رَدِّ قادیانیت
رسائل
مجاہد ملت حضرت مولانا مُحَمَّد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مُحَمَّد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ مفکر ختم نبوت حضرت مولانا مُحَمَّد شریف جالندھری رحمۃ اللہ علیہ مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر رحمۃ اللہ علیہ
احتساب قادیانیت
شانزدہم
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4514122
ردّ قادیانیت
رسائل
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
احتساب قادیانیت
شانزدہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4514122
بسم الله الرحمن الرحيم
احتساب قادیانیت جلد شانزدہم (١٦)
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
٥٧٦ جون ٢٠٠٦ ١٠٠٠ / عدد اصغر پرنٹنگ پریس لاہور ٢٠٠ روپے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان دفاتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکتبہ لدھیانوی نزد جامعہ علوم اسلامیہ کراچی ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور مکتبہ سید احمد شہیدؒ اردو بازار لاہور مکتبہ علم وعرفان اردو بازار لاہور مکتبہ مدنیہ اردو بازار لاہور
عرض مرتب
الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام على من لا نبي بعده ، اما بعد !
احتساب قادیانیت کی سولہویں جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ان اکابرین کے رد قادیانیت پر قلم پاروں کو یکجا کیا گیا ہے۔
- ..... مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
(٢١/ اپریل ١٩٧١ء)
- ..... شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
(١٧/ اکتوبر ١٩٧٧ء)
- ..... مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
(٢٠/ جنوری ١٩٨٢ء)
- ..... مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
(١٤/ فروری ١٩٨٥ء)
- ..... مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
(٢٢/ مئی ٢٠٠٣ء)
سن وفات کو سامنے رکھ کر کتاب کی ترتیب قائم کی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر اکابرین!
- ..... حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
- ..... حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ
- ..... فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ
- ..... بلبل احرار حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ
- ..... خطیب اسلام حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ
ان حضرات کی مستقل رد قادیانیت پر تصنیفات کتب یا رسائل کی شکل میں دستیاب نہیں۔
ان تمام حضرات کے مضامین، بیانات نوٹ بکوں پر کام ہونا باقی ہے۔ رب کریم کو منظور ہوا۔ اس سعادت کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت نے کسی کو منتخب فرمالیا تو یہ کام اس کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ احتساب قادیانیت کی جلد اوّل میں اپنے استاذ المحترم مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر کے کتب ورسائل کو جمع کیا تھا۔ اس سولہویں جلد میں جن اکابرین ختم نبوت کے رشحات قلم شامل ہیں۔ وہ پیش خدمت ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے فہرست پر نظر ڈال لیجئے ۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر ہے کہ اس جلد کے ذریعہ ایک قرض و فرض سے سبکدوشی نصیب ہوئی۔ فالحمد لله اولاً و اخراً!
نعلین بردار اکابرین مجلس فقیر اللہ وسایا ١٤٢٧/٤/١٨ھ ..... ٢٠٠٦/٥/١٧ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
فہرست
- ١....... تحقیقاتی عدالت ١٩٥٣ء میں تحریری بیان حضرت جالندھریؒ ٧
- ٢....... مرزائیوں سے ہائیکورٹ کے سات سوالات // ١٣١
مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات کا جواب الجواب //
- ٣....... تعارف اکفار الملحدین! شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ ١٨١
- ٤....... مقدمہ عقیدۃ الاسلام // ١٩٣
- ٥....... نزول مسیحؑ کا عقیدہ اسلامی اصول کی روشنی میں // ٢٣٣
- ٦....... فتنہ قادیانیت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں // ٢٥٩
- ضروری تنبیہ ٢٦٠
- مرزا ناصر کا دورہ یورپ اور سعودی ٹیلی ویژن پر اس کی نمائش // ٢٦٢
- برطانوی عہد حکومت اور مسلمان // ٢٦٦
- پاکستان اور مرزائی امت // ٢٧٩
- تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان // ٢٨٢
- ٧....... عقیدہ ختم نبوت // ٢٨٥
- کتاب خاتم النبیین فارسی کا مقدمہ // ٢٨٧
- تعارف ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین // ٢٩٢
- فیصلہ جیمس آباد کا تعارف // ٢٩٩
- مجلس تحفظ ختم نبوت کے....... ٨
- حضرت مولانا قاضی اح.......
- حضرت مولانا محمد علی جا.......
- حضرت مولانا لال حسی.......
- تحریک ختم نبوت اور ا....... ٩
- مسئلہ ختم نبوت اور پاک.......
- قادیانیوں کا سوشل با.......
- قادیانیت کے خلاف.......
- حادثہ ربوہ
- تحریک ختم نبوت ٧٤.......
- کامیابی پر سپاس وت.......
- دورہ انگلستان
- قادیانیوں کا غیر م.......
- قادیانیوں کی پاک.......
- قادیانیت اور عا.......
- انٹرویو
- حضرت مولانا....... ١٠
- قادیانی مذہب....... ١١
بسم الله الرحمٰن الرحیم
فہرست
ت ١٩٥٣ء میں تحریری بیان حضرت جالندھری ٧ ہائیکورٹ کے سات سوالات // ١٣١ مغالطہ آمیز جوابات کا جواب الجواب // الملحدین! شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ ١٨١ سلام // ١٩٣ ہ اسلامی اصول کی روشنی میں // ٢٣٣ امت مسلمہ کی ذمہ داریاں // ٢٥٩ - // ٢٦٠ رپ اور سعودی ٹیلی ویژن پر اس کی نمائش // ٢٦٢ اور مسلمان // ٢٦٦ مت // ٢٧٩ نبوت پاکستان // ٢٨٢ - // ٢٨٥ ری کا مقدمہ // ٢٨٧ ن فی آیۃ خاتم النبیین // ٢٩٢ - // ٢٩٩
- ٨...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے امراء کی وفیات پر تعزیتی شذرات // ٣١٣
- حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ // ٣١٤
- حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ // ٣١٥
- حضرت مولانا لال حسینؒ اختر // ٣١٦
- ٩...... تحریک ختم نبوت اور اس کے بعد قادیانی فتنہ کی صورت حال // ٣١٧
- مسئلہ ختم نبوت اور پاکستان // ٣١٨
- قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ // ٣٢١
- قادیانیت کے خلاف اہل پاکستان کا شدید ردعمل // ٣٢٤
- حادثہ ربوہ // ٣٢٥
- تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا طریق کار // ٣٢٥
- کامیابی پر سپاس و تشکر // ٣٣٠
- دورہ انگلستان // ٣٣٥
- قادیانیوں کا غیر مسلم لکھوانے سے انکار // ٣٤٠
- قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں // ٣٤٣
- قادیانیت اور عالم اسلام // ٣٤٦
- انٹرویو // ٣٥٢
- ١٠...... حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا سفر مشرق افریقہ کی روئیداد ٣٦١
- ١١...... قادیانی مذہب و سیاست حضرت مولانا تاج محمود ٣٨١
- ١٢ ...... آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مرزائیوں کے پروپیگنڈا کا مسکت جواب ٤٢٩
- ١٣ ...... ملتان پریس کانفرنس ٢٧ مئی ١٩٧٣ء // ٤٤٣
- ١٤ ...... قادیانی سازشوں کا نوٹس لیجئے // ٤٤٩
- ١٥ ...... مرزائی اسرائیلی فوج میں (مسلمانان پاکستان اور حکومت توجہ کرے) ٤٥٧
- ١٦ ...... جداگانہ انتخابات اور قادیانی حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ٤٦٢
- ١٧ ...... تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان // ٤٦٥
- ١٨ ...... مرزائی تعلیمات میں محمد واحمد بمعنی غلام احمد قادیانی // ٤٨٧
- ١٩ ...... قادیانیوں کے متعلق امت مسلمہ کے تقاضے // ٥٠٣
- ٢٠ ...... اکھنڈ بھارت اور مرزائی // ٥٠٧
- ٢١ ...... اسلامی نظام کی علمبردار حکومت پاکستان // ٥١١
- ٢٢ ...... قادیانیوں کے اصل عقائد بجواب جماعت احمدیہ کے عقائد // ٥١٧
- ٢٣ ...... جلسہ سیرت النبی اور قادیانی گروہ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ٥٣١
- ٢٤ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کی آسان پہچان // ٥٣٥
- ٢٥ ...... مرزائیت علامہ اقبال کی نظر میں // ٥٤٥
- ٢٦ ...... بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ اسلام کی حقیقت // ٥٥٥
- ٢٧ ...... مرزائیوں کا بہت بڑا فریب // ٥٧٣
کی قرارداد پر مرزائیوں کے پروپیگنڈا کا مسکت جواب ٤٢٩ رنس ٢٧ مئی ١٩٧٣ء // ٤٤٣ کا نوٹس لیجئے // ٤٤٩ فوج میں (مسلمانان پاکستان اور حکومت توجہ کرے) ٤٥٧ اور قادیانی حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ٤٦٢ ختم نبوت پاکستان // ٤٦٥ میں محمد واحد بمعنی غلام احمد قادیانی // ٤٨٧ ق امت مسلمہ کے تقاضے // ٥٠٣ رزائی // ٥٠٧ دار حکومت پاکستان // ٥١١ عقائد بجواب جماعت احمدیہ کے عقائد // ٥١٧ قادیانی گروہ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ٥٣١ کی آسان پہچان // ٥٣٥ کی نظر میں // ٥٤٥ دیانی تبلیغ اسلام کی حقیقت // ٥٥٥ فریب // ٥٧٣
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
تحقیقاتی عدالت
١٩٥٣ء میں تحریری بیان
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف !
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی تحقیقاتی عدالت میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے تحریری بیان داخل کرایا جس میں مجلس احرار اسلام کے موقف کو بیان کیا۔ مرزائیت سے متعلق ایسے لطیف پیرایہ میں نکات اٹھائے گئے ہیں کہ پڑھ کر قلب و روح کو تسکین ملتی ہے۔ مرزائیت کا مذہبی و سیاسی تجزیہ کیا گیا ۔ اس بیان کا ایک ایک حرف آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ یہ قلمی بیان حضرت مولانا غلام محمد علی پوریؒ سابق مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کتب خانہ میں تھا جو آپ کے عزیز اور جماعت کے سرگرم ساتھی حضرت مولانا منظور احمد الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (مدفون مدینہ طیبہ) کے توسط سے حاصل ہوا۔ بیان کی اہمیت کے پیش نظر تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے ص ٧٧ سے ٨٩ ے کا حصہ بنایا۔
ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے اسے پڑھا تو جھوم گئے ۔ فرماتے تھے اس کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کتنے بڑے زیرک عالم دین تھے۔ کیوں نہ ہو آخر وہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد اور حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھی تھے۔ ان حضرات کی صحبت نے آپؒ کو کندن بنا دیا تھا۔
ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے اس کو علیحدہ شائع کرنے کا حکم دیا اور اس کے لئے مقدمہ بھی لکھ دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کہ اسے ہم علیحدہ کتابی شکل میں شائع نہ کر سکے۔ اب اسے احتساب کی اس جلد میں شامل کرنے پر جتنی خوشی ہے اس کا اندازہ شاید قارئین نہ کر پائیں۔
فقیر ....... اللہ وسایا ٦ دسمبر ٢٠٠٥ء
پیش لفظ!
از شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
بسم الله الرحمن الرحيم . الحمد لله والسلام على عباده الذين اصطفى! مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری نور اللہ مرقدہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تلمیذ رشید قطب العالم شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مسترشد، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دست راست اور کاروانِ تحریک ختم نبوت کے سالار تھے۔ حق تعالیٰ نے ان کو بعض ایسے کمالات وصفات سے آراستہ فرمایا تھا جن میں اپنے اقران وامثال میں عدیم النظیر تھے۔ عقل و دانش اور فہم و فراست میں اس درجہ ممتاز تھے کہ تمام ہمعصر اکابر ان کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ زبان و بیان کا ایسا سلیقہ تھا کہ مشکل سے مشکل مسائل ایک عامی سے عامی آدمی کے ذہن نشین کرانے کی مہارت رکھتے تھے، جس موضوع پر بھی گفتگو فرماتے اس کو ایسا مدلل کرتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی استدلال کے آگے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوجاتا۔ ہمارے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ان کو وکیل العلماء کے خطاب سے یاد فرماتے تھے۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد حکومت نے رسوائے زمانہ جسٹس منیر کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی ۔ جس کا دائرہ کار اس تحریک کے اسباب وعلل کا دریافت کرنا تھا۔ اس عدالت کی رپورٹ ”تحقیقاتی رپورٹ فسادات پنجاب ١٩٥٣ء“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس عدالت کے سامنے متعلقہ فریقوں میں سے ہر ایک نے اپنا موقف تحریری طور پر پیش کیا تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے جو بیان عدالت کے ریکارڈ میں داخل کرائے ۔ ایک بیان میں مجلس احرار اسلام (جس کو حکومت تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کا بلا شرکت غیرے ذمہ دار سمجھتی تھی) کے موقف کی وضاحت اور قادیانیت کے بارے میں اسلامی احکامات کی تشریح نہایت دل کش اور مدلل انداز میں کی گئی۔
دوسرے بیان میں قادیانیوں کے جواب کا جواب الجواب تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ منیر تحقیقاتی عدالت نے قادیانیوں کے لیڈر مرزا محمود سے چند اہم نوعیت کے سوال کئے تھے، اگر ان سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جوابات دیئے جاتے تو قادیانیت کا سارا طلسم ہوش ربا ٹوٹ جاتا اور قادیانی عقائد وعزائم کا سارا بھرم کھل جاتا۔ مگر چونکہ قادیانی نبوت اور قادیانی تحریک تمام تر دجل وفریب اور مکاری وعیاری پر قائم ہے۔ اس لئے مرزا محمود نے ان سات سوالوں کے جواب
میں ایسی ابلہ فریبی سے کام لیا کہ اصل حقائق عدالت کے سامنے نہ آسکے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اپنے جواب الجواب میں قادیانی دجل وفریب سے پردہ اٹھایا۔ اور عدالت کے سامنے واضح کیا کہ عدالت نے مرزا محمود سے جو کچھ پوچھا تھا۔ مرزا محمود نے اس کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ تقیہ وتوریہ سے کام لے کر اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے یہ دونوں تاریخی بیان برادر محترم حضرت مولانا اللہ وسایا زید مجدہ کی کتاب ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ میں شائع ہوئے تو ان کی اہمیت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوا کہ ان دونوں کو الگ بھی شائع کیا جائے۔
چنانچہ ارباب فکر ونظر کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کرتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ اہل دانش حضرت مولانا مرحوم کے ان بیانات کی مقبولیت ومتانت کا وزن محسوس کریں گے اور اسلام اور قادیانیت کے تصادم کو سمجھنے کے لئے اس عجالہ کا بغور مطالعہ فرمائیں گے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ایک طرف تقریر وبیان کے بادشاہ تھے اور دوسری طرف ان کی ہیجان انگیز زندگی نے ان کو قلم تک پکڑنے کی مہلت نہ دی۔ ان کی خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اس میدان کا رخ کرتے اور خامہ وقرطاس سے رشتہ جوڑتے تو ان کے دور میں ان کی ٹکر کا کوئی ادیب اور انشاء پرداز مشکل ہی سے ملتا۔ قلم و قرطاس سے ایک قسم کی لاتعلقی کے باوجود حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے دقیق علمی مضامین کو جس طرح نوکِ قلم سے دلوں میں اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ وہ بجائے خود ان کی کرامت ہے۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے درجات بلند فرمائیں اور ان کی فاتح جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی مرضیات کے مطابق چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں اور مجلس نے جو صدیقی مشن اپنایا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اس کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں:
اے مسلماں پیرو صدیق باش
سبحان ربك رب العزت عما يصفون . وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ !
بسم الله الرحمن الرحيم !
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد !
اسلام اور عیسویت
اسلام کے سوا جتنے مذاہب ہیں وہ ادیان باطلہ ہیں۔ ان کے پیروؤں کو اختیار ہے کہ اپنے مذہب کو پرائیویٹ اور شخصی معاملہ کہیں۔ خاص کر آج کل کے اہل مغرب کا مذہب عیسائیت، جس کو اس کے پیروؤں نے ملکی سیاسیات اور قومی معاملات سے باہر نکال پھینکا ہے۔ پھر تحریف شدہ عیسائیت کہ جس میں دو چار حواریوں کے نقل کردہ چند مواعظ و حکایات کے سوا کوئی ایسی تعلیم ہی نہیں جو تمدن و سیاست اور دوسرے شعبہ جات زندگی پر حاوی ہو۔ ایسے مذہب کے نام سے پوپ کی حکومت واقعی نہ حکومت کہلانے کی مستحق تھی نہ ترقی کی ضامن۔
برخلاف اس کے کہ ”اسلام“ تمام آسمانی مذاہب کا نچوڑ ۔ اللہ تعالیٰ کی آخری ہدایت اور ساری دنیا کے لئے رب العالمین کا جامع و مانع اور کامل و مکمل دستور حیات ہے۔ جو تمام شعبہ جات زندگی کے لئے بہترین اصول اور تمام ضروریات انسانی پر حاوی قوانین کا مجموعہ ہے۔ اسلام کے عقائد حقہ اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ سے فلاح دارین وابستہ ہے جو دین اسلام کو چھوڑ کر کہیں بھی میسر نہیں آسکتی۔
”ان الدين عند الله الاسلام ، آل عمران:١٩ ........ ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه ، آل عمران: ٨٥“
پیغمبر اسلام نے خیر القرون میں انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے اس پر عمل کر کے نمونہ بتایا اور خلفاء راشدینؓ نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام ہی انسانی اخوت کا ضامن اور عادلانہ نظام کی اہلیت رکھتا ہے۔
انسانی راہنمائی کی تکمیل
اسلام انسانی راہنمائی کا معراج کمال ہے۔ راہنمائی کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر انسانیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے کرتے ہزاروں پیغمبروں کے زمانہ میں اصلی دین و عقائد کی بقاء اور انسانی ترقی کے احوال و ضرورت کے مطابق فروعی احکام شریعت کی تبدیلی کے بعد یہاں تک پہنچا۔
ہر ابتداء کی انتہا ہوتی ہے۔ جب انسانیت بلوغ کو پہنچی۔ زمین کے اکثر حصص آباد
ہونے لگے۔ خبر رسانی، نقل و حرکت اور آمد و رفت کے ذرائع میں توسیع ہوگئی۔ عقل انسانی میں پختگی کے آثار دکھنے لگے۔ اور روحانیت قوی وارواح میں زیادہ سے زیادہ فیضان لینے اور دینے کی استعداد پیدا ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے بھی جس کی رحیمانہ و کریمانہ دست گیری کے بغیر انسان دنیوی نظام کی بہتر تکمیل اور حیات جاودانی کی شاہراہ کا صحیح یقین نہیں کرسکتا تھا۔ ارسال رسل ، انزال کتب اور وحی کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم ؑ سے شروع کر رکھا تھا۔ آخری اور بہترین صورت میں بھیج کر راہنمائی کی تکمیل فرمادی۔
امام الانبیاء ﷺ کی آمد
اعلان کر دیا گیا کہ وہ امام الانبیاء ﷺ آ گیا جس پر ایمان لانے اور جس کی مدد کرنے کا عہد تمام انبیاء علیہم السلام سے لیا گیا ہے۔
”واذاخذاللّٰہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ ثم جاء کم رسول ۔ آل عمران: ٨١ “ ثم کے لفظ نے بتایا کہ اس امام الانبیاء ﷺ کو سب نبیوں کے بعد آنا تھا۔ چنانچہ اس کی تصریح فرمادی گئی۔
خاتم النبیین کا اعزاز
”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللّٰہ و خاتم النبیین ۔ احزاب: ٤٠ “کہ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں یا آپ ﷺ کی تشریف آوری نے اب نبیوں پر مہر لگادی اور کسی نبی کا اس مدت میں داخلہ اور اضافہ بند ہو گیا۔ کیونکہ مقصد کی تکمیل ہو گئی۔
تکمیل دین کا اعلان
اور فیصلہ ہو گیا کہ: ”الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً ۔ مائدہ : ٣ “ ﴿کہ آج سے تمہارا دین ہم نے مکمل کر دیا اور نعمت تم پر مکمل کر دی اور پسند کیا تمہارے لئے دین اسلام کو۔﴾
اہل عالم کو دعوت
اور حکم ہوا کہ تمام بنی نوع انسان کو بتا دو کہ میں تم سب کے لئے آیا ہوں ۔
”قل یا ایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعا ۔ اعراف: ١٥٨ “ ﴿اے لوگوں میں تم سب کی طرف مبعوث ہوا ہوں ۔ کسی خاص قوم وملک کے لئے نہیں ۔جیسے
پہلے پیغمبر ہوتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکیدی الفاظ کے ساتھ اعلان فرما دیا۔
”وما ارسلناك الا كافة للناس بشيرا ونذيرا ، سبا: ٢٨ “ ﴿کہ ہم نے یقینی طور پر آپﷺ کو تمام انسانوں کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔﴾
خدائے برتر کی محبت کی صرف ایک صورت پھر آپﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ اب خدا تک پہنچنے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ میری اتباع کرو۔
”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ، آل عمران: ٣١“ ﴿اگر تم خدا کی محبت چاہتے ہو تو میرے پیچھے چلو۔ خدا کے محبوب ہو جاؤ گے۔﴾ اللہ تعالیٰ کی محبوبیت آپﷺ کی اتباع میں منحصر کر دی گئی۔ کیونکہ اب کسی اور کو نہ آنا تھا نہ ضرورت تھی۔ اس طرح کی سو (١٠٠) آیتوں کا ذکر فرما دیا گیا جس کی تفصیل حضرت مولانا محمد شفیع صاحب کی کتاب ”ختم نبوۃ فی القرآن“ میں موجود ہے۔
قرآن کی تفسیر رسول اللہﷺ کی زبانی
قرآن کی ان آیات کی وضاحت آنحضرتﷺ کی دوسو حدیثوں سے ہوتی ہے۔ جن کو حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ”ختم النبوۃ فی الحدیث“ میں جمع کیا ہے۔ یہاں چند درج کی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر ١...... قال رسول الله ﷺ لعلیؓ انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لانبى بعدى ، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ ، باب من فضائل علی بن ابی طالبؓ ! ﴿نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تمہاری نسبت مجھ سے ایسی ہی ہے جیسے ہارون ؑ کی موسیٰ ؑ سے تھی۔ لیکن اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔﴾
حدیث نمبر ٢...... قال رسول الله ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر ، مشكوة ص ٥٥٨ باب مناقب عمرؓ ! ﴿نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتے۔﴾
حدیث نمبر ٣...... عن النبى ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لانبى بعدى ، وسيكون خلفاء ، بخارى ج ١ ص ٤٩١ باب، ذکر عن بنی اسرائیل ! ﴿آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کا انتظام ان کے نبی کیا کرتے تھے۔ ایک فوت ہوتا تو دوسرا آ جاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
البتہ خلفاء ہوں گے۔﴾
حدیث نمبر ٤...... قال ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بنياناً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له و يقولون هلا وضعت هذه اللبنة وانا خاتم النبین . مسلم ص ٢٢٨ ج ٢ باب ذكر كونه ﷺ خاتم النبين . ﴿نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری اور اگلے انبیاء کی مثال ایک مکان کی سی ہے جو مکمل ہو گیا ہے۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں۔ ﴾
حدیث نمبر ٥..... قال فضلت عل الانبياء بست ، اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لى الغنائم وجعلت لى الارض طهوراً مسجداً وارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبيون . مسلم ج ١ ص ١٩٩ باب المساجد مواضع الصلوة ! ﴿ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دیگر انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ پہلی فضیلت یہ کہ مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ۔ دوسری فضیلت یہ کہ رعب سے میری مدد کی گئی ۔ تیسری فضیلت یہ کہ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ۔ چوتھی فضیلت یہ کہ میرے لئے تمام زمین نماز پڑھنے کی جگہ اور پاکی کا ذریعہ بنائی گئی ۔ پانچویں فضیلت یہ کہ میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ چھٹی فضیلت یہ کہ میرے وجود کے ساتھ انبیاء کی بعثت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ ﴾
حدیث نمبر ٦...... قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى . ترمذى ج ٢ ص ٥٣ باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات ! ﴿حضور ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ۔ اب میرے بعد نہ کسی کو رسول بننا ہے نہ نبی۔ ﴾
حدیث نمبر ٧...... سيكون فى امتى ثلثون كذابون دجالون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبي بعدی ، مسلم ج ٢ ص ٢٩٧ كتاب الفتن واشراط الساعة . ترمذى ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون !
اس حدیث نے تو بعد کے مدعیان نبوت کی جڑ کاٹ کے رکھ دی ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دیکھنا ﴿ میری ہی امت میں سے تیس دجال و کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر ایک نبوت کا دعویٰ
کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔ ﴿
آپ ﷺ نے پیش گوئی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ یہ تیس دجال خود میری امت میں سے ہوں گے۔ اپنے کو امتی بھی کہیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ گویا امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے والا دجال ہے ( جیسا کہ مرزا قادیانی کرتا ہے ) اس حدیث کو مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے۔
اس حدیث میں آپ ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی خود ہی لا نبی بعدی ! کر دیا۔ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا ۔ ظلی نہ بروزی ۔ تشریعی نہ مجازی ۔ امتی نہ تابعی نبی۔
صحابہ کرامؓ اور تابعین کا فیصلہ
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ”ختم النبوة فی الآثار“ میں صحابہ کرامؓ اور تابعین سے ختم نبوت کی روایتیں نقل کر کے جمع فرمادی ہیں۔
امت کا عمل
تمام امت محمدیہ کا عمل بھی یہی رہا ۔ آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اسود عنسی نے۔ نہ آنحضرت ﷺ نے ضرورت سمجھی نہ صحابہ کرامؓ نے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ کیسی نبوت کا دعویٰ ہے؟ ۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب آپ ﷺ کو نبی مانتا تھا۔ پھر وقت اتنا نازک تھا کہ آنحضرت ﷺ کی تازہ وفات ہوئی تھی۔ روم و ایران کی بڑی بڑی سلطنتوں سے سخت خطرات تھے۔ اندرونی بغاوتوں اور منکرین زکوٰۃ سے نپٹ کر تمام دنیا میں اشاعت اسلام اور دعوت حق کا فریضہ انجام دینا تھا پھر مسیلمہ کذاب کے ساتھ چالیس ہزار فوج تھی جس سے عربوں میں بے پناہ خانہ جنگی ہوسکتی تھی۔
لیکن صدیق اکبرؓ اور صحابہ کرامؓ نے کسی مصلحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت سے جہاد کیا اور مسیلمہ کذاب کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کے بعد کسی کو دعویٰ نبوت کی جرأت نہیں ہوئی اور اگر کسی نے کسی زمانہ میں ایسا کیا۔ تو کسی مسلمان حکومت نے نبی کے اقسام میں بحث نہیں کی اور نہ اس کو برداشت کیا۔ تمام امت کا یہ متفقہ عقیدہ رہا۔ اسی پر امت کے تمام محدثین ، مفسرین اور علماء کا اجماع رہا ہے۔ حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی جب تک کہ اس کو نبوت کا جنون نہیں چھایا تھا نبوت کے دعویٰ کو کفر کہا ہے کہ ایک آدمی جو عرصہ سے الہام و وحی کا مدعی ہے وہ عقائد میں بھی تبدیلی کرتا ہے اور باوجود وحی الہام کی بارش کے وہ نبوت کو ختم مانتا ہے
اور جب ذرا فضا سازگار ہو جاتی ہے یکدم وہ اجراء نبوت کا قائل اور خود نبی بن بیٹھتا ہے۔
نبی کا مفہوم
نبی کا معنی عام طور پر صرف یہ ہے کہ وہ ایسا برگزیدہ انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے نامزد اور وحی کے ذریعہ مقرر و مامور کرتے ہیں۔ نبی اور رسول میں بھی فرق ہے اور خود قرآن مجید نے بتایا ہے کہ:
”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القی الشیطن في امنيته : الحج ٥٢“
یہاں صفائی سے نبی اور رسول ہونے بتائے گئے ہیں۔ رسول صاحب شریعت و کتاب ہوتا ہے۔ لیکن نبی عام ہے چاہے صاحب شریعت و کتاب ہو۔ یا پہلی ہی شریعت کا تابع ہو۔ نبی عام ہے اور رسول خاص۔ بہر حال دونوں کو وحی کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کے لئے مامور کیا جاتا ہے۔
وحی کا مفہوم
وحی کا عام معنی الہام کو بھی شامل ہے۔ لیکن اصطلاح شریعت میں وحی، وحی نبوت ہی کو کہتے ہیں۔ بہر حال الہام دل میں ایک بات ڈال دینے کا نام ہے۔ جیسے سب کے دل میں باتیں آتی ہیں۔ البتہ الہام جو منجانب اللہ ہو وہ صداقت اور قوت رکھتا ہے اور جتنی باطنی صفائی زیادہ ہو الہام زیادہ ہوسکتا ہے۔ لیکن ہر شکل میں یہ ایسا قطعی نہیں ہوتا جو دوسروں پر حجت ہو سکے۔ اور اگر وہ شریعت کے خلاف ہے تو شیطانی سمجھا جائے گا۔ لیکن پیغمبر پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ شک و شبہ سے بالاتر ہوتی ہے۔ وہ خود حضرت جبرائیل ؑ لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”قل من كان عدو الجبريل فانه نزله على قلبك باذن الله : بقره ٩٧“ ﴿کہ جبرائیل نے یہ قرآن آپ کے قلب پر اللہ ہی کے حکم سے نازل کیا ہے (تو جبرائیل کی مخالفت کرنی اللہ کی مخالفت ہے۔)﴾
دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ:
”قل نزله روح القدس من ربك بالحق : النحل ١٠٢“ ﴿کہہ دیجئے کہ اس کو روح القدس نے نازل کیا۔﴾
تیسری جگہ ارشاد ہے کہ:
”نزل به الروح الامين على قلبك :شعراء ١٩٣“ ﴿کہ اس کو روح الامین
نے آپ کے قلب پر اتارا ہے۔﴾
جبرائیل تین ناموں سے جبرائیل ؑ نہیں آتے۔ یہ قرآن پا صورت میں تشریف لائے۔
اور قرآن مجید میں ذکر ہے النجم:١٣“ ﴿کہ اسے آپ ﷺ ۔
حدیثوں میں ہے کہ کبھی ج میں آجاتے تھے۔ اور بخاری شریف تھی۔ یہ سخت ہوتی تھی۔ آپ ﷺ جبرائیل ؑ ملکیت سے انسیت کے ملکیت کی طرف کچھ قریب کر لئے جا۔ لاتے تھے۔
یہ نبوت کسی محدث یا مجدد ارشاد ربانی ہے ”فلا يظهر عل الجن:٢٦،٢٧“ ﴿کہ اللہ اپنے غیب یہاں غیب سے مراد وحی ق بتایا ہے۔
پھر یہاں تو غیر نبی کو اس را ستا کیوں کر دیا ہے؟۔ قرآن مجید میں انعام:١٢١“ ﴿کہ شیطان اپنے ہیں۔﴾
وحی ختم ہے
جیسے نبوت ختم ہے۔ اسی طر کہ جو شخص نبوت یا وحی کا دعویٰ کرے وہ
آخری زمانہ میں جب حض ان کی تشریف آوری سے فہرست انبیاء
نے آپ کے قلب پر اتارا ہے ۔﴾ بہر حال قرآن پاک نے روح القدس ، روح الامین اور جبرائیل تین ناموں سے جبرائیل علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے ۔ یہ قطعاً غلط ہے کہ پیغمبر کے پاس خود جبرائیل علیہ السلام نہیں آتے ۔ یہ قرآن پاک کی تردید ہے ۔ غار حرا میں جبرائیل علیہ السلام پہلی بار اصلی صورت میں تشریف لائے ۔
اور قرآن مجید میں ذکر ہے ” ولقد راہ نزلة اخرى . عند سدرة المنتهى . النجم:١٣ “ ﴿کہ اسے آپ ﷺ نے دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ۔﴾
حدیثوں میں ہے کہ کبھی جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس ایک صحابی دحیہ کلبیؓ کی شکل میں آجاتے تھے ۔ اور بخاری شریف میں ہے کہ اکثر صلصلة الجرس (گھنٹی کی آواز میں) پر آتی تھی ۔ یہ سخت ہوتی تھی ۔ آپ ﷺ پر پسینہ آجاتا ۔ از خود رفتہ جیسے ہو جاتے ۔ گویا کبھی جبرائیل علیہ السلام ملکیت سے انسیت کے جامے میں آتے اور کبھی آنحضرت ﷺ بشریت سے ملکیت کی طرف کچھ قریب کر لئے جاتے ۔ بہر حال آنحضرت ﷺ پر وحی حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے ۔
یہ نبوت کسی محدث یا مجدد یا ولی پر نازل نہیں ہو سکتی ۔ قرآن پاک میں صاف صاف ارشاد ربانی ہے ” فلا يظهر على غيبه احدا . الا من ارتضى من رسول . الجن:٢٦، ٢٧ “ ﴿کہ اللہ اپنے غیب پر دسترس کسی کو نہیں دیتا ۔ سوائے رسول کے ۔﴾
یہاں غیب سے مراد وحی قطعی کا غیب ہے ۔ مرزا محمود نے رسول اور نبی کا معنی ایک بتایا ہے ۔
پھر یہاں تو غیر نبی کو اس بھید پر دسترس نہیں دی جا سکتی ۔ خدا جانے اس نے وحی کو اتنا سستا کیوں کر دیا ہے؟ ۔ قرآن مجید میں ہے ” ان الشيطين ليوحون الى اولياء هم . انعام : ١٢١ “ ﴿کہ شیطان اپنے دوستوں کے پاس وحی کیا کرتے ہیں ۔ یہ وحی شیطانی الہام ہے ۔﴾
وحی ختم ہے
جیسے نبوت ختم ہے ۔ اسی طرح وحی نبوت بھی ختم ہے۔ تمام امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو شخص نبوت یا وحی کا دعویٰ کرے وہ واجب القتل ہے ۔
آخری زمانہ میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ پہلے سے نبی ہیں ۔ ان کی تشریف آوری سے فہرست انبیاء میں اضافہ نہ ہو گا نہ کسی کو نبوت ملے گی ۔ ان کا دوبارہ نزول
ایسے بنے جیسے اور گزرے ہوئے پیغمبر آ جائیں۔ جیسے معراج کی حدیثوں میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مسجد اقصی میں انبیاء علیہم السلام کو امامت کرائی۔ وہ قرآن پاک کو خود سمجھیں گے۔ وہ نفخ جبریل سے پیدا ہوئے ہیں۔ بچپن میں باتیں فرمائیں۔ پیغمبرانہ صفات، ہمہ روحانیت اور الہام سب ہوگا۔ وحی نبوت بذریعہ جبرائیل نہ ہوگی۔ بہرحال نبوت اور وحی نبوت اب بند ہے۔ مرزائی یہ دروازہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی خاطر کھولنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ١٤ سو سال میں وہ کبھی کسی اور نبی کو نہیں مانتے اور بعد کے لئے صرف لفظی فریب کرتے ہیں۔ ورنہ درحقیقت مرزا قادیانی نے اپنے کو آخری زمانہ کا مسیح قرار دیا ہے اور حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦ میں نبی کے نام کے لئے اپنے ہی کو مخصوص بتایا ہے۔
وحی نبوت کے معانی
آنحضرت ﷺ پر جب وحی آتی اس کو یاد کرنے کے لئے جلدی فرماتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”لا تحرک به لسانک لتعجل به ٠ ان علینا جمعه و قرآنه ٠ القیامه: ١٦، ١٧“ ﴿قرآن کریم کے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔ کیونکہ آپ کے سینہ میں اس کا جمع کر دینا اور اس کی پڑھائی ہمارے ذمہ ہے۔﴾ ”فاذا قراه فاتبع قرانه ٠ القیامه:١٨“ ﴿تو جب ہم پڑھ لیں۔ تب آپ پڑھا کریں﴾ ”ثم ان علینا بیانه ٠ القیامه:١٩“ ﴿پھر اس قرآن کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔﴾ مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے کلمات اور معانی دونوں منجانب اللہ ہوتے تھے۔ وحی کے معانی بھی جبرائیل علیہ السلام بتا دیتے تھے۔
قرآن نظم ومعنی کے مجموعے کا نام ہے
اسی لئے تمام علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن صرف کلمات کا نام نہیں۔ نہ صرف معانی کا بلکہ الفاظ اور معانی کے مجموعے کا نام قرآن ہے۔ آنحضرت ﷺ جبرائیل علیہ السلام سے قرآن اخذ فرما کر صحابہ کرامؓ کو سنا اور پڑھا دیتے تھے۔ ”یتلو علیهم آیاته ویزکیهم ویعلمهم الکتاب والحکمة ٠ آل عمران: ١٤٦“ ﴿یہ رسول ﷺ صحابہؓ کو آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ پھر ان کا تزکیہ فرماتے ہیں۔ انہیں اللہ کی کتاب قرآن سکھاتے ہیں اور حکمت و دانائی کی باتیں سمجھاتے ۔﴾ بہرحال آنحضرت ﷺ جیسے قرآن پاک کے الفاظ جبرائیل سے اخذ کر کے صحابہؓ کو سنا دیتے اسی طرح وہ معانی بھی جو جبرائیل علیہ السلام بیان فرما دیتے وہ بھی صحابہؓ کو بتا دیتے۔
صحابہ کرام کی تفسیر
اسی لئے قرآن پاک کے وہی معانی صحیح سمجھے جاسکتے ہیں جو آنحضرتﷺ یا آپﷺ کے صحابہؓ سے منقول ہوں۔ ان معانی کے مقابلہ میں کوئی دوسرا معنی کرنا قطعا غلط ہوگا۔ وہ معانی ایسے گول مول نہ ہوتے تھے کہ ان کا مفہوم تیرہ سو سال بعد جا کر کہیں سمجھا جاسکے۔
قرآن پاک کی حفاظت
اللہ تعالیٰ نے چونکہ یہ دین اور یہ شریعت قیامت تک کے لئے تجویز فرمائی تھی۔ اس لئے قرآن کی حفاظت کا انتظام بھی فرمایا۔ تا کہ وہ قیامت تک من وعن باقی رہ سکے۔ ارشاد ربانی ہے ”انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحفظون ، الحجر : ٩ “ کہ یہ قرآن ہم نے اتارا۔ اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ پھر بڑے زور سے ارشاد ہے کہ ہم خود ہی اس کے محافظ ہیں۔ جب خدا خود حفاظت کرے پھر وہ حفاظت کیسی اعلیٰ ہوگی؟
جناب والا! دنیا کی کوئی ایسی کتاب نہیں جس کو ازبر حفظ کیا جاتا ہو۔ لیکن قرآن پاک جیسی کتاب کے پورے تیس پاروں کے لاکھوں حافظ خیرالقرون سے آج تک مسلسل چلے آرہے ہیں۔ نسلاً بعد نسلٍ ۔ اس کی سورتیں گنی ہوئی ہیں۔ اس کے رکوع اور آیتیں گنی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے کلمات اور حروف بھی گنے ہوئے ہیں۔ حفاظت کی حد ہو گئی کہ قرآن پڑھنے کا لب و لہجہ تک محفوظ ہے جس کے لئے علم تجوید اور فن قرأت پڑھایا جاتا ہے۔ مخالف اور متعصب عیسائی مؤرخین یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ قرآن کو مسلمانوں نے جوں کا توں محفوظ رکھا ہوا ہے۔
معانی کی حفاظت
یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ قرآن، الفاظ اور معانی کے مجموعہ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے وہ معانی کی حفاظت کو بھی شامل ہے۔ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ الفاظ کی حفاظت کریں اور معانی کی نہ کریں۔ اس کو پوری قدرت ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ پس یہ یقیناً ماننا پڑیگا کہ قرآن کے وہی اصلی معانی آج تک ضرور محفوظ ہیں۔ البتہ جس طرح الفاظ ظاہری اور معنی معنوی چیزیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کی حفاظت ظاہراً دکھتی ہے اور معانی کی حفاظت ذرا سوچنے سے سمجھ میں آتی ہے جس کی ذرا سی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔
قرآن کی تفسیر بالرائے
آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا ”من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوء
مقعدہ من النار ، کنز العمال ج ٢ ص ١٦ حدیث ٢٩٥٨ “ یعنی جو کوئی قرآن میں اپنی رائے کو دخل دے گا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنائے گا ۔ ٭ صحابہ کرامؓ یا مسلمانوں سے یہ ناممکن تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے بغیر قرآن میں اپنی رائے کو دخل دیتے۔
صحابہ کرامؓ کی شان
اگر چہ آنحضرت ﷺ نے اپنے جیتے جی عرب کو ایک بہترین روحانی نظام میں منسلک کر کے دنیا کے سامنے بطور نمونہ پیش کر کے تبلیغ کا فریضہ ادا کر دیا تھا۔ اور ساتھ مشہور سلاطین وامراء کو دعوتی خطوط ارسال فرما کر اتمام حجت بھی فرمادی تھی۔ تاہم تفصیلی طور پر انتہائے عالم تک اشاعت اسلام واعلان حق کی خدمت آپ ﷺ کی نیابت میں آپ ﷺ کے خویش واقارب آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کی قدوسی جماعت کو کرنا تھی۔ اسی لئے اس جماعت کی اخلاقی بلندی اور پاکیزگی کی شہادت پہلے سے قرآن نے دے دی۔ انصار و مہاجرین کی آپ ﷺ کی مبارک اور طویل صحبت سے ایسی اعلیٰ تربیت ہوئی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی ۔ ان جیسی جماعت کسی پیغمبر کو نصیب نہیں ہوئی۔ مخالفین اسلام بھی اعتراف کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ کی اس تیار کردہ جماعت سے یہ امر ناممکن تھا کہ وہ آپ ﷺ کی بتائی ہوئی شاہراہ یا آپ ﷺ کی سنت سے ایک لمحہ کے لئے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوسکیں اور یہ کیسے ہو سکتا ؟ ۔ ان کو آپ ﷺ کی نیابت میں دین حق کی بڑی خدمت کرنی تھی۔ چنانچہ اس قدوسی جماعت نے ایک طرف اپنی گفتار ، کردار کے اعلیٰ عملی نمونے پیش کر کے دنیا کو محو حیرت کر دیا ۔
تھوڑے ہی عرصہ میں ان کے جذبہ اعلائے کلمۃ اللہ نے اسلام کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجا دیا ۔ دوسری طرف ایسی دیانت و امانت کے ساتھ جس کی نظیر ملنی ناممکن ہے۔ قرآن پاک کی آیات اور ان کے معانی آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں تابعین کرامؒ کے سینوں میں بھر دیئے ۔ آپ ﷺ کے فرمائے ہوئے ایک ایک لفظ کو ان تک پہنچایا۔ یہ تابعینؒ کون تھے؟ ۔ یہ ان ہی اصحاب رسول اور اولاد رسول کی پاک گودوں میں پلے ہوئے ۔ برسوں ان کی صحبت ورفاقت میں رہ کر انہی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ جب تک صحابہ کرامؓ کی یہ فیض یافتہ جماعت تابعینؒ موجود رہی ۔ سیاسی اختلافات و مشاجرات کے باوجود کسی کو قرآن وحدیث کے سلسلہ میں افراط وتفریط کی جرأت نہ ہو سکتی تھی۔ ان کے عوام اسلام کی برکات جھولیوں میں بھرے ہوئے برق رفتاری کے ساتھ دنیائے کفر پر جا گرے ۔ اور دیکھتے دیکھتے ربع مسکون کے بڑے حصہ پر اسلام کا علم لہرا دیا۔ ان کے خواص نے قرآن وسنت کے خزانوں سے اپنی اولاد اور اپنے
شاگردوں کو مالا مال کر ڈالا اور صحابہؓ کی امانت کو جوں کا توں ان تبع تابعینؒ کے حوالہ کر کے اپنا حق ادا کر دیا۔ یہ دوسرے حضرات جو تابعینؒ جیسی مقدس جماعت کے تربیت یافتہ تھے کون تھے؟۔ یہ وہ اولوالعزم حضرات اور خوش قسمت ہستیاں ہیں جنہیں آئمہ دینؒ کہتے ہیں۔ انہی میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ اور حضرت امام مالکؒ جیسے حضرات شامل ہیں۔ ان پاک نفوس کی ایمانی بصیرت نے تقاضا کیا کہ بعد زمانوں میں یہ امانت و دیانت یہ تقویٰ و طہارت یہ صدق وصفا اور دین سے اتنا شغف و انہماک نہ رہے گا۔ اس لئے اصل دین کی حفاظت کی جانی ضروری ہے۔ تا کہ آئندہ وہ بچوں کا کھیل یا تحریف کا شکار نہ ہو سکے۔ چنانچہ ایک طرف انہوں نے قرآن پاک کے سارے منقول معانی اور آنحضرتﷺ کے سارے ارشادات جو صرف اپنے تابعی اساتذہ کے توسط سے ان تک صحابہؓ سے پہنچے تھے۔ قلمبند کر دیئے (موطا امام مالک اس پاک زمانہ کی یادگار ہے ) دوسری طرف ان حضرات نے آنے والے زمانہ کی قانون سازی کی سہولت کے لئے جو آنحضرتﷺ سے دوری کی وجہ سے کئی قسم کے فتنوں سے دو چار ہو سکتے تھے۔ قرآن وحدیث اور خلفاء راشدینؓ کے قضایا وفتاویٰ کی روشنی میں (جیسے ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کسی قانون کی تعبیر کی جاتی ہے) دین کے باریک مسائل سمجھنے کے لئے چند اصول بیان فرما دیئے ۔ جنہیں فقہ یا اصول فقہ کہتے ہیں۔
اب اللہ تعالیٰ نے اسی زمانہ میں محدثینؒ کی وہ بلند پایہ جماعت پیدا فرمادی جنہوں نے آنحضرتﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کی حفاظت میں پوری عمریں صرف کردیں۔ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے تمام ملفوظات جمع کئے تابعینؒ کی روایتیں بھی حفظ کیں۔ ان میں حضرت امام بخاریؒ، حضرت امام مسلمؒ جیسے آئمہ حدیث شامل ہیں ۔ یہ محدثین حضرات جہاں بلامبالغہ لاکھوں روایتوں کے بمعہ اسانید حافظ تھے۔ وہاں روایت کے پرکھنے میں اجتہادی ملکہ رکھتے تھے۔ اس طرح صحت حدیث پرکھنے کیلئے فن جرح و تعدیل ایجاد ہوا۔
جس کے ذریعہ کسی روایت کی صحت وسقم پر بحث کی جاتی ہے۔ علم اسماء الرجال کی اسی سلسلہ میں بنیاد پڑی۔ جس سے ١٥ لاکھ انسانوں کی زندگیاں محفوظ ہوئیں۔ ان محدثین حضرات کو اللہ تعالیٰ نے اسی حفاظت قرآن کے وعدہ کی وجہ سے ذہانت ،قوتِ حفظ وضبط اور دیانت و امانت کے ساتھ روایتی تنقید کا وہ ملکہ عطاء فرمایا تھا جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور در حقیقت ضرورت بھی صرف اسی وقت تھی۔ ان حضرات نے انتہائی احتیاط کی وجہ سے لاکھوں کے ذخیرہ سے چند ہزار حدیثیں اپنی اپنی کتابوں میں بمعہ سند کے لکھیں۔ انہوں نے ایسی روایت کو بھی کمزور قرار دیا جس
کے معتبر راویوں میں سے کسی ایک کو بھی اگر عمر بھر میں صرف ایک دفعہ وہم ہوا ہو۔ یہ کتابیں اس وقت سے آج تک امت مسلمہ میں متداول ومقبول ہیں اور قرآن کی حفاظت کی برکت سے یہ بھی محفوظ ہو گئیں۔ پھر انہی احادیث کی روشنی میں تفسیریں بھی لکھی گئیں۔ اور قرآن کے الفاظ و معانی خدائی وعدہ کے موافق محفوظ ہو گئے۔ ان منقول معانی کے خلاف آج جو معنی کیا جائے وہ مردود ہے۔ ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ جیسی آیات و احادیث کا معنی اس وقت تک یہی لکھا گیا اور سمجھا گیا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نیا نبی نہیں آ سکتا اور یہ کہ آخری زمانہ میں آنے والے پہلے پیغمبر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار ہے۔ اگر بالفرض دنیا میں آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا تھا۔ جس کے انکار سے آنحضرت ﷺ کی امت کے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر ہونا تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ ﷺ اس کی اطلاع اپنی امت کو نہ دیتے۔ نہ یہ بتاتے کہ چودہویں صدی میں کسی نے آنا ہے۔ اس کے بالکل برعکس دوسو دس حدیثوں کے ذریعہ اپنی امت کو بار بار یہ یقین مختلف پیرائوں میں دلایا کہ:
- ١....... میرے بعد کسی نے نبی نہیں بننا۔ نبوت مجھ پر ختم ہو گئی۔
- ٢....... میرے بعد نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔
- ٣....... اگر ہارون علیہ السلام کی طرح تابع نبی بھی ہوتا تو حضرت علیؓ ہوتے۔
- ٤....... میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ
آپ ﷺ نے پیشگوئی فرمادی کہ تیس جھوٹے اور دجل و فریب کے پتلے پیدا ہوں گے۔ ان کی دو نشانیاں بیان فرمائیں کہ وہ میری امت میں سے ہوں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے اور ساتھ فرما دیا کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس پیش گوئی نے ہر امتی کو یہ عقیدہ رکھنے پر مجبور کر دیا کہ امتی ہو کر نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کذاب و دجال سمجھا جائے۔ جبکہ لا نبی بعدی کی حدیث اور ختم نبوت کا مشہور مفہوم اتنا متفق علیہ اور روایت کے لحاظ سے اتنا اہم تھا کہ کسی کو اس سے انکار کی مجال نہ تھی۔ حتیٰ کہ جب تک مرزا غلام احمد کو نبی بننے کا شوق نہ چڑھا تھا وہ بھی مدعی نبوت کو کافر و کاذب کہتا رہا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
مرزائی استدلال کی حیثیت
جب مرزائیوں کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کا پرانا عقیدہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ منسوخ ہو گیا۔ سبحان اللہ ! جب اہل اسلام احکام میں نسخ کو جائز قرار دیتے ہیں جیسے
کہ تمام عقائد کے بحال ہوتے ہوئے بھی انبیاء علیہم السلام کے شرعی احکام مثلاً نماز ، روزہ وغیرہ کی کیفیت میں فرق رہا۔ اور اللہ تعالیٰ وقت و زمانہ کے مناسب احکام تبدیل فرماتے گئے۔ اسی طرح خود اسلام کے ابتدائی اور آخری زمانہ میں ہوا۔ نسخ ہماری نگاہوں میں نسخ ہے اور قدرت کے لحاظ سے احکام کے مقررہ اوقات کا اعلان کہ جو حکم جتنے وقت کے لئے تھا وہ بتا دیا جاتا ہے۔ اس جائز اور تاریخی نسخ پر اعتراض کرنے والے مرزائی جب اپنی بگڑی بنانے پر آتے ہیں تو عقیدوں میں تبدیلی اور نسخ کو جائز قرار دیتے ہیں۔ جب تک مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کا شوق نہیں چڑھا تھا۔ عقیدہ ختم نبوت درست اور جب نبوت کی ٹھن گئی تو کبھی خاتم کے معنوں میں بحث اور کبھی النبیین کے لفظ میں کیڑے نکالنے کی سعی ۔ تمام حدیثوں اور آیتوں کی ٹانگیں توڑنی شروع کردیں اور اپنے لئے روایتوں کی تلاش جاری کر دی جن سے قوم کو الو بنایا جاسکے۔ لیکن لے دے کر روایات کے عظیم ذخیرہ سے ان کو صرف ایک حدیث ملی ہے۔ وہ ابن ماجہ ص ١٠٨ باب ماجاء فی الصلوۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ کی روایت: لو عاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا!
آپ ﷺ نے فرمایا ، کہ : ’’اگر ابراہیم (آپ ﷺ کا فرزند ) زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔‘‘ پہلے تو آیات قطعی اور احادیث متواترہ کے مقابلہ میں اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں جس کی سند پر محدثین نے جرح کی ہوئی ہے۔
لیکن اگر سنداً اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس حدیث کے راویوں نے دوسری جگہ اور ایک روایت میں خود اسی ابن ماجہ کے اسی صفحہ میں اسی روایت کے ساتھ یہ روایت اور یہ معنی بھی نقل کر دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قضائے نبوت ختم نہ کر دی ہوتی تو ابراہیم زندہ رہ کر نبی بن جاتا۔ تو اس کا معنی بھی مشہور عقیدہ کے موافق یہی ہوا کہ وہ اسی لئے فوت ہوئے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت ختم تھی۔ ورنہ ان میں نبوت کی تمام صلاحیتیں اور استعداد موجود تھی۔ جن کے بعد اللہ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ نبی ہوتے۔ لیکن قضا و قدر کا فیصلہ یہی تھا کہ اب یہ دروازہ بند ہے اور اللہ کے علم میں نبیوں کی مقررہ تعداد پوری ہو چکی ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم کی زندگی بھی تھوڑی مقدر کی گئی۔
دوسری روایت جس کو روایت کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ مرزائی حضرت عائشہ کا ایک قول پیش کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ خاتم النبیین کہا کرو۔ لیکن لا نبی بعدہ نہ کہا کرو۔ خاتم النبیین کہنا کافی ہے یہ نہ ہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
یہ قول اس قابل ہی نہیں کہ علمی بحث میں اس کی طرف توجہ کی جائے۔ کیونکہ یہ قول
منقطع السند ہے۔ جہاں یہ قول لکھا گیا ہے وہاں اس کی کوئی صحیح سند بیان نہیں کی گئی۔ لیکن مرزائیوں کا کیا کہنا کہ جب ایک لائق مرزائی گواہ سے ایک حدیث کی سند پوچھی گئی تو اس نے مشکوٰۃ کا نام لے دیا۔ سبحان اللہ! اس علم کے بل بوتے پر نبوت کا مینار کھڑا کرتے ہیں۔ کیا سند کا معنی یہ ہے کہ کوئی بات کسی کتاب میں درج ہو یا علم حدیث کی اصطلاح میں مسند اس بات کو کہتے ہیں کہ مثلاً راوی حدیث امام بخاریؒ یا امام مسلمؒ اپنے استاذ اور استاذ الاستاذ پھر استاذ الاستاذ کے استاذ کا نام بتا کر یہ ثابت کرے کہ کن کن ثقہ، معتبر، متدین، حافظ ومتقی مشہور ومعروف حضرات کے واسطے سے یہ حدیث رسول ﷺ حاصل کی گئی ہے۔
محدث مثلاً امام بخاریؒ سے لے کر صحابیؓ تک دو واسطے ہوں یا تین ہر ایک پر دنیا بھر کے ناقدین اور آئمہ جرح وتعدیل کو اعتراض کرنے کا کھلا حق ہوتا ہے۔ مجال کیا کہ کسی روایت کے کسی راوی کے بارہ میں یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو عمر بھر میں ایک بار فلاں مقام پر وہم ہوا تھا اور پھر اس کی روایت رد نہ جائے۔ فن روایت جو کہ خدمت حدیث ہی کے سلسلہ میں مسلمان قوم نے ایجاد کیا۔ اس کی موشگافیوں اور سخت گیریوں کو دیکھئے اور دوسری طرف مرزائیوں کے طرز عمل کو، کہ اپنے مطلب کے لئے ان کو اس سے بحث ہی نہیں رہتی کہ روایت کو حدیث کہنا بھی صحیح ہے یا نہیں۔ بلکہ اگر راویوں کے ضعف وقوۃ پر بحث کی بجائے سند ہی نہ ہو ان کی بلا سے۔ ان کو تو اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے۔ اور جب یہ رد کرنے پر آتے ہیں تو صحیح حدیث کو مرزائی الہام کے مخالف ہونے کی وجہ سے رد کر دیتے ہیں یا اس کے معانی بدل بدل کر مسخ کر دیتے ہیں۔
حضرت عائشہؓ کا قول ہی نہیں ہے اور ہو کیسے سکتا ہے جب آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان متواتر ہے کہ لا نبی بعدی تو حضرت عائشہؓ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ایسا نہ ہو؟ اور اگر بالفرض مان ہی لیا جائے تو اس وقت حضرت عائشہؓ کی مراد یہ ہے کہ مقصد ختم نبوت کے بیان کے لئے خاتم النبیین بھی کافی ہے۔ جس کے معنی نبیوں کو ختم کرنے والا ہیں پھر لا نبی بعدہ کہنے سے کسی زندیق کو یہ کہنے کا موقعہ نہ مل جائے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بھی آپ ﷺ کے بعد نہیں آئیں گے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول متواتر اور یقینی ہے بہر حال لا نبی بعدی کے روکنے سے حضرت عائشہؓ مرزائی قسم کے لوگوں کا منہ بند کرتی ہیں جو کہا کرتے ہیں کہ اگر نبوت ختم ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ کیسے آ سکتے ہیں؟۔ حضرت عائشہؓ یہی فرماتی ہے کہ نبوت بند ہے اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا۔ البتہ پرانے نبیوں میں سے حضرت عیسیٰ ؑ کا آ کر اس امت کی خدمت کرنا مقدر ہے۔ گویا حضرت عائشہؓ کی نگاہ یہ فرماتے ہوئے نزول عیسیٰ ؑ کے متواتر اور یقینی عقیدہ کو
یہ قول لکھا گیا ہے وہاں اس کی کوئی صحیح سند بیان نہیں کی گئی۔ لیکن جب ایک لائق مرزائی گواہ نے ایک حدیث کی سند پوچھی گئی تو اس نے کہا اللہ ! اس علم کے بل بوتے پر نبوت کا مینار کھڑا کرتے ہیں۔ کیا سند کا کتاب میں درج ہو یا علم حدیث کی اصطلاح میں مسند اس بات کو کہتے ہیں کہ امام بخاری یا امام مسلم اپنے استاذ اور استاذ الاستاذ پھر استاذ الاستاذ کے واسطے سے کہ کن کن ثقہ ، معتبر ، متدین ، حافظ ومتقی مشہور ومعروف حضرات ﷺ سے تعلیم حقہ حاصل کی گئی ہے۔ بخاری سے لے کر صحابی تک دو واسطے ہوں یا تین ہر ایک پر دنیا بھر عدیل کو اعتراض کرنے کا کھلا حق ہوتا ہے۔ مجال کیا کہ کسی روایت کے ثابت ہو جائے کہ اس کو عمر بھر میں ایک بار فلاں مقام پر وہم ہوا تھا اور یہ فن روایت جو کہ خدمت حدیث ہی کے سلسلہ میں مسلمان قوم نے اور سخت گیریوں کو دیکھئے اور دوسری طرف مرزائیوں کے طرز عمل کو ، کہ ں سے بحث ہی نہیں رہتی کہ روایت کو حدیث کہنا بھی صحیح ہے یا نہیں۔ قہ بحث کی بجائے سند ہی نہ ہو ان کی بلا سے۔ ان کو تو اپنا الو سیدھا کرنے پر آتے ہیں تو صحیح حدیث کو مرزائی الہام کے مخالف ہونے کی کے معانی بدل بدل کر مسخ کر دیتے ہیں۔ ول ہی نہیں ہے اور ہو کیسے سکتا ہے جب آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان ضرت عائشہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ایسا نہ ہو؟ اور اگر بالفرض مان ہی لیا شگی مراد یہ ہے کہ مقصد ختم نبوت کے بیان کے لئے خاتم النبیین بھی کو ختم کرنے والا ہیں پھر لا نبی بعدہ کہنے سے کسی زندیق کو یہ کہنے کا عیسیٰ ؑ بھی آپ ﷺ کے بعد نہیں آئیں گے۔ حالانکہ حضرت یقینی ہے بہر حال لا نبی بعدی کے روکنے سے حضرت عائشہ مرزائی قسم کو کہا کرتے ہیں کہ اگر نبوت ختم ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ کیسے آسکتے ا ہے کہ نبوت بند ہے اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور کوئی نیا نبی نہیں ں سے حضرت عیسی ؑ کا آ کر اس امت کی خدمت کرنا مقدر ہ یہ فرماتے ہوئے نزولِ عیسیٰ ؑ کے متواتر اور یقینی عقیدہ کو
بچانے کے لئے ہے۔
مرزائی ڈھکوسلے
اس کے سوا مرزائی ایسے بنیادی اور متواتر عقیدہ کے مقابلہ میں عقلی ڈھکوسلے بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ مثلاً نبوت نعمت ہے اس امت پر اس نعمت کا دروازہ کیوں بند کیا گیا ؟۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ونعمت کے بھی اوقات ہیں۔ اس نے سب کے لئے مناسب مناسب مقام تجویز کئے ہیں۔ اس دنیائے فانی میں جس کو آغاز ہے اس کو انجام ہے۔ نبوت کے ذریعہ انسانیت کی تکمیل وتعلیم مقصود تھی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں آخری شکل تک پہنچ کر مکمل ہوگئی تو نبوت بھی ختم ہوگئی اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔
مرزائیوں کے باقی دلائل کے بارے میں قطعی فیصلہ
مرزائی اجراء نبوت کے لئے کبھی کبھی بعض آیتیں اور بعض حدیثیں پیش کر کے ان میں اپنے طبع زاد نئے معانی پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارا ایک ہی فیصلہ ہے کہ مرزائی جو آیت اور یا حدیث بھی پیش کریں۔ ان میں سے کسی ایک کے ذیل میں امت محمدی کے کسی مجدد کسی محدث کسی امام حدیث یا امام فقہ یا کسی ایک مفسر کا یہ قول بھی پیش کر دیں کہ اس آیت یا حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کے بغیر جو پہلے کے نبی ہیں اور کسی کو نبوت مل سکے گی یا آنحضرت ﷺ کی متابعت سے نبی بنا کریں گے۔ مرزائی سلف صالحین میں سے قیامت تک کسی کا ایسا قول نہیں بتا سکتے۔ اس کے برعکس ایسے اقوال سینکڑوں ملیں گے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہے جو شخص نبوت اور وحی کا دعویٰ کرے وہ با تفاق امت ، مرتد ، ملحد اور قطعی کافر ہے۔
پھر جب کسی صحیح حدیث یا آیت قرآنی سے سلف صالحین نے مرزائی معنی نہیں سمجھے تو اس کو پیش کرنا اور اپنے معانی کرنا خارج از بحث ہے۔
نئے معانی الحاد و زندقہ ہیں
اور ہم عرض کر چکے ہیں کہ قرآن کے الفاظ جس طرح آسمانی ہیں اس کے معنی بھی وحی کے ذریعہ بیان ہوئے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے امت تک پہنچا دیئے ہیں۔ الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام قرآن ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خدا تعالیٰ نے لیا ہے۔ پس اگر الفاظ قرآن کا بدلنا تحریف اور کفر ہے اسی طرح منقولہ معانی کے سوا نئے معانی کرنا جو منقولہ سے متصادم ہوں ۔ تحریف معنوی اور کفر ہے اور اگر تیرہ سو سال کے مسلمہ اور متواتر منقول معانی کا اعتبار نہیں اور وہ
غلط ہو سکتے ہیں تو اس سے دین کی ساری عمارت ہی گر جائے گی اور اگر تیرہ سو سال کے ہزاروں علماء محدثین و مفسرین کے معانی آج غلط ہو سکتے ہیں تو جو معنی آج کئے جاتے ہیں وہ دس بیس سال کے بعد کیوں غلط نہیں ہو سکتے؟ ۔ اس طرح تو دین ایک کھلونا بن کے رہ جائے گا۔ اسی لئے سلف صالحین کے معانی کے سوا کوئی نیا معنی گھڑنا یقیناً الحاد اور زندقہ ہے۔ جیسے صلوٰۃ کے مشہور معنی کی جگہ صرف دعا مراد لینی ۔ حالانکہ دعا بھی صلوٰۃ کا معنی ہونا قرآن سے ثابت ہے۔
لیکن اقیموا الصلوٰۃ کا معنی وہی مخصوص طرز کی عبادت لیا جائے گا جو سلف سے منقول ہے۔ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم خاتم النبیین مانتے ہیں۔ لیکن اس کا معنی یہ ہے کہ صرف وہی نبی نہیں آ سکتے جو آنحضرت ﷺ کی متابعت کے بغیر نبی ہوں تو ان کا یہ کہنا اسی طرح ہے کہ ہم صلوٰۃ فرض جانتے ہیں۔ لیکن اس کا معنی صرف دعا کے ہیں۔ بہر حال مرزائی اپنے کسی استدلال کے ساتھ سلف صالحین کی تائید پیش نہیں کر سکتے۔
بقاء ختم نبوت کی بحث ، مرزائیوں کا صرف ساحرانہ فعل ہے
اور اگر حقیقت پر نظر کی جائے تو یہ بحث کہ نبوت ختم ہے یا قیامت تک باقی ہے یا اور تو ختم تھی۔ لیکن ایک مرزا قادیانی کی اینٹ باقی تھی۔ یہ تمام بحث لغو و دور از کار اور بے کار محض ہے۔ یہ بحث تو تب مفید ہو سکتی کہ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی، آنحضرت ﷺ کی شدت متابعت سے نبی بنا ہوتا اور بھی ہزاروں عاشقانِ محمدی نبی بنے ہوتے۔ صحابہ کرامؓ میں سینکڑوں نبی بنے ہوتے۔ حضرت خواجہ اجمیریؒ یا حضرت سید عبد القادرؒ جیلانی ، حضرت مجدد الف ثانیؒ نیز آئمہ دین سے لا تعداد پیغمبر بنے ہوتے۔ صرف ایک مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود کے لئے یہ بحث کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نئے نبی آ سکتے ہیں یا نہیں ۔ تمام آیات و احادیث کی چھان بین کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ خود مرزا قادیانی بھی مانتا ہے کہ تیرہ سو سال میں میرے سوا کوئی نبی نہیں بنا۔ یہ بحث تو مرزائی لوگ مسلمانوں کو الجھانے اور علمی مباحثات کی دلدل میں پھنسانے کے لئے کرتے ہیں اور بہت سے ناسمجھ مسلمان اس جادو کے شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ورنہ درحقیقت خود مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت اور اجرائے نبوت کی بحثوں میں اپنی کامیابی نہیں سمجھی ۔ بلکہ نزولِ عیسیٰؑ کی متواتر روایات کی آڑ لی ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ کر کے اس نے آخری پناہ گاہ بس صرف نزولِ مسیح کی احادیث کو قرار دیا ہے۔ یہی مرزائیوں کا آخری یہودیانہ قلعہ ہے۔ پس اگر مرزا کو مسیح ہی بننا ہے اور وہ بھی نزولِ مسیح کی احادیث کا مصداق بن کر تو اس کے لئے وہ تمام بحثیں کہ نبوت ختم ہے یا باقی ہے۔ خاتم کا کیا معنی ہے اور النبیین سے کیا مراد ہے؟ ، ظلی نبی ، بروزی
نبی، مستقل نبی، تشریعی نبی ، غیر تشریعی نبی ، عکسی نبی ، فـ لاطائل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بحث تو صرف یہ رہ جاتی ہـ مسیح ہے؟ یا یہ خود ساختہ مسیح ہے؟ جیسے پہلے خود ساختہ مـ
مرزا قادیانی کا اصلی دعویٰ
دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کے اصلی ہوئی ہے اور اسی لئے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے مرـ دعویٰ کے سلسلہ میں خلجان ہوا اور بالآخر دو گروہ ہو گـ مجدد اور یہ دونوں مسیح کے دعویٰ میں آ کر مل جاتے ہـ کی طرح بہتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن مسلمانوں میں نا قناعت کرنے میں کوئی زیادہ کامیابی نظر نہ آئی ۔ خاص گروہ نہیں بن سکتا تھا۔ اس نے آہستہ سے الہـ کیا۔ جس سے ازالہ اوہام تک کی کتابیں بھری پڑی مسلمہ عقیدہ حیات مسیح کی تردید میں بڑی محنت کر ڈا بھی انکار کیا۔ (ملفوظات ج ٩ ص ٤٥٩) اور چونکہ قابلیت نہ تھی۔ اس لئے مسیح عیسیٰ بن مریم کے معجزا ان کو صرف مسمریزم قرار دیا جیسا کہ ازالہ اوہام مـ اپنے استعمال شراب کی وجہ سے کشتی نوح ص ٢٦ شرابی قرار دیا۔ اور چونکہ خود مرزا قادیانی ”بھانڈ کرتا تھا۔ (سیرت المہدی ص ٢١٠ ج ٣) اس لئے فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان سے عطـ لیکن چونکہ روح اللہ بننا کافی مشکل تھا۔ اس لئے بروزی ، عکسی ، مجازی ، تابعی ، غیر تشریعی اور امتی یہاں بھی دال گلتی نظر نہ آئی۔ تو ایک نیا دام بچھایا
آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں
آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا مسئلـ
نبی، مستقل نبی، تشریعی نبی، غیر تشریعی نبی، عکسی نبی، فنا فی الرسول نبی، تابعی نبی، یہ سب بحثیں طول لا طائل ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ بحث تو صرف یہ رہ جاتی ہے کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی واقعی آنے والا مسیح ہے؟ یا یہ خود ساختہ مسیح ہے؟ جیسے پہلے خود ساختہ مجدد بنا۔ پھر مثیل مسیح بنا پھر خود ساختہ پیغمبر بنا۔
مرزا قادیانی کا اصلی دعویٰ
دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کے اصلی دعویٰ کی تفتیش میں جو مرزائیوں کو مشکل پڑی ہوئی ہے اور اسی لئے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے کے بعد جلد ہی اس کے مریدوں کو اس کے دعویٰ کے سلسلہ میں خلجان ہوا اور بالاخر دو گروہ ہو گئے ۔ ایک نے اس کو نبی قرار دیا۔ دوسرے نے مجدد اور یہ دونوں مسیح کے دعویٰ میں آ کر مل جاتے ہیں۔ یہاں سے دونوں کا کفر اکٹھا ہو کر گنگا جمنا کی طرح بہتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعویٰ کو جان بوجھ کر گورکھ دھندہ بنایا ۔ پہلے اس نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن مسلمانوں میں ناسمجھ افراد کی کثرت کو دیکھ کر اس کو اس مقام پر قناعت کرنے میں کوئی زیادہ کامیابی نظر نہ آئی ۔ کیونکہ اس سے براہ راست ماننے والوں کا کوئی خاص گروہ نہیں بن سکتا تھا۔ اس نے آہستہ سے الہام و وحی کا اور اس کے ساتھ ہی مثیل مسیح کا دعویٰ کیا۔ جس سے ازالہ اوہام تک کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ اگر چہ اس کو اصل مسیح کے انکار اور مشہور و مسلمہ عقیدہ حیات مسیح کی تردید میں بڑی محنت کرنی پڑی اور اسی کے ذیل میں معراج جسمانی سے بھی انکار کیا ۔ (ملفوظات ج٩ ص ٤٥٩) اور چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی میں تو مسیحانہ معجزات کی قابلیت نہ تھی۔ اس لئے مسیح عیسیٰ بن مریم کے معجزات کا بھی نہایت ہی کافرانہ طرز پر مذاق اڑایا اور ان کو صرف مسمریزم قرار دیا جیسا کہ ازالہ اوہام ص ٣٠٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ میں تصریح ہے اور اپنے استعمال شراب کی وجہ سے کشتی نوح ص ٦٦ ، خزائن ج ١٩ ص ٧١ میں مسیح عیسیٰ بن مریم کو بھی شرابی قرار دیا۔ اور چونکہ خود مرزا قادیانی ”مہا ٹو“ وغیرہ عورتوں سے مٹھیاں بھرواتا اور خدمتیں لیا کرتا تھا۔ (سیرت المہدی ص ٢١٠ ج ٣) اس لئے مسیح عیسیٰ بن مریم پر یہ الزام لگایا کہ وہ نا محرم اور فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان سے عطر ملواتے تھے۔ ( دافع البلاء ص ٤ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ ) لیکن چونکہ روح اللہ بننا کافی مشکل تھا۔ اس لئے نبوت کا سلسلہ جنبانی بھی جاری رکھی ۔ قوم کو ظلی، بروزی، عکسی، مجازی، تابعی، غیر تشریعی اور امتی نبی کی لا طائل بحثوں میں الجھائے رکھا اور جب یہاں بھی دال گلتی نظر نہ آئی ۔ تو ایک نیا دام بچھایا۔
آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں
آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا مسئلہ ایجاد کیا۔ بعثت اولیٰ میں آپ کا نام محمد ﷺ تھا۔
بعثت ثانیہ میں احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) بعثت اولیٰ میں آپ ہلال تھے اور بعثت ثانیہ میں بدر کامل ۔ بعثت اولیٰ اسم محمد کے جلالی ظہور کا زمانہ تھا اور بعثت ثانیہ اسم احمد کے جمالی ظہور کا زمانہ اور اسی لئے اس دور میں جہاد کی منسوخی بھی ضروری سمجھی۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کو بعینہ آنحضرت ﷺ قرار دیا اور اعلان کیا کہ میرا کسی نئی نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ میری نبوت وہی محمدی نبوت ہے اور محمد کی نبوت محمد ہی کو ملی نہ کسی اور کو۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص١٢ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦) العیاذ باللہ تعالیٰ !
جب مرزا غلام احمد قادیانی نے کھلم کھلا آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں قرار دے کر اپنے کو دوسری بعثت کا مصداق قرار دیا تو یوں مرزائیوں کو یہ کہنے کا حق دیا کہ:
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦)
جب یہ مرزا غلام احمد قادیانی وہی محمد ہیں جو تیرہ سو سال پہلے ہلال کی شکل میں تھے تو اب بدر کامل ہونے کی وجہ سے پہلی حالت سے بدرجہ کمال پہنچے ہوئے ہیں۔ اس طرح دجالانہ انداز سے اسلام میں دو بعثتوں کا نیا فلسفہ ایجاد کر کے سردار دو جہاں ﷺ کے مسند پر خود قبضہ کرنے کی منحوس سعی کی۔ لیکن جب اندازہ لگایا کہ عامۃ المسلمین انگریزوں کے ایک خاندانی اور پشتینی وفادار حرمت جہاد کے قائل انگریزوں کو بیس بیس صفحوں کے خوشامدانہ خطوط لکھنے والے، مختاری فیل مخرب اسلام کو یہ درجہ دینے کو تیار نہیں ہیں تو بالآخر دوبارہ نزول مسیح کی روایات کی آڑ لے کر مستقل طور پر مسیح موعود بننے کا فیصلہ کیا۔ پھر بھی مرنے تک عین محمد بن کر محمد کی نبوت پر قبضہ کرنے کا خیال ترک نہیں کیا۔ جیسا کہ ایک غلطی کا ازالہ (حوالہ بالا ) میں درج ہے۔ تاکہ جس شخص کی سمجھ میں جو بات آجائے اسی راہ سے حلقہ مریدین میں داخل ہو جائے۔ اگر کوئی مسیح سمجھ کر آتا ہے آئے۔ کوئی نبی اور عین محمد سمجھ کر آتا ہے آئے۔ بلکہ اس نے اور بھی پوری طرح نظر دوڑائی کہ اگر کسی اور آنے والے کی کوئی پیش گوئی ہو تو اس کو بھی اپنے اوپر چسپاں کروں۔ چنانچہ اچانک اس کو ایک حدیث مل گئی کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو بھی اس کو اہل فارس کا ایک آدمی حاصل کرے گا۔ عام امت نے اس کا مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کو سمجھا۔ بہر حال کوئی بھی اس کا مصداق ہے۔
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کو بھی اپنے اوپر چسپاں کر لیا کہ رجل فارس میں ہی
مرزا غلام احمد قادیانی) بعثت اُولیٰ میں آپ ہلال تھے اور بعثت ثانیہ میں بدر کے جلالی ظہور کا زمانہ تھا اور بعثت ثانیہ اسم احمد کے جمالی ظہور کا زمانہ اور مادی منسوخی بھی ضروری سمجھی۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کو کر دیا اور اعلان کیا کہ میرا کسی نئی نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ میری نبوت وہی یا نبوت محمد ہی کو ملی نہ کسی اور کو۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
غلام احمد قادیانی نے کھلم کھلا آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں قرار دے کر اپنے کو قرار دیا تو یوں مرزائیوں کو یہ کہنے کا حق دیا کہ:
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)
غلام احمد قادیانی وہی محمد ہیں جو تیرہ سو سال پہلے ہلال کی شکل میں تھے تو چاند سے پہلی حالت سے بدرجہ کمال پہنچے ہوئے ہیں۔ اس طرح دجالانہ امنگوں کا نیا فلسفہ ایجاد کر کے سردار دو جہاں ﷺ کے مسند پر خود قبضہ لیکن جب اندازہ لگایا کہ عامۃ المسلمین انگریزوں کے ایک خاندانی اور کے قاتل انگریزوں کو بیس بیس صفحوں کے خوشامدانہ خطوط لکھنے والے، یہ درجہ دینے کو تیار نہیں ہیں تو بالاخر دوبارہ نزول مسیح کی روایات کی آڑ لینے کا فیصلہ کیا۔ پھر بھی مرنے تک عین محمد بن کر محمد کی نبوت پر قبضہ لیا۔ جیسا کہ ایک غلطی کا ازالہ (حوالہ بالا) میں درج ہے۔ تاکہ جس چاہے اُسی راہ سے حلقہ مریدین میں داخل ہو جائے۔ اگر کوئی مسیح سمجھ اور عین محمد سمجھ کر آتا ہے آئے۔ بلکہ اس نے اور بھی پرانے آنے والے کی کوئی پیش گوئی ہو تو اس کو بھی اپنے اوپر چسپاں کروں۔ چنانچہ آ گئی کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو بھی اس کو اہل فارس کا ایک آدمی نے اس کا مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کو سمجھا۔ بہر حال کوئی
مرزا قادیانی نے اس کو بھی اپنے اوپر چسپاں کر لیا کہ رجل فارس میں ہی
ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو پیش گوئیوں کا مصداق بننے کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کو رجل فارس بننے کے شوق میں اپنی مشہور قومیت اور ذات مغل بدلنی پڑی اور کہنا پڑا کہ اگرچہ مشہور اور متواتر ثبوت کے لحاظ سے تو ہماری قومیت مغل ہے۔ لیکن الہام مجھے فارسی النسل ثابت کرتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کی مذہبی پختگی اور علماء اسلام کی باطل شکن مساعی کے مقابلہ میں اپنے مشن کو کمزور پا کر ہندوؤں اور سکھوں کی طرف بھی رخ کیا۔ کرشن بنے۔ جے سنگھ بہادر بنے۔ گرونانک کو مسلمان ثابت کیا۔ اگر سکھ قوم ہی اس کو اپنا جے سنگھ مان لیتی تو مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے یہی کافی تھا۔ مگر وائے حسرت کہ نہ سکھوں نے جے سنگھ تسلیم کیا۔ نہ ہندوؤں نے کرشن اوتار مانا۔ نہ مسلمانوں نے مسیح اور نبی اور نہ کسی نے رجل فارس مانا۔ مرزا غلام احمد قادیانی وہی مغل کا مغل اور کافر کا کافر رہ گیا۔
بہر حال چونکہ مرزا قادیانی کو اپنے دلائل کا بودا پن خود معلوم تھا۔ اس لئے وہ کسی ایک مقام پر ڈٹ کر قائم نہیں رہ سکا اور اس نے نبوت مجدد اور مسیح کی تینوں بحثوں کو کسی نہ کسی رنگ میں مرنے تک کھینچا اور اپنے دعویٰ کو گورکھ دھندہ بنایا۔ تاہم اس نے آخر کار پورا زور آنے والے مسیح بننے پر صرف کر دیا ہے۔ اس طرح سے اس کو خاصی آسانی نظر آئی۔ کیونکہ پرانے عقیدہ کی برائی اور بطلان کو وہ مغرب زدہ نئی روشنی والوں کے سامنے آسانی سے بیان کر سکتا تھا اور اس طرح اس کو سرکاری امداد کے سوا انگریزی پڑھے لکھے آدمیوں کی ایک تعداد ہاتھ آ گئی جو پہلے سے ہی اپنی عقل کے مقابلہ میں نقل کو کوئی حیثیت نہ دیتے تھے۔
عقل سلیم اور نقل صحیح
اگرچہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ دین کی کوئی حقیقت اور اسلام کا کوئی مسئلہ عقل کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں دو طرفہ ایک شرط کی ضرورت ہے۔ نقل کے لئے ضروری ہے کہ وہ صحیح ہو۔ قرآن پاک کی آیت ہو یا ائمہ جرح وتعدیل اور ائمہ حدیث کی توثیق و تصدیق سے ثابت ہو کہ یہ آنحضرت ﷺ کا فرمودہ ہے۔ اسی طرح آیت اور حدیث کے مفہوم کے بارہ میں یہ ثابت ہو کہ تابعینؒ ، صحابہؓ نے یہی مفہوم بیان کیا جو وہ آنحضرت ﷺ سے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ بس نقل کے لئے تو یہ لازم ہے اور عقل کے لئے یہ شرط ہے کہ عقل سلیم ہو۔ ایسی نقل صحیح اور عقل سلیم میں تو اختلاف ناممکن ہے۔ لیکن اگر ایک طرف کوئی بے سند قول یا ضعیف روایت یا ضعیف قول پیش کر کے اس کو آنحضرت ﷺ یا صحابیؓ کی طرف منسوب کیا جائے تو ضروری نہیں کہ یہ عقل سلیم کے موافق ہو۔ بلکہ ایسی بات نقل صحیح کے بھی مزاحم ہو گی۔ دوسری
طرف ہر ایرا غیرا نتھو خیرا بکے کہ میری عقل ہی سلیم ہے۔ میں اپنی عقل کے خلاف کوئی نقل نہیں مانوں گا۔ اس سے بڑا احمق کون ہے؟۔ جب خود اسی قسم کے دوسرے بیسیوں عقلاء اس کے خلاف کہتے ہوں تو اب ان میں سے کس کی عقل کو عقل سلیم کہا جائے گا۔ آج حالت یہ ہے کہ نئے فلسفہ نے پرانے فلسفے کے نظریات کو باطل قرار دے دیا جن پر کل کے عقلاء اور فلاسفروں کو ناز تھا اور نت نئے نئے نظریے قائم ہوتے ہیں جو پرانے نظریوں کی تردید کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہزاروں ایسے بندے پیدا فرمائے ہیں جن کو سلامت عقل اور اعتدال مزاج عطا فرمایا ہے ان کو اسلام کا کوئی حکم عقل کے خلاف نظر نہیں آتا۔
نقل کا اعتماد
عقل کا آخری درجہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ مشاہدہ کے خلاف کوئی چیز ماننے کے قابل نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جو خدا اور رسول کے فرمان کے مقابلہ میں اپنے مشاہدہ کی بھی تردید کرتے ہیں۔ اس میں راز یہ ہے کہ نقل کی انتہاء پیغمبر ﷺ پر ہوتی ہے اور ان کا فرمانا مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔ مشاہدہ بھی ایسا کہ اس میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہوتا۔
پیغمبر کے اصحاب ان حالات کا بہ چشم خود ملاحظہ کرتے ہیں جو پیغمبر کو ان کے سامنے نزول وحی ، نزول ملائکہ ، صدور معجزات ، نصرت غیبی وغیرہ کے پیش آتے رہے ہیں اور پیغمبر کی صحبت و قرب کی وجہ سے ان کے قلوب کی کیفیات اور ایمانی و یقینی احساسات عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنی نظر اور مشاہدہ کی غلطی کا امکان مانتے ہیں جس طرح ریل کا مسافر زمین کو چلتے دیکھتا ہے۔ لیکن وہ نبی کے فرمودہ میں کسی قسم کا شک نہیں کر سکتے اور نبی کا فرمان یقیناً مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ زندہ خدا سے پاتا اور حقائق اشیاء کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھتا اپنے مشاہدہ پر یقین رکھتا اور اسی یقین کی روشنی میں چلتا اور اسی کی طرف بندگان خدا کو دعوت دیتا ہے۔ اگر پیغمبر کی اس رسولانہ شان اور خدا سے لے کر بندوں تک پہنچانے کا عجیب و غریب پنہاں در پنہاں کاروبار کو نہ مانا جائے تو دین و ایمان کی عمارت کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے اور اگر اس ابتدائی ضرورت اور ابتدائی مرحلہ کو مان لیا جائے تو پھر پیغمبر کی ہر بات ماننی پڑے گی اور اگر یقیناً ثابت ہو کہ پیغمبر کا منشاء یہی ہے تو بس وہی بات حقیقت اور عقل سلیم کا مقتضیٰ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب معراج شریف کا چرچا ہوا۔ ابو جہل وغیرہ نے کہا کہ اب محمد ﷺ کے صحابہ کو گمراہ کرنے کا خوب موقعہ ملے گا۔ انہوں نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک رات میں مکہ سے بیت المقدس اور آسمانوں تک آ ، جا سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا نہیں ۔ ابو جہل بولا تیرا
کہے کہ میری عقل ہی سلیم ہے۔ میں اپنی عقل کے خلاف کوئی نقل نہیں کون ہے؟۔ جب خود اسی قسم کے دوسرے بیسیوں عقلاء اس کے خلاف سے کس کی عقل کو عقل سلیم کہا جائے گا۔ آج حالت یہ ہے کہ نئے فلسفہ ت کو باطل قرار دے دیا جن پر کل کے عقلاء اور فلاسفروں کو ناز تھا اور نت تے ہیں جو پرانے نظریوں کی تردید کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں جن کو سلامت عقل اور اعتدال مزاج عطا فرمایا ہے ان کو اف نظر نہیں آتا۔
درجہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ مشاہدہ کے خلاف کوئی چیز ماننے کے قابل نہیں ایسے بندے بھی ہیں جو خدا اور رسول کے فرمان کے مقابلہ میں اپنے ہیں۔ اس میں راز یہ ہے کہ نقل کی انتہاء پیغمبر ﷺ پر ہوتی ہے اور ان کا مشاہدہ بھی ایسا کہ اس میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ ب ان حالات کا یہ چشم خود ملاحظہ کرتے ہیں جو پیغمبر کو ان کے سامنے د، معجزات، نصرت غیبی وغیرہ کے پیش آتے رہے ہیں اور پیغمبر کی ن کے قلوب کی کیفیات اور ایمانی ویقینی احساسات عام انسانوں سے سے وہ اپنی نظر اور مشاہدہ کی غلطی کا امکان مانتے ہیں جس طرح ریل کا ۔ لیکن وہ نبی کے فرمودہ میں کسی قسم کا شک نہیں کر سکتے اور نبی کا فرمان وہ زندہ خدا سے پاتا اور حقائق اشیاء کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھتا اپنے یقین کی روشنی میں چلتا اور اسی کی طرف بندگان خدا کو دعوت دیتا ہے۔ ن اور خدا سے لے کر بندوں تک پہنچانے کا عجیب وغریب پنہاں ئے تو دین وایمان کی عمارت کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے اور اگر اس مرحلہ کو مان لیا جائے تو پھر پیغمبر کی ہر بات ماننی پڑے گی اور اگر یقیناً ہے تو بس وہی بات حقیقت اور عقل سلیم کا مقتضیٰ بھی ہے۔ یہی وجہ کا چرچا ہوا۔ ابو جہل وغیرہ نے کہا کہ اب محمد ﷺ کے صحابہ کو گمراہ ۔ انہوں نے حضرت ابو بکرؓ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک رات میں سمانوں تک آ، جا، سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا نہیں۔ ابو جہل بولا تیرا
ساتھی تو آج یہ کہہ رہا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے۔ کہا کہ ہاں۔ تو فرمایا پھر حق ہے ضرور ہوا ہے۔ وہ تو اس سے اوپر کی باتیں بتاتے ہیں۔ اس دن سے حضرت ابو بکرؓ کا نام صدیق پڑ گیا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کروڑوں عقلاء وحکماء کی عقول کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا مشکل پڑ جاتا ہے کہ کس کی عقل، عقل سلیم ہے۔ لیکن اگر نقل صحیح ہاتھ آ جائے تو یہ مان لینا کہ یہی عقل سلیم کا بھی فتویٰ ہے بہت آسان ہے۔
لیکن عقل پر گھمنڈ کرنے اور تہذیب نفس نہ ہونے کی وجہ سے اکثر افراد انبیاء علیہم السلام کے فیض سے محروم ہو کر ابدی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ افلاطون کا یونان میں چرچا تھا۔ وہ خواص الاشیاء اور نبض وغیرہ کے کمال کی وجہ سے اپنے پڑوس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی کے کرشمہ تک سے محروم رہا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات زیادہ تر افلاطون کے فن حکمت سے ملتے جلتے تھے۔ وہ اپنے فن کے غرور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملا تک نہیں۔ آج بھی جو لوگ دنیاوی علوم حاصل کرتے ہیں۔ ان علوم کے کمال کا کیا کہنا وہ تو علوم انبیاء علیہم السلام کو خاطر ہی میں نہیں لاتے جو لوگ دینی علوم بھی بغیر کسی روحانی درسگاہ اور ایسے ذرائع سے حاصل کرتے ہیں جو مشکوۃ نبوت کے نور سے منور نہ ہوں۔ وہ بھی نقل میں اپنی عقل کو دخل دے کر دین کو ایک معجون مرکب بنانا چاہتے ہیں۔
عامتہ المسلمین کا عقیدہ
چونکہ عامتہ المسلمین کا عقیدہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک سے آج تک یہی چلا آ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ چالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ اس وقت تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ یہودی ونصرانی بھی ان کو مانیں گے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے۔ انہی کی شریعت کو چلائیں گے۔ وہ اپنی طرف سے اصالۃً اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرف سے نیابۃً حسب آیت ’لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ‘ آل عمران: ٨١، آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ ﷺ کی امت کی مدد فرمائیں گے۔ آخر کار وفات پا کر مدینہ شریف میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔ اپنی زندگی میں حج فرمائیں گے۔ شادی کریں گے۔ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے فلسفہ قدیم و جدید کی آڑ لے کر مسیح کی طولانی حیات، آسمانی
زندگی اور احیاء موتی کے معجزے کے خلاف جی بھر کر انگریزی خوانوں کو اکسانے اور علماء امت کو مشرک، یہودی صفت ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جن کو انگریزی سرکار نے ١٨٥٧ء کے بعد سے ہی بدنام کرنے کی کوشش کر رکھی تھی۔ دونوں باتیں انگریزی خوانوں کو اپیل کرتی تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حیات و وفات مسیح کے مسئلہ کو ایسا گرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے سے عیسائی مذہب کی موت ہے اور غرض یہ تھی کہ ان کی موت ثابت کر کے خود مسیح بننا آسان ہو جاتا ہے۔
مرزا قادیانی یہود و نصاریٰ کے قدم پر
کہا تو یہ جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے سے عیسائی مذہب ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرتی ہے۔ اس سے نصاریٰ اور یہود دونوں کے نظریوں کی تائید ہوتی ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے۔
یہودی عقیدہ: کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے ایک مکان میں گرفتار کر لیا۔ اس کی مشکیں باندھیں۔ اس کو سولی پر چڑھایا اور پھر قتل کر دیا۔
نصاریٰ کا عقیدہ: نصاریٰ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا۔ ان کو سولی پر چڑھایا اور تمام تکلیفیں دے کر ان کو قتل کر دیا۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے لئے سولی پر چڑھ کر کفارہ ہو گئے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تین دن کے بعد قبر سے جی اٹھے اور اپنے شاگردوں کے سامنے آسمان پر چلے گئے۔
مسلمانوں کا عقیدہ: یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ رہے تھے۔ ان کی تدبیر تھی کہ ایک شاگرد کی جاسوسی سے ان کو گرفتار کر کے سولی دے دیں اور قتل کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو شاگرد جاسوسی کر رہا تھا۔ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت پر کر دیا اور مکان کی ایک کھڑکی سے جبرائیل علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ یہودیوں نے مکان میں کسی اور کو نہ پا کر اور شاگرد کو ہی عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اس کو سولی دے دی اور قتل کر ڈالا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری تو بھاگ گئے تھے اور کوئی عیسائی موجود ہی نہ تھے۔ اس لئے ان کا تو سارا عقیدہ اور نظریہ ظن و تخمین اور سنی سنائی باتوں پر قائم ہے۔ یہودی اگرچہ ایک تعداد میں موجود تھے۔ لیکن مکان میں صرف ایک آدمی کی موجودگی اور اس کے چیخنے چلانے کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں یہودی بھی بڑے ڈانواں ڈول ہوئے۔ بہر حال انہوں نے اسی ہم شکل کو صلیب دے دی اور
اعلان کر دیا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر ڈالا۔
یہودی مغضوب علیہم: یہودی تو اسی طرح پیغمبروں کو قتل کرتے چلے آئے تھے۔ اس لئے وہ پرانے مغضوب علیہم تھے۔ لیکن دعویٰ قتل مسیح کی وجہ سے بھی ان پر پھٹکار ہوئی۔
نصرانی گمراہ: نصاریٰ نے یہ عقیدہ گھڑ کر کہ یسوع مسیح ہم سب کے گناہوں کا کفارہ ہونے کے لئے سولی پر چڑھے ہیں۔ حقیقت سے دور جا پڑے اور گمراہ ہوئے اور ساتھ ہی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا اور اس کی ماں مریم کی پوجا بھی کی۔ چنانچہ قیامت میں اللہ تعالیٰ دونوں کے بارہ میں سوال کرے گا: ”أأنت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ ، المائدہ: ١١٦ “ ﴿کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ میری اور میری ماں کی پوجا کرو۔ ہمیں خدا بنالو۔﴾
قرآن کی حیثیت: قرآن پاک جہاں نئی شریعت لایا ہے وہاں وہ اہلِ کتاب کے اختلاف کے درمیان فیصلے بھی کرتا ہے۔ اس طرح قرآن پاک تمام غلط عقائد کی تردید بھی کرتا ہے جو بھی اہل کتاب نے ایجاد کئے۔ مثلاً تثلیث، ابنیت ، الوہیت اور کفارہ کا مسئلہ اور قرآن پاک ان مسائل وعقائد کو بحال رکھتا ہے جو صحیح ہوں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور خدائی مدد
جب یہود مندرجہ بالا تدبیر کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں ذکر فرمایا: ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین ، آل عمران: ٥٤ ﴿یہود نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر کی جو بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔﴾ اور پھر قیامت کے دن اپنے احسانات جتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خطاب فرمائے گا: ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک ، المائدہ: ١١٠ “ ﴿اور یاد کر اس وقت کو جبکہ روکے رکھا ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے۔﴾ یعنی یہودیوں کو تجھ تک پہنچنے بھی نہ دیا۔
مرزائی عقیدہ
یہودی، نصرانی اور عام مسلمانوں کے عقیدہ کے بعد اب مرزا قادیانی کا عقیدہ عرض کرنا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑا۔ اس کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونکیں ۔ اس کو سولی پر چڑھایا۔ اس کی ہڈیاں توڑیں اور اس کو اپنی طرف سے قتل کر ڈالا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کو مقتول سمجھ کر سولی سے اتار ڈالا۔ حالانکہ اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔ وہ سسک رہا
تھا۔ اس کا علاج کیا گیا۔ اس کو یہودیوں سے چھپا کر مرہم پٹی کی گئی۔ مرہم عیسیٰ لگایا گیا۔ چالیس دن یا کم و بیش میں وہ اچھا ہوا۔ وہ وہاں سے روپوش ہو کر بھاگا اور جنگلوں، بیابانوں، پہاڑوں، دریاؤں سے گزرتا ہوا عرصہ دراز کے بعد پنجاب کے راستہ کشمیر پہنچا۔ جہاں اس نے اسی نوے سال چپ چاپ رہ کر گزارے۔ پھر تبلیغ کا نام بھی نہ لیا۔ آخر کار وہیں فوت ہو گئے۔ مریم بھی اس سفر میں ساتھ تھی اور کشمیر کا ذکر خدا نے ربوہ کے نام سے قرآن میں کیا ہے۔ جہاں ماں بیٹے دونوں کو خدا نے پناہ دی۔‘‘
آمدم برسر مطلب
پہلے یہ عرض کیا گیا تھا کہ عیسائیوں کے خدا کو مارتے مارتے مرزا غلام احمد قادیانی خود عیسائیوں بلکہ یہودیوں کے نقش قدم پر چل پڑا۔ یہ بات ہمارے صرف بیان مذاہب سے ہی واضح ہوگئی۔ قرآن پاک مسئلہ کفارہ کی تردید کرتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسیٰؑ کا سولی پر چڑھنا تسلیم کر کے کفارہ کے بنیادی عقیدہ کی تائید کر دی۔ اس سے نصرانیوں کو مدد ملی کہ یسوع مسیح بہرحال ہماری خاطر مرزا قادیانی کے کہنے کے موافق بھی سولی پر چڑھ کر کفارہ ہو گئے۔ ساتھ ہی یہودیوں کی بھی تصدیق کر دی کہ ہم نے عیسیٰؑ کو سولی دی اور قتل کر دیا۔ سولی کو تو مرزا قادیانی نے تسلیم کر ہی لیا اور قتل یوں کہ یہودی جتنا کر سکتے تھے وہ بقول مرزا کے کرچکے۔ جب ایک قوم ایک آدمی کو سولی دے دیتی ہے۔ اس کی ہڈیاں توڑ دیتی ہے۔ اس کے اعضاء میں آہنی میخیں ٹھوک دیتی ہے۔ پھر وہ یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہے کہ ہم نے فلاں کو قتل کر ڈالا۔ خاص کر ایسی صورت میں کہ اس مقتول کا علاج کے ذریعہ بچ جانا ان کو کسی ذریعہ سے معلوم بھی نہ ہوسکے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے لگے ہاتھوں یہودیوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کو بھی شکست دے دی۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر ناکام ہوئی اور یہودی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ صرف ادھ موئے عیسیٰؑ کا علاج کے ذریعہ بچ جانا اس کو اللہ تعالیٰ کی بہترین تدبیر کہنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر یقین نہ رکھتے ہوں۔ اس طرح تو یہودی تدبیر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب رہی کہ عیسیٰؑ کو گرفتار کیا۔ اس کے منہ پر تھوکا۔ ان کی بے عزتی کی۔ اس کا مذاق اڑایا۔ سولی پر چڑھایا۔ میخیں ٹھوکیں۔ اس کی ہڈیاں توڑیں اور جب یقین ہوا کہ اب مر گیا ہے اتار پھینکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اگر ایسا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہ کیسے فرما سکتے ہیں کہ میری فلاں فلاں نعمت یاد کر اور یہ نعمت بھی کہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکے رکھا۔ یعنی تم تک ان کو پہنچنے ہی نہیں
دیا۔ کیا قرآن پاک میں کف کا معنی دوسری جگہ میں یہی نہیں کہ: ”وکف ایدی النـــــاس عنکم ، فتح: ٢٠“ جہاں اللہ تعالیٰ نے کسی کو روکے رکھنے کا ذکر کیا ہے وہاں پھر کسی کا ہاتھ پہنچنے دیا ہے؟۔
مرزا قادیانی کا خود ساختہ عقیدہ
مرزا غلام احمد قادیانی نے واقعہ صلیب اور عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں جو عقیدہ وضع کیا ہے اس سے جیسا کہ بیان ہوا۔ ایک طرف عیسائی عقیدہ کفارہ کی تائید نیز یہودی عقیدہ سولی دینے اور اپنے خیال میں قتل کر دینے کی حمایت اور ساتھ ہی یہود کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ عقیدہ دنیا کی تینوں متعلقہ بڑی قوموں نصاریٰ، یہود اور اہل اسلام کے خلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ یہودی تو سولی دینے کے اور سولی پر ہی قتل ہو جانے کے قائل ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ نہیں ابھی دم نہیں توڑا تھا۔ زندگی کی رمق باقی تھی کہ اتار دیئے گئے اور پھر خفیہ علاج مرہم عیسیٰ سے بچ گئے۔ نصاریٰ جو عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے قائل ہیں وہ بھی سولی پر ان کا قتل ہونا تسلیم کرتے ہیں جو بعد میں زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے اور عام اہل اسلام تو قطعاً سولی پر چڑھنا ہی تسلیم نہیں کرتے۔ نہ گرفتار ہونا اور نہ قتل ہونا۔ مرزا قادیانی نے اس سلسلہ میں تمام دنیا کی مخالفت کی ہے۔
قرآن پاک کا فیصلہ
کم از کم یہ امر سب کا مسلمہ ہے کہ آج سے دو ہزار سال قبل حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سلسلہ میں صلیب کا واقعہ ضرور پیش آیا ہے۔ جس کے بارہ میں یہود بڑے فخر سے مدعی تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دی اور قتل کر دیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا اس بارہ میں اگرچہ اختلاف تھا جیسا کہ عرض کیا جائے گا۔ لیکن عام نصاریٰ قوم نے واقعہ کو تسلیم کرنے کے بعد مسئلہ کفارہ گھڑ لیا اور ان کو دوبارہ زندہ کر کے آسمان پر جانے کا عقیدہ بنا لیا۔ قرآن پاک جو آسمانی کتب اور انبیاء علیہم السلام کے بارہ میں ایسے اختلافات میں فیصلہ کرنے کا مدعی ہے۔ مندرجہ ذیل ایک فیصلہ صادر کرتا ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ یہی وہ قرآنی آیت ہے جس کا مضمون ہی اس واقعہ صلیب کی وضاحت اور بیان حقیقت ہے۔ مگر اس پوری شان اختصار کے ساتھ جو قرآن کے شایان شان ہے۔ ہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا اختلاف وہ تھا جس کا ذکر ان کے ایک مشہور حواری برنباس نے اپنی مرتب کردہ انجیل برنباس میں کیا ہے۔ جس میں صاف طور پر اس کا اقرار ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے جایا گیا اور ان کی جگہ دوسرے ہم شکل آدمی کو صلیب
دی گئی۔ آج بھی یہ انجیل اسلامی عقیدہ کی تائید کر رہی ہے۔
- (١)...... اگر دل میں زیغ اور بصیرت پر تعصب کی پٹی نہیں تو آیت کریمہ اپنے
مفہوم میں بالکل واضح ہے۔ آیت میں یہود کی مذمت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی وجہ سے نہیں کی گئی۔ بلکہ دعویٰ قتل کی وجہ سے۔ وبقولهم! ورنہ آسان تھا کہ کہا جاتا کہ وبقتلهم! آخر بنی اسرائیل نے بعض دوسرے انبیاء قتل کئے ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔
- (٢)...... آیت کے ابتداء ہی میں بتا دیا گیا کہ قتل عام ہے۔ چاہے صلیب کے
ذریعہ ہو۔ چاہے بغیر صلیب کے ہو۔ کیونکہ یہود کا دعویٰ صلیب پر قتل کرنے کا تھا۔ تو صلیب کے قتل کو ابتداء ہی میں صرف قتل کے لفظ سے تعبیر کر کے بتا دیا کہ صلیب کا قتل بھی قتل ہی کہلاتا ہے اور قتل کہہ کر اس سے صلیب کا قتل مراد لے سکتے ہیں۔
- (٣)...... یہود کا دعویٰ قتل ذکر کر کے اللہ تعالیٰ ان کی تردید فرماتے ہیں کہ واقعہ یہ ہے
کہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا۔ یہاں جیسا کہ ان کے دعویٰ کے وقت صرف قتل کا لفظ ذکر فرمایا تھا تردید کے لئے بھی اتنا کافی تھا کہ وہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے یا انہوں نے قتل نہیں کیا۔ اس طرح سولی کے ذریعہ قتل کی بھی تردید ہو جاتی۔ کیونکہ قتل کا لفظ اس کو بھی شامل تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ قتل بھی نہیں سولی پر بھی نہیں چڑھایا۔ سولی کا واقعہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش نہیں آیا (یہاں مرزائیوں کا یہ من گھڑت ترجمہ کتنا بھدا اور غلط ہے کہ نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی دے کر قتل کیا ۔ )
- (٤)...... یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ واقعہ صلیب تو متواتر اور قطعی ہے تو
آخر سولی کس کو دی گئی؟۔ ان کا جواب یہ فرمایا کہ ان کے لئے مشابہ کیا گیا۔ ولکن شبه لهم . نساء:١٥٧“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو تو سولی نہیں دی گئی۔ لیکن واقعہ یوں ہوا کہ مشتبہ بنایا گیا۔ ان کے لیے کہ اس جاسوس حواری کو ان کے ہم شکل کر دیا گیا ہے۔ وہ اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر چڑھا بیٹھے۔ یا یوں کہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا۔ نہ سولی دی۔ البتہ ان کو اشتباہ ہو گیا ۔ (جو ان کی جگہ دوسرے کو قتل کر دیا )
- (٥)...... اختلاف کرنے والے یہود و نصاریٰ کے بارہ میں ارشاد ہے کہ ان کو اس
بارہ میں کوئی یقینی علم نہیں ہے۔ یہ تو ظن و گمان کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ لفی شک منه ! وہ خود شک میں ہیں۔ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہود کو اپنے مبینہ اور مشہور عقیدہ میں خود بھی شک تھا۔ حالانکہ اگر انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر سولی دے کر اپنے خیال میں قتل کر ڈالا تھا۔ مگر قرآن لفی
شك منه ! میں لام تاکید سے فرماتا ہے کہ خود شک میں ہیں۔ شک کی وجہ صرف یہی ہے کہ جو یہودی حاضر تھے وہ حیران تھے کہ اندر دو آدمی تھے۔ اب ایک ہے اور وہ شور مچا رہا ہے کہ میں مسیح نہیں ۔ میں تو فلاں ہوں ۔ مجھے کیوں بے گناہ مارتے ہو ۔ یہودیوں نے اشتباہ میں اس کو سولی پر کھینچ کر اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا۔
- (٦)...... ایک سوال رہ جاتا تھا کہ واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجود
تھے اور ساری کوشش انہیں کو صلیب دینے کی تھی۔ اگر وہ قتل نہیں ہوئے اور سولی پر نہیں چڑھائے گئے تو آخر وہ کہاں گئے۔ اس خاص مقصد کے بیان کی خاطر کہ حضرت مسیح کہاں گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے قتل مسیح کی تردید دوبارہ فرما کر ان کے بارہ میں حقیقت کا یوں اعلان کیا: ”و ما قتلوه یقینا بل رفعه الله اليه ۔ النساء: ١٥٧ “ کہ انہوں نے اس کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔“
ظاہر ہے کہ جس عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب و قتل کی نفی ہے۔ اس عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا ذکر ہے۔ نہ کہ پہلے تو عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر چلا آ رہا تھا اور رفعه الله الیہ میں یکا یک ان کی روح کا ذکر کیا کہ ان کی روح کو اٹھایا۔ بلکہ جس پر قتل واقع ہو سکتا تھا۔ اسی سے قتل کی نفی کر کے اسی کے رفع کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
- (٧)...... اور صاف ظاہر ہے کہ یہ سارا واقعہ صلیب کے وقت کا ہے۔ اسی وقت کے
دعویٰ قتل کی تردید فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب اگر رفع سے روحانی رفع مراد لیا جائے جس کا معنی موت ہے تو یہ تو یہودی قوم کی تائید ہوئی۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے وقت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا معنی ہی یہ ہے کہ یہودی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ پھر یہ کیسا بھدا ترجمہ ہے کہ انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے اس کو مار ڈالا ۔ رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ وہ یہاں سے چھپ چھپا کر بھاگ کر اسی نوے سال بعد کشمیر میں فوت ہوئے خارج از بحث ہے۔ کیونکہ آیت کریمہ واقعہ صلیب اور یہودی تدبیر کے وقت کا فیصلہ سنا رہی ہے کہ وہ اس کو قتل نہیں کر سکے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً بڑے غالب ہیں کہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور حکمتوں والے ہیں کہ کیا کیا اسباب بنائے اور آخر کار کس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا۔ تا کہ طے شدہ اسکیم کے مطابق وہ آخری زمانہ میں امت محمدی کی خدمت کر سکیں۔ بے شک وہ بڑی حکمت والا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ذکر تو واقعہ صلیب اور یہودی تدبیر کے وقت کا ہو کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے۔ ( بلکہ اس کو اللہ
نے اپنی طرف اٹھالیا ) اور بل یعنی ”بلکہ“ کہہ کر اللہ تعالیٰ ٨٠ سال کے بعد کا رفع ذکر کرنے لگ جائیں۔
- (٨)...... ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کبھی مرزائی لوگ رفع کا معنی رفع درجات کرتے
ہیں ۔ بھلا خیال فرمائیں کہ جب آدمی کہتا ہے کہ زید نہیں آیا ۔ یا زید گھر نہیں آیا بلکہ بازار گیا ہے۔ یا یہ کہے کہ زید مرا نہیں بلکہ زندہ موجود ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ بلکہ کے بعد جو مذکور ہوتا ہے وہ ماقبل سے متضاد ہوتا ہے ۔ اب اگر رفع سے روح کی رفع مراد لی جائے جو موت کے وقت ہوتی ہے تو یہ رفع تو قتل کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے ۔ قتل میں بھی روح کا رفع ہوتا ہے ۔ اس طرح اگر رفع سے مراد درجات کی رفع مراد ہو تو رفع درجات بھی قتل کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے ۔ بلکہ شہید ہونے کی صورت میں درجہ زیادہ بلند ہوتا ہے ۔ پھر لفظ بل کا مابعد ، ما قبل سے متضاد نہ ہوا۔
- (٩)...... مرزائیوں نے بل رفعه الله الیه ! میں الیہ کے لفظ میں بھی کیڑے
نکالنے کی کوشش کی ہے کہ خدا آسمان میں تو نہیں ہے کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا کا مطلب آسمان پر لیجانا سمجھا جائے ۔ اگر چہ ہمارا مقصد حیات عیسیٰ علیہ السلام تک محدود تھا۔ لیکن پھر بھی ان کے وسوسے کا جواب دینا ضروری ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ زمین یا آسمان میں ہونا یا عرش پر مستوی ہونا ۔ یا خالق کا مخلوق سے تعلق یا کائنات سے معیت یا اس کا احاطہ یہ ذات و صفات کے نازک مسائل میں سے ہے جو مادی حواس اور انسانی عقل کی حدود سے باہر ہیں تاہم آسمان کی طرف اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن و حدیث میں عموماً کی گئی ہے۔
مثلاً یہ آیت: قد نرى تقلب وجهك في السماء ، بقرہ: ١٤٤ ﴿ کہ ہم آپ کا بار بار آسمان کو دیکھنا ۔﴾ وحی کے انتظار میں دیکھ رہے ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد ہے کہ : ”ء امنتم من في السماء ان يخسف بكم الارض ، الملك ١٦ ﴿ کیا تم اس خدا سے بے خوف ہو گئے جو آسمان میں ہے کہ کہیں تمہیں زمین میں دھنسا دے ۔﴾
- (١٠)...... اگرچہ پہلی آیت ختم ہو گئی ۔ لیکن مضمون ابھی باقی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ
نے اسی مضمون پر عطف کر کے اور اس کے ساتھ موڑ کر واو سے شروع کر کے آگے ارشاد فرمایا کہ: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ، النساء: ١٥٩ ﴿ کہ مستقبل میں کوئی اہل کتاب نہ رہے گا۔ مگر اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لانا پڑے گا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے: ”نباشد هیچ کس
از اهل کتاب الا البته ایمان آرد بـ
خدائی فیصلے کا خلاصہ
ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ غلط ہے ۔ نصاریٰ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کـ بعد دوبارہ زندہ ہو کر وہ آسمان پر چلے ۔ مریم کی تذلیل ، اس کے سولی اور قتل کر میں بہترین تدبیر کرنے والا ہوں ۔ وہ مـ نے تو ان کے ہاتھ بھی عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچـ منہ تکتے رہ گئے ۔ اپنی ذلت چھپانے کے شک ہی شک میں رہے۔
رفع کی تصدیق
یہاں اللہ تعالیٰ نے جہاں تـ کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا حق ہے ۔ البتـ سے زندہ ہی بچا کر اٹھا لیا اور یہی اللہ تعا اگر عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسما فرماتے جس سے کم از کم رفع کے مسئلـ تمیز کرنی ہے ۔ تا کہ دودھ کا دودھ ہو جـ رکھا اور جو باتیں غلط تھیں ان سب کی تر کی تردید دوسری بیسوں آیتوں سے کـ فرمادی۔
مسلمان کا ایمان بالقرآن
اب قرآن کے اس صریح کے تسلیم کرنے سے انکار کرے کہ اس ومقاصد کو ٹھیس لگتی ہے تو اس کا اختیار دوپہر کے وقت سورج کی موجودگی کو ما
- ١...... جو مسلمان حضـ
از اهل کتاب الا البته ایمان آرد بعیسی پیش از مردن عیسیٰ“
خدائی فیصلے کا خلاصہ
ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس فیصلے کا اعلان فرمایا کہ یہودیوں کا دعویٰ قتل قطعاً غلط ہے۔ نصاریٰ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ عیسیٰ ؑ کو سولی دیکر قتل کر دیا گیا تھا۔ لیکن تین دن کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر وہ آسمان پر چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں نے میرے پیغمبر عیسیٰ بن مریم کی تذلیل، اس کے سولی اور قتل کرنے کی تدبیریں کیں۔ لیکن میں نے بھی تدبیر کر رکھی تھی۔ میں بہترین تدبیر کرنے والا ہوں۔ وہ عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کر سکے۔ نہ سولی دے سکے۔ بلکہ میں نے تو ان کے ہاتھ بھی عیسیٰ ؑ تک پہنچنے سے روکے رکھے اور اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور یہودی منہ تکتے رہ گئے۔ اپنی ذلت چھپانے کے لئے اس مشتبہ آدمی کو قتل کر دیا۔ لیکن ان کے دل آخر تک شک ہی شک میں رہے۔
رفع کی تصدیق
یہاں اللہ تعالیٰ نے جہاں تمام غلط باتوں کی تردید فرمائی وہاں رفع کی تصدیق فرمادی کہ عیسیٰ ؑ کا اٹھایا جانا صحیح ہے۔ البتہ قتل کے بعد نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں کے پنجہ سے زندہ ہی بچا کر اٹھا لیا اور یہی اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے شایانِ شان تھا۔ اگر عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی نہ ہوتا تو کبھی اللہ تعالیٰ اس انداز میں ان کا رفع ذکر نہ فرماتے جس سے کم از کم رفع کے مسئلہ میں نصاریٰ کی تائید ہو سکتی ہو۔ لیکن قرآن کو حق و باطل میں تمیز کرنی ہے۔ تاکہ دودھ کا دودھ ہو جائے اور پانی کا پانی ہو جائے۔ جتنی بات صحیح تھی اس کو قائم رکھا اور جو باتیں غلط تھیں ان سب کی تردید کی۔ صلیب اور قتل کی اس آیت سے اور الوہیت وابنیت کی تردید دوسری بیسوں آیتوں سے کی۔ لیکن رفع کی تردید کا نام بھی نہیں لیا۔ بلکہ اس کی تائید فرمادی۔
مسلمان کا ایمان بالقرآن
اب قرآن کے اس صریح اور فیصلہ کن بیان کے بعد اگر کوئی محض اس لئے اس حقیقت کے تسلیم کرنے سے انکار کرے کہ اس کی عقل نارسا کا فتویٰ اس کے خلاف ہے۔ یا اس کے اغراض و مقاصد کو ٹھیس لگتی ہے تو اس کا اختیار ہے۔ لیکن مسلمان کے لئے یہ مان لینا اتنا ہی آسان ہے جتنا دوپہر کے وقت سورج کی موجودگی کو مان لینا۔
...... ١ جو مسلمان حضرت آدم ؑ کی پیدائش از روئے قرآن بغیر ماں اور باپ
کے مانتا ہے۔
- ٢....... جو مسلمان حضرت آدم علیہ السلام کا قیام جنت میں تسلیم کرتا ہے جو باقرار مرزا
قادیانی آسمان میں ہے۔
- ٣....... پھر جو مسلمان حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط وہاں سے زمین پر تسلیم کرتا ہے۔
- ٤....... جو مسلمان آتش نمرود میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زندہ رہنا تسلیم کرتا ہے۔
- ٥....... جو مسلمان عصائے موسیٰ جیسے جماد کا زندہ اژدھا بننا تسلیم کرتا ہے۔
- ٦....... جو مسلمان عصا کو پتھر پر مارنے سے بارہ چشمے جاری ہونے کے قرآنی
بیان پر ایمان رکھتا ہے۔
- ٧....... جو مسلمان اسی عصا کو بحیرہ قلزم پر مارنے سے سمندر میں ١٢ خشک راستے
بن جانے پر یقین رکھتا ہے۔ جیسے کناروں پر پانی کے بڑے بڑے پہاڑ تھمے کھڑے ہوں ۔
- ٨....... جو مسلمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونا
تسلیم کرتا ہے۔
- ٩....... جو مسلمان رات کے ایک حصہ میں آنحضرت ﷺ کے مسجد حرام سے مسجد
اقصیٰ تک اور وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر کر کے (جسم مبارک سمیت) واپس آ جانے کو مانتا ہے۔ جسے معراج جسمانی کہتے ہیں۔
- ١٠....... جو مسلمان کفار مکہ کے محاصرہ کے اندر سے نہایت اطمینان سے
آنحضرت ﷺ کے معجزانہ نکل آنے پر ایمان رکھتا ہے۔
- ١١....... جو مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو بن باپ کے از روئے قرآن
تسلیم کرتا ہے۔
- ١٢....... جو مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قم باذن اللہ کہنے سے مردوں کے
جی اٹھنے کو مانتا ہے۔
- ١٣....... مٹی کے پرندے بنا کر اس میں پھونک مارنے سے ان کا پرندہ بن کر اڑ
جانا از روئے قرآن تسلیم کرتا ہے۔
- ١٤....... حواریوں کی درخواست پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے مائدہ
(خوانچہ) کا اترنا تسلیم کرتا ہے۔ جس کو کھا کر حواریوں نے ایمان تازہ کیا۔
- ١٥....... جو مسلمان بچپن میں عیسیٰ علیہ السلام کی باتیں کرنے پر ایمان رکھتا ہے۔
اور جو مسلمان قرآن و حدیث میں بیان کردہ تمام خارق عادت امور پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کے لئے یہ امر کوئی مشکل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اس امر کو بھی تسلیم کر لے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے نرغہ سے زندہ اٹھا لیا اور ان کو لمبی عمر دے کر فیصلہ قضا وقدر کے مطابق آخری زمانہ میں امت محمد ﷺ کی خدمت کے لئے محفوظ رکھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت
- ١....... اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مائدہ اتار کر اشارہ کر دیا کہ آسمانی غذا نازل ہو سکتی
ہے اور وہاں سب طرح کا انتظام موجود ہے۔ یہ کہ جس کی دعا سے اوروں کے لئے آسمان سے خوانچہ نازل ہو سکتا ہے خود اس کے لئے آسمان میں کیوں انتظام نہیں ہو سکتا؟۔
- ٢....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مردوں کو زندہ کرنے سے پہلے سے اشارہ کر دیا گیا
تھا کہ اس قدسی نفس میں قوت حیات کا یہ عالم ہے کہ اس کے قم باذن اللہ کہنے سے مردے بھی جی اٹھتے ہیں۔ اس لئے اس کا لمبی عمر تک زندہ رہنا کوئی مستبعد امر نہیں ہے۔
- ٣....... اسی طرح مٹی کے پرندے میں پھونک مار کر فضائے آسمانی میں اڑا دینا
پہلے سے ہی بتا رہا تھا کہ خود اس پیغمبر کی قوت پرواز کا کیا عالم ہو گا جس کے اشارہ سے مٹی میں حیات آتی اور وہ پرواز کرنے لگ جاتی ہے۔
- ٤....... خود ان کا نفخ جبرائیل علیہ السلام سے پیدا ہونا ہی اشارہ تھا کہ ان پر خاکی
صفات کی جگہ ملکی صفات غالب ہیں۔
- ٥....... ان کا زمین سے ہجرت کر کے آسمان پر جانا بھی اشارہ تھا کہ ان کو واپس
آ کر ساری زمین پر غلبہ حاصل کرنا ہے جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے ہجرت کی تو مصر کی بادشاہیت بنی اسرائیل کو دی گئی۔ آنحضرت ﷺ نے مکہ سے ہجرت کی تو آخر کار مکہ معظمہ دوبارہ فتح ہوا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ساری زمین سے اٹھا لیا گیا۔ یہ اشارہ تھا کہ ان کو دوبارہ ساری زمین پر قبضہ کرانا ہے۔
- ٦....... اور جس دجال کے قتل کے لئے انہیں آنا ہے اس کی صفات بھی حدیثوں
میں ایسی بیان ہوئی کہ مخلوق کے ابتلاء کے لئے اس کو احیاء و اماتت تک کی طاقت ہو گی۔ اس کے مقابلہ کے لئے بھی ایسے ہی ہستی کو تجویز فرمایا گیا جس میں ملکوتی صفات غالب ہوں۔
- ٧....... اور جس مادی ترقی کی انتہاء کے وقت ان کو آنا ہے۔ اس وقت بھی ایسے
ہی بزرگ کی ضرورت تھی کہ جس کے روحانی اور ملکی کمالات کے سامنے مادی دنیا کی آنکھیں چکا
چوند ہو جائیں۔
- ٨........ اور چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے منشاء خلق یوں بیان فرمایا ہے کہ: ”وما
خلقت الجن والانس الا ليعبدون (ذاریات : ٥٦) کہ ہم نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔“ اس لئے یہ ضروری تھا کہ خاتمہ دنیا سے پہلے ایک بار یہ مقصد پورا ہو جائے۔
چنانچہ انفرادی عبادت کی تکمیل عبد کامل کی بعثت سے یعنی حضرت محمد ﷺ کی بعثت سے ہوگئی کہ عبدیت میں آپ ﷺ کی مثال کسی رسول یا نبی میں نہیں مل سکتی۔ کیونکہ آپ ﷺ نے اپنے ہر امر میں عبدیت ہی کو پسند فرمایا۔
دوسری جماعتی عبادت تھی۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک ایسی جماعت تیار فرما دی جس نے جماعتی طور سے خدائی بندگی اور خدائی نظام حیات کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ عبادت کا تیسرا درجہ اجتماعی عبادت تھی کہ تمام دنیا اللہ کی بندگی کا اقرار کر کے دین حق کے سامنے جھک جائے۔ اس کا پروگرام بھی حضرت خاتم النبیین ﷺ قرآن و حدیث کے ذریعہ مکمل ترین شکل میں پیش کر کے تشریف لے گئے۔ تا آنکہ اس کے مناسب اور مادی ترقی کے عروج کے وقت آپ ﷺ کی نیابت میں آپ ﷺ ہی کی متابعت کرتے ہوئے ایک گذشتہ جلیل القدر پیغمبر عہد الٰہی کے موافق آکر پورا کرے۔ چنانچہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد اجتماعی طور پر دنیا دین حق قبول کرلے گی اور اجتماعی طور پر الا ليعبدون ! کا منشاء خداوندی پورا ہو جائے گا۔ جس کے بعد ”شمسی نظام“ کے لپیٹ دیئے جانے کے انتظامات شروع ہوجائیں گے۔ یہی معنی قرب قیامت کے ہیں۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا مقدر ہے۔
- ٩........ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت جس عالمگیر غلبہ اسلام کی خبر ہے وہ کتنی معقول
اور قرین قیاس ہے کہ دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان تو پہلے سے ان کے منتظر ہیں۔ ایک ارب عیسائی دنیا جو ان کو خدا مانتی ہے۔ جب ان کو دیکھے گی تو اغلب یہی ہے کہ وہ فوراً ان کو مان لے گی اور ان کے حالات سے مجبور ہوکر یہودیوں کے ستر ہزار کے لشکر کے مقابلہ اور جنگ کی حدیث ہے۔ اس کا بھی انتظام ہوچکا ہے کہ فلسطین میں یہودی حکومت قائم کر دی گئی ہے۔ تاکہ نوشتہ الٰہی کے مطابق ستر ہزار فوج دجال کی امداد اور عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے موجود ہوسکے۔
یہودی آخر کار شکست کھا کر بقیۃ السیف مسلمان ہوجائیں گے۔ یہود و نصاریٰ اور اہل اسلام کی عظیم اکثریت خاص خرق عادات تعلیم اور غلبہ روحانیت کی وجہ سے باقی اقوام بھی مثلاً ہنود
وغیرہ اسلام کی سچائی کے قائل ہونے پر مجبور ہوں گے۔
- ١٠....... اور چونکہ دنیا نظریاتی کشمکش سے تنگ آ گئی ہو گی اور ساتھ ہی قانون
حیات کے سلسلہ میں جمہوریت، آمریت اور اشتراکیت جیسے اصولوں کی ٹکر بھی انسانیت کے لئے لعنت کبریٰ ثابت ہو چکی ہوگی۔ اس لئے عین ایسے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے ملکی صفت ہستی کا قرآنی نظام حیات صحیح معنوں میں پیش کر کے اس پر عمل درآمد کرا دینے سے تمام دنیا اپنی نجات اس کی پیروی میں سمجھنے لگے گی۔ جیسا کہ خلافت راشدہ کے نظام، انسانی حقوق کی نگہداشت ، خدا ترسی ، عدل و مساوات پر دنیا عش عش کر رہی ہے تو اس وقت خوشی کا کیا ٹھکانا ہو گا کہ ساری امت اسی طرح کے پاک نظام میں مربوط ہوگی اور ان کی راہنمائی کی خدمات ایک سابق جلیل القدر پیغمبر خود ان کی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے ادا کر رہا ہوگا اور اس امت کی عزت و تکریم کا یہ حال ہو گا کہ نماز کا امام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت اسی امت میں امام مہدی علیہ الرضوان ہو گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ان کو امام بنانا چاہیں گے۔ لیکن وہ اس امت کی عزت و اکرام کی خاطر انکار کر کے خود انہی کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔
ایسے وقت میں اس نظام کو قبول کر لینا کیا مشکل ہے؟۔ جبکہ آج آدھی دنیا استبداد سے تنگ آ کر اشتراکیت کے آغوش میں جا چکی ہے۔
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بیان
ان دوگانہ تائیدی نکات سے قطع نظر کر کے ہمیں قرآن پاک کے اس صاف وصریح فیصلے کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیا اس سلسلہ میں سرور کائنات ﷺ نے کوئی وضاحتی بیان ارشاد فرمایا ہے۔ جس کے بعد امت کے معنی کے بارہ میں کسی مسلمان کو شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے۔ چنانچہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب صحیح بخاری شریف میں حضرت امام بخاریؒ نے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا خاص باب رکھا ہے اور اس باب میں ایک حدیث نقل فرمائی ہے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ : ”وقت آئے گا کہ تم میں مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام اتر آئیں گے۔ حاکم عادل ہوں گے۔ صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ (یہ دونوں باتیں نصرانیوں کا طرہ امتیاز ہیں) مال کی اتنی بہتات ہوگی کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر سمجھا جائے گا۔ (دین اور قیامت کی اہمیت دلوں میں بہت بڑھ جائے گی ۔)
یہ دو حدیثیں حضرت ابو ہریرہؓ نقل کر کے فرماتے ہیں کہ:” فاقرؤ ان شئتم وان
من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ “ یعنی آنحضرت ﷺ کی حدیث نزول عیسیٰ ؑ کی نقل کر کے حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ تم چاہو تو بے شک یہ آیت پڑھ لو اور یہ وہی آیت ہے جو قرآن پاک میں رفع عیسیٰ ؑ کے ذکر کے ساتھ ہی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور مستقبل میں تمام اہل کتاب اس کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نزول عیسیٰ ؑ کے بارہ میں وہی بات ہے جو قرآن میں بھی مذکور ہے کہ آخر کار ان کے مرنے سے پہلے ان پر تمام اہل کتاب کو ایمان لانا ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کو قرآن کی آیت مذکورہ کی تفسیر قرار دیتے ہیں کہ یہ آنے والے وہی عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں جن کے رفع کا ذکر قرآن پاک میں ہے اور ہزاروں صحابہؓ سنتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث زبان زد خاص و عام ہو جاتی ہے۔ مگر کوئی صحابیؓ انکار نہیں فرماتے کہ تم قرآن کے معنی کو غلط سمجھے یا آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ قرآن والا عیسیٰ بن مریم ؑ نہیں ہے۔ انکار تو کیا فرماتے، بیسیوں اور صحابہ کرامؓ اسی مضمون کی حدیثیں آنحضرت ﷺ سے روایت فرماتے ہیں اور نزول عیسیٰ ؑ کا عقیدہ اور اس کی روایت اتنی عام ہو جاتی ہے کہ تواتر کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کو بھی ماننا پڑا ہے کہ: ”نزول مسیح کا عقیدہ خیر القرون میں متواتر تھا اور اس کی پیشگوئی کو بطور عقیدہ نسلاً بعد نسل مسلمان کرتے چلے آئے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
مسیح سے مراد کون؟
اب یہ بحث بالکل بے ضرورت ہے کہ آنے والا مسیح وہی اسرائیلی مسیح ابن مریم ہے یا کوئی اور؟ جب قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع جسمانی کا ذکر فرما کر ارشاد فرما دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ تمام اہل کتاب اس کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے اور آنحضرت ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ عیسیٰ ؑ نے نازل ہونا ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد قرآنی آیت ہی کی تفسیر ہے۔ پھر سینکڑوں حضرات کا نزول مسیح کو مختلف پیرایوں میں آنحضرت ﷺ سے روایت کرنا اور اس عقیدہ کا مشہور ہو جانا اور کسی ایک صحابی کا بلکہ تابعی اور تبع تابعین کا ذرا سا شک بھی ظاہر نہ کرنا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں یا کوئی اور؟۔ اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ خدا اور رسول خدا کی مراد کیا ہے اور سلف صالحین کا عقیدہ کیا تھا؟ ۔
جب قرآن پاک میں سینکڑوں ہے ۔ مسیح کا ذکر ہوتا ہے ۔ مسلمانوں میں عیسیٰ میں آنحضرت ﷺ کا انہی ناموں سے نزول دلیل ہے کہ مسیح ابن مریم ؑ کا مصداق ان روایات میں سے ہم چند روایتیں ایسی نقل کر مسیح وہی اسرائیلی مسیح ابن مریم ہیں نہ کوئی اور
- ١................. حضرت ابن عباسؓ
شکوک پیدا کرتے ہیں ۔ تفسیر ابن جـ الاليؤمنن بہ قبل موتہ! کی تفسیر میـ موتہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ الـ گے۔ معلوم ہوا کہ انہی عیسیٰ بن مریم ؑ کو
- ٢................. طبقات ابن سعد مـ
بین آدم و محمد علیہما السلام! حضرت عیسیٰ ؑ کو جسم سمیت اٹھایا اور و ہوں گے ۔ آخر کار اسی طرح مریں گے جیسے
- ٣................. بخاری شریف ج ا
میں حضرت ابو ہریرہؓ آنے والے مسیح کو وہی حدیث کا یہی مطلب سمجھتے اور اس کا اعلان
- ٤................. امام حدیث امام بیـ
٤٢٤ باب قول الله تعالی فی متوفیـ میں من السماء کا لفظ بھی صحیح سند کے سـ کہ آنحضرت ﷺ آنے والے کے بارہ ـ رفعہ اللہ الیہ قرآنی آیت کی تشریح فر مرزائی لوگ من السماء بیہقیؒ نے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔ نہیں سمجھ سکے کہ محدثین جب ایک روایتـ
جب قرآن پاک میں سینکڑوں جگہ عیسیٰ ؑ کا ذکر ہوتا ہے۔ ابن مریم کا ذکر ہوتا ہے۔ مسیح کا ذکر ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں عیسیٰ ابن مریم کا اور کوئی مفہوم موجود نہیں ہے ایسے وقت میں آنحضرتﷺ کا انہی ناموں سے نزول مسیح کا ذکر کرنا اور تمام صحابہؓ اور تابعین کا بھی یہی رویہ دلیل ہے کہ مسیح ابن مریم ؑ کا مصداق ان کے نزدیک شک و شبہ سے بالا تھا۔ تا ہم ان سینکڑوں روایات میں سے ہم چند روایتیں ایسی نقل کرتے ہیں جن سے بصراحت معلوم ہو کہ آنے والے مسیح وہی اسرائیلی مسیح ابن مریم ہیں نہ کوئی اور۔
- .......١ حضرت ابن عباسؓ سے جن کے مذہب کے بارہ میں مرزائی دلوں میں
شکوک پیدا کرتے ہیں۔ تفسیر ابن جریر جلد ٥ ص ١٢: وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ ! کی تفسیر میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں قبل موتہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے مرنے سے پہلے ان پر اہل کتاب ایمان لائیں گے۔ معلوم ہوا کہ انہی عیسیٰ بن مریم ؑ کو آنا ہے۔
- .......٢ طبقات ابن سعد ج ١ ص ٤٥: باب ذكر القرون والسنين التي
بين آدم و محمد عليهما السلام ! میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بجسم سمیت اٹھایا اور وہ زندہ موجود ہیں جو دنیا میں پھر آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے۔ آخر کار اسی طرح مریں گے جیسے اور لوگ مرتے ہیں۔
- .......٣ بخاری شریف ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول ابن مریم! کی مذکورہ روایت جس
میں حضرت ابو ہریرہؓ آنے والے مسیح کو وہی قرآن والا مسیح قرار دیتے ہیں۔ اور آنحضرتﷺ کی حدیث کا یہی مطلب سمجھتے اور اس کا اعلان کرتے ہیں۔
- .......٤ امام حدیث امام بیہقیؒ نے کتاب الاسماء والصفات ص
٤٢٤ باب قول الله تعالى انى متوفيك ورافعك ! میں نزول مسیح کی حدیث نقل کر کے اسی میں من السماء کا لفظ بھی صحیح سند کے ساتھ منقول فرمایا ہے۔ جس سے یہ امر بالکل صاف ہو گیا کہ آنحضرتﷺ آنے والے کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ آسمان سے آئیں گے۔ گویا آپ رفعه الله اليه قرآنی آیت کی تشریح فرماتے ہیں۔
مرزائی لوگ من السماء کی روایت سے بڑے بوکھلائے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام بیہقیؒ نے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔ جہاں من السماء کا لفظ موجود نہیں ہے۔ مرزائی اتنا نہیں سمجھ سکے کہ محدثین جب ایک روایت بیان کرتے ہیں تو کبھی تائید میں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ
اس روایت کو فلاں فلاں نے بھی روایت کیا ہے۔۔۔ لیکن اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اصل مضمون مثلاً نزول مسیح کا فلاں فلاں نے بیان کیا ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ جو الفاظ میری روایت میں ہیں وہی الفاظ و کلمات سب نے روایت کئے ہیں۔ امام بیہقیؒ اپنے الفاظ و کلمات کی صحت کے ذمہ دار ہیں۔ چنانچہ انہوں نے صحیح سند کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے یہ لفظ روایت فرمائے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا۔ ان الفاظ میں مرزائیوں کی کوئی تاویل بھی نہیں چل سکتی۔
- ٥...... مشکوٰۃ شریف ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم میں ایک صحیح حدیث
نزول مسیح کی نقل کی گئی ہے۔ اس میں ینزل عیسی بن مریم الی الارض کے الفاظ ہیں کہ مسیح زمین کی طرف نازل ہوگا جو دلیل ہے کہ وہ زمین پر نہ ہوگا۔ بلکہ دوسری حدیث کے عین موافق آسمان سے زمین پر نازل ہوگا۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔ اس لئے کہ اس میں یہ ذکر بھی ہے کہ مسیح زمین پر آ کر شادی بھی کرے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس شادی والی پیش گوئی کو محمدی بیگم کے آسمانی نکاح پر منطبق کیا ہے۔ لیکن محمدی بیگم ہاتھ نہ آئی۔ اب دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔ یا مرزا قادیانی مدعی مسیحیت ومجددیت ونبوت ہو کر بھی حدیث کا معنی نہیں سمجھتا تھا۔ یا جان بوجھ کر محمدی بیگم کی موہوم امید پر آنحضرت ﷺ پر جھوٹ بولتا تھا۔ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو پھر مرزائیوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ نے محمدی بیگم کی جو پیشگوئی کی تھی وہ غلط نکلی ؟ ۔ العیاذ باللہ تعالیٰ!
- ٦...... قصہ معراج کے ذیل میں ایک حدیث ہے کہ چند پیغمبروں نے قیامت
کے بارہ میں گفتگو کی کہ کب ہوگی۔ ہر ایک نے لاعلمی ظاہر کی۔ آخر انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ: ”اما وجبتها فلا یعلمها احد الا الله واما ما عهد عندی فان الدجال خارج و انا نازل ٠ مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥ ابن ماجه ص ٢٩٩ باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مریم“ کہ اس کا علم تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں البتہ جو میرے ساتھ عہد ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور میں اتروں گا۔ میرے ساتھ دو تلواریں ہوں گی۔ اس حدیث نے یہ امر بالکل صاف کر دیا کہ قیامت کے قریب نازل ہونے والے وہی مسیح عیسیٰ بن مریم ہیں جو آسمان میں ہیں۔
- ٧...... آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو خطاب فرمایا کہ: ”ان عيسى لم يمت
وانه راجع اليكم قبل يوم القیمته ٠ ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦، ٥٧٦ ، ابن جریر ج ٣ ص ٢٠٢“ حضرت عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہوئے اور انہیں پھر تمہارے پاس آنا
ہے۔ قیامت سے پہلے پہلے۔ اس حدیث میں رجوع کے بالکل قطعی فیصلہ کر دیا کہ دوبارہ وہی آئیگا جو پہلے آچکا ہے۔
- ٨...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”انا
لم یکن بینی و بینه نبی وانه نازل فاذا رائیتم حدیث طویل ہے مذکورہ الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ زیادہ قریب اور زیادہ حق عیسیٰ ؑ کے ساتھ رکھتا ہوں۔ می تھا اور وہ نازل ہوگا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو وہ یوں ہوگا، ا صاف بتا دیا کہ آنے والا وہی مسیح ابن مریم ہوگا جو آپ ﷺ آنحضرت ﷺ تک درمیان میں کوئی پیغمبر نہیں ہوا۔ اس حد کتاب حقیقت النبوت ص ١٩٢ میں نقل کیا اور صحیح تسلیم کیا ہے، وہی ہے جو مجھ سے پہلے گزرا ہے۔ اس کے اور میرے درمیان
- ٩...... قبیلہ نجران کے عیسائیوں کا وفد آنحضر
جو مذہبی گفتگو کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو حضرت عیسیٰ پڑھ کر سنائیں اور رد (عیسیٰ ؑ ) اور ان کے عقیدہ الوہیت :”ان الله حیى قیوم وان عیسى یأتى علیه الفن پر فنا طاری ہی نہیں ہو سکتی اور حضرت عیسیٰ ؑ پر موت آئے یہاں آپ ﷺ نے مستقبل کا صیغہ استعمال فرما نہیں ہوئے۔ ہاں! ان پر موت کا طاری ہونا مستقبل میں یقینی کے مفہوم کی طرف اشارہ ہے کہ عیسیٰ ؑ کی موت سے پہ میں ان پر ایمان لانا ہوگا اور یہ حدیث دوسری احادیث کی شار دی گئی ہے۔ گویا آپ ﷺ نے بتایا کہ وہی مسیح زندہ ہے اور ہوگئے ہوتے تو تردید الوہیت کے لئے یوں فرما دینا کتنا آس عیسیٰ ؑ تو مر چکے ہیں۔ وہ کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔ (تفسیر ابی
- ١٠...... حضرت عمرؓ کے زمانہ مبارک میں صحا
اتفاقاً ایک غار میں ایک معمر بزرگ ملے۔ جنہوں نے بتایا کہ ان کو وصیت کی گئی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے
ہے۔ قیامت سے پہلے پہل۔ ﴿ اس حدیث میں رجوع کے لفظ نے کہ اس مسیح کو دوبارہ آنا ہے۔ بالکل قطعی فیصلہ کر دیا کہ دوبارہ وہی آئیگا جو پہلے آچکا ہے۔
- .......٨ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”انا اولی الناس بعيسى ابن مريم
لم يكن بيني و بينه نبی وانه نازل فاذا رايتموه
(رواه احمد ج ٢ ص ٤٣٧ )“
حدیث طویل ہے مذکورہ الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ قریب اور زیادہ حق عیسیٰ ؑ کے ساتھ رکھتا ہوں۔ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہ تھا اور وہ نازل ہوگا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو وہ یوں ہوگا، یوں ہوگا۔ اس حدیث نے بھی صاف صاف بتا دیا کہ آنے والا وہی مسیح ابن مریم ہوگا جو آپ ﷺ سے پہلے ہو گزرا ہے۔ جس کے بعد آنحضرت ﷺ تک درمیان میں کوئی پیغمبر نہیں ہوا۔ اس حدیث کو مرزا محمود قادیانی نے بھی اپنی کتاب حقیقت النبوۃ ص ١٩٢ میں نقل کیا اور صحیح تسلیم کیا ہے۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنے والا وہی ہے جو مجھ سے پہلے گزرا ہے، اس کے اور میرے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہوا۔
- .......٩ قبیلہ نجران کے عیسائیوں کا وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا
جو مذہبی گفتگو کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارہ میں قرآنی تصریحات پڑھ کر سنائیں اور (عیسیٰ ؑ ) اور ان کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ان الله حى قيوم وان عيسى يأتى عليه الفناء“ ﴿ اللہ تعالیٰ تو حی و قیوم ہے جس پر فنا طاری ہی نہیں ہو سکتی اور حضرت عیسیٰ ؑ پر موت آئے گی۔ ﴾
یہاں آپ ﷺ نے مستقبل کا صیغہ استعمال فرما کر یہ ظاہر کر دیا کہ ابھی تک وہ فوت نہیں ہوئے۔ ہاں! ان پر موت کا طاری ہونا مستقبل میں یقینی ہے۔ یہ فرمانا بھی اسی قرآنی آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ ہے کہ عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے سارے اہل کتاب کو ایک زمانے میں ان پر ایمان لانا ہوگا اور یہ حدیث دوسری احادیث کی شارح بھی ہوئی جن میں نزول مسیح کی خبر دی گئی ہے۔ گویا آپ ﷺ نے بتایا کہ وہی مسیح زندہ ہے اور اس کو آنا ہے۔ اگر حضرت مسیح فوت ہو گئے ہوتے تو تردید الوہیت کے لئے یوں فرما دینا کتنا آسان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو موت نہیں اور عیسیٰ ؑ تو مر چکے ہیں۔ وہ کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ١٠٨ اور در منثور ج ٢ ص ٣)
- .......١٠ حضرت عمرؓ کے زمانہ مبارک میں صحابہ کا لشکر ایک پہاڑی علاقہ میں اترا۔
اتفاقاً ایک غار میں ایک معمر بزرگ ملے۔ جنہوں نے بتایا کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے وصی ہیں۔ ان کو وصیت کی گئی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد دجال جب پیدا ہوگا تو حضرت
مسیح ؑ دوبارہ تشریف لائیں گے ۔ یہ خبر امیر لشکر نے فوراً مدینہ طیبہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے پاس پہنچائی ۔ جنہوں نے اس امر کی تصدیق کی اور فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے اطلاع دی تھی کہ ان جگہوں میں حضرت عیسیٰ ؑ کے وصی موجود ہیں ۔ جب لشکر والوں نے دوبارہ تلاش کیا تو وہ نہ ملے ۔ اس واقعہ کی ہزاروں صحابہ کرامؓ نے تصدیق کی ۔ سب نے بمعہ حضرت عمرؓ کے اس کو سچا قرار دیا ۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی مہر تصدیق بھی لگا دی ۔
(ازالۃ الخفاء مترجم ج ٤ ص ٩١ تا ٩٣ ، الفصل الرابع فی مکاشفات امیر المومنین ازالۃ الخفاء عربی ج ٢ ص ١٦٧ ، ١٦٨ فکل ایضاً)
آنحضرت ﷺ کی معجزانہ نشان دہی
ان تصریحات کے بعد کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی کہ آنے والے مسیح وہی مسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ہیں ۔ تاہم مزید تسلی کے لئے عرض کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح ؑ کے بارہ میں اتنے اہتمام اور زور کے ساتھ اطلاعات دی ہیں کہ جو صرف پیغمبر کی معجزانہ شان ہی ہو سکتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ؑ کے نام سے جھوٹا دعویٰ کر کے ہزاروں لاکھوں امت محمدیہ کے افراد کو کافر بنانے والے افراد کی اطلاع آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کر دی تھی ۔ اسی خطرہ کے پیش نظر آپ ﷺ نے اتنا اہتمام فرمایا ۔
غور فرمائیں کہ :
- ١...... مسلمانوں کو خطاب کر کے بیسیوں جگہ نزول اور ہبوط ۔ یعنی اترنے کے
الفاظ سے خبر دی ۔ کیونکہ مسلمان ان کے زندہ آسمان پر ہونے کو تو مانتے ہی تھے ۔
- ٢...... یہودیوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ ؑ زندہ ہیں مرے نہیں اور
وہ دوبارہ تمہارے پاس آئیں گے ۔
- ٣...... عیسائیوں کو خطاب کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ ؑ کے آئندہ زمانہ میں
مرنے کا ذکر کیا ۔
- ٤...... کہیں ارشاد فرمایا کہ وہ آسمان سے نازل ہو گا ۔
- ٥...... کہیں ارشاد ہوا کہ ان کو زمین پر اترنا ہو گا ۔
- ٦...... کہیں فرماتے ہیں کہ میرے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے درمیان کوئی نبی نہ
تھا اور ان کو نازل ہونا ہے ۔
- ٧...... کہیں یوں ارشاد ہے کہ آسمان پر معراج کی شب حضرت عیسیٰ ؑ نے
قیامت سے پہلے اپنے نزول کا ذکر کیا ۔
- ٨...... کسی آدمی کے پہچاننے
ذکر اکثر اوقات کافی ہوتا ہے ۔ لیکن آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ ؑ کی تصریح فرماتے ہیں ۔
- ٩...... ان کا لقب مسیح بھی ذکر کـ
- ١٠...... ان کی والدہ کا نام (مریم
کا نام لیا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آنے والے کا با ذکر کیا ۔
- ١١...... مذکورہ بالا دس نشانیوں
- ١٢...... مقام نزول جامع دمشق
- ١٣...... ان کا لباس بتایا کہ آبـ
- ١٤...... جسمانی کیفیت بتائی کـ
- ١٥...... نزول کے وقت ملکی حـ
نظام سلطنت میں مشغول ہوں گے ۔ ان دجالی
- ١٦...... اس وقت کے مسلمانو
کے والد کا نام عبداللہ اور ان کی قومیت سید ۔
- ١٧...... نزول کا وقت بتایا کہ
- ١٨...... کیفیت بتائی کہ حضـ
گے ۔ لیکن وہ انکار کر کے انہی کے پیچھے نماز اد
- ١٩...... نماز کے بعد دجال کـ
گے ۔ عام دجالی لشکر کو شکست ہو گی ۔
- ٢٠...... ساری دنیا میں اسلا
ہو جائے گا ۔
- ٢١...... مال کی بہتات ہو
جائے گی ۔ ایک سجدہ دنیا بھر سے زیادہ قیمتی ہـ
- ٢٢...... حضرت عیسیٰ علیـ
قیامت سے پہلے اپنے نزول کا ذکر کیا۔
- ٨...... کسی آدمی کے پہچاننے یا اس تک خط پہنچنے کے لئے نام، ولدیت اور شہر کا
ذکر اکثر اوقات کافی ہوتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے آنے والے کے بارہ میں ان کے نام یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں۔
- ٩...... ان کا لقب مسیح بھی ذکر کرتے ہیں۔
- ١٠...... ان کی والدہ کا نام (مریم) بھی بتاتے ہیں۔ حالانکہ تعارف کے لئے باپ
کا نام لیا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آنے والے کا باپ نہ تھا۔ اور وہ وہی مریم صدیقہ کا بیٹا تھا۔ اسی کا ذکر کیا۔
- ١١...... مذکورہ بالا دس نشانیوں کے سوا مقام نزول بتایا کہ شہر دمشق میں نزول ہوگا۔
- ١٢...... مقام نزول جامع دمشق کے شرقی منارے کی اطلاع دی۔
- ١٣...... ان کا لباس بتایا کہ آپ پر دو زرد چادریں ہوں گی۔
- ١٤...... جسمانی کیفیت بتائی کہ بالوں سے جیسے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوں گے۔
- ١٥...... نزول کے وقت ملکی حالات پر روشنی ڈالی کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان
نظام سلطنت میں مشغول ہوں گے۔ اب دجالی لشکر اور دجال سے مقابلہ کی تیاری ہوگی۔
- ١٦...... اس وقت کے مسلمانوں کے امیر حضرت مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد، ان
کے والد کا نام عبداللہ اور ان کی قومیت سید۔ سب کچھ بتایا۔
- ١٧...... نزول کا وقت بتایا کہ صبح کی نماز کا وقت ہوگا۔ جماعت کی تیاری ہوگی۔
- ١٨...... کیفیت بتائی کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان ان کو امام بنانا چاہتے ہوں
گے۔ لیکن وہ انکار کر کے انہی کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔
- ١٩...... نماز کے بعد دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے دست مبارک سے قتل کریں
گے۔ عام دجالی لشکر کو شکست ہوگی۔
- ٢٠...... ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ صلیب کی پوجا اور خنزیروں کا پالنا ختم
ہو جائے گا۔
- ٢١...... مال کی بہتات ہوگی۔ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ دین کی اہمیت بڑھ
جائے گی۔ ایک سجدہ دنیا بھر سے زیادہ قیمتی سمجھا جائے گا۔
- ٢٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی کریں گے۔ (کیونکہ رفع سے قبل شادی نہ کی
تھی ) ان کی اولاد ہوگی ۔
- ٢٣...... حضرت عیسیٰ ؑ حج ادا کریں گے۔
- ٢٤...... وہ حج کا احرام (فج روحاء ) سے باندھیں گے۔
(مسلم ج ٢ ص ١٩٣)
- ٢٥...... پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے۔
- ٢٦...... وفات شریف کے بعد مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کے پہلو میں دفن
ہوں گے۔
- ٢٧...... دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی۔ جیسے کہ پہلے ظلم وجور سے پر ہوگی۔
- ٢٨...... ان کے وقت میں یاجوج و ماجوج ایک قوم کا خروج ہوگا ۔ جو آخر کار آپ
کی دعا سے خانہ جنگی میں مبتلا ہو کر خود ہی تباہ ہو جائے گی ۔
- ٢٩...... حضرت عیسیٰ ؑ کے بال خوبصورت چمکیلے ہوں گے۔
(بخاری ومسلم )
- ٣٠...... ان کا جسم مبارک تندرست و توانا ہوگا۔ سفید سرخی مائل رنگ ہوگا۔
(کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٢)
اس طرح کی تقریباً ایک سو نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں۔ جن کا استیعاب بمعہ حوالہ کے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنے رسالہ ”التصريح بماتواتر فی نزول المسيح“ میں کیا ہے۔
مرزائی تاویلات
قرآنی آیات، احادیث مبارکہ، صحابہ کے بیانات اور سینکڑوں علامات ونشانات سے قطع نظر کر کے اگر ایک شخص عیسیٰ ابن مریم بننے کی کوشش یوں کرے کہ عرصہ تک میں مریم بنا رہا۔ مجھے حیض آتا رہا۔ آخر میں مجھے حمل ہوا۔ دس ماہ کے بعد دردزہ ہو کر مجھے بچہ پیدا ہو گیا ۔ وہ بچہ عیسیٰ تھا ۔ جو میں خود ہی تھا۔
اس طرح عیسیٰ ابن مریم یعنی بطن مادر میں ہی بنا۔ جیسا کہ کشتی نوح میں درج ہے یا ایک شخص یوں گوہر افشانی کرے کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ مسیح سے مراد غلام احمد قادیانی ہے۔ مریم سے مراد چراغ بی بی ہے۔ دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے جس کے روحانی قتل کے لئے میں مبعوث ہوا ہوں ۔ ( اور باوجود اس کے انگریزی حکومت کو خدا کی رحمت بتائے۔ اس کی اطاعت کو فرض قرار دے ۔ شیطانی تاویلات کرتے ہوئے کہے کہ زرد چادروں سے مراد میری دو بیماریاں ہیں ۔ ایک ذیابیطس کہ روزانہ سو سو بار پیشاب کرتا ہوں اور دوسری درد سر جو ہر وقت
چکراتا ہے۔)
پھر یہ مدعی مسیحیت ساری دنیا میں اسلام پھیلانے کی بجائے روئے زمین کے تمام پرانے مسلمانوں کو بھی کافر قرار دیدے۔ خود حج تک کرنے کی توفیق نہ ہو۔ مٹھی بھر مریدوں کی جماعت میں بھی شرعی حدود اور قصاص جاری کرنے کی طاقت نہ ہو۔ اثر ورسوخ کے ساتھ ساتھ خود اس کی عمر ایک نصرانی حکومت کو دعائیں دیتے ہوئے گزر جائے۔ جس کی خاطر بقول خود ممانعت جہاد کے فتوے لکھ لکھ کر تمام اسلامی ممالک میں شائع کرائے۔
(کتاب البریہ ص ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
جناب والا! مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تصریحات کے بعد اس قسم کی رکیک تاویلات اس قابل ہوسکتی ہیں کہ ان پر کان دھرا جائے؟۔
امت محمدیہ ﷺ کا فیصلہ
قرآن کی آیتیں نازل ہورہی ہیں۔ الوہیت مسیح اور تثلیث کی تردید میں قرآنی دلائل کا چرچا ہے۔ عیسائیوں پر اسلامی دلائل کا رعب چھایا ہوا ہے۔ دوسری طرف حضرت مریم صدیقہ کی پاک دامنی ، عفت اور صفائی بیان کی جارہی ہے۔ نیز حضرت عیسیٰ ؑ کی عجوبہ قدرت، عالی شان نفخ جبرائیل سے پیدائش۔ ان کی نبوت یہود کے مقابلہ میں ان کی خدائی حفاظت اور رفع الی اللہ کے تذکرے ہیں۔ ایسے وقت آنحضرت ﷺ کا یہود کو فرمانا کہ مسیح زندہ ہے اور اس کو دوبارہ آنا ہے اور مسلمانوں کو قسم کھا کر آپ ﷺ کا فرمانا کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام قیامت سے پہلے ضرور نازل ہوں گے۔ ان کو پہچان رکھو۔ اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ آپ ﷺ کا یہ ارشاد قرآن کی تفسیر قرار دے رہے ہیں۔ ان حالات میں کسی کو یہ خیال گزرنا بھی مشکل ہے کہ کسی اور مسیح کے آنے کا ذکر ہے۔ شرعی تذکروں میں مسیح ابن مریم سے وہی مریم صدیقہ کا بیٹا اسرائیلی مسیح عیسیٰ مراد لیا جاتا تھا۔
تمام تفاسیر
جلالین شریف، بیضاوی شریف، تفسیر ابن کثیر ، ابن جریر، فتح البیان ، تفسیر خازن ، تفسیر ابی سعود، تفسیر کبیر، تفسیر معالم التنزیل، روح البیان، تفسیر کشاف، تفسیر مدارک، تفسیر روح المعانی وغیرہ سینکڑوں مفسرین، تمام محدثین ، تمام فقہاء امت اور تمام مجددین نے یہی کہا اور یہی لکھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ اس پر تلخیص الخبیر میں حافظ ابن حجرؒ نے اجماع نقل کیا ہے۔
اور یہ کہ وہ آخری زمانہ میں دوبارہ دنیا میں تشریف لا کر شریعت محمدی ﷺ کے تحت پینتالیس سال عمر گزارتے ہوئے اسلام کی خدمت کریں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات کبریٰ میں سے قرار دیا گیا ہے۔
مرزائیوں نے (ڈوبتے کو تنکے کا سہارا) حضرت ابن عباسؓ کے ایک لفظ ممیتک سے جو متوفیک کے ترجمہ کے سلسلہ میں حضرت امام بخاریؒ نے کمزور سمجھ کر بغیر سند کے نقل کیا ہے۔ لفظی بحثوں میں الجھانے کا ایک طوفان کھڑا کیا ہے۔ حالانکہ تفسیر ابو سعود، در منثور، تفسیر معالم التنزیل، تفسیر ابن جریر ج ٥ اور طبقات ابن سعد جلد نمبر ١ میں حضرت ابن عباسؓ سے متعدد روایتیں منقول ہیں جن میں وہ تصریح فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں وہ نازل ہو کر حاکم عادل ہوں گے اور تفسیر ابو السعود میں تصریح ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے صحیح روایت یہی ہے۔
جن حضرات کو مرزائیوں نے تیرہ صدیوں کے مجددین میں شمار کیا ہے اور جن کی فہرست مرزائیوں کی مشہور کتاب عسل مصفّیٰ میں دی گئی ہے ان سب کا اسی عقیدہ پر اتفاق ہے۔ یہاں صرف ایک حضرت مجدد الف ثانی سرہند شریف والوں کا حوالہ نقل کیا جاتا ہے جو گیارھویں صدی ہجری میں گزرے اور جن کو امت نے دوسرے ہزار سال کا مجدد تسلیم کیا ہے۔ آپ اپنے مکتوب نمبر ٦٧ دفتر سوم حصہ ہشتم میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ از آسمان نزول خواهد فرمود، متابعت شریعت خاتم النبیین خواهد نمود.“
ان کی متابعت میں بارھویں صدی میں حضرت شاہ عبد القادر دہلویؒ، حضرت شاہ رفیع الدین دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے قرآنی تراجم بامحاورہ میں نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صراحت موجود ہے۔ یہ سب کے سب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول پر متفق ہیں۔ ان کو بھی مرزائیوں نے مجدد تسلیم کیا ہے۔
حتیٰ کہ خود مرزا قادیانی
حتیٰ کہ خود مرزا قادیانی کو جب تک خود مسیح ابن مریم بننے کا خیال نہ آیا تھا وہ بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ اور اس نے نہایت صفائی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اور عالمگیر غلبہ اسلام کا تذکرہ اپنی کتاب براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ میں کیا ہے۔ اور ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠ میں اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ عقیدہ نزول مسیح خیر القرون میں متواتر
ومشہور تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ متواتر قطعی اور زبان زد خاص و عام عقیدہ انہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارہ میں تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے اور جو پہلے ہو گزرے ہیں۔ جیسا کہ تمام امت محمدیہ تیرہ سو برس تک سمجھ رہی تھی اور سمجھ رہی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی آئینہ کمالات اسلام میں ذرا چھپ کر بجائے اردو کے عربی میں لکھتے ہیں کہ: ”نزول مسیح کا عقیدہ اصل مفہوم کے لحاظ سے تو حق تھا۔ لیکن اس کا اصلی مفہوم اللہ تعالیٰ نے آخری زمانہ تک چھپائے رکھا اور یہ سر مکتوم کی طرح رہا۔ جیسے تخم خوشہ میں چھپا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے ظہور (یعنی میرا) کا وقت آ گیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
کیا ہی مطلب سوجھا۔ ایسے قطعی متواتر اور مشہور عقائد کے بارہ میں اگر خدا ایسا کرنے لگے۔ حتیٰ کہ تمام آئمہ دین، مفسرین، محدثین اور مجددین دھوکہ میں پڑ جائیں اور ان کے لکھنے کی وجہ سے ساری امت یہی عقیدہ رکھے۔ پھر اچانک مسیح کے نام سے کوئی دوسرے صاحب نمودار ہوں اور امت اپنے بزرگان دین کے متفقہ عقیدہ کے موافق اس کا انکار کر کے کافر ہو جائے۔ یہ اچھا دین رہا اور ارحم الراحمین خدا کا اپنے رسول رحمۃ اللعالمین کی امت کے ساتھ اچھا سلوک ہوا۔
نئے مسیح موعود کی اصطلاح اور اس کی اپنی شریعت
یہ نیا نمودار ہونے والا شخص مسیح ابن مریم یا عیسیٰ بن مریم کی بجائے مسیح موعود کی نئی اصطلاح تراشے۔ (کیونکہ موعود کا لفظ اسلامی تاریخ میں کہیں نہیں ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے بھی کہا ہے) اور اپنی نئی شریعت جاری کر دے۔
آنحضرت ﷺ کی کامل متابعت کا دعویٰ کرتے کرتے آپ کی شریعت کو کامل طور پر مسخ کر دے۔ جس کا نمونہ حسب ذیل ہے کہ:
- ١...... اسلام میں دو مسیحوں کی اصطلاح اور عقیدہ کا اضافہ مسیح اسرائیلی اور مسیح
محمدی۔
- ٢...... اسلام میں بروز کا مسئلہ ایجاد کرنا مثلاً بروزی نبی، بروزی محمد، بروزی مسیح۔
حالانکہ اگر اصل اور اس فرضی بروزی کی روح اور جسم الگ مان لئے جائیں تو اتحاد یا ترقی یافتہ ہونے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ اگر روح وہی پرانی مانی جائے تو یہ تناسخ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
- ٣...... اسلام میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا مسئلہ ایجاد کیا۔ بعثت اولیٰ جس
میں آپ ہلال تھے اور آپ کا نام محمد ﷺ تھا۔ بعثت ثانیہ جس میں آپ بدر کامل بن گئے اور
نام آپ کا احمد ہوا۔ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی)
- ٤...... اپنے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیدیا۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
جو آنحضرت ﷺ کو بمعہ آپ ﷺ کے سارے دین کے مانتے تھے۔ اس طرح خود بخود دو امتیں بن گئیں۔
- ٥...... اور پھر اپنی امت کو حکم دیا کہ تم پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب
یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
اس طرح مرزائی امت کے ساتھ دینی اتحاد کی صرف ایک ہی شکل رہ جاتی ہے کہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی کے مسیح ہونے میں شک و تردد تک نہ کرے۔ بصورت دیگر نماز اور جنازہ پھر اسی ذیل میں مساجد کی علیحدگی خود بخود ہو کر امت قطعی طور پر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جس کو بچانے کے لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”صلوا خلف کل بر وفاجر “ یعنی ہر اچھے برے کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو۔ مطلب یہی تھا کہ گناہ کی وجہ سے کسی کے پیچھے ایسے حالات میں نماز ترک کر دینا کہ جس سے فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھے۔ بہتر نہیں۔
- ٦...... اسلام کے ایک فریضہ مسئلہ جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور وہ بھی
ہندوستان پر قابض انگریزی حکومت کی خاطر ۔ جیسا کہ کتاب البریہ درخواست بحضور نواب گورنر بہادر، ملحقہ کتاب البریہ ص ١١، خزائن ج ١٣ ص ٣٣٢ میں تصریح ہے۔
- ٧...... مسلمانوں کے متفق علیہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا۔
- ٨...... مسلمانوں کے متفق علیہ مسئلہ معراج جسمانی کا انکار کیا۔
- ٩...... غیر مسلم حکومت (انگریز) کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور ان کو اولی الامر
کہا۔ جن کی دوستی اور جن کو ہمراز بنانے کی قرآن میں سخت ممانعت وارد ہے۔
- ١٠...... خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دروازہ کھول کر ہزاروں فتنوں کو دعوت دی۔
- ١١...... اسلام اور قرآن پاک کے مشہور مسلمہ ابدیت عذاب کفار کا انکار کیا۔
- ١٢...... چندہ نہ دینے سے قادیانی جماعت سے خارج کر دینے (جس کو وہ اسلام
سمجھتے ہیں) کے مسئلہ کا اضافہ کیا۔ جس پر آج تک عمل ہورہا ہے۔ گویا ایک فرض کا اضافہ ہی نہیں ۔ بلکہ چندہ نہ دینے کو کفر قرار دیا۔ کیونکہ سلسلہ مرزائیت ہی کو وہ اسلام قرار دیتے ہیں۔
- ١٣...... وحی نبوت کا دروازہ کھولا اور وحی و نبوت کو اتنا سستا کر دیا کہ آج ہر مراقی
(یعنی مرزا غلام احمد قادیانی)
اپنے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیدیا۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
حضرت ﷺ کو بوجہ آپ ﷺ کے سارے دین کے مانتے تھے۔ اس طرح خود کافر بن گئے۔
اور پھر اپنی امت کو حکم دیا کہ تم پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب کے پیچھے پڑھو۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
آج مرزائی امت کے ساتھ دینی اتحاد کی صرف ایک ہی شکل رہ جاتی ہے کہ کوئی مرزا کے سچے ہونے میں شک و تردد تک نہ کرے۔ بصورت دیگر نماز اور جنازہ پھر نہ ہو گی۔ علیحدگی خود بخود ہو کر امت قطعی طور پر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جس کو حضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”صلوا خلف کل بر وفاجر“، یعنی ہر ایک کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو۔ مطلب یہی تھا کہ گناہ کی وجہ سے کسی کے پیچھے ایسے حالات پیدا نہ کرو کہ جس سے فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھے۔ بہتر نہیں۔
اسلام کے ایک فریضہ مسئلہ جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور وہ بھی صرف انگریزی حکومت کی خاطر۔ جیسا کہ کتاب البریہ درخواست بحضور نواب گورنر جنرل، (البریہ ص ١١، خزائن ج ١٣ ص ٣٤٧) میں تصریح ہے۔
مسلمانوں کے متفق علیہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا۔
مسلمانوں کے متفق علیہ مسئلہ معراج جسمانی کا انکار کیا۔
غیر مسلم حکومت (انگریز) کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور ان کو اولی الامر قرار دے کر جن کو ہمراز بنانے کی قرآن میں سخت ممانعت وارد ہے۔
خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دروازہ کھول کر ہزاروں فتنوں کو دعوت دی۔
اسلام اور قرآن پاک کے مشہور مسئلہ ابدیت عذاب کفار کا انکار کیا۔
چندہ نہ دینے پر قادیانی جماعت سے خارج کر دیئے (جس کو وہ اسلام کہتے ہیں) جس پر آج تک عمل ہو رہا ہے۔ گویا ایک فرض کا اضافہ ہی نہیں کیا، بلکہ اس کو اہم ترین فرض قرار دیا۔
وحی نبوت کا دروازہ کھولا اور وحی و نبوت کو اتنا سستا کر دیا کہ آج ہر مراقی
ایک خواب دیکھ لینے پر الہام و وحی یا نبوت کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے۔
١٤....... اللہ تعالیٰ کے بارہ میں نہایت غلط عقیدے گھڑے۔ مثلاً کہ خدا کبھی اپنا ارادہ پورا کرتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے۔ حالانکہ اسلام کا خدا فعال لما یرید ہے۔ ارادہ کر کے ترک کرنے کا معنی یہی ہو سکتا ہے کہ پہلا ارادہ غلط تھا۔ العیاذ باللہ! جو خدا علیم و خبیر، قدیر و حکیم ہے وہ ارادہ کر کے کیسے روک سکتا ہے۔ اس کے سوا کتاب البریہ ص ٨٤ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ میں الہام لکھا کہ: ”آواہن“ یعنی: ”خدا تیرے اندر اتر آیا۔“ یہ ترجمہ بھی خود کیا۔ اس طرح ہندوؤں کی طرح اوتار کے مسئلہ کی بنیاد رکھی یا اپنے بیٹے کے بارہ میں حقیقت الوحی ص ٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩ میں لکھا کہ: ”کان اللہ نزل من السماء“ یعنی: ”جیسے خدا آسمان سے نازل ہو گیا ہے۔“
١٥....... اسی طرح انبیاء علیہم السلام کی شان میں غلط عقیدہ رائج کیا کہ ان کو وحی کے سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ کی پہلی وحی کے سلسلہ میں یہاں تک لکھ مارا کہ:
”آپ ﷺ نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہیں شیطانی مکر نہ ہو۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٨)
حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ قطعاً نہیں فرمائے۔ یہ محض جھوٹ اور آنحضرت ﷺ کی توہین ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی وحی کے بارہ میں شیطانی مکر ہونے کا اندیشہ ہو گیا ہو۔ یہ بات وہی شخص کر سکتا ہے جو پیغمبر سے باطنی دشمنی رکھتا ہو یا شانِ پیغمبری سے ناواقفیت رکھتا ہو۔ پیغمبر کا پہلا قدم اولیاء کا آخری قدم ہوتا ہے ’بوزینہ چہ داند لذت ادرک‘ ایک جگہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہاں تک لکھ مارا کہ ایک دفعہ چار سو پیغمبروں نے ایک بادشاہ کے فتح کی پیشین گوئی کی۔ لیکن وہ غلط نکلی۔ اس میں مرزا قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کے اعتماد کو بالکل ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ چار سو نبیوں کے ایک ہی وقت میں موجود ہونے کا تذکرہ قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔ اور بائبل میں جہاں سے نقل کیا ہے دراصل یہ کاہنوں کا ذکر ہے۔ ایسی تحریف شدہ کتابوں سے رطب و یابس نقل کر کے یہ ثابت کرنا کہ چار سو نبیوں کا کہنا بھی غلط ہو سکتا ہے۔ حالانکہ انبیاء علیہم السلام ایسی بات اگر کہتے ہیں تو خدائی اطلاع کے بعد کہتے ہیں جس کا غلط ہونا ناممکن ہے۔ اس طرح بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے دین کا اعتماد ختم کرنا چاہا اور اس کو اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ عبداللہ آتھم عیسائی مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے مطابق نہ مرا۔ اسی طرح محمدی بیگم والی بار بار کی وحی جھوٹی ہوئی تو مرزا قادیانی نے اپنی پیغمبرانہ ساکھ بچانے کے لئے اس عیب میں تمام پیغمبروں کو لپیٹ لیا۔
- ١٦...... مرزا قادیانی نے عملاً حج منسوخ کیا ۔ نہ خود حج کیا بلکہ اس کی جگہ دسمبر کے
بڑے دنوں میں بروزی حج پہلے قادیان میں کرتے رہے ۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ :
ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے
(درثمین ص ٥٤)
اور پھر قادیانیوں کا بروزی حج چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں ہوتا رہا۔ (اب لندن میں سرے ٹلفورڈ کے مقام پر منتقل ہو گیا ۔ مرتب )
- ١٧...... مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کے سلسلہ میں جنت کے ٹکٹ تقسیم کئے ۔
حصول جنت کے لئے ہزاروں مرزائیوں نے لاکھوں روپے خرچ کر کے وہاں جگہ لی ۔ یہ کاروبار کامیاب رہا ۔ جیسے کہ مینارۃ المسیح کھڑا کرنے کا چندہ کامیاب رہا ۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ کہ زانی ، شرابی ، رشوت خور اور بدکار اگر کسی خاص جگہ دفن کر دیا جائے تو اسلامی تعلیمات کی رو سے اس طرح وہ اپنے اعمال بد کی جواب دہی سے بچ نہیں سکتا ۔
- ١٨...... مرزا غلام احمد قادیانی نے جمہور اہل اسلام کے عقیدہ مہدی اور مسیح کو ملا کر
ایک کر دیا ۔ جمہور اہل اسلام مہدی علیہ الرضوان کو علیحدہ وجود تسلیم کرتے ہیں اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول تسلیم کرتے ہیں۔ ظہور مہدی علیہ الرضوان کی کثیر التعداد روایات کو محض اس لئے نظر انداز کر دینا کہ ان میں باہم کچھ کچھ اختلافات ہیں۔ اسلامی اصول روایت اور نقل دین کو تبدیل کرنا ہے۔
کیونکہ اختلافات کے باوجود قدر مشترک سب میں پایا جاتا ہے۔ یعنی ایک اونچے درجے کے منتظم ، حکمران اور روحانی پیشوا کے آنے پر سب روایتیں متفق ہیں جو مہدی کہلائے گا۔ چاہے تفاصیل وجزیات میں ان روایات میں باہم اختلافات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی روایات میں نفس مضمون جو قدر مشترک کہلاتا ہے تواتر وتوارث کی وجہ سے یقیناً صحیح سمجھا جاتا ہے۔ نزول مسیح کی سینکڑوں روایات میں بھی بعض کا بعض سے گو کچھ اختلاف ہے۔ لیکن خود مرزا غلام احمد قادیانی نزول مسیح کو اسی تواتر اور قدر مشترک کی وجہ سے قطعی قرار دیتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ مہدی بننے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو روایات کے موافق جہاد کر کے اسلامی ممالک کا بہترین نظام قائم کرنا پڑتا ۔ جس کے لئے نہ صرف وہ تیار نہ تھا اور نہ ہی وہ حالات تھے جو مہدی علیہ الرضوان کے وقت ہونے ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے سرے سے ان کے انکار ہی
مرزا قادیانی نے عملاً حج منسوخ کیا ۔ نہ خود حج کیا بلکہ اس کی جگہ دسمبر کے حج پہلے قادیان میں کرتے رہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ:
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٢)
قادیانیوں کا بروزی حج چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں ہوتا رہا۔ (اب لندن میں منتقل ہو گیا ۔ مرتب)
مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کے سلسلہ میں جنت کے ٹکٹ تقسیم کئے۔ جن مرزائیوں نے لاکھوں روپے خرچ کر کے وہاں جگہ لی ۔ یہ کاروبار مرزا قادیانی کا نیا حج کھڑا کرنے کا چندہ کامیاب رہا۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ بڑے سے بڑا اور بد کار اگر کسی خاص جگہ دفن کر دیا جائے تو اسلامی تعلیمات کی رو سے وہ اس کی جواب دہی سے بچ نہیں سکتا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے جمہور اہل اسلام کے عقیدہ مہدی اور مسیح کو ملا کر ایک کر دیا۔ اور امام مہدی علیہ الرضوان کو علیحدہ وجود تسلیم کرتے ہیں اور ان کے بعد نزول مسیح کو تسلیم کرتے ہیں۔ ظہور مہدی علیہ الرضوان کی کثیر التعداد روایات کو محض اس لئے رد کر دیا کہ ان میں باہم کچھ کچھ اختلافات ہیں۔ اسلامی اصول روایت اور نقل کی رو سے اختلافات کے باوجود قدر مشترک سب میں پایا جاتا ہے۔ یعنی ایک اونچے درجہ کے روحانی پیشوا کے آنے پر سب روایتیں متفق ہیں جو مہدی کہلائے گا۔ اگرچہ ان روایات میں باہم اختلافات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تمام روایتوں کا جو قدر مشترک کہلاتا ہے تواتر وتوارث کی وجہ سے یقیناً صحیح سمجھا جاتا ہے۔ ان میں بھی بعض کا بعض سے گو کچھ اختلاف ہے۔ لیکن خود مرزا غلام احمد قادیانی اسے تواتر اور قدر مشترک کی وجہ سے قطعی قرار دیتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو روایات کے موافق جہاد کر کے اسلامی ممالک کا دفاع کرنا تھا، اس کے لئے نہ صرف وہ تیار نہ تھا اور نہ ہی وہ حالات تھے جو مہدی کے ظہور کے لئے درکار ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے سرے سے ان کے انکار ہی
میں خیر سمجھی اور اس طرح علماء کے خلاف یہ کہہ کر کہ یہ خونی مہدی کے منتظر ہیں دل کی بھڑاس نکالنے اور انگریز کو اپنی جہاد شکن مسیحیت جتانے کے خوش کرنے کا فائدہ بھی اٹھایا ۔
- ١٩....... مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلم ممالک کو انگریزوں کا خیر خواہ بنانے ۔
مسلمانوں کو ان کا مستقل وفادار بنانے اور جہاد کی حرمت ومنسوخی کے سلسلہ میں پچاس الماریاں لکھ کر اسلام میں جراثیم غلامی کی تخم ریزی کی ہے۔
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
جو اسلام صرف غالب رہنے اور دنیا پر چھا جانے کے لئے آیا تھا اور جس اسلام کے سچے پیرؤوں نے مظلوم دنیا کے بڑے حصہ کو پنجہ استبداد سے نجات دی تھی۔
- ٢٠....... مرزا قادیانی نے قرآن و حدیث کے من گھڑت معانی کرنے سلف
صالحین کے خلاف قرآن کی تفسیر بالرائے کرنے اور احادیث کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی طرف اپنے من گھڑت معانی منسوب کرنے کا منحوس دروازہ کھولا۔ جس کے بعد دین اور روایات دین کا کوئی مفہوم بھی قابل اعتبار و اعتماد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جیسے کہ: ’’و نفخ فی الصور فجمعناهم جمعاً‘‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’صور یعنی بگل پھونک دیا جائے گا اور ہم سب لوگوں کو حشر میں جمع کر دیں گے ۔‘‘ اس طرح حشر اور جمع کرنے کا قرآن میں متعدد جگہ ذکر ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کا ترجمہ چشمہ معرفت ص ٨٠ خزائن ج ٢٣ ص ٨٨ میں یہ کیا ہے کہ : ’’جب مسیح آئے گا تمام لوگ ایک ہی مذہب پر ہو جائیں گے ۔‘‘ تمام لوگ ایک مذہب پر کیا ہوئے؟ ۔ اسلام کے اندر بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی نحوست سے خطرناک پھوٹ پڑ گئی۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی وحدت ادیان کے بغیر ہی مسیح بنے رہے۔ جس میں پھونک چڑھتی ہی رہی ۔ اسی طرح سورۃ اذا زلزلت الارض زلزالہا ...... اور سورۃ اذا الشمس کورت کی تحریف کی ہے۔ واذا الصحف نشرت میں اعمال ناموں کی جگہ اخبارات کا ترجمہ کیا ہے اور بیسیوں جگہ قرآن وحدیث سے تلاعب کیا ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ ! جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین سے ناواقف مغربی تعلیم یافتہ افراد کو ملحد بنا دیا جائے اور قرآن پاک کو ہر کسی کی رائے زنی کے لئے ایک کھلونا بنا دیا جائے۔
فیصلہ کن دعویٰ
ہمیں یہاں اس پیرائے کی تفصیل سے بحث نہیں ۔ لیکن زیر بحث مسئلہ ہی میں ہم بانگ دہل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزائی امت کسی آیت یا حدیث کے ذیل میں کسی صحابیؓ ، تابعیؒ، کسی امام حدیث، امام فقہ اور کسی مفسر یا مجدد اور سلف صالحین کا ایک قول بھی پیش نہیں کر سکتے۔
- الف...... جس میں کہا گیا ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی بن سکتا ہے۔ یا
وحی نبوت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
- ب...... یا کسی نے یہ کہا ہو کہ نزول مسیح کی متواتر اور قطعی روایت میں مسیح سے مراد
پرانا مسیح عیسیٰ ابن مریم نہیں جو پہلے کا رسول ہے۔ بلکہ اس اسرائیلی مسیح کے سوا کسی اور آدمی کو امت محمدیہ میں سے آنا ہے اور یہ عیسیٰ مسیح، دمشق، آسمان، دجال، منارہ، کسر صلیب، غلبہ اسلام، عادلانہ حکومت، وغیرہ سینکڑوں شخصی کلمات و علامات صرف بے معنی الفاظ ہی الفاظ ہیں۔
دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے۔ ایسا کوئی قول پیش نہیں کیا جا سکتا۔ حیات، وفات کی لفظی بحثوں میں رطب و یابس کے بیان سے اصل مسئلہ کو الجھایا جا سکتا ہے۔ لیکن سلف میں سے کسی ایک کا قول اس مدعا میں پیش نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والا مسیح وہ اسرائیلی مسیح ابن مریم نہیں ہو گا جو زندہ آسمان پر موجود ہے۔ یہ امر بجائے خود ناممکن ہے کہ مسئلہ اتنا عظیم الشان اور معرکۃ الآرا ہے جس پر سب کے سب پورا زور قلم صرف کرتے ہیں۔ لیکن اس کے مفہوم جو ظاہری مفہوم کے خلاف ہو۔ اس پر سب کے سب خاموش رہیں۔ بلکہ اس کے برعکس اولیاء کے سرتاج حضرت خواجہ حسن بصریؒ مجددین کے سرتاج حضرت مجدد الف ثانی سرہندیؒ اور حضرت شیخ اکبر محی الدینؒ ابن عربی (جن کی مشہور تصنیف فتوحات مکیہ جلد دوم ص ١٢٥ جلد سوم ص ٣٤١ اور جلد اول ص ١٣٥، ١٤٤، ١٨٥ آ میں تصریح ہے) اور صحابہ کرامؓ سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تک تمام سلف یہی کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم زندہ آسمان پر موجود ہیں جو قرب قیامت میں نازل ہو کر عادل بادشاہ کی حیثیت سے عالمگیر غلبہ اسلام کا سبب ہوں گے۔
تواتر قومی کی قوت
اگر مندرجہ بالا طریقہ پر مفسرین، محدثین، مجددین اور سلف صالحین سے باقاعدہ اجماعی طور سے عقیدہ مذکورہ مروی نہ بھی ہوتا تو بھی امت محمدیہ کا پشت بہ پشت قرن اول سے آج تک یہ عقیدہ ہونا قطعی دلیل ہے کہ یہی قرآن وحدیث اور خدا ورسول کی مراد ہے۔ مثلاً نماز کی رکعات کی تعداد میں اسناد کا تواتر نہیں صرف یہی امت محمدیہ کا توارث ہے جو پشت بہ پشت چلا آ رہا ہے۔ یہ بھی دلیل قطعی ہے۔ اگر کوئی شخص صبح کی فرض نماز کی تین اور مغرب کے فرض دو رکعات قرار دے وہ فرض کا منکر متصور ہوگا۔ اسی طرح قرآن پاک کی ایک ایک آیت کے بارہ میں متواتر اسانید پیش نہیں کی جاسکتیں۔ بلکہ قرآن کا قرآن ہونا یعنی یہ امر کہ یہ موجودہ قرآن وہی قرآن ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ اسی تواتر اور توارث امت سے ثابت ہے۔ اگر
قرن اول سے آخر تک لاکھوں کروڑوں افراد کا نسلاً بعد نسل کسی عقیدہ یا کسی مسئلہ پر متفق ہونا دلیل قطعی نہ مانا جائے تو پھر قرآن کا قرآن ہونا بھی ثابت ہونا مشکل ہو جائے گا۔
مسواک کا استعمال سنت ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے اسے استعمال فرما کر اس کو موجب ازدیاد ثواب بتایا ہے۔ اگر ایک شخص اسے ضروری نہ سمجھے یا عمر بھر استعمال نہ کرے تو اس کو گناہ بھی نہ ہوگا۔ صرف ثواب کی کمی ہوگی۔ لیکن اگر وہ مسواک کے ثواب اور کار خیر ہونے کا ہی انکار کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کردی۔ قومی تواتر اور امت کے توارث سے یہ امر ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو ازدیاد ثواب کا باعث فرمایا ہے۔ کفر و ایمان کا معیار ہی در اصل تصدیق یا تکذیب ہے۔ جس نے آنحضرت ﷺ اور قرآن کی تصدیق کی وہ مسلمان ہے۔ جس نے ایک بات میں بھی آپ ﷺ کی تکذیب کی وہ کافر ہے۔ شکار کرنا کوئی فرض نہیں۔ لیکن اگر کوئی شکار کو حرام کہے ۔ وہ کافر ہو جائے گا۔ اس لئے کہ اس نے آیت قرآن کی تکذیب کی جس میں شکار کی اجازت ہے کہ ’’واذا حللتم فاصطادوا ۔‘‘ یعنی حج سے فارغ ہو کر تم شکار کر سکتے ہو۔ کسی حلال کو حرام کہنا اور حرام کو حلال کہنا بھی اسی لیے کفر ہے کہ اس میں خدا اور رسول کی تکذیب لازم آتی ہے۔ تصدیق اور تکذیب چونکہ دل کی صفتیں ہیں۔ اس لئے قانون اور شریعت میں نشانات پر حکم لگایا گیا ہے۔ یعنی اگر تصدیق کی نشانی ہوگی تو مومن کہا جائے گا۔ اگر تکذیب کی نشانی پائی جائے تو اسے کافر کہا جائے گا۔
١...... مشہور حدیث من قال لا اله الا الله دخل الجنة ، کنز العمال ج١ ص ٦١ حدیث نمبر ٢٠٨۔ جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دین اسلام کی تصدیق کی اور مجھے خدا کا رسول مانا وہ جنتی ہوگا۔ اس لئے کہ عرب اللہ کو مانتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ چھوٹے چھوٹے خدا بھی بنا رکھے تھے۔ وہ لا الہ الا اللہ کو نہیں مانتے تھے۔ اس لئے لا الہ الا اللہ کہنا آنحضرت ﷺ کی تصدیق کی نشانی تھی۔ جو یہ کلمہ کہتا اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا۔
٢...... اس بیان سے اس حدیث کا مطلب بھی واضح ہو گیا کہ جو ہمارے قبلہ کی طرف نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے وہ ہم میں سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں تصدیق کی نشانیاں ہیں۔ لیکن اگر کسی طرح یہ معلوم ہو جائے کہ یہ لا الہ الا اللہ کہنے والا آنحضرت ﷺ کو پیغمبر نہیں مانتا صرف توحید کو مانتا ہے۔ اس شخص کے کفر میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ ۔ کیونکہ تکذیب کی
نشانی پائی گئی۔ اس طرح نماز قبلہ رو ہو کر پڑھنے والا اگر کہہ دے کہ زکوٰۃ فرض نہیں یا جہاد حرام ہے تو اس کا یہ کہنا آنحضرتﷺ کی تکذیب کی علامت قرار دے کر اس کو کافر کہا جائے گا۔
قرآن پاک نے تکذیب ہی کو کفر اور مستوجب سزا قرار دیا ہے۔ کل کذب الرسل فحق وعید (ق: ١٤) میں تکذیب رسل پر وعید مرتب فرمائی ہے۔ اسی طرح کذبت قبلهم قوم نوح و اصحاب الرس و ثمود (ق: ١٢) میں تکذیب ہی کو ہلاکت کا سبب بتایا ہے۔ بہر حال ایمان کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرتﷺ کے لائے ہوئے تمام دین کو سچا سمجھ کر دل سے مان لے۔ اور کفر کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ کسی ایک ہی امر میں وہ رسول کی تکذیب کر دے۔ اس کو قرآن نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے کہ: ” اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (بقرہ: ٨٥) ” کیا تم کتاب کی بعض باتیں مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ ﴾
