رَدِّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا عبدالحئی امرتسری
- حضرت مولانا ابو عمر عبدالعزیز
- حضرت مولانا حکیم ولی الدین بھاگلپوری
- حضرت مولانا حکیم عبدالغنی
- حضرت مولانا محمد الدین کاہنہ کچہ
- حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی
- حضرت مولانا محمد یعقوب رحمانی
- حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میہانوی
- حضرت مولانا سید محمد عرب مکی
احتساب قادیانیت
جلد ٤٨
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٤٨
- حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری
- حضرت مولانا ابوالقاسم عبدالعزیز
- حضرت مولانا حکیم ولی الدین بھیروی
- حضرت مولانا حکیم عبدالحق
- حضرت مولانا شمس الدین کاندھلوی
- حضرت مولانا عبدالحلیم قاسمی
- حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی
- حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ بھیروی
- حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اڑتالیس (٤٨) مصنفین : حضرت مولانا ابو عمر عبد العزیز حضرت مولانا حکیم عبد الغنی حضرت مولانا عبد العلیم صدیقی حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانوالی حضرت مولانا عبد الحی امرتسری حضرت مولانا حکیم ولی الدین بھاگلپوری حضرت مولانا محمد الدین کاہنہ کاچھہ حضرت مولانا محمد یعقوب رحمانی حضرت مولانا سید محمد عرب مکی
صفحات : ٥٠٣ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : ستمبر ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ!
فہرست رسائل مشمولہ ..... احتساب قادیانیت
عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا
- ١ ...... تبلیغی تحفہ حضرت مولانا ابو عمر عبد الع
- ٢ ...... الحق المبین حضرت مولانا حکیم عبد الغ
- ٣ ...... مرزائی حقیقت کا اظہار حضرت مولانا عبد العلیم
- ٤ ...... ختم نبوت حضرت مولانا مفتی غلام
- ٥ ...... تذکرۃ العباد (لکیلا یغتروا باقوال اھل الحاد) حضرت مولانا عبد الحی ا
- ٦ ...... محکمات ربانی، لنسخ القائی قادیانی حضرت مولانا حکیم ولی ا
- ٧ ...... فیصلہ قرآنی معروف بہ تکذیب قادیانی حضرت مولانا محمد الدی
- ٨ ...... حقیقت مرزا حضرت مولانا محمد یعقو
- ٩ ...... الکلام الفصیح فی تحقیق الحیات حضرت مولانا سید محمد عر
المسيح (الملقب بہ اسم تاریخی) ابتر دین غلام احمد قادیانی ١٩٣٠ء
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٨
عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤
- ١....... تبلیغ تحفہ حضرت مولانا ابو عمر عبدالعزیزؒ ٧
- ٢....... الحق المبین حضرت مولانا حکیم عبدالغنیؒ ٢١
- ٣....... مرزائی حقیقت کا اظہار حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ ٩٩
- ٤....... ختم نبوت حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانویؒ ١٦٥
- ٥....... تذکرۃ العباد (لکیلا یغتروا باقوال اہل الالحاد) حضرت مولانا عبدالحی امرتسریؒ ١٧٩
- ٦....... محکمات ربانی لنسخ القائے قادیانی حضرت مولانا حکیم محی الدین بھاگلپوریؒ ٣٠١
- ٧....... فیصلہ قرآنی معروف بہ تکذیب قادیانی حضرت مولانا محمد الدینؒ کاہنہ کاچھہ ٣٨١
- ٨....... حقیقت مرزا حضرت مولانا محمد یعقوب رحمانیؒ ٤٥١
- ٩....... الکلام الفصیح فی تحقیق الحیات حضرت مولانا سید محمد عرب مکیؒ ٤٦٧
المسیح (الملقب بہ اسم تاریخی) ابو تردید غلام احمد قادیانی ١٩٣٧ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض مرتب
الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى اما بعد ! قارئین کرام ! لیجئے اللہ رب العزت کے فضل و کرم و احسان سے احتساب قادیانیت کی جلد اڑتالیس (٤٨) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں سب سے پہلے:
- ١....... تبلیغی تحفہ : جناب مولانا ابو عمر عبدالعزیز نے سوال و جواب پر یہ رسالہ مرتب کیا۔ جمادی
الثانی ١٣٥١ھ مطابق اکتوبر ١٩٣٢ء میں اولاً لاہور سے شائع ہوا۔ اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٢....... الحق المبين : مولانا حکیم عبدالغنی ناظم، جمعیہ رانوالی ضلع گجرات نے اس کو ١٩٣٤ء
میں مرتب کیا۔ موصوف کے متناقضات مرزا، واعتقادات مرزا پر بھی دو رسائل ہیں۔ لیکن وہ دستیاب نہ ہو پائے۔ اخبار ”روز نامہ احسان لاہور“ کی اشاعت ٢٤ نومبر ١٩٣٤ء میں قادیانیوں کے نو سوال شائع ہوئے۔ جس کا مسلمانوں سے جواب طلب کیا گیا تھا۔ مولانا عبدالغنی صاحب نے ”الحق المبین“ کے نام سے ہر سوال کا تفصیلی جواب دیا۔ جس سے یہ کتاب تیار ہو گئی۔ خوب معلوماتی اور ثقاہت سے بھر پور کتاب ہے۔ مولانا عبدالغنی صاحب کا ٢٠ مئی ١٩٦٦ء کو وصال ہوا۔
- ٣....... مرزائی حقیقت کا اظہار : حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی قادری حنفی میرٹھی ماریشس
میں عرصہ تک قیام پذیر رہ کر خدمت اسلام کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ آپ کی تبلیغ حق سے سینکڑوں بندگان خدا غیر مسلم افراد نے اسلام قبول کیا۔ ان میں قادیانی بھی تھے جو مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی تبلیغ اسلام سے مسلمان ہوئے۔ ان دنوں ماریشس میں قادیانیوں کا مربی ایک حافظ قادیانی تھا۔ مولانا شاہ عبدالعلیم صاحب کی للکار حق کے باوجود کبھی روبرو آنے کی جرات نہ کر پایا۔ مولانا شاہ عبدالعلیم صاحب نے ایک جلسہ میں اعلان فرمایا کہ میں اب ماریشس چھوڑ کر دوسرے ملک جا رہا ہوں۔ ابلیس اعظم نے اس قادیانی مربی کے کان میں پھونک مار دی کہ اب موقع ہے ڈینگ پے ڈینگ مار کر جاہلان قادیان کے سامنے نمبر بنالو۔ اس نے ایسے وقت میں دو پمفلٹ لکھ کر شائع کئے۔ جن دنوں مولانا شاہ عبدالعلیم سفر کے لئے پا برکاب تھے ان پمفلٹوں کی تقسیم ہو گئی۔ آپ نے پمفلٹ لیا۔ بحری جہاز کا سفر تھا۔ جتنے دن جہاز میں رہے ان تمام پمفلٹس کا جواب لکھ دیا۔ قادیانی پمفلٹوں کا نام اظہار حقیقت نمبر ١، ٢، ٣ تھا۔ مولانا نے سب کا جواب ”مرزائی اظہار حقیقت“ کے نام سے یہ جامع کتابچہ مرتب فرمادیا۔ یکم مئی ١٩٤٩ء کو یہ مکمل ہوا۔ مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کا ٢٣ اگست ١٩٥٤ء کو
وصال ہوا مدینہ طیبہ جنت البقیع میں مدفون ہوئے زہے نصیب! حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی کے جانشین حضرت مولانا شاہ باپ مولانا عبدالعلیم صدیقی نے قادیانیت کے خلاف اوائل میں تحریک اسمبلی میں ان کو کافر قرار دلوایا۔ مولانا عبدالعلیم صدیقی سے فقیر کے استاذ لال حسین اختر کے برادرانہ تعلقات تھے۔ مل کر رد قادیانیت پر کام کیا۔ نورانی، حضرت مولانا لال حسین اختر کو ”چچا حضور“ فرمایا کرتے تھے۔ کہ اب تو عقبیٰ کی دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
- ٤....... ختم نبوت : حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب میانی
تھے۔ نامور عالم دین تھے۔ معقولات و منقولات پر ان کو بھر پور گرفت حـ مصنف کتاب ”الظفر الرحمانی فی کشف القادیانی“ احتساب قادیانیت کی جلد شائع کر چکے ہیں۔ آپ کا یہ رسالہ بھی اسی جلد میں شائع ہونا چاہئے تھا بـ ہوا۔ اب اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٥....... تذکرة العباد لكيلا يفتروا باقوال اهل الحاد
ہیں کہ عذاب آ رہے ہیں جو مرزا قادیانی کی تکذیب کی وجہ سے ہیں۔ مـ عذاب کے نزول کے کئی اسباب ہیں۔ نبی کے انکار سے عذاب آتا ہے۔ مگر آئے تو کوئی نبی ماننا پڑے گا۔ حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔ مؤلف مو عثمان ہیں۔ برقی مطبع امرتسر سے اولاً شائع ہوئی۔ خوب معلوماتی کتاب ۔
- ٦....... محکمات ربانی، لنسخ القائے قادیانی : حجۃ اللہ
محمد علی مونگیری نے ”فیصلہ آسمانی“ کتاب مرزا قادیانی کے رد میں تالیف نفس ناطقہ عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری نے ”القائے ربانی بتردید فیصلہ کے رد میں تحریر کی۔ اللہ رب العزت نے فضل کا معاملہ فرمایا کہ عبد الماجد حافظ مولانا ولی الدین پورنوی بھاگل پوری نے عبد الماجد قادیانی کی کتـ میں ”محکمات ربانی لنسخ القائے قادیانی“ تحریر کر کے قادیا کتاب کم از کم ایک صدی قبل کی ہوگی جو اس جلد میں شامل کی جارہی ہے
- ٧....... فیصلہ قرآنی معروف بہ تکذیب قادیانی : حکیم حافظ
لاہور نے ١٣٢٢ھ مطابق ١٩٠٤ء مرزا قادیانی کی عین حین حیات یہ کتاب شا
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم !
