہیں آئے تھے ۔ رات ۱۱ بجے کے قریب ایک صاحب آئے اور کہا کہ اس نوجوان کی لاش مجھے دے دی جائے ۔ میں نے کہا تمہارا کیا لگتا ہے ۔ اس نے کہا میرا کچھ نہیں لگتا ۔ لیکن یہ ہمارے ہمسائے کا لڑکا ہے ۔ میں نے کہا اس کے ماں باپ ہیں ۔ اس نے کہا اس کے ماں باپ موجود ہیں ۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ ان کا لڑکا گولی سے مارا گیا ہے ۔ اس نے کہا انہیں معلوم ہو گیا ہے ۔ میں نے کہا کہ جاؤ انہیں بھیجو اس کی لاش ہم تمہیں نہیں دیں گے ۔ وہ آکر اس کو دیکھ جائیں ۔ لیکن ساری رات کوئی نہ آیا ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس ۲۴ سالہ خوبصورت شہزادے نوجوان کی ماں کس طرح گھر میں چین سے بیٹھی ہوئی ہے ۔ صبح سویرے پھر وہی رات والا آدمی آیا اور پھر اس نے یہی کہا کہ اس نوجوان کی لاش دے دو ۔ میں نے کہا تم عجیب آدمی ہو ۔ ہم اس کی لاش کیسے دے دیں ۔ اگر ہم تم کو لاش دیتے ہیں مسجد سے نکلتے ہی وہ لاش تم سے پولیس چھین لے گی ۔ جاؤ اس کے ماں باپ کو فوراً بھیجو ۔ وہ ایک گھنٹے بعد پھر آگیا کہ اس کے ماں باپ نہیں آتے ۔ آپ اس کی لاش دے دیں ۔ میں نے کہا یہ نہیں ہو گا ۔ اب ہم ان کی تجہیز و تکفین کرنے لگے ہیں ۔ جنازے کو عید باغ میں لے جارہے ہیں ۔ انہیں کہو کہ اگر اس کا منہ دیکھنا ہے تو فوراً باغ میں پہنچ جائیں اور اس کی زیارت کرلیں ۔ قاضی عنایت اللہ چمڑہ منڈی امین پور بازار کے ہمارے ایک ساتھی ہیں ۔ بڑے سمجھدار اور ذہین انسان ۔ انہوں نے مجھے علیحدہ لے جا کر کہا کہ مولانا اس نوجوان بچے کی لاش میں کوئی راز کی بات ہے ۔ جبھی تو اس کے ماں باپ نہیں آرہے ۔ ورنہ نوجوان بچے کی موت کا سن کر کوئی ماں باپ صبر کر سکتا ہے؟ مجھے شبہ اور پریشانی تھی ۔ لیکن کیا کہہ سکتا تھا خاموش رہا ۔ منادی کر دی گئی تھی کہ ۱۰ بجے قبل دوپہر عید باغ دھوبی گھاٹ میں شہدائے ختم نبوت کے جنازے پڑھے جائیں گے ۔ جنازے تیار ہو گئے ۔ بہت لمبے لمبے بانس جنازوں میں باندھ دیئے گئے ۔ بڑے ہی دلخراش اور غم انگیز منظر میں ۹ بجے کے قریب جنازے اٹھے ۔ لوگ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ورد کرتے ساتھ جارہے تھے ۔ عید باغ میں چاروں چار پائیاں ایک دوسرے کے پہلو میں رکھ دی گئیں ۔ صفیں درست کرائی گئیں ۔ میرے اندازہ کے مطابق لائل پور کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا ۔ پورے عید باغ میں صفیں تھیں ۔ باہر جھنگ روڈ پر چوک نڑوالہ تک پیچھے بھوانہ بازار میں بھی صفیں تھیں ۔ ڈگلس پورہ سائیڈ میں گندے نالے کے پار اور ڈگلس پورہ کی گلیوں میں بھی صفیں تھیں ۔ صفیں درست کرتے اور انتظام و اہتمام ہوتے ہوتے کوئی اڑھائی گھنٹے صرف ہو گئے ۔ مولانا صاحبزادہ ظہور الحق صاحب اور اس احقر نے نماز جنازہ سے قبل شہدائے بدر و احد سے لے کر شہدائے ختم نبوت کی روحوں پر بلند آواز سے سلام بھجوائے ۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے ۔ ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے اور لوگ یزیدان وقت پر نفرتیں بھیج رہے تھے ۔

صفحہ ۳۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عید باغ (دھوبی گھاٹ) لائل پور کی مشہور جلسہ گاہ ہے۔ اس میں جلسوں کے لئے ایک مستقل اسٹیج بنا ہوا ہے۔ یہ ایک اونچا چبوترہ ہے۔ اس چبوترہ پر شہداء کے جنازے رکھے گئے تھے۔ جب نماز جنازہ پڑھائی جاچکی تو پھر وہی رات والا آدمی میرے پاس پہنچا اور اس نے کہا کہ اس نوجوان شہید کے والدین آگئے ہیں۔ میں نے کہا انہیں بلاؤ۔ وہ اپنے بیٹے کا منہ دیکھ لیں۔ کیونکہ اب جنازے قبرستان لے جائے جائیں گے۔ وہ گیا ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو اور دو برقعہ پوش خواتین کو لے آیا۔ میں رات سے ہی حیران تھا کہ الہی یہ ماجرا کیا ہے۔ جس ماں باپ کا یہ جوان بیٹا گولی کا نشانہ بن گیا ہے۔ اس کے ماں باپ نے رات اپنے گھر میں کیسے بسر کر لی ہے اور وہ کیسے صبر کر کے بیٹھے رہے۔ اب میں نے ان تینوں کو غور سے دیکھا۔ باپ اپنے بیٹے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس پر غم اور افسردگی چھائی ہوئی تھی۔ وہ خاموش کھڑا رہا اور اپنے بیٹے کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ ایک عورت جو اس نوجوان کی ماں معلوم ہوتی تھی وہ بچے کے سرہانے کی طرف آئی۔ اس نے اپنے بیٹے کے ماتھے پر بوسہ دیا اور وہیں بیہوش ہو گئی۔ دوسری عورت جو اس نوجوان کی غالباً بیوی تھی اس کے پاؤں کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے اس کے پاؤں پر منہ رکھنا چاہا لیکن وہ بیہوش ہو گئی۔ لوگوں نے دونوں کو سنبھالا دیا۔ یہ سب کچھ بڑی خاموشی سے ہو رہا تھا۔ کوئی آہ وزاری، رونا دھونا نہ تھا۔ اب اس سے میں اور بھی زیادہ شک میں پڑ گیا۔ جب انہیں اس طرح پانچ منٹ گزر گئے تو میں نے ان سے تعزیتی کلمات کہے۔ انہیں صبر کرنے کو کہا اور نوجوان کے منہ کو کفن سے ڈھانپ دیا گیا۔ جنازے اٹھا لئے گئے۔ بڑے قبرستان تک لاکھوں انسانوں کا جلوس جنازہ کے ہمراہ گیا۔ وہاں انہیں دفن کر دیا گیا اور میں اس معاملہ پر برابر غور کرتا رہا۔ اس مسئلہ میں صرف ایک شخص شیخ عنایت اللہ ہی میرے ہمراز رہے۔ ہمیں کچھ یقین سا ہو گیا کہ اس نوجوان کے معاملے میں کوئی نہ کوئی راز ضرور ہے۔

میں اصل کہانی کو تھوڑی دیر کے لئے چھوڑتا ہوں اور اس نوجوان کے متعلق یہیں ذرا تفصیل بتا دینا چاہتا ہوں۔ اس تحریک کے سلسلہ میں مجھے بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ لاہور شاہی قلعہ، لاہور سنٹرل جیل اور کیمبل پور جیل میں قید کاٹی۔ ایک سال بعد رہا ہوا۔ گھر واپس آیا اور لائل پور آ کر پھر وہی بھر پور زندگی شروع ہو گئی۔ تقریباً ایک سال اور گزر گیا۔ ایک دن میں بٹ موٹر ورکس لائل پور پر اپنے دوستوں خواجہ جمال الدین بٹ، حاجی غلام حسین اور قاضی جلال دین بٹ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ کسی پٹرولیم کمپنی کے ایک آفیسر صاحب جو اکثر، بٹ صاحبان کے پاس آیا جایا کرتے تھے، تشریف لائے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے مولانا! آپ کی تحریک میں ایک مرزائی نوجوان بھی گولی لگنے سے مارا گیا تھا۔ میں نے کہا وہ کون؟ انہوں نے کہا آپ کو اب تک اس کے متعلق کچھ علم نہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا سمندری روڈ کا کوئی نوجوان آپ کی تحریک میں مارا گیا تھا؟ میں نے کہا ہاں۔ ریلوے اسٹیشن پر جو گولی چلی تھی اس میں وہ نوجوان تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرزائی تھا۔ میں نے کہا کہ آپ کو اس کا کیسے علم ہے؟ انہوں نے کہا پچھلے دنوں میں ملتان ایک فیکٹری میں فیکٹری کے مالکان کے پاس جو میرے دوست ہیں بیٹھا ہوا تھا۔ باتیں چھڑتے چھڑتے تحریک ختم نبوت کا تذکرہ بھی چھڑ گیا۔ اس میں جو مظالم ڈھائے گئے وہ زیر بحث آ گئے۔ ہم باتیں کر رہے تھے کہ فیکٹری کا ایک ملازم وہ ہمارے قریب کھڑا باتیں سن رہا تھا دھڑام سے زمین پر بیہوش ہو کر گر پڑا۔ لوگوں نے اسے اٹھایا۔ گرمی کا موسم تھا۔ ہم یہی سمجھے کہ شاید گرمی کی وجہ سے گر پڑا ہے۔ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے۔ وہ ہوش میں آیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ حضور جانے دیجئے۔ مجھ سے یہ بات مت پوچھئے۔ ہم نے اب اصرار کیا تو بالآخر اس نے بتایا کہ جو باتیں آپ کر رہے تھے وہ سن کر مجھے صدمہ ہوا اور میرے دل کو کچھ ہو گیا۔ فیکٹری کے مالکان نے کہا کہ تو تو احمدی ہے اور تجھے یہ باتیں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی کہانی سن کر کیوں صدمہ ہوا ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا جوان لڑکا بھی اس تحریک

صفحہ ۳۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں مارا گیا تھا۔ اس سے میں نے تفصیل دریافت کی تو اس نے کہا کہ میں سمندری روڈ لائل پور کے قریب رہتا تھا۔ میرا جوان لڑکا بھی دوسرے نوجوان دوستوں کے ہمراہ چلا گیا اور وہاں جا کر گولی لگنے سے مارا گیا۔ اس نوجوان کے پراسرار حالات پہلے ہی مجھے حیرت میں رکھتے تھے۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ اس کا پس منظر یہ تھا۔ لیکن میں نے کبھی اس کا اظہار اس لئے نہیں کیا کہ مجھے اس سے زیادہ کا علم نہیں ہے جو کچھ میں نے تحریر کر دیا ہے۔ اب یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ماں باپ سے باغی اور مرزائیت سے تائب ہو کر مارا گیا تھا یا مرزائیوں کی سازش کے تحت بدامنی پیدا کرنے اور حکومت کو تشدد کا موقعہ فراہم کرانے کے لئے اپنی جان دے گیا تھا۔ حکومت کے خلاف تحریکوں کا اصول ہے کہ تحریک چلانے والوں کی یہ کوشش ہوا کرتی ہے کہ تحریک پر امن رہے کہ اس کے برعکس حکومت اور تحریک کے مخالفوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ تحریک بدامنی اور تشدد کی راہ پر پڑ جائے تاکہ جواباً اسے تشدد کا شکار بنایا جا سکے۔ یہی صورتحال یہاں بھی تھی۔ ہماری کوشش تھی کہ تحریک پر امن رہے۔ حکومت اور مرزائیوں کی کوشش یہ تھی کہ بدامنی کی راہ پر لگ جائے تاکہ تباہ ہو جائے۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس نوجوان کو مرزائیوں نے آلہ کار بنا کر مروا دیا ہو۔ اس زمانہ کے اے ڈی ایم لائل پور مسٹر حبیب نے مجھے پیغام بھجوایا تھا کہ اس نوجوان کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا اور یہ ریلوے انجن کے اوپر چڑھا ہوا دوسرے لوگوں کو جوش دلا رہا تھا۔ ابن حسن ڈپٹی کمشنر نے اسے گولی مروائی اور یہ اوپر سے نیچے گر پڑا۔

(نوٹ از مرتب: یہاں تک کے حالات و واقعات حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے قلمبند فرمائے۔ وہ آگے تحریک کے حالات کو قلمبند کرنا چاہتے تھے۔ مگر رکاوٹ یہ تھی کہ ہر ضلع کی تفصیلی رپورٹ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت سے متعلق آپ کو دستیاب نہ ہو سکی۔ اس لئے واقعات کی رفتار کو ترتیب دے کر پھر وہ مارشل لاء اور انکوائری اور تحریک کے بقیہ حالات قلمبند فرماتے۔ اس لئے آپ کا یہ مضمون مکمل نہ ہو پایا۔ آپ کی وفات سے چند ہفتے قبل ہمارے دوست نصیر احمد آزاد مالک شنگریلا پریس فیصل آباد نے مولانا سے ایک انٹرویو کیا جو وفات کے دن سے پہلی رات تک جاری رہا۔ اس انٹرویو کی مکمل کہانی فقیر نے تذکرہ مجاہدین ختم نبوت نامی اپنی کتاب میں محفوظ کی ہے۔ ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی کہانی مولانا تاج محمود کی زبانی“ اب آپ اسے مطالعہ فرمائیں۔ اس میں بعض واقعات کا تکرار آپ کو ملے گا کہ آپ اوپر کے مضمون میں بھی اسے پڑھ چکے ہیں۔ مگر کہانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے میں اسے پورا درج کرنے پر مجبور ہوں جو واقعات دوبارہ اس میں آپ ملاحظہ فرمائیں۔ اسے قند مکرر سمجھیں۔ اس میں وہ انٹرویو یہ ہے۔ مرتب!)

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی کہانی مولانا تاج محمود کی زبانی

پاکستان میں خواجہ ناظم الدین کا دور اقتدار تھا۔ دستور پاکستان کی تدوین زیر بحث تھی۔ حکمران اپنی شخصی حکومتوں کی عمریں لمبی کرنے کے لئے ملک کو دستور دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ بالآخر خواجہ ناظم الدین کے زمانے میں دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ (بی۔پی۔سی رپورٹ) شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں ملک کے لئے جداگانہ طریقہ انتخاب تجویز کیا گیا تھا۔ اقلیتوں کی نشستیں الگ مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اقلیتوں کی تعداد اور ان کے ناموں کا نقشہ بھی اس رپورٹ میں شائع کیا گیا۔ دکھ کی بات یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا۔ حالانکہ پہلے سے ہی مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ ان کو علیحدہ غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے۔

صفحہ ۳۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس رپورٹ کے آنے کے کچھ دنوں بعد دسمبر ۱۹۵۲ء میں چنیوٹ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی۔ انہی دنوں مرزائی جماعت کا بھی ربوہ میں سالانہ جلسہ جسے وہ ظلی حج سمجھتے ہیں انعقاد پذیر تھا۔ ان دنوں مرزائی جماعت کا سربراہ مرزا بشیر الدین محمود تھا۔ جس نے پہلے سے اعلان کر رکھا تھا کہ ”۱۹۵۲ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ احمدیت کے تمام دشمن ہمارے قدموں میں آ گریں۔“

۲۶، ۲۷، ۲۸؍دسمبر کو چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس ہے۔ ۱۹۵۲ء کے گزرنے میں تین دن باقی ہیں۔ مرزا بشیر الدین کا ”اعلان“ ناکام ہو گیا ہے۔ مرزائیت کے احتساب کا شکنجہ مزید کس دیا گیا ہے۔ مرزا بشیر الدین کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے پرجوش الہامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مرزا محمود ۱۹۵۲ء تیرا تھا اور اب ۱۹۵۳ء میرا ہوگا۔ اس سے قبل مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیوں کے باعث پورے ملک کے مسلمانوں میں شدید اشتعال تھا۔ پوری پاکستانی مسلمان قوم مرزائیت کی جارحیت پر فکر مند تھی۔ اسی ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقعہ پر ایک بند کمرے میں جماعت کے رہنماؤں کا ایک خصوصی غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا جس میں مجھے بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ مرزائیوں کی جارحیت دماغ کی خرابی کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ بی۔ پی۔ سی رپورٹ کی رو سے خدا اور رسول ﷺ کے نام پر حاصل کردہ ملک کے دستور میں مرزائیوں کو مسلمان شمار کیا جا رہا ہے۔ اس لئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن حکومت کے رویے سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ راہ راست پر نہیں آئے گی۔ لہٰذا تمام مکاتب فکر کے علماء کو اس مہم میں شریک کیا جائے۔ موسم سرما ختم ہوتے ہی ان کا اجلاس بلایا جائے اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل پر سوچ و بچار کر کے فیصلے کئے جائیں۔

میں ان دنوں ایم بی ہائی سکول لائل پور میں مدرس تھا۔ چنیوٹ کی اس میٹنگ میں مجھے شیخ حسام الدین اور مولانا محمد علی جالندھری نے حکم دیا کہ تم یا تو سکول کی ملازمت سے استعفیٰ دے دو یا پھر یہ کہ لمبے عرصہ کی چھٹی لے لو تا کہ قادیانیت کے اس فتنہ سے امت کو بچانے کے لئے نئے مرحلہ میں آزادی کے ساتھ کام کر سکو۔ چنانچہ میں نے چھٹی لے لی۔

پورے ملک میں تمام رفقاء نے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے رابطہ قائم کر کے ان کو قادیانیت کے مسئلہ کی سنگینی کی طرف توجہ اور ذمہ داری کا احساس دلایا۔ جنوری ۱۹۵۳ء کے آخر میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ خواجہ ناظم الدین پر اتمام حجت کے لئے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے۔ اگلے روز ایک وفد پیر صاحب آف سرسینہ شریف (مشرقی پاکستان) کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔

یہ مطالبات پیش کئے۔ خواجہ صاحب نے وفد سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ظفر اللہ خان کو ہٹانے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے امریکہ پاکستان سے ناراض ہو جائے گا اور ہر قسم کی امداد بند کر دی جائے گی۔

صفحہ ۳۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وفد نے ایک تحریری نوٹس ان کو پیش کیا۔ جس میں درج تھا کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر ہمارے یہ خالصتاً دینی مطالبات تسلیم نہ کئے تو اسلامیان پاکستان مرزائی جارحیت کے خلاف راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے اور مجلس عمل کی قیادت میں تحریک چلائی جائے گی۔

اواخر فروری ۱۹۵۳ء میں دوبارہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کراچی میں اجلاس منعقد ہوا۔ چونکہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے تھے۔ اس لئے تحریک راست اقدام چلانے کے فیصلہ پر عملدرآمد کا اعلان کیا گیا۔

تفصیل یہ طے کی گئی کہ پانچ پانچ رضا کاروں کے دو دستے یومیہ مظاہرہ کرنے کے لئے سڑکوں پر نکلیں۔ پانچ رضا کاروں کا ایک دستہ خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرے اور دوسرے پانچ رضا کاروں کا دستہ ملک غلام محمد گورنر جنرل کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرے۔ دو دستوں کے جانے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ صرف خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرنے سے تحریک کے دشمن یہ تاثر نہ دے سکیں کہ یہ تحریک مغربی پاکستان کے لوگ، بنگالی وزیر اعظم کے خلاف چلا رہے ہیں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ جلوس پر رونق اور پر ہجوم راستوں اور سڑکوں سے نہ جائیں تاکہ ٹریفک میں رکاوٹ کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور حکومت کو شر انگیزی کرنے کا موقعہ میسر نہ آئے۔

۲۷؍ فروری کی رات کو مجلس کے تمام رہنما، جن میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری، عبدالحامد بدایونی، مولانا لال حسین اختر، سید مظفر علی شمسی اور دوسرے بیسیوں رہنما شامل تھے۔ کراچی میں گرفتار کر لئے گئے۔

۲۸؍ فروری کو پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔

۲۸؍ فروری کو لائل پور میں تاریخ ساز ہڑتال کی گئی۔ دھوبی گھاٹ میں لاکھوں انسانوں کا اجتماع منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونس مراد آبادی، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید، صاحبزادہ ظہور الحق، سید صاحبزادہ افتخار الحسن، مولانا عبیداللہ اور بندہ تاج محمود و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں دینے کا عہد کیا۔ اگلے روز تحریک شروع ہو گئی۔ لائل پور مجلس عمل کا صدر بندہ تاج محمود کو بنایا گیا۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ چہار طرف سے تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے کے لئے مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ تک دینے کو تیار تھے۔ حکومت نے دھوبی گھاٹ پر قبضہ کر لیا۔ ہم نے تحریک کا مرکز لائل پور کی مرکزی جامع مسجد کچہری بازار کو بنالیا۔ شہر اور ضلع بھر کے دیہات سے ہزاروں رضا کار جمع ہونا شروع ہوگئے۔ مسجد اور اس کی بالائی منزل رضا کاروں سے بھرنے لگی۔ صبح نو بجے اور تین بجے مسجد میں جلسے ہوتے۔ سو رضا کاروں کا دستہ صبح اور سو رضا کاروں کا دستہ سہ پہر اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کرتا۔ جلوس اس شان سے نکلتا کہ اس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے۔ محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس کے حوالہ سے چلنے والی تحریک میں رضا کاروں، کارکنوں، رہنماؤں غرضیکہ ہر عام و خاص کا جذبہ عشق ختم نبوت قابل دید تھا۔ ہر آدمی بازی لے جانے اور شفاعت محمدی ﷺ کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے بے تاب تھا۔

کچھ دنوں تک تو حکومت رضا کاروں کو گرفتار کرتی رہی۔ لیکن بعد میں چند رضا کاروں کو گرفتار کر لیا جاتا اور اکثر رضا کاروں کو بسوں میں بٹھا کر تیس چالیس میل دور لے جا کر جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا۔

صفحہ ۳۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

اہم واقعہ (پولیس کی سازش اور گولیوں کی بوچھاڑ)

میرا دفتر جامع مسجد کی اوپر کی منزل پر قائم تھا۔ ہر روز رات کو دس گیارہ بجے کے قریب کرفیو کے اوقات میں نکلتا۔ ساتھ میرے عزیز دوست فیروز اقبال کا گھر ہے۔ وہاں جاتا بچیاں کھانا لا کر دیتیں۔ دو چار لقمے زہر مار کر لیتا۔ یہاں تک تو میرے معتمد خاص کو علم ہوتا تھا کہ مولانا اس وقت کہاں ہیں۔ یہاں سے رات کے اندھیرے اور کرفیو کی حالت میں اکیلے چھپتے چھپتے اپنی بہن کے گھر واقع کچی آبادی مال گودام کے دوسری طرف پہنچتا۔ یہ سفر میرے لئے انتہائی کٹھن ہوتا۔ ذرا سی آہٹ کا جواب گولی ہو سکتا تھا۔ ایک اور دوست کے ہاں جانا ہوتا یا پھر اپنی مسجد ریلوے کالونی میں آ کر تھوڑی دیر آرام کرتا۔ صبح فجر کی اذان سے پہلے کچہری بازار کی مسجد میں واپس آ جاتا۔ رضا کاروں کے ساتھ نماز پڑھتا۔ ہر روز میرا یہی معمول تھا۔

میرے دو شاگرد ایک ڈپٹی کمشنر کا سٹینو گرافر تھا اور دوسرا پولیس کے دفتر میں ملازم تھا۔ ان دونوں کا ذہن قلب و جگر تحریک مقدس ختم نبوت کے ساتھ تھا۔ وہ ہر روز عشاء کی نماز کے بعد آتے اور خفیہ حکومتی ارادوں، پروگراموں کی رپورٹ سے مجھے مطلع کرتے۔ ان میں سے ایک آج کل فیصل آباد کے معروف ایڈووکیٹ ہیں۔ دوسرے اللہ رب العزت کو پیارے ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کریں کہ وہ تحریک کے لئے بہت مخلص تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آج آپ کے جلوس کے ساتھ ایک کی بجائے دو مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ میں حیران ہوا کہ کیوں ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمارا جلوس تو دن کو ہوتا ہے۔ اس وقت تمام رضا کار سوئے ہوئے ہیں۔ رات کو جلوس اور مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی۔ یہ کیا ماجرا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ جلوس کون نکالے گا؟ کہاں سے آئے گا؟ میں نے اپنے معتمد خاص سے کہا کہ آج رات مسجد کے تمام دروازے اچھی طرح بند کر کے تالے لگا دیں اور نصیحت کر دیں کہ رات کو کوئی رضا کار ہرگز باہر نہ جائے۔ میں یہ ہدایات دے کر آ گیا۔ حسب معمول اقبال فیروز کے گھر گیا۔ کھانا سامنے رکھا گیا کہ جلوس کے نعروں کی آواز سنائی دی۔ میں متوجہ ہوا۔ ہجوم مرزائیت مردہ باد اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مسجد کے قریب آ کر جلوس نے مسجد کے دروازوں کو بند پایا۔ ارد گرد کا چکر لگایا جب چکر لگا کر چترال ہاؤس کے قریب آیا تو یکدم فائر کی آواز سنائی دی۔ میں حیران تھا کہ لوگ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ گولی کس نے چلائی؟ گولی کس کو لگی ہے؟ کون زخمی ہوا؟ کون مرا؟ کہیں اس میں میرے رضا کار تو شریک نہیں۔ میں واپس مسجد آیا۔ رضا کاروں کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ ہمارا کوئی رضا کار اس میں شریک نہ تھا مگر باہر گولی لگنے سے چار، پانچ آدمی جان بحق اور بہت سارے زخمی ہوئے۔ ہم لوگ پوچھتے کچھ پتہ نہ چلتا۔ کافی عرصہ گزر گیا۔ میں گرفتار ہوا۔ قید ہوئی۔ قید کاٹ کر رہا ہو کر بھی آ گیا۔ مگر یہ راز نہ کھلا۔

یہ انکشاف اس وقت ہوا کہ وہ کون تھے؟ جنہوں نے اس رات جلوس نکالا تھا اور پولیس نے ان کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا۔ ہوا یوں کہ شہر کے ایک شخص کو قتل کے مقدمہ میں سیشن کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ سے بھی مقدمہ خارج ہوا۔ صدر نے رحم کی اپیل مسترد کر دی۔ سزائے موت پر عملدرآمد کا وقت قریب آیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے آخری خواہش پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ میں ایک راز سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ میں اس مقدمہ قتل میں بے قصور ہوں۔ مگر یہ سزائے موت جو مجھے دی جا رہی ہے یہ فلاں رات تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں جلوس نکال کر چار، پانچ نوجوانوں کو موت کی آغوش میں دھکیلنے کی پاداش میں پا رہا ہوں۔ اس نے انکشاف کیا کہ پولیس کی سازش سے یہ جلوس نکالا گیا۔ پولیس کی پلاننگ یہ تھی کہ میں (سزائے موت پانے والا) محلہ کے چند بچوں اور

صفحہ ۳۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نو جوانوں کو اکٹھا کر کے جلوس نکالوں۔ نعرے لگاتے ہوئے مسجد میں آئیں ۔ وہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جلوس مسجد کے گرد چکر لگائے۔ نعرے بازی کرے ۔ اسی اثناء میں مجلس عمل کے رضا کار جلوس میں شامل ہو جائیں گے ۔ پولیس ان میں سے چند کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ٹھنڈا کر دے گی ۔ باقی رضا کار خوفزدہ ہو کر دب جائیں گے اور یوں تحریک کو ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ میں ان بچوں کو ڈگلس پورہ اور اس کے اردگرد سے مٹھائی کا لالچ دے کر لایا تھا اور جلوس کی شکل میں وہاں لاکر پولیس کے لئے ترنوالہ مہیا کیا۔ ان کا یہ قتل میرے ذمہ ہے۔ میں اس قتل کی سزا پارہا ہوں ۔

میری گرفتاری

میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور کا صدر تھا۔ مجلس عاملہ کے پہلے ہی اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ باقی سب حضرات رضا کاروں کے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کریں گے۔ لیکن میں ( مولانا تاج محمود ) تحریک کو جاری اور منظم رکھنے کے لئے گرفتاری نہ دوں ۔ مجلس عمل کا دفتر جامعہ مسجد کی بالائی منزل پر تھا۔ کم وبیش پانچ ہزار رضا کار گرفتاری دینے کے لئے اپنی باری کے انتظار میں مسجد میں جمع رہتے تھے۔ صبح و شام دو سو رضا کار یومیہ گرفتاری دے رہے تھے۔ جامع مسجد میں جلسہ ہوتا تھا۔ ہر طرف ختم نبوت کی بہاریں ہی بہاریں تھیں ۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ ایک دن یہاں کے ڈپٹی کمشنر سبط حسن کے حکم سے مسجد کی بجلی و پانی منقطع کر دیا گیا ۔ دوسرے روز جامع مسجد میں جلسہ ہوا ۔ میں نے پانی وبجلی کے منقطع کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ”سبط حسن تم سید ہو، اور اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہو جو ۱۳۵۰ سال سے کربلا میں پانی کی بندش اور حضرت حسینؓ کی شہادت کا ہائے حسینؓ ہائے حسینؓ کہتے ہوئے ماتم کرتا ہے۔ کم از کم تیرے لئے یہ مناسب نہ تھا ۔ اگر تیری ماں کو مسجد کے پانی و بجلی کی منقطع کرنے کے تیرے اس کارنامے کا علم ہوتا تو وہ تیرا نام سبط حسن کی بجائے ابن یزید رکھتی ۔“

اس تقریر کی رپورٹ پہنچنے پر میجر سبط حسن ڈی سی لائل پور میرا ذاتی و جانی دشمن ہو گیا اور اس نے حکم دے دیا کہ مجھے بہر طور گرفتار کر لیا جائے ۔ پہلے نرمی اور حکمت عملی سے پھانسنا چاہا۔ رانا صاحب ایس پی جو تحریک سے پہلے کے میرے جاننے والے تھے، انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلوایا کہ آپ سے ایک ضروری امر پر مشورہ کرنا ہے۔ میں صورتحال کو بھانپ گیا اور میں نے تعلقات کے باوجود ان کے دفتر میں جانے کو پسند نہ کیا۔ پھر میاں مظفر اے ڈی ایم جو میرے اور مولانا عبیداللہ احرار کے مشترکہ دوست تھے وہ تشریف لائے اور مجھے کچہری بازار کے ایک ہوٹل میں بلوایا کہ مجھے آپ سے ضروری باتیں کرنی ہیں ۔ میں ان کے دھوکہ میں بھی نہ آیا اور ملنے سے انکار کر دیا ۔ اسی وقت اطلاع ملی کہ اے ایس پی نے ہمارے گرفتار شدہ رضا کاروں کو جیل کے دروازے پر ڈنڈوں اور بیدوں سے پٹوایا ہے۔ ہم نے اگلے روز پھر جلسہ کیا اور ڈی سی ، ایس پی سے مطالبہ کیا کہ اے ایس پی کو یہاں سے چلتا کیا جائے ۔ ڈیوٹی سے ہٹایا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا اور کچھ ہو گیا تو ہماری ذمہ داری نہ ہوگی ۔ اسی رات کو ہی پولیس نے چنیوٹ بازار میں گولی چلا کر کئی مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا تھا۔ جب میں ان کے چکر میں نہ آیا تو انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کے لئے مسجد میں بوٹوں سمیت پولیس کو داخل ہونے کا حکم دینے کا فیصلہ کیا ۔ ۱۷، ۱۸، ۱۹ / مارچ پورے تین روز بغیر کسی وقفہ کے شہر میں کرفیو نافذ رہا۔ پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی ۔ کرفیو کے دوران مجھے ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ میں ۲۰ / مارچ کو رات ایک بجے چک نمبر ۲۷ نزد گلبرگ سے گرفتار ہوا۔ راجہ نادر خان میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ہمراہ شامل تھے۔

صفحہ ۳۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمہ کی روئیداد (شاہی قلعہ لاہور اور مولانا تاج محمود)

۲۰؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو گرفتاری عمل میں آئی۔ جون ۱۹۵۴ء میں تقریباً سوا سال بعد رہا ہوا۔ گرفتار کرنے کے بعد پہلی رات مجھے لائل پور کی حوالات میں رکھا گیا۔ دوسری رات ۳؍ بجے صبح لائل پور سے لاہور شاہی قلعہ میں منتقل کیا گیا۔ یہاں پر تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کا مقصد یہ تھا کہ حکومت جاننا چاہتی تھی کہ اس تحریک کے مقاصد کیا ہیں۔ اس تحریک میں کسی بیرونی ملک یا طاقت کا ہاتھ ہے۔ یہ تحریک ملک کے خلاف قومی سازش ہے یا وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ قادیانیوں کی وہ کون سی چیزیں ہیں جن کا اتنا شدید ردعمل ہوا۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ تمام جیل خانے بھر گئے۔ بڑی بڑی جیلوں میں کیمپ لگانے پڑے۔ مختلف لوگوں کو مختلف المیعاد سزائیں دی گئیں۔ سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رکھا گیا۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟

مجھے پہلی دفعہ قلعہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں ان کی تفتیش کی تکنیک سے ناواقف تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں تاریک تہہ خانوں میں رکھیں گے۔ ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑیں گے۔ جب بھی قلعہ کا ذکر آتا ہے اس وقت ظلم و تشدد کی داستانیں ذہن میں ابھرتی ہیں۔ اس کے برعکس صاف ستھری بارکوں میں رکھا گیا۔ سلاخ دار دروازے تھے۔ پانی، بجلی موسم کے مطابق کمبل وغیرہ ہر چیز مہیا تھی۔ ایک ماہ میں میری معلومات کے مطابق تحریک کے کارکنوں کو ذہنی کرب اور فکری کوفت و پریشانی میں اس طرح مبتلا کیا گیا کہ اس ذہنی تکلیف کے سامنے بیسیوں قسم کے تشدد کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔

مثلاً مجھے پہلے دن بارک نمبر ۱۰ میں فردوس شاہ ڈی.ایس.پی کے قاتل اشرف کاکا کے ساتھ رکھا گیا۔ اشرف کاکا کے متعلق مشہور تھا کہ اس نے فردوس شاہ ڈی.ایس.پی کو قتل کیا ہے۔ فردوس شاہ کے ریوالور کی برآمدگی ڈالی گئی۔ چونکہ یہ نوجوان کئی دنوں سے قلعہ کی اس کوٹھڑی میں تنہا بند تھا۔ دماغی لحاظ سے ماؤف سا دکھائی دیتا تھا۔ مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ قتل کا مجرم ہے اور لائل پور میں جولوگ پولیس کی گولی سے جاں بحق ہوئے ان کے قتل کے جرم کی پاداش میں آپ پر بھی ۳۰۲ کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نوگرفتار قفس ہو اسے ذہنی طور پر اذیت پہنچانے کے لئے یہ بات کافی تھی۔

تھا۔ آپ نے ان کو کیا ہدایات دیں؟

سربراہ کی حیثیت سے ان کا رخ کراچی کی طرف کیوں موڑ دیا تھا۔

صفحہ ۳۵۱

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

غرضیکہ اس طرح کے بے سروپا جھوٹ وافتراء پر مبنی الزامات کی ایک طویل فہرست مجھے پڑھ کر سنادی گئی۔ جن کو سن کر میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ ہم جناب رسول مقبول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے جانوں پر کھیل رہے ہیں اور یہ ہم پر کس طرح کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ صبح کے وقت یہ کارروائی ہوئی۔ انسپکٹر پولیس جو میری تفتیش پر مامور تھا جس کا نام دماغ سے نکل گیا ہے اس نے یہ الزامات عائد کر کے مجھے کہا کہ آپ ان سوالات کے جواب تیار رکھیں۔ شام پانچ بجے ملاقات ہو گی۔

یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ پورے آٹھ روز تک نہ آیا۔ میں مسلسل ان الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کرنے اور اصل صورتحال بتانے کی تیاری کرتا۔ لیکن رات کو نیند تک نہ آتی۔ غنودگی کبھی طاری ہو جاتی۔ یاد الٰہی کی جو کیفیت اور تجلیات و برکات قلعہ کے ایام اسیری میں محسوس کی پھر وہ عمر بھر نصیب نہ ہوسکی۔ جب آٹھویں دن صبح کو اٹھا تو میرا دل و دماغ نئی سلیٹ کی طرح صاف تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں کچھ نہ سوچوں گا۔ موقعہ پر جو سوالات کریں گے صحیح صحیح جوابات دے دوں گا۔

ابھی یہ فیصلہ ہی کیا تھا کہ انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور معذرت کرنے لگے کہ میں کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں تمہارے ہتھکنڈوں سے ناواقف تھا۔ اس لئے ذہنی کوفت میں رہا۔ تشریف لائیے، پوچھئے میں بتائے دیتا ہوں۔ مجھے حوالات سے نکال کر بارک میں لے گئے۔ ہتھکڑی بھی نہیں لگائی۔ پھل کے خالی کریٹ کو اوندھا کر کے مجھے اس پر بٹھا دیا گیا۔ ان سوالوں کا جواب صحیح صحیح دینا ہے۔ کوئی غلط جواب نہ دیں۔ ورنہ یہ یاد رکھیں کہ یہ شاہی قلعہ ہے۔ یہاں سے آپ کی چیخ و پکار بھی باہر نہیں جاسکتی اور نہ ہی آپ کی مدد کو کوئی بلند و بالا دیواریں پھلانگ کر اندر آ سکتا ہے۔ یہ اس کے تمہیدی کلمات تھے۔

اب سوالات شروع ہوئے۔ میں مختلف جواب دیتا رہا۔ جب مالیات کے متعلق سوال کیا کہ کس کس شخص نے کیا کیا مدد کی۔ کل کتنا روپیہ تھا۔ کتنا کہاں صرف ہوا۔ باقی کہاں ہے۔ مجھے لائل پور میں معلوم ہو گیا تھا کہ جن مخیّر حضرات کی تحریک میں مالی معاونت کا حکومت کو علم ہو جاتا ہے اس کی شامت آجاتی ہے۔ اس لئے میں نے جان خطرے میں ڈال کر کہا کہ یہ شعبہ میرے پاس نہیں ہے۔ میری رہائش شہر سے میل ڈیڑھ میل باہر ہے۔ میں شہر کے لوگوں کو زیادہ جانتا بھی نہیں۔ اس نقطے پر مجھے بڑی کوفت ہوئی۔ بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر میں نے ثابت قدمی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ غرضیکہ پوری ہسٹری شیٹ تیار کی۔ صبح کے چھ بجے سے رات کے گیارہ بجے تک مختلف وقفوں سے یہ عمل جاری رہا۔ گیارہ بجے رات تھک چور ہو کر حوالات میں آ کر نماز پڑھی۔ نیند نے آ دبوچا۔ صبح فجر کی نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور بڑی معصومیت اور مصنوعی طور پر مایوسی کا اظہار کرتے اور چہرہ بناتے ہوئے کہا کہ میری اور آپ کی کل کی ساری محنت ضائع ہو گئی۔ وہ یہ کہ دستاویزات میرے سائیکل کے کیرئیر پر سے گھر جاتے ہوئے راستے میں گر گئیں۔ آئیے اور کل والا بیان پھر لکھوائیے تاکہ میں اوپر افسران کو بھیج سکوں۔ میں پھر کل والی بارک میں پہنچایا گیا۔ وہیں دوبارہ پھر سارا بیان لکھوایا۔ بعض مقامات ایسے تھے جہاں میں نے معلومات بہم پہنچاتے ہوئے احتیاط سے کام لیا تھا۔ آج بعض اور مقامات پر احتیاط کی گئی۔ کل والی احتیاط کا خیال دماغ میں نہ رہا۔ رات گیارہ بجے پھر فراغت ہوئی اور مجھے میری حوالات میں پہنچا دیا گیا۔ ضروریات وفرائض سے فارغ ہوا گہری نیند کل کی طرح سو گیا۔ تیسرے روز ابھی نماز صبح سے فارغ ہوا ہی تھا کہ پھر انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور کہا کہ ستم ہو گیا۔ وہ آپ کا پرسوں کا بیان میری میز کی دراز میں رہ گیا تھا۔ وہ بھی مل گیا۔ لیکن اب جو میں نے آپ کے دونوں بیانات کو پڑھا ہے تو ان میں تضاد واختلاف ہے۔ چنانچہ ان تضادات کو رفع کریں۔ مثلاً میں نے پہلے بیان میں کہا کہ میں نے شاہ جی سے متاثر ہو کر ۱۹۳۲ء میں احرار میں شمولیت اختیار کی۔ دوسرے

صفحہ ۳۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیان میں میں نے ۴۷، ۱۹۴۸ء بتایا۔ اب اس نے کہا کہ ان میں سے کون سی بات صحیح ہے۔ میں نے کہا کہ رسمی طور پر تو ۱۹۴۲ء سے شامل تھا۔ باضابطہ طور پر ۴۷، ۱۹۴۸ء میں شامل ہوا۔ غرضیکہ مسلسل اس قسم کی پورا دن کھینچا تانی جاری رہی۔ چوتھے روز اصغر خان ڈی آئی جی قلعہ نے وہ زبان استعمال کی، دلخراش خرافات کا ریکارڈ توڑ دیا۔ مسلسل ہتھکڑی لگا کر صبح ۶ بجے سے رات ۱۱ بجے تک کھڑا رکھا گیا۔ کمر کا درد ہمیشہ کا ساتھی بن گیا۔ قلعہ کے دن بڑے سخت تھے۔ اشرف کا کا کو وعدہ معاف گواہ بنا کر مولانا عبدالستار خان نیازی کو فردوس شاہ کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مگر وہ انکاری رہا۔ اشرف کا کا بڑا بہادر انسان تھا۔ تین سال جیل کاٹ کر ملتان سے رہا ہو کر میرے پاس آیا۔ بعد میں پھر ملاقات نہ ہوسکی۔ نہ معلوم ہوا کہ اب وہ زندہ ہے یا انتقال کر گیا۔ جس حالت میں ہے اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے۔

شاہی قلعہ کے بعد دس دن ٹبی کی حوالات میں گزارے یہ دن میرے لئے پہلے سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ تھے۔ کیونکہ حوالات سماج دشمن عناصر سے بھری پڑی تھی۔ پھر چند دن کے لئے لاہور سنٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ یہاں سے بالآخر کیمبل پور (اٹک) جیل بھیج دیا گیا۔ بقیہ ایام اسیری یہاں گزارے۔ قلعہ اور اٹک جیل میں مزید سیاسی رہنماؤں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا عبدالستار خان نیازی ،مولانا عبدالواحد گوجرانوالہ، چوہدری ثناءاللہ بھٹہ ، حکیم حافظ عبدالمجید نابینا آغا شورش کاشمیری کا ساتھ رہا۔ میرے پیچھے میرے گھرانے پر جو صعوبتیں آئیں وہ بڑی دلخراش کہانی ہے۔ بقول غالب ؎

ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
جس کی بہار یہ ہو اس کی خزاں نہ پوچھ

گھر کا سارا سامان حکومت ضبط کر کے لے گئی۔ چند چیزیں مال خانہ میں جمع کرا کر باقی سامان پولیس نے مال غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لیا۔ ریلوے والوں نے تنخواہ بند کر دی۔ شہر والے سمجھتے رہے کہ مولانا ریلوے کے بادشاہ ہیں اور ریلوے والے سمجھتے رہے کہ مولانا شہر کے بادشاہ ہیں۔ بچوں کو خاصی پریشانی رہی۔ بہر حال جیسے کیسے وقت گزر گیا۔

بلبل کے کاروبار پر ہے خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

رہائی کے بعد ریلوے والے گزشتہ ایام کی پوری تنخواہ لائے ۔ میں نے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ میری عدم موجودگی میں میرے بچوں کو رقم کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس وقت تو آپ نے دی نہ، اب تو میں آگیا ہوں۔ میری عدم موجودگی میں جس ذات باری تعالیٰ نے انتظام کیا وہ اب میری موجودگی میں بھی اس کا اہتمام کرے گی۔ وہ دن جائے آج کا دن آئے پھر کبھی ریلوے والوں سے مسجد کی خطابت کی تنخواہ نہ لی۔

تحریک ختم نبوت کے بارے میں حکومت کا رویہ

حکومت انفرادی ملاقاتوں میں تسلیم کرتی تھی کہ ہمارا مؤقف درست ہے۔ لیکن پبلک کے سامنے انکار کرتی تھی۔ اصل میں بدقسمتی یہ تھی کہ مرکز میں خواجہ ناظم الدین برسر اقتدار تھے۔ ملک کا دستور زیر ترتیب تھا۔ دستور میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ صوبہ سرحد،

صفحہ ۳۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پنجاب، سندھ، بلوچستان اور مشرقی بنگال اس لحاظ سے بنگال کا حصہ پانچویں بھائی کا بنتا تھا اور مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کی آبادی کچھ زیادہ تھی۔ اس لئے دوسرا موقف یہ تھا کہ ملک کے سیاسی و معاشی آدھے حقوق مغربی پاکستان کے ہیں اور آدھے مشرقی پاکستان کے۔ یہ تمام بحثیں بنگال و پنجاب راہنماؤں کے درمیان تلخیاں پیدا کر رہی تھیں۔ خواجہ ناظم الدین کو بنگال کا نمائندہ سمجھا جارہا تھا اور دولتانہ کو پنجابیوں کا لیڈر گردانا جارہا تھا۔ یہ بحثیں ابھی جاری تھیں کہ تحریک ختم نبوت ملک میں زور پکڑ گئی۔ مرزا بشیر الدین ان دنوں سخت اشتعال انگیز بیان دے رہا تھا۔ اس کا یہ اعلان بھی شامل تھا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ دشمن ہمارے پاؤں پر گرنے پر مجبور ہو جائے اور پھر یہ بیان کہ وہ وقت آنے والا ہے جب اقتدار ہمارے پاس ہوگا اور ہم دشمنوں کے ساتھ چوڑھے چماروں کا سا سلوک کریں گے۔

مرزا محمود کے ان بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ملک میں تحریک بھڑک اٹھی۔ جب گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مرکزی حکومت کے راہنماؤں خصوصاً بنگالی قائدین نے اس تحریک کو دولتانہ کی تحریک کا نام دیا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے علماء کو اکسا کر کراچی بھیج رہے ہیں اور پورے ملک کے امن کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے۔ حالانکہ خود دولتانہ تحریک ختم نبوت کے راہنماؤں کے مقابلہ میں تحریک کی مخالفت کے لئے جگہ جگہ دورے کر رہے تھے۔ کئی جگہ ان کے جلسے بدامنی کا شکار ہوگئے۔ کئی جلسوں میں ان پر سوالات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ ان کے لئے جان چھڑانا مشکل ہوگیا۔ وہ خود مشکل میں پھنسے ہوئے تھے۔ پنجاب مسلم لیگ تحریک کی دشمن تھی۔ اس لئے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ تحریک کے معمولی راہنماؤں کے جلسے میں لاکھوں افراد پہنچ جاتے تھے اور اس کے برعکس لیگ یا دولتانہ کا جلسہ ہوتا تو چند گنے چنے مسلم لیگی، ڈیوٹی والے پولیس کے ٹاؤٹ اور سادہ کپڑوں میں پولیس کے لوگ ہوتے۔ اس کیفیت سے مسلم لیگ خائف تھی کہ اگر تحریک کو کچلا نہ گیا تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ، مجلس احرار کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا جائے گی۔ لیکن دوسری طرف ناظم الدین اور اس کے ساتھی پنجاب کی ساری صورتحال کی ذمہ داری مسلم لیگ پر ڈالتے رہے اور جو کچھ وہ تحریک کے خلاف کر رہے تھے اس کو دولتانہ کی مکاری و عیاری سمجھتے رہے۔ یہ بات کہ ختم نبوت کی تحریک کے لیڈروں نے دولتانہ صاحب کے اشارے پر ناظم الدین کو گرانے کے لئے یہ تحریک شروع کی تھی۔ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے اور اس پر مزید یہ کہ ناظم الدین اور اس کی مرکزی حکومت کے علاوہ منیر انکوائری کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کے موقف کو تسلیم کیا۔ تحریک اور تحریک کے راہنماؤں کو بدنام کرنے اور ان کی کردار کشی کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ جس کا فائدہ مرزائیوں یعنی فریقین کے دشمنوں کو پہنچا۔ منیر نے اپنی رپورٹ میں علماء کی کردار کشی کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کے علماء اسلام مسلمان کی متفقہ تعریف نہیں کر سکے۔ یہ لکھ کر دنیائے عیسائیت کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف ایک بڑا دستاویزی ثبوت مہیا کر دیا۔ حالانکہ یہ تحریک علماء اور مسلمانوں کے اپنے نیک جذبات اور اخلاص پر مبنی تھی اور اس کا باعث مرزا بشیر الدین کے اشتعال انگیز بیانات اور مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیاں تھیں۔

مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی سیاست کا اس میں دخل نہ تھا۔ نہ بنگالی پنجابی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کہا جارہا تھا۔ دولتانہ کو جو وفود ملتے رہے اس میں ان کے ان الفاظ کو اس جھوٹ کے پلندے کی بنیاد بنایا گیا۔ دولتانہ کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے چار مطالبات ہیں۔

صفحہ ۳۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جہاں تک پہلے تینوں مطالبات کا تعلق ہے وہ مرکزی اسمبلی سے متعلق ہیں جس کے ہم بھی ممبر ہیں۔ ان مطالبات کو آپ وہاں پیش کرائیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مطالبات کی تائید میں ووٹ دیں گے۔ البتہ آپ کا یہ مطالبہ کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یہ پنجاب حکومت سے متعلق ہے۔ اس پر میری حکومت غور کرنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ مجلس عمل کے وفد اور دولتانہ کی گفتگو کو سازش کا نام دیا گیا اور اس جھوٹ کی بنیاد پر تمام جھوٹ کی عمارت کھڑی کی گئی۔ چنانچہ اس کے بعد مجلس عمل کا اجلاس کراچی میں ہوا۔ خواجہ ناظم الدین سے وفود کی ملاقات ہوئی اور ان سے صاف کہا گیا کہ ہمارے تین مطالبات کا تعلق آپ کی وزارت کابینہ اور قومی اسمبلی سے ہے۔ آپ ہمارے مطالبات تسلیم کریں اور قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کریں۔

لطف کی بات یہ ہے کہ مجلس عمل کے وفود کئی بار خواجہ ناظم الدین سے ملتے رہے اور ملاقاتوں میں خواجہ ناظم الدین نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کے دوسرے دلائل دیئے۔ حالانکہ اس کے دل میں شبہ یہ تھا کہ یہ وفود دولتانہ منظم کر کے بھیج رہا ہے۔ آخری مرتبہ جب مجلس عمل کا وفد مشرقی پاکستان کے پیر سرسینہ شریف کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔ بحث مباحثہ کے بعد وفد نے ایک ماہ کا تحریری الٹی میٹم دیا۔ اس پر ناظم الدین نے پیر سرسینہ شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :’’پیر صاحب یہ مطالبات ماننا میرے بس میں نہیں ہے۔ اگر میں ظفر اللہ خان مرتد قادیانی کو وزارت سے نکال دوں تو امریکہ پاکستان کو ایک دانہ گندم کا بھی نہیں دے گا۔‘‘ پھر اسی گفتگو کو ناظم الدین نے منیر انکوائری کمیشن میں بھی دہرایا۔ یہ جملہ منیر انکوائری رپورٹ میں موجود ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین ، دولتانہ اور مسلم لیگی لیڈروں کے انجام کو دیکھنے کے بعد بھی کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ تحریک خواجہ ناظم الدین کو پریشان کرنے کے لئے دولتانہ کے ایماء پر چلائی گئی تھی۔ ہم اس کی تردید میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنة الله علی الکاذبین!

نیک سیرت

تحریک کے زمانہ میں کوہ مری میں حکومت کا اجلاس تھا۔ بعض بدبخت مسلم لیگی راہنماء، وزراء، تحریک کے راہنماؤں کو قتل کرنے کے فیصلے کر رہے تھے اور رب العزت کی شان بے نیازی کہ وہاں ایک نیک سیرت کمشنر صاحب ای۔ یوخان بھی تھے جنہوں نے اس تجویز کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس کے نقصانات گنوا کر مسلم لیگی وزیروں کو قائل کیا کہ اس اقدام کے بعد آپ بھی نہ بچ سکیں گے۔ اس روایت کے راوی مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جنہوں نے تحریک کی کسی بھی درجہ میں حمایت کی، جزائے خیر دیں۔ جو مخالف تھے ان کا کیا انجام ہوا۔ یہ بڑی عجیب وغریب داستان ہے۔

(تحریک کے مخالفین کا انجام اسی کتاب میں آگے دوسری کسی جگہ آپ مولانا کی زبانی ملاحظہ فرمائیں گے۔ مرتب)

میانوالی کی رپورٹ

مولانا محمد عبداللہ مہتمم دارالہدیٰ بھکر فرماتے ہیں:

صفحہ 355

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۴۹ء کی بات ہے۔ راقم السطور نے مدرسہ تبلیغ الاسلام میانوالی میں داخلہ لیا۔ یہ مدرسہ اس وقت سنیارانوالی مسجد میں تھا۔ یہ چھوٹی سی مسجد شہر کے ایک کونے میں ہے۔ صوفی شیر محمد صاحب مرحوم اور ان کے بھائیوں نے جب یہاں جگہ خرید کر ذاتی مکانات تعمیر کئے تو ساتھ ہی چند مرلے مسجد کے لئے مختص کر دیئے اور اس میں مسجد تعمیر کر کے اس کے ساتھ دو حجرے بنا دیئے۔ مولانا گل شیر شہید سے صوفی صاحب کے دوستانہ مراسم ہو گئے اور مولانا مرحوم نے میانوالی کے دورے میں ان کے ہاں قیام شروع فرمایا تو مسجد کا چھوٹا حجرہ مولانا مرحوم کی قیام گاہ بنا۔ اس حجرے کے قفل کی ایک کنجی مولانا کے پاس ہوتی تھی۔ جب بھی وقت بے وقت تشریف لاتے بے تکلف حجرہ کھول کر اس میں قیام فرماتے۔ یہ حجرہ ان دنوں مولانا گل شیر والا حجرہ کہلاتا تھا۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی تقسیم سے پہلے اور قطب الارشاد مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری تقسیم کے بعد میانوالی تشریف لائے تو صوفی شیر محمد صاحب کے مکان میں قیام فرمایا جو اس مسجد سے ملحق ہے اور اسی مسجد میں نمازیں پڑھیں۔ حضرت رائے پوری کچھ دیر مولانا گل شیر والے حجرے میں بھی تشریف فرما ہوئے۔ حضرت امیر شریعت، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور مجلس احرار کے تمام راہنماء اسی مسجد میں ٹھہرا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ شرف حضرت صوفی شیر محمد صاحب ہی کو بخشا تھا کہ انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے علماء میانوالی میں انہی کے مہمان ہوا کرتے تھے۔ حضرت صوفی صاحب کا پیشہ زرگری تھا۔ یہی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں سنیار کہا جاتا ہے اور ان کی مسجد بھی سنیارانوالی مسجد مشہور ہوئی۔ ہمارے داخلے کے وقت مدرسہ تبلیغ الاسلام کی عمر کوئی تین ہی سال تھی۔ یہ مدرسہ حضرت صوفی صاحب کے بھتیجے حضرت مولانا محمد رمضان صاحب مدظلہ نے دار العلوم دیو بند سے سند فضیلت حاصل کرنے کے بعد ہی قائم کیا تھا۔ مسجد کا بڑا حجرہ ہماری قیام گاہ تھا اور چھوٹا درس گاہ۔ میانوالی آئے مجھے چند ہی دن گزرے تھے کہ یہاں کے ڈپٹی کمشنر کے متعلق اطلاع ملی کہ وہ مرزائی ہے۔ اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مرزائیوں کو اکٹھا کر کے نماز جمعہ پڑھا کرتا ہے۔ اس کے ایماء پر مرزائیوں نے مسلمانوں کو الاٹمنٹوں اور دوسرے دنیوی منافع کا لالچ دے کر مرزائی بنانے کی مہم چلا رکھی ہے۔ کبھی ایسی خبر مل جاتی کہ آج فلاں مرزائی اپنی دوکان پر اپنا مذہبی لٹریچر تقسیم کر رہا تھا۔ یہ ڈپٹی کمشنر مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا ایم. ایم. احمد تھا۔ اس کی سرگرمیوں کا تذکرہ نجی مجالس میں ہوتا۔ لوگ تشویش کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن اس زمانے میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے کا بہت رعب تھا۔ اس کے خلاف میدان میں آنا بڑے دل گردہ کی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ہمارے استاذ مولانا محمد رمضان صاحب کو بخشی کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنی جمعہ کی تقریروں میں اس کی اشاعت ارتداد کی کارروائیوں کو نشانہ بنایا۔ آپ کی تقریروں نے مسلمانوں میں ہلچل پیدا کر دی۔ اسی دوران حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب میانوی مرحوم تشکیل جماعت کے لئے تشریف لے آئے۔ پرانے ساتھی اکٹھے ہوئے۔ مولانا میانوی مرحوم نے ان کے سامنے مرزائیوں کی ملک گیر اسلام دشمن سرگرمیاں اور ان کے متعلق اکابر احرار کا پروگرام بیان فرمایا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل ہوئی۔ حضرت الاستاذ مولانا محمد رمضان صاحب کو صدر اور مجلس احرار کے سابق جنرل سیکرٹری غلام رسول صاحب کو ناظم منتخب کیا گیا۔ مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والے حضرات نے شہر کے وسط میں نئی مسجد تعمیر کی تھی۔ اس مسجد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جلسے کا اعلان کر دیا گیا۔ میانوالی میں اس مبارک موضوع پر یہ پہلا جلسہ تھا۔ جلسہ بھر پور ہوا۔ حضرت مولانا میانوی صاحب نے پرجوش تقریر فرمائی۔ ایم. ایم. احمد کو للکارا۔ اس کے دادا کی جھوٹی نبوت کے تار و پود بکھیرے اور اعلان کیا کہ ضلع میانوالی کی اس بڑی پوسٹ کو مرزائیت کے حق میں استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس جلسے کے نتیجے میں ایم. ایم. احمد کا رعب ہوا ہو گیا۔ اس کی شخصیت ہر جگہ موضوع

صفحہ ۳۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بحث بن گئی اور ہر گلی کوچے میں اس کے خلاف نفرت کا اظہار ہونے لگا۔

اس مسجد کی انتظامیہ نے پھر چند دن بعد معراج کے جلسے میں مولانا میانوی صاحب کو بلالیا۔ مولانا نے اپنی تقریر میں پھر ڈپٹی کمشنر پر تنقید کی۔ اس کے کچھ دن بعد حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی مدظلہ ہمارے استاد صاحب کی دعوت پر تشریف لائے۔ آپ نے شہر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کو اکٹھا کیا اور ان سے مرزائیوں کے خلاف متحد ہو کر کام کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر اتحاد کی تو کوئی شکل نہ بن سکی، لیکن اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ ایم۔ایم۔احمد کا میانوالی سے تبادلہ ہو گیا۔ اس وقت میانوالی شہر میں مرزائیوں کے صرف تین گھر تھے۔ یہ لوگ کسی سہارے کے بغیر کوئی مذہبی کام نہیں کر سکتے تھے۔ ڈپٹی کمشنر سے بڑا ان کے لئے کون سہارا ہو سکتا تھا؟ ایم۔ایم۔احمد کے تبادلے کے بعد یہ لوگ سہم گئے۔ ادھر ہمارا کام بتدریج بڑھ رہا تھا۔ شہر کے کچھ علماء نے تحریک کی کہ ایک بڑی کانفرنس رکھی جائے۔ دو روزہ کانفرنس رکھ دی گئی۔ یہ کانفرنس میانوالی کی عید گاہ میں ہوئی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی اور کچھ دوسرے علماء تشریف لائے۔ کانفرنس میں عوام کی حاضری بے پناہ تھی۔ اس کانفرنس سے پورے ضلع میں پیغام پہنچا اور لوگوں کو پتہ چلا کہ مرزائیت اسلام سے الگ فرقہ ہے۔ جو لوگ کانفرنس کے اصل محرک تھے، کانفرنس کے بعد وہ ہمارے کام میں شریک نہیں ہوئے۔ ہمارے استاد مولانا محمد رمضان صاحب چند پرانے ساتھیوں اور ہم طالب علموں کو ساتھ لے کر کام کرتے رہے۔ بعض ساتھی اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے آگے نہ چل سکے۔ مجلس احرار اسلام کا ترجمان سہ روزہ آزاد لاہور سے شائع ہوتا تھا۔ اس میں جماعت کی کارروائیاں چھپا کرتی تھیں۔ یہ اخبار نصب العین سے متعلق پورے ملک کے حالات بتاتا تھا۔ مرکز اور ذیلی جماعتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھا۔ جماعت کی طرف سے کبھی اعلان ہوتا کہ فلاں جمعہ کو یوم مطالبات منایا جائے۔ ہم قراردادیں لکھتے اور شہر کے تمام خطیبوں کو پہنچاتے۔ اکثر خطیب حضرات قرارداد جمعہ کے اجتماع میں پاس کرایا کرتے تھے اور بعض حکومت کی خوشنودی کے منافی سمجھ کر چپ سادھ لیتے۔ ایک دفعہ ہم نے سوچا کہ کام کو وسعت دی جائے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس میں شریک کیا جائے۔ ۱۰/اگست ۱۹۵۱ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس رکھا اور ایک کاغذ پر پرانے ساتھیوں کے ساتھ چند نئے نام لکھ کر میں اور صوفی فضل احمد مرحوم بازار میں چل پڑے۔ ناموں کے مطابق دعوت دیتے رہے۔ کہیں کوئی متشرع آدمی دوکان میں نظر آیا تو اس کا نام کسی سے پوچھ کر لکھ لیا اور دعوت دے دی۔ صوفی محمد ایاز خان صاحب کی بھی کپڑے کی دوکان تھی۔ ایک دفعہ کسی طالب علم کو داخل کرانے کے لئے ہمارے مدرسہ میں تشریف لائے تھے۔ وہاں انہیں دیکھا تھا۔ لیکن زیادہ شناسائی نہ تھی۔ دوکان کے سامنے بیٹھے درزی سے نام پوچھا اور کاغذ میں لکھ لیا اور اندر جا کر انہیں دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری محنت میں برکت عطاء فرمائی۔ نئے اور نمایاں لوگ کافی تعداد میں آئے۔

اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔ حضرت صوفی عبدالرحیم صاحب موسیٰ خیل کے آپ ہمارے تقریباً تمام اجلاسوں میں موسیٰ خیل سے تشریف لایا کرتے تھے۔ آپ کی رائے وزنی اور آپ کی موجودگی ہمارے لئے حوصلہ افزائی کا موجب ہوا کرتی تھی۔ آپ ہمیشہ مجلس احرار کے ضلعی صدر رہے۔ ان کی تجویز سے مجلس تحفظ ختم نبوت کا صدر صوفی محمد ایاز خان صاحب کو بنایا گیا۔ نائب صدر مولانا محمد رمضان صاحب، خازن شہباز خان منتخب ہوئے۔ نظامت کی ذمہ داری میرے سپرد کی گئی۔ میری عمر اس وقت سولہ سال سے کچھ اوپر تھی۔ شرح وقایہ وغیرہ کے اسباق تھے۔ اس ذمہ داری کی نہ اہلیت تھی نہ فرصت۔ بڑوں کا حسن ظن تھا۔ حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا۔ صوفی محمد ایاز خان ہمارے لئے بالکل نئے تھے۔ بوری خیل کے پٹھان ہیں۔ پہلے سکول ٹیچر رہے۔ ان دنوں میانوالی میں کپڑے کی دوکان کر رکھی تھی۔ اجلاس کے بعد

صفحہ ۳۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہوں نے پچھلا ریکارڈ دیکھا ۔ اسی پہلی نشست میں ساتھیوں سے گھل مل گئے ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہمارے پرانے ساتھی ہوں ۔ اس سے پہلے ہمارے تمام اجلاس اپنی مسجد میں ہوا کرتے تھے ۔ اب صوفی محمد ایاز خان کی تجویز سے دوسری مساجد میں بھی اجلاس شروع کر دیئے ۔ اس سے کام زیادہ متعارف ہوا اور نئے نئے لوگ کام میں دلچسپی لینے لگے ۔ اب تک ہمارے عام جلسے بھی مسجدوں میں ہوا کرتے تھے ۔ اب ہم نے کمیٹی پارک کا رخ کیا اور ۲۷؍اگست ۱۹۵۱ء کے لئے حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی کو مدعو کیا ۔ یہ جلسہ ہم نے کمیٹی پارک میں کیا ۔ حضرت مولانا مرحوم نے مفصل اور مدلل تقریر فرمائی ۔ پھر اس پارک میں ۹؍اکتوبر کو دفاع کانفرنس ہوئی ۔ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالرحیم اشعر نے خطاب کیا ۔ حضرت امیر شریعت کی تقریر نے ہمارے کام کو زیادہ تازگی اور توانائی بخشی ۔ کارکنوں کو حوصلہ ملا اور ہمارے کام ضلع کے اہم قصبات میں بھی ہونے لگے ۔

۱۷، ۱۸؍مئی ۱۹۵۲ء کو جہانگیر پارک کراچی میں مرزائیوں نے جلسہ کیا ۔ ۱۸؍مئی کو پاکستان کے مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ نے اس جلسے میں تقریر کی ۔ کراچی کے مسلمانوں نے جلسے کے خلاف احتجاج کیا ۔ پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے ۔ لاٹھی چارج ہوا ۔ بے تحاشہ گرفتاریاں ہوئیں ۔ اس واقعہ سے پورے ملک میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔ پھر کراچی کے چیف کمشنر این۔اے فاروقی نے مرزائیوں کی حمایت میں بیان دے کر جلتی پر تیل چھڑک دیا ۔ سارے ملک میں اس کا شدید ردعمل ہوا ۔ ۲۳؍مئی کو میانوالی میں بھی احتجاجی جلسہ ہوا ۔ صوفی محمد ایاز خان صاحب اور مولانا محمد رمضان صاحب نے تقریریں کیں ۔ ۳۰؍مئی کو جمعہ تھا ۔ میانوالی کی تمام مساجد میں قراردادیں پاس ہوئیں ۔ جن میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات تھے اور کراچی انتظامیہ کی مذمت تھی ۔ یہ قراردادیں تار کے ذریعہ حکمرانوں کو بھیجی گئیں ۔ رمضان شریف شروع ہو چکا تھا ۔ مجلس احرار کی طرف سے اعلان ہوا کہ ۲۰؍جون ۱۹۵۲ء جمعتہ الوداع کو یوم احتجاج منایا جائے ۔ یہ ۱۳۷۱ھ کا رمضان تھا ۔ میانوالی میں بھی یوم احتجاج کا پروگرام بنایا گیا ۔ طے ہوا کہ تمام مساجد میں قراردادیں پاس کی جائیں اور خطیب علماء اسی موضوع پر جمعہ کی تقریر کریں ۔ ڈپٹی کمشنر نے ایک ہفتہ کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی ۔ تمام جامع مساجد میں حکم نامہ بھیج دیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کوئی خطیب قرارداد نہ پاس کرائے اور نہ ہی ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر کوئی تقریر ہو ۔ سب خطیبوں نے حکم کی تعمیل کی ۔ صرف مولانا محمد رمضان صاحب اور مولانا علی محمد صاحب خطیب قصاباں وانڈی گھنڈوالی نے قرارداد پاس کرائی ۔ حکومت کی مرزائیت نوازی کی مذمت کی اور ڈی سی کے اس حکم نامہ کو مداخلت فی الدین قرار دیا ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دفعہ ۱۴۴ مسجد کے اندر لگائی گئی ۔ انگریزوں کو یہ جرأت نہ تھی لیکن پاکستان گورنمنٹ کی دفعہ ۱۴۴ بقول ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کلمہ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوگئی ۔ ضلعی انتظامیہ نے ان دونوں حضرات کو گرفتار کرنے کی بجائے مرکزی حکومت کی پالیسی کے مطابق اس مسئلے کو احرار مرزائی نزاع مشہور کرنے کی کوشش کی ۔ حکومت چاہتی تھی کہ اس مسئلے کو احرار اور مرزائیوں کا باہمی جھگڑا قرار دے کر مجلس احرار کو عوام سے الگ تھلگ کر دیا جائے ۔ عید کا دن آیا تو ڈپٹی کمشنر نے عید گاہ میں احرار کے خلاف تقریر جھاڑ دی اور یہاں تک کہہ دیا کہ : ’’ جس طرح سنی ، شیعہ اور دیوبندی ، بریلوی مسلمان فرقے ہیں اسی طرح احمدی بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں ۔ احمدیوں کو کافر نہ کہنا چاہئے کیونکہ اس سے تفرقہ بازی ہوتی ہے ۔‘‘

ایک طرف یہ پراپیگنڈا تیز کیا کہ یہ احراریوں اور مرزائیوں کا جھگڑا ہے اور دوسری طرف جمعتہ الوداع کو سرکاری حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والے دو خطیبوں میں سے مولانا محمد رمضان صاحب کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے تاکہ ان کی گرفتاری سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ یہ صرف احرار کا معاملہ ہے ۔ حضرت مولانا صاحب نے جلدی سے مختلف مکاتب فکر کے علماء کا اجلاس بلا لیا ۔ جس

صفحہ ۳۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں ”ختم نبوت کمیٹی“ قائم کی گئی اور یہ طے پایا کہ ختم نبوت کے سلسلہ میں حکومت کی ہر پابندی کو توڑا جائے گا۔ اس سلسلہ میں پہلے قدم کے طور ۲۹؍ جون کو میلہ گراؤنڈ میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا گیا۔ جلسہ سے ایک دن پہلے مولانا محمد رمضان صاحب گرفتار ہو گئے اور ختم نبوت کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اس جلسے میں مولانا علی محمد صاحب مرحوم خطیب مسجد قصاباں اور مولانا علی محمد صاحب مہتمم مدرسۃ العلوم بلو خیل نے تقریریں کیں۔ جلسہ کے اختتام پر پولیس نے ان دونوں حضرات کو گرفتار کر لیا۔ عوام کا بہت ہجوم تھا۔ ان گرفتاریوں سے اشتعال پیدا ہوا۔ عوام پولیس سے الجھ پڑے۔ تصادم ہونے لگا۔ ذمہ دار حضرات کو تصادم روکنے کے لئے سامنے آنا پڑا اور پولیس نے سب کو نظر میں رکھ لیا اور وہ وقت گزار کر سب کو باری باری پکڑ لیا۔ صوفی شیر محمد صاحب، صوفی محمد ایاز خان صاحب، خانزمان خان وتہ خیل سب گرفتار ہو گئے۔ میں اس جلسے کے موقع پر نہیں تھا۔ اپنے گاؤں ڈھوک زمان میں سالانہ چھٹیاں گزار رہا تھا۔ صوفی شیر محمد صاحب کے بڑے فرزند حافظ بشیر احمد صاحب کا مجھے خط ملا کہ سب ساتھی گرفتار ہو چکے ہیں۔ تم جلدی پہنچو۔ ہمارا گاؤں میانوالی سے شمال مشرق میں تیس بتیس میل کے فاصلے پر ہے۔ ان دنوں صرف ایک بس صبح سویرے میانوالی کے لئے ملا کرتی تھی۔ شام کو خط ملا اور اگلی صبح ۲؍ جولائی کو میانوالی آ گیا۔ ہم نو عمر ساتھیوں کو جیل جانے کا بہت شوق تھا۔ لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر صوفی محمد ایاز خان اور حضرت الاستاذ مولانا محمد رمضان نے جیل سے حکم بھیج رکھا تھا کہ تم نے باہر رہ کر کام کرنا ہے۔ میرے ذمہ یہ کام تھا کہ میں مرکز سے رابطہ رکھوں اور تحریک کی رپورٹ مرکزی رہنماؤں اور اخبارات کو بھیجتا رہوں۔ ۲؍ جولائی کو میں میانوالی پہنچا ہی تھا کہ کسی آدمی نے ایک بڑے جلوس کی اطلاع دی۔ کچھ دیر بعد یہ تفصیل معلوم ہوئی کہ مشہور گاؤں روکھڑی سے جلوس آیا ہے۔ بازار سے ہو کر ضلع کچہری پہنچا۔ پولیس افسران نے جلوس کے قائد علی خان صاحب سے کہا کہ یہ تو احرار اور مرزائیوں کا جھگڑا ہے۔ تم کیوں پھنسنا چاہتے ہو۔ علی خان صاحب نے کہا کہ تم غلط کہتے ہو۔ یہ تو ہم سب مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے۔ ہم اپنے عقیدے کی حفاظت کے لئے جانیں پیش کرنے آئے ہیں۔ پولیس افسر نے کہا کہ ہم احراری نہیں ہیں۔ لیکن ختم نبوت کے مسئلے میں احرار کے ساتھ ہیں۔ ایک پولیس افسر نے احرار رہنماؤں کے حق میں خلاف ادب الفاظ استعمال کئے تو علی خان صاحب بگڑ گئے اور انہیں فوراً حراست میں لے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے غلام خواجہ صاحب کی یہ موسیٰ خیل کے رہنے والے تھے۔ ایک غریب قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ ٹانگوں سے معذور تھے۔ لاٹھی کے سہارے لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ چلتے چلتے گر بھی جایا کرتے تھے۔ حضرت امیر شریعت اور مولانا گل شیر کے پروانے تھے۔ اکثر لال کرتہ پہنا کرتے تھے۔ یہ بھی کہیں سے آتے ہوئے جلوس میں شامل ہو گئے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پولیس صرف علی خان صاحب کو گرفتار کر کے باقی لوگوں کو واپس کرنا چاہتی ہے تو یہ لڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھے اور پولیس افسران سے کہا کہ میں احراری ہوں۔ انہوں نے ان کو بھی گرفتار کر لیا۔ اب جلوس کے ہر آدمی نے آگے بڑھ بڑھ کر کہنا شروع کیا کہ میں احراری ہوں۔ پولیس نے آٹھ نو آدمی گرفتار کئے۔ باقی لوگوں کو زبردستی واپس کر دیا اور یہ سارے لوگ پھر جلوس کی شکل میں بازاروں اور سڑکوں پر نعرے لگا لگا کر واپس روکھڑی چلے گئے۔ ایک ہفتے کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ ہو گئی تھی۔ اس کی میعاد ختم ہوئی تو ۳؍ جولائی کو پھر ایک مہینے کے لئے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کا اعلان ہو گیا۔ اسی دن میانوالی کے قریبی گاؤں دتہ خیل سے جلوس آیا۔ بازار سے ہوتا ہوا کچہری پہنچا۔ ڈی سی اور ایس۔ پی کے دفاتر کے سامنے نعرے لگاتا رہا۔ انتظامیہ نے کوئی تعرض نہ کیا اور جلوس واپس چلا گیا۔ تقریباً روزانہ یہی کیفیت تھی۔ جلوس آتے بازاروں اور کچہری میں پھر کر چلے جاتے کوئی گرفتاری نہیں ہوتی تھی۔

ہمارے رفقاء کار میں سے صوفی عبد الرحیم صاحب کے سوا کوئی ایسا ساتھی باہر نہیں تھا جو کہیں جا کر تقریر کر سکے۔ دیہات کے

صفحہ ۳۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دورے کرنے کے لئے سائیکل کے سوا کوئی سواری میسر نہ تھی۔ صوفی صاحب نے اپنی سائیکل لی اور دیہات کے دورے پر نکل گئے۔ میانوالی سے خان شہباز خان بھی اپنی سائیکل پر دیہات کو روانہ ہو گئے۔ شہباز خان کے والد حاجی عسیب خان مرحوم سائیکل چلانا نہیں جانتے تھے۔ وہ پیدل چل دیئے۔ ان تین حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کام کی بڑی توفیق بخشی۔ انہوں نے رات دن ایک کر دیا۔ الگ الگ دیہات میں پھرتے اور مسلمانوں کو ختم نبوت کے لئے قربانی پر آمادہ کرتے تھے۔ جس گاؤں اور جس قبیلے میں جاتے لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے تھے۔ ہمارے ہمدرس رفقاء میں سے مولوی احمد سعید، حافظ بشیر احمد، حافظ محمد شاہ اور مولوی محمد حیات خان بھی قریب کی بستیوں میں جا کر لوگوں کو حالات بتاتے اور جلوسوں کی دعوت دیتے رہے۔ حاجی عسیب خان مرحوم مختلف دیہات سے ہوتے ہوئے سوانس جاپہنچے۔ غالباً یہ ۵؍جولائی ۱۹۵۲ء کا دن تھا۔ سوانس نیازی پٹھانوں کا گاؤں ہے جو میانوالی سے تیرہ میل کے فاصلے پر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ یہ گاؤں اس زمانے میں جوا بازی کا مرکز تھا۔ گاؤں کا بڑا زمیندار اور جوئے بازوں کا سرغنہ محمد خان تھا۔ حاجی صاحب سیدھے محمد خان کے ہاں پہنچے۔ جواریوں کا ہجوم تھا۔ کھیل گرم تھا۔ حاجی صاحب پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ ان کی گفتگو سادہ ہوتی تھی۔ جواریوں کے مجمع کو اپنے سادہ الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: بھائیو! میں تمہارے پاس آیا ہوں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی عزت کا سوال ہے۔ ختم نبوت کا مسئلہ ہے۔ حکومت نے میانوالی کے علماء کو گرفتار کر لیا ہے۔ آپ لوگ ہمارا ساتھ دو۔ محمد خان نے اپنے جواریوں سے کہا چلو یار کھیل ختم کرو۔ ساری عمر جوا کھیلے ہیں۔ چلو اس نیک کام میں شریک ہوں۔ شاید اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے صدقے ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ تمام جواریوں نے اپنے سردار محمد خان کے حکم سے جلوس کی تیاریاں شروع کر دیں۔ آس پاس کی بستیوں کو بھی دعوت دی۔ ۶؍جولائی کو محمد خان بہت بڑا جلوس لے کر میانوالی پہنچا۔

ہر اتوار کو میانوالی میں مویشیوں کی منڈی لگا کرتی تھی۔ جس جگہ منڈی لگتی تھی یہ ایک وسیع میدان تھا۔ جسے میلہ گراؤنڈ کہا جاتا تھا۔ میانوالی کے صدر بازار کے مشرقی سرے پر ریلوے اسٹیشن ہے اور غربی سرے پر میلہ گراؤنڈ ۶؍جولائی کو اتوار کا دن تھا۔ ہم میلہ گراؤنڈ پہنچے۔ ایک جگہ دیکھا کہ ہجوم ہے اور کسی گاؤں کے ایک عالم دین ہاتھ میں قرآن مجید لے کر اونچی سی جگہ کھڑے تقریر کر رہے ہیں۔ ہم لوگ ہجوم کے کنارے جا کر کھڑے ہوئے۔ ہمیں آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ تھوڑی دیر میں نعروں اور ڈھولوں کی ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں۔ موسیٰ خیل، سوانس، پائی خیل اور کئی دوسرے مقامات سے الگ الگ جلوس آ پہنچے۔ علاقائی روایت کے مطابق سب جلوسوں میں ڈھول بج رہے تھے اور پر جوش نعرے تھے۔ لاؤڈ اسپیکر ہمارے ہاں ایک ہی تھا۔ جو ۲۹؍جون کو پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا۔ مجمع اتنا زیادہ تھا کہ آواز نہ پہنچتی تھی۔ محصول چونگی والے کمرے کو اسٹیج بنایا گیا۔ حضرت صوفی عبدالرحیم صاحب مرحوم اور کچھ دیہاتی علماء اوپر چڑھے۔ جلوس کی ہدایات دیں۔ جب جلوس روانہ ہوا تو انسانوں کا ایک سیلاب نظر آتا تھا۔ کچہری بند تھی۔ جلوس نے ڈی سی کی رہائش گاہ کا رخ کیا۔ جلوس سول ریسٹ ہاؤس کے قریب پہنچا تو ڈی سی کا قاصد آگے سے آ ملا اور بتایا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب سول ریسٹ ہاؤس کے پارک میں آ کر آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جلوس پارک کے کنارے رک گیا۔ ڈپٹی کمشنر آیا اور پارک میں کھڑے ہو کر ہمارے رہنماؤں سے گفتگو کی۔ صوفی عبدالرحیم صاحب تو ہمارے پرانے بزرگ تھے۔ ان کے سوا جو رہنماء تھے وہ دیہات کے علماء اور خوانین تھے۔ میں انہیں نہیں جانتا تھا۔ یہاں کوئی بات نہ طے ہوسکی تو رہنماؤں نے جلوس کے شرکاء کو ہدایت کی کہ آپ لوگ یہیں ٹھہریں۔ ہم لوگ ڈی سی صاحب کو ساتھ لے کر جیل جاتے ہیں اور وہاں گرفتار رہنماؤں سے بات کرتے ہیں۔ ڈی سی صاحب اپنی جیپ میں ان

صفحہ ۳۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راہنماؤں کو بٹھا کر جیل لے گئے۔ سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں اندر سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں کو بلا لیا گیا۔ گفتگو نے طول پکڑا۔ وقت زیادہ ہوگیا تو جلوس جیل کے دروازے پر پہنچ گیا۔ راہنماؤں میں سے ایک خان صاحب باہر آئے اور نعرے لگانے سے روک دیا۔ تھوڑی دیر بعد ڈپٹی کمشنر صاحب باہر آئے اور جلوس کے سامنے اعلان کیا کہ تمہارے جو مطالبے میرے متعلق ہیں میں نے مان لئے ہیں۔ دفعہ ۱۴۴ ابھی اٹھا رہا ہوں۔ تمہارے راہنما اور ساتھی سارے آج ہی رہا ہو جائیں گے اور جو مطالبات مرکز سے تعلق رکھتے ہیں میں ان کے بارے میں اپنی سفارش لکھوں گا کہ یہ مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر کا نام چوہدری اورنگزیب تھا۔ یہ اعلان کر کے وہ جیپ میں سوار ہوئے اور جلوس نے انہیں چوہدری اورنگزیب زندہ باد کے نعروں سے رخصت کیا۔ جلوس کے شرکاء کو وہیں سے گھر کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ شہر میں ڈی سی صاحب کی طرف سے دفعہ ۱۴۴ کے خاتمے کی منادی ہو گئی اور عصر کے وقت ہمارے تمام راہنماء اور ساتھی رہا ہو کر اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص مہربانی فرمائی اور ہم کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ تمام اضلاع سے پہلے میانوالی میں دفعہ ۱۴۴ ختم ہوئی اور گرفتار ہونے والے لوگ رہا ہوئے۔ ۲۹؍ جون کے اتوار کو انتظامیہ نے ہماری تحریک کو دبانے کے لئے جو کارروائی شروع کی وہ اس میں بری طرح ناکام ہوگئی اور اس سے اگلے اتوار کو ٹھیک آٹھویں دن اس نے مکمل ہتھیار ڈال دیئے۔ ضلع کی سطح پر یہ ہماری بہت بڑی کامیابی تھی۔ یہ ہماری منزل نہیں تھی۔ البتہ منزل تک پہنچنے کے لئے اپنے ضلع کے مسلمانوں کی تائید اور تعاون حاصل ہوا۔ ہماری جدوجہد کا مقصد مرزائیوں کے متعلق مسلمانوں کے متفقہ تین مطالبات کو حکومت سے تسلیم کرانا تھا۔ وہ تین مطالبات یہ تھے۔

۲۹؍ جون سے ۶؍ جولائی تک ایک ہفتے میں حکومت کی غلط پالیسی نے ہمارا جو کام کیا وہ ہماری برسوں کی محنت سے نہیں ہو سکتا تھا۔ علماء کی گرفتاریوں سے خود بخود عوام میں ہمدردی اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوا۔ دور دراز علاقوں تک از خود ہماری دعوت پہنچ گئی۔ مرکزی حکومت کے رویّہ سے یقین ہو گیا تھا کہ آسانی سے ہمارے مطالبات نہیں مانے جائیں گے۔ عوام کو سڑکوں پر لانا پڑے گا اور قربانیاں دینی ہوں گی۔ ۶؍ جولائی کے بعد ہم نے ایک ایک دن کو غنیمت سمجھا۔ ۷؍ جولائی کو اجلاس بلایا گیا۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے عہدیداران کا از سر نو چناؤ ہوا۔ میاں اصغر علی صاحب صدر، صوفی محمد ایاز خان صاحب نائب صدر، مولانا محمد رمضان ناظم اعلیٰ، راقم السطور محمد عبداللہ ناظم اور مولانا علی محمد صاحب خطیب مسجد قصاباں خازن منتخب ہوئے۔ عہدیداروں سمیت تیرہ ارکان کی مجلس عاملہ تشکیل ہوئی۔ جس کے عہدیداروں کے علاوہ ارکان یہ حضرات تھے۔ صوفی عبد الرحیم صاحب، موسیٰ خیل، مولانا محمد زمان صاحب مہتمم جامعہ اسلامیہ، مولانا حافظ محمد احمد صاحب مدرس مدرسہ قاسم العلوم بلو خیل، خان شہباز خان صاحب میانوالی، حافظ غلام محمد صاحب مدرس جامعہ اسلامیہ، مولانا گلزار احمد صاحب، مولانا علی محمد صاحب بلو خیل، خان زمان خان صاحب دتہ خیل، چند دن بعد حضرت پیر عالم شاہ صاحب اور احمد سعید صاحب ناگی کو بھی مجلس عاملہ میں شامل کر لیا گیا۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو برکت علی ہال لاہور میں مذہبی جماعتوں کا کنونشن ہوا۔ جس میں مجلس عمل قائم ہوئی۔ اس کنونشن میں ضلع میانوالی کی نمائندگی کے لئے ہماری مجلس عاملہ نے صوفی عبدالرحیم صاحب کا نام تجویز کیا۔ حضرت صوفی صاحب

صفحہ ۳۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاہور تشریف لے گئے اور کنونشن میں شریک ہوئے۔ واپس آکر کنونشن کی مفصل کارروائی سے مجلس عاملہ کو آگاہ کیا۔ ۱۹؍ جولائی کو ملتان کے تھانہ کپ سے مسلمانوں پر گولی چلائی گئی تھی۔ جس سے چھ مسلمان شہید ہوئے تھے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ ۲۰؍ جولائی کو ہماری مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملتان میں پولیس تشدد کی مذمت اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ۲۱؍ جولائی عشاء کے وقت کمیٹی پارک میں جلسہ عام ہوگا اور ۲۲؍ جولائی کو شہر میں مکمل ہڑتال ہوگی۔ ۲۱؍ جولائی کو بہت بڑا جلسہ ہوا۔ جس میں مجلس عاملہ کے چند ارکان کے علاوہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے بھی تقریر کی۔ شہر کی اہم شخصیات کو بھی جلسہ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ پنجاب اسمبلی کے ممبر امیر عبداللہ خان روکھڑی اور بعض دوسرے مدعوین بھی جلسے میں تشریف لائے۔ ۲۲؍ جولائی کو مکمل ہڑتال ہوئی۔ مجلس عاملہ کے ارکان نے ہمت اور مستعدی سے کام جاری رکھا۔ جب بھی مرکزی مجلس عمل نے یوم مطالبات یا یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا مجلس عاملہ نے اپنے ضلع میں اسے کامیاب بنایا۔ مختلف مواقع پر ضلع کے اہم قصبات اور دیہات کے دورے کئے۔ ۱۵؍ اگست کے اجلاس میں مجلس عاملہ نے مرکزی مجلس عمل سے باقاعدہ الحاق کا فیصلہ کیا اور طے ہوا کہ آئندہ کے لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نام سے کام کیا جائے گا۔ عہدیدار اور ارکان حسب سابق ہوں گے۔ اب مجلس عمل کی طرف سے ۱۵، ۱۶؍ ستمبر کو کمیٹی پارک میانوالی میں ختم نبوت کانفرنس رکھی گئی۔ اس کانفرنس میں مرکزی رہنماؤں میں سے صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سجادہ نشین آلومہار شریف، ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری صدر مجلس احرار اسلام پاکستان اور شیخ حسام الدین صاحب جنرل سیکرٹری مجلس احرار اسلام پاکستان تشریف لائے۔ کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ عوام سے رابطہ بڑھانے اور انہیں مجلس عمل میں شامل کرنے کی زیادہ ضرورت محسوس کی گئی۔ ضلع کو مختلف حلقوں میں تقسیم کر کے اس میں کام کرنے کی ذمہ داری مختلف رہنماؤں پر ڈالی گئی۔ میانوالی شہر میاں اصغر علی صاحب، مولانا علی محمد صاحب اور خان زمان خان صاحب کے سپرد ہوا۔ شہر کے علاوہ تھانہ صدر کا علاقہ مولانا محمد رمضان صاحب، چوکی کندیاں حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ خانقاہ سراجیہ، تحصیل عیسیٰ خیل صاحبزادہ زین الدین صاحب آف ترگ، تھانہ چکڑالہ وموسیٰ خیل وغیرہ صوفی عبدالرحیم صاحب اور تحصیل بھکر مولانا گلزار احمد صاحب کے سپرد ہوئے۔

۲۲؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو مرکزی مجلس عمل نے وزیراعظم کو الٹی میٹم دیا کہ ایک مہینے کے اندر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو راست اقدام کیا جائے گا۔ ۲۲؍ فروری کو الٹی میٹم کی میعاد پوری ہونی تھی۔ اس میعاد کے بعد کے حالات کے لئے جس تیاری کی ضرورت تھی ہم نے اس کے لئے عوامی رابطے اور رضا کاروں کی بھرتی کا کام تیز کر دیا اور ساتھ ہی ۲۲، ۲۳؍ فروری کو ختم نبوت کانفرنس رکھ دی۔ اس کانفرنس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا غلام اللہ خان اور مولانا عبدالمنان تشریف لائے۔ مجلس عمل کے الٹی میٹم کی میعاد پوری ہوچکی تھی۔ حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے تھے۔ ان حالات میں عوام کا ہجوم اور جوش وخروش مثالی تھا۔ رہنماؤں کی تقاریر کا بھی رنگ زور دار تھا۔ اس سے پہلے سرکاری دفاتر اور لکھے پڑھے لوگوں میں یہ پراپیگنڈا ہوتا رہتا تھا کہ تین مطالبات میں سے پہلا مطالبہ تو مذہبی ہے۔ لیکن دوسرے دو مطالبے سیاسی ہیں۔ لکھے پڑھے لوگ اس کانفرنس میں زیادہ آئے تھے۔ کانفرنس میں سب سے پہلی تقریر حضرت مولانا محمد علی جالندھری کی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان پر لاتعداد رحمتیں نازل فرمائے۔ اسٹیج پر تشریف لائے۔ مختصر خطبہ کے بعد تقریر کا آغاز اس طرح فرمایا: ”میں اس وقت تین چیزوں سے بحث کروں گا۔ ہمارے مطالبات کیا ہیں؟ حکومت کیوں نہیں مانتی اور اب ہم کس طرح منوانا چاہتے ہیں“۔ آپ نے دو گھنٹے سے زیادہ تقریر فرمائی۔ تقریر کے

صفحہ ۳۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوران عوامی جذبات کا یہ عالم تھا کہ ہر آدمی مولانا کے اشارے پر جان پر کھیل جانے کے لئے تیار نظر آتا تھا۔ دو مطالبات کے متعلق سیاسی ہونے کا پراپیگنڈا بھی گرم ہو گیا۔ مجسٹریٹوں اور پروفیسروں میں یہ بات سنی گئی کہ ”مولوی اپنا مقدمہ ثابت کرنا جانتا ہے۔“ مولانا محمد علی صاحب ۲۲ کو تقریر کرتے ہی واپس تشریف لے گئے ۔ ۲۳ فروری کو حضرت امیر شریعت کے نام مولانا محمد علی صاحب کا تار آیا کہ کراچی پہنچیں ۔ حضرت امیر شریعت میانوالی سے سیدھے کراچی تشریف لے گئے ۔ ۲۷ فروری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں حضرت امیر شریعت اور مجلس عمل کے دوسرے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ۔

جس سے کراچی میں زبردست مظاہرے شروع ہو گئے ۔ ہماری اس وقت کی اطلاع کے مطابق ایک ہی دن میں سو سے زیادہ گرفتاریاں ہوئیں ۔ ۲۷، ۲۸ فروری کی درمیانی شب لاہور میں بھی مجلس عمل کے اکثر رہنما گرفتار کر لئے گئے اور وہاں بھی مظاہرے اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں ۔ ۲۸ فروری کو ہمارا اجلاس ہوا ۔ جس میں راست اقدام کمیٹی بنائی گئی ۔ جس کے ارکان تھے میاں اصغر علی صاحب، پیر شاہ عالم شاہ صاحب، مولانا محمد رمضان صاحب، مولانا گلزار احمد صاحب، صوفی محمد ایاز خان صاحب، ایک شیعہ رہنما کا نام بھی راست اقدام کمیٹی میں رکھا گیا۔ لیکن وہ ایک اجلاس اور ایک آدھ دورے میں شرکت کے بعد سامنے نہیں آئے ۔ مجلس عمل نے راست اقدام کمیٹی کو آنے والے حالات میں فیصلے کرنے کے مکمل اختیارات دے دیئے ۔ اس اجلاس کے انعقاد تک ہمیں صرف کراچی کی گرفتاریوں کی اطلاع ملی تھی لاہور کے حالات سے ہم اس وقت تک بے خبر تھے ۔ اجلاس میں کراچی میں اندھا دھند گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے لئے یکم / مارچ بروز اتوار مکمل ہڑتال اور جلسہ عام کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔ یہ منڈی مویشیاں کا دن تھا۔ شہر میں مکمل ہڑتال تھی اور میلہ گراؤنڈ میں جلسہ تھا۔ حضرت پیر شاہ عالم شاہ صاحب نے جلسہ کی صدارت فرمائی اور مقامی رہنماؤں نے تقریریں کیں ۔ ان دنوں میں مجلس عمل کی طرف سے جلسے کا اعلان ہو جاتا تھا۔ خلق خدا ٹوٹ پڑتی تھی ۔ عام حالات کے جلسوں کی طرح لوگ یہ نہیں خیال کرتے تھے کہ تقریر کون کرے گا ۔ میلہ گراؤنڈ کا یہ جلسہ بھی بڑا بھر پور جلسہ تھا ۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں گرفتاریاں ہو رہی تھیں ۔ ۲/ مارچ کو مجلس عمل کا اجلاس ہوا ۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ گرفتاری کے لئے رضا کاروں کو لاہور بھیجا جائے ۔ اس روز شام کی ریل سے دس رضا کاروں کا قافلہ لاہور روانہ کر دیا گیا ۔ فقیر غلام خواجہ مرحوم کو بھی قافلے کے ساتھ لاہور بھیجا گیا تا کہ وہ قافلے کے منزل مقصود تک سلامت پہنچنے کی واپس آ کر اطلاع دے سکیں ۔ فقیر غلام خواجہ کی جسمانی کیفیت دیکھ کر کوئی ناواقف آدمی انہیں تحریک کا کارکن نہیں خیال کر سکتا تھا ۔ کسی جگہ ان کے گرفتار ہو جانے کا امکان نہ تھا۔ اس لئے انہیں حالات معلوم کرنے کے لئے زیادہ موزوں سمجھا گیا ۔ وہ قافلے کو تحریک کے مرکز مسجد وزیر خان میں پہنچا کر واپس آئے۔ اپنے قافلے اور لاہور کے حالات سے ہمیں آگاہ کیا۔ ۴/ مارچ کو بارہ رضا کاروں کا دوسرا قافلہ لاہور بھیجا گیا ۔ لاہور میں حالات بہت جلدی کشیدہ ہو گئے ۔ جگہ جگہ جلوسوں پر گولیاں برسنے لگیں ۔ باہر کے رضا کاروں کا مسجد وزیر خان تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ ۵/ مارچ کو ہماری راست اقدام کمیٹی نے میانوالی میں گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کر لیا ۔ مجلس عمل کا دفتر میرے حوالے ہوا ۔ یہ دفتر میانوالی کے سب سے زیادہ با رونق چوک ریلوے اسٹیشن کے ایک بالا خانے میں تھا۔ رضا کاروں کے ناموں کا رجسٹر میں اندراج اور دوسرے دفتری امور سر انجام دینے کی ذمہ داری میرے سپرد تھی ۔ گرفتاری پیش کرنے والے رضا کاروں کی حتمی فہرست روزانہ راست اقدام کمیٹی کو مہیا کرنی ہوتی تھی۔ تحریک کا مرکز موتی مسجد کو بنایا گیا ۔ یہ مسجد بازار کے غربی چوک میں ہے۔ مسجد کے برآمدے کی چھت تھی ۔ اندر کا حصہ بغیر چھت کے تھا ۔ ایک کھلا سا حجرہ تھا ۔

صفحہ ۳۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس حجرے کو رضا کاروں کا لنگر خانہ بنایا گیا۔ جس کے انچارج مولانا علی محمد ساکن بلو خیل مقرر ہوئے۔ راست اقدام کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ۶؍ مارچ کو پانچ رضا کاروں کا جلوس موتی مسجد سے روانہ ہوا اور ضلع کچہری میں پہنچے۔ جہاں ان پانچ رضا کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ میانوالی میں گرفتاریاں شروع ہونے کی اطلاع دیہاتی علاقوں میں پہنچی تو لوگ گرفتاریاں دینے کے لئے دھڑا دھڑ آنے لگے۔ ہر رضا کار تقاضا کرتا کہ اسے جلدی جیل میں بھیجا جائے۔ ہمیں مجبور ہو کر تیسرے دن گرفتاری کے لئے رضا کاروں کی تعداد پانچ سے بڑھا کر دس کرنی پڑی۔ پھر دو دن بعد تعداد پندرہ کرنی پڑی۔ بعد میں تعداد گھٹتی بڑھتی رہی۔ مارچ کا مہینہ تھا۔ سہانہ موسم تھا۔ روزانہ صبح موتی مسجد میں اجتماع ہوتا۔ وہاں ایک تقریر ہو جاتی۔ دس رضا کاروں کو لوگ ہار پہناتے۔ یہ رضا کار آگے ہوتے۔ ان کے پیچھے ٹانگہ ہوتا۔ جس پر لاؤڈ اسپیکر نصب ہوتا تھا۔ غلام حسین قریشی نظمیں پڑھتے۔ اہم چوکوں پر جلوس ٹھہر جاتا۔ مجلس عمل کے کوئی راہنما تقریر فرماتے۔ ایک آدھ جگہ لوگوں کے تقاضے پر حضرت پیر شاہ عالم شاہ صاحب مرحوم کلام پاک کی تلاوت فرماتے۔ حضرت پیر صاحب کی عمر اس وقت ستر سال کے قریب ہوگی۔ قرآن مجید کے بہت پختہ حافظ تھے۔ ایک رات میں پورا قرآن مجید بھی سناتے رہے۔ حضرت پیر صاحب جب تلاوت فرماتے تو فضاء میں سناٹا ہوتا۔ لوگ شوق اور محبت سے سنتے۔ ہر ایک کی آرزو ہوتی کہ پیر صاحب زیادہ تلاوت فرمائیں۔ جلوس میں چوکوں پر زیادہ تقریریں مولانا محمد رمضان صاحب کی ہوا کرتی تھیں۔ اتوار کے دن جلوس میلہ گراؤنڈ سے دس بجے چلا کرتا تھا اور باقی سارا ہفتہ موتی مسجد سے جمعہ کے دن موتی مسجد سے نماز جمعہ کے بعد جلوس روانہ ہوتا تھا۔ پہلے یہ جلوس کچہری تک گیا تھا اور وہاں گرفتاری ہوئی۔ اس کے بعد میونسپل کمیٹی کے پاس شہر کے آخری مشرقی چوک میں پولیس والے اپنی گاڑی لا کھڑی کر دیتے تھے۔ جلوس قریب آتا تو گاڑی سڑک کے وسط میں کر کے اس کا پچھلا دروازہ کھول دیتے۔ جلوس چند قدم کے فاصلے پر رک جاتا اور رضا کار دوڑ کر پولیس کی موٹر میں داخل ہو جاتے اور پولیس انہیں صدر تھانے لے جاتی۔ وہاں ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے رضا کاروں کو اسی وقت جیل بھیج دیا جاتا تھا۔

میرا زیادہ وقت دفتر میں گزرتا تھا۔ جلوس کے وقت میں دفتر میں ہی رہتا تھا اور دفتر کے سامنے والے چھجے میں کھڑے ہو کر جلوس کا نظارہ کرتا تھا۔ دور سے جلوس نظر آنے لگتا تھا۔ عجیب ایمان افروز اور دل لبھانے والا منظر ہوتا۔ جلوس کے آگے پھولوں کے ہار پہنے جیل جانے والے رضا کاروں کو دیکھ دیکھ کر دل کو سیری نہ ہوتی تھی۔ یہ لوگ بڑے پیارے لگتے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی محبت اور عشق ہی کی وجہ سے اپنے ارادے اور شوق سے جیل کے قیدی بنتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب کی محبت میں جو گھر بار کا آرام و راحت چھوڑ کر جیل کی کالی کوٹھڑیوں اور مصیبتوں کی طرف خراماں خراماں چل رہے ہوتے۔ ان سے زیادہ محبوبیت کہاں ہوتی۔ وہ پیارے کیوں نہ لگتے۔ ایک دن تو ایسا لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے بھیج دیئے ہوں۔ کلورکوٹ کے رضا کار تھے۔ سب کے لال کرتے ، زیادہ سفید ریش نورانی چہرے، یہ راتوں کو اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ تھے۔ آج وہ پرکیف بہار آفریں مناظر یاد کر کے کسی کا شعر حافظے میں گردش کرنے لگا ہے۔

نشان منزل جاناں ملے ملے نہ ملے
مزے کی چیز ہے یہ ذوق جستجو میرا

شروع مارچ سے پورے امن اور سکون سے تحریک چل رہی تھی۔ روزانہ جلوس نکل رہے تھے۔ گرفتاریاں دی جا رہی تھیں۔ یہاں تک کہ ۳۱؍ مارچ کو دن طلوع ہوا جو ہمارے لئے حالات کے انقلاب اور تبدیلی کا دن ثابت ہوا۔ اس دن پتہ چلا کہ مولانا محمد رمضان صاحب اور خان زمان خان دتہ خیل کے وارنٹ ہیں۔ یہ وارنٹ کہیں سے آئے تھے۔ یہ دونوں حضرات کہیں تلہ گنگ کے علاقے میں

صفحہ ۳۶۴

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تقریریں کر آئے تھے۔ مولانا محمد رمضان صاحب گرفتاری دینے کے لئے جلوس میں شریک ہوئے۔ حسب معمول تانگے میں بیٹھے۔ موقع بموقع تقریر فرماتے رہے۔ اس دن لوگ مولانا کی تقریر زیادہ توجہ اور مسرت سے سن رہے تھے۔ پورے جلوس پر رقت طاری تھی۔ حضرت پیر شاہ عالم شاہ صاحب اس دن تاخیر سے تشریف لائے۔ جلوس بازار میں سبزی منڈی کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جب پیر صاحب کو معلوم ہوا کہ مولانا محمد رمضان صاحب گرفتاری دے رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا میں بھی ان کے ساتھ جاؤں گا۔ ساتھی روکتے رہ گئے۔ وہ زبردستی ہار گلے میں ڈال کر مولانا کے ساتھ تانگے میں بیٹھ گئے۔ میاں اصغر علی صاحب نے بھی اس وقت اپنی گرفتاری پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا اور وہ بھی ان حضرات کے ساتھ تانگے میں سوار ہو گئے۔ جب پیر صاحب اور میاں صاحب کی گرفتاری پیش کرنے کا اعلان ہوا تو لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ بہت سے لوگ رونے لگے۔ ہمیں بھی صدمہ ہوا۔ نہ جانے خدا تعالیٰ کو کیا منظور تھا۔ مولانا محمد رمضان صاحب کے وارنٹ تھے۔ پیر صاحب اور میاں صاحب کا فیصلہ اچانک اور ہمارے اجتماعی طریق کار کے برعکس تھا۔ آج پولیس کی گاڑی میں سوار کراتے وقت لوگوں کی زبان پر نعرے اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ ۳۱؍مارچ کو موتی مسجد کے جلسے میں صوفی محمد ایاز خان نے تقریر کی اور ۳۰؍مارچ کو گرفتار ہونے والے تینوں رہنماؤں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آواز بھرّا گئی اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس روز میں بھی جلسے میں آیا تھا۔ ہر آدمی کے چہرے اداسی اور مایوسی کے آثار نظر آتے تھے۔ جلوس نکلے۔ رضا کاروں نے گرفتاری دی۔ ہم نے مذکورہ تینوں رہنماؤں کی جگہ راست اقدام کمیٹی اور مالیاتی کمیٹی میں نئے لوگ شامل کئے۔

۳۱؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو سورج اپنا سفر پورا کرنے والا تھا۔ میں صوفی محمد ایاز خان کی دوکان کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ ان کے درزی نے آواز دی۔ میں قریب آیا تو اس نے کہا تجھے پتہ ہے صوفی صاحب کو پولیس لے گئی ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا تجھے پتہ ہے کہ تیرے بھی وارنٹ ہیں۔ میں نے کہا اس کا بھی مجھے علم نہیں۔ میں یہ خبر سن کر چوکس ہو گیا۔ جلوس کی تیاری شروع کر دی۔ مغرب کے کچھ دیر بعد صوفی شیر محمد صاحب کے مہمان خانے میں پہنچا۔ حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ تشریف فرما تھے۔ رہنماؤں کی گرفتاریاں سن کر کام کی دیکھ بھال کے لئے تشریف لائے تھے۔ خان زمان وتہ خیل اور ایک دو اور ساتھی بھی موجود تھے۔ حالات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ہماری ذمہ داریاں دوسرے ساتھیوں میں تقسیم کی گئیں۔ حضرت مولانا خان محمد صاحب (امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) نے تحریک کی قیادت سنبھالی۔ مشورہ میں یہ بات بھی طے پائی کہ میں تین دن روپوش رہوں اور ۳؍ اپریل کو جمعہ کے جلوس میں شریک ہو کر گرفتاری پیش کروں اور خان زمان خان ۵؍ اپریل کو جلوس میں گرفتاری دیں۔ اس فیصلے کی برکت سے مجھے تین دن کی روپوشی کی سنت پر اللہ تعالیٰ نے عمل نصیب فرمایا۔ بدھ اور جمعرات کو معمول کے مطابق جلوس نکلے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ پروگرام کے مطابق جمعہ کی نماز سے پہلے میں نے تقریر کی اور نماز جمعہ پڑھائی۔ نماز کے بعد گرفتاری دینے والے رضا کاروں کے نام پڑھ کر سنائے گئے۔ جن کا امیر بھی مجھے بنا دیا گیا۔ مولانا محمد رمضان صاحب کے چھوٹے بھائی مولانا احمد سعید صاحب نے منادی کی ڈیوٹی شروع سے اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ وہ جلسہ اور جلوس کے منتظمین میں بھی شامل تھے۔ اس دن صوفی شیر محمد صاحب مرحوم کے بڑے فرزند حافظ بشیر احمد بھی مائک پر آئے اور رضا کاروں کے ناموں کا اعلان بھی انہوں نے کیا۔ یہ دونوں ساتھی اس دن جلسے اور جلوس کے منتظم تھے۔ مجھے پیش رو رہنماؤں کی جگہ تانگے میں بٹھایا گیا۔ رہنماؤں کی گرفتاریوں سے عوام میں اضطراب تھا۔ جلوس میں لوگ پہلے کی نسبت زیادہ تھے۔ بازار کے چوکوں میں زیادہ تر مجھے ہی تقریر کرنی پڑی۔ غلام حسین قریشی چلتے ہوئے ترنم سے نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ اس روز بھی وہ پوری آب و تاب سے نظمیں

صفحہ ۳۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پڑھتے آ رہے تھے کہ کسی نے انہیں کہہ دیا کہ تمہارے وارنٹ ہیں۔ تم آج ادھر ادھر ہو جاؤ۔ وہ خاموشی سے کھسک گئے۔ کچھ دیر کے لئے جلوس کی رونق میں فرق آ گیا۔ ہم پریشان ہونے لگے۔ اچانک ایک چھوٹا اجنبی بچہ ٹانگے پر آ گیا اور مائک لے کر نعت پڑھنا شروع کر دی۔ اس کی آواز میں حلاوت اور لہجے میں موزونیت اور پختگی تھی۔ اس کے ایک ایک شعر پر لوگ جھوم جاتے۔ ہم نے اس اجنبی بچے کی آمد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی امداد سمجھا۔ اس کی نعت کا پہلا مصرعہ مجھے اب تک یاد ہے۔

خدا جب مجھ سے پوچھے گا کہ تو دنیا سے کیا لایا
تو میں سچ سچ بتا دوں گا کہ نام مصطفیٰ لایا

صوفی شیر محمد صاحب کے فرزند مولانا نذیر احمد صاحب اس وقت بچے تھے۔ ان کی بھی آواز اچھی تھی۔ انہوں نے بھی نظمیں پڑھیں۔ اس جلوس میں یہ دونوں بچے غلام حسین قریشی کے نعم البدل ثابت ہوئے۔ چوک ریلوے اسٹیشن میں جلوس کی آخری تقریر ہوا کرتی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں حکومت کی نئی پالیسی پر بھی روشنی ڈالی اور لوگوں سے کہا کہ حکومت کے ارادے اچھے نہیں ہیں۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اب ہمارے ساتھیوں کو گرفتار کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ مولانا احمد سعید بھی گرفتار ہو جائیں اور منادی کا سلسلہ بھی بند ہو جائے۔ آپ لوگوں کو خود کام سنبھالنا ہو گا۔ بغیر اطلاع اور منادی کے جلسے اور جلوس میں آنا ہو گا۔ میری اس بات پر ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں کہ ہم سب مسلمان ہیں۔ جلسے اور جلوس ہوں گے۔ گرفتاریاں دی جائیں گی۔

ہمیں نماز جمعہ سے پہلے اطلاع ملی تھی کہ آئی جی جیل خانہ جات نے میانوالی جیل کا دورہ کیا اور ہمارے رضا کار ساتھیوں پر تشدد ہوا ہے۔ میں نے جمعہ کی تقریر میں اس پر احتجاج کیا تھا اور ریلوے چوک سے بھی جلوس روانہ ہوا۔ اگلی منزل میونسپلٹی چوک تھا۔ وہاں جلوس پہنچا اور ہم نعروں کی گونج میں چند قدم چل کر پولیس کی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ ہمیں صدر تھانہ لے جایا گیا۔ ہم تھانے کے دروازے میں داخل ہوئے تو تھانے کی حوالات میں بند، خان زمان خان وتہ خیل نے زور سے نعرہ تکبیر لگایا۔ ہم نے اللہ اکبر جواب دیا۔ خان زمان خان مرحوم ۳۱؍ مارچ کو ہماری مشاورت میں شامل ہونے کے بعد سفر میں چلے گئے تھے۔ جمعہ کے دن ریل سے آئے اور گھر پہنچتے ہی گرفتار ہو گئے۔ ان کے اٹک سے وارنٹ تھے۔ میانوالی پولیس نے بھی ان کے خلاف زیر دفعہ ۲۱ سیفٹی ایکٹ مقدمہ قائم کیا تھا اور میرے خلاف بھی اسی دفعہ کے تحت مقدمہ تھا۔ ہم دونوں کی گرفتاری دفعہ ۲۱ سیفٹی ایکٹ کے تحت ہوئی۔ ہمارے ساتھ گرفتاری دینے والے رضا کاروں کی ۱۰۷/۱۵۱ کے تحت ہوئی۔ ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے ہمیں جیل پہنچایا گیا۔ رضا کار جیل کے دروازے میں داخل ہوتے وقت ہی نعرے لگایا کرتے تھے۔ ہم نے بھی لگائے۔ افسران جیل کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ غصے میں بھرے ہوئے تیزی سے باہر آئے اور کہا کہ جس نے نعرہ لگایا میں زبان کھینچ لوں گا۔ خان زمان خان پھرتی سے آگے ہوئے اور کہا کہ پہلے میری زبان کھینچ لو۔ وہ فوراً واپس ڈیوڑھی میں چلا گیا۔ ہمیں بھی آہنی دروازوں کے اندر لے جایا گیا۔ صوفی محمد ایاز خان صاحب وہاں ڈیوڑھی میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے آج دفعہ ۳ سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا جا رہا ہے۔ ان کی گرفتاری دفعہ ۳ کے تحت ہوئی تھی۔ صوفی صاحب اور خان زمان خان وہیں ڈیوڑھی میں تھے اور ہمیں لال ٹوپیوں والے نمبرداروں کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے ہمیں لے جا کر چکیوں میں بند کر دیا۔ یہ نمبردار طویل المیعاد اخلاقی قیدی ہوتے تھے جنہیں لال ٹوپی اور پٹی پہنا دی جاتی تھی اور ان سے احاطوں اور مختلف کاموں میں قیدیوں کی نگرانی کا کام لیا جاتا تھا۔ ان میں سے اکثر ظالم اور سنگ دل ہوتے تھے۔ کچھ دیر میرے ساتھ تو تین رضا کار رہے۔ پھر ایک نمبردار آیا اور میرے

صفحہ ۳۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ساتھ کے رضا کاروں کو نکال لے گیا۔ اب میں چکی کوٹھڑی میں اکیلا تھا۔ یہ میانوالی جیل کے اسیران ختم نبوت کے لئے ابتداء کے دن تھے۔ آئی۔ جی کے دورے کے موقع پر جیل انتظامیہ سے رضا کاروں کا تنازعہ ہو گیا تھا۔ سرکردہ ساتھیوں کو انتظامیہ نے ڈیرہ غازی خان جیل بھیج دیا اور باقی رضا کاروں کو چکی بند کر دیا۔ یہ لوگ رات دن بند رہتے تھے۔ بعض سادہ قسم کے رضا کاروں کو دھوکے سے اپنے اپنے گھروں میں بھیج دیا گیا۔ ایک رضا کار کو ڈیوڑھی میں بلایا جاتا کہ تمہاری ملاقات کو تمہارے رشتہ دار آئے ہیں۔ ڈیوڑھی میں ان سے انگوٹھا لگوا کر جیل سے باہر نکال دیا جاتا اور جیل میں مشہور کر دیا کہ یہ لوگ معافی مانگ کر چلے گئے ہیں۔ میری عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی۔ پہلی دفعہ جیل گیا تھا۔ نمبردار سے کسی ساتھی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ یہاں کوئی مولوی نہیں رہا۔ سب معافی مانگ کر چلے گئے۔ یہ لوگ تمام رضا کاروں کو مولوی کہتے تھے۔ میں نے نمبردار کی بات کو سمجھا اور یقین کر لیا کہ سب لوگ چلے گئے۔ ایک نمبردار آیا اور کہا کہ او مولوی! تجھے باہر جانا ہے کہ نہیں؟ مجھے اس کی بات پر غصہ آ گیا اور میں نے اسے کچھ سختی سے جواب دیا۔ وہ مجھے دھمکی دے کر چلا گیا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اب مجھ پر تشدد ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی۔ دل میں گھبراہٹ نہیں آئی۔ مغرب کا وقت ہوا تو چکی احاطہ کی تمام کوٹھڑیوں میں اذان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ جن سے پتہ چل گیا کہ رضا کار موجود ہیں۔ نمبرداروں کی بات غلط ہے۔ اگلی صبح مجھے نکال کر ہسپتال لے گئے۔ میرے ساتھ آنے والے رضا کار بھی تھے۔ ہمارا ملاحظہ ہوا۔ میرا قد پانچ فٹ گیارہ انچ اور وزن ایک سو چودہ پونڈ ہوا۔ ہسپتال سے واپس آکر ہمیں پھر کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔ عصر کے وقت ہمیں کوٹھڑی سے نکال کر ایک سایہ میں لے جایا گیا۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں رضا کار اکٹھے تھے اور خان زمان خان ہدایات دے رہے تھے۔ انہوں نے تاکید کی کہ آپ قانون جیل کا احترام کریں۔ اب تمہیں مسلسل بند نہیں رکھا جائے گا۔ قانون کے مطابق کھلا رہنے کی اجازت ہو گی۔ تمام رضا کار مجھے باہر مل کر آیا کرتے تھے۔ اب سب نے مصافحہ شروع کیا۔ تقریباً چوبیس گھنٹے کی قید تنہائی کے بعد کھلے صحن میں ساتھیوں سے مل کر خوشی ہوئی۔ دن میں گیارہ بجے سے دو بجے تک ہم لوگ بند ہوتے۔ ان کوٹھڑیوں کو چکیاں کہا جاتا تھا۔ پہلے زمانے میں ہر کوٹھڑی میں چکی ہوتی تھی۔ اس وقت تھوڑی سی کوٹھڑیوں میں چکیاں تھیں۔ باقی سب بغیر چکیوں کے تھیں۔ کوٹھڑیوں کی جو لائن شمالاً جنوباً ہے، اس کے پیچھے سائے میں ہم ظہر اور عصر کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ ہمارے امام جنڈانوالہ کے حافظ محمد عباس صاحب تھے۔ دن میں تمام رضا کار مختلف مشاغل میں رہتے۔ کوئی تلاوت کر رہا ہے، کوئی نوافل میں ہے، کوئی کمرے کی صفائی میں لگا ہے۔ کوئی کوٹھڑی کی دھلائی میں کوئی گپ شپ میں۔ ان میں ماشاء اللہ خوب رونق ہوتی۔ رات کو کوٹھڑیوں میں بند ہوتے۔ رات کی نمازیں کوٹھڑیوں میں ہوتی تھیں۔ ہمارے جیل آنے سے اگلے روز ہفتے کو موتی مسجد کے جلسے میں حضرت مولانا خان محمد صاحب نے تقریر فرمائی تھی۔ پولیس آپ کو گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ آپ جلوس کو مسجد سے روانہ کر کے وتہ خیل تشریف لے گئے۔ پولیس اس خیال میں تھی کہ آپ جلوس میں ہوں گے۔ آسانی سے گرفتار کر لیں گے۔ حضرت کے اس روز نہ ملنے سے پولیس کو کافی پریشانی ہوئی۔ پولیس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح ان کی فوری گرفتاری ہو جائے۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اتوار کے دن میلہ گراؤنڈ میں حضرت کا خطاب ہوا اور جلوس میں بھی چوکوں پر تقریر فرماتے رہے۔ میونسپلٹی چوک میں رضا کاروں کے ساتھ گرفتاری پیش کی۔ مولانا احمد سعید صاحب کو بھی اس دن حضرت کے ساتھ ہی پولیس نے گاڑی میں بٹھا لیا۔ حضرت مولانا خان محمد صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب کی گرفتاری دفعہ ۳ سیفٹی ایکٹ کے تحت ہوئی۔ اس دن سے انتظامیہ نے ہر اس کارکن کو دفعہ ۳ کے تحت گرفتار کرنا شروع کر دیا جس کے متعلق انتظامیہ کو ذرہ بھی خطرہ ہوسکتا تھا کہ وہ تحریک کا مرکز سنبھال سکتا ہے۔ ہمارے بعد جن لوگوں کے وارنٹ جاری کر کے گرفتار کیا گیا اور دفعہ ۳ سیفٹی ایکٹ کے تحت

صفحہ ۳۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہیں نظر بند کیا گیا۔ ان کے نام یہ ہیں۔ حضرت مولانا خان محمد (خانقاہ سراجیہ)، احمد سعید (میانوالی)، صوفی شیر محمد (میانوالی)، حافظ بشیر احمد (میانوالی)، صوفی غلام عیسیٰ (میانوالی)، حافظ محمد احمد (میانوالی)، خان زمان خان (شہباز خیل)، غلام رسول (کالا باغ)، غلام جیلانی (موسیٰ خیل)، غلام رسول خان (موسیٰ خیل)، دوست محمد خان (عیسیٰ خیل)، سید عطاء اللہ شاہ (مواز والا)، قاضی نور احمد (میانوالی)، رب نواز خان (تڑانوالی)، صوفی محمد رمضان (میانوالی)، مولانا علی محمد (بلوخیل)، مولانا محمد معصوم (کلورکوٹ) ان حضرات کی گرفتاری کے بعد انتظامیہ نے گرفتاریاں پیش کرنے والے رضا کاروں کو پکڑنے سے انکار کر دیا۔ لوگ دیہات سے آتے اور گرفتاری کے لئے پیش ہوتے۔ مگر کوئی انہیں گرفتار نہ کرتا۔ ایک دن سید مقصود احمد شاہ اور صوفی عبدالرحمن گرفتاری دینے کی کوشش میں کامیاب ہو گئے۔ ساری رات انہیں تھانے میں بٹھایا گیا۔ ڈانٹا بھی گیا اور پیار سے بھی وہیں بھیجنے کی کوشش کی گئی۔ مگر یہ دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔ پولیس نے ان کی گرفتاری ڈالی اور ہمارے ہاں جیل پہنچا دیا۔ اس طرح بتدریج گرفتاریاں بند ہو گئیں۔ میرا خیال ہے کہ میانوالی میں تمام اضلاع سے زیادہ دیر تک تحریک جاری رہی اور پر امن رہی۔

جو حضرات دفعہ ۳ سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند تھے۔ انہیں محض کمرے میں رکھا گیا تھا۔ ہم لوگ چکیوں میں تھے۔ جب انتظامیہ باہر سے بے فکر ہوئی تو اندر والے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ پہلے تو کچھ دن نمبر داروں کے ذریعہ رضا کاروں کو پھسلانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں ناکامی ہوئی اور انتظامیہ کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ اپنے نظریئے میں پکے اور ثابت قدم ہیں تو رضا کاروں کے چھ گروپ ترتیب دے دیئے اور ہر گروپ کے لئے الگ تاریخ پیشی مقرر کر دی۔ اس طرح ۲۲، ۲۳، ۲۵، ۲۷، ۲۸، ۳۰/ اپریل کی تاریخیں لگیں دو گروپ کو اس کی تاریخ پیشی پر ایک سال قید محض کی سزا سنا دی گئی۔ ۲۵/ اپریل کو تیسرے گروپ کی سزا کا فیصلہ ہوا۔ سزا پانے والے ان تین گروپوں اور دفعہ ۳ سیفٹی ایکٹ کے نظر بندوں کو ۲۵/ اپریل کی شام سنٹرل جیل لاہور روانہ کر دیا گیا۔ ان کے بعد جو تین گروپ رہ گئے۔ انہیں بھی ایک ایک سال قید محض کی سزا ملی۔ جس گروپ کو سزا سنائی جاتی۔ اسے چکیوں سے کیمپوں میں منتقل کر دیا جاتا تھا۔ ۳۰/ اپریل کو چھٹے اور آخری گروپ کو سزا سنائی گئی اور انہیں بھی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا تو میں نے اسسٹنٹ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے کہا کہ مجھے حوالات کی بیرکوں میں بھیج دیا جائے۔ انہوں نے اسی وقت مجھے وہاں بھجوا دیا۔ یہاں میرے گاؤں کے قریب کے کچھ حوالاتی تھے۔ ویسے بھی کھلی بیرکیں تھیں۔ چکیوں میں ایک مہینہ گزارنے کے بعد حوالات کی بیرکوں میں بہت آرام محسوس کیا۔ ہمارے جن ساتھیوں کو ۲۸، ۳۰ کو سزائیں ملیں، ۵/ مئی کی میری تاریخ پیشی تھی۔ میں ڈیوڑھی کے اندر والے دروازے کے سامنے کھڑا تھا کہ دروازہ کھلا۔ علماء اور دوسرے نظر بند لوگوں کی ایک جماعت ڈیوڑھی سے اندر آئی۔ میں نے محبت اور عقیدت سے مصافحہ کیا۔ ان علماء میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث مولانا عبداللہ صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا قاری لطف اللہ شہید بھی تھے۔ ان حضرات کے دریافت کرنے پر میں نے بتایا کہ میرے خلاف زیر دفعہ ۳ سیفٹی ایکٹ مقدمہ ہے تو انہوں نے ضمانت کا مشورہ دیا۔ لیکن میں ضمانت کو تحریک کے لئے مفید نہیں سمجھتا تھا۔ ہم تاریخ بھگت کر آ گئے۔ ان دنوں باہر کے بہت زیادہ تحریکی نظر بندوں کے چالان آئے۔ ساہیوال، فیصل آباد، لاہور اور شیخوپورہ کے زیادہ لوگ تھے۔ جن میں علماء کی خاصی تعداد تھی۔ اٹک سے شروع میں ہی ایک چالان آیا تھا۔ حضرت مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم بھوئی گاڑ والے بھی تھے۔ ان سے اکثر ملاقات ہوا کرتی تھی۔ ۷/ مئی کو ڈی سی میانوالی جیل کے دورے پر آئے۔ تمام حوالاتی خاص طریقے اور سلیقے سے بستر لگائے قطار میں بیٹھے تھے۔ اس بیٹھنے کو وہاں کی اصطلاح میں پریڈ کہا جاتا تھا۔ میں بھی پریڈ میں بیٹھا تھا۔ ہم سب کے سامنے اپنے اپنے کارڈ بھی رکھے تھے۔

صفحہ ۳۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ڈی۔سی صاحب اور ایس۔ پی صاحب کے ساتھ جیل کا عملہ تھا۔ آگے آگے ڈی۔سی صاحب تھے۔ جب یہ لوگ ہمارے احاطے میں داخل ہوئے تو ڈی۔سی صاحب کی نظر مجھ پر پڑی اور سیدھے میرے پاس آ کھڑے ہوئے اور میرا کارڈ اٹھا کر دیکھا اور ایس۔ پی صاحب سے کہا کہ دفعہ ۲۱ والے سب لوگ دفعہ ۳ میں نظر بند کئے گئے تھے۔ یہ کیسے رہ گئے۔ ایس۔ پی صاحب نے کچھ جواب دیا۔ باقی پریڈ کا دیکھنا رہ گیا۔ کچھ دیر تک وہ آپس میں سوال جواب کرتے رہے اور واپس چلے گئے۔ میں بہت خوش ہوا کہ اب نظر بندی کے آرڈر آ جائیں گے اور نظر بند علماء میں رہنے کا موقعہ مل جائے گا۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ میری آٹھ دس دن بعد پیشی ہوا کرتی تھی۔ دوسرے مقدمات والے لوگوں کے ساتھ میں بھی ہتھکڑیاں پہن کر عدالت جایا کرتا تھا اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر تاریخ لے کر آ جایا کرتا تھا۔ ۴؍ مئی کو ایک نمبردار نے مجھے آ کر کہا کہ چکر میں آ جاؤ۔ تمہارے مہمان ہیں، میں باہر نکلا تو حضرت الاستاذ مولانا محمد رمضان اور خان زمان خان مرحوم میرا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں گرفتاری کے بعد اٹک جیل بھیج دیا گیا۔ وہاں کے مقدمہ میں سزا یاب ہو کر آئے تھے۔ یہاں کے مقدمے کے لئے انہیں لایا گیا تھا۔ کچھ دیر ہم چکر میں بیٹھے ایک دوسرے کی خیر خیریت پوچھی۔ میں واپس آ گیا۔ انہیں قیدیوں کا لباس پہنا کر کسی دوسری جگہ رکھا گیا۔ ہم تینوں کے مقدمے ایک ہی دفعہ کے تحت تھے۔ ہماری اکٹھی پیشیاں لگا کرتیں۔ ہر تاریخ پر اکٹھے ہتھکڑیاں پہن کر جایا کرتے تھے۔ हमारा رمضان شریف بھی جیل میں گزرا۔ عید کی نماز کا اہتمام نظر بندوں کے احاطے میں ہوا۔ ہم بھی وہاں گئے اور علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری اور دوسرے تمام مرکزی راہنماء سنٹرل جیل لاہور میں تھے۔ ان حضرات کو ہمارے مقدمے کا علم ہوا تو انہوں نے حکم دیا کہ ہم ضمانتیں کرا لیں اور باہر آ کر مقدمہ لڑیں۔ باہر والے ساتھیوں نے ہماری ضمانتیں کرا لیں۔ ۱۸؍ جولائی کو میری رہائی کے احکامات جیل میں پہنچے اور میں رہا ہو گیا۔ حضرت مولانا ( محمد رمضان ) اور خان زمان خان کی ضمانتیں اٹک سے بھی کرانی تھیں۔ وہاں ضمانتیں ہوئیں اور یہ دونوں حضرات بھی میرے بعد ایک دو دن میں آ گئے۔ ۳۰؍ ستمبر کو ہمارے مقدمے کا فیصلہ ہوا۔ ہم تینوں کو دو دو سال کی سزا سنائی گئی۔ ہم نے اسی وقت ضمانتیں کرا لیں اور ۲۹؍ اکتوبر کو سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرائی۔ ۱۸؍ نومبر کو اپیل کی سماعت ہوئی اور سیشن جج صاحب نے ہمیں بری کر دیا۔

جب ہم جیل سے رہا ہوئے تو حضرت پیر شاہ عالم شاہ صاحب راولپنڈی جیل میں تھے اور میاں اصغر علی صاحب فیصل آباد جیل میں، یہ دونوں میانوالی کے رئیس گھرانوں کے تھے۔ انہیں جیل میں اے کلاس دی گئی تھی۔ ان کے علاوہ ہمارے تمام نظر بند رفقاء سنٹرل جیل لاہور میں تھے۔ ۲ اور ۴؍ مارچ کو میانوالی سے جو رضا کار لاہور گئے تھے ان میں سے دو چار اتفاقاً گرفتاری سے بچ گئے تھے۔ باقی سب مارشل لاء کی خلاف ورزی کے الزام میں طویل المیعاد سزا پا کر مختلف جیلوں میں تھے۔ قید محض والے تقریباً سب ہم سے پہلے رہا ہو گئے تھے۔ امیر عبداللہ خان روکھڑی پنجاب اسمبلی کے رکن تھے۔ انہوں نے ہمارے نظر بند ساتھیوں کی رہائی کے لئے کوشش شروع کی۔ حضرت پیر صاحب مرحوم کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے راولپنڈی جیل سے مجھے خط لکھا کہ: ’’مجھے یہاں یکسوئی حاصل ہے۔ تلاوت بھی کر لیتا ہوں اور مثنوی شریف کا مطالعہ بھی نصیب ہو جاتا ہے۔ میری رہائی کے لئے کوشش نہ کی جائے ۔‘‘ حضرت پیر صاحب کو کوشش سے رہا ہونا پسند نہ تھا اور اس معاملے میں ان کی پسند کو ملحوظ رکھنا ہمارے لئے ممکن نہ تھا۔ روکھڑی صاحب کی چند دن کی کوشش سے سب نظر بند رہا ہو گئے۔ ہم لوگ ریلوے اسٹیشن گئے۔ لاہور اور راولپنڈی کی گاڑیاں ایک ہی وقت میں پہنچی تھیں۔ لاہور سے آنے والے ساتھی ریل سے اترے۔ پلیٹ فارم خالی ہوا اور راولپنڈی والی گاڑی پلیٹ فارم پر آ گئی۔ حضرت پیر صاحب اس میں تشریف لائے تھے۔ حضرت پیر

صفحہ ۳۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحب کا مجلس احرار سے کبھی تعلق نہیں رہا تھا۔ جب انہیں گرفتاری کے بعد راولپنڈی جیل لے جایا گیا تو وہاں ایک صوبائی وزیر ان سے ملنے آئے اور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وزیر صاحب بولے آپ معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو رہا کر دیا جائے۔ آپ کاغذ پر اتنا لکھ دیں کہ میرا احرار سے تعلق نہیں ہے۔ ہم آپ کو رہا کر دیں گے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ: ”او، وزیر صاحب! یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ تو اگر کہے کہ کاغذ پر پیشاب کر دے تو میں یہ بھی نہیں کروں گا ۔“ وزیر صاحب جواب سن کر بے نیل و مرام واپس چلے گئے۔ حضرت مولانا خان محمد صاحب بھی لاہور میں ساتھیوں کے ساتھ رہا ہوئے اور ساتھ ہی ریل میں تشریف لائے اور کندیاں سے خانقاہ شریف تشریف لے گئے۔ آپ کا جیل میں ساتھیوں کے ساتھ رہنا، ساتھیوں کے لئے اطمینان اور استقامت میں بہت ممد ثابت ہوا۔ آپ اس وقت سجادہ نشین نہیں تھے۔ لیکن خانقاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب کے عزیز ترین خلیفہ مجاز اور معتمد ترین نمائندہ تھے۔ آپ کی خاندانی عظمت سے بھی سب لوگ واقف تھے۔ ایسے حضرات کا جیل میں کارکنوں کے ساتھ ہونا سب کے لئے ثابت قدمی کا باعث ہوا کرتا ہے۔

حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اس دور کے اکابر اولیاء میں تھے۔ ان کے مقام کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے باطن کی آنکھیں عطا فرمائیں۔ میں نے اپنے شیخ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری قدس اللہ سرہ العزیز سے حضرت مولانا کی تعریف سنی تھی اور حضرت کے یہ الفاظ اب تک یاد ہیں کہ: ”کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔“ حضرت امیر شریعت کو ایک مجلس میں دیکھا۔ حضرت مولانا کا جھوم جھوم کر تذکرہ فرما رہے تھے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب خانقاہ کے مسند نشین اور ہزاروں اہل دل اور اصحاب درد کے شیخ اور مربی تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ملکی اور عالمی حالات پر نظر رکھتے تھے۔ تحریک ختم نبوت کے ساتھ انہیں قلبی لگاؤ تھا۔ ان کی فکر مندی اور دلچسپی دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اس معاملے میں کوئی خاص ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ ۱۹۵۲ء / ۱۳۷۱ھ میں حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ سر ظفر اللہ کی کراچی والی تقریر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور جلسے شروع ہو گئے تھے۔ حکومت نے بعض مقامات پر علماء اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی تھی۔ مرزائیوں کے متعلق مطالبات تسلیم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ راست اقدام کے حالات پیدا ہو رہے تھے۔ آپ نے حج کا ارادہ ملتوی فرما دیا اور راستے سے واپس تشریف لے آئے۔ پورے ملک میں اپنے متوسلین کو ہدایت فرمائی کہ تحریک میں سرگرمی سے کام کریں اور تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔

حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی مرحوم حضرت کے متوسلین میں تھے۔ ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کو مرکزی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں تو مولانا گرفتاری سے کسی طرح بچ گئے اور لاہور میں تحریک کا مرکز سنبھالا، مولانا غلام غوث صاحب کے متعلق حکم تھا کہ جہاں ملیں گولی مار دی جائے۔ لاہور سے سیدھے خانقاہ سراجیہ اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے اپنے معتمد خصوصی صوفی احمد یار صاحب کے ذمہ لگایا کہ وہ مولانا کی حفاظت کا انتظام کریں۔ صوفی صاحب نے اپنے علاقہ بھلوال کے دیہات میں انتظام کیا۔ مولانا غلام غوث صاحب وہاں آرام و سکون سے رہے اور خفیہ طریقے سے کام کرنے والوں کی راہنمائی بھی فرماتے رہے۔ جب مارشل لاء ختم ہو گیا۔ تمام رہنماء رہا ہو گئے اور حالات پوری طرح معمول پر آ گئے تو مولانا بھی حضرت کی اجازت سے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ ۱۹؍ جون ۱۹۵۳ء کو گورنر پنجاب نے آرڈیننس جاری کر کے تحقیقاتی عدالت قائم کی۔ جسے ”تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء“ کا نام دیا گیا۔ اس عدالت نے مجلس عمل اور مجلس احرار کو بھی الگ الگ فریق بنا دیا کہ وہ عدالت میں اپنا

صفحہ ۳۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مؤقف پیش کریں۔ تمام رہنما جیل میں تھے۔ تحقیقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اپنا مؤقف مدلل طریقے سے پیش کرنے کے لئے بڑی تیاری کی ضرورت تھی۔ اس نازک اور اہم موقع پر حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے کام کو سنبھالا۔ لاہور میں حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم کے مکان کا نچلا حصہ خالی کرایا۔ باقاعدہ دفتر قائم کیا۔ مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر کو مستقل طور پر وہاں بٹھایا گیا۔ مذہبی اور قانونی کتابیں اکٹھی کیں۔ مجلس عمل کی وکالت مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش نے اپنے ذمہ لی اور مجلس احرار کی مولانا مظہر علی اظہر نے یہ حضرات اور ان کے علاوہ بھی علماء اور قانون دان دفتر میں تشریف لاتے۔ مشورے ہوتے اور یہیں سے عدالت کے لئے بیانات وغیرہ کی تیاری ہوتی تھی۔ حضرت وقفے وقفے سے لاہور تشریف لے جاتے اور کئی کئی دن وہاں قیام فرماتے اور کام کرنے والے حضرات کو ہدایات اور مشوروں سے سرفراز فرماتے تھے۔

اپنے ضلع میں بھی حضرت کی سرپرستی، دعائیں اور توجہات ہمارے لئے بہت بڑا سرمایہ تھیں۔ آپ کے حکم سے حضرت مولانا خان محمد صاحب نے علاقے میں بہت کام کیا تھا۔ اس زمانے میں سڑکیں نہیں تھیں۔ ایک بستی سے دوسری بستی میں پہنچنا بھی مسئلہ ہوتا تھا۔ حضرت مولانا خان محمد نے پورے علاقے میں دورے کئے۔ دیہات کے علماء سے ملے۔ انہیں تحریک کا ہمنوا بنایا۔ دور دراز کی بستیوں اور ان فوجی چکوک میں بھی تشریف لے گئے جہاں لوگ نئے آباد ہو رہے تھے اور حضرت مولانا کی شخصیت اور خانقاہ شریف کے مقام سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ آپ نے تحریک کے لئے رضا کار بھرتی کئے اور ان کی فہرستیں ہمیں میانوالی بھیجیں۔ اپنے چھوٹے بھائی ملک محمد افضل صاحب کو رضا کاروں کے ساتھ گرفتاری دینے کے لئے میانوالی بھیجا اور انہوں نے ۱۳؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو جلوس کے ساتھ گرفتاری پیش کی۔ مارچ کے آخر میں جب ضلعی رہنما گرفتار ہو گئے تو آپ نے میانوالی میں تحریک کا مرکز سنبھالا۔ مارچ کے پہلے عشرے میں آپ نے ایک دورے کے بعد جو رضا کاروں کی فہرستیں بھیجیں ان میں ایک فہرست کے نیچے میرے نام جو تحریر لکھی وہ چند سال پہلے پرانے کاغذات میں سامنے آئی اور میں نے اسے محفوظ کر لیا۔ یہ مختصر سی تحریر مبارک دنوں میں مبارک ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہے جو ہمارے لئے اچھی اور مبارک یادگار ہے۔ وہ تحریر حسب ذیل ہے۔

”موضع ڈنگ کے رضا کاروں کی مزید فہرست آج صبح کی گاڑی سے پہنچنی تھی اور مولانا غلام یٰسین صاحب قریشی نے خود وہ فہرست ساتھ لانی تھی۔ لیکن وہ کسی شدید عارضہ کی وجہ سے آج نہیں پہنچ سکے۔ دو تین روز میں فہرست پہنچ جاوے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ موضع علو والی میں بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے کثیر تعداد میں رضا کار بھرتی ہونے کی قوی امید ہے۔ موضع علو والی کی جملہ کارروائی بھی دو تین روز میں صدر دفتر میں پہنچ جاوے گی۔ موضع ساجری اور اس کے مضافات کے فوجی چکوں میں بھی مجلس عمل کے مطالبات اور پروگرام کی اشاعت کا کام شروع کر دیا ہے۔ پہلے تحریک کی وضاحت اور اس کی دینی و دنیاوی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین کرانی لازمی ہے اور بعد ازاں اس میں حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ فنڈ کی فراہمی کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کیونکہ اگر دیہات میں اس کام کو بھی ساتھ اپنایا جاوے تو لوگوں کا حصہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے اور پھر اس قحط و گرانی میں بہت ہی مشکل ہے۔ ’دگر جاں طلبی میدہم گر زر طلبی سخن دریں است‘ والا معاملہ ہے اور اس وقت تو بیچارے زمینداروں کے پاس کوئی چیز ہی نہیں۔ تاہم پھر بھی بعض لوگوں سے نجی طور پر فنڈ فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ مولیٰ پاک کامیابی نصیب فرمادے۔“

العارض: خان محمد عفی عنہ از: خانقاہ پاک سراجیہ مجددیہ کندیاں ضلع میانوالی

صفحہ ۳۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲/ مارچ کو دس رضا کاروں کا جو قافلہ لاہور گیا تھا ان کے نام یہ ہیں:

۴/ مارچ کو جو بارہ رضا کاروں کا قافلہ لاہور گیا۔ ان کے نام نہیں مل سکے۔ میرے ہمدرس ساتھی حافظ محمد اعظم ولد یار محمد ساکن ڈھوک زمان بھی اسی قافلے میں تھے۔ فوجی عدالت نے انہیں کئی سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی۔ سنٹرل جیل ملتان میں ان کو رکھا گیا تھا۔ حضرت صوفی عبد الرحیم صاحب (موسیٰ خیل) بھی لاہور تشریف لے گئے تھے۔ کئی دن مسجد وزیر خان میں رہے۔ مسلمانوں پر ناحق گولی چلائی جارہی تھی۔ جس کو رکوانے کے لئے تحریک کے رہنماؤں نے مارشل لاء کے انچارج جنرل اعظم خان سے ملاقات کا وقت لیا۔ جنرل صاحب نے شاہی قلعے میں ملاقات کا وقت مقرر کر دیا۔ مارشل لاء کی وجہ سے اپنے ذرائع سے جانا ممکن نہ تھا۔ اس لئے فوجی گاڑی نمائندوں کو لینے آئی۔ مجلس عمل کی طرف سے جنرل صاحب سے گفتگو کے لئے جو چار نمائندے بھیجے گئے۔ ان میں صوفی عبد الرحیم صاحب بھی تھے۔ یہ حضرات فوجی گاڑی میں شاہی قلعہ پہنچے تو تھوڑی دیر بعد انہیں بتایا گیا کہ جنرل صاحب سے ملاقات نہیں ہوگی اور آپ لوگ اپنے آپ کو گرفتار سمجھیں۔ الگ الگ کوٹھڑیوں میں بند کر دیئے گئے۔ ایک دن فوجی عدالت کے سامنے پیش کئے گئے تو انہیں دفعات پڑھ کر سنائی گئیں اور بتایا گیا کہ ان دفعات کے تحت کم از کم سزا چودہ سال قید با مشقت ہے اور زیادہ سزائے موت ہے۔ ایک آدمی تم سب کی طرف سے بیان دے دے۔ حضرت صوفی صاحب نے فرمایا کہ جب ان دفعات کے تحت اتنی بڑی سزائیں دی جاسکتی ہیں تو کم از کم ہر ملزم کو عدالت کے سامنے بیان دینے کا تو حق ملنا چاہئے۔ عدالت نے ان کی بات تسلیم کر لی۔ سب کے الگ الگ بیان ہوئے۔ حضرت صوفی صاحب نے فوجی عدالت میں ایسے سوالات اٹھائے کہ عدالت کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مارشل لاء کی یہ دفعات ان پر لاگو نہیں ہوسکتیں۔ جب مقدمے کا فیصلہ ہوا تو انہیں بری کر دیا گیا اور ضلع کے تمام ساتھیوں سے پہلے صوفی صاحب رہا ہو گئے۔

۳۱/ مارچ تک جو رضا کار گرفتار ہوئے ان کے نام کاغذات میں ملے ہیں۔ اس کے بعد آٹھ دس دن مسلسل گرفتاریاں ہوئیں۔ جن کے نام ہمیں نہیں مل سکے۔ ۳۱/ مارچ تک کے نام حسب ذیل ہیں۔

صفحہ ۳۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صفحہ ۳۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۶۷ ...... نذر خان ولد عالم خان موچھ۔ ۶۸ ...... حق نواز خان ولد احمد خان موچھ۔ ۶۹ ...... غلام عباس خان ولد ہاتھی خان موچھ۔ ۷۰ ...... عبدالرحمن ولد میاں عباس چکڑالہ۔ ۷۱ ...... غلام محمد میاں ولد دین محمد ڈھوک زمان۔ ۷۲ ...... عالم خان ولد محمد خان روکھڑی۔ ۷۳ ...... نور محمد ولد علی محمد دیوالہ۔ ۷۴ ...... شیر بہادر چکڑالہ۔ ۷۵ ...... ملک غلام صدیق میبل۔ ۷۶ ...... صاحبزادہ عبدالخالق کلور کوٹ۔ ۷۷ ...... شیر محمد ولد اسماعیل ڈھوک زمان۔ ۷۸ ...... مولوی محمد حنیف کلور کوٹ۔ ۷۹ ...... ملک احمد خان کلور کوٹ۔ ۸۰ ...... اللہ بخش ولد گل محمد کلور کوٹ۔ ۸۱ ...... محمد حسین ولد علی محمد کلور کوٹ۔ ۸۲ ...... احمد بخش ولد احمد کلور کوٹ۔ ۸۳ ...... غازی ولد احمد کلور کوٹ۔ ۸۴ ...... ملک محمد فضل خانقاہ سراجیہ۔ ۸۵ ...... محمد زمان ولد غلام حسن خانقاہ سراجیہ۔ ۸۶ ...... محمد صدیق ولد محمد نواز خانقاہ سراجیہ۔ ۸۷ ...... محمد خان ولد غلام عباس خان موچھ۔ ۸۸ ...... عالم شیر ولد جعفر میبل۔ ۸۹ ...... غلام احمد ولد چراغ میبل۔ ۹۰ ...... غلام محمد ولد عمر میبل۔ ۹۱ ...... محمد رمضان ولد غلام علی میبل۔ ۹۲ ...... محمد رمضان ولد غلام عیسیٰ میبل۔ ۹۳ ...... میاں مقصود علی بھرو نوالہ۔ ۹۴ ...... یعقوب علی ولد میاں عیسیٰ موسیٰ خیل۔ ۹۵ ...... امیر عبداللہ ولد صاحب داد خان روکھڑی۔ ۹۶ ...... شیر شاہ خان ولد محمد خان روکھڑی۔ ۹۷ ...... عباس خان ولد محمد خان روکھڑی۔ ۹۸ ...... عالم خان ولد محمد خان روکھڑی۔ ۹۹ ...... محمد خان ولد انور خان روکھڑی۔ ۱۰۰ ...... غلام علی شاہ ولد رنگ شاہ روکھڑی۔ ۱۰۱ ...... مقبول حسین شاہ روکھڑی۔ ۱۰۲ ...... عبدالحمید خان ولد محمد حیات خان روکھڑی۔ ۱۰۳ ...... سلطان سکندر خان ولد محمد حیات خان روکھڑی۔ ۱۰۴ ...... امام الدین جنڈانوالہ۔ ۱۰۵ ...... عبدالکریم ولد اللہ داد خان سنوانس۔ ۱۰۶ ...... محمد حسین کالا باغ۔ ۱۰۷ ...... میاں محمد کالا باغ۔ ۱۰۸ ...... غلام حیدر ولد حکیم میاں محمد کالا باغ۔ ۱۰۹ ...... محمد خان تحصیل عیسیٰ خیل۔ ۱۱۰ ...... محمد عظیم تحصیل عیسیٰ خیل۔ ۱۱۱ ...... عطاء اللہ خان موچھ۔ ۱۱۲ ...... فیض اللہ خان موچھ۔ ۱۱۳ ...... غلام محمد ولد احمد موسیٰ خیل۔ ۱۱۴ ...... شیر محمد ولد عبداللہ کھولہ۔ ۱۱۵ ...... احمد خان ولد ایاز خان عیسیٰ خیل۔ ۱۱۶ ...... حضرت علی ولد ایاز خان عیسیٰ خیل۔ ۱۱۷ ...... شاہ نواز خان ولد غلام قاسم خان عیسیٰ خیل۔ ۱۱۸ ...... محمد احسن خان ولد عبدالرحمن خان عیسیٰ خیل۔ ۱۱۹ ...... مولانا عبدالحمید داؤدخیل۔ ۱۲۰ ...... محمد حیات ولد محمد نواز داؤدخیل۔

صفحہ ۳۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ضلعی مجلس عمل کے اہم لوگوں میں مولانا گلزار احمد مظاہری کے متعلق مجھے یاد نہیں رہا کہ وہ ہمارے بعد کب گرفتار ہوئے۔ کس جیل

صفحہ ۳۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں رہے اور کب رہا ہوئے۔ ایک دفعہ تحریک کے شروع میں پولیس انہیں گرفتار کر کے شاہی قلعہ لاہور لے گئی تھی اور جلدی رہا کر دیا تھا۔ وہ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر تھے اور شروع سے مجلس عمل میں شریک تھے۔ راست اقدام کمیٹی کے بھی رکن تھے اور اس مالیاتی کمیٹی کے بھی رکن تھے جس کے دو ارکان کے دستخطوں سے خزانچی سے رقم حاصل کی جاسکتی تھی۔ وسط مارچ تک وہ تحریک میں سرگرم رہے۔ بعد میں ان میں کچھ تبدیلی آگئی۔ میں نے دفتری ضرورت کے لئے کچھ رقم کی چٹ صوفی محمد ایاز خان صاحب سے خزانچی کے نام لکھوائی اور مولانا گلزار احمد سے دستخط کرنے کو کہا تو انہوں نے ٹال مٹول کی اور پاس کھڑے دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا کہ ان سے دستخط کرالو۔ میں نے کہا یہ کمیٹی کے رکن نہیں۔ آپ دستخط کریں۔ میرے اصرار پر انہوں نے دستخط تو کر دیئے مگر کئے انگریزی میں۔ حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی انگریزی میں دستخط نہیں کئے تھے۔ ملک غلام صدیق مبیل جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ انہوں نے ۱۳؍ مارچ کو گرفتاری دی۔ مولانا گلزار احمد نے ان سے جیل میں ملاقات کی اور ان کی گرفتاری کو جماعت کی پالیسی کے خلاف بتلایا تو ملک غلام صدیق نے جماعت اسلامی کی رکنیت سے استعفیٰ لکھ کر ان کے حوالے کر دیا۔ جب تحقیقاتی عدالت میں مودودی صاحب کا بیان ہوا تو انہوں نے مولانا احمد شاہ چوکیڑوی اور ملک غلام صدیق مبیل کے متعلق کہا کہ انہوں نے راست اقدام میں حصہ لیا اور ہم نے انہیں جماعت سے خارج کر دیا۔ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں جماعت اسلامی کا جو بیان درج ہے اس میں لکھا ہے۔

’’جماعت اسلامی من حیث الجماعت اس نئی کمیٹی یا کسی اور راست اقدام کمیٹی کی ممبر نہ تھی۔ نہ جماعت کے کسی فرد کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ راست اقدام کے ورکر کی حیثیت سے بھرتی ہو۔ مولانا (مودودی) نے اپنے احکام سے اور اس عمل سے کہ انہوں نے جماعت کے دو ممبروں کو اس حکم کی خلاف ورزی کی پاداش میں خارج کر دیا۔ یہ حقیقت ہر شخص پر روشن کر دی کہ جماعت کسی اعتبار سے نہ راست اقدام پر یقین رکھتی ہے نہ اس کی حمایت کرتی ہے اور اپنے آپ کو ایسی تمام سرگرمیوں سے کاملاً منقطع کر چکی ہے۔‘‘

جو آدمی جماعت سے استعفاء دے کر الگ ہو گیا اس کو خارج کرنے کے کیا معنی ہیں۔ ملک غلام صدیق نے جب استعفاء دے دیا تو اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس کو جماعت سے خارج کیا گیا ہے۔ کتنی بڑی غلط بیانی ہے؟ مولانا گلزار احمد نے ۱۴؍ مارچ کے بعد اپنے رویہ میں کسی قدر تبدیلی تو کر لی لیکن وہ راست اقدام کمیٹی کے آخر تک ممبر رہے اور مالیاتی کمیٹی سے بھی کوئی استعفاء نہیں دیا۔ مولانا علی محمد صاحب جماعت اسلامی شعبہ لنگر میانوالی کے امیر تھے۔ رضا کاروں کے لنگر خانے کے آخر تک انچارج رہے اور ان کی جماعت نے تحقیقاتی عدالت میں بڑے دھڑلے سے بیان دیا کہ ہم نے اپنے کارکنوں کو اس قسم کی سرگرمیوں سے منع کر دیا تھا۔ صرف دو ممبروں نے خلاف ورزی کی اور وہ جماعت سے خارج کر دیئے گئے۔

جہلم و چکوال

(پنجاب کا معروف فوجی ضلع جہلم (وچکوال) کی رپورٹ کے متعلق اپنے مخدوم گرامی حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب دامت برکاتہم امیر خدام اہل سنت خلیفہ مجاز حضرت شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی کو عریضہ لکھا جس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا۔ مرتب!)

قاضی صاحب فرماتے ہیں : ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ہمارا مرکز جہلم تھا۔ ان دنوں میں اپنے گاؤں بھی رہتا تھا۔ ۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء بروز جمعہ جامع مسجد گنبد والی جہلم میں مولانا عبد اللطیف صاحب نے ختم نبوت کے موضوع پر ولولہ انگیز تقریر کی اور احتجاجی جلوس کی

صفحہ ۳۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صورت میں گرفتاری پیش کی۔ اس کے بعد میرا (قاضی صاحب) پروگرام تھا۔ میں نے بھی ۱۳/مارچ کے جمعہ پر جامع مسجد مذکور میں تقریر کی اور جلوس نکالا اور گرفتاری پیش کی۔ اس کے بعد مولانا حکیم سید علی شاہ مرحوم ساکن ڈومیلی نے گرفتاری دینی تھی۔ لیکن ان کو جمعہ سے قبل ہی گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل جہلم بھیج دیا گیا۔

۱۱/مارچ کو چکوال سے حافظ مولانا غلام حبیب مرحوم کو گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل جہلم بھیج دیا گیا تھا۔ جہلم میں دو دن رکھنے کے بعد مولانا عبداللطیف، مولانا سید علی شاہ، مولانا صادق حسین مرحوم جہلمی (بریلوی) اور راقم الحروف (قاضی صاحب) کو لاہور سنٹرل جیل لایا گیا۔ ہمارے ساتھ اپنے جماعتی رفقاء چکوال کے کارکن بھی تھے۔ جن میں میاں کرم الٰہی مجاہد خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ لاہور سے پھر ہمیں سنٹرل جیل ساہیوال (منٹگمری) منتقل کر دیا گیا۔ منٹگمری میں جہلم، کیمبل پور (اٹک)، سرگودھا اور منٹگمری کے نظر بند رکھے گئے تھے۔ ہمارے کمرے کے ساتھ علیحدہ کوٹھڑی میں حضرت مولانا نصیر الدین صاحب شیخ الحدیث غورغشتی بھی تھے جو بہت بڑے مفتی اور بزرگ رہنما تھے۔ انہوں نے بڑی جرأت و بہادری کے ساتھ تحریک کی قیادت کی تھی اور گرفتار ہوئے تھے۔ سرگودھا کے نظر بندوں میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھوی بھی تھے۔

مولانا غلام حبیب صاحب کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں رکھا گیا اور وہ ۹/جون ۱۹۵۳ء کو رہا کر دیئے گئے۔ منٹگمری جیل سے مولانا عبداللطیف جہلمی کے ساتھ اور بھی چند رضا کار نظر بند تھے۔ جب رہائیاں شروع ہوئیں تو نظر بند حضرات رہا ہوتے رہے۔ راقم الحروف (حضرت قاضی صاحب) کی رہائی بتاریخ ۱۴/جنوری ۱۹۵۴ء کو عمل میں آئی۔ رہائی کے بعد بندہ (قاضی صاحب) نے شیخ العرب والعجم حضرت مولانا قاضی سید حسین احمد مدنی قدس کی خدمت میں عریضہ لکھا تو حضرت نے اپنے کرامت نامے میں یہ تحریر فرمایا۔

’’نظر بندی کا علم فقط اس خط سے ہوا۔ اگرچہ عرصہ دراز سے کوئی والا نامہ نہیں آیا تھا۔ مگر یہ خیال نہ تھا۔ حق تعالیٰ شانہ اس دینی جہاد کو قبول فرمائے اور باعث کفارہ سیّات اور ترقی درجات کرے۔ آمین۔ ۲۳؍ شوال ۱۳۷۳ھ منقول از مکتوبات شیخ الاسلام ج ۴ مکتوب نمبر ۳۵۔ حالات عرض کر دیئے ہیں۔ جو مناسب سمجھیں شائع کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم تمام اہل سنت والجماعت کو عقیدہ ختم نبوت اور خلافت راشدہ کی تبلیغ وتحفظ کی توفیق دے۔ اپنی مرضیات کی اتباع نصیب کریں اور اہل سنت والجماعت کو ہر محاذ پر کامیابی نصیب ہو۔

آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم! والسلام!