اسلام ایک مخصوص تعلیم، مخصوص عقائد و احکام اور مخصوص عبادت و طرزِ زندگی کا نام ہے۔ یہ آسمانی مکمل ہدایت ہے۔ جس کے بنانے میں نہ انسانی عقل شریک ہے اور نہ اسے اس میں کمی یا زیادتی کرنے کا حق ہے۔ سوائے ان امور کے جو خود اسلام نے اولی الامر کے حوالہ کر دیئے ہیں یا جن کو باہم مشورہ سے کرنے کا حکم ہے۔
اسلام کا انگریزی معیار
بدقسمتی سے یہاں سو سال سے زیادہ ایسی غیر مسلم حکومت مسلط رہی ہے جس کا بھلا ہی اس میں تھا کہ اسلام کی روح فنا ہو جائے۔ مذہب اسلام کی اہمیت نہ رہے۔ نہ فتویٰ کی قوت باقی رہے۔ نہ فتویٰ دینے والوں کی عزت اور اسلام ایک کھلونا بن کر رہ جائے۔ اسلام کے نام پر اسلام کے اندر جتنے بھی فرقے یا اختلافات پیدا ہوں وہ اپنے لئے غنیمت جانتی تھی اور مذہبی آزادی کے نام پر اس کا یہ مقصد خوب پورا ہوا۔ انگریز کے ہاں مردم شماری اور دفتروں میں ہر اس شخص کو مسلمان لکھا جاتا ہے جو اپنے کو مسلمان کہے۔ افسوس کہ انگریز کو یہاں سے گئے عرصہ ہو گیا۔ لیکن اس کا قائم کردہ معیار ابھی تک بعض دماغوں پر مسلط ہے۔ اس عدالت میں بعض بلند اور ذمہ دار افسروں نے بھی خیال ظاہر کیا۔
لیکن اگر اسلام اور مسلمان ہونے کا معیار یہی ہو کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہے۔ وہی مسلمان ہے تو پھر اس کے مندرجہ ذیل نتائج ہو سکتے ہیں کہ:
- ١...... ایک شخص کہتا ہے نماز فرض نہیں ہے۔ یہ صرف عربوں کا غرور توڑنے کے
لئے تھی۔ اب اسلام کو ماننے والے مسلمانوں کو اس
- ٢...... ایک کہتا ہے زکوٰۃ مالی نظ
دوسرے ذرائع سے یہ انتظام ہو سکتا ہے۔ اس ل ضرورت ہے۔
- ٣...... ایک کہتا ہے روزہ میں ص
اطلاق نہیں ہوتا۔ اس لئے ان سے روزہ نہیں ٹوٹت
- ٤...... ایک کہتا ہے کہ قرآن می
البیت “ کہ لوگوں پر اللہ کے گھر کا ارادہ فر جہاں اللہ کے بندے بہت ہوں۔ وہاں جمع ہو ک ہے۔ اس لئے لندن جانا فرض ہے اور یہی حج کا
- ٥...... ایک کہتا ہے میں مسلما
فرشتہ ہے نہ کوئی اور۔
- ٦...... ایک کہتا ہے قیامت ب
ہے۔ وہ ایک روحانی کیفیت ہوگی۔
- ٧...... ایک کہتا ہے کہ میں م
قرآن انہوں نے خود تصنیف کیا ہے۔ یہ آسما
- ٨...... ایک کہتا ہے کہ میں
عربوں کے لئے رسول تھے اور جس طرح قری نذیر آتے رہے ہیں اسی طرح آج بھی ہر بر رہیں گے اور میں خود رسول ہوں اور خدا کا ب بھارت بنا ڈالو۔
- ٩...... ایک کہتا ہے کہ میں
خدا ماننے لازمی ہیں۔ ایک بڑا خدا جسے اللہ ک ہے۔ دوسرا چھوٹا خدا جس کو روح القدس یا ج طرح ہر جہاں میں ایک ایک چھوٹا خدا موجو داخلی معاملات میں یہ آزاد خود مختار ہیں ۔
نماز قبلہ رو ہو کر پڑھنے والا اگر کہہ دے کہ زکوۃ فرض نہیں یا جہاد حرام ہے اللہﷺ کی تکذیب کی علامت قرار دے کر اس کو کافر کہا جائے گا۔ نے تکذیب ہی کو کفر اور مستوجب سزا قرار دیا ہے۔ کل کذب الرسل میں تکذیب رسل پر وعید مرتب فرمائی ہے۔ اسی طرح کذبت قبلہم رس و ثمود ، ق:١٢! میں تکذیب ہی کو ہلاکت کا سبب بتایا ہے۔ وری ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے تمام دین کو سچا سمجھ کر دل لئے اتنا بھی کافی ہے کہ کسی ایک ہی امر میں وہ رسول کی تکذیب کر الفاظ سے تعبیر کیا ہے کہ : ”افتؤمنون ببعض الکتاب و قرہ: ٨٥“ ﴿ کیا تم کتاب کی بعض باتیں مانتے ہو اور بعض کا انکار
س تعلیم ، مخصوص عقائد و احکام اور مخصوص عبادت و طرز زندگی کا نام ہے۔ جس کے بنانے میں نہ انسانی عقل شریک ہے اور نہ اسے اس تا ہے۔ سوائے ان امور کے جو خود اسلام نے اولی الامر کے حوالہ روے کرنے کا حکم ہے۔
سو سال سے زیادہ ایسی غیر مسلم حکومت مسلط رہی ہے جس کا بھلا ہی تا ہو جائے۔ مذہب اسلام کی اہمیت نہ رہے۔ نہ فتویٰ کی قوت باقی عزت اور اسلام ایک کھلونا بن کر رہ جائے۔ اسلام کے نام پر اسلام فات پیدا ہوں وہ اپنے لئے غنیمت جانتی تھی اور مذہبی آزادی کے ا، انگریز کے ہاں مردم شماری اور دفتروں میں ہر اس شخص کو مسلمان ا کہے۔ افسوس کہ انگریز کو یہاں سے گئے عرصہ ہو گیا۔ لیکن اس کا اغوں پر مسلط ہے۔ اس عدالت میں بعض بلند اور ذمہ دار افسروں
سلمان ہونے کا معیار یہی ہو کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہے۔ وہی ذیل نتائج ہو سکتے ہیں کہ: ا کہتا ہے نماز فرض نہیں ہے۔ یہ صرف عربوں کا غرور توڑنے کے
لئے تھی۔ اب اسلام کو ماننے والے مسلمانوں کو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
- ......٢ ایک کہتا ہے زکوۃ مالی نظام کے لئے فرض کی گئی تھی۔ لیکن اب ٹیکسوں اور
دوسرے ذرائع سے یہ انتظام ہو سکتا ہے۔ اس لئے نہ اب زکوۃ فرض ہے۔ نہ اس کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔
- ......٣ ایک کہتا ہے روزہ میں صرف کھانا ممنوع ہے۔ پھل اور فروٹ پر کھانے کا
اطلاق نہیں ہوتا۔ اس لئے ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- ......٤ ایک کہتا ہے کہ قرآن میں ہے کہ : ”ولله على الناس حج
البيت “ ﴿ کہ لوگوں پر اللہ کے گھر کا ارادہ فرض ہے۔ ﴾ اللہ کا تو گھر کوئی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ جہاں اللہ کے بندے بہت ہوں ۔ وہاں جمع ہونا چاہئے اور چونکہ آبادی لندن کی سب سے زیادہ ہے۔ اس لئے لندن جانا فرض ہے اور یہی حج کا معنی ہے۔
- ......٥ ایک کہتا ہے میں مسلمان ہوں۔ لیکن فرشتوں کو نہیں مانتا۔ نہ جبرائیل کوئی
فرشتہ ہے نہ کوئی اور ۔
- ......٦ ایک کہتا ہے قیامت کا دن تو حق ہے۔ لیکن دوبارہ زندگی صرف افسانہ
ہے۔ وہ ایک روحانی کیفیت ہوگی ۔
- ......٧ ایک کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ۔ آنحضرت ﷺ کو مانتا ہوں۔ لیکن
قرآن انہوں نے خود تصنیف کیا ہے۔ یہ آسمان سے نازل نہیں ہوا۔
- ......٨ ایک کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ صرف
عربوں کے لئے رسول تھے اور جس طرح قرآنی بیان کے مطابق ہر بڑے قریہ میں پہلے خدا کے نذیر آتے رہے ہیں اسی طرح آج بھی ہر بڑے مرکزی شہر میں رسول آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے اور میں خود رسول ہوں اور خدا کا یہ حکم لے کر آیا ہوں کہ پاکستان کو ختم کر دو اور اکھنڈ بھارت بنا ڈالو۔
- ......٩ ایک کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور اسلام کی تعلیم کے لحاظ سے ہمیں دو
خدا ماننے لازمی ہیں۔ ایک بڑا خدا جسے اللہ کہتے ہیں جو رب العالمین اور سارے جہانوں کا مالک ہے۔ دوسرا چھوٹا خدا جس کو روح القدس یا جبرائیل کہتے ہیں۔ اس نظام شمسی کا رب یہی ہے۔ اسی طرح ہر جہاں میں ایک ایک چھوٹا خدا موجود ہے اور یہ سب رب العالمین کے ماتحت ہیں۔ لیکن داخلی معاملات میں یہ آزاد خود مختار ہیں ۔ یہ چھوٹے خدا ، بڑے کی عبادت اور حمد و ثنا کیا کرتے
ہیں ۔ چنانچہ سورہ فاتحہ میں یہی چھوٹا خدا اس رب العالمین کی حمد کرتا ہے اور پھر ایاک نعبد ! کہہ کر اسی کی شہنشاہیت کا اقرار کرتا ہے ۔ ہمیں یہ قرآن اور ہمارے یہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس چھوٹے خدا نے بھیجے ہیں ۔ ہمیں براہ راست اسے اپنے مقامی خدا سے حاجتیں مانگنی چاہئیں اور اسی کے ذریعہ بڑے اللہ کے سامنے ہدیہ عقیدت ارسال کرنا چاہئے ۔
- ١٠.......... ایک کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آنحضرت ﷺ کی کامل متابعت کی
برکت سے نبی بن چکا ہوں ۔ اب اللہ کا یہ حکم ہے کہ زنا کی حرمت نسب کی حفاظت کے لئے تھی ۔ اب فرنچ لیدر کے استعمال کی صورت میں زنا حرام نہیں رہا اور قرآنی مساوات کی رو سے ہر عورت کو اسی طرح چار خاوند بیک وقت کرنے کی اجازت ہے ۔ جیسے ایک مرد کو چار عورتیں کرنے کی ۔
- ١١.......... ایک کہتا ہے کہ خدا کا حکم ” ان الحکم الا للہ “ (حکومت صرف اللہ کی
ہے) پس اس لئے کسی حاکم یا امیر یا وزیر یا حکومت کا حکم ماننا کفر ہے ۔ جو حکومت ہے اس کو توڑ پھوڑ دینا لازم ہے ۔ یہ ہوم سیکرٹری ، چیف سیکرٹری ، وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ ، گورنر وغیرہ کے نام اور عہدے سب شیطانی ایجاد ہے ۔ ان سب سے بغاوت مذہبی فریضہ ہے ۔
- ١٢.......... ایک کہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کا امتی ہوں اور متابعت کرتے کرتے
آپ ﷺ سے درجہ میں بڑھ گیا ہوں ۔ جیسے ایک معمولی کلرک کا بیٹا اپنی کوششوں سے ملازمت میں ترقی کرتے کرتے چیف سیکرٹری یا وزیر یا گورنر بن جائے ۔ اگرچہ وہ درجہ میں بڑھ گیا ۔ لیکن اسی طرح باپ کا بیٹا ہے ۔ پس اگرچہ میرا درجہ بڑھ گیا ہے ۔ لیکن میں آنحضرت ﷺ کا امتی ہوں ۔
جناب والا ...... ان سب مدعیان اسلام کو مسلمان قرار دینا اور شہری آزادی کے نام سے ان کو اپنے اپنے مذہب کی اشاعت کی اجازت دینا کتنی مذہبی بغاوت اور کتنی ملکی انارکی ۔ کتنی شرارت اور کتنے طوفانوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے ؟ ۔ کیا ہر مدعی اسلام کو یا مسلمان کہلوانے والے بلا لحاظ صحت عقائد و تصدیق ضروریات دین مسلمان قرار دینا اور اس کے خلاف انسدادی تبلیغی کاروائی کو مسلمان قوم میں تفرقہ اندازی اور سماج دشمنی قرار دینا ۔ ایک سلیم العقل آدمی کا کام ہو سکتا ہے ؟ ۔ ہمارے بھی ہیں مہربان کیسے کیسے ! یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جسے نہ اسلام سے دلچسپی ہو نہ ملک سے ۔ کیونکہ ایسی آزادی دے دینے میں ملک کے اندر فسادات و نزاعات کا ایسا ملک گیر غیر مختتم سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس کے تصور سے بھی روح کانپ اٹھتی ہے ۔ یہ تو خدا کا فضل رہا کہ علماء دین کی مساعی سے ایسے فتنے سر نہیں اٹھا سکے ۔ ایک مرزائی فتنہ جس کی پشت پر
سرکاری عناصر سے آگے بڑھا اور صرف اس ایک فتنہ کی معمولی ترقی سے ملک کے اندر جو اضطراب پیدا ہوا وہ ظاہر ہے۔ اگر مذکورہ بالا قسم کے تمام فتنوں کو اس لئے کھلی اجازت دے دی جائے کہ یہ سب مسلمان کہلاتے ہیں تو اس کے نتائج کے مقابلہ میں موجودہ اضطراب عشر عشیر بھی نہ ہوگا۔
کفر کی قطعی وجہ
اس لئے ہمیں کفر و اسلام کے درمیان ایک صحیح مابہ الامتیاز حد قائم کرنی ہوگی اور وہ صرف یہ ہے کہ جس امر کا اسناد کے تواتر سے یا قومی توارث سے یا تواتر قدر مشترک سے آنحضرت ﷺ کا فرمودہ ہونا ثابت ہو جائے۔ اس کا انکار آنحضرت ﷺ کی تکذیب قرار دے کر کفر قرار دیا جائے۔
انگریزی معیار اسلام کی تردید
یہ کہنا کہ جو اپنے کو مسلمان کہے اسی کو مسلمان سمجھنا چاہئے اور اس کے خلاف نفرت پیدا کرنا قوم میں تفرقہ بازی کے مترادف ہے۔ یہ اسلام اور اسلامی تاریخ سے لاعلمی پر مبنی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ان لوگوں سے جہاد کیا جو تمام دین اسلام کو مانتے اور اپنے کو مسلمان کہتے ہوئے صرف زکوٰۃ کا انکار کرنے لگے تھے۔ اور تمام صحابہ کرامؓ نے حضرت صدیق اکبرؓ کا ساتھ دے کر بزور شمشیر اس فتنہ کی سرکوبی کی۔ حالانکہ اس وقت بیرونی خطرات روم و ایران سے بھی مسلمان دوچار تھے۔ لیکن قرنِ اول کے مسلمانوں نے کسی مصلحت کی خاطر بھی اسلام کے ایک قطعی حکم کے انکار سے چشم پوشی کرنا صحیح نہیں سمجھا۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب مدعی نبوت بھی اپنے کو مسلمان کہتا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتے ہوئے اپنے لئے بھی نبوت تجویز کرتا رہا اور چالیس ہزار بہادر عربوں کی فوج بھی اس کے ساتھ تھی۔ لیکن صدیقؓ نے اس کی سرکوبی کر کے اسے ختم کر دیا۔ نہ اس کو خانہ جنگی سمجھا اور نہ تفرقہ بازی۔ نہ اس کا دعویٰ اسلام اس کو مسلمانوں سے بچا سکا۔
اسی طرح حضرت علیؓ نے عمر بھر خارجیوں سے جہاد کیا جو اپنے کو پکا مسلمان کہتے اور عام احکام کے پابند تھے۔ صرف آیت کریمہ ان الحکم الا للہ! کی آڑ لے کر کہتے تھے کہ کسی امیر یا حاکم یا خلیفہ کی اطاعت ضروری نہیں۔ صرف اس خروج کی وجہ سے اور ایک قطعی حکم اطیعوا الله واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم (النساء:٥٩) کے انکار کی وجہ سے اس ناسور سے اسلام کے جسم کو پاک وصاف کیا گیا۔ خلافت عباسی اور بعد میں بھی کسی آدمی کو جس نے کسی کفر کا ارتکاب کیا ہو۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ اسلامی سزائے قتل سے نہیں بچا سکا۔ قانونی شریعت
کے احترام نے منصور تک کی پرواہ نہیں کی۔
خدا سے مقابلہ
سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا کہنے والا کہ ہر مدعی اسلام مسلمان ہے خدا کا مقابلہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کھلے کافر اور صاف مسلمان کے سوا ایک تیسرے قسم کے لوگوں کا مستقل ذکر کر کے ان کا فیصلہ کیا ہے کہ: ”وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَ مَا هُم بِمُؤْمِنِينَ ، بقره: ١٨“ ﴿کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان و اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ مسلمان نہیں ہیں۔ ﴾
ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے نام سے علیحدہ قرار دے کر ان کی سزا عام کافروں سے زیادہ بتائی ہے کہ : ”إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِى الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ، النساء: ١٤٥“ ﴿ منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔﴾
پھر اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ ایسے لوگوں کا جنازہ بھی نہ پڑھو۔ حالانکہ یہ لوگ نماز اور روزہ کے پابند تھے۔ اپنے کو مسلمان کہتے ۔ بلکہ بعض اوقات جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے۔ انگریزی معیار اسلام کے مطابق خدائے تعالیٰ سے غلطی ہوئی کہ جو لوگ اپنے کو مسلمان کہتے تھے ان کو خدا کہتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہیں؟۔ ایسا کہنے والے قرآن اور خدائے قرآن کے مقابلہ سے بھی نہیں ہچکچاتے اور یہ لوگ کفر و اسلام کو ملا کر ایک معجون مرکب بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ کفر و اسلام دو چیزیں ہیں اور ان کے درمیان ایک صحیح حد فاصل موجود ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ:
کفر کی قطعی وجہ
جو شخص قرآن پاک ، خدا یا رسول خدا کی تکذیب کرے اور کسی ایک امر میں بھی جھٹلائے وہ قطعی کافر ہے۔ لیکن چونکہ تکذیب دل کا فعل ہے۔ اس لیے قانون اور شریعت نے علامات تصدیق اور علامات تکذیب پر تصدیق و تکذیب کا حکم لگایا جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مثلاً اسلامی کتب میں یہ امر مصرح موجود ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن پاک کو غصہ کے ساتھ گندگی میں پھینک دے تو اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے والے کے بارہ میں یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس کتاب کو کتاب اللہ سمجھتا ہے۔ بلکہ اس کے اس فعل کو تکذیب کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔
جس طرح بالمشافہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی شرعی بات کا انکار کر کے کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر قطعی ذرائع سے ثابت ہو جائے کہ یہ بات آنحضرت ﷺ کی فرمودہ ہے۔ اس
کا انکار بھی اسی طرح کفر ہو گا۔ قطعی ذرائع میں قرآن کی آیات ہیں۔ احادیث متواتر ہیں۔ امت مسلمہ کا قرناً بعد قرن توارث ہے اور قرآن وحدیث کے مفہوم کے بارہ میں صحابہ کرام کے زمانہ سے آخر تک تمام مفسرین محدثین اور علماء امت کا اتفاق ہے۔ اگر کوئی عقیدہ یا حکم ایسے قطعی ذرائع سے ثابت ہو۔ اس کا انکار قطعی کفر ہوگا۔ ایسے امر کے بارہ میں شک کرنے سے تمام دین اسلام ہی مشکوک اور ناقابل اعتماد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کسی پیغمبر کی توہین، کسی شرعی حکم سے استہزاء، کسی قطعی حکم مثلاً فرض کا انکار یا کسی امر قطعی سے انحراف۔ یہ سب تکذیب کی علامات ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر
پس مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کی متعدد وجوہات ہیں:
- ١....... اس نے قرآن وحدیث کے قطعی بیان ختم نبوت اور امت کے مجمع علیہ
عقیدہ کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا اور کسی کو نبوت نہیں مل سکتی کا انکار کیا۔ اور خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے ایسے معانی گھڑے جو امت محمدیہ کے تیرہ سو سال کے متواتر عقیدہ و بیان کے خلاف ہیں۔
- ٢....... اس نے حیات مسیح کی نصوص قطعیہ اور نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متواتر
عقیدہ کا انکار کیا اور اس سلسلہ میں ایسی ایسی دور از کار تاویلات کر کے خود مسیح بننے کی کوشش کی کہ خدا کی پناہ۔
- ٣....... اس نے قرآن پاک کی توہین کی۔ ایک اس طرح کہ اس نے کہا کہ قرآن
خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ دوسرے اس نے اپنی وحی کو قرآن کی طرح قطعی اور غلطی و خطاء سے بری اور پاک قرار دے کر قرآن کے بے مثل ہونے پر حملہ کیا۔ تیسرے اس نے قرآن پاک کی مضحکہ خیز تاویلات کر کے قرآن میں معنوی تحریف کی۔
- ٤....... اس نے یہ کہہ کر کہ جو حدیث میری وحی کے خلاف ہے۔ وہ ردی کی ٹوکری
میں پھینکنے کے لائق ہے۔ حدیث کی توہین بھی کی اور منقول دین پر اعتماد کی اسپرٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
- ٥....... جہاد کی فرضیت سے انکار کیا۔
- ٦....... مختلف موقعوں پر خدا تعالیٰ پر افتراء کرتا رہا۔ مثلاً یہ کہ خدا تعالیٰ نے آسمان
پر میرا نکاح محمدی بیگم سے کیا ہے۔ اور اس سلسلہ میں وحی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری کیا جو سراسر افتراء اور دروغ بے فروغ تھا۔
- ٧...... اس نے دو بعثوں کا مسئلہ ایجاد کر کے اور اپنے کو عین محمد قرار دے کر زمانہ
کی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی ترقی اور آنحضرت ﷺ سے برتری کی بنیاد رکھی اور اسی قسم کی تصریحات بھی کیں اور اسی لئے اکمل شاعر کے اس شعر کی تصدیق وتحسین بھی کی کہ:
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
اسی لئے مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”ہر شخص ترقی کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔“ اور اسی لئے مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ: ”آنحضرت ﷺ کے لئے صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لئے سورج اور چاند دونوں۔“ اور اسی لئے یہ کہا کہ: ” هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق“ میرے زمانہ کے بارہ میں خدا نے فرمایا ہے اور اسی لئے حضرت عیسیٰ ؑ کی قرآنی پیش گوئی کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا ۔ جس کا نام احمد ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کی بجائے مرزا قادیانی نے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے اور اسی لئے اپنے معجزات کی تعداد چند لاکھ بتا کر آنحضرت ﷺ سے آگے نکل جانے کی کوشش کی۔
- ٨....... حضرت عیسیٰ ؑ کی ایسی توہین کی جو ناقابل بیان ہے۔ یہاں تک کہ
انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ میں یہ بھی لکھا کہ : ”مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے یعنی رام چندر سے کچھ زیادتی نہیں رکھتا۔“ اور ساتھ ہی ان کے چال چلن پر انتہائی مکروہ حملہ کرتے ہوئے یہ لکھا کہ: ”انہی باتوں کی وجہ سے خدا نے یحییٰ ؑ کا نام تو حصور رکھا۔ لیکن عیسیٰ ؑ کا یہ نام نہ رکھا۔“
( دافع البلا ص٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ )
عیسیٰ ؑ کو گالیاں دے کر جب اس کو عام اہل اسلام کے اشتعال کا خیال آتا ہے تو کبھی کہتا ہے کہ یہ فرضی یسوع کو کہا گیا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو نہیں کہا گیا۔ لیکن مندرجہ بالا دو حوالے اس کی ان پردہ داریوں کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیتے ہیں اور پھر صاف اقرار ہے کہ: ”یسوع مسیح ایک اسرائیلی آدمی مریم کا بیٹا ہے۔“
( ست بچن ص ١٥٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٣ )
پھر حضرت عیسیٰ ؑ سے بڑھ کر ہونے کا دعویٰ تو اظہر من الشمس ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
( دافع البلا ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠ )
عیسیٰ کجاست تا بنهد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٦٠)
پھر صاف اعلان ہے کہ : ’’پہلے عقیدہ تھا کہ مجھے مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور جب کوئی امر میری فضیلت کے بارہ میں ظاہر ہوتا۔ میں اس کو جزوی فضیلت پر محمول کرتا۔ لیکن خدا کی بارش کی طرح وحی نے مجھے اس عقیدہ پر قائم رہنے نہ دیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
- ......... ٩ عام انبیاء علیہم السلام کی توہین کی۔
- ......... ١٠ آنحضرت ﷺ کی شانِ پاک میں قرآن کی جو جو آیتیں نازل ہوئی تھیں
وہ اپنی شان میں نازل ہونا بتائیں ۔ مثلاً یہ کہ: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧، ص ٤٢٦)
اسی طرح حدیث قدسی ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ (اے مرزا قادیانی تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔)
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کُن فیکون کے اختیارات بھی حاصل کئے۔ اور یہ وحی نازل کرائی کہ: ’’ انما امرک اذا اردت شیاء ان تقول له کن فیکون ‘‘
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
یہ سب باتیں بمعہ دیگر خرافات کے حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨ کے الہامات میں درج ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور تمام مرزائی لٹریچر میں چند باتیں ہیں۔ جن کا بار بار اعادہ کیا جاتا ہے کہ ...... نبی آسکتے ہیں ...... مسیح ابن مریم مرگیا ...... اب اس کی جگہ میں خود آ گیا ہوں ...... انبیاء سے وحی سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے ...... آنحضرت ﷺ سے بھی کئی بار غلطیاں ہوئیں ...... علماء مشائخ یہودی، سؤر وغیرہ وغیرہ ہیں ...... انگریز کی خوشامد واطاعت ...... جہاد کی منسوخی اور خونی مہدی کی مخالفت ...... میرے معجزات لاکھوں میں ہیں ...... پھر نمبر وار گنواتا ہے۔ میری شان بڑی ہے ...... حسینؓ سے بڑی ہے ...... عیسیٰ علیہ السلام سے بڑی ہے ...... علیؓ سے بڑی ہے ...... میرے
کمالات بجز آنحضرتﷺ تمام انبیاء سے زیادہ ہیں۔۔۔۔ میرا زمانہ فتح مبین کا زمانہ ہے۔۔۔۔ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔۔۔۔ اب دنیا بھر میں آسمانی فیض میرے واسطے کے بغیر کسی کو نہیں مل سکتا۔۔۔۔ میں آدم ثانی ہوں۔۔۔۔ شیطان کو آخری شکست میرے ہاتھ سے ہونی ہے۔۔۔۔ میرے معجزات کا شمار نہیں۔۔۔۔ یہ طاعون اور زلزلے سب میرے معجزات ہیں۔۔۔۔ آریوں کی ایسی تیسی۔۔۔۔ عیسائیوں کی ایسی تیسی۔۔۔۔ علماء کی ایسی تیسی۔۔۔۔ مشائخ کی ایسی تیسی۔۔۔۔ انگریز خدا کی رحمت ہیں ۔۔۔۔ خدا کا سایہ ہیں۔۔۔۔ وہ میری پناہ گاہ ہیں۔۔۔۔ میں ان کے لئے تعویذ ہوں۔۔۔۔ ان کی اطاعت فرض ہے۔۔۔۔ ان کی مخالفت ولد الحرام کا کام ہے۔۔۔۔ میرے مخالف جنگل کے سور ہیں۔۔۔۔ ولد الزنا اور حرام زادے ہیں۔۔۔۔ ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔۔۔۔ مولوی سعد اللہ بہت سے بے وقوفوں کا نطفہ ہے۔۔۔۔ پیر مہر علی شاہ چور ہے۔۔۔۔ گولڑے کی زمین اس کی وجہ سے لعنتی ہو گئی ۔۔۔۔ مولوی ثناء اللہ عورتوں کی عار ہے۔۔۔۔ میرے بیٹے محمود نے دو دفعہ ماں کے پیٹ کے اندر باتیں کیں۔۔۔۔ اس کی بڑی شان ہے۔۔۔۔ اس کو بھی یاد رکھو۔۔۔۔ یہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے۔
- ١١...... اس کے سوا اسلام کی بنیادی تعلیم توحید کی مٹی پلید کرنے کی کوشش کی ہے۔
لکھا ہے کہ: ”خدا نے مجھے کہا تو میری توحید کی جگہ ہے۔“
(تذکرہ ص ٢٠٤)
”تو میرے بیٹے کی جگہ ہے۔“
(تذکرہ ص ٤٢٢)
”میں (خدا) سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں۔“.... ”خدا تیرے اندر اتر آیا۔ میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان پیدا کئے۔“
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”ان الرحمن محمد ان محمد الرحمن“ یعنی رحمن محمد ہے اور محمد رحمن ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً، اعجاز مسیح ص ١٠١، ١٠٢)
مرزا غلام احمد قادیانی نے: ”خدا کو تیندوے سے تشبیہ دی ہے۔“
(توضیح المرام ص ٥٧، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
ایک وحی یہ ہے کہ: ”ربنا عاج“ یعنی ”ہمارا رب ہاتھی دانت کا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، حاشیہ خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
مرزا غلام احمد قادیانی کا خدا کبھی عربی بولتا ہے کبھی اردو اور کبھی انگریزی۔
- ١٢...... مرزا قادیانی کہتا ہے۔ آدمم نیز احمد مختار دربرم جامہ
ابرار اور آگے چل کر کم نیم زاں ہمہ بروی یقین ہر کہ گوید دروغ است لعین! اس کا ترجمہ: ”میرے جامہ میں تمام ابرار ہیں۔ میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار (یعنی
آنحضرتﷺ بھی ان سب سے یقیناً کم نہیں ۔ ہاں جو کم کہے وہ ملعون ہے۔"
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧ ، ٤٧٨)
لیجئے اس میں اپنی شان کسی پیغمبر سے کم نہیں رکھی۔ حتیٰ کہ آنحضرتﷺ سے بھی۔ غرضیکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا تمام لٹریچر کفریات مغلظات سے بھرا پڑا ہے جن میں سے ہر ہر بات بجائے خود توہین اسلام اور تکذیب دین کی نشانی ہے اور اگر مرزا غلام احمد کافر نہیں ہو سکتا تو پھر دنیا میں کوئی بھی کافر نہیں ہو سکتا۔
کافر کی امت
ظاہر ہے کہ حسب ارشاد آنحضرتﷺ اس دجال کی جو امت ہوگی وہ بھی کافر ہوگی۔ کافر کی امت کا کافر ہونا ضروری ہے۔ چاہے وہ لاہوری مرزائی ہوں یا قادیانی۔ کیونکہ صرف نبوت کی نفی کر کے لاہوری پارٹی مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام لٹریچر کی تصدیق کرتی۔ اس کو منجانب اللہ قرار دیتی اور مرزا قادیانی کو مسیح تصور کرتی ہے۔ نزول مسیح ابن مریم کے عقیدہ کا انکار کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کی مسیحیت پر دونوں پارٹیاں متفق ہو جاتی ہیں۔ جہاں سے ان کا کفر گنگا جمنا کی طرح مل کر بہتا ہے۔ دنیائے اسلام کا کوئی فرد اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ جو شخص ابولہب یا فرعون کو مسلمان کہے۔ وہ قرآن کی تکذیب کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ اسی طرح مرزا قادیانی جیسے کھلے کافر کو مسلمان کہنے والا بھی کافر ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کے عقائد اور لٹریچر سے واقف ہونے کے بعد جو شخص اس کو کافر سمجھنے کی بجائے مسلمان سمجھے۔ وہ خود اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ چہ جائیکہ مجدد کہے یا مسیح یا بزرگ اور لاہوری پارٹی تو مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا تمام عقائد و کفریات کی تصدیق کرتی ہے۔ بلکہ اس میں ایک منافقانہ نشان کا اضافہ بھی ہے۔ وہ یہ کہہ کر کہ: ”ہم نبوت ختم سمجھتے ہیں۔“ عام مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اپنا کفر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسئلہ کی مزید وضاحت
یہ مسئلہ اتنا دقیق نہیں کہ اس پر زیادہ زور دیا جائے۔ تاہم ایک مثال سے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک شخص جانتا ہے کہ رام داس بت کا پجاری ہے۔ وہ اس کو باوجود اس کے مسلمان سمجھتا ہے۔ یہ شخص خود اسی وقت کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس طرح اس نے بت پرستی کو اسلام کے منافی نہ سمجھا جو قرآن پاک اور آنحضرتﷺ کی تکذیب ہے۔ پس کھلے کافر کو مسلمان قرار دینا موجب کفر ہے۔ اس طرح لاہوری مرزائی اور قادیانی مرزائی ہر دو کفر کے سرچشمہ سے
فیض حاصل کرتے ہیں۔ کافر کے امتی اور مرید ہیں۔ اس کو مسیح مانتے ہیں۔ بنابریں دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا۔
ایک دجل وفریب کا جواب
بعض لوگ اسلامی حدود کی تعیین اور کفر و اسلام کی تفریق مٹانے اور علماء کی مساعی کو بدنام کرنے کے لئے یہ فریب اختیار کرتے ہیں کہ علماء ایک دوسرے کو کافر کہنے سے خود کافر ہو گئے ہیں۔ کیونکہ دوسرے کو کافر کہنے سے آدمی خود کافر ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ میں ایک روایت کی آڑ لیتے ہیں کہ: ”جس نے دوسرے کو کافر کہا۔ وہ دونوں میں سے ایک پر ضرور پڑے گا۔“
ہم مانتے ہیں کہ کھلے کافر کو جس طرح مسلمان سمجھنا کفر اور اسلام کی تکذیب ہے۔ اسی طرح ایک کھلے مسلمان کو یہ جانتے ہوئے کہ یہ قرآن وسنت وسلف صالحین سے ایک انچ ادھر ادھر از راہ عمل یا عقیدہ نہیں جاتا اور نہ ان کے خلاف کسی بات کو مانتا ہے۔ پھر بھی اس کو عقیدۃً کافر سمجھے۔ اس شخص کے کفر میں بھی کوئی شک نہیں۔ ایک بطور گالی کے کافر کہہ دینا ہے اور ایک کافر سمجھنا ہے۔ اگر حقیقتاً ایک سچے صحیح العقیدہ مسلمان کو ایک شخص کافر سمجھتا ہے۔ تو وہ اس صحیح اسلام کی تکذیب کی وجہ سے یقیناً کافر ہو جائے گا۔ جیسے ایک کھلے کافر اور مرتد کو مسلمان تصور کرنے سے کافر ہوتا ہے۔ تو بات صاف ہوگئی کہ جب ایک آدمی دوسرے کو کافر کہتا ہے تو اگر کسی صریح کفر کے سرزد ہونے کی وجہ سے ہے تو کفر اپنے محل پر جائے گا۔ لیکن اگر وہ صاف وصریح مسلمان ہے اور یہ اسی صحیح اسلام کی وجہ سے اس کو کافر کہتا ہے تو اس کا خود کافر ہونا اظہر من الشمس ہے۔ باقی رہا کہ پارٹی کا دوسری پارٹی کو یا ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو کسی نظری اور دقیق مسئلہ کی وجہ سے کافر کہنا۔ تو ظاہر ہے کہ اگر مخاطب اس کفر کا مستحق ہے تو کفر اپنے محل پر چسپاں ہوا۔ ورنہ اس کا وبال کہنے والے پر ہوگا۔ یعنی اس اطلاق کفر کا اس کو گناہ ہوگا۔
حدیث کے سمجھنے کے لئے بھی ایمانی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے مخاطب پر کفر کا پڑ جانا کافر کہنے کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ خود اس کے غلط عقیدہ کی وجہ سے لفظ کافر اس پر برمحل منطبق ہوا ہے۔ اسی طرح کافر کہنے والے کو اس کے کہنے سے کافر نہیں کہہ سکتے۔ البتہ غلط کہنے کا وبال اس پر پڑے گا۔ قرآن پاک میں اس کی مثال موجود ہے۔ جو شخص کسی پاک پر زنا کی تہمت لگائے۔ اگر ثابت کر سکے تو اس کو زنا کی سزا مل جائے گی ۔ ورنہ زانی کہنے کا وبال اس پر پڑے گا۔
جس کا مطلب یہ نہیں کہ زانی قرار دے کر اس کو زنا کی سزا دی جائے گی۔ بلکہ اس کو شرعی اصطلاح میں قذف کہہ گیا ہے۔ اور اس کو اس قذف (یعنی زنا کی گالی) کی سزا دی جائے
ہیں۔ کافر کے امتی اور مرید ہیں۔ اس کو صحیح مانتے ہیں۔ بنا بریں دونوں کا ایک
کا جواب
اسلامی حدود کی تعیین اور کفر و اسلام کی تفریق مٹانے اور علماء کی مساعی کو یہ فریب اختیار کرتے ہیں کہ علماء ایک دوسرے کو کافر کہنے سے خود کافر ہو گئے و کافر کہنے سے آدمی خود کافر ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ میں ایک روایت کی آڑ نے دوسرے کو کافر کہا۔ وہ دونوں میں سے ایک پر ضرور پڑے گا۔“ ہیں کہ کھلے کافر کو جس طرح مسلمان سمجھنا کفر اور اسلام کی تکذیب ہے۔ اسی کو یہ جانتے ہوئے کہ یہ قرآن وسنت وسلف صالحین سے ایک انچ ادھر ادھر جاتا اور نہ ان کے خلاف کسی بات کو مانتا ہے۔ پھر بھی اس کو عقیدۃً کافر میں بھی کوئی شک نہیں۔ ایک بطور گالی کے کافر کہہ دینا ہے اور ایک کافر سمجھنا پکے صحیح العقیدہ مسلمان کو ایک شخص کافر سمجھتا ہے۔ تو وہ اس صحیح اسلام کی یقیناً کافر ہو جائے گا۔ جیسے ایک کھلے کافر اور مرتد کو مسلمان تصور کرنے سے صاف ہوگئی کہ جب ایک آدمی دوسرے کو کافر کہتا ہے تو اگر کسی صریح کفر کے ہے تو کفر اپنے محل پر جائے گا۔ لیکن اگر وہ صاف وصریح مسلمان ہے اور یہ جو اس کو کافر کہتا ہے تو اس کا خود کافر ہونا اظہر من الشمس ہے۔ باقی رہا کہ یا ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو کسی نظری اور دقیق مسئلہ کہ وجہ سے کافر کہنا۔ اس کفر کا مستحق ہے تو کفر اپنے محل پر چسپاں ہوا۔ ورنہ اس کا وبال کہنے مطلق کفر کا اس کو گناہ ہوگا۔
سمجھنے کے لئے بھی ایمانی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے مخاطب پر کفر سے نہیں ہے۔ بلکہ خود اس کے غلط عقیدہ کی وجہ سے لفظ کافر اس پر چسپاں صریح کافر کہنے والے کو اس کے کہنے سے کافر نہیں کہہ سکتے۔ البتہ غلط کہنے کا قرآن پاک میں اس کی مثال موجود ہے۔ جو شخص کسی پاک پر زنا کی تہمت تو اس کو زنا کی سزا مل جائے گی۔ ورنہ زانی کہنے کا وبال اس پر پڑے گا۔ مطلب یہ نہیں کہ زانی قرار دے کر اس کو زنا کی سزا دی جائے گی۔ بلکہ اس کو کہا گیا ہے۔ اور اس کو اس قذف (یعنی زنا کی گالی) کی سزا دی جائے
گی۔ جسے حد قذف کہتے ہیں۔ اور آئندہ اس جھوٹے کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ جب تک توبہ نہ کرے۔
ایک اور مثال ہے۔ مرزا قادیانی نے نہ ماننے والے مسلمانوں کو ذریۃ البغایا ! یعنی کنجریوں کی اولاد کہا ہے۔ حالانکہ کسی کو ماننے یا نہ ماننے سے نسب پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ لیکن اس غلط گالی کی وجہ سے ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو ولد الزنا نہیں کہہ سکتے کہ اگر مخاطب ذریۃ البغایا نہیں ( جو یقیناً نہیں) تو پھر مرزا قادیانی ذریۃ البغایا ہیں۔ ہاں! مرزا قادیانی پر اس دروغ گوئی اور گالی کا وبال پڑے گا۔ قیامت میں تو پڑے گا ہی۔ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو یہاں بھی سزا بھگتنی پڑتی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر اتنا صاف وصریح ہے کہ عالم اسلام کا کوئی عالم اس کو اور اس کے متبعین کو مسلمان نہیں کہتا اور جو لوگ آپس میں بھی کم یا زیادہ اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ بھی ان کے کفر میں متفق ہیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ یہ مرزائی خود تمام عالم اسلام یعنی چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور وہ بھی خود مرزا قادیانی کی تعلیم کی روشنی میں اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے۔ لیکن باوجود اس کے یہ تنگ خیال سمجھے گئے۔
ناموس رسالت کا مسئلہ
بعض گواہوں نے اپنی مذہبی کم مائیگی کی وجہ سے مرزائی مسئلہ کو ناموس رسالت کا مسئلہ کہنے سے گریز کیا ہے۔ حالانکہ مسئلہ ختم نبوت آپ ﷺ کے خصائص اور فضائل کے ذیل میں شمار ہوتا ہے۔ ختم نبوت کے اصطلاحی معنوں کے خلاف کسی فرقہ کو تبلیغ کی اجازت دینا یا اس فضیلت کو مٹانے والوں کے لئے تکثیر جماعت کے مواقع فراہم ہونے دینا ناموس رسالت کے تحفظ کے قطعاً خلاف ہے۔ خاص کر جبکہ مرزا قادیانی کے لٹریچر میں آنحضرت ﷺ کے دوسرے خصائص وفضائل مثلاً رحمۃ للعالمین ہونے وغیرہ میں ہمسری کے دعاوی موجود ہوں۔ اور پھر عین محمد کی بعثت ثانیہ کی آڑ میں زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ محمد اول سے محمد ثانی کا ترقی یافتہ ہونا دل نشین کرا کر نہایت دجالانہ انداز میں ہلال سے بدر ہو جانے کی شکل میں اپنی فضیلت کا اعلان کیا جائے۔ جس کی تشریح اکمل قادیانی کے شعر سے بھی ہوتی ہے کہ:
کیا جس مسلمان کے دل میں آنحضرت ﷺ کی محبت تمام دنیا وما فیہا سے زیادہ ہو نہیں! بلکہ جس کے دل میں ذرہ ایمان ہو وہ اس دعویٰ اور استخفاف کو آپ ﷺ کی توہین تصور نہ کرے گا؟۔ اور کیا کوئی مسلمان اس فتنہ کے فروغ پر آرام واطمینان سے بیٹھ سکتا ہے۔ انتہائی
افسوس ہے کہ جب غیر ذمہ دار عوام ایک کتے یا گدھے کا نام ظفر اللہ رکھ کر اس کا جلوس نکالتے ہیں تو اسے ظفر اللہ خان قادیانی کی توہین سمجھ کر نازک مزاج افسر چیں بجبیں ہوتے ہیں اور اسے قانون کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب ایک ایسا شخص ( مرزا قادیانی ) جس کا چال چلن قابل نفرت ہے۔ جس کے اخلاق قابل اعتراض ہیں۔ جو شراب استعمال کرتا ہے۔ نامحرم عورتوں سے مٹھیاں بھرواتا ہے اور جو سیاسی لحاظ سے جنگ آزادی کے ایک ادنیٰ رضا کار کے مقابلہ میں کمزور ہی نہیں ۔ بلکہ کافر حکومت کا مدح خواں ہے۔ ایسے شخص کو عین محمد رسول اللہ قرار دیا جائے ۔ آپ ﷺ کی بعثت ثانیہ کہا جائے ۔ یہ آپ ﷺ کی توہین نہ ہو۔ نہ ناموس رسالت کا سوال ہو ۔ اہل اسلام کے عقیدہ میں اگر دنیا کا بڑے سے بڑا آدمی بھی اپنا نام محمد رسول اللہ رکھ دے اور کہے کہ میں وہی ہوں ۔ یہ آپ ﷺ کی اس سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر توہین ہے۔ جتنی کہ کسی کتے یا گدھے یا خنزیر کا نام ظفر اللہ رکھ کر جلوس نکالا جائے ۔ اگر چہ ایسا کرنا بجائے خود معیوب ہے۔ اس کے سوا مرزا قادیانی نے اور بیسیوں طریقوں سے آپ ﷺ کی تنقیص شان کی ہے اور جب مرزائی امت تمام امت محمدیہ کو کافر قرار دے اور سارے دین محمدی کو دین قادیانی میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرے۔ جس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ ایک شخص جو تمام دین محمدی کو ماننے کے باوجود مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک مرزا قادیانی پر ایمان نہ لے آئے ۔ تو کیا اس کے باالمقابل دفاعی اور انسدادی تدابیر اختیار کرنا ناموس محمدی کا تحفظ نہ ہوگا ؟ ۔
شجرۂ خبیثہ
مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے ناموس رسالت پر اگر چہ صاف صریح حملے کئے ہیں۔ لیکن یہ تخم ریزی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعد میں اس کی امت نے ناموس محمد ﷺ کے خلاف اپنے ناپاک پروپیگنڈے کو جتنی وسعت دی ہے۔ وہ ایک شجرۂ خبیثہ ہے جس کا تخم مرزا غلام احمد قادیانی ڈال گیا تھا۔ مثال کے طور پر مرزا محمود کا یہ کہنا کہ: ”روحانی ترقی میں ایک شخص آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔“ اسی طرح مرزائی امت کا میثاق انبیاء علیہم السلام والی آیت کو بجائے آنحضرت ﷺ کے، مرزا غلام احمد قادیانی پر چسپاں کرنا کہ تمام نبیوں سے جو عہد لیا گیا تھا وہ مرزا قادیانی پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کے لئے لیا گیا تھا۔ پھر نہایت صفائی سے حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت قرآنی کہ میرے بعد ایک رسول احمد نام کا آئے گا۔ اس کو آنحضرت ﷺ کی بجائے مرزا قادیانی کے حق میں قرار دے کر اعلان کرنا کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد نہ تھا۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں پیش گوئی ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے متعدد
احادیث میں اپنے احمد ہونے کا ارشاد فرمایا آپ ﷺ ہی کو سمجھتے ہیں۔
مرزا محمود نے اپنی پشت پر سرکار تا قیامت رہنے اور اپنے کو ہر طرح محفوظ اور د یہاں تک زور مارا کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ منقولہ، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ سے آرا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا۔ نہیں سنا پھر بھی وہ کافر ہے۔ جس کا صاف مع اور آپ کے دین کو مان لینے پر نہیں رہا۔ بلکہ عقیدہ میں اتنا غلو کہ ظفر اللہ خان قادیانی موٹ نہیں پڑھتا اور جب ایبٹ آباد میں ان سے سے کہتا ہے کہ میں کافر حکومت کا مسلمان ملاز
پاکستان بننے کے بعد
پاکستان بننے سے پہلے تو چونکہ م ہوئے تھے اور انگریز کی امداد سے مسلمانوں کا یقین رکھتے تھے اور انگریز کے اقتدار کو اپ سمجھے ہوئے تھے۔ اس لئے حکومت پر قبضہ انگریزی مقبوضات میں اپنے مذہب کی ا عہدوں اور اعزازات کی کوشش کافی سمجھ زوال نظروں کے سامنے آیا۔ تو مرزائی حلق کہ دماغی توازن قائم نہ رہنے کی شکل میں کے اندر گھس کر اس کی ہاں میں ہاں م اکھنڈ بھارت کی رؤیا (وحی ) نازل ہونے انفرادیت اور مستقل یونٹ جتانے کے ل حاضر ہونا (کہ شاید کوئی علیحدہ گھر بچاؤ۔ اپنا مفاد چاہا کرتا ہے۔ چاہے کہیں سے ا
احادیث میں اپنے احمد ہونے کا ارشاد فرمایا ہے اور تمام امت، تمام مفسرین اس کا مصداق آپ ﷺ ہی کو سمجھتے ہیں۔
مرزا محمود نے اپنی پشت پر سرکاری ذرائع کی فراوانی دیکھ کر انگریزی اقتدار کے تا قیامت رہنے اور اپنے کو ہر طرح محفوظ اور دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے رہنے والا سمجھ کر یہاں تک زور مارا کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے تمام دین کو مانتا ہے۔ عقائد منقولہ، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ سے آراستہ ہے۔ دین کے لئے سرفروشانہ جدوجہد کرتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا۔ بلکہ اس بیچارے مسلمان نے مرزا قادیانی کا نام تک نہیں سنا پھر بھی وہ کافر ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب نجات کا دارومدار آنحضرت ﷺ اور آپ کے دین کو مان لینے پر نہیں رہا۔ بلکہ مرزا قادیانی اور اس کی تعلیمات پر منحصر ہے اور اس عقیدہ میں اتنا غلو کہ ظفر اللہ خان قادیانی موقعہ پر موجود ہوتے ہوئے بھی قائد اعظم کا جنازہ تک نہیں پڑھتا اور جب ایبٹ آباد میں ان سے اسی سلسلہ میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ پوری بے باکی سے کہتا ہے کہ میں کافر حکومت کا مسلمان ملازم ہوں۔
پاکستان بننے کے بعد
پاکستان بننے سے پہلے تو چونکہ مرزائی انگریزی اقتدار کے تاقیامت رہنے کا تصور کئے ہوئے تھے اور انگریز کی امداد سے مسلمانوں کو بزدل کرنے اور جذبہ جہاد ان کے دلوں سے نکالنے کا یقین رکھتے تھے اور انگریز کے اقتدار کو اپنا اقتدار اور مرزا قادیانی کو سرکار برطانیہ کے لئے تعویذ سمجھے ہوئے تھے۔ اس لئے حکومت پر قبضہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ بس انگریز کے سایہ میں تمام انگریزی مقبوضات میں اپنے مذہب کی اشاعت اور انگریز کی مدد سے انگریزی اقتدار کے اندر عہدوں اور اعزازات کی کوشش کافی سمجھی جا رہی تھی۔ لیکن خلاف توقع جب انگریزی اقتدار کا زوال نظروں کے سامنے آیا۔ تو مرزائی حلقوں سے ایسی ایسی باتیں کہنی اور کرنی شروع ہوئیں جیسے کہ دماغی توازن قائم نہ رہنے کی شکل میں ہوتا ہے۔ مثلاً کبھی احرار اور لیگ کی رقابت دیکھ کر لیگ کے اندر گھس کر اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ کبھی جواہر لال نہرو کا استقبال کرنے لگے۔ کبھی اکھنڈ بھارت کی رویا (وحی) نازل ہونے لگی۔ کبھی جاتے ہوئے انگریز سے غلط امید کی بنیاد پر اپنی انفرادیت اور مستقل یونٹ جتانے کے لئے باؤنڈری کمیشن کے سامنے بے ضرورت اور بلا دعوت جا حاضر ہونا (کہ شاید کوئی علیحدہ گھر بچاؤ کے لئے انگریز دے جائے) حالانکہ انگریز صرف اور صرف اپنا مفاد چاہا کرتا ہے۔ چاہے کہیں سے اور کسی سے حاصل ہو۔ اور اگر کسی پھل میں رس نہ رہے تو
خالی گٹھلی کو تھوک دیا کرتا ہے۔
بہر حال پاکستان بننے کے بعد مرزائیوں کو اپنے کرتوتوں ، فتوؤں اور اینٹی اسلام حرکتوں کا تصور اور دوسری طرف علماء اسلام کی قوت بیداری۔ عمل اور پاکستان میں اسلامی آئین اور اس کے نتائج کا خیال پریشان کر رہا تھا اور اپنے سرکاری مذہب اور اپنی کافرانہ مساعی کا ردعمل ان کے لئے سوہان روح تھا۔ اس لئے ان کے سامنے تین ہی راستے تھے۔
پہلا راستہ ..... یہ تھا کہ کسی طرح ان کو علیحدہ ریاست مل جائے جس کو وہ بطور قلعہ استعمال کر سکیں جس کے لئے ایک حرکت مذبوحی باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنے مستقل اور علیحدہ یونٹ ہونے پر بلاضرورت زور دینا تھا۔
دوسرا راستہ ..... یہ تھا کہ وہ بھارتی حکومت کو خوش رکھیں اور اس کے ساتھ ساز باز ہوتا کہ ضرورت پیش آنے پر وہاں منتقل ہوسکیں۔ جہاں ان کو اولی الامر قرار دے کر عام مسلمانوں میں اشاعت مرزائیت کے سلسلہ میں سرپھٹول پیدا کر کے حکومت کی مستقل ہمدردی حاصل کی جائے اور ہندو حکومت کو عام مسلمانوں سے خاص دلچسپی نہ ہونے کے باعث ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ سکھ ہوگا۔ اس دوسرے راستہ کو ہموار کرنے کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں اپنے کو عام مسلمانوں سے بالکل علیحدہ ظاہر کر کے ضلع گورداسپور کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ اس فیصلے کے لئے مضبوط کرنے کی کوشش کی کہ یہ علاقہ ہندوستان میں شامل ہو۔
اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ قادیان میں قادیانیوں کا رکھنا ننکانہ کے سکھوں کا بدلہ بھی اس خیال پر مبنی ہے۔ تاکہ وہ قادیانی دہلی آتے جاتے رہیں اور ادھر اپنے خلیفہ سے امتی اور پیغمبر زادگی کا تعلق قائم رکھ سکیں۔ اور یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے سلسلہ میں جنگ بند کرنے کے وقت پہلے معاہدہ میں ظفر اللہ خان قادیانی کا یہ مان لینا کہ استصواب رائے میں ہندوستانی فوج رہے اور استصواب کا نگران ایک امریکن ہو جو ڈوگرہ مہاراج کے مشورہ سے کام کرے۔ یہ بھی اس دوسرے راستہ کے ضمن میں ہوا ہے جس کی مشکل پاکستان کو آخر تک برداشت کرنی پڑی۔ درمیانے عرصہ میں جب قادیانیوں نے پاکستان میں اپنا اقتدار گرتے دیکھا تو خلیفہ کا یہ ارادہ کہ ہندوستان چلے جائیں۔ اس کو بھی اسی سلسلہ کی کڑی تصور کیا جا سکتا ہے۔ جب نازک وقت کے لئے خلیفہ کی نظر میں جائے پناہ ہندوستان ہی ہے تو یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ وہ یہ خیال ہر وقت رکھیں کہ ہندوستانی حکومت قادیانیوں کے بارہ میں اچھی رائے قائم رکھے۔ کیونکہ داشتہ بکار آید۔
تیسرا راستہ ..... یہ تھا کہ وہ پاکستان اسلامی آئین کے تصور اور اپنی اینٹی اسلام سرگرمیوں اس شکل میں ان کے اطمینان کے لئے دوامر لا اسلامی آئین کی راہ میں مشکلات پیدا کی جائیں آمیزی سے تعلیم یافتہ طبقہ کو ہم خیال بنانے کی علماء اور اسلامی آئین کے خلاف لکھنے کے لئے جانے دیئے گئے۔ جبکہ ان کے مخالف اخبارا ممبر سنٹرل اسمبلی نے ایک تقریر میں کہا کہ اسلام سنٹرل اسمبلی میں ظفر اللہ خان قادیانی نے ان شائع ہوئی اور اس امر کا اقرار خود وزیر اعظم خوا کے خلاف تقریر کی تھی۔ جو بعد میں سنٹرل اسمبلی اسی طرح تمام مرزائی اور مرزائی لئے وقف تھے۔ مرزائی اور مرزائی نواز افـ اخبارات ظفر اللہ خان قادیانی کے کھلے حا بہر حال پاکستان کے اندر مرزائیوں کے اطمیـ ختم کیا جائے۔ جس سے اسلامی آئین کا مـ ہو جائے گی۔ اسی طرح شریعت اور اسلامی کی جائے جس کے لئے انگریز کی ڈیڑھ سو فضا پیدا کر رکھی ہے۔
دوسرا امر یہ ضروری تھا کہ پاکـ بعد ہم اطمینان سے اپنی من مانی کاروائی کـ جائے۔ پھر تمام دنیا میں ”اصلی اسلام“ اسلامی ممالک میں روحانی پیشوائی اور اسلا سیاسی اقتدار کے حصول کی بھی اور ہوائی جہازوں میں پورا تسلط ہو۔ مسلـ مرکزی حکومت پر اتنا اثر ہو کہ کسی وقت کو
ہے۔ ستان بننے کے بعد مرزائیوں کو اپنے کرتوتوں ، فتووں اور اینٹی اسلام ا طرف علماء اسلام کی قوت بیداری، عمل اور پاکستان میں اسلامی آئین پریشان کر رہا تھا اور اپنے سرکاری مذہب اور اپنی کافرانہ مساعی کا ردعمل تھا۔ اس لئے ان کے سامنے تین ہی راستے تھے۔
یہ تھا کہ کسی طرح ان کو علیحدہ ریاست مل جائے جس کو وہ بطور قلعہ لئے ایک حرکت مذہبی باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنے مستقل اور علیحدہ زور دینا تھا۔
یہ تھا کہ وہ بھارتی حکومت کو خوش رکھیں اور اس کے ساتھ ساز باز ہوتا ہاں منتقل ہو سکیں ۔ جہاں ان کو اولی الامر قرار دے کر عام مسلمانوں میں لک میں سرپھٹول پیدا کر کے حکومت کی مستقل ہمدردی حاصل کی جائے انوں سے خاص دلچسپی نہ ہونے کے باعث ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ ت کو ہموار کرنے کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں اپنے کو حدہ ظاہر کر کے ضلع گورداسپور کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ اس فیصلے کے لئے مضبوط کرنے کی کوشش کی اصل ہو۔
لتا ہے کہ قادیان میں قادیانیوں کا رکھنا ننکانہ کے سکھوں کا بدل بھی اس یانی دہلی آتے جاتے رہیں اور ادھر اپنے خلیفہ سے امتی اور پیغمبر زادگی کر کشمیر کے سلسلہ میں جنگ بند کرنے کے وقت پہلے معاہدہ میں ظفر کہ استصواب رائے میں ہندوستانی فوج رہے اور استصواب کا نگران رج کے مشورہ سے کام کرے۔ یہ بھی اس دوسرے راستہ کے ضمن میں کو آخر تک برداشت کرنی پڑی۔ درمیانے عرصہ میں جب قادیانیوں تے دیکھا تو خلیفہ کا یہ ارادہ کہ ہندوستان چلے جائیں۔ اس کو بھی اسی تا ہے۔ جب نازک وقت کے لئے خلیفہ کی نظر میں جائے پناہ ترین قیاس ہے کہ وہ یہ خیال ہر وقت رکھیں کہ ہندوستانی حکومت ائے قائم رکھے ۔ کیونکہ داشتہ بکار آید۔
تیسرا راستہ ..... یہ تھا کہ وہ پاکستان ہی سے اپنا مستقبل وابستہ کر لیں۔ لیکن یہاں اسلامی آئین کے تصور اور اپنی اینٹی اسلام سرگرمیوں کے نتائج سے گھبرائے ہوئے تھے۔ اس لئے اس شکل میں ان کے اطمینان کے لئے دو امر لازمی تھے۔ ایک یہ کہ علماء کا وقار ختم کر دیا جائے۔ اسلامی آئین کی راہ میں مشکلات پیدا کی جائیں۔ اس سلسلہ میں مُلا ازم اور ملائی حکومت کی توہین آمیزی سے تعلیم یافتہ طبقہ کو ہم خیال بنانے کی سعی کی گئی اور سول اینڈ ملٹری قسم کے مرزائی اخبار جو علماء اور اسلامی آئین کے خلاف لکھنے کے لئے وقف تھے۔ اسکولوں ، کالجوں اور جیل خانوں میں جانے دیئے گئے۔ جبکہ ان کے مخالف اخبارات کے لئے دروازے بند تھے۔ جناب گزدر ہاشمی ممبر سنٹرل اسمبلی نے ایک تقریر میں کہا کہ اسلام کے سلسلہ میں اب تک جتنی تجویزیں پیش ہوئیں سنٹرل اسمبلی میں ظفر اللہ خان قادیانی نے ان کی مخالفت کی جو تقریر اشتہاروں اور اخباروں میں بھی شائع ہوئی اور اس امر کا اقرار خود وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے بھی کیا کہ گزدر نے ظفر اللہ قادیانی کے خلاف تقریر کی تھی۔ جو بعد میں سنٹرل اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بنائے گئے۔
اسی طرح تمام مرزائی اور مرزائی اخبارات علماء دین کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے وقف تھے۔ مرزائی اور مرزائی نواز افسروں نے بھی پورا پورا حصہ لیا۔ نوائے وقت جیسے اخبارات ظفر اللہ خان قادیانی کے کھلے حامی ہیں۔ آج تک علماء دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بہر حال پاکستان کے اندر مرزائیوں کے اطمینان کے لئے ایک یہ امر ضروری تھا کہ علماء دین کا وقار ختم کیا جائے۔ جس سے اسلامی آئین کا مطالبہ بھی کمزور ہوگا اور اینٹی قادیان تحریک بھی بے اثر ہو جائے گی۔ اسی طرح شریعت اور اسلامی آئین کی مخالفت ملا ازم اور ملائی حکومت کے نام سے کی جائے جس کے لئے انگریز کی ڈیڑھ سو سال کی حکمرانی نے پہلے سے ایک مخصوص حلقہ میں خاص فضا پیدا کر رکھی ہے۔
دوسرا امر یہ ضروری تھا کہ پاکستان میں اتنا سیاسی اقتدار حاصل کر لیا جائے جس کے بعد ہم اطمینان سے اپنی من مانی کاروائی کر سکیں۔ مرزائیت کا بول بالا ہو اور مسلمانوں کا گلا دبا دیا جائے۔ پھر تمام دنیا میں ”اصلی اسلام“ (یعنی مرزائیت) کا راج ہو۔ پاکستان کے ذریعہ تمام اسلامی ممالک میں روحانی پیشوائی اور اسلام کی واحد اجارہ داری کا ڈنکا بجایا جائے۔
سیاسی اقتدار کے حصول کی بھی دو شکلیں تھیں۔ مختلف محکمہ جات اور خاص کر ریلوے، فوج اور ہوائی جہازوں میں پورا تسلط ہو۔ مسلمان ملازمت کے لئے مرزائی افسروں کے محتاج ہوں۔ مرکزی حکومت پر اتنا اثر ہو کہ کسی وقت کوئی تجویز قادیانیوں کے خلاف نہ ہو سکے۔ بلکہ جس مخالف
قادیانی فرد یا جماعت کو چاہیں دبا سکیں ۔اس سلسلہ میں مرزائیوں نے خوب کام کیا ۔حتیٰ کہ خلیفہ کو جیسا کہ شہادت سے ثابت ہے اعلان کرنا پڑا کہ اب بعض اہم محکمہ جات میں بھرتی کی ضرورت نہیں ۔وہاں کافی تعداد ہو چکی ہے ۔دوسرے محکمہ جات پر زیادہ توجہ کی جائے ۔
اسی طرح حکومت پر اتنے اثرات قائم کئے گئے کہ مرزائی افسر یا وزیر جو چاہیں کریں ۔ کوئی باز پرس نہ کرے ۔نہ کوئی جواب طلب ہو ۔نہ محکمانہ کاروائی ہو ۔اور نہ عام مرزائیوں کے خلاف قانون حرکات پر نوٹس لینے یا کاروائی کرنے کا سوال پیدا ہو ۔جیسا کہ بہت سی شہادتوں سے ثابت ہے اور جیسا کہ ہم عنقریب عرض کریں گے ۔
اس سلسلہ میں حالات اتنے بدلے اور مرزائیوں کے حوصلے اتنے بڑھے کہ خلیفہ نے صاف اعلان کر کے مریدوں کو کہا کہ ١٩٥٢ء ختم نہ ہونے پائے کہ مخالف محسوس کرے کہ اب احمدیت کی آغوش میں آنے کے بغیر چارہ نہیں ۔
اور ایک بار ’’خونی ملا کے آخری دن‘‘ کے عنوان سے امت کے چوٹی کے علماء کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کر کے انتقام کی دھمکی دی اور اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ اس طرح ٩٩ فیصد آبادی کے جذبات کو ٹھیس لگے گی ۔ایک فیصدی افراد جب ٩٩ فیصدی کے خلاف ایسی بہکی بہکی باتیں کہنے لگیں تو اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کو کلیدی آسامیوں ،بڑے عہدوں ، اور سرکاری نظم ونسق پر اپنے کنٹرول حاصل ہونے کا کس درجہ یقین ہوتا ہے ؟ ۔جس کی بعد کے واقعات نے تصدیق کر دی ۔جیسا کہ عنقریب عرض کیا جائے گا ۔سیاسی اقتدار کی دوسری شکل یہ تھی کہ کسی طرح علیحدہ ریاست بنا دی جائے ۔یہ خواہش مرزائیوں کی طبعی خواہش ہے ۔جیسا کہ ان کے اقوال و اعمال سے ثابت ہے ۔انگریزوں کی بھی یہ طبعی خواہش ہونی چاہئے تھی ۔جب وہ یہاں سے جانے لگے تو پنجاب کی تقسیم کر کے انگریز نے پاکستان کو اپنے خیال میں اتنا کمزور کیا جو ہر وقت اس کا دست نگر رہے ۔پھر باؤنڈری کمیشن نے گورداسپور ہندوستان کو دے کر کشمیر کا راستہ کھول دیا ۔کیونکہ دونوں ملکوں کی کشمکش بھی اس کی مداخلت کو قائم و دائم رکھنے والا تھا ۔اس باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کو قائد اعظم نے پاکستان سے عیاری قرار دیا اور تقریر میں کہا ۔ظاہر ہے کہ انگریز کو اگر پاکستان میں سب سے زیادہ اعتماد کسی پر ہو سکتا ہے تو وہ قادیانی گروہ تھا اور اسی لئے اگر یہ کہا جائے کہ ظفر اللہ خان قادیانی کے وزیر خارجہ بنائے جانے میں انگریزی سفارشات کو خاص دخل تھا تو بعید از قیاس نہیں ہے ۔
پس اگر انگریز دور اندیشی کی رو سے قادیانیوں کو ایسی پوزیشن دلانے کی کوشش کریں
کہ آئندہ جا کر وہ ایک علیحدہ ریاست بنا سکیں۔ جس کے ذریعہ پاکستان میں ریشہ دوانیوں کا موقعہ ملتا رہے اور پاکستان ہمیشہ کے لئے برٹش کامن ویلتھ میں بندھا رہے۔ گو یہ انگریز کی عین دلی خواہش ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سمجھدار مسلمان مندرجہ ذیل امور سے مندرجہ بالا خطرہ محسوس کر کے مضطرب و پریشان تھے۔ اور ان کو پریشان ہونا چاہئے تھا۔ بر خلاف بعض ان تعلیم یافتہ اصحاب کے جنہوں نے کبھی انگریزی ڈپلومیسی سمجھنے یا اس کی روک تھام کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ یا جو انگریزی اقتدار کے خلاف کچھ کہنا یا کرنا اصولاً غلط تصور کرتے تھے۔ یا جو ڈیڑھ سو سال سے خاندانی طور پر انگریز سے وابستہ رہنے کی وجہ سے انگریز کی ہر بات کو وحی اس کی تقلید کو باعث برکت و عزت سمجھتے رہے اور اب بھی صرف اپنے عہدوں کی خیر منانے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن جو حساس مسلمان جانتے ہیں کہ انگریز اس گئی گزری حالت میں بھی مصر سے اپنے اقتدار کے زوال کو برداشت نہیں کر رہا۔ اور باوجود دوسرے ممالک کی رقابتوں کے ایران کے تیل سے دست بردار نہیں ہو رہا۔ اگر اس کو مستقبل درخشاں بنانے یا سیاسی اغراض کی تکمیل کے لئے مفت قادیانیوں جیسی جماعت ہاتھ آئے تو وہ کیوں اس میں کوتاہی کرے۔ چنانچہ واقعات کے مندرجہ ذیل راہ اختیار کرنے پر حساس مسلمانوں کو اضطراب ہوا کہ:
- .......١...... پنجاب کے گورنر موڈی نے جاتے جاتے قادیانیوں کو ضلع جھنگ میں
ہزاروں ایکڑ زمین برائے نام قیمت پر یعنی تقریباً مفت دے کر مرزائی دارالخلافہ کی بنیاد ڈالی جس پر تمام مسلمانوں نے احتجاج کیا۔
- .......٢...... اس دارالخلافہ میں مرزائیوں کے سوا کوئی مسلمان نہیں رہ سکتا۔
- .......٣...... یہ دارالخلافہ ایک طرف دریائے چناب سے محفوظ ہے۔ دوسری طرف
چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اس کی حفاظت میں مدد دے سکتی ہیں۔ اس طرح نازک وقت میں ان کو اس کی حفاظت آسان ہو جاتی ہے اور اگر ضلع سرگودھا اور جھنگ میں وہ اپنی عوامی طاقت میں معمولی اضافہ کر لیں جو مسلح بھی ہو تو وہ وہاں ایک آزاد سٹیٹ کا کسی وقت اعلان کر سکتے ہیں۔
- .......٤...... چنانچہ سرگودھا میں رعب ڈالنے کے لئے گذشتہ جنرل الیکشن سے پہلے
خلیفہ مرزا محمود قادیانی کا مسلح مرزائیوں کے ساتھ دورہ بھی اس کی غماضی کرتا ہے۔
- .......٥...... خاص کر جب فوج اور ہوائی فورس میں ان کی کافی تعداد ہو۔
- .......٦...... مرکز میں ان کے اثرات ہوں۔
- .......٧...... اسلحہ کی دکانیں ہوں۔
- ٨........ مستقل علیحدہ فوج فرقان بٹالین کا قیام جو عوام کے بے پناہ احتجاج کے
بعد توڑی گئی۔
- ٩........ بلوچستان کو علیحدہ صوبہ بنانے کی خواہش اور خلیفہ مرزا محمود کی تقریر کوئٹہ۔
- ١٠........ سرکاری بارود کا چنیوٹ سے چناب نگر (سابقہ ربوہ) لے جا کر مشق کرنا۔
- ١١........ تمام مرزائی سرکاری افسروں کا بمعہ ظفر اللہ خان قادیانی کے چناب نگر
(ربوہ) کے بروزی حج دسمبر میں جمع ہو کر سوچنا اور باہمی تعاون پر غور کرنا۔
- ١٢........ ظفر اللہ خان قادیانی کے حق میں لندن کے اخبارات اور انگریزوں کے
زیر اثر اسلامی ممالک یا زیر اثر اخبارات یا زیر اثر افراد کا پروپیگنڈہ کرتے رہنا۔
- ١٣........ قادیانی اپنے مکروہ طرزِ عمل، گندے عقائد اور مشہور انگریزی ایجنٹ ہونے
کی وجہ سے جو وہ پبلک جلسے نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا اور مسلمانوں کی طرف سے فسادات کے خطرات سے حکام کو آگاہ کئے جانے کے باوجود مرزائی پبلک جلسوں کے لئے ایسے مقامات پر اجازت حاصل کرنا۔ جہاں مرزائی اعلیٰ افسر ہوں یا ان مشہور مرزائی افسروں کے رشتہ دار ہوں۔ مثلاً کراچی میں جلسے کی اجازت جہانگیر پارک میں۔ حالانکہ گذشتہ سال اجازت نہیں دی گئی تھی اور فساد والے سال بھی حکام کو کئی بار فساد کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ لیکن ظفر اللہ خان قادیانی کو جلسہ ضرور کرنا تھا۔ تا کہ مرزائی ایک عوامی جماعت بن سکے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں فساد ہونے کے بعد بھی اور عین فساد میں بھی جلسہ کامیاب کرانے کی سعی کی گئی۔ اسی طرح راولپنڈی میں جہاں مرزائی فوجی افسروں کی بھرمار ہے۔
- ١٤........ ظفر اللہ خان قادیانی کا مسلسل وزارتِ خارجہ پر ڈٹا رہنا۔ باوجود یکہ عوام
کی مرضی کے بھی خلاف تھا اور پنجاب کے جنرل الیکشن کے بعد پنجاب کا نمائندہ بھی نہ تھا اور اس کی کارگزاری پر بھی تمام اخبارات تنقید کر چکے تھے۔
- ١٥........ صوبہ جات میں مرزائی افسروں کا مرزائیت کے لئے کھلم کھلا کام کرنا اور
کسی حکم کی پرواہ نہ کرنا۔ اس کے برخلاف کسی مسلمان افسر کا مرزائیت کے خلاف تبلیغی جلسہ نہ کر سکنا۔ نہ کوئی ایسا کام کر سکتا۔
- ١٦........ بعض مقدمات رجسٹرڈ ہونے کے باوجود (مرزائیوں کے خلاف) داخل
دفتر ہو جانا۔ مثلاً ٥ من سکہ جو ریلوے کے ذریعہ چناب نگر (ربوہ) بھیجا جا رہا تھا پکڑا گیا۔ کیس درج و رجسٹرڈ ہوا۔ لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلا۔
- ١٧...... میجر نذیر احمد قادیانی جیسا ذمہ دار فوجی افسر کا جو ظفر اللہ خان کا ہم زلف
تھا اور خلیفہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔ بقول میاں انور علی کے حکومت پاکستان کے خلاف سازش کرنا اور پھر اس کا قید سے بچ جانا۔
- ١٨...... مرزائیوں کے بے پناہ لٹریچر کا رسالوں ، ٹریکٹوں اور اشتہاروں کی صورت
میں ملک میں شائع ہونا۔
- ١٩...... ان کا غیر ممالک کے بینکوں میں کروڑوں روپوؤں کا موجود ہونا جس کا
ماخذ بھی معلوم نہیں۔
- ٢٠...... اکھنڈ ہندوستان بننا جن کے نزدیک خدائی مشیت ہو۔ جس کے لئے وہ
کہہ چکے ہیں کہ اگر ملک تقسیم بھی ہو جائے تو یہ چند دن کے لئے ہوگا اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ پھر ایک ہو جائے۔
معزز عدالت...... یہ بہت ہی کم باتیں ہیں جو عدالت کے سامنے آسکی ہیں۔ اگر احرار لیڈر یا ورکر جیلوں سے باہر ہوتے تو سو گنا زیادہ معلومات اور مواد عدالت کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا۔ جس کو یا تو مرزائیوں کی خرمستیاں کہا جاتا یا خطرناک حالات کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا۔
معزز عدالت...... اگر مندرجہ بالا حالات و واقعات درست ہیں۔ جبکہ یقین ہے تو ان کے ساتھ اگر ذراسی ترقی اور ہو جائے جس کے لئے مرزائی ہمیشہ کوشاں رہے۔ مثلاً یہ کہ فوج کا اعلیٰ افسر مرزائی ہو۔ مرکزی حکومت میں اتنا اثر ہو کہ کسی مرزائی سکیم کو دبانے کی کوشش نہ کرنے دی جائے۔ پھر چناب نگر (ربوہ) کے دارالخلافہ سے کسی آزاد ریاست کا مطالبہ کیا جائے۔ نہ ماننے کی شکل میں مسلح بغاوت اور چناب نگر (ربوہ) کے اردگرد قبضہ کرلیا جائے۔ ادھر فوراً انگریز اور امریکہ مداخلت کر کے جنگ بند کردیں اور بعد میں چناب نگر (سابقہ ربوہ) کو آزاد سٹیٹ تسلیم کرلیا جائے۔ فلسطین کی یہودی حکومت کو جب فوراً تسلیم کیا جا سکتا ہے تو ربوہ کی مرزائی حکومت تسلیم کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟۔ یا خطرناک حالات میں مرزائی عناصر خلیفہ کے حکم سے ہندوستان کے حق میں انقلاب پیدا کردیں اور عین حالت جنگ میں ان کا ساتھ دے کر خدا کی مشیت کو پورا کر کے قادیانی اسٹیٹ حاصل کریں ۔ تو مندرجہ بالا حالات اور مرزائیوں کے بیانات کی روشنی میں یہ ناممکن نہیں۔
اور اگر حساس مسلمان ان حالات کو دیکھ کر مضطرب و پریشان ہوں تو ان کی یہ پریشانی بالکل حق بجانب ہوگی۔ اور اگر ان امور میں سے کسی کا اندیشہ نہ ہو۔ لیکن وہ دن بدن بڑھتے
ہوئے اقتدار کی وجہ سے اتنا ہی کر دیں کہ بقول خلیفہ واقعی مسلمان قادیانی بننے کے سوا چارہ نہ دیکھیں یا مرزائیوں کو کافر کہنا اور ان کی کافرانہ تبلیغ کے مقابلہ میں سرکاری طور سے مسلمانوں کی تبلیغ بند کر دی جائے تو کیا یہ کم حادثہ ہوتا؟ ۔ جس سے کروڑوں مسلمانوں میں غم وغصہ اور اضطراب کی لہر دوڑ جاتی جو پاکستان کے استحکام کے لئے کسی طرح مفید نہیں ہو سکتا تھا اور آج جبکہ مسلمان اور مرزائی کا سوال پیدا کرنا یا بقول چیف سیکرٹری (فدا حسن) جیسے بزرگ کے ہاں قوم میں تفریق پیدا کرنا سماج دشمنی ہے تو یہ کوئی بعید امر نہ تھا کہ کل معمولی طور پر چند اور آدمیوں کے ہمنوا کرنے کے بعد مرزائیوں کو کافر کہنے پر پابندی لگ جاتی۔ اس وقت ملک بھر میں ہیجان ہوتا۔
تعجب ہے کہ چیف سیکرٹری جیسے بزرگوں کو یہ امر کہ مرزا قادیانی اور قادیانی خلیفہ چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہیں۔ ظفر اللہ خان قادیانی قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھے اور حکومت پاکستان کو کافر حکومت کہے۔ تو یہ سماج دشمنی نہ ہو اور ان کے خلاف کوئی رپورٹ مرتب نہ کریں۔ لیکن مرزائیوں کو مسلمان کافر کہیں اور ان کے کافرانہ عقائد اور غلط عزائم سے اہل ملک اور حکومت کو آگاہ کریں۔ تو یہ سماج دشمنی ہو اور وہ جماعت گردن زدنی ہو۔
خلاصہ کلام...... خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد مرزائیوں کا پاکستان میں مطمئن ہو کر من مانی کاروائیاں کرتے رہنے کے لئے جس کی ان کو عادت تھی۔ ان کو دو باتوں کی ضرورت تھی۔ ایک تو اسلامی آئین ، علماء دین اور اپنے مخالف احرار کو ختم کرنے کی۔ دوسرے اقتدار حاصل کرنے کی۔ اول الذکر ارادے نے تمام اہل اسلام اور عامۃ المسلمین کو چوکنا کر دیا اور خواہش اقتدار نے دوسرے پڑھے لکھے دفتری مسلمانوں کو متنبہ کیا۔ کیونکہ اقتدار کی خواہش میں جہاں جہاں مرزائی بس چلتا۔ مسلمان کو پیچھے دھکیل کر کے جونیئر مرزائی کو آگے لایا جاتا تو عام اہل اسلام نے مرزائیوں کی اس پالیسی کو بچشم خود دیکھ کر خطرہ محسوس کیا۔ مرزائیوں کو اپنی من مانی کاروائیاں کرنے کے لئے اپنے اور مسلمانوں کے درمیان انتہائی بعد کی وجہ سے کسی نہ کسی بیرونی طاقت کی پشتیبانی بھی ضروری ہے۔ اس سے بھی مسلمان خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
بہر حال مسلمانوں نے اس امر کو بری طرح محسوس کیا کہ ایک خارج از اسلام فرقہ جو مسلمانوں سے انتہائی تعصب رکھتا ہے۔ دن بدن حکومت کی کلیدی آسامیوں اور مسلم حقوق پر قابض ہوتا جا رہا ہے اور اس قبضہ سے وہ اپنے فرقہ کے لئے خاص مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ قادیانی خلیفہ کے اعلان میں ہے۔ اس صورت حال کا آخری اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان پر مرزائیوں کا اقتدار قائم ہو جائے۔ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی۔ گویا عام مسلمانوں نے اس
چھوٹی سی جماعت کے ہاتھوں اپنے حقوق کے لئے زبردست خطرہ محسوس کیا اور وہ یہ بھی سمجھے کہ اس طرح مذہب اسلام کو بھی ناقابل برداشت نقصان پہنچے گا۔ پھر مرزائی اقتدار اپنے بقاء و دوام کے لئے یقیناً غیر ملکی طاقتوں کی پناہ لے گا جو یقیناً ملک وملت کے لئے تباہ کن ہے۔
مسلمانوں اور مرزائیوں کے نظریے
مرزائی جماعت نے اپنی جارحانہ تبلیغ اور پارٹی کو من مانی کاروائیاں کرنے اور حصول اقتدار کے لئے مندرجہ بالا طریقہ اختیار کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جس سے مرزائیت کے مخالف گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں۔ جیسا کہ مرزا محمود قادیانی کی تقریر سے واضح ہوتا ہے اور یہ حالات تب ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ جبکہ مرزائیوں کے توسط کے بغیر مسلمانوں پر ملازمتوں اور روزگار کے دروازے بند ہو جائیں۔ سرکاری اقتدار کے ذریعہ مسلمانوں کو دبا دیا جائے اور کوئی محکمہ ، کوئی سیکرٹری ، کوئی وزیر ، مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں اور کفر انگیزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
اس کے بالمقابل مسلمانوں نے اپنے مذہب اپنے حقوق اور پاکستان کو خطرات سے بچانے کے لئے جو پروگرام مرتب کیا۔ اگر غور وانصاف سے دیکھا جائے تو اس سے بہتر پر امن اور بے ضرر کوئی دوسرا حل نہیں ہو سکتا۔ وہ حل یہ تھا کہ :
- ١....... مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کو ان کی آبادی کے لحاظ
سے حقوق دیئے جائیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں مرزائیوں کے حقوق پر حملہ نہیں ہے۔ بلکہ دنیا بھر کے جمہوری اصول کے عین مطابق ان کو آبادی کے لحاظ سے حقوق دیئے جانے پر رضا مندی کا اظہار ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس مطالبہ میں مرزائیوں کے دست برد سے اپنے حقوق کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگر آج کی جمہوری دنیا میں کسی اقلیت کو اپنے حقوق متعین کرنے کے مطالبہ کا حق ہے تو جب ٩٩ فیصدی اکثریت کے حقوق ایک فیصدی اقلیت کے ہاتھوں تلف ہو رہے ہوں تو اکثریت کو اپنے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرنا کیونکر حرام ہو گا؟۔ ملک میں پہلے بھی دوسری اقلیتیں موجود ہیں۔ ان کا اقلیت ہونا ملک وملت کے لئے کسی طرح نقصان دہ نہیں اور نہ حقوق کی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ رہا غیر مسلم اقلیت قرار دینا تو یہ امر ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے فرزند خلیفہ ربوہ کی تعلیمات کی رو سے تمام مسلمان قطعی کافر ہیں۔ جو مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو دعویٰ مسیحیت ومہدویت اور نبوت میں سارے ہی مسلمان جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ دوسری طرف
تمام علماء دین کا اسلامی تعلیم کی روشنی میں متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کار دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب عبادات، معاملات نکاح بھی علیحدہ ہوں، عقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہو اور دونوں فریق ایک دوسرے کو کافر کہیں تو پھر ان کو ایک ہی رسی میں باندھنا۔ ایک جیسا مسلمان قرار دینا۔ ایک کے حقوق پر دوسرے کو قابض کرنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟۔ اور اس صورت میں مرزائیوں کو کیوں زبردستی مسلمانوں میں گھسیڑا جا رہا ہے۔ اگر مرزا قادیانی یا مرزائی مسلمانوں کو کافر نہ بھی کہتے۔ لیکن مرزائی عقائد و تعلیمات کی وجہ سے جب تمام اہل اسلام ان کو کافر کہتے اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ جس میں تمام اسلامی فرقے متفق ہیں۔ مشرق سے مغرب تک کے علماء کا اتفاق ہے تو حکومت کو کیوں اصرار ہے کہ وہ غیر مسلم نہیں ہیں۔ یا ضرور مسلمان ہیں؟۔
ایک گواہ نے نہایت سادگی سے یہ کہا کہ یہ حکومت کا کام نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے کون نہیں۔ اگر حکومت کا کام نہیں ہے تو علماء دین تو فیصلہ دے چکے ہیں۔ اس کو نافذ کرو، تعجب ہے کہ حکومت اسلامی کہلائے۔ نام اسلامی جمہوریہ پاکستان تجویز کرے۔ اعلان یہ ہو کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہ بن سکے گا۔ جب یہ مسلمان اور غیر مسلمان کا فیصلہ نہیں کر سکتی تو اسلامی آئین اور غیر اسلامی آئین میں کس طرح تمیز کرے گی؟۔ اگر اسلامی حدود و قوانین کی تعیین اسے کرنی ہے تو مسلمان اور غیر مسلمان ہونے کا فیصلہ بھی اس کو لازماً کرنا ہوگا۔ اگر مراد یہ ہو کہ یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے تو عدالت کا فیصلہ بھی تو حکومت کا فیصلہ ہے۔ پھر بھی حکومت کو چاہئے کہ عدالت سے فیصلہ کرا کر صحیح حکمت عملی مرتب کرے۔ عدالت بھی اس امر کا فیصلہ اسی روشنی میں کرے گی کہ آنحضرت ﷺ سے منقول دین اسلام کی روشنی میں کون مسلمان ہے اور کون نہیں؟۔ بالآخر اسی مفہوم سے متفق ہونا پڑے گا جو مفہوم دین اسلام کا صحابہؓ سے لے کر آج تک خیر القرون کے مسلمانوں نے سمجھا اور جو مفسرین، محدثین، آئمہ دین اور مجددین نے محفوظ کر کے پچھلے لوگوں کے حوالہ کیا۔ اسلامی تاریخ میں شاہی درباروں میں ایک ایک آدمی کے کسی عقیدہ کے سلسلہ میں بھی علماء نے بحث کر کے کفر یا اسلام کے فیصلے صادر کئے ہیں اور حکومت نے ان کو نافذ کیا ہے اور ہمارے ذمہ دار حضرات اتنے اہم معاملہ سے پہلو تہی کر کے قوم کو مصیبت میں مبتلا کریں۔ حالانکہ قوم کے دین و ایمان کی حفاظت اسلامی حکومت کا اپنا فرض ہے۔
معزز عدالت ...... اگر ایک غیر مسلم جج کسی مسلمان عورت کے فسخ نکاح کی ڈگری دیتا ہے تو اس کا وہ حکم نافذ نہیں ہو سکتا۔ اگر اس ڈگری کے بعد وہ دوسرا نکاح کرے تو اسے زنا کا گناہ
ہوگا۔ کیونکہ غیر مسلمانوں کے فیصلے مسلمانوں پر نافذ نہیں ہو سکتے۔ تمام فقہاء نے یہ مسئلہ قرآن کی آیت ”لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا“ النساء: ١٤١‘ آیت کے ذیل میں لکھا ہے۔ اسی طرح اگر غیر مسلم جج کسی عورت کو کسی کی بیوی قرار دے۔ وہاں بھی یہی مشکل پیش آئے گی۔ اس کے سوا مسلمان عورت کا نکاح مرزائی سے حرام ہے۔ مرزائیت کے کفر واسلام کے فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے نکاحوں میں کتنے ہی فسادات ہوئے ہیں۔ بہاول پور کا تاریخی مقدمہ بھی اسی وجہ سے ٢/٦ سال تک چلتا رہا۔
بے شک انگریز کا فائدہ اسی میں تھا کہ اسلام کے اندر اسی طرح انارکی پھیلتی رہے اور ہر شخص مسلمان کہلا کر جو فتنہ چاہے برپا کرے۔ لیکن اسلامی حکومت کو خود بھی اور عوام کے بے پناہ مطالبہ کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا ہی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار اسلامی شریعت کی رو سے مسلمان نہیں ہیں۔ بہر حال یہ مطالبہ کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے نہایت معقول اور فساد کو ختم کرنے والا مطالبہ ہے۔ ایک تو اس لئے کہ جب مرزائی مسلمان نہیں ہیں تو ان کو اسلام سے خارج قرار دینے میں کیا مصیبت ہے؟۔ اتنا بڑا مسئلہ یونہی معلق نہیں رکھا جا سکتا۔ چاہے حکومت عدالت سے یہ فیصلہ کرائے۔ چاہے عوام کے مطالبہ کی بنا پر خود ان کو علیحدہ قرار دے۔ خاص کر جبکہ خود مرزائیوں نے بھی باؤنڈری کمیشن کے سامنے اور دوسرے موقعوں پر بھی اور فتویٰ کے طور پر بھی مسلمانوں کو قطعاً کافر اور اپنے کو قطعاً علیحدہ قوم ظاہر کیا ہے اور اپنا نام بھی احمدی رکھا ہوا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی مناسبت سے ہے۔ پھر صرف ناواقف مسلمانوں کو کافرانہ تبلیغ کے جال میں پھنسانے یا ان کے حقوق پر قبضہ کرنے کی خاطر کیوں ان کو زبردستی مسلمانوں کے گلے ڈالا جا رہا ہے؟۔ مان نہ مان۔ میں تیرا مہمان۔
اب مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغ اور اقتدار کے حصول کے لئے زبردستی ان کا ایسے حالات پیدا کرنا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کا لوہا ماننا پڑے۔ یہ پروگرام جس کے نتیجہ میں سوائے فساد اور تصادم کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ بہتر ہے یا اہل اسلام کا یہ فیصلہ اور مطالبہ کہ دونوں کو الگ الگ عقائد و نظریات کی قوم تسلیم کر کے ہر ایک کے حقوق آبادی کے لحاظ سے متعین کر دیئے جائیں؟۔ تاکہ نہ کوئی مسلمان دھوکہ میں رہے نہ ایک دوسرے کی حق تلفی کا خطرہ باقی رہے۔ کتنا آئینی اور جمہوری مطالبہ ہے؟۔
- ٢.......... دوسرا مطالبہ اہل اسلام کا یہ تھا کہ چوہدری ظفر اللہ قادیانی کو وزارت خارجہ
سے الگ کر دیا جائے۔ کیا قوم کا اپنی حکومت سے کسی پرزے کی تبدیلی کا مطالبہ کوئی غیر آئینی
مطالبہ ہے؟۔ کیا اس سے پہلے خود مرکز میں کسی اور وزیر کے خلاف عوام کے ایک طبقہ نے ایسا مطالبہ نہیں کیا جس پر عمل بھی کیا گیا ؟۔ کیا جمہوری حکومت میں جمہور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی نمائندہ کے بارہ میں اپنی بے اعتمادی کا اعلان اور اس کی علیحدگی کا مطالبہ کریں یا اس کے غلط اعمال کی وجہ سے نکتہ چینی اور اس کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کریں؟۔ جبکہ ظفر اللہ خان قادیانی کے خلاف مطالبات کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب اس کو وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی شرقاً غرباً تمام باشندگان ملک نے اس کے تقرر کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ اس کا تقرر قائد اعظمؒ نے کیا تھا۔ پہلے تو ہمیں اس وقت کی قائد اعظمؒ کی مجبوریاں معلوم نہیں ۔ آخر انہوں نے تقسیم پنجاب کو بھی مجبوری سے مانا تھا اور باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ کو غداری کہتے ہوئے بھی تسلیم کیا تھا۔ وہ ان کی اس وقت کی مجبوریاں تھیں۔ اس طرح قائد اعظمؒ نے اور بھی بہت سے آدمی وزیر بنائے تھے۔ لیکن ان کے خلاف کاروائی کرنی پڑی۔ جیسے پنجاب کے نواب ممدوٹ یا سندھ کے مسٹر کھوڑو۔ بلکہ مسٹر منڈل جیسے تو پورے غدار ثابت ہوئے اور اگر قائد اعظمؒ زندہ ہوتے تو وہ یقیناً ظفر اللہ خان قادیانی کو اس کے کرتوتوں کا مزہ چکھاتے ۔
بہر حال کسی وزیر کے خلاف پبلک کی بے اعتمادی اور عوام کا اس کی برطرفی کا مطالبہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں ہے۔ جب اسمبلیوں کے اندر کسی وزیر کے خلاف عوام کے نمائندے بے اعتمادی کی تجویز اور علیحدگی کی قرارداد پیش کر سکتے ہیں ۔ جنہوں نے پہلے خود اس کو وزیر بنایا تھا تو جمہور عوام براہ راست کیوں ایسا نہیں کر سکتے جن کے پاس ایسا کرنے کے لئے پبلک جلسے اور مطالبات ہی ہو سکتے ہیں اور کیا پبلک کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کو جب عوام کے ایسے پر زور مطالبہ کا سامنا پڑ جائے ۔ تو کیا اس کا فرض نہیں کہ عوام کے سامنے جھک جائے ۔ جبکہ وہ انہی کی نمائندگی کی مدعی ہے۔ ورنہ استعفیٰ دیدے یا پھر صحیح طور پر عوام کی رائے دریافت کرنے کے لئے استصواب کرائے ۔
ظفر اللہ خان قادیانی کے خلاف مطالبہ کی ہمہ گیری
چوہدری ظفر اللہ خان کے خلاف مسلم پبلک کے جذبات و خیالات کا اعلان تو اس وقت سے ہوا تھا۔ جبکہ اس کو وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل میں لیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان بننے کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد اس کے طرز عمل پر عام نکتہ چینی شروع ہوئی ۔ یہاں تک عامۃ المسلمین نے وزارت خارجہ سے اس کی علیحدگی کا کیا۔ اس کی علیحدگی کا مطالبہہگی کا مطالبہ کیا۔
جس پر مندرجہ ذیل واقعات یا حالات سے روشنی پڑ سکتی ہے اور جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ عوام کا مطالبہ کتنا اہم اور صحیح تھا:
- ...... ١ سابق وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین فرماتے ہیں کہ عام خیال یہ ہے
کہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کو مرزائیت کی تبلیغ کا شوق ہے۔
- ...... ٢ نیز یہ کہ وہ لوگوں کو قادیانی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
- ...... ٣ پنجاب گورنمنٹ کے ہوم سیکرٹری غیاث الدین فرماتے ہیں کہ چوہدری
ظفر اللہ خان چناب نگر (ربوہ) کی کانفرنسوں میں شریک ہوتے رہے۔
- ...... ٤ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت پنجاب کو علم تھا کہ صوبہ پنجاب کے عوام ظفر اللہ
خان کی سرگرمیوں کے مخالف ہیں۔ اخبارات اور پبلک پلیٹ فارم سے یہ آواز اٹھتی تھی۔
- ...... ٥ یہ سب وزراء اور حکام مانتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے کراچی
جہانگیر پارک میں مئی ١٩٥٢ء میں مرزائیوں کے جلسہ میں تقریر کی تھی۔
- ...... ٦ پنجاب گورنمنٹ کے ہوم سیکرٹری غیاث الدین فرماتے ہیں کہ اس تقریر
سے ملک میں اشتعال پیدا ہوا تھا۔
- ...... ٧ خواجہ ناظم الدین فرماتے ہیں کہ کراچی میں تمام اسلامی فرقوں کے کنونشن کا
انعقاد براہ راست چوہدری ظفر اللہ قادیانی کی تقریر کا نتیجہ تھا۔
- ...... ٨ میاں انور علی آئی جی پنجاب فرماتے ہیں کہ کراچی کا جلسہ جہانگیر پارک
والا بھی جس میں ظفر اللہ خان نے تقریر کی تھی بے اطمینانی کا ایک سبب ہے۔
- ...... ٩ سردار عبدالرب نشتر مرکزی وزیر فرماتے ہیں کہ ہم نے چوہدری ظفر اللہ
قادیانی کو اس جلسہ میں تقریر کرنے سے روکا تھا۔ مگر وہ نہ رکے۔
- ...... ١٠ ١٤ اگست ١٩٥٢ء کو جب مرکزی حکومت سرکاری افسروں کی فرقہ وارانہ
سرگرمیوں کو روکنے کے لئے اعلان کرتی ہے ۔ تو ظفر اللہ خان قادیانی اس کے جواب (تردید) میں بیان دیتے ہیں۔
(ہوم سیکرٹری پنجاب غیاث الدین)
- ...... ١١ ظفر اللہ خان قادیانی کی خلاف اسلام سرگرمیوں کی وجہ سے جلال الدین
وزیر صوبہ سرحد بھی تقریر کرتے اور اس کے خلاف مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ جن کو گورنر سرحد اور وزیر اعلیٰ سرحد تنبیہہ کرتے ہیں۔
(خواجہ ناظم الدین)
- ...... ١٢ اسلامی تجاویز کی ہمیشہ مخالفت کرنے کی وجہ سے سنٹرل اسمبلی کے ایک
معزز ممبر گزدر ہاشمی بھی چوہدری ظفر اللہ قادیانی کے خلاف تقریر کرتے ہیں۔ (جن کو بعد میں ڈپٹی سپیکر بنا دیا جاتا ہے)...... خواجہ ناظم الدین )
- ١٣...... حمید نظامی جو مطالبات کا مخالف اور ظفر اللہ خان کا حامی ہے۔ کہتا ہے کہ
عامتہ المسلمین کا مطالبہ تھا کہ ظفر اللہ خان کو علیحدہ کیا جائے۔ اُس لئے میں نے اخبار نوائے وقت میں مشورہ دیا تھا کہ ظفر اللہ خان کو خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
- ١٤...... خواجہ ناظم الدین فرماتے ہیں کہ کراچی کے تمام علماء مطالبات کے حق میں
تھے۔
- ١٥...... خواجہ ناظم الدین نے فرمایا کہ صوبہ سرحد میں عبد القیوم عوام سے یہ کہہ کر
اشتعال اور تحریک کو روک سکا کہ تم امن قائم رکھو۔ ہم مطالبات کے لئے تمہاری ترجمانی کریں گے اور یہی بعد میں وزارت پنجاب کو کرنا پڑا۔
- ١٦...... چوہدری ظفر اللہ خان نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے مرزائی وفد کو پیش
ہونے کی اجازت دے کر گویا ان کی پیش کردہ درخواست کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔
- ١٧...... چوہدری ظفر اللہ خان، قائد اعظم کے جنازہ کے موقعہ پر موجود ہو کر بھی نماز
جنازہ نہیں پڑھتے اور مولانا اسحاق خطیب ایبٹ آباد کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ میں کافر حکومت کا مسلمان نوکر ہوں۔ یہ بیان تمام اخبارات میں آتا ہے اور تین سال تک چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی اس کی تردید نہیں کرتے۔ (گواہ مولانا قاضی شمس الدین ہزارویؒ)
- ١٨...... بیرونی اسلامی ممالک میں بھی چوہدری ظفر اللہ اپنی کفر نوازی سے باز نہیں
آتے اور خواجہ ناظم الدین کے اس بیان سے کہ چوہدری ظفر اللہ لوگوں کو قادیانی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بیان کی مزید تائید ہوتی ہے جو سید مظفر علی شمسی نے عدالت میں دیا ہے کہ جب ہالینڈ میں بھیجا جانے والا سفیر قادیانی بنا۔ تب اس کو چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے سفیر بنایا۔ اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں جن کی وجہ سے افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نادانستہ طور پر وزارت خارجہ کی وجہ سے دنیائے اسلام میں مرزائی کفر پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔ جس کو بعض ممالک اچھال کر پاکستان کو بدنام بھی کرتے ہیں۔
معزز عدالت ...... یہ ہیں چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان جو مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ جو اسی لئے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھے۔ جو پاکستانی حکومت کو کافر حکومت کہے۔ جس کو مرزائیت کی تبلیغ کا شوق ہو۔ جو لوگوں کو مرزائی بنانے کی کوشش
چوہدری ظفر اللہ قادیانی کے خلاف تقریر کرتے ہیں۔ (جن کو بعد میں ڈپٹی ...... خواجہ ناظم الدین)
حمید نظامی جو مطالبات کا مخالف اور ظفر اللہ خان کا حامی ہے۔ کہتا ہے کہ تھا کہ ظفر اللہ خان کو علیحدہ کیا جائے۔ اس لئے میں نے اخبار نوائے وقت اللہ خان کو خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
خواجہ ناظم الدین فرماتے ہیں کہ کراچی کے تمام علماء مطالبات کے حق میں
خواجہ ناظم الدین نے فرمایا کہ صوبہ سرحد میں عبدالقیوم عوام سے یہ کہہ کر سکا کہ تم امن قائم رکھو۔ ہم مطالبات کے لئے تمہاری ترجمانی کریں گے پنجاب کو کرنا پڑا۔
چوہدری ظفر اللہ خان نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے مرزائی وفد کو پیش کر گویا ان کی پیش کردہ درخواست کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔
چوہدری ظفر اللہ خان، قائد اعظم کے جنازہ کے موقعہ پر موجود ہو کر بھی نماز مولانا اسحاق خطیب ایبٹ آباد کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ میں کرتا ہوں۔ یہ بیان تمام اخبارات میں آتا ہے اور تین سال تک چوہدری کی تردید نہیں کرتے۔ (گواہ مولانا قاضی شمس الدین ہزاروی)
بیرونی اسلامی ممالک میں بھی چوہدری ظفر اللہ اپنی کفر نوازی سے باز نہیں ان کے اس بیان سے کہ چوہدری ظفر اللہ لوگوں کو قادیانی بنانے کی کوشش کی مزید تائید ہوتی ہے جو سید مظفر علی شمسی نے عدالت میں دیا ہے کہ جب سفیر قادیانی بنا۔ تب اس کو چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے سفیر بنایا۔ اس ت میں جن کی وجہ سے افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نادانستہ طور پر وزارت اسلام میں مرزائی کفر پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔ جس کو بعض ممالک بھی کرتے ہیں۔
...... یہ ہیں چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان جو مرزا قادیانی مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ جو اسی لئے قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھے۔ جو پاکستانی ہے۔ جس کو مرزائیت کی تبلیغ کا شوق ہو۔ جو لوگوں کو مرزائی بنانے کی کوشش
کرتا ہو۔ جو ربوہ کے جلسوں میں شریک ہو کر تمام مرزائی سرکاری افسروں سے بات چیت اور باہمی تعاون کی بحث کرتا ہو۔ جو فسادات سے بے نیاز ہو کر جہانگیر پارک کراچی کے مرزائی جلسہ میں شریک ہو۔ جو مرکزی وزراء کی بات اور مشورہ کو درخور اعتناء نہ سمجھے۔ جو وزیراعظم کے اعلان کے جواب میں بیان دے۔ جو عام اہل اسلام کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرے۔ جس کی علیحدگی کا عامتہ المسلمین مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کو پاکستان کے لئے موجب بربادی تصور کرتے ہیں۔ اخبارات جس کے خلاف لکھتے ہیں۔ جو چھ سال کے عرصہ تک کشمیر کا مسئلہ سلجھا نہ سکا ہو۔ جو اسلامی پڑوسی ممالک کے سلسلہ میں کوئی مفید کام نہ کر سکا ہو۔ تا آنکہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان مرحوم یا مسٹر محمد علی نے اقدام کیا۔ کیا یہ عالمگیر مطالبہ غیر آئینی یا بلاوجہ کہلا سکتا ہے؟۔
معزز عدالت ..... ایسے تمام سنگین الزامات کے سلسلہ میں چوہدری ظفر اللہ خان سے نہ جواب طلب کیا جاتا ہے۔ نہ اس کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی ہے۔ اور نہ ہی وہ اپنے کرتوتوں سے باز آتا ہے۔ کیا ان حالات کو بر ملا دیکھنے اور سننے سے مسلمان قوم کا مضطرب اور پریشان ہونا قدرتی امر نہیں؟۔ اور ان حالات میں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک مرزائی سول جج مرزائیوں کے جلسہ کی صدارت کرتا ہے۔ اس سے کوئی پوچھتا نہیں۔ ملتان کا مرزائی ڈپٹی کمشنر کھلم کھلا مرزائیت کا کام کرتا ہے اور جب کمشنر ملتان کی رپورٹ پر تبدیل ہو کر منٹگمری آتا ہے۔ وہاں بھی تبلیغ کرتا ہے۔ جس کے نتیجہ کے طور پر بقول سردار عبدالرب نشتر وزیر پنجاب ایک قتل بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ مرزائی فوجی افسر سرکاری بارود بڑی مقدار میں چنیوٹ سے ربوہ (چناب نگر) لے جا کر جنگی مشق کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کو اس کا علم ہوتا ہے۔ لیکن کوئی باز پرس یا قانونی کاروائی نہیں کی جاتی۔
قادیانی خلیفہ مرزا محمود اشتعال انگیز اور حاکمانہ بیانات دیتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ ہندوستان چلے جانے کے منصوبے بھی سوچے گئے۔ لیکن ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھی۔ اسی طرح کے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں جن میں احتجاج کرنے والے مسلمان تو زیر عتاب آ جاتے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ کیا اگر مظلوم مسلمان قوم یہ رائے قائم کرے کہ سب کچھ چوہدری ظفر اللہ خان کے کھونٹے پر ہو رہا ہے تو کیا وہ حق بجانب نہیں ہیں؟۔ اور اگر اس سے قوم میں یہ بے چینی پیدا ہو کہ عملی طور پر پاکستان میں وہی بات ہو سکتی ہے جو چوہدری ظفر اللہ خان کرنی چاہے اور اگر وہ نہ چاہے تو نہیں ہو سکتی۔ اور اگر چند دن اور یہ حالت رہی تو پاکستان کے اقتدار پر مکمل قبضہ مرزائی جماعت کا ہو جائے گا۔ کیا یہ بے چینی بے
وجہ کہلائی جاسکتی ہے؟۔ خاص کر جبکہ محکمہ جات پر قبضہ کی اسکیم۔ قادیانی صوبہ بنانے کا خیال۔ قادیانیت کے حق میں ١٩٥٢ء ختم ہونے سے پہلے حالات تبدیل کرنے کا آمرانہ حکم۔ مرزائیوں کی جنگی مشقیں۔ بینکوں میں لاتعداد رقوم کی موجودگی اور روایتی طور پر مرزائیوں اور فرنگیوں کا گٹھ جوڑ بھی پیش نظر ہو۔
معزز عدالت ...... ایسے حالات میں مسلمانوں کا نہایت امن سے ملک و مذہب کی حفاظت کی خاطر اور پیدا شدہ خطرات کی روک تھام کے لئے اپنی حکومت سے مطالبہ کرنا کہ مرزائیوں کو علیحدہ قوم قرار دے کر حقوق اور مذہبی نزاعات کا فیصلہ کر دیا جائے اور ساتھ ہی اس تمام فتنے کی جڑ۔ یعنی چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ کر دیا جائے۔ یہ نہ کوئی غیر آئینی مطالبہ ہے۔ نہ پاکستان دشمنی ہے۔
حکومت کی بے بسی
لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت اپنے آپ کو بے بس پاتی تھی۔ حکومت کے لئے ایسے عالمگیر اور جمہوری مطالبات کے سلسلہ میں جن کی پشت پر تمام اسلامی فرقے اخبارات اور تمام علماء دین ہوں۔ گول مول اور ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرنے کی بجائے مندرجہ ذیل تین باتوں میں سے ایک بات کرنی چاہئے تھی:
- ١....... جمہوری حکومت ہونے کی وجہ سے جمہور کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی۔
مطالبات تسلیم کر لیتی۔ سب سے بڑا وقار یہی تھا کہ حکومت اور عوام میں یکجہتی پیدا ہو اور ملک میں بددلی کی فضاء اور عوامی اضطراب میں ترقی نہ ہو۔
- ٢....... لیکن اگر اخلاقی کمزوری یا کسی اور وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکتی تو جمہور کی
نمائندگی پوری نہ کرنے کی وجہ سے مستعفی ہو جاتی۔ اور ایسے لوگوں کو موقع دیتی جن کو عوام خود منتخب کریں۔
- ٣....... اگر یہ نہ کرنا چاہتی تو پھر ایک ہی جائز طریقہ باقی رہتا تھا کہ وہ مطالبات
کے سلسلہ میں استصواب رائے عامہ کا انتظام کرتی۔
حکومت نے ان تین آئینی راستوں میں سے ایک بھی اختیار نہیں کیا۔ بلکہ اس سے کم درجے کی دو باتیں اور تھیں۔ جو بہت آسان تھیں۔ حکومت نے اس سے بھی گریز کیا۔ وہ یہ کہ:
- ٤....... کم از کم سنٹرل اسمبلی میں بحث کے لئے یہ مطالبات پیش کئے جاتے۔
اگر چہ وہاں بھی قائد ایوان اپنی ہی بات منوا لیتا ہے۔ تاہم ظاہری طور پر نمائندہ اسمبلی کا فیصلہ
سمجھا جاتا۔
- ٥....... حکومت نے سب سے آخری شکل بھی اختیار نہ کی کہ جس پارٹی کی حکومت
تھی۔ اس پارٹی کے سامنے صورت حال کو پیش کر دیا جاتا۔ یعنی آل پاکستان مسلم لیگ کی جنرل کونسل کے جس کا اجلاس اس دوران میں ڈھاکہ میں ہو رہا تھا۔ آخر جمہوری فیصلے کی یہ بھی ایک صورت تھی۔ پھر اس فیصلے کی ذمہ داری بھی مسلم لیگ پر ہوتی۔ چاہے فائدہ ہوتا۔ چاہے نقصان۔ یہ طرز تو قطعاً غلط ہے کہ حکومت کی تمام کارستانیوں کا بوجھ نتیجہ کے لحاظ سے مسلم لیگ اور اس کے عوامی کارکنوں پر پڑے کہ لیگی حکومت نے ایسا کیا۔ لیکن حکومت ایسے نازک اور ملک گیر مسائل میں مسلم لیگ سے مشورہ بھی ضروری نہ سمجھے۔
مرکزی حکومت نے کیا کیا؟
مرکزی حکومت نے زیادہ سے زیادہ کابینہ کے سامنے مسئلہ رکھا ہوگا۔ لیکن کابینہ ایک فیملی کی حیثیت رکھتی ہے جس کو خود وزیر اعظم نامزد کیا کرتا ہے۔
ان آٹھ دس آدمیوں کا آپس میں بیٹھ کر اپنی بات چیت کو کافی سمجھ لینا از خود غلط ہونے اور پاکستان کے اعلیٰ مفاد سے بے اعتنائی برتنے کے مترادف ہے۔
خاص کر جبکہ اس میں مدعا علیہ چوہدری ظفر اللہ خان بھی موجود ہو۔ جن کے بارہ میں ذکر کردہ واقعات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ مرکزی وزیروں کی رائے کی کوئی پرواہ نہ کرتا تھا اور یہ کہ ان سے انتہائی افسوسناک بدعنوانیوں کے سلسلہ میں بھی جواب طلب نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ کہ وہ اپنے مذہبی مشاغل کے مقابلہ میں نہ تو فساد و بدامنی کی پرواہ کرتے۔ نہ کسی سرکاری اعلان و احکام کی۔ ان حالات میں کیبنٹ کے اندر ان مطالبات کے سلسلہ میں پاکستان اور اسلامی مفاد کے پیش نظر فیصلہ کرنا اچھا خاصا مشکل تھا۔ جبکہ یہ فیصلہ مرزائیت کے لئے مضر ہو۔
جناب والا ....... ہماری ان معروضات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اقرار کرتے ہیں کہ مرکز میں دھڑے بندی تھی۔ جس سے گورنر جنرل بھی مستثنیٰ نہ تھے۔ ان حالات میں اقتدار کی دوڑ میں مصروف حضرات کس طرح ظفر اللہ خان جیسے ایک اہم آدمی کو اپنا مخالف بنا سکتے ہیں؟۔ جو وزیر خارجہ ہونے اور اپنی مذہبی روایات کے لحاظ سے بیرونی طاقتوں سے بھی تعلقات رکھتا ہو اور پاکستان کی تمام بیرونی سیاست کو اپنے قبضہ میں کئے بیٹھا ہو اور جو آج جس کسی کو سفیر بنوا دے۔ وہ کل وزیر بن سکتا ہے۔ اس صورت میں کیبنٹ کے چند افراد کے اندر ایک آدھ دفعہ بحث و تمحیص اتنے بڑے عوامی مسئلہ کے سلسلہ میں کافی سمجھنا غلط در غلط ہے۔
معزز عدالت ...... یہ حقیقت ہے کہ کیبنٹ میں ظفر اللہ خان کی موجودگی مطالبات کا مسئلہ حل کرنے کی راہ میں زبردست رکاوٹ تھی۔ اس کی تائید، بعد کے واقعات نے بھی کی۔
پاکستانی حکومت منسٹرز کی بے اثری
مثلاً خواجہ ناظم الدین نے بعد از خرابی بسیار جب تمام پاکستانی صوبہ جات کے وزرائے اعلیٰ، گورنروں اور دیگر سول وفوجی حکام کی کانفرنس طلب کی۔ اس میں متفقہ طور پر جو تجویز پاس ہوئی۔ وہ یہ تھی کہ قادیانی سربراہ مرزا محمود سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مسلمانوں میں اپنی تبلیغ بند کرنے کا اعلان کریں۔ اس میں بھی چوہدری ظفر اللہ خان نے کیڑے نکالنے کی کوشش کی۔ مثلاً یہ کہ اگر کوئی شخص خود ہی قادیانی لٹریچر طلب کرے تو اس پر ہمارے نا تجربہ کار افراد نے کہا کہ ہاں! یہ تو جرم نہ ہونا چاہئے۔ خیال فرمائیں کہ اب کون تحقیق کرتا پھرے کہ ان لاکھوں میزوں پر یہ قادیانی لٹریچر خود بخود آ گیا ہے یا دھرا گیا ہے یا منگوایا ہے؟۔ اس طرح دراصل یہ متفقہ تجویز بھی ظفر اللہ خان نے بیکار کر کے رکھ دی تھی۔ لیکن تاہم ایک تجویز تھی جو پاس ہوئی۔ لیکن دو ہی دن کے بعد خواجہ ناظم الدین کو اس تجویز کے پیش کرنے کی سزا مل گئی کہ وہ وزارت سے علیحدہ کر دیئے گئے اور سردار عبدالرب نشتر وغیرہ بھی جو ٹھیٹھ مسلمانوں جیسے عقیدہ رکھتے تھے اور نئی وزارت کی پہلی صف میں چوہدری ظفر اللہ خان براجمان تھے۔
یہ عرض کرنے سے مراد صرف یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے تمام مرکزی اور صوبائی وزراء اور دیگر سول اور فوجی اعلیٰ افسروں کی پاس کی ہوئی متفقہ تجویز بھی گاؤ خورد ہوئی۔ جس کا آج تک نام نہیں لیا گیا۔
تجویز میں اعلیٰ افسروں کی بیچارگی
یہ تجویز بجائے خود اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ظفر اللہ خان کی موجودگی اجلاس پر کتنا اثر ڈالتی ہے؟۔ جب تمام شرکاء اجلاس نے فسادات و خرابی کی جڑ مرزائی تبلیغ کو قرار دیا اور یہی سمجھا کہ سارا فتنہ مرزائی تبلیغ کا نتیجہ ہے۔ تو فیصلہ کی شکل یہ تھی کہ قانوناً مرزائی تبلیغ اور تبلیغی لٹریچر کو بند کر دیا جاتا۔ اور مرزا محمود قادیانی کو حکم امتناعی صادر کیا جاتا۔ لیکن یہی افسر جب دوسری پبلک جماعتوں کے خلاف کچھ کہنے یا کرنے پر آتے ہیں تو یکدم دفعہ ١٤٤ کا حربہ سامنے لے آتے ہیں۔ زبان بندی کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد مرحوم کی پرانی تصنیف شہاب ضبط کر دیتے ہیں۔ اخبارات اور لٹریچر ضبط کرتے ہیں اور حاکمانہ انداز میں متعلقہ افراد یا جماعتوں کو حکم دیتے ہیں۔ لیکن جب یہی وزراء گورنر اور آفیسرز چوہدری ظفر اللہ خان کے سامنے
الت...... یہ حقیقت ہے کہ کیبنٹ میں ظفر اللہ خان کی موجودگی مطالبات کی میں زبردست رکاوٹ تھی۔ اس کی تائید، بعد کے واقعات نے بھی کی۔
سرزنش بے اثری
جہ ناظم الدین نے (بعد از خرابی بسیار) جب تمام پاکستانی صوبہ جات کے ں اور دیگر سول وفوجی حکام کی کانفرنس طلب کی۔ اس میں متفقہ طور پر جو تجویز قادیانی سربراہ مرزا محمود سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مسلمانوں میں اپنی تبلیغ بند ا۔ اس میں بھی چوہدری ظفر اللہ خان نے کیڑے نکالنے کی کوشش کی۔ مثلاً یہ قادیانی لٹریچر طلب کرے تو اس پر ہمارے ناتجربہ کار افراد نے کہا کہ ہاں! ۔ خیال فرمائیں کہ اب کون تحقیق کرے پھرے کہ ان لاکھوں میزوں پر یہ گیا ہے یا دھرا گیا ہے یا منگوایا ہے؟۔ اس طرح دراصل یہ متفقہ تجویز بھی کر کے رکھ دی تھی۔ لیکن تاہم ایک تجویز تھی جو پاس ہوئی۔ لیکن وہ ہی دن کے اس تجویز کے پیش کرنے کی سزا مل گئی کہ وہ وزارت سے علیحدہ کر دیئے گئے وغیرہ بھی جو ٹھیٹھ مسلمانوں جیسے عقیدہ رکھتے تھے اور نئی وزارت کی پہلی صف ن براجمان تھے۔
نے سے مراد صرف یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے تمام مرکزی اور صوبائی وزراء لی افسروں کی پاس کی ہوئی متفقہ تجویز بھی گاؤ خورد ہوگئی۔ جس کا آج تک
اس کی بیچارگی
نے خود اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ظفر اللہ خان کی موجودگی اجلاس پر کتنا ام شرکاء اجلاس نے فسادات و خرابی کی جڑ مرزائی تبلیغ کو قرار دیا اور یہی سمجھا کا نتیجہ ہے۔ تو فیصلہ کی شکل یہ تھی کہ قانوناً مرزائی تبلیغ اور تبلیغی لٹریچر کو بند ود قادیانی کو حکم امتناعی صادر کیا جاتا۔ لیکن یہی افسر جب دوسری پبلک کہنے یا کرنے پر آتے ہیں تو یکدم دفعہ ١٤٤ کا حربہ سامنے لے آتے ہیں۔ ۔ پاکستان کے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد مرحوم کی پرانی تصنیف اخبارات اور لٹریچر ضبط کرتے ہیں اور حاکمانہ انداز میں متعلقہ افراد پر ۔ لیکن جب یہی وزراء، گورنرز اور آفیسرز چوہدری ظفر اللہ خان کے سامنے
اکٹھے ہوتے ہیں تو امتناعی احکام کی جگہ ان کی زبان بدل جاتی ہے اور تجویز کرتے ہیں کہ قادیانی سربراہ سے پبلک تبلیغ بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ جیسے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے درخواست کی جاتی ہے یا جیسے رعایا حکومت سے مطالبہ یا درخواست کرتی ہے؟۔ اس سے چوہدری ظفر اللہ خان کے اثر ورسوخ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اتنی بے ضرر اور معصوم تجویز بھی باوجود اپنے معصومانہ الفاظ کے چوہدری ظفر اللہ خان کی موجودگی کی وجہ سے شرمندۂ معنی نہ ہوسکی۔ جس پر تمام پاکستانی وزراء گورنروں اور ذمہ دار افسروں نے مہر تصدیق ثبت کی تھی۔
معزز عدالت ...... اس ملک میں جہاں مرکزی حکومت میں بھی دھڑے بندی ہو اور جہاں صوبہ جات میں بھی اقتدار کی جنگ کا تسلسل ختم نہ ہوتا ہو اور جہاں اپنے اپنے عہدوں کی خیر منانے اور رشتہ داروں کو اقتدار دلانے کی سعی جاری رہتی ہو۔ ایسے ملک کے صوبہ جاتی یا مرکزی افسروں سے یہ امید رکھنا کہ کسی صحیح اصول مذہبی مفاد یا قومی بھلائی کی خاطر چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ غلط امید ہے:
- ١....... جبکہ اطراف ملک کے تمام بڑے لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ سنٹرل اسمبلی یا
مرکزی کابینہ میں میرے سپورٹروں کی تعداد زیادہ ہو۔
- ٢....... جبکہ ہر بڑا آدمی اپنے لڑکے، پوتے اور رشتہ دار کو کوئی نہ کوئی عہدہ دلانے یا
کسی ملک کا سفیر بنوانے یا کم از کم سفارتخانے کے اسٹاف میں بھرتی کرانے کا خواہش مند ہو۔ خاص کر جب یہ بھی ذہن میں ہو کہ سفیر بننے کے بعد وزیر بننے کے لئے راہ صاف ہو جاتی ہے اور خود سفارت بھی بڑی پوزیشن ہے۔
- ٣....... جبکہ ظفر اللہ خان قادیانی خود ایسا عہدہ دے سکتا ہو یا دلا سکتا ہو۔
- ٤....... اسی طرح وہ کونسا صاحب ضمیر سرمایہ دار یا اعلیٰ عہدہ دار ہو گا جو ایسے
چوہدری ظفر اللہ خان کی سفارش رد کرے یا اس کا اشارہ پاتے ہی اس کے موافق کام نہ کرے؟۔ جبکہ وہ بھی اپنے مستقبل کے بارہ میں اس سے ذاتی مفاد کی امید رکھ سکتا ہو۔
- ٥....... ان حالات میں بڑا مشکل کام ہے کہ کوئی ذمہ دار اعلیٰ افسر کسی مرزائی
افسر کی بدعنوانیوں کے خلاف کوئی تادیبی یا محکمانہ کاروائی کرے۔ جبکہ چوہدری ظفر اللہ خان کو تبلیغ کا بھی شوق ہو اور قادیانی بنانے کا بھی۔ اس لئے لازمی طور پر ان کو ہر مرزائی افسر کی امداد کرنی ہوگی جو قادیانیت کے لئے کام کرے۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ تمام مرزائی افسر بڑی جرأت سے اپنی سرکاری حیثیت اور پوزیشن سے تبلیغ احمدیت کا کام لیتے ہیں اور مخالف علماء کو طرح طرح سے
پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
- ٦....... اور یہ جرات اس حد تک پہنچ گئی کہ مسلح جیپ یا کار لے کر مسلمانوں پر
گولیاں چلائیں۔ کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ عامتہ الناس اپنی آنکھوں سے دیکھیں لیکن پولیس کو کوئی ثبوت نہ ملے۔
- ٧....... ظفر اللہ خان اور دیگر مطالبات کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی بے بسی پر
یہ امر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو برطرف کرنے سے وزیر اعظم پاکستان کو امریکن عوام کے ناراض ہونے کا بھی ڈر تھا اور دبے الفاظ میں انہوں نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ انڈونیشیا والے بھی خفا ہوتے ہیں۔
معزز عدالت...... اگر ایک آزاد حکومت کسی ملک سے کوئی معاہدہ کرے یا ملکی مفاد کے لئے لین دین سیاسی یا تجارتی سمجھوتہ کیا جائے تو یہ کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔ لیکن اگر کسی عزل و نصب یا دیگر اندرونی مسائل میں ملکی مفاد کی بجائے بیرونی اثرات کا دخل ہو تو اس ملک کی انتہائی بدنصیبی ہوتی ہے۔ ہماری حکومت کو مطالبات کے سلسلے میں پاکستان اور پاکستانی عوام کے تعلقات اور مفاد ہی کی بنیاد پر سوچنا چاہئے تھا۔ کیونکہ حکومت اپنی عوام کے جذبات سے بے اعتنائی برت کر ملک کی بہتر خدمت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی۔ عوام کو جبر و تشدد کے ذریعہ دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے حکومت و رعایا میں تعاون و یکجہتی کو صدمہ پہنچ کر بنیادی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر خدانخواستہ آج جبر و تشدد یا کسی اور غلط ذریعہ سے پاکستان پر چند مرزائی یا مرزائی نواز مسلط کر دیئے جائیں تو ایسا ہو سکتا۔ لیکن ایسی حکومت کی عمر دراز نہیں ہوتی اور اگر ایسا کسی بیرونی طاقت کی امداد سے کیا جائے۔ تو اس بیرونی طاقت کو بھی رائے عامہ کی مخالفت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ آخر ڈکٹیٹروں نے بھی تو فوجی قوت سے قبضہ کئے رکھا۔ لیکن جلدی زوال ہو گیا۔ آج کے جمہوری زمانہ میں جمہوریت کی مدعی حکومت کو جمہور کا مطالبہ کسی غیر جمہوری مقصد کی خاطر ٹھکرا دینا کسی طرح مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خاص کر آج کے گرد و پیش کے حالات میں جن میں ضرورت ہے کہ حکومت عوام اور عوامی جماعتوں کا تعاون اور یک جہتی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا نقشہ پیش کرے۔
معزز عدالت...... ایسے حالات میں اگر عامتہ المسلمین یہ سمجھیں کہ جب تک ظفر اللہ خان کو پاکستانی وزارت میں دخل ہو۔ اس وقت تک نہ ہمارا مذہب محفوظ ہے۔ نہ ہمارے ساتھ انصاف کی توقع ہو سکتی ہے۔ اور نہ عام طور پر سرکاری افسروں سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ
مرزائی گردی اور ان کی زیادتیوں کے خلاف کوئی ت کے خواہش مند اور اقتدار پسند ہوں۔ یا کم از کم ا بچانے کا خیال ہو۔
بنابریں مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ چوہدری مفاد، اسلام کے تحفظ اور ملکی مفاد کے عین مطابق او مترادف ہے۔
مطالبات کے سلسلہ میں واقعات کی رفتار
- الف ....... مسلمانوں کے یہ ہر دو مطا
خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ صحیح خدشات اور حقیقی خ فرقے اس پر متفق ہیں۔ تمام علماء دین کا یہی فیص تصدیق ثبت کر دی ہے۔ تحفظ حقوق کی جدوجہد ی آئینی حق ہے۔
- ب ....... کسی مطالبہ یا تحریک کے
کے لئے نہ کیا جا رہا ہو۔ ایسے مطالبہ کیلئے حامی ب دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرنا۔ یہ س میں ہر پارٹی اپنی اکثریت پیدا کرنے اپنے مقاص کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ وہ اقتدار کی دوڑ ہو اسلامی مفاد کو بچانے۔ کفر و اسلام میں تمیز کرنے مذہبی فریضہ کے طور پر بالکل مذہبی مطالبہ ہے اور ک
- ج ....... مطالبات کے لئے سیک
رجسٹریاں بھیجی گئیں۔ جلوس نکالے گئے۔ وفود آئے۔ اخبارات نے لکھا۔ تمام ملک میں تمام صو ٹال مٹول سے کام لیا۔
- د ....... جولائی ١٩٥٢ء سے حکو
تمام اسلامی فرقے متفق ہیں۔ تمام علماء کا یہی افسوسناک بے اعتنائی برتی اور مسلسل چھ مہینے تک
مرزائی گردی اور ان کی زیادتیوں کے خلاف کوئی صحیح رپورٹ یا کاروائی کریں۔ جبکہ وہ بھی ترقی کے خواہش مند اور اقتدار پسند ہوں۔ یا کم از کم ان کو اپنے اقتدار کو مرزائی افسروں کی زد سے بچانے کا خیال ہو۔
بنابریں مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت سے نکالا جائے۔ مسلم مفاد، اسلام کے تحفظ اور ملکی مفاد کے عین مطابق اور صرف انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد کے مترادف ہے۔
مطالبات کے سلسلہ میں واقعات کی رفتار
- الف ...... مسلمانوں کے یہ ہر دو مطالبات جن سے دوسرے مطالبات کی ضرورت
خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ صحیح خدشات اور حقیقی خطرات پر مبنی اور بالکل آئینی ہیں۔ تمام اسلامی فرقے اس پر متفق ہیں۔ تمام علماء دین کا یہی فیصلہ ہے۔ جمہور نے ان کی صحت و حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ تحفظ حقوق کی جدوجہد یا کسی وزیر بلکہ حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ جمہور کا آئینی حق ہے۔
- ب ...... کسی مطالبہ یا تحریک کے لئے جبکہ وہ مطالبہ بغاوت یا ملک کے نقصان
کے لئے نہ کیا جا رہا ہو۔ ایسے مطالبہ کیلئے حامی پیدا کرنا۔ مطالبہ کو عوامی بنانے کی جدوجہد کرنا۔ دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرنا۔ یہ سب باتیں آئینی اور جائز ہیں۔ آج جمہوری دور میں ہر پارٹی اپنی اکثریت پیدا کرنے اپنے مقاصد سے سب کو متفق کرنے اور عوام کو ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ وہ اقتدار کی دوڑ ہوتی ہے۔ یہاں تو ایک پارٹی کی جارحانہ تبلیغ سے اسلامی مفاد کو بچانے ۔ کفر و اسلام میں تمیز کرنے اور اپنے حقوق کو غصب سے محفوظ کرنے کے لئے مذہبی فریضہ کے طور پر بالکل مذہبی مطالبہ ہے اور عرصہ دراز سے جاری ہے۔
- ج ...... مطالبات کے لئے سینکڑوں جلسے ہوئے۔ ہزاروں تاریں دی گئیں۔
رجسٹریاں بھیجی گئیں۔ جلوس نکالے گئے۔ وفود نے ملاقاتیں کیں۔ بار بار پیش ہو کر درخواست کی۔ اخبارات نے لکھا۔ تمام ملک میں تمام صوبہ جات میں کانفرنسیں ہوئیں۔ لیکن حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
- د ...... جولائی ١٩٥٢ء سے حکومت جانتی تھی کہ تمام قوم مطالبات کی حامی ہے۔
تمام اسلامی فرقے متفق ہیں۔ تمام علماء کا یہی فیصلہ ہے۔ مگر حکومت نے اتنے عالمگیر مطالبہ سے افسوسناک بے اعتنائی برتی اور مسلسل چھ مہینے تک کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔
- ر ....... آخر کار مجلس عمل نے ایک ماہ کا نوٹس دیا کہ ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے
گئے تو ہم راست اقدام کریں گے۔ مجلس عمل کو یقین تھا کہ حکومت ایسے مذہبی اور عوامی مطالبہ کو ضرور تسلیم کر لے گی۔ اور یہ کہ یہ نوٹس حکومت کو جمہوری لائنوں پر مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش پر آمادہ کر دے گا اور راست اقدام کی نوبت نہ آئے گی۔
- س ....... حکومت نے عوامی مسائل سے عمدگی سے نمٹنے اور جمہور اور حکومت کو ایک
جسم کے اعضا قرار دے کر دادرسی کر کے ان کو مطمئن کرنے کی بجائے اس کو اپنے غلط وقار کا سوال بنا دیا۔ مجلس عمل کے نمائندوں نے اپنے وقار کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چار دن اور انتظار کیا اور پھر ملاقات کی۔ مگر حکومت کے جمود میں کوئی فرق نہ آیا۔
- ص ....... مجلس عمل نے اپنی قرارداد کے موافق راست اقدام کا پروگرام تجویز کر لیا
تھا۔ جس کو اگر وہ جیل سے باہر رہتی تو اسی طرح چلانے کی کوشش کرتی۔ اور قیام امن کے لئے پہلے کی طرح عوام سے اپیل کرتی رہتی۔ لیکن حکومت نے ساری مجلس عمل کی قیادت ٢٦ فروری ١٩٥٣ء کو کراچی میں گرفتار کر لی۔
- ط ....... مجلس عمل کا پروگرام یہ تھا کہ رضا کار سندھ کے یا پنجاب اور دوسرے صوبہ
جات کے کراچی جائیں اور خواجہ ناظم الدین کے ہاں مطالبات پیش کرنے کی کوشش کرتے جائیں۔ اگر یہ گرفتار لئے جائیں تو اگلے روز اور رضا کار مطالبات پیش کرنے جائیں۔ یہاں تک کہ حکومت مطالبات تسلیم کر لے۔
- ع ....... اگر یہ راست اقدام حکومت کو ناپسند تھا تو وہ اس کے خلاف فوری قانونی
کاروائی کر سکتی تھی۔ لیکن جیسا کہ راست اقدام ایک آئینی تحریک تھی۔ اگر حکومت بھی پرامن اور آئینی ذرائع استعمال کرتی تو اس میں شک نہیں کہ گرفتاری میں لاکھ کے لگ بھگ ہوتی۔ حکومت کو کیمپ کھولنے پڑتے یا قیدیوں کو رکھنے کا کوئی اور انتظام کرنا پڑتا۔ خرچ بھی کرنا پڑتا۔ لیکن جو بدامنی فسادات اور گولیوں کی نشانہ بازی ہوتی رہی یہ ہرگز نہ ہوتی۔ حکومت کو رائے عامہ دیکھ کر مطالبات ماننے پڑتے یا تحریک کی پشت پر عوام نہ ہوتے تو خود فیل ہو جاتے۔ اس سلسلہ میں حکومت جہاں چاہتی جس اسٹیشن سے چاہتی یا جس جگہ سے چاہتی گرفتار کر لیتی۔ لیکن حکومت نے گرفتاریوں اور پرامن مقابلہ کی جگہ لاٹھی چارج شروع کیا اور وہ بھی ہزاروں عوام کے سامنے برسر بازار۔ حتیٰ کے بہت سے آدمی جاں بحق ہوئے۔ اس طرح حکومت نے گرفتار شدگان کو گاڑیوں میں بھر کر رات کو دور جنگلوں میں چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس سے آہستہ آہستہ عوام کے جذبات سخت طور پر مجروح
ہوتے گئے اور جب حکومت نے فائرنگ کی تو سینکڑ ہوا۔ سول سیکرٹریٹ تک اس متشددانہ کاروائی کا پولیس اور عوام میں تصادم ہونے لگا اور حالات نے
عمال حکومت کا طرز عمل
اس اثناء میں عمال حکومت نے حالا بالکل غلط ہے کہ خلاف امن سرگرمیوں کے خلاف عمل اور احرار کا ہر لیڈر ہر عالم یہ اپیل کرتا۔ بشرط باہر لا کر ریڈیو پر ان سے اعلان کراتی۔ وہ کر کرنے کا حکومت وعدہ کرتی۔ وہ اعلان کرتے ک اعلان نہیں ہو سکتا۔ قیام امن کے ساتھ گرفتاریاں کیمبل پور، ضلع میانوالی اور ضلع راولپنڈی میں ج میں گرفتار کیا۔ انہوں نے نہایت امن سے گرفتا بھی تو علماء اور حکام کی بات چیت سے حالات کو .. بہر حال یہاں تو حکومت ایسا چاہتی وقار کا سوال بنا ڈالا تھا۔ ادھر پنجاب کے اعلیٰ اف پہلے ہی روز تشدد کر کے تحریک کو کچلنے اور عوام کو د اپنے ملک میں کبھی ایسا نہیں کرتا اور یہ طرز عمل یہ بھی مصیبت تھی کہ بعض اعلیٰ افسر مثلاً فدا حسن کو سماج دشمنی قرار دے کر تحریک والوں کو سماج ظفر اللہ خان کے اثرات اور دیگر مرزائی افسر سب سے پہلے ٢٧ فروری کو صرف احرار کارکن مجلس عمل کے سینکڑوں کارکن تمام پنجاب میں سے مسلسل چھ ماہ تک مجلس عمل سے متعلق تما مجلس عمل کا قائم ہونا حکام سے مخفی نہیں رہ سکتا
مرکز اور صوبے کی بدگمانیاں
حالات کو اعتدال پر لانے اور
آخر کار مجلس عمل نے ایک ماہ کا نوٹس دیا کہ ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے ت اقدام کریں گے۔ مجلس عمل کو یقین تھا کہ حکومت ایسے مذہبی اور عوامی مطالبہ کو گی۔ اور یہ کہ یہ نوٹس حکومت کو جمہوری لائنوں پر مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش پر آمادہ ست اقدام کی نوبت نہ آئے گی۔
حکومت نے عوامی مسائل سے عمدگی سے نپٹنے اور جمہور اور حکومت کو ایک رار دے کر درجہ حرارت کم کرنے کی بجائے اس کو اپنے غلط وقار کا سوال کے نمائندوں نے اپنے وقار کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چار دن اور انتظار کیا اور پھر ومت کے جمود میں کوئی فرق نہ آیا۔
مجلس عمل نے اپنی قرارداد کے موافق راست اقدام کا پروگرام تجویز کر لیا جیل سے باہر رہتی تو اسی طرح چلانے کی کوشش کرتی۔ اور قیام امن کے لئے پہلے سے اپیل کرتی رہتی۔ لیکن حکومت نے ساری مجلس عمل کی قیادت ٢٦ فروری میں گرفتار کر لی۔
مجلس عمل کا پروگرام یہ تھا کہ رضا کار سندھ کے یا پنجاب اور دوسرے صوبہ جائیں اور خواجہ ناظم الدین کے ہاں مطالبات پیش کرنے کی کوشش کرتے ر لئے جائیں تو اگلے روز اور رضا کار مطالبات پیش کرنے جائیں۔ یہاں تک ت تسلیم کرے۔
اگر یہ راست اقدام حکومت کو ناپسند تھا تو وہ اس کے خلاف فوری قانونی لیکن جیسا کہ راست اقدام ایک آئینی تحریک تھی۔ اگر حکومت بھی پر امن اور کرتی تو اس میں شک نہیں کہ گرفتاری میں لاکھ کے لگ بھگ ہوتی۔ حکومت کو قیدیوں کو رکھنے کا کوئی اور انتظام کرنا پڑتا۔ خرچ بھی کرنا پڑتا۔ لیکن جو بدامنی ا نشانہ بازی ہوتی رہی یہ ہرگز نہ ہوتی۔ حکومت کو رائے عامہ دیکھ کر مطالبات کی پشت پر عوام نہ ہوتے تو خود فیل ہو جاتے۔ اس سلسلہ میں حکومت جہاں ہ چاہتی یا جس جگہ سے چاہتی گرفتار کر لیتی۔ لیکن حکومت نے گرفتاریوں اور ٹھی چارج شروع کیا اور وہ بھی ہزاروں عوام کے سامنے برسر بازار۔ حتیٰ کہ ق ہوئے۔ اس طرح حکومت نے گرفتار شدگان کو گاڑیوں میں بھر کر رات کو ا شروع کر دیا۔ اس سے آہستہ آہستہ عوام کے جذبات سخت طور پر مجروح
ہوتے گئے اور جب حکومت نے فائرنگ کی تو سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے اور مزید اشتعال پیدا ہوا۔ سول سیکرٹریٹ تک اس متشددانہ کاروائی کا اثر پڑا۔ بہرحال حکومت کے اس طرز عمل سے پولیس اور عوام میں تصادم ہونے لگا اور حالات نے نہایت ہی افسوسناک شکل اختیار کر لی۔
عمال حکومت کا طرز عمل
اس اثناء میں عمال حکومت نے حالات کو اعتدال پر لانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خلاف امن سرگرمیوں کے خلاف کوئی عالم اپیل کرنے کے لئے نہ مل سکتا تھا۔ مجلس عمل اور احرار کا ہر لیڈر ہر عالم یہ اپیل کرتا۔ بشرطیکہ حکومت یہ چاہتی۔ اگر حکومت ان کو جیل سے باہر لا کر ریڈیو پر ان سے اعلان کراتی۔ وہ کرتے۔ لیکن اس شرط پر کہ صرف پر امن گرفتاریاں کرنے کا حکومت وعدہ کرتی۔ وہ اعلان کرتے کہ صرف پر امن گرفتاریاں دو۔ تحریک بند کرنے کا اعلان نہیں ہو سکتا۔ قیام امن کے ساتھ گرفتاریاں دینے کی پوری کوشش ہو سکتی تھی۔ یہی بات ضلع کیمبل پور، ضلع میانوالی اور ضلع راولپنڈی میں ہوئی۔ وہاں مقامی لیڈروں کو بھی حکومت نے آخر میں گرفتار کیا۔ انہوں نے نہایت امن سے گرفتاریاں دلائیں۔ اور اگر چہ ابتداءً معمولی بدمزگی ہوئی بھی تو علماء اور حکام کی بات چیت سے حالات کو بہتر بنا دیا۔
بہر حال یہاں تو حکومت ایسا چاہتی ہی نہ تھی۔ مرکزی حکومت نے پہلے سے ہی اس کو وقار کا سوال بنا ڈالا تھا۔ ادھر پنجاب کے اعلیٰ افسروں پر اسی پرانے انگریزی قانون کا تسلط تھا کہ پہلے ہی روز تشدد کر کے تحریک کو کچلنے اور عوام کو دہشت زدہ کر دینے میں کامیابی ہے۔ حالانکہ انگریز اپنے ملک میں کبھی ایسا نہیں کرتا اور یہ طرز عمل غلام ملکوں کے لئے تھا۔ تاکہ کوئی سر نہ اٹھا سکے۔ اور یہ بھی مصیبت تھی کہ بعض اعلیٰ افسر مثلاً فدا حسن چیف سیکرٹری پنجاب گورنمنٹ کفر و اسلام کی تفریق کو سماج دشمنی قرار دے کر تحریک والوں کو سماج دشمن سمجھ رہے تھے۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے اثرات اور دیگر مرزائی افسران کے اثرات اپنا کام نہ کر رہے ہوں۔ اسی لئے سب سے پہلے ٢٧ فروری کو صرف احرار کارکنوں کی فہرست گرفتاری کے لئے تیار کی گئی۔ حالانکہ مجلس عمل کے سینکڑوں کارکن تمام پنجاب میں مصروف عمل رہے اور تھے اور جولائی ١٩٥٢ء کے بعد سے مسلسل چھ ماہ تک مجلس عمل سے متعلق تمام حضرات کا ملک بھر میں کام کرنا اور ہر ضلع میں مقامی مجلس عمل کا قائم ہونا حکام سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا۔
مرکز اور صوبے کی بدگمانیاں
حالات کو اعتدال پر لانے اور مطالبات کے سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر سے اور عوام
الناس کے جذبات کی روشنی میں غور کر کے کوئی صحیح راستہ اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹ مرکز اور صوبائی حکومت کی باہمی بدگمانیاں تھیں۔ ورنہ اثناء تحریک میں رائے عامہ کا طوفان دیکھنے کے بعد وزارت پنجاب نے اعلان کر دیا تھا کہ مطالبات کے لئے سفارش کی جائے گی اور مرکز کو اس نے اطلاع بھی دے دی تھی۔ لیکن مرکزی حکومت نے باہمی بدگمانیوں کی وجہ سے اس کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا الٹی میٹم قرار دیا۔ اگر بدگمانیاں نہ ہوتیں تو وہ سر جوڑ کر اسلامی اور پاکستانی مفاد کی روشنی میں سوچتے اور اس موقعہ پر عوامی لیڈروں سے اعلان بھی کرا سکتے تھے۔ بدقسمتی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت یہ سمجھ بیٹھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کو ساتھ لے کر بغاوت کر دی ہے۔ پھر پورا ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ لاہور آبیٹھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہٹلر سے جنگ ہے اور برلن فتح کرنا ہے۔ اس باہمی ذہنی آویزش کی چکی میں مسلمان قوم پس گئی اور خوب کوشش کی گئی کہ جتنی جلدی ہو سختی کر کے ہٹلر اور برلن کو دبا دیا جائے اور لاہور و بعض دیگر اضلاع میں وہ طرز عمل اختیار کیا گیا جو اپنی اور قومی حکومت کے کسی طرح شایان شان نہیں ہو سکتا تھا۔
ف...... یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ رضا کاروں نے گرفتاری کے وقت کہیں مزاحمت یا مقابلہ نہیں کیا۔ عمال نے بوکھلا کر گرفتار کرنے کی بجائے لاٹھی چارج، فائرنگ اور دہشت زدگی شروع کر دی۔ اسی طرح رات کو دور جنگلوں میں لے جا کر چھوڑ دینا۔ جن کی پیدل واپسی سے راستے کے دیہات پر خود بخود اثر پڑتا جاتا رہا۔
ایس ایس پی مسٹر خدا بخش ٢٧ فروری، عمال حکومت ٢٨ فروری یکم مارچ ١٩٥٣ء کے سلسلہ میں تسلیم کرتے ہیں کہ صرف جلوس نکلے جو پر امن تھے۔ اور ٢، ٣ مارچ کے مولانا احمد علی والے جلوس کو بھی پر امن بتاتے ہیں۔ جلوسوں پر بھی میانوالی وغیرہ میں آخر تک پابندی نہیں لگائی گئی۔ اگر اس موقع پر راہنماؤں سے حکام مل کر پر امن گرفتاریوں کی تجویز پر بحث کرتے تو یقیناً کوئی حادثہ نہ ہوتا۔ لیکن لاہور کے عمال حکومت کے ذہنوں میں صرف ایک خیال تھا کہ کچلو اور دباؤ۔ تشدد کرو۔ خلاف قانون قرار دو۔ وغیرہ وغیرہ!
حالانکہ ایسے حالات اور پھر بڑے بڑے جلوسوں کا امن شکنی اور لاقانونی حرکات مثلاً لوٹ مار، حملہ جات کا ارتکاب نہ کرنا بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے سامنے ایسا کوئی پروگرام نہ تھا۔ حکومت نے دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی۔ اگر بجائے اس کے صرف جلوس ممنوع قرار دیئے جاتے تو کافی تھا۔ لیکن عوام نے ١٤٤ کا بھی بڑا احترام کیا اور کارکنوں نے صرف چار چار دس دس یا بیس بیس کے رضا کار گرفتاری کی خاطر روانہ کئے۔ اگر ان کو حکومت باقاعدہ گرفتار کرتی رہتی تو
حالات نہ بگڑتے۔ لیکن عمال کے ذ تشدد کر کے تحریک کچل دو۔ خاص کر ہوں اور آئی جی ١٩٥٠ء ہی سے احرا پوستے رہے ہوں۔ اور ہوم سیکرٹری کی انگریزی ملازمت سے اس کے ذ کیونکہ انگریزی دور حکومت میں احرا کی امیدیں وابستہ تھیں اور افسروں ہوتا۔ آج بھی چوہدری ظفر اللہ قاد زیادتیاں کرنے کا سبب ہو سکتی ہے گرفتاری کے وقت مزاحمت کی یا مقا مجلس عمل اور احرار کی برأت کا ثب
جب یہ امر ثابت شد پر امن طور پر راست اقدام تھا اور سوائے جلوسوں اور گرفتاریاں پیش دفعہ ١٤٤ کے بعد خطرناک لاٹھی چا جب حکومت پنجاب کے سابق و شروع ہونے سے ایک ہفتہ کے ماننا پڑے گا کہ پنجاب پولیس ہی آ تھی اور وہ مجلس عمل کے پروگرام بیانات اور تجاویز سے بھی یہی ظا نہیں ہے۔ تو پھر پیش آمدہ واقعا ہو سکتی ہے۔ اور سوائے اس کے کے لئے کوئی انتظام نہ کیا تھا بوکھ متوقع صورت اختیار کر لی؟۔
مزید ثبوت
سینئر سپرنٹنڈنٹ
حالات نہ بگڑتے۔ لیکن عمال کے ذہن میں وہی انگریزی زمانے کے اثرات تھے کہ ابتدا ہی سے تشدد کر کے تحریک کچل دو۔ خاص کر جبکہ چیف سیکرٹری مرزائیوں کے خلاف کہنے کو سماج دشمنی سمجھتے ہوں اور آئی جی ١٩٥٠ء ہی سے احرار کے خلاف اپنے دل میں احرار کو ختم کر دینے کا خیال پالتے پوستے رہے ہوں۔ اور ہوم سیکرٹری (غیاث الدین احمد) کا بھی یہی خیال تھا۔ اور اگر سالہا سال کی انگریزی ملازمت سے اس کے خیالات میں یہ بات راسخ ہو جائے تو یہ کوئی تعجب خیز نہیں ہے۔ کیونکہ انگریزی دور حکومت میں احرار کو کچلنے اور دبانے اور ان کے خلاف رپورٹیں کرنے سے ترقی کی امیدیں وابستہ تھیں اور افسروں کا ذہن ہی یہ تھا کہ جو انگریز کا معتوب ہوتا۔ ان کا بھی معتوب ہوتا۔ آج بھی چوہدری ظفر اللہ قادیانی کی مرکزی حکومت میں مضبوط حیثیت احرار بیچاروں پر زیادتیاں کرنے کا سبب ہو سکتی ہے۔ تمام تحریک میں کہیں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ رضا کاروں نے گرفتاری کے وقت مزاحمت کی یا مقابلہ کیا۔
مجلس عمل اور احرار کی برأت کا قطعی ثبوت
جب ہم اس ثابت شدہ حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ مجلس عمل کا پروگرام صرف کراچی میں پرامن طور پر راست اقدام تھا اور یہ کہ ٢٧ فروری، ٢٨ فروری، یکم مارچ اور ٢ مارچ کو لاہور میں سوائے جلوسوں اور گرفتاریاں پیش کرنے کے کوئی لاقانونیت کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ جب تک کہ دفعہ ١٤٤ کے بعد خطرناک لاٹھی چارج مسلسل نہ ہوتا رہا اور جب تک گولی چلنے کا حادثہ نہیں ہوا۔ پھر جب حکومت پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری مسٹر فدا حسن تحریری بیان میں کہتے ہیں کہ تحریک شروع ہونے سے ایک ہفتہ کے اندر غیر متوقع رخ اختیار کر چکی تھی۔ تو ہر ایک انصاف پسند کو یہ ماننا پڑے گا کہ پنجاب پولیس سی آئی ڈی اور تمام عمال حکومت کو پیش آمدہ حادثات کی قطعاً توقع نہ تھی اور وہ مجلس عمل کے پروگرام سے پورے واقف اور مطمئن تھے اور خود مجلس عمل کے اعلانات بیانات اور تجاویز سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ جس کے خلاف پنجاب کے کسی افسر کے پاس کوئی مواد نہیں ہے۔ تو پھر پیش آمدہ واقعات و حادثات کی ذمہ داری تحریک کے لیڈروں پر کس طرح عائد ہو سکتی ہے۔ اور سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ عمال جنہوں نے گرفتاریاں اور گرفتار شدگان کے لئے کوئی انتظام نہ کیا تھا بوکھلا کر غلط اقدامات پر اتر آئے۔ جن سے رفتہ رفتہ حالات نے غیر متوقع صورت اختیار کر لی؟۔
مزید ثبوت
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاہور (مرزا نعیم الدین) تسلیم کرتے ہیں کہ مولانا
ابوالحسناتؒ نے ١٥ فروری ١٩٥٣ء کو تعلیم الاسلام کالج کے سامنے مظاہرین کو روکنے اور اپنے جلسہ میں بلا لانے اور غیر قانونی حرکات کے منع کرنے کے لئے سید مظفر علی شمسی کو بھیجا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
اور انہی تاریخوں میں نسبت روڈ کے پبلک جلسہ پر مرزائیوں کی خشت باری کے نتیجہ کے طور پر پیدا ہونے والی بدامنی کو مجلس عمل کے رہنماؤں نے روکا اور باوجود انتہائی اشتعال کے عوام کو سنبھالا یہاں تک کہ عوام نے بعد میں بھی انتقام نہ لیا۔
مزید براں مولانا مودودی نے جو مرکزی مجلس عمل کے رکن تھے، نہایت صفائی سے لا قانونیت کے خلاف اخبار تسنیم میں مارشل لاء سے پہلے اعلان کیا تھا اور عام طور پر دوسرے راہنماؤں نے بھی جلسوں میں پرامن رہنے کی اپیلیں کی تھیں۔
مسئلہ مرزائیت اور اسلامی حکومت
قبل ازیں مجلس احرار اسلام کے موقف پر بحث کی جائے۔ اس امر پر روشنی ڈالنی ضروری ہے کہ مسئلہ مرزائیت کے سلسلہ میں اسلامی حکومت اور عام اہل اسلام کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟۔
معزز عدالت ..... سابق وزیراعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین اور وزیر صنعت و حرفت سردار عبدالرب نشتر سے لے کر ہوم سیکرٹری پنجاب گورنمنٹ تک علماء اسلام کے اس خیال سے متفق ہیں کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ اور جزوایمان ہے اور یہ امر ظاہری ہے کہ اسلام کے ایسے بنیادی عقیدے کی حفاظت اسلامی حکومت اور عامۃ المسلمین کا اولین فرض ہونا چاہئے۔
اور عدالت کے سامنے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مرزائی جماعت کے پیروکار جن کے پاس بے پناہ روپیہ ہے۔ وہ ٹریکٹوں، رسالوں، کتابوں اور انفرادی بحثوں اور پبلک جلسوں کے ذریعہ عامۃ المسلمین کو اس بنیادی عقیدہ سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر خارجہ سے لے کر ڈپٹی کمشنروں تک جتنے مرزائی افسر ہیں۔ وہ اپنی سرکاری پوزیشن اثر و رسوخ کو بھی اس گمراہ کن پراپیگنڈے میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں وہ مرکزی وزراء کے مشورہ، نقص امن کے خطرات اور ملک کے اندر کی عام بے چینی سے بھی آنکھیں بند کر دیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں روزگار کے متلاشی ملازمتوں کے طالب اور ہزاروں ناواقف مسلمان ان کے دام تزویر میں آتے رہتے ہیں۔
اسلامی حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری قدم اٹھاتی اور عامۃ المسلمین کی
راہنمائی کرتی۔ لیکن اس نے اس کے بالکل برعکس ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ مرزائی عہدے دار اپنی کلیدی آسامیوں کی وجہ سے یہ کافرانہ کام آزادی سے کر رہے ہیں۔ حکومت نے آج تک حکومت کو بھی اس آلودگی سے بچانے کے لئے کوئی جرات مندانہ اقدام نہیں کیا۔ ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ بھی اپنے سرکاری سربراہوں اور صدروں کے ماتحت ایسا کوئی کام کرنے سے آج تک قاصر رہی ہے۔ صرف مختلف اسلامی اور عوامی جماعتیں یا علماء انفرادی طور پر معمولی طریقہ سے یہ فرض انجام دیتے چلے آئے ہیں۔ لے دے کے ایک منظم اور فعال جماعت مجلس احرار ہے جو مرزائی تنظیم کے مقابلہ میں نسبتاً تبلیغ کرتی رہی اور کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین نیز اسلامی حکومت کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئے تھا کہ وہ یہ فریضہ سب کی طرف سے ادا کرتی ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ختم نبوت کو اسلام کا بنیادی عقیدہ کہنے والے دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کی منظم کوشش ہو رہی ہے اور اس کے لئے غیر آئینی بلکہ سرکاری ذرائع بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ تو وہ نیک لوگ خود تو ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن جو دوسری کوئی جماعت یہ کام کرتی ہے۔ اس کی مساعی کو بد نیتی اور خود غرضی بتاتے اور مورد اعتراض ٹھہراتے ہیں۔ تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ یا تو اس دعویٰ میں سچے نہیں کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ بلکہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف غلط مصلحت کی خاطر ایسا کہتے ہیں یا پھر وہ اسلامی اور سرکاری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے اہل نہیں ہیں؟۔
ورنہ اگر مجلس احرار غلط کار ہے۔ بد نیت ہے۔ چلو فرض کیجئے کہ یہ صحیح ہے۔ تو انہیں چاہئے تھا کہ کروڑوں عوام کے مذہبی خطرات کو دور کرنے اور بنیادی عقیدہ کی حفاظت کرنے کے لئے وہ کوئی اور ٹھوس کام کرتے۔
مجلس احرار اسلام کا موقف
مجلس احرار مسلمانوں کی ایک غریب جماعت ہے۔ بالفاظ دیگر غریب مسلمانوں کی جماعت ہے۔ جس نے ماضی میں اسلامی مفاد کی حفاظت کے لئے سرتوڑ خدمت کی ١٩٤٠ء تک وہ واحد اسلامی جماعت تھی جو اسلامی مفاد کے لئے مصروف عمل رہی۔ جس کو میاں انور علی (آئی جی) بھی تسلیم کرتے ہیں۔
اس نے انگریزی اقتدار کے خلاف کھلم کھلا ایجی ٹیشن کیا۔ اسے بھی میاں انور علی آئی جی پنجاب تسلیم کرتے ہیں۔ اس نے انقلاب کے وقت مسلمانوں کی حفاظت کا بہترین کام انجام
دیا۔ اس کو بھی آئی جی موصوف تسلیم کرتے ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ ابتداء ہی سے مرزائیوں کو انگریزوں کی ایجنٹ جماعت تسلیم کرتی اور اس کے کافرانہ عقائد کے خلاف دفاعی تبلیغ کرتی رہی ہے۔ اس نے ان کے مرکز قادیان میں اپنا دفتر قائم کیا۔ ختم نبوت وقف کے نام سے وہاں اراضی حاصل کی۔
١٩٣٥ء میں قادیان میں آل انڈیا تبلیغ کانفرنس منعقد کی۔ سرکار انگریز نے ہمیشہ مرزائیوں کی پشت پناہی کی۔ اور مجلس احرار انگریزی ظلم وستم کی تمام عمر تختہ مشق رہی۔ مسلم لیگ سے کچھ عرصہ سیاسی اختلاف رہا۔ جو اواخر میں تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ تلخیاں باقی تھیں۔ جب لیگ اور کانگریس کے لیڈروں نے مل کر ملک کی تقسیم پر دستخط کر دیئے۔ مجلس احرار اسلام نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا۔ ہوشیار پور اور لدھیانہ وغیرہ میں لاکھوں مسلمانوں کی حفاظت کی اور جب تک ایک مسلمان مرد یا عورت بھی وہاں رہے خود نہیں آئے۔ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلا اجلاس لاہور میں منعقد کر کے فیصلہ کیا۔
دفاع کانفرنس
اس وقت احرار نے آل پاکستان احرار دفاع کانفرنس لاہور میں منعقد کی۔ ہزاروں باوردی احرار رضا کار جمع تھے۔ حضرت امیر شریعت نے ایک لاکھ کے مجمع میں اعلان کیا کہ یہ سب کچھ مسلم لیگ کے حوالہ ہے۔ آج سے مجلس احرار سیاسی کام سے علیحدہ ہو کر صرف تبلیغی کام کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جس کو سیاسی کام کرنا ہو وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کرے۔ اس کے بعد تمام ملک میں دفاع کانفرنسیں کر کے احرار نے بیرونی ممالک پر پاکستانی قومی یکجہتی اور اتحاد کی دھاک بٹھا دی اور ساتھ ہی احرار رضا کار، اے، آر، پی، میں بھرتی ہو گئے۔
جنرل الیکشن
اس کے بعد عام انتخابات کا وقت آ گیا۔ مجلس احرار نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور اعلان کے موافق اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہ کیا۔ اگر وہ چاہتی تعاون کے عوض چند سیٹیں لے سکتی تھی۔ لیکن اس نے غیر مشروط طور پر مسلم لیگ کی حمایت کی۔ سوائے اس کے کہ مرزائی امیدواروں کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا۔ چاہے وہ لیگ ہی کے ٹکٹ پر کیوں نہ الیکشن لڑتے ہوں۔ مسلم لیگ نے مجلس احرار کے عمومی تعاون کی تحسین کی اور مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈر مرزائی امیدوار کی مخالفت کی اجازت دے دی اور اس مخالفت کے باوجود مسلم لیگ اور احرار کے تعاون میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس لئے مجلس احرار کا یہ کام یقیناً مذہب کی حفاظت کے لئے تھا۔
ایک ظفر اللہ خان کی ممبری اور وزارت نے قیامت کا سا فتنہ پیدا کیا۔ اگر چند اور قادیانی بھی اسمبلی میں براجمان ہو جاتے تو اسلام کا خدا حافظ تھا۔
مجلس احرار اور لیاقت علی خان مرحوم
مجلس احرار اسلام کے اخلاص کا مرحوم لیاقت علی خان پر اثر ہوا۔ انہوں نے ایسی مخلص اور فعال جماعت کے مخلصانہ تعاون اور سرفروشانہ خدمت کو پاکستان کے اعلیٰ مفاد کے لئے بہت مفید سمجھا۔ (اس باہمی اعتماد کا میاں انور علی صاحب آئی جی کو اعتراف ہے ) مجلس احرار کو یہ بھی خوشی تھی کہ مرحوم لیاقت علی خان پاکستان کو کامن ویلتھ سے علیحدہ کرنے کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ نے پاکستان کو گھڑے کی مچھلی سمجھ رکھا ہے۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد مرحوم کے خلاف قتل کی ایک سازش پکڑی گئی جس میں ظفر اللہ خان کا ہم زلف میجر جنرل نذیر احمد قادیانی شریک تھا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کر دئیے گئے۔ جس کے بعد پہلی مرتبہ کراچی میں مرزائیوں کو پبلک جلسہ کی اجازت دی گئی جو اس سے پہلے سال مرحوم نے نہ دی تھی۔ ان کے مرنے کے بعد مرزائیوں نے پاکستان میں اودھم مچایا اور ظفر اللہ خان قادیانی، قادیانی افسران، مرزائیت کی کافرانہ تبلیغ کے لئے میدان میں اتر آئے۔ جسے عامۃ المسلمین نے بری طرح محسوس کیا۔
معزز عدالت ...... ایک جماعت کے بارے میں جب کبھی کوئی رائے قائم کرنی ہو تو اس جماعت کے ریزولیشن اور مقاصد کو دیکھا جائے گا۔ پھر اس کے اعلانات اور اخباری بیانات کو۔ مجلس احرار نے ملکی تقسیم کے بعد تجویز کے ذریعہ اپنے مقصد کا اعلان کیا۔ پھر بیانات دیئے۔ اخبارات میں مضامین شائع کئے۔ دفاع کانفرنسیں کیں اور آخر کار عملی طور پر مسلم لیگی حکومت بنانے میں انتخابات میں پورا تعاون کیا۔ کشمیر کے سلسلہ میں خدمات انجام دیں۔
باوجود اس کے ماضی پر بحث چھیڑ کر اس کی آڑ لینی قطعی طور پر دلائل و واقعات کے لحاظ سے بے سرو سامانی کی دلیل ہے۔ ان لوگوں کو قائد اعظم کے طرز عمل کے مطابق ماضی کی تلخیوں کو ” بھلا دو“ سے سبق لینا چاہئے تھا۔ اور مرحوم لیاقت علی خان سے جنہوں نے تعاون دیا باہمی اعتماد کی راہ کو پسند کیا۔ پاکستان کے مفاد کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ملک میں یکجہتی اور تعاون و باہمی اعتماد کی روح پیدا کی جائے ۔ نہ کہ گڑے مردے اکھاڑ کر تلخیوں کو تازہ کر کے سر پھٹول کا سامان پیدا کیا جائے ۔ یہ کام انہی لوگوں کا ہو سکتا ہے جن کا فائدہ ہی اس میں ہو کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں۔ جیسے مرزائی یا ان کے ہمنوا جو قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے کی بات کو بار بار یاد کرتے پھرتے ہیں۔ یہ
بات ایک خاص وقت میں جماعت کے ایک لیڈر نے اپنی ذاتی رائے اور ذمہ داری سے کہی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ کے شائع کردہ ایک ٹریکٹ میں سول میرج ایکٹ کا ذکر تھا۔ دوسرے نے اس ٹریکٹ پر اعتماد کر کے ایسا کرنا پسند نہ کیا۔ کاش کہ مسلم لیگی دوست وہ شائع نہ کرتے۔ بہر حال وہ ایک وقتی بات تھی جو وہیں ختم ہوگئی۔ قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد تمام اگلی باتوں کو بھلا دیا۔ وہ سب سے یکجہتی ہی کے لئے سوچ رہے تھے اور مجلس احرار نے بھی حکومت پاکستان کے استحکام کے لئے اپنی خدمات کا اعلان کر دیا۔ بہر حال وہ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن یار لوگوں کا قائد اعظم کی عزت سے کیا واسطہ؟۔ ان کو اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔ مرزائی ابھی تک اس کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے کہ مثلاً ایک شخص نے ابتداء میں خلیفہ قادیان کو ماں کی ایک گندی گالی دی ہو۔ کچھ عرصہ کے بعد دوری ختم ہو جائے اور خلیفہ اپنے اقتدار کے زمانہ میں بھی اس کا نام نہ لے۔ لیکن ایک شخص ہر محفل ہر جلسہ میں یہ ذکر کرے کہ فلاں نے خلیفہ صاحب کو ماں کی ایسی گندی گالی دی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو خلیفہ کا دشمن اور اس کی عزت کے در پے سمجھا جائے گا۔
اور تعجب ہے کہ یہ بات بار بار اس پارٹی کی طرف سے اعادہ کی جاتی ہے جو عقیدہ کے طور پر قائد اعظم کو کافر سمجھتے ہیں۔ جو تمام پاکستانی وزراء کو کافر سمجھتے ہیں۔ جن کا سب سے بڑا ذمہ دار آدمی ظفر اللہ خان پاکستانی حکومت کو کافر حکومت کہنے سے ذرا شرم محسوس نہیں کرتا اور موقعہ پر موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھتا۔
دوسری بات ...... جو بعض ذمہ دار آدمیوں کی طرف سے کہی جاتی رہی۔ یہ ہے کہ ختم نبوت مسلمانوں کا جزو دین و ایمان ہے۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ لیکن احرار اس کو اپنے وقار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنے وقار کے لئے ایسا کرتے ہیں تو آپ لوگوں نے اسلام اور پاکستانی مفاد کے لئے کونسا ذریعہ اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے والوں کے خلاف اختیار کیا؟۔ اس کا جواب سوائے نفی کے کچھ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ بعض آدمی ان میں سے مثلاً چیف سیکرٹری تو الٹا فرماتے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف کچھ کہنا، مذہبی تفریق پیدا کرنا اور سماج دشمنی ہے۔ لیجئے! اب قادیانیوں کو کافر کہنا بھی جرم ہے۔
ان حضرات کا مجلس احرار کے کارکنوں کی نیت پر حملہ کرنا ایسا ہی غلط ہے۔ جیسے یہ کہنا غلط ہے کہ یہ لوگ احرار کے بارہ میں ایسا کہہ کر چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کے ذریعہ ترقی چاہتے ہیں۔ یا اپنے کسی عزیز کو کہیں سفیر لگانا چاہتے ہیں۔ یا یہ حضرات اس سے ڈر کر ایسا کہتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ احرار مرزائیوں کے خلاف انگریزوں کے زمانہ سے تبلیغ کرتے رہے ہیں
اور وقار حاصل کرنے کی بجائے عمریں جیلوں میں گزار دیں۔ بخلاف ان نیک حضرات کے کہ یہ اس وقت بھی انگریزی مفاد کی خاطر احرار کو جیلوں میں ٹھونستے رہے اور آج بھی اس پرانی عادت سے مجبور ہو کر یہی کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ غیر کی حکومت اور اپنی حکومت میں فرق ہونا چاہئے۔ اس وقت جبر کی حکومت تھی۔ آج عوام کی حکومت ہے۔ اگر حکومت کے عمال حکومت بنانے والے عوام کے ساتھ غلط اور بے ضرورت متشددانہ سلوک کریں گے۔ تو یہ حکومت کی ہر دلعزیزی کو تباہ کرنے ، سنگین جرم کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔
تحریک کے سلسلہ میں احرار پر الزام
سب سے بڑی بات تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس احرار کے خلاف یہ کہی جاتی ہے کہ تحریک کے لیڈر یہ تھے۔ اور یہ کہ ان کا رویہ ١٩٥٠ء سے ہی قابل اعتراض تھا اور یہ کہ اگر یہ جماعت خلاف قانون کر دی جاتی تو موجودہ فسادات نہ ہوتے۔
بات کا جواب ...... پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ اول تحریک کے لیڈر احرار نہ تھے۔ احرار نے جولائی ١٩٥٢ء میں بقاء امن کے سلسلہ میں اپنے تعاون کا یقین دلایا تھا۔ اور انہوں نے اس کے بعد کوئی امن شکن سرگرمی نہیں کی۔ ١٣ جولائی ١٩٥٢ء کے دن سے مرزائیت کے سلسلہ میں ٩/١٠ حصہ کام مجلس عمل نے کیا۔ آل مسلم پارٹیز کنونشن ١٣ جولائی ١٩٥٢ء کی جامعیت سے انکار کرنا سراسر ظلم ہو گا۔ جس میں سات سو کے قریب پیران عظام ، علماء کرام اور تمام اسلامی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے متفقہ طور پر مطالبات کی تائید کی اور اعلیٰ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ کنونشن کے بعد علماء تحریک کے ساتھ کام کرنے والے سمجھے گئے اور وزیر اعظم بھی علماء اور دوسری جماعتوں کی نمائندگی سوائے سید مظفر علی شمسی کے تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ یہ معلوم کر لیتے کہ کنونشن میں علامہ کفایت حسین اور دوسرے بڑے بڑے شیعہ نواب بھی شریک تھے۔ تو وہ ایسا ہرگز نہ فرماتے۔
بہر حال کنونشن کے بعد تحریک کی راہنمائی مجلس عمل نے کی۔ جس کی شاخیں تمام ملک میں قائم ہو گئیں۔ مجلس احرار اسلام اس میں ٢/٢١ تھی۔ یعنی جہاں ١٩ ممبر اور تھے۔ وہاں پر صرف دو ممبر مجلس احرار کے تھے۔ مجلس عمل کی تشکیل کے دوران اس کی شاخوں اور اس کے ساتھ تمام پارٹیوں کے تعاون سے انکار کرنا حقیقت کا انکار کرنا ہے۔ دوسرے یہ کہ تحریک کی راہنمائی کوئی مجرمانہ فعل نہ تھا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ مطالبات خلاف قانون یا غیر آئینی نہ تھے۔ مطالبات کے حق میں فضا پیدا کرنا اور زیادہ سے زیادہ تائید حاصل کرنا آج کل کی جمہوری دنیا کا
عام رواج ہے۔ یہ بھی خلاف قانون فعل نہیں ہے۔ پھر چھ ماہ تک اپنی حکومت کی کوٹھیوں کا طواف کرتے رہنا اور درخواست پر درخواست، یہ بھی خلاف قانون امر نہیں اور عامتہ المسلمین کے ایسے اہم اور مذہبی مطالبات سے اتنی بے رخی دیکھ کہ نہ ان پر سینٹرل اسمبلی میں بحث ہو، نہ آل پاکستان مسلم لیگ کی جنرل کونسل میں اور نہ ہی دستور ساز اسمبلی میں پیش ہو۔ مجلس عمل کا ایک ماہ کا میعادی نوٹس راست اقدام کا دینا جس کی تفصیل سے صوبائی اور مرکزی حکومت واقف تھی۔ کوئی گردن زدنی جرم نہیں۔ ہاں زیادہ سے زیادہ راست اقدام کی جو صورت انہوں نے تجویز کی تھی اور جس پر وہ عمل کرنا چاہتے تھے۔ اس کے وہ ذمہ دار تھے، لیکن حکومت نے اس پروگرام پر ان کو عمل کرنے نہ دیا۔
دوسرے نمبر پر وہ جہاں چاہتی رضا کار گرفتار کر لیتی۔ یہ بھی پروگرام کا حصہ تھا کہ جہاں حکومت رکاوٹ ڈالے، وہیں گرفتاریاں دو۔ لیکن حکومت نے گرفتاریوں کی جگہ دفعہ ١٤٤، لاٹھی چارج، فائرنگ وغیرہ کا طرز اختیار کیا۔ جس میں دو لاشیں ہو گئیں۔ مجلس عمل کے لوگ گرفتار ہونے آتے اور گرفتار ہوتے اور عوام حکومت کے طرز عمل سے پریشان ہو کر اور کچھ مرزائیوں کی حرکات سے متاثر ہو کر اپنی من مانی باتیں کرنے لگے۔ جن میں غیر ذمہ دار لوگ یا خود مرزائی افراد ہو سکتے ہیں۔ مرزائیوں کا تو یہی مقصد تھا کہ کسی طرح حکومت اور مسلمانوں میں تصادم ہوتا کہ تحریک ختم نبوت کو خوب کچلا جا سکے۔ بہر حال یہ حالات افسروں کے طرز عمل کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (نعیم الدین) اور میاں انور علی آئی جی کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایس ایس پی نے اس وقت بھی کہا تھا کہ پبلک حکومت کے طرز عمل کو جارحانہ یا غیر ہمدردانہ سمجھتی ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ میاں انور علی آئی جی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ احرار کارکن تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی گرفتار کر لئے تھے۔ ایسی شکل میں فسادات کی یا مابعد کے واقعات کی ذمہ داری ان پر کیسے عائد ہو سکتی ہے؟۔ جبکہ گرفتاری سے پہلے انہوں نے کوئی ایسا پروگرام نہ بنایا ہو۔ بلکہ صرف مجلس عمل کی ماتحتی میں مجلس عمل کے پروگرام پر چلنا ہی اس کا پروگرام تھا۔
دوسری بات کا جواب کہ...... مجلس احرار کا رویہ ١٩٥٠ء سے ہی قابل اعتراض تھا۔ جہاں میاں انور علی آئی جی نے بڑا زور دیا ہے کہ میں نے ١٩٥٠ء میں بھی تحریک کی تھی کہ مجلس احرار کو خلاف قانون جماعت قرار دے دیا جائے۔ میری نہ مانی گئی اور پھر ١٩٥٢ء میں بھی میں نے یہ تحریک کی۔ لیکن دال نہ گلی اور اسی طرح مجلس احرار کے خلاف الزامات کی بڑی فہرست تیار کی گئی اور مختلف اوقات میں ان کے خلاف کاروائی کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
معزز عدالت....... اگر چہ احر مجلس احرار کے بارے میں اپنے دلی جذبا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ کسی وقت میں راستہ میں ناقابل عبور مشکلات حائل ہو کہ آخر یہ جماعت جو کہہ کر رہی ہے احر ملازمین کا طرز عمل، مرزائی ارادے اور کی کیا حقیقت ہے؟۔ ان کو صرف ایک تو آپ کے سر میں کیوں درد ہو؟۔ ہر کرے اور عوام کو ہمنوا بنائے اور آپ برداشت ہے؟۔
بہرحال اگرچہ ان پرانے ہے۔ موجودہ حالات اور فسادات سے کی استدلالی بے بسی بتاتے ہیں۔
- ١....... ١٩٤٩ء میں پ
پاکستان دفاع کانفرنس منعقد کی۔ اس تھے۔ (انور علی اس کو تسلیم کرتے ہیں)
- ٢....... ١٩٥٠ء میں مجل
حاصل تھا۔ (میاں انور علی آئی جی) او رہے ہیں۔ (سب کا مسلمہ بیان)
- ٣....... ١٩٥٠ء میں م
- ٤....... ١٩٥١ء میں م
لئے اس سال وہ ان کے خلاف کوئی سینکڑوں احرار کارکنوں کی عادت یکد
- ٥....... ١٩٥٢ء میں
شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ذ ہوم سیکرٹری، میاں انور علی اور وزیر اعل
معزز عدالت ..... اگر چہ ان باتوں کا موجودہ فسادات سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ صرف مجلس احرار کے بارہ میں اپنے دلی جذبات کا اظہار اور بھڑاس کا اخراج ہے جس کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ کسی وقت میں احراری مرزائیوں کو اتنا تنگ کر دیں گے کہ مرزائیت کے راستہ میں ناقابل عبور مشکلات حائل ہو جائیں گی ۔ خیال فرمائیں کہ نفس مسئلہ پر قطعاً کوئی توجہ نہیں کہ آخر یہ جماعت جو کہہ رہی ہے اس کے اندر حقیقت کتنی ہے ۔ مرزائی عقائد ، مرزائی سرکاری ملازمین کا طرز عمل، مرزائی ارادے اور منصوبے کیا ہیں ؟ ۔ اور جو الزامات احرار عائد کرتے ہیں ان کی کیا حقیقت ہے؟ ۔ ان کو صرف ایک بات کھٹکتی تھی کہ کسی وقت ان کی تحریک بڑھ جائے گی تو آپ کے سر میں کیوں درد ہو؟ ۔ ہر جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی اشاعت کرے اور عوام کو ہمنوا بنائے اور آپ کو بالمقابل مرزائی لٹریچر بھی دیکھنا تھا کہ آیا وہ بھی قابل برداشت ہے؟ ۔
بہر حال اگر چہ ان پرانے ارمانوں اور خواہشوں کا جن کی تکمیل اب انہوں نے کر لی ہے ۔ موجودہ حالات اور فسادات سے کوئی تعلق نہیں ۔ تاہم ہم واقعات کا تاریخ وار تجزیہ کر کے ان کی استدلالی بے بسی بتاتے ہیں ۔
- ١ ....... ١٩٤٩ء میں پنجاب میں جبکہ نواب ممدوٹ کی وزارت تھی ۔ احرار نے آل
پاکستان دفاع کانفرنس منعقد کی ۔ اس وقت وہ اے آر پی اور دوسری دفاعی سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔ (انور علی اس کو تسلیم کرتے ہیں )
- ٢ ...... ١٩٥٠ء میں مجلس احرار اسلام کو قائد ملت خاں لیاقت علی خاں مرحوم کا اعتماد
حاصل تھا ۔ (میاں انور علی آئی جی ) اور جنرل الیکشن میں احرار مسلم لیگ اور حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ (سب کا مسلمہ بیان )
- ٣ ...... ١٩٥٠ء میں میاں انور علی کی تجویز قابل غور نہیں سمجھی گئی ۔
- ٤ ...... ١٩٥١ء میں میاں انور علی کے پاس احرار کے خلاف کوئی مواد نہ تھا ۔ اس
لئے اس سال وہ ان کے خلاف کوئی رپورٹ نہیں کر سکے ۔ (گویا ایک سال تک پورے ١٢ مہینے سینکڑوں احرار کارکنوں کی عادت یکدم بدل گئی ) بیان میاں انور علی ۔
- ٥ ...... ١٩٥٢ء میں میاں انور علی پھر احرار راہنماؤں اور خاص کر حضرت امیر
شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف رپورٹ اور کاروائی کرنے کی تحریک کرتے ہیں ۔ لیکن ہوم سیکرٹری ، میاں انور علی اور وزیر اعلیٰ کی کانفرنس میں فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ کاروائی صرف اس وقت
کی جائے جب کوئی تقریر قانون کے خلاف ہو۔ (بیان انور علی)
گویا رپورٹ میاں انور علی کے اپنے جذبات کا نتیجہ تھی۔ ان کو احرار لیڈروں کا وجود پسند نہ تھا۔ ورنہ اس وقت بھی یعنی ١٩٥٢ء میں بھی کوئی تقریر خلاف قانون نہ ہوئی تھی۔ پھر دوسری جماعتوں کی شرکت سے اعتدال کی بھی امید تھی۔
- ٦...... جناب غیاث الدین سابق ہوم سیکرٹری فرماتے ہیں کہ احرار کے خلاف
مبینہ الزامات کی وجہ سے مقدمہ اس لئے نہیں چلایا گیا کہ کوئی اطمینان بخش عدالتی ثبوت موجود نہ تھا۔
جناب! غور فرمائیں کہ عام طور پر مقدمات چلانے کے لئے یہ کافی سمجھا جاتا ہے کہ پولیس رپورٹر نے ڈائری لکھی ہو۔ اس پر چند معززین کے تصدیقی دستخط ہوں۔ ہاں! اگر سرکاری وکیل یا ایڈووکیٹ جنرل ہی رائے دیدے کہ مقدمہ میں جان نہیں ہے تو اور بات ہے۔ بہر حال اطمینان بخش ثبوت کا نہ ہونا خود بخود بتاتا ہے کہ احرار کے خلاف ایسی فہرستیں مرتب کرتے وقت زیادہ ذمہ داری سے کام نہیں لیا جاتا تھا۔ بس ایک پرانا ذہن تھا کہ مرزائیوں کے خلاف کیوں ہورہا ہے؟۔ ہمارے معزز حکام کو خالص انگریزی زمانہ کی عینک سے نہ دیکھنا چاہئے تھا کہ ملکہ معظمہ کی رعایا میں منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ ان کو غور کرنا چاہئے تھا کہ ایک نیا مذہب پرانے مذہب پر حملہ آور ہے اور طرح طرح کے اشتعال انگیز لٹریچر اور قابل اعتراض طریقوں سے تبلیغ کرتا ہے جو دراصل تبلیغ نہیں۔ بلکہ اضلال واغواء سے تعبیر کے لائق ہے۔ آخر دوسرے مسلمانوں کو جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ کیوں اپنے ناواقف بھائیوں کو کافر ہونے سے بچانے اور ان کو مرزائی لٹریچر سے آگاہ کرنے کا حق نہیں؟۔ اور پھر یہ کہ اس مسئلہ کا آخر کار حکومت کو حل سوچنا پڑے گا۔
آخر انگریزی زمانہ کے قانون کے خلاف الیکشنوں میں ہر بالغ کو رائے دہندگی کا حق تسلیم کیا گیا تو قرارداد مقاصد کے بعد تو کم از کم مسلمانوں کا طریقہ غور وخوض بدلنا چاہئے تھا۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں کیا اور افسروں کی اس ٹولی کی تجاویز کو اسی لئے حکومت نے قابل عمل نہیں سمجھا کہ وہ حالات کے خلاف تھیں۔
- ٧...... معزز عدالت...... مبینہ الزامات پر تین دور گزرے۔ ممدوٹ وزارت کا
دور، گورنری دور، مشیروں کی حکومت اور آخر میں دولتانہ وزارت۔ تینوں وقت کی حکومتوں نے مجلس احرار کے خلاف ایسا کرنے کی تجویز کو غلط سمجھا۔
- ٨...... ملک کے طول وعرض میں کہیں کوئی واقعہ ہوا۔ بعض افسروں نے وہ احرار کی
تعزیر قانون کے خلاف ہو۔ (بیان انور علی) ت میاں انور علی کے اپنے جذبات کا نتیجہ تھی۔ ان کو احرار لیڈروں کا وجود قت تھی یعنی ١٩٥٢ء میں بھی کوئی تقریر خلاف قانون نہ ہوئی تھی۔ پھر دوسری ے اعتدال کی بھی امید تھی۔ جناب غیاث الدین سابق ہوم سیکرٹری فرماتے ہیں کہ احرار کے خلاف سے مقدمہ اس لئے نہیں چلایا گیا کہ کوئی اطمینان بخش عدالتی ثبوت موجود نہ
فرمائیں کہ عام طور پر مقدمات چلانے کے لئے یہ کافی سمجھا جاتا ہے کہ لکھی ہو۔ اس پر چند معززین کے تصدیقی دستخط ہوں۔ ہاں! اگر سرکاری ہی رائے دیدے کہ مقدمہ میں جان نہیں ہے تو اور بات ہے۔ بہر حال ہونا خود بخود بتاتا ہے کہ احرار کے خلاف ایسی فہرستیں مرتب کرتے وقت میں لیا جاتا تھا۔ بس ایک پرانا ذہن تھا کہ مرزائیوں کے خلاف کیوں ہورہا م کو خالص انگریزی زمانہ کی عینک سے نہ دیکھنا چاہئے تھا کہ ملکہ معظمہ کی جا رہی ہے۔ ان کو غور کرنا چاہئے تھا کہ ایک نیا مذہب پرانے مذہب پر ح کے اشتعال انگیز لٹریچر اور قابل اعتراض طریقوں سے تبلیغ کرتا ہے جو مال واغواء سے تعبیر کے لائق ہے۔ آخر دوسرے مسلمانوں کو جو کروڑوں اپنے ناواقف بھائیوں کو کافر ہونے سے بچانے اور ان کو مرزائی لٹریچر ؟۔ اور پھر یہ کہ اس مسئلہ کا آخر کار حکومت کو حل سوچنا پڑے گا۔ ماند کے قانون کے خلاف الیکشنوں میں ہر بالغ کو رائے دہندگی کا حق مد کے بعد تو کم از کم مسلمانوں کا طریقہ غور و خوض بدلنا چاہئے تھا۔ مگر روں کی اس ٹولی کی تجاویز کو اسی لئے حکومت نے قابل عمل نہیں سمجھا کہ
ز عدالت ...... مبینہ الزامات پر تین دور گزرے۔ ممدوٹ وزارت کا کومت اور آخر میں دولتانہ وزارت۔ تینوں وقت کی حکومتوں نے مجلس تجویز کو غلط سمجھا۔ کے طول و عرض میں کہیں کوئی واقعہ ہوا۔ بعض افسروں نے وہ احرار کی
طرف ہی منسوب کرنا مناسب سمجھا۔ حالانکہ ایسا کرنا عدل وانصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔ مثلاً کوئٹہ کے ایک مرزائی ڈاکٹر کا قتل، جو ایسے جلسہ کے وقت ہوا جبکہ وہاں ایک اہل حدیث عالم ( حضرت مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی ) تقریر کر رہے تھے اور ڈاکٹر مذکور نے وہیں اشتعال انگیز لب ولہجہ میں اعتراض کیا۔ اس وقت تک کوئٹہ میں مجلس احرار کا نام تک نہیں تھا اور نہ آج وہاں جماعت موجود ہے۔ (اب تو الحمدللہ! جماعت کا اپنا ذاتی دفتر موجود ہے۔ مرتب!) دوسرا واقعہ اوکاڑہ کے مرزائی کا ہے۔ حالانکہ گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر نے اسی عدالت میں یہ اقرار کیا کہ مرزائی ڈپٹی کمشنر اپنی تبلیغ جاری رکھے ہوئے تھا۔ جس کے نتیجہ میں ایک آدمی کا قتل ہوا۔ (مسلمان دیہات میں وہ تبلیغ کیا کرتا اور علی الاعلان کفر کی دعوت دیتا تھا) راولپنڈی کا ایک قتل پیش کیا جاتا ہے جس کے بارہ میں خود میاں انور علی آئی جی تسلیم کرتے ہیں کہ قتل کی فوری وجہ کچھ اور تھی اور حقیقت یہ ہے کہ قتل کی زیادہ تر واردات فوری اشتعال ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
مگر ہمارے بعض حضرات کو ہر واقعہ کے ساتھ جو احرار سے متعلق نہ ہو ۔ (لیکن جوڑتے رہنے میں مزہ آتا ہے۔) مثلاً ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ لیکن احرار کی نیت خراب ہے یا احرار نے انقلاب میں مسلمانوں کی حفاظت کی۔ لیکن خود بھی محفوظ نہ تھے یا احرار نے دفاع کانفرنسیں کیں۔ کشمیر کے لئے کام کیا۔ لیکن عوام ان کو مشکوک سمجھتے رہے۔ احرار پاکستان کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ لیکن ان پر شبہ کیا جاتا تھا۔
پھر بعض کو یہ ارمان ہوتا ہے کہ اگر ١٩٥٠ء میں ہی ان کو ختم کر دیا جاتا اور خلاف قانون قرار دے دیا جاتا تو بہت آسان تھا۔ اس وقت تحریک بھی کمزور تھی اور مجلس احرار کی وفاداری آزمائشی دور میں تھی۔
معزز عدالت ..... ایک مسلمان کے لئے یہ خوشی کا مقام ہو سکتا ہے کہ عامتہ المسلمین ایک گمراہ فرقہ کی گمراہی سے واقف ہو گئے اور وہ اپنے بچاؤ کے لئے حکومت کو متوجہ کر رہے ہیں۔ پھر وہ اس سلسلہ میں حکومت کو بھی مناسب مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن یہاں تحریک کی ترقی پر اظہار پریشانی ہے۔ حالانکہ ان الفاظ میں تحریک سے مراد قادیانیوں کے خلاف تحریک ہے۔ نہ موجودہ ہنگامے۔ موجودہ ہنگامے تو غیر متوقع طور پر حکام کے غلط رویہ کا لازمی نتیجہ ہیں۔
اسی طرح کسی فعال اور مخلص جماعت کا جس کے لاکھوں ہم خیال ہوں ۔ دورِ آزمائش سے کامیابی سے نکل آنا اور پاکستان کا صحیح وفادار اور خیر خواہ ثابت ہونا قابل ہزار مسرت ہے۔ مگر یہاں اس پر افسوس کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا اس شک و شبہ کے آزمائشی دور ہی میں ختم کرنا
ضروری تھا۔ کیونکہ اس وقت یہ کام آسان تھا۔ کاش کہ ہمارے اعلیٰ افسر ذرا بلند نگاہی سے دیکھتے اور پرانی تلخیوں یا صرف مرزائیوں کی مخالفت کو دیکھ کر رائے قائم کرنے سے اجتناب کرتے۔
معزز عدالت ..... مجھے پھر یہ عرض کرنا ہے کہ لاہور وغیرہ کے پیش آمدہ حالات بالکل عمال حکومت کے خود پیدا کردہ تھے۔ ورنہ میانوالی، راولپنڈی اور ضلع کیمبل پور کے علاوہ کراچی میں کیوں ایسے حالات پیش نہ آئے؟۔ جبکہ وہاں جتھے رمضان شریف تک یعنی مسلسل تین ماہ تک روزانہ گرفتار ہوتے رہے۔ یہ محض اس لئے کہ وہاں گرفتار کر لینے کے سوا کوئی دوسرا اقدام حکام نے نہیں کیا کہ جس سے عوام مشتعل ہوں اور عوام اور حکومت کی جنگ جیسی شکل پیدا ہو جائے۔ مجلس عمل کے ارکان نہ وہاں موجود تھے نہ لاہور میں۔ وہاں بھی عوامی ورکر کام کرتے تھے۔ یہاں لاہور میں بھی ایسے جلوس تو کراچی میں بھی نکلے۔ فرق صرف حکام کے طرز عمل کا تھا۔
خلاف توقع حالات کی ذمہ داری
بنابریں یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ : "غیر متوقع حالات یا فسادات کی ساری ذمہ داری حکام پر ہے۔ چاہے انہوں نے مرکزی حکومت کے حکم سے یہ رویہ اختیار کیا۔ چاہے صوبائی حکومت کے حکم سے، یا پھر ان فسادات کی ذمہ داری دوسرے درجہ میں مرزائیوں پر ہے۔ جن کی اشتعال انگیزی عدالت کے سامنے واضح ہو چکی ہے۔ اگر غیر متوقع حالات میں کسی سابق اشتعال کا اثر ہو تو وہ صرف مرزائیوں کی اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے۔ جس کے ثبوت میں مندرجہ ذیل باتیں پیش کی جا سکتی ہیں :
- ١...... مرزا محمود احمد قادیانی صدر انجمن ربوہ کی اشتعال انگیز تقریریں۔ مثلاً خونی
ملا کے آخری دن وغیرہ۔
- ٢...... مرزائی اخبارات اور مقررین کی اشتعال انگیزی۔ (جیسا کہ خواجہ ناظم
الدین نے فرمایا ہے)
- ٣...... مرزائی ڈپٹی کمشنر کی کھلم کھلا کافرانہ تبلیغ اور فرقہ وارانہ جدوجہد۔ (گورنر
پنجاب سردار عبدالرب نشتر)
- ٤...... اور اوکاڑہ (منٹگمری) کے علاقہ میں مرزائی مبلغین کا مسلمانوں کے
دیہات میں پبلک طور پر تبلیغ کفر۔
- ٥...... میاں انور علی آئی جی پنجاب نے تسلیم کیا ہے کہ قادیانی نظریہ کی تبلیغ سے
عام مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
- ٦....... میاں انور علی آئی جی نے فرمایا کہ قادیانیوں نے کچھ جلسے کئے تھے۔ جن
سے اشتعال پھیلا اور یہ بھی ایک حد تک تحریک کا سبب ہو سکتا ہے۔
- ٧....... میاں انور علی آئی جی فرماتے ہیں کہ کراچی کے قادیانیوں کا جلسہ مئی
١٩٥٢ء جہانگیر پارک والا بھی بے اطمینانی کا ایک سبب ہے۔
- ٨....... مرزائی سول جج بھی مرزائی جلسوں کی صدارت کرتے تھے۔
- ٩....... نسبت روڈ کے پبلک جلسہ عام پر جس میں چالیس پچاس ہزار مسلمان
تھے۔ مرزائیوں نے خشت باری کی۔ جس سے بہت سے آدمی مجروح ہوئے۔ اگر راہنما کنٹرول نہ کرتے تو اسی وقت سے بدامنی شروع ہو جاتی۔ لیکن مجلس عمل کے راہنماؤں نے امن پر زور دیا۔ (ایس ایس پی پنجاب)
- ١٠....... ظفر اللہ خان قادیانی کا ربوہ کی کانفرنس میں شریک ہوتے رہنا۔ (غیاث
الدین ہوم سیکرٹری پنجاب)
- ١١....... اور مرکزی حکومت کے اعلان ١٤ اگست ١٩٥٢ء کے جواب میں چوہدری
ظفر اللہ قادیانی مذکور کا مخالفت میں بیان۔
- ١٢....... اور ساتھ ہی مرزا محمود قادیانی کا حاکمانہ انداز میں ١٩٥٢ء کے ختم ہونے
سے پہلے کھلی قادیانیت کا رعب بٹھانے کا فرمان۔
- ١٣....... سرکاری بارود کو چرا کر چنیوٹ سے چناب نگر (ربوہ) لے جا کر استعمال
کرنا جس کی آج تک تحقیقات نہیں کی گئی۔
- ١٤....... محکمہ جات اور ملازمتوں میں مرزائی افسروں کا مرزائیوں سے ترجیحی
سلوک اور ان تمام باتوں میں حکومت کا ٹس سے مس نہ ہونا۔
یہ یقیناً عامۃ المسلمین کے اشتعال کے اسباب ہیں اور ناممکن ہے کہ ایسی باتوں سے جن سے کروڑوں عوام کو اپنے مذہب اور حقوق خطرے میں نظر آ رہے ہوں۔ عام اضطراب اور بے چینی پیدا نہ ہو۔
معزز عدالت ...... تعجب اور افسوس ہے کہ مندرجہ بالا قسم کے واقعات کا جن کا تھوڑا سا حصہ ہی عدالت کے سامنے آ سکا ہے۔ علم رکھتے ہوئے حکام ان کے بارہ میں حکومت کے سامنے کوئی رپورٹ پیش نہ کریں اور نہ کوئی انسدادی کاروائی کریں۔ جبکہ ان سے کئی گنا زیادہ الزامات پبلک پلیٹ فارم اور اخبارات کے ذریعہ مرزائیوں پر عائد کئے جائیں۔ ان میں سے کسی کی تحقیق
نہ ہو۔ نہ کسی کاروائی کی سفارش ہو۔ اور جو مسلمان عوام اور اپنی حکومت کو ان واقعات سے آگاہ کرنے اور مذہب کو ان کی دستبرد سے بچانے کے لئے چیخ و پکار کریں۔ ان ہی کا گلا گھونٹا جائے ۔
مرزائی جرأت کی انتہاء
معزز عدالت ...... حکومت کی اسی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائی پاکستان پر قبضہ کے خواب دیکھنے لگے۔ کہیں بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا خطبہ دیا گیا۔ کہیں علماء کو دھمکیاں دی گئیں۔ اور اسی دلیری کا نتیجہ ہے عین تحریک کے دنوں میں جبکہ فضا کو درست کرنے کی سعی کی جانی لازمی تھی۔ مرزائی جیپ کار سے مسلمانوں پر گولیاں چلاتے ہیں جس کی اطلاع ایس ایس پی کو بھی ہوتی ہے اور اس سے مسلمان ہلاک ہوتے ہیں۔
پھر شیخ بشیر احمد قادیانی کے مکان سے مسلمانوں پر گولیاں چلتی ہیں جن سے دو آدمی جان بحق ہو جاتے ہیں۔ (ایس ایس پی) حد یہ ہے کہ سزا یافتہ مرزائیوں کو اور خود خلیفہ کے بیٹے کو جیل سے بالکل بے قاعدہ نکال دیا جاتا ہے۔ (سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل) پھر مرزائی افسر سیالکوٹ میں مسلمان عورت کو ننگا کر کے پیٹتے ہیں۔
معزز عدالت ...... اگر یہ عدالت نہ ہوتی تو یہ تمام باتیں مرزائی ماں کے دودھ کی طرح بغیر ڈکار کے ہضم کر لیتے ۔ کون ان کے خلاف نام لیتا ؟ ۔ یہ باتیں اچانک نہیں ہوئیں۔ بلکہ یہ باقاعدہ فوجی تربیت اور جماعتی ہدایات کے تحت ہوئی ہیں اور ایک مرتب اسکیم اور پروگرام کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہیں اور جبکہ حکومت نے مرزائیوں کا علیحدہ ایک دارالخلافہ برداشت کر لیا ہے تو اس کو اس سے زیادہ نتائج کے دیکھنے اور سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔
احرار اور مرزائی کا مقابلہ
یوں تو یہ آسان ہے کہ احرار کا فرضی ماضی پیش کر کے عوام کو ان سے برگشتہ کر دیا جائے۔ یہ کہ احرار کی تحریک بدنیتی پر مبنی ہے۔ لیکن سچی بات کہنی جان جوکھوں کا کام ہے۔ احرار غریب ہوئے ۔ فنڈ ندارد ۔ رسائی ندارد ۔ انگریزوں کے تختہ مشق ۔ ان کو مرزائیوں کی خاطر جو چاہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس میں ترقی کی امیدیں بھی ہیں اور کچھ کارگزاری بھی۔ لیکن برسر اقتدار مرزائیوں کے بارہ میں کچھ نہیں کہا جاتا نہ لکھا جاتا ۔ یہاں میں احرار اور مرزائیوں کا مقابلہ کرتا ہوں۔
احرار ...... !
- ١...... پاکستان کا استحکام اور اسلام کی وفاداری ضروری ہے۔
روائی کی سفارش ہو۔ اور جو مسلمان عوام اور اپنی حکومت کو ان واقعات سے آگاہ ب کو ان کی دستبرد سے بچانے کے لئے چیخ و پکار کریں۔ ان ہی کا گلا گھونٹا جائے۔
کی انتہاء
ز عدالت ...... حکومت کی اسی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائی پاکستان پر قبضہ کے گئے ۔ کہیں بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا خطبہ دیا گیا۔ کہیں علماء کو دھمکیاں دی لیری کا نتیجہ ہے عین تحریک کے دنوں میں جبکہ فضا کو درست کرنے کی سعی کی جاتی نا جیپ کار سے مسلمانوں پر گولیاں چلاتے ہیں جس کی اطلاع ایس ایس پی کو بھی سے مسلمان ہلاک ہوتے ہیں۔
نا بشیر احمد قادیانی کے مکان سے مسلمانوں پر گولیاں چلتی ہیں جن سے دو آدمی تے ہیں۔ (ایس ایس پی ) حد یہ ہے کہ سزا یافتہ مرزائیوں کو اور خود خلیفہ کے بیٹے کو بے قاعدہ نکال دیا جاتا ہے۔ (سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ) پھر مرزائی افسر سیالکوٹ کو ننگا کر کے پیٹتے ہیں۔
عدالت ..... اگر یہ عدالت نہ ہوتی تو یہ تمام باتیں مرزائی ماں کے دودھ کی طرح کر لیتے۔ کون ان کے خلاف نام لیتا ؟ ۔ یہ باتیں اچانک نہیں ہوئیں۔ بلکہ یہ ت اور جماعتی ہدایات کے تحت ہوئی ہیں اور ایک مرتب اسکیم اور پروگرام کی روشنی تا ہیں اور جبکہ حکومت نے مرزائیوں کا علیحدہ ایک دارالخلافہ برداشت کر لیا ہے تو و نتائج کے دیکھنے اور سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔
کا مقابلہ
یہ آسان ہے کہ احرار کا فرضی ماضی پیش کر کے عوام کو ان سے برگشتہ کر دیا کی تحریک بد نیتی پر مبنی ہے۔ لیکن سچی بات کہنی جان جوکھوں کا کام ہے۔ احرار نہ ندارد۔ رسائی ندارد۔ انگریزوں کے تختہ مشق۔ ان کو مرزائیوں کی خاطر جو ہے۔ اس میں ترقی کی امیدیں بھی ہیں اور کچھ کارگزاری بھی۔ لیکن برسرِ اقتدار میں کچھ نہیں کہا جاتا نہ لکھا جاتا۔ یہاں میں احرار اور مرزائیوں کا مقابلہ
کستان کا استحکام اور اسلام کی وفاداری ضروری ہے۔
- ٢...... اب سیاسی یکجہتی ضروری ہے تاکہ مملکت مضبوط ہو۔
- ٣...... ہندوستان سے کوئی تعلق نہیں۔
- ٤...... پاکستان کے وزیر اعظم قائد ملت کا اعتماد جیسا کہ میاں انور علی نے بیان کیا۔
- ٥...... یہاں رہ کر ہر طرح سے ملک کی خدمت کرنا حکومت کے معتوب ہو کر بھی اگر
وقت آئے تو ملکی حفاظت کے لئے میدان میں آجانا۔
- ٦...... نزاکت وقت کی وجہ سے باؤنڈری کمیشن میں ظفر اللہ خان قادیانی کی وکالت پر
باوجود بے اعتمادی کے خاموش رہنا۔
- ٧...... پاکستان بننے کے بعد کسی سرکاری چیز یا جائیداد کو حاصل نہ کرنا۔
- ٨...... مرزائیوں کی مخالفت کا اعلان کر کے مسلم لیگ سے مکمل تعاون کرنا ۔ الیکشن میں
اپنا کوئی امیدوار نہ کھڑا کرنا۔
- ٩...... کوئی فتنہ نہ ہونا ۔ ریکارڈ میں کوئی قابل اعتراض چیز ملک بھر میں نہ ملنا۔
- ١٠...... نہرو یا کسی ہندوستانی افسر سے نہ ملنا۔
- ١١...... پاکستان مسلمان حکومت ہے۔ باایں ہمہ وجوہ اس کے استحکام کی سعی کرنا۔
مرزائی ......!
- ١...... پاکستان میں پاکستان کی اور ہندوستان میں ہندوستان کی وفاداری چاہئے۔
- ٢...... خدائی مشیت ہے۔ اس لئے اگر پاکستان بن جائے تو پھر بھی اکھنڈ بھارت
بنانے کی کوشش کی جائے۔
- ٣...... قادیان میں قادیانی رکھنا اور اس کے لئے وہاں کی حکومت کی نظر عنایت کی
خواہش۔
- ٤...... حکومت پاکستان کا تختہ الٹنے کی سازش میں میجر نذیر احمد مرزائی کا ہیڈ لیڈر ہونا
جو چوہدری ظفر اللہ خان کا ہم زلف ہے۔
- ٥...... ذرا سی طبیعت گھبرانے پر ہندوستان جانے کی اسکیم پر سوچنا۔
- ٦...... ذاتی خود غرضی میں باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنی بالکل علیحدگی کے اظہار پر
زور دینا۔
- ٧...... سرکاری بارود چھپا کر جنگی مشق کرنا ۔ غلط اور ناجائز الاٹ منٹوں کا طوفان مچانا۔
- ٨...... ١٩٤٦ء کے انتخابات میں لیگی ٹکٹ کی کوشش جب تین سے زیادہ نہ ملے تو باقی
نشستوں پر لیگ کا مقابلہ کرنا۔
- ٩...... قارونی فنڈ ہونا۔ بینکوں میں مختلف ذرائع سے رقم جمع کرانا۔ فوجی اختیارات
اپنے ہاتھ میں لینا۔
- ١٠...... قادیان میں مقیم قادیانیوں کی ہندوستان بھر میں آمد و رفت اور چوہدری ظفر اللہ
خان کی دہلی میں جواہر لال نہرو سے ٤٥ منٹ علیحدہ ملاقات۔ جبکہ وہ مسٹر محمد علی وزیر اعظم کے ہمراہ گیا تھا۔ اور جس کی علیحدہ ملاقات کو ہم شک وشبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ یہ کبھی ہندوستان جانے پر غور کرتے ہیں۔
- ١١...... پاکستان کافر حکومت ہے۔ (ظفر اللہ خان)
معزز عدالت...... اگر مندرجہ بالا گیارہ باتیں بالعکس ہوتیں۔ یعنی مرزائیوں کے مذکورہ بالا کرتوتوں کے مرتکب اگر احرار ہوتے تو آج وہ بغیر کسی بحث کے لائق گردن زدنی قرار پاتے ۔ بلکہ اگر ایک احراری لیڈر پاکستانی حکومت کے خلاف سازش میں ماخوذ ہوتا یا مجلس احرار ہندوستان جانے پر غور کرتی یا کسی ہندو لیڈر سے علیحدہ بات اور ملاقات ہوتی ۔ بس پھر مرزائی پراپیگنڈہ اور ہمارے پرانے افسر جو کہتے یا کرتے خدا کی پناہ! اور اگر پاکستان کو کافر حکومت کہہ بیٹھتے۔ چاہے وہ ظفر اللہ خان کے وجود ہی کی وجہ سے کہتے تو بھی طوفان برپا ہو جاتا۔ لیکن ان حقائق کے ہوتے ہوئے مرزائی آئینی جماعت اور احرار غیر قانونی جماعت؟ ۔ مسلمان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ظفر اللہ خان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
عام بے چینی کے بارہ میں تمام پاکستانیوں کی رائے
معزز عدالت...... اگر حکام و عمال کے غلط رویہ کے سوا کوئی سابق سبب بھی عوام کے اشتعال کا ہے تو وہ مرزائی حرکات و سکنات اور انتہائی اشتعال انگیزیاں ہیں جو پرانے مسلمانوں پر جارحانہ حملہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مسلمان قوم کا مرزائیوں کے خبث اور ان کے لٹریچر سے ناک میں دم آیا ہوا ہے۔ جس کی صرف ایک بار دیکھنے سے ہمارے سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو انتہائی کوفت ہوئی تھی۔
پھر اس پر ان کے سیاسی عزائم کی غمازی کرنے والی مندرجہ بالا باتیں۔ جن میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو قابل برداشت ہو۔ ہمارے دعویٰ کے اثبات کے لئے یہ کافی ہے۔ لیکن پھر بھی عدالت عالیہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ جب خواجہ ناظم الدین نے تمام پاکستان کے وزراء، گورنروں اور ذمہ دار فوجی اور سول افسروں کی کانفرنس بلائی تو انہوں نے بے
چینی کا واحد سبب مرزائی تبلیغ کو سمجھا۔ جیسا کہ محترم میاں انور علی آئی جی بھی فرماتے ہیں کہ قادیانی نظریہ کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ بناء ایں اس کانفرنس نے بالاتفاق مسلمانوں میں مرزائی تبلیغ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ تمام فتنہ کی جڑ مرزائی تبلیغ ہے۔ جس کے عام کرنے کے لئے چوہدری ظفر اللہ خان نے بازی لگادی تھی۔
معزز عدالت ...... اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جب تک چوہدری ظفر اللہ خان وزارت اور حکومت میں شامل ہے۔ مسلمان قوم کے جذبات و احساسات کا لحاظ نہیں کیا جاسکتا۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ تمام پاکستان کے متفقہ فیصلہ کو یوں گاؤ خورد کر دیا جاتا۔ اور آج مرزائیوں کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملتا کہ قادیانیت حق مذہب نہ ہوتا تو ہر طرح کامیابی کیوں اس کو ہوتی؟۔
احرار اور عام مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ
جناب والا ...... !