عرض مرتب
کفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل وکرم واحسان سے احتساب قادیانیت کی ت ہے۔ اس جلد میں سب سے پہلے:
مولانا ابو عمر عبدالعزیز نے سوال وجواب پر یہ رسالہ مرتب کیا۔ جمادی ء میں اولاً لاہور سے شائع ہوا۔ اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
مولانا حکیم عبدالغنی ناظم جمعیتہ رانوالی ضلع گجرات نے اس کو ١٩٣٤ء شات مرزا، واعتقادات مرزا پر بھی دو رسائل ہیں۔ لیکن وہ دستیاب ن لاہور‘‘ کی اشاعت ٢٣؍ دسمبر ١٩٣٣ء میں قادیانیوں کے نو سوال سے جواب طلب کیا گیا تھا۔ مولانا عبدالغنی صاحب نے ”للحق تفصیلی جواب دیا۔ جس سے یہ کتاب تیار ہو گئی۔ خوب معلوماتی اور لا نا عبدالغنی صاحب کا ٢٠؍ مئی ١٩٦٦ء کو وصال ہوا۔
- ٣...... ظہار: حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی قادری حنفی میرٹھی ماریشس
ت اسلام کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ آپ کی تبلیغ حق سے نے اسلام قبول کیا۔ ان میں قادیانی بھی تھے جو مولانا شاہ عبدالعلیم دئے۔ ان دنوں ماریشس میں قادیانیوں کا مربی ایک حافظ قادیانی نکار حق کے باوجود کبھی روبرو آنے کی جرأت نہ کر پایا۔ مولانا شاہ ں اعلان فرمایا کہ میں اب ماریشس چھوڑ کر دوسرے ملک جا رہا مربی کے کان میں پھونک مار دی کہ اب موقع ہے ڈینگ مارے تہ نمبر ملا لو۔ اس نے ایسے وقت میں دو پمفلٹ لکھ کر شائع کئے۔ لئے تیار کاتب تھے ان پمفلٹوں کی تقسیم ہو گئی۔ آپ نے پمفلٹ میں رہے ان تمام پمفلٹوں کا جواب لکھ دیا۔ قادیانی پمفلٹوں کا نے سب کا جواب ”مرزائی اظہار حقیقت“ کے نام سے یہ جامع مکمل ہوا۔ مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کا ٢٣؍ اگست ١٩٥٤ء کو
وصال ہوا۔ مدینہ طیبہ جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ زہے نصیب! حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی کے جانشین حضرت مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم تھے۔ باپ مولانا عبدالعلیم صدیقی نے قادیانیت کے خلاف اوائل میں تحریک اٹھائی۔ بیٹے نے قومی اسمبلی میں ان کو کافر قرار دلوایا۔ مولانا عبدالعلیم صدیقی سے فقیر کے استاذ محترم مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کے برادرانہ تعلقات تھے۔ مل کر رد قادیانیت پر کام کیا۔ اس لئے مولانا شاہ احمد نورانی، حضرت مولانا لال حسین اختر کو ”چچا حضور“ فرمایا کرتے تھے۔ کہاں رہیں اب وہ صحبتیں، اب تو مادی دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
- ٤...... ختم نبوت: حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب میانی ضلع سرگودھا کے رہائشی
تھے۔ نامور عالم دین تھے۔ معقولات ومنقولات پر ان کو بھر پور گرفت حاصل تھی۔ آپ کی ایک کتاب ”الظفر الرحمانی فی کشف القادیانی“ احتساب قادیانیت کی جلد اٹھائیس (٢٨) میں ہم شائع کر چکے ہیں۔ آپ کا یہ رسالہ بھی اسی جلد میں شائع ہونا چاہئے تھا۔ مگر اس وقت دستیاب نہ ہوا۔ اب اس جلد میں پیش خدمت ہے۔
- ٥...... تذکرة العباد (لکیلا یفتروا باقوال اهل الحاد) : قادیانی دجل کرتے
ہیں کہ عذاب آ رہے ہیں جو مرزا قادیانی کی تکذیب کی وجہ سے ہیں۔ مصنف نے جواب دیا کہ عذاب کے نزول کے کئی اسباب ہیں۔ نبی کے انکار سے عذاب شے دگر ہے۔ ورنہ جب بھی عذاب آئے تو کوئی نبی ماننا پڑے گا۔ حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔ مؤلف مولانا عبدالحی بن مولانا محمد عثمان ہیں۔ برقی مطبع امرتسر سے اولاً شائع ہوئی۔ خوب معلوماتی کتاب ہے۔
- ٦...... محکمات ربانی، لنسخ القائے قادیانی : حجة اللہ علی الارض حضرت مولانا
محمد علی مونگیریؒ نے ”فیصلہ آسمانی“ کتاب مرزا قادیانی کے رد میں تالیف فرمائی۔ قادیانیت کے نفس ناطقہ عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری نے ”القائے ربانی بتردید فیصلہ ابواحمد رحمانی“ اس کتاب کے رد میں تحریر کی۔ اللہ رب العزت نے فضل کا معاملہ فرمایا کہ عبد الماجد قادیانی کے رشتہ دار حکیم حافظ مولانا ولی الدین پورنوی بھاگل پوری نے عبد الماجد قادیانی کی کتاب القائے ربانی کے رد میں ”محکمات ربانی لنسخ القائے قادیانی“ تحریر کر کے قادیانیوں کا ناطقہ بند کر دیا۔ یہ کتاب کم از کم ایک صدی قبل کی ہو گی جو اس جلد میں شامل کی جا رہی ہے۔
- ٧...... فیصلہ قرآنی معروف بہ تکذیب قادیانی : حکیم حافظ مولانا محمد الدین کاہنہ کاچھا
لاہور نے ١٣٢٦ھ مطابق ١٩٠٤ء مرزا قادیانی کی عین حین حیات یہ کتاب شائع کی۔ ١٣٤٢ھ میں پہلی بار
شائع ہوئی اب ١٤٣٣ھ ایک سو گیارہ سال بعد اس کی دوبارہ اشاعت ہمارے لئے باعث خوشی ہے۔
- ٨...... حقیقت مرزا: مولانا محمد یعقوب رحمانی نے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی حقیقت
ناواقف مسلمانوں کی اطلاع کے لئے بیان کی ہے کہ مرزا قادیانی کو محض صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ نعوذ باللہ ان کو خدا کا بیٹا اور اس سے بھی بڑھ کر خدا ہونے کا دعویٰ تھا۔ آخر میں مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کی صرفی، نحوی، عروضی غلطیاں بھی دکھلائی گئی ہیں۔ ایک صدی قبل کا یہ رسالہ اب دوبارہ یہاں شائع ہورہا ہے۔ فالحمدلله!
- ٩...... الکلام الفصیح فی تحقیق حیات المسیح (الملقب بہ اسم
تاریخی) ابواب تردید غلام احمد قادیانی ١٩٣٠ء: مولانا مفتی قاری حافظ السید محمد عرب مکی حنفی قادری سنوی نے حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور رفع جسمانی قرآن کریم سے ثابت کیا ہے اور قادیان مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب وافتراء کے ثبوت میں نہایت روشن دلائل اور محققانہ مباحث درج کئے ہیں۔
غرض احتساب قادیانیت جلد اڑتالیس (٤٨) میں:
- ١...... مولانا ابو عمر عبدالعزیز کا ١ رسالہ
- ٢...... مولانا حکیم عبدالحقؒ کا ١ رسالہ
- ٣...... حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کا ١ رسالہ
- ٤...... حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانویؒ کا ١ رسالہ
- ٥...... حضرت مولانا عبدالحی امرتسریؒ کا ١ رسالہ
- ٦...... حکیم مولانا ولی الدین بھاگلپوریؒ کا ١ رسالہ
- ٧...... مولانا محمد الدین کاہنکاچھر کا ١ رسالہ
- ٨...... مولانا محمد یعقوب رحمانیؒ کا ١ رسالہ
- ٩...... مولانا سید محمد عرب مکیؒ کا ١ رسالہ
گویا ٩ حضرات کے کل ٩ رسائل احتساب قادیانی کی جلد ٤٨ میں اشاعت پذیر ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ اگلی جلد کی اشاعت تک کے لئے طلب اجازت کے ساتھ دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں۔ فالحمدلله على ذلك! محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٢٩/ رمضان المبارک ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٨/ اگست ٢٠١٢ء
ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیء علیما
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
صلی اللہ علیہ وسلم
تبلیغی تحفہ
حضرت مولانا ابو عمر عبدالعزیز
گیارہ سال بعد اس کی دوبارہ اشاعت ہمارے لئے باعث خوشی ہے۔ لانا محمد یعقوب رحمانی نے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی حقیقت کے لئے بیان کی ہے کہ مرزا قادیانی کو محض صاحب شریعت نبی ان کو خدا کا بیٹا اور اس سے بھی بڑھ کر خدا ہونے کا دعویٰ تھا۔ آخر کی صرفی، نحوی، عروضی غلطیاں بھی دکھلائی گئی ہیں۔ ایک صدی ائع ہورہا ہے۔ فالحمدلله!
یح فی تحقیق حیات المسیح (الملقب بہ اسم احمد قادیانی ١٩٣٠ء : مولانا مفتی قاری حافظ السید محمد عرب مکی ت مسیح علیہ السلام اور رفع جسمانی قرآن کریم سے ثابت کیا ہے ز قادیانی کے کذب وافتراء کے ثبوت میں نہایت روشن دلائل
ت جلد اڑتالیس (٤٨) میں:
کا ١ رسالہ صدیقی" کا ١ رسالہ تقی میانوی" کا ١ رسالہ کسریٰ کا ١ رسالہ بجنوری" کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ
....................................................................
ت کے کل ٩ رسائل میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ اجازت کے ساتھ دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں۔ محتاجِ دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٢؍رمضان المبارک ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٨؍اگست ٢٠١٢ء
سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم
تبلیغی تحفہ
حضرت مولانا ابو عمر عبدالعزیزؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم!