خادم اہل سنت مظہر حسین، مدنی جامع مسجد چکوال ۱۳؍ محرم ۱۴۱۲ھ / ۲۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء

ملتان

ملتان کو تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں مرکزیت حاصل تھی۔ حضرت امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری یہ سب تحریک کے صف اوّل کے رہنما تھے۔ تحریک میں ان حضرات کو وہی مقام حاصل تھا جو جسم میں روح کو حاصل ہوتا ہے۔ ملتان کو برصغیر میں مدینۃ الاولیاء ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔ تقسیم سے قبل مجلس احرار کی ایک آل انڈیا کانفرنس یہاں پر منعقد ہوئی۔ مولانا محمد علی جالندھری کا شباب تھا۔ آپ کی دھواں دھار تقریر نے ملتان کے در و دیوار ہلا دیئے۔ حافظ محمد یار بزاز اور مولانا

صفحہ ۳۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

برخوردار نے رفقاء سمیت مل کر مجلس احرار کے مرکزی صدر مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی سے درخواست کی کہ مولانا محمد علی جالندھری ہمیں ملتان کے لئے دے دیئے جائیں۔ تب آپ کے حکم پر مولانا محمد علی جالندھری نے ملتان میں ڈیرے ڈال دیئے۔ جامع مسجد سراجاں حسین آگاہی کی خطابت سنبھال لی۔ اس میں جامعہ محمدیہ کے نام سے مدرسہ قائم فرمایا۔ مجلس احرار کو منظم کیا۔ آپ ملک کے کسی کونہ میں ہوتے جمعہ آپ کا حسین آگاہی کی مسجد میں ہوتا۔ آپ کے منبر پر تشریف لانے سے قبل مسجد اندر باہر سے کھچا کھچ بھر جاتی۔ حتیٰ کہ گلی، بازاروں، کوچے، مکانات کی چھتوں پر لوگ ہوتے۔ تحریک آزادی کی عوام میں روح پھونکتے تو عوام تڑپ اٹھتے۔ برطانیہ سامراج اور ان کے گماشتوں کو للکارتے تو وہ بلبلا اٹھتے۔ آپ نے ملتان کے عام و خاص باغ میں سالانہ احرار کانفرنس کی داغ بیل ڈالی۔ ہندوستان بھر کے چوٹی کے رہنماء ملتان تشریف لائے۔ ہر مقرر کو ریلوے اسٹیشن پر احرار رضا کار سلامی دیتے۔ ۱۹۴۶ء کی کانفرنس میں شرکت کے لئے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی تشریف لائے۔ اسٹیشن سے جلسہ گاہ تک تین میل دورویہ رضا کاروں کے جلو میں آپ کی آمد پر ملتان کے در و دیوار نے والہانہ رقص کیا۔ تقسیم سے قبل مولانا محمد علی جالندھری اپنے اہل و عیال سمیت ملتان تشریف لا چکے تھے۔ ملتانی پیر پرست تھے۔ ان کو خدا پرست بنانے میں مولانا نے شب و روز ایک کر دیا۔ ملتان میں آپ کی تشریف آوری نے تحریک آزادی میں ملتان کے کردار کو آگے بڑھایا۔ پانی پت سے قاری رحیم بخش کو بلوایا۔ ان کی اخلاص بھری محنت سے ملتان میں حفظ قرآن کا شوق ابھرا۔

تحریک آزادی کے دوران یوں تو بہت جلسے ہوئے۔ لیکن وہ جلسہ جس میں آغا شورش کاشمیری کو تقریر کے دوران گورنمنٹ گرفتار کرنے پر مجبور ہو گئی۔ وہ تاریخی جلسہ تھا۔ اس جلسہ کے نہ صرف منتظم اعلیٰ مولانا مرحوم تھے بلکہ آپ نے سٹیج پر بیٹھ کر شورش کی تقریر کرائی۔ تقریر کیا تھی جذبات کی آندھی ، شورش الفاظ کی بجائے برطانیہ و برطانوی گماشتوں پر انگاروں کی بارش کر رہے تھے۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ تقریر کے دوران برطانوی عہد میں کسی مقرر کو گرفتار نہ کیا جاتا تھا۔ مگر شورش کی تقریر نے حکومتی نمائندوں کے اس طرح خواب و خور حرام کئے کہ وہ تقریر کے دوران انگاروں پر بل کھانے لگے۔ غرضیکہ تقسیم سے قبل ملتان کا پلیٹ فارم کسی بھی دینی تحریک کے لئے تیار تھا۔ ملک تقسیم ہوا تو مولانا محمد علی جالندھری کے قیام ملتان کے باعث مولانا خیر محمد جالندھری ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بھی ملتان کو میمنت قدوم سے نوازا۔ جامعہ خیر المدارس کا قیام عمل میں آیا تو مولانا محمد علی جالندھری نے جامعہ محمدیہ کی تمام کتب، اثاثہ، اساتذہ، فنڈ سب کچھ خیر المدارس کو دے دیا اور خود تبلیغی کاموں کے لئے فارغ ہو گئے۔ بہاول پور، ملتان کے مغرب جنوب میں ۶۲ میل پر واقع ہے۔ ۱۹۲۶ء سے ۱۹۳۵ء تک دس گیارہ سال میں یہاں پر مرزائیت کے خلاف مقدمہ رہا۔ تب ہندوستان بھر کے چوٹی کے علماء کرام مشائخ عظام تشریف لائے۔ مرزا قادیانی کا ایک بیٹا مرزا سلطان شجاع آباد میں تحصیلدار رہ چکا تھا۔ غرضیکہ تقسیم کے قبل ہی ملتان مرزائی مسلم تنازعہ سے واقف تھا۔ مولانا محمد علی جالندھری کی بے مثال حق گوئی سے مسجد سراجاں کو مرکزیت حاصل تھی۔ جمعہ کے بعد خاکسار و مجلس احرار کے جیوش علیحدہ علیحدہ یہاں پر فوجی پریڈ و مارچ کر کے ایمان پرور سماں باندھا کرتے تھے۔ پورے پنجاب میں ملتان کی یہ مسجد تبلیغ اسلام کے لئے مرکز قرار پائی تھی۔ تقسیم کے بعد مرزائیوں نے پر پرزے نکالنے شروع کئے۔ ان کے اللوں تللوں میں اضافہ ہوا۔ وہ اپنے آپ کو گورے انگریز کا کالا لے پالک بیٹا سمجھتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی شیطنت سے مسلمان گھبرایا۔ پریشان ہوا۔ حضرت امیر شریعت، حضرت قاضی صاحب، حضرت جالندھری کے قیام ملتان کے باعث مرزائیت کے احتساب کے لئے پورے ملک کا

صفحہ ۳۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رخ ملتان کی طرف ہوا۔ حضرت امیر شریعت کا حکم پا کر مولانا محمد علی جالندھری، مولانا غلام غوث ہزاروی لاہور میں حضرت مولانا ابوالحسنات سے ملے اور لاہور و کراچی میں قادیانیت کے احتساب کے لئے منصوبہ بندی ہونے لگی۔ تحریک سے کچھ عرصہ قبل لاہور نسبت روڈ پر جلسہ عام منعقد ہوا۔ اس میں مولانا محمد علی جالندھری کا تاریخ ساز انقلاب آفرین خطاب ہوا۔ عرصہ تک لاہور کے در و دیوار اس خطاب سے گونجتے رہے۔ آپ کی گھن گرج نے لاہور کو سراپا تحریک بنا دیا۔ حضرت امیر شریعت تقریر کی روانی سے اتنے متاثر ہوئے کہ سٹیج چھوڑ کر سامعین میں جا بیٹھے اور بعد میں تقریر کرنے سے انکار کر دیا۔ فرمایا کہ مولانا کی اس تقریر کے بعد بخاری کیا کہے؟ بھائی محمد علی نے کیا چھوڑا ہے؟ جو میں بیان کروں۔

حضرت امیر شریعت تحریک کا نقطہ اتحاد تھے۔ قاضی صاحب تحریک کے ترجمان تھے اور مولانا محمد علی جالندھری تحریک کا بنیادی پتھر۔ لاہور و کراچی کی میٹنگوں میں آپ حضرات ہی دراصل داعی تھے۔ مگر کیا مجال ہے سارا کام کرنے کے باوجود کبھی کریڈٹ کے لئے آگے بڑھے ہوں ۔ ہمیشہ دوسرے رفقاء کو آگے بڑھایا۔ فروری کے آخری ہفتہ میں کراچی میں فیصلہ کن میٹنگ تھی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ راوی ہیں کہ ۱۸؍ فروری ۱۹۵۳ء بروز بدھ (غالباً) خیرالمدارس کے قریب واقع اپنے ذاتی مکان کے صحن میں مولانا نے گڑھا کھدوایا اور ضروری ریکارڈ پر مشتمل دو بکس بھر کر دفتر قدیر آباد سے لائے اور صحن میں اوپر نیچے بوریاں ڈال کر بکسوں کو زمین میں دبا دیا۔

۲۰؍ فروری ۱۹۵۳ء آل پارٹیز مجلس عمل کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر قلعہ کہنہ قاسم باغ پر جمعہ پڑھا گیا۔ حضرت شاہ جی، حضرت قاضی صاحب، حضرت جالندھری صاحب جماعت اسلامی کے باقر علی صاحب اور دوسرے حضرات نے خطاب فرمایا۔ حد نگاہ تک انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سیل رواں نظر آرہا تھا۔ جمعہ کے بعد چناب ایکسپریس کے ذریعہ حضرت جالندھری صاحب کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔ کراچی میں میٹنگ اور جلسہ عام کی رپورٹ پہلے گزر چکی ہے۔ شاہ جی کراچی جلسہ عام سے فارغ ہوئے تو ۲۶، ۲۷ کی درمیانی رات گرفتار کر لئے گئے۔ جب کہ مولانا محمد علی جالندھری ۲۵ شام کو تقریر کرتے ہی چناب کے ذریعہ ملتان روانہ ہوگئے۔ ملتان کا ٹکٹ تھا۔ لیکن آپ شجاع آباد اتر گئے۔ فروری کی ۲۷ تاریخ تھی۔ تمام رہنماء کراچی میں گرفتار ہو چکے تھے۔ مولانا نے پولیس کو جل دینے کے لئے شجاع آباد اترنا مناسب سمجھا۔ اسٹیشن پر گاڑی پہنچی تو کراچی سے روانگی کی اطلاع پا کر پولیس تیار تھی۔ آپ کو نہ پا کر سخت پریشان ہوئے۔ شہر بھر کا گشت لگانا شروع کردیا۔ آپ شجاع آباد واحد بخش ٹرانسپورٹ کے ذریعہ حرم گیٹ کے قریب جہاں آج کل شاہین مارکیٹ ہے یہاں اڈہ تھا۔ اس پر تقریباً دن کے چار بجے اترے۔ آپ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ دفتر میں چھاپا مارا تو کاغذات و ضروری ریکارڈ جو پہلے محفوظ ہو چکا تھا۔ باقی ریکارڈ رجسٹرات وغیرہ پولیس لے گئی۔ جماعت کا کچھ فنڈ آپ نے حافظ محمد شریف آنول کے سپرد کر دیا۔ کچھ حاجی دین محمد صاحب لاہور والوں کو بھجوا دیا۔ پولیس نے جب سیف دیکھا تو رقم ندارد۔ مولانا محمد شریف جالندھری سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میاں مولانا کو پتہ ہوگا۔ بے ربط بات ہوگی۔ مگر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ ہر چند کہ جماعت کی رقم حضرت امیر شریعت کی منظوری و اجازت سے آپ نے ان حضرات کے ہاں رکھی، حاجی دین محمد والی رقم تو تحریک کے کام آگئی۔ مگر شریف آنول صاحب رقم لے کر اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے۔ تحریک ختم ہونے کے بعد مولانا محمد علی مرحوم نے اپنی جیب سے وہ رقم دفتر میں جمع کرا دی کہ اس رقم کی حفاظت میرا فرض تھا۔ اگر رقم نہیں ملی تو قیامت کے دن میں ماخوذ نہ ہو جاؤں۔ دفتر کی رقم پوری کر دی اور ساتھ ہی وصیت کر دی کہ اگر آنول صاحب کو خدا ہدایت دے

صفحہ ۳۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیں اور وہ رقم واپس کر دیں تو وہ رقم بھی مجلس کی رسید کاٹ کر مجلس کے بیت المال میں جمع کرا دی جائے۔ قارئین اندازہ فرمائیں کہ تحریک ختم نبوت کے رہنما کتنی اجلی سیرت کے لوگ تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری گرفتار ہوئے تو اب شہر میں تحریک نے زور پکڑا۔ ہر روز سراجاں مسجد سے گرفتاریاں ہوتی تھیں۔ کوئی قابل ذکر رہنما، عالم دین بزرگ، طالب علم اور کارکن ایسا نہ تھا جو پیچھے رہا ہو۔ سبھی لوگ مولانا مفتی محمود صاحب سے لے کر مولانا احمد سعید کاظمی تک گرفتار ہوئے۔ لاہور سے مولانا احمد علی لاہوری ملتان جیل تشریف لائے۔ قاضی صاحب، مولانا محمد علی، سید نور الحسن۔ سبحان اللہ کیا منظر ہوگا۔ ایک رات مولانا محمد علی جالندھری نے خواب دیکھا کہ بڑا لڑکا مولوی حافظ حبیب الرحمن زخمی ہے۔ طبیعت اداس ہوئی۔ صبح حضرت لاہوری سے خواب کا ذکر کیا۔ حضرت لاہوری نماز پڑھ کر اپنی جگہ کی طرف جا رہے تھے۔ جب سنا تو چلتے ہوئے جو قدم اٹھایا ہوا تھا۔ ایک قدم پر کچھ دیر توقف کیا اور مولانا جالندھری کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔ اس وقت سب آرام اور خیریت سے ہیں۔ لفظ ”اس وقت“ سے کچھ شبہ ہوا۔ ان دنوں حافظ حبیب الرحمن صاحب خیر پور ٹامیوالی ضلع بہاول پور میں پڑھ رہے تھے۔ مولانا محمد علی صاحب نے مولانا عزیز الرحمن (جو خیر المدارس میں پڑھ رہے تھے) کو خط لکھا کہ اپنے بہن بھائیوں، اپنی اور گھر کی خیریت کا خط لکھیں۔ ہوا یہ کہ حافظ حبیب الرحمن صاحب نے اسٹوپ جلایا۔ آگ جل رہی تھی۔ مزید ہوا بھرنی چاہی تو اسٹوپ پھٹنے سے گردن، کندھا اور سینہ کا کچھ حصہ جل گیا۔ مرہم پٹی کی تو ٹھیک ہو گئے۔ حضرت نے جب خواب دیکھا تو واقعہ ہو چکا تھا اور حضرت لاہوری نے بھی ٹھیک فرمایا کہ اس وقت خیریت و آرام ہے۔

مولانا محمد علی صاحب جیل میں تھے۔ ملاقاتوں پر پہلے پابندی تھی۔ پھر صرف جمعرات کو ملاقات ہونے لگی۔ مولانا عزیز الرحمن، مولانا محمد صدیق ہمیشہ مولانا کی ملاقات کے لئے جاتے۔ کبھی بھائی حبیب الرحمن صاحب بھی ساتھ ہوتے۔ ملاقات ڈیوڑھی کے اوپر بالا خانہ پر ہوتی تھی اور ملاقات کے وقت ایک سرکاری رپورٹر ساتھ ہوتا تھا۔ جو ملاقات کے نکات نوٹ کر کے گورنمنٹ کو اطلاع کرتا تھا۔ مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ابتداء میں تین چار بار گئے تو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ ایک بار جمعرات کو گئے تو بار بار اعلان ہوا کہ مولانا محمد علی صاحب کی آج ملاقات ہوگی۔ ملاقاتی موجود رہیں۔ اتنے میں مولانا کو دیکھا تو وہ بھی بالا خانے پر ٹہل رہے تھے۔ چند گھنٹوں بعد ایک جیپ آکر رکی۔ لاہور سے ایک آفیسر آیا۔ وہ ہمیں لے کر اندر گیا۔ بالا خانے پر گئے تو مولانا عزیز الرحمن، مولانا محمد صدیق اور اس آفیسر سے آپ ملے۔ آفیسر درمیان میں کرسی ڈال کر بیٹھ گیا۔ مولانا عزیز الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے مولانا نے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ پیار کیا گھر کی خیر خیریت پوچھی۔ اتنے میں اس آفیسر نے کہا کہ آپ ان عزیزان کی ملاقات سے فارغ ہولیں میں لاہور سے آیا ہوں۔ آپ سے کچھ مجھے بھی باتیں کرنا ہیں۔ مولانا محمد علی صاحب نے یہ سنتے ہی مولانا عزیز الرحمن کو گود سے اٹھا کر کرسی پر بٹھا دیا اور اس آفیسر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ میں ان سے ملاقات کر چکا۔ آپ فرمائیں کہ آپ نے مجھ سے کیا پوچھنا ہے۔ العظمة لله! اتنی دیر بعد ملاقات، اتنی جلدی اپنے عزیزوں سے فراغت اور اپنے فرض کی طرف توجہ کامل۔ آفیسر حیران ہوا۔ مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں کہ اس نے پوچھا کہ جب آپ کراچی سے چلے ہیں گورنمنٹ کی اطلاع کے مطابق آپ کے پاس چالیس ہزار تھے۔ جب آپ ملتان گرفتار ہوئے تو آپ سے رقم برآمد نہیں ہوئی۔ فرمائیے وہ رقم کہاں ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ تحریک کے مقاصد کے لئے راستہ میں حسب ضرورت، حسب صوابدید تقسیم کر دی تھی۔ آفیسر نے کہا کہ اس کی کوئی رسید یا تفصیل۔ فرمایا کہ رسید تو اس لئے نہیں ہے کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور میں (مولانا محمد علی جالندھری) جماعت میں دو آدمی ایسے ہیں کہ ہم اپنی صوابدید پر تحریک کے مقاصد کے لئے کوئی رقم خرچ کریں

صفحہ ۳۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تو ہم سے پروف کوئی نہیں مانگتا۔ تفصیل اس لئے نہیں بتاتا کہ اس کی تفصیل بتانا تحریک کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس آفیسر نے کہا کہ آپ کو بتانا ہو گی۔ پروف دکھانے ہوں گے۔ فرمایا کہ گورنمنٹ کا ایک صوابدیدی فنڈ ہوتا ہے جو اس کا مجاز ہو۔ اس کے پروف اور اس کی تفصیل کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ یہ صوابدیدی فنڈ تھا۔ مجلس عمل کے اجلاس میں ۳۳ آدمی تھے۔ ۳۲ رہ گئے۔ میں اکیلا اس کام کے لئے روانہ ہوا۔ آخر مجھ پر اعتماد تھا تو مجھے اس کام پر مامور کیا گیا۔ اس نے بڑا اصرار کیا۔ مگر مولانا آخر تک ڈٹے رہے۔ اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ حکومت نے تمام رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے ان کو آپس میں بدظن کرنا اور تحریک میں دراڑیں پیدا کر کے اصل رہنماؤں پر بغاوت کا کیس چلانا تھا۔ مگر تدبیر کند بندہ تقدیر شود خندہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں کہ ہمارے ماموں جناب حافظ عطاء الرحمن مسجد سراجاں سے گرفتار ہوئے۔ ان کی ملاقات پر پابندی تھی۔ وہ ہمارا اکلوتا ماموں تھا۔ والدہ کو ان کے متعلق تشویش تھی۔ مولانا نے ایک دفعہ اپنی ملاقات پر یہ انتظام کیا کہ حافظ عطاء الرحمن کو پہلے درخواست لکھ کر دی کہ میری صحت ناساز ہے۔ ڈاکٹر کے پاس لے جا کر میری خوراک تبدیل کی جائے اور حافظ صاحب کو کہا کہ ٹھیک بارہ بجے ڈیوڑھی پر اندر سے آ جانا۔ بارہ بجے تک مولانا ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ بارہ بجے نیچے اترے۔ ابھی ڈیوڑھی میں تھے کہ ڈیوڑھی کے دروازہ کو جیل کے اندر سے کسی سائل نے کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا تو حافظ عطاء الرحمن صاحب کے ہاتھ میں درخواست تھی۔ بھانجے کو دیکھا تو صبر نہ ہو سکا۔ گلے لگا لیا۔ مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں کہ صبر ہم سے بھی نہ ہو سکتا تھا۔ ہم تو آ گئے مگر رپورٹ ہو گئی۔ ہم دونوں بھائیوں مولانا عزیز الرحمن، حافظ حبیب الرحمن کے وارنٹ جاری ہو گئے اور جیل سپرنٹنڈنٹ معطل ہو گیا۔ مولانا احمد علی لاہوری کو پتہ چلا تو فیروز خان نون کو پیغام بھجوا کر جیل سپرنٹنڈنٹ کو بحال کرایا اور ان حضرات کے وارنٹ ختم کرائے۔

مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں کہ جب آپ ملتان سے لاہور جیل میں منتقل ہوئے تو میں اور میرے بڑے بھائی حبیب الرحمن صاحب لاہور ملاقات کے لئے گئے تو مولانا نے فرمایا کہ آج مکئی کی چھلیاں کھانے کو دل کرتا ہے۔ آپ ایک بوری مکئی کے سٹے خرید کر ساڑھے تین بجے جیل کی ڈیوڑھی پر پہنچا دیں اور اگر سنتری اندر نہ آنے دے تو رکھ کر چلے جانا ٹھہرنا نہیں۔ ہم نے ایک بوری سٹے خریدے اور سنتری کے پاس لائے۔ اس نے مولانا کو بھجوانے سے انکار کیا تو ہم ڈیوڑھی پر بوری چھوڑ کر رکشہ پر چلے گئے۔ ہمارے جانے کے بعد مولانا نے جیل کا اندر سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا تو جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور فرمایا کہ ہمارے لئے مکئی کے سٹے آئے ہیں۔ وہ اندر بھجوا دیں۔ اس نے کہا کہ وہ تو قانوناً اندر نہیں آسکتے۔ مولانا نے فرمایا کہ بہت اچھا! جو آدمی لائے تھے ان کو واپس کر دیں۔ ہم جا چکے تھے۔ بہتیرا تلاش کیا مگر ہم نہ ملے تو مولانا نے سپرنٹنڈنٹ سے فرمایا کہ دو ہی صورتیں ہیں یا ہمیں اندر سٹے پہنچوائیں یا مالکان کو واپس کریں۔ سپرنٹنڈنٹ پریشان ہوا اور بالآخر کہا کہ رات عشاء کے بعد جیل کے بند ہونے پر آپ کو سٹے پہنچ جائیں گے۔ یوں سٹے عشاء کے بعد اندر پہنچ گئے اور جیل میں تحریک کے رہنماؤں نے ”سٹا جشن“ منایا۔

مولانا نے ملتان گرفتاری کے وقت اپنے وارنٹ پر ۲۷؍فروری جمعرات ۴ بجے بعد دوپہر کا وقت لکھ دیا تھا۔ تین ماہ کی نظر بندی تھی۔ جو ۲۶؍مئی کو ختم ہو جانا تھی۔ لیکن اس تاریخ سے چند روز قبل تین ماہ توسیع کے آرڈر آ گئے۔ ۲۵؍اگست کو وہ تاریخ بھی ختم ہو گئی۔ مزید توسیع کے آرڈر نہ آئے تو شام ۸ بجے مولانا نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے فرمایا کہ آپ نے مجھے چار گھنٹے حبس بے جا میں رکھا ہے۔ آج میری نظربندی ۴ بجے ختم ہو گئی ہے۔ مزید توسیع کے آرڈر آئے نہیں اور آپ نے مجھے رہا نہیں کیا۔ صبح میں آپ کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ

صفحہ ۳۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دائر کر دوں گا۔ سپرنٹنڈنٹ نے ہوم سیکرٹری کو فون کیا۔ اس نے کہا کہ مولانا کو رہا نہ کریں۔ میں مزید توسیع کے آرڈر بھیج رہا ہوں۔ مولانا نے سپرنٹنڈنٹ کو فرمایا کہ ہوم سیکرٹری آپ کے کام نہ آئے گا۔ اس نے آرڈر کئے بھی تو ۸ بجے کے بعد کے ہوں گے۔ ان چار گھنٹوں کی میں حبس بے جا کی آپ پر رٹ کروں گا۔ رات کو عشاء کے بعد مولانا کو اطلاع ہوئی کہ آپ کو رات رہا کیا جا رہا ہے۔ لیکن ساہیوال کی ایک تقریر کے وارنٹ ہیں۔ رہا ہوتے ہی باہر ساہیوال کی تقریر کے سلسلہ میں گرفتاری ہو جانی ہے۔ مولانا نے اپنے ذرائع سے حکیم عبدالمجید سیفی کو اطلاع کرائی۔ رات ہی ملتان اور ساہیوال اطلاع ہو گئی۔ وہی ہوا کہ رات ۲ بجے آپ کو رہا کیا گیا۔ دو صد پولیس کی نفری جیل کے گیٹ پر موجود تھی۔ آپ کو گرفتار کر کے ساہیوال صبح سول جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ وکیل نے ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔ ۳۰ ہزار روپے کی نقد ضمانت لے کر اس زمانہ کے تیس ہزار جو آج کل کے دور میں تین لاکھ کے برابر ہیں، آپ کو رہا کر دیا گیا۔ یوں آپ ۲۶؍ اگست کو رہا ہو کر ساہیوال سے ملتان یہاں سے کراچی پسنجر کے ذریعہ اپنے گاؤں باڑہ صادق آباد تشریف لے گئے۔ دو دن گزرے کہ مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر کا تار آگیا۔ ماسٹر خان محمد سے وہ تار پڑھوایا گیا جو نہ پڑھ سکے۔ بنگلہ وہاں سے چند میل ہے۔ وہاں سے بھی انگریزی نہ پڑھی جاسکی۔ بارڈر جو وہاں سے سات میل تھا وہاں تار پڑھا گیا۔ معلوم ہوا کہ فلاں تاریخ کو ظفر اللہ قادیانی، خواجہ ناظم الدین، حمید نظامی کا بیان ہونا ہے۔ آپ نے جرح تیار کرنی ہے۔ جیل سے شاہ جی کا حکم ہے کہ آپ لاہور پہنچیں۔ تار پڑھاتے پڑھاتے رات گزر گئی۔ اگلے دن خیبر میل سے آپ گھر چند روز رہ کر لاہور کے لئے روانہ ہو گئے۔ پھر دس ماہ تک اس کیس کے لئے لاہور قیام رہا۔ کبھی کبھار ایک آدھ دن کے لئے گھر تشریف لاتے رہے۔ ورنہ اکثر قیام لاہور رہا۔

مولانا عزیز الرحمن ملتان میں گرفتاریوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ حاجی جان محمد جو حضرت شاہ جی کے عقیدت مند تھے کو گرفتار کیا گیا۔ آپ ختم نبوت کا نعرہ لگاتے پولیس آپ پر ڈنڈوں کی بارش کر دیتی۔ دونوں طرف سے یہ عمل جاری رہا۔ حتیٰ کہ حاجی صاحب کو بے ہوشی کی حالت میں ٹرک پر لادا گیا۔ جیل بھی بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا۔ جب ہوش آیا تو پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کی صدا بلند کر رہے تھے۔ اس طرح ملتان کے لوگوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر تحریک ختم نبوت کے لئے قربانیاں دیں۔ اللہ رب العزت نے ان شہدائے ختم نبوت، اسیران وگرفتار شدگان کی قربانیوں کو ایسا اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا کہ آج عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا صدر دفتر ملتان میں ہے۔ دنیا بھر میں عقیدہ ختم نبوت کے لئے کی جانے والی کوششوں کا محور و مرکز ملتان ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ملتان ہی سے لٹریچر شائع ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کرنے کے لئے قدرت نے ملتان کے آب و دانہ کو وہ شرف بخشا ہے کہ اس پر جتنا بھی اہل ملتان شکر کریں کم ہے۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک!

مولانا عبدالرحیم اشعر فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت کے زمانہ میں میں جماعت کی طرف سے فیصل آباد کا مبلغ تھا۔ تحریک ختم نبوت چلی تو مولانا تاج محمود صاحب فیصل آباد کے امیر تھے۔ آپ نے ایک کار اور لاؤڈ سپیکر کا انتظام کر کے دیا۔ مولانا قاری عبدالحئی عابد ان دنوں مدرسہ اشاعت العلوم فیصل آباد میں زیر تعلیم تھے۔ ان کو قدرت نے بلا کا گلہ دیا تھا۔ یہ میرے ساتھ ہوتے، ہم علی الصبح کار پر نکل جاتے۔ سپیکر لگا کر گاؤں گاؤں پھرتے۔ یہ نظمیں پڑھتے۔ میں تقریریں کرتا۔ اٹھارہ بیس دن تک ہم نے ضلع فیصل آباد کا کونہ کونہ چھان مارا۔ پورا ضلع تحریک میں ہراوّل دستے کا کردار ادا کرنے کے لئے سراپا تحریک بن گیا۔ اٹھارہ بیس دن بعد ہمیں معلوم ہوا کہ تحریک کے تمام راہنماء مولانا تاج محمود، مولانا عبدالمجید نابینا تمام حضرات گرفتار ہو گئے ہیں۔ پولیس ہمارے تعاقب میں ہے۔ کسی بھی وقت گاڑی اور سپیکر

صفحہ ۳۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ضبط کر کے ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا تو ہم نے گاڑی چھوڑ دی۔ فیصل آباد جامع مسجد کی بجلی پانی منقطع کر دیئے گئے تھے۔ مولانا عبدالرحیم اشعر فرماتے ہیں کہ میں رات کو جامع مسجد سے ملحقہ ایک مکان میں ایک تبلیغی جماعت کے ساتھی کے گھر جا کر رہا۔ صبح جمعہ تھا۔ معلوم ہوا کہ مولانا مفتی سیاح الدین کاکا خیل سے تشریف لا چکے ہیں۔ جمعہ پڑھائیں گے۔ وہ وقت پر پولیس وملٹری کی ناکہ بندی کے باعث جامع مسجد میں نہ آسکے۔ میں نے تقریر کی۔ قدرت کا کرم ایسے ہوا کہ تقریر نے شہر میں دھاک بٹھا دی۔ پولیس وملٹری حرکت میں آگئی۔ میں جمعہ سے فارغ ہو کر مسجد کے شمالی دروازہ کے قریب جنازہ گاہ میں بیٹھا تھا کہ ایک احراری دوست نے مجھے وہاں سے نکال لیا۔ میں آخری آدمی تھا جو مسجد سے نکلا۔ اس کے بعد مسجد کے دروازے بند کر کے ایک ایک آدمی کی پہچان کی گئی کہ تقریر کرنے والے مولوی صاحب کہاں ہیں۔ میں نے ایک میلی کچیلی کمبل اوڑھ رکھی تھی۔ لباس بھی بوسیدہ ومیلا تھا۔ مجھے انہوں نے درخور اعتناء نہ سمجھا اور یوں نکل کر مسجد اہل حدیث امین بازار پہنچا۔ شیخ خیر محمد چمڑہ منڈی والے تحریک کے خزانچی تھے۔ انہوں نے مجھے کرایہ دیا اور شہر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا۔ مسجد کے عقبی دروازہ سے کوتوالی تھانہ کے سامنے سے امین پور بازار کو کراس کر کے منشی محلہ سے ہوتے ہوئے جھنگ بازار تانگہ لیا اور جوالہ نگر پل کی طرف نکل گیا۔ میرے ساتھ رحمت اللہ شاہ تھے۔ جو سندیلیا نوالہ کے تھے۔ اشاعت العلوم میں طالب علم تھے۔ ہم ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ملتان کی طرف چل پڑے۔ دو نوجوان ملے۔ پوچھا کہ نواب پور جارہے ہو؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا۔

اتنے میں ملٹری کا ٹرک آ گیا۔ پوچھا کون ہو؟ ہم نے کہا مزدور ہیں۔ کہاں جارہے ہو؟ ہم نے کہا مزدوری کر کے اپنے گاؤں نواب پور جارہے ہیں۔ وہ مطمئن ہو کر چلے گئے۔ ہم چلتے رہے۔ رسالوالہ اسٹیشن پر ٹرین کا ٹائم تھا۔ شہر اور اسٹیشن پر پولیس وملٹری میری گرفتاری کے لئے بل کھا رہی تھی۔ فیصل آباد کے لئے ٹرین آئی تو رحمت اللہ شاہ واپس ہو گئے۔ ملتان کی ٹرین آئی میں سوار ہو گیا۔ خانیوال آیا۔ اسٹیشن پر دو چار لقمے زہر مار کرنے کے لئے کینٹین پر گیا تو دیکھا کہ عبداللہ ہوٹل چنیوٹ بازار فیصل آباد کا منیجر پھر رہا تھا۔ یہ پولیس کا مخبر تھا۔ میں نے اسے دیکھتے ہی اسٹیشن پر لیٹنے میں عافیت سمجھی۔ ٹرین چلی تو لپک کر گارڈ کے ڈبہ میں سوار ہو گیا۔ ملتان سٹی اتر کر ریلوے لائن میں ٹرین کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ عبداللہ ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ ٹرین چھاؤنی کے لئے چلی تو میں بستر اٹھا کر پیدل سفر کر کے خیر المدارس پہنچ گیا۔ ان دنوں جماعت کا دفتر قدیر آباد ہوتا تھا۔ پیغام بھجوایا۔ تیسرے روز بلاوا آ گیا۔ دفتر پہنچ گیا تو مولانا محمد شریف جالندھری نے بورے والا ، وہاڑی ، عارف والا وغیرہ سائیڈ کا پروگرام بنا کر رقعہ پکڑا دیا کہ شاہ جی کے حوالے سے لوگوں کو تحریک کے جاری رکھنے پر تیار کرو۔ اتنے میں پولیس نے دفتر کا محاصرہ کر لیا۔ مولانا محمد شریف جالندھری ، مولانا محمد حیات فاتح قادیان ، مولانا غلام محمد ، سائیں محمد حیات دفتر میں موجود تھے۔ مولانا غلام محمد تو جل دے کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور پروگرام پر روانہ ہو گئے۔ وہاں سے گرفتار ہو کر پھر جیل میں آملے۔ ہم چاروں گرفتار کر لئے گئے۔ پولیس نے مجلس کا سیف توڑا تو سوائے خدا کے نام کے کچھ نہ ملا۔ واہی تباہے بکتے پولیس ہمیں تھانہ صدر لے گئی۔ مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان جیل کاٹنے میں بڑے بہادر اور جری تھے۔ پولیس کو کہا کہ بازار سے اپنے خرچہ سے کھانا لاؤ یا جیل پہنچاؤ ۔ ہم اپنا کھانا نہ کھائیں گے ۔ پولیس نے کھانا کھلایا اور عصر کے قریب سنٹرل جیل ملتان پہنچا دیئے گئے ۔ جیل میں گئے تو مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا احمد علی لاہوری ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، سید نور الحسن بخاری ، مولانا سعید احمد جھگی والا ، مولانا سلطان محمود ، مولانا قائم الدین علی پور اور دوسرے حضرات موجود تھے ۔ ہمارے جاتے ہی جیل کے تمام بزرگوں نے شفقتوں سے نوازا۔ مولانا نذیر احمد ، باقر علی اور دوسرے جماعت اسلامی کے رفقاء بھی آگئے تو مولانا احمد علی لاہوری نے حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو کہہ کر پچیس عدد مغزی

صفحہ ۳۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قرآن مجید کے نسخے منگوائے اور درس قرآن جاری کر دیا۔ پچیس دن بعد قاضی احسان احمد ، مولانا جالندھری، حضرت لاہوری، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری کو ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہاں پر مولانا قاضی احسان احمد اور حضرت لاہوری کو کھانے کی اشیاء میں زہر دیا گیا۔ دو چار لقمے لیتے ہی قاضی صاحب کی طبیعت غیر ہوگئی۔ سخت قے آئی۔ حضرت لاہوری کا بھی یہی حال تھا۔ جیل کا ڈاکٹر آیا تو آتے ہی قے پر پانی ڈال کر اسے بہا دیا تا کہ زہر کا ثبوت باقی نہ رہے۔ جیل میں اس سانحہ کی خبر نے آگ لگادی۔ جیل کے تمام قیدی دیواروں و درختوں پر چڑھ کر سراپا احتجاج بن گئے۔ عملہ تشدد کرتا۔ درمیان میں مولانا محمد علی جالندھری کا تجربہ کام آیا اور ان کے کہنے پر احتجاج ختم ہوا اور سانحہ ہوتے ہوئے رہ گیا۔ کچھ عرصہ بعد مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد حیات، ملک عبدالغفور انوری، سائیں حیات اور میں (عبدالرحیم اشعر ) لاہور بوسٹرل جیل منتقل کر دیئے گئے۔ وہاں پر مولانا خدا بخش ملتانی، مولانا سید امین شاہ مخدوم پوری، مولانا زرین احمد خان موجود تھے۔ میانوالی سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب (امیر مرکزیہ )، صوفی ایاز خان آئے ہوئے تھے۔ قاری رحیم بخش پانی پتی نے تراویح جیل میں پڑھانی شروع کی تو ہر روز اڑھائی صد تحریک کے رہنما مقتدی ہوتے۔ میرے ( عبدالرحیم اشعر ) متعلق پولیس نے متعلقہ آبائی تھانہ جلال پور پیروالہ سے رپورٹ مانگی تو انہوں نے غیراہم لکھ دیا۔ یوں تین ماہ بعد ۲۷؍ رمضان شریف کو میری رہائی ہوگئی۔

جمعیۃ علماء اسلام ملتان کے راہنما ء شیخ محمد یعقوب فرماتے ہیں کہ: مارچ ۱۹۵۳ء میں ملتان میں بھی تحریک کا آغاز ہوا اور مسجد سراجاں حسین آگاہی کو اس تحریک کا مرکز بنایا گیا۔ ہر روز چھ (۶) رضا کار گرفتاری کے لئے پیش ہوتے۔ مسجد سراجاں سے ایک جلوس کی صورت میں مظاہرین کو لے جایا جاتا اور مناسب جگہ پولیس رضا کاروں کو گرفتار کر لیتی تھی۔ یہ تحریک ملتان میں تو آخر تک پرامن رہی۔ البتہ تحریک کے رہنماؤں کو چھاپے مار کر گرفتار کر لیا جاتا رہا۔ مسجد سراجاں میں جولوگ تقریر کے لئے آئے ان کو پریشان کیا جاتا اور گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی۔ ملتان میں آخر تک تحریک پرامن رہی اور قائدین تحریک نے بڑی خاموشی سے عزیمت اور اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک کو باقی رکھا۔ تحریک پنجاب میں پرجوش تھی۔ حکومت اور پولیس کی مداخلت کی وجہ سے فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور میں ریلوے کو روکا گیا۔ پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ لاہور میں مارشل لگا دیا گیا۔ اس طرح پرامن تحریک تشدد کے دور میں داخل ہوگئی۔ جب کہ مجلس عمل اس تحریک کو پرامن چلانے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ مگر حکومت کی غلط حکمت عملیوں سے تحریک تشدد کا شکار ہوئی۔

مولانا مفتی محمود کی گرفتاری

تحریک صوبہ سرحد میں پرجوش نہیں تھی۔ اس لئے ملتان تحریک کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ کسی ذمہ دار بزرگ کو صوبہ سرحد بھیجا جائے۔ مولانا مفتی محمود کئی سال سے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں تدریس کا کام کر رہے تھے۔ مگر عوام سے ان کا رابطہ نہ تھا۔ علماء کے حلقوں میں ان کے علم اور عزیمت کا چرچا تھا۔ طے پایا کہ حضرت مفتی محمود کے ذمہ یہ کام لگایا جائے۔ پنجاب پولیس کا نظام سی آئی ڈی اس قدر مضبوط رہا ہے کہ تمام تحریکوں میں انٹیلی جنس کے کارندے خبریں حاصل کر لیتے تھے۔ چنانچہ مسجد سراجاں جو جلوس روانہ ہوا اس میں جلوس کی نصرت کے لئے روزانہ مفتی صاحب بھی شریک ہوتے۔ اس دن رضا کاروں کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ مفتی صاحب کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس طرح آپ ڈسٹرکٹ جیل ملتان پہنچا دیئے گئے اور سرحد نہ جاسکے۔

ملتان میں تحریک کے سربراہ ماسٹر اختر حسین کی بیرون حرم گیٹ فاروق کیپ کے نام پر ٹوپیوں کی دکان تھی۔ پولیس کی نگاہ ان تک

صفحہ ۳۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہ پہنچ پائی اور ماسٹر صاحب نے آخر تک تحریک کی راہنمائی اور نگرانی کی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ ایک گوشہ نشین قسم کا دکاندار اتنی بڑی تحریک کا قائد ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ماسٹر صاحب مرحوم نے تحریک کی نگرانی اور راہنمائی کا حق ادا کر دیا۔ مخدوم محمد بخش جو کہ احرار کے ذہین اور فعال رضا کار ہیں ان کا رابطہ ماسٹر صاحب سے تھا۔ وہ تمام ہدایات لیتے اور تحریک کے ہراول دستہ تک پہنچاتے رہے۔ اس طرح ملتان میں تحریک پر امن رہی اور تشدد کی کوئی بھی صورت سامنے نہیں آئی۔ انتظامیہ نے ایسے لوگوں کو گھروں سے گرفتار کرنا شروع کیا جو ان کی معلومات کے مطابق تحریک کے قائد تھے۔ ان میں سے مسجد سراجاں کے خطیب اور مدرسہ خیر المدارس شعبہ قرأت کے سربراہ قاری رحیم بخش کو گرفتار کیا گیا۔

مولانا خدا بخش ملتانی، عبدالغفور انوری جو کہ احرار کے معروف راہنماء تھے کو روز اوّل ہی سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب ایک رات پولیس نے ہم چار اشخاص کو گھروں سے گرفتار کر لیا۔ ان میں خواجہ غلام حسن مجلس احرار کے صدر ہونے کی وجہ سے حکیم انور علی شاہ مسجد سراجاں کے صدر انتظامیہ کی وجہ سے اور میں (شیخ محمد یعقوب) چونکہ تحریک کے فرنٹ پر کام کرتا تھا رضا کاروں (گروپ) کو ترتیب دینا جلوس کو مرتب کرنا اور کراچی جانے والے رضا کاروں کو ہدایات اور خرچہ دیتا۔ ایک رات ۱۱/ بجے واپس گھر آیا تو باہر گلی میں پولیس منتظر تھی۔ ساتھ لیا اور حرم گیٹ تھانہ لے جایا گیا۔ ابھی جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ملتان کے ممتاز اور معروف تاجر خواجہ عبدالغفور، دھوتی اور بنیان میں ملبوس لائے گئے۔ خواجہ صاحب ہم کو دیکھ کر حیران ہوئے اور ایس. ایچ. او سے سوال کیا کہ یہ لوگ تو کسی نہ کسی حیثیت سے تحریک میں ملوث ہوں گے۔ میں تو صرف ایک تاجر ہوں اور نظریاتی طور پر مسلم لیگ سے تعلق ہے۔ مجھے آدھی رات کو اس طرح کیوں لایا گیا؟ جواب میں ایس. ایچ. او نے بتایا کہ آپ فلاں تاریخ کو کراچی گئے اور فلاں تاریخ کو واپس آنے کے بعد سینٹرل جیل میں تحریک کے مرکزی راہنماء قاضی احسان احمد کو ملنے گئے۔ حکومت نے کڑی سے کڑی ملائی اور آپ کو گرفتار کرنے کا حکم ہوا۔ خواجہ صاحب بے چارے خاموش ہو گئے۔ خاندانی طور پر دینی گھرانے سے تعلق تھا۔ کبھی ابتدائی زمانہ میں احرار میں بھی رہے۔ بس ارادہ کر لیا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ رات کو ہی جیل پہنچا دیئے گئے۔ صبح جیل میں احباب سے ملاقات ہوئی۔ ان میں مولانا مفتی محمود نمایاں تھے۔ جیل حکام نے ایک احاطہ میں سب کو اکٹھے رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ڈسٹرکٹ جیل میں ایک کوٹھڑی بڑے احاطہ میں بنی ہوئی ہے۔ اسے بی کلاس کا درجہ حاصل تھا۔ اس احاطہ میں رضا کاروں کے لئے چھولداریاں لگائی گئیں۔ ہر چھولداری میں دس آدمی تھے۔ ان میں ایک کو امیر کا درجہ دیا گیا۔ سب کو سی کلاس میں رکھا گیا تھا جو کوٹھڑی تھی۔ اس میں ۱۹/ افراد تھے۔ حکیم انور علی شاہ اور خواجہ عبد الغفور ذہنی طور پر مسلم لیگی تھے۔ منشی دین محمد اور خواجہ غلام حسن، احرار سے ذہنی وابستگی رکھتے تھے۔ مولانا مفتی محمود اور مولانا عبدالقادر جمعیۃ علماء ہند سے تعلق کی وجہ سے الگ سوچ رکھتے تھے۔ احرار اور ختم نبوت سے خصوصی تعلق میرا (شیخ محمد یعقوب) اور محمد شاہ قریشی کا تھا اور ایک حکیم صاحب دہلوی کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے تھا۔ سب شیر و شکر تھے۔ مفتی صاحب اکثر نماز پڑھاتے اور صبح و شام درس قرآن وحدیث کا ہوتا۔ علمی مجلس تو اکثر رہتی، ملک بھر کے حالات کا تجزیہ اور تحریک کی رفتار پر منٹ منٹ کی خبر آتی رہتی۔ جیل کے اس احاطہ میں بڑی رونق ہوگئی۔ تعداد ۳۵۰/ ہوگئی۔ میاں چنوں کے بزرگ مولانا پیر محمد ابراہیم اور اہل حدیث مسلک کے بزرگ مولانا داؤد صاحب کی شخصیت علمی اور روحانی طور پر بہت نمایاں تھی۔ مگر ان بزرگوں نے اپنے احباب کے ساتھ چھولداری میں رہنا پسند کیا۔ باگڑ سرگانہ کے دو زمیندار مہر محمد قاسم سرگانہ اور مہر محمود الحسن سب سے آخر میں آئے اور ان کو ہماری کوٹھڑی میں جگہ دی گئی۔ جلد ہی یہ ضمانت پر رہا ہوگئے اور ہم پھر ۱۹/ افراد رہ گئے۔

صفحہ ۳۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رمضان شریف آگیا تو جیل کے حکام نے افطاری کے لئے دودھ اور برف کا اہتمام کر دیا۔ دودھ جو بھی جیل میں دستیاب تھا اور برف سب کو ملنے لگی۔ نماز تراویح، تہجد گویا کہ ساری رات عباد میں گزر جاتی۔ جیل قانون کے مطابق شام کو تالہ بندی ہو جاتی ہے اور سب کو بارکوں کے اندر بند کر دیا جاتا ہے۔ لوہے کی سلاخوں والے دروازے دو طرفہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہوا آئی نہ آئی برابر ہوتی ہے۔ جیل کے مچھر مشہور ہیں۔ ساری رات ان سے لڑائی میں گزر جاتی۔ اب تو بیرکوں میں پنکھے لگا دیئے گئے ہیں۔ جس سے کچھ سہولت میسر آ گئی ہے۔ مگر چونکہ ہماری تعداد زیادہ تھی۔ جیل میں کوئی بارک ایسی نہ تھی جس میں بند کیا جاتا۔ اس لئے رات بھر کھلے میدان میں گزر جاتی۔ آزادی سے چل پھر بھی سکتے تھے۔ نماز با جماعت کی سہولت میسر تھی۔ گویا ایک تربیتی کیمپ تھا۔ ایک جشن کا سماں ہر وقت موجود رہتا۔ اہل علم حضرات وعظ کی مجلس لگاتے۔ بحث مباحثہ بھی ہوتا۔ تحریک کی رفتار اور ختم نبوت کی حفاظت کا جذبہ سب کے دلوں میں موجزن تھا۔

ڈسٹرکٹ جیل میں سید نور الحسن شاہ بخاری بھی تھے۔ ان کو الگ ہسپتال کے احاطہ میں نہایت ہی تنگ کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا۔ گرمی کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھے۔ ہمارے احاطہ کے ساتھ ہی حضرت مولانا محمد علی جالندھری محبوس تھے۔ رات کو بند کر دیئے جاتے۔ مگر دن کے وقت آزاد ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی نئی خبر ملتی یا کوئی مشورہ کرنا ہوتا، مولانا اپنے احاطہ میں بیری کے درخت پر چڑھ جاتے۔ اس طرح کہ ہم زیارت بھی کرتے اور خبروں کا تبادلہ بھی ہو جاتا۔ مولانا جب بھی ہماری طرف جھانکتے تو سب کو معلوم ہو جاتا کہ وائرلیس پر پیغام رسانی ہو رہی ہے۔ اس طرح ہمارے کیمپ کو مولانا محمد علی جیسے تحریک کے عظیم قائد اور روح رواں کی معیت حاصل تھی۔ جیل حکام کا رویہ تعاون کا تھا۔ بیرونی معاملات کے لئے خواجہ عبدالغفور اور حکیم انور علی شاہ کو کیمپ کے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کی حیثیت حاصل تھی۔ ضرورت کی تمام اشیاء حسب ضرورت باہر سے منگوائی جاتی اور کسی رضا کار کو کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی میں مبتلا رہنے نہ دیا جاتا۔ تحریک چند دن عروج پر رہی۔ لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا۔ سیکرٹریٹ میں قلم چھوڑ ہڑتال ہوئی۔ کرفیو کے دوران مرزائی فورس نے منظم ہو کر مسلمانوں پر اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ باقاعدہ ملٹری سے بھی تصادم ہوئے۔ اعظم خان مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے تشدد اور سختی سے کرفیو اور فوج کی روزانہ گشت سے حالات پر قابو پالیا۔ لاہور میں تشدد رک گیا۔ چند دنوں میں حالات امن لوٹ آئے تو مولانا داؤد غزنوی جو کہ تحریک کے ایک اہم لیڈر تھے ماضی میں کانگریس اور احرار میں بھی رہے تھے اور ممبر اسمبلی بھی تھے۔ انہوں نے ایک اخباری بیان میں تحریک کو ختم کرنے اور تحریک کی واپسی کا اعلان کیا۔ ان کا یہ بیان مجلس عمل کے رہنماؤں کے مشورہ کے بغیر تھا اور اسے ناپسند بھی کیا گیا۔ مگر اس کا اثر ہوا کہ تحریک میں تشدد ختم ہوا۔ فوج اور پولیس بے گناہ عوام پر جو ہر روز گولیاں برساتی تھی اس میں کمی آئی اور اعلان کے بعد جلوس اور مظاہروں کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ اس مرحلہ پر مولانا جالندھری نے مشورہ دیا کہ اب جیل سے رہا ہونے کی جو صورت بھی بنے جیل سے باہر چلے جانا چاہئے۔ جیل میں پڑے رہنے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ چند روز بعد مجلس عمل کے تمام رہنماؤں کو لاہور منتقل کرنے اور منیر انکوائری میں حصہ لینے کی خاطر سب کو لاہور لے جایا گیا۔ مولانا محمد علی جالندھری بھی ملتان جیل سے لاہور چلے گئے۔ ابتداء میں حکومت نے تحریک کو معمولی تحریک خیال کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے رضا کاروں کو زیر دفعہ ۱۵۱، ۱۰۷ ت۔پ میں گرفتار کیا۔ کسی پر انڈہ مرغی چرانے کا الزام لگایا تو کسی کو فٹ پاتھ پر جھگڑتے ہوئے دکھایا گیا۔

ان مقدمات کی سماعت کے لئے شیخ نور محمد مجسٹریٹ درجہ اول کی ڈیوٹی لگی۔ شیخ صاحب روزانہ جیل کی ڈیوڑھی کے بالا خانہ پر عدالت لگاتے۔ پولیس کے ٹاؤٹ گواہ پیش ہوتے اور سزا کا حکم زبانی سنا دیا جاتا۔ پہلے کئی روز تین ماہ سزا محض اور بعد میں چھ ماہ، نو ماہ اور ایک

صفحہ ۳۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سال سزا کا حکم سنایا گیا۔ گورنمنٹ کی طرف سے سخت ہدایات آنے پر سزا دو سال بامشقت کا فیصلہ سنایا جانے لگا۔ شیخ نور محمد کے سامنے ہم پیش ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہم جھگڑا کر رہے تھے کہ انڈہ کس کا ہے۔ میں نے گواہ پر جرح کرنا چاہی اس لئے کہ ملزم کا حق ہے کہ اس کا وکیل یا وکیل نہ ہو تو ملزم جرح کر سکتا ہے۔ تو شیخ نور محمد مسکرائے اور کہا کہ آپ کیا جرح کریں گے۔ مجھے تو حکم ہے کہ تین ماہ سزا محض آپ کو دینی ہے۔

جیل سے رہائی

رمضان شریف گزر گیا اور عید کی آمد آمد تھی۔ ہمارے گروپ کی سزا پوری ہوگئی تھی۔ عید کے دوسرے دن رہائی تھی۔ ہماری خواہش تھی کہ ایک روز عید سے قبل رہا کر دیا جائے۔ خواجہ عبدالغفور کے علاوہ کوئی دوسرا شخص رہا نہ ہوا۔ ہم عید کے بعد دوسرے دن رہا ہوئے۔ مولانا محمد علی جالندھری کے حکم کے مطابق اب سب کو رہا کرانا تھا۔ گو اس فیصلہ سے مولانا مفتی محمود نے اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ رضا کاروں کو ضمانتوں پر رہا نہ کرایا جائے۔ ہم نے کون سا جرم کیا ہے جو ہم ضمانت دیں؟ مفتی صاحب چونکہ باعزیمت بزرگ تھے۔ وہ ضمانت کا تصور نہ رکھتے تھے۔ انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ میری ضمانت نہ کرائی جائے۔ البتہ رضا کاروں کی ضمانت کے مسئلہ پر آپ نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ چنانچہ سب رہا ہوگئے۔ حضرت مفتی صاحب اکیلے رہ گئے۔ کیمپ میں مولانا مفتی محمود کی شخصیت اپنے علمی اور سیاسی مسلک کی وجہ سے اہم اور مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ جیل میں بحث مباحثے اور مشاورت کا وقت بھی بہت تھا۔ ان کا اصرار تھا کہ اس تحریک نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مسلم لیگ کی حکومت بے اثر ہوگئی ہے۔ ایک سیاسی خلاء پیدا ہوا ہے۔ اس کو پر کرنا ضروری ہے۔ اس لئے ہم کو سیاسی تنظیم قائم کرنی چاہئے۔ اپنی سوچ اور رائے کے اعتبار سے مولانا عبدالقادر قاسمی اور میں مفتی صاحب کی اس رائے سے متفق تھے۔ مفتی صاحب سے جیل کا تعلق رہائی کے بعد بھی قائم رہا اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا رہا۔

عید کے دوسرے روز تین ماہ سزا والے رہا ہوگئے اور جیل کا کیمپ خالی خالی سا ہوگیا۔ رہائی کے بعد ماسٹر اختر حسین کی سرپرستی اور رہنمائی سے تمام رضا کاروں کو ضمانتوں پر رہا کرالیا گیا۔ حضرت مفتی صاحب اکیلے رہ گئے۔ گرمی کی وجہ سے جسم پر دانے نکلے۔ بخار ہوا۔ تکلیف میں رہے۔ مگر حضرت نے ضمانت پر رہائی قبول نہ کی۔ حکومت پنجاب کے خاص حکم اور تحریک کے تمام اسیران کو رہا کرنے کے حکم عام پر آپ رہا ہوئے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی احرار کے راہنماء ملتان آئے تو ان کی ملاقات مفتی صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے طے کیا کہ ایک سیاسی جماعت کی تشکیل کے لئے ملک بھر کے علماء کا کنونشن ملتان میں بلوایا جائے۔ اس کنونشن کے دعوت نامے بذریعہ ڈاک بھی ارسال کئے گئے۔ مگر چونکہ کراچی میں مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق اور بڑے اہم علماء سکونت رکھتے تھے۔ ان کو خصوصی دعوت دینے کے لئے مولانا عبدالقادر قاسمی خصوصی طور پر کراچی گئے۔ ان حضرات کو دعوت پہنچائی۔ کنونشن میں پچاس کے قریب علماء حضرات صوبہ سرحد کے مولانا گل بادشاہ نے شرکت کی۔ ان میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری، مولانا داؤد غزنوی اور مولانا خیر محمد جالندھری بہت نمایاں بزرگ تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام کا نام بھی مولانا خیر محمد جالندھری نے تجویز کیا اور کہا کہ میں ذمہ لیتا ہوں۔ احباب کراچی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اگر انہوں نے ساتھ نہ بھی دیا تو اس نام سے متوازی تنظیم قائم نہیں کریں گے۔ یہ وعدہ مولانا کو اس لئے کرنا پڑا کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی جمعیۃ علماء اسلام کی تشکیل ہوگئی تھی۔ مگر یہ تنظیم مؤثر نہ تھی۔ اس کے صدر مولانا مفتی محمد حسن بیماری کی وجہ سے معذور تھے اور مفتی محمد شفیع کو قائم مقام امیر بنایا ہوا تھا جو کہ اپنی علمی مصروفیات میں اس قدر مشغول رہتے تھے کہ سیاسی یا تنظیمی کام نہ ہونے کے برابر تھا۔ ملتان کا کنونشن ۱۹۵۶ء میں چوک فوارہ حاجی باران خان کی نو تعمیر شدہ بلڈنگ میں ہوا تھا۔ یہ جمعیۃ علماء اسلام کا اساسی اجلاس تھا۔ بنیاد وقت کے ساتھ

صفحہ ۳۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی اور مولانا مفتی محمود صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر سرفراز ہوئے اور ۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد کے مرکزی صدر کی حیثیت سے آپ کی قیادت میں زبردست تحریک چلائی گئی اور ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے عہدہ وزیراعظم سے مستعفی ہونا پڑا۔ ۱۹۵۳ء میں جو تحریک بظاہر ناکام ہو گئی تھی بیس سال بعد اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی اور اس کامیابی میں مولانا مفتی محمود کو قائد کی حیثیت ملی۔ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوا۔

یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ کے دوسرے ارکان جو کہ علماء دین تھے، انہوں نے بھی مکمل تعاون کیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا اور پارلیمنٹ کے سامنے قادیانیوں کی کتب اور حوالے پیش کئے اور پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس سعادت میں تمام مسلمان بھی شریک ہوئے لوگوں نے سڑکوں پر مظاہرے کئے۔ نوجوان شہید ہوئے اس کے ساتھ سب کا اتفاق ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اس وقت وزیراعظم تھے، ان کا بھی حصہ اس سعادت میں ہے۔ اللہ سب کے ایثار خلوص اور قربانیوں کو قبول کرے اور اجر عظیم عطاء کرے۔

مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور دوسرے علماء اور دانشوروں نے بھی اس تحریک میں حصہ لیا اور یہ سعادت حاصل کی۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بھی مبارک باد کی مستحق ہے کہ جو کام ۱۹۵۳ء میں شروع ہوا وہ کام مجلس عمل کی جدوجہد، اتحاد اور تعاون سے ۱۹۷۴ء میں اللہ کے فضل سے منزل کامیابی تک پہنچا۔

مولانا عبدالقادر قاسمی فرماتے ہیں:

ملتان میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ان چھ نوجوان شہداء کی طرف سے ہوا جن کو تھانہ کپ کی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ جنازہ میں شریک ہوئے اور عید گاہ ملتان میں ان کو دفنا دیا گیا۔ تحریک کے سلسلہ میں اکابر مجلس عمل کی گرفتاری کے بعد رضا کار کراچی روانہ کئے جارہے تھے کہ مجھے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ریلوے چھاؤنی اسٹیشن پر گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل پہنچا دیا گیا۔ مستری دین محمد مرحوم ہمارے دستہ میں شامل تھے۔ میں ان دنوں مولانا خیر محمد مرحوم کی صدارت کے دور میں پنجاب جمعیۃ علمائے اسلام کا جنرل سیکرٹری تھا۔ جیل میں چند دن عام قیدیوں کے ساتھ گزارے تھے کہ مسلم لیگ کا ایک وفد ہم سے جیل میں ملنے کے لئے آیا۔ لیکن ہم نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ ہمارے اجتماعات دربار موسیٰ پاک شہید پر مخدوم شوکت حسین مرحوم کی صدارت میں ہوتے تھے۔ جس میں مولانا سعید احمد کاظمی بھی شامل تھے۔ حکومت کراچی جانے والے رضا کاروں کو کہیں دور جا کر چھوڑ دیتی تھی۔ پھر جب جیل میں عدالت نے سماعت شروع کی اور قید محض کی بجائے قید بامشقت کی سزا دی جانے لگی تو تحریک میں اتنی شدت آگئی۔ سجادہ نشین اور ٹوڈیوں نے گرفتاریوں سے گریز کیا۔ ہم لوگ پہلے کیمپ میں تھے۔ ادھر ہمارا خیال یہ تھا کہ حضرت مفتی صاحب مرحوم صوبہ سرحد کو سنبھالا دیتے۔ لیکن انہیں ملتان میں ہی دھر لیا گیا۔ جن کو نہ تو کوئی پولیس کی ہتھکڑی فٹ آسکی اور نہ ہی وزن کے لئے باٹ کارآمد ہوسکے۔ میری (حضرت مولانا غلام قادر ) گرفتاری اور با مشقت سزا نے رضا کاروں میں جوش اور ولولہ پیدا کر دیا۔ پھر کیمپ نمبر ۱ میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں ہم نے اپنی کابینہ بنائی۔ حضرت مفتی محمود صاحب سربراہ تھے۔ خواجہ عبدالغفور مرحوم وزیر خوراک۔ حکیم انور علی شاہ وزیر اعظم اور عاجز وزیر تعلیم نامزد ہوا۔ رضا کاروں کی خدمت اور ان کے حوصلے بلند رکھنا ہی ذمہ داری تھی۔ نوجوانوں کی خواہشات کی تکمیل کی جاتی۔ ان میں ہم لوگ سگریٹ نہ پینے والے ان پر سگریٹ تقسیم کرتے تھے۔ رمضان المبارک کے مہینہ میں روزے رکھواتے اور شربت سے ان کی تواضع کرتے۔ جیل کا عملہ اپنی چونگی وصول کرتا تھا۔ حافظ محمد دین ڈیروی نے قرآن مجید سنانا شروع کیا۔ چنانچہ چار ختم قرآن مجید کے ہوئے۔

صفحہ ۳۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مفتی محمود صاحب نے پندرہ پارے جیل میں یاد کئے۔ اکابر کے ڈسٹرکٹ جیل منتقل ہونے کے بعد ہم لوگ ان کی ہدایت کے مطابق کام کرتے تھے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم کا فرمان تھا کہ اب جیل میں پڑے رہنے کی بجائے باہر جا کر کام کرو اور گرفتاری سے بچتے رہو۔ چنانچہ مجھے ڈاکٹر محمد عمر صاحب کے پاس سکھر بھیجا گیا۔ جن کو اکابر کی ہدایات پہنچائی گئیں۔ ملک بھر میں گرفتاریاں دے کر جیلوں کو بھر دیا گیا۔ بالآخر دولتانہ وزارت ختم ہوئی۔

مظفر گڑھ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے مبلغ مولانا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک کے دوران میں میں علی پور مدرسہ نظامیہ میں زیر تعلیم تھا۔ تحریک کے شروع ہوتے ہی ابتدائی دنوں میں مولانا سعید احمد جھگی والا، مولانا نظام الدین ٹھہیم والا علی پور، مولانا محمد عمر مظفر گڑھ۔ غرضیکہ ضلع کی پوری دینی قیادت گرفتار ہو گئی۔ ضلع مظفر گڑھ جماعتی کارکنوں کی تعداد کے اعتبار سے احرار نگر سمجھا جاتا تھا۔ حضرت امیر شریعت نے گاؤں گاؤں پھر کر اس علاقہ میں تبلیغ اسلام کے مقدس فریضہ کو سرانجام دیا تھا۔ آپ کے مریدوں کا بھی زیادہ حلقہ اس علاقہ میں ہے۔ گرفتاریوں کے اعتبار سے یہ ضلع بھی کسی ضلع سے کم نہیں رہا۔ تحریک مقدس ختم نبوت میں لوگوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ گرفتاریوں کے لئے لوگ ایک دوسرے سے پہل کرنے میں اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ مولانا قائم الدین، مولانا محمد لقمان، مولانا دوست محمد قریشی اسی ضلع کے نامور خطیب تھے۔ ان حضرات کی خطابت نے عوام کو حوصلہ دیا۔ سبھی حضرات گرفتار ہوئے۔ غرضیکہ علماء وعوام کوئی بھی تحریک میں پیچھے نہ رہا۔ مولانا محمد لقمان علی پوری ان دنوں ننکانہ صاحب، ضلع شیخوپورہ میں مجلس کے مبلغ تھے۔ ضلع شیخوپورہ میں انہوں نے مثالی کام کیا۔ لیکن خود اپنی گرفتاری کے لئے انہوں نے اپنے علاقہ علی پور کا انتخاب کیا۔ تشریف لائے۔ علی پور میں دھواں دھار تقریر کی اور رفقاء سمیت گرفتار ہو گئے۔ ان کے بعض بدخواہوں نے پولیس کے ساتھ مل کر ایسی دفعات ان پر لگوادیں کہ شاید بروقت پتہ نہ چلتا تو سالوں اندر رہتے۔ بروقت پتہ چل گیا کہ آپ پر بلوہ، قتل پر اکسانے، آگ لگوانے، لوٹ مار کی تمام دفعات لگوا دی گئی ہیں تو سردار عبدالرحیم خان پتافی نے اپنے طور پر کوشش کی۔ مگر اس کے باوجود چھ ماہ کی سزا ہو گئی اور ملتان جیل منتقل کر دیئے گئے۔

مولانا بشیر احمد فرماتے ہیں کہ میں مولانا منظور احمد رنوجہ اور دوسرے تین ساتھی کل پانچ حضرات گرفتاری کے لئے علی پور سے چلے۔ گرفتاریاں کرانے کے لئے ان دنوں ڈکٹیٹر مولانا فیض رسول جہانپوری تھے۔ انہوں نے ہمیں ملتان بھجوایا۔ ان دنوں ملتان میں اتنا زیادہ کارکن تھے کہ ہماری ہفتوں باری نہ آنا تھی۔ ہم نے مظفر گڑھ جانا مناسب سمجھا۔ دونوں نے وہاں جا کر تقریر کی۔ شب قدر کی آمد آمد تھی اور ہم یہ مقدس شب رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے جیل میں گزارنا چاہتے تھے۔ دھواں دھار تقریر ہوئی اور ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ تھانہ صدر کا ایس ایچ او مرزائی تھا۔ ہم طالب علم تھے۔ ہمیں کھڑا کر کے اس نے گالیوں کی ایسی گردان کی کہ اس پر شیطان اور مرزائے قادیان کی روح بھی ننگی ہو گئی۔ ایک تھانیدار اور دوسرا مرزا قادیانی ایسے احمق کا بدطینت مرید اس سے کیا خیر کی توقع تھی۔ پہلی دفعہ گرفتاری دی تھی۔ علم نہ تھا کہ اب آگے کیا ہونا ہے۔ اس کی بدزبانی پر بل کھا کر رہ گئے۔ تھانیدار کہہ رہا تھا کہ میں آپ کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ آپ کو علم ہو جائے کہ مرزائیت کے خلاف کیسے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اے کاش کہ اس وقت تک وہ مرزائی تھانیدار زندہ ہو اور مرزائیت کی زبوں حالی و پریشانی و رسوائی اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ اقتدار کا نشہ مرزائیت کو ذلت و رسوائی سے نہ بچا سکا۔ ۱۵؍ شعبان کو عدالت میں پیش ہوئے۔ تین تین ماہ کی سزا سنائی گئی۔ ملتان جیل لایا گیا۔

صفحہ ۳۸۹

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ڈویژن بھر کے علماء ومشائخ کارکن یہاں پہلے سے براجمان تھے۔ اللہ رب العزت کا کرنا ہوا یہ کہ ۲۹؍ رمضان کو رہا کر دیئے گئے۔ مولانا بشیر احمد کی روایت کے مطابق اس دن رہا ہونے والے صرف لیہ شہر کے سوا سو کارکن و علماء تھے۔ باقی ضلع کو صرف اس ایک شہر کے ایک دن کے رہا شدگان کی تعداد پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ رہا ہو کر ٹرین سے مظفر گڑھ گئے تو اسٹیشن پر استقبال کے لئے پورا شہر امڈ آیا تھا۔ روزہ افطار کیا گیا اور ہر شہر کے لئے علیحدہ علیحدہ سواریوں کا انتظام کیا گیا۔ علی پوری رفقاء کو ایک بس اور ایک ٹرک کے ذریعہ ان کے گھروں کو روانہ کیا گیا۔

راولپنڈی

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں راولپنڈی کا کردار بھی مثالی رہا۔ مجلس کے قیام کے بعد تمام مکاتب فکر کے خطباء حضرات کی تقاریر کا رخ مرزائیت کے احتساب کے لئے وقف ہو گیا۔ گولڑہ راولپنڈی کے مضافات میں ہے۔ حضرت مولانا سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے مرزا قادیانی اور مرزائیت کو جو چرکے لگائے راولپنڈی کے در و دیوار ان سے نہ صرف آگاہ بلکہ ان کے چشم دید گواہ تھے۔ راجہ بازار راولپنڈی کی جامع مسجد تعلیم القرآن کے خطیب و مہتمم شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کا شباب تھا۔ ان کی حق گوئی و بے باکی سے ایک زمانہ واقف ہے۔ آپ کے ایمان پرور خطاب سے ملک بھر کے در و دیوار آشنا تھے۔ آپ جسے للکارتے وہ دم بخود ہو جاتا۔ آپ کا دارالعلوم و جامع مسجد تحریک کا مرکز تھے۔ مولانا غلام اللہ خان مرحوم کی جس سے ٹھن جاتی اس پر وہ قہر الٰہی بن کر ٹوٹ پڑتے۔ آپ کے شاگردوں کا حلقہ سرحد، آزاد قبائل، افغانستان، یاغستان، چھچھ، آزاد کشمیر اور پاکستان بھر میں پھیلا ہوا تھا۔ ان کی آواز حق کی طاقت سے حکمران بھی بخوبی واقف تھے۔ تحریک ہائے ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء میں مولانا غلام اللہ خان مرحوم نہ صرف شامل تھے بلکہ تحریک کے صف اوّل کے رہنماء تھے۔ توحید باری تعالیٰ ان کا محبوب مضمون تھا۔ لیکن عقیدۂ ختم نبوت، اسلامی نظام، عقیدہ ناموس صحابہ یا جس بھی موضوع کو اختیار کرتے اپنی تمام تر توانائیاں اس کے لئے وقف کر دیتے۔ مولانا صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے۔ ان کی جامع مسجد ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت میں مرکز رہی ہے۔ ان کے جانشین مولانا قاضی احسان الحق بھی ان کی روایات کے امین اور عقیدۂ ختم نبوت کے نڈر مجاہد اور بے باک رہنما ہیں۔ نومبر ۱۹۵۲ء میں لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام تھا۔ مجلس عمل کے تمام رہنماؤں بالخصوص مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا غلام اللہ خان نے خطاب کیا۔ اس جلسہ نے حکومت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ پورا شہر سراپا تحریک بن گیا۔ رضا کاروں کی بھرتی کے انچارج و سربراہ و نگران مولانا غلام اللہ خان تھے۔ آپ نے اعلان کیا، آپ کے متعلقین و شاگردوں کے ٹھٹھ لگ گئے۔ رضا کاروں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہو گئی۔

تمام مکاتب فکر کے رہنماء دل و جان سے تحریک پر فدا ہونے کے لئے تیار تھے۔ جب کراچی میں تحریک کے لیڈر گرفتار ہوئے اور مولانا غلام اللہ خان شیخ القرآن کو بھی ۲۷؍ فروری کو پنجاب حکومت نے گرفتار کر لیا تو ان کی گرفتاری حکومت کے لئے عذاب بن گئی۔ دھڑا دھڑ جلوس نکلنے لگے۔ جلسے منعقد ہونے لگے۔ مرزائی گلی و کوچوں سے چھپ کر اپنے گھروں میں ایسے دبک کر بیٹھ گئے جیسے مرزا قادیانی کی روح اس کی فوتگی کے وقت غلاظت میں دبک گئی تھی۔ ان حضرات کی گرفتاریوں کے بعد پیر صاحب گولڑہ شریف کی صدارت میں لیاقت باغ میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ رسوائے زمانہ منیر جیسا تحریک کا ازلی بدبخت دشمن بھی اپنی رپورٹ اردو کے صفحہ ۱۸۵ پر لکھنے پر مجبور ہوا کہ: ’’اس جلسہ کی ماضی میں نظیر نہیں مل سکتی اور یہ جلسہ تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔‘‘ ۶؍ مارچ کو لیاقت باغ میں ایک اور جلسہ منعقد ہوا۔ ہر روز جلسے

صفحہ ۳۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوتے۔ جلوس نکلتے اور رضا کار گرفتاری پیش کرتے۔ حکومت سٹ پٹا گئی۔ شہر کے حالات کو سنبھالنا اس کے لئے ممکن نہ رہا۔

چنانچہ ۷؍ مارچ کو شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس لاٹھی چارج، آنسو گیس، طاقت اور گولیوں کے استعمال کے باوجود پسپا ہو گئی تو اس معرکہ کو سر کرنے کے لئے فوج کی ڈیوٹی لگ گئی۔ اسی دن تھانہ گولڑہ اور تھانہ سنگجانی کے علاقوں میں فون کا رابطہ منقطع کر دیا گیا اور شہر بھر میں فوج کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔ ۸؍ مارچ کو گورنمنٹ کالج کا ایک جلوس جناب مسعود ملک طالب علم رہنما اور مولانا عبدالقدوس کشمیری کی سربراہی میں نکلا۔ جلوس اس طرح عشق رسالت مآب ﷺ کے جذبہ سے سرشار تھا کہ پولیس وفوج کا کروفر ان کے جذبہ ایمان اور عقیدۂ ختم نبوت سے والہانہ تعلق کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ وہ حکومت کے تمام تر ظلم کو سہنے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ تھانہ کوتوالی کے سامنے مجسٹریٹ کے کہنے پر پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔ مسلمان اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے، گرتے اور تڑپتے رہے۔ شرکاء پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پولیس کی گولیوں سے ماحول اس طرح سیاہ ہوگیا جس طرح کہ پولیس کے دل سیاہ تھے۔ اپنے ظلم وستم کے زور پر انہوں نے جلوس کو تو منتشر کردیا، مگر ان کے دل ودماغ پر تحریک کا اتنا خوف طاری تھا کہ انہوں نے ساتھ ہی دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کر کے شہر میں جلسے جلوس ممنوع قرار دے دیئے۔ اس پر بھی ان کا خوف دور نہ ہوا تو رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا جو اگلے دن بھی جاری رہا۔ ۲۳۸ آدمیوں کو کرفیو کی خلاف ورزی پر سزائیں دی گئیں۔ اس تمام تر ظلم و بربریت کے باوجود رسوائے زمانہ منیر نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ: ”تحریک کے لوگوں نے جامع مسجد میں پناہ لے لی اور جہاں سے وہ رضا کاروں کو گرفتاری کے لئے بھیجتے رہے۔ ایک ہزار تینتیس رضا کار گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف زیر دفعہ ۱۸۸ تعزیرات پاکستان مقدمات دائر کئے گئے اور سب کو سزائیں دی گئیں۔“ منیر نے اپنی رپورٹ کے ص ۱۸۶ پر لکھا ہے۔

”شورش کی نوعیت کی وجہ سے پولیس اور فوج کے ادنیٰ ملازمین کے حوصلے اور وفاداری پر اثر پڑنے لگا۔ مسلم لیگ کے اکثر لیڈر اور مقامی ایم.ایل.اے کہیں روپوش ہوگئے اور انہوں نے عوام کا سامنا کرنے سے انکار کردیا۔ حقیقت میں وہ دورخی پالیسی پر عمل کر رہے تھے۔ بظاہر حکام کے حامی تھے۔ لیکن اندرونی طور پر شورش کی تائید و اعانت کر رہے تھے۔ پورے ضلع میں ایک مولوی بھی ایسا نہ تھا جو شورش کی حمایت نہ کر رہا ہو جو مولوی گرفتار کئے گئے۔ ان میں مولانا عارف اللہ شاہ، مولانا محمد مسکین، مولانا محمد اسماعیل ذبیح اور مولانا عبدالحنان شامل تھے اور یہ تمام آل پارٹیز مسلم کنونشن کے ممبر تھے۔ نواحی اضلاع سے بھی کثیرالتعداد لوگ شورش میں حصہ لینے کے لئے آگئے۔ اطلاع موصول ہوئی کہ ضلع ہزارہ سے دو ہزار پٹھان راولپنڈی کی طرف آرہے ہیں۔ لیکن سپرنٹنڈنٹ پولیس نے پیر صاحب گولڑہ شریف کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ ان لوگوں کو واپس چلے جانے کی ہدایت دے دیں۔ اسی طرح ایک کہنہ سال مگر مقبول عام مولوی محمد اسحاق مانسہروی بھی تحریک کی قیادت کے لئے نکل آئے لیکن حکام ضلع ان کو سمجھانے بجھانے میں کامیاب ہوگئے۔ بلکہ ان سے ایک تحریری اپیل جاری کرائی کہ لوگ لاقانونی اور بد نظمی پیدا کرنے سے پرہیز کریں۔ اس ضلع میں شورش مارچ کے تیسرے ہفتے میں ختم ہوگئی۔“

قارئین! خدا گواہ ہے کہ منیر ایسا شیطان صفت شخص معاف رکھئے۔ انسان نما شیطان، مقدس تحریک ختم نبوت کو لفظ ”شورش“ سے تعبیر کرتا ہے جس طرح کہ انگریز تحریک آزادی کی جنگ ۱۸۵۷ء کو غدر کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے۔ انگریز کا معنوی فرزند اپنے باپ دادا کی سنت کو دہرا رہا ہے اور محمد عربی ﷺ کے غلام حضرت صدیق اکبر ؓ کی سنت کو دہرا رہے تھے۔ پیر آف گولڑہ اور مولانا سید عارف اللہ شاہ بریلوی مکتب فکر کے صف اوّل کے راہنما تھے۔

صفحہ ۳۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد اسماعیل ذبیح اہل حدیث بزرگ تھے۔ مولانا عبدالمنان دیوبندی مکتب فکر کے بزرگ تھے۔ مولانا محمد اسحاق مانسہروی کہن سال کہ جن پر پھبتی کسی جا رہی ہے۔ یہ تحریک آزادی کے بزرگ راہنما اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے شاگرد رشید تھے۔ اللہ رب العزت کی ان تمام حضرات کی تربتوں پر کروڑ رحمتیں ہوں کہ کس طرح مقدس مشن کے لئے بزرگ راہنماء اپنی جانوں کو ہتھیلیوں پر رکھ کر میدان کارزار میں تشریف لائے۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ کی تفریق مٹ گئی۔ اختلاف کی تمام راہیں مسدود ہو گئیں اور جذبہ رسالت سے سرشار سینے ایک ہی صف میں دربار نبوی ﷺ کے چوکھٹ پر اپنی عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔ مجھے اجازت ہو تو اس جملہ پر راولپنڈی ضلع کی رپورٹ کو ختم کروں کہ لاکھوں دیوبند، لاکھوں بریلی، لاکھوں لکھنو اور دہلی قربان محمد عربی ﷺ کے گنبد خضراء کی ایک اینٹ مبارک پر۔ اگر صاحب مدینہ ﷺ کی عزت محفوظ نہیں تو تیرے بریلی میرے دیوبند۔ اس کے لکھنو اور اس کی دہلی کو کون پوچھے گا۔ اس وقت پھر فرقہ واریت جنم لے رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ کوئی امیر شریعت نہیں جو ابوالحسنات، احمد علی لاہوری، کفایت حسین اور داؤد غزنوی کو ایک اسٹیج پر اکٹھا کر دے۔

کوئی محمد یوسف بنوری نہیں جو مفتی محمود، شاہ احمد نورانی، مظفر علی شمسی اور احسان الہی ظہیر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دے۔ کوئی مفتی محمود نہیں جو آغا مرتضیٰ پویا، عبدالستار نیازی اور عبدالقادر روپڑی کو ایک لڑی میں پرو دے۔ اب تو ہر طرف چھوکروں کی شاہی ہے۔ غنیمت ہیں مولانا خواجہ خان محمد جو حضرت امیر شریعت، سید محمد یوسف بنوری، مفتی محمود کے مشن کو سنبھالے ہوئے۔ مولانا فضل الرحمٰن، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا عبدالقادر روپڑی اور صاحبزادہ افتخار الحسن کو ایک پلیٹ پر جمع کئے ہوئے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی، مولانا عبدالستار نیازی نے شریعت بل کے لئے حامد موسوی، قاضی حسین احمد، حافظ حسین احمد، میاں فضل حق کو ایک جگہ بیٹھنے کا موقعہ دیا ہے۔ اگر مجھے قابل گردن زدنی قرار نہ دیا جائے تو یہ کہنے کی بھی اجازت چاہوں گا کہ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری کے فرزند گرامی قدر پیر طریقت ولی ابن ولی مولانا عبیداللہ انور نے مظہر علی اظہر کا اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھا کر امت کو بتا دیا تھا کہ اختلاف کرو گے تو پٹ جاؤ گے۔ مٹ جاؤ گے، اتحاد کرو گے تو دشمن ایک دن تمہارے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگا۔ جیسا کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں، قرآن مجید فرماتا ہے: ”یا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم واصبر وان اللہ مع الصابرین (انفال:۴۶)“

سیالکوٹ

سیالکوٹ مجلس احرار کا گڑھ خیال کیا جاتا تھا۔ آزادی کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کے حقوق کے لئے مجلس احرار کی خدمات سے کون انکار کر سکتا ہے۔ تحریک کشمیر کے وقت مجلس احرار کی جانب سے جموں میں داخلہ کے لئے سیالکوٹ کا راستہ اختیار کیا گیا تھا۔ یہ ۱۹۳۱ء کی بات ہے۔ تب مجلس احرار کے سیکرٹری جنرل معروف شیعہ راہنماء مولانا مظہر علی اظہر رضا کاروں کا دستہ لے کر سیالکوٹ کے راستہ جموں میں داخل ہوئے تھے۔ اس زمانہ سے سیالکوٹ کو احرار نگر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ اور گورداسپور کی حدود بھی آپس میں ملتی ہیں۔ قادیان گورداسپور کی تحصیل بٹالہ میں واقع ہے۔ شکر گڑھ کی تحصیل تقسیم سے قبل گورداسپور کی تحصیل تھی۔ تقسیم کے وقت مرزائیوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ کیس پیش کر کے گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت ضلع قرار دلوا کر انڈیا میں شامل کرا دیا۔ تب سے شکر گڑھ سیالکوٹ کے ساتھ شامل ہوا۔ مرزا قادیانی نے بھی ضلع کچہری سیالکوٹ میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کی تھی اور یہاں پر مختاری کا امتحان دیا جس میں

صفحہ ۳۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بدنصیبی سے فیل ہو گئے۔ یہاں سے انگریزوں کے ساتھ راہ ورسم اور سابقہ خاندانی انگریز کی غلامی کے ناتے انگریز سے مزید تعلقات استوار ہوئے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر میں لندن کے ایک پادری سے مرزا قادیانی کی علیحدگی میں ملاقات اور اس کے نتیجہ میں مرزا قادیانی کا سیالکوٹ کی ملازمت سے دستبردار ہوکر قادیان میں جاکر براجمان ہو جانا اور یک دم خفیہ منی آرڈروں کا تانتا بندھ جانا اور پھر مرزا کا مذہبی مباحث میں حصہ لینا۔ اپنے آپ کو انگریز کا خودکاشتہ پودا قرار دینا۔ انگریز کی اطاعت کو واجب قرار دینا، انگریز کے خلاف جہاد کی حرمت کا اعلان وغیرہ کی کہانی کے ڈانڈے بھی سیالکوٹ کی اس ملازمت سے ملتے ہیں۔ ظفراللہ قادیانی اور اس کا خاندان بھی سیالکوٹ ضلع سے تعلق رکھتا تھا۔

مرزا قادیانی کے لڑکے مرزا بشیر احمد ایم.اے کے لڑکے یعنی ایم.ایم.احمد قادیانی جو پاکستان میں منصوبہ بندی کمیشن کے چیئرمین کے عہدہ پر بھی براجمان رہا اور یحییٰ خان کے زمانہ میں ان کی کابینہ کے سینئر رکن بھی۔ ایک دفعہ خیر سے اسی زمانہ میں ان کو پاکستان کا بجٹ پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔ آج کل ورلڈ بینک کی طرف سے غالباً ہالینڈ میں متعین ہیں۔ تقسیم کے وقت سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ اس لئے گورداسپور سے جو قادیانی منتقل ہو کر سیالکوٹ آئے۔ قادیانی ڈپٹی کمشنر نے ان کو سیالکوٹ میں الاٹمنٹ وغیرہ کی سہولتیں مہیا کر کے پورے ضلع کو مرزائیت کی آماجگاہ بنا دیا تھا اور جسٹس منیر کے بقول مرزائیوں کے ہاں سیالکوٹ کی اہمیت قادیان سے دوسرے درجہ پر تھی۔

(تحقیقاتی رپورٹ ص۱۷۱)

غرضیکہ سیالکوٹ ضلع کو مسلمانوں اور قادیانیوں، دونوں فریقوں کے ہاں اہمیت حاصل تھی۔ اس ضلع کی تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں جرأت ایمانی اور جذبہ ایثار وقربانی کی تفصیل پیش کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس ضلع میں قادیانی اور مسلم تنازعہ کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ مرزا قادیانی کے خلاف جن علماء حق نے مرزا قادیانی کے زمانہ میں ہی معرکہ حق و باطل کا بازار گرم کئے رکھا۔ ان میں ایک عالم دین مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی تھے جو اس ضلع کے ہیڈ کوارٹر کے باسی تھے۔ پروفیسر ساجد میر معروف اہل حدیث راہنماء کے مورث اعلیٰ تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے خلاف شہرہ آفاق کتاب شہادت القرآن فی حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام تحریر کی جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان نے بار ہا شائع کیا ہے۔ مرزائیت کے اثر ورسوخ کو سیالکوٹ میں بڑھتا دیکھ کر یہ بھی مرزائیت کے خلاف برسر پیکار رہے۔ جناب غلام محمد شاہ صاحب نے مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کی شعلہ نوائی کے خلاف مرزائی سازش نے پر پرزے نکالے۔ ان پر کیس درج ہوا۔ ۲۹۵- الف تعزیرات ہند کے تحت ۳۰؍ نومبر ۱۹۳۶ء کو وہ سزایاب ہوئے۔

۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء کو سیالکوٹ میں تبلیغ کانفرنس احرار کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ جس میں باؤنڈری کمیشن میں مرزائیوں کی غداری کے باعث گورداسپور ضلع کی پاکستان سے علیحدگی کی سازش کو بے نقاب کیا گیا۔ ایم.ایم.احمد قادیانی ڈپٹی کمشنر کے مزاج پر یہ بات گراں گزری۔ ۱۵؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو مرزائیوں نے یہاں پر اپنا جلسہ کرنا چاہا۔ ارتدادی سازشوں کی روز افزوں سیالکوٹ میں اس صورت کو دیکھ کر مسلمان مشتعل ہو گئے۔ قادیانی جلسہ میں ہنگامہ ہو گیا۔ مرزائی سر پر پاؤں رکھ کر ایسے بھاگے جیسے مرزا قادیانی اپنی نبوت کی پٹاری اٹھائے موت کے وقت جہنم کی طرف بھاگا تھا۔ مرزائیوں کے جلسہ کی بربادی مرزائیوں کے لئے سوہان روح بن گئی۔ مسلمان مارے خوشی کے مزید چاک و چوبند ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں ۱۴۴ کے تحت جلسے ممنوع قرار دے دیئے گئے۔ گویا قانون نے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو چھتری کا کام دیا۔ نومبر ۱۹۵۱ء میں پھر مرزائیوں نے جلسہ عام کے لئے پر پرزے نکالے۔ لیکن مسلمانوں

صفحہ ۳۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی بیداری اور قادیانیت کے خلاف ان کے جذبات کے سامنے انتظامیہ نے بھی اسی میں عافیت سمجھی کہ مرزائیوں کو سمجھا بجھا کر جلسہ ملتوی کرا دیا گیا۔ پھر مرزائیوں نے نومبر ۱۹۵۲ء میں جلسہ کرنا چاہا تو سیالکوٹ کی دینی غیرت آڑے آئی اور ان کے جلسہ پر اس طرح خشت باری ہوئی۔ جس طرح مرزا قادیانی کے جسم پر جہنم میں کوڑے پڑ رہے ہوں۔ غرضیکہ تقسیم کے بعد سے لے کر ۱۹۵۲ء کے آخر تک مرزائی سیالکوٹ میں ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔ جب کہ مسلمان ان کے کفر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی خدمات کا اجمالی خاکہ کچھ یوں ہے۔

۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو لاہور میں آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی گئی تو ۲۱؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو اس کے زیر اہتمام آل مسلم پارٹیز کنونشن سیالکوٹ میں منعقد کی گئی۔ اس کنونشن کے بعد سیالکوٹ ختم نبوت کے فدایان کا گڑھ بن گیا۔ شیعہ، اہل حدیث، بریلوی، دیوبندی تمام مکاتب فکر کے علماء و مبلغین تحریک میں شامل ہو کر اس کی روز بروز ترقی کے لئے محنت کرنے لگے اور تین مطالبات زور و شور سے پیش کئے جانے لگے۔ ۲۰؍ جولائی ۱۹۵۲ء کو چیف منسٹر پنجاب نے ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کے زیر اہتمام پسرور میں تقریر کی، مسلمانوں کے دلوں کی آواز اور خواہش جو ان کے چہروں سے واضح تھی۔ اس کو بھانپ کر انہوں نے اعلان کیا کہ: ’’وہ تحریک ختم نبوت کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ بشرطیکہ قانون و انتظام کو کوئی خطرہ در پیش نہ ہو۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے زندہ باد کے نعروں کی شکل میں اجتماع سے خراج وصول کیا اور رفو چکر ہو گئے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم لیگ کے راہنماء اور ذی شعور لیڈر مقامی طور پر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی حمایت کرنے لگے یا کم از کم انہوں نے مخالفت نہ کی۔ اکتوبر ۱۹۵۲ء میں عرس گلوشاہ کے موقعہ پر مولانا بشیر احمد پسروری، مولانا کرامت علی شاہ اور علامہ منظور احمد نے قادیانیت کے عقائد و عزائم کا پردہ چاک کیا۔ نومبر ۱۹۵۲ء میں ایک اور آل مسلم پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی۔ تحریک کے لئے رضا کاروں کی بھرتی کا مسئلہ آیا تو صاحبزادہ سید فیض الحسن اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے ضلع بھر میں کانفرنسوں کا جال بچھا دیا اور سیالکوٹ ضلع ختم نبوت کی چھاؤنی کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ’’اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دو گے‘‘۔ اس صورتحال پر مرزائی بل کھانے لگے۔ مسلمان بھی ان کے احتساب کا شکنجہ کستے گئے۔ حق و باطل کا معرکہ جاری تھا کہ خواجہ ناظم الدین کو دیئے گئے الٹی میٹم کی تاریخ ختم ہو گئی۔ چنانچہ ۲۶؍ فروری ۱۹۵۳ء کو جناح پارک میں اجتماعی نماز جمعہ ادا کی گئی۔ مولانا محمد علی جالندھری، پروفیسر علامہ خالد محمود، مولانا محمد یعقوب، مولانا فضل حق اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ اس عظیم اجتماع کی اب بھی جب یاد آتی ہے سیالکوٹ کا مسلمان اس روح پرور نظارہ کا تصور لاتے ہی پھڑک اٹھتا ہے۔ چشم فلک نے اس دن دیکھا کہ کس طرح سیالکوٹ کا جیالا مسلمان محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے سب کچھ قربان کرنے کی دھن میں لگا ہوا تھا۔

کراچی میں ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کو مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ہوم سیکرٹری پنجاب نے برقی پیغام کے ذریعہ قاضی منظور احمد اور جناب علی محمد جرنیل کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔ رات ہی رات وہ گرفتار کر لئے گئے۔ ان کی گرفتاری کے خلاف یکم؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو شہر نے کاملاً ہڑتال کی اور جسٹس منیر کے بقول دس ہزار اشخاص کا ایک ہجوم گرفتاری دینے والے پہلے دستہ کو کراچی کے سفر پر روانہ کرنے کے لئے اسٹیشن پر جمع ہوا۔ لیکن مسٹر منیر کی یہ تحریک دشمنی ہے۔ اس دن بات ہزاروں کی نہیں لاکھوں کی تھی۔ اللہ اکبر! العظمۃ للہ! سیالکوٹ ضلع بھر کے در و دیوار تحریک ختم نبوت کے مجاہد رضا کاروں کے جوش و جذبہ پر رقص کناں تھے۔ پہلا قافلہ مولانا محمد یوسف کی قیادت میں کراچی کے لئے روانہ ہوا۔ بے پناہ رش کے باعث ٹرین لیٹ ہو گئی۔ کچھ رفقاء نارووال تک کے لئے ٹرین پر ساتھ روانہ ہو گئے۔ اسٹیشن

صفحہ ۳۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے جلوس واپس آیا تو بھی شہر بھر کا گشت لگایا۔ اللہ رب العزت کا فضل تھا کہ پورا شہر قادیانیت سے اظہار نفرت کے لئے ایک دوسرے سے بازی لے جارہا تھا۔

۲/ مارچ ۱۹۵۳ء کی شام کو رام تلائی میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا۔ مولانا سلطان محمود، پروفیسر خالد محمود، مولانا حبیب احمد، مولانا محمد یعقوب اور دوسرے رہنماؤں نے تقریریں کیں۔ ان کی تقریروں کا لہجہ واضح طور حکومت کی قادیانیت نوازی کے خلاف تھا۔ اعلان کے مطابق رضا کاروں کا گرفتاری کے لئے آج بھی دستہ روانہ ہوا۔ دو دن کی مسلسل جدوجہد سے حکومت کے نمائندگان کے اوسان خطاء ہو گئے۔ ۲/ مارچ کی شام رات گئے انہوں نے مولانا محمد حسین، مولانا محمد علی کاندھلوی، حافظ محمد صادق، مولانا حبیب احمد، جناب عبدالغفور بٹ اور بشیر احمد صاحب کو گرفتار کر لیا۔

۳/ مارچ کی صبح متذکرہ گرفتاریوں سے پیدا شدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کے ساتھ فوج کی بھی خدمات اس ”سنہری مشن“ کے لئے یزیدان وقت نے حاصل کی۔ پولیس اور فوج کا مسلح بازاروں میں گشت شروع ہو گیا۔ مجاہدین و رضا کاران ختم نبوت کے جذبہ عشق ومستی کے قربان جائیے کہ فوج یا پولیس کے گشت سے مرعوب ہوئے بغیر جلوس نکالتے رہے۔ بعض کو پولیس وفوج نے بزور طاقت، لاٹھی، گولی سے منتشر بھی کیا۔ سارا شہر سراپا اشتعال بن گیا۔ شہر میں نکلنے والے تمام جلوس راستہ میں پولیس وفوج کے گھیرے توڑ کر سرخ فیتوں کو کراس کر کے دارالعلوم شہابیہ پہنچنا شروع ہو گئے۔ دارالعلوم کے درودیوار تنگ دامانی کا شکوہ کرنے لگے تو گردو نواح کی گلیوں نے اپنی جھولی وا کر دی۔ ڈی سی صاحب نے اجتماع کو خلاف قانون قرار دے کر فائرنگ ولاٹھی چارج کے ذریعہ منتشر کرنے کا حکم دے دیا۔ مسٹر خلیل ڈی۔ ایس۔ پی خواجہ اقبال مجسٹریٹ کے ذمہ یہ فریضہ لگایا انہوں نے فرعونیت کی یاد تازہ کر دی۔ حجاج بن یوسف کی روحانی اولاد نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ اندھا دھند ظلم و ستم کی ایسی گھناؤنی فلم چلائی کہ عرشی، فرشی الامان والحفیظ پکار اٹھے۔ چار افراد کو مزید گرفتار کیا گیا۔ ان میں مولانا محمد یعقوب صاحب بھی تھے۔ کسی نے شرارت کی ہوگی۔ روڑا پھینک دیا۔ انہوں نے گولی چلا دی۔ مسلمانوں کے سامنے کربلا کی فلم چلنے لگی۔ لوگ گولیاں کھاتے رہے۔ آگے بڑھتے رہے جو ساتھی شہید ہوئے ان کی لاش پولیس نے اٹھالی۔ اللہ رب العزت کی کروڑ رحمتیں ہوں ان مجاہدین پر کہ گولیوں کی بارش میں مردانہ وار آگے بڑھے اور جا کر پولیس سے لاش واپس لے کر چھوڑی۔ مولانا محمد یعقوب کو بھی پولیس کی حراست سے چھڑا لیا گیا۔ پولیس بے بس ہو گئی۔ باطل ہار گیا حق جیت گیا۔ اب ڈپٹی کمشنر کی شیطانی رگ نے کام کیا اور شہر کو فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل خوشی ہشتم پنجاب رجمنٹ کی کمان کر رہے تھے۔ پولیس نے فوج کو مشتعل کرنے کے لئے ڈرامہ کیا کہ سول کپڑوں میں ملبوس اپنے آدمیوں کے ذریعہ پولیس کی چند گاڑیوں کو آگ لگوادی۔ کسی اے ۔ ایس ۔ آئی کو زخمی کر دیا گیا۔ میونسپل فائر بریگیڈ آیا تو اسے بھی ناکارہ بنا دیا گیا۔ غرضیکہ پوری طرح فوج کو باور کرایا گیا کہ تحریک کے لوگ فسادی (خاکم بدہن) ہیں۔ ان پر جتنا ظلم ہو گا نہ یہ کہ اتنا ثواب ہوگا بلکہ ملک پاکستان مستحکم ہوگا۔ تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اپنے شہید ساتھی کی لاش کو کندھا دیا اور یزیدیت کے ظلم و ستم کے خلاف شہر بھر میں گشت لگایا۔ مسلم لیگ کے دفتر گئے۔ مسلم لیگ اور دینداری ”ایں خیال است و محال است و جنون“ خواجہ صفدر معروف مسلم لیگی اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو رہا تھا۔ اسے پولیس وفوج اور اقتدار ومسلم لیگ کی قیادت کے نشہ نے سہ آتشہ کر دیا۔ اس نے بجائے ہجوم وجلوس کی مظلومیت کے ان پر اپنی لیڈری چمکانی چاہی۔ شہید کے وارثوں نے وارفتگی کے عالم میں اس کا چہرہ اس کے دل کی طرح کر دیا۔ لاکھوں افراد نے شہید کی جناح پارک میں نماز جنازہ ادا کی۔ امامت مولانا محمد یعقوب نے کرائی۔

صفحہ ۳۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاکھوں کا اجتماع دیوانہ وار جوش و خروش شہر کے لوگوں کی برہمی دیکھ کر فوج اور پولیس نے ۳ / مارچ کو دن کے ایک بجے سے دوسرے دن ایک بجے تک چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا۔ اللہ رے تیری قدرت کے قربان کیسے شیر دل صف شکن لوگ ہوں گے کہ انہوں نے کرفیو کو بھی توڑ ڈالا۔ اس کی مٹی پلید ہوتے دیکھ کر کمشنر صاحب نے اس کے اوقات تبدیل کر دیئے یعنی دس بجے شب کے چار بجے صبح تک پورا دن مسلمان آتے رہے۔ دل کھول کر محمد عربی ﷺ کے نام پر قربان ہونے کا عملی مظاہرہ کرتے رہے۔ سارا دن حق و باطل کا یہ معرکہ جاری رہا۔ قدرت کا نمائندہ پکار پکار کر اعلان کر رہا تھا کہ لوگو جس کے کان ہوں سن لے کہ ہمارے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہمارے حکم سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے اپنے انجام سے بچ نہ سکیں گے۔ شیطان کا نمائندہ خوش تھا کہ اسے ڈپٹی کمشنر صاحب جیسا بہترین رفیق مل گیا تھا۔ ہاں تو میں بھول نہ جاؤں صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر کا نام غلام سرور تھا۔

۴ / مارچ کو زیر دفعہ ۱۴۴ ایک حکم نافذ کیا گیا۔ جس کی رو سے جلسے جلوس ممنوع قرار دے دیئے گئے۔ اس دن تحریک کے ذمہ دار حضرات نے بھی اپنی حکمت عملی کے تحت شہابیہ سے مسجد مولوی نور حسین میں اپنا مرکز تبدیل کر لیا۔ یہ مسجد تحصیل اور تھانہ صدر کے قریب قریب واقع ہے۔ جلوس نکلا یہ مسجد کی طرف آ رہا تھا کہ پولیس نے اس پر دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر لاٹھی چارج کرایا۔ شہر میں مزید جذبات برانگیختہ ہوئے۔ اب پھر شہر کو فوج کے سپرد کر دیا گیا۔ فوج نے گولی چلا کر شہداء کے خون سے اپنے انتقام کی پیاس بجھانا شروع کر دی۔ بازار میں ایک طرف سے دوسری طرف سرخ فیتہ کھینچ دیا اور ہجوم کو تنبیہ کی گئی کہ اسے کراس کیا تو گولی مار دی جائے گی۔ مسلمان نے ختم نبوت زندہ باد کی صدا بلند کی۔ کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور سرخ لکیر کو کراس کر گئے۔ اس پر فوج نے بریگیڈئیر اے۔ کے اکبر کے حکم سے گولی چلا کر اپنا ارمان پورا کیا۔ مسٹر منیر کا کہنا ہے کہ چار آدمی ہلاک ہوئے اور دس مجروح۔ (منیر رپورٹ ص ۱۷۸) ہلاکت میں پڑے منیر اور اس کی بدروح یا بد شکل و عقل چہرہ و جسم ۔ تحریک کے رضا کار اس سے کہیں زیادہ جام شہادت نوش کر کے اپنی قیمتی کامیابی کی منزل مقصود پر پہنچ گئے اور آنے والی نسلوں کو بتا گئے کہ جب قانون یا اس کے پیشہ ور محافظ آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنے سے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کریں تو مسلمانو! اس وقت اپنے خون جگر سے ناموس پیغمبر ﷺ کا تحفظ کرنا تمہارا فرض ہے اور تحفظ کرنے کے لئے راستہ ہمارے والا اختیار کرنا ہے کہ اس شان و دھج سے میدان مقتل میں اترنا کہ دوست و دشمن سب عش عش کر اٹھیں۔

قارئین کرام ! راقم جذباتی ہو گیا تھا۔ معافی چاہتا ہوں۔ عرض کر رہا تھا کہ دن بھر ظالموں کا ظلم جاری رہا۔ مسلمان بھی قربانیاں دیتے رہے۔ شام کو ڈی آئی جی ، ایس این عالم سیالکوٹ تشریف لائے تو انہیں معلوم ہوا کہ پولیس نے فوج کو شہر دے رکھا ہے۔ ان کے نزدیک اس طرح پولیس کے ظالم حکمرانوں کے سامنے پورے نمبر نہ بنتے تھے۔ پولیس اس ظلم اور قتل ناحق کا کریڈٹ خود لینا چاہتی تھی۔ یہی ان کے آئی جی مسٹر انور علی کراچی وعدہ کر کے آئے تھے کہ ہفتہ بھر میں تحریک کو کچل دوں گا۔ اس لئے انہیں ڈی آئی جی ، سی آئی ڈی سے آئی جی بنا دیا گیا اور پہلی ڈیوٹی کا اضافی چارج بھی اس نے اپنے پاس رکھا۔ یہ بد فطرت پولیس افسران کو دن رات ترغیب دے رہا تھا کہ انسانوں کے مرنے کی فکر نہ کرو۔ فکر اس کی کرو کہ کوئی گولی ضائع نہ جائے۔ ادھر مسٹر سکندر مرزا یہ پوچھتا کہ مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ کتنے آدمی مرے ہیں مجھے یہ بتایا جائے کہ کوئی گولی ضائع تو نہیں گئی۔ ایس این عالم ڈی آئی جی کے کہنے پر شہر پولیس کے دوبارہ سپرد کرایا گیا۔ فوج نے اپنا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سٹی کوتوالی میں منتقل کر دیا۔ پولیس دن بھر آرام کے بعد سستا کر تازہ دم ہو گئی۔ دن بھر کی رہی سہی کسر اس نے نکالی۔ خوف خدا تھرّا رہا تھا۔

صفحہ ۳۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۵؍ مارچ کو فوج نے شہر بھر میں فلیگ مارچ کیا اور وسیع پیمانے پر گشت لگایا۔ جلوس نکلتے رہے۔ یہ ان پر فائر داغتے رہے اور رضا کار خاک وخون میں تڑپ کر ملک عدم یا ہسپتال یا جیل کی طرف جاتے رہے۔ ۶؍ مارچ کو دولتانہ کی تحریک کے متعلق اپیل شائع ہوئی۔ جلسے جلوس ہوتے رہے۔ لوگ بے شمار تعداد میں گرفتار ہوتے رہے۔ ۷؍ مارچ کو ۹۸۔ ۸؍ مارچ کو ۲۱۔ ۹؍ مارچ کو ۱۴۹ رضا کار باضابطہ گرفتار ہوئے۔ باقی جن کو گرفتار کر کے باہر لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تھا ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ۱۰؍ مارچ کو چیف سیکرٹری نے لاسلکی پیغام کے ذریعہ حکام ضلع کو ہر قسم کی کارروائی کر کے بہرطور تحریک کو مکمل کچل دینے کے احکامات جاری کئے۔ تحریک کے مراکز کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ ان کا آب ودانہ بند کر دیا گیا۔ تیسرے روز ۱۲؍ مارچ کو علامہ خالد محمود، مولانا فضل حق، مولانا سلطان محمود گرفتار کر لئے گئے۔ مساجد و مراکز سے سپیکر اتار لئے گئے۔ ان کی بجلی کاٹ دی گئی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے گرفتار شدگان کو جیل میں پٹوایا اور اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ تحریک کے کارکنوں پر مارچ کے دوسرے عشرے تک یہ ظلم وستم جاری رہا۔

گوجرانوالہ

گوجرانوالہ ہمیشہ تحریک ختم نبوت کا ہراوّل دستہ رہا ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں اس شہر کی بھی بے مثال قربانیاں ہیں۔ افسوس کہ فقیر ایسے حالات میں تحریک کے واقعات قلمبند کر رہا ہے۔ جب کہ تحریک کے اکثر وبیشتر راہنماء دنیا سے تشریف لے جاچکے ہیں۔ ۱۹۵۱ء میں یہاں پر احرار کے زیر اہتمام دفاع کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس مثالی طور پر کامیاب ہوئی۔ صدر سٹی مسلم لیگ نے اس کی صدارت کی تھی۔ ۲۰؍ جون ۱۹۵۲ء کو یوم مطالبات تھا۔ دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود یہ کانفرنس شیرانوالہ باغ میں منعقد ہوئی۔ اس سے شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین اور صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب اور دوسرے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی پر تمام مقررین گرفتار کر لئے گئے۔ ان کی گرفتاری و رہائی کی تفصیلات کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ جولائی ۱۹۵۲ء میں ایک اور کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس بھی مثالی طور پر کامیاب ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر مولانا اختر علی خان کے اعزاز میں چائے پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈپٹی کمشنر اور مسلم لیگی راہنماء بھی شریک ہوئے۔

صاحبزادہ سید فیض الحسن، مولانا عبد الواحد خطیب جامع مسجد شیرانوالہ، مولانا عبد القیوم، مولانا محمد اسماعیل، مولانا حکیم عبد الرحمن اور دوسرے راہنماؤں نے خون جگر سے ختم نبوت کے الاؤ کو روشن کیا۔ ۲، ۳؍نومبر ۱۹۵۲ء کو گوجرانوالہ میں مجلس عمل کے زیر اہتمام جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں جماعت اسلامی کے نمائندہ میاں طفیل نے بھی شرکت کی۔ مجلس عمل نے مرزائیوں کے مجلسی اور اقتصادی بائیکاٹ کی اپیل کی جس کے بعد شہر کے لوگوں نے مرزائیوں سے اظہار نفرت کے لئے اپنی دکانوں پر مرزائیوں سے بائیکاٹ کے بورڈ لگا دیئے۔

یہ مسلمانوں کا جذبہ ایمانی تھا کہ وہ حکومت پر واضح کرنا چاہتے تھے کہ آپ ان کو غیر مسلم قرار دیں یا نہ دیں۔ عوام ان کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ کراچی میں جب وزیر اعظم کو الٹی میٹم دیا گیا تو باقی ملک کی طرح گوجرانوالہ میں بھی تحریک کی وسیع تیاریاں شروع ہوگئیں۔ مولانا عبد الغفور ہزاروی کا مرید عبد الکریم وزیر آباد میں، مولانا محمد یحییٰ اور مولانا فضل احمد حافظ آباد میں، مولانا عبد اللطیف صاحب چشتی اور حافظ عبد الشکور صاحب کامونکی میں، مولانا عبد الواحد، مولانا محمد اسماعیل، مولانا عبد الرحمن آزاد، مولانا عبد القیوم، صاحبزادہ سید فیض الحسن گوجرانوالہ میں مصروف عمل ہوگئے۔ حافظ آباد سے پانچ صد رضا کاروں نے ایک ہفتہ میں اپنے تمام نام لکھوا دیئے۔ ضلع بھر سے ساڑھے چار ہزار رضا کاروں کا کوٹہ مقرر کیا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہوگیا۔ جن لوگوں نے رضا کاروں کے حلف

صفحہ ۳۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر دستخط کئے ۔ ان میں مسٹر منظور حسن سیکرٹری سٹی مسلم لیگ بھی تھے ۔ کراچی میں تحریک کے نقطہ آغاز سے ہی گوجرانوالہ میں مولانا محمد اسماعیل صاحب خطیب اہل حدیث گرفتار کر لئے گئے ۔ تحریک شروع ہوئی ۔ ہر روز کراچی کے لئے رضا کاروں کا دستہ روانہ ہوتا ۔ شہر میں جلوس نکالا جاتا ۔ رضا کاروں کے دستہ کو پھولوں میں لادا جاتا اور ریلوے اسٹیشن سے انہیں کراچی کے لئے روانہ کیا جاتا ۔ جلسوں کا ضلع بھر میں سلسلہ شروع ہو گیا ۔ پورا ضلع قادیانیت کے خلاف اپنے جذبات کا لاوہ ابلنے لگا ۔ گوجرانوالہ میں مجلس عمل کے راہنماؤں نے مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد کو ڈکٹیٹر مقرر کر دیا ۔

یکم مارچ ۱۹۵۳ء کو اے. آئی. جی کی طرف سے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ہدایات ملیں کہ رضا کاروں کے دستہ کو کراچی جانے سے روکا جائے ۔ جس کا معنی یہ تھا کہ ان کو ان کے شہروں میں ہی گرفتار کر لیا کریں ۔ جیل میں جگہ کی قلت ۔ بے شمار جلوسوں کے لئے مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگاتے وقت اوسان جواب دے گئے ۔

۲ / مارچ کو ڈی سی آفس میں سرکاری و غیر سرکاری اجلاس منعقد ہوا ۔ افسران ، حکومتی ارکان کی منافقت کی ترجمانی کرتے رہے ۔ مسلمان مزاج دیگر حضرات تحریک کے اخلاص اور مطالبات کی حقانیت پر مصر رہے ۔ بعض لیگی راہنما تحریک کے ساتھ تھے ۔ دوسرے جدی پشتی انگریز اور ان کی معنوی اولاد مرزائیوں کے وفادار اپنے رفقاء کو زچ کرنے کے لئے ضلعی افسران کو تحریک میں شامل لیگی رہنماؤں کے خلاف اکساتے رہے ۔ رضا کاروں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ بجائے چار پانچ کے دستہ کے فیصلہ کیا کہ گرفتاری کے لئے پچاس رضا کاروں کا قافلہ روانہ کیا جائے گا ۔ ان رضا کاروں کو ٹرین پر سوار کرا کے جلوس واپس ہوا ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پولیس کی نفری لے کر گئے ۔ ٹرین کو رکوا کر رضا کاروں کو لاہور جانے دینے کی بجائے گوجرانوالہ میں ہی گرفتار کر لیا ۔ اس سے عوام میں جوش واشتعال پھیلنا لازمی امر تھا ۔ ڈی. ایس. پی نے گولی چلانے کا حکم دے دیا ۔ مسٹر منظور حسین سیکرٹری لیگ گرفتار ہوئے ۔ مگر شہر سے باہر جا کر ان کو چھوڑ دیا گیا ۔ ۶ / مارچ کو لاہور سے چیف منسٹر کا بیان نشر کیا گیا ۔ ۷ / مارچ کو شہر میں پولیس اور فوج نے مل کر گشت لگایا ۔ گوجرانوالہ میں فوج کی ایک کمپنی ۵ / مارچ کو دو بٹالین ، ۶ / مارچ کو ڈی. آئی. جی پنجاب کانسٹیبلری کے دو ریزرو دستوں کو لے کر ۸/ مارچ کو پہنچ گئے ۔ یوں فوج اور پولیس نے مل کر گوجرانوالہ کو فتح کرنے کا عزم بالجزم سے فرض ادا کیا ۔ فوج و پولیس نے گھر گھر لوگوں کی تلاشی لی ۔ گرفتاریوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ پولیس نے اپنی بدطینتی کا کھلم کھلا مظاہرہ کیا ۔ فوج کو بھی ملوث کر کے ان کا مورال خراب کرنے کی افسوس ناک حرکت کی گئی ۔ مولانا عبدالواحد ۔ ۱۱/ مارچ اور مولانا حکیم عبدالرحمن صاحب ۱۲ / مارچ کو گرفتار کر لئے گئے ۔

فوج کی امداد سے مسجد شیرانوالہ باغ میں چڑھائی کی گئی ۔ مسجد میں موجود تمام رضا کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ مسجد کو فتح کر لیا گیا ۔ قاری عبدالکریم صاحب سے دس ہزار ایک سو روپے کی رقم پولیس نے حاصل کر لی ۔ صفدر علی اور نصیر دین کی گرفتاری کے لئے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کئے ۔ کامونکی میں مولانا لطیف احمد چشتی ، حافظ عبدالشکور وزیر آباد میں ، مولانا عبدالغفور ہزاروی ، کامرید عبدالکریم حافظ آباد میں مولانا محمد یحییٰ ، مولانا فضل الٰہی گکھڑ میں سید محمد بشیر سوہدرہ سے مولوی عبدالمجید اور دوسرے راہنماؤں نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ۔ ذیل میں گوجرانوالہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماء چوہدری غلام نبی صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں تحریک کے حالات و واقعات بیان کئے ہیں ۔ جس سے موصوف کی خدمات گوجرانوالہ اور کراچی میں تحریک کے حالات و واقعات پر روشنی پڑتی ہے ۔ پڑھئے جو یہ ہے ۔

صفحہ ۳۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”مولانا بشیر احمد پسروری کی قیادت میں ایک دن جامعہ مسجد قبرستان والی گوجرانوالہ سے جلوس نکلا۔ ملٹری نے نشان لگا دیئے کہ اسے کراس کرو گے تو گولی مار دی جائے گی۔ فوج میں بنگالی نوجوان تھے۔ وہ اردو نہ سمجھتے تھے۔ مرزائی نواز حکومت نے ان کو تاثر دیا کہ تحریک کے لوگ ہندوؤں کے ایجنٹ ہیں اور ملک میں بدامنی چاہتے ہیں۔ فوج نے جلوس کا راستہ روک دیا۔ فوج کو جلوس کے شرکاء نے قرآن مجید دکھایا۔ انہوں نے راستہ دے دیا۔ جلوس منزل مقصود پر پہنچا اور اپنے رضا کاروں کی گرفتاری دے کر واپس آگیا۔ چوہدری صاحب اس جلوس میں شامل تھے۔

لاہور جامع مسجد وزیر خان سے مولانا عبدالستار خان نیازی نے گوجرانوالہ تحریک کے راہنماء مولانا عبدالواحد مرحوم کو پیغام بھجوایا کہ مجھے آ کر ملو۔ مولانا عبدالواحد نے رقعہ دیا اور چوہدری غلام نبی کی لاہور مولانا عبدالستار خان نیازی سے ملنے کی ڈیوٹی لگائی۔ تیل، صابن، گڑ، چنے اور دیگر سامان لے کر چوہدری صاحب گوجرانوالہ سے بس کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ لاہور کے مضافات میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ لاہور میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ملٹری نے بس روک کر تمام سواریوں کو نیچے اتار کر ان کی تلاشی کے لئے لائن لگوا دی۔ اس دوران چوہدری صاحب نے رقعہ جیب سے نکالا اور منہ میں ڈال کر نگل لیا۔ فوجی جوانوں نے رائفلیں لوڈ کر رکھی تھیں۔ اتنے میں ملٹری کی جیپ میں دو فوجی نوجوان یونیفارم پہنے ہوئے وہاں سے گزرے۔ فوج نے جیپ کو روکا یہ بھگا کر لے گئے۔ فوج نے وائرلیس کی۔ آگے اس فوجی جیپ کو فوج نے روکا مگر یہ بھگا کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ فوج نے وائرلیس کی۔ تیسری جگہ رکاوٹ کھڑی کر کے جیپ کو روکا گیا تو جیپ میں دو غیر فوجی قادیانی نوجوان تھے جنہوں نے فوج کی گاڑی اور فوج کا یونیفارم استعمال کیا اور مسلمانوں پر گولیاں چلا کر تحریک کو تشدد کی راہ پر ڈالا۔ جنرل اعظم کے اشارے پر فوج میں قادیانی لابی یہ سب حرکتیں کر کے مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا رہی تھی۔ جیپ کو روکنے، پکڑنے اور اصل صورتحال وائرلیس کے ذریعہ معلوم ہونے پر فوجیوں نے بس کو جانے کی اجازت دے دی۔ چوہدری صاحب بھی تمام سواریوں کے ہمراہ بس میں سوار ہو گئے۔ بس روانہ ہوئی۔ شاہدرہ تھانہ پر پھر دوسرے فوجیوں نے روک دیا۔ سواریاں نیچے اتریں۔ ڈرائیور دوڑ گیا۔ تمام سواریوں کو واپس چلے جانے کا حکم ملا۔ کیونکہ شہر میں کرفیو تھا۔ چوہدری صاحب تمام سامان اپنے کندھے پر اٹھایا۔ واپس روانہ ہوئے۔ نہر کے کنارے کنارے کئی میل کا سفر کر کے جی ٹی روڈ پر پہنچے۔ کئی گاڑیاں گزر گئیں۔ مگر سامان دیکھ کر ان کو نہ اٹھایا۔ یہ ”مرید کے“ تک پیدل آئے۔ ان دنوں گوجرانوالہ اور لاہور کا کرایہ ایک روپیہ دو آنے تھا۔ مگر ٹرک والے نے فی سواری ۲ روپے کے حساب سے اس میں سواریوں کو بھرا۔ ادھر گوجرانوالہ میں خبر پہنچی کہ چوہدری غلام نبی شہید ہو گیا ہے۔ یہ مغرب کے بعد شیرانوالہ مسجد میں پہنچے تو مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ حاضرین سے دعا کرا رہے تھے کہ اگر وہ شہید ہو گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت نصیب کریں۔ اتنے میں چوہدری صاحب نے السلام علیکم کہا۔ حاضرین کے نعروں کی گونج سے فضا معمور ہو گئی۔ تمام ساتھی یکے بعد دیگرے بغل گیر ہوئے۔ رات کو حکیم عبدالرحمن نے ان کو علیحدہ لے جا کر کہا کہ میرے پاس فنڈ کا دس ہزار روپیہ ہے جتنا لینا ہے اپنی مرضی سے لے لو۔ گھر بچوں کو ملو اور اگلے سفر کی تیاری کرو۔ چوہدری صاحب نے ایک پائی تک نہ لی۔ اگلے دن پولیس کا چھاپہ پڑا اور تمام فنڈ پولیس لے گئی۔

چوہدری صاحب کو سیالکوٹ، وزیر آباد کے لئے بھیج دیا گیا۔ ان کے متعلق رپورٹ ہو گئی۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے۔ ان علاقوں میں پولیس سے بچ بچا کر کچھ عرصہ کام کیا۔ ایک رات گوجرانوالہ آئے تو مسجد خالی تمام رضا کار و راہنماء گرفتار، شہر میں ہو کا عالم سوچا

صفحہ ۳۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ اب کیا کریں۔ اللہ اللہ کر کے رات گزاری۔ صبح منہ اندھیرے شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے برادر بزرگ مولانا صوفی عبد الحمید مہتمم مدرسہ نصرت العلوم کے پاس گئے۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ کرایہ کے لئے اڑھائی تین صد کا اہتمام کرو اور فوراً کراچی چلے جاؤ۔ وہاں کام کی ضرورت ہے۔

جناب چوہدری غلام نبی ، جناب عبدالغنی اور چوہدری لعل محمد گوجرانوالہ سے فیصل آباد وہاں سے کراچی روانہ ہو گئے۔ کراچی میں مستری رشید لدھیانوی ملا۔ ان دنوں تحریک کے لئے بھر پور کوشش کر رہا تھا۔ رضا کاروں کو مسجد میں لانا جلوس نکالنا گرفتاری دینا۔ اس کے ذمہ تھا۔ یہ سب کچھ وہ پس پشت رہ کر ایسی صفائی سے کر رہے تھے کہ پولیس کو معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کس کی کارروائی ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی ۔ یہ ان حضرات کو مولانا احتشام الحق تھانوی کی مسجد میں لے گئے ۔ جہاں لاہور کے حکیم ذوالقرنین اور اشتیاق صادق وغیرہ سے ملاقات ہوئی ۔ اپنے پوشیدہ ڈیرہ پر گئے۔ باہمی مشورہ ہوا کہ جمعہ آ رہا ہے۔ اس موقعہ سے فائدہ اٹھائیں۔ لٹریچر تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چوہدری غلام نبی کے ذمہ جو علاقہ لگا یہ اس میں گئے۔ ناواقف تھے۔ اس لئے غلطی سے بوہری فرقہ کی مسجد میں چلے گئے۔ ان کے وضو، نوجوان عورتوں کا اوپر کی چھت پر شور وغوغا دیکھ کر ٹھٹھک گئے۔ جمعہ کا وقت تھا۔ نماز پڑھی۔ فوراً باہر آئے۔ ان کے دعا کرتے کرتے باہر کے صحن میں اس صفائی سے وہ پمفلٹ ادھر ادھر پھینک دیا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی۔ لوگ دعا سے فارغ ہو کر نکلے تو ہر ایک نے ایک ایک کاپی اٹھالی ۔ یہ کھڑے سب کچھ کارروائی دیکھتے رہے۔ یہ پمفلٹ حکومت کے خلاف کھلی چٹھی تھی ۔ اب ان کی ڈیوٹی لگی کہ یہ رحیم یار خان ، خان پور حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی سے رضا کار لا کر گرفتار کرایا کریں۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ آرام باغ میں گرفتاریاں ہوتی رہیں اور یہ پولیس سے آنکھ بچا کر اپنا کام کرتے رہے۔

گرفتاری

پولیس ان گرفتاریوں سے تنگ تھی ۔ پولیس نے اپنا ایک داڑھی والا سپاہی ان کے پاس بھیجا۔ وہ اتنا رویا کہ ان کے سینے بھی مچلنے لگے۔ اس نے اپنی کہانی سنائی کہ میں بھی تحریک کا آدمی ہوں۔ گرفتار ہو گیا تھا۔ رہائی کے وقت حضرت امیر شریعت نے مجھے پیغام دیا ہے کہ آپ سے مل کر کام کروں ۔ ان حضرات نے یہ کہانی سنی۔ اس کی کڑیوں کو ملایا تو شک گزرا کہ یہ مخبر ہے۔ اس کے رونے کو دیکھا تو یقین ہوا کہ مخلص ہے۔ ساتھیوں نے باہمی مشورہ کیا کہ اسے اپنے ساتھ رکھو۔ مگر مشورہ میں شریک نہ کرو۔ اس طرح چند دن گزر گئے۔ ایک دن اسے کہا کہ تم بھی کوشش کر کے آدمی تیار کرو اور گرفتار کرواؤ ۔ مقصد یہ تھا کہ اگر جھوٹا ہے تو دوڑ جائے گا۔ صحیح ہے تو ہمارے ہاتھ بٹائے گا۔ اس نے دوسرے دن آدمی لاکر گرفتار کرا دیئے۔ وہ بھی دراصل پولیس کے آدمی تھے۔ یہ حضرات نہ سمجھ پائے۔ یقین ہو گیا کہ یہ آدمی مخلص ہے۔ اسے اپنے مشورہ میں شریک کر لیا۔ ایک جمعہ پر خان پور سے حضرت درخواستی نے آدمی بھجوائے ۔ انہوں نے ان کو کفن دیا کہ اس کو گول کر کے سر پر باندھ لو۔ پھولوں کے ہار اپنی گٹھریوں میں چھپالو ۔ مولانا احتشام الحق تھانوی کی مسجد میں جمعہ پڑھو۔ نماز کے بعد کفن نکالنا ۔ پھولوں کے ہار اپنے گلے میں ڈالنا اور گرفتاری کے لئے پیش ہو جانا۔ چوہدری صاحب اور ان کے رفقاء نے بھی نماز وہاں پڑھی ۔ اسی دن جناب عبدالرب نشتر مرحوم بھی استعفیٰ دے کر مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لئے آئے۔ ان حضرات نے اعلان کر دیا کہ ہمارے جلوس کی قیادت مولانا احتشام الحق تھانوی کریں گے۔ چاروں طرف سے نعروں کی گونج میں مولانا دعا کرا کر مصلیٰ سے اٹھے ۔ وہ جلوس کی قیادت کے لئے روانہ ہوئے۔ ان کے مقتدی آڑے آئے اور مولانا کو اٹھا کر اندر لے گئے۔ ان رضا کاروں نے گرفتاریاں دیں اور

صفحہ ۴۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یوں سلسلہ چلتا رہا۔

پولیس کے اس مخبر نے تمام تر تحریک کے اصل کارکنوں کی صحیح صورتحال معلوم کر لی۔ چوہدری غلام نبی صاحب رحیم یار خان سے رضا کاروں کو لے کر آرام باغ کراچی آئے تو خود بھی اس مخبر کی نشان دہی سے گرفتار کر لئے گئے۔ تھانہ میں پہنچے تو مستری رشید بھی گرفتار ہو کر پہلے پہنچ چکے تھے۔ پولیس نے تفتیش شروع کی کہ بقیہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں۔ چوہدری صاحب نے فوراً مؤقف اختیار کیا کہ میں تو روزانہ اجرت پر کام کرتا ہوں۔ دس روپیہ یومیہ لیتا ہوں۔ پولیس نے کہا کہ غلط بیانی نہ کریں تم اصل تحریک کے آدمی ہو۔ تم اپنا وقت مال اور اب جان بھی قربان کرنے کے درپے ہو۔ صحیح صورتحال بتا دو ورنہ خیر نہیں۔ چوہدری صاحب اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ پولیس نے کہا کہ ہم تمہیں اس مسجد میں لئے چلتے ہیں۔ تمہارے ساتھی آ جائیں تو اشارہ کر دینا۔ چوہدری صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔ مسجد میں گئے۔ رفقاء کو پہلے معلوم ہو گیا تھا۔ سارا دن ضائع کر کے واپس تھانہ آگئے۔ پولیس بڑی سٹ پٹائی۔ تھانہ آکر تشدد کرنا شروع کیا۔ خوب مار پڑی۔ جسم چکنا چور ہو گیا۔ کراہتی ہوئی حالت میں حوالات میں بند کر دیا۔ مستری رشید بھی پاس تھے۔ ان کے بھی پورے جسم پر زخموں کے نشان تھے۔ مگر پھر بھی پولیس کا خیال تھا اسے بجلی لگائی جائے۔ مگر ڈاکٹر نے اجازت نہ دی۔ مستری صاحب پر اتنا ظلم ہوا کہ پولیس نے جلدی سے ان کا چالان عدالت کو بھیج دیا اور ان کو جیل منتقل کر دیا کہ کہیں اگر فوت ہو گئے تو مصیبت میں پولیس پھنس جائے گی۔

چوہدری غلام نبی پر پولیس کا تشدد اور دباؤ بڑھا کہ باقی ساتھی گرفتار کراؤ۔ یہ تمام مظالم برداشت کرتے رہے۔ ایک دن پولیس ان کو اسٹیشن پر لے گئی کہ ٹرین سے جو آدمی آکر اسے سلام کرے اسے گرفتار کر لو۔ پولیس ایک طرف کھڑی رہی۔ ان کو ایک دوسری جگہ اسٹیشن پر کھڑا کر دیا۔ اتنے میں پنجاب سے ٹرین آئی۔ اشتیاق صاحب رضا کاروں کو گرفتاری کے لئے رحیم یار خان سے لائے تھے۔ رضا کار چوہدری صاحب کو نہ جانتے تھے۔ البتہ اشتیاق مصافحہ کے لئے آگے بڑھا۔ چوہدری صاحب نے طرح دی۔ وہ سمجھ گیا۔ لیکن پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ ان کے ہمراہ تھانہ لے گئی۔ ان سے نام پوچھا۔ انہوں نے فرضی بتا دیا۔ چوہدری صاحب سے ان کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پولیس نے ان کا بریف کیس وغیرہ دیکھا تو سمجھا کہ کاروباری آدمی ہے۔ چھوڑ دیا۔ یہ یوں بچ گئے۔ اب پولیس نے میٹنگ کی کہ یہ آدمی بڑا خطرناک ہے۔ صحیح صورتحال نہیں بتاتا۔ اسے گوجرانوالہ لے جاؤ۔ اسے کہو کہ خواجہ بشیر کو گرفتار کرا دے تو رہا کر دیں گے۔ دوسرے پولیس آفیسر نے کہا کہ پنجاب میں تحریک زوروں پر ہے۔ تم وہاں گئے تو خود بھی واپس نہ آؤ گے۔ مزید تشدد کرو، شاید کوئی شکل بن جائے۔ رات کو اتنا مارا کہ الامان ! چیخیں نکل گئیں۔ پاؤں کے تلووں پر بہت زیادہ ڈنڈے برسائے۔ بیہوش ہو گئے۔ رات بھر ایسے گزری۔ صبح اٹھ کر اشاروں سے نماز پڑھی۔ رات بھر نہ کچھ کھایا تھا نہ پیا۔ ایک دوسرے قتل کے ملزم کی گھر سے روٹی آئی۔ اس نے ان کو شریک کر لیا۔ دوپہر کے وقت پولیس افسر نے بلا کر کہا کہ تم نے ہماری مار تو برداشت کر لی۔ مگر یاد رکھو کہ تم اب ہمیشہ کے لئے بیوی کے قابل نہیں رہوگے۔

۲ / بجے دن سنٹرل جیل لے گئے۔ وہاں مستری رشید، غلام محمد، نیاز لدھیانوی، جوہر جہلمی، رب نواز ایڈیٹر حکومت اخبار مولانا محمد اسحاق مکرانی، مولانا محمد اسحاق مسجد کھڈہ والے، لطیف کراچی، غلام محمد میانوی پہلے سے موجود تھے۔ سب کو پھانسی والی بیرک میں بند کر دیا۔ اس دن چوہدری صاحب نے جیل کے اہل کار سے پوچھا کہ ہمارا کیا قصور ہے کہ ہمیں اس بیرک میں بند کیا ہوا ہے۔ وہ جیل کے قانون جانتا تھا۔ اس نے کہا دعا کرو کہ ایک قیدی سزائے موت کا آجائے تو تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ چنانچہ ایسے ہوا اور یہ حضرات حوالات کی

صفحہ ۴۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک کھلی بیرک میں آگئے۔ اس طرح ایک سال قید کاٹی۔ مولانا عبدالحامد بدایونی بھی انہی دنوں اسی جیل میں تھے۔ ان سے بھی گاہے بگاہے ملاقات رہی۔

رہائی وگرفتاری

جس دن چوہدری صاحب اور ان کے رفقاء رہا ہوئے اسی دن ٹھیک دس منٹ بعد دوبارہ وہاں سے ہی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ گویا دوبارہ نظر بندی کے آرڈر آگئے۔ مولانا عبدالرحمن صاحب پاکستانی چوک کی مسجد میں خطیب تھے۔ انہوں نے رٹ دائر کر دی۔ ہائیکورٹ میں سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ کانگریسی ہیں۔ ملک دشمن ہیں۔ ہمارے وکیل نے کہا کہ ایک بج کر پانچ منٹ پر تم نے رہا کیا۔ ایک بج کر پندرہ منٹ پر تم نے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ صرف دس منٹ میں یہ کانگریسی ہو گئے۔ اگر یہ کانگریسی ہیں تو تم نے پہلے کیوں رہا کیا۔ عدالت نے کہا فیصلہ محفوظ پیشی ڈال دی۔ دوسری پیشی پر رہا ہو کر گھر آئے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے بعد سے لے کر اس وقت تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر ایک بھرپور مجاہد کی طرح کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ۱۹۵۳ء کی قید کاٹ کر گھر آیا تو واقعی میں بیوی کے لائق نہ تھا۔ دراصل پاؤں کے تلووں کی ضربوں نے ان سے یہ جوہر چھین لیا تھا۔ مولانا محمد علی جالندھری کے متعلق چوہدری صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ بڑے دردمند تھے۔ جب میرے متعلق ان کو پتہ چلا تو ایک ایک حکیم سے میرا علاج کرایا۔ ایک دن میں گھر پر تھا کہ ایک حکیم نے آ کر میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھولا، پوچھنے پر بتایا کہ چک جھمرہ سے آیا ہوں۔ حکیم ہوں۔ مولانا محمد علی جالندھری نے آپ کے علاج کے لئے بھیجا ہے۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ میری جوانی بحال ہوگئی۔

گرفتاری سے پہلے لے کر اس وقت میری اولاد نہ تھی۔ ایک دن حضرت امیر شریعت کے پاؤں دبا رہا تھا۔ دفتر ختم نبوت گوجرانوالہ میں شاہ جی اکیلے تھے۔ میں نے موقعہ غنیمت جانا اور بڑے نخرے سے کہا کہ شاہ جی اور لوگوں کے پیر دعا کرتے ہیں اولاد ہو جاتی ہے۔ آپ کی کیا کرامت ہوئی کہ میری اولاد نہیں ہے۔ اس پر شاہ جی نے فرمایا کہ صبح نماز کے بعد بات کرنا۔ نماز ، وظیفہ ، نوافل پڑھ کر فارغ ہوئے۔ میں حاضر ہوا۔ فرمایا کہ وظیفہ بتاتا ہوں پڑھا کرو۔ اولاد ہوگی۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ میں نے برجستہ کہا کہ وظیفہ پڑھ کر اولاد ملی تو کیا ملی۔ آپ بغیر وظیفہ کے میرے لئے دعا کیوں نہیں کرتے۔ شاہ جی نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ اولاد ہوگی۔ اگلے سال بچی ہوئی۔ مٹھائی لے کر ملتان گیا۔ بچی کی ولادت کی خبر سنائی۔ سجدہ میں گر گئے۔ زار و قطار رو دیئے۔ سر اٹھایا۔ فرمایا جاؤ اللہ رب العزت نرینہ اولاد بھی دیں گے۔ پھر یوں اللہ تعالیٰ نے دو بچے دو بچیاں دیں۔ جو اب سب جوان ہیں۔

آخر میں چوہدری صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ مجھے شاہ جی نے فرمایا کہ جان ، مال ، وقت ، عزت و آبرو سب کچھ ختم نبوت کے مسئلہ پر وقف کردو۔ زندگی بھر یہ کام کرتے رہو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ سیدھے جنت جاؤ گے۔ ایک دفعہ ۱۹۵۶ء میں چوہدری غلام نبی ، عبدالکریم کامریڈ ، شیخ محمد امین ، سائیں محمد حیات اپنے عزیزوں سے ملنے انڈیا گئے۔ مولانا ابوالکلام کی زیارت کے لئے بھی حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا کہ تم میں سے کوئی تحریک ختم نبوت میں بھی شامل رہا۔ ہم نے کہا کہ الحمدللہ ! ہم چاروں نے سال سال جیل کاٹی ہے۔ مولانا وجدمیں آگئے۔ فرمایا کہ آپ نے بڑا کارنامہ انجام دیا۔ اپنے لئے تو ہر آدمی جیل جاتا ہے۔ تم نے آقائے نامدار ﷺ کے لئے جیل کاٹی ہے۔ اس لئے تم ہی مبارک قسمت والے ہو۔

صفحہ ۴۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

منٹگمری (ساہیوال)

منٹگمری (ساہیوال) ختم نبوت کے پروانوں کا مرکز ہے۔ کیونکہ:

باخبر تھے۔

کی۔

قادیانیت کی تبلیغ کرنی شروع کردی۔ جس سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلنا لازمی امر تھا۔

گیا۔ گویا کاٹنے کے لئے کتّے کھلے چھوڑ دیئے گئے اور ان کے مارنے کے لئے پتھروں کو باندھ دیا گیا۔

دیوبندی کے شاگرد تھے۔ اس جامعہ کے مہتمم مولانا حبیب اللہ اور ان کے بھائی مولانا قاری لطف اللہ مبلغین ختم نبوت تھے۔ اس جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر تھے۔

مولانا محمد عبداللہ خطیب عید گاہ پانچوں حضرات اس شہر میں تھے۔ ان دنوں اوکاڑہ ساہیوال میں شامل تھا اور اوکاڑہ میں مولانا بشیر احمد رضوانی آباد تھے۔ غرضیکہ جتنا ہی قادیانیت اس ضلع میں ابھرنے کی تیاری کر رہی تھی اتنا بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس کا احتساب کرنے والے یہاں موجود تھے۔

حالات تحریک

جب آل پارٹیز مجلس عمل نے جولائی ۱۹۵۲ء میں مطالبات کئے تو اس ضلع میں ملک بھر کی طرح مساجد کے منبر ومحراب قادیانیت کے ارتداد کے احتساب کے لئے وقف ہوگئے۔ سرمائے کی فراہمی اور تحریک کی صورت میں گرفتاریوں کے لئے رضا کاروں کی بھرتی کا کام شروع ہو گیا۔ ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کی گرفتاریوں کے بعد جلسے جلوس زیردفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری یا زیردفعہ ۳ پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ گرفتاریاں ملک بھر کی نسبت زیادہ یہاں پر ہوئیں۔ اس لئے کہ قادیانی جنونی ڈپٹی کمشنر ذاتی طور پر اس تحریک کو کچلنے میں اپنے عقیدہ کی بنیاد پر مجبور تھا۔ ادھر تمام مکاتب فکر علماء مشائخ اور ضلع بھر کی تمام دینی جماعتیں اس تحریک کو پروان چڑھانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ مساجد گرفتاری دینے والے رضا کاروں کا ہیڈ کوارٹر بن گئیں۔

مختلف جماعتوں کے نمائندگان نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ بھرتی ہونے والے رضا کاروں کی تعداد ساہیوال میں دو ہزار

صفحہ 403

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اوکاڑہ میں ڈیڑھ ہزار، عارف والا میں سات سو اور چیچہ وطنی میں دو سو تھی۔ مولانا لطف اللہ اور مولانا حبیب اللہ کو گرفتار کرنے کے احکامات صوبائی حکومت کی طرف سے ۲۷؍فروری کو موصول ہو گئے تھے۔ مگر ضلعی قادیانی ڈپٹی کمشنر نے مولانا مفتی ضیاء الحسن، مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث اور مولانا محمد عبداللہ خطیب عید گاہ کی گرفتاری کے احکامات سپیشل طور پر حاصل کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ ۶؍مارچ کو لاہور کے حکومتی خونی حادثہ کے خلاف تین ہزار آدمیوں نے ریلوے اسٹیشن سمیت پورے اوکاڑہ شہر کا گشت لگایا۔ ۸؍مارچ کو نکلنے والا جلوس بھی تاریخی اور مثالی تھا۔ حکومت نے اپنے ظلم و ستم ڈھانے میں کوئی کمی نہ کی۔ ہزاروں مسلمانوں کو لاٹھی چارج، گولی، آنسو گیس سے خاک و خون میں تڑپانے کی آرزو کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ حکومتی مظالم اس حد تک بڑھ گئے کہ ۳؍اپریل کو شہر میں عورتوں کا جلوس نکلا۔ انہوں نے مطالبات کے حق میں کتبے بینر اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ قادیانی خناس افسران کی کمینگی ملاحظہ ہو کہ مردانہ پولیس ان معصوم بے گناہ پرامن عورتوں پر پل پڑی۔ ان کے کتبے بینر چھیننے کی کوشش کی۔ مسلمان عورتیں اس ظلم کے خلاف سینہ سپر ہو گئیں تو ان پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا۔ اس پر شہر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ کئی زخمی اور کئی جان بلب تھے۔ زخمی افراد کو پولیس لے گئی۔ صرف ایک آدمی کی لاش واپس کی گئی۔

چکوک و دیہات کے مسلمان اس ظلم پر تڑپ اٹھے۔ چک نمبر ۴/۱۲۰ سے چار پانچ ہزار کا جلوس جامعہ ملیہ اوکاڑہ آیا۔ مولانا ضیاء الدین اور مولانا معین الدین کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ۴؍مارچ کو اوکاڑہ میں چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کر کے گھر گھر کی تلاشی لی گئی اور تحریک کے لوگوں کے جان و مال کو لوٹا گیا۔ گرفتاریاں اتنی ہوئیں کہ جیلیں بھر گئیں۔ ۱۷؍مارچ کو اڑھائی بجے دن سے دن ۶ بجے صبح تک کرفیو نافذ کر کے قادیانی ڈپٹی کمشنر نے اوکاڑہ کی طرح ساہیوال میں بھی کھیل کھیل کر اپنے کمینہ پن کا ثبوت دیا۔ ۱۳؍مارچ کو اوکاڑہ اور ساہیوال میں ۱۴ دن کے لئے جلسے جلوس ممنوع قرار دیئے گئے۔

غرضیکہ پورے ملک کی طرح یہاں بھی تحریک مثالی تھی۔ پرامن تحریک کو حکومتی ارکان اور قادیانی گماشتوں نے تشدد کی راہ ڈال کر ظلم و ستم کی ایسی طرح ڈالی کہ خوفِ خدا تھرا اٹھا۔ عرشِ الٰہی مظلوموں کی آہوں سے ہلنے لگا۔ اللہ رب العزت کی کروڑ رحمتیں ہوں۔ مسلمانوں کے ان مقدس لوگوں پر جنہوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر خاک و خون کا دریا عبور کر کے رحمت عالم ﷺ کی ذات سے اپنی والہانہ محبت وعشق کا ثبوت دیا۔ قبولہ، اوکاڑہ، عارف والا، کمیر، چیچہ وطنی، ہڑپہ، رینالہ خورد غرضیکہ کوئی قصبہ وشہر تحریک میں پیچھے نہیں رہا۔ اپنی اپنی بساط کے مطابق سب نے تحریک میں حصہ ڈالا۔

بہاول نگر

بہاول نگر کی تحریک ختم نبوت میں مجلس عمل کے صدر سید سردار علی شاہ اور مولانا علی احمد صاحب سیکرٹری تھے۔ مولانا محمد شریف وٹو، چوہدری غلام نبی، منظور علی احرار، سید مصدق حسین، مولانا نیاز احمد مہتمم عید گاہ، سید امیر الدین جماعت اسلامی، مولانا حافظ محمد اسحاق خطیب ریلوے مسجد، مولانا حافظ رفیع الدین خطیب جامع مسجد، مولانا محمد یوسف خطیب مسجد فردوس، مولانا عبدالحمید مسجد پراچگان، مولانا فضل احمد مہتمم قاسم العلوم فقیر والی، مولانا سید فیض الحسن تنویر فقیر والی، مولانا سعید احمد ڈونگہ بونگہ، نور محمد عرف مومن، تحریک کے جانباز مجاہد بزرگ راہنما اور ہراول دستہ تھے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء شروع ہوتے ہی پہلا جلوس نکلا۔ ۲۵ آدمی جن میں مولانا عبدالحمید یاسین واچ میکر، شیخ گلزار، شیخ صابر

صفحہ ۴۰۴

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علی بھی شامل تھے۔ کراچی جانے کے لئے ٹرین سے روانہ ہوئے۔ ہزار ہا افراد نے جلوس نکالا۔ شہر کا گشت لگایا گیا۔ پورا شہر قادیانیت کے خلاف اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔ جلوس کے شرکاء ٹرین سے روانہ ہوتے ہی واپس ہوئے۔ ٹرین کو اگلے اسٹیشن گرڈاری والا، روک کر تمام کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ ٹرکوں میں بٹھایا اور انڈیا کے ساتھ ملحقہ بارڈر ایریا میں رات کو چھوڑ دیا گیا۔ دوسرے دن مجلس عمل نے پالیسی تبدیل کر دی۔ چار آدمیوں کو ہار ڈال کر گرفتاری کے لئے کراچی روانہ کرنے کی غرض سے ٹرین پر سوار کرایا جاتا اور ان چار کے علاوہ سادہ کپڑوں میں بغیر اطلاع کے دوسرے چار کا گروپ علیحدہ سوار ہو جاتا۔ جن چار کو پھول ڈال کر روانہ کیا جاتا۔ ان کو تو اگلے اسٹیشن پر حکومت اتار لیتی اور دوسرے چار کا گروپ کراچی پہنچ جاتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر روز عصر کے بعد بازار میں مکمل ہڑتال ہو جاتی اور جلوس نکالا جاتا۔ جو آدمی گرفتار ہوتے۔ وہ حسب سابق بارڈر ایریا پر چھوڑ دیئے جاتے اور وہ دوسرے دن پھر شہر میں آموجود ہوتے۔

کراچی میں لیڈروں کی گرفتاری کے بعد پندرہ دن مسلسل علامتی ہڑتال بھی کی گئی۔ ہر روز نور محمد عرف مومن صاحب، ٹلی لے کر بازار نکلتے۔ اعلان کرتے جاتے۔ دکانیں بند ہوتی جاتیں اور جلوس بنتا جاتا۔ ہر روز جلوس کے ہمراہ ظفر اللہ قادیانی کا پتلا ہوتا۔ دو آدمی جوتیوں سے اس پر ”جھل“ مارتے جاتے (جیسے پنکھا جھلایا جاتا ہے ) تھانہ کے آگے گراؤنڈ میں ظفر اللہ کے پتلے کو آگ لگا دی جاتی اور مغرب کے قریب جلوس ختم ہو جاتا۔ پولیس نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ اس لئے تحریک کے آخر تک مسلسل ہر روز کا یہ معمول جاری رہا اور پرامن تحریک چلتی رہی۔ کوئی تشدد کا واقعہ رونما نہ ہوا۔

قارئین کرام! اس موقعہ پر یہ عرض کرنا بے جا نہ ہو گا کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء پر امن اور آئینی جدوجہد تھی۔ جہاں پر حکومت نے اشتعال انگیزی نہیں کی وہاں پر تحریک پرامن رہی۔ تحریک وہاں پر تشدد کا شکار ہوئی جہاں پر حکومتی بد نیت افراد و ارکان نے تحریک کو کچلنے کے لئے خود ہی تشدد و اشتعال انگیزی کی منچن آباد، ہارون آباد، فورٹ عباس میں بھی تحریک کا زور رہا۔ بعض مقامات پر ایک آدھ بار حکومت کی مہربانی سے لاٹھی چارج و گرفتاریاں ہوئیں۔ ورنہ پورے ضلع میں تحریک کا جوبن رہا اور کہیں پر بھی سوائے اِکّا دُکّا واردات کے کوئی توڑ پھوڑ وتشدد نہیں ہوا۔

ضلع شیخوپورہ

سید محمد امین گیلانی صاحب فرماتے ہیں : پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد جب مجلس احرار اسلام نے سیاست کو ترک کر کے صرف تبلیغ اسلام اور خصوصاً ختم نبوت کی حفاظت اور مرزائیت کے قلع قمع کو اپنا مقصود و منشور بنا لینے کا اعلان کر دیا تو میں نے شیخوپورہ میں بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ قاری محمد امین صاحب خطیب جامع مسجد عید گاہ شیخوپورہ ، ماسٹر عبد الرحمن لدھیانوی مرحوم، نصیر احمد قریشی امرتسری، مولانا محمد احمد خانقاہ ڈوگراں ، مسٹر بشیر احمد چوہان یہ حضرات دور آغاز میں نہایت مخلص اور محنتی معاون و مددگار ثابت ہوئے۔ ہم نے مرکز ملتان سے مولانا محمد لقمان علی پوری کو بلوایا اور ضلع شیخوپورہ میں ختم نبوت کی تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ مولانا کی سعی پیہم اور ولولہ انگیز تقاریر سے تمام ضلع میں مجلس ختم نبوت کی شاخیں قائم ہوگئیں اور ایک اچھی خاصی کھیپ اس مسئلہ میں ہماری ہمنوا اور فعال ہو گئی۔ تا آنکہ مجلس ختم نبوت نے کراچی میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے زعماء، علماء اور صوفیاء کو جمع کر کے مجلس عمل بنا کر حکومت سے ان تین مطالبات کا آغاز کر دیا۔

صفحہ ۴۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نوٹس دیا گیا کہ ایک ماہ تک ان مطالبات کو منظور کر کے آئین کی شکل دے دی جائے۔ ورنہ ایک ماہ کے فوراً بعد راست اقدام کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔

خواجہ ناظم الدین کو اس نوٹس کے پہنچانے کی ذمہ داری ان تین حضرات کے سپرد ہوئی۔ جناب مولانا ابوالحسنات مرحوم، جناب تاج الدین انصاری مرحوم اور سید مظفر علی شمسی مرحوم جب کراچی کانفرنس ختم ہوگئی اور تمام مدعوین واپس چلے گئے تو یہ تینوں حضرات کراچی میں قیام پذیر رہے اور خواجہ صاحب سے رابطہ کر کے ان تک یہ نوٹس پہنچا دیا۔ یہ آخری قافلہ تھا جو اس کام سے فارغ ہو کر لاہور واپس آیا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ دیدہ ور دیکھ رہے تھے کہ امریکہ اور برطانیہ کی مکمل سرپرستی مرزائیت کو حاصل ہے اور پاکستان کی حکومت پر بھی سر ظفر اللہ چھایا ہوا ہے۔ لہٰذا ممکن نہیں کہ حکومت ان مطالبات کو تسلیم کرلے۔

اس لئے معرکہ رستاخیز سے قبل تیاری ضروری ہے۔ اسی سوچ کے پیش نظر میں نے بھی شیخوپورہ میں مسلمانوں کو متحد منظم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ تمام مسلمان مکاتب فکر سے رابطہ پیدا کیا۔ علماء کرام اور ذی اثر شخصیات کو جمع کیا اور ”مجلس عمل“ قائم کر دی۔ غازی سلطان محمود مرحوم پرانے سیاسی کارکن تھے۔ انہوں نے سفید لٹھے کا کفن پہن کر کفن پوشی اختیار کر لی اور تحریک کی کامیابی کے لئے سرگرم رہنے لگے۔ مولانا عبدالحمید صاحب پرانا شہر، مولانا محمد احمد خانقاہ ڈوگراں، شیخ محمد حسین صاحب (جامع مسجد عید گاہ کی انجمن کے ناظم) سید سلیمان شاہ علاولپوری ان سب نے انتھک محنت کی ، فضا دن بدن تحریک کے لئے ساز گار ہوتی گئی۔ بالآخر وہی ہوا جس کی امید تھی۔ حکومت سے ٹکر ہوگئی اور مستانے دمادم مست قلندر کہتے ہوئے میدان میں آگئے۔

جامع مسجد عید گاہ کے آگے دکانیں تھیں۔ ان دکانوں کی چھت پر مستقل اسٹیج بنا دیا اور ایک کیمپ کھول دیا گیا۔ میں نے ایک حلف نامہ مرتب کیا اور چھپوا لیا۔ کیا علمائے کرام کیا عوام دھڑا دھڑ کیمپ میں آتے اور اس حلف نامہ پر دستخط کر کے تحریک میں شامل ہو جاتے۔ روزانہ عصر کی نماز کے بعد مقررین اس چھت پر سے خطاب کرتے اور ہزاروں عوام سڑک پر بیٹھ کر ان کا خطاب سنتے۔ عوام میں ایک جوش اور وارفتگی کا سماں پیدا ہو جاتا۔ پولیس کا چاروں طرف گھیراؤ ہوتا۔ جلسہ کے اختتام پر گرفتاریاں پیش کی جاتیں۔ میں جب تک باہر رہا ایک طرف عوام کو جوش کے ساتھ ہوش کی تلقین کرتا رہا تاکہ توڑ پھوڑ اور پولیس کا تصادم لاٹھی گولی کا کھیل شروع نہ ہو جائے۔ جس کے نتیجہ میں تحریک کسی انجام سے پہلے ہی آغاز میں ناکام ہو جاتی اور ہمارا مقصد اس تحریک کو زیادہ سے زیادہ طول دے کر حکومت کو مطالبات منوانے کے لئے مجبور کرنا تھا۔ دوسری طرف میں پولیس اور سٹی مجسٹریٹ کو ہدایت کرتا رہتا تھا کہ اگر آپ لوگوں نے اس پرامن تحریک کو تشدد سے کچلنے کی کوشش کی تو ہم تمہاری جانوں اور مکانوں کے ذمہ دار نہ ہوں گے۔ پھر جو آگ لگے گی یا جانیں ضائع ہوں گی ان کا بوجھ تمہاری ہی گردنوں پر ہوگا۔ میری یہ پالیسی کامیاب رہی۔ جب تک مجھے گرفتار کر کے جیل میں نہیں ڈال دیا گیا تحریک زوروں پر رہی۔ تمام ضلع بھر میں امن آیا۔ چند دنوں میں سینکڑوں رضا کار جیل چلے گئے اور ہر روز اپنے پیچھے ایک نیا ولولہ ایک نئی امنگ چھوڑتے رہے۔ میں تو وہی حالات واقعات بیان کر سکتا ہوں جو میرے باہر ہوتے ہوئے ظہور پذیر ہوئے۔ جیل جانے کے بعد آنے والوں کی زبانی باہر کی معلومات ملتی رہیں۔ بہرحال میں کچھ چیدہ چیدہ واقعات جو جیل سے پہلے پیش آئے اور کچھ جیل کے اندر پیش آئے تحریر کرتا ہوں۔ میرے بیان کردہ

صفحہ ۴۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

واقعات میں نہ ترتیب ہوگی نہ تسلسل جو بات یاد آتی ہے لکھتا جاتا ہوں۔ بوقت عصر ہر روز مسجد کی چھت سے مقررین تقریریں کرتے عوام سڑک پر سن کر جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے جو مقامی قائد روزانہ تقاریر کرتے تھے۔ ان میں حضرت مولانا محمد حسین ”کالو کے“ سب سے بہتر مقرر تھے۔ عموماً آخر میں یہی تقریر کرتے مولانا عبدالحمید، غازی سلطان محمود، مولانا محمد احمد ڈوگر، سید سلیمان شاہ علاولپوری بھی ہر روز مجمع کو گرماتے۔ (لطیفہ) سید سلیمان شاہ جوان تھے۔ مگر اعصابی مریض تھے۔ جب تقریر کے لئے کھڑے ہوتے تو جوش و جذبات میں ان کی ٹانگیں تھرتھرانے لگتیں اور لکڑی کے اسٹیج پر ٹک ٹک ٹک ٹک کا ساز بجنے لگتا۔ نیچے بازار میں مجمع حیران ہوتا کہ ان کی تقریر کے ساتھ ساز کیوں بجنے لگتا ہے۔ دوسرے تیسرے دن میں نے دو رضا کاروں کی ڈیوٹی لگادی کہ جب یہ تقریر کرنے لگیں تو ان کی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لیا کریں۔ یوں سلیمان شاہ کو پابستہ کر کے تقریر کرائی جاتی۔ ہوشیار پور کا ایک جوان محمد احمد اخبار بیچتا تھا۔ وہ انور حسین ایڈووکیٹ جو مرزائیوں کا سربراہ تھا۔ اسے بھی اخبار دینے جایا کرتا تھا۔ میں نے اسے ایک طریقہ سکھایا۔ اس نے دو چار دن میں اس چال سے ضلع کے تمام مرزائیوں کی فہرست وکیل کی الماری سے نکال لی۔ اب ضلع کے ہر قادیانی سے مجھے آگاہی ہو گئی۔ ان کے کوائف معلوم ہو گئے۔ جس کا بہت فائدہ ہوا۔

مرزائی چونکہ منظم اور مسلح تھے۔ ان کے گھر اور حویلیاں قلعوں کی مانند تھیں۔ فوجی وردیاں بھی تھیں۔ اسلحہ بھی کافی تھا۔ ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح نوجوان مشتعل ہو کر کوئی ایسی حرکت کریں کہ انہیں خون ریزی کا موقع ہاتھ آئے۔ وہ فوجی وردیاں پہن کر بندوقیں تانے ایک بار بردار پرائیویٹ ٹرک پر سوار ہو کر شہر کا گشت لگایا کرتے۔ تاکہ انہیں کوئی کنکر پتھر مارے تو وہ نہتے مسلمانوں پر گولیاں چلائیں۔ مگر میں نے عوام کو اور کارکنوں کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ ان سے کوئی تعرض نہ کریں۔ نہ انہیں خاطر میں لائیں۔ لہٰذا انہیں مشق ستم کا کوئی بہانہ نہ ملا اور ناکام و نامراد رہے۔ الحمد للہ!

ایک مکار بڑھیا

ایک روز میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیمپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ رضا کار ایک چالیس سالہ عورت کو ساتھ لے کر آئے۔ وہ عورت رو رہی تھی۔ بال بکھرے ہوئے۔ کپڑے کچھ مسلے مسلے ہوئے کہنے لگی، تم گیلانی صاحب ہو۔ میں نے کہا جی فرمائیے کیا بات ہے۔ وہ مزید چیخ چیخ کر رونے لگی اور کہا مجھے مرزائیوں نے بہت مارا ہے۔ مجھے ذلیل کیا۔ گالیاں دیں ہیں۔ میں تمہارے پاس فریاد لے کر آئی ہوں۔ میں نے پوچھا! آخر ایسا کیوں ہوا۔ کہنے لگی وہ میرے محلے کے مرزائی تھے۔ میں نے صاف کہہ دیا کہ تم کافر ہو۔ بس انہوں نے پیٹنا شروع کر دیا۔ یہ کہہ کر مزید دہائی دینے لگی۔ میں نے اسے خاموش کرانے کے لئے کہا کہ بی بی ہم ابھی ان کا ایسا علاج کریں گے کہ وہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔ ابھی رضا کاروں کو تمہارے ساتھ بھیجتا ہوں جو ان کا خانہ برباد کر دیں گے۔ جب وہ چپ ہو کر بیٹھ گئی تو میں نے سوچا کہ اگر یہ سچ کہہ رہی ہے تو اس کے یہاں آنے سے پہلے وہاں سے ہلہ گلہ کی خبر پہنچتی۔ لوگ آ کر بتاتے کہ فلاں محلے میں ہنگامہ ہو گیا۔ مگر یہ تن تنہا یہاں آئی۔ رضا کاروں سے میرا پتہ پوچھا اور اب یہ افسانہ سنا رہی ہے۔ ضرور دال میں کچھ کالا کالا ہے۔ حقیقت یہ نہیں اس کے پس منظر میں مرزائیوں کی سازش ہے۔ جذباتی نوجوان تو جوش وخروش میں آ گئے۔ میں نے سب کو ہدایت کی کہ ہمیں تحقیق کرنے دیں۔ اگر واقعہ سچا ہوا تو پھر اس کا علاج بھی کر لیں گے۔

صفحہ ۴۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں نے ساتھیوں سے مشورہ کر کے دو سنجیدہ آدمیوں کو اس کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ بی بی یہ تمہارے ساتھ جائیں گے ۔ جن مرزائیوں نے تمہیں مارا پیٹا ہے ان کے مکانوں اور ان کے ناموں کی نشان دہی کرو تا کہ ہم پولیس کو بھی آگاہ کریں اور خود بھی موقع پر آکر ان کی خبر لیں ۔ ناچار بڑھیا انہیں ساتھ لے گئی اور پرانا شہر کی ایک گلی میں لے جا کر انہیں کہا کہ تم یہاں ٹھہرو ۔ میں ابھی آکر بتاتی ہوں ۔ ان کے نام کیا ہیں اور کہاں رہتے ہیں ۔ ایسی گئی کہ وہ انتظار کر کر کے تھک گئے ۔ پھر اس محلہ کے لوگوں سے پوچھا کہ یہاں کے مرزائیوں نے کسی عورت کو مارا پیٹا ہے ۔ کسی نے بھی اس واقعہ کی تصدیق نہ کی ۔ جب ان دونوں نے واپس آ کر حقیقت حال بتائی تو میں نے رضا کاروں کو سمجھایا کہ تم نے دیکھا ۔ اگر ہم مشتعل ہو کر جلوس لے کر ادھر جا نکلتے اور مرزائیوں کے گھروں کا رخ کرتے تو ان کے لئے جواز پیدا ہو جاتا کہ مسلمانوں نے حملہ کر دیا تھا ۔ لہٰذا ہم نے گولیاں چلا کر اپنا تحفظ کیا ہے ۔ ایسی حماقت سے ممکن ہے ہمارے کچھ جوان شہید اور زخمی ہو جاتے ۔ انتظامیہ نے سوچا کہ رضا کاروں کی گرفتاریوں کا زور توڑنے کے لئے محرکین کو گرفتار کیا جائے ۔ چنانچہ قاری محمد امین صاحب چونکہ اس مسجد کے خطیب تھے جو تحریک کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔ ایک رات پچھلے پہر پولیس انہیں گھر سے گرفتار کر کے لے گئی ۔ جس سے تحریک میں اور جان پڑ گئی ۔

میری گرفتاری کی اطلاع

قاری صاحب کی گرفتاری کے چار پانچ روز بعد میں جلسہ کا انتظام کر کے سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کا چپڑاسی ہانپتا سیڑھیوں میں ملا اور کہا شاہ جی ! ابھی ڈپٹی کمشنر نے آپ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں ۔ آپ آج رات کسی بھی وقت گرفتار ہو جائیں گے ۔ یہ کہہ کر وہ الٹے پاؤں چلا گیا ۔ میں یہ سن کر واپس چھت پر آ گیا اور مولانا عبدالحمید صاحب سے کہا آپ تقریر شروع کریں اور دیگر علماء اور محرکین کو ساتھ لے کر قاری صاحب کے مکان میں آ گیا اور انہیں صورتحال بتائی فوراً آٹھ ساتھیوں کی فہرست مرتب کی جو ایک ایک کر کے تحریک کی قیادت کریں اور گرفتار ہوتے جائیں اور سب ساتھیوں کو یہ بات سمجھا دی کہ اب کسی روز بھی جلسہ میں اکٹھے نہ آئیں ۔ جس کی باری ہو وہ اکیلا آ کر تقریر کرے اور اب آپ میں سے کوئی ساتھی بھی اپنے گھر نہ سوئے ۔ بلکہ ہر رات ٹھکانہ بدل بدل کر سوئے اور یہ پوری کوشش کرے کہ اس کی گرفتاری برسرعام ہو تا کہ تحریک کو بڑھاوا ملتا رہے ۔

روپوشی

علی عباس آٹھویں نویں جماعت کا ایک طالب علم جو شیعہ خاندان کا فرد تھا ۔ آج کل کہیں مجسٹریٹ ہے ۔ وہ میرے پاس روزانہ پڑھنے آتا تھا اور مجھ سے بہت مانوس تھا ۔ میرا احترام بھی بہت کرتا تھا ۔ میں نے اسے دیکھا قریب آنے کا اشارہ کیا ۔ وہ آیا تو میں نے راز داری سے کہا گھر جا کر انتظام کرو ۔ میں رات تمہارے پاس بسر کروں گا ۔ مگر کسی کو پتہ نہ چلے ۔ میں دس منٹ کے بعد پہنچوں گا ۔ دروازہ کھلا رکھنا ۔ امام باڑہ کلاں کے قریب ان کا گھر تھا ۔ میں وہاں پہنچ گیا ۔ اس کی اور اس کے بڑے بھائی منیر شاہ کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ باہر کی صورتحال کی مجھے خبر دیتے رہیں اور معلوم کرتے رہیں کہ پولیس مجھے تلاش کرنے کے لئے کہاں کہاں بھٹک رہی ہے ۔ بہرحال جہاں روپوش تھا کسی کے وہم و گمان میں بھی وہ جگہ نہیں آ سکتی تھی ۔ پولیس رات بھر اپنے خیال کے مطابق میرے کئی ٹھکانوں پر گئی ۔ مگر ناکام رہی ۔ دوسرے دن صبح کے وقت علی عباس نے مجھے بتایا کہ مسٹر جلیل اے ایس آئی پولیس کے دستے کے ساتھ مسجد عید گاہ کے قریب کھڑا مجھے اور تحریک چلانے والوں کو بہت کوس رہا تھا اور اس نے حضرت امیر شریعت کی شان میں بھی گستاخانہ الفاظ کہے ۔ میرے بعد چونکہ مولانا

صفحہ ۴۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبدالحمید صاحب کو تحریک کی قیادت سونپی گئی تھی۔ اس لئے میں نے علی عباس کو ان کے پاس پیغام دے کر بھیجا کہ وہ آج شہر میں منادی کروادیں کہ میں پانچ بجے جلسے سے خطاب کروں گا۔ جب شہر میں منادی ہو رہی تھی، پولیس مزید چوکس ہو گئی۔ جلسہ گاہ کے اردگرد پولیس کا کڑا پہرہ لگا دیا۔ شہر کے تمام ناکوں پر نگران متعین کر دیئے اور ایک دستہ شہر میں گشت کرنے لگا۔ جب یہ اطلاع فراہم ہوئی تو میں سوچنے لگا کہ کس طریقہ سے ان سب کی آنکھوں میں خاک جھونک کر جلسہ گاہ میں پہنچوں۔ آخر میں نے ترکیب سوچ لی اور اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے پونے پانچ بجے تانگہ منگوایا۔ ایک بوتل میں رنگ دار پانی بھرا اپنے اوپر ایک بہت میلی چادر اوڑھی۔ خود تانگے کی اگلی سیٹ پر ہائے ہائے کرتا لیٹ گیا۔ علی عباس کے ہاتھ میں بوتل تھما دی اور کہا کہ بوتل ذرا نمایاں کر کے رکھو ہر کوئی سمجھے کہ یہ مریض ہے اور دوائی لے کر آ رہے ہیں۔ دو اور بچے ساتھ لئے جو مجھے سنبھالنے کی اداکاری کرتے رہے اور ہم قبرستان کی اس سمت پہنچ گئے جدھر قاری محمد امین صاحب کے مکان کا دوسرا دروازہ تھا اور ان کے گھر پیغام بھجوا دیا تھا کہ وہ دروازہ کھلا رکھیں۔ جب تانگہ دروازے کے قریب پہنچا تو ایک سپاہی جو پندرہ بیس قدم دروازے سے دور تھا۔ تانگے کی طرف لپکا اتنے میں میں نے چھلانگ لگائی اور دروازہ پار کر گیا۔ وہاں سے دوسرا دروازہ مسجد میں جا نکلتا تھا۔ مسجد میں پہنچ کر مسجد کی چھت پر جہاں اسٹیج لگا ہوا تھا جا براجمان ہوا۔ ساتھی حیران ہو گئے کہ میں اتنے کڑے پہرے میں کیسے اچانک ٹپک پڑا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد جب طبیعت پرسکون ہوئی تو میں نے مولانا عبدالحمید جو مجھ سے پہلے تقریر کر رہے تھے کہا کہ میری تقریر کا اعلان کر دیں۔ جب انہوں نے یکدم اپنی تقریر ختم کر کے میرے خطاب کا اعلان کیا اور میں اسٹیج پر نمودار ہوا تو عوام کے جوش وخروش اور پولیس کی سراسیمگی کا عالم قابل دید تھا۔ کئی منٹ تک فلک شگاف نعرے لگتے رہے اور میں جلسہ گاہ کا جائزہ لیتا رہا۔ پولیس جلسہ گاہ کو گھیرے ہوئے تھی۔ ایک طرف ہمارے ایس. ایچ. او میر تقی حسین صاحب پولیس کا دستہ لئے ایک جیپ کے پاس تھے۔ ایک دوکان کے تھڑے پر، سٹی مجسٹریٹ اور ڈی. ایس. پی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ جب ذرا جلسہ گاہ میں سکون ہوا تو میں نے تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا۔

ناز ہے تم کو حکومت پر تو ہم بھی کم نہیں
فیصلہ دو ٹوک ہے یا تم نہیں یا ہم نہیں

شعر سن کر پھر ایک دفعہ مجمع میں طوفان جیسے جوش وخروش کا سماں پیدا ہو گیا میں نے میر تقی حسین صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ جناب تھانیدار صاحب مجھے معلوم ہے کہ آپ کی پولیس مجھے رات بھر تلاش کرتی رہی ہے۔ سن لیجئے کہ میں ڈر کے مارے روپوش نہیں تھا بلکہ میرا مقصد یہ تھا کہ گرفتاری سے قبل اپنی قوم کو برسرعام ایک پیغام دے کر جاؤں۔ اب میں حاضر ہوں۔ مگر میری گرفتاری کے لئے باہمی تعاون سے کام چلے گا۔ آپ میری تقریر مکمل ہونے سے پہلے گرفتار کرنے کی کوشش نہ کریں۔ خود بھی میرا پیغام سکون سے سنیں اور عوام کو بھی سننے دیں۔ اگر آپ نے مجھے تقریر سے قبل گرفتار کرنے کی کوشش کی تو میں بھی آپ کے ہاتھ نہیں آؤں گا اور یہ جلسہ گاہ، قتل گاہ بن کر رہ جائے گی۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ مجھے تقریر کرنے دیں۔ میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ عوام کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کریں گے۔ کوئی اینٹ پتھر نہیں چلے گا۔ اس کے بعد میں نے سامعین سے کہا کہ دیکھئے حضرات میں نے آپ کے سامنے کیا وعدہ کیا ہے۔ امید ہے آپ میرے اس وعدے کی لاج رکھیں گے اور کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے کہ اسے میری وعدہ خلافی پر محمول کیا جائے۔ عوام سے وعدہ لیا ہاتھ اٹھوائے۔ پر میری نظر خلیل اے. ایس. آئی پر پڑی تو مجھے یاد آ گیا کہ اس نے کل کچھ واہیات باتیں کی تھیں۔ میں نے اس کو مخاطب کر کے کہا خلیل صاحب میں نے سنا ہے کہ آپ بی. اے ہیں۔ مگر کل جو آپ نے اخلاق کا مظاہرہ کیا اور زبان درازی کی ایسے تو جاہل اور ان پڑھ بھی نہیں کرتے۔ پھر میں نے للکار کر کہا اگر آئندہ کسی بھی پولیس والے نے اس قسم کی کوئی بات کی

صفحہ ۴۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور اس کے ردعمل میں کسی دیوانے نے اس کی زبان کاٹ دی یا پیٹ چاک کر دیا تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔ ڈی۔ایس۔پی نے اسے اسی وقت بلا کر وہاں سے رخصت کر دیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ایس۔ پی نے اس کا تبادلہ کر کے کہیں اور بھیج دیا۔

عوام سے میں نے بیس منٹ خطاب کیا۔ خلاصہ یہ تھا کہ منزل مقصود کو سامنے رکھیں۔ کسی بھی صورت میں لاقانونیت سے پرہیز کریں۔ تحریک کو اس وقت تک طول دیں، جب تک ہمارے مطالبات منظور نہ ہو جائیں۔ ماں باپ اپنے بیٹوں کو، بہنیں اپنے بھائیوں کو، بیویاں اپنے خاوندوں کو آنحضور ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اور پاکستان کو مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچانے کے لئے مسلسل جوش وخروش کے ساتھ جیلوں میں بھیجتی رہیں۔

گرفتاری

میں نے سامعین سے کہا کہ سڑک پار کرنے کے لئے مجھے رستہ بنادیں اور کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھے۔ جلسہ جاری رہے گا۔ میں اتر کر سڑک پر آیا تو انسپکٹر میرتقی حسین نے بڑھ کر میرا دوستانہ استقبال کیا اور مجھے اپنے ساتھ جیپ کے اگلے حصہ میں بٹھا لیا۔ یوں ہزاروں لوگوں نے مجھے پرجوش نعروں، آہوں، سسکیوں، آنسوؤں اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ سوائے دس بیس جوشیلے نوجوانوں کے وہ نعرے لگاتے اپنی ہمت کے مطابق کافی دور تک جیپ کے ساتھ بھاگتے رہے۔ راستے میں میر صاحب نے مجھ سے کہا گیلانی صاحب عوام کے دل آپ کی مٹھی میں تھے۔ وہ آپ سے بے حد محبت کرتے ہیں اور احترام بھی اور آپ نے جس طرح اب تک تحریک کو پرامن نظم ونسق کے ساتھ چلایا اور لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہونے دیا۔

سٹی انچارج ہونے کی حیثیت سے میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ مگر آپ کے بعد شاید یہ نظم وضبط کا انداز قائم نہ رہ سکے۔ آپ میری طرف سے یقین رکھیں کہ میں حتی الوسع کسی بھی تشدد سے گریز کروں گا۔ پھر اپنی پیٹی کو ہاتھ لگا کر کہا ہم دنیا کے کتے ہیں اور یہ ہمارا پٹہ ہے۔ آپ کا عقیدہ اور مطالبہ بالکل صحیح ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔ مگر افسوس کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا کہ آپ حضرات کا دل سے احترام کروں اور خود جارحیت سے بچتا رہوں۔ پھر اس نے گلو گیر آواز میں کہا۔ مجھے خوب معلوم ہے کہ آپ ایک غریب اور سفید پوش آدمی ہیں۔ مگر آپ کے پاس ایمان ویقین جیسی بہت بڑی دولت ہے۔ آپ مجھے اپنا بھائی سمجھیں اور مجھے اجازت دیں کہ جب تک آپ جیل میں رہیں۔ آپ کے اہل خانہ کی خدمت کرتا رہوں۔ یہ میرا اور آپ کا معاملہ ہوگا۔ صرف خدا کی ذات کے سوا کوئی اور نہ جان سکے گا۔ مجھے اس کی اس پیش کش میں سو فیصد صداقت اور خلوص نظر آیا۔ مگر میں نے شکریہ کے ساتھ منع کر دیا اور خدا پر ہی بھروسہ رکھنے کو بہتر قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود مجھے جیل میں معلوم ہوا کہ وہ مجھے جیل پہنچانے کے بعد سیدھا ہمارے گھر گیا اور انہیں بھی اسی خلوص سے پیش کش کی مگر میری والدہ محترمہ اور اہلیہ نے میری ہی طرح شکریہ کے ساتھ کسی قسم کی امداد لینے سے انکار کر دیا۔ (الحمد للہ ) میرتقی حسین نے مجھے بڑے احترام سے جیل حکام کے سپرد کیا۔ میری جامہ تلاشی بھی نہیں کرنے دی۔ وہ سلام دعا کے بعد رخصت ہوا۔ اس کے بعد میرا باہر کی دنیا سے یکسر رشتہ کٹ گیا۔

جیل

جیل میں مجھے اس بارک میں بھیجا گیا جہاں قاری محمد امین صاحب تھے۔ وہ مجھے دیکھتے ہی لپک کر بغل گیر ہوئے اور کہا مجھے یقین تھا کہ آپ آج میرے پاس پہنچ جائیں گے۔ رات میں نے خواب میں حضرت امیر شریعت کے والد صاحب کو دیکھا۔ ان کے ہاتھ میں چند

صفحہ ۴۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہرے رومال ہیں اور فرما رہے ہیں جو شخص یہ رومال لے گا۔ جنت میں جائے گا تو میں نے بڑھ کر ایک رومال حاصل کر لیا۔ پھر کیا دیکھا کہ آپ اچانک آگئے اور آپ نے بھی وہ رومال ان سے لے لیا۔ آنکھ کھلی تو یہی خیال کیا کہ آپ بہت جلد آئیں گے۔ سو آپ آگئے ۔ اب روزانہ رضا کاروں کے علاوہ میرے مقرر کردہ مقامی تحریک کے قائد ایک ایک دو دو روز کے بعد جیل میں پہنچنے لگے ۔ ان سے باہر کے حالات معلوم ہو جاتے ۔ کچھ دنوں کے بعد روزانہ گروپ کی صورت میں لوگ آنے لگے تو معلوم ہوا کہ لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے اور گولیوں سے روزانہ سینکڑوں مسلمان شہید کئے جارہے ہیں۔ گورنمنٹ نے تحریک کچل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ لہذا شیخوپورہ شہر اور مضافات میں جو بے چارہ داڑھی والا نظر آتا ۔ اسے گرفتار کر کے جیل بھیجنے لگے ۔ جلسے جلوسوں پر سخت پابندی لگ گئی۔ کارکنوں پر تشدد ہونے لگا۔ عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس پھینکی جاتی جو ہاتھ آتا گرفتار کر لیتے ۔ میرے دوست نصیر احمد قریشی میرے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتے تھے اکٹھے رہنے کے جرم میں گرفتار کر کے جیل میں میرے پاس بھیج دیا ۔ کارکنوں اور مولوی حضرات کو رات کے وقت گھروں پر چھاپے مار کر پکڑ لیا جاتا ۔ کارکنوں پر بید زنی کی مشق ہونے لگی ۔ لاٹھی چارج سے نوجوانوں کو زخمی کر دیا جاتا ۔ پھر پکڑ کر جیل میں ٹھونس دیا جاتا ۔ بہت سے نوجوان زخمی حالت میں جیل آئے۔ ننکانہ کا ایک جوان دیکھا بید زنی سے اس کے چوتڑوں کی کھال ادھڑ چکی تھی اور اب شیخوپورہ جیل قیدیوں کی کثرت کے باعث مرغیوں کا ڈربہ بن چکی تھی ۔ ایک دن اعلان ہوا کہ تحریک ختم نبوت کے تمام قیدی فلاں نمبر احاطہ میں جمع ہو جائیں ۔ تمام بارکوں سے جیل کے سپاہی قیدیوں کو اس احاطہ میں لے گئے ۔ وہاں ایک میز اور کچھ کرسیاں رکھی تھیں ۔ ظاہر ہو رہا تھا کوئی قیدیوں سے خطاب کرے گا۔ جب سب قیدی جمع ہو گئے تو جیل کے آفیسرز مع ایک اجنبی شخص کے جو کوٹ پتلون میں ملبوس تھا اور افسرانہ شان نمایاں تھی ۔ پہنچ کر کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ پھر سپرنٹنڈنٹ جیل نے اٹھ کر اعلان کیا ۔ آپ کے سامنے صوبہ پنجاب کے (...... نام اور عہدہ یاد نہیں رہا) خطاب کریں گے ۔ تمام قیدی بیٹھے ہوئے تھے۔ صرف میں اور قاری محمد امین صاحب اور نصیر احمد قریشی تینوں مجمع کے ایک کنارے درخت کے نیچے کھڑے رہے۔ ان صاحب نے تقریر شروع کی ۔ اسیروں سے بڑی ہمدردی جتائی ۔ گورنمنٹ کے عتاب سے ڈرایا بھی اور بانیان تحریک پر الزام لگایا کہ یہ لوگ ملک دشمن غدار ہیں۔ بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ ان کا نمک کھاتے ہیں اور پرجوش آواز میں کہا آج تمہیں بے گناہ ورغلا کر جیلوں میں پھنسا کر وہ مولوی لیڈر خود کہاں ہیں ۔ اس نے اتنا کہا ہی تھا کہ میں بے ساختہ پکارا تھا وہ بھی گھروں میں بیویوں کے پاس نہیں ہیں ۔ ہماری طرح جیلوں ہی میں ہیں ۔ افسران نے تعجب سے میری طرف دیکھا۔ مگر خاموش رہے ۔ آخر میں اس نے کہا کہ میری دلی خواہش ہے کہ آپ لوگ امن و سلامتی سے اپنے اپنے گھروں کو جائیں ۔ اپنے اہل وعیال میں خوش وخرم زندگی بسر کریں ۔ اس لئے یہ فارم موجود ہیں جو ان پر دستخط کر دے گا ۔ باعزت بری کر دیا جائے گا۔ میں نے پھر با آواز بلند کہا جو شخص بھی ان فارموں پر دستخط کرے گا ۔ بے ایمان اور بزدل ہوگا۔ یہ کہہ کر ہم تینوں چل پڑے ۔ کسی آفیسر نے تعرض نہیں کیا ۔ میری بات کو پی گئے ۔

ملاقات

ایک دن جیل کا سپاہی آیا اور مجھ سے کہا آپ کو دفتر میں سپرنٹنڈنٹ صاحب بلا رہے ہیں ۔ میں دفتر پہنچا تو دیکھا والدہ صاحبہ مع میری اہلیہ اور بیٹے سلمان گیلانی کے جس کی عمر اس وقت سوا ڈیڑھ سال کی تھی ، بیٹھے ہوئے ہیں ۔ والدہ محترمہ مجھے دیکھتے ہی اٹھیں اور سینے سے لگا لیا۔ ماتھے چومنے لگیں ۔ حال احوال پوچھا۔ ان کی آواز گلوگیر تھی ۔ سپرنٹنڈنٹ نے محسوس کر لیا کہ وہ رو رہی ہیں ۔ میرا بھی جی بھر آیا ۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ۔ یہ دیکھ کر سپرنٹنڈنٹ نے کہا: اماں جی ! آپ رو رہی ہیں ۔ بیٹے سے کہیں ایک فارم بڑھاتے ہوئے اس پر

صفحہ ۴۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دستخط کر دے تو آپ اسے ساتھ لے جائیں ۔ ابھی معافی ہو جائے گی۔ میں ابھی خود کو سنبھال رہا تھا کہ اس کو جواب دے سکوں ۔ والدہ صاحبہ تڑپ کر بولیں ۔ کیسے دستخط ، کہاں کی معافی، میں ایسے دس بیٹے حضور ﷺ کی عزت پر قربان کر دوں ۔ میرا رونا تو شفقت مادری ہے۔ یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ شرمندہ ہو گیا اور میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا۔

شہادت ملتے ملتے رہ گئی

ڈیڑھ مہینہ شیخوپورہ جیل میں رہے ۔ پھر کوئی پچاس ساٹھ قیدیوں کو جن میں قاری محمد امین صاحب اور میں بھی تھا۔ جوڑے جوڑے کو ایک ایک ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال کر قیدیوں کی لاریوں میں بٹھا کر لاہور جیل کو روانہ کر دیا ۔ جب ہم لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے ختم نبوت کے نعرے لگانے پر ہماری لاری روک لی ۔ ملٹری آفیسر نے میرے سینے میں بندوق کی نالی رکھ کر طنزاً کہا اب لگاؤ نعرہ ۔ میں نے بے دھڑک نعرہ بلند کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے گولی چلانے کی قوت سلب کر لی اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں اور تھانیدار جو ہمارے ساتھ تھا اس سے کہا خدا کے لئے ان سے کہو نعرے نہ لگائیں۔ ایک ماہ ہم لاہور جیل میں رہے۔ پھر ہمیں میانوالی جیل میں منتقل کر دیا ۔ وہاں سے ایک ماہ کے بعد رہائی ملی۔ اس دوران کوئی اہم واقعہ نہیں ہوا کہ ذکر کروں ۔ آپ کو یاد ہے جب میں جیل جانے لگا تھا تو یہ شعر پڑھا تھا۔

ناز ہے تم کو حکومت پر ہم بھی کم نہیں
فیصلہ دو ٹوک ہے یا تم نہیں یا ہم نہیں

جب جیل سے باہر آئے تو ناظم الدین کی حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا اور میں نے ایک جلسہ عام میں یہ کہا۔

ہم بھی وہی جذبہ وہی ایماں بھی وہی ہے
پرچم ہے وہی دوش پہ میداں بھی وہی ہے
مستانے اس دھن میں ابھی نعرہ کناں ہیں
کھیلے تھے لہو سے جو ہمارے وہ کہاں ہیں

نکانہ صاحب

قدیر شہزاد فرماتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کے اوائل میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان نے گورنمنٹ کے مطالبات سے مسلسل چشم پوشی کے بعد اعلان کیا کہ اگر ۲۲؍ فروری تک مجلس کے مطالبات کو منظور نہ کیا گیا تو مجلس عمل احتجاجی تحریک کا آغاز کر دے گی ۔ حکومت نے مجلس کے اس انتباہ پر بھی کوئی خاص غور نہ کیا تو مارچ کے مہینے میں پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ننکانہ صاحب میں رہنے والے عاشقان مصطفیٰ ﷺ نے بھی سرکار دوعالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا ۔ ہر روز جلوس نکلتے جس میں شہر ننکانہ میں بسنے والے ہزاروں مسلمانوں کے علاوہ شہر کے نواحی دیہات سے بھی مجاہدین ختم نبوت جوش وخروش سے شرکت کرتے۔ مسجد اقصیٰ پرانا ننکانہ سے شروع ہونے والے جلوس ریلوے روڈ اور پھر گورو بازار سے ہوتے ہوئے چوک دواخانہ آب خضر پر جاکر ختم ہوتے ۔ دورانِ جلوس ہزار ہا مسلمانان ننکانہ کی حضور ﷺ سے گہری عقیدت و محبت اور قادیانیوں سے

صفحہ ۴۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نفرت ان کے جوش و جذبہ اور نعروں سے صاف ظاہر ہوتی ۔ ہر روز یہ جلوس ریلوے روڈ سے گزرتا ہوا ریلوے اسٹیشن پر بھی پہنچتا۔ جہاں کئی مجاہدین ختم نبوت فرط جذبات سے ریل گاڑی کے آگے لیٹ جاتے اور اس طرح گاڑی کو کئی گھنٹے لیٹ کر کے اہل اقتدار کو اپنے جذبات سے آگاہ کرتے ۔ دوسری طرف حکومت نے ملک کے کروڑوں مسلمانوں کی آواز کو بلا سوچے سمجھے قوت سے دبانے کی کوشش کی۔ جلوس پر پولیس کا لاٹھی چارج اور تشدد روز کا معمول بن گیا ۔ ہر روز ننکانہ صاحب سے بارہ افراد کا گروپ ریل کے ذریعے جامع مسجد عید گاہ شیخوپورہ کے لئے روانہ ہوتا ۔ جہاں سے یہ مجاہدین مسجد وزیر خاں لاہور پہنچتے اور مجلس عمل کے مرکزی قائدین کے ہمراہ پولیس کو گرفتاریاں پیش کرتے۔ ننکانہ صاحب سے نکلنے والے جلوس میں شامل شرکاء ان مجاہدین کو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ ٹرین کے ذریعے شیخوپورہ روانہ کرتے۔ تحریک کے دوران ننکانہ صاحب میں سب سے بڑا جلوس اپریل کے مہینے میں نکالا گیا۔ یہ جمعرات کا دن تھا۔ شہر بھر کے علماء کرام جامع مسجد اونچی غلہ منڈی میں نماز عشاء کے بعد جمع تھے ۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ اگلے روز جمعۃ المبارک کی نماز مجلس عمل کے رہنما حکیم شیخ محمد امین جامع مسجد اہل حدیث میں پڑھائیں گے اور جمعہ کی نماز کے بعد ایک زبردست اجتماعی جلوس نکالا جائے گا۔ شہر بھر میں اعلان ہوا اور اگلے روز مسلمانان ننکانہ کا ایک جم غفیر جامع مسجد اہل حدیث میں موجود تھا۔ مسجد کے گردونواح کی گلیاں اور سڑکیں عاشقان رسول ﷺ سے بھری پڑی تھیں ۔ دوسری طرف سیاہ وردیوں میں ملبوس پولیس کے ہزاروں نوجوانوں نے مسجد اور گردونواح کی سڑکوں کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ نماز جمعہ کے بعد جلوس گورو بازار کی طرف چلا تو پولیس نے جلوس کا راستہ روکا۔ مجاہدین ختم نبوت کی مزاحمت پر پولیس نے بھر پور لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی ۔ پولیس کا یہ بدترین تشدد اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر کے مختلف نامعلوم مقامات پر نہ پہنچا دیا گیا ۔ دوران تشدد بے شمار مسلمان شدید زخمی بھی ہوئے ۔ اسی جلوس میں گرفتار ہونے والے مجاہدین کا ایک گروپ جو حکیم شیخ محمد امین مرحوم ، بابا عبدالستار ، شیخ نور احمد ، مولوی ہدایت اللہ ، قاری تجمل حسین ، محمد رمضان ، مولوی سلطان احمد مرحوم ، میاں علم دین ، شیخ مولا بخش بٹ مرحوم ، فردوس احمد ، ذوالفقار علی عرف منا پہلوان ، شیخ ظہور حلوائی ، مولوی تاج دین ، مولوی عبداللہ اور حکیم محمد حنیف پر مشتمل تھا۔ تھانہ ننکانہ صاحب لے جایا گیا ۔ سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے تھانیدار نے مولوی سلطان احمد مرحوم سے کہا: کیا کہتے ہو؟ جواب ملا قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان ، خواجہ ناظم الدین اور ممتاز دولتانہ کو برطرف کرو۔ ”حکومت کس نے کرنی ہے؟“ پیچھے کھڑے ہوئے ایک سپاہی نے مولوی سلطان مرحوم کی پشت پر رائفل کا بٹ مارتے ہوئے جملہ کسا۔ اسی اثناء میں تھانیدار، مجاہد ختم نبوت بابا عبدالستار جو تحریک ختم نبوت کے جلسوں اور جلوسوں میں زور دار نعروں کی وجہ سے شہر بھر میں خاصی مقبولیت حاصل کر چکے تھے، کے پاس پہنچ چکا تھا۔ نعرے لگاتے ہو؟ تھانیدار نے پوچھا: ہاں! نعرے لگاتا ہوں اور جب تک جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی موجود ہے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہوں گا۔ بابا عبدالستار نے فوراً جواب دیا۔ تھانیدار نے اطراف میں کھڑے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔ ایک لمبے تڑنگے سپاہی نے آگے بڑھ کر بابا عبدالستار کو نیچے لٹایا اور دیگر سپاہیوں نے مارنا پیٹنا شروع کر دیا ۔ پھر کیا تھا اوپر سے چند لمبے تڑنگے سپاہی عبدالستار پر بدترین تشدد میں مصروف تھے۔ جب کہ نیچے ظلم و جبر کی چکی میں پسنے کے باوجود بابا عبدالستار تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے حضور ﷺ سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ چند منٹ تک یہ تشدد جاری رہا۔ بالآخر پولیس کو شکست تسلیم کرنا پڑی۔ بدترین تشدد بھی بابا عبدالستار کو ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے سے نہ روک سکا اور آزمائش کی یہ گھڑی بابا عبدالستار بڑی کامیابی کے ساتھ طے کر گئے ۔ مقامی مجلس کے راہنماء اور سینکڑوں کارکنان گرفتار ہوئے ۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ آج بھی ان میں سے کئی

صفحہ ۴۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بزرگ زندہ ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کو سلامت باکرامت رکھے۔ آمین!