- الف ...... مذکورہ حقائق کے ہوتے ہوئے کیا مسلمانوں اور کسی مسلمان جماعت کو یہ
بھی حق نہیں کہ وہ ان کو اپنے مذہبی اور سیاسی حقوق کی تباہی سمجھ کر اس کے خلاف آواز اٹھائے؟۔ چاہے وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب ہو یا نہ ہو۔ یقیناً اس کو ایسا سمجھنے کے وقت اس کے خلاف احتجاج کا حق حاصل ہے۔
- ب ...... اگر حکومت پر احتجاج اور مطالبات کا اثر نہیں ہوتا تو کیا یہ کوئی خلاف آئین
بات ہے کہ وہ عوام کو ہمنوا بنا کر یا مختلف مذہبی جماعتیں مل کر یہ مطالبہ کریں؟۔ ہرگز نہیں۔
- ج ...... اگر حکومت یہ جان کر بھی کہ تمام قوم مطالبات کی پشت پر ہے اور وہ
شکایات کو صحیح بھی سمجھے۔ پھر بھی وہ چھ ماہ تک انتہائی سرد مہری اور آمریت سے کام لے تو کیا مسلمانوں کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومت کو اپنے جائز اور آئینی مطالبات کی طرف مائل کرنے کے لئے پر امن احتجاجی اقدام کریں؟۔ جن مطالبات کو وہ بقاء مذہب اور پاکستانی مفاد کے لئے ضروری تصور کرتے ہیں اور جس اقدام سے حکومت کو عوام الناس کی ہمدردی اور مطالبات کی قوت بتانا منظور ہو۔ اس کے لئے وہ جس اقدام کا وہ پروگرام وضع کریں اور بار بار پر امن اقدام کا یقین دلائیں۔ عوام کو پر امن رہنے کا کہیں۔
معزز عدالت ...... یہ بحث جدا گانہ ہے کہ آیا ایسا اقدام خلاف قانون ہے یا نہیں۔
جائز ہے یا ناجائز ہے؟۔ لیکن ایسے اقدام کو بغاوت یا لاقانونیت یا فسادات کی تجویز سے ہرگز تعبیر نہیں کر سکتے جو مجوزین کے ذہن میں بھی نہ ہو اور حکومت ایسے اقدام کی روک تھام میں ایسے طریقے استعمال کرے جس سے عوام مشتعل ہوں اور مجوزین کے رضا کار پھر بھی کوئی مزاحمت یا مقابلہ نہ کریں۔ بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے آپ کو پیش کریں۔ یا اس موقعہ پر مرزائی یا اور پارٹیاں کوئی واردات کریں جن کی روک تھام اور جن کا علم خود حکومت کو ہونا چاہئے تھا۔ جیسے کہ اقدام کی مخالفت کرتے وقت عوامی جذبات اور حفظ و امن کا خیال بھی اس کو ہونا چاہئے تھا۔ تو کیا اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی یا پر امن تحریک کے مجوزین پر؟۔ جن کا ان پر سے کوئی واسطہ نہ ہو اور جو ان کے پروگرام کے خلاف ہو۔ خاص کر جبکہ یہ واضح ہو جائے کہ حکام کے غلط طرز عمل نہ ہونے کی وجہ سے کراچی اور راولپنڈی جیسی جگہوں پر تحریک عرصہ تک پر امن چلتی رہی ہو۔ جیسا کہ مجوزین کی رائے تھی۔
میرا مقصد صرف یہ ہے کہ آئینی مطالبات کے لئے آئینی جدوجہد کوئی جرم نہیں اور بدرجہ مجبوری راست اقدام کی تجویز کرنے سے جس کا مطلب عدالت کے سامنے آ چکا ہے۔ غیر متوقع فسادات یا حالات کی ذمہ داری ان راہنماؤں پر عائد نہیں ہوتی۔ اور اگر راست اقدام ہی قابل اعتراض ہے تو اس کی ذمہ داری تمام دینی جماعتوں کے کنونشن پر برابر برابر عائد ہوتی ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ ١٣ جولائی ١٩٥٢ء کو کنونشن کے بعد تمام افسر مانتے ہیں کہ تحریک کو سب کی حمایت حاصل تھی اور سب اس میں شریک ہو گئے تھے اور فیصلہ جات بھی سب کی مشترکہ جماعت مجلس عمل کرتی تھی جو کثرت رائے سے ہوتے تھے اور اصولاً کثرت رائے کا فیصلہ ساری جماعت کا فیصلہ ہوتا ہے۔
ان حالات میں کسی قسم کی ذمہ داری صرف احرار راہنماؤں پر ڈالنا یہی معنی رکھتا ہے کہ بعض بلند پایہ افسروں کو احرار ١٩٥٠ء سے قبل ہی سے کھٹک رہے تھے۔ غالباً ان کو مرزائیت کے اصلی خدوخال کو کافر کہنے کو ہی سماج دشمنی تصور کئے ہوئے تھے۔ اور مسلمان کا معیار اپنے کو مسلمان کہنا بتاتے تھے۔ جیسا کہ خلیفہ قادیان اب اپنے تکفیری فتوؤں کی ناقابل قبول منافقانہ تعبیریں کر کے اسی طرح حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ جیسے بلی اپنا گوہ چھپایا کرتی ہے۔
اور بدقسمتی سے وزراء اور اعلیٰ طبقہ کی رقابت بھی غریبوں اور مخلصوں کے لئے مصیبت ہو جاتی ہے۔ مثلاً احرار نے قوت حاکمہ کی حیثیت سے مسلم لیگ سے تعاون کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ممدوٹ وزارت تھی۔ احرار نے اس کے وقت میں دفاع کانفرنس کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔ جب
لیکن ایسے اقدام کو بغاوت یا لاقانونیت یا فسادات کی تجویز سے ہرگز تعبیر نا کے ذہن میں بھی نہ ہو اور حکومت ایسے اقدام کی روک تھام میں ایسے جس سے عوام مشتعل ہوں اور مجوزین کے رضا کار پھر بھی کوئی مزاحمت یا راروں کی تعداد میں اپنے آپ کو پیش کریں۔ یا اس موقعہ پر مرزائی یا اور کریں جن کی روک تھام اور جن کا علم خود حکومت کو ہونا چاہئے تھا۔ جیسے کہ وقت عوامی جذبات اور حفظ امن کا خیال بھی اس کو ہونا چاہئے تھا۔ تو کیا ری حکومت پر ہوگی یا پرامن تحریک کے مجوزین پر؟۔ جن کا ان پر نئے کوئی لے پروگرام کے خلاف ہو۔ خاص کر جبکہ یہ واضح ہو جائے کہ حکام کے غلط یہ سے کراچی اور راولپنڈی جیسی جگہوں پر تحریک عرصہ تک پرامن چلتی رہی آئے تھی۔ صرف یہ ہے کہ آئینی مطالبات کے لئے آئینی جدوجہد کوئی جرم نہیں اور عوام کی تجویز کرنے سے جس کا مطلب عدالت کے سامنے آچکا ہے۔ کومت کی ذمہ داری ان رہنماؤں پر عائد نہیں ہوتی۔ اور اگر راست اقدام اس کی ذمہ داری تمام دینی جماعتوں کے کنونشن پر برابر برابر عائد ہوتی ہے کیونکہ ١٣ جولائی ١٩٥٢ء کو کنونشن کے بعد تمام افسر مانتے ہیں کہ تحریک کو کیا اور سب اس میں شریک ہوگئے تھے اور فیصلہ جات بھی سب کی مشترکہ نما جو کثرت رائے سے ہوتے تھے اور اصولاً کثرت رائے کا فیصلہ ساری
اس کی قسم کی ذمہ داری صرف احرار رہنماؤں پر ڈالنا یہی معنی رکھتا ہے کہ احرار ١٩٥٠ء سے قبل ہی سے کھٹک رہے تھے۔ غالباً ان کو مرزائیت کے مذہبی سماج دشمنی تصور کئے ہوئے تھے۔ اور مسلمان کا معیار اپنے کو مسلمان خلیفہ قادیان اب اپنے تکفیری فتوؤں کی ناقابل قبول منافقانہ تعبیریں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ جیسے بلی اپنا گوہ چھپایا کرتی ہے۔ ، وزراء اور اعلیٰ طبقہ کی رقابت بھی غریبوں اور مخلصوں کے لئے مصیبت قوت حاکمہ کی حیثیت سے مسلم لیگ سے تعاون کا فیصلہ کیا۔ اس وقت نے اس کے وقت میں دفاع کانفرنس کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔ جب
مسلم لیگ نے انتخابات میں دولتانہ کو ٹکٹ دیا اس کی حمایت کی۔ کیونکہ احرار نے افراد سے رشتہ نہیں جوڑا تھا۔ اس کو حکومت اور لیگ سے تعاون کرنا تھا جو بھی حکومت ہو۔ اس طرح وہ رقیب طاقتیں اور ان کے سپورٹر بھی خواہ مخواہ مخالف ہوجاتے ہیں۔ معزز عدالت ..... ناممکن ہے کہ وزراء کی دھڑا بندیوں میں اعلیٰ آفیسرز شریک نہ ہوں۔ طبیعتوں کا رجحان ضرور کسی نہ کسی طرف ہوتا ہے۔ پھر وہ مخلص اور بااصول افراد اور جماعتوں کو بھی ان کے ضمیر اور فیصلہ کے خلاف اپنی دھڑا بندیوں میں شامل دیکھنے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ لیکن احرار مخلص اور اصولی جماعت ہے۔ اس نے تعاون کا فیصلہ صرف مسلم لیگ اور مسلم لیگی حکومت سے کیا تھا۔ اس کو اس سے بحث نہیں کہ کل کون تھا اور آج کون ہے؟۔ اس تمام بحث سے میری مراد یہ ہے کہ اس اظہر من الشمس حقیقت کے باوجود کہ جولائی ١٩٥٢ء کی کنونشن کے بعد تمام پارٹیاں عملاً شریک تھیں اور باہمی سخت مخالف افراد بھی مجلس عمل کے تحت مل کر کام کر رہے تھے اور تحریک کی رہنمائی مکمل مجلس عمل کے ہاتھ میں تھی۔ جس میں احرار کے ٢، ٢ ممبر بھی شریک تھے۔ اور اس حقیقت کو تقریباً اعلیٰ حضرات نے تسلیم بھی کرلیا پھر بھی سارا نزلہ اقدام ضعیف صرف احرار پر گرتا ہے۔ وہ خلاف قانون قرار دی جاتی ہے۔ اس کے ریکارڈوں اور دفتروں پر قبضہ ہوتا ہے۔ اس کے کارکن ابتداء ہی سے گرفتار ہوجاتے ہیں اور مقدمہ کی پیروی کے وقت بھی وہ آزاد نہیں ہوتے۔ تاکہ سارا مواد پیش کرسکیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ ١٩٥٢ء میں یہ اعلان کرکے کہ قادیانی اور احرار کے جلسوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان کو غلط اہمیت دی گئی۔ وہ کیا پبلک جلسہ کرتے۔ جلسے صرف احرار کے روکنے تھے۔ لیکن اس کے اندر ایک اور بات بھی پوشیدہ تھی کہ جب جلسوں کی اجازت ہو تو دونوں کو ہوگی۔ اس طرح صرف احرار کو قادیانیوں کے مقابلہ میں رکھ کر ایک تو تحریک کو صرف احرار کی تحریک کہہ کر کمزور کرنا تھا۔ دوسرے ان کے ساتھ ساتھ مرزائیوں کو برابر حیثیت دے کر ان کو بھی آزادی دینی تھی۔ معزز عدالت ..... اگر آج اسی بات کو دہرایا جاتا کہ احرار ہونا خلاف قانون ہے۔ اسی طرح مرزائی ہونا بھی خلاف قانون ہے۔ نہ کوئی احرار کا ممبر بنے گا۔ نہ قادیانیت کا۔ یعنی انجمن احمدیہ ربوہ کا تو کہا جاسکتا تھا کہ ہاں بالمقابل جماعتوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا گیا۔ لیکن قادیانی بننے پر تو کیا پابندی لگ سکتی تھی؟۔ چوہدری ظفراللہ خان کی برکت ہے۔ یہاں تو تمام پاکستانی وزراء گورنروں کی متفقہ تجویز کہ مرزائی مسلمانوں میں تبلیغ نہ کریں۔ دریا برد ہوگئی۔ معزز عدالت ..... کروڑوں اہل اسلام کے نازک مذہبی احساسات کو اس طرح
نظر انداز کر دینا قطعاً پاکستان کی کوئی خدمت نہیں۔ نہ ہی مذہبی عدل و انصاف کا تقاضا۔
راست اقدام کا جواز
معزز عدالت ...... نے راست اقدام کے جواز پر بحث کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ راست اقدام ۔ نیز عدم تشدد کی جنگ۔ مقاومت مجہول اور بعض اوقات سول نافرمانی کا استعمال ایک مخصوص طریقہ کار پر ہوتا ہے اور یہ طریقہ کار گاندھی نے آنحضرت ﷺ کے مبارک طرز عمل سے اخذ کیا تھا کہ ایک صحیح اور نیک کام ہے۔ اس کی راہ میں مشکلات ہیں۔ ان مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ کام کئے جاؤ۔ چاہے اس میں تکلیفیں ہی پیش آئیں۔ مثلاً آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو قریش نے مخالفت کی۔ آپ ﷺ نے پھر دی۔ انہوں نے ایذاء دہی شروع کی۔ آپ ﷺ نے دعوت جاری رکھی ۔ انہوں نے ایذاء رسانی ۔ ایذاء کا مقابلہ نہیں کیا گیا۔ نہ انتقام لیا گیا۔ صرف اس پاک کام کو جاری رکھا گیا۔ حتیٰ کہ سینکڑوں پھر ہزاروں ہم خیال پیدا ہو گئے اور آخر کار سارے قریش پر صداقت ظاہر ہوئی اور وہ سب مشرف بہ اسلام ہوئے۔
ہند میں بدیشی کپڑے پر پکٹنگ کی گئی کہ یہاں سے خریدنے نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ بدیشی کپڑا خریدنا اور بیچنا ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ انگریزی حکومت نے اس کو شخصی آزادی کے خلاف قرار دے کر رضا کاروں کو گرفتار کیا تو اور آگئے۔ وہ گرفتار ہوئے تو اور آگئے۔ وہ گرفتار ہوئے تو اور آگئے۔ کبھی اس غیر ملکی گورا حکومت نے سخت لاٹھی چارج کیا۔ رضا کاروں نے وہ بھی برداشت کیا۔ اس طرح جنگ جاری رہی۔ اسی طرح کی دو چار پر امن لڑائیاں انگریزوں کے جانے کا ایک سبب بنی۔ آج ہم چکلہ پر چار رضا کار کھڑے کرتے ہیں کہ اندر کسی کو نہ جانے دو۔ حکومت اس کو شخصی آزادی میں خلل قرار دے کر اس کو گرفتار کرتی ہے۔ ہم اور چار یا دس بھیجتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نہ مقابلہ کرتے ہیں۔ نہ انتقام لیتے ہیں۔ نہ تشدد کرتے ہیں۔ لیکن اپنا صحیح فریضہ ادا کرنے سے باز نہیں آتے ۔ یہاں تک کہ یا ہماری طاقت ختم ہو جائے اور ہم خدا کے ہاں معذور سمجھے جائیں یا حکومت جھک جائے اور چکلہ بند کر دے۔ ورنہ ہم حکومت کے سامنے حق و صداقت کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ چاہے کتنی ہی تکلیف پیش آتی رہے۔
خلاصہ راست اقدام
راست اقدام کا عملی معنی یہ ہوا کہ کسی صحیح مقصد کو باوجود مشکلات کے کرتے رہنا۔ لیکن تشدد یا طاقت کا استعمال نہ کرنا۔ چاہے طاقت کا استعمال نہ کرنا اس لئے ہو کہ طاقت نہیں۔ یا اس
بقائے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں۔ نہ ہی مذہبی عدل و انصاف کا تقاضا۔
جواز
عدالت...... نے راست اقدام کے جواز پر بحث کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ کہا ہے کہ راست اقدام ۔ نیز عدم تشدد کی جنگ ۔ مقاومت مجہول اور بعض اوقات ہڑتال ایک مخصوص طریقہ کار پر ہوتا ہے اور یہ طریقہ کار گاندھی نے جنوبی افریقہ کے مبارک طرز عمل سے اخذ کیا تھا کہ ایک صحیح اور نیک کام ہے۔ اس کی راہ میں مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ کام کئے جاؤ۔ چاہے اس میں تکلیفیں ہی کیوں نہ ہوں۔ حضرت ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو قریش نے مخالفت کی۔ آپ ﷺ نے ایذاء دینی شروع کی۔ آپ ﷺ نے دعوت جاری رکھی۔ انہوں نے ایذاء رسانی میں کمی نہ کی۔ نہ انتقام لیا گیا۔ صرف اس پاک کام کو جاری رکھا گیا۔ حتیٰ کہ ہم خیال پیدا ہو گئے اور آخر کار سارے قریش پر صداقت ظاہر ہوئی اور وہ مسلمان ہوئے۔
بدیسی کپڑے پر پکٹنگ کی گئی کہ یہاں سے خریدنے نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ پبلک کے مفاد کے خلاف ہے۔ انگریزی حکومت نے اس کو شخصی آزادی میں مداخلت قرار دیا اور گرفتار کیا تو اور آگئے۔ وہ گرفتار ہوئے تو اور آگئے۔ وہ گرفتار ہوئے اس پر حکومت نے سخت لاٹھی چارج کیا۔ رضا کاروں نے وہ بھی برداشت کیا۔ اس طرح جنگ جاری رہی۔ اس طرح کی دو چار پر امن لڑائیاں انگریزوں کے ساتھ ہوئیں۔ آج ہم چکلہ پر چار رضا کار کھڑے کرتے ہیں کہ اندر کسی کو نہ جانے دو۔ حکومت اس کو آزادی میں خلل قرار دے کر اس کو گرفتار کرتی ہے۔ ہم اور چار یا دس بھیجتے ہیں۔ ہم نہ مقابلہ کرتے ہیں۔ نہ انتقام لیتے ہیں۔ نہ تشدد کرتے ہیں۔ لیکن اپنا صحیح مقصد نہیں چھوڑتے۔ یہاں تک کہ یا ہماری طاقت ختم ہو جائے اور ہم خدا کے ہاں پہنچ جائیں۔ یا حکومت جھک جائے اور چکلہ بند کر دے۔ ورنہ ہم حکومت کے سامنے حق کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔ چاہے کتنی ہی تکلیف پیش آتی رہے۔
پس عملی معنی یہ ہوا کہ کسی صحیح مقصد کو باوجود مشکلات کے کرتے رہنا لیکن مقابلہ نہ کرنا۔ چاہے طاقت کا استعمال نہ کرنا اس لئے ہو کہ طاقت نہیں۔ یا اس
لئے کہ طاقت کا استعمال مقصد کے لئے مضر ہے۔ یا اس لئے کہ طاقت کا استعمال ملکی اور سیاسی مفاد کے خلاف ہے۔
یہاں موخر الذکر وجہ ہے کہ اپنی حکومت سے بغاوت یا لڑائی غلط ہے۔ البتہ اس کو حق بات کہتے رہنا ضروری ہے۔ حکومت جب تک صریح کافر نہ ہو اس سے بغاوت حرام ہے۔ البتہ اس کی سختی کے باوجود اس کے سامنے حق کی آواز بلند کرنا۔ از روئے حدیث بڑا جہاد ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ”افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان الجائر ۔ (کنز العمال ج ٣ ص ٦٤ حدیث نمبر ٥٥١١) ”بہترین جہاد جابر بادشاہ کے سامنے حق کی آواز بلند کرنا ہے۔“
پس مرزائی فتنہ سے اسلام کو بچانے اور کافر فرقہ کے اقتدار کے خطرے سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنی حکومت کے سامنے انسدادی تجاویز یا مطالبات پیش کرنا ایک صحیح کام ہے۔ اگر حکومت ان پر سختی کرتی ہے تو ہر طرح تکلیف برداشت کرتے ہوئے مطالبات پیش کرتے جائیں۔ یعنی ان کو حق کہا جائے کہ ایسا کرو۔ لیکن گرفتاری یا تشدد کا کوئی جواب نہ دیا جائے۔ اسی طرح اپنا فرض ادا کرتے جائیں۔ اگر اگلوں کو مصیبت پیش آجائے۔ تو دوسرے اس فرض کو ادا کریں۔ یہ ایک بڑا عزیمت کا کام ہے۔ معمولی دل گردے کا کام نہیں ہے۔ جب ایک ملک میں ایک مبلغ جاتا ہے اور وہ شہید کر دیا جاتا ہے تو دوسرا جا کر تبلیغ کرتا ہے۔ وہ قتل ہو جاتا ہے تو تیسرا جا کر دعوت توحید دیتا ہے۔ ایسی عزیمت کا ضرور اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کمزور انسانوں کو ان کی طاقت کے لحاظ سے مکلف فرمایا ہے۔ پس ہم اپنے وزیر اعظم کی کوٹھی یا دفتر میں جا کر فتنہ ارتداد کی روک تھام کے لئے چند تجاویز کو منظور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہمیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیتے ہیں۔ ہماری جگہ دس آدمی اور جا کر وہی بات کرتے ہیں۔
یہ اقدام دراصل اپنی جائز بات منوانے کے لئے ایک مظلومانہ طریقہ ہے اور آج کل کے رواج میں کہ آیا یہ مطالبہ جمہور کا ہے یا نہیں؟ ۔ اس کا ثبوت بہم پہنچانا بھی ایک مقصد ہوتا ہے۔ تاکہ وہ اصلی مقصد تسلیم کر لیا جائے۔ بہر شکل بغیر کسی جارحانہ اقدام یا متشددانہ طرز عمل کے اپنی جائز بات منوانے کے لئے کسی طرح کی کوشش کرنا جائز ہی، جائز ہے۔ برائی کا روکنا اور بند کر دینا فرض ہے۔ شریعت نے پہلے ہاتھ سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ نہ ہو سکے تو پھر زبان سے۔ ورنہ دل سے برا سمجھنے کا آخری حکم ہے۔ عام طور پر یہی حکم ہے جیسا کہ حدیث میں صاف وارد ہے۔ لیکن حکومت سے کسی بات کے منوانے کے لئے زبان ہی ذریعہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مقابلہ کی طاقت نہیں اور
بغاوت کرنی یا کرانی جائز نہیں۔ اس لئے اس صورت میں حق کی آواز بلند کرنا ہی بڑا جہاد ہوگا۔ ایک کرے دوسرا کرے۔ بہر حال جتنے اس کے لئے تیار ہوں گے۔ وہ اس جہاد کا ثواب پائیں گے کہ جابر یا ظالم کے سامنے حق بات کہی جائے۔ راست اقدام کا مطلب اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس لئے راست اقدام کی مظلومانہ اور پرامن تجویز کرنے والوں کے بارہ میں یہ کہنا کہ فسادات یا غیر متوقع حالات کے یہ ذمہ دار ہیں۔ بالکل قرین انصاف نہیں ہوسکتا۔ ان کے طریقہ پر کام کرنے والوں سے مختلف اضلاع اور خود کراچی میں کیا کوئی بدمزگی نہیں ہوئی۔
لاہور میں ٢ مارچ تک پر امن جلوس رہے۔ گرفتاریاں دی گئیں۔ کوئی فساد نہیں ہوا۔ تحریک کے پانچویں دن یعنی تین مارچ کو دفعہ ١٤٤ لگائی گئی۔ لیکن حکام نے دفعہ ١٤٤ کی خاطر پبلک مقامات پر متشددانہ اور بقول ایس ایس پی غیر ہمدردانہ یا جارحانہ رویہ اختیار کر کے حالات بدل دیئے۔ اگر حکومت ان کو گرفتار کرتی رہتی تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا؟ ۔ پرامن گرفتاریاں ہوتیں۔ تحریک کے تحت جانے والے رضا کاروں نے تشدد کا تختہ مشق بن کر کوئی مقابلہ نہیں کیا ہے۔ دفعہ ١٤٤ پھر کرفیو۔ پھر مارشل لاء۔ پھر مرزائی فائرنگ نے حالات ہی بدل دیئے۔ بازاروں میں خطرناک لاٹھی چارج سے آخر عوام کیا سمجھتے؟ ۔ پھر پرانے ذہن کے تحت کہ ابتداء ہی میں سختی کر کے کچل دو۔ ایسا کرنا اسلامی حکومت اور اپنی حکومت میں کیسے صحیح تصور کیا جا سکتا تھا؟۔
اسلامی حکومت کا پہلا تصور
جناب والا ...... میں چاہتا ہوں کہ اسلامی حکومت اور اس کے متعلقات پر کچھ عرض کروں۔ اسلامی حکومت کی طرف ۔ پہلی بار قرآن پاک نے اس وقت اشارہ کیا جبکہ جنگ بدر سے پہلے تیرہ سال کے مسلسل مظالم سہنے کے بعد اللہ تعالیٰ صحابہ کرامؓ کو جہاد و قتال کی اجازت دیتے ہوئے فرمارہے تھے کہ : ” اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا ، وان اللہ علی نصرہم لقدیر ۔ الحج ٣٩ : ” جن سے جنگ کی جارہی ہے ان کو اب اجازت دی جاتی ہے کہ ان پر ظلم کئے جاچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد کی طاقت رکھتا ہے۔ ﴿
اس سے اشارہ تھا کہ اب جنگ میں خدائی امداد ہوگی اور کفار ذلیل ہوں گے۔ اسی آیت میں آگے چل کر فرماتے ہیں کہ:
”الذین ان مکناہم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونہو عن المنکر ۔ الحج : ٤١ “ ”جن کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کو ہم زمین میں تسلط دیدیں تو یہ نمازیں قائم کریں گے۔ زکوٰۃ دیں گے۔ اچھے
نگرانی جائز نہیں۔ اس لئے اس صورت میں حق کی آواز بلند کرنا ہی بڑا جہاد ہوگا۔ نا کرے۔ بہر حال جتنے اس کے لئے تیار ہوں گے۔ وہ اس جہاد کا ثواب پائیں لم کے سامنے حق بات کہی جائے۔ راست اقدام کا مطلب اس کے سوا کوئی نہیں راست اقدام کی مظلومانہ اور پر امن تجویز کرنے والوں کے بارہ میں یہ کہنا کہ وقع حالات کے یہ ذمہ دار ہیں۔ بالکل قرین انصاف نہیں ہوسکتا۔ ان کے طریقہ سا سے مختلف اضلاع اور خود کراچی میں کیا کوئی بدمزگی نہیں ہوئی۔ میں ٢ مارچ تک پر امن جلوس رہے۔ گرفتاریاں دی گئیں۔ کوئی فساد نہیں ہوا۔ یں دن یعنی تین مارچ کو دفعہ ١٤٤ لگائی گئی۔ لیکن حکام نے دفعہ ١٤٤ کی خاطر تشددانہ اور بقول ایس ایس پی غیر ہمدردانہ یا جارحانہ رویہ اختیار کر کے حالات حکومت ان کو گرفتار کرتی رہتی تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا؟ ۔ پر امن گرفتاریاں کے تحت جانے والے رضا کاروں نے تشدد کا تختہ مشق بن کر کوئی مقابلہ نہیں کیا ریفو۔ پھر مارشل لاء۔ پھر مرزائی فائرنگ نے حالات ہی بدل دیئے۔ بازاروں م چارج سے آخر عوام کیا سمجھتے؟ ۔ پھر پرانے ذہن کے تحت کہ ابتداء ہی میں سختی دبا کرنا اسلامی حکومت اور اپنی حکومت میں کیسے صحیح تصور کیا جاسکتا تھا؟۔
پہلا تصور
والا ...... میں چاہتا ہوں کہ اسلامی حکومت اور اس کے متعلقات پر کچھ عرض کومت کی طرف۔ پہلی بار قرآن پاک نے اس وقت اشارہ کیا جبکہ جنگ بدر کے مسلسل مظالم سہنے کے بعد اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کو جہاد وقتال کی اجازت دیتے کہ :’’اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا ٠ وان الله على نصرهم ٩ ﴾’’جن سے جنگ کی جارہی ہے ان کو اب اجازت دی جاتی ہے کہ ان پر ظلم اللہ تعالیٰ ان کی مدد کی طاقت رکھتا ہے۔﴿ یہ اشارہ تھا کہ اب جنگ میں خدائی امداد ہوگی اور کفار ذلیل ہوں گے۔ اسی لئے فرماتے ہیں کہ : لذين ان مكناهم فى الارض واقاموالصلوة واتوالزكوة وامروا بالمعروف ونهوا عن المنكر ٠ الحج : ٤١ ﴾’’جن کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ ایسے ہم زمین میں تسلط دیدیں تو یہ نمازیں قائم کریں گے۔ زکوٰۃ دیں گے۔ اچھے
کاموں کا حکم دیں گے۔ برے کاموں سے روکیں گے ۔﴿ یہ اشارہ تھا کہ ان لوگوں کو عنقریب زمین کا اقتدار دیا جائے گا۔ اور ان کے اس اقتدار کے وقت کا پروگرام خود ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ایسے ایسے کام کریں گے۔ یہ بھی اشارہ ہے کہ اس لئے ان کو زمین پر غلبہ دیں گے۔ پروگرام میں عبادات کا اہم حصہ نماز ، مالیات واقتصادیات کا اہم حصہ زکوٰۃ مذکور ہے۔ بعد میں اچھے کاموں کا حکم اور برائیوں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ گویا زمین اقتدار کے بعد یہ عبادات کا پہلا نظام قائم کریں گے جس سے قوم کی اخلاقی اور روحانی حالت بلند ہو۔ خدا سے صحیح تعلق قائم رہے۔ پھر اقتصادیات یعنی مالی نظام درست کرنا ضروری ہوگا۔ اگر قوم کا کریکٹر بلند ہو اور مالیات مضبوط ہوں تو پھر اس قوم کو کوئی کمی نہیں رہتی۔ اس کے بعد ملکی قوانین کا نمبر ہے کہ اچھے کام جاری کئے جائیں اور برے کاموں کو بند کر دیا جائے۔ یا یوں سمجھیں کہ خود بھی پابند ہوں گے اور دوسروں کو بھی پابند کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسلامی حکومت کا دوسرا تصور
اس کے بعد صفائی سے صحابہ کرامؓ سے وعدہ کیا گیا کہ : ’’وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصلحات ليستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم الذى ارتضى لهم وليبدلنهم من بعد خوفهم امنا ٠ يعبدوننى لايشركون بى شيئا ٠ النور : ٥٥ ﴾’’جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے ان کو ہم ضرور زمین کی خلافت دیں گے۔ جیسے ان سے پہلوں کو دی ہے اور ان کا دین اچھی طرح جمادیں گے اور ان کو خوف کے بعد امن وامان دیں گے۔ وہ ہماری عبادت کریں گے اور ہمارے احکام میں کسی کو شریک نہ کریں گے ۔﴿
اس آیت میں اگرچہ ساری باتیں خدائی وعدوں کی شکل میں بتائی ہیں۔ لیکن یہ سارے کام بہر حال ان ہی کے ذریعے کئے جائیں گے۔ اس لئے یہ بھی خلافت ارضی کے مالک مسلمانوں کا پروگرام ہے۔ پہلے تو وعدہ ہی ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ہے جس سے صاف مطلب یہ ہے کہ خلافت کے بعد بھی ایمان وعمل صالح کی پابندی ضروری ہوگی۔ ورنہ یہ تو غلط ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے انعام دیا جائے انعام کے بعد ان سے انحراف کر دیا جائے۔ دوسرا وعدہ کہ ہم ان کا دین جمادیں گے۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب کا دعوٰی نبوت۔ منکرین زکوٰۃ وغیرہ کے فتنوں
کا قلع قمع کر کے دین کو اچھی طرح جمایا گیا اور یہ کام خود صحابہ کرام سے لیا۔ گویا دوسرا پروگرام یہ ہوا کہ خود نیک ہونے کے بعد ملک بھر میں دین کا بہتر انتظام ہو جائے اور نبوت کے مدعی یا ارکان اسلامی کا کوئی مخالف نہ رہے۔
تیسری بات یہ فرمائی کہ خوف کے بعد ان کو امن وامان دوں گا۔ خوف روم وایران کا تھا۔ بغاوتوں کا تھا۔ بغاوت اور فتنہ کے بڑے بڑے بادل آئے۔ لیکن بالآخر تمام عرب میں ایسا امن قائم ہوا کہ صنعاء یمن سے مکہ مکرمہ تک ایک عورت سونا اچھالتے ہوئے آتی تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ تیسرا پروگرام یہ کہ ملک میں عام اور پورا امن وامان قائم کیا جائے۔ پھر ارشاد ہے کہ میری حکم برداری کریں گے۔ اور میرے حکموں میں کسی کو شریک نہ کریں گے۔ مطلب صاف ہے کہ تمام قوانین الٰہیہ کا نفاذ ہو۔ اس کے مقابل کسی روس، امریکہ، فرانس، لندن کے قانون کو ترجیح نہ دی جائے اور عام عبادات کا نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ پکا ایمان، بہترین اعمال اور کریکٹر، پھر دین کی پختگی اور امن وامان کا قیام اور خالص خدائی احکام کی پیروی کے بعد کونسی بات رہ جاتی ہے۔ یہ اسلامی حکومت کا دوسرا تصور ہے
اسلامی حکومت کا عملی نمونہ
اس کے بعد خلافت راشدہ کا زمانہ آتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے سارے وعدے پورے فرماتا ہے۔ خلافت ارضی کے الفاظ سے ہی اس طرف اشارہ تھا کہ بادشاہت نہ ہوگی۔ بلکہ اللہ کی نیابت ہوگی۔ خدائی حکومت اور خدائی احکام کے نفاذ کے لئے یہ نائب ہوں گے۔ بعینہ اسی طرح خلفاء راشدین نے کیا۔ نمازوں اور عبادات کا نظام۔ مالیات کا نظام۔ امن وامان کا قیام۔ دین کو تمام فتنوں اور مدعیان نبوت اور ارکان اسلام کے مخالفوں سے پاک وصاف کرنے کا کام۔ پھر تمام خدائی احکام کا اجراء۔ امر بالمعروف اور ان کے خلاف سے بندش یعنی نہی عن المنکر ۔ انتہاء یہ کہ کسی وقت پر بھی خدائی حکم پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ یہ ہے اسلامی حکومت کا تصور اور اس کا عملی نمونہ۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
اسلامی حکومت کے اولین تصورات میں سے برائی روکنا اور نیکی کو جاری کرنا ہے۔ آج
مذہب کو پرائیویٹ معاملہ کہنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ اسلام کا خلیفہ دراصل خدا کا نائب ہوتا ہے۔ سیاست ملکی، قیام امن، نظام مالیات کے ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا انتظام بھی کرنا ضروری ہوتا ہے۔
بلکہ برائی کے مرتکبین کو اسلامی سزائیں دینا حکومت کا اولین کام ہے اور یہ بھی نہی عن المنکر میں داخل ہے۔ اگر مذہب پرائیویٹ معاملہ ہے اور بقول مرزا محمود قادیانی کسی کو یہ ضروری نہیں کہ وہ دوسروں کو کسی بات کرنے کا کہے یا روکے تو اسلامی تعزیرات کا کیا معنی؟۔
زنا، چوری، قتل، تہمت، وغیرہ جرائم پر شرعی سزاؤں کے اجراء و نفاذ کا کیا مطلب؟۔ مرتد کو قتل کی سزا کیسی؟۔ شراب پر سزا کیسی؟۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ جرائم کرنے کے بعد سزا تو دی جاسکتی ہے۔ لیکن کرنے سے پہلے ارتکاب جرم سے روکنا غلط ہے؟۔ چوری سے نہ روکو۔ قتل سے نہ روکو۔ مرتد ہونے سے نہ روکو۔ زنا کرنے دو۔ شراب پینے دو اور جب وہ ارتکاب جرم کر بیٹھے تو پھر سزا دو۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جس اسلام کی بنیاد ہی یہ ہے کہ شرک چھوڑ کر توحید کا اقرار کرو۔ رسول کو مانو اور قیامت کو مان کر اس دن کے حساب سے ڈرو اور نمازیں پڑھو۔ ماں باپ کی نافرمانی اور ایک دوسرے پر ظلم اور خیانت نہ کرو۔ اس اسلام کے پیرو کار آج امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت نہیں سمجھتے اور دعویٰ اسلام کا ہے
بعثت انبیاء علیہم السلام اور تبلیغ
کیا انبیاء علیہم السلام اس لئے تشریف نہ لاتے تھے کہ وہ حق کی دعوت دیں اور باطل سے منع کریں؟۔ اور کیا انبیاء علیہم السلام نے اس فریضہ کی ادائیگی میں جانیں تک قربان نہیں کیں؟۔ اسلام تو ہر مسلمان پر انفرادی طور پر بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر لازم کرتا ہے کہ "کنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر ۔ آل عمران ١١٠‘‘ اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو برائی دیکھو اسے ہاتھ سے مٹاؤ۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکو۔ ورنہ دل سے برا سمجھو۔ اگر برائی سے روکنا ضروری نہیں تو صدیق اکبرؓ نے منکرین زکوٰۃ سے اور مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے کیوں جہاد کیا۔ اور خود آنحضرت ﷺ کو کیا ضرورت تھی کہ تبلیغ کرتے کرتے لہولہان ہوجاتے؟۔
اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر اتنا زور دیا ہے کہ ایک معمولی مسلمان خلیفہ
کو ٹوک سکتا تھا اور خلیفہ کو ماننا پڑتا تھا۔
سیاست و مذہب
اس بیان سے صاف ہو گیا کہ مسلمان حکومت کا پروگرام تمام ملکی انتظامات کے ساتھ ساتھ مذہب و دین کو تمام فتنوں سے پاک کر کے جاری رکھنا۔ اخلاقی قدروں اور مذہبی پابندیوں کا خاص انتظام کرنا بھی ہے۔ اسلامی حکومت کا انتظام ہی اسلامی اعمال کی بناء پر تھا۔ اور اس کا پروگرام بھی وہی تھا۔ وہی خلیفہ ہوتا۔ وہی جماعت کا امام۔ اس کے تقرر میں بھی اسلامی فضائل کا لحاظ ہوتا اور اس کے خلافتی احکام کو بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے جانچا جاتا تھا۔ خلفاء نے دنیا بھر میں اس امر کی دھاک بٹھا دی کہ عادلانہ اور صحیح نظام حکومت صرف اسلامی نظام ہی ہو سکتا ہے۔
کیا اب اس کا اعادہ ممکن نہیں؟
بہانہ جو اور بہانہ ساز لوگ کہتے ہیں کہ اب ایسا کرنا ناممکن ہے۔ اگر ناممکن ہے تو جتنا ممکن ہے اتنا تو کرنا چاہئے۔ ورنہ ایسا ہو گا کہ پلاؤ نہ ملے تو سوکھی روٹی بھی نہ کھاؤ اور بھوکوں مرجاؤ۔ خلافت راشدہ کے بعد بھی جبکہ بادشاہوں اور امیروں کے اعمال منہاج نبوت کے موافق نہ تھے۔ لیکن ملکی قانون قرآن تھا اور بڑی حد تک اس پر عمل ہوتا تھا۔ اس وقت تک اسلام دنیا میں آگے ہی بڑھا۔ جب قرآن پاک کو فوجوں، عدالتوں، درباروں اور گھروں سے العیاذ باللہ نکالا گیا۔ تو مسلمان بھی ذلیل ہوئے۔ ورنہ کیا محمد بن قاسم فاتح سندھ کا زمانہ خلافت راشدہ کا زمانہ تھا؟۔ ہرگز نہیں۔ لیکن ملک پر قرآنی قانون کی حکومت تھی اور اسی لئے عوام کا اکثر حصہ قرآنی رنگ میں رنگ جاتا تھا۔ اخلاق و اعمال اور جذبات پر بڑا اثر تھا۔ اسی طرح سلطان محمود غزنوی وغیرہ کے ساتھ برکات کا ہونا اسی سبب سے تھا۔
ایک دھوکہ اور اس کا جواب
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب اسلامی نظام حکومت اسی لئے قائم نہیں ہو سکتا کہ اس کے لئے دنیا کے تمام مسلمانوں کا ایک یونٹ ہونا لازم ہے۔ جو فی زمانہ ناممکن ہے۔ یہ بڑا فریب اور اسلام کی پابندیوں سے نکلنے اور بھاگنے کا ایک بہانہ ہے اور قرآن پاک سے ناواقفیت کا ثبوت! قرآن پاک نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے کہ اگر دوسری جگہ کے مسلمان تم سے مدد
چاہیں تو ان کی مدد کرو کہ: ”و مدد لازمی ہے۔ مثلاً ہندوستا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ارشاد فر
- مگر ان مسلمانوں کی مدد
لئے بلائیں۔ جن کے درمی مطلب یہ ہوا
پھر ہم وہاں کے مسلمانو چاہیں تو پہلے معاہدہ کی من قرآن، مسلمان حکومت ایک یونٹ نہ ہونے کی ش جگہ کے مسلمان اسلامی خلافت راشدہ کی راہ پھر اس فر حضرت علیؓ کے زمانہ ایک یونٹ بنانے کا خ کی خلافت باقی تمام گیا؟ ۔ یہ ایک سوال پسند نہ کیا گیا اور اس یونٹ بناتے بناتے غالب آجائیں۔
بہر حال برداشت کر لئے اسلام اور قرآنی ن
خلیفہ کو ماننا پڑتا تھا۔
ان سے صاف ہو گیا کہ مسلمان حکومت کا پروگرام تمام ملکی انتظامات کے ساتھ عوام کو تمام فتنوں سے پاک کر کے جاری رکھنا۔ اخلاقی قدروں اور مذہبی پابندیوں کا نام ہی ہے۔ اسلامی حکومت کا انتظام ہی اسلامی اعمال کی بناء پر تھا۔ اور اس کا کوئی نہ کوئی خلیفہ ہوتا ۔ وہی جماعت کا امام ۔ اس کے تقرر میں بھی اسلامی فضائل کا لحاظ ہوتا ۔ خلافتی احکام کو بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے جانچا جاتا تھا۔ خلفاء نے دنیا بھر میں اس کو نافذ کیا کہ عادلانہ اور صحیح نظام حکومت صرف اسلامی نظام ہی ہو سکتا ہے۔
پھر یہ وہم ممکن نہیں؟
اور بہانہ ساز لوگ کہتے ہیں کہ اب ایسا کرنا ناممکن ہے۔ اگر ناممکن ہے تو جتنا ممکن ہے اتنا کرنا چاہئے ۔ ورنہ ایسا ہو گا کہ پلاؤ نہ ملے تو سوکھی روٹی بھی نہ کھاؤ اور بھوکوں مر جاؤ۔ خلافت راشدہ کے بعد بھی جبکہ بادشاہوں اور امیروں کے اعمال منہاج نبوت کے موافق نہیں تھے۔ لیکن قرآن تھا اور بڑی حد تک اس پر عمل ہوتا تھا۔ اس وقت تک اسلام دنیا میں غالب رہا ۔ جب قرآن پاک کو فوجوں ، عدالتوں ، درباروں اور گھروں سے العیاذ باللہ نکالا جانے لگا تو ہم ذلیل ہوئے۔ ورنہ کیا محمد بن قاسم فاتح سندھ کا زمانہ خلافت راشدہ کا زمانہ تھا؟ نہیں ۔ لیکن ملک پر قرآنی قانون کی حکومت تھی اور اسی لئے عوام کا اکثر حصہ قرآنی رنگ میں رنگا تھا۔ اخلاق و اعمال اور جذبات پر بڑا اثر تھا۔ اسی طرح سلطان محمود غزنویؒ وغیرہ کے زمانے میں اسی سبب سے تھا۔
جواب
کچھ کہتے ہیں کہ اب اسلامی نظام حکومت اس لئے قائم نہیں ہو سکتا کہ اس کے لئے تمام عالم اسلام کا ایک یونٹ ہونا لازم ہے۔ جو فی زمانہ ناممکن ہے۔ یہ بڑا فریب اور اسلامی نظام سے بچنے اور بھاگنے کا ایک بہانہ ہے اور قرآن پاک سے ناواقفیت کا ثبوت! نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے کہ اگر دوسری جگہ کے مسلمان تم سے مدد
چاہیں تو ان کی مدد کرو کہ : "وان استنصروكم فى الدين فعليكم النصر" ۔ انفال : ٧٢ "بلکہ ان کی مدد لازمی ہے۔ مثلاً ہندوستان کے مظلوم مسلمان ہم سے امداد طلب کریں تو ان کی امداد ہم پر لازمی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ : "الا على قوم بينكم وبينهم ميثاق" ۔ انفال : ٧٢ "مگر ان مسلمانوں کی مدد ایسے وقت تم نہیں کر سکتے ۔ جب وہ مدد کے لئے ایسی قوم سے مقابلہ کے لئے بلائیں ۔ جن کے درمیان اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے۔"
مطلب یہ ہوا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پھر ہم وہاں کے مسلمانوں کی مدد ہندوستانی گورنمنٹ کے مقابلہ میں نہیں کر سکتے ۔ ہاں! اگر ہم چاہیں تو پہلے معاہدہ کی منسوخی کا اعلان کر دیں ۔ پھر مدد کریں ایسا ہو سکتا ہے۔ بہر حال اس میں قرآن ، مسلمان حکومت یا اسلامی حکومت کو ایک تعلیم دیتا ہے اور خود اس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک یونٹ نہ ہونے کی شکل میں بھی جہاں طاقت ہو اسلامی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ چاہے دوسری جگہ کے مسلمان اسلامی حکومت نہ بنا سکتے ہوں نہ اسلامی حکومت میں شریک ہو سکتے ہوں ۔
خلافت راشدہ کی راہنمائی
پھر اس فریب کی لغویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ خود خلافت راشدہ کے آخری دور یعنی حضرت علیؓ کے زمانہ میں حضرت امیر معاویہؓ سے خطرناک جنگ ہوئی۔ حضرت علیؓ نے آخر کار ایک یونٹ بنانے کا خیال ترک کر دیا۔ حضرت معاویہؓ کی حکومت شام و مصر پر رہی اور حضرت علیؓ کی خلافت باقی تمام عالم اسلام پر ۔ پہلی بار اسلامی نظام کی وحدت کی ضرورت کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب یہ ہے کہ قیام وحدت جتنے کشت و خون کا طالب تھا۔ اس کو پسند نہ کیا گیا اور اس کے بالمقابل دو حکومتوں کو برداشت کر لیا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایک یونٹ بناتے بناتے خطرہ تھا کہ مسلمانوں کی دونوں قوتیں اتنی کمزور ہو جائیں کہ بیرونی دشمن ہی غالب آ جائیں ۔
بہر حال یہ اسلامی تاریخ کا ایک باب ہے کہ ضرورت کے تحت علیحدہ علیحدہ نظام برداشت کر لئے گئے ۔ لیکن دونوں جگہ قرآنی نظام تھا۔ صحابہ کرامؓ کا پاک زمانہ تھا۔ اس لئے احیاء اسلام اور قرآنی نظام حکومت سے انحراف نہیں ہو سکتا ۔ ہر دو جگہ کوشش اسی نظام کی تھی ۔ یہی وجہ ہے
کہ جب شاہ روم نے حضرت معاویہؓ کو لکھ بھیجا کہ اگر حضرت علیؓ کے مقابلہ میں مدد چاہو تو میں حاضر ہوں۔ حضرت معاویہؓ نے اس کو لکھا کہ اے رومی کتے اگر تو علیؓ پر حملہ کرے گا۔ تو ان کی طرف سے سب سے پہلے میں میدان میں لڑوں گا۔
بہر حال یہ بات ضرور ثابت ہوگئی کہ مشکلات کی وجہ سے وحدت قائم نہ ہو سکے تو بھی جہاں حکومت ہو وہاں اسلامی نظام حکومت ہی ہو۔ اور اسلامی قوانین ہی کا اجراء ہو۔ پھر یہ حکومت جتنی بھی اس طرز کے قریب آتی جائے گی اس میں اتنی قوت و برکت پیدا ہوگی۔ اس لئے قرآن کی آیت اور خلافت راشدہ کی اس مثال سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ بکھرے ہوئے اور علیحدہ علیحدہ یونٹوں والے بھی اگر بنائیں تو خدائی احکام کے تحت اسلامی نظام ہی بنائیں۔ یہ کہنا کہ چونکہ ساری دنیا کے مسلمان ایک حکومت کے ماتحت نہیں۔ اس لئے ہم اسلامی اور قرآنی نظام نہیں چاہتے یہ اسلام سے انکار کرنے کے لئے ایک حیلہ ہے یہ اسی طرح ہے کہ چونکہ دنیا کے سارے مسلمان تابع قرآن نہیں رہے۔ اس لئے اب ہم سے بھی اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔
اسلامی حکومت اور غیر مسلم
اسلامی حکومت میں غیر مسلم بحیثیت رعایا کے رہ سکتے ہیں۔ اس وقت ان کے انسانی حقوق دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ مثلاً ان کی جان کی حفاظت، ان کے مال کی حفاظت، ان کی آبرو کی حفاظت، ان کے مکانوں اور عبادت گاہوں کی حفاظت حکومت کے ذمہ ہوگی۔ ان کے قتل کے عوض مسلمان قتل کیا جائے گا۔ اس طرح ان کو اپنے مذہبی رسوم و عبادات کی آزادی ہوگی۔ تجارت وغیرہ ذرائع معاش کی آزادی ہوگی۔ قانون کے ذریعہ انصاف حاصل کرنے کی آزادی ہوگی۔ ایک انسان کو باعزت زندگی گزارنے کے لئے یہ چیزیں از بس ہیں۔
حکومت میں حصہ
یہ نہ ہو سکے گا کہ وہ مسلمانوں کا امیر المومنین بنا دیا جائے گا یا جو امیر کے قائم مقام قوت ہو۔ مثلاً وزیر یا گورنر۔ اسی طرح چونکہ مسلمانوں کا امیر مسلمانوں کے ارباب بست و کشاد کے مشورہ سے منتخب ہوتا ہے اور ارباب بست و کشاد میں زیادہ تر دینداری، علم و تقویٰ، پرانا خادم اسلام ہونا وغیرہ ملحوظ ہوتا ہے۔ جیسے انصار و مہاجرین تھے۔ جن پر تمام عالم اسلام کو اعتماد تھا۔ اگر الیکشن
نے حضرت معاویہ کو لکھ بھیجا کہ اگر حضرت علیؓ کے مقابلہ میں مدد چاہو تو میں حاضر یہ نے اس کو لکھا کہ اے رومی کتے اگر تو علیؓ پر حملہ کرے گا ۔ تو ان کی طرف سے میدان میں لڑوں گا۔ یہ بات ضرور ثابت ہو گئی کہ مشکلات کی وجہ سے وحدت قائم نہ ہو سکے تو بھی اسلامی نظام حکومت ہی ہو۔ اور اسلامی قوانین ہی کا اجراء ہو۔ پھر یہ حکومت قریب آتی جائے گی اس میں اتنی قوت وبرکت پیدا ہو گی۔ اس لئے خلافت راشدہ کی اس مثال سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ بکھرے ہوئے اور علیحدہ علیحدہ بنائیں تو خدائی احکام کے تحت اسلامی نظام ہی بنائیں۔ یہ کہنا کہ چونکہ ساری حکومت کے ماتحت نہیں۔ اس لئے ہم اسلامی اور قرآنی نظام نہیں چاہتے یہ کے لئے ایک حیلہ ہے یہ اسی طرح ہے کہ چونکہ دنیا کے سارے مسلمان تابع اس لئے اب ہم سے بھی اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔
غیر مسلم
مت میں غیر مسلم بحیثیت رعایا کے رہ سکتے ہیں۔ اس وقت ان کے انسانی وں کے برابر ہوں گے۔ مثلاً ان کی جان کی حفاظت، ان کے مال کی حفاظت ، ان کے مکانوں اور عبادت گاہوں کی حفاظت حکومت کے ذمہ وض مسلمان قتل کیا جائے گا۔ اس طرح ان کو اپنے مذہبی رسوم و عبادات کی وغیرہ ذرائع معاش کی آزادی ہو گی۔ قانون کے ذریعہ انصاف حاصل ۔ ایک انسان کو باعزت زندگی گزارنے کے لئے یہ چیزیں از بس ہیں۔
یا کہ وہ مسلمانوں کا امیر المومنین بنا دیا جائے گا یا جو امیر کے قائم مقام قوت سی طرح چونکہ مسلمانوں کا امیر مسلمانوں کے ارباب بست و کشاد کے اور ارباب بست و کشاد میں زیادہ تر دینداری ، علم و تقویٰ ، پرانا خادم اسلام جیسے انصار و مہاجرین تھے۔ جن پر تمام عالم اسلام کو اعتماد تھا۔ اگر الیکشن
ہوتا انہی حضرات کو تمام ووٹ ملتے ۔ آج کل اسی طرز کے قریب قریب مجلس شوریٰ یا اسمبلی کا انتخاب ہو سکتا ہے جس کو اپنا امیر یا حاکم نامزد کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے جب وہ غیر مسلم حاکم نہیں بن سکتا۔ حاکم ساز اسمبلی کا ممبر بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر حاکم سازی کے سوا وہ اپنی قوم کی طرف سے سرکاری کاموں کے سلسلہ میں نمائندہ منتخب ہوتا ہے ہوتا رہے۔ اگر حکومت ان کی قوم سے چند آدمی مانگے حکومت کو اختیار ہے۔ لیکن حاکم ساز یا آئین ساز اسمبلی کا ممبر وہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بات اس کے شہری اور انسانی حقوق سے زائد ہے یہ تو حکومت کی بات ہے اور حکومت مسلمانوں کی ہے تو انہی کو وہ حکومت چلانی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں صاف احکام موجود ہیں کہ غیر مسلموں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ ان سے ایسی دوستی نہ کرو۔ ان کا بس چلے تو تمہارے خلاف کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ (جیسا کہ منڈل نے کیا)
حضرت عمرؓ کا واقعہ
اس سلسلہ میں امام فخر الدین رازیؒ نے تفسیر کبیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ بصرہ میں ایک نصرانی منشی آیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ بہت لائق ہے۔ اس کو دفتری کام کے لئے منشی رکھ لیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر کام نہیں چلتا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر وہ مرجائے تو پھر کیا کرو گے؟۔ تو جو اس وقت کرو گے وہ ابھی سے ہی کیوں کر نہیں کر لیتے۔
تبلیغ کا حق
کسی غیر مسلم کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ اسلامی حدود و اختیار میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرے۔ اس کی آسان وجہ تو یہ کہی جا سکتی ہے کہ اسلامی حکومت میں کفر کی تبلیغ کی اجازت کیسے دی جائے۔ لیکن اس مسئلہ کو اہمیت کی وجہ سے ذرہ زیادہ واضح کرنا لازمی ہے۔
اسلام اور دوسرے مذاہب
ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے جو فلاح دارین کا ضامن ہے۔ ابدی حیات اور اخروی نجات کا اور کوئی راستہ نہیں: ’’ان الدین عند الله الاسلام، ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منه، آل عمران : ١٩‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین صرف
اسلام ہے جو اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے۔ اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوسکتا۔
اسلام انسانی اصلاح و فلاح کا ضامن ہے۔ اس سے انحراف ابدی جہنم کا مستحق قرار دیتا ہے جس کا خاتمہ اسلام پر نہ ہوا وہ ابدالآباد دوزخ کا ایندھن بن جائے گا۔
کافر کے لئے دائمی جہنم ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وَمَنْ يَّعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا اَبَدًا ٠ الجن ٢٣“
دوسری جگہ ارشاد ہے: ”اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا ٠ اِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا اَبَدًا ٠ نساء ١٦٨‘١٦٩“
تیسری جگہ ارشاد ہے: ”وَمَاهُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ٠ بقره ١٦٨“
چوتھی جگہ ارشاد ہے: ”اِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَاَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا خَالِدِينَ فِيهَا اَبَدًا ٠ احزاب ٦٤“
ان تمام جگہوں میں خَالِدِينَ کے بعد اَبَدًا فرمایا کہ ہمیشہ رہیں گے دوزخ میں۔
ہمیشہ ہمیشہ اس سے نکلیں گے نہیں۔ تمام امت کا یہی عقیدہ ہے۔
کافر کی بخشش نہیں ہو سکتی
”اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ٠ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ٠ توبه ٨٠“ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔
اسی طرح کافروں کی بخشش کے لئے دعا مانگنے سے قرآن میں ممانعت وارد ہے۔
بہر حال اسلام سے خارج لوگوں کے لئے جہنم کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ جب دائرہ نبوت کا مرکز آنحضرت ﷺ کا وجود ہے تو محیط سے جتنے خط آتے ہیں وہیں آتے ہیں۔ جب آپ ﷺ پر نبوت ختم ہے۔ جب آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری ہدایت نامہ مکمل صورت میں لاکر دنیا کے سامنے پیش کر کے حجت پوری کر دی ہے۔ جب تمام دنیا کے مذاہب تیرہ سو سال سے دلائل کے میدان میں اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ جبکہ اپنی صداقت میں شبہ کرنے والوں کو قرآن پاک نے مقابلہ کا چیلنج دیا ہے جس کو قبول کرنے سے آج تک دنیا عاجز ہے اور جبکہ تمام دنیا کے
کے سوا کسی اور دین کو چاہے۔ اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہو سکتا ۔ انسانی اصلاح و فلاح کا ضامن ہے۔ اس سے انحراف ابدی جہنم کا مستحق قرار پاتا ہے۔ جس کا خاتمہ اسلام پر نہ ہو وہ ابدالآباد دوزخ کا ایندھن بن جائے گا۔
ارشاد فرماتا ہے: ”ومن يعص الله ورسوله فان له نار جهنم خالدين فيها ابدا. جن ٢٣“
بلکہ ارشاد ہے: ”ان الذين كفروا وظلموا لم يكن الله ليغفرلهم ولا الا طريق جهنم خالدين فيها ابدا. نساء ١٦٨، ١٦٩“
بلکہ ارشاد ہے: ”وماهم بخارجين من النار. بقره ١٦٧“
ارشاد ہے: ”ان الله لعن الكافرين واعدلهم سعيرا خالدين فيها ابدا. احزاب ٦٤، ٦٥“
ان جگہوں میں خالدین کے بعد ابدا فرمایا کہ ہمیشہ رہیں گے دوزخ میں ۔ نکلنے پائیں گے نہیں۔ تمام امت کا یہی عقیدہ ہے۔
استغفرلهم اولا تستغفرلهم ، ان تستغفرلهم سبعين مرّة فلن يغفر الله لهم. توبه ٨٠“ اللہ تعالیٰ ان کو ہر گز نہیں بخشے گا۔ کافروں کی بخشش کے لئے دعا مانگنے سے قرآن میں ممانعت وارد ہے۔
آج لوگوں کے لئے جہنم کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ جب دائرہ نبوت کا مرکز سمجھے تو محیط سے جتنے خط آتے ہیں وہیں آتے ہیں۔ جب آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے آخری ہدایت نامہ مکمل صورت میں نازل کر کے حجت پوری کر دی ہے۔ جب تمام دنیا کے مذاہب تیرہ سو سال سے اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ جبکہ اپنی صداقت میں شبہ کرنے والوں کو قرآن نے چیلنج دیا ہے جس کو قبول کرنے سے آج تک دنیا عاجز ہے اور جبکہ تمام دنیا کے
پاس کوئی قانون نہیں جو انسانی حیات کے تمام شعبوں پر حاوی اور اسے معراج کمال تک پہنچانے کا ضامن ہو۔ جبکہ آج کی اشتراکیت و جمہوریت سرمایہ دارانہ نیز آمریت و شورائیت کی بحثوں میں پھنسی ہوئی دنیا کو کسی بھی نظام میں حقیقی چین حاصل نہیں اور ہر بیس سال کے بعد دنیا میں ان غلط اصولوں کے تصادم سے ایک خطرناک ایکسیڈنٹ ہوا کرتا ہے۔ جس میں کروڑوں بنی نوع انسان ہلاک ہوتے اور ملک پر عام تباہی آتی ہے اور یہ سب اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہ تمام انسان ایک خدا کے قانون کے سامنے جھک کر ایک ہی مساویانہ نظام میں کیوں منسلک نہیں ہوئے جبکہ عنقریب ان کو ہونا پڑے گا۔
اندریں حالات ہر انسان کا انسانی فرض ہے کہ وہ دوسرے بنی نوع انسان کو اسلام کی دعوت دے کر ان کو ابدی لعنت اور دائمی عذاب سے نجات دینے کی سعی کرے۔ اپنے بنی نوع سے شفقت و محبت اور انسانی ہمدردی کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ افراد ذلت وعذاب سے بچ کر اس صراط مستقیم پر گامزن ہو جائیں جس پر چلنے سے دائمی مسرت ابدی حیات اور نجات حاصل ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ انسانی برادری اور ہمدردی کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہزاروں مصیبتیں جھیل کر بھی انسانوں کو اس راہ کی دعوت دیتے ہیں۔ کیونکہ ارحم الراحمین خدا کے بعد اس کے بندوں سے سب سے زیادہ شفقت انبیاء علیہم السلام کو ہوتی ہے۔ اسلامی حکومت کا سب سے بڑا مقصد بھی یہی ہونا چاہئے کہ اپنے اقتدار سے بندگان خدا کی یہ سب سے بڑی خدمت کی جائے۔ بہر حال تبلیغ کا دارومدار شفقت پر ہوتا ہے اور نوع انسانی کی ہمدردی پر۔
تبلیغ کی اہمیت
اسی بناء پر ارحم الراحمین خدا کا زیادہ حکم بھی یہی ہونا چاہئے کہ مبتلائے آزمائش بندوں کو راہ نجات کی دعوت دے اور انبیاء علیہم السلام کا کام ہی یہی ہے اور خاتم الانبیاء علیہم السلام نے تو ہر امتی کو حکم دیا کہ دوسروں تک پہنچاؤ۔ اسی لئے اسلام کو تبلیغی مذہب کہتے ہیں۔ پس اسلامی حکومت کا سب سے پہلے یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ صحیح اسلام کی تبلیغ واشاعت کا انتظام کرے۔
معکوس ترقی
مگر برا ہو آج کل کی معکوس ترقی کا کہ بجائے اس کے نوع انسان سے ہمدردی کے
لئے اسلام کی تبلیغ کی جاتی۔ کفر سے نکالنے کی سعی کی جاتی۔ الٹا ملک وحکومت میں یہ بحث ہورہی ہے کہ غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی اجازت کیوں نہ دی جائے؟۔ وہ شہری حقوق سے کیوں محروم ہوں؟۔ یہ شہری آزادی کا نام و نہاد مفہوم یورپ کی لعنت ہے جس کی آڑ میں مسلمانوں کے مذہب کا تیا پانچا کرنا چاہتے تھے۔ شہری آزادی کا جتنا ضروری حصہ تھا وہ ہم عرض کر آئے ہیں۔ لیکن شہری آزادی کی آڑ میں اشاعت کفر کی اجازت دینا بنی نوع انسان پر ظلم نہیں تو کیا ہے؟۔
تبلیغ کفر کی اجازت
جو لوگ کفر کی تبلیغ کی اجازت دیتے ہیں وہ دو حال سے خالی نہیں ہوسکتے۔ یا تو مذہب اسلام کو ابدی نجات وسرمدی حیات کا ذریعہ نہیں سمجھتے۔ ان کا عقیدہ حقانیت اسلام پر نہیں۔ یا وہ انسانیت کے دشمن ہیں کہ بجائے اس کے تاریکی سے انسانوں کو نکال کر روشنی میں لائے جانے کی کوشش کی جاتی۔ وہ روشنی سے نکال کر تاریکی میں لے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ کیا بنی نوع انسان کی ہمدردی کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ ایک شخص کو جو سیدھے راستے پر جارہا ہے ورغلا کر ایسے راستہ پر لگا دیا جائے جس پر چل کر وہ کنویں میں جا گرے اور ہلاک ہوجائے؟۔
شہری آزادی کے نام پر شیطانی کام
دراصل مغربی جادوگری نے جہاں اور بیسیوں عیبوں کو خوبیوں کے رنگ میں پیش کیا ہے۔ وہاں شہری آزادی کے نام سے ہر شخص کو ہر مذہب کی تبلیغ اور ہر مذہب اختیار کرنے کا حق دیا ہے۔ اس گمراہی کو مذہبی آزادی، ضمیر کی آزادی اور شہری آزادی کے خوبصورت الفاظ سے دلربا بنانے کی سعی کی ہے۔ جس کی آڑ میں رضا مندی کی زنا کاری، اسلام سے مرتد ہوجانے اور کفر والحاد کا پراپیگنڈہ کرنے کی عام اجازت دے کر دین حق سے بغاوت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ہر شخص آزاد ہے کہ قرآن پاک اور حدیث رسول ﷺ سے تلعب کرے۔ جس آیت کا جو معنی چاہے کرے۔ جس سے مسلط قوت کو ضرور فائدہ پہنچا۔ مگر مسلمانوں کا شیرازہ خطرہ میں پڑ گیا اور دین حق کے پرستاروں کو ہزاروں مشکلات کا سامنا ہوا۔
پہلا ازالہ ...... اس فریب خوردگی کا ایک ازالہ یہ ہے کہ جیسا کہ کہا گیا کہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ اسلام کے بغیر نجات ناممکن ہے جیسا کہ تمام مسلمانوں کا ہے تو پھر مسلمان اپنے حدود
کی جاتی ۔ کفر سے نکالنے کی سعی کی جاتی۔ الٹا ملک وحکومت میں یہ بحث ہورہی کو اپنے مذہب کی اجازت کیوں نہ دی جائے؟۔ وہ شہری حقوق سے کیوں محروم ادی کا نام و نہاد مفہوم یورپ کی لعنت ہے جس کی آڑ میں مسلمانوں کے مذہب تے تھے۔ شہری آزادی کا جتنا ضروری حصہ تھا وہ ہم عرض کر آئے ہیں۔ لیکن میں اشاعت کفر کی اجازت دینا بنی نوع انسان پر ظلم نہیں تو کیا ہے؟۔
ت
کفر کی تبلیغ کی اجازت دیتے ہیں وہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتے۔ یا تو مذہب و سرمدی حیات کا ذریعہ نہیں سمجھتے۔ ان کا عقیدہ حقانیت اسلام پر نہیں۔ یا وہ یں کہ بجائے اس کے تاریکی سے انسانوں کو نکال کر روشنی میں لائے جانے کی روشنی سے نکال کر تاریکی میں لے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ کیا بنی نوع قاضا یہ ہونا چاہئے کہ ایک شخص کو جو سیدھے راستے پر جا رہا ہے ورغلا کر ایسے جس پر چل کر وہ کنویں میں جا گرے اور ہلاک ہو جائے؟۔
کے نام پر شیطانی کام
مغربی جادوگری نے جہاں اور بیسیوں عیبوں کو خوبیوں کے رنگ میں پیش کیا دی کے نام سے ہر شخص کو ہر مذہب کی تبلیغ اور ہر مذہب اختیار کرنے کا حق دیا یہی آزادی، ضمیر کی آزادی اور شہری آزادی کے خوبصورت الفاظ سے دلربا ۔ جمہور کی آڑ میں رضا مندی کی زنا کاری، اسلام سے مرتد ہو جانے اور کفر نے کی عام اجازت دے کر دین حق سے بغاوت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ہر ن پاک اور حدیث رسول ﷺ سے تلاعب کرے جس آیت کا جو معنی چاہے لط قوت کو ضرر نہ پہنچا۔ مگر مسلمانوں کا شیرازہ خطرہ میں پڑ گیا اور دین حق ں مشکلات کا سامنا ہوا۔
الہ ...... اس فریب خوردگی کا ایک ازالہ یہ ہے کہ جیسا کہ کہا گیا کہ اگر یہ عقیدہ بغیر نجات ناممکن ہے جیسا کہ تمام مسلمانوں کا ہے تو پھر مسلمان اپنے حدود
اختیار و اقتدار میں اس امر کی اجازت کس طرح دے سکتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو راہ راست سے ورغلا کر دائمی عذاب میں مبتلا کیا جائے۔ خاص کر مسلمانوں کو۔
دوسرا ازالہ ...... اس طلسم کو توڑنے کے لئے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ضمیر و شہری آزادی کی وجہ سے ہر خیال کی اشاعت جائز قرار دی جاسکتی ہے تو پھر امریکہ میں کمیونزم کی اشاعت کیوں ممنوع ہے؟۔ اگر امریکہ میں کمیونزم کی اشاعت اس لئے ممنوع ہے کہ وہ امریکن جمہوریت امریکن طرز حکومت یا امریکن سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے تو پھر اسلامی حکومت میں اسلامی اصول اور اسلامی طرز حکومت کے خلاف پراپیگنڈے کی اجازت کس طرح دی جاسکتی ہے؟۔ حالانکہ امریکن جمہوریت اور روسی اشتراکیت انسانی وضع کردہ اصول ہیں اور صرف دنیوی مفاد سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی کا ضامن ہے۔
تبلیغ کفر کی اجازت کا ایک اور خطرناک نتیجہ
پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر کافر کو اپنے کفر کی تبلیغ کی اجازت ہوگی تو لازماً کافر ہو جانے کی بھی اجازت ہوگی جس سے وہ ارتداد کی سزا کا مستحق ہوگا۔ اس طرح ایک ایسے جرم کی اجازت ہوگی جس پر سنگین سزا تجویز کی گئی ہے جو بخاری شریف کی مشہور حدیث من بدل دینہ فاقتلوہ ۔ بخاری ص ٤٢٣ ج ١ (جو اپنا دین بدل ڈالے اس کو قتل کر ڈالو) اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک وہ سنگین سزا قتل کا مستحق ہے۔
پھر مستوجب سزا امر پر ابھارنے کی اجازت دینا کہاں کی عقلمندی ہے اور اگر ارتداد کی بھی اجازت ہو تو پھر حکومت کا اسلامی کہلوانا اور قرآن وسنت کے خلاف قانون نہ بنانا ایک مضحکہ خیز بات بن جاتی ہے۔ یعنی سنت کے خلاف قانون نہ بننے دیں گے۔ لیکن یہ قانون بن سکے گا کہ ہر شخص کافر ہو سکتا ہے۔ پھر اسی طرح سر براہ مملکت کے مسلمان ہونے کی شرط بھی غلط ہے۔ ممکن ہے ظفر اللہ خان قادیانی جیسے گرگوں کی وجہ سے وہ بھی مرتد ہو جائے۔ خاص کر جبکہ ارتداد جرم نہ ہو۔ اگر کہا جائے کہ نہیں چونکہ اکثریت مسلمانوں کی ہے اس کو مسلمان ہی رہنا ہوگا تو پھر قانون کی صحیح تعبیر یوں ہوگی کہ سر براہ مملکت جمہور اور اکثریت میں سے ہوگا۔
ایک اور خطرہ
یہ خطرہ بھی ہے کہ تبلیغ کفر کی اجازت ہوگی تو ہو سکتا ہے کہ روپیہ اور دیگر ذرائع کی
فراوانی کی وجہ سے اسلام سے نکل نکل کر بیسیوں فرقے اور کافر قوتیں بنتی چلی جائیں۔ جن میں باہم نفرت و عداوت ہوگی۔ بلکہ ہر ہر خاندان اور ہر ہر گھر میں اور ہر شہر میں الجھاؤ پیدا ہوگا تو جہاں ایک فیصدی مرزائی آبادی نے اپنی کافرانہ تبلیغ سے اودھم مچا کر پاکستان کے اعلیٰ مفاد کو نقصان پہنچایا۔ اگر خدانخواستہ کفر کی تبلیغ سے دس بیس سال میں پچاس فیصدی آبادی مختلف مذاہب میں تبدیل ہو کر مرتد ہو جائے جو غلط اور گمراہ کن اسباب و وسائل کی موجودگی میں ناممکن نہیں تو پھر ان کے باہمی آویزش کا تصور ہی لرزہ براندام کرنے کے لئے کافی ہے۔ جس سے ملک کو جو نقصان ہوگا وہ اظہر من الشمس ہے۔
مرزائیت کی تبلیغ
مرزا محمود قادیانی جو غیر مسلموں کو تبلیغ کا حق جائز قرار دیتے ہیں۔ وہ دراصل اپنے لئے راستہ صاف کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جبکہ وہ مرزائی عقیدہ کی وجہ سے تمام عالم اسلام کے نزدیک کافر ہیں۔ بلکہ دوسرے کافروں سے بدتر کافر۔ کیونکہ اسلامی اصول، اولو العزم انبیاء علیہم السلام اور بزرگان دین کی توہین کی اتنی جرأت اور اسلامی تعلیمات کی تحریف کی اتنی جسارت آج تک اور کسی کو نہیں جو اس فرقہ ضالہ کو ہوئی اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ ختم نبوت، وحی، معراج جسمانی، ابدیت عذاب کفار، نزول مسیح، فرضیت جہاد، موالات نصاریٰ، نزول جبرائیل، بشارت احمد کے مصداق، قرآن کی تفسیر مسئلہ بروز، آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں، دو مسیحوں وغیرہ بیسیوں مسائل میں مرزا قادیانی اور اس کی امت عامۃ المسلمین کے عقائد سے مخالف ہے جو وہ قرآن و سنت کے مطابق رکھتے ہیں اور ساتھ ہی مرزائی فرقہ کے ساتھ غلامانہ جراثیم بھی ہیں اور یہ لوگ اس لئے زیادہ ناقابل اعتبار ہیں کہ بیس سال کے اپنے مسلمہ عقائد سے یکدم انکار بھی کر دیتے ہیں۔ جیسے عام مسلمانوں کو کافر کہنے سے انکار جو صرف تحریک کے بعد ہی کیا ہے۔ اس سے ان کی منافقانہ پوزیشن بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ایسے فرقہ کو تبلیغ کی اجازت دینا یہودیوں اور عیسائیوں کی تبلیغ سے زیادہ منحوس اور مضر ہوگا۔ ان کی تبلیغ سے گو اثر نہیں ہوتا اور یہ اسلامی لبادہ اوڑھ کر مار آستین کی طرح موجب ہلاکت ہوتے ہیں اور قوم میں ہزاروں فتنوں کو جگاتے ہیں۔
خاتم النبیین لا نبی بعدی
(میں آخری نبی ھوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں)
مرزائیوں سے ہائیکورٹ کے
سات سوالات
مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
کا تاریخی جواب الجواب
بسم الله الرحمن الرحيم!
تعارف!
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد چیف جسٹس پنجاب ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منیر اور مسٹر جسٹس ایم آر کیانی کو اس سارے معاملہ کی تحقیقات پر متعین کیا گیا۔ اس مقدس تحریک کا نام اس وقت کی مرزائی نواز حکومت نے فسادات پنجاب ١٩٥٣ء، اور عدالت کا نام منیر انکوائری کمیشن رکھا۔ اس عدالت نے آٹھ نو ماہ تک انکوائری کو شیطان کی آنت کی طرح لمبا کیا اور جب ملک کے حالات پرسکون ہوگئے تو ایک لمبی چوڑی رپورٹ شائع کر دی۔
اس عدالت نے مرزائیوں سے سات سوالات دریافت کئے تھے۔ مرزائیوں نے اپنے روایتی دجل سے ان کا جواب بھی دجل آمیز عبارتوں میں دیا جس میں بجائے دوٹوک جواب کے مغالطے دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ مرزائیوں کی کتاب الحیل اور تاویل تو مشہور ہے۔ ان حیلوں اور تاویلوں اور دجل وفریب سے انہوں نے جوابات دے کر عدالت کے اس اخذ و مواخذہ سے بچنے کی کوشش کی جس پر اسلام کی رو سے ان مرتدوں کا مقام متعین ہوسکتا تھا۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ان سوالات کے جواب الجواب میں یہ رسالہ تحریر فرمایا اور اسے عدالت میں داخل کیا گیا۔ اس تحریر سے آپ کی ذہانت فطانت اور قوت استدلال سے آگاہ ہو کر ان کی عظمت اور ان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
خاکپائے حضرت جالندھریؒ (مولانا) عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر ملتان
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ
از مفکر ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
مجلس تحفظ ختم نبوت کے تیسرے امیر اور سربراہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے۔ وہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بعد امیر منتخب ہوئے اور اس سے قبل حضرت امیر شریعتؒ اور حضرت قاضی صاحبؒ کے ساتھ بطور ناظم اعلیٰ کام کرتے رہے۔
در حقیقت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ ارائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنا اچھا خاصا زمیندارہ تھا۔ نکودر ضلع جالندھر کے ایک گاؤں یکو کے رہنے والے تھے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے خاص شاگردوں میں شامل اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل عالم تھے۔ مولانا جید عالم، منطقی اور زبردست مناظر تھے۔ وہ شکل وصورت ، رہن سہن اور وضع قطع میں ٹھیٹھ پنجابی اور دیہاتی معلوم ہوتے تھے۔ ان جتنی مدلل تقریر احرار کے سارے گروہ میں کوئی مقرر نہیں کر سکتا تھا۔ وہ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوتے۔ چند جملے اردو زبان میں بولتے تو مجمع سے آوازیں آنا شروع ہو جاتیں کہ مولانا تقریر پنجابی زبان میں کریں اور مولانا جالندھریؒ ٹھیٹھ پنجابی زبان میں تقریر کرنا شروع کر دیتے۔ پنجابی کے محاورے بولتے۔ دیہات کی روز مرہ زبان استعمال کرتے۔ لوگ عش عش کر کے رہ جاتے۔ وہ کھیتوں کی روشوں، ہل چلانے والے کسانوں، ان کی ہل، پنجالی ، روٹی بھتہ لانے والی کسان کی بیوی، کھیتوں کے سبزے اور فصلوں کی لہلہاہٹ سے اپنا مضمون پیدا کرتے۔ دیہاتی زندگی کے سادہ اور فطری مناظر سے اپنی روانی کا تانا بانا سنوارتے چلے جاتے۔
احرار کے زمانے میں انہیں پرولتاری مقرر سمجھا جاتا تھا۔ کسانوں ، مزدوروں ، غریبوں اور پسماندہ طبقوں کی زندگی کے مسائل کے متعلق بولتے۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام پر سخت تنقید کرتے تو ان کی تقریر دور دور تک پہنچتی۔ اس زمانہ میں معلوم ہوا تھا کہ روسی سفارتخانے میں مولانا جالندھریؒ کی تقریروں کے متعلق خاص طور پر دلچسپی لی جاتی ہے۔ مولانا
٣
جالندھریؒ بعض باتیں عجیب وغریب کہا کرتے تھے۔ مثلاً وہ فرمایا کرتے کہ جس طرح جسم میں جوئیں باہر سے نہیں آتیں۔ بلکہ انسان کی اپنی میل کچیل سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کمیونزم بھی باہر سے نہیں آیا کرتا۔ بلکہ ملکوں اور قوموں کے اندر ہی غربت، معاشی ناہمواری، ظلم اور جہالت کی بدولت پیدا ہو جاتا ہے۔ مولانا جالندھریؒ نے برصغیر کے چپے چپے پر بے شمار تقریریں کیں۔ آخری عمر میں ان کی تقریریں اصلاحی اور تبلیغی ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی بڑی معرکۃ الآراء تقریریں کی ہوں گی۔ لیکن ان کی ایک تقریر فروری ١٩٥٣ء میں نسبت روڈ لاہور پر ہوئی تھی جس ایک تقریر نے لاہور میں آگ لگادی تھی اور دوسرے دن لاہور سراپا تحریک ختم نبوت بن چکا تھا۔ ایک مثالی اور یادگار تقریر تھی۔
ایک دفعہ اسلامیان سرگودھا نے حضرت امیر شریعتؒ سے جلسے کے لئے وقت لیا۔ سرگودھا والوں نے جلسے کا اہتمام کرلیا۔ اشتہار چھپ گئے۔ تاریخ آگئی۔ سرگودھا اور شمال مغربی پنجاب کے دور دراز کے دیہات سے دنیا پہنچ گئی۔ لیکن حضرت شاہ جیؒ بیماری کے باعث جلسہ میں نہ پہنچ سکے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بھی وعدہ تھا۔ وہ پہنچ گئے۔ لوگوں کو ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا تھا کہ حضرت شاہ جیؒ نہیں آرہے۔ عشاء کی نماز کے بعد جلسہ شروع ہوا۔ لاکھوں کا اجتماع، تحریک ختم نبوت کی بحرانی کیفیت، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بیان شروع ہوا۔ خدا کی قدرت مولانا جالندھریؒ کی تقریر میں ایسا جوش وخروش اور نظم وتسلسل پیدا ہوا کہ پوری کانفرنس سراپا گوش بن گئی۔ مولانا جالندھریؒ نے ختم نبوت کی اہمیت، اتحاد امت، شان رسالت، مرزائیت، ملک کے استحکام وبقاء کی ضرورت اور مرزائیوں کی سازشی سرگرمیوں پر اتنی معرکۃ الآراء تقریر کی کہ ایک سماں بندھ گیا۔ ساری رات تقریر جاری رہی۔ صبح کی اذان نے تقریر کا سلسلہ منقطع کیا۔ لوگ ششدر اور مولانا جالندھریؒ حیران کہ آج یہ کیسی رات اور یہ کس زور کی تقریر ہوگئی؟۔ اگلے روز مولانا جالندھریؒ ملتان پہنچے۔ حضرت شاہ جیؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر ماجرا سنایا۔ حضرت شاہ جیؒ نے فرمایا کہ بھائی محمد علی! مجھے سرگودھا کے جلسہ کی بڑی فکر اور پریشانی تھی۔ میں بھی رات عشاء کی نماز پڑھ کر مصلےٰ پر بیٹھا ہوں تو صبح تک مصلےٰ پر ہی دعا کی حالت میں رہا کہ اے اللہ آج وہاں محمد علی اکیلا ہے تو ہماری سب کی لاج رکھنا۔
ایک دفعہ ایک جلسہ میں دوران تقریر فرمایا:
٤
”دیکھو! میں اپنی عمر وقت قریب ہو۔ میں تین طبقوں کر کے میری قبر ٹھنڈی کریں:
- ١....... سرکاری
نبوت کے وفادار بن کر رہیں او رسول اللہ ﷺ سے بے وفائی کر ورنہ ان کا حشر وہی ہوگا جو ان ختم نبوت کا عہد وفا توڑ دیا اور د زمانہ حکام اور افسران کے واقعات
- ٢....... علمائے
گاہیں بن چکی ہیں۔ انہیں میسر پر خود بھی قائم رہیں اور اشاعت درختوں کے سائے میں ڈیرہ ڈ کے اسلاف نے ایسا کر کے دکھ عہدہ کا لالچ دے کر علماء کو خد رب العزت کے دین سے ہـ دین سکھاتے رہنا۔ بے شک
- ٣....... عام
عقیدہ ختم نبوت کا نام لینا جرم پر لا کھڑا کر دیں تو جان دے نہ کرنا اور اپنے عقیدہ پر جمے اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی حضرت مولانا گئے تو ان مرتدوں کا وبال
تیں عجیب وغریب کہا کرتے تھے۔ مثلاً وہ فرمایا کرتے کہ جس طرح جسم میں آتی۔ بلکہ انسان کی اپنی میل کچیل سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کمیونزم بھی تا۔ بلکہ ملکوں اور قوموں کے اندر ہی غربت، معاشی ناہمواری، ظلم اور جہالت جاتا ہے۔ مولانا جالندھریؒ نے برصغیر کے چپے چپے پر بے شمار تقریریں کیں۔ کی تقریریں اصلاحی اور تبلیغی ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی تقریریں کی ہوں گی۔ لیکن ان کی ایک تقریر فروری ١٩٥٣ء میں نسبت روڈ سا ایک تقریر نے لاہور میں آگ لگادی تھی اور دوسرے دن لاہور سراپا تحریک ا۔ ایک مثالی اور یادگار تقریر تھی۔
دہ اسلامیان سرگودھا نے حضرت امیر شریعتؒ سے جلسے کے لئے وقت لیا۔ جلسے کا اہتمام کرلیا۔ اشتہار چھپ گئے۔ تاریخ آگئی۔ سرگودھا اور شمال مغربی کے دیہات سے دنیا پہنچ گئی۔ لیکن حضرت شاہ جیؒ بیماری کے باعث جلسہ رت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بھی وعدہ تھا۔ وہ پہنچ گئے۔ لوگوں کو ابھی تک یہ حضرت شاہ جیؒ نہیں آرہے۔ عشاء کی نماز کے بعد جلسہ شروع ہوا۔ لاکھوں کا ت کی بحرانی کیفیت، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بیان شروع ہوا۔ خدا لندھریؒ کی تقریر میں ایسا جوش و خروش اور نظم وتسلسل پیدا ہوا کہ پوری سن گئی ۔ مولانا جالندھریؒ نے ختم نبوت کی اہمیت، اتحاد امت، شان ، ملک کے استحکام و بقاء کی ضرورت اور مرزائیوں کی سازشی سرگرمیوں پر کی کہ ایک سماں بندھ گیا۔ ساری رات تقریر جاری رہی۔ صبح کی اذان نے ا۔ لوگ ششدر اور مولانا جالندھریؒ حیران کہ آج یہ کیسی رات اور یہ کس
اگلے روز مولانا جالندھریؒ ملتان پہنچے۔ حضرت شاہ جیؒ کی خدمت میں حضرت شاہ جیؒ نے فرمایا کہ بھائی محمد علی! مجھے سرگودھا کے جلسہ کی بڑی فکر ی رات عشاء کی نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا ہوں تو صبح تک مصلیٰ پر ہی دعا کی اللہ آج وہاں محمد علیؒ اکیلا ہے تو ہماری سب کی لاج رکھنا۔
ب جلسہ میں دوران تقریر فرمایا:
٤
”دیکھو! میں اپنی عمر کے آخری پیٹے میں ہوں۔ بوڑھا ہوگیا ہوں۔ شاید جدائی کا وقت قریب ہو۔ میں تین طبقوں سے ایک ہی درخواست کرنا چاہتا ہوں شاید آپ اس پر عمل کرکے میری قبر ٹھنڈی کریں:
- ١....... سرکاری حکام اور ارباب حل وعقد کو میری وصیت ہے کہ وہ عقیدہ ختم
نبوت کے وفادار بن کر رہیں اور کسی عہدہ کے لالچ یا دنیا کی عارضی عزت کے بدلے جناب رسول اللہ ﷺ سے بے وفائی کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت کی مدد یا حوصلہ افزائی نہ کریں۔ ورنہ ان کا حشر وہی ہوگا جو ان سے پہلے ان حکام کا ہوچکا ہے۔ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا عہد وفا توڑ دیا اور دشمنان عقیدہ ختم نبوت کے ہاتھ مضبوط کئے۔ پھر چند ایسے بدنام زمانہ حکام اور افسران کے واقعات بھی سنائے۔
- ٢....... علمائے کرام کو خبردار کرتا ہوں کہ ان کی یہ درسگاہیں جو ان کے لئے آرام
گاہیں بن چکی ہیں۔ انہیں میسر نہیں رہیں گی۔ جب ایسی حالت آجائے تو ثابت قدمی سے دین پر خود بھی قائم رہیں اور اشاعت دین بھی کرتے رہیں۔ ایسے حالات میں رستوں پر بیٹھ کر اور درختوں کے سائے میں ڈیرہ ڈال کر اللہ رب العزت کا دین پڑھاتے اور سکھاتے رہیں۔ آپ کے اسلافؒ نے ایسا کر کے دکھایا ہے۔ اس کے برعکس ایسے حالات بھی آئیں گے کہ ملازمت یا عہدہ کا لالچ دے کر علماء کو خدمت دین سے باز رکھا جائے گا۔ خدارا! بھوکوں مرجانا۔ مگر اللہ رب العزت کے دین سے بے وفائی کر کے اس دنیا کی فنا ہونے والی عزت پر نقد دین نہ لٹانا۔ دین سکھاتے رہنا۔ بے شک کچھ ہو جائے۔
- ٣....... عام لوگوں سے میری درخواست ہے کہ ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب
عقیدہ ختم نبوت کا نام لینا جرم بن جائے گا۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ لیکن اگر حالات تمہیں ایسے موڑ پر لاکھڑا کردیں تو جان دے دینا۔ مگر باوفا نبی اکرم ﷺ سے دنیا کی عارضی تکلیف پر بے وفائی نہ کرنا اور اپنے عقیدہ پر جمے رہنا۔ یہاں تک کہ موت تمہیں دنیا کی ان عارضی چیزوں سے بچا کر اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی جنت میں داخل کردے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ”اگر قادیانی چاند پر بھی چلے گئے تو ان مرتدوں کا وہاں بھی تعاقب کیا جائے گا“ آج مولانا جالندھریؒ کے اخلاص کی
٥
برکت ہے کہ اس وقت دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام ایک مربوط نظام کے تحت ہو رہا ہے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی سب سے بڑی خوبی ان کی جماعت اور تحریکوں کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا، دیانت، امانت سے ان کا حساب رکھنا۔ کفایت شعاری سے خرچ کرنا اور تحریک کو یا جماعت کے کام کو باقاعدہ اور ہمیشگی سے جاری رکھنے کا اہتمام کرنا تھا۔ مولانا جالندھریؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے قیام کے بعد اس کے مالیاتی نظام کی مضبوطی کی طرف خصوصی توجہ دی اور جماعت کے لئے مضبوط فنڈ کا اہتمام کیا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ چونکہ جماعت نے حفاظت واشاعت دین کا کام کرنا ہے۔ تردید مرزائیت جیسا کٹھن کام اس کے ذمہ ہے۔ مرزائی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی اور قوم وملک کو اس فتنہ سے بچانے کے لئے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے۔ اس لئے جماعت میں مستقل ہمہ وقتی کام کرنے والے کارکن باقاعدہ رکھے جائیں جو ہر طرف سے بے فکر اور آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ جماعتی مقاصد کے لئے کام کریں۔
جب اس فیصلے کے مطابق جماعت کے علماء کرام سے باتنخواہ کام کرنے اور ہمہ وقتی ڈیوٹی دینے کے لئے کہا گیا تو وہ لوگ جو ساری عمر ملک کی آزادی اور اسلام کی سربلندی کے لئے لوجہ اللہ تعالیٰ ماریں کھاتے رہے تھے۔ ان کی خودداری نے تنخواہ لے کر جماعت کا کام کرنا مناسب نہ سمجھا اور سب اس بات سے ہچکچانے لگے۔ حضرت جالندھریؒ نے یہ محسوس کر کے کہ یہ لوگ اس چیز کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو پیش کیا کہ میں خود بھی تنخواہ لوں گا اور ہمہ وقتی ملازم کی حیثیت سے جماعت کا کام کروں گا۔ اس کے بعد حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ۔ غرضیکہ تمام مبلغین نے وظیفہ لینا اور ہمہ وقتی کام سرانجام دینا قبول کر لیا۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اس سے مستثنیٰ رہے۔
تمام مبلغین جب جلسوں اور دوروں پر جاتے۔ لوگ ان کو خادم اسلام سمجھ کر جو خدمت کرتے تھے تو وہ اس کی بھی رسید کاٹ دیتے تھے۔ وہ ہدیہ، نذرانہ خدمت سب
٦
وقت دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام ایک مربوط نظام کے تحت
ت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی سب سے بڑی خوبی ان کی جماعت اور تحریکوں نظام کرنا، دیانت، امانت سے ان کا حساب رکھنا۔ کفایت شعاری سے خرچ ا جماعت کے کام کو با قاعدہ اور ہمیشگی سے جاری رکھنے کا اہتمام کرنا تھا۔ مولانا ا تحفظ ختم نبوت پاکستان کے قیام کے بعد اس کے مالیاتی نظام کی مضبوطی کی دی اور جماعت کے لئے مضبوط فنڈ کا اہتمام کیا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ چونکہ ت و اشاعت دین کا کام کرنا ہے۔ تردید مرزائیت جیسا کٹھن کام اس کے ذمہ وں کو بے نقاب کرنے کی اور قوم و ملک کو اس فتنہ سے بچانے کے لئے ایک رورت ہے۔ اس لئے جماعت میں مستقل ہمہ وقتی کام کرنے والے کارکن جو ہر طرف سے بے فکر اور آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ جماعتی مقاصد کے
ں فیصلے کے مطابق جماعت کے علماء کرام سے با تنخواہ کام کرنے اور ہمہ وقتی کہا گیا تو وہ لوگ جو ساری عمر ملک کی آزادی اور اسلام کی سربلندی کے لئے ں ماریں کھاتے رہے تھے۔ ان کی خودداری نے تنخواہ لے کر جماعت کا کام ا اور سب اس بات سے ہچکچانے لگے۔ حضرت جالندھریؒ نے یہ محسوس کر کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو پیش کیا کہ میں خود بھی تنخواہ لوں گا یثیت سے جماعت کا کام کروں گا۔ اس کے بعد حضرت مولانا لال حسین محمد حیاتؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، حضرت مولانا محمد شریف لانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ۔ غرضیکہ تمام اور ہمہ وقتی کام سرانجام دینا قبول کر لیا۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد ت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اس سے مستثنیٰ رہے۔ ن جب جلسوں اور دوروں پر جاتے۔ لوگ ان کی خادم اسلام سمجھ کر ۃ وہ اس کی بھی رسید کاٹ دیتے تھے۔ وہ ہدیہ، نذرانہ خدمت سب
٦
جماعت کے بیت المال میں جمع ہو جاتا تھا۔ مولانا جالندھریؒ کے اخلاص، ایثار، دیانت اور امانت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب مولانا جالندھریؒ کی وفات ہو گئی اور ہم لوگ ان کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے۔ اگلے روز جب جماعت کے بیت المال جو لوہے کی بہت بڑی سیف کی صورت میں ہے۔ اسے کھولا گیا تو تمام رقوم حساب کے مطابق موجود تھیں۔ البتہ ایک پوٹلی الگ رکھی ہوئی ملی جس میں بائیس ہزار روپیہ تھا اور ساتھ ایک چٹ مولانا نے لکھ کر رکھی ہوئی تھی کہ جب جماعت کے دوسرے مبلغین اور علمائے کرام تنخواہ لینا عار سمجھتے تھے تو میں نے ان کی دل جوئی اور جھجک دور کرنے کے لئے تین صد روپیہ مشاہرہ قبول کر لیا تھا۔ الحمدللہ! میں صاحب جائیداد اور گھر سے کھاتا پیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو مال، اولاد، زمین، رزق، سب کچھ دے رکھا ہے۔ وہ تین صد روپیہ میں الگ رکھتا رہا ہوں اور یہ بائیس ہزار روپیہ وہ ہے۔ میرے مرنے کے بعد اس رقم کو جماعت کے خزانے میں جمع کر دیا جائے۔
یہ مولانا جالندھریؒ کی محنت، دیانت اور امانت کا ثمرہ ہے کہ جماعت کا لاکھوں روپے مالیت کا اپنا مرکزی دفتر ملتان میں ہے۔ برطانیہ میں مجلس کا اپنا ملکیتی عظیم دفتر موجود ہے۔ اسلام آباد کا دفتر جماعت کا خریدا ہوا ملکیتی ہے۔ گوجرانوالہ کا دفتر جماعت کا خریدا ہوا ملکیتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی، لاہور، رحیم یار خان، کوئٹہ، بہاولپور، سیالکوٹ، میں مجلس کے ملکیتی دفاتر ہیں اور بڑے شہروں میں جماعت کے کرایہ پر لئے ہوئے دفاتر موجود ہیں۔ اکثر دفاتر میں ٹیلی فون لگے ہوئے ہیں۔ ان میں مستقل ملازمین کارکن ہیں۔ پھر لاکھوں روپے کی زرعی اور سکنی وقف جائیداد جماعت کے نام موجود ہے۔ اور اب الحمدللہ! جماعت دینی مقاصد تحفظ ختم رسالت، حفاظت و اشاعت اسلام پر تقریباً تیس لاکھ روپیہ سالانہ اس زمانہ میں اس وقت (چار کروڑ سے بھی زیادہ ہے) خرچ کر رہی ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٩ شعبان ١٣٨٦ھ بمطابق ٢٢ نومبر ١٩٦٦ء سے ٢٤ صفر ١٣٩١ھ بمطابق ٢١ اپریل ١٩٧١ء ٤ سال ٤ ماہ ٢٩ دن تک جماعت کے باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔
خادم تحریک ختم نبوت (مولانا) تاج محمودؒ ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک فیصل آباد
عدالت کے قادیانیوں سے سوالات
- ١....... جو مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں
مانتے۔ کیا وہ مومن اور مسلمان ہیں؟۔
- ٢....... جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ کیا وہ کافر ہے؟۔
- ٣....... ایسے کافر ہونے کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں۔ یعنی اگر مرزا
غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننا کفر ہے تو ایسے کفر کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں؟۔
- ٤....... کیا مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول کریم ﷺ کی طرح اور اسی ذریعہ سے
الہام ہوتا ہے؟۔
- ٥....... کیا قادیانی عقیدہ میں شامل ہے کہ ایسے شخص کا جنازہ جو مرزا غلام احمد
قادیانی پر یقین نہیں رکھتے۔ بے فائدہ ہے؟۔
- ٦....... کیا قادیانی اور غیر قادیانی میں شادی جائز ہے؟۔
- ٧....... قادیانی فرقہ کے نزدیک امیر المومنین کی خصوصیت کیا ہے؟۔
قادیانیوں کے جواب کا حضرت جالندھریؒ کی جانب سے جواب الجواب
جناب عالی ....... بندہ حضور والا کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔ جناب والا نے موجودہ انکوائری میں مرزائیت کے متعلق نفس مسئلہ کے بھی تحقیقات کرنا پسند فرمایا ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے عالی مرتبت انسان اس طرف توجہ فرمائیں۔ مگر اس میں یہ ہے کہ جن حالات میں تحقیق ہو رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ مسئلہ کے تمام گوشے ظہور میں نہیں آسکیں گے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہماری حکومت بھی ایک فریق کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جس کی وجہ سے اہل اسلام کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہو سکتیں جو ان کو ہونی چاہئے تھیں اور بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ علماء کرام ایک طرح قابل مواخذہ سمجھے جارہے ہیں ۔ اندریں حالات چونکہ مسئلہ کی تحقیق شروع ہو گئی ہے۔
لہٰذا مودبانہ گزارش ہے کہ جناب والا نے مرزائیوں سے جن سوالوں کا تحریری جواب طلب فرمایا ہے۔ میں نے ان سوالات اور ان کے جوابات کو غور سے پڑھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل سوال کا جواب سرے سے دیا ہی نہیں گیا۔ اس میں دھوکہ دہی اور تلبیس سے کام لیا
٨
عدالت کے قادیانیوں سے سوالات
جو مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتے۔ کیا وہ مومن اور مسلمان ہیں؟۔
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ کیا وہ کافر ہے؟۔
ایسے کافر ہونے کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں۔ یعنی اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننا کفر ہے تو ایسے کفر کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں؟۔
کیا مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول کریمﷺ کی طرح اور اسی ذریعہ سے الہام ہوتا ہے؟۔
کیا قادیانی عقیدہ میں شامل ہے کہ ایسے شخص کا جنازہ جو مرزا غلام احمد قادیانی پر یقین نہیں رکھتے۔ بے فائدہ ہے؟۔
کیا قادیانی اور غیر قادیانی میں شادی جائز ہے؟۔
قادیانی فرقہ کے نزدیک امیر المومنین کی خصوصیت کیا ہے؟۔
ب کا حضرت جالندھریؒ کی جانب سے جواب الجواب
... بندہ حضور والا کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا ضروری والا نے موجودہ انکوائری میں مرزائیت کے متعلق نفس مسئلہ کے بھی ۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے عالی مرتبت انسان اس طرف یا ہے کہ جن حالات میں تحقیق ہو رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ مسئلہ کے سکیں گے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہماری حکومت بھی ایک فریق کی حیثیت ہ سے اہل اسلام کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہوسکتیں جو ان کو ہونی چاہئے ورت میں جبکہ علماء کرام ایک طرح قابل مواخذہ سمجھے جارہے ہیں ۔ کی تحقیق شروع ہوگئی ہے۔ گزارش ہے کہ جناب والا نے مرزائیوں سے جن سوالوں کا تحریری میں نے ان سوالات اور ان کے جوابات کو غور سے پڑھا۔ معلوم ہوتا سرے سے دیا ہی نہیں گیا۔ اس میں دھوکہ دہی اور تلبیس سے کام لیا
٨
گیا ہے۔ اس لئے میں جواب الجواب پیش خدمت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ قبل اس کے کہ نمبر وار جواب عرض کروں چند تمہیدی معروضات پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں۔
- ١....... سرور کائناتﷺ نے اپنے بعد ہر "مدعی نبوت" کو دجال، کذاب کے
الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب میں نے یہ حدیث پڑھی تو حیرت ہوئی کہ جس نبی کی صفت انك لعلى خلق عظیم! ہے۔ انہوں نے ایسے سخت الفاظ کیوں استعمال کئے۔ لیکن جب میں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین وغیرہ کی کتب پڑھیں اور ان میں کذب بیانی، دھوکہ دہی اور دجل و تلبیس کا مظاہرہ دیکھا تو معا خیال آیا کہ حضورﷺ نے گویا مرزا قادیانی کو دیکھ کر اظہار حقیقت کے لئے "دجال" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ (اس کے دجل کی مثالیں طوالت کلام کے خوف سے ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا)
- ٢....... "کلام" میں اصل مقصود الفاظ نہیں ہوتے۔ بلکہ مفہوم کلام ہوتا ہے۔ اگر
کوئی قاصد متکلم کے کلام کے الفاظ بدل دے اور مفہوم کلام کو باقی رکھے تو قاصد کذاب اور خائن تصور نہیں ہوتا۔ نہ اس سے نظام عالم تباہ و برباد ہوتا ہے۔ لیکن اگر کلام کا مفہوم بدل دیا جائے تو نہ شریعت باقی رہتی ہے، نہ دین، نہ نظام سلطنت قائم رہ سکتا ہے اور نہ سیاست مدن ۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نصوص کے الفاظ باقی رکھے۔ مگر مفہوم بدل دیا ۔ ایسے انسان کو شرع میں زندیق کہا جاتا ہے۔ زندیق کا کفر، کافر معاند کے کفر سے بھی زیادہ شدید سمجھا جاتا ہے۔
- ٣....... "قرآن پاک" کی تعریف کتب اصول میں اس طرح کی گئی ہے۔
هو اسم للنظم والمعنى جميعا، نور الانوار ص ١٠، بحث اطلاق نظم القرآن! پھر قرآن الفاظ اور معانی کے مجموعہ کا نام ہے۔ یعنی جیسا کہ الفاظ کا انکار کفر ہے۔ ایسے ہی معانی (متواترہ) کا انکار بھی کفر ہے۔ یعنی نصوص دین کے الفاظ کو تسلیم کرنا اور مفہوم متواتر کو بدل دینا صریح کفر ہے۔ اگر کوئی شخص اقیمو الصلوٰۃ! کا اقرار کرے اور اس کا مفہوم فوجی پریڈ مراد لے۔ یا زکوٰۃ کی فرضیت کو تسلیم کرے۔ مگر اس سے بدن کی صفائی مراد لے۔ یا فرضیت جہاد کو مانے۔ مگر اس سے صرف ترک لذات مراد لے۔ اور اسی طرح حضورﷺ کو خاتم النبیین تو مانے مگر بجائے آخری نبی مراد لینے اور آئندہ دروازہ نبوت بند سمجھنے کے اجزائے نبوت اور تسلسل نبوت اس سے مراد لے کر خاتم النبیین کے اصل مفہوم متواتر کا انکار کر دے۔ الغرض اس طرح کسی قانون کا منشا بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ اسلامی قانون میں یہ شخص زندیق کہلاتا ہے اور
٩
کافر معاند سے بھی زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔
- ٤....... مرزا قادیانی نے نہ صرف آیت خاتم النبیین کا مفہوم بدل دیا۔ بلکہ
قرآن کریم کی بہت سی آیات بدل کر اپنے پر چسپاں کیں۔ مثلاً:
- الف ....... قرآن پاک کی آیت ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة ! میں
مرزا قادیانی نے بدر سے مراد مقام بدر کے بجائے چودھویں صدی مراد لی ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧٣، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ب ....... واتخذو امن مقام ابراهيم مصلی! سے مراد مرزا قادیانی نے اپنا
نام مراد لیا ہے اور کہا ابراہیم سے بھی میں ہی مقصود ہوں۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)
یا آدم اسکن انت وزوجک الجنة ! میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ یہ آیت بھی میرے لئے نازل ہوئی ہے۔ آدم سے غلام احمد قادیانی اور جنت سے مراد میری بہن جنت بی بی ہے۔
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
الغرض مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن پاک کی آیات بدل کر ان کا مفہوم مسخ کر کے خدا کی مقدس کتاب کا وہ حلیہ بگاڑا ہے کہ اسلام کی روح کانپ اٹھی۔
- ٥ ....... ایک شخص کی نسبت ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنے دعویٰ نبوت میں کاذب
ہے۔ پھر ہم یہ کیوں نہ سمجھیں کہ وہ ضرورت کے لئے اور بھی جھوٹ بول لیتا ہوگا۔ اسی لئے تو حضور ﷺ نے ایسے لوگوں کی نسبت کذاب کا لفظ فرمایا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی اکثر کتابیں جھوٹ اور کذب کے مواد سے بھری پڑی ہیں۔ یہاں مجھے صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ مرزا قادیانی کو جب کبھی محسوس ہوا کہ اس کے دعویٰ نبوت سے لوگ مشتعل ہورہے ہیں تو اس نے دعویٰ نبوت سے اس طرح انکار کردیا کہ گویا یہ دعویٰ اس پر ایک الزام ہے۔ پھر شرعی اور غیر شرعی کی تقسیم سے بھی انحراف کرلیا۔ اس کے ثبوت کے لئے جامع مسجد دہلی کی تقریر اور مباحثہ لاہور مابین غلام احمد قادیانی ومولوی عبدالحکیم کے راضی نامہ کی عبارت منجانب غلام احمد قادیانی کافی ہے۔ چنانچہ اس نے لکھا کہ:
’’سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں
١٠
نا زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی نے نہ صرف آیت خاتم النبیین کا مفہوم بدل دیا۔ بلکہ ت کی آیات بدل کر اپنے پر چسپاں کیں۔ مثلاً:
قرآن پاک کی آیت ولقد نصرکم الله ببدر وانتم اذلۃ ! میں در سے مراد مقام بدر کے بجائے چودھویں صدی مراد لی ہے۔
( خطبہ الہامیہ ص ٢٧٣، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
واتخذوا من مقام ابراهيم مصلیٰ! سے مراد مرزا قادیانی نے اپنا م ابراہیم سے بھی میں ہی مقصود ہوں۔
( اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧ ص ٤٢١ )
م السكن انت وزوجك الجنۃ ! میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ یہ لئے نازل ہوئی ہے۔ آدم سے غلام احمد قادیانی اور جنت سے مراد میری بہن
( تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩ )
مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن پاک کی آیات بدل کر ان کا مفہوم مسخ ا کتاب کا وہ حلیہ بگاڑا ہے کہ اسلام کی روح کانپ اٹھی۔
ایک شخص کی نسبت ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنے دعویٰ نبوت میں کاذب نہ سمجھیں کہ وہ ضرورت کے لئے اور بھی جھوٹ بول لیتا ہوگا۔ اسی لئے تو لوگوں کی نسبت کذاب کا لفظ فرمایا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی اکثر کتابیں مواد سے بھری پڑی ہیں۔ یہاں مجھے صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانا جب کبھی محسوس ہوا کہ اس کے دعویٰ نبوت سے لوگ مشتعل ہو رہے ہیں تو سے اس طرح انکار کر دیا کہ گویا یہ دعویٰ اس پر ایک الزام ہے۔ پھر شرعی اور انحراف کرلیا۔ اس کے ثبوت کے لئے جامع مسجد دہلی کی تقریر اور مباحثہ دیانی و مولوی عبدالحکیم کے راضی نامہ کی عبارت منجانب غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ:
مام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما ث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں
١٠
تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔‘‘
( تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٩٥ ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٢)
اس ضمن میں صدر انجمن ربوہ (موجودہ چناب نگر) کے جواب سوال نمبر ٥ کے تحت ایک حوالہ قابل غور ہے۔ اسی طرح ١٩٠١ء میں تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کا جواب ص ١٥ میں مولانا عبدالماجد خانپوری لکھتے ہیں کہ:
’’تو نہایت تنگ ہو کر مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کر لیں۔ تب مرزا قادیانی نے ان کو کہا کہ صبر کرو۔ میں صلح کرتا ہوں اگر صلح ہو گئی ۔‘‘
یہاں یہ الفاظ قابلِ غور ہیں کہ جب کسی نبی پر اس کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو کیا کسی نبی نے مخالفین سے کبھی صلح کی کوشش کی؟ صلح میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ اخذ اور عطا ۔ یعنی کچھ لینا اور کچھ دینا۔ کوئی نبی اپنے دعویٰ میں ایسی لچک کر سکتا ہے جس وجہ سے صلح ہو جائے؟۔
مرزا قادیانی نے دراصل ایسے موقع پر دعویٰ نبوت سے انکار کر کے عوام کی مخالفت کو کم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ عبداللہ عرب ایک قادیانی نے بغداد جا کر رہائش اختیار کی۔ اس کی نسبت وہاں کی حکومت نے تفتیش شروع کی۔ اس نے اپنے باپ اور بھائی کا نام غلط لکھایا ( یہ قادیانی غالباً وہاں جاسوسی کے لئے گیا ہو گا۔ جیسے قادیانی بیرونی ممالک میں تبلیغ کے پردے میں برطانوی جاسوسی کا کام سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ )
اس قادیانی کے کاغذات برائے تصدیق قادیان آئے۔ عبداللہ عرب نے اپنے باپ کا نام نورالدین اور بھائی کا نام محمد صادق لکھا تھا۔ اس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ چونکہ وہ قادیانی ہے۔ اس لئے اس سے متعلق کاغذات کی تصدیق کرا دینی چاہئے۔ عبداللہ عرب نے چونکہ نورالدین سے طب پڑھی ہے۔ اس لئے وہ اس کا باپ ہوا اور قادیانی چونکہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ لہذا محمد صادق اس کا بھائی ہوا۔ چنانچہ اس طرح ان کاغذات کی جھوٹی تصدیق کرائی گئی۔
( واقعہ مندرجہ کتاب ذکر حبیب مؤلفہ محمد صادق قادیانی ص ٤٦ )
دوسرا واقعہ ..... ضلع لائل پور میں ایک قادیانی الیکشن میں امیدوار تھا۔ علاقہ کے لوگوں نے اس کے مرزائی ہونے کی وجہ سے اس کی مخالفت کی ۔ جب اسے اپنی کامیابی نظر نہ آئی تو اس نے بڑے مجمع میں کہا کہ میں مرزائی نہیں ہوں اور کہا کہ مرزا قادیانی کے متعلق میری یہ رائے
١١
ہے کہ میں اس کو کافر سمجھتا ہوں۔ لوگوں نے اس کی باتوں کا یقین کر کے اسے ووٹ دے دیئے۔ جب الیکشن ہو گیا تو پھر قادیانی کہلانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے جب اس سے سوال کیا کہ تو نے جھوٹ کیوں بولا تھا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے مرزائی ہونے سے انکار کیا تھا قادیانی ہونے سے تو انکار نہیں کیا تھا۔ جب اس سے دریافت کیا گیا کہ مرزا قادیانی کے متعلق جو الفاظ کہے تھے ان سے مراد؟۔ جواب میں کہا توبہ! میں نے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے متعلق کب کہا تھا۔ مرزا سے میری مراد تو ”مرزا صاحبان“ والے سے تھی۔
عالی جاہ! ان جوابات میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ اصل سوالات کا قطعاً جواب نہیں دیا گیا ہے۔ ہر سوال کے جواب میں دجل و تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔
اب میں نمبر وار جواب الجواب عرض کرتا ہوں۔ صدر انجمن ربوہ کے جواب کی عبارت کو ...... ”مرزائیوں کا جواب“ ...... اور اپنے جواب کو ...... ”ہمارا جواب“ ...... عرض کر کے عرض کروں گا۔
سوال نمبر ١...... انکوائری رپورٹ
جو مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتے۔ کیا وہ مومن اور مسلمان ہیں؟۔
مرزائیوں کا جواب
مسلم نام امت محمدیہ کے افراد کا ہے۔ ایمان دراصل اس روحانی اور قلبی کیفیت کا نام ہے جس کو دوسرا نہیں جان سکتا۔ خدا تعالیٰ ہی اس سے واقف ہوتا ہے۔ باقی رہا مومن۔ سو کسی کو مومن قرار دینا اصل خدا تعالیٰ کا کام ہے۔
ہمارا جواب
اس جواب میں مومن کی نسبت یہ لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کو مومن ہونے کا علم نہیں۔ یہ تحریر کر کے اپنا عقیدہ چھپالیا ہے۔ اسی کا نام دجل ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص دل سے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کو نہ مانے تو وہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔ جیسے منافق۔ گویا نماز وغیرہ پڑھنے کے باوجود ہم اسے مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ دل کا حال معلوم نہیں۔ اگر زبان کے اقرار سے شرعی حکم لگائیں گے تو مومن پر بھی حکم لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس کے الفاظ اس قلبی کیفیت اور یقین کا پتہ دیں جو مومن کے لئے ضروری ہے۔ یہاں یہ کہہ کر جواب سے گریز کرنا کہ مومن کہنا صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ صحیح نہیں ہے۔
١٢
کافر سمجھتا ہوں۔ لوگوں نے اس کی باتوں کا یقین کر کے اسے ووٹ دے ہو گیا تو پھر قادیانی کہلانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے جب اس سے سوال کیا کیوں بولا تھا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے مرزائی ہونے سے انکار کیا تھا کا انکار نہیں کیا تھا۔ جب اس سے دریافت کیا گیا کہ مرزا قادیانی کے متعلق سے مراد؟۔ جواب میں کہا تو بہ! میں نے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) مرزا سے میری مراد تو ”مرزا صاحباں“ والے سے تھی۔ ان جوابات میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ اصل سوالات کا قطعا جواب سوال کے جواب میں دجل و تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔ نمبروار جواب الجواب عرض کرتا ہوں۔ صدر انجمن ربوہ کے جواب کی یوں کا جواب“...... اور اپنے جواب کو ...... ”ہمارا جواب“...... عرض کر کے
ائری رپورٹ
مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتے۔ کیا وہ ؟۔
امت محمدیہ کے افراد کا ہے۔ ایمان دراصل اس روحانی اور قلبی کیفیت کا نام جان سکتا۔ خدا تعالیٰ ہی اس سے واقف ہوتا ہے۔ باقی رہا مومن ۔ سو کسی کو خدا تعالیٰ کا کام ہے۔
میں مومن کی نسبت یہ لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کو مومن ہونے کا علم نا عقیدہ چھپا لیا ہے۔ اسی کا نام دجل ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص دل سے ﷺ کو نہ مانے تو وہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔ جیسے منافق ۔ گویا نماز وغیرہ سے مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ دل کا حال معلوم نہیں۔ اگر زبان کے میں گے تو مومن پر بھی حکم لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس کے الفاظ اس قلبی دیں جو مومن کے لئے ضروری ہے۔ یہاں یہ کہہ کر جواب سے گریز خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ صحیح نہیں ہے۔
١٢
- ........١........ بہاولپور کے مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح میں جو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی
حیثیت رکھتا تھا اور جس میں قادیانی جماعت نے بطور پارٹی حصہ لیا تھا۔ اس میں مومن کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ: ”جو اللہ تعالیٰ، فرشتوں ، کتابوں ، رسولوں ، پر بعث بعد الموت اور تقدیر پر یقین رکھے۔“
(فیصلہ مقدمہ بہاول پور ص ٢٦ طبع اول )
- ........٢........ گویا ایمان قلبی کیفیت کا نام نہیں قلبی تصدیق کا نام ہے جس کی زبان
ترجمانی کرتی ہے کہ: ”اٰمنت بالله وملائكته وكتبه و رسوله واليوم الآخر والقدر خيره و شره من الله تعالى والبعث بعد الموت “ یعنی کہ ایمان لایا میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔ ﴿﴾
- ........٣........ مسلم امت کے افراد کا نام بتایا گیا ہے۔ اگر مسلم انسان کا مذہبی وصف
نہیں ۔ بلکہ صرف نام ہے تو نام سے واقعی کوئی شخص محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے صالح محمد نامی کوئی شخص نماز ترک کرے اور علم الدین جہالت کی وجہ سے اور روشن دین، اندھا ہونے سے اپنے ان ناموں سے محروم نہیں کئے جاسکتے۔ لیکن اگر نام نہیں بلکہ ایک مذہبی وصف ہے تو جس طرح ہندو سکھ ہونے کے بعد ہندو نہیں رہتا۔ عیسائی اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی نہیں رہتا۔ پارسی یہودی ہونے کے بعد پارسی نہیں کہلاتا۔ ٹھیک اسی طرح مسلمان حضور ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کا اقرار کرنے کے بعد مسلمان نہیں رہتا۔ الغرض جس نبی و رسول کا ماننا کسی مذہب میں ضروری ہے۔ اس کے انکار کے بعد وہ شخص یقیناً مذہبی وصف سے محروم سمجھا جائے گا۔ اب اگر مسلمان ہونے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے تو قادیانی خلیفہ کا سیدھا جواب یہ تھا کہ ” ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے منکر مسلمان نہیں ہیں۔“ گویا انجمن احمدیہ کی طرف سے اس پہلو کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔
مرزائیوں کا جواب
”مندرجہ بالا تشریح کے مطابق ...... اس نام سے (مسلم) محروم نہیں ہو سکتا ۔ ظاہر ہے کہ اس تشریح کے مطابق اور قرآن کریم کی آیت هو سمّکم المسلمین ! کے تحت کسی شخص کو بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے کی وجہ سے غیر مسلم نہیں کہا جا سکتا۔
(قادیانی جواب ص٢)
ہمارا جواب
یہ جواب کہ مندرجہ بالا تشریح میں مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے کو مسلم کے نام سے
١٣
محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً اگر مسلم کسی کا نام قرار دیا جائے تو جواب درست ہے اور تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اسے مذہبی وصف قرار دیا جائے۔ جیسا کہ عدالت کا منشا ہے تو پھر ان کا کیا عقیدہ ہے؟۔ اس کا جواب ندارد۔ جواب میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی بجائے پہلے ایک غلط تشریح بیان کر دی۔ پھر اس کی روشنی میں جواب دے دیا۔ عقیدہ بھی نہ بدلا اور جواب بھی تحریر کر دیا گیا۔
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
مرزائیوں کا جواب
ممکن ہے کہ ہماری سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہمارا جواب
- ١....... مرزا قادیانی سے لے کر ایک ادنیٰ قادیانی تک دنیا کے ٧٥ کروڑ
مسلمانوں کو خارج از اسلام اور کافر کہتے آئے ہیں۔ مرزائیوں کو خطرہ تھا کہ آج اگر عدالت میں صاف اقرار کر لیا تو ساری دنیا پر کھل جائے گا کہ مرزائی مسلمان نہیں۔ اس لئے اصل سوال کا جواب گول کر دیا۔ اس سوال کا جواب دینا کہ وہ الفاظ ہماری مخصوص اصطلاحات ہیں اور وہ عبارتیں قادیانیوں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہیں۔ یہ صریح کذب ہے۔
حالانکہ ان عبارتوں میں صریحاً مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔
- ٢....... کوئی شخص دین اور دنیاوی اصطلاحات اپنی طرف سے وضع کرے اور
ان کے مطابق معاملات کرنا چاہے اور کسی تنازعہ کے وقت یہ کہہ دے کہ یہ میری ذاتی اصطلاحات ہیں۔ کیا کوئی عدالت اس کی ان باتوں کو تسلیم کرے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں آج نماز ادا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق اور پھر اس نے نماز بھی ادا نہ کی۔ اس کی بیوی نے مطلقہ ہو جانے کا دعویٰ کر دیا۔ جب اس شخص سے دریافت کیا جائے تو وہ جواب دے کہ میری اصطلاح میں نماز فوجی پریڈ کو کہتے ہیں اور میں آج پریڈ میں شامل ہوا تھا۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت اس جواب کو تسلیم کر لے گی؟۔
مرزائیوں کا جواب
بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے والا مسلمان ہی کہلائے گا۔
١٤
بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتابوں میں مسلمان کہہ کر خطاب کیا ہے۔ پھر اس طرح موجودہ امیر جماعت احمدیہ بھی ان کو مسلمان کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں۔
ہمارا جواب
اگر مسلمان کے لفظ سے مراد مذہبی صفت نہیں۔ بلکہ یہ قوم کا نام ہو گیا ہے تو یہ کس طرح دلیل بن سکتی ہے کہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے والے لوگوں کو بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ دراصل غیر قادیانی کو مرزائی جب مسلمان کہتے ہیں تو ان کے ہاں وہ شخص مراد ہوتا ہے جو مسلمان کہلاتا ہے۔ نہ کہ جو فی الحقیقت مسلمان ہے۔ اس کے ثبوت میں آئندہ حوالہ جات درج کئے جائیں گے۔
نوٹ...... چونکہ کسی شخص کو عقیدہً غیر کافر یا مسلمان کہنا دونوں ہم معنی ہیں۔ اس لئے یہ عبارات قادیانی حضرات کے سوال نمبر ١ کے جواب کی تردید میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ سوال نمبر ٢ کے جواب کی تنقید کے بعد عرض کروں گا۔
سوال نمبر ٢...... کیا ایسا شخص کافر ہے؟
نوٹ...... گویا عدالت کی طرف سے سوال یہ ہوا کہ سوال نمبر ١ کے مطابق جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ کیا وہ کافر ہے؟۔
مرزائیوں کا جواب
کافر کے معنی عربی زبان میں نہ ماننے والے کے ہیں۔ پس جو شخص کسی چیز کو نہیں مانتا۔ اس کے لئے عربی زبان میں کافر کا لفظ استعمال ہوگا۔
ہمارا جواب
سوال دراصل دینی اور شرعی اصطلاح کا ہے۔ سوال سے لغوی معنی خارج ہیں۔ لغت کے اعتبار سے تو بعض جگہ کفر کرنا لازمی ہوتا ہے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے۔ ”وقد أمروا ان یکفروا بہ . نساء: ٦٠ “ اس کا نام خلط مبحث ہے کہ کافر بھی کہہ دیا جائے اور مورد اعتراض بھی نہ ہونے پائے۔ اس وقت ایسی بات کہہ دی جائے کہ بعد میں اس کی تاویل ہو سکے اور اعلان کر دیا جائے کہ ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم تو کافر سمجھتے ہیں۔
١٥
۔ یقیناً اگر مسلم کسی کا نام قرار دیا جائے تو جواب درست ہے اور تسلیم کیا اسے مذہبی وصف قرار دیا جائے۔ جیسا کہ عدالت کا منشا ہے تو پھر ان کا کیا جواب ندارد۔ جواب میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی بجائے پہلے ایک غلط پھر اس کی روشنی میں جواب دے دیا۔ عقیدہ بھی نہ بدلا اور جواب بھی تحریر
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
کہ ہماری سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
مرزا قادیانی سے لے کر ایک ادنیٰ قادیانی تک دنیا کے ٧٥ کروڑ اسلام اور کافر کہتے آئے ہیں۔ مرزائیوں کو خطرہ تھا کہ آج اگر عدالت میں ساری دنیا پر کھل جائے گا کہ مرزائی مسلمان نہیں۔ اس لئے اصل سوال کا ں سوال کا جواب دینا کہ وہ الفاظ ہماری مخصوص اصطلاحات ہیں اور وہ طب کر کے لکھی گئی ہیں۔ یہ صریح کذب ہے۔
عبارتوں میں صریحاً مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔
کوئی شخص دین اور دنیاوی اصطلاحات اپنی طرف سے وضع کرے اور ت کرنا چاہے اور کسی تنازعہ کے وقت یہ کہہ دے کہ یہ میری ذاتی وئی عدالت اس کی ان باتوں کو تسلیم کرے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ روں تو میری بیوی کو تین طلاق اور پھر اس نے نماز بھی ادا نہ کی۔ اس کی کا دعویٰ کر دیا۔ جب اس شخص سے دریافت کیا جائے تو وہ جواب دے نماز فوجی پریڈ کو کہتے ہیں اور میں آج پریڈ میں شامل ہوا تھا۔ کیا دنیا کی کو تسلیم کر لے گی؟۔
حمدیہ کو نہ ماننے والا مسلمان ہی کہلائے گا۔
١٤
مرزائیوں کا جواب
ہمارے نزدیک آنحضرتﷺ کے بعد کسی مامور من اللہ کے انکار کے ہرگز یہ معنی نہ ہوں گے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کے منکر ہو کر امت محمدیہ سے خارج ہیں یا یہ کہ مسلمانوں کے معاشرہ سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔
ہمارا جواب
- .......١ اس جواب میں مرزائیوں نے جو دجل کیا ہے شاید آج تک کسی نے ایسا
نہ کیا ہو۔ سوال تو یہ تھا کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی (مامور من اللہ) نہ ماننے والا شرعاً کافر ہے؟۔ انہوں نے اس کا تو جواب نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کسی مامور من اللہ کے انکار کے یہ معنی نہیں کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کا منکر ہو کر امت محمدیہ سے خارج ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی تمہارے نزدیک امت محمدیہ کے لئے نبی رسول اور مامور من اللہ ہیں یا نہیں؟۔ اور اس مامور من اللہ کا انکار امت محمدیہ سے خروج کا سبب ہوگا یا نہیں؟۔ اس کا جواب ذکر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سوال اسی پہلو کی بناء پر تھا۔
- .......٢ سوال میں درج ہے کہ کیا ایسا شخص کافر ہے۔ جواب دیا کہ امت محمدیہ
سے خارج نہیں۔ جواب میں صاف صاف اور واضح الفاظ میں کیوں نہ کہہ دیا کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا ہے وہ کافر نہیں ہے؟۔ بات صاف ہو جاتی اور ابہام دور ہو جاتا۔
ایسا کیوں نہ کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ایسا شخص نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(کلمۃ الفصل نمبر ٣،٢ جلد نمبر ١٤ ص ١١٠)
مگر آج یہ عقیدہ قادیانی ظاہر نہیں کریں گے۔ تا کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ درست تسلیم نہ کیا جائے۔ اگر مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانے کا مطالبہ درست تسلیم کر لیا جائے تو مرزائیت ختم ہو جائے گی۔ جواب میں ایک دجل تو وہ کیا جو نمبر ١ میں درج کیا جا چکا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ سوال کے جواب میں کافر ہونا یا نہ ہونا ذکر نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کی جگہ امت محمدیہ سے خارج ہونا ذکر کیا ہے۔ ایسا کیوں کیا؟۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک امت اجابت اور دوسری امت دعوت۔ حضورﷺ کے تشریف لانے کے بعد قیامت تک تمام بنی نوع انسان، اہل اسلام، مشرک، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی سب حضورﷺ کی امت دعوت ہیں۔ اب ان کا یہ کہنا کہ امت محمدیہ سے خارج نہیں۔ دراصل اس
سے قادیانیوں کی مراد امت دعوت ہے۔ تو اس طرح قادیانیوں نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی بھی نہ کی اور انکوائری کورٹ کے سامنے اپنے اصل عقیدہ کا اظہار بھی نہ ہونے دیا۔ مرزائیوں نے یہاں مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک عبارت کا حوالہ بھی دیا ہے کہ:
"ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر ہے کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کو ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول ﷺ نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
ہمارا جواب
یہاں اس عبارت کو نقل کرنے کا مقصد ظاہر نہیں کیا گیا۔ بلکہ عبارت کو بلا تبصرہ اور بلا استدلال چھوڑ کر دوسری بات شروع کر دی ہے۔ عالی مرتبت جج صاحبان کو اس طرف خصوصی توجہ فرمانی چاہئے کہ قادیانیوں نے تکفیر کے عقیدہ کا ذکر اشارتاً تو کر دیا ہے۔ مگر اس کی کوئی تصریح نہیں کی۔ تاکہ آئندہ یہ کہا جاسکے کہ ہم نے تو مرزا قادیانی کے منکر کی تکفیر کر دی تھی۔ سوال کے اصل اور صحیح جواب کے لئے ضروری تھا کہ واضح الفاظ میں اس طرح کہا جاتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جو شخص نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں مانتا وہ کافر ہے:
- ١....... مرزا قادیانی کا منکر اللہ اور رسول کریم ﷺ کا منکر ایک جیسے کافر ہیں۔
- ٢....... مرزا غلام احمد قادیانی کے منکر اس لئے کافر ہیں کہ اس کے انکار سے خدا
تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار لازم آتا ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے منکر اس لئے بھی کافر ہیں کہ انہوں نے مرزا قادیانی کو کافر کہا اور وہ کفر بموجب حدیث مسلمانوں پر واپس لوٹ آیا۔ یہ کہنا بھی غلط ثابت ہوا کہ چونکہ مرزا قادیانی کو مسلمانوں نے پہلے کافر کہا تھا۔ اس لئے اس کے جواب میں ایسے لوگوں کو کافر کہا گیا ہے۔ اللہ دتہ قادیانی مربی نے مرزا قادیانی کے انکار کرنے والے کے کفر پر حقیقت الوحی ص ١٧٩ کی مذکورہ بالا عبارت سے استدلال کیا ہے۔
(مباحثہ راولپنڈی ص ٢٧٥)
- ٣....... یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر کسی شخص نے مرزا غلام احمد
قادیانی کو کافر کہا یا بعض لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہیں تو ان کا یہ کفر حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے سبب سے ہوگا اور مرزا قادیانی اس کی جماعت نے جس کو کافر کہا وہ کفر مرزا قادیانی کی نبوت کے باعث ہوگا۔
١٧
- ٤....... ہر دو سوالات پر تنقید کے بعد میں مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے
متعدد افراد کی اپنی عبارتیں نقل کرتا ہوں۔ جن سے یہ ثابت ہوگا کہ ان کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ دنیا کے ٧٥ کروڑ مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، مامور من اللہ اور مسیح موعود نہیں مانتے اور اس کو اپنے دعاوی میں سچا نہیں جانتے وہ مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ وہ لوگ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
یہاں سب سے پہلے ایک ایسی عبارت درج کی جاتی ہے جس سے یہ معلوم ہوگا کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کے متعلق اپنی تحریرات میں صاف طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کافر نہیں ہے۔ یا وہ کافر ہے۔ دونوں باتوں کو قطعی صورت میں ظاہر کیا جاتا۔ تاکہ ابہام دور ہو جاتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
- ٥....... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو جس عبارت میں کافر
کہا ہے۔ اس عبارت کو بھی پوری طرح نقل نہیں کیا۔ بلکہ اس میں بھی دجل اور فریب سے کام لیا گیا ہے۔ پوری عبارت یوں ہے کہ:
”کفر دو قسم پر ہے ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کے باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسولﷺ نے تاکید فرمائی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
حقیقت الوحی کی مذکورہ بالا عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حسب ذیل باتیں بیان کی ہیں کہ:
- ١....... مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو ماننے اور سچا جاننے کی خدا تعالیٰ اور رسول
کریمﷺ نے تاکید فرمائی۔
- ٢....... اس لئے جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا مسیح موعود نہیں مانتا۔ وہ
دراصل خدا تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کو نہیں مانتا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
- ٣....... اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل
١٨
ہیں۔
جناب عالی ! مذکورہ بالا عبارت سے یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کی مراد یہ نہیں کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ مسلمان کا لفظ اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم کا نام ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب ہندو، عیسائی اور یہودی سے تمیز کرنے کے لئے مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ چند عبارات مندرجہ ذیل ہیں:
- ١...... مسلمان مسلمان نہیں
مسلمان را مسلمان باز کردند
اس الہامی شعر میں اللہ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے تو لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ اب وہ خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ پھر ان کو نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔’
(کلمتہ الفصل، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ص١٤٣ نمبر ٣ ج١٤)
- ٢...... مسلمان کا لفظ
”اس جگہ ایک شبہ بھی پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) اپنے منکروں کو حسب حکم الہامی اسلام سے خارج سمجھتے تھے تو آپ نے ان کے لئے اپنی بعض آخری کتابوں میں مسلمان کا لفظ کیوں استعمال فرمایا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو نصاریٰ کے نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ ضرور کیا گیا اور بہت دفعہ کیا گیا۔ مگر وہاں معترض نے اعتراض نہ کیا جب وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیم سے دور جا پڑے ہیں تو ان کو نصاریٰ کیوں کہا جاتا ہے؟۔ پھر یہاں اب یہ اعتراض کیسا؟۔ اصل میں بات یہ ہے کہ عرف عام کی وجہ سے ایک نام کا اختیار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز اسم با مسمیٰ ہو گئی ہے۔ مثلاً دیکھو اگر ایک شخص سراج دین نامی مسلمان سے عیسائی ہو جائے تو اسے پھر بھی سراج دین ہی کہیں گے۔ حالانکہ عیسائی ہونے کی وجہ سے وہ اب سراج دین نہیں رہا۔ بلکہ کچھ اور بن گیا ہے۔ لیکن عرف عام کی وجہ سے اس نام سے پکارا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی بعض اوقات اس بات کا
١٥
خیال آیا کہ میں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھا جائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ۔“ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہوا اسے مدعی اسلام سمجھا جائے۔ نہ کہ حقیقی مسلمان ۔ پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ (مرزا قادیانی) نے جہاں کہیں بھی غیر احمدی کو مسلمان کہہ کر پکارا ہے۔ وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ورنہ حسب حکم الٰہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے ۔“
(کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ١٢٦، مئی ١٩١٥ء جلد ١٤، نمبر ٣)
- ٣....... ”یاد رکھنا چاہئے کہ ہم جہاں غیر احمدیوں کے لئے ”مسلمان“ کا لفظ
استعمال کرتے ہیں ۔ اس سے مراد حسب پیش گوئی نبی کریم ﷺ اسمی اور رسمی ہوتی ہے۔ کیونکہ آخر وہ نہ تو ہندو ہیں اور نہ عیسائی اور نہ بدھ کا کلمہ پڑھتے ہیں ۔ قرآن شریف پر عمل کے مدعی ضرور ہیں کہ ہم انہیں اس نام سے پکاریں جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے ہیں ۔ یہودیوں کے لئے الذین ہادوا ! قرآن مجید میں آتا ہے اور عیسائیوں کے لئے انصار اللہ ! اور بعض اوقات عیسائی اور موسوی بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ وہ ہدایت یافتہ اور نہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متبعین۔ پس مسلمان کا لفظ بلحاظ قوم ہے۔ شرعی فتویٰ کسی نبی کے انکار سے لازم آتا ہے۔ وہ اور بات ہے ۔“
(اخبار الفضل قادیان، جلد ١٢ نمبر ٢٥، مورخہ ١١؍ اپریل ١٩٢٥ء)
نوٹ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا نہ ماننے والوں کی تکفیر پر اللہ دتہ مشہور قادیانی نے جو راولپنڈی کے مناظرہ میں قادیانی جماعت کا نمائندہ تھا ۔ مرزا قادیانی کے چار الہام ایسے پیش کئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے:
- ا....... وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ ۔
- ب....... قل جاء کم نور من اللہ فلا تکفروا ان کنتم مؤمنین ۔
- ج....... قل یا ایہا الکفار انی من الصادقین ۔
- د....... ویقول الذین کفروا لست مرسلا ۔
(مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٠)
”اس جگہ دائرہ اسلام کے متعلق یاد رکھنا چاہئے ۔ ایک دائرہ اسلام حقیقی ہے اور ایک دائرہ اسلام محض رسمی ۔ پس حضرت مسیح موعود کے منکر حقیقی دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے ۔ نہ کہ رسمی دائرہ اسلام سے۔ اس لئے ہم ان کو مسلمان کے نام سے یاد کرتے ہیں اور کریں گے۔
٢٠
کیونکہ وہ خود اسلام کے دعویدار ہیں۔"
(مباحثہ راولپنڈی ص ٢٣٩)
مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ مرزائی جب مسلمان کو مسلمان کہہ کر پکارتے ہیں تو ان کی مراد صرف رسمی مسلمان ہوتے ہیں۔
مرزائیوں کا جواب
یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کے فتوؤں میں بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ (مرزا قادیانی) یا آپ کی جماعت کی طرف سے ابتداء نہیں ہوئی۔
ہمارا جواب
قادیانی گروہ نے یہاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام کو جوابی طور پر کافر کہا ہے۔ کافر کہنے کی ابتداء ان کی طرف سے نہیں ہوئی۔ علاوہ ازیں انہوں نے ایک حدیث سے یہ ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کی ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کافر کہے اور دوسرا کفر کا مستحق نہ ہو تو وہی کفر اس کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ قادیانیوں کا یہ استدلال مندرجہ وجوہ کی بنا پر درست نہیں سمجھا جاسکتا۔
اگر واقعی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت نے مسلمانان عالم کو غیر مسلم یا کافر صرف اس لئے کہا ہے کہ بعض علماء نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ تو جواب میں صرف اسی شخص کو کافر کہنا چاہئے تھا جس نے مرزا غلام احمد کو کافر کہا۔ نہ کہ دنیا کے پچھتر کروڑ مسلمانوں کو اور ساتھ ہی کفر کی وجہ یہ بتانی چاہئے تھی کہ چونکہ غیر احمدی ایک شخص کو ناحق کفر کا الزام دینے کی وجہ سے کافر ہو گئے ہیں۔ لہٰذا ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔
- الف ...... مذکورہ بالا نقل شدہ عبارتوں میں اس امر کی تصریح ہے کہ قادیانیوں نے
تمام مسلمانوں کو بالعموم کافر کہا ہے۔ نہ کہ ان کی تکفیر کرنے والوں کو نیز مسلمانوں کی تکفیر کے سبب میں انہوں نے کسی جگہ بھی جوابی کفر کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی نبوت، دعوت اور ماموریت کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر کہا ہے۔ (ازراہ کرم مذکورہ بالا حوالہ جات میں سے بالخصوص حوالہ نمبر ٢ کو ایک دفعہ پھر غور سے دیکھ لیا جائے۔)
- ب ...... جہاں تک حدیث کے ذکر کا تعلق ہے کہ اگر کسی شخص نے دوسرے
انسان کو کافر کہا اور وہ کفر کا اہل نہ ہو تو کافر کہنے والے کا کفر قائل پر ہی لوٹ آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا گناہ اس پر پڑے گا جس نے کسی کو غلط کافر کہا۔ حدیث میں باء کا لفظ ہے۔ یعنی اس کا اپنا کہا ہوا اس پر پڑ جائے گا۔ نہ یہ کہ اب اس کو دوسرا کافر کہنا شروع کر دے۔ مسلمانوں کو
٢١
آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر میں کسی نے آج تک صرف اس بناء پر دوسرے کی تکفیر نہیں کی کہ چونکہ اس نے مجھے کافر کہا ہے اور میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ لہٰذا وہ بروئے حدیث کافر ہوگیا۔ اس لئے ہم اس قائل بالکفر کو کافر کہتے ہیں۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے حضرت مولانا احمد رضا خاںؒ کی نسبت فرمایا کہ میری تکفیر پر مولانا احمد رضا خاں کو ثواب ملے گا۔ انہوں نے اپنے خیال میں محبت رسول ﷺ میں مجھے کافر کہا ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ مجھے مواخذہ نہ ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے جس وجہ سے مجھے کافر کہا ہے وہ وجہ مجھ میں نہیں پائی جاتی۔ (حضرت مولانا مرحوم کے اس ارشاد کا میں خود گواہ ہوں) (ملفوظات حضرت تھانویؒ)
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ہاں دو مہمان آئے۔ رات کے وقت ایک مہمان نے دوسرے سے کہا کہ صبح کی نماز ہم برج والی مسجد میں پڑھیں گے۔ وہاں کے قاری صاحب بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ دوسرے نے کہا وہ قاری صاحب تو ہمارے مولانا صاحب (مولانا محمد قاسمؒ) کو کافر کہتے ہیں۔ ہم ایسے شخص کے پیچھے نماز کیوں پڑھیں؟۔ حضرت مولانا نانوتویؒ نے ان کی یہ گفتگو سن لی۔ آپ نے فرمایا یہ مسئلہ کس کتاب میں درج ہے کہ جو شخص محمد قاسمؒ کو کافر کہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں؟۔ اس نے تو میری برائی دیکھ کر کہا ہوگا۔ آج میں خود بھی اسی قاری کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ چنانچہ حضرت مولانا مرحوم اپنے دوست مہمانوں کے ساتھ اس مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز اسی قاری صاحب کے پیچھے ادا کی جو آپ کو کافر کہتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ اس ”کافر“ کہنے والے سے چاہے مواخذہ کرے۔ لیکن جس کو کافر کہا گیا ہے۔ اس کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ ”قائل بالکفر“ کو کافر کہے۔
ایک مثال
زید اور عمرو ایک شہر میں آباد ہیں اور دونوں مسلمان ہیں۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون آپس میں حرام ہے۔ لیکن اگر زید نے عمرو کے بیٹے کو قتل کر دیا۔ اب زید کے لئے عمرو حلال الدم تو ہو گیا۔ مگر قصاص میں زید عمرو کو قتل نہیں کر سکتا۔ حالانکہ معاف کرنے اور قصاص طلب کرنے میں زید دونوں کا مجاز ہے۔ مگر اسے کسی شرعی مجاز (قاضی) سے اسے قتل کی فریاد کرنا ہو گی۔ قاضی قصاص میں عمرو کو قتل کرا دے یا قصاص دلائے۔ اگر زید خود بدلہ لے گا تو مجرم ہوگا۔
ج...... چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے منکروں کو جہنمی اور کافر کہا ہے اور
٢٢
آج تک قادیانی بھی دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر کہتے رہے ہیں۔ اسی لئے چوہدری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان نے بھی ایبٹ آباد میں ایک انٹرویو میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان (نمائندہ) سمجھ لیجئے۔
(روزنامہ زمیندار لاہور ١٨ فروری ١٩٥٠ء)
حالانکہ پاکستان بن جانے کے بعد بانیان پاکستان یا کسی ایسے بزرگ نے جس کا بیان حکومت کا بیان تصور کیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کے کافر ہونے کا اعلان نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کا حکومت پاکستان کو کافر حکومت کہنا ابتداء ہے جواباً نہیں اور یہاں صرف انکوائری کورٹ کے سامنے مصلحت کی وجہ سے انکار کرنا اس امر کا پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ ابن الوقت ہیں۔ اس لئے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ قابل اعتماد وہی شخص ہے جو اپنی رائے کسی مصلحت کی وجہ سے نہ بدلے۔
...... قادیانی گروہ کا یہ کہنا کہ پہلے غیر احمدی علماء نے ہمیں کافر کہا ہے اور ابتداء ان کی طرف سے ہوئی ہے یہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کا صریح کذب ہے۔ حالانکہ ابتداء بالکفر مرزا غلام احمد قادیانی نے کی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں جب دعویٰ نبوت کی بنیاد رکھی۔ ساتھ ہی مخالفین کی تکفیر کی بنیاد بھی رکھ دی۔ جبکہ قادیانیوں نے تکفیر کی وجہ مرزا قادیانی کی صداقت کا انکار قرار دیا ہے اور اس دعویٰ کی بنیاد براہین احمدیہ سے شروع ہوئی تو تکفیر منکرین کی بنیاد بھی ساتھ ہی وقوع میں آجاتی ہے۔
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں کچھ آیات قرآنی درج کیں جن کو ضرورت کے وقت الہام قرار دیا جاتا رہا۔ ان میں ایک یہ آیت درج ہے کہ: ”وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“
اس میں مخالفین کو کفروا سے خطاب کیا ہے۔ چنانچہ مباحثہ راولپنڈی ، (جو قادیانیوں اور لاہوریوں کے درمیان ہوا تھا) میں قادیانی مناظر اللہ دتہ قادیانی نے اس الہام سے ثابت کیا کہ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے تھے۔
(مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٠)
مرزائیوں کا جواب
باہمی تکفیر کے بارہ میں علماء کے چند فتاویٰ درج ہیں۔
ہمارا جواب
بقول جناب محمد اکبر صاحب جج بہاولپور (تنسیخ نکاح قادیانی مقدمہ بہاولپور کا مشہور فیصلہ) جس کا فیصلہ بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔ ” مرزائیوں کا مسلمانوں کی باہمی تکفیر و پیش
٢٣
کرنا دراصل اس تکفیر کو معمولی اور ہلکا ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے جو حضورﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک دنیائے اسلام کے تمام فرقوں نے بعد از نبوت حضورﷺ ہر مدعی نبوت کی تکفیر کی ہے اور جس پر آج دنیائے اسلام کا اتفاق ہے۔"
(فیصلہ مقدمہ بہاولپور)
- ١...... اصل امر متنازع فیہ یہ ہے کہ مرزائی گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے
کی وجہ سے شرعاً خارج ہو گیا یا نہیں؟۔ اس کے بارے میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ جب ایک نبی کو ماننے والی قوم کسی دوسرے نئے نبی کو مان لیتی ہے تو وہ پہلی قوم سے جدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے والے حضورﷺ کو ماننے والوں سے علیحدہ قوم ہیں۔ گویا کفر کے کئی مراتب ہوئے۔ ایک کفر قطعی جو ختم نبوت کے انکار اور حضورﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت پر ایمان لانے یا حضورﷺ کے بعد تسلسل نبوت کو صحیح سمجھنے کی وجہ سے ہوگا۔ بہرحال یہ کفر مسئلہ نبوت کی بناء پر ہوا۔ اس لئے دو ایسے شخص جو کسی نبی کی نبوت میں اختلاف رکھتے ہوں۔ ایک امت اور ایک قوم نہیں ہو سکتے۔
- ٢...... دوسرا کفر جو توحید و رسالت کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ دین کی کسی اور بات
کے انکار یا عمل یا قول سے ہو۔ چاہے یہ کفر کتنا سخت ہو اور اس کے احکام کیسے ہی کیوں نہ ہوں؟۔ وہ مسلم قوم میں شمار ہوگا۔ اسی لئے فقہا امت نے ایک کفر قطعی یا کفر عقیدہ اور دوسرے کو کفر فقہی یا کفر عملی کہا ہے اور دونوں کے احکام جدا جدا ہیں۔
ایک شبہ کا ازالہ
یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے اس کو سچا ماننے والے مسلمانوں کی قوم سے خارج نہیں سمجھے جائیں گے۔
- ١...... دراصل یہ بحث مسئلہ ختم نبوت سے تعلق رکھتی ہے جس کا اس بحث سے
تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا غیر ضروری نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضورﷺ سے قبل آنے والے جملہ انبیاء کو بھی ظلی کہا ہے اور بالخصوص حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی غیر تشریعی نبی کہا۔ جب وہاں ہر نبی کی امت اور قوم جدا جدا ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین بھی غیر متبعین سے جدا امت اور جدا قوم ہوں گے۔
- ٢...... مسلمانوں کی باہمی تکفیر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امت مسلمہ نے
کسی اسلامی فرقہ کی بالاجماع تکفیر نہیں کی۔ البتہ مرزائیوں کی تکفیر کے بارہ میں تمام فرقے متفق ہیں۔ مرزائیوں کا کفر اجماعی ہے۔
٢٤
ومعمولی اور ہلکا ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے جو حضورﷺ کے زمانے نیائے اسلام کے تمام فرقوں نے بعد از نبوت حضورﷺ ہر مدعی نبوت کی خ دنیائے اسلام کا اتفاق ہے ۔"
(فیصلہ مقدمہ بہاولپور )
اصل امر متنازع فیہ یہ ہے کہ مرزائی گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے ہو گیا یا نہیں ؟ ۔ اس کے بارے میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ جب ایک نبی کو رے نئے نبی کو مان لیتی ہے تو وہ پہلی قوم سے جدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ماننے والے حضورﷺ کو ماننے والوں سے علیحدہ قوم ہیں ۔ گویا کفر کے یہ کفر قطعی جو ختم نبوت کے انکار اور حضورﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت پر نہ کے بعد تسلسل نبوت کو صحیح سمجھنے کی وجہ سے ہوگا۔ بہر حال یہ کفر مسئلہ ماننے والے ایسے شخص جو کسی نبی کی نبوت میں اختلاف رکھتے ہوں ۔ ایک سکتے۔ دوسرا کفر جو توحید و رسالت کی وجہ سے نہیں ۔ بلکہ دین کی کسی اور بات سے ہو ۔ چاہے یہ کفر کتنا سخت ہو اور اس کے احکام کیسے ہی کیوں نہ مار ہوگا ۔ اسی لئے فقہا امت نے ایک کفر قطعی یا کفر عقیدہ اور دوسرے کو اور دونوں کے احکام جدا جدا ہیں ۔
غلام احمد قادیانی نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے اس کو سچا م سے خارج نہیں سمجھے جائیں گے ۔ اصل یہ بحث مسئلہ ختم نبوت سے تعلق رکھتی ہے جس کا اس بحث سے سلسلہ میں یہ عرض کرنا غیر ضروری نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے الے جملہ انبیاء کو بھی ظلی کہا ہے اور بالخصوص حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی ہاں ہر نبی کی امت اور قوم جدا جدا ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے را امت اور جدا قوم ہوں گے ۔ لمانوں کی باہمی تکفیر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امت مسلمہ نے ع تکفیر نہیں کی ۔ البتہ مرزائیوں کی تکفیر کے بارہ میں تمام فرقے متفق ا ہے ۔
٢٤
- .......٣ کسی فرقے کا مسلمانوں کے باقی فرقوں سے ممیز ہونا جس شخصیت کے
ماننے کی وجہ یا عقیدے کی بناء پر ہے۔ اس شخصیت سے نسبت اور اس عقیدہ کو وجہ کفر قرار نہیں دیا گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں کسی فرقہ میں چاہے کتنے مسائل ہوں کہ جس شخصیت سے نسبت اور جس عقیدہ کی وجہ سے یہ فرقہ دوسرے اسلامی فرقوں سے ممیز ہے۔ اس شخصیت اور اس عقیدہ کو سب اسلامی فرقوں نے وجہ کفر قرار دیا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے چند فرقوں کی نسبت عرض کیا جاتا ہے کہ:
- الف ...... فرقہ شیعہ
یہ فرقہ باقی فرقوں سے حضرت علیؓ کی طرف منسوب ہونے اور عقیدہ افضلیت علیؓ کی وجہ سے ممیز ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ مومن کامل ۔ مقبول بارگاہ الہی ۔ محبوب رب العالمین تھے۔ آپ کی شخصیت تمام فرقوں کے نزدیک مسلم ہے اور نہ ہی افضلیت علیؓ کا عقیدہ کسی دوسرے اسلامی فرقے کے نزدیک سبب کفر ہے ۔
- ب ....... فرقہ اہل سنت والجماعت
یہ فرقہ دوسرے فرقوں سے اس لئے ممیز ہے کہ یہ فرقہ حضورﷺ کی سنت کو مدار نجات اور واجب العمل سمجھتا ہے اور سنت حضورﷺ کے طریق زندگی کا نام ہے اور وہ سب فرقوں کے نزدیک واجب العمل ہے ۔ جماعت سے مراد مسلمانوں کی جماعت ہے جس کے متعلق حضورﷺ نے تاکیداً فرمایا کہ حتی الوسع جماعتی زندگی سے علیحدہ نہ ہونا تاکہ وحدت اسلامی پارہ پارہ نہ ہونے پائے۔ کبھی یہ فرمایا کہ : صلوا خلف کل بر و فاجر ، کنز العمال ج ٦ ص ٥٤ حدیث نمبر ١٤٨١٥ ﴿یعنی ہر اچھے برے کے پیچھے نماز پڑھ لینا۔﴾
کبھی یہ فرمایا کہ اگر سلطان نماز کو دیر کر کے پڑھا کریں اور وقت تنگ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیں تو تم اپنی نماز وقت پر گھر میں پڑھ لینا اور پھر مسلمانوں کے ساتھ جماعت میں بھی شریک ہو جانا ۔
ایک حدیث میں فرمایا کہ : وان امر علیکم عبد حبشی ، ترمذی ج ١ ص ٣٠٠ باب فی طاعة الامام ﴿یعنی اگر کسی وجہ سے مسلمانوں پر ایسا بادشاہ مسلط ہو جائے جو ناپسندیدہ ہو تو پھر بھی اس کی اطاعت کرنا تاکہ مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان نہ پہنچے ۔﴾
الغرض کوئی شیعہ ، اہل سنت اور اتحاد بین المسلمین اور شمولیت جماعت مسلمین ...
٢٥
مخالف نہیں ہے۔
ج...... مقلد مقلدین اپنے آپ کو آئمہ مجتہدین کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ کتاب و سنت کی تشریح میں ایسے شخص کا قول معتبر ہو گا جو اپنے زمانے میں علم وفضل اور تقویٰ اور خشیت میں ممتاز عامل القرآن و سنت ہے اور اجتہادی مسائل میں امام مجتہد کا قول مانا جائے گا۔ کوئی بھی غیر مقلد نہ تو اس اصول کی تردید کرتا ہے اور نہ کسی امام مجتہد کو برا کہتا ہے۔ بلکہ ان سب کو بزرگ اور اہل علم تصور کرتا ہے۔
د...... غیر مقلد غیر مقلدین اپنے آپ کو آج کل اہل حدیث کہلاتے ہیں۔ ان کا اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے ہر مسئلہ میں کتاب و سنت پر عمل کیا جائے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جس کا حکم قرآن و سنت سے نہ سمجھ میں آئے تو اقوال آئمہ کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اصولی طور پر یہ درست اور صحیح امر ہے کہ کسی فرقہ نے اس اصول سے کبھی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ اختلاف تو مسائل سمجھنے پر ہوتا ہے۔ فرقہ بندی جس اصول اور جس عقیدہ کے سبب سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ کی وجہ سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ سے کسی فرقہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کی بناء پر کسی فرقہ نے دوسرے فرقہ کو کافر نہیں کہا۔
نوٹ...... دیوبندی اور بریلوی دراصل یہ فرقے نہیں۔ بلکہ ایک فرقہ کی دو جماعتیں ہیں۔ اصول دونوں فرقوں کا ایک ہے۔ دونوں حضرات امام ابو حنیفہؒ کے مقلد ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خاندان کی مختلف شاخیں۔
ہ...... فرقہ مرزائیہ مرزائی حضرات کی نسبت مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف ہے۔ یعنی یہ فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا پیشوا مانتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے جملہ دعاوی میں سچا تھا۔ فرقہ مرزائیہ کی تعریف قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں پر صادق آتی ہے۔ ان کا آپس میں اختلاف اندرونی مسائل کا اختلاف ہے۔ اس سے دوسرے فرقوں کا تعلق نہیں ہے۔ یہ فرقہ اپنی تعریف کی بناء پر دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے ممیز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک جس شخصیت کی طرف فرقہ مرزائیہ کی نسبت ہے۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد تھا۔ اس شخص کے دعاوی کو درست اور صحیح سمجھنا تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک
٢٦
اپنے آپ کو آئمہ مجتہدین کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ تشریح میں ایسے شخص کا قول معتبر ہو گا جو اپنے زمانے میں علم و فضل اور ممتاز عامل القرآن و سنت ہے اور اجتہادی مسائل میں امام مجتہد کا قول ماننا مقلد نہ تو اس اصول کی تردید کرتا ہے اور نہ کسی امام مجتہد کو برا کہتا ہے۔ اور اہل علم تصور کرتا ہے۔
اپنے آپ کو آج کل اہل حدیث کہلاتے ہیں۔ ان کا اصول یہ ہے کہ عمل کتاب و سنت پر عمل کیا جائے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جس کا سمجھ میں آئے تو اقوال آئمہ کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اصولی طور پر ہے کہ کسی فرقہ نے اس اصول سے کبھی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ امر ہوتا ہے۔ فرقہ بندی جس اصول اور جس عقیدہ کے سبب سے ہوئی یا وجہ سے ہوئی یا جس شخصیت یا عقیدہ سے کسی فرقہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سرے فرقہ کو کافر نہیں کہا۔
دیوبندی اور بریلوی دراصل یہ فرقے نہیں۔ بلکہ ایک فرقہ کی دو دونوں فرقوں کا ایک ہے۔ دونوں حضرات امام ابو حنیفہؒ کے مقلد ہیں۔ ایک خاندان کی مختلف شاخیں ۔
کی نسبت مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف ہے۔ یعنی یہ فرقہ مرزا غلام ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے جملہ دعاویٰ تحریک قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں پر صادق آتی ہے۔ ان کا مسائل کا اختلاف ہے۔ اس سے دوسرے فرقوں کا تعلق نہیں ہے۔ دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے ممیز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے تمام ت کی طرف فرقہ مرزائیہ کی نسبت ہے۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے کے دعویٰ کو درست اور صحیح سمجھنا تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک
٢٦
صریح کفر ہے۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین دونوں گروہ صریح کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور مسلم قوم سے ایسے ہی علیحدہ ہیں۔ جیسے یہود اور عیسائی۔ بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ جس نبی پر یہودی اور عیسائی ایمان لاتے ہیں وہ اپنے وقت کے صادق اور خدا کے مبعوث نبی تھے۔ مگر قادیانی جس شخص کو اپنا پیشوا مانتے ہیں وہ کاذب اور جھوٹا تھا۔
یہاں سب سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مرزائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تکفیر کا مسئلہ بنیادی اور قطعی کفر کا مسئلہ ہے اور مسلمانوں کے باہمی فرقوں کا باہمی کفر فقہی اور فروعی ہے۔ اس امر کی وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل استدلال پیش کیا جاتا ہے۔
اہل اسلام کے ہاں کفر کے کچھ مدارج ہیں۔ دراصل ”کفر“ کا لفظ ”ایمان“ کے مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ الاشیاء تعرف باضدادھا! مشہور عربی مقولہ ہے کہ ہر چیز اپنے مقابل یعنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ایمان کی حقیقت سمجھ لیں پھر ہمارے لئے کفر کی حقیقت معلوم کرنا آسان ہو جائے گا۔
ایمان ......!
ایمان اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام فرشتوں ، آسمانی کتابوں ، اس کے تمام رسولوں اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور تقدیر پر ایمان لایا جائے۔ یعنی ان باتوں کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کی جائے۔
ان امور پر حضور ﷺ بھی یقین رکھتے تھے اور اہل بیتؓ اور تمام مسلمان بھی یقین رکھتے تھے۔ مگر یہ بات واضح ہے کہ سب کا ایمان ایک ہی درجہ کا نہیں ہو سکتا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کا ایمان ایک درجہ کا نہیں ہو سکتا۔ اور نہ حضرت حسین بن علیؓ کا ایمان اور ہم جیسے گنہگاروں کا ایمان برابر ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ایمان کے مقابلے میں کفر کے بھی مدارج ہوں گے۔ کیونکہ ایمان اور کفر ایک دوسرے کی اضداد ہیں۔ حضرت امام بخاریؒ نے اپنی کتاب بخاری شریف ج ١ ص ٩ میں کفر دون کفر! کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے اور گویا سب کفر برابر نہیں ہوتے۔ بلکہ اس کے کچھ مدارج ہیں۔ اس کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے تمام مذاہب میں کوئی ایسا بنیادی مسئلہ تلاش کریں جس سے ایک مذہب دوسرے مذہب سے ایک قوم دوسری قوم سے ( قوم سے مراد شرعی قوم ) متمیز ہو سکے۔
٢٧
جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وجود کا سوال ہے اس میں سب کا اتفاق ہے۔ عبادات اور اخلاق تمام مذاہب میں موجود ہیں۔ ان کے عنوانات چاہے کوئی ہوں۔ اس لئے یہ امور امتیاز بین المذاہب کا سبب نہیں ہو سکتے۔
امتیاز کا باعث نبوت
صرف ایک نبی کا وجود ایسا ہے جس سے ایک مذہب دوسرے مذہب سے اور ایک قوم دوسری قوم سے جدا ہوتی ہے۔ نبی کی مثال ایک دیوار کی ہے جو اپنے خارج کو داخل سے جدا رکھتی ہے۔ جب تک یہ دیوار قائم رہے گی۔ دیوار کا خارج اور داخل آپس میں نہیں مل سکتے۔ دیوار مختلف احاطوں کو محفوظ رکھتی ہے اور بلکہ اگر ایک بڑے احاطہ میں ایک دیوار قائم کر دی جائے تو اس احاطے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ایک نبی کا وجود اپنی امت کے لئے احاطہ ہے۔ دیوار ہے۔ جو دوسری امتوں سے اپنی امت کو علیحدہ رکھتی ہے۔ لیکن اگر اس نبی کے بعد کوئی اور نبی آ گیا تو گویا ایک دیوار اور کھنچ گئی اور ایک حصہ اس احاطہ سے کٹ گیا۔ یعنی اب اس نبی کی امت دو امتوں میں تقسیم ہو گئی۔ مثلاً حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے یہودی ایک امت تھے۔ جب حضرت عیسیٰ ؑ تشریف لے آئے تو یہودیوں میں سے جو لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت پر ایمان لائے وہ یہودیوں سے علیحدہ ہو گئے اور اب وہ عیسائی بن گئے۔ اس کے بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ کو ماننے والے مسلمان۔ نہ ماننے والے (عیسائیوں) سے جدا ہو گئے۔ اور اب اس طرح اگر بالفرض حضور سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آ جائے تو اس کو ماننے والے نہ ماننے والوں (مسلمانوں) سے جدا قوم ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس اصول کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی ماننے والے ایک امت نہیں ہو سکتے۔ مسلمان جدا قوم اور مرزائی جدا قوم ہوں گے۔
سوال نمبر ٣......!
ایسے کافر ہونے کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں۔ یعنی اگر غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننا کفر ہے تو ایسے کفر کے دنیا و آخرت میں کیا نتائج ہیں؟۔
مرزائیوں کا جواب
اسلامی شریعت کی رو سے ایسے کافر کی کوئی دنیوی سزا مقرر نہیں۔ وہ اسلامی حکومت میں وہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عام معاشرہ کے معاملہ میں
﴿ ٤٨ ﴾
بھی وہ وہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہیں۔ ہاں اسلامی حکومت کا ہیڈ نہیں ہو سکتا۔
ہمارا جواب
قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ایسے کفار کی کوئی سزا نہیں سراسر غلط ہے۔ سوال میں جس کافر کے متعلق دریافت کیا گیا ہے وہ کافر وہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا۔ یعنی اگر کوئی شخص (بالفرض) مرزا قادیانی کو مان لے تو اس کے نزدیک مرزا قادیانی کو نہ ماننے والا کافر ہوگا۔ ایسے کافر کی سزا مرزائیوں کے نزدیک وہی ہوگی۔ جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے مسلمان کے مقابلہ میں کسی غیر مسلم مثلاً عیسائی کی۔ قادیانیوں کا یہ واضح عقیدہ ہے کہ:
”غیر احمدی کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ کر لاسکتا ہے۔ مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لاسکتا ہے۔ مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی۔“
(اخبار الحکم ١١ اپریل ١٩٠٨ء اخبار الفضل قادیان ج ٨ نمبر ٢٥، ١٢ دسمبر ١٩٢٠)
اس عقیدہ اور نظریہ کے علاوہ قادیانیوں کا معاملہ غیر احمدیوں کے ساتھ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں غیر احمدیوں سے جدا ہیں۔ رشتہ ناتہ جنازہ وغیرہ معاملات میں ان کا طرز عمل یہ ہے کہ ایک شخص کے سوالات کے جواب میں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے کہا: ”ایسے نکاح خواہوں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے۔ جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھا دیا ہو اور ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔
(ڈائری میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ٨ نمبر ٨٨ مورخہ ٢٢ مئی ١٩٢١ء)
مرزائیوں کا جواب
یہ درست ہے کہ اسلامی حکومت کا صدر کبھی نہ ہو سکے گا۔
ہمارا جواب
اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والا مرزائیوں کی مملکت کا صدر نہیں بن سکتا تو مسلمانوں کی مملکت میں جھوٹے نبی کو ماننے والا کافر اسلامی مملکت کا صدر کیسے بن سکتا ہے؟۔
٢٩
مرزائیوں کا جواب
باقی رہے اخروی نتائج سو ان نتائج کا حقیقی علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کافر کہلانے والے انسان کو بخش دے اگر کافر کے لئے یقینی طور پر دائمی جہنمی ہونا لازمی ہے تو پھر کسی کو کافر قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کو حق ہے۔
ہمارا جواب
ان کا یہ جواب کسی صورت میں بھی درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ سوال قدرت الٰہی نہیں بلکہ اسلامی احکام کا ہے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اللہ رب العزت ”ان اللہ علی کل شیء قدیر“ ہیں۔ مگر تحقیقاتی عدالت کی طرف سے سوال یہ ہے کہ کافر کے متعلق ازروئے شریعت محمدیہ کیا حکم ہے؟۔ اسلام ایک قانون ہے جس میں دنیاوی اور اخروی احکام درج ہیں۔ یعنی ایک نبی کو ماننے کے بعد کسی دوسرے آنے والے نبی کا انکار کردے۔ ایسے شخص کے متعلق اسلام کے احکام یہ ہیں کہ ایسے شخص کی نجات ہرگز نہ ہوگی۔ مرزائیوں کا بھی یہ عقیدہ ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفین کے متعلق لکھا ہے کہ:
ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، معیار الاخیار، تذکرہ مجموعہ الہامات ص ٣٣٦ طبع دوم)
سوال نمبر ٤......!
کیا مرزا قادیانی کو رسول کریمﷺ کی طرح اور اسی ذریعہ سے الہام ہوتا ہے؟۔ تحقیقاتی عدالت یہاں یہ دریافت کرنا چاہتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام کا ذریعہ وہی تھا جو محمد رسول اللہﷺ کا ذریعہ تھا۔
مرزائیوں کا جواب
بہر حال وہ ذرائع جو اللہ تعالیٰ اس وحی (مرزا قادیانی پر) کے بھیجنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ وہ ان سے نیچے ہوں گے جو قرآن کریم کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ ایک عقلی بات ہے۔ واقعاتی بات نہیں جس کے متعلق ہم شہادت دے سکیں۔
ہمارا جواب
قادیانیوں کی طرف سے اس جواب میں بات کو الجھایا گیا ہے۔ انہوں نے کسی
٣٠
مصلحت کی بناء پر ابہام کو دور کرنے اور صاف بات کہنے کی جرأت نہیں کی۔ حالانکہ یہ امر مسلم ہے کہ حضور ﷺ پر حضرت جبرائیل ؑ فرشتہ نازل ہوتا تھا جو خدا کے پیغام آپ ﷺ پر پہنچاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں مرزا قادیانی نے بھی اپنے آپ پر حضرت جبرائیل ؑ فرشتہ کے نازل ہونے کا الہام شائع کیا ہے۔ اس طرح حضور نبی کریم ﷺ کی اور مرزا قادیانی کی وحی کا ذریعہ اور واسطہ ایک ہی ہوا۔ یعنی حضرت جبرائیل ؑ حضرت محمد رسول ﷺ اور مرزا قادیانی دونوں کے لئے ذریعہ وحی تھے۔
مرزا قادیانی نے جبرائیل کی آمد کا اقرار کرتے ہوئے لکھا ہے:
- ١....... ”جاءنی آئل واختار و ادار اصبعہ اشاراً وعد اللہ اتی
فطوبیٰ لمن وجد ورائی“ یعنی میرے پاس آئل آیا۔ اس جگہ آئل اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے بار بار رجوع کرتا ہے (حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
- ٢....... ”آمد نزد من جبرائیل ؑ و مرا برگزید و گردش داد
انگشت خود اشارہ کرد خدا ترا از دشمنان نگه خواهد داشت ۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٦٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٢)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے اس بات کا خود اقرار کیا کہ اس پر حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوتے تھے۔ گویا حضور ﷺ اور مرزا قادیانی کی وحی کا ذریعہ اور واسطہ ایک ہی ہوا۔
قادیانیوں نے آگے چل کر اپنے بیان میں ایسی تفاصیل بیان کی ہیں جن میں اقرار کے بعد انکار اور انکار کے بعد خود بخود اقرار کر لیا گیا کہ حضور ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا ذریعہ وحی ایک ہی تھا۔ مگر اس بات کو اس قدر الجھایا گیا کہ پڑھنے والا اس سے کوئی صحیح رائے قائم نہ کر سکے۔ حضور ﷺ نے اس کا نام دجل اور تلبیس رکھا ہے۔
اس سوال کا جواب یہ تحریر کیا گیا کہ:
- الف....... ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ پر وحی نازل ہوتی تھی۔
- ب....... وحی تین طریقوں سے ہوتی تھی۔ ان کا ذکر قرآن کی آیت مـــــا کـــــان
لبشر.......الخ! میں ہے کہ:
٣١
ج...... ”آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء اور اولیاء پر انہی طریقوں سے وحی نازل ہوتی رہی ہے۔“
عالی مرتبت جج صاحبان
قادیانیوں کے جواب کے مندرجہ بالا تین حصوں پر غور فرمائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ سوال کے جواب میں کس قدر الجھاؤ پیدا کیا گیا ہے؟۔ ان کے جواب کے خلاصہ سے صرف یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی نازل ہوتی تھی اور وحی کے طریقے تین ہیں اور تمام انبیاء اولیاء اور محمد رسول اللہ ﷺ پر انہی طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا ذریعہ وحی ایک ہی تھا۔ اس مفہوم کا جواب دو سطر میں دیا جاسکتا تھا۔ مگر عبارت کی ایچ پیچ اور الفاظ کی ساحری میں الجھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ جواب دیتے وقت آگے چل کر دونوں وحیوں کے مرتبہ میں فرق کرنے کی سعی کی ہے۔ تاکہ ہمارے مطالبہ کی دلیل کو کمزور اور اس کے وزن کو کم کیا جاسکے۔ یہ امر چونکہ سوال سے متعلق نہیں ہے۔ اس لئے اس کے جواب میں جانا غیر ضروری ہے۔
یہاں اتنا عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی نے آنحضور ﷺ سے قبل انبیاء سابقین کو ”ظلی نبی“ کہا ہے۔ اس لئے اب کسی کا مرزا غلام احمد قادیانی کو ظلی کہنا یا امتی نبی کہنا۔ اس سے نفس دعویٰ نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ ”پہلے تمام انبیاء ظِل تھے۔ نبی کریم کے خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظِل ہیں۔“
(اخبار الحکم ١٤ اپریل ١٩٠٣ء، منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ١٧٧)
”یوں تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠)
نوٹ...... مندرجہ ذیل حوالہ جات سے مرزا قادیانی کی وحی کی حیثیت حضور ﷺ کے برابر ثابت ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کی وحی کی نسبت مندرجہ ذیل امر ذہن نشین کر لئے جائیں کہ: الف...... حضور ﷺ پر وحی بذریعہ فرشتہ نازل ہوتی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی بھی حضور ﷺ جیسی تھی نمبر وار مطابقت ملاحظہ ہو کہ:
- ١...... یہ کہ وہ فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ فقرات دکھا دیتا تھا۔
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
- ٢...... آمد نزد من جبرائیل ؑ و مرا برگزیدہ کرد
٣٦١
دادانگشت خودرا اشارہ کرد . خدا ترا از دشمنان نگه خواهد داشت!
(مواہب الرحمن ص ٦٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٢)
- ب....... ”حضور ﷺ پر وحی بصورت القاء فی القلب بھی ہوتی تھی۔ اور وہ لفظ
وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور میری زبان پر جاری کرتا ہے۔“
(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
- ج...... ”آپ ﷺ کی وحی میں پیش گوئی اور معجزات ہوتے تھے۔ اگر کہو کہ اس
وحی کے ساتھ جو انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی۔ معجزات اور پیش گوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٨٢ خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)
- د...... حضور ﷺ کی وحی ”منزہ عن الخطاء“ تھی۔
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم از خطا ہا ہمیں است ایما نم
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن، ج ١٨ ص ٤٧٧)
”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیت پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرے کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
- س...... ”حضور ﷺ کو اپنی وحی پر یقین تھا اور آپ کی وحی خدا کا کلام کہلاتی
ہے۔ میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
- و...... ”حضور ﷺ کی وحی آپ کو ماننے والوں کے لئے مدار نجات تھی اور
آپ کا منکر جہنمی ہے۔’اب دیکھ لو خدا نے میری وحی میری تعلیم اور بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اسے نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘“
(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
”مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا۔ وہ تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیری مخالفت کرے گا اور مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرنے والا
٣٣
جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥ معیار الاخبار ص ٨ تذکرہ ص ٣٣٦ طبع سوم)
سوال نمبر ٥.....! کیا یہ عقیدہ میں شامل ہے کہ ایسے شخص کا جنازہ جو مرزا قادیانی پر یقین نہیں رکھتے (Infructuaus) بے فائدہ ہے؟۔ ب ....... کیا احمدیہ عقائد میں ایسی نماز کے خلاف کوئی حکم موجود ہے؟۔
مرزائیوں کا جواب
احمد یہ کریڈ (Creed) عقیدہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہیں مانتا۔ اس کے حق میں نماز جنازہ (Infructuaus) ہے۔
ہمارا جواب
یہ جواب صریح غلط ہے احمد یہ عقائد میں نہ صرف یہ کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا جنازہ (Infructuaus) ہے۔ بلکہ اس کی نماز جنازہ شرعاً ناجائز اور درست نہیں ہے۔
- ١...... مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک لڑکے فضل احمد کا واقعہ ہے کہ احمد بیگ
نے جب اپنی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ کرنے سے انکار کر دیا تو غلام احمد نے احمد بیگ کو کہا کہ اگر تم میرے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح نہیں کرو گے تو میں تمہاری بھانجی عزت بی بی جو میرے لڑکے فضل احمد کی بیوی ہے طلاق دلا دوں گا اور طلاق نامہ معلق فضل احمد سے لے لوں گا جس میں یہ تحریر ہو گا کہ جس دن تم محمدی بیگم کا نکاح میرے سوا کسی دوسرے کے ساتھ کرو گے تو عزت بی بی کو اس دن سے طلاق ہو جائے گی۔ چنانچہ احمد بیگ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس دھمکی کی قطعاً کوئی پروا نہ کی۔ مرزا غلام احمد نے اپنے لڑکے فضل احمد سے کہا کہ تو اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دے۔ فضل احمد پسر غلام احمد چونکہ اپنے والدین کا انتہائی فرمانبردار اور خدمت گزار تھا۔ اس نے اپنے باپ کے حکم کو بسر و چشم قبول کیا اور اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دی۔ فضل احمد اپنے والدین کا فرمانبردار ہونے کے باوجود اپنے باپ غلام احمد قادیانی کو دعویٰ نبوت میں دل سے سچا نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ جب اس تابعدار لڑکے فضل احمد کا انتقال ہو گیا۔ تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اس فرمانبردار بیٹے کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔
(انوار خلافت ص ٩١ ، تقریر مرزا بشیر الدین)
کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے اس عمل کے بعد بھی قادیانی کوئی تاویل کر سکتے ہیں؟۔
- ......٢...... چونکہ قادیانی عقیدہ مسلمانوں کو وہی درجہ دیتا ہے جو حضرت محمد رسول
اللہ ﷺ کو نہ ماننے کی وجہ سے عیسائیوں کو دیا جاتا ہے۔ اس لئے مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کے نابالغ بچوں کا جنازہ بھی جائز نہیں۔
(حوالہ انوار خلافت ص ٩٣)
- ......٣...... قادیانی گروہ کے نزدیک جو شخص مرزا قادیانی کو سچا سمجھتا ہو۔ لیکن وہ
باقاعدہ طور پر بیعت کر کے حلقہ احمدیت میں داخل نہ ہوا ہو۔ اس کا جنازہ جائز نہیں ہے۔
(انوار خلافت ص ٩٣)
مرزائیوں کا جواب
شق (ب) کا جواب یہ ہے کہ گو اسی وقت تک جماعت کا فیصلہ یہی رہا ہے کہ غیر از جماعت کے لوگوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ لیکن اب اس سال حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر اپنے قلم کی لکھی ہوئی ملی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مکفر یا مکذب نہ ہو۔ اس کا جنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ہمارا جواب
جناب عالی! یہ تو چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد ! والا معاملہ ہوا۔ قادیانیوں کا انکوائری کورٹ کے سامنے یہ بیان قطعاً غلط اور فریب دہی کے مترادف ہے کہ: ”مسیح موعود کے اپنے قلم کی لکھی ہوئی تحریر اس سال ملی ہے۔ حالانکہ ایسی تحریر انہیں ١٩١٥ء میں مل چکی تھی جس کے ملنے کا ذکر انوار خلافت کے ص ٩١ پر کیا گیا ہے اور اس کے ثبوت میں غلام احمد قادیانی کے لڑکے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھنے کا واقعہ تحریر بھی کیا جا چکا ہے۔
مرزائیوں کا جواب
لیکن باوجود جنازہ کے بارے میں جماعت احمدیہ کے سابق طریقہ کے غیر احمدی مرحومین کے لئے دعائیں کرنے میں جماعت نے کبھی اجتناب نہیں کیا (رپورٹ اور آگے چل کر میاں معین الدین کے والد اور سر عبدالقادر کے لئے دعا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔)
ہمارا جواب
کسی موت پر صرف دعا کرنا کونسی انوکھی بات ہے۔ ایسے ہزاروں مواقع پیش آتے رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی فوتگی کے بعد ہندو اور سکھ وغیرہ غیر مسلم قومیں بھی اس کے حق میں دعاؤں میں شریک ہوتی رہیں۔ قائد اعظم اور قائد ملت کے مزارات پر کئی ہندو اور غیر مسلم
٣٥
افراد نے اپنے عقیدے کے مطابق ان کے حق میں دعائیں مانگیں اور ایسے ہی گاندھی جی کی سمادھی پر ہمارے وزراء اور دیگر سرکاری نمائندگان نے ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ دعا مانگنا آج ایک رسم بن چکی ہے۔ اس سے یہ دلیل اور نتیجہ اخذ کرنا کہ ہم نے فلاں کی میت پر دعا مانگی تھی اور اس لئے جائز سمجھتے ہیں۔ یہ کسی صورت میں دلیل نہیں بن سکتا کہ قادیانی غیر احمدی کا جنازہ جائز سمجھتے ہیں۔
- ٢....... قادیانیوں کی یہ بات اگر بالفرض تسلیم بھی کر لی جائے تو دعا کے علاوہ
نماز جنازہ بھی تو دعا ہی ہے۔ اس میں یہ کیوں شرکت نہیں کرتے اور بالخصوص قائد اعظم کی نماز جنازہ میں چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی وزیر خارجہ پاکستان نے کیوں شرکت نہ کی اور وزیر قانون مسٹر منڈل اور دیگر غیر مسلم نمائندگان کے ساتھ مسلمانوں سے الگ ہو کر کیوں کھڑے رہے؟۔ کیا چوہدری ظفر اللہ قادیانی کی یہ حرکت اسلامیان پاکستان کے دلوں کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں تھی؟۔ نماز جنازہ نہ پڑھنے پر قادیانی جماعت کی طرف سے ایک پمفلٹ بھی شائع کیا گیا ہے جس میں قائد اعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ چونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائد اعظم قادیانی نہ تھے۔ ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ علاوہ ازیں چوہدری ظفر اللہ خاں نے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کے متعلق ایک انٹرویو کے دوران جواب دیا۔ معزز جج اس سے مطلع ہو چکے ہیں۔
سوال نمبر ٦.....!
- الف....... کیا قادیانی اور غیر قادیانی میں شادی جائز ہے؟۔
- ب....... کیا قادیانی عقیدہ میں ایسی شادی کے خلاف کوئی ممانعت کا حکم
موجود ہے؟۔
مرزائیوں کا جواب
کسی احمدی مرد کی غیر احمدی لڑکی سے شادی کی کوئی ممانعت نہیں۔ البتہ احمدی لڑکی کا غیر احمدی مرد سے نکاح کو روکا جاتا ہے۔
ہمارا جواب
قادیانیوں کے اس عقیدے کی طرح مسلمانوں کا عقیدہ عیسائیوں کی نسبت یہ ہے کہ عیسائی لڑکی سے مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن مسلمان لڑکی عیسائی سے نہیں بیاہی جا سکتی۔ گویا مسلمان کے نزدیک جو عیسائیوں کا مقام ہے قادیانی تمام مسلمانوں کو وہی درجہ اور
٣٦
مقام دے رہے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ جواب ہمارے مطالبہ کی تائید کرتا ہے کہ قادیانی مسلمانوں کو وہی درجہ اور مقام دے رہے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ جواب ہمارے مطالبہ کی تائید کرتا ہے کہ احمدی مسلمانوں سے ایک الگ قوم اقلیت قرار دیئے جانے چاہئیں۔ کیونکہ وہ خود ہی مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ اگر قادیانی شادی بیاہ کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ان کیساتھ عیسائیوں جیسا سلوک کریں تو انہیں اقلیت میں آنے سے کیا عذر ہے؟ اور ویسے بھی قادیانی مسلمانوں کے متعلق رشتہ و ناتہ کے معاملہ میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا سلوک کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ:
”غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ کر لاسکتا ہے۔ مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لاسکتا ہے، مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی۔“
(اخبار الحکم ١٤؍ اپریل ١٩٠٨ء ، اخبار الفضل قادیان ج ٨ نمبر ٣٥ مورخہ ١٦؍ دسمبر ١٩٢٠)
مرزائیوں کا جواب
باوجود اس کے کہ اگر قادیانی لڑکی اور غیر قادیانی مرد کا نکاح ہو جائے تو اسے کالعدم قرار نہیں دیا جائے گا۔
ہمارا جواب
جناب عالی! قادیانی حضرات نے یہاں بھی اصل حقائق کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزائیوں کے ہاں ایسے رشتہ کی سخت ممانعت ہے اور اگر کسی نے قرابت داری یا کسی دوسری وجہ سے احمدی لڑکی کی غیر احمدی مرد سے شادی کر بھی دی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا گیا اور اس کے ساتھ بائیکاٹ کیا گیا۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے بخوبی واضح ہو جائے گا کہ مرزائیوں کے ہاں ایسے رشتے کی کیا پوزیشن ہے؟۔
- الف....... ”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی
لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں میں لڑکی دیدی تو حضرت خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اس کو احمدیوں
٣٧
کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یہ کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“ (انوار خلافت ص ٩٣ مصنفہ میاں محمود خلیفہ قادیان)
ب...... ”اگر کوئی احمدی غیر احمدی کا جنازہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیر احمدی کو لڑکی دیتا ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟۔ حضور (مرزا محمود قادیانی) نے لکھوایا کہ اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہیے۔ فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے۔ آپ کا نہیں۔“
(مکتوب میاں محمود خلیفہ قادیان اخبار الفضل مورخہ ١٧،٢٠ اپریل ١٩٢٢ء نمبر ٨١،٨٢)
ج...... ”چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں کو دے دیئے ہیں۔ اس لئے ان کو حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (مرزا بشیر الدین محمود قادیانی) کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا۔ اور وہاں کی جماعت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق رکھیں۔“
١...... ”چوہدری محمد دین ولد مراد سکنہ سید والہ ضلع شیخوپورہ ۔ ٢...... چوہدری جھنڈا ولد چوہدری جلال الدین ساکن چندر کے ضلع سیالکوٹ ۔ ٣...... میاں جیون علاقہ آنبہ ضلع شیخوپورہ ۔ ٤...... میاں غلام نبی سکنہ چک نمبر ١١ ضلع شیخوپورہ ۔“
(اخبار الفضل قادیان نمبر ٦٩ ج ٢٢ ص ٨ مورخہ ٦ دسمبر ١٩٣٢ء ناظر امور عامہ قادیان)
مندرجہ حوالہ جات میں قادیانیوں کے عقائد کی صحیح ترجمانی ہے۔ جب کئی پابندیوں اور مجبوریوں کی بناء پر بھی کوئی احمدی غیر احمدی مرد سے اپنی لڑکی کا نکاح نہیں کر سکتا اور اگر کوئی اس طرح کا رشتہ کر دے تو اس کے ساتھ قطع تعلق کیا جاتا ہے۔ اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ تو پھر کونسی بات باقی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر احمدی غیر احمدیوں سے رشتہ ناتہ کو جائز سمجھیں اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔؟۔
سوال نمبر ٧......!
احمدیہ فرقہ کے نزدیک امیر المومنین کی (Significance) خصوصیت کیا ہے؟۔
مرزائیوں کا جواب
ہمارے امام کے عہدہ کا نام امام جماعت احمدیہ اور خلیفتہ المسیح ہے۔ لیکن بعض لوگ انہیں امیر المومنین بھی لکھتے ہیں۔......... الخ
٣٨
نکال دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی باوجود یہ کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“ (انوار خلافت ص ٩٤ مصنفہ میاں محمود خلیفہ قادیان)
”اگر کوئی احمدی غیر احمدی کا جنازہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے یا پڑھا دیتا ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟۔ حضور (مرزا محمود قادیانی ) نے لکھوایا کہ توبہ ہمارے پاس کرنی چاہیے۔ فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کام ہمیں ہے ۔ آپ کا نہیں۔“
(مکتوب میاں محمود خلیفہ قادیان اخبار الفضل مورخہ ١٧، ٢٠ اپریل ١٩٣٢ء نمبر ٨٢، ٨١ )
”چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں کو دے دیئے ہیں اس لئے ان کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (مرزا محمود قادیانی ) کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا ہے۔ اور وہاں کی جماعت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق رکھیں۔“
- ١۔۔۔۔۔۔ چوہدری محمد دین ولد مراد سکنہ سید والہ ضلع شیخوپورہ ۔٢۔۔۔۔۔ چوہدری جھنڈا ولد
عمر دین سکنہ چندر کے ضلع سیالکوٹ ۔ ٣۔۔۔۔۔ میاں جیون علاقہ آنبہ ضلع شیخوپورہ۔
- ٤۔۔۔۔۔ سکنہ چک نمبر ١١ ضلع شیخوپورہ ۔“
(اخبار الفضل قادیان نمبر ٦٩ ج ٢٢ ص ٨ مورخہ ٦ دسمبر ١٩٣٤ء ناظر امور عامہ قادیان)
مذکورہ بالا حوالہ جات میں قادیانیوں کے عقائد کی صحیح ترجمانی ہے۔ جب کئی پابندیوں کے باوجود بھی کوئی احمدی غیر احمدی مرد سے اپنی لڑکی کا نکاح نہیں کر سکتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس کے ساتھ قطع تعلق کیا جاتا ہے۔ اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ اور کیا بات باقی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر احمدی غیر احمدیوں سے رشتہ ناتہ کو جائز سمجھیں ۔ یا اس قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں؟ ۔
قادیانیوں کے نزدیک امیر المومنین کی (Significance) خصوصیت کیا ہے؟۔
ان کے عہدہ کا نام امام جماعت احمدیہ اور خلیفۃ المسیح ہے۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔الخ۔
٣٨
ہمارا جواب
جناب عالی! قادیانی حضرات کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جماعت کے امام کو امیر المومنین بعض لوگوں نے لکھنا یا کہنا شروع کر دیا ہے اور یہ کہ جماعتی طور پر امام جماعت احمدیہ کا عہدہ امیر المومنین نہیں۔ بلکہ خلیفۃ المسیح ہے۔ قبل ازیں کہ اصل سوال کا جواب الجواب عرض کیا جائے ۔ یہ ضروری معلوم ہوتا ہے خلیفہ اور امیر کی تشریح کر دی جائے ۔ تاکہ بعض بنیادی باتیں ذہن نشین ہو سکیں ۔
خلیفہ ...... کسی قائم مقام کو کہتے ہیں۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ مذہبی جانشین پر استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کی نسبت ایسی ہستی کی طرف ہوتی ہے جس کی یہ شخص نیابت کرتا ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے قائم مقام کو خلیفہ کہا گیا اور اسی نیابت کا نام خلافت قرار پایا۔ وہاں دراصل مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص خلیفہ کے فرائض سرانجام دے جو نبی ﷺ کی تقویت دین کے سلسلہ میں مکمل نیابت کر سکے ۔
امیر ...... امیر کی نسبت کسی فوت شدہ انسان کی طرف نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی نسبت زندہ انسانوں کی طرف ہوتی ہے۔ یہ لفظ اس فوقیت اور قوت کا پتہ دیتا ہے جو اسے باقی انسانوں پہ حاصل ہے۔ چونکہ حضرت رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی تھے اور تمام مسلمانوں کے امیر بھی۔ آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کا نائب منصب نبوت کے لحاظ سے خلیفۃ المسلمین کہلایا اور حاکم وقت ہونے کے اعتبار سے اسے امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔
اسلامی طرز حکومت میں جب تک دین کا غلبہ باقی رہا تو مسلمانوں کے حکمران کے لئے یہ دونوں لفظ برابر استعمال ہوتے رہے اور جب مسلمانوں کے انداز حکمرانی میں دنیاوی غلبہ ہو گیا تو پھر خلیفۃ الرسول کی جگہ صرف امیر المومنین کا استعمال ہونے لگا۔
اسلامی اصطلاح میں امیر المومنین مسلمانوں کے حکمران کا اسلامی لقب ہے اور اگر امیر کی نسبت کسی خاص جماعت یا شہر یا فن کی طرف ہو تو وہاں صرف اسی جماعت کا صدر یا اس شہر کا رئیس یا اس فن کا ماہر مراد ہوتا ہے۔ جیسے امیر جماعت اسلامی، امیر شریعت، امیر المومنین فی الحدیث ، ان میں امیر کی نسبت خصوصی چیزوں کی طرف ہے۔ جیسے رب کے معنی مالک کے ہیں۔ اگر رب کی نسبت کسی ایسی چیز کی طرف ہو جس کا انسان مالک بن سکتا ہے تو رب کی نسبت جائز ہوتی ہے۔ جیسے رب البلد ، رب ہذالارض ، رب ہذالبیت۔ یعنی رئیس شہر ۔ اس زمین کا مالک ، گھر کا مالک ، تو اس طرح رب کی نسبت جائز ہے۔ لیکن اگر رب کی نسبت لوگوں کی طرف
٣٩
ہو۔ جیسے رب الناس اور یارب العالمین ...... یا رب السموات والارض ! جیسی نسبت ہو تو اس صورت میں رب سے مراد صرف خدا تعالیٰ کی ذات اقدس ہو گی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ بعض نسبتوں میں انسان بھی رب کی نسبت استعمال کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا اب وہ رب العالمین یا رب الناس کہلانا شروع کر دے۔ یہ کسی صورت میں بھی جائز نہ ہوگا۔ ایسے ہی امیر المومنین کا لفظ جب مطلق بولا جائے گا تو اس سے مراد تمام مسلمانوں کا موجودہ حکمران ہوگا۔
دوسرا سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ قادیانی حضرات امیر المومنین کا لفظ خوش عقیدگی کی وجہ سے بولتے ہیں یا اسے باقاعدہ مذہبی عقیدہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں ہماری پہلی دلیل یہ ہے کہ مرزائیوں کی جماعت کی طرف سے جو بھی اعلانات یا ہدایات جاری ہوتی ہیں۔ وہ ان میں خلیفۃ المسیح اور امیر المومنین دونوں استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ ایک جماعتی لقب ہے جو قادیانیوں نے اپنی جماعت کے امیر کو دے رکھا ہے۔
- ٣...... قادیانی حضرات نے اپنے انتظامی معاملات میں سرکاری شعبوں کی
طرح باقاعدہ شعبے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے عہدیداروں کا ذکر سلطنت کے سرکاری عہدیداروں کی طرح کیا گیا ہے۔ مثلاً ناظر امور خارجہ و داخلہ، ناظر دعوت و تبلیغ، ناظر تعمیرات، ناظر امور عامہ وغیرہ۔
نوٹ...... مرزائیوں کے ناظر کا لفظ وزیر کے قائم مقام ہے۔ اسی طرح مرزائیوں کے ہاں امیر المومنین کا مفہوم بھی ان عہدوں جیسا ہے۔
- ٤...... قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو ام المومنین اور سیدۃ
النساء کا خطاب دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید صحابی کہلاتے ہیں۔ خاندان کو اہل بیت کہا۔ قادیان کی ایک مسجد کا نام مسجد اقصیٰ رکھا اور (پاکستان آنے کے بعد ربوہ (موجودہ چناب نگر) میں مسجد اقصیٰ بن گئی) مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ کو امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔
غرض یہ کہ ان تمام شرعی اصطلاحات کو مرزائیوں نے انہی معنی میں استعمال کیا جن معنی میں مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان اصطلاحات کو حضورﷺ کے ساتھ نسبت کی وجہ سے استعمال کیا۔ لیکن مرزائی ان اصطلاحات کو مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ نسبت کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے امیر المومنین بھی ایک اسلامی اصطلاح ہے
٤٠
جو اس معنی میں استعمال کی جاتی ہے جس معنی میں مسلمانان عالم استعمال کرتے ہیں۔
- ٥...... مرزائیوں کی سرگرمیوں کا جب ہم گہری نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں تو یہ
بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ مرزائی ساری دنیا میں غالب آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ اس امر کو ملحوظ رکھا جائے تو امیر المومنین کی مراد واضح طور پر سمجھ آسکتی ہے۔ امت مرزائیہ کے سیاسی عزائم کیا ہیں؟ وہ مندرجہ ذیل حوالہ سے بخوبی ظاہر ہوتے ہیں کہ:
”خواجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہے۔ مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی کہ ساری دنیا پر چھا جائیں۔ بے شک میمن اور بوہرے بہت مالدار ہیں۔ مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کر دیں گے۔ ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انفرادی طور پر مدینے کو خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال، اپنی دولت، اپنی عزت اپنی تعداد اور اپنے اثر ورسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شائد تمام منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے۔ مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ مچادے گی اور موجود نظام کو توڑ کر اور موجود دستور کو تہہ و بالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی۔ وہ جماعت احمدیہ ہے۔“
(خطبہ میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ١٥ نمبر ٨٢، ١٧ اپریل ١٩٢٨ء)
- ٦...... علاوہ ازیں یہ امر بھی خصوصی غور کا محتاج ہے کہ پاکستان ایک اسلامی
مملکت ہے اور اس ملک کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہے۔ ان حالات میں اگر مرزائیوں کا امیر اپنے آپ کو امیر المومنین کہلائے تو دوسری دنیا یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں ایک امیر المومنین بھی ہے اور پھر اس امیر المومنین کا تعارف قادیانی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کرائیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے مبلغ مرزائیت کا جو پارٹ ادا کر رہے ہیں۔ اس سے قادیانیوں کے جماعتی ترجمان الفضل کی فائل بھری پڑی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان بیرونی دنیا میں مرزا محمود خلیفہ قادیان کے متعلق یہ تعارف کرا رہے ہیں کہ وہ پاکستان کا امیر المومنین ہے۔ اس دلیل کے ثبوت کے
٤١
لئے مندرجہ ذیل واقعہ کافی ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکیں گے کہ دنیائے اسلام مرزا محمود کو کیا اہمیت دے رہی ہے؟۔
مرزائی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے سلامتی کونسل میں جب مسئلہ فلسطین پر بحث کرتے ہوئے عربوں کی نمائندگی کی تو عرب لیگ کے سیکرٹری نے مرزا محمود کے نام اس مضمون کا تار بھیجا کہ ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کو مسئلہ فلسطین پر بحث کے اختتام تک یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیدی۔
(الفضل نومبر ١٩٤٧ء)
عرب لیگ کے سیکرٹری کا یہ تار بہت سی باتوں کا پتہ دیتا ہے۔
- ......١ عربوں نے درخواست کی کہ چوہدری ظفر اللہ خان مسئلہ فلسطین پر ہماری
طرف سے بحث میں حصہ لے اور ہماری نمائندگی کرے۔
- ......٢ چوہدری ظفر اللہ خان نے مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی اجازت کے بغیر
وہاں ٹھہرنے کی درخواست کو قبول نہ کیا۔
- ......٣ مرزا محمود خلیفہ قادیان سے عربوں نے چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کے
متعلق اجازت طلب کی۔
- ......٤ خلیفہ قادیان نے چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کو وہاں ٹھہرنے کی
اجازت دے دی۔
تب جا کر چوہدری ظفر اللہ خان نے مسئلہ فلسطین پر بحث میں حصہ لیا اور پھر عرب لیگ کے سیکرٹری نے شکریہ کا تار مرزا محمود کے نام ارسال کیا۔ یہ تار اخبار الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کی اشاعت پر پورے پاکستان میں احتجاج کیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین سابق وزیر اعظم پاکستان سے دوران ملاقات اس تار کا ذکر بھی کیا گیا۔
نوٹ....... آپ یہ اخبار الفضل محکمہ پریس برانچ سے طلب کر کے اصل حقیقت حال سے مطلع ہو سکتے ہیں۔
مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ چوہدری ظفر اللہ خان مبلغ مرزائیت کی حیثیت سے جو پارٹ ادا کر رہے ہیں۔ اس کی موجودگی میں مرزا محمود کا امیر المومنین کہلانا دوسری دنیا میں پاکستان کو کیسی حیثیت میں پیش کیا جاتا ہے۔
آخر میں چند اہم اور ضروری باتیں عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
٤٤
- ١....... اسلام میں جس طرح کتاب وسنت حجت ہے۔ اسی طرح اجماع امت
بھی حجت ہے۔ بلکہ علم اصول کے لحاظ سے تو اجماع امت کو بہت بڑا درجہ حاصل ہے۔
جہاں تک اس عقیدے کا سوال ہے کہ حضورﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔ اور ہر مدعی نبوت خارج از اسلام ہے۔ یہ دنیائے اسلام کا بنیادی اور اجماعی عقیدہ ہے۔
گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سال میں کسی بھی فرقہ کی طرف سے ایک رائے بھی اس عقیدہ کے خلاف نہیں پائی گئی۔ اس وقت مسلمانوں کے فروعی غیر اجماعی اختلاف کی آڑ لے کر قطعی اور بنیادی عقیدہ سے انحراف بھی کرنا اور مسلمانوں میں شمار بھی ہونا کسی طرح درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔
جب کسی ملک کے مختلف ہائی کورٹوں کے فیصلہ جات کسی قانونی دفعہ پر متفق ہوں اور اس سے کسی بھی ماہر قانون نے اختلاف نہ کیا ہو تو اس ملک کے کسی سب جج یا مجسٹریٹ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہائی کورٹ کے متفقہ فیصلے کے خلاف رائے دے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جبکہ کسی قانون کے وضع کرنے والے یا اس کے خاص پیش کار نے اس قانون کے وضع کرنے والے ہی سے معلومات حاصل کر کے قانون کی شرح بیان کر دی تو پھر اس سے اختلاف کسی قانون کے واضع سے بغاوت کے مترادف ہوگا۔
- ٢....... کسی قانون کی ایسی شرح کرنا جو اصل قانون کو ہی بدل ڈالے یا اس
کے منشاء کو ختم کر دے یہ نہ صرف ناجائز ہی ہے۔ بلکہ اس پر قانون کی اہانت کا مقدمہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلام نے چند اصطلاحات مقرر کر کے ان کے مفہوم بھی مخصوص کر دیئے ہیں۔ تاکہ ان میں کوئی الحاد واقع نہ ہو سکے۔ اب اس کے بعد ان اصطلاحات کے مفہوم میں استعارہ لغت یا مجاز کی آڑ لے کر کوئی تغیر واقع کرنا سراسر ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟۔ اسلامی قانون اپنی ان مخصوص اصطلاحات کو بگاڑنے کی قطعا اجازت نہیں دے سکتا۔
مثلاً رحمان، غفور اور ستار وغیرہ اسمائے الٰہی کے معانی مشہور ہیں۔ اب کوئی ایسا شخص جس نے کسی پر رحم کیا ہو۔ کسی قصور وار کو معاف کر دیا ہو یا کسی کے عیب پر پردہ پوشی کی ہو اور وہ شخص یہ دعویٰ کرے کہ قرآن میں مجھ ہی کو یہ تمام نام دیئے گئے ہیں اور اپنے آپ کو ان حالات کی موجودگی میں رحمن، غفور اور ستار کہلانا شروع کر دے تو کیا دنیا کا کوئی عقلمند انسان اس کی اس دلیل کو صحیح اور درست کہہ سکتا ہے؟۔ یا ایسے ہی ہر چٹھی رساں یا پیغام رساں اپنے آپ کو نبی
٤٣
(یعنی خبر دینے والا) اور ہر چپڑاسی اپنے آپ کو رسول (یعنی پیغام پہنچانے والا) کہلانا شروع کردے اور لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دینے لگے تو کیا عقل و خرد اسے تسلیم کر کے ان کے استعمال کی اجازت دے دے گی؟۔
اسلام دراصل اپنی مقدس اصطلاحات اور ان کے مفہوم کی عظمت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اگر ان اصطلاحات پر سے پابندی ہٹادی جائے تو اسلام کی عظمت ختم ہو جائے گی اور پھر اسلامی نظام بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا۔ اسلام کی قائم کردہ حدود کو جو شخص توڑے گا۔ اسے اس کے جرم کی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ یعنی اگر وہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے تو اس کی یہ سزا کیسے معاف کی جاسکتی ہے؟۔
اس سلسلہ میں ایک اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ علمائے کرام ہر مسلمان کو کافر کہتے ہیں اور یہ کہ جب تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں تو ان کا کیا اعتبار ہے۔ معترضین ساتھ ہی یہ آیت بھی پڑھ دیتے ہیں کہ: ”لا تقولوا لمن القى الیکم السلام لست مومنا ٠ نساء : ٩٤ “
یہ بات مسلم ہے کہ کسی کی تکفیر کے معاملہ میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اسی لئے فقہائے امت نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کے قول میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو اسے پھر بھی کافر نہیں کہنا چاہئے۔ اس سے بڑھ کر احتیاط اور کیا ہو سکتی ہے جو فقہائے امت نے کی؟۔ مگر یہ فتویٰ بھی ان ہی محتاط لوگوں نے دیا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا دعویٰ نبوت یا مدعی نبوت کی تصدیق موجب کفر اور خروج عن الاسلام ہے اس دور کے تمام ائمہ نے بھی اس فتویٰ کا اعلان کیا ہے جو ان فقہائے امت نے دیا۔ موجودہ زمانہ کے علماء پر الزام عائد کرنا کہ وہ خواہ مخواہ تکفیر کرتے ہیں۔ صریح ظلم اور عدم واقفیت پر مبنی ہے رہا یہ سوال کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے باہمی ایک دوسرے کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟۔ اس کا جواب چہ بیانات میں دیا جا چکا ہے۔ لیکن یہاں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فقہا امت نے اجتماعی طور پر کسی ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا۔ جیسے آج کل ہمارے ہاں بعض مسلمانوں پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ ہم بھی حتی الوسع کسی کو خواہ مخواہ کافر کہنے سے گریز کریں۔ کیونکہ یہ فعل ایک شبہ کی بنا پر کیا جاتا ہے اور شبہ میں ملزم کو فائدہ پہنچنا
ہے۔ مگر شہادت قطعی کے بعد کسی ملزم کو بری کر دینا اور اس کی دلیل میں کسی دوسرے مقدمہ کی شہادت کے ناقص ہونے کا حوالہ دینا انصاف کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ جہاں تک اس آیت قرآنی کا تعلق ہے اس میں پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ آیت میں القی الیکم السلام ! فرمایا ہے۔ الاسلام نہیں فرمایا۔ جب اسلام کا لفظ ہی نہ بولا گیا ہو تو اس سے مراد یہ لینا کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے تم اسے کافر نہ کہو۔ کس طرح درست ہو سکتا ہے؟۔ دعویٰ کے مطابق قرآن کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہو سکا۔ قرآن پاک خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس میں اسلام اور سلام کا کچھ تو بین فرق ہو گا ؟۔
سلام معنی دعا۔ یعنی سلامتی اور رحمت ظاہر ہے کہ اسلام ایک مذہب ہے یہاں پر سلام سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہیں السلام علیکم کہے تو تم اس کے غیر مومن ہونے کا دعویٰ نہ کرو۔ اور سلام کہنے والے کی زندگی کی جانچ پڑتال نہ شروع کر دو کہ یہ کہنے والا کیسا ہے۔ لیکن اس آیت میں یہ بھی نہیں فرمایا کہ اسے تم ضرور مومن سمجھو۔
اس کی ایک تیسری صورت یہ ہے اور ممکن ہو سکتی ہے کہ ہم اس کی نسبت کوئی فیصلہ ہی نہ کر پائیں۔ بلکہ جستجو کریں کہ فی الواقع یہ شخص مومن ہے یا کافر ہے۔ دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی جہاد کے سفر میں مسلمانوں کو ایک چرواہا ملا۔ اس نے مسلمانوں کو السلام علیکم کہا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید یہ شخص کافر ہے اور اپنے مال و جان کی حفاظت کے لئے اس نے ہمیں السلام علیکم کہا ہے۔ انہوں نے اسے قتل کر کے اس کے مویشیوں اور دیگر مال پر قبضہ کر لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یا ایھا الذین امنو لا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا ، النساء: ٩٤! اس آیت میں حکم ہے کہ ایک علامت اسلام کی (یعنی سلام کہنا) پائی گئی تو اس کے غیر مومن ہونے کا حکم نہ دینا چاہئے۔ کسی مسافر پر بلا تحقیق ایسا حکم دینا صحیح نہیں۔ اس آیت میں دو دفعہ ”تبینوا“ فرمایا گیا کہ تحقیق کے بعد جس قسم کا ثبوت مہیا ہو۔ اسی قسم کا حکم لگایا جائے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت نہیں ہوئی کہ جو بھی سلام کہہ دے تم اس پر مومن کا حکم لگا دو۔
- ٤۔....... کسی شئے کی تعریف اور اس کی علامت میں بہت فرق ہے۔ تعریف
میں اس کی ماہیت کا ذکر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی جاتی اور علامت میں اس
٤٥
کی کسی ایسی صفت کا ذکر کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر یا معلوم کر کے عام لوگ اس چیز کا پتہ لگا لیں۔ مثلاً ایک مسافر ہے۔ دور کسی گاؤں میں مسجد کے مینار دیکھ کر یہ اندازہ کر لیتا ہے کہ یہ گاؤں مسلمانوں کا ہے۔ لیکن جب مسلمانوں کی تعریف کی جائے گی تو پھر یہ نہیں کہا جائے گا کہ مسلمان وہ ہے جو مسجد والے گاؤں میں آباد ہو۔ مثلاً ایک سکھ بھیس بنا لے یقیناً اسے مسلمان سمجھے گا۔ مگر ایسی مونچھیں اور داڑھی اسلام کی تعریف میں شامل نہیں۔ یعنی جب ایک شخص مسلمان ہونا چاہے تو اس کی داڑھی مونچھ درست کر کے اس کے سر پر ترکی ٹوپی رکھ دینے سے ہی وہ مسلمان نہیں ہو جائے گا اس کے لئے اسلام نے جو طریقے بتائے ہیں اور جن چیزوں کے اقرار کرنے کی تاکید فرمائی ہے وہی طریق اختیار کرنا پڑے گا۔
اس تمہید کے بعد یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ اسلام کی تعریف اور ہے اور اسلام یا مسلمان کی علامت اور علامت کا دارو مدار حقیقت پر نہیں ہوتا بلکہ عرف عام پر ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں کو بعض علامتیں بتادی جاتی تھیں کہ مسلمان کی علامت یہ ہے۔ تا کہ وہ غلطی سے مسلمان آبادی پر شب خون نہ ماریں۔ ان علامتوں میں حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کسی قوم پر حملہ کے لئے صبح کا انتظار کرنا اور ان کی آبادی سے اذان کی آواز آجائے تو انہیں مسلمان سمجھنا۔ مگر جب کسی کافر کو مسلمان بنانا ہو تو اس کے متعلق یہ فرمایا گیا کہ ان سے اس امر کا اقرار لینا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد رسول ﷺ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ لیکن جو شخص پہلے سے مسلمان ہے۔ اس کو پہچاننے کے لئے علامت کی ضرورت ہوگی اور اس علامت کا مدار عرف عام پر ہوگا۔ حضور ﷺ کی حدیث من صلّی صلواتنا واستقبل قبلتنا ، مشکوٰۃ ص ١٢ کتاب الایمان ! میں مسلمان کی تعریف نہیں بلکہ علامت کا ذکر کیا گیا ہے۔
٥ ...... ایک ہے اسلام میں کسی کا داخل ہونا اور ایک ہے اسلام سے کسی کا خارج ہو جانا۔ یہ دو جدا جدا امر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے جن امور کا ماننا ضروری ہے۔ اسلام سے خارج ( کافر) ہونے کے لئے ان سب کا انکار ضروری نہیں ۔ بلکہ کسی ایک امر کا انکار ضروری ہے۔ مثلاً جب ہم مسلمان کی تعریف یہ کریں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ایک اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر برحق تسلیم کرے اب خروج از اسلام کے لئے دونوں کا
٤٦
انکار ضروری نہیں۔ بلکہ محض کسی ایک کا انکار بھی موجب کفر ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ ان کے تمام احکام کو درست تسلیم کرنا ضروری ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول ماننے کے ساتھ آپ ﷺ کے لائے ہوئے ہر پیغام کو صحیح تسلیم کرنا بھی ضروری ۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کو ماننے کا مطلب ان کے ہر پیغام کو ماننا ہے۔ لیکن جو شخص مسلمان ہونے کے بعد خدا اور رسول خدا ﷺ کے کسی ایک قطعی حکم کا بھی انکار کر دے تو وہ شخص خارج از اسلام و کافر ہو جائے گا۔
ایک شبہ کا ازالہ
ایک شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں احکام تو بہت ہیں مثلاً نماز پڑھنا ، داڑھی رکھنا، مسواک کرنا ، بیٹھ کر پیشاب کرنا وغیرہ کیا ان میں سے کسی ایک حکم کو چھوڑ دینے سے آدمی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اگر درست تسلیم کر لیں تو پھر مسلمان کون رہے گا؟۔
الجواب ......!