اس سلسلہ اشاعت ”حرز ایمان“ کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی ہے کہ مرزائی ایجنٹ مرزا صاحب کے اقوال والہامات جو ملمع کی صورت میں پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اقوال والہامات کو ان کے اصلی رنگ میں ظاہر کر کے امت مسلمہ کو اس گمراہی سے بچایا جائے۔ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی جو خدا کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں وہ آپس میں متضاد ہیں۔
نبوت سے انکار
مرزائیوں کے امیر مولوی محمد علی نے دعوت عمل ص ٢٠ پر ایک سرخی ”دعویٰ نبوت کا غلط اعتراض“ کے ماتحت مرزا قادیانی کا ایک اعلان درج کیا ہے۔ جس سے اس کا مقصد مرزا قادیانی کی نبوت سے انکار ہے۔ ذیل میں منقول ہے: ”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں۔ کہ یہ شخص نبوت کا مدعی، ملائک کا منکر، بہشت دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بالکلی منکر ہے۔ لہٰذا میں اظہار الحق خاص و عام اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ نہ میں نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں۔ جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں۔ اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“ (اعلان ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) میں شائع ہوا۔
نبوت کا دعویٰ
- ......١ (دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) ”تم سمجھو کہ قادیان اس لئے محفوظ رکھا گیا کہ وہ
خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا ۔“
٢
- ......٢ ”طاعون گو ستر برس تک دنیا میں رہے قادیان کو اس کے خطر
گا۔ کیونکہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور یہ نشان امتوں کے لئے تھ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠، دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر۔ ”سچا خدا و رسول بھیجا۔“
- ......٣ اشتہار مرزا قادیانی ”پس میں جبکہ میں اس وقت تک ڈیڑ
کی طرف سے پا کر چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں نام سے کیونکر انکار کروں اور جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ میرے نام رکھے ہیں میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فر کھلے کھلے وحی پر ایمان رکھتا ہوں جو مجھے ہوئی ۔“
(
آنحضرت ﷺ کی توہین
(الفضل ٧؍مئی ١٩٣٠ء) ”قرآن میں بعض ایسی پیش گوئیاں رسول اللہ ﷺ پر بھی نہیں کھلا۔“
- ......٢ (ازالۃ اوہام ص ٦٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤٧١) ”آپ نے امت
غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔“
- ......٣ ”ھو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحـ
کلہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے ہے۔“
(اعجاز ا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
(دافع الـ
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلـ بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہـ زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا ۔“
(دافع البـ
- ......٢ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”حضرت مسیح کی
تھیں اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا
٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ونصلی علی رسولہ الکریم !
”طرز ایمان“ کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی ہے کہ مرزائی امات جو ملمع کی صورت میں پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی ہامات کو ان کے اصلی رنگ میں ظاہر کر کے امت مسلمہ کو اس بانی کے تمام دعاوی جو خدا کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں وہ
ی محمد علی نے دعوت عمل ص ٢٠ پر ایک سرخی ”دعویٰ نبوت کا غلط ایک اعلان درج کیا ہے۔ جس سے اس کا مقصد مرزا قادیانی قول ہے: ”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء ا ہے کہ یہ شخص نبوت کا مدعی، ملائک کا منکر، بہشت دوزخ کا یلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بکلی منکر ہے۔ لہٰذا زرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں اس کو یہ الزام سراسر اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ت اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں۔ اور سیدنا و مولانا ے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر ت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) کو شائع ہوا۔
اس ص٢٢٦) ”تم سمجھو کہ قادیان اس لئے محفوظ رکھا گیا کہ وہ
٢
- ٢...... ”طاعون گو ستر برس تک دنیا میں رہے قادیان کو اس کے خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے
گا۔ کیونکہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور یہ نشان امتوں کے لئے نشان ہے۔“ (دافع البلا ص١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠، دافع البلا ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر۔ ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔“
- ٣...... اشتہار مرزا قادیانی ”پس میں جبکہ میں اس وقت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا
کی طرف سے پا کر چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کروں اور جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ میرے نام رکھے ہیں۔ تو میں کیونکر رد کروں اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلے کھلے وحی پر ایمان رکھتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥)
آنحضرت ﷺ کی توہین
(الفضل ١٧ مئی ١٩٣٠ء) ”قرآن میں بعض ایسی پیش گوئیاں ہیں۔ جن کا حقیقی مفہوم رسول اللہ ﷺ پر بھی نہیں کھلا۔“
- ٢...... (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣١١) ”آپ نے امت کے سمجھانے کے لئے خود اپنی
غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔“
- ٣...... ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین
کلہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
(دافع البلا ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔“
(دافع البلا ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- ٢...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”حضرت مسیح کی تین نانیاں اور دادیاں زنا کار
تھیں اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
٣
- ٣...... (حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١) ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے
نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے شاید بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
- ٤......
عيسى كجاست تابنهد پابمنبرم
(ازالہ اوہام ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ٥...... (اخبار بدر مورخہ ٢٤ مئی) ”ایک دفعہ حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر آئے تو اس کا نتیجہ یہ
ہوا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آ کر دنیا میں کیا بتائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہش مند ہیں۔“
- ٦...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) (الف) ”یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ
بولنے کی عادت تھی۔“
- (ب) ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے
کوئی معجزہ نہیں ہوا آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
بہشت اور دوزخ سے انکار
”دوزخ و بہشت اور ان کے آلام و نعیم کا خارجی وجسمانی وجود نہیں ہے۔ بلکہ صرف ظلی و مثالی وجود ہے۔ جو انسان کی روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں۔“ (دیکھو لیکچر مرزا قادیانی اسلامی اصول کی فلاسفی ص ٦٧، خزائن ج ١٠ ص ٤١٣) ” اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فاتقوا النار التی وقودها الناس والحجارة أعدت للكفرين وبشر الذين آمنو وعملوا الصلحت ان لهم جنت تجری من تهتها الانهار ۔ مرزائی صاحبان کو اختیار ہے کہ وہ خدا کی بات مانیں یا مرزا کی۔ لیکن بات اس کی ماننی چاہئے جو رب العالمین ہے۔
اب مولوی محمد علی مرزائیوں کے امیر جواب دیں کہ بے شک وہ اعلان تو آپ کے حضرت مجدد مرزائے قادیانی کا ہے کہ: ”میں نبوت و رسالت کے مدعی کو کافر جانتا ہوں۔“ لیکن
٤
دوسرے اقوال و دعاوی کا مدعی کون ہے؟ ہاتھی کے دانت دکھا انصاف! انصاف! انصاف! اگر مولوی محمد علی انصاف پسند ہیں تو اس چھوڑ دیں۔
اپنی عمر کے متعلق قادیانی نبی منشی غلام احمد آنجہانی کے م
کراچی کے مولانا احمد صدیق نے منشی غلام احمد آنجہانی ک بیانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذیل کی دلچسپ داستان مرتب کی ہے۔ (ز
سوال ...... مرزا قادیانی فرمائیے کہ خدا تعالیٰ نے آپ سے عمر کے مت کی عمر کتنی ہوگی؟ جواب ...... جی ہاں! ”خدائے تعالیٰ نے مجھے صریح الفاظ میں اطلاع د ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“ (ضمیمہ براہی ج ٢١ ص ٢٥٩) اس الہام سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی عمر ٧٤ سال ٧٤ سال سے کم نکلی تو مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوں گے اور الہام بھی موت
اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی مئی ١٩٠٨ء ہو کر بمقام لاہور وفات پا گئے۔
پیدائش مرزا قادیانی