قصور

مولانا سید محمد طیب ہمدانی فرماتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء آ گیا۔ تحریک میں گرما گرمی شروع ہو گئی۔ اہالیان قصور نے مجھے تحریک ختم نبوت کا جنرل سیکرٹری بنایا۔ مجلس عمل کے لئے کوشش کی گئی کہ جو بھی حضرات عمل کے خواہاں ہوں اور اسی وجہ سے مجلس عمل میں شامل ہوسکیں ۔ انہیں شامل کیا جائے ۔ افسوس کہ اس میں صرف مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری کو ہم بطور جنرل سیکرٹری راغب کر سکے جو کہ عین موقع پر بھاگ نکلے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی انتہائی ذلت آمیز سزا دی کہ وہ ۹/ماہ تک قتل کیس میں حوالات میں ذلیل ہوتے رہے ۔ ۱۰/دسمبر ۱۹۵۲ء کے لئے حضرات امیر شریعت کو دعوت دی گئی۔ آپ نے چار گھنٹہ سے زیادہ خطاب فرمایا جس سے تحریک میں تروتازگی آ گئی۔ مارچ ۱۹۵۳ء میں جلسے جلوس پرامن طور پر ہوتے رہے۔ اتفاقاً مجھے بہاول پور جانا ہوا تو مسلم لیگی غنڈوں نے ایک جلوس نکالا۔ جس کا مقصد پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنا تھا۔ لیکن وہ اس سازش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اسی جلوس میں گدھے پر کتے کو باندھ کر مرزا قرار دے کر جوتے برسائے گئے ۔ منیر انکوائری رپورٹ میں اسی غنڈے اور جلوس کا تذکرہ ہے جس کا مجلس سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ عقل کے اندھوں کو انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر بھی پرامن تحریک اور اس کی شائستگی نظر نہیں آئی۔ مارچ ۱۹۵۳ء میں جو تحریک شروع ہوئی تو اکیس افراد کو نظر بند کر دیا گیا۔ جن میں فیل احرار چوہدری محمد عاشق مرحوم، مولوی فضل محمد جالندھری، مولوی محمد اکبر کباب والے، چوہدری محمد شفیع اور راقم الحروف وغیرہ حضرات شامل تھے۔

چند روز قصور ڈسٹرکٹ جیل میں رکھنے کے بعد لاہور سنٹرل جیل منتقل ہو گئے۔ اس اثناء میں تین سو سے زائد گرفتاریاں ہوئیں جنہیں فساد کا ملزم قرار دیا گیا ۔ لاہور سنٹرل جیل میں جہاں نوجوان رضا کار تھے وہاں مولانا نصیر الدین غورغشتی جیسے سن رسیدہ بزرگ بھی تھے اور روزانہ عجب روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے ۔ لاہور میں مارشل لاء کے باعث جن کی پکڑ دھکڑ ہوتی ان میں نوخیز بچے جو ابھی عنفوان شباب کی حدوں کو بھی چھو نہیں رہے تھے اور کچھ ایسے جو ابھی سبزہ آغاز تھے لائے جاتے اور ان پر کوڑے برسائے جاتے۔ لیکن ہر ضرب پر ختم نبوت زندہ باد کے نعرے سنائی دیتے۔ تا آنکہ مظالم سے بالآخر بیہوش ہو کر ان کی آوازیں بند کر دی جاتیں۔ چند روز کے بعد قصور والوں کو اس شبہ پر کہ جیل کی اصطلاح میں یہ شاید قصوری ہیں بورسٹل جیل کیمپ کی قید تنہائی میں ڈال دیا گیا اور نظر بندوں کی خوراک اور آسائش ایک دم منسوخ کر دی گئی۔ نماز باجماعت سے محرومی ہو گئی۔ نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لئے خیال تھا کہ اذان دے دی جائے کہ مسٹر ٹور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل آ دھمکا اور کہا کہ مولو یو شور مت مچانا۔ ہم نے کہا شور مچانے کا یہاں مقصد ہی کوئی نہیں تو اس نے کہا کہ میرا مقصد ہے کہ اذان نہ دینا۔ ہمیں اس پر بہت غصہ آیا۔ ہم حیران تھے کہ یہ شخص مسلمان ہو کر اذان کو شور کہتا ہے ۔ اسے تو برا بھلا کہا ہی لیکن یہ سوچ لیا کہ اب ہم پر اذان کہنا واجب ہو گیا ہے۔ اس لئے شام کی اذان کے لئے ہم اکیس نظر بندوں نے بیک وقت اذان کہنی شروع کر دی۔ باقی جیل والوں نے بھی ساتھ دیا تو جیل والوں کے لئے یہ ایک بم بن گیا۔ سپرنٹنڈنٹ کوئی شیخ صاحب تھے۔ بھاگے بھاگے آئے ۔ پوچھا تو ہم نے سارا واقعہ سنایا۔ جس پر اس نے بتلایا کہ وہ آئی جی جیل خانہ جات مرزائی کا ٹاؤٹ ہے اور ہم سے اس شرط پر مصالحت ہوئی کہ ہر بارک میں ایک آدمی اذان دے سکتا ہے۔ بورسٹل جیل کے کمرے شور زدہ تھے ۔ چھتوں پر بھڑوں کے چھتے اور کمرے میں درجنوں

صفحہ ۴۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کنکھجورے بھاگے پھرتے تھے۔ لیکن الحمدللہ! ختم نبوت کی برکت سے کسی کو کوئی نقصان ان سے نہیں پہنچا۔ ہفتہ بھر قید تنہائی میں رکھا گیا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا جو گزر ہوا تو میں نے شکایت کی۔ سخت کلامی ہوگئی۔ اس نے مجھے باہر نکال کر سزا دینے کا ارادہ کیا۔ تالا جو کھولا گیا تو اس کے راڈ کا تعلق سب دروازوں سے تھا۔ سب ساتھی فوراً باہر نکل آئے۔ ڈپٹی صاحب نعرہ ختم نبوت سنتے ہی نمبرداروں سمیت دم دبا کر بھاگ گئے۔ جیل کا الارم ہو گیا۔ وہ پولیس جس نے مسلمانوں پر گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا وہ بھی جیل میں ٹینٹوں کے اندر آرام کر رہی تھی۔ انہوں نے ہمیں گھیرے میں لے لیا۔ سپرنٹنڈنٹ نے مصالحت کی طرح ڈالی۔ کھانے کی اصلاح ہوئی۔ کمروں کی بندش ختم ہوئی۔ جس کا سب جیل والوں کو فائدہ ہوا۔ تاہم ہمارے قصوری ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی۔ جس کی بناء پر قصور والوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے میانوالی اور کیمبل پور بھیجا گیا۔ راقم الحروف کیمبل پور والے گروپ میں تھا۔ چونکہ تحریک کو مارشل لاء کی گولیوں سے دبا دیا گیا تھا۔ وقتی طور پر فضا پرسکون ہوگئی تو تین ماہ کی نظر بندی کے اختتام پر رضا کاروں کی رہائی شروع ہو گئی۔ تاہم جو سرکار کی نگاہ میں زیادہ خطرناک تھے۔ انہیں مزید مہمان رکھا گیا۔ کیمبل پور جیل میں ان کی مختصر فہرست تھی۔ آخر میں مولانا حافظ عبدالمجید مرحوم فیصل آبادی اور مولانا تاج محمود مرحوم، مولوی فضل محمد مرحوم اور راقم الحروف بھی شاہی احاطہ کے مہمان تھے۔ جن کی رہائی ۹؍ ماہ کی نظر بندی ختم ہونے پر ہوئی۔ جیل کی زندگی بھی عجیب ہے۔ بعض کا کہنا ہے دنیا میں دوزخ جیل ہے۔ لیکن در حقیقت الدنیا سجن المؤمن، الحمدللہ! ساتھیوں کو جیل سے زیادہ پر امن جگہ کوئی محسوس نہیں ہوئی۔ انہی کے لئے شاید غالب نے کہا ہے ؎

نہ تیر کمان میں ہے نہ صیاد کمیں میں گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

اب جب کہ شباب شیب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ختم نبوت کے لئے جیل کی زندگی کے بابرکت شب و روز بھلائے نہیں بھول رہے۔ صبح وشام ذکر وفکر کی مجالس۔ گئی رات تک کتب احادیث کا مطالعہ، حافظ عبدالمجید مرحوم جیسے فاضل سے علمی مباحث اور مولانا تاج محمود جیسے خوش طبع سے مجلسیں بھلا کیسے بھلائی جاسکتی ہیں۔ کاش کہ شب وروز پھر لوٹ آئیں۔ لیکن لیت الشباب یعود والی بات ہی درست ہے۔

چونیاں

حاجی میاں محمد محبوب الٰہی فرماتے ہیں: ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو میاں محمد نور الٰہی انجینئر میونسپل چیئر مین جامع مسجد ٹرسٹ نے مسجد حنفیہ رضویہ میں معززین شہر کا ایک مشترکہ جلسہ طلب کیا جس میں مقامی رہنماؤں نے عوام سے خطاب کیا اور تحریک کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ جس میں عوام نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پیشتر ازیں یہی مسجد تحریک پاکستان کے سلسلہ میں مرکز رہ چکی تھی۔ ۴؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو لاہور میں مجاہدین ختم نبوت اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوگئی جس سے معاملہ سنگین ہو گیا۔ پولیس نے ملٹری کی مدد بھی حاصل کی۔ اگلے دن یعنی ۵؍ مارچ کو لاہور میں بے شمار مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ ایسی خبروں نے عوام الناس کے جذبات کو مزید بھڑکا دیا۔ ۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو مسجد مذکورہ میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں شہر کے اکابرین نے شرکت کی اور مستقل لائحہ عمل طے کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے راست اقدام کمیٹی برائے تحریک ختم نبوت کا انتخاب کیا گیا۔ جس میں متفقہ طور پر صدر ڈاکٹر محمد شفیع، نائب صدر ڈاکٹر سید خالد حسین، حبیب اللہ صراف، جنرل سیکرٹری چوہدری عبدالرحیم ایڈووکیٹ، نائب سیکرٹری محمد محبوب الٰہی انجینئر، پراپیگنڈا سیکرٹری مولوی محمد دین اور خزانچی ڈاکٹر امام دین مقرر ہوئے۔ اسی دن لاہور میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا جس کے ایڈمنسٹریٹر جنرل اعظم خان تھے۔

صفحہ 415

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۷؍ مارچ کو لاہور میں حالات، بدتر صورت اختیار کر گئے۔ ملٹری نے انتہائی صفائی کے ساتھ تحریک کو کچلنے کے لئے تمام حربے استعمال کئے۔ متعدد افراد ان کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ڈاک تار اور مواصلات کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ چونیاں سے روزانہ ۵؍ افراد پر مشتمل ایک گروپ ڈائریکٹ ایکشن میں شامل ہونے کے لئے لاہور جائے گا۔

۱۰؍ مارچ کو جو دستے چونیاں سے لاہور گئے ان میں بابو نذیر احمد انجینئر، ڈاکٹر سید خالد حسن، مولوی محمد دین، ڈاکٹر امام الدین، محمد صابر وغیرہ شامل تھے۔

اگر چہ یہ لوگ لاہور پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن پرانے شہر کی طرف جانے سے روک دیا گیا۔ پولیس اور فوج نے ان کو واپس جانے کا حکم دیا۔ یہ لوگ رات بیڈن روڈ پر بابا محمد حیات اور محمد احسان اللہ کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور اگلے دن چونیاں واپس آ گئے۔ دوسرے دن ہی تحریک سے وابستہ بیس افراد کے لائسنس اسلحہ منسوخ کر دیئے گئے۔ اس کے بعد لاہور سے آمدہ ہدایات کے مطابق روزانہ مسجد میں جلسہ ہوتا اور اس کے بعد مسجد سے کچہری دفاتر تک جلوس کی شکل میں مظاہرہ ہوتا۔ پولیس روزانہ آٹھ دس افراد کو گرفتار کر لیتی اور شہر سے دور کسی غیر معروف مقام یا دس پندرہ میل کے فاصلہ پر ان کو چھوڑ دیا جاتا۔ یہ لوگ کبھی پیدل کبھی تانگوں پر واپس چونیاں آ جاتے۔ یہ سلسلہ تحریک کے اختتام تک جاری رہا اور لاہور سے آمدہ احکام و ہدایات پر عملدرآمد ہوتا رہا۔

اندرون سندھ

تحریک ختم نبوت شروع ہونے سے قبل مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری پنوعاقل تشریف لائے۔ مولانا جمال الدین الحسینی مبلغ ختم نبوت سندھ راوی ہیں کہ مولانا نذیر حسین صاحب مرحوم، حضرت جالندھری مرحوم کو سائیکل پر بٹھا کر ہالیجی شریف جو سندھ کی بہت بڑی معروف خانقاہ ہے، وہاں پر تشریف لے گئے۔ حضرت جالندھری نے اعلیٰ حضرت مولانا حماد اللہ صاحب ہالیجویؒ سے ملاقات کی اور ان سے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی اندرون سندھ سرپرستی کرنے کی درخواست کی۔ حضرت ہالیجویؒ کا صوبہ سندھ میں اتنا اثر و رسوخ تھا کہ ان کے معمولی اشارے و مرضی پر ہزاروں خدام و متوسلین، مریدین و متعلقین تحریک میں گرفتاری کے لئے آمادہ ہو سکتے تھے۔ اندرون سندھ کی تمام مساجد و مدارس کے علماء کرام و فضلاء آپ سے بیعت تھے۔ چنانچہ حضرت جالندھری کی تجویز پر تحریک شروع ہوتے ہی حضرت ہالیجویؒ، ہالیجی شریف سے سکھر کی جامع مسجد مفتی عبدالحکیم صاحب میں تشریف لائے۔ آپ کے سکھر تشریف لانے پر صوبہ سندھ کے علماء و مشائخ کی میٹنگ شروع ہوئی۔ تھر پارکر، نواب شاہ، میر پور، خیر پور، شکار پور، لاڑکانہ، سانگھڑ، حیدر آباد، سکھر، جیکب آباد، ٹھٹھہ، سجاول غرضیکہ پورے اندرون سندھ کے علماء اس میٹنگ میں شامل ہوئے اور پھر متفقہ طور پر فیصلہ کے مطابق تحریک میں کام کے لئے کوشاں ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے صوبہ سندھ میں صبح و شام جلسے، جلوس، گرفتاریوں کا سلسلہ چل نکلا۔ حضرت ہالیجویؒ کی تجویز پر سندھ کی معروف گدی امروٹ شریف کے سجادہ نشین مولانا محمد شاہ امروٹی مرحوم نے اندرون سندھ کا شب و روز طوفانی دورہ کیا۔ حضرت امروٹیؒ فرماتے تھے کہ پولیس میری گرفتاری کے درپے تھی۔ وہ میری شب و روز کی کاوش سے سخت برہم و مبہوت تھی۔ میں نے حضرت ہالیجویؒ سے صورتحال عرض کی۔ انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور ایک نقش لکھ کر دیا۔ میں نے وہ اپنے پاس رکھ لیا۔ قدرت نے ایسا فضل فرمایا کہ بارہا پولیس سے سامنا ہوا۔ مگر وہ گرفتاری کی جرأت نہ کر سکی۔ یوں قدرت نے محض اپنے کرم سے ایسا انتظام کر دیا کہ مولانا امروٹیؒ کی

صفحہ ۴۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجاہدانہ ومخلصانہ کوشش سے ہزار ہا افراد نے گرفتاریاں دیں۔ تحریک کے دوران حضرت ہالیجوی نے سکھر کو اپنا مرکز بنائے رکھا۔ ان کی آمد سے سکھر تحریک کا مرکز بن گیا۔ دور دراز دیہات تک کے لوگ آتے اور جذبہ صادق سے گرفتاریاں دیتے۔ پنوعاقل سے حافظ عبدالباری، مولانا نذیر حسین، مولانا احمد میاں، گھوٹکی سے شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید مولانا عبدالحی اور دوسرے حضرات نے جلوسوں کی قیادت کی اور گرفتاریاں دیں۔ کراچی ان دنوں پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ اندرون سندھ سندھی عوام کی گرفتاریوں سے حکومت سر پٹک کر رہ گئی اور یوں اسلامیان سندھ نے حضرت محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے ایمان پرور جہاد آفریں ولولہ سے کام کر کے صوبہ سندھ کی اسلامی روایات کو زندہ و تابندہ رکھا۔ سندھ کے تمام اضلاع اور تحصیلوں کی سطح تک تحریک کا زور رہا۔ کوئی قابل ذکر ایسا عالم دین نہ تھا جس نے تحریک کے لئے اپنے خون جگر کا نذرانہ نہ دیا ہو۔ مولانا جمال اللہ صاحب، مولانا بشیر احمد، مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا خلیل الرحمٰن مبلغین ختم نبوت سے بارہا تحریک کی رپورٹ مرتب کرنے کی درخواست کی۔ ان حضرات کی مصروفیت اور تحریک کے اصل واقف کار راہنمایان کی وفیات کے باعث ایسے نہ ہوسکا۔ اس لئے معذرت وصدمہ کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرنا پڑا۔

صوبہ سرحد

غیرت مند بہادر، جری دل مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ تحریک آزادی میں یہاں کے عوام مسلمانوں اور علماء کرام کی گرانقدر اور مثالی خدمات سے کون واقف نہیں۔ انہوں نے خون جگر دے کر تحریک آزادی میں وہ کردار ادا کیا جس پر تاریخ کو بھی فخر ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، میرن شاہ، آزاد قبائل، ہزارہ، نوشہرہ و مانسہرہ سمیت پورے صوبہ کے حضرات علماء کرام نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ دارالعلوم سرحد کے مولانا ایوب جان، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ کے مولانا عبدالحق، ترنگ زئی پشاور کے مولانا شمس الحق افغانی، مولانا عبدالقیوم پوپلزئی، مولانا محمد اسحاق مانسہروی ایسے جید علماء کرام کے شاگردوں کی جماعت کا اس علاقہ میں وسیع حلقہ ہے۔ ویسے بھی سرحد کے علماء کرام کی سرحد کے عوام پر گرفت مضبوط ہے۔ حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتی تحریک ختم نبوت کے مرکزی کرداروں میں سے تھے۔ مانسہرہ کے علماء نے ایبٹ آباد ہری پور عوام کو تحریک کے لئے تیار کیا جلوس نکالا۔ ان دنوں سرحد کے وزیر اعلیٰ خان عبدالقیوم خان تھے۔ وہ آئے مطالبات کی حمایت کی اور عوام کی مرکزی حکومت کے سامنے ترجمانی کا وعدہ کیا۔ عوام کا ریلا راولپنڈی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ قیوم خان کو جان کے لالے پڑ گئے۔ مولانا محمد اسحاق ایبٹ آبادی اور دوسرے علماء و مشائخ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کو سنبھالا دیا۔

پشاور، آزاد قبائل، ڈیرہ وغیرہ میں ہڑتالیں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود صاحب ان دنوں ملتان کے مدرسہ قاسم العلوم میں گرفتار کر لئے گئے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی فخر سرحد کو سرحد حکومت نے گولی مارنے کا سگنل دے دیا۔ مولانا غلام غوث لاہور میں تحریک کے الاؤ کو روشن رکھنے کے لئے سرگرم رہے۔ مگر قدرت نے ایسا فضل فرمایا کہ گرفتار نہ ہوسکے۔ لاہور میں کام کرنے کے بعد خانقاہ سراجیہ کے شیخ حضرت مولانا محمد عبداللہ، حضرت ثانی کے پاس تشریف لے گئے۔ گرفتاری کے لئے پنجاب حکومت کا تعاقب، سرحد حکومت کے گولی مارنے کا حکم سنا تو حضرت ثانی تڑپ گئے۔ ان دنوں مولانا عبدالستار خان نیازی لاہور میں معرکے سر کر رہے تھے۔ صوفی محمد یار بھلوال والے راوی ہیں کہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے ہمارے سامنے انکشاف کیا کہ حضرت ثانی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آنکھیں بند کیں۔ گردن جھکائی۔ اپنے قلب پر نظر کی اور پھر گویا ہوئے کہ مولانا غلام غوث آپ اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو ہم اپنی

صفحہ ۴۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحویل اور ذمہ داری میں لیتے ہیں۔ دشمن آپ کا بال بیکا نہیں کر سکے گا۔ بھلوال کے صوفی محمد یار اور حکیم محمد عبداللہ صاحب دونوں رات کی ٹرین سے مولانا غلام غوث کو کندیاں سے سوار کرا کر شاہ پور صدر لے گئے۔ وہاں سے تانگہ پر جھاوریاں وہاں سے نئے تانگہ پر راتوں رات چکر مداس اور پھر وہاں سے بھلوال کے قریب صوفی محمد یار صاحب کی زمین کے ڈیرہ پر لے گئے۔ مولانا غلام غوث یہاں پر پہنچ کر بھی تحریک کی راہنمائی کرتے رہے۔ اخبارات پڑھ کر ہر دوسرے تیسرے روز ہدایات لکھ کر صوفی محمد یار صاحب کے ذریعہ حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم کو لاہور بھجواتے۔ وہ آتے تحریک کے ذمہ دار راہنماؤں سے سلسلہ جنبانی کرتے تھے۔ غرضیکہ صوبہ سرحد کے مسلمانوں نے قادیانی فتنہ کے خلاف مثالی کام کیا۔ تحریک میں ان کا کردار مثالی اور روشن ستارہ کی مانند ہے۔ میری بے ہمتی اور رفقاء کی سردمہری کہ صوبہ سرحد کے تفصیلی حالات حاصل نہ ہوئے۔ جن رفقاء کو عریضے لکھے ۔

جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

کا مصداق ہو گئے۔

صوبہ بلوچستان

مرزا بشیر محمود نے بلوچستان کو قادیانی سٹیٹ بنانے کا اعلان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد حیات فاتح قادیان نے بلوچستان کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کی آماجگاہ بنالیا۔ اگست ۱۹۲۸ء کوئٹہ بلوچستان میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ تقریر کے دوران قادیانی میجر ڈاکٹر محمود نے اپنے نشہ اقتدار میں اس کانفرنس میں آ کر اشتعال انگیزی کی جس کے باعث وہ موقعہ پر قتل ہو گیا۔ مرزا بشیر الدین وہاں سے دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ ۱۹۷۳ء جولائی میں قادیانیوں نے بلوچستان کے ایک ضلع ژوب میں قرآن مجید کے محرف نسخے تقسیم کئے۔ مولانا شمس الدین شہید ان دنوں بلوچستان کے ڈپٹی سپیکر تھے۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ راہنما تھے۔ صوفی محمد علی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں تھے۔ انہوں نے قادیانی سازش کے خلاف تحریک منظم کی جس کے نتیجے میں ضلع ژوب میں قادیانی ملازمین وعوام کا وہاں پر قانونی داخلہ بند کر دیا گیا۔ یہ پابندی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ بلوچستان صوبہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہاں پر کوئی قادیانی عبادت گاہ نہیں ہے۔ کوئٹہ میں صرف ایک تھی جو بند کر دی گئی۔ جو اس وقت تک بند ہے۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانی گروہ کے خلاف تحریک منظم ہوئی۔ ژوب میں ذوالفقار علی بھٹو تقریر کرنے گئے۔ دوران تقریر عوام کے مطالبہ پر ان کو قادیانی گروہ کے خلاف بیان دینا پڑا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں صوبہ بھر کے علماء وعوام نے اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔ محترم جناب فیاض حسن سجاد سے بارہا درخواست کی لیکن وہ ۱۹۵۳ء کی اپنے صوبہ کی رپورٹ اپنی مصروفیت کے باعث نہ بھجوا سکے۔ صوفی محمد علی صاحب اور حاجی محمد عمر صاحب ژوب عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ وامیر اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے ہیں۔ تحریک ۱۹۵۳ء کے متعلق زیادہ معلومات نہ مل سکیں۔ اس لئے مجبوراً اس پر گزارہ کرنا پڑا۔ اللہ رب العزت کو منظور ہے تو ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے ضمن میں بلوچستان میں تحریک ختم نبوت کے اثرات کا تفصیلی تذکرہ ہو گا۔ تاہم اتنا یاد رہے کہ بلوچستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مضبوط ومؤثر جماعت موجود ہے جو قادیانیت کی سرگرمیوں پر عقابی نظر رکھے ہوئے ہے۔

صفحہ ۴۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باب چہارم

تحقیقاتی کمیشن

نوٹ: اس باب میں درج ذیل دستاویزات آپ ملاحظہ کریں گے۔

جالندھری کا تبصرہ و تجزیہ۔

مولانا محمد علی جالندھری نے مرزائی جوابات کا جواب الجواب تحریر فرمایا جو تحقیقاتی کمیشن میں جمع کرایا گیا۔

صفحہ ۴۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

متفرقات

سنہ ۱۹۵۳ء کی تحریک مقدس ختم نبوت جس میں دس ہزار عاشقان مصطفیٰ ﷺ کو مرزائی اور مرزائی نواز اوباشوں نے خاک و خون میں تڑپادیا۔ ایک لاکھ مسلمان جس میں گرفتار ہوا۔ دس لاکھ مسلمان جس تحریک میں متاثر ہوا۔ مرزائی بدمعاشوں نے فوجی گاڑیوں اور فوجی وردی میں مسلمانوں کے خون ناحق سے لاہور میں جو ہولی کھیلی اس سے کائنات کا ذرہ ذرہ کانپ اٹھا۔ تحریک ختم نبوت کے تمام دشمن روح کے سرطان میں مبتلا ہو گئے۔ ایک ایک کر کے اپنے انجام بد کو پہنچ چکے ہیں۔ ایک قاتل جنرل اعظم خان بدفطرت لاہور میں زندہ ہے جو در بدر کی خاک پھانکتا پھر رہا ہے۔ تحریک کے نتائج و عواقب محرکات و عوامل پر غور کرنے کے لئے حکومت نے ہائیکورٹ کے دو ججوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی۔ اس کے رکن مسٹر جسٹس محمد منیر اور مسٹر جسٹس ایم آر کیانی تھے۔ کمیشن کی ہیئت کے متعلق کمیشن کے رکن منیر کا بیان ہے کہ: ”۱۹؍ جون ۱۹۵۳ء کو گورنر پنجاب نے آرڈیننس ۳، ۱۹۵۳ء صادر کیا۔ جو ہماری تجویز کردہ بعض ترمیمات کے بعد فسادات پنجاب (تحقیقات عامہ) ایکٹ ۱۹۵۳ء بن گیا۔ جس میں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ فسادات کے متعلق تحقیقات عامہ کرنے کی غرض سے ایک عدالت قائم کی جائے۔ آرڈیننس کی دفعہ ۳ کی ذیلی دفعہ (۱) کے ماتحت جو اختیارات گورنر کو حاصل ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے گورنر صاحب نے ہمیں اس عدالت تحقیقات کا ممبر مقرر کر دیا اور ہدایت فرمائی کہ ہم مندرجہ ذیل دائرہ شروط کے اندر رہ کر فسادات کی تحقیقات کریں۔

ہم نے یکم جولائی ۱۹۵۳ء کو تحقیقات شروع کر دی اور کل ۱۱۷؍ اجلاس کئے۔ جن میں ۹۲؍ اجلاس شہادتوں کی سماعت اور اندراج کے لئے مخصوص رہے۔ شہادت ۲۳؍ جنوری ۱۹۵۴ء کو ختم ہوئی اور اس مقدمے پر بحث یکم فروری سے ۲۸؍ فروری ۱۹۵۴ء تک جاری رہی۔ پانچ ہفتوں میں ہم نے اپنے نتائج فکر مرتب کئے اور رپورٹ قلمبند کی۔ اس تحقیقات کا ریکارڈ تحریری بیانات کے ۳۶۰۰ صفحات اور شہادت کے ۲۷۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ تین سو انتالیس دستاویزیں رسماً عدالت میں پیش کی گئی ہیں اور شہادت اور بحث کے دوران میں کثیر التعداد کتابوں، کتابچوں، رسالوں اور اخباروں کے حوالے دیئے گئے۔ علاوہ بریں ہمیں کثیر التعداد چٹھیاں بھی وصول ہوئیں۔ جو کئی کئی صفحوں پر لکھی تھیں اور چند کی ضخامت تو سو صفحے سے بھی زیادہ تھی۔“

(انکوائری رپورٹ ص۲)

رسوائے زمانہ منیر ایک بدفطرت، بدعمل، کمینہ اور بزدل انسان تھا۔ واضح شواہدات کی روشنی میں مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ مرزائی رات کو نوجوان عورتوں سے اس کے بستر اور سینہ کو گرم کرنے کا سامان مہیا کرتے۔ اس کے سینہ کے پسینہ کے ہر قطرہ سے بنت عنب رواں ہوتی تھی۔ زنا و شراب کا رسیا شخص رات کو معصیت میں دھت رہتا۔ مرزائیوں کی طرف سے تیار کردہ جرح اسے مہیا کی جاتی اور وہ صبح علماء سے بیہودہ اور بھونڈے طریقے سے مخاطب ہوتا۔ اس شخص نے رپورٹ مرتب کی جس کے ۴۲۵ صفحات ہیں۔ رپورٹ تضادات کا مجموعہ ہے۔ اسے مرزائیوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مرزائی اسے اپنے حق میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ نے مغربی دنیا کو اسلام کے خلاف ایک ایسا ہتھیار مہیا کیا ہے جس سے وہ اسلام کی تصویر مسخ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں اس بدبخت نے لکھا ہے کہ علماء

صفحہ ۴۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمان کی تعریف نہیں کر سکتے۔ لیکن آج اس بدفطرت کی روح سے کوئی پوچھے کہ سنہ ۱۹۷۳ء کے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل ہے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب اسے شراب کباب سے فرصت ملی اس نے مرزائیوں کے خلاف تحقیق سے متعلق چند بیانات دیئے ۔

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

۱۰؍اپریل سنہ ۱۹۵۴ء کو یہ رپورٹ حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو پیش کی گئی۔ انکوائری کمیشن میں کیا کچھ ہوا۔ جسٹس منیر نے کیا کیا حیلے استعمال کر کے کس طرح تحریک اور اس کے رہنماؤں کے خلاف اپنے باطنی خبث کا اظہار کیا۔ اس کی تفصیل افسوس کہ کہیں سے دستیاب نہ ہوسکی۔ بعض جگہ سے چیدہ چیدہ واقعات میسر آئے۔ جنہیں ایک مربوط کہانی کے طور پر پیش کرنا ممکن نہیں ، وہ واقعات یہ ہیں۔

اللہ شاہ بخاری) نے مرزائیوں کے بارے میں کیا بیان دیا تھا۔ قاضی صاحب نے جواباً عرض کیا کہ جب چیف جسٹس مسٹر محمد منیر نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟ تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ جب مجھ پر لدھیارام والا مقدمہ چلایا گیا تھا اور لدھیارام کے بیان پر مجھے بری کر دیا گیا تھا تو آخری پیشی پر سرکاری وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ یہ مرزا کو کافر کہہ کر منافرت پھیلاتے ہیں۔ اس پر انگریز چیف جسٹس مسٹر ینگ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں۔ تو میں نے کہا تھا: ہاں! میں نے ایک دفعہ نہیں کروڑوں دفعہ اسے کافر کہا ہے۔ اب بھی کہتا ہوں اور مرتے دم تک کہتا رہوں گا۔ یہ تو میرا دین وایمان ہے۔ اس پر مسٹر ینگ نے سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ لو ان سے اور سوال کرو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے کہا تھا کہ آپ تشریف لے جائیں۔ آپ کا مرزا کو کافر کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ قصہ مسٹر محمد منیر کو سنا کر شاہ صاحب نے کہا کہ عیسائی جج نے تو اس طرح کہا تھا۔ اب معلوم نہیں مسلمان عدالت کیا کہتی ہے۔ یہ سن کر مسٹر منیر نے بھی آپ کو یہی کہا کہ آپ تشریف لے جائیں۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے بتایا کہ میرے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین کو کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا۔ کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے اور میرے متعلق خواجہ ناظم الدین نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ انہوں نے مجھے مرزائیوں کے اندرونی حالات سنا کر چونکا دیا تھا۔ نیز قاضی صاحب نے حضرت کو بتایا کہ تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لئے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ مرزا قادیانی کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ سیدۃ النساء کا معنی ہے عورتوں کی سردار۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ اپنے فرقہ کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: جناب اگر چماروں کی کوئی پنچائت ہو اور اس کا سرپنچ کسی معاملہ کا فیصلہ کرے اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے تو کیا اس طرح کہنا جائز ہوگا۔ مسٹر منیر نے کہا: ”Never“ یعنی ہرگز نہیں۔ قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ لفظ عدالت عالیہ کے ججوں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لئے نہیں بولا گیا۔ خود حضور نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لئے نہیں بولا گیا۔ بلکہ

صفحہ ۴۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضور ﷺ کی تین بیٹیوں کے لئے بھی نہیں بولا گیا۔ یہ لفظ صرف حضور ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لئے مخصوص ہے۔ جس کو اب یہ لوگ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دل دکھاتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اخبار ’الفضل‘ نکال کر دکھایا جس میں مرزا قادیانی کی بیوی کے انتقال کے موقعہ پر پہلے صفحہ پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی تھی۔ ’سیدۃ النساء کا انتقال‘ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب ہے۔

۞ .................... ۞ .................... ۞

میں جیل یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہوں۔ اس کے بعد جیل کے زمانہ کا واقعہ سنایا کہ مجھے اور مولانا محمد علی اور مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں قید کیا گیا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد میرے پاس سپرنٹنڈنٹ جیل کا لڑکا آیا کہ مجھے ادیب فاضل کے امتحان کی تیاری کرا دو۔ چونکہ میں قید تنہائی سے تنگ آ چکا تھا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ چنانچہ پندرہ روز اسے پڑھایا۔ دو ہفتے کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل کہنے لگا کہ لڑکا کہتا ہے کہ قاضی صاحب نے دو ہفتے میں اتنا کچھ پڑھا دیا ہے جتنا پچھلے تین چار ماہ میں نہیں پڑھ سکا تھا۔ اس پر میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل کی توجہ اپنے کارڈ کی طرف منعطف کرائی جس میں میری تعلیم کے خانہ میں (Nil) لکھا ہوا تھا۔ پھر میں نے سپرنٹنڈنٹ مذکور سے، جو کہ بی .اے، ایل .ایل .بی تھا، پوچھا کہ ذرا مجھے یہ تو بتائیے کہ ’دیباچہ‘ کا کیا معنی ہوتا ہے۔ اس نے کہا یہی جو کتابوں کے پہلے لکھا ہوتا ہے۔ میں نے کہا جی نہیں۔ تعریف نہیں پوچھتا۔ معنی پوچھتا ہوں۔ سر کھجلا کر کہنے لگا۔ معنی تو میں نہیں جانتا۔ میں نے کہا۔ دیباچہ کا معنی ہے۔ چہرہ، کیوں کہ انسان کا چہرہ انسان کے سب ظاہری و باطنی حالات کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی طرح کتاب کا دیباچہ یہ بتاتا ہے کہ اس کتاب میں کتنے ابواب ہیں۔ کتنی فصول ہیں۔ کتاب کا موضوع اور لکھنے کی غرض و غایت کیا ہے۔

۞ .................... ۞ .................... ۞

مرتب کرنا شروع کی۔ عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء وکلاء کی تیاری مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا اتنا بڑا کٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کہ تحریک کے رہنماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ جناب حکیم عبدالمجید سیفی نقشبندی مجددی خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت ۷۔ بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنماؤں کے لئے وقف کر دیا۔ تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہو کر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لئے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحیم اشعر اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دوسرے رہنماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی۔

۞ .................... ۞ .................... ۞

عدالت کے کٹہرے میں پوچھا کہ سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میرے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو میں اسے قتل

صفحہ 424

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر دیتا۔ شاہ جی نے برجستہ فرمایا کہ: ”اب کوئی کر کے دیکھ لے۔“ اس پر عدالت میں سامعین نے نعرہ تکبیر لگایا۔ اللہ اکبر کی صدا سے ہائیکورٹ کے درو دیوار گونج اٹھے۔ جسٹس منیر سرپٹاتے ہوئے بولا کہ: ”توہین عدالت“ شاہ جی نے زناٹے دار آواز میں فرمایا کہ: ”توہین رسالت؟“ اس پر پھر عدالت میں تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کی صدا بلند ہوئی۔ جج نے سر جھکا لیا۔ باطل ہار گیا حق جیت گیا۔

کرتا۔ اس نے امیر شریعت سے پوچھا کہ نبی کے لئے کیا شرائط ہیں۔ شاہ جی نے فی البدیہہ فرمایا: ”یہ کہ کم از کم شریف انسان ہو۔“ اس پر مرزائیوں کے منہ لٹک گئے اور مسلمان سرخرو ہوگئے۔

قائم ہو جائے تو تمہاری کیا پوزیشن ہوگی؟ عدالت کا مقصد تھا کہ ان کے جواب سے شیعہ، سنی اختلاف کو ہوا دی جا سکے گی۔ مانیں گے تو شیعہ ناراض نہ مانیں گے تو سنی ناراض اور یہی عدالت کا منشاء تھا۔ شمسی صاحب فرماتے ہیں کہ میں گھبرا گیا۔ میں نے عدالت کو ٹالنا چاہا۔ عدالت کا اصرار بڑھا تو پیچھے حضرت امیر شریعت بیٹھے تھے۔ اٹھے۔ میری طرف تشریف لائے۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا۔ تھپکی دی اور فرمایا کہ شمسی بیٹا گھبراتے کیوں ہو۔ آج کے دن کے لئے ہی تو میں نے تمہیں تیار کیا تھا۔ شمسی صاحب فرماتے تھے کہ شاہ جی کے یہ فرماتے ہی میرے بدن میں بجلی کی سی لہر دوڑ گئی۔ میں نے منیر کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر کہا کہ پھر سوال کریں۔ اس نے کہا کہ اس ملک میں اگر صدیق اکبر ؓ کا نظام حکومت قائم ہو جائے تو تمہاری کیا پوزیشن ہوگی۔ میں نے کہا کہ میری وہی پوزیشن ہوگی جو صدیق اکبر ؓ کے زمانہ میں علی المرتضیٰ ؓ کی تھی۔ عدالت کا منہ لٹک گیا۔ مرزائیوں کے چہروں پر سیاہی کی پالش پھر گئی اور میں سرخرو ہو گیا۔ عدالت میں نعرہ بلند ہوا اور میرا سر۔

تھے، اپنے آپ کو اس تحریک (ختم نبوت) کا دائمی مبلغ بنا دیا۔ گویا احمدیوں (مرزائیوں) کی مخالفت ہی ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔“

باڑہ صادق آباد سے ۱۴ میل کے فاصلہ پر ہے۔ ایک دن لاہور سے مولانا عبدالرحیم اشعر کا گاؤں میں شام کے قریب تار آیا۔ نہر کے بنگلہ پر آدمی بھیجا مگر اسے پڑھنے والا کوئی نہ ملا۔ پورے گاؤں میں انگریزی جاننے والا کوئی نہ تھا۔ بالآخر ہندوستان کے بارڈر پر واقع پاکستان کی ہیڈ چوکی کے انچارج سے جا کر ساتھی پڑھوا لائے تو اس میں تھا کہ ۹ تاریخ (مہینہ یاد نہیں رہا) کو

صفحہ ۴۲۳

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سر ظفر اللہ خان منیر انکوائری میں پیش ہوگا۔ اس کی گواہی کے وقت مولانا کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ تنقیحات و جرح وکلاء آپ کی نگرانی میں تیار ہونی تھی۔ چنانچہ اس وقت گھوڑی پر صادق آباد کے لئے اکیلے روانہ ہوئے۔ لیکن وقت اتنا ہو چکا تھا کہ ہزار تیز رفتاری کے باوجود گھوڑی پر پہنچنا مشکل تھا۔ گاڑی بھی وقت پر آئی۔ مولانا بھی سوار ہو گئے۔ یہ کیسے ہوا، آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ صادق آباد اسٹیشن کے قریب ایک دوست کے ڈیرہ پر گھوڑی باندھ دی۔ خود ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ہم لوگ صبح جا کر لے آئے۔

مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی

نیازی نے سزائے موت کا فیصلہ سن کر کہا: بس! اس سے بھی بڑی سزا ہے تو دے لیجئے۔ میں ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوں۔

میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی۔ اس پر میں نے کہا تھا: میری عمر وہ سات دن اور آٹھ راتیں ہیں جو میں نے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں۔ کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی زندگی پر ناز ہے۔

گرفتاری اور پھانسی کی سزا

کو تحریک کے بارے میں مکمل تفصیلات سے آگاہ کر دیں۔ لیکن قصور میں آپ جن لوگوں کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے انہوں نے غداری کرتے ہوئے ملٹری کو بتا دیا۔ آپ صبح کی نماز کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ اپنے ایک کارکن مولوی محمد بشیر مجاہد کے ہمراہ گرفتار کر لئے گئے۔

قصور سے گرفتار کر کے آپ کو لاہور شاہی قلعہ لایا گیا۔ یہاں سے بیانات لینے کے بعد ۱۶؍اپریل کو آپ جیل منتقل کر دیئے گئے اور آپ کو چارج شیٹ دے دی گئی۔ ملٹری کورٹ میں کیس چلا جو ۱۷؍اپریل کو شروع ہوا اور مئی تک چلتا رہا۔ ۷؍مئی کی صبح کو سپیشل ملٹری کورٹ کا ایک آفیسر اور ایک کیپٹن آپ کو بلا کر ایک کمرے میں لے گئے۔ جہاں قتل کے نو (۹) اور ملزم بھی تھے۔ مگر ڈی۔ ایس۔ پی فردوس شاہ کے قتل کا کیس ثابت نہ ہو سکا اور آپ کو بری کر دیا گیا۔

دوسرا کیس بغاوت کا تھا۔ جس میں آپ کو سزائے موت کا حکم دیا گیا۔ جو اس طرح تھا۔

You will be hanged by neck Till you are dead.

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”تمہاری گردن پھانسی کے پھندے میں اس وقت تک لٹکائی جائے گی جب تک تمہاری موت نہ واقع ہو جائے۔“ آرڈر سناتے ہوئے افسر نے کہا۔

افسر : "Please sign it." ”اس پر دستخط کیجئے۔“

علامہ نیازی: "I will sign it when I kiss the rope." ”میں جب پھانسی کے پھندے کو بوسہ دوں گا اس وقت اس پر دستخط کروں گا۔“

افسر : "You will have sign it."

علامہ نیازی: "I am already told you that, I will sign it when I kiss the rope." ”میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جس وقت پھانسی کے پھندے کو بوسہ دوں گا اس وقت دستخط کروں گا۔ میں جیل میں ہوں اور آپ کے پنجوں میں ہوں۔ مجھے لے جاؤ اور پھانسی دے دو۔“

افسر : "Mr Niazi! Our offiecers will enqire." FROM US WHETHER YOU WERE SERVE WITH THE NOTICE IN DEATH WARRANT. ”مسٹر نیازی! ہمارے آفیسر ہم سے پوچھیں گے کہ تم نے نوٹس دے دیا ہے یا نہیں تو میں کیا جواب دوں گا۔“

مولانا نیازی: "If you so fear from your officers well i sign it for you." ”اگر آپ کو اپنے افسران ہی کا خوف ہے تو آپ کی خاطر اس پر دستخط کئے دیتا ہوں۔“

چنانچہ آپ نے بڑے اطمینان سے اس پر دستخط کر دیئے ۔ افسر نے آپ کی ہمت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : تم میری ہمت (Moral) کے بارے میں پوچھتے ہو، تو وہ تو آسمانوں سے بھی بلند ہے۔ تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔

افسر کے جانے کے بعد جب آپ کمرے میں اکیلے رہ گئے تو تائید ایزدی سے آپ کو سورۂ ملک کی یہ آیت یاد آگئی۔ ”خلق الموت والحيٰوة ليبلوكم ايكم احسن عملاً“ آپ نے اس آیت سے یہ تاثر لیا کہ موت وحیات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ لوگ میری زندگی کا سلسلہ منقطع نہیں کر سکتے ۔ اگر اس مقصد کے لئے جان بھی جائے تو اس سے بڑی زندگی کیا ہو سکتی ہے۔ ایک لمحہ کے لئے آپ پر خوف کا حملہ ہوا۔ لیکن فوراً زبان پر یہ شعر آ گیا ؎

کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است

آپ وجد کی حالت میں یہ شعر بار بار پڑھتے اور جھومتے۔ اسی عالم میں آپ کمرے سے باہر آ گئے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات نے یہ خیال کیا کہ ملٹری کورٹ نے آپ کو بری کر دیا ہے۔ چنانچہ اس نے کہا: نیازی صاحب! مبارک ہو، آپ بری ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہوں۔“

صفحہ ۴۲۵

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس نے کہا: ”کیا مطلب؟“

آپ نے فرمایا: ”اب ان شاء اللہ! حضور پاک ﷺ کے غلاموں اور عاشقوں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل ہوگا۔“ وہ پھر بھی نہ سمجھا تو آپ نے فرمایا: ”میں کامیاب ہو گیا۔“

آپ کی سزائے موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ ادھر جیل میں قیدی تک آپ کو دیکھ کر روتے تھے۔ جب آپ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں لے کر جایا گیا تو آپ نے لوگوں کو اطمینان دلایا اور فرمایا کہ کتنے عاشقان رسول ﷺ جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ اگر میں بھی اس نیک مقصد کے لئے جان دے دوں تو میری یہ خوش قسمتی ہوگی۔ حضرت مولانا نیازی سات دن اور آٹھ راتیں پھانسی کی کوٹھڑی میں رہے اور ۱۴؍ مئی کو آپ کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ کو باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔

۞ .................... ۞ .................... ۞

جا کر گرفتار ہو گیا۔ ان کی گرفتاری مارشل لاء کے تحت عمل میں آئی۔ مارشل لاء عدالت نے ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر دیگر ساتھیوں کی نسبت کم سزا دی۔ اس پر وہ بگڑ گئے۔ عدالت سے احتجاج کیا کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ اس سے عدالت نے سمجھا کہ شاید یہ سزا کم کرانا چاہتا ہے۔ عدالت نے جب پوچھا تو کہا کہ مجھ سے کم عمر کے لوگوں کو دس سال کی سزا دی ہے تو اس نسبت سے مجھے بیس سال سزا ملنی چاہئے۔ آپ نے مجھے کم سزا دی۔ میرے ساتھ انصاف کیا جائے اور میری سزا میں اضافہ کیا جائے۔ یہ سن کر مارشل لاء عدالت کانپ اٹھی۔ اس بوڑھے جرنیل کی ایمانی غیرت پر جج انگشت بدنداں اٹھ کر عدالت سے ملحق کمرہ میں چلا گیا۔ انہوں نے عدالت میں کپڑا بچھا کر اپنی گرفتاری وسزا اور آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی قربانی کی بارگاہ خداوندی میں قبولیت کے لئے نوافل پڑھنے شروع کر دیئے۔

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

۞ .................... ۞ .................... ۞

اور اپنے ایمان کو تروتازہ کیجئے: ”میری شادی کے چند ماہ بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء شروع ہوئی۔ میں تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے لئے ننکانہ صاحب سے لاہور، مسجد وزیر خان چلا گیا۔ یہاں روزانہ جلسہ ہوتا اور جلوس نکلتے۔ ایک دن جنرل سرفراز ، جو غالباً اس وقت لاہور کا کور کمانڈر تھا کے کہنے پر مسجد کی بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس پر مسجد میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا، پھر جلوس نکلا۔ میں اس جلوس میں شامل تھا۔ فوج نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ چند احباب کے ہمراہ سرسری سماعت کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ میرا نمبر آخر میں تھا۔ میری باری پر میجر صاحب نے کہا کہ معافی مانگ لو کہ آئندہ تحریک میں حصہ نہیں لو گے تو ابھی بری کر دوں گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو کہا کہ آپ کی بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہو اور ایک امتی کی شفاعت کا ذریعہ ہو اور پھر وہ معافی مانگ لے۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو

صفحہ ۴۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جواب دیا کہ شاید آپ کو اس مسئلہ کی اہمیت کا علم نہیں۔ آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس مسئلہ میں معافی کیا ہوتی ہے؟ اس پر میجر صاحب نے غصہ کی حالت میں میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور آٹھ ماہ قید بامشقت ۵۰۰ روپے جرمانہ کا حکم دیا۔ جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا۔ میرے نامہ اعمال میں میری بخشش کے لئے یہی ایک نیکی کافی ہے۔‘‘

.................. ۞ .................. ۞ .................. ۞ ..................

آپ فرماتے ہیں کہ ۸؍جولائی کو مجھے میرے گھر واقع عنایت پور نزد جلال پور پیروالہ میں خط ملا جو مولانا محمد علی جالندھری نے لاہور جیل سے تحریر کیا تھا کہ تم ملتان سے دفتر کی کتابیں اور اگر وہ نہ ملیں تو فیصل آباد سے اپنی مرزائیت کی کتابوں کا سیٹ لے کر لاہور پہنچو۔ ملتان آیا تو کتابیں نہ مل سکیں۔ فیصل آباد گیا، ھو کا عالم تھا۔ تمام رفقاء پس دیوار زنداں تھے۔ حافظ عبدالرحمن کیمبل پور والے ملے۔ مجھے دیکھتے ہی کہا کہ تمہارے وارنٹ ہیں۔ مخبری ہو گئی تو دھر لئے جاؤ گے۔ میں تمہاری کتابیں لے کر لاہور آ جاؤں گا۔ آپ فوراً یہاں سے روانہ ہو جائیں، میں لاہور چلا گیا۔ سید رحمت اللہ شاہ اپنے گھر سندیلیا نوالہ سے کتابیں لائے۔ حافظ عبدالرحمن صاحب وہ لے کر لاہور پہنچ گئے۔ اب کتابیں ہمارے پاس، ہمیں کوئی ٹھہرانے کے لئے تیار نہ تھا۔ لاہور میں دولتانہ حکومت اور بعد میں فوج کے قیامت خیز مظالم کے سامنے کسی کی نہ جاتی تھی۔ ہم لوگ حیران و پریشان کہ مسافر غریب الدیار لوگوں کو سہارا دینے والا کوئی نہ تھا۔ تحریک کے صف اوّل کے تمام راہنماء لاہور جیل میں تھے۔ دو دن مولانا مظہر علی کے گھر قیام کیا۔ ایک دن حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم تشریف لائے۔ فرمایا میں تمہیں تلاش کرتے کرتے ہار گیا۔ تم میرے مہمان ہو، چلو کتابیں اٹھاؤ۔ گاڑی میں رکھو اور میرے ساتھ چلو۔ ہوا یہ کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے اپنے مرید حکیم عبدالمجید صاحب سیفی کو حکم فرمایا کہ ختم نبوت کی طرف سے انکوائری میں کام کرنے والے آنحضرت ﷺ کے مہمان ہیں۔ یہ لوگ در بدر پھر رہے ہیں۔ ان کو تلاش کرو اور اپنے گھر میں معزز مہمانوں کی طرح رکھو۔ کچھ عرصہ بعد خود مولانا محمد عبداللہ صاحب بھی لاہور تشریف لائے۔ حکیم صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔ آپ کے ایک اور مرید مولانا حافظ کریم بخش صاحب پروفیسر تھے۔ ان کا کتب خانہ ہمیں حوالہ جات کے لئے مل گیا۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی تشریف لائے۔ اس طرح ایک ٹیم بن گئی جو انکوائری میں حصہ لینے لگی۔ مولانا مظہر علی اظہر اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش یہ دونوں مجلس عمل کے وکیل تھے۔

.................. ۞ .................. ۞ .................. ۞ ..................

میں تو مجلس عمل کا وکیل ہوں۔ جس میں نو دینی جماعتیں شامل ہیں۔ نیز یہ کہ مجھے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے سیاسی اختلاف ہے۔ مگر مرزائیت کے احتساب کے لئے میں ان کا پوری قوم پر احسان سمجھتا ہوں۔ اگر شاہ صاحب مرزائیت کا احتساب نہ کرتے تو آج پورا ملک مرزائیت کے دام تزویر میں ہوتا۔ یہ سن کر منیر کا منہ لٹک گیا۔

.................. ۞ .................. ۞ .................. ۞ ..................

صفحہ ۴۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لائٹ کار میں ایک خوبرو نوجوان فیشن ایبل لڑکی آ کر بیٹھ گئی۔ اتنے میں ہٹو بچو کا غوغہ ہوا اور منیر صاحب آئے۔ وہ بھی اس کار میں بیٹھ کر ہوا ہو گئے۔ مولانا عبد الرحیم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عدالت کے اردلی سے کہا کہ یہ لڑکی منیر صاحب کی بیٹی ہیں۔ وہ ہماری سادگی پر سر پیٹ کر رہ گیا۔ اس نے کہا کہ مولوی صاحب! تمہارا فریق مخالف ہر روز نئی نویلی خوبصورت لڑکی کا انتظام کر کے منیر صاحب کے سینہ کی حرارت اور نفس کی شرارت کو برقرار رکھنے کا انتظام کرتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ سر چکرانے لگا کہ یا اللہ ! الامان الحفیظ !

کتابوں کا ایک سیٹ تھا۔ جیل بھجواتے تو ہم خالی ہاتھ اور اگر ہمارے پاس ہوں تو وہ خالی ہاتھ۔ اس لئے یہ انتظام کیا کہ مولانا لال حسین اختر کی زوجہ محترمہ نے کراچی کا سفر کیا۔ کراچی دفتر کے ہمسائے سید ادریس شاہ صاحب کے گھر میں وہ کتابیں تھیں۔ وہ لے کر لاہور تشریف لائیں۔ اب کتابوں کو جیل بھجوانے کا مرحلہ تھا۔ وہ یوں حل ہوا کہ شیخ حسام الدین کی ٹانگ میں درد ہوا۔ وہ کار میں بیٹھ کر ہسپتال معائنہ کے لئے تشریف لائے۔ ڈگی میں کتابیں رکھیں اور جیل تشریف لے گئے۔

حکومت نے اخبارات کو اشتہارات کی مد میں لاکھوں کی رقم دی اور انہوں نے مرزائیوں کے خلاف تحریک کو پروان چڑھایا۔ حالانکہ مجلس عمل کی ترجمانی روزنامہ آزاد کر رہا تھا اور اسے اشتہارات کی مد میں حکومت نے کوئی رقم نہ دی تھی۔ یہ ان کا محض عذر لنگ تھا۔ مجلس عمل کے وکیل مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش نے روزنامہ نوائے وقت کا ایک اداریہ پیش کر دیا جس میں درج تھا کہ گاہے بگاہے مرزائیت کے خلاف تحریک اس لئے اٹھتی ہے کہ مرزائیوں کے عقائد گمراہ کن اور اشتعال انگیز ہیں۔ انہیں کے باعث تحریک اٹھتی ہے۔ آپ کا عدالت کا بیان اور اداریہ کا بیان دونوں میں فرق ہے۔ کون سا صحیح ہے تو اس پر وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

لیگیوں سے کہا تھا کہ آپ ہمارے رہنماؤں پر الزام تراشی بند کریں۔ ورنہ میں مسٹر جناح کے سول میرج کی کہانی ساتھ لاؤں گا۔ وہ لیگ کے لیڈر تھے۔ میں احرار کا، تو یہ الیکشنی بیانات ہیں۔ قائد اعظم نے کہا کہ میرے مطالبات میں خامی نکالیں۔ آپ میرے ذاتی معاملات میں نقص نہ نکالیں تو بات ختم ہو گئی۔ اس پر منیر نے کہا کہ اب ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق انہوں نے سول میرج کے وقت جو بیان دیا تھا وہ واپس نہیں لیا۔ اس لئے میرا موقف ابھی بھی وہی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ایسے بیانات پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں۔ مولانا مظہر علی اظہر نے کہا کہ ایسے ہوا تو میں سمجھوں گا کہ مسٹر منیر میرے قتل پر لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔ اس پر عدالت میں سناٹا چھا گیا اور منیر کا منہ لٹک گیا۔ دوسرے

صفحہ ۴۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دن فاطمہ جناح کا عدالت کے نام تار آیا کہ آپ اس قسم کے مباحث اٹھا کر میرے بھائی بانی پاکستان کو رسوا کر رہے ہیں۔ یہ قدرت کی طرف سے منیر کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ تھا۔

................ ۞ ................ ۞ ................ ۞ ................

۲۰...... اب مرزائی لابی نے مولانا مظہر علی اظہر کا تعاقب کرنا شروع کر دیا۔ فیصل آباد سے میاں محمد عالم بٹالوی احراری مولانا کے باڈی گارڈ بنا دیئے گئے۔ وہ بلا کے ذہین اور بہادر انسان تھے۔ انہوں نے افواہ پھیلا دی کہ اگر مولانا مظہر علی کو کچھ ہوا تو منیر، بشیر الدین اور ظفر اللہ کی خیر نہیں۔ اس کی خبر منیر کو پہنچی۔ دوسرے دن عدالت میں منیر نے کہا مسٹر مظہر علی میں کیا سن رہا ہوں۔ انہوں نے لاعلمی کر دی۔ اب مولانا صاحب کے تعاقب سے مرزائی تھرّ اٹھے اور معاملہ ختم ہو گیا۔

................ ۞ ................ ۞ ................ ۞ ................

۲۱...... ۱۹۵۳ء میں لاہور کے ضمنی مارشل لاء کے زمانہ میں عیسائی گبن بلدیہ لاہور کا انچارج تھا۔ منیر نے اپنی رپورٹ کے ص۱۵۹ پر تسلیم کیا ہے کہ: ”ایک پراسرار جیپ پر فوجی وردی میں ملبوس لوگوں نے اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔“ اس پر مرزائی سوار تھے۔ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ اخبار بے باک سہارن پور کی رپورٹ کے مطابق شہداء کو بلدیہ کے ٹرکوں پر لاد کر کچھ کو راوی کے کنارے پیٹرول ڈال کر نذر آتش کیا گیا اور کچھ کو پتوکی کی اونچی کناروں والی نہر کے اونچے کناروں میں دفن کر دیا گیا۔ فیا حسرتا!

................ ۞ ................ ۞ ................ ۞ ................

۲۲...... فقیر راقم الحروف جس وقت یہ کارروائی لکھ رہا ہے۔ سینٹ میں مسلم لیگی سینیٹر راجہ ظفر الحق کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ سب سے پہلے جمہوریت کی رگ منیر نے کاٹی تھی۔ وہ جمہوریت کا قاتل تھا اور یہ کہ اس کا بھی انجام عبرت ناک ہوا۔ العظمۃ للہ! منیر نے لیگی حکومت اور مرزائیت کے لئے دنیا و آخرت کی روسیاہی قبول کی۔ مرنے کے بعد بھی اس کا نام آتے ہی اس پر اظہار نفرت شروع ہو جاتا ہے۔

بیان مجلس عمل

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے حالات و واقعات کے جائزہ کے لئے جو کمیشن قائم ہوا اس میں مجلس عمل کی طرف سے ذیل کا بیان داخل کرایا گیا۔ یہ بیان حضرت امیر شریعت اور مولانا ابوالحسنات کی سربراہی میں تیار ہوا۔ مرزائیت کے حوالہ جات مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر نے فراہم کئے۔ مذہبی مباحث مولانا محمد علی جالندھری کے تیار کردہ ہیں۔ سیاسی حصہ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، ماسٹر تاج الدین انصاری کا مرتب کردہ ہے۔ مولانا مظہر علی اظہر ایڈووکیٹ اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش ایڈووکیٹ کے ذریعے ۱۷؍ اگست ۱۹۵۳ء کو عدالت میں تحریری بیان داخل کر دیا گیا۔ خوش نصیبی سے اس کی نقل مولانا تاج محمود مرحوم کی لائبریری سے میسر آگئی۔ اس لحاظ سے اس کتاب کو یہ شرف حاصل ہے کہ پہلی بار یہ بیان منظر عام پر آ رہا ہے۔ بیان کے آخری حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی شاید کچھ حصہ باقی ہو۔ واللہ اعلم!

صفحہ ۴۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱)

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تنقیح نمبر ۱

تحریک تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلہ میں اوائل مارچ ۱۹۵۳ء میں جو ہنگامے اور فسادات لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں نمودار ہوئے، ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

جناب والا! آل مسلم پارٹیز کنونشن منعقدہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۵۳ء کی مجلس عمل برائے تحفظ عقیدۂ ختم نبوت ان ہنگاموں اور فسادات کی ذمہ داری جو اوائل مارچ میں لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں نمودار ہوئے حسب ذیل عناصر اور کوائف پر عائد کرتی ہے۔

تصریحات

تنقیح نمبر ۱ کے سلسلہ میں جو نقاط (پوائنٹس) اوپر بیان کئے گئے ہیں، ان کی ضروری تصریحات حسب ذیل ہیں:

نقطہ نمبر: ۱

احمدیت کی تحریک اور احمدیوں کا اشتعال انگیز طرزِ عمل

ان حالات کو سمجھنے کے لئے جو مارچ ۱۹۵۳ء کے ہنگاموں اور فسادات پر منتج ہوئے احمدیت کی تحریک اور اس کے موٹے موٹے خدوخال کا جان لینا ضروری ہے۔ کیونکہ بناء فساد دراصل یہی تحریک ہے۔ احمدیت کی تحریک بظاہر ایک مذہبی تحریک ہے۔ جس نے آج سے ساٹھ ستر سال پہلے پنجاب کی سرزمین پر جنم لیا۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور منکرین کی تکفیر

مرزا غلام احمد قادیانی اس تحریک کے بانی ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کو اس دعویٰ پر مبنی کیا کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں

صفحہ ۴۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے اور وہ ایسی ہی پاک وحی ہے جیسی دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی اور یہ وحی قرآن مجید کی طرح خدا کا کلام اور خطاؤں سے پاک اور منزّہ ہے اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید پر یقین تھا۔ اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور جو شخص اس وحی کو جھٹلاتا ہے۔ وہ لعنتی ہے۔

(نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)

۱۶؍ جون ۱۸۹۹ء میں اپنا الہام شائع کیا کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔

(تبلیغ رسالت ج ۹ ص ۲۷، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)

مرزا قادیانی نے اپنے اس دعوے کے ماننے والوں کی ایک جماعت تیار کر لی۔ جس نے دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے ساتھ بالعموم اور مسلمانوں کے ساتھ بالخصوص مذہبی بحث وجدل کا بازار گرم کر لیا اور انتہائی اشتعال انگیز منافرت آمیز اور دل آزار تحریروں کا طوفان برپا کر دیا۔

مسلمانوں کا عقیدۂ ختم نبوت اور اس پر اجماع امت

اس کے برعکس امت محمدیہ کا ایمان اس اساس اور بنیاد پر مبنی ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ خدا کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان پر سلسلۂ وحی اور نبوت ختم ہو چکا ہے اور قرآن مجید اللہ کی آخری وحی اور اس کا آخری کلام ہے۔ دین اسلام جس کی تعلیم پہلے انبیاء کرام کی وساطت سے نوع انسانی کے مختلف گروہوں کو جزواً جزواً پہنچتی رہی۔ حضرت محمد عربی ﷺ پر آکر کامل ومکمل صورت اختیار کر لی۔ اس کے بعد قیامت تک کے لئے کسی نئے نبی کے آنے اور کسی انسان پر وحی کے نازل ہونے کی ضرورت باقی نہ رہی اور یہ کہ محمد عربی ﷺ کے بعد جو شخص نبوت ورسالت کا مدعی ہو یا سلسلۂ وحی کے اجراء کا عقیدہ رکھتا ہو، وہ کاذب اور دجال ہے اور تعزیرات اسلامی کی رو سے سزاوارِ قتل ہے۔

نصوص کتاب وسنت

اس کے استشہاد واستدلال میں کتاب اللہ اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں سے حسب ذیل حوالے پیش کئے جاتے ہیں:

قرآن کریم

”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب: ۴۰)“

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں کی مہر (یعنی اس سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں) یعنی آنحضرت ﷺ اگرچہ کسی مرد کے نسبتی باپ نہیں (جیسے کفار بطور طنز کے کہا کرتے ہیں) لیکن آپ رسول اللہ ہونے کی وجہ سے اپنی امت کے روحانی باپ ہیں اور روحانی باپ کی شفقت نسبی باپ کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اور اسی قسم کے شبہات جو مخالفین کی طرف سے عائد کئے جاتے تھے دور کرنے کے بعد فرمایا کہ رسول اللہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ روحانی باپ ہیں۔ وہ اتنی مخلوق کے روحانی باپ ہیں کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا۔ وہ خاتم النّبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی رسول آنے والا نہیں۔ ان کا سلسلۂ ابوت تو قیامت تک چلنے والا ہے اور صبح قیامت تک جتنے لا تعداد مسلمان پیدا ہونے والے ہیں۔ وہ سب آپ کی اولاد ہیں۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ آپ اپنی امت کی ہمدردی اور خیر خواہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ کیونکہ وہ انبیاء جن کے بعد دوسرے انبیاء ورسل آنے کی توقع ہو۔ ان سے اگر کوئی چیز رہ جائے تو بعد میں آنے والے انبیاء اس کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیکن جو تمام انبیاء ورسل کا خاتم اور آخر ہو۔ اس کو یہ

صفحہ ۴۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فکر دامن گیر ہوگی کہ مخلوق کا راستہ ایسا صاف کر دیا جائے کہ ان کو کسی وقت گمراہی کا خطرہ نہ ہو۔ چنانچہ ہمارے آقائے نامدار سرور کائنات ﷺ نے ہمارے لئے دین اسلام کو کامل اور اکمل طریق پر اس طرح پیش کر دیا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کسی شریعت سابقہ کی ضرورت ہے نہ لاحقہ کی اور نہ کسی نبی جدید کی ضرورت ہے اور نہ شریعت جدیدہ کی۔ قرآن مجید نے اس شریعت کی ابدی تکمیل کا اعلان ان الفاظ میں کر دیا ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا “ ﴿ آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔﴾

خاتم النّبیین کی لغوی تشریح

لفظ ”خاتم“ کی جو آیت مذکور الصدر میں واقع ہے۔ دو قرأتیں روایت کی جاتی ہیں۔ (۱) خاتم ”ت“ کے زیر کے ساتھ۔ (۲) خاتم ”ت“ کے زبر کے ساتھ۔ قرآن مجید کا اختلاف قرأت لفظی ہوا کرتا ہے۔ اس لئے دونوں قرأتوں کا ماحصل ایک ہی ہے۔ آپ نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور آپ آخر النّبیین ہیں۔ لغت عرب اس کی شاہد ہے۔

قاموس

لغت عرب کی مشہور کتاب قاموس میں ہے۔ ”الخاتم ومنه قوله تعالى وخاتم النبيين اى آخرهم “ یعنی خاتم ”ت“ کی زیر کے ساتھ اور خاتم ”ت“ کے زبر کے ساتھ قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد خاتم النبیین یعنی آخر النبیین ہے۔

تاج العروس شرح قاموس

”ومن الاسماء عليه السلام الخاتم والخاتم وهو الذى ختم به النبوة بمجيئه “ یعنی آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم اور خاتم دونوں ہیں اور خاتم وہ ذات اقدس ہے جس نے اپنی تشریف آوری سے سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا ہے۔

صحاح جوہری

”الخاتم والخاتم بكسر التاء وفتحها والختیام والخاتام كله بمعنى والجمع الخواتم وخاتمة الشئ اخره ومحمد ﷺ خاتم الانبیاء علیهم السلام “ یعنی خاتم اور خاتم ”ت“ کے زیر اور زبر دونوں سے اور ایسے ہی ختیام اور خاتام سب کے معنی ایک ہیں اور جمع خواتم آتی ہے اور خاتم کے معنی آخر کے ہیں اور اسی معنوں میں محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء (علیہم السلام) کہا جاتا ہے۔

لسان العرب

”خاتمهم وخاتمهم اخرهم عن الحيانی ومحمد ﷺ خاتم الانبياء وعليه وعليهم السلام “ یعنی خاتم القوم ”ت“ کے زیر کے ساتھ اور خاتم القوم ”ت“ کے زبر کے ساتھ دونوں کے معنی آخر القوم ہے اور انہی معنی پر ”الحیانی“ سے نقل کیا جاتا ہے۔ محمد ﷺ خاتم الانبیاء یعنی آخر الانبیاء ہیں۔

مجمع البحار

”خاتم النبوة بكسر التاء اى فاعل الختم وهو الاتمام وبفتحها بمعنى الطابع اى شئ يدل على انه لا

صفحہ ۴۳۲

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

نبی بعدہ یعنی خاتم النبوة ”ت“ کے زیر کے ساتھ بمعنی تمام کرنے والا اور ”ت“ کے زبر کے ساتھ بھی ”مہر“ کے معنی وہ شئے واس پر دلالت کرے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

منتہی الارب

”خاتم کصاحب مهر وانگشتری واخر هر چیزی وپایان آن واخر قوم وخاتم بالفتح مثله ومحمد خاتم الانبیاء وصلی الله علیه وعلیهم اجمعین “ یعنی لفظ خاتم بروزن صاحب سمجھے اور اس کا معنی مہر، انگوٹھی، ہر چیز کی انتہاء اور آخر قوم ہے اور لفظ خاتم ”ت“ کے زبر کے ساتھ کا معنی بھی یہی ہے اور انہی معنی سے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں۔ صلی الله علیه وعلیهم اجمعین!

خلاصہ کلام

یہ کہ خاتم اسم ہو یعنی بمعنی مہر یا خاتم اسم فاعل بمعنی ختم کرنے والا ۔ دونوں آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے ہیں اور دونوں کا حاصل یہی ہے کہ آپ آخر النبیین ہیں اور آیت کریمہ میں خاتم کے معنی آخر اور ختم کرنے والے کے سوا اور کوئی معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ خاتم مہر کے معنی میں اگر ہو تو آیہ کریمہ کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ نے سلسلہ انبیاء پر مہر کر دی۔ جس کا معنی کتب لغت کے مذکور الصدر تصریحات کی روشنی میں بھی ہو سکتا ہے۔ آپ نے اس سلسلہ پر مہر کر دی۔ اب اس میں کسی اور نبی کا اضافہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم میں ختم بمعنی مہر انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ دیکھئے ”ختم الله علیٰ قلوبهم “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔ یعنی اب ان میں خیر و برکت کی کوئی چیز داخل نہیں ہوتی اور متنبیٰ نے کہا ہے۔

”اروح وقد ختمت علی فوادی ...... بحبک ان لایحل به سوا کا“

میں تیرے یہاں سے اس طرح جا رہا ہوں کہ تو نے میرے قلب پر اپنی محبت کی مہر لگا دی ہے تا کہ اس میں تیرے سوا اور کوئی نہ داخل ہو سکے۔

ارشادات نبوی

آیت کریمہ خاتم النبیین کی تفسیر لغت عرب کے لحاظ سے تو بیان کر دی ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ تاجدار ختم نبوت نے خاتم النبیین کے کیا معنی بیان فرماتے ہیں:

انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (جامع ترمذی ج۲ ص ۱۱۲)“ ٭ یقیناً میری امت میں تیس (۳۰) کذاب (بڑا جھوٹ بولنے والے) ظاہر ہوں گے۔ ہر ایک کا گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ٭

اس حدیث میں حضور نے تصریح فرمائی ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت اپنے کو مسلمان اور ”امت محمدیہ“ کا فرد ظاہر کریں گے۔ مگر یہ جھوٹے ہوں گے۔ اس لئے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ پس واضح ہوا۔

صفحہ ۴۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوئی بھی نہیں آئے گا۔

فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاویة من زوایاه فجعل الناس یطوفون به ویعجبون له ویقولون هلا وضعت هذه اللبنة وانا خاتم النبیین (صحیح مسلم ج ۲ ص ۲۲۸، صحیح بخاری ج ۱ ص ۵۰۱)“ ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے گھر بنایا اور اسے خوب آراستہ و پیراستہ کیا۔ مگر اس کے کناروں میں سے ایک کنارے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ پس لوگ اسے دیکھنے آتے اور خوش ہوتے اور کہتے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ آپ نے فرمایا: میں نے اس خالی جگہ کو پر کر دیا اور میں خاتم النبیین ہوں۔“

اس حدیث کے یہ الفاظ ”مثل الانبیاء قبلی“ خصوصیت سے قابل غور ہیں۔ ان الفاظ میں انبیاء کا عموم بتلایا گیا ہے جن میں نئی شریعت لانے والے اور پہلی شریعت کے متبع نبی سب ہی شامل ہیں۔ ان تمام انبیاء کے مجمع سے قصر نبوت کی تکمیل آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہو چکی تھی اور اس میں ایک اینٹ کے سوا اور کسی قسم کی گنجائش تعمیر میں باقی نہیں تھی۔ جس کو آنحضرت ﷺ نے پورا فرما کر قصر نبوت کی تکمیل کر دی۔ اب آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کے نبی کی گنجائش نہیں رہی اور ہر قسم کے احتمالات کو ختم کرنے کے لئے آخر میں فرما دیا۔ ”وانا خاتم النبیین“ یعنی میرے بعد اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔

نبی خلفه نبی وانه لا نبی بعدی سيكون خلفاء (صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۹۰)“ ”بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کے بعد بھیج دیتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔“

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس امت میں ایسے نبی بھی نہیں ہوں گے جیسے بنی اسرائیل کی سرداری کے لئے آیا کرتے تھے۔ یہ انبیاء شریعت جدیدہ لے کر نہیں آیا کرتے تھے بلکہ شریعت تورات ہی کے احیاء کے لئے آیا کرتے تھے۔ جب یہ ثابت ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل نئی شریعت لے کر نہیں آیا کرتے تھے بلکہ شریعت موسویہ ہی کی اتباع میں تورات کے احکام نافذ کرنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ پس ان کے ذکر کے بعد ”لا نبی بعدی“ کا اعلان خود اس امر کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ کا مقصد اس حدیث سے یہی تھا کہ میرے بعد غیر تشریعی نبی نہیں آئیں گے بلکہ یہ فرمایا کہ اب غیر تشریعی انبیاء کی بجائے خلفاء ہوں گے۔ اگر آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو آپ ﷺ خلفاء کی بجائے غیر تشریعی نبیوں کا ذکر فرماتے۔ آپ ﷺ کا صرف منصب خلافت کا باقی رکھنا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی غیر تشریعی نبی بھی نہیں ہے۔

صفحہ ۴۳۴

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة (صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۰۳۵) “ ﴿ نبوت کا کوئی جز سوائے مبشرات کے باقی نہیں رہا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مبشرات سے مراد اچھے خواب ہیں۔ ﴾

نبی (ترمذی، مسند امام احمد بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج ۸ ص ۹۰) “ ﴿ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔ ﴾

اس حدیث میں لفظ رسول اور نبی کو علیحدہ بیان کر کے حضور ﷺ نے یہ بتا دیا کہ نہ کوئی تشریعی نبی ہوگا اور نہ کوئی غیر تشریعی ۔ صرف بغرض اختصار ان پانچ احادیث پر کفایت کی جاتی ہے۔ ورنہ دوسو کے قریب احادیث ہیں۔ جنہیں اسی (۸۰) کے قریب صحابہ کرام ؓ نے روایت کیا ہے اور ساٹھ کے قریب محدثین ہیں۔ جنہوں نے ان روایات کو اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے۔

اجماع امت

قرآن مجید کی آیات، رسول اکرم ﷺ کے ارشادات ، صحابہ کرام ؓ کی تصریحات اور آئمہ دین کی عبارات کی بناء پر امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ محمد عربی ﷺ پر سلسلہ نبوت ہر لحاظ سے ختم ہو چکا ہے اور وحی کا آنا مسدود ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ کاذب اور مفتری علی اللہ ہے۔

قاضی عیاض

مشہور قاضی اسلام قاضی عیاض اپنی کتاب شفاء میں اس اجماع کا ذکر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ”لانه اخبر ﷺ خاتم النّبيين ولا نبى بعده واخبر من الله تعالى انه خاتم النّبيين اجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد دون تاويل ولا تخصيص فلا شک فی کفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعا وسمعا (شفا قاضی عیاض ص ۲۶۲، طبع هند) “ ﴿ اس لئے کہ نبی ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام ( آیات واحادیث ) اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔ پس جو اس سے انکار کریں۔ ان کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔ ﴾

مفتی بغداد سید محمود آلوسی کا فتویٰ

”وكونه ﷺ خاتم النّبيين مما نطقت به الكتاب صدقت به السنة اجمعت عليه الامة فيكفر مدعی خلافه ويقتل ان اصر (روح المعانی ج ۷ ص ۶۵) “ ﴿ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں اور احادیث نبویہ اس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے۔

صفحہ ۴۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

اگر مدعی نبوت توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔

حکیم الامت شاہ ولی اللہ دہلوی

مؤطا امام مالک کی شرح مسوّیٰ میں تاویل کی دوقسمیں قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک تاویل تو اس قسم کی ہوتی ہے جو نص قطعی یا اتفاق امت کے خلاف نہیں ہوتی اور ایک تاویل ایسی ہوتی ہے جو نص قطعی اور اجماع امت کے خلاف ہوتی ہے۔ تاویل کی یہ دوسری قسم زندقہ کہلاتی ہے اور اس کا مرتکب زندیق ہوگا۔ تاویل کی اس دوسری قسم کی کئی مثالیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’او قال ان النبی ﷺ خاتم النبوة لکن معنی ھذا الکلام انه لا یجوز ان یسمی بعده احد بالنبی واما معنی النبوة وهو کون انسان مبعوثا من اللہ تعالیٰ الی الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء علی الخطاء فی مایری فهو موجود فی الائمة بعد فذالک زندیق وقد اتفق جماهیر المتاخرین من الحنفیه وشافعیه علی قتل من یجری ھذا المجری (مسویٰ ج ۲ ص ۱۰۹) ‘‘ ﴿یعنی وہ شخص جو یہ کہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبی کا نام نہیں دیا جائے گا اور معنی نبوت کہ ”انسان اللہ تعالیٰ کی طرف مبعوث ہے اور وہ مفترض الاطاعت ہے اور وہ گناہوں سے معصوم ہے‘‘ اور ایسا انسان موجود ہے تو وہ شخص زندیق ہے اور جمہور علماء حنفیہ وشافعیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ ﴾

مدعیان نبوت کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سلوک

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت (مسیلمہ کذاب) کے قتل پر ہوا۔ اسلامی تاریخ میں یہ بات درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا اور بڑی جماعت اس کی پیرو ہو گئی اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلا جہاد جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں کیا ہے وہ اسی کی جماعت سے تھا۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین رحمہم اللہ نے مسیلمہ کذاب کو محض دعویٰ نبوت کی بناء پر اور اس کی جماعت کو اس کی تصدیق کی وجہ سے کافر سمجھا اور باجماع صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ نے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے اور یہ اسلام میں سب سے پہلا اجماع تھا اور نہایت معتبر اور مستند کتب تواریخ اسلام سے ثابت ہے کہ وہ جنازہ پڑھتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا قائل تھا۔ البتہ مرزا قادیانی کی طرح نبی ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ تاریخ ابن جریر طبری میں ہے۔ نبی ﷺ کی تصدیق اذان میں کرتا تھا اور اذان میں ’’ اشھد ان محمد رسول اللہ ‘‘ کہا کرتا تھا۔ اس کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ تھا اور نماز کی اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا اور جب حجیر کلمہ شہادت پر پہنچتا تھا تو مسیلمہ بلند آواز سے کہتا تھا کہ حجیر نے سچ اور صاف بات کہی ہے۔

(تاریخ ابن جریر طبری ج۳ ص ۲۴۴)

غرض مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتا تھا۔ نماز پڑھتا تھا۔ لیکن خود بھی مدعی نبوت تھا۔ اس لئے وہ دعویٰ نبوت کی وجہ سے باجماع صحابہ رضی اللہ عنہم کافر سمجھا گیا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، مہاجرین وانصار اور تابعین کا ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کی قیادت میں مسیلمہ کے خلاف جہاد کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا۔ تاریخ طبری میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کے نام سے درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو صحابہ تابعین اس جہاد میں شہید ہوئے ان کی

صفحہ ۴۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۸۵۷ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تعداد ۱۲۰۰۰ ہے ۔ نیز اسی تاریخ میں ہے کہ مسیلمہ کی جماعت جو اس وقت مسلمانوں کے مقابلہ میں نکلی تھی اس کی تعداد چالیس ہزار (۴۰۰۰۰) مسلح جوان تھی ۔ جن میں سے اٹھائیس ہزار (۲۸۰۰۰) کے قریب ہلاک ہوئے اور خود مسیلمہ کذاب بھی اس معرکہ میں ہلاک ہوا ۔ باقی ماندہ لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اطاعت قبول کر لی ۔

نتائج

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہ وقت کی نزاکت کا خیال کیا اور نہ مسلمانوں کے ضعف و بے سروسامانی کا اور نہ مسیلمہ اور اس کی جماعت کی نماز و اذان کا اور نہ اقرار نبوت محمدیہ کا ۔ بڑی عظیم الشان جماعت کے ساتھ مسیلمہ اور اس کی جماعت کے خلاف جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بالاتفاق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی شخص کا دعویٰ نبوت کرنا خواہ وہ کسی تاویل اور کسی پیرائے سے ہو ۔ موجب کفر و ارتداد سمجھا ۔ نیز یہ واضح ہوا کہ کسی شخص کے اتباع اور پیروؤں کی کثرت اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتی ۔ ورنہ مسیلمہ کذاب کے متبعین کی کثرت وقوت بدرجہ اولیٰ اس کی حقانیت کی دلیل ہوتی ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد مدعیان نبوت کے ساتھ سلوک

عبدالملک بن مروان کے عہد امارت میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس نے علماء وقت جو صحابہ و تابعین تھے کے متفقہ فتویٰ سے اس کو قتل کر دیا اور اس کے بعد اس کی نعش کو سولی پر لٹکا دیا ۔

قاضی عیاض شفاء میں اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”وفعل ذالك غير واحد من الخلفاء والملوك باشباههم واجمع علماء وقتهم على صواب فعلهم “ بہت سے خلفاء اور سلاطین نے ایسے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا اور زمانے کے علماء نے بالاتفاق ان کے اس فعل کی تصویب و تائید کی ۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں کئی ایک مدعیان نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہر ایک مدعی نبوت کو اس وقت کی حکومت نے قتل کر دیا اور بنو عباس کے عہد حکومت میں بھی ایک جماعت ایسے مدعیان نبوت کی ظاہر ہوئی مگر : ”وقد اهلك الله تعالى من وقع له ذالك منهم وبقى منهم من يلحقه باصحابه واخرهم الدجال الاكبر “ اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے مدعی نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا ان میں سے کچھ باقی رہ گئے ہیں ۔ وہ بھی ”ان شاء اللہ“ اپنے ساتھیوں سے جاملیں گے ۔ ان کا سب سے آخری مدعی نبوت دجال اکبر ہے ۔

(فتح الباری ج ۶ ص ۴۵۵)

مرزا غلام احمد قادیانی کا تدریجی دعویٰ نبوت

مسئلہ ختم نبوت پر مسلمانوں کے اس چودہ سو برس کے راسخ عقیدہ اور امت کے بے مثل اجماع کے بالکل برعکس مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کی بنیاد اس وقت رکھی جب کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی محکومی اور غلامی کی وجہ سے مذہبی اور سیاسی پستی کی انتہاء کو پہنچ گئے تھے اور بظاہر اس تعبد و غلامی سے نکلنے اور حریت اور آزادی کے لئے سر اٹھانے کی کوئی امید نہ رہی تھی ۔ اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کی درماندگی اور ذلت کا یقین رکھتے ہوئے اور مسلمانوں کی پستی کو ایک ابدی زوال خیال کرتے ہوئے مجددیت ، مہدویت ، مسیحیت اور نبوت کے دعاوى کو بتدریج پیش کیا ۔ جوں جوں حکومت کی آہنی گرفت اس ملک کے رہنے والوں پر قوی تر ہوتی گئی ۔

صفحہ ۴۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بانی فرقہ قادیانی اپنے دعاوی کو پہلے سے بلند اور ارفع کرتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ وہ وقت آ گیا جب کہ مرزا قادیانی کو یقین ہو گیا کہ حکومت کا دیا ہوا امن وامان جہاں اس کے دعاوی کے لئے بلا خوف و خطر اشاعت اور آزادانہ تبلیغ کا ضامن ہے وہاں حکومت کی قوت وسطوت ملک پر وہ سکہ بٹھا چکی ہے کہ دعاوی کو اگر انتہائی منزل تک پہنچا کر بالکل نئے مذہب اور نئی امت کی بنیاد رکھ دی جائے تو مسلمانوں کی کوئی قوت مزاحم نہ ہو سکے گی۔ بلکہ بہت ممکن اور قرین قیاس ہے کہ یہ نئی نبوت کی تجویز انگریزی حکومت کے منشاء کے مطابق اور اس کے حاکمانہ اغراض واستعماری مقاصد کو زیادہ مستحکم کرنے والی ثابت ہو۔

اس مقصد کے حصول کے لئے سب سے پہلے مرزا قادیانی نے تبلیغ اسلام کی آڑ میں اپنی پیری مریدی کا حلقہ کافی وسیع کر لیا اور مختلف پیش گوئیوں اور ان کی عجیب وغریب تشریحات کو شائع کر کے مریدوں کی عقیدت مندی کو وقتاً فوقتاً امتحان کی کسوٹی پر پرکھ کر مجددیت، مہدویت، مسیحیت اور نبوت کی منزلیں جب بتدریج طے کر لیں تو اس نے اپنے ماننے والوں کے سوا تمام مسلمانوں کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کر دیا اور اپنی جماعت کو مسلمانوں سے الگ کرنے اور علیحدہ قوم اور امت بنانے کے لئے ہر اس فرد بشر کو جو اس کی نبوت کا قائل نہ ہوا کافر قرار دیا اور ان سے ہر طرح قطع تعلق کا حکم صادر کرایا۔

دعویٰ نبوت کی راہ میں مشکلات کا احساس

مرزا قادیانی نے جب یہ معلوم کر لیا کہ پیری مریدی کا حلقہ تبلیغ اسلام کی آڑ میں کافی وسیع ہو گیا ہے تو انہوں نے دعویٰ نبوت کی طرح ڈالی۔ لیکن خود ان کو بھی یہ خوف دامن گیر تھا کہ دعویٰ نبوت سے کہیں بنی بنائی بات بھی نہ بگڑ جائے۔ اس لئے انہوں نے دعویٰ نبوت میں بہت ہوشیاری سے کام لیا۔ اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’بعض امور دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کرسکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی رہے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ج ۵ ص ۵۳، خزائن ج ۲۱ ص ۶۷، ۶۸)

بہر حال راہ کی مشکلات کا حکومت برطانیہ کے ظل عاطف میں مقابلہ کرتے ہوئے جب نبوت کا کھلم کھلا دعویٰ کرنے کا شوق دامن گیر ہوا تو فرماتے ہیں: ’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی تھے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کے متعلق ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور نبی کا خطاب دیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۴۹، ۱۵۰، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳)

نبوت، رسالت اور وحی کا دعویٰ

مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت میں بڑی ہوشیاری سے کام لیا ہے۔ کہیں کہا کہ ہم غیر مستقل اور ظلی نبی ہیں اور کہیں مطلقاً نبوت ورسالت کے دعوے کئے اور کہیں کھلے بندوں نبوت مستقلہ اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کی تائید میں بھی مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادہ خلیفہ محمود صاحب اور بشیر احمد کی عبارات کے چند حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔

’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)

’’حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول، مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ

صفحہ ۴۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بلکہ ہزار دفعہ۔‘‘ (براہین احمدیہ ص ۴۹۸) اسی مضمون کی عبارات (اربعین نمبر ۴ ص ۶، نزول المسیح ص ۹۹، حقیقت الوحی ص ۱۰۲، ۱۰۷، انجام آتھم ص ۶۲، حقیقت النبوۃ مرزا محمود ص ۲۰۹، ۲۱۴) وغیرہ میں ہیں۔

قرآن مجید کی برابری کا دعویٰ

مرزا قادیانی نے اپنی وحی کو قرآن مجید کے برابر واجب الایمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا: ”میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۵۰، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۴)

مرزا قادیانی نظم میں اپنے ان خیالات کو زور دار طریق پر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں است ایمانم
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد بر و القا
واں یقیں کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ۹۹، ۱۰۰، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷، ۴۷۸)

صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ

دعویٰ نبوت کے شوق میں مرزا قادیانی نے ایک بہت بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ قرآن مجید کی وہ آیات جو محمد عربی ﷺ کی رسالت کے متعلق ہیں۔ ان کے لئے دعویٰ کر دیا کہ میں ہی اس کا مصداق ہوں۔ مثلاً: ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘

(اعجاز احمدی ص ۷، خزائن ج ۱۹ ص ۱۱۳)

اس عبارت میں ایک دعویٰ نبوت تشریعی کیا اور اس کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کر دیا کہ ہمارے رسول اکرم ﷺ اس کے مصداق نہیں۔ (معاذ اللہ) اور مرزا ہی اس آیت کا مصداق ہے جو صریح کفر اور نبی ﷺ کی توہین کے مترادف ہے اور ایسا ہی ازالہ اوہام اور دوسری کتابوں میں ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں کہا کہ یہ بشارت میرے لئے ہے اور ان کے بیٹے مرزا محمود صاحب نے بڑے زور دار الفاظ میں اس آیت کے تعلق میں کہا ہے۔

”میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔ (مخالفین کے اعتراضات کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں) میں جہاں تک غور کرتا ہوں۔ میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا لفظ جو قرآن کریم میں آیا ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہی ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص ۱۸)

صفحہ ۴۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کے بعد اور کھل کر صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا: ”ماسوا اس کے یہ بھی سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کئے وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ۴ ص ۶، خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۶)

اور اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ”چونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی۔“

(اربعین نمبر ۴ ص ۶، خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵ حاشیہ)

نیز اعجاز احمدی میں ہے۔ ”ہم اس کے جواب میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ۳۰، خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۰، خزائن ج ۱۷ ص ۵۱ حاشیہ)

محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن مجید کی آیت ذیل کو حسب عادت اپنے لئے وحی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ”خدائے تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول، مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ چنانچہ میری نسبت وحی اللہ ہے: ’مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ‘ اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷)

قادیانی جماعت کے بڑے مقتدر عالم مولوی غلام رسول راجیکے نے اسی موضوع پر لکھتے ہوئے یہ بیان دیا ہے۔ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ’محمد رسول اللّٰہ والذین معہ‘ کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔“

(اخبار الفضل مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء ص ۶)

قادیانی جماعت کے سرکاری اخبار الفضل نے اپنی اگست ۱۹۱۵ء اور ستمبر ۱۹۱۵ء کی اشاعتوں میں اسی عقیدہ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ ”خدائے تعالیٰ اپنی پاک وحی میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو محمد رسول اللہ کر کے مخاطب کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کا آنا بعینہٖ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ حضرت مسیح کو عین محمد ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہی وہ بات ہے جو احمدیت کی اصل الاصول کہی جاسکتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء)

”خدائے تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وجود خاص آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہے۔ یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت ﷺ آپس میں کوئی دوئی یا مغائرت نہیں رکھتے۔ بلکہ ایک ہی شان ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ج ۳ نمبر ۳۷ ص ۷ کالم ۲، مورخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء)

قادیانی جماعت کے مفتی اعظم کا فتویٰ

”ہمارا (مرزائیوں کا) عقیدہ ہے کہ دوبارہ حضرت محمد رسول اللہ ہی آئے ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ پہلے نبی تھے تو اس بعثت میں بھی

صفحہ ۴۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبی ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ کے انکار سے پہلے انسان کافر ہوجاتا تھا تو اب بھی آپ کے انکار سے ضرور ضرور کافر ہوجائے گا۔‘‘

(تقریر مولوی سرور شاہ مفتی اعظم قادیانی جماعت مندرجہ الفضل مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۱۴ء ص ۷)

نبی عربی ﷺ سے برتری کا دعویٰ

مرزاغلام احمد قادیانی کی ہوسِ برتری عین محمد رسول اللہ پر ختم نہیں ہوتی۔ اب اس سے اور ترقی کرتا ہے اور اپنے کو بدر (چودھویں رات کا چاند) اور آنحضرت ﷺ کو ہلال (پہلی رات کا چاند) ظاہر کر کے اپنی فضیلت ظاہر کرتا ہے۔ ’’اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں بدر کی شکل اختیار کرے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۴، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۵)

مولوی غلام رسول راجیکے اس کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’آنحضرت کی بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے آنحضرت کی بعثت اوّل اور ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کے کافر کفر میں بعثت اوّل کے کافروں سے بہت بڑھ کر ہیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۱۵ء)

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے کو نبی کریم ﷺ کی بعثت ثانی قرار دیتے ہوئے یہ لکھتا ہے: ’’نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہاء نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے مظہر اختیار کیا۔ پس میں وہ مظہر ہوں پس ایمان لاؤ اور کافروں سے مت ہو۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷، ۱۷۸، خزائن ج ۱۶ ص ۲۶۶، ۲۶۷)

قادیانی امت کا عقیدہ

’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانے میں تمدنی ترقی اور زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔‘‘

(ریویو قادیان ۱۹۲۹ء)

قادیانی شاعر ’اکمل‘ مرزا قادیانی کی تعریف میں لکھتا ہے ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان ج ۲ نمبر ۴۳ ص ۱۴، مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

مرزا محمود، خلیفہ قادیان نے اپنے خطبہ میں کہا ہے: ’’اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ خدا نے اس مقام کا دروازہ بھی بند نہیں کیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد سے کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(خطبہ محمود الفضل مورخہ ۱۶؍ جون ۱۹۲۲ء ص ۸)

’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ اگر روحانی ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں کہ ایک کو بڑھایا جائے

صفحہ ۴۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔‘‘

(بیان مرزا محمود مندرجہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء ص ۵)

تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر

ان تمام دعاوی کے معلوم کر لینے کے بعد بڑی آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کو نہ ماننے والوں کے متعلق قادیانی جماعت کا کیا فتویٰ ہوسکتا ہے۔ لیکن ہم چند حوالے مختصراً درج کرتے ہیں تاکہ اس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ امت مسلمہ کے تقریباً چالیس کروڑ افراد کو کس آسانی سے کافر، جہنمی اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔

دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۷۹، خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۵)

(تذکرہ ص ۲۸۳، مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۱ء)

والا اور جہنمی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص ۳۲۷، تبلیغ رسالت ج ۹ ص ۲۷، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)

عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘

(نزول المسیح ص ۴، خزائن ج ۱۸ ص ۳۸۲ حاشیہ)

کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، خزائن ج ۵ ص ۵۴۷)

اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔ ”الا ذریۃ البغایا‘‘ عربی کا لفظ ”بغایا‘‘ جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا ”بغیہ‘‘ ہے۔ جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔ خود مرزا قادیانی نے (خطبہ الہامیہ ص ۱۷، خزائن ج ۱۶ ص ۴۹) میں لفظ ”بغایا‘‘ کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے اور ایسے ہی (انجام آتھم ص ۲۸۲، خزائن ج ۱۱ ص ایضاً، نور الحق حصہ اوّل ص ۱۲۳، خزائن ج ۸ ص ۱۶۳) میں لفظ ”بغایا‘‘ کا ترجمہ نسل بدکاراں، زناکار، زن بدکار وغیرہ کیا ہے۔

سنا وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص ۳۵، مصنفہ مرزا محمود)

ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ۲۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد)

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں سے شادی بیاہ کی ممانعت

ان تمام فتاویٰ کفر کے بعد مسلمانوں اور مرزائیوں کے اختلافات کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی متنبیٰ اور اس کے ماننے والوں کا شادی بیاہ کے سلسلہ میں مسلمانوں کے متعلق جو فیصلہ ہے وہ بھی سامنے آجائے۔ اس سے صورتحال اور واضح ہو جائے گی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو مسلمانوں سے لڑکیاں لینا جائز سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو لڑکیاں دینا ناجائز خیال کرتے ہیں۔ گویا مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے کو وہی پوزیشن دیتے ہیں جو اسلام نے اہل کتاب کو دی ہے، شاہد حسب ذیل ہیں۔

پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل حکیم نورالدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت ص۹۳، مصنفہ بشیر الدین محمود)

ہے۔“

(برکات خلافت مجموعہ تقاریر محمود ص۷۵)

رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملے میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص۴۶، مصنفہ محمود)

ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“

(کلمتہ الفصل ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۶۹)

جایا کرے۔“

(ناظر امور عامہ قادیان کا اعلامیہ مندرجہ الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۲۷ ص۸ کالم۲، مورخہ۱۴؍فروری۱۹۳۳ء)

مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی ممانعت

جو کچھ لکھا گیا اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار مسلمانوں کے ساتھ عبادت میں بھی شریک نہ ہوں۔ چنانچہ ذیل کی عبارات سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ نہ نماز میں شریک ہو سکتے ہیں اور نہ کسی مسلمان کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔

صفحہ ۴۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(قول مرزا غلام احمد مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ۱۰/اگست ۱۹۰۱ء)

پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔“

(اربعین نمبر ۳ ص ۲۸ حاشیہ، خزائن ج ۱۷ ص ۴۱۷)

نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ۹۰، مصنفہ مرزا محمود قادیانی)

(انوار خلافت ص ۹۳، مصنفہ مرزا محمود قادیانی)

نیز الفضل مورخہ ۲۱/اگست ۱۹۱۷ء، الفضل مورخہ ۳۰/جولائی ۱۹۳۱ء کے حوالے ۔ نیز معلوم عام بات ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا۔ ”جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“ ٹریکٹ نمبر ۲۲ بعنوان احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ الناشر مہتمم نشر و اشاعت نظارت دعوت وتبلیغ صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ۔

جب قادیانی امت پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ قائد اعظم مسلمانوں کے محسن تھے اور تمام ملت اسلامیہ نے ان کا جنازہ پڑھا ہے تو جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ: ”کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے۔ مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔“

(الفضل ج ۲۰ نمبر ۲۵۲ ص ۴ کالم ۲، مورخہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۵۲ء)

تصدیق کے لئے چوہدری ظفر اللہ خان کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے۔

الگ دین اور الگ امت

مرزا غلام احمد قادیانی کے نئے سلسلہ کے تمام لوازم اور مناسبات کو دیکھتے ہوئے اس امر کے فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے پیروؤں کو تمام مسلمانوں سے ایک الگ امت بنانے میں کس درجہ ساعی و کوشاں ہیں۔ حسب ذیل تصریحات شاہد ہیں۔

لئے منتخب فرمایا کہ تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ زور آور حملوں سے تائید کروں گا اور جو دین تو لے کر آیا ہے اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل و براہین غالب کروں گا۔“

(الفضل ج ۲۲ نمبر ۹۳، مورخہ ۳/فروری ۱۹۳۵ء)

سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“

(قول مرزا مندرجہ الحکم قادیان نمبر ۲۱ ج ۷)

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات ۔ رسول کریم ﷺ قرآن، نماز ، روزہ، حج ، زکوٰۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔“

(خطبہ محمود الفضل ج ۱۹ نمبر ۱۳)

جماعتیں بھی نظر آتی ہیں ۔ انہوں نے اپنی ان جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا۔ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں، اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے۔“

(الفضل قادیان ج ۵ نمبر ۶۹ ، ۷۰ ص ۳ کالم ۳ ، مورخہ ۲ / مارچ ۱۹۱۸ء)

سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری قوم ، تمہاری گوت ، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص ۴۶ ، ۴۷ ، مصنفہ مرزا محمود )

حقوق بھی تسلیم کئے جائیں ۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں، اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں ۔ تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلے میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

(مرزا بشیر الدین محمود مندرجہ الفضل مورخہ ۱۳/ نومبر ۱۹۴۶ء)

قادیان ایک بین الاقوامی یونٹ بن چکا ہے اور اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ہندو یونین میں رہنا چاہتی ہے یا پاکستان میں ۔ متعلق بحث یادداشت منجانب جماعت احمدیہ پیش کردہ شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ بحضور باؤنڈری کمیشن شہادات کے لئے ۔

انتہائی اشتعال انگیز اور دل آزار تحریریں

صرف یہی نہیں کہ احمدیت کی تحریک نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کو چیلنج کر کے مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بحث اور تبلیغی کشمکش کے دروازے کھول لئے بلکہ احمدیت کے بانی نے اپنی تحریرات میں مسلمانوں کے لئے انتہائی مذہبی دل آزاری اور اشتعال انگیزی کا مواد بھر دیا اور احمدیت کے پیرو اس مواد کی نشر واشاعت کر کے مسلمانوں کے دلوں میں غصہ اور منافرت کے جذبات کو ترقی دیتے رہے۔ احمدیت کے بانی کی تحریروں میں انبیائے کرام علیہم السلام اور بزرگانِ دین کی بدرجہ غایت دل آزارانہ توہین کی گئی ہے اور انتہائی بدزبانی سے کام لیا گیا ہے جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت امر ہے۔

شواہد بصورت ذیل : ”آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک شخص کو (یعنی مرزا قادیانی کو) اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو

صفحہ ۴۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطاء کیا تا کہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۱، خزائن ج ۷ ص ۲۶۳)

”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“

(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد)

قادیانی جماعت کا ایمان

امام اپنا عزیزو اس جہاں میں غلام احمد ہوا دار الاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار البدر قادیان مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

نوٹ: مذکورہ بالا نظم مرزا قادیانی کی مصدقہ اور پسندیدہ ہے۔

(اخبار الفضل مورخہ ۲۳؍اگست ۱۹۴۴ء)

یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔

(بیان مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان ج ۱۰ نمبر ۸۵ ص ۵ کالم ۳، مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)

له خسف القمر المنير وان لى
غسا القمران المشرقان اتنکر

”اس کے لئے یعنی نبی کریم ﷺ کے لئے صرف چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کے گرہن کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ۷۱، خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳)

”میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے کہ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۶۷، خزائن ج ۱۸ ص ۷۰)

”اور تین ہزار معجزے ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ۴۰، خزائن ج ۷ ص ۱۵۳)

”ہمارے نبی ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ روحانیت کی ترقی کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷، خزائن ج ۱۶ ص ۲۶۶، ۲۶۷)

”حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا، ورنہ قابلیت تھی۔“

(ریویو قادیان مئی ۱۹۲۵ء)

”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی

صفحہ ۴۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے۔ جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ (یعنی چودھویں صدی) پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ: لقد نصرکم اللہ ببدر‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۸۴، خزائن ج۱۲ ص۲۷۵)

نوٹ: قرآن پاک میں ہے کہ دین آج کے دن کامل کر دیا گیا۔ لیکن مرزا اسے ہلال سے تشبیہ دے رہا ہے اور آیت قرآنی کو جس میں جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے اپنے بدر کی طرف لانا چاہتا ہے۔

’’اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے (یعنی مرزا قادیانی نے) امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں افضل سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ بے شک سمجھا اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴)

’’اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)

’’تم نے اس کشتہ (حسین) سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا۔ پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے ناامید کیا۔‘‘

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)

’’اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است و در گریبانم

(درثمین فارسی، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

’’نسیتم جلال اللہ والمجد والعلی ما وردکم الاحسین اتنکر‘‘ ’’فھذا علی الاسلام احدی المصائب لدی نفحات المسک قذر مقنطر‘‘

’’تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے کہ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۸۲، خزائن ج۱۹ ص۱۹۴)

’’فاطمۃ الزہراء نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور بتایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۵۰، خزائن ج۵ ص ایضاً، ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۳ حاشیہ)

’’اور مریم کی وہ شان ہے۔ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کے پہلی بیوی ہونے کے مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

صفحہ ۴۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

’’آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ یہ انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷، خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)

دشنام طرازی کے چند نمونے

کہاں تک بیان کیا جائے مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیفات انبیائے کرام، اولیاء اللہ اور بزرگان دین پر اپنی برتری اور فضیلت کے اظہار اور مقدس اور معصوم ہستیوں کی تنقیص و توہین کی عبارتوں سے بھری پڑی ہیں۔ جن کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کے لئے مذہبی دل آزاری کا زہر میں بجھا ہوا تیر ہے۔ اس کے علاوہ نبوت کے اس مدعی کی تحریرات دشنام طرازی اور بد زبانی کے کمالات کی حامل بھی ہیں جو ہر سننے والے کی طبیعت میں سخت اشتعال پیدا کرتی ہیں۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں ۔ ’تلک کتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها يقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷ ، خزائن ج ۵ ص ایضاً)

ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میرے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر بدکار عورتوں کی اولاد نہیں مانتے کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے۔

’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘

(نجم الہدی ص ۱۰ ، خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)

’’جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ وہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص ۳۰، خزائن ج ۹ ص ۳۱)

’’چھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں۔ مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے۔ وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔‘‘

(حیات احمد ج ۱ نمبر ۳ ص ۲۵)

’’علمائے امت کی ایسی تیسی ! اے بد ذات فرقہ مولویاں کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑ دو گے۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص ۲۱ ، خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)

’’بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ دنیا میں سب جانوروں سے زیادہ پلید خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں۔ اے مردار خور مولویو اور گندی روحو۔‘‘

(انجام آتھم ص ۲۱، خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)

اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال

علاوہ بریں احمدیت کے پیرو دین اسلام کی اور مسلمانوں کی مقدس اصطلاحوں کو ان کے مقررہ موقع اور محل کے سوا جو قرآن

صفحہ ۴۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاک، احادیث نبوی اور امت کے تواتر عمل سے طے ہو چکا ہے۔ دیگر مواقع اور محلات پر استعمال کر کے مسلمانوں کی دل آزاری اور اشتعال انگیزی کے مرتکب بنتے رہتے تھے۔ مثلاً اپنے متنبّی کے لئے ”علیہ الصلوٰۃ والسلام“ کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ہاں محض انبیائے کرام کے لئے مختص ہے۔

”صحابہ کرام“ کی اصطلاح کا استعمال مرزائے قادیان کے ساتھیوں کے لئے اور ”رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا عنہم“ کا استعمال مرزائے قادیان کے ساتھیوں کے لئے کرتے ہیں جو حسب آیت قرآنی : ”والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان رضی الله عنهم ورضوا عنه“ جن لوگوں نے سبقت کی اور سب سے پہلے ایمان لائے مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔

”لقد رضي الله عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشجرة“ تحقیق اللہ مسلمانوں سے راضی ہوا۔ جب کہ وہ درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے ہیں۔

حضرت رسول اکرم ﷺ کے صحابہ کے لئے مختص ہو چکی ہے۔ ام المؤمنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے جو حسب آیت قرآنی: ”النبی اولی بالمؤمنين من انفسهم وازواجه امهاتهم“ حضرت نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے مخصوص ہے۔

سیدۃ النساء کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی یا مرزا بشیر الدین کی بیٹی کے لئے جو حدیث شریف کے رو سے خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ کے لئے مختص ہے۔ ”فقال اماترضین ان تکونی سیدة نساء اهل الجنة اونساء المؤمنين فضحكت لذاک“

حضور ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کیا تم پسند نہیں کرتیں کہ تم تمام جنت کی عورتوں یا تمام مسلمان عورتوں کی سیدہ ہو۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ یہ سن کر میں ہنس دی۔

(صحیح بخاری ص ۵۱۲ ، مطبع مجتبائی)

امیر المومنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا بشیر الدین محمود کے لئے جو صرف احمدی جماعت کا امیر ہے ثبوت کے لئے الفضل کے پرچے جن میں متذکرہ صدر اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں۔

مسلم آبادیوں میں احمدیوں کی تبلیغی کانفرنس

احمدیت کے پیرو اپنی متذکرہ صدر معتقدات کی تبلیغ کے لئے جن سے مسلمانوں کی انتہائی مذہبی دل آزاری ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی آبادیوں میں تبلیغی جلسے منعقد کر کے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کو ربوہ میں تبلیغی جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مثلاً گزشتہ چھ سال میں انہوں نے حسب ذیل مقامات پر جلسے اور کانفرنسیں منعقد کر کے اور مسلمانوں کی آبادیوں میں اپنے تبلیغی جتھے بھیج کر اشتعال انگیزیاں کیں۔ شواہد !

اخبار ”الفضل“ کے پرچے اور دوسرے اخبارات کے پرچے جن میں ان جلسوں کا حال درج ہے اور مرزا بشیر الدین محمود کا بیان جو اس نے فسادات کے بعد جاری کیا اور جس میں اس نے اپنے پیروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے جلسے اپنی مسجدوں اپنے ہالوں اور اپنے ہی

صفحہ ۴۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احاطوں میں منعقد کیا کریں اور اگر کوئی جلسہ عام منعقد کیا جائے تو اس میں ایسے اختلافی اور نزاعی مباحث سے احتراز کیا جائے جو جوش اور اشتعال پیدا کرنے کا موجب ہوں۔ ان ہدایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا محمود کو بھی اس امر کا اعتراف ہے کہ احمدی لوگ قبل ازیں مسلمانوں کی آبادیوں میں تبلیغی جلسے منعقد کرتے تھے اور ان میں ایسی بحثیں چھیڑ لیتے تھے جو اشتعال پیدا کرنے کا موجب ہوں۔

شہادت اخبار پاکستان ٹائمز لاہور ۱۹۵۳ء مورخہ ۱۷ /جون احمدیوں کے تبلیغی جلسے اور کانفرنسیں وغیرہ۔

لاہور مورخہ ۲۵ /جنوری ۱۹۵۰ء مع تبصرہ مغربی پاکستان لاہور۔

رپورٹ مندرجہ در اخبار آزاد لاہور مورخہ ۲۳/نومبر ۱۹۵۱ء۔

آزاد لاہور۔

روزنامہ جنگ کراچی اور روزنامہ انجام کراچی اور روزنامہ ڈان کراچی کے ایڈیٹر صاحبان کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے کہ وہ اپنے اخبارات کے وہ پرچے جن میں اس کانفرنس کی روداد اور ان ہنگاموں کی روداد جو اس کی وجہ سے ہوئے اور نیز اپنے ادارتی تبصروں والے پرچے لے کر آئیں۔

احمدیوں کی خطرناک سیاسی سرگرمیاں

نہایت ہی خطرناک قسم کی مذہبی دل آزاریوں کے علاوہ جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ احمدیت کی تحریک کا ایک اور خطرناک پہلو احمدیوں کی سیاسی سرگرمیاں ہیں جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ان کی سیاسی زندگی کو طرح طرح کے خطرات میں ڈالنے کا موجب بنتی رہی ہیں اور بن رہی ہے۔ احمدی جماعت در حقیقت مذہبی لباس میں ایک قسم کی سیاسی تنظیم ہے جس کا مدعا مسلمانوں کو سیاسی اور اقتصادی حیثیت سے نقصان پہنچانا اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔ احمدی جماعت کی بنیاد اس وقت کے غیر ملکی حکمرانوں یعنی انگریزوں کی بے جا خوشامد اور چاپلوسی پر رکھی گئی اور اس تحریک کے بانی نے گورنمنٹ عالیہ برطانوی کی وفاداری اور اطاعت شعاری کو اپنی جماعت کے لئے شرط ایمان قرار دے دیا تا کہ احمدی جماعت کے لوگ حکومت وقت سے زیادہ سے زیادہ سیاسی فوائد حاصل کر سکیں۔ پاکستان بن جانے کے بعد اس سیاسی تنظیم نے پاکستان کے اندر احمدیوں کا جداگانہ حکومتی نظام قائم کر کے اس امر کی کوششیں شروع کر دیں کہ پاکستان پر احمدیوں کا حکومتی اقتدار قائم کر لیا جائے۔ احمدیوں کے یہ خطرناک سیاسی عزائم بھی عامۃ المسلمین کے اضطراب کو ترقی دینے کا موجب بنے۔ متذکرہ صدر بیانات کے ثبوت میں ذیل کے شواہد اجمالی طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ۳۱۳ مریدوں کی جو پہلی فہرست شائع کی اس سلسلہ میں لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو درخواست بھیجی۔

صفحہ ۴۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس میں لکھا: ”سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جان نثار ثابت کر چکی ہے۔ اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت ہی احتیاط اور تحقیق سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداریوں اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔“

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱)

”اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل وجان سے خیرخواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔“

(ضمیمہ کتاب البریہ ص۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰)

”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(درخواست مرزا بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۹)

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات طبع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیحی خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵)

ہم یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ احمدی جماعت دراصل ایک ایسی جماعت ہے جو مذہب کے رنگ میں سیاسی اور دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ۔ صرف متذکرۃ الصدر شہادتوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ انگریزی حکومت نے اس جماعت کی خوب سرپرستی کی ۔ اس کے افراد کو ہر طریق سے نوازا اور اسے بہت تقویت پہنچائی۔ پاکستان بننے پر احمدی بھی مسلمانوں کی طرح مشرقی پنجاب سے نکال دیئے گئے ۔ حالانکہ وہ ہندوستان کو متحدہ رکھنے کے خواہاں تھے۔ پاکستان میں آنے کے بعد اس سیاسی جماعت نے پاکستان کے اندر اپنا حکومتی نظام قائم کر کے اس ملک کا سیاسی اقتدار حاصل کرنے اور پاکستان کا حکمران بننے کی سازشیں اور کوششیں شروع کر دیں۔ شواہد حسب ذیل ہیں۔

”ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت کی حفاظت اور ان کی کامیابی کے لئے حضرت مسیح موعود نے کیوں دعائیں کیں ۔ حضور (مرزا بشیرالدین محمود) بھی ان کی کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو جنگ میں مدد دینے کے لئے بھرتی ہونے کا اشارہ فرماتے ہیں۔ حالانکہ انگریز مسلمان نہیں ۔ اس کے جواب میں حضور (بشیرالدین) نے جو ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ عرض کیا جاتا ہے۔

صفحہ ۴۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فرمایا: اس سوال کا جواب قرآن حکیم میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو نظارے دکھائے گئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ ایک گری ہوئی دیوار بنا دی گئی۔ جس کی وجہ بعد میں یہ بیان کی گئی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا۔ جس کے مالک چھوٹے، بچے تھے۔ دیوار اس لئے بنا دی گئی کہ ان لڑکوں کے بڑے ہونے تک خزانہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے اور ان کے لئے محفوظ رہے۔ یہ دراصل حضرت مسیح موعود کی جماعت کے متعلق پیش گوئی ہے۔ جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی اس وقت تک ضروری ہے اس دیوار کو قائم رکھا جائے۔ تاکہ یہ نظام کی ایسی طاقت کے قبضے میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔ جب جماعت میں قابلیت پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ یہ وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لئے دعا کرنے اور ان کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۲۵ء)

’’بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبہ کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے۔ پس میں جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے یہ عمدہ موقع ہے۔ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ پس تبلیغ کے ذریعہ بلوچستان کو اپنا صوبہ بنالو۔ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔‘‘

(مرزا محمود کا بیان مندرجہ الفضل مورخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء)

’’جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں سے فوج ہے۔ پولیس ہے۔ ایڈمنسٹریشن ہے۔ ریلوے ہے۔ فنانس ہے۔ اکاؤنٹس ہے۔ کسٹمز ہے۔ انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے شعبے ہیں جن کے ذریعے سے جماعت اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اسی طرح کیوں نہ کرائی جائے جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر جگہ آواز پہنچ سکے۔‘‘

(خطبہ مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۵۲ء)

پاکستان بننے کے بعد احمدی جماعت کی سیاسی تنظیم نے حکومت پاکستان کے مقابلے میں ایک متوازی نظام حکومت قائم کر لیا۔ ربوہ کے مقام پر خالص احمدیوں کی بستی آباد کر کے اس کو نظام حکومت کا مرکز بنالیا گیا۔ جماعت کا لیڈر ’’امیر المؤمنین‘‘ کہلانے لگا جو مسلمانوں کے فرمانروا کا معین شدہ لقب ہے۔ اس امیر المؤمنین کے ماتحت ربوہ میں مرزائی سٹیٹ کی نظارتیں باقاعدہ قائم ہیں۔ نظارت امور داخلہ ہے۔ نظارت امور خارجہ ہے۔ نظارت نشر و اشاعت ہے۔ نظارت امور عامہ ہے۔ نظارت امور مذہبی ہے۔ یہ نظارتیں کسی ریاست یا سلطنت کے نظام حکومت کے شعبوں کی طرح کام کر رہی ہیں۔ اس نظام حکومت نے خدام الاحمدیہ کے نام سے ایک فوجی نظام بھی بنا رکھا ہے جس میں حکومت پاکستان کے توڑے ہوئے، فرقان بٹالین کے سابق سپاہی اور افسر شامل ہیں۔ احمدیوں کی یہ تنظیم پاکستان میں سیاسی تفوق واقتدار حاصل کرنے کے لئے کام کرتی رہی۔ تا آنکہ اس تنظیم کے لیڈر محسوس کرنے لگے کہ پاکستان کا حکمران بن جانا احمدیوں کے لئے کوئی مشکل بات نہیں۔ اس احساس و اعتماد کی بناء پر احمدی لیڈر مسلمانوں کو کھلم کھلا دھمکیاں دینے لگے۔ مثلاً مرزا بشیر الدین محمود نے ربوہ میں اپنی جماعت کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر خارجہ پاکستان چوہدری ظفر اللہ کی موجودگی میں کہا۔

صفحہ 452

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”ہم فتح یاب ہوں گے اور تم مجرموں کے طور پر ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا ۔“ میاں محمد شفیع ایم ۔ ایل ۔ اے کی شہادت طلب کی جائے۔ مہتمم تبلیغ خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے بیان میں کہا۔

”۱۹۵۲ء کو گزرنے نہ دیجئے جب تک کہ احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔“

(الفضل لاہور ج۴۰ نمبر ۴۱ ص ۳ کالم ۳، مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۲ء)

خونی ملّا کے آخری دن

”ہاں! آخری وقت آ پہنچا ہے۔ ان تمام علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا، جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملّا قتل کرواتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔

(الفضل لاہور ج۴۰ نمبر ۱۶۶ ص ۴، مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۵۲ء)

احمدی لیڈروں کے ان قاتلانہ اور تشددانہ رجحانات ان کی حسب ذیل تحریرات سے بھی ظاہر ہیں جو سالوں پہلے لکھی گئیں۔

”خدا تعالیٰ نے آپ کا نام عیسیٰ رکھا تا کہ پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکا دیا تھا۔ مگر آپ اس زمانے کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔“

(تقدیر الٰہی مصنفہ محمود ص ۲۹)

انتقام لینے کا زمانہ

”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔“

(عرفان الٰہی مصنفہ محمود ص ۹۳، ۹۴)

متذکرہ صدر تصریحات سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے مسلمہ معتقدات پر احمدیت کی تحریک کے جارحانہ حملے اور احمدیوں کا اپنا طرزِعمل ان کیفیات کو پیدا کرنے اور ترقی دینے کے ذمہ دار ہیں جو ہنگاموں اور فسادات پر منتج ہوئیں۔

نقطہ نمبر : ۲

ضروری تصریحات

دوسرا عنصر جس پر ان ہنگاموں اور فسادوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ احمدیوں کے ساتھ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کا یک طرفہ ترجیحی سلوک ہے۔ جس نے اس اضطراب کو جو مسلمانوں میں احمدیوں کے طرزِعمل کی وجہ سے پیدا ہوا اور بھی ترقی دی۔ اس امر کے بڑے بڑے شواہد حسب ذیل ہیں۔

صفحہ ۴۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

داموں یعنی ڈیڑھ آنہ فی مربع گز کے حساب سے زمین کا ایک وسیع ٹکڑا دے دیا۔ دوسرے مہاجرین کے ساتھ اس قسم کی کوئی رعایت روا نہ رکھی گئی۔ بلکہ ضلع وار آبادی کی تجویز کو بھی ٹھکرا دیا گیا۔ (اس نقطہ پر چیف سیکرٹری حکومت پنجاب کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے)

بھرتی کر لیا گیا اور اہم کلیدی آسامیوں پر احمدی افسر نمایاں طور پر نظر آنے لگے۔ فوج میں ان کے اعلیٰ افسروں کا تناسب تو بہت ہی حیرت انگیز ہے۔ یعنی ایئر فورس میں پچاس فیصدی زیادہ، بری فوج میں ۳۳ فیصدی سے زیادہ۔ ملٹری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں پچاس فیصدی سے زیادہ حالانکہ آبادی کے لحاظ سے ان کا تناسب پاکستان میں ایک فیصدی بھی نہیں ۔ شواہد حسب ذیل : مرزا بشیر الدین محمود کا بیان جو نقطہ نمبر ۱ کی تصریح کے سلسلے میں احمدی جماعت کے سیاسی عزائم کی وضاحت کرتے۔

(مندرجہ الفضل مورخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۵۲ء)

فہرست اور اشتہارات سکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری حکومت پاکستان کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے۔ کسی ایسے شخص کی شہادت جس نے گورنمنٹ ہاؤس کے اجتماع میں سکندر مرزا کی زبان سے فوجی افسروں میں احمدیوں کے تناسب کی بات سنی۔

(الفضل مورخہ ۶؍ ستمبر ۱۹۵۲ء)

جوان سرکاری خرچ پر فوجی تربیت حاصل کر سکیں۔ شواہد :

شہادت کے طور پر ملاحظہ ہو۔ مرزا بشیر الدین محمود کا بیان۔

’’میں مغربی پاکستان والوں (مقامی) احمدیوں کو لیتا ہوں۔ خدا تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل کیا ہے۔ انہوں نے اس طرف اپنی جائیداد کا کوئی حصہ نہیں چھوڑا۔ لیکن اس طرف انہوں نے دوسروں کے ساتھ برابر کا حصہ لیا ہے۔ سینکڑوں ایسے آدمی ملتے ہیں۔ جن کی پہلے کوئی جائیداد نہیں تھی۔ اب وہ کارخانوں کے مالک بن گئے۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو ہندوستان سے باہر گئے ہوئے تھے۔ فسادات میں وہ یہاں آگئے تاکہ لوٹ مار میں ان کو حصہ مل جائے۔ بہت سے شہروں میں ایسا ہوا ہے۔ بہر حال اکثر کی اقتصادی حالت پہلے سے بہت اچھی ہے۔ ہند سے آنے والے اب اکثر دوست آباد ہو چکے ہیں اور ان کی مالی حالت آگے سے بہت اچھی ہے۔ کیونکہ ہندوؤں کی بچی ہوئی تجارت اور کارخانے انہیں مل گئے ہیں اور ان میں سے بعض آگے سے دس دس بیس بیس گنا زیادہ کما رہے ہیں۔ مجھے بعض لوگوں کا حال معلوم ہے۔ مشرقی پنجاب میں اگر وہ سات آٹھ ہزار کا مال لٹا کر آئے تھے تو آج وہ آٹھ دس لاکھ کے مالک بن گئے ۔ ایک شخص کے متعلق میں نے سنا ہے وہ قادیان کا ایک تاجر تھا۔ چھابڑی پر چیزیں بیچا کرتا تھا۔ اس نے بائیس ہزار کی موٹر لی ہے۔ اکثر حصہ غرباء کا (ایسا) ہے جو ہزاروں سے لکھ پتی بن گئے ۔‘‘

(الفضل لاہور ج ۲ نمبر ۷۵ ص ۵ کالم ۱ تا ۳، مورخہ ۵؍ دسمبر ۱۹۴۸ء)

صفحہ ۴۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کاموں کے سلسلے میں ان سے واسطہ پڑتا تھا۔ کھلم کھلا احمدیت کی تبلیغ کرتے رہے۔ پاکستان کا وزیر امور خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان باہر کے ملکوں میں احمدیت کے پرجوش مبلغ کی حیثیت سے کام کرتا رہا اور گورنمنٹ نے سالہا سال تک کوئی نوٹس نہ لیا۔

شواہد بصورت ذیل:

۱۱؍جنوری ۱۹۵۲ء، ۱۷؍دسمبر ۱۹۵۰ء۔

ایک مضمون۔

مندرجہ الفضل مورخہ ۶؍ستمبر ۱۹۵۲ء، مندرجہ اخبار آزاد لاہور مورخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۵۲ء۔

ان کو قادیانیوں کے عقیدہ ان کی سرگرمیوں اور ان کے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے کردار وغیرہ سے موضوعات پر تنقید یا تبصرہ کرنے سے منع کردیا۔

شہادت کے لئے مولانا احسان احمد شجاع آبادی خطیب شاہی مسجد شجاع آباد ضلع ملتان کو اور دوسرے احرار لیڈروں کو طلب کیا جائے۔ احمدیوں کے ساتھ حکومت کا ترجیحی سلوک اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ حکومت پاکستان نے مولانا شبیر احمد عثمانی کا رسالہ ’’الشہاب‘‘ جو گزشتہ تین سال سے برابر چھپ رہا تھا۔ ضبط کرلیا اور اس طرح انجمن خدام الاحمدیہ کا پمفلٹ یوم مصلح موعود کراچی ایڈمنسٹریشن نے ضبط کر لیا۔ لیکن احمدیوں کے بدرجہ غایت اشتعال انگیز لٹریچر کی طرف کوئی توجہ مبذول نہ کی۔

۱۷، ۱۸؍مئی ۱۹۵۲ء کو احمدیوں نے کراچی میں ایک تبلیغی کانفرنس منعقد کی جس میں گورنمنٹ کے بڑے بڑے احمدی عہدیدار اور افسر اشتہارات میں اپنا نام اور عہدہ چھپوا کر شریک ہوئے اور پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے دونوں دن اس کانفرنس میں احمدیت کا پرچار کیا۔ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے پولیس کا خاص اہتمام کیا گیا اور غیر ملکی سفارتوں کے ارکان کو وزیر خارجہ پاکستان کی زبان سے احمدیت کا پیغام سنانے کے لئے خاص طور پر مدعو کیا گیا۔ یعنی احمدیوں کی یہ تبلیغ کانفرنس حکومت پاکستان کی سرپرستی میں منعقد کی گئی۔ پولیس نے لوگوں کو لاٹھیوں کے بل پر چوہدری صاحب کی اشتعال انگیز باتیں سننے کے لئے مجبور کیا۔ اس سے کراچی کے عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور دو دن تک ہنگامہ برپا رہا۔ شواہد:

’’آزاد‘‘ لاہور، روزنامہ ’’انجام‘‘ ایڈیٹر حضرات کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے۔

صفحہ ۴۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روزنامہ ”جنگ“ کراچی، روزنامہ ”ڈان“

حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے اس قسم کے رجحانات نے بھی مسلمانوں کے اضطراب کو ترقی دی جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ پاکستان میں احمدیوں کی حکومت قائم کرنے اور احمدیت کو اس ملک میں سرکاری مذہب بنانے کے لئے خاص کوششیں سرکاری طور پر کی جا رہی ہیں۔

نقطہ نمبر: ۳

حکومت کی لا پرواہی اور مسائل متعلقہ کو حل کرنے میں ناکامی

تیسرا عنصر جس پر مسلمانوں کے اضطراب عمومی کو ترقی دینے اور ناگوار حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عامتہ المسلمین کی شکایات اور ان کے اضطراب کی طرف سے حکومت کی لاپرواہی اور اس سلسلے میں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے میں اس کی ناکامی ہے۔ ان کیفیات کی وجہ سے جو نقطہ نمبر۱، نقطہ نمبر۲ میں بیان ہوئیں۔ مسلمانوں کا اضطراب بڑھتا گیا۔ کراچی کی نیم سرکاری احمدی تبلیغی کانفرنس کے بعد اس اضطراب نے عام احتجاج کی شکل اختیار کرلی۔ کراچی میں مظاہرے ہوئے۔ سندھ اور پنجاب میں یوم احتجاج منایا گیا۔ پنجاب کے کونے کونے میں مظاہرے ہونے لگے۔ جنہوں نے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کی صورت اختیار کر لی۔ حکومت پنجاب نے مسلمانوں کو مسئلہ ختم نبوت کی تبلیغ کرنے سے روکنے کے لئے متعدد مقامات پر دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی تا آنکہ مساجد میں دینی وعظ کہنے پر بھی پابندی عائد کر دی اور علماء اور خطبائے مساجد کو مسجدوں میں خطبہ دینے اور وعظ کہنے کی بناء پر گرفتار کر لیا۔

شہادت کے لئے طلب کریں۔

دو تین ماہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ ان حالات میں تا آنکہ اس خطرۂ عظیم کا مقابلہ کرنے کے لئے جو دین اسلام کے بنیادی عقائد کو احمدیوں کی حد سے بڑھی ہوئی سرگرمیوں کے باعث نیز حکومت کے مرزائیت نوازانہ رجحانات کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔ آئینی ذرائع سے پرامن جدوجہد کی جائے۔ اس مقصد کے پیش نظر کراچی میں علمائے اسلام کا ایک بورڈ بنایا گیا۔

۱۳ / جولائی ۱۹۵۲ء کو لاہور میں آل مسلم پارٹیز کنونشن منعقد ہوئی۔ جس میں پنجاب کے مختلف مقامات سے کوئی دو سو علمائے اسلام اور مشائخ عظام شریک ہوئے اور مسلمانوں کے احساسات پر مبنی قراردادیں منظور کی گئیں اور چند مطالبات حکومت کے سامنے پیش کرنے اور منظور کرانے کے لئے تشکیل کئے گئے۔ اس مقصد کی جدوجہد کرنے کے لئے بائیس ارکان پر مشتمل ایک مجلس عمل بنائی گئی جس میں حسب ذیل اسلامی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔

صفحہ ۴۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کنونشن کے انعقاد اور مجلس عمل کے قیام کے وقت پنجاب کے شہروں میں چوہدری ظفر اللہ خان کی تبلیغی کانفرنس (مذکورہ بالا) کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے۔ مجلس عمل نے حالات کو پرسکون بنایا۔ لوگوں کو پر امن رہنے کی صبر و تحمل سے کام لینے کی تلقین کی۔ انہی حالات میں ملتان میں پولیس نے مظاہرہ کرنے والے ہجوم پر گولی چلا دی۔ ملتان میں اشتعال پھیلا اور عوام نے مسلسل ہڑتال کر دی۔ مجلس عمل کے وفد نے ملتان پہنچ کر حالات میں سکون پیدا کیا۔ ہڑتال کھلوائی اور لوگوں کو مظاہرے کرنے سے روکا۔ ملتان کے حالات اس وقت بہت مخدوش تھے۔ وزراء اور حکام سکون پیدا کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔ مجلس عمل کے وفد نے حالات کو درست کیا۔ تائید کے لئے شہادتیں طلب کی جائیں۔

مجلس عمل کے ایک وفد نے ۱۱؍ اگست ۱۹۵۲ء سے لے کر ۱۵؍ اگست تک کراچی پہنچ کر وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین اور بعض دیگر مرکزی وزراء سے متعدد ملاقاتیں کر کے انہیں مسلمانوں کے اضطراب اور احساسات سے باخبر بنانے کی کوشش کی اور مطبوعہ محضر نامے کی صورت میں مطالبات پیش کئے۔ شہادت کے طور پر مطبوعہ محضر نامے کی ایک کاپی اس بیان کے ساتھ شامل کی جاتی ہے۔ (ضمیمہ نمبر ۱)

شہادت کے لئے طلب کیا جائے ۔

صفحہ ۴۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس عمل کے ایک وفد نے ۲۹؍ستمبر ۱۹۵۲ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ سے ملاقات کر کے مطبوعہ یادداشت کی شکل میں مسلمانوں کی ایسی شکایات پیش کیں جو اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس مطبوعہ یادداشت کی ایک کاپی بطور شہادت اس بیان کے ساتھ شامل کی جارہی ہے۔

(ضمیمہ نمبر۲)

مجلس عمل نے پنجاب کے مختلف شہروں میں جلسے اور کانفرنسیں منعقد کر کے لوگوں کو پرامن رہنے اور اپنے مطالبات منوانے کے لئے آئینی طریق کار پر حصر کرنے کی تلقین کی۔ مجلس عمل کی ان کوششوں کے باوجود ارباب حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی شکایات کے ازالہ کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔ مرکزی وزراء اور صوبائی وزیر اعلیٰ جن سے مجلس عمل کے وفد نے ملاقاتیں کیں ۔ اصولی طور پر مجلس کے مؤقف کو صحیح تسلیم کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ختم نبوت کے عقیدے کو بنائے ایمان تسلیم کرتے ہیں۔ ہم بھی وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو مسلمانوں کا ہے۔ لیکن حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب دونوں نے عامتہ المسلمین کے جائز مطالبات کی طرف کسی قسم کا دھیان مطلقاً نہ دیا۔ حکومت کی بے اعتنائی کی وجہ سے عوام کا اضطراب اور بھی ترقی کر گیا اور عامتہ المسلمین مجلس عمل سے جدوجہد کے نتائج کے متعلق باز پرس کرنے لگے۔

۱۶؍جنوری ۱۹۵۳ء کو بعد نماز جمعہ کراچی میں سارے پاکستان کے سرکردہ علمائے اسلام کا ایک نمائندہ اجتماع آل پاکستان آل مسلم پارٹیز کنونشن منعقد ہوا۔ جس میں احمدیت کے سوال پر حکومت پاکستان کی روش پر عمومی تبصرے کئے گئے اور ایک سب جیکٹ کمیٹی بنادی گئی۔ اس کنونشن میں حسب ذیل حضرات شریک ہوئے۔

(۱) حضرت ابوالاعلیٰ مودودی صاحب صدر جماعت اسلامی لاہور، (۲) حاجی محمد امین صاحب امیر جماعت ناجیہ، خلیفہ حاجی ترنگ زئی پشاور، (۳) حضرت پیر سرسینہ شریف امیر حزب اللہ بنگالی ڈھاکہ، (۴) مولانا راغب حسن ایم۔ اے ڈھاکہ، (۵) مولانا عزیز الرحمٰن ناظم حزب اللہ ڈھاکہ، (۶) مولانا اطہر علی ڈھاکہ، (۷) مولانا سخاوت الانبیاء ڈھاکہ، (۸) مولانا یوسف بنوری، صدر مدرس دارالعلوم ٹنڈو اللہ یار، (۹) مولانا شمس الحق افغانی وزیر معارف قلات، (۱۰) مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی، (۱۱) مولانا احمد علی صدر جمعیۃ علمائے اسلام شیرانوالہ دروازہ لاہور، (۱۲) مولانا محمد حسن جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور، (۱۳) مولانا محمد ادریس صدر مدرس جامعہ اشرفیہ لاہور، (۱۴) مولانا ظفر احمد انصاری سیکرٹری تعلیمات بورڈ کراچی، (۱۵) مولانا سید سلیمان ندوی صدر تعلیمات اسلامیہ بورڈ کراچی، (۱۶) مولانا محمد شفیع مفتی دیوبند ممبر تعلیمات اسلامیہ بورڈ کراچی، (۱۷) مولانا سلطان احمد امیر جماعت اسلامی کراچی و سندھ، (۱۸) مولانا مفتی صاحب داد خاں عربیک ٹیچر سندھ مدرسہ کراچی، (۱۹) مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیۃ العلماء کراچی و سندھ، (۲۰) مولانا محمد یوسف کلکتوی صدر جمعیۃ اہل حدیث کراچی، (۲۱) مولانا اسماعیل ناظم جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان، (۲۲) مولانا سید داؤد غزنوی صدر جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان ایم۔ایل۔اے، (۲۳) مولانا محمد علی جالندھری جنرل سیکرٹری احرار پنجاب ملتان، (۲۴) مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری امیر شریعت ملتان، (۲۵) مولانا متین ناظم جمعیۃ العلماء اسلام کراچی، (۲۶) مولانا احتشام الحق تھانوی کنوینیئر آل پارٹیز کنونشن کراچی، (۲۷) مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان وصدر مجلس عمل لاہور۔ ان کے علاوہ اور بہت سے علماء تھے جن کی لسٹ آل پارٹیز کنونشن کے کنوینیئر کے پاس ہے۔

صفحہ ۴۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۷؍ جنوری ۱۹۵۳ء کی شام کو بعد مغرب سب جیکٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور ۱۸؍ جنوری کو کنونشن کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں بحث و تمحیص کے بعد حسب ذیل تجویز منظور کی گئی۔

آل مسلم پارٹیز کنونشن پاکستان کی قرارداد

’’اس حقیقت کے پیش نظر کہ خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان کی بے بس حکومت نے قوم کے متفقہ مطالبات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا اور اب موجودہ حکومت سے مرزائیوں کے متعلق مسلمانوں کے مطالبات منظور ہونے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ آل مسلم پارٹیز کنونشن کا یہ اجلاس اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ بحالات موجودہ قوم کے بنیادی مطالبات کو منوانے کے لئے براہ راست اقدام از بس ناگزیر ہے۔ جسے بروئے کار لانے کے لئے ذیل کی صورتیں اختیار کی جائیں۔

ہوئی۔ اس لئے ازخود اس فرقہ مرزائیہ کو ملت اسلامیہ سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کے لئے تمام وسائل اختیار کرتے ہوئے ان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے۔

بیزاری کا اظہار کر چکی ہے۔ مگر موجودہ حکومت مختلف حیلوں اور بہانوں سے اس کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔ لہٰذا یہ کنونشن اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب ہے کہ خواجہ ناظم الدین کی کابینہ فی الفور مستعفی ہو جائے۔ تاکہ اسلامیان پاکستان اپنے دینی عقائد اسلامی روایات کو مکمل طور پر محفوظ کر سکیں۔

اسلامی شخصیتوں اور مختلف دینی جماعتوں کے نمائندگان کو اپنی جنرل کونسل کا رکن قرار دے۔

اراکین کو یہ کونسل منتخب کر کے اسے اختیار دے کہ وہ جنرل کونسل کے اور ارکان میں سے سات مزید ارکان کو مجلس عمل کے لئے منتخب کرے۔ منتخب شدہ آٹھ ارکان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں:

صفحہ ۴۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مناسب لائحہ عمل مرتب کرے۔

دے کر مرکزی کابینہ سے ملاقات کرے اور اسے قوم کے آخری فیصلہ سے مطلع کرے۔ اگر مناسب سمجھے تو دو ٹوک جواب حاصل کرنے کے لئے مناسب دنوں کی مہلت بھی دے۔

نیز مجلس عمل کا فرض ہے کہ وہ اپنے طے کردہ پروگرام کی تکمیل کے سلسلہ میں عوام الناس کو بہرحال پر امن رہنے کی تلقین کرے۔

اسی اجلاس میں اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک مرکزی مجلس عمل بنائی گئی۔ جس کے آٹھ ارکان وہیں اجلاس میں منتخب کر لئے گئے اور ان آٹھ ارکان کو اختیار دیا گیا کہ وہ باقی ماندہ سات ارکان کو خود نامزد کر کے تعداد پوری کر لیں۔ نماز مغرب کے بعد آٹھ ارکان کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مزید ارکان کے نام تجویز کر کے تعداد پوری کر لی گئی۔ اس مرکزی مجلس عمل کے ارکان بصورت ذیل تھے۔

منتخب ارکان

نامزد ارکان

نیز مرکزی مجلس عمل نے ۱۸؍ جنوری ۱۹۵۳ء کے اجلاس شب میں ایک وفد ترتیب دیا جو نوٹس کو خواجہ صاحب کی خدمت میں پیش کر کے معاملہ کی اہمیت واضح کرلے اور انہیں مقررہ میعاد کے اندر مطالبات منظور کر لینے پر آمادہ کرے۔ چنانچہ ۲۲؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو ایک وفد نے مولانا عبدالحامد بدایونی کی سرکردگی میں خواجہ صاحب سے ملاقات کی۔ اس وفد میں مولانا بدایونی کے علاوہ حضرت پیر سرسینہ شریف بنگال ڈھاکہ، سید مظفر علی شاہ شمسی سیکرٹری ادارہ تحفظ حقوق شیعہ لاہور اور ماسٹر تاج الدین انصاری صدر احرار شامل تھے۔ خواجہ نے حسب سابق معذوری کا اظہار کیا۔ مگر مطالبات سے ہمدردی بدستور ظاہر فرمائی اور مطالبات مان لینے پر آمادہ نہ ہوئے۔

خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان ۱۶؍ فروری ۱۹۵۳ء کو سرکاری دورہ پر سرگودھا اور لاہور تشریف لائے۔ انہیں یہ یقین دلانے کے لئے کہ مجلس عمل کے پیش کردہ مطالبات کی پشت پر قوم کس مستعدی سے کھڑی ہے۔ مجلس عمل نے اعلان کر دیا کہ ہر دو مقامات پر جہاں خواجہ صاحب تشریف لا رہے ہیں وہاں ان کی تشریف آوری کے دن مکمل ہڑتال کر دی جائے۔ چنانچہ سرگودھا اور لاہور میں مکمل اور

صفحہ ۴۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر امن ہڑتال ہوئی۔ اسی دن خواجہ صاحب سے ملاقات کا وقت مانگا تا کہ انہیں آخری بار معاملہ کی اہمیت سمجھادی جائے۔ رات کو ۸؍ بجے گورنمنٹ ہاؤس میں چند آدمیوں کے وفد نے خواجہ صاحب سے ملاقات کی ۔

دوران گفتگو خواجہ صاحب نے اپنی مجبوری کو بے نقاب کیا اور فرمایا کہ میں جانتا ہوں ۔ اگر آج مجلس عمل کے مطالبات کو مان لوں تو سارے پاکستان میں پاپولر ہو جاؤں ۔ میرے لئے زندہ باد کے نعرے لگیں اور میں پھلوں سے لد جاؤں ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ امریکہ سے جو معاملات طے ہونے ہیں وہ خراب ہو جائیں گے ۔ ظفر اللہ کو ہٹا دو تو گندم کا ایک دانہ نہ ملے گا۔ تم لوگ میری مشکلات کو نہیں جانتے ۔ اس حقیقت کے انکشاف نے ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا کہ اگر آج سر ظفر اللہ خان کی یہ پوزیشن ہے تو کل وہ اور زیادہ اہمیت حاصل کر جائیں گے اور بالآخر ملک مرزائیوں کے رحم و کرم کا محتاج ہو جائے گا اور یہ کہ حکومت پاکستان بیرونی طاقت سے مرعوب ہے اور اس بیرونی طاقت کا اصلی مہرہ سر ظفر اللہ خان ہے ۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ مجلس عمل پر کلی اعتماد کا اظہار کرتے اور ہر حکم کی تعمیل کے لئے آمادہ نظر آتے تھے ۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی آمد سے ایک روز قبل نسبت روڈ پر ایک جلسہ کا اعلان تھا۔ ساری رات سڑک پر جلسہ عام میں لوگوں کا اژدھام تھا۔

جلسہ ابھی شروع نہ ہوا تھا کہ جلسہ گاہ کی اسٹیج کے بالکل متصل ایک مرزائی کے مکان سے خشت باری شروع ہوئی۔ جس سے عوام کے علاوہ ایک معصوم بچی کا سر پھٹ گیا۔ وہ خون میں نہا گئی۔ لوگ اسے اٹھا کر اسٹیج پر لے آئے ۔ عوام کے جذبات مشتعل ہو گئے ۔ اسی وقت ذمہ دار اراکین مجلس عمل اسٹیج پر پہنچ گئے اور عوام کو خطاب کر کے جذبات پر قابو پالیا۔ اس بات نے ثابت کر دیا کہ عوام کو مجلس عمل کے رہنماؤں پر کلی اعتماد ہے اور کہ عوام انتہائی اشتعال دلانے کے باوجود بے قابو نہیں ہیں اور تحریک کو پر امن چلانے کے لئے انتہائی صبر کا ثبوت دیں گے۔

۱۴، ۱۵؍ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور میں مرکزی مجلس عمل کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں قرار پایا کہ مجلس عمل کے رہنماء کراچی جا کر خواجہ صاحب سے ملیں ۔ چنانچہ ۲۶؍ فروری ۱۹۵۳ء کو جب کہ نوٹس کی میعاد ختم ہوئے ۔ تین دن گزر چکے تھے ۔ مجلس عمل کے وفد نے خواجہ صاحب سے آخری ملاقات کی اور انہیں سب نشیب و فراز سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مجبور محض ہیں اور کہ حکومت پاکستان کی اصل طاقت سر ظفر اللہ خان ہیں ۔ خواجہ صاحب کی کوٹھی سے واپسی پر مجلس عمل کے ارکان جن میں جماعت اسلامی ، جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ اہل حدیث ، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ، تنظیم اہل سنت ، جمعیۃ علمائے اسلام ، مجلس احرار اسلام وغیرہ کے نمائندگان شامل تھے، کا اجلاس منعقد ہوا جس کی روئیداد حسب ذیل ہے ۔ یہ آخری اجلاس تھا۔ جس کے بعد رات کو جلسہ عام ہوا ۔ آرام باغ میں ایک لاکھ آدمیوں کا اجتماع تھا۔ یہ جلسہ رات کو ایک بجے ختم ہوا اور تین بجے رات کو مجلس عمل کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

روئیداد اجلاس مجلس عمل آل مسلم پارٹیز کنونشن کراچی منعقدہ ۲۶؍ فروری ۱۹۵۳ء

زیر صدارت حضرت مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد صاحب قادری مدظلہ، سب سے پہلے عبد الحامد قادری بدایونی نے تلاوت قرآن کریم فرمائی ۔ اس اجلاس میں مولانا سلطان احمد صاحب امیر جماعت اسلامی سندھ و کراچی ، سید مظفر علی شمسی علی الترتیب جماعت اسلامی پاکستان اور ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان کی جانب سے بحیثیت نمائندگان شریک ہوئے ۔ جناب صدر نے فرمایا کہ گزشتہ اجلاس منعقدہ

صفحہ ۴۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۸/ جنوری ہم نے حکومت کو آخری نوٹس دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ نوٹس حکومت کو باضابطہ طور پر مجلس عمل کے وفد کی معرفت پہنچا دیا گیا تھا۔ اس نوٹس کی آخری تاریخ ۲۳/ فروری کو ختم ہو چکی ہے۔

آج نوٹس کی میعاد ختم ہوئے تین دن گزر چکے ہیں۔ آج ہمیں آخری فیصلہ کرنا ہے کہ راست اقدام کی پرامن صورت کیا ہو۔ اس مرحلہ پر موجود اراکین میں عملی اقدام کے بارے میں تقریباً دو گھنٹہ تک بحث ہوتی رہی۔ کافی بحث وتمحیص کے بعد یہ طے پایا کہ تحریک کو بہت زیادہ پرامن رکھنے کے لئے صرف پانچ رضا کار پلے کارڈ لے کر وزیراعظم کی کوٹھی پر جا کھڑے ہوں۔ پلے کارڈ پر مطالبات لکھے ہوئے ہوں اور ہمارے رضا کار عوام سے بالکل الگ محفوظ راستہ سے گزر کر وزیراعظم کی کوٹھی پر جا کھڑے ہوں اور جہاں کوٹھی کے پہرہ دار رضا کاروں کو روکیں رضا کار وہیں کھڑے ہو جائیں اور یہ کہیں کہ ہم یہ مطالبات وزیراعظم کو دکھانے اور ان سے درخواست کرنے آئے ہیں کہ وہ قوم کے ان متفقہ مطالبات کو مان لیں اور یہ بھی کہیں کہ ہم اس صورت میں واپس ہو سکتے ہیں۔ جب کہ وزیراعظم صاحب ان مطالبات کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔ اگر یہ پانچ رضا کار گرفتار کر لئے جائیں تو کونسل آف ایکشن ہر روز دوسرے پانچ رضا کاروں کو بھیج دیا کرے اور طے شدہ پالیسی کے مطابق تحریک کو بہر حال پرامن رکھا جائے۔

اس مرحلہ پر حضرت مولانا احتشام الحق نے ایک خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ ممکن ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جائے کہ یہ صرف بنگالی وزیراعظم کی مخالفت کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا ابھی سدباب ہو جانا چاہئے۔ بحث جاری تھی اور اجلاس نماز عصر کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ ملتوی شدہ اجلاس بعد نماز عصر زیر صدارت حضرت مولانا سید محمد احمد صاحب قادری شروع ہوا اور حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کا مشورہ قبول کرتے ہوئے قرار پایا کہ :

تک پہنچیں تاکہ عوام ان کے ساتھ اژدہام نہ کریں۔ ان رضا کاروں کی گرفتاری پر دوسرے دن پھر پانچ پانچ رضا کار ہر دو کوٹھیوں پر بھیج دیئے جائیں۔ یہ سلسلہ روزانہ ۱۰/ بجے صبح سے جاری رہے تا آنکہ قوم کے متفقہ مطالبات کو حکومت تسلیم کرے۔

گرفتاری پر جس دوسرے رفیق کو وہ مناسب سمجھیں نگران مقرر کر دیں۔

کاروبار جاری رکھیں اور رضا کاروں کے ہمراہ ہرگز نہ جائیں اور اس مقدس تحریک کو بہر حال پرامن طریقہ پر چلانے میں امداد فرمائیں۔ ان اہم فیصلوں کے بعد اجلاس دعائے خیر پر ختم کر دیا گیا۔

اس اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات شریک تھے:

صفحہ ۴۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲۶ فروری اور ۲۷ فروری کی درمیانی شب آرام باغ کراچی میں ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ جو صبح کے ایک بجے تک جاری رہا۔ جس میں حسب قرارداد مرکزی مجلس عمل عامتہ الناس کو تلقین کی گئی کہ وہ امن وسکون کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھیں اور وزیر اعظم پاکستان کی خدمت میں مطالبات پیش کرنے والے رضا کاروں کے ہمراہ ہرگز نہ جائیں۔ ’’ان حالات کی تصدیق کے لئے مرکزی مجلس عمل کے ارکان کی شہادتیں طلب کی جائیں۔‘‘

اسی ۲۶/۲۷ فروری کی درمیانی شب کو حکومت پاکستان نے رات کے ایک بجے کابینہ کا اجلاس منعقد کر کے اس پرامن تحریک کو تشدد اور طاقت کے بل پر کچلنے کا فیصلہ کر لیا۔ ( شہادت کے لئے ملاحظہ ہو۔ خواجہ ناظم الدین کا بیان جو انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان میں پڑھ کر سنایا )

۲۷ فروری کی صبح کو کراچی میں تحریک کے تمام بڑے بڑے قائد جو وہاں وزیر اعظم سے جواب باصواب حاصل کرنے کی امید پر گئے ہوئے تھے۔ گرفتار کر لئے گئے۔ اس طرح عامتہ المسلمین اپنے ان رہنماؤں کی رہنمائی سے محروم کر دیئے گئے جو تحریک کو پرامن اور منظم طریق سے چلانا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود تحریک پرامن طریق سے شروع ہو گئی اور دس دس، پانچ پانچ رضا کاروں کے جتھے مختلف شہروں سے کراچی کی طرف جانے لگے۔ رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر سے لاہور میں اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں ایک عام ہیجان پیدا ہوا اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ جن کا راست اقدام کی تحریک سے کوئی تعلق نہ تھا۔ تاہم یہ مظاہرے پرامن تھے۔ ۲۷ فروری سے لے کر ۲/ مارچ ۱۹۵۳ء تک لاہور میں اور لاہور سے باہر کسی اور جگہ کسی قسم کا ناگوار حادثہ پیش نہ آیا۔ ان ایام میں حکومت پنجاب نے بھی تحریک کے بااثر اور ذمہ دار لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے باوجود مظاہرے پرامن طریق سے جاری رہے اور راست اقدام کرنے والوں نے اپنے آپ کو پرامن اور منظم طریق سے گرفتاری کے لئے پیش کرنے کے سوا اور کسی قسم کا اقدام نہ کیا۔

(۳/ مارچ ۱۹۵۳ء کے اخبارات کی رپورٹیں سرکاری اعلان )

یہ تصریح نقطہ نمبر ۳ کے سلسلے میں ہے کہ حکومت سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود نیز مجلس عمل کی پیہم عرض داشتوں کے باوجود متعلقہ مسائل کو تدبیر وتدبر سے حل کرنے میں قاصر رہی اور ارباب حکومت نے حالات رو بہ اصلاح لانے کی طرف سے عمداً تساہل اور لاپروائی سے کام لیا۔ اس لئے ہنگاموں اور فسادات کی ذمہ داری بہت بڑی حد تک حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب دونوں پر عائد ہوتی ہے۔

نقطہ نمبر: ۴

ضروری تصریحات

حکومت اور حکام کے اشتعال انگیز اقدامات۔

ہنگامے پیدا کرنے کی ذمہ داری حکومت اور حکام کے اشتعال انگیز اقدامات پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مثلاً :

صفحہ ۴۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے چلائی ہے جن کے ساتھ بعض دوسرے عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی تمام مذہبی جماعتوں کی تحقیر ”بعض دوسرے عناصر“ کہہ کر کی گئی۔ احمدیوں کے خلیفۃ المسیح مرزا بشیر الدین محمود نے بھی چند دن پہلے اس تحریک کو احرار اور ان کے ساتھیوں کی تحریک ظاہر کیا تھا۔ سرکاری اعلانات کے ان خالص احمدی خدوخال نے عوام کے ہیجان کو ترقی دی۔ شواہد حسب ذیل ہیں۔

مرزا محمود کا خطبہ مختصراً مطبوعہ الفضل مورخہ ۱۵؍فروری ۱۹۵۳ء

ابتدائی تمہید کے بعد مرزا محمود نے کہا احباب کو معلوم ہے کہ احرار اور ان کے ساتھیوں نے احمدیت کے خلاف نئے سرے سے شورش شروع کر دی ہے۔ اسلام اور اس کے ارکان کا نام تو یہ لوگ دھوکہ دینے کے لئے لیتے ہیں۔ دراصل وہ اپنے دوست شیطان کے ذکر کو بلند کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے۔ روندی یاراں نوں لے لے نام بھراواں دا۔

اسلام اور قرآن کا نام تو یہ لوگ یونہی اسے بدنام کرنے کے لئے لیتے ہیں۔ اصل میں فتنہ پرداز لوگ اولیاء الطاغوت ہوتے ہیں۔ ان کی غرض طاغوت کے ذکر کو بلند کرنا اور اس کے اخلاق کو دنیا میں پھیلانا ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کو بھی ہوشیار ہو جانا چاہئے۔ احرار اور ان کے ساتھیوں نے ۲۲؍فروری کو آخری نوٹس دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد یہ لوگوں کو احمدیوں کے خلاف اکسائیں گے۔

صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک سازش ہے۔ اس سازش کو چھپانے کے لئے بزدل اور کمینے لوگ دوسروں کا نام لے کر شرارت کرتے ہیں۔ اگلا جمعہ اس نوٹس کے لحاظ سے آخری جمعہ ہوگا اور اگلے اتوار کو ان کا نوٹس ختم ہو جائے گا۔ میری کوشش ہو گی کہ یہ خطبہ اتوار کے اخبار میں چھپ جائے۔ پس جب اور جہاں یہ خطبہ پہنچے۔ جماعت فوراً اجلاس بلائے اور مشورہ کرے کہ ان کے لئے کیا کیا خطرات ممکن ہیں اور ان کے کیا کیا علاج تجویز کرنے ہیں۔ ہم تو صرف ایک بات جانتے ہیں کہ مومن منظم ہوتا ہے اور سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ہوتا ہے اور سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار کو کوئی توڑ نہیں سکتا اور اگر وہ ٹوٹتی ہے تو اکٹھی ٹوٹتی ہے۔ پس تم اپنی جگہ مت چھوڑو۔ آپس میں مشورہ کرو اور مرکز میں اپنی تجاویز پہنچاؤ۔ یاد رکھو تم نے احمدیت کو سچا سمجھ کر مانا ہے تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ احمدیت خدا تعالیٰ کی قائم کی ہوئی ہے۔ مودودی، احراری اور ان کے ساتھی اگر احمدیت سے ٹکرائیں گے تو ان کا حال اس شخص کا سا ہو گا جو پہاڑ سے ٹکراتا ہے۔ میں مکرر احباب کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ فتنہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ویسا ہی خطرناک ہے جیسا کہ ہمارے لئے اس لئے ان سے بھی جہاں جہاں وہ ہوں۔ مشورہ کریں اور اپنی حفاظت کی سکیم میں ان کو شامل کریں۔

ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر ۳ مشتملہ بیان ہذا نیز اخبار تسنیم مورخہ ۲۷؍ فروری جس میں حکومت پاکستان کا پہلا اعلامیہ شائع ہوا ہے۔ اعلان حکومت پاکستان مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء جو سرکاری طور پر چھاپ کر تقسیم کیا گیا۔

شہادت

(۱) پاکستان ٹائمز۔ (۲) زبانی شہادتیں۔

صفحہ ۴۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

داخل ہوگئے اور مسجد میں بوٹوں اور جوتوں سمیت داخل ہوئے۔

زبانی شہادتیں

اور اخبارات کے حوالہ ہیں۔ خطیب صاحب موصوف اور ان کے بڑے صاحبزادے کو طلب کیا جائے۔ (مفتی محمد شفیع صاحب منٹگمری جیل میں ہیں)

شہادت

مارچ کو پنجاب کی مجلس وزراء کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اور حکام کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے پبلک میں اشتعال پھیلے۔ اس سے ثابت ہے کہ بعض حکام نے اشتعال انگیز حرکتیں کی تھیں اور کوئی عنصر سرکاری ملازمین میں ایسا تھا کہ جو عمداً اشتعال انگیزی کر رہا تھا۔

(ممتاز محمد دولتانہ کی شہادت)

نقطہ نمبر : ۵

ضروری تصریحات

احمدیوں کے منظم گروہوں اور افراد کی امن شکن حرکات

عوام کو اشتعال دلانے اور متشددانہ اقدامات کی مثال قائم کرنے میں احمدی جماعت کی منظم ٹولیوں نے اور ان کے افراد نے کام کیا اور قتل و آتش زدگی اور پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کے مرتکب ہوئے۔ مثلاً :

فوجی وردیاں پہن کر اور جیپ کاروں میں بیٹھ کر مسلمانوں کے ہجوموں پر سٹین گنوں اور ریوالوروں سے فائر کئے۔

روڈ یا ٹمپل روڈ ۔

کو چھاپنے والی سائیکلو سٹائل مشین احمدیوں کی عبادت گاہ سے پکڑی گئی ۔

شہادت

علاوہ ازیں اعلیٰ و ادنیٰ مرزائی سرکاری افسروں نے حالات کو بدتر بنانے کے لئے کوششیں کیں۔ مثلاً:

صفحہ ۴۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور ۶؍ مارچ کو مسلمانوں کے ہجوم پر بلاوجہ ریوالور سے فائر کئے اور گولیاں چلائیں۔

(زبانی شہادتیں)

نے فوجی افسروں کو ہدایت کی کہ وہ مسجد وزیر خان اور اس کے ملحقہ محلہ پر توپوں سے گولہ باری کریں یا ٹینکوں سے ہلہ بول کر گولیاں چلائیں۔ ایریا کمانڈر نے میجر جنرل کے اس حکم پر اس لئے عمل نہ کیا کہ یہ حکم اسے باقاعدہ نہیں دیا گیا تھا۔ ضیاء الدین کو طلب کیا جائے۔

(شہادت میجر جنرل اعظم خان)

ان واقعات سے ظاہر ہے کہ ۶؍ مارچ کو احمدیوں کے منظم گروہ فساد آرائی کر رہے تھے۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ ان کے افعال کی ذمہ داری اندریں حالات مسلمان عوام پر عائد ہوگی اور مسلمان حکومت کی نگاہ میں معتوب ہو کر اس کے قہر و تشدد کا تختہ مشق بنیں گے۔ اس طرح تحفظ ختم نبوت کی تحریک کو حکومت کی طاقت اور تشدد کے ذریعے کچلوا کر ہمیشہ کے لئے ختم کرا دیا جائے۔ تاکہ پاکستان میں احمدیت کو فروغ دینے اور اس ملک پر احمدیوں کا اقتدار قائم کرنے کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔ اس دن تک یعنی ۵؍ مارچ تک مسلمانوں کے ہجوم کے ہاتھوں کسی مرزائی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی تھی۔ لیکن جب مرزائیوں کی طرف سے تشدد کے جرائم کا ارتکاب کیا گیا تو بعض جگہ مسلمان بھی انتقامی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس سے قبل عوام کے مظاہروں کا رخ کاملاً حکومت کی طرف تھا۔ جس کی مرزائیت نوازی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