اول یہ جاننا چاہئے کہ انکار کرنا اور ترک کرنا ایک بات نہیں بلکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایمان یقین کا نام ہے اور کفر مکر جانے کا نام ہے۔ ترک نام ہے کسی حکم کو بجا نہ لانے کا۔ جب کوئی آدمی اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام احکام کے صحیح اور درست ہونے پر یقین رکھتا ہے وہ مسلمان ہے۔ اور جب تک ان کے متعلق یقین رکھے گا وہ مسلمان ہی رہے گا۔ چاہے وہ کسی حکم پر عمل نہ بھی کرے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ چاہے کمزور سے کمزور تر ہو اور اگر وہ کسی ایک بات کا ہی انکار کر دے تو اسلام سے خارج ہو جائے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہر بات نبی کے ذریعے سے معلوم ہوتی ہے کسی بات کا انکار کرنا اس بات کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے۔ جب نبی کی بتائی ہوئی کسی بات کو جھوٹ کہہ دیا گیا تو گویا اس شخص نے نبوت ہی کا انکار کر دیا۔ کیونکہ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نبی تو ہے مگر وہ اللہ کی طرف جھوٹ بھی منسوب کرتا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مسلمان کو یہ سزا دینا کہ وہ کافر ہو گیا ہے سب سے بڑی سزا ہے۔ اس کے لئے شہادت قطعی ضروری ہے۔ یعنی جس چیز کے انکار سے کفر
٤٧
کا فتویٰ دیا جائے گا اس کا یہ ثبوت کہ اللہ تعالیٰ یا محمد رسول اللہ ﷺ کو علم ہے کسی قطعی دلیل سے ہونا شرط ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن پاک سب فرقوں کے نزدیک قطعی الثبوت ہے تو قرآن کریم کے کسی بھی حکم کا انکار (یعنی اس کو جھوٹا سمجھنا) سارے قرآن کے انکار کو مستلزم ہے جو شرعی باتیں دلیل ظنی سے ثابت ہوں۔ یعنی حدیث پاک سے اور حد تواتر کو نہ پہنچیں اور نہ ہی اس پر اجماع ہو اس کے انکار سے کفر لازم نہ آئے گا۔ بلکہ ظن کا درجہ ہوگا۔ کیونکہ ایسی شرعی بات کی نسبت یہ سمجھنا کہ وہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمودہ ہے۔ یقین نہیں بلکہ گمان غالب ہے۔ لہٰذا آخری سزا نہیں دی جاسکتی۔ ہاں! وہ بات جس وقت نبی ﷺ نے فرمائی تھی۔ اگر کوئی شخص اس وقت حضور ﷺ کے منہ سے سن کر انکار کرتا تو کافر ہو جاتا۔ کیونکہ آپ ﷺ سے سن کر انکار کرنا نبوت کے انکار کو مستلزم ہے۔
نتیجہ یہ کہ اسلام نام ہے اللہ اور رسول ﷺ کے جملہ فرمانوں کو صحیح اور درست یقین کرنے کا اور کسی قطعی الثبوت بات کے انکار کر دینے کا نام کفر ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی نبوت فرضیت نماز وغیرہ قرآن کی قطعیت سے ثابت ہے۔ اس طرح یہ بات کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا باجماع امت قرآن کریم سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ اس لئے جس طرح توحید یا نفس رسالت محمدیہ ﷺ کا منکر کافر ہے۔ اس طرح آپ ﷺ کو آخری نبی نہ ماننا یا آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کے اجراء کو درست سمجھنا یا دعویٰ نبوت کرنا یا ایسا دعویٰ کرنے والے کو اس کے دعاوی میں سچا سمجھنا موجب کفر ہوگا اور اس پر حضور ﷺ سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے۔ یہ بات کہ مسلم کی تعریف کیا ہے اور کیا موجودہ زمانہ میں علماء کا کسی تعریف پر اتفاق ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج بھی علماء اصولاً تعریف مسلم پر متفق ہیں۔ قبل اس کے کہ اسکی تعریف کی جائے چند امور ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ:
- الف...... معرف جب کسی چیز کی تعریف کرتا ہے تو کبھی اجمال سے کبھی تفصیل
سے کام لیتا ہے۔
- ب...... کبھی تعلیم بعد از تحقیق اور کبھی تحقیق بعد از تعلیم کرتا ہے۔
- ج...... کبھی مخاطبین کا خیال کر کے اس پر تفریعات کو بھی مرتب کر دیتا ہے۔
٤٨
...... کوئی شخص کی اصطلاحات کا جاننا ضروری ۔ ہیں ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔ ...... کبھی او
مسلمان کی تعریف
اللہ تعالیٰ کو ایک اور م لیا تو گویا وہ لاشریک ہوا اور اس تو گویا جو باتیں اللہ تعالیٰ سے عل بیان فرمایا سب کو درست تسلیم کوئی شریک نہیں۔ اس کے جـ یہ دعویٰ کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف درست ہے۔ اور آپ ﷺ ۔
اب قرآن وسنت تعریفیں نقل کی جاتی ہیں۔ اس تفصیل کسی جگہ تعمیم بعد از تخـ شرح درج ہوگی۔ مسلمان وہ
- ١...... آمنت بـ
احکامه ، صفت ایمان م
- ٢...... اشهد ان
ورسوله ، كنز العمال ج
- ٣...... آمنت
خيره وشره من الله تـ
- ٤...... ذالك ال
- ...... د کوئی شخص خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو مگر کسی فن کو سمجھنے کے لئے اس فن
کی اصطلاحات کا جاننا ضروری ہے اور اصطلاحات کے استعمال کے لئے ان کے اسباب ہوتے ہیں ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔
- ...... ہ کبھی اعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تاکہ مکملات ایمان معلوم ہوں ۔
مسلمان کی تعریف
اللہ تعالیٰ کو ایک اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننا ۔ جب اللہ کو ایک مان لیا تو گویا وہ لاشریک ہوا اور اس کے جملہ احکام سچے ہوئے ۔ جب پیغمبر ﷺ کو سچا رسول مان لیا تو گویا جو باتیں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر (نبی کوئی بات بغیر اطلاع ربانی نہیں کرتا) آپ ﷺ نے بیان فرمایا سب کو درست تسلیم کیا۔ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ماننا یہ ہے کہ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کے جملہ فرمان سچے ہیں اور پیغمبر کو ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ دعویٰ کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ بنی نوع انسان کی طرف ہدایت دے کر بھیجا گیا ہوں درست ہے۔ اور آپ ﷺ کے جملہ احکام اور ہدایات صحیح ہیں۔
اب قرآن وسنت اور اجماع صحابہ وامت سے مسلمان کی مختلف موقعوں پر منقول تعریفیں نقل کی جاتی ہیں۔ اصل تعریف میں کوئی اختلاف نہ ہوگا۔ بلکہ کسی جگہ اجمال کسی جگہ تفصیل کسی جگہ تعمیم بعد از تخصیص اور کسی جگہ تخصیص بعد از تعمیم یا مکملات ایمان یا کسی جملہ کی شرح درج ہوگی۔ مسلمان وہ ہے جو زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے کہ:
- ١....... آمنت بالله كما هو باسمائه وصفاته وقبلت جميع
احکامه ، صفت ایمان مجمل!
- ٢....... اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده
ورسوله ، کنز العمال ج ١ ص ٤٩ حدیث نمبر ١٣٩ !
- ٣....... آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسوله واليوم الآخر والقدر
خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت ، صفت ایمان مفصل!
- ٤....... ذالك الكتب لا ريب فيه هدى للمتقين الذين يؤمنون بالغيب
٤٩
ويقيمون الصلوة ومما رزقنهم ينفقون والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون ، البقره: ٢ تا ٤!
- ٥...... آمن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل امن
بالله وملئكته وكتبه ورسله ، لا نفرق بين احد من رسله ، الخ البقره : ٢٨٥!
- ٦...... يا يها الذين آمنو آمنوا بالله ورسله والكتاب الذى نزل
على رسوله والكتاب الذى انزل من قبل . ومن يكفر بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الاخر فقد ضل ضلا لا بعيدا ، النساء: ١٣٦!
- ٧...... قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم
واسـمعيـل واسـحـق ويعـقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم . لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون ، فان آمنوا بمثل مآ آمنتم به فقد اهتدوا، وان تولوا فانما هم فى شقاق، فسيكفيكهم الله وهوالسميع العليم ، البقره: ١٣٦ تا ١٣٧!
- ٨...... ان تشهدوا ان لا اله الا الله وأن محمد رسول الله وتقيم
الصلوة وتؤتى الزكوة وتصوم رمضان والحج البيت أن استطعتم اليه سبيلا
(كنز العمال ج ١ ص ٣٣٧ حديث نمبر ١٥٤٣)
- ٩...... ان تؤمن بالله وملئكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت
والجنة والناس وتؤ من بالقدر خيره وشره .
(كنز العمال ج ١ ص ٢٧٠ حديث نمبر ١٣٥٥)
- ١٠...... بنى الاسلام على خمس شهادت ان لا اله الا الله وان
محمدا عبده ورسوله واقام الصلوة وايتاء الزكوة والحج البيت وصوم رمضان .
(كنز العمال ج ١ ص ٢٨ حديث نمبر ٢٨)
٥٠
صلوٰة ومما رزقنهم ينفقون والذين يؤمنون بما انزل اليك وما بالاخرة هم يوقنون ٠ البقره: ٢ تا ٤!
آمن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل امن كتبه ورسله ٠ لا نفرق بين احد من رسله ٠ الخ البقره : ٢٨٥!
يايها الذين آمنو آمنوا بالله ورسله والكتاب الذى نزل الكتاب الذى انزل من قبل ٠ ومن يكفر بالله وملائكته وكتبه لاخر فقد ضل ضلالا بعيدا ٠ النساء: ١٣٦!
قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم سحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى بهم ٠ لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون ٠ فان آمنوا م به فقد اهتدوا ٠ وان تولوا فانما هم فى شقاق ٠ فسيكفيكهم العليم ٠ البقره: ١٣٤ تا ١٣٧!
ان تشهدوا ان لا اله الا الله وأن محمد رسول الله وتقيم الزكوة وتصوم رمضان والحج البيت ان استطعتم اليه سبيلا
(کنز العمال ج ١ ص ٣٣٧ حدیث نمبر ١٥٤٣)
ان تؤمن بالله وملئکته وکتبه ورسله والبعث بعد الموت وتؤمن بالقدر خيره وشره ٠
(کنز العمال ج ١ ص ٢٧٠ حدیث نمبر ١٣٥٥)
بنى الاسلام على خمس شهادت ان لا اله الا الله وان ورسوله واقام الصلوة وايتاء الزكوة والحج البيت وصوم
(کنز العمال ج ١ ص ٢٨ حدیث نمبر ٢٨)
٥٠
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
تعارف
اکفار الملحدین
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف!
الحمدلله رب العالمين، ولاعدوان الا على الظالمين، والصلوة والسلام على خاتم النبيين، محمد وآله وصحبه اجمعين!
سرزمین بیت الحرام میں ”غار حرا“ کے افق سے نبوت کبریٰ کا آفتاب عالم تاب طلوع ہوا اور زمینی مخلوق کے لئے آسمانی پیغام ہدایت کی ضیا پاشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حضرت محمد عربی ﷺ ”خاتم النبیین“ کے منصب پر فائز ہو گئے۔ قرآن کریم نازل ہونا شروع ہو گیا۔ کفار مکہ اور جزیرۃ العرب کے یہود و نصاریٰ پوری مخالفت بلکہ جحود و عناد پر اتر آئے۔ لیکن اسلام کے خلاف ان کی ساری تدبیریں خاک میں مل گئیں اور نہ صرف عہد نبوت میں بلکہ عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں بھی اسلام کے روز افزوں عروج و استحکام کی یہی صورت حال قائم رہی اور اسلام شرقاً و غرباً تمام دنیا میں بن کی آگ کی طرح پھیلتا چلا گیا۔ مگر اسی کے ساتھ ساتھ اعداء اسلام کے حلقوں میں اسلام کے خلاف غیظ و غضب بھی بڑھتا چلا گیا۔ مشیت الہی سے عہد عثمانی میں عہد فاروقی جیسا تدبر و تیقظ قائم نہ رہ سکا۔ اس لئے مریض القلب لوگوں نے خصوصاً نام نہاد مسلمان یہودیوں نے خفیہ ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔ تا آنکہ حضرت عثمان غنیؓ شہید ہو گئے اور اب چاروں طرف سے علی الاعلان فتنوں نے سر اٹھایا۔
حضرت علیؓ کے عہد میں ان فتنوں کا بازار ”حرب و پیکار“ کی شکل میں گرم ہونا شروع ہو گیا اور اسلام کو شدید ترین داخلی و خارجی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر حضرت علی المرتضیٰ جیسی عظیم شخصیت نہ ہوتی تو شاید اسلام ختم ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے حلم و فراست کی برکت سے اسلام کی حفاظت فرمائی۔ جس طرح عہد صدیقی میں فتنہ ارتداد اور مانعین زکوٰۃ کا فتنہ پوری قوت کے ساتھ رونما ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے حزم و عزم صدیقی کی برکت سے اسلام کی حفاظت کی تھی۔ ٹھیک اسی طرح فتنہ خوارج و شیعیت کی شدت کی وجہ سے خلافت علی المرتضیٰؓ میں زوال اسلام کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اسلام تو بچ گیا۔ لیکن ”جنگ جمل“ اور ”جنگ صفین“ جیسے دردناک واقعات اور خونچکاں حوادث ضرور رونما ہوئے اور اسلام کی مقدس سرزمین صحابہؓ و تابعین کے خون سے ضرور لالہ زار بنی۔ جس کے نتیجے میں فتنہ شیعیت و فتنہ رفض اور فتنہ خارجیت و اعتزال
٢
وغیرہ سیاسی و دینی فتنوں کی جڑیں دور دور پھیل گئیں اور پہلی مرتبہ علمی اعتبار سے مسئلہ ایمان و مسئلہ کفر سامنے آیا اور اس کی عملی تحقیق کی ضرورت پیش آئی۔
لطف کی بات یہ تھی کہ خوارج و معتزلہ بھی ایمان وتوحید کے مدعی تھے اور شیعہ و روافض بھی اسلام ومحبت اہل بیت کے دعوے دار تھے۔ مگر دونوں فرقے صحابہ کرام کی تکفیر پر متفق تھے اور اپنے اپنے ایمان واسلام کا دعویٰ بھی کرتے تھے۔ پھر انہی دونوں شاخوں سے پھوٹ کر جہمیہ مرجیہ، کرامیہ وغیرہ نومولود مدعی اسلام فرقے پیدا ہوتے چلے گئے۔ جن میں سے ہر ایک فرقہ اپنے سوا سب کو کافر کہتا تھا۔
اس لئے اسلام کی حفاظت کے لئے شدید ضرورت پیش آئی کہ محققانہ انداز میں اس مشکل کو حل کیا جائے کہ ”مناط“ و مدار نجات کیا چیز ہے؟۔ اور ”ایمان“ کی اصل حقیقت کیا ہے؟۔ اور ”کفر“ کی اصل بنیاد کیا ہے؟۔
چنانچہ امام احمد بن حنبلؒ ، ابوبکر بن ابی شیبہؒ ، ابو عبید قاسم بن سلامؒ ، محمد بن نصر مروزیؒ ، محمد بن اسلم طوسیؒ ، ابوالحسن بن عبدالرحمن بن رستہؒ ، ابن حبانؒ ، ابوبکر بیہقیؒ وغیرہ آئمہ حدیث نے ”مسئلہ ایمان“ پر محدثانہ کتابیں لکھیں۔
محدثین کے طرز پر حافظ ابن تیمیہؒ کی ”کتاب الایمان“ شاید آخری کتاب ہو۔ لیکن علمی ونظری مکاتب فکر کے نقطہ نظر سے یہ محدثانہ تالیفات کافی نہ تھیں۔ اس لئے متکلمین نے اس میدان میں قدم رکھا اور قدماء متکلمین کی تصانیف میں بھی یہ مسائل زیر بحث آئے۔
امام ابوالحسن اشعریؒ سے لے کر حجتہ الاسلام امام غزالیؒ تک کبار متکلمین نے خوب علمی و نظری تحقیقات کی داد دی اور ان مسائل پر سیر حاصل عقلی ونقلی (غیر تقلیدی) بحثیں کیں۔ حجتہ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی طوسیؒ متوفی ٥٠٥ ھ غالباً پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس موضوع پر مستقل محققانہ کتاب لکھی۔ جس کا نام فیصل التفرقة بين الاسلام والزندقة ! ہے۔ مصر و ہندوستان دونوں جگہ طبع ہوئی ہے۔
رفتہ رفتہ فقہاء کے حلقہ میں بھی یہ مسئلہ زیر بحث آیا اور فقہائے کرام نے اپنے مخصوص فقہی انداز میں بھی خوب خوب لکھا۔ لیکن ایک طرف حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کا یہ قول لا نکفر احدا من اهل القبلة ! امت کے سامنے تھا۔ دوسری طرف یہ اجماعی مسئلہ طے شدہ تھا کہ: ”ضروریات دین میں سے کسی بھی امر ضروری کا انکار کفر ہے۔“ بلکہ ضروریات دین میں ”تاویل بھی موجب کفر ہے۔“
٣
اسی طرح ایک طرف یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ : ”لازم مذہب، مذہب نہیں ہے جب تک التزام کفر نہ کیا جائے ۔ لزوم کفر سے کفر لازم نہیں آئے گا ۔“ اس بحث کے ذیل میں یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا کہ : ”ضروریات دین“ کے باب میں بھی یہ ضابطہ جاری ہے یا ”ضروریات دین“ اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں؟ ۔ نیز مسئلہ تکفیر میں دلیل قطعی ضروری ہے یا ظنی ادلہ سے بھی تکفیر کی جاسکتی ہے؟
الغرض موضوع اپنی اہمیت کے پیش نظر اور نزاکت کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ الجھتا گیا اور ایمان و کفر کا بدیہی مسئلہ نظری بن کر رہ گیا ۔ ادھر اعداء دین کو ان علمی بحثوں اور کاوشوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے مواقع ملتے چلے گئے ۔
اسی اثناء میں سر زمین پنجاب کے اندر ایک مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پیدا ہو گیا ۔ جس نے اپنی مستقل تشریعی نبوت کو منوانے کی غرض سے قطعی امور دین کا انکار کرنا شروع کر دیا ۔ ختم نبوت جیسے اجماعی و اساسی طے شدہ مسئلہ کو از سر نو زیر بحث لایا ۔ جہاد اور حج کے اس زمانہ میں منسوخ ہونے کا اعلان کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ از راہ تلبیس تبلیغ اسلام کے بلند بانگ دعوے بھی کرتا رہا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مختلف جہات سے دین کی حفاظت کے لئے شدید ضرورت پیش آئی کہ ان موضوعات پر ایک فیصلہ کن محققانہ تالیف امت کی رہنمائی کے لئے سامنے آئے ۔ تاکہ ان دقیق اور الجھے ہوئے مسائل میں آئندہ نسلوں کو کفر و اسلام کے اندر امتیاز کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے ۔
لیکن ان موضوعات سے عہدہ برآ ہونا ، نہ ہر عالم و فقیہ کا کام تھا اور نہ ہر صاحب قلم مصنف و مؤلف کا ۔ بلکہ اس کے لئے ایک ایسے محقق روزگار کی ضرورت تھی جو محدث بھی ہو ، اور فقیہ بھی ۔ متکلم بھی ہو اور اصولی بھی ۔ مورخ بھی ہو ، اور تاریخ ملل و نحل کا محقق بھی ۔ وسیع النظر بھی ہو ، اور منصف مزاج بھی ۔ اس کی زندگی علوم و مشکلات علوم کی تحقیق اور عقدہ کشائی میں گزری ہو ۔ مجتہدانہ ذوق کا مالک ہو ۔ فتنوں اور فرقوں کی تاریخ سے بصیرت افروز واقفیت رکھتا ہو ۔
حق تعالیٰ نے اس علمی و دینی عظیم الشان خدمت کے لئے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری دیوبندی نور اللہ مرقدہ کا انتخاب فرمایا جو اپنے عہد میں علوم اسلامیہ میں ”امامت کبریٰ“ کا درجہ رکھتے تھے ۔ ایسے یگانہ روزگار تھے جن کی مثال گزشتہ صدیوں میں بھی مشکل سے ملے گی ۔ قدماء متاخرین میں چند نفوس قدسیہ جس جامعیت عظمیٰ کے حامل گزرے ہیں ۔ حضرت
٤
شاہ صاحب قدس اللہ سرہ بھی انہی جیسی نادرہ روزگار ہستی کے مالک تھے۔ اس موضوع پر قدماء ومتاخرین فقہاء، متکلمین، محدثین و مفسرین کے علمی کارناموں یعنی تصانیف میں جہاں بھی غرر نقول (زریں اقتباسات) تھے۔ اگرچہ بعید سے بعید ترین مظان (مقامات) میں تھے۔ ان سب کے جواہر و درر کو حیرت انگیز غواصی کے کرشمے دکھا کر امت کے سامنے رکھ دیا۔ اور یہ تفحص و تجسس کا دائرہ مطبوعات تک ہی محدود نہیں رہا۔ بلکہ اس مقصد کے لئے نادر ترین مخطوطات (قلمی کتابوں) کے عام دسترس سے باہر علمی سمندروں میں بھی شناوری اور غواصی فرمائی ہے۔ اور نہ صرف خاص خاص ابواب متعارفہ اور مظان متوقعہ (متوقع مقامات) کی مراجعت فرمائی ہے۔ بلکہ بعض مخطوطات کو اوّل سے آخر تک مطالعہ کر کے پوری کتاب میں جہاں جہاں درر بے بہا (قیمتی اقتباسات) ہاتھ آتے گئے، پروتے گئے۔ محقق ابن وزیر یمانیؒ کی محققانہ ضخیم غیر مطبوعہ کتاب العواصم والقواصم پوری مطالعہ کر کے سارے متعلقہ ٹکڑے (اقتباسات) یکجا جمع فرمادیئے۔
اسی طرح فتح الباری جیسی ضخیم تیرہ جلدوں کی کتاب میں جہاں جہاں کوئی مفید مطلب مضمون ملا جمع فرمادیا۔ کیا کوئی بھی عالم و محقق تصور کر سکتا ہے کہ ادیب قلقشندی کی خالص ادبی کتاب صبح الاعشی فی فن الانشاء ! میں بھی اس خالص دینی موضوع سے متعلق کوئی چیز ہوگی؟۔ لیکن امام العصر حضرت شاہ صاحبؒ سے وہ بھی اوجھل نہ رہ سکی۔ اس سے بھی استفادہ فرمایا۔
امام بخاریؒ کی کتاب خلق افعال العباد ! امام ذہبیؒ کی کتاب العلو ! بیہقیؒ کی کتاب الاسماء والصفات ! ابن حزمؒ کی کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل ! عبدالقادر تمیمی بغدادیؒ کی کتاب الفرق بین الفرق ! ابوالبقاءؒ کی کتاب الکلیات ! شیخ اکبرؒ کی الفتوحات المکیۃ ! شعرانیؒ کی الیواقیت والجواہر ! سیوطیؒ کی کتاب الخصائص ! وغیرہ وغیرہ کے اقتباسات و حوالے اسی طرح آتے ہیں جیسے کتب کلام و کتب فقہ و کتب اصول و کتب حدیث و اصول حدیث اور تفاسیر کے اقتباسات و حوالہ جات آتے ہیں۔
حافظ ابن تیمیہؒ کی تصانیف کتاب الفتاویٰ چھ جلد المنہاج ...... الصارم المسلول ...... بغیۃ المرتاد ...... کتاب الایمان ! اور الجواب الصحیح ! میں جہاں جہاں مفید مطلب مسئلہ نظر آیا نقل فرمادیا۔
حافظ ابن قیمؒ کی تصانیف شفاء العلیل ...... زاد المعاد ! وغیرہ میں جہاں جہاں
٥
اہم نقول (اقتباسات) ملی ہیں برمحل نقل فرمادی ہیں۔
اس طرح تقریباً دوسو کتابوں کے صد ہا اقتباسات اور حوالہ جات ہر مسئلہ اور ہر عنوان کے تحت اس حیرت انگیز استقصاء کے ساتھ جمع فرمائے ہیں کہ دیکھنے والے کو گمان ہوتا ہے کہ شاید ساری زندگی اس کتاب کی نذر ہوگئی ہوگی۔ لیکن آپ کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ اس انداز کی یہ جامع کتاب صرف چند ہفتوں میں تصنیف فرمائی ہے۔ لیکن یہ اسی جلیل القدر، محیر العقول ہستی کا کارنامہ ہو سکتا تھا جس نے سارے علمی کتب خانے کھنگال ڈالے تھے اور ہر مطالعہ کی ہوئی کتاب ہمہ وقت اس طرح مستحضر رہتی تھی جیسے ابھی دیکھی ہے۔
پھر بڑی خوبی یہ ہے کہ تنہا کتب حنفیہ سے نقول (اقتباسات) جمع نہیں کئے۔ تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ : ”یہ تو مخصوص مکتب فکر کا نقطہ نظر ہے۔“ بلکہ کتب مالکیہ ، شافعیہ ، حنابلہ اور کتب آئمہ اربعہ سے نوادر نقول (اقتباسات) پورے استیفاء و استقصاء کے ساتھ جمع کئے ہیں۔ تا کہ یہ ثابت ہو کہ یہ پوری امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) اور تمام آئمہ مذاہب کا متفقہ فیصلہ ہے اور کسی پہلو سے بھی حرف گیری یا شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اسی طرح متکلمین میں سے ماتریدیہ ...... اشاعرہ ...... اور حنابلہ! کی کتب عقائد و کلام سے بھی موقع بموقع اقتباسات پیش کئے ہیں اور کسی بھی پہلو سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔
پھر جتنے محقق اہل علم، اکابر دیوبند تھے ان سب کی تقریظات صرف اس لئے حاصل کی گئیں۔ تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ کوئی شخصی رائے نہیں ہے۔ بلکہ دورِ حاضر کے اکابر امت کا اجماعی فیصلہ ہے اور اس میں کوئی عالم دین بھی مخالف نہیں ہے۔ تقریظیں لکھنے والے قابل ذکر حضرات یہ ہیں:
- ١...... حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن دیوبندیؒ مفتی دارالعلوم دیوبند۔
- ٢...... حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ۔
- ٣...... حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ المدنی۔
- ٤...... حضرت مولانا حکیم رحیم اللہ بجنوریؒ، شاگرد حضرت نانوتویؒ۔
- ٥...... حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ۔
- ٦...... امیر شریعت بہار حضرت مولانا محمد سجادؒ۔
- ٧...... حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے اس آخری دور میں امام العصر
حضرت شیخؒ کو اسی قسم کی علمی مشکلات حل کرنے کے لئے پیدا فرمایا تھا۔ ان کی تالیفات تصنیفی ہوں یا املائی۔ سب میں یہ خصوصیت جلوہ گر ہے۔ حضرت الاستاذ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرمایا کرتے تھے کہ:
”حضرت شاہ صاحبؒ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ علوم وفنون کی ارواح ومقاصد پر حاوی ومطلع ہیں۔ جب کوئی شخص ان سے کسی بھی علم کا کوئی دقیق سے دقیق اور مشکل سے مشکل مسئلہ حل کرنے کے لئے سوال کرتا ہے تو فوراً برجستہ جواب حاضر پاتا ہے۔ اس طرح مدتوں سے اس مشکل کو حل کئے بیٹھے ہیں۔“
پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ اکابر امت اور کبار محققین علوم کی نقول (اقتباسات) پیش کردینے پر اکتفا کیا ہو۔ اگرچہ اس انداز سے ایک موضوع پر ان سب اقتباسات کو ایک جگہ جمع کردینا بھی افراد امت ہی کا کام ہے۔ بلکہ ان نقول واقتباسات سے جو علمی فوائد ونکات اخذ کئے ہیں اور زیر نظر موضوع کی تائید میں جو مجتہدانہ استنباطات کئے ہیں۔ یہ صرف انہی کا کام تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس گوناگوں اور نت نئے فتنوں کے دور میں کہ کہیں مرزائیت کا فتنہ ہے تو کہیں خاکساریت کا۔ کہیں پرویزیت کا فتنہ ہے تو کہیں فضل الرحمٰن کی مستشرقانہ تحقیقات کا۔ اگر ایسی محققانہ اور جامع کتاب نہ ہوتی تو آج کفر وایمان کا مسئلہ شدید بحران اور پورے اشتباہ میں پڑا ہوتا ، اور دورِ حاضر کے علماء میں سے کسی عالم کے بس کا نہ تھا کہ ایسا مدلل منقح اور بصیرت افروز ومحققانہ ذخیرہ جمع کر سکے کہ ہر فتنہ کی سرکوبی وتردید کے لئے کافی ہو۔ اور امت کے ذمہ یہ فرض کفایہ یونہی رہ جاتا۔ لیکن الحمد لله علی احسانه! یہ مسئلہ اتنا واضح ہو گیا کہ اب کسی کے لئے کوئی شک وشبہ کی گنجائش اور عذر باقی نہ رہا۔
لیکن یہ کتاب عربی زبان میں تھی اور سارے نقول (اقتباسات) بھی عربی زبان میں تھے اور ان سے اخذ کردہ نتائج اور حضرت شیخ کے استنباطات بھی چیستان کی حد تک دقیق عربی زبان میں تھے۔ چنانچہ سرسری نظر سے پڑھ کر عربی دان اور علماء بھی اس کو محض اقتباسات کی فہرست سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر یہ امتیاز کرنا مشکل ہوتا تھا کہ اقتباس کتنا ہے اور حضرت شیخ کی عبارت کتنی؟۔ غرض علماء کے لئے بھی اس وقت دانستہ اس کی وجہ
سے کما حقہ استفادہ بڑے غور وخوض کا محتاج تھا۔
مجلس علمی کراچی کا یہ احسان ہے کہ اس نے وقت کی اہم دینی ضرورت کا احساس کیا اور ایک محقق عالم وممتاز فاضل کو (مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ) جسے حضرت شیخؒ سے شرف تلمذ اور خصوصی تعلق کے ساتھ ہی ان کے علوم سے فی الجملہ مناسبت بھی ہے اور ساری عمر علوم وفنون کی بادیہ پیمائی میں گزری ہے۔ کتاب کے اردو ترجمہ کے لئے انتخاب کیا۔
اس قسم کی جامع اور دقیق کتاب ہو اور پھر امام العصر حضرت شاہ صاحبؒ کی تالیف ہو جن کی دقت تحریر علماء کے حلقہ میں معروف ہے اور ان کی دوسری تصانیف اس پر شاہد ہیں۔ اور پھر اس نازک اور لائق صد احتیاط موضوع پر ہو۔ اس کا ترجمہ کرنا بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔ لائق مترجم وفقه الله لكل خير ! ہمارے بے حد شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے اس مشکل کو سر کیا اور اس خوان یغماء کو نہ صرف عام علماء بلکہ اردو دان طبقہ کے لئے بھی وقف عام کر دیا اور علماء و فقہاء و ارباب فتویٰ پر بھی احسان کیا۔ اس لئے کہ امام العصر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی تحریر بلکہ تقریر سے بھی پورا استفادہ کرنا ہر عالم کے بس کا کام نہیں ہے۔
بہر حال وقت کی ایک اہم دینی وعلمی ضرورت تھی جو نہایت خوبی کے ساتھ پوری ہوگئی۔ مبتلا حضرات (جن کو ان موضوعات سے سابقہ پڑتارہتا ہے) خصوصاً ارباب فتویٰ اس کی قدر کریں گے اور امام العصر حضرت مؤلف نور اللہ مرقدہ کو اور مترجم طالت حياته فی الخیر ! دونوں کو دعائے خیر سے فراموش نہ فرمائیں گے۔
کتاب کے اواخر میں امام العصر حضرت شیخؒ نے اس موضوع پر ان مسائل میں علماء کی تحقیق کے مآخذ کتاب وسنت میں کیا کیا ہیں؟ اور علماء وفقہاء کے درمیان اختلاف نظر کیوں رہا ہے؟۔ عجیب مجتہدانہ انداز سے تحقیق فرمائی ہے اور محققانہ انداز سے اس اختلاف نظر کی توجیہ فرمائی ہے اور پھر فرمایا ہے کہ: ’’ہم نے اس مسئلہ میں انتہائی احتیاط سے کام لیا ہے۔ ایسا نہیں کیا کہ ایک جانب کو پیش نظر رکھ کر دوسری جانب سے غفلت برتی ہو اور اس طرح غیر شعوری طور پر ہم بے احتیاطی میں مبتلاء ہوگئے ہوں۔ ہم نے اس مسئلہ میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے جس پر ہمارا ایمان وعقیدہ ہے۔ ہمارا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ وہی ہمارا گواہ اور وکیل ہے ۔‘‘
٨
اور مشکوٰۃ نبوت سے نکلی ہوئی حدیث قولی کو اپنا مشعل راہ بنایا ہے: ”اس علم دین کو آئندہ نسلوں تک وہی لوگ پہنچائیں گے جو اعلیٰ درجہ کے عادل نصف مزاج ہوں گے۔ وہی اہلِ غلو (حد سے تجاوز کرنے والوں) کی ”تحریفات“ سے اہل باطل کی ”تزویرات“ (فریب کاریوں) سے اور جاہلوں کی ”تاویلات“ سے دین کو بچائیں گے۔“
(مشکوٰۃ ص ٣٦ کتاب العلم فصل ثانی)
کتاب کے بالکل آخری حصہ میں فرماتے ہیں کہ: ”یہ دین نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کہا جائے اور نہ ہی یہ دین ہے کہ کسی کافر کو کافر نہ کہا جائے۔ اور اس کے کفر سے چشم پوشی کی جائے۔ آج کل لوگ افراط وتفریط میں مبتلاء ہیں اور کسی نے سچ کہا ہے کہ: ”جاہل یا تو افراط میں مبتلا ہو گا یا تفریط میں۔ ولا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم!“
لکھنے کو تو بہت کچھ جی چاہ رہا ہے۔ لیکن اس عدیم الفرصتی کے عالم میں ان چند سطروں پر اکتفا کرنا ناگزیر ہے۔ ماشاء اللہ! یہ چند سطریں ہی اس بے نظیر کتاب اور اس کے ترجمہ میں کافی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ علم صحیح، فہم صحیح، انصاف و دیانت اور عمل صالح کی توفیق ہم سب کو نصیب فرمائیں۔
ایک ضروری تنبیہ
”دین“ اور ”اسلام“ کے خلاف ملحد وبے دین لوگ اور اہل حق کے خلاف باطل پرست افراد اور فرقے ہمیشہ برسر پیکار رہے ہیں اور گرم وسرد جنگ یعنی تیغ وتفنگ یا قلم و قرطاس کے معرکے ہمیشہ جاری رہے ہیں اور جب بھی اہل حق اور اہل ایمان کے آفتاب نصف النہار سے بھی زیادہ روشن دلائل اور تیغ تیز سے بھی زیادہ قاطع اور دوٹوک فیصلہ کردینے والے براہین نے باطل پرستوں کے شکوک وشبہات، تاویلات وتحریفات، تلبیسات وتشویہات کا قلع قمع کیا ہے۔ اور ان پر کفر وارتداد کا حکم لگایا ہے تو ان باطل پرستوں نے علماء حق کی تکفیر سے بچنے کے لئے مختلف ومتنوع حربے بطور سپر استعمال کئے ہیں۔ مثلاً:
- ١....... کبھی عوام میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ فقہاء و متکلمین کے یہ تکفیر وارتداد کے
٩
فتوے تو محض ڈرانے ،دھمکانے کے لئے ہوتے ہیں۔ ان کے تکفیر کے فتوؤں سے کوئی مسلمان فی الحقیقت کافر و مرتد نہیں ہو جاتا ۔جیسا کہ اسی کتاب میں ص٢٣٤ پر آپ فتاویٰ بزازیہ کے حوالہ سے اس قسم کے جاہلانہ نعروں کی تردید ملاحظہ فرمائیں گے ۔
- ٢......کبھی کہتے ہیں کہ ہم تو اہل قبلہ ہیں اور خود حضرت امام ابو حنیفہؒ نے بڑی
شدت کے ساتھ اہل قبلہ کی تکفیر سے ممانعت کی ہے۔ اس کی حقیقت حضرت مصنف نے اس کتاب میں بے نقاب کی ہے۔
- ٣......کبھی کہتے ہیں کہ ہم تو ”مؤول“ ہیں۔ باتفاق فقہاء مؤول کی تکفیر جائز
نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے عقیدہ یا قول وفعل میں ننانوے وجوہ تکفیر کی ہوں اور ایک وجہ بھی اس کو کفر سے بچاتی ہو تو اس کی بھی تکفیر نہ کرنی چاہئے ۔ تاویل اور مؤول کے بارے میں بھی سیر حاصل بحث و تحقیق آپ کتاب میں ملاحظہ فرمائیں گے۔
- ٤......ہمارے زمانہ میں چونکہ بدقسمتی سے ان ملحدوں اور زندیقوں کو تحریر و تقریر
کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس لئے وہ زیادہ بے باکی اور دریدہ دہنی کے ساتھ اہل حق کے ان تکفیر کے فتووں کو ”دشنام طرازی“ سے اور کافر، مرتد، ملحد، زندیق، جاہل، بے دین وغیرہ احکام شرعیہ کو ”گالیوں“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور برملا کہتے ہیں کہ علماء کو گالیاں دینے کے سِوا اور آتا ہی کیا ہے؟۔
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج اسلام کے اساسی احکام و عبادات ہیں اور دین اسلام میں ان کے مخصوص و متعین معنی اور مصداق ہیں۔ ٹھیک اسی طرح کفر، نفاق، الحاد، ارتداد اور فسق بھی اسلام کے بنیادی احکام ہیں۔ دین اسلام میں ان کے بھی مخصوص و معین معنی اور مصداق ہیں۔ قرآن کریم نے اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے قطعی طور پر ان کی تعیین و تحدید فرمادی ہے۔
ایمان کا تعلق قلب کے یقین سے ہے اور اللہ کی وحدانیت، رسول کی رسالت اور ماجاء به الرسول ! (رسول کے لائے ہوئے دین و شریعت) کو دل سے ماننا اور زبان سے اقرار کرنا ایمان کے معتبر ہونے کے لئے ضروری ہے۔ جو کوئی ان کو نہ مانے قرآن کریم کی اصطلاح میں اور اسلام کی زبان میں وہ کافر ہے اور اس نہ ماننے کا نام کفر ہے جس طرح ترک
١٠
نماز، ترک زکوٰۃ، ترک روزہ اور ترک حج کا نام ”فسق“ ہے اور ترک کرنے والے کا نام ”فاسق“ ہے۔ بشرطیکہ کہ ان کے فرض ہونے کو مانتا ہو۔ صرف عمل نہ کرتا ہو۔ اسی طرح انہی تعبیرات صلوٰۃ، زکوٰۃ، صوم، حج کو تسلیم و اختیار کرنے کے بعد ان کو معروف و متواتر شرعی معنی سے نکال کر غیر شرعی معنی میں استعمال کرنے اور ایسی تاویلیں کرے جو نہ صرف قرآن وحدیث کے خلاف ہوں۔ بلکہ چودہ سو سال کے عرصہ میں کسی بھی عالم دین نے نہ کی ہوں تو اس کا نام قرآن کی اصطلاح اور اسلام کی زبان میں ”الحاد“ ہے اور اس شخص کا نام ”ملحد“ ہے۔ قرآن کریم نے ان الفاظ، کفر، نفاق، الحاد، ارتداد کو انسانوں کے خاص خاص عقائد، اقوال، افعال و اخلاق، کے اعتبار سے افراد اور جماعتوں کے لئے استعمال فرمایا ہے اور جب تک روئے زمین پر قرآن کریم موجود رہے گا۔ یہ الفاظ بھی، ان کے یہ معنی، اور مصداق بھی باقی رہیں گے۔
اب یہ علمائے امت کا فریضہ ہے کہ وہ امت کو بتلائیں کہ ان کا استعمال کہاں کہاں یعنی کن کن لوگوں کے حق میں صحیح ہے اور کہاں کہاں غلط ہے؟۔ یعنی یہ بتلائیں کہ جس طرح ایک شخص یا فرقہ ایمان کے مقررہ تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد مؤمن ہوتا اور مسلمان کہلاتا ہے۔ اسی طرح ان کو نہ کرنے والا شخص یا فرقہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ نیز علمائے امت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان حدود و تفصیلات کو یعنی ایمان کے مقتضیات اور موجبات کفر، کفریہ عقائد و اقوال وافعال، کی تحدید (حد بندی) اور تعیین کریں۔ تا کہ نہ کسی مؤمن کو کافر اور اسلام سے خارج کہا جاسکے اور نہ کسی کافر کو مؤمن اور مسلمان کہا جاسکے۔ ورنہ اگر ایمان و کفر کی حدود اس طرح مشخص و متعین نہ ہوئیں تو ایمان وکفر کا امتیاز مٹ جائے گا اور دین اسلام بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا اور جنت وجہنم افسانے۔
اس لئے علمائے امت پر کچھ بھی ہو اور کیسے ہی طعنے کیوں نہ دیئے جائیں۔ رہتی دنیا تک یہ فریضہ عائد ہے اور رہے گا کہ وہ خوف وخطر اور ”لَوْمَةَ لَائِمٍ“ ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر جو شرعاً کافر ہے۔ اس پر کفر کا حکم اور فتویٰ لگائیں اور اس میں پوری پوری دیانتداری اور علم وتحقیق سے کام لیں۔ اور شرعاً جو ملحد و فاسق ہے۔ اس پر الحاد و فسق کا حکم اور فتویٰ لگائیں۔ اور جو بھی فرد یا فرقہ قرآن وحدیث کی نصوص کی رو سے اسلام سے خارج ہو۔ اس پر اسلام سے خارج اور دین سے بے تعلق ہونے کا حکم اور فتویٰ لگائیں۔ اور کسی بھی قیمت پر اس
١١
کو مسلمان تسلیم نہ کریں۔ جب تک سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع نہ ہو۔ یعنی قیامت تک۔
بہر حال، کافر، فاسق، ملحد، مرتد، وغیرہ شرعی احکام و اوصاف ہیں اور فرد یا جماعت کے عقائد یا اقوال و اعمال پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ ان کی شخصیتوں اور ذاتوں پر۔ اس کے برعکس گالیاں جن کو دی جاتی ہیں ان کی شخصیتوں اور ذاتوں کو دی جاتی ہیں۔ لہذا اگر یہ الفاظ صحیح محل میں استعمال ہوتے ہیں تو یہ شرعی احکام ہیں۔ ان کو سب و شتم اور ان احکام کے لگانے کو دشنام طرازی کہنا جہالت ہے یا بے دینی۔
نیز علماء حق جب کسی فرد یا جماعت کی تکفیر کرتے ہیں تو وہ اس کو کافر نہیں بناتے۔ کافر تو وہ خود اپنے اختیار سے کفریہ عقائد یا اقوال و افعال اختیار کرنے سے بنتا ہے۔ وہ تو صرف اس کے کفر کو ظاہر کرتے ہیں۔ کسوٹی سونے کو کھوٹا نہیں بناتی۔ وہ تو اس کے کھوٹا ہونے کو ظاہر کر دیتی ہے۔ کھوٹا تو وہ خود ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ کہنا کہ مولویوں کو کافر بنانے کے سوا کیا آتا ہے؟۔ شرمناک جہالت ہے۔
امید ہے کہ اس ضروری تنبیہ کے بعد قارئین ان ملحدوں اور بے دینوں کے ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف اور ہوشیار ہو جائیں گے اور جس کسی فرد یا جماعت کو اس قسم کا پروپیگنڈا کرتے پائیں گے۔ باور کرلیں گے کہ یہ صرف شریعت کے حکم اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج بد اور الحاد و زندقہ کی سزا سے بچنے کے لئے علماء و مفتین کے خلاف بداعتمادی پھیلا کر دو گونا جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ العیاذ باللہ!
واللہ سبحانہ وتعالیٰ ولی الہدایۃ والتوفیق صلی اللہ علی خیر خلقہ صفوۃ البریۃ سیدنا ومولانا محمد الہاشمی العربی وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم!
محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ!
١٢
- جب تک سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع نہ ہو۔ یعنی
کافر، فاسق، ملحد، مرتد، وغیرہ شرعی احکام و اوصاف ہیں اور فرد یا جماعت کے افعال پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ ان کی شخصیتوں اور ذاتوں پر۔ اس کے برعکس گالیاں ان کی شخصیتوں اور ذاتوں کو دی جاتی ہیں۔ لہٰذا اگر یہ الفاظ صحیح محل پر ہوں تو یہ شرعی احکام ہیں۔ ان کو سب و شتم اور ان احکام کے لگانے کو دشنام طرازی یا بے دینی۔
جب کسی فرد یا جماعت کی تکفیر کرتے ہیں تو وہ اس کو کافر نہیں بناتے۔ کافر تو کفریہ عقائد یا اقوال و افعال اختیار کرنے سے بنتا ہے۔ وہ تو صرف اس پر مطلع کرتے ہیں۔ کسوٹی سونے کو کھوٹا نہیں بناتی۔ وہ تو اس کے کھوٹا ہونے کو ظاہر کر دیتی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ کہنا کہ مولویوں کو کافر بنانے کے سوا کیا آتا ہے۔
امید ہے کہ اس ضروری تنبیہ کے بعد قارئین ان ملحدوں اور بے دینوں کے مکر سے ہوشیار ہو جائیں گے اور جس کسی فرد یا جماعت کو اس قسم کا پروپیگنڈہ کرتے پائیں گے۔ باور کر لیں گے کہ یہ صرف شریعت کے حکم اور اس پر مرتب ہونے والے کفر و زندقہ کی سزا سے بچنے کے لئے علماء و محققین کے خلاف بداعتمادی پھیلا کر بچنا چاہتا ہے۔ العیاذ باللہ!
واللہ تعالیٰ ولی الہدایۃ والتوفیق وصلی اللہ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد الہاشمی العربی وعلیٰ آلہ وصحبہ وبارک وسلم !
محمد یوسف بنوریؒ عفا اللہ عنہ!
١٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
مقدمہ
عقیدۃ الاسلام
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم
فہرست
- نام ونسب ............................................................................ ١٩٨
- ولادت مبارک ونشو ونما ..................................................... ١٩٨
- تعلیم .................................................................................. ١٩٨
- اعمال واشغال ...................................................................... ٢٠٠
- سفر حج ................................................................................ ٢٠٠
- ہجرت حجاز کا قصد ................................................................. ٢٠٠
- صدارت دارالعلوم دیوبند ......................................................... ٢٠١
- ڈابھیل میں جامعہ اسلامیہ کی تاسیس ...................................... ٢٠٢
- جامع کمالات ........................................................................ ٢٠٣
- امام العصر اکابر معاصرین کی نظر میں ....................................... ٢٠٣
- آپ کی تصانیف پر ایک نظر ................................................... ٢٠٧
- قادیانیت ایک سازش .......................................................... ٢٠٨
- فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی میں امام العصر کی خدمات ............. ٢١٠
- التصریح بما تواتر فی نزول المسیح .......................................... ٢١١
- اکفار الملحدین ...................................................................... ٢١١
- رسالہ شرح خاتم النبیین ....................................................... ٢١١
- عقیدۃ الاسلام وتحیۃ الاسلام .......................................... ٢١٢
- عقیدۃ الاسلام کا اصل موضوع ................................................. ٢١٢
٢
- ضمنی ابحاث ٢١٥
- مرزا قادیانی کے کفریات ٢١٦
- حکمت نزول مسیح علیہ السلام ! ٢١٨
- معجزات، اسباب و علل سے بالاتر ہوتے ہیں ٢١٩
- مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا راز ٢٢٠
- نزول عیسیٰ علیہ السلام اجماع امت کی روشنی میں ٢٢١
- عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام سے انکار کیوں؟ ٢٢٦
- انسانی فہم کی بنیادی کمزوری ٢٢٦
- قدرت خداوندی کے مظاہر ٢٢٧
- انسانی مصنوعات اور خدائی مخلوقات ٢٢٨
- انسانی عقل کی بے چارگی ٢٢٩
- عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کا دیگر عقائد قطعیہ سے مقابلہ ٢٣٠
- نزول مسیح کی حکمت ٢٣٠
- خلاصۂ کلام ٢٣٢
٣
پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى!
امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی بے نظیر تالیف ”عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ ؑ“ مجلس علمی کراچی کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے جس پر حضرت الشیخ العلامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے قلم سے ایک فاضلانہ مقدمہ ہے جو اپنے قیمتی افادات کے لحاظ سے مستقل مقالے کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ کتاب حال ہی میں مجھے تبصرے کے لئے موصول ہوئی تو جی چاہا کہ قارئینِ بینات کے لئے اس مقدمہ کا اردو ترجمہ بھی پیش کر دیا جائے۔
یہ مقدمہ تین مباحث پر مشتمل ہے:
امام العصر کے اجمالی حالات۔
عقیدۃ الاسلام کی خصوصیات کا تفصیلی تعارف۔
اور مسئلہ نزول مسیح ؑ پر محققانہ بحث۔
والله الموفق لكل خير وسعادة!
محمد یوسف لدھیانوی
یکم شعبان المعظم ١٣٨٧ھ
٤
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! الحمدلله الذى جعل علماء هذه الامة كنجوم السماء بهم يهتدى فى دياجر الكفر وظلمات الالحاد غاية الاهتداء وبهم زينة هذه البسيطة الغبراء وبهم يرجم شياطين الانس فى كل ليلة ليلاء والصلوة والسلام على سيدالرسل محمد خاتم الانبياء الممثل للامة بالمطر والمبشر بنزول سيدنا عيسى روح الله الاطهر فيصلح به الامة العوجاء وعلى آله الاصفياء وصحبه السعداء ما استنار القمر وتجلت ذكاء ، اما بعد!
حضرت الاستاذ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کے مشکلات علوم، دشوار مسائل اور دقیق حوادث ونوازل کی تحقیق کے سلسلے میں امت پر عظیم احسانات ہیں۔ ہر علم کے پیچیدہ اور دشوار مسائل کے حل کے لئے آپ کی ذات سرزمین ہند میں اہل علم کا مرجع تھی۔ علوم نبوت کی تدریس اور کسی بھی موضوع سے متعلق متن وسند اور جرح وتعدیل کے تمام مباحث کی تحقیق میں منفرد طریقہ کے موجد تھے۔ مذاہب امت کے استحضار وتحقیق میں آیۃ من آیات اللہ ! تھے اور فقہائے امت کے مختلف فیہ مسائل کی تنقیح میں مجدد تھے۔
اسی طرح اہل بدعت واہل فتن بالخصوص فتنہ کبریٰ ”قادیانیت ومرزائیت“ کی تردید کے سلسلہ میں امت مسلمہ پر آپ کے احسانات ناقابل فراموش ہیں۔ اس شجرہ خبیثہ (فتنہ مرزائیت ) کی بیخ کنی کے لئے آپ خود بھی متوجہ ہوئے۔ علمائے کرام پر حفاظت دین کی جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ انہیں بھی اس کا احساس دلایا۔ اس سلسلہ میں زبان وقلم سے ان کی مدد فرمائی اور اپنے علمی ذخیروں اور قلمی یاداشتوں کے خزانوں کو سب کے لئے وقف عام کر دیا جس کے نتیجے میں آپ کے فاضل تلامذہ نے ”رد مرزائیت“ پر عظیم الشان اردو وعربی کتابیں لکھیں۔ دراں حالے کہ آپ نہ کسی سے جزا کے طالب تھے اور نہ شکریئے کے۔ بلکہ یہ سب کچھ محض رضائے الٰہی کے لئے تھا۔ آپ کا دروازہ ہر مستفید کے لئے کھلا تھا اور آپ کے علمی خزانے ہر طالب کیلئے وقف تھے۔ اس تاریک فتنہ کی مضرت کے احساس سے آپ کا ذکی اور حساس قلب مبارک بیتاب رہتا تھا اور حریم دین کی حفاظت میں اہل علم کی غفلت کوشی پر آپ کی پاکیزہ روح دردوکرب میں مبتلا رہتی تھی۔ بسا اوقات آپ پر ان افکار کا اتنا ہجوم ہوتا کہ ساری ساری رات آنکھوں میں کاٹ دیتے۔ آپ کی تمنا بس یہی تھی کہ کسی طرح حق کا جھنڈا سر بلند ہو اور نشان باطل سرنگوں ہو۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ قارئین کے لئے امام العصر کی حیات طیبہ کا اجمالی خاکہ پیش
٥
کروں۔ اس کے بعد آپ کی تصنیف عقیدۃ الاسلام کے خصائص پر قدرے روشنی ڈالوں۔
نام ونسب
الشیخ الامام محدث کبیر محقق زمان امام العصر محمد انور شاہ بن شیخ معظم شاہ بن شاہ عبدالکبیر۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ مسعود نروی سے جاملتا ہے۔ آپ کے اسلاف بغداد سے ملتان آئے۔ وہاں سے لاہور اور پھر لاہور سے کشمیر منتقل ہوئے اور خطہ کشمیر ان کی اولاد کا وطن مالوف بن گیا۔ گویا عربی شاعر کی زبان میں:
کما قر عینا بالایاب المسافر
”پس اس نے ڈیرے ڈال دئے اور مسلسل سفر سے سکون و قرار پالیا۔ جیسا کہ وطن کی واپسی سے مسافر کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔“
ولادت مبارکہ اور نشوونما
آپ کی ولادت ٢٧ شوال المکرم ١٢٩٢ھ کو بروز ہفتہ بارہ مولا (کشمیر) میں ہوئی۔ والد ماجد نہایت متقی عالم اور سلسلہ سہروردیہ کے صاحب نسبت شیخ تھے۔ یہ سلسلہ ان کے خاندان میں پشت در پشت چلا آتا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ بھی بڑی نیک بخت اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ آپ نے ان دونوں نیکوکار ہستیوں کی آغوش شفقت میں پرورش پائی۔ آپ کی صغر سنی میں والد ماجد نماز تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو آپ کو اٹھا کر اپنے پہلو میں بٹھا لیتے اور خود نماز میں مشغول ہو جاتے۔
یوں بچپن ہی سے آپ پر برکات کا نزول ہوتا اور دعوات صالحہ آپ کا احاطہ کرتیں۔ ایسے علم وصلاح کے گھرانے میں ایسی خاص نگہداشت اور عجیب تربیت کی آغوش میں آپ کی نشو ونما ہوئی۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی۔ پھر اپنے قصبہ کے دوسرے علماء سے۔ پھر خطۂ کشمیر کے مشاہیر سے۔ پھر کشمیر سے ملحقہ علاقہ ضلع ہزارہ کی طرف تعلیمی سفر کیا۔ پھر برصغیر ہندو پاکستان کے سب سے بڑے علمی مرکز ”دارالعلوم دیوبند“ تشریف لے گئے جو اس وقت کے فاضل ترین علماء و اتقیاء کا مرکز تھا۔ جسے بلا مبالغہ ہندوستان کا قرطبہ اور ازہر کہا جاسکتا ہے۔ وہاں سے ١٣١٣ھ میں فارغ التحصیل ہوئے۔ جبکہ طالب علمی کے زمانہ ہی سے آپ وفور علم، وسعت
٦
نظر، بے نظیر حافظہ اور ورع و تقویٰ کے اعتبار سے ”مشار الیہ“ تھے۔
میں نے ١٣٤٧ھ میں سفر کشمیر کے دوران آپ کے والد ماجد کی زبان مبارک سے آپ کے ابتدائی تعلیمی حالات سنے۔ انہوں نے فرمایا کہ مولوی محمد انور قدوری کے سبق میں مجھ سے ایسے سوال کیا کرتے تھے جن کا جواب دینے کے لئے مجھے ہدایہ کے مطالعہ کی ضرورت پیش آتی تھی۔ پھر میں نے ان کا سبق فلاں عالم کے سپرد کر دیا تو انہوں نے بھی یہی شکایت کی کہ یہ صاحبزادے سوال بہت کرتے ہیں۔ حالانکہ اوقات درس کے علاوہ آپ بالکل ساکت و صامت رہا کرتے تھے۔ کھیل کود کی رغبت جو عموماً اس عمر کے بچوں میں پائی جاتی ہے وہ آپ کے اندر قطعاً نہ تھی۔
نیز والد ماجد فرماتے تھے میں ان کو ایک عارف کامل مستجاب الدعوات بزرگ کی خدمت میں لے گیا۔ انہوں نے دیکھ کر فرمایا کہ : ”یہ لڑکا اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم ہوگا۔“
نیز والد ماجد فرماتے تھے کہ : ”ہمارے زمانے کے ایک بہت بڑے عالم نے درسی کتابوں پر مولانا انور شاہؒ کے حواشی جو کتاب پڑھتے وقت بچپن میں لکھے تھے۔ دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ صاحبزادہ غزالیؒ عصر اور رازیؒ دہر ہوگا۔“
میں نے خود حضرت امام العصرؒ کی زبان مبارک سے سنا۔ فرماتے تھے کہ: ”میں نے فارسی کی تمام درسی کتابیں جو اس وقت مروج تھیں۔ پانچ سال میں پڑھیں اور علوم عربیہ کی تعلیم میں پانچ سال مشغول رہا۔“
اس لحاظ سے آپ کی طالب علمی کی مدت دس سال سے زائد نہیں ہوتی۔ آپ کے شاگرد عزیز اور رفیق خاص مولانا مشیت اللہ بجنوریؒ نے مجھے بتلایا کہ حضرت الاستاذ (طالب علمی کے زمانہ میں) صرف جمعہ کی رات کو بستر پر سویا کرتے تھے۔ ورنہ اس کے علاوہ ہفتے کی باقی راتوں میں مطالعہ کتب میں مصروف رہتے اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو بیٹھے بیٹھے سو جاتے۔
میں نے خود حضرت الاستاذ کی زبان مبارک سے سنا کہ : ”جس سال حضرت الاستاذ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے یہاں میرا بخاری شریف کا درس شروع ہونے والا تھا۔ اس سال میں نے رمضان المبارک میں پوری عمدۃ القاری شرح بخاری کا مطالعہ کر لیا تھا اور کتاب شروع ہونے کے بعد بخاری شریف کے ساتھ ساتھ فتح الباری شرح بخاری کا مطالعہ سبقاً سبقاً کیا کرتا تھا۔ بعض اوقات پوری جلد کا مطالعہ ایک رات میں کرنا ہوتا۔ اسی سال میں ایک مرتبہ ٧ دن بیمار رہا جس کی وجہ سے شریک درس تو نہ ہو سکا۔ مگر فتح الباری کا مطالعہ جاری رہا۔ اٹھارویں دن جب سبق میں
٧
حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ حضرت کا درس ابھی تک وہاں نہیں پہنچا ہے جہاں تک میں صحیح بخاری اور فتح الباری کا مطالعہ کر چکا ہوں ۔‘‘
نیز فرماتے تھے کہ : ”میں نے حضرت شیخ الہندؒ سے ہدایہ آخرین ، صحیح بخاری ، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی پڑھیں اور حضرت مولانا محمد اسحاق کشمیریؒ ثم مدنی (م:١٣٣٢ھ) سے صحیح مسلم ، سنن نسائی ، اور سنن ابن ماجہ پڑھی ہیں ۔‘‘
راقم الحروف ( حضرت بنوریؒ ) نے آپ کے مآثر علمی اور نقوش زندگی پر ایک مستقل کتاب ’’نفحة العنبر فی حياة الشيخ الانور ‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ نیز کچھ سوانح زندگی اور درسی خصوصیات کا تذکرہ مقدمہ فیض الباری اور مقدمہ مشکلات القرآن میں کیا ہے۔ یہاں چند مختصر اشارات پر قناعت کروں گا۔
اعمال واشغال
آپ طبعاً گمنامی کو پسند فرماتے تھے۔ فطری ذوق یہی تھا کہ کسی سے جان پہچان نہ ہو۔ بس ہمہ وقت مصروف مطالعہ رہا کریں۔ لیکن قدرت آپ کو کسی بڑے کام کے لئے تیار کر رہی تھی۔ سب سے پہلے آپ کے رفیق خاص مولانا امین الدین دہلویؒ نے آپ کو دعوت دی کہ دہلی میں ایک دینی مدرسہ کے قیام کے سلسلہ میں آپ میری مدد کریں۔ چنانچہ آپ نے ان کی دعوت قبول فرمائی اور مدرسہ کی تاسیس میں ان کی امداد فرمائی ۔ مدرسہ کا نام مدرسہ امینیہ رکھا گیا جو اپنے بااخلاص بانیوں کے خلوص اور للہیت کی برکت سے آج تک دہلی میں علم و ہدایت کی شمع فروزاں ہے۔ آپ نے خود از راہ اخلاص و ایثار اس مدرسہ کو سب سے پہلے دس روپے چندہ دیا اور آپ ہی اس کے پہلے صدر مدرس ہوئے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کو وطن مالوف (کشمیر) جانا پڑا۔ وہاں بھی برابر عوام کی اصلاح میں مشغول رہے ۔ وعظ وتذکیر کے ذریعہ اصلاح معاشرت ، تصحیح عقائد اور اصلاح بدعات ورسوم کے سلسلہ میں بڑی محنت برداشت فرمائی۔ ایک ایک بستی میں جاتے۔ فصیح کشمیری زبان میں وعظ وتلقین فرماتے ۔ لوگ آپ کے مواعظ حسنہ سے اس قدر متاثر ہوتے کہ وعظ سن کر بے تحاشا روتے اور بداعمالیوں سے تائب ہوتے۔ بالآخر بستی بارہ مولا میں ’’فیض عام‘‘ کے نام سے ایک دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس سے وہاں کے بہت سے لوگوں خصوصاً اہل علم کی اصلاح ہوئی ۔
سفر حج
١٣٢٣ھ میں بغرض حج وزیارت حجاز مقدس کا سفر کیا۔ وہاں چند ماہ قیام رہا۔ کتب
٨
خانہ شیخ الاسلام عارف حکمت، مکتبہ محمودیہ اور دوسرے کتب خانوں کی بہت سی نایاب اور غیر مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ کیا۔ علاوہ ازیں اس سفر میں اس زمانے کے باکمال اہل علم وفضل سے بکثرت ملاقاتیں میسر آئیں اور علمی مذاکرات میں آپ کے وفورِ علم وفضل و شرف اور عبقریت کا ظہور ہوا۔ جن حضرات سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں ان میں سلطنت عثمانیہ کے عالم کبیر شیخ حسین بن محمد طرابلسیؒ مصنف رسالہ حمیدیہ بطورِ خاص قابل ذکر ہیں۔
سفر حرمین سے واپسی
حرمین شریفین کے انوار و برکات سے استفادہ کے بعد مراجعت فرمائے وطن ہوئے اور چند سال خطہ کشمیر میں درس وتدریس میں مشغول رہے اور علماء کرام کو درس وافتاء سے مستفید فرمایا۔ تین سال تک ماہرین فقہ وقضاء کی ”جدید فقہی مسائل“ میں رہنمائی فرمائی اور وہ اختلافی مسائل جو ارباب فتویٰ کے درمیان محل نزاع چلے آ رہے تھے ان کے بارے میں فیصلہ کن فتوے دیئے جو بالاتفاق تسلیم کئے گئے اور عجیب بات یہ کہ اس سہ سالہ مدتِ فتویٰ نویسی میں آپ کو فقہ فتاویٰ کی کسی کتاب کی طرف مراجعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ (خارقِ عادت حافظہ کی مدد سے ضخیم فقہی کتب کے حوالے پیش فرماتے جو کتاب سے ملانے کے بعد بالکل صحیح نکلتے۔ بسا اوقات مطبوعہ کتب میں کتابت یا نقل کی اغلاط کی نشاندہی بھی فرماتے) یہ بات میں نے خود حضرت الاستاذؒ کی زبانِ مبارک سے سنی ہے۔
ہجرت حجاز کا قصد اور دیوبند میں قیام
پھر دیار حبیبﷺ کے اشتیاق میں وطن مالوف کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینے اور حرمین شریفین کی طرف ہجرت کرنے کا عزم فرمایا اور کشمیر سے حجاز جاتے ہوئے اثنائے سفر میں اپنے شیخ کبیر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی زیارت کے لئے دیوبند حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ الہندؒ کو قصد ہجرت کا علم ہوا۔ انہوں نے محسوس فرمایا کہ سرزمین ہند اور مرکز علوم دارالعلوم دیوبند آپ کے علمی فیضان کے زیادہ مستحق ہیں اور یہ بنجر علاقے آپ کی باران علوم و معارف کے لئے بے حد تشنہ ہیں۔ اس لئے حضرت شیخ الہندؒ نے آپ پر زور دیا کہ ہجرت کا ارادہ ترک کردیں اور دیوبند میں مستقل قیام فرمائیں۔ چنانچہ آپ سے زادِ سفر لے کر کسی دوسرے صاحب کو حج و زیارت کے لئے تیار کر دیا۔ یہ واقعہ بھی میں نے حضرت الاستاذ نور اللہ مرقدہ سے سنا۔
صدارت دارالعلوم دیوبند
حضرت شیخ الہندؒ کے اصرار پر آپ دیوبند کے قیام پر آمادہ ہو گئے اور اسی سال
٩
دارالعلوم دیوبند میں استاذ حدیث مقرر ہوئے اور جب ١٣٣٣ھ میں حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے خاص نصب العین کے تحت سفر حرمین شریفین کا قصد فرمایا تو اپنی جگہ حضرت الاستاذ (مولانا انور شاہؒ) کو صدر مدرس اور شیخ الحدیث کے منصب پر متعین فرما دیا۔ آپ صحاح ستہ اور امہات کتب حدیث کی تدریس میں مشغول ہو گئے۔ اس وقت سرزمین ہند میں آپ ہی کی ذات سند وقت تھی۔ ملک کے اطراف واکناف میں آپ کا علمی غلغلہ بلند ہوا اور آپ کی بارگاہ اہل علم اور طالبان علوم نبوت کا مرجع بن گئی۔ دارالعلوم میں آپ کا سراپا علمی وجود، طریقہ تدریس کی اصلاح وتجدید اور دقیق مسائل کے تجزیہ وتحلیل کا سبب بنا۔ آپ کے وفور علم وسعت نظر اور کثرت معلومات کا سمندر ساحل دارالعلوم سے اچھل اچھل کر اطراف واکناف کے ہر تشنہ اور خشک خطے کو سیراب کرنے اور تشنگان علوم نبوت کی پیاس بجھانے لگا۔ سماحت نفس، کمال اخلاص اور جذبہ فیض رسانی کا یہ حال تھا کہ آپ اپنی قلمی یادداشتیں جو مطالعہ کتب کے دوران مرتب فرمالیا کرتے تھے اور جو گرانقدر علمی ذخائر اور نفیس خزائن پر مشتمل ہوتی تھیں اور جنہیں عام طور پر اہل علم کے حلقے میں بلا مبالغہ جان سے زیادہ عزیز سمجھا جاتا ہے۔ مانگنے پر بڑی فیاضی اور کشادہ دلی سے دیدیا کرتے تھے۔
ڈابھیل میں جامعہ اسلامیہ اور مجلس علمی کی تاسیس
١٣٤٦ھ میں بعض وجوہ کی بنا پر جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں آپ دارالعلوم دیوبند کی صدارت سے سبکدوش ہو گئے اور ملک کے ہر گوشہ سے بااخلاص ارادت مندوں کی جانب سے آپ کو اپنے یہاں لے جانے کی دعوت دی گئی۔ بالآخر آپ قصبہ ڈابھیل جو سورت کے قریب بمبئی کے علاقے میں واقع ہے تشریف لے جانے پر مجبور ہو گئے۔ وہاں آپ کے وجود مسعود کی برکت سے ایک عظیم الشان دینی مدرسہ ”جامعہ اسلامیہ“ کے نام سے اور ایک ادارہ نشر واشاعت مجلس علمی کے نام سے قائم ہوا۔ موخر الذکر ادارہ مختلف موضوعات پر بڑی بلند پایہ کتابیں شائع کر چکا ہے۔ وہاں آپ کی حیات طیبہ کے شب وروز درس وتدریس، تصنیف وتالیف، تذکیر وتلقین اور وعظ وارشاد میں گزرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے علوم ومعارف کے انوار سے یہ علاقے بھی منور ہو گئے اور علم وعمل اور سنت وحدیث کا رواج عام ہو گیا۔ علاوہ ازیں آپ کی بدولت حق جل شانہ نے وہاں کے بہت بڑے طبقے کی اصلاح فرمادی۔
آپ پر رقت کا بڑا غلبہ تھا۔ درس ووعظ کے دوران بے اختیار گریہ طاری ہو جاتا اور خوب روتے اور رلاتے۔ اسی طرح حیات مبارکہ کے آخری حصے میں حقائق الہیہ سے شغف بہت بڑھ گیا تھا۔ مجلس درس اور مجلس وعظ کے علاوہ عام مجلسی گفتگو میں بھی حقیقت تجلی ، برزخی حالات اور
١٠
دیگر حقائق کی شرح میں عجیب و غریب علوم و معارف بیان فرماتے تھے۔ آخر وقت موعود آ پہنچا اور صفر ١٣٥٢ھ میں بمقام دیوبند رحلت فرمائے عالم جاودانی ہوئے۔ رحمه الله رحمة الابرار الصالحين ورضى عنه وارضاه وجعل الجنة منقلبه ومثوہ!
جامع کمالات
حق تعالیٰ نے نسبی سیادت اور خاندانی مجد و شرف کے ساتھ آپ میں بہت سے خصائص و کمالات جمع کر دیئے تھے۔ چنانچہ نیک سرشت والدین کے سایہ شفقت میں تربیت پائی۔ وادی کشمیر جیسے معتدل ترین خطہ کی پاکیزہ فضا اور صاف ستھری آب و ہوا میں نشو و نما ہوا۔ فطرتاً پاک طینت اور ذکی طبیعت نصیب ہوئی۔ دعائے بزرگان کی برکات سے فیض یاب ہوئے۔ دائمی توفیق شامل حال رہی۔ صحت اتنی عمدہ تھی کہ نہ کبھی گرانی کا احساس ہوتا نہ تھکاوٹ کا۔ مسلسل انتھک محنت کی عادت، فوق العادت حافظہ، عقل سلیم، فہم مستقیم اور اپنے وقت کے آئمہ رشد و ہدایت اور ارباب علم و فضل سے استفادہ کی نعمتیں آپ کو میسر آئیں۔
مشیت ازلیہ کا فیصلہ یہی تھا کہ آپ علم و عمل، دین و عبادت، ورع و تقویٰ، فقہ و حدیث، ادب و تاریخ اور کلام و فلسفہ میں اپنے دور کے تمام فضلاء سے سبقت لے جائیں۔ علمی مشکلات کے حل میں غوطہ زنی دقیق مباحث کی تحقیق، شبانہ روز مطالعہ، دائمی غور و فکر اور طویل سکوت آپ کا شعار زندگی تھا۔ جب کسی غامض اور مشکل مسئلہ کے بارے میں آپ سے دریافت کیا جاتا تو آپ کا حسین چہرہ بجلی کی طرح چمک اٹھتا۔ آپ سیل رواں کی طرح بہتے اور موسلا دھار بارش کی طرح برسنے لگتے۔ حق تعالیٰ نے ”نور تقویٰ“ کے ساتھ جمال خلق اور کمال خلق بھی نصیب فرمایا تھا۔ چہرہ انور سے انوار کی شعاعیں پھوٹتی تھیں۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خارق عادت علمی تبحر کے ساتھ ساتھ جمال صورت، کمال سیرت اور حسن خلق کے تمام ظاہری و باطنی محاسن بھی آپ میں جمع کر دیئے تھے۔ اس لئے آپ کی شخصیت بیک وقت نور افزائے دیدہ و دل تھی۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے آپ کے زمانہ میں آسمان کی نیلی چھت کے نیچے کوئی شخص علم و فضل اور خصال حمیدہ کی جامعیت میں آپ سے فائق نہیں تھا۔
امام العصرؒ اکابر معاصرین کی نظر میں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ”میرے نزدیک امت اسلامیہ میں حضرت مولانا محمد انور شاہؒ کا وجود اسلام کی حقانیت و صداقت کا زندہ معجزہ ہے۔ اگر دین اسلام میں ذرا بھی کجی یا خامی ہوتی تو مولانا انور شاہؒ کبھی اسلام پر قائم نہ رہتے۔“
١١
حضرت حکیم الامت کا یہ ارشاد سب سے پہلے میں نے امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے سنا۔ بعد ازاں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ سے۔ پھر مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ خلیفہ اجل حضرت حکیم الامت تھانویؒ سے۔
حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمایا کہ: ”مولانا محمد انور شاہؒ صاحب سطح زمین پر چلتا پھرتا اور بولتا چالتا زندہ کتب خانہ ہیں۔“ ١؎
نیز موصوف نے آپ کے بارے میں درج ذیل القاب تحریر فرمائے: ”شیخ، ثقہ، ورع، تقی، حافظ حجۃ، محدث، علوم عقلیہ ونقلیہ میں بحر بیکراں، غامض ومبہم مسائل علمیہ میں تحقیق کا علم بلند کرنے والے۔“
حضرت العلامہ مولانا سید سلیمان ندویؒ نے فرمایا کہ: ”مرحوم کی مثال اس سمندر جیسی ہے جس کی اوپر کی سطح ساکن ہو اور اندر کی گہرائیاں گرانقدر موتیوں سے معمور ہوں۔“
شیخ الاسلام حضرت الاستاذ مولانا شبیر احمد عثمانی شارح مسلم فرماتے ہیں کہ: ”عدیم المثیل، عدیم العدیل، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، بحر مواج، سراج وہاج ٢؎، جس کی مثال نہ آنکھوں نے دیکھی اور نہ خود آپ نے اپنی نظیر دیکھی۔“
١؎ حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب دیوبندیؒ استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے تھے کہ مجھے جب کسی فقہی مسئلے میں اشکال پیش آتا ہے تو دارالعلوم کے عظیم کتب خانہ میں کتابوں کا تتبع استقراء بالغ کے ساتھ کرتا ہوں۔ اگر کسی کتاب میں وہ مسئلہ مل جائے فبھا۔ ورنہ مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ سے مراجعت کرتا ہوں۔ اگر وہ بیان فرما کر کسی کتاب کا حوالہ دیں تو خیر، لیکن اگر یہ فرما دیں کہ: ”کہیں نظر سے نہیں گزرا۔“ تو یقین کر لیتا ہوں کہ اب یہ مسئلہ کسی کتاب میں نہیں ملے گا۔ اس لئے کتابوں میں اس کی تلاش بے سود ہے۔
(نفحۃ العنبر ص ١٩٥)
٢؎ لطیفہ عجیبہ: اصل عربی جملہ یوں ہے کہ: ”لم تر العيون مثله ولم ير هو مثل نفسه“ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ جملہ جن جن اکابر کے حق میں کہا گیا ۔ بالکل صحیح ثابت ہوا ۔ چنانچہ:
- ☆...... سب سے پہلے یہ جملہ شیخ عثمان بن سعید دارمیؒ کے بارے میں ابوالفضل
الفرات نے کہا اور بجا طور پر ان پر صادق آیا۔
- ☆...... پھر امام ابوالقاسم قشیریؒ (م: ٤٦٥ھ) کے حق میں کہا گیا۔ چنانچہ وہ علم ظاہر
وباطن ، ورع وتقویٰ اور معارف شرعیہ وحقائق کونیہ کے جامع ترین شخص تھے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٢
دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”میں تو کیا چیز ہوں۔ اپنے زمانہ کے بڑے بڑے مبصر ناقدین بھی مرحوم کو آية من آيات الله ! اور حجة الله على العالمين في زمانه ! سمجھتے رہے ہیں ۔“
حضرت مولانا رحیم اللہ بجنوری تلمیذ رشید حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی فرماتے ہیں کہ: ”حبر كامل ،محقّق ،مُدقّق ،فخر الاقران وابناء الزمان “
امام المناظرین حضرت مولانا مرتضیٰ حسن دیوبندیؒ فرماتے ہیں کہ: ”شیخ الاسلام والمسلمين ، مجمع بحور الدنيا والدين “
استاذِ کبیر شیخ محمد زاہد کوثری ”تأنیب الخطیب“ میں آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ: ”العلامہ، الحبر البحر، محمد انور شاہ کشمیریؒ۔“
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)
- ☆ ...... پھر حجة الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد غزالیؒ (م: ٥٠٥ھ ) کے حق میں یہ جملہ کہا
گیا۔ بلاشبہ وہ اپنے دور کی بے نظیر شخصیت تھے۔
- ☆ ...... پھر امام موفق الدین ابن قدامہ حنبلی صاحب ”المغنیٰ“ (م ٦٨٢) کے بارے
میں شیخ ابن حاجب مالکیؒ نے یہ جملہ کہا اور سچ کہا۔
- ☆ ...... پھر شیخ تقی الدین ابن دقیق العیدؒ (م: ٧٠٢ھ ) کے حق میں امام ابن سید
الناسؒ نے یہ جملہ کہا اور بقول شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ ”عہدِ صحابہؓ سے لے کر ان کے دور تک معانیِ حدیث کے بیان اور استخراجِ فوائد میں ان جیسا شخص پیدا نہیں ہوا۔ صرف ایک حدیث سے چار سو فوائد مستنبط فرمائے۔“
- ☆ ...... پھر یہی جملہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرانیؒ (م: ٧٢٨ھ ) کے بارے میں کہا گیا
اور بلاشبہ متعدد کمالات کے اعتبار سے وہ بے نظیر تھے۔
- ☆ ...... پھر حافظ شمس الدین ذہبیؒ نے اپنے استاذِ محترم حافظ ابوالحجاج مزّیؒ
(م: ٧٤٢ھ ) کے بارے میں یہ جملہ کہا اور واقعی وہ علومِ حدیث میں اپنی مثال آپ تھے۔
- ☆ ...... پھر حافظ الدنیا شہاب الدین ابن حجر عسقلانیؒ (م: ٨٥٢ھ ) کے بارے میں
یہی جملہ کہا گیا اور بلاشک وہ وسعتِ اطلاع، معرفتِ رجال، ملکہ تصنیف اور شعر و عربیت وغیرہ بہت سے کمالات میں یکتائے زمانہ تھے۔
(هذا ملخّص من نفحة العنبر ص ١٩١، ١٩٣) مترجم!
١٣ /
متکلم عصر، شیخ الاسلام مصطفیٰ صبریؒ ترکی نزیل قاہرہ اپنی تالیف العلم والعقل والدین! (ص٢٢٧ ج٣) میں لکھتے ہیں کہ: میں نے ہندوستان کے عالم کبیر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی تصنیف مرقاۃ الطارم (علی حدوث العالم) کا مطالعہ کیا (اصل مسئلہ کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں) مجھے یہ دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی کہ ہم دونوں کی رائے (اس مسئلہ میں) متفق ہے۔‘‘
شیخ مصطفیٰ صبریؒ جن دنوں مصر جدید میں اپنے دولت خانہ میں مقیم تھے میں نے ان کی خدمت میں مرقاۃ الطارم کا نسخہ پیش کیا۔ مطالعہ کے بعد فرمایا کہ: ”میرا خیال نہیں تھا کہ ہندوستان کی سرزمین میں بھی ایسا محقق پیدا ہوسکتا ہے۔ (صدر شیرازی کی کتاب اسفار اربعہ سامنے رکھی تھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) میں اس رسالہ مرقاۃ الطارم کو اس کتاب اسفار اربعہ سے بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘
میں ١٣٥٧ھ میں شیخ کوثریؒ کے دولت خانہ العباسیہ قاہرہ میں حاضر تھا۔ شیخ کوثریؒ نے اس موقع پر فرمایا کہ: ”احادیث نبویہ کے تحت نادر ابحاث کے اٹھانے میں شیخ ابن ہمامؒ کے بعد مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ جیسا شخص پیدا نہیں ہوا۔ پھر فرمایا کہ: یہ پانچ چھ صدیوں کا وقفہ کوئی معمولی مدت نہیں ہے۔‘‘
آپ کے استاذ شیخ کبیر حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندیؒ نے سند اجازت میں لکھا ہے کہ: ”قد اعطی فهماً ثاقباً ورأیا صائبا وطبيعةً زكيةً واخلاقاً مرضيةً ، “ ”مولانا محمد انورشاہؒ کو فہم ثاقب، رائے صائب، طبیعت زکیہ اور اخلاق مرضیہ عطا کئے گئے ہیں۔“
علامہ، فقیہ، محدث مولانا محمد سجاد بہاریؒ نے آپ کا تذکرہ ان الفاظ سے فرمایا: ”علامہ دہر، فہامہ عصر، فقیہ زماں، محدث دوراں، روایت میں ثقہ و درایت میں حجت، علماء کے شیخ۔“
شیخ حسین بن محمد طرابلسیؒ سے مدینہ منورہ میں آپ کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت آپ جوان عمر تھے اور ابھی تک آپ کے علم وفضل کا عام چرچا بھی نہیں ہوا تھا۔ مگر اس وقت بھی شیخ طرابلسیؒ نے آپ کو ”الشیخ الفاضل“ کے خطاب سے یاد کیا تھا۔
الحاصل آپ کے ہم عصر مشائخ اور طبقہ مشائخ کے اکابر کی جانب سے آپ کے کمالات کا اعتراف ایسے الفاظ سے کیا جانا جن کا کچھ حصہ ہم نے یہاں ذکر کیا ہے۔ اس امر کی
١٤
بین دلیل ہے کہ آپ علم وعمل اور فضل و کمال کے جس بلند مرتبہ پر فائز تھے۔ آپ کے ہمعصر اہل علم وفضل وہاں تک رسائی پانے سے قاصر تھے۔ آپ کی شخصیت ان چیدہ جہابذہ واساطین امت کی نظیر تھی۔ جن کی مثال صدیوں بعد دیکھنے میں آتی ہے۔
آپ کے بارے میں مختصراً اتنا کہا جاسکتا ہے کہ: ”آپ کی نادر شخصیت میں حق سبحانہ تعالیٰ نے گوناگوں کمالات جمع کر دیئے تھے۔ جمالِ صورت، حسنِ سیرت، پاکیزگی عادات، ورع وزہد، تقویٰ وطہارت، صبر وعزیمت، تربیتِ صالحہ، حیاتِ طیبہ، جامعیت علوم، روایت و درایت، بصیرت نافذہ، رات دن مطالعہ کا شغف، خارقِ عادت حافظہ، ہر چیز میں تحقیق وتدقیق کا عشق، سعی مسلسل کی توفیق جس میں نہ تھکنے کا نام تھا ۔ نہ تھکن کا احساس، نہ گرانی طبع کا شائبہ تھا، نہ تعب ومشقت کی پروا۔ باکمال اساتذہ سے تلمذ، علماء، صلحاء، عرفاء، ربانیین سے گہرے روابط۔ یہ تمام امور بیک وقت اسی شخص میں جمع ہو سکتے ہیں جس کے حق میں مشیت ازلیہ کا قطعی فیصلہ ہو کہ اسے امت کا امام اور مقتدیٰ بنایا جائے اور اس کی شان وہی ہو جو عربی شاعر نے بیان کی ہے:
وهذا زمان انت لا شک واحد
”ہر زمانے میں ایک منفرد شخصیت ایسی ہوتی ہے جس کی سبھی اقتداء کرتے ہیں۔ بلاشبہ اس دور میں آپ ہی وہ منفرد شخصیت ہیں۔“
آپ کی تصنیفات پر ایک نظر
تصنیف و تالیف کا شغل آپ کا طبعی ذوق نہیں تھا۔ عادت مبارکہ یہ تھی کہ مطالعہ کے دوران متفرق افکار اور قیمتی نقول جو نظر سے گزرتے انہیں مختلف یادداشتوں (نوٹ بکوں) میں اشاریے کے طور پر درج فرمالیا کرتے تھے۔ البتہ جب کسی خاص بحث کی تحقیق، کسی دینی مسئلہ کی وضاحت، کسی علمی نزاع کے حل یا کسی ایسے گوشے کی نقاب کشائی کے لئے جو عام طور سے اہل علم کی نظر سے مخفی ہو۔ آپ کسی خاص موضوع پر تالیف کے لئے مجبور ہی ہو جاتے تو اس کے لئے قلم اٹھاتے تھے۔ آپ کی تمام تصنیفات اسی اصول کے ذیل میں آتی ہیں۔ یہاں اس کی وضاحت کا موقع نہیں۔ میں نے اس کی قدرے وضاحت اپنی عربی تالیف ’نفحة العنبر فی حياة
١٥
الشیخ الانور‘ ١؎ میں نیز اپنے اردو مقالہ مشمولہ ”حیات انور“ میں کر دی ہے۔
قادیانیت ایک سازش
مرزا غلام احمد قادیانی نے قصبہ قادیان ضلع گرداسپور (مشرقی پنجاب) میں فتنہ قادیانیت کی بنیاد ڈالی۔ مرزائے قادیان نے اپنے دعاوی ٢؎ میں تدریجی رفتار ملحوظ رکھی۔ چنانچہ پہلے ”مجددیت“ کا دعویٰ کیا، پھر ”مثیل مسیح“ ہونے کا پھر ”مہدویت“ کا پھر (جب ان دعاویٰ میں کامیابی نظر آئی تو) ایک قدم اور آگے بڑھایا اور دعویٰ کیا کہ میں وہی ”مسیح موعود“ ٣؎ ہوں جنہیں آسمان سے نازل ہونا تھا۔ اس کے بعد ”غیر تشریعی نبی“ ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر صاحبِ شریعت رسول ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنی وحی کو قرآن کی مثل بتلایا۔ نسخِ جہاد اور نسخِ حج کا اعلان کیا۔ برطانوی سامراج کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ زمانہ میں ”ظلِ اللہ“ ہے۔ مرزا قادیانی قرآن مجید کی آیات کو بڑی جرأت سے اپنی ذات پر منطبق کیا کرتے۔ باطنیہ اور زنادقہ کی طرح ان کی عجیب وغریب تاویلیں کیا کرتے اور ٹھیک ”فرقہ بہائیہ“ اور ”بابیہ“ جیسے ملعون فرقوں کے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔
١؎ نفحة العنبر من هدی الشیخ الانور امام العصرؒ کی حیات طیبہ پر شیخ بنوریؒ کی بہترین تالیف ہے جسے ملاحظہ فرما کر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے مولانا بنوریؒ کو لکھا تھا: ”آپ نے نفحة العنبر لکھ کر حضرت شاہ صاحبؒ کی یاد تازہ کر دی اور مشامِ جان کو معطر کر دیا۔ حق یہ ہے کہ آپ نے ان کی بابرکات زندگی کے جن پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے اور جن خصوصیات کی طرف نہایت بلیغ اور معجز انداز میں اشارے کر دیئے ہیں۔ میرے نزدیک اس سے آگے کچھ لکھنا ’سواد فی بیاض‘ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ یعنی بسط و تفصیل جس قدر چاہے کر لیجئے۔ خلاصہ اور مآل پھر یہی رہے گا۔“ یہ کتاب ١٣٥٥ھ میں ”مجلس علمی“ کے زیرِ اہتمام چھپی تھی۔ اب تقریباً نایاب ہے۔ کاش حضرت مؤلفؒ کی نظرِ ثانی اور اضافات کے ساتھ اسے دوبارہ شائع کرنے کی کسی صاحبِ ہمت کو توفیق ہو جائے۔ (الحمد للہ! بعد میں دوبارہ شائع ہو گئی) مترجم!
٢؎ یہ مرزا قادیانی کے دعووں کا بہت مجمل تذکرہ ہے۔ اس موضوع پر ”دعاویٰ مرزا“ وغیرہ رسائل کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ مترجم!
٣؎ مرزا ”غلام احمد بن چراغ بی بی“ (مرزا قادیانی کی والدہ کا نام) کو سچ مچ ”عیسیٰ بن مریم “ بننے کے لئے ”میں ولدمیں“ کا جو نظریہ ایجاد کرنا پڑا اور اس کے لئے جو رکیک تاویلیں کرنا پڑیں میرا خیال ہے کہ کسی سنجیدہ آدمی کے لئے کسی باوقار محفل میں اس کا تذکرہ بھی آسان نہیں۔ مترجم!
١٦
عوام الناس کو فریب دینے کے لئے مرزا قادیانی نے بعض ایسے مسائل میں بحث شروع کی جنہیں ان کے دعوائے نبوت سے کوئی دور کا علاقہ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ دعویٰ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے:
”ابن مریم مر گیا حق کی قسم۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٥١٣)
اور اب وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اس مسئلہ سے متعلقہ احادیث صحیحہ متواترہ کی غلط اور مضحکہ خیز تاویلیں کرنا اور آیات قرآنیہ میں کھلی تحریف کرنا ان کا دلچسپ موضوع بن گیا۔ آیات واحادیث کو نہایت بے محل جڑتا اور ان کی عجیب وغریب تاویلیں کرتا۔ اس طرح وہ بہت سے بیہودہ دعوے ہانکتا۔ فتنہ برپا کرتا اور کفر والحاد کی وادیوں میں بھٹکتا رہا۔ میں نے اس کی کچھ تفصیل ”نفحۃ العنبر“ میں ذکر کی ہے اور حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے بھی ”عقیدۃ الاسلام“ کے شروع میں خطبہ کتاب سے پہلے بطور مقدمہ اس کا ذکر کیا ہے۔
مرزا قادیانی کے اتباع واذناب کا ایک مختصر سا ٹولہ وجود میں آگیا تھا۔ جو حکومت برطانیہ کے ”ظل حمایت“ میں پرورش پاتا رہا۔ اسلامی عقائد میں رخنہ اندازی اور مسلمانوں میں ”مذہبی انارکی“ پھیلانے کے لئے حکومت برطانیہ کو ان کے دعاوی اور خوش فہمیوں سے بہتر اور کیا حربہ ہاتھ آ سکتا تھا۔ چنانچہ حکومت نے اس فتنہ کو خوش آمدید کہا اور متعدد وسائل سے جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مختصر یہ کہ فتنہ قادیانیت گورنمنٹ برطانیہ کا ساختہ پرداختہ یا خود مرزا قادیانی کے الفاظ میں ”خودکاشتہ پودا“ تھا۔ جو اسی کے ظل حمایت میں پھلا پھولا اور تدریج وترقی کے مراحل طے کرتا رہا۔ اس ملک میں کوئی اسلامی حکومت موجود نہ تھی جو اپنی شرعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس فتنہ پر کاری ضرب لگاتی اور اسے ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیتی۔ (جیسا کہ اسلامی حکومتوں کے دور میں نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے ساتھ
١؎ مرزا قادیانی نے برٹش گورنمنٹ کے حضور ”خاکسار مرزا غلام احمد“ کی جانب سے جو ”عرضی“ پیش کی تھی اس میں بڑے فخر سے اپنی جماعت کو ”گورنمنٹ برطانیہ کا خودکاشتہ پودا“ کے لقب سے یاد کیا۔ (درخواست نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر ص ١٣ ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠) نیز لکھتے ہیں کہ: ”اے با برکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)
١٧
یہی ہوتا رہا ) ناچار علمائے کرام کو اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے میدان میں اترنا پڑا۔ چنانچہ ان حضرات نے حق واجب ادا کیا۔ دین اسلام کی حفاظت، مسلمانوں کے اسلامی عقائد کی حمایت اور فتنہ قادیانیت کے رد میں زبان وقلم سے جہاد کیا اور مرزا قادیانی کے ایک ایک دعویٰ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ یہاں تک کہ ہر موضوع اور ہر مسئلہ پر کتابوں کا اچھا ذخیرہ وجود میں آگیا۔
فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی میں امام العصر کی خدمات
ہمارے شیخ امام العصر کو اس آفت کبریٰ ”فتنہ مرزائیت“ نے بے چین کر رکھا تھا۔ آپ نے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے کمر ہمت باندھی۔ خود بھی تقریر وتحریر کے میدان میں کود پڑے اور دوسرے اہل علم کو بھی متوجہ فرمایا اور ان کی ہمت افزائی کی۔ چنانچہ آپ کے علوم کے سیل رواں سے علم کی وادیاں بہنے لگیں۔
آپ نے اپنی تالیفات میں عمدہ ابحاث اور نادر تحقیقات کا بہترین ذخیرہ فراہم کر دیا۔ آیات قرآنیہ کی تشریحات کے ضمن میں عربیت کے عجیب وغریب دقائق واسرار بیان فرمائے اور ایسی تمام مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتابوں سے جو عام طور پر اہل علم کی دسترس سے بعید تھیں۔ رد قادیانیت پر احادیث مقدسہ کا ذخیرہ اس قدر حیرت انگیز طریق پر جمع کیا۔ جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔
التصریح بما تواتر فی نزول المسیح !
چنانچہ نزول مسیح ؑ کے سلسلہ کی تمام احادیث ایک رسالہ میں جمع کر دیں جسے ” التصریح بما تواتر فی نزول المسیح “ کے نام سے موسوم فرمایا۔ یہ اپنے موضوع پر جامع ترین کتاب ہے۔
اکفار الملحدین !
اسی طرح ایک کتاب اکفار الملحدین ! کے نام سے مسئلہ تکفیر پر لکھی۔ جس میں ہر فن کی مطبوعہ وغیر مطبوعہ ضخیم کتابوں سے ایک ہزار کے قریب آئمہ دین کی عبارتیں پیش کیں۔ بلاشبہ اس کتاب کی تالیف امت اسلامیہ پر آپ کا عظیم الشان احسان ہے۔ اس میں آپ نے مدار نجات اور مناط کفر و ایمان کی خوب تحقیق فرمائی اور ان دقیق مسائل کو منقح کیا جن میں مدت دراز سے بڑے بڑے لوگوں کے لئے لغزش کا موقع تھا اور ان دقیق علمی مسائل کی تنقیح کے لئے آپ نے آیات ، احادیث، آثار اور اکابر متقدمین ومتأخرین کی عبارات سے دلائل پیش کئے۔ اس
١٨
کتاب کو مرتب کرنے کے بعد آپ نے اسے اپنے دور کے اکابر امت اور محققین اہل سنت کی خدمت میں تصدیق وتصویب کے لئے پیش کیا۔ چنانچہ تمام اکابر نے اس کتاب پر تقریظیں لکھیں ۔ بیحد تعریف فرمائی اور ان منقح تحقیقات میں آپ سے پورا پورا اتفاق کیا۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ”مدرجات“ اور ”مسئلہ تکفیر“ پر تمام علمائے کرام کا اتفاق رائے ہو جائے۔ اس کتاب میں یہ ثابت فرمایا ہے کہ ”ضروریات دین کا انکار کرنا یا ان میں تاویل کرنا دونوں باتیں موجب کفر ہیں ۔“
محققین علمائے امت کی تقریظات کے بعد یہ کتاب اس موضوع پر اجماعی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اکابر علماء سے تقریظ لکھوانے سے آپ کا یہی مقصد تھا۔ ورنہ حضرت امام العصر کی شخصیت مدح وثنا سے بالاتر تھی اور آپ کے ذوق سے یہ بات قطعا بعید تھی کہ لوگ آپ کی کتاب کی مدح وثنا میں رطب اللسان ہوں۔ آپ کے پیش نظر صرف یہی تھا کہ مسئلہ ختم النبیین پر تمام علمائے امت کا اتفاق ہو جائے۔ ان کی آراء وافکار جمع ہو جائیں اور ان لوگوں کی اصلاح ہو جائے جن کے لئے ان دشوار مسائل میں حق و باطل باہم مشتبہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات میں محض ظن وتخمین سے نہیں کہتا بلکہ خود حضرت اقدس سے سن کر عرض کر رہا ہوں۔ قارئین کو یہ تاریخی حقائق ملحوظ رکھنے چاہئیں ۔ تاکہ انہیں اس کتاب کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ ہو سکے۔ بہر حال یہ کتاب اپنے موضوع پر بے حد جامع ، مفید اور اہم کتاب ہے جس میں آپ نے ان تمام اشکالات کو صاف کر دیا ہے جن کا حل مدت سے مشکل سمجھا جاتا رہا تھا۔
رسالہ شرح خاتم النبیین
ایک فارسی رسالہ آیت ”خاتم النبیین“ کی شرح میں تحریر فرمایا ، جو آپ کے بلند پایہ افکار اور ان وہبی تحقیقات پر مشتمل ہے جن میں اللہ تعالی نے آپ کو شرح صدر نصیب فرمایا تھا،لیکن یہ رسالہ بہت دقیق اور غامض ہے۔(الحمد للہ ! کہ اس رسالہ کے ترجمہ کی ناکارہ مترجم کو توفیق ہوئی ۔ جس پر حضرت بنوریؒ نے وقیع مقدمہ تحریر فرمایا۔ یہ رسالہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے بار ہا شائع کیا ۔)
١؎ الحمد للہ ! امام العصر نور اللہ مرقدہ کے تلمیذ رشید حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی استاذ حدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی کے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی مجلس علمی کراچی کے اہتمام سے شائع ہو چکا ہے۔ مترجم !
١٩
عقیدۃ الاسلام اور تحیۃ الاسلام
عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور قیمتی کتاب تحریر فرمائی جس کا نام ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ رکھا پھر اس پر تعلیقات اور حواشی کا اضافہ فرمایا اور ’’تحیۃ الاسلام‘‘ اس کا نام رکھا۔
اب یہ پانچ کتابیں ہوئیں جو آپ نے رد قادیانیت کے سلسلہ میں تحریر فرمائیں۔ میرے اس مقدمے کا موضوع اسی آخر الذکر کتاب عقیدۃ الاسلام اور اس کے حواشی کی اہمیت پر قدرے روشنی ڈالنا ہے۔
عقیدۃ الاسلام کا اصل موضوع
اس کتاب ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا دوسرا نام حضرت شیخ نے ’’حیاۃ المسیح بمتن القرآن والحدیث الصحیح ‘‘ بھی تجویز فرمایا تھا اور آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ: ’’میری اس کتاب کا موضوع قرآن کریم کے دلائل سے حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کرنا ہے۔ احادیث و آثار محض آیات قرآنیہ کی وضاحت کے لئے لائے گئے ہیں۔ تمام احادیث اور روایات کو اس میں جمع کرنا مقصود نہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اہل علم کا یہ خیال صحیح نہیں کہ آپ نے اس کتاب میں تمام آیات و احادیث کو جمع کر دیا ہے۔ روایات کا استقصاء تو آپ کی دوسری تالیف ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتلایا جاچکا ہے۔ یہاں تو آپ کے پیش نظر ان آیات کریمہ کی تفسیر ہے جن کا حیات مسیح سے تعلق ہے۔
البتہ وسعت نظر اور وفور علم کی بناء پر عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب کسی مسئلہ پر بحث فرماتے تو اس مقام سے متعلقہ تمام مواد عمدہ نقول اور نفیس ابحاث کو سمیٹتے چلے جاتے۔ عربیت و اسرار عربیت میں تو امام مجتہد تھے۔ اگر آپ کو ’’علوم عربیت کا خلیل و سیبویہ‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ بلکہ آپ کے اس علمی پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے شاید یہ صحیح تر اور لطیف تر تعبیر ہوگی جو بہت سے اہل علم وفضل کی نظر سے اوجھل ہے۔ چنانچہ اس کتاب میں علوم بلاغت، بدیع اور عربیت کے ان مسائل کو بیان فرمایا ہے۔ جنہیں دیکھ کر آپ کے تبحر، ذوق سلیم اور بیان حقائق میں آپ کے ملکہ راسخہ سے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ میں جب کبھی کسی بھی موضوع پر آپ کی کسی کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں تو میری حیرت و تعجب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور میں دیر تک سراسیمہ ہو کر اس سوچ میں ڈوب جاتا ہوں کہ زیر بحث مسئلہ سے متعلقہ پورے کے پورے مواد کو آپ نے کیسے سمیٹ لیا
٢٠
اور یہ عجیب وغریب نکات ایسے بعید مقامات سے کس طرح نکال لائے جن کے بارے میں کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ وہاں اس موضوع سے متعلقہ کوئی چیز مل سکے گی؟۔ اس موقع پر جی چاہتا ہے کہ عربی شاعر کا وہی شعر دھراؤں جو حضرت امام غزالیؒ پڑھا کرتے تھے:
غزلت لهم غزلاً رقيقاً فلم اجد لغزلی نساجاً فكسرت مغزلی
٭ جذباتِ عشق نے مج مجھ سے پکار کر کہا ذرا ٹھہرو! منزل محبوب یہی ہے۔ میں نے ان کے لئے ایسا باریک سوت کاتا کہ مجھے اس سوت کے بننے والا نہ ملا۔ پس میں نے اپنا چرخہ توڑ ڈالا۔ ٭
نیز مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے حق میں یہ شعر پڑھوں:
٭ اور اگر کوئی کپڑا ٢٩ حرفوں کی بناوٹ سے بنا جائے۔ وہ بھی آپ کی قامت سے کوتاہ ہوگا۔ ٭
جس کسی ناقد بصیر محقق کو آپ کی کسی کتاب کے مطالعہ کا اتفاق ہوگا۔ وہ مجبور ہوگا کہ وہیں اپنی سواری ٹھہرا دے۔ اپنا عصا ڈال دے اور یہ کہے کہ:
نیز وہ کہے گا:
٭ کیا شاعروں نے کسی کھنڈر کو چھوڑا ہے (جس پر مرثیہ خوانی نہ کی ہو) یا میں نے منزل محبوب کو وہم و خیال کے بعد پہچانا ہے۔ ٭
١ محقق کوثریؒ مقالات (ص٢٤٥) میں رقم طراز ہیں کہ: ’’مولانا الاکبر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ”عقيدة الاسلام في حياة عيسى عليه السلام“ میں اہل حق کے عقیدہ (حیات عیسیٰ ؑ) پر دلائل کتاب اللہ کے ہر پہلو کو بڑی شرح وتفصیل سے واضح کیا گیا ہے جو لوگ مزید دلائل معلوم کرنا چاہیں۔ اس کی مراجعت فرمائیں۔‘‘
میں نے اس کتاب اور اس کے حواشی کے مآخذ شمار کئے تو صرف ان کتابوں کی تعداد تین سو نکلی جن سے براہ راست عبارتیں نقل کیں یا ان کے صفحات کا حوالہ دیا ہے اور اگر کوئی بحث محض ضمنی طور پر زیر بحث آجاتی ہے۔ اس میں بھی کتابوں کے حوالے اس کثرت سے ملیں گے۔
٢١
گویا آپ نے پوری عمر صرف اسی مسئلہ کی تحقیق میں صرف فرمائی ہو۔ اگر کہیں اناجیل اربعہ، عہد قدیم و عہد جدید اور ان کے شروح ،متون وغیرہ سے یا کتب ردو مناظرہ سے نقل کی نوبت آئی تو کوئی کتاب ایسی نہیں ملے گی جس کا تذکرہ یہاں نہ آ گیا ہو اور کوئی دقیق نکتہ ایسا نہیں رہے گا جسے آپ نے ذکر نہ کر دیا ہو۔
پھر اس سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ اگر کسی موضوع سے متعلق کچھ عبارتیں کسی کتاب میں متفرق جگہ بکھری ہوئی ہوں۔ اس کے ضخیم مجلدات سے چن چن کر ان کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں اور کسی کے لئے یہ گنجائش نہیں چھوڑتے کہ وہ اس کتاب سے اس مسئلہ پر کوئی مزید نقل پیش کر سکے۔ یہ وجدی اور بستانی کی دائرۃ المعارف جیسی ضخیم کتابیں آپ کی نظر میں گویا ایک صفحہ ہے۔ آپ نے ان دونوں کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا اور کسی موقع پر ان میں موضوع سے متعلق کوئی چیز موجود ہو تو اسے نقل کر دیتے ہیں یا ان کا حوالہ دے جاتے ہیں۔ یہ فتح الباری ، فتوحات مکیہ اور اسی قسم کی ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ضخیم کتابوں میں موضوع سے متعلقہ کوئی چیز باقی نہیں چھوڑتے۔ پھر ایسی کتابوں سے بھی بہترین نقول لے آتے ہیں جنہیں بظاہر موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ حاصل یہ کہ ہر موضوع کے قریب و بعید مالہ و ماعلیہ کو پوری طرح سمیٹ لیتے ہیں۔ یہ فوق العادت تبحر، بے مثال مہارت و فطانت، اور بیدار ذہنی، پھر یہ صبر آزما بحث و تفتیش، پھر یہ محیط حافظہ کہ جو چیز ایک دفعہ نظر سے گذر جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتی ہے۔ ان تمام امور سے آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ سبحان اللہ! حق تعالیٰ فضائل و کمالات عطا کرنے والے ہیں۔ جسے چاہیں اپنی رحمت سے نواز دیں۔ واللہ ذو الفضل العظیم!
پھر (بے نفسی کا یہ حال ہے کہ ) اگر کسی ہم عصر نے کوئی بات لکھی ہو تو اسے نقل فرماتے ہیں یا اس کا حوالہ دیتے ہیں اور پوری فراخ دلی سے اس کی تعریف فرماتے ہیں۔ اس میں ذرا بخل و اخفاء سے کام نہیں لیتے۔ اگر ان تمام امور کی مثالیں پیش کی جائیں تو بحث طویل ہو جائے گی۔ یوں بھی کتاب ہر صاحب نظر کے سامنے ہے جو بھی فکر صحیح سے غور کرے گا۔ وہ ان معروضات کی تصدیق کرے گا۔ والله يقول الحق وهو يهدي السبيل!
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی حواشی تفسیریہ میں لکھتے ہیں کہ:
”میں اہل علم کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے مخدوم علامہ عدیم النظیر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری (اطال الله بقاءه ) نے اپنے رسالہ عقیدۃ الاسلام میں جو علمی لعل و جواہر ودیعت کئے ہیں۔ ان سے متمتع ہونے کی ہمت فرمائیں میری نظر میں ایسی جامع کتاب اس
٢٦
موضوع پر نہیں لکھی گئی۔
(حاشیہ ترجمہ قرآن مجید از شیخ الہند)
اور فتح الملہم شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ: ”شیخ علامہ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام میں معنی توفی کی تحقیق اور حیات عیسیٰ ؑ سے متعلقہ تمام مباحث کی اس قدر تفصیل فرمائی ہے جس پر اضافہ ممکن نہیں۔ اہل علم اس کی مراجعت کریں۔“
(ص ٣٠٢، ج ١)
شیخ محقق محمد زاہد کوثریؒ اس کتاب کے، نیز التصریح بما تواتر فی نزول المسیح کے بے حد مداح تھے۔ میں نے یہ دونوں کتابیں ان کی خدمت میں پیش کی تھیں۔ التصریح ان سے کہیں گم ہو گئی تو قاہرہ سے مجھے خط لکھا۔ میں ان دنوں بمبئی کے علاقے میں قیام پذیر تھا۔ چنانچہ دوبارہ بذریعہ ڈاک ان کی خدمت میں بھیجی گئی۔
شیخ کوثریؒ مقالات (ص ٣٥٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”مولانا محمد انور شاہ محدث کشمیری نور اللہ مرقدہ کی کتاب التصریح بما تواتر فی نزول المسیح! میں ستر مرفوع احادیث ذکر کی گئی ہیں۔ جن میں نزول عیسیٰ ؑ کا بیان ہے۔“
نیز مقالات (ص ٣٥٩) میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اللہ سبحانہ علامہ فقیہ اسلام محدث بے بدل شیخ محمد انور کشمیریؒ کو جنت کے بالا خانوں میں بلند مراتب عطا فرمائے اور انہیں حریم دین کی حفاظت کرنے والوں کے شایان شان جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہوں نے اپنے پر زور اور قطعی دلائل سے قادیانیت کا قلع قمع کیا اور متعدد زبانوں میں رد قادیانیت پر عمدہ کتابیں لکھ کر ہندوستان کے مداہنت شعار تجدد پسندوں کے شر کو پھیلنے سے روک دیا۔ انہوں نے اپنی کتاب اکفار الملحدین میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی تکفیر کا مسئلہ صاف کر دیا۔“
ضمنی ابحاث
حضرت امام العصرؒ نے عقیدۃ الاسلام میں مناسبت مقام سے ضمنی طور پر چند نادر بحثیں بھی ذکر فرمائی ہیں جو بہت اہم تھیں یا جن کا شمار نہایت پیچیدہ مسائل میں ہوتا تھا۔ مثلاً یاجوج ماجوج کی تعیین، ذی القرنین کی بحث اور سد یاجوج کی تحقیق یہ ایک عجیب و غریب تاریخی مقالہ ہے جو اس کتاب کے خصائص میں سے ہے یا یہ تحقیق کہ کنایہ حقیقت ہے یا مجاز؟ ۔ یہ مسئلہ علم بلاغت کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ آپ اس کتاب میں فن بلاغت کی چوٹی کی کتابوں اور اس فن کے بلند پایہ اور آپ ﷺ کی سیادت و خاتمیت کا اعلان یا مثلاً دنیا کی حقیقت اور حدوث
٢٣
عالم کی تحقیق اور یہ تحقیق کہ اس عالم میں علت و معلول کا سلسلہ نہیں۔ بلکہ سبب و مسبب اور شرط و شروط کا سلسلہ ہے۔
تمام عالم حق تعالیٰ شانہ کی صنع قدرت کا کرشمہ ہے اور عالم اور صانع عالم کے مابین وہی وسائط ہیں جو فعل اور فاعل کے مابین ہوتے ہیں۔ یہ تمام اسباب و مسببات حادث اور مخلوق ہیں۔ وكان الله ولم يكن معه شئ ! نیز معراج النبیﷺ پر ایک قصیدہ بھی اس کتاب میں شامل ہے جس میں آپ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ آنحضرتﷺ شب اسراء میں دیدار خداوندی سے مشرف ہوئے۔ نیز آنحضرتﷺ کی خدمت میں اعمال کی پیشی کا مسئلہ اور یہ تحقیق کہ یہ عرض۔ عرض اجمالی ہے۔ جیسا کہ ملائکہ پر علم اسماء اجمالاً القا کیا گیا۔ یہ علم محیط نہیں۔ نیز آپ نے اپنے فارسی رسالہ خاتم النبیین میں آنحضرتﷺ کے جو خصائص بیان فرمائے تھے۔ عقیدۃ الاسلام میں ان مضامین کا بڑا عمدہ خلاصہ ”تفسیر آیت ختم نبوت“ کے عنوان سے پیش فرمادیا۔ الغرض اسی قسم کے دیگر بیشمار عجیب مباحث اور بیش قیمت فوائد پر یہ کتاب مشتمل ہے جن کی تفصیل کے لئے دور دراز کا سفر کیا جاتا تھا۔
مرزا قادیانی کے کفریات
”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ ؑ“ میں اس عقیدہ کا اثبات ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بقرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ امت اسلامیہ کا یہ قطعی عقیدہ ہے جو روزِ اوّل سے آج تک مسلم و متواتر چلا آ رہا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع و نزول کا انکار کیا اور کہا کہ وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو نعوذ باللہ سولی پر لٹکایا گیا (جس سے وہ زندہ اتار لئے گئے۔ ایک حجرہ نما قبر میں ان کو رکھا گیا۔ وہاں ان کا علاج ہوتا رہا۔ بالآخر وہ کشمیر آ کر فوت ہو گئے ) اور یہ کہ وہ بن باپ پیدا نہیں ہوئے۔ بلکہ یوسف نجار کے بیٹے تھے۔
مرزائے قادیان نے سیدنا مسیح ؑ کے حق میں سب و شتم اور توہین و تذلیل کے ایسے ناشائستہ اور گھناؤنے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کے سننے سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل و جگر شق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح صرف حضرت عیسیٰ ؑ سے متعلق مرزائے قادیان کے کفر و الحاد اور زندقہ و ارتداد کے متعدد وجوہ ہو گئے جن کی علماء نے وضاحت کی ہے اور اسے منہ توڑ جواب دیا۔ اس کے دوسرے کفریات مزید برآں رہے۔ مثلاً:
- ☆ ...... نبوت ورسالت کا دعویٰ۔
- ☆ ...... وحی وشریعت کے نزول کا دعویٰ۔
- ☆ ...... نصوص شرعیہ قرآن وسنت کی تحریف۔
- ☆ ...... ضروریات دین کا انکار۔
- ☆ ...... عقیدہ ختم نبوت کا انکار۔
- ☆ ...... تمام انبیاء ومرسلین سے خود کے افضل ہونے کا دعویٰ۔
- ☆ ...... پھر سید المرسلین ﷺ سے بھی برتری کا دعویٰ۔
- ☆ ...... اپنے لئے معجزات کا دعویٰ۔
- ☆ ...... اپنے معجزات کو تمام انبیاء ومرسلین کے معجزوں سے زیادہ اور فائق بتلانا اور
آیات قرآنیہ کو اپنی ذات پر چسپاں کرنا۔ وغیرہ وغیرہ!
ان صریح کفریات کے ہوتے ہوئے اس کا کفر کسی سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے کفر والحاد اور بے ایمانی وبے دینی کے مکروہ چہرہ پر پردہ ڈالنا چاہا اور کم فہم کے نادانوں کو شکار کرنے اور علمائے کرام کی تنقید سے بچنے کے لئے چند علمی مسائل میں بحث چھیڑ دی اور اسلام کے وہ قطعی عقائد جو تیرہ سو سال سے امت محمدیہ میں متواتر مسلم چلے آرہے تھے۔ ان میں طرح طرح کی تاویلیں شروع کیں۔ جیسا کہ ہر زمانے میں بے دین ملحدوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ اس لئے علمائے مجاہدین کے لئے دین کا دفاع اور اسلامی عقائد کی حفاظت ناگزیر ہوئی۔ ان علمی حقائق کی بحث وتنقیح کے لئے جو سب سے بڑی شخصیت میدان میں آئی۔ وہ ہمارے شیخ امام العصر مصنف عقیدۃ الاسلام کی گرانقدر ہستی تھی۔ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کے موضوع پر مستقل کتاب ”عقیدۃ الاسلام“ تحریر فرمائی جس میں قرآن حکیم کے دلائل شافیہ، احادیث متواترہ اور صحابہ و تابعین، مفسرین ومحدثین اور فقہاء ومتکلمین کے اجماع سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کیا اور یہ واضح کیا کہ یہ عقیدہ ایسا قطعی ویقینی ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ بلکہ یہ عقیدہ ان ضروریات دین میں داخل ہے جن کا منکر اور متأوّل دونوں کافر ہیں اور یہ کہ حق تعالیٰ شانہ کی قدرت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول جیسے تمام خوارق کو محیط ہے اور یہ کہ قرب قیامت تو خود ہی خوارق الہیہ کے ظہور کا زمانہ ہے۔ اس لئے اس وقت یہ خرق عادت معجزہ ۔ ظاہر ہونا بالکل قرین عقل و قیاس ہے۔
٢٥
حکمت نزول مسیح علیہ السلام!
تحیۃ الاسلام (حاشیہ عقیدۃ الاسلام) میں فرماتے ہیں کہ: ”جاننا چاہئے کہ اس عالم میں بھی آخرت کے کچھ نمونے موجود ہیں اور قرب قیامت کا زمانہ تو خرق عادت کا وقت ہے اور نبوت، دجل وفریب کے مقابلہ اور مقاومت کے لئے ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ: ’اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں آیا تو اس کے مقابلہ کے لئے میں خود موجود ہوں‘ اور عیسیٰ علیہ السلام تو درحقیقت اس باب میں دجال کی بالکل ضد ہیں۔ پس جب دنیا ہی میں آخرت کے نمونے موجود ہیں تو قیامت کے آنے کو کیوں مستبعد سمجھا جائے؟ اور علامات قیامت کا کیوں انکار کیا جائے؟ اور جب ویسے بھی دنیا میں دجل، سحر، شعبدہ بازی جیسے اعمال بہر حال پائے جاتے ہیں تو ان کے مقابلے میں معجزات حسّیہ کا وجود بھی ضروری ہے۔ کیونکہ سنت اللہ یونہی جاری ہے اور چونکہ دجال حضرت مسیح علیہ السلام کا نام چرائے گا (اور خود مسیح بن بیٹھے گا) تو اس کے مقابلہ میں اس کی تردید وتکذیب کی غرض سے مسیح علیہ السلام کا نزول ضروری ہوا اور چونکہ مسیح علیہ السلام خود من جملہ ارواح کے ہیں اور نمونۂ آخرت ہیں۔ اس لئے ان کی حیات کا طویل ہونا بھی (کوئی مستبعد چیز نہیں بلکہ) سنت اللہ ہے“۔
(تحیۃ الاسلام ص ٨)
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ عادت اللہ ہمیشہ سے یوں ہی جاری ہے کہ نبوت کے ذریعہ ہر دور کے لوگوں پر حجت قائم ہوتی رہی ہے اور انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں خوارق الہیہ کا ظہور ہوتا رہا ہے۔ تاکہ علی رؤس الاشہاد یہ واضح ہو سکے کہ یہ اسباب عادیہ خواہ کتنی ہی حیرت انگیز ترقی کر جائیں۔ لیکن حق تعالیٰ کی قوت قاہرہ بہرصورت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ وہ پورے نظام کائنات پر غالب وقاہر ہے۔ اس کی قوت قاہرہ مخلوق کی ہر قوت سے بڑھ کر ہے اور اس کی قدرت خارقہ ہر قدرت پر غالب و برتر ہے۔
پس جب عہد حاضر کی اس مادیت کو یہ ارتقاء میسر ہے جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں اور جب عالم میں قوائے طبعیہ کی تسخیر سے ایسے ایسے عجائبات ظہور پذیر ہو رہے ہیں جن سے فکر ونظر حیران ومبہوت ہے اور جب دجالیت اور فریب کاری کا عالم یہ ہے کہ مادہ پرست قوتیں ان ہی وسائل طبعیہ اور حیرت افزا ترقیات کو قوت ربانیہ اور خوارق الہیہ کے انکار کا ذریعہ بنارہی ہیں تو پھر کیا بعید ہے کہ اس دور ترقی کی انتہا ایسے دجال کی نشاۃ و ظہور پر ہو جو نوامیس الہیہ کا دشمن ہوگا۔ جو اپنی خدائی منوانے کے لئے عجائبات مادیت کو پیش کرے گا۔ جو اپنے دجل وتلبیس سے ان ہی مادی عجائبات کے بل بوتے پر لوگوں کے دین و ایمان کو برباد کرے گا اور جو خالق علیم، قادر حکیم،
مالک زمین و آسمان پر ایمان لانے کی بجائے خود اپنی خدائی کے منوانے پر لوگوں کو مجبور کرے گا۔ جیسا کہ احادیث نبویہ میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ یقیناً اس وقت ( حق تعالیٰ کی قدرت خارقہ اور قوت قاہرہ ظہور پذیر ہوگی ) عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور آپ کے دست مبارک پر ایسے معجزات کا ظہور ہو گا جن کا مقابلہ کرنے سے انسانی عقل اور مادی ارتقاء عاجز ہوں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ کی حجت ایک بار پھر قائم ہو جائے گی جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دورِ اوّل میں حجۃ اللہ قائم کی تھی اور باذن اللہ مردوں کو زندہ ، مادر زاد اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو شفایاب کر کے اس زمانے کے حاذق طبیبوں کو عاجز کر دیا تھا۔ اسی طرح وہ اپنے دورِ ثانی میں باذن الٰہی حجۃ اللہ قائم کریں گے۔ تاکہ وہ لوگ بھی قدرت الٰہیہ کے سامنے سپر ڈال دینے پر مجبور ہو جائیں جو مقناطیسی عجائبات، ایٹمی ایجادات ، برق و باد کی دل فریبیوں ، اور مادیت کی رنگینیوں پر ایمان لاکر اپنا وقت ضائع اور اپنا دین برباد کرتے رہے اور جن لوگوں نے تسخیر مادہ کے ذریعہ فضاؤں میں اڑنے، تباہ کن آلات کے بنانے اور بحروبر کو مسخر کرنے ہی کو معراج کمال سمجھ لیا تھا اور ان تمام امور کو برو بحر میں فساد برپا کرنے کا ذریعہ بنالیا تھا۔ الغرض قرآن وحدیث کی تصریحات کے موجب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اتنے طاقتور حسی معجزات دیئے جائیں گے جن کے مقابلہ میں سائنس کی تمام کرشمہ سازیاں بچوں کا کھیل بن کر رہ جائیں گی۔ تاکہ اللہ کی حجت ایک بار پھر پوری ہو جائے اور تمام اقوام عالم اس کے سامنے سپر انداز ہو جائیں۔
معجزات ، اسباب و علل سے بالاتر ہوتے ہیں
یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ہاتھ سے اسباب عادیہ کے بغیر خوارق الٰہیہ کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ اس پر شاہد ہے اور ہر اہل ملت کے نزدیک مسلم ہے۔ مزید برآں یہ کہ ہر نبی کے معجزات میں لطیف اشارہ اس نوع ترقی کی طرف ہوتا ہے جو مادی اسباب و وسائل کے دائرے میں اختراع و ایجاد کے ذریعہ اس امت کو حاصل ہوگی۔ حضرت شیخ امام العصرؒ نے ”ضرب الخاتم علی حدوث العالم “ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے :
جو امور کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ہاتھ سے بغیر واسطہ اسباب صادر ہوں۔ یہ
٢٧
انبیاء علیہم السلام کا خرق عادت معجزہ اور اعجاز نبوت کہلاتے ہیں۔ اگرچہ در حقیقت یہ ساری کائنات اعجاز ہی اعجاز ہے۔ ﴾
﴿ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معجزات انبیاء اس ترقی کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے جو مخلوق کو مدتہائے مدید کے بعد (اسباب کے دائرے میں رہ کر) نصیب ہوگی۔ ﴾
آج سائنسی ارتقاء کی بدولت جو چیزیں ہمارے گرد و پیش میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مثلاً برقی مشینیں ہیں، کہربائی آلات ہیں، ٹیلی فون ہے، تار ہے، ٹیلی ویژن ہے، طیارے ہیں، مصنوعی خلائی سیارے ہیں، رات دن قوائے طبعیہ کو مسخر کیا جا رہا ہے، فضاؤں پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں، سمندروں کے جگر شق کئے جا رہے ہیں، صحراؤں کے طبعی دفینے تلاش کئے جا رہے ہیں، ذرہ کا جگر چیر کر ایٹمی توانائی حاصل کی جارہی ہے اور ہلاکت آفرین ایٹمی ہتھیار ایجاد کئے جارہے ہیں۔ الغرض یہ اور اس قسم کی تمام چیزیں جنہیں آج سائنسی ترقی کا کرشمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات میں یہ تمام امور آپ کو کامل ترین صورت میں ملیں گے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں مادی اسباب و وسائل کا واسطہ ہے اور وہاں بدوں توسط اسباب، قدرت الہیہ کا اعجاز ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہاں برسہا برس کی ٹھوکریں کھانے تجربات کرنے اور اربوں کی رقمیں ضائع کرنے کے بعد کسی قدر کامیابی نصیب ہوتی ہے اور وہاں بغیر کسی سابقہ تجربے کے چشم زدن میں قدرت قاہرہ کی اعجاز نمائی ظاہر ہوتی ہے یہاں اس بحث کی مزید تفصیل کی گنجائش نہیں۔
قتل دجال کے لئے مسیح ؑ کی تشریف آوری کا راز
پھر جاننا چاہئے کہ دجال لعین مسیح ضلالت ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ مسیح ہدایت ہیں۔ یہود کی یہ بدقسمتی تھی کہ انہوں نے مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم ؑ کی تو مخالفت کی اور آپ کے قتل و صلب کی سازش کی۔ (مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور انہیں آسمان پر اٹھا لیا) لیکن وہ مسیح ضلالت دجال کی پیروی کریں گے جو خود بھی یہودی ہوگا۔ اس لئے حکمت الہیہ کا تقاضا تھا کہ مسیح ہدایت مسیح ضلالت کو قتل کرنے کے لئے نزول فرمائیں اور ان یہود کو بھی قتل کریں۔ جنہوں نے مسیح برحق مسیح بن مریم ؑ کی تو مخالفت اور عداوت کی اور جھوٹے مسیح دجال کی پیروی کر لی۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان عقائد باطلہ کی بھی اصلاح کریں جو عیسائیت میں گھس آئے تھے اور صلیب کو توڑ ڈالیں۔
اور چونکہ دجال لعین مسیحیت کا لبادہ اوڑھ کر خود مسیح کہلائے گا۔ الوہیت کا دعویٰ کرے
٢٨
گا۔ خباثت اور ضلالت کی آخری حد پار کر جائے گا۔ قوائے طبعیہ پر حکمرانی کرے گا۔ مردوں کو زندہ کر کے مسیح ؑ کے منصب میں تلبیس کرے گا۔ علاوہ ازیں شعبدہ بازیوں، جادو کے کرشموں اور حیوانات و جمادات کی تسخیر کے ذریعہ لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالے گا۔ اس لئے یہ بات بالکل قرین قیاس تھی کہ قتل دجال کے لئے ایک ایسی شخصیت کو لایا جائے جو تسخیری کمالات میں نہایت بلند درجہ پر فائز اور منصب نبوت سے سرفراز ہو۔ ایسی برگزیدہ شخصیت ہی قتل دجال پر قادر ہو سکتی اور دجالی کرشمہ سازیوں کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ یہ شخصیت حضرت عیسیٰ ؑ کی ہوگی۔
پھر چونکہ عیسیٰ ؑ روحانیت میں اس قدر بلند مقام رکھتے ہیں کہ انہیں ”روح اللہ“ کے لقب سے مشرف کیا گیا ۔ وہ حق تعالیٰ کے ”کلمہ کن“ سے پیدا ہوئے اور وہ بحکم الٰہی اپنی مسیحائی سے مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ اس لئے وہ بجاطور پر اس کے مستحق تھے کہ آسمان میں طویل مدت تک زندہ رہ کر نزول اجلال فرمائیں۔ تا کہ ان کے دست مبارک سے ایسے خوارق الہیہ کا ظہور ہو جو ”دجال اکبر“ اور عام دجالوں کے ہاتھ سے ظاہر ہونے والے تمام عجائبات سے بدرجہا فائق ہوں ۔ تا کہ تمام لوگوں پر ”حجت الہیہ“ قائم ہو جائے۔ فلله الحجة البالغه!
اس موقع پر شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے فتح الملہم (ص ٢٢٩ ج ١) میں حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے کلام کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے۔ نیز حافظ ابن تیمیہؒ کی کتاب ”الجواب الصحیح“ اور حافظ ابن قیمؒ کی کتاب ”ہدایۃ الحیاری“ کی منتخب عبارتیں جو حضرت شیخ امام العصرؒ نے عقیدۃ الاسلام میں نقل کی ہیں۔ ان کا مطالعہ کیا جائے۔ نیز عقیدۃ الاسلام ”فصل فی الحکمة فی نزوله“ (ص ١٢ تا ٤٧) کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
عقیدہ نزولِ عیسیٰ ؑ اجماع امت کی روشنی میں
خلاصہ کلام یہ کہ نزول عیسیٰ ؑ کا عقیدہ وہ اجماعی عقیدہ ہے جس پر صحابہ کرامؓ کے زمانے سے آج تک تمام اہل حق کا اتفاق چلا آیا ہے۔ راجح تفسیر کے مطابق قرآن عزیز نے اس کی تصریح کی ہے اور آنحضرت ﷺ نے احادیث متواترہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔
١؎ اردو دان حضرات ترجمان السنۃ (جلد ٣ ص ٥٢١ تا ٥٩٣) مؤلفہ مولانا بدر عالم کا مطالعہ فرمائیں۔ مولانا بدر عالم کا یہ مضمون نزول عیسیٰ ؑ کے نام سے الگ کتابی شکل میں بھی شائع ہو گیا ہے۔ قابل مطالعہ ہے۔ مترجم! حضرت مولانا بدر عالم کے تمام رسائل احتساب قادیانیت جلد چہارم میں شائع ہو چکے ہیں۔ فالحمد للہ۔ مرتب!
٢٩
نزول عیسیٰ علیہ السلام پر احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح امام ابو جعفر ابن جریر طبریؒ، ابوالحسن آبریؒ، ابن عطیہؒ مغربی، ابن رشد الحفیدؒ، قرطبیؒ، ابو حیانؒ، ابن کثیرؒ، ابن حجرؒ وغیرہ آئمہ دین، اور حفاظ حدیث نے کی ہے۔ جیسا کہ شیخ محقق علامہ کوثریؒ نے اپنے رسالہ ’نظرة عابرة فی مزاعم من ینکر نزول عیسیٰ قبل الآخرة، ص ١٠‘ میں نقل کیا ہے۔
شیخ کوثریؒ اسی رسالہ کے ص ٧ پر فرماتے ہیں کہ : ”ایک طرف تمام صحابہؓ و تابعینؒ، فقہاء و محدثینؒ اور مفسرینؒ و متکلمینؒ ہیں جن کی تائید میں کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور اجماع امت موجود ہے۔ دوسری طرف یہ متجاہل ہے جس کی تائید میں لے دے کر قادیان کا مرزائے کذاب ہے یا کسی زمانہ میں طرہ کا فلسفی تھا اور بس۔“
صفحہ ١٩ پر فرماتے ہیں کہ : ”کتاب اللہ سنت متواتر اور اجماع امت عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام پر متفق ہیں۔“
صفحہ ٣٦ پر کتاب اللہ کی روشنی میں حیات ونزول مسیح علیہ السلام پر طویل بحث کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”اور یہ بھی واضح ہوا کہ تنہا قرآنی نصوص ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے خیالی احتمالات کا کوئی اعتبار نہیں جو کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں۔ پھر جبکہ قرآنی تصریحات کے ساتھ احادیث متواترہ بھی موجود ہوں اور خلفاً عن سلف تمام امت اس عقیدہ کی قائل چلی آتی ہو اور دور قدیم سے لے کر آج تک اس عقیدہ کو کتب عقائد میں درج کیا جاتا رہا ہو تو اس کی قطعیت میں کیا شبہ باقی رہ سکتا ہے؟ ۔ فما ذابعد الحق الا الضلال ! (اب حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رکھا ہے۔)
صفحہ ٣٧ پر فرماتے ہیں کہ: ”اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن حکیم کے نصوص قطعیہ رفع ونزول پر دلالت کرتے ہیں اور ہر زمانے میں آئمہ دین ،علمائے امت بالخصوص مفسرین قرآنی آیات کی یہی مراد سمجھتے چلے آتے ہیں۔“
صفحہ ٣٨ پر فرماتے ہیں کہ: ”پس جو شخص رفع ونزول کا انکار کرتا ہے۔ وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ کیونکہ وہ ہوائے نفس کی رو میں بہ کر کتاب وسنت کو پشت انداز کرتا ہے اور ملت اسلامیہ کے اس قطعی عقیدہ سے روگردانی کرتا ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہے۔“
صفحہ ٤٠ پر فرماتے ہیں کہ: ”اطراف حدیث پر نظر کرنے کے بعد نزول مسیح کا انکار بیحد خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ رفع ونزول کے مسئلہ میں احادیث متواترہ کا وجود قطعی
٣٠
ہے،، اور بزدویؒ نے ’’بحث متواتر‘‘ کے آخر میں تصریح کی ہے کہ: ’’متواتر کا منکر اور مخالف کافر ہے۔‘‘ شیخ بزدویؒ نے متواتر کی مثال میں ’’قرآن حکیم، نماز پنجگانہ، تعداد رکعات اور مقادیر زکوٰۃ‘‘ جیسی چیزوں کا ذکر کیا ہے اور کتب حدیث میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر، مقادیر زکوٰۃ سے کسی طرح کم نہیں۔ (پھر جب مقادیر زکوٰۃ کا منکر کافر ہے تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کیوں کافر نہ ہوگا؟)‘‘
صفحہ ٤٧ پر فرماتے ہیں کہ: ’’نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ صرف کسی ایک مذہب کا عقیدہ نہیں ۔ بلکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ کوئی مذہب ایسا نہیں ملے گا جو اس کا قائل نہ ہو۔ چنانچہ فقہ اکبر بروایت حماد فقہ اوسط بروایت ابومطیع الوصیۃ بروایت ابی یوسف اور عقیدہ طحاوی سے واضح ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور آپ کے تمام متبعین عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ نصف امت تو یہی ہوئی۔ اسی طرح امام مالکؒ اور تمام مالکیہ اور تمام شافعیہ سب کے سب اس عقیدہ پر متفق ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے عقائد اہل سنت کے بیان میں جو چند خطوط اپنے شاگردوں کے نام لکھے تھے۔ ان سب میں یہ عقیدہ مذکور ہے۔ یہ رسائل اہل علم کے یہاں صحیح سندوں سے ثابت اور مناقب احمد لابن جوزی اور طبقات حنابلہ لابی یعلیٰ میں مدون ہیں۔ اسی طرح ظاہریہ بھی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ چنانچہ ابن حزم کی تصریح ، کتاب الفصل ص٢٤٩ ج ٣ میں اور المحلیٰ ص ٩ ج ١، ص ٣٩١ ج ٧ میں موجود ہے۔ بلکہ معتزلہ بھی اس کے قائل ہیں۔ جیسا کہ علامہ زمخشریؒ کے کلام سے واضح ہے۔ اسی طرح شیعہ بھی اس کے قائل ہیں۔ اب ایسا مسئلہ جس کی دلیل تمام صحاح تمام سنن اور تمام مسانید میں موجود ہو اور تمام اسلامی فرقے جس کے قائل ہوں اس میں مذہبی تعصب کا گمان کیسے ہوسکتا ہے؟۔‘‘
صفحہ ٤٩ پر فرماتے ہیں کہ: ’’مہدی علیہ الرضوان دجال اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں احادیث کا تواتر ایسی چیز ہے جس میں حدیث کے معمولی طالب علم کے لئے بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں،،۔
صفحہ ٥٧ پر فرماتے ہیں کہ: ’’صدرِ اوّل سے لے کر آج تک کتب عقائد کا مسئلہ رفع ونزول پر متفق ہونا ایسی چیز ہے جو اس عقیدہ پر اجماع کے منعقد ہونے میں ادنیٰ شک وشبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی۔‘‘
حافظ ابن حزم مراتب الاجماع میں لکھتے ہیں کہ: ’’اجماع ملت حنیفیہ کے قواعد میں
٣١
سے ایک عظیم الشان قاعدہ ہے جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اس کی پناہ لی جاتی ہے اور اس کے مخالف کی تکفیر کی جاتی ہے۔‘‘
شیخ کوثریؒ ’الاشفاق‘ اور ’النظرة‘ میں فرماتے ہیں کہ: ”اجماع کے حجت شرعیہ ہونے پر تمام فقہائے امت متفق ہیں اور اسے (کتاب وسنت کے بعد) تیسری دلیل شرعی قرار دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ظاہریہ بھی ..... فقہ سے بعد کے باوجود ..... اجماع صحابہ کو حجت مانتے ہیں۔ بلکہ بہت سے علماء نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ مخالف اجماع کافر ہے ..... اور دلائل سے یہ ثابت ہے کہ یہ امت من حیث المجموع، خطا سے محفوظ ہے۔ شھداء علی الناس! ہے اور خیر امت ہے جو انسانوں (کی خیر و فلاح) کے لئے لائی گئی ہے۔ معروف کا حکم کرتی ہے اور منکر سے روکتی ہے۔ ان کا پیروکار انابت الی اللہ کے راستے پر ہے۔ ان کا مخالف اہل ایمان کی راہ سے برگشتہ اور تمام علمائے دین کا مخالف ہے۔ (چند سطر بعد لکھتے ہیں) جب اہل علم اجماع کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد انہی حضرات کا اتفاق ہوتا ہے جو مرتبہ اجتہاد پر فائز ہوں۔ نیز وہ ورع وتقویٰ سے موصوف ہوں جو انہیں محارم اللہ سے روک سکے۔ تاکہ ان کے حق میں ”لوگوں پر گواہ“ کا مفہوم صادق آئے۔ اس لئے جن لوگوں کا مرتبہ اجتہاد پر فائز ہونا علماء کے نزدیک مسلم نہیں۔ مسئلہ اجماع میں ان کا کلام قابل التفات نہیں خواہ وہ صالح اور پرہیزگار بھی ہوں۔‘‘
النظرة کے ص ٦٠ پر فرماتے ہیں کہ: ”اجماع کے معنی یہ نہیں کہ ہر مسئلہ کے لئے ایک لاکھ صحابہ کرامؓ کے ناموں پر مشتمل کئی کئی رجسٹر مرتب کئے جائیں اور پھر ہر صحابیؓ سے روایت ذکر کی جائے۔ بلکہ صحت اجماع کے لئے اتنا کافی ہے کہ مجتہدین صحابہؓ جو تقریباً بیس ہیں سے صحیح روایت موجود ہو اور ان میں سے کسی کا اختلاف ثابت نہ ہو۔ بلکہ بعض مقامات پر ایک دو صحابہؓ کی مخالفت بھی صحت اجماع کے لئے مضر نہیں ہوتی۔ یہی صورت عہد تابعینؒ اور تبع تابعینؒ میں سمجھنی چاہئے۔‘‘
ص ٦٢، ٦٣ پر فرماتے ہیں کہ: ”نزول عیسیٰ علیہ السلام پر تیس صحابہ کرامؓ کی تصریح اور ان کے آثار موقوفہ علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘ میں موجود ہیں اور کسی ایک صحابیؓ سے اس کے خلاف ایک حرف بھی منقول نہیں۔ پس اگر ایسا مسئلہ بھی اجماعی نہیں تو کہنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی اجماعی مسئلہ ہی موجود نہیں۔‘‘
شیخ کوثریؒ علامہ تفتازانیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ: ”نقل کبھی ظنی ہوتی ہے تو اجماع سے قطعی بن جاتی ہے۔‘‘
٣٢
الغرض نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن حکیم، سنت متواترہ اور چودہ سو سالہ امت کے قطعی اجماع کی روشنی میں آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہے۔ احادیث نبویہ میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ پر جس قدر حلفیہ تاکیدات فرمائی گئی ہیں۔ اس کی نظیر کسی دوسرے مسئلے میں نظر نہیں آتی ہے۔ ان تمام تاکیدات کا منشا یہ ہے کہ یہ مسئلہ عام لوگوں کے لئے محل حیرت و تعجب بلکہ بعض نادانوں کے لئے باعث رد و انکار ہو گا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ:
”لینزلن ابن مریم حكماً عادلاً فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد ، صحيح مسلم ص ٨٧ ج ١ باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسند احمد ص ٤٩٤ ج ٢“
﴿ضرور بالضرور ایسا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ پس وہ ضرور بالضرور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور ضرور بالضرور خنزیر کو قتل کریں گے اور ضرور بالضرور جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور ضرور بالضرور (ان کے زمانے میں) جوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔ پس ان پر سواری نہ ہو گی اور ضرور بالضرور لوگوں کے درمیان باہمی کینہ بغض اور حسد جاتا رہے گا اور یقیناً وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے۔ مگر کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔﴾
(حدیث کے ہر فقرہ پر تاکیدات ملاحظہ ہوں) یہ مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ درج ہیں کہ:
”والذی نفسی بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مریم ......... الخ ، “
﴿اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ ضرور بالضرور تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ........... الخ۔﴾
(صحیح بخاری ص ٤٩٠ ج ١)
پھر ان حلفیہ تاکیدات پر بس نہیں۔ بلکہ احادیث نبویہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام کنیت نسب والدہ کا نام نانے کا نام والدہ ماجدہ کے اوصاف عیسیٰ علیہ السلام کی صورت و سیرت رنگ قد و قامت بالوں کا رنگ بالوں کی کیفیت بالوں کا طول وغیرہ وغیرہ سو سے زائد صفات کی تصریح کی گئی ہے۔ جیسا کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور دوسرے حضرات نے ان تمام اوصاف کو جمع کر دیا ہے۔
ان تمام اوصاف کو سامنے رکھئے تو ہر قسم کے شک و شبہ کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مسئلہ نزول
میں ہر قسم کی تاویل و مجاز اور تمثیل کا سد باب ہو جاتا ہے اور اس باب میں کسی کے لئے زیغ و الحاد یا انکار و تحریف کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔
آیت کریمہ 'وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا' اپنی تاکیدات بلیغہ میں بالکل حدیث نبوی کے ہم رنگ ہے ۔ واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل!
عقیدہ نزول مسیح سے انکار کیوں؟
گزشتہ بیان سے واضح ہوا کہ عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کا ثبوت نا قابل تردید حقیقت ہے ۔ قرآن کریم نے اس کی تصریح کی ہے۔ احادیث متواترہ قطعیہ نے اس کی شہادت دی ہے اور تمام امت محمدیہ نے اس پر اجماعی تصدیق کی مہر ثبت کی ہے۔ لہٰذا اس عقیدہ کا انکار یا تو کھلی جہالت اور واضح الحاد ہے یا اس کا منشاء وہ خیالی و وہمی استبعاد ہے جس پر عقل صریح کی کوئی سند نہیں ۔ یہ استبعاد قدرت الہیہ کے نشانات اور آیات بینات سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
انسانی فہم کی بنیادی کمزوری
انسانی فہم کی فطری کم ظرفی اور بنیادی کمزوری یہ ہے کہ جب اس کے سامنے کسی ایسی حقیقت واقعہ کا اظہار کیا جائے جو اس کے ناقص علم محدود تجربہ ، ناتمام مشاہدہ کمزور حواس اور ضعیف عقل کی گرفت سے بالا تر ہو ۔ وہ اسے فوراً ناممکن اور محال کہہ کر اپنے عجز و جہل کو چھپانے کا عادی ہے۔ غور فرمائیے دور جدید کی یہ ایجادات و اختراعات جو آج سب کے سامنے ہیں کیا حد درجہ حیرت انگیز نہیں؟ ۔ یہ برقی لہریں، یہ زہریلی گیسیں، یہ تباہ کن اسلحہ، یہ ایٹم بم ، یہ ہائیڈروجن بم ، یہ فضائی راکٹ ، یہ مصنوعی چاند ، یہ خلائی سیارے اور یہ فضائی اسٹیشن ۔ پھر یہ راکٹ جو چاند پر اتارا گیا اور اس کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کی آواز یہاں زمین پر ریکارڈ کی گئی اور یہ راکٹ جو سائنس دانوں کے بقول چاند سے صحیح سالم واپس آیا اور یہ عجیب و غریب راکٹ جس میں ’لائیکا‘ نامی کتیا کو بھیجا گیا اور اس میں ایسے آلات نصب کئے گئے جو کتیا کے دوران خون حرکت قلب حرارت جسم نظام تنفس اور اس کی شریانوں اور پھیپھڑوں کے تمام حالات ریکارڈ کر کے زمین پر بھیجیں اور یہ مصنوعی سیارہ جس سے فضائی حالات درجہ حرارت اور شمسی شعاعوں کو ریکارڈ کیا گیا۔ پھر یہ نصف ”ٹن“ کا ”سپوٹنک“ نامی مصنوعی سیارہ جس نے ١٦ منٹ میں زمین کے ارد گرد ایک دورہ مکمل کیا ۔ کیا دور جدید کے ان حیرت انگیز انکشافات کو کچھ عرصہ قبل محض وہم و خیال نہیں سمجھا
٣٣
جاتا تھا؟ ۔لیکن آج یہ سب کچھ افسانہ طرازی نہیں سامنے کے حقائق ہیں۔ اس طرح نہیں معلوم کتنے حقائق اب تک پردۂ اخفا میں ہوں گے جنہیں عنقریب منصۂ شہود پر جلوہ گر ہونا ہے۔ کیا ان تمام امور کو قبل از وقت ”محال“ اور ”خلاف عقل“ کہنا عقل سے بے انصافی نہیں؟۔
اسی طرح علم کیمیا، فزیالوجی اور فلکیات کے عجیب و غریب انکشافات پر غور کرو۔ مثلاً ١٩٥٧ء میں پہلی مرتبہ ”زہرہ“ سیارے سے لاسلکی رابطہ قائم کیا گیا۔ کیا قبل از وقت یہ تمام انکشافات حیرت افزا نہ تھے؟۔
ان فلکیات کو جانے دیجئے۔ ذرا انہی چیزوں پر غور کیجئے جو سب کو ان آنکھوں سے نظر آرہی ہیں۔ یہ فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے طیارے، یہ دریاؤں میں غوطہ زن آبدوزیں، یہ بحرِ منجمد میں شگاف ڈالنے والے ایٹمی بحری جہاز، یہ آواز سے زیادہ تیز رفتار جیٹ طیارے اور اسی نوع کی دیگر سینکڑوں ایجادات۔ کیا آج سے نصف صدی پہلے یہ محض خیالی چیزیں نہیں تھیں؟۔ کیا اس وقت کا انسان ان راکٹوں کی برق رفتاری کا تصور بھی کرسکتا تھا جو آج پچیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مصروفِ پرواز ہیں؟۔ کیا پچاس سال پہلے کے انسان کا وہم تسلیم کر سکتا تھا کہ ایسے مصنوعی سیارے بھی وجود میں آئیں گے جن میں نصب کردہ آلات فضائی حالات کو محفوظ کریں گے۔ پھر ”لاسلکی“ کے ذریعہ یہ فضائی خبریں سیکڑوں میل دور زمین پر سنی جائیں گی؟۔ کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایسے راڈار بھی ایجاد ہوں گے جو ہزاروں میل سے جیٹ طیاروں کی پرواز اور سمت پرواز کا پتہ بتلایا کریں گے؟۔
ان فضائیات کو بھی رہنے دیجئے۔ نائلون وغیرہ کے ان عجیب و غریب کپڑوں کو لیجئے جو معدنی مواد سے تیار کئے جاتے ہیں اور ریشم کی نرمی اور نفاست کو بھی مات کرتے ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں کسی زمانے میں محض خواب و خیال کے درجے میں نہیں تھیں؟۔ اگر ماضی قریب میں ان امور کو کوئی شخص بیان کرتا تو اسے مراق و جنون اور خرافات و لغویات کا نام نہ دیا جاتا؟۔ لیکن آج یہ روز مرہ کے استعمال کی چیزیں ہیں جن میں نہ حیرت ہے نہ استعجاب۔
قدرت خداوندی کے مظاہر
اب ایک طرف ان اختراعات و ایجادات کو رکھو جو انسانِ ضعیف کی مادی عقل نے
٣٤
دریافت کی ہیں اور دوسری طرف حق تعالیٰ کی قدرت وخالقیت علم وحکمت اور عزت وبرتری کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرو کہ حق تعالیٰ کسی انسان (مثلاً عیسیٰ علیہ السلام) کو آسمان پر زندہ اٹھا لینے ، وہاں طویل مدت تک زندہ رکھنے اور پھر اسے زمین پر نازل کرنے کا فیصلہ فرمائیں تو کیا قدرت الٰہیہ کے ان نشانات کو ناممکن اور محال کہنا صحیح ہوگا؟ نہیں! ہرگز نہیں۔ ہاں! انہیں عجیب وغریب کہہ سکتے ہو۔ خارقِ عادت کا نام دے سکتے ہو۔ انسانی عقل وفکر سے بالاتر بتلا سکتے ہو۔ بلاشبہ ان کو ایسا ہونا بھی چاہئے۔ کیونکہ یہ انسانی علم وقدرت کا کارنامہ نہیں ۔ بلکہ یہ اس خالق کائنات اللہ تعالیٰ کی کن فیکونی صنعت ہے جو علیم بھی ہے اور قدیر بھی۔ حکیم بھی ہے اور خبیر بھی۔ اس لئے صادق ومصدوق رسولِ امین ﷺ نے جن امور کی اطلاع دی ہے۔ انہیں خرقِ عادت تو چاہے سو بار کہو۔ لیکن انہیں محال قطعاً نہیں کہا جاسکتا۔
اسی طرح دیگر وہ حقائق جو دین اسلام نے بتلائے ہیں۔ مثلاً آسمانوں کا وجود، ملائکہ کا وجود، فرشتوں کا ایک لمحہ میں آسمان سے زمین اور زمین سے آسمان پر پہنچ جانا۔ آنحضرت ﷺ کے اسراء معراج کا واقعہ یہ تمام امور اس کائنات میں قدرت الٰہیہ کے عجائبات ہیں جو قدرت خداوندی کے لحاظ سے نہ محال ہیں نہ مستبعد۔
انسانی مصنوعات اور خدائی مخلوقات کے مابین موازنہ
ایک طرف ان ایجادات کو رکھو اور دوسری طرف حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت غالبہ کے نشانات کو رکھو۔ پھر ان میں موازنہ کر کے بتلاؤ کہ کیا انسانی ایجادات کی حیثیت نشان ہائے قدرت کے مقابلہ میں ٹھیک وہی نہیں جو عاقل بالغ مردوں اور عورتوں کے حق میں بچوں کے کھلونوں اور بچیوں کی گڑیوں کی ہوا کرتی ہے؟۔
١؎ اور یہ بھی محض تفہیم اور تقریب الی الذہن کے لئے کہا گیا ہے۔ ورنہ تمام عقلاء کی ذہنی کاوشیں اور اولین و آخرین کی ایجادات قدرت الٰہیہ کے مقابلہ میں تارِ عنکبوت کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں۔ آخر جو خدا اپنے کن فیکونی ارادے سے ایک لمحہ میں سینکڑوں عالم پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی قوت سے بیچاری مخلوق کی قوت کا موازنہ ہی کب کیا جاسکتا ہے؟۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ آج نظیر اور مثال کے بغیر لوگ سمجھنے ہی کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ مترجم!
٣٥
عجیب و غریب کھلونے جن پر سائنس دانوں کو ناز ہے۔ جن کی ایجاد پر مدح و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ جن کے اعلانات سے مشرق و مغرب کو چونکا دیا جاتا ہے اور جنہیں پسندیدگی ، قدر دانی بلکہ حیرت و دہشت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ذرا خیال کرو کہ چاند سورج اور ستاروں کے مقابلہ میں ان کی کیا حقیقت ہے؟ جو نا معلوم زمانے سے بیشمار اسرار خفیہ پر مشتمل ہونے کے علاوہ ہماری زمین اور فضاء کے لئے ایسے ان گنت فوائد بھی رکھتے ہیں جو بالکل واضح اور روشن ہیں ۔ یہ ہے عزیز و علیم کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ۔ پس یہ بلند و بالا فضائی طبقات یہ دور سے نظر آنے والے بیشمار ستارے اور کائنات میں پھیلے ہوئے قدرت ربانیہ کے یہ نشانات کیا عقلمندوں کے لئے حیرت و تعجب کا کوئی سامان نہیں رکھتے؟ ۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا . سبحٰنک فقنا عذاب النار . آل عمران!
انسانی عقل کی بیچارگی
یہ تو قدرت کے وہ نشانات ہیں جن تک ہماری عقل و فکر اور علم و مشاہدہ کی رسائی کسی درجہ میں ہوسکی ہے۔ اب ان کے مقابلے میں مادہ و کائنات کے ان پوشیدہ اسرار پھر نفس و روح کے ان عجائبات پر غور کرو۔ جو ابھی تک ہماری سرحد ادراک سے وراء الوراء ہیں اور خدا جانے کتنے حقائق ابھی تک مجہول ہیں ۔ انسانی علم و ادراک کے عجز کا حال یہ ہے کہ یہ زمین جس پر ہم دن رات چلتے پھرتے بیٹھتے اٹھتے اور اس کی گود میں پرورش پاتے ١؎ ہیں۔ ابھی تک اس کی ماہیت مجہول ہے۔ نہیں معلوم اس کے باطن اور گہرائی کی طبیعت کیا ہے؟ ۔ چنانچہ ماہرین علمائے طبیعیات کو اعتراف ہے کہ وہ کائنات کے بیشمار اسرار کی دریافت سے قاصر ہیں اور یہ کہ سائنس کی اس ترقیات کے باوجود ہماری معلومات ہنوز عہد طفولیت میں ہیں ۔ حضرت شیخ امام العصرؒ اپنے قصیدہ ”ضرب الخاتم علی حدوث العالم“ میں فرماتے ہیں کہ:
علاقۃ مابین الروح و فکر ماذا
١؎ بلکہ اسی سے نکلتے اور اسی میں لوٹتے ہیں۔ منھا خلقنٰکم وفیھا نعیدکم
ومنھا نخرجکم تارۃ اخریٰ. مترجم!
کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ آج تک کی سرگردانی کے باوجود یہ معلوم نہیں کر سکے کہ روح اور فکر کے درمیان کیا رابطہ ہے؟۔
لتخریجہم سر الحیاۃ وما انجلی
اسی طرح ’بیالوجی‘ سر حیات کے ادراک سے آج تک قاصر ہے اور اس کے لئے یہ بھید نہیں کھل سکا۔
وان کان کل الکون اعجاز منتہی
پس اسی کا نام اعجاز اور خرق عادت ہے۔ اگرچہ درحقیقت ساری کائنات ہی قدرت کا معجزہ ہے۔
عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کا دیگر عقائد قطعیہ سے مقابلہ
عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام پر حیرت وتعجب کا اظہار کرنے والوں کو دوسرے اسلامی عقائد سے اسے ملا کر دیکھنا چاہئے۔ مثلاً ملت اسلامیہ اور دوسرے تمام اہل ملل اس کے قائل ہیں کہ ایک دن سارے نظام عالم کو توڑ پھوڑ کر قیامت برپا کر دی جائے گی۔ مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور تمام اگلے پچھلے اور نیک و بد میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ عقیدہ حشر ونشر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول سے کہیں زیادہ حیرت واستبعاد کا محل ہے۔ اب یہ قطعی عقیدہ جو تمام ادیان سماویہ کے یہاں متفق علیہ عقیدہ ہے اور جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ کیا کوئی شخص اس کے انکار کرنے میں محض اس وجہ سے معذور تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہ حشر ونشر اور بعث وحساب کا مسئلہ اس کی عقل نارسا کے لئے محل حیرت وتعجب ہے؟۔ اگر نہیں تو عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام تو اس قدر عجیب وغریب بھی نہیں۔ پھر اس پر ایمان لانے میں یہ عذر کیسے چل سکتا ہے؟۔
نزول مسیح علیہ السلام کی حکمت
بہر کیف حکمت الہیہ کا تقاضا ہے کہ جب یہ مادیت حیرت و دہشت کی حد تک ترقی
٣٧
کر جائے گی۔ سائنس دان ترقیاتی ایجاد واختراع کے نقطۂ معراج کو پہنچ جائیں گے۔ ان کے قلوب فخر وغرور سے یہاں تک پھول جائیں گے کہ صانع عالم، خالق حکیم اور عزیز وعلیم ہی کا انکار کر بیٹھیں گے اور مسیح لعین کانا دجال ظاہر ہوگا جو یہودی النسل ہوگا۔ جس کے ماتھے پر ”کافر“ یا ”ک، ف، ر“ لکھا ہوگا اور اس کے کفر میں کسی مؤمن کو شک وشبہ نہیں ہوگا۔ وہ ربوبیت والوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ اس کے پاس بہت سے طلسم، شعبدے اور طبعی تسخیرات کے فن ہوں گے اور یہ دنیا کفر وضلالت ظلم وعدوان اور قساوت وبد تہذیبی سے بھری ہوگی۔ اس وقت قدرت الہیہ اور مشیت ازلیہ خاتم انبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ ؑ کو حضرت خاتم النبیین ﷺ کے صحابی کی حیثیت سے نازل کرے گی۔ وہ شریعت محمدیہ کو نافذ کریں گے۔ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ نشان کفر مٹا دیں گے۔ صلیب توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کے قتل کا حکم دیں گے۔ دجال اکبر کو قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پر ایسے خارق عادت معجزات ظاہر کریں گے جن سے علمائے طبیعات دنگ رہ جائیں گے۔ ان معجزات میں نہ مادی وسائل ہوں گے۔ نہ طبعی تدابیر کا استعمال ہوگا۔
پس چونکہ مسیح ضلالت ودجال دنیا کو خبث وضلالت اور جور وظلم سے بھر دے گا۔ صنعتی عجائبات سے دہشت پھیلا کر الوہیت کا دعویٰ کرے گا اور کسی کے لئے اس کے مقابلہ کی تاب نہ ہوگی۔ اس لئے مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم ؑ کو نازل کیا جائے گا۔ ان کو دیکھتے ہی دجال لعین برف کی طرح پگھلنے لگے گا۔ یہاں تک کہ آپ اسے قتل کر ڈالیں گے۔ دنیا کو عدل وانصاف سے معمور کریں گے۔ ہر قسم کے کفر وخبث سے اسے پاک کر دیں گے۔ کج ملتوں کو سیدھا کر دیں گے اور دین اسلام ہی تمام روئے زمین کا دین ہوگا۔ پس حق تعالیٰ کا ارشاد ”وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا“ (اور بے شک عیسیٰ ؑ قیامت کا نشان ہیں۔ پس تم اس پر ہرگز شک نہ کرو۔) گویا ان ہی معجزات کی طرف اشارہ ہے جو بطور مقدمہ قیامت عیسیٰ ؑ کے ہاتھ پر ظاہر ہوں گے۔ پس یہ خوارق الہیہ معجزات اور نشان قیامت کی کھلی نشانی ہوں گے۔ جس سے لوگوں کو یقین ہوجائے گا کہ قدرت الہیہ کے سب سے بڑے خارق عادت واقعہ کے ظہور۔ یعنی اس عالم کی بساط لپیٹ دیئے جانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس آیت کریمہ کے خاتمہ پر یہ ارشاد ”فاتبعونی هذا صراط مستقيم“ پس تم میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“ ٣٨
نہایت بر محل ہے۔ اس میں قبول حق کی دعوت ہے اور اس امر کی وضاحت کہ وحی الٰہی پر ایمان لانا ہی صراط مستقیم ہے اور اس سے انکار کرنا شک و وسوسہ کے غار میں گر جانے کے مترادف ہے اور گمراہی در گمراہی ہے۔
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ کہ عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کا واقعہ اس عالم کے عجیب واقعات میں سے ہے جس کی قرآن حکیم نے تصریح کی ہے۔ احادیث نبویہ اس واقعہ پر متواتر ہیں اور عہد صحابہؓ سے آج تک امت اسلامیہ نسلاً بعد نسل اس اعتقاد پر قائم چلی آتی ہے۔ پھر یہ واقعہ نہ تو قدرت الٰہیہ کے اعتبار سے ایسا عجیب ہے۔ نہ عقل صریح کے لحاظ سے محال ہے۔ نہ موجودہ ترقیاتی ایجادات کی نیرنگیوں کے پیش نظر اس پر استبعاد کا کسی کو حق حاصل ہے۔ اس لئے:
عقیدہ نزول عیسیٰ ؑ پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس کا انکار کفر ہے اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
اللہ تعالیٰ امت محمدیہ (على صاحبها الف الف تحية وسلام) کو صراط مستقیم کی توفیق بخشیں اور اسے ہر قسم کے شر و فساد، ضلال و الحاد اور کفر و عناد سے بچائیں۔
اختتامیہ
میں ان ہی سطور پر مقدمہ عقیدۃ الاسلام کو ختم کرتا ہوں۔ کتاب عقیدۃ الاسلام آپ کے سامنے ہے۔ اس کے مطالعہ سے حق و صواب کی راہیں کھلیں گی اور کسی کجرو کے کفر و الحاد کی گنجائش نہ رہے گی۔ اس مقدمہ کا نام ”نزل اہل الاسلام فی نزول عیسیٰ ؑ“ رکھتا ہوں۔
وصلى الله على صفوة البرية خاتم النبيين محمد واخوانه الانبياء والمرسلين والشهداء والصالحين اجمعين ۔ الفقير الى الله تعالى ۔ محمد یوسف بن سید محمد زکریا بن سید میر مزمل شاہ بن میر احمد شاہ البنوری الحسینی مدیر مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی نمبر ٥ بروز ہفتہ ذی الحجہ ١٣٧٩ھ
٤٠
خاتم النبیین النبی العربی
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ
اسلامی اصول کی روشنی میں
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم !
تعارف!
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کا یہ مقالہ اولاً سہ روزہ صدق لکھنؤ کی اشاعت ١٨ شعبان المعظم تا ١٢ رمضان المبارک ١٣٧٤ھ میں شائع ہوا۔
ثانیاً ماہنامہ بینات کراچی شعبان المعظم ١٣٩١ھ میں شائع ہوا۔
ثالثاً جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ نے بصائر وعبر کے حصہ اوّل ص ٣٦٨ تا ص ٣٩٣ میں شائع فرمایا۔
اب ہمیں احتساب قادیانیت کی جلد ہذا میں حوالہ جات کی تحقیق وتخریج کے ساتھ شائع کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔ فالحمد للّٰہ! (مرتب)
حامداً ومصلیاً!
امام حجۃ الاسلام غزالیؒ ”مقاصد الفلاسفہ“ وغیرہ میں فرماتے ہیں کہ: ”یونانیوں کے علوم میں حساب ہندسہ اور اقلیدس یقینی علوم تھے۔ ان کو یقینی اور صحیح پاکر ان کے بقیہ علوم الٰہیات ،طبعیات، نجوم وغیرہ کو بھی بعض لوگ ان کی تقلید میں صحیح خیال کرنے لگے۔“
حقیقت میں یہ ایک عام چیز ہے۔ نہ اس عہد کی تخصیص ہے۔ نہ یونانیوں کے علوم کی خصوصیت۔ اکثر جب لوگ کسی کی شخصیت سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ ان کے بعض خود ساختہ غلط نظریات وافکار کو بھی یا تو صحیح مان لیتے ہیں یا اس میں تاویل کے درپے ہو جاتے ہیں اور ان کی شخصیت کو بچاتے رہتے ہیں۔ آج کل یہی وبا پھیل رہی ہے۔ بعض مشاہیر جن کے بعض کمالات وخصائص عوام میں مسلم ہو گئے ہیں۔ اکثر لوگ ان کی شخصیت اور بعض خصوصیات سے مرعوب ہوکر ان کے بقیہ خیالات وافکار کو بھی صحیح تصور کرنے لگتے ہیں اور بسا اوقات اس میں غلو کرکے
ان ہی تحقیقات کو صحیح نظریات سمجھنے لگتے ہیں۔ اس عقلی ترقی کے دور میں یہ چیز خود دنیا کے دوسرے عجائبات کی طرح حیرت انگیز ہے۔ ایک طرف کبار امت اور اساطین اسلام، عمائدین اشعری، ماتریدی، باقلانی، غزالی، رازی، آمدی وغیرہ جیسے محققین اسلام کی تحقیر کی جاتی ہے۔ کبار فقہائے امت اور اکابر محدثین کے فیصلوں کو بنظر اشتباہ دیکھا جاتا ہے اور دوسری طرف قرن حاضر کے بعض ارباب قلم کی قلمی جولانیوں سے متاثر یا ان کی شخصیت سے مرعوب ہو کر ان کے ہر فکر اور ہر خیال کو قطعی خیال کرنے لگتے ہیں۔ کچھ دنوں سے ہندوستان کے موقر جریدہ صدق میں نزول مسیح ؑ کا عقیدہ زیر بحث ہے جو مدتوں پہلے سے فیصلہ شدہ اور جو فتنہ قادیانیت کی وجہ سے پھر تقریباً چالیس سال زیر بحث رہا اور جس پر متعدد کتابیں تصنیف ہوئیں۔ مولوی ابوالکلام صاحب مولوی جار اللہ صاحب مولانا عبید اللہ صاحب سندھی وغیرہ کی تحریرات میں یہ چیز آئی اور مولانا آزاد نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اگر یہ عقیدہ نجات کے لئے ضروری ہوتا تو قرآن میں کم سے کم (واقیموا الصلوۃ) جیسی تصریح ضروری تھی اور ہمارا اعتقاد ہے کہ کوئی مسیح اب آنے والا نہیں ........ الخ !
اس وقت بھی میں نے اس خیال کی تردید میں ایک مفصل مضمون لکھا تھا جو بعض ارباب جرائد کی مداہنت سے شائع نہ ہو سکا اور نہ اس کا مسودہ میرے پاس ہے۔ غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کا اصل داعیہ اس قسم کے خیالات میں عقلی استبعاد ہے اور بدقسمتی سے اپنے عقلی معیار کو ان حضرات نے اتنا بلند سمجھا ہے کہ نبوت کا منصب گویا ان عقول قاصرہ کو دے دیا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے بعض نیک دل ارباب قلم ان ہی حضرات کی شخصیتوں سے مرعوب ہو کر غیر شعوری تقلید میں کچھ درمیانی صورت اختیار کرنے لگے ہوں۔
اہل حق کے مسلک کی تائید میں جناب محترم مولانا ظفر احمد تھانوی نے ایک مقالہ صدق میں شائع فرمایا۔ اس کے جواب میں جے پور کے ایک محترم نے بہت طویل مقالہ صدق میں شائع فرمایا جس کی تنقیح حسب ذیل امور میں ہو سکتی ہے۔
- .......١ نزول مسیح کا عقیدہ صحیح ہے لیکن ظنی ہے یقینی نہیں۔
- .......٢ نزول مسیح کے بارے میں احادیث اصطلاحی تواتر کو نہیں پہنچیں۔
- .......٣ نزول مسیح کے بارے میں اجماع کا نقل مشتبہ ہے غیب کے آئندہ امور میں
اجماع محل نظر ہے۔
٣
ممکن ہے کچھ اور اجزاء بھی تنقیح طلب ہوں۔ لیکن اصلی مدار ان تین چیزوں پر ہے اور یہی زیادہ اہم بھی ہیں۔ اس وقت اس مختصر فرصت میں اس مسئلہ کی نوعیت میں بعض خطرناک اصولی غلطیاں جو پیش آ رہی ہیں۔ ان کا تصفیہ مقصود ہے۔ جے پوری صاحب نہ تو میرے مخاطب خاص ہیں۔ نہ ان کے مضمون کی سطر سطر کی تردید یا گرفت منظور ہے۔ نہ طالبعلمانہ بحثوں میں الجھنا مقصود ہے۔ نہ ان کی نیت پر حملہ ہے۔ صرف طالب حق کے لئے چند اصولی اساسی امور بیان کرنے ہیں۔ باقی حسد وعناد کا تو کوئی علاج نہیں۔ والسلام علی من اتبع الهدی!
- .......١ دین اسلام کے مہمات عقائد و اعمال یا اصول و فروع کا ایک ذخیرہ جیسے
قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے۔ اسی طرح اعتقادی و عملی ضروریات دین ہم تک بذریعہ توارث یا تعامل طبقہ بہ طبقہ بھی پہنچتے رہے ہیں۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ دین اسلام اور اس کی کل ضروریات ہم کو اسی توارث کے ذریعہ پہنچی ہیں۔ لاکھوں کروڑوں مسلمان جن کو نہ تو قرآنی تعلیمات کی پوری خبر ہے۔ نہ احادیث نبویہ کا علم ہے۔ لیکن باوجود اس کے وہ دین کی مہمات و ضروریات سے واقف رہتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ عوام کا ایمان اجمالی ہوتا ہے۔ تفصیلات کے وہ اس وقت مکلف ہوتے ہیں۔ جب ان کے علم میں آجائے ۔ یہ حق تعالیٰ کا ایک مستقل احسان ہے کہ باوجود اس دینی توارث کے قرآن کریم وحدیث نبوی ﷺ کی شکل میں ایک ایسا دستور اساسی بھی دے دیا کہ اگر کسی وقت مدتوں کے بعد اس دینی عملی توارث میں فتور یا قصور آ جائے یا لوگ منحرف ہو جائیں تو تجدید و احیاء کے لئے ایک مکمل اساسی قانون اور علمی ذخیرہ بھی محفوظ رہے۔ تا کہ امم سابقہ کی طرح ضلالت کی نوبت نہ آئے اور حق تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے۔ اور ظاہر ہے جب کتاب الٰہی خاتم الکتب الالہیہ ہو اور نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہوں اور دین خاتم الادیان اور امت خیر الامم ہو تو اس کے لئے یہ تحفظات ضروری تھے اور اس لئے اس علمی قانون پر عمل کرنے کے لئے عملی نمونوں کی ایک جماعت بھی ہمیشہ موجود رہے گی ۔ تا کہ علمی و عملی دونوں طرح حق و باطل کا امتیاز قائم رہ سکے اور پوری طرح تحفظ کیا جائے اور مزید اطمینان یا اتمام حجت کے لئے دونوں باتوں کا صاف صاف نہایت مؤکد طریقہ پر اعلان بھی کر دیا ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
- .......١ "انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون . الحجر : ٩" ہم
ہی نے قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ ٭
- ٢ ...... اور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ : ”لا تزال طائفة من امتی قائمة
بأمر الله لا يضرهم من خالفهم ولا من خذلهم حتى ياتي امر الله وهم على ظاهرون ، مسلم ج ٢ ص ١٤٣ باب قوله لا تزال طائفة من امتی “ یعنی ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ کے لئے دین حق پر قائم رہے گا۔ کسی کے امداد نہ کرنے سے یا مخالفت کرنے سے ان کا کچھ نہ بگڑے گا۔
اور میرے خیال ناقص میں تو (فاسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون ) اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل علم سے پوچھتے رہو میں بھی ایک لطیف اشارہ ہے کہ ہر دور میں کچھ اہل حق ضرور ہوں گے۔ بہر حال اتنی بات واضح ہوئی کہ محافظین حق اور قائمین علی الحق کا ایک گروہ قیامت تک ہوگا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مہمات دین کے لئے صرف علمی اور ذہنی دستور اساسی ہی نہیں۔ بلکہ ایک عملی نمونہ بھی موجود رہے گا اور اسی طرح توارث اور تعامل کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ اگر بالفرض وہ علمی و دفتری قانون دنیا سے مفقود بھی ہو جائے تو حصول مقصود کے لئے اس گروہ کا وجود بھی کافی ہوگا۔
دین اسلام کی بہت سی ضروریات اور قطعیات مثلاً نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج ، نکاح ، طلاق ، خرید وفروخت کی اجازت ، شراب خوری ، زنا کاری ، قتل و قتال کی حرمت وغیرہ وغیرہ بیسیوں باتیں اسی توارث کے ذریعہ سے ہم تک پہنچتی رہی ہیں۔ بلکہ نماز کی بعض کیفیات اور زکوٰۃ کی بعض تفصیلات نہ تو صریح قرآن سے ثابت ہیں۔ نہ اس بارے میں احادیث اصطلاحی متواتر ہیں۔ لیکن باوجود اس کے دنیا جانتی ہے کہ وہ سب چیزیں ضروری اور قطعی ہیں اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں۔
- ٢ ...... ادلہ سمعیہ یعنی عقائد و احکام کے ثبوت کے لئے قرآن وحدیث کی نصوص
چار قسم کی ہوتی ہیں:
- الف ...... ثبوت و دلالت دونوں قطعی ہوں۔
- ب ...... ثبوت قطعی ہو دلالت ظنی ہو۔
- ج ...... دلالت قطعی ہو ثبوت ظنی ہو۔
- د ...... ثبوت و دلالت دونوں ظنی ہوں۔
٥
ثبوت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ و رسول ﷺ کا کلام ہے۔ دلالت کے معنی یہ کہ اس کے کلام کی مراد یہ ہے۔
قرآن و احادیث متواترہ ثبوت کے اعتبار سے دونوں قطعی ہیں۔ البتہ دلالت کے اعتبار سے کبھی قطعیت ہوگی کبھی ظنیت۔
اخبار احاد میں تیسری چوتھی قسم پائی جاتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے عبد العزیز بخاری کی کتاب ”کشف الاسرار شرح اصول فخر الاسلام“ اور ”شرح تحریر الاصول“ ابن امیر حاج وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ پہلی قسم سے انکار کفر ہے۔ دوسری تیسری قسم کے انکار سے کفر تک نوبت نہیں پہنچتی۔
- ٣....... تصدیق رسالت جو بنیادی عقیدہ ہے اس میں تصدیق کے معنی یہ ہیں کہ
آنحضرت ﷺ کی ہر بات کو دل قبول کرے اور تسلیم کرے قرآن میں (و صـدق بــــه) اور (ويسلـمو تسليما) سے یہی مراد ہے۔ صرف کسی شے کا علم میں آ جانا جو منطقی و معقول تصدیق ہے قطعا کافی نہیں ہے۔ ورنہ صرف معرفت تو بہت سے یہودیوں کو اور ہرقل کو بھی حاصل تھی۔ لیکن مسلمان ہونے کے لئے اور نجات کے لئے اتنی بات کافی نہ ہوئی۔
- ٤....... احادیث متواترہ کا افادۂ قطعیت اہل حق بلکہ امت کا اجماعی مسئلہ ہے۔
- ٥....... اصطلاحی تواتر میں ایک شرط یہ ہے کہ ہر دور میں نقل کرنے والے اتنے
ہوں کہ غلطی اور شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ نقل کرنے والوں کی کوئی خاص تعداد مقرر نہیں۔ بسا اوقات کسی خاص موقع پر پانچ خاص آدمیوں کی روایت سے یقین حاصل ہوتا ہے جو پچاس دوسروں سے کسی دوسرے موقع پر حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لئے علماء اصول نے تصریح کر دی ہے کہ بیان کرنے والوں یا سننے والوں کے مرتبہ سے فرق پڑ جاتا ہے اور کبھی مضمون اور بات کی نوعیت سے بھی تفاوت ہو سکتا ہے۔
(دیکھئے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ج ٢ ص ١١٠، مطبوعہ مصر)
- ٦....... بعض اصولیین کے نزدیک تواتر حدیث کا مدار راویوں کی کثرت اور طرق
ومخارج کی تعداد پر نہیں بلکہ دارومدار تلقی بالقبول پر ہے۔ جن احادیث کو قرنِ اوّل یعنی صحابہؓ کے عہد ہی میں امت نے قبول کر لیا ہے وہی متواتر ہیں۔ اس تعریف کے پیش نظر متواتر احادیث کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔ بعض محققین نے اس تعریف کو زیادہ پسند کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عملی اعتبار سے قبولیت عامہ نفس کثرت رواۃ سے کہیں زیادہ مؤثر اور قوی ہے۔ اسی کو ہم نے توارث و تعامل سے تعبیر کیا ہے۔ عنقریب اس بات کی تائید دوسری طرح سے بھی ہو جائے گی۔
٦
- ٧...... قرن اول میں ناقلین شرط تواتر پر ہوں اور قرن ثانی و ثالث میں کمی
آ جائے ۔ یہ محض عقلی احتمال ہے۔ ذخیرہ حدیث میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ بلکہ احادیث کی روایت میں واقعہ یہ ہے کہ یہ راوی بڑھتے گئے اور قرن ثانی و ثالث میں اخبار احاد کے راوی بھی اس کثرت کو پہنچ گئے ہیں جو قرن اوّل میں احادیث متواترہ کے بھی نہیں تھے ۔ جے پوری صاحب کو یہاں بھی بظاہر اشتباہ ہے ۔ اگر چہ آخری جزو کو خود بھی ایک مقام پر تسلیم کر گئے ہیں۔
- ٨...... احادیث متواترہ کا ذخیرہ حدیث میں نہ ہونا یا نہایت کم ہونا دونوں دعوے
تحقیق اور واقعیت کے خلاف ہیں ۔ حافظ ابن حجر وغیرہ محققین اس خیال کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس قسم کے خیالات کا منشاء احوال رواۃ و کثرت طرق پر قلت اطلاع کے سوا اور کچھ نہیں ۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ صحاح ستہ میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں ۔ حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے تو دو مستقل رسالے تصنیف کئے ہیں۔ جن میں احادیث متواترہ کو جمع کیا ہے:
- (١)...... الازهار المتناثرة في الاخبار المتواترة ! یہ رسالہ چھپ چکا
ہے۔
- (٢)...... تدريب الراوی (ص ١٩١) فتح المغيث للعراقی (ص ١، ٢٧)
فتح المغيث للسخاوی (ص ٩٥)
- ٩...... محدثین میں کبار محدثین کی رائے یہ ہے کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم کی وہ
احادیث صحیحہ جو درجہ تواتر کو نہیں بھی پہنچیں وہ بھی قطعی ہیں اور ان سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔ استاذ ابو منصور بغدادی، امام ابو اسحق اسفرائینی، امام الحرمین، امام ابو حامد اسفرائینی، قاضی ابو طیب طبری، امام ابو اسحق شیرازی، شمس الائمہ سرخسی حنفی، قاضی عبد الوہاب مالکی، ابو یعلی حنبلی، ابو خطاب حنبلی، ابن فورک، ابن طاہر مقدسی، ابو نصر عبد الرحیم شافعی، ابن صلاح وغیرہ محققین مذاہب اربعہ کا یہی مذہب ہے۔ بلکہ اکثر اشاعرہ اور عام محدثین کا بھی یہی مسلک ہے اور یہی رائے ہے۔ متاخرین میں سے ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن کثیر، ابن حجر سیوطی کا یہی دعویٰ ہے۔ نووی وغیرہ نے جو خلاف کیا ہے حافظ ابن حجر نے اس کو بھی نزاع لفظی بتایا ہے۔ (الافصاح فی المحاكمة بین النووی وابن الصلاح ) ابو علی غسانی کی جو اس موضوع پر مستقل کتاب ہے۔ وہ بھی نزاع لفظی
٧ {
ٹھہراتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”علم قطعی نظری کا افادہ سب کے یہاں مسلم ہے۔ امام ابن طاہر مقدسی تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو صحیحین کی روایتیں نہیں ہیں۔ لیکن صحیحین کی شرط پر ہوں۔ وہ بھی مفید قطع ہیں۔ مکہ کے کبار تابعین میں سے عطاء بن ابی رباحؒ فرماتے ہیں کہ:
ان ما اجمعت عليه الامة اقوى من الاسناد ۔ ”جس حدیث پر امت کا اتفاق ہو کہ یہ صحیح ہے نفس اسناد کے تواتر سے یہ زیادہ قوی چیز ہے۔“
امام ابو اسحق اسفرائینیؒ فرماتے ہیں کہ:
اهل الصنعة مجمعون على ان الاخبار التي اشتمل عليها الصحيحان مقطوع بصحة اصولها ومتونها فمن خالف حكمه خبراً منها وليس له تاويل سائغ للخبر نقضنا حكمه لان هذه الاخبار تلقتها الامة بالقبول اه . فتح المغيث للسخاوى ۔ ”محدثین سب اس پر متفق ہیں کہ بخاری و مسلم کی احادیث سب قطعی ہیں اگر بغیر صحیح تاویل کوئی ایک حدیث کی بھی مخالفت کرے گا تو اس کے حکم کو ہم توڑیں گے کیونکہ امت محمدیہ نے ان احادیث کو قبول کر لیا ہے۔“
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ:
الاجماع على القول بصحة الخبر اقوى فى افادة العلم من مجرد كثرة الطرق ۔ ”کسی حدیث کی صحت پر علماء کا متفق ہونا۔ افادہ علم (قطعیت) میں کثرتِ طرق سے زیادہ قوی ہے۔“
١٠....... متواتر لفظی کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ بعینہ ایک ہی لفظ سے وہ احادیث مروی ہوں۔ بلکہ جس لفظ سے بھی ہوں مضمون ایک ہونا چاہئے اور ایک یا دو محدثین نے جو نفی تواتر حدیث کا دعویٰ کیا تھا یا صرف ایک ہی مثال بتلائی تھی۔ بعض محققین کے نزدیک ان کی مراد بھی یہی ہے کہ ایک لفظ سے متواتر کی مثال نہیں ملتی۔ عزیز الوجود ہے گویا ان کے نزدیک بھی احادیث متواترہ بہت ہیں۔ لیکن ایک لفظ سے نہیں ہیں۔ صرف حدیث (من كذب عليَّ متعمداً فليتبوأ مقعده من النار ) کو ایسا بتلایا گیا ہے۔ اس بنا پر نزاع بھی لفظی ہو جاتا ہے۔ متواتر معنوی کے یہ معنی نہیں کہ لفظ مختلف ہوں اور مضمون سب میں ایک ہو۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ ہر ایک حدیث میں مضمون الگ الگ ہو اور ایک بات قدرِ مشترک نکل آئے۔ جیسے احادیث معجزات کہ ہر ایک اگرچہ اخبارِ احاد میں سے ہے۔ لیکن نفسِ ثبوتِ معجزہ سب میں قدرِ مشترک ہے۔ اسی کو
٨
ہا کہ :”علم قطعی نظری کا افادہ سب کے یہاں مسلم ہے۔ امام ابن طاہر تے ہیں کہ جو صحیحین کی روایتیں نہیں ہیں۔ لیکن صحیحین کی شرط پر ہوں۔ وہ بھی صحیحین میں ۔ عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ: اجتمعت عليه الامة اقوى من الاسناد ۔ ”جس حدیث پر امت کا اجماع ہو تواتر سے یہ زیادہ قوی چیز ہے۔“
عینیؒ فرماتے ہیں کہ: الامة مجمعون على ان الاخبار التي اشتمل عليها مقطوع بصحة اصولها ومتونها فمن خالف حكمه خبراً منها وسائغ للخبر نقضا حكمه لان هذه الاخبار تلقتها الامة القبول فثبت للسخاوى ! ”محدثین سب اس پر متفق ہیں کہ بخاری ومسلم کی صحیح تاویل کوئی ایک حدیث کی بھی مخالفت کرے گا تو اس کے حکم کو ہم م نے ان احادیث کو قبول کر لیا ہے۔“
سبکیؒ فرماتے ہیں کہ: على القول بصحة الخبر اقوى فى افادة العلم من مجرد یث کی صحت پر علماء کا متفق ہونا۔ افادہ علم (قطعیت ) میں کثرت طرق ا لفظی کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ بعینہ ایک ہی لفظ سے وہ احادیث بھی ہوں مضمون ایک ہونا چاہئے اور ایک یا دو محدثین نے جو نفی تواتر ایک ہی مثال بتلائی تھی۔ بعض محققین کے نزدیک ان کی مراد بھی یہی مثال نہیں ملتی ۔ عزیز الوجود ہے گویا ان کے نزدیک بھی احادیث الے نہیں ہیں۔ صرف حديث (مــن كــذب عــلــى مـتـعـمـداً ) کو ایسا بتلایا گیا ہے۔ اس بنا پر نزاع بھی لفظی ہو جاتا ہے۔ متواتر مختلف ہوں اور مضمون سب میں ایک ہو ۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ ہر ایک اور ایک بات قدر مشترک نکل آئے۔ جیسے احادیث معجزات کہ ہر ہے۔ لیکن نفس ثبوت معجزہ سب میں قدر مشترک ہے۔ اسی کو
٨
اصطلاح میں تواتر معنوی یا تواتر قدر مشترک کہتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت۔
- ١١....... ادلہ شرعیہ میں ایک دلیل اجماع امت ہے۔ اگر اس اجماع کا ثبوت قطعی
ہو تو اجماع قطعی ہوگا اور اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔ جیسے دوسری قطعیات شرعیہ کا منکر بعض عقائد اگرچہ اخبار احاد سے ثابت ہوں۔ لیکن ان پر امت کا اجماع ہو جائے وہ بھی قطعی ہو جاتے ہیں۔ کما فی التلويح وشرح التحرير (١١٦،٣) آئندہ غیبی امور کے متعلق علامات قیامت کے بارے میں اگر اجماع ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بارے میں مخبر صادق سے جو نقل ہے وہ صحیح ہے۔ ملاحظہ ہو تفصیل کے لئے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت (٢٩٦،٢) شرح تحرير الاصول لابن امير الحاج (١١٦،٣) حدوث عالم پر اجماع کے معنی بھی یہی ہیں۔ جیسے فتح الباری (ج ١٢ ص ١٧٧) میں تقی الدین ابن دقیق العید سے منقول ہے۔ جے پوری صاحب نے اس بارے میں کسی قدر تلبیس سے کام لیا ہے۔فلیتنبہ!
- ١٢....... جو چیز قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے ثابت ہو یا اجماع امت سے اور
دلالت بھی قطعی ہو تو وہ سب ضروریات دین میں داخل ہیں۔ ضروریات دین کے معنی یہ ہیں کہ ان کا دین اسلام سے ہونا بالکل بدیہی ہو ۔ خواص سے گزر کر عوام تک اس کا علم پہنچ گیا ہو۔ یہ نہیں کہ ہر عامی کو اس کا علم ہو ۔ کیونکہ بسا اوقات تعلیم دین نہ ہونے سے بعض ضروریات دین کا علم عوام کو نہیں ہوتا۔ لیکن تعلیم کے بعد اور جان لینے کے بعد اس پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ علماء نے تصریح فرمادی ہے کہ بعض متواترات شرعیہ کے جہل سے تو کفر لازم نہیں آتا۔ لیکن معلوم ہونے کے بعد جحود و انکار سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو جواہر التوحید کی شرح (ص ٥١ ) و حاشیہ ”الموافقات“ للشاطبي (١٥٦،٣) واکفار الملحدین (ص٢)
- ١٣....... ضروریات دین کا انکار کرنا یا اس میں خلاف مقصود تاویل کرنا دونوں کو علماء
کرام نے موجب کفر بتلایا ہے۔ حجۃ الاسلام امام غزالیؒ نے اس موضوع میں التفرقة بين الاسلام والزندقة مستقل کتاب لکھی ہے اور فیصلہ کن بحث فرمائی ہے۔ مدت ہوئی مصر سے چھپ کر آگئی ہے اور غالباً ہندوستان میں بھی طبع ہوئی ہے اور امام العصر محدث وقت حضرت استاذ مولا نا محمد انور شاہؒ کی کتاب اکفار الملحدین فی ضروریات الدین ! اس موضوع پر نہایت ہی جامع اور بے مثل کتاب ہے۔
٩
- ١٤....... جو چیز متواتر ہو جائے وہ دین میں ضروری ہو جاتی ہے۔ کیونکہ متواتر کا
افادہ علم ضروری قطعی مسلمات سے ہے۔ پس اگر کسی کو اس کا علم ہو جائے کہ یہ حدیث احادیث متواترہ میں سے ہے یا یہ بات حدیث متواتر سے ثابت ہے تو اس پر ایمان لانا ضروری ہو جاتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق کائنات ماضیہ سے ہو یا مغیبات مستقبلہ سے ہو۔ خواہ عقائد کے متعلق ہو ۔ خواہ احکام کے بارے میں ہو۔ تصدیق رسالت کے لئے اس سے چارہ نہیں۔ ورنہ تکذیب رسول کا کفر ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ بہر حال تصدیق رسول کا ایمان کے لئے ضروری ہونا اور تکذیب سے کفر کا لازم آنا۔ یہ خود دین کی ضروریات میں داخل ہے۔ کتب کلامیہ اور کتب اصول فقہ میں یہ قواعد کلیہ مفصل مل جاتے ہیں۔ بطور نمونہ ہم اس سمندر سے چند قطرے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
- (١)....... ومن اعترف بكون شيء من الشرع ثم جحده كان منكرا
للشرع وانكار جزء من الشرع كانكار كله (شرح التحریر ١١٣:٣) ” جوشخص یہ مانے کہ یہ چیز شریعت میں ہے۔ باوجود اس کے اس کا انکار کرے تو یہ کل شریعت کا انکار ہے۔“
- (٢)....... وصح الاجماع على ان كل من جحد شيئاً صح عنده
بالاجماع ان رسول الله ﷺ اتى به فقد كفر او جحد شيئا صح عنده بان النبي ﷺ قاله فهو كافر، الملل لابن حزم ج ٢ ص ٢٧٥ باب الكلام فیمن يكفر ولا يكفر! ”اس پر اجماع ہے کہ جس چیز کے متعلق یہ اتفاق ہو کہ نبی کریم ﷺ فرما چکے ہیں اس کا انکار کفر ہے۔ یا یہ مانتا ہو کہ آپ ﷺ فرما چکے ہیں باوجود اس کے نہ مانے یہ کفر ہے۔“
- (٣)....... من انكر الاخبار المتواتر في الشريعة مثل حرمة لبس
الحرير على الرجال كفر، شرح فقه اكبر نقلا عن المحيط ص ٢٠٣ مجتبائى دهلی! ”کسی شرعی حکم کی حدیث متواتر ہو اور اس سے انکار کیا جائے تو کافر ہوگا۔ جیسے ریشمی لباس مردوں کے لئے ۔“
- (٤)....... فصار منكر المتواتر ومخالفه كافراً، اصول فخرالاسلام
بحث السنه ! ”متواتر کا انکار یا مخالف دونوں کفر ہیں۔“
- (٥)....... والصحيح ان كل قطعى من الشرع فهو ضرورى ،
١٠
المحصول للرازی بحوالہ چکی ہو۔ وہ ضروریات دین میں دا
- (٦)....... شروط
والتجلى الضرورى في الم اور معنی بھی واضح ہوں۔ یہی قطعیہ
- (٧)....... كل مال
ان يقوم برهان على ص ١٩٦ مطبوعه حلب خلاف پر قائم نہ ہو۔ تو ایسی چیز کی
- (٨)....... بل ان
الشريعة وان لم يكذب المختار طحطاوى ب حقیقت میں تو متواتر کا انکار ش ہے۔ جو خود کھلا ہوا کفر ہے۔ اگ
- (٩)....... ومن
الا الله ، السير الكبير ، مسلمۃ ! ”شریعت اسلامیہ کی
- (١٠)....... فلا
اجبات الظاهرة المت مرتداً ، شرح عقيد لاهور ! ” امت مسلم چاہے اس کا کرنا فرض ہو ی ہے۔“
- (١١)....... لا
لضرورة او اجمع علي
المحصول للرازى بحواله اكفار الملحدين ص ٦٧! ”دین میں جو چیز قطعیات کو پہنچ چکی ہو ۔ وہ ضروریات دین میں داخل ہے ۔“
- (٦)...... شروط القطع فى النقليات التواتر الضرورى فى النقل
والتجلى الضرورى فى المعنى ، ايضاً ص ٦٨ ! ” شرعی امور جب تواتر سے ثابت ہوں اور معنی بھی واضح ہوں ۔ یہی قطعیت ہے ۔“
- (٧)...... كل مالم يحتمل التأويل فى نفسه وتواتر نقله ولم يتصور
ان يقوم برهان على خلافه فمخالفته تكذيب محض ، التفرقة للغزالى ص ١٩٦ مطبوعه حلب ! ” جس چیز کی نقل متواتر ہو اور تاویل کی گنجائش نہ ہو اور کوئی دلیل خلاف پر قائم نہ ہو ۔ تو ایسی چیز کی مخالفت رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔“
- (٨)...... بل انكار المتواتر عدم قبول اطاعة الشارع ...... ورد على
الشريعة وان لم يكذب وهو كفر بواح نفسه ، شرح الاشباه للحموى ، در رد المختار طحطاوى بحواله اكفار الملحدين ص ٩٤ ، ٩٥ طبع دهلى ! ”بلکہ حقیقت میں تو متواتر کا انکار شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عدم اطاعت ہے اور شریعت اسلام کا رد ہے۔ جو خود کھلا ہوا کفر ہے۔ اگرچہ تکذیب نہ کرے۔“
- (٩)...... ومن انكر شيئاً من شرائع الاسلام فقد ابطل قول لا اله
الاالله ، السير الكبير الامام محمد ج ٥ ص ٣٦٨ باب مايكون الرجل به مسلماً! ”شریعت اسلامیہ کی کسی چیز سے انکار کرنا کلمہ اسلام سے انکار کرنا ہے۔“
- (١٠)...... فلا خلاف بين المسلمين ان الرجل لو اظهر انكار الو
اجبات الظاهرة المتواترة ونحوذلک فان يستتاب فإن تاب والا قتل كافراً مرتداً ه ، شرح عقيده طحاويه مطبوعه حجاز ص ٢٩٩ طبع مكتبه سلفيه لاھور ! ”امت مسلمہ میں کوئی خلاف اس بارے میں نہیں کہ جو کوئی متواتر سے انکار کرے۔ چاہے اس کا کرنا فرض ہو یا ترک حرام ہو۔ اس سے توبہ نہ کرے تو کافر ہے اور واجب القتل ہے۔“
- (١١)...... لا يكفر اهل القبلة الافيمافيه انكار ماعلم مجيئه با
لضرورة اواجمع عليه كاستحلال المحرمات ، المواقف ومثله فى العضديه !
١١
”اہل قبلہ کی اس وقت تک تکفیر نہیں کی جاتی جب تک ضروریات دین کا یا کسی ایسی چیز کا جس پر اجماع منعقد ہوا انکار نہ کرے۔ مثلاً حرام کو حلال سمجھنا۔“
- (١٢)...... وكذلك يقطع بتكفير من كذب او انكر قاعدة من قواعد
الشريعة وما عرف يقينا بالنقل المتواتر من فعل رسول الله ﷺ ! ”جو شخص تکذیب کرے یا کلیات شریعت میں سے کسی قاعدہ سے انکار کرے یا جو چیز نبی کریم ﷺ سے متواتر ثابت ہو۔ اس سے انکار کرے اس کی تکفیر قطعی ویقینی ہے۔“
- (١٣)...... وخرق الاجماع القطعى الذى صار من ضروريات الدين
كفر، كليّات ابی البقاء بحوالہ اکفار الملحدین ! ”قطعی اجماع جو ضروریات دین میں داخل ہے۔ اس کا خلاف کرنا کفر ہے۔“
- (١٤)...... ضروریات دین کی مثال میں علماء امت اپنی اپنی کتابوں میں دو چار
مثالیں ذکر کر دیتے ہیں۔ ناظرین کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ ضروریات دین بس یہی ہیں۔ آگے سلسلہ ختم ہو گیا۔ یہ چیز جے پوری صاحب کو بھی پیش آ رہی ہے۔ حالانکہ ان اکابر کا مقصود محض مثال پیش کرنا ہے۔ نہ استقصاء، نہ حصر، نہ تخصیص۔ اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے ذیل میں ہم ان مثالوں کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں جو سرسری محنت سے مل سکیں۔ تاکہ اس مختصر فہرست سے خود بخود یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ مقصود تمثیل تھی نہ پوری فہرست ۔ کتب فقہ، اصول فقہ، کتب کلام اصول حدیث میں ذیل کی مثالیں ملتی ہیں۔
اثبات علم الٰہی ، قدرت محیط، ارادۂ کاملہ، صفت کلام قرآن کریم ، قدم قرآن ، قدم صفات باری، حدوث عالم، حشر اجساد، عذاب قبر، جزاء وسزا، رؤیت باری قیامت میں ، شفاعت کبریٰ، حوض کوثر، وجود ملائکہ، وجود کراماً کاتبین ، ختم نبوت، نبوت کا وہبی ہونا، مہاجرین وانصار کی اہانت کا عدم جواز، اہل بیت کی محبت، خلافت شیخینؓ، پانچ نمازیں، فرض رکعات کی تعداد، تعداد سجدات، رمضان کے روزے، زکوٰۃ، مقادیر زکوٰۃ ، حج ، وقوفِ عرفات، تعداد طواف، جہاد، نماز میں استقبال کعبہ، جمعہ، جماعت، اذان، عیدین، جواز مسح خفین، عدم جواز سب رسول، عدم جواز سب شیخین، انکار جسم، انکار حلول اللہ، عدم استحلال محرمات، رجم زانی محصن، حرمت لبس حریر (ریشم پہننا) جواز بیع، غسل جنابت، تحریم نکاح امہات، تحریم نکاح بنات، تحریم نکاح ذوی المحارم، حرمت خمر، حرمت قمار۔ اس وقت یہ اکیاون مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اب تو خیال مبارک میں آ گیا
١٢
ہوگا کہ بعض وہ امور جس کی طرف التفات بھی نہ ہو گا۔ وہ بھی ضروریات دین میں داخل ہیں۔ اب ہم اس بحث کے آخر میں محقق ہند حضرت عبدالعزیزؒ صاحب کی عبارت کا اقتباس پیش کرتے ہیں۔ پوری عبارت اکفار الملحدین میں منقول ہے۔ اس سے انشاء اللہ ! یہ بات بالکل بدیہی ہوجائے گی کہ ضروریات دین کے لئے ضابطہ کلیہ کیا ہے اور جو چیزیں بطور تمثیل پیش کی جاتی ہیں۔ ان کا دائرہ صرف تمثیل ہی کی حد تک محدود ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
ضروریات الدين منحصرة عندهم فى ثلاثة مدلول الكتاب بشرط ان يكون نصاً صريحاً لا يمكن تاويله كتحريم البنات والامهات ومدلول السنة المتواترة لفظاً او معنى سواء كان من الاعتقاديات او من العمليات وسواء كان فرضاً او نفلاً ...... والمجمع عليه اجماعاً قطعياً كخلافة الصديق والفاروق ونحو ذالك ولا شبهة أن من أنكر أمثال هذه الأمور لم يصح ايمانه بالكتاب والنبيين - اكفار الملحدين ص ٩١ مطبوعہ دہلی !