سوال ...... مرزا قادیانی آپ کب پیدا ہوئے ہیں؟ جواب ...... میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت
(حیات النبی ص ١٥٩ کتاب البریہ ص
سوال ...... مرزا قادیانی اس بات کے گواہ کون کون ہیں کہ واقعی آپ ١٩ جواب ...... اے بے باک سندھی ایک گواہ نہیں بلکہ سینکڑوں گواہ اس مذاہب اسلام صفحہ ٧٠ ۔ کتاب محقق ص ٩ رسالہ سوانح مسیلمہ کذاب ١٩٠٤ء، ١٩٠٨ء اخبار بدر ١٩٠٢ء، ١٩٠٦ء اور میرا خلیفہ اول مولوی نور ا کے ص ٧٠ پر لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہو
٥
ائن ج١٩ص٧١) ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے شاید بیماری کی وجہ سے یا پرانی
جاست تابنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
یک دفعہ حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر آئے تو اس کا نتیجہ یہ دوبارہ آ کر دنیا میں کیا بتائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے
ن ج ١١ص ٢٨٩) (الف) ”یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ
معجزات آپ کے لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ص ٢٩٠)
کے آلام و وہم کا خارجی و جسمانی وجود نہیں ہے۔ بلکہ صرف انی حالتوں کے ظلال و آثار ہوں۔“ (دیکھو لیکچر مرزا قادیانی ٣٤) ”اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فاتقوا النار التی د للكفرين وبشر الذين آمنوا وعملوا الصلحت الانهار ۔ مرزائی صاحبان کو اختیار ہے کہ وہ خدا کی بات چاہئے جو رب العالمین ہے۔
ں کے امیر جواب دیں کہ بے شک وہ اعلان تو آپ کے ”میں نبوت و رسالت کے مدعی کو کافر جانتا ہوں۔“ لیکن
٤
١١
دوسرے اقوال و دعاوی کا مدعی کون ہے؟ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔ انصاف! انصاف! اگر مولوی محمد علی انصاف پسند ہیں تو اس کا جواب دیں یا مرزائیت چھوڑ دیں۔
اپنی عمر کے متعلق قادیانی نبی منشی غلام احمد آنجہانی کے متضاد بیانات
کراچی کے مولانا احمد صدیق نے منشی غلام احمد آنجہانی کی عمر کے متعلق ان کے متضاد بیانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذیل کی دلچسپ داستان مرتب کی ہے۔ (زمیندار)
سوال...... مرزا قادیانی فرمائیے کہ خدا تعالیٰ نے آپ سے عمر کے متعلق کوئی وعدہ کیا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہوگی؟
جواب...... جی ہاں! ”خدائے تعالیٰ نے مجھے صریح الفاظ میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج٢١ص٢٥٩) اس الہام سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی عمر ٧٤ سال سے کم نہ ہونی چاہئے۔ اگر ٧٤ سال سے کم نکلی تو مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوں گے اور الہام بھی غلط ہوگا۔
موت
اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی مئی ١٩٠٨ء میں مرض ہیضہ میں گرفتار ہو کر بمقام لاہور وفات پاگئے۔
پیدائش مرزا قادیانی
سوال...... مرزا قادیانی آپ کب پیدا ہوئے ہیں؟
جواب...... میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔
(حیات النبی ص ١٥٩ کتاب البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ص ١٧٧)
سوال...... مرزا قادیانی اس بات کے گواہ کون کون ہیں کہ واقعی آپ ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے؟
جواب...... اے بے باک سندھی ایک گواہ نہیں بلکہ سینکڑوں گواہ اس بات کے ہیں۔ سن کتاب مذاہب اسلام صفحہ ٧٠ ۔ کتاب محقق ص ٩ رسالہ سوانح مسیلمہ کذاب صفحہ، کتاب اخبار الحکم ١٩٠٤، ١٩٠٨ء اخبار بدر ١٩٠٢ء، ١٩٠٦ء اور میرا خلیفہ اول مولوی نور الدین کی کتاب نور الدین کے ص ٧٠ پر لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی ہے۔
٥
سوال ...... اور بھی کوئی معتبر گواہ ہے؟
جواب ...... ہاں سن! میری کتاب براہین احمدیہ حصہ اول ٦٠ پر لکھا ہے کہ: ”١٨٣٩ء مطابق ١٢٥٥ھ دنیا کی تواریخ میں بہت بڑا مبارک سال ہے جس میں خدا تعالیٰ نے مرزاغلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں وہ موعود مہدی پیدا فرمایا۔ جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین و آسمان پر ہو رہی تھیں۔ ص ٦٠ اور مسیح موعود کی ولادت اور راجہ رنجیت سنگھ کی موت کا ایک ہی سال میں واقع ہونا مرسلانہ بعثت کے نشانات کا مظہر ثابت ہوتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کسی سلطنت کا تاج تھا جو مسیح موعود کے پیدا ہوتے ہی ٢٧/ جون ١٨٣٩ء کو گر کر خاک میں مل گیا۔“
(مسیح موعود کے حالات مرتبہ معراج الدین قادیانی ص ٦٠، ٦١، ملحقہ براہین احمدیہ ایڈیشن اوّل)
ان مندرجہ تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی آنجہانی ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے اگر کسی مرزائی کو شک ہو تو کافر ہو کر مرے۔
نتیجہ
اب معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٨ء میں مر گئے تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٦٩ برس کی ہوتی ہے نہ کہ ٧٤ برس کی لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے ہائے افسوس جب تقدیر بگڑتی ہے تو اپنا خون ہی دشمن ہو جاتا ہے۔
سوال ...... مرزا قادیانی اس وقت ١٨٩٣ء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی؟
جواب ...... ”اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔“
(نزول المسیح ص ٧٨، خزائن ج ١٨ ص ٥٥٦ و آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٥، خزائن ج ٥ ص ٥٧٥)
اس حساب سے معلوم ہوا کہ ٥٠+١٥ = ٦٥ برس کی عمر ہوتی ہے۔ نہ کہ ٧٤ برس، لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے۔
سوال ...... مرزا قادیانی اس وقت ١٨٩٦ء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی۔ بے ایمانی چھوڑ کر جواب دیجئے۔
جواب ...... ”اس وقت ١٨٩٦ء میں میری عمر ٦٤ برس کی ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)
مرزا قادیانی کی قابلیت دیکھئے کہ ١٨٩٣ء میں ٥٠ برس کی عمر بتاتے ہیں تو ١٨٩٦ء میں
٦٤ برس کے بن گئے۔ حالانکہ ١٨٩٦ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٥٣ ہی کیا جو سچ بول جائے؟
سوال ...... مرزا قادیانی اس وقت ١٩٠٢ء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی
جواب ...... ”٦٠ برس کی عمر جو تخمیناً میری عمر کا اندازہ ہے۔“ (کتا
١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی اپنی عمر ٦٠ برس کی بتاتے ہیں اس حساب مرزا قادیانی کی عمر ٦٦ برس کی ثابت ہوتی ہے۔ نہ کہ ٧٤ قادیانی کا ذب ثابت ہوئے۔
حل طلب معمہ
مرزا قادیانی ١٨٩٦ء میں اپنی عمر ٦٤ برس کی بتاتے ہیں کہ پاپائے قادیان اور حضرت لم یتجہ لال بھگوا اس معمہ کو جلد حل کر
سوال ...... اچھا جناب مرزا قادیانی ١٩٠٢ء میں آپ کی عمر ٦٠ برس آپ کی عمر کتنی ہوگی؟
جواب ...... ”اس وقت ١٩٠٣ء میں میری عمر ستر برس کے قریب
(تتمہ حقیقتہ
مرزائی دوستو! اپنے پیر و مرشد کو سنبھالو ١٩٠٢ء میں ٦٠ بـ پورے ستر برس کے ہو جاتے ہیں بڑھے تو نیک سال اور لکھتے ہیں وا
سوال ...... مرزا قادیانی اس وقت ١٩٠٤ء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی۔ ا
جواب ...... ”اس وقت ١٩٠٤ء میں میری عمر ٦٥ برس کی ہے۔“ (
ج ٨ نمبر ٩، مورخہ ١٧، ٣١ مارچ ١٩٠٤ء ص ٢ بی اے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر روہت
اور واقعی ٹھیک عمر یہی ہے۔ اس حساب سے معلوم ہوا کہ ٦٥+٤ = ہوتی ہے نہ کہ ٧٤ سال لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی کا ذب ثابت ہـ
سوال ...... مرزا قادیانی میں اس وقت ١٩٠٥ء میں آپ کی عمر کتنی ہو
جواب ...... ”اب میری عمر ١٩٠٥ء میں ستر برس کے قریب ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧ خـ
ین احمدیہ حصہ اوّل ص ٦٠ پر لکھا ہے کہ: ”١٨٣٩ء مطابق رک سال ہے جس میں خدا تعالیٰ نے مرزا غلام مرتضیٰ کے رمایا۔ جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین و آسمان پر ہو رہی اور راجہ رنجیت سنگھ کی موت کا ایک ہی سال میں واقع ہونا ہوتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کسی سلطنت کا تاج تھا جو بمع ١٨ کو گر کر خاک میں مل گیا۔“
معراج الدین قادیانی ص ٦٠ ، ٦١، ملحقہ براہین احمدیہ ایڈیشن اوّل)
لوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی آنجہانی ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے ے۔
ان میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٨ء میں مر گئے تو اس ے ٦٩ برس کی لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی ہیں الہام غلط باطل ہو جاتا ہے۔ کیا عمر ہوگی؟ ی کچھ یاد ہے۔“
ات الاسلام ص ٥٧، خزائن ج ٥ ص ٥٧٥)
=٦٩ برس کی عمر ہوتی ہے۔ نہ کہ ٧٤ برس، لہٰذا اء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی۔ بے ایمانی چھوڑ کر جواب عمر ٦٣ برس کی ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)
کہ ١٨٩٣ء میں ٥٠ برس کی عمر بتاتے ہیں تو ١٨٩٦ء میں ٦
٦٣ برس کے بن گئے۔ حالانکہ ١٨٩٦ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٥٧ برس کی ہوتی ہے۔ مگر وہ مرزا جی کیا جو سچ بول جائے؟ سوال....... مرزا قادیانی اس وقت ١٩٠٢ء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی؟ جواب....... ”٦٠ برس کی عمر جو تخمیناً میری عمر کا اندازہ ہے۔“ (کتاب منظور الٰہی) ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی اپنی عمر ٦٠ برس کی بتاتے ہیں۔ اور ١٩٠٨ء میں مر جاتے ہیں تو اس حساب مرزا قادیانی کی عمر ٦٦ برس کی ثابت ہوتی ہے۔ نہ کہ ٧٤ برس لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی کا ذب ثابت ہوئے۔