نقطہ نمبر: ۶

ضروری تصریح

اینٹی سوشل عناصر کی ہنگامہ آرائی

فسادات اور ہنگاموں کی ذمہ داری اینٹی سوشل عناصر پر بھی عائد ہوتی ہے جن کو تحریک سے کسی قسم کا تعلق نہ تھا۔ ان عناصر نے اپنی اغراض کے پیش نظر بدامنی پھیلانے کی کوشش کی اور تشدد آمیز جرائم کا ارتکاب کیا۔ لاہور یوم آٹا کے سلسلے میں اینٹی سوشل عناصر کے اس رجحان کا پہلے بھی تجربہ ہو چکا ہے۔

تحقیقاتی عدالت میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا بیان

قادیانی مسئلہ مصنوعی مسئلہ نہیں ایک حقیقی مسئلہ ہے۔

نوٹ: موصوف کا یہ بیان جس کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے اسے غور سے پڑھیں اس سے موصوف کی تحریک سے متعلق ذہنیت کا آپ کو اندازہ ہوگا۔ نمبر ۱ سے نمبر ۱۲ کا حصہ اس لئے پیش نہیں کیا کہ اس کی تفصیلات مجلس عمل کے بیان میں گزر چکی ہیں۔ نمبر ۱۳ سے یہ بیان پڑھیں۔

۱۳؍ مئی ۱۹۵۲ء میں احرار نے پہلی مرتبہ قادیانیوں کے خلاف عام ایجی ٹیشن شروع کیا۔ حکومت نے اس وقت جگہ جگہ دفعہ ۱۴۴ لگا کر لاٹھی چارج کر کے ائمہ، مساجد پر دباؤ ڈال کر اسے دبانے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ ملتان میں فائرنگ کی نوبت بھی آئی۔ اس وقت سے

صفحہ ۴۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لے کر مارچ ۱۹۵۳ء کے آغاز تک میں نے اور جماعت اسلامی نے حکومت کو بار بار یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ قادیانی مسئلہ ایک مصنوعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقی مسئلہ ہے جس کے نہایت گہرے مذہبی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی اسباب ہیں اور یہ اسباب پچاس سال سے کام کر رہے ہیں اور پنجاب کے لاکھوں مسلمانوں کی زندگی ان سے متأثر ہے۔ لہٰذا اس کو اوپر سے دبانے کی بجائے اسے سمجھئے اور ٹھنڈے دل و دماغ سے حل کرنے کی کوشش کیجئے۔ اس کے ثبوت میں میرے دو مضامین، بیانات اور پمفلٹ اور جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے ریزولیوشن موجود ہیں جو ماہ جون سے مارچ تک پے در پے شائع ہوتے رہے۔ میں نے پاکستان کی مجلس دستور ساز کو اگست ۱۹۵۲ء میں یہ مشورہ بھی دیا کہ جو دستور اس وقت زیر ترتیب ہے۔ اس میں جس طرح دوسری اقلیتوں کے لئے جدا گانہ انتخاب اور نشستوں کا تعین تجویز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کے لئے بھی کر دیا جائے تا کہ مسلمانوں کی بے چینی رفع ہو جائے اور یہ مسئلہ خواہ مخواہ کسی ہنگامے کا موجب نہ بن سکے۔ یہی رائے جنوری ۱۹۵۳ء میں پاکستان کے ۳۳ سربرآوردہ علماء کی اس مجلس نے بھی دی جو کراچی میں منعقد ہوئی تھی۔ لیکن حکومت نے نہ صرف یہ کہ ان مشوروں کی طرف کوئی توجہ نہ کی ۔ بلکہ اس نے خود اپنی طرف سے بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کچھ نہ کیا۔ اس کا رویہ اوّل روز سے یہی رہا کہ یہ مسئلہ صرف حقارت کے ساتھ رد کر دینے ہی کے قابل ہے۔ اس قابل نہیں ہے کہ اسے سمجھا اور حل کیا جائے۔

بے تدبیری کا قدرتی ردعمل

۱۴؍ مئی ۱۹۵۲ء کے بعد سے مسلسل کئی مہینے تک پنجاب اور بہاول پور کے (جہاں کا درحقیقت یہ معاشرتی و معاشی مسئلہ تھا) ہر حصے میں اس مسئلے کے متعلق بلامبالغہ ہزاروں جلسے ہوئے۔ مسلم پبلک کے مطالبات ریزولیوشنوں کی شکل میں پاس ہوئے۔ حکومت کے پاس وفود بھی گئے۔ جنہوں نے براہ راست یہ مطالبات وزیر اعظم کے سامنے پیش کئے۔ مگر ان ساری کوششوں کا جو نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو Basic Principles Committee Report شائع ہوئی۔ اس میں سرے سے قادیانی مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا تھا۔ اس چیز نے مسلم عوام کے اندر آئینی طریقہ کار سے عام مایوسی پیدا کر دی اور درحقیقت اسی چیز نے اس غیر آئینی طریقہ کار کے لئے زمین ہموار کی جو بعد میں احرار نے ڈائریکٹ ایکشن کی شکل میں تجویز کیا۔ میں اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بناء پر یہ جانتا ہوں کہ مسلمان فطرتاً شورش پسند نہیں ہیں اور پاکستان کے مسلم عوام تو خصوصیت کے ساتھ یہ احساس رکھتے ہیں کہ خطرات کے درمیان گھرے ہوئے اس ملک میں امن و انتظام کو درہم برہم کرنے والی کوئی تحریک مناسب نہیں ہے۔ اس لئے میں یہ پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ایک پبلک مطالبے کو، جس کے بارے میں لوگوں کے اندر تلخ احساسات موجود تھے، یوں حقارت کے ساتھ مسلسل نہ ٹھکرایا جاتا اور لوگوں کو آئینی طریقہ کار سے مایوس نہ کر دیا جاتا، تو کوئی جماعت بھی یہاں کے عوام کو ڈائریکٹ ایکشن اور قانون شکنی پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔

عام ناراضی کے اسباب

اس مسئلے میں خصوصیت کے ساتھ جن باتوں نے لوگوں کے درمیان عام ناراضی پیدا کی وہ یہ تھیں:

اوّل: یہ کہ حکومت نے اس پوری مدت میں کبھی زبان کھول کر لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ ان کے مطالبات قبول نہیں کرتی ہے تو آخر اس کے وجوہ کیا ہیں۔ ایک طرف سے مسلسل ایک مطالبہ ہو اور عوام جذباتی حیثیت سے اس پر مشتعل ہی نہ ہوں بلکہ دلائل کی بناء پر

صفحہ ۴۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطمئن بھی ہوں کہ ان کا مطالبہ معقول ہے۔ دوسری طرف حکومت کوئی وجہ بتائے بغیر اس کو بس یونہی ٹھکرا دے اور عوام کو دلائل سے یہ سمجھانے کی کوشش نہ کرے کہ ان کا مطالبہ کیوں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ عوام اس روش کو حکومت کی ہٹ دھرمی اور ہیکڑی سمجھیں اور ان کے اندر اس کے خلاف غصہ پیدا ہو جائے۔ یہ ڈھنگ ڈکٹیٹر شپ میں تو چل سکتے ہیں، مگر ایک جمہوری نظام میں خود اپنے بنائے ہوئے حکمرانوں کی طرف سے یہ سلوک برداشت کرنا عوام کے لئے ممکن نہیں ہے۔

دوم: یہ کہ حکومت نے ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان ہو جانے کے بعد جب زبان کھولی تو ایسے غلط طریقے سے کھولی جو لوگوں کو مطمئن کرنے کی بجائے الٹا اور اشتعال دلانے والا تھا۔ ڈائریکٹ ایکشن کی تحریک کے لیڈروں کو گرفتار کرتے ہوئے جو سرکاری کمیونکے شائع کیا گیا اور اس کے بعد مارشل لاء کے اجراء کے وقت جو دوسرا کمیونکے کراچی سے شائع ہوا۔ ان دونوں میں مخالف احمدیت تحریک کو مسلمانوں کی وحدت ملی میں تفرقہ ڈالنے والی تحریک قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات مسلمانوں کے لئے اشتعال انگیز بھی تھی اور بجائے خود نامعقول بھی۔ اشتعال انگیز اس لئے کہ اس میں گویا سرکاری طور پر احمدیوں کے ملت اسلامیہ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ مسلمانوں نے کبھی ان کو اپنی ملت کا جزو نہیں مانا ہے اور تمام اسلامی فرقوں کے علماء بالاتفاق ان کو خارج از ملت قرار دے چکے ہیں۔ نامعقول اس لئے کہ حکومت جس چیز کا الزام مخالف احمدیت تحریک کو دے رہی تھی۔ درحقیقت وہ خود حکومت پر عائد ہوتا تھا اور اس کو یہ احساس تک نہ تھا کہ اس معاملے میں وہ فی الواقع کیا پوزیشن لے رہی ہے۔ مخالف احمدیت تحریک تو اٹھی ہی اس بنیاد پر تھی کہ ملت اسلامیہ کی وحدت کو ان لوگوں کے ہاتھوں پارہ پارہ ہونے سے بچایا جائے۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو نہ ماننے پر تمام کلمہ گو مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کی نماز جنازہ پڑھنے تک کو ناجائز کہتے ہیں اور انہیں بیٹی دینا ویسا ہی حرام سمجھتے ہیں۔ جیسا یہودی یا عیسائی کو بیٹی دینا حرام ہے۔ اس کے برعکس حکومت کی اپنی پوزیشن یہ تھی کہ وہ ملت اسلامیہ کے اندر ایسے ایک تفرقہ انگیز گروہ کو زبردستی شامل رکھنے پر مصر تھی تا کہ وہ مسلم معاشرے میں مسلسل داخلی انتشار برپا کرتا رہے اور روز ایک نئے خاندان اور ایک نئے گھر میں عقائد اور معاشرت کی پھوٹ ڈال دے۔ مگر جس گناہ کی مجرم حکومت خود تھی۔ اس کا الزام اس نے الٹا ان لوگوں پر ڈالا جو دراصل اس گناہ سے باز آ جانے کا اس سے مطالبہ کر رہے تھے۔ اس صریح غیر معقول بات کو شائع کرتے وقت حکومت نے ذرا نہ سوچا کہ آخر سارا ملک بے وقوفوں سے تو آباد نہیں ہے۔ عام لوگ اس طرح کی باتیں سرکاری اعلانات میں پڑھ کر اپنے حکمرانوں کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔

سوم: یہ کہ حکومت نے اپنے مذکورہ بالا اعلانات میں اس تحریک کو بالکل احراریوں کی ایک تحریک قرار دیا اور اس کا ذکر اس انداز سے کیا گویا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ کرنے کا مطالبہ مسلمانوں کا کوئی عام قومی مطالبہ

صفحہ 468

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چہارم: یہ کہ حکومت نے اپنے ان اعلانات میں اس تحریک کو کچل دینے کا ارادہ جس لہجے اور جن الفاظ میں بیان کیا اس سے صرف یہی ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ ڈائریکٹ ایکشن کو طاقت سے کچلنے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ یہ بھی مترشح ہوتا تھا کہ اس کو سرے سے قادیانیوں کی مسلمانوں سے علیحد

صفحہ ۴۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

زیادہ ذمہ دار کوئی اور طبقہ نہ ہو سکتا تھا۔ ڈاک، تار، ٹیلیفون، ریلوے غرض اکثر و بیشتر محکموں کے آدمیوں نے اس وقت تک کام کرنے سے انکار کر دیا۔ جب تک فائرنگ کا سلسلہ بند نہ کیا جائے۔ شہر کے باشندوں میں ایک تھوڑے سے اونچے طبقے کو چھوڑ کر کوئی عنصر ایسا باقی نہ رہا جو اس ظلم کے خلاف غصے اور نفرت سے نہ بھر گیا ہو۔ یہ حالات تھے جب میرے علم کی حد تک ۴؍ مارچ کی شام سے بعض لوگوں نے قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور تخریب کا ارتکاب شروع کیا۔ واقعات کی اس ترتیب کو دیکھتے ہوئے میں پورے انصاف کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ عوام کی طرف سے بدامنی کے یہ جس قدر بھی افعال ہوئے۔ ان کی ذمہ داری ڈائریکٹ ایکشن کی تحریک کے کارکنوں اور رہنماؤں پر نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری تمام تر بارڈر پولیس کے ظلم وستم پر ہے۔ ڈائریکٹ ایکشن کے لیڈروں نے ان حرکات پر لوگوں کو ہرگز نہیں اکسایا۔ بارڈر پولیس کے ظلم نے لوگوں کو دیوانہ کر کے ان سے یہ حرکات کرائیں۔

اصلاح حال کی کوشش

۴، ۵؍ مارچ کی درمیانی شب کو میں نے مولانا مفتی محمد حسن صاحب اور مولانا داؤد غزنوی کی موافقت سے خواجہ ناظم الدین کو تار دیا کہ پنجاب کے حالات تیزی کے ساتھ بگڑ رہے ہیں۔ اگر اب بھی کسی گفت وشنید کی گنجائش ہو تو ہمیں گفتگو کا موقع دیجئے۔ خواجہ صاحب کو معلوم تھا کہ مجھے وزرائے کرام کی کوٹھیوں پر حاضری دینے کا کبھی شوق نہیں رہا ہے اور میں آخری شخص ہو سکتا ہوں جو کبھی کسی وزیر سے خود ملنے کی درخواست کرے۔ انہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ حالات کیسے خراب ہوں گے۔ جب کہ میں نے ان سے یہ درخواست کی ہے۔ مگر انہوں نے میرے تار کا جواب تک دینے کی زحمت گوارا نہ فرمائی۔ ۵؍ مارچ کی صبح کو میں نے پھر تار دیا کہ حالات ساعت بساعت بگڑ رہے ہیں۔ میرے تار کا فوراً جواب دیجئے۔ لیکن اس پر بھی کوئی توجہ نہ کی گئی۔ اس سے اس سنگ دلی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ جس کے ساتھ پنجاب کے حالات سے عہدہ برآ ہوا جارہا تھا۔

مسلم عوام سرپھرے نہیں ہیں

۵؍ مارچ کی سہ پہر کو گورنر پنجاب مسٹر چندریگر نے گورنمنٹ ہاؤس میں ایک کانفرنس بلائی۔ جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ اس کانفرنس میں تقریباً پچاس اصحاب و خواتین کا اجتماع تھا۔ گورنر صاحب نے اپنی تقریر میں حاضرین سے اپیل کی کہ وہ امن قائم کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔ میں نے اس کے جواب میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ ہے:

صفحہ ۴۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میری اس تجویز کو گورنر صاحب نے پسند فرمایا ۔ اس وقت ایک اعلان کا مسودہ تیار کیا گیا اور یہ طے ہوا کہ رات کو وہ ریڈیو پر نشر کیا جائے گا ۔ اب یہ مسٹر چندریگر ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ تجویز کس بناء پر رہ گئی اور آخر کار کیوں عوام کو راضی کرنے کی بجائے طاقت ہی سے دبا کر امن قائم کرنے کو ترجیح دی گئی ۔

مارشل لاء

یہ تھے وہ حالات جن میں ۶ /مارچ کی دوپہر کو عین نماز جمعہ کے وقت مارشل لاء کا اعلان کیا گیا ۔ میرے نزدیک یہ اعلان قطعاً غیر ضروری اور بالکل بے جا تھا ۔ اوّل تو جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں ۔ حالات کو خود حکومت کی ہٹ دھرمی ، ضد اور سخت غیر دانشمندانہ پالیسی نے اس درجہ بگاڑا تھا ۔ پھر اگر حالت بگڑنی بھی تھی تو ان کو بغیر کسی کشت و خون کے رو بہ اصلاح لایا جا سکتا تھا ۔ بشرطیکہ حکومت آخر وقت پر ہی مسلمانوں کے ایک تلخ معاشرتی مسئلے کو ہمدردی کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے پر آمادہ ہو جاتی ۔ تاہم اگر طاقت ہی کا استعمال کرنا ضروری سمجھا گیا تھا تو مارشل لاء جاری کرنے کے بجائے صرف دفعہ ۱۲۹ ضابطہ فوجداری کے تحت فوج امداد لے کر امن قائم کیا جا سکتا تھا ۔ ہندوستان میں ۱۹۱۷ء سے لے ۱۹۲۶ء تک بے شمار ہندو مسلم فسادات ہوئے ۔ جن میں سے بعض میں لاہور کے ہنگاموں میں سے بہت زیادہ قتل وغارت ، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے ۔ مگر کبھی ان فسادات کو روکنے کے لئے مارشل لاء جاری نہیں کیا گیا ۔ ۱۹۲۱ء سے لے کر گاندھی جی کے آخری Quit India Agitation تک اس براعظم میں کئی مرتبہ ستیہ گرہ اور سول نافرمانی کی تحریکیں اٹھیں ۔ جو کئی بار تشدد تک بھی پہنچ گئیں اور موخر الذکر تحریک میں تو بہت بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیاں کی گئیں ۔ مگر اس پوری مدت میں کبھی انگریزی حکومت نے مارشل لاء جاری نہیں کیا ۔ لاہور کا ہنگامہ ان تحریکوں کے مقابلے میں بہت کم درجے کا تھا ۔ اس ذرا سے ہنگامے کو فرو کرنے کے لئے مارشل لاء جاری کر کے اور پھر اس کو سوا دو مہینے سے زیادہ مدت تک طول دے کر ، حکومت نے بڑی کم حوصلگی اور پست ہمتی کا ثبوت دیا ہے ۔ کوئی ایسی حکومت جس کو اپنی طاقت پر اعتماد ہو ، ایسے چھوٹے چھوٹے غیر معمولی حالات میں اتنی مضطرب نہیں ہو سکتی کہ اتنے بڑے قدم اٹھانے پر اتر آئے ۔ میں اس فعل کو حکومت پاکستان کی محض پست ہمتی اور کم حوصلگی ہی نہیں سمجھتا بلکہ انتہائی سنگ دلی بھی سمجھتا ہوں ۔ ابھی حال میں محض ٹراموے کے کرائے بڑھانے پر کلکتے میں جو ہنگامے ہوئے وہ لاہور کے ہنگاموں سے بدرجہا زیادہ سخت تھے ۔ ان میں اسلحہ اور بم تک پولیس کے مقابلے میں استعمال کئے گئے اور بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیاں کی گئیں ۔ مگر اس ہنگامے کو دبانے کے لئے ہندوستان کی حکومت نے مارشل لاء نہیں لگایا ۔ اس سے تھوڑی مدت پہلے پرجا پریشد اور جن سنگھ کی تحریکوں نے بھی وسیع پیمانے پر بدامنی کی حالت پیدا کر رکھی تھی ۔ مگر وہاں بھی اس کا مقابلہ مارشل لاء کے ذریعے سے نہیں کیا گیا ۔ حکومت پاکستان نے جس بے دردی کا سلوک اپنی قوم کے ساتھ کیا ہے وہ فی الواقع اپنی نظیر آپ ہی ہے ۔

(۲) اضطرابات کو روکنے اور بعد میں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے سول حکام کی تدابیر کا کافی یا ناکافی ہونا

دوسرے امر تحقیق طلب کے بارے میں مجھے صرف دو باتیں بیان کرنی ہیں :

حکومت پنجاب کی پالیسی

اوّل : یہ کہ فروری کے اختتام تک پنجاب گورنمنٹ کی پالیسی اس اضطراب کو روکنے کی طرف نہیں بلکہ ان کی سرپرستی اور ہمت

صفحہ ۴۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

افزائی کرنے کی طرف مائل تھی۔ اس پالیسی کے محرکات کیا تھے اور عملاً اندر کیا کچھ ہوتا رہا۔ اس کے متعلق تو میں کوئی بات بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ اس کا میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ بعض خاص خاص محکموں کے سرکاری کاغذات کی جانچ سے عدالت کو اصل حقائق معلوم ہو جائیں۔ مگر بظاہر جو کچھ دیکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان اضطرابات کا پورا مواد اعلانیہ حکومت پنجاب کی ناک کے نیچے پلتا رہا اور اس حکومت نے جس کی عملداری میں ذرا ذرا سی باتوں پر پریس ایکٹ، سیفٹی ایکٹ اور دفعہ ۱۴۴ حرکت میں آجایا کرتے ہیں۔ اس کام میں ذرا مداخلت نہ کی۔ پھر یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ اس کام کو فروغ دینے میں زیادہ تر وہی لوگ پیش پیش تھے، جن کے حکومت پنجاب سے مخصوص تعلقات معلوم عوام ہیں اور جو پنجاب کے پچھلے انتخابات میں مسلم لیگ پارٹی کے سرگرم حامی رہ چکے ہیں۔ مجھے پنجاب کے بعض علاقوں سے یہاں تک بھی اطلاعات ملی ہیں کہ فروری کے آخر تک اضلاع کے حکام خود اس تحریک میں حصہ لینے کے لئے لوگوں کو ابھارتے رہے ہیں۔

دوم: یہ کہ جب ڈائریکٹ ایکشن عملاً شروع ہو گیا تو دو تین دن کے اندر ہی یکا یک حکومت پنجاب کی پالیسی بدل گئی اور اس نے یکلخت ایسی سختی شروع کر دی جو کافی سے بہت زیادہ تھی۔ اس نے صرف قانون شکنی کرنے والوں ہی پر نہیں بلکہ بالکل بے تعلق عوام پر بھی وحشیانہ ظلم ڈھائے۔ جن کی وجہ سے مختلف مقامات پر عام آبادی سخت مشتعل ہو گئی۔ پھر اپنی بھڑکائی ہوئی اس آگ کو دیکھ کر بہت جلدی سول حکام کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انہوں نے معاملات فوج کے حوالے کرنے میں بڑی بے صبری سے کام لیا۔

(۳) اضطرابات کی ذمہ داری

جو حالات میں نے اوپر بیان کئے ہیں ان کی بناء پر میرے نزدیک ان اضطرابات اور ہنگاموں کی ذمہ داری چار فریقوں پر بالکل برابر برابر تقسیم ہوتی ہے۔

ہنگامے کی ذمہ داری کے چار فریق

کے اندر پچاس برس سے مسلسل ایک تفرقہ برپا کر رکھا تھا اور جس نے قیام پاکستان کے بعد اپنے خطرناک منصوبوں کے اظہار اور اپنی جنگ جویانہ باتوں سے عوام کو اپنے خلاف پہلے سے زیادہ مشتعل کر لیا۔ حالانکہ اگر وہ بہائیوں کی پالیسی اختیار کر کے اپنا مذہب الگ بنا لیتے اور مسلمانوں کے معاشرے میں شامل ہو کر تفرقہ انگیزیاں نہ کرتے تو مسلمان اسی طرح ان کے ساتھ رواداری برتتے، جس طرح وہ عیسائیوں، ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے برتتے ہیں۔

مطالبے کو منوانے کے لئے آئینی ذرائع کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔

غیر دانشمندانہ پالیسی سے معاملات کو بگاڑا اور آخر کار ہزار ہا بندگان خدا کی تباہی کا سامان کیا۔

خاص حصہ لیا ہے۔

صفحہ ۴۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان چاروں فریقوں میں سے کسی کا گناہ بھی دوسرے سے کم نہیں ہے اور یہ سب اس کے مستحق ہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ اگر یہاں نہ چلے گا تو ان شاء اللہ خداوند عالم کی آخری عدالت میں چل کر رہے گا۔

(۴) قادیانی مسئلے کے متعلق میرا اور جماعت اسلامی کا طرز عمل

اس مسئلے پر میری پالیسی اور میری رہنمائی میں جماعت اسلامی کی پالیسی تین اجزاء پر مشتمل رہی ہے۔

کوشش کرتا رہا ہوں۔

جماعت نے خود اس میں کوئی حصہ نہیں لیا اور جماعت کے جن افراد نے جماعتی ضبط کو توڑ کر اس میں حصہ لیا۔ ان کو جماعت سے الگ کر دیا گیا۔

مسلسل کوشش کی ہے جو آخر کار تباہ کن ثابت ہو کر رہی۔

میں ان تینوں اجزاء کی تشریح کر کے اپنی پوزیشن کی وضاحت کروں گا۔

قادیانی گروہ مسلم ملت کا جزو نہیں ہے

امر اوّل : کے متعلق گزارش یہ ہے کہ میں نے جس چیز کو حق سمجھا ہے۔ دلائل کی بناء پر سمجھا ہے اور اپنے دلائل پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ بالفرض اگر کسی کے نزدیک وہ چیز حق نہیں ہے۔ جسے میں حق سمجھتا ہوں تو وہ اپنے دلائل دے سکتا ہے۔ مگر ایک جمہوری نظام میں کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا۔ خواہ وہ حکومت ہی کیوں نہ ہو کہ وہ کسی معاملے میں مجھ کو ایک رائے رکھنے سے یا اپنی رائے کو معقولیت کے ساتھ بیان کرنے سے یا اس کی تائید میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کی جائز کوشش سے یا اپنی رائے منوانے کی آئینی تدابیر استعمال کرنے سے باز رکھے۔ محض یہ بات کہ جو رائے میں رکھتا ہوں وہی رائے کچھ دوسرے لوگ بھی رکھتے تھے اور انہوں نے اس رائے کو منوانے کے لئے غیر آئینی تدابیر اختیار کیں۔ مجھے قابل الزام بنا دینے کے لئے کافی نہیں ہے۔ جب میں خود اپنے خیالات کی ترویج کے لئے یا اپنے کسی مطالبے کو منوانے کے لئے تشدد یا قانون شکنی کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔ میں یقیناً اپنے جائز قانونی حدود کے اندر ہوں۔ اس صورت میں نہ تو میرے دوسرے ہم خیالوں کے غلط فعل کی کوئی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے اور نہ اپنے خیالات کی ترویج کے لئے جائز ذرائع استعمال کرنے کا حق مجھ سے سلب کیا جا سکتا ہے۔ میں اس وقت تک بھی یہ نہیں سمجھ سکا ہوں کہ اگر کوئی شخص معقول وجوہ اور دلائل کی بناء پر رائے رکھتا ہے کہ قادیانی گروہ مسلم ملت کا ایک جزو نہیں ہے اور اس کی تائید میں وہ خالص علمی استدلال کے ساتھ سنجیدہ اور مہذب زبان میں بحث کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے اندر قادیانی گروہ کے شمول کو مسلم ملت کی وحدت سالمیت کے لئے نقصان دہ سمجھتا ہے اور اپنے ملک کی دستور ساز مجلس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دستور مملکت میں اس گروہ کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دے تو آخر وہ جرم کیا ہے۔ جس کا وہ مرتکب ہے۔ پھر کیوں آج ہر اس شخص کی ٹانگ گھسیٹی جا رہی ہے۔ جس نے کبھی قادیانی مسئلے پر گفتگو کی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ عملاً اس کا پچھلے اضطرابات سے کوئی تعلق رہا ہو یا نہ رہا ہو۔

صفحہ ۴۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رواداری و نارواداری کا عجیب مفہوم

حال میں بعض ذمہ داران حکومت کی طرف سے یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ ملک کی فلاح و بہبود کے لئے ”رواداری“ کی سخت ضرورت ہے اور قادیانی مسئلے پر گفتگو یا قادیانیوں کی علیحدگی کا مطالبہ ”نارواداری“ ہے۔ اس لئے حکومت اس کو بجائے خود قابل اعتراض سمجھتی ہے اور اس کا استیصال کرنا چاہتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ رواداری اور نارواداری کے الفاظ کا ایک انوکھا استعمال اور ان کے مفہوم کا بالکل ہی ایک نرالا تصور ہے۔ جسے حاکمانہ طاقت سے ہم پر ٹھونسنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر کسی نے یہ کہا ہوتا کہ فلاں گروہ کو ملک میں جینے نہ دو یا اس کے شہری حقوق سلب کرلو، یا اس کو اپنے مذہب پر عقیدہ اور عمل رکھنے سے زبردستی روک دو تو بلاشبہ یہ نارواداری ہوتی اور اس طرح کے کسی خیال کی ترویج بجائے خود ایک برائی ہوتی جس کے استیصال کو اپنی پالیسی قرار دینے میں حکومت بالکل حق بجانب تھی۔ لیکن یہاں جس معاملے پر لفظ نارواداری کو چسپاں کیا جارہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان ایک ایسے گروہ کو اپنے معاشرے کا جزو بنا کر نہیں رکھنا چاہتے جو ایک طرف ان کے معاشرے میں شامل بھی ہے اور دوسری طرف تمام مسلمانوں کو کافر کہہ کر اور ان سے معاشرتی مقاطعہ کر کے اور ان کے مقابلے میں اپنی جماعتی تنظیم اور معاشی جتھہ بندی الگ کر کے اپنی تبلیغ سے پیہم اس معاشرے میں اندرونی اختلال بھی برپا کرتا جارہا ہے۔ ایسے ایک گروہ کی علیحدگی کے مطالبے کو نارواداری قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے ارباب حکومت کے شاداب ذہن میں رواداری کا مطلب اپنی تخریب اور اپنے شیرازے کی پراگندگی کے اسباب کو خود اپنے اندر پرورش کرنا قرار پایا ہے۔ تصورات کی عجائب آفرینی کا یہی حال رہا تو بعید نہیں کہ کل اسی نارواداری کے الزام میں ہر وہ شخص ہسپتال سے جیل بھیج دیا جو اپنڈی سائٹس کا اپریشن کرانا چاہتا ہو۔

تباہی کو روکنے کی بروقت کوشش

پچھلے دنوں حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس وقت ملک میں قادیانی مسئلے پر ہنگامہ برپا تھا۔ اس وقت اس مسئلے میں مسلمانوں کے مطالبے کی صحت کو دلائل سے ثابت کرنا بجائے خود قابل اعتراض تھا۔ کیونکہ اس سے ہنگامے کو تقویت پہنچتی تھی۔ میری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر پبلک کا ایک مطالبہ اپنی جگہ بالکل معقول بنیادوں پر مبنی ہو اور حکومت سراسر ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر بغیر کوئی معقول وجہ بتائے۔ اس مطالبے کو رد کر دے اور میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ حکومت کی اس غلط پالیسی کی وجہ سے ملک میں تباہی آرہی ہے تو آخر کیوں نہ میں عین وقت پر اس تباہی کو روکنے کے لئے حکومت کے مؤقف کی غلطی دلائل سے ثابت کروں؟ کیا حکومت یہ چاہتی ہے کہ جب وہ غلطی کر رہی ہو، اس وقت کوئی اس کی غلطی کو غلطی نہ کہے؟ کیا حکومت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل بے جا اور ناروا طریقے سے لوگوں کے سر توڑتی رہے اور ملک میں کوئی اللہ کا بندہ ایسا موجود نہ ہو، جو اسے انصاف اور معقولیت کی بات بتانے والا ہو؟ میرے علم اور میری قوت بحث و استدلال کا آخر فائدہ ہی کیا تھا۔ اگر میں اسے ٹھیک اس وقت استعمال نہ کرتا جب کہ تباہی کو روکنے کے لئے اس کے استعمال کی ضرورت تھی۔ جس مسئلے کو حکومت نے صحیح طریقے سے نہ سمجھ کر اور حل نہ کر کے ملک میں ایک فتنہ برپا کر دیا تھا، اس کی حقیقت اگر میں اسی وقت نہ سمجھاتا جب کہ فتنہ اٹھتا نظر آرہا تھا تو آخر اس کے سمجھانے کا وقت اور کون سا ہوسکتا تھا؟ میری اس کوشش کو اگر حکومت فتنے میں امداد کرنے سے بجا طور پر تعبیر کر سکتی تھی تو صرف اس صورت میں جب کہ میں نے اپنی کسی تحریر میں علمی استدلال اور سنجیدہ بحث کے انداز سے ہٹ کر کوئی ایک فقرہ یا لفظ ہی ایسا استعمال کر لیا ہوتا جسے اشتعال انگیز یا منافرت انگیز کہا جا سکتا ہو۔ لیکن میں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ میری کسی تحریر میں، جو میں نے قادیانی مسئلے کے متعلق لکھی ہے۔ ایسا کوئی فقرہ یا لفظ نکال کر نہیں دکھایا جا سکتا۔

صفحہ ۴۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک اصولی بات

اس سلسلے میں عدالت سے میری درخواست یہ ہے کہ وہ اصولی طور پر دو چیزوں کا فرق واضح کر دے۔ ایک چیز ہے قادیانیوں کی علیحدگی کا آئینی مطالبہ۔ دوسری چیز ہے اس مطالبے کو منوانے کے لئے کوئی غیر آئینی طریقہ اختیار کرنا۔ کیا ان دونوں کو ایک ہی حیثیت میں رکھا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں رکھا جا سکتا تو اس حقیقت کو پوری طرح واضح ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ ان دونوں کو خلط ملط کر کے بہت سے ان لوگوں کو مبتلائے مصیبت کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے اس مطالبے کو منوانے کے لئے کبھی کوئی غیر آئینی طریقہ اختیار نہیں کیا۔ مگر آئینی اور جمہوری طریقوں سے وہ اس کو منوانے کی ضرور کوشش کرتے رہے ہیں۔

واقعات کی صحیح صورت اور تاریخی ترتیب

امر دوم: کے متعلق میں واقعات کو ان کی صحیح صورت میں تاریخی ترتیب کے ساتھ عدالت کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ پھر یہ رائے قائم کرنا عدالت کا کام ہے کہ ڈائریکٹ ایکشن کے ساتھ میرا اور میری جماعت کا تعلق کیا تھا اور کیا نہ تھا۔

مئی ۱۹۵۲ء میں جب احرار نے قادیانی مسئلے پر ایجی ٹیشن کا آغاز کیا اس وقت جماعت اسلامی کی رائے یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ کر کے ایک مستقل اقلیت قرار دینے کا مطالبہ بجائے خود صحیح ہے مگر اس وقت جب کہ ملک کا دستور بن رہا ہے۔ مسلمانوں کی توجہ کسی ضمنی مسئلے کی طرف پھیر دینا درست نہیں ہے۔ اس وقت تمام کوششوں کو ایک صحیح اسلامی دستور بنوانے پر مرکوز رکھنا چاہئے اور دستور ہی میں قادیانی مسئلے کو بھی حل کرانا چاہئے۔ یہی رائے جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے اپنے جون ۱۹۵۲ء کے ایک ریزولیوشن میں ظاہر کی تھی۔

جولائی ۱۹۵۲ء میں احرار نے لاہور میں تمام مذہبی جماعتوں کی ایک کنونشن منع

صفحہ ۴۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا تھا جو روزنامہ ”تسنیم“ کی ۴؍ اگست ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔

اگست کے آخر یا ستمبر کے اوائل میں مولانا عبدالحلیم صاحب قاسمی ناظم جمعیۃ علماء اسلام پنجاب مجھ سے ملے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب نے جو مجلس عمل بنائی ہے اس میں ایسے عناصر کا غلبہ ہے جن کا رجحان قادیانی مسئلے کو شورش اور ہنگامے کے ذریعے سے حل کرنے کی طرف ہے اور ہم لوگ جو اس تحریک کو غلط رخ پر جانے سے روکنا چاہتے ہیں قلیل تعداد میں ہیں۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی مجلس عمل میں اپنے نمائندے بھیجنا قبول کر لے تاکہ ہمارے ہاتھ مضبوط ہوں اور ہم اس خطرے کی روک تھام کر سکیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کی اس بات میں وزن ہے اور اسی بنیاد پر میں نے جماعت اسلامی کے دو نمائندے مجلس عمل کے لئے نامزد کئے جنہوں نے مجلس کے دوسرے سنجیدہ عناصر کے ساتھ تعاون کر کے متعدد مواقع پر غلط رجحانات کا سدباب کیا۔

واقعات سے ثابت ہے کہ اگست سے لے کر جنوری تک پھر کوئی شورشی تحریک قادیانی مسئلے کے متعلق نہ اٹھ سکی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس اصلاح حال میں جماعت کی مذکورہ بالا دو تدبیروں کا بھی بہت بڑا حصہ تھا۔

دسمبر ۱۹۵۲ء میں مجلس دستور سازی Basic Principles Committee کی رپورٹ شائع ہوئی اور اس میں قادیانی مسئلے کا کوئی حل تجویز نہیں کیا گیا تھا۔ اس فروگزاشت نے ان کوششوں کو سخت نقصان پہنچایا جو ہماری طرف سے اس تحریک کو آئینی طریقہ کار کا پابند رکھنے کے لئے کی جا رہی تھیں۔

جنوری ۱۹۵۳ء کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کے ۳۳ سربرآوردہ علماء کا ایک اجتماع Basic Principles Committee Report پر غور کرنے کے لئے کراچی میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع کا ایک رکن میں بھی تھا۔ علماء نے اس اجتماع میں رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس کے دستوری خاکے میں بہت سی ترمیمات و اصلاحات تجویز کی جن میں سے ایک اصلاح یہ بھی تھی کہ رپورٹ میں جن اقلیتوں کے لئے جداگانہ انتخاب اور نشستوں کا تعین تجویز کیا گیا ہے ان میں قادیانیوں کو بھی شامل کر دیا جائے۔

اس ماہ جنوری کے وسط میں کراچی ہی میں پورے پاکستان کی ایک آل مسلم پارٹیز کنونشن منعقد ہوئی جس کا مقصد ”تحفظ ختم نبوت“ کے مسئلے پر غور کرنا تھا۔ مجھے بھی اس میں دعوت دی گئی تھی۔ میں نے کنونشن کی سبجیکٹس کمیٹی میں یہ تجویز پیش کی کہ جب علماء نے Basic Principles Committee Report پر اپنی ترمیمات میں قادیانی مسئلے کے آئینی حل کو شامل کر لیا ہے تو اس مسئلے کے متعلق کوئی علیحدہ جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف وہی ایک جدوجہد تمام مقاصد کے لئے کافی ہے جو علماء کی تجویز کردہ ترمیمات کو منظور کرانے کے لئے کی جائے گی۔ طویل مباحثے کے بعد سبجیکٹس کمیٹی نے میری رائے کو مان لیا۔ مگر کھلے اجلاس میں کنونشن نے اسے رد کر دیا۔

اس کے بعد میں نے کنونشن میں دوسری تجویز یہ پیش کی کہ پورے پاکستان میں ایک مرکزی مجلس عمل بنائی جائے اور صرف وہی ”تحفظ ختم نبوت“ کے لئے پروگرام بنانے اور دوسرے اقدامات تجویز کرنے کی مجاز ہو۔ اس مجلس کے سوا کسی اور کو بطور خود کوئی قدم اٹھانے کا اختیار نہ ہونا چاہئے۔ میری یہ تجویز مان لی گئی اور پندرہ ارکان کی ایک مرکزی مجلس عمل بنا دی گئی جن میں سے آٹھ ارکان اسی وقت منتخب کر لئے گئے اور طے ہوا کہ سات ارکان بعد میں اس کے اندر شامل کئے جائیں جو ارکان وہاں منتخب کئے گئے تھے ان میں سے ایک میں بھی تھا۔

اس مرکزی مجلس عمل کا کوئی اجلاس ۲۶؍ فروری تک نہیں ہوا۔ اس میں جو سات مزید ارکان شامل کئے جانے تھے، وہ بھی شامل

صفحہ ۴۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہیں کئے گئے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ مجلس کی ترکیب ہی مکمل نہیں ہوئی اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں، کنونشن کے مقصد پر عمل کرنے کے لئے پروگرام بنانے کی مجاز صرف یہی مجلس تھی، اس لئے ۱۷؍جنوری سے ۲۶؍فروری تک کنونشن کی ممبر جماعتوں میں سے بعض نے جتنی بھی کارروائیاں کیں، وہ سب خلاف ضابطہ تھیں۔ ۲۳؍جنوری کو جو وفد وزیراعظم سے ملا وہ ان چند جماعتوں کا خود ساختہ تھا۔ کنونشن نے یا مرکزی مجلس عمل نے اس وفد کو ترتیب نہیں دیا تھا۔ اس وفد نے وزیراعظم کو ایک مہینے کا جو نوٹس دیا اور مہینہ گزرنے کے بعد ڈائریکٹ ایکشن شروع کرنے کا جو اعلان کیا اس کے لئے کسی نے اس کو مجاز نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد پنجاب آکر ان جماعتوں نے ڈائریکٹ ایکشن کی جو تیاریاں شروع کیں وہ سب کنونشن کے فیصلوں کے بالکل خلاف تھیں۔

میں نے ان بے ضابطگیوں کے خلاف سخت اعتراض کیا۔ ۱۳؍فروری کو مجلس عمل پنجاب کا جو اجلاس ہوا، اس میں میں نے اپنے اعتراضات تحریری صورت میں ملک نصر اللہ خان صاحب عزیز کے ذریعے سے بھیجے اور یہ مطالبہ کیا کہ مرکزی مجلس عمل کا اجلاس منعقد کیا جائے اور تمام کارروائیوں کو اس

صفحہ ۴۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوئی ادنیٰ سا حصہ بھی ہے۔ اس کے باوجود جس طرح مجھے اور جماعت کے بہت سے ارکان کو خواہ مخواہ اس کی ذمہ داری میں گھسیٹا گیا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک شخص سڑک سے ہٹ کر کھیتوں میں جا کھڑا ہو اور دوسرا شخص وہاں موٹر لے جا کر اس کو ٹکرا دے۔

حکومت

امر سوم : کے متعلق میں اپنے وہ تمام بیانات اور مضامین اور جماعت اسلامی کے وہ سب ریزولیوشن جو قادیانی مسئلے سے متعلق جون ۱۹۵۲ء سے ۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء تک شائع ہوئے ہیں، اس بیان کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں۔ ان کو دیکھ کر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ میں نے اور میری جماعت نے کامل دس مہینے تک کس کس طرح حکومت کو اس مسئلے کی حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اسے تدبر و معاملہ فہمی کے ساتھ حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ میں ان تحریروں کے متعلق خود کچھ کہنے کے بجائے اس امر کا فیصلہ عدالت پر چھوڑتا ہوں کہ جس شخص اور جماعت کی یہ تحریریں ہیں۔ اس کی نیت آیا اس ملک کے ایک اجتماعی مسئلے کو معقولیت کے ساتھ حل کروانے کی تھی یا کسی قسم کا فتنہ برپا کرنے کی اور یہ کہ وہ لوگ کس ذہنیت کے مالک تھے جنہوں نے آخر وقت تک اس مسئلے کو ناخن تدبیر سے حل کرنے کے بجائے طاقت ہی سے دبانے پر اصرار کیا اور آخر کار کشت و خون برپا کر کے ہی چھوڑا۔

قادیانیوں کو مشورہ

اس بیان کو ختم کرنے سے پہلے میں یہ بات بھی عدالت کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ میں نے جس طرح حکومت کو اس کی غلط پالیسی سے اور ڈائریکٹ ایکشن کے لیڈروں کو ان کے غلط فیصلے سے روکنے کی آخر وقت تک کوشش کی ہے۔ اس طرح میں قادیانیوں کو بھی ان کی غلطی سمجھانے اور صحیح مشورہ دینے کی پوری کوشش کرتا رہا ہوں۔ گزشتہ ماہ جولائی میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور، مولوی ابوالعطاء جالندھری اور جناب شمس صاحب کو میں نے سمجھایا تھا کہ جو باتیں انگریزی دور میں نبھ گئیں وہ اب اس آزادی کے دور میں جب کہ جمہوری حکومت کے اختیارات مسلم اکثریت کے ہاتھ میں ہیں۔ زیادہ دیر تک نہ نبھ سکیں گی۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ آپ کی جماعت اور مسلمانوں کے تعلقات کی تلخی میں مزید اضافہ ہو آپ لوگ معاملہ فہمی اور تدبر سے کام لیتے ہوئے دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کر لیں یا تو اپنے عقائد اور طرز عمل میں ایسی ترمیم کیجئے کہ جس سے مسلمان آپ کو اپنے اندر شامل رکھنے پر راضی ہو سکیں۔ یا پھر خود ہی مسلمانوں سے الگ ہو کر ایک مستقل اقلیت کی حیثیت سے اپنے لئے وہی حقوق حاصل کر لیجئے جو پاکستان میں دوسری اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ مگر افسوس انہوں نے میرے اس دوستانہ مشورے کو قبول نہ کیا۔ پھر مارشل لاء کے زمانے میں ۲۰؍ مارچ کے قریب خواجہ نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور سے میری ملاقات ہوئی اور ان سے میں نے کہا کہ آپ مرزا بشیر الدین محمود صاحب سے خود جا کر ملیں اور ان کو مشورہ دیں کہ اگر وہ واقعی مسلمانوں سے الگ ہونا پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت اسی ملت کا ایک جزو بن کر رہے تو وہ صاف الفاظ میں حسب ذیل تین باتوں کا اعلان کر دیں۔

نمازیں ادا کرنا، ان کو بیٹیاں دینا جائز سمجھتے ہیں۔

صفحہ ۴۷۸

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ اگر آج مرزا صاحب (محمود) ان باتوں کا واضح طور پر اعلان کر دیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ سارا جھگڑا فوراً ختم ہو جائے گا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ خواجہ صاحب میری اس تجویز کو لے کر مسٹر چندریگر سے ملے اور انہوں نے نہ صرف اس سے اتفاق کیا۔ بلکہ اس تجویز میں خود بھی بعض الفاظ کا اضافہ کیا۔ پھر مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ خواجہ صاحب نے ربوہ، جا کر اس پر مرزا صاحب سے گفتگو کی اور مرزا صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی جماعت کی مجلس شوریٰ بلا کر اس پر غور کریں گے۔ مگر اس دوران میں میری گرفتاری عمل میں آ گئی اور بعد کی کوئی اطلاع مجھے نہ مل سکی۔ غالباً مرزا صاحب نے یہ دیکھ کر کہ حکومت پوری طاقت سے ان کی حمایت اور مسلمانوں کی سرکوبی کر رہی ہے۔ میری اس تجویز کو درخور اعتناء نہ سمجھا ہوگا۔ کیونکہ اس وقت تک ان کی طرف سے ایسا کوئی اعلان شائع نہیں ہوا جس میں ان باتوں کی تصریح ہو۔

بہر حال میری ان کوششوں سے یہ بات عیاں ہے کہ میں نے اپنی حد تک اس نزاع کے تینوں فریقوں کو مصالحت پر آمادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ مگر ہر فریق نے مجھے ان کوششوں کی وہ بڑی سے بڑی سزا دی۔ جو وہ دے سکتا تھا۔ ایک فریق نے بھرے جلسوں میں متعدد بار عوام کو میرے خلاف بھڑکایا۔ یہاں تک کہ ۶/مارچ کی صبح کو ایک مشتعل مجمع میرے مکان پر چڑھ آیا۔ دوسرے فریق نے پانچ واجب القتل ”خونی ملاؤں“ میں مجھے بھی شمولیت کا شرف عطاء کیا۔ تیسرے فریق نے مجھے گرفتار کر کے میرا کورٹ مارشل کرایا اور مجھے پہلے سزائے موت اور پھر چودہ سال قید با مشقت کی سزا دلوائی۔

میں تصدیق کرتا ہوں کہ مندرجہ بالا بیان میں جو باتیں درج کی گئی ہیں وہ میری بہترین اطلاع، جس پر میں یقین کرتا ہوں کہ مطابق صحیح و درست ہیں۔

ابوالاعلیٰ مودودی

۲۹/جولائی ۱۹۵۳ء، سنٹرل جیل لاہور

قارئین کرام! آگے چلنے سے پہلے جناب مودودی صاحب کے بیان میں سے ان حصوں کو دوبارہ پڑھ لینا اشد ضروری ہے۔ موصوف ارشاد فرماتے ہیں:

نشستیں پیش کی گئیں۔ مگر جماعت نے اس مجلس میں شرکت قبول نہ کی۔ (ماشاء اللہ!)

قادیانی مسئلے کے متعلق نہ اٹھ سکی میں (مودودی صاحب) کہہ سکتا ہوں کہ اس اصلاح حال میں جماعت کی مذکورہ بالا دو تدبیروں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ (تحریک ختم نبوت کو روکنے کے لئے)

طے ہوا کہ سات ارکان بعد میں اس کے اندر شامل کئے جائیں جو ارکان وہاں منتخب کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میں (مودودی صاحب) بھی تھا۔ اس مرکزی مجلس عمل کا کوئی اجلاس ۲۶/فروری تک نہیں ہوا۔ اس میں جو سات مزید ارکان شامل کئے جانے تھے۔ وہ بھی شامل نہیں کئے گئے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ترکیب ہی مکمل نہیں ہوئی اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں۔ کنونشن کے مقصد پر عمل کرنے کے لئے پروگرام بنانے کی مجاز صرف یہی مجلس تھی اس لئے ۱۷/جنوری سے ۲۶/فروری تک

صفحہ ۴۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کنونشن کی ممبر جماعتوں میں سے بعض نے جتنی بھی کارروائیاں کیں وہ سب خلاف ضابطہ تھیں۔ ۲۳؍ جنوری کو جو وفد وزیر اعظم سے ملا وہ ان چند جماعتوں کا خود ساختہ تھا۔

قارئین! غور فرمائیں کہ مولانا مودودی، مرزائی اور چندریگر کی یہ تثلیث کس طرح تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے سر پیر مار رہی ہے کہ کسی طرح مرزائی بھی بچ جائیں اور تحریک بھی فیل ہو جائے۔ اس پر سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ مودودی صاحب کا

صفحہ ۴۸۰

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ کہنا کہ ایسی تجویز کہ مرزا قادیانی کو ماننے کے باوجود مرزائی مسلمانوں کا حصہ شمار ہوسکیں۔ وہ ایسے ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے لئے نبوت یا کسی ایسے منصب کے قائل نہیں جسے نہ ماننے کی وجہ سے کوئی شخص کافر ہو۔ یعنی مرزا قادیانی کو ماننے نہ ماننے والے دونوں برابر ہو جائیں۔

قارئین کرام! مودودی صاحب کی یہ تجویز اس مدعی نبوت کے متعلق ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں۔ ایسے مدعی نبوت کو کافر نہ کہنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ اسے نبی کے علاوہ کوئی منصب مان کر مسلمانوں کو دھوکہ دے کر تحریک کو ناکام بنا دیا جائے۔ اس تجویز کے خالق صرف مودودی صاحب ہو سکتے ہیں۔ کوئی دوسرا مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آگے مودودی صاحب کہتے ہیں کہ مرزا بشیر نے تحریک کو حکومت کے ہاتھوں کچلتا دیکھ کر اس تجویز کو درخور اعتنا نہ سمجھا مگر مودودی صاحب کا یہ فرمان بھی درست نہیں کہ اس لئے کہ مرزا بشیر الدین نے مودودی صاحب کی تجویز پر عمل کر کے عدالت میں بیان دے دیا تھا کہ مرزا قادیانی کو نہ ماننے بھی مسلمان ہیں۔

مگر قدرت حق کے قربان جائیے کہ چندریگر، بشیر الدین محمود اور مودودی صاحب مل کر مرزائیوں کو مسلمانوں کا حصہ نہ بنا سکے۔

قارئین کرام! اب صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر مودودی صاحب تحریک ختم نبوت میں شامل نہ تھے تو وہ گرفتار کیوں ہوئے؟ اور انہیں سزائے موت کیوں سنائی گئی؟ اس کا بھی ریکارڈ موجود ہے کہ مودودی صاحب نے تحریک کے شباب کے دنوں میں ”قادیانی مسئلہ“ نامی ایک کتاب لکھی جسے کافی تعداد میں شائع کر کے فوج اور سول میں تقسیم کیا گیا۔ جب لاہور میں مارشل لاء لگا تو اسی کتابچے کی بنیاد پر مودودی صاحب کی گرفتاری اور سزا عمل میں آئی۔ ورنہ وہ تحریک سے جس طرح اپنی بیزاری لاتعلقی اور سڑک سے ہٹ کر دور کھیتوں میں عافیت تلاش کر رہے ہیں۔ وہ ان کے اوپر کے بیان سے ظاہر ہے۔

تحریک ختم ہو گئی۔ مودودی صاحب کا ضمیر اس دورخی پالیسی اور تحریک سے بے وفائی پر ملامت کر رہا تھا اور لوگوں میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہوئیں تو اس پر ”بیان حقیقت“ کے نام سے لایعنی تاویلیں تحریک سے اپنے گریز و فرار کی خوبصورت ملمع سازی کرتے ہوئے تحریک کے رہنماؤں کو کوسنا شروع کیا اور ”بیان حقیقت“ کے نام سے ایک کتابچہ لکھا۔ اس میں تحریک کے رہنماؤں پر جس طرح کیچڑ اچھالا گیا تھا اس کی صفائی اور دروغ گوئی کا جواب ضروری تھا۔ اس کی سعادت اللہ رب العزت نے ضیغم احرار ماسٹر تاج الدین انصاری کے حصہ میں لکھی۔ انہوں نے ”بیان صادق“ نامی کتابچہ تحریر فرمایا۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان نے شائع کیا۔ جو مندرجہ ذیل ہے۔

بیان صادق

از: حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خدا کا فضل شامل حال رہا کہ تیس پینتیس سال کی سیاسی زندگی میں مجھے بیان بازی کا مرض لاحق نہیں ہوا۔ کبھی کبھار ایسا تو ہوا کہ کسی نے بلاوجہ الجھنے کی مسلسل کوشش کی تو تنگ آ کر ایک بار جو صحیح بات تھی اس کا اظہار کر دیا اور بس جواب الجواب کی الجھنوں میں نہ کبھی الجھا ہوں اور نہ آئندہ الجھنے کا ارادہ ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے جب ”نوازشات“ کی بھر مار نے زحمت کی صورت اختیار کر لی اور پانی سر سے اونچا جانے لگا تو بحالت مجبوری مجھے ان گزارشات کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کی مسلسل نیش زنی سے تنگ آ کر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے طویل صبر آزما خاموشی کے بعد لائل پور تبلیغ کانفرنس میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کو ان کی غلط بیانی پر شرعی انداز میں ٹوکا۔ ان کی تقریر کا آغاز تقریباً ان الفاظ سے ہے۔

صفحہ ۴۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”یا اللہ تحریک تحفظ ختم نبوت میں شمولیت سے اگر میرے دل میں خلوص نیت کے علاوہ رائی کے دانہ کے برابر بھی ایسا خیال تھا کہ تحریک ختم نبوت کے ذریعہ سیاسی اقتدار حاصل کیا جائے تو مجھ پر اور میرے اہل و عیال پر تیرا غضب نازل ہو۔“ اس کے بعد فرمایا کہ مولانا مودودی صاحب کراچی کنونشن میں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی موجودگی میں راست اقدام کا ریزولیوشن پاس ہوا۔ مودودی صاحب تحریک میں شامل تھے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ تحریک میں شامل نہیں تھے تو میں انہیں دعوت مباہلہ دیتا ہوں۔“

حضرت شاہ صاحب کے اس چیلنج سے امیر جماعت اسلامی بوکھلا گئے۔ اس بوکھلاہٹ میں ”بیان حقیقت“ کے عنوان سے ایک بیان شائع فرمایا جس میں شاہ صاحب کو مخاطب کرنے کی بجائے دور از کار غلط سلط باتیں فرما کر سبھی کو لپیٹ لیا۔ اس بیان میں مولانا موصوف نے اپنے دامن کا داغ دوسروں کے دامن پر لگانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ حضرت شاہ صاحب کے چیلنج کو مولانا سید مودودی صاحب اس بیان کے ذریعہ طرح دے گئے ہیں۔

اب میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ تحریک ختم نبوت کے تمام صحیح واقعات عرض کر دوں تا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جو غلط بیانیاں فرمائی ہیں وہ منظر عام پر آجائیں۔ اس ناخوشگوار فرض کو میں دکھے ہوئے دل سے ادا کر رہا ہوں۔

(تاج الدین انصاری)

کراچی کنونشن

حضرت مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد صاحب قادری مدظلہ کی صدارت میں آل پارٹیز مسلم کنونشن کا تاریخی اجلاس بدیں غرض کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے بارہ میں آخری فیصلہ کیا جائے۔ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں منعقد ہوا۔ بنگال سے لے کر صوبہ سرحد تک کے نمائندوں نے اس اجلاس میں شرکت کی اور کارروائی میں باقاعدہ حصہ لیا۔ تقریریں شروع ہوئیں تو صاحب صدر نے مسئلہ کی اہمیت اور وقت کی نزاکت کے پیش نظر شرکاء مجلس سے تقریریں مختصر اور مطلب کی بات کہنے کی اپیل کی۔ دوسرے حضرات کے علاوہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے بھی یہی مشورہ دیا کہ چند آدمی الگ بیٹھ کر باہمی مشورہ سے ہاؤس کے سامنے کوئی مناسب اور قابل عمل تجویز پیش کریں تا کہ غیر ضروری باتوں میں قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ یہ معقول تجویز مان لی گئی تو تیرہ آدمیوں کو منتخب کر کے یہ کام ان کے سپرد کیا گیا اور اجلاس ۱۸؍ جنوری کے لئے ملتوی ہو گیا۔ ۱۷ کی رات کو تیرہ میں سے صرف نو یا دس حضرات جمع ہوئے اور باہمی مشورہ اور تبادلہ خیال کیا گیا۔

سب کمیٹی کی میٹنگ

مجھے اس وقت مندرجہ ذیل حضرات کے نام یاد ہیں۔ جو سب کمیٹی میں شریک ہوئے حضرت مولانا عبدالحامد صاحب بدایونی، حضرت مولانا محمد داؤد صاحب غزنوی، علامہ حافظ محمد کفایت حسین، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب (بنگال)، احتشام الحق صاحب تھانوی، مولانا محمد علی صاحب جالندھری، مولانا محمد یوسف کلکتوی، سید مظفر علی شاہ صاحب شمسی، تاج الدین انصاری۔

سب کمیٹی کی کارروائی شروع ہوئی اور تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے سلسلہ میں تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ابتدائی گفتگو کے وقت خاموش بیٹھے تھے۔ مگر جب وہ گویا ہوئے تو فرمانے لگے کہ آپ کے اس مطالبہ کو ہم نے اپنے آٹھ مطالبات کی فہرست میں نواں مطالبہ بنا کر پیش کر دیا ہے۔ اب اس تحریک کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔ دستور ہی میں آپ کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے گا۔ آئندہ تمام جدوجہد دستور ہی کے نام سے ہونی چاہئے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے ارشاد کے جواب میں مولانا عبدالحامد

صفحہ ۴۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحب بدایونی نے فرمایا کہ مولانا صاحب آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ شاید سمجھتے ہیں کہ آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب سے بن کر آئی ہے اور جو مطالبات پیش کئے جارہے ہیں یہ بھی پنجاب والوں کے مطالبات ہیں۔ میں آپ کی آگاہی کے لئے عرض کر رہا ہوں کہ ۲؍ جون ۱۹۵۲ء کو زیر صدارت مولانا سید محمد سلیمان صاحب ندوی تھیوسوفیکل ہال کراچی میں کراچی کی تمام اسلامی پارٹیوں کی جانب سے ایک کنونشن بلائی گئی تھی۔ جس میں جماعت اسلامی کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ اس کنونشن میں یہ تجویز منظور ہوئی تھی کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دلوانے کے لئے بڑے پیمانہ پر آل مسلم پارٹیز کنونشن بلائی جائے جس کے ذریعہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی جدوجہد کی جائے۔ موجودہ کنونشن دراصل ہماری اس کنونشن کا نتیجہ ہے جو ۲؍ جون کو منعقد ہوئی تھی۔ جس کی غرض و غایت واضح اور محدود تھی۔ آج مجھے اور آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم اصل مطالبات سے ادھر ادھر جاسکیں۔ اگر ہم ان مطالبات کو دستوری جدوجہد سے وابستہ کر دیں تو یہ بات ضابطہ کے بالکل خلاف ہوگی۔ مولانا عبدالحامد صاحب بدایونی کے ارشادات کی تائید میں میں نے اصولی اختلافات پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ جس کام کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور جس غرض کے لئے یہ کنونشن بلائی گئی ہے اس کی بالکل جداگانہ حیثیت ہے۔ دستور اپنی جگہ ہے۔ تینتیس جید علماء دستور کے کام میں مصروف ہیں۔ ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ ہم اپنے احاطہ اختیار سے باہر جائیں۔ ہمیں کنونشن نے جو کام سپرد کیا ہے وہ صرف اسی قدر ہے کہ ہم طریق کار کی تجویز مرتب کر کے ہاؤس کے سامنے پیش کر دیں۔ اس کے علاوہ اگر کچھ کیا گیا تو وہ خلاف ضابطہ ہوگا۔ ہماری گزارشات کے بعد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ایک طویل تقریر فرمائی اور بار بار یہی فرماتے رہے کہ جو کچھ کرنا ہے دستور کے نام پر کیجئے۔ ہم نے ہر چند سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر ہم سب مل کر صاحب دستور حضور رسول مقبول ﷺ کی آبرو کی حفاظت کی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو دستور کا کام بالکل آسان ہو جائے گا۔ دستور کی راہ میں مرزائی اور مرزائیت نواز پہاڑ بن کر کھڑے ہیں۔ یہ مرحلہ طے ہو جائے تو دستور کی کامیابی قریب تر ہو جاتی ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو معقول بات اپیل تو کر رہی تھی۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دل میں پوشیدہ خواہشات اور اقتدار حاصل کرنے کے سنہرے خواب انہیں اس بات کے تسلیم کرنے پر راضی نہ ہونے دیتے تھے۔ بحث جاری رہی۔ حضرت مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی ناسازی طبع کی وجہ سے معذرت کرتے ہوئے دوسرے کمرے میں جا کر لیٹ گئے۔ اسی تکلیف کی حالت میں ہم انہیں دو مرتبہ اٹھا کر میٹنگ میں لائے۔ مگر انہیں اس درجہ تکلیف تھی کہ وہ زیادہ دیر تک نہ بیٹھ سکے۔

مولانا محمد علی جالندھری نے کیا کہا

مولانا محمد علی جالندھری نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کو مخاطب فرما کر کہا کہ مولانا صاحب تحفظ ختم نبوت کے ایسے مطالبات ہیں جن کی پشت پر بلا کسی اختلاف کے ہر مکتب خیال کے مسلمانوں کی ہمدردیاں اور پشت پناہی موجود ہے۔ جہاں تک دستور کا تعلق ہے، نیک نیتی سے بیسیوں قسم کے اختلافات اب بھی علماء میں موجود ہیں۔ دستور میں ترمیمیں اور تنسیخیں ہو رہی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی کافی وقت لے گا۔

دوسری بات جس پر آپ کو ٹھنڈے دل سے غور فرمانا چاہئے یہ ہے کہ جب دستور کا کام آتا ہے تو غلط یا صحیح، میں اس بحث میں نہیں پڑتا اور صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ لوگوں کا ذہن آپ کے بے پناہ پراپیگنڈا کی وجہ سے جماعت اسلامی کی طرف منعطف ہو جاتا ہے۔ جماعت اسلامی سے لوگوں کو وہ ہمدردی نہیں ہے جو ہمدردی اور لگاؤ مسئلہ تحفظ ختم نبوت سے ہے یا جو جذبہ مرزائیت کے خلاف ہر مکتب خیال کے مسلمانوں میں موجود ہے اسی طرح آج سے چھ ماہ پیشتر یہی حال مجلس احرار کا تھا۔ جہاں رد مرزائیت کا نام آتا تھا لوگوں کا ذہن مجلس

صفحہ 483

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احرار کی طرف منتقل ہو جاتا تھا۔ اسی خیال سے ہم نے مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر برکت علی محمڈن ہال ہی میں ہتھیار ڈال دیئے تھے اور دین کا یہ کام دوسری تمام دینی جماعتوں کے سپرد کر کے خود کو رضا کارانہ پیش کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اگر تحفظ ختم نبوت کا نام آتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں آل مسلم پارٹیز کی مجلس عمل کا تصور لازمی اور لابدی آجاتا ہے۔ اصولی اعتراض کے علاوہ اس مشکل کی طرف بھی آپ توجہ فرمائیں اور اس اہم مطالبہ کو نواں نقطہ بنانے کا خیال ترک فرمائیں۔ سب کچھ سننے کے بعد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنی بات پر اڑے رہے۔ بحث نے مایوس کن صورت پیدا کر دی۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ مولانا موصوف کو صاحب دستور حضور سرور کائنات ﷺ کی آبرو اور عظمت کی نسبت ”دستور“ کا زیادہ خیال تھا۔

اس مرحلہ پر مولانا محمد علی صاحب نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ دی اور ان سے عرض کیا کہ مولانا صاحب اگر آپ کی طرح احرار کا انداز فکر بھی یہی ہوتا اور وہ بھی اسی طرح سوچتے کہ مجلس عمل کہاں سے آ گئی یہ ردمرزائیت تو ہمارے نام الاٹ ہو چکی ہے۔ یہ کام ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو ہم کہاں جائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ایسی خود غرضانہ ضد ہم بھی کرتے تو پھر کیا موجودہ صورت پیدا ہو سکتی تھی؟

آج ہر مکتب خیال کے علماء اور سجادہ نشین حضرات اس بنیادی مسئلہ کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے نام کا خیال ترک نہ کرتے تو کیا مسلمانوں میں یہ بے پناہ جوش اور عقیدت کا یہ والہانہ جذبہ پیدا ہو سکتا تھا؟

یہ تھی وہ گفتگو جو مولانا محمد علی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی میں ہوئی جسے توڑ مروڑ کر جس انداز میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے فرمایا ہے یہ انہی کا حصہ ہے۔

انصاف فرمائیے

آٹھ دس معزز نمائندے مجلس میں موجود ہیں۔ بقول مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا محمد علی یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ تحریک اسلامی دستور کے نام سے چلائی جائے تو احرار کہاں جائیں گے۔ مولانا محمد علی صاحب اگر ایسی گفتگو کرتے تو دوسرے معزز نمائندے جو اس میٹنگ میں موجود تھے مولانا محمد علی کی کیا گت بناتے؟ کیا ان سب حضرات کو یہ حق نہ پہنچتا تھا کہ وہ مولانا محمد علی کی اس قسم کی نامناسب اور خود غرضانہ گفتگو سنتے تو انہیں برملا کہہ دیتے کہ احرار جائیں بھاڑ میں یہ مطالبہ تو مجلس عمل کا مطالبہ ہے۔ احرار تنہا کون ہوتے ہیں؟ وہ تو نو جماعتوں میں سے صرف ایک ہیں۔

مولانا بدایونی، مولانا تھانوی، مولانا غزنوی، علامہ حافظ کفایت حسین، مولانا عزیز الرحمن (بنگالی) اور مظفر علی شمسی ایسے نڈر اور مخلص حضرات اور دیگر اکابرین موجود ہیں کہ یہ سب کے سب منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہے اور کسی نے زبان تک نہ ہلائی۔ کیا یہ بات قریں قیاس بھی ہے؟

میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب ہی سے یہ دریافت کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ مولانا محمد علی نے یہی کہا تھا جو آپ فرماتے ہیں۔ ایسی لغو حرکت پر تو آپ اسی دن احرار کے خلاف ایک بیان دے کر انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتے تھے۔ آپ نے ایسی مجرمانہ درگزر سے کیوں کام لیا۔ میں آپ کو بزدلی اور منافقت کا طعنہ نہیں دیتا۔ البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے مولانا محمد علی کے خلاف تہمت تراشی ہے جو آپ ایسے ”صالح“ انسان کے شایان شان نہیں۔ آپ نے کوئی تہمت ہی لگانا تھی تو کچھ سوچ سمجھ کر کوئی اچھا افسانہ گھڑا

صفحہ ۴۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوتا۔ کس سادگی سے آپ نے مولانا محمد علی سے یہ بات منسوب کی ’’اگر دستور کے نام پر کام ہوا تو احرار کہاں جائیں گے۔‘‘

انتخابات کا سوال

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جب آل مسلم پارٹیز کو جماعت اسلامی کا دم چھلا بنانے کی کوشش میں رات کے بارہ بجادیئے تو مولانا احتشام الحق صاحب نے سب کمیٹی کے اراکین کے سامنے ایک خدشہ کا اظہار فرمایا۔ وہ غالباً اس طویل اور غلط بحث سے اکتا گئے تھے۔ وہ فرمانے لگے آپ حضرات میری اس خلش کو دور فرما کر ممنون فرمائیں۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ آپ حضرات جو مختلف جماعتوں کے نمائندوں کی حیثیت سے تشریف لائے ہیں۔ مجھے یہ بتائیں کہ اگر تحریک ختم نبوت طول پکڑ جائے اور اس عرصہ میں الیکشن آجائیں۔ کیا آپ الیکشنوں میں الجھ تو نہ جائیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو یہ تحریک تباہ وبرباد ہو جائے گی اور دانستہ یا نادانستہ اس مقدس تحریک کے ساتھ غداری ہوگی۔ مولانا احتشام الحق صاحب کے اس سوال نے سب کو چونکا دیا اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تو لبوں پر زبان پھیر کر پینترے بدلنے لگے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے سوا باقی سب نے کہا کہ سوال بہت اہم ہے اور قابل توجہ ہے ہم کو یہاں اقرار کرنا چاہئے۔ اس تحریک کو انتخابات کے جھمیلوں سے بالکل الگ رکھا جائے گا۔ فرداً فرداً تقریباً سب نے اقرار کرنا شروع کیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کچھ دیر تو خاموش رہے پھر فرمانے لگے ’’مجھے اس اقرار میں تامل ہے‘‘۔ میں یہ اعلان نہیں کرسکتا کہ جماعت اسلامی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ مولانا احتشام الحق صاحب نے اپنے خدشہ کی مزید وضاحت فرمائی اور معاملہ کی اہمیت پر زور دیا مگر جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نہ مانے تو مولانا احتشام الحق صاحب دل برداشتہ ہوگئے۔ اس کے بعد وہ بیٹھے تو رہے مگر کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہ فرمایا۔

مودودی صاحب کی جماعتی عصبیت

بحث معقول ہو، اصولی اعتراضات ہوں۔ نیتوں کا خلوص معاملہ سلجھانے کی راہیں تلاش کرنا ہو تو مشکل مراحل بھی جلد طے ہو جاتے ہیں۔ مگر جہاں جماعتی عصبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔ دوسرے انسان کم درجہ کے نظر آنے لگیں اور طبیعت یہ فیصلہ ہی کرلے کہ اپنے سوا کسی اور کو خواہ وہ کتنا بلند پایہ کیوں نہ ہو اپنا بڑا مان کر کسی کے ساتھ یا کسی کو راہنما مان کر چلنا ہی نہیں تو پھر مشکلات اور تباہیاں مقدر ہو جایا کرتی ہیں۔ اس میٹنگ میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اقتدار اور عصبیت کے گرداب میں غوطہ کھا رہے تھے۔ جب اجلاس میں تقریباً جمود طاری ہوگیا تو مولانا محمد علی نے مجھے فرمایا کہ اب کیا کریں۔ جماعت اسلامی کے امیر تو گل محمد بنے بیٹھے ہیں۔ میں خود بھی حیران تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ بالآخر میری طبیعت نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ضد کے سامنے ہٹ جانا ہی مناسب ہے۔ چنانچہ میں نے مولانا محمد علی صاحب اور شمسی صاحب سے جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ عرض کیا کہ بھئی مولانا مودودی صاحب ضد کرتے ہیں تو کریں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اگر اپنی غلط پوزیشن پر اڑ گئے ہیں تو انہیں کرنے دیجئے۔ یہ کیا کرتے ہیں۔ ایک جماعت کے امیر ہوتے ہوئے اگر یہ محسوس نہیں کرتے اور سب کمیٹی کے اختیار سے باہر قدم رکھ رہے ہیں تو انہیں من مانی کرلینے دیجئے اور جو تجویز لکھواتے ہیں لکھوانے دیجئے۔ یہ تو نہ مولانا احتشام الحق کی بات پر کان دھرتے ہیں اور نہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ہم ان سے کب تک الجھیں، سوئے ہوئے انسان کو جگایا جاسکتا ہے۔ مگر جو شخص جاگتے میں آنکھیں بند کرلے اس کا کیا علاج ہے؟ اس مرحلہ پر مولانا محمد علی نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے کہا۔ لکھوائیے! مولانا کی تجویز لکھی جانے لگی۔ مگر نامناسبت اور بے اصولے پن نے تجویز کی چولیں ڈھیلی کردیں۔ کاٹ چھانٹ ہوتی رہی یہ تجویز لکھی جا چکی تو بغیر کسی حادثہ کے یہ میٹنگ برخاست ہوگئی۔

صفحہ ۴۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کنونشن کا آخری اجلاس، سب کمیٹی کی تجویز اور مولانا مودودی

۱۸؍جنوری ۱۹۵۳ء کی کنونشن کا آخری اور فیصلہ کن اجلاس شروع ہونے سے قبل حاضرین مجلس نے سب کمیٹی کے ارکان سے دریافت کیا کہ گزشتہ اجلاس میں آپ کے ذمہ جو ڈیوٹی لگائی گئی تھی اس کا کیا بنا؟ لائیے وہ تجویز دکھائیے۔ مولانا عبدالحامد صاحب بدایونی سید مظفر علی شاہ شمسی اور دیگر موجود اراکین سب کمیٹی کو حاضرین نے گھیر لیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ابھی تشریف نہیں لائے تھے۔ وہ اس وقت تشریف لایا کرتے تھے۔ جب اور سب آجائیں۔ سب کمیٹی کے ارکان مولانا موصوف کا انتظار کرتے تھے اور حاضرین مجلس کو ٹال رہے تھے۔ حقیقتاً سب کمیٹی کی تجویز کا جس کے مجوز مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ تحریک تحفظ ختم نبوت سے براہ راست کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس تجویز کا منطقی نتیجہ تحریک ختم نبوت کو جماعت اسلامی کی سپرداری میں دیکر کولڈ سٹوریج (سردخانہ) میں محفوظ کر دینے کے مترادف ہے۔ جب کنونشن کے شرکاء سے ہاؤس تقریباً بھر چکا تو صدر محترم جناب مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری نے سب کمیٹی کی تجویز مانگی۔ تجویز ہاؤس کے سامنے آگئی۔ سب کمیٹی کی تجویز پر غور کرنے کی اپیل کی گئی۔ اس مرحلہ پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی تشریف لے آئے۔ تجویز پر لے دے شروع ہوئی۔ ہاؤس نے بیک آواز اس تجویز کے خلاف رائے کا اظہار کیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ مولانا محمد علی نے مولانا احتشام الحق کی معرفت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو کہلوایا کہ آپ اپنی تجویز دلائل دے کر تقریر فرمائیں ہم جو سب کمیٹی کے ارکان ہیں۔ اخلاقاً مجبور ہیں کہ آپ کو ووٹ دیں۔ آپ اٹھ کر کچھ فرمائیں تو سہی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے فرمایا کہ اس تجویز کی اب ضرورت نہیں ہے۔ میں اس پر کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ صاحب صدر جناب مولانا سید ابوالحسنات صاحب نے تجویز کے متعلق نپے تلے مگر مختصر الفاظ میں اظہار خیال فرما کر سب کمیٹی کی تجویز کو خلاف ضابطہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہ کنونشن صرف تحفظ ختم نبوت اور اس کے متعلق مطالبات کے لئے بلوائی گئی ہے۔ سب کمیٹی کی تجویز حدود کنونشن سے باہر ہے۔ چنانچہ سب کمیٹی کی تجویز ختم ہوگئی۔

اب صدر محترم کے ارشاد کے بعد اصل مسئلہ پر از سر نو تبادلہ خیال شروع ہوا۔ سب سے پہلے مولانا عبدالحامد بدایونی نے تحریک ختم نبوت اور آئندہ پروگرام کے بارہ میں ایک برجستہ تقریر فرمائی۔ یہ تقریر ہاؤس کے جذبات کی صحیح ترجمانی تھی۔ ان کے بعد صاحب صدر نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ تمام واقعات اور مراحل جن سے تحریک ختم نبوت آج تک گزری ہے۔ مختصر بیان کروں دس پندرہ منٹ میں وفود کی ملاقاتوں اور تحریک کے مختصر حالات بیان کرنے کے بعد میں نے اپنی رائے کا اظہار لگی لپٹی رکھے بغیر کر دیا۔

تجویز کس طرح تیار ہوئی؟

میں تقریر کر کے بیٹھنے لگا تو صدر محترم کی اجازت سے حضرت عبدالحامد بدایونی نے مجھے ارشاد فرمایا کہ آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا اور ہاؤس کے سامنے جو رائے پیش کی ہے اسی کے مطابق تجویز بھی تو لکھئے یہاں میں یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاؤس میں بحث ہو رہی تھی تو میں نے کاغذ کی ایک سلپ پر تجویز کے متعلق ایک مسودہ مرتب کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب صاحب صدر نے مجھے تجویز لکھنے اور پیش کرنے کی ہدایت فرمائی تو میں نے اسی وقت مولانا مجاہد الحسنی سے سادہ کاغذ طلب کیا اور وہیں تجویز مکمل کرنے بیٹھ گیا۔ ہاؤس کی کارروائی جاری تھی۔ زبانی تجویزیں یکے بعد دیگرے چلی آ رہی تھیں۔ میں نے اپنے مسودہ میں وہ سب کچھ شامل کر لیا جو میں اپنی تجویز لکھتے وقت مختلف حضرات کی زبانی سن رہا تھا۔ میری تجویز دراصل ہاؤس کی تجویز تھی۔ میں نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے نئے کاغذ پر تجویز کی نوک

صفحہ ۴۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عینک ٹھیک کر کے لکھنا شروع کیا۔ تجویز لکھی گئی تو مجھے ایک بار مختصر سی تقریر کا پھر موقع دیا گیا۔ چنانچہ میں نے تقریر کے بعد یہ تجویز پیش کی جو میری ان گزارشات کی منہ بولتی شہادت ہے۔

اس حقیقت کے پیش نظر کہ خواجہ ناظم الدین کی بے بس حکومت قوم کے متفقہ مطالبات کو درخور اعتناء نہیں سمجھتی اور اب موجودہ حکومت سے مرزائیوں کے متعلق مسلمانوں کے مطالبات منظور ہونے کی کوئی امید باقی نہیں رہی ہے۔ آل مسلم پارٹیز کنونشن کا یہ اجلاس اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ بحالات موجودہ قوم کے بنیادی مطالبات کو منوانے کے لئے براہ راست اقدام از بس ناگزیر ہے۔ جسے بروئے کار لانے کے لئے ذیل کی صورتیں اختیار کی جائیں۔

ہوئی۔ اس لئے از خود اس فرقہ مرزائیہ کو ملت اسلامیہ سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کے تمام وسائل اختیار کرتے ہوئے ان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے۔

بیزاری کا اظہار کر چکی ہے۔ مگر موجودہ حکومت بہانوں سے اسے نظر انداز کرتی رہی ہے۔

لہٰذا یہ کنونشن اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب ہے کہ خواجہ ناظم الدین کی کابینہ فی الفور مستعفی ہو جائے تاکہ اسلامیان پاکستان اپنے دینی عقائد اور اسلامی روایات کو مکمل طور پر محفوظ کر سکیں۔ متذکرہ صدر مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کنونشن کا یہ اجلاس تجویز کرتا ہے کہ:

اراکین کو یہ کونسل منتخب کر کے انہیں اختیار دیتی ہے کہ وہ جنرل کونسل کے اراکین میں سات مزید ارکان کو مجلس عمل کے لئے منتخب کرے۔ منتخب شدہ ارکان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: (۱) مولانا مودودی۔ (۲) امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔ (۳) مولانا عبدالحامد بدایونی۔ (۴) مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری۔ (۵) مولانا احتشام الحق تھانوی۔ (۶) علامہ کفایت حسین۔ (۷) ابوصالح محمد جعفر پیر سرسینہ شریف۔ (۸) مولانا محمد یوسف کلکتوی۔

مناسب لائحہ عمل مرتب کرے۔

دے۔ جو مرکزی کابینہ سے ملاقات کرے اور اسے قوم کے آخری فیصلے سے مطلع کرے۔ اگر مناسب سمجھے تو دوٹوک جواب حاصل کرنے کے لئے مناسب دنوں کی مہلت بھی دے۔

نیز مجلس عمل کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اپنے طے کردہ پروگرام کی تکمیل کے سلسلہ میں عوام الناس کو بہرحال پرامن رہنے کی تلقین کرے۔

محرک: تاج الدین انصاری، مؤیدین ، مولانا عبدالحامد بدایونی قادری، علامہ حافظ کفایت حسین، صاحبزادہ سید فیض الحسن، مولانا محمد امین امیر جماعت ناجیہ سرحد، شیخ حسام الدین، قاضی احسان احمد اور مولانا محمد علی۔

صفحہ ۴۸۷

یہ تھی وہ تجویز جس کے متعلق مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنے بیان حقیقت میں فرماتے ہیں کہ تاج الدین اٹھے اور لکھی لکھائی تجویز پڑھنے لگے ۔ میں اس مرحلہ پر انصاف پسند دنیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میری پیش کردہ تجویز کا غور سے مطالعہ کریں اور پھر خود ہی انصاف فرمائیں کہ یہ طویل تجویز جس میں آٹھ حضرات کو منتخب کیا گیا اور بقایا سات کو نامزد کرنے کی اجازت دی گئی ہو۔ یہ تجویز میں گھر سے لکھ کر لاسکتا تھا؟ مجھ غریب کے دامن سے جماعت اسلامی کے قابل احترام امیر نے کیسی کیسی تہمتیں باندھنے کی زحمت گوارا فرمائی ہے۔ محولہ بالا تجویز اتفاق رائے سے منظور ہوئی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی اپنے بیان میں اقرار کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔

ڈائریکٹ ایکشن کمیٹی (مجلس عمل) کا اجلاس

اس تجویز کے پاس ہوجانے کے بعد اسی ہاؤس میں صاحب صدر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ جو آٹھ حضرات منتخب ہوئے ہیں ۔ وہ آج رات ساڑھے آٹھ بجے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ کراچی پر میٹنگ کریں اور بقایا سات ممبران کو بھی نامزد کریں اور وفد مرتب کر کے پاس شدہ تجویز کے مطابق وزیر اعظم سے وقت لے کر ملاقات بھی کر لیں۔ دور دراز سے آئے ہوئے لوگ گھروں کو واپس چلے گئے تو ان کا جمع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ اس وقت فرداً فرداً سب کو وہیں اطلاع کی گئی۔

اس مرحلہ پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اعلان کیا کہ مصروفیت کی وجہ سے اگر ہم مجلس عمل کے اجلاس میں شامل نہ ہو سکیں تو ہم اپنی جگہ اپنی جماعت کے جس رکن کو بھیجیں گے وہ ہماری طرح ذمہ دار ہوگا۔ ہاؤس نے یہ بات مان لی۔ چنانچہ اسی فیصلہ کے مطابق آخری اجلاس میں مولانا سید مودودی صاحب کی جگہ ان کے نائب امیر جناب مولانا سلطان احمد صاحب شریک ہوئے تھے اور اجلاس کی کارروائی میں حصہ لے کر اپنی قیمتی رائے سے حاضرین کو مستفیض فرمایا تھا۔

اتفاقیہ دعوت

حضرت مفتی محمد شفیع کے معتقدین میں سے ایک سوداگر نے اسی رات شرکاء کنونشن کو ایک عشائیہ دیا۔ مجھے اس وقت اراکین مجلس عمل کے یہ چند نام یاد ہیں۔ جو دعوت میں شریک ہوئے۔ مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ، مولانا محمد علی، شیخ حسام الدین، سید مظفر علی شاہ شمسی۔

ہو سکتا ہے کہ کوئی اور نام اس وقت میرے حافظہ سے اتر گیا ہو۔ دعوت سے فارغ ہو کر ہم میں سے کسی نے کہا کہ لو بھئی دفتر ختم نبوت کے قریب ہی دعوت ہوئی ہے۔ میٹنگ کے لئے زیادہ آسانی ہوگئی۔ مولانا محمد علی کو کہا گیا کہ وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو ہمراہ لے کر دفتر میں آئیں۔ میں خود اٹھ کر مولانا محمد علی کے ہمراہ ہولیا۔ مولانا سید مودودی ہم سے تھوڑے فاصلہ پر تشریف فرما تھے ۔ جب مولانا محمد علی نے ان سے کہا کہ سید صاحب میٹنگ میں تشریف لے چلیں تو سید صاحب فرمانے لگے اس میٹنگ میں اب کیا کچھ ہونا ہے۔ ( یہ سید صاحب کا تجاہل عارفانہ تھا ) مولانا محمد علی نے کہا جو کچھ پاس ہوا ہے وہی سب کچھ ہونا ہے۔ سات حضرات کی نامزدگی، وفد کی ترتیب، ملاقات وغیرہ سید صاحب فرمانے لگے ۔ آپ یہ نامزدگیاں وغیرہ خود ہی کر لیجئے ۔ یہ تو کوئی اہم کام نہیں ہے۔ میں اس میٹنگ میں ضرور چلتا مگر مجھے تو مولوی صاحبان نے دستور کے سلسلہ میں ترمیمات مکمل کرنے کا کام سونپ دیا ہے۔ شاید رات بھر مجھے یہ کام کرنا پڑے۔ آپ اس میٹنگ کی کارروائی خود ہی کر لیجئے۔ مولانا محمد علی نے اصرار کیا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے ضرور تشریف لے چلیں۔ اب تو

صفحہ ۴۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

زیادہ کام نہیں ہے۔ تجویز کے مطابق پروگرام بنا دینا ہے۔ سید صاحب نے مجبوری کا اظہار کیا۔ آخر میں مولانا محمد علی صاحب نے سید صاحب سے دریافت فرمایا کہ آپ کسی نام کی سفارش تو کریں۔ دو چار نام ہی لکھوائیے۔ سید صاحب فرمانے لگے مولانا آپ یہ کام خود ہی کرلیں۔ بس اتنا خیال رکھئے کہ مشہور مشہور با اثر لوگوں کو نامزد کیجئے گا۔ وہاں یہ کچھ فرمانے کے بعد اب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو کچھ یاد نہیں رہا۔ اب وہ سرے سے مکر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ”ہم جو کنونشن سے اٹھے تو اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب بے ضابطہ ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ کب فرمایا

جب دودھ پینے والے مجنوں سے کٹورہ بھر خون مانگا گیا ؎

قبائے لالہ خونی قبا نیست
کہ بر بالائے نامرداں دراز است

اس کے برعکس مجلس عمل کے ڈکٹیٹر اوّل اور آل مسلم پارٹیز کنونشن پاکستان کے صدر جناب مولانا سید ابوالحسنات سید محمد احمد قادری نے انکوائری کورٹ میں اعلان کیا کہ ہم تحریک ختم نبوت کے ذمہ دار ہیں ؎

ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

مجلس عمل (راست اقدام کمیٹی)

۱۸؍جنوری کو دفتر ختم نبوت میں تقریباً ۹ بجے شب اراکین نے باقی سات اراکین کو نامزد کر کے پندرہ اراکین کی فہرست مکمل کر لی اور ایک وفد مرتب کر کے اسے اختیار دیا گیا کہ کنونشن کا ریزولیوشن اور ۳۰ یوم کا میعادی الٹی میٹم وزیر اعظم کے سپرد کر دے جن سات اراکین کی نامزدگی کے بعد پندرہ اراکین فہرست مکمل کی گئی۔ ان کے ناموں کو روزنامہ ”تسنیم“ میں ۲۲؍جنوری کو آخری صفحہ پر چوکٹھے میں شائع کیا گیا۔ یہ جماعت اسلامی کے آرگن روزنامہ ”تسنیم“ مورخہ ۲۲؍جنوری کا چوکٹھا۔

مولانا ابوالحسنات، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مودودی، مولانا عبدالحامد بدایونی، احتشام الحق تھانوی، علامہ کفایت حسین، مولانا اطہر علی بنگال، پیر ابوصالح محمد جعفر، مولانا اختر علی خان (زمیندار) پیر غلام مجدد سرہندی، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ، مولانا محمد یوسف کلکتوی اور مولانا نورالحسن بخاری۔

جماعت اسلامی کی جانب سے مرکزی کارروائی کی تصدیق

کراچی سے واپسی پر ۲۶؍جنوری کو آل پارٹیز مسلم کنونشن کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت مولانا ابوالحسنات، محمد احمد قادری زمیندار مینشن لاہور میں ڈیڑھ بجے منعقد ہوا۔ جس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت فرمائی۔

مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی، تاج الدین انصاری، مولانا غلام محمد صاحب ترنم، مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش، مولانا نصر اللہ خان عزیز، صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب، مولانا اختر علی خان صاحب مالک زمیندار، حافظ خادم حسین، مولانا خلیل احمد، مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا ارشد پناہوی، سید مظفر علی شمسی، مولانا محمد بخش صاحب مسلم اس اجلاس میں جہاں جماعت اسلامی کے نفس ناطقہ جناب مولانا

صفحہ 489

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نصر اللہ صاحب عزیز (جن کی مساعی جمیلہ معاملہ فہمی اور ذاتی تعلقات کی وجہ سے جماعت اسلامی کو عوام سے روشناس ہونے کا موقع ملا جو کوثر وتسنیم اور ایشیاء کے مدیر ہیں) موجود تھے۔ مجھے صدر محترم نے حکم دیا کہ میں کنونشن اور کونسل آف ایکشن کی کارروائی بیان کروں۔ بے کم وکاست جو کچھ ہوا تھا میں نے عرض کر دیا اس اجلاس میں مجلس عمل پنجاب نے مندرجہ ذیل تجویز اتفاق رائے سے منظور کی۔ جسے دوسرے دن روزنامہ ”زمیندار“ اور پنجاب کے دوسرے اخبارات نے شائع کیا۔ (صوبہ پنجاب کے بعض ذمہ دار کارکنوں کو بھی اس اجلاس میں شمولیت کی دعوت دی گئی)

قرارداد

آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل کا یہ اجلاس مرکزی کنونشن کی پاس کردہ قرارداد کی پرزور تائید کرتا ہے اور مرکز کو یقین دلاتا ہے کہ مسلمانان پنجاب مرکزی آواز پر جانی و مالی قربانی سے ہرگز دریغ نہ کریں گے۔ اسی کارروائی کے ہمراہ مرکزی کنونشن کی قرارداد اور جو وفد وزیر اعظم سے ملا اس کے شرکاء کے نام بھی درج ہیں۔ یہ تمام کارروائی تقریباً سب اخبارات نے شائع کی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا نصر اللہ خان صاحب جماعت اسلامی کے نمائندے نے مرکزی کنونشن کی کارروائی پر نہ صرف مہر تصدیق ثبت کی بلکہ وہ ایک قرارداد کے ذریعہ اعتماد کلی کے اعلان کے بعد ایثار و قربانی کا یقین دلانے میں بھی پیش پیش تھے۔ اس حقیقت کی موجودگی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اس طرح صاف مکر جانے کی جرأت کس طرح ہوئی؟ شاید انہیں یہ خیال گزرا ہو کہ احرار کے دفاتر میں تو پولیس نے جھاڑو پھیر ہی دیا ہے۔ اب جو دل چاہئے اقرار کرو اور جہاں جی چاہئے مکر جاؤ کوئی ثبوت نہیں ہے۔

مگر میں تو روزنامہ تسنیم اور دوسرے اخبارات سے صحیح مواد فراہم کر رہا ہوں تاکہ حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ”راست گوئی“ سب پر عیاں ہو جائے۔ مولانا موصوف اللہ کے خوف اور اللہ کے رسول کی شفاعت کے ذکر مبارک کے ساتھ ساتھ جب دوسروں کی نیت پر ناروا حملے کرتے ہیں تو انہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ ان کے تقدس کے شیش محل پر اگر کسی مظلوم نے حق گوئی کا پتھر مار دیا تو ان کا شیش محل چکنا چور ہو جائے گا۔ بہرحال جہاں انہیں دوسروں کی نیت پر حملہ کرنے کا حق ہے۔ ہم ان سے اپنا کم از کم حق مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اصل حقیقت بیان کرنے کی اجازت تو دیں۔

حقیقت حال

۱۸؍ جنوری تک جماعت اسلامی تحریک ختم نبوت کو نواں نقطہ بنا کر ہضم کر جانے کی ترکیبیں سوچتی رہی۔ مگر جب ملک کے نمائندوں نے جو پاکستان کے کونے کونے سے سرور دوعالم ﷺ کی محبت اور عقیدت سے سرشار ہو کر کراچی میں جمع ہوئے تھے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نیک ارادوں کو ناکام بنا دیا تو جماعت اسلامی دو ذہنی میں مبتلا ہو گئی۔ تحریک کا شباب دیکھ کر جماعت اسلامی اس سے الگ ہونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ پانچویں سوار کی حیثیت سے پیچھے پیچھے چلنا چاہتی تھی۔ بدیں خیال کہ تحریک کامیاب ہو تو آگے بڑھ کر اعلان کر دیا جائے۔ ہم نے میدان مار لیا اور اگر کسی صورت جماعت اسلامی اس مقدس تحریک کو سبوتاژ کر سکے تو پھر یہ اعلان کر دیا جائے کہ اس تحریک میں شامل ہونے والے بے وقوف تھے اور چلانے والے خود غرض اور غدار تھے۔ اس دو ذہنی نے جماعت اسلامی اور اس کے امیر کو دین اور دنیا دونوں میں کہیں کا نہ رکھا۔

۱۴؍ جنوری کو جماعت اسلامی نے موچی دروازہ لاہور میں جلسہ عام کیا۔ اگر مولانا مودودی صاحب واقعی مجلس عمل آل مسلم

صفحہ ۴۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پارٹیز کنونشن سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتے تھے تو ایمانداری سے ان کا یہ فرض تھا کہ وہ جلسہ عام میں مسلمانوں کو اپنے ارادہ سے خبردار کرتے اور انہیں بتاتے کہ بدنیت اور خود غرض لوگ مقدس تحریک کے نام پر ملک اور ملت سے غداری کرنے والے ہیں۔ لوگو! خبردار ہو جاؤ۔ مگر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اپنی تقریر میں کیا فرمایا؟ مولانا موصوف نے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر ان مطالبات کو نہ مانا گیا تو ہندو مسلم فسادات کی یاد تازہ ہو جائے گی اور ذمہ داری گورنمنٹ پر ہوگی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اپنی تقریر میں بڑی ہوشیاری سے ہندو مسلم فساد کا ذکر اس انداز سے کیا کہ ہو سکے تو وہ ہماری پر امن کوششوں کو ناکام بنا دیں اور امن پسند قوم کا ذہن فسادات کی جانب منتقل کر دیں۔ کراچی کنونشن نے آخری اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے مولانا موصوف نے اپنے بیان میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ: ”دوسرا خیال میرے ذہن میں یہ آیا کہ اگر میں اس وقت علیحدہ ہو جاؤں تو صرف اپنا ہی دامن اس فتنہ سے بچا لے جاؤں گا۔ اسلام اور مسلمانوں کو جس خطرہ میں یہ لوگ مبتلا کرنا چاہتے ہیں اس کو روکنا اس طریقہ سے ممکن نہ ہوگا۔ اس بناء پر میں نے کنونشن سے علیحدگی کا ارادہ ترک کر دیا۔“ مولانا موصوف کس دل گردہ کے بزرگ ہیں جو ختم نبوت کی مقدس تحریک کو فتنہ کا نام دے رہے ہیں۔ یہ گستاخانہ جرأت تو مرزائیوں ایسے منہ پھٹ گروہ کو بھی آج تک نہ ہوئی تھی۔

ہر کس از دست دگر نالہ کند
سعدی از دست خویشتن فریاد

بہر حال مولانا موصوف کے اس بیان میں کوئی جان نہیں۔ تحریک میں شامل رہنے کی جو وجہ آج بیان فرمائی جا رہی ہے یہ بھی افسانہ اور محض افسانہ ہے۔ یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ مولانا خود اس تاک میں تھے کہ موقعہ ملے تو قوم کو اکسا دیا جائے اور اپنا دامن حتی الوسع بچا لیا جائے۔

مولانا موصوف فرماتے ہیں کہ انہوں نے خطوط لکھ کر صدر مجلس عمل کو توجہ دلائی کہ ڈائریکٹ ایکشن کی جو تیاریاں ہو رہی ہیں یہ بالآخر سخت نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ گویا مولانا اندر خانہ تو نصیحت کرتے تھے۔ مگر جب جلسہ عام میں تشریف لاتے تھے تو ہندو مسلم فسادات کی یاد تازہ کرنے کا بندوبست فرما رہے تھے۔

جماعت اسلامی کیا چاہتی تھی

مارچ کے دوسرے ہفتہ میں پارلیمنٹ کا اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا۔ جماعت اسلامی اس اجلاس پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ جماعت اسلامی یہ چاہتی تھی کہ اس اجلاس پر ہلہ بول دیا جائے۔ گولی چلے یا خون خرابہ ہو اسے اس بات کی پرواہ نہ تھی۔ چنانچہ جماعت اسلامی حیلوں بہانوں سے نوٹس کی تاریخ کو ۹؍ تاریخ تک بڑھانا چاہتی تھی۔ جماعت اسلامی کے نمائندے چونکہ مجلس عمل کو اپنے دلی خیالات سے آگاہ نہ کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے وہ ڈائریکٹ ایکشن کی تاریخ کو بڑھانے کے لئے دوسری بودی قسم کی دلیلیں پیش کرتے تھے۔

آخر یہ بھید کب کھلا

۲۶؍ فروری کو جس دن مجلس عمل کا آخری اجلاس کراچی میں بلوایا گیا۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب مولانا سلطان احمد صاحب اس اجلاس میں جماعت اسلامی کی جانب سے تشریف لائے اور ذمہ دار حیثیت سے اجلاس میں شرکت فرمائی۔ اس روز وہ اپنے دلی

صفحہ ۴۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جذبات کو چھپا نہ سکے۔ وہ فرمانے لگے کہ اگر آپ آج کی بجائے ۹؍ مارچ کو ایکشن کا اعلان کرتے تو ہم آپ کو اسمبلی ہال پر ہنگامہ کر کے دکھاتے۔ اب بھی اگر آپ حضرات ۹؍ تاریخ تک کے لئے اپنا پروگرام ملتوی کر دیں تو ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ کم از کم پچیس ہزار کا ہجوم اسمبلی ہال میں خود لے جائیں گے اور ایسا ہنگامہ کر دکھائیں گے کہ تاریخ میں یادگار رہے۔

ہم سب نے ان کے خیالات پر تعجب کا اظہار کیا اور مجھے یاد ہے کہ میں نے ان کی خدمت میں صفائی سے عرض کیا کہ ہم ہرگز ہنگامہ نہیں چاہتے۔ ہم تو تحریک کو پرامن طریقے پر چلانا چاہتے ہیں اور اب تاریخ کا بدلنا بھی ممکن نہیں۔ کراچی میں مولانا سلطان احمد نائب امیر جماعت اسلامی یعنی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے خلیفہ صاحب فوج ظفر موج کے کمانداروں میں بہ نفس نفیس موجود ہیں۔ خود مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب مسئلہ قادیانی لکھ کر تحریک میں شمولیت کا دستاویزی ثبوت لئے کھڑے ہیں۔ حتیٰ کہ مارشل لاء کے نفاذ سے ایک روز پہلے گورنمنٹ ہاؤس میں بیچ کی دیوار پر کھڑے گورنمنٹ کو اس امید پر آنکھیں دکھا رہے ہیں کہ شاید مسلمانوں کے متفقہ مطالبات دو ایک روز تک مانے جانے والے ہیں۔ مگر جب مارشل لاء کا اعلان ہونے لگا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی دیوار کے اس پار کود گئے اور فرمانے لگے کہ میرا اس تحریک سے کیا واسطہ؟ یہ تو چند خود غرض بے ایمان اور غداروں کی تحریک ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ دیوار سے کودتے وقت مولانا کا دامن کسی کیل میں پھنس کر چاک ہو گیا۔ جسے وہ دو سال تک جیل میں بیٹھ کر رفو کرتے رہے۔ آگے سے پھٹا ہوا دامن چیرہ دستیوں کی اب بھی غمازی کرتا ہے اور مولانا ہیں کہ اپنی صفائی میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں اور کہے چلے جا رہے ہیں کہ میں پاک باز ہوں۔ میری جماعت صالحین کی جماعت ہے۔ باقی سب چور ہیں۔ غدار ہیں اور خود غرض ہیں۔

اتنا نہ بڑھا پاکئی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

پہلے ہی کیوں نہ بھانپ لیا

اپنے بیان کے آخر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بالکل بچوں کی سی بات کہہ ڈالی۔ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ میری پرانی تحریریں جو کنونشن سے پہلے کی ہیں۔ نکال نکال کر میری گمراہی و بے دینی کا یقین دلاتے پھر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص قادیانیوں سے بھی بدتر ہے۔ میں اس طرح کی فضول باتوں کا تو کیا جواب دوں۔ مگر پبلک کو ان سے صرف اتنی بات پوچھنی چاہئے کہ مودودی اگر ایسا ہی سخت گمراہ تھا تو ۱۹۵۳ء کی کنونشن اور مرکزی مجلس عمل میں آپ نے اس کی شرکت کیسے گوارا فرمائی تھی۔ وغیرہ!

حضور والا کنونشن میں شرکت کے بعد ہی مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ آپ جو اسلام اسلام پکار کر اسلامی دستور کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ آپ کیا ہیں اور آپ کی اصل خواہش کیا ہے۔ پبلک نے آپ کو تحریک ختم نبوت میں اچھی طرح جان پہچان لیا ہے۔ اب آپ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ پبلک آپ سے کیا کچھ دریافت کرتی ہے۔ آپ تو بڑے آدمی ہیں اپنی صفائی میں آپ نے کوئی معقول دلیل پیش نہیں فرمائی۔ کسی جیب تراش نے پکڑے جانے کے بعد کبھی یہ صفائی پیش نہیں کی کہ مستغیث نے مجھے قریب ہی کیوں آنے دیا تھا۔ آپ ایسے پڑھے لکھے ذمہ دار انسان سے اس قسم کی بے معنی باتوں کی کبھی توقع نہیں تھی۔ بہر حال آپ دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ جتنا زور لگائیے گا اس قدر زیادہ دھنستے چلے جائیے گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنی غلطی یا تحریک ختم نبوت سے غداری کا اقرار کرنے سے رہے۔ بحث کے لئے آپ کے پاس وہ سب سامان موجود ہے۔ جس سے آپ کافی عرصہ بحث جاری رکھ سکتے ہیں۔ مگر ہمیں اس بحث سے مطلب؟

صفحہ ۴۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جہاں تک پبلک کی معلومات کا تعلق ہے۔ ہم نے پبلک کو یہی کہتے سنا ہے کہ آپ نے تحریک ختم نبوت سے غداری کی ہے۔ اس وقت آپ اور آپ کی جماعت منافقت سے کام لے رہی تھی اور اب آپ صاف مکر رہے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!

(تاج الدین انصاری)

دعوت مباہلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جناب مودودی نے اپنا کتابچہ ”بیانِ حقیقت“ میں مولانا محمد علی جالندھری کو بھی ہدف تنقید بنایا تھا۔ جناب مولانا مرحوم نے ”دعوت مباہلہ“ کے عنوان سے مودودی صاحب کے رسالہ کا جو جواب تحریر فرمایا وہ یہ ہے۔

غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد

سید ابوالاعلیٰ صاحب نے اپنے کارندوں کو اشاعت کے لئے ایک بیان دیا۔ جسے روزنامہ ”تسنیم“ کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں الگ چھپوا کر ملک میں عام طور پر تقسیم کیا گیا۔ اس بیان میں مولانا موصوف نے مجھ پر سنگین الزام لگایا ہے اور میری گفتگو کو اپنی منشاء کے سانچے میں ڈھال کر عوام کی گمراہی کے لئے پیش کیا ہے۔ میرا فرض ہے کہ میں اس بیان کی اصل حقیقت واضح کر دوں۔ مودودی صاحب کا یہ بیان قطعاً غلط اور واقعہ کے صریح خلاف ہے۔

حلف شفاعت

مولانا موصوف نے اپنا بیان حلف شفاعت سے شروع کیا ہے اور جواب دینے والوں کو بھی تاکید فرمائی ہے کہ وہ بھی اپنا جواب شفاعت کی محرومی کی بددعا کے بعد رقم فرمائیں۔ مولانا مودودی صاحب نے حلف شفاعت کو یا تو سمجھا نہیں یا وہ اس مقدس اعلان سے صرف رعب ڈالنا چاہتے ہیں۔ حلف کا یہ مسنون طریقہ نہیں ہے۔ مگر میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا۔ اس لئے مولانا کے غلط الزامات کا جواب دینے سے قبل ان ہی کے طریقہ پر حلف لیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ: ”اگر میں دروغ گوئی سے کام لوں تو اللہ تعالیٰ مجھے سرور کائنات ﷺ کی شفاعت سے محروم کردے۔“

مولانا مودودی کی غلط بیانیاں

مولانا مودودی صاحب نے اپنے بیان میں فرمایا:

یہ قطعاً غلط ہے۔ سب جیکٹس کمیٹی بنائی گئی جو گیارہ آدمیوں پر مشتمل نہ تھی بلکہ تیرہ آدمیوں پر مشتمل تھی۔

یہ بھی غلط ہے۔ ۱۶، ۱۷ کی شب سب جیکٹس کمیٹی کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ البتہ ۱۷، ۱۸؍ جنوری کی درمیانی رات کو سب جیکٹس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی۔

صفحہ ۴۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علماء کراچی میں جمع ہو کر خواجہ ناظم الدین کی دستوری رپورٹ پر ترامیمات تجویز کر رہے ہیں اور یہ طے کیا گیا ہے کہ ان ترامیمات کو تسلیم کرانے کے لئے پاکستان گیر جدوجہد کی جائے۔‘‘

مولانا مودودی صاحب کا یہ ارشاد بالکل غلط ہے اور اصولاً بھی ایسا ہونا ناممکن تھا۔ کیونکہ ابھی ترامیمات کا کام تو ختم بھی نہیں ہوا تھا۔ ترامیمات کا مرحلہ طے ہونے سے قبل یہ کس طرح طے ہوسکتا تھا کہ ان ترامیمات کو تسلیم کرانے کے طریقہ کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا جاتا۔

دراصل مولانا ذہنی طور پر ڈکٹیٹرانہ خیالات رکھتے ہیں۔ اس لئے انہیں علماء کے فیصلہ کرنے سے قبل ہی ایسی بے بنیاد بات کہہ دینے میں قطعی عار محسوس نہ ہوئی۔

بات ہے کہ مولانا موصوف میرا اور انصاری صاحب کا ذکر تو فرماتے ہیں۔ مگر سب کمیٹی کے دیگر اراکین خصوصاً مولانا عبدالحامد صاحب بدایونی اور مولانا احتشام الحق صاحب کے ذکر سے اس قدر خائف ہیں کہ ان کا نام تک نہیں لیتے اور اس بارگاہ میں بالکل گول ہوگئے ہیں۔ شاید اس لئے کہ ان کے دلائل سے مولانا مودودی کی پوزیشن بالکل بے نقاب ہوگئی تھی۔

جھوٹا الزام

نام سے چلائی جائے۔ نام بہرحال جماعت اسلامی کا ہوگا۔ احرار تو پھر کہیں کے نہ رہے۔‘‘

اس کے سوا میں کیا کہوں کہ مولانا مودودی ایسے ذمہ دار انسان اور جماعت اسلامی کے امیر کبیر نے مجھ پر ایسا صریح جھوٹا الزام لگایا ہے کہ جس کی ایک ادنیٰ مسلمان سے بھی توقع نہیں ہو سکتی۔ ایسی کذب بیانی سے وہی شخص کام لے سکتا ہے جس کے دل سے خدا کا خوف اٹھ جائے اور جو شفاعت رسول کا قائل نہ ہو۔

چیلنج

سے جماعت اسلامی کی شہرت ہوتی تھی اور مجلس احرار کے لئے کوئی جگہ شہرت یا ناموری کی نہ رہتی تھی۔ مباہلہ کا چیلنج کرتا ہوں۔

رضامندی کا اظہار فرمائیں۔

کی ہے کیا نمائندگان میں سے کسی نے بھی بقول ان کے میری اس خودغرضانہ خواہش پر کسی رائے کا اظہار نہ کیا؟ کسی نے مجھے مطعون نہ کیا؟ حاضرین مجلس خاموش بیٹھے میری اور ان کی یہ گفتگو جو انہوں نے اپنی راست گوئی کے پٹارہ سے نکالی ہے۔ سنتے رہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ مودودی صاحب کو ہوس اقتدار نے دیوانہ بنا رکھا ہے۔ وہ جسے اپنی راہ کا روڑا سمجھتے ہیں۔ اسے اٹھا کر دور پھینک دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی خواہشات کی راہ میں سنگ گراں سمجھتے ہوئے رسوا کرنے کے لئے ہر ذلت و خواری اور دجل و فریب کی راہ اختیار کرنے سے کبھی دریغ نہ کریں گے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان کی

صفحہ ۴۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جماعت نے تو جیل ہی میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جب تک وہ احرار کو عوام میں غیر مقبول نہ بنالیں گے۔ اس وقت تک اقتدار کی منزل تک پہنچنے کی راہیں جماعت اسلامی کے لئے ہموار نہیں ہو سکتیں۔ مولانا مودودی اور ان کے رفقائے کار نے جیل ہی سے اس کارخیر کی ابتداء کر دی تھی۔

مولانا مودودی توجہ فرمائیں

مولانا صاحب! آپ نے مجھ پر جو الزام لگایا ہے اسے عقل کے ترازو پر تولا بھی جاسکتا ہے؟ کیا سمجھدار لوگ یہ سیدھی سی عام فہم بات نہیں سمجھ سکتے کہ کوئی شخص جو معاذ اللہ مسئلہ ختم نبوت کی آڑ میں اقتدار اور شہرت کا خواہاں ہو۔ آپ جیسے مخالف شخص کے سامنے غیر جانبدار علماء کرام اور معزز نمائندگان کی موجودگی میں یہ کہے کہ میں تو اسلام کے اس بنیادی مسئلہ کی آڑ میں اپنی شہرت اور نام کا بھوکا ہوں۔ میری خواہش پوری نہ ہوئی تو میں کہاں جاؤں گا؟

مولانا صاحب! اب آپ خود ہی سوچئے اور غور فرمائیے کہ انتقامی جذبہ میں آپ نے مجھ پر کیا بے وزن اور ناقابل یقین الزام تراش کر کتنا بڑا جھوٹ بولا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا خوف آپ کے دل سے اٹھ گیا یا آپ روز حساب کے قائل نہیں۔

ایک واقعہ

مولانا لال حسین صاحب اختر نے فورٹ عباس کے ایک جلسہ عام میں جوابی تقریر کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی کذب بیانیوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ جماعت اسلامی کے کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔ مولانا نصر اللہ خان صاحب عزیز مدیر ”تسنیم“ مولانا لال حسین اختر کی تقریر کے اقتباسات لے کر ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ہماری آپس کی تھوکا فضیحتی اسلام کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اسے کسی طرح رکوائیے۔ ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے صالحین کی نیش زنی سے تنگ آ کر مجلس تحفظ ختم نبوت نے آپ کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔ میں نے تو اس سے بہت پہلے آپ سے عرض کیا تھا کہ آپ اپنے آدمیوں کو سمجھائیں۔ وہ بلاوجہ احرار سے نہ الجھیں۔ اب آپ حضرت شاہ صاحب سے ملتان جا کر ملیں اور ان سے بات کریں۔ ماسٹر صاحب نے اس بارہ میں حضرت شاہ صاحب کو ایک خط بھی لکھ کر بھیجا۔

مولانا نصر اللہ خان صاحب عزیز سے ملاقات

مولانا نصر اللہ خان صاحب عزیز حضرت امیر شریعت سے ملنے کے لئے ملتان تشریف لائے۔ اس ملاقات کے موقعہ پر میں بھی موجود تھا۔ میں نے مولانا نصر اللہ خان صاحب عزیز سے کہا کہ آپ نے یہ کیا طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ جب کسی کے خلاف آپ اچھی طرح دل کھول کر پراپیگنڈا کر لیتے ہیں۔ تب آپ جوابی کارروائی سے بچنے کے لئے اسی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سیاسی عیاری قطعی نامناسب ہے۔ میری گفتگو کا تقریباً یہی مفہوم تھا۔ میں نے مولانا نصر اللہ خان صاحب عزیز سے مزید شکایت کی کہ آپ کے امیر کے حوالہ سے آپ کی ساری جماعت میرے خلاف بہتان لگا رہی ہے کہ میں نے مولانا مودودی سے سبجیکٹس کمیٹی میں یہ کہا کہ اگر تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کو دستور میں شامل کیا گیا تو احرار کہاں جائیں گے؟ کذب بیانی میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ میری اس شکایت پر مولانا نصر اللہ خان صاحب نے فرمایا کہ سبجیکٹس کمیٹی کی تمام کارروائی مجھے مولانا مودودی صاحب نے سنائی تھی۔ مگر انہوں نے آپ کی نسبت یہ بات کبھی

صفحہ ۴۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہیں کہی۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ مولانا نصر اللہ خان صاحب اب اس بارہ میں کیا فرمائیں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی نے گھر بیٹھ کر یہ جھوٹا پروپیگنڈا خود ہی تیار کیا ہے اور اس پروپیگنڈا کا آخری تیر مولانا مودودی نے اپنے بیان میں مار دیا ہے۔

اگر مگر کا چکر

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

یہ رائے قائم کی کہ مجھے اٹھ کر ابھی اپنی علیحدگی کا اعلان کر دینا چاہئے۔ دوسرا خیال میرے ذہن میں یہ آیا کہ اگر میں اس وقت علیحدہ ہو جاؤں تو صرف اپنا ہی دامن اس فتنہ سے بچالے جاؤں گا۔ اسلام اور مسلمانوں کو جس خطرہ میں یہ لوگ مبتلا کرنا چاہتے ہیں اس کو روکنا اس طریقے سے ممکن نہ ہوگا۔“

مولانا مودودی کی کذب بیانی کو اگر راست گوئی مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولانا مودودی نے خود کو اور اپنی جماعت کو تو تحریک ختم نبوت کی شاہراہ سے پرے ہٹا لیا اور اپنے صالحین کے کنبہ کو ہمراہ لے کر کھیت میں جا کھڑے ہوئے۔ مگر قوم اور اسلام کو بقول مولانا مودودی ہلاکت سے بچانے کی پرواہ نہ کی۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ انتقامی ٹرک نے انہیں کھیت ہی میں آ دبوچا۔ کاش مولانا مودودی یہ سمجھتے کہ ختم نبوت سے غداری کے جرم میں انہیں اور ان کے منافق رفقاء کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔

مارشل لاء کا ڈنڈا نظر آیا

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مولانا مودودی خاموش تماشائی کی طرح خاموش کھڑے قوم کی مصیبتوں کا تماشا دیکھتے رہے تا آنکہ انہیں مارشل لاء کا ڈنڈا نظر آیا اور مجبوری کے عالم میں انہیں یہ کہنا پڑا کہ ہمارا اس تحریک سے نہ پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ اب کوئی تعلق ہے۔ حالانکہ تحریک کے شباب کے دنوں میں یعنی ۴؍ مارچ تک وہ تحریک سے وابستگی کا اقرار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تقسیم کار کے وقت جو ڈیوٹی ہمارے ذمہ لگائی گئی تھی اسے باحسن طریق سرانجام دیا جا رہا ہے۔ وہ ڈیوٹی کیا تھی؟ کس نے کس دن جماعت اسلامی کے ذمہ وہ ڈیوٹی لگائی تھی؟ یہ بات دربطن شاعر ہے۔ اسے مودودی صاحب یا ان کے صالحین ہی جانتے ہوں گے۔

کسی کو حکم مانئے

مولانا مودودی صاحب نے اپنے بیان کے آخری حصہ میں فرمایا کہ مجلس عمل کے (آٹھ منتخب اور سات نامزد) ممبران کی کوئی میٹنگ ہی منعقد نہیں ہوئی۔ میں چونکہ مجلس عمل (راست اقدام کمیٹی) کا رکن نہیں تھا۔ اس لئے اس بارہ میں میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ حالانکہ مجھے ذاتی طور پر اچھی طرح معلوم ہے کہ مولانا مودودی باضابطہ کارروائی کو بے ضابطہ کس غرض کے لئے کہہ رہے ہیں۔ میں تو مولانا مودودی سے صرف یہ گزارش کروں گا کہ پاکستان کی تمام دینی جماعتوں کے متفقہ تسلیم شدہ صدر جناب مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری آپ کے نزدیک قابل اعتماد ہیں یا نہیں؟ چلئے انہیں کو اس بارہ میں حکم تسلیم کر لیجئے اور انہیں اختیار دیجئے کہ وہ بعد میں ہونے والی کارروائی کے متعلق فیصلہ کریں کہ وہ باضابطہ تھی یا بے ضابطہ؟ میں تو ابھی اعلان کئے دیتا ہوں کہ مجھے ان کا فیصلہ قبول ہوگا۔ مولانا مودودی فرمائیں کہ اس بارہ میں وہ بھی انہیں حکم تسلیم کرتے ہیں؟

صفحہ ۴۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بزرگان دین کی توہین

کروں گا کہ آپ اگر تیرہ سو سال پہلے کے بزرگان دین کی پرانی تحریریں پیش کر کے تنقید کا حق رکھتے ہیں تو آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم آپ کو اپنے بزرگان دین سے اتنا بلند درجہ دیں گے کہ آپ کی پرانی تحریروں کو وحی الہی سمجھ لیا جائے اور ان پر کوئی تنقید ہی نہ کی جائے۔ قرآن پاک کی یہ آیت تو آپ کی نظر سے ضرور گزری ہو گی۔ (ترجمہ) ”ہلاکت ان لوگوں کے لئے ہے جب وہ لوگوں سے سودا لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔“

حرف آخر

مولانا مودودی صاحب اور ان کی جماعت اسلامی نے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا کر یہ پروپیگنڈا کیا اور اب بھی جماعت اسلامی کے ذمہ دار اراکین یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ دستور جو تقریباً مکمل ہو گیا تھا اگر اپنا لیا جاتا تو مسئلہ ختم نبوت از خود حل ہو جاتا۔ دستوری سفارشات جن کی نسبت جماعت اسلامی اس وقت یہ کہہ رہی ہے کہ سابقہ وزارت ان سفارشات کو منظور کر چکی تھی اور دستور کتاب وسنت کے مطابق تقریباً مکمل ہو گیا تھا۔ یہ پروپیگنڈا جماعت اسلامی کی جانب سے بڑی شدومد سے آج بھی جاری ہے۔ حالانکہ ان سفارشات میں قادیانیوں کو نہ صرف یہ کہ اقلیت قرار نہیں دیا گیا بلکہ انہیں مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا۔ ایسے دستور کو تقریباً اسلامی کہنا جماعت اسلامی ہی کا خاصہ ہے۔

قلابازی ملاحظہ فرمائیے

مجلس عمل کو گردن زدنی، احرار کو قابل دار گرداننے کے بعد مارچ ۱۹۵۳ء کے چراغ راہ میں جماعت اسلامی کے معزز ذمہ دار رکن نعیم صدیقی صاحب لکھتے ہیں: ”اب ہم اس قطعی نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلامی دستور کا بننا اور اس کی بنیادوں پر ایک اسلامی ریاست کا ٹھیک ٹھیک چلنا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک کہ قادیانی مسئلہ کو حل نہ کر لیا جائے۔“

آنچہ دانا کند کند ناداں
لیک بعد از خرابی بسیار

(محمد علی جالندھری)

قارئین کرام! اس ناخوشگوار بحث کو ختم کرنے سے پہلے اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں، میں کبھی اس بحث کو نہ چھیڑتا۔ اگر مولانا مودودی یا ان کی جماعت کے رفقاء اپنی اس غلطی کو تسلیم کر لیتے یا کم از کم اس بحث کو ہی ختم کر دیتے۔ لیکن مجھے قلبی صدمہ ہے کہ وہ اپنی اس غلطی کو صحیح ثابت کرنے اور تحریک کے رہنماؤں کی کردار کشی پر تسلسل کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔ چنانچہ ان کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلباء کے مجلہ ”ہم قدم“ جولائی ۱۹۸۰ء کی اشاعت میں ”نوشتہ دیوار“ کے تحت لکھا ہے۔ ”تحفظ ناموس رسالت کے لئے دو تحریکیں چلیں۔ ایک تحریک اپنوں کی ریشہ دوانیوں اور غلط حکمت عملی کے نتیجہ میں چند روز کے اندر المناک حادثات و واقعات کو جنم دے کر دم توڑ گئی۔“

صفحہ ۴۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس اقتباس کو جماعت اسلامی کے ذمہ دار راہنما بار بار پڑھیں۔ اپنے اور ہمارے طرز عمل کا موازنہ فرمائیں کہ ’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ نے ۱۹۷۴ء ، ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں انہیں اپنے ساتھ ملایا اور اپنے ہر اہم جلسہ و کانفرنس میں انہیں شرکت کی زحمت دی۔ یہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا طرزعمل ہے اور اوپر کا اقتباس ان کے تربیت یافتہ عزیزان کی کرم فرمائی۔

ببیں تفاوت رہ از کجا تا بکجا است

اللہ رب العزت پوری امت محمدیہ کو اتفاق و اتحاد کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور مرزائیت کے تعاقب کی توفیق ارزانی فرمائیں۔ (مرتب)

عدالت تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی رپورٹ پر تبصرہ

از: جناب مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش

ایک ضخیم اور متنوع دستاویز

عدالت تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی رپورٹ جو ایک ضخیم کتاب کی شکل میں شائع ہوئی ہے۔ اس ہاتھی کی مانند ہے جس کے مختلف اعضاء کو چھ اندھوں نے اپنے ہاتھوں سے ٹٹولا اور اپنی حس لامسہ کی مدد سے ہاتھی کے متعلق ہر ایک نے اپنا جدا جدا مخصوص تصور قائم کر لیا۔ ایک نے کہا ہاتھی ایسا تھا جیسے عمارت کا ستون ، دوسرا بولا ، ایک بہت بڑا چھاج ، تیسرے نے کہا ، موٹا سا اژدھا ۔ چوتھے نے کہا کہ ہاتھ بھر کی موٹی رسی ۔ پانچویں نے کہا ناہموار سا چبوترہ ۔ چھٹے نے ارشاد فرمایا وہ تو ایک دیوار سی تھی اور بس ۔ اس رپورٹ نے بعینہ اسی قسم کی کیفیت عامۃ الناس میں پیدا کر رکھی ہے اور ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اس کے متعلق اپنا خیال اور تصور قائم کر چکا ہے یا کر رہا ہے۔

عدالت تحقیقات محض فسادات کی ذمہ داری کا سراغ لگانے اور فسادات کے سلسلے میں حکومت پنجاب کے اختیار کردہ ذرائع کا مکتفی یا نامکتفی ہونا معلوم کرنے کے لئے معرض وجود میں لائی گئی تھی۔ لیکن اس کا دائرہ کار بتدریج وسیع تر ہوتا چلا گیا اور اس عدالت نے فسادات کے اسباب و علل کی تہ تک پہنچنے کی کوشش میں ایسے علمی اور عملی کوائف کا جائزہ بھی لینا چاہا جو اس عدالت کے بجائے اگر کسی علمی بحث و مناظرہ کی مجلس میں پیش کئے جاتے تو مفید تر نتائج حاصل کئے جاسکتے تھے۔

عدالت کن نتائج پر پہنچی

حکومت کی کوتاہی

اہم امور تنقیح پر عدالت تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی کہ پنجاب کی حکومت (میاں ممتاز احمد دولتانہ کی مسلم لیگی وزارت) نے فسادات کا سدباب کرنے یا ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جو ذرائع اختیار کئے وہ مکتفی نہ تھے بلکہ حکومت قانون ملکی کے احترام کو قائم رکھنے اور امن و آئین کی حفاظت کرنے کے فرض کی کماحقہ، بجا آوری سے قاصر رہی۔

فسادات کی ذمہ داری

احرار: دوسرے امر تنقیح یعنی فسادات کی ذمہ داری کے زمرے میں عدالت کی تفتیش کا نتیجہ یہ ہے کہ ہنگامہ آرائی اور خلل امن

صفحہ ۴۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے اس حمام میں مارشل لاء کے حکام کے سوا باقی سب ننگے ہیں۔ عدالت نے فسادات کی کیفیت پیدا کرنے کی ذمہ داری بدرجہ اوّل مجلس احرار اور زعمائے احرار پر عائد کی ہے جنہوں نے ایک مذہبی سوال کو عامتہ الناس میں ہردل عزیزی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا اور قادیانیوں کے مقابلے میں ان سے شدید تر جارحانہ طرز عمل اختیار کیا۔

قادیانی

قادیانیوں کے بارے میں عدالت تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی کہ ان کے معتقدات مسلمانوں کے معتقدات سے متغائر ہیں اور مسلمانوں کے لئے ان کا طرزعمل، ان کی جارحانہ تبلیغ اور ان کے عزائم بدرجہ غایت، دل آزارانہ اور اشتعال انگیز ہیں۔ خود ان کے امام مرزا بشیر الدین محمود، چوہدری ظفر اللہ خان اور مرزائی افسروں نے منافرت کے اس جذبے کو ترقی دی جو مسلمان میں مرزائیوں کے متعلق پہلے ہی سے بدرجہ اتم موجود تھا۔ عدالت نے قادیانیوں کو فسادات کی براہ راست ذمہ داری سے بری قرار دیا۔ یعنی بالواسطہ ذمہ داری کا مورد ٹھہرایا۔

حکومت پنجاب اور میاں ممتاز دولتانہ

عدالت نے حکومت پنجاب، بالخصوص پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ کو فسادات کی ذمہ داری میں اس بناء پر شریک گردانا کہ اس کی حکومت نے احرار کی ایسی سرگرمیوں کو روکنے میں چشم پوشی اور رعایت سے کام لیا جو قانون کی زد اور گرفت میں آ سکتی تھیں اور پبلک میں ہردل عزیز بننے کی خاطر قانون و آئین کا احترام قائم رکھنے کے معاملے میں کوتاہی اور غفلت سے کام لیا اور ایسے اخبارات کو مالی امداد دی جو ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے ایماء پر تحریک کو خاص رخ پر ڈالنے کے لئے مضامین شائع کرتے تھے۔

مرکزی حکومت اور خواجہ ناظم الدین

عدالت نے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان کی مرکزی حکومت کو اس وجہ سے فسادات کا ذمہ دار قرار دیا کہ اس نے چوہدری ظفر اللہ خان کو محض باہر کے ملکوں کی چہ میگوئیوں کے خوف سے وزارت سے برطرف نہ کیا اور مسلمانوں کے مطالبات کو مسترد کر کے ہیجان عمومی کو ترقی دی۔ مزید برآں عدالت نے تعلیمات اسلامیہ کے سرکاری بورڈ کو بھی ذمہ داری کا شریک ٹھہرایا۔ کیونکہ اس بورڈ کے ارکان بھی مجلس عمل کے اقدامات سے متفق تھے۔

مجلس عمل

عدالت کی رائے میں آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل اور علمائے دین کی وہ انجمنیں جنہوں نے مجلس عمل کی ساخت میں حصہ لیا۔ اس بناء پر فسادات کی ذمہ داری میں شریک ہیں کہ مجلس عمل نے اپنی بات منوانے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے راست اقدام کا فیصلہ کیا۔

جماعت اسلامی

مجلس عمل کو جن دینی انجمنوں نے تشکیل کیا تھا۔ ان میں سے جماعت اسلامی نے عدالت تحقیقات کے سامنے اپنا کیس اس شکل میں پیش کیا تھا کہ جماعت اسلامی کو مجلس عمل کے فیصلہ ”راست اقدام“ سے اتفاق نہ تھا اور مجلس مذکور کا یہ فیصلہ آئینی ہی نہ تھا۔ لہٰذا فسادات

صفحہ ۴۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی ذمہ داری سے جماعت اسلامی کا دامن پاک ہے اور وہ لوگ فسادات کی ذمہ داری میں شریک ہیں جنہوں نے راست اقدام کا فیصلہ کیا۔ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لئے شہادتیں پیش کیں اور ان کے وکیل نے راست اقدام اور فسادات کی ذمہ داری کا بوجھ مجلس عمل کے ارکان پر ڈالنے کے لئے بہت کچھ زور استدلال صرف کیا۔ لیکن عدالت تحقیقات نے جملہ بیانات کی جرح و تعدیل کر کے اس نقطہ پر حسب ذیل فیصلہ دیا۔

بمقام کراچی ”راست اقدام“ کی قرارداد منظور کی۔

اظہار نہیں کیا اور یہ پروگرام کہ گورنر جنرل اور وزیر اعظم کے دولت کدوں کی طرف رضا کار بھیجے جائیں۔ اس کی موجودگی میں اس کی طرف سے کسی قسم کے احتجاج کے بغیر طے ہوا تھا۔

اسلامی نے کوئی پبلک اعلان اس مضمون کا نہیں کیا کہ راست اقدام سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور وہ ان سرگرمیوں سے جو مجلس عمل کے طے کردہ پروگرام کو چلانے کے لئے کی جارہی ہیں اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔

جاری ہے اور جب تک حکومت طاقت کا استعمال ترک کر کے عوام کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتی امن کی اپیل شائع کرنے کا کوئی موقعہ نہیں۔

میں ظاہر کئے تھے۔

(رپورٹ انگریزی ص۲۵۱، ۲۵۲)

فاضل جج صاحبان نے جماعت اسلامی کے بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے جماعت اسلامی کے ذہن کا صحیح طور پر مطالعہ کر لیا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ جماعت مذکور اس پروگرام کی موزونیت کی قائل نہ تھی۔ جو ”راست اقدام“ کی قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے طے ہوا تھا۔ لیکن وہ پبلک کے سامنے اپنے حقیقی خیالات کا کھلا اور دیانتدارانہ اظہار کرنے سے خائف تھی تاکہ کہیں عوام میں نامقبول نہ ہو جائے۔ گویا اس ذہنیت اور روش میں وہ دوسری سیاسی جماعتوں یا شخصیتوں سے مختلف نہ تھی۔ یہ جماعت بھی دوسروں کی طرح کوئی ایسی بات کرنے سے خائف تھی جو اسے عوام کو نکتہ چینی کا تختہ مشق بنا دے۔

(رپورٹ انگریزی ص۲۵۳)

مسلم لیگ

عدالت کے خیال میں مسلم لیگ اس لئے ذمہ دار ہے کہ اس کی صوبائی کونسل نے ایسی قرارداد منظور کی جس میں قادیانیوں کو

صفحہ ۵۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں سے جدا گانہ عقائد رکھنے والا گروہ قرار دیا اور مسلم لیگ کے بعض لیڈروں اور کارکنوں نے تحفظ ختم نبوت اور راست اقدام کی تحریکات میں عملی حصہ لیا اور مجلس عمل کا ساتھ دیا اور دوسرے لیڈروں اور کارکنوں نے راست اقدام کی تحریک کی مخالفت نہ کی۔ مزید برآں مسلم لیگ نے مقتدر سیاسی نظام کی حیثیت میں ان مسائل پر پبلک کی صحیح راہنمائی نہ کی۔

مجلس عمل کے مطالبات

فسادات کی ذمہ داری کے بارے میں عدالت تحقیقات کے فاضل جج صاحبان جن نتائج پر پہنچے ہیں۔ ان سے مترشح ہے کہ اگر اس ذمہ داری کی سزا موت تجویز کی جائے تو احرار کے زعماء کو قادیانیت کے لیڈروں اور قادیانی سرکاری افسروں کو، علمائے اسلام کی ایک کثیر جماعت کو، خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کے جملہ ارکان کو، تعلیمات اسلامیہ کے سرکاری بورڈ کے ممبروں کو، میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کو تختہ دار پر لٹکا دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود فاضل جج صاحبان کے ارشاد کے مطابق مطالبات کا بچہ یعنی فساد کا مرکزی نقطہ پھر بھی زندہ رہتا ہے۔ اگر اس بچے کی پرورش کر کے اس سے کام لینے کے لئے کوئی طالع آزما گروہ کھڑا ہو جائے تو ملک میں پھر اسی قسم کی کیفیات پیدا ہو سکتی ہیں جو مارچ ۱۹۵۳ء کے اوائل میں لاہور اور پنجاب کے دوسرے مقامات پر دیکھنے میں آئیں۔

رپورٹ میں فاضل جج صاحبان نے احرار کی مذمت کرنے میں پورا زور قلم صرف کیا ہے۔ کیونکہ ”انہوں نے ایک دینی موضوع کو دنیوی مقصد کی خدمت پر لگا کر اس کا استخفاف کیا اور اپنی ذاتی اغراض کی خاطر عامتہ الناس کے مذہبی جذبات سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۵۹)

لیکن جہاں تک موضوع فساد کا دینی ہونے کا تعلق ہے عدالت کو اس کی صحت اہمیت اور موجودگی سے انکار نہیں بلکہ عدالت نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی حیثیت سے باہم بنیادی اختلافات روز اوّل ہی سے موجود تھے اور موجود ہیں۔ اس سلسلے میں جس قدر نقاط مجلس عمل کی طرف سے عدالت کے سامنے پیش کئے گئے عدالت نے اپنی رپورٹ میں ان سب کا ذکر کر دیا ہے اور ان کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں عدالت کی تنقیدات حسب ذیل ہیں۔

مسلمانوں اور قادیانیوں کے بنیادی مذہبی اختلافات

احمدی، قادیانی یا مرزائی

سرکاری کاغذات اور پولیس کی رپورٹوں میں اس کیفیت کو جو فسادات معلومہ پر منتج ہوئی۔ ”احرار، احمدی اختلاف“ کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے اور قادیانی اپنے آپ کو احمدی اور مسلمانوں کو غیر احمدی لکھنے کے عادی تھے۔ مجلس عمل اور اس کی حلیف جماعتوں کی طرف سے ان الفاظ و تراکیب کے استعمال پر اعتراضات وارد کئے گئے۔ جن کی صحت کو عدالت نے صحیح تسلیم کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا ہے۔ ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے سواد اعظم کو جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں رکھتا۔ ان لوگوں سے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ممیز کرنے کے لئے لفظ ”مسلمان“ استعمال کریں اور احمدیوں کی قادیانی جماعت کے لئے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی ہونے پر ایمان رکھتی ہے۔ ”احمدی، قادیانی یا مرزائی“ کی اصطلاح استعمال کریں۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۹)

صفحہ ۵۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے نبوت کے سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔ ’’اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے شروع شروع میں لوگوں کے سامنے اپنا مدعا اس ہدایت کے ساتھ پیش کیا کہ وہ اسے قبول کر لیں۔ تاہم یہ سوال تحقیق طلب ہے کہ آیا اس نے اپنی وحی کے متعلق وحی نبوت کے درجے کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں ۔ جس پر ایمان لانے سے کوتاہی بعض روحانی اور اخروی نتائج کی حامل ہے۔ احمدیوں نے اور ان کے موجودہ امام نے محتاطانہ غور و فکر کے بعد ہمارے سامنے یہ پوزیشن اختیار کی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن فریق ثانی شدت اصرار کے ساتھ مجادل ہے کہ اس نے ایسا کیا۔ احمدیوں کے لٹریچر میں جس میں مرزا غلام احمد قادیانی اور احمدیہ جماعت کے موجودہ امام کی بعض تحریرات بھی شامل ہیں۔ بعض ایسے اظہارات موجود ہیں۔ جو فریق مجادل کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے سامنے اب جو پوزیشن اختیار کی گئی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو محض اس لئے نبی کہا کہ اس کے الہام میں خدا نے اسے اسی طرح ظاہر کیا تھا۔ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لایا نہ اس نے اصلی شریعت کو منسوخ کیا۔ نہ اس میں کچھ اضافہ کیا۔ نیز یہ کہ کوئی شخص مرزا قادیانی کی وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے یا اس وحی پر ایمان لانے سے محروم یا قاصر رہ جانے کے باعث دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ہم پیش ازیں لکھ چکے ہیں کہ ہمارا منصب یہ نہیں کہ ہم اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں ہم نے اس نقطہ کا ذکر محض اختلافات کی تشریح کرنے کے خیال سے کیا ہے جو احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان مبینہ طور پر موجود ہیں۔ ہم اس امر کا فیصلہ غیر احمدیوں پر چھوڑتے ہیں کہ (اس نئی پوزیشن کے اعلان کے بعد) وہ احمدیوں کو مسلمان سمجھیں یا نہ سمجھیں۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۱۸۹)

قادیانی وکیل نے عقیدہ اجرائے نبوت کی تائید میں قرآن پاک کی جو آیات پیش کیں اور جس نوعیت کے استدلال سے کام لیا اس پر فاضل جج صاحبان نے رائے زنی کرتے ہوئے تحریر کیا ہے۔ ’’ایک مسلسل استدلال کی بناء پر قرآن پاک کی ان آیات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مستقبل میں یعنی ہمارے رسول اقدس واطہر (ﷺ) کے بعد ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہیں گے جن پر لفظ نبی یا رسول ﷺ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ یہاں اس سلسلہ استدلال کی تشریح کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ نہ تو ہم اس امر کا فیصلہ کرنے کے مکلف ہیں نہ ہم سے اس کی توقع کرنی چاہئے کہ آیات مذکور کی کون سی مخصوص تفسیر صحیح یا غلط ہے۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۱۸۸)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات وممات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ممات اور قیامت کے قریب ان کے نزول کے بارے میں قادیانیوں کے عقائد اور آیات متعلقہ کی قادیانی تفسیر کا ذکر کرتے ہوئے فاضل جج صاحبان لکھتے ہیں: ’’مولانا مرتضیٰ احمد خان نے مجلس عمل کی جانب سے بحث کرتے ہوئے بتایا کہ ان آیات قرآنی کی احمدی تفسیریں، تاویل و تحریف کے درجے تک پہنچ جاتی ہیں اور اس قسم کی تاویل و تحریف کفر و ارتداد کو مستلزم ہے جو اس کے مرتکب کو حلال الدم والمال کے فتوے کا مستوجب بنا دیتی ہے۔ یعنی ایسے شخص کا خون اور مال ’از روئے شریعت اسلام‘ مباح ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس اختلاف کے حسن و قبح پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا جس کا مرکزی نقطہ سورہ المنافقون کی آیت ۵۷ کے

صفحہ 502

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مثلاً اور مادہ وفی کے مشتقات جو آیات محولہ بالا میں آئے ہیں ۔ نیز سورہ الانعام کی آیت ۶۱ کا لفظ ”توفته“ ہے۔

(رپورٹ انگریزی ص۱۹۱)

جہاد کے بارے میں قادیانی عقائد

جہاد کے قرآنی حکم کی تنسیخ کے بارے میں قادیانیوں کی طرف سے جو صفائی پیش کی گئی اس کا ذکر بالوضاحت کرتے ہوئے فاضل جج صاحبان نے تحریر کیا ہے: ”جہاد کے بارے میں مرزا قادیانی کی نشریات کا عام انداز ظاہر کرتا ہے کہ یہ تحریریں ان واقعات کے سلسلے میں لکھی گئیں جو ان دنوں سرحد پر رونما ہو رہے تھے اور جہاں برطانوی افسروں کے پے در پے قتل کی وارداتیں واقع ہوتی رہتی تھیں۔ ہر برطانوی افسر کو جو ہندوستان میں آتا تھا، ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ غازی یعنی افغانی یا قبائلی مذہبی دیوانے سے محتاط رہے جو کافر کو قتل کرنا مذہبی حیثیت سے کارثواب اور مالی حیثیت سے نفع بخش خیال کرتا ہے تاکہ بہشت میں اجر پائے۔ ایسے حملے اگر ان کا محرک مذہبی جوش تھا۔ بلا شبہ اسلامی عقیدہ جہاد کے منافی تھے اور مرزا قادیانی نے اس اعتقاد کی تردید کر کے اچھا کام کیا۔ لیکن حکم جہاد کی جو تشریح مرزا قادیانی نے کی اسے انہوں نے ان متملقانہ اور خوشامدانہ بیانات سے جو اس تشریح میں مہربان حکومت برطانیہ اور اس کی مذہبی رواداری کی پالیسی کے بارے میں لکھے۔ مشتبہ بنالیا جب مرزا قادیانی نے اس عدم رواداری جو مسلمان ملکوں میں پائی جاتی تھی اور انگریزوں کی فراخ دلانہ مذہبی حکمت عملی کے درمیان تحقیر آمیز مقابلہ وموازنہ شروع کر دیا تو مسلمانوں میں مزید غصہ واشتعال پیدا ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس امر کا بخوبی احساس تھا کہ ان کے (پیش کردہ) عقائد کو اسلامی ملکوں میں ارتداد کی نشر واشاعت پر محمول کیا جائے گا۔ جب افغانستان میں عبداللطیف نامی ایک قادیانی کو سنگسار کر دیا گیا تو ان کے اس خیال کی تصدیق ہو گئی ہو گی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران میں جس میں ترکی نے شکست کھائی جب ۱۹۱۸ء میں انگریزوں نے بغداد فتح کیا تو قادیان میں جشن فتح منایا گیا۔ اس بات نے مسلمانوں کے قلوب میں سخت رنج اور تلخی پیدا کر دی اور وہ احمدیت کو برطانیہ کی لونڈی خیال کرنے لگے۔“

(رپورٹ انگریزی ص۱۹۶)

اسلامی اصطلاحات کا استعمال

عدالت تحقیقات نے قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کی ایک اور بہت بڑی شکایت کی صحت کو بھی من وعن تسلیم کر لیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریرات میں انبیائے کرام علیہم السلام اور حضور سید المرسلین ﷺ پر اپنی فضیلت کا اظہار کر کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری کی ہے اور قادیانی اپنی مطبوعات میں مسلمانوں کی مقدس اصطلاحات مثلاً امیر المؤمنین، ام المؤمنین، سیدۃ النساء، صحابہ کرام وغیرہ کو جن کا محل استعمال مخصوص ہو چکا ہے اپنے اکابر کے لئے استعمال کر کے دل آزاری کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ فاضل جج تحریر فرماتے ہیں: ”ہمارا وظیفہ یہ نہیں کہ ہم اس امر کا فیصلہ کریں کہ آیا یہ نام صحیح طور پر استعمال کئے گئے یا نہیں۔ لیکن ان اصطلاحات کے استعمال سے مسلمانوں کے احساسات پر جو اثر ہوتا ہے اس کے متعلق ہمیں ذرہ بھر شک نہیں۔ یہ اصطلاحات اپنے مخصوص اور محدود استعمال کی وجہ سے مقدس بن چکی ہیں اور تاریخ اسلام کی بعض اعلیٰ ہستیوں کی یاد سے مختص ہو چکی ہیں۔ اس طرح احمدیوں کے لٹریچر میں حضرت رسول اکرم ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کی بعض خواتین کے متعلق جو ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں بھی ہماری رائے یہی ہے۔ اگرچہ اس شکایت کی ایک مثال غالباً زیادہ بیہودہ صورت میں قلائد الجواہر میں بھی موجود ہے۔ بلاشبہ حضرت رسول اکرم ﷺ اور کسی اور زندہ یا مردہ شخص کے درمیان کسی قسم کا موازنہ ہر مومن کے لئے دل آزاری کا موجب ہے۔“

(رپورٹ انگریزی ص۱۹۷)

صفحہ ۵۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان کی مخالفت

عدالت تحقیقات نے اس امر پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ قادیانی نہ صرف دیگر اسلامی مملکتوں پر برطانیہ کے راج کو ترجیح دیتے تھے۔ بلکہ تقسیم ملکی سے پہلے وہ پاکستان کی اسلامی مملکت کے قیام کے سخت مخالف تھے اور اب بھی اس امر کے خواہاں ہیں کہ ہندوستان پھر سے متحد ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے۔ فاضل جج صاحبان نے اس نقطہ پر حسب ذیل رائے ظاہر کی ہے۔

”جب تقسیم ملکی کے ذریعے سے مسلمانوں کے لئے ایک جداگانہ وطن کے امکانات افق پر نمودار ہونے لگے تو آنے والے واقعات کا سایہ احمدیوں کو فکرمند بنانے لگا۔ ۱۹۴۵ء سے لے کر ۱۹۴۷ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات منکشف ہیں کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا رؤیا ایک آنے والی حقیقت کی شکل اختیار کرتا نظر آنے لگا تو وہ محسوس کرنے لگے کہ ان کے لئے اپنے آپ کو نئی مملکت کے تصور پر راضی کرنا ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ وہ ضرور اپنے آپ کو ایک عجیب مخمصے میں مبتلا محسوس کرتے ہوں گے۔ کیونکہ وہ نہ تو ایک ہندو دنیوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کر سکتے تھے نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔ جہاں اس امر کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ اعتزال و تفریق کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ان کی بعض تحریرات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ تقسیم ملکی کے خلاف تھے۔ لیکن اگر تقسیم معرض عمل میں آجائے تو وہ ملک کو از سر نو متحد کرنے کے لئے کوشاں رہیں گے۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۶)

مسلمانوں سے علیحدگی

عدالت نے اس امر کو بھی تسلیم کر لیا کہ احمدی سرکاری افسر اور ملازم دوسروں کو مذہب تبدیل کراتے رہے ہیں۔

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۷)

اور اپنی جداگانہ جماعتی تنظیم رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کے دفاتر میں امور خارجہ کا محکمہ بھی ہے اور امور داخلہ، امور عامہ اور نشر و تبلیغ کے محکمے بھی قائم ہیں۔ ان کے ہاں رضا کاروں کا ایک جیش بھی ہے جس کا نام خدام (خدام احمدیہ) ہے جو فرقان بٹالین یعنی کشمیر میں کام کرنے والی مخصوص احمدی بٹالین پر مشتمل ہے۔ وہ مسلمانوں سے رشتے ناطے کا تعلق بھی نہیں رکھتے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۸)

وہ کسی مسلمان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھتے۔ اس سلسلے میں قادیانی فریق نے عدالت کے سامنے اپنے طرز عمل کی جو تصریح پیش کی اور نئی پوزیشن بیان کی۔ اس بارے میں عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ: ”یہ توجیہ صورتحال کو بہتر نہیں بناتی۔ کیونکہ اس خیال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایسے متوفی کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس طرح یہ نئی توجیہ در حقیقت ان کی موجودہ طرز عمل کی تصدیق کرتی ہے۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۹)

تکفیر مسلمین

تکفیر مسلمین کے بارے میں قادیانی فریق کی طرف سے جو نئی توجیہات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ ان کے بارے میں فاضل جج صاحبان کی رائے یہ ہے: ”ہم نے اس موضوع پر احمدیوں کے سابقہ اعلانات دیکھے ہیں۔ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہمارے نزدیک یہ اعلانات اس کے سوا...... اور کسی تشریح کے حامل نہیں کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ وہ دائرہ اسلام سے

صفحہ ۵۰۴

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

خارج ہیں۔ اب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان حضرت رسول اقدس واطہر (ﷺ) کے بعد کسی مامور من اللہ کے دعوے کو قبول نہ کرے۔ وہ اللہ اور رسول کا منکر نہیں۔ لہٰذا وہ امت میں داخل ہے۔ یہ توجیہ ان کے سابقہ اعلانات سے مختلف نہیں کہ دوسرے مسلمان کافر نہیں۔ حقیقتاً ان کے یہ الفاظ ان کے سابقہ اعتقاد کی بالواسطہ از سر نو تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے لوگ صرف اس معنی میں مسلمان ہیں کہ وہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی امت میں سے ہیں اور اس لحاظ سے ایسے سلوک کے مستحق ہیں جو مسلمانوں کے معاشرے کے افراد سے ہونا چاہئے۔ یہ بات یہ کہنے سے بہت مختلف ہے کہ وہ مسلمان ہیں کافر نہیں۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۹)

اشتعال انگیزیاں

عدالت نے قادیانی اکابر کی تحریروں اور تقریر کے اشتعال انگیز ہونے کا نوٹس بھی لیا ہے۔ ”خونی ملّا کے آخری دن“ کے عنوان والے مضمون کے بارے میں فاضل جج صاحبان نے لکھا: ”یہ مضمون قطعی طور پر اشتعال انگیز ہے۔ اس مضمون میں مولانا احتشام الحق اور مولانا محمد شفیع ایسے علماء کے بارے میں جو مجلس دستور ساز سے ملحقہ تعلیمات اسلامیہ بورڈ کے رکن ہیں۔ نیز مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے بارے میں جن کے وسیع مبلغ علم دین سے کسی کو مجال انکار نہیں۔ جو استہزاء آمیز کلمات درج ہیں۔ ان سے نہ صرف ان علماء کی جن کے نام اس مضمون میں لئے گئے ہیں بلکہ سارے علماء کی دل آزاری ہوئی ہوگی۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۷، ۱۹۸)

اسی سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر کوئٹہ (مطبوعہ الفضل مورخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء) جس میں بلوچستان کو خالص مرزائی صوبہ بنا کر تبلیغ احمدیت کا بیس بنانے کے عزائم کا اظہار کیا گیا۔ ان کے خطبہ جلسہ ربوہ (مطبوعہ الفضل مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۵۳ء) جس میں مخالفین احمدیت کو دھمکی دی گئی ہے کہ عنقریب مرزا قادیانی یا ان کے کسی جانشین کے سامنے مجرموں کی طرح پیش ہوں گے اور ان کے خطبہ جمعہ (مطبوعہ الفضل مورخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۵۲ء) جس میں احمدیوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ فوجی محکمہ کی طرح گورنمنٹ کے دوسرے محکموں میں بھی بھرتی ہونے کی کوشش کریں تاکہ تبلیغی پروگرام کو تقویت پہنچے اور اعلان (مطبوعہ الفضل مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۲ء) جس میں احمدیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے حالات پیدا کر دو کہ ۱۹۵۲ء کے گزرنے سے پہلے پہلے دشمن احمدیت کی آغوش میں گرنے پر مجبور ہو جائے اور بعض دوسری تحریرات کی اشتعال انگیزانہ ماہیت کا اعتراف کیا ہے اور لکھا ہے کہ احمدیوں کی جارحانہ تبلیغ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ہنگاموں اور حملوں کی وجہ بنتی رہی ہے۔

(رپورٹ انگریزی ص ۱۹۹، ۲۰۰)

فاضل جج صاحبان نے قادیانیوں کی اشتعال انگیزیوں کے سلسلے میں چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کی اس تقریر کا تذکرہ اس موقع پر تو نہیں کیا جو انہوں نے جہانگیر پارک کراچی کے جلسے عام میں مورخہ ۱۸؍ مئی ۱۹۵۲ء کو کی تھی اور جس کی وجہ سے ملک بھر میں غصہ واشتعال کی ایک زبردست لہر پیدا ہو گئی تھی۔ البتہ رپورٹ کے ابتدائی حصے میں جہاں واقعات کی رفتار کو سلسلہ وار درج کیا گیا ہے۔ اس تقریر کا اور اس سے پیدا ہونے والے ہیجان اور ہنگاموں کا جامع تذکرہ فاضل جج صاحبان کی طرف سے کسی قسم کے تبصرہ کے بغیر موجود ہے۔

(رپورٹ انگریزی ص ۷۵، ۷۶، ۷۷)

قادیانیوں کی ذمہ داری

رپورٹ کے حصہ بعنوان ”ذمہ داری“ میں فاضل جج صاحبان نے احمدیوں کے متعلق حسب ذیل شذرہ سپرد قلم کیا ہے: ”احمدی

صفحہ ۵۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

براہ راست یا بالواسطہ فسادات کے ذمہ دار نہیں۔ کیونکہ فسادات حکومت کے اس اقدام کا نتیجہ تھے جو اس پروگرام کے خلاف اختیار کیا۔ جس پر چلنے کا فیصلہ آل مسلم پارٹیز کنونشن نے قرار داد راست اقدام کے ماتحت کیا تھا۔ لیکن مطالبات احمدیوں کے متعلق تھے اور وہ احمدیوں کے عجیب و غریب مخصوص عقائد اور ان کی سرگرمیوں نیز ان کی طرف سے دوسرے مسلمانوں پر اپنے ممتاز ہونے پر زور دیئے جانے کی وجہ سے وضع ہوئے۔ از بس کہ یہ عقائد اور سرگرمیاں بلاشبہ مطالبات کے وقوع میں آنے کا سبب تھیں۔ اس لئے اس بات کا فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آیا احمدی فسادات کا محرک ہونے میں حصہ دار ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے سواد اعظم سے ان کے اختلافات نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے چلے آ رہے تھے اور تقسیم ملکی سے پہلے احمدی کسی قسم کی رکاوٹ یا بندش کے بغیر اپنا پروپیگنڈا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو مرتد بنانے کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ پاکستان کے قیام کی بدولت کیفیت حال تمام و کمال بدل گئی۔ اگر احمدیوں نے یہ خیال کیا کہ اس بارے میں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی پالیسی کے اعلان کا نہ ہونا کہ پاکستان کے اندر اسلام کے سوا دیگر مذہب یا دائرہ اسلام کے فرقہ وارانہ عقائد کی تبلیغ واشاعت کی اجازت کس حد تک دی جاسکتی ہے۔ یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نئی مملکت میں ان کی سرگرمیاں خفگی پیدا نہیں کریں گی اور نوٹس میں آئے بغیر جاری رکھی جاسکیں گی تو وہ اپنے آپ کو بے وقوف بنا رہے تھے۔ تبدیل شدہ حالات نے ان کی سرگرمیوں میں کسی قسم کی جوابی تبدیلی پیدا نہ کی۔ جارحانہ تبلیغ اور غیر احمدی مسلمانوں کے متعلق ان کے دل آزارانہ اظہارات جاری رہے۔ مرزا بشیر الدین محمود کی کوئٹہ والی تقریر جس میں اس نے اس صوبے کی ساری آبادی کو احمدی بنا لینے اور اسے مزید کارروائیوں کے لئے بیس (مرکز) بنانے کی کھلم کھلا تلقین کی نہ صرف بداندیشانہ تھی بلکہ اس کے علاوہ نادانشمندانہ اور اشتعال انگیز بھی تھی۔ اسی طرح اپنے متبعین کو اس کی یہ ہدایت کہ وہ احمدیت کی تبلیغ کے لئے اپنے پروپیگنڈا کو اس قدر تیز کر دیں کہ ساری مسلمان آبادی ۱۹۵۲ء کے اختتام سے پہلے پہلے احمدیت کی آغوش میں آگرے۔ مسلمانوں کے لئے ان کی ارتداد آفرین سرگرمیوں کا ایک کھلا نوٹس تھی اور ان لوگوں کو جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں رکھتے۔ دشمن یا مجرم یا صرف مسلمان کے الفاظ سے یاد کرنا ایسے اشخاص کو اشتعال دلائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جن کی توجہ ان الفاظ کی جانب مبذول کرائی جاتی۔ احمدی افسر سمجھتے تھے کہ ارتداد پھیلانے کے معرکے میں پوری تن دہی اور دل جمعی کے ساتھ حصہ لینا ان کا مذہبی فرض ہے۔ احمدی افسروں کی اس روش نے احمدیوں کے حوصلے اور بھی بڑھا دیئے اور ایسی جگہوں پر جہاں انہیں افسروں کی تائید حاصل تھی یا وہ اس کی توقع رکھتے تھے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے زیادہ قوت کے ساتھ کام کرنے لگے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر منٹگمری کا انتظامی افسر اعلیٰ احمدی نہ ہوتا تو احمدی کبھی غیر احمدیوں کے ایک مجموعہ دیہات کی طرف تبلیغ مشن پر جانے کی جرأت نہ کرتے۔ جب کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ وارانہ خیالات کا اظہار کھلے بندوں کرنے لگے۔ جیسا کہ بعض احمدی افسروں نے کیا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایسے جھگڑوں میں جہاں اس کی اپنی جماعت کا کوئی فرد شامل ہو۔ اس کی غیر جانبداری اور بے طرفی پر سے اعتماد یکسر اٹھ جائے۔ اس کا فیصلہ خواہ کتنا ہی صحیح اور دیانت دارانہ ہو لیکن اگر وہ فیصلہ کسی ایسے شخص کے خلاف ہے جو اس کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا تو وہ یہ اثر لئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسے فرقہ وارانہ وجوہ کی بناء پر بے انصافی کا شکار بنایا گیا ہے۔ لہٰذا ان افسروں کا طرز عمل بہت ہی افسوس ناک اور بدبختانہ تھا اور ظاہر کرتا تھا کہ یہ افسر اس اصول کو سمجھنے اور اخذ کرنے سے قاصر ہیں۔ جسے ہر سرکاری افسر کو اپنی روش پر حکم فرما بنانا چاہئے۔ بنا بریں ہم مطمئن ہیں کہ اگرچہ احمدی فسادات کے براہ راست ذمہ دار نہیں۔ لیکن ان کی اپنی روش نے ان کے خلاف ایک عام شورش کو ابھرنے کا موقع بہم پہنچایا۔ اگر عوام کے احساسات ان کے خلاف اس قدر تیز نہ ہوتے تو ہمارا خیال ہے کہ احرار کبھی اپنے اردگرد مختلف العقائد مذہبی

صفحہ ۵۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جماعتوں کو جمع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکتے ۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۲۶۰ ، ۲۶۱)

فاضل جج صاحبان نے اگرچہ قادیانیوں کو فسادات کا براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ تاہم اس سلسلے میں مجلس عمل کے پیش کردہ نقاط کو من وعن صحیح تسلیم کرتے ہوئے تحریر فرما دیا ہے کہ فسادات کی بالواسطہ ذمہ داری قادیانیوں کے عجیب وغریب عقائد ان کی جارحانہ اور اشتعال انگیزانہ سرگرمیوں اور قادیانی سرکاری افسروں کے ناروا شوق تبلیغ پر عائد ہوتی ہے جو پاکستان میں مذہبی تفوق حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کیا گیا ۔

علمی، دینی اور نظریاتی حیثیت کے مسائل

فاضل جج صاحبان نے اس رپورٹ میں ان علمی، دینی اور نظریاتی حیثیت کے مسائل ونقاط پر بھی تبصرہ آرائی اور خامہ فرسائی کی ہے کہ جو تحقیقات کے دوران میں زیر تدقیق آئے۔ راقم الحروف کے خیال میں عدالت مذکور کا ایوان ان علمی اور نظریاتی مسائل کی تحقیق وتدقیق کے لئے موزوں مقام نہ تھا۔ اس کے بجائے اگر یہ مسائل کسی جداگانہ علمی مجلس یا دیوان عالی کے سامنے زیر بحث لائے جاتے تو مفید تر نتائج حاصل ومرتب کئے جاسکتے تھے۔ فاضل جج صاحبان نے چند ایک علمائے دین اور دیگر گواہوں کے ان بیانات کی بناء پر جو ان سے عدالت کے اندر برسبیل تعجیل وارتجال حاصل کئے گئے۔ ان اہم ترین مسائل کا تذکرہ رپورٹ میں کر دیا ہے جو بہت کچھ غور وفکر اور تحقیق وتعدیل کے محتاج ہیں۔ ان مسائل کے متعلق صحیح نتائج حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اس مقصد کے لئے مخصوص دیوان عالی مقرر کیا جاتا اور اس میں تنقیحات معین کر کے ارباب علم کو اظہار فکر ورائے کی دعوت دی جاتی ۔ عدالت مذکور کے لئے افراد وجماعت نے علمی نظریات تصورات کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کر لیا اور ان ملزمان کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنی صفائی میں اپنے حسب منشاء گواہ یا وکیل پیش کر سکیں۔ ایسے ملزمان جو فاضل جج صاحبان کے ریمارکس کا تختہ مشق بنے ۔ حسب ذیل ہیں :

(۱) مجلس عمل کے مطالبات

فاضل جج صاحبان نے آل مسلم پارٹیز کنونشن کے سہ گانہ مطالبات کو ’’فسادات کی براہ راست علت‘‘ قرار دیا ہے۔

(رپورٹ انگریزی ص ۱۸۲، ۱۸۵)

لیکن اس کے ساتھ ہی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ مقصد جس کے لئے تحریک اٹھائی گئی خالصتاً دینی تھا۔ (رپورٹ انگریزی ص ۲۵۹) عدالت نے اپنی رپورٹ میں کسی مقام پر بھی مطالبات کو فضول اور بیہودہ قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ بعض سرکاری افسروں نے اپنے

صفحہ ۵۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیانات میں اور اپنی رپورٹوں میں جو عدالت کے سامنے پیش کی گئیں ظاہر کیا تھا، بلکہ یہ لکھا ہے کہ: ”مطالبات ایسے خوش نما انداز میں پیش کئے گئے کہ اس زور تاکید کے پیش نظر جو اسلامی یا اسلامی ریاست سے دور کا تعلق رکھنے والی کسی بات پر دیا جانا ضروری تھا کسی شخص کو ان کی مخالفت کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ حتی کہ مرکزی حکومت کو جرأت نہ ہوئی کہ ان چند مہینوں میں جب کہ تحریک اپنی جملہ پیچیدگیوں کے ساتھ عروج اظہار پر تھی۔ اس موضوع پر کوئی ایک آدھ اعلان عام ہی شائع کر دیتی۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۳۵)

فاضل جج صاحبان نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ اگر علمائے اسلام کے یہ مطالبات مان لئے جاتے تو فساد برپا نہ ہوتا۔ اس صورت میں ”چوہدری ظفر اللہ خان کے عزل پر بین الاقوامی حلقوں میں کچھ ہل چل مچتی۔ لیکن پاکستان کی آبادی (حکومت کے) اس اقدام پر نعرہ ہائے تحسین بلند کرتی۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۸۲)

فاضل جج صاحبان نے کیفیت حالات کا تجزیہ کرنے ان اسباب و علل کو ڈھونڈ نکالنے کی سعی کی ہے۔ جن کی بناء پر خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت نے اپنے ہاں کے عوام کے یہ سادہ سے مطالبات منظور کرنے کے بجائے ملک کو ایسے خطرات میں ڈالنا گوارا کر لیا جو مارشل لاء کے نفاذ پر منتج ہوئے۔ اگر خدانخواستہ مارشل لاء بھی امن و آئین کے قیام و تحفظ کے مقصد میں ناکام رہ جاتا تو نہ معلوم پاکستان کا حشر کیا ہوتا ؟ فاضل جج صاحبان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خواجہ ناظم الدین نے کسی ملکی مفاد کے پیش نظر ایسا نہیں کیا بلکہ انہیں باہر کے ان ملکوں کی رائے کا خوف لاحق تھا۔ جہاں چوہدری ظفر اللہ خان کو بہت کچھ عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ بقول عدالت انہیں خوف تھا تو یہ کہ: ”چوہدری ظفر اللہ خان بین الاقوامی دنیا میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی برطرفی کی خبر بڑے وسیع پیمانے پر نشر ہوگی اور بین الاقوامی تنقیدات کا موضوع بنے گی۔ اس برطرفی کی کوئی ایسی تشریح جو بین الاقوامی ضمیر کو مطمئن کر سکے، تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ لہذا مطالبات کی منظوری بین الاقوامی دنیا میں چہ میگوئیوں کے دروازے کھول دے گی اور بین الاقوامی دنیا کی توجہ نفیاً یا اثباتاً پاکستان کے واقعات کی رفتار کی طرف جلب ہونے لگتی۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۳۳)

فاضل جج صاحبان نے یہ بھی لکھا ہے کہ خواجہ ناظم الدین کو یہ خیال بھی تھا کہ ہندوستان بھی اس صورت میں پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔

(رپورٹ انگریزی ص ۲۳۳،۲۳۴)

قصہ مختصر فاضل جج صاحبان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ: ”اگر مطالبات منظور کر لئے جاتے تو پاکستان کو بین الاقوامی سوسائٹی سے خارج کر دیا جاتا۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۸۲)

فاضل جج صاحبان نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ خواجہ ناظم الدین محض باہر کی دنیا کی نظروں میں پاکستان کو نکو بنانے کے خوف سے پہلے تو مطالبات کے بارے میں علماء سے گفت و شنید کرتے رہے۔ تا کہ وہ اپنے اصرار سے باز آ جائیں اور آخر کار انہوں نے مطالبات کو مسترد کر دیا۔ اس کے باوجود فاضل جج صاحبان کی رائے میں ”مطالبات کا یہ بچہ“ جسے احرار نے پیدا کیا اور علمائے اسلام نے اپنایا اور دولتانہ نے کراچی کی جانب نہر کھدوائی اور اس بچے کو صندوق میں ڈال کر اس نہر میں مرکزی حکومت کی طرف بہا دیا: ”ابھی زندہ ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اٹھالے۔ پاکستان کی دولت خداداد میں سیاسی رہزنوں، طالع آزماؤں اور مجہول الکیفیت لوگوں سب کے لئے پنپنے کا موقع ہے اور کوئی بھی اس بچے کو اپنی گود میں لے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ ہمارے سامنے جن دو شخصوں نے ایسے کیریئر سے انکار کیا ہے ان میں سے ایک تو خان سردار بہادر خان وزیر مواصلات پاکستان ہیں اور دوسرے مسٹر حمید نظامی ایڈیٹر

صفحہ ۵۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نوائے وقت۔ ان دونوں نے اس بچے سے بیزاری کا اظہار کیا۔ خواہ اس کے نتائج کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۲۸۶)

فاضل جج صاحبان کے ان ریمارکس سے واضح طور پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ آیا عدالت نے اس بچے کو جسے باشندگان ملک کی بھاری اکثریت کی سرپرستی حاصل ہے۔ عصر حاضر کی بین الاقوامی دنیا کی چہ میگوئیوں کے خوف سے کشتنی اور گردن زدنی قرار دے دیا ہے یا اس کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کیا ہے۔ لیکن یہ چاہا ہے کہ سیاسی رہزن طالع آزما اور مجہول الکیفیت اشخاص اس کے سرپرست نہ بننے پائیں اور اسے اپنی دنیوی اغراض کے لئے استعمال نہ کریں۔

(۲) مسلم کی تعریف

عدالت تحقیقات کے فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے بعض سرکردہ علماء سے مسلم کی معین تعریف کرنے کے متعلق سوالات کئے لیکن: ”تحقیقات کے اس حصے کے نتائج اور کچھ ہی کیوں نہ ہوں لیکن تسلی بخش نہ تھے۔ اگر ایسے آسان سے مسئلے پر علماء کے دماغوں میں کافی حد تک الجھاؤ موجود ہے تو خیال کیا جاسکتا ہے کہ پیچیدہ تر امور میں ان کے باہم اختلافات کی حالت کیا ہوگی۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۲۱۵)

اس کے بعد رپورٹ میں بعض علمائے کرام کے وہ جوابات درج کئے گئے ہیں جو انہوں نے عدالت کے سوالات پر بیان کئے اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ: ” (مسلم کی) ان متعدد تعریفات کو جو علماء نے کیں، پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اس کے سوا اور کیا تبصرہ کر سکتے ہیں کہ کوئی سے دو عالم دین اس بنیادی مسئلے پر متفق نہیں۔ اب اگر ہم ان علماء کی طرح اپنی طرف سے مسلم کی تعریف لکھیں اور وہ تعریف ان سب علماء کی پیش کردہ تعریف سے مختلف ہو تو ہم ان سب کے اتفاق سے دائرہ اسلام سے خارج کر دیئے جائیں گے اور اگر ہم ان میں سے کسی ایک عالم کی پیش کردہ تعریف کو اختیار کریں۔ تاہم اس عالم دین کی رائے کے مطابق تو مسلمان رہیں گے۔ لیکن دوسرے علماء کی پیش کردہ تعریف کے مطابق ’’کافر‘‘ بن جائیں گے۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۲۱۸)

مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے کہ فاضل جج صاحبان کا استنباط صحیح نہیں۔ علمائے دین نے عدالت کے اس سوال کے جواب میں جو بیانات دیئے وہ الفاظ و عبارت کے لحاظ سے تو بلاشبہ ایک نہیں، لیکن معنی اور مفہوم کے اعتبار سے ان میں کسی قسم کا اختلاف نظر نہیں آتا۔ جن علمائے دین سے یہ سوال کیا گیا ان سب نے توحید باری تعالیٰ اور رسالت محمدیہ پر ایمان لانے اور ضروریات دین کا اقرار کرنے کو ’’مسلم‘‘ کہلانے کے لئے ضروری قرار دیا۔ اگر وہ علمائے دین جن سے یہ سوال کیا گیا۔ عدالت کے سامنے مسلم کی جامع و مانع تعریف پیش کرنے سے قاصر رہ گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اچانک اس سوال کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ عدالت ان سے ’’مسلم‘‘ کی ایسی جامع و مانع تعریف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جسے اسلامی مملکت کے دستور اساسی میں شامل کیا جا سکے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے صحیح طریق کار یہ ہے کہ یہ سوال علمائے دین کی ایک مجلس کے سامنے پیش کر کے ’’مسلم‘‘ کی جامع تعریف معین کرا لی جائے۔

(۳) ارتداد

فاضل جج صاحبان نے ارتداد اور کفر و تکفیر کے بارے میں علمائے دین کے باہمی اختلاف کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ تکفیر کے ان فتووں کی موجودگی میں جو مختلف فرقوں کے علماء نے ایک دوسرے کے بارے میں دے رکھے ہیں۔ ارتداد کے جرم کے اطلاق کا دائرہ