٭ ضروریات دین تین قسم کے ہیں۔ پہلی قسم یہ کہ تصریح نص قرآنی سے ثابت ہوں ۔ جیسے ماں بیٹی سے نکاح کا حرام ہونا۔ دوسری قسم یہ کہ سنت متواترہ سے ثابت ہوں ۔ تواتر خواہ لفظی ہو خواہ معنوی ۔ عقائد میں ہو یا اعمال میں ہو۔ فرض ہو یا نفل ہو۔ تیسری قسم یہ ہے کہ اجماع قطعی سے ثابت ہوں ۔ جیسے صدیق اکبرؓ و فاروق اعظمؓ کی خلافت وغیرہ ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کے امور سے اگر انکار کیا جائے تو اس شخص کا ایمان قرآن اور انبیاء پر صحیح نہیں ہے ۔ ٭
امام العصر محدث حضرت استاذ مولانا محمد انور شاہؒ مزید توضیح کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ضروری کے معنی یہ ہیں کہ حضرت رسالتمآب ﷺ سے اس کا ثبوت ضروری ہو۔ دین سے ہونا یقینی ہو اور جو بھی اس کا شرعی مرتبہ ہو۔ اسی درجہ کا عقیدہ اس کا ضروری ہو گا ۔ مثلاً نماز فرض ہے اور فرضیت کا عقیدہ بھی فرض ہے اور اس کا سیکھنا بھی فرض ہے اور انکار کفر ہے۔ اسی طرح مسواک کرنا سنت ہے اور سنت ہونے کا عقیدہ فرض ہے اور سیکھنا سنت اور انکار کرنا کفر ہے اور عملاً ترک کر دینا باعث عتاب یا عقاب ہے۔ اب امید ہے کہ اس تشریح سے ضروریات دین کی حقیقت واضح ہو گئی ہوگی۔ بات تو بہت لمبی ہوگئی۔ لیکن توقع ہے کہ طالب حق کے لئے نہایت کارآمد ثابت ہوگی اور آج کل جو عام طور سے ایمان و کفر کے قواعد یا مسائل میں عوام کو یا عالم نما جاہلوں کو شبہات ، شکوک
١٣
یا وساوس پیش آ رہے ہیں۔ ان کا بھی اس سے تصفیہ ہو جائے گا۔ اس طولانی تمہید کے بعد ان ہی اصول مذکورہ کی روشنی میں ہم نزول مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کو پرکھتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا اصلی مقصد تو پورا ہو گیا۔ اب طالب حق خود ہی ان اصول اسلامیہ اور قواعد مسلمہ کی روشنی میں تفتیش کر کے مزید ضروریات دین کا سراغ بھی لگا سکے گا۔ لیکن تبرعاً چند مختصر گزارشات بھی ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ نزول مسیح علیہ السلام کے تین پہلو ہیں۔ قرآنی حیثیت اس کی کیا ہے؟۔ حدیثی مرتبہ کیا ہے؟۔ اجماع امت کا فیصلہ اس بارے میں کیا ہے؟۔ تینوں امور واضح ہونے کے بعد خود بخود یہ چیز اظہر من الشمس ہو جائے گی کہ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام ضروریات دین میں سے ہے یا نہیں۔
نزول مسیح اور قرآن کریم
- (١)...... وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بها ٠ زخرف ٦١ ! ﴿ اور بے
شک وہ نشانی ہے قیامت کی۔ پس نہ شک کرو اس میں۔ ﴾
ترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ صحابہ میں سے ، تابعین میں سے ابو العالیہ ، ابو مالک، عکرمہ ، حسن ، قتادہ ، ضحاک ، مجاہد وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے آیت کریمہ کی صحیح تفسیر یہ منقول ہے کہ : ”انہ“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ قرآنی سیاق کا تقاضا بھی یہی ہے اور عَلم کے معنی نشانی کے ہیں۔ تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر، تفسیر درمنثور میں مجاہد سے مروی ہے کہ:
قال آية للساعة خروج عيسى ابن مریم قبل یوم القيامة . ”فرمایا کہ قیامت کی نشانی ہے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے تشریف لانا۔“
حافظ ابن کثیرؒ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہی تفسیر صحیح ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی صحابی سے اس کے خلاف تفسیر جب منقول نہیں تو ایسی صورت میں حبر امت اور بحر امت ترجمان القرآن ابن عباسؓ کی تفسیر سے زیادہ راجح کون سی تفسیر ہو سکتی ہے۔ اب ترجمہ آیت کریمہ کا یہ ہوا کہ: ”یقینی یہ ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔ پس اس میں شک نہ کرو۔“ تفصیل کے لئے تفسیر ابن جریر (٥٤،٢٥) مطبوعہ میریہ، تفسیر ابن کثیر (١٤٦،٩) مطبوعہ میریہ، الدر المنثور (٢٠،٦) طبع مصر عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام (ص٣) ملاحظہ ہو۔ اس لئے عقیدۃ الاسلام (ص٥) میں حضرت امام العصرؒ فرماتے ہیں کہ:
١٤
اذا تواترت الاحاديث بنزوله وتواترت الآثار وهو المتبادر من نظم الآية فلا يجوز تفسيره بغيره ! جب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث و آثار متواتر ہیں اور قرآن کریم کی آیت کا واضح مفہوم بھی یہی ہے تو اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر صحیح نہ ہوگی ۔
وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا . النساء: ١٥٩ ! کوئی شخص بھی اہل کتاب میں سے نہ رہے گا۔ مگر وہ عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے قبل ایمان لائے گا۔
موته ! کی ضمیر میں نزاع ہے۔ ابن جریر نے ابن عباس، مجاہد ،عکرمہ، ابن سیرین، ضحاک وغیرہ رضی اللہ عنہم کی تفسیر کے مطابق اس کی تصحیح و ترجیح فرمائی ہے کہ موتہ کی ضمیر راجع ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اور مقصود یہ ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت جتنے اہل کتاب ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے سب ایمان لے آئیں گے اور اسی قول کو ابن جریر اپنی تفسیر میں اولیٰ هذه الاقوال بالصحة! قرار دیتے ہیں۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
وهذا القول هو الحق كما سنبينه بالدليل القاطع . انشاء الله ! ”یہی قول حق ہے جیسا کہ آگے دلیل قطعی کے ساتھ اس کو بیان کریں گے۔ انشاء اللہ“
ولا شك ان هذا الذي قاله ابن جرير هو الصحيح لانه المقصود من سياق الآية! ”لاریب کہ یہ جو کچھ ابن جریر نے فرمایا ہے یہی صحیح ہے۔ کیونکہ سیاق آیت سے یہی مقصود ہے۔“ عمدۃ القاری (٢٥٢،٧) میں اس تفسیر کو اہل العلم کی تفسیر بتلایا ہے۔
بہر حال قرآن کریم کی راجح تفسیر کی بناء پر ان دو آیتوں میں نزول مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ ہاں! یہ دو آیتیں اس مقصود میں ظاہر الدلالۃ ہیں قطعی الدلالہ نہیں۔ لیکن چونکہ احادیث صحیحہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تواتر کو پہنچ گئی ہیں اور تواتر مفید قطعیت ہے۔ اس حیثیت سے یہ آیتیں مفید قطعیت ہوں گی۔ اگر چہ مقطوع بہا نہ ہوں ۔
بہر حال یہ تفصیل ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ اس موضوع کی تفصیل و تحقیق نکات ولطائف کو دیکھنے کا اگر شوق ہو تو عقیدۃ الاسلام اور تحیۃ الاسلام کی مراجعت کی جائے جو امام العصر مولانا انور شاہ قدس سرہ کی اس موضوع پر بے نظیر کتابیں ہیں۔
١٥
نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تواتر حدیث
اب رہا دوسرا پہلو! حدیثی اعتبار سے تو یہ پہلے ذہن نشین ہونا چاہئے کہ تواتر حدیث یا تواتر احادیث دونوں ایک ہی حقیقت کے دو عنوان ہیں۔ محدثین کی اصطلاح میں اگر ایک متن مثلاً دس صحابہؓ سے مروی ہو تو یہ دس حدیثیں کہلائیں گی۔ اگر عدد صحابہؓ درجہ تواتر کو پہنچ گیا تو یہی حدیث متن کے اعتبار سے حدیث متواتر ہوگی۔ رواۃ اور کثرت طرق کے اعتبار سے احادیث متواترہ کی تعبیر زیادہ انسب ہوگی۔ بظاہر جے پوری صاحب اس سے بھی غافل ہیں۔ اب سنئے! اگر کسی حدیث کے رواۃ اور طرق بحث و تفتیش کے بعد درجہ تواتر کو پہنچ گئے ہیں تو ہر محدث کو اس حدیث کے متواتر کہنے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر چہ امت میں سے کسی نے تصریح نہ کی ہو۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ محدث نے بغیر بحث و تحقیق کے کسی حدیث کے متعلق فرما دیا ہو کہ یہ خبر واحد ہے۔ بعد میں تتبع طرق اور کثرت رواۃ سے کسی کو معلوم ہو کہ متواتر ہے تو وہ متواتر اور مفید للعلم القطعی ہوگی۔ نیز یہ معلوم رہے کہ ہر فن کا مسئلہ اس فن والوں سے لیا جاتا ہے۔ کسی حدیث کی تصحیح یا تحسین یا تضعیف یا خبر واحد یا مشہور و متواتر ہونے کے لئے محدث کی شہادت پیش کی جائے گی۔ صرف فقیہہ کا یہ منصب نہیں اور نہ صرف متکلم یا معقولی کا یہ وظیفہ ہے۔ ایک موقع پر جے پوری صاحب نے نزول مسیح کی احادیث کو اخبار احاد کہنے کے لئے تفتاز انی کی عبارت پیش فرمائی ہے۔ یہ فن تفتازانی کا نہیں۔ وہ معانی و بیان یا منطق و کلام میں ہزار درجہ محقق ہوں تو ہوں۔ حدیث ان کا فن نہیں ہے۔ یہاں تو غزالیؒ، امام الحرمین رازیؒ، آمدیؒ جیسے اکابر کے اقوال بھی قابل اعتبار نہیں۔ چہ جائیکہ تفتازانی؟۔ ایسے موقع پر تو مغلطائیؒ، ماردینیؒ، مزیؒ، ذہبیؒ، عراقیؒ، ابن حجرؒ، عینیؒ، ابن تیمیہؒ، ابن قیمؒ، ابن کثیرؒ وغیرہ محدثین امت اور حفاظ حدیث کی شہادت مقبول ہو سکتی ہے۔
سید جرجانیؒ اور تفتازانیؒ کی احادیث دانی جاننے کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ چھ ماہ تک حب الهرة من الایمان میں مناظرہ کرتے رہے کہ یہ حدیث ہے اور من ابتدائیہ ہے یا تبعیضیہ؟ بےچاروں کو اتنی بھی خبر نہیں ہوئی کہ حدیث موضوع ہے۔ خیر اس بحث کو رہنے دیجئے۔ احادیث نزول مسیح صحاح کی حدیثیں ہیں اور صحاح ہی میں عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، حذیفہؓ، ابن اسیدؓ، ابوامامہؓ، باہلیؓ، جابر بن عبداللہؓ، نواس بن سمعانؓ سے مروی ہیں۔ ان میں سے ابو ہریرہؓ،
١٦
جابرؓ، حذیفہؓ، ابن عمرؓ کی حدیثیں تو صحیحین کی ہیں۔ اگر اس باب میں صرف شیخین ہی کی حدیثیں ہوتیں تو نمبر (٩) کے مطابق محققین اہل حدیث و کبار محدثین کے نزدیک ان کے افادۂ یقین میں ذرا بھی شبہ نہیں اور صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مسند احمد، سنن اربعہ وغیرہ کی حدیثیں ملا کر مرفوعات کی تعداد ستر تک پہنچ جاتی ہے۔ کیا ستر کبار صحابہؓ جن کی فضیلت میں وحی متلو نازل ہوئی اور روئے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے بعد صدق شعار قوم ان سے زیادہ نہیں گزری۔ اگر لسان نبوت سے ان کی حکایت مفید للعلم نہیں ہوگی تو کس قوم کی ہوگی؟۔ اگر ہمیں کسی کے صلاح و تقوے اور صداقت کا یقین ہو اور بیس بائیس ایسے آدمی آ کر ہم سے کوئی بات بیان کریں تو انصاف سے بتایا جائے کہ ہمارے لئے مفید للعلم الیقینی ہوگی یا نہیں؟۔ حالانکہ ایک صحابیؓ ایک ہزار راویوں پر بھاری ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ساری امت پر بھاری ہے تو شاید مستبعد نہ ہوگا۔ پھر ان ستر صحابہؓ کی مرفوع احادیث کے علاوہ تقریباً تیس صحابہؓ و تابعینؒ سے آثار موقوفہ بھی مروی ہیں اور محدثین کا یہ فیصلہ ہے کہ غیر قیاسی و غیر عقلی امور میں موقوف روایت بھی مرفوع کے حکم میں ہے۔ گویا سو مرفوع روایتیں باسانید صحیحہ وحسنہ جمع ہو گئی ہیں۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ جن محدثین نے جن احادیث کے متعلق تواتر اصطلاح کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ کثرت رواۃ کثرت طرق اور کثرت مخارج میں اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں؟۔ حدیث ’’من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘ جو سب سے اعلیٰ ترین متواتر حدیث کی نظیر پیش کی گئی ہے۔ اس کے رواۃ بھی تقریباً سو ہی تک پہنچے ہیں۔ حالانکہ مشکل ہے کہ سو کی سو روایتوں کے تمام رجال صحیح یا حسن تک پہنچیں۔ حدیث مسح خفین بالاتفاق محدثین حدیث متواتر ہے۔ کتب اصول فقہ و کتب فقہ و شروح حدیث میں متعدد مواضع میں امام ابو حنیفہؒ کا یہ مشہور قول نقل چلا آتا ہے کہ:
’’ماقلت بالمسح علی الخفین الا اذا جاء فی مثل ضوء النہار وانی اخاف الکفر علی من لم یرا المسح علی الخفین‘‘ ’’میں مسح خفین کا اس وقت قائل ہوا جبکہ دن کی روشنی کی طرح یہ مسئلہ میرے سامنے واضح ہو گیا اور جو شخص مسح خفین کا قائل نہیں مجھے اس کے حق میں کفر کا اندیشہ ہے۔‘‘
تو مسح خفین کے انکار سے کفر کا اندیشہ ہے اور تاریخ خطیب بغدادی میں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے کسی نے ان کا مسلک پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ:
’’افضل الشیخین واحب الختنین وأری المسح علی الخفین‘‘
١٧
”میں حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو سب (صحابہؓ) سے افضل سمجھتا ہوں ۔ حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ سے محبت رکھتا ہوں ۔ مسح خفین کا قائل ہوں ۔“
گویا سنی ہونے کے لئے مسح خفین کے ماننے کو ضروری معیار قرار دیا ہے ۔ بالفاظ دیگر جواب کا خلاصہ یہ نکلا کہ میں نہ شیعی ہوں نہ خارجی ہوں ۔ بلکہ سنی ہوں تو اس لئے کہ امامؒ کے نزدیک مسح علی الخفین کی احادیث متواتر ہیں اور مفید العلم القطعی ہیں ۔ حالانکہ غسل رجلین قرآن کریم کا قطعی حکم ہے اور احادیث غسل رجلین بھی متواترہ ہیں ۔ دو قطعی دلیلوں سے فرضیت غسل رجلین ثابت ہو چکی تھی ۔ پھر بھی جمہور امت کے نزدیک مسح علی الخفین کا جواز یقینی ہے اور اس قطعی دلیل سے کتاب اللہ اور احادیث متواترہ غسل پر زیادتی ہو گئی ۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ احادیث مسح علی الخفین بتشریح امام احمد بن حنبلؒ مرفوع حدیثیں کل چالیس ہیں ۔ حالانکہ صحابہ میں سے بعض اکابر کا خلاف بھی منقول ہے ۔ پھر یہ بھی مشکل ہے کہ یہ چالیس حدیثیں سب کی سب صحیح یا حسن ہوں ۔ اس کے باوجود اتنی مقدار تواتر قطعی کے لئے کافی ہوئی ۔
احادیث غسل رجلین کو متواتر اصطلاحی کہا گیا ہے ۔ حالانکہ بمشکل اکتیس حدیثیں منقول ہیں ۔ احادیث معراج جسمانی کو متواتر اصطلاحی کہا گیا ہے ۔ حالانکہ کل رواۃ بیس تک پہنچتے ہیں ۔ احادیث حوض کوثر کو متواتر اصطلاحی کہا گیا ہے ۔ حالانکہ کل احادیث پچاس تک پہنچتی ہیں ۔ احادیث رفع یدین عند التحریمہ کو متواتر اصطلاحی کہا گیا ہے ۔ حالانکہ کل حدیثیں بمشکل پچاس تک پہنچیں گی ۔
حدیث : من بنی مسجداً للّٰه . مسلم ج ١ ص ٢٠١ باب فضل بناء المساجد ...... الخ متواتر ہے ۔ باوجودیکہ صحابہ روایت کرنے والے بیس سے متجاوز نہیں ۔ ایسے ہی حدیث شفاعت ۔ حدیث عذاب قبر ۔ حدیث سوال منکر نکیر ۔ حدیث المرء مع من أحب بخاری ج ٢ ص ٩١١ باب علامة الحب فى اللّٰه ۔ حديث كل ميسر لما خلق له . ترمذی ج ٢ ص ٣٥ باب ماجاء فی الشقاوة والسعادة ۔ حديث بدأ الاسلام غریباً ...... الخ ، کنز العمال ج ١ ص ٢٤٠ حدیث نمبر ١٢٠١ ۔ وغیرہ وغیرہ! ان سب حدیثوں کو اصطلاحی تواتر کے اعتبار سے متواتر کہا گیا ہے ۔
حافظ ابن تیمیہؒ نے تو کئی رسائل میں احادیث شفاعت ، حوض کوثر ، عذاب قبر کو سنت
متواترہ سے تعبیر کیا ہے۔ باوجود یکہ ان کے رواۃ وطرق احادیث نزول مسیح کے برابر کو نہیں پہنچتے۔
اب نہیں معلوم جے پوری صاحب کے یہاں وہ کون سی شرط ہے جو حدیث متواتر اصطلاحی کے لئے موجود ہونی چاہئے۔ محدثین نے جن متواتر حدیثوں کو جمع کیا ہے وہ سب اصطلاحی متواترات ہیں۔ نہ کہ لغوی۔ نہ معلوم جے پوری صاحب کو تواتر کے لفظ سے کیوں چڑ ہے کہ جہاں تواترت الاخبار کا لفظ دیکھ لیا۔ فرمانے لگے کہ یہ تواتر لغوی ہے۔ مراد کثرت ہے۔ نہ معلوم یہ ججی کا منصب آپ کو کس نے دیا ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ بعض مواقع پر لغوی تواتر مراد ہوتا ہے۔ لیکن خارجی قرائن اور بحث و تحقیق سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ تواتر اصطلاحی ہے یا لغوی۔ جن کا یہ فن ہے اور شب و روز اس کی مزاولت کرتے ہیں اور حدیث ان کی صفت نفس بن گئی ہے وہ ہی اپنی بصیرت سے اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہر عمرو و زید کا یہ منصب نہیں۔ اب سوچئے کہ صحابہ میں سے احادیث نزول کو اتنے روایت کرنے والے اور صحابہ سے نقل کرنے والے یقیناً اس سے کہیں زائد ہیں اور کم سے کم اتنے تو ضرور ہیں اور باتفاق امت رواۃ بڑھتے ہی گئے۔ کم نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے متواترات کی مشہور احادیث کی تعداد بھی بڑھ گئی کہ قرن ثانی میں نقل کرنے والے بڑھ جاتے ہیں اور قرن ثالث میں تو اخبار احاد بھی مشہور و متواتر کی کثرت طرق اور کثرت رواۃ کو پہنچ جاتی ہیں جو جے پوری صاحب کو خود بھی تسلیم ہے۔ اب ایسی صورت میں اگر کوئی محدث بھی تصریح نہ کرتا کہ یہ حدیث متواتر ہے جب بھی کوئی مضائقہ نہ تھا۔
لیکن باوجود اس کے جب حافظ ابن کثیر ان کو اخبار متواترہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ حافظ جلال الدین سیوطی ان کو متواتر کہتے ہیں۔ قدماء محدثین میں سے ابوالحسن ابجری الآبری اس کو متواتر مانتے ہیں اور خارجی بحث و تحقیق سے بھی یہ بات ثبوت کو پہنچ چکی تو خدارا انصاف کیجئے کہ ایسی صورت میں کیا کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ بے دلیل محض اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے یہ کہے کہ تواتر سے لغوی تواتر مراد ہے۔
ابوالحسن آبری قدماء محدثین میں سے ہیں۔ ابن خزیمہ صاحب الصحیح سے روایت کرتے ہیں ٣٦٣ھ میں وفات پا چکے ہیں۔ ان کا قول حافظ ابن حجر نے فتح الباری (٣٥٨،٦) مطبوعہ میرٹھ میں یوں نقل کیا ہے۔ وقال ابوالحسن الخسعی الآبری!
یہ ناسخین کی تصحیف ہے۔ صحیح ابجری الآبری ہے۔ سجستانی کی نسبت غیر قیاسی سجزی آیا کرتی ہے۔ کما فی القاموس، الخسعی نہیں آتی۔ جیسا جے پوری صاحب فرماتے ہیں:
١٩
”في مناقب الشافعي وتواتر الأخبار بأن المهدي من هذه الأمة وأن عيسى يصلى خلفه ..... الخ “ مناقب شافعی میں ہے کہ اس مضمون کی احادیث متواتر ہیں کہ مہدی اس امت سے ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔
اصل غرض اس عبارت سے چاہے ابن ماجہ والی حدیث کا رد ہی ہو جس میں ولا مهدي الا عیسیٰ آیا ہے۔ لیکن اس سے تین باتیں نکل آئیں۔
- الف ....... احادیث مہدی متواتر ہیں۔
- ب ........ احادیث نزول مسیح متواتر ہیں۔
- ج ....... مہدی کا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے امام ہونا متواتر ہے۔
لیجئے بجائے ایک دعویٰ کے اب تین دعوے ہوگئے ۔ جے پوری صاحب کا یہ فرمانا لازم آتا ہے کہ غرض یہ تو نہ تھی۔ بالکل بے معنی بات ہے۔ کیونکہ لازم بین ہے۔ لزوم مصرح ہے اور قائل کا غیر مراد نہیں۔ بلکہ یہ مراد بالاولی ہے اور اس کا التزام ہے تو کیا یہ لازم ہونا ان کے خلاف مقصود ہے۔ کیا دلالۃ النص اور دلالۃ بالاولی یا ظاہر النص کی بحث اصول فقہ میں محض بے کار ہے۔ حقیقت میں خروج مہدی، نزول مسیح، خروج دجال۔ تینوں متماثل و متقارب امور ہیں اور شرعی حیثیت میں یقیناً ان تینوں میں تلازم ہے۔ اس لئے اکثر احادیث میں تینوں کا ذکر ساتھ ساتھ آتا ہے۔ فرحمه الله من انصف ! اب صرف ایک دو محدثوں کا ضعیف قول کہ متواتر عزیز الوجود کیسے قابل وثوق ہوسکتا ہے۔ کیا مثبت کا قول راجح ہے یا نافی کا ؟۔ اکثریت کس طرف اور اقلیت کس طرف ہے؟ ۔ خارجی ثبوت کس کی شہادت دیتا ہے۔ اثبات متواترات کی یا نفی کی؟ اور کثرت کی یا قلت کی؟ ۔ کیا کسی نے ان کے قول کو بھی قبول کیا ہے۔
احادیث کا ذخیرہ متواترات سے بھرا پڑا ہے۔ اگر کسی کو نظر نہ آئے تو اس کا کیا علاج ؟ ۔ بہرحال حدیثی ابحاث میں محض اٹکل سے یا محض عقلی احتمالات سے کام نہیں چلتا۔ نہ اس قسم کے وساوس سے خدا کے ہاں نجات ہوسکتی ہے۔ محدثین میں سے جن محدثین نے یہ فرمایا تھا کہ متواتر حدیث قلیل الوجود ہیں۔ وہ یہ بھی تو فرماتے ہیں کہ بخاری و مسلم کی اخبار آحاد بھی مفید للعلم الیقینی ہیں۔ تو ان کے یہاں تو ضرورت دین کے لئے صحیحین کی اخبار آحاد بھی کافی ہیں۔ آپ بتلائیے کہ آپ کے نزدیک قرآن کریم کے سوا ضروریات دین کے لئے کیا ثبوت رہ جاتا ہے؟ ۔ کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کے بغیر کوئی بھی عقیدہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قطعیت کے
٢٠
لئے سوا قرآن کے متواتر حدیث ہونی چاہئے اور وہ ہے نہیں؟۔ اللہ! اللہ! کیسے کام ہلکا ہو گیا۔ یہی تو فرقہ اہل قرآن والے کہتے چلے آئے ہیں اور تقریباً کل منکرین حدیث کا منشاء بھی یہی نکلتا ہے۔ بہر حال بقیہ ضروریات دین کے لئے یا تو صحیحین کی اخبار آحاد کو مفید للعلم مان کر ان کو قطعی ماننا ہوگا یا احادیث متواترہ کو تسلیم کر کے ان ضروریات دین پر ایمان لانا ہوگا۔ تیسرا قول کہ نہ تو احادیث صحیحین مفید قطعیت ہیں اور نہ کوئی حدیث متواتر موجود ہے جو مفید قطعیت ہو۔ مرکب باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فہم وانصاف عطا فرمائے۔ یہی تو وہ پرانا فتنہ ہے جو جہمیہ کی میراث رہ گئی ہے۔ گویا آج کل اس فتنہ کی تجدید ہو رہی ہے۔ کیونکہ عقائد قطعیہ کے لئے ان دلائل کی ضرورت ہوگی جن کا مفید علم ہونا قطعی طور پر مسلم ہو اور وہ صرف قرآن کریم کی وہ نصوص ہوں گی جو قطعی الدلالۃ ہوں یا حدیث متواتر قطعی الدلالۃ ہو اور وہ ہے نہیں۔ یہی تو حمدان قرمطی اور ان کے اتباع قرامطہ کا مسلک ہے۔ اب بتلائیے کہ بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گی؟۔
پس خلاصہ یہ ہوا کہ احادیث نزول مسیح صحیحین کی حدیثیں ہیں۔ محققین محدثین اور اکثر اشاعرہ کے مذہب کے موافق تو افادہ علم ویقین کے لئے یہ بھی کافی ہے اور اگر مدار تواتر بھی ہو تو قرنِ اوّل میں ان احادیث کی تلقی بالقبول ہو چکی ہے تو یہ چیز بھی ان احادیث میں موجود ہے۔ اگر خواہ مخواہ اسی کی ضد ہے کہ تواتر اصطلاحی کی مشہور تعریف کی بنا پر متواتر احادیث چاہئیں تو لیجئے گزشتہ تحقیق وتفصیل سے یہ بات بھی بحمد اللہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ احادیث نزول مسیح اصطلاحی تواتر سے متواتر ہیں اور متواتر بھی قطعی الدلالۃ ہیں۔ احادیث متواترہ قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہونے کے بعد عقیدہ نزول مسیح کی فرضیت وقطعیت میں کیا شبہ رہ جاتا ہے اور جحود وانکار کا جو نتیجہ ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ یقین واذعان کی ان مختلف جہات اور حیثیات کے بعد بھی اس کے ضروریاتِ دین ہونے میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے۔ واللہ یقول الحق وهو یھدی السبیل!
نزول مسیح ؑ اور اجماع امت
نمبر (١٣) میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مستقبل میں جن امور کے متعلق امت کا اجماع ہوتا ہے اس کی حیثیت کیا ہے؟۔ کیونکہ امت کو تو غیب کا علم نہیں۔ وہ تو علام الغیوب ہی کا خاصہ ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مخبر صادق سے جو کچھ منقول ہے اس پر امت کا اتفاق
٢١
ہے ۔اگر وہ نقل بذریعہ آحاد ہو ۔ جب بھی اجماع کے بعد قطعی ویقینی ہو جاتی ہے۔ اب غور کیجئے کہ کتب حدیث میں جو امہات واصول ہیں ۔ مثلاً بخاری ، مسلم، سنن نسائی، سنن ابی داؤد، ترمذی، ابن ماجہ سے لے کر مستدرک حاکم وسنن کبریٰ بیہقی تک بیسیوں کتابوں میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مستقل ابواب موجود ہیں۔ سب ہی نزول کی احادیث روایت کرتے ہیں اور نفس نزول میں اسنادی اعتبار سے کوئی علت قادحہ نہیں بیان کرتے۔
پھر ان ہی کتب حدیث وکتب تفسیر میں صحابہؓ سے پھر تابعینؒ سے اور تابعینؒ بھی مختلف بلاد کے مدینہ، مکہ، بصرہ، کوفہ، شام وغیرہ کے سب سے نزول مسیح کے بارے میں نقول موجود ہیں۔ پھر کسی صحابیؓ، کسی تابعیؒ سے کم نہیں، بلکہ کسی امام دین، کسی محدث، کسی مصنف سے بھی اس کے خلاف کسی کتاب میں کسی دور میں، کہیں بھی کوئی حرف نقل نہیں ہوا۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ یہ بات اور یہ عقیدہ بالکل اجماعی اتفاقی ہے۔ پھر کتب عقائد میں جو مستند ترین اور اعلیٰ ترین کتب عقیدہ ہیں۔ ان سب میں اس کا ذکر عقیدہ کی صورت میں موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوگی؟۔
اس وقت ہم ذیل میں دو اہم ترین ماخذ پیش کرتے ہیں:
- ١...... عقیدہ طحاویہ: جو امام ابوحنیفہؒ، ابو یوسفؒ، محمدؒ وغیرہ ائمہ حنفیہ کے عقائد میں
مؤثوق ترین چیز ہے۔ اس کی عبارت ملاحظہ ہو: ”ونؤمن بأشراط الساعة من خروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم علیہ السلام من السماء ٠ شرح عقيده طحاويه ص٥٠٨ “ ﴿خروج دجال اور آسمان سے نزول عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ علامات قیامت پر ہمارا ایمان ہے ۔﴾
- ٢...... فقہ اکبر: امام ابو حنیفہؒ کی مشہور ترین متداول کتاب ہے۔ ابو مطیع بلخیؒ کی
روایت سے منقول ہے۔ امام ابو منصور ماتریدیؒ جو ماتریدیہ کے امام الطائفہ ہیں۔ وہ اس کتاب کے پہلے شارح ہیں۔ اس فقہ اکبر کی عبارت یہ ہے کہ: ”ونزول عيسى علیہ السلام من السماء وسائر علامات القيامة على ماوردت به الأخبار الصحيحه حق كائن ٠ شرح فقہ اکبر طبع دہلی ص ١٣٦،١٣٧“ ﴿آسمان سے عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور اس کے علاوہ علامات قیامت جو صحیح احادیث میں مذکور ہیں بالکل حق ہیں۔﴾
ان عبارتوں میں جس طرح تصریح کی گئی ہے۔ اس سے بڑھ کر عقیدہ ہونے کی کیا
٢٢
تصریح ہو گی۔ کیا اس قسم کی تصریحات کے بعد کسی منصف کے لئے کوئی شبہ باقی رہتا ہے؟۔ کیا اس عقیدہ کے اتفاقی ہونے کے لئے مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ یہ عقائد تو وہ ہیں جو بذریعہ توارث امت محمدیہ میں پہنچ چکے ہیں۔ اب اجماع کی بھی دو تصریحی شہادتیں پیش کی جاتی ہیں۔ تا کہ بیان سابق کی تصدیق و تائید میں کسی طالب حق کے لئے کوئی خلجان باقی نہ رہے۔
امام ابو اسحق کلاآبادیؒ بخاری جو قرن رابع کے اکابر حافظ محدثین سے ہیں اور اپنی اسناد سے روایت کرتے ہیں۔ اپنی کتاب معانی الأخبار میں فرماتے ہیں کہ: ”قد أجمع اهل الأثر وكثير من اهل النظر على أن عيسى ؑ ينزل من السماء فيقتل الدجال ويكسر الصليب اه ، تحية الاسلام ص ١٣٥“ ﴿ کل محدثین اور بہت سے متکلمین کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے۔ ﴾
یہ خیال رہے کہ محدثین کا دور متکلمین سے پہلے شروع ہوتا ہے اور اس مسئلہ پر محدثین کا اجماع منعقد ہو چکا ہے۔ بعد میں اگر متکلمین کے عہد میں خلاف بھی ہو گیا ہو تو اجماع سابق کو مضر نہیں۔ نہ یہ خلاف اتفاق ہونے کے بعد قابل اعتبار ہے۔ جس کی تحقیق کتب اصول فقہ میں موجود ہے۔ نیز بظاہر یہ خلاف جو بعض متکلمین کی طرف منسوب ہے صحیح نہیں۔ جیسا کہ آئندہ سفارینی کی عبارت سے واضح ہے۔
بہر حال یہ تو ہوئی نقل اجماع کے بارے میں قدماء محدثین کی تصریح۔ اب متأخرین اہل حدیث میں سے امام شمس الدین محمد بن احمد حنبلی سفارینی نابلسیؒ کی عبارت ملاحظہ ہو:
" وأما الاجماع فقد اجتمعت الأمة على نزوله ولم يخالف فيه أحد من أهل الشريعة وانما أنكرذلك الفلاسفة والملاحدة مما لايعتد بخلافه وقد انعقد اجماع الأمة على أنه ينزل ويحكم بهذه الشريعة المحمدية ا ھ ، شرح عقيده سفارينی ص ٩٠ ج ٢ “ ﴿ رہا نزول عیسیٰ ؑ میں اجماع تو امت محمدیہ کے کل اہل شرع کا ان کے نزول پر اجماع ہے کہ وہ نازل ہوں گے اور شرع محمدی پر عمل کریں گے۔ بجز فلاسفہ اور ملاحدہ کے کسی نے خلاف نہیں کیا اور ان کا خلاف قابل اعتبار نہیں ۔ ﴾
سفارینی مذکور بارہویں صدی کے اکابر محدثین میں ہیں۔ حنبلی المذہب ہیں۔ نابلس کے ایک گاؤں سفارین کے باشندے ہیں۔ نام محمد بن احمد، شمس الدین لقب، ابوالعون کنیت
ہے۔ بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں۔
”سلك الدرر في أعيان القرن الثاني عشر السحب الوابلة على ضرائح الحنابلة “ وغیرہ میں ان کا مفصل ترجمہ اور حالات مذکور ہیں۔ سلک الدرر میں ان کو الشيخ الامام العلام البحر الحبر النحرير وغيرہ جلیل القدر القاب سے ذکر کیا ہے اور بہت سے مفاخر و مآثر لکھنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”وبالجمله فقد كان غرة عصره وشامة مصره لم يظهر في بلده بعد مثله ...... الخ“
صاحب الفوائح لکھتے ہیں کہ: ” شمس الدين العلامة المسند الحافظ المتقن“ وبالجملة فتآليفه نافعة مفيدة مقبولة سارت به الركبان وانتشرت في البلد ان كان اماماً متقناً جليل القدر زينة أهل عصره ونقاوة أهل مصره ...... الخ“
سید مرتضی زبیدی بلگرامی صاحب تاج العروس شرح القاموس اور صاحب اتحاف السادة المتقین بشرح احیاء علوم الدین حدیث میں ان کے تلمیذ ہیں۔ اب تو جے پوری صاحب نے سفارینی کو پہچان لیا ہو گیا کہ وہ کون ہیں اور کس پایہ کے ہیں۔ سفارینی کی عبارت سے معلوم ہوا کہ کل محدثین اور سب متکلمین ماتریدیہ اشاعرہ معتزلہ سب کے سب کا نزول مسیح ؑ پر اجماع ہے۔ صرف ملحدین و فلاسفہ اس کے منکر ہیں۔ اس قسم کے مواضع میں جب اجماع کا اس طرح ذکر کیا جاتا ہے۔ اس سے اجماع ناطق ہی مراد ہوتا ہے۔ اجماع سکوتی کو کبھی بھی اس طرح تعبیر نہیں کرتے۔ جے پوری صاحب کو جیسے تواتر کے لفظ سے چڑ ہے۔ ایسے ہی اجماع کے لفظ سے بھی ضد ہے۔ جہاں اجماع کا لفظ دیکھا جھٹ فرمائیں گے کہ یہ کوئی سکوتی اجماع ہو گا۔ محض اپنی ضد کو پورا کرنے کے لئے بے انصافی کر کے بے دلیل ایسی بات کہنا کسی عالم کا شعار نہیں۔ جب تک کوئی صریح دلیل اس کے خلاف قائم نہ ہو۔ اجماع سے یہی اجماع صریح ، اجماع ناطق مراد ہوگا۔ اگر ان کو اس پر اصرار ہے کہ یہ اجماع سکوتی ہے تو لائیں کوئی دلیل پیش کریں۔ هاتوا برهانکم ان کنتم صادقین!
نیز واضح رہے کہ تالیفی دور کے بعد اجماع کا نقل انہی تالیفات کے ذریعہ ہوتا ہے۔ جتنے مسائل اصول کے ہوں یا فروع کے جن میں اجماع نقل کیا جاتا ہے اسی پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ آج تک تالیفی دور میں کل ارباب تالیف کا سلف میں بھی خلف میں بھی یہی معمول چلا آرہا ہے۔
ر ٤٤
یہ کبھی نہ ہوا اور نہ ہو سکت کے خیالات محض طفلا امور میں اجماع نقل میں بھی اس سے زیاد ہے اور نقال ثقہ ہے۔ ادا کر دیا ہے۔ اب آ
خلاصه بحث
اس طویل
- .......١
چلا آ رہا ہے اور اس کی جس کی تفصیل نمبر (١
- .......٢
علم اور صحابہؓ و تابعین
- .......٣
بالقبول ہو چکی ہے ا ان تینوں باتوں کی ا
- .......٤
محدثین اور متاخرین سے انکار یا خلاف
- .......٥
ضروریات دین : استبعاد کی بناء پر ائ نہیں۔ رسول الله ﷺ ایک بات فرما چکے نہ ہونا ایمان کا جن تصدیق رسول ض
یہ کبھی نہ ہوا اور نہ ہو سکتا ہے کہ چودھویں صدی میں کسی زید وعمر کو اسنادی اجماع پہنچ گیا ہو۔ اس قسم کے خیالات محض طفلانہ ہیں۔ اگر بات لمبی نہ ہوتی تو ہم یہاں پر اس کے نظائر پیش کرتے کہ جن امور میں اجماع نقل ہوا ہے اور امت کے نزدیک اجماع سے وہ درجہ قطعیت کو پہنچ گئے ہیں۔ ان میں بھی اس سے زیادہ اجماع کا ثبوت نہیں کہ فلاں کتاب میں فلاں شخص نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور نقال ثقہ ہے۔ اب تک امت محمدیہ نے اپنی تالیفات میں اس علمی امانت کو اچھے طریقہ سے ادا کر دیا ہے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ رحم فرمائیں۔
خلاصہ بحث
اس طویل بحث کا خلاصہ حسب ذیل امور میں پیش کیا جاتا ہے کہ:
- ١....... نزول مسیح ؑ کا عقیدہ امت محمدیہ میں قرن بہ قرن طبقہ بہ طبقہ متوارث
چلا آ رہا ہے اور اس کو تواتر طبقی حاصل ہے۔ قطعیت کے لئے یہ توارث خود بخود مستقل دلیل ہے۔ جس کی تفصیل نمبر (١) میں گزر چکی ہے۔
- ٢....... باوجود اس توارث کے قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ اکثر اہل
علم اور صحابہ و تابعین کی تفسیر کی بناء پر نزول مسیح ؑ کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔
- ٣....... نزول مسیح کی احادیث باتفاق امت صحیح ہیں اور باتفاق امت ان کی تلقی
بالقبول ہو چکی ہے اور بہ تصریح حفاظ حدیث وہ اصطلاحی متواتر ہیں اور خارجی بحث و تحقیق سے بھی ان تینوں باتوں کی قطعیت میں کوئی شبہ نہیں۔
- ٤....... نزول مسیح کے بارے میں امت محمدیہ کا اجماع بھی منعقد ہو چکا ہے۔ قدماء
محدثین اور متاخرین اس اجماع کو نقل کرتے ہیں اور آج تک کسی کتاب میں کسی اہل حق میں سے انکار یا خلاف منقول نہیں۔
- ٥....... غرض یہ کہ عقیدہ نزول مسیح مختلف جہات مختلف اعتبارات سے قطعی ہے اور
ضروریات دین میں داخل ہے اور معلوم ہونے کے بعد صرف باطنی زیغ یا قلبی وساوس یا عقلی استبعاد کی بناء پر انکار کرنا اور انکار کے لئے حیلے تلاش کرنا اور چارہ جوئی کرنا ، مومن قانت کا شیوہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی صداقت ضروریات دین کا اہم ترین جز ہے۔ حضرت رسالت پناہ ﷺ ایک بات فرما چکے ہوں اور قطعی ذرائع سے ہم تک پہنچ جائے پھر اس کا ضروریات دین میں داخل نہ ہونا ایمان کا جز نہ بننا بالکل غلط و متناقض دعوٰی ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کی تکذیب ہے۔ اگر تصدیق رسول ضروریات دین میں داخل ہے تو کوئی راستہ ماننے کے سوا نہیں۔ اس کی کیفیت سمجھ
٢٥
میں آئے یا نہ آئے۔ اگر فرشتہ آسمان سے اتر سکتا ہے اور بصورت دحیہ کلبیؓ متمثل ہو سکتا ہے تو ایک نبی کا آسمان پر چلا جانا۔ اس میں کون سا عقلی استبعاد ہے؟۔ (فتمثل لها بشراً سوياً . مریم : ١٧) (لقد جأت رسلنا ابراهيم بالبشرى . هود : ٦٩ ) وغیرہ آیات قرآنیہ میں بشکل انسانی فرشتہ کا متمثل ہونا بالکل منصوص ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی روحانیت ان کی قوت قدسیہ کی وجہ سے بھی غالب ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے اجساد مبارکہ پر روحانی کیفیات بآسانی طاری ہو سکتی ہیں۔ کیا نبی کریم ﷺ کی معراج جسمانی اور جسد عنصری کا عروج بنص قرآن مکہ سے بیت المقدس تک ثابت نہیں؟ اور آگے آسمانوں پر صعود و عروج احادیث متواترہ سے ثابت نہیں؟۔ کیا اس پر یقین اہل حق کا عقیدہ نہیں؟۔ تو جیسے یہاں صعود و نزول آناً فاناً قابل انکار نہیں۔ اسی طرح عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی پھر حق تعالیٰ جل شانہ کے ارادہ کی مقناطیسی جذب نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا ہو تو اس میں کون سی حیرت کی بات ہے؟۔ آج کل مسمریزم اور اسپریچویلزم کے عجائبات کا اگر کسی کو ذرہ بھر بھی علم ہو تو ان خوارق الہیہ میں ذرا بھی شبہ نہیں کر سکتا۔ خیر یہ چیز تو ہمارے موضوع بحث سے خارج ہے۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ جب اللہ و رسول اللہ ﷺ کوئی بات ارشاد فرمائیں ہمیں بجز تسلیم کے کوئی مخلصی نہیں۔
قوله تعالى ماكان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله امرا ان يكون لهم الخيرة . الاحزاب ٣٦ ﴿اللہ و رسول کے فیصلہ کے بعد کسی مرد مؤمن یا عورت مومنہ کو ماننے نہ ماننے کا اختیار باقی نہیں رہتا۔﴾
عقیدہ کی تنقیح کے دو جز ہیں۔ عیسیٰ ؑ کا جسمانی رفع اور پھر قیامت کے قریب آسمان سے نزول۔ یہی دو چیزیں ضروریات دین میں داخل ہیں۔ جب نزول مانا جائے گا تو رفع جسمانی خود بخود ماننا پڑے گا۔ اس لئے اس مضمون میں اس جز کو نہیں لیا گیا۔ باقی تفصیلات کہ رفع سے پہلے موت طاری ہوئی تھی یا نہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے یا زیادہ دیر کے لئے رفع بحالت حیات ہوا؟ وغیرہ وغیرہ۔ ان جزوی تفصیلات میں کچھ کچھ سلف سے خلاف منقول ہے۔ لیکن اہل حق اور جمہور اہل سنت کا اس میں مطمح نظر یہی ہے کہ جسد عنصری کے ساتھ بحالت حیات رفع آسمانی واقع ہوا۔ اس وقت صرف مسئلہ نزول کو اصولی حیثیت سے واضح کرنا تھا۔ اتنا عرض کر دیا گیا۔ اس پر اکتفا کی جاتی ہے۔ توقع ہے کہ طالب حق کے لئے اتنا لکھنا کافی ہوگا۔
ان اريد الا الاصلاح ماستطعت ، وماتوفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب !
شعبان ١٣٩١ھ
٢٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتنہ قادیانیت
اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں
- ☆ ضروری تنبیہ
- ☆ مرزا ناصر کا دورہ یورپ اور سعودی عرب
ٹیلی ویژن پر اس کی نمائش
- ☆ برطانوی عہد حکومت اور مسلمان
- ☆ پاکستان اور مرزائی امت
- ☆ تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعارف !
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے قادیانی فتنہ کی زہرناکیوں سے امت کو باخبر رکھنے کے لئے چند مواقع پر اپنے رشحات قلم سے ماہنامہ بینات کو عزت بخشی۔ ہماری سعادت مندی ہے کہ ہم ان کو عنوان بالا سے ذیل میں شائع کر رہے ہیں۔
(مرتب)
ضروری تنبیہ
ایمان و کفر نفاق و الحاد ارتداد و فسق
جس طرح نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج اسلام کے بنیادی احکام و عبادات ہیں اور دین اسلام میں ان کے مخصوص معنی اور مصداق متعین ہیں۔ قرآن وحدیث کی نصوص اور حضرت رسول ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے تعامل سے ان کی حقیقتیں اور عملی صورتیں واضح ومسلم ہوچکی ہیں اور چودہ سو سال میں امت محمدیہ اور اس کے علماء ومحققین ان کو جس طرح سمجھتے اور عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ اس تواتر وتوارث عملی نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ اب ان عبادات واحکام اور ان نصوص کی تعبیرات کو ان کے متواتر شرعی معانی سے نکال کر کوئی نئی تعبیر اور نیا مصداق قرار دینا یقیناً دین سے کھلا ہوا انحراف ہے۔ ٹھیک اسی طرح کفر، نفاق، الحاد، ارتداد اور فسق بھی اسلام کے بنیادی احکام ہیں۔ دین اسلام میں ان کے بھی مخصوص ومتعین معنی اور مصداق ہیں۔ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ نے قطعی طور پر ان کی تعیین وتحدید فرمادی ہے۔ ان الفاظ کو بھی ان شرعی معانی ومصادیق سے نکالنا کھلا ہوا دین سے انحراف ہوگا اور ان کو از سر نو محل بحث ونظر بنانا اور امت نے چودہ سو سال میں ان کے جو معنی اور مفہوم سمجھے اور جانے ہیں۔ نوبنو تاویلیں کر کے ان سے ہٹانا کھلا ہوا الحاد وزندقہ ہوگا۔
ایمان کا تعلق قلب کے یقین سے ہے اور خاص خاص چیزیں ہیں جن کو باور کرنا اور ماننا
٢
ایمان کے لئے ضروری ہے اس کا نام کفر ہے اور وہ شخص کا نام فسق ہے۔ بشرطیکہ ا تعبیرات، صلوٰۃ زکوٰۃ، صو سے نکال کر غیر شرعی معنی ا عرصہ میں کسی بھی عالم دی ”الحاد“ ہے۔
قرآن کریم روئے زمین پر قرآن کری اب یہ علما۔ ہے اور کہاں کہاں غلط ۔ پورا کرنے کے بعد موم کرنے والا شخص یا فرقہ حدود و تفصیلات کو یعنی ا کے اختیار کرنے سے ا سے خارج کہا جا سکے او ورنہ اگر ک اطفال بن کر رہ جائے
یاد رکھئے کے لفظ کو ختم کرنا ہے ا فرد یا قوم کو نہ مومن ک روشنی نہیں کہہ سکتے ۔ سرے سے غلط ہوگا وہ کفریہ حکومت ہے ختم کرنے کے بعد ا
ایمان کے لئے ضروری ہے۔ جو کوئی ان کو نہ مانے قرآن کریم کی اصطلاح اور اسلام کی زبان میں اس کا نام کفر ہے اور وہ شخص کافر ہے۔ جس طرح ترکِ نماز‘ ترکِ زکوٰۃ اور ترکِ روزہ اور ترکِ حج کا نام فسق ہے۔ بشرطیکہ ان کے فرض ہونے کو مانتا ہو۔ صرف ان پر عمل نہ کرتا ہو اور اگر انہی تعبیرات ’صلوٰۃ‘ زکوٰۃ‘ صوم‘ حج کو اختیار کرنے کے بعد کوئی شخص ان کو معروف ومتواتر شرعی معنی سے نکال کر غیر شرعی معنی میں استعمال کرے۔ یا ان میں ایسی تاویلیں کرے جو چودہ سو سال کے عرصہ میں کسی بھی عالمِ دین نے نہ کی ہوں تو اس کا نام قرآن کی اصطلاح اور اسلام کی زبان میں ”الحاد“ ہے۔
قرآن کریم نے ان الفاظ کفر‘ نفاق‘ الحاد‘ ارتداد کو استعمال فرمایا ہے اور جب تک روئے زمین پر قرآن کریم موجود رہے گا یہ الفاظ بھی انہی معانی میں باقی رہیں گے۔
اب یہ علمائے امت کا فریضہ ہے کہ وہ امت کو بتلائیں کہ ان کا استعمال کہاں کہاں صحیح ہے اور کہاں کہاں غلط ہے؟۔ یعنی یہ بتلائیں کہ جس طرح ایک شخص یا فرقہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد مومن ہوتا اور مسلمان کہلاتا ہے۔ اسی طرح ان ایمان کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے والا شخص یا فرقہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ نیز علمائے امت کا یہ بھی فرض ہے کہ ان حدود و تفصیلات کو یعنی ایمان کے تقاضوں کو اور ان کفریہ عقائد و اعمال و افعال کو متعین کریں۔ جن کے اختیار کرنے سے ایک مسلمان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ تاکہ نہ کسی مومن کو کافر اور اسلام سے خارج کہا جا سکے اور نہ کسی کافر کو مومن و مسلمان کہا جا سکے۔
ورنہ اگر کفر و ایمان کی حدود اس طرح مشخص و متعین نہ ہوئیں تو دینِ اسلام بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائے گا اور جنت و جہنم افسانے۔
یاد رکھئے! اگر ایمان ایک متعین حقیقت ہے تو کفر بھی ایک متعین حقیقت ہے۔ اگر کفر کے لفظ کو ختم کرنا ہے اور کسی کافر کو بھی کافر نہیں کہنا ہے تو پھر ایمان و اسلام کا بھی نام نہ لو۔ اور کسی بھی فرد یا قوم کو نہ مومن کہو نہ مسلمان۔ رات کے بغیر دن کو دن نہیں کہہ سکتے۔ تاریکی کے بغیر روشنی کو روشنی نہیں کہہ سکتے۔ پھر کفر کے بغیر اسلام کو اسلام کیونکر کہہ سکتے ہو؟ اور پھر یہ کہنا اور فرق کرنا بھی سرے سے غلط ہوگا کہ یہ مسلمانوں کی حکومت ہے اور یہ کافروں کی اور یہ تو اسلامی حکومت ہے اور وہ کفریہ حکومت ہے۔ پھر تو حکومت سیکولر اسٹیٹ۔ یعنی لا دینی حکومت ہوگی۔ غرض کفر اور کافر کا لفظ ختم کرنے کے بعد تو اسلام‘ حکومت کا دعویٰ ہی بے معنی ہوگا۔ یا پھر یہ لفظ الیکشن جیتنے کے لئے ایک
٣
دل کش نعرہ اور حسین فریب ہوگا۔ غرض یہ ہے کہ علماء پر کچھ بھی ہو۔ رہتی دنیا تک یہ فریضہ عائد ہے اور رہے گا کہ وہ کافر پر کفر کا حکم اور فتویٰ لگائیں اور اس میں پوری پوری دیانتداری اور علم وتحقیق سے کام لیں اور ملحد وزندیق پر الحاد و زندقہ کا حکم اور فتویٰ لگائیں اور جو بھی فرد یا فرقہ قرآن و حدیث کی نصوص وتصریحات کی رو سے اسلام سے خارج ہو۔ اس پر اسلام سے خارج اور دین سے بے تعلق ہونے کا حکم اور فتویٰ لگائیں۔ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو اور قیامت نہ آجائے۔
چونکہ کفر واسلام کے حکم لگانے کا معاملہ بے حد اہم اور انتہائی نازک ہے اور ایک شخص جذبات کی رو میں بھی بہہ سکتا ہے اور فکر ورائے میں غلطی بھی کرسکتا ہے۔ اس لئے علمائے امت کی ایک معتمد علیہ جماعت جب اس کا فیصلہ کرے گی تو وہ فیصلہ یقیناً حقیقت پر مبنی اور شک وشبہ سے بالاتر ہوجائے گا۔
بہر حال کافر' فاسق' ملحد' مرتد وغیرہ شرعی احکام واوصاف ہیں اور فرد یا جماعت کے عقائد یا اقوال وافعال پر مبنی ہوتے ہیں۔ نہ کہ ان کی شخصیتوں اور ذاتوں پر۔ اس کے برعکس گالیاں جن کو دی جاتی ہیں ان کی ذاتوں اور شخصیتوں کو دی جاتی ہیں۔ لہٰذا اگر یہ الفاظ صحیح محل میں استعمال ہوتے ہیں تو یہ شرعی احکام ہیں۔ ان کو سب وشتم اور ان احکام کے لگانے کو دشنام طرازی کہنا یا جہالت ہے یا بے دینی۔ ہاں کوئی شخص غیظ وغضب کی حالت میں یا از راہ تعصب وعناد کسی مسلمان کو کافر کہہ دے تو یہ بے شک گالی ہے اور یہ گالی دینے والا خود فاسق ہوگا اور تعزیر کا مستحق، اور اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی واقعی مسلمان کو کافر کہہ دے تو یہ کہنے والا خود کافر ہوجائے گا۔
علمائے حق جب کسی فرد یا جماعت کی تکفیر کرتے ہیں تو درحقیقت ایک کافر کو کافر بتلانے والے اور مسلمانوں کو اس کے کفر سے آگاہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ نہ کہ اس کو کافر بنانے والے۔ کافر تو وہ خود بنتا ہے۔ جب کفریہ عقائد یا اقوال وافعال کا اس نے ارتکاب کیا اور ایمان کے ضروری تقاضوں کو پورا نہیں کیا تو وہ باختیار خود کافر بن گیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مولویوں کو کافر بنانے کے سوا اور کیا آتا ہے۔ سراسر جہالت ہے یا بے دینی۔
اگر علماء ایمانی حقائق اور اسلام کی حدود کی حفاظت نہ کرتے تو اسلام کا نام ہی صفحہ ہستی سے کبھی کا مٹ چکا ہوتا۔ جس طرح کسی حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی مملکت کی حدود کی حفاظت کرے اور ان کے تحفظ کے لئے فوجی طاقت اور دفاعی سامان جنگ وغیرہ کی تیاری میں
٤
ایک لمحہ کے لئے غافل نہ ہو۔ اسی طرح ایمان، اسلام، اسلامی معاشرہ مسلمانوں کے دین و ایمان کو ملحدوں، افترا پردازوں اور جاہلوں کے حملوں سے محفوظ رکھنا علمائے حق اور فقہائے امت کے ذمہ فرض ہے۔ ابھی چند دنوں کا قصہ ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور حکومت پاکستان نے جہاد کا اعلان کیا اور پاکستان کی افواج قاہرہ اور عوام نے اس جہاد میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا تو بھارت کے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ پاکستان اسلامی حکومت نہیں ہے اور یہ لڑائی اسلامی جہاد نہیں ہے اور اگر ہے تو پھر ہندوستان بھی اسی طرح دار الاسلام ہے جس طرح پاکستان۔ اسلامی قانون نہ وہاں نافذ ہے نہ یہاں۔ مسلمان وہاں بھی رہتے ہیں اور یہاں بھی۔ بھارت کو یہ کہنے کا موقع کیوں ملا؟ صرف اس لئے کہ نہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ ہے اور نہ اسلامی معاشرہ موجود ہے۔ یہ ہماری وہ کمزوریاں ہیں جن سے دشمن نے ایسے نازک موقعہ پر فائدہ اٹھایا۔ اگر اس ملک کے اندر نبوت کا مدعی اور ختم نبوت کا منکر مرزا غلام احمد قادیانی کی امت (مرزائی فرقہ) بھی مسلمان ہے اور پورے اسلام کے چودہ سو سالہ اسلامی عبادات و معاملات کے نقشہ کو مٹا ڈالنے والا اور جنت و دوزخ سے صریح انکار کرنے والا غلام احمد پرویز اور اس کی جماعت بھی مسلمان ہے اور اگر قرآن کے منصوص احکام کو عصری تقاضوں کے سانچوں میں ڈھالنے والا ، سنت رسول کو ایک تعاملی اصطلاح اور رواجی قانون بتلانے والا ، سود کی حرمت سے قرآن کو خاموش بتا کر حلال کرنے والا بھی نہ صرف مسلمان ہے۔ بلکہ اسلامی تحقیقاتی ادارہ کا سربراہ ہے۔ تو پھر یاد رہے کہ محض قرآن کریم کو زردوزی کے سنہری حروف میں لکھوانے سے قرآن کی حفاظت قیامت تک نہیں ہو سکتی اور یہ دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ یا پھر عوام کو بے وقوف بنانے کا ہتھکنڈہ ہے۔
ابھی کل تک یہی ”ملحدین“ مسلمانوں کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ قرآن مجید اس لئے نازل نہیں ہوا ہے کہ ریشمی رومالوں میں لپیٹ کر اس کو بوسے دیئے جائیں۔ پیشانی سے لگایا جائے اور سروں پر رکھا جائے۔ یہ تو مسلمانوں کے لئے ایک عملی قانون ہے۔ عمل کرنے کے لئے نازل ہوا ہے۔ پھر آج اس حقیقت سے یہ بے اعتنائی کیوں ہے کہ باہمی رضامندی سے زنا کو جرم نہیں قرار دیا جاتا۔ بینکاری سود کو شیر مادر کی طرح حلال قرار دے کر خود حکومت سود لے رہی اور دے رہی ہے۔ ریس کورس، جیسی مہذب قمار بازی کے، شراب کی درآمد و برآمد اور خرید و فروخت کے لائسنس دیئے جا رہے ہیں۔ نکاح و طلاق و وراثت کا قانون سب صریح قرآن و سنت کی تصریحات کے خلاف جاری ہے۔ جرائم اور سزاؤں کا تو کہنا ہی کیا؟۔
٥
غرض قرآن وسنت کو بالائے طاق رکھ کر قانون سازی کا سلسلہ جاری ہے اور زردوزی کے سنہری حرفوں میں لکھوا کر قرآن عظیم کی حفاظت کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ نہایت صبر آزما حقائق ہیں۔ آخر مسلمانوں کو کیا ہو گیا کہ اتنے واضح حقائق کی فہم کی توفیق بھی سلب ہوگئی ؟۔
اللہم اھد قومی فانھم لا یعلمون!
( جمادی الاولی ١٣٨٦....... ستمبر ١٩٦٦ء)
مرزا ناصر احمد کا دورہ یورپ اور سعودی عرب میں ٹیلی ویژن پر اس کی نمائش
پچھلے دنوں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کا پوتا مرزا ناصر احمد، سر ظفر اللہ کی معیت میں یورپ کے دورے پر گیا۔ خبر آئی ہے کہ اس کے دورے کے مناظر سعودی عرب میں ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے ہیں۔ ہمیں مرزا ناصر کے دورۂ یورپ سے تعجب نہیں۔ کیونکہ جس حکومت نے اس ناپاک پودے کی کاشت سرزمین پنجاب میں کی تھی۔ اسے اس کی ہر قسم کی نگہداشت بھی بہر حال کرنی ہوگی۔ اب اگر اس دورے کے ذریعہ وہاں کے کسی مسلمان کو گمراہ اور مرتد کیا جاسکتا ہے تو انگریز کا اس سے دلچسپی لینا بھی ایک منطقی بات ہے۔ آخر کون کاشت کار اپنے خود کاشتہ پودے سے پھل اٹھانے کا متمنی نہیں ہوتا۔
لیکن جو بات ہمارے لئے ناقابل فہم ہے۔ وہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں مرزا ناصر کے مناظر دکھانے کی کیا تک ہوئی ؟ ۔ گذشتہ حج پر سر ظفر اللہ قادیانی اپنے چند رفقاء سمیت شاہ فیصل کا مہمان بن بیٹھا تھا اور اب یہ قصہ پیش آیا۔ سرزمین مقدس اور مرزا غلام احمد قادیانی جیسے دجال، مسیلمہ پنجاب اور بدکردار آدمی کے متبعین کی پذیرائی ؟ ۔
دنیا بھر کے ستر کروڑ مسلمانوں کے لئے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ ان کا قبلہ اول یہودیوں کے قبضے میں ہے اور اللہ کا پہلا گھر قادیانی مرتدین کی یلغار کی زد میں ہے۔ رب کعبہ ! تو بے نیاز ہے۔ ہمیں یہ روز بد بھی دیکھنا تھا کہ کعبہ کے پاسبانوں کے سامنے کعبے کی حرمت یوں لٹے گی ؟۔ کون کہہ سکتا تھا کہ بیت المقدس پر موشے دایان اور حرم مقدس پر ظفر اللہ قادیانی مرتد ، یوں دندناتے پھریں گے اور پھر بھی عرب کے سادہ لوح ٹیلی ویژن پر مرزا ناصر کے دورے کی فلمیں دیکھیں گے؟۔ کاش عالم اسلام کے ستر کروڑ مسلمانوں کی غیرت نہ مر جاتی یہ خود مر جاتے۔ تا کہ
٦
قیامت کے دن رب کعبہ کے سامنے روسیاہ نہ ہوتے۔ کاش! کوئی ہمارا پیغام عرب بھائیوں کو پہنچادے کہ وہ قادیانیوں کی پذیرائی کر کے عالم اسلام کے زخمی دلوں پر نمک پاشی نہ کریں۔
مسلمان فروعی اختلافات ختم کر کے تبلیغ میں مشغول ہوں
مرزا ناصر نے دورہ یورپ سے واپسی پر کراچی کی ایک پریس کانفرنس میں یہ وعظ فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقے اپنے فروعی اختلافات کو بھول کر سات سال کے لئے تبلیغ اسلام میں مشغول ہو جائیں:
مرزا ناصر یہ وعظ فرماتے وقت شاید بھول گئے کہ ان کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی تمام مسلمانوں کو ذریۃ البغایا۔ کنجریوں کی اولاد۔ (خزائن ج ٥ ص ٥٤٨، ٥٤٧) حرام زادے۔ (انوار اسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٢) اور جنگل کے سور۔ (نجم الہدی ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) سے نوازتا تھا۔ ان کا باوا مرزا محمود ”ہر شخص بڑے سے بڑا مرتبہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔“ (اخبار الفضل قادیان نمبر ٥ ج ١٠ ص ٧٥، ١٧ جولائی ١٩٢٢ء) کے تحفے تقسیم کیا کرتا تھا۔ مرزائی امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی کے لقب سے ملقب کرتی تھی۔ (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣، ٢٤) اور قائد اعظم سمیت تمام مسلمانوں کو کافر تصور کرتے ہوئے ان کا جنازہ جائز نہیں سمجھتی تھی۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ٢١٤) وغیر ذلک! کیا یہ سب فروعی اختلاف تھے؟۔
مرزائی جو باتفاق امت مرتد، کافر اور خارج از اسلام ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ان کو فروعی اختلاف کے وعظ کی جرأت کیوں ہوئی؟ ۔ اس لئے کہ حکومت پاکستان میں ان مرتدوں کو مسلمانوں کی فہرست مردم شماری میں شامل رکھا گیا۔ (اگرچہ مرزائی امت ہمارے ان حکمرانوں کو آج تک کافر ہی سمجھتی رہی جس طرح ظفر اللہ قادیانی نے قائد اعظم کو سمجھا) ان کے ساتھ ہر طرح کی مدارات بلکہ مداہنت برتی گئی۔ سول اور فوج کے اونچے اونچے مناصب پر ان کو مسلمانوں کے بجائے مسلط کیا گیا۔ انہیں ایک الگ اقلیتی فرقہ قرار دینے سے ہمیشہ کنی کترائی گئی اور انہیں مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی۔ پھر آج مرزا ناصر یہ وعظ نہ کرتے تو کیا کرتے:
تاہم مرزا ناصر کا وعظ اپنی جگہ قیمتی ہے۔ ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ
٧
اپنے تمام فروعی اختلافات سات سال کے لئے نہیں۔ بلکہ ہمیشہ کے لئے بھول کر تبلیغ اسلام اور رد مرزائیت میں مشغول ہو جائیں۔ کیا مرزا ناصر کے اس اعلان کے بعد بھی مسلمانوں کو عقل نہیں آئے گی؟۔ کیا اب بھی ہماری حکومت ان مرتدین کے عزائم اور سرگرمیوں کا نوٹس نہیں لے گی؟۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں پر رحم فرمائے ۔ آمین۔ وصلى الله تعالى على خير خلقه صفوة البرية محمد وآله وصحبه اجمعين!
(شعبان ١٣٨٧ھ)
برطانوی عہد حکومت اور مسلمان
امت اسلامیہ کا یہ آخری دور بہت ہی پرفتن ہے۔ قدم قدم پر فتنے ہی فتنے ہیں۔ برطانوی عہد حکومت میں سب سے زیادہ انتقام مسلمانوں سے لیا گیا۔ ہر ملک میں نہایت خطرناک فتنے کھڑے کئے گئے۔ متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کے قدم جمے تو چونکہ یہ سرزمین اہل علم میں پختگی اور دینی بصیرت کے لئے ممتاز تھی۔ اس لئے یہاں کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور دین اسلام سے مسلمانوں کا رشتہ منقطع کرنے کے لئے سب سے زیادہ فتنوں کی تخم ریزی کی گئی۔ مثلاً:
- الف....... علماء و صلحاء کو چن چن کر ٹھکانے لگانے کی کوشش کی گئی۔ مسلمانوں کے
مذہبی اوقاف ضبط کر لئے گئے۔ ان کے معابد و مدارس اجاڑ دیئے گئے۔ دینی رہنماؤں کو عوام کی نظر میں ذلیل کرنے کے لئے طرح طرح کے القاب وضع کئے گئے۔ ملک میں مسیحی مشنریوں کا جال پھیلایا گیا اور لوگوں کو عیسائی بنانے کے لئے ترغیب و ترہیب کے تمام ذرائع اختیار کئے گئے۔
- ب....... اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مغرب کا ملحدانہ نصاب تعلیم اور
طریقہ تعلیم رائج کیا گیا اور اس کے ذریعہ اسلامی عقائد پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی۔ نئی نسل کے دل و دماغ کو خالص لامذہبیت میں ڈھالنے کے سانچے تیار کئے گئے اور دین سے نفرت و بیزاری اور اسلام کی ہر بات میں تشکیک و تذبذب ہی تعلیم کا سب سے اونچا معیار سمجھا گیا۔
- ج....... پورے اسلامی معاشرہ پر مغربی تہذیب کی یلغار ہوئی اور وہ تمام گندگی جو
تہذیب مغرب کا خاصہ ہے۔ غلامانِ ہند کا فیشن قرار پائی۔ گویا تعلیم جدید نے ذہن و قلب کو بدلا تھا اور مغرب کے تہذیبی تحفہ نے یہاں کے مسلمانوں کی صورت و سیرت‘ وضع و قطع‘ اخلاق
٨
معاشرت، تہذیب وثقافت کے تمام زاویئے ہی بدل ڈالے اور تہذیب جدید کے متوالوں کے لئے یہود ونصاریٰ کی نقالی عزت وافتخار کا نشان بن گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! الغرض اس طرح کے بے شمار فتنے کھڑے کئے گئے جن کی تفصیل کے لئے ایک دفتر چاہئے۔ مگر ان تمام فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ اور امت اسلامیہ کے خلاف سب سے بڑی سازش جو برطانوی حکومت نے کی وہ فتنہ قادیانیت اور مرزائیت ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے ذریعہ ظہور میں آیا۔
حکومت برطانیہ اور فتنہ قادیانیت ومرزائیت
انگریزوں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ ہزار کوششوں کے باوجود وہ اس بات میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ امت اسلامیہ کا رشتہ محمد رسول اللہ ﷺ کے دامن نبوت سے بالکل ہی کاٹ ڈالیں۔ انہیں اس بات کا بھی خوب تجربہ ہوا کہ مسلمان خواہ ایمانی و اخلاقی انحطاط کے آخری نقطہ تک پہنچ چکے ہوں۔ لیکن جب محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت وحرمت کا سوال سامنے آتا ہے تو امت اسلامیہ کے دل میں ایمان کی چھپی چھپائی چنگاری بھی ایک خوفناک آتش فشاں کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور وہ کسی نہ کسی غازی علم الدین شہید کو سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ اس لئے انہیں ایک ایسے دین ومذہب کی ضرورت تھی جو دین کے نام پر بے دینی کا مرقع ہو۔ جس کے ظاہر میں دین کا مقدس نام ہو اور باطن میں سراسر کفر پوشیدہ ہو۔ انہیں ایک ایسی تحریک درکار تھی جو محمد رسول اللہ ﷺ کے آستانہ سے ہٹا کر مسلمانوں کو ایک ایسی نئی نبوت سے وابستہ کر دے جس کی تمام وفاداریاں انگریزی طاغوت کے لئے وقف ہوں۔ انہیں سرزمین ہند میں ایک ایسا خاردار خود کاشتہ پودا نصب کرنے کی ضرورت تھی جس کے کانٹوں میں الجھ کر امت اسلامیہ کا دامن اتحاد تار تار ہو جائے اور جس کے سائے میں انگریزی طاغوت کو استحکام نصیب ہو۔ انہیں معلوم تھا کہ مہدی موعود کا دعویٰ اسلامی تاریخ کا کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بہت سے طالع آزما دکان مجددیت چمکا کر دجل وفریب کا بیوپار کر چکے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں میں ہر صدی میں ایک مجدد پیدا ہوتا ہے۔ ادھر عوام کالانعام میں جاہلانہ اعتقاد نہ جانے کس شیطان نے پھیلا دیا تھا کہ چودھویں صدی ہی بس آخری صدی ہے۔ اس کے بعد کوئی صدی نہیں ۔ قیامت سے پہلے جن چیزوں کے وقوع کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ یعنی ظہور مہدی، خروج
٩
دجال نزول عیسیٰ یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض وغیرہ۔ وہ سب اسی صدی میں ہوں گی ۔ ١؎ ادھر نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے سیاسی حالات نہایت ابتر تھے اور عام لوگ ان حالات کے سامنے بالکل بے بس اور سپر انداز نظر آتے تھے۔ ان پر ذہنی حبس اور یاس وقنوطیت کے بادل منڈلا رہے تھے اور فطری طور پر ان حالات کے مقابلہ کے لئے مردے ازغیب کے منتظر تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمنوں نے سوچا کہ ان حالات میں مجددیت مہدویت اور مسیحی نبوت کا جعلی سکہ چلایا جائے تو بڑی آسانی سے چل سکتا ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے صوبہ پنجاب میں قادیان ضلع گورداسپور کے مرزا غلام احمد قادیانی کو منتخب کیا گیا۔ اس مہم کے لئے پنجاب اور قادیان کا حسن انتخاب بھی بڑا معنی خیز تھا۔ پنجاب اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے انگریز سرکار کا سب سے زیادہ وفادار صوبہ تھا۔ اسے فوجی کمک سب سے زیادہ یہیں سے میسر آتی تھی اور قادیان میں مرزا قادیانی کا خاندان انگریزی عملداری کے آغاز ہی سے انگریز کا سب سے بڑا پشتیبان اور تاج برطانیہ کی اطاعت گزاری وفاشعاری اور نمک خواری کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس لئے سیاسی نبوت کے لئے اس پشتینی وفادار خاندان کے ایک فرد کا انتخاب نہایت موزوں تھا۔ یوں بھی پنجاب کی زرخیز سرزمین میں پیروں مریدوں کا قحط نہیں تھا۔ یہاں بلا تمیز ہر شعبدہ باز کو مریدوں کی اچھی خاصی تعداد کا میسر آجانا ایک معمولی بات تھی۔
١؎ مرزا قادیانی نے اس جاہلانہ خیال سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کی۔ چنانچہ اربعین نمبر ٢ میں فرماتے ہیں کہ: ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگا دی کہ وہ (مسیح موجود) چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔ (اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١) (نوٹ : اب انبیاء کی جگہ قادیانیوں نے اولیاء کر دیا ہے۔ ) اور ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ: ”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا امام ہوگا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١٨٨ خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)
انبیاء گزشتہ اور احادیث صحیحہ پر مرزا قادیانی کی یہ تہمت ان سینکڑوں کذب بیانیوں میں سے ایک سفید جھوٹ ہے۔ کسی نبی کے کشف اور کسی حدیث میں یہ نہیں آتا کہ مسیح ؑ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے اور یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔ یہ مرزا قادیانی کا دوسرا بڑا جھوٹ ہے جس سے انہوں نے جاہلوں کو دھوکا دیا۔ اس کے برعکس احادیث صحیحہ میں تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول دمشق کے شرقی منارہ پر ہوگا۔ مدیر!
١٠
مرزاغلام احمد اور دعویٰ نبوت
مرزا قادیانی نے مسیحائی کے مراتب طے کرنے کے لئے بڑی محتاط قسم کی تدریجی رفتار اختیار کی ۔ پہلے پہل گوشہ گمنامی سے نکل کر وہ ایک مناظر اسلام کی حیثیت سے قوم کے سامنے آیا اور تمام ادیان باطلہ کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھنے کا اشتہار دیا اور قوم سے چندہ کی اپیل کی ۔ ١؎
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٠)
جب وکیل اسلام کی حیثیت سے ان کی روشناسی ہوئی تو اپنے دعاوی میں علی الترتیب محدث، ملہم من اللہ، امام الزمان، مجدد، مہدی موعود، مثیل مسیح، مسیح موعود، ظلی نبی کے درمیانی مدارج طے کرتے ہوئے تشریعی نبوت کی بام بلند پر پہنچ گئے اور بانگ دہل وحی نبوت اور معجزات کا اعلان کر دیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا مصداق خود بن بیٹھے۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
قرآن کریم کی جو آیات حضرت خاتم النبیین محمد رسول ﷺ کے حق میں تھیں ان کو اپنی ذات پر منطبق کیا۔
(تذکرہ ص ٦٠٢، ص ٦٢٧)
اپنے دور کو آنحضرت ﷺ کے دور سے افضل بتلایا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٦٦ تا ٢٧١، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
اولو العزم انبیاء کرام کی توہین کی۔
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
انبیاء علیہم السلام سے افضلیت کا دعویٰ کیا۔
(ایضاً)
اپنی وحی کو قرآن جیسی قطعی وحی بتلایا۔
(ایضاً)
اور جو لوگ ان کی اس خانہ ساز نبوت پر ایمان نہیں لائے انہیں کافر و جہنمی قرار دیا۔
(تذکرہ ص ٦١٣، ٦٣٣، ٦٠٧)
بلکہ انہیں ولد الحرام ۔
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٢)
ذریۃ البغایا۔ کنجریوں کی اولاد۔
(آئینہ کمالات ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
خنزیر اور کتوں کے نام سے یاد کیا۔
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ایضاً)
١؎ مرزا قادیانی کو اس پر خوب چندہ ملا۔ مگر انہوں نے مسلمانوں کا چندہ کھا پی کر پچاس جلدوں کے بجائے صرف پانچ جلدیں تحریر فرمائیں اور یہ نکتہ ارشاد فرمایا کہ ٥ اور ٥٠ میں صرف ایک نقطے کا معمولی سا فرق ہے۔ لہٰذا پانچ سے پچاس کا وعدہ پورا ہو گیا۔
(براہین احمدیہ پنجم ص ٧ خزائن ج ٢١ ص ٩، مدیرہ)
١١
نئی شریعت کے ذریعہ محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے جن اجزاء (جہاد) کو چاہا منسوخ کر ڈالا۔ برطانوی حکومت کو ظل اللہ فی الارض کا خطاب عطاء ہوا۔ اس کی اطاعت کو فرض اور اسلام کے دو حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا۔ کافروں سے جہاد کا حکم منسوخ ہوا اور انگریزوں کے مقابلہ میں جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر ہوا۔
(ستارہ قیصریہ ص ١٥ خزائن ج ١٥ ص ١٢٥)
دین کے قطعی عقائد کا مذاق اڑایا۔ احادیث متواترہ کی تکذیب کی۔ قرآن کریم کی بے شمار آیتوں میں کھلی تحریف ہوئی۔ ”صحابہ کرام کو غبی“ کے خطاب سے نوازا۔
(اعجاز احمدی ص ٨ خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
مسلمانوں سے شادی بیاہ کرنا۔ ان کے جنازے میں شریک ہونا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا ممنوع اور حرام قرار پایا۔
(انوار خلافت ص ٩١، ٩٣)
الغرض ایسے صریح سے صریح ترین دعوے کئے کہ ان میں ہر بات مستقل کفر کی بات تھی اور ان میں کسی طرح بھی تاویل کی گنجائش نہیں تھی۔ اس لئے علمائے امت نے متفقہ طور پر مرزا قادیانی اور ان کی امت کے کافر و مرتد ہونے کا فتویٰ دیا اور ان کی کتابوں سے ایک سو کے قریب صریح کفریات جمع کئے۔ اگر پوری طرح استقصاء کر کے تمام کفریات و ہذیانات کو جمع کیا جائے تو ایک ہزار کفریات سے کم نہ ہوں گے۔ خدا کا غضب ہے کہ ظل و بروز کے پردے میں اسلام کی تمام اصطلاحات کو مسخ کیا گیا۔ مرزا قادیانی کی بیوی کے لئے ام المومنین کی اصطلاح استعمال ہوئی۔
(الفضل)
مرزا قادیانی کے ہاتھ پر کفر و ارتداد قبول کرنے والوں کو صحابی کہا گیا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٣١ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
اور ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے افضل بتایا گیا۔ قادیان کو حرم اور مرزا قادیانی کی قبر کو گنبد بیضاء قرار دے کر مکہ اور مدینہ کے بجائے یہاں کے حج و زیارت کی دعوت دی گئی اور اسے مکہ و مدینہ کے حج و زیارت سے افضل بتایا گیا۔
(آئینہ کمالات ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو! اور شخصی زندگی ایسی کہ ان صفحات پر اس کا ذکر کرنا بھی باعث شرم ہے۔
انگریزی دربار اور مرزا قادیانی اور اس کی امت
انگریزی دور میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کا مشن صرف دو چیزیں تھیں۔
١٢
١۔٢
امت مسلمہ میں تفریق و انتشار کے بیج بونا اور مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین کرنا۔ ان کی دعوت یہ تھی کہ برطانوی حکومت ظل اللہ فی الارض ہے۔ اس کی حمایت و حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے اور اس کے خلاف جہاد حرام ہے۔ گویا اس دور میں قادیانی نبوت پر ایمان لانے کے معنی انگریزوں کی وفاداری پر ایمان لانے کے تھے۔ خود مرزا قادیانی کے لفظوں میں باعتبار مذہبی اصول کے گورنمنٹ کا اوّل درجے کا وفادار اور جان نثار یہی نیا فرقہ ہے۔ جس کے اصول میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٢٢)
اور یہ کہ: ”اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
ایک طرف اگر انگریز کو مسلمانوں میں انتشار پھیلانے۔ انہیں دین سے برگشتہ کرنے اور انگریز کا وفادار بنانے کے لئے اس خانہ ساز نبوت کی ضرورت تھی۔ تو دوسری طرف مرزا قادیانی اور اس کی امت کو بھی اس امر کا بجا طور پر احساس تھا کہ جعلی نبوت کا یہ سکہ انگریز کی اندھیر نگری ہی میں چل سکتا ہے اور اسی کے سایہ عاطفت میں جھوٹی نبوت کا یہ شجرہ خبیثہ پرورش پا سکتا ہے۔ کوئی گھٹیا سے گھٹیا اسلامی حکومت بھی اس کفر و ارتداد کو برداشت نہیں کر سکتی۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ قادیانیت اور انگریز بہادر کے مفادات باہم متحد ہیں۔ قادیانیت کی ترقی انگریزی حکومت کے استحکام کی ضامن ہے اور انگریزی استعمار کی توسیع قادیانیت کے پھلنے پھولنے کی کفیل ہے۔ ١؎
١؎ خلیفہ قادیان کا ایک اعلان جو ان کے اخبار الفضل میں ٢٧ جولائی ١٩١٨ء کو شائع ہوا۔ ان کے اس مشن کی صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا ایک جملہ درج ذیل ہے: سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہو گئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٨ ص ١، ٢٧ جولائی ١٩١٨ء)
تاج برطانیہ کا خودکاشتہ پودا
مرزا قادیانی اور ان کی امت نے جس طرح خود کو تاج برطانیہ کا خودکاشتہ پودا۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١) بتایا۔ ملکہ برطانیہ اور دیگر اعلیٰ و ادنیٰ حکام کے حضور میں جس طرح نیاز مندانہ خطوط لکھے۔ ان کے مراحم خسروانہ کے حصول کی خاطر تملق اور خوشامد کا جو پست اور گھٹیا انداز اختیار کیا اور گورنمنٹ برطانیہ کے حق میں مسلمانوں کی رائے کو ہموار کرنے کے لئے فتوئ حرمت جہاد کی پچاس پچاس الماریوں کے جو حوالے دیئے۔ وہ آج بھی ان کی مطبوعہ کتابوں میں محفوظ ہیں۔ یہاں ان کے نقل کرنے کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت ہے۔
قادیانی انگریزوں کے ایجنٹ
الغرض قادیانی جہاں جاتے اور جس ملک میں ہوتے وہ انگریز کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتے۔ کیونکہ دونوں کے مفادات متحد تھے اور ان مفادات کا تحفظ جبھی ممکن تھا جبکہ ان کا الگ قومی تشخص ہو۔ اس لئے وہ انگریزی دور میں بھی مسلمانوں سے الگ اپنے قومی تشخص پر زور دیتے تھے۔ چنانچہ تقسیم ملک کے وقت باؤنڈری کمیشن کے سامنے انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک قوم ہیں۔ اس لئے انہیں ایک الگ خطہ دیا جائے۔ لیکن ان کے اس موقف کا فائدہ ہندوستان کو ملا۔ کیونکہ ملک کی تقسیم مسلم اور غیر مسلم کی بنیاد پر ہو رہی تھی اور جب مرزائیوں نے خود اپنے کو غیر مسلم ظاہر کر دیا تو جس خطے کا وہ مطالبہ کر رہے تھے۔ وہ ہندوستان کا حق قرار پایا اور یوں مسلمانوں کے جو علاقے پاکستان کے حصہ میں آتے تھے۔ ہندوستان کا استحقاق ان پر ثابت ہو گیا۔
قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے روحانی مرکز کو چھوڑ کر پاکستان چلے آئے اور یہاں آ کر انہوں نے طے کیا کہ:
- الف...... پاکستان میں ایک عارضی مرکز ١؎ قائم کیا جائے۔ چنانچہ ایک مستقل علاقہ
پنجاب میں کوڑیوں کے مول لیا گیا اور وہاں ”ربوہ“ کے نام سے خالص مرزائی شہر آباد کیا گیا۔
١؎ عارضی اس لئے کہ ان کے نزدیک ملک کی تقسیم عارضی تھی اور خدا کا منشاء یہ تھا کہ بہت جلد دونوں حصوں کو پھر ایک کر دیا جائے۔ (الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ٨١ ص ٣، ٥ اپریل ١٩٤٧ء) غالباً مشرقی پاکستان کا سقوط ان کے خیال میں خدا کی منشاء کی پہلی قسط ہے۔ مدیر!
١٤
وہاں سے ریلوے لائن چلائی گئی، دفاتر قائم کئے گئے ۔ کالج اور سکول کھولے گئے ۔ اخبارات جاری ہوئے ”الفرقان“ کے نام سے ایک اسپیشل فوج تیار کی گئی ۔ اب ”ربوہ“ پاکستان میں ایک مستقل ریاست کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جہاں عملاً حکومت خلیفہ قادیان کی ہے ۔ پاکستان کے ہر خطہ میں مرزائی آباد ہو سکتے ہیں ۔ لیکن کیا مجال کہ اس قادیانی ریاست میں کوئی مسلمان رہ سکے؟ ۔ حکومت پاکستان نے تمام اسلامی وغیر اسلامی اوقاف پر قبضہ کیا ۔ لیکن ان کے کروڑوں کے اوقاف کو نہیں چھیڑا۔
- ب........ خلیفہ ربوہ کی ہدایت کے مطابق سول سروس، فوج اور بیرونی سفارت
خانوں میں زیادہ سے زیادہ مرزائیوں کو کھپانے اور کلیدی آسامیوں پر انہیں مسلط کرنے کی اسکیم تیار کی گئی ۔ بدقسمتی سے پاکستان کا سب سے پہلا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی ہوا ۔ اس نے اپنے اثر ورسوخ سے اندرون و بیرون ملک قادیانیت کی جڑیں خوب مضبوط کیں ۔ یہاں تک کہ پاکستان کے ہر دور میں اس فتنہ کی آبیاری ہوتی رہی ۔ آج اعداد وشمار ہی بتا سکتے ہیں کہ قادیانیوں کی کل تعداد کتنی ہے اور وہ تمام محکموں میں کتنے بڑے حصے پر قابض ہیں ۔
- ج........ مذہبی طور پر اگرچہ مرزائیوں نے اپنا الگ تشخص باقی رکھنا ضروری سمجھا ۔
مگر مسلمانوں کو کافر کہنے کی پالیسی میں لچک پیدا کر لی اور ١٩٥٣ء میں منیر عدالت میں مرزا محمود قادیانی نے اعلان کر دیا کہ ہم غیر احمدی مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے ۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص٢١٢) مگر یہ سب دجل اور نفاق تھا ۔ دراصل ہوا کا مخالف رخ دیکھ کر مرزائیوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اب مسلمانوں کو کافر کہنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے گا اور مسلمانوں میں شامل رہ کر جن کلیدی آسامیوں پر وہ فائز ہیں اس استحصال کے دروازے بند ہو جائیں گے ۔ یہ مرزائیوں کا ایسا دجل تھا جس نے گذشتہ دور کے سارے حکمرانوں کو تاریکی میں رکھا۔
- د........ اندرون ملک مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئیں اور اپنی
سیاسی طاقت پیدا کرنے کے لئے کم از کم بلوچستان کے صوبہ کو احمدی صوبہ بنانے کی خوفناک تحریک کی گئی ۔
(الفضل ٢٣ اگست ١٩٤٨ء خلیفہ ربوہ کا خطبہ رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص٢١٣)
- ہ........ انگریزوں کی ایجنٹی کا کام نہایت ہی منظم اور خفیہ طریقہ سے جاری رکھا اور
مغربی ممالک کے علاوہ اسلامی اور عربی ممالک میں سازشیں پھیلانے کے لئے وہاں مشن کھولے ۔ چنانچہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے تعلقات نہیں ہیں ۔ مگر
١٥
قادیانیوں کے ان سے باقاعدہ روابط ہیں اور انگریزوں کو ان پر یہاں تک اعتماد ہے کہ ایک حکمران نے اس امر کا اظہار کیا کہ اگر فلاں قادیانی کو ہٹا دیا جائے تو ہماری بیرونی امداد بند ہو جائے گی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کو قیام پاکستان سے لے کر اب تک کلیدی عہدوں پر تفوق حاصل رہا ہے۔ ایوب خان نے تمام سابق سیاست دانوں کو ملک کا غدار کہا۔ مگر بقول ان کے غداروں کے دور میں جو قادیانی جن بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ ایوب خان نے انہیں ان سے الگ نہیں کیا۔ بلکہ انہیں مزید ترقی دی اور مزید قادیانی بھرتی کئے۔ موجودہ دور میں ایوب خان کو جلی کٹی سنائی جاتی ہیں۔ لیکن قادیانی ایوبی دور سے بھی اب بلند عہدوں پر فائز ہیں۔
الغرض ہر دور میں اس فتنہ کی آبیاری ہوتی رہی۔ انہیں تبلیغ اسلام کے نام پر غیر ملکوں میں مشن کھولنے کے لئے زرمبادلہ کی خطیر رقمیں مہیا کی گئیں۔ لیبیا انڈونیشیا وغیرہ۔ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے نام سے قادیانی ڈاکٹر انجینئر اور دیگر ماہرین بھیجے گئے اور اب تو پانی سر سے گزر گیا ہے اور تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور جب عربی اسلامی حکومتوں اور وہاں کے علماء و مشائخ کو اس مکروہ صورت حال کا علم ہوا تو وہ چیخ اٹھے۔ انہیں اس مہیب خطرے کا احساس ہوا تو انہوں نے علمائے ہند و پاک کی موافقت کی اور اس فرقہ کافرہ کی تکفیر کی۔ اس کے عقائد و نظریات اور عزائم و مقاصد پر رسالے لکھے اور مضامین و مقالات شائع کئے اور پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح پر ان حقائق سے پردہ اٹھا اور عالمی اسلامی تنظیموں نے تمام اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کیونکہ وہ عالم اسلام میں اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ یہ سب کچھ اخبارات ورسائل میں چھپ چکا ہے۔ تو اب مرزائیوں کے حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان کے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر نے الفضل میں پاکستان کی موجودہ حکومت کو بھی دھمکی دے ڈالی۔ یہ ملک کی بد نصیبی ہے کہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ١٣‘١٤ مرزائی پہلی مرتبہ مرکزی اسمبلی کے لئے مسلمانوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے۔ انا للہ!
انسان ان دردناک حقائق کو کہاں تک شمار کرائے۔ بہرحال عالم اسلام میں بیداری کی کچھ لہر پیدا ہوئی تو امت مرزائیہ کو بھی اپنی فکر ہوئی اور مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے دعویٰ نبوت میں تاویلات کرنے لگے۔ مرزائیوں کے طرز عمل سے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ ظاہری سطح پر بدل رہے ہیں اور مرزا قادیانی آنجہانی کو مجدد ماننے کی طرف آ رہے ہیں۔ جس طرح لاہوری پارٹی ان کو مجدد مانتی ہے۔ پہلے بھی اسلامی ممالک میں جہاں ان کو ابتلاء پیش آیا تو
١٦
تقیہ کر کے مرزا قادیانی آنجہانی کی نبوت سے انکار کرنا شروع کر دیا۔ ان کی اس تبدیلی رخ کا مقصد صرف یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ان کے خلاف جو ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ وہ ذرا دب جائے اور طوفان کا یہ ریلا نکل جائے۔ اس لئے اس صورت حال کے پیش نظر چند گزارشات پیش کرنا ضروری ہے:
کفر و ارتداد سے توبہ کا طریقہ
- ١...... اگر کوئی کافر یا مرتد اپنے کفر و ارتداد سے تائب ہو کر مسلمان ہونا چاہتا ہے
تو اسلام کی وسیع اور عالمگیر رحمت کے دروازے اس کے لئے بند نہیں ہیں۔ وہ صاف و صریح توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو سکتا ہے اور اسلامی برادری کا معزز فرد بن سکتا ہے۔ چشم ما روشن دل ماشاد۔ مگر اسے اپنے تمام سابقہ کفریہ عقائد سے اجمالاً و تفصیلاً توبہ کرنا ہو گی اور اپنے سابقہ عقائد سے برأت کا اعلان کرنا ہو گا۔
- ٢...... جس شخص کا کفر و ارتداد ثابت ہو جائے اور اس کے کفریہ عقائد میں تاویل
کی کوئی گنجائش نہ ہو اس کو امام، مقتدا، مصلح اور مجدد ماننا بھی کفر ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کو امام اور مجدد ماننے کے معنی یہ ہیں کہ یہ شخص اس مرتد کے عقائد و نظریات اور اس کے تمام دعوؤں کو تسلیم کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو مسلمان کہنا اور سمجھنا جس طرح ضروری ہے۔ ٹھیک اسی طرح ایک دجال و کافر مرتد کو کافر کہنا بھی ضروری اور فرض ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کی لاہوری جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی مجدد تھے۔ نبی نہیں تھے۔ مگر علمائے امت نے اسی نکتہ کی بنیاد پر بھی ان کو کافر ہی سمجھا۔ بلکہ انہیں قادیانی مرزائیوں سے بھی زیادہ خطرناک سمجھا گیا۔
- ٣...... مرزائیوں کو اگر واقعی اپنی گمراہی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ تہہ دل سے
مسلمان ہونا چاہتے ہیں اور پاکستان کے سچے بہی خواہ بن کر اسلامی برادری میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو مرزائی امت کو (خواہ قادیانی، ربوی ہوں یا لاہوری) صاف صاف اپنے عقائد کفریہ سے توبہ کا اعلان کر دینا چاہئے اور اس امر کا اقرار و اعتراف کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اپنے تمام دعاوی میں واقعتاً جھوٹا تھا۔ مفتری تھا۔ کذاب تھا۔ دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ اگر وہ اخلاقی جرات سے کام لے کر اپنے نفاق اور تاویلات سے توبہ کرنے پر آمادہ ہیں تو ماشاء اللہ کیا کہنا۔ وہ ہمارے بھائی ہوں گے اور اخوت اسلامیہ کی عالمگیر برادری میں شامل ہو جائیں گے۔
١٧
اپنے سالہا سال کے عقائد کو غلط کہنا اور باپ دادا کے مذہب کو خیر باد کہنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ آدمی اس میں طبعاً خفت محسوس کرتا ہے۔ مگر حق بات کا ماننا اگر چہ مشکل اور بے حد مشکل ہے۔ لیکن اس سے آدمی کی عزت و وقار کو ٹھیس نہیں لگتی۔ بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ ہم مرزائیوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی کی سیاسی نبوت سے چپکے رہنے کے بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کے دامنِ نبوت سے وابستہ ہو جائیں۔ تو ان کے کسی سابقہ قول و فعل پر کوئی مسلمان انہیں عار نہیں دلائے گا۔ بلکہ تمام مسلمان انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہوں گے۔ نیز اگر وہ دین مرزائیت سے تائب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی تمام کتابوں سے دست کش ہو جانا چاہئے اور غلام احمد قادیانی کی احمدی نسبت ترک کر دینی چاہئے اور اندرون و بیرون ملک مرزائیت کے تمام اڈوں کو ختم کر دینا چاہئے۔
مرزائی امت تقریباً سو سال سے تاویل در تاویل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ عبداللہ آتھم عیسائی کی موت اور محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی پیشگوئی ہو یا مرزا قادیانی آنجہانی کے عجیب و غریب دعوے ہوں۔ مرزائیت کی تو کوئی کل بھی سیدھی نہیں۔ مرزائی امت کے صنادید سو سال سے تاویل کے تیشوں سے اس کی تراش خراش میں مصروف ہیں۔ مگر جسے خدا نے ٹیڑھا پیدا کیا ہو اسے کون سیدھا کر سکتا ہے۔ 'ولن یصلح العطار ما افسدہ الدہر' یقیناً مرزائی دو سو سال تک مرزا قادیانی آنجہانی کے ہذیانات کی الٹی سیدھی تاویلیں کرتے کرتے تھک چکے ہوں گے۔ خود ان کا ضمیر بھی انہیں ملامت کرتا ہو گا کہ وہ صریح غلط بیانیوں کو خواہ مخواہ تاویل کے رندوں سے تراش تراش کر سچ ثابت کرنے کی عبث کوشش کیوں کر رہے ہیں؟۔ کاش! وہ جس جال میں پھنسے ہوئے ہیں ایک جھٹکا دے کر اسے توڑ ڈالتے اور حیص بیص اور گومگو کی جو کیفیت ان پر سو سال سے طاری ہے اس سے ان کی گلو خلاصی ہو جاتی۔
- ٤...... بہر حال اگر مرزائی صاحبان دین مرزائیت سے تائب ہونا چاہیں تو اسلام
کی آغوش ان کے لئے اب بھی کشادہ ہے اور مسلمان انہیں گلے لگانے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اگر انہیں اپنے عقائد پر اصرار ہے اور وہ مرزا قادیانی آنجہانی کو بدستور مسیح موعود اور مہدی معہود یا مصلح اور مجدد مانتے ہیں اور صرف ہوا کا رخ دیکھ کر از راہ تقیہ اپنے نظریات کو تاویلات کے نئے غلاف میں پیش کر کے مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں تو انہیں یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ وہ دجل و تلبیس کے راستہ سے مسلمانوں کی صفوں میں ایک بار پھر گھس آئیں گے۔ من جرب المجرب حلت بہ الندامۃ! ١٨
کتے، خنزیر، کافر، جہنمی اور ولد الحرام کے وہ سینکڑوں خطابات مسلمانوں کو اب تک بھی خوب یاد ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گے۔ جن سے مرزائے آنجہانی نے مسلمانوں کو نوازا تھا۔ مسلمانوں کو مرزائیوں کے خلیفہ دوم کے وہ بیسیوں اعلانات بھی خوب یاد ہیں جن میں بڑے غرور اور تحدی سے کہا جاتا تھا کہ:
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥ مصنفہ مرزا محمود)
”حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا یعنی مسلمانوں کا اسلام اور ہے ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور۔ اسی طرح ہر بات میں ان سے اختلاف ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٨٨ ص ٨ مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء)
یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے (مرزا قادیانی) فرمایا کہ: ”اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔“
(تقریر مرزا محمود الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٣ مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
کیا ان واضح اعلانات کے بعد بھی اس کا امکان ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے واضح کفریات کی تصدیق کرنے کے باوجود مرزائیوں کو مسلمانوں کی صفوں میں گھسنے کی اجازت دی جائے گی؟۔ مرزائی امت نے مسلمانوں کو آخر ایسا بے حس کیوں سمجھ لیا ہے کہ وہ مرزائیوں کی صد سالہ تاریخ کو یکسر بھول جائیں گے۔ مرزائی آنحضرت ﷺ کی عزت وحرمت پر حملہ کریں مرزا قادیانی آنجہانی کو نہ صرف آنحضرت ﷺ کی جگہ لا کھڑا کریں۔ بلکہ آپ سے بھی اونچا مقام دیں۔ انبیاء کرام کی توہین وتذلیل کریں۔ مسلمانوں کو جنگل کے سور اور ذریۃ البغایا ! جیسی غلیظ گالیاں دیں۔ مگر مسلمان ان تمام چیزوں کے باوجود انہیں امت اسلامیہ کی صف میں جگہ دیں؟۔
- ......٥...... الغرض مرزائیوں کے لئے صرف دو ہی راستے ہیں یا تو اپنے عقائد کفریہ
سے ہاتھ جھاڑ کر مسلمان ہو جائیں یا پھر مسلمانوں کی صفوں میں گھسنے کا سودائے خام اپنے ذہن سے نکال دیں۔ انہیں خوب یاد رکھنا چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی آنجہانی کی نبوت کو ہزار ظل وبروز
١٩
کے پردوں میں لپیٹیں یا مجدد ومہدی کے رنگ میں پیش کریں۔ لیکن امت اسلامیہ کا معدہ اسے کبھی ہضم نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں مرزائی صاحبان کو اپنے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی وصیت یاد رکھنی چاہئے کہ:
”تمھیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٧٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے۔ پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الٰہی کی مخالفت ہے۔
(الحکم ٧ فروری ١٩٠٣ء)
ہم بھی مرزائی صاحبان سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ انہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور مسلمانوں میں گھس کر انہیں منشاء الٰہی کی مخالفت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ الا یہ کہ وہ اپنے دین مرزائیت سے تائب ہو کر نئے سرے سے اسلام میں داخل ہو جائیں۔
- ٢....... ہم اپنی حکومت سے بھی گذارش کرنا چاہتے ہیں کہ ٢٦ سال تک پاکستان
میں مرزائیت نوازی کی سرکاری مہم جاری رہی۔ انہیں مسلمانوں کے حقوق دیئے گئے اور ان کو مصنوعی طور پر مسلمان بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوا؟۔ یہی کہ انہیں اندرون بیرون ملک سازشوں کا موقعہ ملتا رہا۔ مگر اب یہ صورت حال تبدیل ہو جانی چاہیے۔ مستقبل میں موقف کی نزاکت کا احساس کریں۔ اسلامی ممالک جو پاکستان کے تحفظ کا ذریعہ ہیں اور جن سے صحیح ہمدردی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ صرف ارباب کفر کی خوشنودی کے پیش نظر ان کی ہمدردی اور دوستی و تعاون سے چشم پوشی نہ کریں۔ آخرت کے غضب الٰہی سے قبل دنیا کے عذاب اور ذلت سے بچنے کی تدبیر کریں اور بحالت موجودہ سیاسی واقتصادی مشیر اور ہوائی اور بحری و بری قیادت کی جو صورت حال ہے اس کو فوراً ختم کریں اور سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں جو تباہی نازل ہو چکی ہے اس سے کچھ تو عبرت حاصل کریں۔ اسلامی وعربی ممالک جن کے ساتھ ہمارے اخوت اسلامی کے مضبوط رشتے ہیں اور جو ہر آڑے وقت میں پاکستان کے بہترین دوست ثابت ہوئے ہیں۔ افسوس ہے کہ انہیں بھی ہماری اس داخلی کمزوری اور ارتداد نوازی کا علم ہو چکا ہے اور ان ممالک میں قادیانی اسرائیل گٹھ جوڑ پر بحثیں ہو رہی ہیں۔ اس کے اثرات ہمارے حق میں کیا ہوں گے؟۔ یہ دانشمندی کے ساتھ سوچنے کی بات ہے۔ یہاں ہم یہ شکایت بھی ارباب اقتدار کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ ایک طرف تو یہ حالت کہ جب مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں کا
٢٠ انیوں کا
٢٠
ذرا بھی تعاقب کیا جائے تو فوراً امن عامہ کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ فرقہ واریت کا جن بوتل سے باہر نکل آتا ہے اور قانون اپنے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے بڑی تیزی سے حرکت میں آ جاتا ہے۔ زبانیں بند اور جلسہ جلوس اور اجتماع پر پابندی۔
اور دوسری طرف مرزائی ہیں کہ کھلے بندوں گلی گلی اور گھر گھر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا پرچار کر رہے ہیں اور یہاں تک جرات کہ مسلمانوں کی مسجدوں اور دینی اداروں میں جا کر بڑے معصومانہ انداز سے مرزائے آنجہانی کی رسالت و نبوت کی تشریح کرتے ہیں۔ ہم صاف صاف کہہ دینا چاہتے ہیں کہ یہ صورت حال مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ مرزا قادیانی آنجہانی کے ہفوات و ہذیانات کے تیروں سے مسلمانوں کے سینے چھلنی ہو چکے ہیں۔ وہ اس ملک پاک میں محمد رسول اللہ ﷺ کے غداروں کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے تاج ختم نبوت پر ہاتھ ڈال کر اشتعال دلانے سے روکا جائے اور ان کی تحریک ارتداد پر پابندی عائد کی جائے اور اگر اصرار ہو کہ مرزائی بھی امت اسلامیہ کا ایک حصہ ہیں، تو ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ واقعتاً یہ امت کا ایک ایسا گلا سڑا حصہ ہے جسے جسم امت سے الگ کر دینا ہی اس کا صحیح علاج ہے۔ ورنہ اس ناسور کا زہر ملت اسلامیہ کے پورے دھڑ میں سرایت کر جائے گا اور اس کا نتیجہ موت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اس مسئلہ کا حل کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ ایک معمولی اقلیت کی خوشنودی کے لئے ایک بڑی اکثریت کو ناراض کرنا آخر کون سی سیاست ہے؟۔ حق تعالیٰ صحیح فہم نصیب فرمائے۔
وصلی اللہ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین!
(رجب شعبان ١٣٩٣ھ ..... ستمبر، اکتوبر ١٩٧٣ء)
پاکستان اور مرزائی امت
ماضی قریب میں اسلامی آئین بنایا گیا اور عالم اسلام میں اس کا چرچا کیا گیا۔ لیکن خدارا بتائیں کہ کاغذی کاروائی سے کیا اب تک ایک قدم بھی آگے بڑھ سکا؟۔ مرزائی امت جو اسلام کے نام سے اسلام کی بدترین دشمن ہے جو برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہے۔ یہ وہ غدار اسلام تحریک ہے جس کے ذریعہ تمام عالم اسلام کی فضا کو مسموم کیا جارہا ہے۔ جو تحریک صہیونیت کی ترقی
٢١
یافتہ شکل ہے۔ جس نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔ جو ریاست اندر ریاست ہے۔ جو اسلام میں نقب زنی کرتی ہے۔ جو مسلمانوں کی دنیا و آخرت پر ڈاکہ ڈالتی ہے۔ جو براہ راست سید الانبیاء حضرت خاتم النبیین ﷺ کی حریف ہے۔ جس کی بنیاد ہی اسلام سے غداری و بے وفائی اور مسلمانوں سے عداوت ودشمنی پر رکھی گئی ہے۔ جس کا مشن ہی اوّل سے آخر تک مسلمانوں کی جاسوسی رہا ہے۔ اگر یہاں کے حکمرانوں کو خدا کا، رسول کا، اسلام کا اور خود اپنے بلند بانگ دعوؤں اور وعدوں کا کچھ پاس ولحاظ ہوتا تو کیا پاکستان میں ہاں! محمد رسول اللہ ﷺ کے نام پر حاصل کئے گئے پاکستان میں، اس انگریز کی تحریک اور اس مرزائی امت کا سکہ چل سکتا تھا؟۔ ہرگز نہیں۔ لیکن حکمرانوں کے نفاق کی آڑ میں اس کفر خالص کا اسلام کے نام پر جعلی سکہ ربع صدی تک پھیلتا رہا۔ مسلمان قوم بے بسی کے عالم میں چیختی چلاتی رہی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ سیاست پر مرزائیوں کا تسلط رہا۔ اقتصادیات پر ان کا قبضہ رہا۔ دفاع کی پالیسی ان کے سپرد رہی۔ تعلقات خارجہ ان کے زیر اثر اندرونی نظم ونسق پر حاوی رہے۔ اونچی اونچی ملازمتیں ان کے حصہ میں آئیں۔ قوم نے بار بار احتجاج کئے۔ التجائیں کیں۔ تحریکیں چلائیں۔ مطالبات کئے۔ مگر سب کچھ صدا بصحرا ثابت ہوا۔ آخر لاہور کے تاریخی اجتماع میں قوم کو اعلان کرنا پڑا کہ اگر وزیراعظم قادیانی مسئلہ میں عوام کی رائے کو درخور اعتنا نہیں سمجھیں گے تو وہ پاکستان کے نہیں بلکہ ربوہ کے وزیراعظم ہوں گے۔ خدا خدا کر کے ٧ستمبر (١٩٧٤ء) کو پہلی بار کم از کم کاغذی سطح پر قوم کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا کہ امت مرزائیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ قادیانی اوقاف حکومت کی تحویل میں لئے جائیں۔ کلیدی مناصب سے ان کو نکالا جائے۔ تمام بری ،بحری اور ہوائی فوج سے ان کو ہٹایا جائے۔ ان کے الگ تشخص اور امتیاز کے لئے شناختی کارڈ جلد سے جلد جاری کئے جائیں اور غیر مسلم مردم شماری میں ان کا اندراج کیا جائے۔ ان کی عبادت گاہوں کے نام تبدیل کرائے جائیں۔ مرزائیوں کی عبادت گاہوں کو مسجد نہ کہا جائے۔ انہیں اسلامی اصطلاحات کے غلط استعمال سے روکا جائے۔ نبی، نبوت، صلوٰۃ وسلام، وحی الٰہی، مسیح، مہدی، ام المومنین، خلیفہ، امیر المومنین وغیرہ وغیرہ۔ اسلام کے مقدس الفاظ ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے گرد وپیش کے لوگوں کے لئے ان کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ!
ہمیں اس اعتراف میں ذرا بخل نہیں کہ حکومت نے ٧ستمبر ١٩٧٤ء کو مسلمانوں کے مطالبات آئینی طور پر تسلیم کر لئے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ گذشتہ
٢٢
حکومتوں کی طرح مسلمانوں کے مطالبات ٹھکرا کر حکومت نے عاقبت نا اندیشی کا ثبوت نہیں دیا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آئینی فیصلہ کے بعد حکومت یہ سوچ کر بے فکر ہو گئی کہ مسلمانوں کو مطمئن کر دیا گیا اور ان کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔ لیکن خدارا بتائیے کہ حکومت نے اس کاغذی فیصلہ کی تعمیل کے لئے کیا قدم اٹھایا اور ان مطالبات اور وعدوں کو کس طرح پورا کیا گیا؟۔ گذشتہ اشاعت میں ہم عرض کر چکے ہیں کہ مرزائی آئین کے واضح فیصلہ کو صاف صاف ٹھکرا رہے ہیں۔ مگر حکومت نے ان کے اس باغیانہ اعلان کے خلاف کیا کاروائی کی۔ اس سے بڑھ کر قول وعمل کے تضاد کی کیا مثال ہوگی۔
مرزائی بدستور مسلمانوں کا مضحکہ اڑا رہے ہیں۔ اسلام کی مقدس اصطلاحات کو ناپاک کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے نام سے حج پر جاتے ہیں۔ اسلامی ممالک میں ملازمتیں کر رہے ہیں۔ اندرون ملک بڑی بڑی آسامیوں پر قابض ہو کر مسلمانوں سے مذہبی جنون کا انتقام لے رہے ہیں۔ پاکستان کو زک پہنچانے کے لئے ہرممکن تدبیر بروئے کار لا رہے ہیں۔ قوم کے مختلف طبقات میں طبقاتی خلفشار برپا کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے انسداد کے لئے ابھی تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟۔ مرزائیوں کو اور ان کے آقایان مغرب کو مسلمانوں کی نفسیاتی کمزوری کا احساس ہونے لگا کہ موجودہ دور کے مسلمان صرف کہنا جانتے ہیں۔ کرنا نہیں جانتے۔ وہ قول کے ہیرو ہیں۔ مگر عمل کے پھسڈی ہیں۔ چنانچہ اب وہ بڑی شدومد کے ساتھ اور بڑے امن وسکون سے اپنی قوتوں کو مجتمع کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے نئے تانے بانے بننے میں مصروف ہیں اور ریاست ربوہ کا خلیفہ چند سالوں تک مرزائیت کے غلبہ واقتدار کی پیش خبریاں سنا رہا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
بحمد اللہ! ہم باطل کے حربوں سے مرعوب نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ کے بدخواہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے غدار جو کنواں کھودیں گے۔ وہ سب سے پہلے خود انہی کا مدفن ثابت ہوگا۔ لیکن ہمیں اپنے حکمرانوں سے شکایت ہے کہ وہ آئین کے واضح فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟۔ کیا ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب ایک نیا طوفان برپا ہوگا؟۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ امت اسلامیہ کی حفاظت فرمائے اور انہیں طاغوتی طاقتوں کی شروفساد سے محفوظ رکھے۔ آمین ٠ وصلی اللہ علی خیر خلقہ صفوۃ البریۃ محمد و آلہ و أصحابہ و أتباعہ اجمعین!
(جمادی الاولیٰ ١٣٩٥ھ جون ١٩٧٥ء)
٢٣
تعارف!
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان!
کتاب ”خاتم النبیین“ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا تعارف شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر فرمایا!
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مسلمانوں کی ایک خالص غیر سیاسی مذہبی و ملی اور تبلیغی تنظیم ہے۔ جس کا مقصد وحید اسلامیان عالم کا اتفاق و اتحاد ناموس رسالت و خاتم نبوت کی پاسبانی اور منکرین ختم نبوت کا رد و تعاقب رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد خطیب العصر امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے تمام سیاسی جھمیلوں سے الگ تھلگ ہو کر اپنے رفقاء سمیت دعوت اسلام تبلیغ دین اور رد قادیانیت کے لئے زندگی وقف کر دی اور اس پاکیزہ مقصد کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ڈالی۔ بحمد اللہ! ان کے اخلاص کی برکت سے مجلس کا فیضان دور دور تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے اسلامی ممالک میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ ملک کے بڑے بڑے شہروں کے علاوہ بعض بیرونی ممالک میں بھی مجلس کے دفاتر اور فاضل مبلغ کام کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کے عالمی مرکز ربوہ میں ریلوے کی جامع مسجد محمدیہ تعمیر ہو چکی ہے۔ جس میں ختم نبوت کے مبلغ اور مدرس خطابت اور تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجلس کے صرف شعبہ تبلیغ پر قریباً ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ صرف ہو رہا ہے۔
نئے تقاضے اور نئے منصوبے
قادیانیوں کے بارے میں پاکستان قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلہ نے قادیانیت کو موت و حیات کی کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ ہزاروں سعادت مند افراد قادیانی ارتداد کے جال سے نکل کر حلقہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔ جس سے قادیانیوں کی کمر ٹوٹ گئی اور انہوں نے زندگی اور
موت کی آخری جنگ لڑنے کے لئے اپنی پوری قوت اور وسائل جھونک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ ادھر اندرون ملک ان کی سازشوں کے جال وسیع تر ہو گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے بہت سے مقدمے عدالتوں میں چل رہے ہیں اور وہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کئی نئی اسکیمیں شروع کر چکے ہیں ادھر بیرونی ممالک میں انہوں نے تحریک ارتداد کو تیز سے تیز تر کر دیا ہے اور کروڑوں روپیہ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے۔ قادیانیوں کی یہ تمام کوششیں انشاء اللہ ! رائیگاں جائیں گی اور سازشوں کے جو کنوئیں وہ مسلمانوں کے لئے کھود رہے ہیں انشاء اللہ ! ان میں خود ہی گر کر تباہ و برباد ہوں گے۔
تاہم اس میں شک نہیں کہ ان حالات میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام بجائے سمٹنے کے اور بھی پھیل گیا ہے اور اس کی ذمہ داریوں میں کمی ہونے کے بجائے کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ پہلے جہاں ہزاروں روپے اس کے اخراجات کے لئے کافی تھے ۔ اب وہاں لاکھوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ قادیانیت کے خلاف مسلمانان عالم کی عام بیداری کی وجہ سے قریباً ان تمام ممالک سے جہاں قادیانی اپنی مرتدانہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے تقاضے آ رہے ہیں کہ وہاں ختم نبوت کے پاسبان بھیجے جائیں جو قادیانیوں کے دانت کھٹے کریں۔ مجلس بیرونی ممالک میں وفود بھیجنے کا اہتمام کرتی ہے۔ چنانچہ گزشتہ سال ایک وفد افریقی ممالک گیا۔ ایک انڈونیشیا کی دعوت پر بھیجا گیا ۔ ایک متحدہ عرب امارات کے مطالبہ پر روانہ کیا گیا۔ لیکن اس سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے اس کام کو جو ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ مزید مستحکم اور وسیع بنیادوں پر منظم کیا جائے ۔ جس کی تدابیر حسب ذیل ہیں:
- ١....... بیرونی ممالک کے نمائندوں کو پاکستان بلایا جائے۔ انہیں یہاں کچھ عرصہ
رکھ کر انہیں قادیانیت کے تمام اسرار و رموز سے واقف کرایا جائے اور وہ اپنے علاقوں میں جاکر مستقل طور پر تحفظ ختم نبوت کے لائحہ عمل کے مطابق قادیانیوں کا تعاقب کریں۔ اس منصوبے پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ ایک لاکھ روپے سالانہ ہے۔ بحمد اللہ ! رمضان المبارک کے بعد اس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
- ٢....... ختم نبوت کی دعوت کے لئے نئے علمائے کرام شریک مجلس کئے جائیں اور
انہیں تربیت دے کر اندرون و بیرون ملک تبلیغی خدمات اور رد قادیانیت کے لئے تیار کیا جائے۔
٢٥
اس تربیتی کورس کے لئے فی الحال پندرہ افراد کا انتخاب تجویز کیا جارہا ہے۔ اس منصوبے پر جماعت کا ٧٥ ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہوگا۔
٣...... مجلس کی ضروریات اور اس کا کام اتنا پھیل چکا ہے کہ اس کے لئے مرکزی دفتر کی موجودہ عمارت کافی نہیں۔ اس لئے ملتان ہی میں ایک اچھے موقع پر قطعہ اراضی اڑھائی لاکھ روپے کے مصارف سے خرید لیا گیا ہے۔ اس کی سہ منزلہ عمارت کا نقشہ منظور ہوچکا ہے اور تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ عالمی تبلیغی مرکز ایک عالی شان جامع مسجد، دارالاقامہ، دارالضیاف، پریس، اور دفاتر کی عمارت پر مشتمل ہوگا۔ اس عظیم ترین منصوبہ کے مصارف کا ابتدائی تخمینہ چالیس لاکھ کے قریب ہے۔
٤...... قادیانیوں کے عالمی مرکز ربوہ میں جہاں ١٩٤٧ء سے پہلے کسی مسلمان کا گزر بھی ممکن نہیں تھا۔ وہاں اب مسلمانوں کی آبادی کی صورت کی سکیم تیار کی جارہی ہے۔ وہاں مسلمانوں کیلئے سب سے اہم تر مسئلہ یہ ہے کہ ان کی معاش کے لئے صنعتی کاروبار کا انتظام کیا جائے اور وہاں مسلمانوں کے لئے مکانات کی تعمیر کا بندوبست کیا جائے۔
٥...... بحمد اللہ! مجلس تحفظ ختم نبوت کو ربوہ میں قریباً نو کنال رقبہ حاصل ہو گیا ہے۔ اس میں جامع مسجد، مدرسہ، دارالاقامہ، پریس، دفاتر، عملہ کے لئے کوارٹرز کی تعمیرات کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ یہ علاقہ (مرزائیوں کے دل کی طرح) بالکل بنجر ہے۔ نہ پانی ہے۔ نہ بجلی۔ نہ سڑک۔ اس لئے اس بنجر زمین میں جو کفری نحوست سے بالکل شور ہے۔ ختم نبوت کا پودا لگانا بہت ہی جفاکشی اور کثیر سرمائے کا محتاج ہے۔
یہ مجلس کے کام کا مختصر سا خاکہ پیش کیا گیا۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کسی خاص فرد یا جماعت کا ادارہ نہیں۔ بلکہ مسلمانان عالم کا ایک اجتماعی ملی ادارہ ہے اور ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت و پاسداری کا فریضہ تمام مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے۔
اس لئے ہم سب کا فرض ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کریں۔ (یہ تحریر خاتم النبیین اردو کے اخیر میں ملحق ہے۔)
خاتم النبیین لا نبی بعدی
عقیدہ ختم نبوت
- کتاب خاتم النبیین فارسی کا مقدمہ
- تعارف ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین
- فیصلہ جیمس آباد کا تعارف
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم الله الرحمن الرحيم!
تعارف!
- ١....... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا
سید محمد یوسف بنوریؒ نے اپنے استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی آخری تصنیف ”خاتم النبیین“ فارسی کا اردو میں ترجمہ کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس وقت کے شعبہ نشر و اشاعت کے سربراہ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو حکم فرمایا۔ آپ نے اس کے ترجمہ کی تکمیل فرمائی تو حضرت بنوریؒ نے اس پر مقدمہ تحریر فرمایا جو کتاب کے علاوہ بینات کراچی جمادی الثانی ١٣٩٧ھ میں بھی شائع ہوا۔
- ٢....... اسی طرح مجلس نے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ کی
عربی میں کتاب ھدیۃ المھدیین فی تفسیر آیت خاتم النبیین شائع کی۔ اس کے لئے بھی بینات کی اسی اشاعت میں حضرت نے ایک نوٹ تحریر فرمایا جو بینات کی مذکورہ اشاعت میں شائع ہوئے۔
- ٣....... علاوہ ازیں ١٩٧٠ء میں جیمس آباد کے سول جج جناب محمد رفیق
گوریجہ (جو بعد میں سیشن جج بنے۔ پھر ہائی کورٹ لاہور کے رجسٹرار بنے) نے قادیانیت کے خلاف تنسیخ نکاح کے ایک مقدمہ کا فیصلہ دیا۔ اس پر حضرت شیخ بنوریؒ نے جامع تبصرہ شائع فرمایا جو بینات کی اشاعت شعبان ١٣٩٠ھ / اکتوبر ١٩٧٠ء میں شائع ہوا۔ ان تینوں تحریروں کو بصائر وعبر کے حصہ اوّل ٣٩٤ سے ٤٢١ تک کے صفحات پر عنوان بالا سے شائع کیا گیا۔ احتساب کی اس جلد میں اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
(مرتب)
٢
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبيين وعلى آله الطاهرين وصحبه اجمعين ، اما بعد !
دین اسلام کی اساسی خشت ختم نبوت کا عقیدہ ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے اس کائنات کی ہدایت کے لئے رشد و ہدایت کا جو سلسلہ جاری فرمایا وہ نبوت ورسالت کا سلسلہ ہے۔ اس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتی ہے اور اس عمارت کی تکمیل کی آخری خشت حضرت سید العالمین خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود باجود اور ظہور پر نور ہے۔
اللهم صل عليه صلاة تكرم بها مثواه وتشرف بها عقباه وتبلغ بها يوم القيامة مناه ورضاه وبارك وسلم !
ختم نبوت کے اس عقیدہ پر خدا تعالیٰ کی سب سے آخری آسمانی کتاب قرآن کریم کی بے شمار تصریحات موجود ہیں اور جس طرح یہ ثبوت کے اعتبار سے قطعی ہے۔ اسی طرح دلالت کے لحاظ سے بھی قطعی اور ہر شک و شبہ سے پاک ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی مسئلہ میں قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ بھی اگر قطعی الدلالۃ ہو تو مضمون کی قطعیت کے لئے کافی ہے۔ چہ جائیکہ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس قطعیت کی نظیر قرآن کریم میں بھی کم ملے گی۔ اسی طرح عقیدہ ختم نبوت پر احادیث نبویہ بھی تواتر کو پہنچ گئی ہیں اور تواتر بھی ایسا ہے کہ جس کی نظیر احادیث متواترہ کے ذخیرہ میں نہیں۔ دو صد احادیث سے یہ عقیدہ ثابت ہوا ہے۔ گویا قرآن واحادیث میں اس قطعیت کی نظیر کسی اور مسئلہ میں نہیں ملے گی۔ پھر امت محمدیہ کا اس پر اجماع بھی ہے اور نہ صرف امت محمدیہ کا اجماع۔ بلکہ تمام کتب سماویہ کا اس پر اجماع ہے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا اس پر اجماع ہے۔ عالم ارواح میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ عہد و پیمان ہے۔
پس جس طرح توحید الٰہی تمام ادیان کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ بھی تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء کرام اور تمام ادیان سماویہ کا متفق علیہ اور اجماعی عقیدہ ہے۔ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک اس پر ہمیشہ اتفاق رہا ہے کہ خاتم النبیین محمد ﷺ ہی ہوں گے اور سلسلہ نبوت ورسالت آپ ﷺ کی ذات گرامی پر ختم ہو جائے گا۔ اصولی واعتقادی مسائل میں انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ بلکہ وہ ہر دور میں متفق علیہ رہے ہیں۔
٣
پس جس طرح دیگر عقائد دینیہ تمام نبوتوں میں مشترک ہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کا آخری نبی ہونا۔ آپ ﷺ ہی کی نبوت پر دنیا کا خاتمہ ہونا۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں اور آسمانی کتابوں کے مسلمات میں سے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتب سماویہ میں اس کی ان گنت پیش گوئیاں کی گئیں۔ آپ ﷺ کا نام، آپ ﷺ کے القاب، آپ ﷺ کا خاندان آپ ﷺ کا ملک، آپ ﷺ کی جائے ولادت۔ آپ ﷺ کے دار ہجرت وغیرہ کی خبریں دی گئیں۔ غرض اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پر اور تمام اقوام عالم پر اپنی حجت پوری کردی۔
اور اسلام کی پوری تاریخ میں اس اجماعی عقیدے کا ظہور اس طرح ہوتا رہا کہ جب کبھی کوئی مدعی نبوت کھڑا ہوا اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ یہ اس عقیدے کا عملی ثبوت تھا جو اسلام کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور جس پر امت کا تعامل مسلسل جاری رہا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے دور میں اسلامی جہاد کا آغاز ہی مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں جنگ یمامہ سے ہوا۔ جس میں سات سو صرف حفاظ قرآن شہید ہوئے جو صحابہ کرامؓ میں اہل القرآن کے لقب سے مشہور تھے۔ گویا اسی عقیدے کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ صحابہ شہید ہوئے اور اسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لئے اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اپنے خون کی قربانیاں پیش کیں۔ معرکہ حق و باطل سب سے پہلے اسی عقیدہ کی خاطر برپا ہوا اور اصحاب رسول ﷺ کے مقدس خون سے اس باغیچہ کو سیراب کیا گیا۔ یہ حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ تھی کہ خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے دور میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کے فتنہ کی سرکوبی کر کے قیامت تک آنے والی امت کو دو ٹوک اور غیر مبہم انداز میں بتا دیا گیا کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد جو لوگ دعوائے نبوت کے ساتھ اٹھیں امت کو ان سے کیا سلوک کرنا ہو گا۔
قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا
الغرض یہ عقیدہ اتنا بنیادی اور اتنا اہم ہے کہ اسے عالم ارواح سے لے کر آج تک ہر آسمانی دین میں مسلسل دہرایا جاتا رہا اور قولاً عملاً اعتقاداً اس کی مسلسل تاکید و تلقین کی جاتی رہی۔ بدقسمتی سے برطانوی اقتدار میں جھوٹی نبوت کا فتنہ کھڑا کیا گیا اور یہ سمجھ کر کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس کے متزلزل ہو جانے سے اسلام کی عمارت منہدم ہو جائے گی۔ اس پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لئے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ کا انتخاب کیا گیا۔ متحدہ ہندوستان اسلامی حکومت کے سائے سے محروم تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی کا حشر بھی اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب وغیرہ سے مختلف نہ ہوتا۔ اس لئے مسلمان سوائے دینی بحثوں اور مناظروں
٤
کے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ برطانوی حکومت اپنے تمام لامحدود وسائل سے اس فتنہ کی پرورش اور اپنے خودکاشتہ پودا مرزا غلام احمد قادیانی کی حفاظت کرتی رہی۔
قادیانیت کے خلاف علامہ کشمیریؒ کا جہاد
امت کے جن اکابر نے اس فتنہ کے استیصال کے لئے محنتیں کی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ امتیازی شان حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری دیوبندیؒ کو حاصل تھی اور دارالعلوم دیوبند کا پورا اسلامی اور دینی مرکز انہی کے انفاس مبارکہ سے اس شجرہ خبیثہ کی جڑوں کو کاٹنے میں مصروف رہا۔ قادیانیوں کے شیطانی وساوس اور زندیقانہ دسائس کا جس طرح حضرت امام العصرؒ نے تجزیہ کر کے ان پر تنقید کی۔ اس کی نظیر تمام عالم اسلام میں نہیں ملتی۔ حضرت مرحوم نے خود بھی گراں قدر علوم وحقائق سے لبریز تصانیف رقم فرمائیں اور اپنے تلامذہ مدرسین دیوبند سے بھی کتابیں لکھوائیں اور ان کی پوری نگرانی واعانت فرماتے رہے۔ میں نے خود حضرت سے سنا کہ جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمدی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے۔ فرمایا چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ انشاء اللہ دین باقی رہے گا اور یہ فتنہ مضمحل ہو جائے گا۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی بزرگ اور عالم کو اس فتنے پر اتنا دردمند نہیں دیکھا جتنا کہ حضرت امام العصرؒ کو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل میں ایک زخم ہو گیا ہے جس سے ہر وقت خون ٹپکتا رہتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا نام لیتے تو فرمایا کرتے تھے کہ لعین ابن لعین لعین قادیان اور آواز میں ایک عجیب درد کی کیفیت محسوس ہوتی۔ فرماتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ گالیاں دیتا ہے۔ فرمایا کہ ہم اپنی نسل کے سامنے اپنے اندرونی درد دل کا اظہار کیسے کریں؟۔ ہم اس طرح قلبی نفرت اور غیظ وغضب کے اظہار کرنے پر مجبور ہیں۔ ورنہ محض تردید وتنقید سے لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ تو علمی اختلافات ہیں جو پہلے سے چلے آتے ہیں۔ مرض موت میں جب تمام قوتیں جواب دے چکی تھیں اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھے ایک دن (یہ جمعہ کا دن تھا) جامع مسجد (دیوبند) میں ڈولی میں لائے گئے اور اپنے شاگردوں اور علماء اور اہل دیوبند کو آخری وصیت فرمائی کہ دین اسلام کی حفاظت کی خاطر اس فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے پوری کوشش کریں اور فرمایا میرے تلامذہ کی تعداد جنہوں نے مجھ سے حدیث پڑھی ہے دو ہزار ہو گی۔ ان سب کو میں وصیت کرتا ہوں کہ اس فتنہ کے خلاف پوری
٥
جدوجہد کریں۔ حضرت کی یہ وصیت دعوت حفظ ایمان کے نام سے ایک پمفلٹ کی شکل میں شائع ہوگئی تھی۔
حضرت امام العصرؒ نے اپنی آخری زندگی میں مسلمانان کشمیر کو اس فتنے سے بچانے کیلئے آخری تصنیف فارسی زبان میں تالیف فرمائی۔ کشمیر میں فارسی زبان عام تھی اور وہاں کی علمی زبان فارسی ہی تھی۔ اس لئے آیت خاتم النبیین کی شرح فرمائی۔ حضرت مرحوم کا دل و دماغ جس طرح علوم و معارف سے بھرا ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ قلم سے اسی انداز کے علوم و حقائق نکلیں گے۔ زبان فارسی ہو یا اردو۔ علوم انوری کے جواہرات اپنی پوری تابانی کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ ہر شخص نہ اس کی تہوں تک پہنچ سکتا تھا اور نہ یہ علوم اس کے قبضہ میں آسکتے تھے۔ اس کے لئے حسب ذیل امور کی ضرورت تھی:
- ١...... عام فہم شستہ اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے۔
- ٢...... مترجم ذکی و محقق عالم ہو کر علمی اشارات و لطائف کو بخوبی سمجھتا ہو۔
- ٣...... حضرت امام العصرؒ کے طرز تحریر سے مناسبت رکھتا ہو اور اس کے سمجھنے کی
پوری صلاحیت رکھتا ہو۔
- ٤...... قادیانیت کے موضوع سے دلچسپی رکھتا ہو اور قادیانی مذہب کے لٹریچر سے
پوری طرح باخبر ہو۔
- ٥...... علمی دقائق کی تشریح پر اردو میں قادر ہو اور قلمی افادات سے عوام کو مستفید
بنانے کی قابلیت رکھتا ہو۔
- ٦...... تالیفی ذوق رکھتا ہو۔ تصنیفی ملکہ حاصل ہو۔ تا کہ مناسب عنوانات سے
مضمون کو آسان کر سکے۔
- ٧...... حضرت امام العصرؒ سے انتہائی عقیدت و محبت ہو، کہ مشکلات حل کرنے میں
گھبرا نہ جائے اور غور و خوض سے اکتا نہ جائے۔
- ٨...... محنت و عرق ریزی کا عادی ہو دل کا درد رکھتا ہو قادیانیت سے بغض ہو۔
- ٩...... اپنے علمی کاموں میں محض رضائے حق کا طالب ہو۔ حب جاہ و ثناء سے
بالا تر ہو۔
- ١٠...... عام علمی مہارت اور دینی ذوق کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ عربیت
٦
وبلاغت کے سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہو اور معانی و بلاغت کی نکتہ سنجیوں سے واقف ہو۔
یہ دس امور تھے جو ارتجالاً زبان قلم پر آ گئے ۔ عشرہ کاملہ کے بعد اب مترجم صحیح ترجمہ پر قدرت پا سکتا ہے۔ مجھے کسی سے توقع نہ تھی کہ یہ خدمت صحیح طور پر انجام دے سکے گا ۔ میری خود بھی ہمت نہ تھی کہ اس لق و دق صحراء میں قدم رکھوں ۔ اگر چہ عرصہ دراز سے احساس تھا کہ اس کے ترجمہ و تشریح کی ضرورت ہے۔ جس وقت شباب تھا اور فرصت بھی تھی دماغ میں تازگی تھی اور عہد انوری کی صحبتوں کی یاد تازہ تھی اس وقت توجہ نہ کر سکا اور اس سعادت سے محروم رہا۔ حالانکہ نفحة العنبر میں ٤٥ برس پہلے لکھ چکا تھا کہ خدا کی قسم ! انوری علوم کے باغ و بہار اور وہبی علوم کا نمونہ اگر دیکھنا ہو تو رسالہ خاتم النبیین ملاحظہ کیا جائے ۔ ١؎
الحمد للہ کہ یہ سعادت میرے ہم نام اور میرے ہم قلم میرے مخلص رفیق کار مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ (شہید ختم نبوت) کے حصہ میں آئی۔ جو اس عشرہ کاملہ سے متصف تھے ۔ باکمال تھے اور اللہ تعالیٰ کا شکر کہ وہ اس کے ترجمہ و تشریح کے فرض سے نہایت کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے اور اس علمی و دینی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ بارگاہ قدس میں قبول فرمائے اور مترجم کے لئے سعادت دارین کا وسیلہ بنائے اور حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی شفاعت مقبولہ کا ذریعہ بنائے ۔ آمین !
١؎ نفحة العنبر کا متعلقہ اقتباس حسب ذیل ہے کہ :
أودع الشيخ فيها نكات وأسرارا وهبيةً ما يرهف الألباب والبصائر ويروح القلوب والخواطر احتوت على حقائق سامية ربانية وبدائع حكم إلهيه يبهت لها الخيال وتحار لها العقول ، ستحس أوان مطالعتها أن المزنة السحاء يهطل بديمها ، أو أن البحر الزاخر يسمح بعببه ، وايم الله إن محاسنها الجليلة تأخذ بالقلوب لا أدري بأي وصف أصفها ، درر فاق بهاؤها وغرر شاع ضوء ها وسناؤها وزهر فاح أريجها وراق زهاؤها ، لله من حكم يمانية سمح بها صدره ولله من معارف عالية نثرت من سني قلمه .
نفحة العنبر ص ١٢٩ مطبوعہ المکتبۃ البنوریۃ کراچی
"حضرت شیخ نے اس میں وہ وہبی اسرار و نکات درج کئے ہیں جن سے فہم بصیرت کو جلا ملتی ہے اور روح و قلب کو وجد آ جاتا ہے۔……(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٧
ہدية المهديين فى آية خاتم النبيين
حال ہی میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع بانی دارالعلوم کراچی کا عربی رسالہ هدية المهديين فى آية خاتم النبيين شائع کیا گیا جو موصوف نے حضرت الاستاذ امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کے حکم سے اور انہی کی نگرانی میں مرتب فرمایا تھا۔ اس میں مسئلہ ختم نبوت پر ٣٣ آیات‘ ١٢٥ احادیث‘ صحابہ تابعین کے آثار علمائے امت کے ارشادات اور کتب سابقہ کی شہادتوں کا بے نظیر ذخیرہ جمع کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ عربی میں اپنے موضوع پر جامع ترین کتاب ہے جس پر حضرت امام العصرؒ نے حضرت مؤلف کو بہت داد دی تھی۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے اس کی اشاعت اس مقصد کے پیش نظر کی گئی ہے کہ نہ صرف اندرون ملک ہر عالم اور عربی داں اس سے مستفید ہو۔ بلکہ ایشیاء افریقہ اور یورپ کے ان تمام ممالک کے اہل علم تک یہ کتاب پہنچائی جائے۔ جہاں قادیانی فتنہ ارتداد کے اثرات ہیں اور جہاں عالمی زبانوں میں مستند اور ٹھوس لٹریچر کا تقاضا شدت سے ہو رہا ہے۔ ارادہ ہے کہ سردست اس کتاب کا ایک لاکھ نسخہ بھجوانے کا بندوبست کیا جائے اور اس کی شکل یہ تجویز کی گئی ہے کہ وہ تمام اہل خیر جنہیں دین اور اس کے عالمی تقاضوں کا احساس ہے۔ انہیں اس صدقہ جاریہ کی طرف توجہ دلائی جائے کہ وہ حسب استطاعت اس کے سو سو‘ ہزار ہزار نسخے خرید کر خود بھجوائیں یا یہ کام مجلس تحفظ ختم نبوت کے سپرد کر دیں جو حضرات اس صدقہ جاریہ کی تحریک میں حصہ لیں گے انہیں کتاب اصل لاگت پر مہیا کی جارہی ہے۔ یعنی فی سینکڑہ ٣٠٠/٠٠ تین صد روپے اور فی ہزار ٢٤٠٠/٠٠ چوبیس سو روپے۔ اس چھوٹی سی کتاب کے ایک لاکھ نسخے بھجوادینا قومی سطح پر معمولی بات
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ..... یہ رسالہ ان بلند پایہ حقائق ربانیہ اور حکمت الٰہیہ کے توارد پر مشتمل ہے جن سے خیال مبہوت اور عقل ششدر رہ جاتی ہے۔ اس کے مطالعہ کے وقت ایسا محسوس ہوتا کہ گویا ابر باراں موسلا دھار برس رہا ہے۔ یا بحر محیط ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ خدا کی قسم اس کے محاسن دلوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کن الفاظ سے اس کی تعریف وتوصیف کروں۔ یہ وہ موتی ہیں جن کی رونق سب پر فائق ہے۔ یہ وہ گوہر ہیں جن کی تابانی و درخشانی شہرۂ آفاق ہے۔ یہ وہ کلیاں ہیں جن کی خوشبو مہک رہی ہے۔ سبحان اللہ ! کیا یمانی حکمتیں ہیں جو سینۂ انور سے نکلیں اور ماشاء اللہ! کیا ہی اعلیٰ معارف ہیں جو آپ کی نوک قلم سے بکھرے۔
٨
ہے، مگر اس کے اثرات انشاء اللہ دنیا و آخرت میں خیر و برکات کا موجب ہوں گے۔ میں تمام احباب ومخلصین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قومی وملی فریضہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس تحریک میں بیش از بیش حصہ لیں۔ واللہ الموفق لکل خیر و سعادۃ!
(جمادی الثانیہ ١٣٩٧ھ...... جون ١٩٧٧ء)
دنیائے اسلام کا سب سے بڑا شعار عقیدہ ختم نبوت
ختم نبوت کا عقیدہ دین اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے کہ تمام عمارت اسی عقیدہ پر قائم ہے۔ یعنی یہ کہ حضرت نبی کریم ﷺ آخری نبی و رسول ہیں اور سلسلہ نبوت جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا آپ ﷺ پر ختم ہوا ہے۔ اوّل انبیاء حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اب کوئی نبی یا رسول آنے والا نہیں۔ یہ قطعی اعلان آسمانی وحی نے قرآن کریم کی سورہ احزاب میں کیا ہے اور واضح رہے کہ وحی آسمانی کا یہ اعلان ٥ ہجری میں حضرت ام المومنین زینب بنت جحشؓ کے آسمانی نکاح کے موقع پر ہوا ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ کے نزول سے قبل بھی یہ عقیدہ اٹھارہ سال پہلے اسلام کا اساسی عقیدہ تھا۔ اسی طرح تمام اسلامی عقائد کو قرآن کریم کے نزول سے پہلے ہی حضرت رسول کریم ﷺ کے ارشاد پر امت نے تسلیم کیا ہے اور ان پر ایمان لائی ہے۔ بعد میں قرآن کریم میں موقع بہ موقع ان کا ذکر و اعلان ہوتا رہا۔ تا کہ اسلامی دستور و اسلامی آئین دین اسلام کے مہمات خالی نہ ہو۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، وضو، غسل، وغیرہ وغیرہ تمام اسلامی فرائض کو امت نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد پر تسلیم کیا ہے آنحضرت ﷺ کا ہر حکم امت کے لئے واجب الاطاعت اور واجب الایمان ہے۔ قرآن کریم میں ان کا ذکر ہو یا نہ ہو اور یہ عقائد اور یہ شریعت اور اس کے تمام بنیادی احکام امت محمدیہ کو تعامل و توارث و تواتر کے ذریعہ پہنچے ہیں۔ بہر حال کہنا یہ ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ اساسی ہے اور قطعی ہے اور ہر دور میں امت محمدیہ کا اس پر اجماع رہا ہے جس طرح یہ عقیدہ بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے۔ اسی طرح اس عقیدے کے مخالف عقیدہ امت میں سب سے بڑا فتنہ ہو گا اور سب سے بڑا کفر ہوگا۔ چنانچہ شیطان نے سب سے پہلے حملہ اسی عقیدہ پر کیا ہے۔ تا کہ اسلامی بنیاد متزلزل ہو سکے۔ یمامہ کا مسیلمہ کذاب یمن کا اسود عنسی اور سجاح۔ یہ کذابین و دجالین کے سر فہرست ہیں اور اسی لئے جھوٹی نبوت کے مدعی کو ہر دور میں کافر سمجھا گیا اور اس دعوے کو دین محمدی کے خلاف بغاوت کے مترادف سمجھا گیا اور اسی اہمیت کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے صاف اعلان فرمایا کہ:
٩
”میری اس امت میں تیس دجال وکذاب پیدا ہوں گے جن سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا اور یہ سب جھوٹے ہیں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میں آخری نبی ہوں ۔“
جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں تصریح کی گئی ہے۔ بہر حال عقیدہ ختم نبوت دین اسلامی کا قطعی عقیدہ ہے۔ قرآن کریم اس پر ناطق ہے۔ احادیث نبویہ کا اس پر تواتر ہے اور امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے۔ اگر غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ امت محمدیہ کی تمام کوششیں اور علماء اسلام کی تمام محنتیں اور یہ تمام اسلامی ادارے دینی درس گاہیں اور اسلامی انجمنیں اور احادیث نبویہ کی تدریس اور کتب حدیث کی تالیف وتصنیف واشاعت یہ سب کچھ اسی عقیدے کی حفاظت وصیانت کی مختلف صورتیں ہیں اور متعدد مظاہر ہیں ۔ اگر یہ عقیدہ درمیان سے ختم ہو جائے تو یہ تمام دینی جدوجہد بالکل لایعنی ہے۔ نہ قرآن کریم کی عظمت واہمیت باقی رہتی ہے۔ نہ صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہ احادیث نبویہ کی حاجت باقی رہتی ہے۔ جب دوسرا نبی ورسول آ سکتا ہے اور وحی الٰہی کا سلسلہ جاری ہے۔ نئی شریعت بھی آ سکتی ہے۔ جدید احکام بھی نازل ہو سکتے ہیں۔ جہاد اسلامی بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔ حج وزکوٰۃ اور تمام عبادات میں جو ترمیم چاہیں ہو سکتی ہے۔ تو قرآن وحدیث کی وقعت واہمیت کیا باقی رہ جاتی ہے؟۔ حفاظت اسلام کا قوی ترین ومستحکم قلعہ یہی ختم نبوت ہے۔ اس لئے شیاطین الانس وشیاطین الجن کا سب سے پہلا حملہ اس قلعہ پر ہوا۔ اس لئے کہ اس مورچہ کو ختم کر کے تمام معاملات حسب خواہش طے ہو سکتے ہیں۔ لہذا کسی بھی اسلامی حکومت کا سب سے پہلا فریضہ یہ ہے کہ اس قلعہ کی حفاظت کرے۔ اسلامی دستور اسلامی آئین کی بنیاد بھی یہی عقیدہ ہے۔
اسلام کے خلاف برطانوی سازش
الغرض دین اسلام کا سب سے بڑا شعار عقیدہ ختم نبوت ہے بدقسمتی سے متحدہ ہندوستان پر جب فرنگی استعمار کا پنجہ مضبوط ہو گیا اور ١٨٥٧ء میں روح فرسا مظالم کر کے لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کر دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود انگریز اسلام کو ختم نہ کر سکا۔ تب اسلام کے خلاف جن موثر تدابیر کو انگریز نے اختیار کیا۔ ان میں سب سے مؤثر نسخہ یہی ہاتھ آیا کہ اسلام کے اس عقیدہ پر کاری ضرب لگائے۔ انگریزی نفسیات کے بارے میں مسولینی کا مقولہ مشہور ہے کہ یہ قوم صدیوں پہلے انجام کار کا اندازہ لگا لیتی ہے۔ بلا شبہ شیطنت وتلبیس میں یہ قوم اعداء اسلام میں امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارے شیخ المشائخ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیو
١٠
بندی فرمایا کرتے تھے کہ جہاں کہیں اسلام کے خلاف سازش نظر آئے۔ اگر کھوج لگاؤ گے تو معلوم ہوگا کہ اس کا سرچشمہ انگریز ہے۔ اس لئے انگریزی حکمران کی نگاہ نے ایک صوبے پنجاب کے ضلع گورداسپور کے گاؤں قادیان میں ایک منشی مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کر لیا۔ مسلمانوں میں مہدیت کے دعوے دار بہت سے مختلف ادوار میں پیدا ہو چکے تھے۔ لہٰذا یہ دعویٰ زیادہ انوکھا نہ تھا اس لئے اوّل مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاکہ آسانی سے ہضم ہو سکے۔ رفتہ رفتہ مثیل مسیح موعود کا دعویٰ کیا۔ اس کو بھی چند لوگوں نے قبول کر لیا۔ پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر نبی غیر تشریعی یعنی بلا شریعت پیغمبر ہونے کا مدعی ہوا۔ آخر صراحۃً نبوت کا دعویٰ کر ڈالا اور یہ بھی ساتھ دعویٰ کیا کہ ان کی شریعت میں امر ونہی بھی ہے۔ جدید احکام بھی ہیں اور بالآخر جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا۔ الغرض ترتیب و تدریج کے ساتھ جو پہلے مرحلہ پر سوچ چکا تھا اسی مرحلے پر آخر کار پہنچ گیا۔ تمام اطراف ہند میں شور و غوغا ہوا اور تکفیر پر مضامین آئے۔ کتابیں لکھی گئیں۔ لیکن برطانیہ نے بہت ہوشیاری اور تدبیر کے ساتھ اس کی ترویج و تقویت اور پشت پناہی میں پورا زور صرف کر دیا اور آج اسی کے نتیجہ میں دنیا کا کوئی گوشہ باقی نہیں رہا کہ انگریز کے اس خود کشتہ پودے کے ثمرات وہاں نہ پہنچے ہوں۔ لندن میں تو اس کا مرکز ہی ہے۔ امریکہ، کینیڈا سے لے کر فلسطین تک بلکہ اسرائیل کی نام نہاد حکومت میں بھی اس کا مرکز ہے۔ اگر پاکستان کی موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی حکومت ہے اور دستور کے اندر بھی یہ دفعہ آگئی ہے کہ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ رکھے تو اس کو فوراً قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دینا چاہئے کہ یہ ایک اسلامی حکومت کا ادنیٰ ترین فرض ہے۔ مقام مسرت ہے کہ مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کی دعوت پر تمام اسلامی ممالک کی اسلامی جماعتوں کا اجتماع ہوا اور بالاتفاق یہ قرارداد پاس ہوئی کہ مرزائی قادیانی جہاں بھی ہوں غیر مسلم اقلیت ہیں۔ صرف پاکستان کے ایک نمائندے (افضل چیمہ سیکرٹری قانون) نے اتفاق نہیں کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
جس حکومت کے نمائندہ کو سب سے پہلے سبقت لے جانی چاہئے تھی وہی مخالف رہا۔ کہنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ اس عقیدہ کی حفاظت کرے اور ملک کے جو باشندے اس عقیدہ کے خلاف ہیں۔ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے ساتھ بقیہ غیر مسلم اقلیتوں کا معاملہ کرے۔ حق تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں اور اس پر
چلنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ تا کہ قیامت کے روز سرخ روئی نصیب ہو اور دنیا میں بھی ہم مسلمانوں اور مسلمان حکومتوں کے سامنے رسوا نہ ہوں اور آنحضرت ﷺ کی ناموس کی حفاظت کر کے آپ کی شفاعت کبریٰ کے مستحق ہوں۔
تخلیق کائنات کا مقصد
قرآن مجید میں بہت سی جگہ عقیدہ آخرت کے اثبات کے لئے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ اگر اس کائنات کی تخلیق کا منشا صرف یہی ہوتا کہ اس دنیا کا نقشہ وجود میں آجائے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو تو یہ محض ایک فعل عبث اور کھیل تماشا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات قدسی صفات کھیل تماشے سے بلند و بالا اور عبث ولا یعنی سے پاک اور منزہ ہے۔
افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون (مومنون: ١١٥) ﴿پس کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔﴾
یہ کارخانہ عالم بے نتیجہ و بے مقصد نہیں۔ بلکہ ذریعہ و وسیلہ ہے ایک بڑے مقصد کا۔ یہ عبوری و عارضی اور امتحانی و ابتلا کی زندگی خود مقصد نہیں۔ بلکہ یہ تمہید ہے آخرت کی۔ جہاں کی زندگی ابدالآباد کی زندگی ہوگی۔ سورہ فاتحہ سے سورہ الناس تک بے شمار مقامات پر محیر العقول معجزانہ اسلوب اور عجیب مؤثر انداز میں یہ حقیقت بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے۔ سورہ فاتحہ میں جسے ایک مسلمان کم از کم ٣٢ مرتبہ روزانہ پڑھتا یا سنتا ہے۔ حق تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمت عامہ کے فوراً بعد یوم الدین کی ملکیت اور بادشاہی کا اعلان کیا گیا ہے۔ تا کہ ہر لحظہ یہ عقیدہ پیش نظر رہے کہ دنیا خود مقصد نہیں۔ اصل منزل مقصود آخرت اور صرف آخرت ہے۔
پاکستان کا مقصد
ٹھیک اسی طرح یہ سمجھنا چاہئے کہ مملکت خداداد پاکستان جسے ١٨٥٧ء سے ١٩٤٧ء تک کی طویل اور صبر آزما جنگ آزادی کے بعد حاصل کیا گیا جس کے لئے جان و مال اور عزت و آبرو کی بے مثال قربانیاں دی گئیں۔ جس کی خاطر لاکھوں خاندانوں کو ترک وطن کی وہ صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں جن کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ شرمندہ ہے اور جس کو خدا اور رسول کے مقدس نام پر اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! کا واسطہ دے کر حاصل کیا گیا۔ اگر اس کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ آزادی مل جائے۔ کافروں کی جگہ بڑے بڑے مسلمان سرمایہ دار وجود میں آجائیں۔
١٢
بڑے بڑے کارخانے ہوں۔ فلک بوس عمارتیں اور خوشنما بلڈنگیں ہوں۔ فراخ سڑکیں اور عمدہ کاریں ہوں۔ سینما تھیٹر ہوں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن ہوں۔ شاندار ہوٹل اور کلب گھر ہوں۔ رقص و سرود کی محفلیں ۔ مخلوط دعوتیں اور حیا سوز مناظر ہوں۔ سود اور رشوت کا بازار گرم ہو۔ ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہو۔ لاقانونیت کی فضا ہو۔ نہ خدا کا خوف ہو نہ قانون کا ڈر۔ نہ حاکم کو احساس فرض ہو نہ محکوم کو۔ نہ کسی کی جان محفوظ ہو نہ مال۔ نہ پولیس اپنے منصب کی پرواہ کرے۔ نہ عدالت سے داد خواہی غریب آدمی کے لئے ممکن ہو۔ ایک طرف کارخانوں پر کارخانے کھلتے جائیں اور دوسری طرف ملک کا نادار طبقہ نان جویں کا محتاج ہو۔ الحاد و دہریت کی کھلی چھٹی ہو۔ کوئی کسی کے ایمان پر ڈاکہ ڈالے۔ ایمانی عقائد پر حملہ کرے۔ اخلاق کو تباہ کرے۔ معاشرہ کو متعفن کرے۔ مگر قانون اسے روکنے میں کامیاب نہ ہو۔
الغرض یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اگر یہ ملک اسی کے لیے بنا تھا۔ آزادی اسی کے لئے حاصل کی گئی تھی۔ خدا اور رسول کے مقدس نام کا استعمال انہیں مقاصد کے لئے ہوا تھا۔ پاکستان کی تفسیر کلمہ طیبہ سے اسی لئے کی گئی تھی ١؎ تو ہم نے خود اپنے اوپر کتنا بڑا ظلم کیا اور بھری دنیا کو کتنا بڑا دھوکا دیا؟ ۔ یہ سارے کام تو امریکہ و یورپ اور بے دین ممالک میں بھی بڑے وسیع پیمانے پر انجام دیئے جا رہے تھے۔
الغرض حق تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اگر تخلیق دنیا کا منشاء آخرت نہ ہو۔ روز جزا میں میزان عدل قائم نہ ہو۔ جزا و سزا کا دفتر نہ کھلے۔ مجرمین کو سزا اور صالحین کو جنت نہ ملے تو عالم کا تمام نقشہ بے کار ہے۔ محض کھیل اور تماشا ہے۔ اسی طرح اگر پاکستان کا مقصد اسلامی حکومت اسلامی دستور اور اسلامی قانون نہ ہو تو یہ تمام نقشہ بے کار اور کھیل تماشے سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
تاسیس پاکستان کا اصل مقصد
پاکستان کی تاسیس کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس ملک میں اسلام کا قانون رائج ہو۔ ایک صالح معاشرے کی تشکیل ہو۔ فواحش و منکرات کا قلع قمع کیا جائے۔ بے حیائی و عریانی کا جو سیلاب
١؎ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ ! تحریک پاکستان کے دوران بچے بچے کی زبان پر تھا۔ ان بچوں کو جو اب پیرانہ سالی میں قدم رکھ رہے ہیں یہ نعرہ اب بھی یاد ہوگا۔
١٣
خدا فراموش ملکوں سے آ رہا ہے اس سے محفوظ رہا جائے۔ ظلم و عدوان کو مٹایا جائے۔ اسلام کے عدل و انصاف کے سائے میں ہر شخص اطمینان و سکون کی زندگی بسر کر سکے۔ قوم کے نادار افراد کی دستگیری کی جائے۔ کس قدر حیرت و افسوس کا مقام ہے کہ تیس سال کے طویل عرصہ کے بعد بھی ہم اسلامی قانون کے سایہ رحمت سے محروم ہیں۔ ملک اسلام اور مسلمانوں کا ہے۔ حکومت مسلمانوں کی ہے۔ حکومت کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ مگر نہ اسلامی دستور ہے نہ اسلامی قانون۔ قوم بار بار مارشل لاء کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اسلامی ملک میں کوئی اسلامی حکومت آج تک مسلم اور غیر مسلم کے درمیان سرکاری طور پر کوئی حد فاصل قائم نہیں کر سکی۔ گذشتہ دور حکومت میں یہ سستا اصول بنا لیا گیا تھا کہ جو شخص بھی اسلام کا ادعا کرے وہ مسلمان ہے۔ ایک شخص حکومت کے سرکاری مذہب سے بغاوت کر کے حضرت خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کرے۔ ارشادات نبوت کو جھٹلائے۔ الحاد و تحریف کے ذریعہ دین کی ساری جڑوں کو کھوکھلا کر کے مرزائی بنے، پرویزی بنے، ملحد بنے، نماز روزہ کا مذاق اڑائے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کرے۔ مگر یہاں اس کے اسلام پر کوئی آنچ نہیں آتی اور وہ جوں کا توں مسلمان رہتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک مسلمان ملک میں اسلام کے حقوق محفوظ نہ ہوں۔
قادیانیوں کے بارے میں عدالت کے فیصلے
تاہم اس پر آشوب اور تاریک فضا میں بھی روشنی کی کرن کبھی کبھار پھوٹ نکلتی ہے۔ مرزائی امت کی شرعی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟۔ اس نکتہ پر سابق ریاست بہاول پور کے جج جناب محمد اکبر صاحب کا تاریخی فیصلہ ١؎۔ ایک مسلمان جج کے ایمان کا شاہکار تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جناب شیخ محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی نے ان کے کفر کا فیصلہ دیا ٢؎ اور اب یہ تیسرا
١؎ بمقدمہ مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش بنام عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد یہ مقدمہ کئی سال تک زیر سماعت رہا اور فاضل جج نے ٧؍فروری ١٩٣٥ء مطابق ٣؍ذیقعدہ ١٣٥٣ھ کو فیصلہ سنا دیا۔ فیصلہ مقدمہ بہاول پور کے نام سے طبع ہو چکا ہے اور نہایت قیمتی دستاویز ہے۔ ٢؎ بمقدمہ امۃ الکریم بنت کرم الٰہی بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین پسر ماسٹر محمد دین یہ فیصلہ ٣۔ جون ١٩٥٥ء میں ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت تغلق روڈ ملتان سے شائع ہو چکا ہے۔
١٤
فیصلہ ہے جو جیمس آباد کے سول جج جناب محمد رفیق گورایہ پی سی ایس نے جنہیں فیملی کورٹ جج کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔ ایک قادیانی مرد کے ساتھ مسلمان لڑکی کے نکاح کو ناجائز قرار دیتے ہوئے صادر فرمایا ہے۔ ١؎ یہ فیصلہ بے حد لائق تحسین اور قابل مبارک باد ہے۔ جہاں ہم محترم جج کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ وہاں موجودہ مارشل لاء حکومت کے دور میں عدلیہ کی آزادی بھی قابل صد تبریک ہے۔ جس کی وجہ سے ایک سول جج اس جرأت ایمانی کا مظاہرہ کر سکتا ہے کہ وہ شرعی اور اسلامی قانون کے مطابق مدلل اور مفصل فیصلہ کر سکے چونکہ قادیانی مسلمان نہیں۔ اس لئے کسی مسلمان عورت اور قادیانی مرد کے درمیان عقد نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
فیصلے کا پورا متن ملک کے بہت سے اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکا ہے۔ یہاں ہم اس فیصلے کے چند اہم نکات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔
فیصلہ جیمس آباد کے اہم نکات
نکتہ اوّل... مسلمان کسے کہتے ہیں
سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ اسلام کی تعریف کیا ہے؟۔ اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل کیا ہے؟ اور وہ کون سی چیز ہے جو ایک مسلمان کو غیر مسلم سے ممیز کرتی ہے؟۔ اس نکتہ پر بحث کرتے ہوئے فاضل جج امیر علی کی کتاب محمڈن لاء کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
”کوئی شخص جو اسلام لانے کا اعلان کرتا یا دوسرے لفظوں میں خدا کی وحدانیت اور محمدﷺ کے پیغمبر ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ وہ مسلمان اور مسلم لاء کے تابع ہے۔“
(فیصلہ جیمس آباد اردو ص ٢٥)
ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”ہر وہ شخص جو خدا کی وحدانیت اور رسول عربی کی پیغمبری پر ایمان رکھتا ہے۔ دائرہ اسلام میں آ جاتا ہے۔“
(ایضاً ص ٢٦)
نیز سر عبدالرحیم کی کتاب محمڈن جورسپروڈنس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ”اسلامی عقیدہ خدائے واحد کی حاکمیت اور محمد عربیﷺ کے نبی کی حیثیت سے مشن کی صداقت پر مشتمل ہے۔“
(ایضاً)
١؎ بمقدمہ امۃ الہادی بنت سردار خاں بنام حکیم نذیر احمد برق قادیانی یہ فیصلہ ١٣؍ جولائی ١٩٧٠ء کو پڑھ کر سنایا گیا۔
١
یہ دونوں تعریفیں جو اپنے مفہوم میں متحد ہیں۔ اپنی جگہ صحیح اور درست ہیں۔ مگر تشریح طلب ہیں۔ اسلام دراصل انسان کے اس عہد کا نام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے اس پورے دین کو جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بھیجا گیا دل و جان سے تسلیم کرتا ہے۔ اس عہد میں چند اصولی چیزیں آپ سے آپ آ جاتی ہیں۔
اول : اس عہد کی رو سے لازم ہو گا کہ دین کے تمام اجزاء کے ایک ایک کر کے تسلیم کیا جائے۔ اگر کوئی شخص دین کی کسی ایسی بات کو جس کا ثبوت قطعی ہے ١؎ نہیں مانتا تو چاہے باقی سارے دین کو مانتا ہو تب بھی وہ مسلمان نہیں کہلائے گا۔ کیونکہ معاہدہ کی ایک شق سے انحراف معاہدہ کی پوری دستاویز سے انحراف سمجھا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ: ”افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض ۔ فما جزاء من يفعل ذالك منكم الا خزى فى الحياة الدنيا ، ويوم القيامة يردون الى اشد العذاب ، وما الله بغافل عما تعملون ، بقره : ٨٥ “
﴿پھر کیا (ایسا نہیں کہ) تم کتاب کے ایک حصے پر تو ایمان لاتے ہو اور اس کے ایک حصے سے مکر جاتے ہو؟ ۔ تم میں سے جو شخص بھی ایسا کرے گا اس کا بدلہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اسے دنیا میں رسوائی نصیب ہو اور قیامت کے دن انہیں سخت ترین عذاب کے حوالے کیا جائے گا اور اللہ بے خبر نہیں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو۔﴾
١؎ دین کی ایسی باتیں جن کا ثبوت قطعی ہے اور جن کا دین محمدی میں داخل ہونا ہر عام و خاص کو معلوم ہے۔ ضروریات دین کہلاتی ہیں۔ ضروریات ضروری کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہیں بدیہی واضح بالکل ظاہر ضروریات دین کے معنی ہوئے۔ وہ امور جن کو جزو دین ہونا بالکل ظاہر واضح اور قطعی ہو۔ ان کے ثبوت میں کوئی خفا نہیں۔ نہ شک و شبہ کی گنجائش ہے۔
ضروریات دین کے ذیل میں وہ ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔ جن کا ثبوت قرآن کریم حدیث متواتر اور اجماع امت سے ہوا۔ ان تمام امور کا ماننا ایمان کہلاتا ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دینا بھی صریح کفر ہے اور ان کو توڑ مروڑ کر غلط معنی پر محمول کرنا الحاد اور زندقہ کہلاتا ہے جو کفر کی بدترین صورت ہے۔ اس موضوع پر جامع ترین تحقیقی کتاب امام العصر مولانا محمد انور شاہؒ کی تصنیف اکفار الملحدین ہے۔ جس کا اردو ترجمہ بھی مجلس علمی کراچی نے شائع کر دیا ہے۔ قابل دید ہے۔ خصوصاً علماء و محققین کے استفادہ کے لائق ہے۔
١٦
دوم: اس عہد کا دوسرا تقاضا ہے کہ تمام دینی حقائق کو من وعن تسلیم کیا جائے اور ان کے معنی ومفہوم وہی لئے جائیں جو خدا اور رسول کی مراد ہیں اور جو صحابہؓ کے دور سے آج تک اپنے صحیح تسلسل کے ساتھ نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچے ہیں۔ اگر ایک شخص الفاظ کی حد تک تو دین کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن وہ دین کے بنیادی حقائق کی من مانی تاویل کرکے ان کی اصل روح کو کچل دیتا ہے اور انہیں ایسے من گھڑت اور عجیب وغریب معنی پہناتا ہے جو نہ خدا اور رسول کی مراد ہیں نہ صحابہؓ وتابعینؒ کے زمانہ میں ان کا کبھی تصور کیا گیا۔ نہ اسلام کے بعد کی صدیوں کے علماء ان سے آشنا ہوئے۔ تو یہ شریعت کی اصطلاح میں تحریف الحاد اور زندقہ ہوگا اور یہ کفر کی خبیث ترین قسم ہے۔ یہ شخص دین کو مانتا نہیں بلکہ دین سے کھیلتا ہے۔ اسی قماش کے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ:
”ان الذين يلحدون فى آيتنا لايخفون علينا٠ افمن يلقى فى النار خيرا ام من يأتى آمنا يوم القيامه٠ اعملوا ماشئتم ٠ انه بما تعملون بصير٠ حم السجده :٤٠“ یقیناً جو لوگ ہمارے احکام میں کجروی اختیار کرتے ہیں ۔ وہ ہم سے چھپے نہیں رہ سکتے۔ پس کیا وہ شخص جسے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ بہتر ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا۔ تم جو چاہو کر لو۔ وہ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں کو یقیناً دیکھ رہا ہے۔﴿
سوم: اس عہد کا تیسرا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس عہد و پیمان کے بعد اس سے کوئی ایسا قول وفعل سرزد نہ ہو جو اس عہد کی نفی کرتا ہو۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اسلام کا عہد باندھ لینے کے بعد دوسرے تمام مذاہب وملل کے عقائد وافکار اور نظریئے حیات سے کنارہ کشی کرے۔ اگر ایک شخص اسلام کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر عملاً بت کو سجدہ کرتا ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی مراسم بجالاتا ہے۔ عیسائیوں کی صلیب لٹکاتا ہے یا معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کی جناب میں گستاخی کرتا ہے۔ کسی نبی کی تنقیص کرتا ہے۔ قرآن مجید سے ہتک آمیز سلوک کرتا ہے۔ شعائر دین کی بے ادبی کرتا ہے۔ کسی حکم شرعی کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایسا شخص اپنے دعوائے ایمان میں مخلص نہیں۔ بلکہ منافق ہے اور محض اسلام اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اسلام کا ادعا کرتا ہے۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:”ومن الناس من يقول آمنا بالله وباليوم
١٧
الآخر وماهم بمؤمنين . يخادعون الله والذين آمنوا . بقرہ ٩ " اور بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر۔ حالانکہ وہ قطعاً مومن نہیں۔ وہ اللہ کو اور مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ ﴿
الغرض اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ:
- ١....... دین کے وہ تمام حقائق جن کا علم ہمیں یقینی ذرائع سے پہنچا ہے۔ ان سب
کو تسلیم کرے۔
- ٢....... ان کو بغیر کسی تاویل و تحریف کے من و عن قبول کرے۔
- ٣....... اور اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جس سے اس کے دعوائے ایمان کی
نفی ہوتی ہو۔ کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ! اس معاہدہ ایمان کا مختصر متن ہے جو دین کی تمام تفصیلات کو شامل ہے۔ یہ ہے اسلام کی میزان عدل جس سے کسی کے اسلام اور کفر کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
نکتہ دوم... مسلمان اور غیر مسلم کے الگ الگ دائرہ عمل
فاضل جج نے اس نکتہ پر بھی بحث کی ہے کہ آیا عدالت یہ تعین کر سکتی ہے کہ قادیانی (مرزائی) مسلمان ہیں یا نہیں؟۔ انہوں نے عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ بعض صورتوں میں عدالت کے لئے یہ تصفیہ ناگزیر ہے۔ مثلاً وراثت جائیداد منصب کسی خانقاہ کی سجادہ نشینی کسی مذہبی ادارے کی سربراہی یا پاکستان کے صدارتی انتخابات کی امیدواری کا سوال ہو وغیرہ۔ تو عدالت کو یہ تعین کرنا ہو گا کہ قادیانی (مرزائی) مسلمان ہیں یا نہیں؟۔
جہاں تک ہماری عدالتوں کے دائرہ اختیار کا تعلق ہے۔ اس کی تشریح تو عدالت عالیہ ہی بہتر کر سکتی ہے۔ لیکن جہاں تک شریعت اسلامیہ کے فیصلے کا سوال ہے۔ اس کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام اور کفر کی لائنیں اپنے نقطہ آغاز ہی سے جدا ہو جاتی ہیں۔ ہماری شریعت میں ایک لمحہ کے لئے نہ کسی مسلمان سے غیر مسلم کا سا سلوک کیا جا سکتا ہے۔ نہ کسی غیر مسلم کو مسلمان کے حقوق دیئے جاسکتے ہیں۔
١٨
کوئی غیر مسلم ١؎ سلام و دعا اور مسلمانوں کی دوستی اور موالات کا مستحق نہیں۔ وہ مرجائے تو اسلامی طریقہ کے مطابق اس کا کفن دفن اور جنازہ جائز نہیں۔ وہ کسی عزت و تکریم کا مستحق نہیں۔ وہ کسی مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ نہ مسلمان اس کا وارث ہو سکتا ہے۔ وہ اسلامی عدالت کا جج نہیں بن سکتا۔ نہ اسلامی آئین کی تدوین میں اسے شریک کیا جاسکتا ہے۔ نہ اسے کسی کلیدی آسامی پر مسلط کیا جا سکتا ہے۔ نہ وہ مسلمانوں کے کسی مذہبی ادارے کے لئے موزوں ہے۔ نہ کسی مسلمان عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ نہ کسی مسلمان لڑکی کا ولی بن کر اس کا نکاح کراسکتا ہے۔ نہ کسی مسلمان یتیم بچے کا متولی ہو سکتا ہے۔ وغير ذلك !
ظاہر ہے کہ یہ وہ احکام ہیں جن کی قدم قدم پر ضرورت واقع ہوگی اور ایک مسلمان کو خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ان احکام کا ہر لمحہ خیال رکھنا ہوگا۔ اس لئے ایک مسلمان کے لئے یہ تعین ہر وقت ضروری ہے کہ فلاں شخص اپنے نظریات وعقائد کے ساتھ مسلمان ہے یا نہیں؟۔
اور یہ تو خیر عام غیر مسلموں کا حکم ہے۔ مرتد کی نوعیت اس سے زیادہ سنگین ہے۔ اسلام لانے کے بعد اس سے پھر جانا یا اسلام کے کسی قطعی حکم کا انکار کر دینا یا ضروریات دین کو توڑ موڑ کر من گھڑت معنی پہنانا شروع کر دینا یا شریعت کے کسی حکم کو طنز وتعریض کا نشانہ بنانا ارتداد کہلاتا ہے۔ ارتداد اسلام کی نظر میں کفر اور شرک سے کہیں بڑھ کر انتہائی درجے کا سنگین جرم ہے۔ اسلام نے جرائم کی جو فہرست مرتب کی ہے ان میں صرف تین جرائم ایسے ہیں جن کے لئے سزائے موت تجویز کی ہے۔
معاشرتی جرائم میں قتل عمد سب سے بدتر جرم ہے اور سزائے موت کا موجب۔ اخلاقی جرائم میں زنا سب سے گھناؤنی چیز ہے اور اس کے لئے رجم (سنگساری) کی سزا ہے اور نظریاتی جرائم میں ارتداد کفر وطغیان کی آخری حد ہے اور اس کے لئے سزائے موت کا حکم ہے۔
١؎ غیر مسلم سے مراد یہاں وہ تمام لوگ ہیں۔ جنہوں نے نکتہ اولیٰ کی تشریح کے مطابق اسلام قبول نہیں کیا۔ ایسے لوگ خواہ اپنے آپ کو ہزار بار مسلمان کہیں۔ لیکن جب تک وہ اپنے غلط نظریات سے توبہ کر کے سیدھے طریقے سے اسلام کو قبول نہیں کرتے شریعت کی نظر میں وہ مسلمان نہیں ۔ نہ ان سے مسلمانوں کا سا برتاؤ جائز ہے۔
١٩
آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ ﴿جو شخص بھی اپنے دین کو بدل کر مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔﴾
(صحیح بخاری ج١ ص ٤٢٣ باب لا یعذب بعذاب اللہ)
یہی وجہ ہے کہ اسلام صلح و جزیہ کے شرائط پر کفر و شرک سے تو مصالحت کر سکتا ہے، لیکن ارتداد سے مصالحت کرنے کے لئے کسی قیمت پر آمادہ نہیں۔ مرتد کے بارے میں اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اس کے شبہات کے ازالہ کی کوشش کی جائے۔ اگر وہ اسلام کی طرف پلٹ آئے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی۔ ورنہ اس پر سزائے موت جاری کر دی جائے گی۔ ١؎ مرتد کو مہلت کے ان تین دنوں میں بھی آزاد نہیں چھوڑ دیا جائے گا بلکہ نظر بند رکھا جائے گا اور اس سے مکمل معاشرتی مقاطعہ (بائیکاٹ) ضروری ہوگا اور اسے آزادانہ تصرفات کی اجازت نہیں ہوگی۔
خلاصہ یہ کہ جس شخص کا کفر یا ارتداد معروف ہو شریعت اسلام کے مطابق اس کے ساتھ ایک لمحہ کے لئے بھی مسلمانوں کا سا برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔ اسے مسلمانوں کی جماعت میں گھسنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ نہ اسے اسلامی برادری کے حقوق سے نفع اندوزی کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
نکتہ سوم... قادیانی کافر و مرتد ہیں اس کے وجوہ و اسباب
فاضل جج نے قرآن مجید احادیث نبویہ اور اجماع امت سے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروؤں کے جو عقائد و نظریات ان ہی کے لٹریچر سے پیش کئے ہیں اور جن کو سامنے رکھ کر فاضل جج نے مرزائیوں کے کفر و ارتداد کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
- ١...... مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت کے اسلامی عقیدہ سے انحراف کیا ہے۔
- ٢...... انہوں نے بہت سے مقامات پر خود نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
١؎ امام شافعیؒ اور دوسرے ائمہ کے نزدیک مرتد مرد یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ مگر امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ صرف مرد کا حکم ہے۔ عورت کے لئے حبس دوام کا حکم ہے۔ جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لے۔
٢٠
- ٣...... مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت سی ان آیات کو جن میں آنحضرت ﷺ کا
ذکر ہے خود اپنی ذات پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔
- ٤...... مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
- ٥...... مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نسب پر طعن کیا ہے اور
ان کی دادیوں اور نانیوں کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کی ہے۔
- ٦...... مرزا غلام احمد قادیانی نے آنحضرت ﷺ اور ان کے صحابہؓ کے بارے
میں توہین آمیز کلمات کہے ہیں۔
- ٧...... انہوں نے اپنے لئے نزول وحی کا دعویٰ کیا ہے۔
- ٨...... انہوں نے قرآن مجید کی آیات کو دیدہ و دانستہ مسخ کیا ہے۔
- ٩...... مرزا غلام احمد قادیانی نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے اسلامی عقیدہ کا انکار کیا ہے
اور اس کی من مانی تاویلیں کی ہیں۔
- ١٠...... مرزا غلام احمد قادیانی نے ان تمام مسلمانوں کو جو ان پر ایمان نہیں لائے
کافر قرار دیا ہے۔
- ١١...... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پیروؤں کو مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے
سے روکا ہے۔
- ١٢...... انہوں نے مرزائیوں کو مسلمانوں کے نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے۔
- ١٣...... مرزا غلام احمد قادیانی نے مرزائیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے نکاح
میں اپنی بیٹیاں نہ دیں۔ کیونکہ وہ کافر ہیں۔
- ١٤...... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ایک خواب کے حوالے سے خدائی کا دعویٰ
کیا ہے اور آسمانوں کی تخلیق کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔
- ١٥...... مرزائیوں نے الفضل (١٧ جولائی ١٩٢٢ء) میں دعویٰ کیا ہے کہ ہر شخص بڑے
سے بڑا مرتبہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ نعوذ باللہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
- ١٦...... مرزائیوں کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کرنے
والوں کا وہی مرتبہ ہے جو صحابہ رسول ﷺ کا تھا۔
٢١
- ١٧....... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت پر ظل و بروز کا پردہ ڈالا ہے اور یہ
بقول علامہ اقبال مجوسیوں کا عقیدہ ہے۔
- ١٨...... انہوں نے تنسیخ جہاد کا دعویٰ کیا ہے۔
(تلخیص فیصلہ جیمس آباد اردو ص ٢٧ تا ٣٠)
فاضل جج نے مرزائی لٹریچر کے ان اقتباسات سے جو مشتے نمونہ از خروارے کا مصداق ہیں ۔ یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروؤں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ فاضل جج نے اس سلسلے میں جو ریمارکس دیئے ہیں ۔ ان کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔
موصوف لکھتے ہیں کہ: ”قرآن پاک اور رسول اکرم ﷺ کے مندرجہ بالا ارشادات کے بعد یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ مدعا علیہ (مرزائی) نے خود کو نعوذ باللہ پیغمبروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے اور اس کے ممدوح مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنے پیغمبر اور نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“
(ایضاً ص ٢٧)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ: ”مدعا علیہ اور مرزا غلام احمد قادیانی دونوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک بالکل مختلف تصور پیش کیا ہے ۔ جو مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کے یکسر منافی ہے اور قرآن پاک کی تعلیمات سے متصادم ہے۔“
(ایضاً ص ٣٣)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ : ”لیگل اتھارٹی کے پورے احترام کے ساتھ میں یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نہ صرف یہ کہ بنیادی اور نظریاتی اختلاف موجود ہے ۔ بلکہ ان میں عقیدے اور اعلان نبوت کے بارے میں بھی اختلافات موجود ہیں ۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا نزول‘ قرآن پاک کی آیات کو مسخ کرنا‘ میری رائے میں کسی شخص کو بھی مرتد قرار دینے کے لئے کافی ہیں۔“
(ایضاً ص ٣٣)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ : ”رسول پاک ﷺ کی اس سے زیادہ اور کوئی توہین نہیں ہو سکتی کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسا شخص یا مدعا علیہ یا کوئی اور خود کو پیغمبران کرام ؑ کی صف میں کھڑا کرنے کی جسارت کرے ۔ کوئی مسلمان کسی شخص کی طرف سے ایسا دعویٰ برداشت نہیں کر سکتا اور نہ قرآن وحدیث سے اس طرح کے دعوے کی تائید لائی جاسکتی ہے۔“
(ایضاً ص ٣٤)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ : ”مرزا غلام احمد قادیانی نے دانستہ طور پر قرآن پاک کی
٢٢
آیات خود سے منسوب کی ہیں اور انہیں خود ساختہ معنی پہنائے ہیں۔ تاکہ وہ دوسروں کو گمراہ کر سکیں اور یہ بے خبر اور جاہل لوگوں کو گمراہ کرنے کی ایسی سنگین غلط بیانی ہے جو جان بوجھ کر روا رکھی گئی ہے اور جو اسلام کی نظر میں گناہ کبیرہ ہے۔“
(ایضاً ص ٣٤، ٣٥)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ: ”پیغمبران کرام کے بارے میں غیر شائستہ زبان کا استعمال ہی کسی کے ارتداد کے رجحان کی غمازی کرنے کے لئے کافی ہے۔“
(ایضاً ص ٣٥)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی یا مدعاعلیہ کی نام نہاد نبوت پر ایمان حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی کھلی تنقیص ہے۔ جس کی وضاحت خداوند تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور رسول پاک ﷺ نے احادیث میں کر دی ہے۔ مدعاعلیہ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے امتی نبی یا رسول یا ظلی اور بروزی نبی کا جو تصور پیش کیا ہے۔ وہ قرآن وحدیث کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ اس کی کوئی سند قرآن اور حدیث سے نہیں ملتی اور نہ مدعاعلیہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تصور کی تائید کسی اور ذریعہ سے ہوتی ہے۔ امتی نبی کا تصور انتہائی غیر اسلامی ہے۔ اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مدعاعلیہ کی من گھڑت تصنیف ہے۔
(ایضاً ص ٣٦، ٣٧)
فاضل جج آگے چل کر اپنے فیصلے میں مزید لکھتے ہیں کہ: ”مندرجہ بالا امور کے پیش نظر میں یہ قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ مدعاعلیہ اور ان کے ممدوح مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے جھوٹے مدعی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامات وصول کرنے کے متعلق بھی ان کے دعوے باطل اور مسلمانوں کے اس متفقہ عقیدے سے منافی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔“
(ایضاً ص ٤٠)
مسلمانوں میں اس بارے میں اجماع ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی اس کے برعکس یقین رکھتا ہے تو وہ صریحاً کافر اور مرتد ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن پاک کی آیات مقدسہ کو توڑ مروڑ کر اور غلط رنگ میں پیش کیا ہے اور اس طرح انہوں نے ناواقف اور جاہل لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے جہاد کو منسوخ قرار دیا ہے اور شریعت محمدی میں تحریف کی ہے۔ اس لئے مدعاعلیہ کو جس نے خود اپنی نبوت کا اعلان کیا ہے۔ نیز مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی نبوت پر ایمان کا اعلان کیا
٢٣
ہے ۔ بلا کسی تردد کے کافر اور مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔
(ایضاً ص ٤١، ٤٠)
قادیانی مسئلہ میں فاضل عدالت کا فیصلہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی اضافہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ یہ فیصلہ جو قرآن مجید، احادیث نبویہ اور اجماع امت کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ پوری ملت اسلامیہ کے احساسات وعقائد کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق جس طرح قادیانی مرزائیوں پر ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح لاہوری مرزائیوں کے موقف کو بھی واضح کر دیتا ہے۔
بعض ناواقف اور جاہل یہ سمجھتے ہیں کہ مرزائیوں کی قادیانی پارٹی تو بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتی ہے۔ لیکن لاہوری پارٹی مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتی۔ اس لئے انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا مشکل ہے۔ یہ موقف شریعت اسلام اور لاہوری پارٹی دونوں کی حقیقت سے بیک وقت جہالت اور ناواقفی کی دلیل ہے۔
اولاً: لاہوری پارٹی جس کی قیادت مسٹر محمد علی ( مرید مرزا غلام احمد قادیانی) کے ہاتھ میں تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کے زمانہ تک ٹھیک ان عقائد ونظریات کی حامل تھی جو دوسرے قادیانیوں کے ہیں۔ مسٹر محمد علی اور ان کے ہمنواؤں کی اس وقت کی تحریریں شاہد ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے تھے اور اس کا برملا اعلان کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین سے ذاتی اور سیاسی اختلافات کی بنا پر انہوں نے اپنی الگ پارٹی بنالی اور یہ موقف اختیار کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہیں تھے۔ بلکہ مجدد اعظم تھے۔ پھر مجدد مان کر تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے ان کو افضل مانتے ہیں۔ اب جب تک یہ پارٹی اپنے سابق موقف سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے تجدید اسلام کا اعلان نہیں کرتی اسے مسلمان تصور نہیں کیا جاسکتا۔ فقہائے امت کی تصریح کے مطابق کسی مرتد کا اسلام اسی وقت معتبر ہو گا جب کہ وہ اپنے سابق نظریات سے مکمل برأت کا اعلان کرے۔
ثانیاً: لاہوری پارٹی اگر چہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بظاہر نبی نہیں مانتی۔ لیکن انہیں مسیح موعود اور مہدی موعود کے خطاب سے مشرف کرتی ہے۔ مسیح موعود کا خطاب نبوت ہی کی ایک تعبیر ہے۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی جیسے لوگوں کو مسیح موعود کہنا یقیناً کفر ہے۔
ثالثاً: جیسا کہ فاضل عدالت نے لکھا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا دعوائے نبوت
٢٤
کرنا، خود کو انبیاء کرام کی صف میں لا کھڑا کرنا، قرآنی آیات کو مسخ کرنا، انبیاء کرام کی توہین کرنا، عیسیٰ ؑ کی دادیوں اور نانیوں کے بارے میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنا اظہر من الشمس ہے اور کسی تاویل کا متحمل نہیں۔ لاہوری پارٹی ان دعاوی باطلہ کے باوجود مرزا قادیانی کو نہ صرف یہ کہ کافر و مرتد نہیں سمجھتی بلکہ مہدی اور مجدد تسلیم کرتی ہے اور یہ خود کفر ہے۔ اگر اسلام میں ایسے مہدی اور مجددوں کا وجود تسلیم کر لیا جائے تو یہ دین ایک کھلونا بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی بناء پر ہمارے شیخ
امام العصر حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ:
”ومن ذب عنه او تاول قوله يكفر قطعاً ليس فيه توان.“ ”اور جو شخص (کھلے کفر کے باوجود) مرزا قادیانی کی جانب سے مدافعت کرے گا یا اس کے اقوال کی تاویل کرے گا بغیر کسی جھجک کے اسے بھی قطعی کافر قرار دیا جائے گا۔ ﴾
”فشانئ شان الانبياء مكفر ومن شك فيه كالاول ثان.“ ”انبیاء علیہم السلام کی شان میں تنقیص کرنے والے کی تکفیر کی جائے گی۔ اور جو اس میں شک کرے وہ بھی اسی کے پیچھے ہے۔ (اور کافر و مرتد ہے) ﴾
رابعاً: ان تمام امور سے قطع نظر لاہوری پارٹی کے سربراہ مسٹر محمد علی ایم اے نے اپنی تصانیف میں جن نظریات کا اظہار کیا ہے اور قرآن کریم کی آیات کی جس انداز سے کھلی تحریف کی ہے اور نصوص شرعیہ کو جس طرح مسخ کیا ہے۔ وہ ان کے الحاد و زندقہ کی کافی دلیل ہے۔ لاہوری پارٹی اپنے سربراہ کے نظریات سے متفق ہے۔ اس لئے بھی اس کا حکم مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا۔
نکتہ چہارم ... قادیانیوں کو ایک علیحدہ امت قرار دینے کا مطالبہ
فاضل جج مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تصریحات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:
’’اس سے ظاہر ہے کہ احمدی (مرزائی) مسلمانوں سے ایک الگ مذہب کے پیرو ہیں۔ اور علامہ اقبال نے اس وقت کی حکومت ہند کو بالکل درست مشورہ دیا تھا کہ اس طبقے (احمدیوں) کو مسلمانوں سے یکسر مختلف تصور کیا جائے اور اگر انہیں علیحدہ حیثیت دے دی گئی تو مسلمان ان کے ساتھ اسی رواداری سے پیش آئیں گے۔ جس کا مظاہرہ وہ دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے کرتے ہیں۔ لیکن ایک الگ طبقے کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا حق احمدیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت کریں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ
احمدیوں کو بھی صرف اس لئے اسلام کا ایک فرقہ تسلیم کر لیں کہ انہوں نے اپنے اوپر احمدی مسلم کا لیبل لگا رکھا ہے۔
(فیصلہ جیمس آباد اردو ص ٢٦ مطبوعہ مجلس ختم نبوت ملتان)
فاضل جج کا یہ ریمارک اور علامہ اقبال کا اس وقت کی انگلش گورنمنٹ کو مشورہ دینا کہ وہ مرزائی امت کو مسلمانوں سے ایک الگ اور جدا گانہ اقلیت قرار دے۔ دراصل ان عقائد ونظریات اور طرز عمل کا فطری اور منطقی نتیجہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت نے اختیار کیا۔ جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسلام کے قطعی اور مسلمہ عقیدہ ختم نبوت پر تاویل وتحریف کی ضرب لگا کر اپنے دعوائے نبوت کے لئے راستہ پیدا کیا۔ پھر قرآن مجید کی بے شمار آیات کی تحریف کر کے منصب نبوت پر سرفراز ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نئی نبوت کے نتیجہ میں ان تمام مسلمانوں کو جو اس نئی نبوت پر ایمان نہیں لائے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور ان سے تمام مذہبی ومعاشرتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا اور پھر یہ خالی دھمکی ہی نہیں بلکہ اس وقت سے آج تک مرزائی امت عملی طور پر بھی مذہب و معاشرت میں مسلمانوں سے کٹی ہوئی ہے۔
اب جبکہ مرزائی امت کے بقول: ”ان کا (یعنی مسلمانوں کا ) اسلام اور ہے اور ہمارا۔ اور ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔
(الفضل ٢١ اگست ١٩١٧ء تقریر میاں محمود ج ٥ نمبر ٦٥ ص ٨ کالم ١)
”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریمﷺ قرآن‘ نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج غرض آپ نے تفصیل سے بتایا ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔“
(الفضل قادیان ٣٠ جولائی ١٩٣١ء ج ١٩ نمبر ١٣‘ تقریر مرزا محمود)
ان کا اور مسلمانوں کا جب ہر چیز میں اختلاف ہے۔ مذہب ان کا الگ‘ نبی ان کا الگ‘ نماز روزہ ان کا الگ‘ عقائد ان کے الگ‘ معاشرت ان کی الگ۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ سیاسی طور پر ان کی مردم شماری مسلمانوں سے الگ نہ کی جائے اور ان کو مسلمانوں سے ایک الگ اقلیت قرار نہ دیا جائے۔
”علامہ اقبال نے برٹش گورنمنٹ کو یہ حقیقت پسندانہ مشورہ دیا تھا کہ وہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے ایک الگ اقلیت قرار دے۔ مگر برٹش گورنمنٹ کا مفاد اسی میں تھا کہ قادیانیوں کو
٢٦
مسلمانوں میں گھل مل کر انہیں دسیسہ کاریوں کا موقع دیا جائے۔ کیونکہ بقول فاضل جج ”مرزا غلام احمد قادیانی نے محض اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں میں انتشار و افتراق پھیلانے کا کھلا لائسنس حاصل کر لیا تھا۔“
(ایضا ص ٢٥)
اس لئے انگریز کسی قیمت پر بھی اپنے اس بنے بنائے کھیل کو بگاڑنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اب جبکہ انگریز کو رخصت ہوئے ربع صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ پاکستان کی مسلمان حکومت سے کیوں توقع نہ رکھی جائے کہ وہ مرزائی امت کو مسلمانوں سے ایک الگ ملت قرار دے۔ ہماری مسلمان حکومت کو مسلمانوں اور مرزائیوں میں کون سی چیز قدر مشترک نظر آتی ہے؟ اور ملک وملت کی وہ کون سی مصلحت ہے جس کی بنا پر مرزائیوں کے مسلمان ہونے پر اصرار کیا جائے؟ اور ملت اسلامیہ کا یہ معقول مطالبہ تسلیم نہ کیا جائے؟۔ خدا اور رسول کا وہ کون سا حکم ہے جو ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے باغیوں کو ہم اپنی سر آنکھوں پر جگہ دیں؟۔ حقائق مفروضات کے تابع نہیں ہوتے۔ کوئی مانے نہ مانے مگر وہ اپنا وجود منوا کر چھوڑتے ہیں۔ مرزائی مسلمانوں سے ایک الگ امت ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ آفتاب نصف النہار کا انکار کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کا انکار ممکن نہیں۔ ملت اسلامیہ کے لئے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ حضرت ختمی مآب ﷺ کے مقابل ایک اور نبی لاکر کھڑا کیا جائے اور پھر اس پر اصرار کیا جائے کہ ہم انہیں مسلمان بھی کہیں۔
نکتہ پنجم ... قادیانیوں کے غیر مسلم قرار پانے کے نتائج
فاضل عدالت نے قادیانی مدعاعلیہ کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے جو آخری نتیجہ قلمبند کیا ہے وہ یہ ہے کہ: ”اندریں حالات میں قرار دیتا ہوں کہ اس مقدمے کے فریقین کے درمیان شادی اسلامی شادی نہیں۔ بلکہ یہ سترہ سال کی ایک مسلمان لڑکی کی ساٹھ سال کے ایک غیر مسلم کے ساتھ شادی ہے۔ لہٰذا یہ شادی غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے۔“
(ایضا ص ٤٣)
مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدعیہ جو ایک مسلمان عورت ہے کی شادی مدعاعلیہ کے ساتھ جس نے شادی کے وقت خود اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے اور اس طرح جو غیر مسلم قرار پاتا ہے۔ غیر مؤثر ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔“
(ایضا ص ٤٤)
عدالت کے زیر غور چونکہ صرف ایک شادی کا مقدمہ تھا۔ اس لئے فاضل عدالت نے
٢٧
ایک قادیانی کو غیر مسلم (مرتد) قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ مسلمان لڑکی کے نکاح کو غیر منعقد قرار دیا۔ مگر اسی فیصلہ کی روشنی میں مسلمان یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ:
- الف....... قادیانی چونکہ غیر مسلم (مرتد) ہیں۔ اس لئے انہیں ایک غیر مسلم اقلیت
قرار دیا جائے۔
- ب....... انہیں کلیدی آسامیوں پر فائز کر کے مسلمانوں کے سر پر مسلط نہ کیا جائے۔
- ج....... انہیں ایک مسلمان کی حیثیت سے سیاسی حقوق سے متمتع ہونے کا موقع نہ
دیا جائے۔
- د....... انہیں تبلیغ اسلام کے ڈھونگ سے غیر ممالک میں مرزائیت پھیلانے کے لئے زر
مبادلہ نہ دیا جائے۔
- ہ....... انہیں آئندہ مسلمانوں کو گمراہ اور مرتد کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
- و....... انہیں اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ مسلمانوں کے بھیس میں حج
کو جائیں اور مکہ مدینہ اور مقامات مقدسہ کو اپنے قدموں سے ملوث کریں۔
آخر میں ایک بات ہم مسلمانوں سے بھی کہنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے عقائد و نظریات سے تمام مسلمان باخبر ہیں۔ ہمارے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ پنجاب کے بعض وکیل اور سیاست دان مرزائیوں کی پیروی اور حمایت کر رہے ہیں۔ تمام مسلمانوں کی دینی غیرت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی ایسے سیاسی لیڈر اور بیرسٹر کو منہ نہ لگائیں جو مرزائیوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہو اور نہ اس قسم کے شقی کو ووٹ دیں۔ رضا بالکفر کفر ہے۔ جو دل سے اس کفر کی تائید کرے اور دنیوی منافع کے لئے اس کو مسلمان ثابت کرے ایسا شخص خود اسلام کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان حق بجانب ہوں گے کہ یہ اعلان کریں کہ اس قسم کے وکلاء کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين . وصلى الله تعالى على خير خلقه صفوة البرية سيدنا محمد و آله واصحابه واتباعه اجمعين!
(شعبان ١٣٩٠ھ / اکتوبر ١٩٧٠ء)
٢٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مجلس تحفظ ختم نبوت کے تین امراء
کی وفیات پر تعزیتی شذرات
- ☆ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ
- ☆ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
- ☆ حضرت مولانا لال حسینؒ اختر
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم الله الرحمن الرحيم
تعارف!
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر (خامس) شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے امیر ثانی حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، امیر ثالث حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، امیر رابع حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کی وفیات پر انتہائی مختصر مگر جامع ماہنامہ بینات میں تعزیتی شذرات تحریر فرمائے جو یہ ہیں۔
(مرتب)
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ
١٢ رجب ١٣٨٦ھ مطابق ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء کو مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ رحلت فرما گئے۔ مرحوم وقت کے بہترین قادر الکلام خطیب تھے۔ نہایت پر اثر مقرر تھے۔ حاضر جواب تھے۔ بیک وقت منبر و محراب اور مدرسہ کی رونق تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے عرصہ تک صدر رہے۔ عرصہ دراز تک حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کے رفیق کار رہے۔ حضرت شاہ صاحب بخاریؒ کی محیر العقول خطابت کی بعض خصوصیات کے صحیح وارث تھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و علمبرداری نے ان کی زندگی میں وقار و عظمت اور عوام کے دلوں میں محبت پیدا کر دی تھی۔ مدارس دینیہ کے سالانہ جلسے ان کے دم سے با رونق تھے۔ ایسے با کمال آتش فشاں خطیب کی رحلت بڑا سانحہ ہے۔ مرحوم کی وفات سے جلسے افسردہ اور دینی اجتماعات پژمردہ ہو گئے۔ گلستان مجلس ختم نبوت کی ہزار دستان خوش نوا بلبل ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ قاضی صاحبؒ کی خدمات کو خلعت قبول سے نوازے اور ان کو ترقی درجات کا وسیلہ بنائے۔ بعارضہ سرطان جگر بیمار رہے۔ آخر جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ مرحوم کے جنازے میں ملتان، بہاولپور، لاہور، فیصل آباد کے ہزاروں بندگان خدا شریک ہوئے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
(محمد یوسف بنوریؒ، بینات شعبان ١٣٨٦ھ)
٢
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
٢٤؍ صفر ١٣٩١ھ ٢١؍ اپریل ١٩٧١ء بروز بدھ علمی و دینی دنیا کو ایک عظیم سانحہ پیش آیا۔ اس دن ظہر کے بعد چار بجے فون پر اطلاع ملی کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٤ بج کر بیس منٹ پر ملتان میں واصل بحق ہو گئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون!
حضرت مولانا جالندھری مرحوم دور حاضر کے علماء دین میں بڑی خوبیوں کے آدمی تھے۔ عالم عاقل، مدبر، ذکی، مجاہد، جفاکش، متواضع، باوقار اور انتھک جدوجہد کرنے والے انسان تھے۔ ان تمام علمی و دینی کمالات کے ساتھ نہایت منکسر المزاج اور خاموش طبع۔ لیکن بے مثل مقرر اور پرجوش خطیب تھے۔ جب کسی جلسہ گاہ کے اسٹیج پر تقریر شروع کرتے تو معلوم ہوتا کہ خاموش سمندر کی موجوں میں یکا یک بلا کا تلاطم شروع ہو گیا۔ تقریر نہایت مدلل ومؤثر ہوتی۔ موضوع سے باہر کبھی نہ جاتے۔ مخاطبین و سامعین کو سمجھانے کی فوق العادۃ قوت حق تعالیٰ نے عطاء فرمائی تھی۔ ٹھوس علمی مسائل کی تشریح اور مثالوں سے ذہن نشین کرانے میں اپنے عصر میں بے نظیر تھے۔ اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے جانثار، رد قادیانیت کے امام اور رفض و تشیع اور بدعت و الحاد کی تردید میں یکتا تھے۔ چار چار گھنٹے بے تکان بولتے تھے اور عوام و خواص میں یکساں مقبول تھے۔
مرحوم نے نصف صدی سے زیادہ بیش بہا دینی علمی اور سیاسی خدمات انجام دیں۔ عرصہ دراز تک امام الخطباء حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفیق کار رہے اور اس سے پہلے عرصہ تک حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے خیر المدارس میں دست راست رہے۔ ملتان میں مرکزی دفتر ختم نبوت کی ایک لاکھ کی شاندار عمارت یادگار چھوڑی جو دعوت و ارشاد کا مرکز اور مبلغین ختم نبوت کی تربیت گاہ ہے۔ اس کے علاوہ مغربی پاکستان میں ختم نبوت کے مراکز قائم کئے اور ان میں دفتر، ٹیلیفون اور مبلغین کا انتظام کیا۔
مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز فارغ التحصیل، امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے اور حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ سے بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ تیس سال قبل لاہور کی ایک کانفرنس میں جو جناب محمود خان لغاری کی کوشش سے ہورہی تھی مولانا مرحوم کی تقریر پہلی بار سنی اور وہیں حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کی تقریر سنی تھی۔
٣
پاکستان بننے کے بعد مختلف مجالس میں اور مجلس ختم نبوت کی شوریٰ کے متعدد اجتماعات میں انہیں نہایت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ بلاشبہ ان کی وفات موجودہ وقت میں جبکہ سر پر قادیانیت والحاد کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں امت اسلامیہ اور مسلمانان پاکستان کے لئے بڑا دردناک سانحہ ہے۔
ولم يكفها حتى قفتها مصائب
﴿آپ کی موت کے حادثہ میں کئی مصیبتیں جمع ہو گئیں ہیں اور اس کے بعد تو گویا لگا تار مصائب پر مصائب شروع ہو گئے۔﴾
حق تعالیٰ کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے۔ علمی و دینی دور ختم ہوتا رہا ہے اور جہل و بے دینی کا دور بڑی سرعت سے آ رہا ہے۔ وإلى الله المشتکى! حق تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت ورضوان کے اعلیٰ مقام پر فائز فرما کر جنت الفردوس نصیب فرمائے۔ ان کی تمام زلات وسیئات معاف فرمائے اور جدید نسل اور ان کے اخلاف کو ان کی جانشینی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(محمد یوسف بنوری، بینات ربیع الثانی ١٣٩١ھ)
حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
٩ جمادی الاولیٰ ١٣٩٣ھ کو جناب مولانا لال حسین اخترؒ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کا انتقال ہوا۔ مرحوم نے نوعمری میں ہی مرزائیت سے تائب ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتیں رد مرزائیت میں نہایت اخلاص واستقلال سے صرف کیں۔
انگریزی، عربی، اردو تینوں زبانوں میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ یورپ اور آسٹریلیا میں بھی بے نظیر خدمتیں انجام دیں اور مرزائیت اور عیسائیت کی بیخ کنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اکابر کی دعاؤں نے ان کی خدمات میں مزید رنگ قبولیت عطا فرما دیا تھا۔
(محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ، بینات جمادی الثانی ١٣٩٣ھ)
٤
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
تحریک ختم نبوت اور
اس کے بعد قادیانی فتنہ کی صورت حال
- مسئلہ ختم نبوت اور پاکستان
- حادثہ ربوہ
- قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ
- قادیانیت کے خلاف اہل پاکستان کا شدید ردعمل
- تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا طریق کار
- کامیابی پر سپاس و تشکر
- دورہ انگلستان
- قادیانیوں کا غیر مسلم کہلوانے سے انکار
- قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں
- قادیانیت اور عالم اسلام
- انٹرویو
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف!