حل طلب معمہ
مرزا قادیانی ١٨٩٦ء میں اپنی عمر ٦٣ برس کی بتاتے ہیں اور ١٩٠٢ء میں ٦٠ کی امید ہے کہ پاپائے قادیان اور حضرت سیٹھ لال بھگوانداس معمہ کو جلد حل کریں گے۔ تم نے بیمار محبت کو بھی کیا دیکھا جو یہ کہتے ہوئے جاتے ہوئے دیکھا۔ سوال....... اچھا جناب مرزا قادیانی ١٩٠٢ء میں آپ کی عمر ٦٠ برس کی ہے تو اس وقت ١٩٠٣ء میں آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ جواب....... ”اس وقت ١٩٠٣ء میں میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧١ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٤)
مرزائی دوستو! اپنے پیر و مرشد کو سنبھالو ١٩٠٢ء میں ٦٠ برس کی عمر بتاتے ہیں اور ١٩٠٣ء پورے ستر برس کے ہو جاتے ہیں بڑھے تو ایک سال اور لکھتے ہیں دس سال۔ سوال....... مرزا قادیانی اس وقت ١٩٠٤ء میں آپکی کتنی عمر ہوگی۔ ایمانداری سے کہنا؟ جواب....... ”اس وقت ١٩٠٤ء میں میری عمر ٦٥ برس کی ہے۔“ (بعدالت لالہ موتی رام، اخبار الحکم ج ٨ نمبر ٨، مورخہ ١٧، ٣١ مارچ ١٩٠٤ء ص ١٩ و فیصلہ ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر درجہ اول گورداسپور ٦ جولائی ١٩٠٤ء) اور واقعی ٹھیک عمر یہی ہے۔ اس حساب سے معلوم ہوا کہ ٦٥+٤=٦٩ برس کی عمر مرزا قادیانی کی ہوتی ہے نہ کہ ٧٤ سال لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی کا ذب ثابت ہوئے۔ سوال....... مرزا قادیانی میں اس وقت ١٩٠٥ء میں آپ کی عمر کتنی ہوگی۔ ایمان چھوڑ کر کہنا۔ جواب....... ”اب میری عمر ١٩٠٥ء میں ستر برس کے قریب ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧ مطبوعہ ١٩٠٥ء خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
٧
غرضیکہ مرزا قادیانی:
١٨٩٣ء میں اپنی عمر ٥٠ برس بتاتے ہیں۔ ١٨٩٦ء میں اپنی عمر ٦٣ برس بتاتے ہیں۔ ١٩٠٢ء میں اپنی عمر ٦٠ برس بتاتے ہیں۔ ١٩٠٣ء میں اپنی عمر ٧٠ برس بتاتے ہیں۔ ١٩٠٤ء میں اپنی عمر ٦٥ برس بتاتے ہیں۔ ١٩٠٥ء میں اپنی عمر ٧٠ برس بتاتے ہیں۔ پھر کولہو کے بیل کی طرح ١٩٠٧ء میں اپنی عمر ٦٨ سال لکھتے ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)
قادیانیو! جو کچھ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اس کے سمجھنے کے لئے زیادہ عقل کی ضرورت نہیں بلکہ میں مرزا قادیانی کی بات سے ہی مرزا کو کاذب ثابت کرتا ہوں۔
(چشمہ معرفت ص ٥٩، خزائن ج ٢٣ ص ٦٧)
سوال..... مرزا قادیانی یہ آخری سوال ہے اور آپ کو آپ کی منکوحہ آسمانی کی قسم دے کر پوچھتا ہوں سچ سچ بتائیے کہ اس وقت ١٩٠٧ء میں آپ کی کتنی عمر ہوگی؟
جواب..... ”او حرام زادے۔ کافر ”سوئر جنگلی“ ولد حرام“ سن جبکہ تو نے مجھے منکوحہ آسمانی کی قسم دی ہے۔ تو اس میں جھوٹ نہیں بول سکتا کیونکہ ”وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں ہی آجائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)
سوال..... تو آپ کو اب تک امید ہے کہ وہ منکوحہ آسمانی ضرور آپ کے نکاح میں آئے گی۔
جواب..... ”امید کیسی یقین کامل ہے یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں۔ ہوکر رہیں گی۔“
(اخبار الحکم ١٠ اگست ١٩٠١ء، تحقیق لاثانی ص ١٧١، حاشیہ)
”اس وقت ١٩٠٧ء میں میری عمر ٦٨ سال کی ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)
تو اب معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی عمر ١٩٠٧ء میں ٦٨ برس کی ہے اور ١٩٠٨ میں مر جاتے ہیں۔ تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر وہی ٦٩ کی ہوتی ہے۔ نہ کہ ٧٤ برس۔ لہٰذا الہام غلط اور مرزا قادیانی ڈبل کاذب ثابت ہوئے۔
سوال..... مرزا قادیانی بس اب میرا یہ ایک ہی آخری سوال ہے۔ سنئے۔
٨
- ١...... آپ نے لکھا ہے کہ: ”ایک دل سے دو باتیں نہیں نکل سکتیں
انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن
- ٢...... ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹ ثابت ہو جائے
میں اس پر اعتبار نہیں ہوتا۔“
(چشمہ معرفت ص
- ٣...... ”جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج
- ٤...... ”جھوٹ بولنا اور گو کھانا برابر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص
اور آپ نے اپنی عمر کے متعلق ایک نہیں بیسیوں باتیں بنائی بولے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے اور کیا سبب؟
جواب...... سنئے! میں نے اپنی عمر کے متعلق ہر ایک کتاب میں اس لیے گوئی کے غلط ہونے پر میرے کذب کی پردہ پوشی کا کام دیں۔ فقط والسلام فرمایا ہے مولانا مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب دیوبندی نے کہ ان پر بھی کوئی شک کرے تو وہ بھی کافر ہے۔
رسول کریم ﷺ پر اعتراض
مرزا قادیانی دجال کی عمر مطابق الہام کے جب پوری نہ ہوئی سرور کائنات فخر موجودات حضرت رسول کریم ﷺ کی عمر کے متعلق بھی وجہ بھی یہی ہے کہ قیاس کے مطابق اندازہ لگایا گیا۔ چنانچہ حضرت ﷺ ٦٢ برس کی اور بعض ٦٥ برس کی کہتے ہیں۔ مگر ارباب تحقیق ٦٣ کی کہتے ہیں جب اس اختلاف کی وجہ سے رسول کریم ﷺ پر کوئی اعتراض غلام احمد کی عمر میں اختلاف کی وجہ سے آپ پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا
جواب...... مرزا قادیانیو! مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”ہمارا صدق یا کذب پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(دافع الوساوس ص
اور مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے پیش گوئی کی ہے کہ: ”اگر پوری نہ ہوئی تو میں کاذب ٹھہروں گا۔“ اس لئے مرزا قادیانی کاذب۔
٩
- ١...... آپ نے لکھا ہے کہ: ”ایک دل سے دو باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریقے پر
انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
- ٢...... ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹ ثابت ہو جائے۔ تو پھر دوسری باتوں
میں اس پر اعتبار نہیں ہوتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
- ٣...... ”جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ص ٤٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤)
- ٤...... ”جھوٹ بولنا اور گو کھانا برابر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
اور آپ نے اپنی عمر کے متعلق ایک نہیں بیسیوں باتیں بنائی ہیں اور سینکڑوں جھوٹ بولے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے اور کیا سبب؟
جواب...... سنئے! میں نے اپنی عمر کے متعلق ہر ایک کتاب میں اس لئے اختلاف کیا ہے۔ کہ پیش گوئی کے غلط ہونے پر میرے کذب کی پردہ پوشی کا کام دیں۔ فقط والسلام (ایمنٹ البحر) خوب فرمایا ہے مولانا مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب دیوبندی نے کہ ان مرزائیوں اور مرزا کے کفر میں بھی کوئی شک کرے تو وہ بھی کافر ہے۔
رسول کریم ﷺ پر اعتراض
مرزا قادیانی دجال کی عمر مطابق الہام کے جب پوری نہ ہوئی تو مرزائی کہتے ہیں کہ: سرور کائنات فخر موجودات حضرت رسول کریم ﷺ کی عمر کے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ قیاس کے مطابق اندازہ لگایا گیا۔ چنانچہ حضرت ﷺ کی عمر بعض ٦٠ برس کی بعض ٦٢ برس کی اور بعض ٦٥ برس کی کہتے ہیں۔ مگر ارباب تحقیق ٦٣ کی کہتے ہیں۔
جب اس اختلاف کی وجہ سے رسول کریم ﷺ پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ تو مسیح موعود غلام احمد کی عمر میں اختلاف کی وجہ سے آپ پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
(الفضل ١٨؍ ستمبر ١٩٣٢ء)
جواب...... مرزائیو! دیکھو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(دافع الوساوس ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
اور مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے پیش گوئی کی ہے کہ: ”اگر مطابق الہام کے میری عمر پوری نہ ہوئی تو میں کاذب ٹھہروں گا۔“ اس لئے مرزا قادیانی کاذب۔۔
٩
مرزا قادیانی کا علم غیب
”علم غیب پر مجھے اس طرح قابو حاصل ہے جس طرح سوار کو گھوڑے پر ہوتا ہے۔“
(ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٤)
مرزا قادیانی کی عمر کے اکثر حصہ کی کارگزاری
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی اور اشتہارات شائع کئے ہیں۔ کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں جمع کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
ایک اشتہار جو مرزا قادیانی نے حسین کامی سفیر سلطان المعظم استنبول کیخلاف چھپوایا تھا۔ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔ ناظرین کو اس اشتہار کے تعارف کی چندان ضرورت نہیں۔ کیونکہ آپ کو اس کے مطالعہ سے پوری پوری واقفیت ہو جائے گی۔ (مؤلف)
حسین کامی سفیر سلطان روم
”پرچہ اخبار ١٥ مئی ١٨٩٧ء ناظم الہند لاہور میں جو ایک شیعہ اخبار ہے۔ سفیر مذکور العنوان کا ایک خط چھپا ہے جو بالکل گندہ اور خلاف تہذیب اور انسانیت ہے اور اس خط کے عنوان میں یہ لکھا ہے کہ سفیر صاحب متواتر درخواستوں کے بعد قادیان میں تشریف لے گئے اور پھر متاسف اور مکدر اور ملول خاطر واپس آئے اور پھر یہی ایڈیٹر لکھتا ہے کہ یہ سنا گیا تھا کہ سفیر صاحب کو اس لئے قادیان بلایا تھا کہ ان کے ہاتھ پر توبہ کریں۔ کیونکہ وہ نائب حضرت خلیفۃ المسلمین ہیں۔ ان افتراؤں کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ مجھے دنیا داروں اور منافقوں کی ملاقات سے اس قدر بیزاری اور نفرت ہے جیسا کہ نجاست سے۔ مجھے نہ سلطان روم کی طرف کچھ حاجت ہے اور نہ اس کے کسی سفیر کی ملاقات کا شوق ہے۔.....!
میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔ ترکی سلطنت آج کل تاریکی سے بھری ہوئی ہے اور وہی شامت اعمال بھگت رہی ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ اس کے
١٠
زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلا سکیں۔ شاید بہت سے لوگ اس فقرہ حق ہے یہی باتیں ہیں کہ سفیر مذکورہ کے ساتھ خلوت میں کی گئیں تھیں سفیر مذکور نے خلوت کی ملاقات کے لئے خود التجا کی اور اگرچہ مجھ کو اس پرستی کی بدبو آتی تھی۔ اور منافقانہ طریق دکھائی دیا تھا۔ مگر حسن اخلاق نے اس کے اجازت دینے کے لئے مجبور کیا۔ نام بردہ نے خلوت کی ط لئے ایک خاص دعا کرنے کے لئے درخواست کی۔ اور یہ بھی چاہا۔ ک آسمانی قضا و قدر سے آنے والا ہے۔ اس سے وہ اطلاع پائے۔
میں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدی انجام اچھا نہیں۔ یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بری اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک اور خدا سچے تقویٰ وطہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے۔ بربادی کو چاہتی ہے توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔ مگر میں اس کے دل کی طر باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سل ہیں اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال ک اس نے میرے دعوے مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی نے اس کو بار بار سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور کسی خونی م جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے یہ سب بیہودہ قصے ہیں۔
اس کے ساتھ میں نے یہ بھی اس کو کہا کہ خدا نے یہی اراد سے مجھ سے علیحدہ رہے گا۔ وہ کاٹا جائے گا بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ اور م باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بک ذریعے فرمایا تھا۔ وہی کہا تھا۔ اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے۔ میں نے اس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ ہیں اور دلی وفادار اور دلی شکر گزار ہیں۔ کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر
١١
زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلا سکیں۔ شاید بہت سے لوگ اس فقرہ سے ناراض ہوں گے مگر یہی حق ہے سچی باتیں ہیں کہ سفیر مذکورہ کے ساتھ خلوت میں کی گئیں تھیں جو سفیر کو بری معلوم ہوئیں۔ سفیر مذکور نے خلوت کی ملاقات کے لئے خود التجا کی اور اگرچہ مجھ کو اس کی اول ملاقات میں ہی دنیا پرستی کی بدبو آئی تھی۔ اور منافقانہ طریق دکھائی دیا تھا۔ مگر حسن اخلاق نے مجھے بوجہ مہمان ہونے کے اس کے اجازت دینے کے لئے مجبور کیا۔ نام بردہ نے خلوت کی ملاقات میں سلطان روم کے لئے ایک خاص دعا کرنے کے لئے درخواست کی۔ اور یہ بھی چاہا کہ آئندہ اس کے لئے جو کچھ آسمانی قضا و قدر سے آنے والا ہے۔ اس سے وہ اطلاع پائے۔
میں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔ یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بری معلوم ہوئیں۔ میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ وطہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے۔ اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔ مگر میں اس کے دل کی طرف خیال کر رہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنت روم کے اچھے دن نہیں ہیں اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کے علامات موجود ہیں۔ ماسوا اس کے میرے دعوے مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان آئیں۔ میں نے اس کو بار بار سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور کسی خونی مسیح اور خونی مہدی کا انتظار کرنا جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے یہ سب بیہودہ قصے ہیں۔
اس کے ساتھ میں نے یہ بھی اس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا۔ وہ کاٹا جائے گا بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعے فرمایا تھا۔ وہی کہا تھا۔ اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ برطانیہ کا بھی ذکر آیا اور جیسا کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے۔ میں نے اس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتے ہیں اور دلی وفادار اور دلی شکر گزار ہیں۔ کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر امن سے زندگی بسر کر رہے
کہ کسی دوسری سلطنت کے نیچے ہرگز امید نہیں کہ وہ امن حاصل ہو سکے کیا میں استنبول میں امن کے ساتھ اس دعویٰ کو پھیلا سکتا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں اور یہ کہ تلوار چلانے کی سب روایتیں جھوٹ ہیں کیا یہ سن کر اس جگہ کے درندے مولوی اور قاضی حملہ نہیں کریں گے اور کیا سلطانی انتظام بھی تقاضا نہیں کرے گا کہ ان کی مرضی کو مقدم رکھا جائے ۔ پھر مجھے سلطان روم سے کوئی فائدہ ان سب باتوں کو سفیر مذکورہ نے تعجب سے سنا اور حیرت سے میرا منہ دیکھتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خط میں جو ناظم الہند ١٥ مئی ١٨٩٧ء میں چھپا ہے۔ میرا نام نمرود اور شداد اور شیطان رکھتا ہے اور مجھے جھوٹا اور مزور اور مورد غضب الٰہی قرار دیتا ہے۔ لیکن یہ سخت گوئی اس کی جائے افسوس نہیں کیونکہ انسان نابینائی کی حالت میں سورج کو بھی تاریک خیال کرسکتا ہے۔ اس کے لئے بہتر تھا کہ میرے پاس نہ آتا میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اس کی سخت بدقسمتی ہے اور مجھے کچھ ضرر نہ تھا کہ میں اس کی یاوہ گوئی کا ذکر کرتا۔ مگر اس نے بپاداش نیکی ہر ایک شخص کے پاس بدی کرنا شروع کیا۔ اور بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں بہت سے آدمیوں کے پاس وہ دل آزار باتیں میری نسبت اور میری جماعت کی نسبت کہیں کہ ایک شریف آدمی باوجود اختلاف رائے کے کبھی زبان پر نہیں لاسکتا۔ افسوس کہ میں نے بہت شوق اور آرزو کے بعد گورنمنٹ روم کا نمونہ دیکھا تو یہ دیکھا اور میں مکرر ناظرین کو اس طرح توجہ دلاتا ہوں کہ مجھے اس سفیر کی ملاقات کا ایک ذرہ شوق نہ تھا بلکہ جب میں نے سنا کہ لاہور کی میری جماعت اس سے ملی ہے تو میں نے بہت افسوس کیا اور ان کی طرف ملامت کا خط لکھا کہ یہ کارروائی میرے منشاء کے خلاف کی گئی ۔
پھر آخر سفیر نے لاہور سے ایک انکساری کا خط میری طرف لکھا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ سو اس کے الحاح پر میں نے اس کو قادیان آنے کی اجازت دی لیکن اللہ جل شانہ جانتا ہے جس پر جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے کہ اس عالم الغیب نے مجھے پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ اس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اب میں سفیر مذکور کا انکساری خط جو میری طرف پہنچا تھا اور پھر اس کا دوسرا خط جو ناظم الہند میں چھپا ہے۔ ذیل میں لکھتا ہوں ناظرین خود پڑھ لیں اور نتیجہ نکال لیں اور ہماری جماعت کو چاہئے کہ آئندہ ایسے اشخاص کے ملنے سے محترز رہیں ۔ آسمانی سلسلہ سے دنیا پیار نہیں کر سکتی ۔ المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی ١٢
نقل اس خط کی جو سفیر نے لاہور سے ہماری ملاقات
بسم اللہ الرحمن الرحیم جناب مستطاب معلی القا العارفین حضرت پیر دستگیر مرزا غلام احمد اوصاف جمیلہ و اخلاق حمیدہ آن ذات ملکوتی میمنت و از مریدان سعادت انتساباں تقاریر و پیام بدست احترام و ممنونیت رسید لہٰذا سو الانوار سویداے دل تمناے لبریز اشتیاق کردہ تا لاھور بطریق امرتسر بہ خاکپاے روحانی رسید و دریں خصوص تلغراف برحضور سراسر فقط حسین کامی سفیر سلطان المعظم۔ (مہر)
نقل اس خط کی جو سفیر کی طرف سے ناظم الہند ١٥ مئی
بحضور سید السادات العظام وفخر محمد ناظر حسین صاحب ناظم ادام اللہ فیو و مولائی، التفات نامہ ذات سامی شما بدست بتجی ممنونیت غیر مترقبہ عظمیٰ بخشید۔ فدایت غرائب اشتمال قادیان وقادیانی را فرمودہ بو ذیلاً بخدمت والا ہمت عالی بیان وافادہ میک کہ فریق از صراط المستقیم اسلام برگشتہ اند گذاشتہ وتزویر محبت حضرت خاتم النبیین باطل خویش باب رسالت را مفتوح دانستہ اس است کہ فرق دربین نبوت ورسالت پنداش میگوید کہ خدا وند عالم رسول ﷺ را گا ہے ۔ دو بعنوان خاتم المرسلین معین نہ کردہ است اکتفاء فرمودہ است۔ القصہ اینکه اول خود را و موعود گشتہ آہستہ آہستہ بقول مجرد خود م ١٣
نقل اس خط کی جو سفیر نے لاہور سے ہماری ملاقات کی درخواست کے لئے بھیجا تھا۔ بسم الله الرحمن الرحيم جناب مستطاب معلی القاب قدوة المحققين قطب العارفین حضرت پیردستگیر مرزا غلام احمد صاحب دام کراماته، چوں اوصاف جمیله واخلاق حمیده آن ذات ملکوتی صفات در شهر لاهور بسمع ممنونیت واز مریدان سعادت انتساباں تقاریر وتصانیف عالیه آن حجة مقام بدست احترام و ممنونیت رسید لهذا سودائے زیارت دیدار ساطع الانوار سویداے دل را لبریز اشتیاق کرده است انشاء الله تعالی۔ از لاهور بطریق امرتسر به خاکپائے روحانیت احتوی سامی خواهم رسید و دریں خصوص تلغراف برحضور سراسر نور مقدس خواهم کشید فقط حسین کامی سفیر سلطان المعظم۔ (مہر)
نقل اس خط کی جو سفیر کی طرف سے ناظم الہند ١٥ مئی ١٨٩٧ء میں چھپا ہے۔ بحضور سيد السادات العظام وفخر النجباء الكرام مولانا سيد محمد ناظر حسین صاحب ناظم ادام الله فيوضه وظل عاطفته، سیدی ومولائی، التفات نامه ذات سامی شما بدست تبجیل و احترام ما رسید الحق ممنونیت غیر مترقبه عظمی بخشید. فدایت شویم که استفسار احوال غرائب اشتمال قادیان و قادیانی را فرموده بودید اکنون ما بکمال تمکین ذيلاً بخدمت والا نہمت عالی بیان وافاده میکنیم که این شخص عجیب وغریب از صراط المستقيم اسلام برگشته قدم بر دائره عليهم الضالين گذاشته وتزویر محبت حضرت خاتم النبيين را در پیش گرفته وبزعم باطل خویش باب رسالت را مفتوح دانسته است شائسته هزاران خنده است که فرق در بین نبوت ورسالت پنداشته است و معاذ الله تعالی میگوید که خداوند عالم رسول ﷺ را گاہے در فرقان حمید وقرآن مجید بعنوان خاتم المرسلین معین نه کرده است فقط بخطاب خاتم النبيين اکتفاء فرموده است. القصه اینکه اول خود را ولی ملهم میگفت بعده مسیح موعود گشته آهسته آهسته بقول مجرد خود صعود بمرتبه عالیه مهدویت ١٣
کرده استعیذ بالله تعالی خودرا ازخود رائی بپایه معلائے رسالت رساندست بناء علی هذا ظن غالب مابران است که بترقی پنجمین قدم برسریر شداد نمرود نهاده کلاه الوهیت بر سر کند خود که کان خیالات فاسده ومعدن مالیخولیا وهذیانات باطله است میگزارد وعجب ست که شاعر معجز بیان در حق این ضعیف الاعتقاد والبنیان چند سال قبل ازیں گویا بطور پیشین گوئی تدوین این شعر دردیوان اشعار آبدار خود کرده است. سال اوّل مطرب آمد سال دویم خواجه شد، بخت گریاری کند امسال سید میشود، خلاصه ازیں سخنها درگزرید او را بر شیطنتش بسپارید و مارا از پریشان نویسی معاف دارید عزیزا سلام مارا بجناب شریعت مدار مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب وجناب داروغه عبدالغفور خان صاحب برسانید وسائز پائے خود راگرفته بصوب ما روانه کنید تا که ازدار الخلافة اسلامبول کفش مسحیے مطابق آن بطلبم ودرھر خصوص برذات عالی شما تقدیم مراسم احترام کاری کرده مسارعت براسترضای طبع عالی می نمایم والسلام!