صفحہ ۵۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہت وسیع ہو جائے گا اور وہابیوں، دیوبندیوں، بریلویوں، شیعوں اثناعشریوں وغیرہ میں سے ایک فرقہ کو چھوڑ کر دوسرے فرقے کے عقائد قبول کرنے والے شخص کو مرتد سمجھنا پڑے گا۔ فاضل جج صاحبان نے کفر و ارتداد کی بحث کے دوران میں جن مشکلات کا نوٹس لیا ہے وہ بلاشبہ غور طلب ہیں اور ایک اسلامی مملکت کے علمائے دین کو ان مسائل کے بارے میں معین اصول وقواعد ضبط تحریر میں لانے پڑیں گے جن کو دستور اساسی اور قوانین ملکی کے لئے مشعل راہ بنایا جا سکے۔ فاضل جج صاحبان رپورٹ کے اس مقام پر اگر تکفیر کی وہ تصریح درج کر دیتے جو مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری نے عدالت کے سامنے پیش کی تھی اور بتایا تھا کہ ان کے نزدیک کفر کی دو قسمیں ہیں (۱) کفر قطعی ۔ (۲) کفر فقہی۔ کفر قطعی کی صورت میں اس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور کفر فقہی کی صورت میں دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا تو رپورٹ کے پڑھنے والوں کو ان اشکال کی ماہیت سمجھنے میں بہت مدد ملتی۔ جس کی طرف فاضل جج صاحبان نے ملک کے ارباب دانش و بینش کو توجہ دلائی ہے۔

(۴) مسئلہ جہاد اسلامی

فاضل جج صاحبان نے شارٹر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریرات، ان کے بیانات نیز بعض علماء کے جوابات سے فریضہ جہاد بالسیف اور اس کے متعلقہ نقاط مثلاً غنیمت، خمس، اسیران جنگ، دارالحرب، دارالسلام، ہجرت، غازی اور شہید وغیرہ پر بھی مجمل سا تبصرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ جہاد اور اس کے متعلقہ مسائل کے بارے میں جو آراء عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ وہ ان خیالات وافکار سے لگا نہیں کھاتیں جو عصر حاضر کے فکر نے جارحیت، نسل کشی، بین الاقوامی جرائم کی عدالتی گیرائی اور بین الاقوامی قوانین کے مسلمات وقواعد وغیرہ کے متعلق قائم کر لئے ہیں۔ اسی ضمن میں فاضل جج صاحبان نے قرآن پاک کی آیات کے ناسخ و منسوخ ہونے کی بحث کا ذکر بھی کیا ہے جو قادیانی فریق کی طرف سے پیش کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے کہ ان مسائل کے بارے میں فاضل جج صاحبان کے افکار جس التباس کا شکار ہوئے ہیں وہ نتیجہ ہیں۔ اس بات کا کہ جہاد اور اس کے متعلقہ مسائل کے اسلامی تصورات نامکمل صورت میں عدالت کے سامنے آئے۔ اگر عدالت ان مسائل کے بارے میں پوری تحقیقات کرنے کی زحمت گوارا کرتی تو جج صاحبان کے ضمائر پر یہ بات روشن ہو جاتی کہ جنگ اور اس کے متعلقہ کوائف کے بارے میں اسلام کے تصورات ان تصورات سے کہیں افضل اور نوع انسانی کے لئے آیت رحمت وموجب خیر وبرکت ہیں جو عصر حاضر کے مفکرین نے صدہا سال کے تجربوں پر غور وفکر کرنے کے بعد قائم کئے۔ قوانین جنگ کے بارے میں اسلام کے صحیح تصورات اگر بین الاقوامی محافل کے سامنے پیش کئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عصر حاضر کا دماغ جو نوع انسانی کی مشکلات کا حل تلاش کرنے کی جستجو میں ہے، انہیں قبول نہ کرے۔ اسلام کے جہاد کا بنیادی نقطہ دین اسلام اور مسلمانوں کے جان ومال، عزت و آبرو اور شئون ملی کے دفاع کی خاطر لڑنا یعنی اسلحہ کے ساتھ جنگ کرنا ہے اور جب تک اسلام اور مسلمانوں کے شئون ملی سے برسر پیکار رہنے والی قوتیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کے لئے شمشیر بکف رہنا اور قرآن پاک کے بتائے ہوئے قواعد واصول کے مطابق دفاعی جنگ جاری رکھنا ضروری ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مقالہ نگار نے یا مودودی صاحب نے جہاد کا مقصد جو یہ بیان کیا ہے کہ تلوار کی طاقت کے بل پر دین اسلام کی اشاعت کی جائے۔ وہ صحیح نہیں۔ اس بنیادی نقطہ کو سمجھ لینے کے بعد دارالحرب، دارالسلام عام کیفیت میں جہاد کے فرض کفایہ ہونے اور خاص حالات میں فرض لازم بننے سے مسائل بخوبی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ مال غنیمت، اسیران جنگ اور دشمن سے بحالت جنگ اور بعد از جنگ سلوک کرنے کے بارے میں اسلام کے احکام ان قواعد وضوابط سے کہیں زیادہ افضل ہیں۔ جن پر

صفحہ 510

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عصر حاضر کی متمدن دنیا عمل پیرا ہے۔ اسلام کو جارحیت اور نسل کشی کا حامی قرار دینا دشمنان اسلام کا پروپیگنڈا ہے۔ مسلمانوں نے عملاً جارحیت اور نسل کشی سے اجتناب کیا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں نسل کشی کی کوئی مثال دکھائی نہیں جاسکتی ۔ حالانکہ اسلام سے پہلے اور بعد عصر حاضر تک بعض اقوام دشمن کی نسل کشی کو جائز سمجھتی چلی آئی ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوتی رہی ہیں۔ ایک صحیح اسلامی مملکت کو اس امر کا خوف لاحق نہیں ہوسکتا کہ عصر حاضر کے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ اسلام کے قوانین منطبق نہیں ہوتے بلکہ صحیح اسلامی مملکت اگر بین الاقوامی محافل کے سامنے اسلام کے قوانین پیش کرے تو دنیا کے مذاق سلیم کو اپنا ہم نوا بنا سکتی ہے۔

(۵) مال غنیمت اور خمس

مال غنیمت اور خمس کے بارے میں اسلام کے قانون کے متعلق فاضل جج صاحبان نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے: ”البتہ اگر غنیمت اور خمس کو جہاد کے لوازم خیال کیا جائے تو بین الاقوامی سوسائٹی اسے خالصتاً لوٹ مار کے اقدام سے تعبیر کرے گی۔“

(رپورٹ انگریزی ص۲۲۷)

اس معاملے میں بھی فاضل جج صاحبان کو اس وجہ سے التباس ہوا کہ ان کے سامنے مسئلے کی ماہیت جامع صورت میں پیش نہیں ہوئی ۔ اسلام کے نزدیک جہاد ایک مذہبی فریضہ ہے جو خالصتاً فی سبیل اللہ ادا کیا جاتا ہے۔ جہاد کی نیت کو اگر کسی قسم کے دنیوی لالچ سے آلودہ کرلیا جائے تو وہ جہاد نہیں رہتا لیکن جنگ میں مال غنیمت کا ہاتھ آنا ایک لازمی امر ہے۔ عصر حاضر کی جنگوں میں بھی فاتح فریق مال غنیمت پر قبضہ جما لیتا ہے اور وہ مال فاتح فریق کا حق متصور ہوتا ہے۔ یہی قانون اسلام کا ہے۔ اسلام کی رو سے اصولاً مال غنیمت بیت المال کا حق متصور ہوتا ہے۔ ”يَسْئَلُونَكَ عَنِ الانفال قُل الانفال لِلَّهِ وَالرَّسُولِ (الانفال)“ کی آیت کریمہ اس پر دال ہے۔ اس کے بعد خمس یعنی پانچویں حصے کو بیت المال میں رکھنے اور باقی مال کو مجاہدین پر بہ حصہ رسدی تقسیم کر دینے کا جو حکم قرآن پاک میں مذکور ہے وہ مخصوص حالات سے متعلق ہے۔ یہ مال صرف ان مجاہدین پر بانٹا جاتا ہے جو محض اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی نیت خالص کے ساتھ اپنے خرچ پر اور اپنا ساز و سامان لے کر میدان جنگ میں حاضر ہوں۔ اسلام نے عربوں کے رواج کو کہ وہ فتح کی حالت میں مد مقابل کے اموال کو لوٹنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ کلیۃً محو کرنے کے احکام صادر کئے ہیں اور انفرادی حیثیت سے دشمن کا مال لوٹ کر اپنے قبضے میں لینا قطعاً ممنوع قرار دیا ہے۔ خمس و تقسیم کا حکم صرف اس مال کے لئے ہے جو جنگ کے نتیجے میں خود بخود ہاتھ لگ جائے اور اس کی تقسیم بھی امیر کی مرضی پر موقوف ہے۔ امیر چاہے تو سارے مال غنیمت کو بیت المال میں داخل کر کے مجاہدین کے وظائف مقرر کر سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے فتح ایران کے بعد کیا۔ اگر مال غنیمت اور اسیران جنگ کے بارے میں دنیا کی اقوام باہمی مشورے سے ایسا قانون بنائیں جس پر عمل کرنا سب کے لئے ضروری ہو تو اسلام مسلمانوں کو ایسے بین الاقوامی معاہدات طے کرنے سے نہیں روکتا۔ جس کا فائدہ متحارب فریقوں کو یکساں طور پر پہنچتا ہو۔ ایسے متبادل معاہدات کرنے میں مسلمانوں کو کسی قسم کی دقت پیش نہیں آسکتی ۔ البتہ جہاں اسیران جنگ کا تبادلہ ممکن نہ ہو وہاں اسلام نے ہزیمت خوردہ دشمن کے ساتھ انسانیت کا سلوک کرنے کے لئے انہیں اجتماعی طور پر یا انفرادی طور پر غلام بنالینے کی اجازت دی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اسلام کے ہاں جس کیفیت کو غلامی کی اصطلاح سے تعبیر کیا گیا ہے وہ کس قدر رحم دلانہ سلوک کی حامل ہے۔ دنیا کی ”مہذب ترین“ قومیں عصر حاضر میں اسیران جنگ کو موت کے گھاٹ اتارنے، انہیں بدترین صورتوں میں غلام بنا کر رکھنے کی مرتکب ہو رہی ہیں اور بدنام اسلام کو کیا جا رہا ہے کہ اس نے اسیران جنگ کو مخصوص حالات میں غلام بنا کر رکھنے کی اجازت دے

صفحہ ۵۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

دی۔ اس بات کو کوئی نہیں دیکھتا کہ اسلام کے ہاں غلام کے حقوق کیا ہیں؟ اس کا درجہ کیا ہے؟ عصر حاضر کا دماغ اسیران جنگ کے متعلق کوئی ایسا قاعدہ وضع نہیں کر سکا جو اسلام کے بتائے ہوئے قاعدے سے بہتر ہو اور جس کی رو سے جنگی اسیر امن و عافیت کی زندگی بسر کرنے کے قابل بن سکتا ہو۔

(۶) اسلامی ریاست

ریاست وامر یعنی حکومتی نظام کے متعلق اسلام کے تصورات کیا ہیں؟ اس موضوع پر فاضل جج صاحبان نے بعض گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مسئلے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے اور لکھا ہے کہ اسلامی ریاست وامر کے بارے میں علمائے کرام نے جو تصورات پیش کئے ہیں وہ جمہوری ریاست کے ان تصورات سے بہت مختلف اور متصادم ہیں جو عصر حاضر کے سیاسی فکر نے وضع کر رکھے ہیں۔ اس سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے افکار کے اس الجھاؤ کا بھی ذکر کیا ہے جو پاکستان کی اسلامی مملکت کا تصور پیدا کرنے والے زعمائے فکروعمل کے دماغوں میں پایا جاتا ہے اور لکھا ہے کہ قرارداد مقاصد جس پر پاکستان کے دستور اساسی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ خود اسلامی ریاست کے اس تصور سے لگا نہیں کھاتی جو بعض علماء نے عدالت کے سامنے پیش کیا۔ فاضل جج صاحبان نے اس بارے میں فکروتخیل کے غیر واقع ہونے کے متعلق جو تجزیہ کیا ہے۔ اس کی صحت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی سٹیٹ کی ہیئت ترکیبی کے بارے میں افکار کا الجھاؤ ان متصادم ومخالف نظریات کا نتیجہ ہے۔ جو دنیا میں آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے موجود ہیں اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ علمائے اسلام نے کسی دور میں بھی سٹیٹ کے متعلق خالص اسلامی تصورات کو پوری طرح مدوّن کرنے کے لئے اس توجہ تدقیق اور محنت سے کام نہیں لیا جس سے کہ انہوں نے فقہ، حدیث، اخلاقیات اور دیگر دینی اور دنیوی علوم کی تدوین کی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر دنیا کے کسی خطے میں اسلامی نظریات کے نام پر دنیا کے مختلف ملکوں میں قائم ہیں اور چہرے مہرے کے اعتبار سے خود اپنے درمیان بہت کچھ مختلف انداز رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان مفکرین تحقیق وتدقیق اور بحث وتمحیص سے کام لے کر اسلامی ریاست کا ایک جامع نظام نامہ مرتب کریں تاکہ افکار کے اس الجھاؤ کو دور کیا جاسکے جو اس سلسلے میں دماغوں کے اندر پایا جاتا ہے۔

(۷) لہو ولعب اور آرٹ

فاضل جج صاحبان نے بعض علماء سے فنون لطیفہ اور لہو ولعب کے متعلق بھی سوالات کئے اور ان کے جوابات کی بناء پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے بعد مجسمہ سازی، مصوری، فوٹو گرافی، موسیقی، ناچ، مخلوط اداکاری، سینما، تھیٹر اور تاش شطرنج وغیرہ کو بند کرنا پڑے گا۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام مخرب اخلاق آرٹ اور تضیع اوقات کرنے والے کھیل تماشوں کی اجازت نہیں دیتا اور ایک معاشرہ جو اسلامی تصورات کو زندگی بسر کرنے کے لئے راہ عمل بنائے گا۔ ہر اس بات کو معیوب سمجھے گا جو اسلام کے معیار اخلاق پر پوری نہیں اترتی۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اسلام فنون لطیفہ اور ایجادات عصری کے صحیح استعمال کا بھی مخالف ہے۔ فنون لطیفہ اور ایجادات کے متعلق جواز وعدم جواز کا بنیادی معیار اسلام کے نزدیک یہ ہے کہ اگر وہ لہو ولعب کے لئے ہیں تو ان کا یہ استعمال ناجائز ہے اور اگر ضرورت وافادیت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں تو ان پر شرعی حیثیت سے کسی قسم کا اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔ بنابریں اسلامی ریاست کو فنون لطیفہ اور کھیل تماشوں کے بارے میں امتناع و عدم امتناع کا فیصلہ ان کی افادی حیثیت کے پیش نظر کرنا پڑے گا۔ خواہ یہ بات تہذیب عصری کے دل دادگان کے طبائع پر گراں گزرے۔

صفحہ ۵۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۸) جمہوریت، قیادت اور نمائندہ حکومت

عدالت تحقیقات کو ان ذرائع کے مکتفی یا نامکتفی ہونے کا جائزہ لینا تھا جو حکومت پنجاب نے فسادات کو دبانے کے لئے اختیار کئے۔ اس سلسلہ میں فاضل جج صاحبان نے جمہوریت، قیادت اور نمائندہ حکومت کے موضوعات پر بھی ضمناً تبصرہ کیا ہے اور لکھا ہے: ”فریق ہائے مقدمہ کے فاضل وکلاء نے ہمارے سامنے جمہوری اصولوں کی بناء پر اپیل کی اور بڑی شدومد کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ مطالبات متفقہ تھے اور ایک جمہوری ملک میں جب کسی مطالبے کو اتنی طاقتور اور ہمہ گیر تائید حاصل ہو تو حکومت اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے مجبور ہے۔ خواہ اسے منظور کرنے کے نتائج کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے سیاسی لیڈر جنہیں عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ اقتدار کی گدیوں پر متمکن ہونے کی پوزیشن محض اس لئے پاتے ہیں کہ عوام انہیں اس جگہ پر بٹھاتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے ووٹروں کی خواہشات کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ وزارت اور مسلم لیگ کی جانب سے بھی ہمارے سامنے اسی اصول کا اعادہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ نمائندہ طرز کی حکومت میں سیاسی لیڈر کو اسی صورت میں عوام کا نمائندہ قرار دیا جاسکتا ہے جب کہ وہ عوام کے احساسات، معتقدات اور خواہشات کا احترام کرے اور انہیں جامہ عمل پہنائے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جس کے عوام کا حصہ غالب جاہل اور نہایت معمولی شرح فیصد تعلیم یافتہ اشخاص کی ہو۔ اس مؤقف کا اعتراف اس اضطراب آفرین نتیجہ پر لے جائے گا کہ ہمارے لیڈر بلند خیالات کی طرف سے کورے رہتے ہوئے عوام کی جہالت و عصبیت کے پیکر بنے رہے جن ملکوں کے انتخاب کنندگان اپنے ووٹ کی قدر و قیمت سے واقف ہوں اور اپنے ہاں کے مخصوص مسائل اور دنیا کے عمومی واقعات و رجحانات کو سمجھنے کے لئے فہم و ذکاوت کا کافی سرمایہ رکھتے ہوں...... اور قومی اہمیت کے جملہ امور پر صحیح فیصلہ کرنے کے لئے کافی حد تک ترقی یافتہ فکر کے مالک ہوں۔ وہاں لیڈروں کو عوام کے فیصلے کے مطابق عمل کرنا چاہئے یا اقتدار کی کرسیوں کو چھوڑ دینا چاہئے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جیسا کہ ہمارا ملک ہے۔ ہم ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہو کر کہتے ہیں کہ لیڈروں کا حقیقی وظیفہ عوام کی راہنمائی کرنا ہے، نہ کہ ہر ایک بات میں ان کی خواہشات کے سامنے چلنا۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۷۵، ۲۷۶)

انہی تفکرات کی بناء پر فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ کو حسب ذیل فقرہ پر ختم کیا ہے: ”بالآخر ایک شئے جسے انسانی ضمیر کہا جاتا ہے، ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آیا ہمارے سیاسی ارتقاء کی موجودہ حالت میں آئین و قانون کے انتظامی مسئلے کو اس کے جمہوری ہم بستر یعنی وزارتی حکومت سے الگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں جس کے سینے پر سیاسیات کا کابوس سوار رہتا ہے۔ اگر جمہوریت کے معنی یہ ہیں کہ قانون و آئین کو سیاسی اغراض کا تابع بنا دیا جائے تو واللہ اعلم بالصواب اور ہم اپنی رپورٹ کو ختم کرتے ہیں۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۳۸۷)

عدالت کے یہ ریمارکس بہت غور طلب ہیں۔ حکومت خواہ کسی شکل کی ہو یعنی جمہوریت کی نمائندہ حکومت ہو یا کسی مطلق العنان حکمران کی استبدادی حکومت یا غیر ملکی غلبہ و استعمار کی حکومت ، اس کا اولین وظیفہ بلا شبہ ضبط و نظم اور امن و آئین کو قائم رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر قسم کی حکومت کے فرائض میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عوام کے مطالبے کی طرف مناسب توجہ دے۔ نمائندہ حکومتیں تو اس کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں۔ البتہ استبدادی حکومتیں طاقت و قوت کے بل پر عوام کی خواہشات کو عارضی طور پر کچلنے اور دبائے رکھنے میں

صفحہ ۵۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کامیاب ہوسکتی ہیں۔ عدالت تحقیقات کی اس دریافت کے بعد کہ ہمارے عوام تعلیم یافتہ اور عصری افکار سے باخبر نہیں۔ اس لئے یہاں نمائندہ جمہوری حکومتیں قانون و آئین کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھ سکتیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وظیفہ کس کے سپرد کیا جائے تاکہ عوام کو ایسے مطالبات وضع کرنے سے روکا جاسکے ۔ جن پر ارباب حکومت کسی نہ کسی وجہ سے توجہ نہیں دے سکتے یا جن کو وہ اپنی سمجھ کے مطابق لغو اور بیہودہ یا ناقابل عمل خیال کرتے ہیں اور نہ اس بات کی جرأت رکھتے ہیں کہ عوام پر ان کی ’’لغویت‘‘ ظاہر کرنے کے لئے سامنے آسکیں۔ انہی مطالبات کو لیجئے جو خود عدالت کی رائے میں مذہبی احساسات پر مبنی اور اس اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہیں جو ایک قلیل التعداد مذہبی گروہ نے ملک کی ساری آبادی کے احساسات کے علی الرغم شدومد کے ساتھ رکھے۔ ان مطالبات کو ارباب حکومت نے شروع ہی سے درخور اعتناء خیال نہ کیا اور سیاسی جماعتوں کے لیڈر جن میں مسلم لیگ کی بااقتدار ہستیاں بھی شامل ہیں۔ ان کے بارے میں آج تک کوئی رائے قائم نہیں کرسکے۔ چہ جائیکہ وہ عوام کی رائے کو ہم نوا بنانے کے لئے مساعی ہوتے۔ کیا یہ کیفیت ان مطالبات کے وزن پر شاہد و دال نہیں؟ اور اگر ارباب حکومت و قیادت کی کم نگاہی، بزدلی اور بے بصیرتی کی وجہ سے عوام کا اضطراب ترقی پذیر ہو کر ایسی صورت اختیار کر لیتا ہے کہ آئین و قانون کے مسائل کھڑے کر دے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

(۹) مغرب زدہ فکر کی خوف زدگی

اس رپورٹ میں منجملہ دیگر امور کے یہ بات نہایت واضح طور پر اور عام اشجار کے مقابلے میں شمشاد و صنوبر کی بلند قامتی کے ساتھ نمایاں طور پر ظاہر ہو رہی ہے کہ ہمارے ملک کا وہ طبقہ جو برسر اقتدار ہے اور جس کے اذہان نے مغربی افکار اور صرف مغربی افکار کی گود میں پرورش پائی ہے۔ بے طرح ذہنی غلامی کا شکار ہورہا ہے اور اپنے ہاں کی ہر چیز کو حتیٰ کہ دینی معتقدات و شعائر کو بھی قدروں کے اسی معیار پر پرکھنے کا عادی ہے جو اہل مغرب کے فکر نے عصر حاضر میں مقرر کر لیا ہے اور جس میں مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ دوسری جانب ہمارا وہ طبقہ جس نے علوم دینیہ کے مطالعہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ عصری افکار سے نا آگاہ ہونے کے باعث اسلام کی تعلیمات کو ایسے انداز میں پیش کرنے سے قاصر ہے جو عصر حاضر کے دماغوں کے لئے قابل فہم ہو۔ رپورٹ میں جابجا اس امر کے اعترافات واظہارات موجود ہیں کہ ہمارے ارباب اقتدار کو جن ملفوظات و مفکورات نے عامۃ المسلمین کے سہ گانہ مطالبات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے سے روکے رکھا۔ وہ یہی تھے کہ باہر کی دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ چنانچہ فاضل جج صاحبان لکھتے ہیں: ’’بلاشبہ وہ (خواجہ ناظم الدین) مطالبات کو منظور کر سکتے تھے یا ذاتی طور پر وعدہ کر سکتے تھے کہ وہ مطالبات کی حمایت کریں گے۔ اس صورت میں کوئی گڑ بڑ نہ ہوتی اور اگر کچھ ہوتی تو شاید اس وقت جب کہ یہ معاملہ دستور ساز اسمبلی کے سامنے پیش ہوتا ۔ احمدی ایک قلیل التعداد قوم ہیں۔ وہ غالباً مزاحمت نہ کر سکتے اور بدامنی پھیلانے کے قابل نہ ہوتے ۔ چوہدری ظفر اللہ خان کے الگ کئے جانے پر بین الاقوامی حلقوں میں کچھ چہ میگوئیاں ہوتیں۔ لیکن پاکستان کی آبادی (خواجہ صاحب کے) اس اقدام پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کرتی ۔ پھر خواجہ ناظم الدین نے یہ پیش پا افتادہ اقدام کیوں نہ کیا؟ صرف اس لئے نہیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کا اعلان دوسرے اسلامی ملکوں میں مؤثر نہ ہوتا بلکہ انہوں نے ان دور رس نتائج کے خوف سے ایسا نہ کیا جن کا ذکر اس رپورٹ کے دوسرے مقام پر کر دیا گیا ہے۔ اگر مطالبات منظور کر لئے جاتے تو پاکستان کو بین الاقوامی سوسائٹی سے خارج کر دیا جاتا ۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص ۲۸۲)

صفحہ ۵۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وہ (خواجہ ناظم الدین) مطالبات کو منظور نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ ایسا کرنا پاکستان کو مضحکہ خیز پوزیشن میں ڈال دیتا اور بین الاقوامی دنیا کی آنکھیں کھل جاتیں کہ ترقی پذیر، مستحکم اور جمہوری ریاست ہونے کے بارے میں پاکستان کے دعاوی کی حقیقت کیا ہے؟

(رپورٹ انگریزی ص۲۶۵،۲۶۲)

فاضل جج صاحبان نے خواجہ ناظم الدین کے فکری الجھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ انہیں یہ فکر تھی کہ: ’’چوہدری ظفر اللہ خان بین الاقوامی دنیا میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی برطرفی کی خبر بڑے وسیع پیمانے پر نشر ہوگی اور بین الاقوامی تنقیدات کا مورد بنے گی۔ اس برطرفی کی کوئی ایسی تشریح جو بین الاقوامی ضمیر کو مطمئن کر سکے۔ تلاش کرنا مشکل ہوگا۔...... لہٰذا مطالبات کی منظوری بین الاقوامی حلقوں میں چہ میگوئیوں کے دروازے کھول دیتی اور بین الاقوامی دنیا کی توجہ نفیاً یا اثباتاً پاکستان کے واقعات کی رفتار کی طرف جلب ہونے لگتی۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص۲۳۳)

(۱۰) تجدید اسلام اور احیائے دین

اور ان مفکورات کی بناء پر فاضل جج صاحبان نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ’’(بحالات موجودہ) اسلام کو عالمگیر تخیل کی حیثیت سے محفوظ رکھنے کی اور مسلمان کو اس دقیانوسی ناموزونیت سے نکال کر جس میں وہ مبتلا ہے، عالم حاضر و دنیائے مستقبل کا شہری بنانے کی صورت یہ ہے کہ جرأت سے کام لیتے ہوئے اسلام کی تجدید کر کے اس کی زندہ وعامل خصوصیات کو بے جان خصوصیات سے الگ کر دیا جائے۔‘‘

(رپورٹ انگریزی ص۲۳۲)

یہ ہے مغرب زدہ طبقہ کی پکار جو مغرب کے افکار، اہل مغرب کی معاشرت اور ان کے طرزِ بود و باش سے اس حد تک مسحور ہو چکا ہے کہ زندگی کے متعلق اسلام کے تصورات کی عظمت و ماہیت کا اخذ کرنا بھی اس کے دماغ کے لئے بڑا مشکل اور کٹھن کام بن رہا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سیاسیات و معاشرت میں بین الاقوامی فکر ابھی ارتقائی منازل طے کر رہا ہے اور ان تلخ تجربوں کی روشنی میں جو نوع انسان کو ہر شعبہ حیات میں آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ کسی مستقل اور پائیدار حل کو تلاش کرنے میں سرگرداں ہے۔ اسلام اب سے کوئی چودہ سو سال پہلے ان جملہ مشکلات کا حل نوع انسان کے سامنے پیش کر چکا ہے۔ اگر نوع انسان کا فکر اس چراغ روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے جو اسلام نے روشن کر رکھا ہے۔ راستہ تلاش کرے تو انسانیت صراطِ مستقیم پر سرعتِ رفتار کے ساتھ گامزن ہو سکتی ہے اور ان منازل مقصود تک جلد پہنچ سکتی ہے جن تک پہنچنے کے لئے اس کے شعوری ولاشعوری تقاضے اسے بے قرار رکھتے ہیں۔ نوع انسان کو یہ روشنی دینا اور یہ صراطِ مستقیم دکھانا مسلمانوں کا وظیفہ حیات ہے۔ لیکن مسلمانوں کی فکری اور عملی صلاحیتیں چند سو سال سے مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے اور اقوام عالم کے سامنے ان مسائل کا صحیح حل پیش کرنے کے لئے اسلام کی تعلیمات یعنی قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی سعی کی جائے اور اس بارہ میں پوری تحقیق اور کاوش سے کام لیا جائے۔ تجدید اسلام یا احیائے دین اس سعی و کوشش کا نام ہے اور یہ سعی و کوشش ایسے ادوار میں ضروری ہو جاتی ہے۔ جب مسلمانوں میں بیرونی اثرات کی وجہ سے فکر وعمل کی گم راہیاں ترقی پذیر ہو جاتی ہے۔ اگر تجدید اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر یا تاویلات وتحریفات کے بل پر عصری افکار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو یہ تجدید اسلام کی نہیں بلکہ تخریب اسلام کی کوشش ہوگی۔ اس قسم کی سعی ہر وقت اور طاقت

صفحہ ۵۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ضائع کرنے سے یہی بہتر ہے کہ مغرب زدہ لوگ اسلام کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور سیاسی، معاشرتی، معاشی اور قانونی امور میں عصر حاضر کے ترکوں کی طرح افکار مغرب کا پورا تتبع کرتے ہوئے پاکستان کو ایسی مملکت بنالیں جسے عصر حاضر کی اصطلاح میں متحد، مترقی، متقادم اور جمہوری کہا جاتا ہے اور اجتماعی اور انفرادی زندگی کے تصورات کے اسی میدان میں ناچنے اور دوڑنے لگیں۔ جس میں کہ اقوام مغرب دوڑیں لگا رہی ہیں اور صحیح تجدید اسلام اور احیائے دین کا کام کسی اور قوم کے لئے یا آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہنے دیں۔ جس کار عظیم سے عہدہ برآ ہونے کے ہم اہل نہیں۔ اسے کرنے کی حامی بھرنے یا اس پر ہاتھ ڈالنے سے یہی بہتر ہے کہ ہم اس کا خیال ہی ترک کردیں۔ لیکن ایسا کرنے کے باوجود مسائل بدستور حل طلب رہیں گے جن کو حل کرنے سے گریز کی راہ اختیار کرکے ہمارے ارباب سیاست و قیادت نے ملک کو ۱۹۵۳ء کے فسادات سے دوچار کر دکھایا جب تک ہم اس ذہنیت کے ساتھ چلنے پر مجبور ہیں کہ اگر ہم یہ کام کیا یا وہ کام کیا تو دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ اس وقت تک ہم اپنے داخلی اور خارجی امور کو اپنے حسب منشاء اور اپنے لوگوں کے آرام و آسائش کے لئے سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ اس مفروضہ یعنی ”دنیا ہمیں کیا کہے گی“ کے مفروضہ کے ماتحت عدالت تحقیقات کے فاضل جج صاحبان نے مغرب زدہ طبقہ کی جن دماغی الجھنوں کا اور جن مسائل کا تذکر کیا ہے۔ ان پر اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا جائے اور ان کے حل کے مناسب تدابیر اپنے لوگوں کے محسوسات کے پیش نظر سوچی جائیں تو یہ عقدے اتنے لاینحل نہیں جس قدر کہ سمجھے جارہے ہیں۔ مصیبت صرف یہ ہے کہ ہمارے ارباب حل و عقد کی فکری صلاحیتیں محض اس خوف سے کہ ”دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ شل ہو کر رہ جاتی ہیں اور ان کیفیات و مسائل کو حل کرنے سے جو ملک کے اندر رونما ہوتے ہیں۔ گریز کی راہ اختیار کر لیتی ہیں اور یہ بات عدالت تحقیقات کے سامنے اظہر من الشمس اور بین من الامس ہو کر ظاہر ہو چکی ہے۔ ہمارے ارباب قیادت نے متفق اللسان ہو کر یہ کہا کہ ہمارے دماغوں نے ابھی تک مطالبات کے حسن و قبح یا ان کی صحت و عدم صحت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ایسی حالت میں وہ عوام کی راہنمائی کیا کریں گے ۔“

(۱۱) ارباب سیاست و قیادت کی کوتاہیاں

بہر کیف جہاں تک مطالبات کا تعلق ہے تحقیقات نے یہ بات ایک دفعہ پھر ثبت کر دی ہے کہ عوامی مطالبہ کی طرف سے ارباب سیاست و قیادت کا آنکھیں موند لینا ہمیشہ ناگوار کیفیات پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ان کو دیکھنا چاہئے کہ اگر عوامی مطالبات میں وزن ہے اور وہ معقولیت پر مبنی ہیں تو انہیں کسی اندرونی یا بیرونی خوف سے متاثر ہوئے بغیر عوام کو ان مطالبات کے بارے میں مطمئن کرنے کی تدابیر اختیار کرنے میں تامل سے کام نہ لینا چاہئے اور اگر مطالبات لغو اور بیہودہ ہوں۔ جیسا کہ بعض پولیس افسروں نے سیاسیین کا لبادہ پہن کر اپنی رپورٹوں میں مجلس عمل کے مطالبات کو قرار دینا شروع کر دیا۔

(رپورٹ انگریزی ص ۳۸۰، ۱۴۴)

تو ارباب سیاست کا وظیفہ ہے کہ وہ عوام پر ان کے مطالبات کی لغویت واضح کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور اپنے ہم خیالوں کی جمعیت کو تقویت دیں۔ فاضل جج صاحبان نے بھی اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ہمارے عوام اتنے بیہودہ نہیں کہ وہ معقول بات پر کان نہ دھریں اور اگر ان کو سمجھایا جائے تو نہ سمجھیں۔

(رپورٹ انگریزی ص ۲۷۵)

ظاہر ہے کہ اگر مدعیان قیادت یہ طرز عمل اختیار کرتے تو مطالبات کی منظوری و نامنظوری کا معاملہ جمہوری سیاسی اختلاف کی نوعیت اختیار کر لیتا اور ان معاملات کو طے کرنے کی آئینی اور جمہوری صورتیں پیدا ہو جاتیں۔ مطالبات کے حامیوں کو ڈائریکٹ ایکشن کی

صفحہ ۵۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ جس کو عدالت نے مجملہ اسباب و فسادات کے ایک سبب قرار دیا ہے۔

(۱۲) علمائے دین

طبقہ علمائے دین کے بارے میں عدالت نے اس رائے کا اظہار کیا ہے: ”علماء فاضل طبقہ کے لوگ ہیں۔ لہٰذا جملہ پرستاران علم کی طرح واجب الاحترام ہیں۔ لیکن ان فاضلین کی طرح جو اپنی قوتوں کو کسی خاص موضوع کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔ ان کے اذہان کا ارتقاء ایک ہی راستے پر ہوا ہے اور ایک راہ ذہن خطرناک امکانات کا حامل ہوتا ہے۔ تاہم آپ متخصصین کے بغیر گزارا بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کے لئے ایک عمومی پیشہ ور یعنی ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ان تمام مضامین پر جو کسی شخص کے خصوصی دائرہ علم و فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ حاوی ہو، اپنے مضمون اور دیگر مضامین کے متعلق شخص کے زاویہ نگاہ کا تنگ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ ہم ”ملائیت“ اور ”مذہبی دیوانگی“ ایسی ارزاں اور عمومی اصطلاحات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ایک عام گریجویٹ جو اپنے مضامین کے سطحی علم سے زیادہ اور کچھ مبلغ علم نہیں رکھتا۔ ایسے جملوں کے استعمال میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ گویا کہ وہ برتر شخصیت کا مالک ہے۔ کیا اسی طرح آپ ایک ماہر علم النبات کو نباتیات کا ایک ماہر علاج امراض پا کر معالجہ کا طعنہ دے سکتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء کا زاویہ نگاہ اس لئے تنگ ہے کہ وہ علماء ہیں۔ وہ اس لئے تنگ ہے کہ علماء زندگی کے ایک ہی شعبہ کے متخصصین ہیں۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۹۸،۲۹۹)

علمائے دین پر مخالف فریق کی طرف سے ان کے تشدد پسند ہونے کے بارے میں جو اعتراضات وارد کئے گئے ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے فاضل جج صاحبان نے لکھا ہے: ”یہ دلیل کہ وزیر اعظم نے علماء سے متصادم ہونے کی جو ممانعت کر رکھی تھی، وہ صوبائی دائرہ میں ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے پر منتج ہوئی۔ اس مفروضہ کی حامل ہے کہ علماء شورشی اور بدزبان مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ہیں جو تشدد کی تلقین کرتے ہیں اور خون کے نظاروں سے خوش ہوتے ہیں۔ علماء کو مذہبی دیوانے پکارا جائے تو غالباً انہیں اس سے انکار نہ ہوگا۔ لیکن ان میں سے ایک بھی ہمارے سامنے اس امر کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ وہ تشدد کی مذمت نہیں کرتا۔ مولانا میکش نے جنہوں نے علماء کے مقدمہ کی وکالت نمایاں سرگرمیوں کے ساتھ کی احمدیوں کے خلاف دیوانہ وار جوش کا حامل ہونے کے باوجود چھوٹے چھوٹے لیڈروں کی بدزبانی اور تیز کلامی کی مذمت کی۔ ایسی تیز کلامیوں کے مرتکب جو حوالہ جات میں پائی جائیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولوی محمد علی جالندھری، سید مظفر علی شاہ شمسی، ماسٹر تاج الدین انصاری اور چند دیگر اشخاص ہیں۔ اس سلسلہ میں مولانا اختر علی خان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے۔ لیکن یہ حضرات علم دین کی گہرائیوں سے آگاہ ہونے کے مدعی بھی نہیں اور نہ اپنے آپ کو علماء کی جماعت میں سے خیال کرتے ہیں۔“

(رپورٹ انگریزی ص ۲۹۷)

خاتمہ کلام

فاضل جج صاحبان نے ان اہم کوائف و مسائل کو بے نقاب کرنے میں جو ہمارے ملک کو درپیش ہیں پاکستانی معاشرے کی بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔ اب پاکستانی معاشرے کے مختلف عناصر کا کام یہ ہے کہ عدالت تحقیقات کی اس رپورٹ کے آئینے میں اپنے اپنے چہرے دیکھیں اور ایسا طرز عمل اختیار کریں جو ملک میں امن و سکون کی فضا کو تقویت دینے کا موجب ہو۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ! احقر العباد: مرتضیٰ احمد خان میکش درانی مورخہ ۲۱/ اگست ۱۹۵۴ء

صفحہ 517

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کا تحقیقاتی عدالت میں تحریری بیان

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نے تحریری بیان داخل کرایا اور جس میں مجلس احرار اسلام کے مؤقف کو بیان کیا۔ مرزائیت سے متعلق ایسے لطیف پیرایہ میں نکات اٹھائے گئے ہیں کہ پڑھ کر قلب و روح کو تسکین ملتی ہے۔ مرزائیت کا مذہبی و سیاسی تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس بیان کا ایک ایک حرف آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ یہ بیان مولانا غلام محمد علی پوری سابق مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کتب خانہ میں تھا جو آپ کے عزیز اور جماعت کے سرگرم ساتھی مولانا منظور احمد الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے توسط سے حاصل ہوا۔ بیان کی اہمیت کے پیش نظر اسے مکمل طور پر اس کتاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے اس کتاب کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ بیان پہلی بار شائع ہو رہا ہے۔ (مرتب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اسلام اور عیسویت

اسلام کے سوا جتنے مذاہب ہیں وہ ادیان باطلہ ہیں۔ ان کے پیروؤں کو اختیار ہے کہ اپنے مذہب کو پرائیویٹ اور شخصی معاملہ کہیں۔ خاص کر آج کل کے اہل مغرب کا مذہب عیسوی، جس کو اس کے پیروؤں نے ملکی سیاسیات اور قومی معاملات سے باہر نکال پھینک دیا ہے۔ پھر تحریف شدہ عیسویت کہ جس میں دو چار حواریوں کے نقل کردہ چند مواعظ اور حکایات کے سوا کوئی ایسی تعلیم ہی نہیں جو تمدن و سیاست ملکی اور دوسرے شعبہ جات زندگی پر حاوی ہو۔ ایسے مذہب کے نام سے پوپ کی حکومت، واقعی نہ حکومت کہلانے کی مستحق تھی نہ ترقی کی ضامن۔ برخلاف اس کے کہ اسلام تمام آسمانی مذاہب کا نچوڑ، اللہ تعالیٰ کی آخری ہدایت اور ساری دنیا کے لئے رب العالمین کا جامع و مانع اور کامل و مکمل دستور حیات ہے جو تمام شعبہ جات زندگی کے لئے بہترین اصول اور تمام ضروریات انسانی پر حاوی قوانین کا مجموعہ ہے۔ اسلام کے عقائد حقہ، اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ سے فلاح دارین وابستہ ہے جو دین اسلام کو چھوڑ کر کہیں بھی میسر نہیں آسکتی۔

”ان الدین عند اللہ الاسلام ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ (آل عمران: ۱۹)“

اس کے حامل نے خیر القرون میں انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے اس پر عمل کر کے نمونہ بتایا اور خلفاء راشدین نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام ہی انسانی اخوت کا حامل اور عادلانہ نظام کی اہلیت رکھتا ہے۔

انسانی راہنمائی کی تکمیل

اسلام انسانی راہنمائی کا معراج کمال ہے۔ راہنمائی کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر انسانیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے کرتے اور ہزاروں پیغمبروں کے زمانہ میں اصلی دین و عقائد کے بقاء اور امکنہ و ازمنہ کے احوال و ضروریات کے مطابق فروعی احکام شریعت کی تبدیلی کے بعد یہاں تک پہنچا۔ ہر ابتداء کی انتہاء ہوتی ہے۔ جب انسانیت بلوغ کو پہنچی زمین کے اکثر حصص آباد ہونے لگے۔ خبر رسانی نقل و حمل اور آمد و رفت کے ذرائع میں توسیع ہو گئی۔ عقل انسانی میں پختگی کے آثار دکھنے لگے اور روحانی قویٰ و ارواح میں زیادہ سے زیادہ فیضان لینے اور دینے کی استعداد پیدا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے جس کی رحیمانہ و کریمانہ دست گیری کے بغیر انسان دنیوی نظام کی بہتر تکمیل اور حیات جاودانی کی شاہراہ کا صحیح یقین نہیں کر سکتا تھا، ارسال رسل، انزال کتب اور وحی کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کر رکھا تھا۔ آخری اور بہترین صورت میں بھیج کر راہنمائی کی تکمیل فرما دی۔

صفحہ ۵۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امام الانبیاء کی آمد

اعلان کر دیا گیا کہ وہ امام الانبیاء آ گیا جس پر ایمان لانے اور جس کی مدد کرنے کا عہد تمام انبیاء سے لیا گیا ہے۔ ”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول (آل عمران: ۸۱)“ ثم کے لفظ نے بتایا کہ اس امام الانبیاء کو سب نبیوں کے بعد آنا تھا۔ چنانچہ اس کی تصریح فرمادی گئی۔

خاتم النبیین کا اعزاز

”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (الاحزاب: ۴۰)“ کہ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں یا آپ ﷺ کی تشریف آوری نے اب نبیوں پر مہر لگادی اور کسی نبی کا اس فہرست میں داخلہ اور اضافہ بند ہو گیا۔ کیونکہ مقصد کی تکمیل ہو گئی۔

تکمیل دین کا اعلان

اور فیصلہ ہو گیا: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدۃ: ۳)“ کہ آج سے تمہارا دین ہم نے مکمل کر دیا اور نعمت تم پر مکمل کر دی۔

اہل عالم کو دعوت

اور حکم ہوا کہ تمام بنی نوع انسان کو بتا دو کہ میں تم سب کے لئے آیا ہوں ۔ ”انی رسول اللہ الیکم جمیعا (الاعراف: ۱۵۸)“

اے لوگو! میں تم سب کی طرف مبعوث ہوا۔ کسی خاص قوم وملک کے لئے نہیں، جیسے پہلے پیغمبر ہوتے تھے بلکہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تاکیدی الفاظ کے ساتھ اعلان فرما دیا ۔ ”انا ارسلناک کافۃ للناس بشیرا ونذیرا (سبا: ۲۸)“ کہ ہم نے یقینی طور پر آپ کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے۔

خدائے برتر کی محبت کی صرف ایک صورت

پھر آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ اب خدا تک پہنچنے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں۔ سوائے اس کے کہ میرا اتباع کرو۔ ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران: ۳۱)“ اگر تم خدا کی محبت چاہتے ہو تو میرے پیچھے چلو۔ خدا کے محبوب ہو جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کی محبوبیت، آپ ﷺ کے اتباع میں منحصر کر دی۔ کیونکہ اب کسی اور کو نہ آنا تھا نہ ضرورت تھی۔ اس طرح کی سو (۱۰۰) آیتوں کا ذکر فرما دیا گیا۔ جس کی تفصیل حضرت مولانا محمد شفیع صاحب کی کتاب ختم النبوۃ فی القرآن میں موجود ہے۔

قرآن کی تفسیر رسول ﷺ کی زبانی

قرآن کی ان آیات کی وضاحت آنحضرت ﷺ کی دو سو حدیثوں سے ہوتی ہے جن کو مفتی محمد شفیع صاحب نے ”ختم النبوۃ فی الحدیث“ میں جمع کیا ہے۔ یہاں چند درج کی جاتی ہیں۔

صفحہ ۵۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھی۔ لیکن اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔

البتہ خلفاء ہوں گے۔

آخری اینٹ میں ہوں (کسی اور اینٹ کی تو اب جگہ نہیں۔ خدا جانے مرزا قادیانی کو کہاں دھرا جائے گا۔ ممکن ہے مکان میں پاخانے کی ضرورت ہو)

دیئے گئے۔

میرے بعد نہ کسی کو نبی بننا ہے نہ رسول۔

نبى بعدى“ اس حدیث نے تو بعد کے مدعیان نبوت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دیکھنا میری ہی امت میں تیس دجال و کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺ نے معجزانہ طور پر ارشاد فرمایا کہ یہ تیس دجال خود میری امت میں سے ہوں گے۔ اپنے کو امتی بھی کہیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ گویا امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے والا دجال ہے۔ (جیسا کہ مرزا قادیانی کرتا ہے) اس حدیث کو مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے۔

اس میں آپ ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی خود ہی لا نبی بعدی کر دیا۔ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔ (ظلی نہ بروزی، تشریعی نہ مجازی، امتی نہ تابعی نبی)

صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کا فیصلہ

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے ختم النبوۃ فی الآثار میں سینکڑوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و غیر ہم سے روایتیں نقل کر کے جمع فرمائی ہیں۔

امت کا عمل

اور تمام امت محمدیہ کا عمل بھی یہی رہا۔ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسود عنسی نے کیا تھا۔ نہ آنحضرت ﷺ نے ضرورت سمجھی نہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ کیسی نبوت کا دعویٰ ہے۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کو نبی مانتا اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔ پھر وقت اتنا نازک تھا کہ آنحضرت ﷺ کی تازہ وفات ہوئی تھی۔ روم و ایران کی بڑی بڑی سلطنتوں سے سخت خطرات تھے۔ اندرونی بغاوتوں اور منکرین زکوٰۃ سے نپٹ کر تمام دنیا میں اشاعت اسلام اور دعوت حق کا فریضہ انجام دینا تھا۔ پھر مسیلمہ کذاب کے ساتھ

صفحہ ۵۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چالیس ہزار فوج تھی۔ جس سے عربوں میں بے پناہ خانہ جنگی ہونے والی تھی۔ لیکن صدیق اکبر ؓ اور صحابہ کرام ؓ نے کسی مصلحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس سے جہاد کیا اور موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد کسی کو دعویٰ نبوت کی جرأت نہیں ہوئی اور کسی نے کسی زمانہ میں ایسا کیا تو کسی مسلمان حکومت نے نبی کے اقسام میں بحث نہیں کی اور نہ اس کو برداشت کیا۔ تمام امت کا یہ متفقہ عقیدہ رہا۔ اسی پر تمام علماء امت اور مفسرین کا اجماع ہے۔ حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی جب تک کہ اس کو نبوت کا شوق نہیں چرایا تھا نبوت کے دعویٰ کو کفر کہا ہے کہ ایک آدمی جو عرصہ سے الہام و وحی کا مدعی ہے وہ عقائد میں بھی تبدیلی کرتا ہے اور باوجود وحی الہام کی بارش کے وہ نبوت کو ختم مانتا ہے اور جب ذرا فضا سازگار ہو جاتی ہے، یکدم وہ اجراء نبوت کا قائل اور خود نبی بن بیٹھتا ہے۔

نبی کا مفہوم

نبی کا معنی عام طور پر صرف یہ ہے کہ وہ ایسا برگزیدہ انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے نامزد اور وحی کے ذریعہ مقرر اور مامور کرتا ہے۔ نبی اور رسول میں بھی فرق ہے اور خود قرآن نے بتایا ہے کہ: ’’وما ارسلنا من نبی ولا رسول اذا تمنى القی الشیطن فی امنیته‘‘ یہاں صفائی سے نبی اور رسول ہونے بتائے گئے ہیں۔ رسول صاحب شریعت و کتاب ہوتا ہے۔ لیکن نبی عام ہے۔ چاہے صاحب شریعت و کتاب ہو یا پہلی ہی شریعت کا تابع ہو۔ نبی عام ہے اور رسول خاص۔ بہرحال دونوں کو وحی کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کے لئے مامور کیا جاتا ہے۔

وحی کا مفہوم

وحی کا عام معنی الہام کو بھی شامل ہے۔ لیکن اصطلاح میں اب وحی، وحی نبوت ہی کو کہتے ہیں۔ بہرحال الہام دل میں ایک بات ڈال دینے کا نام ہے۔ جیسے سب کے دل میں باتیں آتی ہیں۔ البتہ الہام جو من جانب اللہ ہو وہ صداقت اور قوت رکھتا ہے اور جتنی باطنی صفائی زیادہ ہو الہام زیادہ ہو سکتا ہے۔ لیکن بہر شکل یہ ایسا قطعی نہیں ہوتا جو دوسروں پر حجت ہو سکے اور اگر وہ شریعت کے خلاف ہے تو شیطانی سمجھا جائے گا۔ لیکن پیغمبر پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ شک وشبہ سے بالاتر ہوتی ہے۔ وہ خود حضرت جبرائیل ؑ لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’قل من کان عدوا لجبرائیل فانه نزله على قلبک باذن اللہ (البقرہ:۹۷)‘‘ کہ جبرائیل نے یہ قرآن آپ کے قلب پر اللہ ہی کے حکم سے نازل کیا ہے (تو جبرائیل کی مخالفت کرنی اللہ کی مخالفت ہے)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے: ’’قل نزله روح القدس من ربک بالحق (النحل:۱۰۲)‘‘ کہہ دیجئے کہ اس کو روح القدس نے نازل کیا۔

تیسری جگہ ارشاد ہے: ’’نزل بہ الروح الامین علی قلبک (الشعراء:۱۹۳)‘‘ کہ اس کو روح الامین نے آپ ﷺ کے قلب پر اتارا ہے۔ بہرحال قرآن پاک نے روح القدس، روح الامین اور جبرائیل تین ناموں سے جبرائیل کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ قطعاً غلط ہے کہ پیغمبر کے پاس خود جبرائیل نہیں آتے۔ یہ قرآن پاک کی تردید ہے۔ غار حرا میں جبرائیل پہلی بار اصلی صورت میں تشریف لائے۔

اور قرآن میں ذکر ہے: ’’ولقد راہ نزلة اخرى‘‘ کہ اسے آپ نے دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ بہرحال حدیثوں میں ہے کہ کبھی جبرائیل آپ ﷺ کے پاس ایک صحابی دحیہ کلبی ؓ کی شکل میں آجاتے تھے اور بخاری شریف میں ہے کہ اکثر

صفحہ ۵۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتوثیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صلصلة الجرس (ٹلی کی آواز میں) پر آتی تھی۔ یہ سخت ہوتی تھی۔ آپ ﷺ پر پسینہ آ جاتا۔ ازخود رفتہ جیسے ہو جاتے۔ گویا کبھی جبرائیل علیہ السلام ملکیت سے انسیت کے جامے میں جاتے اور کبھی آنحضرت ﷺ بشریت سے ملکیت کی طرف کچھ قریب کر لئے جاتے۔ بہرحال جبرائیل علیہ السلام کو روح الامین کہا ہے۔

یہ وحی نبوت کسی محدث یا مجدد یا ولی پر نازل نہیں ہوسکتی۔ قرآن پاک نے صاف صاف ارشاد کیا ہے: ”فلا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول (الجن:۲۶،۲۷)“ کہ اللہ اپنے غیب پر پورا دسترس کسی کو نہیں دیتا سوائے رسول کے۔ یہاں غیب سے مراد وحی قطعی کا غیب ہے۔ مرزا محمود رسول اور نبی کا معنی ایک بتاتا ہے۔

پھر یہاں تو غیر نبی کو اس بھید پر دسترس نہیں دی جاسکتی۔ خدا جانے اس نے وحی کو اتنا سستا کیوں کر دیا ہے۔ قرآن میں ہے: ”ان الشيطين ليوحون الى اولياء ہم (الانعام:۱۲۱)“ کہ شیطان اپنے دوستوں کے پاس وحی کیا کرتے ہیں۔ یہ وحی شیطانی الہام ہیں۔

وحی ختم ہے

جیسے نبوت ختم ہے اسی طرح وحی نبوت ختم ہے۔ تمام امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو شخص نبوت یا وحی کا دعویٰ کرے وہ واجب القتل ہے۔ آخری زمانہ میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے وہ پہلے کے نبی ہوں گے۔ ان کی وجہ سے فہرست انبیاء میں اضافہ نہ ہوگا نہ کسی کو نبوت ملے گی۔ وہ تو جیسے اور گزرے ہوئے پیغمبر آ جائیں۔ جیسے معراج کی حدیثوں میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مسجد اقصیٰ میں انبیاء علیہم السلام کو امامت کرائی۔ وہ قرآن پاک کو خود سمجھ لیں گے۔ وہ نفخ جبریل سے پیدا ہوئے ہیں۔ بچپن میں باتیں فرمائیں۔ پیغمبرانہ صفات، علم و روحانیت اور الہام سب ہوگا۔ وحی نبوت بذریعہ جبرائیل نہ ہوگی۔

بہر حال نبوت اور وحی نبوت اب بند ہے۔ مرزائی یہ دروازہ صرف مرزا کی خاطر کھولنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ۱۳سو سال میں وہ بھی کسی اور نبی کو نہیں مانتے اور بعد کے لئے صرف لفظی فریب کرتے ہیں۔ ورنہ درحقیقت مرزا قادیانی نے اپنے کو آخری زمانہ کا مسیح قرار دیا ہے اور حقیقت الوحی میں نبی کے نام کے لئے اپنے کو مخصوص بتایا ہے۔

وحی نبوت کے معانی

آنحضرت ﷺ پر جب وحی آتی ہے اس کو یاد کرنے کے لئے جلدی فرماتے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ (القيامة:۱۶)“ جلدی نہ کریں۔ ”ان علينا جمعہ وقرآنہ“ کیونکہ آپ کے سینہ میں اس کا جمع کر دینا اور اس کی پڑھائی ہمارے ذمہ ہے۔ ”فاذا قرء ناہ فاتبع قرانہ“ تو جب ہم پڑھ لیں تب آپ پڑھا کریں۔ ”ثم ان علينا بيانہ“ پھر اس قرآن کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔

مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے کلمات اور معانی دونوں منجانب اللہ ہوتے تھے۔ وحی کے معانی بھی جبرائیل علیہ السلام بتا دیتے تھے۔

قرآن نظم ومعنی کے مجموعے کا نام ہے

اسی لئے تمام علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن صرف کلمات کا نام نہیں، نہ صرف معانی کا، بلکہ الفاظ اور معانی کے مجموعے کا نام قرآن ہے۔ آنحضرت ﷺ جبرائیل سے قرآن اخذ فرما کر صحابہ کو سنا اور پڑھا دیتے تھے۔

”يتلوا عليهم آیاتہ ويزکيهم ويعلمہم الکتاب والحکمة (آل عمران:۱۶۴)“

صفحہ ۵۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ رسول ﷺ صحابہ ؓ کو آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ پھر ان کا تزکیہ فرماتے ہیں۔ انہیں کتاب (قرآن) سکھاتے ہیں اور حکمت۔ بہرحال آنحضرت ﷺ جیسے قرآن پاک کے الفاظ جبرائیل علیہ السلام سے اخذ کر کے صحابہ ؓ کو سنا دیتے۔ اسی طرح وہ معانی بھی جو جبرائیل علیہ السلام بیان فرما دیتے۔ وہ بھی صحابہ ؓ کو بتا دیتے۔

صحابہ کرام ؓ کی تفسیر

اسی لئے قرآن پاک کے وہی معانی صحیح سمجھے جاسکتے ہیں جو آنحضرت ﷺ یا آپ کے صحابہ ؓ سے منقول ہوں۔ ان معانی کے مقابلہ میں کوئی دوسرا معنی کرنا قطعاً غلط ہوگا۔ وہ معانی ایسے گول مول نہ ہوتے تھے کہ ان کا مفہوم تیرہ سو سال بعد جا کر کہیں سمجھا جاسکے۔

قرآن پاک کی حفاظت

اللہ تعالیٰ نے چونکہ یہ دین وشریعت قیامت تک کے لئے تجویز فرمائی تھی اس لئے قرآن کی حفاظت کا انتظام بھی فرمایا۔ تا کہ وہ قیامت تک من وعن باقی رہ سکے۔ ارشاد ہوا: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر:۹)“ کہ یہ قرآن ہم نے اتارا اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ بڑے زور سے ارشاد ہے کہ ہم خود ہی اس کے محافظ ہیں۔ جب خدا خود حفاظت کرے پھر وہ حفاظت کیسی اعلیٰ ہوگی۔

جناب والا! دنیا کی کوئی ایسی کتاب نہیں جس کو ازبر حفظ کیا جاتا ہو۔ لیکن قرآن پاک جیسی کتاب یعنی پورے تیس پاروں کے لاکھوں حافظ، خیرالقرون سے آج تک مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ نسلاً بعد نسل۔ اس کی سورتیں گنی ہوئی ہیں۔ اس کی رکوعیں اور آیتیں گنی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے کلمات اور حروف بھی گنے ہوئے ہیں۔ حفاظت کی حد ہوگئی کہ قرآن پڑھنے کا لب ولہجہ تک محفوظ ہے۔ جس کے لئے علم تجوید اور فن قرأت پڑھایا جاتا ہے۔ مخالف اور متعصب عیسائی مورخین یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ قرآن کو مسلمانوں نے جوں کا توں محفوظ رکھا۔

معانی کی حفاظت

یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ قرآن، الفاظ اور معانی کے مجموعہ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے وہ معانی کی حفاظت کو بھی شامل ہے۔ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ الفاظ کی حفاظت کریں اور معانی کی نہ کریں۔ اس کو پوری قدرت ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ پس یہ یقیناً جاننا پڑے گا کہ قرآن کے وہی اصلی معانی آج تک ضرور محفوظ ہیں۔ البتہ جس طرح الفاظ ظاہری اور معنوی چیزیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کی حفاظت ظاہراً دِکھتی ہے اور معانی کی حفاظت ذرا سوچنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ جس کی ذرا سی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

قرآن کی تفسیر بالرائے

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”من قال فی القرآن برائیہ فلیتبواء مقعدہ من النار“ (ترمذی ج۲ ص۱۲۳) یعنی جو کوئی قرآن میں اپنی رائے کو دخل دے گا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنائے گا۔ صحابہ کرام ؓ یا مسلمانوں سے یہ ناممکن تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے بغیر قرآن میں اپنی رائے کو دخل دیتے۔

صحابہ ؓ کی شان

اگرچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے جیتے جی عرب کو ایک بہترین روحانی نظام میں منسلک کر کے دنیا کے سامنے نمونہ پیش کر کے تبلیغ کا

صفحہ ۵۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فریضہ ادا کر دیا تھا اور ساتھ مشہور سلاطین و امراء کو دعوتی خطوط ارسال فرما کر اتمام حجت بھی فرمادی تھی۔ تاہم تفصیلی طور پر انتہائے عالم تک اشاعت اسلام و اعلان حق کی خدمت آپ ﷺ کی نیابت میں آپ ﷺ کے خویش و اقارب آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کی قدوسی جماعت کو کرنا تھا۔ اسی لئے اس جماعت کی اخلاقی بلندی اور پاکیزگی کی شہادت پہلے سے قرآن نے دے دی۔ انصار و مہاجرین آپ ﷺ کی مبارک اور طویل صحبت سے اس جماعت کی ایسی اعلیٰ تربیت ہوئی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔ ان جیسی جماعت کسی پیغمبر کو نصیب نہیں ہوئی۔ مخالفین اسلام بھی اعتراف کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کی اس تیار کردہ جماعت سے یہ امر ناممکن تھا کہ وہ آپ ﷺ کی بتائی ہوئی شاہراہ یا آپ ﷺ کی سنت سے ایک لمحہ کے لئے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوسکیں اور یہ کیسے ہوسکتا۔ ان کو آپ ﷺ کی نیابت میں دین حق کی بڑی خدمت کرنی تھی۔ چنانچہ اس قدوسی جماعت نے ایک طرف اپنی گفتار کردار کے اعلیٰ عملی نمونے پیش کر کے دنیا کو محو حیرت کر دیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ان کے جذبہ اعلائے کلمۃ اللہ نے اسلام کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجا دیا۔

دوسری طرف ایسی دیانت و امانت کے ساتھ جس کی نظیر ملنی ناممکن ہے قرآن پاک کی آیات اور ان کے معانی آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں تابعین کرام کے سینوں میں بھر دیئے۔ آپ ﷺ کے فرمائے ہوئے ایک ایک لفظ کو ان تک پہنچایا۔ یہ تابعین کون تھے۔ یہ ان ہی اصحاب رسول ﷺ اور اولاد رسول ﷺ کی پاک گودوں میں پلے ہوئے برسوں ان کی صحبت و رفاقت میں رہ کر انہی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ جب تک صحابہ کرامؓ کی یہ فیض یافتہ جماعت تابعین موجود رہی، سیاسی اختلافات و مشاجرات کے باوجود کسی کو قرآن و حدیث کے سلسلہ میں افراط و تفریط کی جرأت نہ ہوسکتی تھی۔ ان کے عوام اسلام کی برکات جھولیوں میں بھرے ہوئے برق رفتاری کے ساتھ دنیائے کفر پر جا گرے اور دیکھتے دیکھتے ربع مسکون کے بڑے حصہ پر اسلام کا علم لہرا دیا۔ ان کے خواص نے قرآن وسنت کے خزانوں سے اپنی اولاد اور اپنے شاگردوں کو مالا مال کر ڈالا اور صحابہؓ کی امانت کو جوں کا توں ان تبع تابعین کے حوالہ کر کے اپنا حق ادا کر دیا۔ یہ دوسرے حضرات جو تابعین جیسی مقدس جماعت کے تربیت یافتہ تھے کون تھے۔ یہ وہ اولوالعزم حضرات اور خوش قسمت ہستیاں ہیں جنہیں امامان دین کہتے ہیں۔ انہی میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ حضرت امام مالک جیسے حضرات شامل ہیں۔ ان پاک نفوس کی ایمانی بصیرت نے تقاضا کیا کہ بعد زمانوں میں یہ امانت و دیانت یہ تقویٰ طہارت، یہ صدق و صفا اور دین سے اتنا شغف و انہماک نہ رہے گا۔ اس لئے اصل دین کی حفاظت کی جانی ضروری ہے تا کہ آئندہ وہ بچوں کا کھیل یا تحریف کا شکار نہ ہوسکے۔ چنانچہ ایک طرف انہوں نے قرآن پاک کے سارے منقول معانی اور آنحضرت ﷺ کے سارے ارشادات جو صرف اپنے تابعی اساتذہ کے توسط سے ان تک صحابہؓ سے پہنچے تھے۔ قلمبند کر دیئے۔ (مؤطا امام مالک اسی پاک زمانہ کی یادگار ہے) دوسری طرف ان حضرات نے آنے والے قانون کی سہولت کے لئے جو آنحضرت ﷺ سے دوری کی وجہ سے قسمہا قسم کے فتنوں سے دو چار ہو سکتے تھے۔ قرآن و حدیث اور خلفاء راشدین کے قضایا و فتاویٰ کی روشنی میں (جیسے ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کسی قانون کی تعبیر کی جاتی ہے) دین کے باریک مسائل سمجھنے کے لئے چند اصول بیان فرما دیئے جنہیں فقہ یا اصول فقہ کہتے ہیں۔

اب اللہ تعالیٰ نے اسی زمانہ میں محدثین کی وہ بلند پایہ جماعت پیدا فرمادی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کی حفاظت میں پوری عمریں صرف کر دیں۔ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے تمام ملفوظات جمع کئے۔ تابعینؒ کی روایتیں بھی حفظ کیں۔ ان میں حضرت امام بخاری، حضرت امام مسلم وغیرہ امامان حدیث شامل ہیں۔ یہ محدثین حضرات جہاں بلا مبالغہ

صفحہ ۵۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

لاکھوں روایتوں کے بمعہ اسانید کے حافظ تھے۔ وہاں روایت کے پرکھنے میں اجتہادی ملکہ رکھتے تھے۔ فن جرح و تعدیل ایجاد ہوا۔ جس کے ذریعہ کسی روایت کی صحت و سقم پر بحث کی جاتی ہے۔ علم اسماء الرجال کی اسی سلسلہ میں بنیاد پڑی۔ جس سے پانچ لاکھ انسانوں کی زندگیاں محفوظ ہوئیں۔ ان محدثین حضرات کو اللہ تعالیٰ نے اسی حفاظت قرآن کے وعدہ کی وجہ سے ذہانت، حفظ، ضبط و اتقان اور دیانت و امانت اور ساتھ روایتی تنقید کا وہ ملکہ عطاء فرمایا تھا جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور درحقیقت ضرورت بھی صرف اسی وقت تھی۔ ان حضرات نے انتہائی احتیاط کی وجہ سے لاکھوں کے ذخیرہ سے چند ہزار حدیثیں اپنی اپنی کتابوں میں بمعہ سند کے لکھیں۔ انہوں نے ایسی روایت کو بھی کمزور قرار دیا جس کے معتبر راویوں میں سے کسی ایک کو بھی اگر عمر بھر میں صرف ایک دفعہ وہم ہوا ہو۔ یہ کتابیں اس وقت سے آج تک امت مسلمہ میں متداول و مقبول ہیں اور قرآن کی حفاظت کی برکت سے یہ بھی محفوظ ہوگئیں۔ پھر انہی احادیث کی روشنی میں تفسیریں بھی لکھی گئیں اور قرآن کے الفاظ و معانی خدائی وعدہ کے موافق محفوظ ہوگئے۔ ان منقول معانی کے خلاف آج جو معنی کیا جائے وہ مردود ہے۔ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی وغیرہ آیات و احادیث کا معنی اس وقت تک یہی لکھا گیا اور سمجھا گیا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نیا نبی نہیں آسکتا اور یہ کہ آخری زمانہ میں آنے والا پرانا پیغمبر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہوں گے۔

مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار ہے

اگر بالفرض دنیا میں آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا تھا جس کے انکار سے آنحضرت ﷺ کی تمام امت چالیس کروڑ کو کافر ہونا تھا تو ایک کہنے والے کو حق پہنچتا ہے کہ کہے کہ آپ ﷺ دنیا بھر کے لئے اور قیامت تک کے لئے کیسے پیغمبر ہو سکتے ہیں؟ جب کہ قیامت تک کی ساری امت کو اتنے بھاری خطرہ سے آگاہ نہ کیا اور اتنا نہ بتایا کہ ایک نبی غلام احمد آئے گا،۔ اس کا انکار نہ کرنا۔ یہی نہیں کہ یہ العیاذ باللہ مجرمانہ خاموشی سمجھی جاسکے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس سینکڑوں حدیثوں کے ذریعہ اپنی امت کو بار بار یہ یقین مختلف پیرائوں میں دلایا کہ میرے بعد کسی نے نبی نہیں بننا۔ نبوت مجھ پر ختم ہوگئی۔ میرے بعد نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ اگر ہارون علیہ السلام کی طرح تابع نبی بھی ہوتا تو حضرت علیؓ ہوتے۔

”میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں“ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ ﷺ نے یہ پیشین گوئی فرمادی کہ تیس جھوٹے اور دجل وفریب کے پتلے پیدا ہوں گے۔ ان کی دو نشانیاں بیان فرمائیں کہ وہ میری امت میں سے ہوں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے اور ساتھ فرما دیا ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس پیش گوئی نے ہر امتی کو یہ عقیدہ رکھنے پر مجبور کر دیا کہ امتی ہوکر نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کذاب، دجال سمجھا جائے تو اگر آپ ﷺ کے بعد کسی نبی نے آنا تھا خاص کر آپ ﷺ کی امت میں سے تو ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مندرجہ بالا حدیثیں فرما کر اور پیشین گوئیاں کر کے آپ ﷺ نے خود بخود اپنی امت کو آنے والے نبیوں کا منکر بنا کر کافر بنانے کا سامان کیا۔ العیاذ باللہ تعالیٰ ! جب کہ لا نبی بعدی کی حدیث اور ختم نبوت کا مشہور مفہوم اتنا متفق علیہ اور روایت کے لحاظ سے اتنا اہم تھا کہ کسی کو اس سے انکار کی مجال نہ تھی۔ حتی کہ جب تک مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بننے کا شوق نہ چرایا تھا وہ بھی مدعی نبوت کو کافر و دجال کہتا رہا۔

مرزائی استدلال کی حیثیت

جب مرزائیوں کے سامنے مرزا قادیانی کا پرانا عقیدہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ منسوخ ہوگیا۔ سبحان اللہ ! جب اہل اسلام احکام میں نسخ کو جائز قرار دیتے ہیں۔ جیسے کہ عقائد بحال ہوتے ہوئے بھی انبیاء علیہم السلام کے شرعی احکام مثلاً روزہ نماز وغیرہ میں باہم

صفحہ ۵۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بڑا فرق رہا اور اللہ تعالیٰ وقت و زمانہ کے مناسب احکام تبدیل فرماتا گیا۔ اسی طرح خود اسلام کے ابتدائی اور آخری زمانہ میں ہوا۔ نسخ ہماری نگاہوں میں نسخ ہے اور قدرت کے لحاظ سے احکام کے مقررہ اوقات کا اعلان کہ جو حکم جتنے وقت کے لئے تھا وہ بتا دیا جاتا ہے۔ اس جائز اور تاریخی نسخ پر اعتراض کرنے والے مرزائی جب اپنی بگڑی بنانے پر آتے ہیں تو عقیدوں میں تبدیلی اور نسخ کو جائز قرار دیتے ہیں جب تک مرزا قادیانی کو نبوت کا شوق نہیں چرایا عقیدہ ختم نبوت درست اور جب نبوت کی ٹھان لی تو کبھی خاتم کے معنوں میں بحث اور کبھی النبیین کے لفظ میں کیڑے نکالنے کی سعی۔ تمام حدیثوں اور آیتوں کی ٹانگیں توڑنی شروع کر دیں اور اپنے لئے روایتوں کی تلاش جاری کر دی۔ جن سے قوم کو الو بنایا جاسکے۔ لیکن لے دے کر روایات کے عظیم ذخیرہ سے ان کو صرف ایک حدیث ملی ہے وہ ہے ابن ماجہ کی روایت ”لو عاش ابراهیم لکان صدیقا نبیا“

آپ نے فرمایا کہ اگر ابراہیم (آپ ﷺ کا فرزند) زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔ پہلے تو آیات قطعی اور احادیث متواترہ کے مقابلہ میں اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں جس میں یعنی جس کی سند پر محدثین نے جرح کی ہوئی ہے۔ لیکن اگر سنداً اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اسی حدیث کے راویوں نے دوسری جگہ اور ایک روایت میں خود اسی ابن ماجہ کے اسی صفحہ میں اسی روایت کے ساتھ یہ روایت اور یہ معنی بھی نقل کر دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قضاء نے نبوت ختم نہ کر دی ہوتی تو ابراہیم زندہ رہ کر نبی بن جاتا تو اس کا معنی بھی مشہور عقیدہ کے موافق یہی ہوا کہ وہ اسی لئے فوت ہوئے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت ختم تھی۔ ورنہ ان میں نبوت کی تمام صلاحیتیں اور استعداد موجود تھی۔ جن کے بعد اللہ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ نبی ہوتے۔ لیکن قضاء و قدر کا فیصلہ یہی تھا کہ اب یہ دروازہ بند ہے اور اللہ کے علم میں نبیوں کی مقررہ تعداد پوری ہو چکی ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم کی زندگی بھی تھوڑی مقدر کی گئی۔

دوسری روایت جس کو روایت کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ مرزائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک قول پیش کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ خاتم النبیین کہا کرو۔ لیکن ”لا نبی بعدہ“ نہ کہا کرو۔ خاتم النبیین کہنا کافی ہے یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

یہ قول اس قابل ہی نہیں کہ علمی بحث میں اس طرف توجہ کی جائے۔ کیونکہ یہ ایک قول منقطع السند ہے۔ جہاں یہ قول لکھا گیا ہے وہاں اس کی سند میں انقطاع ہے، لیکن مرزائیوں کا کیا کہنا کہ جب ایک لائق مرزائی گواہ سے ایک حدیث کی سند پوچھی گئی تو اس نے مشکوٰۃ کا نام لے دیا۔ سبحان اللہ! اس علم کے بل بوتے پر نبوت کا مینار کھڑا کرتے ہیں۔ کیا سند کا معنی یہ ہے کہ کوئی بات کسی کتاب میں درج ہو یا علم و حدیث کی اصطلاح میں سند اس بات کو کہتے ہیں کہ مثلاً راوی حدیث امام بخاری یا امام مسلم اپنے استاد اور استاد الاستاد پھر استاد الاستاد کے استاد کا نام بتا کر یہ ثابت کرے کہ کن کن ثقہ، معتبر، متدین، حافظ ومتقی مشہور ومعروف حضرات کے واسطے سے یہ حدیث رسول ﷺ حاصل کی گئی ہے۔

محدث مثلاً امام بخاری سے لے کر صحابی تک دو واسطے ہوں یا تین ہر ایک پر دنیا بھر کے ناقدین اور ائمہ جرح وتعدیل کو اعتراض کرنے کا کھلا حق ہوتا ہے۔ مجال کیا کہ کسی روایت کے کسی راوی کے بارہ میں یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو عمر بھر میں ایک بار فلاں مقام پر وہم ہوا تھا اور پھر اس کی روایت گر نہ جائے۔ فن روایت جو کہ خدمت حدیث ہی کے سلسلہ میں مسلمان قوم نے ایجاد کیا۔ اس کی موشگافیوں اور سخت گیریوں کو دیکھئے اور دوسری طرف مرزائیوں کے طرز عمل کو کہ اپنے مطلب کے لئے ان کو اس سے بحث ہی نہیں رہتی کہ روایت کو حدیث کہنا بھی صحیح ہے یا نہیں۔ بلکہ اگر راویوں کے ضعف و قوۃ پر بحث کی بجائے سند ہی نہ ہو ان کی بلا سے۔ ان کو تو اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے اور

صفحہ ۵۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جب یہ رد کرنے پر آتے ہیں تو صحیح حدیث کو مرزائی الہام کے مخالف ہونے کی وجہ سے رد کر دیتے ہیں یا اس کے معانی بدل بدل کر مسخ کر دیتے ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذکورہ قول بھی منقطع ہے جس کا معنی یہ ہے کہ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں ہے اور ہو کیسے سکتا ہے جب آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان متواتر ہے کہ ”لا نبی بعدی“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ایسا نہ ہوا اور اگر بالفرض مان ہی لیا جائے تو اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ منصب ختم نبوت کے بیان کے لئے خاتم النبیین بھی کافی ہے۔ جس کے معنی نبیوں کو ختم کرنے والا ہے۔ پھر ”لا نبی بعدہ“ کہنے سے کسی زندیق کو یہ کہنے کا موقع نہ مل جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ ﷺ کے بعد نہیں آئیں گے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول متواتر اور یقینی ہے۔ بہر حال ”لا نبی بعدی“ کے روکنے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مرزائی قسم کے لوگوں کا منہ بند کرتی ہیں جو کہا کرتے ہیں کہ اگر نبوت ختم ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے آ سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہی فرماتی ہیں کہ نبوت بند ہے۔ اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا۔ البتہ پرانے نبیوں میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آ کر اس امت کی خدمت کرنا مقدر ہے۔ گویا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نگاہ یہ فرماتے ہوئے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متواتر اور یقینی عقیدے کو بچانے کے لئے ہے۔

مرزائی ڈھکوسلے

اس کے سوا مرزائی ایسے بنیادی اور متواتر عقیدہ کے مقابلہ میں عقلی ڈھکوسلے بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ مثلاً نبوت نعمت ہے۔ اس امت پر اس نعمت کا دروازہ کیوں بند کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ونعمت کے بھی اوقات ہیں۔ اس نے سب کے لئے مناسب مناسب مقام تجویز کئے ہیں۔ اس دنیائے فانی میں جس کو آغاز ہے۔ اس کو انجام ہے، نبوت کے ذریعہ انسانی تکمیل وتعلیم مقصود تھی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں آخری شکل تک پہنچ کر مکمل ہو گئی۔ نبوت بھی ختم ہو گئی۔ اب بجائے اس کے مرزا غلام احمد قادیانی پر نبوت ختم کریں۔ آنحضرت ﷺ ہی کو کیوں خاتم النبیین نہ مانیں۔

مرزائیوں کے باقی دلائل کے بارہ میں قطعی فیصلہ

مرزائی اجراء نبوت کے لئے کبھی کبھی بعض آیتیں اور بعض حدیثیں پیش کر کے ان میں اپنے طبع زاد نئے معانی پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارا ایک ہی فیصلہ ہے کہ مرزائی جو آیت یا حدیث بھی پیش کریں۔ ان میں سے کسی ایک کے ذیل میں امت محمدی کے کسی مجدد کسی محدث ، کسی امام حدیث یا امام فقہ یا کسی ایک مفسر کا یہ قول بھی پیش کر دیں کہ اس آیت یا حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر جو پرانے نبی ہیں اور کسی کو نبوت مل سکے گی یا آنحضرت ﷺ کی متابعت سے نبی بنا کریں گے۔ مرزائی سلف صالحین میں سے قیامت تک کسی کا ایسا قول نہیں بتا سکتے۔ اس کے برعکس ایسے اقوال سینکڑوں ملیں گے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہے جو شخص نبوت اور وحی کا دعویٰ کرے وہ واجب القتل ہے۔ قطعی کافر ہے۔ پھر جب کسی صحیح حدیث یا آیت قرآنی سے سلف صالحین نے مرزائی معنی نہیں سمجھے تو اس کو پیش کرنا اور اپنے معانی پہنانا خارج از بحث ہے۔

نئے معانی الحاد وزندقہ ہے

اور ہم عرض کر چکے ہیں کہ قرآن کے الفاظ جس طرح آسمانی ہیں اس کے معانی بھی وحی کے ذریعہ بیان ہوئے ہیں جو

صفحہ ۵۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آنحضرت ﷺ نے امت تک پہنچا دیئے ہیں۔ الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام قرآن ہے۔ جس کی حفاظت کا ذمہ خدا تعالیٰ نے لیا ہے۔ پس اگر الفاظ قرآن کا بدلنا تحریف اور کفر ہے۔ اسی طرح منقولہ معانی کے سوا نئے معانی کرنا جو منقولہ سے متصادم ہوں ۔ تحریف معنوی اور کفر ہے اور اگر تیرہ سو سال کے مسلمہ اور متواتر منقول معانی کا اعتبار نہیں اور وہ غلط ہو سکتے ہیں تو اس سے دین کی ساری عمارت ہی گر جائے گی اور اگر تیرہ سو سال کے ہزاروں علماء محدثین و مفسرین کے معانی آج غلط ہو سکتے ہیں تو جو معانی آج کئے جاتے ہیں۔ وہ دس بیس سال کے بعد کیوں غلط نہیں ہو سکتے ۔ اس طرح تو دین ایک کھلونہ بن کے رہ جائے گا۔ اسی لئے سلف صالحین کے معانی کے سوا کوئی نیا معنی گھڑنا یقیناً الحاد اور زندقہ ہے۔ جیسے صلوٰۃ کے مشہور معنی کی جگہ صرف دعا مراد لینی۔ حالانکہ دعا بھی صلوٰۃ کا معنی ہونا قرآن سے ثابت ہے۔ لیکن ”اقیموا الصلوٰۃ“ کا معنی وہی مخصوص طرز کی عبادت لیا جائے گا جو سلف سے منقول ہے۔ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم خاتم النبیین مانتے ہیں۔ لیکن اس کا معنی یہ ہے کہ صرف وہی نبی نہیں آ سکتے جو آنحضرت ﷺ کی متابعت کے بغیر نبی ہوں تو اس کا یہ کہنا اسی طرح ہے کہ ہم صلوٰۃ فرض جانتے ہیں۔ لیکن اس کا معنی صرف دعا کرتے ہیں۔ بہر حال مرزائی اپنے کسی استدلال کے ساتھ سلف صالحین کی تائید پیش نہیں کر سکتے۔

بقاء نبوت کی بحث ، مرزائیوں کا صرف ساحرانہ فعل ہے

اور اگر حقیقت پر نظر کی جائے تو یہ بحث کہ نبوت ختم ہے یا قیامت تک باقی ہے یا اور تو ختم تھی لیکن ایک مرزا کی اینٹ باقی تھی۔ یہ تمام بحث لغو و دور از کار اور بے کار محض ہے۔ یہ بحث تو تب مفید ہو سکتی کہ جیسے مرزا قادیانی ، آنحضرت ﷺ کی شدت متابعت سے نبی بنا ہوتا اور بھی ہزاروں عاشقان محمدی نبی ہوتے۔ صحابہ کرام میں سینکڑوں نبی ہوئے ہوتے۔ حضرت خواجہ اجمیری یا حضرت سید عبد القادر جیلانی ، حضرت مجدد الف ثانی نیز ائمہ دین سے لا تعداد پیغمبر ہوئے ہوتے۔ صرف ایک مرزا غلام احمد کی ذات کے لئے بحث کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نئے نبی آ سکتے ہیں یا نہیں۔ تمام آیات و احادیث کی چھان بین کی کیا ضرورت ہے۔ جب کہ خود مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں کہ تیرہ سو سال میں میرے سوا کوئی نبی نہیں بنا۔ یہ بحث تو مرزائی لوگ مسلمانوں کو الجھانے اور علمی مباحثات کی دلدل میں پھنسانے کے لئے کرتے ہیں اور بہت سے ناسمجھ مسلمان اس جادو کے شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ورنہ در حقیقت خود مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت اور اجرائے نبوت کی بحثوں میں اپنی کامیابی نہیں سمجھی بلکہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی متواتر روایات کی آڑ لی ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ کر کے اس نے آخری پناہ گاہ بس صرف نزول مسیح کی احادیث کو قرار دیا ہے۔ یہی مرزائیوں کا آخری یہودیانہ قلعہ ہے۔ پس اگر مرزا قادیانی کو مسیح ہی بننا ہے اور وہ بھی نزول مسیح کی احادیث کا مصداق بن کر تو اس کے لئے وہ تمام بحثیں کہ نبوت ختم ہے یا باقی ہے۔ خاتم کا کیا معنی ہے اور النبیین سے کیا مراد ہے۔ ظلی نبی ، بروزی نبی ، مستقل نبی ، تشریعی نبی ، عکسی نبی ، فنا فی الرسول نبی ، تابعی نبی ۔ یہ سب بحثیں طول الاطائل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بحث تو صرف یہ رہ جاتی ہے کہ مرزا قادیانی واقعی آنے والا مسیح ہے یا یہ خود ساختہ مسیح ہے جیسے پہلے خود ساختہ مجدد بنا۔ پھر مثیل مسیح بن کر خود ساختہ پیغمبر بنا۔

مرزا قادیانی کا اصلی دعویٰ

دراصل مرزا قادیانی کے اصلی دعویٰ کی تفتیش میں جو مرزائیوں کو مشکل پڑی ہوئی ہے اور اسی لئے مرزا قادیانی کے مرنے کے جلد ہی اس کے مریدوں کو اس کے دعویٰ کے سلسلہ میں خلجان ہوا اور بالآخر دو گروہ ہو گئے ۔ ایک نے اس کو نبی قرار دیا۔ دوسرے نے مجدد اور یہ دونوں مسیح کے دعویٰ میں آ کر مل جاتے ہیں۔ یہاں سے دونوں کا کفر اکٹھا ہو کر گنگا جمنا کی طرح بہتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے

صفحہ ۵۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دعویٰ کو جان بوجھ کر گورکھ دھندا بنایا ہوا ہے۔ پہلے اس نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن مسلمانوں میں ناسمجھ افراد کی کثرت کو دیکھ کر اس کو اس مقام پر قناعت کرنے میں کوئی زیادہ کامیابی نہیں نظر آئی۔ کیونکہ اس سے براہ راست ماننے والوں کا کوئی خاص گروہ نہیں بن سکتا تھا۔ اس نے آہستہ سے الہام و وحی کا اور ساتھ ہی مثیل کا دعویٰ کیا۔ جس سے ازالہ الاوہام تک کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ اگر چہ اس کو اصل مسیح کے انکار اور مشہور و مسلمہ عقیدہ حیات مسیح کی تردید میں بڑی محنت کرنی پڑی اور اسی کے ذیل میں معراج جسمانی سے بھی انکار کیا اور چونکہ ذات والا میں تو مسیحانہ معجزات کی قابلیت نہ تھی۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کا بھی نہایت ہی کافرانہ طرز پر مذاق اڑایا اور ان کو صرف مسمریزم قرار دیا۔ جیسا کہ ازالہ اوہام میں تصریح ہے اور اپنے استعمال شراب کی وجہ سے کشتی نوح میں حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی شرابی قرار دیا اور چونکہ خود ”بھانو“ وغیرہ عورتوں سے مٹھیاں بھرواتے اور خدمتیں لیا کرتے تھے۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ وہ نامحرم اور فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان سے عطر ملواتے تھے۔ بہر حال مسیح بننے کے لئے مماثلت کی پوری کوشش کی۔ لیکن چونکہ روح اللہ بننا کافی مشکل تھا۔ اس لئے نبوت کی سلسلہ جنبانی بھی جاری رکھی۔ قوم کو ظلی، بروزی، عکسی، مجازی، تابعی، غیر تشریعی اور امتی نبی کی لاطائل بحثوں میں الجھائے رکھا اور جب یہاں بھی دال گلتی نظر نہ آئی تو ایک نیا دام بچھایا۔

آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں

کہ آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا مسئلہ ایجاد کیا۔ بعثت اولیٰ میں آپ کا نام محمد تھا۔ بعثت ثانیہ میں احمد (غلام احمد ) بعثت اولیٰ میں آپ ہلال تھے اور بعثت ثانیہ میں بدر کامل، بعثت اولیٰ اسم محمد کے جلالی ظہور کا زمانہ تھا اور بعثت ثانیہ اسم احمد کے جمالی ظہور کا زمانہ اور اسی لئے اس دور میں جہاد کی منسوخی بھی ضروری سمجھی۔ اس طرح مرزا قادیانی نے اپنے کو بعینہ آنحضرت ﷺ قرار دیا اور اعلان کیا کہ میرا کسی نئی نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ میری نبوت وہی محمدی نبوت ہے اور محمد کی نبوت محمد ہی کو ملی نہ کسی اور کو۔ العیاذ باللہ تعالیٰ !

جب مرزا غلام احمد قادیانی نے کھلم کھلا آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں قرار دے اپنے کو دوسری بعثت کا مصداق قرار دیا تو کیوں مرزائیوں کو یہ کہنے کا حق نہ ہو کہ ”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں ...... اور آگے سے بڑھ کر اپنی شان میں۔“ (اخبار البدر قادیان ج ۲ نمبر ۴۳ ص ۱۴، مورخہ ۲۵/ اکتوبر ۱۹۰۶ء) جب یہ مرزا وہی محمد ہیں جو تیرہ سو سال پہلے ہلال کی شکل میں تھے تو اب بدر کامل ہونے کی وجہ سے یقیناً پہلی حالت سے بدرجہ کمال پہنچے ہوئے ہیں۔ اس طرح دجالانہ انداز سے اسلام میں دو بعثتوں کا نیا مسئلہ ایجاد کر کے سردار دو جہاں ﷺ کے مسند پر خود قبضہ کرنے کی منحوس سعی کی۔ لیکن جب اندازہ لگایا کہ عامۃ المسلمین انگریزوں کے ایک خاندانی اور پشتینی وفادار حرمت جہاد کے قائل انگریزوں کو بیس بیس صفحوں کے خوشامدانہ خطوط لکھنے والے مختاری فیل، مخرب اسلام کو یہ درجہ دینے کو تیار نہیں ہیں تو بالآخر دوبارہ نزول مسیح کی روایات کی آڑ لے کر مستقل طور پر مسیح موعود بننے کا فیصلہ کیا۔ پھر بھی مرنے تک عین محمد بن کر محمد کی نبوت پر قبضہ کرنے کا خیال ترک نہیں کیا۔

جیسا کہ ایک غلطی کا ازالہ میں درج ہے تا کہ جس شخص کی سمجھ میں جو بات آ جائے اسی راہ سے حلقہ مریدین میں داخل ہو جائے۔ اگر کوئی مسیح سمجھ کر آتا ہے، آئے۔ کوئی نبی اور عین محمد سمجھ کر آئے بلکہ اس نے اور بھی پوری طرح نظر دوڑائی کہ اگر کسی اور آنے والے کی کوئی پیش گوئی ہو تو اس کو بھی اپنے اوپر چسپاں کروں۔ چنانچہ اچانک اس کو ایک حدیث مل گئی کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو بھی اس کو اہل فارس کا ایک آدمی حاصل کرے گا۔ عالم امت نے اس کا مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کو سمجھا۔ بہر حال کوئی بھی اس کا مصداق ہو۔ لیکن مرزا نے اس کو بھی اپنے اوپر چسپاں کر دیا کہ رجل فارسی میں ہی ہوں۔ مرزا قادیانی کا پیش گوئیوں کا مصداق بننے کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ چنانچہ

صفحہ ۵۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا قادیانی کو رجل فارس بننے کے شوق میں اپنی مشہور قومیت اور ذات مغل بدلنی پڑی۔ اس کو کہنا پڑا کہ اگر چہ مشہور اور متواتر ثبوت کے لحاظ سے تو ہماری قومیت مغل ہے۔ لیکن الہام مجھے ایرانی النسل ثابت کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی مذہبی صلاحیت اور علماء اسلام کی باطل شکن مساعی کے مقابلہ میں اپنے مشن کو کمزور پا کر ہندوؤں اور سکھوں کی طرف بھی رخ کیا۔ کرشن بنے ۔ جے سنگھ بہادر بنے۔ گرو نانک کو مسلمان ثابت کیا۔ اگر سکھ قوم ہی اس کو اپنا جے سنگھ مان لیتی مرزا قادیانی کے لئے بس تھا۔ مگر افسوس کہ نہ انہوں نے جے سنگھ تسلیم کیا نہ ہندوؤں نے کرشن اوتار مانا۔ نہ مسلمانوں نے مسیح اور پیغمبر ۔ نہ کسی نے ایرانی النسل ہونے کا اقرار کیا۔ وہی مرزا غلام احمد قادیانی مغل کا مغل اور کافر کا کافر رہ گیا۔

بہر حال چونکہ مرزا قادیانی کو اپنے دلائل کا بودا پن خود معلوم تھا۔ اس لئے وہ کسی ایک مقام پر ڈٹ کر قائم نہیں رہ سکا اور اس نے نبوت، مجدد اور مسیح کی تینوں بحثوں کو کسی نہ کسی رنگ میں مرنے تک کھینچا اور اپنے دعویٰ کو گورکھ دھندا بنایا۔ تاہم اس نے آخر کار پورا زور آنے والے مسیح بننے پر صرف کر دیا ہے۔ اس طرح سے اس کو خاصی آسانی نظر آئی۔ کیونکہ پرانے عقیدہ کی برائی اور بطلان کو وہ مغرب زدہ نئی روشنی والوں کے سامنے آسانی سے بیان کر سکتا تھا اور اس طرح اس کو سرکاری امداد کے سوا انگریزی پڑھے لکھے آدمیوں کی ایک تعداد ہاتھ آ گئی جو پہلے سے ہی اپنی عقل کے مقابلہ میں نقل کو کوئی حیثیت نہ دیتے تھے۔

عقل سلیم اور نقل صحیح

اگر چہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ دین کی کوئی حقیقت اور اسلام کا کوئی مسئلہ عقل کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں دو طرفہ ایک شرط کی ضرورت ہے۔ نقل کے لئے ضروری ہے کہ وہ صحیح ہو۔ قرآن پاک کی آیت ہو یا آئمہ جرح و تعدیل اور آئمہ حدیث کی توثیق و تصدیق سے ثابت ہو کہ یہ آنحضرت ﷺ کا فرمودہ ہے۔ اسی طرح آیت اور حدیث کے مفہوم کے بارہ میں یہ ثابت ہو کہ تابعین، صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہی مفہوم بیان کیا جو وہ آنحضرت ﷺ سے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ بس نقل کے لئے تو یہ لازم ہے اور عقل کے لئے یہ شرط ہے کہ عقل سلیم ہو۔ ایسی نقل صحیح اور عقل سلیم میں تو اختلاف ناممکن ہے۔ لیکن اگر ایک طرف کوئی بے سند قول یا ضعیف روایت یا ضعیف قول پیش کر کے اس کو آنحضرت ﷺ یا صحابی کی طرف منسوب کیا جائے تو ضروری نہیں کہ یہ عقل سلیم کے موافق ہو۔ بلکہ ایسی بات نقل صحیح کے بھی مزاحم ہوگی۔ دوسری طرف ہر ایرا غیرا نتھو خیرا کہے کہ میری عقل ہی سلیم ہے۔ میں اپنی عقل کے خلاف کوئی نقل نہیں مانوں گا۔ اس سے بڑا احمق کون ہے۔ جب خود اسی قسم کے دوسرے بیسیوں عقلاء اس کے خلاف کہتے ہوں تو اب ان میں سے کس کی عقل کو عقل سلیم کہا جائے گا۔ آج حالت یہ ہے کہ نئے فلسفہ نے پرانے فلسفے کے نظریات کو باطل قرار دے دیا۔ خیر کل کے عقلاء اور فلاسفروں کو ناز تھا اور نت نئے نئے نظریے قائم ہوتے ہیں جو پرانے نظریوں کی تردید کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہزاروں ایسے بندے پیدا فرمائے ہیں جن کو سلامت عقل اور اعتدال مزاج عطاء فرمایا ہے۔ ان کو اسلام کا کوئی حکم عقل کے خلاف نظر نہیں آتا۔ عقل کا آخری درجہ مشاہدہ ہوتا ہے۔

نقل کا اعتماد

مشاہدہ کے خلاف کوئی چیز ماننے کے قابل نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جو خدا اور رسول کے فرمان کے مقابلہ میں اپنے مشاہدہ کی بھی تردید کرتے ہیں۔ اس میں راز یہ ہے کہ نقل کی انتہاء پیغمبر علیہ السلام پر ہوتی ہے اور ان کا فرمانا مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔ مشاہدہ بھی ایسا کہ اس میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہوتا۔

صفحہ ۵۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پیغمبر کے اصحاب ان حالات کا چشم خود ملاحظہ کرتے ہیں جو پیغمبر کو ان کے سامنے نزول وحی، کلام ملائکہ، صدور معجزات، نصرت غیبی وغیرہ کے پیش آتے رہے ہیں اور پیغمبر کی صحبت اور قرب کی وجہ سے ان کے قلوب کی کیفیات اور ایمانی ویقینی حالات عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنی نظر اور مشاہدہ کی غلطی کا امکان مانتے ہیں۔ جس طرح ریل کا مسافر زمین کو چلتے دیکھتا ہے لیکن وہ نبی کے فرمودہ میں کسی قسم کا شک نہیں کر سکتے اور نبی کا فرمان یقیناً مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ زندہ خدا سے پاتا اور حقائق اشیاء کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھتا۔ اپنے مشاہدہ پر یقین رکھتا اور اسی یقین کی روشنی میں چلتا اور اسی کی طرف بندگان خدا کو دعوت دیتا ہے۔ اگر پیغمبر کی اس رسولانہ شان اور خدا سے لے کر بندوں تک پہنچانے کا عجیب وغریب پنہاں در پنہاں کاروبار کو نہ مانا جائے تو دین وایمان کی عمارت کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے اور اگر اس ابتدائی ضرورت اور ابتدائی مرحلہ کو مان لیا جائے تو پھر پیغمبر کی ہر بات ماننی پڑے گی اور اگر یقیناً ثابت ہو کہ پیغمبر کا منشاء یہی ہے تو بس وہی بات حقیقت اور عقل سلیم کا مقتضا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب معراج شریف کا چرچا ہوا۔ ابو جہل وغیرہ نے کہا کہ اب محمد (رسول اللہ ﷺ) کے صحابہ کو گمراہ کرنے کا خوب موقعہ ملے گا۔ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک رات میں مکہ بیت المقدس اور آسمانوں کو آجاسکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا نہیں۔ وہ بولے تیرا ساتھی تو آج یہ کہہ رہا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے۔ کہا: ہاں! تو فرمایا پھر حق ہے ضرور ہو آئے ہیں۔ وہ اس سے زیادہ کا دعویٰ کرتے ہم وہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس دن سے حضرت ابوبکرؓ کا نام صدیق پڑ گیا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کروڑوں عقلاء وحکماء کی عقول کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا مشکل پڑ جاتا ہے کہ کس کی عقل عقل سلیم ہے۔ لیکن اگر نقل صحیح ہاتھ آجائے تو یہ مان لینا کہ یہی عقل سلیم کا بھی فتویٰ ہے۔ بہت آسان ہے۔ لیکن عقل پر گھمنڈ کرنے اور تہذیب نفس نہ ہونے کی وجہ سے اکثر افراد انبیاء علیہم السلام کے فیض سے محروم ہو کر ابدی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ افلاطون کا یونان میں چرچا تھا۔ وہ خواص الاشیاء اور نبض وغیرہ کے کمال کی وجہ سے اپنے پڑوس میں حضرت عیسیٰ کی مسیحائی کے تسلیم تک سے محروم رہا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات زیادہ تر افلاطون کے فن حکمت سے ملتے جلتے تھے۔ وہ اپنے فن کے غرور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملا تک نہیں۔ آج بھی جو لوگ علوم حاصل کرتے ہیں۔ دنیوی علوم کے کمال کا کیا کہنا وہ تو علوم انبیاء کو خاطر ہی میں نہیں لاتے۔ جو لوگ دینی علوم بھی بغیر کسی روحانی درسگاہ اور ایسے ذرائع کے حاصل کرتے ہیں جو مشکوٰۃ نبوت کے نور سے منور نہ ہوں۔ وہ بھی نقل میں اپنی عقل کو دخل دے کر دین کو ایک معجون مرکب بنانا چاہتے ہیں۔

عامۃ المسلمین کا عقیدہ

چونکہ عامۃ المسلمین کا عقیدہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک سے آج تک یہی چلا آ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ چالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ اس وقت تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ یہود و نصرانی بھی ان کو مانیں گے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے۔ اس شریعت کو چلائیں گے۔ وہ اپنی طرف سے اصالۃ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرف سے نیابۃ حسب آیت میثاق: ”لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران: ۸۱)“ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی امت کی مدد فرمائیں گے۔ آخر کار وفات ہو کر مدینہ شریف میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔ اپنی زندگی میں حج فرمائیں گے۔ شادی کریں گے۔ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

صفحہ ۵۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا غلام احمد قادیانی نے فلسفہ قدیم وجدید کی آڑ لے کر مسیح کی طولانی حیات، آسمانی زندگی اور احیاء موتی کے معجزے کے خلاف جی بھر کر انگریزی خوانوں کو اکسانے اور علماء امت کو مشرک ، یہودی صفت ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جن کو انگریزی سرکار نے ۱۸۵۷ء کے بعد سے ہی بدنام کرنے کی کوشش کر رکھی تھی ۔ دونوں بات انگریزی خوانوں کو اپیل کرتی تھیں ۔ مرزا قادیانی نے حیات و وفات مسیح کے مسئلہ کو ایسا گرمایا کہ ملک بھر میں عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے سے عیسائی مذہب کی موت ہے اور مراد یہ تھی کہ ان کی موت ثابت کر کے خود مسیح بننا آسان ہو جاتا ہے ۔

مرزا قادیانی یہود و نصاریٰ کے قدم پر

کہا تو یہ جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے سے عیسائی مذہب ختم ہو جاتا ہے ۔ لیکن جس طرح مرزا قادیانی اور اس کی امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرتی ہے اس سے نصاریٰ اور یہود دونوں کے نظریوں کی تائید ہوتی ہے ۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے ۔

یہودی عقیدہ

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے ایک مکان میں گرفتار کر لیا ۔ اس کی مشکیں باندھیں ۔ اس کو سولی پر چڑھایا اور پھر قتل کر دیا ۔

نصاریٰ کا عقیدہ

نصاریٰ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا ۔ ان کو سولی پر چڑھایا اور تمام تکلیفیں دے کر ان کو قتل کر دیا ۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے لئے سولی پر چڑھ کر کفارہ ہو گئے ۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تین دن کے بعد قبر سے جی اٹھا اور اپنے شاگردوں کے سامنے آسمان پر چلا گیا ۔

مسلمانوں کا عقیدہ

یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ رہے تھے ۔ ان کی تدبیر تھی کہ ایک شاگرد کی جاسوسی سے اس کو گرفتار کر کے سولی دے دیں اور قتل کر دیں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو شاگرد جاسوسی کر رہا تھا اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت پر کر دیا اور مکان کی ایک کھڑکی سے جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے ۔ یہودیوں نے مکان میں کسی اور کو نہ پا کر اور شاگرد کو ہی عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اس کو سولی دے دی اور قتل کر ڈالا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری تو بھاگ گئے تھے اور کوئی عیسائی موجود ہی نہ تھے ۔ اس لئے ان کا تو سارا عقیدہ اور نظریہ ظن و تخمین اور سنی سنائی باتوں پر قائم ہے ۔ یہودی اگرچہ ایک تعداد میں موجود تھے ۔ لیکن مکان میں صرف ایک آدمی کی موجودگی اور اس کے چیخنے چلانے کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں ۔ یہودی بھی بڑے ڈانواں ڈول ہوئے ۔ بہر حال انہوں نے اسی ہم شکل کو صلیب دے دی اور اعلان کر دیا کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ۔

یہودی مغضوب علیہم

یہودی تو اسی طرح پیغمبروں کو قتل کرتے چلے آئے تھے ۔ اس لئے وہ پرانے مغضوب علیہم تھے ۔ لیکن دعویٰ قتل مسیح کی وجہ سے بھی ان پر پھٹکار ہوئی ۔

صفحہ ۵۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نصرانی گمراہ

نصاریٰ نے یہ عقیدہ گھڑ کر کہ یسوع مسیح ہم سب کے گناہوں کا کفارہ ہونے کے لئے سولی پر چڑھے ہیں۔ حقیقت سے دور جا پڑے اور گمراہ ہوئے اور ساتھ ہی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا اور اس کی ماں مریم کی پوجا بھی کی ۔ چنانچہ قیامت میں اللہ تعالیٰ دونوں کے بارہ میں سوال کرے گا ۔ ”ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون الله (المائدہ: ۱۱۶)“ کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ میری اور میری ماں کی پوجا کرو۔ ہمیں خدا بنالو۔

قرآن کی حیثیت

قرآن پاک جہاں نئی شریعت لایا ہے وہاں وہ اہل کتاب کے اختلاف کے درمیان فیصلے بھی کرتا ہے۔ اس طرح قرآن پاک تمام غلط عقائد کی تردید کرتا ہے ۔ جو بھی اہل کتاب نے ایجاد کئے۔ مثلاً تثلیث، ابنیت ، الوہیت اور کفارہ کا مسئلہ اور قرآن پاک ان مسائل وعقائد کو بحال رکھتا ہے جو صحیح ہوں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور خدائی مدد

جب یہود مندرجہ بالا تدبیر کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں ذکر فرمایا : ”ومکروا ومکر اللہ والله خیر الماکرین (آل عمران: ۵۴)“ کہ یہود نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر کی جو بہترین تدبیر کرنے والا ہے اور پھر قیامت کے دن اپنے احسانات جتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خطاب فرمائے گا۔ ”واذکففت بنی اسرائیل عنک (المائدہ: ۱۱۰)“ (اور یاد کر اس وقت کو جب کہ روکے رکھا ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے ) یعنی یہودیوں کو تجھ تک پہنچنے بھی نہ دیا۔

مرزائی عقیدہ

یہودی، نصرانی ، عام مسلمانوں کے عقیدہ کے بعد اب مرزا قادیانی کا عقیدہ عرض کرنا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑا۔ اس کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونکیں۔ اس کو سولی پر چڑھایا۔ اس کی ہڈیاں توڑیں اور اس کو اپنی طرف سے قتل کر ڈالا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کو مقتول سمجھ کر سولی سے اتار ڈالا۔ حالانکہ اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔ وہ سسک رہا تھا۔ اس کا علاج کیا گیا۔ اس کو یہودیوں سے چھپا کر مرہم پٹی کی گئی۔ مرہم عیسیٰ لگایا گیا ۔ چالیس دن یا کم وبیش میں وہ اچھا ہوا ۔ وہاں سے روپوش ہو کر وہ بھاگا اور جنگلوں، بیابانوں ، پہاڑوں ، دریاؤں سے گزرتا ہوا۔ عرصہ دراز کے بعد پنجاب کے راستہ کشمیر پہنچا جہاں اس نے اسّی نوے سال چپ چاپ رہ کر گزارے۔ پھر تبلیغ کا نام بھی نہ لیا ۔ آخر کار وہیں فوت ہوگئے ۔ مریم بھی اس سفر میں ساتھ تھی اور کشمیر کا ذکر خدا نے ربوہ کے نام سے قرآن میں کیا ہے۔ جہاں ماں بیٹے دونوں کو خدا نے پناہ دی۔

آمدم برسر مطلب

پہلے یہ عرض کیا گیا تھا کہ عیسائیوں کے خدا کو مارتے مارتے مرزا قادیانی خود عیسائیوں بلکہ یہودیوں کے نقش قدم پر چل پڑے۔ یہ بات ہمارے صرف بیان مذاہب سے ہی واضح ہوگئی۔ قرآن پاک مسئلہ کفارہ کی تردید کرتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر چڑھنا تسلیم کر کے کفارہ کے بنیادی عقیدہ کی تائید کر دی۔ اس سے نصرانیوں کو مدد ملی کہ یسوع مسیح بہر حال ہماری خاطر مرزا قادیانی کے

صفحہ ۵۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہنے کے موافق بھی سولی پر چڑھ کر کفارہ ہو گئے۔ ساتھ ہی یہودیوں کی بھی تصدیق کر دی کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی اور قتل کر دیا۔ سولی کو تو مرزا قادیانی نے تسلیم ہی کر لیا اور قتل، یوں کہ یہودی جتنا کر سکتے تھے وہ بقول مرزا قادیانی کے کر چکے۔ جب ایک قوم ایک آدمی کو سولی دے دیتی ہے اس کی ہڈیاں توڑ دیتی ہے۔ اس کے اعضاء میں آہنی میخیں ٹھوک دیتی ہے۔ پھر وہ یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہے کہ ہم نے فلاں کو قتل کر ڈالا۔ خاص کر ایسی صورت میں کہ اس مقتول کا علاج کے ذریعہ بچ جانا، ان کو کسی ذریعہ سے معلوم بھی نہ ہو سکے۔ مرزا قادیانی نے لگے ہاتھوں یہودیوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کو بھی شکست دے دی۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر ناکام ہوئی اور یہودی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ صرف ادھ موئے عیسیٰ علیہ السلام کا علاج کے ذریعہ بچ جانا اس کو اللہ تعالیٰ کی بہترین تدبیر کہنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر یقین نہ رکھتے ہوں۔ اس طرح تو یہودی تدبیر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب رہی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا۔ اس کے منہ پر تھوکا۔ ان کی بے عزتی کی۔ اس کا مذاق اڑایا۔ سولی پر چڑھایا۔ میخیں ٹھونکیں اس کی ہڈیاں توڑیں اور جب یقین ہوا کہ اب مر گیا ہے اتار پھینکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

اگر ایسا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہ کیسے فرما سکتے ہیں کہ میری فلاں فلاں نعمت یاد کر اور یہ نعمت بھی کہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکے رکھا۔ یعنی تم تک ان کو پہنچنے ہی نہیں دیا۔ کیا قرآن پاک میں کف کا معنی دوسری جگہ میں یہی نہیں۔ ”و کف ایدی الناس عنکم (الفتح: ۲۰)“ جہاں اللہ تعالیٰ نے کسی کو روکے رکھنے کا ذکر کیا ہے۔ کیا وہاں پھر کسی کا ہاتھ پہنچنے دیا ہے۔

مرزا کا خود ساختہ عقیدہ

مرزا قادیانی نے واقعہ صلیب اور عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں جو عقیدہ وضع کیا ہے۔ اس سے جیسا کہ بیان ہوا۔ ایک طرف عیسائی عقیدہ کفارہ کی تائید نیز یہودی عقیدہ سولی دینے اور اپنے خیال میں قتل کر دینے کی حمایت اور ساتھ ہی یہود کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ عقیدہ دنیا کی تینوں متعلقہ بڑی قوموں نصاریٰ، یہود اور اہل اسلام کے خلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ یہودی تو سولی دینے کے اور سولی پر ہی قتل ہو جانے کے قائل ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہیں ابھی دم نہیں توڑا تھا۔ زندگی کی رمق باقی تھی جو اتار دیے گئے اور پھر خفیہ علاج مرہم پٹی سے بچ گئے۔ نصاریٰ جو عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے قائل ہیں۔ وہ بھی سولی پر ان کا قتل ہونا تسلیم کرتے ہیں جو بعد میں زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے اور عام اہل اسلام تو قطعاً سولی پر چڑھنا ہی تسلیم نہیں کرتے۔ نہ گرفتار ہونا اور نہ قتل ہونا۔ مرزا قادیانی نے اس سلسلہ میں تمام دنیا کی مخالفت کی ہے۔

قرآن پاک کا فیصلہ

کم از کم یہ امر سب کا مسلمہ ہے کہ آج سے دو ہزار سال قبل حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے سلسلہ میں صلیب کا واقعہ ضرور پیش آیا ہے۔ جس کے بارہ میں یہود بڑے فخر سے مدعی تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دی اور قتل کر دیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا اس بارہ میں اگر چہ اختلاف تھا۔ جیسا کہ عرض کیا جائے گا۔ لیکن عام نصاریٰ قوم نے واقعہ کو تسلیم کرنے کے بعد مسئلہ کفارہ گھڑ لیا اور ان کو دوبارہ زندہ کر کے آسمان پر جانے کا عقیدہ بنا لیا۔ قرآن پاک جو آسمانی کتب اور انبیاء علیہم السلام کے بارہ میں ایسے اختلافات میں فیصلہ کرنے کا مدعی ہے۔ مندرجہ ذیل فیصلہ صادر کرتا ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ یہی وہ قرآنی آیت ہے جس کا مضمون ہی اس واقعہ صلیب کی وضاحت اور بیان حقیقت ہے۔ مگر اس پورے شان اختصار کے ساتھ جو اس کے شایان شان ہے۔ ہاں! تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا اختلاف وہ تھا

صفحہ ۵۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جس کا ذکر ان کے ایک مشہور حواری برنباس نے اپنی مرتب کردہ انجیل برنباس میں کیا ہے جس میں صاف طور پر اس کا اقرار ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے جایا گیا اور ان کی جگہ دوسرے ہم شکل آدمی کو صلیب دی گئی ۔ آج بھی یہ انجیل اسلامی عقیدہ کی تائید کر رہی ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی وجہ سے نہیں کی گئی۔ بلکہ دعویٰ قتل کی وجہ سے: ”وبقولهم“ ورنہ آسان تھا کہ کہا جاتا: ”وبقتلهم“ آخر بنی اسرائیل نے بعض دوسرے انبیاء قتل کئے ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔

پر قتل کرنے کا تھا تو صلیب کے قتل کو ابتداء ہی میں صرف قتل کے لفظ سے تعبیر کر کے بتا دیا کہ صلیب کا قتل بھی قتل ہی کہلاتا ہے اور قتل کہہ کر اس سے صلیب کا قتل مراد لے سکتے ہیں۔

یہاں جیسا کہ ان کے دعویٰ کے وقت صرف قتل کا لفظ ذکر فرمایا تھا۔ تردید کے لئے بھی اتنا کافی تھا کہ وہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے یا انہوں نے قتل نہیں کیا۔ اس طرح سولی کے ذریعہ قتل کی بھی تردید ہو جاتی۔ کیونکہ قتل کا لفظ اس کو بھی شامل تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ قتل بھی نہیں اور سولی پر بھی نہیں چڑھایا۔ سولی کا واقعہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ (یہاں مرزائیوں کا یہ من گھڑت ترجمہ کتنا بھدا ہے کہ نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی دے کر قتل کیا)

لئے مشابہ کیا گیا۔ ”ولکن شبه لهم“، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو تو سولی نہیں دی گئی۔ لیکن واقعہ یوں ہوا کہ مشتبہ بنایا گیا ان کے لئے کہ اس جاسوس حواری کو ان کے ہم شکل کر دیا گیا ہے۔ وہ اس کو عیسیٰ سمجھ کر سولی پر چڑھا بیٹھے۔ یا یوں کہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ سولی دی۔ البتہ ان کو اشتباہ ہو گیا۔ (جو ان کی جگہ دوسرے کو قتل کر دیا)

کہہ رہے ہیں۔ ”لفی شک منه“ وہ خود شک میں ہیں۔ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہود کو اپنے مبینہ اور مشہور عقیدہ میں خود بھی شک تھا۔ حالانکہ اگر انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر سولی دے کر اپنے خیال میں قتل کر ڈالا تھا۔ مگر قرآن ”لفی شک منه“ میں لام تاکید سے فرماتا ہے کہ وہ خود شک میں ہیں۔ شک کی وجہ صرف یہی ہے کہ جو یہودی حاضر تھے وہ حیران تھے کہ اندر دو آدمی تھے۔ اب ایک ہے اور وہ شور مچا رہا ہے کہ میں مسیح نہیں میں تو فلاں ہوں۔ مجھے کیوں بے گناہ مارتے ہو۔ یہودیوں نے اشتباہ میں اس کو سولی پر کھینچ کر اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا۔

قتل نہیں ہوئے اور سولی پر نہیں چڑھائے گئے تو آخر وہ کہاں گئے۔ اس خاص مقصد کے بیان کی خاطر کہ حضرت مسیح کہاں گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قتل مسیح کی تردید دوبارہ فرما کر ان کے بارہ میں حقیقت کا یوں اعلان کیا۔ ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه“ کہ انہوں نے اس کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ظاہر ہے کہ جس عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب و قتل کی نفی

صفحہ ۵۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ اس عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا ذکر ہے نہ کہ پہلے تو عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر چلا آ رہا تھا اور ”رفعہ اللہ الیہ“ میں یکا یک ان کی روح کا ذکر کیا کہ ان کی روح کو اٹھایا۔ جس پر قتل واقع ہو سکتا تھا۔ اسی سے قتل کی نفی کر کے اسی کے رفع کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب اگر رفع سے روحانی رفع مراد لیا جائے جس کا معنی موت ہے تو یہ تو یہودی قوم کی تائید ہوئی۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے وقت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا معنی ہی یہ ہے کہ یہودی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ پھر یہ کیسے بھدا ترجمہ ہے کہ انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اس کو مار ڈالا۔ رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ وہ یہاں سے چھپ چھپا کر بھاگ کر اسی نوے سال بعد کشمیر میں فوت ہوئے۔ خارج از بحث ہے۔ کیونکہ آیت کریمہ واقعہ صلیب اور یہودی تدبیر کے وقت کا فیصلہ سنا رہی ہے کہ وہ اس کو قتل نہیں کر سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً بڑے غالب ہیں کہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور حکمتوں والے ہیں کہ کیا کیا اسباب بنائے اور آخر کار کس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا تا کہ طے شدہ اسکیم کے مطابق وہ آخری زمانہ میں امت محمدی کی خدمت کر سکیں۔ بے شک وہ بڑی حکمت والا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ذکر واقعہ صلیب اور یہودی تدبیر کے وقت کا ہو کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے۔ (بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا) اور بل یعنی بلکہ کہہ کر اللہ تعالیٰ ۸۰ سال کے بعد کا رفع ذکر کرنے لگ جائیں۔

آیا۔ یا زید گھر نہیں آیا بلکہ بازار گیا ہے یا یہ کہئے کہ زید مرا نہیں بلکہ زندہ موجود ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بلکہ کے بعد جو مذکور ہوتا ہے وہ ماقبل سے متضاد ہوتا ہے۔ اب اگر رفع سے روح کی رفع مراد لی جائے جو موت کے وقت ہوتی ہے تو یہ رفع تو قتل کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے۔ قتل میں بھی روح کا رفع ہوتا ہے۔ اس طرح اگر رفع سے مراد درجات کی رفع مراد ہو تو رفع درجات بھی قتل کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے۔ بلکہ شہید ہونے کی صورت میں درجہ زیادہ بلند ہوتا ہے۔ پھر لفظ بل کا ما بعد ماقبل سے متضاد نہ ہوا۔

کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا، کا مطلب آسمان پر لے جانا سمجھا جائے۔ اگرچہ ہمارا مقصد حیات عیسیٰ تک محدود تھا۔ لیکن پھر بھی ان کے اس وسوسے کا جواب دینا ضروری ہے۔ اس میں شک نہیں کہ زمین یا آسمان میں ہونا یا عرش پر مستوی ہونا یا خالق کا مخلوق سے تعلق یا کائنات سے معیت یا اس کا احاطہ یہ ذات وصفات کے نازک مسائل میں سے ہے۔ جو مادی حواس اور انسانی عقل کی حدود سے باہر ہیں۔ تاہم آسمان کی طرف اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن وحدیث میں عموماً کی گئی ہے۔ مثلاً یہ آیت : ”قد نری تقلب وجهک فی السماء“ (کہ ہم آپ کا بار بار آسمان کو دیکھنا وحی کے انتظار میں دیکھ رہے ہیں ) دوسری جگہ ارشاد ہے: ”ء امنتم من فی السماء ان يخسف بکم الارض“ (کیا تم اس خدا سے بے خوف ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ کہیں تمہیں زمین میں دھنسا دے)

سے شروع کر کے آگے ارشاد فرمایا ۔ ”وان من اهل الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء:۱۵۹)“ کہ مستقبل میں

صفحہ ۵۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوئی اہل کتاب نہ رہے گا۔ مگر اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لانا پڑے گا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آرد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ۔

خدائی فیصلے کا خلاصہ

ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس فیصلے کا اعلان فرمایا کہ یہودیوں کا دعویٰ قتل قطعاً غلط ہے۔ نصاریٰ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کر دیا گیا تھا۔ لیکن تین دن کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر وہ آسمان پر چلا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں نے میرے پیغمبر کی تذلیل، سولی اور قتل کی تدبیریں کیں۔ لیکن میں نے بھی تدبیر کر رکھی تھی۔ میں بہترین تدبیر کرنے والا ہوں۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے نہ سولی دے سکے۔ بلکہ میں نے تو ان کے ہاتھ ہی عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے سے روکے رکھے اور اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہودی منہ تکتے رہ گئے۔ اپنی ذلت چھپانے کے لئے اس مشتبہ آدمی کو قتل کر دیا۔ لیکن ان کے دل آخر تک شک ہی شک میں رہے۔

رفع کی تصدیق

یہاں اللہ تعالیٰ نے جہاں تمام غلط باتوں کی تردید فرمائی۔ وہاں رفع کی تصدیق فرما دی کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا صحیح ہے۔ البتہ قتل کے بعد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں کے پنجہ سے زندہ ہی بچا کر اٹھا لیا اور یہی اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے شایان شان تھا۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی نہ ہوتا تو کبھی اللہ تعالیٰ اس انداز میں ان کا یہ ذکر نہ فرماتے۔ جس سے کم از کم رفع کے مسئلہ میں نصاریٰ کی تائید ہو سکتی ہو۔ لیکن قرآن کو حق و باطل میں تمیز کرنی ہے تا کہ دودھ، دودھ ہو جائے اور پانی، پانی۔ جتنی بات صحیح تھی اس کو قائم رکھا اور جو باتیں غلط تھیں۔ ان سب کی تردید کی۔ صلیب اور قتل کی اس آیت سے اور الوہیت و ابنیت کی تردید دوسری بیسیوں آیتوں سے کی۔ لیکن رفع کی تردید کا نام بھی نہیں لیا۔ بلکہ اس کی تائید فرمادی۔

مسلمان کا ایمان بالقرآن

اب قرآن کے اس صریح واضح اور فیصلہ کن بیان کے بعد اگر کوئی محض اس لئے اس حقیقت کے تسلیم کرنے سے انکار کرے کہ اس کی عقل نارسا کا فتویٰ اس کے خلاف ہے یا اس کے اغراض و مقاصد کو ٹھیس لگتی ہے تو اس کا اختیار ہے۔ لیکن مسلمان کے لئے یہ مان لینا اتنا ہی آسان ہے جتنا دوپہر کے وقت سورج کی موجودگی کو مان لینا۔

بڑے بڑے پہاڑ تھمے کھڑے ہوں۔

صفحہ ۵۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(جسم مبارک سمیت) واپس آجانے کو مانتا ہے، جسے معراج جسمانی کہتے ہیں۔

ایمان تازہ کیا۔

اور جو مسلمان قرآن وحدیث میں بیان کردہ تمام خارق عادت امور پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے یہ امر کوئی مشکل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اس امر کو بھی تسلیم کرلے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے نرغہ سے زندہ اٹھا لیا اور اس کو لمبی عمر دے کر فیصلہ شدہ قضا وقدر کے مطابق آخری زمانہ میں امت محمدی کی خدمت کے لئے محفوظ رکھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت

کی دعا سے اوروں کے لئے آسمان سے خوانچہ نازل ہوسکتا ہے۔ خود اس کے لئے آسمان میں کیوں انتظام نہیں ہو سکتا؟

کے قم باذن اللہ کہنے سے مردے بھی جی اٹھتے ہیں۔ اس لئے اس کا لمبی عمر تک زندہ رہنا کوئی مستبعد امر نہیں ہے۔

عالم ہوگا۔ جس کے اشارہ سے مٹی میں حیات آتی اور وہ پرواز کرنے لگ جاتی ہے۔

نے مصر سے ہجرت کی تو مصر کی بادشاہت بنی اسرائیل کو دی گئی۔ آنحضرت ﷺ نے مکہ سے ہجرت کی تو آخر کار مکہ معظمہ دوبارہ فتح ہوا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ساری زمین سے اٹھا لیا گیا۔ یہ اشارہ تھا کہ ان کو دوبارہ ساری زمین پر قبضہ کرانا ہے۔

احیاء و اماتت تک کی طاقت ہوگی۔ اس کے مقابلہ کے لئے بھی ایسی ہی ہستی کو تجویز فرمایا گیا جس میں ملکوتی صفات غالب ہوں۔

صفحہ ۵۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کمالات کے سامنے مادی دنیا کی آنکھیں چکا چوند ہو جائیں۔

(الذاریات:۵۶) ‘‘ (کہ ہم نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا) اس لئے یہ ضروری تھا کہ خاتمہ دنیا سے پہلے ایک بار یہ مقصد پورا ہوجائے۔ چنانچہ انفرادی عبادت کی تکمیل عبد کامل کی بعثت سے یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے ہوگئی کہ عبدیت میں آپ ﷺ کی مثال کسی ولی یا نبی میں نہیں مل سکتی۔ آپ ﷺ نے اپنے ہر امر میں عبدیت ہی کو پسند فرمایا۔ دوسری جماعتی عبادت تھی۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک ایسی جماعت تیار فرمادی جس نے جماعتی طور سے خدائی بندگی اور خدائی نظام حیات کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ عبادت کا تیسرا درجہ اجتماعی عبادت تھی کہ تمام دنیا اللہ کی بندگی کا اقرار کر کے دین حق کے سامنے جھک جائے۔ اس کا پروگرام بھی حضرت خاتم النبیین ﷺ قرآن وحدیث کے ذریعہ مکمل ترین شکل میں پیش کر کے تشریف لے گئے۔ تا آنکہ اس کے مناسب اور مادی ترقی کے عروج کے وقت آپ ﷺ کی نیابت میں آپ ﷺ ہی کی متابعت کرتے ہوئے ایک گزشتہ جلیل القدر پیغمبر عہد الٰہی کے موافق آکر پورا کرے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد اجتماعی طور پر دنیا، دین حق قبول کر لے گی اور اجتماعی طور پر ’’الا لیعبدون‘‘ کا منشاء خداوندی پورا ہوجائے گا۔ جس کے بعد شمسی نظام کے لپیٹ دیئے جانے کے انتظامات شروع ہو جائیں گے۔ یہی معنی قرب قیامت کے ہیں۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا مقدر ہے۔

سے ان کے منتظر ہیں۔ ایک ارب عیسائی دنیا جو ان کو خدا مانتی ہے۔ جب ان کو دیکھے گی اور ریڈیو کے ذریعہ ان کا آسمان سے نزول نشر ہوگا تو اغلب یہی ہے کہ وہ فوراً ان کو مان لے گی اور ان کے حالات سے مجبور ہو کر یہودیوں کے ستر ہزار کے لشکر کے مقابلہ اور جنگ کی حدیث ہے۔ اس کا بھی انتظام ہوچکا ہے کہ فلسطین میں یہودی حکومت قائم کر دی گئی ہے تا کہ نوشتہ کے مطابق ستر ہزار فوج دجال کی امداد اور عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے موجود ہوسکے۔ یہودی آخر کار شکست کھا کر بقیہ السیف مسلمان ہو جائیں گے۔ یہود و نصاریٰ اور اہل اسلام کی عظیم اکثریت خاص خرق عادات تعلیم اور انتہائی روحانیت کی وجہ سے باقی اقوام بھی مثلاً ہنود وغیرہ اسلام کی سچائی کے قائل ہونے پر مجبور ہوں گے۔

اصولوں کی ٹکر بھی انسانیت کے لئے لعنت کبریٰ ثابت ہوچکی ہوگی۔ اس لئے عین ایسے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے ملکی صفت ہستی کا قرآنی نظام حیات صحیح معنوں میں پیش کر کے اس پر عملدرآمد کرا دینے سے تمام دنیا اپنی نجات اس کی پیروی میں سمجھنے لگے گی۔ جیسا کہ خلافت راشدہ کے نظام، انسانی حقوق کی نگہداشت، خدا ترسی، عدل ومساوات پر دنیا عش عش کر رہی ہے تو اس وقت خوشی کا کیا ٹھکانا ہوگا کہ ساری امت اسی طرح کے پاک نظام میں مربوط ہوگی اور ان کی رہنمائی کی خدمات ایک سابق جلیل القدر پیغمبر خود ان کی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے ادا کر رہا ہوگا اور اس امت کی عزت وتکریم کا یہ حال ہوگا کہ نماز کا امام نزول کے وقت اسی امت میں امام مہدی علیہ السلام ہو گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ان کو امام بنانا چاہیں گے۔ لیکن وہ اس امت کی عزت واکرام کی خاطر انکار کر کے خود انہی کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔

صفحہ ۵۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایسے وقت میں اس نظام کو قبول کر لینا کیا مشکل ہے۔ جب کہ آج آدھی دنیا استبداد سے تنگ آ کر اشتراکیت کے آغوش میں جاچکی ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بیان

ان دہگانہ تائیدی نکات سے قطع نظر کر کے ہمیں قرآن پاک کے اس صاف وصریح فیصلے کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیا اس سلسلہ میں سرور کائنات ﷺ نے کوئی وضاحتی بیان ارشاد فرمایا ہے جس کے بعد امت کے معنی کے بارہ میں کسی مسلمان کو شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے۔ چنانچہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب صحیح بخاری شریف نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا خاص باب رکھا ہے اور اس باب میں ایک حدیث نقل فرمائی ہے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ وقت آئے گا کہ تم میں مریم کے بیٹے عیسیٰ اتر آئیں گے۔ حاکم عادل ہوں گے۔ صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ ( یہ دونوں باتیں نصرانیوں کا طرۂ امتیاز ہیں) مال کی اتنی بہتات ہوگی کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ اللہ کے سامنے ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے زیادہ سمجھا جائے گا۔ ( دین اور قیامت کی اہمیت دلوں میں بڑھ جائے گی ) یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی نقل کر کے فرماتے ہیں کہ: ”فاقروا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ یعنی آنحضرت ﷺ کی حدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کی نقل کر کے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم چاہو تو بے شک یہ آیت پڑھ لو اور یہ وہی آیت ہے جو قرآن پاک میں رفع عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ ہی مذکور ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور مستقبل میں تمام اہل کتاب اس کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے) مطلب بالکل صاف ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صحابی فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں وہی بات ہے جو قرآن میں بھی مذکور ہے کہ آخر کار ان کے مرنے سے پہلے ان پر تمام اہل کتاب کو ایمان لانا ہوگا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کو قرآن کی آیت مذکورہ کی تفسیر قرار دیتے ہیں کہ یہ آنے والے وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کے رفع کا ذکر قرآن پاک میں ہے اور ہزاروں صحابہ رضی اللہ عنہم سنتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث زبان زد خاص و عام ہو جاتی ہے۔ مگر کوئی صحابی رضی اللہ عنہ انکار نہیں فرماتے ہیں کہ تم قرآن کے معنی کو غلط سمجھے یا آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ قرآن والا عیسیٰ ابن مریم نہیں ہے۔ انکار تو کیا فرماتے بیسیوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی مضمون کی حدیثیں آنحضرت ﷺ سے روایت فرماتے ہیں اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اور اس کی روایت اتنی عام ہو جاتی ہے کہ تواتر کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کو بھی ازالہ اوہام میں ماننا پڑا ہے کہ نزول مسیح کا عقیدہ خیرالقرون میں متواتر تھا اور اس کی پیشین گوئی کو بطور عقیدہ نسلاً بعد نسل مسلمان یاد کرتے چلے آئے۔

مسیح سے مراد کون ہے؟

اب یہ بحث بالکل بے ضرورت ہے کہ آنے والا مسیح وہی اسرائیلی مسیح ابن مریم ہے یا کوئی اور؟ جب قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا ذکر فرما کر ارشاد کر دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ تمام اہل کتاب اس کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے اور آنحضرت ﷺ نے اعلان کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نازل ہونا ہے اور آپ کے مشہور صحابی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنے والے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد، قرآنی آیت ہی کی تفسیر ہے۔ پھر سینکڑوں حضرات کا نزول مسیح کو مختلف پیرایوں میں آنحضرت ﷺ سے روایت کرنا اور اس عقیدہ کا مشہور ہو جانا اور کسی ایک صحابی کا بلکہ تابعی اور تبع تابعین کا ذرا سا شک بھی

صفحہ ۵۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظاہر نہ کرنا کہ یہ وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں یا کوئی اور۔ اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ خدا اور رسول خدا کی مراد کیا ہے اور سلف صالحین کا عقیدہ کیا تھا؟

جب قرآن پاک میں سینکڑوں جگہ عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہوتا ہے ابن مریم کا ذکر ہوتا ہے۔ مسیح کا ذکر ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں عیسیٰ ابن مریم کا اور کوئی مفہوم ہی موجود نہیں ہے۔ ایسے وقت میں آنحضرت ﷺ کا انہی ناموں سے نزول مسیح کا ذکر کرنا اور تمام صحابہ اور تابعین کا بھی یہی رویہ دلیل ہے کہ مسیح ابن مریم کا مصداق ان کے نزدیک شک وشبہ سے بالا تھا۔ تاہم ان سینکڑوں روایات میں سے ہم چند روایتیں ایسی نقل کرتے ہیں جن سے بصراحت معلوم ہو کہ آنے والے مسیح وہی اسرائیلی مسیح ابن مریم ہیں نہ کوئی اور۔

”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ کی تفسیر میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ”قبل موتہ“ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ان پر اہل کتاب ایمان لائیں گے۔ معلوم ہوا کہ انہی عیسیٰ علیہ السلام کو آنا ہے۔

اور وہ زندہ موجود ہیں جو دنیا میں پھر آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے۔ آخر کار اسی طرح مریں گے جیسے اور لوگ مرتے ہیں۔

آنحضرت ﷺ کی حدیث کا یہی مطلب سمجھتے اور اس کا اعلان کرتے ہیں۔

ساتھ منقول فرمایا ہے۔ جس سے یہ امر بالکل صاف ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ آنے والے کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ آسمان سے آئیں گے۔ گویا آپ رفعہ اللہ الیہ قرآنی آیت کی تشریح فرماتے ہیں۔ مرزائی لوگ ”من السماء“ کی روایت سے بڑے بوکھلائے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام بیہقی نے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔ جہاں ”من السماء“ کا لفظ موجود نہیں ہے۔ مرزائی اتنا نہیں سمجھ سکے کہ محدثین جب ایک روایت بیان کرتے ہیں تو کبھی تائید میں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ اس روایت کو فلاں فلاں نے بھی روایت کیا ہے۔ لیکن اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اصل مضمون مثلاً نزول مسیح کا فلان فلاں نے بیان کیا ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ جو الفاظ میری روایت میں ہیں۔ وہی الفاظ وکلمات سب نے روایت کئے ہیں۔ امام بیہقی اپنے الفاظ وکلمات کی صحت کا ذمہ دار ہے۔ چنانچہ انہوں نے صحیح سند کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے یہ لفظ روایت فرمائے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا۔ ان الفاظ میں مرزائیوں کی کوئی تاویل بھی نہیں چل سکتی۔

نازل ہوگا۔ جو دلیل ہے کہ وہ زمین پر نہ ہوگا بلکہ دوسری حدیث کے عین موافق آسمان سے زمین پر نازل ہوگا۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔ اس لئے کہ اس میں یہ ذکر بھی ہے کہ مسیح زمین پر آ کر شادی بھی کرے گا۔ مرزا قادیانی نے بھی اس شادی والی پیش گوئی کو محمدی بیگم کے آسمانی نکاح پر منطبق کیا ہے۔ لیکن محمدی بیگم ہاتھ نہ آئی۔ اب دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں

صفحہ ۵۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یا مرزا مدعی مسیحیت و مجددیت و نبوت ہو کر بھی حدیث کا معنی نہیں سمجھتے تھے یا جان بوجھ کر محمدی بیگم کی موہوم امید پر آنحضرت ﷺ پر جھوٹ بولتے تھے۔ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو پھر مرزائیوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ نے محمدی بیگم کی جو پیش گوئی کی تھی وہ غلط نکلی۔ العیاذ باللہ تعالیٰ!

(مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵، ابن ماجہ ج ۲ ص ۳۶۵)

اس حدیث نے یہ امر بالکل صاف کردیا کہ قیامت کے قریب نازل ہونے والے وہی مسیح عیسیٰ ابن مریم ہیں جو آسمان میں ہیں۔

(ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶۔۳۶۷، ابن جریر ج ۳ ص ۲۰۲)

اس حدیث میں رجوع کے لفظ نے کہ اس مسیح کو دوبارہ آنا ہے۔ بالکل قطعی فیصلہ کردیا کہ دوبارہ وہی آئے گا جو پہلے آچکا ہے۔

اس حدیث نے بھی صاف صاف بتا دیا کہ آنے والا وہی مسیح ابن مریم ہوگا جو آپ ﷺ سے پہلے ہو گزرا ہے۔ جس کے بعد آنحضرت ﷺ تک درمیان میں کوئی پیغمبر نہیں ہوا۔

اس حدیث کو مرزا محمود نے بھی اپنی کتاب حقیقت النبوۃ میں نقل کیا اور صحیح تسلیم کیا ہے۔ لیکن مرزائی سنت کے موافق لم یکن بینی وبینہ نبی کے الفاظ کھا گئے ہیں۔ جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنے والا وہی ہے جو مجھ سے پہلے گزرا ہے۔ اس کے اور میرے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہوا۔

صفحہ ۵۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھی ہوئی۔ جن میں نزول مسیح کی خبر دی گئی ہے کہ گویا آپ ﷺ نے بتایا کہ وہی مسیح زندہ ہے اور اسی کا آنا ہے۔ اگر حضرت مسیح فوت ہو گئے ہوتے تو تردید الوہیت کے لئے یوں فرما دینا کتنا آسان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو موت نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام تو مر چکے ہیں۔ وہ کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔

جنہوں نے بتایا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وصی ہیں۔ ان کو وصیت کی گئی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد دجال جب پیدا ہو گا تو حضرت مسیح دوبارہ تشریف لائیں گے۔ یہ خبر امیر لشکر نے فوراً مدینہ طیبہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچائی۔ جنہوں نے اس امر کی تصدیق کی اور فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے اطلاع دی تھی کہ ان جگہوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وصی موجود ہیں۔ جب لشکر والوں نے دوبارہ تلاش کیا۔ وہ نہ ملے۔ اس واقعہ کی ہزاروں صحابہ رضی اللہ عنہم نے تصدیق کی۔ سب نے بمعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس کو سچا قرار دیا۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی مہر تصدیق بھی لگا دی۔ (ابو عبیدہ نظام الدین نے اس کو نقل کیا ہے )

آنحضرت ﷺ کی معجزانہ نشان دہی

ان تصریحات کے بعد کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی کہ آنے والے مسیح وہی مسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ہیں۔ تاہم مزید تسلی کے لئے عرض کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کے بارہ میں اتنے اہتمام اور زور کے ساتھ اطلاعات دی ہیں کہ جو صرف پیغمبر کی معجزانہ شان ہی ہو سکتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے نام سے جھوٹا دعویٰ کر کے ہزاروں لاکھوں امت رسول کو کافر بنانے والے افراد کی اطلاع آپ کو اللہ تعالیٰ نے کر دی تھی۔ اسی خطرہ کے پیش نظر آپ نے اتنا اہتمام فرمایا۔

غور فرمائیں

ہونے کو تو مانتے ہی تھے۔

آنے والے کے بارہ میں ان کے نام یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں۔

صفحہ ۵۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور وہ وہی مریم صدیقہ کا بیٹا تھا۔ اسی کا ذکر کیا۔

کی تیاری ہوگی۔

(مسلم ج۲ ص۱۹۳)

(بخاری، مسلم، ابن ماجہ، حاکم، کنز العمال)

(کنز العمال ج۷ ص۲۰۲)

اس طرح کی تقریباً ایک سو نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں۔ جن کا استیعاب بمعہ حوالہ کے حضرت مولانا محمد شفیع نے اپنے رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں کیا ہے۔

مرزائی تاویلات

قرآنی آیات، رسول ﷺ کی احادیث، صحابہ کے بیانات اور سینکڑوں علامات ونشانات سے قطع نظر کر کے اگر ایک شخص عیسیٰ ابن مریم

صفحہ ۵۴۴

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ۵۴۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بننے کی کوشش یوں کرے کہ عرصہ تک میں مریم بنارہا۔ مجھے حیض آتا رہا۔ آخر میں مجھے حمل ہوا۔ نوماہ کے بعد دردزہ ہوکر مجھے بچہ پیدا ہوگیا۔ وہ بچہ عیسیٰ تھا۔ جو میں خود ہی تھا۔

اس طرح عیسیٰ ابن مریم یعنی میں ولد میں ہی بنا۔ جیسا کہ کشتی نوح میں درج ہے یا ایک شخص یوں گوہرافشانی کرے کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ مسیح سے مراد غلام احمد ہے۔ مریم سے مراد چراغ بی بی ہے۔ دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے۔ جس کے روحانی قتل کے لئے میں مبعوث ہوا ہوں۔ (اور باوجود اس کے اس حکومت کو خدا کی رحمت بتائے ۔ اس کی اطاعت فرض قرار دے۔ جس کی پشت پناہی سے پادریوں کا یہ گروہ وہ سب کچھ کر رہا ہے) یا ایسی ہی تاویلات کرتے ہوئے کہے کہ زرد چادروں سے میری دو بیماریاں ہیں۔ ایک ذیابیطس کہ روزانہ سوسو بار پیشاب کرتا ہوں اور دوسری دردسر، جو ہر وقت چکراتا ہے۔

پھر یہ مدعی عیسویت ساری دنیا میں اسلام پھیلانے کی بجائے پرانے مسلمانوں کو بھی کافر قرار دے دے۔ خود حج تک کرنے کی توفیق نہ ہو۔ مٹھی بھر مریدوں کی جماعت میں بھی شرعی حدود قصاص جاری کرنے کی طاقت نہ ہو۔ جن پادریوں کے روحانی قتل کرنے کا دعویٰ ہو وہ امریکن اثر ونفوذ کے ساتھ ساتھ امریکن مشنریوں کے اڈے زیادہ سے زیادہ ملکوں میں پھیلتے جائیں۔ خود ان کی عمر ایک نصرانی حکومت کو دعائیں دیتے ہوئے گزرجائے جس کی خاطر بقول خود ممانعت جہاد کے فتوے لکھ لکھ کر تمام اسلامی ممالک میں شائع کرے۔

(کتاب البریہ)

جناب والا! کیا مندرجہ تصریحات کے بعد اس قسم کی رکیک تاویلات اس قابل ہوسکتی ہیں کہ ان پر کان دھرا جائے۔

امت محمدی کا فیصلہ

قرآن کی آیتیں نازل ہورہی ہیں۔ الوہیت مسیح اور تثلیث کی تردید میں قرآنی دلائل کا چرچا ہے۔ نصرانیوں پر اسلامی دلائل کا رعب چھایا ہوا ہے۔ دوسری طرف حضرت مریم صدیقہ کی پاک دامنی، عفت اور صفائی نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عالی شان جبرائیل سے پیدائش ، اس کی نبوت یہود کے مقابلہ میں اس کی خدائی حفاظت اور رفع الی اللہ کے تذکرے ہیں۔ ایسے وقت آنحضرت ﷺ کا یہود کو فرمانا کہ مسیح زندہ ہے اور اس کو دوبارہ آنا ہے اور مسلمانوں کو قسم کھا کر آپ کا فرمانا کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم قیامت سے پہلے ضرور نازل ہوں گے۔ ان کو پہچان رکھو۔ اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ صحابی آپ کا یہ ارشاد قرآن کی تفسیر قرار دے رہے ہیں۔ ان حالات میں کسی کو یہ خیال گزرنا بھی مشکل ہے کہ کسی اور مسیح کے آنے کا ذکر ہے۔ شرعی تذکروں میں مسیح ابن مریم سے وہی مریم صدیقہ کا بیٹا، اسرائیلی مسیح عیسیٰ مراد لیا جاتا تھا۔

تمام تفاسیر

جلالین شریف، بیضاوی شریف، تفسیر ابن کثیر، ابن جریر، فتح البیان، تفسیر خازن، تفسیر ابی سعود، تفسیر کبیر، تفسیر معالم التنزیل، روح البیان، تفسیر کشاف، تفسیر مدارک، تفسیر روح المعانی وغیرہ سینکڑوں مفسرین، تمام محدثین، تمام فقہاء امت اور تمام مجددین نے یہی کہا اور یہی لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ اس پر تلخیص الحبیر میں حافظ ابن حجر نے اجماع نقل کیا ہے اور یہ کہ وہ آخری زمانہ میں دوبارہ دنیا میں تشریف لا کر شریعت محمدی کے تحت پینتالیس سال عمر گزارتے ہوئے اسلام کی خدمت کریں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات کبریٰ میں سے قرار دیا گیا ہے۔

صفحہ ۵۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ۵۴۵ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیوں نے (ڈوبتے کو تنکے کا سہارا) حضرت ابن عباس ؓ کے ایک لفظ ممیتک سے جو متوفیک کے ترجمہ کے سلسلہ میں امام بخاری نے کمزور سمجھ کر بغیر سند کے نقل کیا ہے۔ لفظی بحثوں میں الجھانے کا ایک طوفان کھڑا کیا ہے۔ حالانکہ تفسیر ابوسعود، درمنثور، تفسیر معالم التنزیل، تفسیر ابن جریر جلد ۵ اور طبقات ابن سعد جلد ۱ میں حضرت ابن عباس ؓ سے متعدد روایتیں منقول ہیں جن میں وہ تصریح فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں وہ نازل ہو کر حاکم عادل ہوں گے اور تفسیر ابو السعود میں تصریح ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح روایت یہی ہے۔

جن حضرات کو مرزائیوں نے تیرہ صدیوں کے مجددین میں شمار کیا ہے اور جن کی فہرست مرزائیوں کی مشہور کتاب عسل مصفیٰ میں دی گئی ہے ان سب کا اسی عقیدہ پر اتفاق ہے۔ یہاں صرف ایک حضرت مجدد الف ثانی سرہند شریف والوں کا حوالہ نقل کیا جاتا ہے جو گیارھویں صدی ہجری گزرے اور جن کو امت نے دوسرے ہزار سال کا مجدد تسلیم کیا ہے۔ آپ اپنے مکتوب نمبر ۶۷ دفتر سوم حصہ ہشتم میں تحریر فرماتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود، متابعت شریعت خاتم النبیین خواہد نمود ان کی متابعت بارھویں صدی میں شاہ عبدالقادر دہلوی، شاہ رفیع الدین دہلوی اور شاہ عبدالعزیز دہلوی کے قرآنی متراجم با محاورہ اور تحت اللفظ میں موجود ہیں۔ یہ سب کے سب اسی مطلب پر متفق ہیں۔ ان کو بھی مرزائیوں نے مجدد تسلیم کیا ہے۔

حتیٰ کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو جب تک خود مسیح ابن مریم بننے کا خیال نہ آیا تھا وہ بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا اور اس نے نہایت صفائی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اور عالمگیر غلبہ اسلام کا اپنی کتاب براہین احمدیہ میں ذکر کیا ہے اور ازالہ اوہام میں اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ عقیدہ نزول مسیح خیر القرون میں متواتر ومشہور تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ متواتر قطعی اور زبان زد خاص و عام عقیدہ انہی عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں تھا۔ جس کا ذکر قرآن میں ہے اور جو پہلے ہو گزرے ہیں۔ جیسا کہ تمام امت محمدیہ تیرہ سو برس تک سمجھ رہی تھی اور سمجھ رہی ہے۔ مرزا غلام احمد ”آئینہ کمالات اسلام“ میں ذرا ”جھیپ“ کر بجائے اردو کے عربی میں لکھتے ہیں۔ نزول مسیح کا عقیدہ اصل مفہوم کے لحاظ سے تو حق تھا لیکن اس کا اصلی مفہوم اللہ تعالیٰ نے آخری زمانہ تک چھپائے رکھا اور یہ سر مکتوم کی طرح رہا۔ جیسے تخم خوشہ میں چھپا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے ظہور (یعنی میرا) کا وقت آ گیا۔ کیا اچھی سوجھی، ایسے قطعی متواتر اور مشہور عقائد کے بارہ میں اگر خدا ایسا کرنے لگے حتیٰ کہ تمام آئمہ دین، مفسرین، محدثین اور مجددین دھوکہ میں پڑ جائیں اور ان کے لکھنے کی وجہ سے ساری امت یہی عقیدہ رکھے۔ پھر اچانک مسیح کے نام سے کوئی دوسرے صاحب آنمودار ہوں اور امت اپنے بزرگان دین کے متفقہ عقیدہ کے موافق اس کا انکار کر کے کافر ہو جائے۔ یہ اچھا دین رہا اور ارحم الراحمین خدا کا اپنے رسول رحمۃ للعالمین کی امت کے ساتھ اچھا سلوک ہوا۔

نئے مسیح موعود کی اصطلاح اور اس کی اپنی شریعت

یہ نیا نمودار ہونے والا بزرگ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ بن مریم کی بجائے مسیح موعود کی نئی اصطلاح تراش کرے۔ (کیونکہ موعود کا لفظ اسلامی تاریخ میں کہیں نہیں ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے بھی کہا ہے ) اور اپنی نئی شریعت جاری کر دے۔ آنحضرت ﷺ کی کامل متابعت کا دعویٰ کرتے کرتے آپ ﷺ کی شریعت کو کامل طور پر مسخ کر دے۔ جس کا نمونہ حسب ذیل ہے:

صفحہ ۵۴۶

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الگ مان لئے جائیں تو اتحاد یا ترقی یافتہ ہونے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ اگر روح وہی پرانی مانی جائے تو یہ تناسخ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

صفحہ ۵۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وحی کے سلسلہ میں یہاں تک لکھ مارا کہ آپ نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہیں شیطانی مکر نہ ہو۔ (حقیقت الوحی) حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ قطعاً نہیں فرمائے۔ یہ محض جھوٹ اور آنحضرت ﷺ کی توہین ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی وحی کے بارہ میں شیطانی مکر ہونے کا اندیشہ ہوگیا ہو۔ یہ بات وہی شخص کر سکتا ہے جو پیغمبر کا در باطن دشمن ہو یا پھر پیغمبر کی شان سے کافرانہ ناواقفیت رکھتا ہو۔ پیغمبر کا پہلا قدم اولیاء کا آخری قدم ہوتا ہے۔ ”بوزینہ چہ داند لذت ادراک“ ایک جگہ مرزا نے یہاں تک لکھ مارا کہ ایک دفعہ چار سو پیغمبروں نے ایک بادشاہ کے فتح کی پیشین گوئی کی لیکن وہ غلط نکلی۔ اس میں مرزا قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کے اعتماد کو بالکل ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ مندرجہ روایت کسی مستند قرآنی بیان یا حدیث یا اقوال سلف میں نہیں ہے اور بائبل میں جہاں سے نقل کیا ہے۔ دراصل یہ کاہنوں کا ذکر ہے۔ ایسی تحریف شدہ کتابوں سے رطب و یابس نقل کر کے یہ ثابت کرنا کہ چار سو نبیوں کا کہنا بھی غلط ہو سکتا ہے۔ حالانکہ انبیاء علیہم السلام ایسی بات اگر کہتے ہیں خدائی اطلاع کے بعد کہتے ہیں۔ جس کا غلط ہونا ناممکن ہے۔ اس طرح بھی مرزا قادیانی نے دین کا اعتماد ختم کرنا چاہا اور اس کو اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ عبداللہ آتھم عیسائی مرزا کی پیش گوئی کے مطابق نہ مرا۔ اسی طرح محمدی بیگم والی بار بار کی وحی جھوٹی ہوئی تو مرزا قادیانی نے اپنی پیغمبرانہ ساکھ بچانے کے لئے اس عیب میں تمام پیغمبروں کو لپیٹ لیا۔

میں بروزی حج پہلے قادیان میں کرتے رہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا فرمان تھا ؎

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق ہے ارض حرم ہے

اور اب وہ بروزی حج ربوہ میں ہوتا ہے۔ (اور اب لندن میں ہوتا ہے۔ مرتب)

خرچ کر کے وہاں جگہ لی۔ یہ کاروبار کامیاب رہا۔ جیسے کہ مینارۃ المسیح کھڑا کرنے کا چندہ کامیاب رہا۔ حالانکہ یہ بات کہ زانی، شرابی، رشوت خور اور بدکار جب کسی خاص جگہ دفن کیا جائے تو اسلامی تعلیمات کی رو سے اس طرح وہ اپنے اعمال کی جواب دہی سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔

کرتے ہیں اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، مہدی علیہ السلام کو کثیر التعداد روایات کو محض اس لئے نظر انداز کر دینا کہ ان میں باہم بہت سے اختلافات ہیں۔ اسلامی اصول روایت اور نقل دین کو تبدیل کرنا ہے۔ کیونکہ اختلافات کے باوجود قدر مشترک سب میں پایا جاتا ہے۔ یعنی ایک اونچے درجے کے منتظم، حکمران اور روحانی پیشوا کے آنے پر سب روایتیں متفق ہیں جو مہدی کہلائے گا۔ چاہے تفاصیل و جزیات میں ان روایات میں باہم اختلافات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی روایات میں نفس مضمون جو قدر مشترک کہلاتا ہے۔ تواتر و توارث کی وجہ سے یقیناً صحیح سمجھا جاتا ہے۔ نزول مسیح کی سینکڑوں روایات میں سے بھی بعض کا بعض سے اختلاف ہے۔ لیکن خود مرزا غلام احمد قادیانی نزول مسیح کو اسی تواتر قدر مشترک کی وجہ سے قطعی قرار دیتے

صفحہ ۵۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں ۔ بات یہ ہے کہ مہدی بننے سے مرزا قادیانی کو روایات کے موافق جہاد کر کے اسلامی ممالک کا بہترین نظام قائم کرنا پڑتا ۔ جس کے لئے نہ صرف وہ تیار نہ تھے اور نہ ہی وہ حالات تھے ۔ جو مہدی علیہ السلام کے وقت ہونے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے سرے سے ان کے انکار ہی میں خیر سمجھی اور اس طرح علماء کے خلاف یہ کہہ کر کہ یہ خونی مہدی کے منتظر ہیں ۔ دل کی بھڑاس نکالنے اور انگریز کو اپنی جہاد شکن مسیحیت جتانے سے خوش کرنے کا موقعہ بھی ملا ۔

سلسلہ میں پچاس الماریاں لکھ کر اسلام میں جراثیم غلامی کی تخم ریزی کی ہے جو اسلام صرف غالب رہنے اور دنیا پر چھا جانے کے لئے آیا تھا اور جس اسلام کے سچے پیروں نے مظلوم دنیا کے بڑے حصہ کو پنجہ استبداد سے نجات دی تھی ۔

بالرائے کرنے اور احادیث کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی طرف اپنے من گھڑت معانی منسوب کرنے کا منحوس دروازہ کھولا جس کے بعد دین اور روایات دین کا کوئی مفہوم بھی قابل اعتبار و اعتماد قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ جیسے کہ ”ونفخ فی الصور وجمعناهم جمعا“ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں (اور صور یعنی بگل پھونک دیا جائے گا اور ہم سب لوگوں کو حشر میں جمع کر دیں گے ) اس طرح حشر اور جمع کرنے کا قرآن میں متعدد جگہ ذکر ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس کا ترجمہ حقیقت الوحی میں یہ کیا ہے کہ جب مسیح آئے گا تمام لوگ ایک ہی مذہب پر ہو جائیں گے ۔ تمام لوگ ایک مذہب پر کیا ہوئے ۔ پہلے مذہب کے اندر بھی مرزا کی برکت سے خطرناک پھوٹ پڑ گئی ۔ اب مرزا وحدت ادیان کے بغیر ہی صور بنے رہے ۔ جس میں پھونک چڑھتی ہی رہی ۔ اسی طرح سورہ ”اذا زلزلت الارض زلزالها “ اور سورہ اذا الشمس کورت کی تحریف کی ہے۔”واذا الصحف نشرت“ میں اعمال ناموں کی جگہ اخبارات کا ترجمہ کیا ہے اور بیسیوں جگہ قرآن و حدیث سے تلعب کیا ہے ۔ العیاذ باللہ تعالیٰ جس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ دین سے ناواقف مغربی تعلیم کے افراد کو ملحد بنا دیا جا کر قرآن پاک سب کی رائے زنی کے لئے ایک کھلونا بنا دیا جائے ۔

فیصلہ کن دعویٰ

ہمیں یہاں اس پیرے کی تفاصیل سے بحث نہیں ۔ لیکن زیر بحث مسئلہ ہی میں ہم ببانگ دہل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزائی امت کسی آیت یا حدیث کے ذیل میں کسی صحابی ، تابعی ، کسی امام حدیث ، امام فقہ اور کسی مفسر یا مجدد اور سلف صالحین کا ایک قول بھی پیش نہیں کر سکتے ۔

ہوسکتا ہے ۔

اس اسرائیلی مسیح کے سوا کسی اور آدمی کو آنا ہے اور یہ عیسیٰ ، مسیح ، دمشق ، آسمان ، دجال ، منارہ ، کسر صلیب ، غلبہ اسلام ، عادلانہ حکومت وغیرہ سینکڑوں تشخیصی کلمات وعلامات صرف بے معنی الفاظ ہی الفاظ ہیں ۔

صفحہ ۵۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے ایسا کوئی قول پیش نہیں کیا جا سکتا۔ حیات، وفات کی لفظی بحثوں میں رطب و یابس کے بیان سے اصل مسئلہ کو الجھایا جا سکتا ہے۔ لیکن سلف میں سے کسی ایک کا قول اس مدّعا میں پیش نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والا مسیح وہ اسرائیلی مسیح ابن مریم نہیں ہوگا۔ جو زندہ آسمان پر موجود ہے۔ یہ امر بجائے خود ناممکن ہے کہ مسئلہ اتنا عظیم الشان اور معرکۃ الآراء ہے جس پر سب کے سب پورا زورِ قلم صرف کرتے ہیں۔ لیکن اس کے مفہوم جو ظاہری مفہوم کے خلاف ہو اس پر سب کے سب خاموش رہے۔ بلکہ اس کے برعکس اولیاء کے سرتاج خواجہ حسن بصری مجدد دین کے سرتاج حضرت مجدد الف ثانی سرہندی اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (جن کی مشہور تصنیف فتوحات مکیہ جلد ۲ ص ۱۲۵ جلد ۳ ص ۳۲۱ اور جلد اوّل ص ۱۳۵، ۱۸۵، ۱۴۴ میں تصریح ہے) اور صحابہ کرام ؓ سے لے کر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تمام سلف یہی کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم زندہ آسمان پر موجود ہیں جو قرب قیامت میں نازل ہو کر عادل بادشاہ کی حیثیت سے عالمگیر غلبہ اسلام کا سبب ہوں گے۔

تواتر قومی کی قوت

اگر مندرجہ بالا طریقہ پر مفسرین، محدثین، مجددین اور سلف صالحین سے باقاعدہ اجماعی طور سے عقیدہ مذکورہ مروی نہ بھی ہوتا تو بھی امت محمدیہ کا پشت بہ پشت قرنِ اوّل سے آج تک یہ عقیدہ ہونا قطعی دلیل ہے کہ یہی قرآن و حدیث اور خدا رسول کی مراد ہے۔ مثلاً نماز کی رکعات کی تعداد میں اسناد کا تواتر نہیں۔ صرف یہی امت محمدیہ کا توارث ہے جو پشت بہ پشت چلا آ رہا ہے۔ یہ بھی دلیل قطعی ہے اگر کوئی شخص صبح کی فرض نماز کی تین اور مغرب کے فرض کی دو رکعات قرار دے وہ فرض کا منکر متصور ہوگا۔ اسی طرح قرآن پاک کی ایک ایک آیت کے بارہ میں متواتر اسانید پیش نہیں کی جاسکتیں۔ بلکہ قرآن کا قرآن ہونا یعنی یہ امر کہ یہ موجودہ قرآن وہی قرآن ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ اسی تواتر اور توارث سے ثابت ہے۔ اگر قرنِ اوّل سے اخیر تک لاکھوں کروڑوں افراد کا نسلاً بعد نسل کسی عقیدہ یا کسی مسئلہ پر متفق ہونا دلیل قطعی نہ ہو تو پھر قرآن کا قرآن ہونا بھی ثابت ہونا مشکل ہو جائے گا۔ مسواک کا استعمال سنت ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے اسے استعمال فرما کر اس کو موجب ازدیادِ ثواب بتایا ہے۔ اگر ایک شخص اسے ضروری نہ سمجھے یا عمر بھر استعمال نہ کرے اس کو گناہ بھی نہ ہوگا۔ صرف ثواب کی کمی ہوگی۔ لیکن اگر وہ مسواک کے ثواب اور کارِ خیر ہونے کا ہی انکار کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کر دی۔ قومی تواتر اور امت کے توارث سے یہ امر ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو ازدیادِ ثواب کا باعث فرمایا ہے۔ کفر و ایمان کا معیار ہی دراصل تصدیق یا تکذیب ہے۔ جس نے آنحضرت ﷺ اور قرآن کی تصدیق کی وہ مسلمان ہے۔ جس نے ایک بات میں بھی آپ ﷺ کی تکذیب کی وہ کافر ہے۔ شکار کرنا کوئی فرض نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص شکار کو حرام کہے وہ کافر ہو جائے گا۔ اس لئے کہ اس نے آیت قرآن کی تکذیب کی۔ جس میں شکار کی اجازت ہے۔ ”واذا حللتم فاصطادوا“ (یعنی حج سے فارغ ہو کر تم شکار کر سکتے ہو) حلال کو حرام کہنے اور حرام کو حلال کہنا بھی اسی لئے کفر ہے کہ اس میں خدا اور رسول کی تکذیب لازم آتی ہے۔ تصدیق اور تکذیب چونکہ دل کی صفتیں ہیں۔ اس لئے قانون اور شریعت میں نشانات پر حکم لگایا گیا ہے۔ یعنی اگر تصدیق کی نشانی ہو گئی تو مومن کہا جائے گا۔ اگر تکذیب کی نشانی پائی جائے تو اسے کافر کہا جائے گا۔

صفحہ ۵۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دین اسلام کی تصدیق کی اور مجھے خدا کا رسول مانا وہ جنتی ہوگا۔ اس لئے کہ عرب اللہ کو مانتے تھے ،۔ لیکن ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے خدا بھی بنا رکھے تھے۔ وہ ”لا اله الا الله“ کو نہیں مانتے تھے۔ اس لئے ”لا اله الا الله“ کہنا آنحضرت ﷺ کی تصدیق کی نشانی تھی جو یہ کلمہ کہتا اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا۔

ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں تصدیق کی نشانیاں ہیں ۔ لیکن اگر کسی طرح یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ”لا اله الا الله“ کہنے والا آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو پیغمبر نہیں مانتا ۔ صرف توحید کو مانتا ہے۔ اس شخص کے کفر میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ تکذیب کی نشانی پائی گئی ۔ اسی طرح نماز قبلہ رو ہو کر پڑھنے والا اگر کہہ دے کہ زکوٰۃ فرض نہیں یا جہاد حرام ہے اس کا یہ کہنا آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی علامت قرار دی جا کر اس کو کافر کہا جائے گا۔

قرآن پاک نے تکذیب ہی کو کفر اور مستوجب سزا قرار دیا ہے ۔ ”کل کذب الرسل فحق وعید (ق: ۱۴)“ میں تکذیب رسل پر وعید مرتب فرمائی ہے۔ اسی طرح ”کذبت قبلهم قوم نوح واصحاب الرس وثمود (ق: ۱۲)“ میں تکذیب ہی کو ہلاکت کا سبب بتایا ہے ۔ بہر حال ایمان کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے تمام دین کو سچا سمجھ کر دل سے مان لے اور کفر کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ کسی ایک ہی امر میں وہ رسول کی تکذیب کر دے۔ اس کو قرآن نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے کہ: ”افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض (البقرہ: ۸۵)“ ( کیا تم کتاب کی بعض باتیں مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو )

اسلام ایک مخصوص تعلیم ، مخصوص عقائد و احکام اور مخصوص عبادت و طرز زندگی کا نام ہے ۔ یہ آسمانی مکمل ہدایت ہے ۔ نہ جس کے بنانے میں انسانی عقل شریک ہے اور نہ اسے اس میں کمی یا زیادتی کرنے کا حق ہے۔ سوائے ان امور کے جو خود اسلام نے اولی الامر کے حوالے کر دیئے ہیں یا جن کو باہم مشورہ سے کرنے کا حکم ہے۔

اسلام کا انگریزی معیار

بدقسمتی سے یہاں سو سال سے زیادہ ایسی غیر مسلم حکومت مسلط رہی ہے جس کا بھلا ہی اس میں تھا کہ اسلام کی روح فنا ہو جائے ۔ مذہب اسلام کی اہمیت نہ رہے نہ فتویٰ کی قوت باقی رہے نہ فتویٰ دینے والوں کی عزت اور اسلام ایک کھلونا بن کر رہ جائے ۔ اسلام کے نام پر اسلام کے اندر جتنے بھی فرقے یا اختلافات پیدا ہوں وہ اپنے لئے غنیمت جانتی تھی اور مذہبی آزادی کے نام پر اس کا یہ مقصد خوب پورا ہوا۔ انگریز کے ہاں مردم شماری اور دفتروں میں ہر وہ شخص مسلمان لکھا جاتا ہے جو اپنے کو مسلمان کہے ۔ افسوس کہ انگریز کو جا کر عرصہ ہوا لیکن اس کا قائم کردہ معیار ابھی تک بعض دماغوں پر مسلط ہے ۔ اس عدالت میں بعض بلند اور ذمہ دار افسروں نے یہی خیال ظاہر کیا ۔

لیکن اگر اسلام اور مسلمان ہونے کا معیار یہی ہو کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہے ، وہی مسلمان ہے تو پھر اس کے مندرجہ ذیل نتائج ہو سکتے ہیں :

کوئی ضرورت نہیں ۔

صفحہ ۵۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب زکوٰۃ فرض ہے نہ اس کی ادائیگی کی ضرورت۔

نہیں۔ مراد یہ ہے کہ جہاں اللہ کے بندے بہت ہوں وہاں جمع ہونا چاہئے اور چونکہ آبادی لندن کی سب سے زیادہ ہے۔ اس لئے لندن کا جانا فرض ہے اور یہی حج کا معنی ہے۔

نہیں ہوا۔

مطابق ہر بڑے قریہ میں پہلے خدا کے نذیر آتے رہے ہیں۔ اسی طرح آج بھی ہر بڑے مرکزی شہر میں رسول آتے ہیں اور آتے رہیں گے اور میں خود رسول ہوں اور خدا کا یہ حکم لے کر آیا ہوں کہ پاکستان کو ختم کر دو اور اکھنڈ بھارت بنا ڈالو۔

رب العالمین اور سارے جہانوں کا مالک ہے۔ دوسرا چھوٹا خدا جس کو روح القدس یا جبرائیل کہتے ہیں۔ اس نظام شمسی کا رب یہی ہے۔ اسی طرح ہر ہر جہاں میں ایک ایک چھوٹا خدا موجود ہے اور یہ سب رب العالمین کے ماتحت ہیں۔ لیکن داخلی معاملات میں یہ آزاد و خود مختار ہیں۔ یہ چھوٹے خدا، بڑے کی عبادت اور حمد و ثناء کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ میں یہی چھوٹا خدا اس رب العالمین کی حمد کرتا ہے اور پھر ”ایاک نعبد“ کہہ کر اسی کی شہنشاہیت کا اقرار کرتا ہے۔ ہمیں یہ قرآن اور ہمارے یہ رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ اسی چھوٹے خدا نے بھیجے ہیں۔ ہمیں براہ راست اس اپنے مقامی خدا سے حاجتیں مانگنی چاہئیں اور اسی کے ذریعہ بڑے اللہ کے سامنے ہدیہ عقیدت ارسال کرنا چاہئے۔

کی حرمت نسب کی حفاظت کے لئے تھی۔ اب فرنچ لیدر کے استعمال کی صورت میں زنا حرام نہیں رہا اور قرآنی مساوات کی رو سے ہر عورت کو اسی طرح چار خاوند بیک وقت کرنے کی اجازت ہے۔ جیسے ایک مرد کو چار عورتیں کرنے کی۔

کفر ہے جو حکومت ہے۔ اس کو توڑ پھوڑ دینا لازم ہے۔ یہ ہوم سیکرٹری ، چیف سیکرٹری، وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ ، گورنر وغیرہ کے نام اور عہدے سب شیطانی ایجاد ہے۔ ان سب سے بغاوت مذہبی فریضہ ہے۔

کلرک کا بیٹا اپنی کوششوں سے ملازمت میں ترقی کرتے کرتے چیف سیکرٹری یا وزیر یا گورنر بن جائے۔ اگرچہ وہ درجہ میں بڑھ

صفحہ ۵۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گیا۔ لیکن اسی طرح باپ کا بیٹا ہے۔ پس اگرچہ میرا درجہ بڑھ گیا ہے۔ لیکن میں آنحضرت ﷺ کا امتی ہوں۔ جناب والا! ان سب مدعیان اسلام کو مسلمان قرار دینا اور شہری آزادی کے نام سے ان کو اپنے مذہب کی اشاعت کی اجازت دینا کتنی مذہبی بغاوت، کتنی ملکی انارکی، کتنی شرارت اور کتنے کتنے طوفانوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کیا ہر مدعی اسلام کو یا مسلمان کہلوانے والے بلا لحاظ صحت عقائد و تصدیق ضروریات دین مسلمان قرار دینا اور اس کے خلاف انسدادی تبلیغی کارروائی کو مسلمان قوم میں تفرقہ اندازی اور سماج دشمنی قرار دینا ایک سلیم العقل آدمی کا کام ہو سکتا ہے۔ ہمارے بھی ہیں مہربان کیسے کیسے۔

یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جسے نہ اسلام سے دلچسپی ہو نہ ملک سے۔ کیونکہ ایسی آزادی دے دینے سے ملک کے اندر فسادات و نزاعات کا ایسا ملک گیر غیر مختتم سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس کے تصور سے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ تو خدا کا فضل رہا کہ علماء دین کی مساعی سے ایسے فتنے سر نہیں اٹھا سکے۔ ایک مرزائی فتنہ جس کی پشت پر سرکاری عناصر تھے۔ آگے بڑھا اور صرف اس ایک فتنہ کی معمولی ترقی سے ملک کے اندر جو اضطراب پیدا ہوئے وہ ظاہر ہے۔ اگر مذکورہ بالا قسم کے تمام فتنوں کو اس لئے کھلی اجازت دے دی جائے کہ یہ سب مسلمان کہلاتے ہیں تو اس کے نتائج کے مقابلہ میں موجودہ اضطراب عشر عشیر بھی نہ ہوگا۔