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ١٩٧٤ء میں عالمی تحفظ ختم نبوت کے امیر منتخب ہوئے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر تھے۔ آپ کی قیادت باسعادت میں پوری پاکستانی قوم نے فتنہ قادیانیت کے خلاف آئینی جدوجہد میں مثالی کامیابی حاصل کی۔ اس زمانہ میں ضرورت کے تحت گاہے بگاہے تحریک ختم نبوت کے حالات اور قادیانی فتنہ کے تعاقب میں آپ کے رشحات قلم ماہنامہ بینات کراچی میں شائع ہوتے رہتے تھے۔ عنوان بالا سے ان سب کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ (مرتب)
مسئلہ ختم نبوت اور پاکستان
پاکستان کی بنیاد لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ! پر رکھی گئی تھی اور خدا تعالیٰ سے عہد اور قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اس میں اسلام کا عادلانہ نظام قائم کیا جائے گا۔ یہاں کی حکومت خلافت راشدہ کا نمونہ ہوگی۔ مسلمانوں کی انفرادی واجتماعی زندگی اسلام کی جیتی جاگتی تصویر ہوگی۔ یہ ملک عالم اسلام کے لئے ایک مثالی نمونہ ہوگا اور اسلامی فلاحی مملکت قائم کر کے پوری دنیا پر واضح کیا جائے گا کہ اگر راحت وسکون کی زندگی مطلوب ہے تو خدا تعالیٰ کے آخری پیغام کو اپناؤ جو حضرت خاتم النبیینﷺ لے کر آئے وغیرہ وغیرہ۔ مگر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ عیاں راچہ بیان!
بدقسمتی سے آزادی کے بعد پے در پے ایسے حکمران آئے جنہوں نے ملت اسلامیہ کے احتجاجی ضمیر میں جھانکنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی۔ نئے اسلامی ملک اور نئی قوم کے تقاضے کیا ہیں؟۔ ملت اسلامیہ کی تشکیل کن عناصر سے ہوتی ہے؟۔ اس کے حقیقی خدوخال کیا ہوتے ہیں؟۔ جس قوم نے خدا اور رسول کے نام پر انہیں اسلامی ملک کی مسند اقتدار پر فائز کیا ہے۔ وہ ان سے کیا کیا توقعات رکھتی ہے؟۔ ان سوالات پر غور انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں یا شاید وہ اس کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے سامنے دور غلامی کا پامال راستہ تھا۔ جس پر وہ رواں دواں
٢
تھے۔ وہی آئین و قانون، وہی حکمرانی کے اصول اور پیمانے، وہی جبر و استبداد اور مطلق العنانی، وہی افسر شاہی کی نازک مزاجی جو لوگ انگریز دشمنی کی بناء پر دور غلامی میں خطرناک سمجھے گئے ۔ وہ اپنے اخلاص وللہیت، قومی خدمات اور حب الوطنی کے باوجود ان نئے حکمرانوں کی لغت میں بھی خطرناک اور معتوب ہی رہے اور ان پر سی آئی ڈی کا پہرہ بدستور رہا اور جن لوگوں کی تخم ریزی اور نشو و نما انگریز نے اپنے مخصوص مصالح کے لئے کی تھی ۔ وہ اسلامی ملک میں بھی برسر اقتدار معزز اور معتمد علیہ رہے۔
اگر ان حکمرانوں میں معمولی سی بات ، دینی حس یا کم از کم صحیح سیاسی بصیرت ہی موجود ہوتی تو دور غلامی کے نوکر شاہی ذہن کو بدل کر نئے ملک کے لئے نئے تقاضوں کو سمجھتے ۔ امت مسلمہ کی نفسیات کا مطالعہ کرتے اور مسلمانوں کے وہ متفقہ اجتماعی و ملی مسائل جنہیں شدید مطالبوں کے باوجود انگریز کی حکومت نے لائق توجہ نہیں سمجھا تھا ۔ بغیر کسی تقاضے کے خود آگے بڑھ کر انہیں حل کرتے ۔ اگر انہوں نے اس فہم و تدبر اور مسلمانوں سے ہمدردی و بہی خواہی کا مظاہرہ کیا ہوتا تو بے چینی کی فضا ختم ہو جاتی ۔ ملت کا شیرازہ مستحکم ہو جاتا اور دنیا کی نیک نامی کے ساتھ آخرت کی سعادت بھی ان کے حصہ میں آتی ۔
مگر یہاں ہوا یہ کہ جب بھی مسلمانوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو دفع الوقتی سے کام لیا گیا اور شدت سے مطالبہ ہوا تو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا گیا۔ معاملہ بے قابو نظر آیا تو گولہ بارود سے جلیا نوالہ باغ کی یاد تازہ کر ڈالی اور اپنی ہی قوم کو اقتدار کی طاقت سے کچل ڈالا گیا۔ نتیجہ یہ کہ حکمران خود تو بصد ذلت و رسوائی کیفر کردار کو پہنچے ہی ۔ مگر ان کی غلط اندیشی اور کم ظرفی نے ملک کو تباہ کر ڈالا ۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ پاکستان کا مقصد وجود ظہور پذیر نہ ہو سکا۔ بلکہ ہم الٹی سمت سفر کرتے کرتے کہیں سے کہیں جا نکلے۔ چنانچہ ایک مدت سے ہم شک و تذبذب، افرا تفری و بدامنی اور بے یقینی و بے چینی کے لق و دق بیابانوں میں بھٹک رہے ہیں ۔ آج ہمارے سامنے مسائل کا جنگل ہے ۔ مگر ہم میں سے ہر شخص جس کے منہ میں زبان اور ہاتھ میں قلم ہے ۔ وہ اپنے سوا ہر شخص کو وطن دشمن اور غدار کا خطاب دے کر یہ فرض کر لیتا ہے کہ مسائل کا یہ جنگل اس خطاب غداری کی چنگاری سے خود بخود بھسم ہو جائے گا۔ ملک دو نیم ہو چکا ہے اور بقیۃ السلف پر بیرونی سازشوں کے کرگس منڈلا رہے ہیں ۔ مگر ہمارے زعما باہم دست و گریبان ہیں ۔ سوچنا چاہئے کہ ان حالات میں اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
٣
عقیدہ ختم نبوت کو تسلیم کئے بغیر پاکستان قائم نہیں رہ سکتا
کسی عمارت کی بنیادیں کھود کر انہیں اپنی جگہ سے ہٹا دینا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ عمارت جوں کی توں قائم رہے گی ایک مجنونانہ حرکت ہے۔ ملت اسلامیہ کا شیرازہ حضرت ختمی مآب ﷺ کی ذات عالی سے قائم ہے اور یہی وجود پاکستان کا سنگ بنیاد ہے۔ جو شخص اس سے انحراف کرتا یا اسے منہدم کرتا ہے۔ وہ اسلام ملت اسلامیہ اور پاکستان تینوں سے غداری کا مرتکب ہے۔ ایک ایسے شخص سے جو ملک وملت کی جڑوں پر تیشہ چلا رہا ہو۔ کسی مفید تعمیری خدمت کی توقع رکھنا خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے۔ جو شخص رحمت عالم ﷺ کا وفادار نہ ہو وہ ملک وملت کا وفادار کیونکر ہوسکتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ملت اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر کبھی برداشت نہیں کرسکا کہ آنحضرت ﷺ کے بجائے کسی اور شخص کو محمد رسول اللہ ﷺ اور رحمت اللعالمین کی حیثیت سے کھڑا کیا جائے اور اس کے لئے وہ تمام حقوق ومناصب اور آداب والقاب تجویز کئے جائیں۔ جو مسلمانوں کے مرکز عقیدت ﷺ کے ساتھ مختص ہیں۔ بایں ہمہ یہ اصرار بھی کیا جائے کہ وہ مسلمان ہے۔ ملک وملت کا وفادار ہے اور مسلمانوں کو اس پر اعتماد کرنا چاہئے۔
ایک ناگہانی حادثہ اور اس کے اثرات
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کا سانحہ قوم کے لئے ایک ناگہانی حادثہ تھا۔ جس نے قوم کو طویل خواب غفلت سے اچانک جگا دیا۔ جذبات کے سوتے ابل پڑے اور ملک بھر میں اس کا شدید ردعمل رونما ہوا۔ قومی جذبات کو نظم وضبط کا پابند رکھنے اور انہیں اجتماعیت کے دائرے میں لانے کے لئے ایک ایسی مجلس عمل کی تشکیل ناگزیر ہوئی جو ملک بھر کی دینی وسیاسی جماعتوں کی نمائندہ ہو۔ یہ بات بڑی خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ موجودہ عوامی حکومت نے بھی قوم کے ملی جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان کے مطالبہ پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا ہے اور اس کے لئے قومی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی تجویز کردی گئی۔ توقع ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک کمیٹی کے غور وفکر کا کوئی واضح نتیجہ سامنے آچکا ہوگا۔ کمیٹی کی کارروائی کے پیش نظر ملک میں قادیانی مسئلہ کے بارے میں اظہار خیال پر پابندی عائد ہے۔ اس لئے ہم بھی اس مسئلہ کے اعتقادی، مذہبی سماجی ومعاشرتی اور سیاسی واقتصادی پہلوؤں سے تعرض نہیں کرتے۔ البتہ تمام اہل وطن سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ بہت نازک وقت ہے۔ پوری قوم کے امتحان کا موقعہ ہے۔ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ نظم وضبط کو برقرار رکھیں اور ملک میں امن وامان کا مسئلہ ہرگز پیدا نہ ہونے دیں۔ بلکہ جائز حدود کے اندر رہتے
٤
ہوئے اپنی آواز متعلقہ افراد تک مسلسل پہنچاتے رہیں۔ تا آنکہ مسئلہ کے اطمینان بخش حل کی صورت نکل آئے۔
ملک وملت کے بدخواہ قادیانی اس موقعہ پر نہ صرف خفیہ ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں ۔ بلکہ اس کوشش میں بھی ہیں کہ اشتعال انگیزی کے ذریعے حالات مخدوش کر دیئے جائیں۔ مختلف ذرائع سے مطبوعہ لٹریچر مسلمانوں کے گھروں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ گذشتہ دنوں لاکھوں روپے کے بڑے بڑے اشتہار تقریباً تمام اخبارات میں مسلسل کئی دن تک شائع ہوتے رہے۔ جن کا مقصد اشتعال دلانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کس دماغ کی اختراع تھے۔ ان کے لئے سرمایہ کس نے مہیا کیا اور جس انجمن کا فرضی نام غلط طور پر استعمال کیا گیا۔ ہم اس کے ارکان سے بھی متعارف ہیں۔ بہر حال ہماری اپیل یہی ہے کہ مسلمانوں کو پرامن رہنا چاہئے۔
غیر مسلموں سے مقاطعہ (سوشل بائیکاٹ)
ان دنوں یہ شرعی مسئلہ خاص طور سے زیر بحث ہے اور اس سلسلہ میں بار بار سوال کیا جاتا ہے کہ کیا کسی غیر مسلم سے مقاطعہ جائز ہے؟ ۔ یہاں اس پر مفصل بحث کی گنجائش نہیں۔ مختصر یہ کہ کسی کافر سے موالات اور دوستی کا برتاؤ تو کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ نہ انہیں ملی مشوروں میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ نہ ملک کی پالیسیوں میں انہیں دخیل بنایا جاسکتا ہے۔ نہ کسی کافر کو کسی کلیدی اسامی پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ رہا لین دین اور میل جول کا سوال؟ ۔ تو کافر اگر حربی یا باغی ہو ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں برسرپیکار ہو اور اس سے لین دین کا معاملہ مسلمانوں کے حق میں مضر ہو تو اس سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر لینا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ آنحضرت ﷺ کا قریش کی ناکہ بندی کرنا سیرت نبوی کا معروف واقعہ ہے۔ اسی طرح حضرت ثمامہ بن اثال کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ انہوں نے کافروں کی رسد روک کر ان کا ناطقہ بند کر دیا تھا اور جب تک کافروں نے بارگاہ اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر معذرت اور منت و سماجت نہیں کی ان کی رسد بحال نہیں ہوئی۔ قرآن کریم میں اجمالاً اور بخاری شریف میں تفصیلاً حضرت کعب بن مالک اور ان کے رفقاء کے مقاطعہ کا عبرت آموز قصہ بھی موجود ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ سنگین موقعہ پر تادیب اور سرزنش کے لئے بعض اوقات ایک مسلمان سے بھی مقاطعہ صحیح ہے۔ یہ تو کفار ہیں اور بعض اوقات مسلمانوں سے مقاطعہ کا مسئلہ تھا اور جو شخص دین اسلام سے العیاذ باللہ ! منحرف ہو کر مرتد ہو گیا ہو ۔ اس کے ساتھ تو کسی نوع کا بھی تعلق قطعا جائز نہیں۔ یوں بھی اسلامی غیرت اس کو برداشت نہیں کرتی کہ باغیان اسلام کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ رکھا جائے ۔ایسے موقعوں پر عموماً انسانی ہمدردی اور
٥
اسلامی رواداری کی اپیل کی جاتی ہے۔ مگر کون نہیں جانتا کہ انسانی ہمدردی اور رواداری کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ بعض اوقات جرم کی نوعیت ہی کچھ اتنی سنگین ہوتی ہے کہ انسانی ہمدردی اور رواداری کے سب پیمانے ٹوٹ جاتے ہیں اور رحم کی اپیل مسترد کر دی جاتی ہیں۔ یہ ہمارے سامنے روزمرہ کے واقعات ہیں۔ ارتداد اسلام کی نظر میں بدترین جرم ہے۔ کیونکہ وہ بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ اس لئے مرتد کے معاملہ میں انسانی ہمدردی اور رحم کی کوئی اپیل اسلام کی عدالت میں لائق التفات نہیں۔ تاوقتیکہ مجرم اپنے جرم بغاوت سے باز نہ آجائے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عکل اور عرینہ کے چند افراد نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مرتد ہو کر انہوں نے صدقات کے اونٹوں پر قبضہ کر لیا اور راعی کو قتل کر ڈالا تھا۔ پکڑے گئے۔ آنحضرت ﷺ نے قصاص میں ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا کر انہیں چلچلاتی دھوپ میں ڈلوایا۔ وہ پیاس کی شکایت کرتے تو پانی تک نہ دیا جاتا۔ بالآخر اسی طرح تڑپ تڑپ کر اپنے انجام کو پہنچے۔ سوال ہو گا کہ ان کے معصوم بچوں کا کیا قصور ہے؟۔ مگر اس کا خود رسول اللہ ﷺ جواب دے چکے ہیں۔ چنانچہ عرض کیا گیا کہ کافروں کی بستی پر رات کی تاریکی میں حملہ کیا جائے تو ان کے بچے بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ فرمایا (هم من آبائهم) وہ بھی تو کافروں کے ہی بچے ہیں۔ یعنی جو حکم کافروں کا ہے وہی کافروں کے بچوں کا۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
بعض لوگوں کی جانب سے یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ مجلس عمل میں چونکہ دینی و سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ لہذا یہ سیاست بازی ہے۔ حالانکہ ملک بھر کی جماعتوں کا کسی ایمانی مسئلہ پر متفق ہو جانا صرف ایمانی تقاضہ ہے۔ اسے سیاست سے کیا تعلق؟۔ بلاشبہ یہ تمام امت مسلمہ کا مشترک سرمایہ ہے۔ جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی تفریق ہی غلط ہے۔ خود وزیر اعظم برملا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ منکرین ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اس لئے یہ ذمہ داری تو سب سے بڑھ کر بااقتدار جماعت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے ایک قطعی اور بنیادی مسئلہ میں مسلمانوں کو مطمئن کرے۔ اندریں صورت اس مسئلہ کے تقدس کو سیاسی الزام سے مجروح کرنا نہایت افسوسناک بے انصافی ہے۔
(رجب المرجب ١٣٩٤ھ، اگست ١٩٧٤ء)
قادیانیت کے خلاف اہل پاکستان کا شدید ردعمل
کسے کیا معلوم تھا کہ ربوہ (چناب نگر) کا واقعہ ایک عظیم انقلاب کا ذریعہ بن جائے گا اور انتہائی ناکامیوں اور مایوسیوں کے بعد پاکستان کی سرزمین ایک عظیم نعمت سے مالا مال ہو گی اور
٦
کا کام ستائیس (٢٧) برس میں نہ ہو سکا وہ تین ماہ کے قلیل عرصہ میں انجام پذیر ہو گا۔
برطانیہ کی اسلام دشمنی
برطانیہ کی اسلام دشمنی ضرب المثل ہے۔ محتاج بیان نہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو جب شکستوں پر شکستیں ہونے لگیں اور اسے شدید خطرہ لاحق ہو گیا کہ انگلستان کو بچانے کے لئے اگر پوری طاقت جمع نہ کی گئی تو صفحۂ عالم سے مٹ جائے گا۔ ان حالات کی وجہ سے وہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم پر آمادہ ہو گیا۔ جبکہ مسلمانوں کی عظیم الشان اکثریت تقسیم ملک کا مطالبہ کر رہی تھی۔ انگریز کو برصغیر سے بوریا بستر لپیٹنا پڑا تو جاتے جاتے پاکستان کو لنگڑا لولا بنانے کے لئے ایک سازش کر گیا۔ صوبہ بنگال مسلم اکثریت کا صوبہ تھا اور پنجاب میں بھی مسلم اکثریت تھی۔ تقسیم ہند کے طے شدہ اصول کے مطابق یہ دونوں صوبے پورے کے پورے پاکستان کے حصے میں آتے تھے۔ لیکن انگریز نے ان دونوں کی تقسیم کی شکل نکالی۔ چنانچہ دونوں صوبوں کی تقسیم مسلم اکثریت کی حیثیت سے وجود میں لائی گئی۔ یہ برطانیہ کی مسلمانوں کے ساتھ پہلی غداری تھی۔ ہندو کو خوش کیا اور مسلمانوں پر ظلم کیا۔ اس موقعہ پر چاہئے تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت کی طاقت اس جدید منطق کو ٹھکرا دیتی۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور ہماری غفلت یا تغافل سے دشمن نے فائدہ اٹھایا۔ پھر بنگال اور پنجاب دونوں کو تقسیم کرنے کے بجائے مناسب صورت یہ تھی کہ مشرقی بنگال کے بدلے پاکستان کو مشرقی پنجاب دے دیا جاتا۔ تا کہ روز روز کے جھگڑے نہ ہوتے اور پاکستان کے دونوں حصوں میں ایک ہزار میل کا غیر فطری فاصلہ حائل نہ ہوتا جس کی وجہ سے ہمیں ١٩٧١ء میں روز بد دیکھنا پڑا۔ لیکن افسوس یہ بھی نہ ہو سکا اور یہ انگریز کی دوسری غداری و مکاری تھی۔ پھر جو کمیشن تقسیم پنجاب کے لئے مقرر ہوا اس میں بھی برطانوی کمیشن نے غداری کی کہ مشرقی پنجاب کے وہ حصے جو پاکستان میں آنے والے تھے اور جو پاکستان کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ہندوستان کے نقشے میں ملائے گئے۔ چنانچہ قادیان، پٹھان کوٹ وغیرہ کے خطے پاکستان کا حق تھے۔ مگر برطانیہ اور ان کے گماشتوں (قادیانی) کی سازش سے بھارت میں چلے گئے۔ جس کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا اور آج تک عقدۂ لاینحل بنا ہوا ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ برطانیہ کی تیسری غداری اور سازش تھی۔ پھر برطانیہ نے سر ظفر اللہ خان قادیانی کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کرانے پر اصرار کیا۔ اس نے سات سال کے عرصۂ وزارت میں پاکستان کے اندر اور باہر قادیانیوں کی جڑوں کو خوب مضبوط کیا۔ اس کے دور وزارت میں پاکستان کے بیرونی سفارت خانوں میں چن چن کر قادیانی بھیجے گئے اور وہ قادیانی مشن کے طور پر کام کرتے رہے اور
٧
یہ چوتھا خنجر تھا جو انگریز نے مسلمانوں کے سینے میں ایسا گھونپا کہ اس کا نکالنا مشکل ہو گیا۔
ربوہ ایک نیا قادیان
پاکستان میں ایک نیا قادیان بسانے کے لئے ایک علیحدہ خطہ ربوہ کے نام سے پاکستان میں حاصل کیا گیا اور اس کے لئے اس وقت کے انگریز گورنر پنجاب نے خاص کارنامہ یہ انجام دیا کہ پاکستان کے قلب میں ایک وسیع خطہ قادیانی ریاست کے لئے مخصوص کر دیا اور ربوہ کے قادیانیوں کو ایسی آزادی دی گئی کہ عملاً پاکستان کی حکومت وہاں نہیں تھی۔ گویا پنجاب میں اس کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت حاصل تھی۔ جسے ریاست در ریاست کہنا صحیح ہوگا۔ تبلیغ اسلام کے نام پر دولاکھ سالانہ زرمبادلہ قادیانی وصول کرتے رہے جس کے ذریعہ مشرقی افریقی ممالک میں وسیع پیمانے پر مرزائیوں نے اپنے مبلغ بھیجے اور ارتداد کا جال پھیلایا۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی یہودی حکومت سے حکومت پاکستان کا کوئی تعلق اور رابطہ نہیں تھا۔ مگر مرزائیوں نے ان کے مرکز تل ابیب اور حیفہ میں مراکز قائم کئے اور اس طرح برطانیہ کا خودکاشتہ پودا نہ صرف پاکستان میں بلکہ تمام اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں بھی ایک تن آور درخت بن گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سکندر مرزا اور ایوب کی غفلتوں یا غداری کی وجہ سے پاکستان کے کلیدی مناصب پر مرزائی چھا گئے۔ اس طرح مٹھی بھر مرزائی پاکستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔ حکومت نے محکمہ اوقاف کے ذریعہ سے مسلمانوں کے تمام اوقاف وقف ایکٹ کے ماتحت قبضہ میں لے لئے۔ لیکن قادیانی مرزائیوں کے اوقاف کو ہاتھ نہیں لگایا گیا جس کے ذریعہ نہ صرف ان کی مالی حیثیت اور قوی ہو گئی۔ بلکہ ان میں خودمختار ریاست کا تصور شدت سے ابھرا۔ علاوہ اس کے بین الاقوامی سطح پر دشمنان اسلام اسرائیل و برطانیہ وغیرہ کی جانب سے ان کی جو خفیہ اعانت ہوتی رہی اور سر ظفر اللہ نے تین سالہ زندگی میں اقوام متحدہ کی نمائندگی کے دوران باہر کی دنیا میں مرزائیت کی جڑوں کو جو مضبوط کیا وہ اس پر مستزاد ہے۔ جس سے مرزائیوں کو اپنی بین الاقوامی پوزیشن کے مضبوط ہونے کا گھمنڈ ہونے لگا۔ الغرض ان متعدد عوامل کے تحت یہ فتنہ روز بروز قوی تر ہوتا گیا۔ جس کی تفصیلات حیرت ناک بھی ہیں اور درد ناک بھی۔
تحریک ختم نبوت
١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت چلی۔ لیکن افسوس اور صد افسوس کہ خواجہ ناظم الدین جیسے دیندار اور حاجی، نمازی کے زمانے میں مسلمانوں کی یہ مقدس تحریک سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی۔ سینکڑوں ہزاروں مسلمانوں کی خونریزی ہوئی۔ ان کی لاشوں کو نذر آتش کیا گیا۔ دریائے راوی
٨
کی لہروں کے سپرد کر دیا گیا۔ مسلمانوں پر وہ مظالم ڈھائے گئے جو رنجیت سنگھ کے زمانے میں نہیں ہوئے تھے اور اس طرح مسلمان حکمرانوں کے ذریعہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور تحریک کو کچل کر رکھ دیا گیا۔ لیکن ان شہدائے ختم نبوت کی روحیں تڑپتی ہوئی بارگاہ الٰہی میں پہنچیں اور انہوں نے رحمت الٰہی کے دروازے کھٹکھٹائے۔ آخر ربوہ کا حادثہ پیش آیا اور انجام وہی ہوا جس کی ضرورت تھی اور اگر روزِ اوّل سے یہ صورت اختیار کی جاتی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کا قصہ پاک کر دیا جاتا تو یہ خونچکاں صورت حال پیدا نہ ہوتی۔
حادثہ ربوہ اور اس کے نتائج
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ کا حادثہ پیش آیا اور حالات نے نازک صورت اختیار کی۔ مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے اور حکومت نے بروقت صحیح قدم نہیں اٹھایا۔ ٣ جون ١٩٧٤ء کو پنڈی میں علماء کرام اور مختلف فرقوں کا نمائندہ اجتماع ہوا۔ اس کو بھی ناکام بنانے کے لئے تین مندوبین مولانا مفتی زین العابدینؒ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ اور مولانا تاج محمود کو لالہ موسیٰ کے اسٹیشن پر روک کر ٹرین سے اتار لیا گیا۔ ٣ جون کے اجتماع کو ناکامی سمجھ کر ٩ جون کو راقم الحروف کی طرف سے لاہور میں اجتماع رکھا گیا اور تمام اسلامی فرقوں اور جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے تمام فرقے اور جماعتیں دیوبندی، بریلوی، اہل سنت، شیعہ، اہلحدیث، مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اسلامی وغیرہ وغیرہ شریک ہوئیں۔ بیس (٢٠) جماعتوں کا نمائندہ اجتماع ہوا راقم الحروف نے مختصر سی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارا یہ اجتماع اس وقت صرف ایک دینی عقیدہ کی حفاظت کے لئے ہے۔ یہ اجتماع ختم نبوت کے مسئلہ پر ہے۔ اس کا دائرہ آخر تک محض دینی رہے گا۔ سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہئے جو سیاسی حضرات اس میں شامل ہیں ان کا مطمح نظر دین ہی ہوگا اور حزب اقتدار و حزب اختلاف کی کش مکش سے بالاتر ہوگا۔
تحریک ختم نبوت کا طریق کار
ختم نبوت کی تحریک کا طریق کار نہایت پرامن ہوگا اور اسے تشدد سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ اگر کوئی مزاحمت ہوئی یا تکلیف پیش آئی تو دین کے لئے اس کو برداشت کرنا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا۔ مظلوم بن کر رہنا ہوگا اور ہمارے مد مقابل صرف مرزائی امت ہوگی۔ حکومت نہ ہوگی۔ ہم حکومت کو ہدف بنانا نہیں چاہتے۔ اگر حکومت نے ان کی حفاظت یا ان کی حمایت میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس وقت مجلس عمل کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ابھی قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں۔ اس
٩
کے بعد مولانا مفتی محمودؒ نے تائیدی تقریر فرمائی۔ پھر جناب نوابزادہ نصراللہ خانؒ اور دیگر مختلف نمائندوں نے تقریریں کیں۔ تحریک کو نظم وضبط کے تحت رکھنے کے لئے ایک مجلس عمل وجود میں آئی اور راقم الحروف کو عارضی طور پر اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ میری آرزو اور خواہش یہی تھی کہ آئندہ اجتماع میں مجھے اس بوجھ سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کی گئی اور ١٤/جون ١٩٧٤ء کو ملک میں مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔ اسی کے ساتھ امتِ مرزائیہ سے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دوران وزیر اعظم بقصد مذاکرات لاہور میں قیام پذیر ہوئے۔ مجلس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر وزیر اعظم کی جانب سے ملاقات اور مذاکرات کی دعوت دی گئی۔ خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی اسے قبول کر لینا چاہیے کہ شاید افہام وتفہیم سے کوئی راستہ نکل آئے۔
١١ جون ١٩٧٤ء کو وزیر اعظم بھٹو نے مجھے ملاقات کے لئے بلایا اور بعد میں مجلسِ عمل کے دیگر افراد کو یکے بعد دیگرے فرداً فرداً بلایا۔ راقم الحروف نے بہت صفائی اور سادگی کے ساتھ واضح اور غیر مبہم الفاظ میں جو کچھ کہا اس کا حاصل یہ تھا کہ:
’’قادیانی مسئلہ بلاشبہ پاکستان کے روزِ اوّل سے موجود ہے۔ پہلی غلطی اس وقت ہوئی جب ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ شہیدِ ملت (خان لیاقت علی خان مرحوم) کو اس خطرناک غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا عزم کر لیا تھا۔ لیکن افسوس کہ وہ شہید کر دئیے گئے اور ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ عزم ہی ان کی شہادت کا سبب ہوا ہو۔ اس وقت جو جرأت مرزائیوں کو ہوئی ہے اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دئیے گئے۔ تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی جان و مال کی حفاظت حکومت کے لئے مشکل ہو گی۔ اقلیت قرار دئیے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ذمی کی ہو گی اور ان کی جان و مال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہو گی۔ اس طرح ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔ میں مانتا ہوں کہ آپ پر خارجی غیر اسلامی حکومتوں کا دباؤ ہو گا۔ لیکن اس کے بالمقابل ان اسلامی ممالک کا تقاضا بھی ہے کہ ان کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جن ممالک سے ہمارے اسلامی تعلقات بھی ہیں اور ہر قسم کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ خارجی دنیا میں غیر اسلامی حکومتوں کے بجائے اسلامی مملکتوں کو مطمئن اور خوش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز ایک معمولی سی اقلیت کو خوش کرنے کے لئے اتنی بڑی اکثریت کو غیر مطمئن کرنا دانشمندی نہیں۔ اگر آپ حق تعالیٰ پر توکل و اعتماد کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ فرمائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں
١٠
کر سکتی اور اس راستہ میں موت بھی سعادت ہے۔ غلام محمد ،سکندر مرزا اور ایوب خان کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور شہید ملت شہید ملت ہو گئے۔“
الغرض گفتگو بہت طویل تھی۔ میں ٹھیک ٣٢ منٹ تک بولتا رہا۔ درمیان میں ایک آدھ سوال وزیر اعظم صاحب نے کیا جس کا جواب شافی فوراً دے دیا گیا اور ان کو خاموش ہونا پڑا۔ بقیہ حضرات نے بھی فرداً فرداً ملاقات کی اور اپنے تاثرات پیش کئے۔ ١٣ جون کو وزیر اعظم صاحب نے اردو میں لمبی تقریر کی جو ریڈیو پر نشر ہوئی۔ جس میں حادثہ ربوہ پر ایک حرف بھی نہیں فرمایا۔ البتہ ختم نبوت پر اپنا ایمان ظاہر فرمایا کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ بہت پرانا ہے۔ اتنا جلد کیسے حل ہو سکتا ہے؟ ۔ ١٤ جون ١٩٧٤ء کو درہ خیبر سے کراچی تک اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملے گی۔
١٦ جون کو راقم الحروف نے فیصل آباد میں اجتماع رکھا تھا جس میں وزیر اعظم صاحب کی تقریر پر تبصرہ ہوا اور تنقید کی گئی کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کے مطالبہ سے کچھ زیادہ ہمدردی کا ثبوت نہیں دیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ نیشنل اسمبلی میں صرف ایک قرار داد پیش کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اور پھر اس قرار داد کو سپریم کورٹ یا مشاورتی کونسل کے حوالے کر کے سرد خانے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرار داد خواہ صوبائی اسمبلی کی ہو یا قومی اسمبلی کی۔ آئینی طور پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کی حیثیت صرف ایک مشورے اور سفارش کی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے ملی مطالبہ کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ جلد سے جلد آئین اور دستور میں واضح طور پر ختم نبوت پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا جائے۔ اور جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اسے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔ اور نیشنل اسمبلی میں ترمیمی بل اس مقصد کے لئے پاس کرایا جائے۔ وزیر اعظم صاحب چونکہ اکثریت کے لیڈر بھی ہیں اس لئے ان پر سب سے پہلے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے ارکان کو اس مسئلہ میں آزاد نہ چھوڑیں۔ بلکہ انہیں ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مامور و مجبور کریں۔ نیز مسئلہ کی اہمیت اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کا تقاضا یہ ہے کہ بجٹ سیشن کو ملتوی کر کے سب سے پہلے اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔
مجلس عمل کے لاہور کے اجلاس میں راقم الحروف کو مجلس کا عارضی صدر مقرر کیا گیا۔
میری خواہش تھی کہ اس نازک ذمہ داری کے لئے کسی اور موزوں شخصیت کو صدارت کے لئے منتخب کر لیا جائے گا مگر :
اب کہ مجلس عمل کا مستقل صدر پھر راقم الحروف کو باتفاق حاضرین منتخب کیا گیا۔ بہر حال یہ طے کیا گیا کہ پرامن طریقے پر تحریک کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے پوری جدوجہد کی جائے اور قادیانیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔ اور تحریک کو سول نافرمانی سے بہر قیمت بچایا جائے۔ ادھر مجلس عمل کی پالیسی تو یہ تھی کہ حکومت سے تصادم سے بہر صورت گریز کیا جائے۔ ادھر حکومت نے ملک کے چپے چپے میں دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی۔ پریس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ انتظامیہ نے اشتعال انگیز کارروائیوں سے کام لیا اور مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا چنانچہ سینکڑوں اہل علم اور طلبہ کو گرفتار کیا گیا انہیں ناروا ایذائیں دی گئیں۔ کبیر والا، اوکاڑہ، سرگودھا، فیصل آباد، کھاریاں ضلع گجرات وغیرہ میں دردناک واقعات رونما ہوئے۔ جن کو مظلومانہ صبر کے ساتھ برداشت کیا گیا۔ صرف ایک شہر اوکاڑہ میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر بارہ دن مکمل اور مسلسل ہڑتال ہوئی۔ اسی سے اندازہ کیجئے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر کتنا ظلم اور اس کے خلاف احتجاج ہوا؟۔ جگہ جگہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ اشک ریز گیس کا استعمال بڑی فراخدلی سے کیا گیا۔ مجلس عمل کی تلقین تمام مسلمانوں کو یہی تھی کہ صبر کریں اور مظلوم بن کر حق تعالیٰ کی رحمت اور غیبی تائید الٰہی کے منتظر رہیں۔ قریباً پورے سو دن تک ان حالات کا مقابلہ کیا گیا۔ اور تمام سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔ جن کی تفصیل کی ان اوراق میں گنجائش نہیں۔
جناب وزیر اعظم بھٹو صاحب مشرقی پاکستان (حال بنگلہ دیش) کے دورے سے جب واپس آئے تو پوری قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کی حیثیت دے کر اس کے سامنے دو قراردادیں پیش کی گئیں۔ کہ اسمبلی بحیثیت خصوصی کمیٹی کے ان پر غور و فکر کرے۔
- ١...... کہ آئین میں مسلمان کی تعریف کی جائے پھر اس کے نتیجہ کے طور پر یہ
فیصلہ کرنا سپریم کورٹ یا مشاورتی کونسل کا کام ہوگا کہ مرزائی غیر مسلم ہیں یا نہیں۔
- ٢...... کہ مرزائیوں کو دستوری حیثیت سے غیر مسلم اقلیت قرار دے کر غیر مسلم
اقلیت کی فہرست میں ان کا نام درج کیا جائے پہلی قرارداد حزب اقتدار کی جانب سے جناب وزیر قانون نے پیش کی اور دوسری حزب اختلاف کے ارکان نے۔ یہ بھی طے کر دیا گیا کہ کمیٹی کے لئے چالیس اشخاص کا کورم ہوگا۔ ان میں سے ٣٠ ممبر حزب اقتدار کے اور ١٠ حزب اختلاف کے لازماً
١٢
ہوں گے۔ گویا اصولی طور پر طے ہو گیا کہ جب تک حزب اختلاف کے دس ارکان، کمیٹی کے فیصلہ کی تصدیق نہیں کریں گے۔ وہ فیصلہ کالعدم ہوگا۔ بہرحال ایک رہبر کمیٹی بنی۔ اور خوشی کی بات ہے کہ سفارشات کے تمام مراحل اتفاق رائے سے طے ہوتے چلے گئے۔ اس دوران حکومت نے مرزائیوں کو صفائی پیش کرنے کا موقع دینا ضروری سمجھا۔ چنانچہ مرزا ناصر نے ١٩٢ صفحے کا صفائی نامہ پیش کیا اور مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کے صدر صدر الدین نے تحریری بیان پیش کیا۔ گیارہ دن تک مرزا ناصر پر جرح ہوتی رہی اور تین دن صدر الدین پر جرح ہوئی۔ جرح کے دوران تمام اراکین اسمبلی کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ مرزا غلام احمد مدعی نبوت دجال ہے۔ اور نبی اور مجدد تو کیا ایک شریف آدمی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔ دوسری قرار داد جو حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اس کی تشریح و توضیح کے لئے دو صد صفحے کی ایک کتاب ”موقف ملت اسلامیہ“ جو جدید طرز پر مرتب کی گئی تھی۔ ان ارکان کی جانب سے پیش کی گئی اور ایوان میں سنائی گئی۔ جس سے تمام ممبران اسمبلی کو مرزائیوں کی مذہبی حیثیت اور ان کے سیاسی عزائم سے آگاہی ہوئی اور ان کی آنکھیں کھل گئیں۔
بہر حال مسلمانوں کی کوششیں نیشنل اسمبلی کی سطح پر اور باہر مسلمانوں کی عام سطح پر پر امن طریقے سے جاری رہیں۔ آخر جناب وزیر اعظم بھٹو صاحب نے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء آخری فیصلہ کے اعلان کی تاریخ مقرر کر دی، حالات آخر تک مایوس کن تھے۔ اور توقع نہ تھی کہ مطالبہ کا احترام کیا جائے گا۔ اس لئے کہ تین ماہ کے عرصہ میں تحریک کو کچلنے کی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ لیکن (و الله غالب علی امرہ) حق تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ قلوب بھی حق تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اور زبانیں بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ خوف ورجاء کے بہت سے مراحل آتے رہے۔ بالآخر جناب وزیر اعظم بھٹو صاحب نے چھ اور سات کی درمیانی رات کو رات کے بارہ بجے کے بعد مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔ اگلے دن ٧ ستمبر کو اڑھائی بجے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ساڑھے چار بجے نیشنل اسمبلی کا اجلاس ہوا اور ساڑھے سات بجے ایوان اعلیٰ سینٹ کا اجلاس ہوا۔ تمام حاضر اراکین کے اتفاق سے مسلمانوں کا مطالبہ منظور ہو گیا۔ اور آخری اعلان آٹھ بجے شام کی خبروں میں ہو گیا۔ اور اس طرح الحمد للہ یہ مسئلہ بخیرو خوبی طے ہو گیا۔ جب سے پاکستان بنا ہے مسلمانوں کو کبھی اتنی مسرت اور خوشی نہیں ہوئی جتنی کہ اس خبر سے ہوئی کہ اس سرزمین پاک میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر پاکستان کے مسلمانوں نے تاریخ اسلام میں ایک زریں باب کا اضافہ کیا۔ اب ان گذشتہ باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہ تھی۔ مگر یہ چند اجمالی
١٤
اشارے دو وجہ سے ضروری سمجھے گئے ۔ اوّل یہ کہ مسلمان یہ جاننے کے لئے بیتاب تھے کہ ان کی ملی تحریک کن مراحل سے گزری اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ دوّم یہ کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ مسلمان مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر کے خدانخواستہ ظلم کر رہے ہیں ۔ حالانکہ تحریک کو اوّل سے آخر تک دیکھا جائے تو قدم قدم پر مسلمانوں کی مظلومیت کے نقوش ثبت ہیں ۔ مظلوم کو فریاد کرنے کی بھی اجازت نہ دینا کہاں کا انصاف ہے؟ ۔
سپاس و تشکر
اس موقعہ پر ہم سب کو اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ محض اسی نے اپنے فضل و احسان سے اپنے حبیب پاک ﷺ کی ختمِ نبوت کی لاج رکھ لی اور اس تحریک کو کامیابی عطاء فرمائی ۔ اسی نے اس کے فوق العادت اسباب مہیاء کئے ۔ مسلمانوں کے تمام طبقوں کو متحد اور مجتمع فرمایا اور اسی نے اراکینِ اسمبلی کے دل میں صحیح فیصلہ ڈالا ۔ الحمد لله وحده لا اله الا الله وحده انجز وعده ، ونصر عبده (اعنی سیدنا محمد ﷺ) وهزم الاحزاب وحـــــده ! اللہ تعالیٰ کے بہت سے نیک بندوں نے اس موقع پر دعائیں کیں ۔ اللہ تعالیٰ سے التجائیں کیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں قبول فرمالیں جو کچھ ہوا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے تکوینی طور پر ہوا ۔ وہم و گمان سے بالا تر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا ۔
مجلسِ عمل کے خادم کی حیثیت سے میں یہ فرض سمجھتا ہوں کہ جناب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے رفقاء کو مبارک باد اور ہدیہ تشکر پیش کروں ۔ اگر موصوف نے آخری مرحلہ میں تدبر سے کام نہ لیا ہوتا اور گذشتہ حکمرانوں کی طرح نشہ اقتدار میں مسلمانوں کے ملی مطالبہ کو خدا نخواستہ ٹھکرا دیا جاتا تو شاید ہم سب غضب الٰہی کی لپیٹ میں آگئے ہوتے اور پاکستان میں پھر ١٩٥٣ء کی یاد تازہ ہو جاتی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ یہ مسئلہ ان کے دورِ اقتدار میں حل ہوا ۔ اگرچہ مسلمانوں کو ابتلاء سے گزرنا پڑا ۔ لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ جناب وزیر اعظم صاحب کے دل میں صحیح بات ڈال دی ۔ بہر حال وہ اس جرات مندانہ اقدام پر عالمِ اسلام کی جانب سے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
نیز قومی اسمبلی کے صدر اور معزز مسلمان اراکین کو تمام مسلمانوں کی جانب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مرزائیت کے تمام مالہ و ماعلیہ کو بڑی محنت اور جانفشانی سے پڑھا اور پوری بصیرت سے صحیح فیصلہ صادر کیا ۔
١٤
ملت اسلامیہ نے جس بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا اور تمام مسلمانوں نے جس عزم واستقلال کے ساتھ تحفظ ناموس رسالت (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ) کی خاطر ہر قسم کی گروہ بندیوں سے بالا تر ہو کر ایثار و قربانی کا نمونہ پیش کیا۔ اس کی تحسین کے لئے الفاظ کا دامن تنگ ہے۔ جن جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ اس میں حصہ لیا وہ اپنا اجر اللہ تعالیٰ کے یہاں پائیں گے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے مستحق ہوں گے۔ حق یہ ہے کہ اس موقعہ پر ملت اسلامیہ کا ایک ایک فرد مبارک باد کا مستحق ہے۔ اس حادثہ ربوہ کا آغاز عزیز طلبہ پر ظلم و ستم سے ہوا اور انہوں نے ایک طرف تحریک کے لئے قربانیاں پیش کرنے کا عزم کیا اور دوسری طرف اپنے جوش و خروش کو مجلس عمل کی ہدایات کے مطابق بے جا استعمال کرنے سے حتی الوسع پرہیز کیا۔ ورنہ نوجوان طبقہ صبر و تحمل کی تلقین کو مشکل ہی سے سننے کا عادی ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے عزیز طلبہ دو گونہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور کبھی کبھی خیال ہوتا ہے کہ اگر ان نوجوانوں کی ہمت و ارادہ کے دھارے صحیح رخ پر بہنے لگیں اور اس کی ایسی تربیت ہو کہ وہ اس پاکستان کی پاک سرزمین میں ہر قسم کی گروہ بندیوں اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر محنت کرنے والے بن جائیں تو اس ملک کا نقشہ ہی بدل جائے۔ وما ذالک علی الله بعزیز!
اس موقعہ پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے کردار کی داد نہ دینا بے انصافی ہو گی۔ سیاسی جماعتوں کا مزاج ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی مناسب موقعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتیں۔ ہماری تحریک بحمد اللہ خالص دینی تھی۔ صرف آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس اور آپ ﷺ کی ختم نبوت کی آئینی حفاظت اس کا مشن تھا۔ اس لئے جو جماعتیں بھی مجلس عمل میں شامل ہوئیں انہوں نے پوری شدت کے ساتھ اس مقدس تحریک کو سیاسی آلائشوں سے پاک رکھنے کا عزم کیا اور عملی طور پر اس کا پورا پورا مظاہرہ بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔
قومی پریس پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ تحریک کی خبروں کی اشاعت چھن چھن کر ہوتی تھی۔ اس کے باوجود قومی پریس نے مسلمانوں کی ملی تحریک سے حتی الامکان ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ خصوصیت کے ساتھ نوائے وقت لاہور نے بڑے بصیرت افروز اداریے اور مقالے شائع کئے۔ انصاف یہ ہے کہ دیگر دینی جرائد کے ساتھ نوائے وقت کا اس مقدس تحریک میں بہت ہی بڑا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذمہ دار اصحاب کو بہت ہی جزائے خیر عطاء فرمائے اور دنیا وآخرت میں اس کا بہترین اجر عطاء فرمائے۔
ناسپاسی ہو گی اگر ہم اس موقعہ پر عالم اسلام کی ان مایہ ناز اور پر وقار شخصیتوں کا ذکر نہ
١٥
کریں جنہوں نے اس نازک موقعہ پر پاکستان کے مسلمانوں سے ہمدردی فرمائی اور ارباب حل وعقد کو اپنے قیمتی مشوروں سے مستفید کیا۔ میں ان کی خدمت میں پاکستان کے تمام مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
اس مسرت و شادمانی کے موقعہ پر ہمیں اپنے ان بزرگوں کی یاد آتی ہے۔ جنہوں نے اپنی ساری زندگی اس کے لئے بے چینی میں گزاری۔ حضرت الاستاذ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائپوریؒ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا لال حسین اخترؒ اور دیگر بہت سے اکابر نے اپنے وقت میں مرزائی فتنہ کے استیصال کے لئے اپنی ہمتیں صرف فرمائیں۔ حق تعالیٰ ان کو بہترین درجات عطاء فرمائے کہ انہی کی جوتیوں کے طفیل آج مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ یہاں خصوصیت سے علامہ اقبال مرحوم کا تذکرہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ اٹھایا۔
١٩٥٣ء کی تحریک میں یا تحریک کے موجودہ مرحلے میں جن حضرات نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر اپنی جان نثار کی اور جام شہادت نوش فرمایا ہم ان کی ارواح طیبہ پر بھی عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں رنگ لائیں۔ اور جس مقصد کے لئے انہوں نے اپنی جان کا ہدیہ پیش کیا تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے وہ مقصد عطاء کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بلند درجے عطاء فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔
آثار و نتائج
قوموں کی زندگی میں اس قسم کے تاریخ ساز واقعات ہمیشہ نہیں آتے۔ اس لئے جی چاہتا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کے اس زریں واقعہ کے آثار و نتائج پر کچھ تفصیل سے لکھا جائے۔ مگر افسوس کہ اس کی نہ فرصت ہے نہ گنجائش، مختصر یہ کہ ١٩٧١ء میں سقوط مشرقی پاکستان سے پاکستان کے مسلمانوں کو جو گہرا زخم پہنچا تھا۔ اس سے نہ صرف مسلمانوں کا وقار مجروح ہوا۔ بلکہ خود اسلام کے بارے میں بھی جو اس ملک کا سنگ بنیاد تھا۔ طاغوتی طاقتوں نے طرح طرح کے پروپیگنڈے شروع کر دیئے تھے۔ الحمد للہ قومی اسمبلی کے ایمانی فیصلہ سے اس کی بڑی حد تک تلافی ہوگئی۔ عالم اسلام میں پاکستان کا وقار بلند ہوا جس کا اندازہ ان تہنیتی تاروں سے ہو رہا ہے۔ جو وزیر اعظم اور دیگر عمائد ملک کو موصول ہو رہے ہیں۔ بلکہ کافر ممالک کو بھی یہ احساس ہو گیا کہ اسلام ایک زندہ
١٦
طاقت ہے اور مسلمانوں میں ابھی ہمت و ارادہ موجود ہے۔ اور وہ اپنے دین کی سربلندی کے لئے جرأت مندانہ اقدام کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اسلام کے صرف ایک مسئلہ اور بنیادی مسئلہ کو اپنانے کی یہ برکت ہے۔ اگر ہمارے حکمران کمال اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے پورے کا پورا دین انفرادی اور حکومتی دونوں سطحوں پر اپنا لیں تو آخرت میں تو جو اجر ملے گا ملے گا۔ انشاء اللہ دنیا کی سرخروئی بھی مسلمانوں کو نصیب ہوسکتی ہے۔
پاکستان اور مسلمانوں کی بقاء اسلام سے وابستہ ہے
ہمارے ملک میں کچھ عرصے سے لادینی کمیونسٹ نظام کو لانے کے لئے اسلامی سوشلزم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کے نعروں سے فریب دیا جارہا ہے۔ اور ذرائع ابلاغ سے ایسے مضامین شائع اور نشر کئے جارہے ہیں۔ قومی اسمبلی کا حالیہ تاریخی فیصلہ اس امر کی علامت ہے کہ جو شخص یہاں کے عوام کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے کھیل کھیلتا ہے۔ وہ چند دنوں کے لئے فریب دے سکتا ہے۔ لیکن بالآخر اسے منہ کی کھانی ہوگی۔ پاکستان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور کلمہ طیبہ کے نام پر اور اسلام کی خاطر بنا ہے۔ جو لوگ یہاں کے مسلمانوں کے دل سے اسلام کی وقعت نکالنا چاہتے ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے پاک طریقوں سے مسلمانوں کو ہٹاتے ہیں وہ دراصل پاکستان کے نقشہ کو مٹانے کے درپے ہیں۔ غرض ایک بار یہ حقیقت پھر ابھر کر سامنے آگئی کہ پاکستان اور پاکستان کے مسلمانوں کی بقاء اسلام اور صرف اسلام سے وابستہ ہے۔
اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد مرزائیوں کی حیثیت
مرزائیوں کی حیثیت قبل ازیں کفار محاربین کی تھی۔ اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے بعد اس کی حیثیت پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کی ہے جن کو ذمی کہا جاتا ہے۔ (بشرط یہ کہ وہ بھی پاکستان میں بحیثیت غیر مسلم کے رہنا قبول کرلیں۔ اس لئے کہ عقد ذمہ دو طرفہ معاہدہ ہے ) اور کسی ذمی کے جان و مال پر ہاتھ ڈالنا اتنا سنگین جرم ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں ایسے شخص کے خلاف نالش کریں گے۔ اس بناء پر تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کی جان و مال کی حفاظت کریں۔ مجلس عمل نے مرزائیوں سے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ جو مسلمانوں کے دائرہ اختیار کی چیز تھی۔ لیکن جن مرزائیوں نے قومی اسمبلی کا فیصلہ تسلیم کرکے اپنے غیر مسلم شہری ہونے کا اقرار کرلیا ہو اب ان سے سوشل بائیکاٹ نہیں ہوگا۔ اور جو مرزائی اس فیصلہ کو قبول نہ کر رہے ہوں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ترک محاربت پر آمادہ نہیں۔
١٧
مرزائیوں کو آئینی حیثیت سے غیر مسلم تسلیم کرنے کے بعد کچھ انتظامی اقدامات ہیں جو حکومت پاکستان سے متعلق ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت اس باب میں تغافل سے کام نہیں لے گی۔ اس سلسلہ میں زیادہ اہم یہ امر ہے کہ خفیہ ریشہ دوانیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اور کسی نئی سازش برپا کرنے کے امکانات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
مرزائیوں سے متعلق مسلمانوں اور حکومت کے کرنے کا اصل کام
حکومت اور عام مسلمانوں دونوں سے متعلق جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہمارا مشن پورا نہیں ہو جاتا۔ بلکہ یہ تو اس کا نقطہ آغاز ہے۔ اصل کام جو ہمارے کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ کسی مادی غرض یا کسی غلط فہمی کی بناء پر اس مرزائیت سے وابستہ ہوئے انہیں آنحضرت ﷺ کے دامن ختم نبوت میں لانے کے لئے محنت کی جائے۔ ان کے کچھ شبہات ہوں تو ان کو زائل کیا جائے۔ ان کی کچھ مجبوریاں ہوں تو ان کو رفع کیا جائے۔ مرزائیوں نے عام طور پر مسلمانوں ہی کو شکار کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو پوری ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ جہنم سے نکالنے کی فکر کی جائے۔ پاکستان کے اندر اور باہر جس قدر لوگ مرتد ہوئے ہیں انہیں پھر سے اسلام کی دعوت دی جائے۔ غرض مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار دینا اصل مقصد نہیں تھا۔ بلکہ انہیں داخل در اسلام کرنا اصل مقصد ہے۔ اس سلسلہ میں انشاء اللہ ایک وسیع ارادہ ہے جو صالحین اس کے لئے قربانیاں دینے کو تیار ہوں گے۔ ان کے لئے انشاء اللہ بڑی ہی بشارتیں ہیں۔ راقم الحروف کے ایک نہایت مخلص دوست جناب شیخ محمود حافظ مدنی نے جو ان دنوں دمشق میں ہیں۔ ایک گرامی نامہ تحریر فرمایا ہے۔ اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں:
فانى ابشركم انى رأيتكم فى المنام ليلة ٣ /شعبان ١٣٩٤هـ رؤياً طيبة جداً، اهنئكم بها، واختصرها لكم ، رايتكم مع جماعة عليهم سيما الصلاح والتقوى متقدمين فى السن ، وكلهم يعملون فى جمع صفحات القرآن الذى كتبتموه بخطكم وقلمكم الجميل بمداد لونه زعفرانى وقصد كم طباعة هذا القرآن ونشره بين الناس لتعميم الفائدة هكذا سمعت منكم وانتم تشيرون الى فى غاية من الفرح والسرور و الا بتهاج ، وعند ما تيقظت لصلاة الفجر قمت متفائلاً والفرحة تملاء قلبى وايقنت بان الله تعالى كلل اعمالكم بالفوز والنجاح، والحمد لله الذى بنعمته تتم الصالحات ، انتهى باختصار !
١٨
﴿میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ میں نے ٣ شعبان ١٣٩٤ھ کی رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے۔ جس کی آپ کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ اس کو یہاں مختصراً نقل کرتا ہوں میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ہمراہ دیکھا جو سن رسیدہ ہیں اور جن پر صلاح و تقویٰ کی علامات نمایاں ہیں۔ یہ سب حضرات اس قرآن کریم کے صفحات جمع کرنے میں مصروف ہیں ۔ جو آپ نے اپنے قلم سے سنہری زعفرانی رنگ کی روشنائی سے خود تحریر کیا ہے اور آپ کا قصد یہ ہے کہ اس کو عام فائدہ کے واسطے لوگوں میں شائع کیا جائے۔ آپ نے اپنے اس قصد کا اظہار نہایت مسرت و شادمانی اور سرور کی حالت میں میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ صبح کو نماز فجر کے لئے اٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے اعمال کو حق تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کا تاج پہنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے جس کی نعمت سے تمام خوبیاں تکمیل پذیر ہوئی ہیں۔ خواب مختصر الفاظ میں ختم ہوا۔﴾
اہل فہم جانتے ہیں کہ ملاحدہ نے قرآن کریم کی آیات کو جس طرح مسخ کیا اور ان میں تاویل وتحریف کرکے ان کے مفہومات کو بگاڑا ہے۔ قرآن کو سنہری حروف میں لکھ کر تمام عالم میں شائع کرنے کی تعبیر اس کے سوا کیا کی جائے کہ ان ملاحدہ کی تحریفات دنیا کے جس جس خطے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے اثرات وہاں سے مٹائے جائیں۔ اور قرآن کریم کی سنہری تعلیمات کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے۔ کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کمزور، نالائق اور پست ہمت بندوں سے بھی اس سلسلہ میں کچھ خدمت لے لیں۔ وماذلك على الله بعزيز ! اب دیکھئے وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو قرآن کے ان سنہری صفحات کو جمع کرنے کے لئے میدان میں آتے ہیں۔
کس بمیدان در نمی آید، سواران راچہ شد
والحمدلله اولا وآخراً والصلاة والسلام على خير خلقه صفوة البرية سيدنا محمد وآله واصحابه واتباعه اجمعين!
(رمضان المبارک وشوال المکرم ١٣٩٤ھ، اکتوبر ١٩٧٤ء)
دورۂ انگلستان
الحمدللہ! ماہِ رمضان المبارک ١٣٩٤ھ میں کچھ لمحات حرمین شریفین میں نصیب ہوئے۔ انگلستان کی دینی دعوت آئی تھی۔ اگرچہ صحت اچھی نہیں تھی۔ اور ڈاکٹروں کی حتمی رائے سفر نہ کرنے
١٩
کی تھی۔ اور خود مجھے بھی تردد ضرور تھا۔ لیکن استخارہ کر کے اللہ کا نام لے کر میں جدہ سے ٢٢ نومبر ١٩٧٤ء کو روانہ ہو گیا۔ ہڈرس فیلڈ میں جاتے ہی ایک شدید حادثہ سے دوچار ہوا۔ ڈاکٹروں نے تین روز سکونت اور ایک ہفتہ آرام کا مشورہ دیا۔ لیکن بیانات کا نظم بن چکا تھا۔ اور اس کا اعلان ہو گیا تھا۔ اس لئے بادل ناخواستہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف کرنا پڑا۔ الحمد للہ کہ تقریباً تمام پروگرام حق تعالیٰ شانہ نے پورا کر دیا۔ متعدد مقامات پر جانا ہوا اور جن دینی اہم مسائل کی ضرورت سمجھی ان پر بیانات ہوئے۔ ہڈرس فیلڈ ، بولٹن ، ڈیوز بری، بلیک برن ، پرسٹن ، بریڈفورڈ، گلسٹر ، والسال، برمنگھم ، ولوز ہملٹن، کونٹری، لیسٹر، مینی ٹن اور خود لندن کے مختلف مقامات میں پروگرام بن چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود صحت کی خرابی و طبیعت کی ناسازی کے محض اپنے فضل و کرم سے توفیق نصیب فرمائی۔ متعدد دینی موضوعات پر بیان ہوا۔ مثلاً :
- .......١ دین اسلام حق تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔
- .......٢ اسلام اور بقیہ مذاہب کا موازنہ۔
- .......٣ دنیا اور آخرت کی نعمتوں کا موازنہ۔
- .......٤ دنیا کی زندگی کی حقیقت۔
- .......٥ طمانیت قلب دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور اس کا ذریعہ حقیقی
اسلام ہے۔
- .......٦ ذکر اللہ جس طرح حیات قلوب کا ذریعہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح بقاء عالم
کا ذریعہ بھی ہے۔
- .......٧ لندن وانگلستان میں مسلمانوں کی زندگی کا نقشہ۔
- .......٨ دنیا کی زندگی میں انہماک اور آخرت سے دردناک غفلت۔
- .......٩ انگلستان میں مسلمانوں نے اگر دینی انقلاب اختیار نہ کیا تو ان کا مستقبل
نہایت تاریک ہے۔
- .......١٠ انگلستان کی پر از شہوات زندگی میں اصلاح نفوس کی تدبیر ۔
- .......١١ مخلوط تعلیم کے دردناک نتائج اور اس سے بچنے کے لئے لائحہ عمل ۔
- .......١٢ محبت رسول کی روشنی میں سنت و بدعت کا مقام۔
- .......١٣ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت اور صحابہ کرام کا مقام۔
٢٠
- ١٤....... انگلستان میں عالم دین کی زندگی کیسی ہو؟۔
- ١٥....... رؤیت ہلال وغیرہ بعض مسائل میں علماء کا اختلاف اور اتحاد کے لئے لائحہ
عمل۔
- ١٦....... قادیانی مسئلہ اور اس کا اتفاقی حل۔
الغرض اس قسم کے بیانات ہوئے۔ مجالس اور سوالات کے جوابات میں دارالحرب، دارالاسلام اور ان کے احکام کے اختلافات۔ غلاموں اور لونڈیوں کی اسلام میں اجازت! اور اس کے مصالح وحکم وغیرہ وغیرہ بے شمار مسائل زیر بحث آئے اور اپنی مقدور کے مطابق ان مشکلات کے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
انگلستان کے اس سفر میں جہاں یہ خوشی ہوئی کہ دینی فضاء مسلمانوں میں بنتی جارہی ہے۔ اور ہر ہر شہر میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہے۔ جماعت خانے اور مسجدیں بھی کثرت سے بنتی جارہی ہیں۔ مکتب اور اسکول قائم کئے جارہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی نقل وحرکت سے بھی الحمد للہ نوجوانوں میں دینی رجحانات بڑھتے جارہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ احساس شدت سے پیدا ہورہا ہے کہ ہم مسلمان خصوصاً اہل علم فریضۂ دعوت وتبلیغ میں انتہائی مقصر ہیں۔ مسلمانوں کو بے انتہا اصلاح کی ضرورت ہے اور اگر سلیقہ ونظم کے ساتھ مؤثر انداز سے ارباب کفر کو بھی دعوت پیش کی جائے تو قبول کرنے کی بڑی توقع ہے۔ کافروں کا خصوصاً نوجوان طبقہ دورِ حاضر کی تہذیب ومعاشرت کی وجہ سے سکونِ قلب کی نعمت سے محروم ہے۔ اور طرح طرح کی تدبیریں سکونِ دل اور آرامِ جان کے لئے اختیار کر رہے ہیں۔ اگر ان کو اسلام کا نسخۂ شفا معلوم ہو جائے کہ اطمینانِ قلب اور سکونِ روح کے لئے اس سے زیادہ مؤثر کوئی نسخہ نہیں ہے۔ تو بدل و جان اس کے ماننے کے لئے تیار ہے۔ من حیث القوم اونچا طبقہ تو اسلام سے قدیمی عداوت کی وجہ سے شاید آمادہ نہ ہو۔ لیکن جدید نسل کو تو سکونِ قلب کی ضرورت ہے۔ عقول پختہ ہو چکی ہیں۔ قدیمی تاریخ عداوت نہ ان کے پیشِ نظر ہے نہ اس کو وقعت دیتے ہیں۔ اگر ان کو پاکیزہ زندگی کی لذت معلوم ہو جائے تو اپنی گندی اور ملوث زندگی سے تائب ہونے کے لئے فوراً تیار ہو جائیں۔
یورپ کے ملکوں میں اگر مسلمانوں کی زندگی صحیح اسلامی زندگی ہوتی۔ سر سے پیر تک مجسمۂ اسلام ہوتے۔ اور اخلاق و ملکات تمام مسلمانوں کے سے ہوتے۔ ان کی صورت ان کی سیرت صحابہ کرامؓ کی ہوتی۔ تو ان کے وجود سے خاموش تبلیغ ہوتی۔ بغیر زبان ہلائے ارباب کفر کو تبلیغ ہوتی۔ اسلامی اخلاق اور اسلامی صورت وسیرت میں غضب کی جاذبیت ہے۔ بلاشبہ کبھی جدید نسل
٢١
کو بعض شبہات عقلی پیدا ہوتے ہیں۔ اور بسا اوقات مسیحی پادری اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اسلام کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں۔ تاکہ عیسائی اسلام سے نفرت کریں۔ اس وقت صحیح انداز اور مؤثر طریقے پر افہام و تفہیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر اسلامی علوم کے ساتھ صورت و اسلامی سیرت مل جائے تو ہر ایک شخص سراپا دعوت بن جائے۔ بہر حال مؤثر ترین چیز کردار عمل ہے۔ اگر علم بہت بھی ہے۔ لیکن زندگی غیر اسلامی ہے تو فطرۃً اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ دعوت و تبلیغ کی تاثیر کے لئے ضروری ہے کہ عمل و کردار قول و بیان کی تکذیب نہ کرے۔ اس لئے قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”اتأمرون الناس بالبر وتنسون انفسكم وانتم تتلون الكتاب ، افلا تعقلون ، بقرہ ٤٤ “ ﴿کیا غضب ہے کہ اور لوگوں کو نیک کام کرنے کا کہتے ہو اور اپنی خبر نہیں لیتے؟۔ حالانکہ تم تلاوت کرتے ہو کتاب کی۔ تو پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔﴾
لیکن افسوس کہ یہ ہو رہا ہے۔ کہ مسلمان اور کافر کے درمیان نہ صورت میں کوئی فرق، نہ سیرت میں، نہ تہذیب میں، نہ معاشرت میں، نہ اعمال میں، نہ اخلاق میں، تو کافر کس چیز سے تاثر لے؟۔ بلاشبہ مسلمان کے دل میں عقیدہ اسلامی ہے۔ لیکن اگر یہ عقیدہ دل میں راسخ ہے تو سیرت کی تخلیق میں اس کو مؤثر ہونا چاہیے۔ مگر اس کے برعکس ہو رہا ہے کہ مسلمان معاملات میں کافروں سے زیادہ گئے گزرے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ، وعدہ خلافی، خیانت، بے رحمی اور ظلم وعدوان ایسی بلاؤں میں اس طرح مبتلا نظر آتے ہیں کہ الامان والحفیظ !
کتنے شرم کی بات ہے کہ مسلمان اسلام کو عملی اور اخلاقی و تہذیبی نمونہ پیش کرنے کے بجائے ایسے کردار کے حامل ہوں کہ جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود، کافروں کے تمام ظاہری اخلاق واعمال کی بنیاد محض خود ساختہ عقلی ضوابط پر ہے یا دنیوی مصالح ان کے پیش نظر ہیں۔ لیکن نیت اور باطن کو کون دیکھتا ہے۔ دنیا ظاہر کو دیکھتی ہے۔ دنیا دیکھتی ہے کہ مسلمان وعدہ خلافی، خیانت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کرتا ہے۔ جبکہ کافر بھی ان گھناؤنے امور سے پرہیز کرتے ہیں۔ الغرض اسلام کی تبلیغ میں سب سے زبردست رکاوٹ خود مسلمانوں کی عملی زبوں حالی ہے اور جن لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں کا درد ہے۔ ان کے لئے یہ بات بے چین و بے تاب کر دینے والی ہے۔
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مبشرات
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جانا بہت ہی عظیم برکات کا کارنامہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے منکروں کا مسلمانوں سے گھلنا ملنا صرف مسلمانوں کے حق میں
٢٢
ایک نا سور تھا۔ بلکہ اس سے آنحضرت ﷺ کی روح مبارک بھی بے تاب تھی۔ قادیانی مسئلہ کے حل پر جہاں تمام ممالک کی جانب سے تہنیت و مبارک باد کے پیغامات آئے وہاں منامات و مبشرات کے ذریعہ عالم ارواح میں اکابر امت اور خود آنحضرت ﷺ کی مسرت و بہجت بھی محسوس ہوئی۔ آنحضرت ﷺ سے متعلق مبشرات ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ تاہم اہل ایمان کی خوشخبری کے لئے اپنے دو بزرگوں سے متعلق بشارات منامیہ بعض مخلصین کے اصرار پر ذکر کرتا ہوں۔
جمعہ ٣؍رمضان المبارک ١٣٩٤ھ صبح کی نماز کے بعد خواب دیکھتا ہوں کہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ گویا سفر سے تشریف لائے ہیں۔ اور خیر مقدم کے طور پر لوگوں کا بہت ہجوم ہے۔ لوگ مصافحے کر رہے ہیں۔ جب ہجوم ختم ہو گیا اور تنہا شیخ رہ گئے۔ تو دیکھتا ہوں کہ بہت وسیع چبوترہ ہے۔ جیسے اسٹیج بنا ہوا ہو۔ اس پر فرش ہے اور اوپر جیسے شامیانہ ہو۔ بالکل درمیان میں شیخ تنہا تشریف فرما ہیں۔ دو تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ملاقات کے لئے پہنچا۔ حضرت شیخ اٹھے اور گلے لگا لیا۔ میں ان کی ریش مبارک اور چہرہ مبارک کو بوسے دے رہا ہوں۔ حضرت شیخ میری داڑھی اور چہرے کو بوسے دے رہے ہیں۔ دیر تک یہ ہوتا رہا۔ چہرہ و بدن کی تندرستی زندگی کے آخری ایام سے بہت زیادہ ہے۔ بے حد خوش اور مسرور ہیں۔ بعد ازاں میں دوزانوں ہو کر فاصلہ سے با ادب بیٹھ گیا اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی عرض کیا کہ بھول گیا کہ ”معارف السنن“ حاضر کرتا۔ فرمایا کہ میں نے بہت خوشی اور مسرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اب چھٹی جلد کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو علم نہیں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا۔ بس اس کی تشریح و توضیح و خدمت کی ہے۔ بہت مسرت کے لہجے میں فرمایا کہ بہت عمدہ ہے۔
شوال المکرم ١٣٩٤ھ میں لندن کے قیام کے دوران خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع مکان ہے۔ گویا ختم نبوت کا دفتر ہے۔ بہت سے لوگوں کا مجمع ہے۔ میں ایک طرف جا کر سفید چادر جس طرح کہ احرام کی چادر ہو باندھ رہا ہوں۔ بدن کا اوپر کا حصہ برہنہ ہے۔ کوئی چادر یا کپڑا نہیں۔ اتنے میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اسی ہیئت میں کہ احرام والی سفید چادر کی لنگی باندھی ہوئی ہے اور اوپر کا بدن مبارک بغیر کپڑے کے ہے۔ میرے داہنے کندھے کی جانب سے تشریف لائے اور آتے ہی مجھ سے چمٹ گئے۔ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ واہ میرے پھول! پھر دیر تک معانقہ فرمایا۔ میں خواب ہی کی حالت میں خیال کرتا ہوں کہ مبارک باد کے لئے تشریف
٢٣
لائے ہیں۔ اچھی منامات کی حیثیت مبشرات کی ہے۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ بہر حال قادیانی ناسور کے علاج سے نہ صرف زندہ بزرگوں کو مسرت ہوئی۔ بلکہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس سے بے حد و پایاں خوشی ہوئی ہے۔ فالحمد للہ!
(ذی قعدہ ١٣٩٤ھ، دسمبر ١٩٧٤ء)
لفظ غیر مسلم لکھوانے سے قادیانیوں کا انکار
مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کی حیثیت آئین میں متعین کر دی گئی ہے اور مرزائی فرقہ کو غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔ لیکن مرزائی فرقہ کے آرگن روزنامہ الفضل ربوہ نے اعلان کیا ہے کہ ہم شناختی کارڈ اور دوسرے کاغذات میں غیر مسلم لکھنا برداشت نہیں کریں گے۔ مرزائیوں کا یہ اعلان آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اور اس کا نوٹس لینا آئین کے محافظوں کا فرض ہے۔ تاہم یہ امر واضح ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے جو آئینی تحفظ دیا گیا ہے۔ اگر وہ اس حفاظتی بند کو خود توڑنے کی جسارت کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ انہوں نے یہ آئینی معاہدہ خود منسوخ کر دیا ہے۔ اس کے بعد ان کی حیثیت شرعاً حربی کافروں کی ہوگی اور مسلمان اسی بات پر شرعاً واخلاقاً مجبور ہوں گے کہ مرزائیوں سے کم از کم سوشل بائیکاٹ کریں۔
دین اسلام اور رنگ ونسل وعلاقائیت
خدا جانے ہمارے ارباب اقتدار کو کیا ہو گیا کہ عبرت انگیز حقائق و واقعات سے عبرت نہیں ہوتی؟ غفلت کی انتہا ہو گئی کہ آنکھیں نہیں کھلتیں۔ اسلامی اتحاد اور اسلامی اخوت کی عالمگیر نعمت کی قدر دانی نہیں اور ملکی، لسانی اور مقامی تہذیب وثقافت کے محدود ترین دائرہ میں سوچتے ہیں اور اس کے احیاء کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مراکش سے لے کر انڈونیشیاء تک وحدت اسلامی کی سلک مروارید کو چھوڑ کر سندھی، پنجابی اور بلوچی تہذیبوں کے احیاء کی کوشش فرماتے ہیں۔ جس کے ذریعے نہ صرف وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کرتے ہیں۔ بلکہ پاکستانی حبل متین کے اتحاد کو بھی پارہ پارہ کر کے مشرقی پاکستان کی دردناک وحسرت ناک اور شرمناک صورت حال کو دعوت دے رہے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اسلام نے پہلے قدم پر رنگ ونسل اور وطن کے تمام بتوں کو توڑ کر بے نظیر روحانی رشتہ میں سب روئے زمین کے مسلمانوں کو پرو دیا تھا۔ پاکستان بنانے کی سب سے بڑی دلیل یہی تھی
٢٤
کہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی حکومت وجود میں آئے گی۔ اور اس کے ذریعہ تمام عالم اسلام کے اتحاد کا روح پرور منظر وجود میں آئے گا۔
اسلام ہی وہ عالم گیر مذہب ہے جس نے جاہلیت قدیمہ و جاہلیت جدیدہ کی لعنتوں کو ختم کیا تھا۔ اور مشرق و مغرب کے مسلمانوں میں روحانی حبل اللہ المتین کا وہ رشتہ قائم کیا جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ یہ وہ طاقت تھی کہ دشمنان اسلام اس سے لرزہ براندام تھے۔ اور اس رشتہ کی برکت سے ایک ہزار برس تک اسلام کا علم لہراتا رہا۔ دشمنان اسلام نے صدیوں محنتیں کر کے اور کروڑوں روپیہ خرچ کر کے اس کو تباہ کرنے کی ریشہ دوانیاں کیں۔ یہاں تک کہ خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے دم لیا۔ اور عرب دنیا کو ترکی بھوت سے ڈرا کر اتحاد اسلامی کو پارہ پارہ کیا۔ پھر عرب اتحاد کے خوف سے ان کے سینوں پر ملعون یہودی حکومت قائم کرا دی۔ تاکہ دوبارہ قیامت تک متحد نہ ہوسکیں۔ اور آج جو کچھ نقشہ آپ کے سامنے ہے یہ صدیوں کی سوچی سمجھی ہوئی اسکیم تھی جس کا ظہور ہو گیا۔
اعدائے اسلام کی امید کے خلاف مسلمانوں کی ایک بہت بڑی قوت پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہو گئی۔ تو سر ظفر اللہ مرزائی قادیانی کو اس کا وزیر خارجہ بنوا کر پاکستان اور عالم عرب کو پارہ پارہ کرنے کا بیج ڈال دیا گیا۔ سب سے پہلے افغان حکومت کو ناراض کر کے دشمن بنا دیا گیا۔ اور پھر ایسے مہرے آگے آتے رہے کہ رہی سہی توقعات سب کی سب ختم ہو گئیں۔ نہ اسلامی قانون و آئین جاری کرایا۔ نہ اسلامی اخوت کا پرچار کیا۔ نہ اسلامی اتحاد کی قدر کی۔
اعدائے اسلام کو بنگلہ دیش بنانے کا موقع مل گیا۔ روس امریکہ اور ہندوستان تینوں نے مل کر وحدت اسلامی پر پہلا وار کر کے پاکستان کو دو ٹکڑے کرایا۔ اب وہ اس پر صبر و قناعت نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ ان کی خواہش ہے کہ سندھو دیش بھی قائم ہو۔ بلوچستان بھی الگ کیا جائے اور سرحد کو بھی کاٹ دیا جائے۔ پنجاب میں مرزائیوں کے بل بوتے پر دوبارہ نئی حکومت ایسی قائم کی جائے جس کے ذریعہ عرب دنیا کو ڈائنامیٹ لگایا جاسکے۔
سندھ صدیوں کے آئینہ میں
ان نازک ترین حالات میں سندھ صدیوں کے آئینہ میں سیمینار قائم کیا جاتا ہے۔ اور اگر یہ صحیح ہے کہ امریکن فاؤنڈیشن کی اعانت سے قائم کیا گیا تھا۔ تو آغاز ہی سے اس کے انجام کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس مبارک سیمینار کا اختتام یوں ہوا کہ جمعہ مبارک کی شام کو آرٹس کونسل کراچی
٢٥
میں سندھی موسیقی ورقص کا پروگرام پیش کیا گیا ہے۔ جس میں وزیروں کی بیگمات نے بھی حصہ لیا اور کیا کیا نغمہ سرائی اور ہو جمالو کی دھن پر رقص کے فظیع وقبیح مناظر کے ذریعہ بین الاقوامی سیمینار کے نمائندگان عالم کے سامنے سامان تفریح پیش کیا گیا۔ انا للہ وانا علیہ راجعون! یہ ہمارا پاکستان ہے اور یہ ہمارا اتحاد اسلامی کا منظر ہے۔ سنا ہے کہ ایک بیچارے ترکی نمائندہ نے سچ کہا ہے کہ پاکستان کو سنا کرتے تھے۔ مگر آج دیکھ لیا۔ اس نقار خانے میں جو آواز سنجیدہ اور متانت کی اٹھی۔ وہ جناب اے کے بروہی کی تھی۔ جس نے اسلامی تہذیب اور عربی زبان پر زور دیا۔ کاش طوطی خوش الحان کی یہ آواز نقار خانے میں سنی جائے۔
خدارا! اس بے حسے پاکستان پر رحم کرو۔ دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں سے بچو۔ ان دیشوں بدیشوں سے پناہ مانگو۔ جلد سے جلد اسلامی آئین و قانون کو نافذ کرو اور حق تعالیٰ کے غضب کو مزید دعوت مت دو۔ فیا للاسف نہ معلوم عقول پر کیا پردے پڑ گئے۔ دماغوں کو کیسا کلوروفارم سونگھایا گیا کہ ہوش نہیں آتا۔ اے اللہ! ہم پر رحم فرما اور اپنے غضب سے بچا۔ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین۔ آمین!
(ربیع الثانی ١٣٩٥ھ، مئی ١٩٧٥ء)
برطانیہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن
حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کا مقولہ اپنے اساتذہ سے سنا تھا کہ اسلام کے خلاف دنیا میں کہیں بھی کوئی سازش کی گئی ہو اس میں برطانیہ کا ہاتھ ضرور ہوگا۔ واقعہ یہ کہ برصغیر پر غاصبانہ تسلط کے دوران اسلام کو جتنا نقصان حکومت برطانیہ نے پہنچایا اتنا شدید نقصان شاید تمام طاغوتی طاقتوں کی مجموعی قوت سے بھی نہیں پہنچا۔ ماضی قریب میں اسلام کا سب سے بڑا دشمن سب سے بڑا حریف اور سب سے بڑا مجرم انگریز رہا ہے۔ اسلامی تہذیب ومعاشرت، اسلامی قلب وقالب اور اسلام کی روح ومعنویت کو اس سفید دشمن نے جیسا مسخ کیا اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہی دشمن ہے جس نے خلافت عثمانیہ کے عظیم ووسیع اسلامی قلعہ کو مسمار کر کے عالم اسلام کو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر ڈالا۔ جس نے اسلامی ممالک کے درمیان شقاق ونفاق کے کانٹے بوئے۔ جس نے اسلام کے مقامات مقدسہ کی حرمت کو پامال کیا۔ جس نے اسلامی شعائر کو مغربیت کی کند چھری سے ذبح کیا۔ جس نے مسلمانوں کی اسلامی وملی غیرت کو کچل ڈالا۔ جس نے انسانیت کو بہیمیت و درندگی اور مکاری و عیاری کا درس دیا۔ جس نے خواتین اسلام کے سر سے ردائے عفت چھین لی۔ جس نے صنف نازک کو بازار فسق کا بکاؤ مال بنا ڈالا۔
٢٦
ہاں! یہی طاغوت ہے جس نے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا۔ جس نے ہزاروں اولیاء اللہ کو تختہ دار پر کھینچا۔ جس نے معصوم بچوں کے خاک و خون میں تڑپنے کا تماشہ دیکھا۔ جس نے پردہ نشینان اسلام کو درندگی و بہیمیت کا نشانہ بنایا۔ جس کی سازش نے عالم اسلام کے جگر میں اسرائیل کا صہیونی خنجر گھونپا۔ جس نے لاکھوں فلسطینیوں کو خانہ بدوشی کی سزا دی۔ خدا کی زمین میں کون سی جگہ ہے جہاں انگریز کے جور و ستم اور سازشوں کے نقش ثبت نہیں؟۔ عالم اسلام کے چپے چپے پر اس کے دندان حرص و آز کے زخم موجود ہیں۔
جانشین ہوں گے تو اس سے دوہرا مقصد حاصل ہوگا۔ ایک طرف انگریزی و برطانوی حکومت کے حق میں ظل اللہ الارض کا قادیانی تصور قائم رہے گا اور دوسری طرف قادیانی نبوت انگریزی داشتہ کی حیثیت سے کام کرے گی۔ برطانیہ کو جہاد کے خطرہ سے نجات ملے گی اور اسلام کی جگہ قادیانیت کو پنپنے کا موقعہ ملے گا۔
قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا
اس مقصد کے لئے افریقی ممالک میں جس طرح عیسائیوں کے لئے سکول، ہسپتال اور گرجے قائم کئے گئے۔ ٹھیک اسی طرح قادیانیوں کے ہسپتال سکول اور نئے گرجے بنائے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں مسلمانوں کو عیسائیت اور مرزائیت کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پیس ڈالا گیا۔ اور حیرت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ان ممالک کے سادہ لوح عوام کو یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم ہے۔ ربوہ دارالخلافہ ہے۔ اور پاکستان کا امیر المومنین خلیفہ ربوہ ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نئے حربے سے بھولے مسلمانوں کو کتنی آسانی سے شکار کیا گیا ہوگا؟۔ اس لئے شدید ضرورت ہے کہ ان شیاطینی تدابیر کا توڑ کیا جائے اور ختم نبوت کے جھنڈے تلے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے دین کی صحیح نشر و اشاعت کی جائے۔ یہ مسئلہ تمام اسلامی ممالک کی توجہ کا اولین مستحق ہے۔ خصوصاً پاکستان کی حکومت پر اس کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کے لئے بہترین صلاحیتوں کے مخلص پرعزم اور باہمت نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ جو پرچم اسلام کو سربلند کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں وقف کرسکیں۔
قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں
یہ دیکھ کر بے حد صدمہ ہوا کہ قادیانی گروہ جو انگریز کی اطاعت و فرماں برداری اور خوشامد و تملق کا خوگر ہے۔ اس نے ستمبر ١٩٧٤ء کے بعد پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع
٢٧
کر دیا ہے۔ بیرونی ممالک میں قادیانیوں پر حکومت پاکستان کے مظالم کی فرضی داستانیں تراش تراش کر پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ قادیانی افسانہ سازوں کی ان حرکات کا نوٹس لینا اور ان کے مکروہ پروپیگنڈا کا جواب دینا حکومت کا فرض تھا۔ اور پاکستانی سفارت خانوں کو اس کا توڑ کرنا چاہیے تھا ۔ مگر افسوس ہے کہ اس طرف توجہ نہیں کی گئی اور اس فیصلہ کے مضمرات کی کما حقہ تشہیر واشاعت سے غفلت روا رکھی گئی ۔ اس لئے مجبوراً یہ خدمت بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کو انجام دینا پڑی ۔ الحمد للہ ! اسلامی ممالک کے علاوہ افریقی ممالک میں بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں قائم کی جا رہی ہیں اور مجلس کے مبلغین اپنے محدود وسائل کی حد تک قادیانیوں کے گمراہ کن اثرات کو زائل کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ بہر حال پاکستان کی حکومت اور پبلک کے لئے قادیانی مسئلہ کا یہ پہلو بھی خاص طور سے توجہ طلب ہے ۔
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تقاضے
ستمبر ١٩٧٤ء کے آئینی فیصلے کے تقاضے ابھی تشنہ ہیں اور مسلمان ان کی تکمیل و تعمیل کے لئے مضطرب اسی سلسلہ میں روزنامہ نوائے وقت لاہور ١٣ / جنوری ١٩٧٦ء کا اداریہ مسلمانوں کے جذبات کا صحیح ترجمان ہے ۔ ہم اسے ذیل میں نقل کر کے ملک کے ارباب حل و عقد کو اس اہم ترین فریضہ پر توجہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔
قادیانی ... آئینی ترمیم پر عملدرآمد
”مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک تقریب میں جو کراچی میں اس تنظیم کے سربراہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے اعزاز میں منعقد ہوئی ۔ یہ بتایا گیا کہ مجلس کا ایک وفد جلد ہی وزیر اعظم مسٹر بھٹو سے ملاقات کرے گا اور اس بات پر زور دے گا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے ٧/ ستمبر ١٩٧٤ء کو آئین میں اتفاق رائے سے جو ترمیم کی گئی تھی ۔ اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری اقدامات میں مزید تاخیر نہ کی جائے ۔
آئین میں یہ ترمیم برصغیر کے مسلمانوں کی جس طویل اور ایمان افروز جدو جہد کے بعد کی گئی تھی ۔ وہ محتاج وضاحت نہیں اور اس کی منظوری کے موقعہ پر وزیر اعظم مسٹر بھٹو کا یہ اظہار فخر بالکل بجا تھا کہ ان کی حکومت کو ایک بہت پرانا اور نازک مسئلہ حل کرنے کی منفرد سعادت حاصل ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران میں ان دوسرے متعلقہ اہم معاملات کی طرف بھی جلدی مناسب توجہ کرنے کا واضح یقین دلایا تھا ۔ جو مسلمانوں کے اس
٢٨
بنیادی مطالبہ کے لازمی مضمرات کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان میں فوری نوعیت کا معاملہ یہ تھا کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں ملک بھر میں جن علمائے کرام، سیاسی کارکنوں اور دوسرے اصحاب کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے وہ واپس لئے جائیں۔ یہ فوری معاملہ بھی تدریجاً اور قسطوں میں ہی حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہوا۔ کیونکہ گاہے بگاہے مختلف مقامات سے ان مقدمات کا سلسلہ ختم کرنے کے مطالبات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ لیکن بیشتر دوسرے اور نسبتاً اہم تر مضمرات ابھی تک تشنہ تکمیل چلے آ رہے ہیں۔ ہماری مراد قادیانیوں کی کلیدی مناصب سے علیحدہ کرنے، ملازمتوں کے سلسلہ میں ان کی آبادی کے تناسب کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ اس صورت حال کو بھی مستقلاً ختم کرنے سے ہے۔ جو قادیانیوں کی طرف سے اپنے آپ کو مسلمان بلکہ بطور مسلمان مسلمانوں سے بھی بہتر مسلمان ظاہر کرنے پر اصرار سے پیدا ہو جاتی ہے۔
پچھلے سال کے شروع میں آئینی ترمیم کی روشنی میں ضابطہ تعزیرات میں مناسب تبدیلی کے لئے ایک مسودہ قانون قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی تک اسے منظور نہیں کرایا گیا۔ اور یہی بات اضطراب و تعجب کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس دوران میں شناختی کارڈوں، پیشہ ورانہ تعلیم کے بعض اعلیٰ اداروں میں داخلہ، حج اور عمرہ کے لئے درخواستوں وغیرہ کے سلسلہ میں عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان کے اظہار کے لئے حلف نامے ضرور قرار دیئے جاچکے ہیں۔ لیکن ضابطہ تعزیرات میں تبدیلی کا مسودہ قانون منظور کرنے میں جو تاخیر ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے جہاں قادیانی حسب سابق اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہاں انہوں نے طنز و تضحیک کے انداز میں اصل مسلمانوں کو محض آئینی قانونی مسلمان قرار دینے کا بھی اشتعال آفریں سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اور ان کے بعض اخباروں اور ترجمان جرائد نے تو اس حرکت کو معمول بنا لیا ہے۔
ضابطہ تعزیرات میں آئینی ترمیم کے مطابق تبدیلی کرنے میں تاخیر سے یہ عجیب صورت بھی پیدا ہو گئی ہے کہ جو لوگ آئینی طور پر غیر مسلم قرار پا چکے ہیں وہ نہ صرف اسلام کے مبلغ ہونے کے دعویدار بنتے ہیں بلکہ ان اسلامی اصطلاحات کو بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ جو عقیدہ و ایمان اور تاریخ و روایت کے اعتبار سے صرف اسلام کا حصہ اور مسلمانوں کا ورثہ اور سرمایہ ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے یہ گمراہ کن اور اشتعال آفرین سلسلہ اب اسی طرح ختم ہو سکتا ہے کہ
٢٩
ضابطہ تعزیرات میں بھی تبدیلی کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ تا کہ آئین میں تاریخی ترمیم کے اصل مقاصد پورے کرنے کی راہ کما حقہ ہموار ہو سکے۔
ہمیں امید ہے کہ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت نے وزیر اعظم سے اپنے ایک وفد کی ملاقات کا جو پروگرام بنایا ہے اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کی مثبت کوشش ثابت ہوگا۔ اور اسلامیان پاکستان کو ١٩٧٤ء میں اپنے بنیادی عقیدہ اور عشق رسول ﷺ کے تحفظ واظہار کے لئے با قاعدہ آئینی اہتمام کرنے کی جو سعادت حاصل ہوئی تھی۔ وہ ہر لحاظ سے پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گی۔ قادیانی حلقے آئینی ترمیم کی طرح ضابطہ تعزیرات میں تبدیلی پر بھی یقیناً بڑے برہم ہوں گے۔ لیکن جب وہ دائرہ اسلام سے باہر قرار دیئے جاچکے ہیں۔ تو پھر انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا۔ کہ وہ اپنے غیر اسلامی عقائد کے باوجود مختلف مفادات کے حصول و تحفظ کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کریں اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے پر اصرار کرتے رہیں۔“
(محرم ١٣٩٦ھ فروری ١٩٧٦ء، بشکریہ روز نامہ نوائے وقت لاہور ١٣ جنوری ١٩٧٦ء)
قادیانیت اور عالم اسلام...... ایک سفر نامہ کا اقتباس ١؎
حج سے پہلے رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز صاحب سے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری مدظلہ کی ملاقات ہوئی۔ مولانا نے ان کو اپنے سفر کے تاثرات سنائے جس پر انہوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ اور دعائیں دیں۔ حضرت مولانا نے ان کو بھی یہ تجویز پیش کی کہ رابطہ کی طرف سے کتاب ”موقف الامۃ الاسلامیہ من القادیانیہ“ کی طباعت کا انتظام ہو اور اسے بلاد اسلامیہ میں تقسیم کیا جائے۔ جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔ اور کتاب کو متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔
موسم حج میں ہر سال رابطہ کی طرف سے بین الاسلامی مجلس مذاکرہ منعقد ہوتی ہے۔ اس مجلس کے اجلاس جاری تھے۔ شیخ محمد صالح قزاز صاحب نے حضرت مولانا کو اس میں شرکت کی دعوت پیش کی اور اصرار کیا کہ کم از کم اس کے اختتامی اجلاس میں آپ ضرور شرکت فرمائیں جسے آپ نے قبول فرمالیا۔ اس بین الاسلامی مجلس مذاکرہ میں جن موضوعات پر مقالے پیش کئے گئے وہ یہ ہیں:
- ١....... قادیانیت
١؎ یہ سفر نامہ محترم جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب زید مجدہم نے تحریر فرمایا۔
٣٠
- ٢...... غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلیت
- ٣...... اسلام میں عورت کا مقام
مجلس کا آخری اجلاس ٥/ ذوالحجہ ١٣٩٥ھ مطابق ٧/ دسمبر ١٩٧٥ء کو عشاء کے بعد رابطہ کے ہال میں شروع ہوا۔ حضرت مولانا نے بھی اس میں شرکت فرمائی ۔ رابطہ کے حضرات نے آپ کا استقبال کیا اور شیخ محمد صالح قزاز اپنی جگہ چھوڑ کر آئے اور مولانا کو خاص مہمانوں کی جگہ بٹھایا۔ اس اجلاس میں مسلم اور غیر مسلم ممالک کے سینکڑوں علماء نے شرکت کی ۔
اس اجلاس میں مندرجہ بالا موضوعات سے متعلق مجلس مذاکرہ کی خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات پڑھ کر سنائیں ۔ قادیانیت کے متعلق جو سفارشات پیش کی گئیں وہ یہ ہیں ۔
”بین الاسلامی مجلس مذاکرہ کی طرف سے قادیانیت سے متعلق مقررہ کمیٹی نے بڑے غور وخوض سے قادیانی جماعت کے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کیا ۔ اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ جماعت بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑیں کاٹ کر مسلمانوں میں اپنے خبیث نظریات پھیلاتی ہے۔ اور اسلام اور مسلمانوں کے عقائد کے خلاف مندرجہ ذیل امور کی مرتکب ہے۔
- الف...... اس جماعت کے لیڈر مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
- ب...... اپنے گھٹیا اغراض کے لئے قرآن کریم کی آیات کی تحریف کی۔
- ج...... اپنے آقا استعمار اور صہیونیوں کو خوش کرنے کے لئے جہاد کے منسوخ
ہونے کا اعلان کیا۔ نیز کمیٹی نے ان عقائد کی ، سیاسی اور اجتماعی خطرات کا بھی مطالعہ کیا ۔ جن کا اس جماعت کی وجہ سے عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہے۔ اور بعض فضلاء کی زبانی یہ سن کر افسوس ہوا کہ یہ جماعت افریقہ ایشیا ، یورپ اور امریکہ کے بعض ممالک میں اپنا کام کر رہی ہے۔ اس لئے یہ کمیٹی مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرتی ہے۔
- ١...... بین الاسلامی مجلس مذاکرہ ان اسلامی حکومت کو مبارک باد پیش کرتی ہے۔
جنہوں نے قادیانیت کے بارے میں اپنا واضح موقف اختیار کرتے ہوئے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اور یہ مجلس تمام اسلامی حکومتوں اور دینی تنظیمات سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھی یہ اعلان کریں کہ قادیانیت غیر مسلم جماعت ہے۔ اور اسلام کی دائمی تعلیمات کے خلاف ہے۔
- ٢...... حسن اتفاق سے اس وقت نائیجیریا کے سربراہ مملکت دیار مقدسہ میں
موجود ہیں۔ اور جیسا کہ معلوم ہے کہ نائیجیریا میں قادیانی سرگرمیاں بہت تیز ہو رہی ہیں۔ اور اب
یہ جماعت وہاں کی یوربا زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ علماء افاضل کا ایک وفد تشکیل دیا جائے جو نائیجیریا کے صدر محترم سے ملاقات کرے اور ان کے سامنے اس غیر مسلم اور باغی جماعت کے بارے میں امت اسلامیہ کے موقف کی وضاحت کرے اور ان سے اپیل کرے کہ وہ ان کے اس خطرناک منصوبے کو پورا ہونے سے روکیں۔
- ٣...... مسلمانوں کو مختلف وسائل کے ذریعہ قادیانی لٹریچر پڑھنے سے روکا جائے
اور اس لٹریچر کو مسلمانوں میں پھیلانے کا سد باب کیا جائے ۔ خصوصاً قرآن کریم کے تحریف شدہ ترجمے۔
- ٤...... کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ اس غیر مسلم گمراہ کن جماعت کی سرگرمیوں
پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور رابطہ عالم اسلامی اس سلسلہ میں ایک خاص شعبہ قائم کرے جس کا کام اس جماعت کی سرگرمیوں اور اس کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنا اور اس کی مقاومت کے لئے مناسب قدم اٹھانا ہو۔
- ٥...... جن بلاد میں یہ فتنہ پھیل چکا ہے وہاں کثرت سے ایسے مخلص مبلغین کو بھیجا
جائے جو قادیانی مذہب اس کے مقاصد اور اس کے طریقہ کار سے خوب واقف ہوں۔
- ٦...... جن ممالک میں قادیانی سرگرمیاں موجود ہیں وہاں مدارس ، ہسپتال اور
یتیم خانے قائم کئے جائیں تا کہ مسلمان بچے ان کے مدارس اور ہسپتالوں میں جانے پر مجبور نہ ہوں۔
- ٧...... یہ کمیٹی رابطہ عالم اسلامی سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ اسلامی ممالک میں
ایسی کتابیں بکثرت شائع کرے جو اس فرقہ کے خطرات سے آگاہ کرتی ہوں تا کہ مسلمان ان کے فاسد عقائد اور ناپاک اغراض پر مطلع ہو سکیں۔
- ٨...... اسلامی حکومتوں سے یہ بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ہاں شائع ہونے والی
کتابوں کی نگرانی کے لئے ایسے حضرات کا تقرر کرے جو صحیح اسلامی فکر کے مالک ہوں ۔
- ٩...... جو لوگ محض جہالت یا دھوکے میں قادیانیت کے جال میں پھنس چکے ہیں
ان کو نہایت نرمی اور حکمت عملی سے اسلام کی دعوت دی جائے ۔ اور اس سلسلہ میں مناسب تدابیر اور وسائل کام میں لائے جائیں ۔ وباللہ التوفیق!
٣٢
حرمین شریفین میں مقامی علمی اور دینی شخصیات کے علاوہ دوسرے ممالک سے آئی ہوئی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ اور ان سے اس موضوع پر تبادلہ خیالات ہوا اور ان کو مذکورہ کتاب پیش کی گئی۔ ان ممالک میں جاپان، انڈونیشیا، ملایا، فلپائن، ہندوستان، شام، عراق، اردن، لیبیا، نائیجیریا، سیرالیون، اپرولٹا، ایوری کوسٹ، سینیگال، جنوبی افریقہ اور ترکی قابل ذکر ہیں۔ وصلی اللہ علی سیدنا محمد خاتم النبیین وآلہ واصحابہ وسلم!
(ربیع الثانی ١٣٩٦ھ، مئی ١٩٧٦ء)
قوم کا اتحاد و اتفاق مستقبل کے لئے نیک فال
نہ معلوم اس بدنصیب مملکت کا کیا انجام ہوگا؟ روز اول سے تاریخ کچھ ایسی عبرت ناک ہے کہ بجز حیرت وافسوس کے کچھ حاصل نہیں۔ پاکستان کی سی سالہ مختصر زندگی میں بڑے بڑے بحران آئے اور گزر گئے۔ لیکن دور حاضر میں جس شکل وصورت میں بحران آیا ہے۔ اور قوم و ملت کا جو شدید امتحان شروع ہوا ہے۔ ادوار سابقہ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان درد ناک حوادث میں جو گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں بلاشبہ مایوس کن ہیں۔ لیکن امید و کامیابی کی جو کرنیں ان گھٹاؤں کی تہوں سے نکلتی ہیں۔ وہ قدرے حوصلہ افزاء ہیں۔ ملک وملت کا حیرت انگیز اتحاد شدید اختلافات کے ہوتے ہوئے جس مرحلے میں داخل ہے۔ نہایت ہی امید افزا ہے۔ اور من حیث القوم اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ جس قوت سے پیش آ رہا ہے۔ نہایت ہی روشن اور تابناک مستقبل کی خبر دیتا ہے۔ چند مٹھی بھر افراد جو شراب وزنا اور بے حیائی وعریانی کے جنون میں مبتلا ہیں۔ ان کے سوا تمام قوم کا اتحاد بے نظیر حسین وجمیل منظر پیش کرتا ہے۔ اور دین کے لئے سر بکف میدان میں نکل کر جس غیرت ایمانی وحمیت دینی اور حرارت اسلامی کا ثبوت دیا جا رہا ہے اس سے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی۔
گذشتہ دنوں تحریک ختم نبوت میں پاکستانی قوم جس طرح یک دل و یک جان ہو کر متحد ہوگئی تھی۔ اب دوبارہ پورے دینی نظام کو لانے کے لئے اتحاد و اتفاق ہو گیا ہے۔ جو نہایت امید افزاء ہے۔ اور قوم کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کے لئے قوم متحد ہو جائے۔ اور وہ حل نہ ہو سکے۔ قومی اتحاد لوہے کی ایک ایسی دیوار ہے کہ نہ پولیس کی لاٹھیاں اسے مسمار کر سکتی ہیں۔ نہ فوج کی گولیاں اس میں رخنہ پیدا کر سکتی ہیں۔ نہ بیرونی اعداء اسلام اور دشمنان دین کی ریشہ دوانیاں اسے گرا سکتی ہیں۔ اور نہ اس میں سوراخ کیا جا سکتا ہے۔
٣٣
اگر ہٹلر و گوبلز اور ہملر ومیسولینی کا انجام پیش نظر ہو تو ہر ڈکٹیٹر مزاج حکمران کے لئے مقام عبرت ہے ۔ ظلم وتشدد کے ہتھیار کی عمر بہت کم ہوتی ہے ۔ حق تعالیٰ نے کسی ظالم و جابر حکمران کو اپنی خدائی نہیں دی ہے کہ جو چاہے کرتا رہے ۔ گذشتہ ادوار میں یورپ و ایشیاء میں جو ظالم و سنگدل حکمران آئے ان کا عبرت ناک انجام دنیا نے دیکھ لیا ۔ قرآن کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے :
”وهو الذى ينزل الغيث من بعد ما قنطوا وينشر رحمته ، وهو الو لى الحميد ٠ الشورى ٢٨ “ ﴿اور وہ ایسا ہے کہ لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے ۔ اور وہ کارساز لائق حمد ہے ۔﴾
کچھ بعید نہیں کہ جس انداز سے ملک وملت کا خون بہایا جارہا ہے اور جس انداز سے نوجوانوں کی لاشیں تڑپ رہی ہیں ۔ جیل خانے اسیروں سے بھر گئے ہیں ۔ اور ہسپتال زخمیوں سے پٹے پڑے ہیں ۔ اس کا صلہ حق تعالیٰ سے عام معافی ہو اور اس قوم پر رحم فرما کر سی سالہ غلطیوں اور غفلتوں کو معاف فرمائے ۔ صالح حکومت اور اسلامی قانون اور شریعت الہیہ کے نفاذ کے پرچم لہرائیں اور غضب کو خود ہی حق تعالیٰ ابر رحمت سے بدلے ۔ وما ذلك على الله بعزيز!
بہر حال پوری قوم کو بارگاہ رحمت ہی کی طرف توجہ کی شدید ضرورت ہے اور یہ کہ ان ظاہری اسباب پر فتح و کامیابی کو موقوف نہ سمجھیں ۔ خوشی کی بات ہے کہ مختلف جماعتوں کا اسلام کے اساسی مقاصد پر پورا اتحاد واتفاق ہے ۔ قرآن کریم وسنت نبی کریم ﷺ وعقیدہ ختم نبوت پر سب کا اتفاق ہے ۔ اگر تھوڑا بہت اختلاف ہے تو چند فقہی مسائل میں قوم اپنے اپنے مسلک کے مطابق اس کو اختیار کرنے کی مجاز ہے ۔ گذشتہ چند دنوں میں راقم الحروف نے پریس کو دو بیانات جاری کئے تھے ۔ پہلا بیان شخصی و انفرادی تھا ۔ جو ٩؍ اپریل کو اخبارات میں شائع ہوا اور دوسرا مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کی حیثیت سے جو ١٥؍ اپریل ٧٧ء کے اخبارات میں چھپا ۔ دونوں بیان علی الترتیب حسب ذیل ہیں :
حکومت تشدد کر کے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی
کراچی ٩؍ اپریل (پ ر) ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے آج یہاں اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت پاکستان جس بحران سے گذر رہا ہے وہ بہت دردناک اور تاریخ پاکستان کا تاریک ترین باب ہے ۔ حکومت عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار پر قابض رہنا چاہتی ہے ۔ دوسری طرف عوام اس حکومت کو کسی طرح برداشت کرنے کے لئے تیار
نہیں اور اسے متفقہ طور پر بار بار رد کر چکے ہیں۔
ارباب حکومت تشدد سے عوام کے جذبات کو دبانا چاہتے ہیں جو یقیناً بہت مذموم ہے۔ نیز مسجدوں میں لاٹھی چارج کرنا، اشک آور گیس استعمال کرنا، نمازیوں اور علماء کو زد و کوب کرنا اور بے گناہ مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا سراسر عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ اس لئے ہماری رائے یہ ہے کہ حکومت تشدد کر کے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ برطانیہ جیسی حکومت بھی تشدد کر کے اقتدار سے محروم ہو گئی۔ حکومت کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ ان حالات میں قوم کے مطالبات کو تسلیم کرلے۔ مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے آخر میں قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک کو پر امن رکھیں اور مظلوم بنے رہیں۔ اس لئے کہ مظلوم ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت و کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ عہدِ نبوت سے لے کر آج تک یہی بتلاتی ہے۔
(جنگ کراچی ١٩؍ ربیع الثانی ١٣٩٧ھ، ٩؍ اپریل ١٩٧٧ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کا بیان
ملک عزیز جس ہولناک بحران کی لپیٹ میں ہے اس پر دل کانپ رہا ہے۔ خانہ خدا کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ علماء، وکلاء اور ملک کے دیگر معززین کی سرِ بازار تذلیل کی جا رہی ہے۔ نہتے شہریوں کو خاک و خون میں تڑپایا جا رہا ہے۔ اور ان کا پرندوں کی طرح شکار کیا جا رہا ہے۔ معصوم بچوں اور خواتین پر شتر زوری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ جو کسی قوم کی پیشانی پر سب سے بد نما داغ ہے۔ معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ اقتصادیات پٹ چکی ہیں۔ کارخانے اور بازار بند اور کاروبار ٹھپ ہے۔ عالمی برادری میں ملک کا وقار خاک میں مل چکا ہے۔ دشمن ہنس رہے ہیں اور دوست رو رہے ہیں۔ یہ ظلم و ستم یہ جور و تعدی یہ انتشار و خلفشار یہ بے آبروئی و خونریزی ملک کے مستقبل کے لئے نہایت خطرناک ہے۔
میں نہایت دل سوزی سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں۔ کہ خدا کے لئے اس ملک کی حالت پر رحم کریں۔ اقتدار سے الگ ہو کر قوم کو آزادانہ انتخابات اور بے لاگ فیصلہ کا موقعہ دیں۔ اگر قوم بخوشی انہیں دوبارہ منتخب کر لیتی ہے تو اطمینان سے حکمرانی کریں اور اگر قوم انہیں مسترد کر دیتی ہے تو زبردستی لوگوں کی گردنوں پر مسلط رہنے کی کوشش نہ کریں۔ ملک کے طول و عرض میں جو خونی ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے ملک اب اس کا مزید متحمل نہیں۔
(جنگ کراچی ٢٥؍ ربیع الثانی ١٣٩٧ھ، ١٥؍ اپریل ١٩٧٧ء)
٣٥
یہاں تک لکھا گیا تھا کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پریس کانفرنس نشر ہوئی جو بہت غور سے سنی گئی۔ اور اس کے پس منظر و پیش منظر پر غور کیا تو حیرت وافسوس کی انتہا باقی نہ رہی۔ اسی وقت رات کو ایک اخباری بیان جاری کیا گیا۔ جو ١٨؍ اپریل کی صبح کے اخبارات میں شائع ہوا۔ اس کا متن حسب ذیل ہے۔
”کراچی ١٧؍اپریل (پ ر) مولانا سید محمد یوسف بنوری امیر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آج رات ایک بیان میں کہا ہے کہ قوم کو توقع تھی کہ جناب بھٹو اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان کے موجودہ بحران کا جس نے پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حل کرنے کے لئے قوم کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اس کے مطالبات کو منظور کرنے کا اعلان کریں گے۔ مگر افسوس کہ جناب بھٹو نے صورت حال کا صحیح اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں جن اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہیں قوم سے مذاق ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جس حالت میں قوم کو خاک وخون میں تڑپایا جارہا ہو اور عوام کے مجمعوں پر آتش باری کی جارہی ہو۔ ان اقدامات کی کیا قیمت ہو سکتی ہے۔ بہرحال جناب بھٹو صاحب کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ قوم اب ان کے سبز باغوں سے فریب نہیں کھائے گی۔ انہوں نے قوم سے اتنی وعدہ خلافیاں کی ہیں کہ اب قوم کے کسی سنجیدہ فرد کو ان کے کسی وعدہ پر اعتبار نہیں رہا۔ مثلاً قادیانیوں کے بارے میں قانون سازی کا قومی اسمبلی میں وعدہ کیا تھا۔ مگر تین سال گزرنے پر بھی وعدہ پورا نہ کیا گیا۔ اس کے لئے بارہا یاد دہانی کرائی گئی۔ تار دیئے گئے۔ تقاضوں پر تقاضے کئے گئے۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ ان کے لئے دانشمندانہ راستہ اب یہی ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں آزادانہ انتخاب کا راستہ صاف کریں اور موجودہ اسمبلیوں کو جو دھاندلیوں کی پیداوار ہیں۔ اور جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں توڑ کر قوم کے مطالبات تسلیم کرلیں۔ اللہ تعالیٰ صحیح فہم کی توفیق نصیب فرمائے۔ اور ملک پر رحم فرمائے۔ آمین!
حکام کے وعدے اور اسلام سے ان کا تعلق
بڑا صدمہ ہے کہ یہاں روزِ اوّل سے جو حکمران آتے رہے کتاب وسنت کا نام لینے کے باوجود کتاب وسنت کی جڑیں کاٹتے چلے گئے۔ اسلامی قانون بنانے کے بہانے سے تعلیمی بورڈ قائم کیا گیا لاکھوں روپیہ اس پر خرچ کیا گیا۔ پھر مشاورتی کونسل قائم کی گئی جو آج تک موجود ہے۔ اس وقت شاید کروڑوں روپیہ خزانہ عامرہ کا خرچ ہو چکا ہوگا۔ لیکن ہنوز روزِ اوّل ست ،
صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے حکمرانوں کی سیاسی شعبدہ بازی ہے چونکہ عام مسلمانوں کا مزاج دینی ہے۔ اور انہیں معلوم ہے کہ یہاں کے مسلمان اسلام کے سوا کسی نظام کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لئے ان کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لئے یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ عائلی قوانین کتاب وسنت کے خلاف نافذ کر دیے گئے ۔ تمام ملک میں احتجاج ہوا مگر کیا مجال کہ حکومت اپنے موقف سے سرمو بھی ہٹی ہو۔ آخری دور بھٹو صاحب کا آیا ہے۔ اپوزیشن میں چند مؤثر خدا ترس ہستیوں کی مساعی جمیلہ سے خدا خدا کر کے آئین میں پہلی مرتبہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور اس کا آئین کتاب وسنت پر مبنی ہو گا۔ لیکن عملی طور پر زبانی جمع خرچ اور لفظوں کے ہیر پھیر سے زیادہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس بدنصیب مملکت کے حکمرانوں کا مزاج سوء اتفاق سے ایک ہی قسم کا نکلا تھا۔ تشابہت قلوبہم ۔ قاتلہم اللہ انی یؤفکون ۔ توبہ: ٣٠
بھٹو صاحب کے دور حکومت میں بار بار یہی دہرایا گیا۔ پھر منشور کی بنیادی دفعات میں یہ دہرایا گیا کہ مذہب اسلام ہوگا ۔ معیشت سوشلزم ہوگی ۔ مگر اسلام کے ساتھ سوشلزم کا جوڑ کیسے؟ ۔ کیا کفر واسلام دونوں ایک ہو سکتے ہیں؟ ۔ کیا سفید وسیاہ ایک ہی چیز ہے؟ ۔ غرض حقائق کو مسخ کر کے الفاظ کے گورکھ دھندوں میں بے چارے عوام کو پھنسانے کی کوشش کی گئی اور ہو رہی ہے ۔ بھٹو دور حکومت میں تمام مسلمانوں نے اپنے اتحاد واتفاق کی قوت سے ملت مرتدہ قادیانیہ مرزائیہ کو اقلیت بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔ ضرورت تھی کہ فوراً قانون بنتا ، مرزائیوں کی مردم شماری ہوتی ۔ اس تناسب سے ان کے لئے اسمبلی کی سیٹیں متعین کی جاتیں ان کے شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں پر قادیانی مرزائی کا لفظ لکھنا ضروری کر دیا جاتا تاکہ چور راستوں سے جو اسلامی اور عربی حکومتوں میں گھس کر وہ اسلام کی بیخ کنی کرتے چلے آئے ہیں اس کا راستہ بند کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس اور صد افسوس کہ ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ۔ بلکہ اٹھتے ہوئے قدموں کو کاٹ دیا گیا ۔ مسٹر بھٹو کی حکومت اس سلسلہ میں خود تو کیا اقدام کرتی ۔ حزب اختلاف کی طرف سے جو بل اسمبلی میں پیش ہوا اسے بھی مسترد کر دیا ۔ اور حالیہ انتخابات سے پہلے مسٹر بھٹو نے مرزا ناصر احمد قادیانی مرتدین کے سربراہ سے تین گھنٹے تک طویل ملاقات کی ۔ نہ جانے کیا خفیہ پخت و پز ہوئی ہو گی ۔ کسی کا شاخسانہ ہے کہ موجودہ نام نہاد اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے قادیانیوں کو شریک نہیں کیا گیا ۔ گویا آئین میں جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ عملی طور پر اسے معطل کر دیا گیا ۔ ماضی قریب میں شراب پر فخر ومباہات کا اظہار کیا اور عملی طور پر بر سر بازار شراب نوشی کی محفلیں
٣٧
گرم کی گئیں۔ قانون اسلام کا مضحکہ اڑایا گیا۔ زکوۃ وعشر کے اسلامی نظام کو فرسودہ اور باعث لعنت قرار دیا گیا۔ بلکہ تمام اسلامی احکام کو پارینہ ، دیرینہ اور فرسودہ نظام سے یاد کیا گیا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا بھٹو صاحب کے وعدے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ ۔ اپنی کرسی اقتدار کو سہارا دینے کے لئے شراب نوشی کی پابندی کے اعلان سے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ جبکہ چور راستوں سے غیر ملکی لوگوں اور غیر مسلموں کے لئے کھلی اجازت دے دی گئی۔ عبرت کی بات ہے کہ ہندوستانی حکومت نے مدت سے شراب کو اس سختی سے ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ جس کی نظیر اسلامی حکومت میں نہیں ملے گی۔ حالانکہ وہ کافر سیکولر حکومت ہے۔ چند ناموں کا اعلان کر کے اسلامی قانون سازی کے لئے سفارشات پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاکہ ہوا کے رخ کو موڑا جاسکے۔ سابقہ تجربوں کو سامنے رکھ کر کیا کوئی سادہ لوح بھی ان اعلانوں اور ان وعدوں پر اعتماد کر سکتا ہے؟ ۔ بہر حال یہ آخری سیاسی حربہ تھا اور ترکش کا آخری تیر تھا۔
اس وقت ہم نے صرف ایک دینی پہلو کے پیش نظر چند اشارات کئے ہیں سیاسی اعتبار سے مملکت کی تباہی ، اقتصادی بدحالی ، بدامنی ، بے رحمی ، ظلم وعدوان کی فراوانی ، بیرونی قرضہ جات سے معیشت کی تباہی کی داستانیں اتنی طویل اور اتنی درد ناک ہیں کہ نہ قلب میں طاقت نہ قلم میں یارائی کی قوت ہے۔
(جمادی الاول ١٣٩٧ھ، مئی ١٩٧٧ء)
حضرت بنوریؒ کا سعودی عربیہ کے مشہور روزنامے الندوة کو انٹرویو
- ☆ ...... باہمی اتحاد و اعتماد ہی اسلام کی روح ہے۔
- ☆ ...... رابطہ اسلامی اور دعوت الی اللہ کے میدان میں اس کا کردار۔
- ☆ ...... قادیانیت مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ جنگ ہے۔
- ☆ ...... اسلامی اتحاد سے زیادہ اعلیٰ وارفع دنیا کا کوئی اتحاد نہیں ہو سکتا۔
- ☆ ...... باہمی اتحاد و اعتماد ہی اسلام کا جوہر اصلی ہے۔
- ☆ ...... اس اسلامی اتحاد کی طرف دعوت کے بارے میں کتاب وسنت کی بے شمار
نصوص (تصریحات) موجود ہیں۔
مکہ مکرمہ: روزنامہ الندوة کے نمائندہ صالح جمال افندی انٹرویو سے پہلے مندرجہ ذیل الفاظ میں حضرت مولانا موصوف کا تعارف کراتے ہیں۔
٣٨
اس سال بھی حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مہتمم مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی نے فریضہ حج ادا کیا۔ موصوف پاکستان کے اکابر علماء میں سے ہیں۔ آپ اپنے قلم وعلم دونوں کے ذریعہ حریم اسلام سے دفاع اور دین متین اور عربی زبان کی خدمت میں مصروف ہیں۔
جس مدرسہ کے آپ مہتمم ہیں وہ پاکستان کی ان قدیم ترین درس گاہوں میں سرفہرست شمار ہوتا ہے۔ جنہوں نے اسلام کی نشر واشاعت اور اسلامی تعلیمات کی ترویج وتوسیع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اور فقہ قضاء اور علم کتاب وسنت کے محاذوں پر کام کرنے والے مجاہد پیدا کئے ہیں۔
ان تعارفی کلمات کے بعد نامہ نگار موصوف لکھتے ہیں:
میں نے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ سے ملاقات کے بعد پہلا سوال پاکستان میں قادیانی تحریک کے بارے میں کیا۔
قادیانیت سامراج کا آلہ کار
سوال...... پاکستان میں قادیانیت اپنی سیاسی اغراض کے ہدف اصلی مسلمانوں کے ہر اتحاد ارتباط اور اجتماعی جدوجہد کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کے تحت اتحاد اسلامی کے خلاف پے در پے حملے کر رہی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں کوئی معتد بہ اثر اتحاد اسلامی کی مساعی کو ناکارہ بنا دینے کی صورت میں مرتب ہو سکتا ہے؟۔ اور کیا یہ محاذ...... قادیانیت...... اتنا قوی ہے کہ وہ اسلامی اتحاد اور مسلم ممالک کے باہمی ارتباط کی تحریک کے فروغ اور نشوونما پر کسی بھی پہلو سے اثر انداز ہو سکے گا؟۔
قادیانی تحریک سامراج کا آلہ کار ہے
حضرت بنوریؒ نے جواب دیا کہ...... قادیانیت کی تمام تر کوششیں صرف برطانوی سامراج کے ہاتھ مضبوط کرنے اور برطانیہ کے استعماری منصوبوں کے لئے اسلامی ملکوں میں زمین ہموار کرنے اور ان کو کامیاب بنانے کی غرض سے ہمیشہ اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور ان کے باہمی ارتباط واتحاد کو درہم برہم کرنے کے لئے وقف رہی ہیں۔ چنانچہ قادیانیت کا عقیدہ ہے کہ برطانوی سامراج روئے زمین پر اللہ کا سایہ ہے جیسا کہ اس فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں اس کی تصریح کی ہے۔
٣٩
لہٰذا یہ فرقہ خالص استعمار کی پیداوار ہے۔ برطانوی سامراج نے اسے جنم دیا ہے۔ اسی لیے مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں گے ان کے خلاف ہر قسم کی سازش کو یہ فرقہ دینی جہاد قرار دیتا ہے اور اپنے خالق و مربی استعمار کا حق نمک ادا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں ان قادیانیوں کا وجود ہر اسلامی ملک اور اس کے مسلمانوں کے لئے زبردست خطرہ ہے۔ اور جب یہ واضح ہو گیا کہ قادیانیت اسلامی ممالک میں کام کرنے کے لئے برطانوی استعمار کا ایک خودکار (آٹومیٹک) حربہ ہے۔ تو ان قادیانیوں کی طاقت وقوت کے اصل سرچشمہ کا اور ان کی ذات سے ظہور میں آنے والے خطرناک نتائج وعواقب کا معلوم کر لینا بہت آسان ہے۔
اسلامی اتحاد و باہمی اعتماد کی منزل تک پہنچنے کا راستہ
سوال...... دنیا کی مسلمان قومیں مجموعی طور پر عرب یا غیر عرب، اگر کسی ایک خطہ زمین پر جمع یا باہمی اتحاد وتعاون پر متفق ومتحد ہی ہو جائیں تو یہ دنیا کی اتنی بڑی اور زبردست طاقت بن سکتے ہیں۔ جس کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کے خیال میں وہ کون سا راستہ یا طریق کار ہے جس کو اختیار کر کے باہمی اتحاد وتعاون کلی یا جزئی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
جواب...... شیخ بنوری نے فرمایا! اسلامی اتحاد وتعاون باہمی کے اتنے فوائد اور عظیم ثمرات ہیں جن سے کسی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا۔ باقی اس مقدس آرزو کو پورا کرنے کے لئے میرے خیال میں چند طریقے ہیں:
- ١....... دین اسلام اور اس کی (امن وسلامتی کی ضامن) تعلیمات کی اشاعت
پوری قوت کے ساتھ دنیا کے چپہ چپہ پر کی جائے۔ خصوصاً جن ممالک کے لوگ اسلامی تعلیمات کے لئے تشنہ اور بے چین ہیں اور صرف تعلیمات کی اشاعت پر اکتفا نہ کیا جائے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی تربیت اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل نیز دینی شعور کو بیدار کرنا اور اسلامی احساسات ورجحانات پیدا کرنا بھی از بس ضروری ہے۔
- ٢....... تمام اسلامی ممالک میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے اور تربیتی
پروگراموں میں بھی یکسانیت پیدا کی جائے۔
- ٣....... پھر یہ اسلامی ممالک وسیع تر ملی مفادات کو سامنے رکھ کر آپس میں تجارتی
اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی معاہدے کریں۔
ان تدابیر سے بڑھ کر یہ ہے:
٤٠
”تمام اسلامی حکومتوں کے دستور اور رسمی قوانین یکساں ہوں اور وہ اسلامی شریعت اور اسلامی قوانین کی روشنی میں بنائے جائیں۔“
باہمی اتحاد و تعاون ہی اسلام کی روح ہے
سوال ...... اس باہمی اتحاد و تعاون کی طرف مقدس دعوت کے نتیجہ میں امت مسلمہ کے لئے جس عمومی خیر و صلاح کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟۔
جواب ...... باہمی اتحاد و تعاون تو اسلام کی روح اور جوہر اصلی ہے۔ لہٰذا اسلام تو نام ہی ہے باہمی اتحاد و یگانگت اور امن و سلامتی کی ضمانت کا، قرآن کریم کی بہت سے آیات واحادیث میں اس اتحاد و تعاون کی دعوت صراحۃً موجود ہے۔ اور اسلامی اخوت تو بے شمار آیات و احادیث میں منصوص و معروف ہے۔ لہٰذا اس باہمی تعاون و یگانگت سے اعلیٰ و ارفع اور کون سا اتحاد تعاون ہو سکتا ہے۔ جس کی دعوت ہمارا دین حنیف دیتا ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ ہر مسلمان اس اعلیٰ و ارفع شرعی و دینی دعوت پر لبیک کہے گا۔ اور جب اس دعوت کی روح اخلاص ہو اور اس کی اساس آسمانی تعلیمات پر قائم ہو تو اس میں کامیابی یقینی اور اس کے مقدس ثمرات کا حصول قطعی ہے۔
مجمع البحوث قاہرہ کی کانفرنس اور اس کی تجاویز
سوال ...... آپ نے مجمع البحوث قاہرہ کی تیسری کانفرنس میں شرکت فرمائی ہے۔ مؤتمر مختلف اسلامی موضوعات پر نہایت اہم اور محکم تجاویز پاس کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ کیا ان میں سے کوئی قرارداد وقوع میں آئی ہے۔ اور اس پر عمل ہوا ہے؟۔ اور کیا مؤتمر میں سید قطب اور ان کے رفقاء کی شہادت کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا؟۔
جواب ...... ہم اس کانفرنس میں شریک ضرور ہوئے ہیں۔ مقالات پر بحث و تنقید میں حصہ بھی لیا ہے۔ اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ لیکن قراردادیں اکثر و بیشتر ہمارے واپس چلے آنے کے بعد ایک خاص اساسی کمیٹی میں پاس ہوئی ہیں۔ جو مجمع البحوث کانفرنس کی روشنی میں قرار دادیں پاس کرنے کے لئے مقرر ہے۔ اس کا ابھی تک علم نہیں ہوا کہ اس کمیٹی میں کیا قراردادیں پاس ہوئیں۔ اور ان میں سے کون کون سی نافذ ہوئیں۔ جو قرارداد ہماری موجودگی میں باتفاق آراء پاس ہوئی وہ اسرائیل کے خلاف قرارداد ہے۔ باقی سید قطب کی شہادت کا مسئلہ وہاں اٹھانا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ ان کے سیاسی مصالح کے خلاف تھا۔
٤١
دین کے خلاف محاذ جنگ
سوال...... میں نے شیخ بنوری سے سوال کیا ! پاکستان میں ادارہ تحقیقات اسلامی کیا کام کر رہا ہے۔ اور اس ادارہ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟۔ جواب...... ادارہ تحقیقات اسلامی جس کے سربراہ ڈاکٹر فضل الرحمن ہیں۔ اس کی تمام کارکردگی اور اغراض و مقاصد کتاب وسنت کی بالکل ضد ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس ادارہ کا اصلی مقصد اسلام کے نام سے ایک نیا اسلام پیش کرنا ہے۔
مسلمانوں کو اس ادارہ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرنے کے لئے اس ادارہ کے سربراہ (ڈائریکٹر) کے چند افکار و نظریات پیش کئے جاتے ہیں۔ جن کا بار بار اور برملا اظہار وہ اپنی تصانیف، مقالات اور ماہنامہ فکر ونظر میں کر چکے ہیں۔ یہ تمام افکار و نظریات اسلامی معتقدات کی بالکل ضد ہیں اور ان سے ٹکراتے ہیں۔ ان افکار ونظریات نے ایک (خطرناک قسم کا) فکری انتشار پیدا کر دیا ہے۔ اور نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس ادارے کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اور وہ وزارت قانون کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ اور اسلامی حکومت کے خزانہ سے گرانقدر رقمیں اس پر صرف کی جارہی ہیں۔ حالانکہ یہ ادارہ دین اسلام میں برابر رخنہ اندازی میں مصروف ہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ:
- ١...... قرآن کے منصوص احکام ابدی نہیں بلکہ احکام کی علل و غایات ابدی ہیں۔
اور اس تعلیل (علت آفرینی) کی دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔
- ١...... شرعی زکوٰۃ کی وہ مقدار جو شریعت نے مقرر کی ہے۔ آج کے زمانہ میں
حکومت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ زکوٰۃ مالی ٹیکس ہے۔ اس لئے حکومت کو حق حاصل ہے کہ اپنی ضروریات کے مطابق جس حد تک چاہے زکوٰۃ کی مقدار میں اضافہ کر سکتی ہے۔
- ٢...... (قرآن حکیم کا) عورت کی شہادت کو مرد کی شہادت کا نصف قرار دینا اس
زمانہ کی بات ہے۔ (کیونکہ اس وقت عورتیں ان پڑھ ہوا کرتی تھیں) لیکن آج کے پڑھے لکھے دور میں ایک مرد کے ساتھ ایک عورت کی شہادت بھی کافی ہے۔ ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی ضرورت نہیں۔
٤٢
غرض ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے قرآن کے تمام منصوص (صریح) اور قطعی (یقینی) احکام میں تغیر و تصرف کرنے کی غرض سے یہ (مذکورہ بالا) اصول وضع کر رکھا ہے۔ چاہے وہ احکام نماز سے متعلق ہوں چاہے زکوٰۃ سے یا روزہ اور حج سے ۔
- ٢...... ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے ہیں: وحی کی وہی بات قابل قبول ہے جو عقل و
بصیرت اور تاریخ کے مطابق ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی وحی اس سے مبرا اور برتر ہے کہ وہ بصیرت و عقل صحیح (اور تاریخ) کے خلاف ہو۔
- ٣...... اور کہتے ہیں: وحی الہٰی اور نبی دونوں اپنے ماحول کے تاریخی اثرات سے
متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
- ٤...... اور کہتے ہیں: قرآن وسنت کے اکثر و بیشتر احکام وقتی اور اس زمانہ کے
مخصوص ظروف و حالات کے ساتھ مخصوص تھے۔
- ٥...... اور کہتے ہیں: سنت نبوی (ﷺ) کا اکثر و بیشتر حصہ اس رسم و رواج پر
مشتمل ہے جو اسلام سے پہلے عرب میں رائج تھا۔ پھر فقہاء نے یہودیوں، رومیوں اور پارسیوں کی روایات کا اس میں اور اضافہ کر دیا گویا ان کے نزدیک سنت (آنحضرت ﷺ کے اقوال و افعال کا نام نہیں بلکہ) ان فقہی قوانین کے مجموعہ کا نام ہے جو ان غیر مسلم اقوام اور ان کے قوانین سے ماخوذ ہیں۔
نیز ڈاکٹر فضل الرحمٰن:
- ١...... نزول عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کرتے ہیں۔ اور دعویٰ کرتے ہیں کہ
مسلمانوں نے یہ عقیدہ عیسائیوں سے لیا ہے۔ اسی طرح
- ٢...... معراج جسمانی
- ٣...... شفاعت
- ٤...... ظہور مہدی کا بھی انکار کرتے ہیں۔ (اور ان عقائد کو بھی عیسائیت سے
ماخوذ بتلاتے ہیں) اسی قسم کے بے شمار بے سروپا دعوے ڈاکٹر صاحب کی جانب سے کئے جاتے ہیں۔ جو اسلام کے قطعی عقائد سے ٹکراتے ہیں۔ اس لئے تمام علمائے امت اور سلف صالحین سے ان کی جنگ۔ یہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے ان بہت سے افکار و نظریات کا ایک نمونہ ہے۔ جو اس مختصر سے وقت میں پیش نہیں کئے جاسکتے۔ (مشتے نمونہ از خروارے)
٤٣
مولانا نے فرمایا کہ: مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کا ماہنامہ ”بینات“ (خاص طور پر) ڈاکٹر فضل الرحمٰن (اور ان کے قلمی رفقاء) کے ان افکار ونظریات کو پوری تفصیل سے منظر عام پر لانے اور انتہائی دیانت داری اور انصاف کے ساتھ ان پر جرح و تنقید اور علمی معیار پر تردید کا فرض ادا کر رہا ہے۔
حضرت مولانا نے مزید فرمایا: میں نے عالم اسلام کے گیارہ علماء کو جن میں شیخ عبداللہ بن حمید بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن موصوف کے ان ملحدانہ افکار و خیالات سے بخوبی آگاہ کردیا ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کو کیا کرنا چاہئے
سوال...... نامہ نگار موصوف کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے رابطہ عالم اسلامی سے متعلق ایسی تجاویز کے بارے میں سوال کیا۔ جن کے ذریعہ رابطہ اپنا پیغام عالم اسلامی کے وسیع سے وسیع تر دائرہ تک پہنچا سکے اور تمام عالم اسلامی کی ترجمانی کر سکے۔
جواب...... میرے خیال میں رابطہ کے اہم مقاصد حسب ذیل امور ہونے چاہئیں:
- ١...... تمام بلاد اسلامیہ میں حکیمانہ اسلوب سے اسلام کی تبلیغ واشاعت خصوصاً وہ
ممالک جن میں اسلام کی دعوت پر لبیک کہنے کی زیادہ امید ہے۔ جاپان چین اور جنوبی کوریا جیسے ممالک آج بھی ایسے دین کے شدید پیاسے ہیں جو ان کے بقاء واستحکام کے ساتھ ہی ساتھ روحانی اطمینان اور قلبی سکون کا باعث بن سکے۔ یہ عہد حاضر میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ میں نے اپنی یہ رائے رابطہ اسلامی کے الامین العام جنرل سیکرٹری سے ملاقات کے وقت بھی پیش کی ہے۔ اور انہوں نے اس رائے سے پورا اتفاق کیا ہے۔ وہ اس سلسلہ میں عملی قدم بھی اٹھانے والے ہیں۔
- ٢...... رابطہ نئی نسل میں اپنی دعوت کو زیادہ سے زیادہ عام کرے اور جو نو مسلم ان
ممالک میں اسلام قبول کرتے ہیں انہیں اسلامی ممالک میں بلا کر ان کی دینی تعلیم و تربیت کا خاص طور پر انتظام کیا جائے۔ تاکہ اسلامی تعلیمات ان کے قلوب میں راسخ ہو جائیں اور وہ اپنے وطن واپس جاکر اسلام اور اس کی تعلیمات کو اپنی وطنی زبان میں زیادہ سے زیادہ پھیلا سکیں۔
(بینات ربیع الاول ١٣٨٧ھ)
٤٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
کا سفر مشرقی افریقہ کی روئیداد
حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف!
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ، شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے ١٩٧٥ء میں مشرقی افریقہ کا تبلیغی دورہ کیا۔ وفد کے رکن رکین حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے اس سفر کی یہ روئیداد قلمبند کی جو ماہنامہ بینات کے حضرت بنوری نمبر میں شائع ہوئی۔ اس جلد میں ہم اسے شامل اشاعت کرنے پر رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہیں۔ فالحمد للہ! (مرتب)
مشرقی افریقہ کا سفر!
پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی یہ خواہش تھی کہ علمائے کرام کا ایک وفد ان افریقی ممالک کا دورہ کرے۔ جہاں قادیانی مراکز قائم ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ وہاں کے مسلمانوں کو اس فتنے کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور وہ ان کے فریب میں نہ آئیں۔
اس سلسلہ میں پہلا ٹھوس قدم آپ نے یہ اٹھایا کہ وہ دستاویزات جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھیں۔ وہ اردو زبان میں تھیں اس کا عربی ترجمہ کرنے کے لئے اس خادم کو حکم فرمایا۔ الحمد للہ کہ ترجمہ مکمل ہو گیا اور حضرت شیخ کی خواہش پر بہت جلد اس کی طباعت بھی مکمل ہوگئی۔ مقصد یہ تھا کہ اس سفر میں جہاں بھی جانا ہوگا۔ وہاں کے اہل علم حضرات کو یہ کتاب ”موقف الامتہ الاسلامیہ من القادیانیہ“ پیش کی جائے۔ تاکہ ان کے پاس اس کے بارے میں ایک مستند دستاویز رہے جس سے وہ صحیح معلومات حاصل کرسکیں۔
چنانچہ یہ طے پایا کہ یہ سفر شوال المکرم ١٣٩٥ھ مطابق اکتوبر ١٩٧٥ء میں حرمین
٢
شریفین سے شروع کیا جائے ۔ حضرت شیخ محمد یوسف بنوری رمضان المبارک میں حسب معمول عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور عمرہ سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ پہنچے اور مسجد نبوی میں اعتکاف فرمایا ۔ اسی دوران آئندہ شروع ہونے والے سفر کے بارے میں استخارہ فرمایا ۔ فرمانے لگے کہ اس سفر کے لئے چھ سات استخارے کئے ہیں اور خواہش تھی کہ کوئی خیر کا مانع درپیش ہو جائے اور میں رہ جاؤں اور سفر نہ کروں ۔ لیکن اگر قدرت کو میرا جانا ہی منظور ہے تو مجھے کوئی عذر نہیں ۔ میں تو ایک دین کا سپاہی ہوں اور سپاہی کا کام ہے حکم بجالانا ۔
مدینہ منورہ میں سہ رکنی وفد کی تشکیل عمل میں آئی ۔ حضرت شیخ ، مولانا تقی عثمانی اور خادم (راقم الحروف) مدینہ منورہ سے جدہ پہنچے ۔ وہاں بعض ممالک کے ویزے حاصل کئے اور ٧؍ شوال المکرم ١٣٩٥ھ مطابق ١٢؍ اکتوبر ١٩٧٥ء یہ وفد حضرت شیخ کی قیادت میں جدہ سے بذریعہ پی آئی اے روانہ ہوا اور صبح ساڑھے چھ بجے کینیا کے دارالحکومت نیروبی پہنچ گئے ۔ ائیر پورٹ پر مولانا مطیع الرسول صاحب مبعوث دارالافتاء ریاض اور شہر کے دوسرے سر برآوردہ حضرات نے استقبال کیا ۔
نیروبی شہر میں چار روز تک قیام رہا ۔ اس دوران شہر کی مختلف مساجد میں عشاء کی نماز کے بعد حضرت بنوریؒ کا خطاب ہوتا رہا ۔ جہاں اردو جاننے والے مسلمان تھے ۔ وہاں اردو میں اور جہاں افریقی مسلمان تھے وہاں عربی میں اور ساتھ ساتھ مقامی سواحلی زبان میں اس کا ترجمہ ہوتا رہا ۔ ان خطابات میں جن موضوعات پر بیان ہوا ۔ ان میں اہم موضوعات یہ ہیں ۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت واطاعت ، عجائب قدرت ، صفات رسالت ، اخلاص محبت ، اتحاد ، عقیدہ ختم نبوت اور اس کی حفاظت ، قادیانیت اور اس کا پس منظر وغیرہ ۔
نیروبی میں قادیانیوں کا ایک معبد ہے ۔ وہی ان کا مرکز ہے ۔ کینیا کے بعض دوسرے شہروں میں بھی ان کے مراکز ہیں ۔ جہاں سے یہ لوگ افریقی عوام میں کام کرتے ہیں اور مقامی زبانوں میں اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں ۔ بعض دوستوں نے سنایا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا ۔ اس کے سرورق پر انہوں نے مرزا قادیانی کی تصویر بھی چھاپ دی ۔ ایک قادیانی نے جب مرزا قادیانی کی تصویر دیکھی تو متنفر ہو کر کہنے لگا کہ یہ پیغمبر کی شکل نہیں ہو سکتی اور قادیانیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گیا ۔
٣
نیروبی میں مسلمانوں کی بھی مختلف انجمنیں قائم ہیں جو دینی کام کرتی ہیں ۔ ان کی زیر نگرانی میں کچھ دینی ، ”اہلی مدارس“ اور یتیم خانے قائم ہیں ۔ جن میں افریقی طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ان اساتذہ کے علاوہ پاکستانی مدرسین بھی کام کر رہے ہیں ۔ جن کو دارالافتاء ریاض ( سعودی عرب ) نے بھیجا ہے اور یہ حضرات اچھا کام کر رہے ہیں ۔
حضرت شیخ بنوریؒ نے ان جمعیات کے ذمہ دار حضرات اور مقامی علماء اور دیندار مسلمانوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور ان کے سامنے اپنے سفر کا مقصد بیان فرمایا اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے اہم تبلیغی مقاصد میں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کو بھی شامل کر لیں اور اس کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کریں ۔ جس پر سب نے لبیک کہا اور جو حضرات پہلے سے اس کام میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ ان کی ہمت افزائی ہوئی ۔ علماء کو کتاب موقف الامتہ الاسلامیہ من القادیانیہ پیش کی گئی ۔
نیز مقامی علمائے کرام کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے تنظیم قائم کر کے باقاعدہ کام شروع کریں ۔ چنانچہ وہ حضرات اس بات پر آمادہ ہو گئے ۔ البتہ انہوں نے اتنی مہلت طلب کی کہ وہ سوچ سمجھ کر اس کے لئے مناسب افراد کا انتخاب کر لیں اور جب واپسی پر ہمارا نیروبی سے گزر ہو گا وہ اپنے آخری فیصلے سے ہم کو آگاہ کر دیں گے ۔
نیروبی میں آئندہ سفر کا پروگرام یہ طے پایا کہ کینیا کے علاوہ تنزانیہ ، زیمبیا اور یوگنڈا میں بھی ہمارے وفد کو جانا چاہئے ۔ ان ممالک میں بھی کام کی سخت ضرورت ہے ۔ نیز یہ سفر ہوائی جہاز سے ہو ۔ کیونکہ مسافت کافی لمبی ہے اور حضرت بنوریؒ کی صحت اس قابل نہیں کہ خشکی کا سفر برداشت کر سکے ۔
١٦؍ اکتوبر کو کینیا کے دوسرے شہر ممباسا کے لئے روانگی ہوئی اور ١٥؍ اکتوبر کو ہمارے رفیق سفر مولانا تقی عثمانی صاحب کا کراچی سے فون آ گیا کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے ۔ اس لئے آپ جلد از جلد پہلی فلائٹ میں کراچی پہنچ جائیں ۔ چنانچہ وہ ١٦؍ اکتوبر کو کراچی روانہ ہوئے اور حضرت شیخ اور خادم ممباسا روانہ ہو گئے ۔ ممباسا ائیر پورٹ پر مولانا ابراہیم صاحب مبعوث دارالافتاء ریاض اور شہر کے دوسرے حضرات گاڑیاں لے کر استقبال کے لئے پہنچ چکے تھے ۔
٤
ممباسا میں بھی قادیانی مرکز قائم ہے اور مسلمانوں کی انجمنیں بھی قائم ہیں۔ مسجدیں بکثرت موجود ہیں۔ یہاں بھی حضرت مولانا کا بیان مختلف مساجد میں ہوا اور اردو اور عربی دونوں زبانوں میں، یہاں بھی مختلف علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا اور مذکورہ کتاب کے نسخے پیش کئے گئے۔ یہاں کے قاضی القضاۃ شیخ عبداللہ صالح، ممباسا کے قاضی شیخ الحسن العمری اور ممباسا کے مشہور خطیب شیخ سعید احمد سے خصوصی ملاقاتیں ہوئیں اور ان کے ذریعہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ڈال دی گئی۔ الحمد للہ کہ یہ سفر کافی کامیاب رہا۔
١٨؍ اکتوبر کو ممباسا سے تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام پہنچے۔ ائیر پورٹ پر مولانا قاسم کاظم مبعوث دار الافتاء ریاض (سعودی عرب) اور مقامی مسلمانوں کی ایک جماعت موجود تھی۔
دارالسلام اور تنزانیہ کے بعض دوسرے شہروں میں قادیانی مراکز قائم ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی صرف ایک تنظیم قائم ہے۔ جس کے عہدہ دار یہاں کی حکومت منتخب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور انجمن وغیرہ بنانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اس تنظیم کے عہدہ داروں کے علاوہ مقامی علماء اور دیندار مسلمانوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ انفرادی طور پر اس فتنہ کے خلاف کام کریں اور مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کریں۔ یہاں کی مساجد میں بھی حضرت شیخ قدس سرہ کا خطاب ہوا۔ جس کا ترجمہ خادم نے پیش کیا۔
دارالسلام میں مصری حکومت کی طرف سے المرکز الاسلامی کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ جو مسجد مدرسہ اور دواخانہ پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی حضرت شیخ بنوری تشریف لے گئے اور مرکز کے مدیر اور اساتذہ کرام سے ملاقات ہوئی اور عربی زبان میں ان سے تبادلۂ خیالات فرمایا اور ان کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس فتنہ کے خلاف کام کریں اور مذکورہ کتاب کے نسخے بھی پیش کئے۔ ان حضرات نے اس تجویز کو بخوشی قبول کیا اور نہایت محبت و اخلاص سے رخصت کیا۔
٢٠؍ اکتوبر کو دارالسلام سے زمبیا کے دارالحکومت لوساکا کے لئے روانہ ہوئے۔ دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد لوساکا پہنچے۔ ائیر پورٹ پر مولانا عبداللہ منصور، بھائی یوسف اور دوسرے مقامی حضرات انتظار میں تھے۔ یہاں بھی شہر میں ایک قادیانی مرکز ہے۔ لیکن الحمد للہ کہ یہاں کے
٥
مسلمان اس فتنہ سے باخبر ہیں اور وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو اس کے خلاف توجہ دلاتے رہتے ہیں ۔
لوساکا میں ایک بڑی جامع مسجد ہے اور دو چھوٹی مسجدیں ہیں ۔ مسجدیں نہایت صاف ستھری ، قالین بچھے ہوئے ، طہارت کا بہت اچھا انتظام ہے ۔ ٹھنڈا ، گرم پانی موجود رہتا ہے اور تولیے لٹکے ہوئے ہیں ۔ ہر مسجد کے ساتھ مدرسہ قائم ہے ۔ جس میں مسلمان بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم اور دینی ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے ۔ یہ بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور شام کو ان مدارس میں پڑھتے ہیں ۔ ان مدارس میں تعلیم دلانے کے لئے مدرسین کا قاری حضرات ہندوستان سے بلائے گئے ہیں ۔ جو اچھا کام کر رہے ہیں ۔ مسجدیں پانچوں وقت آباد رہتی ہیں اور مسلمان دور دور سے موٹروں میں نماز ادا کرنے وہاں آتے ۔ یہاں کے مسلمانوں کا تعلق زیادہ تر ضلع گجرات اور سورت سے ہے ۔ جن کے آباء واجداد کافی عرصہ پہلے یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے اور ان حضرات کا زیادہ تر پیشہ تجارت ہے ۔
حضرت شیخ بنوریؒ مسجدوں کی آبادی اور دینی مدارس سے بہت خوش ہوئے اور آپ جہاں بھی دینی کام ہوتا دیکھتے آپ کو روحانی مسرت ہوتی تھی ۔ نیز مسجد اور مدرسہ کا نظام ان مسلمانوں کے لئے ایک اچھا نمونہ ہے ۔ جو غیر مسلم ممالک میں آباد ہیں اور اپنی نئی نسل کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام سے روشناس کرانے اور اسلام پر قائم رکھنے کے خواہش مند ہیں ۔
لوساکا میں بھی الحمد للہ صبح وشام علمائے کرام اور عام مسلمانوں سے ملاقاتیں اور حضرت شیخ بنوریؒ کا خطاب ہوتا رہا ۔ جس میں زیادہ تمسک بالدین اور دین کے لئے کام کرنے پر زور دیا گیا ۔ نیز اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت ان کے صفات، عجائب قدرت، ختم نبوت اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر بیان ہوتا رہا ۔ لوساکا میں مولانا عبداللہ منصور کی امارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ڈال دی گئی ۔ جس کا مرکز لوساکا میں ہوگا اور وہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی اپنی شاخیں قائم کرے گی ۔
لوساکا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع جمعہ کے روز وہاں کی بڑی جامع مسجد میں ہوتا ہے ۔ جس میں مقامی مسلمانوں کے علاوہ اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندے بھی نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ یہاں دو جمعے پڑھنے کا موقع ملا ۔ حضرت شیخ بنوریؒ نے خطبہ جمعہ سے پہلے اردو میں خطاب فرمایا ۔ جس میں اسلام کی عظمت، عقیدہ ختم نبوت، فتنہ قادیانیت اور اس کا پس منظر اور اس کی تاریخ بیان فرمائی اور یہاں کے مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل پیش فرمایا ۔ اسی مضمون کو خادم
٦
نے خطبہ جمعہ میں عربی میں پیش کیا۔ جس میں عربی جاننے والے حضرات مستفید ہوئے اور حضرت نے دعائیں دیں۔
لوساکا کے علاوہ زمبیا کے چند دوسرے شہروں میں بھی جانا ہوا۔ جن میں انڈولا، کفوے اور چپاٹا قابل ذکر ہیں۔ چپاٹا جو لوساکا سے ٣٨٠ میل دور ہے اور موزمبیق کی مغربی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ جیسے وہ خالص مسلمانوں کا شہر ہو۔ تجارت عموماً مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ شہر کے وسط میں خوبصورت جامع مسجد ہے۔ جس میں پانچ اوقات بکثرت نمازی آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر عبادت اور صلاح کے آثار نمایاں ہیں۔ بوڑھوں میں سو فیصد اور جوانوں میں ننانوے فیصد داڑھی والے ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی دیکھے جو کہ ورجل قلبہ معلق بالمساجد! کے مصداق ہیں۔
مسجد کے متصل ایک دینی مدرسہ ہے جس میں مسلمان بچے اور بچیاں اسکول کے اوقات کے علاوہ قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ ان حضرات کی یہ حالت دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور روحانی مسرت کا اظہار فرمایا۔ جامع مسجد میں خطاب عام کے علاوہ قرآن کریم کا درس بھی دیتے رہے۔ جس میں وہی بنیادی موضوعات پر بیان ہوا۔ جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ نیز وہاں کے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ مقامی باشندوں سے ایسا سلوک اختیار کریں جو ایک مسلمان کے شایان شان ہوتا ہے۔ یہاں کے حضرات نے دریافت کرنے پر بتلایا کہ یہ جو آپ دینی فضاء دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب تبلیغی جماعت کی محنت وبرکات کا اثر ہے۔
الحمد للہ! کہ زمبیا کا سفر نہایت کامیاب رہا۔ لوساکا میں قیام کے دوران وہاں کے نوجوان حضرت شیخ علیہ الرحمہ پر فریفتہ ہوگئے اور آپ کی ہر مجلس اور ہر خطاب میں حاضر ہوتے۔ جہاں ہمارا قیام تھا۔ بعض تو وہاں رات کو ہی آجاتے اور حضرت شیخ قدس سرہ کے ساتھ تہجد کی نماز میں شریک ہوتے اور جس روز آپ وہاں سے روانہ ہورہے تھے ان سب نے لوساکا ائیر پورٹ پر آپ کو حزن و بکاء کے ساتھ رخصت کیا۔ ان ہی نوجوانوں میں ایک صاحب ابراہیم لمبات حضرت شیخ بنوریؒ کی وفات سے چند روز پہلے کراچی آئے اور ملاقات کی۔ آپ نے بہت شفقت فرمائی۔ جب وہ رخصت ہونے لگے تو میں انہیں رخصت کرنے بڑے دروازے تک گیا۔ راستہ میں مجھے نہایت الحاح کے ساتھ کہتے ہیں کہ برائے کرم حضرت کو اس بات پر آمادہ کریں کہ
٧
ہمارے ہاں دوبارہ تشریف لائیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو وعظ کرنے کی بھی تکلیف نہیں دیں گے۔
٢٥؍ شوال المکرم ١٣٩٥ھ مطابق ٢؍ نومبر ١٩٧٥ء لوساکا سے نیروبی کے لئے روانہ ہوئے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد نیروبی پہنچے۔ ائیر پورٹ پر آسانی سے ویزا مل گیا۔ کسٹم میں ایک مسلمان آفیسر نے ہمیں دیکھا اور فوراً ہمارے پاس آ گیا اور ہمیں فارغ کر دیا۔ اگرچہ ہمارے پاس سوائے استعمال کے کپڑوں اور کتابوں کے کچھ نہ تھا۔ لیکن کسٹم کا عملہ صندوق کھول کر وقت بہت ضائع کرتا ہے۔ ہماری انتظار میں ایک صاحب گاڑی لاکر باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ سیدھے ان کے گھر پہنچے۔
نیروبی میں واپسی پر پھر چند روز ٹھہرنا پڑا۔ کیونکہ اب ہمارا پروگرام یوگنڈا جانے کا تھا اور نیروبی میں یوگنڈا کا ویزا لینے میں دیر لگتی ہے۔ کیونکہ یہاں یوگنڈا کا سفارت خانہ نہیں ہے اسلئے ویزا حاصل کرنے والے نیروبی کے پاسپورٹ آفس کو درخواست دیتے ہیں۔ یہ آفس ان کاغذات کو کمپالا بھیجتا ہے۔ وہاں یوگنڈا حکومت کی طرف سے جواب آنے پر ویزا ملتا ہے اور اس کاروائی میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے نیروبی سے اپنے ایک دوست مولانا عبدالخالق طارق کو فون کیا۔ جو یوگنڈا کے شہر جنجا میں رہتے ہیں اور سعودی حکومت کی طرف سے وہاں کے المعہد الاسلامی کے مدیر ہیں اور تعلیمی فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کو کہا کہ وہ ہمارے لئے ویزا حاصل کر کے ہمیں اطلاع دیں اور ائیر پورٹ پر آ جائیں۔ چنانچہ وہ جنجا سے کمپالا آئے اور یوگنڈا کے مفتی شیخ یوسف سلیمان کے ذریعہ ویزا لیا اور ہمیں فون سے اطلاع دی کہ ویزا مل گیا ہے آپ جب چاہیں آ سکتے ہیں۔
نیروبی میں اس بار بھی قیام کے دوران علماء اور دوسرے حضرات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک روز صومالیوں کی جامع مسجد میں حضرت شیخ بنوریؒ کا عربی میں بیان ہوا۔ جس میں آپ نے اسلام اور اخوت اسلامیہ پر بیان فرمایا اور ساتھ ہی صومالی زبان میں ترجمہ ہوتا رہا۔ صومالی حضرات کی عادت ہے کہ عموماً مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مسجد میں گزارتے ہیں اور اس میں درس وغیرہ کا سلسلہ رہتا ہے۔ حضرت بنوریؒ کے بیان کے بعد دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا کہ میں فتنہ قادیانیت پر کچھ روشنی ڈالوں۔ چنانچہ عشاء کی آذان تک بیان ہوا اور صومالی زبان میں ترجمہ ہوتا رہا۔ نیروبی میں قیام کے دوران حضرت شیخ نے ایک خط لکھا تھا جس کا متن حسب ذیل ہے:
٨
بسم الله الرحمن الرحیم
نیروبی و کینیا!
برادر محترم و رفیق مکرم مولانا بھانجی صاحب
وفقکم الله للخیر، تحیة وسلاما واشواقا!
حاجی آدم سادات کے ذریعہ مرسلہ مکتوب موصول ہوا، حالات معلوم ہوئے۔ برادرم مولانا عبدالرزاق صاحب نے ایک مفصل مکتوب زمبیا لوساکا سے لکھا تھا۔ وہ ملا ہوگا۔ جدہ سے روانگی کے وقت کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں کہاں جانا ہوگا اور کس طرح کام کرنا ہوگا؟۔ اس لئے روانگی ایسے وقت ہوئی کہ نہ پورے ویزے لے سکے نہ باقاعدہ کسی کو مطلع کیا جاسکا۔ نیروبی پہنچ کر نقشہ کام کا سمجھ میں آ گیا کہ موثر اور صحیح صورت یہ ہے کہ ہر مرکزی مقام مقامی باشندوں کی ایک جماعت مجلس ختم نبوت کے نام سے تشکیل دی جائے جو بسلسلہ قادیانیت موثر کام کر سکے اور تقریروں میں اسلام اور ختم نبوت کی اہمیت و حقیقت واضح کی جائے۔ چنانچہ اس انداز سے کام شروع کیا اور نشان منزل نظر آنے لگا۔ چونکہ جدہ سے ویزے نہیں لے سکے تھے۔ اس لئے تعویقات پیش آئیں اور تاخیر ہوتی گئی۔
بحمداللہ! جس رفاقت کی ضرورت تھی وہ میسر آئی۔ حسن اتفاق سے افریقی ممالک میں جامعہ مدینہ کے مبعوثین بھی ملے۔ جن میں نام تو میرا بھی متعارف تھا۔ مگر مولانا عبدالرزاق صاحب سے ان کا ذاتی تعارف و تعلق نکلتا رہا۔ جس کی وجہ سے بہت آسانیاں ہوگئیں۔
زمبیا سے واپسی پر یوگنڈا کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے تین چار دن یہاں تاخیر ہوگئی۔ شاید کل روانگی ہوسکے گی۔ صحت تو میری اچھی ہے بلکہ کراچی سے بہتر ہے۔ لیکن سفر کی ہمت نہیں تھی۔ اس لئے سفر کے اختصار کے متعلق سوچ رہا تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ نائیجیریا میں قادیانیوں کے بہت سے اسکول ، ہسپتال اور ادارے ہیں۔ نیز حکومت میں بھی ان کے لوگوں کو عہدے اور مناصب حاصل ہیں۔ وہاں جانے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے مغربی افریقہ کا ارادہ کرنا پڑا اور پھر ساتھ ہی مغربی افریقہ سے بقیہ ممالک کا جوڑ بھی لگانا ہوگا۔ اس لئے سفر طویل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں۔ آمین! اگر حج کے ایام قریب آگئے تو ہوسکتا ہے کہ حج کے بعد واپسی ہو۔
والسلام!...... محمد یوسف بنوری
چہارشنبہ، یکم ذیقعد ١٣٩٥ھ.... ٥ نومبر ١٩٧٥ء
٩
٢/ ذوالحجہ ١٣٩٥ھ، مطابق ٦/ نومبر ١٩٧٥ء صبح اٹھ بجے نیروبی سے روانہ ہو کر نو بجے یوگنڈا کے ائیر پورٹ ”انٹے بے“ پہنچے۔ ائیر پورٹ مولانا عبد الخالق طارق اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ انتظار میں تھے اور ویزا کی منظوری کا فارم ساتھ لائے تھے۔ الحمد للہ کہ آسانی سے ویزا مل گیا اور کسٹم سے فارغ ہو گئے۔ ائیر پورٹ کمپالا سے ٢٥ میل دور ہے۔ یہاں سے روانہ ہو کر کمپالا پہنچے۔
کمپالا میں یوگنڈا کے مفتی شیخ یوسف سلیمان صاحب کے اصرار پر حضرت مولانا نے ان کی مہمانی قبول فرمائی اور انہوں نے کمپالا کے بڑے ہوٹل کمپالا انٹرنیشنل میں ہمارے قیام کا انتظام کیا۔
مفتی شیخ یوسف سلیمان صاحب یوگنڈا کے مفتی اور وہاں کی مسلم سپریم کونسل کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ کونسل کا مرکزی آفس کمپالا میں ہے۔ ان کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ حضرت مولانا نے ان کو اور ان کی حکومت کو اپنی اور پاکستان کے مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے اپنے ملک میں قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی تبلیغ پر پابندی لگا دی ہے۔ بعض دوستوں نے بیان کیا کہ اس موقع پر جب قادیانیوں کو یوگنڈا میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ملک کے صدر جناب عدی امین صاحب نے کہا کہ: ”ہمارا دین وہ ہے جس کا مرکز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ ہمیں وہ دین نہیں چاہئے جس کا مرکز اسرائیل اور لندن ہے۔“
جمعہ کے روز مسلم سپریم کونسل کی جامع مسجد میں مسلمانوں کا بہت بڑا اجتماع تھا اور اس سال یوگنڈا سے جانے والے حجاج کرام سارے یہاں جمع تھے۔ جو سفر کی تیاری کے سلسلہ میں سارے ملک سے آئے ہوئے تھے۔ مفتی صاحب نے حضرت مولانا علیہ الرحمۃ سے خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ پڑھانے کی درخواست کی۔ حضرت مولانا چونکہ گھٹنوں کے درد کی وجہ سے منبر پر کھڑے ہونے سے معذور تھے اس لئے طے پایا کہ آپ نماز جمعہ سے پہلے بیٹھ کر حجاج کرام کو نصیحت فرمائیں اور اس کے بعد خادم خطبہ جمعہ اور نماز پڑھائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ سارا پروگرام کمپالا ریڈیو سے نشر ہوتا رہا۔
کمپالا میں سعودی عربیہ کے سفیر جناب عبداللہ الحبابی سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان میں رہ چکے ہیں اور مولانا مرحوم کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اپنے گھر پر جو ایک پہاڑی
١٠
پر واقع ہے اور وہاں سے کمپالا شہر کا منظر سامنے نظر آتا ہے۔ حضرت مولانا کے اعزاز میں پر تکلف دعوت دی جس میں یوگنڈا کے مفتی صاحب کے علاوہ دوسری شخصیات کو بھی مدعو کیا۔ دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ سفیر موصوف نہایت با اخلاق اور ظریف الطبع شخصیت کے مالک ہیں۔ سفیر صاحب نے حج کے ویزے کے علاوہ سعودی حکومت کے نام حضرت مولانا اور خادم کے لئے خصوصی مکتوب بھی دے دیا۔
کمپالا میں ایک یونیورسٹی ہے جو مکر میرے یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے اور افریقہ کی قدیم ترین یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان کے بھی ڈاکٹر حضرات، پروفیسر اور لیکچرار ہیں۔ جو مختلف شعبوں میں تعلیم دے رہے ہیں۔ بعض حضرات مولانا سے ملنے ہوٹل تشریف لائے۔ ان کے دینی مزاج کو دیکھ کر حضرت بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔ خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب اور ڈاکٹر محمد افضل چوہدری۔
کمپالا کے بعد یوگنڈا کے دوسرے شہر جنجا بھی جانا ہوا۔ یہ شہر کمپالا سے مشرق میں پچاس میل کے فاصلہ پر وکٹوریہ جھیل کے کنارے واقع ہے اور اسی مقام سے دریائے نیل کی ابتداء ہوتی ہے اور دریائے نیل پر یہاں ایک بند باندھا ہوا ہے۔ جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے اور پورے ملک کو سپلائی ہوتی ہے۔ کمپالا سے جنجا تک پچاس میل کا فاصلہ سرسبز درختوں، چائے اور گنے کے کھیتوں سے آراستہ ہے۔ بارش کی کثرت سے درختوں کے پتوں کی سبزی غایت طراوت کی بناء پر سیاہ معلوم ہوتی ہے۔ اس منظر کو دیکھتے ہی حضرت مولانا قدس سرہ نے فرمایا کہ ”مدھامّتان“ کے یہی معنی ہیں۔ ای سودا ان من الری!
آپ کو قدرتی مناظر بہت پسند تھے۔ لیکن ذہن فوراً عجائبات قدرت کی طرف منتقل ہو جاتا اور زبان پر حمد و ثناء کے الفاظ جاری ہو جاتے تھے۔ نیز سفر وحضر میں موقع ومحل کے اعتبار سے علمی نکتوں سے مستفید فرماتے رہتے تھے۔
جنجا میں مولانا عبدالخالق طارق کے علاوہ مولانا خالد نعمانی، مولانا عبدالسلام بھی موجود تھے۔ جو سعودی حکومت کی جانب سے المعہد الاسلامی میں تدریس وغیرہ کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی چند پاکستانی حضرات جو مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور دینی مزاج کے حامل ہیں۔ عصر کے بعد جمع ہو جاتے اور حضرت مولانا ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور ان کے
11
سامنے ایک نہایت عمدہ پروگرام پیش فرمایا تا کہ وہ اپنے کام کے ساتھ دین کا کام بھی مؤثر طریقہ سے انجام دے سکیں۔
جنجا میں محترم آفاق احمد صاحب زیدی کے ہاں قیام تھا۔ آفاق احمد صاحب پاکستانی ہیں اور یوگنڈا حکومت کے ملازم ہیں اور اچھے مسلمان ہیں گورنمنٹ نے ان کو خدمت کے لئے دو نوجوان خادم دیئے ہوئے ہیں۔ دونوں عیسائی تھے لیکن دونوں موصوف کے اسلامی اخلاق اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر مشرف باسلام ہو گئے۔ چنانچہ جب نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ایک آذان کہتا ہے اور پھر تینوں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر مولانا بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ایک اچھے مسلمان کا وجود ہر جگہ باعث رحمت ہے۔
جنجا کے بعد مشرق کی جانب ٥٠ میل دور ایک شہر بوسیہ بھی جانا ہوا وہاں اس علاقے کے مسلمانوں کا سیرت کے عنوان سے بہت بڑا اجتماع تھا۔ اس اجتماع میں یوگنڈا کے مفتی اور دوسرے علماء بھی شریک ہوئے۔ حضرت مولانا نے بھی اس اجتماع سے عربی خطاب فرمایا۔ جس کا ترجمہ مقامی زبان میں ساتھ ساتھ ہوتا رہا۔ اس خطاب میں آپ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو اپنائیں اور سنت کے مطابق عمل کریں اور غیر شرعی رسم و رواج اور بدعات سے بچیں اور اخوت اسلامی کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں اور اختلافات اور قبائلی تعصبات سے دور رہیں۔ اس اجتماع کے بعد اسی روز شام کو واپس جنجا آ گئے۔
یہاں جنجا میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں آپ کا بیان ہوا۔ جس کا موضوع ایمان و عمل صالح تھا اور ساتھ دو زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوتا رہا۔ کیوں کہ یہاں سواحلی زبان کے علاوہ مقامی زبان بھی بولی جاتی ہے۔
مقام عبرت
ایک روز جنجا والے دوست، حضرت مولانا قدس سرہ کو جنجا شہر سے باہر چند میل کے فاصلہ پر ایک سیر گاہ میں لے گئے۔ یہاں پر چند اونچے اونچے ٹیلے ہیں۔ جن پر شاہانہ ٹھاٹھ کے تین محل تعمیر ہیں اور تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر واقع ہیں۔ ان محلات کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مغلیہ دور کے کسی بادشاہ نے اپنے ذوق و شوق کو پورا کیا ہو۔ خوبصورتی کے علاوہ ہر قسم کی راحت اور
١٢
تفریح کا سامان بھی موجود ہے۔ محلات کے چاروں طرف میلوں تک پھل دار درخت، گنے اور چائے کے کھیت پھیلے ہوئے ہیں۔ سامنے ایک اونچی پہاڑی ہے جو پھل دار اور سائے دار درختوں سے سجائی گئی ہے اور جس کی چوٹی تک سڑک جاتی ہے اور اوپر سے جنجا شہر وکٹوریہ جھیل اور ہرے بھرے کھیت میلوں تک نظر آتے ہیں۔ گویا دیکھنے والا مری کے کشمیر پوائنٹ، یا راولپنڈی پوائنٹ پر کھڑا ہے فرق صرف بلندی کا ہے۔
مقام عبرت یہ ہے کہ یہ سب نقشہ ایک ہندو کا بنایا ہوا ہے جو مدوانی کے نام سے مشہور ہے اور جس کو زیادہ دیر ان محلات میں رہنا نصیب نہیں ہوا کہ اس کی اجل آگئی اور اسی زمین کے ایک حصہ میں جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور آخرت کی آگ سے پہلے دنیا کی آگ نے اس کو نیست و نابود کر دیا۔ خسر الدنيا والاخرة ، ذلك هو الخسران المبين!
اس کے بعد اس کے بیٹے آئے لیکن ان کو بھی ان محلات میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا موقع نہ مل سکا اور صدر عیدی امین صاحب کی حکومت نے یورپین باشندوں کے ساتھ ان کو بھی ملک بدر کردیا اور آج یہ سب محلات خالی اور بند پڑے ہیں۔ جن میں پرندوں اور چند چوکیداروں کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔ حضرت مولانا یہ سب منظر آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور یہ آیت پاک پڑھ رہے تھے۔ ”كم تركوا من جنات وعيون وزروع ومقام كريم ونعمة كانوا فيها فاكهين“ نہایت ہی عبرت آموز منظر ہے۔ لیکن کتنے لوگ ہیں کہ تماشائی بنکر گزر جاتے ہیں اور سبق حاصل نہیں کرتے۔
یوگنڈا کے بعد ہمارا پروگرام مغربی افریقہ کے چند ممالک میں جانے کا تھا۔ جس کا ذکر حضرت مولانا مرحوم کے مکتوب نیروبی میں کیا گیا ہے اور اس کی ابتداء نائیجیریا سے ہونی تھی۔ لیکن نائیجیریا کا ویزا جلدی نہ ملنے کی بناء پر یہ سفر ملتوی کرنا پڑا۔ کیوں کہ ویزے کے لئے چند ہفتے انتظار کرنا پڑتا اور پھر ان ممالک میں کافی وقت کی ضرورت تھی اور موجودہ مدت کافی نہ تھی۔ اس لئے طے پایا کہ یوگنڈا سے قاہرہ ہوتے براستہ جدہ کراچی واپس ہوں۔
چنانچہ بروز اتوار ١٢؍ ذیقعدہ ١٣٩٥ھ مطابق ١٦ نومبر ١٩٧٥ء رات کے بارہ بجے ”لفت ہنسا“ سے قاہرہ کے لئے سفر طے ہوا۔ عصر کے قریب جنجا سے روانہ ہوئے۔ مولانا عبدالخالق صاحب محترم زیدی صاحب اور دوسرے حضرات دو گاڑیوں میں الوداع کہنے کے لئے
١٣
ساتھ روانہ ہوئے اور حضرت مولانا کے روکنے کے باوجود انہوں نے ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ مغرب کے وقت کمپالا پہنچے۔ پاکستان کے ایک جج صاحب کے ہاں رکے اور مغرب کی نماز ادا کی۔ ان کے دینی مزاج سے مولانا مرحوم کو بہت مسرت ہوئی۔ اس کے بعد سارا قافلہ سعودی سفارت خانہ کے سیکرٹری استاذ محمود کے ہاں پہنچا۔ یہ نہایت دیندار اور با اخلاق شخص ہیں۔ ان کے ہاں عشاء کا کھانا اور نماز عشاء ادا کی اور رات کے ساڑھے نو بجے پورا قافلہ انٹبے ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ ائیر پورٹ پر کسٹم وغیرہ میں سفر کے سارے مراحل سے فارغ ہو کر ان حضرات کو حضرت مولانا نے شکریہ اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
رات کے ایک بجے جہاز روانہ ہوا اور ساڑھے چار گھنٹے کی پرواز کے بعد قاہرہ ائیر پورٹ پر پہنچا۔ حضرت مولانا کے استقبال کے لئے ”المجلس الاعلى للشئون الاسلامیۃ“ کا نمائندہ ائیر پورٹ پر موجود تھا۔ جس نے آپ کا استقبال کیا اور جلدی کسٹم سے فارغ ہو کر شہر پہنچے اور ہوٹل میں قیام کیا۔ جس کا ایک کمرہ پہلے سے مجلس اعلیٰ کی طرف سے ریزرو کرایا ہوا تھا۔
قاہرہ میں چھ روز قیام رہا۔ اس قیام کے دوران جن شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں اور جو کام ہوا اس کی تفصیل یہ ہے۔
شیخ الازہر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود سے ان کے دفتر میں طویل ملاقات ہوئی۔ نہایت محبت و اکرام سے مولانا کا استقبال کیا اور اپنی جگہ چھوڑ کر مولانا کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ آپ ہماری مہمانی قبول فرمائیے ہماری طرف سے ایک مرافق اور گاڑی ہر وقت آپ کے ساتھ رہے گی۔ حضرت مولانا نے شکریہ ادا کیا اور معذرت فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہم المجلس الاعلیٰ کی دعوت قبول کر چکے ہیں وہ بھی آپ ہی کا ادارہ ہے۔
شیخ الازہر کے سامنے اپنے سفر افریقہ کی مختصر روئیداد بیان فرمائی اور ان کو ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ کتاب کا نسخہ پیش کیا۔ شیخ الازہر بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس کو چھاپ کر تقسیم کریں۔ مولانا نے فرمایا بڑی خوشی سے۔ اسی مجلس میں مولانا کے قائم کردہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کا ذکر بھی آیا تو مولانا نے اس کے اغراض و مقاصد بیان فرماتے ہوئے فرمایا۔
١٤
ہمارا مقصد اس علمی ادارے کے قائم کرنے سے ایسے علماء پیدا کرنا ہے جو ایک طرف راسخ فی العلم ہوں اور دین کے عصری تقاضوں کو سمجھتے ہوں اور دوسری طرف وہ دین کے مخلص سپاہی ہوں۔ جن کے سامنے مادی منافع اور دنیاوی مناصب قطعاً نہ ہوں۔ بلکہ ہر حال میں انکا نصب العین دین کی خدمت ہو۔
شیخ الازہر نے مولانا کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی۔ جس میں جامعۃ الازہر کی علمی شخصیات کے علاوہ قاری شیخ محمود خلیل الحصری، مصر میں پاکستان کے سفیر محترم احمد سعید کرمانی، پاکستان میں مصر کے سابق سفیر جناب علی خشبہ، وزارت اوقاف کے نائب وزیر وغیرہ کو بھی مدعو کیا اور بعض دینی اداروں اور علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی جسے سب حاضرین نے دلچسپی سے سنا۔
پاکستان کے سفیر محترم احمد سعید کرمانی سے بھی ملاقات ہوئی۔ نہایت عزت و احترام سے پیش آئے قیام گاہ پر حضرت مولانا کو دعوت دی خود ہوٹل سے لے گئے اور پھر واپس لائے اور قاہرہ سے روانگی کے وقت خود ائیر پورٹ پر رخصت کرنے تشریف لائے۔
”المجلس الاعلی للشئون الاسلامیۃ“ کے جنرل سیکرٹری سید محمد توفیق عویضہ صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ بے حد خوشی کا اظہار کیا اور بار بار یہ جملہ کہہ رہے تھے۔ نـحـن سـعـداء بوجود کم ! ان کو بھی مولانا قدس سرہٗ نے کتاب ”موقف الامۃ الاسلامیۃ من القادیانیۃ“ پیش کی اور فرمایا کہ آپ اس کتاب کو انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کریں اور ان بلاد میں تقسیم کریں۔ جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس کا وعدہ کیا اور خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ بعض دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔
مولانا اسماعیل عبدالرزاق ساؤتھ افریقہ کے نوجوان عالم ہیں۔ جامعۃ الازہر کے کلیۃ اللغۃ میں انگریزی کے استاذ اور افریقی زبانوں کے شعبہ کے صدر ہیں اور حضرت مولانا قدس سرہٗ کے شاگرد بھی ہیں۔ صبح و شام اپنی گاڑی لے کر آتے رہے۔ ایک روز تفریح کرانے قاہرہ شہر سے باہر لے گئے۔ مولانا مرحوم کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی۔ جس میں مقامی شخصیات کے علاوہ قاری عبدالباسط صاحب، پاکستان کے سفیر محترم جناب احمد سعید کرمانی صاحب اور جاپان کے ایک مسلم پروفیسر صاحب کو بھی مدعو کیا۔ ان کے علاوہ اسلامی ممالک کے
١٥
طلبہ بھی ملاقات کے لئے آتے رہے۔
چونکہ حج قریب تھا اور ہمارا ٹکٹ قاہرہ ، جدہ ، کراچی کا تھا۔ اس لئے یہ طے پایا کہ حج ادا کرتے ہوئے جائیں اور حج کے دوران اسلامی ممالک سے آنے والے علمائے کرام سے مل کر ان کو کتاب ”موقف الامۃ“ پیش کی جائے اور اس فتنہ کے سد باب کے لئے انکے سامنے مناسب تدابیر رکھی جائیں۔
چنانچہ بروز اتوار ١٩ ذیقعدہ ١٣٩٥ھ مطابق ٢٢ نومبر ١٩٧٥ء قاہرہ سے جدہ پہنچے۔ وہاں دو روز قیام کے بعد مدینہ منورہ علی صاحبہا الف الف صلاۃ وتسلیم پہنچے۔ حج سے چند روز پہلے مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ پہنچے۔ حج کے سفر میں جدہ ، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں قدرت نے ایسی سہولتوں اور راحت و آسائش کے اسباب مہیا فرما دیئے۔ گویا مولانا قدس سرہ العزیز شاہی مہمان ہیں اور ہر جگہ پہنچنے سے پہلے ہی سارے انتظامات مکمل ہو جاتے ہیں۔ یہ تو ایک مستقل موضوع ہے۔ جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
حج سے پہلے مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز صاحب سے مولانا کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کو اپنے سفر کے تاثرات سنائے۔ جس پر انہوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور دعائیں دیں۔ حضرت مولانا نے ان سے بھی فرمایا کہ رابطے کی جانب سے کتاب موقف الامۃ الاسلامیہ من القادیانیہ کی طباعت کا انتظام ہونا چاہئے اور رابطہ اسے طبع کرا کر بلاد اسلامیہ میں تقسیم کرے۔ جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
موسم حج میں ہر سال رابطہ کی طرف سے بین الاسلامی مجلس مذاکرہ منعقد ہوتی ہے۔ اس مجلس کا اجلاس جاری تھا۔ شیخ محمد صالح قزاز نے حضرت مولانا کو بھی شرکت کی دعوت پیش کی اور اصرار کیا کہ کم از کم آپ اس کے اختتامی اجلاس میں ضرور شرکت فرمائیں جسے آپ نے قبول فرمالیا۔
اس بین الاسلامی مذاکرہ میں جن موضوعات پر مقالے پڑھے گئے وہ یہ تھے۔
- ١......... قادیانیت
- ٢......... غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلیت
١٦
- ٣...... اسلام میں عورت کا مقام
مجلس کا آخری اجلاس ٥/ ذوالحجہ ١٣٩٥ھ مطابق ٧/ دسمبر ١٩٧٥ء عشاء کے بعد رابطہ کے ہال میں شروع ہوا۔ حضرت مولانا مرحوم و مغفور نے بھی اس میں شرکت فرمائی۔ رابطہ کے اراکین نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔ چنانچہ رابطہ کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز اپنی جگہ چھوڑ کر آئے اور آپ کو خاص مہمانوں کی جگہ بٹھایا۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے سینکڑوں علمائے کرام نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں مندرجہ بالا موضوعات سے متعلق خصوصی کمیٹیوں نے اپنی اپنی سفارشات پڑھ کر سنائیں۔ قادیانیت کے متعلق کمیٹی نے جو سفارشات پیش کیں وہ یہ تھیں ۔
”بین الاسلامی مجلس مذاکرہ“ کی طرف سے قادیانیت سے متعلق مقررہ کمیٹی نے بڑے غور و خوض سے قادیانی جماعت کے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ جماعت بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے اسلام کی جڑیں کاٹ رہی ہے اور مسلمانوں میں اپنے خبیث نظریات پھیلا رہی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے عقائد کے خلاف مندرجہ ذیل جرائم کی مرتکب ہے۔
- الف........ اس جماعت کے لیڈر مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔
- ب........ اپنے گھٹیا اغراض کے لئے قرآن کریم کی آیات کی تحریف کی ہے۔
- ج........ اپنے آقا و مربی ارباب استعمار اور صہیونیوں کو خوش کرنے کے لئے جہاد
کے منسوخ ہونے کا اعلان کیا ہے۔
نیز اس کمیٹی نے ان عقائد اور سیاسی و اجتماعی خطرات کا بھی مطالعہ کیا۔ جن کا اس جماعت کی وجہ سے عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہے اور بعض فضلاء کی زبانی یہ سن کر افسوس ہوا کہ یہ جماعت افریقہ، ایشیاء، یورپ اور امریکہ کے بعض ممالک میں اپنا کام برابر کر رہی ہے۔ اس لئے یہ کمیٹی مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرتی ہے۔
- ١........ بین الاسلامی مجلس مذاکرہ ان اسلامی حکومت کو مبارک باد پیش کرتی ہے
جنہوں نے قادیانیت کے بارے میں اپنا واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ نیز یہ مجلس باقی تمام اسلامی حکومتوں اور دینی تنظیمات سے پرزور مطالبہ
١٧
کرتی ہے کہ وہ بھی یہ اعلان کریں کہ قادیانیت غیر مسلم اقلیت جماعت ہے اور اسلام کی ابدی تعلیم کے خلاف ہے۔
- ٢...... حسن اتفاق سے اس وقت نائیجیریا کے سربراہ مملکت دیار مقدسہ میں
موجود ہیں اور جیسا کہ معلوم ہے کہ نائیجیریا میں قادیانی سرگرمیاں بہت زور شور سے جاری ہیں۔ بلکہ اب یہ قادیانی جماعت وہاں کی یوربا زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ علماء افاضل کا ایک وفد تشکیل دیا جائے جو نائیجیریا کے صدر محترم سے ملاقات کرے اور ان کے سامنے اس غیر مسلم اور باغی جماعت کے بارے میں امت اسلامیہ کے موقف کی وضاحت کرے اور ان سے اپیل کرے کہ وہ ان کے اس خطرناک منصوبے کو پورا نہ ہونے دیں۔
- ٣...... مسلمانوں کو مختلف وسائل کے ذریعہ قادیانی لٹریچر پڑھنے سے روکا
جائے اور اس لٹریچر کو مسلمانوں میں پھیلانے کا سد باب کیا جائے خصوصاً قرآن کریم کے تحریف شدہ ترجمے۔
- ٤...... کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ اس غیر مسلم گمراہ کن جماعت کی
سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور رابطہ عالم اسلامی اس سلسلہ میں ایک خاص شعبہ قائم کرے جس کا کام یہ ہو کہ وہ اس قادیانی جماعت کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھے اور اس کی مقاومت کے لئے مناسب اقدام کرے۔
- ٥...... جن بلاد میں یہ فتنہ پھیل چکا ہے وہاں کثرت سے ایسے مخلص مبلغین کو بھیجا
جائے جو قادیانی مذہب اس کے مقاصد اور طریق کار سے بخوبی واقف ہوں۔
- ٦...... جن ممالک میں قادیانی سرگرمیاں موجود ہیں وہاں قادیانیوں کے مراکز
کے بالمقابل دینی مدارس ہسپتال اور یتیم خانے قائم کئے جائیں تاکہ مسلمان بچے ان کے مدارس اور ہسپتالوں میں جانے پر مجبور نہ ہوں۔
- ٧...... یہ کمیٹی رابطہ عالم اسلامی سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسلامی ممالک
میں ایسی کتابیں بکثرت شائع کرے جو اس فرقے کے خطرات سے آگاہ کرتی ہوں تاکہ مسلمان اس جماعت کے عقائد فاسدہ اور ناپاک اغراض سے مطلع ہوسکیں۔
١٨
- ٨...... یہ کمیٹی اسلامی حکومتوں سے یہ بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ہاں شائع
ہونے والی کتابوں کی نگرانی کے لئے ایسے حضرات کا تقرر کریں جو صحیح اسلامی فکر کے مالک ہوں۔
- ٩...... جو لوگ محض جہالت یا دھوکے میں قادیانیت کے جال میں پھنس چکے ہیں
ان کو نہایت نرمی اور حکمت عملی سے اسلام کی دعوت دی جائے اور اس سلسلہ میں مناسب تدابیر اور وسائل کو کام میں لایا جائے۔ وباللہ التوفیق!
حرمین شریفین میں مقامی علمائے کرام اور دینی شخصیات کے علاوہ دوسرے ممالک سے آئی ہوئی علمی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور ان سے اس موضوع پر تبادلہ خیالات ہوا اور ان کو مذکورہ کتاب پیش کی گئی۔ ان حضرات کا تعلق جن ممالک سے تھا ان میں بعض کے نام یہ ہیں ۔ جاپان، انڈونیشیا، ملایا، فلپائن، شام، ہندوستان، عراق، اردن، نائیجیریا، سیرالیون، اپرولٹا، ایوری کوسٹ، سینیگال، جنوبی افریقہ، ترکی۔
اس مبارک سفر کی ابتداء بھی حرمین شریفین سے ہوئی اور انتہاء بھی حرمین شریفین پر ہوئی اور سفر کے اختتام پر حضرت مولانا مرحوم ومغفور کی جانب سے روئیداد کے آخر میں جو خلاصہ کلام شائع ہوا وہ یہ ہے۔
خلاصہ کلام!
- ١...... عیسائیت۔ ٢...... مرزائیت۔
- ٣...... جہالت۔ ٤...... علماء اور صالحین کی قلت۔
- ٥...... مدارس دینیہ کا فقدان ۔
وفد نے مندرجہ ذیل امور سر انجام دیئے
- ١...... مسلمانوں کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت، عظمت، اطاعت اور آپس
میں اتحاد واتفاق کی دعوت دی۔
- ٢...... عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی وضاحت کی۔
- ٣...... اس موضوع پر لکھی ہوئی کتاب ”موقف الامتہ الاسلامیہ“ اور ایک
انگریزی پمفلٹ تقسیم کیا۔
- ٤...... جہاں فتنہ قادیانیت کے مراکز ہیں۔ وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کی
تدابیر کی گئیں۔
- ٥ ...... جہاں تنظیم بنانے کی اجازت نہیں وہاں مقامی علماء اور دینی شخصیات کو کام
کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔
- ٦ ...... جہاں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے وہاں کے ذمہ دار
حضرات کو مبارک باد اور دین کے لئے کام کرنے کا لائحہ عمل پیش کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ اس فتنہ پر کڑی نگاہ رکھیں۔
- ٧ ...... ایشین مسلمانوں کو افریقی مسلمانوں سے دینی روابط قائم رکھنے اور غیر مسلم
باشندوں میں کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔
- ٨ ...... ان ممالک میں دار الافتاء ریاض کے حضرات مبعوثین کام کر رہے ہیں۔
ان کو کام کرنے کے مفید مشورے دیئے گئے۔
- ٩ ...... مقامی حضرات کو ترغیب دی گئی کہ وہ افریقی ذہین بچوں کو دینی تعلیم حاصل
کرنے کے لئے پاکستان بھیجیں اور ان کے ٹکٹ کا انتظام کریں۔
- ١٠ ...... کتاب ”مؤقف الامة الاسلاميه من القاديانيه“ کی دوبارہ
طباعت اور انگریزی و فرانسیسی ترجمہ اور اس کی طباعت کا انتظام کیا گیا۔
تجاویز! مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں وفد نے یہ تجاویز پیش کیں۔
- ١ ...... جن ممالک کا وفد نے دورہ کیا ہے وہاں قائم کردہ جمعیات تحفظ ختم نبوت،
مقامی دینی انجمنوں، علماء اور دینی شخصیات سے دائمی رابطہ قائم رکھا جائے اور خط و کتابت کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہے۔
- ٢ ...... ان حضرات کو دینی فتنوں کے خلاف اردو، عربی اور انگریزی میں لٹریچر
بھیجا جائے۔
- ٣ ...... افریقی طلبہ کو دینی مدارس میں وظائف دیئے جائیں اور ان کی تعلیم
و تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
- ٤ ...... تبلیغی جماعت کے ذمہ دار حضرات کو توجہ دلائی جائے کہ وہ زیادہ سے
زیادہ تعداد میں جماعتیں ان ممالک کی طرف روانہ کریں۔ خصوصاً یوگنڈا میں۔
وصلیٰ اللہ علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم!
٢٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قادیانی
مذہب و سیاست
مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف !
١٩٧٠ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔ جنرل یحییٰ خان کی بداعمالیوں اور غیر مآل اندیشانہ فوجی پالیسیوں کے باعث ملک دولخت ہوا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پاکستان کے بلاشرکت غیرے حکمران بنے۔ قادیانی شاطر قیادت نے ملک میں کھیل کھیلنا چاہا۔ ان کے تیور دیکھ کر مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر نے اپنی جماعتی ذمہ داری کو پورا کیا۔
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسینؒ اختر ، مناظر ختم نبوت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ، مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمودؒ ، مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ سر جوڑ کر بیٹھے اور ممبران اسمبلی میں تقسیم کے لئے ”قادیانی مذہب و سیاست“ کے نام سے کتابچہ مرتب کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ ١٩٧٤ء میں تحریک کے زمانہ میں پھر شائع کیا گیا۔
بعدہٗ ہمارے مخدوم مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمودؒ کے وقیع دیباچہ سے سہ بارہ ”قادیانی عقائد وعزائم“ کے نام سے اسے شائع کیا گیا۔
چوتھی بار تنظیم طلبہ تحفظ ختم نبوت میڈیکل کالج فیصل آباد نے اسے شائع کیا۔
اب اسے اس جلد میں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ تنظیم طلبہ کے بانی ہمارے واجب التکریم بھائی جناب قاری ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب تھے۔ اس وقت وہ کمر کے عارضہ سے دوچار ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس نیک عمل کے صدقہ میں ان کو صحت وسلامتی سے سرفراز فرمائیں۔ وما ذالك على الله بعزيز! (مرتب)
١٤.٥.٢٠٠٢ء
٢
٧٨٦ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
ابتدائیہ
گزشتہ چودہ سو سال میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کے خلاف بے شمار فتنے بپا کئے۔ اور اس دینِ قیم کو مٹانے کی ان گنت ناکام کوششیں کیں۔ لیکن وہ اس سماوی روشن چراغ کو پھونکوں سے بجھا نہ سکے۔ اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے ان فتنوں میں سرفہرست جھوٹے مدعیانِ نبوت کا فتنہ ہے۔ جن کا شجرہ خبیثہ مسیلمہ کذاب سے شروع ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی تک پہنچا ہے۔ سینکڑوں بدبخت مختلف زمانوں میں اس سرکشی اور دماغی خرابی کا شکار ہوئے اور اپنی شعبدہ بازیوں سے مخلوقِ خدا کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ علامہ ابوالقاسم رفیق دلاوری نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”آئمہ تلبیس“ میں ان جھوٹے مدعیانِ نبوت کے نام اور ان کے حالات شائع کر کے امتِ مسلمہ پر بڑا احسان کیا ہے۔
اگرچہ چھوٹے بڑے سینکڑوں لوگوں نے مختلف ادوار میں جھوٹے دعوائے نبوت کئے۔ لیکن حضور سرورِ کائنات ﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ میرے بعد تیس دجال اور کذاب ظاہر ہوں گے۔ یعنی جملہ مدعیانِ نبوت میں ٣٠ تو انتہا درجہ کے جھوٹے مکار اور بہت زیادہ دجل و فریب کرنے والے ہوں گے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق ان تیس دجالوں میں سے کتنے دجالوں کا ظہور ہو چکا ہے۔ اور ابھی کتنے دجال پیدا ہونا باقی ہیں۔ لیکن یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی انہی تیس دجالوں میں سے ایک ہے۔ جس نے یہود و نصاریٰ کے اشارے اور تعاون سے اسلام اور مسلمانوں میں زبردست فتنہ پیدا کیا۔ حضور ﷺ کی امت کو نقب لگا کر اس سے ایک الگ جماعت بنائی۔ انگریزوں کی خوشنودی حاصل کرنا اور ان کے خلاف مجاہدینِ اسلام کی مزاحمت کو روکنے کے لئے جہاد حرام ہے کا اعلان کر دیا۔ پوری دنیائے اسلام جس کے اکثر حصے اس وقت برطانوی اور دوسری مغربی اقوام کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ وہاں کفار کے قدم مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے لئے حرمتِ جہاد پر مشتمل لٹریچر تقسیم کیا۔ مسلمانوں میں تفریق اور انتشار پیدا کیا۔ دنیائے اسلام میں جہاں کہیں مسلمانوں کو کوئی عظیم حادثہ پیش آیا جس پر دنیائے اسلام غمزدہ ہوئی ہو۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت نے ایسے غم کے موقع پر چراغاں کئے۔ مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ابھی کل ہمارے سامنے کی بات ہے۔ دنیائے اسلام کے بطلِ جلیل اور محسنِ اعظم مملکتِ سعودیہ کے فرمانروا شاہ فیصل شہیدؒ کئے گئے۔ پوری دنیائے اسلام
خون کے آنسو رو رہی تھی۔ لیکن خبر آتے ہی چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ گلیوں بازاروں میں بھنگڑا ڈالا گیا اور رات کو چراغاں کیا گیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی تاج برطانیہ کے سایہ میں بطور خودکاشتہ پودے کے مجدد، مہدی مسیح نبی اور رسول بنایا گیا۔ برطانوی سامراج کی بھر پور حمایت اس کی پشت پر کر دی گئی۔ بے شمار وسائل مہیا کر دیے گئے۔ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے تک مرزائیوں کی تنظیم جماعت احمدیہ کی صرف پاکستان کے علاقہ میں ٤٠ ہزار ایکڑ زرعی اراضی ملکیت تھی۔ پورے ہندوستان میں ان کے قبضہ میں کیا کچھ ہوگا۔ اس کا اندازہ خود کر لیجئے۔ آج بھی جماعت احمدیہ کروڑوں روپیہ کے اوقاف کی مالک ہے۔ پاکستان کے تمام مسلمانوں کے اوقاف پر حکومت پاکستان نے قبضہ کر لیا ہے۔ اور وہ تمام جائیدادیں آج محکمہ اوقاف کی تحویل و انتظام میں ہیں۔ لیکن مرزائیوں کے اوقاف کی طرف کسی کو ہاتھ بڑھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ وہ بدستور مرزائیوں کی تنظیم کے قبضہ میں ہیں۔
اس سب کچھ کے باوجود مسلمانوں نے روز اول ہی سے اس فتنہ عمیا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ آزادی سے قبل جتنے اہل حق مرزائیوں کے خلاف جہاد کرتے رہے۔ ان کی ٹکر بظاہر مرزائیوں سے تھی۔ لیکن درحقیقت ان کی ٹکر برطانوی سامراج سے تھی۔ مسلمان غلام تھے۔ مجبور تھے۔ وسائل کی کمی تھی۔ تاہم اہل حق نے ان کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ ١٩٣٠ء کے بعد مرزائیوں کے خلاف انفرادی جہاد کی بجائے اجتماعی جہاد کا سلسلہ شروع ہوا اور مجلس احرار اسلام نے اس مورچہ پر لڑنا اپنے ذمہ لے لیا۔ خطیب اسلام، شیر بیشہ حریت، حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے عشق رسالت مآب ﷺ کے خاص جذبہ کے تحت اس فتنہ کی بیخ کنی اپنا وظیفہ حیات بنالیا۔ اور اسے تہس نہس کر دینے کے لئے زندگی بھر کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ایک غیر سیاسی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت صرف اس فتنہ کے تعاقب کے لئے قائم کی گئی۔ تا کہ تمام مسلمانوں کو مرزائیوں کے خلاف متحد کر دیا جائے۔
ملک کی آزادی کے بعد ہماری بدقسمتی سے سر ظفراللہ خان کو ملک کا پہلا وزیر خارجہ بنادیا گیا۔ قائد اعظم مرحوم اس فتنے کو نہ جانتے تھے۔ وہ سر ظفراللہ کے مسلمانوں جیسے نام سے دھوکہ کھا گئے۔ اور یہ سمجھ کر کہ یہ شخص ایک ایسا قانون دان ہے۔ جسے بین الاقوامی معاملات کا کچھ نہ کچھ تجربہ ہے۔ اس کا تقرر اس اعلیٰ منصب پر کر دیا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ مرتد نمک حرام ثابت ہوگا۔ اور انہیں کافر سمجھ کر موجود ہوتے ہوئے بھی ان کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوگا۔ چوہدری
٤
ظفر اللہ خان نظر بہ ظاہر وزیر خارجہ اور ایک ڈپلومیٹ تھا۔ لیکن در حقیقت وہ مرزائی جماعت کا ایک کٹر متعصب مبلغ اور نمائندہ تھا۔ اس نے اندرون ملک مرزائیوں کو اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے کروڑوں اربوں روپیہ کی جائیدادیں اور کاروباری مراکز دلوائے اور بیرون ملک مرزائیوں کی تبلیغ کا نظام مستحکم سے مستحکم تر کر دیا۔
قائد اعظم، لیاقت علی اور سردار عبدالرب نشتر جیسے مخلص قائدین کی وفات کے بعد حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی زمام اقتدار باری باری گورے انگریزوں کی بجائے کالے انگریزوں کے ہاتھوں میں رہی۔ ہر دور میں مرزائیوں نے بیرونی آقایان ولی نعمت سے دباؤ ڈلوا کر مزید سے مزید تر مراعات حاصل کیں۔ کمیونسٹوں، مغرب زدہ طبقہ اور جتنی بھی اسلام کے خلاف طاقتیں تھیں۔ ان سب میں یکجہتی پیدا کی۔ مسلمانوں میں انتشار و افتراق کا باعث بنتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان جس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا۔ اسے اس راہ ہی سے بھٹکا دیا گیا۔ تاکہ ملک کا مستقبل سیکولر ہو اور سیکولر فضا میں وہ زندہ تابندہ رہ سکیں۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر کبھی یہاں ان مقاصد کی فتح ہوئی جن کے لئے یہ ملک معرض وجود میں آیا ہے۔ تو ان کے لئے یہاں کوئی جگہ نہ ہوگی۔ وہ برابر اپنی حرفت سے دوسری لادین طاقتوں سے مل کر ارباب اقتدار کو گھیرے میں لئے رکھنے میں کامیاب رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ١٩٥٣ء میں عام مسلمانوں کا اس وقت کی حکومت سے تصادم ہو گیا۔
خواجہ ناظم الدین ملک کے وزیر اعظم تھے۔ نیک شریف اور خاندانی رہنما ہونے کے باوجود ان کا عقیدہ بن گیا تھا کہ اگر ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالا گیا یا مرزائیوں کو ناراض کر دیا گیا۔ تو امریکہ بہادر پاکستان کو تباہ کر دے گا۔ خواجہ صاحب موصوف نے خود منیر انکوائری کمیشن میں ججوں کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر میں قوم کے مطالبہ کو مان کر چوہدری ظفر اللہ خان کو نکال دیتا تو امریکہ ہمیں ایک دانہ گندم بھی نہ دیتا۔ خواجہ صاحب پر یہ خوف مسلط تھا کہ اگر امریکہ سے گندم نہ آئے گی۔ تو یہاں لوگ بھوکے مرنے لگیں گے۔ ١٩٥٢ء میں انہوں نے دستور کے بنیادی اصول طے کرائے اور انہیں شائع کر دیا۔ یہ رپورٹ جب ہمیں موصول ہوئی تو اس میں مخلوط انتخاب کی بجائے جداگانہ انتخاب کا فیصلہ طے کیا گیا تھا۔ لیکن اقلیتوں کا جو چارٹ اس میں دیا گیا تھا۔ اس میں مرزائیوں کو درج نہ کیا گیا تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ حکومت نے مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل کر کے مسلمان قرار دے دیا ہے۔
بی پی سی رپورٹ یعنی دستور کے لئے بنیادی اصولوں کو طے کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ
٥
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کا باعث بن گئی۔ حکومت کے اس غلط فیصلے پر احتجاج شروع ہوا۔ حکومت نے اس ہمہ گیر احتجاج اور عوامی غیض وغضب کی لہر کو دبانا چاہا۔ ١٣ جولائی ١٩٥٢ء کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے دستخطوں سے جاری شدہ دعوت نامے پر آل پارٹیز مسلم کنونشن ہوا۔ جو اس ملک کی تاریخ کا ایک یادگار اجتماع تھا۔ ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے علماء و نمائندگان نے متفقہ طور پر ایک دفعہ پھر مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے پر مہر تصدیق ثبت کی۔ مطالبات منوانے کے لئے تمام مکاتب فکر کے علماء و نمائندگان پر مشتمل ایک مجلس عمل منتخب کی گئی اور مندرجہ ذیل مطالبات کئے گئے۔
- ١...... مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢...... چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کیا جائے۔
- ٣...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ٤...... تمام کلیدی اسامیوں سے مرزائیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔
حکومت سے مذاکرات ہوئے۔ لیکن بے سود۔ بالآخر مسلم لیگ میں پنجابی اور بنگالی دھڑوں کی باہمی چپقلش اور برسراقتدار لوگوں کی نااہلی اور حماقت کی وجہ سے عوام اور حکومت میں تصادم ہو گیا۔ بیسیوں نوجوانوں کے سینوں میں گولیاں ماری گئیں۔ ہزاروں علمائے کرام جیلوں میں نظر بند کر دیئے گئے۔ بے شمار لوگوں کو کوڑوں اور قید و بند کی سزائیں دی گئیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ رضا کار جیلوں میں بند کر دیئے گئے۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی پر مشتمل انکوائری کمیشن قائم کیا گیا۔ جس نے ٨، ٩ ماہ تک اجلاس منعقد کئے اور حالات و واقعات کی چھان بین کر کے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی۔
اگرچہ یہ تحریک بظاہر ناکام ہوگئی اور حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے۔ لیکن ٨ کروڑ مسلمانوں کے دلوں میں مرزائیوں کے خلاف اور مرزائیوں کا تحفظ کرنے والی حکومت کے خلاف سخت نفرت بیٹھ گئی۔ مرزائی عملاً غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے اور لیگی حکومت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اقتدار سے محروم ہوگئی۔
١٩٧٤ء میں دوبارہ تحریک ختم نبوت چلی اور وہ کامیاب ہوگئی۔ مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دے دیے گئے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کی اصل وجہ اور بنیاد ١٩٥٣ء کی تحریک ہی تھی۔ ١٩٧٤ء کی تحریک میں حکومت کے خلاف تصادم سے گریز کیا گیا اور مرزائیوں کے
٦
اقتصادی بائیکاٹ پر زور دیا گیا۔ علماء کرام کا ایک مضبوط گروہ جن میں مولانا مفتی محمود صاحب، مولانا عبدالحق صاحب اکوڑہ خٹک ، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر عبدالغفور احمد صاحب دو درجن کے قریب لوگ شامل تھے۔ ان کے پارلیمانی تعاون اور ہر محاذ پر سرپرستی نے تحریک کو کامیاب کر دیا۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی ناکامی سے مرزائی سخت غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ انہوں نے اس عرصہ میں اپنے آپ کو مضبوط کیا۔ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل کے علاوہ روس سے معاملات کئے اور بھٹو صاحب کو برسر اقتدار لانے میں بھر پور حصہ لیا۔ اسرائیل سے آیا ہوا مبینہ روپیہ خرچ کیا گیا۔ بھٹو صاحب نے بھی انہیں بڑی اہمیت دے دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ آپے سے باہر ہوگئے۔ مرزائیوں کے دسمبر کے سالانہ جلسہ کے موقع پر مرزا ناصر احمد کو ان کی تقریر سے پہلے پاکستان ائیر فورس کے جہازوں نے سلامی دی۔ یہ مرزائی پائلٹ تھے۔ جنہوں نے ائیر فورس کے مرزائی کمانڈر انچیف ظفر چوہدری کے حکم سے ایسا کیا۔ بھٹو سے بھی نمک حرامی کی اور فوج میں سازش کر کے حکومت کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کیا۔ سادہ لوح مسلمان نوجوانوں کو بھی اس سازش میں ملوث کرلیا۔ سازش پکڑی گئی۔ میجر جنرل آدم خان جو ایک قادیانی جنرل تھا۔ اس کے بیٹے میجر فاروق اور میجر افتخار جو ائیر مارشل اصغر خان کے بھائی کے سالے ہیں قید ہوگئے اور دوسرے لوگ بھی سزا ہوئے۔
انہی دنوں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ان لڑکوں کو جو شمالی پہاڑی علاقوں کی سیر و سیاحت سے فارغ ہو کر ملتان واپس آرہے تھے۔ معمولی بات کا بہانہ بنا کر مرزائیوں نے لوہے کی تاروں سے بنائے ہوئے کوڑوں سے زدوکوب کیا اور انہیں شدید زخمی کر دیا۔ یہ بچے انتہائی کربناک حالت میں فیصل آباد پہنچے تو راقم الحروف (تاج محمود) کو اس واقعہ کی پہلے سے اطلاع ہو گئی۔ راقم ریلوے اسٹیشن پر بروقت پہنچ گیا۔ میرے ساتھ میرے ہمسایہ لوکو شیڈ کے سینکڑوں کارکن کام چھوڑ کر وہاں پہنچ گئے۔ میں نے فون کے ذریعے ڈپٹی کمشنر شیخ فرید الدین صاحب کو اسٹیشن پر بلایا اور حالات دکھائے۔ پریس کے نمائندوں کو بلایا۔ انہوں نے زخمی لڑکوں کے انٹرویو لئے۔ تصویریں اتاریں۔ اسٹیشن پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینکڑوں کارکن بھی پہنچ گئے۔ ہزاروں کا اجتماع تھا۔ احتجاج اور نعرہ بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ زخمیوں کی مرہم پٹی ہوگئی۔ تو میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے مطالبہ کیا کہ۔
- ١....... اس حادثے کی ہائی کورٹ کے جج سے انکوائری کرائی جائے۔
- ٢....... شاہین آباد اور ربوہ ریلوے اسٹیشن کے مرزائی عملہ کو معطل کر کے گرفتار
٧
کرلیا جائے۔ جو اس سازش میں شریک تھے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے چیف سیکرٹری صاحب سے بات کی اور مجھے مطالبات کے پورے کرنے کی یقین دہانی کر دی۔
میں نے ریلوے پلیٹ فارم پر ایک دیوار کے اوپر کھڑے ہو کر تقریر کی کہ اے زخمی نوجوانو! تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق ائیر کنڈیشن بوگیوں میں شفٹ کر کے ملتان بھیجا جا رہا ہے۔ لیکن میں رب کعبہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم اب جب تک تمہارے جسموں سے بہے ہوئے خون کے ایک ایک قطرے کا مرزائیوں سے حساب نہیں چکالیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ میں نے اسی وقت دو گھنٹے بعد الخیام ہوٹل فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کر دیا۔ دو گھنٹے بعد الخیام میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس ہوئی جس میں شہر کے مختلف مکاتب فکر کے ایک سو کے قریب علمائے کرام اور معززین نے شرکت کی اور ہم نے دوسرے روز شہر میں ہڑتال کرنے اور مرزائیوں کا اقتصادی بائیکاٹ شروع کر دینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد لاہور میں آغا شورش کاشمیری مرحوم اور راولپنڈی میں حضرت مولانا غلام اللہ خان مرحوم نے میٹنگیں طلب کیں اور پھر فیصل آباد میں ہی اہم اجلاس ہوا جس میں ملک بھر کے زعماء تشریف لائے اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں آل پاکستان مجلس عمل تحریک تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مجلس عمل نے تین ماہ بڑی حکمت عملی سے تحریک چلائی۔ مرزائیوں کا اقتصادی بائیکاٹ ہو گیا۔ جس سے ان کی کمر ٹوٹ گئی اور حکومت پر شدید دباؤ قائم رکھا گیا۔ اگر چہ ٣٣ عاشقان رسول کو شہید کیا گیا۔ کئی جگہ لاٹھی چارج ہوئے۔ بے شمار لوگ گرفتار کئے گئے۔ شمع ختم نبوت کے پروانوں پر ہر جگہ ظلم اور تشدد ہوا تا ہم ١٩٥٣ء کی طرح کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہونے دیا گیا۔ اور آخر کار ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو مطالبات پورے ہوئے۔ قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔
جس زمانہ میں یہ تحریک زوروں پر تھی اور معاملہ ممبران قومی اسمبلی کے سپرد ہو گیا تھا کہ وہ اس مسئلہ کی چھان بین کر کے فیصلہ کریں۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے یہ زیر نظر کتابچہ ایک عرضداشت کی صورت میں چھپوایا تھا۔ جو قبل ازیں (راقم الحروف) مولانا تاج محمودؒ ، مولانا لال حسین اخترؒ ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ پر مشتمل بورڈ نے مرتب کیا تھا۔ یہ عرضداشت کتابچے کی صورت میں چھاپ کر قومی اسمبلی کے ممبران میں بالخصوص اور ملت اسلامیہ میں بالعموم تقسیم کیا گیا۔ طویل اور مفصل کتابوں کے مطالعہ کی بجائے اس مختصر کتابچے نے مفید نتائج
٨
برآمد کئے۔ قومی اسمبلی کے ممبران کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیوں کے صحیح خدوخال پہچاننے میں بڑی مدد ملی اور وہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دے دئے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسئلہ تقریباً ابھی جوں کا توں ہے اور پورے طور پر حل ہونے کے لئے کسی مناسب وقت کے انتظار میں ہے۔ ہو سکتا ہے وہ وقت بالکل قریب آ گیا ہو۔ جنرل محمد ضیاء الحق اسلامی نظام کا نفاذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کو یقیناً اسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جس راہ پر چل کر پاکستان اپنی اصل منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں بعض اہم اقدامات کئے ہیں اور مکمل شریعت اسلامی کے نفاذ کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ کو منظور ہے تو وہ ضرور بالضرور اپنے نیک مقاصد میں کامیاب ہوں گے۔
یہ قانون قدرت ہے کہ اگر حق آ جائے تو باطل کو رخصت ہونا پڑتا ہے۔ نور اور تاریکی دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اگر شریعت اسلامیہ کا نفاذ پاکستان کے مقدر میں ہے تو یہ بات بھی اسی مقدر کا ایک حصہ ہو گی کہ یہاں قادیانیوں کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔ ایک اسلامی ریاست میں ارتداد اور اس کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اسلام دشمن طاقت وہاں مسلمانوں اور ان کے مفاد سے متصادم ہو سکتی ہے۔ آج بھی حکومت کے دوائر میں بعض پڑھے لکھے لوگ اس مسئلہ سے کما حقہ آگاہ نہیں ہیں اور اسے ایک فرقہ وارانہ نوعیت کا مذہبی جھگڑا سمجھتے ہیں۔ اسی لئے مناسب خیال کیا گیا کہ اس کتابچے کو دوبارہ وسیع پیمانے پر شائع کیا جائے۔ اور سرکاری دوائر کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ناواقف لوگوں کی آنکھیں کھلیں۔
پہلی دفعہ اشاعت کے وقت اس کتابچے کا دیباچہ راقم الحروف کی استدعا پر آغا شورش کاشمیری مرحوم و مغفور نے لکھا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ آغا صاحب کا ایک ایک حرف سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے۔ انہوں نے اس مختصر دیباچہ میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی مسئلہ کے تعارف پر جو کچھ لکھ دیا ہے۔ وہ ہر پڑھے لکھے مسلمان کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سطور کو ان کی باقی نیک مساعی کے ساتھ قبول فرمائے اور ان کی مغفرت اور ترقی درجات کا سامان بنا دے۔
تاج محمود غفرلہ! خطیب جامع مسجد ریلوے وصدر مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
دیباچہ!