(الراقم حسین کامی مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ٢٤؍ مئی ١٨٩٧ء مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤١٤ تا ٤١٩)
اشتہار کو شروع سے اخیر تک پڑھنے سے مالیخولیا اور ہذیان کے سوا کوئی خوبی نظر نہیں آتی اور ایسے ہی دوسرے مکتوبات ہیں جن پر ملمع چڑھا کر عوام کو شیطان کے پھندے میں پھنسایا جاتا ہے۔ ہمارے مرزائی بھائی بھی سمجھ چکے ہیں کہ واقعی مرزا قادیانی کذاب تھے۔ لیکن محض تعصب اور عار کی بناء پر ان کی تقلید میں غرق ہیں۔ مگر ان کی عقل دشمنی کا کہاں تک ماتم کیا جائے کہ ابو طالب کی روح دوزخ کی نار کو اپنی مسار پر ترجیح دے کر اپنے کو ہمیشہ کے لئے ضلالت کے گڑھے میں پھینک رہے ہیں۔
حالانکه خدائی پکار ببانگ دھل تیره سوسال سے گونج رھی ھے که الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ اب ہم تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر چکے اور ہم نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور ہم نے تمہارے لئے اسی دین اسلام کو پسند فرمایا۔
١٤
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
الحق المبین
حضرت مولانا حکیم عبدالغنی
را از خود رائی بھائی معلائی رسالت لتِ مابران است کہ بترقی پنجمین قدم الوہیت بر سرکش خود کہ کان خیالات ت باطلہ است میگزار دو عجب ست کہ الاعتقاد والبنیان چند سال قبل ازیں شعر در دیوان اشعار آید از خود کرده ل دویم خواجہ شد، بخت گریاری یں سخنها درگزرید او را بر شیطنتش ف دارید عزیزا اسلام را ما را بجناب محمد حسین صاحب وجناب داروغہ سپکٹریائی خود را گرفتہ بصوب بول کفش مسجدی مطابق آں بطلبم ا تقدیم مراسم احترام کاری کرده یم والسلام!
(٢٤ مئی ٩٧ء مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤١٢ تا ٤١٩)
مانگ لیا اور ہذیان کے سوا کوئی خوبی نظر نہیں آتی عوام کو شیطان کے پھندے میں پھنسایا جاتا مرزا قادیانی کذاب تھے۔ لیکن محض تعصب عقل و دشمنی کا کہاں تک ماتم کیا جائے کہ ابو ے کر اپنے کو ہمیشہ کے لئے ضلالت کے
فل تیرہ سو سال سے گونج رھی لیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام کا اور ہم نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور ہم
خاتم النبیین لابی عیسیٰ محمد بن عیسیٰ
جامع ترمذی
الحق المبین
حضرت مولانا حکیم عبدالغنیؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمدللّٰه وحده والصلوٰة والسلام علٰی من لا نبی بعدہ، وعلىٰ آله الطاهرین واصحابہ اجمعین ، اما بعد!
اخبار ”احسان“ جو ایک اسلامی موقر اخبار ہے اس کی اشاعت ٢٤؍ دسمبر ١٩٣٢ء میں مرزائیوں کی طرف سے چند سوالات شائع ہوئے تھے جو یا تو کسی متلاشی حق مرزائی نے تحقیق حق کے لئے لکھے ہیں یا کسی متعصب نے جرح قدح کیلئے۔ بہرکیف ہر صورت میں ان کا جواب باصواب لکھنا ضروری ہے۔
وقت کی سب سے بڑی ضرورت اور اسلام کی خدمت یہ ہے کہ مرزائیوں کے ہر قسم کے سوالات کے معقول اور دندان شکن جوابات دیئے جائیں اور ہر فرد مسلم و مرد مومن کو اسلام کی صحیح تعلیم کے ساتھ ساتھ قادیانی مذہب کے عقائد فاسدہ اور خیالات کاسدہ سے پوری طرح واقف کیا جائے تاکہ عام لوگ جو دین سے بے خبر اور سادگی کے سبب مرزائیوں کی چکنی چپڑی باتوں سے ان کے دام تزویر میں پھنس جاتے ہیں وہ مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہو کر ان کے پھندے میں نہ آئیں جو لوگ بدقسمتی سے ان کا شکار ہو چکے ہیں وہ دوبارہ اسلام میں واپس آجائیں۔
تجربہ شاہد ہے کہ اکثر سعید روحیں ایسی ہیں۔ جو ناواقفی کی بناء پر مرزائیت کا شکار ہو جاتی ہیں مگر پھر صحیح واقفیت بہم پہنچنے پر دوبارہ صراط مستقیم اختیار کرنے کو عار نہیں سمجھتیں اور علی الاعلان صداقت کو قبول کر لیتی ہیں۔ لہٰذا ایسے مضامین کی اشاعت نہایت ضروری ہے جو عام فہم الفاظ میں مرزائیت کے ڈھول کا پول ظاہر کریں۔ ممکن ہے کہ کوئی صاحب خالی الذہن ہو کر خلوص نیت سے مطالعہ کر کے حقیقت کو پالے اور مرزا سے قطع تعلق کر کے دوبارہ سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے دامن میں آ کر پناہ لے۔
حاشا و کلا: مجھے مرزا قادیانی سے نہ کوئی ذاتی عناد ہے اور نہ دلی پرخاش بلکہ ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ہاں مطالعہ کے بعد جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم اور ان کے تمام دعاویٰ اسلامی تعلیم کے برخلاف ہیں اور ان کی جماعت بھی تقلید اعمیٰ میں مبتلا ہو کر
٢
غلط راہ پر جا رہی ہے۔ صحیح راستہ وہی ہے جو حضور ﷺ نے بتا نجات کا دارومدار بھی آپ ہی کی پیروی اور تابعداری پر مخ ہے۔ ”قل اطیعو اللہ والرسول فان تولوا عمران:٣٢) “ (کہو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگ سے محبت نہیں رکھتا۔) اور شیخ سعدیؒ ارشاد فرماتے ہیں:۔
ہرگز بمنزل نخوا
مگر مرزا قادیانی ہیں کہ اپنی ہی تعلیم اور اپ
نعوذ باللّٰه!
پس میں مرزا قادیانی کی جماعت کے لئے خ ترک کر کے راہِ راست پر آجائے اور نئی تعلیم کو چھوڑ کر وقا سوسال سے چلی آتی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے ارشاد فرم
ضلالة في النار “ اسی غرض کے لئے چند ایک ٹریکٹ
- ١۔ ” وتفترق امتى علىٰ ثلث وس
واحدة قالوا من هى يا رسول اللّٰه لقال ما ا تہتر فرقوں پر متفرق ہوگی۔ سوائے ایک گروہ کے وہ سب اللہ ﷺ وہ کونسا گروہ ہے جو بہشتی ہے فرمایا جس طریق پر
(مشکوٰۃ:
- ٢۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اب دیکھو خدا
کونوح ؑکی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو
- ٣۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ
٣
غلط راہ پر جارہی ہے۔ صحیح رستہ وہی ہے جو حضور ﷺ نے بتایا تھا، انا علیه واصحابی ١ اور نجات کا دارومدار بھی آپ ہی کی پیروی اور تابعداری پر منحصر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔”قل اطیعوا الله والرسول فان تولوا فان الله لا یحب الکافرین (آل عمران:٣٢)“ کہو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ پھر جائیں تو اللہ انکار کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اور شیخ سعدیؒ ارشاد فرماتے ہیں۔
هرگز بمنزل نخواهد رسید
مگر مرزا قادیانی ہیں کہ اپنی ہی تعلیم اور اپنی بیعت کو مدار نجات٢ ٹھہراتے ہیں۔
نعوذ باللّٰہ!
پس میں مرزا قادیانی کی جماعت کے لئے دل سے چاہتا ہوں کہ وہ اس غلط راستہ کو ترک کرکے راہ راست پر آجائے اور نئی تعلیم کو چھوڑ کر وہی پرانی تعلیم اختیار کرے جو ساڑھے تیرہ سو سال سے چلی آتی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النّٰار ٣ اسی غرض کے لئے چند ایک ٹریکٹ بھی لکھے ہیں اور ان کے سوالات کے
١ ”وتفترق امتی علی ثلث وسبعین ملة کلھم فی النار الا ملة واحدة قالوا من ھی یا رسول الله قال ما انا علیه واصحابی“ میری امت تہتر فرقوں پر متفرق ہوگی۔ سوائے ایک گروہ کے وہ سب دوزخی ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ وہ کونسا گروہ ہے جو بہشتی ہے فرمایا جس طریق پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔
(مشکوٰة مترجم ج ١،ص٧٢، باب الاعتصام بالکتاب والسنة)
٢ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔“
(اربعین نمبر٤ ص٦، خزائن ج١٧ ص٤٣٥ بر حاشیہ)
٣ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ ہے۔
٣
جوابات بھی لکھتا ہوں کہ شاید کوئی سعید روح ان کے مطالعہ سے ہدایت پا کر سواد اعظم کے ساتھ شامل ہو جائے اور سعادت کونین و ثواب دارین حاصل کرے۔ وما علینا الا البلاغ!