کفر کی قطعی وجہ

اس لئے ہمیں کفر و اسلام کے درمیان ایک صحیح مابہ الامتیاز حد قائم کرنی ہوگی اور وہ صرف یہ ہے کہ جس امر کا اسناد کے تواتر سے یا قومی توارث سے یا تواتر قدر مشترک سے آنحضرت ﷺ کا فرمودہ ہونا ثابت ہو جائے۔ اس کا انکار آنحضرت ﷺ کی تکذیب قرار دے کر کفر قرار دیا جائے۔

انگریزی معیار اسلام کی تردید

یہ کہنا جو اپنے کو مسلمان کہے اسی کو مسلمان سمجھنا چاہئے اور اس کے خلاف نفرت پیدا کرنا قوم میں تفرقہ اندازی کے مترادف ہے۔ یہ اسلام اور اسلامی تاریخ سے لاعلمی پر مبنی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ان لوگوں سے جہاد کیا جو تمام دین اسلام کو مانتے اور اپنے کو مسلمان کہتے ہوئے صرف زکوٰۃ کا انکار کرنے لگے تھے اور تمام صحابہ ؓ نے حضرت صدیق ؓ کا ساتھ دے کر بزور شمشیر اس فتنہ کی سرکوبی کی۔ حالانکہ اس وقت بیرونی خطرات روم و ایران سے بھی مسلمان دوچار تھے۔ لیکن قرن اوّل کے مسلمانوں نے کسی مصلحت کی خاطر بھی اسلام کے ایک قطعی حکم کے انکار سے چشم پوشی کرنا صحیح نہیں سمجھا۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب مدعی نبوت بھی اپنے کو مسلمان کہتا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتے ہوئے اپنے لئے بھی نبوت تجویز کرتا رہا اور چالیس ہزار بہادر عربوں کی فوج بھی ساتھ تھی۔ لیکن صدیقی ایمان نے اس کی سرکوبی کر کے رکھ دیا۔ نہ اس کو خانہ جنگی سمجھا اور نہ تفرقہ اندازی۔ نہ اس کا دعویٰ اسلام اس کو مسلمانوں سے بچا سکا۔

اسی طرح حضرت علی ؓ نے عمر بھر خارجیوں سے جہاد کیا جو اپنے کو پکا مسلمان کہتے اور عام احکام کے پابند تھے۔ صرف آیت کریمہ ’’ان الحکم الا للہ‘‘ کی آڑ لے کر کہتے تھے کہ کسی امیر یا حاکم یا خلیفہ کی اطاعت ضروری نہیں۔ صرف اس خروج کی وجہ سے اور ایک قطعی حکم ’’اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء: ۵۹)‘‘ کے انکار کی وجہ سے اس ناسور سے اسلام کے فوجی جسم کو پاک و صاف کیا گیا۔ خلافت عباسی اور بعد میں بھی کسی آدمی کو جس نے کسی کفر کا ارتکاب کیا ہو، مسلمان ہونے کا دعویٰ اسلامی سزائے قتل سے نہیں بچا سکا۔ قانونی شریعت کے احترام نے منصور تک کی پرواہ نہیں کی۔

صفحہ ۵۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خدا سے مقابلہ

سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا کہنے والا کہ ہر مدعی اسلام مسلمان ہے۔ خدا کا مقابلہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کھلے کافر اور صاف مسلمان کے سوا ایک تیسرے قسم کے لوگوں کا مستقل ذکر کر کے ان کا فیصلہ کیا ہے: ”ومن الناس من یقول آمنا باللہ وبالیوم الآخر وماھم بمؤمنین (البقرۃ:۸)“ (کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان واسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن وہ مسلمان نہیں ہیں) ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے نام سے علیحدہ قرار دے کر ان کی سزا عام کافروں سے زیادہ بتائی ہے۔ ”ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار (النساء:۱۴۵)“ (کہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے) پھر اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ ایسے لوگوں کا جنازہ بھی نہ پڑھو۔ حالانکہ یہ لوگ نماز وغیرہ، روزہ کے پابند تھے۔ اپنے کو مسلمان کہتے بلکہ بعض اوقات جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے۔ انگریزی معیار اسلام کے مطابق خدائے تعالیٰ سے غلطی ہوئی کہ جو لوگ اپنے کو مسلمان کہتے تھے ان کو خدا کہتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ ایسا کہنے والے قرآن اور خدائے قرآن کے مقابلہ سے بھی نہیں ہچکچاتے اور یہ لوگ کفر واسلام کو ملا کر ایک معجون مرکب بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ کفر واسلام دو چیزیں ہیں اور ان کے درمیان ایک صحیح حد فاصل موجود ہے اور وہ یہ ہے۔

کفر کی قطعی وجہ

کہ جو شخص قرآن پاک، خدا یا رسول خدا کی تکذیب کرے اور کسی ایک امر میں بھی جھٹلائے وہ قطعی کافر ہے۔ لیکن چونکہ تکذیب دل کا فعل ہے۔ اس لئے قانون اور شریعت نے علامات تصدیق اور علامات تکذیب پر تصدیق وتکذیب کا حکم لگایا جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مثلاً اسلامی کتب میں یہ امر مصرح موجود ہے کہ ایک شخص قرآن پاک کو غصہ کے ساتھ گندگی میں پھینک دے۔ اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے والے کے بارہ میں یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس کتاب کو کتاب اللہ سمجھتا ہے بلکہ اس کے اس فعل کو تکذیب کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح بالمشافہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی شرعی بات کا انکار کر کے کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر قطعی ذرائع سے ثابت ہو جائے کہ یہ بات آنحضرت ﷺ کی فرمودہ ہے۔ اس کا انکار بھی اسی طرح کفر ہوگا۔ قطعی ذرائع میں قرآن کی آیات ہیں۔ احادیث متواتر ہیں۔ قوم مسلم کا قرناً بعد قرن توارث ہے اور قرآن وحدیث کے مفہوم کے بارہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے آخر تک تمام مفسرین، محدثین اور علماء امت کا اتفاق ہے۔

اگر کوئی عقیدہ یا حکم ایسے قطعی ذرائع سے ثابت ہو اس کا انکار قطعی کفر ہوگا۔ ایسے امر کے بارہ میں شک کرنے سے تمام دین اسلام ہی مشکوک اور ناقابل اعتماد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کسی پیغمبر کی توہین، کسی شرعی حکم سے استہزاء، کسی قطعی حکم مثلاً فرض کا انکار یا کسی امر قطعی سے انحراف یہ سب تکذیب کے علامات ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر

پس مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کی متعدد وجوہات ہیں:

اور کسی کو نبوت نہیں مل سکتی) کا انکار کیا اور خاتم النبیین اور ”لا نبی بعدی“ کے ایسے معنی گھڑے جو امت محمدی کے تیرہ سو سال کے متواتر عقیدہ و بیان کے خلاف ہیں۔

صفحہ ۵۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاویلات کر کے خود مسیح بننے کی کوشش کی کہ خدا کی پناہ۔

نے اپنی وحی کو قرآن کی طرح قطعی اور غلطی و خطاء سے بری اور پاک قرار دے کر قرآن کے بے مثل ہونے پر حملہ کیا۔ تیسرے اس نے قرآن پاک کی مضحکہ خیز تاویلات کر کے قرآن میں معنوی تحریف کی۔

منقول دین پر اعتماد کی سپرٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

لامتناہی سلسلہ جاری کیا جو سراسر افتراء اور دروغ بے فروغ تھا۔

سے برتری کی بنیاد رکھی اور اسی قسم کی تصریحات بھی کیں اور اسی لئے اکمل شاعر کے اس شعر کی تصدیق وتحسین بھی کی۔ ”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں ...... اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں“ اور اسی لئے مرزا محمود نے کہا کہ : ”ہر شخص ترقی کر سکتا ہے حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔“ اور اسی لئے مرزا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ : ”آنحضرت ﷺ کے لئے صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لئے سورج اور چاند دونوں۔“ اور اسی لئے یہ کہا کہ : ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق“ میرے زمانہ کے بارہ میں خدا نے فرمایا ہے اور اسی لئے حضرت عیسیٰ کی قرآنی پیش گوئی کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہو گا۔ آنحضرت ﷺ کی بجائے مرزا پر چسپاں کیا جا رہا ہے اور اسی لئے اپنے معجزات کی تعداد چند لاکھ بتا کر آنحضرت ﷺ سے آگے نکل جانے کی کوشش کی۔

یعنی رام چندر سے کچھ زیادتی نہیں رکھتا اور ساتھ ہی ان کے چال چلن پر انتہائی مکروہ حملہ کرتے ہوئے یہ لکھا کہ انہی باتوں کی وجہ سے خدا نے یحییٰ علیہ السلام کا نام تو حصور رکھا لیکن عیسیٰ علیہ السلام کا یہ نام نہ رکھا۔

(دافع البلاء)

عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دے کر جب اس کو عام اہل اسلام کے اشتعال کا خیال آتا ہے تو کبھی کہتا ہے کہ یہ فرضی یسوع کو کہا گیا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے عیسیٰ ابن مریم کو نہیں کہا گیا۔ لیکن مندرجہ بالا دو حوالے اس کی ان پردہ داریوں کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیتے ہیں اور پھر (ست بچن ص ۱۵۹) پر صاف اقرار ہے کہ یسوع مسیح ایک اسرائیلی عورت مریم کا بیٹا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ سے بڑھ کر ہونے کا دعویٰ تو اظہر من الشمس ہے۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ دو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

”اینکہ منم کہ حسب بشارات آمدم عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم“ (دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) کیسا توہین آمیز لہجہ ہے۔

صفحہ ۵۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پھر حقیقت الوحی میں صاف اعلان ہے کہ پہلے عقیدہ تھا کہ : ”مجھے مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور جب کوئی امر میری فضیلت کے بارہ میں ظاہر ہوتا میں اس کو جزوی فضیلت پر محمول کرتا۔ لیکن خدا کی بارش کی طرح وحی نے مجھے اس عقیدہ پر قائم رہنے نہ دیا۔“

رحمۃ للعلمین (الانبیاء: ۱۰۷) وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی (النجم: ۴،۳)“ اسی طرح حدیث قدسی : ”لولاک لما خلقت الافلاک“ (اے مرزا تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ”کن فیکون“ کے اختیارات بھی حاصل کئے اور یہ وحی نازل کرائی۔ ”انما امرک اذا اردت شیاء ان تقول لہ کن فیکون“ (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ۸۶، خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۲) یہ سب باتیں بمعہ دیگر خرافات کے حقیقت الوحی کے الہامات میں درج ہیں۔

تمام مرزائی لٹریچر میں چند باتیں ہیں جن کا بار بار اعادہ کیا جاتا ہے۔ نبی آ سکتے ہیں۔ مسیح ابن مریم مر گیا۔ اب اس کی جگہ میں خود آ گیا ہوں۔ انبیاء سے وحی سمجھنے میں غلطی ہوسکتی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے بھی کئی بار غلطیاں ہوئیں۔ علماء ومشائخ ، یہودی، سور وغیرہ وغیرہ ہیں۔ انگریز کی خوشامد و اطاعت جہاد کی منسوخی اور خونی مہدی کی مخالفت ۔ میرے معجزات لاکھوں ہیں۔ پھر نمبر وار گناتا ہے۔ میری شان بڑی ہے۔ حسین ؓ سے بڑی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام سے بڑی ہے۔ علی ؓ سے بڑی ہے۔ میرے کمالات بجز آنحضرت ﷺ تمام انبیاء سے زیادہ ہیں۔ میرا زمانہ فتح مبین کا زمانہ ہے۔ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔ اب دنیا بھر میں سلطانی فیض میرے واسطے کے بغیر کسی کو نہیں مل سکتا۔ میں آدم ثانی ہوں۔ شیطان کو آخری شکست میرے ہاتھ سے ہوتی ہے۔ میرے معجزات کا شمار نہیں۔ یہ طاعون اور زلزلے سب میرے معجزات ہیں۔ آریوں کی ایسی تیسی۔ عیسائیوں کی ایسی تیسی۔ علماء کی ایسی تیسی، مشائخ کی ایسی تیسی، انگریز خدا کی رحمت ہیں۔ خدا کا سایہ ہیں۔ وہ میری پناہ گاہ ہیں۔ میں ان کے لئے تعویذ ہوں۔ ان کی اطاعت فرض ہے۔ ان کی مخالفت ولد الحرام کا کام ہے۔ میرے مخالف جنگل کے سور ہیں۔ ولد الزنا ہیں۔ حرام زادے ہیں۔ ان کی عورتیں کتوں سے بدتر ہیں۔ مولوی سعد اللہ بہت سے بے وقوفوں کا نطفہ ہے۔ پیر مہر علی شاہ چور ہے۔ گولڑے کی زمین اس کی وجہ سے لعنتی ہو گئی۔ مولوی ثناء اللہ عورتوں کی عار ہے۔ میرے بیٹے محمود نے دو دفعہ ماں کے پیٹ کے اندر باتیں کیں۔ اس کی بڑی شان ہے۔ اس کو بھی یاد رکھو۔ یہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے۔

میرے بیٹے کی جگہ ہے۔ میں (خدا) سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں۔ خدا تیرے اندر اتر آیا۔ میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان پیدا کئے۔ (اعجاز المسیح ص ۱۰۱، ۱۰۲) میں مرزا لکھتا ہے : ”ان الرحمٰن محمد ان محمد الرحمٰن“ یعنی رحمٰن محمد ہے اور محمد رحمٰن ہے۔ (توضیح المرام) میں خدا کو تیندوے سے تشبیہ دی ہے۔ ایک وحی یہ ہے : ”ربنا عاج“ کہ ہمارا رب ہاتھی دانت ہے۔ مرزا کا خدا کبھی عربی بولتا ہے کبھی اردو اور کبھی انگریزی۔

صفحہ ۵۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بروے یقین ہر کہ گوید دروغ است لعین ۔ اس کا ترجمہ ظاہر ہے کہ میرے جامہ میں تمام ابرار ہیں۔ میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار (یعنی آنحضرت ﷺ) بھی۔ ان سب سے یقیناً کم نہیں ہوں جو کم کہے وہ ملعون ہے۔ لیجئے! اس میں اپنی شان کسی پیغمبر سے کم نہیں رکھی۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ سے بھی۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کا لٹریچر کفریات مغلظات سے بھرا پڑا ہے۔ جن میں سے ہر ہر بات بجائے خود توہین اسلام اور تکذیب دین کی نشانی ہے اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی کافر نہیں ہو سکتا تو پھر دنیا میں کوئی بھی کافر نہیں ہو سکتا۔

کافر کی امت

ظاہر ہے کہ حسب ارشاد آنحضرت ﷺ اس دجال کی جو امت ہوگی وہ بھی کافر ہوگی۔ کافر کی امت کا کافر ہونا ضروری ہے۔ چاہے وہ لاہوری مرزائی ہوں یا قادیانی۔ کیونکہ صرف نبوت کی نفی کر کے لاہوری پارٹی مرزا قادیانی کے تمام لٹریچر کی تصدیق کرتی۔ اس کو منجانب اللہ قرار دیتی اور مرزا قادیانی کو مسیح تصور کرتی ہے۔ نزول مسیح ابن مریم کے عقیدہ کا انکار کر کے مرزا قادیانی کی مسیحیت پر دونوں پارٹیاں متفق ہو جاتی ہیں۔ جہاں سے گنگا جمنا کفر مل کر بہتا ہے۔ دنیائے اسلام کا کوئی فرد اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ جو شخص ابولہب یا فرعون کو مسلمان کہے وہ قرآن کی تکذیب کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ اسی طرح مرزا قادیانی جیسے کھلے کافر کو مسلمان کہنے والا بھی کافر ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کے عقائد اور لٹریچر سے واقف ہونے کے بعد جو شخص اس کو کافر سمجھنے کی بجائے مسلمان سمجھے۔ وہ خود اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ چہ جائیکہ مجدد کہے یا مسیح یا بزرگ اور لاہوری پارٹی تو مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا تمام عقائد و کفریات کی تصدیق کرتی ہے۔ بلکہ اس میں ایک منافقانہ نشان کا اضافہ بھی ہے کہ وہ یہ کہہ کر کہ ہم نبوت ختم سمجھتے ہیں۔ عام مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اپنا کفر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ کی مزید وضاحت

یہ مسئلہ اتنا دقیق نہیں کہ اس پر زیادہ زور دیا جائے۔ تاہم ایک مثال سے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک شخص جانتا ہے کہ رام داس بت کا پجاری ہے۔ وہ اس کو باوجود اس کے مسلمان سمجھتا ہے۔ یہ شخص خود اسی وقت کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس طرح اس نے بت پرستی کو اسلام کے منافی نہ سمجھا جو قرآن پاک اور آنحضرت ﷺ کی تکذیب ہے۔ پس کھلے کافر کو مسلمان قرار دینا موجب کفر ہے۔ اس طرح لاہوری اور قادیانی ہر دو کفر کے سرچشمہ سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ کافر کے امتی اور مرید ہیں۔ اس کو مسیح مانتے ہیں۔ بنابریں دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا۔

ایک دجل و فریب کا جواب

بعض لوگ اسلامی حدود کی تعین اور کفر و اسلام کی تفریق مٹانے اور علماء کی مساعی کو بدنام کرنے کے لئے یہ فریب اختیار کرتے ہیں کہ علماء ایک دوسرے کو کافر کہنے سے خود کافر ہو گئے ہیں۔ کیونکہ دوسرے کو کافر کہنے سے آدمی خود کافر ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ میں ایک روایت کی آڑ لیتے ہیں کہ جس نے دوسرے کو کافر کہا وہ دونوں میں سے ایک پر ضرور پڑے گا۔ ”او کما قال“

صفحہ ۵۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہم مانتے ہیں کہ کھلے کافر کو جس طرح مسلمان سمجھنا کفر اور اسلام کی تکذیب ہے۔ اسی طرح ایک کھلے مسلمان کو یہ جانتے ہوئے کہ یہ قرآن وسنت وسلف صالحین سے ایک انچ ادھر ادھر از راہِ عمل یا عقیدہ نہیں جاتا اور نہ ان کے خلاف کسی بات کو مانتا ہے۔ پھر بھی اس کو عقیدہ کافر سمجھے۔ اس شخص کے کفر میں بھی کوئی شک نہیں۔ ایک بطور گالی کے کافر کہہ دینا ہے اور ایک کافر سمجھنا ہے۔ اگر حقیقتاً ایک سچے صحیح العقیدہ مسلمان کو ایک شخص کافر سمجھتا ہے تو وہ اس صحیح اسلام کی تکذیب کی وجہ سے یقیناً کافر ہوجائے گا۔ جیسے ایک کھلے کافر اور مرتد کو مسلمان تصور کرنے سے کافر ہوتا ہے تو بات صاف ہو گئی کہ جب ایک آدمی دوسرے کو کافر کہتا ہے تو اگر کسی صریح کفر کے سرزد ہونے کی وجہ سے ہے تو کفر اپنے محل پر جائے گا۔ لیکن اگر وہ صاف وصریح مسلمان ہے اور یہ اسی صحیح اسلام کی وجہ سے اس کو کافر کہتا ہے تو اس کا خود کافر ہونا اظہر من الشمس ہے۔ باقی رہا کہ پارٹی کا دوسری پارٹی کو یا ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو کسی نظری اور دقیق مسئلہ کی وجہ سے کافر کہنا تو ظاہر ہے کہ اگر مخاطب اس کفر کا مستحق ہے تو کفر اپنے محل پر چسپاں ہوا۔ ورنہ اس کا وبال کہنے والے پر ہوگا۔ یعنی اس اطلاق کفر کا اس کو گناہ ہوگا۔ حدیث کے سمجھنے کے لئے بھی ایمانی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے مخاطب پر کفر کا پڑجانا کافر کہنے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خود اس کے غلط عقیدہ کی وجہ سے لفظ کافر اس پر برمحل منطبق ہوا ہے۔ اسی طرح کافر کہنے والے کو اس کہنے سے کافر نہیں کہہ سکتے۔ البتہ غلط کہنے کا وبال اس پر پڑے گا۔ قرآن پاک میں اس کی مثال موجود ہے جو شخص کسی پاک پر زنا کی تہمت لگائے اگر ثابت کر سکے اس کو زنا کی سزا مل جائے گی۔ ورنہ زانی کہنے کا وبال اس پر پڑے گا۔ جس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ زانی قرار دیا جا کر اس کو زنا کی سزا دی جائے گی۔ بلکہ اس کو شرعی اصطلاح میں قذف کہا گیا ہے اور اس کو اس قذف (یعنی زنا کی گالی) کی سزا دی جائے گی۔ جسے حد قذف کہتے ہیں اور آئندہ اس جھوٹے کی شہادت قبول نہ ہوگی جب تک توبہ نہ کرے۔

ایک اور مثال ہے۔ مرزا قادیانی نے نہ ماننے والے مسلمانوں کو ذریۃ البغایا، کنجریوں کی اولاد کہا ہے۔ حالانکہ کسی کو ماننے یا نہ ماننے سے نسب پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ لیکن اس غلط گالی کی وجہ سے ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو ولد الزنا نہیں کہہ سکتے کہ اگر مخاطب ذریۃ البغایا نہیں (جو یقیناً نہیں) تو پھر مرزا ذریۃ البغایا ہیں۔ ہاں! مرزا قادیانی پر اس دروغ گوئی اور گالی کا وبال پڑے گا۔ قیامت میں تو پڑے گا ہی اگر اسلامی حکومت ہوتی تو یہاں بھی سزا بھگتنی پڑتی۔ مرزا قادیانی کا کفر اتنا صاف وصریح ہے کہ عالم اسلام کا کوئی عالم اس کو اور اس کے متبعین کو مسلمان نہیں کہتا اور جو لوگ آپس میں بھی کم یا زیادہ اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ بھی ان کے کفر میں متفق ہیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ یہ مرزائی خود تمام عالم اسلام یعنی چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور وہ بھی خود مرزا قادیانی کی تعلیم کی روشنی میں اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے لیکن باوجود اس کے یہ تنگ خیال سمجھے گئے۔

ناموس رسالت کا مسئلہ

بعض گواہوں نے اپنی مذہبی کم مائیگی کی وجہ سے مرزائی مسئلہ کو ناموس رسالت کا مسئلہ کہنے سے گریز کیا ہے۔ حالانکہ ختم نبوت آپ ﷺ کے خصائص اور فضائل کے ذیل میں شمار ہوتا ہے۔ ختم نبوت کے اصطلاحی معنوں کے خلاف کسی فرقہ کو تبلیغ کی اجازت دینا یا اس فضیلت کو مٹانے والوں کے لئے تکثیر جماعت کے مواقع فراہم ہونے دینا۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے قطعاً خلاف ہے۔ خاص کر جب کہ اس کے لٹریچر میں آنحضرت ﷺ کے دوسرے خصائص وفضائل مثلاً رحمۃ للعالمین ہونے وغیرہ میں ہمسری کے دعاوی موجود ہوں اور پھر عین محمد کی بعثت ثانیہ کی آڑ میں زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ محمد اوّل سے محمد ثانی کا ترقی یافتہ ہونا دل نشین کرا کر نہایت دجالانہ انداز میں

صفحہ ۵۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہلال سے بدر ہو جانے کی شکل میں اپنی فضیلت کا اعلان کیا جائے۔ جس کی تشریح اکمل قادیانی کے شعر سے بھی ہوتی ہے۔ ”اور آگے سے ہے بڑھ کر اپنی شان میں“ کیا جس مسلمان کے دل میں آنحضرت ﷺ کی محبت تمام دنیا و مافیہا سے زیادہ ہو نہیں، بلکہ جس کے دل میں ذرہ ایمان ہو وہ اس دعویٰ اور استدلال کو آپ ﷺ کی توہین تصور نہ کرے گا؟ اور کیا کوئی مسلمان اس فتنہ کے فروغ پر آرام و اطمینان سے بیٹھ سکتا ہے۔ انتہائی افسوس ہے کہ جب غیر ذمہ دار عوام ایک کتے یا گدھے کا نام ظفر اللہ رکھ کر اس کا جلوس نکالتے ہیں تو اسے ظفر اللہ خان کی توہین سمجھ کر نازک مزاج افسر چیں بجبیں ہوتے اور اسے قانون کے خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب ایک ایسا شخص جس کا چال چلن قابل بحث ہے۔ جس کے اخلاق قابل اعتراض ہیں جو شراب استعمال کرتا ہے۔ نامحرم عورتوں سے مٹھیاں بھرواتا ہے اور جو سیاسی لحاظ سے جنگ آزادی کے ایک ادنیٰ رضا کار کے مقابلہ میں کمزور ہی نہیں بلکہ کافر حکومت کا مدح خواں ہے۔ ایسے شخص کو عین محمد رسول اللہ قرار دیا جائے۔ آپ ﷺ ہی کی بعثت ثانیہ کہا جائے۔ یہ آپ ﷺ کی توہین نہ ہو۔ نہ ناموس رسالت کا سوال ہو۔ اہل اسلام کے عقیدہ میں اگر دنیا کا بڑے سے بڑا آدمی بھی اپنا نام محمد رسول اللہ ﷺ رکھ دے اور کہے کہ میں وہی ہوں ۔ یہ آپ ﷺ کی اس سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر توہین ہے۔ جتنی کہ کسی کتے یا گدھے یا خنزیر کا نام ظفر اللہ رکھ کر جلوس نکالا جائے ۔ اگرچہ ایسا کرنا بجائے خود معیوب ہے۔ اس کے سوا مرزا قادیانی نے اور بیسیوں طریقوں سے آپ ﷺ کی تنقیص شان کی ہے اور جب مرزائی امت تمام امت محمدی کو کافر قرار دے اور سارے دین محمدی کو دین قادیانی میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرے۔ جس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ ایک شخص بہ تمام دین محمدی کو ماننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک مرزا قادیانی پر ایمان نہ لے آئے تو کیا اس کے بالمقابل دفاعی اور انسدادی تدابیر اختیار کرنا ناموس محمدی کا تحفظ نہ ہوگا؟

شجرۂ خبیثہ

مرزا آنجہانی نے ناموس رسالت پر اگرچہ صاف صریح حملے کئے ہیں۔ لیکن یہ تخم ریزی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعد میں اس کی امت نے ناموس محمد ﷺ کے خلاف اپنے ناپاک پروپیگنڈے کو جتنی وسعت دی ہے وہ ایک شجرۂ خبیثہ ہے۔ جس کا تخم مرزا ڈال گئے تھے۔ مثال کے طور پر مرزا محمود کا صفائی سے یہ کہنا کہ روحانی ترقی میں ایک شخص آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح مرزائی امت کا میثاق انبیاء علیہم السلام والی آیت کو بجائے آنحضرت ﷺ کے مرزا قادیانی پر چسپاں کرنا کہ تمام نبیوں سے جو عہد لیا گیا تھا وہ مرزا پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کے لئے لیا گیا تھا۔ پھر نہایت صفائی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت قرآنی کہ میرے بعد ایک رسول احمد نام آئے گا۔ اس کو آنحضرت ﷺ کی بجائے مرزا قادیانی کے حق میں قرار دے کر اعلان کرنا کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد نہ تھا۔ یہ مرزا قادیانی کے حق میں پیش گوئی ہے۔ حالانکہ آپ نے متعدد احادیث میں اپنے احمد ہونے کا ارشاد فرمایا ہے اور تمام امت تمام مفسرین اس کا مصداق آپ ﷺ ہی کو سمجھتے ہیں۔

مرزا محمود نے اپنی پشت پر سرکاری ذرائع کی فراوانی دیکھ کر انگریزی اقتدار کے تاقیامت رہنے اور اپنے کو ہر طرح محفوظ اور دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے رہنے والا سمجھ کر یہاں تک زور مارا کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے تمام دین کو مانتا ہے۔ عقائد منقولہ، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ سے آراستہ ہے۔ دین کے لئے سرفروشانہ جدوجہد کرتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کو نہیں مانتا بلکہ اس بے چارے نے مرزا قادیانی کا نام تک نہیں سنا۔ پھر بھی وہ کافر ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب نجات کا دارو مدار آنحضرت ﷺ

صفحہ ۵۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور آپ کے دین کو مان لینے پر نہیں رہا۔ بلکہ مرزا قادیانی اور اس کی تعلیمات پر منحصر ہے اور اس عقیدہ میں اتنا غلو کہ سر ظفر اللہ خان موقعہ پر موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کا جنازہ تک نہیں پڑھتے اور جب ایبٹ آباد میں ان سے اسی سلسلہ میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ پوری بے باکی سے کہتا ہے کہ میں کافر حکومت کا مسلمان ملازم ہوں۔

پاکستان بننے کے بعد

پاکستان بننے سے پہلے تو چونکہ مرزائی انگریزی اقتدار کے تاقیامت رہنے کا تصور کئے ہوئے تھے اور انگریز کی امداد سے مسلمانوں کو بزدل کرنے اور جذبہ جہاد ان کے دلوں سے نکالنے کا یقین رکھتے تھے اور انگریز کے اقتدار کو اپنا اقتدار اور مرزا قادیانی کو سرکار برطانیہ کے لئے تعویذ سمجھے ہوئے تھے۔ اس لئے حکومت پر قبضہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ بس انگریز کے سایہ میں تمام انگریزی مقبوضات میں اپنے مذہب کی اشاعت اور انگریز ہی کی مدد سے انگریزی اقتدار کے اندر عہدوں اور اعزازات کی کوشش کافی سمجھی جارہی تھی۔ لیکن خلاف توقع جب انگریزی اقتدار کا زوال نظروں کے سامنے آیا تو مرزائی حلقوں سے ایسی ایسی باتیں کہنی اور کرنی شروع ہوئیں جیسے کہ دماغی توازن قائم نہ رہنے کی شکل میں ہوتا ہے۔ مثلاً کبھی احرار اور لیگ کی رقابت دیکھ کر لیگ کے اندر گھس کر اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ کبھی جواہر لال کا استقبال کرنے لگے۔ کبھی اکھنڈ بھارت کی رؤیا (وحی) نازل ہونے لگی۔ کبھی جاتے ہوئے انگریز سے غلط امید کی بنیاد پر اپنی انفرادیت اور مستقل یونٹ جتانے کے لئے باؤنڈری کمیشن کے سامنے بے ضرورت اور بلا دعوت جا حاضر ہونا (کہ شاید کوئی علیحدہ گھر بچاؤ کے لئے انگریز دے جائے) حالانکہ انگریز صرف اور صرف اپنا مفاد چاہا کرتا ہے۔ چاہے کہیں سے اور کسی سے حاصل ہو اور اگر کسی پھل میں رس نہ رہے تو خالی گٹھلی کو تھوک دیا کرتا ہے۔

بہر حال پاکستان بننے کے بعد مرزائیوں کو اپنی کرتوتوں، فتوؤں اور انٹی اسلام حرکتوں کا تصور اور دوسری طرف علماء اسلام کی قوت بیداری، عمل اور پاکستان میں اسلامی آئین اور اس کے نتائج کا خیال پریشان کر رہا تھا اور اپنے سرکاری مذہب اور اپنی کافرانہ مساعی کا ردعمل ان کے لئے سوہان روح تھا۔ اس لئے ان کے سامنے تین ہی راستے تھے۔ پہلا راستہ یہ تھا کہ کسی طرح ان کو علیحدہ ریاست مل جائے جس کو وہ بطور قلعہ استعمال کرسکیں جس کے لئے ایک حرکت مذبوحی باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنے مستقل اور علیحدہ یونٹ ہونے پر بلا ضرورت زور دینا تھا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ بھارتی حکومت کو خوش رکھیں اور اس کے ساتھ ساز باز ہوتا کہ ضرورت پیش آنے پر وہاں منتقل ہوسکیں جہاں ان کو اولی الامر قرار دے کر عام مسلمانوں میں اشاعت مرزائیت کے سلسلہ میں سرپھٹول پیدا کر کے حکومت کی مستقل ہمدردی حاصل کی جائے اور ہندو حکومت کو عام مسلمانوں سے خاص دلچسپی نہ ہونے کے باعث انہیں کوئی خطرہ نہیں بلکہ سکھ ہوگا۔ اس دوسرے راستہ کو ہموار کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں اپنے کو عام مسلمانوں سے بالکل علیحدہ ظاہر کر کے ضلع گورداسپور کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ اس فیصلے کے لئے مضبوط کرنے کی کوشش کی کہ یہ علاقہ ہندوستان میں شامل ہو۔

اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قادیان میں قادیانیوں کا رکھنا ننکانہ کے سکھوں کا بدلہ بھی اسی خیال پر مبنی ہے جب کہ وہ قادیانی دہلی آتے جاتے اور ادھر اپنے خلیفہ سے امتی اور پیغمبر زادگی کا تعلق اور یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ کشمیر کے سلسلہ میں جنگ بند کرنے کے وقت پہلے معاہدہ میں سر ظفر اللہ خان کا یہ مان لینا کہ استصواب رائے میں ہندوستانی فوج رہے اور استصواب کا نگران ایک امریکن ہو جو ڈوگرہ مہاراج

صفحہ ۵۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے مشورہ سے کام کرے۔ یہ بھی اس دوسرے راستہ کے ضمن میں ہوا ہے جس کی مشکل پاکستان کو آخر تک برداشت کرنی پڑی۔ درمیانی عرصہ میں جب قادیانیوں نے پاکستان میں اپنا اقتدار گرتے دیکھا تو خلیفہ کا یہ ارادہ کہ ہندوستان چلے جائیں۔ اس کو بھی اسی سلسلہ کی کڑی تصور کیا جاسکتا ہے۔ جب نازک وقت کے لئے خلیفہ کی نظر میں جائے پناہ ہندوستان ہی ہے تو یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ وہ یہ خیال ہر وقت رکھیں کہ ہندوستانی حکومت قادیانیوں کے بارہ میں اچھی رائے قائم رکھے۔ کیونکہ داشتہ بکار آید! تیسرا راستہ یہ تھا کہ وہ پاکستان ہی سے اپنا مستقبل وابستہ کرلیں۔ لیکن یہاں اسلامی آئین کے تصور اور اپنی اینٹی اسلام سرگرمیوں کے نتائج سے وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ اس لئے اس شکل میں ان کے اطمینان کے لئے دو امر لازمی تھے۔ ایک یہ کہ علماء کا وقار ختم کر دیا جائے۔ اسلامی آئین کی راہ میں مشکلات پیدا کی جائیں۔ اس سلسلہ میں مُلّا ازم اور مُلّائی حکومت کی توہین آمیزی سے تعلیم یافتہ طبقہ کو ہم خیال بنانے کی سعی کی گئی اور سول اینڈ ملٹری قسم کے مرزائی اخبار جو علماء اور اسلامی آئین کے خلاف لکھنے کے لئے وقف تھے۔ اسکولوں، کالجوں اور جیل خانوں میں جانے دیئے گئے جب کہ ان کے مخالف اخبارات کے لئے دروازے بند تھے۔ جناب گزدر ہاشم ممبر سنٹرل اسمبلی نے ایک تقریر میں کہا کہ اسلام کے سلسلہ میں اب تک جتنی تجویزیں پیش ہوئیں سنٹرل اسمبلی میں ظفر اللہ خان نے ان کی مخالفت کی جو تقریر اشتہاروں اور اخباروں میں بھی شائع ہوئی اور اس امر کا اقرار خود وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے بھی کیا کہ گزدر نے ظفر اللہ کے خلاف تقریر کی تھی جو بعد میں سنٹرل اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بنائے گئے۔

اسی طرح تمام مرزائی اور مرزائی اخبارات علماء دین کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے وقف تھے۔ مرزائی اور مرزائی نواز افسروں نے بھی پورا پورا حصہ لیا۔ نوائے وقت جیسے اخبارات ظفر اللہ خان کے کھلے حامی ہیں۔ آج تک علماء دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بہر حال پاکستان کے اندر مرزائیوں کے اطمینان کے لئے ایک یہ امر ضروری تھا کہ علماء دین کا وقار ختم کیا جائے۔ جس سے اسلامی آئین کا مطالبہ بھی کمزور ہو گا اور اینٹی قادیان تحریک بھی بے اثر ہو جائے گی۔ اسی طرح شریعت اور اسلامی آئین کی مخالفت مُلّا ازم اور مُلّائی حکومت کے نام سے کی جائے جس کے لئے انگریز کی ڈیڑھ سو سال کی حکمرانی نے پہلے سے ایک مخصوص حلقہ میں خاص فضاء پیدا کر رکھی ہے۔

دوسرا امر یہ ضروری تھا کہ پاکستان میں اتنا سیاسی اقتدار حاصل کر لیا جائے جس کے بعد ہم اطمینان سے اپنی من مانی کارروائی کر سکیں۔ مرزائیت کا بول بالا ہو اور مسلمانوں کا گلا دبا دیا جائے۔ پھر تمام دنیا میں اصلی اسلام (یعنی مرزائیت) کا راج ہو پاکستان کے ذریعہ تمام اسلامی ممالک میں روحانی پیشوائی اور اسلام کی واحد اجارہ داری کا ڈنکا بجایا جائے۔

سیاسی اقتدار کے حصول کی بھی دو شکلیں تھیں۔ مختلف محکمہ جات اور خاص کر ریل، فوج اور ہوائی جہازوں میں پورا تسلط ہو۔ مسلمان ملازمت کے لئے مرزائی افسروں کے محتاج ہوں۔ مرکزی حکومت پر اتنا اثر ہو کہ کسی وقت کوئی تجویز قادیانیوں کے خلاف نہ ہو سکے۔ بلکہ جس مخالف قادیان فرد یا جماعت کو چاہیں دبا سکیں۔ اس سلسلہ میں مرزائیوں نے خوب کام کیا۔ حتیٰ کہ خلیفہ کو جیسا کہ شہادت سے ثابت ہے اعلان کرنا پڑا کہ اب بعض اہم محکمہ جات میں بھرتی کی ضرورت نہیں۔ وہاں کافی تعداد ہو چکی ہے۔ دوسرے محکمہ جات پر زیادہ توجہ کی جائے۔ اسی طرح حکومت پر اتنے اثرات قائم کئے گئے کہ مرزائی افسر یا وزیر جو چاہیں کریں کوئی باز پرس نہ کرے۔ نہ کوئی جواب طلب ہو نہ محکمانہ کارروائی ہو اور نہ عام مرزائیوں کی خلاف قانون حرکت پر نوٹس لینے یا کارروائی کرنے کا سوال پیدا ہو۔ جیسا کہ بہت سی شہادتوں سے ثابت ہے اور جیسا کہ ہم عنقریب عرض کریں گے۔

صفحہ ۵۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

اس سلسلہ میں حالات اتنے بدلے اور مرزائیوں کے حوصلے اتنے بڑھے کہ خلیفہ نے صاف اعلان کر کے مریدوں کو کہا کہ ۱۹۵۲ء ختم نہ ہونے پائے کہ مخالف محسوس کرے کہ اب احمدیت کی آغوش میں آنے کے بغیر چارہ نہیں۔

اور ایک بار ”خونی مُلا کے آخری دن“ کے عنوان سے امت کے چوٹی کے علماء کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کر کے انتقام کی دھمکی دی اور اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس طرح ۹۹ فیصدی آبادی کے جذبات کو ٹھیس لگے گی۔ ایک فیصدی افراد جب ۹۹ فیصدی کے خلاف ایسی بہکی بہکی باتیں کہنے لگیں تو اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کو کلیدی آسامیوں، بڑے عہدوں اور سرکاری نظم ونسق پر اپنے کنٹرول حاصل ہونے کا کس درجہ یقین ہوتا ہے۔ جس کی بعد کے واقعات نے تصدیق کر دی۔ جیسا کہ عنقریب عرض کیا جائے گا۔ سیاسی اقتدار کی دوسری شکل یہ تھی کہ کسی طرح علیحدہ ریاست بنادی جائے۔ یہ خواہش مرزائیوں کی بھی طبعی خواہش ہے۔ جیسا کہ ان کے اقوال و اعمال سے ثابت ہے۔ انگریزوں کی بھی یہ طبعی خواہش ہونی چاہئے تھی۔ جب وہ یہاں سے جانے لگے تو پنجاب کی تقسیم کر کے انگریز نے پاکستان کو اپنے خیال میں اتنا کمزور کیا جو ہر وقت اس کا دست نگر رہے۔ پھر باؤنڈری کمیشن نے گورداسپور ہندوستان کو دے کر کشمیر کا راستہ کھول دیا۔ کیونکہ دونوں ملکوں کی کشمکش بھی اس کی مداخلت کو دائم و قائم رکھنے والا تھا۔ اس باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کو قائد اعظم نے پاکستان سے عیاری قرار دیا اور تقریر میں کہا۔ ظاہر ہے کہ انگریز کو اگر پاکستان میں سب سے زیادہ اعتماد کسی پر ہو سکتا ہے تو وہ قادیانی گروہ تھا اور اسی لئے اگر یہ کہا جائے کہ ظفر اللہ خان کے وزیر خارجہ بنائے جانے میں انگریزی سفارشات کو خاص دخل تھا۔ بعید از قیاس نہیں ہے۔

پس اگر انگریز دور اندیشی کی رو سے قادیانیوں کو ایسی پوزیشن دلانے کی کوشش کریں کہ آئندہ جا کر وہ ایک علیحدہ ریاست بنا سکیں جس کے ذریعہ پاکستان میں ریشہ دوانیوں کا موقعہ ملتا رہے اور پاکستان ہمیشہ کے لئے برٹش کامن ویلتھ میں بندھا رہے۔ گو یہ انگریز کی عین دلی خواہش ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سمجھدار مسلمان مندرجہ ذیل امور سے مندرجہ بالا خطرہ محسوس کر کے مضطرب و پریشان تھے اور ان کو پریشان ہونا چاہئے تھا۔ برخلاف بعض ان تعلیم یافتہ اصحاب کے جنہوں نے کبھی انگریزی ڈپلومیسی سمجھنے یا اس کی روک تھام کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھی یا جو انگریزی اقتدار کے خلاف کچھ کہنا یا کرنا اصولاً غلط تصور کرتے تھے یا جو ڈیڑھ سو سال سے خاندانی طور پر انگریز سے وابستہ رہنے کی وجہ سے انگریز کی ہر بات کو وحی اس کی تقلید کو باعث برکت وعزت سمجھتے رہے اور اب بھی صرف اپنے عہدوں کی خیر منانے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن جو حساس مسلمان جانتے ہیں کہ انگریز اس گئی گزری حالت میں بھی مصر سے اپنے اقتدار کے زوال کو برداشت نہیں کر رہا اور باوجود دوسرے ممالک کی رقابتوں کے ایران کے تیل سے دست بردار نہیں ہو رہا۔ اگر اس کو مستقبل درخشاں بنانے یا سیاسی اغراض کی تکمیل کے لئے مفت قادیانیوں جیسی جماعت ہاتھ آئے تو وہ کیوں اس میں کوتاہی کرے۔ چنانچہ واقعات کے مندرجہ ذیل راہ اختیار کرنے پر حساس مسلمانوں کو اضطراب ہوا۔

دے کر مرزائی دارالخلافہ کی بنیاد ڈالی جس پر تمام مسلمانوں نے احتجاج کیا۔

ہیں۔ اس طرح نازک وقت میں ان کو اس کی حفاظت آسان ہو جاتی ہے اور اگر ضلع سرگودھا اور جھنگ میں وہ اپنی عوامی طاقت میں معمولی اضافہ کر لیں جو مسلح بھی ہو تو وہ وہاں ایک آزاد سٹیٹ کا کسی وقت اعلان کر سکتے ہیں۔

صفحہ ۵۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرتا ہے۔

تھے، اس کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا اور مسلمانوں کی طرف سے فسادات کے خطرات سے حکام کو آگاہ کئے جانے کے باوجود مرزائی پبلک جلسوں کے لئے ایسے مقامات پر اجازت حاصل کرنا جہاں مرزائی اعلیٰ افسر ہوں یا ان مشہور مرزائی افسروں کے رشتہ دار ہوں۔ مثلاً کراچی میں جلسے کی اجازت جہانگیر پارک میں۔ حالانکہ گزشتہ سال اجازت نہیں دی گئی تھی اور فساد والے سال بھی حکام کو کئی بار فساد کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ لیکن ظفر اللہ خان کو جلسہ ضرور کرنا تھا تا کہ مرزائی ایک عوامی جماعت بن سکے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں فساد ہونے کے بعد بھی اور عین فساد میں بھی جلسہ کامیاب کرانے کی سعی کی گئی۔ اسی طرح راولپنڈی میں جہاں فوجی مرزائی افسروں کی بھر مار ہے۔

پنجاب کا نمائندہ بھی نہ تھا اور اس کی کارگزاری پر بھی تمام اخبارات تنقیدیں کر چکے تھے۔

مرزائیت کے خلاف تبلیغی جلسہ نہ کر سکنا نہ کوئی ایسا کام کر سکنا۔

بھیجا جا رہا تھا پکڑا گیا۔ کیس درج رجسٹرڈ ہوا۔ لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

علی کے حکومت پاکستان کے خلاف سازش کرنا اور پھر اس کا قید سے بچ جانا۔

صفحہ ۵۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے ہوگا اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ پھر ایک ہوجائے۔

معزز عدالت! یہ بہت ہی کم باتیں ہیں جو عدالت کے سامنے آسکی ہیں۔ اگر احرار لیڈر یا ورکر جیلوں سے باہر ہوتے تو سو گنا زیادہ معلومات اور مواد عدالت کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا۔ جس کو مرزائیوں کی خرمستیاں کہا جاتا یا خطرناک حالات کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا۔ معزز عدالت! اگر مندرجہ بالا حالات و واقعات درست ہیں۔ جب کہ یقین ہے تو ان کے ساتھ اگر ذرا سی ترقی اور ہوجائے جس کے لئے مرزائی ہمیشہ کوشاں رہے۔ مثلاً یہ کہ فوج کا اعلیٰ افسر مرزائی ہو۔ مرکزی حکومت میں اتنا اثر ہو کہ کسی مرزائی سکیم کو دبانے کی کوشش نہ کرنے دی جائے۔ پھر ربوہ کے دارالخلافہ سے کسی آزاد ریاست کا مطالبہ کیا جائے اور نہ ماننے کی شکل میں مسلح بغاوت اور ربوہ کے اردگرد قبضہ کر لیا جائے۔ ادھر فوراً انگریز اور امریکہ مداخلت کر کے جنگ بند کر دیں اور بعد میں ربوہ کو آزاد سٹیٹ تسلیم کر لیا جائے۔ فلسطین کی یہودی حکومت کو جب فوراً تسلیم کیا جاسکتا ہے تو ربوہ کی مرزائی حکومت تسلیم کرنے میں کون سا امر مانع ہے یا خطرناک حالات میں مرزائی عناصر خلیفہ کے حکم سے ہندوستان کے حق میں انقلاب پیدا کر دیں اور عین حالت جنگ میں ان کا ساتھ دے کر خدا کی مشیّت کو پورا کر کے قادیان اسٹیٹ حاصل کریں تو مندرجہ بالا حالات اور مرزائیوں کے بیانات کی روشنی میں یہ ناممکن نہیں۔

اور اگر حساس مسلمان ان حالات کو دیکھ کر مضطرب و پریشان ہوں تو ان کی یہ پریشانی بالکل حق بجانب ہوگی اور اگر ان امور میں سے کسی کا اندیشہ نہ ہو لیکن وہ دن بدن بڑھتے ہوئے اقتدار کی وجہ سے اتنا ہی کر دیں کہ بقول خلیفہ واقعی مسلمان احمدی بننے کے سوا چارہ نہ دیکھیں یا مرزائیوں کو کافر کہنا اور ان کی کافرانہ تبلیغ کے مقابلہ میں سرکاری طور سے مسلمانوں کی تبلیغ بند کر دی جائے تو کیا یہ کم حادثہ ہوتا۔ جس سے کروڑوں مسلمانوں میں غم و غصہ اور اضطراب کی لہر دوڑ جاتی جو پاکستان کے استحکام کے لئے کسی طرح مفید نہیں ہو سکتا تھا اور آج جب کہ مسلمان اور مرزائی کا سوال پیدا کرنا یا ان کو چیف سیکرٹری جیسے بزرگ کے ہاں قوم میں تفریق پیدا کرنا سماج دشمنی ہے تو یہ کوئی بعید امر نہ تھا کہ کل معمولی طور پر چند اور آدمیوں کے ہمنوا کرنے کے بعد مرزائیوں کو کافر کہنے پر پابندی لگ جاتی۔ اس وقت پھر ملک میں ہیجان ہوتا۔ تعجب ہے کہ چیف سیکرٹری جیسے بزرگوں کو یہ امر کہ مرزا قادیانی اور خلیفہ چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہیں۔ ظفر اللہ خاں قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھے اور حکومت پاکستان کو کافر حکومت کہے تو یہ سماج دشمنی نہ ہو اور ان کے خلاف وہ کوئی رپورٹ مرتب نہ کریں۔ لیکن مرزائیوں کو اگر مسلمان کافر کہیں اور ان کے کافرانہ عقائد اور غلط عزائم سے اہل ملک اور حکومت کو آگاہ کریں تو یہ سماج دشمنی ہو اور وہ جماعت گردن زدنی ہو جو ایسا کرے۔

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد مرزائیوں کا پاکستان میں مطمئن ہو کر من مانی کارروائیاں کرتے رہنے کے لئے جس کی ان کو عادت تھی۔ ان کو دو باتوں کی ضرورت تھی۔ اسلامی آئین اور علماء دین نیز اپنے مخالف احرار کو ختم کرنے کی، دوسرے اقتدار حاصل کرنے کی، اوّل الذکر ارادے نے تمام اہل اسلام اور عامۃ المسلمین کو چوکنا کر دیا اور خواہش اقتدار نے دوسرے پڑھے لکھے دفتری مسلمانوں کو متنبہ کیا۔ کیونکہ اقتدار کی خواہش میں جہاں جہاں مرزائی بس چلتا، مسلمان کو پیچھے دھکیل کر کے جونیئر مرزائی کو آگے لایا جاتا۔ عام اہل اسلام نے مرزائیوں کی اس پالیسی کو بچشم خود دیکھ کر خطرہ محسوس کیا۔ مرزائیوں کو اپنی من مانی کارروائیاں کرنے کے لئے اپنے اور مسلمانوں کے درمیان انتہائی بعد کی وجہ سے کسی نہ کسی بیرونی طاقت کی پشتیبانی بھی ضروری ہے۔ اس سے بھی مسلمان خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

صفحہ ۵۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہر حال مسلمانوں نے اس امر کو بری طرح محسوس کیا کہ ایک خارج از اسلام فرقہ جو مسلمانوں سے انتہائی تعصب رکھتا ہے دن بدن حکومت کی کلیدی آسامیوں اور مسلم حقوق پر قابض ہوتا جارہا ہے اور اس قبضہ سے وہ اپنے فرقہ کے لئے خاص مواد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ خلیفہ کے اعلان میں ہے۔ اس صورتحال کا آخری اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان پر مرزائیوں کا اقتدار قائم ہوجائے۔ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی گویا عام مسلمان نے اس چھوٹی سی جماعت کے ہاتھوں اس کے نئے اور پرانے ناجائز ذرائع کی وجہ سے اپنے حقوق کے لئے زبردست خطرہ محسوس کیا اور وہ یہ بھی سمجھے کہ اس طرح مذہب اسلام کو بھی ناقابل برداشت نقصان پہنچے گا۔ پھر مرزائی اقتدار اپنے بقا و دوام کے لئے یقیناً غیر ملکی طاقتوں کی پناہ لے گا۔ جو ہر شکل ملک وملت کے لئے تباہ کن ہے۔

مسلمانوں اور مرزائیوں کے نظریے

مرزائی فرقہ نے اپنی جارحانہ تبلیغ اور پارٹی کو من مانی کارروائیاں کرنے نیز حصول اقتدار کے لئے مندرجہ بالا طریقہ اختیار کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جس سے مرزائیت کے مخالف گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائیں۔ جیسا کہ مرزا محمود کی تقریر سے واضح ہوتا ہے اور یہ حالات تب ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔ جب کہ مرزائیوں کے توسط کے بغیر مسلمانوں پر ملازمتوں اور روزگار کے دروازے بند ہوجائیں۔ سرکاری اقتدار کے ذریعہ مسلمانوں کو دبا دیا جائے۔ کوئی محکمہ، کوئی سیکرٹری، کوئی وزیر، مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں اور کفر انگیزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔

اس کے بالمقابل مسلمانوں نے اپنے مذہب اپنے حقوق اور پاکستان کو خطرات سے بچانے کے لئے جو پروگرام مرتب کیا اگر غور وانصاف سے دیکھا جائے تو اس سے بہتر پرامن اور بے ضرر کوئی دوسرا حل نہیں ہوسکتا وہ حل یہ تھا:

کے حقوق پر حملہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے جمہوری اصول کے عین مطابق ان کو آبادی کے لحاظ سے حقوق دیئے جانے پر رضا مندی کا اظہار ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس مطالبہ میں مرزائیوں کے دست برد سے اپنے حقوق کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اگر آج کی جمہوری دنیا میں کسی اقلیت کو اپنے حقوق متعین کرنے کے مطالبہ کا حق ہے تو جب ۹۹ فیصدی اکثریت کے حقوق ایک فیصدی اقلیت کے ہاتھوں تلف ہورہے ہوں تو اکثریت کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے تعین حقوق کے لئے کیونکر مطالبہ کرنا حرام ہوگا؟ ملک میں پہلے بھی دوسری اقلیتیں موجود ہیں۔ ان کا اقلیت ہونا ملک وملت کے لئے کسی طرح نقصان دہ نہیں اور نہ حقوق کی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ رہا غیر مسلم اقلیت قرار دینا تو یہ امر ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے فرزند خلیفہ ربوہ کی تعلیمات کی رو سے تمام مسلمان قطعی کافر ہیں جو مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو دعویٰ مسیحیت میں سارے ہی مسلمان جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ دوسری طرف تمام علماء دین کا اسلامی تعلیم کی روشنی میں متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب عبادات، معاملات نکاح بھی علیحدہ ہوں، عقائد میں زمین وآسمان کا فرق ہو اور دونوں فریق ایک دوسرے کو کافر کہیں تو پھر ان کو ایک ہی رسی میں باندھنا۔ ایک جیسا مسلمان قرار دینا ایک کے حقوق پر دوسرے کو قابض کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے اور اس صورت میں مرزائیوں کو کیوں زبردستی مسلمانوں میں گھسیڑا جارہا ہے۔ اگر مرزا یا مرزائی مسلمانوں کو کافر نہ بھی کہتے۔ لیکن مرزائی عقائد وتعلیمات کی وجہ سے جب تمام اہل اسلام ان کو کافر کہتے اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ جس میں تمام اسلامی فرقے متفق ہیں۔ مشرق سے مغرب تک کے علماء کا

صفحہ ۵۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اتفاق ہے تو حکومت کو کیوں اصرار ہے کہ وہ غیر مسلم نہیں ہیں۔ یا ضرور مسلمان ہیں۔ ایک گواہ نے نہایت سادگی سے یہ کہا کہ یہ حکومت کا کام نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے؟ کون نہیں۔ اگر حکومت کا کام نہیں ہے تو علماء دین تو فیصلہ دے چکے ہیں۔ اس کو نافذ کرو۔ تعجب ہے کہ حکومت اسلامی کہلائے۔ نام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان تجویز کرے۔ اعلان یہ ہو کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہ بن سکے گا۔ جب یہ مسلمان اور غیر مسلمان کا فیصلہ نہیں کرسکتی تو اسلامی آئین اور غیر اسلامی آئین میں کسی طرح تمیز کرے گی؟ اگر اسلامی حدود وقوانین کی تعیین اسے کرنی ہے تو مسلمان اور غیر مسلمان ہونے کا فیصلہ بھی اس کو لازماً کرنا ہوگا۔ اگر مراد یہ ہو کہ یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے تو عدالت کا فیصلہ بھی تو حکومت کا فیصلہ ہے۔ پھر عدالت سے فیصلہ کرا کر حکمت عملی مرتب کرے۔ عدالت بھی اس امر کا فیصلہ اسی روشنی میں کریں گے کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے منقول دین اسلام کی روشنی میں کون مسلمان ہے اور کون نہیں؟ بالآخر اسی مفہوم سے متفق ہونا پڑے گا جو مفہوم منقول دین اسلام کا صحابہؓ سے لے کر آخر تک خیرالقرون نے سمجھا اور جو مفسرین، محدثین، آئمہ دین اور مجددین نے محفوظ کر کے پچھلے لوگوں کے حوالہ کیا۔ اسلامی تاریخ میں شاہی درباروں میں ایک ایک آدمی کے کسی عقیدہ کے سلسلہ میں بھی علماء نے بحث کر کے کفر یا اسلام کے فیصلہ صادر کئے ہیں اور حکومت نے ان کو نافذ کیا ہے اور ہمارے ذمہ دار حضرات اتنے اہم معاملہ سے پہلو تہی کر کے قوم کو مصیبت میں مبتلا کریں۔ حالانکہ قوم کے دین وایمان کی حفاظت اسلامی حکومت کا اپنا فرض ہے۔

معزز عدالت! اگر غیر مسلم جج کسی مسلمان عورت کے فسخ نکاح کی ڈگری دیتا ہے تو اس کا وہ حکم نافذ نہیں ہوسکتا۔ اگر اس ڈگری کے بعد وہ دوسرا نکاح کرے تو اسے زنا کا گناہ ہوگا۔ کیونکہ غیر مسلمانوں کے فیصلے مسلمانوں پر نافذ نہیں ہو سکتے۔ تمام فقہاء نے یہ مسئلہ قرآن کی آیت: ’’لن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا‘‘ کے ذیل میں لکھا ہے۔ اسی طرح اگر کسی عورت کو کسی کی بیوی قرار دے۔ وہاں بھی یہی مشکل پیش آئے گی۔ اس کے سوا عورت کا نکاح مرزائی سے حرام ہے۔ اس کفر واسلام کے فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے نکاحوں میں کتنے ہی فسادات ہوئے ہیں۔ بہاول پور کا تاریخی مقدمہ بھی اسی وجہ سے چند سال تک چلتا رہا۔

بے شک انگریز کا فائدہ اسی میں تھا کہ اسلام کے اندر اسی طرح انارکی پھیلی رہے اور ہر شخص مسلمان کہلا کر جو فتنہ چاہے جاری کرے۔ لیکن اسلامی حکومت کو خود بھی اور عوام کے بے پناہ مطالبہ کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا ہی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار اسلامی شریعت کی رو سے مسلمان نہیں ہیں۔ بہر شکل یہ مطالبہ کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ نہایت معقول اور فساد کو ختم کرنے والا مطالبہ ہے۔ ایک تو اس لئے کہ جب مرزائی مسلمان نہیں ہیں تو ان کو اسلام سے خارج قرار دینے میں کیا مصیبت ہے۔ اتنا بڑا مسئلہ یونہی معلق نہیں رکھا جا سکتا۔ چاہے حکومت عدالت سے یہ فیصلہ کرائے، چاہے عوام کے مطالبہ کی بناء پر ان کو علیحدہ قرار دے دیتی۔ خاص کر جب کہ خود مرزائیوں نے بھی باؤنڈری کمیشن کے سامنے اور دوسرے موقعوں پر بھی اور فتویٰ کے طور پر بھی مسلمانوں کو قطعاً کافر اور اپنے کو قطعاً علیحدہ قوم ظاہر کیا ہے اور اپنا نام بھی احمدی رکھا ہوا ہے جو غلام احمد قادیانی کی مناسبت سے ہے۔ پھر صرف ناواقف مسلمانوں کو کافرانہ تبلیغ کے جال میں پھنسانے یا ان کے حقوق پر قبضہ کرنے کی خاطر کیوں ان کو زبردستی مسلمانوں کے گلے ڈالا جائے۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔

اب مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغ اور اقتدار کے حصول کے لئے زبردستی ایسے حالات پیدا کرنا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کا لوہا ماننا

صفحہ ۵۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پڑے۔ یہ پروگرام جس کے نتیجہ میں سوائے فساد اور تصادم کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ بہتر ہے یا اہل اسلام کا یہ فیصلہ کن مطالبہ کہ دونوں کو الگ الگ قوم تسلیم کر کے حقوق آبادی کے لحاظ سے متعین کر دیے جائیں تاکہ نہ کوئی مسلمان دھوکہ میں رہے نہ ایک دوسرے کو حق تلفی کا خطرہ باقی رہے۔ کتنا آئینی اور جمہوری مطالبہ ہے؟

کی تبدیلی کا مطالبہ کوئی غیر آئینی مطالبہ ہے؟ کیا اس سے پہلے خود مرکز میں کسی اور وزیر کے خلاف عوام کے ایک طبقہ نے ایسا مطالبہ نہیں کیا جس پر عمل بھی کیا گیا؟ کیا جمہوری حکومت میں جمہور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی نمائندہ کے بارہ میں اپنی بے اعتمادی کا اعلان اور اس کی علیحدگی کا مطالبہ کریں یا اس کے غلط اعمال کی وجہ سے نکتہ چینی اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کریں؟ جب کہ ظفر اللہ خاں کے خلاف مطالبات کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب اس کو وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی شرقاً غرباً تمام ملک نے اس کے تقرر کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ اس کا تقرر قائد اعظم نے کیا تھا۔ پہلے تو ہمیں اس وقت کی مجبوریاں قائد اعظم کی معلوم نہیں۔ آخر انہوں نے تقسیم پنجاب بھی مجبوری سے مانا تھا اور باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ کو غداری کہتے ہوئے بھی تسلیم کیا تھا۔ وہ ان کی اس وقت کی مجبوریاں تھیں۔ اس طرح قائد اعظم نے اور بھی بہت سے آدمی وزیر بنائے تھے۔ لیکن ان کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔ جیسے پنجاب کے نواب ممدوٹ یا سندھ کے مسٹر کھوڑو بلکہ منڈل جیسے تو پورے غدار ثابت ہوئے اور اگر قائد اعظم زندہ ہوتے تو وہ یقیناً ظفر اللہ خان کو اس کے کرتوتوں کا مزہ چکھاتے۔

بہر حال کسی وزیر کے خلاف پبلک کی بے اعتمادی اور عوام کا اس کی برطرفی کا مطالبہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں ہے۔ جب اسمبلیوں کے اندر کسی وزیر کے خلاف عوام کے نمائندے بے اعتمادی کی تجویز اور علیحدگی کی قرارداد پیش کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے پہلے خود اس کو وزیر بنایا تھا تو جمہور عوام براہ راست کیوں ایسا نہیں کر سکتے جن کے پاس ایسا کرنے کے لئے پبلک جلسے اور مطالبات ہی ہو سکتے ہیں۔

اور کیا پبلک کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کو جب عوام کے ایسے بے پناہ مطالبہ کا سامنا پڑ جائے تو کیا اس کا فرض نہیں کہ عوام کے سامنے جھک جائے۔ جب کہ وہ انہی کی نمائندگی کی مدعی ہے۔ ورنہ استعفاء دے دے یا پھر صحیح طور پر عوام کی رائے دریافت کرنے کے لئے استصواب کرائے۔

ظفر اللہ خان کے خلاف مطالبہ کی ہمہ گیری

چوہدری ظفر اللہ خان کے خلاف مسلم پبلک کے جذبات و خیالات کا اعلان تو اس وقت سے ہوا تھا جب کہ اس کو وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل میں لیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان بننے کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد اس کے اعمال پر عام نکتہ چینی شروع ہوئی۔ یہاں تک عامۃ المسلمین نے وزارت خارجہ سے اس کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

جس پر مندرجہ ذیل واقعات یا حالات سے روشنی پڑ سکتی ہے اور جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ عوام کا مطالبہ کتنا واجبی تھا۔

صفحہ ۵۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رہے۔

پلیٹ فارم سے یہ آواز اٹھتی تھی۔

تقریر کی تھی۔

اطمینانی کا ایک سبب ہے۔

خان اس کے جواب ( تردید ) میں بیان دیتے ہیں۔

(ہوم سیکرٹری پنجاب)

حمایت کرتے ہیں۔ جن کو گورنر سرحد اور وزیر اعلیٰ سرحد تنبیہ کرتے ہیں۔

(خواجہ ناظم الدین)

کرتے ہیں۔

(جن کو بعد میں ڈپٹی سپیکر بنا دیا جاتا ہے ) ( خواجہ ناظم الدین )

جائے۔ اس لئے میں نے اخبار نوائے وقت میں مشورہ دیا تھا کہ ظفر اللہ خان کو خود استعفاء دے دینا چاہئے۔

مطالبات کے لئے تمہاری ترجمانی کریں گے اور یہی بعد میں وزارت پنجاب کو کرنا پڑا۔

خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔

جواب میں کہتے ہیں کہ میں کافر حکومت کا مسلمان نوکر ہوں ۔ یہ بیان تمام اخبارات میں آتا ہے اور تین سال تک چوہدری صاحب اس کی تردید نہیں کرتے۔

(گواہ مولانا قاضی شمس الدین صاحب ہزاروی)

صفحہ ۵۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چوہدری صاحب لوگوں کو احمدی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بیان کی مزید تائید ہوتی ہے۔ جو سید مظفر علی شمسی نے عدالت میں دیا ہے کہ جب ہالینڈ میں بھیجا جانے والا سفیر احمدی بنا۔ تب اس کو چوہدری صاحب نے سفیر بنایا۔ اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں جن کی وجہ سے افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نادانستہ طور پر وزارت خارجہ کی وجہ سے دنیائے اسلام میں مرزائی کفر پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔ جس کو بعض ممالک اچھال کر پاکستان کو بدنام بھی کرتے ہیں۔

معزز عدالت! یہ ہیں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان جو مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ جو اسی لئے قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھے جو پاکستانی حکومت کو کافر حکومت کہے۔ جس کو مرزائیت کی تبلیغ کا شوق ہو، جو لوگوں کو مرزائی بنانے کی کوشش کرتا ہو۔ جو ربوہ کے جلسوں میں شریک ہو کر تمام مرزائی سرکاری افسروں سے بات چیت اور باہمی تعاون کی بحث کرتا ہو۔ جو فسادات سے بے نیاز ہو کر جہانگیر پارک کراچی کے مرزائی جلسہ میں شریک ہو۔ جو مرکزی وزراء کی بات اور مشورہ کو درخور اعتناء نہ سمجھے۔ جو وزیر اعظم کے اعلان کے جواب میں بیان دے۔ جو عام اہل اسلام کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرے۔ جس کی علیحدگی کا عامۃ المسلمین مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کو پاکستان کے لئے موجب بربادی تصور کرتے ہیں۔ اخبارات جس کے خلاف لکھتے ہیں۔ جو چھ سال کے عرصہ تک کشمیر کا مسئلہ سلجھا نہ سکا ہو۔ جو پڑوسی ممالک کے سلسلہ میں کوئی مفید کام نہ کر سکا ہو۔ تا آنکہ خود وزیر اعظم لیاقت علی خان مرحوم یا مسٹر محمد علی نے اقدام کیا۔ کیا یہ عالمگیر مطالبہ غیر آئینی یا بلا وجہ کہلا سکتا ہے؟

معزز عدالت! ایسے تمام سنگین الزامات کے سلسلہ میں چوہدری ظفر اللہ خان سے نہ جواب طلب کیا جاتا ہے نہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے اور نہ ہی وہ اپنی کرتوتوں سے باز آتا ہے۔ کیا ان حالات کو برملا دیکھنے اور سننے سے مسلمان قوم کا مضطرب و پریشان ہونا قدرتی امر نہیں ہے اور ان حالات میں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک سول جج مرزائی، مرزائیوں کے جلسہ کی صدارت کرتا ہے۔ اس سے کوئی پوچھتا نہیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر ملتان کھلم کھلا مرزائیت کا کام کرتا ہے اور جب کمشنر ملتان کی رپورٹ پر تبدیل ہو کر منٹگمری آتا ہے وہاں بھی تبلیغ کرتا ہے۔ جس کے نتیجہ کے طور پر بقول سردار نشتر گورنر پنجاب ایک قتل بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ مرزائی سرکاری بارود بڑی تعداد میں چنیوٹ سے ربوہ لے جا کر جنگی مشق کرتے ہیں۔ مرکزی وزیر اعظم کو اس کا علم ہوتا ہے۔ لیکن کوئی باز پرس یا قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔

مرزا محمود اشتعال انگیز اور حاکمانہ بیانات دیتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ ہندوستان چلے جانے کے منصوبے بھی سوچے گئے۔ لیکن ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھی۔ اسی طرح کے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں جن میں مسلمان تو زیر عتاب آ جاتے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ کیا اگر مظلوم مسلمان قوم یہ رائے قائم کرے کہ سب کچھ چوہدری ظفر اللہ خان کے کھونٹے پر ہورہا ہے تو وہ حق بجانب نہیں ہے اور اگر اس سے قوم میں یہ بے چینی پیدا ہو کہ عملی طور پر پاکستان میں وہی بات ہو سکتی ہے جو چوہدری ظفر اللہ خان کرنی چاہے وہ نہ چاہے تو نہیں ہو سکتی اور اگر چند دن اور یہ حالت رہی تو پاکستان کے اقتدار پر مکمل قبضہ مرزائی فرقہ کا ہو جائے گا۔ کیا یہ بے چینی بے وجہ کہلائی جا سکتی ہے؟ خاص کر جب کہ محکمہ جات پر قبضہ کی اسکیم، احمدی صوبہ بنانے کا خیال، احمدیت کے حق میں ۱۹۵۲ء ختم ہونے سے پہلے حالات تبدیل کرنے کا آمرانہ حکم، مرزائیوں کی جنگی مشق، بینکوں میں لاتعداد روپوں کی موجودگی اور روایتی طور پر مرزائیوں اور فرنگیوں کا گٹھ جوڑ بھی پیش نظر ہو۔

صفحہ ۵۶۹

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

معزز عدالت! ایسے حالات میں مسلمانوں کا نہایت امن سے ملک و مذہب کی حفاظت کی خاطر اور پیدا شدہ خطرات کی روک تھام کے لئے اپنی حکومت سے مطالبہ کرنا کہ مرزائیوں کو علیحدہ قوم قرار دے کر حقوق اور مذہبی نزاعات کا فیصلہ کر دیا جائے اور ساتھ ہی اس تمام فتنے کی جڑ یعنی چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ کر دیا جائے۔ یہ نہ کوئی غیر آئینی مطالبہ ہے، نہ پاکستان دشمنی ہے۔

حکومت کی بے بسی

لیکن ایسا معلوم ہوتا کہ اس سلسلہ میں حکومت اپنے کو بے بس پاتی تھی۔ حکومت کے لئے ایسے عالمگیر اور جمہوری مطالبات کے سلسلہ میں جن کی پشت پر تمام اسلامی فرقے اخبارات اور تمام علماء دین ہوں۔ گول مول اور ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرنے کی بجائے مندرجہ ذیل تین باتوں میں سے ایک بات کرنی چاہئے تھی۔

اور عوام میں یکجہتی پیدا ہو اور ملکی بددلی اور عوام اضطراب میں ترقی نہ ہو۔

لوگوں کو موقع دیتی۔ جن کو عوام خود منتخب کریں۔

حکومت نے ان تین آئینی راستوں میں سے ایک بھی اختیار نہیں کیا۔ بلکہ اس سے کم درجے کی دو باتیں اور تھیں جو بہت آسان تھیں۔ حکومت نے اس سے بھی گریز کیا۔ وہ یہ کہ:

تاہم ظاہری طور پر نمائندہ اسمبلی کا فیصلہ سمجھا جاتا۔

یعنی آل پاکستان مسلم لیگ کی جنرل کونسل کے سامنے جس کا اجلاس اسی دوران میں ڈھاکہ میں ہو رہا تھا۔ آخر جمہوری فیصلے کی یہ بھی ایک صورت تھی۔ پھر اس فیصلے کی ذمہ داری بھی مسلم لیگ پر ہوتی۔ چاہے فائدہ ہوتا، چاہے نقصان۔ یہ طرز تو قطعاً غلط ہے کہ حکومت کی تمام کارستانیوں کا بوجھ نتیجہ کے لحاظ سے مسلم لیگ اور اس کے عوامی کارکنوں پر پڑے کہ لیگی حکومت نے ایسا کیا۔ لیکن حکومت ایسے نازک اور ملک گیر مسائل میں مسلم لیگ سے مشورہ بھی ضروری نہ سمجھے۔

مرکزی حکومت نے کیا کیا

مرکزی حکومت نے زیادہ سے زیادہ کابینہ کے سامنے مسئلہ رکھا ہوگا۔ لیکن کابینہ ایک فیملی کی حیثیت رکھتا ہے جس کو خود وزیر اعظم نامزد کیا کرتا ہے۔ ان آٹھ دس آدمیوں کا آپس میں بیٹھ کر اپنی بات چیت کو کافی سمجھ لینا بر خود غلط ہونے اور پاکستان کے اعلیٰ مفاد سے بے اعتنائی برتنے کے مترادف ہے۔

خاص کر کہ اس میں مدعا علیہ چوہدری ظفر اللہ خان بھی موجود ہو۔ جن کے بارہ میں ذکر کردہ واقعات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ مرکزی وزیروں کی رائے کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے اور یہ کہ ان سے انتہائی افسوس ناک بدعنوانیوں کے سلسلہ میں بھی جواب طلب

صفحہ ۵۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ کہ وہ اپنے مذہبی مشاغل کے مقابلہ میں نہ صرف فساد و بدامنی کی پرواہ کرتے نہ کسی سرکاری اعلان واحکام کی۔ ان حالات میں کیبنٹ کے اندر ان مطالبات کے سلسلہ میں پاکستان اور اسلامی مفاد کے پیش نظر فیصلہ کرنا اچھا خاصا مشکل تھا۔ جب کہ یہ فیصلہ مرزائیت کے لئے مضر ہو۔

جناب والا! ہماری ان معروضات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اقرار کرتے ہیں کہ مرکز میں دھڑے بندی تھی۔ جس سے گورنر جنرل بھی مستثنیٰ نہ تھے۔ ان حالات میں اقتدار کی دوڑ میں مصروف حضرات کس طرح ظفر اللہ خان جیسے ایک اہم آدمی کو اپنا مخالف بناسکتے ہیں۔ جو وزیر خارجہ ہونے اور اپنی مذہبی روایات کے لحاظ سے بھی بیرونی طاقتوں سے بھی تعلقات رکھتا ہو اور پاکستان کی تمام بیرونی سیاست کو اپنے قبضہ میں کئے بیٹھا ہو اور جو آج کسی کو سفیر بنوادے ۔ وہ کل وزیر بن سکتا ہے۔ اس صورت میں کیبنٹ کے چند افراد کے اندر ایک آدھ دفعہ بحث وتمحیص اتنے بڑے عوامی مسئلہ کے سلسلہ میں کافی سمجھنا غلط در غلط ہے۔

معزز عدالت! یہ کہنا کہ کیبنٹ میں ظفر اللہ خان کی موجودگی مطالبات کا مسئلہ حل کرنے کی راہ میں زبردست رکاوٹ تھی۔ اس کی تائید، بعد کے واقعات نے بھی کی۔ (مثلاً خواجہ ناظم الدین نے بھی بعد از خرابی بسیار)

پاکستان حکومت میسرز کی بے اثری

جب تمام پاکستانی صوبہ جات کے وزرائے اعلیٰ گورنروں اور دیگر سول وفوجی حکام کی کانفرنس طلب کی ۔ اس میں متفقہ طور پر جو تجویز پاس ہوئی وہ یہ تھی کہ قادیانی سربراہ سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مسلمانوں میں اپنی تبلیغ بند کرنے کا اعلان کریں ۔ اس میں بھی چوہدری ظفر اللہ خان نے کیڑے نکالنے کی کوشش کی ۔ مثلاً یہ کہ اگر کوئی شخص خود ہی احمدی لٹریچر طلب کرے تو اس پر ہمارے ناتجر بہ کار افراد نے کہا ۔ ہاں! یہ تو جرم نہ ہونا چاہئے ۔ خیال فرمائیں کہ اب کون تحقیق کرتا پھرے کہ ان لاکھوں میزوں پر یہ قادیانی لٹریچر خود بخود آ گیا ہے یا دھرا گیا ہے یا منگایا گیا ہے۔ اس طرح دراصل یہ متفقہ تجویز بھی ظفر اللہ خان نے بیکار کر کے رکھ دی تھی ۔ لیکن تاہم ایک تجویز تھی جو پاس ہوئی۔ لیکن دو ہی دن کے بعد خواجہ ناظم الدین کو اس تجویز پیش کرنے کی سزا مل گئی کہ وہ وزارت سے علیحدہ کر دیئے گئے اور نشتر وغیرہ بھی جو پرانے مسلمانوں جیسے عقیدہ رکھتے تھے اور نئی وزارت کی پہلی صف میں چوہدری ظفر اللہ خان براجمان تھے۔

یہ عرض کرنے سے مراد صرف یہ بتانا تھا کہ تمام پاکستان کے مرکزی اور صوبائی وزراء اور دیگر سول اور فوجی اعلیٰ افسروں کی پاس کی ہوئی متفقہ تجویز بھی گاؤ خورد ہوئی۔ جس کا آج تک نام نہیں لیا گیا۔

تجویز میں اعلیٰ افسروں کی بے چارگی

یہ تجویز بجائے خود اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ظفر اللہ خان کی موجودگی اجلاس پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔ جب تمام کے تمام اجلاس نے فسادات وخرابی کی جڑ مرزائی تبلیغ کو قرار دیا اور یہی سمجھا کہ سارا فتنہ مرزائی تبلیغ کا نتیجہ ہے تو فیصلہ کی شکل یہ تھی کہ قانوناً مرزائی تبلیغ اور تبلیغی لٹریچر کو بند کر دیا جاتا اور مرزا محمود کو امتناعی حکم صادر کیا جاتا ۔ لیکن یہی افسر جب دوسری پبلک جماعتوں کے خلاف کچھ کہنے یا کرنے پر آتے ہیں تو یکدم دفعہ ۱۴۴ کا حربہ سامنے لے آتے ہیں۔ زبان بندی کر دیتے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب مرحوم کی پرانی تصنیف ”شہاب“ ضبط کر دیتے ہیں۔ اخبارات اور لٹریچر ضبط کرتے ہیں اور حاکمانہ انداز میں متعلقہ افراد یا جماعتوں کو حکم دیتے ہیں۔ لیکن جب یہی وزراء ، گورنرز اور آفیسرز چوہدری ظفر اللہ خان کے سامنے اکٹھے ہوتے ہیں تو امتناعی احکام کی جگہ ان کی زبان بدل جاتی ہے اور

صفحہ ۵۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تجویز کرتے ہیں کہ قادیانی سربراہ سے پبلک تبلیغ بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ جیسے کہ امیرالمومنین حضرت عمرؓ سے درخواست کی جاتی ہے یا جیسے رعایا حکومت سے مطالبہ یا درخواست کرتی ہے۔ اس سے چوہدری ظفر اللہ خان کے اثر ونفوذ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اتنی بے ضرر اور معصوم تجویز بھی باوجود اپنی معصومانہ الفاظ کے چوہدری ظفر اللہ خان کی موجودگی کی وجہ سے شرمندہ معنی نہ ہوسکی۔ جس پر تمام پاکستانی وزراء، گورنروں اور ذمہ دار افسروں نے مہر تصدیق ثبت کی تھی۔

معزز عدالت! اس ملک میں جہاں مرکزی حکومت میں بھی دھڑے بندی ہو اور جہاں صوبہ جات میں بھی اقتدار کی جنگ کا تسلسل ختم نہیں ہوتا اور جہاں اپنے اپنے عہدوں کی خیر منانے اور رشتہ داروں کو اقتدار دلانے کی سعی جاری ہو۔ ایسے ملک کے صوبہ جاتی یا مرکزی افسروں سے یہ امید رکھنا کہ کسی صحیح اصول، مذہبی مفاد یا قومی بھلائی کے چوہدری ظفر اللہ خان کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ غلط امید ہے۔

کے اسٹاف میں بھرتی کرنے کا خواہش مند ہو۔ خاص کر جب یہ بھی ذہن میں ہو کہ سفیر بننے کے بعد وزیر بننے کے لئے راہ صاف ہو جاتی ہے اور خود سفارت بھی بڑی پوزیشن ہے۔

پاتے ہی اس کے موافق کام نہ کرے۔ جب کہ وہ بھی اپنے مستقبل کے بارے میں اس سے امید رکھ سکتا ہو۔

کرے۔ جب کہ چوہدری صاحب کو تبلیغ کا بھی شوق ہو اور احمدی بنانے کا بھی۔ اس لئے لازمی طور پر ان کو ہر مرزائی افسر کی امداد کرنی ہو گی جو احمدیت کے لئے کام کرے۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ تمام مرزائی افسر بڑی جرأت سے اپنی سرکاری حیثیت اور پوزیشن سے تبلیغ احمدیت کا کام لیتے اور مخالف علماء کو طرح طرح سے پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سے دیکھیں لیکن پولیس کو کوئی ثبوت نہ ملے۔

خلاف کرنے سے وزیر اعظم کو امریکن عوام کے ناراض ہونے کا بھی ڈر تھا اور دبے الفاظ میں انہوں نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ انڈونیشیا والے بھی خفا ہوتے۔

معزز عدالت! اگر ایک آزاد حکومت کسی ملک سے کوئی معاہدہ کرے یا ملکی مفاد کے لئے لین دین، سیاسی یا تجارتی سمجھوتہ کیا جائے تو یہ کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔ لیکن اگر کسی عزل و نصب یا دیگر اندرونی مسائل میں ملکی مفاد کی بجائے بیرونی اثرات کا دخل ہو تو اس ملک کی انتہائی بد نصیبی ہوتی ہے۔ ہماری حکومت کو مطالبات کے سلسلے میں پاکستان اور جمہوری پاکستان کے تعلقات اور مفاد ہی کی بنیاد پر سوچنا چاہئے تھا۔ کیونکہ حکومت اپنے عوام کے جذبات سے بے اعتنائی برت کر ملک کی بہتر خدمت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی۔ عوام کو

صفحہ ۵۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جبر وتشدد کے ذریعہ دبایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس سے حکومت اور رعایا میں تعاون و یکجہتی کو صدمہ پہنچ کر بنیادی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ آج جبر وتشدد یا کسی اور غلط ذریعہ سے پاکستان پر چند مرزائی یا مرزائی نواز مسلط کر دیئے جائیں تو ایسا ہو سکتا ہے لیکن ایسی حکومت کی عمر دراز نہیں ہوتی اور اگر ایسا کسی بیرونی طاقت کی امداد سے کیا جائے تو اس بیرونی طاقت کو بھی رائے عامہ کی مخالفت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ آخر سکھوں نے بھی تو فوجی قوت سے قبضہ رکھا۔ لیکن جلدی زوال ہو گیا۔ آج کے جمہوری زمانہ میں جمہوریت کی مدعی حکومت کو جمہور کا مطالبہ کسی غیر جمہوری مقصد کی خاطر ٹھکرا دینا کسی طرح مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ خاص کر آج کے گردو پیش کے حالات میں جن میں ضرورت ہے کہ حکومت عوامی جماعتوں کا تعاون اور یکجہتی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا نقشہ پیش کرے۔

معزز عدالت! ایسے حالات میں اگر عامۃ المسلمین یہ سمجھیں کہ جب تک ظفر اللہ خان کو پاکستانی وزارت میں دخل ہو۔ اس وقت تک نہ ہمارا مذہب محفوظ ہے نہ ہمارے ساتھ انصاف کی توقع ہو سکتی ہے اور نہ عام طور پر سرکاری افسروں سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مرزائی گردی اور ان کی زیادتیوں کے خلاف کوئی صحیح رپورٹ یا کارروائی کریں۔ جب کہ وہ بھی ترقی کے خواہش مند اور اقتدار پسند ہوں یا کم از کم ان کو اپنے اقتدار کو مرزائی افسروں کی زد میں بچانے کا خیال ہو۔

بنابریں مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالا جائے۔ مسلم مفاد، اسلام کے تحفظ اور ملکی مفاد کے عین مطابق اور صرف انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد کے مترادف ہے۔

مطالبات کے سلسلہ میں واقعات کی رفتار

پر مبنی اور بالکل آئینی ہیں۔ تمام اسلامی فرقے اس پر متفق ہیں۔ تمام علماء دین کا یہی فیصلہ ہے۔ جمہور نے ان کی صحت وحمایت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ تحفظ حقوق کی جدوجہد یا کسی وزیر بلکہ حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ جمہور کا آئینی حق ہے۔

عوامی بنانے کی جدوجہد کرنا۔ دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرنا۔ یہ سب باتیں آئینی اور جائز ہیں۔ آج جمہوری دور میں ہر پارٹی اپنی اکثریت پیدا کرتی۔ اپنے مقاصد سے سب کو متفق کرنے اور عوام کو ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ وہ اقتدار کی دوڑ ہوتی ہے۔ یہاں تو ایک پارٹی کی جارحانہ تبلیغ سے اسلامی مفاد کو بچانے، کفر و اسلام میں تمیز کرنے اور اپنے حقوق کو غصب سے محفوظ کرنے کے لئے مذہبی فریضہ کے طور پر بالکل مذہبی مطالبہ ہے اور عرصہ سے جاری ہے۔

کیں۔ بار بار پیش ہو کر درخواست کی۔ اخبارات نے لکھا۔ تمام ملک میں تمام صوبہ جات میں کانفرنسیں ہوئیں۔ لیکن حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا۔

مگر حکومت نے اتنے عالمگیر مطالبہ سے افسوس ناک بے اعتنائی برتی اور مسلسل چھ مہینے تک کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

صفحہ ۵۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ حکومت ایسے مذہبی اور عوامی مطالبہ کو ضرور تسلیم کر لے گی اور یہ کہ یہ نوٹس حکومت کو جمہوری لائنوں پر مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش پر آمادہ کر دے گا اور راست اقدام کی نوبت نہ آئے گی۔

کرنے کی بجائے اس کو غلط وقار کا سوال بنا دیا۔ قوم کے نمائندوں نے اپنے وقار کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چار دن اور انتظار کیا اور پھر ملاقات کی ، مگر حکومت کے جمود میں کوئی فرق نہ آیا۔

کی کوشش کرتی اور قیام امن کے لئے پہلے کی طرح عوام سے اپیل کرتی رہتی، لیکن حکومت نے ساری مجلس عمل ۲۶؍فروری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں گرفتار کر لی۔

ہاں مطالبات پیش کرنے کی کوشش کرتے جائیں اور اگر یہ گرفتار کر لئے جائیں تو اور جائیں یہاں تک کہ حکومت مطالبات تسلیم کرے۔

تحریک تھی۔ اگر حکومت بھی پرامن اور آئینی ہی ذرائع استعمال کرتی تو اس میں شک نہیں کہ گرفتاری بیس لاکھ کے لگ بھگ ہوتی۔ حکومت کو کیمپ کھولنے پڑتے یا قیدیوں کو رکھنے کا کوئی اور انتظام کرنا پڑتا۔ خرچ بھی کرنا پڑتا۔ لیکن جو بدامنی فسادات اور گولیوں کی نشانہ بازی ہوتی رہی یہ ہرگز نہ ہوتا۔ حکومت کو یا رائے عامہ کو دیکھ کر مطالبات ماننے پڑتے یا تحریک کی پشت پر عوام نہ ہوتے تو خود فیل ہو جاتے۔ اس سلسلہ میں حکومت جہاں چاہتی جس اسٹیشن سے چاہتی یا جس جگہ سے چاہتی گرفتار کر لیتی۔ لیکن حکومت نے گرفتاریوں اور پرامن مقابلہ کی جگہ لاٹھی چارج شروع کیا اور وہ بھی ہزاروں عوام کے سامنے بر سر بازار۔ حتیٰ کہ بعض آدمی جان بحق ہو گئے۔ اس طرح حکومت نے گرفتار شدگان کو لاریوں میں بھر کر رات کو دور جنگلوں میں چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس سے آہستہ آہستہ عوام کے جذبات سخت طور پر مجروح ہوتے گئے اور جب حکومت نے فائرنگ کی تو مزید اشتعال پیدا ہوا۔ سول سیکرٹریٹ تک اس متشددانہ کارروائی کا اثر پڑا۔ بہر حال حکومت کے اس طرز سے پولیس اور عوام میں تصادم ہونے لگا اور حالات نے نہایت ہی افسوس ناک شکل اختیار کر لی۔

عمال حکومت کا طرز عمل

اس اثناء میں عمال حکومت نے حالات کو اعتدال پر لانے کی کوئی کوشش نہیں کی یہ بالکل غلط ہے کہ خلاف امن سرگرمیوں کے خلاف کوئی عالم اپیل کرنے کے لئے نہ مل سکتا تھا۔ مجلس عمل اور احرار کا لیڈر ، ہر عالم یہ اپیل کرتا بشرطیکہ حکومت یہ چاہتی۔ اگر حکومت ان کو جیل سے باہر لا کر ریڈیو پر ان سے اعلان کراتی ، وہ کرتے لیکن اس شرط پر کہ صرف پر امن گرفتاریاں کرنے کا حکومت وعدہ کرتی۔ وہ اعلان کرتے کہ صرف پر امن گرفتاریاں دو۔ تحریک بند کرنے کا اعلان نہیں ہو سکتا۔ قیام امن کے ساتھ گرفتاریاں دینے کی پوری کوشش ہو سکتی تھی۔ یہی بات ضلع کیمبل پور ، ضلع میانوالی اور ضلع راولپنڈی میں ہوئی۔ وہاں مقامی لیڈروں کو بھی حکومت نے آخر میں گرفتار کیا۔ انہوں

صفحہ ۵۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے نہایت امن سے گرفتاریاں دلائیں اور اگرچہ ابتداء معمولی بدمزگی ہوئی بھی، تو علماء اور حکام کی بات چیت سے حالات کو بہتر بنا دیا۔ بہر حال یہاں تو حکومت ایسا چاہتی ہی نہ تھی۔ مرکزی حکومت نے پہلے سے ہی اس کو وقار کا سوال بنا ڈالا تھا اور یہ نہ کرتی تو کیا کرتی؟ وہاں چوہدری ظفر اللہ خان کے اثرات تھے۔ ادھر پنجاب کے اعلیٰ افسروں پر اسی پرانے انگریزی قانون کا تسلط تھا کہ پہلے ہی زور کا تشدد کر کے تحریک کو کچلنے اور عوام کو دہشت زدہ کر دینے میں کامیابی ہے۔ حالانکہ انگریز اپنے ملک میں کبھی ایسا نہیں کرتا اور یہ طرز عمل غلام ملکوں کے لئے تھا تاکہ کوئی سر نہ اٹھا سکے اور یہ بھی مصیبت تھی کہ بعض اعلیٰ افسر مثلاً چیف سیکرٹری پنجاب گورنمنٹ کفر و اسلام کی تفریق کو سماج دشمنی قرار دے کر تحریک والوں کو سماج دشمن سمجھ رہے تھے۔ جن پر تشدد ہی چاہئے تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے اثرات اور مقامی مرزائی عناصر کے اثرات اپنا کام نہ کر رہے ہوں۔ اسی لئے سب سے پہلے ۲۷؍ فروری کو صرف احرار کارکنوں کی فہرست گرفتاری کے لئے تیار کی گئی۔ حالانکہ مجلس عمل کے سینکڑوں کارکن تمام پنجاب میں مصروف عمل رہے اور جولائی ۱۹۵۲ء کے بعد سے مسلسل چھ ماہ تک مجلس عمل سے متعلق تمام حضرات کا ملک بھر میں کام کرنا اور ہر ضلع میں مقامی مجلس عمل کا قائم ہونا حکام سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا۔

مرکز اور صوبے کی بدگمانیاں

حالات کو اعتدال پر لانے اور مطالبات کے سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر سے اور عوام الناس کے جذبات کی روشنی میں غور کر کے کوئی صحیح راستہ اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹ مرکز اور صوبائی حکومت کی باہمی بدگمانیاں تھیں۔ ورنہ اثناء تحریک میں رائے عامہ کا طوفان دیکھنے کے بعد وزارت پنجاب نے اعلان کر دیا تھا کہ مطالبات کے لئے سفارش کی جائے گی اور مرکز کو اس نے اطلاع بھی دے دی تھی۔ لیکن مرکزی حکومت نے باہمی بدگمانیوں کی وجہ سے اس کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا الٹی میٹم قرار دیا۔ اگر بدگمانیاں نہ ہوتیں تو وہ سر جوڑ کر اسلامی اور پاکستانی مفاد کی روشنی میں سوچتے اور اس موقعہ پر عوامی لیڈروں سے اعلان بھی کراسکتے تھے۔ بدقسمتی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت یہ سمجھ بیٹھی کہ وزارت پنجاب نے عوام کو ساتھ لے کر بغاوت کر دی ہے۔ پھر تمام ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ لاہور آبیٹھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہٹلر سے جنگ ہے اور برلن فتح کرنا ہے۔ اس باہمی ذہنی آویزش کی چکی میں مسلمان قوم پس گئی اور خوب کوشش کی گئی کہ جتنی جلدی ہو، سختی کر کے ہٹلر اور برلن کو دبا دیا جائے اور لاہور و بعض دیگر اضلاع میں وہ طرز عمل اختیار کیا گیا جو اپنی اور قومی حکومت کے کسی طرح شایان شان نہیں ہو سکتا۔

ف ...... یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ رضا کاروں نے گرفتاری کے وقت کہیں مزاحمت یا مقابلہ نہیں کیا۔ عمال نے بوکھلا کر گرفتار کرنے کی بجائے لاٹھی چارج فائرنگ اور دہشت زدگی شروع کر دی۔ اسی طرح رات کو دور جنگلوں میں لے جا کر چھوڑ دینا جن کی پیدل واپسی سے راستے کے دیہات پر خود بخود اثر پڑتا جاتا رہا۔

ایس. ایس. پی ۲۷؍ فروری، عمال حکومت ۲۸؍ فروری، یکم؍ مارچ ۱۹۵۳ء کے سلسلہ میں تسلیم کرتے ہیں کہ صرف جلوس نکلے جو پر امن تھے اور ۲، ۳؍ مارچ کے مولانا احمد علی والے جلوس کو بھی پر امن بتاتے ہیں۔ جلوسوں پر بھی میانوالی وغیرہ میں آخر تک پابندی نہیں لگائی گئی۔ اگر اس موقع پر رہنماؤں سے حکام مل کر پر امن گرفتاریوں کی تجویز پر بحث کرتے تو یقیناً کوئی حادثہ نہ ہوتا۔ لیکن لاہور کے عمال حکومت کے ذہنوں میں صرف ایک خیال تھا کہ کچلو اور دباؤ ، تشدد استعمال کرو، خلاف قانون قرار دو وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ایسے حالات میں اور پھر بڑے بڑے جلوسوں کا امن شکنی اور لاقانونی حرکات مثلاً لوٹ مار، حملہ جات کا ارتکاب نہ کرنا بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ ان

صفحہ ۵۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے سامنے ایسا کوئی پروگرام نہ تھا۔ حکومت نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔ اگر بجائے اس کے صرف جلوس ممنوع قرار دیئے جاتے تو کافی تھا۔ لیکن عوام نے ۱۴۴ کا بھی بڑا احترام کیا اور کارکنوں نے صرف چار چار، دس دس یا بیس بیس کے رضا کار گرفتاری کی خاطر روانہ کئے۔ اگر ان کو حکومت باقاعدہ گرفتار کرتی رہتی تو حالات نہ بگڑتے۔ لیکن عمال کے ذہن میں وہی انگریزی زمانے کے اثرات تھے کہ ابتداء ہی سے تشدد کر کے تحریک کچل دو۔ خاص کر جب کہ چیف سیکرٹری مرزائیوں کے خلاف کہنے کو سماج دشمنی سمجھتے ہوں اور آئی۔ جی ۱۹۵۰ء ہی سے احرار کے خلاف اپنے دل میں احرار کو ختم دینے کے خیال کو پالتے پوستے رہے اور ہوم سیکرٹری کا بھی یہی خیال تھا اور اگر سالہا سال کی انگریزی ملازمت سے اس کے خیالات میں یہ بات راسخ ہو جائے تو یہ کوئی تعجب خیز نہیں ہے۔ کیونکہ انگریزی دور حکومت میں احرار کو کچلنے اور دبانے اور ان کے خلاف رپورٹیں کرنے سے ترقی کی امیدیں وابستہ تھیں اور افسروں کا ذہن ہی یہ تھا کہ جو انگریز کا معتوب ہوتا ان کا بھی معتوب ہوتا۔ آج بھی چوہدری ظفر اللہ خان کی مرکزی حکومت میں مضبوط پوزیشن احرار بے چاروں پر زیادتیاں کرنے کا سبب ہو سکتی ہے اور ترقی کی امید کا باعث تھی۔ تمام تحریک میں کہیں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ رضا کاروں نے گرفتاری کے وقت مزاحمت کی یا مقابلہ کیا۔

مجلس عمل اور احرار کی برأت کا قطعی ثبوت

جب ہم اس ثابت شدہ حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ مجلس عمل کا پروگرام صرف کراچی میں پرامن طور پر راست اقدام تھا اور یہ کہ ۲۷، ۲۸/ فروری، یکم، ۲/ مارچ کو لاہور میں سوائے جلوسوں اور گرفتاریاں پیش کرنے کے کوئی لاقانونیت کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ جب تک کہ دفعہ ۱۴۴ کے بعد خطرناک لاٹھی چارج مسلسل نہ ہوتا رہا اور جب تک گولی چلنے کا حادثہ نہیں ہوا۔ پھر جب حکومت پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری تحریری بیان میں کہتے ہیں کہ تحریک شروع ہونے سے ایک ہفتہ کے اندر غیر متوقع رخ اختیار کر چکی تھی تو ہر ایک انصاف پسند کو یہ ماننا پڑے گا کہ پنجاب پولیس، سی۔ آئی۔ ڈی اور تمام عمال حکومت کو پیش آمدہ حادثات کی قطعاً توقع نہ تھی اور وہ مجلس عمل کے پروگرام سے پورے واقف اور مطمئن تھے اور خود مجلس عمل کے اعلانات بیانات اور تجاویز سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے جس کے علاوہ پنجاب کے کسی افسر کے پاس کوئی مواد نہیں ہے تو پھر پیش آمدہ واقعات و حادثات کی ذمہ داری تحریک کے لیڈروں پر کس طرح عائد ہو سکتی ہے اور سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ عمال جنہوں نے گرفتاریاں اور گرفتار شدگان کے لئے کوئی انتظام نہ کیا تھا۔ بوکھلا کر غلط اقدامات پر اتر آئے جن سے رفتہ رفتہ حالات نے غیر متوقع صورت اختیار کر لی۔

مزید ثبوت

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاہور تسلیم کرتے ہیں کہ مولانا ابوالحسنات نے ۱۵/ فروری ۱۹۵۳ء کو تعلیم الاسلام کالج کے سامنے مظاہرین کو روکنے اور اپنے جلسہ میں بلا لانے اور غیر قانونی حرکات کے منع کرنے کے لئے سید مظفر علی شمسی کو بھیجا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور انہی تاریخوں میں نسبت روڈ کے پبلک جلسہ پر مرزائیوں کی خشت باری کے نتیجہ کے طور پر پیدا ہونے والی بدامنی کو مجلس عمل کے رہنماؤں نے روکا اور باوجود انتہائی اشتعال کے عوام کو سنبھالا۔ یہاں تک کہ عوام نے بعد میں بھی انتقام نہ لیا۔

مزید برآں مولانا مودودی نے جو مرکزی مجلس عمل کے رکن تھے۔ نہایت صفائی سے لاقانونیت کے خلاف اخبار تسنیم میں مارشل لاء سے پہلے اعلان کیا تھا اور عام طور پر دوسرے رہنماؤں نے بھی جلسوں میں پر امن رہنے کی اپیلیں کی تھیں۔

صفحہ ۵۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسئلہ مرزائیت اور اسلامی حکومت

قبل ازیں کہ مجلس احرار اسلام کے موقف پر بحث کی جائے ۔ اس امر پر روشنی ڈالنی ضروری ہے کہ مسئلہ مرزائیت کے سلسلہ میں اسلامی حکومت اور عام اہل اسلام کا کیا رویہ ہونا چاہئے ۔

معزز عدالت! سابق وزیر اعظم پاکستان خواجہ صاحب اور وزیر صنعت وحرفت سردار نشتر سے لے کر ہوم سیکرٹری پنجاب گورنمنٹ تک علماء اسلام کے اس خیال سے متفق ہیں کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ اور جزوایمان ہے اور یہ امر ظاہر ہی ہے کہ اسلام کے ایسے بنیادی عقیدے کی حفاظت اسلامی حکومت اور عامۃ المسلمین کا اولین فرض ہونا چاہئے ۔

اور عدالت کے سامنے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مرزائی فرقہ کے پیرو جن کے پاس بے پناہ روپیہ ہے ۔ وہ ٹریکٹوں ، رسالوں ، کتابوں اور انفرادی بحثوں اور پبلک جلسوں کے ذریعہ عامۃ المسلمین کو اس بنیادی عقیدہ سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ وزیر خارجہ سے لے کر ڈپٹی کمشنروں تک جتنے مرزائی افسر ہیں ۔ وہ اپنی سرکاری پوزیشن اثر ورسوخ کو بھی اس گمراہ کن پراپیگنڈے میں استعمال کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں وہ مرکزی وزراء کے مشورہ نقض امن کے خطرات اور ملک کے اندر کی عام بے چینی سے بھی آنکھیں بند کر دیتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں روزگار کے متلاشی ملازمتوں کے طالب اور ہزاروں ناواقف مسلمان ان کے دام تزویر میں آتے رہتے ہیں ۔

اسلامی حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری قدم اٹھاتی اور عامۃ المسلمین کی رہنمائی کرتی ۔ لیکن اس نے اس کے بالکل برعکس ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ مرزائی عہدہ دار اپنی کلیدی آسامیوں کی وجہ سے یہ کافرانہ کام آزادی سے کر رہے ہیں ۔ حکومت نے آج تک حکومت کو بھی اس آلودگی سے بچانے کے لئے کوئی جرأت مندانہ اقدام نہیں کیا۔ ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ بھی اپنے سرکاری سربراہوں، صدروں کے ماتحت ایسا کوئی کام کرنے سے آج تک قاصر رہی ہے ۔ صرف مختلف اسلامی اور عوامی جماعتیں یا علماء انفرادی طور پر معمولی طریقہ سے یہ فرض انجام دیتے چلے آئے ہیں ۔ لے دے کر ایک منظم اور فعال جماعت مجلس احرار ہے جو مرزائی تنظیم کے مقابلہ میں نسبتاً تبلیغ کرتی رہی اور کرتی ہے ۔ عامۃ المسلمین نیز اسلامی حکومت کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئے تھا کہ وہ یہ فریضہ سب کی طرف سے ادا کرتی ہے ۔ لیکن تعجب ہے کہ ختم نبوت کو اسلام کا بنیادی عقیدہ کہنے والے دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کی منظم کوشش ہو رہی ہے اور اس کے لئے غیر آئینی بلکہ سرکاری ذرائع بھی استعمال کئے جاتے ہیں تو وہ نیک لوگ خود تو ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں ۔ لیکن جو دوسری کوئی جماعت یہ کام کرتی ہے اس کی مساعی کو بدنیتی اور خود غرضی بتاتے اور مورد اعتراض ٹھہراتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ یا تو اس دعویٰ میں سچے نہیں کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے بلکہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف غلط مصلحت کی خاطر ایسا کہتے ہیں یا پھر وہ اسلامی اور سرکاری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے اہل نہیں ہیں ۔

ورنہ اگر مجلس احرار غلط کار ہے ۔ بد نیت ہے ۔ چلو فرض کیجئے یہ صحیح ہے تو انہیں چاہئے تھا کہ کروڑوں عوام کے مذہبی خطرات کو دور کرنے اور بنیادی عقیدہ کی حفاظت کرنے کے لئے وہ کوئی اور ٹھوس کام کرتے ۔

مجلس احرار اسلام کا موقف

مجلس احرار مسلمانوں کی ایک غریب جماعت ہے ۔ بالفاظ دیگر غریب مسلمانوں کی جماعت ہے جس نے ماضی میں اسلامی مفاد

صفحہ ۵۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی حفاظت کے لئے سرتوڑ خدمت کی۔ ۱۹۴۷ء تک وہ واحد اسلامی جماعت تھی جو اسلامی مفاد کے لئے مصروفِ عمل رہی۔ جس کو میاں انور علی (آئی۔ جی) بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس نے انگریزی اقتدار کے خلاف کھلم کھلا ایجی ٹیشن کیا۔ اسے بھی میاں انور علی آئی۔ جی پنجاب تسلیم کرتے ہیں۔ اس نے انقلاب کے وقت مسلمانوں کی حفاظت کا بہترین کام انجام دیا۔ اس کو بھی آئی۔ جی موصوف تسلیم کرتے ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ ابتداء ہی سے مرزائیوں کو انگریزوں کی ایجنٹ جماعت تسلیم کرتی اور اس کے کافرانہ عقائد کے خلاف دفاعی تبلیغ کرتی رہی ہے۔ اس نے ان کے مرکز قادیان میں اپنا دفتر قائم کیا۔ ختم نبوت وقف کے نام سے وہاں اراضی حاصل کی۔

۱۹۳۴ء میں قادیان میں آل انڈیا تبلیغ کانفرنس منعقد کی۔ سرکاری انگریزوں نے ہمیشہ مرزائیوں کی پشت پناہی کی اور مجلس احرار انگریزی ظلم و ستم کی تمام عمر تختہ مشق رہی۔ مسلم لیگ سے کچھ عرصہ سیاسی اختلاف رہا جو اواخر میں تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ تلخیاں باقی تھیں۔ جب لیگ کانگریس کے لیڈروں نے مل کر ملک کی تقسیم پر دستخط کر دیئے۔ مجلس احرار اسلام نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا۔ ہوشیار پور اور لدھیانہ وغیرہ میں لاکھوں مسلمانوں کی حفاظت کی اور جب تک ایک مسلمان مرد یا عورت بھی وہاں رہے۔ خود نہیں آئے۔ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلا اجلاس لاہور میں منعقد کر کے فیصلہ کیا۔

دفاع کانفرنس

اس وقت احرار نے آل پاکستان احرار دفاع کانفرنس لاہور میں منعقد کی۔ ہزاروں با وردی احرار رضا کار جمع تھے۔ امیر شریعت نے ایک لاکھ کے مجمع میں اعلان کیا کہ یہ سب کچھ مسلم لیگ کے حوالہ ہے۔ آج سے مجلس احرار سیاسی کام سے علیحدہ ہو کر صرف تبلیغی کام کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جس کو سیاسی کام کرنا ہو وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کرے۔ اس کے بعد تمام ملک میں دفاعی کانفرنسیں کر کے احرار نے بیرونی ممالک پر پاکستانی قومی یکجہتی اور اتحاد کی دھاک بٹھا دی اور ساتھ ہی احرار رضا کار اے۔ آر۔ پی میں بھرتی ہو گئے۔

جنرل الیکشن

اس کے بعد عام انتخابات کا وقت آگیا۔ مجلس احرار نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور اعلان کے موافق اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہ کیا۔ اگر وہ چاہتی تعاون کے عوض چند سیٹیں لے سکتی تھی۔ لیکن اس نے غیر مشروط طور پر مسلم لیگ کی حمایت کی۔ سوائے اس کے کہ مرزائی امیدواروں کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا چاہے وہ لیگ ہی کے ٹکٹ پر کیوں نہ الیکشن لڑتے ہوں۔ مسلم لیگ نے احرار کے تعاون کو اس استثناء کی اجازت دی اور اس مخالفت کے باوجود مسلم لیگ اور احرار کے تعاون میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس لئے مجلس احرار کا یہ کام یقیناً مذہب کی حفاظت کے لئے تھا۔ ایک ظفر اللہ خان کی ممبری اور وزارت نے قیامت کا فتنہ پیدا کیا۔ اگر چند اور قادیانی بھی اسمبلی میں براجمان ہوتے تو اسلام کا خدا حافظ تھا۔

مجلس احرار اور لیاقت علی خان مرحوم

مجلس احرار اسلام کے اخلاص کا مرحوم لیاقت علی خان پر اثر ہوا۔ انہوں نے ایسی مخلص اور فعّال جماعت کے مخلصانہ تعاون اور سرفروشانہ خدمت کو پاکستان کے اعلیٰ مفاد کے لئے بہت مفید سمجھا۔ (اس باہمی اعتماد کا میاں انور علی صاحب آئی۔ جی کو اعتراف ہے) مجلس احرار کو یہ بھی خوشی تھی کہ مرحوم لیاقت علی خان پاکستان کو کامن ویلتھ سے علیحدہ کرنے کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ نے پاکستان کو گھڑے کی مچھلی سمجھ رکھا ہے۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد مرحوم کے خلاف ایک سازش پکڑی گئی۔ جس میں ظفر اللہ

صفحہ ۵۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خان کا ہم زلف میجر جنرل نذیر احمد شریک تھا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ شہید ہو گئے۔ جس کے بعد پہلی مرتبہ کراچی میں مرزائیوں کو پبلک جلسہ کی اجازت دی گئی جو اس سے پہلے سال مرحوم نے نہ دی تھی۔ ان کے مرنے کے بعد مرزائیوں نے اودھم مچایا اور ظفر اللہ خان جیسے ذمہ دار آدمی بھی کافرانہ تبلیغ کے میدان میں اتر آئے۔ جسے عامۃ المسلمین نے بری طرح محسوس کیا۔

معزز عدالت! ایک جماعت کے بارے میں جب کبھی کوئی رائے قائم کرنی ہو تو اس جماعت کے ریزولیوشن اور مقاصد کو دیکھا جائے گا۔ پھر اس کے اعلانات اور اخباری بیانات کو۔ مجلس احرار نے تقسیم ملکی کے بعد تجویز کے ذریعہ اپنے مقصد کا اعلان کیا۔ پھر بیانات دئے۔ اخبارات میں مضامین شائع کئے۔ دفاع کانفرنسیں کیں اور آخر کار عملی طور پر مسلم لیگی حکومت بنانے میں، انتخابات میں پورا تعاون کیا۔ کشمیر کے سلسلہ میں خدمات انجام دیں۔

باوجود اس کے ماضی پر بحث چھیڑ کر اس کی آڑ لینی قطعی طور پر دلائل و واقعات کے لحاظ سے بے سروسامانی کی دلیل ہے۔ ان لوگوں کو قائد اعظم کے طرز عمل کے مطابق ماضی کی تلخیوں کو ”بھلا دو“ سے سبق لینا چاہئے تھا اور مرحوم لیاقت علی خان سے جنہوں نے تعاون و باہمی اعتماد کی راہ کو پسند کیا۔ پاکستانی مفاد کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ملک میں یکجہتی اور تعاون و باہمی اعتماد کی روح پیدا کی جائے نہ کہ گڑھے مردے اکھیڑ کر تلخیوں کو تازہ کر کے سر پھٹول کا سامان پیدا کیا جائے۔ یہ کام انہی لوگوں کا ہو سکتا ہے جن کا فائدہ ہی اس میں ہو کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں۔ جیسے مرزائی یا ان کے ہمنوا، جو قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے کی بات کو بار بار یاد کرتے پھرتے ہیں۔ یہ بات ایک خاص وقت میں جماعت کے ایک لیڈر نے اپنی ذاتی رائے اور ذمہ داری سے کہی تھی۔ جب کہ مسلم لیگ کے شائع کردہ ایک ٹریکٹ میں سول میرج ایکٹ کا ذکر تھا۔ دوسرے نے اس ٹریکٹ پر اعتماد کر کے ایسا کرنا پسند نہ کیا۔ کاش کہ مسلم لیگی دوست وہ شائع نہ کرتے۔ بہر حال وہ ایک وقتی بات تھی جو وہیں ختم ہو گئی۔ قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد تمام اگلی باتوں کو بھلا دیا۔ وہ سب سے یکجہتی ہی کے لئے سوچ رہے تھے اور مجلس احرار نے بھی حکومت پاکستان کے استحکام کے لئے اپنی خدمات کا اعلان کر دیا۔ بہر حال وہ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن یار لوگوں کا قائد اعظم کی عزت سے کیا واسطہ۔ ان کو اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔ مرزائی ابھی تک اس کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے کہ مثلاً ایک شخص نے ابتداء میں خلیفہ قادیان کو ماں کی ایک گندی گالی دی ہو۔ کچھ عرصہ کے بعد دوری ختم ہو جائے اور خلیفہ اپنے اقتدار کے زمانہ میں بھی اس کا نام نہ لے۔ لیکن ایک شخص ہر محفل، ہر جلسہ میں یہ ذکر کرے کہ فلاں نے خلیفہ صاحب کو ماں کی ایسی گندی گالی دی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو خلیفہ کا دشمن اور اس کی عزت کے در پے سمجھا جائے گا۔

اور تعجب ہے کہ یہ بات بار بار اس پارٹی کی طرف سے اعادہ کی جاتی ہے جو عقیدہ کے طور پر قائد اعظم کو کافر سمجھتے ہیں جو تمام پاکستانی وزراء کو کافر سمجھتے ہیں۔ جن کا سب سے بڑا ذمہ دار آدمی ظفر اللہ خان قادیانی پاکستانی حکومت کو کافر حکومت کہنے سے ذرا شرم محسوس نہیں کرتا اور موقعہ پر موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھتا۔

دوسری بات

جو بعض ذمہ دار آدمیوں کی طرف سے کہی جاتی رہی یہ ہے ختم نبوت مسلمانوں کا جزو دین و ایمان ہے۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ لیکن احرار اس کو اپنے وقار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنے وقار کے لئے ایسا کرتے ہیں تو آپ لوگوں نے اسلام اور پاکستانی مفاد کے لئے کون سا ذریعہ اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کے خلاف اختیار کیا۔ اس کا جواب سوائے نفی کے کچھ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ بعض

صفحہ ۵۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آدمی ان میں سے مثلاً چیف سیکرٹری صاحب تو الٹا فرماتے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف کچھ کہنا ، مذہبی تفریق پیدا کرنا سماج دشمنی ہے۔ لیجئے! اب قادیانیوں کو کافر کہنا بھی جرم ہے۔

ان حضرات کا مجلس احرار کے کارکنوں کی نیت پر حملہ کرنا ایسا ہی غلط ہے ۔ جیسے یہ کہنا غلط ہے کہ یہ لوگ احرار کے بارہ میں ایسا کہہ کر چوہدری ظفر اللہ خان کے ذریعہ ترقی چاہتے ہیں یا اپنے کسی عزیز کو کہیں سفیر لگانا چاہتے ہیں یا یہ حضرات اس سے ڈر کر ایسا کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ احرار مرزائیوں کے خلاف انگریزوں کے زمانہ سے تبلیغ کرتے رہے ہیں اور وقار حاصل کرنے کی بجائے عمریں جیلوں میں گزار دیں ۔ بخلاف ان نیک حضرات کے کہ یہ اس وقت بھی انگریزی مفاد کی خاطر احرار کو جیلوں میں ٹھونستے رہے اور آج بھی اس پرانی عادت سے مجبور ہو کر یہی کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ غیر کی حکومت اور اپنی حکومت میں فرق ہونا چاہئے ۔ اس وقت جبر کی حکومت تھی۔ آج عوام کی حکومت ہے۔ اگر حکومت کے عمال حکومت بنانے والے عوام کے ساتھ غلط اور بے ضرورت متشددانہ سلوک کریں گے تو یہ حکومت کی ہر دلعزیزی کو تباہ کرنے ، سنگین جرم کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔

تحریک کے سلسلہ میں احرار پر الزام

سب سے بڑی بات تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں احرار کے خلاف یہ کہی جاتی ہے کہ تحریک کے لیڈر یہ تھے اور یہ کہ ان کا رویہ ۱۹۵۰ء سے ہی قابل اعتراض تھا اور یہ کہ اگر یہ جماعت خلاف قانون کر دی جاتی تو موجودہ فسادات نہ ہوتے۔

بات کا جواب

پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ اوّل تحریک کے لیڈر احرار نہ تھے۔ احرار نے جولائی ۱۹۵۲ء میں بقاء امن کے سلسلہ میں اپنے تعاون کا یقین دلا دیا تھا اور انہوں نے اس کے بعد کوئی امن شکن سرگرمی نہیں کی ۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کے دن سے مرزائیت کے سلسلہ میں ۹، ۱۰ حصہ کام مجلس عمل نے کیا ۔ آل مسلم پارٹیز کنونشن ۱۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کے جامعیت سے انکار کرنا سراسر ظلم ہوگا۔ جس میں سات سو کے قریب پیران عظام ، علماء کرام اور تمام اسلامی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے متفقہ طور پر مطالبات کی تائید کی اور اعلیٰ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ کنونشن کے بعد علماء تحریک کے ساتھ کام کرنے والے سمجھے گئے اور وزیر اعظم بھی علماء اور دوسری جماعتوں کی نمائندگی سوائے سید مظفر علی شمسی کے تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ یہ معلوم کر لیتے کہ کنونشن میں علامہ کفایت حسین اور دوسرے بڑے بڑے شیعہ نواب بھی شریک تھے تو وہ ایسا ہر گز نہ فرماتے ۔ بہر حال کنونشن کے بعد تحریک کی رہنمائی مجلس عمل نے کی۔ جس کی شاخیں تمام ملک میں قائم ہوگئیں۔ مجلس احرار اسلام اس میں ۲/۲۱ تھی۔ یعنی جہاں ۱۹ ممبر اور تھے۔ وہاں صرف دو ممبر مجلس احرار کے تھے۔ مجلس عمل کی تشکیل کے دوران اس کی شاخوں اور اس کے ساتھ تمام پارٹیوں کے تعاون سے انکار کرنا حقیقت کا انکار کرنا ہے۔

دوسرے یہ کہ تحریک کی رہنمائی کوئی مجرمانہ فعل نہ تھا ۔ جیسے پہلے عرض کیا جاچکا ہے ۔ مطالبات خلاف قانون یا غیر آئینی نہ تھے۔ مطالبات کے حق میں فضا پیدا کرنا اور زیادہ سے زیادہ تائید حاصل کرنا آج کل کی جمہوری دنیا کا عام رواج ہے۔ یہ بھی خلاف قانون فعل نہیں ہے۔ پھر چھ ماہ تک اپنی حکومت کی کوٹھیوں کا طواف کرتے رہنا اور درخواست پر درخواست یہ بھی خلاف قانون امر نہیں اور عامۃ المسلمین کے ایسے اہم اور مذہبی مطالبات سے اتنی بے رخی دیکھ کر نہ ان پر سنٹرل اسمبلی میں بحث ہو نہ آل پاکستان مسلم لیگ کی جنرل کونسل میں اور نہ ہی دستور ساز اسمبلی میں پیش ہو۔ مجلس عمل کا ایک ماہ کا میعادی نوٹس راست اقدام کا دینا جس کی تفصیل سے صوبائی اور مرکزی حکومت واقف تھی۔

صفحہ ۵۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوئی گردن زدنی جرم نہیں۔ زیادہ سے زیادہ راست اقدام کی جو صورت انہوں نے تجویز کی تھی اور جس پر وہ عمل کرنا چاہتے تھے۔ اس کے وہ ذمہ دار تھے۔ لیکن حکومت نے اس پروگرام پر ان کو عمل کرنے نہ دیا۔ دوسرے نمبر پر وہ جہاں چاہتی گرفتار کر لیتی۔ یہ بھی پروگرام کا حصہ تھا کہ جہاں حکومت رکاوٹ ڈالے، وہیں گرفتاریاں دو۔ لیکن حکومت نے گرفتاریوں کی جگہ دفعہ ۱۴۴ لاٹھی چارج، فائرنگ وغیرہ کا طرز اختیار کیا۔ جس میں دو لائنیں ہوگئیں۔ مجلس عمل کے لوگ گرفتار ہونے آتے اور گرفتار ہوتے اور عوام حکومت کے طرز عمل سے پریشان ہو کر اور کچھ مرزائیوں کی حرکات سے متاثر ہو کر اپنی من مانی باتیں کرنے لگے۔ جن میں غیر ذمہ دار لوگ یا خود مرزائی افراد ہو سکتے ہیں جن مرزائیوں کا یہی مقصد ہونا چاہئے کہ کسی طرح حکومت اور مسلمانوں میں تصادم ہوتا کہ تحریک ختم نبوت کو خوب کچلا جاسکے۔ بہر حال یہ حالات افسروں کے طرز عمل کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور میاں انور علی آئی.جی کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایس.ایس.پی نے اس وقت بھی کہا تھا کہ پبلک حکومت کے طرز عمل کو جارحانہ یا غیر ہمدردانہ سمجھتی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ میاں انور علی آئی.جی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ احرار کارکن تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی گرفتار کر لئے گئے تھے۔ ایسی شکل میں فسادات کی یا مابعد کے واقعات کی ذمہ داری ان پر کیسے عائد ہو سکتی ہے۔ جب کہ گرفتاری سے پہلے انہوں نے کوئی ایسا پروگرام نہ بنایا ہو بلکہ صرف مجلس عمل کی ماتحتی میں مجلس عمل کے پروگرام پر چلنا ہی اس کا پروگرام تھا۔

دوسری بات کا جواب کہ احرار کا رویہ ۱۹۵۰ء سے ہی قابل اعتراض تھا۔ جہاں انور علی صاحب آئی.جی نے بڑا زور دیا ہے کہ میں نے ۱۹۵۰ء میں بھی تحریک کی تھی کہ احرار کو خلاف قانون جماعت قرار دے دیا جائے۔ میری نہ مانی گئی اور پھر ۱۹۵۲ء میں بھی میں نے یہ تحریک کی۔ لیکن دال نہ گلی اور اسی طرح احرار کے خلاف الزامات کی بڑی فہرست تیار کی گئی اور مختلف اوقات میں ان کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔

معزز عدالت! اگرچہ ان باتوں کا موجودہ فسادات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف احرار کے بارہ میں اپنے دلی جذبات کا اظہار اور بھڑاس کا اخراج ہے اور جس کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ کسی وقت میں احرار مرزائیوں کو اتنا ننگا کر دیں گے کہ مرزائیت کے راستہ میں ناقابل عبور مشکلات حائل ہو جائیں گی۔ خیال فرمائیں کہ نفس مسئلہ پر قطعاً خیال نہیں کہ آخر یہ جماعت جو کہہ کر رہی ہے۔ اس کے اندر حقیقت کتنی ہے۔ مرزائی عقائد مرزائی سرکاری ملازمین کا طرز عمل مرزائی ارادے اور منصوبے کیا ہیں؟ اور جو الزامات احرار عائد کرتے ہیں۔ ان کی کیا حقیقت ہے؟ ان کو صرف ایک بات کھٹکتی تھی کہ کسی وقت ان کی تحریک بڑھ جائے گی تو آپ کے سر میں کیوں درد ہو۔ ہر جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی اشاعت کرے۔ عوام کو ہمنواء بنائے اور آپ کو بالمقابل مرزائی لٹریچر بھی دیکھنا تھا کہ آیا وہ بھی قابل برداشت ہے؟

بہر حال اگرچہ ان پرانے ارمانوں اور خواہشوں کا جن کی تکمیل اب انہوں نے کر لی ہے۔ موجودہ حالات فسادات سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ہم واقعات کا تاریخ وار تجزیہ کر کے ان کی استدلالی بے بسی بتاتے ہیں۔

اے.آر.پی اور دوسری دفاعی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ (میاں انور علی صاحب اس کو تسلیم کرتے ہیں)

میں احرار مسلم لیگ اور حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ (سب کا مسلمہ بیان)

صفحہ ۵۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گویا رپورٹ میاں انوار علی صاحب کے جذبات کا نتیجہ تھی۔ ان کو احرار لیڈروں کا لب ولہجہ پسند نہ تھا۔ ورنہ اس وقت بھی یعنی ۱۹۵۲ء میں بھی کوئی تقریر خلاف قانون نہ ہوئی۔ پھر دوسری جماعتوں کی شرکت سے اعتدال کی بھی امید تھی۔

مثلاً کوئٹہ کے ایک مرزائی ڈاکٹر کا قتل، جو ایسے جلسہ کے وقت ہوا جب کہ وہاں ایک اہل حدیث عالم تقریر کر رہے تھے اور ڈاکٹر مذکور نے وہیں اشتعال انگیز لب ولہجہ میں اعتراض کیا۔ اس وقت تک کوئٹہ میں مجلس احرار کا نام تک نہیں تھا اور نہ آج وہاں جماعت موجود ہے۔ دوسرا واقعہ اوکاڑہ کے مرزائی کا ہے۔ حالانکہ گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر نے اسی عدالت میں یہ اقرار کیا کہ مرزائی ڈپٹی کمشنر اپنی

صفحہ ۵۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تبلیغ جاری رکھے ہوئے تھا۔ جس کا نتیجہ ایک آدمی کا قتل ہوا۔ (مسلمان دیہات میں وہ تبلیغ کیا کرتا اور علی الاعلان کفر کی دعوت دیتا تھا) راولپنڈی کا ایک قتل پیش کیا جاتا ہے۔ جس کے بارہ میں خود میاں انور علی صاحب آئی جی تسلیم کرتے ہیں کہ قتل کی فوری وجہ کچھ اور تھی اور حقیقت یہ ہے کہ قتل کی زیادہ تر واردات فوری اشتعال ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

مگر ہمارے بعض حضرات کو ہر واقعہ کے ساتھ جو احرار سے متعلق نہ ہو لیکن جوڑتے رہنے میں مزہ آتا ہے۔ مثلاً ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ لیکن احرار کی نسبت خراب ہے یا احرار نے انقلاب میں مسلمانوں کی حفاظت کی۔ لیکن خود بھی محفوظ نہ تھے یا احرار نے دفاع کانفرنسیں کشمیر کے لئے کام کیا۔ لیکن عوام ان کو مشکوک سمجھتے رہے۔ احرار پاکستان کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ لیکن ان پر شبہ کیا جاتا تھا۔

ارمان

پھر بعض کو یہ ارمان ہوتا ہے کہ اگر ۱۹۵۰ء میں ہی ان کو ختم کر دیا جاتا اور خلاف قانون قرار دیا جاتا تو بہت آسان تھا۔ اس وقت تحریک بھی کمزور تھی اور احرار کی وفاداری آزمائشی دور میں تھی۔

معزز عدالت ! ایک مسلمان کے لئے یہ خوشی کا مقام ہو سکتا ہے کہ عامۃ المسلمین ایک گمراہ فرقہ کی گمراہی سے واقف ہو گئے اور وہ اپنے بچاؤ کے لئے حکومت کو متوجہ کر رہے ہیں۔ پھر وہ اس سلسلہ میں حکومت کو بھی مناسب مشورہ دیتے۔ لیکن یہاں تحریک کی ترقی پر اظہار پریشانی ہے۔ حالانکہ ان الفاظ میں تحریک سے مراد قادیانیوں کے خلاف تحریک ہے نہ موجودہ ہنگامے، موجودہ ہنگامے تو غیر متوقع طور پر حکام کے غلط رویہ کا لازمی نتیجہ ہیں۔

اسی طرح کسی فعال اور مخلص جماعت کا جس کے لاکھوں ہم خیال ہوں۔ دور آزمائش سے کامیابی سے نکل آنا اور پاکستان کا صحیح وفادار خواہ ثابت ہونا قابل ہزار مسرت ہے۔ مگر یہاں اس پر افسوس کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا اس شک و شبہ کے آزمائشی دور ہی میں ختم کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ اس وقت یہ کام آسان تھا۔ کاش کہ ہمارے اعلیٰ افسر ذرا بلند نگاہی سے دیکھتے اور پرانی تلخیوں سے نیز صرف مرزائیوں کی مخالفت کو دیکھ کر رائے قائم کرنے سے اجتناب کرتے۔

معزز عدالت ! مجھے پھر یہ عرض کرنا ہے کہ لاہور وغیرہ کے پیش آمدہ حالات بالکل عمال حکومت کے خود پیدا کردہ تھے۔ ورنہ میانوالی، راولپنڈی اور ضلع کیمبل پور کے علاوہ کراچی میں کیوں ایسے حالات پیش نہ آئے؟ جب کہ وہاں جتھے رمضان شریف تک یعنی مسلسل تین ماہ تک روزانہ گرفتار ہوتے رہے۔ یہ محض اس لئے کہ وہاں گرفتار کر لینے کے سوا کوئی دوسرا اقدام حکام نے نہیں کیا۔ جس سے عوام مشتعل ہوں اور عوام اور حکومت کی جنگ جیسی شکل پیدا ہو جائے۔ مجلس عمل کے ارکان نہ وہاں موجود تھے نہ لاہور میں۔ وہاں بھی عوامی ورکر کام کرتے تھے۔ یہاں بھی جلوس بھی کراچی میں نکلے۔ فرق صرف حکام کے طرز عمل کا تھا۔

خلاف توقع حالات کی ذمہ داری

بنا بریں یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ فسادات کی ذمہ داری دوسرے درجہ میں مرزائیوں پر ہے کہ غیر متوقع حالات یا فسادات کی ساری ذمہ داری حکام پر ہے۔ چاہے انہوں نے مرکزی حکومت کے حکم سے یہ رویہ اختیار کیا۔ چاہے صوبائی حکومت کے حکم سے، یا پھر مرزائی فرقہ پر ہے۔ جن کی اشتعال انگیزی عدالت کے سامنے واضح ہو چکی ہے۔ اگر غیر متوقع حالات میں کسی سابق اشتعال کا اثر ہو تو وہ صرف مرزائیوں کی اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے جس کے ثبوت میں مندرجہ ذیل باتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

صفحہ ۵۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(جیسا کہ خواجہ ناظم الدین نے فرمایا ہے)

(گورنر پنجاب نشتر )

سبب ہو سکتا ہے۔

سبب ہے۔

آدمی مجروح ہوئے۔ اگر راہنماء کنٹرول نہ کرتے تو اسی وقت سے بدامنی شروع ہو جاتی ۔ لیکن مجلس عمل کے رہنماؤں نے امن پر زور دیا۔

(ہوم سیکرٹری پنجاب)

(ہوم سیکرٹری پنجاب)

یہ یقیناً عامۃ المسلمین کے اشتعال کے اسباب ہیں اور ناممکن ہے کہ ایسی باتوں سے جن سے کروڑوں عوام کو اپنے مذہب اور حقوق خطرے میں نظر آ رہے ہوں۔ عام اضطراب اور بے چینی پیدا نہ ہو۔

معزز عدالت! تعجب اور افسوس ہے کہ مندرجہ بالا قسم کے واقعات کا جن کا تھوڑا سا حصہ ہی عدالت کے سامنے آسکا ہے۔ علم رکھتے ہوئے حکام ان کے بارے میں حکومت کے سامنے کوئی رپورٹ پیش نہ کریں اور نہ کوئی انسدادی کارروائی کریں۔ جب کہ ان سے کئی گنا زیادہ الزامات پبلک پلیٹ فارم اور اخبارات کے ذریعہ مرزائیوں پر عائد کئے جائیں۔ ان میں سے کسی کی تحقیق نہ ہو نہ کسی کارروائی کی سفارش ہو اور جو مسلمان عوام اور اپنی حکومت کو ان واقعات سے آگاہ کرنے اور مذہب کو ان کی دستبرد سے بچانے کے لئے چیخ و پکار کریں۔ ان ہی کا گلا گھونٹا جائے۔

مرزائی جرأت کی انتہاء

معزز عدالت! حکومت کی اسی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائی پاکستان پر قبضہ کے خواب دیکھنے لگے۔ کہیں بلوچستان کو احمدی صوبہ

صفحہ ۵۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بنانے کا خطبہ دیا گیا۔ کہیں علماء کو دھمکیاں دی گئیں اور اسی دلیری کا نتیجہ ہے کہ عین تحریک کے دنوں میں جب کہ فضاء کو درست کرنے کی سعی کی جانی لازمی تھی۔ مرزائی جیپ کار سے مسلمانوں پر گولیاں چلاتے ہیں۔ جس کی اطلاع ایس . ایس . پی کو بھی ہوتی ہے اور اس سے مسلمان ہلاک ہوتے ہیں۔ پھر شیخ بشیر احمد (قادیانی) کے مکان سے مسلمانوں پر گولیاں چلتی ہیں۔ جن سے دو آدمی جان بحق ہو جاتے ہیں۔ (ایس . ایس . پی) حد یہ ہے کہ سزا یافتہ مرزائیوں کو اور خود خلیفہ کے بیٹے کو جیل سے بالکل بے قاعدہ نکال دیا جاتا ہے۔ (سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل) پھر مرزائی افسر سیالکوٹ میں مسلمان عورت کو ننگا کر کے پیٹتے ہیں۔

معزز عدالت! اگر یہ عدالت نہ ہوتی تو یہ تمام باتیں مرزائی، ماں کے دودھ کی طرح بغیر ڈکار کے ہضم کر لیتے۔ کون ان کے خلاف نام لیتا۔ یہ باتیں اچانک نہیں ہوئیں بلکہ یہ باقاعدہ فوجی تربیت اور جماعتی ہدایات کے تحت ہوئی ہیں اور ایک مرتب اسکیم اور پروگرام کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہیں اور جب کہ حکومت نے مرزائیوں کا علیحدہ ایک دارالخلافہ برداشت کر لیا ہے تو اس کو اس سے زیادہ نتائج کے دیکھنے اور سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

احرار اور مرزائی کا مقابلہ

یوں تو یہ آسان ہے کہ احرار کا ماضی پیش کر کے عوام کو ان سے برگشتہ کر دیا جائے۔ یہ کہ احرار کی تحریک بد نیتی پر مبنی ہے۔ لیکن سچی بات کہنی جان جوکھوں کا کام ہے۔ احرار غریب ہوئے فنڈ ندارد، منصب ندارد، رسائی ندارد، انگریزوں کے تختہ مشق، ان کو مرزائیوں کی خاطر جو چاہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس میں ترقی کی امیدیں بھی ہیں اور کچھ کارگزاری بھی۔ لیکن برسر اقتدار مرزائیوں کے بارہ میں کچھ نہیں کہا جاتا نہ لکھا جاتا ہے۔ یہاں میں احرار اور مرزائیوں کا مقابلہ کرتا ہوں۔

احرار

صفحہ ۵۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی

علیحدہ ملاقات، جب کہ وہ مسٹر محمد علی وزیر اعظم کے ہمراہ گیا تھا اور جس کی علیحدہ ملاقات کو ہم شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب کہ یہ کبھی ہندوستان جانے پر غور کرتے ہیں۔

معزز عدالت! اگر مندرجہ بالا گیارہ باتیں بالعکس ہوتیں۔ یعنی مرزائی اعمال مذکورہ کے مرتکب اگر احرار ہوتے تو آج وہ بغیر کسی بحث کے گردن زدنی قرار پاتے بلکہ اگر ایک احرار لیڈر پاکستانی حکومت کے خلاف سازش میں ماخوذ ہوتا یا جماعت ہندوستان جانے پر غور کرتی یا ہندو سے علیحدہ بات اور ملاقات ہوتی۔ بس پھر مرزائی پراپیگنڈا اور ہمارے پرانے افسر جو کہتے یا کرتے خدا کی پناہ۔

اور اگر پاکستان کو کافر حکومت کہہ بیٹھتے ، چاہے وہ صرف ظفر اللہ خان کے اثر ہی کی وجہ سے ہو تو بھی طوفان برپا ہو جاتا۔ لیکن مرزائی آئینی جماعت اور احرار غیر قانونی جماعت، مسلمان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ظفر اللہ خان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

عام بے چینی کے بارہ میں تمام پاکستان کی رائے

معزز عدالت! اگر حکام و عمال کے غلط رویہ کے سوا کوئی سابق سبب بھی عوام کے اشتعال کا ہے تو وہ مرزائی حرکات وسکنات اور انتہائی اشتعال انگیزیاں ہیں جو پرانے مسلمانوں پر جارحانہ حملہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مسلمان قوم کا مرزائی غصب ونہب اور ان کے لٹریچر سے ناک میں دم آیا ہوا ہے۔ جس کے صرف ایک بار دیکھنے سے ہمارے سابق وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو انتہائی کوفت ہوئی تھی۔ پھر اس پر ان کے سیاسی عزائم کی غمازی کرنے والی مندرجہ بالا باتیں جن میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو قابل برداشت ہو۔ ہمارے دعویٰ کے اثبات کے لئے یہ کافی ہے۔ لیکن پھر بھی عدالت عالیہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ جب خواجہ ناظم الدین نے تمام پاکستان کے وزراء، گورنروں اور ذمہ دار فوجی اور سول افسروں کی کانفرنس بلائی تو انہوں نے بے چینی کا واحد سبب مرزائی تبلیغ ہی کو سمجھا۔ جیسا کہ محترم میاں انور علی آئی. جی بھی فرماتے ہیں کہ احمدی نظریہ کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ بنابریں اس کانفرنس نے

صفحہ ۵۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بالاتفاق مسلمانوں میں مرزائی تبلیغ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ تمام فتنہ کی جڑ مرزائی تبلیغ ہے۔ جس کے عام کرنے کے لئے چوہدری صاحب نے بازی لگا دی تھی۔

محترم عدالت! اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جب تک چوہدری ظفر اللہ خان وزارت اور حکومت میں شامل ہیں۔ مسلمان قوم کے جذبات و احساسات کا لحاظ نہیں کیا جاسکتا۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ تمام پاکستان کے متفقہ فیصلہ کو یوں گاؤ خورد کر دیا جاتا اور آج مرزائیوں کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملتا کہ احمدیت حق مذہب نہ ہوتا تو ہر طرح کامیابی کیوں اس کو ہوتی؟

احرار اور عام مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ

جناب والا!

تباہی سمجھ کر اس کے خلاف آواز اٹھائے، چاہے وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب ہو یا نہ ہو۔ یقیناً اس کو ایسے سمجھنے کے وقت اس کے خلاف احتجاج کا حق حاصل ہے۔

مل کر یہ مطالبہ کریں؟ ہرگز نہیں۔

اور آمریت سے کام لے تو مسلمانوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ حکومت کو اپنے جائز اور آئینی مطالبات کی طرف مائل کرنے کے لئے پرامن احتجاجی اقدام کریں؟ جن مطالبات کو وہ بقاء مذہب اور پاکستانی مفاد کے لئے ضروری تصور کرتے ہیں اور جس اقدام سے حکومت کو عوام الناس کی ہمدردی اور مطالبات کی قوت بتانا منظور ہو۔ جس اقدام کا وہ پروگرام وضع کریں اور بار بار پرامن اقدام کا یقین دلائیں، عوام کو پرامن رہنے کا کہیں۔

معزز عدالت! یہ بحث جداگانہ ہے کہ آیا ایسا اقدام خلاف قانون ہے یا نہیں۔ جائز ہے یا ناجائز۔ لیکن ایسے اقدام کو بغاوت یا لاقانونیت یا فسادات کی تجویز سے ہرگز تعبیر نہیں کر سکتے۔ جو مجوزین کے ذہن میں بھی نہ ہو اور حکومت ایسے اقدام کی روک تھام میں ایسے طریقے استعمال کرے۔ جس سے عوام مشتعل ہوں اور مجوزین کے رضا کار پھر بھی کوئی مزاحمت یا مقابلہ نہ کریں۔ بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے آپ کو پیش کریں یا اس موقعہ پر مرزائی یا اور پارٹیاں کوئی واردات کریں۔ جن کی روک تھام اور جن کا علم خود حکومت کو ہونا چاہئے تھا۔ جیسے کہ اقدام کی مخالفت کرتے وقت عوامی جذبات اور حفظ و امن کا خیال بھی اس کو ہونا چاہئے تھا تو کیا اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی یا پرامن تحریک کے مجوزین پر۔ جن کا ان سے کوئی واسطہ نہ ہو اور جو ان کے پروگرام کے خلاف ہو۔ خاص کر جب کہ یہ واضح ہو جائے کہ حکام کے غلط طرز عمل نہ ہونے کی وجہ سے کراچی اور راولپنڈی جیسی جگہوں میں تحریک عرصہ تک پرامن چلتی رہی ہو۔ جیسا کہ مجوزین کی رائے تھی۔

میرا مقصد صرف یہ ہے کہ آئینی مطالبات کے لئے آئینی جدوجہد، کوئی جرم نہیں اور بدرجہ مجبوری راست اقدام کی تجویز کرنے سے جس کا مطلب عدالت کے سامنے آچکا ہے، غیر متوقع فسادات یا حالات کی ذمہ داری ان رہنماؤں پر عائد نہیں ہوتی اور اگر راست اقدام ہی قابل اعتراض ہے تو اس کی ذمہ داری تمام اسلامی جماعتوں کے کنونشن پر برابر برابر عائد ہوتی ہے۔ جس نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

صفحہ ۵۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیونکہ ۱۳/ جولائی ۱۹۵۲ء کو کنونشن کے بعد تمام افسر مانتے ہیں کہ تحریک کو سب کی حمایت حاصل تھی اور سب اس میں شریک ہو گئے تھے اور فیصلہ جات بھی سب کی مشترکہ جماعت، مجلس عمل کرتی تھی جو کثرت رائے سے ہوتے تھے۔ اور اصولاً کثرت رائے کا فیصلہ ساری جماعت کا فیصلہ ہوتا ہے۔

ان حالات میں کسی قسم کی ذمہ داری صرف احرار رہنماؤں پر ڈالنا یہی معنی رکھتا ہے کہ بعض بلند پایہ افسروں کو احرار ۱۹۵۰ء سے قبل ہی کھٹک رہے تھے۔ غالباً ان کو مرزائیت کے اصلی خدوخال معلوم نہ تھے اور بعض بزرگ مثلاً سابق چیف سیکرٹری تو کافر کو کافر کہنے اور مرزائی کو کافر کہنے کو ہی سماج دشمنی تصور کئے ہوئے تھے اور مسلمان کا معیار اپنے کو مسلمان کہنا بتاتے تھے۔ جیسا کہ خلیفہ قادیان اب اپنی تکفیری فتوؤں کی ناقابل قبول منافقانہ تعبیریں کر کے اسی طرح حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے جیسے بلی اپنا گوہ چھپایا کرتی ہے۔

اور بدقسمتی سے وزراء اور اعلیٰ طبقہ کی رقابت بھی غریبوں اور مخلصوں کے لئے مصیبت ہو جاتی ہے۔ مثلاً احرار نے قوت حاکمہ کی حیثیت سے مسلم لیگ سے تعاون کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ممدوٹ وزارت تھی۔ احرار نے اس کے وقت میں دفاع کانفرنس کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔ جب مسلم لیگ نے انتخابات میں دولتانہ کو ٹکٹ دیا اس کی حمایت کی۔ کیونکہ احرار نے افراد سے رشتہ نہیں جوڑا تھا۔ اس کو حکومت اور لیگ سے تعاون کرنا تھا جو بھی حکومت ہو، اس طرح وہ رقیب طاقتیں اور ان کے سپورٹر بھی خواہ مخواہ مخالف ہو جاتے ہیں۔

معزز عدالت! ناممکن ہے کہ وزراء کی دھڑا بندیوں میں اعلیٰ آفیسرز شریک نہ ہوں ۔ طبیعتوں کا رجحان ضرور کسی نہ کسی طرف ہوتا ہے۔ پھر وہ مخلص اور با اصول افراد اور جماعتوں کو بھی ان کے ضمیر اور فیصلہ کے خلاف اپنی دھڑا بندیوں میں شامل دیکھنے کے آرزومند ہوتے ہیں۔ لیکن احرار مخلص اور اصولی جماعت ہے۔ اس نے تعاون کا فیصلہ صرف مسلم لیگ اور مسلم لیگی حکومت سے کیا تھا۔ اس کو اس سے بحث نہیں کہ کل کون تھا اور آج کون ہے؟

اس تمام بحث سے میری مراد یہ ہے کہ اس اظہر من الشمس حقیقت کے باوجود کہ جولائی ۱۹۵۲ء کی کنونشن کے بعد تمام پارٹیاں عملاً تحریک میں شامل تھیں اور باہمی سخت مخالف افراد بھی مجلس عمل کے تحت مل کر کام کر رہے تھے اور تحریک کی رہنمائی قطعاً مجلس عمل کے ہاتھ میں تھی۔ جس میں احرار کے ۲/۲۱ ممبر بھی شریک تھے اور اس حقیقت کو تقریباً اعلیٰ حضرات نے تسلیم بھی کر لیا۔ پھر بھی سارا نزلہ بر اندام ضعیف صرف احرار پر گرتا ہے۔ وہ خلاف قانون قرار دی جاتی ہے۔ اس کے ریکارڈوں اور دفتروں پر قبضہ ہوتا ہے۔ اس کے کارکن ابتداء ہی میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور مقدمہ کی پیروی کے وقت بھی وہ آزاد نہیں ہوتے۔ تاکہ سارا مواد پیش کر سکیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ ۱۹۵۲ء میں یہ اعلان کر کے کہ احمدی اور احرار کے جلسوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان کو غلط اہمیت دی گئی۔ وہ کیا پبلک جلسہ کرتے، جلسے صرف احرار کے روکنے تھے۔ لیکن اس کے اندر ایک اور بات بھی پوشیدہ تھی کہ جب جلسوں کی اجازت ہو تو دونوں کو ہو گی۔ اس طرف صرف احرار کو احمدی کے مقابلہ میں رکھ کر ایک تو تحریک کو صرف احرار کی تحریک کہہ کر کمزور کرنا تھا۔ دوسرے ان کے ساتھ ساتھ مرزائیوں کو برابر حیثیت دے کر ان کو بھی آزادی دینی تھی۔

معزز عدالت! اگر آج اسی بات کو دہرایا جاتا کہ احرار ہونا خلاف قانون ہے۔ اسی طرح مرزائی ہونا بھی خلاف قانون ہے۔ نہ کوئی احرار کا ممبر بنے گا نہ احمدیت کا۔ یعنی انجمن احمدیہ ربوہ کا تو کہا جا سکتا تھا کہ ہاں بالمقابل جماعتوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا گیا۔ لیکن احمدی بننے پر تو کیا پابندی لگ سکتی تھی۔ چوہدری ظفر اللہ خان کی برکت ہے۔ یہاں تو تمام پاکستانی وزراء، گورنروں کی متفقہ تجویز کہ مرزائی مسلمانوں میں تبلیغ نہ کریں۔ دریا برد ہو گئی۔

صفحہ ۵۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

معزز عدالت! کروڑوں اہل اسلام کے نازک مذہبی احساسات کو اس طرح نظر انداز کر دینا قطعاً پاکستان کی کوئی خدمت نہیں نہ ہی مذہبی عدل و انصاف کا تقاضا۔

راست اقدام کا جواز

معزز عدالت نے راست اقدام کے جواز پر بحث کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ راست اقدام، نیز عدم تشدد کی جنگ، مقاومت مجہول اور بعض اوقات سول نافرمانی کا استعمال ایک مخصوص طریقہ کار پر ہوتا ہے اور یہ طریقہ کار گاندھی نے آنحضرت ﷺ کے مبارک طرز عمل سے اخذ کیا تھا کہ ایک صحیح اور نیک کام ہے۔ اس کی راہ میں مشکلات ہیں۔ ان مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ کام کئے جاؤ۔ چاہے اس میں تکلیفیں ہی پیش آئیں۔ مثلاً آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو قریش نے مخالفت کی۔ آپ ﷺ نے پھر دی انہوں نے ایذاء دینی شروع کی۔ آپ ﷺ نے دعوت جاری رکھی۔ انہوں نے ایذاء رسانی، ایذاء کا مقابلہ نہیں کیا، نہ انتقام لیا گیا۔ صرف اس پاک کام کو جاری رکھا گیا۔ حتیٰ کہ سینکڑوں پھر ہزاروں ہم خیال پیدا ہو گئے اور آخر کار سارے قریش پر صداقت ظاہر ہوئی اور وہ سب مشرف بہ اسلام ہوئے۔

ہند میں بدیشی کپڑے پر پکٹنگ کی گئی کہ یہاں سے خریدنے نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ بدیشی کپڑا خریدنا اور بیچنا ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ انگریزی حکومت نے اس کو شخصی آزادی کے خلاف قرار دے کر رضا کاروں کو گرفتار کیا تو اور آگئے۔ وہ گرفتار ہوئے تو اور آگئے۔ وہ گرفتار ہوئے تو اور آگئے۔ کبھی اس غیر ملکی گورا حکومت نے سخت لاٹھی چارج کیا۔ رضا کاروں نے وہ بھی برداشت کیا۔ اس طرح جنگ جاری رہی۔ اسی طرح کی دو چار پر امن لڑائیاں انگریزوں کے جانے کا ایک سبب بنی۔ آج ہم چکلہ پر چار رضا کار کھڑے کرتے ہیں کہ اندر کسی کو نہ جانے دو۔ حکومت اس کو شخصی آزادی میں خلل قرار دے کر ان کو گرفتار کرتی ہے۔ ہم اور چار یا دس بھیجتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نہ مقابلہ کرتے ہیں نہ انتقام لیتے ہیں نہ تشدد کرتے ہیں۔ لیکن اپنا صحیح فریضہ ادا کرنے سے باز نہیں آتے۔ یہاں تک کہ یا ہماری طاقت ختم ہو جائے اور ہم خدا کے ہاں معذور سمجھے جائیں یا حکومت وقت جھک جائے اور چکلہ بند کر دے یا ہم حکومت کے سامنے حق و صداقت کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ چاہے کتنی ہی تکلیف پیش آتی رہے۔

خلاصہ راست اقدام

راست اقدام کا عملی معنی یہ ہوا کہ کسی صحیح مقصد کو باوجود مشکلات کے کرتے رہنا، لیکن تشدد یا طاقت کا استعمال نہ کرنا۔ چاہے یہ طاقت کا استعمال نہ کرنا اس لئے ہو کہ طاقت نہیں، یا اس لئے کہ طاقت کا استعمال مقصد کے لئے مضر ہے یا اس لئے کہ طاقت کا استعمال ملکی اور سیاسی مفاد کے خلاف ہے۔

یہاں مؤخر الذکر وجہ ہے کہ اپنی حکومت سے بغاوت یا لڑائی غلط ہے۔ البتہ اس کو حق بات کہتے رہنا ضروری ہے۔ حکومت جب تک صریح کافر نہ ہو اس سے بغاوت حرام ہے۔ البتہ اس کی سختی کے باوجود اس کے سامنے حق کی آواز بلند کرنا۔ از روئے حدیث بڑا جہاد ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: ”افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر“ کہ بہترین جہاد جابر بادشاہ کے سامنے حق کی آواز بلند کرنا ہے۔ پس مرزائی فتنہ سے اسلام کو بچانے اور کافر فرقہ کے اقتدار کے خطرے سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنی حکومت کے سامنے انسدادی تجاویز یا مطالبات پیش کرنا ایک صحیح کام ہے۔ اگر حکومت ان پر سختی کرتی ہے تو ہر طرح تکلیف برداشت کرتے ہوئے

صفحہ ۵۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطالبات پیش کرتے جائیں۔ یعنی ان کو حق کہا جائے کہ ایسا کرو لیکن گرفتاری یا تشدد کا کوئی جواب نہ دیا جائے۔ اسی طرح اپنا فرض ادا کرتے جائیں۔ اگر اگلوں کو مصیبت پیش آجائے تو دوسرے اس فرض کو ادا کریں۔ یہ ایک بڑا عزیمت کا کام ہے۔ معمولی دل گردے کا کام نہیں ہے۔ جب ایک ملک میں ایک مبلغ جاتا ہے اور وہ شہید کر دیا جاتا ہے تو دوسرا جا کر تبلیغ کرتا ہے۔ وہ قتل ہو جاتا ہے تو تیسرا جا کر دعوت توحید دیتا ہے۔ ایسی عزیمت کا ضرور اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کمزور انسانوں کو ان کی طاقت کے لحاظ سے مکلف فرمایا ہے۔ پس ہم اپنے وزیر اعظم کی کوٹھی یا دفتر میں جا کر فتنہ ارتداد کی روک تھام کے لئے چند تجاویز کو منظور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہمیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیتے ہیں۔ ہماری جگہ دس آدمی اور جا کر وہی بات کرتے ہیں۔

یہ اقدام دراصل اپنی جائز بات منوانے کے لئے ایک مظلومانہ طریقہ ہے اور آج کل کے رواج میں کہ آیا یہ مطالبہ جمہور کا ہے کہ یا نہیں۔ اس کا ثبوت بہم پہنچانا بھی ایک مقصد ہوتا ہے تا کہ وہ اصلی مقصد تسلیم کر لیا جائے۔ بہر شکل بغیر کسی جارحانہ اقدام یا متشددانہ طرز عمل کے، اپنی جائز بات منوانے کے لئے۔ کسی طرح کی کوشش کرنا جائز ہی جائز ہے۔ برائی کا روکنا اور بند کر دینا فرض ہے۔ شریعت نے پہلے ہاتھ سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ نہ ہو سکے تو پھر زبان سے ورنہ دل سے برا سمجھنے کا آخری حکم ہے۔ عام طور پر یہی حکم ہے جیسا کہ حدیث میں صاف وارد ہے۔ لیکن حکومت سے کسی بات کے منوانے کے لئے زبان ہی ذریعہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مقابلہ کی طاقت نہیں اور بغاوت کرنی یا کرانی جائز نہیں۔ اس لئے اس صورت میں حق کی آواز بلند کرنا ہی بڑا جہاد ہوگا۔ ایک کرے دوسرا کرے۔ بہر حال جتنے اس کے لئے تیار ہوں گے وہ اس جہاد کا ثواب پائیں گے کہ جابر یا ظالم کے سامنے حق بات کہی جائے۔ راست اقدام کا مطلب اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس لئے راست اقدام کی مظلومانہ اور پرامن تجویز کرنے والوں کے بارہ میں یہ کہنا کہ فسادات یا غیر متوقع حالات کے یہ ذمہ دار ہیں۔ بالکل قرین انصاف نہیں ہو سکتا۔ ان کے طریقہ پر کام کرنے والوں سے مختلف اضلاع اور خود کراچی میں کوئی بد مزگی نہیں ہوئی۔ لاہور میں ۲؍ مارچ تک پر امن جلوس رہے۔ گرفتاریاں دی گئیں۔ کوئی فساد نہیں ہوا۔ تحریک کے پانچویں دن یعنی ۳؍ مارچ کو دفعہ ۱۴۴ لگائی گئی۔ لیکن حکام نے دفعہ ۱۴۴ کی خاطر پبلک مقامات پر متشددانہ اور بقول ایس. ایس. پی غیر ہمدردانہ یا جارحانہ رویہ اختیار کر کے حالات بدل دیئے۔ اگر حکومت ان کو گرفتار کرتی رہتی تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔ پر امن گرفتاریاں ہوتیں۔ تحریک کے تحت جانے والے رضا کاروں نے تشدد کا تختہ مشق بن کر کوئی مقابلہ نہیں کیا۔ دفعہ ۱۴۴ پر کرفیو، پھر مارشل لاء، پھر مرزائی فائرنگ نے حالات ہی بدل دیئے۔ بازاروں میں خطرناک لاٹھی چارج سے آخر عوام کیا سمجھتے۔ پھر پرانے ذہن کے تحت کہ ابتداء ہی میں سختی کر کے کچل دو۔ ایسا کرنا اسلامی حکومت اور اپنی حکومت میں کیسے صحیح تصور کیا جا سکتا تھا۔

ضمیمہ

اسلامی حکومت کا پہلا تصور

جناب والا! میں چاہتا ہوں کہ اسلامی حکومت اور اس کے متعلقات پر کچھ عرض کروں۔ اسلامی حکومت کی طرف پہلی بار قرآن پاک نے اس وقت اشارہ کیا۔ جب کہ جنگ بدر سے پہلے تیرہ سال کے مسلسل مظالم سہنے کے بعد اللہ تعالیٰ، صحابہ کرامؓ کو جہاد و قتال کی اجازت دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ’’اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير (الحج: ۳۹)‘‘ کہ جن سے جنگ کی جا رہی ہے ان کو اب اجازت دی جاتی ہے کہ ان پر ظلم کئے جا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد کی طاقت رکھتا ہے۔ اس سے اشارہ تھا کہ اب جنگ میں خدائی امداد ہوگی اور کفار ذلیل ہوں گے۔ اسی آیت میں آگے چل کر فرماتے ہیں: ’’الذين ان مكناهم فی

صفحہ ۵۹۰

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوٰۃ وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر (الحج:۴۱) ’’کہ جن کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کو ہم زمین میں تسلط دے دیں تو یہ نمازیں قائم کریں گے۔ زکوٰۃ دیں گے۔ اچھے کاموں کا حکم دیں گے۔ برے کاموں سے روکیں گے۔ یہ اشارہ تھا کہ ان لوگوں کو عنقریب زمین کا اقتدار دیا جائے گا اور ان کے اس اقتدار کے وقت کا پروگرام خود ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ایسے ایسے کام کریں گے۔ یہ بھی اشارہ ہے کہ اس لئے ان کو زمین پر غلبہ دیں گے۔ پروگرام میں عبادات کا اہم حصہ نماز، مالیات واقتصادیات کا اہم حصہ زکوٰۃ مذکور ہے۔ بعد میں اچھے کاموں کا حکم اور بروں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ گویا زمینی اقتدار کے بعد یہ عبادات کا پہلا نظام قائم کریں گے۔ جس سے قوم کی اخلاقی اور روحانی حالت بلند ہو۔ خدا سے صحیح تعلق قائم رہے۔ پھر اقتصادیات یعنی مالی نظام درست کرنا ضروری ہوگا۔ اگر قوم کا کریکٹر بلند ہو اور مالیات مضبوط ہوں تو پھر اس قوم کو کوئی کمی نہیں رہتی۔ اس کے بعد ملکی قوانین کا نمبر ہے کہ اچھے کام جاری کئے جائیں اور برے کاموں کو بند کر دیا جائے۔ یا یوں سمجھیں کہ خود بھی پابند ہوں گے اور دوسروں کو بھی پابند کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسلامی حکومت کا دوسرا تصور

اس کے بعد صفائی سے صحابہ کرامؓ سے وعدہ کیا گیا: ’’وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضیٰ لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا یعبدوننی ولا یشرکون بی شیاء (النور:۵۵)‘‘ کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے۔ ان کو ہم ضرور زمین کی خلافت دیں گے۔ جیسے ان سے پہلوں کو دی ہے اور ان کا دین اچھی طرح جما دیں گے اور ان کو خوف کے بعد امن وامان دیں گے۔ وہ ہماری عبادت کریں گے اور ہمارے احکام میں کسی کو شریک نہ کریں گے۔

اس آیت میں اگرچہ ساری باتیں خدائی وعدوں کی شکل میں بتائی ہیں۔ لیکن یہ سارے کام بہرحال ان ہی کے ذریعے کئے جائیں گے۔ اس لئے یہ بھی خلافت ارضی کے مالک مسلمانوں کا پروگرام ہے۔ پہلے تو وعدہ ہی ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ہے۔ جس سے صاف مطلب یہ ہے کہ خلافت کے بعد بھی ایمان وعمل صالح کی پابندی ضروری ہوگی۔ ورنہ یہ غلط ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے انعام دیا جائے۔ انعام کے بعد ان سے انحراف کر دیا جائے۔ دوسرا وعدہ کہ ہم ان کے دین کو جما دیں گے۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت، منکرین زکوٰۃ وغیرہ فتنوں کا قلع قمع کر کے دین کو اچھی طرح جمایا گیا اور یہ کام خود صحابہؓ سے لیا۔ گویا دوسرا پروگرام یہ ہوا کہ خود نیک ہونے کے بعد ملک بھر میں دین کا بہتر انتظام ہو جائے اور نبوت کے مدعی یا ارکان اسلام کا کوئی مخالف نہ رہے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ خوف کے بعد ان کو امن وامان دوں گا۔ خوف روم وایران کا تھا۔ بغاوتوں کا تھا۔ بڑے بڑے بادل آئے۔ لیکن بالآخر تمام عرب میں ایسا امن قائم ہوا کہ صنعاء یمن سے مکہ تک ایک عورت سونا اچھالتے ہوئے آتی تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ تیسرا پروگرام ملک میں عام اور پورا امن وامان قائم کیا جائے۔ پھر ارشاد ہے کہ میری حکم برداری کریں گے اور میرے حکموں میں کسی کو شریک نہ کریں گے۔ مطلب صاف ہے کہ تمام قوانین الہیہ کا نفاذ ہو۔ اس کے مقابل کسی روس، امریکہ، فرانس، لندن کے قانون کو ترجیح نہ دی جائے اور عام عبادات کا نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ پکا ایمان، بہترین اعمال اور کریکٹر، پھر دین کی پختگی اور امن وامان کا قیام اور خالص خدائی احکام کی پیروی کے بعد کون سی بات رہ جاتی ہے۔ یہ اسلامی حکومت کا دوسرا تصور ہے۔

صفحہ ۵۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسلامی حکومت کا عملی نمونہ

اس کے بعد خلافت راشدہ کا زمانہ آتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے سارے وعدے پورے فرماتا ہے۔ خلافت ارضی کے الفاظ سے ہی اس طرف اشارہ تھا کہ بادشاہت نہ ہوگی بلکہ اللہ کی نیابت ہوگی ۔ خدائی حکومت اور خدائی احکام کے نفاذ کے لئے یہ نائب ہوں گے ۔ بعینہ اسی طرح خلفاء راشدین نے کیا ۔ نمازوں اور عبادات کا نظام ، مالیات کا نظام ، امن وامان کا قیام ، دین کو تمام فتنوں اور مدعیان نبوت اور ارکان اسلام کے مخالفوں سے پاک وصاف کرنے کا کام ، پھر تمام خدائی احکام کا اجراء، امر بالمعروف اور ان کے خلاف سے بندش یعنی نہی عن المنکر ۔ انتہاء یہ کہ کسی وقت پر بھی خدائی حکم پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ یہ ہے اسلامی حکومت کا تصور اور اس کا عملی نمونہ ۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

اسلامی حکومت کے اوّلین تصورات میں سے برائی روکنا اور نیکی کو جاری کرنا ہے۔ آج مذہب کو پرائیویٹ معاملہ کہنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ اسلام کا خلیفہ دراصل خدا کا نائب ہوتا ہے۔ سیاست ملکی ، قیام امن ، نظام مالیات کے ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا انتظام بھی کرنا ضروری ہوتا ہے۔

بلکہ برائی کے مرتکبین کو اسلامی سزائیں دینا حکومت کا اوّلین کام ہے اور یہ بھی نہی عن المنکر میں داخل ہے۔ اگر مذہب پرائیویٹ معاملہ ہے اور بقول مرزا محمود کسی کو یہ ضروری نہیں کہ وہ دوسروں کو کسی بات کرنے کا کہے یا روکے تو اسلامی تعزیرات کا کیا معنی؟

زنا، چوری، قتل، تہمت وغیرہ جرائم شرعی پر سزاؤں کے اجراء ونفاذ کا کیا مطلب ۔ مرتد کو قتل کی سزا کیسی ۔ شراب پر سزا کیسی ۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ جرائم کرنے کے بعد سزا تو دی جاسکتی ہے۔ لیکن کرنے سے پہلے ارتکاب جرم سے روکنا غلط ہے ۔ چوری سے نہ روکو۔ قتل سے نہ روکو۔ مرتد ہونے سے نہ روکو۔ زنا کرنے دو۔ شراب پینے دو اور جب وہ ارتکاب جرم کر بیٹھے تو پھر سزا دو۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جس اسلام کی بنیاد ہی یہ ہے کہ شرک چھوڑ کر توحید کا اقرار کرو، رسول کو مانو اور قیامت کو مان کر اس کے حساب سے ڈرو اور نمازیں پڑھو، ماں باپ کی نافرمانی ، ایک دوسرے پر ظلم اور خیانت نہ کرو۔ اس اسلام کے پیرو آج امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت نہیں سمجھتے اور دعویٰ اسلام کا ہے۔

بعثت انبیاء اور تبلیغ

کیا انبیاء اس لئے تشریف نہ لاتے تھے کہ وہ حق کی دعوت دیں اور باطل سے منع کریں اور کیا انبیاء نے اس فریضہ کی ادائیگی میں جانیں تک قربان نہیں کیں ۔ اسلام تو ہر مسلمان پر انفرادی طور پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر لازم کرتا ہے ۔ ”کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنکر “ اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو برائی دیکھو اسے ہاتھ سے مٹاؤ۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکو۔ ورنہ دل سے برا سمجھو۔ اگر برائی سے روکنا ضروری نہیں تو صدیق اکبر ؓ نے منکرین زکوٰۃ سے اور مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے کیوں جہاد کیا اور خود آنحضرت ﷺ کو کیا پڑی تھی کہ تبلیغ کرتے کرتے لہولہان ہو جاتے ۔ اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر اتنا زور دیا ہے کہ ایک معمولی مسلمان خلیفہ کو ٹوک سکتا تھا اور خلیفہ کو ماننا پڑتا۔

صفحہ ۵۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیاست و مذہب

اس بیان سے صاف ہو گیا کہ مسلمان حکومت کا پروگرام تمام ملکی انتظامات کے ساتھ ساتھ مذہب و دین کو تمام فتنوں سے پاک کر کے جاری رکھنا۔ اخلاقی قدروں اور مذہبی پابندیوں کا خاص انتظام کرنا بھی ہے۔ اسلامی حکومت کا انعام ہی اسلامی اعمال کی بناء پر تھا اور اس کا پروگرام بھی وہی تھا وہی خلیفہ ہوتا وہی جماعت کا امام، اس کے تقرر میں بھی اسلامی فضائل کا لحاظ ہوتا اور اس کے خلافتی احکام کو بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے جانچا جاتا تھا۔ خلفاء نے دنیا بھر میں اس امر کی دھاک بٹھا دی کہ عادلانہ اور صحیح نظام حکومت صرف اسلامی نظام ہی ہو سکتا ہے۔

کیا اب اس کا اعادہ ممکن نہیں

بہانہ جو اور بہانہ ساز لوگ کہتے ہیں کہ اب ایسا کرنا ناممکن ہے تو جتنا ممکن ہے اتنا تو کرنا چاہئے۔ ورنہ ایسا ہوگا کہ پلاؤ نہ ملے تو سوکھی روٹی بھی نہ کھاؤ اور بھوکوں مر جاؤ۔ خلافت راشدہ کے بعد بھی جب کہ بادشاہوں اور امیروں کے اعمال منہاج نبوت کے موافق نہ تھے۔ لیکن ملکی قانون قرآن تھا اور بڑی حد تک اس پر عمل ہوتا تھا۔ اس وقت تک اسلام دنیا میں آگے ہی بڑھا۔ جب قرآن پاک کو فوجوں، عدالتوں، درباروں اور گھروں سے العیاذ باللہ نکالا گیا۔ مسلمان بھی ذلیل ہوئے۔ ورنہ کیا محمد بن قاسم فاتح سندھ کا زمانہ خلافت راشدہ کا زمانہ تھا۔ ہرگز نہیں، لیکن ملک پر قرآنی قانون کی حکومت تھی اور اسی لئے عوام کا اکثر حصہ قرآنی رنگ میں رنگ جاتا تھا۔ اخلاق واعمال اور جذبات پر بڑا اثر تھا۔ اسی طرح سلطان محمود غزنوی وغیرہ کے ساتھ برکات کا ہونا اسی سبب سے تھا۔

ایک دھوکہ اور اس کا جواب

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب اسلامی نظام حکومت اسی لئے قائم نہیں ہو سکتا کہ اس کے لئے دنیا کے تمام مسلمانوں کی ایک یونٹ ہونی لازم ہے۔ جو فی زمانہ ناممکن ہے۔ یہ بڑا فریب اور اسلام کی پابندیوں سے نکلنے اور بھاگنے کا ایک بہانہ ہے اور قرآن پاک سے ناواقفی کا ثبوت قرآن پاک نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے کہ اگر دوسری جگہ کے مسلمان تم سے مدد چاہیں تو ان کی مدد کرو۔ ”وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر (الانفال:۷۲)“ بلکہ ان کی مدد لازمی ہے۔ مثلاً ہندوستان کے مظلوم مسلمان ہم سے امداد طلب کریں تو ان کی امداد ہم پر لازم ہے۔ لیکن ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ: ”الا علی قوم بینکم و بینہم میثاق (الانفال:۷۲)“ مگر ان مسلمانوں کی مدد ایسے وقت تم نہیں کر سکتے جب وہ مدد کے لئے ایسی قوم سے مقابلہ کے لئے بلائیں۔ جن کے درمیان اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پھر ہم وہاں کے مسلمانوں کی مدد ہندوستانی گورنمنٹ کے مقابلہ میں نہیں کر سکتے۔ ہاں! اگر ہم چاہیں تو پہلے معاہدہ کی منسوخی کا اعلان کر دیں۔ پھر مدد کریں ایسا ہو سکتا ہے۔ بہر حال اس میں قرآن مسلمان حکومت یا اسلامی حکومت کو ایک تعلیم دیتا ہے اور خود اس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک یونٹ نہ ہونے کی شکل میں بھی جہاں طاقت ہو اسلامی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ چاہئے دوسرے جگہ کے مسلمان اسلامی حکومت نہ بنا سکتے ہوں۔ نہ اسلامی حکومت میں شریک ہو سکتے ہوں۔

خلافت راشدہ کی راہنمائی

پھر اس فریب کی لغویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ خود خلافت راشدہ کے آخری دور یعنی حضرت علی ؓ کے زمانہ میں حضرت