از رشحات قلم بطل حریت مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ
ایڈیٹر ہفتہ وار چٹان لاہور
یہ عرضداشت جو آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے مسئلے کے بارے میں ہے۔ جو بوجوہ آپ کے مطالعہ سے محروم رہا یا آپ نے اس مسئلہ کا اس طرح نوٹس نہیں لیا۔ جس طرح کہ اس کے مضمرات ہم سب کی توجہ کے مستحق اور مقتضی ہیں۔
یہ مسئلہ کسی ملائیت یا گروہی سیاست کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر نہ صرف اس ملک کے مستقبل اور اس کی بقاء کا انحصار ہے۔ بلکہ ہم جس دین کے تابع زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس کی وحدت اور دعوت کو باقی رکھنے کا مسئلہ بھی ہے۔ اس مسئلہ کے بارے میں علماء اور مشائخ نے ہمیشہ دین کے محاذ سے آواز اٹھائی اور اس کی عمومی مضرتوں کا سد باب کیا ہے۔ لیکن جب مسئلہ اپنے سیاسی عزائم کے ساتھ بے نقاب ہونے لگا۔ بہت حد تک بے نقاب ہو گیا تو علامہ اقبالؒ نے اس مسئلہ پر شرح وبسط سے قلم اٹھایا ہے اور بکمال و تمام اس کے خدوخال پیش کئے ہیں۔
پنجاب ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج مرزا سر ظفر علی نے بھی اس کا فوری نوٹس لیا اور اس تجزیاتی بصیرت کے ساتھ اس کا تار و پود بکھیرا کہ آج تک ان کے رشحات قلم حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں۔
پاکستان بن جانے کے بعد ہمارے عظیم رہنماؤں میں سید حسین شہید سہروردیؒ پہلے سیاستدان تھے۔ جنہوں نے اس مسئلہ کو بروقت بھانپ لیا اور اس کا جائزہ لے کر اس کی قباحتوں پر خواجہ ناظم الدین کو جو اس وقت وزیر اعظم تھے ایک طویل خط لکھا۔ حتیٰ کہ مشہور ممالک کے سفیروں کو اس مسئلہ کی خصوصیت سے آگاہ کیا۔
یہ مسئلہ کیا ہے؟ ۔ یہ مسئلہ ہے مسلمانوں میں قادیانی امت کا وجود جو بقول اقبالؒ حضور
١٠
محمد عربی ﷺ کی امت میں نقب لگا کر مرزا غلام احمد کی امت پیدا کر رہی ہے۔ اور ایک چوتھائی ملین (One Fourth) (اڑھائی لاکھ) سے بھی کم ہونے کے باوجود پاکستان میں کلیدی آسامیوں اور بعض بنیادی صنعتوں پر قابض ہو کر سامراجی مقاصد کی سب سے بڑی آلہ کار اور اس مملکت میں ایک عجمی اسرائیل قائم کرنے کی متمنی ہے۔
اس کے موٹے موٹے خدوخال یہ ہیں۔
جن دنوں بنگال میں جہاد کا مسئلہ انگریزی سامراج کے لئے آخری حد تک پریشان کن تھا۔ اور وہ زمانہ انگریزی حکومت کے ہندوستان میں ظہور کا ابتدائی زمانہ تھا۔ تو حضرت سید احمد بریلویؒ، شاہ اسمعیل شہیدؒ، مولانا فضل حق خیر آبادیؒ کی تحریک اور علمائے حق کے مختلف مقدمات میں پھانسی پا جانے کے بعد سرحد کے مجاہدین کا قلع قمع کرنے کے لئے جہاں کاسہ لیس خاندانوں نے تلوار اور سپاہ سے انگریزی استعمار کی مدافعت کی۔ وہاں سرولیم میور گورنر صوبہ جات متحدہ کے اس نقطہ نگاہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں میں نظریہ جہاد موجود ہے۔ انگریزی حکومت کے دوران ...... جہاد کی قرآنی سپرٹ کو معطل و ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد کی خدمات سے فائدہ اٹھایا گیا۔ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت سے پہلے سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ کورٹس میں معمولی کلرک تھے۔ انہوں نے ایکا ایکی اپنے مسیح موعود مہدی مطلوب اور ظلی و بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور اس دعوے کے تحت جہاد کو منسوخ کر دینے کی الہامی سند وضع کی۔ حتیٰ کہ انگریزوں کی وفاداری کو مسلمانوں میں اس طرح راسخ کرنا چاہا کہ برطانوی عمل داری کو دونوں عظیم جنگوں میں بہترین سپاہی اور بدترین جاسوس مہیا کیے....... یہ کوئی شاعرانہ چیز نہیں حکومت کے ریکارڈ میں اس کے شواہد و نظائر موجود ہیں۔ فی الجملہ مرزائی امت نے۔
- ١...... ہندوستانی مسلمانوں کے ذوق جہاد کو انگریزی حکومت کی خوشنودی کے
لئے کالعدم کرنے کی آخری وقت تک سر توڑ کوشش کی۔ اور اس سے اپنے دوائر میں معتدبہ نتائج پیدا کئے۔ بقول علامہ اقبالؒ برطانوی شہنشاہیت کی سب سے بڑی خدمت ہے جو اس نے سر انجام دی۔
- ٢...... مسلمان ملکوں میں اس فرقے کے افراد نے مسلمانوں کا روپ دھار کر
انگریزی سلطنت کے لئے کرنل لارنس سے کہیں خطرناک فریضہ انجام دیا۔
١١
- ٣....... ہندوستانی مسلمانوں کے پالیٹکس کو برطانوی مقاصد کے سانچے میں
ڈھالتے رہے۔
- ٤....... پاکستان بنتے وقت انہوں نے قادیان کو ”مولد نبوت“ قرار دے کر
ریڈ کلف کمیشن کو ایک علیحدہ عرضداشت پیش کی۔
- ٥....... لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور جنرل گریسی سے مفاد باہمی (Reciprocal)
کی اساس پر پخت و پز کرتے رہے۔
- ٦....... ان کی ہمیشہ خواہش رہی کہ اپنے پیروؤں کی ایک جماعت پیدا کر کے
سکھوں کی طرح پنجاب میں حکومت سازی کی ویٹو اپنے ہاتھ میں رکھیں۔
- ٧....... پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو خراب کیا کہ ان
کے نزدیک کشمیر مسیح ناصری کا مدفن ہے۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشگوئی کے باعث ان کی امت کے ہاتھوں فتح ہوگا۔
- ٨....... ١٩٧٠ء کے الیکشن میں بھی ان کا رول منفی رہا ہے۔ ان کی حمایت اور
مخالفت دونوں صرف اس غرض کے تابع تھے کہ اپنے سامراجی آقاؤں کے لئے وہ کس طرح راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔
- ٩....... ان کے بین الاقوامی گماشتے چوہدری ظفر اللہ خان، مسٹر عبدالسلام
(سائنٹسٹ) اور مسٹر ایم ایم احمد ہیں۔ جو مرزائیت کو اندرونی تحفظ دلانے کے لئے بین الاقوامی پشتیبانی فراہم کرتے ہیں۔
- ١٠....... اس فرقہ ضالہ کا واحد مقصد مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان سے جدا
کرنا ہے اور اس کے لئے ان کے دانشور بہ لطائف الحیل سرگرم ہیں۔ یہاں عجمی اسرائیل قائم کرنا ہے۔
- ١١....... ہمارے فضلاء و حکماء اور حکام و امراء کی وہ کھیپ جو مطالعہ بغیر انہیں
مسلمانوں کا حصہ سمجھتی ہے اور اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ مرزائی مسلمانوں کا کوئی فرقہ ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں ان کی حیثیت وہی ہے جو عربوں میں دروزی تحریک، ایران میں بہائی فرقہ، ترکی میں دونمہ کی ہے۔ بلکہ یہ ان سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں کہ وہ غیر ملکی شاطروں کے ہاتھ
١٢
میں ایکسپلائٹ ہوتے اور یہ پاکستان کے مسلمانوں کو ان کے معاشرے میں رہ کر ایکسپلائٹ کرتے ہیں۔ تا کہ اپنی ریاست قائم کر سکیں۔ ان کا اپنا عقیدہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے سواد اعظم کا حصہ نہیں۔ حضرت محمد عربی ﷺ کے مسلمان ان کے نزدیک زیادہ سے زیادہ اہل کتاب ہیں۔ اصل مسلمان مرزا غلام احمد کے متبعین ہیں۔
- ١٢....... مسلمانوں کے معاشرے میں رہنے کے لئے وہ صرف اس لئے مصر ہیں
کہ ان کی حقیر سے حقیر اقلیت اپنے طور پر پاکستان میں کوئی مقام حاصل نہیں کر سکتی ہے۔
- ١٣....... بکمال ہوشیاری انہوں نے اپنے مسئلے کو ملا کا مذہبی مسئلہ بنا دیا ہے۔
حالانکہ ان کا مسئلہ ملا کے مقابلے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ وہاں ان کا چراغ گل ہو چکا ہے۔ اب ان کا مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے کہ نئی پود کی مذہب سے بیگانگی سے فائدہ اٹھا کر اپنے نفوذ کی راہیں نکال رہے ہیں۔
- ١٤....... بقول علامہ اقبالؒ مسلمانوں کے دوسرے فرقے کوئی الگ بنیاد قائم نہیں
کرتے۔ وہ بنیادی مسئلوں میں متفق ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی کے باوجود وہ اساسات پر یک رائے ہیں۔ لیکن قادیانی امت کی بنیاد اور نظام دونوں مسلمانوں سے متصادم و متضاد ہیں۔ بقول اقبالؒ ان کا ضمیر یہودیت کی طرف راجع اور اسی سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔
- ١٥....... ان کا مسلمانوں کے کسی مسلمہ فرقے سے یہ کہنا کہ آج ہمیں الگ کیے
جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کل تمہارے بارے میں بھی یہی مطالبہ ہو گا۔ یہ ایک ایسا کذب ہے کہ جس کی مثال نہیں۔ یہ ایک پردہ ہے جس میں قادیانی امت چھپ کر اپنے تئیں مسلمانوں کی مکمل لادینی کے انتظار میں عجمی اسرائیل قائم کرنے کی تیاریوں کو وقتی طور پر احتساب سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔
اس تعارف کے بعد ان مستند حوالوں سے جن کی تردید کا قادیانی کبھی حوصلہ نہیں کر سکتے۔ آپ فی نفسہ اندازہ کر لیں کہ فرقہ ضالہ کے عزائم کیا ہیں؟۔ اور اس نے کن احوال وظروف کی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔
(آغا شورش کاشمیری)
١٣
امت محمدیہ کی بنیاد
امت محمدیہ کا ایمان اس اساس اور بنیاد پر مبنی ہے کہ حضرت محمد ﷺ خدا کے آخری نبی اور رسول ﷺ ہیں۔ اور ان پر سلسلہ وحی اور نبوت ختم ہو چکا ہے۔ اور قرآن مجید اللہ کی آخری وحی اور اس کا آخری کلام ہے۔ دین اسلام جس کی تعلیم پہلے انبیاء کرام کی وساطت سے نوع انسانی کے مختلف گروہوں کو جزواً جزواً پہنچتی رہی۔ حضرت محمد ﷺ پر آکر کامل ومکمل صورت اختیار کر لی۔ اس کے بعد قیامت تک کے لئے کسی نئے نبی کے آنے اور کسی انسان پر وحی کے نازل ہونے کی ضرورت باقی نہ رہی اور یہ کہ محمد عربی ﷺ کے بعد جو شخص نبوت ورسالت کا مدعی ہو یا سلسلہ وحی کے اجراء کا عقیدہ رکھتا ہو وہ کاذب اور دجال ہے۔ اور تعزیراتِ اسلامی کے رو سے سزاوارِ قتل ہے۔ اس کے استناد واستدلال میں کتاب اور احادیثِ رسول ﷺ میں سے حسبِ ذیل حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔
قرآن کریم
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين . احزاب : ٤٠ “ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں کی مہر یعنی اس سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔﴾
اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں۔ جیسے کفار بطور طنز کے کہا کرتے تھے۔ لیکن آپ رسول ﷺ ہونے کی وجہ سے اپنی امت کے روحانی باپ ہیں۔ اور روحانی باپ کی شفقت نسبی باپ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ روحانی باپ ہیں۔ بلکہ وہ اتنی مخلوق کے روحانی باپ ہیں کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا۔ وہ خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث ہونے والا نہیں۔ ان کا سلسلہ نبوت تو قیامت تک چلنے والا ہے۔ اور صبح قیامت تک جتنے لاتعداد مسلمان پیدا ہونے والے ہیں۔ وہ سب آپ کی اولاد ہیں۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ آپ اپنی امت کی ہمدردی اور خیر خواہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ کیونکہ وہ انبیاء جن کے بعد دوسرے انبیاء ورسل آنے کی توقع ہو۔ ان سے کوئی چیز اگر رہ جائے تو بعد میں آنے والے انبیاء اس کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیکن جو تمام انبیاء ورسل کا خاتم وآخر ہو۔ اس کو یہ فکر دامن گیر ہو گی کہ مخلوق کیلئے راستہ ایسا صاف کر دیا جائے کہ ان کو کسی وقت گمراہی کا خطرہ نہ ہو۔
١٤
چنانچہ ہمارے آقائے نامدار سرور کائناتﷺ نے ہمارے لیے دین اسلام کو کامل اور اکمل طریق پر اس طرح پیش کر دیا ہے کہ آپ کے بعد نہ کسی شریعت سابقہ کی ضرورت ہے۔ نہ لاحقہ کی اور نہ کسی نبی جدید کی ضرورت ہے اور نہ کسی شریعت جدیدہ کی۔ قرآن مجید نے اس شریعت کی ابدی تکمیل کا اعلان ان الفاظ میں کر دیا ہے:
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا ۔ نساء: ٣ ٭ ”آج ہم نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کر لیا۔“
صرف دو آیات کریمہ پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم میں ایک سو سے زائد آیات میں ختم نبوت کا ثبوت موجود ہے۔
ارشادات نبوی
تاجدار ختم نبوت حضرت محمدﷺ نے خاتم النبیین کے سلسلے میں ارشاد فرمایا:
- ١....... كنت اوّل النبيين فى الخلق واخرهم فى البعث!
(کنز العمال ج ١١ ص ٣٥٢ حدیث ٣٢١٢٦، ابن کثیر ج ٦ ص ٣٤٢)
زیر آیت ”واذا خذنا من النبيين ميثاقهم“ میں پیدائش میں سب سے پہلے ہوں اور بعثت میں سب سے آخری ہوں۔
- ٢....... ”قال رسول اللهﷺ يا اباذر! اول الرسل آدم وآخرهم
محمدﷺ “ ٭ آنحضرت محمدﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نبی محمدﷺ ہیں۔ ٭
(کنز العمال ج ١١ ص ٤٨٠ حدیث نمبر ٣٢٢٦٩)
- ٣....... ”قال رسول اللهﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر ابن
الخطاب“ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: ٭ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن خطاب ہوتا۔ ٭
(ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب ابی حفص عمر بن خطابؓ)
- ٤....... ”قال رسول اللهﷺ لعلىّ انت منى بمنزلة هارون من
موسى الا انه لا نبى بعدى “ ٭ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ ٭
(بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ ، باب غزوہ تبوک، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علیؓ ابن ابی طالب)
- ٥....... انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة
١٥
قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ، ﴿رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔ زیر آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین﴾
(ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات، مسند امام احمد ص ٢٦٧ ج ٣ بحوالہ تفسیر ابن کثیر
ج ٦ ص ٣٨١)
- ٦...... حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”مثلی
ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویتعجبون لہ ویقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ قال فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین“ ﴿میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے گھر بنایا اور اسے خوب سجایا۔ مگر اس کے کناروں میں سے ایک کنارے میں سے ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ پس لوگ اسے دیکھنے آتے اور خوش ہوتے اور کہتے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اس خالی جگہ کو پر کر دیا اور میں خاتم النبیین ہوں۔﴾
(بخاری شریف ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین)
- ٧...... حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہ سیکون
فی امتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ ﴿یقیناً میری امت میں سے تیس کذاب ظاہر ہوں گے ہر ایک کا گمان ہوگا کہ وہ اللہ کا نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
(جامع ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)
بفرض اختصار صرف سات احادیث مقدسہ درج کی گئیں ہیں۔ ورنہ دوسو کے قریب احادیث ہیں جن میں ختم نبوت کی تفسیر اور تشریح موجود ہے۔
اجماع امت
قرآن مجید کی آیات رسول اکرم ﷺ کے ارشادات، صحابہؓ کرام کی تصریحات اور آئمہ دین کی عبارات کی بنا پر امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ محمد عربی ﷺ پر سلسلہ نبوت ہر لحاظ سے ختم ہو چکا ہے۔ اور وحی کا آنا مسدود ہو چکا ہے۔ آپ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے۔ وہ کاذب اور مفتری علی اللہ ہے۔ چودہ سو سال میں جب کبھی کسی شخص نے دعویٰ نبوت کیا۔ جمہور علماء نے اس کے ارتداد کا فتویٰ دیا اور مسلمان ارباب اقتدار نے ہمیشہ ایسے جھوٹے مدعیان نبوت کے قتل کا فیصلہ کیا۔
١٦
چنانچہ صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے قتل پر ہوا۔ اسلامی تاریخ میں یہ بات درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ اور بڑی جماعت اس کی پیرو ہو گئی۔ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلا جہاد جو حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنے عہد خلافت میں کیا تھا۔ تمام صحابہ و تابعین نے مسیلمہ کذاب کو محض دعویٰ نبوت کی بناء پر اور اس کی جماعت کو اس کی تصدیق کی وجہ سے کافر سمجھا اور باجماع صحابہ و تابعین نے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مستند کتب تاریخِ اسلام سے ثابت ہے کہ مسیلمہ کذاب نماز پڑھتا تھا۔ آنحضرتﷺ کی نبوت کا قائل تھا۔ البتہ نبیﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ تاریخ ابن جریر طبری میں ہے کہ نبیﷺ کی تصدیق اذان میں کرتا تھا۔ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ کہا کرتا تھا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود مدعی نبوت تھا۔ اس لئے حضرت صدیق اکبرؓ نے صحابہ کرامؓ مہاجرین و انصار اور تابعین کا ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا۔ تاریخ طبری میں حضرت صدیق اکبرؓ کا ایک فرمان حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام سے درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو صحابہ و تابعین اس جہاد میں شہید ہوئے ان کی تعداد ١٢٠٠ ہے۔ نیز اسی تاریخ میں ہے کہ مسیلمہ کی جماعت جو اس وقت مسلمانوں کے مقابلے میں نکلی تھی۔ اس کی تعداد ٤٠٠٠٠ ہزار مسلح جوان تھی۔ جن میں سے ٢٨٠٠٠ ہزار مارے گئے اور خود مسیلمہ کذاب بھی اس معرکہ میں ہلاک ہوا۔ باقی ماندہ نے ہتھیار ڈال دیئے اور اطاعت قبول کرلی۔
صحابہ کرامؓ نے نہ وقت کی نزاکت کا خیال کیا اور نہ مسلمانوں کے ضعف و بے سرو سامانی کا اور نہ مسیلمہ اور اس کی جماعت کی نماز و اذان کا اور نہ اقرارِ نبوتِ محمدیہ کا۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق نبی اکرمﷺ کی نبوت کے بعد کسی شخص کا دعویٰ نبوت کرنا خواہ وہ کسی تاویل اور کسی پیرائے سے ہو موجب کفر و ارتداد سمجھا۔ نیز واضح ہوا کہ کسی شخص کے اتباع اور پیروؤں کی کثرت اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ ورنہ مسیلمہ کذاب کے متبعین کی کثرت اور شوکت و قوت بدرجہ اولیٰ اس کی حقانیت کی دلیل ہوتی۔
ختم نبوت اور وحدت اسلامی
یہودی امت کی بنیاد حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت پر تھی۔ عیسائی قوم کی بنیاد حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت پر مبنی تھی اور امتِ محمدیہ کی بنیاد حضرت محمدﷺ کی نبوت پر ہے۔ قیامت تک اس امت کی وحدت کا راز حضور اکرمﷺ کی ختمِ نبوت میں پنہاں ہے۔ حضور اکرمﷺ کے بعد
١٧
دعویٰ نبوت کرنے والا دراصل وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کا مدعی اور متمنی ہے۔
اس سلسلہ میں ہم یہاں مفکر اسلام علامہ محمد اقبالؒ جو جدید اور قدیم علوم کے بہت بڑے فاضل مانے جاتے ہیں کا ایک حوالہ من و عن درج کر رہے ہیں۔ جس سے عقیدہ ختم نبوت کی سیاسی اور معاشرتی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔
”ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب بستے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بنا کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی۔ اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے۔ اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے۔ چونکہ اس کی بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔ اس لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملے میں زیادہ حساس ہیں جو اس وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا۔ اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔ انسانیت کی تمدنی تاریخ میں غالباً ختم نبوت کا تخیل سب سے انوکھا ہے۔ اس کا صحیح اندازہ مغربی اور وسط ایشیاء کے مؤبدانہ تمدن کے تاریخ کے مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ مؤبدانہ تمدن میں زرتشتی، یہودی، نصرانی اور صابی تمام مذاہب شامل ہیں۔ ان تمام مذاہب میں نبوت کے اجرا کا تخیل نہایت لازم تھا۔ چنانچہ ان پر مستقل انتظار کی کیفیت رہتی تھی۔ غالباً یہ حالت انتظار نفسیاتی حظ کا باعث تھی۔ عہد جدید کا انسان روحانی طور پر مؤبد سے بہت زیادہ آزاد منش ہے۔ مؤبدانہ رویہ کا نتیجہ یہ تھا کہ پرانی جماعتیں ختم ہوتیں اور ان جگہ مذہبی عیار نئی جماعتیں لا کھڑی کرتے۔ اسلام کی جدید دنیا میں جاہل اور جوشیلے ملاّ نے پریس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبل اسلامی نظریات کو بیسویں صدی میں رائج کرنا چاہا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اسلام جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ایسی تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا۔ جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو اور مستقبل میں اسلامی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث بنے۔“
(حرف اقبال مجموعہ بیانات و خطبات علامہ اقبال ص نمبر ١٢١ تا ١٢٣، حصہ دوم)
مرزا غلام احمد قادیانی اور جماعت احمدیہ
برطانوی حکومت میں آج سے تقریباً ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان میں اپنی استعماری مصلحتوں کے تحت جہاد کو حرام قرار دلانے۔ مسلمانوں میں افتراق و انتشار کی تخم ریزی کرنے اور
١٨
برطانوی حکومت کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے کے لئے اسلام کے بنیادی اور مرکزی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ایک سازش کی اور اس سازش کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تحریک احمدیت کی بنیاد رکھی۔
چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کو اس دعویٰ پر مبنی کیا کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں۔ اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے اور وہ ایسی ہی پاک وحی ہے جیسے دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی۔ اور یہ وحی قرآن مجید کی طرح خدا کا کلام اور خطاؤں سے پاک اور منزہ ہے۔ اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید پر یقین تھا۔ اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور جو شخص اس وحی کو جھٹلاتا ہے وہ یقینی لعنتی ہے۔
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور یہ الہام شائع کیا کہ: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا۔ اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ اعلان بھی کیا کہ: ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔“
(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو صاحب شریعت نبی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مرزا قادیانی نے صرف دعویٰ نبوت پر ہی قناعت نہیں کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں محمد رسول اللہ ہوں۔ قرآن مجید کی آیات ذیل کو حسب عادت اپنے لیے وحی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول، مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔.......چنانچہ میری نسبت وحی اللہ ہے:.......محمد رسول الله والذين معه اشداء علی الکفار رحماء بینہم! اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے۔ اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧)
١٩
تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر
ان تمام دعاوی کے معلوم کر لینے کے بعد بڑی آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کو نہ ماننے والوں کے متعلق قادیانی جماعت کا کیا فتویٰ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم چند حوالے مختصراً درج کرتے ہیں۔ تاکہ اس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ امت مسلمہ کے ایک ارب افراد کو کس آسانی سے کافر جہنمی اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔
- ......١ ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
- ......٢ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔ ”الا ذرية البغايا“ عربی کا لفظ ”البغايا“ جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا بغیہ ہے جس کا معنی بدکار فاحشہ زانیہ ہے۔ خود مرزا قادیانی نے (خطبہ الہامیہ ص ٤٩، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) میں لفظ بغایا کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے۔ اور ایسے ہی انجام آتھم کے (ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) نورالحق (حصہ اول ص ١٢٣ خزائن ج ٨ ص ١٦٣) میں لفظ بغایا کا ترجمہ نسل بدکاران، زنا کار، زن بدکار خراب عورتیں وغیرہ کیا ہے۔
- ......٣ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں۔ اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥ مصنفہ مرزا محمود احمد)
- ......٤ ”ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے۔ مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے۔ مگر مسیح موعود کو (مرزا قادیانی) نہیں مانتا۔ وہ پکا کافر ہے۔“
(کلمۃ الفصل ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣ مارچ اپریل ١٩١٥ء ص ١١٠)
٢٠
مسلمانوں سے شادی بیاہ کی ممانعت
ان تمام فتاویٰ کفر کے بعد مسلمانوں اور مرزائیوں کے اختلافات کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کا شادی بیاہ کے سلسلے میں مسلمانوں کے متعلق جو فیصلہ ہے وہ بھی سامنے آ جائے۔ اس سے صورت حال اور واضح ہو جائے گی۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو مسلمانوں سے لڑکیاں لینا جائز سمجھتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو لڑکیاں دینا ناجائز خیال کرتے ہیں۔ گویا مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے کو وہی پوزیشن دیتے ہیں جو اسلام نے اہل کتاب کو دی ہے۔ شواہد حسب ذیل ہیں۔
- ١...... ”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی
لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو آپ کی وفات کے بعد...... اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی۔ تو حضرت خلیفہ اول (حکیم نورالدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“
(انوار خلافت ص ٩٣ مصنفہ بشیر الدین محمود)
- ٢...... ”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو
اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت مجموعہ تقاریر محمود ص ٧٥)
- ٣...... ”پانچویں بات جو کہ اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لئے نہایت
ضروری ہے۔ وہ غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر سمجھتے ہو، مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦ مصنفہ محمود)
- ٤...... ”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف
وہی سلوک جائز رکھا ہے۔ جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا............ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے۔ اور دنیوی تعلقات کا
٢١
بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“
( کلمۃ الفصل ، ریویو آف ریلیجنز ج ١٤، نمبر ٢، ص ١٦٩ مصنفہ مرزا بشیر احمد )
مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی ممانعت
اوپر جو کچھ لکھا گیا اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار مسلمانوں کے ساتھ عبادت میں بھی شریک نہ ہوں۔ چنانچہ ذیل کی عبارات سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ نہ نماز میں شریک ہو سکتے ہیں اور نہ کسی مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں:
- ١...... ”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔“
(قول مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان ، ١٠ اگست ١٩٠١ء ، ملفوظات ج ٢ ص ٣٦١)
- ٢...... ”پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور
قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں ہو۔“
(اربعین ٣ ص ٢٨، حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ٣...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے
نماز پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٠ مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان)
- ٤...... ”غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی معصوم
بچے کا بھی جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٣ مصنفہ مرزا محمود احمد الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٤ مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء )
نیز معلوم عام بات ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔
جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا کہ:
”جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“
(ٹریکٹ نمبر ٢٢ بعنوان احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ )
٢٢
جب قادیانی امت پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ قائد اعظم مسلمانوں کے محسن تھے اور تمام ملت اسلامیہ نے ان کا جنازہ پڑھا ہے تو جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے۔ مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔ لے
(الفضل لاہور ج ٦٠، ٤٠ نمبر ٢٥٢، ص ٢، ٢٨ اکتوبر ١٩٥٢ء)
لے اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہو گیا کہ مرزائی دنیا بھر کے مسلمانوں کو کلمہ پڑھنے، قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرنے، زکوٰۃ اور حج کے فریضہ سے عہدہ برآ ہونے اور دیگر ضروریات دین پر عمل کرنے، قرآن مجید کو اللہ کی کتاب یقین کرنے کے باوجود کافر سمجھتے ہیں۔ قائد اعظم بھی سر ظفر اللہ خان قادیانی کے نزدیک معاذ اللہ کافر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر اللہ خان قادیانی غیر مسلم سفیروں کے ساتھ جنازہ کے وقت گراؤنڈ کے ایک طرف بیٹھا رہا۔ لیکن جنازہ میں شریک نہ ہوا۔
بعد میں مولانا محمد اسحاق مانسہرویؒ نے دریافت کیا کہ چوہدری صاحب آپ نے جنازہ کے موقع پر موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کے جنازہ میں کیوں شرکت نہیں کی تو ظفر اللہ خان نے جواب دیا۔ مولانا! آپ مجھے مسلمان حکومت کا ایک کافر ملازم یا ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم خیال کر لیں۔
ابھی حال ہی میں لاہور کے ایک پرچہ آتش فشاں اشاعت مئی ١٩٨١ء میں ظفر اللہ خان کا ایک مفصل انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس میں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ پر ایک اعتراض اکثر ہوتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ میں موجود ہوتے ہوئے نہیں پڑھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے جواب دیا کہ ہاں یہ ٹھیک بات ہے میں نے نہیں پڑھا۔ یعنی قائد اعظم کا جنازہ پڑھتا تو اعتراض کی بات تھی کہ یہ شخص منافق ہے۔ یہ غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور اس نے تو پڑھ لیا۔ تب تو میرے کیریکٹر کے متعلق کہا جا سکتا تھا کہ منافق ہے۔ اس کا عقیدہ کچھ ہے۔ عمل کچھ کرتا ہے۔ اس نے ہر دلعزیزی حاصل کرنے کی خاطر قائد اعظم کا تو پڑھ لیا تھا۔ میرے عقیدے کو وہ جانتے ہیں۔ میرے عقیدے کو انہوں نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے۔ تو اگر میں آئینی اور قانونی اعتبار سے ناٹ مسلم ہوں تو ایک ناٹ مسلم پر کیسے واجب ہے کہ مسلمان کا جنازہ پڑھے۔ ان کے اپنے کرتوت تو سامنے ہونے چاہیے۔ نہ پڑھنے پر کیا اعتراض ہے۔ سارے جہان کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے غیر احمدی کا جنازہ۔
(رسالہ آتش فشاں، مئی ١٩٨١ء ص ٢٤)
٢٣
الگ دین الگ امت
مرزا غلام احمد قادیانی کے سلسلہ کے تمام لوازم اور مناسبات کو دیکھتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو گی کہ وہ اپنے پیروؤں کو تمام مسلمانوں سے ایک الگ امت بنانے میں کس درجہ ساعی و کوشاں ہیں۔ حسب ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
- ١....... ”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج
رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ محمود احمد الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٠٣ مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
- ٢....... ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ
انبیاء جن کے سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے۔ اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا۔ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے۔ پس اگر مرزا نے ہی جو کہ نبی اور رسول ہے اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٥ شمارہ ٦٩، ٧٠ ص ٣ مورخہ ٢٦ فروری، ٢ مارچ ١٩١٨ء)
- ٣....... ”مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی۔
شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ تو تمہاری گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦، ٤٧ مصنفہ مرزا محمود)
- ٤....... ”میں نے اپنے نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا
بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں۔ اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اس طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کر دو۔ اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“
(مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ الفضل قادیان ج ٢٤ نمبر ١٣٤، ١٣ نومبر ١٩٤٦ء)
٢٤
انتہائی اشتعال انگیز اور دل آزار تحریریں
صرف یہی ہی نہیں کہ احمدیت کی تحریک نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کو چیلنج کر کے ارتداد اور افسوسناک مذہبی کشمکش کے دروازے کھول دیئے۔ بلکہ بانی تحریک اور اس کے پیروؤں نے اپنی تحریروں میں انبیائے کرام و بزرگان دین کی دل آزارانہ توہین کی اور انتہائی بدزبانی سے کام لیا۔ اور ان دل آزارانہ اور اشتعال انگیز تحریروں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ذیل میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کی اشتعال انگیز اور دل آزارانہ تحریروں کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں۔
- ١....... مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے آج سے بیس برس پہلے
براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- ٢....... ”منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد واحمد کہ
مجتبیٰ باشد“ میں مسیح ہوں اور موسیٰ کلیم خدا ہوں احمد مجتبیٰ ہوں۔
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
- ٣....... ”آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
”میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
- ٤....... ”آنحضرت ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا
کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“
(مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١١ نمبر ٦٦ ص ٩، ٢٢ فروری ١٩٢٤ء)
- ٥....... مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے ان کے ایک مرید قاضی اکمل نے ایک
قصیدہ پیش کیا۔ جس کے جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”جزاکم اللہ! یہ کہہ کر اس خوشخط قطعہ کو اپنے ساتھ اندر لے گئے ۔“
(الفضل قادیان ج ٣٢ نمبر ١٩٩ ص ٤، ٢٢ اگست ١٩٤٤ء)
٢٥
اس مذکورہ قصیدہ کے دو شعر ملاحظہ فرمائیں:
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(مندرجہ اخبار البدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
- ٦...... ”پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو
اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣، بابت مارچ، اپریل ١٩١٥ء)
حضرت عیسیٰؑ کی توہین
- ١...... ”آپ کا (حضرت عیسیٰؑ) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔
تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٢...... ”مسیحؑ کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ، پیو، شرابی۔ نہ زاہد نہ عابد، نہ
حق کا پرستار، متکبر خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤)
- ٣...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب
تو یہ تھا کہ عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ٤...... ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون
مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کے لئے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥، ٤٣٤)
- ٥...... ”یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ
شخص شرابی کبابی ہے۔ اور خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا
٢٦
ہے ۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“
(ست بچن حاشیہ ص ٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)
حضرت علیؓ کی توہین
- .......١
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا قادیانی) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
حضرت فاطمہؓ کی توہین
- .......١
حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
حضرت حسینؓ کی توہین
- .......١
میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ میرے گریبان میں سو حسینؓ ہیں۔
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- .......٢
”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- .......٣
”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)
اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت حسینؓ کے ذکر کو گوہ کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔ (معاذ اللہ)
مکہ اور مدینہ کی توہین
- .......١
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے کہ جو بار بار یہاں آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا ۔ وہ کاٹا
٢٧
جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں ۔“
(حقیقت الرؤیا ص ١٣٦ از مرزا محمود قادیانی طبع اول)
مسلمانوں کی توہین
- ......١ ”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
گئیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
- ......٢ ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام
بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال
علاوہ ازیں احمدیت کے پیرو دینِ اسلام کی اور مسلمانوں کی مقدس اصطلاحوں کو ان کے مقررہ موقع اور محل کے سوا جو قرآن پاک، احادیث نبویﷺ اور امت کے تواتر عمل سے طے ہو چکا ہے۔ دوسرے مواقع اور محلات پر استعمال کر کے مسلمانوں کی دل آزاری اور اشتعال انگیزی کے مرتکب بنتے رہتے ہیں۔
- ......١ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اصطلاح
استعمال کی جاتی ہے۔ جو مسلمانوں کے ہاں محض انبیائے کرام کے لئے مختص ہے۔
- ......٢ صحابہ کرامؓ کی اصطلاح مرزائے قادیانی کے ساتھیوں کے لئے استعمال
کی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ اصطلاح حضرت رسول اکرمﷺ کے صحابہ کے لئے مختص ہو چکی ہے۔
- ......٣ ام المومنینؓ کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے
کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح حضرت نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے مخصوص ہے۔
- ......٤ سیدۃ النساء کی اصطلاح بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے
استعمال کی جاتی ہے۔ حالانکہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے لئے مختص ہے۔
قادیانیوں کی خطرناک سیاسی سرگرمیاں
نہایت ہی خطرناک قسم کی مذہبی دل آزاریوں کے علاوہ جو مسلمانوں کے لئے ناقابلِ برداشت ہیں۔ قادیانیت کی تحریک کا ایک اور خطرناک پہلو قادیانیوں کی سیاسی سرگرمیاں ہیں جو
٢٨
مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ان کی قومی اور ملی زندگی کو طرح طرح کے خطرات میں ڈالنے کا موجب بن رہی ہے۔ قادیانی جماعت در حقیقت مذہبی لباس میں ایک قسم کی سیاسی تنظیم ہے۔ جس کا مدعا مسلمانوں کو سیاسی اور اقتصادی حیثیت سے نقصان پہنچانا ہے اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔ قادیانی جماعت کی بنیاد اس وقت کے غیر ملکی حکمرانوں یعنی انگریزوں کی بیجا خوشامد اور چاپلوسی پر رکھی گئی اور اس جماعت کے بانی نے گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری اور اطاعت شعاری کو اپنی جماعت کے لئے شرط ایمان قرار دے دیا۔ قادیانی جماعت کے بننے کے بعد اس سیاسی تنظیم نے پاکستان کے اندر قادیانیوں کا جداگانہ حکومتی نظام قائم کر کے اس امر کی کوششیں شروع کر دیں کہ پاکستان پر ان کا حکومتی اقتدار قائم کر لیا جائے۔ قادیانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کو کما حقہ سمجھنے کے لئے مرزا غلام احمد کی مندرجہ ذیل تحریریں ملاحظہ ہوں۔
- ١...... چنانچہ مرزا قادیانی سرکار برطانیہ کے متعلق لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ایک
چٹھی میں لکھتے ہیں کہ: ”سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔۔۔ اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداریوں اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(تبلیغ رسالت جلد ششم مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ص ١٩٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١)
- ٢...... ”اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل
تقریروں سے ثبوت پیش کیے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں۔ اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے۔ اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠)
- ٣...... ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے
مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(درخواست بحضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
- ٤...... ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا
٢٩
ہے ۔ اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں ۔ اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے ۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں ۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
ہم یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ قادیانی جماعت دراصل ایک ایسی جماعت ہے جو مذہب کے رنگ میں سیاسی اور دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ۔ صرف متذکرہ صدر شہادتوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ انگریزی حکومت نے قادیانی جماعت کی خوب سرپرستی کی اور اس کے افراد کو ہر طریق سے نوازا اور اسے تقویت پہنچائی ۔ پاکستان بننے پر قادیانی بھی مسلمانوں کی طرح مشرقی پنجاب سے نکال دیے گئے ۔ حالانکہ وہ ہندوستان کو متحدہ رکھنے کے خواہاں تھے ۔ پاکستان میں آنے کے بعد اس سیاسی جماعت نے پاکستان کے اندر اپنا حکومتی نظام قائم کر کے اس سیاسی ملک کا سیاسی اقتدار حاصل کرنے اور پاکستان کا حکمران بننے کی سازشیں شروع کر دیں ۔
شواہد حسب ذیل ہیں :
”ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت کی حفاظت اور ان کی کامیابی کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کیوں دعائیں کیں۔ (مرزا بشیر الدین محمود ) بھی ان کی کامیابی کی دعائیں کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو جنگ میں مدد دینے کے لئے بھرتی ہونے کا ارشاد فرماتے ہیں ۔ حالانکہ انگریز مسلمان نہیں۔ اس کے جواب میں ( مرزا بشیر الدین محمود ) نے جو ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے :
فرمایا اس سوال کا جواب قرآن حکیم میں موجود ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو نظارے دکھائے گئے ہیں۔ ان میں ایک یہ تھا کہ ایک گری ہوئی دیوار بنا دی گئی ۔ جس کی وجہ بعد میں بیان کی گئی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا ۔ جس کے مالک چھوٹے بچے تھے ۔ دیوار اس لئے بنا دی گئی کہ ان لڑکوں کے بڑے ہونے تک خزانہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے اور ان کے لئے محفوظ رہے۔ دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے متعلق پیشین گوئی ہے ۔ جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے
٣٠
قابل نہیں ہوتی ۔ اس وقت تک کسی ایسی طاقت کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔ جب جماعت میں قابلیت پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آجائے گا۔ یہ وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لئے دعا کرنے اور ان کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی ۔“
(الفضل قادیان ج ٢٣ نمبر ٣، ٣ / جنوری ١٩٣٥ء)
حرمتِ جہاد
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے لئے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
- ٢....... ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خداوند تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا۔
حضرت موسیٰ ؑ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا ہے۔ اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا۔ اور مرزاغلام احمد قادیانی کے وقت قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)
- ٣....... ”اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ
کردیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی مسیح موعود کی صفات میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور جہاد کو موقوف کردے گا۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٨، حاشیہ خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٠)
- ٤....... ”لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے
کھلنے کا وقت آگیا ہے۔ اب سے زمین کے جہاد بند کیے گئے۔ اور لڑائیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا۔ تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے۔ وہ خداوند تعالیٰ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو
٣١
اور اس حدیث کو پڑھو جو مسیح موعود کے حق میں ہے۔ یعنی یضع الحرب جس کے معنی یہ ہیں کہ جب مسیح موعود آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔‘‘
(اشتہار مینارۃ المسیح مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٤)
- ٥....... ’’مسلمانوں کے فرقے میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور رہبر
اور پیشوا مقرر فرمایا ہے۔ ایک امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ ظاہری طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٣٣٢، اشتہارات واجب الاظہار ص ١ خزائن ج ١٥ ص ٥١٧)
پاکستان پر قبضہ کرنے کے ارادے
’’بلوچستان میں تو صرف پانچ چھ لاکھ انسان بستا ہے۔ اس میں بڑی مشکل سے دو تین ہزار احمدی ہیں۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا۔ جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے۔‘‘
(مرزا محمود کا بیان الفضل لاہور ج ٢ نمبر ١٨٣ ص ٢، ١٣ اگست ١٩٤٨ء)
’’جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں میں فوج ہے۔ پولیس ہے۔ ایڈمنسٹریشن ہے۔ ریلوے ہے۔ فنانس ہے۔ اکاؤنٹس ہے۔ کسٹمز ہے۔ انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے سے ہماری جماعت اپنے حقوق محفوظ کراسکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اسی طرح کیوں نہ کرائی جائے جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔‘‘
(خطبہ مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل لاہور ١١ جنوری ١٩٥٢ء ص ٤ ج ٦ / ٤٠ نمبر ١٠)
پاکستان بننے کے بعد احمدی جماعت کی سیاسی تنظیم نے حکومت پاکستان کے مقابلے میں ایک متوازی نظام حکومت قائم کرلیا ہے۔ ربوہ کے مقام پر خالص قادیانیوں کی بستی آباد کر کے اس نظام حکومت کا مرکز بنالیا گیا۔ جماعت کا لیڈر امیر المومنین کہلاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے
٣٢
فرمانروا کا معین شدہ لقب ہے۔ اس امیر المومنین کے ماتحت ربوہ میں مرزائی سٹیٹ کی نظارتیں با قاعدہ قائم ہیں۔ نظارت امور داخلہ ہے۔ نظارت امور خارجہ ہے۔ نظارت نشر واشاعت ہے۔ نظارت امور عامہ ہے۔ نظارت امور مذہبی ہے۔ یہ نظارتیں کسی ریاست یا سلطنت کے نظام کے شعبوں کی طرح کام کر رہی ہیں۔ اس نظام حکومت نے خدام الاحمدیہ کے نام سے ایک فوجی نظام بھی بنا رکھا ہے ۔۔ خدام الاحمدیہ میں فرقان بٹالین کے سابق سپاہی اور افسر شامل ہیں۔ فرقان بٹالین پاکستانی فوجوں کی ایک باقاعدہ بٹالین تھی۔ جس میں جنرل گریسی انگریز کمانڈر انچیف کی مہربانی سے صرف قادیانی جوان بھرتی ہو گئے تھے۔ اور جو بعد میں آزاد کشمیر کی مشہور جماعت مسلم کانفرنس کے لیڈروں اور تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کے احتجاج پر پوری فرقان بٹالین فوج سے ڈسچارج کر دی گئی تھی۔
قادیانی لیڈروں کو یقین ہے کہ اب ان کے لئے پاکستان کا حکمران بن جانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ سابق خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے سالانہ جلسہ میں اعلان کیا تھا کہ ہم فتح یاب ہوں گے۔ اور تم مجرموں کے طور پر ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا۔
اکھنڈ ہندوستان
قبل ازیں قادیانی جماعت اور اس کے رہنما ملک کی تقسیم اور قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ وہ آخری وقت تک قیام پاکستان کی مخالفت کرتے رہے۔ اس میں شک نہیں کہ قادیانیوں کے علاوہ کچھ مسلمان بھی قیام پاکستان سے متفق نہ تھے۔ لیکن وہ ان کی سیاسی رائے تھی اور سیاسی رائے مذہبی عقیدہ نہیں ہوتی جو بدلی نہ جاسکے۔ جہاں تک قادیانیوں کا تعلق ہے۔ عقیدہ کے بدلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
چنانچہ ٣؍ اپریل ١٩٤٧ء کو چوہدری سر ظفر اللہ خان کے بھتیجے کے نکاح کے موقعہ پر سابق خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا۔ اور اس رؤیا کی تعبیر اور اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد کی پیشین گوئی کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان کی موجودگی میں کہا کہ: ”حضور نے فرمایا جہاں تک میں نے ان پیشین گوئیوں پر نظر دوڑائی ہے جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق ہیں۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے وابستہ ہے۔ غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں
٣٣
دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے۔ اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہیے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لئے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔ تا کہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں۔ تا کہ احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رؤیا میں اس طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ عارضی طور پر کچھ افتراق پیدا ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان ج ٣٥ نمبر ٨١ ص ٣، ٥ اپریل ١٩٤٧ء)
- ٢...... ’’میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا
چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے۔ یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔‘‘
(بیان مرزا محمود خلیفہ ربوہ الفضل ١٧ مئی ١٩٤٧ء)
- ٣...... قادیانی جماعت تقسیم کی مخالف تھی۔ لیکن جب مخالفت کے باوجود تقسیم کا
اعلان ہو گیا تو قادیانیوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ایک اور زبردست کوشش کی۔ جس کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع جس میں قادیان کا قصبہ واقع تھا۔ پاکستان سے کاٹ کر بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے دونوں اپنے اپنے دعاویٰ اور دلائل پیش کر رہے تھے۔ اس موقعہ پر قادیانی جماعت نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ ایک محضر نامہ پیش کیا۔ اور اپنے لیے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سے الگ موقف اختیار کرتے ہوئے قادیان کو ویٹیکن سٹی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس محضر نامہ میں انہوں نے اپنی تعداد اپنے علیحدہ مذہب اپنے فوجی اور سول ملازمین کی کیفیت اور دوسری تفصیلات درج کیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ
٣٤
قادیانیوں کا ویٹیکن سٹیٹ کا مطالبہ تو تسلیم نہ کیا گیا۔ البتہ باؤنڈری کمیشن نے قادیانیوں کے میمورنڈم سے یہ فائدہ حاصل کرلیا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم ترین علاقے بھارت کے حوالے کر دئیے اور اس طرح نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا۔ بلکہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ مل گئی اور کشمیر پاکستان سے کٹ گیا۔
چنانچہ سید میر نور احمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اپنی یادداشتوں ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ میں اس واقعہ کو یوں تحریر کرتے ہیں۔
”لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایوارڈ پر ایک مرتبہ دستخط ہونے کے بعد ضلع فیروز پور کے متعلق جس میں ٩؍ اگست اور ١٧؍ اگست کے درمیان عرصہ میں ردو بدل کیا گیا اور ریڈ کلف سے ترمیم شدہ ایوارڈ حاصل کیا گیا۔ کیا ضلع گورداسپور کی تقسیم اس ایوارڈ میں شامل تھی۔ جس پر ریڈ کلف نے ٨؍ اگست کو دستخط کئے تھے۔ یا ایوارڈ کے اس حصہ میں بھی ماؤنٹ بیٹن نے نئی ترامیم کرائی۔ افواہ یہی ہے اور ضلع فیروز پور والی فائل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اگر ایوارڈ کے ایک حصہ میں ناجائز طریق پر ردو بدل ہو سکتی تھی۔ تو دوسرے حصوں کے متعلق بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے۔ پنجاب حد بندی کمیشن کے مسلمان ممبروں کا تاثر ریڈ کلف کے ساتھ آخری گفتگو کے بعد یہی تھا کہ گورداسپور جو بہر حال مسلم اکثریت کا ضلع تھا۔ قطعی طور پر پاکستان کے حصے میں آرہا ہے۔ لیکن جب ایوارڈ کا اعلان ہوا تو نہ ضلع فیروز پور کی تحصیلیں پاکستان میں آئیں۔ اور نہ ضلع گورداسپور (ماسوا تحصیل شکر گڑھ) پاکستان کا حصہ بنا کمیشن کے سامنے وکلاء کی بحث کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کمیشن کے سامنے کشمیر کے نقطہ نگاہ سے ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھان کوٹ کی اہمیت کا کوئی ذکر آیا تھا یا نہیں۔ غالباً نہیں آیا تھا۔ کیونکہ یہ پہلو کمیشن کے نقطہ نگاہ سے قطعاً غیر متعلق تھا۔ ممکن ہے ریڈ کلف کو اس نقطے کا کوئی علم ہی نہ ہو۔ لیکن ماؤنٹ بیٹن کو معلوم تھا کہ تحصیل پٹھانکوٹ کو ادھر ادھر ہونے سے کن امکانات کے راستے کھل سکتے ہیں۔ اور جس طرح وہ کانگریس کے حق میں ہر قسم کی بے ایمانی کرنے پر اتر آیا تھا۔ اس کے پیش نظر یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ ریڈ کلف عواقب اور نتائج کو پوری طرح سمجھا ہی نہ ہو اور اس پاکستان دشمنی کی سازش میں کردار اعظم ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا ہو۔ ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق چوہدری ظفر اللہ خان جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے۔ خود بھی ایک افسوسناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے قادیانی جماعت کا نقطہ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی
٣٥
نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بے شک یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کرے گی۔ لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف اور باقی سب دوسری طرف تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم ثابت کرنے کے مترادف تھا۔ اگر جماعت احمدیہ یہ حرکت نہ کرتی تب بھی ضلع گورداسپور کے متعلق شاید فیصلہ وہی ہوتا جو ہوا لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی۔‘‘
(روزنامہ مشرق ٣؍فروری ١٩٦٤ء)
٢...... اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک ممبر جسٹس محمد منیر کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’اب ضلع گورداسپور کی طرف آئیے کیا یہ مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی۔ لیکن پٹھانکوٹ تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع میں مسلم اکثریت کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا۔ مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکرگڑھ کی تقسیم کرنے کی مجبوری کیوں پیش آئی۔ اگر اس تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی سرحد یا اس کے ایک معاون نالے کو کیوں نہ قبول کیا گیا۔ بلکہ اس اس مقام سے اس نالے کے مغربی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا۔ جہاں یہ نالہ ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گورداسپور کو اس لئے بھارت میں شامل کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا عزم وارادہ تھا۔
اس ضمن میں میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لئے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آسکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکرگڑھ کے مختلف حصوں کے لئے حقائق اور اعداد و شمار پیش کئے۔ اس طرح قادیانیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین اور نالہ بسنتر کے درمیان علاقہ میں غیر مسلم اکثریت میں ہیں۔ اور اسی دعویٰ کے لئے دلیل میسر کر دی کہ اگر نالہ اجھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آ جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصے میں آ گیا ہے۔ لیکن گورداسپور کے متعلق قادیانیوں نے اس وقت سے ہمارے لئے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت ٧؍جولائی ١٩٦٤ء)
٣٦
محولہ بالا اقتباسات اتنے واضح ہیں کہ مرزائیت کے سیاسی و شرعی وجود کے متعلق کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہتی ۔ ہر حوالہ اپنی جگہ مکمل اور اس کے عزائم و مقاصد کی صحیح صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔ یہی وجوہ ہیں جن کی بناء پر مسلمانوں کے تمام فرقوں نے متفقہ طور پر مرزائیت کو اسلام کا باغی اور ان کے پیروؤں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔حتیٰ کہ ١٩٥٣ء میں ملک بھر کے علماء نے جو مختلف مسالک و مشارب سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا واضح مطالبہ کیا۔ اس تحریک کے احوال و نتائج اور آثار و مظاہر تمام مسلمانوں کے علم میں ہیں ۔
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ نیا نہیں ۔ بلکہ علامہ اقبال نے پاکستان بننے سے کہیں پہلے انگریزی حکومت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:
”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں ۔ تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ ۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے ۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ ابھی قادیانی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکیں ۔“
(اسٹیٹس مین کے نام خط ١٠ جون ١٩٣٥ء)
علامہ اقبال نے حکومت کے طرزِ عمل کو جھنجھوڑتے ہوئے مزید فرمایا کہ:
”اگر حکومت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ لیکن اس ملت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے ۔“
جب تک مطالبات کی یہ شکل قائم نہ ہوگی مرزائی استعماری طاقتوں کی بدولت ملک وقوم کے لئے مستقلاً خطرہ بنے رہیں گے۔حتیٰ کہ ایک ایسے سانحے کا رونما ہونا یقینی نظر آرہا ہے ۔ جو سانحہ کہ آج ملت عربیہ کی حیات اجتماعی کے لئے اسرائیلی سرطان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
قادیانی مذہب و سیاست نامی پمفلٹ یہاں پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے آگے دوسرے ایڈیشن میں مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ نے اضافہ فرمایا۔ وہ یہ ہے ۔ (مرتب)
٣٧
پاکستان کے دو اہم فیصلے!
الحمد للہ علماء حق کی سو سالہ جدوجہد اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر قربان ہو جانے والوں کا خون رنگ لایا اور تحریک تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں درمے دامے سخنے قدمے جانی معاونت کرنے والوں کی خدمات نے حق تعالیٰ کے ہاں شرف قبولیت پایا۔ ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کے تاریخی دن میں پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا اور پارلیمنٹ کے تمام ممبران کے اتفاق سے مرزائیوں کے غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد منظور ہوئی۔
اور حسب ذیل ترمیم پاکستان کے دستور میں کر دی گئی۔ اور اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے لاہوری اور قادیانی پیروکار دینی آئینی اور قانونی طور پر غیر مسلم قرار دے دیئے گئے۔ اور اس فیصلہ کے بعد دنیا اسلام کی حکومتوں نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا۔
٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کو دستور پاکستان میں منظور کی جانے والی ترمیم حسب ذیل ہے:
قادیانیوں کے بارے میں پاکستان قومی اسمبلی کا فیصلہ
(شائع کردہ حکومت پاکستان)
آرٹیکل نمبر ٢٦٠: جو شخص خاتم الانبیاء حضرت مصطفےٰ ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان نہیں لاتا یا حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی انداز میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مذہبی مصلح پر ایمان رکھتا ہے۔ وہ از روئے آئین و قانون مسلمان نہیں۔
آرٹیکل نمبر ١٠٦: کلاز نمبر ٣ ...... اس میں طبقوں کے لفظ کے بعد قادیانی یا لاہوری گروپ کے جو اشخاص جو احمدی کہلاتے ہیں کے جملے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد کلاز نمبر ٣ کی صورت یہ ہوگی۔ صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان پنجاب شمالی مغربی سرحدی صوبہ اور سندھ کی کلاز نمبر ١ میں دی گئی نشستوں کے علاوہ ان اسمبلیوں میں عیسائیوں ، ہندوؤں ،سکھوں، بدھوں پارسیوں اور قادیانیوں یا شیڈول کاسٹس کے لئے اضافی نشستیں ہوں گی۔
آئین میں دوسری ترمیم کے بل کا متن
یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازاں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے
٣٨
آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔ لہٰذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔ مختصر عنوان اور آغاز نفاذ یہ ایکٹ، آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٤ء کہلائے گا۔ یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
آئین کی دفعہ ١٠٦ میں ترمیم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں جسے بعد ازاں آئین کہا جائے گا۔ دفعہ ١٠٦ کی شق نمبر ٣ میں لفظ اشخاص کے بعد الفاظ اور بریکٹ (اور قادیانی یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں) درج کئے جائیں گے۔
آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم
آئین کی دفعہ نمبر ٢٦٠ میں شق نمبر ٢ کے بعد حسب ذیل نئی شقیں درج کی جائیں گی۔
- نمبر ٣ جو شخص حضرت محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں کے بعد خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور
پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تصور کرتا ہے۔ وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لحاظ سے مسلمان نہیں ہیں۔
(قومی اسمبلی کا فیصلہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء)
عبوری آئین میں مرزائیوں کے متعلق ترمیم
مارچ ١٩٨١ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ١٩٧٣ء کے دستور کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہوئے محض بعض انتظامی امور کی راہ میں ناروا رکاوٹیں دور کرنے کے لئے ایک عبوری آئین نافذ کیا۔ اس عبوری آئین میں جہاں ٢٦٠ دفعہ قائم رکھی گئی۔ وہاں صوبائی انتخابات کے سلسلہ میں غیر مسلم اقلیتوں کی نشستوں والا چیپٹر حذف کر دیا گیا۔
انہیں غیر مسلم اقلیتوں کے چیپٹر میں مرزائیوں کو بطور غیر مسلم درج کیا ہوا تھا جس کے حذف ہو جانے سے یہ امکان پیدا ہو گیا کہ دفعہ ٢٦٠ مرزائیوں کو غیر مسلم ثابت کرنے میں پوری طرح مؤثر نہیں رہے گی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دفعہ ٢٦٠ کی یہ تشریح تھی جو شخص حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا دعویٰ نبوت کرے وہ مسلمان نہیں۔ مرزائی اس میں یہ تاویل کرتے تھے کہ حضور پاک ﷺ کے بعد کسی نئے شخص نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ بلکہ (معاذ اللہ) نقل کفر کفر نباشد وہ یہ کہتے تھے کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ تھے۔ جو دوبارہ دنیا میں آئے بلکہ ان کی پہلی بعثت پہلی رات کے چاند کے مطابق اور دوسری بعثت جو قادیان میں ہوئی وہ چودھویں رات کے چاند کے مطابق تھی۔
٣٩
اس صورت میں کسی نئے شخص نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ اگرچہ یہ بات نہایت گستاخانہ دل آزارانہ اور لچر تھی۔ تاہم اسی تاویل کا راستہ بند کرنے کے لئے قومی اسمبلی نے اپنی ترمیم ٢٦٠ دفعہ کی شمولیت کے علاوہ غیر مسلموں کے شیڈول میں بھی ان کا نام درج کر دیا تھا۔ اب عبوری آئین میں اس غیر مسلم اقلیتوں کے شیڈول کے حذف ہونے سے مسلمانوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور پورے ملک کے طول وعرض میں حیرت اور ناراضگی کا اظہار ہونے لگا۔ ١٧؍ اپریل ١٩٨١ء کو ٢٧ علماء کے ایک وفد نے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم سے تین گھنٹے تک ملاقات کی۔ اس وفد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں میں سے مولانا تاج محمود، مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، مولانا قاری محمد امین راولپنڈی، مولانا محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد، مولانا عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ بھی شریک تھے۔
ختم نبوت کے مسئلہ پر مولانا تاج محمودؒ نے آدھ گھنٹے تک تقریر کی اور عبوری آئین سے اقلیتوں کے شیڈول کے حذف کرنے سے جو پیچیدگیاں اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی تھیں وہ بیان کیں۔
بالآخر صدر مملکت نے وفد کی معروضات کو شرف قبولیت بخشا جہاں وفد کے دوسرے مطالبات تسلیم کئے گئے۔ وہاں عبوری آئین میں ایک نئی ترمیم شامل کرا دی جس میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرکے مرزائیوں کو واضح طور پر غیر مسلموں میں شامل کر دیا گیا۔
صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کی بذریعہ آرڈی ننس ترمیم حسب ذیل ہے۔ صدارتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اس ترمیمی آرڈر کو عبوری آئین ترمیمی آرڈر ١٩٨١ء کہا جائے گا۔ اور یہ ٢٤ ؍ مارچ ١٩٨١ء سے نافذ العمل سمجھا جائے گا۔ حکم کے ذریعے عبوری آئین میں جس نئی شق کا اضافہ کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے پر کامل یقین رکھتا ہے۔ اور ان کے بعد کسی نبی یا مصلح کو جس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا کرتا ہو تسلیم نہ کرے۔ غیر مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو مسلمان نہیں ہے اور عیسائی ہندو، سکھ، بدھ پارسی فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ یا اس کا تعلق قادیانی گروپ سے یا لاہوری گروپ سے ہے جو خود کو احمدی کہلاتے ہیں یا وہ بہائی فرقے سے ہے اور یا وہ ہریجن ہے۔
چند قابل توجہ نکات
بعض لوگ جن میں پڑھے لکھے صاحبان بھی شامل ہوتے ہیں۔ مرزائیوں کے
٤٠
پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر یہ کہتے ہیں کہ مرزائی کلمہ پڑھتے ہیں۔ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ بڑے اعلیٰ اخلاق کے ہوتے ہیں۔ قرآن وحدیث پر ایمان رکھنے کے مدعی ہیں وغیرہ وغیرہ پھر انہیں دائرہ اسلام سے خارج کیوں قرار دیا جاتا ہے۔
اس سوال پر غور کرنے اور اس کے جواب کے لئے مندرجہ ذیل باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔
- ١........ ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتا ہے۔ ایسا شخص یہودی ہے۔ کیونکہ
یہودی موسیٰ علیہ السلام کی امت کہلاتے ہیں۔ یہی شخص موسیٰ علیہ السلام کو نبی ماننے کے ساتھ ساتھ اگر عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان لے آتا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا سچا نبی ماننے لگ جاتا ہے تو اب یہ شخص یہودی نہیں بلکہ عیسائی امت کا فرد بن گیا اور اسے عیسائی کہا جائے گا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ماننے والے عیسائی کہلاتے ہیں۔ پھر یہی شخص موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا سچا پیغمبر ماننے کے باوجود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آتا ہے۔ تو اب ایسا شخص نہ یہودی ہے نہ عیسائی رہ گیا ہے۔ بلکہ اب یہ مسلمان کہلائے گا اور عیسائیوں سے خارج ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر وہی شخص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان لیتا ہے تو اب نہ یہ یہودی ہے نہ عیسائی ہے نہ مسلمان ہے بلکہ اب یہ مسلمانوں سے خارج ہو کر مرزائی ہو گیا ہے۔ نماز، روزہ یا کوئی نیک عمل نبی بدل لینے کے بعد اسے پہلی امت میں شامل نہیں رکھ سکتا۔ امت کا دارو مدار اعمال پر نہیں بلکہ نبوت پر ہے۔ جو شخص یہودیوں سے نکل کر عیسائی ہوا اس نے موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں کیا۔ جو شخص عیسائی سے مسلمان ہوا۔ اس نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کے سچے نبی مانتا ہے۔ مگر حضور اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی وجہ سے اب وہ مسلمان ہے۔ جو شخص مرزا غلام احمد کی نبوت پر ایمان لے آتا ہے۔ وہ موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام اور حضور اکرم ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم کرنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
یہ اصول جو اوپر ہم نے بیان کیا خود مرزائی رہنماؤں نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد قادیانی اپنی ایک مشہور تصنیف میں لکھتے ہیں کہ: ”ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا۔ یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے۔ مگر
٤١
حضرت محمد ﷺ کو نہیں مانتا۔ یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے۔“
( کلمتہ الفصل ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١١٠ )
- ٢........ اگر ہمارے بعض دوستوں کو یہ خیال آتا ہے کہ جب مرزائی کلمہ، نماز،
روزہ وغیرہ کے پابند ہیں اور ہمارا ذبیحہ بھی کھاتے ہیں ان کا قبلہ بھی وہی ہے۔ تو انہیں کافر کیوں قرار دیا جاتا ہے؟۔ یہی سوال الٹا ہم مرزائیوں کے رہنماؤں پر کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے ایک ارب مسلمان کلمہ، درود، نماز پڑھتے ہیں۔ قبلہ رو ہو کر نماز بھی پڑھتے ہیں۔ پورے قرآن مجید پر اور حضور سرور کائنات ﷺ کی تعلیمات پر ایمان رکھتے اور حتی المقدور عمل کرتے ہیں۔ پھر مرزائی انہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کیوں قرار دیتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ یہ الزام ہم اپنی طرف سے عائد نہیں کرتے حوالہ ملاحظہ ہو: ”جو لوگ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں۔ اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
( آئینہ صداقت ص ٣٥ بحوالہ مرزا محمود قادیانی )
- ٣........ حضور اکرم ﷺ پر یمامہ کے ایک مسیلمہ کذاب نامی شخص نے ایمان لانے
کے بعد جھوٹا دعویٰ نبوت کر دیا۔ اس کے واقعات مفصل احادیث اور تاریخ اسلام میں موجود ہیں وہ قرآن مجید پر ایمان رکھتا تھا۔ اذان یہی پڑھواتا تھا اور اس میں اشہد ان محمد رسول اللہ کہا جاتا تھا۔ نمازیں، روزے، کلمہ یہی تھا۔ صرف یہ کہتا تھا کہ میں بھی حضور ﷺ کے تابع ایک نبی ہوں۔ حضور ﷺ نے اسے جھوٹا قرار دیا۔ اس کے بھیجے ہوئے سفیر کو مسترد کر دیا اور حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبرؓ کے دور میں صحابہ نے اس کے خلاف چڑھائی کی اور جہاد کیا۔ مسیلمہ کذاب اور اس کے ہزاروں ساتھی قتل کر دیئے گئے۔ نمازیں اذانیں اور تمام اسلامی اعمال کے باوجود صحابہ کرامؓ نے اسے کافر مرتد قرار دیا۔ اور اس کے خلاف جہاد کیا نہ صرف اسے بلکہ اس کے اکثر ساتھیوں کو تہ تیغ کر دیا۔
امید ہے ان تین نکات پر ہمارے سادہ لوح مرزائی دوست بھی اور دینی تعلیمات سے ناواقف مرزائیوں کے ہمدرد بھائی بھی غور کریں گے اور صحیح نتیجہ پر پہنچیں گے۔ کہ حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا خواہ اسے کتنے پردوں میں لپیٹ کر اور تاویلوں کے ایچ پیچ میں چھپا کر کیا جائے کتنا بڑا سنگین جرم ہے کفر ہے۔ اسلام سے مرتد ہو جانا ہے اور یہی حال کسی جھوٹے مدعی ٤٢
نبوت پر ایمان لانا ہے خواہ اسے نام دے کر ایمان لائے۔ کفر اور نکتہ دوم... بات پہچان کی ہے۔ مرزا غلام احمد قاد پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی (کس مرزا غلام احمد قادیا آئے گی۔ جب انکار ہو گیا اور ترجمہ عربی الہام م کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان اور انجام کار اس لڑکی کو تمہارے رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چا کذب جانچنے کو ہماری پیش گ مرزا قادیانی کی کسی چکر کی گنجائش نہیں۔ سلامت زندہ رہی۔ اور اس مرزائی دوستو! ہے۔ اور وہ مرنے کے بعد کی تاویلوں اور مرزائی مبل سمجھ لیں کہ اگر کوئی پیش گو ہوئی اور وہ اپنے فرمان س اس سلسلہ میں گز نہ کرنا چاہیے حضر حضور اکرم ﷺ کے باق
نبوت پر ایمان لانا ہے خواہ اسے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام دے کر یا مجدد اور مہدی کا نام دے کر ایمان لائے۔ کفر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کا باعث ہے۔
نکتہ دوم ... بات مذاق اور تمسخر کی نہیں کھرے اور کھوٹے، سچے اور جھوٹے کی پہچان کی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تحریر کیا ہے کہ: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کو ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی (کسوٹی) امتحان نہیں ۔“
(آئینہ کمالات ص ٢٨٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا غلام احمد قادیانی نے بڑے زور شور سے پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ جب انکار ہو گیا اور لوگ اس پیش گوئی کا مذاق اڑانے لگے تو کہا کہ: ترجمہ عربی الہام مرزا قادیانی: ”یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ بد خیال لوگوں پر واضح ہو کہ ہمارے صدق یا کذب جانچنے کو ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی امتحان کی کسوٹی نہیں ہے۔“
(ملخص آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨١ تا ٢٨٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی اتنی واضح اور صاف ہے کہ اس میں کسی بحث کسی تاویل اور کسی چکر کی گنجائش نہیں۔ محمدی بیگم مرزا قادیانی کی وفات تک ان کے نکاح میں نہ آئی اور صحیح سلامت زندہ رہی۔ اور اب پاکستان بن جانے کے بعد اس خاتون کی لاہور میں وفات ہوئی۔
مرزائی دوستوں سے درخواست ہے کہ اگر ان کے دلوں میں ذرہ بھر خوف خدا موجود ہے۔ اور وہ مرنے کے بعد رب کے حضور پیش ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو مرزا قادیانی کی بعد کی تاویلوں اور مرزائی مبلغوں کی لاطائل باتوں کے چکر کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی اصل بات سے سمجھ لیں کہ اگر کوئی پیش گوئی ہی ان کے سچے ہونے کا معیار تھی۔ تو محمدی بیگم کی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور وہ اپنے فرمان کے مطابق سچے نہ تھے بلکہ جھوٹے تھے۔
اس سلسلہ میں بعض لوگ محمدی بیگم مرحومہ کا ذکر از راہ مذاق اور تمسخر کرتے ہیں۔ ایسا ہر گز نہ کرنا چاہیے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے محمدی بیگم حضور اکرم ﷺ کے باقی ماندہ معجزات میں سے ایک معجزہ تھی۔ باوجود عورت ہونے کے مرزا
٤٣
قادیانی نے قہر آسمانی کے نازل ہونے اور خدائی عذاب میں مبتلا ہو جانے کے بڑے بڑے اعلان کئے ۔ لیکن وہ مؤمنہ صادقہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اس نے مرزا قادیانی کو جھوٹا اور کذاب ثابت کرنے کے لئے امت محمدیہ کو ایک بہت بڑا ثبوت مہیا کر دیا۔ حق تعالیٰ اس مؤمنہ صادقہ کے آخرت میں درجات بلند فرمائے اور اس کو اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے۔
نکتہ سوم ... مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی یعنی مراق اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی کثرت پیشاب کی۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ٣٤٥؛ اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣ مورخہ ٧؍ جون ١٩٠٦ء ص ٥)
اس سلسلہ میں تمام مرزائی دوست مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی پر غور فرمائیں کہ وہ مراق کے مریض تھے۔ اور طب کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ کوئی مراقی آدمی خدا ہونے کا یا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم نے لاہور کے جلسہ عام میں فرمایا تھا کہ: مرزائی بھائیو ہوش کے ناخن لو۔ اگر میدان محشر میں داور محشر کے سامنے مرزا غلام احمد نے یہ کہہ دیا کہ یا اللہ میں نے اپنی کتابوں میں اپنے آپ کو مراقی لکھ دیا تھا۔ اس کے بعد جو لوگ مجھے نبی ماننے لگ گئے ۔ اس میں میرا قصور کیا ہے ۔ یہ انہی لوگوں کی زیادتی ہے کہ مراقی شخص کو نبی مانتے رہے ۔ اب اس کی سزا مجھے نہ دے بلکہ انہیں دے جو جانتے بوجھتے گمراہی پر لگ گئے تو بتاؤ مرزائیو تمہارا حق تعالیٰ کے حضور اس روز جواب کیا ہو گا۔ اور تم اپنے خالق حقیقی کے سامنے اس کا کیا جواب دے سکو گے؟۔
ایڈیٹر لولاک کا جنرل محمد عارف اور گورنر کے نام خط
ہفتہ وار لولاک ایک مدت سے مرزائیوں کی ملک دشمن و دسیسہ کاریوں اور اسلام کے خلاف سرگرمیوں کے پردے چاک کر رہا ہے۔ لیکن اس سال مرزائیوں کی بعض سرگرمیاں ایسی نوٹس میں آئی ہیں جنہیں ارباب اقتدار کے علم میں لانا ضروری تھا۔ چنانچہ مولانا تاج محمود ایڈیٹر لولاک نے ایک خط انہی معلومات اور شکایات پر مبنی ارباب اقتدار کو جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانہ میں لکھا ہے۔ ارباب اقتدار کے حب الوطنی سے کامل توقع ہے۔ کہ وہ اس فرقہ کی ان سرگرمیوں پر ضرور توجہ دے گا۔
٤٤
بخدمت جناب گورنر پنجاب لاہور بخدمت جناب جنرل محمد عارف صاحب...... سی ایم ایل اے سیکرٹریٹ راولپنڈی سیکرٹری اطلاعات حکومت پنجاب لاہور...... ڈائریکٹر جنرل اطلاعات لاہور اسلام علیکم!
مزاج گرامی ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ آپ جیسے نیک جوہر قابل اور مستعد المزاج صاحب حکومت پنجاب کے اس اہم منصب پر فائز ہیں۔ ملک میں سنسر ہے۔ آزادی تحریر کو لوگ آزاد شہریوں کا بنیادی حق کہہ کر سنسر ہٹانے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ سیاسی لوگوں کی بھی مانگ ہے۔ اخبارات بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اور یہاں کے نام نہاد ایک خاص ذہن کے دانشوروں کا ایک طبقہ بھی سنسر سے بہت اکتایا ہوا ہے۔
لیکن ہم کسی بھی بے لگام آزادی تحریر کے حامی نہیں۔ جناب جنرل عارف کے دستخطوں سے سنسر کی جو ابتدائی چٹھی ہمارے ریکارڈ میں ہے اس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اسلام کے خلاف کوئی مواد شائع نہیں ہو سکتا۔ ملکی سالمیت کا تحفظ تو مقصد اولین ہے۔ لیکن جہاں بے راہ رو لوگ بے لگام آزادی تحریر کے خواہاں ہیں۔ اور تخریب کاری اور انارکی یا محض اپنے اخبارات کی اشاعت کے اضافے کے لئے بے چین ہیں وہاں ہمیں آپ کے افسران سے بھی جائز شکایات ہیں۔ جن کا ازالہ ضروری ہے۔ اور خصوصاً آپ جیسے بلند نگاہ سربراہ محکمہ کے ہوتے ہوئے بالکل ضروری ہے۔ ہمارا پرچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا ترجمان ہے۔ قادیانی جماعت کا محاسبہ ہمارا مشن ہے۔ لیکن فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں کسی اشتعال انگیزی اور دل آزاری کی بنیاد پر نہیں بلکہ نمبر ١...... اسلام کے ایک بنیادی عقیدے کی حفاظت کی بنیاد پر جس عقیدے کی حفاظت کے بغیر وحدت امت کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا اس سلسلہ میں علامہ اقبال مرحوم نے جو کچھ لکھا ہے وہ حرف آخر ہے۔ امید ہے کہ آپ کی نظروں سے ضرور گزرا ہو گا نہ گزرا ہو تو ان کی کتاب حرف اقبال بھجوادوں گا۔ نمبر ٢...... ملکی سالمیت کے تحفظ کے لئے یہ بات بے شمار شواہد سے اب سامنے آ گئی ہے کہ قادیانیت کا وجود اور فروغ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی عرصہ میں ہمیں منع کر دیا گیا تھا۔ کہ ہم قادیانیوں کے متعلق کچھ نہیں لکھ سکتے۔ لیکن صدر مملکت سے ملاقاتوں اور میٹنگوں میں بارہا یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا اور اس پر کافی گفتگوئیں ہوئیں۔ اور آخر کار انہوں نے وعدہ فرمایا کہ اس سلسلہ میں کچھ نرمی کے لئے کہہ دیا جائے گا۔ ان کے ارشاد
٤٥
کے بعد پالیسی بدل گئی اور ہم نے اس مسئلہ کے قومی ملکی اور اسلامی مصالح کے موضوع پر مواد چھاپنا شروع کر دیا۔ جو ایک عرصہ تک چھپتا رہا۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے پھر وہی رویہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ اور ایسی چیزیں سنسر کر کے کاٹ دی جاتی ہیں۔ جس سے تاثر یہ ہوتا ہے کہ شائد حکام سنسر قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے کے حامی ہیں۔ میں جناب کو گزشتہ دو ہفتوں کی تین مثالیں عرض کرتا ہوں:
- ١...... گذشتہ ہفتہ ربوہ میں خدام الاحمدیہ کا اجلاس ہوا۔ خدام الاحمدیہ مرزائیوں
کی نیم فوجی نہیں مکمل فوجی تنظیم ہے۔ یہ لوگ کشمیر کی فرقان بٹالین جو خالص مرزائیوں کی یونٹ تھی۔ اور ١٩٧٤ء میں تین ہزار نوجوان جو کسی نہ کسی طرح مغربی جرمنی پہنچ گئے۔ اور فرینکفرٹ میں پناہ لے کر بلوچستان کے پناہ گزینوں کے کیمپ سے الگ رکھے گئے تھے۔ یورپ کے بد معاشوں کی مشہور تنظیم فارن لیجن جو بعض ملکوں کی بڑی طاقتوں کے پیسے اور اشارے سے کرائے کے فوجی مہیا کرتی ہے۔ اس نے انہیں پناہ دلوانے کے علاوہ گوریلا جنگ کی تربیت دی۔ ان میں کوئی عورت، کوئی بوڑھا اور کوئی بچہ نہ تھا۔ سب جوان تھے۔ یہ لوگ وہاں سے تربیت پا کر یہاں واپس پہنچ چکے ہیں۔ حکومت کے متعلقہ شعبوں کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی۔ بعض کے نام کی تفصیلات مہیا کی گئیں۔ میں نے اس پر بھر پور اداریہ تحریر کیا۔ آج تک کسی مرزائی کو میرے ان الزامات کی تردید کی جرات نہیں ہوئی۔ کچھ جانباز فورس وغیرہ سنٹروں سے تربیت یافتہ ہیں کچھ ایکس فوجی ہیں۔ یہ ہزاروں خدام الاحمدیہ کے رضا کار پچھلے ہفتہ ربوہ جمع ہوئے۔ یہ ہر سال اجتماع ہوتا ہے۔ لیکن اس سال نئی بات یہ تھی کہ ملک بھر کے ہر حصہ سے یہ رضا کار سائیکلوں پر سفر کر کے ربوہ پہنچے۔ صرف کراچی سے ١٠٠ آدمی سائیکلوں پر ربوہ پہنچا۔ یہ کوئی افسانہ نہیں۔ حکومت کے متعلقہ محکموں کے افسران وہاں موجود تھے۔ انہوں نے یہ چیزیں آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ اور یقیناً رپورٹ بھی کی ہوں گی۔ میں نے اس پر اداریہ لکھا کہ جو جماعت مذہب (غلط صحیح کی بحث کو چھوڑ دیں) کی تبلیغ کرنے کی مدعی ہے۔ اس جماعت کے ہزاروں افراد کا اس طرح محنت شاقہ سے جمع ہونا پھر پانچ سو بہترین گھوڑے پالنے اور ہر سال گھوڑوں کی ٣ دن نمائش جس میں ارد گرد کے برطانوی دور کی یادگار جاگیرداروں کی نسل کے لوگوں کی آمد اور گھوڑوں کی دوڑ وغیرہ میں حصہ لینا اور ہیڈ آف دی ربوہ مرزا ناصر احمد کا تیسرے دن مسلح جیپوں اور ١٢ موٹر سائیکل سوار آگے اور ١٢ موٹر سائیکل سوار پیچھے جیسے کہ وہ کسی جماعت کے ہیڈ نہیں بلکہ کسی ملک کے ہیڈ ہیں۔ آنا اور انعامات تقسیم کرنا۔
٤٦
سکول کے بچوں کو ملک بھر سے جمع کرنا اور ورزشیں ، پریڈیں وغیرہ کرنا اور الفضل میں اعلان کرنا کہ ان ٹریننگوں کے بعد ان بچوں کو سراغرسانی کے طریقوں کی بھی ٹریننگ دی گئی ہے۔ مرزائی طلبہ اور طالبات کے ایک ایک سو تعداد پر مشتمل قافلے اپنا ضروری سامان پیٹھ پر اٹھائے سو سو میل کی مسافت دور کے شہروں تک سڑکوں کے کنارے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے جانا۔ راستے میں ٹھہرنے کی منزلیں متعین ہوتی ہیں۔ وہاں کے امیر جماعت احمدیہ نے صرف ان بچوں کو رہائش مہیا کرنی ہے۔ کھانے پینے کا سودا سلف وہ بچے خود خریدیں گے۔ اور خود پکائیں گے۔ اور اس طرح سفر کرنا۔ میں نے لکھا یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی دینی تبلیغی جماعت کا جزو نہیں ہیں۔ بلکہ یہ سارا پروگرام وہ ہے جو اسرائیل کے قیام سے قبل یہودی اور ان کے نوجوان اور ان کی اولاد کر رہی تھی۔ آپ کے افسران سنسر نے یہ اداریہ کاٹ دیا۔
- ......٢...... دوسری مثال میں نے اداریہ تحریر کیا کہ اسلام آباد میں جو تخریب کا دشمنوں
کا لٹریچر تقسیم کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ ان میں ایک لیکچرر جمیل مرزا غلام احمد قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نور دین قادیانی کا پوتا ہے اور مرزائی ہے۔ یہ بات تمام قومی اخبارات میں آ چکی ہے۔ بلکہ اس کے بعد ان لوگوں کے وسیع جال اسلحہ وغیرہ کے انکشافات بھی آ چکے ہیں۔ بلکہ اب تو فیصل آباد کی ایک مرزائی کونسلر خاتون بھی گرفتار کر لی گئی ہے۔ میں نے لکھا ہے کہ قادیانی کمیونسٹ ملک کی سالمیت اور وجود کے خلاف ہیں اور یہ بات عام ریکارڈ ہے کہ آج تک پاکستان میں جتنی سازشیں پکڑی گئیں ہیں ان میں کمیونسٹوں کے دوش بدوش قادیانی شامل پکڑے گئے۔ ان تخریب کاروں سے پہلے اسلام آباد سے منیر دڑاج اسلحہ کیس میں پکڑا گیا۔ وہ قادیانی تھا۔ اس سے اور قبل اٹک کے ائیر فورس کے مقدمہ میں غوث وغیرہ پائلٹ مرزائی تھے۔ نادر سینما راولپنڈی سے پکڑی جانے والی سازش میں ائیر مارشل اصغر خان کے چھوٹے بھائی ، دو سالے میجر فاروق اور میجر افتخار ، میجر جنرل آدم خان مرزائی کے لڑکے تھے۔ مصدقہ قادیانی تھے سزا پاگئے۔ سب سے پہلی پاکستان کے خلاف فیض احمد فیض میجر اسحاق کمیونسٹوں والی پنڈی سازش کیس میں میجر جنرل چوہدری نذیر احمد مرزائی شامل تھا۔ اور ہمارے پاس خود مرزائی راہنماؤں کے بیان موجود ہیں کہ ملک کی تقسیم مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں کی روشنی میں منشائے الٰہی کے خلاف ہو گی۔ ہوئی تو عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر دوبارہ اکھنڈ ہندوستان بن جائے۔ یہ اداریہ کاٹ دیا گیا۔
- ......٣...... تیسری مثال گزشتہ سے پیوستہ ہفتہ ہماری بہاول پور کی جماعت کا دفتر
٤٧
نذر آتش ہو گیا۔ ارد گرد کے مکانات بھی جل گئے۔ دو کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ بتایا گیا ہے۔ رات بھر انتظامیہ مصروف رہی۔ دوسرے شہروں سے فائر بریگیڈ منگوائے گئے۔ تب جاکر کہیں آگ پر قابو پایا گیا۔ اس آگ کے متعلق لوگوں کی مختلف قیاس آرائیاں ہیں۔ بعض کا خیال ہے بجلی کے تاروں اور ناقص وائرنگ کی وجہ سے آگ لگ گئی اور پھیل گئی اور بعض کا خیال ہے کہ اس آگ کا تعلق تخریب کاری سے ہے۔ اس خبر کے متعلق مقامی افسران نے لاہور کے حکام سے رابطہ پیدا کیا۔ انہوں نے پوری خبر لاہور بھجوائی اور پوری خبر کاٹ دی۔ تعجب ہے کل بہاولپور میں ٹرین کا حادثہ ہوا۔ پورے پریس نے لکھا کہ حادثے میں فنی خرابی اور تخریب کاری دونوں کا امکان ہے۔ طیارہ کے اغواء میں پہلے دن ہی شور مچ گیا کہ تخریب کاروں کی کارروائی ہے۔ ظہور الٰہی کے قتل کے سلسلہ میں اب بچہ بچہ کی زبان پر اور پورے پریس میں تخریب کاروں پر الزام ہے۔ اس آگ میں تخریب کاری کا لفظ آ گیا۔ تو آپ کے افسران کو چکر آ گیا۔ صرف اس لئے کہ اس خبر میں ایک لفظ یہ بھی تھا کہ جلنے والی بلڈنگوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر بھی شامل ہے۔ بات طویل ہو گئی۔ لیکن اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھئے کہ ربوہ سے چھپنے والے بے شمار رسالوں اور الفضل میں جو کچھ چھپتا ہے۔ اس میں بے شمار مواد اسلام کے خلاف ہے۔ وہ ١٩٧٤ء کی ترمیم کے خلاف لکھ رہے ہیں جو آئین سے کھلی بغاوت ہے۔ اسلام کی مقدس اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ پوری دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو قانونی مسلمان اور اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان لکھ رہے ہیں۔ غیر مسلم ہوتے ہوئے اپنی جھوٹی اور انگریزی نبوت کے حق میں قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور احادیث نبویہ کو مسخ کر کے استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن وہاں آپ کے سنسر والوں کی قینچی کند ہے۔ حالانکہ ان کے لئے بعض الفاظ کا استعمال ہم نے صدر مملکت سے درخواست کر کے ممنوع کروا دیا تھا۔ لیکن جو کچھ ہو رہا ہے ہماری سمجھ سے بالا تر ہو رہا ہے۔ یہ کوئی ملائیت کی بات نہیں نہ فرقہ وارانہ بات ہے۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ لولاک تمام اسلامی فرقوں کا داعی ہے اور ہماری جماعت ملک میں واحد جماعت ہے جس کے پلیٹ فارم پر تمام فرقوں کے علماء جمع ہو کر اتحاد بین المسلمین کے لئے اپیل کرتے ہیں۔ یہ معاملہ خالص ملکی اور قومی سالمیت کا مسئلہ ہے۔ امید ہے جناب والا اس پر پوری توجہ دیں گے۔ اگر ملکی اور قومی نقطہ نگاہ سے ہم غلط ہیں تو ہمیں مطمئن کیا جائے۔ اگر افسران غلط کر رہے ہیں تو مناسب وضاحت اور ہدایت فرمادی جائے۔
والسلام!
دعا گو! (مولانا) تاج محمود فیصل آباد
٤٨
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِى
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر
مرزائیوں کے
گمراہ کن پروپیگنڈا کا مسکت جواب
مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
تعارف !
٢٨؍ اپریل ١٩٧٣ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔ اس وقت قادیانی جماعت کے چیف گرو مرزا ناصر آنجہانی قادیانی تھے۔ اس نے قرارداد پر تقریر و تحریر کے ذریعہ شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی پالیسی ساز شخصیت ، ہمارے مخدوم و مطاع حضرت مولانا تاج محمودؒ نے یہ جواب تحریر فرمایا۔ اس تناظر میں اسے ملاحظہ فرمایا جائے۔ (مرتب)
بسم الله الرحمن الرحیم!
الحمدللّٰه وحده والصلوٰة والسلام علىٰ من لا نبى بعده!
حضور اکرم ﷺ کی ولادت پاک کے مبارک مہینہ ربیع الاوّل کی ٢٤؍ تاریخ مطابق ٢٨؍ اپریل ١٩٧٣ء کو میر پور آزاد کشمیر کے مقام پر آزاد کشمیر اسمبلی نے ایک زندہ جاوید اور تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے حکومتِ آزاد کشمیر سے سفارش کی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔
قرارداد کے الفاظ
اسمبلی کے خوش نصیب رکن جناب میجر محمد ایوب نے درج ذیل قرارداد پیش کی کہ:
’’قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیں ان کی با قاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد اس کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی کا تعین کرایا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہوگی۔‘‘
جناب میجر محمد ایوب نے اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے دوسرے دلائل کے علاوہ آئینِ پاکستان کے صفحہ نمبر ١٤؍ پر درج شدہ صدر مملکت اور وزیر اعظم کے مجوزہ حلف نامے بھی پڑھ کر سنائے اور کہا کہ آئین میں ان دونوں سربراہوں کے لئے مسلمان ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اور ان حلف ناموں کے ضمن میں مسلمان کی جامع مانع تعریف بھی شامل کر دی گئی ہے۔ جس میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ حلف اٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اور ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
٢
میجر صاحب نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کی اس دستاویز کی رو سے قادیانی خود بخود غیر مسلم اقلیت قرار دیدئے گئے ہیں۔ کیونکہ وہ حضور سرور کائنات ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ بلکہ حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ میجر صاحب نے مزید کہا کہ اس سے قبل آزاد کشمیر اسمبلی یہ قرار داد منظور کر چکی ہے کہ ریاست میں اسلامی قوانین نافذ کئے جائیں گے۔ اس لئے لازم ہے کہ اس معاملہ میں بھی شریعت کے مطابق واضح احکامات جاری کئے جائیں۔
قرارداد پر اظہار مسرت
٣٠؍ اپریل ١٩٧٣ء کے تمام قومی اخبارات میں اس خبر کے شائع ہونے پر پورے ملک میں مسرت اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام شہروں اور قصبوں سے صدر آزاد کشمیر مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان، سپیکر اور جملہ اراکین آزاد کشمیر اسمبلی خصوصاً قرارداد کے محرک میجر محمد ایوب خان صاحب کے نام مبارک باد کی تاروں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف اسلامی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہوں کی طرف سے خیر مقدم اور مبارک باد کے بیان جاری کئے گئے۔ اور صدر مملکت پاکستان مسٹر ذوالفقار علی بھٹو سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کی طرح وہ بھی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیکر اس دیرینہ عوامی مطالبہ کو پورا کریں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور بعض دوسری جماعتوں کے نمائندہ وفود نے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان سے ملاقات کر کے انہیں مبارک باد پیش کی اور درخواست کی کہ وہ اس قرار داد کی توثیق کر کے اس کو قانونی شکل دیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی اس قرارداد سے متاثر ہو کر کونسل مسلم لیگ کے میاں خورشید انور ایم۔ پی۔ اے نے پنجاب اسمبلی میں اور جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالحکیم ایم۔ این۔ اے نے قومی اسمبلی میں اس مضمون کی قراردادیں پیش کرنے کے نوٹس دیدئیے ہیں۔
مرزائیوں کی بوکھلاہٹ
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مرزائی حلقوں میں بڑی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا گیا ہے۔ در حقیقت پاکستان کے مستقل آئین میں مسلمان کی جامع مانع تعریف اور آزاد کشمیر اسمبلی کی قرار داد نے مرزائیوں کے ان سنہرے خوابوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ جو وہ اس ملک پر قبضہ کرنے کے سلسلہ میں دیکھ رہے تھے۔
اب تک مرزائیوں کی طرف سے دو چیزیں سامنے آئی ہیں۔
٣
- ١....... ”ایک پمفلٹ بعنوان احمدیوں کے بارے میں آزاد کشمیر اسمبلی کی قرار
داد تجزیہ اور حقیقت حال۔“
- ٢....... خلیفہ ربوہ مرزا ناصر احمد کا خطبہ جمعہ مطبوعہ ”روزنامہ الفضل ربوہ ١٣؍ مئی
١٩٧٣ء“ خطبہ جمعہ میں مرزا ناصر احمد نے جو کچھ کہا ہے۔ اس کا مفہوم اور خلاصہ اشتعال انگیزی، ملکی سالمیت اور استحکام کے لئے خطرہ پیدا کرنا۔ فرضی اور خیالی فسادات کی آڑ میں بغاوت اور خون خرابے کی دھمکی دینا ہے۔ اس خطبہ کے مندرجات کے نوٹس لینے کی اولین ذمہ داری صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا کام ہے۔ کیونکہ اگر مرزائیوں نے کوئی بغاوت، گڑبڑ اور خون خرابہ کیا تو وہ موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت اور گڑبڑ ہوگی۔
ہم سردست مرزائیوں کے پمفلٹ بعنوان ”احمدیوں کے بارے میں آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد تجزیہ اور حقیقت حال“ کا جائزہ اور اس میں کئے گئے گمراہ کن پراپیگنڈے کا شق وار جواب دینا چاہتے ہیں۔
یہ پمفلٹ اگرچہ آزاد کشمیر کے امیر ہائے احمدیہ کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ لیکن دراصل یہ ربوہ میں بیٹھ کر روایتی جعلسازی اور تلبیس کاری سے تیار کر کے لاکھوں کی تعداد میں چھاپ کر تقسیم کیا گیا ہے۔
مرزائیوں کے شکوک اعتراضات اور واویلا کا جواب
- ١....... پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ریزولیشن کی منظوری کے وقت اسمبلی کے
پچیس ممبروں میں سے اپوزیشن کے ١١ ممبران موجود نہیں تھے۔ اپوزیشن کے ١١ ممبران نے اسمبلی سے واک آؤٹ مرزائیوں کی قرارداد کی حمایت میں نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے دوسرے مسائل میں رسہ کشی کے باعث تھا۔ اگر وہ ١١ ممبران اسمبلی میں موجود ہوتے تو بھی یہ قرارداد متفقہ طور پر ہی منظور ہوتی اور اگر مرزائیوں کو حزب اختلاف کے ان ١١ ممبران کی حمایت حاصل ہونے کی غلط فہمی ہے۔ تو اب بھی وہ ان سے ذرا اس قرارداد کی مذمت میں بیان دلوا کر یا ان سے آئندہ اسمبلی کے اجلاس میں اس قرارداد کے خلاف قرارداد کا نوٹس دلوا کر دیکھ لیں۔ انشاء اللہ! مرزائیوں کو اس میں ناکامی ہوگی۔ آزاد کشمیر کے مسلمان ممبر حزب اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں انہیں مرزائیوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے مرزائیوں کو کس طرح غیر مسلم اقلیت قرار
٤
دینے کی سفارش کر دی حالانکہ کشمیر کے سلسلہ میں قادیانیوں کی بڑی خدمات ہیں۔ ان خدمات میں سے چند ایک کا ذکر کیا ہے جن کا مفہوم یہ ہے۔
”١٩٣١ء میں تحریک آزادی کشمیر شروع ہوئی تو کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اور اس کمیٹی میں علامہ اقبال ، خواجہ حسن نظامی ، سر ذوالفقار علی ، مولانا سید میرک شاہ ، سید محسن شاہ ، مولانا اسماعیل غزنوی ، مولانا سید حبیب ، مولانا غلام رسول مہر اور مولانا عبدالمجید سالک شامل تھے۔ اور اس کمیٹی کے صدر مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان تھے۔ اگر احمدی مسلمان نہ تھے تو اس کمیٹی کا صدر مرزا محمود کو کیوں چن لیا گیا؟۔“
(ص٧٥)
اب انصاف کیا جائے کہ اس دلیل کا مسئلہ ختم نبوت سے کیا تعلق ہے۔ وہ کمیٹی جس پس منظر میں بنی تھی بن گئی۔ لیکن پھر ہوا کیا؟۔ مرزائی اس کا ذکر کیوں نہیں کرتے کیا یہ امر واقع نہیں کہ علامہ اقبال مرحوم نے اس کمیٹی سے استعفیٰ دیدیا؟۔ علامہ اقبال مرحوم کے حقیقت حال کو سمجھ جانے اور کمیٹی سے استعفیٰ دینے کے بعد پھر وہ کمیٹی قادیان کے رجسٹروں میں ہی رہ گئی۔ باہر اس کا وجود کہیں نہ رہا بلکہ تحریک آزادی کشمیر کی باگ ڈور مجلس احرار اسلام نے اپنے ہاتھ میں لے لی اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایجی ٹیشن کی ، پچاس ہزار کے قریب رضا کار قید ہوئے۔ سترہ احرار رضا کار ڈوگروں کی سنگینوں اور بندوقوں سے شہید ہوئے اور اس طرح اسی زمانے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ کشمیر کمیٹی مرزائیوں کا ایک ڈھونگ تھا۔ جو بظاہر تحریک آزادی کشمیر کے لئے بنوائی گئی تھی۔ لیکن درحقیقت اس کے کچھ اور ہی مقاصد تھے۔ علامہ اقبال مرحوم اور دوسرے مسلمان رہنماؤں کو جب حقیقت حال معلوم ہوئی۔ تو وہ سب دل برداشتہ ہو کر علیحدہ ہو گئے۔ (مزید تفصیلات کے لئے پنجاب کی سیاسی تحریکیں ’مرتبہ عبداللہ ملک‘ کا مطالعہ کریں ۔ )
اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے مرد حق آگاہ علامہ اقبال مرحوم نے بعد میں مرزائیوں کے متعلق کلمہ حق بلند کیا۔ آپ نے نہ صرف کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دے کر اس کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑا۔ بلکہ انجمن حمایت اسلام سے مرزائیوں کو یہ کہہ کر باہر نکلوایا کہ ان کا اسلام اور انجمن حمایت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ علامہ اقبال مرحوم نے اسی پر معاملہ ختم نہیں کیا بلکہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
گویا کہ برصغیر میں اصولی طور پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرنے
٥
والا بھی کشمیر کا مایہ ناز سپوت تھا اور آج اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے والا بھی کشمیر ہی کا مجاہد اعظم ہے۔ ١؎
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
کیا ان تمام واقعات کے بعد مرزائیوں کو شرم محسوس نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کو دھوکا دینے کے لئے پھر کشمیر کمیٹی کی صدارت علامہ اقبال مرحوم اور دوسرے اکابر مسلمانوں کا نام لیتے ہیں۔ جن میں سے ایک ایک نے بعد میں کسی نہ کسی طرح یہ اظہار کر دیا کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ تحریک پاکستان کے اولین محرک ڈاکٹر اقبال مرحوم تھے اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے اولین محرک بھی آپ ہی تھے۔ اس طرح تحریک پاکستان اور اقلیت کی تحریک آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ:
”اگر آزاد کشمیر میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو کشمیر کے سلسلہ میں پاکستان کے موقف کو سخت نقصان پہنچے گا۔ اس لئے کہ کشمیر کی بنیاد اس بات پر ہے کہ گورداسپور کا ضلع مسلمان اکثریت کا ضلع تھا۔ اسے ہندوستان میں شامل کرنا ہی ناانصافی تھا۔ اب اگر مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے تو گورداسپور کا ضلع مسلم اکثریت کا ضلع نہیں رہے گا۔ کشمیر کے کیس کے نیچے جو بنیاد ہے وہ کمزور ہو جائے گی۔ اور اس طرح کشمیر کے سلسلہ میں پاکستان کے موقف سے غداری ہوگی۔“ (ملخص ص ٨)
سبحان اللہ! کیا دلیل ہے عوام اور حکومت کو بے وقوف بنانے کی کیسی بھونڈی کوشش ہے۔ ظالمو! جب گورداسپور مسلم اکثریت کا ضلع پاکستان میں شامل کر دیا گیا تھا اس وقت تم نے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ ٢ دیا ۔ تم نے مسلم لیگ سے علیحدہ یہ میمورنڈم پیش کیا کہ قادیان
١؎ علامہ اقبال مرحوم کے مرزائیوں کے بارے میں نظریات معلوم کرنے کے لئے
”حرف اقبال“ مرتبہ لطیف احمد شیروانی ص ١٢٣ تا ص ١٤٨ ملاحظہ فرمائیں۔
٢؎ تفصیلات کے لئے ”جسٹس منیر کا مضمون مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت لاہور
٦/ جولائی ١٩٦٤ء اور روزنامہ مشرق لاہور کی قسط نمبر ١٣٨ بعنوان مارشل لاء سے مارشل لاء تک
ملاحظہ فرمائیں۔
٦
قادیانیوں کا مرکز ہے۔ اس میں تم نے اپنی الگ نبوت الگ امت اور الگ اعداد و شمار پیش کئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باؤنڈری کمیشن کے صدر ریڈکلف نے اسی وقت تمہیں تمہارے میمورنڈم کی روشنی میں غیر مسلموں میں شمار کر کے گورداسپور کے ضلع کو بھارت میں شامل کر کے پاکستان کے لئے بے شمار مصائب اور مشکلات کی بنیاد رکھ دی تمہاری اس وقت کی غداری اور پاکستان دشمنی کی وجہ سے مسلمانوں کو موقف کو نقصان پہنچا نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا بلکہ گورداسپور کی معرفت کشمیر بھی بھارت کے قبضہ میں چلا گیا۔ اور آج پچیس برس کے بعد ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مصداق تم ہمیں ڈراتے ہو کہ اگر قادیانیوں کو آزاد کشمیر میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ تو یواین،او میں پاکستان کے موقف سے غداری ہوگی۔
پاکستان بننے کے بعد تحریک آزادی کشمیر میں قادیانی جماعت کی خدمات کے عنوان سے ٹریکٹ زیر تبصرہ میں انتہائی جھوٹ سے کام لیا گیا ہے۔ ٹریکٹ میں درج ہے کہ:
- ١...... ”تحریک ازادی کشمیر کے آغاز کا سہرا جماعت احمدیہ کے سر ہے۔“
(ص١٠)
- ٢...... ”امام جماعت احمدیہ کی راہنمائی میں آزاد کشمیر کے قیام کے لئے باقاعدہ
جدوجہد شروع ہوئی۔“
(ص١٠)
- ٣...... ”اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آزاد کشمیر کا پہلا صدر جو انور کے نام سے
دنیا سے روشناس ہوا ایک مشہور احمدی کشمیری رہنما ہے جن کا نام غلام نبی گلکار ہے۔ (ص١٠) اور نمبر ٣ بالا کے حوالہ کے طور پر کلیم اختر کی کتاب شیر کشمیر، اور پنڈت پریم ناتھ بزاز کی تحریر کا ذکر ہے۔“
(ص١٠)
آئیے اس سفید جھوٹ کو حقائق اور واقعات کی روشنی میں دیکھیں۔
- ١...... تحریک آزادی کشمیر کا نعرہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم
سے ابھرا۔ ١٩ جولائی ١٩٤٧ء میں مسلمانوں کی اس عظیم جماعت نے کشمیر اور پاکستان کے الحاق کی قرارداد پاس کی۔ ازاں بعد پوری ریاست میں اس جماعت کے لوگوں نے گرفتاریاں دیں اور جیلیں بھر گئیں۔ اس جماعت میں مرزائی نہیں بلکہ مسلمان تھے اور اکثریت اب بھی زندہ ہے سری
٧
نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کی قیام گاہ پر مسلم کانفرنس کے اجلاس ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ یہ غلط ہے کہ جماعت احمدیہ کا اس تحریک میں کوئی حصہ ہے۔
......٢...... آزاد کشمیر کے قیام کے لئے سب سے پہلے پونچھ میں مسلح بغاوت ہوئی جس کی ترتیب یہ ہے۔ ٢٣؍اگست ١٩٤٧ء پونچھ تحصیل باغ نیلا بٹ کے مقام پر سردار محمد عبدالقیوم خان مجاہد اوّل نے بغاوت کا اعلان کیا۔ ٢٦؍اگست ١٩٤٧ء کو باغ میں مجاہدین اور ڈوگرہ فوج کا آپس میں تصادم ہوا۔ ٣٠؍اگست ١٩٤٧ء کو لیفٹیننٹ محمد اشرف خان کی قیادت میں دوتھان تحصیل راولاکوٹ میں ڈوگرہ فوج پر مسلمانوں نے حملہ کیا۔
یکم اور ٢؍اکتوبر ١٩٤٧ء کو کشمیر پر حملے کا آغاز اس ترتیب سے ہوا۔ ٢؎ باغ سیکٹر...... سردار عبدالقیوم خان راولاکوٹ۔ کیپٹن حسن خان شہید میر پور سیکٹر۔ ١...... کیپٹن خان آف منگ۔ ٢...... سخی دلیر خان۔ اور ٤؍اکتوبر ١٩٤٧ء کو مجاہدین نے سردار قیوم کی کمان میں دشمن پر حملے شروع کر دئے۔
......٣...... اور اسی روز راولپنڈی میں میٹنگ ہوئی جس میں سردار محمد ابراہیم خان، سید نذیر حسین شاہ ایڈوکیٹ سابق وزیر آزاد کشمیر، کرنل سید علی احمد شاہ اور دوسرے زعماء کشمیر موجود تھے۔ جہاں پاکستان ٹائمز سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندوں کو بلایا گیا اور سید نذیر حسین شاہ نے ایک خبر تیار کی کہ کشمیر کا مہاراجہ اپنے آپ کو مجاہدین حریت کے حوالے کر دیں۔ اور آج سے وہ باغی ہے اور انور کے فرضی نام سے صدارت کا اعلان ہوا۔ یہ نام غلام نبی گلکار کا قطعا استعمال نہیں کیا تھا۔ بلکہ محض ایک خبر نشر کرنے کے لئے فرضی نام گھڑا گیا تھا۔
گذشتہ ٢٥ برسوں میں اس انور کے دعوے دار تین پیدا ہوئے۔ نمبر ١...... لیفٹیننٹ سید انور شاہ سکنہ ہل سرنگ تحصیل باغ ضلع پونچھ۔ نمبر ٢...... میجر خورشید انور (مرحوم) جو ٢١؍اکتوبر ١٩٤٧ء کو مظفر آباد پر حملہ آور ہونے والے پٹھانوں کے لشکر کے انچارج تھے۔ نمبر ٣...... غلام نبی گلکار۔
پوری چھان بین اور سردار محمد ابراہیم خان اور سید نذیر حسین شاہ اور دوسرے حضرات اب بھی زندہ ہیں جو بتا چکے ہیں کہ انور ایک فرضی نام تھا۔ اور مندرجہ بالا ہر سہ دعوے دار صحیح نہیں
١؎ The Kashmir Saga ...... از قلم سردار محمد ابراہیم خان۔ ٢؎ بحوالہ فتح کشمیر از عبدالرحیم نغانی۔
٨
ہیں ۔ جہاں تک بزاز کی تحریر کا تعلق ہے۔ وہ سری نگر میں تھا۔ اور اس نے محض گمان ظاہر کیا کہ یہ شخص غلام نبی گلکار ہو سکتا ہے۔ اور ایک دشمن ملک کی بات کو بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ مزید برآں مسٹر کلیم اختر کا جو حوالہ ہے یاد رہے کہ کلیم اختر خود مرزائی ہے۔ اور لاہور میں مقیم ہے۔ اب تک کشمیر کی آزادی کے سلسلہ میں جو تحریریں ثقہ ہیں اور ہمارے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق مرزائیوں کے مندرجہ بالا بیانات قطعاً جھوٹ ہیں اور حقائق کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔ اور تعجب ہوتا ہے کہ جس طرح انہوں نے جھوٹا نبی بنایا اسی طرح یہ جھوٹا صدر آزاد کشمیر بنانے کی سعی ناکام کس ڈھٹائی سے کر رہے ہیں؟۔
زیر تبصرہ پمفلٹ میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ: ”آزاد کشمیر کی اس قرارداد کے باعث پاکستان کا استحکام خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ چنانچہ اس پمفلٹ میں تحریر ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی سفارش پاکستان کے استحکام کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے۔ بس اگر یہ باور کیا جائے کہ یہ سازش پاکستان کے کسی دشمن ملک کے ایما پر پاکستان کی کسی دشمن جماعت کی طرف سے کی گئی ہے تو ہرگز تعجب انگیز نہیں۔ میں معین اور قطعی طور پر کسی ایسی جماعت کی نشان دہی نہیں کر سکتا۔ البتہ یہ امر زبان زد عام ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت جماعت اسلامی کی کٹھ پتلی ہے اور مودودی صاحب اور ان کے حواریوں کی طرف سے مبارک باد کے تاروں اور پیغاموں کا خاص سلسلہ بھی اس خیال کو تقویت پہنچاتا ہے۔“
(ص ١٣)
مرزائیوں کی یہ بات پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کے لئے چیلنج کا درجہ رکھتی ہے کہ اگر پاکستان کے سات کروڑ مسلمان قرآن وسنت اور آئین پاکستان کی روشنی میں مرزائیوں کے عقائد کو اسلام کے خلاف یقین کرتے ہوئے انہیں غیر مسلم قرار دے دیں۔ تو مرزائی ایسی صورت میں اس بات پر آمادہ ہیں کہ ملک کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا جائے۔ جس کا ١ ہمیں نہ صرف شبہ ہے بلکہ یقین ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد نہ صرف دستور پاکستان کی روشنی میں مرتب ہوئی ہے۔ بلکہ وہ مسلمانوں کے چودہ سو سالہ عقیدہ اور پوری امت محمدیہ کی آرزوؤں کے عین مطابق ہے۔ لیکن مرزائی کمال ہوشیاری سے اسے سازش کا نام دے رہے ہیں ۔ اور صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کی طرف داری حاصل کرنے اور انہیں دھوکہ دینے کے لئے اس سازش کا الزام جماعت اسلامی کے سر منڈھ رہے ہیں۔
ہم مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے پہلے
٩
محرک علامہ اقبال مرحوم جماعت اسلامی میں شامل تھے؟۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ جماعت اسلامی کے رکن تھے؟۔ سید سلیمان ندویؒ جماعت اسلامی کے ممبر تھے؟۔ اور مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا ابوالحسناتؒ، سید محمد احمد قادریؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ، علامہ حافظ کفایت حسینؒ شیعہ مجتہد، مولانا مفتی محمد حسنؒ، پیر صاحبؒ سرسینہ شریف، پیر صاحبؒ گولڑہ شریف، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا احمد شاہ نورانی، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور ان کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے ہزاروں علماء اور لیڈروں کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے؟۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تمام جماعتوں اور افراد کا مشترکہ مطالبہ ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کے معزز ممبران اور مجاہد اوّل، پاسبان ناموس رسولﷺ سردار محمد عبدالقیوم محافظ ختم نبوت کو مبارک باد کی تاریں اور پیغامات صرف جماعت اسلامی نے ہی نہیں دیں۔ بلکہ دوسری تمام جماعتوں کے لوگوں نے بھی ان کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں اور اراکین نے خود بھی مجاہد اوّل کو مبارک باد کی تاریں دیں۔ اور دوسرے مسلمانوں کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرائی چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک پر مسلمانان پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں تاریں دیں اور خطوط لکھے۔
مرزائی کذب بیانی کے سلسلہ میں بڑے ماہر ہیں کیونکہ وہ جس کو نبی اور رسول مانتے ہیں اس کا کام ہی کذب بیانی اور جھوٹا پروپیگنڈہ تھا۔ آزاد کشمیر کی قرارداد کے سلسلہ میں بھی محض جماعت اسلامی کا نام لے کر انہوں نے اپنے روائتی دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے۔
جہاں تک ملکی سالمیت کا تعلق ہے پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان اس ملک کی بقاء کے خواہاں ہیں۔ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف کوئی بھی اس ملک کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ البتہ مرزائیوں کے نبی اور ان کے خلیفہ کے خوابوں اور الہامات کو دیکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قادیانی عقیدۃً پاکستان کے وجود کے قائل نہیں ان کے خلیفہ بشیر الدین محمود قادیانی کے خطبات کی روشنی میں یہ تقسیم عارضی ہے نہ کہ مستقل، اپنے مذہبی پیشواؤں کی خوابوں اور الہامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مرزائیوں کی اپنی کوشش ہے کہ یہ ملک ختم ہو جاوے تا کہ ہمارے کذاب خلیفہ کی خوابیں پوری ہو سکیں۔ ١؎ مگر ہمیں یقین ہے جس طرح ان کے جھوٹے نبی اور خلیفہ
١؎ ملاحظہ فرمادیں روزنامہ الفضل قادیان ٥؍اپریل ١٩٤٧ء ص٢، ص٣ بیان مرزا محمود الفضل ١٧؍مئی ١٩٤٧ء
١٠
کے الہامات اور خوابیں جھوٹی ہوئی ہیں اسی طرح پاکستان کے معاملہ میں بھی ان کے ارادے پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچیں گے۔ زیر نظر پمفلٹ کے آخر میں جو بات درج کی گئی ہے وہ دلچسپ اور قابل غور ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اپنے بیان میں مذہبی نقطہ نگاہ سے بحث نہیں کی کیونکہ اصولاً میں کسی دنیاوی اسمبلی کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ کسی کو کافر قرار دینے کی سند رکھتی ہے۔ پس مذہبی حیثیت سے میرے نزدیک اس فیصلہ کی کوڑی کے برابر بھی حقیقت نہیں اور میں اس پر کسی جرح کی ضرورت نہیں سمجھتا۔“
پھر لکھا ہے کہ: ”مسلمان ہوں ۔ قرآن کریم کو خاتم الکتب اور رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتا ہوں اور اسلام کو ایک زندہ اور حقیقی نجات کا ذریعہ قرار دیتا ہوں ۔ خدا تعالیٰ کی مقادیر قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہوں ۔ اسی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں ۔ اتنی ہی نمازیں پڑھتا ہوں ۔ رمضان کے پورے روزے رکھتا ہوں ۔ اگر میرا یہ عقیدہ کفر ہے تو میں اس کفر پر راضی ہوں اور مجھے دنیا کے کسی فتویٰ کی پرواہ نہیں ۔“
(ص ١٣ تا ١٤)
کتنے افسوس کی بات ہے کہ مرزائی اپنے آپ کو کسی ضابطے اور اصول کا تابع نہیں سمجھتے۔ نہ تو وہ دینی اعتبار سے دنیائے اسلام کے سربرآوردہ علماء کرام کے اس فتویٰ کا احترام کرنے کو تیار ہیں کہ حضور فداہ ابی وامی کے بعد مرزا غلام احمد کو نبی ماننے والا قرآن وحدیث کا منکر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور نہ ہی وہ دنیاوی طور پر جمہوری نظام کے اعتبار سے اکثریت کے فیصلہ کو خاطر میں لانے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم مرزائیوں سے ایک بات کہنا چاہتے ہیں کہ تم یہ کہہ کر کہ ہم خدا، قرآن، خاتم الانبیاء، نماز، روزہ، قبلہ سب مانتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں کافر کہا جا رہا ہے۔ یہ بڑا ظلم اور غلط اقدام ہے ہم کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان بھی خدا کی وحدانیت حضور ﷺ کی نبوت اور ختم نبوت، قرآن مجید اور جملہ کتب سماویہ، قیامت اور تقدیر الہی کے قائل ہیں۔ کعبۃ اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ۔ رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔ خدا کی طرف سے حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام مانتے ہیں۔ اس کے باوجود مرزا غلام احمد، مرزا محمود، مرزا بشیر احمد، ایم اے اور ایم ایم احمد کو یہ کس نے حق دیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کی نبوت کے نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں؟ ۔ مرزا غلام احمد اور اس کے حواریوں کی کتابوں کو اگر پڑھا جائے تو جابجا مرزا غلام احمد کی نبوت کے منکروں کے لئے اسلام سے اخراج کا فتویٰ تحریر ہے۔ نمونہ کے طور پر ہم صرف تین حوالے نقل کرتے ہیں۔
- ١........ ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے
اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پچھلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
- ......٢...... ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل
نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں۔ اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- ......٣...... ’’ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو
نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣ ص ١١٠)
ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ ایم ایم احمد نے مارشل لاء کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے صاف کہا کہ ’’میرا دادا مرزا غلام احمد نبی تھا۔ اور جو شخص اسے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ اس بناء پر سر ظفر اللہ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔‘‘؎١
گویا کہ قائد اعظم مرزائیوں کے نزدیک مسلمان نہیں تھے۔ زیر تبصرہ پمفلٹ میں جہاں اور بہت ساری باتیں تحریر ہیں۔ ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ کسی اسمبلی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کے کفر و اسلام کا فیصلہ کرے۔ اس سلسلہ میں گذارش ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے تو اب آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ کے خلیفہ مرزا محمود نے آج سے پچاس سال قبل آپ کو خود مسلمانوں سے علیحدہ کر دیا تھا چنانچہ الفضل کے وہ پرچے آج بھی ربوہ میں موجود ہوں گے جن میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں آپ نے فرمایا ہے کہ ’’یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی ذات رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٣ مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)
١؎ ایم ایم احمد کا فوجی عدالت میں بیان مندرجہ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک بابت ماہ رمضان المبارک ١٣٩١ء
١٢
کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کے سوانح کا علم ہم تک نہیں پہنچا اور ہمیں انکے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں سے غیروں کو الگ نہیں کیا؟۔ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے پس اگر مرزا صاحب نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں۔ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٥ ش ٦٩ ، ٧٠ ص ٣ مورخہ ٢٦؍ فروری، ٢؍ مارچ ١٩١٨ء)
آخری گزارش!
پاکستان مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کا ثمرہ ہے۔ مسلمانوں کو اس کی سالمیت اور اس کا استحکام جان سے زیادہ عزیز ہے۔
- ......١ مرزائیوں سے ہم اتنا کہیں گے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد سے متاثر
ہو کر ہمیں آپے باہر ہونے کی ضرورت نہیں۔ مسلمان خلیفہ ربوہ اور اس کے حواریوں کی گیدڑ بھبکیوں سے کبھی مرعوب نہیں ہوں گے۔ خلیفہ ربوہ کے خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل ربوہ ١٣؍ مئی ١٩٧٣ء کو ہم محض ایک ڈینگ تصور کرتے ہیں اور اگر مرزائیوں میں ہمت ہے تو وہ اپنا عمل شروع کریں اور پھر دیکھیں کہ مسلمان ناموس رسول اور استحکام پاکستان کے لئے کس طرح میدان میں آتے ہیں۔
- ......٢ اگر مرزائی واقعتاً مرزا غلام احمد کو نبی اور اس کے بیٹے مرزا محمود کو اس کا
جانشین مانتے ہیں۔ تو پھر ان کو باپ اور بیٹے کے خطبات کی روشنی میں ازخود مسلمانوں سے جدا ایک اقلیت تصور کر لینا چاہیے۔
- ......٣ مرزائیوں کو اس بات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ اقلیت قرار
دینے کی صورت میں ہمارا جان و مال محفوظ نہیں رہے گا۔ اقلیت کی صورت میں تمہارے جان و مال کی اسی طرح حفاظت کی جاوے گی۔ جس طرح پاکستان میں ہندوؤں، عیسائیوں اور دوسری غیر قوموں کی حفاظت کی جاتی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی
- ☆....... ”محمد رسول اللہ والذین معہ! اسی وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا
گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
١٤
- ☆ ...... ”ماسواء اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی
کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کئے۔ اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
(اربعین ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ☆ ...... ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو (مرزا غلام
احمد قادیانی) ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٧٣)
- ☆ ...... ”خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس طرف سے
ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں۔ تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
- ☆ ...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر ج ٧ نمبر ٩ ص ٢ مورخہ ٥ / مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
ان دعاوی کو نہ ماننے والوں کے متعلق
- ☆ ...... ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ
یہ خدا کا فرستادہ ، خدا کا مامور ، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ☆ ...... ”ان العدی صاروا خنازیر الفلا ۔ ونسائهم من دونهن
الاکلب ! دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
- ☆ ...... ”یہ میری کتابیں ہیں۔ ان کو ہر مسلمان محبت اور دوستی کی آنکھ سے دیکھتا
ہے اور میری کتابوں کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ مگر بدکار عورتوں کی اولاد جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ☆ ...... ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے
گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
١٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
متن پریس کانفرنس
٢٧ مئی ١٩٧٤ء
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
تعارف!
اپریل ١٩٧٣ء آزاد کشمیر اسمبلی نے قرارداد منظور کی ۔ قادیانی لابی گرم توے پر رقص کرنے لگی۔ ان کی سازشوں کو واشگاف کرنے کے لئے ہمارے مخدوم حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ نے بحیثیت صدر مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد ٢٧ مئی ١٩٧٣ء کو فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس کا متن پمفلٹ کے طور پر چھاپ کر بھی تقسیم کیا گیا۔ ملاحظہ فرمایا جائے۔
(مرتب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آزاد کشمیر اسمبلی نے گذشتہ ماہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی یہ قرارداد پاکستان کے مستقل دستور اور پاکستان کے سات کروڑ جمہور مسلمانوں کی آرزوؤں اور مطالبہ کے عین مطابق تھی۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے مفکر اسلام اور مؤسس پاکستان علامہ اقبالؒ نے کیا تھا۔ اور اب اس مطالبے کو پوری دنیائے اسلام کی تائید حاصل ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں اس قرارداد کے نوٹس کے ساتھ ہی قادیانیوں نے اشتعال انگیزیاں شروع کر دیں۔ چنانچہ میر پور میں جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ تو انہوں نے صدر آزاد کشمیر کے دوسرے سیاسی مخالفوں سے مل کر بلا وجہ وہاں فساد کرایا۔ تاکہ امن وامان کے تہ وبالا ہو جانے اور زبردست خون خرابہ کے بہانے صدر آزاد کشمیر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ لیکن انہیں اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد کوٹلی آزاد کشمیر میں مرزائیوں نے دس ہزار روپے خرچ کر کے ایک اور ہنگامہ کرایا۔ مرزائی غنڈے عین ہنگامہ بپا کرتے ہوئے گرفتار کر لئے گئے۔ اور اس ہنگامے سے بھی ان کا اصل مقصد پورا نہ ہو سکا۔
٢
انتہائی دکھ کی بات ہے کہ مسلم کانفرنس کے رہنماؤں کے بیانات کے مطابق آزاد کشمیر کے ان ہنگاموں کے پس پردہ ایک مرکزی وزیر خورشید حسن میر جو قادیانیوں کی حسب منشاء مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے اور خود آزاد کشمیر کا گورنر بننا چاہتے تھے۔ ان کا بھی ہاتھ تھا۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک یہ بات ہے کہ اب خان عبدالقیوم خان وزیر داخلہ نے بھی قادیانیوں کی خواہش کے مطابق آزاد کشمیر کے منتخب صدر سے غیر جمہوری اور غیر آئینی طور پر استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت قادیانی، صدر آزاد کشمیر سے سخت ناراض اور برہم ہیں اور وزیر داخلہ نے انہی کی خواہش اور رضا جوئی کے پیش نظر ان سے استعفیٰ طلب کیا ہے۔ اور استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں دوسرے طریقے استعمال کر نیکی دھمکی دی ہے۔ وزیر داخلہ کے اس اقدام سے پاکستان کے جمہور مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ عوام وزیر داخلہ کے اس فعل کو جمہوریت کے قتل کے علاوہ مرزائیت نوازی اور اسلام دشمنی کی ذلیل ترین کوشش تصور کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ حکومت، سرحد اور بلوچستان کے بعد اب آزاد کشمیر میں بھی آمرانہ اور غیر جمہوری اقدامات روا رکھ کر آہستہ آہستہ پورے پاکستان میں جمہوریت کا گلا گھونٹ دینا چاہتی ہے۔
دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ خان عبدالقیوم خان، خورشید حسن میر اور صدر کے اطلاعات کے مشیر یوسف بچ یہ مرزائیت نوازی اور جمہوریت کشی کا خطرناک ڈرامہ اس وقت کھیل رہے ہیں جب اپوزیشن کے بعض انتہائی ذمہ دار لوگ حکومت پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ہم صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کو بروقت اس امر کی نشاندہی کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ خان قیوم خان، خورشید حسن میر اور یوسف بچ کی مکروہ تثلیث نے آزاد کشمیر میں جمہوریت کشی اور مرزائیت نوازی کے جس ڈرامے کا آغاز کیا ہے اس کا آخری سین سردار عبدالقیوم خان کا زوال نہیں بلکہ خود ذوالفقار علی بھٹو کا
٣
زوال ہے ۔ صدر مملکت کو یہ امر ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ جو عناصر غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں ۔ خان عبدالقیوم خان ان کے خیالی اور متوقع سربراہ مملکت ہیں ۔
جن قادیانیوں کی حمایت میں خان عبدالقیوم خان اور بعض دوسرے ذمہ دار لوگ حد سے تجاوز کر رہے ہیں ۔ صدر مملکت کو ان کے عقائد ، عزائم اور اشتعال انگیز ، سرگرمیوں پر بھی غور کرنا چاہئے ۔ ابھی پچھلے جمعہ خلیفہ ربوہ مرزا ناصر احمد نے نہایت اشتعال انگیز تقریر کی ہے ۔ جس میں پاکستان کی سالمیت استحکام کو خطرہ میں ڈالنے اور ملک میں خون خرابہ کرانے کی دھمکی دی ہے ۔ بغاوت اور خون خرابے کی یہ دھمکی درحقیقت صدر بھٹو کی باقاعدہ حکومت کو ہے ۔ اس تقریر میں خلیفہ ربوہ نے ..... آزاد کشمیر کے قادیانیوں کو حکم دیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کے مطابق کوئی قانون بن جائے تو اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے ۔
یہ تقریر انتہائی اشتعال انگیز اور خوفناک مضمرات پر مشتمل ہے ۔ فرضی فسادات اور کسی خیالی ہونے والی ایجی ٹیشن کی آڑ لیکر خون خرابے ، بغاوت اور ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیوں پر ہمارا خیال تھا کہ حکومت جو براہ راست ان دھمکیوں اور بغاوت کی زد میں ہے ۔ کوئی اقدام کرے گی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت دوست دشمن کی تمیز کے شعور سے بالکل بے بہرہ ہو چکی ہے ۔
اب مرزا ناصر احمد نے اعلان کیا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور کسی شخص کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہمیں کافر قرار دے ۔ کیونکہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے متعلق فتویٰ دینا انسان کا کام ہی نہیں ہے ۔ مرزا ناصر احمد یہ بھول گئے ہیں کہ ان کے جد امجد مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے والد مرزا بشیر الدین محمود اور ان کے چچا مرزا بشیر احمد قادیانی کی کتابیں بھری پڑی ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ کتیوں کی اولاد ہیں اور جنگلوں کے سور ہیں ۔ مرزائی مسلمانوں سے شادی بیاہ
٤
اور ان کی نماز جنازہ میں شرکت کرنا حرام سمجھتے ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان کا موجود ہونے کے باوجود قائد اعظم کے جنازہ میں شرکت نہ کرنا اس کا عملی ثبوت ہے۔ اگر آزاد کشمیر اسمبلی یا کسی دوسرے شخص کو قادیانیوں کے عقیدہ ختم نبوت کے انکار کی وجہ سے انہیں کافر کہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ تو خود قادیانیوں کو دنیا بھر کے کلمہ گو مسلمانوں کو نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر قرار دینے کا حق کہاں سے حاصل ہو گیا ہے؟ تکفیر مسلمین کے علاوہ قادیانیوں کا لٹریچر مسلمانوں کی دل آزاری اور اشتعال انگیزی کے مواد سے بھرا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ قادیانی ایک منظم سیاسی جماعت کی حیثیت سے ملک کی سالمیت اور بقاء کے لئے ایک عظیم خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو ملک کے مفاد کے منافی ہیں۔ اسرائیل سے ان کے براہ راست تعلقات ہیں۔ جسے آج تک پاکستان نے تسلیم ہی نہیں کیا اور جس نے بقول صدر مملکت مشرقی پاکستان کو توڑنے کی سازش کی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہماری حکومت نے ایک فوجی بغاوت اور سازش پکڑی ہے۔ اس بغاوت میں اعلیٰ فوجی قادیانی گھرانوں کے نوجوان افسر بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ میں کسی اور گرفتار شدہ فوجی کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ لیکن جہاں تک قادیانی نوجوان کی تربیت کا تعلق ہے۔ اس کے پیش نظر یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ ان قادیانی فوجی افسروں نے امام جماعت احمدیہ کے ایماء کے بغیر اس بغاوت اور سازش میں حصہ لیا ہو۔
ہمارے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ قادیانی اس مذہبی عقیدہ کے پابند ہیں کہ موجودہ پاکستان کو توڑ دیا جائے۔ اکھنڈ بھارت بنایا جائے۔ اور ربوہ میں اپنی دفن شدہ لاشیں قادیان کے بہشتی مقبرہ میں پہنچائی جائیں۔ وہ غیر معمولی طور پر مسلح ہو رہے ہیں۔ اور ربوہ میں انہوں نے اس غرض کے لئے ایک نالی بندوق کی مرمت کی آڑ میں ایک اسلحہ ساز فیکٹری قائم کر رکھی ہے۔ جہاں جو کچھ بنتا ہے اور جہاں جاتا ہے۔ اس کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ کیونکہ ربوہ میں صرف ایک ہی عقیدہ کے لوگوں کی آبادی ہے۔
٥
اس ملک کی گزشتہ پچیس سالہ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی یہاں کوئی برا وقت آیا یہاں کے تمام باشندے بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب، زبان ملک کی سالمیت اور تحفظ کے لئے ایک جان ہو کر بنیان مرصوص بن گئے۔ لیکن قادیانیوں نے ہر نازک موقعہ پر کوشش کی کہ ملک ٹوٹ جائے۔ اور اس کے کسی نہ کسی حصہ پر ان کی حکومت قائم ہو جائے۔ ہمارے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔
خان قیوم خان، خورشید حسن میر، اور یوسف بچ کا ایسے خطرناک اور مشکوک گروہ کی حمایت کرنا جمہوریت کشی اور اسلام دشمنی کا ثبوت پہنچانا بھی یقیناً کسی سیاسی پس منظر کا حامل ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ہم جناب صدر مملکت سے اپیل کرتے ہیں کہ:
- ١....... آزاد کشمیر کے پورے سکینڈل کی خود تحقیقات کریں اور صدر آزاد کشمیر کو
مرزائیوں کی کسی سازش کا شکار نہ ہونے دیں۔ ہمارے نزدیک جمہوریت کے احیاء ملکی استحکام اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی بقاء اسی امر کی متقاضی ہے۔
- ٢....... خان قیوم خان، خورشید حسن میر اور یوسف بچ نے مرزائیوں کی حمایت
جس انداز میں کر دی ہے۔ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کی وفاداریاں صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کی بجائے قادیانیوں سے وابستہ ہیں۔ اس لئے ان تینوں کو اپنے عہدوں سے فوراً برطرف کیا جائے۔
- ٣....... حکومت پاکستان بھی اپنے دستور کی روشنی اور جمہور مسلمانوں کے
مطالبہ کے پیش نظر قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے۔
- ٤....... اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مرزائیوں کے دل آزار اور اشتعال انگیز
لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے اور ان کی ارتدادی تبلیغ ممنوع قرار دی جائے۔
٦
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قادیانی
سازشوں کا نوٹس لیجئے
مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ
تعارف!
١٩٧٥ء میں قادیانی جماعت کا لاٹ پادری، مرزا ناصر آنجہانی، امریکہ و یورپ کے دورہ پر گیا۔ اس پر قادیانی جماعت نے پروپیگنڈہ کرنے میں شیطان کو بھی مات دے دی۔ اس دورہ سے واپسی پر مرزا ناصر نے لَن ترانیوں کے انبار سے قادیانی جماعت کو دھوکہ دینے کی حد کر دی۔ تب ہمارے مخدوم حضرت مولانا تاج محمودؒ نے یہ مقالہ ہفت روزہ لولاک فیصل آباد میں سپرد قلم کیا۔ اُس کی اہمیت کے پیش نظر لاکھوں کی تعداد میں مجلس نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر کے تقسیم کیا۔ ملاحظہ فرمائیے۔
(مرتب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے، اس پر ملک دشمنی کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے
مرزا ناصر احمد قادیانی ہیڈ آف دی جماعت احمدیہ ربوہ کئی ماہ تک یورپ امریکہ اور خصوصاً لندن شریف کا دورہ کر کے واپس ربوہ آگئے۔ غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد یہ ان کا دوسرا غیر ملکی دورہ تھا۔ اس دفعہ انہوں نے یہ دورہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مکمل تیاری کر کے اور بڑی سج دھج سے کیا ہے۔ ان کے ہمراہ اس نیو مسیحی جماعت کے پوپوں پادریوں اور چیلوں چانٹوں کی ایک ٹیم بھی گئی ہوئی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی اس ٹیم کا دورہ کسی ایسے منصوبہ اور پروگرام کے مطابق ہوا ہے۔ جو کسی بیرونی طاقت کے کسی خاص شعبہ نے سوچ سمجھ کر بنایا ہوا تھا۔ مرزا ناصر قادیانی کے ہمراہ جو ٹیم گئی ہوئی تھی۔ اس میں مرزائی اخبار روزنامہ الفضل ربوہ کے ایڈیٹر مسعود دہلوی بھی شامل تھے۔ اس دورے میں مرزا ناصر قادیانی کا یہ ازلی خادم سپیشل چیف رپورٹر سے وقائع نگار خصوصی بن کر ساتھ گیا ہوا تھا۔ مسعود دہلوی نے خاصہ زورِ قلم صرف کر کے مرزا ناصر قادیانی کے سفر کی رپورٹ مرتب کی ہے جو روزنامہ الفضل میں چھپ رہی ہے۔ اس رپورٹ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دورہ کی تفصیلات ربوہ میں تیار نہیں کی گئیں بلکہ تل ابیب، لندن اور واشنگٹن کی تیار کردہ دکھائی دیتی ہیں۔
٢
من انداز قدت را مے شناسم
ابھی تک مرزا ناصر قادیانی کے سفر کی پوری تفصیلات ہمارے سامنے نہیں آئی ہیں۔ بہر حال جو کچھ مرزائی اخبارات میں چھپ چکا ہے۔ یا ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مرزا ناصر قادیانی کے اس دورہ کے تین رخ تھے۔
- ا...... انہوں نے اپنے جماعت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ امریکہ اور
یورپ کے سامنے اسلام کی تبلیغ کے لئے نکلے ہیں۔ اور ان کی تبلیغ کے ذریعہ امریکہ اور یورپ اسلام (احمدیت) قبول کرنے والے ہیں لہذا تم وقتی چیزوں سے مایوس اور بددل نہ ہو جاؤ۔ جماعت کے کھونٹے سے بندھے رہو اور جماعت کے سارے چندے باقاعدگی سے دیتے رہو۔ بالآخر جماعت کو غلبہ حاصل ہوکر رہے گا۔
- ٢...... انہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کا یورپ اور امریکہ میں مذاق اڑایا اسکے
فیصلہ کی دھجیاں بکھیریں اور پاکستان کی تضحیک اور مذمت کی اس کی رسوائی اور بدنامی کی مہم جوئی میں مصروف رہے اور ان لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہمارے متعلق پاکستان کا فیصلہ ایک قانونی ، سیاسی ، وحشیانہ ، جاہلانہ اور غلط فیصلہ ہے۔ ہم اس فیصلہ کے باوجود حقیقی مسلمان ہیں جب کہ دوسرے مسلمان سرکاری مسلمان ہیں۔
- ٣...... ایک شاطر اور عیار سیاست دان کی طرح مرزا ناصر احمد نے اس دورہ
میں اپنے آپ کو ایسی سرگرمیوں سے کیموفلاج کرنے کی کوشش کی جن سرگرمیوں پر بظاہر حکومت پاکستان کو کوئی اعتراض نہ ہوسکے۔ مثلاً وہ جہاں گئے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے تنظیمی طرز کے اجتماعات رکھے اور ان میں سارے امریکہ اور سارے یورپ کو قادیانی بنا لینے اور قادیانیت کا ساری دنیا میں بہت جلد غلبہ آجانے کی بے سروپا باتیں کرتے رہے۔ اسی طرح وہ جہاں گئے پہاڑوں جھیلوں دریاؤں روشنیوں اور معروف سیرگاہوں سے لطف اندوز ہوکر اپنے مغل شہزادہ ہونے کی حس کی تسکین کا سامان کرتے رہے۔ لیکن ہماری اطلاع کے مطابق وہ ان غیر سیاسی ، مذہبی ، تفریحی سرگرمیوں کی آڑ اور پردہ میں اپنے آقایان ولی نعمت اور ایسے خاص لوگوں سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے جو اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ یہاں تک کہ آف دی ریکارڈ وہ
٣
صدر فورڈ سے بھی ملے ہیں اور یہی ان کے دورے کا اصل منشاء اور مقصد ہو سکتا ہے۔ ان کی سب سے زیادہ آؤ بھگت امریکہ اور مغربی جرمنی میں ہوئی جو آج کل پاکستان کے متعلق بدترین دشمنی کا مظاہرہ کرنے والے ملک ہیں۔ مرزا ناصر احمد کی ان دونوں ملکوں میں آؤ بھگت کا پس منظر یہ ہے کہ فریقین میں اسلام دشمنی ، پاکستان کی بربادی کا مشورہ اور بھٹو کے خلاف سازش کرنا قدر مشترک ہے۔
اب یہ بھٹو حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس امر کی چھان بین کرے کہ اس دورہ کی اصل غرض و غایت کیا تھی۔ مرزا ناصر احمد نے اس دورہ میں دوسری قوموں اور غیر ملکیوں کے سامنے پاکستان کے خلاف جو پروپیگنڈہ کیا۔ اس کی بدنامی کی ۔ قومی اسمبلی کے فیصلہ کو مذاق اڑاکر اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ اب کس سزا کا مستحق ہے اور حکومت اس کے خلاف کیا اقدام کرتی ہے؟۔
ہمیں اس بات کا انتہائی دکھ ہے کہ اول تو حکومت کو بیرون ممالک میں مرزائیوں کی اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا اور اگر وہاں سے کوئی بات وزارت خارجہ کے پاس آ جائے تو وہ اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیتی۔
یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ مرزائیوں کے متعلق جب گزشتہ سے پیوستہ سال ہماری قومی اسمبلی نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کیا اور یہ خبر باہر گئی تو امریکہ کے ایک شہر میں وہاں کے اہم پاکستانی مرزائی مہروں کا ایک خاص اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں بھارت کے سفیر متعینہ امریکہ نے شرکت کی ۔ اس اجلاس کی اطلاع جب امریکہ میں مقیم ایک محب وطن پاکستانی نے پاکستان کے سفیر متعینہ امریکہ کو دی تو انہوں نے اس خبر سے لاعلمی کا اظہار کیا اور یہ اطلاع دینے پر اس محب وطن پاکستانی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مرزائیوں کی اس میٹنگ اور اس میں بھارتی سفیر کی شرکت کی اطلاع حکومت پاکستان کو بھیجی ۔ ممکن ہے پھر دوبارہ یاد دہانی بھی کرائی ہو لیکن ہماری حکومت کی وزارت خارجہ نے اس اتنے اہم واقعہ پر کوئی توجہ نہ دی ۔ کوئی ایکشن نہ لیا۔ حکومت پاکستان نے امریکہ میں ہونے والی مرزائیوں کی پاکستان دشمنی کا محاسبہ کیا کرنا تھا، اس نے آج تک مرزائیوں کی ملک کے اندر غدارانہ سرگرمیوں اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے خلاف باغیانہ اقدامات کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔
٤
آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ مرزا ناصر احمد نے اپنے اس بیرونی دورہ میں ملک کی بدنامی اور رسوائی کا ارتکاب، قومی اسمبلی کے فیصلہ کی تضحیک اور حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے ملک دشمنی کا کھلم کھلا ثبوت دیا ہے۔ اس لئے انہیں گرفتار کیا جائے اور ان پر ملک دشمنی اور دستور کی مخالفت کے سلسلہ میں مقدمہ چلایا جائے۔
یہ میٹنگیں کس مقصد کے لئے؟
کچھ دنوں سے مرزائی ریٹائرڈ اور ان سروس فوجی افسران پراسرار قسم کی میٹنگیں کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے پائنیز ہوٹل نتھیا گلی میں ایک خفیہ میٹنگ کی۔ جس میں ہماری اطلاع کے مطابق تیس چالیس کے لگ بھگ یہ لوگ شامل ہوئے۔ یہ میٹنگ صدر افغانستان سردار محمد داؤد خان کے پاکستان آنے سے دو تین روز پہلے ہوئی تھی۔ حال ہی میں ربوہ میں بھی ایسی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ ایک میٹنگ میں ہمارے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق جنرل عبدالحمید ریٹائرڈ، جنرل عبدالعلی ریٹائرڈ حال امیر جماعت احمدیہ اسلام آباد، بریگیڈیئر شمیم احمد، مرزا منصور احمد قائم مقام امیر جماعت احمدیہ، مرزا فرید احمد خلف مرزا ناصر احمد ، ظہور باجوہ اور بعض ان سروس فوجی افسران شریک ہوئے۔ کاروائی بند کمرے میں ہوئی۔
اس میٹنگ کے چند روز بعد ربوہ میں بھی اسی طرح کی ایک اور میٹنگ ہوئی۔ جس میں ہماری اطلاع کے مطابق ظفر چوہدری ریٹائرڈ سی این سی پاکستان ائرفورس ان کے دو اور ساتھی اور اسی طرح کچھ دیگر ریٹائرڈ اور ان سروس فوجی افسران ۔ مرزا منصور احمد ، مرزا فرید احمد اور ظہور احمد باجوہ سے بند کمرے میں میٹنگ کرتے رہے۔ یہ ریٹائرڈ جنرل، ان سروس فوجی اور کچھ دوسرے سویلین مرزائی لیڈروں سے ربوہ میں ایسے موقعہ پر ملنے آئے اور یہ مشاورتیں ان دنوں ہوئیں جن دنوں مرزا ناصر احمد بیرون ممالک کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ جبکہ ربوہ میں ان دنوں کوئی تقریب یا تہوار بھی نہیں تھا۔ ان لوگوں کا ربوہ آنا خالی از علت نہیں ہے۔ اور اس سے پہلے لاہور اور نتھیا گلی کی مشاورتیں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ لاہور میں ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل ان لوگوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جبکہ اس کا منیجر ایک ریٹائرڈ مرزائی فوجی کرنل ہے۔ ربوہ کی یہ عادت ہے کہ وہاں انکا کوئی معمولی درجے کا آدمی آ جائے تو وہ اس کو مرزائیت کا ستون بتا کر اس کے استقبال اور الوداع کی رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ لیکن یہاں جنرل حمید ریٹائرڈ، جنرل عبدالعلی ریٹائرڈ اور ائیر مارشل ظفر چوہدری ریٹائرڈ جیسے لوگ تن تنہا آتے اور تن تنہا چلے جاتے ہیں۔ نہ ان
کو لینے کے لئے اور نہ ان کو الوداع کرنے کے لئے کوئی نکلتا ہے۔ اور نہ ہی ان کی کوئی رپورٹ الفضل میں شائع کی جاتی ہے۔ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد امریکہ اور یورپ کا دورہ کافی دنوں سے ختم کر چکے تھے۔ پھر وہ لندن میں جا کر ٹھہر گئے۔ اور پاکستان نہیں آ رہے تھے۔ بلکہ ربوہ میں یہ بھی ایک دفعہ مشہور کیا گیا کہ وہ اب واپس آئیں گے ہی نہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ نہیں آ رہے ہیں۔ آنے کی تاریخیں مقرر ہوتی تھیں اور منسوخ ہو جاتی تھیں۔ ان میٹنگوں کے بعد وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اچانک کراچی پہنچ گئے۔ اور پھر ربوہ تشریف لے آئے اور یہاں آ کر پھر وہی زمین آسمان کے قلابے ملانے کی باتیں کر رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد کے یورپ اور امریکہ جانے سے پہلے ربوہ میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس کے بعد جماعت کے با اعتماد لوگوں کو کانوں کان خبر پہنچائی گئی تھی۔ کہ بھٹو صاحب آنے والے دسمبر سے آگے نہیں جا سکتے یہ سب پر اسرار اور معمہ قسم کی چیزیں ہیں۔ ان تمام چیزوں سے ربوہ والوں کا مقصد کیا ہے؟۔ ادنیٰ عقل رکھنے والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزائیت انگریزوں کی سرپرستی اور پاکستان بن جانے کے بعد ہمارے مسلمان حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی اور غفلت سے ایک اژدہا بن گئی تھی۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں اسلامیان پاکستان کی متفقہ جدوجہد، مرزائیوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ اور ٧ ستمبر کے قومی اسمبلی کے فیصلہ نے اس اژدہا کو سخت زخمی کر دیا ہے۔ اب یہ زخمی اژدہا لوٹ پوٹ ہو کر سراپا انتقام بن چکا ہے۔ یہ انتقام لینا چاہتا ہے اسلام سے، پاکستان کی قومی اسمبلی سے، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اس میں شریک جماعتوں اور ان کے رہنماؤں سے، شاہ فیصل مرحوم کے خاندان اور تمام عرب ممالک سے اور ذوالفقار علی بھٹو سے۔ اس انتقام کے لئے وہ برطانیہ، مغربی جرمنی، امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا ایجنٹ بن چکا ہے۔ اس بات کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اس کا پوری طرح سر کچل دے اور جس طرح ایران کی حکومت نے بہائیت کے فتنہ کی ایران سے بیخ کنی کر دی تھی۔ اسی طرح حکومت پاکستان بھی اس فتنہ کی مکمل بیخ کنی کر دے تا کہ اس کی یہ بے چینی اور بے کلی ختم ہو جائے۔
یہ روپیہ کہاں سے آیا؟
مرزا ناصر احمد پچھلے ہفتہ یورپ امریکہ اور لندن کے طویل دورہ سے واپس آئے تو انہوں نے واپسی پر جمعہ کے روز اپنی بڑی عبادت گاہ کے اجتماع میں جو تقریر کی اس میں ہمارے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق یہ بھی کہا کہ فلاں ملک میں ہم نے جو عبادت گاہ بنوائی ہے۔ اس پر
٦
ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچہ آیا ہے اس رقم میں سے ٥٣ لاکھ روپیہ جماعت نے جمع کر کے خرچ کیا ہے اور باقی کا بھی کہیں سے انتظام ہو گیا ہے۔ ہم مرزا ناصر قادیانی سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ ٥٣ لاکھ روپیہ کا بقول آپ کے آپ کی جماعت نے انتظام کیا۔ یہ باقی تقریبا ایک کروڑ روپیہ کا کہاں سے انتظام ہوا ہے۔ کیا سونا بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آ گیا ہے یا جعلی نوٹ چھاپنے کا خدانخواستہ کوئی انتظام ہے۔ یا یہ روپیہ اسرائیل یا سی آئی اے کا عطیہ ہے؟۔
ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ ٥٣ لاکھ روپیہ والا بھی آپ نے تکلف فرمایا ہے کیا یہ درست نہیں کہ کوئی ٥٣ لاکھ آپ نے یا آپ کی جماعت نے کہیں نہیں بھیجا بلکہ غیبی کھاتوں سے روپیہ آ رہا ہے۔ جس سے آپ اسلام دشمن طاقتوں کی منشاء کے مطابق اسلام کو بگاڑنے اور اس کی اصل روح کو قتل کرنے کے لئے مختلف ملکوں میں اڈے بنا رہے ہیں۔ بچت اور منافع گھر لے آتے ہیں۔ پھر ایک اطلاع کے مطابق آپ نے یہ بھی اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایک یہودی صرف میری زیارت کر کے اور میری آواز سن کر ایمان لے آیا اور اس نے کہا کہ میں نے آپ کے چہرے اور آپ کے اندر نور دیکھ لیا ہے۔ اور اس نے آپ کو ایک لاکھ ڈالر کا چیک پیش کیا۔ اگر یہ روایت ہمیں درست پہنچی ہے تو آپ اطمینان کر لیں کہ اس یہودی نے واقعی آپ کے اندر اور آپ کے چہرے پر کوئی نور دیکھا اور ایمان لایا یا ایسے ہی آپ کے سامنے جھوٹ بول کر آپ کو اسرائیل کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر کا عطیہ تھما گیا ہے۔ تاکہ آپ اس روپیہ سے مسلمانوں میں ارتداد اور کفریہ عقائد کی تعلیم وتبلیغ کر کے امت محمدیہ میں انتشار پیدا کریں اور اس روپیہ کو پاکستان کی بربادی پر خرچ کریں۔
سعودی عرب جانے والے مرزائی
ربوہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مرزا ناصر احمد کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقعہ پر جب مرزا ناصر احمد کی مبینہ طور پر صدر فورڈ سے ملاقات ہوئی تو اس میں مرزا ناصر احمد نے امریکہ سے اپنی جماعت کو بچانے اور مصیبت میں کام آنے کی امداد مانگی۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد کو کہا گیا کہ آپ زیادہ سے زیادہ مرزائیوں کو سعودی عرب بھجوا دیں۔ وہاں امریکن کمپنیاں اور فرمیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں انہیں ملازمتیں دی جائیں گی۔ مرزا ناصر احمد نے مبینہ طور پر یہ پیغام ربوہ بھجوا دیا۔ چنانچہ ان کے قائمقام مرزا منصور احمد نے باہر اپنی جماعتوں کو خفیہ ہدایات بھجوادیں۔ اور ان سے کہا گیا کہ سعودی عرب کے لئے بھرتی ہوں اس مقصد کے لئے سات سو مرزائی بھرتی کئے گئے
٧
ان سے تین تین سو روپیہ پیشگی وصول کر لیا گیا۔ اور انہیں کہا گیا کہ وہ انیس انیس سو روپیہ بعد میں دیں گے پھر اس کے بعد مزید دیں گے۔ چنانچہ خفیہ خفیہ ان سات سو آدمیوں کے پاسپورٹ اور ویزوں کے لئے کام شروع کر دیا گیا ابھی تیاری مکمل نہیں ہوئی تھی کہ یہ راز کھل گیا۔ اور مرزا منصور احمد نے وقتی طور پر ان لوگوں کو تھوڑے دن رک جانے کا حکم دے دیا ہے۔
ہمارے بھائی مولانا کوثر نیازی وزیر مذہبی امور پاکستان اس بات سے خفا ہوتے ہیں کہ یہ کہا جائے کہ مرزائی سعودی عرب جارہے ہیں۔ حالانکہ وہ دھڑا دھڑ جارہے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ سات سو مرزائی بھی وقتی طور پر خاموشی اختیار کر گئے۔ یقینا یہ وہاں جائیں گے اور موقعہ پاتے ہی چلے جائیں گے۔ ابھی مرزائی حکومت کے اندر کافی اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہیں۔ اور وہاں جارہے ہیں۔ ظاہر یہی کیا جارہا ہے کہ امریکہ بہادر مرزائیوں کی اقتصادی مدد کرنا چاہتا ہے۔ اور مرزائیوں کو وہاں ملازمتیں دی جائیں گی۔ لیکن ہمیں اس میں بڑے خطرات نظر آ رہے ہیں۔
ہماری حکومت پاکستان سے مخلصانہ درخواست ہے کہ سعودی عرب ہمارا محبوب ترین ملک ہے۔ وہاں کی حکومت ہماری دوست اور محسن حکومت ہے۔ وہ ہمارے خیر خواہ اور دوست ہیں ہم ان درندوں اور سانپوں اور بچھوؤں کو وہاں نہ جانے دیں۔ یہ وہاں جاکر یہودیوں کے آلہ کار ثابت ہوں گے۔ جاسوسی کرنا ان کی فطرت ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے کسی نازک وقت کے لئے انہیں وہاں اس بہانہ سے پہنچایا جارہا ہو اور کوئی وقت آنے پر یہ سعودی عرب کی حکومت کو یا عالم اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچائیں۔ حکومت اس سکینڈل کی تحقیقات کرے ان سات سو مرزائیوں کے کاغذات جس مرحلہ میں ہیں انہیں روک دے۔ اس کے سرغنوں کو گرفتار کرے اور انہیں یہ اجازت نہ دے کہ وہ ہمارے قابل احترام ملک کے لئے کبھی کوئی خطرہ بن سکیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا مفید ہوگا کہ حکومت کے ریکارڈ پر یہ چیز موجود ہے کہ لاہور سے کسی مرزائی نے ربوہ کے دس آدمیوں کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ وہ سعودی عرب جانے کے لئے فلاں تاریخ فلاں فلائیٹ پر لاہور ائیر پورٹ پر پہنچ جائیں۔ یہ امر واقع ہے۔
(بشکریہ ہفت روزہ ’لولاک‘ لائل پور ٥ نومبر ١٩٧٦ء)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میرے آقا ﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائی اسرائیلی فوج میں
(مسلمانان پاکستان اور حکومت توجہ کرے)
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
تعارف!
١٩٧٠ء کے الیکشن میں جناب مولانا ظفر احمد انصاری کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قادیانی فتنہ سے متعلق انہوں نے قومی اخبارات کو ایک انٹرویو دیا۔ ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے اس انٹرویو پر چند سطری نوٹ لکھ کر رسالہ ہذا کی شکل میں شائع کیا۔ جو پیش خدمت ہے۔ (مرتب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ اس لئے اس نے اور اس کی جماعت نے اندرون و بیرون ملک ہمیشہ امریکی اور برطانوی سامراج کے مفاد میں کام کیا۔ چنانچہ آج مرزائیوں کے تعلقات اہل اسلام کے روحانی وعلمی مراکز مکہ معظمہ، مدینہ طیبہ، بغداد اور قاہرہ کی بجائے واشنگٹن، لندن، تل ابیب سے ہیں۔ اور بین الاقوامی طور پر یہ اسلام کی بجائے یہود و نصاریٰ کے گماشتے ہیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
جو اتحاد اسلامی کے علمبردار اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے سرگرم عمل ہے کی کوششوں سے تمام عالم اسلام مرزائی تحریک سے خبردار ہو کر اسے دائرہ اسلام سے خارج کر چکا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت اور ان کے زیر سایہ مبلغین تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی وفود نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت، مسیحیت، مہدویت کا لباس اتار کر اسے بحیثیت برطانوی امریکی سامراج کے گماشتہ کے ایشیاء، یورپ، افریقہ وعرب ممالک میں کھڑا کر دیا ہے۔ ذیل میں ایک اہم خطرناک اقتباس کا مطالعہ فرمائیے۔
مولانا ظفر احمد انصاری ایم این اے کا اہم انکشاف
سوال...... اسرائیلی فوج میں احمدیوں کی موجودگی ایک خوف ناک انکشاف ہے۔
٢
یہودیوں اور احمدیوں میں اس تعاون کی کیا تفصیل ہے اور آپ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیوں زیر بحث لانا چاہتے ہیں؟۔
جواب ..... پاکستان مسلم مملکت ہے اور یہودی ہر مسلم مملکت کو نیست و نابود کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ وہ اس کے لئے ہر ذریعے اور واسطے کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ اور ان کے آلہ کار بننے والوں میں یہ مرزائی یا قادیانی بھی شامل ہیں جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ اسرائیل یہودی صہیونیت کا ہتھیار ہے۔ جس کے ذریعے یہودی عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ ١٩٧٢ء تک اسرائیل میں موجود احمدیوں کی تعداد چھ سو تھی جن پر اسرائیلی فوج میں خدمت کے دروازے کھول دیئے گئے تھے۔ یہ تفصیل پولیٹکل سائنس کے یہودی پروفیسر آئی ٹی نعمانی کی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ (Israel a profile) کے صفحہ نمبر ٧٥ پر موجود ہے۔ یہ کتاب پال مال لندن سے ١٩٧٢ء میں چھپی ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس کتاب کے صفحہ نمبر ٥٢ پر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ عربوں پر یہ پابندی اب بھی ہے کہ وہ کسی سرحدی گاؤں میں نہیں رہ سکتے۔ اور اسرائیلی فوج میں بھرتی بھی نہیں ہو سکتے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر ٧٥ پر یہ بھی موجود ہے کہ یہ احمدی پاکستان سے ہیں۔ ایک مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان کے لئے یہ بات یوں بھی انتہائی اضطراب کا موجب ہے کہ ان احمدیوں کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے بھی میں تحریک التواء کے ذریعے اسے پاکستان کے مقتدر ترین ایوان میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں ۔
سوال ..... آپ اس تحریک التواء میں حکومت کی توجہ کن پہلوؤں پر مبذول کرانا چاہتے ہیں؟۔
جواب ..... میں قوم کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور حضرات اقتدار سے بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب یہ انہیں بھی معلوم ہے کہ احمدی دنیا کے کسی خطے میں بھی ہو اپنے خلیفہ کے حکم پر کام کرتا ہے۔ اس خلیفہ کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کے قصبے ربوہ (چناب نگر) میں ہے۔ اگر اسرائیل میں رہنے والے احمدیوں کو ربوہ (چناب نگر) سے یہ ہدایت ہے کہ عرب ممالک پر قبضے اور انہیں تاراج کرنے میں اسرائیل کی مدد کریں۔ اور جیسا کہ جنگ ١٩٦٧ء کے زمانہ کے اخبارات
٣
میں آیا کہ اسرائیلی پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اور پاکستان کے خلاف جس دشمنی اور نفرت کا اظہار بابائے اسرائیل بن گوریان نے کیا تھا۔ اس کے پیش نظر کیا یہ اندیشہ صحیح نہ ہو گا کہ اسرائیل جیسے احمدیوں کو عربوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ انہیں پاکستان کے خلاف آسانی سے استعمال کرے گا۔ جب کہ احمدیوں کے خلیفہ کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں ہے۔ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخر یہ چھ سو (احمدی) پاکستان سے اسرائیل کس راستے سے کیسے اور کب پہنچے؟۔ کیا اب یہ (احمدی) پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں؟۔ ان کے پاس دوہری شہریت تو نہیں ۔ ان میں سے کتنے پاکستانی پاسپورٹ پر گئے ہیں۔ یا لندن کے پاسپورٹ پر تھے اور پھر اسرائیل بھاگ گئے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہماری وزارت خارجہ اور پاسپورٹ جاری کرنے والی وزارت داخلہ کو کیا علم ہے اور کیا علم نہیں ہے؟۔ کیا ان احمدیوں کی وہاں روک تھام کی جا رہی ہے۔ کیونکہ ان کے پاکستانی کہلانے سے عربوں سے ہمارے تعلقات مجروح ہو سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس صورت حال کی (Clarification) صفائی کرنا چاہئے ۔
سوال ...... اسرائیل کے عربوں کے خلاف عزائم ہیں تو ایسے ہی ناپاک عزائم ہمارے بارے میں بھی ہیں؟۔
جواب ...... جی ! ( بہت لمبی سی جی ) جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں ۔ ١٩٦٧ء میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد پاکستان میں جو رد عمل پیدا ہوا تھا۔ اس نے یہودیوں کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چنانچہ بابائے اسرائیل بن گوریان نے جون ١٩٦٧ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔ (جس کی رپورٹ ٩ اگست ١٩٦٧ء کو صہیونی رسالے ’’جیوش کرانیکل‘‘ میں چھپی تھی۔ بابائے اسرائیل نے جنگ کرتے ہوئے کہا تھا ) عالمی صہیونی تحریک کو پاکستان کے خطرے سے لا پرواہی نہیں برتنی چاہئے۔ اور اب پاکستان اس کا پہلا نشانہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ نظریاتی مملکت ہمارے وجود کے لئے خطرہ ہے سارے پاکستانی یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عربوں سے محبت کرتے ہیں۔ عربوں کے لئے یہ محبت ہمارے لئے خود عربوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔
٤
اس خاطر عالمی صیہونیت کے لئے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ اب پاکستان کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔
جہاں تک ہندوستانی سطح مرتفع کے باشندوں کا تعلق ہے۔ وہ ہندو ہیں جن کے دل پوری تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہندوستان ہمارے لئے پاکستان کے خلاف کام کرنے کا اہم ترین مرکز (فوجی اصطلاح Base استعمال کی گئی) ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اس مرکز کا پورا استعمال کریں اور تمام ڈھکے چھپے اور خفیہ منصوبوں کے ذریعے یہودیوں کے دشمن پاکستانیوں پر ضرب لگائیں اور انہیں کچل دیں۔
مولانا ظفر احمد انصاریؒ نے یہ اقتباس ایک کتاب سے انگلش میں پڑھ کر سنایا۔ پھر سلسلہ کلام جاری رکھا۔ شائد...... بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہوگا کہ اس کے سوا چار سال بعد دسمبر ١٩٧١ء میں اندرونی سازش اور بیرونی جارحیت کے ذریعے ڈھاکہ میں داخل ہونے والی ہندو افواج کا ڈپٹی کمانڈر ایک یہودی تھا۔
اب پاکستان اور عالم اسلام کی حفاظت کے لئے حکومت پاکستان کا اولین فرض ہے کہ:
- مرزائیوں کو فوری طور پر کلیدی اسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔
- افواج پاکستان میں مرزائیوں کی بھرتی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔
- مرزائیوں کے بیرون ملک جانے پر فوری پابندی عائد کی جائے۔
- ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے تمام افتادہ اراضی اہل اسلام میں تقسیم کی
جائے۔ سیمنٹ، چینی، کپڑے کے کارخانے لگائے جائیں۔
- مرزائیوں کی گنتی ہو کر تناسب آبادی کے لحاظ سے اسمبلیوں میں ان کی
نشستیں مختص کی جائیں۔
- مسلمانان پاکستان کا فرض ہے کہ مذکورہ بالا مطالبات کو منوانے کے لئے
فوری طور پر پرامن جدوجہد کریں۔
٥
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
جداگانہ انتخابات
اور قادیانی
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
تعارف!
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ملک میں جداگانہ طرز انتخاب کی طرح ڈالی۔ قادیانیوں کے لئے مشکل یہ تھی کہ غیر مسلموں میں وہ نام نہ لکھوانا چاہتے تھے۔ مسلمانوں میں نام لکھواتے تو حلف نامہ پر کرنا پڑتا۔ جس میں ختم نبوت کا اقرار اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کا انکار شامل تھا۔ چنانچہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) مشتاق احمد سے مل کر حلف نامہ کی عبارت تبدیل کرا دی۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کوشش کی۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، نواب زادہ نصر اللہ خان اور دوسرے قومی رہنماؤں نے نعرہ رستاخیز بلند کیا۔ قادیانی سازش ناکام ہوئی۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے یہ رسالہ ترتیب دے کر لاکھوں کی تعداد میں شائع کرایا۔ پیش خدمت ہے۔ (مرتب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
وطن عزیز (پاکستان) کی بنیاد دو قومی نظریہ، اسلامی اقدار کی ترویج اور اہل اسلام کے علیحدہ تشخص پر قائم ہے۔ اس بنیاد کا لازمی نتیجہ جداگانہ انتخاب ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، صدر مملکت و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب جنرل محمد ضیاء الحق کی خدمت میں جداگانہ طریق انتخاب اختیار کرنے پر ہدیہ تبریک پیش کرتی ہے۔
جداگانہ طریق انتخاب کے پیش نظر ہی جناب چیف الیکشن کمشنر نے ہر خاندان کے سربراہ سے اقرار نامہ پر کرنے کے لئے پانچ قسم کے کیفیت نامے طبع کرائے ہیں:
- نمبر ١ ...... کیفیت نامہ (مسلمانوں کے لئے)
- نمبر ٢ ...... کیفیت نامہ (ہندوؤں کے لئے)
- نمبر ٣ ...... کیفیت نامہ (عیسائیوں کے لئے)
٢
نمبر ٤....... کیفیت نامہ (سکھوں، بدھوں، پارسیوں شیڈول کاسٹ وغیرہ وغیرہ کے لئے)
نمبر ٥....... کیفیت نامہ (احمدیوں، قادیانی، لاہوری گروپ کے لئے)
ان کیفیت ناموں میں امتیاز کے لئے ہر اقلیت کے لئے علیحدہ رنگ کی پٹی ان کے فارم پر طبع کرائی گئی ہے۔ تاکہ غیر مسلم اقلیتیں جن میں قادیانیوں کے ربوائی ولاہوری گروپ بھی شامل ہیں بطور غیر مسلم اپنے اپنے فارم پر کریں اور اپنا علیحدہ تشخص قائم رکھیں اور تناسب آبادی کے لحاظ سے اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔
لیکن ! مسلمانوں کے کیفیت نامہ میں جو عبارت بطور اقرار نامہ درج کی گئی ہے۔ اس میں کتر بیونت کر کے اسے اس قدر غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ربوہ سرکار نے ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ان کے پیرو کار بھی اہل اسلام کا ہی کیفیت نامہ پر کریں۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں:
”میں بذریعہ ہذا اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں اور میرے خاندان کے تمام افراد جن کی فہرست اوپر دی گئی ہے۔ خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی ایسے شخص کو بطور پیغمبر یا مذہبی مصلح نہیں مانتا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد پیغمبر ہونے کا دعویٰ دار ہو ۔“
جبکہ شناختی کارڈ کے فارم پر کرتے وقت ہر پاکستانی سے حلف نمبر ٢ کے ذریعہ گورنمنٹ پاکستان نے مذکورہ ذیل الفاظ میں حلف لیا ہے:
”میں حلفیہ اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا / رکھتی ہوں۔ اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیرو کار نہیں ہوں ۔ جو حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ دار ہو۔ اور نہ ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں۔ نہ میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا / رکھتی ہوں۔ یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔“
ناظرین کرام ! سرکاری طور پر ہی شائع شدہ دونوں عبارتوں کو پڑھنے کے بعد شناختی کارڈ کے فارم کی عبارت کو دوبارہ غور سے پڑھیں کہ انتخابی کیفیت نامہ سے اسے کاٹ کر یا ہلکا کر کے کس طرح کار پردازان الیکشن کمشن نے مرزائیوں کو مسلمانوں کے فارم پر کرنے کا راستہ کھول دیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق قادیانی اس سے مکمل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
٣
خاتم النبیین لا نبی بعدی
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین
تعارف
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
تعارف!
ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نور اللہ مرقدہ نے غالباً ١٩٧٥ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعارف پر مشتمل یہ رسالہ تحریر فرمایا تھا۔ آج سے پینتیس سال قبل کے حالات کو سامنے رکھ کر اسے مطالعہ فرمائیں۔ ورنہ اس وقت تک تو مجلس تحفظ ختم نبوت جو ترقی کر چکی ہے۔ وہ بہت ہی ایمان افروز اور جانفزاء ہے۔
(مرتب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم٠
الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی اصحابہ الذین اوفوا عہدہ!
ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما٠ الاحزاب : ٤٠!
عن ثوبانؓ قال قال رسول اللہ ﷺ انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی٠ مشکوۃ ص٤٦٥!
دعویٰ النبوۃ بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع٠ شرح فقہ اکبر ص٢٠٢!
امت مسلمہ کا سب سے پہلا اجماع خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد مدعی نبوت اور اس کے ماننے والوں کے خلاف جہاد اور ان کے قتل پر ہوا۔ خلیفہ اوّل سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے حکم پر مجاہدین اسلام نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسیلمہ کذاب اور اس کے اٹھائیس ہزار پیروکاروں کو جہنم رسید کیا۔ ازاں تا ایں کرہ ارض کے کسی کونے میں امت مسلمہ نے مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا۔
ہندوستان
ہندوستان میں اسلام کی روشنی زمانہ رسالت مآب ﷺ میں پہنچ چکی تھی۔ سب سے پہلی فوجی کاروائی اموی دور میں محمد بن قاسم کی قیادت میں ہوئی۔ بعد ازاں جیوش اسلام کی کوششوں سے علم اسلام ہندوستان میں بلند ہوا اور قریب نو سو سال تک مسلمان ہندوستان پر قابض رہے۔ انیسویں صدی میں اس ملک پر نصرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس قبضہ کے ساتھ ہی تمام عالم
٢
اسلام انگریزی سازش کا شکار ہوکر روبہ انحطاط ہوا۔ تمام عالم اسلام اور بالخصوص ہندوستان میں نصرانی حکمت عملی کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا۔ تمام عالم اسلام اور بالخصوص ہندوستان میں مجاہدین اسلام نے انگریز کے ناک میں دم کر دیا۔ جہاد فی سبیل اللہ اور شوق شہادت، آخرت کی سرخروئی مسلمانوں کا بنیادی نقطہ نظر تھا۔ انگریز نے اس اسلامی جذبہ کو ختم کرنے کے لئے انتہائی ظلم واستبداد سے کام لیا۔ لیکن باطل کی طرف سے جس قدر ظلم وتشدد میں سنگینی پیدا ہوئی۔ اہل حق میں اس سے کئی گنا زائد ایثار وقربانی کا جذبہ بیدار ہوا۔
انگریز سیاستدانوں، جرنیلوں، پادریوں نے مشترک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کی قدر مشترک خدا رسول اور ان کی عظمت کے مر مٹنے کا جذبہ (جہاد) ہے۔ جب تک اس عقیدہ میں کمزوری واقع نہ ہو تب تک مسلمانوں کو مطیع کرنا ناممکن ہے۔
(دی آرائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا)
چنانچہ مرزا قادیانی کو تیار کیا گیا۔ جس نے انیسویں صدی عیسوی کے آخیر میں اعلان کیا کہ وہ نبی ہے۔ اور جس مسیح ابن مریم کے نزول کی احادیث میں خبر دی گئی ہے۔ وہ میں ہی ہوں اور یہ کہ میری آمد پر جہاد حرام قرار دیا گیا ہے۔ مسیح ناصری کی آمد کے متعلق جو يقتل الخنزير ويضع الحرب کا اعلان ہے۔ وہ میری آمد پر پورا ہو گیا ہے اور جو لوگ میرے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرح مرزائی عقائد میں تمام دنیائے اسلام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چنانچہ تمام دنیا میں یہ مسلمانوں کے ساتھ اسلامی ارکان کی ادائیگی میں شریک نہیں ہوئے۔ غلام احمد کے دعویٰ کی تصدیق وتائید انگریز نے کی۔ اہل ہنود اور ہندوستان کی دوسری مشرک اقوام نے مرزا قادیانی کی تحریک کو پروان چڑھانے میں مدد دی کہ اس طرح جو امت مرزائیہ پیدا ہو گی۔ اس کی عقیدت کا مرکز عرب ومکہ، مدینہ زادهم الله شرفاً وتعظیما سے کٹ کر ہندوستان و قادیان ہو جائے گا۔ انگریزوں کی ان نوازشات سے جو گمراہ فرقہ ضالہ پیدا ہوا۔ اس نے ہندوستان کے اندر اور تمام عالم اسلام میں انگریزوں کی سیاسی برتری کے لئے کام کیا اور تمام عالم اسلام کی مخبری کی۔ جنگ عظیم اوّل کے بعد جب انگریز تمام عالم اسلام کے حصے بخرے کرنے میں کامیاب ہوا۔ تو مرزائی جماعت نے مسلمانوں کی اس تباہی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ شاہ سعود اور شریف مکہ کی آویزش کے دور میں مرزائی میر محمد سعید حیدرآبادی کو مکہ معظمہ بھیج کر راز معلوم کئے اور انگریزوں کو پہنچائے۔ مصطفیٰ کمال کو شہید کرنے کے لئے مصطفیٰ صغیر کو تیار کیا گیا۔ جس کے متعلق روایت ہے کہ وہ قادیانی تھا۔
٣
دو قادیانی اس کی ٹیم کے رکن تھے۔ یہ راز فاش ہو گیا اور ان سب کو ترکی میں سزائے موت دی گئی۔ جنگ عظیم اوّل کے بعد جب انگریزوں نے بغداد فتح کیا۔ تو عراق کا پہلا گورنر میجر حبیب اللہ شاہ کو بنایا گیا۔ جو مرزا قادیانی کی بہو اور خلیفہ بشیر الدین محمود کی بیوی کا بھائی تھا۔ اور اس میجر کا بھائی ولی اللہ زین العابدین عراق میں قادیانی مشن کا انچارج تھا۔ جسے بعد میں فیصل والیٔ عراق نے باوجود انگریز دباؤ کے عراق سے نکال دیا تھا۔ اسی طرح انہی ایام میں افغانستان میں کئی مرزائی جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور ان کے قبضہ سے خفیہ دستاویزات برآمد ہوئیں۔ جس بناء پر وہ قتل ہوئے۔ چنانچہ آج بھی اسرائیل میں مرزائیوں کا مشن موجود ہے۔ جب کہ پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کے سفارتی تعلقات اسرائیل کے ساتھ منقطع ہیں اور اس طرح مرزائی یہودی گٹھ جوڑ تمام عالم اسلام میں برطانوی امریکی سامراج کے لئے کام کر رہا ہے۔ اور باوجود پاک عرب احتجاج کے مرزائیوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنا تعلق منقطع نہیں کیا کہ اس فرقہ ضالہ کا مقصد ہی عالم اسلام کی تخریب اور اپنے آقایان ولی نعمت کی اعانت ہے۔
مرزائیوں اور عیسائیوں کا تعلق فریقین کے لئے اس طرح بار آور ہوا کہ عیسائیوں کو اہل اسلام سے صلیبی لڑائیوں کا انتقام لینے کے لئے اسلامی ممالک میں جاسوسی کے لئے ایک منظم پارٹی مل گئی۔ اور مرزائی انگریزی نوازشات سے فوری طور پر بڑے بڑے عہدوں تک ترقی کر گئے۔ انگریزی عہد اقتدار میں سرکاری مناصب پر مرزائیوں نے ترقی کی ۔ حتیٰ کہ ان کے خلیفہ نے اعلان کیا کہ جب انگریز ہندوستان سے جائیں گے تو حکومت پر ان کے یہ پروردہ قابض ہو جائیں گے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اب آپ اہل اسلام کی طرف سے تحریک تحفظ ختم نبوت کی ابتداء، مرزا قادیانی کا تعاقب، اس کی گمراہ امت کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں مناظرہ جات کی روداد اختصار کے ساتھ مطالعہ فرمائیں:
ہندوستان میں انگریز کے سیاسی غلبہ کے بعد اولین مجاہدانہ اقدام اہل اسلام نے کیا جس کی قیادت علماء اسلام نے کی۔ علماء نے فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔ اور یہاں انگریز کے خلاف جہاد فرض ہے۔ سالم انیسویں صدی اور نصف بیسویں صدی اس جہاد میں گزری۔ لاکھوں علماء نے انگریز کے خلاف جہاد میں جام شہادت اس طرح نوش کیا کہ میدان جنگ میں شہید ہوئے۔ توپوں کے دھانوں کے آگے کھڑے کر کے اڑائے گئے۔ سور کی کھالوں میں زندہ علماء حق کو سی کر آگ میں جلا دیا گیا۔ پھانسی گھر کم ہونے کے باعث ہزاروں علماء کو درختوں کے ساتھ لٹکا کر شہید کیا گیا۔ ہزاروں جلاوطن ہوئے۔ ان کے مزارات انڈیمان ایسے دور
٤
دراز جزائر میں رہے۔ انہی علماء میں قطب الاقطاب حاجی امداد اللہ صاحب تھے کہ ضلع مظفر نگر یوپی (بھارت) میں مسلح جہاد کیا۔ اسلامی فوج کی قیادت کی۔ جبکہ میمنہ میسرہ پر مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تھے۔ شکست کی صورت میں حاجی صاحب نے عرب کی طرف ہجرت کی اور مکہ معظمہ میں قیام فرمایا یثرب کے اس قیام کے دوران اعلیٰ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ بارادۂ ہجرت حج کے لئے تشریف لے گئے۔ تو حاجی صاحب مرحوم نے فرمایا کہ پیر صاحب آپ ہجرت کا ارادہ نہ کریں۔ بلکہ واپس ہندوستان تشریف لے جائیں کہ وہاں ایک فتنہ پیدا ہونیوالا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے وہاں کام لیں گے۔ پیر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ جب غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جہاد حرام قرار دیا۔ میرے ساتھ علمی مناظرہ کے بعد عدالتی مقدمات تک نوبت پہنچی۔ تو مجھے حاجی صاحب کا ارشاد یاد آیا کہ اس فتنہ کے متعلق مجھے ارشاد فرمایا تھا۔ گویا اس فتنہ ضالہ کے اولین نشان دہندہ جہاد شاملی کے ہیرو حضرت حاجی امداد اللہ صاحب ہیں۔ موصوف نے انگریز کے ساتھ جہاد بالسیف کیا اور انگریز کے خودکاشتہ پودے کیخلاف کام کرنے کے لئے حضرت پیر گولڑویؒ کو ہندوستان واپس بھیجا۔ بعد ازاں شیخ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے بے پناہ جدوجہد کی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، علامہ حائری مرحوم غرضیکہ تمام اہل اسلام کے علماء نے اس فتنہ کے خلاف کام کیا۔ اور شیخ الاسلام مرحوم نے ہی اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے حکیم مشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ اور امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو تیار کیا اور ایک مجلس میں سکون خاطر کا اظہار فرمایا کہ جب سے علامہ صاحب اور امیر شریعت نے اس محاذ پر کام کا وعدہ فرمایا ہے میں اپنا بوجھ ہلکا محسوس کر رہا ہوں۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی قیادت میں ہی مجلس احرار اسلام نے اپنا تبلیغی مشن جاری کیا۔ جس کا دفتر قادیان میں بھی قائم کیا۔ مجلس احرار سرفروش مجاہد قائدین اسلام کی جماعت نے قادیان میں مرزائیوں کا ناطقہ بند کیا۔ قادیان میں دفتر کے ساتھ ہائی سکول، جامع مسجد، عربی مدرسہ کے لئے اراضی حاصل کر لی۔ تا آنکہ آزادی کی جدوجہد کے نتیجہ میں احرار جس کے ہراول دستہ تھے۔ انگریز ہندوستان چھوڑنے پر اور مرزائی جو اس کے جانے پر ہندوستان کی حکومت سنبھالنے کی تیاری کر رہے تھے۔ قادیان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ انگریز جاتے جاتے اپنے ان وفاداروں کو ضلع جھنگ میں دریائے چناب کے کنارے پہاڑوں میں محصور ایک وسیع قطعہ اراضی کوڑیوں کے بھاؤ دے گیا۔
٥
جس پر مرزائیوں نے ربوہ کے نام پر اپنی علیحدہ بلا شرکت غیرے کالونی قائم کر لی۔ پشتینی مرزائی انگریز کا پروردہ چوہدری ظفر اللہ خان پاکستان کا وزیر خارجہ، اس کا بھائی چوہدری عبداللہ متروکہ غیر مسلم جائیداد کا کسٹوڈین ، مرزا غلام احمد کا پوتا ایم ایم احمد سیالکوٹ کا ڈپٹی کمشنر اس کے علاوہ سینکڑوں مرزائی جو نصاریٰ کی نوازشات کے باعث ملازمتوں پر تھے۔ تقسیم کے بعد اعلیٰ کلیدی آسامیوں تک ترقی کر گئے ۔ پاکستان کی انتظامیہ، عدلیہ اور فوج میں ایک منظم گروہ کی اس پوزیشن نے فرقہ ضالہ کے عوام و خواص کو بے پناہ ترقی دی۔ دیکھتی آنکھوں قادیان کا بہشتی مقبرہ جس کے متعلق مرزا قادیانی نے الوصیت میں لکھا تھا کہ :
”میں نے فرشتہ کو دیکھا جو زمین کو ناپ رہا ہے اور ایک جگہ مجھے دکھائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ ... جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔“
(الوصیت ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦)
اس کے لئے غلام احمد نے ٹیکس مقرر کیا۔ پھر کیا تھا اس کے پیروکار ٹیکس ادا کرتے ان کا نام درج ہو جاتا۔ اور وہ بعد مرگ اس ٹیکس کے صدقے سیدھے جنت کی ٹکٹ لیتے ۔ تقسیم کے بعد یہ بہشتی مقبرہ انہی شرائط اور انہی برکات کے ساتھ ربوہ میں قائم ہو گیا۔ متروکہ غیر مسلم جائیدادیں مرزائی تنظیم کے باعث مرزائی عوام و خواص کے حصہ میں آئیں۔ وزیر خارجہ کے طفیل عام پاکستانی سفارت خانوں اور اعلیٰ مناصب پر مرزائی متعین ہو گئے۔ مرزائیوں کا عقیدہ ہے۔ کہ غلام احمد ایسے نبی اور مسیح موعود تھے کہ ( محمد عربی ﷺ کی نبوت پہلی رات کے چاند ایسی تھی اور غلام احمد کی چودہویں رات کے چاند ایسی ) اور یہ کہ ( غلام احمد کے خلفاء کو خدا مقرر کرتا ہے ) جس کو معزول کرنے کے اختیارات دنیا میں کسی کے پاس نہیں اور یہ کہ مرزائی دنیا کے جس کونے میں ہوں ۔ خلیفہ وقت کے مطیع ہیں اور اس کے احکام کے پابند ۔ اب جبکہ وزارت خارجہ ، فوج کے بعض جرنیل ، عدلیہ کے بعض جج ، حکومت کے تمام شعبوں میں کلیدی آسامیاں مرزائیوں کے قبضہ میں ہیں۔ وزیر خارجہ کی نوازشات سے بیرون ملک سفارتوں اور اعلیٰ تجارت خانوں پر مرزائی قابض ہو گئے ۔ تو قادیان دارالامان سے برقعہ پہن کر فرار ہونے والا شاطر خلیفہ ملک پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ قرآن وسنت کے حامل علماء حق کو قتل وخونریزی کی دھمکیاں اس کا معمول بن گیا ۔ جاہل مرزائی مربی ، سیاسی قوت کے بل بوتے پر مسلمان بستیوں میں غلام احمد کی نبوت و مسیحیت پر اہل اسلام کو مناظرہ بازی کا چیلنج دینے لگے۔
٦
مجلس تحفظ ختم نبوت
ان حالات میں فدا بخاریؒ اور ان کے سرفروش مجاہد مذہبی ، تبلیغی جماعت کی نیو اٹھائی ہوئے ۔ مسجد سراجاں حسین آگا مصارف ایک روپیہ یومیہ تھے۔ مجلس احرار اسلام ہند کے انچار میں مرزا قادیانی کی نبوت ، مسیح فاش دی تھی۔ تب اسلامیان خطاب دیا تھا۔ حضرت امیر شر کی خطابت مفکر اسلام مولانا م رفاقت نے مجلس تحفظ ختم نبوت بانی غلام احمد کی نبوت پر کذب کے بل بوتے پر شاطر خلیفہ رب بلوچستان پر ہو جائے گا۔ مجل شب و روز کی انتھک محنت ۔ عمل تحفظ ختم نبوت قائم کر دی
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء
جس کے صدر سیکرٹری مشہور شیعہ رہنما مظ یاد کیا جاتا ہے۔ جھوٹی نبوت کر کے دوبارہ اکھنڈ بھار اٹھے۔ لیکن اس وقت کی ماننے کی بجائے ظفر اللہ خا اسلام کی مخالفت کی راہ اخ کیا ۔ لاکھوں فرزندان اس
مجلس تحفظ ختم نبوت
ان حالات میں فدائے ختم نبوت، امیر شریعت، بطل حریت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے سرفروش مجاہد ساتھیوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے ایک غیر سیاسی ، مذہبی ، تبلیغی جماعت کی نیو اٹھائی ۔ فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحبؒ اس کے پہلے مبلغ منتخب ہوئے۔ مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان کا حجرہ اس جماعت کا مرکزی دفتر قرار پایا۔ تب مجلس کے مصارف ایک روپیہ یومیہ تھے۔ مولانا محمد حیات صاحبؒ عرصہ دراز تک قادیان میں شعبہ تبلیغ میں مجلس احرار اسلام ہند کے انچارج رہے۔ تقسیم ملک سے قبل انہوں نے ہندوستان کے چپے چپے میں مرزا قادیانی کی نبوت ، مسیحیت کو چیلنج کیا تھا۔ اور ہر جگہ مرزائی مربیوں اور مبلغین کو شکست فاش دی تھی۔ تب اسلامیان ہند نے بجا طور پر مولانا محمد حیات صاحب کو ’’فاتح قادیان‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمدؒ کی خطابت مفکر اسلام مولانا محمد علی جالندھریؒ کی ذہانت اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کی رفاقت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔ اور جلد ہی مرزائی مربی اپنے بانی غلام احمد کی نبوت پر کذب وافتراء کی مہر لگا کر ربوہ (چناب نگر) میں جا بیٹھے۔ اپنی سیاسی قوت کے بل بوتے پر شاطر خلیفہ ربوہ نے اعلان کیا کہ ١٩٥٢ء کے اختتام سے قبل اس کی جماعت کا قبضہ بلوچستان پر ہو جائے گا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے شب و روز کی انتھک محنت سے تمام مسلمان فرقوں اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت قائم کر دی۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء
جس کے صدر حضرت مولانا سید ابوالحسنات قادری مرحوم منتخب ہوئے اور جنرل سیکرٹری مشہور شیعہ رہنما مظفر علی شمسیؒ، مجلس عمل کی جدوجہد کو تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جھوٹی نبوت اور مرزائیوں کے مکروہ کردار ، ملک و ملت سے غداری اور پاکستان کو ختم کر کے دوبارہ اکھنڈ بھارت بنانے کے عزم کیخلاف اسلامیان پاکستان بڑے جوش وخروش سے اٹھے۔ لیکن اس وقت کی حکومت پاکستان نے ملت اسلامیہ کے متفقہ اور جائز مبنی برحق مطالبات ماننے کی بجائے ظفر اللہ قادیانی اور امریکی برطانوی سامراج کے زیر اثر مرزائیوں کی امداد اور اہل اسلام کی مخالفت کی راہ اختیار کی۔ اس تحریک میں دس ہزار فدایان ختم نبوت نے جام شہادت نوش کیا۔ لاکھوں فرزندان اسلام نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اگر چہ بظاہر گورنمنٹ (جس پر
٧
ظفراللہ قادیانی اور امپریلزم پوری طرح حاوی تھے) کے لئے بے پناہ ظلم کے باعث مطالبات منظور نہ ہوئے۔ لیکن نتائج کے لحاظ سے تحریک شاندار طور پر کامیاب ہوئی۔ مرزائیوں کا ملک پر قبضہ کرنے کا پروگرام ہمیشہ کے لئے قعر مذلت میں جا گرا۔ منیر انکوائری رپورٹ میں بشیر الدین محمود نے اپنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی سے انحراف کیا۔ تحریک کے بہت جلد بعد ظفراللہ خان وزارت خارجہ سے علیحدہ ہو کر ملک بدر ہوئے۔ وہ اراکین حکومت جنہوں نے کسی معنی میں بھی تحریک کی مخالفت کی تھی۔ ان میں جو اس جہاں سے جاچکے ہیں۔ وہ نہایت بے بسی کی موت مرے اور جو زندہ ہیں۔ وہ اقتدار سے ایسے علیحدہ ہوئے کہ آج تک اقتدار حاصل کرنے کے لئے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ اور خسر الدنیا و الآخرہ کی زندہ مثال ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام زعماء، مبلغین، کارکن جیل میں رہے۔ کئی ایک نے جام شہادت نوش کیا۔
مقدمات کی بھرمار
تحریک کے بعد جب جماعت نے دوبارہ اپنا کام شروع کیا تو حکومت کی طرف سے مقدمات کی بھرمار شروع ہوئی۔ یہ ١٩٥٣ء، ١٩٥٤ء کی بات ہے۔ مجلس عمل میں فرق اسلامیہ کے عظیم اتحاد کے بعد جیل سے آ کر حکومت اور مرزائی گٹھ جوڑ سے ملک کی فضاء مسلمان فرقوں کے اختلافات کے باعث مکدر ہوگئی۔ مجلس کے زعماء، مبلغین پر حضرت امیر شریعت مرحوم سے لے کر چھوٹے مبلغین تک اکیس مقدمے بیک وقت مختلف عدالتوں میں چل رہے تھے۔ علاقائی آمدورفت کی پابندیاں اس پر مستزاد تھیں۔ لیکن آفرین ہے مجلس کے جفاکش، ایثار پیشہ مبلغین پر کہ ایسے کٹھن حالات میں بھی ختم نبوت کے علم کو بلند رکھا۔
کل پاکستان چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس
فرق اسلامیہ کے اتحاد کے لئے اپنی مساعی جمیلہ کو تیز سے تیز جاری رکھا اور ان حالات میں بھی برسوں سے جاری کل پاکستان چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس جو برسوں سے جاری تھی۔ جس میں تمام مسلمان فرقوں کے نامور علماء کرام، مشائخ عظام اور زعماء عظام شریک ہو کر تاجدار ختم نبوت ﷺ کی بارگاہ عظمت میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے تھے۔ دراصل یہ عظیم اجتماع مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کے مقابلہ میں بٹالہ اور پھر قادیان میں ہوا کرتا تھا۔ (مرزائیوں کا یہ جلسہ مرزا غلام احمد کی زندگی میں شروع ہوا تھا اور ١٩٨٣ء میں بند ہو گیا۔ مرتب) چونکہ اس فرقہ ضالہ کے آقایان ولی نعمت حضرت مسیح علیہ السلام کی یاد میں کرسمس ڈیز اواخر دسمبر میں مناتے ہیں۔ ہندوستان میں نصاریٰ کی حکومت تھی۔ اور ان کے زیر سایہ مرزائیت پھل پھول رہی تھی۔ اکثر
مرزائی گورنمنٹ میں ملازم تھے۔ اس لئے نصاریٰ کی خوشی میں شریک ہونے اور ملازموں کی شرکت میں سہولت کے لئے یہ جلسہ ٢٦، ٢٧، ٢٨/ دسمبر کو شروع کیا۔ اور آج تک انہی تاریخوں میں ہوتا ہے۔ مرزائی اس میں شرکت حج کے برابر کا ثواب یقین کرتے ہیں۔ اہل اسلام کا یہ اجتماع تقسیم سے قبل بٹالہ اور قادیان میں ہوا کرتا تھا۔ تقسیم کے بعد چونکہ انگریز کی نوازشات سے چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں اہل اسلام کے جانے کی کوئی صورت نہ تھی۔ اس لئے چناب نگر (ربوہ) سے قریب تر چناب کے دوسرے کنارے چنیوٹ شہر میں اہل اسلام کا یہ مرکزی اجتماع شروع ہوا۔ مبارک باد کے حقدار ہیں اہل چنیوٹ جنہوں نے گورنمنٹ کی طرف سے پابندیوں کے باوجود اس اجتماع میں شریک علماء، زعماء، عامۃ المسلمین کی مہمان نوازی کی اور اس اجتماع کو ربوہ کے مقابلہ میں ترقی کی آخری منزلوں تک لے گئے۔ بسا اوقات سرکار کی طرف سے تمام مشتہر علماء پر داخلہ ضلع جھنگ پر پابندی عائد کی گئی۔ لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کے جانباز مبلغین نے اپنے چنیوٹ کے احباب سے مل کر اس اجتماع کو ہر حال میں کامیاب رکھا۔ (اب بجائے چنیوٹ کے چناب نگر میں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس پوری آب و تاب سے منعقد ہوتی ہے۔ مرتب!) اور باوجود حکومت کی مخالفت اور پابندیوں کے ملک بھر میں مرزائی ارتداد کا مقابلہ کیا اور اہل اسلام کو اس فتنہ سودا کے خلاف بیدار کیا۔
النخلہ !