صفحہ ۵۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے خطرناک جنگ ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آخر کار ایک یونٹ بنانے کا خیال ترک کر دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت شام و مصر پر رہی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت باقی تمام عالم اسلام پر۔ پہلی بار اسلامی نظام کی وحدت کی ضرورت کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ یہ ایک سوال ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ قیام وحدت جتنے کشت و خون کا طالب تھا اس کو پسند نہ کیا گیا اور اس کے بالمقابل دو حکومتوں کو برداشت کر لیا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایک یونٹ بناتے بناتے خطرہ تھا کہ مسلمانوں کی دونوں قوتیں اتنی کمزور ہو جائیں کہ بیرونی دشمن ہی غالب آجائیں۔ بہرحال یہ اسلامی تاریخ کا ایک باب ہے کہ ضرورت کے تحت علیحدہ علیحدہ نظام برداشت کر لئے گئے۔ لیکن دونوں جگہ قرآنی نظام تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پاک زمانہ تھا۔ اس لئے احیاء اسلام اور قرآنی نظام حکومت سے انحراف نہیں ہو سکتا۔ ہر دو جگہ کوشش اسی نظام کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب شاہ روم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں مدد چاہو تو میں حاضر ہوں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو لکھا کہ اے رومی کتے! اگر تو علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کرے گا تو ان کی طرف سے سب سے پہلے میں میدان میں لڑوں گا۔

بہر حال یہ بات ضرور ثابت ہو گئی کہ مشکلات کی وجہ سے وحدت قائم نہ ہو سکے تو بھی جہاں حکومت ہو وہاں اسلامی نظام حکومت ہی ہو اور اسلامی قوانین ہی کا اجراء ہو۔ پھر یہ حکومت جتنی بھی اس طرز کے قریب آتی جائے گی اس میں اتنی قوت و برکت پیدا ہو گی۔ اس لئے قرآن کی آیت اور خلافت راشدہ کی اس مثال سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ بکھرے ہوئے اور علیحدہ علیحدہ یونٹوں والے بھی اگر بنائیں تو خدائی احکام کے تحت اسلامی نظام ہی بنائیں۔ یہ کہنا کہ چونکہ ساری دنیا کے مسلمان ایک حکومت کے ماتحت نہیں اس لئے ہم اسلامی اور قرنی نظام نہیں چاہتے۔ یہ اسلام سے انکار کرنے کے لئے ایک حیلہ ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ چونکہ دنیا کے سارے مسلمان تابع قرآن نہیں رہے۔ اس لئے اب ہم سے بھی اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔

اسلامی حکومت اور غیر مسلم

اسلامی حکومت میں غیر مسلم بحیثیت رعایا کے رہ سکتے ہیں۔ اس وقت ان کے انسانی حقوق دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ مثلاً ان کی جان کی حفاظت، ان کے مال کی حفاظت، ان کی آبرو کی حفاظت، ان کے مکانوں اور عبادت گاہوں کی حفاظت حکومت کے ذمہ ہو گی۔ ان کے قتل کے عوض مسلمان قتل کیا جائے گا۔ اس طرح ان کو اپنے مذہبی رسوم و عبادت کی آزادی ہو گی۔ تجارت وغیرہ ذرائع معاش کی آزادی ہو گی۔ قانون کے ذریعہ انصاف حاصل کرنے کی آزادی ہو گی۔ ایک انسان کو باعزت زندگی گزارنے کے لئے یہ چیزیں از بس ہیں۔

حکومت میں حصہ

یہ نہ ہو سکے گا کہ وہ مسلمانوں کا امیر المؤمنین بنا دیا جائے گا یا جو امیر کے قائم مقام قوت ہو مثلاً وزیر یا گورنر ، اسی طرح چونکہ مسلمانوں کا امیر مسلمانوں کے ارباب بست و کشاد کے مشورہ سے منتخب ہوتا ہے اور ارباب بست و کشاد میں زیادہ تر دینداری، علم و تقویٰ، پرانا خادم اسلام ہونا وغیرہ ملحوظ ہوتا ہے۔ جیسے انصار و مہاجرین تھے۔ جن پر تمام عالم اسلام کو اعتماد تھا۔ اگر الیکشن ہوتا انہی حضرات کو تمام ووٹ ملتے۔ آج کل اسی طرز کے قریب قریب مجلس شوریٰ یا اسمبلی کا انتخاب ہو سکتا ہے۔ جس کو اپنا امیر یا حاکم نامزد کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے جب وہ غیر مسلم حاکم نہیں بن سکتا، حاکم ساز اسمبلی کا ممبر بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر حاکم سازی کے سوا وہ اپنی قوم کی طرف سے سرکاری کاموں کے

صفحہ ۵۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سلسلہ میں نمائندہ منتخب ہوتا ہے ہوتا رہے۔ اگر حکومت ان کی قوم سے چند آدمی مانگے۔ حکومت کو اختیار ہے۔ لیکن حاکم ساز یا آئین ساز اسمبلی کا ممبر وہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بات اس کے شہری اور انسانی حقوق سے زائد ہے۔ یہ تو حکومت کی بات ہے اور حکومت مسلمانوں کی ہے تو انہی کو وہ حکومت چلانی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں صاف احکام موجود ہے کہ غیر مسلموں کو اپنا راز دار نہ بناؤ، ان سے ایسی دوستی نہ کرو۔ ان کا بس چلے تو تمہارے خلاف کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ (جیسا کہ منڈل نے کیا)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ

اس سلسلہ میں امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ بصرہ میں ایک نصرانی منشی آیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بہت لائق ہے۔ اس کو دفتری کام کے لئے منشی رکھ لیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر کام نہیں چلتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ مر جائے پھر کیا کرو گے تو جو اس وقت کرو گے وہ ابھی سے ہی کیوں نہیں کر لیتے۔

تبلیغ کا حق

کسی غیر مسلم کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ اسلامی حدود اختیار میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرے۔ اس کی آسان وجہ تو یہ کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی حکومت میں کفر کی تبلیغ کی اجازت کیسے دی جائے؟ لیکن اس مسئلہ کو اہمیت کی وجہ سے ذرا زیادہ واضح کرنا لازمی ہے۔

اسلام اور دوسرے مذاہب

ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے جو فلاح دارین کا ضامن ہے۔ ابدی حیات اور اخروی نجات کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ”ان الدین عند اللہ الاسلام من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ (آل عمران : ۱۹) “ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین صرف اسلام ہے جو اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہو سکتا۔ اسلام انسانی اصلاح وفلاح کا ضامن ہے۔ اس سے انحراف ابدی جہنم کا مستحق قرار دیتا ہے جس کا خاتمہ اسلام پر نہ ہوا۔ وہ ابدالآباد دوزخ کا ایندھن بن جائے گا۔

کافر کے لئے دائمی جہنم ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ومن یعص اللہ ورسولہ فان لہ نار جہنم خالدین فیہا ابدا (الجن : ۲۳)“ دوسری جگہ ارشاد ہے: ”ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفر لہم ولا لیہدلہم طریقا۔ الا طریق جہنم خالدین فیہا ابدا (النساء : ۱۶۸، ۱۶۹)“ تیسری جگہ ارشاد ہے: ”وما ہم بخارجین من النار (البقرہ: ۱۶۷)“ چوتھی جگہ ارشاد ہے: ”ان اللہ لعن الکافرین واعدلہم سعیرا خالدین فیہا ابدا“ ان تمام جگہوں میں خالدین کے بعد ’ابدا‘ فرمایا کہ ہمیشہ رہیں گے۔ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ اس سے نکلیں گے نہیں۔ تمام امت کا یہی عقیدہ ہے۔

صفحہ ۵۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کافر کی بخشش نہیں ہو سکتی

’’استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفراللہ لہم (التوبہ: ۸۰)‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔

اسی طرح کافروں کی بخشش کے لئے دعا مانگنے سے قرآن میں ممانعت وارد ہے۔ بہرحال اسلام سے خارج لوگوں کے لئے جہنم کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جب دائرہ نبوت کا مرکز آنحضرت ﷺ کا وجود ہے کہ محیط سے جتنے خط آتے ہیں وہیں آتے ہیں۔ جب آپ ﷺ پر نبوت ختم ہے۔ جب آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری ہدایت نامہ مکمل صورت میں لاکر دنیا کے سامنے پیش کرکے حجت پوری کر دی ہے۔ جب تمام دنیا کے مذاہب تیرہ سو سال سے دلائل کے میدان میں اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکے۔ جب کہ اپنی صداقت میں شبہ کرنے والوں کو قرآن پاک نے مقابلہ کا چیلنج دیا ہے جس کو قبول کرنے سے آج تک دنیا عاجز ہے اور جب کہ تمام دنیا کے پاس کوئی قانون نہیں جو انسانی حیات کے تمام شعبوں پر حاوی اور اسے معراج کمال تک پہنچانے کا ضامن ہو۔ جب کہ آج کی اشتراکیت وجمہوریت، سرمایہ دارانہ نیز آمریت و شورائیت کی بحثوں میں پھنسی ہوئی دنیا کو کسی بھی نظام میں حقیقی چین حاصل نہیں اور ہر بیس سال کے بعد دنیا میں ان غلط اصولوں کے تصادم سے ایک خطرناک ایکسیڈنٹ ہوا کرتا ہے۔ جس میں کروڑوں بنی نوع انسان ہلاک ہوتے اور ملک پر عام تباہی آتی ہے اور یہ سب اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہ تمام انسان ایک خدا کے قانون کے سامنے جھک کر ایک ہی مساویانہ نظام میں کیوں منسلک نہیں ہوئے جب کہ عنقریب ان کو ہونا پڑے گا۔

اندریں حالات ہر انسان کا انسانی فرض ہے کہ وہ دوسرے ابناء نوع کو اسلام کی دعوت دے کر ان کو ابدی لعنت اور دائمی عذاب سے نجات دینے کی سعی کرے۔ اپنے بنی نوع سے شفقت ومحبت اور انسانی ہمدردی کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ افراد ذلت وعذاب سے بچ کر اس صراط مستقیم پر گامزن ہو جائیں۔ جس پر چلنے سے دائمی مسرت، ابدی حیات اور نجات حاصل ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ انسانی برادری اور ہمدردی کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہزاروں مصیبتیں جھیل کر بھی انسانوں کو اس راہ کی دعوت دیتے ہیں۔ کیونکہ ’’ارحم الراحمین‘‘ خدا کے بعد اس کے بندوں سے سب زیادہ شفقت انبیاء علیہم السلام کو ہوتی ہے۔ اسلامی حکومت کا سب سے بڑا مقصد بھی یہی ہونا چاہئے کہ اپنے اقتدار سے بندگان خدا کی یہ سب سے بڑی خدمت کی جائے۔ بہرحال تبلیغ کا دارو مدار شفقت پر ہوتا ہے اور نوع انسانی کی ہمدردی پر۔

تبلیغ کی اہمیت

اسی بناء پر ارحم الراحمین خدا کا زیادہ حکم بھی یہی ہونا چاہئے کہ مبتلائے آزمائش بندوں کو راہ نجات کی دعوت دو اور انبیاء علیہم السلام کا کام ہی یہی ہے اور خاتم الانبیاء علیہم السلام نے تو ہر امتی کو حکم دیا کہ دوسروں تک پہنچاؤ۔ اسی لئے اسلام کو تبلیغی مذہب کہتے ہیں۔ پس اسلامی حکومت کا سب سے پہلے یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ صحیح اسلام کی تبلیغ واشاعت کا انتظام کرے۔

معکوس ترقی

مگر برا ہو آج کل کی معکوس ترقی کا کہ بجائے اس کے نوع انسان سے ہمدردی کے لئے اسلام کی تبلیغ کی جاتی۔ کفر سے نکالنے کی سعی کی جاتی۔ الٹا ملک وحکومت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی اجازت کیوں نہ دی جائے؟ وہ شہری حقوق سے

صفحہ ۵۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیوں محروم ہوں؟ یہ شہری آزادی کا نام ونہاد مفہوم یورپ کی لعنت ہے۔ جس کی آڑ میں مسلمانوں کے مذہب کا تیا پانچا چاہتے تھے۔ شہری آزادی کا جتنا ضروری حصہ تھا وہ ہم عرض کر آئے ہیں۔ لیکن شہری آزادی کی آڑ میں اشاعت کفر کی اجازت دینا بنی نوع انسان پر ظلم نہیں تو کیا ہے؟

تبلیغ کفر کی اجازت

جو لوگ کفر کی تبلیغ کی اجازت دیتے ہیں وہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتے یا تو وہ مذہب اسلام کو ابدی نجات وسرمدی حیات کا ذریعہ نہیں سمجھتے۔ ان کا عقیدہ حقانیت اسلام پر نہیں یا وہ انسانیت کے دشمن ہیں کہ بجائے اس کے، تاریکی سے انسانوں کو نکال کر روشنی میں لائے جانے کی کوشش کی جاتی۔ وہ روشنی سے نکال کر تاریکی میں لے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ کیا بنی نوع انسان کی ہمدردی کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ ایک شخص کو جو سیدھے راستے پر جا رہا ہے ورغلا کر ایسے راستہ پر لگا دیا جائے جس پر چل کر وہ کنویں میں جا گرے اور ہلاک ہو جائے۔

شہری آزادی کے نام سے شیطانی کام

دراصل مغربی جادوگری نے جہاں اور بیسیوں عیبوں کو خوبیوں کے رنگ میں پیش کیا ہے، وہاں شہری آزادی کے نام سے ہر شخص کو ہر مذہب کی تبلیغ اور ہر مذہب اختیار کرنے کا حق دیا ہے۔ اس گمراہی کو مذہبی آزادی، ضمیر کی آزادی اور شہری آزادی کے خوبصورت الفاظ سے دلربا بنانے کی سعی کی ہے۔ جس کی آڑ میں رضامندی کی زنا کاری، اسلام سے مرتد ہو جانے اور کفر والحاد کا پروپیگنڈا کرنے کی عام اجازت دے کر دین حق سے بغاوت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ہر شخص آزاد ہے کہ قرآن پاک اور حدیث رسول سے تلعب کرے۔ جس آیت کا جو معنی چاہئے کرے۔ جس سے متسلط قوت کو ضرور فائدہ پہنچا۔ مگر مسلمانوں کا شیرازہ خطرہ میں پڑ گیا اور دین حق کے پرستاروں کو ہزاروں مشکلات کا سامنا ہوا۔

پہلا ازالہ

اس فریب خوردگی کا ایک ازالہ یہ ہے جیسا کہ کہا گیا کہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ اسلام کے بغیر نجات ناممکن ہے۔ جیسا کہ تمام مسلمانوں کا ہے تو پھر مسلمان اپنے حدود اختیار واقتدار میں اس امر کی اجازت کس طرح دے سکتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو راہ راست سے ورغلا کر دائمی عذاب میں مبتلا کیا جائے۔ خاص کر مسلمانوں کو۔

دوسرا ازالہ

اس طلسم کو توڑنے کے لئے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ضمیر وشہری آزادی کی وجہ سے ہر خیال کی اشاعت جائز قرار دی جاسکتی ہے تو پھر امریکہ میں کیمونزم کی اشاعت کیوں ممنوع ہے۔ اگر امریکہ میں کیمونزم کی اشاعت اس لئے ممنوع ہے کہ وہ امریکن جمہوریت، امریکن طرز حکومت یا امریکن سرمایہ داری کے خلاف ہے تو پھر اسلامی حکومت میں اسلامی اصول اور اسلامی طرز حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کی اجازت کس طرح دی جاسکتی ہے؟ حالانکہ امریکن جمہوریت اور روسی اشتراکیت انسانی وضع کردہ اصول ہیں اور صرف دنیوی مفاد سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی کا ضامن ہے۔

صفحہ ۵۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تبلیغ کفر کی اجازت کا ایک اور خطرناک نتیجہ

پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر کافر کو اپنے کفر کی تبلیغ کی اجازت ہوگی تو لازماً کافر ہو جانے کی بھی اجازت ہوگی۔ جس سے وہ ارتداد کی سزا کا مستحق ہوگا۔ اس طرح ایک ایسے جرم کی اجازت ہوگی۔ جس پر سنگین سزا تجویز کی گئی ہے جو بخاری شریف کی مشہور حدیث ”من بدّل دینہ فاقتلوہ“ (جو اپنا دین بدل ڈالے اس کو قتل کر ڈالو) اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک قتل ہے۔

پھر مستوجب سزا امر پر ابھارنے کی اجازت دینا کہاں کی عقلمندی ہے اور اگر ارتداد کی بھی اجازت ہو تو پھر حکومت کا اسلامی کہلانا اور قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانا ایک مضحکہ خیز بات بن جاتی ہے۔ یعنی سنت کے خلاف قانون نہ بننے دیں گے۔ لیکن یہ قانون بن سکے گا کہ ہر شخص کافر ہو سکتا ہے۔ پھر اسی طرح رئیس مملکت کے مسلمان ہونے کی شرط بھی غلط ہے۔ ممکن ہے ظفر اللہ خان جیسے بزرگوں کی وجہ سے وہ بھی مرتد ہو جائے۔ خاص کر جب کہ ارتداد جرم نہ ہو۔ اگر کہا جائے کہ نہیں چونکہ اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اس کو مسلمان ہی رہنا ہوگا تو پھر قانون کی صحیح تعبیر یوں ہو گی کہ رئیس مملکت جمہور اور اکثریت میں سے ہوگا۔

ایک اور خطرہ

یہ خطرہ بھی ہے کہ تبلیغ کفر کی اجازت ہوگی تو ہو سکتا ہے کہ روپیہ اور دیگر ذرائع کی فراوانی کی وجہ سے اسلام سے نکل نکل کر بیسیوں فرقے اور کافر قوتیں بنتی چلی جائیں۔ جن میں باہم نفرت و عداوت ہوگی بلکہ ہر ہر خاندان اور ہر ہر گھر میں اور ہر شہر میں الجھاؤ پیدا ہو گا تو جہاں ایک فیصدی مرزائی آبادی نے اپنی کافرانہ تبلیغ سے اودھم مچا کر پاکستانی اعلیٰ مفاد کو نقصان پہنچایا۔ اگر خدانخواستہ کفر کی تبلیغ سے دس بیس سال میں پچاس فیصدی آبادی مختلف مذاہب میں تبدیل ہو کر مرتد ہو جائے جو غلط اور گمراہ کن وسائل کی موجودگی میں ناممکن نہیں تو پھر ان کے باہمی آویزش کا تصور ہی لرزہ براندام کرنے کے لئے کافی ہے۔ جس سے ملک کو جو نقصان ہو گا وہ اظہر من الشمس ہے۔

مرزائیت کی تبلیغ

مرزا محمود جو غیر مسلموں کو تبلیغ کا حق جائز قرار دیتے ہیں وہ دراصل اپنے لئے راستہ صاف کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب کہ وہ مرزائی عقیدہ کی وجہ سے تمام عالم اسلام کے نزدیک کافر ہیں۔ بلکہ دوسرے کافروں سے بدتر کافر۔ کیونکہ اسلامی اصول، اولوالعزم انبیاء علیہم السلام اور بزرگان دین کی توہین کی اتنی جرأت اور اسلامی تعلیمات کی تحریف کی اتنی جسارت آج تک اور کسی کو نہیں ہوئی جو اس فرقہ ضالہ کو ہوئی اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ ختم نبوت، وحی، معراج جسمانی، ابدیت عذاب کفار، نزول مسیح، فرضیت جہاد، موالات نصاریٰ، نزول جبرائیل، بشارت احمد کے مصداق، قرآن کی تفسیر، مسئلہ بروز، آنحضرت کی دو بعثتوں، دو مسیحوں وغیرہ، بیسیوں مسائل میں مرزا قادیانی اور اس کی امت عامۃ المسلمین کے عقائد سے مخالف ہے جو وہ قرآن و سنت کے مطابق رکھتے ہیں اور ساتھ ہی مرزائی فرقہ کے ساتھ غلامانہ جراثیم بھی ہیں اور یہ لوگ اس لئے زیادہ نا قابل اعتبار ہیں کہ بیس سال کے اپنے مسلمہ عقائد یکدم انکار بھی کر دیتے ہیں۔ جیسے عام مسلمانوں کو کافر کہنے سے انکار جو صرف تحریک کے بعد ہی کیا ہے۔ اس سے ان کی منافقانہ پوزیشن بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ایسے فرقہ کو تبلیغ کی اجازت دینا یہودیوں اور عیسائیوں کی تبلیغ سے زیادہ منحوس اور مضر ہوگا۔ ان کی تبلیغ سے کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ اسلامی لبادہ اوڑھ کر مار آستین کی طرح موجب ہلاک ہوتے اور قوم میں ہزاروں فتنوں کو جگاتے ہیں۔

صفحہ ۵۹۸

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی کی تیار کردہ جرح

کتاب میں آپ کسی دوسرے مقام پر پڑھ چکے ہیں کہ مولانا غلام غوث ہزاروی مارشل لاء کے نفاذ تک لاہور میں رہے اور تحریک کی پشت پر رہ کر راہنمائی فرماتے رہے۔ آپ کے متعلق سرحد حکومت کی طرف سے گولی مار دینے کا حکم تھا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد آپ خانقاہ سراجیہ اور وہاں سے پھر بھلوال کے دیہات میں رہے۔ ان دنوں منیر کمیشن، انکوائری کر رہا تھا۔ اخبارات میں ظفر اللہ خان قادیانی اور مرزا بشیر الدین کے متعلق خبر آئی کہ وہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ آپ نے ان دونوں پر جرح کے لئے سوالات لکھ کر صوفی احمد یار آف بھلوال والوں کی معرفت حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم کو لاہور بھجوائے انہوں نے مجلس عمل کے وکیل حضرات کو وہ جرح مہیا کی جو یہ ہے۔

ظفر اللہ قادیانی پر جرح

کی نگرانی میں ہو۔ پاکستانی یا قبائلی افواج کشمیر خالی کر دیں اور ہندوستانی فوج میں بقدر مناسب تخفیف ہو؟

کو اس کے بغیر دستخط کرنے کے خلاف یا یہ معاہدہ مان لینے کے خلاف مشورہ دیا اور مہاراجہ کشمیر کی نگرانی کو کیوں قبول کیا؟

اور سردار عبدالرب نشتر نے مشورہ دیا تھا؟

بیان دیا تھا کہ تبلیغ جو مذہبی حق ہے، کو کسی سے نہیں چھینا جا سکتا؟

نے اپنے دستخطوں کے ساتھ احمدی (مرزائی) لکھا؟

گزشتہ سے پیوستہ سال ربوہ کے مرزائی فنڈ میں آپ نے اور آپ کی فیملی کے بعض زنانہ افراد نے بھی چندہ دیا تھا؟

صفحہ ۵۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرتے ہیں؟ اگر کہے کہ دونوں سے، تو پھر اصرار کر کے پوچھنا چاہئے کہ کیا دونوں کے ساتھ بالکل برابر تعلقات ہوں یا ایک سے زیادہ، ایک سے کم؟

افغانستان کو دفاعی اسکیم میں شریک ہونا چاہئے۔ اخباروں میں آچکا ہے ) اگر وہ کہے کہ ہاں تو پھر یہ سوال کیا جائے۔

یا غیر جانبدار رہ کر اپنے حالات بہتر بنانے کی کوشش کرنا؟ اگر وہ کہے کہ محل وقوع یا دیگر ضروریات یا حالات کے تحت غیر جانبداری ناممکن ہے تو یہ سوال کیا جائے۔

شریک ہونا مفید ہے یا مضر۔ (اگر وہ مضر بتائے تو امریکہ کی نظروں سے گرے۔ اگر مفید بتائے تو امریکہ کا ایجنٹ ثابت ہو اور گیہوں کا مسئلہ حل ہو )

کہ کیا وہ سفیر پھر احمدی ہو گیا تھا یا نہیں اور کیا وہ استاد احمدی تھا؟

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)

اینک منم کہ حسب بشارت آمدم عیسیٰ کجا ہست تا بنہد پا بمنبرم

(ازالہ اوہام ص ۱۵۸، خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)

خلیفہ جی (نام نہاد) نے پوچھا کہ کیا یہ ننگی ہیں اور آپ نے کہا کہ ننگی تو نہیں لیکن لباس ایسا ہے کہ بالکل ننگی ہیں؟

خونی ملاؤں سے انتقام لیں؟

صفحہ ۶۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تبلیغی جلسے کرنے میں امداد دوگے۔ اگر وہ کہے کہ نہیں تو پھر پوچھا جائے کہ جہانگیر پارک کی حرکت کیا غیر ذمہ دارانہ تھی؟

تم ان باتوں کو صحیح سمجھتے ہو؟

مرزا محمود پر جرح

صفحہ ۶۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بارے میں پوچھا جائے کہ کیا وہ تمہارے عہدیدار مرزائی تھے؟

پوچھا جائے کہ پھر یہ غلط اور قرآن کے خلاف ہے؟

جس میں فساد ہوا؟

سے شہادت بھی میسر نہ آسکتی تھی؟

صفحہ ۶۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیوں سے

ہائی کورٹ کے ۷ سوالات

مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات

اور

مجاہد ملت

مولینا محمد علی جالندھری کا تاریخی جواب

سوالات

نتائج ہیں؟

صفحہ ۶۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جناب عالی ! بندہ حضور والا کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہے ۔ جناب والا نے موجودہ انکوائری میں مرزائیت کے متعلق نفس مسئلہ کی بھی تحقیقات کرنا پسند فرمایا ہے ۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے عالی مرتبت انسان اس طرف توجہ فرمائیں۔ مگر اس میں کمی یہ ہے کہ جن حالات میں تحقیق ہو رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ مسئلہ کے تمام گوشے ظہور میں نہیں آ سکیں گے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہماری حکومت بھی ایک فریق کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ جس کی وجہ سے اہل اسلام کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہو سکتیں جو ان کو ہونی چاہئے تھیں اور بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ علماء کرام ایک طرح قابل مؤاخذہ سمجھے جارہے ہیں۔ اندریں حالات چونکہ مسئلہ کی تحقیق شروع ہوگئی ہے۔ لہٰذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ جناب والا نے مرزائیوں سے جن سوالوں کا تحریری جواب طلب فرمایا ہے۔ میں نے ان سوالات اور ان کے جوابات کو غور سے پڑھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل سوالات کا جواب سرے سے دیا ہی نہیں گیا۔ اس میں دھوکہ دہی اور تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔ اس لئے میں جواب الجواب پیش خدمت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ قبل اس کے کہ نمبروار جواب عرض کروں چند تمہیدی معروضات پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں ۔

نے یہ حدیث پڑھی تو حیرت ہوئی کہ جس نبی کی صفت ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ ہے۔ اس نے ایسے سخت الفاظ کیوں استعمال کئے۔ لیکن جب میں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین وغیرہ کی کتب پڑھیں اور ان میں کذب بیانی، دھوکہ دہی اور دجل وتلبیس کا مظاہرہ دیکھا تو معاً خیال آیا کہ حضور ﷺ نے گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھ کر اظہار حقیقت کے لئے ”دجال“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ (اس کے دجل کی مثالیں طوالت کلام کے خوف سے ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا)

کو باقی رکھے تو قاصد کذاب اور خائن تصور نہیں ہوتا۔ نہ اس سے نظام عالم تباہ وبرباد ہوتا ہے۔ لیکن اگر کلام کا مفہوم بدل دیا جائے تو نہ شریعت باقی رہتی ہے نہ دین۔ نہ نظام سلطنت قائم رہ سکتا ہے اور نہ سیاست مدن ۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نصوص کے الفاظ باقی رکھے۔ مگر مفہوم بدل دیا۔ ایسے انسان کو شروع میں زندیق کہا جاتا ہے۔ زندیق کا کفر کافر معاند کے کفر سے بھی زیادہ شدید سمجھا جاتا ہے۔

معانی کے مجموعہ کا نام ہے۔ یعنی جیسے کہ الفاظ کا انکار کفر ہے ایسے ہی معانی (متواترہ) کا انکار بھی کفر ہے۔ یعنی نصوص دین کے الفاظ کو تسلیم کرنا اور مفہوم متواتر کو بدل دینا صریح کفر ہے۔ اگر کوئی شخص ”اقیموا الصلوٰۃ“ کا اقرار کرے اور اس کا مفہوم فوجی پریڈ مراد لے یا زکوٰۃ کی فرضیت کو تسلیم کرے مگر اس سے بدن کی صفائی مراد لے یا فرضیت جہاد کو مانے مگر اس سے صرف ترک لذات مراد لے اور اسی طرح حضور ﷺ کو خاتم النبیین تو مانے مگر بجائے آخری نبی مراد لینے اور آئندہ دروازہ نبوت بند سمجھنے کے اجراء نبوت اور تسلسل نبوت اس سے مراد لے کر خاتم النبیین کے اصل مفہوم متواتر کا انکار کر دے۔ الغرض اس طرح کسی قانون کا منشاء بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ اسلامی قانون میں یہ شخص زندیق کہلاتا ہے اور کافر معاند سے بھی زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

صفحہ ٦٠٤

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیں۔ مثلاً:

چودھویں صدی مراد لی ہے اور اس آیت میں اپنے (غلام احمد) آنے کا ذکر مراد لیا ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ۲۷۶، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۶)

ہوں۔

(اربعین ص ۹، خزائن ج ۱۷ ص ۳۵۵)

آدم سے غلام احمد اور جنت سے مراد میری بہن جنت بیگم ہے۔

(تریاق القلوب ص ۷۰، خزائن ج ۱۵ ص ۲۸۸)

الغرض مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن پاک کی آیات کو بدل کر ان کا مفہوم مسخ کر کے خدا کی مقدس کتاب کا وہ حلیہ بگاڑا ہے کہ اسلام کی روح کانپ اٹھی۔

جھوٹ بول لیتا ہوگا۔ اسی لئے تو حضور ﷺ نے ایسے لوگوں کی نسبت کذاب کا لفظ فرمایا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اکثر کتابیں جھوٹ اور کذب کے مواد سے بھری پڑی ہیں۔ یہاں مجھے صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جب کبھی محسوس ہوا کہ اس کے دعوئی نبوت سے لوگ مشتعل ہورہے ہیں تو اس نے دعویٰ نبوت سے اس طرح انکار کر دیا۔ گویا یہ دعویٰ اس پر ایک الزام ہے۔ پھر شرعی اور غیر شرعی کی تقسیم سے بھی انحراف کرلیا۔ اس کے ثبوت کے لئے جامع مسجد دہلی کی تقریر اور مباحثہ لاہور مابین غلام احمد ومولوی عبدالحکیم کے راضی نامہ کی عبارت منجانب غلام احمد کافی ہے۔ ”سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ۲ ص ۹۵، مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۳۱۳، ۳۱۴)

اس ضمن میں صدر انجمن ربوہ کے جواب سوال نمبر ۵ کے تحت ایک حوالہ قابل غور ہے: اسی طرح ۱۹۰۱ء (تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کا جواب ص ۱۵) میں ”مولانا عبدالاحد خان پوری لکھتے ہیں تو نہایت تنگ ہوکر مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کرلیں۔ تب مرزا قادیانی نے ان کو کہا کہ صبر کرو میں صلح کرتا ہوں۔ اگر صلح ہو گئی۔“

یہاں یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ جب کسی نبی پر اس کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو کیا کسی نبی نے مخالفین سے کبھی صلح کی کوشش کی؟ صلح میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ اخذ اور عطاء یعنی کچھ لینا اور کچھ دینا۔ کوئی نبی اپنے دعوئی میں ایسی لچک کر سکتا ہے جس وجہ سے صلح ہو جائے؟

مرزا غلام احمد قادیانی نے دراصل ایسے موقع پر دعوئی نبوت سے انکار کر کے عوام کی مخالفت کو کم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ

صفحہ ۶۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیان کیا جاتا ہے کہ عبداللہ عرب ایک قادیانی نے بغداد جاکر رہائش اختیار کی اس کی نسبت وہاں کی حکومت نے تفتیش شروع کی ۔ اس نے اپنے باپ اور بھائی کا نام غلط لکھ دیا۔ ( یہ قادیانی غالباً وہاں جاسوسی کے لئے گیا ہوگا۔ جیسے قادیانی بیرونی ممالک میں تبلیغ کے پردے میں برطانوی جاسوسی کا کام سرانجام دیتے رہے ہیں )

اس قادیانی کے کاغذات برائے تصدیق قادیان آئے۔ عبداللہ عرب نے اپنے باپ کا نام نورالدین اور بھائی کا نام محمد صادق لکھایا تھا۔ اس پر مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ چونکہ وہ احمدی ہے۔ اس لئے اس سے متعلق کاغذات کی تصدیق کرا دینی چاہئے ۔ عبداللہ عرب نے چونکہ نورالدین سے طب پڑھی ہے۔ اس لئے وہ اس کا باپ ہوا اور احمدی چونکہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ لہٰذا محمد صادق اس کا بھائی ہوا۔ چنانچہ اس طرح ان کاغذات کی جھوٹی تصدیق کرائی گئی۔

( واقعہ مندرجہ کتاب ذکر حبیب مؤلفہ محمد صادق قادیانی ص ۴۶ )

دوسرا واقعہ: ضلع لائل پور میں ایک قادیانی الیکشن میں امیدوار تھا۔ علاقہ کے لوگوں نے اس کے مرزائی ہونے کی وجہ سے اس کی مخالفت کی۔ جب اسے اپنی کامیابی نظر نہ آئی تو اس نے بڑے مجمع میں کہا کہ میں مرزائی نہیں ہوں اور کہا کہ مرزا قادیانی کے متعلق میری یہ رائے ہے۔ یعنی اس کو کافر سمجھتا ہوں۔ لوگوں نے اس کی باتوں کا یقین کر کے اسے ووٹ دے دیئے۔ الیکشن کے بعد پھر احمدی کہلانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے جب اس سے سوال کیا کہ تو نے جھوٹ کیوں بولا تھا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے مرزائی ہونے سے انکار کیا تھا۔ احمدی ہونے سے تو انکار نہیں کیا تھا۔ جب اس سے دریافت کیا گیا کہ مرزا قادیانی کے متعلق جو الفاظ کہے تھے ان سے مراد؟ جواب میں کہا توبہ میں نے حضرت صاحب کے متعلق کب کہا تھا؟ مرزا سے میری مراد تو ”مرزا صاحبان“ والے سے تھی۔

عالی جاہ ! ان جوابات میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ اصل سوالات کا قطعاً جواب نہیں دیا گیا ہے۔ ہر سوال کے جواب میں دجل و تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔ اب میں نمبر وار جواب الجواب عرض کرتا ہوں۔ صدر انجمن ربوہ کے جواب کی عبارت کو ”مرزائیوں کا جواب“ اور اپنے جواب کو ”ہمارا جواب“ عرض کر کے عرض کروں گا۔

سوال انکوائری رپورٹ نمبر: ۱

جو مسلمان مرزا قادیانی کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتے۔ کیا وہ مومن اور مسلمان ہیں؟

مرزائیوں کا جواب: مسلم نام امت محمدیہ کے افراد کا ہے۔ ایمان دراصل اس روحانی اور قلبی کیفیت کا نام ہے۔ جس کو دوسرا نہیں جان سکتا۔ خدا تعالیٰ ہی اس سے واقف ہوتا ہے۔ باقی رہا مومن سو کسی کو مومن قرار دینا اصل خدا تعالیٰ کا کام ہے۔

ہمارا جواب: اس جواب میں مومن کی نسبت یہ لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی کو مومن ہونے کا علم نہیں۔ یہ تحریر کر کے اپنا عقیدہ چھپا لیا ہے۔ اسی کا نام دجل ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص دل سے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کو نہ مانے تو وہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔ جیسے منافق ۔ گویا نماز وغیرہ پڑھنے کے باوجود ہم اسے مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ دل کا حال معلوم نہیں۔ اگر زبان کے اقرار سے شرعی حکم لگائیں گے تو مومن پر بھی حکم لگایا جا سکتا ہے۔ جب کہ اس کے الفاظ اس قلبی کیفیت اور یقین کا پتہ دیں۔ جو مومن کے لئے ضروری ہے۔ یہاں یہ کہہ کر جواب سے گریز کرنا کہ مومن کہنا صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے، صحیح نہیں ہے۔

بہاول پور کے مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح میں جو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی حیثیت رکھتا تھا اور جس میں قادیانی جماعت نے بطور پارٹی

صفحہ ۶۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

حصہ لیا تھا۔ اس میں مومن کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ: ”جو اللہ تعالیٰ فرشتوں، کتابوں، رسولوں پر بعث بعد الموت اور تقدیر پر یقین رکھے۔“

(فیصلہ مقدمہ ص ۲۶)

گویا ایمان قلبی کیفیت کا نام نہیں۔ قلبی تصدیق کا نام ہے جس کی زبان ترجمانی کرتی ہے کہ : ”امنت بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت“ (یعنی کہ ایمان لایا میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ) مسلم امت کے افراد کا نام بتایا گیا ہے۔ اگر مسلم انسان کا مذہبی وصف نہیں بلکہ صرف نام ہے تو ”نام“ سے واقعی کوئی شخص محروم نہیں کیا جاسکتا۔ جیسے صالح محمد نامی کوئی شخص نماز ترک کرے اور علم الدین جہالت کی وجہ سے اور روشن دین اندھا ہونے سے اپنے ان ناموں سے محروم نہیں کئے جاسکتے۔ لیکن اگر نام نہیں بلکہ ایک مذہبی وصف ہے تو جس طرح ہندو، سکھ ہونے کے بعد ہندو نہیں رہتا۔ عیسائی اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی نہیں رہتا۔ پارسی یہودی ہونے کے بعد پارسی نہیں کہلاتا۔ ٹھیک اسی طرح مسلمان حضور کے بعد کسی دوسرے نبی کا اقرار کرنے کے بعد مسلمان نہیں رہتا۔ الغرض جس نبی ورسول کا ماننا کسی مذہب میں ضروری ہے اس کے انکار کے بعد وہ شخص یقیناً مذہبی وصف سے محروم سمجھا جائے گا۔ اب اگر مسلمان ہونے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے تو خلیفہ صاحب کا سیدھا جواب یہ تھا کہ : ”ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے منکر مسلمان نہیں ہیں ۔“ گویا انجمن احمدیہ کی طرف سے اس پہلو کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

مرزائیوں کا جواب : مندرجہ بالا تشریح کے مطابق اس نام سے (مسلم) محروم نہیں ہوسکتا۔ ظاہر ہے کہ اس تشریح کے مطابق اور قرآن کریم کی آیت: ”ھو سمکم المسلمین “ کے تحت کسی شخص کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے کی وجہ سے غیر مسلم نہیں کہا جاسکتا۔

(قادیانی جواب ص ۲)

ہمارا جواب : یہ جواب کہ مندرجہ بالا تشریح کی روشنی میں مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے کو مسلم کے نام سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یقیناً اگر مسلم کسی کا نام قرار دیا جائے تو جواب درست ہے اور تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اسے مذہبی وصف قرار دیا جائے جیسا کہ عدالت کا منشاء ہے تو پھر انکا کیا عقیدہ ہے۔ اس کا جواب ندارد۔ جواب میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی بجائے پہلے ایک غلط تشریح بیان کردی۔ پھر اس کی روشنی میں جواب دے دیا۔ عقیدہ بھی نہ بدلا اور جواب بھی تحریر کر دیا گیا۔

رات مے پی اور صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

مرزائیوں کا جواب : ممکن ہے کہ ہماری سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔

ہمارا جواب : غلام احمد سے لے کر ایک ادنیٰ قادیانی تک دنیا کے ۷۵ کروڑ مسلمانوں کو خارج از اسلام اور کافر کہتے آئے ہیں۔ مرزائیوں کو خطرہ تھا کہ آج اگر عدالت میں صاف اقرار کرلیا تو ساری دنیا پر کھل جائے گا کہ مرزائی مسلمان نہیں۔ اس لئے اصل سوال کا جواب گول کردیا۔ اس سوال کا جواب دینا کہ وہ الفاظ ہماری مخصوص اصطلاحات ہیں اور وہ عبارتیں احمدیوں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہیں ۔ یہ صریح کذب ہے۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد
صفحہ ۶۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حالانکہ ان عبارتوں میں صریحاً مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔

کوئی شخص دین اور دنیاوی اصطلاحات اپنی طرف سے وضع کرے اور ان کے مطابق معاملات کرنا چاہے اور کسی تنازعہ کے وقت یہ کہہ دے کہ یہ میری ذاتی اصطلاحات ہیں۔ کیا کوئی عدالت اس کی ان باتوں کو تسلیم کرے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں آج نماز ادا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق اور پھر اس نے نماز ادا بھی نہ کی۔ اس کی بیوی نے مطلقہ ہو جانے کا دعویٰ کر دیا۔ جب اس شخص سے دریافت کیا جائے تو وہ جواب دے کہ میری اصطلاح میں نماز فوجی پریڈ کو کہتے ہیں اور میں آج پریڈ میں شامل ہوا تھا۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت اس جواب کو تسلیم کر لے گی؟

مرزائیوں کا جواب: بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے والا مسلمان ہی کہلائے گا۔

مسلمان را مسلمان باز کردند

بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتابوں میں مسلمان کہہ کر خطاب کیا ہے۔ پھر اسی طرح موجودہ امیر جماعت احمدیہ بھی ان کو مسلمان کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں۔

ہمارا جواب: اگر مسلمان کے لفظ سے مراد مذہبی صفت نہیں بلکہ یہ قوم کا نام ہو گیا ہے تو یہ کس طرح دلیل بن سکتی ہے کہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے والے لوگوں کو بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ دراصل غیر احمدی کو مرزائی جب مسلمان کہتے ہیں تو ان کے ہاں وہ شخص مراد ہوتا ہے جو مسلمان کہلاتا ہے نہ کہ جو فی الحقیقت مسلمان ہے۔ اس کے ثبوت میں آئندہ حوالہ جات درج کئے جائیں گے۔

نوٹ: چونکہ کسی شخص کو عقیدۃً غیر کافر یا مسلمان کہنا دونوں ہم معنی ہیں اس لئے یہ عبارات قادیانی حضرات کے سوال نمبر ۱ کے جواب کی تردید میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ سوال نمبر ۲ کے جواب کی تنقید کے بعد عرض کروں گا۔

سوال نمبر:۲

کیا ایسا شخص کافر ہے؟

نوٹ: گویا عدالت کی طرف سے سوال یہ ہوا کہ سوال نمبر ۱ کے مطابق جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا کیا وہ کافر ہے؟

مرزائیوں کا جواب: کافر کے معنی عربی زبان میں نہ ماننے والے کے ہیں۔ پس جو شخص کسی چیز کو نہیں مانتا۔ اس کے لئے عربی زبان میں کافر کا لفظ استعمال ہوگا۔

ہمارا جواب: سوال دراصل دینی اور شرعی اصطلاح کا ہے۔ سوال سے لغوی معنی خارج ہیں۔ لغت کے اعتبار سے تو بعض جگہ کفر کرنا لازمی ہوتا ہے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے: ”وقد امروا ان یکفروا بہ“ اس کا نام خلط مبحث ہے کہ کافر بھی کہہ دیا جائے اور مورد اعتراض بھی نہ ہونے پائے۔ اس وقت ایسی بات کہہ دی جائے کہ بعد میں اس کی تاویل ہو سکے اور اعلان کر دیا جائے کہ ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم تو کافر سمجھتے ہیں۔

مرزائیوں کا جواب: ہمارے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد کسی مامور من اللہ کے انکار کے ہرگز یہ معنی نہ ہوں گے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے منکر ہو کر امت محمدیہ سے خارج ہیں یا یہ کہ مسلمانوں کے معاشرہ سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔

صفحہ ۶۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہمارا جواب : اس جواب میں مرزائیوں نے جو دجل کیا ہے شاید آج تک کسی نے ایسا نہ کیا ہو۔ سوال تو یہ تھا کہ کیا غلام احمد کو نبی (مامور من اللہ) نہ ماننے والا شرعاً کافر ہے؟ یا نہیں؟ انہوں نے اس کا تو جواب نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کسی مامور من اللہ کے انکار کے یہ معنی نہیں کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کا منکر ہو کر امت محمدیہ سے خارج ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد تمہارے نزدیک امت محمدیہ کے لئے نبی رسول اور مامور من اللہ ہیں یا نہیں اور اس مامور من اللہ کا انکار امت محمدیہ سے خروج کا سبب ہوگا یا نہیں؟ اس کا جواب ذکر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سوال اس ہی پہلو کی بناء پر تھا۔

سوال میں درج ہے کہ کیا ایسا شخص کافر ہے؟ جواب دیا کہ امت محمدیہ سے خارج نہیں۔ جواب میں صاف صاف اور واضح الفاظ میں کیوں نہ کہہ دیا کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا ہے وہ کافر نہیں ہے۔ بات صاف ہو جاتی اور ابہام دور ہو جاتا۔

ایسا کیوں نہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ”ایسا شخص نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۱،مؤلفہ مرزا بشیر الدین احمد ایم ۔اے)

مگر آج یہ عقیدہ قادیانی ظاہر نہیں کریں گے۔ تا کہ ان کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ درست تسلیم نہ کیا جائے۔ اگر مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانے کا مطالبہ درست تسلیم کر لیا جائے تو مرزائیت ختم ہو جائے گی۔ جواب میں ایک دجل تو وہ کیا جو نمبر ۱ میں درج کیا جا چکا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ سوال کے جواب میں کافر ہونا یا نہ ہونا ذکر نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کی جگہ امت محمدیہ سے خارج ہونا ذکر کیا ہے۔ ایسا کیوں کیا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک امت اجابت اور دوسری امت دعوت ۔ حضور ﷺ کے تشریف لانے کے بعد قیامت تک تمام بنی نوع انسان، اہل اسلام ، مشرک ، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی ، پارسی سب حضور ﷺ کی امت دعوت ہیں۔ اب ان کا یہ کہنا کہ امت محمدیہ سے خارج نہیں۔ دراصل مراد امت دعوت ہے تو اس طرح قادیانیوں نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی بھی نہ کی اور انکوائری کورٹ کے سامنے اپنے اصل عقیدہ کا اظہار بھی نہ ہونے دیا۔ مرزائیوں نے یہاں مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک عبارت کا حوالہ بھی دیا ہے کہ: ”ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر ہے کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کو ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ۱۷۹، خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۵)

ہمارا جواب : یہاں اس عبارت کو نقل کرنے کا مقصد ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ عبارت کو بلا تبصرہ اور بلا استدلال چھوڑ کر دوسری بات شروع کر دی ہے۔ عالی مرتبت جج صاحبان کو اس طرف خصوصی توجہ فرمانی چاہئے کہ قادیانیوں نے تکفیر کے عقیدہ کا ذکر اشارۃً تو کر دیا ہے مگر اس کی کوئی تصریح نہیں کی۔ تا کہ آئندہ یہ کہا جاسکے کہ ہم نے تو مرزا قادیانی منکر کی تکفیر کر دی تھی۔

سوال کے اصل اور صحیح جواب کے لئے ضروری تھا کہ واضح الفاظ میں اس طرح کہا جاتا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو جو شخص نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

اس لئے کافر ہیں کہ انہوں نے غلام احمد کو کافر کہا اور وہ کفر بموجب حدیث مسلمانوں پر واپس لوٹ آیا۔ یہ کہنا بھی غلط ثابت ہوا

صفحہ ۶۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ چونکہ غلام احمد کو مسلمانوں نے پہلے کافر کہا تھا۔ اس لئے اس کے جواب میں ایسے لوگوں کو کافر کہا گیا ہے۔ مولوی اللہ دتہ مبلغ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے انکار کرنے والے کے کفر پر حقیقت الوحی ص ۱۷۹ کی مذکورہ بالا عبارت سے استدلال کیا ہے۔

(روئیداد مناظرہ راولپنڈی ص ۲۳، ۱۵)

ان کا یہ کفر حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے سبب سے ہوگا اور غلام احمد اور اس کی جماعت نے جس کو کافر کہا وہ کفر غلام احمد کی نبوت کا باعث ہوگا۔

ثابت ہو گا کہ ان کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ دنیا کے ۷۵ کروڑ مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مامور من اللہ اور مسیح موعود نہیں مانتے اور اس کو اپنے دعویٰ میں سچا نہیں جانتے۔ وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہاں سب سے پہلے ایک ایسی عبارت درج کی جاتی ہے۔ جس سے یہ معلوم ہو گا کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کے متعلق اپنی تحریرات میں جہاں کہیں مسلمان کا لفظ استعمال کیا ہے اس کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا جاتا کہ جو شخص ان کو مامور من اللہ نہیں مانتا۔ وہ کافر نہیں ہے یا وہ کافر ہے۔ دونوں باتوں کو قطعی صورت میں ظاہر کیا جاتا تاکہ ابہام دور ہو جاتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

میں بھی دجل اور فریب سے کام لیا گیا ہے۔ پوری عبارت یوں ہے۔ ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید فرمائی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ۱۷۹، خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۵)

حقیقت الوحی کی مذکورہ بالا عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حسب ذیل باتیں بیان کی ہیں:

(غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

جناب عالی! مذکورہ بالا عبارت سے یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کی مراد یہ نہیں کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ مسلمان کا لفظ اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم کا نام ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب ہندو، عیسائی اور یہودی سے تمیز کرنے کے لئے مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ چند عبارات مندرجہ ذیل ہیں۔

صفحہ ۶۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمان مسلمان نہیں

چوں دور خسروی آغاز کردند
مسلمان را مسلمان باز کردند

”اس الہامی شعر میں اللہ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے تو لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ اب وہ خود کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ پھر ان کو نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔“

(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ص ۱۴۳ نمبر ۳ ج ۱۴)

مسلمان کا لفظ

”اس جگہ ایک شبہ بھی پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) اپنے منکروں کو حسب حکم الہامی اسلام سے خارج سمجھتے تھے تو آپ نے ان کے لئے اپنی بعض آخری کتابوں میں مسلمان کا لفظ کیوں استعمال فرمایا۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا قرآن شریف میں عیسیٰ کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو نصاریٰ کے نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ ضرور کیا گیا اور بہت دفعہ کیا گیا۔ مگر وہاں معترض نے اعتراض نہ کیا۔ جب وہ عیسیٰ کی تعلیم سے دور جا پڑے ہیں تو ان کو نصاریٰ کیوں کہا جاتا ہے؟ پھر یہاں اب یہ اعتراض کیسا؟

اصل میں بات یہ ہے کہ عرف عام کی وجہ سے ایک نام کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز اسم بامسمی ہو گئی ہے۔ مثلاً دیکھو اگر ایک شخص سراج دین نامی مسلمان ہے۔ عیسائی ہو جائے تو اسے پھر بھی سراج دین ہی کہیں گے۔ حالانکہ عیسائی ہونے کی وجہ سے وہ اب سراج دین نہیں رہا بلکہ کچھ اور بن گیا ہے۔ لیکن عرف عام کی وجہ سے اس نام سے پکارا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی بعض اوقات اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھا جائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ: ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ۔“ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اسے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان ...... پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ (مرزا قادیانی) نے جہاں کہیں بھی غیر احمدی کو مسلمان کہہ کر پکارا ہے۔ وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ حسب حکم الہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔“

(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ۱۲۶، ۱۲۷ ج ۱۴ نمبر ۳)

”یاد رکھنا چاہئے کہ ہم جہاں غیر احمدیوں کے لئے ”مسلمان“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس سے مراد حسب پیش گوئی نبی کریم ﷺ اسمی اور رسمی ہوتی ہے۔ کیونکہ آخر وہ نہ تو ہندو ہیں اور نہ عیسائی اور نہ بدھ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ قرآن شریف پر عمل کے مدعی ضرور ہیں کہ ہم انہیں اس نام سے پکاریں۔ جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کے لئے ”الذین ھادوا“ قرآن مجید میں آتا ہے اور عیسائیوں کے لئے انصار اللہ اور بعض اوقات عیسائی اور موسوی بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ وہ ہدایت یافتہ نہ وہ حضرت عیسیٰ و موسیٰ کے

صفحہ ۶۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

متبعین ۔ پس مسلمان کا لفظ بلحاظ قوم ہے۔ شرعی فتویٰ کسی نبی کے انکار سے لازم آتا ہے۔ وہ اور بات ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج ۱۲ نمبر ۲۵، مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۲۵ء)

نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا نہ ماننے والوں کی تکفیر پر مولوی اللہ دتہ صاحب مشہور قادیانی مبلغ نے جو راولپنڈی کے مناظرہ میں قادیانی جماعت کے نمائندہ تھے۔ غلام احمد کے چار الہام ایسے پیش کئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے۔

(مباحثہ راولپنڈی ص ۲۴۰)

”اس جگہ دائرہ اسلام کے متعلق یاد رکھنا چاہئے ایک دائرہ اسلام حقیقی ہے اور ایک دائرہ اسلام محض اسمی۔ پس حضرت مسیح موعود کے منکر حقیقی دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے نہ کہ رسمی دائرہ اسلام سے۔ اس لئے ہم ان کو مسلمان کے نام سے یاد کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیونکہ وہ خود اسلام کے دعویدار ہیں۔‘‘

(مباحثہ راولپنڈی ص ۲۳۹)

مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ مرزائی جب مسلمانوں کو مسلمان کہہ کر پکارتے ہیں تو ان کی مراد صرف رسمی مسلمان ہوتے ہیں۔

مرزائیوں کا جواب: یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کے فتوؤں میں بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ یا آپ کی جماعت کی طرف سے ابتداء نہیں ہوئی۔

ہمارا جواب: قادیانی گروہ نے یہاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام کو جوابی طور پر کافر کہا ہے۔ کافر کہنے کی ابتداء ان کی طرف سے نہیں ہوئی۔ علاوہ ازیں انہوں نے ایک حدیث سے یہ ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کافر کہے اور دوسرا کفر مستحق نہ ہو تو وہی کفر اس کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ قادیانیوں کا یہ استدلال مندرجہ وجوہ کی بناء پر درست نہیں سمجھا جا سکتا۔

احمد پر کفر کا فتویٰ دیا تھا تو جواب میں صرف اسی شخص کو کافر کہنا چاہئے تھا۔ جس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہا نہ کہ دنیا کے پچھہتر کروڑ مسلمانوں کو، اور ساتھ ہی کفر کی وجہ یہ بتانی چاہئے تھی کہ چونکہ غیر احمدی ایک شخص کو ناحق کفر کا الزام دینے کی وجہ سے کافر ہوگئے ہیں۔ لہٰذا ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔ مذکورہ بالا نقل شدہ عبارتوں میں اس امر کی تصریح ہے کہ قادیانیوں نے تمام مسلمانوں کو بالعموم کافر کہا ہے نہ کہ ان کی تکفیر کرنے والوں کو نیز مسلمانوں کی تکفیر کے سبب میں انہوں نے کسی جگہ بھی جوابی کفر کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ غلام احمد کی نبوت، دعوت، ماموریت کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر کہا ہے۔

(از راہ کرم مذکورہ بالا حوالہ جات میں سے بالخصوص حوالہ نمبر ۲ کو ایک دفعہ پھر غور سے دیکھ لیا جائے)

صفحہ ۶۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہی لوٹ آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا گناہ اس پر پڑے گا۔ جس نے کسی کو غلط کافر کہا۔ حدیث میں باء کا لفظ ہے۔ یعنی اس کا اپنا کہا ہوا اس پر پڑ جائے گا نہ یہ کہ اب اس کو دوسرا کافر کہنا شروع کر دے۔ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر میں کسی نے آج تک صرف اس بناء پر دوسرے کی تکفیر نہیں کی کہ چونکہ اس نے مجھے کافر کہا ہے اور میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ لہٰذا وہ بروئے حدیث کافر ہو گیا۔ اس لئے ہم اس قائل بالکفر کو کافر کہتے ہیں۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے مولانا احمد رضا خان کی نسبت فرمایا کہ میری تکفیر پر مولانا احمد رضا خان کو ثواب ملے گا۔ انہوں نے اپنے خیال میں محبت رسول ﷺ میں مجھے کافر کہا ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ مجھے مواخذہ نہ ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے جس وجہ سے مجھے کافر کہا ہے وہ وجہ مجھ میں نہیں پائی جاتی۔ (مولانا کے اس ارشاد کا میں خود گواہ ہوں)

(ملفوظات حضرت تھانوی حسن العزیز)

مولانا محمد قاسم نانوتوی کے ہاں دو مہمان آئے۔ رات کے وقت ایک مہمان نے دوسرے سے کہا کہ صبح کی نماز ہم برج والی مسجد میں پڑھیں گے۔ وہاں کے قاری صاحب بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ دوسرے نے کہا وہ قاری صاحب تو ہمارے مولانا صاحب (مولانا محمد قاسم) کو کافر کہتے ہیں۔ ہم ایسے شخص کے پیچھے نماز کیوں پڑھیں۔ مولانا نانوتوی نے ان کی یہ گفتگو سن لی۔ آپ نے فرمایا یہ مسئلہ کس کتاب میں درج ہے کہ جو شخص محمد قاسم کو کافر کہے۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ اس نے تو میری کوئی برائی دیکھ کر کہا ہوگا۔ آج میں خود بھی اس قاری کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ چنانچہ حضرت مولانا اپنے دوست مہمانوں کے ساتھ اس مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز اسی قاری صاحب کے پیچھے ادا کی جو آپ کو کافر کہتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ اس ”کافر“ کہنے والے سے چاہے مواخذہ کرے۔ لیکن جس کو کافر کہا گیا ہے اس کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ ”قائل بالکفر“ کو کافر کہے۔

ایک مثال

زید اور عمر و ایک شہر میں آباد ہیں اور دونوں مسلمان ہیں۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون آپس میں حرام ہے۔ لیکن اگر زید نے عمرو کے بیٹے کو قتل کر دیا۔ اب زید کے لئے عمر و حلال الدم تو ہو گیا مگر قصاص میں زید عمر و کو قتل نہیں کر سکتا۔ حالانکہ معاف کرنے اور قصاص طلب کرنے میں زید دونوں کا مجاز ہے۔ مگر اسے کسی شرعی مجاز (قاضی) سے اسے قتل کی فریاد کرنا ہوگی۔ قاضی قصاص میں عمر و کو قتل کرادے یا قصاص دلائے۔ اگر زید خود بدلہ لے گا تو مجرم ہوگا۔

رہے ہیں۔ اسی لئے چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے بھی ایبٹ آباد میں ایک انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان (نمائندہ) سمجھ لیجئے۔

(روزنامہ زمیندار لاہور، مورخہ ۱۸ فروری ۱۹۵۰ء)

حالانکہ پاکستان بن جانے کے بعد بانیان پاکستان یا کسی ایسے بزرگ نے جس کا بیان حکومت کا بیان تصور کیا جائے غلام احمد اور اس کی امت کے کافر ہونے کا اعلان نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کا حکومت پاکستان کو کافر حکومت کہنا ابتداً ہے۔ جواباً نہیں اور یہاں صرف انکوائری کورٹ کے سامنے مصلحت کی وجہ سے انکار کرنا اس امر کا پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ ابن الوقت ہیں۔ لیکن ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ قابل اعتماد وہی شخص ہے جو اپنی رائے کسی مصلحت کی وجہ سے نہ بدلے۔

صفحہ ۶۱۳

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

د...... قادیانی گروہ کا یہ کہنا کہ پہلے غیر احمدی علماء نے ہمیں کافر کہا ہے اور ابتداً ان کی طرف سے ہوئی ہے۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کا صریح کذب ہے۔ حالانکہ ابتداً بالکفر غلام احمد نے کی ہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں جب دعویٰ نبوت کی بنیاد رکھی ۔ ساتھ ہی مخالفین کی تکفیر کی بنیاد بھی رکھ دی۔ جب کہ قادیانیوں نے تکفیر کی وجہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کا انکار قرار دیا ہے اور اس دعویٰ کی بنیاد براہین احمدیہ سے شروع ہوئی تو تکفیر منکرین کی بنیاد بھی ساتھ ہی وقوع میں آجاتی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ میں کچھ آیات قرآنی درج کیں ۔ جن کو ضرورت کے وقت الہام قرار دیا جاتا رہا۔ ان میں ایک یہ آیت درج ہے: ’’وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیمۃ‘‘ اس میں مخالفین کو کفروا سے خطاب کیا ہے۔ چنانچہ مناظرہ راولپنڈی (جو قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کے درمیان ہوا تھا) میں مشہور قادیانی مناظر مولوی اللہ دتہ صاحب نے اس الہام سے ثابت کیا کہ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے تھے۔

(مناظرہ راولپنڈی ص۲۴۰)

مرزائیوں کا جواب: باہمی تکفیر کے بارہ میں علماء کے چند فتویٰ درج ہیں۔

ہمارا جواب : بقول جناب محمد اکبر صاحب جج بہاول پور (تنسیخ نکاح قادیانی مقدمہ بہاول پور کا مشہور فیصلہ ) جس کا فیصلہ بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔ ’’مرزائیوں کا مسلمانوں کی باہمی تکفیر کو پیش کرنا دراصل اس تکفیر کو معمولی اور ہلکا ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے جو حضور ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک دنیا اسلام کے تمام فرقوں نے بعد از نبوت حضور ﷺ ہر مدعی نبوت کی تکفیر کی ہے اور جس پر آج دنیا اسلام کا اتفاق ہے۔‘‘

(فیصلہ مقدمہ بہاول پور)

اس کے بارے میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ جب ایک نبی کو ماننے والی قوم کسی دوسرے نئے نبی کو مان لیتی ہے تو وہ پہلی قوم سے جدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے والے، حضور ﷺ کو ماننے والوں سے علیحدہ قوم ہیں۔ گویا کفر کے کئی مراتب ہوئے۔ ایک کفر قطعی جو ختم نبوت کے انکار اور حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت پر ایمان لانے یا حضور کے بعد تسلسل نبوت کو صحیح سمجھنے کی وجہ سے ہوگا۔ بہر حال یہ کفر مسئلہ نبوت کی بناء پر ہوا۔ اس لئے دو ایسے شخص جو کسی نبی کی نبوت میں اختلاف رکھتے ہیں ایک امت اور ایک قوم نہیں ہو سکتے۔

کے احکام کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ وہ مسلم قوم میں شمار ہوگا۔ اسی لئے فقہاء امت نے ایک کفر قطعی یا کفر عقیدہ اور دوسرے کو کفر فقہی یا کفر عملی کہا ہے اور دونوں کے احکام جدا جدا ہیں۔

ایک شبہ کا ازالہ

یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے اس کو سچا ماننے والے مسلمانوں کی قوم سے خارج نہیں سمجھے جائیں گے۔

صفحہ 614

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

در اصل یہ بحث مسئلہ ختم نبوت سے تعلق رکھتی ہے جس کا اس بحث سے تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا ضروری نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور ﷺ سے قبل آنے والے جملہ انبیاء کو بھی ظلی کہا ہے اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی غیر تشریعی نبی کہا۔ جب وہاں ہر نبی کی امت اور قوم جدا جدا ہے تو غلام احمد کے متبعین بھی غیر متبعین سے جدا امت اور جدا قوم ہوں گے۔

کی تکفیر کے بارہ میں تمام فرقے متفق ہیں۔ مرزائیوں کا کفر اجماعی ہے۔

نسبت اور اس عقیدہ کو وجہ کفر قرار نہیں دیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں کسی فرقہ میں چاہے کتنے مسائل ہوں کہ جس شخصیت سے نسبت اور جس عقیدہ کی وجہ سے یہ فرقہ دوسرے اسلامی فرقوں سے ممیز ہے۔ اس شخصیت اور اس عقیدہ کو سب اسلامی فرقوں نے وجہ کفر قرار دیا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے چند فرقوں کی نسبت عرض کیا جاتا ہے۔

(الف) فرقہ شیعہ

یہ فرقہ باقی فرقوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب ہونے اور عقیدہ افضلیت علی ؓ کی وجہ سے ممیز ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ مومن کامل، مقبول، بارگاہ الٰہی، محبوب رب العالمین تھے۔ آپ کی شخصیت تمام فرقوں کے نزدیک مسلم ہے اور نہ ہی افضلیت علی ؓ کا عقیدہ کسی دوسرے اسلامی فرقے کے نزدیک سبب کفر ہے۔

(ب) فرقہ اہل سنت والجماعت

یہ فرقہ دوسرے فرقوں سے اس لئے ممیز ہے کہ یہ فرقہ حضور ﷺ کی سنت کو مدار نجات اور واجب العمل سمجھتا ہے اور سنت حضور ﷺ کے طریق زندگی کا نام ہے اور وہ سب فرقوں کے نزدیک واجب العمل ہے۔ جماعت سے مراد مسلمانوں کی جماعت ہے۔ جس کے متعلق حضور ﷺ نے تاکیداً فرمایا کہ حتی الوسع جماعتی زندگی سے علیحدہ نہ ہونا تا کہ وحدت اسلامی پارہ پارہ نہ ہونے پائے۔ کبھی یہ فرمایا کہ: ”صلوا خلف کل بر وفاجر“ یعنی ہر اچھے برے کے پیچھے نماز پڑھ لینا۔ کبھی یہ فرمایا کہ اگر سلطان نماز کو دیر کر کے پڑھا کریں اور وقت تنگ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیں تو تم اپنی نماز وقت پر گھر میں پڑھ لینا اور پھر مسلمانوں کے ساتھ جماعت میں بھی شریک ہو جانا۔ ایک حدیث میں فرمایا: ”ولو سلط علیکم عبد حبشی“ یعنی اگر کسی وجہ سے مسلمانوں پر ایسا بادشاہ مسلط ہو جائے جو ناپسندیدہ ہو تو پھر بھی اس کی اطاعت کرنا۔ تا کہ مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان نہ پہنچے۔ الغرض کوئی مدعی سنت نبی اور اتحاد بین المسلمین اور شمولیت جماعت مسلمین کے مخالف نہیں ہے۔

(ج) مقلد

مقلدین اپنے آپ کو ائمہ مجتہدین کی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ کتاب وسنت کی تشریح میں ایسے شخص کا قول معتبر ہوگا جو اپنے زمانے میں علم وفضل اور تقویٰ اور خشیت میں ممتاز عالم القرآن وسنت ہو اور اجتہادی مسائل میں امام مجتہد کا قول مانا جائے گا۔ کوئی بھی غیر مقلد نہ تو اس اصول کی تردید کرتا ہے اور نہ کسی امام مجتہد کو برا کہتا ہے بلکہ ان سب کو بزرگ اور اہل علم تصور کرتا ہے۔

صفحہ ۶۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(د) غیر مقلد

غیر مقلدین اپنے آپ کو آج کل اہل حدیث کہلاتے ہیں۔ ان کا اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے ہر مسئلہ میں کتاب وسنت پر عمل کیا جائے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے ۔ جس کا حکم قرآن وسنت سے نہ سمجھ میں آئے تو اقوال ائمہ کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اصولی طور پر یہ درست اور صحیح امر ہے کہ کسی فرقہ نے اس اصول سے کبھی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ اختلاف تو مسائل سمجھنے پر ہوتا ہے۔ فرقہ بندی جس اصول اور جس عقیدہ کے سبب سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ کی وجہ سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ سے کسی فرقہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کی بناء پر کسی فرقہ نے دوسرے فرقہ کو کافر نہیں کہا۔

نوٹ : دیوبندی اور بریلوی ۔ دراصل یہ فرقے نہیں بلکہ ایک فرقہ کی دو جماعتیں ہیں ۔ اصول دونوں فرقوں کا ایک ہے دونوں حضرات امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خاندان کی مختلف شاخیں ۔

(ہ) فرقہ احمدیہ

احمدی یا مرزائی حضرات کی نسبت مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف ہے۔ یعنی یہ فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا پیشوا مانتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے جملہ دعاوی میں سچا تھا۔ فرقہ احمدیہ کی تعریف قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں پر صادق آتی ہے۔ ان کا آپس میں اختلاف اندرونی مسائل کا اختلاف ہے۔ اس سے دوسرے فرقوں کا تعلق نہیں ہے۔ یہ فرقہ اپنی تعریف کی بناء پر دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے ممیز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک جس شخصیت کی طرف فرقہ احمدیہ کی نسبت ہے۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد تھی۔ اس شخص کے دعاوی کو درست اور صحیح سمجھنا تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک صریح کفر ہے۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین دونوں گروہ صریح کافر ، دائرہ اسلام سے خارج اور مسلم قوم سے ایسے ہی علیحدہ ہیں جیسے یہود اور عیسائی بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں ۔ جس نبی پر یہودی اور عیسائی ایمان لاتے ہیں اور اپنے وقت کے صادق اور خدا کے مبعوث نبی تھے مگر قادیانی جس شخص کو اپنا پیشوا مانتے ہیں وہ کاذب اور جھوٹا تھا۔

یہاں سب سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مرزائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تکفیر کا مسئلہ بنیادی اور قطعی کفر کا مسئلہ ہے اور مسلمانوں کے باہمی فرقوں کا باہمی کفر فقہی اور فروعی ہے۔ اس امر کی وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل استدلال پیش کیا جاتا ہے۔

بااضدادھا“ مشہور عربی مقولہ ہے کہ ہر چیز اپنے مقابل یعنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ایمان کی حقیقت سمجھ لیں۔ پھر ہمارے لئے کفر کی حقیقت معلوم کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایمان اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام فرشتوں ، آسمانی کتابوں ، اس کے تمام رسولوں اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور تقدیر پر ایمان لایا جائے یعنی ان باتوں کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کی جائے ۔ ان امور پر حضور ﷺ بھی یقین رکھتے تھے اور اہل بیت اور تمام مسلمان بھی یقین رکھتے تھے۔ مگر یہ بات واضح ہے کہ سب کا ایمان ایک ہی درجہ کا نہیں ہوسکتا۔ حضرت محمد رسول

صفحہ ۶۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ایمان ایک درجہ کا نہیں ہو سکتا اور نہ حضرت حسین بن علی ؓ کا ایمان اور ہم جیسے گنہگاروں کا ایمان برابر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ایمان کے مقابلے میں کفر کے بھی مدارج ہوں گے۔ کیونکہ ایمان اور کفر ایک دوسرے کی اضداد ہیں۔ حضرت امام بخاری نے اپنی کتاب بخاری شریف میں ’’کفر دون کفر‘‘ کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے اور گویا سب کفر برابر نہیں ہوتے بلکہ اس کے کچھ مدارج ہیں۔ اس کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے تمام مذاہب میں کوئی ایسا بنیادی مسئلہ تلاش کریں۔ جس سے ایک مذہب دوسرے مذہب سے ایک قوم دوسری قوم سے (قوم سے مراد شرعی قوم ) ممیز ہو سکے۔

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وجود کا سوال ہے اس میں سب کا اتفاق ہے۔ عبادات اور اخلاق تمام مذاہب میں موجود ہیں۔ ان کے عنوانات چاہے کوئی ہوں۔ اس لئے یہ امور امتیاز بین المذاہب کا سبب نہیں ہو سکتے۔ صرف ایک نبی کا وجود ایسا ہے جس سے ایک مذہب دوسرے مذہب سے اور ایک قوم دوسری قوم سے جدا ہوتی ہے۔ نبی کی مثال ایک دیوار کی ہے جو اپنے خارج کو داخل سے جدا رکھتی ہے۔ جب تک یہ دیوار قائم رہے گی دیوار کا خارج اور داخل آپس میں نہیں مل سکتے۔ دیوار مختلف احاطوں کو محفوظ رکھتی ہے، ۔ بلکہ اگر ایک بڑے احاطہ میں ایک دیوار قائم کر دی جائے تو اس احاطے کو دوحصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ایک نبی کا وجود اپنی امت کے لئے احاطہ ہے۔ دیوار ہے۔ جو دوسری امتوں سے اپنی امت کو علیحدہ رکھتی ہے۔ لیکن اگر اس نبی کے بعد کوئی اور نبی آ گیا تو گویا ایک دیوار اور کھینچ گئی اور ایک حصہ اس احاطہ سے کٹ گیا۔ یعنی اب اس نبی کی امت دو امتوں میں تقسیم ہو گئی۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے یہودی ایک امت تھے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئے تو یہودیوں میں سے جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لائے وہ یہودیوں سے علیحدہ ہو گئے اور اب وہ عیسائی بن گئے۔ اس کے بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو آپ کو ماننے والے مسلمان نہ ماننے والے (عیسائیوں ) سے جدا ہو گئے اور اب اس طرح اگر بالفرض حضور سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آ جائے تو اس کو ماننے والے، نہ ماننے والوں (مسلمان) سے جدا قوم ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس اصول کے تحت مرزا غلام احمد کو نبی ماننے والے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی ماننے والے ایک امت نہیں ہو سکتے۔ مسلمان جدا قوم اور مرزائی جدا قوم ہوں گے۔

سوال نمبر:۳

ایسے کافر ہونے کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں۔ یعنی اگر غلام احمد کو نبی نہ ماننا کفر ہے تو ایسے کفر کے دنیا و آخرت میں کیا نتائج ہیں؟

مرزائیوں کا جواب: اسلامی شریعت کی رو سے ایسے کافر کی کوئی دنیوی سزا مقرر نہیں۔ وہ اسلامی حکومت میں وہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عام معاشرہ کے معاملہ میں بھی وہ وہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہیں۔ ہاں! اسلامی حکومت کا ہیڈ نہیں ہو سکتا۔

ہمارا جواب: قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ایسے کفار کی سزا نہیں، سراسر غلط ہے۔ سوال میں جس کافر کے متعلق دریافت کیا گیا ہے وہ کافر وہ ہے جو غلام احمد کو نہیں مانتا۔ یعنی اگر کوئی شخص (بالفرض) غلام احمد کو مان لے تو اس کے نزدیک غلام احمد کو نہ ماننے والا کافر ہوگا۔

صفحہ ۶۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایسے کافر کی سزا مرزائیوں کے نزدیک وہی ہوگی جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے مسلمان کے مقابلہ میں کسی غیر مسلم مثلاً عیسائی کی۔ قادیانیوں کا یہ واضح عقیدہ ہے کہ: ”غیر احمدی کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ کر لا سکتا ہے۔ مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی۔“

(اخبار الحکم مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۸ء، اخبار الفضل قادیان ج ۸ نمبر ۴۵، مورخہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۲۰ء)

اس عقیدے اور نظریئے کے علاوہ قادیانیوں کا معاملہ غیر احمدیوں کے ساتھ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں غیر احمدیوں سے جدا ہیں۔ رشتہ ناتہ جنازہ وغیرہ معاملات میں ان کا طرز عمل یہ ہے کہ ایک شخص کے سوالات کے جواب میں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے کہا: ”ایسے نکاح خواہوں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھا دیا ہو اور ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔“

(ڈائری میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۸ نمبر ۸۸، مورخہ ۲۳؍مئی ۱۹۲۱ء)

مرزائیوں کا جواب: یہ درست ہے کہ اسلامی حکومت کا صدر بھی نہ ہو سکے گا۔

ہمارا جواب: اگر غلام احمد کو نہ ماننے والا مرزائیوں کی مملکت کا صدر نہیں بن سکتا تو مسلمانوں کی مملکت میں جھوٹے نبی کو ماننے والا کافر اسلامی مملکت کا صدر کیسے بن سکتا ہے؟

مرزائیوں کا جواب: باقی رہے اخروی نتائج۔ سو ان کا حقیقی علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کافر کہلانے والے انسان کو بخش دے۔ اگر کافر کے لئے یقینی طور پر دائمی جہنمی ہونا لازمی ہے تو پھر کسی کو کافر قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کو حق ہے۔

ہمارا جواب: ان کا یہ جواب کسی صورت میں بھی درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ سوال قدرت الٰہی کا نہیں بلکہ اسلامی احکام کا ہے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ: ”ان اللہ علی کل شئ قدیر“ ہے۔ مگر تحقیقاتی عدالت کی طرف سے سوال یہ ہے کہ کافر کے متعلق از روئے شریعت محمدیہ کیا حکم ہے؟ اسلام ایک قانون ہے جس میں دنیاوی اور اخروی احکام درج ہیں۔ یعنی ایک نبی کو ماننے کے بعد کسی دوسرے آنے والے نبی کا انکار کر دے۔ ایسے شخص کے متعلق اسلام کے احکام یہ ہیں کہ ایسے شخص کی نجات ہرگز نہ ہوگی۔ مرزائیوں کا بھی یہ عقیدہ ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد نے اپنے مخالفین کے متعلق لکھا ہے کہ: ”مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵، تذکرہ مجموعہ الہامات ص ۳۴۳)

سوال نمبر:۴

کیا مرزا قادیانی کو، رسول کریم ﷺ کی طرح اور اسی ذریعہ سے الہام ہوتا ہے؟

تحقیقاتی عدالت یہاں یہ دریافت کرنا چاہتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام کا ذریعہ وہی تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا ذریعہ تھا۔

مرزائیوں کا جواب: بہرحال وہ ذرائع جو اللہ تعالیٰ اس وحی (غلام احمد پر) کے بھیجنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ وہ ان سے نیچے

صفحہ ٦١٨

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوں گے جو قرآن کریم کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ ایک عقلی بات ہے۔ واقعاتی بات نہیں جس کے متعلق ہم شہادت دے سکیں۔

ہمارا جواب: قادیانیوں کی طرف سے اس جواب میں بات کو الجھایا گیا ہے۔ انہوں نے کسی مصلحت کی بناء پر ابہام کو دور کرنے اور صاف بات کہنے کی جرات نہیں کی۔ حالانکہ یہ امر مسلم ہے کہ حضورﷺ پر جبرائیل فرشتہ نازل ہوتا تھا جو خدا کے پیغام آپﷺ پر پہنچاتا تھا۔ اس کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنے آپ پر حضرت جبرائیل فرشتہ کے نازل ہونے کا الہام شائع کیا ہے۔ اس طرح حضور نبی کریمﷺ کی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کا ذریعہ اور واسطہ ایک ہی ہوا۔ یعنی حضرت جبرائیل حضرت محمد رسول اللہﷺ اور مرزا غلام احمد دونوں کے لئے ذریعہ وحی تھے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے جبرائیل کی آمد کا اقرار کرتے ہوئے لکھا ہے: ”جاء نی ائل واختار وادار اصبعه اشار ان وعد الله اتی فطوبٰی لمن وجد ورائی“

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

”یعنی میرے پاس آئل آیا۔ (اس جگہ آئل اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے بار بار رجوع کرتا ہے۔ حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔“

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

”آمد نزد من جبرئیل علیہ السلام و مرا برگزید و گردش داد انگشت خود اشارہ کرد خدا ترا از دشمنان نگہ خواہد داشت“

(مواہب الرحمٰن ص۶۳، خزائن ج۱۹ ص۲۸۲)

مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تحریروں سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے اس بات کا خود اقرار کیا کہ اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے تھے۔ گویا حضورﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کا ذریعہ اور واسطہ ایک ہی ہوا۔

قادیانیوں نے آگے چل کر اپنے بیان میں ایسی تفاصیل بیان کی ہیں جن میں اقرار کے بعد انکار اور انکار کے بعد خود بخود اقرار کر لیا گیا کہ حضورﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا ذریعہ وحی ایک ہی تھا۔ مگر اس بات کو اس قدر الجھایا گیا کہ پڑھنے والا اس سے کوئی صحیح رائے قائم نہ کر سکے۔ حضورﷺ نے اس کا نام دجل اور تلبیس رکھا ہے۔

اس سوال کا جواب یہ تحریر کیا گیا کہ:

عالی مرتبت جج صاحبان! قادیانیوں کے جواب کے مندرجہ بالا تین حصوں پر غور فرمائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ سوال کے جواب میں کس قدر الجھاؤ پیدا کیا ہے۔ ان کے جواب کے خلاصہ سے صرف یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مرزا غلام احمد پر وحی نازل ہوتی تھی اور وحی کے طریقے تین ہیں اور تمام انبیاء، اولیاء اور محمد رسول اللہﷺ پر انہی طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ محمد رسول اللہﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا ذریعہ وحی ایک ہی تھا۔ اس مفہوم کا جواب دو سطر میں دیا جاسکتا ہے۔ مگر عبارت کی ایچ پیچ اور الفاظ کی ساحری میں الجھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ جواب دیتے وقت آگے چل کر دونوں وحیوں کے مرتبہ میں فرق کرنے کی سعی کی ہے۔ تاکہ ہمارے مطالبہ کی دلیل کو کمزور اور اس کے وزن کو کم کیا جاسکے۔ یہ امر چونکہ سوال سے متعلق نہیں ہے۔ اس لئے اس کے جواب میں جانا غیر ضروری ہے۔

صفحہ ۶۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہاں اتنا عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے آنحضور ﷺ سے قبل انبیاء سابقین کو ”ظلی نبی“ کہا ہے۔ اس لئے اب کسی کا مرزا قادیانی کو ”ظلی“ کہنا یا امتی نبی کہنا اس سے نفس دعویٰ نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ ”پہلے تمام انبیاء ظلی تھے نبی کریم کے خاص خاص امتی صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“

(اخبار الحکم مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء، منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ۱۷۷)

”یوں تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۳، خزائن ج ۲۱ ص ۳۰۰)

نوٹ: مندرجہ ذیل حوالہ جات سے مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کی حیثیت حضور ﷺ کے برابر ثابت ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کی وحی کی نسبت مندرجہ ذیل امر ذہن نشین کر لئے جائیں۔

مرزا غلام احمد کی وحی بھی حضور جیسی تھی۔ نمبر وار مطابقت ملاحظہ ہو۔

(نزول مسیح ص ۵۷، خزائن ج ۱۸ ص ۴۳۵)

(مواہب الرحمٰن ص ۶۳، خزائن ج ۱۹ ص ۲۸۲)

(نزول مسیح ص ۵۶، ۵۷، خزائن ج ۱۸ ص ۴۳۵)

نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔“

(نزول المسیح ص ۸۲، خزائن ج ۱۸ ص ۴۶۰)

آنچہ من بشنوم ز وحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم

(نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)

”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیت پر ایمان رکھتا ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرے کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“

(نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷، ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۶)

صفحہ ۶۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

س ...... حضور کو اپنی وحی پر یقین تھا اور آپ کی وحی خدا کا کلام کہلاتی ہے۔

س ...... ”میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۰)

ج ...... حضور کی وحی آپ کو ماننے والوں کے لئے مدار نجات تھی اور آپ کا منکر جہنمی ہے۔

ج ...... ”اب دیکھ لو خدا نے میری وحی میری تعلیم اور بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اسے نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں۔ دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص ۷، خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵)

”مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیری مخالفت کرے گا اور مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(معیار الاخیار ص ۸، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵، تذکرہ ص ۳۴۳)

سوال نمبر: ۵

فائدہ ہے؟

مرزائیوں کا جواب:

جنازہ (Infructuaus) ہے۔

ہمارا جواب: یہ جواب صریح غلط ہے۔ احمدیہ عقائد میں نہ صرف یہ کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا جنازہ (Infructuaus) ہے۔ بلکہ اس کی نماز جنازہ شرعاً ناجائز اور درست نہیں ہے۔

کے ساتھ کرنے سے انکار کر دیا تو غلام احمد نے احمد بیگ کو کہا کہ اگر تم میرے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح نہیں کرو گے تو میں تمہاری بھانجی عزت بی بی جو میرے لڑکے فضل احمد کی بیوی ہے۔ طلاق دلا دوں گا اور طلاق نامہ معلق فضل احمد سے لے لوں گا۔ جس میں یہ تحریر ہوگا کہ جس دن تم محمدی بیگم کا نکاح میرے سوا کسی دوسرے کے ساتھ کرو گے تو عزت بی بی کو اس دن سے طلاق ہو جائے گی۔ چنانچہ احمد بیگ نے مرزا غلام احمد کی اس دھمکی کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کی۔ مرزا غلام احمد نے اپنے لڑکے فضل احمد سے کہا کہ تو اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دے۔ فضل احمد پسر غلام احمد چونکہ اپنے والدین کا انتہائی فرمانبردار اور خدمت گزار تھا اس نے اپنے باپ کے حکم کو بسر و چشم قبول کیا اور اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دی۔ فضل احمد اپنے والدین کا فرمانبردار ہونے کے باوجود اپنے باپ غلام احمد کو دعویٰ نبوت میں دل سے سچا نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ جب اس تابعدار لڑکے فضل احمد کا انتقال ہو گیا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اس فرمانبردار بیٹے کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔

(حوالہ انوار خلافت ص ۹۱، ریویو بابت دسمبر ۱۹۲۱ء)

صفحہ ۶۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا غلام احمد قادیانی کے اس عمل کے بعد بھی قادیانی کوئی تاویل کر سکتے ہیں؟

مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کے نابالغ بچوں کا جنازہ بھی جائز نہیں۔

(انوار خلافت ص ۹۳)

اس کا جنازہ جائز نہیں ہے۔

(انوار خلافت ص ۹۳)

مرزائیوں کا جواب: شق (ب) کا جواب یہ ہے کہ گو اسی وقت تک جماعت کا فیصلہ یہی رہا ہے کہ غیر از جماعت کے لوگوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے لیکن اب اس سال حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر اپنے قلم کی لکھی ہوئی ملی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مکفر یا مکذب نہ ہو۔ اس کا جنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ہمارا جواب: جناب عالی! یہ تو

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

والا معاملہ ہوا۔ قادیانیوں کا انکوائری کورٹ کے سامنے یہ بیان قطعاً غلط اور فریب دہی کے مترادف ہے کہ: ”مسیح موعود کے اپنے قلم کی لکھی ہوئی تحریر اس سال ملی ہے۔ حالانکہ ایسی تحریر انہیں ۱۹۱۵ء میں مل چکی تھی۔ جس کے ملنے کا ذکر انوار خلافت کے ص ۹۱ پر کیا گیا ہے اور اس کے ثبوت میں غلام احمد کے لڑکے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھنے کا واقعہ تحریر بھی کیا جا چکا ہے۔“

مرزائیوں کا جواب: لیکن باوجود جنازہ کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے سابقہ طریقہ کے غیر احمدی مرحومین کے لئے دعائیں کرنے میں جماعت نے کبھی اجتناب نہیں کیا۔ (رپورٹ اور آگے چل کر جی معین الدین کے والد اور سر عبد القادر کے لئے دعا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے)

ہمارا جواب: کسی موت پر صرف دعا کرنا کون سی انوکھی بات ہے۔ ایسے ہزاروں مواقع پیش آتے رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی فوتیدگی کے بعد ہندو اور سکھ وغیرہ غیر مسلم قومیں بھی اس کے حق میں دعاؤں میں شریک ہوتی رہیں۔ حضرت قائد اعظم اور قائد ملت کے مزارات پر کئی ہندو اور غیر مسلم افراد نے اپنے عقیدے کے مطابق آپ کے حق میں دعائیں مانگیں اور ایسے ہی گاندھی جی کی سمادھ پر ہمارے وزراء کرام اور دیگر سرکاری نمائندگان نے ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ دعا مانگنا آج ایک رسم بن چکی ہے۔ اس سے یہ دلیل اور نتیجہ اخذ کرنا کہ ہم نے فلاں کی میت پر دعا مانگی تھی اور اسے جائز سمجھتے ہیں۔ یہ کسی صورت میں دلیل نہیں بن سکتا کہ قادیانی غیر احمدی کا جنازہ جائز سمجھتے ہیں۔

قادیانیوں کی یہ بات اگر بالفرض تسلیم بھی کر لی جائے تو دعا کے علاوہ نماز جنازہ بھی تو دعا ہی ہے۔ اس میں یہ کیوں شرکت نہیں کرتے اور بالخصوص حضرت قائد اعظم مرحوم کی نماز جنازہ میں چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے کیوں شرکت نہ کی اور وزیر قانون مسٹر منڈل اور دیگر غیر مسلم نمائندگان کے ساتھ مسلمانوں سے الگ ہو کر کیوں کھڑے رہے؟ کیا چوہدری صاحب کی یہ حرکت اسلامیان پاکستان کے دلوں کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں تھی؟ نماز جنازہ نہ پڑھنے پر جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک پمفلٹ بھی شائع کیا گیا ہے۔ جس میں حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ چونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ علاوہ ازیں چوہدری ظفر اللہ خان نے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کے متعلق ایک انٹرویو کے دوران جواب دیا۔ معزز جج اس سے مطلع ہو چکے ہیں۔

صفحہ ۶۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سوال نمبر : ۶

مرزائیوں کا جواب : کسی احمدی مرد کی غیر احمدی لڑکی سے شادی کی کوئی ممانعت نہیں۔ البتہ احمدی لڑکی کا غیر احمدی مرد سے نکاح کو روکا جاتا ہے۔

ہمارا جواب : قادیانیوں کے اس عقیدے کی طرح مسلمانوں کا عقیدہ عیسائیوں کی نسبت ہے کہ عیسائی لڑکی سے مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن مسلمان لڑکی عیسائی سے نہیں بیاہی جاسکتی ۔ گویا مسلمان کے نزدیک جو عیسائیوں کا مقام ہے۔ احمدی تمام مسلمانوں کو وہی درجہ اور مقام دے رہے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ جواب ہمارے مطالبہ کی تائید کرتا ہے کہ احمدی مسلمانوں کو وہی درجہ اور مقام دے رہے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ جواب ہمارے مطالبہ کی تائید کرتا ہے کہ احمدی مسلمانوں سے ایک الگ قوم اقلیت قرار دیئے جانے چاہئیں۔ کیونکہ وہ خود ہی مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ اگر قادیانی بیاہ شادی کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ عیسائیوں جیسا سلوک کریں تو انہیں اقلیت میں آنے سے کیا عذر ہے؟ اور ویسے بھی قادیانی مسلمانوں کے متعلق رشتہ وناتہ کے معاملہ میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا سلوک کیا جائے ۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے : ”غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ لاسکتا ہے۔ مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی ، غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے۔ مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی ۔“

(اخبار الحکم مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۸ء ، اخبار الفضل قادیان ج ۸ نمبر ۴۵، مورخہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۲۰ء)

مرزائیوں کا جواب: باوجود اس کے کہ اگر احمدی لڑکی اور غیر احمدی مرد کا نکاح ہو جائے تو اسے کالعدم قرار نہیں دیا جاتا ۔

ہمارا جواب : جناب عالی! قادیانی حضرات نے یہاں بھی اصل حقائق کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت یہ کہ مرزائیوں کے ہاں ایسے رشتہ کی سخت ممانعت ہے اور اگر کسی نے قرابت داری یا کسی دوسری وجہ سے احمدی لڑکی کی غیر احمدی مرد سے شادی کر بھی دی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا گیا اور اس کے ساتھ بائیکاٹ کیا گیا۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے بخوبی واضح ہو جائے گا کہ مرزائیوں کے ہاں ایسے رشتے کی کیا پوزیشن ہے؟

پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔“ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں میں لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل حکیم نورالدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی ۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت ص ۹۳)

صفحہ ۶۲۳

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ب...... ’’اگر کوئی احمدی، غیر احمدی کا جنازہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیر احمدی کو لڑکی دیتا ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور (میاں محمود احمد) نے لکھوایا اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہئے ۔ فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہوسکتا ۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے۔ آپ کا نہیں۔‘‘

(مکتوب میاں محمود خلیفہ قادیان اخبار الفضل نمبر ۱۷۱، مورخہ ۲۰؍ اپریل ج ۸۱، ۸۲)

ج...... ’’چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں کو دے دیئے ہیں۔ اس لئے ان کو حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا اور وہاں کی جماعت کو ہدایت کی جاتی ہے۔ ان سے قطع تعلق رکھیں۔

(اخبار الفضل قادیان ج ۲۲ نمبر ۶۹ ص ۸ کالم ۲، مورخہ ۶؍ دسمبر ۱۹۳۴ء، ناظر امور عامہ قادیان)

مندرجہ حوالہ جات میں قادیانیوں کے عقائد کی صحیح ترجمانی ہے۔ جب کئی پابندیوں اور مجبوریوں کی بناء پر بھی کوئی احمدی غیر احمدی مرد سے اپنی لڑکی کا نکاح نہیں کرسکتا اور اگر کوئی اس طرح کا رشتہ کر دے تو اس کے ساتھ قطع تعلق کیا جاتا ہے۔ اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے تو پھر کون سی بات باقی رہ جاتی ہے۔ جس کی بناء پر احمدی غیر احمدیوں سے رشتہ ناتہ کو جائز سمجھیں اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔

سوال نمبر:۷

احمدیہ فرقہ کے نزدیک امیر المؤمنین کی (SIGNIFICANCE) خصوصیت کیا ہے؟

مرزائیوں کا جواب : ہمارے امام کے عہدہ کا نام امام جماعت احمدیہ اور خلیفۃ المسیح ہے۔ لیکن بعض لوگ انہیں امیر المؤمنین بھی لکھتے ہیں۔

ہمارا جواب: جناب عالی! قادیانی حضرات کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جماعت کے امام کو امیر المؤمنین بعض لوگوں نے لکھنا یا کہنا شروع کر دیا ہے اور یہ کہ جماعتی طور پر امام جماعت احمدیہ کا عہدہ امیر المؤمنین نہیں بلکہ خلیفۃ المسیح ہے۔ قبل ازیں کہ اصل سوال کا جواب الجواب عرض کیا جائے۔ یہ ضروری معلوم ہوتا ہے خلیفہ اور امیر کی تشریح کر دی جائے تا کہ بعض بنیادی باتیں ذہن نشین ہوسکیں۔

خلیفہ: کسی قائم مقام کو کہتے ہیں لیکن عام طور پر یہ لفظ مذہبی جانشین پر استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کی نسبت ایسی ہستی کی طرف ہوتی ہے۔ جس کی یہ شخص نیابت کرتا ہے۔ اسی لئے حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے قائم مقام کو خلیفہ کہا گیا اور اسی نیابت کا نام خلافت قرار پایا۔ وہاں دراصل مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص خلیفہ کے فرائض انجام دے جو نبی ﷺ کی تقویم دین کے سلسلہ میں مکمل نیابت کر سکے۔

صفحہ ۶۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امیر : امیر کی نسبت کسی فوت شدہ انسان کی طرف نہیں ہوتی ۔ بلکہ اس کی نسبت زندہ انسانوں کی طرف ہوتی ہے ۔ یہ لفظ اس فوقیت اور قوت کا پتہ دیتا ہے جو اسے باقی انسانوں پہ حاصل ہے ۔ چونکہ حضرت رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی تھے اور تمام مسلمانوں کے امیر بھی ۔ آپ کے بعد آپ کا نائب منصب نبوت کے لحاظ سے خلیفۃ المسلمین کہلایا اور حاکم وقت ہونے کے اعتبار سے امیر المؤمنین کا خطاب دیا گیا ۔

اسلامی طرز حکومت میں جب تک دین کا غلبہ باقی رہا تو مسلمانوں کے حکمران کے لئے یہ دونوں لفظ برابر استعمال ہوتے رہے اور جب مسلمانوں کے انداز حکمرانی میں دنیاوی غلبہ ہو گیا تو پھر خلیفہ الرسول کی جگہ صرف خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین کا استعمال ہونے لگا ۔

اسلامی اصطلاح میں امیر المؤمنین مسلمانوں کے حکمران کا اسلامی لقب ہے اور اگر امیر کی نسبت کسی خاص جماعت یا شہر یا فن کی طرف ہو تو وہاں صرف اسی جماعت کا صدر یا اس شہر کا رئیس یا اس فن کا ماہر مراد ہوتا ہے ۔ جیسے امیر جماعت اسلامی ، امیر شریعت ، امیر المؤمنین فی الحدیث ۔ ان میں امیر کی نسبت خصوصی چیزوں کی طرف ہے ۔ جیسے رب کے معنی مالک کے ہیں ۔ اگر رب کی نسبت کسی ایسی چیز کی طرف ہو جس کا انسان مالک بن سکتا ہے تو رب کی نسبت جائز ہوتی ہے ۔ جیسے رب الدار ، رب ہذا الارض ، رب ہذا البیت یعنی رئیس شہر ۔ اس زمین کا مالک اور گھر کا مالک تو اس طرح رب کی نسبت جائز ہے ۔ لیکن اگر رب کی نسبت لوگوں کی طرف ہو جیسے رب الناس اور یا رب العالمین یا رب السموات والارض جیسی نسبت ہو تو اس صورت میں رب سے مراد صرف خدا تعالیٰ کی ذات اقدس ہو گی ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا ۔ چونکہ بعض نسبتوں میں انسان بھی رب کی نسبت استعمال کر سکتا ہے تو لہٰذا اب وہ رب العالمین یا رب الناس کہلانا شروع کر دے ۔ یہ کسی صورت میں بھی جائز نہ ہو گا ۔ ایسے ہی امیر المؤمنین کا لفظ جب مطلق بولا جائے گا تو اس سے مراد تمام مسلمانوں کا موجودہ حکمران ہو گا ۔

عقیدہ کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ اس سلسلہ میں ہماری پہلی دلیل یہ ہے کہ مرزائیوں کی جماعت کی طرف سے جو بھی اعلانات یا ہدایات جاری ہوتی ہیں وہ ان میں خلیفۃ المسیح اور امیر المؤمنین دونوں استعمال کرتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ یہ ایک جماعتی لقب ہے جو قادیانیت نے اپنی جماعت کے امیر کو دے رکھا ہے ۔

کا ذکر سلطنت کے سرکاری عہدیداروں کی طرح کیا گیا ہے ۔ مثلاً ناظر امور خارجہ و داخلہ ، ناظر دعوت و تبلیغ ، ناظر تعمیرات ، ناظر امور عامہ وغیرہ ۔

نوٹ: مرزائیوں کے ناظر کا لفظ وزیر کے قائم مقام ہے ۔ اسی طرح مرزائیوں کے ہاں امیر المؤمنین کا مفہوم بھی ان عہدوں جیسا ہے ۔

اہل بیت کہا ۔ قادیان کی ایک مسجد کا نام مسجد اقصیٰ رکھا اور (پاکستان آنے کے بعد ربوہ میں مسجد اقصیٰ بن گئی) مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ کو امیر المؤمنین کا خطاب دیا گیا ۔ غرضیکہ ان تمام شرعی اصطلاحات کو مرزائیوں نے انہی معنی میں استعمال کیا جن معنی میں مسلمان استعمال کرتے ہیں ۔ مسلمانوں نے ان اصطلاحات کو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ نسبت کی وجہ سے استعمال کیا ۔ لیکن مرزائی ان اصطلاحات کو مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ نسبت کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں ۔ ان میں سے امیر المؤمنین

صفحہ ۶۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھی ایک اسلامی اصطلاح ہے جو اس معنی میں استعمال کی جاتی ہے جس معنی میں مسلمانان عالم استعمال کرتے ہیں۔

غالب آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ اس امر کو ملحوظ رکھا جائے تو امیر المؤمنین کی مراد واضح طور پر سمجھ آسکتی ہے۔ امت مرزائیہ کے سیاسی عزائم کیا ہیں؟ وہ مندرجہ ذیل حوالہ سے بخوبی ظاہر ہوتے ہیں۔ ”خوجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہے۔ مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی کہ ساری دنیا پر چھا جائیں ۔ بے شک میمن اور بوہرے بہت مالدار ہیں۔ مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کر دیں گے۔ ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انفرادی طور پر مدینے کو خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال، اپنی دولت، اپنی عزت، اپنی تعداد اور اپنے اثر ورسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شاید تمام منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے۔ مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ مچا دے گی اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہہ و بالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی۔ وہ جماعت احمدیہ ہے۔“

(خطبہ میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۱۵ نمبر ۸۲ ، مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۲۸ء)

حالات میں اگر مرزائیوں کا امیر اپنے آپ کو امیر المؤمنین کہلائے تو دوسری دنیا یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں ایک امیر المؤمنین بھی ہے اور پھر اس امیر المؤمنین کا تعارف قادیانی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کرائیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے مبلغ مرزائیت کا جو پارٹ ادا کر رہے ہیں اس سے قادیانیوں کے جماعتی ترجمان الفضل کی فائل بھری پڑی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان بیرونی دنیا میں مرزا محمود خلیفہ قادیان کے متعلق یہ تعارف کرا رہے ہیں کہ وہ پاکستان کا امیر المؤمنین ہے۔ اس دلیل کے ثبوت کے لئے مندرجہ ذیل واقعہ کافی ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکیں گے کہ دنیا اسلام مرزا بشیر الدین محمود کو کیا اہمیت دے رہی ہے؟ مرزائی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے سلامتی کونسل میں جب مسئلہ فلسطین پر بحث کرتے ہوئے عربوں کی نمائندگی کی تو عرب لیگ کے سیکرٹری نے مرزا بشیر الدین محمود کے نام اس مضمون کا تار بھیجا کہ: ”ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان کو مسئلہ فلسطین پر بحث کے اختتام تک یہاں ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔“

(الفضل ۷ نومبر ۱۹۴۷ء)

عرب لیگ کے سیکرٹری کا یہ تار بہت سی باتوں کا پتہ دیتا ہے۔

صفحہ ۶۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تب جا کر چوہدری ظفر اللہ خان نے مسئلہ فلسطین پر بحث میں حصہ لیا اور پھر عرب لیگ کے سیکرٹری نے شکریہ کا تار مرزا بشیر الدین محمود کے نام ارسال کیا۔ یہ تار اخبار الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کی اشاعت پر پورے پاکستان میں احتجاج کیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین سابق وزیر اعظم پاکستان سے دوران ملاقات اس تار کا ذکر بھی کیا گیا۔

نوٹ: (آپ یہ اخبار الفضل محکمہ پریس برانچ سے طلب کر کے اصل حقیقت حال سے مطلع ہو سکتے ہیں)

مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ چوہدری ظفر اللہ خان مبلغ مرزائیت کی حیثیت سے جو پارٹ ادا کر رہے ہیں اس کی موجودگی میں مرزا بشیر الدین محمود کا امیر المؤمنین کہلانا دوسری دنیا میں پاکستان کو کیسی حیثیت میں پیش کیا جاتا ہے۔

آخر میں چند اہم اور ضروری باتیں عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

بہت بڑا درجہ حاصل ہے۔

جہاں تک اس عقیدے کا سوال ہے کہ حضور ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے اور ہر مدعی نبوت خارج از اسلام ہے۔ یہ دنیائے اسلام کا بنیادی اور اجماعی عقیدہ ہے۔ گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سال میں کسی بھی فرقہ کی طرف سے ایک رائے بھی اس عقیدہ کے خلاف نہیں پائی گئی۔ اس وقت مسلمانوں کے فروعی غیر اجماعی اختلاف کی آڑ لے کر قطعی اور بنیادی عقیدہ سے انحراف بھی کرنا اور مسلمانوں میں شمار بھی ہونا کسی طرح درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔

جب کسی ملک کے مختلف ہائیکورٹوں کے فیصلہ جات کسی قانونی دفعہ پر متفق ہوں اور اس سے کسی بھی ماہر قانون نے اختلاف نہ کیا ہو تو اس ملک کے کسی سب جج یا مجسٹریٹ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہائیکورٹ کے متفقہ فیصلے کے خلاف رائے دے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ کسی قانون کے وضع کرنے والے یا اس کے خاص پیش کار نے اس قانون کے وضع کرنے والے ہی سے معلومات حاصل کر کے قانون کی شرح بیان کر دی تو پھر اس سے اختلاف کسی قانون کے واضع سے بغاوت کے مترادف ہوگا۔

قانون کی اہانت کا مقدمہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلام نے چند اصطلاحات مقرر کر کے ان کے مفہوم بھی مخصوص کر دیئے ہیں تا کہ ان میں کوئی الجھاؤ واقع نہ ہو سکے۔ اب اس کے بعد ان اصطلاحات کے مفہوم میں استعارہ، لغت یا مجاز کی آڑ لے کر کوئی تغیر واقع کرنا سراسر ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ اسلامی قانون اپنی مخصوص اصطلاحات کو بگاڑنے کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتا۔ مثلاً رحمان، غفور اور ستار وغیرہ اسمائے الٰہی کے معانی مشہور ہیں۔ اب کوئی ایسا شخص جس نے کسی پر رحم کیا ہو، کسی قصور وار کو معاف کر دیا ہو یا کسی کے عیب پر پردہ پوشی کی ہو اور وہ شخص یہ دعویٰ کرے کہ قرآن میں مجھ ہی کو یہ تمام نام دیئے گئے ہیں اور اپنے آپ کو ان حالات کی موجودگی میں رحمان، غفور اور ستار کہلانا شروع کر دے تو کیا دنیا کا کوئی عقلمند انسان اس کی اس دلیل کو صحیح اور درست کہہ سکتا ہے یا ایسے ہی ہر چٹھی رساں یا پیغام رساں اپنے آپ کو نبی (یعنی خبر دینے والا) اور ہر چپڑاسی اپنے آپ کو رسول (یعنی پیغام پہنچانے والا) کہلانا شروع کر دے اور لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دینے لگے تو کیا عقل و خرد اسے تسلیم کر کے ان کے استعمال کی اجازت دے دے گی۔

صفحہ ۶۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسلام دراصل اپنی مقدس اصطلاحات اور ان کے مفہوم کی عظمت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اگر ان اصطلاحات پر سے پابندی ہٹا دی جائے تو عظمت ختم ہو جائے گی اور پھر اسلامی نظام بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا۔ اسلام کی قائم کردہ حدود کو جو شخص بھی توڑے گا اسے اس کے جرم کی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ یعنی اگر وہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے تو اس کی یہ سزا کیسے معاف کی جاسکتی ہے؟

اس سلسلہ میں ایک اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ علماء کرام ہر مسلمان کو کافر کہتے ہیں اور یہ کہ جب تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں تو ان کا کیا اعتبار ہے۔ معترضین ساتھ ہی یہ آیت بھی پڑھ دیتے ہیں کہ: ”لا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا“ یہ بات مسلم ہے کہ کسی کی تکفیر کے معاملہ میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اسی لئے فقہاء امت نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کے قول میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو اسے پھر بھی کافر نہیں کہنا چاہئے۔ اس سے بڑھ کر احتیاط اور کیا ہو سکتی ہے جو فقہاء امت نے کی۔ مگر یہ فتویٰ بھی ان ہی محتاط لوگوں نے دیا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا دعویٰ نبوت یا مدعی نبوت کی تصدیق موجب کفر اور خروج عن الاسلام ہے۔ اس دور کے علماء کرام نے بھی اس فتویٰ کا اعلان کیا ہے جو ان فقہاء امت نے دیا۔ موجودہ زمانہ کے علماء پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ خواہ مخواہ تکفیر کرتے ہیں۔ صریح ظلم اور عدم واقفیت پر مبنی ہے۔ رہا یہ سوال کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے باہمی ایک دوسرے کی تکفیر کیوں کرتے ہیں۔ اس کا جواب اگرچہ بیانات میں دیا جا چکا ہے۔ لیکن یہاں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فقہاء امت نے اجماعی طور پر کسی ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا۔ جیسے آج کل ہمارے ہاں بعض مسلمانوں پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ ہم بھی حتی الوسع کسی کو خواہ مخواہ کافر کہنے سے گریز کریں۔ کیونکہ یہ فعل ایک شبہ کی بناء پر کیا جاتا ہے اور شبہ میں ملزم کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مگر شہادت قطعی کے بعد کسی ملزم کو بری کر دینا اور اس کی دلیل میں کسی دوسرے مقدمہ کی شہادت کے ناقص ہونے کا حوالہ دینا انصاف کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔

جہاں تک اس آیت قرآنی کا تعلق ہے اس میں پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ آیت میں ”القی السلام“ فرمایا ہے۔ اسلام نہیں فرمایا۔ جب اسلام کا لفظ ہی نہ بولا گیا ہو تو اس سے مراد یہ لینا کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے تم اسے کافر نہ کہو۔ کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ دعویٰ کے مطابق قرآن کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہو سکا۔ قرآن پاک خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس میں اسلام اور سلام کا کچھ تو بین فرق ہوگا۔

سلام بمعنی دعا یعنی سلامتی اور رحمت ظاہر ہے کہ اسلام ایک مذہب ہے۔ یہاں پر سلام سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہیں السلام علیکم کہے تو تم اس کے غیر مومن ہونے کا دعویٰ نہ کرو اور سلام کہنے والے کی زندگی کی جانچ پڑتال نہ شروع کر دو کہ یہ کہنے والا کیسا ہے اور اس آیت میں یہ بھی نہیں فرمایا کہ اسے تم ضرور مومن سمجھو۔

اس کی ایک تیسری صورت یہ ہے اور ممکن ہو سکتی ہے کہ ہم اس کی نسبت کوئی فیصلہ ہی نہ کر پائیں۔ بلکہ جستجو کریں کہ فی الواقع یہ شخص مؤمن ہے یا کافر ہے۔ دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی جہاد کے سفر میں مسلمانوں کو ایک چرواہا ملا۔ اس نے مسلمانوں کو السلام علیکم کہا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید یہ شخص کافر ہے اور اپنے مال و جان کی حفاظت کے لئے اس نے ہمیں السلام علیکم کہا ہے۔ انہوں نے اسے قتل کر کے اس کے مویشیوں اور دیگر مال پر قبضہ کر لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مؤمنا“

صفحہ ۶۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس آیت میں حکم ہے کہ ایک علامت اسلام کی (یعنی السلام کہنا) پائی گئی تو اس کے غیر مؤمن ہونے کا حکم نہ دینا چاہئے۔ کسی مسافر پر بلا تحقیق ایسا حکم دینا صحیح نہیں۔ اس آیت میں دو دفعہ ”تبینوا“ فرمایا گیا کہ تحقیق کے بعد جس قسم کا ثبوت مہیا ہو اسی قسم کا حکم لگایا جائے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت نہیں ہوئی کہ جو بھی سلام کہہ دے تم اس پر مومن کا حکم لگا دو۔

۴...... کسی شئے کی تعریف اور اس کی علامت میں بہت فرق ہے۔ تعریف میں اس کی ماہیت کا ذکر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی جاتی اور علامت میں اس کی کسی ایسی صفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جسے دیکھ کر یا معلوم کر کے عام لوگ اس چیز کا پتہ لگا لیں۔ مثلاً ایک مسافر ہے دور کسی گاؤں میں مسجد کے مینار دیکھ کر یہ اندازہ کر لیتا ہے کہ یہ گاؤں مسلمانوں کا ہے۔ لیکن جب مسلمانوں کی تعریف کی جائے گی تو پھر یہ نہیں کہا جائے گا کہ مسلمان وہ ہے جو مسجد والے گاؤں میں آباد ہو۔ مثلاً ایک شخص یقیناً اسے مسلمان سمجھے گا مگر ایسی مونچھیں اور داڑھی اسلام کی تعریف میں شامل نہیں۔ یعنی جب ایک شخص مسلمان ہونا چاہے تو اس کی داڑھی مونچھ درست کر کے اس کے سر پر ترکی ٹوپی رکھ دینے سے ہی وہ مسلمان نہیں ہو جائے گا۔ اس کے لئے اسلام نے جو طریقے بتائے ہیں اور جن چیزوں کے اقرار کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔

اس تمہید کے بعد یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ اسلام کی تعریف اور ہے اور سلام یا مسلمان کی علامت اور۔ علامت کا دار و مدار حقیقت پر نہیں ہوتا بلکہ عرف عام پر ہوتا ہے۔ نبی علیہ السلام کے زمانہ میں مسلمانوں کو بعض علامتیں بتا دی جاتی تھیں کہ مسلمان کی علامت یہ ہے تاکہ وہ غلطی سے مسلمان آبادی پر شب خون نہ ماریں۔ ان علامتوں میں حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کسی قوم پر حملہ کے لئے صبح کا انتظار کرنا اور ان کی آبادی سے اذان کی آواز آ جائے تو انہیں مسلمان سمجھنا مگر جب کسی کافر کو مسلمان بنانا ہو تو اس کے متعلق یہ فرمایا گیا کہ ان سے اس امر کا اقرار لینا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ لیکن جو شخص پہلے سے مسلمان ہے۔ اس کو پہچاننے کے لئے علامت کی ضرورت ہوگی اور اس علامت کا مدار عرف عام پر ہوگا۔ حضور ﷺ کی حدیث ”من صلّی صلواتنا واستقبل قبلتنا“ میں مسلمان کی تعریف نہیں بلکہ علامت کا ذکر کیا گیا ہے۔

۵...... ایک ہے اسلام میں کسی کا داخل ہونا اور ایک ہے اسلام سے کسی کا خارج ہو جانا۔ یہ دو جدا جدا امر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے جن امور کا ماننا ضروری ہے۔ اسلام سے خارج (کافر ہونے) کے لئے ان سب کا انکار ضروری نہیں۔ بلکہ کسی ایک امر کا انکار ضروری ہے۔ مثلاً جب ہم مسلمان کی تعریف یہ کریں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ایک اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر برحق تسلیم کرے۔ اب خروج از اسلام کے لئے دونوں کا انکار ضروری نہیں بلکہ محض ایک کا انکار بھی موجب کفر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ ان کے تمام احکام کو درست تسلیم کرنا ضروری ہے اور محمد ﷺ کو رسول ماننے کے ساتھ آپ ﷺ کے لائے ہوئے ہر پیغام کو صحیح تسلیم کرنا بھی ضروری۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کو ماننے کا مطلب ان کے ہر پیغام کو ماننا ہے۔ لیکن جو شخص مسلمان ہونے کے بعد خدا اور رسول خدا ﷺ کے کسی ایک قطعی حکم کا بھی انکار کر دے تو وہ شخص خارج از اسلام و کافر ہو جائے گا۔

ایک شبہ کا ازالہ

ایک شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں احکام تو بہت ہیں۔ مثلاً نماز پڑھنا، داڑھی رکھنا، مسواک کرنا، بیٹھ کر پیشاب کرنا وغیرہ۔ کیا ان میں سے کسی ایک حکم کو چھوڑ دینے سے آدمی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اگر درست تسلیم کر لیں تو پھر مسلمان کون رہے گا؟

صفحہ ۶۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الجواب

اوّل یہ جاننا چاہئے کہ انکار کرنا اور ترک کرنا ایک بات نہیں بلکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایمان یقین کا نام ہے اور کفر مکر جانے کا نام ہے۔ ترک نام ہے کسی حکم کو بجا نہ لانے کا۔ جب کوئی آدمی اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام احکام کو صحیح اور درست ہونے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ مسلمان ہے اور جب تک ان کے متعلق یقین رکھے گا۔ وہ مسلمان ہی رہے گا۔ چاہے وہ کسی حکم پر عمل نہ بھی کرے۔ مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ چاہے کمزور سے کمزور تر ہو اور اگر وہ کسی ایک بات کا ہی انکار کر دے تو اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہر بات نبی کے ذریعے سے معلوم ہوتی ہے۔ کسی بات کا انکار کرنا اس بات کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے۔ جب نبی کی بتائی ہوئی کسی بات کو جھوٹ کہہ دیا گیا تو گویا اس شخص نے نبوت ہی کا انکار کر دیا۔ کیونکہ یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نبی تو ہے۔ مگر وہ اللہ کی طرف جھوٹ بھی منسوب کرتا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مسلمان کو یہ سزا دینا کہ وہ کافر ہوگیا ہے۔ سب سے بڑی سزا ہے۔ اس کے لئے شہادت قطعی ضروری ہے۔ یعنی جس چیز کے انکار سے کفر کا فتویٰ دیا جائے گا۔ اس کا یہ ثبوت کہ اللہ تعالیٰ یا محمد رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے۔ کسی قطعی دلیل سے ہونا شرط ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم سب فرقوں کے نزدیک قطعی الثبوت ہے تو قرآن کریم کے کسی بھی حکم کا انکار (یعنی اس کو جھوٹا سمجھنا ) سارے قرآن کے انکار کو مستلزم ہے جو شرعی باتیں دلیل ظنی سے ثابت ہوں۔ یعنی حدیث پاک سے اور حد تواتر کو نہ پہنچیں اور نہ ہی اس پر اجماع ہو اس کے انکار سے کفر لازم نہ آئے گا۔ بلکہ فسق کا درجہ ہوگا۔ کیونکہ ایسی شرعی بات کی نسبت یہ سمجھنا کہ وہ نبی ﷺ کا فرمودہ ہے۔ یقین نہیں بلکہ گمان غالب ہے۔ لہٰذا آخری سزا نہیں دی جاسکتی۔ ہاں! وہ بات جس وقت نبی ﷺ نے فرمائی تھی۔ اگر کوئی شخص اس وقت حضور ﷺ کے منہ سے سن کر انکار کرتا تو کافر ہو جاتا۔ کیونکہ آپ ﷺ سے سن کر انکار کرنا نبوت سے انکار کو مستلزم ہے۔ نتیجہ یہ کہ اسلام نام ہے۔ اللہ اور رسول ﷺ کے جملہ فرمانوں کو صحیح اور درست یقین کرنے کا اور کسی قطعی الثبوت بات کے انکار کر دینے کا نام کفر ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی نبوت فرضیت نماز وغیرہ قرآن کی قطعیت سے ثابت ہے۔ اسی طرح یہ بات کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ باجماع امت قرآن کریم سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ اس لئے جس طرح توحید یا نفس رسالت محمدیہ کا منکر کافر ہے۔ اس طرح آپ ﷺ کو آخری نبی نہ ماننا یا آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کے اجراء کو درست سمجھنا یا دعویٰ نبوت کرنا یا ایسا دعویٰ کرنے والے کو اس کے دعویٰ میں سچا سمجھنا موجب کفر ہوگا اور اس پر حضور ﷺ سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے۔

یہ بات کہ مسلم کی تعریف کیا ہے اور کیا موجودہ زمانہ میں علماء کا کسی تعریف پر اتفاق ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج بھی علماء اصولاً تعریف مسلم پر متفق ہیں۔ قبل اس کے کہ اس کی تعریف کی جاوے۔ چند امور ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں۔

استعمال کے لئے ان کے اسباب ہوتے ہیں۔ ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔

صفحہ ۶۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمان کی تعریف

اللہ تعالیٰ کو ایک اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننا۔ جب اللہ تعالیٰ کو ایک مان لیا تو گویا وہ ”لاشریک“ ہوا اور اس کے جملہ احکام سچے ہوئے۔ جب پیغمبر علیہ السلام کو سچا رسول مان لیا تو گویا جو باتیں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر (نبی کوئی بات بغیر اطلاع ربانی نہیں کرتا) آپ نے بیان فرمایا۔ سب کو درست تسلیم کیا۔ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ماننا یہ ہے کہ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کے جملہ فرمان سچے ہیں اور پیغمبر کو ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ دعویٰ کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ بنی نوع انسان کی طرف ہدایت دے کر بھیجا گیا ہوں۔ درست ہے اور آپ ﷺ کے جملہ احکام اور ہدایات صحیح ہیں۔

اب قرآن وسنت اور اجماع صحابہ و امت سے مسلمان کی مختلف موقعوں پر منقول تعریفیں نقل کی جاتی ہیں۔ اصل تعریف میں کوئی اختلاف نہ ہوگا۔ بلکہ کسی جگہ اجمال کسی جگہ تفصیل کسی جگہ تعمیم بعد از تخصیص اور کسی جگہ تخصیص بعد از تعمیم یا مکملات ایمان یا کسی جملہ کی شرح درج ہوگی۔ مسلمان وہ ہے جو زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے کہ:

صفحہ ٦٣١

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باب پنجم

نوٹ: (۱) تحریک ختم نبوت کے مخالفین کے انجام کے بارہ میں مولانا تاج محمود کے بیان کردہ واقعات ہیں۔

(۲) اقبال شاہد اکیڈمی ٹورنٹو کینیڈا نے تحریک ختم نبوت کے خلاف دس سوالات لکھ کر پمفلٹ کی شکل میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ارسال کئے۔ ان سوالات میں مرزائیت کی نہ صرف خوب وکالت کی گئی بلکہ کسی شیطان دماغ قادیانی نے انہیں مرتب کیا ہے۔ ان سوالات کے جوابات مولانا خالد محمود صاحب نے مرتب کئے ہیں۔ سوالات وجوابات شامل اشاعت ہیں۔

(۳) تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے متعلق جو متفرق روایات وواقعات کتاب میں اپنے اپنے مواقع پر نہ آسکے ان کو ’’متفرقات‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

(۴) ’’خاتمۃ الکتاب‘‘ اس میں حضرت لاہوری کی ایک روایت درج ہے جس سے تحریک میں حصہ لینے والے لوگوں کی قدر ومنزلت اجاگر ہوتی ہے۔

(۵) تحریک ختم نبوت سے متعلق چند ایک اشتہارات ودستاویزات اور بعض اکابر کے تبرکات شامل کر دیئے ہیں۔

(۶) ۱۹۵۳ء کی تحریک سے متعلق یادگار نظمیں شامل اشاعت ہیں۔

صفحہ ۶۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (١) ١٩٣٢ء تا ١٩٥٣ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک کے مخالفین کا انجام

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں: اگرچہ تحریک قہراً کچل دی گئی اور حکمران بظاہر ظفریاب ہوئے۔ لیکن لاکھوں مسلمانوں کا جیلوں میں جانا، ہزاروں مسلمانوں کا خاک وخون میں تڑپ کر شہید ہونا، چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں پر گولیاں کھانا، اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی قدرت نے ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے معصوم ومظلوم مسلمانوں پر ستم ڈھائے تھے۔ سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک تقریب میں آغا شورش کاشمیری مرحوم سے فرمایا۔ شورش! جو لوگ خوش ہیں کہ تحریک ختم نبوت کچل دی گئی، وہ احمق ہیں۔ ہم میں سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دنیا میں دے دی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے۔ تحریک کے سب مخالفین روح کے سرطان میں مبتلا ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ختم نبوت کی مخالفت کرنے والے، اس کو کچلنے والے، ظلم کرنے اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو قدرت نے دنیا ہی میں اس کی عبرتناک سزا دی۔

ملک غلام محمد

ملک کے اس وقت گورنر جنرل تھے۔ اس وقت ارباب اقتدار کے اس گروہ کے سرغنہ تھے جو تحریک کا دشمن اور مخالف تھا۔ پھر انہوں نے تحریک کے بعد اپنے رشتہ دار جسٹس منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین بنا کر وہاں علماء اور اہل حق کی تذلیل کا سامان کیا۔ اس غلام محمد کو فالج ہوا۔ مفلوج حالت میں نہایت ذلت کی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ اس کی آخری زندگی ایک ذلیل جانور سے بھی بدتر ہوگئی۔ مرنے کے بعد لوگوں نے اسے چوڑھوں کے قبرستان میں دفن کیا۔ آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام کہتا ہے اور نہ دعائے مغفرت۔

سکندر مرزا

دوسرے نمبر پر تحریک کا دشمن سکندر مرزا تھا۔ یہ تحریک کے دنوں ڈیفنس سیکرٹری تھا۔ مرزائی سیکرٹریوں سے مل کر تحریک کو تباہ کرنے کے درپے ہوا۔ حتیٰ کہ جب پنجاب حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں سے زچ ہوگئی تو حکومت پنجاب نے ریڈیو پر اعلان کر دیا کہ لوگوں کو صبر وتحمل سے کام لینا چاہئے۔ حکومت پنجاب کے دو نمائندے مرکزی حکومت کے پاس مطالبات منوانے کے لئے جا رہے ہیں۔ سکندر مرزا نے اس وقت خواجہ ناظم الدین کو مجبور کر کے اور ٹیلی فونی اجازت لے کر لاہور فوج کے حوالے کر دیا اور کرفیو لگا دیا۔ جنرل اعظم نے ظلم کی انتہاء کر دی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیاء الدین قادیانی نے تو یہاں تک کیا کہ مرزائی نوجوانوں کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کر کے فوجی وردی کے ساتھ شہر میں گشت کے لئے بھیج دیا اور حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیکھیں اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیں۔ جیسا کہ منیر انکوائری رپورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے۔ سکندر مرزا پر بھی خدا کی گرفت آئی۔ اس کا جوان بیٹا جو ایئرفورس کا آفیسر تھا جہاز تباہ ہونے سے بھسم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد ایوب خان کمانڈر انچیف نے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور اسے مال بردار جہاز میں سوار کر کے انتہائی ذلت کے ساتھ کوئٹہ اور وہاں سے لندن بھیج کر جلاوطن کر دیا۔ سکندر مرزا کی یا تو یہ ٹھاٹ کہ ڈیفنس سیکرٹری کے بعد گورنر جنرل بنے یا پھر یہ ذلت و بے بسی کہ لندن میں ایک معمولی ہوٹل کے معمولی ملازم کے طور پر بقیہ زندگی برتن دھو کر گزار دی۔ اسی بے کسی میں لندن میں مر گیا۔ اس کی بیوی نے امانتاً لندن میں دفن کیا۔ پھر شہنشاہ ایران سے رابطہ کر کے اسے ایران لا کر دفن

صفحہ ۶۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا۔ کیونکہ سکندر مرزا کی بیوی ناہید ایرانی تھی۔ اس لئے ایران میں دفن کی اجازت مل گئی۔ لیکن شہدائے ختم نبوت کے خون کا رنگ دیکھئے اور قدرت کا انتقام ملاحظہ کیجئے۔ تھوڑے دنوں بعد شہنشاہ ایران کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ وہاں پر جناب خمینی صاحب کی حکومت آ گئی۔ اس کے رضا کاروں نے سکندر مرزا کی قبر اکھاڑ کر میت کا تابوت باہر پھینک دیا۔ جسے کتے اور جنگلی جانور کھا گئے۔ ہڈیاں وغیرہ سمندر میں ڈال دی گئیں ۔ فاعتبروا یا اولی الابصار !

مسٹر دولتانہ

پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا۔ اس نے بھی تحریک کو کچلنے اور بدنام کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا۔ قدرت کا انتقام دیکھئے۔ پہلے وزارت گئی۔ پھر مسلم لیگ سے چھٹی ۔ گوشہ گمنامی میں چلا گیا۔ حالانکہ پاکستان کی بانی ٹیم کا رکن تھا۔ اس کی ذلت کی انتہاء یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ ٹرین سے کراچی جارہا تھا۔ اس ٹرین میں ذوالفقار علی بھٹو بھی سفر کر رہا تھا۔ جب بھٹو صاحب کو علم ہوا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ممتاز احمد خان دولتانہ بھی سوار ہیں تو کسی اسٹیشن پر بھٹو صاحب نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹرین کے کسی اگلے ڈبے میں ایک ”چوہا“ بھی سفر کر رہا ہے اور پھر اس سے بڑھ کر دولتانہ کی ذلت دیکھئے کہ دولتانہ نے اپنے اسی سیاسی حریف ذوالفقار علی بھٹو کا ملازم بن کر انگلستان کی سفارت قبول کر لی اور بھٹو صاحب کا کورنش بجا لانے لگا۔ پھر وزارت کی طرح سفارت بھی گئی۔ اس وقت وہ زمانہ کے ہاتھوں اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے۔

خان عبدالقیوم خان

یہ سرحد کا مردِ آہن تھا۔ اس نے بھی تحریک ختم نبوت کے مجاہدین پر ظلم وستم کیا۔ اس کی وزارت بھی قدرت نے چھین لی۔ مسلم لیگی ہو کر مسٹر بھٹو کے ساتھ شریکِ اقتدار ہوا۔ ایک میٹنگ میں بھٹو صاحب نے ایسا ذلیل کیا کہ دم بخود ہو گیا۔ در بدر کے چکر صبح وشام مؤقف میں تبدیلی نے اس کی عزت بھی خاک میں ملا دی۔

خواجہ ناظم الدین

طبعاً نیک اور شریف انسان تھے۔ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن مرزائیت سے اتنے خائف تھے کہ ظفر اللہ خان مرتد قادیانی کو پورے ملک کے احتجاج کے باوجود وزارت سے نکالنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ حالانکہ جہانگیر پارک کراچی کے مرزائیوں کے جلسہ میں جب ظفر اللہ خان مرتد قادیانی شرکت کے لئے جانے لگا تو خواجہ صاحب نے ان کو منع کیا۔ ظفر اللہ خان مرتد قادیانی نے کہا کہ میں وزارت چھوڑ سکتا ہوں۔ اپنی جماعت (قادیانیوں) کا جلسہ نہیں چھوڑ سکتا۔ اس جلسہ میں بہت بڑا فساد ہوا۔ مرزائیوں کے کئی ہوٹل اور دوسرے تجارتی ادارے مشتعل جلوس نے پھونک دیئے ۔ ظفر اللہ خان کی اس شرکت اور حکم نہ ماننا، وزارت سے علیحدگی کا باعث قرار دیا جاسکتا تھا۔ مگر خواجہ صاحب کی شرافت یا بزدلی مانع ہوئی۔ چنانچہ خواجہ صاحب بھی ہمیشہ کے لئے اقتدار سے محروم ہو گئے اور ابھی تک قیامت کی جواب دہی اور ذمہ داری ان کے سر ہے۔

میاں انور علی

ڈی.آئی.جی، سی.آئی.ڈی پنجاب تھا۔ تحریک کے دنوں میں مرکزی حکومت نے اس کو کراچی طلب کیا اور تھپکی دی کہ تمہیں

صفحہ ۶۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آئی جی بنادیا جاتا ہے۔ تم اس تحریک کو کچلنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہو؟ میاں انور علی نے سکندر مرزا ایسے سازشیوں کے ذریعے خواجہ ناظم الدین کو جواب دیا کہ میں صرف ایک ہفتہ میں تحریک کو کچل سکتا ہوں ۔ یہ آئی جی بنادیا گیا۔ اس نے اسلامیان لاہور اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کے مسلمانوں پر ظلم وستم کی ایک نئی داستان رقم کی۔ وقت گزر گیا۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اس کے ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں ایک ایسا بدترین سانحہ پیش آیا جس سے اس کی ساری زندگی کی عزت خاک میں مل گئی۔ (اس کی ایک بیٹی جناب ایوب خان کے صاحبزادے کے ساتھ ......) اس سانحہ سے اس کی غیرت رسوائی کے گہرے گڑھے میں دفن ہوگئی ۔ وہ سانحہ چونکہ ایوب خان مرحوم کے صاحبزادوں سے متعلق تھا۔ اس لئے اس نے اس سانحہ کی اطلاع ایوب خان کو دی اور اس خاص غرض سے دی (کہ اب دونوں کو شرعی طریقہ پر منسلک کر دیا جائے) ایوب خان مرحوم برہم ہو گئے اور اپنے سامنے سے ”گیٹ آؤٹ“ کہہ کر نکال دیا اور ایسے ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے جو زیب قلم نہیں ۔ ( ان گدھیوں کو باندھ کر رکھو کہ گدھوں کے پاس نہ جایا کریں ) اور ساتھ ہی اس کی موقوفی کے آرڈر بھی بھیج دیئے۔ ایک ہفتہ میں تحریک کچلنے والا ایک لحظہ میں دنیا و آخرت کی رسوائیاں لے کر واپس آ گیا۔ اس طرح خونخوار بھیڑیئے کا حشر ہوا۔

جنرل اعظم

لاہور میں مارشل لاء کا انچارج بنایا گیا ۔ اس نے میجر ضیاء الدین قادیانی کو مارشل لاء کا نظم و نسق سپرد کر دیا۔ پیچھے سے سکندر مرزا تار ہلا رہے تھے اور یہ پوچھتے تھے کہ آج کتنی لاشیں اٹھائی گئی ہیں۔ قادیانی میجر نے قادیانی فرقان فورس کے قادیانیوں کو مسلح کر کے لاہور میں مجاہدین ختم نبوت کا قتل عام کرایا۔ آج یہ جنرل اعظم ”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ جس مرزائیت کے تحفظ کے لئے اس نے مسلمانوں کا قتل عام کرایا وہ مرزائیت اس کے سامنے اور یہ اس کے سامنے اپنی موت کے دن گن رہے ہیں۔ ایک دو مرتبہ سیاست کو منہ مارنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن لاہور کے مارشل لاء کی ابدی لعنت سے اس کا سیاہ چہرہ لوگوں کو کبھی پسند نہیں آیا۔

ڈپٹی کمشنر غلام سرور

یہ سیالکوٹ میں تعینات تھا۔ اس نے تحریک کے رضا کاروں پر بے تحاشہ ظلم وستم کیا۔ قدرت کا انتقام دیکھئے کہ یہ پاگل ہو گیا۔ ڈپٹی کمشنر ہاؤس سے لا کر پاگل خانے میں بند کر دیا گیا۔

راجہ نادر خان

میری (مولانا تاج محمود) گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ یہ صاحب بھی تھے۔ فقیر نے ان کے لئے کبھی بددعا نہیں کی۔ لیکن قدرت کا انتقام دیکھئے کہ کار کے ایک حادثہ میں ٹانگ ٹوٹ گئی۔ پاکستان سے لندن تک ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ قابل رحم حالت میں انتقال ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ تکلیف کسی اور آزمائش اور سلسلے کی کڑی ہو۔ مگر اس مظلوم (مولانا تاج محمود) کا دل گرفتاری کے وقت ان کی طرف سے آزردہ ضرور ہوا تھا۔

قدرت کی قہاریت کا عجیب واقعہ

مجھے (مولانا تاج محمود) جب لائل پور سے لاہور لے جا کر قلعہ میں بند کیا گیا تو میرے پاس چوہدری بہاول بخش ڈی ایس ۔ پی تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ میرا لڑکا ایم سی ہائی سکول میں آپ کا شاگرد رہا ہے۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ۔ میں نے شکریہ ادا

صفحہ ۶۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا اور کہا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہو سکتی ہے کہ وحشت نگری میں آپ نے میری خیریت دریافت کی ہے۔ اگلے روز پھر وہ تشریف لائے اور کہا مولانا انہوں نے کچھ فارم چھپوائے ہیں۔ آپ ان پر دستخط کر دیں اور گھر جائیں۔ میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب کا اشارہ معافی نامہ کے فارموں کی طرف ہے۔ میں نے کہا چوہدری صاحب کہ جو لوگ میرے ہمراہ سینوں میں گولیاں کھا کر حضور ﷺ کے نام و ناموس پر شہید ہو گئے ۔ لائل پور کی سڑکوں پر ابھی تک ان کا خون خشک نہیں ہوا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ماؤں کے بچے مروا کر خود معافی نامہ پر دستخط کر کے گھر چلا جاؤں ۔ چوہدری صاحب شرمندہ ہوئے ۔ معذرت کی اور کہا کہ اگر آپ یہ حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر آپ کا ڈٹ جانا ہی اصولی طور پر درست ہے۔ شیخ محمد شفیع انارکلی لائل پور والے چوہدری صاحب کے بہت گہرے دوست تھے ۔ وہ ان سے ملنے کے لئے شاہی قلعہ میں آئے ۔ ان دونوں کے درمیان میرا بھی ذکر آیا اور خدا جانے آپس میں کیا باتیں ہوئیں ۔ شیخ محمد شفیع نے لائل پور واپس جا کر یہ مشہور کر دیا کہ مولانا تاج محمود کو شاہی قلعہ میں پولیس نے اتنا مارا ہے کہ ان کی دونوں ٹانگیں اور دونوں بازو توڑ دیئے ہیں۔ یہ بات اڑتے اڑتے چک نمبر ۱۳۸ جھنگ برانچ نزد چنیوٹ جہاں میرے والد صاحب مرحوم مقیم تھے ان تک پہنچ گئی ۔ ان کو یہ سن کر انتہائی صدمہ ہوا ۔ میری والدہ بتاتی تھیں کہ تمہارے ابا جی نے یہ دردناک خبر سن کر تین ماہ تک رات کو تکیہ پر سجدے کی حالت میں راتیں گزاریں ۔ انہیں یہ صدمہ سیدھے سونے نہیں دیتا تھا۔ تین ماہ بعد میرے بڑے بھائی موضع ہری پور ہزارہ سے مجھے ملنے کے لئے حکومت کی اجازت ملنے پر آئے ۔ کیمبل پور جیل میں ملاقات ہوئی ۔ اس ملاقات میں سی آئی ڈی کا انسپکٹر رپورٹنگ کے لئے حکومت کی طرف سے موجود تھا۔ میرے بڑے بھائی گفتگو کرتے ہوئے میرے دونوں بازوؤں ، ٹانگوں کو بڑے غور سے دیکھتے تھے ۔ بار بار ان کے ایسا کرنے پر مجھے کچھ شبہ ہوا تو میں نے پوچھا کہ بھائی جان آپ بار بار غور سے میرے بازوؤں اور ٹانگوں کو کیوں دیکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ شاہی قلعہ میں آپ کی ٹانگ کہاں سے توڑی گئی اور بازو کہاں سے؟ میں نے کہا اللہ کا شکر ہے۔ میری دونوں ٹانگیں و بازو صحیح سالم ہیں ۔ انہوں نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ جھوٹی خبر تھی کہ آپ کو قلعہ میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ بالکل جھوٹ ہے۔ مگر آپ تک یہ خبر کیسے پہنچی ۔ انہوں نے ساری حقیقت حال کہہ سنائی ۔ جس کا مجھے بہت دکھ ہوا کہ میرے ضعیف باپ کو کس قدر شدید اذیت اور ذہنی کوفت پہنچائی گئی ۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ میں نظر بندی کے دن پورے کر کے گھر رہا ہو کر آ گیا اور اس واقعہ کا شیخ صاحب مرحوم سے تذکرہ تک نہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ شیخ صاحب جیپ کے ایک حادثہ کا سرگودھا روڈ پر شکار ہوئے اور ان کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔ جس کی میرے دل میں ہرگز خواہش و تمنا نہ تھی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجیب و غریب نظارے سامنے آتے ہیں ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دس سوالات کے جوابات

از : ڈاکٹر علامہ خالد محمود ( پی . ایچ . ڈی ، لندن )

ہمیں کینیڈا سے اقبال شاہد اکیڈمی ٹورنٹو کا ایک مراسلہ موصول ہوا ۔ جس میں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بارے میں دس سوال اس کے سیاسی اور واقعتی پہلوؤں سے کئے گئے ہیں ۔ پہلے سوال نقل کیا جاتا ہے اور پھر اختصار کے ساتھ اس کا جواب سپرد قلم ہے۔

سوال نمبر ۱ : اگر یہ تحریک مذہبی تحریک تھی تو سچی ہمدردی ، پرخلوص سیاسی سپورٹ اور روحانی و اخلاقی اقدار کی حامل ہو گی ۔ برائے

صفحہ ۶۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مہربانی بتائیں کہ ان اوصاف کا تحریک میں کتنا عملی حصہ تھا؟

جواب: ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا مقصد، جیسا کہ واقعات سے معلوم ہے۔ اسلام کے ارفع و اعلیٰ عقیدہ ختم نبوت کو پاکستان کی تعمیر میں واقعی ایک ایسی اساس مہیا کرنا تھا۔ جس کے تحت واقعی ایک اسلامی مملکت بن سکے اور آئندہ یہاں پاکستان میں نفاذ اسلام کا عمل اپنی پوری بہار پر آسکے، جو افراد، کارکن اور جماعتیں اس میں شریک ہوئیں۔ ان کے اخلاص اور ان کے خالص دینی جذبات کے لئے حسب ذیل شواہد موجود ہیں۔

اور پاکستان کی اندرونی اسلامی تعمیر کے لئے اپنی سیاسی حیثیت علی الاعلان ختم کی۔ کھلم کھلا اپنی سیاسی شکست تسلیم کی تاکہ ختم نبوت کی آئندہ محنتوں میں کوئی سیاسی آلودگی ساتھ نہ ہو۔ اس وقت کے سیاسی قائدین یا بعض افسران انتظامیہ اگر ان کے اس جذبہ اخلاص کو پا لیتے اور وہ ختم نبوت کے تقدس کو مجلس احرار اسلام کی سابقہ مخالفت سے بار بار نہ جوڑتے تو پاکستان کے ان حالات کا رخ یقیناً ان حالات سے مختلف ہوتا جو بعد ازاں واقع ہوئے۔

وحدت کے لئے ایک دوسرے کے قریب کرنا اور نفرتوں کے باہمی فاصلوں کو کم کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ ۱۹۵۱ء میں ملک کے مختلف الخیال ۳۱ علماء کرام کراچی میں جمع ہوئے اور ایک مشترکہ اسلامی سلطنت کی تشکیل کے خدوخال طے کئے گئے۔ ان میں سب کے اتفاق سے قادیانی شامل نہ کئے گئے۔ سو مسلمانوں کے مختلف الخیال مکاتب فکر کا یہ پہلا فیصلہ تھا کہ پاکستان میں قادیانی بطور مسلمان کے ہمارے کسی دائرہ اور شعبہ میں داخل نہیں۔ اب ختم نبوت پر جمع ہوئے بغیر ان کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی اور کوئی صورت نہ تھی۔ یہ ان جماعتوں کا انتہائی اخلاص تھا کہ اپنے باہمی اختلافات کے باوجود وہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئیں۔ اگر یہ تحریک شروع نہ کی جاتی تو پاکستان کو ایک اسلامی سلطنت بنانے کا وہ مشترکہ خاکہ کلیتہً رد ہو جاتا۔ جن حضرات نے ۱۹۵۱ء کی وہ میٹنگ بلائی اور قادیانیوں کو ملت اسلامیہ سے کلیتہً علیحدہ رکھا ان کے اس مؤقف کی موافقت میں تحریک ختم نبوت شروع کرنا کسی بدنیتی یا سیاسی غرض مندی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔

نیز انکوائری رپورٹ میں مسلمانوں کے سب طبقوں کا ختم نبوت کی اس تحریک کی حمایت کرنا ان الفاظ میں ملتا ہے: ’’اس شورش کو جماعت اسلامی، اہل سنت والجماعت، اہل حدیث اور شیعوں کی حمایت حاصل ہے۔ پھر صاحب گولڑہ شریف (ضلع راولپنڈی)، پیر صاحب سیال شریف (ضلع سرگودھا)، پیر صاحب علی پور سیداں (ضلع سیالکوٹ)، پھر شوکت حسین (سجادہ نشین پیر صاحب ملتان) اور بعض دیگر حضرات نے اس شورش کو برکت کی دعا دی ہے۔‘‘

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۱۴۴)

اس فہرست میں مجلس احرار اسلام کا ذکر نہیں۔ گو وہ بھی ان میں شامل تھی۔ یہ اس لئے کہ اصلاً یہ تحریک ایک خالص مذہبی تحریک تھی۔ مجلس احرار کی وجہ سے اسے حکومت اور انتظامیہ کا سیاسی رنگ دینا محض ایک چال تھی۔ حکومت اور انتظامیہ کا ایک مصلحتی انداز تھا۔ واقعات حکومت کے اس مؤقف کی تائید نہیں کرتے۔

صفحہ ۶۳۷

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی کتاب ”الشہاب“ پر رکھی تھی۔ مولانا عثمانی بلاشبہ تحریک پاکستان کے صفِ اوّل کے قائد تھے۔ اس لئے ”الشہاب“ کے بیان کردہ مضامین پاکستان کے خلاف کسی طرح شمار نہیں کئے جاسکتے۔ اگر اس تحریک کا مقصد پاکستان میں کوئی سیاسی ناہمواری پیدا کرنا ہوتا تو اس کی اساس مولانا عثمانی کے مذکور رسالہ پر کیوں رکھی جاتی۔ حکومت اور انتظامیہ نے اس رسالہ پر پابندی لگا دی تھی۔ اس صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک کے قائدین تو اپنے مطالبات میں پورے اخلاص سے کام کر رہے تھے۔ حکومت اور انتظامیہ ان کی روک تھام میں مخلص نہ تھی۔ اس نے اصولوں کو طاقت سے دبانے کی غلط پالیسی اختیار کر کے ملک کو فسادات میں جھونک دیا تھا۔

ہیں: ”بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان احرار لیڈروں کی نیت پر اعتراض کریں یا ان سے اتنا ہی پوچھ لیں کہ آخر وہ ان احمدیوں کے خلاف اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص۲۱)

حکومتیں رائے عامہ کا ہمیشہ احترام کرتی ہیں۔ حکومت اور افسران مسلمانوں کے ان مطالبات پر محض اس لئے سنجیدگی سے غور کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان کے خیال میں اس تحریک کے بعض راہنما پہلے تقسیم ملک کے خلاف تھے اور عامۃ الناس قادیانیوں کی قابل اعتراض سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ یہ دیانتدارانہ رائے رکھتے تھے کہ احرار لیڈر مسلمانوں کا دین وعقیدہ بچانے کے لئے اس دینی مہم میں مخلص ہیں۔

انتظامیہ کی رپورٹوں میں بار بار اس مؤقف کو بیان کیا گیا کہ اگر ان راہنماؤں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی گئی تو اس کا عوام پر اچھا اثر نہ پڑے گا۔ وزیرداخلہ نے کہا: ”اگر موجودہ مرحلے پر جماعت احرار اور اس کے کارکنوں کے خلاف اقدام کیا گیا تو ان کی ہر دلعزیزی کئی گنا بڑھ جائے گی۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص۲۲)

اس کا مطلب اس کے سوا کیا سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اس وقت رائے عامہ یہی تھی کہ یہ تحریک خالص مذہبی تقدس کی حامل ہے اور حکومت کے بعض افسران قادیانیوں کی اندرونی انگیخت پر احرار کے سابق سیاسی مؤقف سے جوڑ رہے ہیں۔ ان افسران کا قادیانیوں سے یہ راز دارانہ تعلق نہ ہوتا تو چیف سیکرٹری پنجاب نے ۲۸؍فروری ۱۹۵۳ء کو ڈپٹی کمشنروں کو جو ہدایات دیں ان میں ضلع کے قادیانی سربراہوں کو یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ ”ان سے خاص طور پر یہ کہہ دیا جائے کہ حکومت کے موجودہ اقدامات پر اظہارِ مسرت سے بھی محترز رہیں۔ کیونکہ ایسے اظہار سے حکومت کے خلاف جانب داری کا غلط احساس پیدا ہوسکتا ہے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۱۵۱)

چیف سیکرٹری صاحب کو جو بات یہاں کھٹک رہی ہے اس کا عامۃ الناس پر اثر یہی تھا کہ علماء اپنے مطالبات کو سنجیدگی سے اور دین ومملکت کی بہتری کے لئے پیش کر رہے تھے اور حکومت میں ایسے بہت سے افسران تھے جو ان پیش آمدہ حالات میں مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور اسے خواہ مخواہ تقسیم ملک کے سیاسی موضوع سے جوڑ رہے تھے۔

اختیار کیا جو ایک غیر مسلم حکومت (انگریز حکومت) کے تحت مسلمانوں کے حقوق کو قادیانی دستبرد سے بچانے کے لئے ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے پیش کیا تھا کہ قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ان کے حقوق اور ذمہ داریاں مسلمانوں سے علیحدہ طے کی جائیں۔ اب جب کہ پاکستان ایک اسلامی حکومت بنا تو اس میں قادیانیوں کا وجود خلاف قانون قرار دیا جانا چاہئے تھا۔

صفحہ ٦٣٨

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لیکن علماء نے یہاں نرم ترین موقف اختیار کیا کہ شاید اس راہ سے قادیانیوں کو پھر مسلمان ہونے کا موقعہ مل سکے۔

سوال نمبر ۲: ایک ارفع مقصد کے حصول کے لئے نظم وضبط افہام وتفہیم اور ضابطہ اخلاق کی جتنی ضرورت ہوتی ہے کیا تحریک کو وہ سب حاصل تھے۔ اگر نہیں تو کیوں؟ ان کے بغیر تحریک کیوں شروع کی گئی تھی؟

جواب: ایک خالص دینی مقصد کے حصول کے لئے جس قسم کے نظم وضبط کی ضرورت ہوتی ہے وہ بلاشبہ اس تحریک میں موجود تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قائدین کے پاس وہ آئینی قوت موجود تھی جو حکومت اور انتظامیہ کے پاس فوج اور پولیس کی شکل میں موجود ہوتی ہیں۔ حکومت اگر غلط فیصلہ کرے اور تحریک کو دبانے کے لئے پولیس اور فوج کا غلط استعمال کرے اور نہتے عوام اس صورتحال کا مقابلہ نہ کر سکیں تو اس کا یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ قائدین تحریک کے پاس نظم وضبط کی قوت نہ تھی اور وہ اس کے بغیر تحریک چلا رہے تھے۔ عوام میں سے بھی کچھ لوگ نظم وضبط سے بھٹک جائیں تو اس سے قائدین تحریک مجروح نہیں ہوتے۔ جس طرح جنگ احد میں بعض لوگوں کے درّہ چھوڑنے سے آنحضرت ﷺ کی جنگی تیاری مجروح نہیں کی جا سکتی نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کا نظم وضبط پر مکمل کنٹرول نہ تھا۔

نظم وضبط قائم رکھنے سے اگر یہ مراد ہے کہ جن مختلف الخیال مسلمانوں نے اس تحریک کو اٹھایا وہ آخر تک اپنے اس موقف پر قائم رہے یا نہ؟ تو اس کا جواب بھی اثبات میں ہے۔ دیوبندی، اہل سنت، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ اس وقت سے لے کر اب تک اس بات پر پختگی سے قائم ہیں کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور انہیں مسلمانوں کے حقوق میں سے کسی حق میں حصہ دار نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کی سیٹیں اور ان کے حقوق مسلمانوں سے علیحدہ بطور ایک اقلیت ترتیب پائیں گے۔

اور اگر نظم وضبط سے یہ مراد ہے کہ کیا تمام جماعتیں اور علماء آخر دم تک اس تحریک کے ساتھ رہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی عالم دین کا ساتھ نکلنا یا نہ نکلنا یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ اس کا تعلق جس فرقہ سے ہے اس کی نمائندگی آخر تک اس تحریک کے ساتھ رہی۔ سوائے ایک آدھ سیاسی جماعت کے کسی دینی جماعت نے قادیانیوں کے خلاف ان کئے گئے مطالبات سے سرمو انحراف نہیں کیا۔

افہام وتفہیم کے مراحل

علماء کرام نے قادیانیوں کی سرگرمیوں اور مسلمانوں کے آئینی تقاضوں سے مرکزی اور صوبائی حکومت کو خبردار کرنے کے لئے متعدد ملاقاتیں کیں۔ تحریک یونہی اچانک بے خبری میں شروع نہیں کر دی گئی۔ اس کے لئے ہر ممکن انسانی بساط تک ارکان حکومت اور عوام کو مطلع کیا جاتا رہا ہے۔

صفحہ ۶۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتوثیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرائی۔ مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی بھی اس ملاقات میں ساتھ تھے۔ یہ ملاقات ۳؍مارچ ۱۹۵۰ء کو ہوئی۔ (منیر انکوائری رپورٹ اردو ص ۱۲۷) پر اس کا ذکر موجود ہے۔

مشتاق احمد گورمانی بھی موجود تھے۔

پنجاب سے ملاقات کی اور قادیانیوں کے بارے میں انہیں قوم کے احساسات اور اپنے موقف سے مطلع کیا۔

طبقے سے افہام و تفہیم کے مراحل تھے۔ ان ملاقاتوں کے علاوہ اور بھی متعدد مواقع پر صوبائی اور مرکزی حکومتوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان سے تین سو نوے (۳۹۰) میٹنگیں کیں۔ (منیر انکوائری رپورٹ ص ۱۰۰) کے مطابق ۱۶۷ مجلس احرار اسلام اور ۲۲۳ دوسرے عام مسلمانوں کے انصرام سے منعقد ہوئیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عام مسلمان مجلس احرار کی نسبت اس میں زیادہ فعال تھے۔

ان پبلک میٹنگوں میں قائدین تحریک کا انداز عمل کیا تھا۔ اسے چیف منسٹر پنجاب نے اپنے ڈائریکٹر تعلقات عامہ سے دریافت کیا۔ (منیر انکوائری رپورٹ ص ۹۰) کے مطابق میر نور احمد نے چیف منسٹر کو اطلاع دی کہ: ’’احراری لیڈر حکومت کے ساتھ تصادم سے بچنے اور اپنی تحریک کو آئینی طریقے سے جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘

جہاں تک قادیانیوں سے افہام و تفہیم کا تعلق ہے علماء کرام نے اس موضوع پر ایک ہزار سے زیادہ تالیفات کی ہیں۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کے جملہ شبہات کو تار تار کر کے دکھایا گیا ہے۔ ان میں کئی کتابوں کے انگریزی ترجمے بھی ساتھ ساتھ ہیں اور یہ کتابیں اردو، عربی، فارسی، انگریزی مختلف زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔ اس سے بڑھ کر مسئلہ قادیانیت کی اور کیا تشریح کی جاسکتی تھی۔ ان سب صالح کوششوں کے باوجود قادیانیوں کی ضد اور حکمرانوں کی حقیقت حال نہ سمجھنے کی ناعاقبت اندیشی ہی دو وجوہ ہیں۔ جنہوں نے حالات کو ابتر بنا دیا۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہاں تک کیا کہ خواجہ نذیر احمد کو اپنا خاص نمائندہ بنا کر ربوہ بھیجا اور مرزا بشیر الدین سے کہلوایا کہ اگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے نبوت سے نیچے کسی اور منصب کے مدعی ہوجائیں تو وہ علماء سے ان کے اس موقف کو نرم کرنے کی گزارش کرسکیں گے اور حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔

اس درجہ تک کی مصالحانہ کوششوں کے باوجود قادیانی اپنے عقیدہ اور عزائم سے ذرا پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ملک کی وفادار کوئی حکومت ایسے نازک موڑ پر کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں اور اسے اسی لاکھ مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ درپیش ہے۔ غذائی بحران، قحط کی زد میں آچکا ہو۔ پھر وہ عوام سے اس ناعاقبت اندیشی سے ٹکر لے اور ملک کے مذہبی احساسات کو جن کے بل بوتے پر یہ ملک بنا ہے، انہیں اس طرح جنرل اعظم کے مارشل لاء کے ذریعے کچلے پاکستان کی تاریخ میں حکومت کا یہ غلط اقدام ایک ایسا سیاہ دھبہ ہے جو شاید ہی کبھی دھل سکے۔

صفحہ ۶۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی وزارت الٹی اور نئے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں ظفر اللہ خان کے نہ ہونے سے کیا پاکستان معاذ اللہ ختم ہو گیا تھا اور کیا امریکہ نے ہمیشہ کے لئے گندم بند کر دی تھی؟ پاکستان خدا کے فضل سے اب بھی موجود ہے اور ظفر اللہ خان کی بساط وزارت اور سیاست سے ہٹنے کے باوجود زندہ ہے اور زندہ رہا تو کیا ان حالات نے خود نہیں بتا دیا کہ اس وقت کی حکومت کا یہ موقف کہ اگر ان مطالبات کو قومی سطح پر تسلیم کر لیا گیا تو پاکستان چل نہیں سکے گا۔ ہرگز صحیح نہ تھا۔

نامناسب نہ ہوگا کہ ہم یہاں ایک سوال خود پیدا کریں اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی عرض کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ منیر انکوائری رپورٹ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قائدین تحریک قادیانیوں کے خلاف بہت نامناسب اور فحش زبان استعمال کرتے رہے اور انہیں برسر عام گالیاں دیتے رہے۔ افہام و تفہیم کے مراحل میں اس انداز بیان کو پسند نہیں کیا جاسکتا۔ جواب یہ ہے کہ رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اس باب میں احتیاط سے کام نہیں لیا۔ قادیانی لٹریچر میں مسلمانوں کے خلاف جس فحش بیانی، بازاری زبان اور غیر اخلاقی انداز کو اختیار کیا گیا ہے۔ علماء جب بھی اسے عوام کی عدالت میں لاتے رپورٹ لکھنے والے اسے علماء کے نام سے لکھتے اور پھر افسران بالا مکھی پر مکھی مارتے ہوئے اسے علماء کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ہم یہاں اس کی صرف دو مثالیں سامنے لاتے ہیں۔

حیات کی تقریر کی روداد میں ملے گا۔ آپ نے کہا: ”اگر چہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا۔ لیکن ہم اس کو الزام نہیں دیتے۔ کیونکہ وہ صرف کبھی کبھی زنا کرتا تھا۔ ہمارا اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے جو ہر روز زنا کاری کا مرتکب ہوتا ہے۔“

حقیقت یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کے پرچہ (الفضل قادیان مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء) کی رپورٹ ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ تحریر کسی پیغامی (قادیانیوں کی لاہوری جماعت کے جماعتی آرگن کا نام پیغام صلح تھا) کی معلوم ہوتی ہے۔ اصل الفاظ ہم یہاں نقل کئے دیتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ کریں کہ منیر انکوائری رپورٹ میں کس خلاف احتیاط انداز میں قادیانیوں کی فحش زبانی علمائے اسلام کے ذمہ لگا دی گئی۔ ”اس کی سلسلہ سے محبت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے کہ ایک خط جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے۔ اس پر یہ تحریر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں اور اگر انہوں نے بھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔ پھر لکھا ہے ہمیں حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں۔ کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“

(روزنامہ الفضل قادیان دار الامان ج ۲۶ ص ۶ نمبر ۲۰۰، مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء)

خلیفہ ہم بستر ہوئے تھے۔ اس قسم کی نفرت انگیز اور مکروہ ترین ظرافت علی الخواص ایک اسلامی مملکت میں ہرگز قابل برداشت نہیں ہونی چاہئے۔“ یہ قصہ احراری مقررین کی ایجاد نہیں۔ مرزا بشیر الدین کا ایک اپنا خواب ہے۔ جس کو ان کے جماعتی آرگن ”الفضل“ نے ۱۲ اپریل ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں اس طرح نقل کیا ہے: ”فرمایا آج رات میں نے سحری سے پہلے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ میرا بستر بچھایا جا رہا ہے یا بچھایا جانے والا ہے اور کوئی شخص مجھے آ کر کہتا ہے کہ گاندھی جی آپ سے ملنے کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کی شرط یہ ہے کہ وہ آپ کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر سوئیں گے۔ پہلے تو مجھے یہ شرط سن کر نفرت سی ہوئی۔ پھر میں نے یہ خیال کر کے کہ اس طرح اگر صلح کی کوئی صورت ہوتی ہو تو کیا حرج ہے۔ کہا کہ اچھا مجھے منظور ہے۔ چنانچہ وہ آ گئے اور ایک ہی بستر پر وہ بھی لیٹ گئے اور میں بھی لیٹ گیا اور ان کا جسم کچھ موٹا سا معلوم ہوتا ہے اور اوپر کے

صفحہ ۶۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دھڑ پر بھی کپڑا ہے۔ (ان کی عادت کے خلاف) اس کے بعد ایک یا ڈیڑھ منٹ لیٹ کر ہی وہ اٹھ بیٹھے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۴۵ نمبر۸۷ ص۲)

سوال نمبر۳: علماء پاکستان نے نیک نیتی اور جذبہ خیر خواہی سے کام لے کر احمدیوں کے غلط عقیدے کی اصلاح کے لئے کیا کوششیں کیں؟ کتنی ملاقاتیں کی گئیں اور ان ملاقاتوں کا نتیجہ کیا نکلا؟

جواب: علماء کرام قادیانیت کے آغاز ہی سے نیک نیتی اور جذبہ خیرخواہی کے ساتھ اسلام کی اعتقادی سرحدوں کا پہرہ دیتے رہے اور قادیانیوں کو قرآن وحدیث کی معنوی تحریف سے روکتے رہے اور انہیں خدا تعالیٰ کے آخری دین کی طرف دعوت دیتے رہے۔ ان کی مساعی کا سلسلہ بہت کامیاب رہا اور کروڑوں مسلمان ان کے جال میں جانے سے بچ گئے اور اب تک مسلمانوں میں یہ محنت جاری ہے۔ سینکڑوں سعید ارواح نے بھٹک جانے کے بعد بھی حق کی آواز کو اپنے دل کی پکار جانا اور اصل دین کی طرف لوٹ آئے۔ قادیانیت کی راہ پر آنے والوں نے جب بھی علماء کرام کی دعوت کا سنجیدگی اور تدبر سے جائزہ لیا ہے۔ اس نتیجہ پر پہنچنے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ قادیانیت پرانے اسلام سے ایک کلی مقاطعہ ہے اور یہ راہ جہنم سے ہو کر گزرتی ہے۔ آنکھوں دیکھے مکھی نہیں نگلی جاسکتی۔ ایسے لوگوں نے جلد ہی فطرت کی آواز پر لبیک کہا اور حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ کے دین کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کے خلاف سب سے بڑے مناظر حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر بھی قادیانیوں ہی سے صف اسلام میں آئے تھے۔ جنہوں نے مسلمان ہو کر ’’ختم نبوت‘‘ کی تبلیغ میں ساری عمر گزار دی۔ علماء اسلام نے قادیانی الحاد کی اصلاح کے لئے اردو، عربی فارسی اور انگریزی میں متعدد کتابیں لکھیں۔ متعدد مجالس میں ان سے باہمی اختلافی امور پر گفتگو کی۔ افسوس کہ قادیانی مبلغین اپنی ضد پر اڑے رہے۔ پھر علماء کرام نے قادیانی سربراہ کو مباہلہ تک کی دعوت دی۔ جسے قادیانیوں نے یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس سے زیادہ اور کیا کارروائی ہو سکتی تھی۔ جس سے ان کے غلط عقائد کی اصلاح کی جاتی۔ قادیانیوں کی اس ضد نے مسلمانوں کو اس پر مجبور کیا کہ اب انہیں آئینی طور پر اپنے سے علیحدہ رکھنے کے لئے ان کے غیر مسلم اقلیت ہونے کی تحریک چلائی جائے۔

سوال نمبر۴: یہ تحریک اس وقت کیوں شروع کی گئی۔ جب پاکستان کو معرض وجود میں آئے محض چار پانچ سال ہوئے تھے اور اسے ۸۰ لاکھ مہاجرین کی آباد کاری کا مرحلہ درپیش تھا اور غذائی بحران قحط کی زد میں آچکا تھا اور قوم کا مورال جونا گڑھ، ماناودر اور حیدر آباد پر بھارتی قبضہ کے باعث بے حد گر چکا تھا اور سب سے زیادہ یہ کہ دشمن کشمیر میں پاکستان سے نبرد آزما تھا؟

جواب:

لئے ہر اقدام عوام میں جلدی لائق قبول بنایا جاسکتا تھا۔ اس لئے اس میں دیر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف تھی۔

عقیدے کی رو سے جہاد کو بدترین مسئلہ سمجھتے تھے۔ ان حالات میں قادیانی عقائد کو مسترد کئے بغیر مسلمانوں کے جذبہ جہاد کا پہرہ نہیں دیا جا سکتا تھا۔

عام مسلمانوں میں پاکستان کے عدم استحکام اور تقسیم ملک کے عارضی ہونے کے خیالات عام ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس لئے تحریک جلد شروع کرنی ضروری تھی۔ قادیانیوں نے پاکستان آ کر صاف کہا کہ ہم مجبوراً یہاں آئے ہیں۔ اگر ہمیں مار مار کر نہ نکالا جاتا تو

صفحہ 644

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہم یہاں نہ آتے۔

(روزنامہ الفضل لاہور ج ۲ ش ۱۸ ص ۲)

ان کا قادیانی نظریات و عقائد سے تحفظ کرنا تھا۔ ہنگامہ آرائی ان کے مقاصد میں نہ تھی۔ یہ ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ کی تھی کہ وہ ان خالص دینی مطالبات کو تسلیم کر کے رعایا کو مطمئن رکھتی اور کسی طرح کا ہنگامہ واقع نہ ہونے دیتی۔ یہ سوال تو اس وقت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں سے ہونا چاہئے تھا کہ انہوں نے اس وقت نوزائیدہ ملک میں عوام سے ٹکر لینے اور خود اسلام سے ٹکرانے کا یہ خطرہ کیوں مول لیا۔

ہر مرحلے میں ترجیحی برتاؤ کرتے تھے۔ الاٹمنٹوں اور تقرریوں میں ہر قادیانی افسر قادیان پرستی کے نشہ میں سرشار تھا۔ ان نازک حالات میں پاکستان کے طول و عرض سے قائدین ختم نبوت کو خطوط و مراسلات ملتے۔ وفود کے وفود آتے۔ ان حالات میں عوام کی خاموشی خود اپنی خودکشی کے مترادف تھی اور ظاہر ہے کہ کوئی زندہ قوم اسے برداشت نہیں کرتی۔

ہمدردی اور برادری کے نقطہ نظر سے نہ دیکھا جا سکتا تھا۔ بیرون ملک اسلامی قومی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے وزارت خارجہ کو قادیانی سربراہی سے بچانا ضروری تھا۔

سوال نمبر ۵: وزیر اعظم کہتے تھے میں ظفر اللہ کو کیسے نکال دوں۔ انہیں قائد اعظم نے اس منصب پر فائز کیا تھا۔ دوسرا جواب یہ تھا کہ اگر ظفر اللہ خان کو نکال دیا گیا تو امریکہ سے گندم کا ایک دانہ بھی پاکستان کو نہ ملے گا۔ تیسرا جواب یہ تھا کہ ظفر اللہ خان کو ہٹانے سے ہندوستان دریاؤں کا رخ بدل دے گا اور پاکستان کی زمین بنجر اور ویران ہو جائے گی۔

جواب:

قادیانیت نہ چلا سکتے۔ قائد اعظم نے اگر اسے نامزد کیا تھا تو اپنے سامنے کام کرنے کے لئے نامزد کیا تھا۔ یہ نہیں کہا تھا کہ میرے بعد بھی تم اس پر اعتماد بحال رکھو۔ ثانیاً اس وقت ہندوستان اور پاکستان دونوں کی سیاسی مصلحت اس میں تھی کہ کچھ وقت کے لئے انگریزوں کے کسی نہ کسی ایجنٹ کو ساتھ رکھیں۔ گاندھی اور پنڈت نہرو نے اس کے لئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو چنا اور قائد اعظم نے چوہدری ظفر اللہ خان کو چنا۔ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی ہونے کی حیثیت سے برطانیہ کا ایک خود کاشتہ پودا تھا۔ سو اگر قائد اعظم نے اس وقت مصلحت اس میں سمجھی کہ انگریزوں کا کوئی نہ کوئی ایجنٹ ساتھ رکھا جائے تو یہ ایک وقتی مصلحت تو ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی سلطنت ہونے کے باوجود ایک غیر مسلم کو اپنے بیرونی تعارف کا ذریعہ سمجھے۔

آنے جانے سے متاثر نہیں ہوا کرتے۔ اس سوال کا جواب تو خود قادیانیوں کو فراہم کرنا چاہئے کہ آخر امریکہ کو ظفر اللہ خان سے کیا دلچسپی تھی کہ اس کے جانے کے بعد وہ پاکستان کو گندم کا ایک دانہ بھی نہ دے گا اور خواہ پاکستان خوفناک قحط سے دوچار ہو جائے امریکہ اپنے اور اپنے حلیف ملک کے تمام مفادات محض ایک فرد کی وجہ سے قائم رکھے اور اس کے ہٹنے یا مرنے سے اس

صفحہ ۶۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے دستبردار ہو جائے۔ اس طرح وہ گندم جو ظفر اللہ جیسے قادیانی کی بدولت مسلمانوں کو ملے اپنے اندر یقیناً کوئی گہری سازش رکھتی ہوگی۔ ان گندم نما سازشی جو فروشوں سے ملک کی اساسی حیثیت اور مسلمانوں کے ایمان اور ملی بقاء کے تحفظ کے لئے ضروری تھا اور یہ ایسا ضروری تھا کہ مسلمان معاشی خطرہ مول لے کر بھی متاع ایمان کی حفاظت کرنے کے مکلف تھے۔ علامہ اقبال مرحوم نے ایسے ہی مواقع کے لئے کہا ہے۔

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

چلتا ہے کہ ظفر اللہ اپنے قادیانی پیشروؤں کے گھناؤنے منصوبے کہ پاکستان پھر اکھنڈ بھارت میں جاملے گا، کے لئے کام کر رہا تھا۔ قائدین تحریک ختم نبوت کا موقف بھی یہی تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے ہمدردی کبھی تھی نہ ہے۔ پھر اگر ظفر اللہ وزارت میں رہے تو بھارت پاکستان کو پانی دے گا۔ وگرنہ نہیں۔ اس فیصلہ کے مضمرات جاننا کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ظفر اللہ پاکستان میں ہندوؤں کے مفادات کا محافظ تھا۔ اسے ہٹانے کی صورت میں بھارت کو پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپنے کے لئے اور کوئی شخصیت نہ مل سکتی تھی اور اسی لئے پانی بند کرنے کی دھمکی دی گئی۔ یہ بھی قائدین تحریک ختم نبوت کی کرامت سمجھئے کہ اس وقت کے حکمران نے یہ سوال کر کے بالواسطہ یہ اعتراف کیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے اسلام اور پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت کے ساتھ کتنے گہرے رابطے ہیں؟ جن میں ظفر اللہ کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔ سو اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ پاکستان کو امریکہ، بھارت اور قادیانیت کی تثلیث و تلبیس سے بچانے کے لئے ظفر اللہ کو ہٹانا ضروری تھا۔ ایک نظریاتی ریاست کا تنخواہ دار ملازم جب اس ریاست کے اساسی مقاصد سے انحراف و بغاوت رکھتا ہو تو اس کی سزا سزائے بغاوت ہے۔ جب کہ مسلمانوں نے بہت نرمی کی اور اسے صرف وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ آئین اور اخلاق کے اعتبار سے اس مستحسن بلکہ مسلمانوں کے ملی وجود پر قادیانیت کے منڈلاتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ضروری مطالبہ پر مسلمانوں ہی کو مورد طعن ٹھہرانا چور ہو کر کوتوال کو ڈانٹنا ہے۔

سوال نمبر ۶: مذکورہ حالات کے تناظر میں کیا ہم یہ سمجھیں کہ تحریک ختم نبوت پاکستان پر آخری ضرب لگانے کے لئے جاری کی گئی تھی۔ تاکہ ملک خانہ جنگی کے باعث ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ اگر نہیں تو تحریک کے مثبت مضمرات پر روشنی ڈالیں۔