انہی ایام میں شاطر خلیفہ نے گرمائی ہیڈ کوارٹر کے طور پر پنجاب کے سرد مقام وادی سون میں النخلہ کے نام پر پہاڑیوں کے درمیان ایک مرکز بنایا۔ پہاڑوں کو حکومت کی بڑی مشینوں سے کاٹ کر ٹیوب ویل نصب کیا۔ بجلی پیدا کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کا جنریٹر لگایا۔ خلیفہ اور اس کے گماشتوں کے لئے کوٹھیاں اور مکانات تعمیر کئے گئے۔ وہاں کے ختم نبوت کے کارکنوں نے اس صورت حال سے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کو آگاہ کیا۔ امیر مرکزیہ کے حکم پر مبلغین نے اس علاقہ کو خصوصیت سے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا۔ اور عین النخلہ کے قریب ”جابہ“ کے مقام پر تحفظ ختم نبوت کی عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام ہوا۔ مجلس کی ان کوششوں کے بعد دوسرے سال خلیفہ مرتد کو وہاں جانے کی ہمت نہ ہوسکی۔ علاقہ میں اس فرقہ ضالہ کے خلاف اس قدر نفرت پھیلی کہ آج النخلہ کی آبادی بے آباد ہو چکی ہے۔ اور ٹیوب ویل اور گری ہوئی کوٹھیاں گویا کانھم اعجاز نخل خاویہ! کا نقشہ پیش کر رہی ہیں۔ جنریٹر ربوہ پہنچ چکے ہیں۔ محض ایک چوکیدار وہاں گری ہوئی عمارات کی حفاظت کے طور پر موجود ہے۔ (اب
چوکیدار بھی نہیں رہا۔ مرتب!) جبکہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر مدرسہ اور علاقائی مبلغ کی جائے رہائش دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے منازل طے کر رہی ہے۔
تبلیغی نظام
مجلس کے تبلیغی نظام نے اس قدر ترقی کی کہ ملک کے ہر بڑے شہر میں جماعت کا دفتر اور مبلغ موجود ہے۔ ملک میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں تبلیغ کا نظام قائم ہے۔ کسی دور دراز حصہ ملک سے محض دس پیسے کا خط دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان کے پتہ پر لکھ دینا کافی ہے۔ کہ مرزائیوں کے ساتھ مناظرہ ہے۔ مرزائیوں کے خلاف تبلیغ کی ضرورت ہے، نہ آنے کی ضرورت، نہ وقت کے متعین کرنے کی ضرورت، محض خط پر مبلغ یا مناظر ملک کے ایسے ایسے حصوں میں تشریف لے جاتے ہیں کہ وہاں تک پیدل جانا عام حالات میں عام آدمی کا کام نہیں۔ لیکن مجلس کے مبلغین کے سامنے اپنے بزرگوں کی تبلیغ دین کے جانفشانی اور جان نثاری کے واقعات زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہیں کہ کس طرح امیر شریعت اور مولانا محمد علی جالندھری مرحومین نے جان جوکھوں میں ڈال کر اس تبلیغی نظام کو قائم کیا۔ جس تبلیغی نظام کی ابتدا ایک روپیہ یومیہ کے خرچہ سے شروع کی گئی تھی۔ اب اس کا بجٹ لاکھوں تک ہے۔ اور چالیس مبلغ ملک کے اندر و باہر اس فریضہ تبلیغ کو ادا کر رہے ہیں۔
یورپ میں تبلیغ اسلام
اسی سلسلہ میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؔ صاحب نے یورپ میں تبلیغ اسلام کے لئے سفر کیا۔ وہاں کے احباب نے تقاضا کیا کہ یہاں مرزائی مربی اہل اسلام کو مناظرہ کا چیلنج دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں جزائر فجی سے مسلمان انجمنوں کے خطوط آ رہے تھے۔ کہ یہاں مرزائی مبلغ ارتداد پھیلا رہے ہیں۔ جزائر فجی بھی برطانوی نو آبادی ہے۔ جب ان جزائر پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو ہندوستان و افریقہ سے مزدوری کے لئے لوگوں کو لے گئے۔ جہاں انگریز وہاں مرزائی کے اصول کے تحت مرزائی بھی وہاں پہنچ گئے۔ ان جزائر میں اہل اسلام کی ساٹھ ہزار کی آبادی ہے۔ لیکن کوئی عالم دین یا دینی تعلیم کے لئے مدرسہ نہ تھا۔ مولانا لال حسین اخترؔ صاحب نے اپنے تبلیغی دورہ کے دوران انگلینڈ سے جرمن، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر فجی میں بھی تشریف لے گئے۔ نتیجہ کے طور پر ہڈرسفیلڈ (انگلستان) میں جماعت ختم نبوت کے لئے دفتر خرید کیا۔ جزائر فجی میں تعلیم دین کے لئے مدرسہ تعلیم القرآن قائم کیا۔ جو فجی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کامیابی سے جاری ہے۔
١٠
دارالمبلغین
اور دارالمبلغین ختم نبوت کے تربیت یافتہ مولانا عبدالمجید صاحب تعلیم دے رہے ہیں ۔ نئے مبلغ پیدا کرنے کے لئے جماعت نے دارالمبلغین کا ایک شعبہ قائم کیا۔ جس پر دو صورتوں میں عمل ہوا۔ ملک میں جس جس جگہ دورہ تفسیر قرآن کریم ہوتا ہے۔ وہاں فاتح قادیان مولانا محمد حیات یا مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر صاحب تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ کہ دورہ تفسیر قرآن پاک میں شریک علماء کو فرق باطلہ کی تردید کے لئے تربیت دیتے رہے۔ چنانچہ حضرت لاہوری، حضرت درخواستی، مولانا غلام اللہ خان راولپنڈی، مولانا محمد عبداللہ بہلوی، مدرسہ عربیہ سجاول اور دیگر مدارس عربیہ میں قیام فرما کر علماء و طلباء کو تربیت دی۔ دوسری صورت میں باقاعدہ اعلان کر کے فارغ التحصیل علماء کو دعوت دی۔ جماعت مرکزی نے ان حضرات کے قیام وطعام و دیگر مصارف کی ذمہ داری قبول کی ۔ اور ہر سال ایسے مبلغین کی جماعتیں تیار ہوتی رہیں۔ جو ملک کے اندر و باہر تبلیغ دین کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح تربیت حاصل کرنیوالوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ ملک بھر میں دارالمبلغین کے تربیت یافتہ ادیان باطلہ بالخصوص مرزائی ارتداد کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بیرون ملک تربیت یافتہ مبلغین ماریشس، جزائر فجی، آزاد کشمیر، رنگون، برما، مشرقی پاکستان میں فریضہ تبلیغ انجام دے رہے ہیں۔ سارے ملک پاکستان میں کوئی ایسی بستی نہیں جہاں مرزائیوں نے مناظرہ کا چیلنج دیا ہو اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مناظر اطلاع ملنے پر وہاں نہ پہنچے ہوں ۔
مقدمات
اسی طرح ملک بھر میں مرزائیوں کی طرف سے اہل اسلام کے خلاف جتنے مقدمات قائم ہوئے مجلس نے اپنے خرچ پر ان مقدمات میں اہل اسلام کی رہنمائی کی ۔ چنانچہ پاکستان کی جتنی عدالتوں میں مرزائی مسلمانوں کے درمیان تنسیخ نکاح یا کسی دوسرے حقوق کے لئے مقدمہ بازی ہوئی۔ مجلس کے مبلغین نے مرزائی کتب سے ان کے دعاوی اور ان کے موجبات کفر کے حوالے پیش کئے اور ان میں اہل اسلام کامیاب رہے۔ حتیٰ کہ جب ایم ایم احمد کو قائم مقام صدر کے طور پر یحییٰ خان نے نامزد کیا ۔ اور خود ایران گیا۔ غیرت الٰہی نے پاکستان کی کرسی صدارت پر اس مرتد کا بیٹھنا گوارا نہ کیا۔ ایک نوجوان اسلم قریشی نے ایم ایم احمد قادیانی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ایم
١١
ایم احمد قادیانی موت سے بچ گیا۔ لیکن کرسی صدارت پر بھی نہ بیٹھ سکا۔ یحییٰ خان نے واپسی پر فوجی ہسپتال میں اس کی عیادت کی۔ جماعت ختم نبوت نے نہ صرف اسلم قریشی کا مقدمہ لڑا بلکہ دوران جیل متواتر چار سال اس کے بچوں کی دو صد روپے ماہوار امداد جاری کی۔
مدارس عربیہ
ان امور مذکورہ بالا کے علاوہ دین اسلام کی ترویج اور تعلیم کے لئے مدارس عربیہ قائم کئے۔ آجکل مسلم کالونی چناب نگر، ملتان، بہاولپور، سکھر، جابہ ضلع خوشاب، پرمٹ ضلع مظفر گڑھ، ککڑی ضلع خیر پور میرس میں تعلیمات قرآن کے ایسے مدرسے کامیابی سے چل رہے ہیں جن کے جملہ مصارف جماعت مرکزی ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بلا لحاظ مکتب فکر جماعت کے مبلغ مدارس عربیہ کے تبلیغی اجلاس میں شریک ہوکر ان مدارس کی امداد کراتے ہیں۔ تا کہ تعلیمات اسلامیہ کا یہ عظیم سلسلہ جاری وساری رہے۔
شعبہ نشر واشاعت
مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرقہ ضالہ مرزائیہ کی تردید اور تبلیغ اسلام کے لئے صرف تبلیغ تدریس دارالمبلغین کا ہی سلسلہ جاری نہیں رکھا بلکہ اس کارخیر کے لئے ایک مستقل شعبہ نشر و اشاعت قائم کیا۔ جس نے لاکھوں پمفلٹ کتب اشتہارات اس موضوع پر عربی، انگریزی، اردو، سندھی، پشتو، بنگلہ میں شائع کئے۔ اور ان کے ذریعہ اہل اسلام میں مرزائی ارتداد کے خلاف نفرت پیدا کی۔ اسلامی کلوکیم پنڈی، لاہور کی اسلامی کانفرنس کے موقعہ پر تمام عالم اسلام سے آنیوالے معزز مہمانوں کو اس فرقہ ضالہ سے روشناس کرانے کے لئے اشتہار پمفلٹ انگریزی اردو اخبارات میں اشتہار دیئے گئے اور بطور خاص سربراہان ممالک اسلامیہ کو ان سے روشناس کرایا گیا۔ اس طرح اس صدی کے عظیم مرتد فرقہ کے خلاف تمام عالم اسلام میں تحریک کو بڑھایا گیا۔ تحریک ختم نبوت کی اس ہمہ گیری میں مجلس کے آرگن ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کا عظیم حصہ ہے۔ جو ملک کے بیدار مغز عالم دین اور صاحب قلم مولانا تاج محمود صاحب کی ادارت اور مولانا اللہ وسایا صاحب مبلغ ختم نبوت کی نائب ادارت میں باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔ (اب ماہنامہ لولاک ملتان سے شائع ہوتا ہے۔ مرتب!) حضرت مولانا تاج محمود صاحب، حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے شریک سفر ہیں۔ اور ربوائی خلافت اور مرزائی ضلالت کے رمز شناس ہیں۔ بوجوہ ربوہ کی اندرونی سازشوں سے ہر وقت باخبر رہتے ہیں۔
چند برس پہلے مرزائیت سے عدم واقفیت کی بناء پر شاہ فیصل مرحوم نے ظفر اللہ خان سے خانہ کعبہ کو غسل دلایا تھا۔ تب سے مجلس نے اپنے مخصوص طریقہ سے شاہ مرحوم کو اس فرقہ ضالہ سے آگاہ کیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ شہید اعظم شاہ فیصل مرزائیوں کے خلاف تحریک کے عظیم رہنما تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مدارج شہداء اسلام میں بلند سے بلند تر فرمائے۔
٢٩ مئی ١٩٧٤ء
مجلس تحفظ ختم نبوت کی انہی ملک گیر و بیرون ملک تبلیغی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ جب ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر (سابقہ ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر مسلمان طلباء پر ظلم و ستم کیا گیا۔ تو تمام ملک مرزائیوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ تمام فرق اسلامیہ نے مشترکہ اقدام کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں تمام مسلمان فرقوں کا ایک پلیٹ فارم مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نام پر قائم ہوا۔ جس کے سیکرٹری علامہ سید محمود رضویؒ، جائنٹ سیکرٹری مولانا محمد شریف جالندھریؒ، راقم الحروف مقرر ہوئے۔ مجلس عمل کی اپیل پر ١٦؍ جون ١٩٧٤ء کو ملک گیر ہڑتال ہوئی۔ عوام و خواص، تجار، وکلاء، طلباء غرض یہ کہ ملک کے ہر حصہ کے اہل اسلام نے مجلس عمل کی تحریک میں جانی، مالی حصہ لیا۔ یہ نتیجہ تھا مبلغین ختم نبوت کی شبانہ روز انتھک محنت کا۔ مرکزی اسمبلی میں موجود علماء کرام اور ان کے ساتھیوں نے مرکزی اسمبلی میں اس مسئلہ کی بھرپور ترجمانی کی۔ مفکر ملت حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے ترجمانی اہل اسلام کا حق ادا کر دیا۔ مجلس عمل کے مرکزی اخراجات مجلس تحفظ ختم نبوت نے ادا کئے۔ مرکزی اسمبلی کے معزز اراکین کو مسئلہ سے روشناس کرانے کے لئے ملت اسلامیہ کا مؤقف کے نام سے کتاب شائع کر کے پیش کی گئی۔ ٢٢ نوجوان مسلمانوں نے سرکار خاتم الانبیاء ﷺ کے دربار میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ مجاہد ختم نبوت جناب آغا شورش کاشمیریؒ جو عرصہ دراز سے مرزائیوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے تھے گرفتار ہوئے۔
٧ ستمبر ١٩٧٤ء
ان حالات میں مرکزی اسمبلی کی سفارش پر حکومت پاکستان نے اپنی اسلام دوستی کا ثبوت دیا۔ اور ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کا فیصلہ منظر عام پر آیا۔ جس کی نقل درج ذیل ہے۔ اس کا مطالعہ فرمایا جاوے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس قافلہ کا سفر مذکورہ ذیل علماء کی قیادت میں جاری رہا اور جاری ہے اور انشاء اللہ جاری رہے گا۔ آمین!
١٣
امیر اوّل ...... امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ امیر ثانی ...... خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ امیر ثالث ...... حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ قدس سرہ العزیز ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ ان کے سفر یورپ کے عرصہ میں قائم مقام ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ امیر رابع ...... مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ امیر خامس ...... فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ صاحب ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ امیر سادس ...... حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نائب امیر ...... حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ (امیر سابع ...... خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم ...... اور ناظم اعلیٰ ...... حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری مدظلہ۔ مرتب!)
مجلس کا وفد مولانا سید منظور احمد شاہ مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت میں ابوظہبی روانہ ہو چکا ہے کہ وہاں جماعت ختم نبوت کے کارکنوں کی کوششوں سے مرزائی گرفتار ہیں۔
تمام دنیا میں مرزائیوں کو داخل اسلام کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اور خوشی کا مقام ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مرزائی مختلف ممالک میں داخل اسلام ہوچکے ہیں۔ چناب نگر میں عظیم مدرسہ کا قیام، دارالمبلغین، بخاری لائبریری، شعبہ نشر و اشاعت اور دیگر اہم شعبہ جات کام کررہے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر مدرسہ جامع مسجد محمدیہ ہمہ وقت تبلیغ اسلام اور تردید مرزائیت میں مصروف عمل ہیں۔ چناب نگر میں جمعہ و نماز ظہر و عصر باجماعت شروع ہے۔ مسلم ٹی سٹال کے نام سے دکان جاری ہے۔ عنقریب ربوہ میں تعمیر جامع مسجد مدرسہ صدر دفتر تحفظ ختم نبوت کی خوشخبری دی جائے گی۔ (یہ سن ١٩٧٥ء کے اوائل کی بات ہے۔ مرتب!)
١٤
اظہار تشکر
مجلس تحفظ ختم نبوت ابوظہبی سب سے زیادہ شکریہ کی مستحق ہے کہ جس نے گزشتہ دنوں خطیب ختم نبوت مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی کے ابوظہبی، بحرین میں کامیاب تبلیغی دورہ کی واپسی پر مالی امداد فرمائی اس سلسلہ میں سب سے زیادہ جن احباب نے دلچسپی سے کام لیا۔ ان میں حاجی محمد لطیف صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت ابوظہبی ، جناب اقبال احمد ساحل ناظم اعلیٰ، حاجی محمد الیاس صاحب بٹ، راجہ میر زمان صاحب نائب امیر ، جناب حاجی محمد نصیر ناظم نشر و اشاعت ، جناب محمد رفیق صابری اور جناب ملک محمد رفیق صاحب قابل ذکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو اور جماعت تحفظ ختم نبوت ابوظہبی کو زیادہ سے زیادہ دین حقہ کی خدمت کی سعادت نصیب فرمائے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے تبلیغی وفود عالمی دورہ پر
- ☆...... ایک وفد حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوریؒ
امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی قیادت میں سعودی عرب، یورپ، افریقہ کے تبلیغی دورہ پر روانہ ہو گیا ہے۔
- ☆...... ایک وفد سردار امیر عالم خان لغاری اور سید منظور احمد شاہ حجازی پر مشتمل
عرب امارات، بحرین، کویت اور دیگر عربی ممالک کے تبلیغی دورہ پر روانہ ہو چکا ہے۔
- ☆...... ایک وفد حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب
مدظلہ پر مشتمل انڈونیشیا روانہ ہونے والا ہے۔
- ☆...... بحمد لله ہر سال مختلف ممالک میں مجلس کی طرف سے عقیدہ ختم نبوت
کے تحفظ کے لئے وفود تشکیل دئے جاتے ہیں۔ جو ممالک اسلامیہ اور دیگر ممالک میں فریضہ تبلیغ کے لئے جاتے ہیں۔
اسماء گرامی مبلغین حضرات
- ١...... فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحبؒ دفتر مرکزیہ
- ٢...... مولانا محمد شریف صاحب جالندھریؒ دفتر مرکزیہ
- ٣...... مولانا عبدالرحیم صاحب اشعرؒ دفتر مرکزیہ
- ٤...... مولانا محمد شریف صاحب بہاولپوریؒ دفتر مرکزیہ
- ٥...... مولانا قاضی اللہ یار خان صاحبؒ دفتر مرکزیہ
١٥
- ٦...... مولانا سید منظور احمد شاہ صاحبؒ دفتر مرکزیہ
- ٧...... مولانا غلام حیدر صاحبؒ اسلام آباد
- ٨...... مولانا غلام محمد صاحبؒ بہاول پور
- ٩...... مولانا زرین احمد خان صاحب کچھا کھوہ
- ١٠...... مولانا بشیر احمد صاحب سکھر
- ١١...... مولانا نور محمد صاحب علی پور
- ١٢...... مولانا محمد خان صاحب گوجرانوالہ
- ١٣...... مولانا خدا بخش صاحبؒ بہاول نگر
- ١٤...... مولانا نذیر احمد صاحب حیدرآباد
- ١٥...... مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ صاحب ملتان
- ١٦...... مولانا اللہ وسایا صاحب فیصل آباد
- ١٧...... مولانا سید ممتاز الحسنؒ صاحب فیصل آباد
- ١٨...... مولانا محمد علی صاحب سمندری
- ١٩...... مولانا عزیز الرحمٰن صاحب خورشید سرگودھا
- ٢٠...... مولانا حافظ عبدالوہاب صاحب حافظ آباد
- ٢١...... مولانا محمد انور صاحبؒ کوئٹہ
- ٢٢...... مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ ڈیرہ غازیخان
- ٢٣...... مولانا مقبول احمد صاحبؒ انگلینڈ
- ٢٤...... مولانا اسداللہ طارق صاحب فجی آئی لینڈ
- ٢٥...... مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ صاحب ملتان
- ٢٦...... مولانا عبدالرؤفؒ صاحب لاہور
- ٢٧...... مولانا کریم بخش صاحب لاہور
- ٢٨...... مولانا عبدالطیف صاحب کراچی
- ٢٩...... صوفی فتح محمد صاحبؒ کراچی
- ٣٠...... مولانا عبدالرشید صاحب مدرس پرمٹ
- ٣١...... حافظ اللہ وسایا صاحب مدرس پرمٹ
١٦
- ٣٢...... حافظ شبیر احمد صاحب مدرس ملتان
- ٣٣...... حافظ محمد حیات صاحب مدرس جابہ
- ٣٤...... غلام محمد صاحب مدرس جابہ
- ٣٥...... مولانا ضیاء الدین صاحب گوجرانوالہ
- ٣٦...... مولانا محمد اسحاق صاحب کشمیری اسلام آباد
- ٣٧...... عملہ دفتر مرکزی علاوہ ازیں ہے۔
پاکستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مراکز
- ١...... دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
- ٢...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی (سندھ)
- ٣...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لطیف آباد نمبر ٢ آٹو بھان روڈ حیدرآباد (سندھ)
- ٤...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بخاری مسجد کنری ضلع تھر پارکر (سندھ)
- ٥...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت معصوم شاہ مینارہ روڈ سکھر (سندھ)
- ٦...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور (سندھ)
- ٧...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیکب آباد (سندھ)
- ٨...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آرٹ سکول روڈ کوئٹہ (بلوچستان)
- ٩...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فورٹ سنڈیمن (بلوچستان)
- ١٠...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، اوستہ محمد (بلوچستان)
- ١١...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرکلر روڈ وائرلیس کالونی رحیم یار خاں (پنجاب)
- ١٢...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٣٩، بی غلہ منڈی بہاولپور (پنجاب)
- ١٣...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قاسم روڈ بہاول نگر (پنجاب)
- ١٤...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چشتیاں ضلع بہاول نگر (پنجاب)
- ١٥...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فقیر والی (پنجاب)
- ١٦...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرمٹ تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ (پنجاب)
- ١٧...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر بازار ڈیرہ غازی خان (پنجاب)
- ١٨...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد قباء افغان آباد نمبر ٢ فیصل آباد (پنجاب)
١٧
- ١٩....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محلہ عثمانیہ بالمقابل بیک کالونی گوجرہ روڈ ضلع جھنگ
- ٢٠....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لکڑ منڈی سرگودھا (پنجاب)
- ٢١....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد عائشہ ٥۔ حسین سٹریٹ مسلم ٹاؤن لاہور
- ٢٢....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بیرون دہلی دروازہ لاہور (پنجاب)
- ٢٣....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اندرون سیالکوٹی دروازہ گوجرانوالہ (پنجاب)
- ٢٤....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈسکہ روڈ حافظ آباد (پنجاب)
- ٢٥....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جلال پور جٹاں روڈ گجرات (پنجاب)
- ٢٦....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد بنوری انڈسٹریل ایریا ڈیفنس موڑ سیالکوٹ
- ٢٧....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکان نمبر 53 سیکٹر 3-6/1 IG اسلام آباد (پنجاب)
- ٢٨....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سجاد شہید چوک کیمبل پور (پنجاب)
- ٢٩....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد ضلع ہزارہ (سرحد)
- ٣٠....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد قاسم علی خان پشاور (سرحد)
- ٣١....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بالمقابل خیبر بینک ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ (سرحد)
بیرون ممالک مجلس تحفظ ختم نبوت کے مراکز
- ١....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت 35 سٹاک ویل گرین لندن (انگلستان)
- ٢....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ابوظہبی (متحدہ عرب امارات)
- ٣....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بحرین (متحدہ عرب امارات)
- ٤....... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فجی آئی لینڈ
مدارس عربیہ زیر اہتمام مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان
- ١....... دارالمبلغین ملتان جہاں سے مبلغین کو رد مرزائیت کا کورس کرا کر دنیا کے
اطراف و اکناف میں بھیجا جاتا ہے۔
- ٢....... مدرسہ محمدیہ ختم نبوت مینارہ روڈ سکھر
- ٣....... مدرسہ دارالہدیٰ پرمٹ چوک ضلع مظفر گڑھ
- ٤....... مدرسہ تعلیم القرآن الصادق مسجد بہاولپور
- ٥....... مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت جابہ ضلع خوشاب
١٨
- ٦......... مدرسہ تعلیم القرآن حضوری باغ روڈ ملتان
- ٧......... مدرسہ تعلیم القرآن سرگودھا
- ٨......... مدرسہ تعلیم القرآن بخاری مسجد کنری پاک ضلع تھر پارکر
- ٩......... مدرسہ تعلیم القرآن مسلم کالونی چناب نگر
- ١٠......... مدرسہ تعلیم القرآن محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر
آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات
اسلام آباد ٧ ستمبر (اے پی پی) قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ صادر کیا ہے۔ اس کی روشنی میں آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات کی ترمیم کے بعد یہ صورت ہوگی۔
آرٹیکل نمبر ٢٦٠: جو شخص خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان نہیں لاتا یا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی بھی انداز میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مذہبی مصلح پر ایمان لاتا ہے۔ وہ از روئے آئین و قانون مسلمان نہیں ہے۔
آرٹیکل نمبر ١٠٦: کلاز نمبر ٣: اس میں طبقوں کے لفظ کے بعد قادیانی یا لاہوری گروپ کے جو اشخاص جو احمدی کہلاتے ہیں کے جملے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اضافہ کے بعد کلاز نمبر ٣ کی صورت یہ ہوگی۔ صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان، پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ اور سندھ کی کلاز نمبر ١ میں دی گئی نشستوں کے علاوہ ان اسمبلیوں میں عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھوں، پارسیوں اور قادیانیوں یا شیڈول کاسٹس کے لئے اضافی نشستیں ہونگی۔ آئین میں دوسری ترمیم کے بل کا متن، یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے لہٰذا بذریعہ ہٰذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔ مختصر عنوان اور آغاز نفاذ یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٤ء کہلائے گا۔ نمبر ٢ یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ میں ترمیم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں جسے بعد ازیں آئین کہا جائے گا۔ دفعہ ١٠٦ کی شق ٣ میں لفظ اشخاص کے بعد الفاظ اور قوسین اور قادیانی یا لاہوری جماعت کے اشخاص ( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) درج کئے جائیں گے۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق نمبر ٢ کے بعد حسب ذیل نئی شقیں درج کی جائینگی نمبر ٣ جو شخص حضرت محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا
١٩
یا جو حضرت محمدﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تصور کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔ بیان واغراض جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارشوں کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے۔ کہ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے۔ تا کہ ہر شخص جو حضرت محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ!
ایک نظر ادھر بھی
٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کے تاریخ ساز فیصلہ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے سامنے دو بڑے کام تھے۔
- الف...... فریب خوردہ سادہ لوح مرزائیوں کو دعوت اسلام
- ب...... ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلہ کی تمام عالم اسلام سے توثیق۔
- ☆...... شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالم اسلام
اور یورپ کا تبلیغی دورہ کیا۔ اخبار العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کی رپورٹ کیمطابق ایک لاکھ مرزائی مشرف باسلام ہوئے۔
- ☆...... مولانا حافظ مقبول احمد بطور انچارج دفتر تحفظ ختم نبوت ہڈرسفیلڈ
(انگلستان) تشریف لے جا چکے ہیں۔
- ☆...... ابوظہبی (الامارات المتحدة العربیہ) میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی
سرکاری طور پر رجسٹریشن ہو کر دفتر قائم ہو چکا ہے۔ جو تمام عالم اسلام میں تردید مرزائیت کا مرکز ثابت ہوگا۔
- ☆...... حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور جماعت کے مبلغ بعد رمضان
المبارک فوری طور پر افریقہ، انڈونیشیا تشریف لے جا رہے ہیں۔
- ☆...... گذشتہ ٦ ماہ سے مجلس کے فاضل مبلغ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جمعہ
پڑھاتے ہیں۔ مرزائیت کے اس گڑھ میں جماعت کی عظیم کامیابی متوقع ہے۔ انشاء اللہ!
- ☆...... مرکزی مجلس کے زیر اہتمام ملتان ، بہاولپور ، گجرات، سکھر، جابہ
٢٠
(خوشاب) پرمٹ (مظفرگڑھ) کنری (سندھ) میں (اور اب چناب نگر میں بھی۔ مرتب!) دینی مدرسے کامیابی سے چل رہے ہیں۔
- ☆...... عالمی تبلیغ کے لئے ملتان میں تعمیرات کا کام شروع ہے۔
- ☆...... کام کی وسعت کے پیش نظر حضرات مبلغین کے نظام میں توسیع کی جارہی
ہے۔
- ☆...... یہ تمام امور حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ امیر مجلس تحفظ ختم
نبوت پاکستان وحضرت سیدنا مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ کندیاں شریف نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کی نگرانی میں ہورہے ہیں۔
جماعت ان عظیم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے آپ کی امداد کے علاوہ قیمتی مشوروں کی محتاج ہے۔ مالی امداد فرماتے وقت مد کی تشریح ضروری ہے۔ تاکہ زکوٰۃ صدقات شریعت مطہرہ کی روشنی میں صحیح مصرف پر خرچ کی جائیں۔ امداد مقامی مبلغین وکارکنان کو دے کر رسید حاصل کریں یا ناظم دفتر ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان کے پتہ پر ارسال فرمائیں۔
عالم اسلام میں مجلس کے کام کا اجمالی نقشہ
نشر و اشاعت: انگریزی، عربی، اردو، فارسی، سندھی، پشتو کے لاکھوں پمفلٹوں کے علاوہ:
- ١...... التصریح: از افادات امام العصر علامہ کشمیری قدس سرہ
- ٢...... القادیانی و القادیانیہ: از علامہ ابوالحسن علی ندویؒ (حضرت رائے
پوری قدس سرہ کے ارشاد پر لکھی گئی)
- ٣...... المتبنی القادیانی: از قائد جمعیت مولانا مفتی محمودؒ
یہ تمام کتب مجلس تحفظ ختم نبوت نے چھپوا کر ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم کیں۔ ترکی نے المتبنی القادیانی لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیں اور چند کاپیاں ملتان دفتر میں ارسال کیں۔
وفود
- ١...... ایام حج میں مبلغین ختم نبوت بالخصوص
٢١
- ٢...... سفیر اسلام مولانا قاضی احسان احمد قدس سرہ امیر ثانی
- ٣...... مفکر اسلام مولانا محمد علی جالندھری قدس سرہ امیر ثالث
- ٤...... مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر قدس سرہ امیر رابع
- ٥...... شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ امیر خامس
کے حجاز مقدس اور دیگر اسلامی ممالک میں خصوصی سفر
اسلامی کانفرنس لاہور کے موقعہ پر دستی اشتہار اعداء المسلمین فی العالم
- ١...... الصہیونیۃ ومن اعانہا
- ٢...... القادیانیۃ (وہم اتباع مرزا غلام احمد القادیانی المتبنی فی
الہند الباکستان)
- ٣...... الاشتراکیۃ (الشیوعیۃ)
- ٤...... الحاد الغرب (اوربا)
دنیا میں مسلمانوں کے چار بڑے دشمن ہیں:
- ١...... یہودی اور ان کے معاون
- ٢...... مرزائی ۔ (غلام احمد قادیانی کے ہندو پاک میں پیروکار)
- ٣...... اشتراکیت
- ٤...... مغربی الحاد
مجلس تحفظ ختم نبوت الباکستان
الخطیب الاکبر السید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
بحمد اللہ تعالیٰ اب بہت عالی شان مرکز تعمیر ہو چکا ہے
الحمد للہ تعالیٰ جب سے (ربوہ) چناب نگر کھلا شہر قرار دیا گیا۔ زعماء مجلس کی کاوشوں سے وہاں پر عظیم الشان مدرسہ تعلیم القرآن ، مسجد ختم نبوت ، دارالمبلغین ، بخاری لائبریری ، پرائمری تعلیم ، مدرستہ البنات اور دیگر ضروریات زندگی کا انتظام وانصرام مجلس نے کیا۔ اور شب و روز ترقی کی راہ پر گامزن ہے اہل اسلام اپنے اس عظیم مرکز کی طرف خصوصی توجہ فرمائیں۔ اپنی مقبول دعاؤں سے اپنی جماعت ، رفقاء کو ضرور یاد رکھیں۔ رب کریم اخلاص سے ناموس رسالت ، عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ زیادہ سے زیادہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین! (مرتب !)
٢٢
تاجدار ختم نبوت زندہ باد
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سید الاولین والآخرین شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم
مرزائی تعلیمات میں
محمد و احمد
بمعنی غلام احمد قادیانی
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
بسم الله الرحمن الرحيم
مرزائیوں کی مطبوعہ کتاب افریقہ سپیکس 'ص١١' میں شائع شدہ فوٹو
لیکن مرزائی کہتے ہیں کہ:
ہفت روزہ چٹان نے اپنی ١٠/ دسمبر ١٩٧٣ء کی اشاعت میں سراسر دھوکہ دہی سے کام لے کر ..... ان میں ایک تصویر نائیجیریا کے شہر ”ابے بوادؤنے“ کی احمدیہ عبادت گاہ کی ہے۔ اس کی عمارت پر افریقہ کے رائج عربی رسم الخط کے مطابق جلی حروف میں کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله ! لکھا ہوا ہے۔ اس تصویر کا NEGATIVE تیار کراتے وقت چٹان نے RETOUCHING کے ذریعہ محمد کی م کو الف میں تبدیل کر کے بقیہ لفظ میں چھوٹی سی ح کا اضافہ کر دیا ہے۔
(روزنامہ الفضل ربوہ ١٨/ ذی قعد ١٣٩٣ھ، ١٤/ فتح ١٣٥٢ ہش، ١٤/ دسمبر ١٩٧٣ء)
(ہجری اور عیسوی تقویم کے علاوہ اپنی تیسری تقویم لکھ کر امت مسلمہ اور عیسائیوں کے درمیان کسی تیسری امت ہونے کا اعلان ہے۔ مرتب!)
٢
ہفت روزہ چٹان ١٠؍دسمبر ١٩٧٣ء میں شائع شدہ فوٹو
نائجیریا میں احمدیہ سینٹرل ماسک کی عمارت جو مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہے یہ دونوں فوٹو افریقہ سپیکس اور چٹان سے لئے گئے ہیں۔ ناظرین کرام! بالخصوص تعلیم یافتہ مرزائی نوجوان بغور دونوں تصویروں کو دیکھیں کیا ان میں سر مو فرق ہے؟
الحمدلله وحده والصلوة علی من لا نبی بعده وعلی اصحابه الذین اوفوا عهده!
مرزا غلام احمد قادیانی کے تیسرے جانشین اور صلبی لحاظ سے اس کے پوتے ناصر احمد قادیانی نے ١٩٧٠ء میں مغربی افریقہ کا دورہ کیا۔ جس کی کارگزاری ”افریقہ سپیکس“ نامی کتاب کی صورت میں بزبان انگریزی جماعت ربوہ نے شائع کی۔ یہ کتاب ایک سو صفحات پر مشتمل ہے۔ عمدہ کاغذ رنگین ٹائٹل جس میں مختلف تقریبات کے مواقع پر لی گئی۔ مرزا ناصر احمد کی باسٹھ (٦٢) تصویریں ہیں۔ متفرق اجتماعات میں مرزا ناصر قادیانی کی بیگم بھی ہمراہ ہیں۔
اس کتاب کے صفحہ نمبر ١١ پر نائیجیریا کے ایک شہر ابے بوادڑے کی مرزائی عبادت گاہ کی تصویر ہے جس کی نقل مطابق اصل اس رسالہ کے صفحہ ٣،٢ پر درج ہے۔ ص ٢ کی تصویر افریقہ سپیکس کی کتاب سے لی گئی ہے اور ص ٣ کی تصویر ہفت روزہ چٹان مجریہ ١٠/دسمبر ١٩٧٣ء کے صفحہ نمبر ١٠ پر شائع ہوئی ہے۔
یہ تصویر ہفت روزہ چٹان نے افریقہ سپیکس سے ہی لی ہے۔ دونوں تصویروں میں سرمو فرق نہیں۔ لیکن قادیانیوں کے آرگن الفضل ربوہ نے اپنی اشاعت مورخہ ١٤/دسمبر ١٩٧٣ء میں اسے چٹان کی سراسر دھوکہ دہی سے تعبیر کیا کہ اس نے NEGATIVE میں RETOUCHING کے ذریعہ م کو الف سے تبدیل کیا اور لفظ ’ح‘ زائد کر کے محمد کو احمد بنادیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے افریقہ سپیکس اور چٹان سے لی گئی دونوں تصویریں بالمقابل شائع کر کے فیصلہ عام مسلمانوں اور پڑھے لکھے مرزائی نوجوانوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ بتائیں چٹان نے ردو بدل کر کے دھوکہ دیا ہے یا حقیقت حال وہی ہے۔ جو چٹان نے بیان کی اور الفضل اسے دھوکہ کا نام دے کر اپنے بانی کی طرح دجل وفریب سے کام لے رہا ہے۔ اور اس طرح اس حدیث نبوی کی تصدیق کر رہا ہے۔ جس میں رسالت مآب ﷺ نے جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق دجال وکذاب کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ مرزائی عجب گورکھ دھندا ہیں ان کے نام مسلمانوں جیسے، عبادت گاہیں مساجد اسلام کا نمونہ، نماز وتلاوت اہل اسلام کی سی، تحریر وتقریر میں جابجا محمد ﷺ وفدائے محمد ﷺ کا نام لیں گے۔ گویا کہ یہ مسلمان ہی ہیں۔ لیکن اہل اسلام سے سراسر علیحدہ عبادات، معاملات، رشتہ
و ناطہ، شادی و غمی کی تقریبات بالکل علیحدہ حتیٰ کہ ان کے ماہ و سال نہ شمسی نہ قمری نہ اسلامی نہ عیسوی۔
مندرجہ ذیل حوالہ کا مطالعہ فرمائیے ۔
”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ بشیر الدین محمود الفضل جلد ١٩ نمبر ١٣، مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)
لفظ محمد سے مراد
بلاشبہ مرزائی عموماً کلمہ وہی پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں ۔ لیکن ان کے تمام ارکان اسلام میں اہل اسلام سے اختلاف ہے ۔ تو پھر ان کے کلمہ میں اختلاف کس طرح نہیں؟۔ اہل اسلام جب محمد رسول اللہ کہیں گے تو ان کی مراد محمد بن عبداللہ، مکی، مدنی، سرور کائنات خاتم الانبیاء ﷺ کی ذات گرامی سے ہوگی اور مرزائی جب محمد رسول اللہ کہیں گے تو ان کی مراد لفظ ”محمد ﷺ“ سے غلام احمد قادیانی ہوگی ۔ حوالہ مطالعہ فرمائیے:
”اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے ۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے ۔ صار وجودی وجودہ نیز من فرق بيني وبين المصطفى فما عرفني وما رای اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے ۔ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے ۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں ۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔ فتدبروا“
(کلمۃ الفصل جلد نمبر ١٤، نمبر ٣ ص ١٥٨ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم ، اے )
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:
”خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے ۔ اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
٥
" محمد رسول الله والذين معه ، اشداء على الكفار رحماء بينهم ! اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
"اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔اس کے معنی یہ ہیں محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
"کیونکہ وہ (مرزا قادیانی ) محمد ہے ۔ گو ظلی طور پر پس باوجود اس شخص کے دعوائے نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سید نا محمد خاتم النبیین ہی رہا۔ کیونکہ محمد ثانی (مرزا قادیانی ) اس محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے ۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢ ملخص )
"اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی ۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ ، ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، ٢١٠ ملخص)
منم محمد واحمد كه مجتبی باشد
میں مسیح ہوں اور موسیٰ کلیم خدا ہوں میں محمد ہوں اور احمد مجتبیٰ ہوں ۔
(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
"واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون ! یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق ہے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ احمد کا وقت تمام نور کا وقت ہے اور قرآن کریم سے ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر شریعت کامل کر دی گئی ۔ مگر تمام نور آپ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا۔ بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہو گا اور رسول کریم ﷺ کے وقت میں اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔"
(انوار خلافت ص ٤٥، ٤٦ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود )
"آنحضرت ﷺ معلم ہیں اور مسیح موعود (مرزا قادیانی ) ایک شاگرد خواہ استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے یا بعض صورتوں میں بڑھ بھی جائے۔ مگر استاد بہر حال استاد ہی رہتا ہے اور شاگر د شاگرد ہی۔"
(تقریر بشیر الدین محمود مندرجہ اخبار الحکم قادیان ٢٨ اپریل ١٩١٤ء)
٦
ان دو حوالوں کو دل پر پتھر رکھ کر ٹھنڈے دل سے پڑھئے ارض و سما کو اپنی جگہ سے ہل جانا چاہئے ایک برخود غلط انگریز کے دلال کے متعلق اس کا لڑکا بیان کرتا ہے کہ سید المرسلین ﷺ کی تشریف آوری پر نور نبوت اور کمال شریعت کی محض بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اس کا اتمام غلام احمد قادیانی کے دور میں ہوا۔ نعوذ باللہ!
نیز یہ کہ غلام احمد قادیانی دجال و کذاب، سید ولد آدم حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کا ایسا شاگرد ہے جو بعض صورتوں میں اپنے استاد سے بڑھ چکا ہے۔
(امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے اس عقیدہ پر کروڑوں اربوں کھربوں لعنت)
مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے ان کے ایک مرید قاضی اکمل نے ایک قصیدہ پیش کیا۔ جس کے جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ جزاکم اللہ تعالیٰ یہ کہہ کر اس خوشخط قطعہ کو اپنے ساتھ اندر لے گئے۔
(الفضل ٢٢ اگست ١٩٤٤ء ج ٣٣ نمبر ١٩٦ ص ٦)
اس مذکورہ قصیدہ کے دو شعر ملاحظہ فرمائیں:
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(مندرجہ اخبار بدر قادیان ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤)
قارئین کرام ! آپ نے مذکورہ بالا حوالہ جات سے جو مرزائیوں کی کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ اندازہ فرما لیا ہوگا کہ مرزائی، محمد رسول اللہ سے مراد غلام احمد قادیانی ہی لیتے ہیں۔ مرزائیوں کی اصل کتب دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں موجود ہیں نیز ملک بھر میں تبلیغ دین اور تردید مرزائیت کا کام کرنے والے مجلس کے مبلغین کے پاس ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔
بشیر الدین محمود، خاتم الانبیاء کے مقابلہ میں
ایمان کی تازگی اور برکت کے لئے حضرت امام الانبیاء خاتم الرسل والنبیین ﷺ کی ایک حدیث کا مطالعہ فرمائیے کہ:
٧
عن جبير ابن مطعم قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسماء انا محمد ، انا احمد ، انا الماحی الذی یمحو الله بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی ! (بخاری ج اول ص ٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول الله ﷺ ،مسلم ج ٢ ص ٢١١ باب فی اسماء ﷺ ،مشکوٰۃ ص ٥١٥ باب اسماء النبی ﷺ)
”جبیر ابن مطعمؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں احمد ہوں میں ماحی ہوں کہ اللہ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہوگا۔ یعنی میرے اور قیامت کے دوران کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔“ اس حدیث پاک میں آنحضرت ﷺ نے اپنے پانچ اسمائے گرامی ارشاد فرمائے۔ مؤخر الذکر تین اسمائے گرامی کی تشریح فرمائی جن میں سے حاشر اور عاقب کی تشریح فرماتے وقت حضور ﷺ نے ختم نبوت کا اعلان فرمایا کہ حشر تک آپ ﷺ ہی کی نبوت کا زمانہ ہے اور آپ کے بعد ابن آدم میں جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ مفتری اور کاذب ہوگا۔ پہلے دو اسمائے گرامی کی تشریح نہیں فرمائی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا اسم گرامی جس طرح محمد ہے اسی طرح احمد بھی ہے۔“
اب دوسرے سوالوں سے قبل بشیر الدین محمود کی سنئے :
”اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی ایک تحریر اس آیت کے متعلق ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری نے بھی شائع کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں : ”میں مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد کی پیش گوئی حضرت مسیح کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے ہی متعلق ہے۔ اور وہی احمد رسول ہیں۔ پس آنحضرت ﷺ احمد تھے اور سب سے بڑے احمد تھے۔ کیونکہ آپ سے بڑا مظہر صفت احمدیت کا نہیں ہوا۔ لیکن آپ کا نام احمد نہ تھا۔ اور اسم احمد کا مصداق مسیح موعود ہے۔“ (القول الفصل بشیر الدین محمود ص ٣١)
یا للعجب! جمہوریہ اسلامیہ پاکستان میں ایک فرد نہیں بلکہ ایک جماعت ایسی موجود ہے۔ جس کا عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ کا نام احمد نہ تھا۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ نے اسم گرامی احمد ارشاد
٨
فرمایا۔ سیدنا حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام نے آپ ﷺ کے اسی نام سے خوشخبری ارشاد فرمائی۔ لیکن مرزائیوں کے آنجہانی خلیفہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا نام احمد نہیں بلکہ اسمہ احمد سے مراد مرزائیوں کا مسیح موعود ہے۔ حالانکہ اس کا نام غلام احمد تھا۔ جس بچے کا نام ماں باپ نے غلام احمد رکھا۔ اس کا بیٹا اس کا نام احمد بتاتا ہے۔ اور اس طرح حضور پاک ﷺ کے ارشاد گرامی کو (نعوذ باللہ) غلط ٹھہرایا ہے۔
ویسے اگر دیکھا جائے تو غلام احمد قادیانی، احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غلام ہرگز نہ تھے۔ وہ غلام انگریز تھے کہ ساری انگریز کی اطاعت وفرمانبرداری کے لئے کتابیں لکھتے رہے۔ اور اس بات پر فخر کرتے رہے کہ اگر انگریز کی وفاداری کے لئے لکھی گئی میری کتابیں ایک جگہ جمع کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر جائیں۔
کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے متعلق آپ نے مذکورہ بالا حوالہ سے معلوم کیا کہ مرزائی غلام احمد کو احمد رسول اللہ مانتے ہیں۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسم گرامی احمد کا صاف انکار کرتے ہیں۔ مطالعہ فرمائیے:
”جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ! سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ نے رسول رکھا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨ مصنفہ مرزا محمود قادیانی)
لیجئے اس حوالہ نے وضاحت کر دی غلام احمد، احمد ہے اور احمد رسول ہے۔ کہئے پھر مرزائیوں کا کلمہ لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ کس طرح نہ ہوا؟ ۔ نائیجیریا کی عبادت گاہ پر اپنے عقیدہ کی رو سے یہی کلمہ لکھا لیکن جب اہل اسلام نے نوٹس لیا تو انکار پر انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ قادیانی کتابیں احمد رسول اللہ کے عقیدہ سے بھری پڑی ہیں۔
مرزا قادیانی کے صحابی جناب یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”سیرت حضرت مسیح موعود “ میں اپنی ایک رات کا واقعہ لکھتے ہیں جو انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ گذاری جب
٩
وہ شب باشی کے لئے حاضر خدمت ہوئے: ”تو فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب آگئے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک و محمد آ گیا......... آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فرمایا صاحبزادہ صاحب رات بہت چلی گئی۔ سو جاؤ میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلی محمد کوئی تکلیف نہیں......... آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فرمایا بایاں پاسا بدل لوں۔ یعنی بائیں کروٹ لے لوں....... میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلی محمد بہت اچھا۔ آپ نے پھر کروٹ بدلی اور میں دباتا رہا۔ پھر آپ سو گئے۔ آخر حسب معمول میری آنکھ کھل گئی....... ...... فرمایا (غلام احمد قادیانی) نے صاحبزادہ صاحب جاگ اٹھے۔ میں نے عرض کیا۔ حضرت صلی اللہ علیک وعلی محمد جاگ اٹھا۔“
(سیرت حضرت مسیح موعود از عرفانی ص ٣٤٣، ٣٤٤)
اس حوالہ پر غور فرمائیے کہ عرفانی صاحب دوران گفتگو غلام احمد پر محض درود نہیں کہتے بلکہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کا اسم گرامی غلام احمد کے بالتبع لیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ پہلے غلام احمد پھر حضرت محمد رسول ﷺ ، حالانکہ غلامان مصطفیٰ ﷺ اگر صلوٰۃ وسلام میں کسی اور حقیقی نبی کو لائیں گے تو حضور فداہ ابی وامی کے بعد ان حضرات کا اسم گرامی ہو گا۔ جیسے نماز کے درود شریف میں حضرت خلیل اللہ ﷺ کا اسم گرامی یا اصحاب و آل محمد کا نام آنحضرت ﷺ کے بعد ہی مذکور ہے۔ حتیٰ کہ پہلے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی معصوم کا نام لیتے وقت فدایان احمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم علیٰ نبینا وعلیہ السلام ! کہہ کر نبی آخر الزمان کی اولیت کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس عرفانی قادیانی اور ان کے ہم مذہب قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی اولیت کو ہی بیان کرتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
شب باشی
مرزائیوں کے نبی اور اس کے صحابی صاحب کی شب باشی کی گفتگو کے ساتھ کچھ اور بھی شب باشی کی باتیں سن لیجئے:
”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔ اس
١٠
لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں ۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ بھانو! آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی۔ ہاں جی تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگہ ہویاں ہویاں نیں۔ یعنی جی ہاں! جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے اور تمہیں پتہ نہیں چلا کہ کس چیز کو دبا رہی ہو۔ مگر اس نے سامنے سے اور ہی لطیفہ کر دیا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھانو مذکورہ قادیان کے قریب ایک گاؤں بسرا کی رہنے والی تھی اور اپنے ماحول کے لحاظ سے اچھی مخلصہ اور دیندار تھی۔
(سیرت المہدی مرتبہ بشیر احمد ایم اے حصہ سوم ص ٢١٠)
سیرت المہدی کے مرتب بشیر احمد صاحب مرزا غلام احمد متنبئ کے صاحبزادے ہیں۔ دیکھئے وہ بھانو کی حس کا نام لے کر کس طرح معاملہ کو گول کر رہے ہیں۔ بھانو لحاف کے اوپر سے مرزا قادیانی کو دبا رہی ہے جو چیز اس کے ہاتھ میں ہے وہ سخت ہے۔ مرزا قادیانی کے سردی زیادہ ہے کہنے پر وہ کہتی ہے کہ آپ کی ٹانگیں آج سخت ہیں یہ مرزا قادیانی نے کہا کہ تم ٹانگ نہیں دبا رہی بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ نہ اسے معلوم ہوا ۔ اسے معلوم ہوا تو محض اس قدر کہ مرزا قادیانی کے جسم کا جو حصہ میں دبا رہی ہوں وہ ٹانگیں ہیں اور معمول سے زیادہ سخت یہ مسئلہ ہونہار فرزند نے حل کیا کہ پلنگ کی پٹی تھی۔ بھانو لازماً جب دبا رہی تھی تو چارپائی پر بیٹھ کر لحاف کے اوپر سے دباتی ہوگی۔ کیونکہ یہ تو تصریح نہیں کہ وہ چارپائی کے علاوہ کسی دوسری مسند پر بیٹھی تھی۔ اس صورت میں لازماً وہ مرزا قادیانی کے اوپر سے اگلی پٹی کو پکڑ رہی ہوگی۔ سوچئے ایسا ممکن ہے اور مرزا قادیانی کو نہ معلوم ہوا کہ وہ کیا دبا رہی ہے اور میرے اوپر سے آگے جا کر کوئی شے پکڑ رہی ہے۔ وہ تو بے حس بوجہ سردی تھی۔ کیا مرزا قادیانی با حس تھے اور یونہی خاموش رہے۔
”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکاوٹ و
١١
تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح جب مبارک احمد بیمار ہوئے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لئے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑیں۔ تو حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔"
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٧٢،٢٧٣)
شب باشی کے اس واقعہ میں دو صاحب ہیں۔ ایک مخدوم (مرزا قادیانی) دوسری خادمہ (زینب بی بی) خادمہ کا دل بھر جاتا ہے اور خوشی و سرور پیدا ہوتا ہے۔ مخدوم صاحب شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ غالباً خادمہ کا اس مسرت سے دل بھر جاتا ہوگا کہ میں بہتر کام کر رہی ہوں اور مخدوم شرمندہ ہونے کے بعد تبرک عنایت فرماتے ہوں گے۔ تا کہ خدمت کا کچھ تو صلہ ادا کریں۔ مزید ملاحظہ ہو:
کہ جس پر وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا
(بحوالہ الفضل قادیان ٢٨ مئی ١٩٢٨ء)
غور فرمائیے کہ اس عقیدہ کی حامل جماعت کو مسلمانوں میں شمار کرنے پر اصرار ہے؟۔
غلام احمد بمعنی احمد
"آنحضرت ﷺ کی صفت احمد تھی نام احمد نہ تھا اور دوسرے جو نشان اس کے بتائے گئے ہیں وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے ہیں اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں اور آپ (مرزا قادیانی) کا نام احمد تھا اور آپ احمد کے نام پر بیعت لیتے تھے۔"
(القول الفصل مرزا محمود ص ٢٩)
١٢
مرزائیوں کا درود شریف
"اور وہ صبح کی نماز میں التزام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد دعا قنوت بالجہر پڑھا کرتے تھے۔ اور اس میں روزانہ درود شریف ان الفاظ میں پڑھا کرتے تھے۔ اللھم صل على محمد واحمد وعلى آل محمد واحمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . اللهم بارك على محمد واحمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . وعلى ال محمد واحمد! یہ واقعہ قریباً ١٣١٦ھ کا یعنی ١٨٩٨ء کا یا اس کے قریب کا ہے۔ انہوں نے کوئی تین چار ماہ تک متواتر نماز پڑھائی تھی اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی شامل ہوتے تھے اور کبھی حضور نے حافظ محمد صاحب کے اس طرح پر درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا۔"
ضمیمہ رسالہ درود شریف ص ٤٣ مطبوعہ قادیان (فوٹو اصل رسالہ درود شریف)
صبح کی نماز میں التزام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد دعا قنوت بالجہر پڑھا کرتے تھے اور اس میں روزانہ درود شریف ان الفاظ میں پڑھا کرتے تھے ۔ اللهم صل على محمد واحمد وعلى آل محمد واحمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . اللهم بارك على محمد واحمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . وعلى آل محمد واحمد یہ واقعہ قریباً ١٣١٦ھ کا یعنی ١٨٩٨ء کا یا اس کے قریب کا ہے ۔ انہوں نے کوئی تین چار ماہ تک متواتر نماز پڑھائی تھی اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی شامل ہوتے تھے اور کبھی حضور نے حافظ محمد صاحب کے اس طرح پر درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا ۔
١٣
رسالہ دینی معلومات ص ١١ مطبوعہ مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ بطور سوال و جواب ص ١١ پر سوال نمبر ٢٢ مطالعہ فرمائیے کہ: س نمبر ٢٢..... قرآن کریم میں جن انبیاء کے اسماء گرامی کا ذکر ہے بیان کریں؟۔ ج..... حضرت آدمؑ، ابراہیمؑ، لوطؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، یوسفؑ، ہودؑ، صالحؑ، شعیبؑ، موسیٰؑ، ہارونؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، الیاسؑ، ذوالکفلؑ، الیسعؑ، یونسؑ، ادریسؑ، زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ، لقمانؑ، عزیرؑ، ذوالقرنین علیہم الصلوٰۃ والسلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام!
اس حوالہ کو بار بار پڑھئے۔ جس طرح نبی آخر الزمان ﷺ سے قبل تمام انبیاء علیہم السلام کا نام لیا گیا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد احمد کا ذکر ہے۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح اس میں غلام احمد کو بھی صلوٰۃ و سلام سے نواز کر مرزائیوں نے اقرار کیا ہے۔ ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی بھی اسی طرح کے نبی ہیں۔ غلام احمد بمعنی احمد؟۔
ہمارے ارباب اقتدار مرزائیوں کی کتب سے پیش کئے گئے حوالہ جات کے متعلق اکثر یہ کہتے ہیں۔ کہ یہ حوالہ تقسیم سے قبل کی کتب سے ہیں۔ حالانکہ تقسیم سے قبل لکھی گئی کتابیں تقسیم کے بعد پاکستان میں چھاپی گئیں۔ اور وہ اسی مواد کی حامل ہیں۔ جس کی تقسیم سے قبل تھیں۔ تو کیا فرق رہا؟۔ مرزائیوں کے عقیدہ میں غلام احمد نبی ہے۔ کے متعلق قیام پاکستان سے قبل و بعد کی طبع شدہ کتابیں برابر ہیں۔ لیکن اتمام حجت کے لئے مذکورہ ذیل حوالہ جات کا مطالعہ فرمائیے۔
خلیفہ ربوہ مرزا ناصر احمد نے ٢٠/ مارچ ١٩٧٣ء کو قادیانی عبادت گاہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں تقریر کی جو مرزائی جماعت نے ”مقام محمدیت کی تفسیر“ نامی رسالہ میں شائع کی۔
مرزا ناصر احمد کا ارشاد ہے کہ: ”اگر آپ کی امت میں سے کوئی شخص حضرت آدم کا مرتبہ اور آپ کی رفعت حاصل کرے تو مقام محمدیت پر اس کا کیا فرق پڑا۔ وہ تو چھ سات آسمان آپ سے نیچے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی ساتویں آسمان تک پہنچ جاتا ہے۔ (جس کی حدیث میں خوشخبری دی گئی ہے) (یہ حدیث بھی مرزا غلام احمد قادیانی ہی کا شیطانی وسوسہ ہوگا۔ مرتب) تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
١٤
اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقام تک پہنچنے سے ختم نبوت پر اثر پڑتا ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وجود یہ اثر ڈال چکا ہے۔‘‘
(مقام محمدیت کی تفسیر ص ٧)
دیکھئے خلیفہ ربوہ کی ڈھٹائی سے مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت خلیل علیہ السلام کے برابر کھڑا کر کے کہتا ہے۔ کہ اگر ان کی آمد سے ختم نبوت پر اثر نہیں پڑا تو غلام احمد کے آنے سے کس طرح پیدا ہو گیا۔ حالانکہ آدم علیہ السلام حضور خاتم الانبیاءﷺ سے قبل ہیں اور غلام احمد قادیانی بعد میں اور امت محمدیہ کا بالا جماع عقیدہ ہے کہ حضرت خاتم الانبیاءﷺ کے بعد دعوٰی نبوت موجب کفر ہے۔
(احمدیہ جنتری ١٩٧٤ء ضیاء الاسلام پریس ربوہ ناشر یامین بکڈپو گول بازار ربوہ ص ٥) پر سیرت طیبہ مرتب قاضی محمد یوسف میں حلیہ اور شمائل کے تحت درج ہے۔ ’’حضرت احمد (مرزا قادیانی) کا قد درمیانہ مگر کشیدہ قامت معلوم ہوتے تھے۔‘‘ اسی جنتری کے ص ٧ پر حافظ حامد علی قادیانی مرزا کے صحابی کی روایت درج ہے:
’’میں پنجاب سے آیا ہوں اور میں ایسے شخص کے کام کو جا رہا ہوں۔ جسے خدا نے اس زمانہ کا نبی بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ مذکورہ دونوں حوالے جو مرزا کے دنیا و آخرت کے ساتھیوں کے ہیں۔ جو ١٩٧٤ء کی جنتری میں ربوہ سے شائع ہوئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد ، احمد ہیں اور نبی بھی اس طرح مرزائیوں کا علیحدہ نبی، علیحدہ امت ہونے میں کیا شبہ ہے؟۔ یہی بات مفکر ملت شاعر مشرق جناب علامہ اقبالؒ نے ارشاد فرمائی ہے۔ اور امت مسلمہ کے لئے یہی قابل عمل ہے کہ اس فرقہ کو علیحدہ نبی، علیحدہ امت ہونے کے باعث امت مسلمہ سے علیحدہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
قادیانی تعلیمات میں
شاہ فیصل، کرنل قذافی، انور سادات، ذوالفقار علی بھٹو، نکسن، ایڈورڈ ہیتھ، گولڈامین، اندرا گاندھی، سورن سنگھ برابر ہیں۔
’’(میاں محمود خلیفہ قادیان) نے فرمایا کہ ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ مسلمانوں کا ہی بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔‘‘
(خلیفہ قادیان کی ڈائری، مندرجہ اخبار الفضل ج ١٠ شمارہ نمبر ١٠٥، ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)
١٥
”عیسائیوں کی عورتوں اور ان لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر ایمان رکھتے ہیں نکاح جائز ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ١٨؍ فروری ١٩٣٠ء ص ٨ ج ١٧ ش ٦٥)
”غیر احمدیوں کو ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ لاسکتا ہے۔ مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہا جا سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جا سکتی۔‘‘
(الحکم قادیان ١٤؍ اپریل ١٩٣٠ء بحوالہ قادیانی مذہب)
مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کے نزدیک مسلمان یہود، نصاریٰ، ہندو، سکھ بحیثیت اہل کتاب برابر ہیں۔
اب غور فرمائیے کہ مذہبی اور روحانی عقیدت کے لحاظ سے روئے زمین پر کون سا ملک قادیانیوں کے نزدیک مقدس ہو سکتا ہے؟۔ جس ملک میں ان کے نبی کا مولد و مدفن ہے۔ پھر اکھنڈ بھارت کے الہامی عقیدہ اور ظفر اللہ خان کے حالیہ خفیہ دورہ بھارت کی روشنی میں سوچئے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے بغیر بھی کوئی اس سیاہ فتنہ کا علاج ہے؟۔
مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان (سن اشاعت ١٩٧٣ء)
مرزا غلام احمد کا اپنی وحی کے متعلق عقیدہ
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمین است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، مصنفہ غلام احمد قادیانی)
میں جو کچھ وحی خدا سے سنتا ہوں ۔ اسے غلطی سے پاک سمجھتا ہوں ۔ قرآن کی طرح میں اسے تمام کوتاہیوں سے پاک جانتا ہوں۔ یہی میرا ایمان ہے۔
١٦
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
قادیانیوں کے متعلق
امت مسلمہ کے تقاضے
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم! قادیانی...... آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم اقلیت ہیں۔ قادیانی...... بین الاقوامی طور پر امت مسلمہ کے خلاف صیہونیت کے آلہ کار ہیں۔ قادیانی...... اپنی تحریروں کی روشنی میں کسی نہ کسی طرح دوبارہ اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں!
الحمدلله والصلوٰۃ والسلام على من لا نبی بعده وعلى اصحابه الذین اوفوا عهده!
امت مسلمہ کا اتحاد کفر کے لیے سوہان روح بنے۔ امت کے اتحاد کا باعث مکینِ گنبدِ خضریٰ کی ذات اقدس ہے ﷺ!
نصاریٰ اول نمبر پر اسلام اور امت مسلمہ کے بین الاقوامی دشمن ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات اور اس کے پیروکار امت کو ذات اقدس ﷺ سے منقطع کرنے کی یہود ونصاریٰ کی ایک کوشش ہے۔ ہندو ان کے ہم نوا ہیں کہ رحمت دو عالم ﷺ کی وجہ سے جو تقدس و ناموس اہل اسلام میں خطہ عرب کی ہے وہ ایک مدعی نبوت کاذبہ کے باعث قادیان کی وجہ سے بھارت کو حاصل ہو جائے۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور حضرت شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم کا اس قادیانی مسئلہ میں اختلاف اس کی نشاندہی ہے۔ پنڈت شنکر داس اخبار (بندے ماترم اپریل ١٩٣٢ء) میں رقمطراز ہیں۔ ”اس تاریکی میں‘ اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ ایشیائی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔“
قادیانیوں کے عقائد ان کی سیاسی روش عالم اسلام کے خلاف ہے
- ١....... ”میں اللہ کا نبی ورسول ہوں۔ مجھ پر ایسی وحی نازل ہوتی ہے جیسے
دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی اور یہ وحی قرآن مجید کی طرح خدا کا کلام اور خطاؤں سے
٢
پاک ہے۔ جس طرح محمد رسول اللہ کو قرآن پر یقین تھا۔ اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور میری وحی کو جھٹلانے والا یقیناً لعنتی ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
- ......٢...... ’’وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص٣، خزائن ج١٨ ص٢٠٧)
- ......٣...... مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت نے انگریزوں کی اطاعت کو فرض
قرار دیا اور اسلامی ممالک میں انگریزی مفاد کے لئے کام کیا۔ انگریزوں کے مواعید کے باعث انہیں یقین تھا کہ انگریز ہندوستان کو چھوڑتے وقت حکومت قادیانیوں کے سپرد کر کے جائیں گے۔ ’’جسٹس منیر نے انکوائری رپورٹ ص٢٠٩ اردو ایڈیشن میں اس کا اقرار کیا ہے۔‘‘
- ......٤...... تقسیم کے متعلق ان کی سیاسی رائے نہ تھی۔ بلکہ مذہبی عقیدہ تھا۔ تقسیم
کے مخالف لوگوں نے قیام پاکستان کے بعد اپنی رائے بدل دی۔ مگر قادیانیوں نے اپنا عقیدہ نہیں بدلا:
’’میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ الگ ہونا بھی پڑے یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر راضی ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں۔‘‘
(مرزا بشیر الدین محمود الفضل ٧ جولائی ١٩٤٧ء)
یہی عقائد اور یہی روش ہے جس کے باعث جملہ اہل اسلام کے مطالبہ پر قومی اسمبلی نے قادیانیوں (دونوں گروپ) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ لیکن قادیانی اس ترمیم کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور آئین پاکستان سے بغاوت کرتے ہیں۔ پاکستان کا قیام جداگانہ طریق انتخاب پر مبنی ہے۔ جب موجودہ حکومت نے اس بنا پر جداگانہ طریق انتخاب رائج کیا تو مرزائیوں نے مارشل لاء کے باوجود حکومت کے فیصلہ سے بغاوت کی اور اپنے ووٹ بحیثیت غیر مسلم اقلیت درج ہی نہیں کرائے۔ ان حالات اور ضرورت وقت کے باعث مندرجہ ذیل مطالبات پر فوری عمل حکومت پاکستان اور وطن عزیز کے مفاد میں بہت ضروری ہے۔
- نمبر١...... گورنمنٹ نے بینکوں کے حسابات سے زکوٰۃ وصول کی۔ چونکہ
قادیانیوں کے نام اہل اسلام جیسے ہیں۔ اس لئے ان کے حسابات سے بھی زکوٰۃ وصول کی
٣
گئی۔ قادیانی جماعت نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ بینکوں میں درخواست دیں چونکہ وہ غیر مسلم اقلیت ہیں۔ اس لئے ان کا روپیہ واپس کیا جائے۔ لہٰذا:
- الف ...... آئندہ اشتباہ سے بچنے کے لئے قادیانیوں کے متعلق فیصلہ کیا جائے
کہ وہ اپنے تشخص کے لئے اپنے نام کے ساتھ قادیانی تحریر کریں۔
- ب ...... قادیانیوں سے جملہ غیر مسلم اقلیتوں سمیت زکوٰۃ کی جگہ اسلامی آئین
کی رو سے جزیہ وصول کیا جائے۔
- نمبر٢ ...... قادیانی (دونوں گروپ) وطن عزیز کی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ آئین
پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لئے مناسب آبادی کے لحاظ سے ان کے حقوق متعین کئے جائیں۔ اس وقت تمام شعبوں میں اپنی آبادی سے کئی گنا زائد نشستوں پر قابض ہیں۔
- نمبر٣ ...... وطن عزیز کی سرحدات پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں
کسی بھی غیر مسلم کو کلیدی آسامی پر نہ ہونا چاہئے۔ قادیانیوں کو فوری طور پر کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔
- نمبر٤ ...... آئین پاکستان قادیانیوں کو ارتداد کی تبلیغ کی اجازت نہیں دیتا۔
تحریری و تقریری طور پر ان کی تبلیغ کو بند کیا جائے۔
- نمبر٥ ...... چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں تعلیمی ادارے ملک بھر کے دوسرے تعلیمی
اداروں کی طرح گورنمنٹ اپنی تحویل میں لے لے۔ قادیانیوں نے ان اداروں کی ملکیتی کروڑوں روپے کی اراضی غیر قانونی طور پر انجمن احمدیہ کے نام منتقل کرالی۔ محکمہ مال کے کاغذات شاہد ہیں کہ وہ اراضی تعلیمی اداروں کی ملکیت تھی۔ ملک کے دوسرے تعلیمی اداروں کی طرح یہ اراضی فوراً تعلیمی اداروں کو منتقل کرائی جائے۔
قابل توجہ جنرل ضیاء الحق صدر مملکت و اراکین دولت خداداد پاکستان و عامتہ المسلمین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان، فون: 4514122
٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اکھنڈ بھارت اور مرزائی
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
اکھنڈ بھارت اور مرزائی!
ہندو جارحیت سے حضرت علی ہجویریؒ (داتا گنج بخش) خواجہ معین الدین اجمیریؒ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ، حضرت مجدد الف ثانی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ہزاروں اولیاء کرام وغازیانِ اسلام کی محنت ضائع جارہی ہے۔ خدارا غور فرمائیے اور مرزائی مکر و فریب کو سمجھئے۔
(حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ)
انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یورپی درندے اسلامی دنیا کو پامال کر رہے تھے۔ دردمند مسلمان نصاریٰ کے مقابلہ میں جان سپاری و جان نثاری سے غازیانِ اسلام کی تاریخ کو روشن کر رہے تھے۔ ان حالات میں مرزا غلام احمد قادیانی (انگریز کا خود کاشتہ پودا) نصاریٰ کی ضرورت کے ماتحت رونما ہوا۔ انگریز کی سرپرستی میں نشوونما پائی۔ اس کی جماعت کے متعلق ہندو ذہن کا مطالعہ فرمائیے:
شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان جناب علامہ اقبال مرحوم رقمطراز ہیں: ”میں خیال کرتا ہوں کہ احمدیوں کے متعلق میں نے جو بیان دیا تھا جس میں جدید اصول کے مطابق ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس سے پنڈت جی (جواہر لال نہرو) اور احمدی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بنا پر دونوں اپنے دل میں مسلمانوں کی مذہبی وسیاسی وحدت کے امکانات کو بالخصوص ہندوستان میں پسند نہیں کرتے۔“
علامہ اقبال مرحوم آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں کہ:
”اسی طرح یہ بات بھی بدیہی ہے کہ احمدی بھی مسلمانانِ ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی وقار کے بڑھ جانے سے ان کا یہ مقصد فوت ہو جائے گا کہ رسولِ عربی (فداہ ابی وامی) کی امت میں سے قطع و برید
٢
کر کے ہندوستانی نبی کے لئے ایک جدید امت تیار کریں۔“
(علامہ اقبال مرحوم کا مضمون ”اسلام اور احمدیت“ مندرجہ رسالہ اسلام لاہور ٢٤ جنوری ١٩٣٦ء)
جواہر لال نہرو انگریز کا باغی اور مرزا قادیانی انگریز کا خودکاشتہ پودا۔ پنڈت جی کو مرزائیوں کا درد کیوں؟۔ ملاحظہ فرمائیے:
”اس تاریکی میں، اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی ایک جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدی تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔“
آگے تحریر ہے کہ: ”جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردہا اور عقیدت رام کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ علاوہ بریں جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی اب وہ خلافت قادیان میں آ جاتی ہے اور مکہ و مدینہ اس کے لئے روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔“
(مضمون ڈاکٹر شنکر داس ایم بی بی ایس اخبار بندے ماترم ٢٢ اپریل ١٩٣٢ء)
مرزائیوں اور ہندوؤں کی اس ملی بھگت کا مطالعہ فرمانے کے بعد مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود کی بھی سنئے:
”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی ہونا پڑے تو یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں۔ بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے
٣
کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“
(بیان مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل ١٦ مئی ١٩٤٧ء بحوالہ فرقہ احمدیہ کا ماضی و مستقبل ص ٦١)
موجودہ ملکی بحران کے متعلق تحقیقات کے مطالبہ میں مشہور عالم دین حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی تحریر فرماتے ہیں کہ:
”یحییٰ خان اور مجیب کے درمیان ٢٣ روز تک کیا مذاکرات ہوتے رہے۔ کیا ان کے مذاکرات میں کسی مرحلہ پر ایم ایم احمد اور چوہدری ظفر اللہ بھی شریک ہوئے تھے اور کیا ایم ایم احمد نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی حمایت کی تھی؟۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ٢٨ دسمبر ١٩٧١ء)
مرزائی دنیا کے جس کونہ میں بھی ہوں۔ خلیفہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے ماتحت ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ سے قبل مرزائیوں کی قادیان (بھارت) کی شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت حکومت کو بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ واضح رہے کہ قادیان کا نظم و نسق بھی نظارت ربوہ (چناب نگر) کے ماتحت ہے۔
ناظرین کرام! غور فرمائیں کہیں یہ صورت حال مرزا محمود کے بیان میں ”کسی نہ کسی طرح“ کی ہی تفسیر مذمومہ تو نہیں اور کیا مرزائی جماعت حصول قادیان (جس کے لئے مرزائی چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے بہشتی مقبرہ میں اپنی لاشیں امانتاً دفن کرتے ہیں) اور مرزا بشیر الدین محمود کے بیان کی روشنی میں مغربی پاکستان (نعوذ باللہ) کی شکست و ریخت ہی کے سامان تو نہیں پیدا کر رہے۔
ناظرین کرام! نہ صرف یہ کہ پاکستان ہماری ہی عزت و ناموس کا محافظ ہے۔ بلکہ سالم اور مضبوط پاکستان، ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمانوں کی حفاظت کا بھی ضامن ہے۔
پاکستان کی عوامی حکومت سے عوام اور بالخصوص پیپلز پارٹی کے کارکن و عہدیدار مرزائیوں کو کلیدی اسامیوں سے ہٹائے جانے اور ان کو اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ کر کے عشق رسالت مآب ﷺ کا ثبوت دیں۔
شعبہ نشر و اشاعت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان ١٩٧٣ء
٤
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
اسلامی نظام
کی علمبردار حکومت پاکستان
مسئلہ ختم نبوت سے متعلق
اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علی رسوله الکریم!
خداوند عالم نے کائنات انسانی کی ہدایت کے لئے سلسلہ نبوت سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع کر کے رحمت عالمﷺ کی ذات ستودہ صفات پر ختم کر دیا۔ عقیدہ ختم نبوت دین کا بنیادی واساسی عقیدہ ہے۔ قرآن مقدس، احادیث صحیحہ، اجماع امت سے یہ عقیدہ ثابت ہے۔ قرآن وسنت کی تصریحات کی روشنی میں چودہ سو سال سے امت محمدیہ اس عقیدہ پر متفق ومتحد چلی آرہی ہے کہ آپﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ومرتد ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے قتل پر ہوا۔ صبح قیامت تک اس امت کی وحدت کا راز حضور اکرمﷺ کی ختم نبوت میں پنہاں ہے۔ آپﷺ کے بعد مدعی نبوت دراصل وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کا مدعی ومتمنی ہے۔ نظریہ پاکستان کے خالق علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ: ”اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٣١)
برطانوی سامراج کے گماشتوں نے آج سے ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان میں اپنی استعماری مصلحتوں کے تحت جہاد کو حرام قرار دلانے، مسلمانوں میں افتراق وانتشار کی تخم ریزی کرنے اور برطانوی حکومت کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے اسلام کے بنیادی ومرکزی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ایک سازش کی اور اس سازش کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تحریک احمدیت کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کو ان دعاوی پر مبنی کیا کہ:
- ☆...... ”میں اللہ کا نبی ورسول ہوں ۔ ”مجھ پر ایسی وحی نازل ہوتی ہے جیسے
دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی اور یہ وحی قرآن مجید کی طرح خدا کی کلام اور خطاؤں سے پاک ومنزہ ہے جس طرح محمد رسول اللہ کو قرآن پر یقین تھا اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور میری وحی کو جھٹلانے والا یقیناً لعنتی ہے۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ☆...... ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ
خدا رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
- ☆...... مرزا قادیانی نے صرف دعویٰ نبوت پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ
٢
میں محمد رسول اللہ ہوں۔ ’’وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
ان دعاوی کے بعد بڑی آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو نہ ماننے والوں کے متعلق اس کے پیروکاروں کا کیا فتویٰ ہو سکتا ہے؟۔ لیکن ذیل میں چند حوالے مختصراً درج ہیں۔ تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مرزائی امت محمد ﷺ کے نوے کروڑ ۔ مسلمانوں کو کس آسانی سے کافر، جہنمی اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔
- ☆...... ’’ہر مسلمان میری کتابوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے
معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد مجھے قبول نہیں کرتی۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ☆...... ’’میرے دشمن جنگلوں کے خنزیر اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔‘‘
(نجم الہدیٰ ص ١٠ خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
- ☆...... ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل
نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا بشیر الدین محمود والد مرزا ناصر)
- ☆...... ’’جو شخص مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ
پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمتہ الفصل ص ١١٥)
- ☆...... ’’غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی معصوم
بچے کا بھی جائز نہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص ٩٣ از مرزا بشیر محمود)
یہی وجہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ صرف یہ ہی نہیں کہ قادیانیت کی تحریک نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کو چیلنج کیا اور اپنے نہ ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ بلکہ بانی تحریک احمدیت مرزا قادیانی اور اس کے پیروؤں نے اپنی تحریروں میں انبیائے کرام علیہم السلام و بزرگانِ دین کی دل آزار توہین کی اور انتہائی بد زبانی سے کام لیا۔
- ☆...... ’’آنحضرت ﷺ سور کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔‘‘ (معاذ اللہ)
(مکتوب مرزا قادیانی مندرجہ الفضل قادیان ٢٢ فروری ١٩٢٤ء)
- ☆...... ’’مرزا غلام احمد قادیانی محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے
٣
دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨ مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)
- ☆ ....... ”عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں
جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧‘ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ☆ ....... ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
- ☆ ....... ”سو سُؤر میرے گریبان میں پڑے ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٩٩‘ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
موجودہ اسلامی حکومت کے دور میں چھپنے والے مرزائی لٹریچر میں بھی سنسرشپ کے باوجود ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ قادیانی پریس وہ سب کچھ کہہ رہا ہے جس کی نہ مذہب اجازت دیتا ہے نہ قانون۔ قادیانی جرائد و رسائل میں مرزا قادیانی کو نبی‘ رسول‘ مسیح موعود اور اس کے دیکھنے والوں کو صحابہؓ اس کی بیوی کو ام المومنین‘ ان کی جماعت کے سربراہ کو خلیفہ امیر المومنین لکھا پڑھا اور پکارا جاتا ہے۔ سنسر شپ کے دور میں چھپنے والے اس قسم کے مواد کے لئے دفتر درکار ہے۔ نمونہ کے طور پر اپریل ١٩٨٠ء کا ماہنامہ تحریک جدید ربوہ میں مرزا قادیانی کو صرف ایک مضمون میں ١٤ مرتبہ ”حضور علیہ السلام“ لکھا گیا۔ نہایت ہی خطرناک قسم کی مذہبی دل آزاری کے علاوہ (جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے) مرزائیت کی تحریک کا ایک خطرناک پہلو، ان کی سیاسی سرگرمیاں ہیں۔ مرزائیت مسلمانوں کی قومی وملی زندگی کو پارہ پارہ کر کے طرح طرح کے خوفناک خطرات میں ڈالنے کا موجب بن رہی ہے۔ مرزائیت مذہبی لباس میں ایک سیاسی تنظیم ہے۔ جو برطانوی سامراج کے استعماری ہتھکنڈوں کی پشتیبان ہے۔
- ☆ ....... اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤١‘ خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
- ☆ ....... ”مرزائیوں کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے ١٩٥٣ء میں جسٹس منیر
کے سامنے عدالت عالیہ میں اقرار کیا کہ ہمیں یقین تھا کہ انگریز ہندوستان کو آزاد کرتے وقت اقتدار ہمارے سپرد کر کے جائے گا۔“
(منیر انکوائری رپورٹ فسادات ١٩٥٣ء ص ٢٠٩)
- ☆ ....... مرزائی پاکستان کے دشمن ہیں اور یہ بات ان کے عقیدہ کا جزو ہے کہ
”ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہوکر رہیں۔
٤
تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں ۔‘‘
(اعلان بشیرالدین محمود مندرجہ الفضل ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء ص ٢)
مرزائی عقیدۂ تقسیم کے خلاف تھے۔ ان کی مخالفت کے باوجود جب تقسیم کا اعلان ہوا تو انہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی زبردست کامیاب کوشش کی اور باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ محضر نامہ پیش کر کے گورداسپور کو پاکستان سے کاٹ کر بھارت میں شامل کرا دیا اور نہ صرف پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قضیہ کشمیر کو بھی کھٹائی میں ڈلوا دیا۔ (نور محمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ مارشل لاء سے مارشل لاء تک روزنامہ مشرق ٣؍ فروری ١٩٦٤ء اور باؤنڈری کمیشن کے ممبر جسٹس محمد منیر کا مضمون مندرجہ روزنامہ نوائے وقت ٧ جولائی ١٩٦٤ء)
- ☆...... ’’مرزائیوں نے مسلمانوں کی ملی وحدت کو پارہ پارہ ہوتے دیکھ کر سقوط
بغداد پر چراغاں کئے اور اب بھی ملت اسلامیہ کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ان کا مرکز موجود ہے۔‘‘
(مولانا ظفر احمد انصاری کا نیشنل اسمبلی پاکستان میں بیان)
- ☆...... ’’مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں ایم ایم احمد سمیت تمام قادیانی برابر کے
نہ صرف شریک بلکہ علمبردار تھے۔‘‘
(عجمی اسرائیل از شورش کاشمیری مرحوم)
پاکستان کو خطرہ جو اس وقت لاحق ہے وہ اکھنڈ بھارت بنانے والی جماعت اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والی امت، مشرقی پاکستان کی قاتل تنظیم، ربوہ اور تل ابیب کا گٹھ جوڑ ہے۔ (جو عالمی استعمار کی مخفی خواہشوں کو معرض وجود میں لانے کا ذریعہ (Link) بن چکا ہے۔) اس خطرہ سے خبردار رہنا نہ صرف انتہائی لابدی و ضروری ہے۔ بلکہ اس کا تدارک بھی حکومت اسلامیہ پاکستان کا فرضِ اولین ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر و صدر مملکت پاکستان ملک عزیز کی کشتی کو داخلی و خارجی خطرات کی منجدھار سے نکالنے کے لئے نہ صرف کوشاں ہیں۔ بلکہ اسے حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مثالی مملکت بنانے کے لئے شب و روز اپنی تمام تر توانائیوں کو صرف کئے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ہمارا فرض تھا کہ ہم صدر مملکت کو اس بین الاقوامی اسلام دشمن تنظیم کے عقائد و نظریات سے باخبر کرتے۔
رب کعبہ کی قسم ! ہمارا نہ صرف یقین بلکہ ایمان و عقیدہ ہے کہ قادیانی و کمیونسٹ کسی بھی قیمت پر اس ملک کو اسلامی مملکت برداشت نہیں کر سکتے۔ اسلامیانِ پاکستان نے عقیدۂ ختم نبوت کے لئے ١٩٥٣ء و ١٩٧٤ء میں بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ مرزائیوں کے ہر دو فریق لاہوری
٥
وقادیانی منہ زور گھوڑے کی طرح شرارت وفساد انگیزی میں مصروف ہیں۔ اسلامیان پاکستان اپنی محنت وقربانی پر شب خون اور ١٩٧٤ء کی نیشنل اسمبلی کی ترمیم کا قتلِ عام قادیانیوں کے ہاتھوں برداشت نہیں کر سکتے۔ اسلامی نظام کا راز اس میں مضمر ہے کہ اسلامیان پاکستان کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے اسلامی نظام کی علمبردار حکومت کو مندرجہ ذیل خالص مذہبی و اسلامی مطالبات پر فوری توجہ فرمانی چاہئے۔
مطالبات
- ١...... مرزائیوں کو کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ ٢...... ان پر اسلام اور
پاکستان دشمنی کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔ ٣...... مرزائیوں کے جرائد ورسائل پر پابندی عائد کی جائے۔ ان کا خلافِ اسلام تمام لٹریچر ضبط کیا جائے۔ ٤...... مرزائیوں کو مسجد‘ اذان‘ نبی‘ رسول‘ خلیفہ‘ امیرالمومنین‘ امہات المومنین‘ صحابہ جیسی مقدس اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً باز رکھا جائے۔ ٥...... شناختی کارڈ‘ راشن کارڈ‘ پاسپورٹ‘ سکول سرٹیفیکیٹ میں مذہب کا اندراج کیا جائے۔ ٦...... کروڑوں روپے کی تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی زمین جو مارشل لاء حکومت نے قادیانیوں سے واپس لی تھی۔ اب پھر ان کو بالطائف الحیل واپس کی جارہی ہے کا تدارک کیا جائے۔ ٧...... ربوہ ٹاؤن کمیٹی کے چیئرمین و وائس چیئرمین کا الیکشن کروایا جائے۔ حکومت کے جداگانہ انتخاب کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کے طور پر قادیانیوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ نتیجتاً مسلمان ممبر منتخب ہوئے۔ اب قادیانی ربوہ کمیٹی کے چیئرمین کے الیکشن کو مقامی انتظامیہ سے ملی بھگت کر کے رکوائے ہوئے ہیں۔ ٨...... جس جسٹس نے ڈیرہ غازی خان کی مسجد کی تنازعہ میں سینکڑوں صفحات کا فیصلہ قادیانیوں کے حق میں اور امت مسلمہ کے خلاف لکھا اسے وفاقی شریعت بینچ کی رکنیت سے الگ کیا جائے۔ کسی قادیانی یا قادیانی نواز کو کسی سطح پر بھی شریعت بینچ کا رکن نہ بنایا جائے۔ ٩...... پاکستان میں دعویٰ نبوت قابلِ تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ ١٠...... پیر ہوٹل راولپنڈی کے زنا وشراب کے مرتکب قادیانی مجرموں کی سزا کو بحال کرکے اخلاق باختگی کے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
(منجانب! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون 4514122)
٦
میں مصروف ہیں۔ اسلامیان پاکستان ترمیم کا قتل عام قادیانیوں کے ہاتھوں ہے کہ اسلامیان پاکستان کے جذبات کا کو مندرجہ ذیل خالص مذہبی و اسلامی
کیا جائے۔ ٢....... ان پر اسلام اور انیوں کے جرائد و رسائل پر پابندی ٤....... مرزائیوں کو مسجد‘ اذان‘ نبی‘ اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً تھ سرٹیفیکیٹ میں مذہب کا اندراج کی زمین جو مارشل لاء حکومت نے واپس کی جارہی ہے کا تدارک کیا الیکشن کروایا جائے۔ حکومت کے وں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ نتیجتاً کے الیکشن کو مقامی انتظامیہ سے ملی غازی خان کی مسجد کی تنازعہ میں مسلمہ کے خلاف لکھا اسے وفاقی ق نواز کو کسی سطح پر بھی شریعت بینچ بل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ مجرموں کی سزا کو بحال کر کے
غ روڈ ملتان ،فون 4514122 )
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ھوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
قادیانیوں کے اصل عقائد
بجواب جماعت احمدیہ کے عقائد
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھری
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف !
قادیانیوں نے ”جماعت احمدیہ کے عقائد“ نامی ایک کتابچہ شائع کیا۔ جس کا (مغربی) پاکستان میں جواب ”مرزائیوں کی طرف سے بہت بڑا فریب“ شائع کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد قادیانیوں نے اپنا یہی کتابچہ (مشرقی پاکستان) میں شائع کیا تو اس کا جواب وہاں پر شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے یہ پمفلٹ مرتب فرمایا۔ جو بنگلہ زبان میں شائع کرنے کی غرض سے وہاں بھجوایا گیا۔ اصل پمفلٹ اردو میں تھا۔ اس کا مسودہ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے محفوظ کر لیا۔ (مغربی) پاکستان میں یہ آج تک شائع نہیں ہوا۔ قادیانی عقائد کو سمجھنے کے لئے مختصر اور جامع تحریر ہے۔ اسے شائع کر رہے ہیں۔
(مرتب)
”ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں۔ یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے۔ تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔“
(خط حکیم الامت علامہ اقبالؒ ، انوار اقبال ص ٢٦٤)
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما،احزاب :٤٠ ! ﴿نہیں ہیں محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ۔﴾
اس آیت میں آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے سلسلہ نبوت کے ختم کر دینے کا اعلان فرمایا اور آنحضور ﷺ کو ختم نبوت کا تاج پہنا کر تمام انبیاء ورسل پر فضیلت عطاء کی گئی۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ: ”انبیاء ورسل کے گروہ میں سب سے پہلے آدم ہیں اور سب سے بعد محمد ﷺ ۔“
(کنز العمال ج ١١ ص ٤٨٠ حدیث ٣٢٢٦٩)
٢
آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو جہاں دوسرے آنے والے مفاسد و فتن سے آگاہ فرمایا۔ وہاں جھوٹے نبیوں کے دجل وفریب کی بھی اطلاع دی۔ ارشاد گرامی ہے کہ: ”میرے بعد تیس کذاب و دجال پیدا ہوں گے۔ جو اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے، لیکن میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔“
(ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون)
حضرت حذیفہؓ کی روایت میں ارشاد ہے کہ: ”ایسے ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو میری راہِ ہدایت سے منحرف ہو کر اپنا علیحدہ طریقہ اختیار کریں گے۔ جو شخص ان کی بات پر عمل کرے گا۔ اسے جہنم میں داخل کر کے چھوڑیں گے ۔ حضرت حذیفہؓ نے ایسے اشخاص کی علامات دریافت کیں تو ارشاد ہوا کہ وہ ہماری ہی قوم سے ہوں گے۔ (یعنی مسلمان کہلائیں گے ) ان کا ظاہر علم وتقویٰ سے آراستہ ہوگا۔ مگر باطن ایمان و ہدایت سے خالی ہوگا ۔ وہ ہماری ہی زبانوں سے باتیں کریں گے۔ مطلب یہ کہ بظاہر قرآن وحدیث سے ہی استدلال کریں گے ۔ مگر امت محمدیہ کے سراسر خلاف مطلب نکالیں گے۔ اسی روایت میں ارشاد فرمایا کہ اگر ایسی حالت رونما ہو تو ان گمراہ فرقوں سے الگ رہنا۔ اگر چہ تمہیں درختوں کے پتے جڑیں چبا کر گذر کرنا پڑے اور تادمِ مرگ اسی طرزِ زندگی پر مجبور رہو ۔“
(بخاری ومسلم)
ان روایات میں لسانِ نبوت ﷺ نے کذاب کے ساتھ دجال کا لفظ ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ اگر چہ قرآن و سنت کا لفظ استعمال کریں گے ۔ لیکن ان آیات و احادیث کا مفہوم بیان کرنے میں سراسر دجل وفریب سے کام لیں گے ۔ مخبرِ صادق ﷺ نے اس گمراہ فرقہ کے جہنمی ہونے کی وعید ارشاد فرمائی ۔ حضرت حذیفہؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ خاتم الانبیاء ﷺ باذن اللہ اور فراستِ نبوت سے مرزا غلام احمد کے دجل و فریب اور اس کے پاکستان میں اقتدار و کذب وزور کو ملاحظہ فرمارہے تھے کہ ایک وقت میں تعلیم یافتہ مسلمان کو بہتر ملازمت، اچھی تجارت، خوبصورت اور تعلیم یافتہ بیوی، دنیاوی اقتدار مرزائی (مرتد) ہونے سے حاصل ہوگا۔ اس لئے ارشاد فرمایا کہ ان گمراہ فرقوں سے الگ رہنا اگر چہ تمہیں درختوں کے پتے اور جڑیں کھا کر گزارہ کرنا پڑے۔ جو مسلمان دنیاوی اقتدار ، ملازمت شادی وغیرہ کے لئے مرزائیت اختیار کرتے ہیں ۔ ان کے لئے حضور ﷺ کے اس ارشاد گرامی میں کس قدر عبرت موجود ہے؟۔
مرزائی تعلیمات فرمودۂ رسول ﷺ کی روشنی میں دجل وفریب کا پلندہ ہیں اور جلال الدین شمس آنجہانی مرزائی کا پمفلٹ شائع کردہ نظارت اصلاح و ارشاد چناب نگر (سابقہ ربوہ )
٣
میں شمس قادیانی نے اہل اسلام کو بہت بڑا فریب دینے کی کوشش کی ہے۔ پمفلٹ کو ”جماعت احمدیہ کے عقائد“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس وقت جو پمفلٹ ہمارے سامنے ہے۔ اس پر بار پنجم تعداد ایک لاکھ جولائی ١٩٦٤ء درج ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فریب دہی کا سلسلہ بہت وسیع ہے اور اب تک کروڑوں کی تعداد میں یہ پمفلٹ مسلمانوں تک پہنچایا جا چکا ہوگا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے ١٩٦٤ء میں ہی اس کا جواب دیا گیا تھا اور اس وقت جماعت ختم نبوت نے پمفلٹ موسومہ ”مرزائیوں کی طرف سے بہت بڑا فریب“ کے نام سے کثیر تعداد میں تقسیم کیا تھا۔ اب جب کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا تبلیغی نظام ١٩٦٤ء کے تبلیغی نظام سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ بحمد اللہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں ملک سے باہر بھی تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہیں۔ ضرورت محسوس ہوئی کہ ٦٤ء کے پمفلٹ میں کچھ ترمیم و توسیع کے بعد دوبارہ شائع کیا جائے۔ تاکہ وسعت پذیر نظام میں اس پمفلٹ کی اشاعت بھی دور دراز تک ہو سکے۔
آنجہانی شمس قادیانی نے اس پمفلٹ میں اپنی جماعت کے عقائد کی تشریح چھ باتوں سے کی ہے اور انہی چھ باتوں سے اہل اسلام کو دھوکہ اور فریب دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ حالانکہ بانی جماعت احمدیہ اور اس کے جانشینوں کی تصانیف بھری پڑی ہیں کہ انہی چھ باتوں میں وہ عالم اسلام کے خلاف عقائد رکھتے ہیں۔ شمس قادیانی نے لکھا ہے کہ:
- ١...... اسلام ہمارا دین ہے۔
- ٢...... لا الہ الا الله محمد رسول الله! ہمارا کلمہ طیبہ ہے۔
- ٣...... قرآن کریم جو حضورﷺ پر تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا
آخری شریعت ہے۔
- ٤...... آیت خاتم النبیین پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین
مانتے اور یقین کرتے ہیں۔
- ٥...... آپ ہی کی امت میں اپنے آپ کو شمار کرتے ہیں۔
- ٦...... اور ہمارا ایمان ہے کہ قیامت تک قرآن کریم کے احکام میں کوئی ترمیم
و تنسیخ نہ ہوگی۔
قارئین کرام! شمس قادیانی نے جو چھ باتیں بیان کیں بالکل وہی عقائد ہیں جو جملہ عالم اسلام کے ہیں اور اس طرح انہوں نے اہل اسلام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مرزائیوں
٤
کے عقائد اور مسلمانوں کے عقائد میں کوئی فرق نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاملہ یہی ہے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلفاء اور متبعین نے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی امت مسلمہ کے ٩٠ کروڑ مسلمانوں کو کافر کیوں قرار دیا؟ حتیٰ کہ خلیفہ قادیانی بشیر الدین محمود ایک دفعہ کسی طرح حجاز مقدس جانے میں کامیاب ہو گیا۔ تو واپس آکر کہا کہ غیر احمدی امام کی اقتداء میں نماز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے ہم نے احتراز کیا اور اگر کبھی حرم میں مجبوراً باجماعت نماز پڑھی تو قیام گاہ پر آکر اسے لوٹایا۔ دیکھئے اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھنے کا نتیجہ کہ بیت اللہ شریف میں پڑھی گئی باجماعت نماز کو لوٹایا۔ کیونکہ امام غیر احمدی تھا اور مرزائیوں کے نزدیک سب مسلمان جو مرزائی نہیں دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ تمام دنیائے اسلام کے کفر کے متعلق مرزائی کتب میں یوں اظہار خیال ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی رقم طراز ہے کہ: ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ص ١٦٧ ج ٢٢)
”اب ظاہر ہے ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
مرزا تیسری جگہ لکھتا ہے کہ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ٣٣٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
حکیم نور الدین قادیانی کی بھی سنئے۔ ”ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہوسکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں عام ہے۔ خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک میں کسی مامور من اللہ ! کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتائیے اختلاف فروعی اختلاف کیونکر ہوا۔“
(نہج المصلی، مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٢٧٥)
الف...... ”محمد رسول اللہ ﷺ کے منکر یہود و نصاریٰ اللہ کو مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کو مانتے ہیں۔ کیا اس انکار پر کافر ہیں یا نہیں؟۔ کافر ہیں۔ ب...... اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح (مرزا قادیانی) کا منکر کیوں کافر نہیں۔“
(نہج المصلی، مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٣١٨)
٥
مرزا بشیرالدین محمود لکھتا ہے ۔ ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں ( یعنی غیر مرزائیوں ) کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں ۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے ۔“
(انوارِ خلافت ص ٩٠ ، تقریر مرزا بشیر الدین محمود )
”جو شخص غیر احمدی (یعنی غیر مرزائی ) کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت (یعنی مرزائیت ) کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے ۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو ۔ مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے ۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو ۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦ ، اپریل ١٩٥٦ء )
اس حوالہ میں بشیر الدین محمود نے اہل اسلام کو ہندو عیسائی کے برابر کافر کہا۔
مرزا غلام احمد کے دوسرے لڑکے مرزا بشیر احمد ایم اے نے بھی فتویٰ دیا کہ : ”ہر ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے ۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے ۔ مگر محمدﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمدﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی ) کو نہیں مانتا ۔ وہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(کلمۃ الفصل ص ١١٠ )
مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے۔ ”قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین“ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٩٢) اب کہاں ہیں وہ لوگ جن کا یہ قول ہے کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں وہ دیکھیں کہ خدا مسیح موعود کو حکم دیتا ہے کہ تو کہہ دے اے کافرو میں صادقین میں سے ہوں ۔ یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس الہام میں مخاطب ہر ایک ایسا شخص ہے جو مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا۔ کیونکہ فقرہ انی من الصادقین ! اس کی طرف صاف طور پر اشارہ کر رہا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر ایک جو آپ کو صادق نہیں جانتا اور آپ کے دعویٰ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٣٣)
مرزائیت کی اندھیر نگری میں روشنی کے متلاشی بھائی! مرزا غلام احمد قادیانی اس کے خلفاء اور اولاد کے خیالات پڑھ کر غور فرمائیں کہ اگر معاملہ آنجہانی شخص کے بیان کردہ عقائد تک ہی محدود ہے تو پھر انہی عقائد کے حامل ٩٠ کروڑ سے زائد مسلمانوں کے خلاف کفر کا فتویٰ کیوں؟ اور پھر غضب یہ کہ مرزائیت کے پوپوں نے کسی بھی ملک کے مسلمانوں کو اس فتویٰ سے مستثنیٰ نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اس کفر کی بھینٹ وہ مسلمان بھی کر دئیے ۔ جنہوں نے آج تک غلام احمد قادیانی کا نام
تک نہیں سنا۔ اب مرزائیوں کے گرو صاحبان کے ارشادات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ مرزائیوں اور عامۃ المسلمین سے ایک گروہ ضرور کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج۔ جیسا کہ مرزائیت کے ناقوس اعظم ظفر اللہ خان نے قائداعظم کو مسلمان نہ سمجھنے پر ان کا جنازہ نہ پڑھا اور کہا کہ آپ چاہے مجھے مسلمان حکومت کا کافر وزیر سمجھ لیں یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر۔ تو پھر مرزائی ٩٠ کروڑ کلمہ گو مسلمان کو جو دامان محمدﷺ سے وابستہ ہیں۔ جن کے نزدیک بیت اللہ شریف میں ادا کی گئی۔ ایک نماز ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔ جن میں اسلامی شعائر اسلامی مراکز کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں جو ملت بیضاء ہیں۔ جب مرزائی ان سب کو کافر کہتے ہیں تو کیوں اپنے کو نئے نبی (کاذب) پر ایمان لے آنے کے باعث امت محمدیہ سے علیحدہ ایک امت قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ جب ان کا سارا نظام ہی امت مسلمہ سے علیحدہ ہے نہ نماز مشترک نہ معاشرت وازدواجی تعلق مشترک حتیٰ کہ بیت اللہ شریف کے افضل ہونے میں بھی اختلاف۔
اصل بات! جس طرح کسی سچے نبی کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح کسی جھوٹے مدعی نبوت کا ماننا کفر ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی سچے نبی ہیں۔ اس لئے مرزائی اپنے سوا تمام کلمہ گو مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور اہل اسلام کے نزدیک مرزا غلام احمد جھوٹا نبی ہے۔ اس لئے اہل اسلام کے نزدیک مرزائی گروہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک ساری امت محمدیہ باوجود کلمہ پڑھنے قرآن کریم کو آخری کتاب اور اسلام کو اپنا دین ماننے کے، اس لئے کافر ہیں کہ اس نے مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانا اور امت محمدیہ کے نزدیک سب مرزائی کافر اور دائرہ اسلام سے اس لئے خارج ہیں؟۔ انہوں نے ایک ایک کذاب و دجال مدعی نبوت کو نبی مان لیا۔ مرزائیوں ہی کے عقائد کی روشنی میں ایک فریق یقیناً کافر ہے۔ آئیے قانونی طور پر اسے تسلیم کر لیجئے۔ امت محمدیہ سے علیحدہ ہو جائے۔ مابخیر شما بسلامت!
اب ہم آنجہانی شمس مرزائی کی بیان کردہ چھ باتوں کو علیحدہ بیان کرتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان چھ باتوں کو مرزائیوں ہی کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھیں۔ شمس قادیانی کی بیان کردہ چھ باتیں نمبر وار مع ہمارے جواب درج ذیل کی جاتی ہیں:
١... مرزائیوں کا پہلا فریب
”اسلام ہمارا دین ہے۔“ غلط کہا۔ کیونکہ ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی کو سچا ماننے کا
٧
نام ہی اسلام ہے۔ قادیانی اخبار کی شہادت ملاحظہ کریں: ’’عبداللہ کولیم نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویب نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی۔ مگر آپ نے (مرزا قادیانی) نے مطلق ان کو ایک پائی کی مدد نہ دی۔ اس کی وجہ یہ ہے جس اسلام میں آپ (مرزا قادیانی) پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ (قادیانیت) کا ذکر نہ ہو اسے آپ اسلام ہی نہیں سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم نورالدین نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہمارا (یعنی قادیانیوں کا) اسلام اور ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٨٥ ص ٦، ٣١؍ دسمبر ١٩١٤ء)
’’حضرت مسیح موعود کی زندگی میں محمد علی لاہوری اور خواجہ کمال الدین کی تجویز پر ١٩٠٥ء میں ایڈیٹر صاحب اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے رسالہ ریویو آف رلیجنز قادیان کی کاپیاں بیرون ملک میں بھیجی جائیں۔ بشرطیکہ اس میں مسیح موعود کا نام نہ ہو۔ مگر حضرت اقدس نے اس تجویز کو اس بنا پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے۔ اس پر ایڈیٹر وطن نے اس چندہ کے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ١٦ نمبر ٣٢ ص ١١، مورخہ ١٩؍ اکتوبر ١٩٢٨ء)
’’جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فعل قابل ملامت نہیں اور ہرگز نہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات پر الزام کس لئے پس جس طرح حضرت موسیٰؑ کے وقت میں موسیٰؑ کی آواز اسلام کی آواز تھی اور حضرت عیسیٰؑ کے وقت میں عیسیٰؑ کی اور سیدنا و مولانا حضرت مصطفیٰ ﷺ کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اس طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔‘‘
(اخبار الفضل ج ٧ نمبر ٧٩، ٢؍ مئی ١٩٢٠ء)
قارئین کرام! شمس مرزائی کے دعویٰ اسلام ہمارا دین ہے کی تشریح آپ نے مرزائی تعلیمات کی روشنی میں ملاحظہ فرمائی۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کے اسلام اور قادیانیوں کے اسلام کو دو علیحدہ چیزیں بیان کرتا ہے۔ جس اسلام میں غلام احمد قادیانی کی نبوت کا اقرار نہ ہو اسے مردہ اسلام کہتے ہیں۔ ان کے بیٹے مرزائی اسلام اور محمدی اسلام میں اتنا ہی فرق بتاتے ہیں جتنا محمدی اسلام اور موسوی اسلام۔ محمدی اسلام اور عیسوی اسلام میں ہے۔ پھر اگر مسلمان انہیں محمدی اسلام سے خارج کرنے اور علیحدہ اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو خدا جانے مرزائی کیوں ناپسند کرتے ہیں؟۔ مذکورہ حوالہ جات اور مرزائیوں کے طرز بودوباش سے بالکل علیحدہ
٨
مذہب امت محمدیہ سے علیحدہ فرقہ کی نشاندہی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں مرزائی جس عظیم اکثریت سے ہر شعبہ حکومت پر قابض ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں میں ہی شمار ہو کر دونوں ہاتھوں سے مسلمانوں کے حقوق لوٹتے رہیں۔ اس طرح مرزائی ”کھانے کے دانت اور ، دکھانے کے اور“ کی بدترین مثال پیش کر رہے ہیں اور حکومت پاکستان اور عام مسلمانوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہیں۔
٢... مرزائیوں کا دوسرا فریب
”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہمارا کلمہ ہے۔“ یہ بھی جھوٹ ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا نام نامی اسم گرامی زبان سے ادا کرتے وقت ہر مسلمان کی مراد آقاء نامدارﷺ سے ہوتی ہے۔ جو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور اس وقت مدینہ طیبہ میں آرام فرما ہیں۔ کیا مرزائی بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے حضور ہی کی ذات بابرکات مراد لیتے ہیں؟۔ آئیے مرزائی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ مرزاغلام احمد کے فرزند جناب بشیر احمد ایم اے سے کسی شخص نے سوال کیا کہ جب مرزائی غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ تو پھر اپنا کلمہ علیحدہ کیوں نہیں پڑھتے۔ مرزا بشیر احمد نے جواب دیا کہ: ”اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد ) کی آمد نے محمد رسول اللہ ﷺ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی۔“
(کلمۃ الفصل ١٥٨)
یہی مرزا بشیر احمد ایم اے تحریر کرتا ہے کہ: ” پس مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد ) خود محمد رسول اللہ ہیں۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ اس لئے ہم کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔
(کلمۃ الفصل ١٥٨)
لیجئے خود مرزا غلام احمد قادیانی کی سنئے مسیح موعود نے فرمایا کہ:
”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم....... الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں ، اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔“
اب اس الہام سے دو باتیں ثابت ہوئیں کہ: ١...... یہ کہ آپ (یعنی غلام احمد قادیانی ) محمد ہیں اور آپ کا محمد ہونا بلحاظ رسول اللہ ہونے کے ہے نہ کہ کسی اور لحاظ سے آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی ) کے صحابہ آپ کی اس حیثیت سے محمد رسول کے ہی صحابہ ہیں۔ جو اشداء علی
٩
الکفار رحماء بینہم کی صفت کے مصداق ہیں۔ (اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ١٥، جولائی ١٩١٥ء) ان حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ سے مراد غلام احمد قادیانی ہی ہے اور وہ بھی بلحاظ رسول اللہ ہونے کے یعنی جتنی عظمت حضورﷺ میں بحیثیت رسول خدا ہونے کے ہے۔ اتنی ہی نعوذ باللہ غلام احمد قادیانی میں بحیثیت رسول خدا کے ہے۔ نقل کفر ، کفر نباشد ۔ (العیاذ باللہ )
کہیے ! جب مرزائی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں اور محمد سے مراد غلام احمد لیتے ہیں اور مسلمان غلام احمد قادیانی کو انہی دعاوی فاسدہ کے باعث خارج از اسلام یقین کرتے ہیں تو مرزائیوں اور مسلمانوں کا کلمہ ایک کس طرح ہوا؟۔ پڑھیے سوچئے اور مرزائیوں کی اس فریب دہی سے بچئے۔
٣... مرزائیوں کا تیسرا فریب
”قرآن کریم جو حضورﷺ پر تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا۔ آخری شریعت ہے۔“
امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ قرآن کریم حضور پرنورﷺ پر نازل ہوا۔ قرآن کریم کا نزول اس کے احکام تمام انسانیت کے لئے ہیں اور یہ کتاب و شریعت آخری کتاب ہے۔ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ امت محمدیہ کے بعد کوئی امت نہیں قرآن کریم کے بعد کوئی کتاب نہیں۔ قیامت قائم ہو جائے گی۔ لیکن جبرائیل ؑ حضور پاکﷺ کے بعد احکام خداوندی لے کر کسی آدم کے بیٹے کی طرف نہ آئیں گے۔
اگر مرزائیوں کے بھی یہی عقائد ہیں تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی تعلیمات کی صورت میں نئے نبی اور نئی وحی کی کیا ضرورت اور اس کا دعویٰ کر کے امت محمدیہ کے اجماع کے خلاف ایسی جسارت کیوں؟۔ مرزائیوں کا اعلان کہ قرآن کریم تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے ہے اور آخری شریعت ہے۔ لیکن مرزائی عقیدہ اس کے خلاف و برعکس ہے۔ جب ہی تو حضورﷺ نے کذاب کے ساتھ دجال کے الفاظ ارشاد فرمائے۔
مرزائیوں کے عقائد سنئے کہ: ”اور میں جیسا کہ قرآن کریم کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوتی ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
١٠
”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن پر۔“
(اربعین ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن کریم پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن کریم کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
٤... مرزائیوں کا چوتھا فریب
”آیت خاتم النبیین پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے اور یقین کرتے ہیں۔“
اگر مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضور پاک ﷺ خاتم النبیین ہیں اور اس کے معنی مرزائیوں کے نزدیک وہی ہیں۔ جو چودہ سو برس سے تمام امت محمدیہ نے مراد لئے ہیں کہ حضور پاک ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی ہے۔ تو پھر ملک کے طول وعرض میں اہل اسلام کے ساتھ اجراء نبوت پر مناظرہ بازی کیوں اور ظلی و بروزی نبوت کی بحث کس لئے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے والے عرب و عجم کے مسلمان کافر کیوں؟۔ اس باب میں عالم اسلام سے مختلف عقیدہ رکھنے کے متعلق مرزائیوں کے عقائد ملاحظہ فرمائیے۔
- ١...... ”مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی راہوں میں سے آخری
راہ ہوں اور میں اس کے نوروں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بعد سب تاریکی ہے۔“
(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦١)
- ٢...... ”لیکن خدا نے میرے ہزاروں نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے بہت ہی
کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
- ٣...... ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا
گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جب اس دنیا سے گزر جاؤں۔“
(خط حضرت مسیح موعود بنام ایڈیٹر اخبار عام لاہور، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٧)
١١
- ٤...... ”میرا اس تمام بیان سے یہ مطلب ہے کہ نبوت کوئی الگ چیز نہیں کہ مل
جائے تو انسان نبی بن جاتا ہے۔ بلکہ اصل بات یہی ہے جیسے کہ میں اوپر قرآن کریم سے ثابت کر آیا ہوں کہ انسانی ترقی کے آخری درجے کا نام نبی ہے۔ جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء سے صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ آخر جب اس درجے سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سر الٰہی (نبی) بن جاتا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٥٣، مصنفہ بشیر الدین محمود)
- ٥...... ”محمدی ختم نبوت سے بکلی باب نبوت بند نہیں ہوا۔ کیونکہ باب نزول
جبرئیل بہ پیرایہ وحی الٰہی بند نہیں ہوا۔“
(تشحیذ الاذہان قادیان ج ١٣ نمبر ٨ ص ٤٦، اگست ١٩١٧ء)
- ٦...... ”یہ کہ آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) محمد ہیں اور آپ کا محمد ہونا بلحاظ
رسول اللہ ہونے کے ہے۔ نہ کہ کسی اور لحاظ سے۔“
(بیان بشیر الدین محمود الفضل ٤؍جولائی ١٩١٥ء)
مرزائیوں کا دجل ملاحظہ فرمائیے۔ امت محمدیہ نے چودہ سو سال سے خاتم النبیین کے معنی نبیوں کے ختم کرنے والے کئے اور مرزائی نبوت کو جاری مانتے ہیں اور یہی خیال کرتے ہیں۔ جس طرح شہید صدیق بن سکتے ہیں اس طرح نبی بھی بن سکتے ہیں۔ مذکورہ حوالہ جات سے آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزائی غلام احمد کو (نعوذ باللہ) محمد ہی سمجھتے ہیں اور آخری نور، اس نور کے بغیر سب تاریکی ہے۔ جب ہی تو ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ مرزائی ہندوؤں کو بھی اہل کتاب سمجھتے ہیں اور یہودیوں، نصرانیوں کو بھی، اس طرح اہل اسلام کو بھی۔
٥..مرزائیوں کا پانچواں فریب
”ہم آپ ﷺ ہی کی امت میں اپنے آپ کو شمار کرتے ہیں۔“
غلط! مرزائی جب اپنے کو امت محمدیہ کہتے ہیں تو لفظ محمد سے مراد غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ جیسا کہ ماسبق حوالہ جات سے معلوم ہوا اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کو کافر کہتے ہیں۔
ملاحظہ فرمائیے
”خدا تعالیٰ نے میرے اوپر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، تذکرہ ص ٦٠٧ طبع سوم)
”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے مسیح موعود کا
١٢
نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
ناظرین کرام! جس اسلام میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام نہ ہو وہ مردہ اسلام، جو غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے وہ خارج از اسلام ، محمدﷺ سے مراد غلام احمد قادیانی، خیال فرمائیے، مرزائی امت محمد ﷺ میں کس طرح شمار ہوئے اور جب کہتے ہیں کہ ہم حضور کی امت ہیں تو یہ دجل وفریب کے سوا کیا ہے؟ ۔ اس لئے مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ فرقہ اور امت محمدیہ سے علیحدہ امت ہیں۔
٦ ... مرزائیوں کا چھٹا فریب
”اور ہمارا ایمان ہے کہ قیامت تک قرآن کریم کے احکام میں کوئی ترمیم و تنسیخ نہ ہوگی ۔“ شمس قادیانی نے اس میں بھی دروغ گوئی سے کام لیا اور اہل اسلام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔
قرآن کریم کا حکم ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مرزائی غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ غلام احمد قادیانی کو نبی مان لینا ہی قرآنی احکام کو منسوخ ماننا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس کا درجہ قرآن کریم کے برابر ہے اور اس میں ایک ذرہ کا بھی فرق نہیں تو اب ان کے نزدیک قرآن کریم واجب العمل نہ رہا۔ بلکہ مرزا کی وحی واجب العمل قرار پائی۔ جیسا کہ نزول قرآن کے بعد تورات وانجیل واجب العمل نہ رہے۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کی متعدد آیات میں اعلاء کلمۃ الحق اور تحفظ اسلام ومسلمین کے لئے دشمنان اسلام اور کفار کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ السلام نے ان احکام کی روشنی میں کفار کے خلاف حیات طیبہ میں متعدد بار قتال کیا اور امت کو جہاد کا حکم دیا۔ اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد و قتال امت مسلمہ کے لئے فرض قرار پایا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی خوشنودی کے لئے جہاد کو حرام قرار دیا۔ ملاحظہ فرمائیے ۔
”دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ١٥)
”جہاد یعنی دینی لڑائی کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار
١٣
بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام قرار دیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔"
(اربعین ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣ حاشیہ)
”آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے۔ جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیوں کہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیرخواہ اس کو بننا پڑا۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
انگریز دشمن اسلام و مسلمین، ہندوستان پر انگریزوں کے قبضہ کرنے پر علماء حق نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا اور جہاد کو فرض کہا۔ لیکن انگریزوں کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو حرام اور انگریزی کی اطاعت کو فرض قرار دیا۔ مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی آیات جہاد کو منسوخ مانتے ہیں اور امت محمدیہ کو دھوکہ دیتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی حکم قیامت تک منسوخ نہیں اور تف اس مرزائی تعلیم پر کہ آیات جہاد کا انکار و تنسیخ محض دشمن اسلام انگریز کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔
قارئین کرام! آپ نے مرزائیوں کے دجل و فریب کو ملاحظہ فرمایا خدا تعالیٰ اہل اسلام کو اس گمراہ فرقہ کے دجل و فریب سے محفوظ فرمائے۔
آپ کو مرزائی مناظرہ کے لئے تنگ کریں آپ کو اس گمراہ فرقہ کے خلاف تبلیغ کی ضرورت ہو۔ آپ کو مرزائیوں کے لٹریچر کے خلاف اہل اسلام کے لٹریچر کی ضرورت ہو۔
مناظرہ تبلیغ زبانی و تحریری (ہر زبان میں) کے لئے آپ دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان مغربی پاکستان تحریر فرمائیے۔ مبلغ، مناظر، لٹریچر آپ دنیا کے جس حصہ میں بھی ہیں وہیں اللہ کے فضل سے مہیا کیا جائے گا۔
الحمد للہ کہ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مقتدر علماء کی سرپرستی میں ہمہ قسمی تبلیغی ضروریات پورا کرنے کے قابل ہے۔
١٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
جلسہ سیرت النبی
اور قادیانی گروہ
مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؔ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مثواہ جہنم کی وعید ان کو سنادو
(ظفر علی خان مرحوم)
برادران اسلام! آپ کی آگاہی کے لئے گزارش ہے کہ یہ بابرکت مہینہ جو ربیع الاوّل کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سرکار دو عالمﷺ کے تذکرہ مقدسہ کے سلسلہ میں جلسے کر کے حضور اکرمﷺ کے ساتھ اپنے عشق اور عقیدت کا اظہار کرتی ہے۔ وہاں اس کے ساتھ ہی دوسرا ایک گروہ جو قادیانی فرقہ کے نام سے موسوم ہے۔ جن کے مذہب کی بنیاد ہی مقدسین اسلام کی توہین میں رکھی گئی ہے اور جن کا کرشن قادیانی اور رودر گوپال (ملاحظہ ہو حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کذاب پورے مقدسین کے علاوہ حضرت ختم المرسلینﷺ ۔ یعنی اللہ کے حبیب آخری نبی جناب محمد رسول اللہﷺ کی شان میں جن گستاخیوں کا مرتکب ہوا ہے۔ اس پر وہ پردہ ڈالنے اور عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آنحضرتﷺ کے عقیدت مند ہیں۔ اس لئے ہم آپ حضرات کی آگاہی کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کی کتب سے چند حوالجات توہین سید الاولین والآخرین نقل کرتے ہیں۔ تا کہ آپ حضرات قادیانیوں کے دھوکہ اور دجل سے محفوظ رہیں۔
- ١...... ”محمد رسول اللہ ، والذین معہ اشداء علی الکفار الآیۃ
اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
- ٢...... ”اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی
صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
٢
- ٣........ ”آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٣‘ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
- ٤........ ”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی
طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧‘ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
- ٥........ ”ان چند سطروں میں جو پیشگوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں
جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦‘ خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ آنحضرت ﷺ کے معجزات تو صرف تین ہزار اور مرزا قادیانی کے معجزات سے ایک ہزار نبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے اور براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ص ٥٨ پر تحریر کرتے ہیں کہ ”میرے نشانات پہنچ تو ایک کروڑ تک گئے ہیں۔ مگر میں پھر بھی دس لاکھ لکھتا ہوں۔“ (براہین احمدیہ، خزائن ج ٢١ ص ٧٥ ملخص) نعوذ باللہ!
- ٦........ ”نبی کریم ﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے
لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١‘ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
” (آنحضرت) کے معجزات میں معجزانہ کلام تھا۔ اس طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١‘ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ ان حوالوں میں سید دوعالم ﷺ کے ساتھ ہمسری اور آپ ﷺ پر برتری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ (نعوذ باللہ)
- ٧........ ”جو شخص مجھ (مرزا قادیانی) میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے۔ اس
نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١‘ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
- ٨........ ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی
صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧‘ خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)
- ٩........ ”حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی
ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودہویں رات کے چاند
٣
کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨١ خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)
- ١٠....... ”اسلام ہلال (پہلی رات کے چاند) کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا
کہ انجام کار آخر زمانہ میں (یعنی مرزا قادیانی کے وقت۔ مرتب) بدر (چودہویں رات کا چاند) ہو جائے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨٤ خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥)
آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ آنحضرتﷺ کی روحانیت آپ کے زمانہ میں ناقص تھی اور پہلی رات کے چاند کی مثل تھی۔ مگر مرزا قادیانی کے آنے پر اکمل ہوگئی اور حضورﷺ کا زمانہ روحانی ترقی کا زمانہ نہ تھا۔ مگر مرزا قادیانی کا زمانہ روحانی ترقی کا زمانہ تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا ایک مرید اکمل گولیکے اس عبارت کا ترجمہ اپنے مندرجہ اشعار میں کرتا ہے:
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد جس نے دیکھنے ہوں اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣ مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ یہ ہے حقیقت کہ سیرت النبیﷺ کے قادیانی جلسوں کی، کہ در پردہ یہ گروہ دشمن ہے سرور کائناتﷺ کا۔
ایک مغالطے کا جواب
قادیانی ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے جھٹ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تو آنحضرتﷺ کی تعریف کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو حوالہ جات ہم نے درج کئے ہیں یہ بھی آخر قادیانی کی کتب سے ہیں۔ تو یہ مرزا قادیانی کی شرارت ہوئی کہ کہیں تعریف کی اور کہیں توہین کی۔ ملاحظہ ہو مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
”شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو (توہین) کرتے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں۔ گویا وہ منصف مزاج ہیں۔“ (مندرجہ ست بچن حاشیہ ص ١٤ خزائن ج ١٠ ص ١٢٥ حاشیہ)
(عبدالرحیم اشعر...... ١٥ اکتوبر ١٩٥٦ء)
٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزا غلام احمد قادیانی
کی آسان پہچان
مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
دیباچہ!
عارف والا سے بورے والا وہاڑی روڈ پر ساتویں میل پر ایک چک ٦٥ اثنا ہزاریاں والہ ہے۔ وہاں پر پاکستان بننے کے بعد ایک فوجی معزز عہدیدار سلطان محمد کو سرکاری طور پر کئی مربع الاٹ ہوئے تھے۔ یہ شخص مرزا غلام احمد قادیانی کا رقیب تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اس فوجی عہدیدار کی بیوی کے متعلق گھڑ رکھا تھا کہ اگر اس نے محمدی خاتون سے نکاح کیا تو روز نکاح سے اڑھائی سال میں مرجائے گا اور والد اس خاتون کا تین سال میں مرجائے گا اور یہ خاتون بیوہ ہوکر میرے عقد میں آئے گی اور یہ لکھا تھا کہ یہ الہام الٰہی ہے اور میرے سچے، جھوٹے ہونے کا معیار ہے اور میں نے اپنے ملہم سے پوچھ کر تحدی کی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا۔ جس دن اس پیشگوئی کا ظہور ہوا اس دن مخالف ذلیل و رسوا ہوں گے اور ان کی ناک کٹ جائے گی اور بندروں اور سوروں کی طرح ذلیل ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ!
مگر قدرت خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء کو مرگیا اور سلطان محمد قریب ٥٠ سال کے مرزا قادیانی کے بعد زندہ رہا اور وہ خاتون محترم بھی زندہ رہی۔ چنانچہ محترم فوجی صاحب کے پانچ بیٹے اس خاتون سے پیدا ہوئے اور وہ خاتون بھی ١٩ نومبر ١٩٦٦ء کو راہی ملک بقاء ہوئی۔
قادیانی اپنے پیر و مرشد کی طرح چالاک ہیں۔ انہوں نے سلطان محمد کے بیٹے کو چکر دے کر قادیانی مسلک کا نمائندہ بنادیا۔ حالانکہ اس غیرت مند کو سوچنا چاہئے تھا کہ میری ماں ایسی شریف خاتون تھی جس نے مرزا قادیانی کے بعد ٥٨ سال زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ اس رسالہ کو میں اس پاک دامن خاتون کے نام منسوب کرتا ہوں جس کے بے غیرت بیٹے نے اپنی ماں کی عزت کا خیال نہ کرتے ہوئے قادیانیت کا پھندہ اپنے گلے میں ڈال کر اپنے آپ کو خسر الدنيا والاخرة کا مصداق بنایا۔ کافی دنوں سے کتاب کا دوسرا ایڈیشن ختم ہو چکا تھا اور دوستوں کا تقاضا تھا کہ اسے پھر شائع کیا جائے۔ عام مسلمانوں کی ہدایت کے لئے طبع سوم پیش خدمت ہے۔
فقط والسلام!...... احقر عبدالرحیم اشعر ١٣ جمادی الاول ١٤٠٣ھ، ٢٢ فروری ١٩٨٣ء
٢
دیباچہ طبع دوم!
برادرانِ اسلام! ماہ شوال ١٣٨٦ھ میں پیش نظر رسالہ محبّ مکرم جناب صوفی اللہ وسایا صاحبؒ ڈیرہ غازی خان مبلّغ مجلس تحفظ ختم نبوت کی فرمائش پر مختصر طور پر عجلت میں لکھا تھا۔ صوفی اللہ وسایا صاحبؒ موصوف نے ایک مخلص دوست کی اعانت سے ٦ ہزار کی تعداد میں چھاپ کر تقسیم کیا۔ حتیٰ کہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں بھی تقسیم کیا گیا۔ مگر اس پر بھی قادیانی مرکز چناب نگر (سابقہ ربوہ) سے صدائے برخواست والا معاملہ رہا۔ البتہ سرگودھا شہر سے پوسٹ کیا ہوا بیرنگ خط موصول ہوا۔ وہ خط کیا ہے؟ قادیانی تہذیب کا دلچسپ مرقع ہے۔ یعنی گالیوں کا ایک پلندہ ہے۔ کیونکہ پرانے زمانے میں اس معاملہ میں لکھنؤ کی بھٹیاریاں ضرب المثل تھیں۔ مگر جب سے مرزا قادیانی تشریف لائے تو انہوں نے لکھنؤ کی بھٹیاریوں کو بھی مات کر دیا۔ اب رہے مرزا قادیانی کے مرید تو وہ بھی بدزبانی میں اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ خود مرزا قادیانی ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔
قارئین محترم! اس گالی نامہ کے جواب میں ہم صرف مرزا قادیانی کا ہی ایک شعر ان کے مریدوں کے سامنے پیش کرنے پر کفایت کرتے ہیں:
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے
(ملاحظہ ہو درثمین ص ٧٤، مجموعہ کلام مرزا قادیانی طبع لاہور)
بعد ازاں قادیانیوں کے ناقوس خصوصی الفضل چناب نگر (سابقہ ربوہ) نے اپنی اشاعت مورخہ ١٩ محرم ١٣٨٧ھ میں آسان پہچان کا نوٹس لیا۔ مگر پہلی اور دوسری پیشگوئی کا ذکر تک نہیں کیا۔ صرف تیسری پیشگوئی کی ایسی لچر تاویل کی ہے جس کو کوئی عقل مند قبول ہی نہیں کر سکتا۔
ہم نے یہ الہام جو البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥، ١٠٦ سے اور تذکرہ طبع سوم ص ٥٩١ پر درج
٣
ہے جو حسب ذیل ہے کہ:
”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“ جس کا صاف ترجمہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی موت مکہ میں ہوگی یا مدینہ میں۔
کیونکہ اس سے قبل خود اپنی کتاب (الوصیۃ ص٦‘ خزائن ج٢٠ ص٣٠١ ملخص) کہہ چکے ہیں کہ:
”خدا نے میری موت کی خبر دیدی ہے۔ اس لئے میں وصیت کر رہا ہوں۔“
تو مندرجہ بالا الہام سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کے خدا نے ان کی موت کا مقام بھی متعین کر دیا تھا۔ مگر دیدہ دلیری دیکھئے کہ چناب نگر (ربوہ) کا ناقوس خصوصی مرزا قادیانی کا اتنا اندھا مقلد ہے کہ ان کی جھوٹی تاویل نقل کر کے اپنی طرف سے تیس مار خاں بننے کی کوشش کر رہا ہے اور ساری دنیا کو اپنی طرح تنخواہ دار ملازم و غلام باور کرتا ہے کہ اگر ہم دن کو رات کہیں گے تو لوگ کہہ دیں گے کہ ہاں یہ ستارے بھی نکلے ہوئے ہیں۔
حالانکہ دنیا اب سچ اور جھوٹ کو پہچان چکی ہے۔ اب دجل و تلبیس سے کام نہیں چل سکتا۔ اب تاویل ملاحظہ فرمادیں کہ:
”مرنے سے قبل مکی فتح نصیب ہوگی یا مدنی فتح نصیب ہوگی۔“
”مرنے“ کا معنی ”فتح نصیب ہونا“ قادیانی لغت میں ہو تو ہو۔ ورنہ دنیا کی کسی لغت میں موت کا معنی فتح کرنا نہیں ہے۔ اگر کسی کتاب میں ایسا لکھا ہے تو ہم قادیانی دنیا کو چیلنج کرتے ہیں کہ ہم کو حوالہ دکھائیں اور منہ مانگا انعام حاصل کریں۔
اب نظر ثانی کے بعد یہ رسالہ سہ بارہ دفتر مرکزیہ ملتان سے شائع کیا جا رہا ہے۔
فقط والسلام! راقم: احقر عبدالرحیم اشعر ٢٥ فروری ١٩٨٣ء
٤
بسم الله الرحمن الرحیم !
تمہید !
دنیا میں اسلام سے قبل جتنے مذاہب موجود ہیں اور وہ کسی نہ کسی مقدس بزرگ اور ریفارمر کی طرف منسوب ہیں۔ ان میں ابتداء صداقت موجود تھی اور مبنی بر صداقت تھے۔ لیکن امتداد مدت ان مذاہب میں جھوٹی اور غلط تعلیم کی ملاوٹ سے خرابیاں پیدا ہو گئیں اور ان کی صداقت مشتبہ ہو گئی۔ لیکن ایک قادیانی مذہب ایسا ہے کہ جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پاک چیز ہے۔ مثلاً کوئی کپڑا یا برتن وغیرہ! اس کو گندگی اور ناپاکی لگ جاتی ہے تو جب اس کو پاک کرنا چاہیں تو نجاست دور کر کے اس کو پانی سے دھو کر پاک کر دیں گے۔ لیکن اس کے مد مقابل گندگی کا ایک ڈھیر ہے۔ اس کو اگر کوئی شخص دھو کر پاک کرنا چاہے تو پانی سے دھوتے دھوتے اس کا اصل وجود ختم ہو جائے گا۔ لیکن پاک نہ ہو سکے گی۔
یعنی پہلے مذاہب میں صداقت موجود تھی۔ اگر ان کو غلط تعلیم سے جدا کر دیا جائے تو اصل صداقت سامنے آ جائے گی۔ لیکن مرزائیت ایسی ناپاک چیز ہے کہ اگر کوئی شخص اس کو جھوٹ سے جدا کرنا چاہے تو اصل مرزائیت ہی ختم ہو جائے گی۔ اس میں صداقت کا ذرہ بھر بھی نہ ہو گا۔
قادیانی فرقہ کی عیاری
جب آپ نے قادیانی مذہب کی اصل حقیقت معلوم کر لی تو یہ بات یقیناً آپ کے ذہن میں بیٹھ گئی ہو گی کہ جو لوگ قادیانی مذہب سے اختلاف کو محض مسلمان فرقوں کی آپس کی آویزش خیال کرتے ہیں وہ لوگ دراصل قادیانی فرقہ کے عقائد سے ناواقفیت کی بناء پر ایسا کہتے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کے بالمقابل قادیانی فرقہ نہایت عیاری اور فریب کاری سے اپنے باطل عقائد کو چھپانے کے لئے مسلمانوں کے سامنے ختم نبوت اور حیات مسیح علیہ السلام جیسے علمی مسائل کو آڑ بنا کر الجھا دیتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ اصل بحث جو مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں تھی کہ وہ اپنے دعاوی میں جھوٹا ہے اس سے انسان غافل ہو جاتا ہے اور حقیقت کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہم اپنے قارئین محترم! کی آسانی کیلئے مرزا قادیانی کے اپنے پیش کردہ معیار صدق وکذب کو سامنے رکھ کر واضح کرتے ہیں کہ وہ خود اپنے پیش کردہ معیار ہی کی بناء پر جھوٹا تھا۔
٥
معیار اوّل
چنانچہ مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ”بدخیال لوگوں کو واضح رہے کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
معیار دوم
مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ”سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
جناب! مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ دونوں عبارتیں اتنی واضح ہیں کہ مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔
اب ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی تین پیشگوئیاں آپ کے سامنے رکھتے ہیں جو ان کے اپنے پیش کردہ معیار کے مطابق صریح جھوٹی نکلیں اور مرزا قادیانی نے ان کو پورا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ حیلے بہانے کئے، ٹوٹکے استعمال کئے اور یہاں تک کہ رشوت تک دینے کی بھی پیش کش کی۔ مگر جھوٹ جھوٹ ہی رہا۔ سچ نہ بن سکا۔
پیشگوئی نمبر ١ منکوحہ آسمانی
مرزا قادیانی کی چچازاد بہن کی ایک لڑکی تھی جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ والد اس لڑکی کا اپنے کسی ضروری کام کے لئے مرزا قادیانی کے پاس آیا۔ پہلے تو مرزا قادیانی نے شخص مذکور کو حیلوں بہانوں سے ٹالنے کی کوشش کی۔ مگر جب وہ کسی طرح نہ ٹلا اور اس کا اصرار بڑھا تو مرزا قادیانی نے الہام الٰہی کا نام لے کر ایک عدد پیشگوئی کر دی کہ:
”خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو الہام ہوا ہے کہ تمہارا یہ کام اس شرط پر ہو سکتا ہے کہ اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦ ملخص)
وہ شخص غیرت کا پتلا تھا۔ یہ بات سن کر واپس چلا گیا۔ مرزا قادیانی نے بعد ازاں ہر چند کوشش کی۔ نرمی، سختی، دھمکیاں، لالچ، غرض ہر طریقہ کو استعمال کیا۔ مگر وہ شخص کسی طرح بھی رام نہ ہو سکا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مرزا قادیانی نے تحدی کر دی کہ:
”میں اس پیشگوئی کو اپنے صدق وکذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ خدا سے خبر پانے کے بعد کہہ رہا ہوں۔‘‘
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
ناظرین کرام! لمبی بحثوں سے اجتناب کرتے ہوئے ہم صرف اتنا گزارش کرتے ہیں کہ پیشگوئی جب اللہ تعالیٰ سبحانہ کی طرف سے تھی اور ان کا مرزا قادیانی سے یہاں تک وعدہ تھا کہ:
”ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار (اس لڑکی کو) خدا تعالیٰ اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
حصول محمدی بیگم کے لئے انعام کی پیشکش
مندرجہ بالا وعدہ جب ہو چکا تھا تو مرزا قادیانی اتنا بے قرار اور مضطرب کیوں تھا؟۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا منجھلا صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے رقمطراز ہے کہ:
”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے (تانگہ) میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقد زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم ص ١٩٢، ١٩٣)
ہمارا صرف ایک ہی سوال ہے کہ اگر یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اور خود اللہ تعالیٰ نے ہی اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری بقول مرزا قادیانی اٹھالی تھی تو پھر مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ماموں کو روپے کا لالچ دے کر کیوں رام کرنے کی کوشش کی؟۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود تحریر کرتے ہیں کہ:
”ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی
٧
والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اپنے فریب سے اُن کے پورے ہونے کی کوشش کرے اور کراوے۔“
(سراج منیر ص ٦٥، خزائن ج ١٢ ص ٦٧)
آخر مرزا غلام احمد قادیانی بصد حسرت و ناامیدی بقول خود بروایت میر ناصر نواب خسر مرزا قادیانی مرض ہیضہ سے مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ (حیات ناصر ص ١٤، سیرت المہدی ص ١١، ١٠، ٩ ج اوّل) اور محمدی بیگم اپنے خاوند مرزا سلطان محمد کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر و خوبی آباد رہی اور اب لاہور میں اپنے جواں سال ہو نہار مسلمان بیٹوں کے ہاں ١٩ نومبر ١٩٦٦ء کو انتقال فرما گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
(ہفتہ وار الاعتصام لاہور اشاعت ٢٥ نومبر ١٩٦٦ء)
پیشگوئی نمبر ٢ عبداللہ آتھم عیسائی
مرزا قادیانی نے عبداللہ آتھم پادری سے امرتسر میں پندرہ دن تحریری مناظرہ کیا۔ جب مباحثہ بے نتیجہ رہا تو مرزا قادیانی نے اپنی سچی جمانے کے لئے ٥ جون ١٨٩٣ء کو ایک عدد پیشگوئی دھر گھسیٹی جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
”مباحثہ کے ہر دن کے لحاظ سے ایک ماہ مراد ہوگا۔ یعنی پندرہ ماہ میں فریق مخالف ہاویہ میں بسزائے موت نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میری گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
غرض مرزا قادیانی کی پیشگوئی کے مطابق عبداللہ آتھم کی موت کا آخری دن ٥ ستمبر ١٨٩٤ء بنتا تھا۔ اس دن کی کیفیت مرزا قادیانی کے فرزند مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی زبانی ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ:
”قادیان میں محرم کا ماتم“
”آتھم کے متعلق پیشگوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی۔ مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی
٨
گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی اتنا سخت کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور دوسری طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں وہاں اکٹھے ہو گئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں اس طرح انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دیئے۔ ان کی چیخیں سوسو گز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ آتھم مر جائے۔ یا اللہ آتھم مر جائے۔ یا اللہ آتھم مر جائے۔ مگر اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔‘‘
(خطبہ مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل قادیان ٢٠ جولائی ١٩٤٠ء)
اور اس قادیانی اضطراب پر مزید روشنی مرزا قادیانی کے منجھلے صاحبزادے بشیر ایم اے کی روایت سے پڑتی ہے کہ ابا جان نے آتھم کی موت کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کیں اور کون کون سے ٹوٹکے استعمال کئے۔ چنانچہ تحریر کرتے ہیں کہ:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفہ کی تعداد یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل اور ہم نے یہ وظیفہ قریب ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم نے وہ دانے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس لے گئے۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا دانے کسی غیر آباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل طبع دوم ص ١٧٨)
ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مرزا قادیانی نے خدا کی طرف سے موت کی دھمکی دی اور جب دیکھا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ہے تو شعبدہ بازوں کا ٹوٹکا استعمال کیا۔ مگر
٩
دشمن ایسا سخت جان نکلا کہ بجائے ٥ ستمبر کے ٦ ستمبر کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ مگر وہ نہ مرا اور یہ پیشگوئی بھی جھوٹی نکلی۔ باوجود یہ کہ مرزا قادیانی نے حیلے بازی اور شعبدہ بازی سے کام لیا اور کتوں سے بھی بدتر مرشد ومرید کا پارٹ ادا کیا۔ مگر جھوٹا تھا خدا تعالیٰ نے ناکام کیا۔
پیشگوئی نمبر ٣
”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“
(تذکرہ طبع سوم ص ٥٩١)
مرزا قادیانی کا یہ الہام یا پیشگوئی اردو زبان میں ہے اور اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی موت مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں ہو گی۔ مگر دیکھئے مرزا قادیانی کا انتقال لاہور میں بمرض ہیضہ ہوا اور مرزا قادیانی کے مرید ان کی لاش کو بذریعہ ریل گاڑی جو مرزا قادیانی کے نزدیک دجال کا گدھا ہے (ازالہ اوہام ص ٤٧٩ طبع پنجم خزائن ج ٣ ص ١٧٤) لاد کر قادیان لے گئے۔ تو یہ پیشگوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔
بزرگان محترم! مرزا قادیانی نے خود ہی ایک معیار مقرر کیا اور اس معیار پر خود ہی پورا نہ اتر سکا۔ اب انہیں کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں۔ تحریر کرتے ہیں کہ:
- ١....... ”جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں
ہو سکتی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦١ طبع لاہور خزائن ج ٥ ص ٣٢٢)
- ٢....... ”کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر
رسوائی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٣٥ طبع لاہور)
- ٣....... ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں
بھی اس پر اعتماد نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
حرف آخر!
قارئین کرام! ہم نے قادیانی حضرات کی دل جوئی کے لئے اپنی طرف سے ایک لفظ بھی فیصلہ میں تحریر نہیں کیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کے ہی فیصلے نقل کر دیئے ہیں۔ تا کہ ہر طالب حق ٹھنڈے دل سے غور وفکر کر کے صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔ آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں اور راقم السطور کو دامن رحمت دو عالم محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ وابستہ رکھے۔ جو خداوند قدوس کے آخری نبی ہیں۔ آمین ، یا الہ العالمین!
(راقم: احقر عبدالرحیم اشعرؔ...... یکم ذی الحجہ ١٤٢٧ھ)
١٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیت
علامہ اقبال کی نظر میں
مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
سخن ہائے گفتنی
محترم قارئین! پیش نظر رسالہ محض اس غرض سے ترتیب دیا گیا ہے کہ علامہ اقبال مرحوم کی وفات کے بعد چند خود غرض قسم کے لوگ ہر سال یوم اقبال کے پس پردہ اپنی اغراض مذمومہ پورا کرتے ہیں۔ وہاں قادیانی جماعت بھی ’’اقبال ڈے‘‘ منانے کے سلسلہ میں مسلمانوں میں آموجود ہوتی ہے اور پھر یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال مرحوم قادیانی عقائد ونظریات کے حامی تھے۔ قادیانیوں کے اس سفید جھوٹ کا جواب آپ کو خود علامہ اقبال مرحوم کے اقتباسات سے ہی معلوم ہوجائے گا۔ اس کی تائید مزید کے لئے ہم قادیان کے ایک معتبر نائی کی شہادت بھی پیش کرتے ہیں جو علامہ اقبال مرحوم اور ان کے والد بزرگوار کے بارے میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس سے صاف طور پر واضح ہے کہ علامہ اقبال مرحوم نہ صرف قادیانیت سے بیزار ہو گئے تھے۔ بلکہ آج تک مسلمانوں کے ہر طبقہ میں قادیانیت کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے وہ علامہ اقبال مرحوم کی غیرت ملی کا ہی نتیجہ ہے۔
(ناظم شعبہ نشر واشاعت محرم الحرام ١٣٨٨ھ ..... اپریل ١٩٦٨ء)
قادیان کے ایک معتبر نائی کی روایت
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم! منشی محمد اسماعیل سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال جو سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا جن کو عام لوگ شیخ نتھو کہہ کر پکارتے تھے۔ شیخ نور محمد صاحب نے غالباً ١٨٩١ء یا ١٨٩٢ء میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور سید حامد شاہ مرحوم کی تحریک پر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت کی تھی۔ ان دنوں سر محمد اقبال سکول میں پڑھتے تھے اور اپنے باپ کی بیعت کے بعد وہ بھی اپنے آپ کو احمدیت میں شمار کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے معتقد تھے۔ کیونکہ سر اقبال کو بچپن سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا۔ اس لئے ان دنوں میں انہوں نے سعد اللہ لدھیانوی کے خلاف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی تائید میں ایک نظم بھی لکھی تھی۔ مگر اس کے چند سال بعد جب سر اقبال کالج میں پہنچے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور انہوں
٢
نے اپنے باپ کو بھی سمجھا بجھا کر احمدیت سے منحرف کردیا۔ چنانچہ شیخ نور محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ سیالکوٹ کی جماعت چونکہ نوجوانوں کی جماعت ہے اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔ ان کے ساتھ چل نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں۔ اس پر حضرت صاحب کا جواب میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے نام گیا جس میں لکھا تھا کہ شیخ نور محمد کو کہہ دیں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہیں۔ اس کے بعد شیخ نور محمد صاحب نے بعض اوقات چندہ وغیرہ دینے کی کوشش کی۔ لیکن ہم نے قبول نہ کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے میاں مصباح الدین صاحب نے بیان کیا کہ ان سے کچھ عرصہ ہوا ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے بیان کیا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ١٨٩١ء یا ١٨٩٢ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے اور وہاں آپ نے ایک تقریر فرمائی تھی جس میں کثرت کے ساتھ لوگ شامل ہوئے تھے اور اردگرد کے مکانوں کی چھتوں پر ہجوم ہو گیا تھا تو اس وقت ڈاکٹر سر محمد اقبال بھی وہاں موجود تھے اور کہہ رہے تھے کہ دیکھو شمع پر کس طرح پروانے گر رہے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال بعد میں سلسلہ سے نہ صرف منحرف ہو گئے تھے۔ بلکہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید طور پر مخالف رہے اور ملک کے نو تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پروپیگنڈہ تھا۔‘‘
(از سیرت المہدی جلد سوم ص ٢٥٠ تا ٢٤٨ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)
قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے
’’میرے نزدیک بہائیت قادیانیت سے زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر الذکر (قادیانیت) اسلام کے چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا (قادیانی فرقہ) حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لا تعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں اس کا (قادیانی فرقہ) نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔‘‘
(حرف اقبال ص ١٣٣ مرتبہ لطیف احمد شیروانی)
٣
ظل، بروز، حلول مسیح موعود کی اصطلاحات غیر اسلامی ہیں
”اسلامی ایران میں مؤبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز حلول ١؎ ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں۔ تا کہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لئے لازم تھا کہ وہ مسلم کے قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔ حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں۔ بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اسی مؤبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دورِ اوّل کی تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔“
(حرفِ اقبال ص ١٢٣، ١٢٤)
قادیانی گروہ وحدت اسلامی کا دشمن ہے
”مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہیں جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے ٢؎ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔“
(حرفِ اقبال ص ١٢٢)
عام مسلمان تعلیم یافتہ طبقہ سے زیادہ حساس ہے
”ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم پر بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دن سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ملا زدہ کا خطاب دیا تھا۔ اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ
١؎ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو اور طبیعت اور ذاتی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔
(تریاق القلوب حاشیہ ص ٢٩٨، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٧)
٢؎ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
(بیان مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ آئینہ صداقت ص ٣٥)
٤
نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ اگرچہ اسے ختم نبوت کے عقیدہ کی پوری سمجھ نہیں۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔"
(حرف اقبال ص ١٤٢)
قادیانی آنحضرت ﷺ کے گستاخ ہیں
(جب علامہ اقبال مرحوم پر ان کی کسی سابقہ تحریر کا حوالہ دے کر قادیانی اخبار "سن رائز" نے اعتراض کیا کہ پہلے تو علامہ اقبال مرحوم اس تحریک کو اچھا سمجھتے تھے اب خود ہی اس کے خلاف بیان دینے لگے تو اس کے جواب میں علامہ اقبال نے حسب ذیل بیان دیا:)
"مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی۔ اس تقریر سے بہت پہلے مولوی چراغ علی مرحوم نے جو مسلمانوں میں کافی سر بر آوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ بانی تحریک (مرزا قادیانی) کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ براہین احمدیہ میں انہوں نے بیش قیمت مدد بہم پہنچائی۔ لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی۔ اسے اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں کے (لاہوری، قادیانی) باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے۔ معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا ١ کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔"
(حرف اقبال ص ١٣١، ١٣٢)
١۔ ایسے کلمات کہنے کے سب قادیانی عادی ہیں۔ مرتب!
٥
مرزا قادیانی کے نزدیک ملت اسلامیہ سڑا ہوا دودھ ہے
”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک (مرزا قادیانی) نے ملت اسلامیہ کو سڑے ١؎ ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی ان لوگوں کو (مسلمانوں کو) ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔ اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کے قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں۔ جتنے سکھ ہندوؤں سے۔ کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔ اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور وفکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟“
(حرف اقبال ص ١٣٨، ١٣٧)
انگریز کی عدم مداخلت کی پالیسی مسلم جماعت کیلئے ضرر رساں ہے
”ہندوستان میں کوئی مذہبی شعبدہ باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ
١؎ ان لوگوں کو (مسلمانوں کو) ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں۔ جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑگئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ج ٨ نمبر ٨ ص ٣١)
٦
مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔ اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبر نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا کہ:
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
(حرف اقبال ص ١٢٥)
حکومت انگریزی کو مشورہ
”حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے۔ عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف مدافعت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟۔ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین کرتے پائے۔ اس کے دعاوی کو تحریر و تقریر کے ذریعہ سے جھٹلایا جائے۔ پھر یہ کیا مناسبت ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگر چہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام ١؎ سے لبریز ہو۔“
(حرف اقبال ص ١٢٦)
١؎ (الف) ان العدا صاروا خنازير الفلا ...... ونسائهم من دونهن اكلب !ترجمہ: دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ٥٣ ، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
(ب) تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنی ويصدق دعوتی الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨ ، ٥٤٧ ، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨ ، ٥٤٧) ترجمہ: یہ میری کتابیں ہیں۔ ہر مسلمان انہیں محبت اور دوستی کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر زانیہ عورتوں کی اولاد جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٧
حکومت بیشک قادیانیوں کو ان کی خدمت کا صلہ دے
مگر مسلمانوں سے رواداری کی توقع نہ رکھے
"اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطہ نظر سے باغی ہے (جیسے قادیانی) حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بے کار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔"
(حرف اقبال ص ١٢٦)
اسلام کے بنیادی اصول کے پیش نظر قادیانیوں کو
مسلمانوں سے الگ ہونے کا مشورہ
"اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیائے علیہم السلام پر ایمان اور رسول کریمﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریمﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریمﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)
(ج) فقلت لك الويلات يا ارض جولره ..... لعنت بملعون فانت تدمر ! ترجمہ: پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو۔ تو ملعون کے سبب ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
٨
جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔‘‘
(حرف اقبال ص ١٣٦، ١٣٧)
حکومت قادیانیوں کو اقلیت تسلیم کر لے
’’میں نے (سابقہ بیان میں) اس امر کی وضاحت کر دی تھی کہ مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی ہی ایک ایسا طریقہ ہے جسے ہندوستان کی موجودہ حکمران قوم اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پالیسی ممکن ہی نہیں۔ البتہ مجھے یہ احساس ضرور ہے کہ یہ پالیسی مذہبی جماعتوں کے فوائد کے خلاف ہے۔ اگر چہ اس سے بچنے کی راہ کوئی نہیں۔ جنہیں خطرہ محسوس ہو انہیں خود اپنی حفاظت کرنی پڑے گی۔ میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ ١؎ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ٢؎ ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا۔ جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔
(حرف اقبال ص ١٢٨، ١٢٩)
مسلمان، قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبہ میں حق بجانب ہیں
’’نئے دستور میں ایسی اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو
١؎ علامہ اقبال مرحوم اور دیگر تمام اسلامی فرقوں سیاسی اور تبلیغی جماعتوں نے متفقہ طور پر مرزائیوں کے اقلیت قرار دیئے جانے کا جو مطالبہ کیا تھا۔ انگریز کی حکومت کا اسے تسلیم نہ کرنا تو سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مگر حکومت پاکستان نے اس مطالبہ پر جو طریق کار اختیار کیا ہے ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
٢؎ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے ہمارا اور۔ ان کا حج اور ہے ہمارا حج اور۔ غرض اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔
(خطبہ بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢١ اگست ١٩١٧ء)
٩
ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے؟۔‘‘ (حرف اقبال ص ١٣٨)
قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں
علامہ اقبالؒ کا خط پنڈت جواہر لال نہرو کے نام
لاہور.......٢١ جون ١٩٣٦ء
میرے محترم پنڈت جواہر لال!
آپ کے خط کا جو مجھے کل ملا بہت بہت، شکریہ۔ جب میں نے آپ کے مقالات کا جواب لکھا تب مجھے اس بات کا یقین تھا کہ احمدیوں کی سیاسی روش کا آپ کو کوئی اندازہ نہیں ہے۔ دراصل جس خیال نے خاص طور پر مجھے آپ کے مقالات کا جواب لکھنے پر آمادہ کیا وہ یہ تھا کہ دکھاؤں علی الخصوص آپ کو کہ مسلمانوں کی یہ وفاداری کیونکر پیدا ہوئی اور بالآخر کیونکر اس نے اپنے لئے احمدیت میں ایک الہامی بنیاد پائی۔ جب میرا مقالہ شائع ہو چکا تب بڑی حیرت واستعجاب کے ساتھ مجھے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بھی ان تاریخی اسباب کا کوئی تصور نہیں ہے جنہوں نے احمدیت کی تعلیمات کو ایک خاص قالب میں ڈھالا۔ مزید برآں پنجاب اور دوسری جگہوں میں آپ کے مقالات پڑھ کر آپ کے مسلمان عقیدت مند خاصے پریشان ہوئے۔ ان کو یہ خیال گزرا کہ احمدی تحریک سے آپ کو ہمدردی ہے اور یہ اس سبب سے ہوا کہ آپ کے مقالات نے احمدیوں میں مسرت وانبساط کی ایک لہر سی دوڑا دی۔ آپ کی نسبت اس غلطی کے پھیلانے کا ذمہ دار بڑی حد تک احمدی پریس تھا۔ بہر حال مجھے خوشی ہے کہ میرا تاثر غلط ثابت ہوا۔ مجھ کو خود ’’دینیات‘‘ سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ مگر احمدیوں سے خود انہی کے دائرہ فکر میں نمٹنے کی غرض سے مجھے بھی ’’دینیات‘‘ سے کسی قدر جی بہلانا پڑا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے یہ مقالہ اسلام اور ہندوستان کے ساتھ بہترین نیتوں اور نیک ترین ارادوں میں ڈوب کر لکھا۔ میں اس باب میں کوئی شک وشبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان (موجودہ ہندوپاک) دونوں کے غدار ہیں۔‘‘
(بحوالہ کتاب کچھ پرانے خطوط حصہ اول ص ٢٩٣، مرتبہ جواہر لال نہرو مطبوعہ جامعہ ملیہ نئی دہلی انڈیا، مترجمہ
عبدالمجید قریشی ایم اے ایل ایل بی)
١٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
بیرونی ممالک میں
قادیانی تبلیغ اسلام کی حقیقت
مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
بسم الله الرّحمن الرّحيم!
تعارف!
مرزا غلام احمد قادیانی نے جیسے اپنی زندگی میں انگریز کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے حرمت جہاد اور اطاعت انگریز پر پچاس الماریاں لکھ کر انگریزی گورنمنٹ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی اور زندگی بھر عاجزانہ درخواستیں لکھ لکھ کر اپنے تحفظ اور اپنی جماعت کے تحفظ کے لئے بطور صلہ اس انعام کا خواہاں رہا ہے کہ:
’’ہماری ثابت شدہ وفاداریوں کے پیش نظر مجھے اور میری جماعت کو خاص نظر عنایت سے دیکھا جائے اور ماتحت حکام کو اشارہ کیا جائے کہ ہماری آبروریزی کے درپے کوئی نہ ہو سکے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢١)
بعینہ اس طرح مرزا قادیانی کی امت نصف درجن سے زائد قادیانی اخبار و جرائد کے ذریعہ اس صور پھونکنے میں مشغول ہے کہ مسلمانوں کو باور کرائیں کہ ہم بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں اور تعمیر مساجد سے اسلام کا نام روشن کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں لانے کے لئے لاکھوں روپیہ پانی کی طرح بہا کر ایک منظم اسکیم کے ماتحت اپنے آپ کو اسلام کا ٹھیکیدار ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ حتیٰ کہ ریڈیو پاکستان پر بھی قادیانی تصرف کا یہ عالم ہے (صدر ایوب کے دور میں) کہ دیہاتی پروگرام میں ایک مسافر کی زبانی یہ اعلان کرایا گیا کہ ربوہ والے ربوہ (چناب نگر) میں بیٹھ کر تمام دنیا کو تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس دام ہمرنگ زمین سے بچانے کے لئے اصل حقیقت حال سے پردہ اٹھایا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ قادیانی اسلام سے کیا مراد ہے اور اس تبلیغ کا مقصد کیا ہے؟۔ جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ مکہ مکرمہ میں بھی ان کا اڈہ بن جائے اور پھر انہوں نے بیرونی ممالک میں نکل کر حرام خوریاں، سینما میں ننگی عورتوں کا ناچ دیکھ کر اور تھیٹر میں جاکر کونسی خدمت اسلام کی ہے؟۔ اور یہ بھی بتلا دیا جائے کہ قادیانی پارٹی کا اصل مقصد انگریز کی ایجنٹی تھی جو انہوں نے انجام دی۔ اس لئے بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ کے چند نمونے ذکر کر دیئے گئے ہیں۔ ہاں آخر میں اس جماعت کی اپنی اخلاقی حالت کا فوٹو بھی ان کے بانی کی تحریر کی روشنی میں کھینچ دیا گیا ہے کہ جو لوگ ساری دنیا کو تبلیغ کرنے کے لئے نکلے ہیں وہ خود کیسے اخلاق و کردار کے مالک ہیں؟۔ اور آخر میں یہ بھی
٢
بتا دیا گیا ہے کہ جو روپیہ قادیان میں (اب ربوہ میں) تبلیغ اسلام کے نام پر اکٹھا ہوتا تھا وہ کس کام میں صرف ہوتا تھا۔ اس کو آپ اصل کتاب میں ملاحظہ فرمائیں۔ نیز بطور آخری گزارش قادیانیت کی دنیا میں کیا پوزیشن ہے؟۔ اس پر بھی ان کے گھر سے شہادت پیش کر دی گئی ہے کہ ابھی تک قادیانیت ٹھوکروں کی زد میں ہے۔ واضح رہے کہ ہماری یہ تحریر دراصل قادیانی پروپیگنڈا کا جواب ہے کہ: ”ہم بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں ۔“
یہ تو آپ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ سے لے کر تیرہ سو برس کا اتنا لمبا عرصہ گزرا ہے۔ وہ تبلیغ اسلام سے خالی نہیں اور خواجہ معین الدین اجمیریؒ جیسے مبلغین اسلام نے نوے نوے لاکھ کافروں کو کلمہ پڑھایا ہے اور مرزا قادیانی سے قبل بھی یورپی ممالک میں مسلمانوں نے اپنی تبلیغی کوشش جاری رکھی ہے اور آج بھی مسلمانوں کی تبلیغی کوششیں کامیاب ہیں۔
ہمارے حضرت مولانا محمد الیاسؒ کی تبلیغی جماعت پورے اقصائے عالم پر چھا گئی ہے اور دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ : ”لوگو! نبوت آمنہ کے لعل حضرت محمدﷺ پر ختم ہو گئی۔ کارِ نبوت باقی ہے۔ یعنی تبلیغ دین ۔“ اس طرح خداوند قدوس نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان کو بھی یہ توفیق عنایت فرمائی ہے کہ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کو بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے روانہ کر دیا ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا موصوف ایک سال دو ماہ انگلستان (ہڈرسفیلڈ) میں تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دینے کے بعد نو ماہ تک جزائر فجی آئی لینڈ میں تبلیغی خدمات انجام دے کر قادیانیوں اور لاہوریوں دونوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ مندرجہ بالا دونوں ملکوں میں محمدی اسلام کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ ان سطور بالا کی تحریر کے وقت ابھی ابھی حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا گرامی نامہ ملا کہ وہ ٣١؍ مئی ١٩٦٩ء سے فجی آئی لینڈ سے چل کر کچھ دن مغربی جرمنی میں تبلیغ اسلام کرتے ہوئے دس جون ١٩٦٩ء تک دوبارہ مسلمانان انگلستان کے مطالبہ پر وہاں جا رہے ہیں۔ مولانا موصوف کو فی الحال انگلستان کے لئے تین ماہ کا ویزا ملا ہے۔
قارئین کرام ! مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے اور خصوصاً مولانا موصوف کے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو زیادہ سے زیادہ خدمت اسلام کی توفیق عنایت فرمائیں۔
(الراقم عبدالرحیم اشعر ۔ ١٩؍ ربیع الاول ١٣٨٩ھ ۔ دفتر ختم نبوت ملتان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ !
کافی دنوں سے ہم نے اپنے پمفلٹ ”مرزائیوں کا بہت بڑا فریب“ میں وعدہ کیا تھا کہ قادیانی تبلیغ کی حقیقت ہم عنقریب واضح کریں گے جس کا کچھ خاکہ روداد مجلس ١٣٨٤ھ میں بھی دیا گیا ہے۔ کثرت کام کی وجہ سے پوری توجہ نہ ہوسکی۔ اب فرصت مہیا ہونے پر آپ حضرات کو قادیانی تبلیغ کے ڈھول کا پول کھول کر اصل حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کے دعاوی کہ ”اسلام دنیا کے کناروں تک“ پھیلانے والے صرف ہم ہیں۔ کہاں تک مبنی برصداقت ہیں؟۔ چونکہ ان کے دعاوی سے بظاہر بعض حضرات متاثر ہوتے ہیں کہ دیکھا یہ جماعت ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہی ہے اور اس پروپیگنڈہ کو تقویت دینے والے قادیانی جماعت کے وہ قد آدم پوسٹر اور پمفلٹ بھی ہیں جو مندرجہ بالا عنوان سے چھاپ کر ہماری مسلم آبادی میں ان کی دکانوں اور چور رستوں میں پھینک جاتے ہیں یا قادیانی مرکز ربوہ (موجودہ چناب نگر) اور لاہور سے بذریعہ ڈاک بااثر مسلمانوں کے نام روانہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک پمفلٹ بعنوان ”جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام“ ربوہ (چناب نگر) سے شائع شدہ ملتان کے قادیانی فرقہ کے سیکرٹری منور احمد نے ایک مسلمان جناب بشیر احمد صاحب ٢٥٠ بی سکیم نمبر ٢ ملتان شہر کے نام روانہ کیا ہے اور اس پمفلٹ میں مرزا مبارک کی تقریر چھاپ کر تقسیم کی گئی ہے جس میں مرزا قادیانی کے الہاموں کے نام سے یورپ میں اسلام پھیلانے کا تذکرہ ہے اور چند آدمیوں کے نام لے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گویا یہ لوگ کفر سے نکل کر ملت اسلامیہ میں داخل ہو گئے ہیں اور لفظ اسلام کا تکرار اس رسالہ میں اتنی بار کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ سادہ دل مسلمان اس شبہ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ملت اسلامیہ تو اس گروہ کو مسلمان نہیں سمجھتی اور یہ لوگ ہیں کہ باہر کے ممالک میں لوگوں کو مسلمان بنا رہے ہیں۔ پس اس رسالہ میں اس فریب کا پردہ چاک کرنا ہے کہ کیا واقعی یہ اس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں جو حضرت خاتم الانبیاء محمد عربی ﷺ لائے ہیں یا قادیانی اسلام جو انہوں نے خود اختراع کیا ہے وہ مراد ہے؟۔ واقعہ یہ ہے کہ قادیانی اپنا اختراعی اسلام پیش کرتے ہیں۔ جس کا حقیقی اسلام سے قطعاً تعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ عیاری سے نام اسلام کا لیتے ہیں مگر مراد اس سے قادیانیت ہوتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے خود اس بات کی تصریح کی ہے کہ اسلام سے مراد فرقہ قادیانیہ ہے۔ مندرجہ ذیل حوالہ ملاحظہ کریں۔
- ١....... اسلام سے مراد فرقہ احمدیہ
”دیکھو زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی مقبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ (قادیانیہ ۔ مولف) مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٥٦، خزائن ج ١٧ ص ١٨٢)
- ٢....... اسلام کی تبلیغ سے مراد مرزا قادیانی کی تبلیغ ہے
مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان فرماتے ہیں کہ: ”ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں گے۔ مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے۔ پس اس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) لایا ہے۔“
(منصب خلافت ص ٢٠، ٢١)
ناظرین کرام! آپ نے مندرجہ بالا دونوں حوالوں میں ملاحظہ فرمالیا کہ جس تبلیغ اسلام کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے کہ ہم اسے دنیا کے کناروں تک پہنچائیں گے وہ تبلیغ قادیانیت ہے نہ کہ تبلیغ اسلام ۔ اگر آپ اس شبہ میں مبتلا ہوں کہ آخر قادیانی فرقہ بھی خدا رسول نماز روزہ حج زکوٰۃ کو تو مانتا ہے۔ پھر ان کا اور ہمارا اسلام جدا کیسے ہوا تو اس شبہ کا جواب بھی آپ بروایت مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیانی ابن مرزا غلام احمد قادیانی کی زبانی سن لیں۔
- ٣....... ہمارا اسلام اور ہے مسلمانوں کا اور
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ۔ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٣ مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
اگر یہ شبہ ہو خواہ وہ اسلام سے مراد قادیانی مذہب ہی لیتے ہوں مگر باہر کے ملکوں میں تو وہ اسلام ہی کی تبلیغ کرتے ہیں۔ تو یہ شبہ بھی بالکل غلط ہے۔ کیونکہ قادیانی فرقہ کے بانی کے
٥
نزدیک جس اسلام میں ان کا تذکرہ نہ ہو وہ مردہ اسلام ہے۔ چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان فرماتے ہیں کہ:
- ٤...... مرزا قادیانی کو چھوڑ کر مردہ اسلام پیش کرو گے
’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی زندگی میں محمد علی لاہوری اور خواجہ کمال الدین لاہوری کی تجویز پر ١٩٠٥ء میں ایڈیٹر اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے (رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان) کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں۔ بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہ ہو۔ مگر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اس تجویز کو اس بناء پر رد کردیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ٣٢ جلد ١٤ ص ١١ مورخہ ١٩ اکتوبر ١٩٢٨ء)
- ٥...... جس اسلام میں مرزا قادیانی پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو وہ اسلام ہی نہیں
’’عبداللہ کوکلیم نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویب نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی۔ مگر آپ نے (مرزا قادیانی) مطلق ان کو ایک پائی کی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس اسلام میں آپ پر (مرزا قادیانی) ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہ ہو اسے آپ اسلام ہی نہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (نور الدین) نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٦٥ ص ٦ مورخہ ٣١ دسمبر ١٩١٤ء)
آپ نے مندرجہ بالا تحریروں سے یہ معلوم کرلیا کہ قادیانیوں کا اسلام اور ہے اور مسلمانوں کا اسلام اور ہے۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو اپنے اسلام و مذہب کی تعریف کی ہے وہ خود ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
- ٦...... قادیانی مذہب کے دو رکن ہیں
چنانچہ مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ: ’’سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔‘‘
(مقدمہ شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠)
٦
دیکھ لیا آپ نے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اسلام کے دو حصے ہیں۔ خدا کی اطاعت اور گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت۔ لیکن مسلمانوں کے اسلام کے پانچ ارکان اور بنیادی حصے ہیں۔ کلمہ شہادت‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ۔ معلوم ہوا کہ قادیانی اسلام دو رکنوں پر قائم ہے اور مسلمانوں کا اسلام پانچ ارکان پر قائم ہے۔ تو پتہ چلا کہ واقعتاً قادیانی اسلام اور ہے اور مسلمانوں کا اسلام اور۔
اب جب آپ نے قادیانی مذہب کی حقیقت معلوم کر لی۔ آدھا مذہب ان کا انگریز کی اطاعت ہے تو گویا اطاعت خداوندی ایک بہانہ ہے۔ اصل کام انگریز کی خدمت کرنا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ:
- ٧...... میں گورنمنٹ برطانیہ کا اوّل درجہ کا خیر خواہ ہوں
”میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)
آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ انگریز کی وفاداری اور اطاعت بذریعہ وحی والہام نازل ہوئی ہے۔ تو مرزا قادیانی نے انگریز کی مدح و ثناء میں دفتر کے دفتر سیاہ کر دیئے۔ چنانچہ خود تحریر کیا ہے کہ میں نے انگریز کی اطاعت اور ممانعت جہاد میں پچاس الماریاں لکھی ہیں۔
- ٨...... پچاس الماریاں
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
پھر مرزا قادیانی پچاس الماریوں پر کفایت نہیں فرماتے بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ تعداد کا اگر لحاظ کیا جائے تو پچاس ہزار وہ کتب ورسائل ہیں جو انہوں نے انگریز کی اطاعت اور ممانعت جہاد میں تحریر کی ہیں۔ چنانچہ تحریر کرتے ہیں:
- ٩...... پچاس ہزار کتابیں
”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی ہے وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار
ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہار چھپوا کر اسی ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی‘ عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دی۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
ناظرین! مندرجہ بالا حوالوں سے یہ بات آپ پر عیاں ہوگئی ہے کہ قادیانی بیرونی ممالک میں جس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں وہ انگریز کی وفاداری اور حرمت جہاد کا مسئلہ ہے جس کا اصل اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ قادیانی فرقہ کا بانی مرزا قادیانی دراصل انگریزی حکومت کا ایجنٹ اور جاسوس تھا۔ جس نے ہندوستان و بیرون ہند میں انگریز کے جاسوسوں کی ایک منڈلی تیار کی جو تبلیغ کے نام پر انگریزی حکومت کی امداد سے پھیلادی گئی تھی جس کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔ اب ہم ان کی بیرونی ممالک میں تبلیغ اور تبلیغ کا طریق کار آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ تاکہ اصل حقیقت آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائے۔ سب سے پہلے قادیانیوں کا طریق تبلیغ ملاحظہ فرمائیں:
١٠...... قادیانیوں کا طریق تبلیغ
’’دو دفعہ دو اتوار میں ووکنگ مولوی صدرالدین (لاہوری پارٹی کے موجودہ امیر) کے زمانہ میں جاچکا ہوں۔ کوئی سنجیدہ مرد یا عورت میں نے نہیں دیکھے۔ ہاں بیس پچیس لڑکیوں کا مجمع چائے پر ضرور موجود تھا۔ جن میں سے دو ایک مولوی صاحب کی بغل میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ایک سوٹی سے مولوی صاحب کی پگڑی اچھال رہی تھی۔ دوسری مولوی صاحب کی آنکھوں کو بند کررہی تھی اور باقی ہندوستانی لڑکوں کے ساتھ پھر رہی تھیں۔ ان کو اگر تو مسلمانوں میں شمار کیا جاتا ہے تو میں کہوں گا کہ اس کامیابی سے بہتر تو ناکامی ہے۔ مجھے ووکنگ کی ایسی خرابیوں کا تفصیلاً علم ہے۔ جس کو ایک شریف انسان تحریر میں نہیں لاسکتا؟۔
(ملاحظہ ہو مکتوب عبدالرحیم خان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٨، یکم نومبر ١٩٢٠ء)
جب آپ نے قادیانیوں کا طریق تبلیغ معلوم کرلیا کہ اسطرح پر آوارہ لڑکیوں کو اکٹھا کرکے ان سے آنکھ مچولی کرکے چائے پلا کر رخصت کردیتے ہیں اور اس کا نام تبلیغ رکھ
٨
چھوڑا ہے۔ اسی طرح اب بیرونی ممالک میں سب سے زیادہ جس چیز کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے بیرونی ممالک میں تعمیر مساجد کی ہے اور ان مساجد میں سرفہرست ووکنگ مشن کی مسجد ہے۔ جس کا ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے کہ وہ ہماری تعمیر کردہ ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حوالہ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ بھی سرکار بھوپال کے سرمایہ سے تعمیر ہوئی ہے اور ایک جرمن ڈاکٹر کی وفات کے بعد سید امیر علی مرحوم کے طفیل خواجہ کمال الدین قادیانی قابض ١؎ ہو گئے اور آسمان سر پر اٹھا لیا کہ دیکھو جی بیرونی ملکوں میں ہم نے تبلیغی اڈے قائم کر لئے ہیں۔ اب مندرجہ ذیل حوالہ ملاحظہ کریں۔
١١....... ووکنگ مشن کی حقیقت، جناب فضل کریم درانی کا بیان
”مجھے معلوم نہیں کہ یہ غلط خیال ہندوستان میں کس طرح پھیل گیا کہ ووکنگ کی مسجد لاہوری احمدیوں کی تعمیر کردہ ہے۔ یہ سرکار بھوپال کے روپیہ سے تعمیر ہوئی تھی اور مسجد کے ساتھ رہائشی مکان سرسالار جنگ حیدرآباد) کی یادگار ہے اور دونوں کی تعمیر ڈاکٹر لائٹر کے اہتمام میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر لائٹر ایک جرمن عالم تھے جن کو اسلام سے بہت انس تھا اور بعض کا خیال ہے کہ وہ دل سے مسلمان تھے۔ ہندوستان میں سررشتہ تعلیم میں کام کرتے تھے۔ پہلے انسپکٹر آف سکولز اور پھر کچھ عرصہ کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار رہے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ولایت میں ہندوستان کا ایک نشان قائم کر دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایک اورنٹیل انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف مسجد تھی اور اس کے ساتھ ہندوؤں کے لئے ایک مندر بنوا دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے مندر کا حصہ فروخت کر دیا۔ لیکن مسجد کا حصہ سید امیر علی مرحوم کے طفیل محفوظ رہ گیا اور سید امیر علی نے ہی خواجہ کمال صاحب کو مسجد میں آباد کیا ۔“
(مغرب میں تبلیغ اسلام مندرجہ رسالہ حقیقت اسلام لاہور بابت جنوری ١٩٣٣ء)
١؎ اب الحمد للہ ! ١١ فروری ١٩٦٨ء کو ساٹھ برس کے بعد مولانا لال حسین اختر صاحبؒ کے ووکنگ تشریف لے جانے پر وہ مسجد پھر دوبارہ اہل اسلام کے قبضہ میں آ گئی ہے اور ووکنگ کا سابق امام حافظ بشیر احمد تائب ہو کر دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہو چکا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو انگلستان میں کامیابی ۔ عبدالرحیم اشعر ! ( جو احتساب قادیانیت کی جلد اوّل میں شامل ہے۔ مرتب)
٩
جب دوکنگ مسجد کی حقیقت آپ کے سامنے آ گئی تو اب اس پروپیگنڈہ کا حال بھی معلوم کریں کہ ہمارے یورپ جانے سے بڑے بڑے انگریز مسلمان ہوئے اور یہ سب ہماری تبلیغ کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ جتنے بڑے بڑے معزز انگریز مسلمان ہوئے ہیں وہ خود اپنے مطالعہ سے اسلام کی خوبی کے قائل ہو کر مسلمان ہوئے ہیں۔ اتفاقاً جس کسی قادیانی سے ان کا مصافحہ ہو جاتا ہے تو قادیانی مبلغ فوراً شور مچاتے ہیں کہ فلاں انگریز ہماری وجہ سے مسلمان ہوا۔ فلاں کو ہم نے متاثر کیا ہے۔ اس کے لئے درج ذیل حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
١٢...... تبلیغی ڈھونگ کی حقیقت
”جو جو چوٹی کے انگریز مسلمان ہوئے ہیں ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے ووکنگ مشن کی ہدایت سے قبول اسلام کیا ہو۔ لارڈ ہیڈلے نے خود اعلان کیا تھا کہ میں اسلام کا بطور خود مطالعہ کر کے اس مذہب میں داخل ہوا ہوں اور مجھے قبول اسلام سے صرف پندرہ دن پہلے خواجہ کمال الدین سے تعارف ہوا۔ مسٹر مارماڈیوک پکھتال مصر میں مسلمان ہوئے اور زیادہ تر ترکی اور مصری اثر کی وجہ سے ہوئے۔ سر آرچیبالڈ ہیملٹن نے غالباً ایک خانگی ضرورت سے مجبور ہو کر اسلام کا اعلان کیا۔ اگر ایک ایک کے حالات دریافت کرو اور ان سے پوچھو کہ تم نے کس طرح اسلام قبول کیا تو معلوم ہو جائے گا کہ اثرات کچھ اور ہی تھے۔ ووکنگ مسجد کا قبول اسلام سے کوئی واسطہ نہ تھا۔“
(مضمون مغرب میں تبلیغ اسلام مندرجہ رسالہ حقیقت اسلام بابت ماہ جنوری ١٩٣٢ء
لاہور از فضل کریم خان درانی)
جب آپ نے ووکنگ کے کام کی حقیقت معلوم کر لی تو اب لندن میں قادیانی مبلغ کی تبلیغ کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں اور اس کی حرام خوری ملاحظہ کریں:
١٣...... لندن میں قادیانی مبلغ کی حرام خوری
ایک مرزائی مبلغ کے متعلق قادیان کا سرکاری آرگن حسب ذیل معلومات فراہم کرتا ہے کہ: ”میرے ایک بہت معزز غیر احمدی (یعنی مسلمان) دوست نے بیان کیا کہ میں ولایت میں ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا کہ وہیں ایک بھاری بھرکم لاہور کے رہنے والے لیکچرر اور پریچر بھی تشریف لائے اور کھانے میں مصروف ہوگئے۔ کھانے کے دوران میں انہوں نے
١٠
ہوٹل والے سے فرمایا کہ کل والی چیز لاؤ۔ وہ بہت مزیدار تھی۔ اس پر اس نے ایک قسم کا گوشت لا کر ان کے سامنے رکھ دیا جسے انہوں نے خوب لطف لے کر کھایا۔ جب وہ تناول فرما کر تشریف لے گئے تو میں نے بصد شوق ہوٹل والے سے پوچھا کہ وہ کیا گوشت تھا جو مسٹر پال نے تم سے منگا کر کھایا تھا۔ ہوٹل والے بے چارے نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ فائی نسٹ بیکن (یعنی نہایت نفیس سور کا گوشت)‘‘
(حوالہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٨ مورخہ ٣١ اگست ١٩٣١ء ص ٣)
آپ نے ولایت میں تبلیغ کا نمونہ دیکھا کہ اسلام کے بہت بڑے ٹھیکیدار نفیس سور کا گوشت منگوا کر خدمت اسلام کا دم بھر رہے ہیں۔ نعوذبالله من ذلك!
لاہوری مبلغ کی حرام خوری کے بعد اب فریق قادیان کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کی اپنی رپورٹ ملاحظہ کریں کہ جو باپ کی پیشگوئی کے مطابق تبلیغ اسلام کرنے تشریف لے گئے تھے۔ انہوں نے بھی چوہدری ظفر اللہ خان کے ذریعہ ننگی میموں کا ناچ دیکھ کر قادیانی اسلام کا پول کھول دیا۔ اس کے لئے درج ذیل حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
١٤...... فرانس میں ننگی میموں کا ناچ
مرزا محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی کی تبلیغ اسلام کا ایک نمونہ:
”میں جب ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب فرانس آئے تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی میں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر وہ مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے۔ جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے۔ دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا یہ ننگی نہیں ہیں۔ بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔‘‘
(اخبار الفضل ٢٨ جنوری ١٩٣٣ء شمارہ نمبر ٩٨ ج ٢٠ ص ٥)
مرزا بشیر الدین محمود کی تبلیغ کا داعیہ اور شوق آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ تو اب مفتی محمد صادق مرزا قادیانی کے صحابی کہلانے والے کی سینما بینی بھی ملاحظہ کریں:
١١
١٥...... مفتی محمد صادق نے بھی تھیٹر دیکھا
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خان صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔ تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔“
(ذکر حبیب ص ١٨ مصنفہ مفتی محمد صادق قادیانی)
آپ نے بیرونی ممالک کی تبلیغ بھی ملاحظہ کی اور اندرون ملک بھی تبلیغ قادیانیت کا نمونہ دیکھا۔ جس مذہب کا مفتی سینما بینی کا شائق تھا۔ مگر شکایت کرنے والے نے جب شکایت کی تو مرزا قادیانی نے فرمایا ہم نے بھی دیکھا تھا۔ یعنی ایں خانہ ہمہ آفتاب است کہ بیٹے نے فرانس میں شوق پورا کیا۔ مفتی صاحب نے امرتسر میں تو مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ یہ مشغلہ تو ہم نے بھی اختیار کیا ہے۔ واہ رے قادیانی نبوت تیری برکات۔ آپ اندازہ لگالیں جن کے یہ مشغلے ہوں وہ تبلیغ اسلام خاک کریں گے۔ البتہ یہ گروہ اخباروں میں رپورٹ لکھ کر شائع کرنے کے شیر ہیں۔ چنانچہ ایک رپورٹ برائے ملاحظہ پیش خدمت ہے:
١٦...... قادیانی مبلغ کی تبلیغی رپورٹ کی حقیقت
”بلغراد سے روانہ ہو کر میں بڈاپسٹ پہنچا۔ وہاں ایک صاحب مسٹر محمد فیاض صاحب بی اے ایل ایل بی سے ملاقات ہوئی۔ آپ کا سبز عمامہ دیکھ کر دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ قادیانی ہیں اور تبلیغ کی غرض سے تشریف لائے ہیں اور قادیانی عقائد و دعاوی پیش کرتے ہیں۔ پروفیسر جرمانوس نے ان سے دریافت کیا کہ آپ غیر احمدی جو مکفر نہ ہو اس کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا ہم پاک اور مقدس مسلمان ہیں۔ لہٰذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھیں۔ ان لوگوں کو اپنی پاکیزگی اور تقدس کا اس قدر گھمنڈ ہے کہ
١٢
وہ اپنے سوا تمام کلمہ گویوں کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اب ذرا قادیانی مبلغ کا طریق تبلیغ بھی ملاحظہ ہو۔ کسی دوست سے ملے۔ کہیں چائے پر چلے گئے۔ کسی اور اجتماع میں چند آدمیوں سے ملاقات ہوگئی۔ پس قادیان رپورٹ لکھ دی کہ ہم نے تین سو آدمیوں کو اسلام یا احمدیت کا پیغام پہنچا دیا اور لطف یہ ہے کہ آپ ہنگری زبان سے بھی بالکل ناواقف ہیں۔“
(مکتوب محمد عبداللہ قادیانی لاہور مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور جلد ٢٤ نمبر ٣٥، مورخہ ٣ جون ١٩٣٦ء)
یہ تو قادیانی اور لاہوری تبلیغ کا ایک رخ تھا جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اب جب معلوم ہوا کہ ملک سے باہر اور اندر یہ لوگ تبلیغ کے نام سے حرام خوریاں کرتے ہیں اور ننگی میموں کا ناچ اور تھیٹر بازی میں مشغول رہتے ہیں۔ آخر یہ لوگ باہر جاتے ہی کیوں ہیں۔ آپ کے سامنے صرف تین بیرونی ممالک کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ تبلیغ کے نام سے بیرونی ممالک میں جو اڈے قائم کئے گئے تھے۔ ان کا تبلیغ اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ انگریزی حکومت کے جاسوسوں کی ایک منڈلی ہے۔ بیرونی ممالک میں انگریزی حکومت کی مدح سرائی ان کا بڑا مقصد ہے۔ باہر کے لوگوں کو یہ انگریز کی وفاداری کی تلقین کرتے ہیں اور جہاد جو اسلام کی روح ہے اس کے خلاف فتویٰ صادر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم افغانستان میں قادیانی تبلیغ کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی اپنے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:
١٧...... افغانستان میں عبداللطیف قادیانی کے قتل کی اصل وجہ
”ہمیں معلوم نہ تھا کہ صاحب زادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی۔ اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنیں۔ مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہوگئی تھی۔ اس کتاب کے مصنف ایک اطالوی انجینئر ہیں جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدے پر فائز تھے۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب قادیانی کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانستان کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔“
(اخبار الفضل قادیان جلد ٢٣ نمبر ٣١ مورخہ ١٦ اگست ١٩٣٥ء ص ٤)
١٣
افغانستان میں قادیانی مبلغ کے قتل کی وجہ آپ کو معلوم ہوئی۔ اب دوسرا ملک روس ہے جس میں قادیانی صاحبان نے اپنا مبلغ بھیجا۔ اس کا حال بھی انہی کی زبانی سن لیجئے۔ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان اعلان کرتے ہیں:
١٨...... روس میں تبلیغ قادیانیت کا نمونہ
”چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب کے پاس پاسپورٹ نہ تھا۔ اس لئے روسی علاقہ میں داخل ہوتے ہی روس کے پہلے ریلوے اسٹیشن قہقہہ قصبہ پر انگریزی جاسوس قرار دیئے جاکر گرفتار کئے گئے۔ کپڑے اور کتابیں جو کچھ پاس تھا وہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں قید رکھا گیا۔ اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانہ میں تبدیل کیا گیا۔ وہاں سے مسلم روس پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمرقند تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دوماہ تک قید رکھا گیا اور بار بار آپ سے بیانات لئے گئے۔ تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کے لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے۔ تا کہ عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد کوشکی سرحد افغانستان پر پہنچا دیا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا۔ مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے۔ اس لئے واپس آنے کو اپنے لئے موت سمجھا اور روس پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔ دو ماہ تک آپ وہاں آزاد رہے۔ لیکن دو ماہ کے بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کر لئے گئے۔“
(الفضل قادیان ج ١١ نمبر ١٢ ص ٥، ٦ ، مورخہ ١٤ اگست ١٩٢٣ء)
آپ نے پڑھ لیا کہ بیرونی ممالک میں کس طرح تبلیغ ہورہی ہے۔ البتہ ایک شبہ آپ کے دل میں ہوگا کہ وہ انگریزی جاسوس خیال کرتے تھے۔ وہ خود تو انگریزی جاسوس نہ تھا۔ تو اس شبہ کا جواب آپ قادیانی مبلغ کی زبانی سنئے۔ محمد امین قادیانی مبلغ کا مکتوب مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ١١ نمبر ٢٥ مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٣ء ”روسیہ میں اگرچہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔“
١٤
قارئین محترم! آپ نے دیکھ لیا کہ قادیانی مبلغ خود ہی معترف ہیں کہ میں باہر جا کر انگریزوں کی تعریف کیا کرتا تھا۔ کیونکہ انگریزی گورنمنٹ اور ہمارے مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ وہاں سے کھانے کو مل جاتا ہے۔ لوگوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کرو۔ انگریزوں کی خیر یارو مناؤ۔ انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ والا فلسفہ ہے۔
ایک اسلامی ملک کے اندر قادیانی کارنامہ ملاحظہ کرنے کے بعد آپ نے روس میں بھی تبلیغ کے نتائج ملاحظہ کرلئے۔ نیز قادیانی مبلغ کی زبانی بھی تصدیق ہوگئی کہ میں انگریزی حکومت کی ایجنٹی کے فرائض انجام دیتا تھا۔ اب اس کے بعد تیسرے ملک جرمنی کا حال بھی ملاحظہ فرمائیں۔ چنانچہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی کا بیان ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
١٩...... جرمنی میں تبلیغ قادیانیت کا نمونہ
”جب لوگوں پر یہ اثر تھا کہ احمدی انگریز قوم کے ایجنٹ ہیں تو تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت ہماری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ گویا مذہب کے نام سے تبلیغ کرتے ہیں۔ مگر دراصل انگریزوں کے وہ ایجنٹ ہیں۔ یہ اثر اتنا وسیع تھا کہ جرمنی میں جب ہماری مسجد بنی تو وہاں کی وزارت کا ایک افسر اعلیٰ بھی ہماری مسجد میں آیا یا اس نے آنے کی اطلاع دی۔ اس وقت مصریوں اور ہندوستانیوں نے مل کر جرمنی حکومت سے شکایت کی کہ احمدی حکومت انگریز کے ایجنٹ ہیں اور یہاں اس لئے آئے ہیں کہ انگریزوں کی بنیاد مضبوط کریں۔ ایسے لوگوں کی ایک تقریب میں ایک وزیر کا شامل ہونا تعجب انگیز ہے۔ اس شکایت کا اتنا اثر پڑا کہ جرمنی حکومت نے اس وزیر سے جواب طلبی کی کہ احمدی جماعت کے کام میں تم نے کیوں حصہ لیا۔“
(الفضل قادیان ٦؍اگست ١٩٣٥ء ص ١١، ج ٢٣ ص ٧)
قارئین محترم! مختصر طور پر تین ملکوں کے متعلق ہم نے قادیانی تبلیغ کے نمونے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔ تاکہ اصل بانی تحریک اور اس کی جماعت کا رخ، کردار آپ کے سامنے آجائے۔ آخر میں ہم آپ کے سامنے ایک سوال پیش کرتے ہیں کہ اگر قادیانیت کا واقعی اور اصل مقصد تبلیغ اسلام ہے تو پھر اس پر غور فرمائیں کہ مکہ مکرمہ میں تبلیغی مشن قائم کرنے کی کوشش کا مقصد آخر کیا ہے۔ کیا وہاں اسلام پہلے نہیں ہے؟ ۔ یہ قادیانی وہاں جا کر اسلام پھیلائیں گے۔ بلکہ مقصود وہاں بھی بیٹھ کر مرزائیت کی تبلیغ کے نام سے انگریز کی جاسوسی کا پروگرام ہے۔ چنانچہ
یہ حقیقت بھی آپ مرزا محمود خلیفہ قادیانی کی زبان سے سن لیں:
٢٠......مکہ مکرمہ میں تبلیغ قادیانیت کی امنگ
”بچپن سے میرا یہ خیال ہے اور جس کا میں نے دوستوں سے بارہا ذکر بھی کیا ہے کہ میرے نزدیک احمدیت کے پھیلنے کے لئے اگر کوئی مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے اور دوسرے درجے پر پورٹ سعید (مصر کی بندرگاہ) اگر کوئی شخص وہاں چلا جائے تو ساری دنیا میں احمدیت کو پہنچا سکتا ہے۔ وہاں سے ہر ایک ملک کو جہاز گزرتا ہے۔ ٹریکٹ تقسیم کئے جائیں۔ اس طرح ایسے ایسے علاقوں میں حضرت (مرزا قادیانی) کا نام پہنچ جائے جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے۔ مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے۔ وہاں کے لوگ ہمارے بہت کام آسکتے ہیں۔“
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٩ نمبر ٣ مورخہ ١٤ جولائی ١٩٢١ء)
آپ نے قادیانی تبلیغ کی امنگ ملاحظہ کرلی کہ کعبۃ اللہ کے پڑوس تک ان کے نزدیک مسلمان نہیں۔ ان کو مسلمان کرنے کے لئے رات دن پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ نعوذ بالله من ذلك!
اب جب آپ نے قادیانیت کی تبلیغ کا حال معلوم کرلیا تو آخر میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی زبانی خود اس جماعت کی اخلاقی حالت پیش کرتے ہیں جو مدتوں مرزا قادیانی کی صحبت میں رہے اور ساری دنیا کو قادیانی بنانے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
٢١......مرزا قادیانی کے مریدوں کی اخلاقی حالت
”مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں۔ بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھتا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گراتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا ہے اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم (یعنی قادیانیوں) سے اچھا ہے ۔“
(اشتہار التوائے جلسہ ٢٧ دسمبر ١٨٩٤ء ملحقہ شہادۃ القرآن خزائن ج ٦ ص ٣٩٦)
٢٢......جماعت کی اخلاقی حالت مرزا قادیانی کی آخری زندگی میں
”میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی
١٦
کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ مگر اذن نہیں دیا جاتا۔ تا کہ ان کو مطلع کروں۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔"
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٧، خزائن ج ٢١ ص ١١٤)
یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی موت سے تھوڑا عرصہ قبل لکھی ہے جس میں جماعت کی اپنی اخلاقی حالت ان کے متنبّی کے قول کے مطابق مندرجہ بالا ہو۔ وہ کیا کسی کو تبلیغ کرے گی؟۔
مندرجہ بالا دو حوالوں میں جب آپ نے مرزا قادیانی کے مریدوں کی اخلاقی حالت ان کی زبانی معلوم کر لی تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے اونچے مریدوں کی شہادت بھی مرزا قادیانی کے بارے میں درج کر دی جائے۔ تا کہ پتہ چلے کہ: ایں خانہ ہمہ آفتاب است! چنانچہ سرور شاہ قادیانی، خواجہ کمال الدین کی زبانی نقل کرتے ہیں:
٢٣...... مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی کا ایک منظر
"البتہ صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا کہ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور کھدر پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیویاں خود قادیان گئیں۔ وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو۔ ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے ہو اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھوکہ میں نہ آوینگی۔ پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔ اس پر خواجہ صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو پر تمہارا وہ جواب
١٧
میرے آگے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا اور مجھے خوب یاد ہے کہ اس طویل سفر میں آتے اور جاتے ہوئے ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ غضب خدا کا نازل ہو رہا ہے۔‘‘
(کشف الاختلاف ص ١٤، ١٣، مولفہ سید محمد سرور شاہ قادیانی طبع فروری ١٩٢٠ء)
قارئین محترم! یہ دو چوٹی کے مبلغوں کی نجی گفتگو ہے۔ مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی کے بارے میں، اور یہ دونوں قادیان کے معتبر قاضی ہیں۔ اگر ان کی شہادت کو کوئی رد کرے تو میرے خیال میں کافر ہو جائے گا۔ اس لئے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی اصل نقشہ یہی ہے جو مرزا قادیانی کے مریدوں نے پیش کیا۔ نیز اسی طرح ہم مرزا قادیانی کے مریدوں کے بارے میں بھی مرزا قادیانی کی شہادت کو حرف آخر کا درجہ دیتے ہیں:
آخری گزارش
قارئین کرام! باوجود کوشش اختصار کے پھر بھی یہ رسالہ بہت طویل ہو گیا ہے۔ لیکن آخر میں ایک حوالہ پیش خدمت کرتے ہیں جو بہت اہم ہے کہ باوجود یکہ آج ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے کہ ملک میں قادیانیت برسراقتدار آنے والی ہے۔ لیکن قادیانیت کی پوزیشن حسب ذیل ہے:
- ٢٤...... قادیانیت ابھی ٹھوکروں کی زد میں ہے
’’اسلام نے تو چالیس پچاس سال کے قلیل عرصہ کے اندر اندر اس وقت کی تمام معلوم اور مہذب دنیا کے ایک تہائی حصہ پر غلبہ پالیا اور دنیا کی طاقتوں میں صف اوّل پر آگیا۔ مگر احمدیت جو اسلام کے دور ثانی میں اس کے دائمی اور عالمگیر غلبہ کی علمبردار ہونے کی مدعی ہے وہ قریباً ستر سال گزرنے پر بھی ابھی تک ہر کہ ومہ کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور غلبہ تو الگ رہا۔ اس کی زندگی تک مخدوش نظر آتی ہے۔‘‘
(حوالہ احمدیت کا مستقبل ص ٥، مرتبہ بشیر احمد ایم اے)
یہ بھی ان کے اندرون خانہ کی شہادت ہے کہ ہماری پوزیشن ملک میں کیا ہے۔ اس آخری شہادت میں قادیانیوں نے اعتراف کرلیا ہے کہ اسلام کی حقانیت کے مقابلہ میں ہمارا جھوٹا مذہب زیادہ دیر نہیں چل سکا اور جلد ہی اس کی قلعی کھل گئی۔
آخر میں ہم دست بدعا ہیں کہ خدا تعالیٰ قادیانیت کو خائب وخاسر کرے اور مسلمانوں کو اس کے شر سے پناہ دے۔ پاکستان اور ملت اسلامیہ کو چین نصیب فرمائے۔ آمین!
(خادم ختم نبوت... عبدالرحیم اشعر... ١٩ ربیع الاول ١٣٨٩ھ)
١٨
ں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی طویل سفر میں آتے اور جاتے ہوئے ان غضب خدا کا نازل ہو رہا ہے۔"
١١؎ بحوالہ سید محمد سرور شاہ قادیانی طبع فروری ١٩٢٠ء )
کی گفتگو ہے۔ مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی ہیں۔ اگر ان کی شہادت کو کوئی رد کرے تو ہم کرتے ہیں کہ واقعی اصل نقشہ یہی ہے جو آج ہم مرزا قادیانی کے مریدوں کے بارے دیتے ہیں:
اور بھی یہ رسالہ بہت طویل ہو گیا ہے۔ لیکن ہم ہے کہ باوجود یکہ آج دھندورہ پیٹا جاتا ہے۔ لیکن قادیانیت کی پوزیشن حسب ذیل ہے
قلیل عرصہ کے اندر اندر اس وقت کی تمام کر دنیا کی طاقتوں میں صف اوّل پر آ گیا۔ اور عالمگیر غلبہ کی علمبردار ہونے کی مدعی ہے محسوس کر رہی ہے اور غلبہ تو الگ رہا۔ اس
احمدیت کا مستقبل ص ٥ ، مرتبہ بشیر احمد ایم اے )
ہے کہ ہماری پوزیشن ملک میں کیا ہے۔ اس ہے کہ اسلام کی حقانیت کے مقابلہ میں ہمارا نکل گئی۔
تعالیٰ قادیانیت کو خائب وخاسر کرے اور امت اسلامیہ کو چَین نصیب فرمائے ۔ آمین !
ات... عبدالرحیم اشعر... ١٩ ربیع الاول ١٣٨٩ھ )
خاتم النبيين لا نبي بعدي
سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
مرزائیوں
کا بہت بڑا فریب
مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مرزائیوں کی طرف سے بہت بڑا فریب اور مسلمانان پاکستان کے لئے مقام غور ہے کہ قادیانی جماعت نے ایک پمفلٹ ’’جماعت احمدیہ کے عقائد‘‘ کے نام سے چھاپ کر پاکستان کے گوشہ گوشہ میں تقسیم کیا ہے۔ مذکورہ بالا ٹریکٹ میں مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے مرزائیوں نے اپنے جو عقائد تحریر کئے ہیں۔ ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
١...... اسلام ہمارا دین ہے۔ ٢...... لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہمارا کلمہ ہے۔ ٣...... قرآن کریم خدا تعالیٰ کی آخری شریعت ہے جو تمام مسلمانوں کی ہدایت کے لئے حضورﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ ٤...... آیت خاتم النبیین پر ہمارا ایمان ہے اور ہم صدق دل سے حضور علیہ السلام کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔ ٥...... آپ ہی کی امت میں اپنے آپ کو شمار کرتے ہیں۔ ٦...... ہمارا ایمان ہے کہ قیامت تک قرآن مجید کے احکام میں کوئی ترمیم و تنسیخ اور تغیر و تبدل نہ ہوگا۔
ناظرین کرام! قادیانیوں نے مندرجہ بالا اپنے عقائد تحریر کر کے عام اہل اسلام پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ جب ہمارے یہ عقائد ہیں تو پھر دنیا بھر کے علماء ہم کو کیوں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور پاکستان کے تمام مسلمان فرقوں نے مل کر ہم کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا کیوں مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ منوانے کے لئے کیوں تحریک ١٩٥٣ء چلائی۔ وغیرہ وغیرہ!
مرزائی امت سے ایک سوال: آپ نے نمبر وار ایک سے چھ تک جو مندرجہ بالا عقائد آپ نے بتائے ہیں بعینہ یہی عقائد ہمارے اور دنیائے اسلام کے ٧٥ کروڑ مسلمانوں کے ہیں۔ تو پھر آپ (مرزائی) اپنے علاوہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو کیوں دائرہ اسلام سے خارج اور کافر سمجھتے ہیں؟۔ ذیل میں ہم مستند قادیانی اکابر کی کتب سے چند حوالہ جات درج کرتے ہیں جن سے واضح ہو گا کہ مرزائیوں کے نزدیک ان کے علاوہ دنیا کے ٧٥ کروڑ مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔
- ١...... ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت
پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
- ٢...... ’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے
٢
کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضا)
- ٣...... ”مجھے خدا کا الہام ہے کہ جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت
میں داخل نہ ہوگا وہ تیرا مخالف رہے گا اور وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، اشتہار معیار الاخیار)
- ٤...... ”ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہوسکتا اور اس
ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں۔ عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب (مرزا قادیانی) کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا؟۔“
(نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ٢٧٥)
- ٥...... ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر یہود و نصاریٰ اللہ کو مانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کو مانتے ہیں۔ کیا اس انکار پر کافر ہیں یا نہیں؟۔ کافر ہیں۔ اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح (مرزا قادیانی) رسول کا منکر کیوں کافر نہیں؟“
(نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ٣٨٥)
- ٦...... ”ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز
نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠ از مرزا محمود احمد قادیانی)
- ٧...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا محمود قادیانی)
- ٨...... ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں سے ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دیدے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦ از مرزا محمود قادیانی)
- ٩...... ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا
ہے مگر محمدﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمدﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا۔ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٠، ج ١٤، نمبر ٣ مندرجہ ریویو مارچ و اپریل ١٩١٥ء)
- ١٠...... ”(مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے) قل یا ایھا الکفار انی من
الصادقین (دیکھو حقیقت الوحی ص٩٢) اب کہاں ہیں وہ لوگ جن کا یہ قول ہے کہ مسیح موعود کو ماننا جزو ایمان نہیں۔ وہ دیکھیں کہ خدا مسیح موعود کو حکم دیتا ہے کہ تو کہہ اے کافرو! میں صادقین میں سے ہوں۔ یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس الہام میں مخاطب ہر ایک ایسا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا۔ کیونکہ فقرہ انی من الصادقین اس کی طرف صاف طور پر اشارہ کر رہا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر ایک جو آپ کو صادق نہیں جانتا اور آپ کے دعوٰی پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٤٣، ج ١٤، نمبر ٣ مندرجہ ریویو مارچ اپریل ١٩١٥ء)
مرزائیوں سے دوسرا سوال: آپ لوگ ہر اس شخص کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ گو وہ کسی بھی ملک کا رہنے والا ہو۔ خواہ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام بھی نہ سنا ہو۔
(ملاحظہ ہو حوالہ نمبر ٧)
ناظرین کرام! حقیقت حال یہ ہے کہ جب مرزائی تمام مسلمانوں کو صرف اس لئے کافر قرار دیتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ تو پھر ان عقائد کے باوجود مرزائی ظاہر کرتے ہیں۔ جب انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کر کے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ دنیائے اسلام کے مسلمانوں کے نزدیک کیوں کافر نہ قرار دیئے جائیں۔ نیز مرزائی یہ بھی بتائیں کہ کسی غیر نبی کو نبی تسلیم کرنا کفر ہے یا نہیں؟۔
مرزائیوں سے تیسرا سوال: اگر یہودی‘ عیسائی‘ ہندو وغیرہ غیر مسلم اسلام میں داخل ہو جائیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم نہ کریں تو وہ بھی آپ کے نزدیک ویسے ہی کافر ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔ تو پھر مسلمان ان یہودی اور عیسائی ہندو کو جو اپنا مذہب چھوڑ کر مرزائی ہو جاتے ہیں کیوں ویسا ہی کافر نہ سمجھیں جیسا کہ وہ قادیانی بننے سے پہلے تھے؟۔ اور نیز تمہارے بیرونی ملکوں میں تبلیغ اسلام کے جھوٹے پروپیگنڈا کو (جو دراصل انگریزوں کی جاسوسی کا پروگرام ہے) تبلیغ اسلام کیوں سمجھیں؟۔ بلکہ ان کی مثال ہوگی کہ: ”کنویں سے نکلا اور دریا میں گرا۔“
(شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ)
٤