جواب: قادیانیت کے موضوع پر ملک کبھی خانہ جنگی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ یہ تصور وہی کر سکتا ہے جسے قادیانیوں کی موجودہ پوزیشن کا کوئی علم نہ ہو۔ ہاں! ایک صورت میں اس کا احتمال ہو سکتا تھا کہ فوج میں موجود قادیانی اپنے آپ کو اپنے کمانڈر کے حکم کی بجائے اپنے ربوہ کے سربراہ کے تحت سمجھیں۔ اگر فوج کے کسی حصہ میں ان کی پوزیشن مضبوط ہو تو بے شک اس سے خانہ جنگی کا احتمال پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا سدباب خاموشی نہیں بلکہ ہر محکمہ میں ان کی افراد اور کلیدی پوزیشنوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک مسلمانوں نے اسلام کے نام پر بنایا ہے۔ اس میں قادیانی اگر اس طرح گھسیں کہ ہر ہر محکمہ میں وہ اپنی پوزیشن قوی کرنے لگیں۔ یہاں تک کہ ان جیسی سازشوں کے ذریعے وہ پاکستان پر چھا جانے کا منصوبہ بنائیں تو کیا مسلمان محض اس لئے منہ دیکھتے رہ جائیں کہ ان کو ہاتھ ڈالنے سے ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ ۱۹۵۳ء کی اس تحریک اور چوہدری ظفر اللہ خان کی علیحدگی سے اب یہ اس پوزیشن میں قطعاً نہیں آسکتے کہ ان کے باعث کسی خانہ

صفحہ ۶۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جنگی کا اندیشہ ہو۔ ہاں! قادیانی سربراہ کا ہمارے دفاتر اور محکموں کو اس نقطہ سے دیکھنا یقیناً ایک امڈ آنے والے فتنے کا موجب ہو سکتا تھا۔

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۲۱۳) میں ہے: ”مرزا بشیر الدین محمود کے ایک خطبے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو الفضل مورخہ ۱۱؍جنوری ۱۹۵۲ء میں شائع ہوا تھا اور جس میں احمدیوں کو ترغیب دی گئی تھی کہ صرف ایک ہی محکمہ یعنی فوج ہی میں جمع نہ ہوں بلکہ تمام دوسرے محکموں میں بھی پھیل جائیں۔“ اور اس کا مقصد منیر انکوائری رپورٹ کے الفاظ میں یہ تھا: ”تاکہ جو لوگ اب تک منکر رہے ہیں، وہ ۱۹۵۲ء کے آخر تک احمدیت کے آغوش میں آ جائیں۔“ (منیر انکوائری رپورٹ ص ۲۱۳) پھر مرزا بشیر الدین محمود نے کوئٹہ میں جو تقریر کی اس کا ذکر منیر انکوائری رپورٹ میں اس طرح کیا گیا ہے۔ ”کوئٹہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جو تقریر کی وہ نہ صرف نامناسب بلکہ غیر مآل اندیشانہ اور اشتعال انگیز تھی اس تقریر میں انہوں نے پورے صوبے کو احمدی بنا لینے اور اس صوبے کو مزید جدوجہد کے مرکز کی حیثیت سے استعمال کرنے کی علی الاعلان حمایت کی۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۲۸۰)

پاکستان میں انہی سالوں میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے۔ جنہیں بجا طور پر کسی خفیہ ہاتھ کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً لیاقت علی خان کا قتل عین اس وقت جب قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی انہیں قادیانی عقائد و عزائم سے تفصیلاً آگاہ کر چکے تھے۔ فوج میں پنڈی سازش کیس اور میجر جنرل نذیر کا کردار، جداگانہ انتخابات کی تجویز اور قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کرنے کا فیصلہ، قادیانی سربراہ کا بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کی سازش اور ربوہ کے قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ اعلان کہ ۱۹۵۲ء تک پوری مسلم آبادی قادیانی بن جائے اور قادیانی افسروں کا بزور مسلمانوں کو قادیانی بنانا یہ وہ باعث تھے جو دردمند حساس مسلمانوں کو اس مؤقف پر لانے کا موجب ہوئے۔ ان حالات میں اگر علماء کرام نہ اٹھتے تو پاکستان ضرور کسی نہ کسی جہت سے قادیانی سازش کی بھینٹ چڑھ چکا ہوتا۔ سو یہ بات صحیح نہیں کہ یہ تحریک پاکستان پر کسی ضرب کاری کے لئے شروع کی گئی تھی۔ بلکہ منیر انکوائری رپورٹ کے مطابق خود قادیانی سرگرمیاں اس کا موجب ہوئی تھیں کہ مسلمان یہ تین مطالبات لے کر اٹھے تھے۔

سوال نمبر ۷: قائد اعظم کو کافر اعظم اور پاکستان کو ”بازاری عورت“، کس نے کہا تھا اور کس شخص نے اپنی شعلہ آفرین تقریروں کے ذریعے عوام کو اتنا مشتعل کیا تھا کہ عام خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔

جواب: تقسیم ملک سے پہلے کے سیاسی اختلافات میں ہر فریق نے ایک دوسرے کے بارے میں جو کچھ کہا اسے پاکستان بننے پر نئے سرے سے اچھالنا کسی طرح درست نہیں۔ نہ یہ کسی محبّ وطن کا کام ہو سکتا ہے۔ یہ اندازِ سوال بتا رہا ہے کہ سوال کرنے والا ایک جذباتی اختلاف کی آگ نئے سرے سے بھڑکانا چاہتا ہے۔ حالانکہ پاکستان بننے کے بعد ان لوگوں کی پاکستان سے وفاداریاں جو پہلے تقسیم کے خلاف نظریہ رکھتے تھے دوسرے کسی پاکستانی سے کم نہیں۔ پاکستان کو ”بازاری عورت“ کسی نے نہیں کہا۔ یہ محض بہتان ہے۔ لیکن یہ صحیح ہے کہ پاکستان بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو مرزا غلام احمد قادیانی نے بازاری عورتوں کی اولاد کہا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی مقرر نے یہ حوالہ پیش کیا ہو اور نقل کرنے والے نے اسے مقرر کے ذمہ لگا دیا ہو۔ اس قسم کی خلاف احتیاط نقول منیر انکوائری رپورٹ میں کئی جگہ موجود ہیں۔ ان میں سے دو نمونے ہم دوسرے سوال کے جواب کے ذیل میں افہام و تفہیم کے مراحل کے تحت بیان کر چکے ہیں۔

صفحہ ۶۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کو جو بازاری عورتوں کی اولاد کہا ہے۔ یہ بایں جہت زیادہ محل اعتراض ہے کہ قادیانی پاکستان میں بھی یہ لٹریچر لئے پھرتے ہیں اور مسلمانوں کو برسرعام بازاری عورتوں کی اولاد کہنے کی اشاعت کی جاتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ تحریر (آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، ۵۴۸) پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قادیانیوں کی یہ گالی اور فحش گوئی کی یہ زبان قائدین تحریک ختم نبوت کے ذمہ لگا دی جائے۔

تحریک سے کچھ عرصہ پہلے ایک پر جوش تقریر مرزا بشیر الدین محمود نے کی تھی۔ جس سے ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔ اس کا ذکر (منیر انکوائری رپورٹ ص ۲۱۳) میں بایں عبارت موجود ہے۔ ”اس خطبہ میں انہوں نے اپنے پیروؤں سے پر جوش اپیل کی تھی کہ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو تیز تر کر دیں۔ تاکہ اب تک جو لوگ منکر رہے ہیں وہ ۱۹۵۲ء کے آخر تک احمدیت کے آغوش میں آجائیں“ حالات بتاتے ہیں کہ مرزا بشیر الدین نے فسادات کی جو آگ بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔ پھر وہ فضاء بن کر رہی۔

سوال نمبر ۸: ایک اور شخص جس نے قائد اعظم کو اپنی ایک تصنیف میں رجل فاجر کی گالی دی تھی اور جس نے فسادات کے خاتمہ کے لئے حکومت کی امن کی اپیل پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ کیا یہ وہی تو نہیں تھے جنہوں نے کشمیر میں پاکستان کی فوجی کارروائی کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اور جن کے فتویٰ کو بھارتی ریڈیو نے زبردست پروپیگنڈا کے طور پر اچھالا تھا۔

جواب: کسی سیاسی شخصیت کا کسی دوسرے سیاسی قائد کو رجل فاجر کہنا اس کی قیادت کا انکار نہیں۔ جس طرح صلوا خلف کل بر و فاجر کا حکم کسی کی امامت کی نفی نہیں کرتا۔ اس قسم کے الفاظ کا استعمال گو ناپسندیدہ سہی لیکن اس سے ملکوں کے قومی فیصلے کبھی متاثر نہیں ہوتے۔ اگر کوئی شخص سیاسی سطح پر جہاد کے سلسلہ میں اس قسم کی بات نہیں کہتا۔ اعتقادی حیثیت سے کہتا ہے تو بے شک اس کا یہ فتویٰ قومی سطح پر خطرناک ہوگا اور اس کے عملی زندگی پر گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی قائد نے کسی سیاسی معاہدہ کے باعث جہاد کشمیر کا انکار کیا تو یہ بات ایک سیاسی سطح سے زیادہ درجہ نہیں رکھتی۔ لیکن اگر کوئی شخص اعتقادی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اب جہاد منسوخ اور حرام ہے تو اس قسم کے اعتقاد کے حامل واقعی ملک کے لئے عظیم خطرہ ہیں۔ اگر انہیں دستور میں صاف لفظوں میں غیر مسلم رکھا جائے تو پھر یہ لوگ ملک کے لئے اتنا گھناؤنا خطرہ نہیں رہتے۔ علماء اسلام نے اسی خطرہ سے بچنے کے لئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ جہاد کو منسوخ حرام اور بدترین مسئلہ سمجھتے ہیں۔

(ریویو آف ریلیجنز ج ۱ ص ۳۹)

سوال نمبر ۹: تحقیقاتی رپورٹ کے مصنفین نے اپنی اس رائے کا بار بار ذکر کیا ہے کہ آئینی دائرے میں کام کر کے اسمبلی کے ذریعے تحریک کے مطالبات کو منوایا جاسکتا تھا۔ لیکن تحریک کے لیڈروں نے آئینی ذرائع کو استعمال کرنے کی بجائے فسادات اور جنگ وجدل کا راستہ اختیار کیا جو غداری کے مترادف تھا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدالت کے ججز کی رائے حتمی طور پر درست ہے اور کیا آپ بھی تحریک کے لیڈروں کو وطن کا غدار قرار دینے کے لئے تیار ہیں؟

جواب: تحریک کے لیڈروں پر فسادات اور جنگ و جدل کا راستہ اختیار کرنے کا الزام واقعات طور پر غلط ہے۔ قائدین تحریک ختم نبوت کے مطالبات اوّلاً اتنے معقول، حقیقت پسندانہ اور مبنی بر دلائل تھے کہ کسی انصاف پسند شخص کو ان سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔ ثانیاً انہیں منوانے کے لئے جو طریق کار اختیار کیا گیا وہ عصر حاضر کی جمہوری روایات کے عین مطابق تھا۔ تمام جمہوری ممالک میں عوام اپنے مطالبات ہمیشہ جلسوں جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ہی حکمرانوں تک پہنچاتے ہیں اور انہیں کسی بھی ملک میں جنگ وجدال اور فسادات سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔ قائدین تحریک ختم نبوت اپنے مطالبات سے وزیر اعظم کو بالمشافہ آگاہ کرنا چاہتے تھے کہ حکومت نے عاقبت

صفحہ ٦٤٦

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔ واقعات کی ترتیب سے پتہ چلتا ہے کہ انتظامیہ کے بعض ذمہ دار لوگ یہ نہیں چاہتے تھے کہ علماء کرام وزیر اعظم سے براہ راست ملاقات کر کے اپنے مطالبات میں کسی قسم کی کامیابی حاصل کریں۔

اگر انتظامیہ قائدین تحریک ختم نبوت کو گرفتار کرنے کا عاجلانہ اقدام نہ کرتی تو توقع تھی کہ قائدین افہام و تفہیم سے اس مسئلہ کو حل کروانے میں کامیاب ہو جاتے۔ ملک کو فساد میں جھونکنے اور اشتعال انگیزی کی ابتداء بھی قادیانیوں کی جانب سے ہوئی۔

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۲۸۰) میں ہے: ”کوئٹہ میں مرزا بشیر الدین محمود نے جو تقریر کی وہ نہ صرف نامناسب بلکہ غیر مال اندیشانہ اور اشتعال انگیز تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے بلوچستان کے صوبے کی پوری آبادی کو احمدی بنا لینے اور اس صوبے کو مزید جدوجہد کے مرکز کی حیثیت سے علی الاعلان استعمال کرنے کی حمایت کی۔ اس طرح جب انہوں نے اپنے پیروؤں کو یہ ہدایت کی کہ تبلیغ احمدیت کے پروپیگنڈا کو مزید تیز کر دیں تاکہ ۱۹۵۲ء کے آخر تک پوری مسلم آبادی احمدیت کی آغوش میں آ جائے تو گویا مسلمانوں کو تبدیل مذہب کے متعلق سرگرمیوں کا کھلا نوٹس دے دیا اور جب مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والوں کے متعلق ”دشمن“ یا ”مجرم“ یا محض ”مسلمان“ کے لفظ استعمال کئے گئے تو جن لوگوں کی توجہ ان اشارات کی طرف مبذول کرائی ان کا مشتعل ہونا لازمی تھا۔ احمدی افسروں نے لوگوں کو احمدی بنانے کی مہم میں از سر تا پا مصروف ہو جانا اپنا مذہبی فریضہ خیال کیا۔ ان کے اس امر کی وجہ سے احمدیوں کو اس امر کا حوصلہ ہوا کہ جہاں کہیں انہیں افسروں کی حمایت حاصل تھی یا حاصل ہونے کی توقع تھی وہاں اپنے مقصد کے حصول میں زور وشور سے مصروف ہو جائیں۔“

۱۷، ۱۸؍ مئی ۱۹۵۲ء کو جہانگیر پارک کراچی میں جس جلسہ سے ظفر اللہ خان کی تقریر کی وجہ سے تحریک کا آغاز ہوا، اس میں ظفر اللہ خان روکے جانے کے باوجود تقریر کرنے سے باز نہ آیا اور حکومت کو یہ جواب دیا۔

اس جلسہ میں تقریر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں اور اگر اس کے باوجود بھی وزیر اعظم اس بات پر مصر ہوں کہ مجھے جلسہ میں شامل نہ ہونا چاہئے تو میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہوں۔

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۷۷)

منیر انکوائری رپورٹ کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ:

قادیانیوں کے ان خطرناک ارادوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے قائدین تحریک ختم نبوت کو سخت ترین مطالبات کا حق پہنچتا تھا۔ مگر ان کے مطالبات کس قدر منصفانہ تھے، ایک نظر ملاحظہ ہوں۔

قادیانیوں کے عزائم اور مسلمانوں کے مطالبات پر نظر کرتے ہوئے یہ فیصلہ مشکل نہیں کہ جارحیت تشدد اور اشتعال انگیزی کی ابتداء کس جانب سے ہوئی؟ اور دستوری و جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے مطالبات سے حکمرانوں کو آگاہ کرنے کا پر امن

صفحہ ۶۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راستہ کس نے اختیار کیا؟

سوال نمبر ۱۰: اگر یہ تحریک صرف اور صرف اسلام کی سر بلندی اور احمدیوں کے غلط عقیدوں کے خلاف تھی تو ہادی اسلام ﷺ کے اس قول کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ میری امت کے ۷۳ فرقے ہوں گے۔ ۷۲ دوزخی اور ایک جنتی ہوگا۔ آپ بتائیں کہ ۷۲ اور ایک شرح کے مطابق کتنا حصہ دوزخی اور کتنا جنتی ہے۔ تحریک نے احمدیوں کو ناٹ مسلم قرار دلوایا ہے۔ احمدی کہتے ہیں خدا کا شکر ہے ہم محض ”ناٹ مسلم“ ہیں۔ دوزخی نہیں ہیں اور ہمیں ان لوگوں نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے۔ جن کے خلاف قرطاس ابیض شائع ہوا اور جنرل ضیاء نے جنہیں غیر مسلم قرار دیا تھا جس پر مسٹر بھٹو نے سپریم کورٹ میں احتجاج کیا تھا۔ علماء بتائیں کہ بخشش کے زیادہ قریب کون ہو سکتا ہے۔ ناٹ مسلم یا دوزخی؟

جواب: حدیث افتراق امت جس میں ۷۳ فرقوں کی خبر دی گئی ہے، یہ یہود و نصاریٰ کی فرقہ بندی کے مقابلہ میں ذکر کی گئی ہے۔ سو غیر مسلم اقوام جیسے یہود و نصاریٰ، ہنود و مجوس اور بدھ و قادیانی وغیرہ ان میں شامل نہیں۔ یہ امت دعوت کے بیان میں نہیں امت اجابت کے بیان میں ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک وقت میں ۷۲ جہنمی فرقے موجود ہوں گے۔ ایک ملت کے یہ گمراہ فرقے بنتے اور مٹتے اور پھر بنتے اور مٹتے رہیں گے۔ کل گنتی ۷۲ تک پہنچے گی۔ ہاں! اہل حق برابر ہر دور میں موجود رہیں گے اور اس کی ضمانت حدیث شریف میں دی گئی ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہ ناجی فرقہ ہمیشہ سواد اعظم رہے گا۔ حضور ﷺ نے ان کی علامت یہ بتلائی : ”ما انا عليه واصحابی“ آپ ﷺ نے اپنے بعد انہیں صحابہؓ کا پیرو بتلایا ہے۔ قادیانی جماعت کا آغاز مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے کے بعد ہوا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے سے نہیں۔ یہ لوگ اپنے عقیدے میں حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں۔ یہی ان کی پہچان ہے۔ ”ما انا عليه واصحابی“ ان کی پہچان نہیں۔ حدیث میں ان لوگوں کا بیان ہے جو حضور ﷺ کے بعد آپ کے صحابہؓ کی پیروی سے ممتاز ہوں گے۔ جہنمی فرقوں کی پہچان حضور ﷺ کی رسالت کے اقرار کے بعد صحابہؓ کی پیروی کی بجائے اپنے نفس اور اپنی اغراض کے پیچھے چلنا ہے۔ اس روش کے لوگ جہنم میں جائیں گے۔ قدری، جبری، معتزلی، مرجیہ، خوارج وغیرہ سب ان میں آتے ہیں۔ جو لوگ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی متنبّی کے پیرو ہوں وہ اپنی گمراہی میں ان ۷۲ سے بہت آگے نکل گئے ہیں اور وہ بالکل علیحدہ ملت ہو گئے ہیں۔ یہ ۷۲ فرقے ایک ملت کے راہ گم کردہ لوگ ہیں۔ علیحدہ ملت نہیں اور ایک فرقہ جو تعداد میں سواد اعظم ہے وہ ناجی فرقہ ہے اور قادیانی کوئی فرقہ نہیں۔ بالکل ایک علیحدہ ملت اور ”ناٹ مسلم“ ہیں۔ یہ کوئی فرقہ ہرگز نہیں کہ انہیں ان ۷۳ میں کوئی جگہ دی جا سکے۔ یہ ان ۷۲ گمراہ فرقوں سے بھی آگے ایک بدترین گمراہ غیر مسلم ملت ہیں۔

متفرقات

مولانا عبد الستار خان نیازی راوی ہیں کہ اس تحریک میں جو آدمی بھی شریک ہوتا تھا یہ طے کر کے آتا تھا کہ وہ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے لئے جان دے دے گا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ لوگ لاٹھیاں کھاتے رہے۔ ایک نوجوان کے پاس حمائل شریف تھی۔ فردوس شاہ ڈی ایس پی نے ٹھوکر ماری، نوجوان گر گیا۔ حمائل شریف دور جا گری اور پھٹ گئی۔ فردوس شاہ کو مشتعل ہجوم نے موقع پر قتل کر دیا۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والا اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔

صفحہ ۶۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نیازی صاحب فرماتے ہیں کہ دہلی دروازہ کے باہر چار نوجوانوں کی ڈیوٹی تھی۔ پولیس نے چاروں کو باری باری گولی کا نشانہ بنا دیا۔ نیازی صاحب کے بقول ہمارا ایک جلوس مال روڈ سے آ رہا تھا۔ ”لا الہ الا اللہ“ کا ورد، نعرہ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد کے نعرے ورد زبان تھے۔ وہاں پر زبردست فائرنگ ہوئی۔ لیکن نوجوان سینہ کھول کھول کر سامنے آتے رہے اور جام شہادت نوش کرتے رہے۔ معلوم ہوا کہ اسی تحریک میں کرفیو لگ گیا۔ اذان کے وقت ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کر کے آگے بڑھا۔ مسجد میں پہنچ کر اذان دی۔ ابھی ”اللہ اکبر“ کہہ پایا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ اس نے ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ تیسرا مسلمان آگے بڑھا۔ ان کی لاشوں پر کھڑا ہو کر ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کہا کہ گولی ڈھیر ہو گیا۔ چوتھا آدمی بڑھا۔ تین کی لاشوں پر کھڑے ہو کر کہا ”حی علی الصلوۃ“ کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ پانچواں مسلمان بڑھا۔ غرضیکہ باری باری نو مسلمان شہید ہو گئے مگر اذان پوری کر کے چھوڑی۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

تحریک ختم نبوت میں ایک مسلمان دیوانہ وار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لاہور کی سڑکوں پر لگا رہا تھا۔ پولیس نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا۔ اس نے پھر نعرہ لگایا۔ وہ مارتے رہے یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔ یہ زخموں سے چور چور پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے فوجی عدالت میں لایا گیا۔ اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ فوجی نے کہا ایک سال سزا۔ اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ اس نے سزا دو سال کر دی۔ اس نے پھر نعرہ لگا دیا۔ غرضیکہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی، دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرہ سے باز نہیں آ رہا تو فوجی عدالت نے کہا کہ باہر لے جا کر گولی مار دو۔ اس نے گولی کا سن کر دیوانہ وار رقص شروع کر دیا اور ساتھ ختم نبوت زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف ترانہ سے ایمان پرور وجد آفریں کیفیت طاری کر دی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ رہا کر دو کہ یہ دیوانہ ہے۔ اس نے رہائی کا سن کر پھر نعرہ لگایا۔ ختم نبوت زندہ باد۔ (قارئین کرام ! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں اور آپ پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں۔ ختم نبوت زندہ باد)

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں دہلی دروازہ لاہور کے باہر صبح سے عصر تک جلوس نکلتے رہے اور لوگ دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے۔ عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہو گئے تو ایک بوڑھا اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو اپنے کندھے پر اٹھا کر لایا۔ باپ نے ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا اس کے مطابق زندہ باد کہا۔ دو گولیاں آئیں۔ بوڑھے باپ اور معصوم بچے کے سینہ سے شائیں کر کے گزر گئیں دونوں شہید ہو گئے۔ مگر تاریخ میں اس نئے باب کا اضافہ کر گئے کہ اگر آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔

آغا شورش کاشمیری نے فرمایا : ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود راقم سے بیان کیا تھا کہ ہر روز کے مظاہروں کو سمیٹنے کے لئے تشدد کی بنا پر تحریک کو ختم کیا گیا۔ چنانچہ حکام نے اپنے سفید پوش اہل کاروں کی معرفت پولیس پر پتھراؤ کرایا۔ اس طرح تحریک پر فائرنگ کی

صفحہ ۶۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بنیاد رکھی۔ بعض منچلے قادیانی اپنی جیپوں میں سوار ہو کر مسلمانوں پر گولیاں داغتے اور انہیں شہید کرتے رہے۔ راقم نے چائنیز لنچ ہوم لاہور میں مال روڈ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ۱۵ سے ۲۲ سال کی عمر کے نوجوانوں کا ایک مختصر سا جلوس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جارہا تھا۔ وہ ایک بے ضمیر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈی آئی جی ملک حبیب اللہ کے حکم پر کسی وارننگ کے بغیر فائرنگ کا ہدف بنا۔ آٹھ دس نوجوان شہید ہوگئے۔ ان کی لاشوں کو ملک صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ٹرکوں میں اس طرح پھنکوایا۔ جس طرح جانور شکار کئے جاتے ہیں۔ یہ نظارہ انتہائی دردناک تھا۔ لاہور چھاؤنی میں ایک قادیانی افسر نے گولیوں کی بوچھاڑ کی۔ لیکن گولی کھانے والوں نے انتہائی استقامت اور کردار کی پختگی کا ثبوت دیا۔ ایک نوجوان، ملٹری ہسپتال میں زخموں سے چور چور بے ہوش پڑا تھا۔ جب اسے قدرے ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال سرجن سے یہ کیا کہ میرے چہرے پر کسی خوف یا اضمحلال کے نشان تو نہیں ہیں۔ جب اسے کہا گیا کہ نہیں تو اس کا چہرہ وفور مسرت سے تمتما اٹھا۔ جن لوگوں کو علماء سمیت گرفتار کر کے لاہور کے شاہی قلعہ میں تفتیش کے لئے رکھا گیا ان کے ساتھ پولیس نے اخلاق باختگی کا سلوک کیا۔ ایک انتہائی ذلیل ڈی ایس پی کو ان پر مامور کیا۔ وہ علماء کو اس قدر فحش و فاش گالیاں دیتا اور عریاں فقرے کستا کہ ؎

خود خوف خدا تھرا رہا تھا

(تحریک ختم نبوت ص ۱۴۷)

تحریک مقدس ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں جناب سید مظفر علی شمسی کی روایت کے مطابق سکھر جیل میں جب حضرت امیر شریعت، مولانا ابو الحسنات، مولانا لال حسین اختر اور دوسرے رہنماؤں کو لایا گیا تو ایسی گرمی پڑی تھی کہ برتن میں پانی اتنا گرم ہو جاتا تھا کہ اس میں انڈا ڈال دیتے تھے تو وہ نیم برشت ہو جاتا تھا اور اگر اسی پانی کو باہر رکھ کر انڈا اس میں رکھ دیتے تھے تو انڈا پک جاتا تھا۔

شمسی صاحب کی روایت ہے کہ اس تحریک میں ایک عورت اپنے بیٹے کی برأت لے کر دہلی دروازہ کی جانب آ رہی تھی۔ سامنے سے تڑتڑ کی آواز آئی۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے لوگ سینہ تانے، بٹن کھول کر گولیاں کھا رہے ہیں تو برأت کو معذرت کر کے رخصت کر دیا۔ بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا آج کے دن کے لئے میں نے تمہیں جنا تھا۔ جاؤ، آقا ﷺ کی عزت پر قربان ہو کر دودھ بخشوا جاؤ۔ میں تمہاری شادی اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کروں گی اور تمہاری برأت میں آقائے نامدار ﷺ کو مدعو کروں گی۔ جاؤ پروانہ وار شہید ہو جاؤ تا کہ میں فخر کر سکوں کہ میں بھی شہید کی ماں ہوں۔ بیٹا ایسا سعادت مند تھا کہ تحریک میں ماں کے حکم پر آقائے نامدار ﷺ کی عزت کے لئے شہید ہو گیا۔ جب لاش لائی گئی تو گولی کا کوئی نشان پشت پر نہ تھا سب سینہ پر گولیاں کھائیں۔ فرحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ!

تحریک ختم نبوت میں ایک طالب علم کتابیں ہاتھ میں لئے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا؟ جواب میں کہا کہ آج تک پڑھتا رہا ہوں۔ آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی گر گیا۔ پولیس والے نے آ کر اٹھایا، تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا کہ ظالم گولی ران پر کیوں ماری ہے؟ عشق مصطفیٰ ﷺ تو دل میں ہے۔ یہاں دل پر گولی مارو تا کہ قلب و جگر کو سکون ملے۔

صفحہ ۶۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے غیر متزلزل عزم و ہمت کا ایک اور واقعہ ۱۹۵۳ء میں پیش آیا۔ مولانا تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ملتان جیل میں نظر بند تھے۔ اسی دوران ان کے والد ماجد انتقال کر گئے۔ جیل کے حکام نے مولانا سے کہا کہ اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ لیں تو آپ کو رہا کیا جاسکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نماز جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں۔ مولانا نے خشمگین انداز میں کہا کہ میں نے یہ جیل رسول اکرم ﷺ کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کو بھول جاؤں اور والد کی محبت سے متاثر ہو کر آقائے نامدار ﷺ کو دھوکہ دے جاؤں۔ میں عاشق رسول ہوں۔ مجھ پر اس جیسی ہزار مصیبتیں بھی اگر نازل ہو جائیں تو بھی میں اف نہ کروں گا۔ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

۞ .................... ۞ .................... ۞

باپ اور بیٹے کی قربانی

قاضی صاحب کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے تحریک آزادی وطن اور تحریک ختم نبوت کے لئے باپ اور بیٹے دونوں کی قربانی دی۔ جب ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا تو وہ کلکتہ میں تھے۔ بیٹے کا منہ بھی نہ دیکھ سکے۔ جب ان کے والد قاضی محمد امین کا انتقال ہوا تو وہ ختم نبوت کی تحریک میں نظر بند تھے اور ان کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے۔ ایک انسان اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے۔ اس کی عزیز ترین متاع اس کی اولاد ہوتی ہے اور اہم ترین پونجی بزرگوں اور والدین کی شفقت۔ قاضی صاحب نے یہ دونوں اسلام اور قوم کے نام پر قربان کر دیں۔

۞ .................... ۞ .................... ۞

میرا کالی کملی والا

سید امین گیلانی فرماتے ہیں کہ جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اپنے جو بن پر تھی۔ پولیس مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہو گئی۔ اسیران ختم نبوت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔ ایک ملٹری آفیسر نے اس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب وجلال سے گرجا۔ تمہیں پتہ نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے۔ کون نعرے لگاتا تھا؟ اس اچانک صورتحال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا۔ معاً میرا ہاشمی خون کھول اٹھا۔ میں نے تن کر کہا میں لگاتا تھا۔ اس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا: ”اچھا اب لگاؤ نعرہ“ میں نے پرجوش انداز سے نعرہ لگایا۔ ”میرا کالی کملی والا“ سب نے بآواز بلند جواب دیا۔ زندہ باد! اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی۔ منہ پھیر کر کہا: ”ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے ۔“ اور بس سے نیچے اتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی ۔ پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا۔ اس نے بس کا دروازہ مقفل کر دیا۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے۔

میانوالی جیل سے صبح میں رہا ہونے والا تھا۔ مگر مجھے خطرہ تھا کہ میری سرگرمیوں کے پیش نظر میری سزا جیل کے اندر ہی بڑھانے کا حکم نہ آ جائے۔

داروغہ جیل بھلا آدمی تھا اور حافظ قرآن بھی تھا۔ وہ شام کو ہماری بارک میں آیا۔ میں نے کہا حافظ صاحب! صبح میری رہائی ہے یا

صفحہ ۶۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوئی اور نیا حکم آ گیا ہے۔ کہنے لگا دو دفعہ لاہور سے ٹیلی فون آیا ہے۔ مگر گڑ بڑ بہت ہے۔ کچھ سنا ، سمجھا نہ گیا۔ کٹ ہوتا رہا۔ خیر صبح ہوئی مجھے دفتر بلایا گیا اور دفتری کارروائی کر کے رہا کر دیا گیا۔ میں جب دوسرے دن شیخوپورہ پہنچا تو سب حیران ہو گئے۔ پتہ چلا کہ یہاں سی آئی ڈی انسپکٹر نے مجھے خطرناک ثابت کر کے سنٹر سے سزا بڑھانے کا حکم نامہ میانوالی بھجوا دیا ہے اور فون پر داروغہ جیل میانوالی کو اطلاع دی تھی کہ امین گیلانی کو رہا نہ کیا جائے۔ تحریری حکم نامہ بذریعہ ڈاک آ رہا ہے۔ لیکن میں رہا ہو چکا تھا اور اب نئے وارنٹ تیار کر کے ہی دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ لیکن نیا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ایسا نہ کیا گیا۔ یوں مرزائی آفیسر فخر الدین کے کئے دھرے پر پانی پھر گیا۔

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت جو مارشل لاء کی بھینٹ ہو کر شہید ہو گئی۔ فیصل آباد میں مولانا تاج محمود کے دم قدم سے چلی۔ حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آپ کو گرفتار کیا۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں لایا گیا۔ اس بوچڑ خانہ میں پولیس کے بعض افسروں نے آپ پر ستم توڑنے کی انتہاء کر دی۔ لیکن اس مرد خدا نے ہر صعوبت، ہر تشدد اور ہر اذیت کو خندہ پیشانی سے جھیلا۔ اف تک نہ کی۔ اپنی استقامت سے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کر دی کہ رسول اللہ ﷺ کے عشاق کفار مکہ کے ظلم سہتے اور حضور ﷺ کے عشق میں قربان ہوتے تھے۔ سید اعجاز حسین شاہ ، اس زمانہ میں سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی اور قلعہ کے انچارج تھے۔ انہوں نے خود راقم الحروف ( آغا شورش کاشمیری ) سے ذکر کیا کہ:” تاج محمود قرون اولیٰ کے فدایان رسول عربی ﷺ کی بے نظیر تصویر تھے۔ وہ پولیس کے ہر وار پر درود پڑھتے اور عشق رسالت ﷺ میں ڈوب جاتے تھے۔“

(ہفت روزہ چٹان ، شورش کاشمیری)

کہا جاتا ہے کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ مولانا کی زندگی ایسے واقعات سے بھی پر نظر آتی ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ۱۹۵۳ء کی تحریک کا بھی ہے جب مولانا جامع مسجد کچہری بازار ( فیصل آباد ) لائل پور میں شمع رسالت کے پروانوں کے ایک بڑے مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ قادیانی امت اور اس کے تحفظ کے لئے حکومت وقت کے کئے گئے اقدامات کے خلاف بپھرے ہوئے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے۔ مولانا تاج محمود کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی یہ آواز مسجد کی گیلری میں کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہی تھی کہ مولانا کے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی گود کے بچہ کو منبر کی طرف اوپر سے (جہاں مولانا کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے ) مولانا کی طرف اچھال دیا اور پنجابی میں کہا کہ مولوی صاحب میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے۔ اسے سب سے پہلے حضور کی آبرو پر قربان کر دو۔ یہ کہہ کر وہ عورت الٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی۔

اس وقت سارا مجمع دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔ خود مولانا کی آواز گلو گیر اور رندھی ہوئی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ لوگو! اس بی بی کو جانے نہ دینا۔ اسے بلاؤ ، بلاؤ۔ چنانچہ اس خاتون کو بلایا گیا اور مولانا نے اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے معصوم اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہن سب سے پہلی گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی۔ پھر میرے اس بچے کے سینے سے پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہو جائیں تو اپنے بچے کو لے کر آنا اور اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی عزت پر قربان کر دینا۔ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔

صفحہ ۶۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد حیات فاتح قادیان

مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا عبد الرحیم اشعر اور سائیں محمد حیات صاحب کے ساتھ گرفتار ہو کر سنٹرل جیل گئے۔ وہاں پر اکابر و اصاغر کے ساتھ بڑی بہادری سے جیل کاٹی۔ جیل میں بی کلاس کی سہولت حاصل ہو گئی تو مزاحاً مولانا محمد علی جالندھری سے فرماتے تھے کہ حضرت دیکھ لیں جو یہاں مل رہا ہے۔ دفتر جا کر وہی دینا ہوگا۔ مولانا محمد علی فرماتے کہ مولانا محمد حیات جو کھانا ہے یہیں کھا لو۔ دفتر میں تو وہی دال روٹی ملے گی۔ جیل کی سزا کاٹنے کے اتنے بہادر تھے کہ وہاں جا کر گویا باہر کی دنیا کو بالکل بھول جایا کرتے تھے۔ اتنا بہادر انسان کہ اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔

ملتان جیل میں ایک دفعہ حضرت مدنی کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا خدا بخش نے چنے منگوائے اور عصر کے بعد نمازیوں کے سامنے چادر پر بچھا کر پڑھوانے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد حیات نے پوچھا تو جواب ملا، اس لئے تا کہ مصیبت کم ہو۔ آپ نے فرمایا آپ پڑھیں میں تو نہیں پڑھتا۔ جو لکھا ہے وہی ہوگا۔ جتنے دن جیل میں رہنا ہے بہر حال رہیں گے۔ رہے اور بڑی بہادری سے رہے۔ ملتان سے لاہور بورسٹل و سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے۔ دس ماہ بعد رہا ہوئے۔ رہا ہوتے ہی پھر مرزائیت کی تردید میں جٹ گئے۔ غرضیکہ اپنی دھن کے پکے تھے۔

حضرت امیر شریعت تحریک ختم نبوت کے بعد جب قید سے رہا ہو چکے تھے۔ غالباً ۱۹۵۵ء میں فیصل آباد دھوبی گھاٹ کے میدان میں ضعیفی اور علالت کے سبب بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے۔ دوران تقریر میں کسی نے ایک چٹ بھیج دی۔ لکھا ہوا تھا کہ جو لوگ ختم نبوت کی تحریک میں شہید ہو گئے ان کا ذمہ دار کون ہے؟ شاہ جی نے پڑھا تو جوش میں آ کر کھڑے ہو گئے اور گرج کر فرمایا۔ سنو ان شہداء کا میں ذمہ دار ہوں۔ نہیں نہیں، آئندہ بھی جو حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر شہید ہوں گے ان کا بھی میں ذمہ دار ہوں۔ تم بھی گواہ رہو۔ (اور آسمان کی طرف منہ کر کے فرمایا) اے اللہ ! تو بھی گواہ رہ، ان شہداء کا میں خود ذمہ دار ہوں اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا اگر میں زندہ رہا اور موقع ملا تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر کل مسلمان حضور ﷺ کی جوتی کے تسمے پر قربان ہو جائیں تو پھر بھی حق ادا نہ ہوگا۔ ان جملوں سے سامعین تڑپ اٹھے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔

۱۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کو موچی دروازہ لاہور میں حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے فتنہ مرزائیت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس فتنہ کی پرورش انگریز نے کی۔ اگر ہوتا افغانستان تو اس فتنہ کا کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔ امیر حبیب اللہ خان پر ہزار ہزار رحمت ہو۔ جس نے افغانستان کی حدود میں فتنہ مرزائیت کو داخل نہ ہونے دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امیر حبیب اللہ کو خط لکھا کہ میں نبی بن گیا ہوں۔ تم مجھ پر ایمان لاؤ۔

امیر حبیب اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو جواب دیا۔ ”ایں جابیا“ (یہاں آؤ) مرزا قادیانی وہاں کیسے جاتا؟ اور اگر چلا جاتا تو کچھ نہ کچھ ہو جاتا اور مرزا قادیانی کا مزاج درست ہو جاتا۔

مولانا عبید اللہ انور صاحب نے تحریر فرمایا۔ حضرت لاہوری نے تحریک ختم نبوت کے دوران ایک دفعہ جمعہ کے خطبہ میں فرمایا۔

صفحہ 653

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت کہتی ہے۔ عطاء اللہ شاہ فساد پھیلاتا ہے۔ ان اللہ کے بندوں کو معلوم نہیں کہ اگر عطاء اللہ شاہ فساد پر آمادہ ہو جائے تو مرزائیت کا قلعہ قائم نہیں رہ سکتا۔ میں کہتا ہوں اگر بخاری شام کو حکم دے دیں تو صبح ہونے سے پہلے ”ربوہ‘‘ (چناب نگر ) کی اینٹ سے اینٹ بج جائے۔ پھر فرمایا: حکومت کی گولیوں اور بندوقوں میں وہ طاقت نہیں جو علماء کی زبان میں ہے۔ ہمارے ایک عطاء اللہ شاہ بخاری بحمد اللہ سب پر بھاری ہیں اور جب تک وہ زندہ ہیں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ایک مرتبہ تو حضرت نے شاہ جی کے متعلق یہاں تک ارشاد فرمایا : ”محشر کا دن ہوگا، رحمت دو عالم ﷺ جلوہ افروز ہوں گے ۔ صحابہ ؓ بھی ساتھ ہوں گے ۔ بخاری آئے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے بخاری! تیری ساری زندگی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری اور کتاب وسنت کی اشاعت میں صرف ہوئی۔ آج میدان حشر میں تیرا شفیع میں ہوں۔ تیرے لئے کوئی باز پرس نہیں۔ جا اور اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے اور تیری جماعت کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں۔ جس طرف سے چاہو کھلے بندوں جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔‘‘

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے بعد ایک افسر نے طنزاً کہا۔ شاہ جی ! آپ کی تحریک کا کیا بنا؟ شاہ جی نے برجستہ فرمایا کہ میں نے اس تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک ٹائم بم فٹ کر دیا ہے جو وقت آنے پر چل جائے گا۔ اس وقت مرزائیت کو اقتدار کی کوئی طاقت نہ بچا سکے گی۔ چنانچہ یہ ٹائم بم خود قادیانیوں کے ہاتھوں ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ (چناب نگر ) ریلوے اسٹیشن پر پھٹا اور نتیجہ یہ نکلا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔

لاہور میں جلسہ تھا۔ شاہ جی پورے جوبن پر تھے۔ بے انداز مجمع، گوش برآواز ، عشق رسول ﷺ کی بھٹی گرم، اکابر اور سلاطین ملت جلوہ افروز ، شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا ، تحریک ختم نبوت کے لئے مسلمان جانیں دینے کے لئے آمادہ، کسی نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ گئے۔ شاہ جی نے فرمایا۔ ساری باتوں کو چھوڑئیے ، لاہور والو! کہا اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتار لی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا۔ جاؤ میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی۔ اسے خواجہ صاحب کے قدموں میں ڈال دو۔ اسے کہو ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں۔ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ، ہاں ! جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ پاکستان کے بیت المال میں سور ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سوروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لئے بھی تیار ہے۔ مگر شرط صرف یہ ہے کہ تو حضور ﷺ فداہ ابی وامی کی ختم رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے۔ کوئی آقاﷺ کی توہین نہ کرے۔ آپ ﷺ کی دستار ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔

(مؤرخہ ۱۶؍فروری ۱۹۵۲ء، خطاب بیرون دہلی دروازہ لاہور)

لاہور سنٹرل جیل میں شاہ جی کی آمد کی اطلاع جب مارشل لاء کے قیدیوں کو ملی تو انہوں نے حکام جیل کی اجازت سے شاہ جی سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ ایک دن صبح سویرے ہم اسیران قفس ناشتہ کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ دیوانی احاطہ کے انچارج نے آکر شاہ جی سے درخواست کی کہ مارشل لاء کے چند قیدی باہر کھڑے ہیں اور وہ آپ کی زیارت کے مشتاق ہیں۔ اگر اجازت ہو تو انہیں اندر بلالوں۔ ابھی اس کی بات مکمل نہ ہو پائی تھی کہ شاہ جی ننگے پاؤں ان قیدیوں کے استقبال کے لئے دیوانہ وار کمرے سے باہر نکل گئے۔ دیوانی احاطہ

صفحہ ۶۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے دروازے پر قیدی خراماں خراماں آ رہے تھے۔ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار اور شاہ جی کا استقبال، ایک عجیب پرکیف منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ شاہ جی نے سب کو گلے لگایا۔ ایک ایک کی بیڑی اور ہتھکڑی کو بوسہ دیا۔ پھر آپ نے اشکبار آنکھوں اور غمناک لہجے میں فرمایا: ”تم لوگ میرا سرمایہ نجات ہو۔ میں نے دنیا میں لوگوں کو روٹی اور پیٹ یا کسی مادی مفاد کے لئے نہیں پکارا۔ لوگ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔ میں نے تو اپنے نانا حضرت خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی دعوت دی ہے اور تم لوگ صرف اور صرف اسی مقدس فریضہ کے لئے قید و بند اور طوق وسلاسل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہو۔ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت جس کا مقصود ہو، تم یہاں جیل میں بھی غیر معروف ہو اور جب تم اس دیوارِ زنداں سے پرے جاؤ گے تو باہر تمہارا استقبال کرنے والا اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر نعرہ لگانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ نیت اور ارادے کے اعتبار سے جس کی آمد اس مقصد کے لئے ہوئی ہے وہ یہی مقصد لے کر واپس چلا جائے گا۔ میرے لئے اس سے بڑا سرمایہ افتخار اور کیا ہو سکتا ہے؟“

شاہ جی یہ چند جملے فرما چکے تو کسی نے ایک قیدی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک میں اس کا بھائی گولی کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس کے لئے دعا فرمائیں۔ شاہ جی نے تحریک کے دوران متشددانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا۔ بھائی ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ حکومت یا عوام تشدد پر اتر آئیں اور کوئی ناخوشگوار صورت نمودار ہو جائے۔ میں نے کراچی جیل میں جب لاہور اور دوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے اور معلوم ہوا کہ کئی بوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ ماؤں کے چراغ گل ہو گئے ہیں اور کئی سہاگ اجڑ گئے ہیں تو مجھے اس کا بڑا صدمہ پہنچا۔ میں نے وہاں کہا تھا کہ کاش مجھے کوئی باہر لے جائے یا اربابِ اقتدار تک میری یہ آرزو پہنچا دی جائے کہ تحفظ ناموس رسول ﷺ کے سلسلہ میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہو تو گولی میرے سینے میں مار کر ٹھنڈی کر دی جائے اور کاش اس سلسلہ میں اب تک جتنی گولیاں چلائی گئی ہیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر میرے سینے میں پیوست کر دی جائیں۔

۞ ………… ۞ ………… ۞ ………… ۞

مولانا تاج محمود نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کامیابی کے بعد فیصل آباد کے بڑے قبرستان میں شہدائے ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھول ڈالتے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قبرستان کی دیوار پر چڑھ گئے۔ لوگ جمع تھے۔ فرمایا: لوگو! آج کے تمہارے اس عمل کو دیکھ کر مجھے مولانا محمد علی جالندھری کی بات یاد آ گئی۔ جب ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ہمارے ساتھیوں و کارکنوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تو اس کے بعد مولانا محمد علی جالندھری تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ آج جن پر حکومت نے مظالم ڈھائے ہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ لوگ ان کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے۔

۞ ………… ۞ ………… ۞ ………… ۞

مولانا مفتی محمد یونس صاحب، مولانا انور شاہ کشمیری کے شاگرد تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مفتی صاحب نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ فیصل آباد میں تحریک کی ایکشن کمیٹی کے صدر تھے۔ حضرت امیر شریعت سے انہیں قلبی لگاؤ تھا اور ان کی خدمات کو بہت سراہتے تھے۔ حضرت امیر شریعت بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے۔ فیصل آباد میں آمد کے دوران حضرت مفتی صاحب کے یہاں اکثر تشریف لے جاتے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ڈائریکٹ ایکشن کے لئے پہلا قافلہ حضرت مفتی صاحب کی قیادت میں ہی روانہ ہوا تھا۔ ایک دفعہ کسی مرزائی نے حضرت مفتی صاحب کو ایک خط لکھا کہ آپ مرزائیت کے بارے میں اپنی تقاریر بند کر دیں۔ ورنہ آپ کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ آنے والے جمعہ کے خطبہ میں آپ ریوالور پہن کر جامع مسجد کچہری بازار میں جمعہ پڑھانے کے لئے تشریف

صفحہ ۶۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لے گئے اور مرزائیت پر ایک ضرب کاری لگائی اور زبردست تقریر کی اور خط کی دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ہمیں کبھی دھمکیوں سے مرعوب نہیں کرسکتے اور فرمایا کہ خدا کی قسم! اگر مجھے سو گولیاں ماری جائیں اور میرے گوشت کا قیمہ کردیا جائے تو بھی ہر ٹکڑے سے ختم نبوت کی صدائیں بلند ہوں گی۔

۞ .................. ۞ .................. ۞ .................. ۞

حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ راوی ہیں کہ: ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتاری کے لئے پیش ہونے والے مجاہدین ختم نبوت کو پولیس پکڑ کر کراچی سے بلوچستان کی طرف تقریباً کئی میل دور ایک مقام پر چھوڑ کر آتی۔ لیکن پولیس والوں کی حیرت کی انتہاء نہ رہتی جب ٹھیک تین چار گھنٹوں بعد انہی کارکنوں کو وہ کراچی میں پھر جلوس نکالتے ہوئے پاتے۔ پولیس انکوائری کر کے تھک گئی کہ کون سی طاقت ان کو اس دور کے جنگل سے اتنی جلدی کراچی میں پہنچا دیتی ہے۔ زمین سمیٹ دی جاتی ہے۔ غائبانہ سواری کا انتظام ہوتا ہے یا اس گروہ کو لانے والی مستقل تنظیم ہے۔ بہرحال پولیس کے لئے یہ معمہ رہا اور واقعہ یہ ہے کہ تمام کارکنوں کو جونہی دور دراز کے جنگل میں چھوڑا جاتا۔ اللہ رب العزت ان کے لئے فی الفور کراچی پہنچانے کا انتظام فرمادیتے۔ وہ کارکن کراچی آتے ہی پھر تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے میں لگ جاتے۔ بالآخر پولیس نے تھک کر یہ پروگرام ترک کردیا۔

۞ .................. ۞ .................. ۞ .................. ۞

مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ راوی ہیں کہ ایک دفعہ پولیس والے مجاہدین ختم نبوت کے ایک جتھہ کو رات کے وقت گرفتار کر کے دور کے ایک جنگل میں چھوڑ کر آئے۔ پولیس کے جانے کے بعد یہ مجاہد چند قدم چلے تو روشنی نظر آئی۔ وہاں گئے تو جنگل میں چند گھرانے آباد دیکھے۔ ان گھرانوں سے ایک آدمی باہر آیا۔ ان مجاہدین کو بلایا۔ دعا دی۔ راستہ اور وظیفہ بتلایا۔ یہ حضرات چند گھنٹوں میں کراچی پہنچ گئے۔ پولیس والے سو کر نہ اٹھے ہوں گے کہ یہ حضرات کراچی میں پھر ختم نبوت کے جلوس نکالنے میں مصروف ہوگئے۔ جنگل میں کون سی قوم آباد تھی۔ وہ آدمی از خود بغیر آواز دینے کے کیسے رات کے وقت باہر آیا۔ کراچی کا راستہ و وظیفہ کیوں بتلایا۔ دعا کیوں دی۔ وہ کون تھا۔ ان مجاہدین کے ساتھ ان کا یہ برتاؤ کیوں؟ آج تک اہل دنیا کے لئے یہ معمہ ہے۔ مگر اہل نظر خوب جانتے ہیں کہ ان حضرات پر ختم نبوت کے صدقے اللہ رب العزت کے انعامات کی بارش ہو رہی تھی۔

۞ .................. ۞ .................. ۞ .................. ۞

جنوری، فروری ۱۹۵۳ء کی بات ہے کہ مال روڈ کمرشل بلڈنگز کے باغات میں خندقیں بننا شروع ہوئیں تو لاہور میں مرزائیوں نے یہ بات عام کر دی کہ انڈیا حملہ کرنے والا ہے۔ اس لئے یہ خندقیں بنائی جارہی ہیں۔ میری عمر اس وقت تقریباً ۱۳ سال تھی۔ ہم سب بچوں نے ان خندقوں میں کھیلنا شروع کیا۔ ہمیں انجام کی بالکل خبر نہ تھی کہ یہ مورچے شہیدان ختم نبوت کا لہو بہانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ دراصل اس وقت کی حکومت اور ظفر اللہ قادیانی کا بنایا ہوا تھا۔ اس کے پس پردہ جو ہاتھ کام کر رہے تھے وہ سب کے سب مرزا قادیانی ملعون کی ذریت کے تھے۔ کبھی کبھار ہمارے کسی بزرگ کی زبانی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا نام سننے میں آتا تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ (آمین) غالباً مارچ، اپریل کا مہینہ ہوگا کہ خندقوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ پاکستان کے جیالے جوانوں نے ختم نبوت کے پروانوں کو ان گولیوں کے برسٹ مارے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس گنہگار نے شہیدان ختم نبوت لاہور کے خون کے فوارے اپنی آنکھوں سے بہتے دیکھے۔ یہاں تین صفوں کے نوجوان، جو کسی طرح بھی ہٹنے کو تیار نہ تھے۔ انہیں اپنے سینے

صفحہ ۶۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر گولیاں کھانے اور خون میں لت پت تڑپتے ہوئے اس ناچیز نے دیکھا اب جو ایک قطار گرتی تھی تو کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دوسری قطار شہید ہونے کے لئے آگے بڑھتی تھی۔ جب یکے بعد دیگرے تین قطاریں گریں تو میرے حواس گم ہوگئے۔ میں بچہ ہونے کی وجہ سے گھبرا گیا اور بھاگتا ہوا کمرشل بلڈنگ کے پیچھے والی گلی میں بھاگا اور اس کے بعد ایک مکان پر چڑھ کر وہ منظر میں نے دوبارہ دیکھا جو کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔ کیونکہ میں جس مکان پر چڑھا تھا اس مکان کی عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں اور مرزا قادیانی مردود کو کوسنے اور گالیاں دے رہی تھیں ۔ لوگ تھے کہ اللہ کی راہ میں جان بڑھ چڑھ کر دے رہے تھے۔ شہیدان ختم نبوت کے لہو سے مال روڈ کا وہ حصہ جو میرے سامنے تھا، لال ہو گیا اور شہیدوں کی قطاروں کی قطاریں گرم جلتی ہوئی سڑکوں پر جنت میں جانے کے لئے بے قرار تھیں اور ان کے جنتی جسم سڑک پر تڑپ رہے تھے ۔ پھر کچھ دیر کے بعد ان کے جسم بالکل پرسکون ہو کر سو گئے ۔ اللہ جل شانہ ایسی کھلی شہادت ہر مومن کو نصیب فرمائے ۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی)

......... ۞ ......... ۞ .........

ملک محمد صدیق صاحب ننکانہ صاحب کی معروف سیاسی ، سماجی اور کاروباری شخصیت ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہو کر جیل گئے ۔ جیل میں نماز پڑھنے اور اذان دینے پر مکمل پابندی تھی۔ اتفاق سے ملک صاحب جس بیرک میں بند تھے وہاں ایک آدمی نے بلند آواز سے اذان دے دی۔ سپرنٹنڈنٹ پوری گارد کے ہمراہ آ گیا۔ بیرک سے تمام مجاہدین ختم نبوت کو نکال کر لائن میں کھڑا کیا اور نہایت غصہ کی حالت میں پوچھا کہ اذان کس نے دی تھی ۔ خوف اور دہشت کی فضاء میں کسی سے نہ بولا گیا ۔ اذان دینے والا شاید کمزور ایمان کا مالک تھا کہ بول نہ سکا ۔ ملک صاحب نے سوچا کہ اگر آج چپ رہا تو نبی کریم ﷺ کی اذان کی حرمت پر حرف آئے گا ۔ یہ بات تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ قادیانی اس واقعہ سے مجاہدین ختم نبوت کا مذاق اڑائیں گے ۔ ملک صاحب لائن سے باہر آئے اور بڑی جرأت سے کہا کہ اذان میں نے کہی تھی اور آئندہ بھی کہوں گا۔ اس جرأت مندانہ جواب کے عوض ملک صاحب کو پندرہ کوڑوں کی سزا سنائی گئی ۔ جس کے نتیجہ میں حصول اولاد والی نعمت سے محروم ہو گئے ۔ شفاعت محمدی ﷺ والی نعمت سے سرفراز ہوئے۔

......... ۞ ......... ۞ .........

چوہدری نذیر احمد صاحب ننکانہ صاحب میں کراکری کا کاروبار کرتے ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا واقعہ انہی کی زبانی سنئے اور اپنے ایمان کو تر و تازہ کیجئے ۔ ”میری شادی کے چند ماہ بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء شروع ہوئی ۔ میں تحریک میں بھر پور حصہ لینے کے لئے ننکانہ صاحب سے لاہور ، مسجد وزیر خان چلا گیا۔ یہاں روزانہ جلسہ ہوتا اور جلوس نکلتے ۔ ایک دن جنرل سرفراز ، جو غالباً اس وقت لاہور کا کمانڈر تھا، کے کہنے پر مسجد کی بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس پر مسجد میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا۔ پھر جلوس نکلا ۔ میں اس جلوس میں شامل تھا۔ فوج نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ چند احباب کے ہمراہ سرسری سماعت کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ میرا نمبر آخر میں تھا۔ میری باری پر میجر صاحب نے کہا، معافی مانگ لو کہ آئندہ تحریک میں حصہ نہیں لو گے تو ابھی چھوڑ دوں گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو کہا کہ آپ کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہو اور ایک امتی شفاعت کا امیدوار ہو اور پھر وہ معافی مانگ لے۔ میجر صاحب نے کہا کہ سامنے میدان میں چلے جاؤ ۔ آدھا گھنٹہ اچھی طرح سوچ لو۔ میں لان میں بیٹھ گیا۔ پھر پیش کیا گیا تو میجر صاحب نے کہا کہ معافی مانگ لو۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو جواب دیا کہ شاید آپ کو اس مسئلہ کی اہمیت کا علم نہیں ۔ آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس مسئلہ میں معافی کیا ہوتی ہے؟ اس پر میجر صاحب نے غصہ کی حالت میں میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور آٹھ ماہ قید

صفحہ ۶۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

با مشقت ۵۵۰ روپے جرمانہ کا حکم دیا۔ جسے میں نے بخوشی قبول کرلیا۔ میرے نامۂ اعمال میں میری بخشش کے لئے یہی ایک نیکی کافی ہے۔‘‘

۞ ................. ۞ ................. ۞

نامور شاعر اور کالم نویس عطاء الحق قاسمی اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی کی تصنیف ’’تذکرہ اسلاف‘‘ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا تو والد ماجد کو مسجد وزیر خان میں تقریر کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی اور دوسرے زعماء بھی مسجد وزیر خان میں ان کے ہمراہ تھے۔ والد ماجد کو گرفتار کرنے کے بعد شاہی قلعے لے جایا گیا۔ ان پر بغاوت، آتشزنی اور اس نوع کے خدا جانے کیا کیا الزامات تھے۔ ہمیں تین ماہ تک والد ماجد کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں ہیں؟ زندہ ہیں یا انہیں مار دیا گیا ہے؟ تین ماہ بعد جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی تو ہمیں ان کی زندگی کی اطلاع ہوئی۔ شاہی قلعے میں والد ماجد کو ایک کرسی پر بٹھا کر ان کے سر پر ایک تیز بلب روشن کر دیا گیا تا کہ وہ ساری رات سو نہ سکیں۔ جب والد ماجد کو اونگھ آتی تو ان کے پیچھے کھڑا سنگین بردار سپاہی سنگین کی نوک انہیں چبھوتا اور کہتا۔ مولانا جاگتے رہیں۔ یہ لوگ والد ماجد سے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف بیان لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ والد ماجد سے یہ بیان دینے کے لئے کہا گیا کہ انہوں نے تحریک میں حصہ عطاء اللہ شاہ کے اکسانے پر لیا تھا۔ والد ماجد نے اس کے جواب میں کہا: مجھے شاہ صاحب نے کیا اکسانا تھا انہوں نے تو ختم نبوت کا درس میرے خاندان سے لیا ہے۔ والد ماجد نے یہ بات یوں کہی کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مفتی محمد حسن کی طرح میرے دادا مفتی اعظم امرتسر مفتی غلام مصطفیٰ قاسمی کے شاگرد خاص تھے۔ اس پر ڈیوٹی پر متعین فوجی افسر نے جھنجھلا کر والد ماجد کو اپنے کمرے میں طلب کیا اور کہا: مولانا! آپ اپنے گھر کا ایڈریس لکھوا دیجئے تاکہ آپ کی میت آپ کے ورثاء کے سپرد کی جاسکے۔‘‘ اس پر والد ماجد کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری جو طلوع صبح سے کم خوبصورت نہ تھی اور انہوں نے کہا: ’’آپ مجھے موت سے ڈراتے ہیں، حالانکہ آپ میری زندگی کا ایک لمحہ بھی کم یا زیادہ نہیں کر سکتے۔‘‘

۞ ................. ۞ ................. ۞

مولانا قاضی عبداللطیف شجاع آبادی فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے زمانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر میں گوجرانوالہ میں تعینات تھا۔ تحریک کے شباب کو قائم رکھنے کے لئے ضلع بھر کا تبلیغی دورہ کیا۔ پورے ضلع میں تحریک مثالی طور پر کامیاب طریقے سے چل نکلی۔ اب ہمارے ذمہ پروگرام لگا کہ آپ نے شیخوپورہ، فیصل آباد اور جھنگ کا دورہ کرنا ہے۔ چنانچہ ایک ٹرک پر کارکنوں کی کھیپ لے کر میں ان اضلاع کے سفر پر چل نکلا۔ شیخوپورہ اور فیصل آباد کا کامیاب دورہ کیا۔ سپیکر ٹرک پر نصب تھا۔ جگہ جگہ خطاب ہوئے۔ حکومت کو مخبری ہوگئی۔ ہم فیصل آباد سے جھنگ کے لئے روانہ ہوئے۔ جھنگ سے پہلے فیصل آباد روڈ پر ریلوے پھاٹک ہے۔ ہمارے ٹرک کے قافلہ کے پہنچنے سے قبل ریلوے پھاٹک بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ جونہی ٹرک پھاٹک پر پہنچا ہمیں ٹرک وسپیکر سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ مختلف دفعات عائد کی گئیں۔ جس میں ناجائز اسلحہ، ربوہ پر حملہ کرنے اور مرزائیوں پر حملہ آور ہونے کا ارادہ وغیرہ کی غلط سلط جو دفعات ممکن تھیں لگا دی گئیں۔ جھنگ جیل میں مولانا محمد ذاکر جامعہ محمدی (جو بعد میں ایم.این.اے بنے) مولانا محمد حسین چنیوٹی، مولانا منظور احمد چنیوٹی وغیرہ علماء کی ٹیم موجود تھی۔ سرسری سماعت کے بعد چھ چھ ماہ قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ جو پوری کر کے رہا ہوئے۔ جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ میں اس ٹرک کا گھناؤنے انداز میں ذکر کیا ہے۔ حالانکہ وہ ایک تبلیغی سفر تھا۔

۞ ................. ۞ ................. ۞

صفحہ ۶۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شاہین ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں میں چھچھ کے علاقہ میں زیرتعلیم تھا۔ قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ کم سنی کے باوجود مجھے یاد ہے کہ حضرو سے چھچھ کے علماء کرام روز جلوس نکالتے۔ معروف عالم دین بزرگ راہنما مولانا نصیر الدین غورغشتی شیخ الحدیث قیادت فرماتے۔ چھچھ کو پاکستان میں علمی طور پر وہی مقام حاصل ہے۔ جو علماء کرام کی وجہ سے سمرقند اور بخارا کو۔ ہر روز جلوس نکلتے علماء کرام ایسے متشرع لوگ آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے کمر بستہ ہو کر میدان میں نکلتے تو فرشتے بھی جھوم جاتے ہوں گے۔ گرفتاریوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رہا۔ حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتی کو گرفتار کر کے اٹک و ساہیوال کی جیلوں میں رکھا گیا۔ گرفتار شدگان رضا کاروں کو تلہ گنگ، اٹک کی پہاڑیوں پر لے جا کر ویرانے میں چھوڑ دیا جاتا۔ غرضیکہ حکومت نے اپنی طرف سے تحریک کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مگر تحریک آخر تک جاری رہی۔ حضرو کے میاں صاحب کا تحریک میں خصوصی کردار رہا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی فرماتے ہیں کہ میں تازہ دورہ حدیث کر کے فارغ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین مسجد حسین آگاہی ملتان میں فاتح قادیان مولانا محمد حیات سے ردقادیانیت کا کورس کیا اور سرگودھا کے علاقہ چوکیرہ کے مدرسہ میں ابتدائی مدرس لگ گیا۔ تحریک چل نکلی تو رفقاء کو لے کر سرگودھا آیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھوی اور دوسرے حضرات گرفتار ہو چکے تھے۔ سرگودھا کے دیہات میں لوگوں کو تیار کرنے کا پروگرام میرے ذمہ لگا۔ دورہ کر کے واپس چنیوٹ آیا۔ جامعہ محمدی سے مولانا محمد ذاکر کے شاگردوں کی جماعت کے ساتھ چنیوٹ ریلوے اسٹیشن سے جلوس کے ہمراہ گرفتار ہوا۔ ان دنوں چنیوٹ میں سوائے معدودے چند کے مجھے کوئی نہ جانتا تھا۔ مجھے بھی جامعہ محمدی کا ایک مولوی سمجھا گیا۔ جھنگ جیل میں چند ماہ گرفتار رہ کر رفقاء سمیت رہائی ہوئی۔

مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری فرماتے ہیں کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے لاہور میں مبلغ تھا۔ لاہور میں ابتدائے تحریک سے مارشل لاء تک کے تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لاہور سے ملتان، وہاں سے بہاول پور آیا۔ بہاول پور میں کام کیا۔ لیکن گرفتاری کی سعادت سے محروم رہا۔ لاہور میں گرفتار ہونے والے رضا کاروں کی فہرستیں میرے پاس تھیں۔ ایک دن غیر ضروری سمجھ کر ضائع کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

مولانا سید امیر حسین گیلانی فرماتے ہیں کہ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کراچی گیا ہوا تھا۔ احراری خون تھا۔ کراچی جہانگیر پارک میں ظفر اللہ خان قادیانی کی تقریر میں موجود تھا۔ اس نے اسلام کو مردہ مذہب اور قادیانیت کو زندہ اسلام کہا۔ سنتے ہی ہم نے شور کر دیا۔ مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ سب سے پہلا پتھر ظفر اللہ خان کی طرف میں نے چلایا۔ جلسہ ہلڑ بازی کا شکار ہو گیا۔ ہم گرفتار کر لئے گئے۔ رات گئے تک تھانہ میں رہے۔ پھر ہم نوخیز نوجوانوں کو رہا کر دیا گیا۔ تبلیغ میں وقت لگا کر واپس پنجاب آ گئے۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں داخلہ لے لیا۔ تحریک ختم نبوت کی ابتداء میں موچی دروازہ لاہور میں جلسہ عام جس میں مولانا ابوالحسنات کی صدارت تھی۔ حضرت امیر شریعت، حضرت لاہوری کا خطاب تھا، شریک ہوا۔ پھر نسبت روڈ پر جلسہ منعقد ہوا۔ اس میں مجلس عمل کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ سب سے بہترین اور عمدہ خطاب مولانا محمد علی جالندھری کا ہوا۔ اس میں بھی مجھے شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ مولانا محمد علی جالندھری نے مرزائیت کا مذہبی

صفحہ ۶۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیاسی تجزیہ کیا۔ تقریر معلومات کا خزانہ اور دلائل کا سمندر تھی۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ مولانا محمد علی جالندھری نے ظفر اللہ قادیانی کی وزیر خارجہ ہونے کے حوالے سے اس کی تعیناتی پر سخت گرفت کی۔ آپ نے فرمایا: ”ظفر اللہ قادیانی کے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے کشمیر کے مسئلہ کا حل ناممکن ہے۔ اس لئے کہ:

کیا۔ کشمیر کا پاکستان سے واحد رابطہ و راستہ ہی جب اس نے کاٹ دیا تو اب اس سے کشمیر کے مسئلہ کے حل کی توقع رکھنا مسلم لیگی حماقت ہے۔

خانوں میں قادیانی افراد بھرتی کر کے ملت اسلامیہ کی ہمدردی سے پاکستان کو محروم کر دیا ہے۔

خاطر کشمیر کیس لڑے گا۔

کی زیرنگرانی استصواب رائے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ان حالات میں یہ کہنا کہ کشمیر ہمیں مل جائے گا۔ یہ مسلم لیگی حماقت کا بہترین شاہکار ہے۔“

حضرت مولانا محمد علی جالندھری کی تقریر کے بعد حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ مولانا محمد علی جالندھری کی یہ تقریر کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم سے ہوتی تو آج مولانا نے جس طرح اپنا کیس ثابت کیا ہے مسلم لیگ کے لئے ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ رکھنے کا کوئی جواز باقی نہ رہ جاتا۔ حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ مجھے فخر ہے اس بات پر کہ میری جماعت کے رفقاء، دلائل و براہین کی دنیا میں اپنا کیس ثابت کرنے میں کسی بیرسٹر سے کم نہیں ہیں۔

یہ کہہ کر شاہ جی نے تقریر کرنے سے انکار کر دیا۔ سید امیر حسین گیلانی فرماتے ہیں کہ میں اس تقریر میں موجود تھا۔ مولانا کی تقریر کے دوران نسبت روڈ کے مرزائیوں نے اپنے مکانات سے سنگ باری شروع کر دی۔ مولانا محمد علی صاحب نے مشتعل ہجوم کو کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا اور موقعہ کی مناسبت سے ایک لطیفہ بھی سنایا جو یہ تھا کہ ایک دفعہ نوکرانی بادشاہ کے گھر میں چکی پیس رہی تھی۔ بادشاہ کی گھر والی کو نوکرانی نے کہا کہ آپ کی لڑکی جوان ہے۔ میرا لڑکا جوان ہے۔ رشتہ نہ کرلیں؟ بادشاہ کی گھر والی نے اپنے خاوند سے ذکر کیا اس نے کہا کہ جہاں نوکرانی بیٹھی تھی وہ جگہ کھدواؤ۔ چنانچہ ایسا کیا، نیچے مدفون خزانہ ملا۔ (کجا) جو جواہرات سے بھرا ہوا تھا۔ وہ نکال کر بادشاہ نے جگہ ہموار کرا دی اور پھر گھر والی کو کہا کہ اب جب دوبارہ نوکرانی چکی پیسنے آئے پھر دیکھنا وہ کیا کہتی ہے۔ چنانچہ دوسرے دن نوکرانی آئی۔ دانے پیسے۔ مگر کوئی بات نہ کی۔ بادشاہ کی گھر والی نے خود کہا کہ کل آپ نے اپنے لڑکے اور میری لڑکی کے رشتہ کی بات کی تھی۔ تو نوکرانی قدموں پر گر گئی کہ میں نے قطعاً یہ بات نہ کی تھی۔ مجھ پر تہمت نہ لگائی جائے۔ بادشاہ کی گھر والی نے اپنے خاوند کو یہ رپورٹ بھی دی تو خاوند نے کہا کہ پہلے دن نوکرانی نہیں اس کے نیچے سے (کجا) بول رہا تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ ان مرزائیوں کو کچھ نہ کہو۔ جو اینٹیں مروا رہے ہیں۔ اس ”کُجے“ (ظفر اللہ خان) کو توڑ دو۔ اس پر مجمع لوٹ پوٹ ہو گیا اور مولانا کو خوب داد ملی اور یہ کہ ہنگامہ بھی ختم ہو گیا۔

صفحہ ۶۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

موصوف فرماتے ہیں کہ تحریک کے شروع ہونے پر باہر سے آنے والے قافلوں کو سنبھالنا وغیرہ میرے ذمہ ٹھہرایا۔ جب موقع ملتا نوجوان رفقاء کا جلوس لے کر لاہور میں بازار کا چکر بھی لگا لیتے۔ مجھے یاد ہے کہ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ہم دو اڑھائی سو نوجوانوں اور لڑکوں کا ایک گروپ دھنی رام روڈ پر جارہا تھا۔ ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر تقریر شروع کی۔ قادیانی نوجوان فوج کی جیپ میں سوار تھے۔ تقریر کرنے والے کو گولی داغ دی۔ دوسرا نوجوان بڑھا۔ اس نے سپیکر سنبھال کر تقریر شروع کردی۔ قادیانی اوباشوں نے اس کے بھی گولی داغ دی۔ اسی طرح پانچ چھ نوجوان یکے بعد دیگرے تڑپے۔ مگر عشق رسالت مآب ﷺ کے جذبہ کو ماند نہیں پڑنے دیا۔ اس قادیانی ظلم پر روڈ کے دونوں طرف کے مکانات سے اس جیپ پر پتھراؤ شروع ہو گیا۔ جیپ والے قادیانی سورما بھاگ نکلے اور ہمارا جلوس پھر روانہ ہو گیا۔

انارکلی میں راست اقدام کا اشتہار میں نے تقسیم کیا۔ اشتہار تقسیم کر رہا تھا کہ پولیس آ دھمکی۔ ایک گلی سے ہو کر گرفتاری سے بچ نکلا۔ جامع مسجد وزیر خان کو جب فوج نے خالی کرالیا تو ہمارے رضا کاروں کا دستہ جامع مسجد علی ہجویری (داتا دربار) منتقل ہو گیا۔ ان کے لئے تانگہ پر دیگ پکوا کر لایا۔ میں خود سائیکل پر تھا۔ مسجد کے دروازے پر آئے تو پیچھے بازار میں افراتفری تھی۔ معلوم ہوا کہ ملٹری کے ٹینک بکتر بند گاڑیاں یہاں بھی آگئی ہیں۔ تنگ گلی سے ایک ہاتھ پر سائیکل اٹھایا اور نکل گیا۔ اب جاکر مولانا غلام غوث ہزاروی سے ملاقات کی۔ شہر میں فوج کا گشت تھا۔ جب پولیس کے دستہ نے گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا وہ حوالہ زندان کر دیئے گئے۔ ملٹری کا جو دستہ شہر میں آکر مسلمانوں کے جذبہ عشق و مستی کو دیکھتا اور متاثر ہوتا انہیں تبدیل کر دیا جاتا تھا۔ فوج پارا چنار یا بنگال کی لائی گئی تا کہ وہ تحریک کے لوگوں کی سرے سے بات ہی نہ سمجھ پائے۔ مولانا ہزاروی صاحب نے ایبٹ آباد، مانسہرہ، سرحد کے لوگوں کے پتے لکھ کر دیئے کہ ان کو مل کر وہاں سے آواز کو مؤثر طور پر اٹھایا جائے۔ گوجرانوالہ گیا۔ وہاں سے مولانا عبدالقیوم صاحب میرے ساتھ ہوئے۔ قلعہ کالر گجرات میں جاکر تقریر کی، جلوس نکالا۔ مولانا سید عنایت اللہ شاہ پہلے سے گرفتار تھے۔ وہاں سے جہلم، پنڈی، ہزارہ کا دورہ کیا۔ خان عبدالقیوم خان وزیر اعلیٰ سرحد نے اعلان کر رکھا تھا کہ پنجاب کے غنڈوں (تحریک کے لوگوں) کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم نے ہزارہ ڈویژن کا دورہ کر لیا۔ قیوم خان کو دورہ پڑا وہ ہزارہ آیا۔ ہم ہزارہ سے راولپنڈی وہاں سے جہلم آ گئے۔ جہلم میں جمعہ پر بیان ہوا جلوس نکالا گرفتار ہو گئے۔ چھ ماہ قید کاٹ کر رہا ہوئے۔ رہائی پر پھر جہلم میں تقریر کی اور پھر لاہور آگئے۔

خاتمۃ الکتاب

اہل جنت سے خطاب

مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے اختتام پر لاہور میں ایک عظیم الشان ورکر میٹنگ منعقد ہوئی۔ جس میں لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی وغیرہ پنجاب کے اضلاع کے وہ کارکن جمع ہوئے جو تحریک ختم نبوت میں سزایاب ہوئے تھے۔ ان سے خطاب کرتے ہوئے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے فرمایا کہ میں اپنے یقین اور وجدان کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ جو لوگ ختم نبوت کی تحریک میں دیوانہ وار شریک ہوئے وہ سب جنتی ہیں۔ میرے سامنے جو تم بیٹھے ہوئے ہو۔ ایسے محسوس کرتا ہوں کہ میں اہل جنت سے خطاب کر رہا ہوں۔

صفحہ ۶۶۱

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاریخی اشتہارات

صفحہ ۶۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کے متعلق چند آیات و احادیث

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ارشاد فرمایا: ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین وکان الله بکل شئ علیما (احزاب:۴۰) “ محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ البتہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ ﴾

(ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ!) ”اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے ہی پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔“

(سورۂ سبا)

(ارشاد ہے کہ) ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے بطور دین کے اسلام کو پسند کر لیا۔“

(سورۂ مائدہ)

رسول مقبول ﷺ کے ارشادات گرامی

”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ کیا۔ مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس اس کو دیکھنے کے لئے لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ لیکن کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) آنحضرت ﷺ نے فرمایا : پس وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔“

(اور ایک روایت میں ہے کہ ) ”میں نے ہی اس جگہ کو پر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا اور مجھ ہی پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے۔“

(بخاری و مسلم وغیرہما)

مجھے تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دی گئی (ان میں سے دو یہ ہیں کہ) میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھ پر ہی تمام انبیاء ختم کر دیئے گئے۔

(مسلم)

قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ۔ جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔

(مسلم)

ابو داؤد ، ترمذی کی روایت میں اسی مضمون کے ساتھ لفظ ”دجالون“ بھی مذکور ہے۔ رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔

(ترمذی)

میں سب انبیاء میں سے آخری نبی ہوں اور تم سب امتوں میں سے آخری امت ۔

(ابن ماجہ)

مذکورہ بالا آیات و احادیث سے کیا صاف ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول ۔ آپ ﷺ ہی قیامت تک سارے لوگوں کی ہدایت کے واسطے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ کا دین ہی مکمل دین اور آخری دین ہے اور آپ ﷺ کی امت ہی آخری امت ۔ سو جو کوئی آپ کے دین سے انحراف کرے یا اس میں تحریف اور من گھڑت تاویل کرے اور آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کر کے اپنے کو حق پر ہونا ظاہر کرے ۔ یقیناً وہ کافر جہنمی اور دجال و کذاب ہوگا۔

صفحہ ٦٦٣

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ

ختم نبوت یعنی رسول مقبول ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوا۔ آپ ہی خاتم النبیین اور سید المرسلین ہیں۔ یہ اسلام کا ایک اہم بنیادی عقیدہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا منکر مرتد کافر اور خارج از اسلام ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ایک خالص غیر سیاسی، مذہبی، اصلاحی اور تبلیغی ادارہ ہے۔ مذہب اسلام کے جمیع عقائد خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ و ترویج اور کفر و شرک، لا دینیت و دہریت اور عیسائیت اور مرزائیت وغیرہ فتنے کا ابطال و تردید کر کے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کرنا اس کا اصل نصب العین ہے۔ مجلس کو جلیل القدر علماء کرام اور مشائخ عظام کی سرپرستی اور معتمد علیہ علماء، وکلاء اور تاجرین حضرات کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ اس مجلس کی کوشش ہے کہ رنگپور، دینا جپور، کھلنا، جسر، کملاء اور چاٹگام وغیرہ اضلاع میں بھی مجلسیں قائم ہوئیں جو بحمد اللہ تعالیٰ اپنے اپنے علاقہ میں نمایاں کام انجام دے رہی ہیں۔ مجلس کے اغراض و مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے قابل ترین اہل علم مبلغین مقرر ہیں۔ مجلس نے فتنہ قادیانیت کے فریب و دجل کو آشکارا کرنے کے لئے کثیر تعداد میں ”انگریزی نبی“ اور ”الہامی گرگٹ“ نامی دو رسالے بنگلہ زبان میں شائع کئے۔ عوام و خواص کو ان سے بے حد فائدہ پہنچا۔ مجلس نے مذکورہ بالا مقصد کے پیش نظر اور بہت سی کتابوں کے مسودے تیار کر لئے اور تیار کر رہی ہے۔ مگر مالی تنگی کے باعث اب تک انہیں شائع نہیں کر سکی۔ حالانکہ مسلمانوں کے ایمان اور اسلام کی حفاظت کی خاطر اس طرف فوری اقدام نہایت ضروری ہے۔ حضور پاک ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر اعتقاد رکھنے والے عاشقان رسول مخیّر حضرات کے ہر قسم کے عطیات اور امداد ہی سے اس مجلس کے تمام اخراجات انجام پاتے ہیں۔

لہٰذا جمیع مسلمانان سے استدعا کی جاتی ہے کہ تاجدار ختم نبوت رسول کریم ﷺ کے ناموس کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کی مالی امداد اور قلبی توجہ سے اس مجلس کو مضبوط اور مستحکم کر کے کام کو آگے بڑھانے میں فراخدلی سے حصہ لیتے رہیں۔ وما علینا الا البلاغ!

منجانب مجلس داعی الی الخیر سرپرستان مجلس (۱) الحاج جناب خواجہ محمد اشرف صاحب احسن منزل اسلام پور ڈھاکہ نمبر ۱ (سرپرست مجلس تحفظ (۱) الحاج حضرت مولانا سید محمود مصطفیٰ المدنی حسینی، مدنی منزل ایل۔ بی ۲۳ میر پور روڈ کالج گیٹ ختم نبوت ڈھاکہ) ڈھاکہ نمبر ۷ (۲) حضرت مولانا محمد صفی اللہ صاحب پیش امام و خطیب بہادر شاہ پارک جامع مسجد ڈھاکہ نمبر ۱ (۲) الحاج حضرت مولانا عبد الوہاب (پیر جی حضور) مہتمم مدرسہ اشرف العلوم بڑا کٹڑہ ڈھاکہ نمبر ۱۱ (صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ) (۳) الحاج حضرت مولانا حافظ محمد اللہ صاحب (حافظ جی حضور) محدث الجامعہ القرآنیہ پیش امام (۳) ابو محمود ہدایت حسین (ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ) شاہی مسجد لال باغ ڈھاکہ نمبر ۱۱ (۴) حضرت مولانا بذل الرحمٰن صاحب مہتمم مدرسہ امداد العلوم فرید آباد ڈھاکہ نمبر ۴ (۵) الحاج خواجہ محمد اشرف صاحب حسن منزل اسلام پور ڈھاکہ نمبر ۱ (۶) الحاج جناب محمد سلطان صاحب شفیق پریس نمبر ۴،۴، بنگلہ بازار ڈھاکہ نمبر ۱

اطلاع: (۱) عیسائیت اور قادیانیت کا فتنہ جہاں بھی آپ کو نظر آئے یا معلوم ہو، فوراً مجلس تحفظ ختم نبوت کو مطلع فرمادیں۔ (۲) ماہانہ، سالانہ یکمشت نقد چندہ زکوٰۃ فطرہ، چرم قربانی یا فیس رکنیت مجلس جو بھی ارسال فرمائیں بواسطہ حامل رقم یا بذریعہ منی آرڈر کوپن اس کا نام ذکر فرما دیں تا کہ ہر ایک کو اس کے صحیح مصرف میں خرچ کیا جا سکے۔ (۳) صدر، ناظم یا مبلغین مجلس کے پاس اپنی رقوم عنایت فرما کر ان سے رسید حاصل کریں۔ (۴) منی آرڈر ارسال کرنے کا پتہ: ”ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ۷ آرمینیئن سٹریٹ مسجد (بالائی منزل) ڈھاکہ نمبر ۱“

صفحہ ۶۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۷۸۶

ختم نبوت کے متعلق چند آیات و احادیث

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ارشاد فرمایا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا محمدؐ (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام انبیا کے ختم کرنے والے ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے

(سورہ احزاب)

(سورہ سبا)

دین کے اسلام کو پسند کر لیا۔

(سورہ مائدہ)

رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ گرامی

میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ کیا۔ مگر اس کے ایک گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس اسکو دیکھنے کیلئے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ اور خوش ہوتے ہیں۔ لیکن کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں (اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے ہی اس جگہ کو پُر کیا۔ اور مجھ سے ہی قصرِ نبوت مکمل ہوا اور مجھ ہی پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے "بخاری ومسلم وغیرہما") مجھے سب انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیگئی ان میں ایک یہ بھی ہے کہ میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھ پر ہی تمام انبیا ختم کر دیئے گئے۔ "مسلم" قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونگے۔ جن میں سے ہر ایک یہی کہیگا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں ہی خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ "مسلم، ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں" کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی "ترمذی" میں سب انبیاء میں سے آخری نبی ہوں۔ اور تم سب امتوں میں سے آخری اُمت "ابن ماجہ"

مذکورہ بالا آیات واحادیث سے کیا صاف ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا نہ رسول۔ آپؐ ہی قیامت تک سارے لوگوں کی ہدایت کے واسطے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کا دین ہی سچا اور آخری دین ہے۔ اور آپ کی امت ہی آخری امت؟ سو جو کوئی آپؐ کے دین سے انحراف کرے یا اس میں تحریف اور من گھڑت تاویل کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرکے اپنے کو حق پر ہونا ظاہر کرے یقیناً وہ کافر جہنمی اور دجال و کذاب ہوگا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ

ختم نبوت یعنی یہ کہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوتا۔ آپ ہی خاتم النبیین اور سید المرسلین ہیں، یہ اسلام کا ایک اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا منکر، مرتد، کافر اور خارج از اسلام ہے۔

عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ و ترویج اور کفر و شرک، لادینیت، دہریت، قادیانیت اور مرزائیت وغیرہ فتنے کا ابطال و تردید کر کے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کرنا اسکا اصل نصب العین ہے۔ مجلس کو جلیل القدر علماء کرام اور مشائخ عظام کی سرپرستی اور معتمد علیہ علماء و اکابر تاجرین حضرات کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ اس مجلس کی کوششوں سے میمن سنگھ، چاٹگام، سلہٹ، جیسور، کملہ اور چاندپور وغیرہ اضلاع میں بھی مجلسیں قائم ہوئیں جو بحمد اللہ اپنے اپنے علاقہ میں نمایاں کام انجام دے رہی ہیں۔ مجلس کے اغراض و مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے قابل ترین اہل علم مبلغین مقرر ہیں۔ مجلس نے فتنہ قادیانیت کے فریب و دجل کو آشکارا کرنے کے لئے کثیر تعداد میں انگریزی، بنگالی اور اردو میں ٹریکٹ و دیگر رسالے چھپوا کر مفت تقسیم کئے جن سے عوام و خواص کو بے حد فائدہ پہنچا۔ مجلس نے مذکورہ بالا مقصد کے پیش نظر اور بھی بہت سی کتابوں کے مسودے تیار کر لئے ہیں اور تیار کر رہی ہے۔ مگر مالی تنگی کے باعث ابتک انہیں شائع نہیں کرسکی حالانکہ مسلمانوں کے ایمان اور اسلام کی حفاظت کی خاطر ان کی اشاعت نہایت ضروری ہے۔

عطیات اور امداد ہی سے اس مجلس کے تمام اخراجات انجام پاتے ہیں۔

لہٰذا غیرتِ مسلمانی سے استدعا کی جاتی ہے کہ تاجدارِ ختمِ نبوت، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کی مالی امداد اور قلبی توجہ سے اس مجلس کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا کام آگے بڑھانے میں فراخدلی سے حصہ لیتے رہیں فقط والسلام

عہدیدارانِ مجلسِ ہٰذا

الحاج جناب خواجہ محمد اشرف صاحب، امین منزل، اسلام پور۔ ڈھاکہ سرپرستِ مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ڈھاکہ حضرت مولانا محمد مصطفیٰ اللہ صاحب، مہتمم و خطیب جامع مسجد شاہ پارک، ڈھاکہ صدر مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ڈھاکہ ابو محمود ہدیٰ، ناظم مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ڈھاکہ

سرپرستانِ مجلسِ ہٰذا

اطلاع :۔ احبابِ ملت اور فدائیانِ ختمِ نبوت سے اپیل ہے کہ لادینیت، دہریت، قادیانیت اور مرزائیت وغیرہ فتنوں کے سدِباب کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ کی ہر ممکن مالی امداد فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ مالی امداد براہِ راست ناظم صاحب مجلس کے نام روانہ فرمائیں۔ جن حضرات کو مجلس کی ممبرشپ حاصل کرنی ہو وہ اپنا نام، مکمل پتہ اور چندہ کی رقم بذریعہ منی آرڈر ناظم مجلس کے پاس ارسال فرمائیں۔ اور جو دوست مزید لٹریچر منگوانا چاہیں وہ بھی ناظم صاحب مجلس سے خط و کتابت کریں۔

صفحہ ۶۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان اور مرزائی

برادران اسلام! یہ امر نہایت قابل افسوس ہے کہ مرزائی نہ صرف دین اسلام بلکہ ممالک اسلامیہ کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں۔ حتیٰ کہ انگریز پرستی کے صدقہ میں آزادی وطن کی تمام تحریکات کی سرتوڑ مخالفت ان کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ اپنے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام کے پیش نظر پاکستان کی مخالفت ان کا مذہبی عقیدہ ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل مرزائی حوالہ جات سے ظاہر ہے۔

پاکستان کی مخالفت کا قادیانی الہام

(مرزا محمود) نے فرمایا: میں اصولی طور پر اس کا قائل نہیں۔ میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو ہندوستان میں اس لئے پیدا کیا ہے تا کہ سارا ہندوستان اسلام کے جھنڈے کے نیچے آ جائے اور وہ احمدیت کی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد کا کام دے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ایک الہام ہے: ”آریوں کا بادشاہ۔“

(تذکرہ ص۴۸۴)

اگر ہم آریوں کو الگ کر دیں اور مسلمانوں کو الگ تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا یہ الہام کس طرح پورا ہو سکتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ ہندوستان کے سب لوگ متحد رہیں۔ اگر ہندوستان نے الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا تھا تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پاکستان کے بادشاہ کہلاتے۔ آریوں کے بادشاہ نہ کہلاتے۔ پس بے شک مسلمان زور لگاتے رہیں، جس مادی قسم کا پاکستان وہ چاہتے ہیں وہ کبھی نہیں بن سکتا۔“

(روزنامہ الفضل قادیان ج۳۲ نمبر ۱۳۳ ص ۱ کالم ۱، مورخہ ۸؍ جون ۱۹۴۴ء)

پاکستان دشمنی کے سلسلہ میں قادیانی خلیفہ کا بیان

منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑا تو یہ اور بات ہے۔ بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اس وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لئے کوشش نہیں کرے گا۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے۔“

(روزنامہ الفضل قادیان ج۳۵ نمبر ۱۱۶ ص ۲ کالم ۱، مورخہ ۱۶؍ مئی ۱۹۴۷ء)

پاکستان کے خلاف مرزائیوں کا عملی اقدام

پاکستان کے خلاف مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام سچا ثابت کرنے کے لئے مرزائیوں نے جو حربے استعمال کئے ان میں سے ایک کا ذکر پاکستان کے سابق چیف جسٹس محمد منیر نے قادیانیوں کی پاکستان دشمنی کو جس خوبصورتی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے، اس کو پڑھ کر

صفحہ ٦٦٦

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں اور ارباب حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ صاحب موصوف ریڈ کلف ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے ضلع گورداسپور کے متعلق انکشاف فرماتے ہیں: ’’گورداسپور کے سلسلے میں میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ بات کبھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر احمدیوں نے ایک علیحدہ عرض داشت کیوں پیش کی۔ اس علیحدہ نمائندگی کی ضرورت صرف اس وجہ سے پیدا ہوسکتی تھی کہ احمدی حضرات مسلم لیگ کے مؤقف سے متفق نہ تھے اور یہ بات خود اپنی جگہ بڑی افسوس ناک تھی۔ ممکن ہے ان کی نیت یہ ہو کہ مسلم لیگ کا مقدمہ مضبوط کیا جائے۔ لیکن انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے بارے میں جو اعدادوشمار پیش کئے، ان سے الٹا یہ ثابت ہوگیا کہ دریائے بین اور دریائے بستر کے درمیانی علاقے میں غیر مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ دلیل فراہم کردی کہ اگر دریائے اوجھ اور دریائے بستر کا دوآبہ بھارت کو دے دیا جائے تو بین بستر دوآبہ اپنے آپ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ بہر کیف یہ علاقہ ہمارے پاس رہا۔ مگر احمدیوں نے جو مؤقف اختیار کیا وہ گورداسپور کے معاملے میں ہمارے لئے کافی پریشانی کا موجب بن گیا۔‘‘

(روزنامہ پاکستان ٹائمز مورخہ ۲۲؍جون۱۹۷۴ء)

مسلمانان عالم مرزائیوں کی نگاہ میں

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزائیوں کی پاکستان دشمنی کی وجہ ان کا مسلمانان عالم کو کافر اور دوزخی قرار دینا ہے۔ جیسا کہ مرزائیوں کی مندرجہ ذیل تحریرات سے ظاہر ہے۔

نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار ص ۸)

(مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۰، مرزا محمود خلیفہ قادیانی)

تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناتا ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص۱۶۹، مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر غلام احمد قادیانی)

توہین قرآن مجید، انبیاء علیہم السلام اور بزرگانِ امت

مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں توہین قرآن مجید و انبیاء علیہم السلام و بزرگان دین سے بھری پڑی ہیں۔ ناظرین کی خدمت میں نمونہ مشتے از خروارے چند حوالہ جات پیش ہیں۔

صفحہ ۶۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

توہین قرآن مجید

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا الہام بیان کیا: ’’میں تو بس قرآن کی ہی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔‘‘

(تذکرہ ص ۶۴۹)

’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(تذکرہ ص ۱۰۰)

توہین انبیاء علیہم السلام

’’زنده شد ہر نبی بآمدنم۔ ہر رسول نہاں بپیراہنم ۔‘‘

ترجمہ: میرے آنے سے سب رسول زندہ ہو گئے۔ تمام رسول میرے پیرہن میں چھپے ہوئے ہیں۔

(درثمین فارسی ص ۱۶۵)

توہین حسین رضی اللہ عنہ

’’کربلائے است سیر ہر آنم ...... صد حسین است در گریبانم‘‘

ترجمہ: میں ہر وقت کربلائے میدان میں ہوں۔ سو حسین میرے گریبان میں چھپا ہوا ہے۔

(نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ص ۴۷۷)

صحابہ رضی اللہ عنہم اور بزرگان امت کو یہودیوں سے تشبیہ

’’ہمارے مخالف (مسلمان) سخت شرمندہ اور لا جواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے۔ بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی۔ ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی ۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ مصنفہ مرزاغلام احمد قادیانی ص ۱۲۴)

(شائع کردہ: شعبہ نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان فون نمبر: ۴۴۴۱)

صفحہ ۶۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان

برادران اسلام! یہ امر نہایت قابل افسوس ہے کہ مرزائی نہ صرف دین اسلام بلکہ ممالک اسلامیہ کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ انگریز پرستی کے صدقہ میں آزادی وطن کی تمام تحریکات کی سرتوڑ مخالفت ان کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ اپنے نبی مرزا غلام احمد کے الہام کے پیش نظر پاکستان کی مخالفت ان کا مذہبی عقیدہ ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل مرزائی حوالہ جات سے ظاہر ہے۔

مرزائی!

مسلمانان عالم مرزائیوں کی نگاہ میں!

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزائیوں کی پاکستان دشمنی کی وجہ ان کا مسلمانان عالم کو کافر اور دوزخی قرار دینا ہے جیسا کہ مرزائیوں کی مندرجہ ذیل تحریرات سے ظاہر ہے۔

تیرا مخالف ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنیوالا جہنمی ہے۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص۸ از مرزا غلام احمد قادیانی)

انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں یہ میرے عقائد ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵ از مرزا محمود خلیفہ قادیانی۔)

وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ۹۰ مرزا محمود خلیفہ قادیانی)

کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے“

(کلمتہ الفصل ص ۱۶۹ مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر غلام احمد قادیانی)

توہین قرآن مجید، انبیاء علیہم السلام اور بزرگان امت

مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں توہین قرآن مجید و انبیاء علیہم السلام اور بزرگان دین سے بھری پڑی ہیں۔ ناظرین کی خدمت میں نمونہ مشتے از خروارے چند حوالہ جات پیش ہیں۔

توہین قرآن مجید

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا الہام بیان کیا، ”میں تو بس قرآن کی ہی طرح ہوں۔ اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔“

(تذکرہ ص ۴۶۶)

”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص ۱۱۱)

توہین انبیاء علیہم السلام

”زندہ شد ہر نبی بآمدم ۔ ہر رسول نہاں بپیرہنم ۔“ ترجمہ: میرے آنے سے سب رسول زندہ ہو گئے۔ تمام رسول میرے پیرہن میں چھپے ہوئے ہیں۔

(در ثمین فارسی ص ۱۶)

توہین حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

”کربلائے است سیر ہر آنم ۔ صد حسین است در گریبانم ۔“ ترجمہ: میں ہر وقت کربلا کے میدان میں ہوں۔ سو حسین میرے گریبان میں چھپا ہوا ہے۔

(نزول المسیح ص ۹۹)

صحابہؓ اور بزرگان امت کو یہودیوں سے تشبیہ

”ہمارے مخالف (مسلمان) سخت شرمندہ اور لاجواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں، کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی، ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ص ۱۳۴)

پاکستان کی مخالفت کا قادیانی الہام

ہے۔ حضور (مرزا محمود) نے فرمایا، میں اصولی طور پر اس کا قائل نہیں۔ میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو ہندوستان میں اس لئے پیدا کیا تھا کہ سارا ہندوستان اسلام کے جھنڈے کے نیچے آجائے اور وہ احمدیت کی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد کا کام دے۔ حضرت مسیح موعود، (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ایک الہام ہے ”آریوں کا بادشاہ“ تذکرہ ص ۴۸ اگر ہم آریوں کو الگ کر دیں اور مسلمانوں کو الگ تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا یہ الہام کس طرح پورا ہو سکتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ ہندوستان کے سب لوگ متحد رہیں۔ اگر ہندوستان نے الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہوجانا تھا تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پاکستان کے بادشاہ کہلاتے، آریوں کے بادشاہ نہ کہلاتے۔ پس بے شک مسلمان زور لگاتے رہیں، جس مادی قسم کا پاکستان وہ چاہتے ہیں، وہ کبھی نہیں بن سکتا۔“

(روزنامہ ”الفضل“ قادیان مورخہ ۵۔ اپریل ۱۹۴۷ء)

پاکستان دشمنی کے سلسلہ میں قادیانی خلیفہ کا بیان

ہے لیکن قوموں کی غیر معمولی منافرت کیوجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑا تو یہ اور بات ہے۔ بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اس وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لئے کوشش نہیں کرے گا۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے۔ اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے (روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء)

پاکستان کے خلاف مرزائیوں کا عملی اقدام

پاکستان کے خلاف مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام ثابت کرنے کیلئے مرزائیوں نے جو حربے استعمال کئے ان میں سے ایک کا ذکر پاکستان کے سابق چیف جسٹس محمد منیر نے قادیانیوں کی پاکستان دشمنی کو جس خوبصورتی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ اس کو پڑھ کر مسلمانوں اور ارباب حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ صاحب موصوف ریڈ کلف ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے ضلع گورداسپور کے متعلق انکشاف فرماتے ہیں:۔

”گورداسپور کے سلسلے میں میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا یہ بات کبھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر احمدیوں نے ایک علیحدہ عرضداشت کیوں پیش کی۔ اس علیحدہ نمائندگی کی ضرورت صرف اس وجہ سے پیدا ہو سکتی تھی، کہ احمدی حضرات مسلم لیگ کے مؤقف سے متفق نہ تھے اور یہ بات خود اپنی جگہ بڑی افسوسناک تھی۔ ممکن ہے ان کی نیت یہ ہو کہ مسلم لیگ کا مقدمہ مضبوط کیا جائے۔ لیکن انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے بارے میں جو اعداد و شمار پیش کئے، ان سے اُلٹا یہ ثابت ہو گیا کہ دریائے بین اور دریائے بستر کے درمیانی علاقے میں غیر مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ دلیل فراہم کر دی کہ اگر دریائے اوجھ اور دریائے بستر کا دوآبہ بھارت کو دے دیا جائے تو بین بستر دوآبہ اپنے آپ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ بہر کیف یہ علاقہ ہمارے پاس رہا۔ مگر احمدیوں نے جو موقف اختیار کیا وہ گورداسپور کے معاملے میں ہمارے لئے کافی پریشانی کا موجب بن گیا“

(روزنامہ پاکستان ٹائمز ۲۴ جون ۱۹۶۴ء)

عبد الغفار شاد خوشنویس ملتان

شائع کردہ: شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

باہتمام قاسم صدیقیہ پرنٹنگ پریس بیرون بوہڑ گیٹ ملتان

صفحہ ٦٦٩

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی کسی ادارہ مسلمانوں کے میں !! نمائندہ نہیں ہو سکتے

بَرادرانِ اِسلام

امت اسلامیہ چودہ سو سال سے نئے مدعی نبوت اور اس کے ماننے والوں کو قرآن وسنت کی روشنی میں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے

عالم اسلام، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کو نبی یا مجدد ماننے والوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے پر متفق ہے۔ اسی طرح مرزائی تمام عالم اسلام کو کافر کہتے ہیں چنانچہ ظفر اللہ خاں اور دوسرے مرزائیوں نے، قائد اعظم، لیاقت علیخان، سردار عبدالرب نشتر اور دوسرے اکابرین کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔ نیز مرزائی عقیدتاً نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں چنانچہ مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں (مسلمان، ہندو) جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔ الفضل ۵ اپریل ۱۹۴۷ء

اس نظریہ اور عقیدہ کے ساتھ مرزائی براستہ مسلم لیگ پارٹی آگے آئے ہیں مرزائی اپنے عقائد اور نظریات کے لحاظ سے الگ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں اس لیے مرزائی کسی بھی ادارہ میں مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہو سکتے

حضرت مولانا محمد علی جالندھری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان حضرت مولانا عبیداللہ انور نائب امیر جمعیتہ علماء اسلام پاکستان حضرت مولانا سید خلیل احمد قادری نائب معتمد جمعیتہ العلما حضرت مولانا سید کاظم علی شاہ صدر انجمن امامیہ گوجرانوالہ حضرت مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی جماعت اہلحدیث حضرت مولانا مفتی بشیر حسین قادری خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ حضرت مولانا حکیم عبدالرحمان کنوینر جماعت اہل حدیث گوجرانوالہ

شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

صفحہ ۶۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب منعقدہ لاہور نے ۱۸ جولائی ۱۹۵۲ء بروز جمعۃ المبارک

یوم مطالبات

منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں تمام مسلمان حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کریں کہ

اور ربوہ میں مسلمانوں کو بھی آباد ہونے کی وہی مراعات حاصل ہوں جو مرزائیوں کو حاصل ہیں۔

جائے۔ اور تمام گرفتار شدگان کو رہا کر دیا جائے۔

شعبہ نشر و اشاعت تحفظ ختم نبوت لاھور

ایم سی پریس لاہور

صفحہ ۶۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانان پاکستان کا

حکومت پاکستان سے

مُطالبہ

الگ کیا جائے

صدیقی پریس ملتان

عبدالشکور کاتب

صفحہ ۶۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب کی مجلس عمل کی طرف سے

محضر نامہ

بعالی خدمت جناب الحاج خواجہ ناظم الدین (وزیر اعظم پاکستان)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على رسوله الكريم الذى لا نبى بعده

جناب والا! مسلمانان پنجاب کی تمام جماعتوں کا یہ نمائندہ وفد حسب ذیل امور کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہے۔

(۱) قادیانیوں کو ایک مستقل آئینی اقلیت قرار دینے کا مسئلہ

اس سلسلہ میں حسب ذیل امور قابل توجہ ہیں :

صفحہ 673

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ۶۷۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے ایک جداگانہ امت کی حیثیت سے اپنی الگ تنظیم کرنے کے باوجود مسلمانوں کی امت میں شامل رہنے کی کوشش کی اور پھر مسلمانوں کے اندر سے توڑ توڑ کر لوگوں کو اپنی امت میں شامل کرتے رہے۔ الگ امت بن جانے کی صورت میں ان کے لئے ایک مسلمان کو یہ دعوت دینا مشکل تھا کہ وہ مسلمانوں میں سے نکل کر اس دوسری امت میں آ جائے۔ لیکن امت در امت بن کر رہنے کی صورت میں وہ مسلمانوں کو آسانی کے ساتھ یہ اطمینان دلا سکتے تھے کہ قادیانیوں میں شامل ہونے کے معنی اسلام سے نکل کر دوسری امت میں آنے کے نہیں ہیں۔ اس طرح انہوں نے اس پردے کو اپنے دائرہ اثر کی توسیع کے لئے ایک ذریعہ بنایا اور علی الاعلان کہا کہ : ”مسلمان قوم ہماری چراگاہ ہے۔“

ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے قادیانیوں کی تعداد میں جتنا جتنا اضافہ ہوتا گیا مسلمانوں کے ہزار ہا خاندانوں میں اس کی وجہ سے تفرقہ پڑتا گیا اور بھائی سے بھائی، باپ سے بیٹا، بیوی سے شوہر اور رشتہ داروں سے رشتہ دار کٹ کٹ کر الگ ہوتے رہے۔ پھر قادیانیوں نے منظم طریقے سے تجارتوں اور ملازمتوں اور دوسرے معاشی شعبوں میں مسلمانوں کے خلاف جتھا بندی اور کشمکش شروع کر دی۔ جس نے تلخیوں کو اور زیادہ بڑھا دیا۔

حالات پیدا کر دیئے ہیں جو ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان رہ چکے ہیں۔ ایسے حالات جن دو گروہوں کے درمیان رہیں۔ ان کو ملا کر رکھنے کی کوشش کبھی مفید ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ تجربے سے فساد انگیزی ثابت ہوئی ہے۔ اس لئے تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں فسادات کی نوبت آنے سے پہلے اسی حالت کو آئینی طور پر تسلیم کر لیا جائے جو پچاس برس سے واقعتاً ان کے درمیان موجود ہے۔ ان وجوہ سے یہ وفد آپ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس وقت جو دستوری تجاویز مرتب ہو رہی ہیں ان میں یہ چیز بھی شامل کر لی جائے کہ قادیانیوں کو ان غیر مسلم اقلیتوں کے زمرے میں رکھا جائے گا۔ جو جداگانہ انتخاب کے ذریعے سے اپنی آبادی کے تناسب کے مطابق مجالس قانون ساز میں اپنے نمائندے بھیجیں گی۔ ہماری اس تجویز کو قبول کرنے کا اعلان جتنی جلدی کر دیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ پاکستان میں اور خصوصاً پنجاب میں جو غصہ، نفرت اور ہیجان قادیانیوں کے خلاف بھڑک اٹھا ہے اس کو اس اعلان کے بغیر فرو نہیں کیا جا سکتا۔

(۲) وزارت خارجہ سے سر ظفر اللہ خان کی علیحدگی کا مسئلہ

اس مسئلے میں مسلم عوام کے جذبات ان مظاہروں اور جلسوں کے ذریعے سے محترم وزیر اعظم کو معلوم ہو چکے ہوں گے۔ جو بڑے پیمانے پر ملک میں ہوئے ہیں۔ ان جذبات کے متعلق یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ ان کی بناء محض مذہبی اختلاف ہے۔ زیادہ تر جن وجوہ سے عام مسلمانوں کے جذبات سر ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:

محکموں کو بھی قادیانیوں کے حق میں استعمال کرنے کے لئے برسوں سے بدنام ہیں۔

صفحہ ۶۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کو باہر کی دنیا میں اور خصوصاً اسلامی دنیا میں پھیلنے کا ایسا موقعہ مل رہا ہے جو پہلے کبھی نہ ملا تھا۔

سکیں گے۔ جب کہ ان کا مرکز نبوت قادیان، ہندوستان کی مٹھی میں ہے۔

وزیر اعظم کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بیرونی ممالک میں کسی ملک کی نمائندگی کے لئے ایسا شخص کبھی موزوں نہیں ہو سکتا۔ جس کے خلاف ملک کے گوشے گوشے میں باشندے اعلانیہ اظہار بے اعتمادی، اظہار نفرت اور کھلے کھلے مظاہرے کر چکے ہوں ۔ممکن ہے کہ مرکزی کابینہ کو ان پر اعتماد ہو۔ لیکن بیرونی ممالک میں ان کی بات اس بناء پر وزنی نہیں ہو سکتی کہ وہ کابینہ کے نمائندے ہیں۔ بلکہ اگر ہو سکتی ہے تو اس بناء پر کہ وہ ملک کے نمائندے ہیں۔ اگر دنیا ان کو اس حیثیت سے جانے کہ پاکستان کے عام باشندے ان سے ناراض ہیں۔مگر کابینہ ان سے خوش ہے تو یہ چیز نہ صرف ان کے ہی وزن کو بلکہ کابینہ کے وزن کو بھی کم کر دے گی۔

ان حالات میں مسلمانان پنجاب کی تمام جماعتوں کا نمائندہ وفد محترم وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہے کہ چوہدری سر ظفر اللہ خان کو ان کے موجودہ منصب وزارت خارجہ سے برطرف کر کے مسلمان قوم کے اضطراب کو رفع کریں۔ ہماری ملت میں مردان کار کی کمی نہیں۔ ان شاء اللہ ! نیا وزیر خارجہ پاکستان کے خارجی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوگا اور ان خرابیوں کو بھی دور کر دے گا۔ جو ایک غیر موزوں آدمی کے باعث رونما ہو گئیں۔

کے اور مسلمانوں کے درمیان جو تلخی اور کشمکش گزشتہ پچاس سال میں اور خصوصاً پاکستان بننے کے بعد کے پانچ سال میں رونما ہوئی اس کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سرکاری ملازمتوں پر قادیانیوں نے اپنے تناسب آبادی سے جو سینکڑوں گنا زیادہ اثر بڑھا لیا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ساز باز کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ اس اثر کا انسداد کیا جائے اور ان کے تناسب آبادی کے مطابق ملازمتوں میں ان کا تناسب بھی مقرر کر دیا جائے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ محترم وزیر اعظم ان مخلصانہ گزارشوں کو جو ملت پاکستان اور مملکت پاکستان کی خیر خواہی کے لئے پیش کی گئی ہیں۔ قبول فرما کر عامتہ المسلمین کو مطمئن کریں گے اور اللہ تعالیٰ اور رسول مقبول ﷺ کی رضا حاصل کریں گے۔

ہم ہیں آپ کے خادم نمائندگان مجلس عمل آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب

صفحہ ۶۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب

کی

مجلس عمل کی طرف سے

محضر نامہ

بعالی خدمت جناب

الحاج خواجہ ناظم الدین

وزیر اعظم پاکستان

صفحہ ۶۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله وحده والصلوۃ والسلام على رسولہ الکریم الذی لا نبی بعده

جناب والا مسلمانان پنجاب کی تمام جماعتوں کا یہ نمائندہ وفد حسب ذیل امور کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہے ۔

اس سلسلہ میں حسب ذیل امور قابل توجہ ہیں : -

اس طرح یہ نئی نبوت لازماً ان سب لوگوں کو ایک امت بناتی ہے جو اس پر ایمان لائیں اور ان سب لوگوں کو ایک دوسری امت بنا دیتی ہے جو اس پر ایمان نہ لائیں اس طرح یہ عقیدہ ایک ایسی دیوار بن جاتا ہے جو قطعی طور پر قادیانیوں کو مسلمانوں سے جدا کر دیتی ہے ۔ اور اس کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ یہ دونوں گروہ ایک امت میں جمع ہوسکیں ۔

حتی کہ وہ مسلمان کے معصوم بچے کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھتے کیوں کہ ان کے نزدیک وہ معصوم بچہ بھی اپنے مسلمان ماں باپ کی وجہ سے کافر ہی کے حکم میں ہے اور اسی لئے قائد اعظم مرحوم کی نماز جنازہ تک میں شرکت سے انہوں نے اجتناب کیا ہے ۔ اس طرح وہ مسلمانوں سے ایک الگ امت عملاً بن چکے ہیں ۔

ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے قادیانیوں کی تعداد میں جتنا جتنا اضافہ ہوتا گیا مسلمانوں کے ہزارہا خاندانوں میں اس کی وجہ سے تفرقہ

صفحہ ٦٧٧

تحریک ختم نبوت جلد (١) ١٩٣٢ء تا ١٩٥٣ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

٣

پڑتا گیا۔ اور بھائی سے بھائی باپ سے بیٹا۔ بیوی سے شوہر اور رشتہ داروں سے رشتہ دار کٹ کٹ کر الگ ہوتے رہے پھر قادیانیوں نے منظم طریقے سے تجارتوں اور ملازمتوں اور دوسرے معاشی شعبوں میں مسلمانوں کے خلاف جتھہ بندی اور کشمکش شروع کر دی جس نے تلخیوں کو اور زیادہ بڑھا دیا ۔

ہیں جو ہندوؤں ،سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان رہ چکے ہیں۔ ایسے حالات جن دو گروہوں کے درمیان رہیں۔ ان کو ملا کر رکھنے کی کوشش کبھی مفید ثابت نہیں ہوتی ۔ بلکہ تجربے سے فساد انگیز ہی ثابت ہوئی ہے ۔ اس لئے تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں فسادات کی نوبت آنے سے پہلے اسی حالت کو آئینی طور پر تسلیم کر لیا جائے جو پچاس برس سے واقعتاً ان کے درمیان موجود ہے ۔

ان وجوہ سے یہ وفد آپ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس وقت جو دستوری تجاویز مرتب ہو رہی ہیں ان میں یہ چیز بھی شامل کر لی جائے ۔ کہ قادیانیوں کو ان غیر مسلم اقلیتوں کے زمرے میں رکھا جائے گا ۔ جو جدا گانہ انتخاب کے ذریعے سے اپنی آبادی کے تناسب کے مطابق مجالس قانون ساز میں اپنے نمائندے بھیجیں گی ۔ ہماری اس تجویز کو قبول کرنے کا اعلان جتنی جلدی کر دیا جائے۔ اتنا ہی بہتر ہے ۔ کیوں کہ پاکستان میں اور خصوصاً پنجاب میں جو غصہ نفرت اور ہیجان قادیانیوں کے خلاف بھڑک اٹھا ہے۔ اس کو اس اعلان کے بغیر فرو نہیں کیا جاسکتا ۔

۲ ۔ وزارت خارجہ سے سر ظفر اللہ خان کی علیحدگی کا مسئلہ ۔

اس مسئلے میں مسلم عوام کے جذبات ان مظاہروں اور جلسوں کے ذریعے سے محترم وزیر اعظم کو معلوم ہوچکے ہوں گے ۔ جو بڑے پیمانے پر ملک میں ہوئے ہیں ۔ ان جذبات کے متعلق یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ ان کی بناء محض مذہبی اختلاف ہے ۔ زیادہ تر جن وجوہ سے عام مسلمانوں کے جذبات سر ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف ہوئے ہیں وہ یہ ہیں ۔

قادیانیوں کے حق میں استعمال کرنے کے لئے برسوں سے بدنام ہیں ۔

باہر کی دنیا میں اور خصوصاً اسلامی دنیا میں پھیلنے کا ایسا موقعہ مل رہا ہے جو پہلے کبھی نہ ملا تھا ۔

کر سکیں گے ۔ جب کہ ان کا مرکز نبوت — قادیان ہندوستان کی مٹھی میں ہے ۔

حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بیرونی ممالک میں کسی ملک کی نمائندگی کیلئے ایسا شخص کبھی موزوں نہیں ہوسکتا جس کے خلاف ملک کے گوشے گوشے میں باشندے اعلانیہ اظہار بے اعتمادی، اظہار نفرت اور کھلے کھلے مظاہرے کر چکے ہوں ۔ ممکن ہے کہ مرکزی کابینہ کو ان پر اعتماد ہو ۔ لیکن بیرونی ممالک میں ان کی بات اس بناء پر وزن نہیں پکڑتی کہ وہ کابینہ کے نمائندے ہیں ۔ بلکہ اگر پکڑ سکتی ہے تو اس بناء پر کہ وہ ملک کے نمائندے ہیں ۔ اگر دنیا ان کو اس حیثیت سے جانے کہ پاکستان کے عام باشندے ان سے ناراض ہیں ۔ مگر کابینہ ان سے خوش ہے ۔ تو یہ چیز نہ صرف ان کے ہی وزن کو بلکہ کابینہ کے وزن کو بھی کم کر دے گی ۔

صفحہ ٦٧٨

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان حالات میں مسلمانان پنجاب کی تمام جماعتوں کا نمائندہ وفد محترم وزیراعظم سے مطالبہ کرتا ہے کہ چودھری سر ظفر اللہ خاں کو اُن کے موجودہ منصب وزارت خارجہ سے برطرف کر کے مسلمان قوم کے اضطراب کو رفع کریں ۔ ہماری ملت میں مردان کار کی کمی نہیں ۔ انشاء اللہ نیا وزیر خارجہ پاکستان کے خارجی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوگا۔ اور ان خرابیوں کو بھی دور کر دے گا جو ایک غیر موزوں آدمی کے باعث رونما ہو گئیں ۔

کے درمیان جو تلخی اور کشمکش گذشتہ پچاس سال میں اور خصوصاً پاکستان بننے کے بعد کے پانچ سال میں رونما ہوئی اس کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سرکاری ملازمتوں پر قادیانیوں نے اپنے تناسب آبادی سے جو سینکڑوں گنا زیادہ اثر بڑھا لیا ہے ۔ کیوں کہ یہ لوگ ساز باز کر کے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس اثر کا انسداد کیا جائے اور ان کے تناسب آبادی کے مطابق ملازمتوں میں ان کا تناسب بھی مقرر کر دیا جائے ۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ محترم وزیراعظم ان مخلصانہ گزارشوں کو جو ملت پاکستان اور مملکت پاکستان کی خیر خواہی کے لئے پیش کی گئی ہیں ۔ قبول فرما کر عامتہ المسلمین کو مطمئن کریں گے اور اللہ تعالیٰ اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل کریں گے ۔

ہم ہیں آپ کے خادم

نمائندگان مجلس عمل آل مسلم پارٹیز کنونشن پنجاب

(پاکستان پرنٹنگ ورکس ایبٹ روڈ لاہور میں چھپا :-)

صفحہ ۶۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بسم الله الرحمن الرحيم

زکوٰۃ و صدقات کا بہترین مصرف

علماء کرام و مشائخ عظام کا ارشاد

ضرورت تھی کہ ملک میں علماء حق کی کوئی جماعت اقتدار و سیاسی کشمکش سے علیحدہ رہ کر دعوت حق و تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دے۔ الحمدللہ کہ ملک و ملت کی اس اہم ضرورت کی طرف مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی صدارت اور مولانا محمد علی جالندھری کی نظامت میں توجہ دی۔ اس وقت ۶۸ علماء کرام کی ایک جماعت اطراف ملک میں تبلیغی ضرورتوں کو پورا کر رہی ہے۔ جنکے جملہ مصارف مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر ملتان ادا کرتا ہے۔ ہم مطمئن ہیں کہ مبلغین تحفظ ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح عقائد واعمال کی تبلیغ کرتے ہیں لھٰذا ہم اپنے ملنے والوں سے بالخصوص اور عام مسلمانوں سے بالعموم اپیل کرتے ہیں کہ وہ زکوٰۃ و صدقات سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیادہ سے زیادہ مالی امداد کر کے تبلیغ اسلام کے نظام کو مضبوط کریں۔ وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری

فقیر محمد عبداللہ عنہ افقر الی اللہ عبداللہ درخواستی احقر الانام احمد علی عنہ سجادہ نشین کندیاں شریف مہتمم مدرسہ عربیہ مخزن العلوم خان پور امیر انجمن خدام الدین لاہور

صفحہ 680

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله وحده والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ

مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان

مکرمی و محترمی ................................................................ صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی !

واضح ہو کہ اس سال سرظفر اللہ خان قادیانی بغرض ادائے فریضہ حج حرمین شریفین مکہ و مدینہ زادہما اللہ شرفاً میں داخل ہوا۔ قادیانیوں کے مخصوص عقائد اہل اسلام پر روشن ہیں۔ علماء اہل اسلام نے متفقہ طور پر منکرین ختم نبوت اور مرزا آنجہانی کی امت کو خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ سرظفر اللہ کو عامۃ المسلمین کے ساتھ حرمین شریفین میں ارکان حج وعمرہ میں شریک ہونے کی اجازت سے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ جہاں ہم اپنی پاکستانی حکومت کے رویّہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں کہ اس نے مسلمانوں کے اس عظیم مطالبہ کو مسلسل نظر انداز کیا ہوا ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ وہاں ہم سعودی عربیہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف بھی پرزور احتجاج کرتے ہیں کہ اس نے مرزائیوں کو بالعموم اور ظفر اللہ خان کو بالخصوص حرمین شریفین میں داخل ہونے کی اجازت دے کر عالم اسلام کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

بنابریں میں اپنی جماعت کی ماتحت شاخوں اور تمام دینی جماعتوں، عربی مدارس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سفارت خانہ مملکت سعودیہ عربیہ کراچی کے نام تار اور خطوط لکھ کر مندرجہ ذیل مطالبہ کریں۔ مملکت سعودیہ عربیہ نے ظفر اللہ خان قادیانی کو حرمین شریفین میں حج کے لئے داخل ہونے کی اجازت دے کر ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے خلاف ہم شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئندہ قادیانی فرقہ کے لوگوں کو حرمین شریفین میں داخلہ کی اجازت نہ دے۔

اخبار ترجمان کے ذریعہ جماعت نے ۱۵؍ صفر یوم جمعہ، یوم احتجاج مقرر کیا ہے۔ آپ تجویز کی متعدد کاپیاں تحریر کر کے اپنے شہر کی مساجد میں پاس کرائیں اور تجویز کنندہ کا نام:

تائید کنندہ کا نام مسجد کا نام شہر کا نام نیچے درج کریں۔

تجویز شاہ فیصل کے نام معرفت سعودی سفارت خانہ کراچی روانہ کریں اور ملتان اطلاع کر دیں کہ فلاں فلاں شہر میں تجویز پاس ہوئی۔ محمد علی جالندھری امیر مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

صفحہ ۶۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله وحده والصّلوٰة والسلام على من لا نبي بعده

مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان

مکرمی و محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ مزاج گرامی!

واضح ہو کہ اس سال سر ظفر اللہ خاں قادیانی بغرض ادائے فریضہ حج حرمین شریفین مکہ و مدینہ زادھما اللہ شرفاً میں داخل ہوا ۔ قادیانیوں کے مخصوص عقائد اہلِ اسلام پر روشن ہیں، علماء اہلِ اسلام نے متفقہ طور پر منکرین ختم نبوت اور مرزا آنجہانی کی امت کو خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ سر ظفر اللہ کو عامۃ المسلمین کی معیت میں حرمین شریفین میں ارکان حج و عمرہ میں شریک ہونے کی اجازت سے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں جہاں ہم اپنی پاکستانی حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، کہ اس نے مسلمانوں کے اس عظیم مطالبہ کو مسلسل نظر انداز کیا ہوا ہے، کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے وہاں ہم سعودی عربیہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف بھی پُر زور احتجاج کرتے ہیں، کہ اُس نے مرزائیوں کو بالعموم اور ظفر اللہ خاں کو بالخصوص حرمین شریفین میں داخل ہونے کی اجازت دیکر عالمِ اسلام کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

بنا بریں میں اپنی جماعت کی ماتحت شاخوں اور تمام دینی جماعتوں، عربی مدارس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سفارتخانہ مملکت سعودیہ عربیہ کراچی کے نام تار اور خطوط لکھ کر مندرجہ ذیل مطالبہ کریں ۔ مملکت سعودیہ عربیہ نے ظفر اللہ خاں قادیانی کو حرمین شریفین میں حج کیلئے داخل ہونیکی اجازت دے کر ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے خلاف ہم شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئندہ قادیانی فرقہ کے لوگوں کو حرمین شریفین میں داخلہ کی اجازت نہ دے۔

اخبار ترجمان کے ذریعہ جماعت نے ۱۷؍ صفر یوم جمعہ، یوم احتجاج مقرر کیا ہے۔ آپ تجویز کی متعدد کاپیاں تحریر کر کے اپنے شہر کی مساجد میں پاس کرائیں۔ اور تجویز کنندہ کا نام تائید کنندہ کا نام مسجد کا نام شہر کا نام نیچے درج کریں

تجویز شاہ فیصل کے نام معرفت سعودی سفارت خانہ کراچی روانہ کریں، اور ملتان اطلاع کردیں کہ فلاں فلاں شہر میں تجویز پاس ہوئی۔

محمد علی جالندھری امیر مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت

پاکستان ملتان

(صدیقیہ پریس ملتان)

صفحہ ۶۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیٹا

مرزائیوں نے اپنے مسلمان ہونیکی دلیل میں اشتہار شائع کیا ہے۔ ”میں اپنی اور اپنی پارٹی کی طرف سے آنریبل سر ظفر اللہ خاں کو ہدیہ تبریک پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ مسلمان ہیں اور یوں کہنا چاہیے کہ میں گویا اپنے بیٹے کی تعریف کر رہا ہوں مختلف حلقوں نے ان کو جو مبارک باد دی ہے، میں اس کی تائید کرتا ہوں“ قائد اعظم مارچ ۱۹۳۹ء

جس نے

ظفر اللہ خاں مرزائی نے قائد اعظم مرحوم کا جنازہ نہ پڑھا، مولانا محمد اسحاق صاحب ایبٹ آبادی نے پوچھا کہ تم نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا حالانکہ تم ان کی حکومت کے ایک وزیر ہو۔ تو جواباً کہا، آپ مجھے مسلمان حکومت کا کافر وزیر سمجھ لیں یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر“ ظفر اللہ خاں مرزائی

قارئین کرام! ظفر اللہ خاں کے طریقے کار پر غور فرمائیے ۔ مرزائی تمام عالم اسلام کو کافر سمجھتے ہیں اور تمام عالم اسلام مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے !!!

باپ

کا

جنازہ

نہیں پڑھا

شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان

صفحہ ۶۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جناب مکرم .............................................................. زید مجدکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی!

الحمد للہ ! کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اپنے بانی اوّل حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہ کے ارشادات گرامی کی روشنی میں اپنی تبلیغی مساعی میں دن بدن ترقی کے منازل طے کر رہی ہے۔

مغربی پاکستان میں جماعتی تنظیم کی مضبوطی کے ساتھ مشرقی پاکستان میں کام ترقی پذیر ہے۔ مشرقی پاکستان کے شہر اور دیہات میں مرزائیوں کی ارتداد پھیلانے کی مہم ختم ہو چکی ہے۔

مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب یورپ میں پہلے تبلیغی منصوبہ کی کامیابی کے بعد وطن تشریف لا چکے ہیں۔ یورپ کے اکثر ممالک میں جماعتی تنظیم ، ووکنگ مسجد سے مرزائیوں کا اخراج ، جزائر فیجی میں اسلامی مدرسہ کا قیام ، عیسائیوں میں تبلیغ اسلام ، یورپ میں مستقل تبلیغ کے لئے انگلینڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام پر ایک عظیم الشان عمارت کی خرید ، اس تبلیغی منصوبہ کے اہم نتائج ہیں۔

عنقریب بیرون ملک دوسرے تبلیغی منصوبہ پر عمل درآمد شروع ہوگا۔ جس کے تحت مولانا لال حسین مع دوسرے مبلغین یورپی ممالک میں تشریف لے جائیں گے۔

اس سال اسلامی ممالک میں تبلیغ بذریعہ کتب ورسائل کے علاوہ مولانا لال حسین نے ایام حج میں خصوصیت کے ساتھ مرزائیوں کے خلاف کام کیا ۔

استدعا ہے کہ تبلیغ اسلام کے لئے اپنے مفید مشوروں سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی رہنمائی اور زکوۃ ، صدقات وعطیات سے مجلس کی مالی امداد فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔

(امداد بذریعہ مقامی مبلغ و کارکن دے کر رسید حاصل کریں یا ناظم دفتر تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان ) کے نام بذریعہ منی آرڈر ارسال فرمائیں)

خادم اہل اسلام محمد علی جالندھری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان )

صفحہ ٦٨٤

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بسم الله الرحمن الرحيم

جناب مکرم ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زید مجدکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، مزاج گرامی۔

الحمد للہ کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اپنے بانی اول حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ کے ارشادات گرامی کی روشنی میں اپنی تبلیغی مساعی میں دن بدن ترقی کے منازل طے کر رھی ھے ۔

مغربی پاکستان میں جماعتی تنظیم کی مضبوطی کے ساتھ مشرقی پاکستان میں کام ترقی پذیر ھے مشرقی پاکستان کے شہر اور دیہات میں مرزائیوں کی ارتداد پھیلانے کی مہم ختم ھو چکی ھے ۔

مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب یورپ میں پہلے تبلیغی منصوبہ کی کامیابی کے بعد وطن تشریف لاچکے ھیں ۔ یورپ کے اکثر ممالک میں جماعتی تنظیم، ووکنگ مسجد سے مرزائیوں کا اخراج، جزائر فیجی میں اسلامی مدرسہ کا قیام، عیسائیوں میں تبلیغ اسلام، یورپ میں مستقل تبلیغ کے لئے انگلینڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام پر ایک عظیم الشان عمارت کی خرید، اس تبلیغی منصوبہ کے اہم نتائج ھیں ۔

عنقریب بیرون ملک دوسرے تبلیغی منصوبہ پر عملدرآمد شروع ھوگا ۔ جس کے تحت مولانا لال حسین مع دوسرے مبلغین یورپی ممالک میں تشریف لے جائیں گے ۔

اس سال اسلامی ممالک میں تبلیغ بذریعہ کتب و رسائل کے علاوہ مولانا لال حسین نے ایام حج میں خصوصیت کے ساتھ مرزائیوں کے خلاف کام کیا ۔

استدعا ھے کہ تبلیغ اسلام کے لئے اپنے مفید مشوروں سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی رھنمائی اور زکواۃ ۔ صدقات و عطیات سے مجلس کی مالی امداد فرما کر عند اللہ ماجور ھوں ۔ (امداد بذریعہ مقامی مبلغ و کارکن دیکر رسید حاصل کریں یا ناظم دفتر تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان) کے نام بذریعہ منی آرڈر ارسال فرمائیں )

خادم اھل اسلام محمد علی جالندھری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

صفحہ ۶۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گلوئے عشق کو دار و رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے مرتبہ داں کیا کرتے

تحریک ختم نبوت کے بعد لاہور میں پہلی مرتبہ

تحفظ ختم نبوت کانفرنس

زیر اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

۲۵ ، ۲۶ فروری ۱۹۵۶ء بروز ہفتہ اتوار • باغ دلی دروازہ لاہور

امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی

مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری

اور دوسرے زعمائے تحفظ ختم نبوت اجتماع عام سے خطاب کریں گے ــــــ O ــــــ نوٹ: جلسہ گاہ میں خواتین کے لیے پردے کا انتظام ہوگا

ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور

سید محمد انور شاہ ناظم دفتر ختم نبوت لاہور

صفحہ ۶۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شہدائے ختم نبوت کانفرنس

رمضان المبارک کے بعد منعقد ہورہی ہے

لاہور میں مسلم لیگ اوّل یا ثانی (اس کا فیصلہ وقت کرے گا) کا جلسہ عام چوہدری خلیق الزمان صاحب کی تشریف آوری پر موچی دروازہ کے باغ میں منعقد ہوا۔ لیکن گڑبڑ کی نذر ہو گیا اخبارات نے لکھا نہیں، اور ہمارے روزناموں کی اکثریت کا یہ وتیرہ ہو گیا ہے کہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی بجائے وہ اپنی خواہشات کا عکس پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی پاکستان کے پنجابی اضلاع میں ختم نبوت کا مسئلہ ایک زندہ حقیقت ہے اور لاہور کے لوگ خصوصیت کے ساتھ مارشل لاء کی اس تلخ مار کو بھولے نہیں۔ جب انہیں ختم نبوت کے سلسلہ میں گولیوں کا نشانہ بننا پڑا اور لاہور کی سب سے بڑی سڑک مال روڈ پر محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلینی کا اعلان کرنے پر اس وقت کے سیاستدانوں نے حلقہ بگوشان رسالت کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کے ہر عوامی جلسہ میں ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ حاضرین کی پوری طاقت کے ساتھ ہمیشہ گونجتا اور بڑے سے بڑا مقرر اس کی ہمنوائی کے بغیر آگے نہیں چل سکتا۔ مسٹر منظر عالم نے جو کنونشن لیگ کے مقرر ہیں، لاہور کے جلسہ عام میں اس نے ختم نبوت ہی کا سہارا لیا۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ لیگ کونسل والے ہی تھے جنہوں نے تحریک ختم نبوت میں گولیاں چلائیں ۔ تو لوگ چیخ اٹھے کہ آپ بھی ان میں شریک تھے؟ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہماری اطلاعات اس بارے میں کیا ہیں۔ حکومت کیونکر سوچتی ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ مسلمانوں کے دل و دماغ کا مسئلہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے لئے روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان سب کچھ گوارہ کر سکتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلینی اور خاتم النبیین میں مداخلت یا سرقہ انہیں کبھی گوارہ نہیں۔ وہ ایک ساعت کے لئے بھی یہ چوٹ نہیں سہ سکتے۔ یہ عظیم ترین حادثہ ہے کہ پاکستان میں ختم نبوت کے سارقین موجود ہیں۔ ان کے بعض افراد کو مسلمانوں کے حقوق میں سے حقوق ملتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں میں بھی مسلمانوں کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ منیر انکوائری رپورٹ بڑے ہی فاضل ججوں نے لکھی ہے۔ لیکن اس رپورٹ پر دشمنان اسلام ونبوت کے سواء کسی نے صاد نہیں کیا۔ حقیقت یہی ہے۔ جیسا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ یہ رپورٹ تیرہ سو برس میں مسلمانوں کے خلاف مسلمانوں ہی کے قلم سے سب سے بڑی دستاویز لکھی گئی ہے۔ علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال بار ایٹ لاء نے اپنی ایک تالیف میں اس رپورٹ کی اشاعت روک دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس رپورٹ نے کوئی سا مقصد بھی حل نہیں کیا ہے۔ دماغی بد دیانتیوں کی حد ہے کہ جو لوگ علامہ اقبال کے نام سے مختلف قسم کی روایتیں بیان کرتے ہیں اور جن کی زبان انہیں ترجمان اسلام کہتے ہوئے بھی نہیں تھکتی ہے ۔ وہ علامہ نور اللہ مرقدہ سے فرضی خطوط اور خانہ ساز بیان منسوب کرتے ہوئے بزعم خویش بڑے کر وفر کا اظہار کرتے ہیں ۔ لیکن جن چیزوں کو حضرت علامہ قدس سرہ العزیز نے اسلام اور نفس اسلام کے لئے خطرہ قرار دیا ہے ان سے نہ صرف

صفحہ 687

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علامہ اقبال کے ترجمان چشم پوشی کرتے ، بلکہ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ علامہ اقبال کی ان تحریروں اور افکار ہی کو ختم کر دیا جائے اور یا ان کی ایسی تعبیر کی جائے کہ مطالب کا اصل چہرہ مسخ ہو جائے۔

علامہ اقبال نے ۱۰؍ جون ۱۹۳۵ء کے ’’سٹیٹس مین‘‘ میں لکھا تھا کہ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ افسوس کہ جس محمد عربی ﷺ کے نام پر پاکستان معرض وجود میں آیا وہاں قادیانیوں کی علیحدگی کا سوال تو شدت سے موجود ہے لیکن جواب انگریزوں کی حکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ نے اس مسئلہ پر غور ہی نہیں کیا۔ وہ لوگ جو انگریزوں کے وقت میں سول سروس کے ستون تھے، ملک کی آزادی کے ستون ہی نہ رہے بلکہ پوری بنیاد اور عمارت ہو گئے اور باہمہ وجوہ انہوں نے قادیانی مسئلہ کو غتر بود کر دیا۔ بلکہ اس مسئلہ کے نام لیواؤں کو جنونی سے لے کر غدار تک کہا۔ حالانکہ وہ ان الفاظ کے مفہوم سے بھی آشنا نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک ہر وہ بات حق ہے جو انگریزی حکومت کے نزدیک حق رہی ہے اور ہر وہ بات باطل جسے وہ باطل کہہ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمان رسول عربی ﷺ (فداہ امی وابی) کے ننگ و ناموس کی حفاظت کے معاملہ میں جنونی ہیں اور جنون ہی وہ دولت ہے جو موقف یا نصب العین کو پروان چڑھاتی ہے یا جس سے عشق نبوت کی دولت ہاتھ آتی ہے۔ رہا غدار کا لفظ تو جب اس کا استعمال انگریزی عہد کے ستون کرتے ہیں تو اس وقت تاریخ کی شرافت کا چہرہ داغدار ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے ان خطوط کا مجموعہ شائع کیا ہے جو دنیا کے بعض بڑے آدمیوں نے ان کے نام وقتاً فوقتاً لکھے ہیں۔ ان میں ۲۱؍ جون ۱۹۳۶ء کا ایک خط ہے۔ اس میں حضرت علامہ لکھتے ہیں (قادیانی مذہب کے خلاف) میں نے یہ مقالہ اسلام اور ہندوستان کے ساتھ بہترین نیتوں اور نیک ترین ارادوں سے ڈوب کر لکھا تھا۔ میں اس باب میں کوئی شک و شبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور مسلمان دونوں کے غدار ہیں۔ یہ کسی دعویدار پاکستانی محب وطن کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اس خط کو حضرت علامہ کے مجموعہ مکاتب میں شامل کرتا۔ تاہم اقبال کے الفاظ میں:

’’یہ حکایت دراز ایک طاقتور قلم کی منتظر ہے۔‘‘

(چٹان مورخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۶۴ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنا مسلمانوں کا فرض ہے

ناظم نشر واشاعت: مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور

صفحہ ۶۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاہور میں مسلم پبلک کی بے حسی قابل دید تھی کہ مسلسل ۷، ۸ سالہ احمدیہ یعنی قادیانی مذہب کی تبلیغ پر ان کے دماغ میں اشتعال پیدا نہ ہوا۔ الا ماشاء اللہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ قادیانیوں کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اپنا وقت صرف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ ہے کہ مسئلہ قادیانیت کے بنیادی مسئلہ عقیدہ ختم نبوت کا مسئلہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ ان پڑھے لکھے لوگ خصوصیت کے ساتھ، پیشواؤں کی عدم توجہی کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ختم نبوت کے مسئلہ میں کوئی رعب و دباؤ اثر انداز ہو سکے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کا ادراک نہیں کرتے اس لئے کہ سیاستدانوں نے بالخصوص جماعت احمدیہ کی تھیلیوں سے فیض پایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر سیاسی اور ہر بااثر پلیٹ فارم پر، بالخصوص جبکہ قادیانی عقیدہ ختم نبوت کے منکر ہیں کام کرنا پڑتا ہے، یہ محسوس ہوتا ہے کہ انگریز نے اپنے مقاصد کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو کھڑا کیا اور اس کے ذریعے سے مسلمانوں میں انتشار پیدا کیا۔ ان ہی کے قلم سے پہلے بڑی دستاویز لکھی گئی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال جسٹس (ریٹائرڈ) نے اپنی ایک تالیف میں اس بات کی شہادت دی ہے کہ منافقت کی حد ہے کہ جو لوگ علامہ اقبالؒ کے نام سے مختلف قسم کی روائتیں بیان کرتے ہیں۔ اور جن کی زبان اُنہیں ترجمان اسلام کہتے ہوئے کبھی نہیں تھکتی ہے۔ وہ علامہ نور اللہ مرقدہ سے فرضی خطوط اور افسانہ ساز بیان منسوب کرتے ہوئے بزم خویش بڑے تفخر کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جن چیزوں کو حضرت علامہ قدس سرہ العزیز نے اسلام اور نفس اسلام کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ اُن سے نہ صرف علامہ اقبالؒ کے ترجمان چشم پوشی کرتے بلکہ ان کی یہ کوشش یہ رہی ہے ۔ کہ علامہ اقبالؒ کی ان تحریروں اور افکار ہی کو ختم کر دیا جائے اور یا ان کی ایسی تعبیر کی جائے ۔ کہ مطالب کا اصل چہرہ مسخ ہو جائے۔ علامہ اقبالؒ نے ۱۰ جون ۱۹۳۵ء کے اسٹیٹسمین میں کہا تھا کہ

ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے۔ کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا۔ کہ حکومت اس نئے مذہب کی پشت پناہی کر

شہدائے

ختم نبوت

رضی اللہ عنہم

کانفرنس

رمضان المبارک

کے بعد منعقد ہورہی ہے

رہی ہے۔ افسوس کہ جس خدا کے نام پر پاکستان معرض وجود میں آیا وہاں قادیانیت کی تبلیغ کا جال تو شدت سے موجود ہے۔ لیکن یہاں انگریزوں کی حکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری سیاسی لیڈرشپ نے اس مسئلہ پر جو مجرمانہ خاموشی اختیار کی ۔ وہ لوگ جو انگریزوں کے وقت میں سول سروس کے ستون تھے۔ ملک کی آزادی کے ساتھ ہی نہ رہے بلکہ پوری بنیاد اور عمارت بن گئے اور بہروپئے انہوں نے قادیانی مسئلہ کو نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اس مسئلہ کے نام لیواؤں کو باغی سے لے کر غدار تک کہا، حالاں کہ وہ ان الفاظ کے مفہوم سے بھی آشنا نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک ہر وہ بات حق ہے۔ جو انگریزی حکومت کے نزدیک حق رہی ہے۔ اور ہر وہ بات باطل ہے جسے وہ باطل کہہ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان رسول عربیؐ (فداہ ابی وامی) کے ننگ و ناموس کی حفاظت کے معاملہ میں جنونی ہے اور جنون ہی وہ دولت ہے جو موقف یا نصب العین کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ اس سے عشق و محبت کی دولت لامتناہی ہے۔ غدار کا لفظ تو جب اس کا استعمال انگریزی عہد کے مجاور کرتے ہیں۔ تو اس وقت تاریخ کی شرافت کا چہرہ داغدار ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں پنڈت جواہر لال نہرو نے ان خطوط کا مجموعہ شائع کیا ہے۔ جو دنیا کے بعض بڑے آدمیوں نے ان کے نام وقتاً فوقتاً لکھے ہیں۔ اس میں ۱۱ جون ۱۹۳۶ء کا ایک خط ہے۔ اس میں حضرت علامہ لکھتے ہیں۔ کہ قادیانی مذہب کے خلاف میں نے جو مقالہ اسلام اور احمدیت کے نام سے لکھا تھا وہ دراصل ایک پختہ اور دلی جذبہ کے تحت لکھا تھا۔ میں اس باب میں کوئی شک و شبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا ۔ کہ یہ احمدی اسلام اور ہندستان دونوں کے غدار ہیں، کسی مزید بات کی اب ضرورت نہیں۔ تعجب نہیں ہوتا کہ اس خط کو حضرت علامہ کے مجموعہ مکاتیب میں شامل نہ کیا گیا تاہم اقبالؒ کے الفاظ میں "یہ حکایت دراز ایک طاقت ور قلم کی منتظر ہے" چٹان ۱۰ جون ۱۹۵۲ء

مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنا مسلمانوں کا فرض ہے :

ناظم نشر و اشاعت :۔

مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور

المجاہد پریس برانڈرتھ روڈ لاہور

صفحہ ۶۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام

عظیم الشان

شہدائے ختم نبوت کانفرنس لاہور

مورخہ ۴ مارچ بروز:- پیر بمقام:- باغ بیرون دہلی دروازہ لاہور

جس میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے شہداء کی بیواؤں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا :

اسماء گرامی مقررین

پروگرام : پہلا اجلاس ۲ بجے بعد نماز ظہر دوسرا اجلاس ۷ بجے بعد نماز عشا

محمد شریف جالندھری ناظم دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

پنجاب پریس وطن بلڈنگ لاہور

صفحہ ۶۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اوم

صداقت وید اقدس آزما لے جس کا جی چاہے
نقارہ بجا بجا ہے آئے جس کا جی چاہے

مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی

کا چیلنج منظور

شری بابا دیپ سنگھ جی اپنا کٹا ہوا سر ایک ہاتھ میں سنبھال دوسرے سے کھنڈا چلاتے ہوئے دشمنوں پر حملہ آور ہوئے تو دشمنوں کے پاؤں اُکھڑ گئے۔ اسی طرح امر شہید پنڈت لیکھرام جی کے مشن کو قادیان میں زندہ دیکھ کر مرزائی بوکھلا گئے ہیں۔

اونچے مینار سے سٹرونگ Strong لاؤڈ سپیکروں کے ذریعہ دی ہوئی گالیاں اور دھمکیاں کوئی پھل نہ لائیں ہر طرف سے مایوسی و نامرادی کے تھپیڑے کھاتے جب کسی طرح سے بھی ویدک دھرم کے شیدائیوں کے دل سے اس عزم بالجزم کو نہ ہٹا سکے تو اب مرزائیوں نے ایک نیا کھیل رچایا ہے۔

چنانچہ ”الفضل“ مجریہ ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء میں نئی دہلی کے چند آریہ نوجوانوں کی آڑ لیکر امر شہید پنڈت لیکھرام جی کی شہادت کو مرزائیت کی صداقت کا ناطق ثبوت قرار دیتے ہوئے مرزا محمود احمد صاحب نے فیصلہ کن مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ چیلنج مذکور میں اس قادیانی نے آنجہانی کیطرح کئی اٹکل پچو فقرے بھی درج فرمائے ہیں۔ جو محض اپنی جائز و ناجائز کو دوسروں پر ٹھونسنے کے مصداق ہیں۔

امر شہید پنڈت لیکھرام سمارک منڈل قادیان، جس کے ہر ممبر نے اپنا جیون امر شہید پنڈت لیکھرام جی کے مشن کیلئے وقف کر چھوڑا ہے۔ مرزا محمود احمد کے اس چیلنج کو بخوشی منظور کرتا ہے حقیقت میں یہ چیلنج سمارک منڈل کو ہی دیا گیا ہے اور یہی اس کی حقیقت ہے

دہلی کے آریہ نوجوانوں کو مقابلہ کی دعوت دینے والو۔ اپنا صوبہ چھوڑ، ضلع چھوڑ، قصبہ چھوڑ، اتنی دُور کیوں جاتے ہو۔ اپنے گھر میں ہی ”اوم“ کا جھنڈا لہرانے والوں سے تو نپٹ لو۔ یو۔ پی کے لوگوں کو پھر للکارنا۔

امر شہید پنڈت لیکھرام جی کی صداقت کیا اس سے عیاں نہیں کہ کہاں تو سرشکتی مان بھگوان کو علاقہ سرحد کے ایک آریہ ویر کے ذریعہ تیری حقیقت بے نقاب کرنی پڑی اور کہاں شہید اکبر کی شہادت نے تپ اور بھگتی سے تیرے مینار کے مشرق سے ربِّ قادیان جیسا سورج طلوع کیا جس کی تو تاب نہ لاکر چھپتا پھرتا ہے۔ چنانچہ ضلع بھر کی سماجوں کا مشترکہ محاذ پنڈت لیکھرام سمارک منڈل قادیان، رہتی دُنیا تک ویدک دھرم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ مرزائی مذہب اور مرزائی جماعت کے فرشتوں کی کارستانیوں سے عوام کو آگاہ کرتا رہیگا تاکہ بھولے بھالے لوگ ان کے دام فریب میں پھنس کر دین و دنیا نہ کھو بیٹھیں۔

لہذا ہم اس اشتہار کے ذریعہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں مرزا محمود احمد کا چیلنج ہر طرح سے منظور ہے۔ مرزا محمود احمد کو چاہئیے کہ ۲۵؍ فروری تک ہمارے ساتھ شرائط مناظرہ طے کر لے۔ ورنہ فراری متصور ہوگی۔

نوٹ: ہمیشہ کی طرح اس سال بھی مورخہ ۵؍ ۶؍ مارچ کو شہیدی میلہ دھوم دھام سے منایا جائیگا۔ آریہ سجنوں کو چاہئیے کہ پروار سمیت قادیان آکر شہید اکبر کے یوم شہادت پر شردھانجلی پیش کریں۔ بھوجن کا انتظام اشرمی لنگر میں ہوگا۔ المشتہر موسم کے مطابق بستر ہمراہ لاویں سیکرٹری پنڈت لیکھرام سمارک منڈل قادیان

(سناتن دھرم پریس کٹڑہ جیمل سنگھ امرتسر)

صفحہ 691

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کل پاکستان کانفرنس

باغ لانگے خان ملتان شہر

تحفظ ختم نبوت

۱۷، ۱۸ اکتوبر ۱۹۵۳ء۔ جمعہ۔ ہفتہ

صدارت حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری مَدَّ ظِلُّہُ

اجتماع

غور و فکر

تقاریر ختم نبوت مدح صحابہ

اسکے علاوہ دیگر علماء کرام مبلغین جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں تبلیغ فرمائیں گے

نوٹ: اس کانفرنس میں شرکت احباب کی دعوت عام ہوگی۔ اور ۱۸ اکتوبر بروز ہفتہ ظہر کی نماز کے بعد مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوگا۔ نیز باہر کے مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام ہوگا۔ لاؤڈ سپیکر اور روشنی کا عمدہ انتظام ہوگا۔

ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان شہر

یہ اشتہار مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی طرف سے شائع ہوا طابع: یونین پرنٹنگ پریس ملتان

صفحہ ٦٩٢

تحریک ختم نبوت جلد (١) ١٩٥٣ء تا ١٩٥٣ء ٦٩٢ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احباب اور اصحاب خیر کی خدمت میں

ضروری اپیل

سید عطاء اللہ شاہ بخاری (صدر) مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان محب مکرم ........................................................................ زید مجدکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اللہ تعالیٰ آپ کو مع متعلقین عافیت سے رکھے اور دین ودنیا کے مقاصد حسنہ میں کامیاب وبامراد فرمائے۔ میرے لئے بھی صحت اور حسن خاتمہ کی دعا فرمائیں۔ اکابرین اسلام نے رضا الہی اور اعلاء کلمۃ الحق کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اس راہ کی ہر مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ہے۔ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے اس راہ پر چلنے کی توفیق دی۔ سب سے پہلے دنیائے اسلام کے سب سے بڑے دشمن انگریز کے خلاف لڑنے والے گروہ میں شرکت نصیب ہوئی۔ اس ضمن میں اس کے خود کاشتہ پودے ...... جس کے متعلق حضرت علامہ استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا سید محمد انور شاہ صاحب نے ارشاد فرمایا کہ: ”جب سے اسلام دنیا میں آیا، مرزائیت جیسا فتنہ رونما نہیں ہوا۔‘‘ اور حضرت ممدوح کو اس فکر میں بسا اوقات رات بھر نیند نہ آتی تھی، کی طرف حضرت ممدوح نے مجھے توجہ دلائی۔ الحمد للہ ! کہ اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو اس فتنہ سے بچانے کے لئے مجھے اور میرے ساتھیوں کو کام کی توفیق عطاء فرمائی۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اگر متواتر کام ہوتا رہا تو یہ فتنہ ”فاما الزبد فیذهب جفاء “ کے قدرتی اصول کے ماتحت خود بخود ابدی نیند سو جائے گا۔

اس کے علاوہ اس دور پرفتن میں ضروری ہے کہ جس طرح سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد جب انگریزی تعلیم کے سواء اقتدار اور حصول زر کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ رہا اور اس طرح دین سے بیگانگی بڑھی تو علماء کرام نے اصحاب خیر کے تعاون سے مساجد اور مدارس عربیہ میں مفت دین کی تعلیم کا انتظام کر کے اسلام کے بقاء اور تحفظ کا کام سرانجام دیا۔ چنانچہ دور غلامی میں بھی نہ صرف دینی اقدار کو قائم رکھا بلکہ دین کی نشرواشاعت سے اسے اور آگے بڑھایا۔ اسی طرح اب زمانے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت ہے کہ اسلام کی تبلیغ کو اطراف ملک میں عام اور آسان کیا جائے۔ جس طرح ایک صدی سے عیسائی مشنریوں نے ہمارے ملک میں مسلمانوں کو مرتد بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

بنابریں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ۴۹ء سے اس طرف توجہ دی اور پوری تنظیم سے ملک بھر میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔ چنانچہ پشاور سے کوئٹہ اور کراچی تک مجلس کے ۳۲ مبلغین کی ایک جماعت شب وروز تبلیغ اسلام میں مصروف ہے اور آئے دن فرق باطلہ سے

صفحہ ۶۹۳

تحریک ختم نبوت جلد(۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسلامیان پاکستان کے دین و ایمان کی حفاظت میں کوشاں ہے۔ بحمد اللہ! اگر دینی تعلیم کے طالب علم کو بلا محنت مفت تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدارس عربیہ موجود ہیں تو اسی طرح ایسے غریب مسلمانوں کو جو اپنے اپنے علاقہ میں عوام کی دین سے بے رخی دیکھ کر تبلیغ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن مبلغین کو بلا کر اخراجات کے متحمل نہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ان کی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مجلس اپنے مبلغین ایسے علاقوں میں بھی روانہ کرتی ہے جہاں اخراجات کا ملنا تو درکنار خوراک کا انتظام بھی مبلغین خود ہی کرتے ہیں اور مرکزی جماعت ایسے تمام اخراجات کو برداشت کرتی ہے۔

اس وقت مجلس ہذا میں ۳۲ مبلغ کام کرتے ہیں اور ملک بھر میں مجلس کے دفاتر موجود ہیں اور اگر مقدمات اور پابندیوں کی بھرمار نہ ہوتی تو بیرون ملک تبلیغ دین کے منصوبہ پر عمل شروع ہو گیا ہوتا۔ اس وقت ماہوار خرچ پانچ ہزار سے زائد ہے۔ اگر دیگر نامکمل پروگرام کی تکمیل کی جائے تو سالانہ بجٹ ایک لاکھ ہو جائے گا۔ جماعت نے بعض ایسے علاقوں میں جہاں دینی تعلیم کی ضرورت ہے، وہاں مدارس عربیہ کا انتظام بھی شروع کر دیا ہے۔ لیکن میری مہربان حکومت نے نہایت بے انصافی سے میری جماعت کے مبلغین و ارکان کو بے شمار پابندیوں اور مقدمات میں جکڑ کر بے بس بنانے کی سعی کی ہے۔ میری جماعت کے علاوہ کوئی اور جماعت نہیں جو مقدمات اور پابندیوں کا شکار ہو۔ فالج کے حملے کے بعد میری صحت اتنی گر گئی ہے کہ اب سفر کے قابل نہیں۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس جماعت کو کبھی نہ بھولئے اور مالی امداد کے علاوہ مشوروں سے بھی اعانت کرتے رہئے۔ اپنی اور اپنے عزیز و اقارب کی زکوۃ فراہم کر کے اس خالص تبلیغی جماعت کی امداد فرمائیں۔ اب میرے دوست جماعت کی امداد میری حاضری پر موقوف نہ رکھیں بلکہ مقامی ارکان تحفظ ختم نبوت کی وساطت سے یا براہ راست ناظم دفتر مرکزیہ تحفظ ختم نبوت کے نام ارسال کر کے مشکور فرمائیں۔

دعا گو و دعا جو : (فقیر) سید عطاء اللہ شاہ بخاری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان شہر)

صفحہ ۶۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

احیائے عقیدہ ختم نبوت، تحریک کی ضرورت کیوں

ضروری اپیل

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی اپیل

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

صفحہ ۶۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

محب مکرم .................................... (۲) زید مجدکم

اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ

اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور دین و دنیا کے مقاصد حسنہ میں کامیاب و بامراد فرمائے۔ میرے نزدیک اس وقت اس اہم ترین فتنہ کا سدباب فرائض اکابر میں سے اہم ترین فرض ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی سرپرستی کو زندہ و پائندہ رکھے ۔ آپ کی اس شرکت و شمولیت نے مجھ جیسے ناکارہ و بیمار کو بڑی تسلی دی ہے ۔ میں اپنے ضعف و علالت کی وجہ سے گو کوئی عملی حصہ اس میں نہیں لے سکتا ۔ لیکن دل سے ہر وقت آپ حضرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اس کام کو اس کے بانیوں کے لئے اور میرے لئے بھی باعث نجات دارین بنائے ۔ اس دور پرفتن میں زندگی کے جو چند سانس باقی ہیں اگر وہ اس مقصد کی تکمیل میں صرف ہو جائیں تو میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا ۔ چنانچہ میرے برادران طریقت نے بھی شرکت فرمائی ہے اس کی مجھے بڑی خوشی ہے ۔ اور اس کام کے مددگاروں کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے ۔ اور اس تحریک کو ہر طرح کامیاب بنائے ۔ آمین ثم آمین ۔

فقیر سید مہر علی شاہ

صفحہ ۶۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۳ء تا ۱۹۵۳ء ۶۹۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جنوری میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان شاخ پشاور نے اس امر کی طرف توجہ دلائی اور اس پر تنظیم حلقہ کو مرکزی تبلیغ کا کام سپرد کیا گیا ۔ چنانچہ پشاور سے کوہاٹ، اور کوہاٹ سے کیمبل پور تک ۳۲ مبلغین کی ایک جماعت شب و روز تبلیغ اسلام میں مصروف ہے۔ اعدائے دین، فرقہ باطلہ سے اسلامیان پاکستان کے دین و ایمان کی حفاظت میں کوشاں ہے۔ بہر حال مرکزی تنظیم کے دائرہ کار کو وسعت دینا اشد ضروری ہے۔ مگر اس کے لئے وسائل اور رقوم کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہر طرح سے اس تحریک میں مدد ملے۔ کوہاٹ اور کیمبل پور میں علاقہ بھر کے مبلغین کی ضروریات محسوس کر کے ایک مبلغین فنڈ کا اجراء کیا گیا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت شاخ کی معاون و مددگار ثابت ہوئی ہے۔ مجلس نے اپنے علاقہ بھر کی تمام دوکانوں، محلوں، چوباروں اور دیہات کا جائزہ لے کر خدانخواستہ کسی بھی خلافِ دین تحریک کو حرکت میں آنے نہیں دیا ۔ مرکزی جماعت نے تمام اخراجات کو برداشت کیا ہے۔

(۲)

پُرخلوص دعوت

مجلس ہذا میں ۳۴ مبلغ کام کر رہے ہیں اور ملک بھر میں مجلس کے رضا کار موجود ہیں۔ اور اگر اشاعت دین کا پروگرام بنایا جاتا تو بیرون ملک بھی تبلیغ دین کے مقصد پر کام شروع ہو گیا ہوتا۔ اس وقت جو افراد تبلیغی کام کر رہے ہیں ان کی تعداد میں اگر کمی پیدا نہ کی گئی تو یہاں سالانہ بجٹ ایک لاکھ روپیہ ہوگا۔ تاوقتیکہ بقیہ علاقوں میں جہاں پر دینی تعلیم کی ضرورت ہے ۔ وہاں مدرسہ کی بھی ایک شاخ قائم کر دی جائے۔ لیکن ان میں باہمی ربط اور وسعت پیدا کرنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اس لئے مبلغین و ارکان کو پے در پے ہدایات دی گئی ہیں ۔ تاکہ پورے طور پر اس مہم میں حصہ لیں اور مقاصد کی بنیادوں کا استحکام ہو۔ تبلیغ کے لئے بہت بڑی جدوجہد شروع کی گئی ہے ۔ خدانخواستہ اگر یہ تحریک بھی رُک گئی اور اس جماعت کی امداد نہ کی گئی تو یہ ایک عظیم سانحہ ہوگا اور اس کے علاوہ شیرازہ بکھر جائے گا ۔ خدا کے لئے یہ مبلغین اپنی اور اپنے بچوں کی فاقہ کشی کے باوجود اس تنظیم میں محنت کر رہے ہیں ۔ آپ بھی خدا کے لئے مالی امداد سے اس تحریک کو کامیاب بنائیں ۔

صفحہ ۶۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۴)

بوقت داخلہ میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں راست اقدام کی غرض سے تمام عمر رضاکار بن کر کام کرنے کا عہد کرتا ہوں ۔

دستخط و مہر ڈکٹیٹر

فقیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری

امیر

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان

پاک الیکٹرک پریس ملتان

صفحہ ٦٩٨

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عکس تحریر خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ

موضع ڈنگ کے رضا کاروں کی مزید فہرست آج چھ بجے کی گاڑی سے پہنچنی تھی اور وہ ناظم الحسین واسطی قریشی نے خود وہ فہرست ساتھ لانی تھی۔ لیکن وہ کسی شدید عارضہ کیوجہ سے آج نہیں پہنچ سکے۔ دو تین روز میں فہرست پہنچ جائیگی۔ انشا اللہ تعالیٰ موضع بھووال میں بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے کثیر تعداد میں رضا کار پیش ہونیکی قوی امید ہے۔ موضع بھووال کی جملہ کارروائی بھی دو تین روز میں صدر دفتر میں پہنچ جائیگی۔ میٹھا ٹوانہ اور اُسکے مضافات کے فوجی چکوں میں بھی مجلس عمل کے مطالبات اور پروگرام کی اشاعت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے تحریک کی وضاحت اور اسکی دینی و دنیاوی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین کرائی جا رہی ہے۔ اور بعد ازاں مجلس میں حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ فنڈز فراہمی کیطرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کیونکہ اگر دیہات میں اس کام کو بھی ساتھ لپیٹا جائے تو لوگوں کا چندہ دینا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس قحط و گرانی میں بچت ہی مشکل ہے۔ عہ گر جان طلبی میدہم گر زر طلبی سخن دریں است ۔ والا معاملہ ہے۔ اور اس وقت تو بے چارے زمینداروں کے پاس کوڑی نہیں تھی۔ تاہم پھر بھی بعض لوگوں نے نجی طور پر فنڈز فراہم کرا دیئے ہیں۔ اللہ پاک کامیابی نصیب فرمائے۔

العارض خادم خان محمد السراجی از خانقاہ پاک سراجیہ مجددیہ کندیاں ضلع میانوالی

صفحہ ۶۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یادگار نظمیں

صفحہ ۷۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عجمی اسرائیل

کُرّہ ارضی کی ہر عنوان سے تذلیل ہے
قادیان! مابین ہندو پاک اسرائیل ہے
میرا یہ لکھنا کہ ربوہ کی خلافت ہے فراڈ
خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے
دم بریدہ ہفتگی یک چشم گل اس کا مدیر
مصلح موعود کے الہام کی تکمیل ہے
اہلیہ مرزا غلام احمد کی ام المومنین
ہے کہاں قہر خدا؟ قہر خدا میں ڈھیل ہے
کیا تماشا پیمبر، بن گیا عرضی نویس
گفتنی اجمال ہے ناگفتنی تفصیل ہے
کاسہ لیسی کا حصار مخبری کا زہر ناب
ان سیاسی چمچوں کے خون میں تحلیل ہے
قادیان والو قیامت ہوں تمہارے واسطے
میرے رشحات قلم میں صور اسرافیل ہے
اپنی تحریر میں اسلام کے عنوان سے
شاعر مشرق نے جو لکھا ہے سنگ میل ہے
میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے قادیان کے باب میں
پارہ الہام ہے آوازہ جبرائیل ہے

(شورش کاشمیری)

صفحہ ۷۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملتان پوچھتا ہے

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ملتان میں حکومت کے وحشی درندوں نے گولیاں چلا کر چھ محافظین ختم نبوت کو شہید کر دیا تھا۔ یہ نظم ساغر صدیقی مرحوم کا ان شہداء کو خراج تحسین ہے۔

ملتان کے شہیدو! ملتان کے ستارو
ملتان ہنس رہا ہے، ملتان رو رہا ہے
ملتان تم پہ نازاں
پھولوں میں جیسے کوئی کانٹے چبھو رہا ہے
ملتان تم پہ قربان
ملتان کی دعائیں
ملتان کی حیا تم
ملتان کی صدائیں
مسرور ہوگئی ہیں ملتان کی فضائیں
کہتی ہیں یہ فسانہ
پرنور ہوگئی ہیں ملتان کی فضائیں
سن لے جسے زمانہ
ملتان مسکرایا
ٹوٹے گا دست ظالم، ملتان کے سہارو
ملتان جگمگایا
ملتان کے شہیدو، ملتان کے ستارو
ملتان جھومتا ہے
ملتان کی تمنا
ملتان چومتا ہے
ملتان کا تقاضا
نقش قدم تمہارے ملتان کے دلارو
انصاف شہر یارو
ملتان کے شہیدو
ملتان کے ستارو
ملتان کی بہاریں
بیٹے کہاں ہیں میرے ملتان پوچھتا ہے
خاموش رہ گزاریں
کیوں چھا گئے اندھیرے ملتان پوچھتا ہے
تم کو بھلائیں کیسے
ملتان کو بتاؤ
دل کو منائیں کیسے
ملتان کو بتاؤ
ملتان کی نشانی
انسانیت کے نغمے، انسان کے لبوں پر
ملتان لٹ گیا ہے ملتان کے نظارو
سو سو سلام تم پر
ملتان کے شہیدو ملتان کے ستارو
دوزخ حرام تم پر
ملتان کی نظر سے
تم نے اٹھا لیا ہے
ملتان کے جگر سے
تم نے بچا لیا ہے
صدیوں لہو بہے گا
بطحا کا سبز پرچم ملتان کے نگارو
تازہ یہ غم رہے گا
ملتان کے شہیدو ملتان کے شعارو
صفحہ ۷۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیاد شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء

جو آئے تھے ختم نبوت میں کام
کہو ان شہیدوں پہ لاکھوں سلام
بھلایا نہیں وہ فسانہ ابھی
ہمیں یاد ہے وہ زمانہ ابھی
موذن کو مجرم بنایا گیا
نمازی کٹہرے میں لایا گیا
نبوت کے اقرار پر گولیاں
مساجد کی دیوار پر گولیاں
محمدؐ تیرے نام پر گولیاں
صداقت کے پرچم جلائے گئے
شہیدوں کے لاشے چرائے گئے
جوانوں کے حلقوم تلوار پر
کئی لوگ کھینچے گئے دار پر
جنہیں بیر ختم رسالت سے تھا
جنہیں اک تعلق بطالت سے تھا
ظالم وہ صیاد پھر آ گئے
قاتل وہ جلاد پھر آ گئے

(سیف الدین سیف)

شہداء ختم نبوت کے نام

جو شہادت کا جام پیتے ہیں
سچ ہے مرتے نہیں وہ جیتے ہیں
ان کو غلماں سلام کرتے ہیں
خلد میں وہ قیام کرتے ہیں
صفحہ ۷۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان سے تاریخ کے ورق روشن
عہد اسلاف کے سبق روشن
ان کی تعظیم آسمانوں پر
ان کا احسان دو جہانوں پر
بحر تقدیس کا صدف کہئے
یاد میں ان کی گل فشاں رہئے
ملک و ملت کے وہ حبیب ہوئے
حوض تسنیم کے قریب ہوئے
لب یزداں پہ نام ہے ان کا
کملی والا امام ہے ان کا
وہ ستاروں میں رقص کرتے ہیں
ماہپاروں میں رقص کرتے ہیں
عظمت کائنات ہوتے ہیں
پاسبان حیات ہوتے ہیں

(ساغر صدیقی مرحوم)

شہدائے ختم نبوت (مارچ ۱۹۵۳ء) کی نذر

سلام ان پر جنہوں نے سنت سجاد زندہ کی
سلام ان پر جنہوں نے کربلا کی یاد زندہ کی
سلام ان پر کہ جو ختم نبوت کے تھے شیدائی
سلام ان پر کہ جن کی جرأت رندانہ کام آئی
سلام ان پر جنہوں نے مشعلیں حق کی جلائی ہیں
سلام ان پر جنہوں نے گولیاں سینوں پر کھائی ہیں
سلام ان پر جو جیتے تھے فقط اسلام کی خاطر
جناب خواجہ ہر دوسرا کے نام کی خاطر
صفحہ ۷۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۱) ۱۹۳۲ء تا ۱۹۵۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سلام ان پر کہ جو ختم رسالت کے تھے پروانے
جو عاقل باخدا تھے اور حضور خواجہ کے دیوانے
سلام ان کی شجاعت پر سلام ان کے قرینے پر
کہ سینہ تان کر کہتے تھے گولی آئے سینے پر
سلام ان پر کہ جن کی غیرت ایمان تھی زندہ
سلام ان پر قیامت تک ہے جن کا نام پائندہ

(حضرت علامہ عبدالرشید طالوت)

۱۹۷۴ء میں دوبارہ تحریک ختم نبوت چلی۔ جس کے نتیجہ میں ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے غیر مسلم قرار دیا۔ دونوں تحریکوں کے امتزاج کے حوالہ سے ایک نظم ملاحظہ فرمائیں۔

یہ جیت ان کی ہے جو خون میں نہائے تھے

تمام اہل وطن ، السلام ، جیت گئے
جنہوں نے پائی حیات دوام ، جیت گئے
جناب ختم رسلؐ کے غلام ، جیت گئے
خواص ہار گئے ہیں ، عوام ، جیت گئے
یہ جیت ان کی ہے ، جو خون میں نہائے تھے
جو جرأتوں کے نشان ، عظمتوں کے سائے تھے
صداقتوں کے افق پر جو جگمگائے تھے
جنہوں نے ختم رسلؐ کے علم اٹھائے تھے
ہوئی ہے جہد وفا کامیاب ، زندہ باد
فریب و مکر ہوا بے نقاب ، زندہ باد
ابھر رہا ہے نیا آفتاب ، زندہ باد
یہ انقلاب ہے یہ انقلاب ، زندہ باد
تمام قوم زمانے میں سر بلند ہوئی
خدا کا شکر کہ سچائی فتح مند ہوئی

(محمد ارشد کمال)

PDF 707

تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز

نابغہ وعبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر وتحریر ہو یا مباحثہ ومناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ وتحقیق اور تصنیف وتالیف ان کے محبوب ومرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے ۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت کارروائی پارلیمنٹ سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کردیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق ومحبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب وتہذیب اور تالیف وتدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات وواقعات کے عینی شاہد ہیں۔

یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستورالعمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھرپور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت ومحبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت وحمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہوگی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین

محمد متین خالد لاہور