مرزائی سوالات کے جوابات
سوال اوّل ..... آپ کے نزدیک وہ کونسے عقائد ہیں جو اصل الاصول کہلانے کے مستحق ہیں؟
جواب ..... اہل السنت والجماعت کے نزدیک وہی عقائد اصل الاصول ہیں۔ ”جو ایمان کی صفتوں“ کے نام سے مشہور ہیں اور جن سے مسلمانوں کا بچہ بچہ واقف ہے اور مرزائیت سے پہلے شاید جناب سائل صاحب بھی جانتے ہوں گے اور فقہ کی چھوٹی سے چھوٹی کتاب نجات المومنین میں بھی اختصار کے باوجود صاف طور پر لکھا ہے جو یہ ہے۔
آخر اٹھن گور تھیں، نیکی بدی خدا
ہاں اگر قرآن مجید سے ہی حوالہ مطلوب ہے تو لیجئے۔ وہ بھی سنئے۔ اللہ جل شانہ تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ”یایھا الذین آمنوا آمنوا بالله ورسوله والكتاب الذى نزل على رسوله والكتب الذى انزل من قبل ومن يكفر بالله وملائكته ورسله واليوم الآخر فقد ضل ضللا بعیدا (النساء:١٣٦) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس کی کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاری اور جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور پچھلے دن کا انکار کرتا ہے۔ وہ گمراہی میں دور نکل گیا۔“
اس آیت کے نیچے مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”پہلے ایمان سے مراد ایمان ظاہری اقرار باللسان ہے اور دوسرے ایمان سے مراد تکمیل ایمانی ہے جس میں تصدیق بالقلب اور اس کے مطابق عمل بھی شامل ہیں۔ چونکہ ذکر منافقین کا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ صرف منہ کا ایمان فائدہ نہیں دیتا جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔“
١ ”قال رسول الله ﷺ اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فى النار “ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑی جماعت کی پیروی کرو پس تحقیق جو شخص جماعت سے علیحدہ ہوا۔ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔﴾
(مشکوٰۃ، مترجم، ج ١ ص ٧٣)
٤
آیت مذکورہ بالا میں ”والبعث بعد الموت“ نہیں آیا۔ اس لئے اس مضمون کی آیت دوسری جگہ سے لکھی جا لميتون۔ ثم انكم يوم القيمة تبعثون (مؤمنون: مرنے والے ہو۔ پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔﴾ ہیں۔ جن کے اندراج کی یہاں گنجائش نہیں۔
رہا ”ایمان بالقدر“ کا ثبوت تو اس کے متعلق بھی قـ ہوتا ہے: ”وان تصبهم حسنة يقولوا هذه من عـ يقولوا هذه من عندك قل كل من عند الله (نسـ ہے، کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو دکھ پہنچتا ہـ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔﴾ اس آیت سے صاف ظا اللہ ہی کی طرف سے ہے اور والقدر خيره وشره من الـ نص کی موجودگی میں حدیث شریف کا پیش کرنا بـ
کا ارشاد بھی سن لیجئے: ”عن ابي هريرة قال كان رسـ فاتاه رجل فقال ما الايمان قال الايمان ان تـ ورسله وتؤمن بالبعث“ ﴿ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک ر ہوئے تھے۔ یکا یک آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے پـ آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، فرشتوں پر اور (آخر پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور قیامت کا یقین کرو۔﴾
(بـ
یہی حدیث ترمذی میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے مـ الايمان قال ان تؤمن بالله وملائكته وكتبه ور خيره وشره “ ﴿اس نے کہا: اے محمد ﷺ ! ایمان کیا چیـ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ا دن پر اور تقدیر پر۔﴾
یہ عقائد ہیں جو اصل الاصول ہیں اور ان میں سـ
٥
آیت مذکورہ بالا میں ”والبعث بعد الموت“ یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کا ذکر نہیں آیا۔ اس لئے اس مضمون کی آیت دوسری جگہ سے لکھی جاتی ہے: ”ثم انكم بعد ذلك لميتون۔ ثم انكم يوم القيمة تبعثون (مؤمنون: ١٥، ١٦) ”پھر تم اس کے بعد یقیناً مرنے والے ہو۔ پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔“ اس مضمون کی اور بہت سی آیات آئی ہیں۔ جن کے اندراج کی یہاں گنجائش نہیں۔
رہا ”ایمان بالقدر“ کا ثبوت تو اس کے متعلق بھی کئی آیات شریفہ ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ”وان تصبهم حسنة يقولوا هذه من عند الله ج وان تصبهم سيئة يقولوا هذه من عندك قل كل من عند الله (نساء: ٧٨) ”اور اگر ان کو بھلائی پہنچتی ہے، کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو دکھ پہنچتا ہے کہتے ہیں یہ تیری وجہ سے ہے۔ کہو سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ بھلائی، برائی یا دکھ سکھ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور والقدر خيره وشره من الله تعالى کے یہی معنی ہیں۔
نص کی موجودگی میں حدیث شریف کا پیش کرنا تحصیل حاصل ہے۔ مگر تبرکاً حضور ﷺ کا ارشاد بھی سن لیجئے: ”عن ابي هريرة قال كان رسول الله ﷺ يوم بارزا للناس فاتاھ رجل فقال ما الایمان قال الايمان ان تؤمن بالله وملائكته وبلقائه ورسله وتؤمن بالبعث“ ”ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ لوگوں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ یکا یک آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، فرشتوں پر اور (آخرت) میں اللہ کے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور قیامت کا یقین کرو۔“
(بخاری ج ١، کتاب الایمان، ص ١٢، مطبوعہ مصر)
یہی حدیث ترمذی میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے مروی ہے: ”قال يا محمد ما الايمان قال ان تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره“ ”اس نے کہا: اے محمد ﷺ! ایمان کیا چیز ہے؟ آپؐ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر۔“
(ترمذی، مترجم، جلد دوم، ص ٢٢٧)
یہ عقائد ہیں جو اصل الاصول ہیں اور ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے مگر مرزا
٥
قادیانی نے شرک فی التوحید کا ارتکاب بھی کیا اور شرک فی الرسالۃ کا بھی، توہین انبیاء کے مرتکب بھی ہوئے اور انکار علامات قیامت کے بھی۔ اس لئے ان کی پیروی سراسر جہالت ہے اور ان کی تابعداری ضلالت۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
بطالت ہے جہالت ہے ضلالت
مرزا قادیانی کے شرک فی التوحید کا ثبوت یہ ہے کہ خود خدا بنے۔ اصل عبارت یہ ہے: ”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٧٩، خزائن ج١٣ ص١٠٣، آئینہ کمالات ص٥٦٤، خزائن ج٥ ص٥٦٤)
شرک فی الرسالۃ کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن مجید کی کئی آیات جو حضور ﷺ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ مرزا قادیانی خود ان کا مصداق بنتے ہیں۔ مثلاً: ”وما ارسلنك الا رحمۃ للعلمین (انجام آتھم، طبع دوم ص ٧٨، خزائن ج١١ ص٧٨)“ ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“
(اربعین نمبر ٣ ص ٨ طبع دوم، انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج١١ ص٥٢)
اس کے علاوہ اپنی کتاب (نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧) پر لکھتے ہیں:
در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بتمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم زکسے
توہین انبیاء کا ثبوت یہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ”ضمیمہ انجام آتھم“ میں ص ٧ پر نہایت گندے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ”ازالۃ اوہام“ میں ان کے معجزات کو عمل الترب (مسمریزم) قرار دیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اگر اس مضمون کو مفصل دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ ”اعتقادات مرزا“ ملاحظہ فرمائیں۔
سوال دوم...... کیا آپ قرآن مجید میں اختلاف کے قائل ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو پھر یہ آیہ شریفہ ”ولو كان من عند غیر الله لوجدوا فیہ اختلافا كثیرا (نساء:٨٢)“ کو مدنظر رکھتے ہوئے تطبیق کی صورت آپ کے نزدیک مسئلہ ناسخ و منسوخ ہے یا کوئی اور طریق؟
٦
جواب...... قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں۔ خود اختلاف سے مبرا اور منزہ ہے: ”افلا یتدبرون القـ جدوا فیه اختلافا كثیرا (نساء:٨٢)“ ﴿پھر کـ اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے پس اگر کسی کو کہیں اختلاف معلوم ہو تو یہ اس کلام میں بہت سے اختلافات ہیں جو اسی معیار کے مـ ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کے اختلاف دیکھنے ہوں تو ہمار ناسخ منسوخ کے مسئلہ کا یہ منشاء نہیں جو آپ نے سمجھ رکھا سے سمجھنے کی کوشش کریں۔
سوال سوم...... قرآن مجید کی وہ کونسی آیت ہے جس سـ تشریعی، تابع شریعت محمدیہ مسدود ثابت ہوتا ہے؟
جواب...... وہ آیت یہ ہے جس سے باب نبوت ہمیشـ ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخـ علیما (احزاب: ٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تم میں سے کسی مـ اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا
- ١...... خاتم النبیین کی تفسیر خود حضور سراپا نور ﷺ نـ
یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مشکوۃ
- ٢...... مرزا قادیانی نے بھی اس آیت کا ترجمہ و تفسیـ
محمد ابا احد من رجالکم ولكن رسول الـ مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے کہہ رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی کے کوئی رسول دنیا میں نہیں
- ٣...... مرزا قادیانی اپنے ایک مرید کو خط میں لکھتے
نبوت آنحضرت پر ختم ہوگئی ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرما النبیین“ اس آیت کا انکار کرنا یا استخفاف کی نظـ ہے۔“
(مسیح موعود اور ختم نبوت ص٤، بحوالہ
٧
جواب ...... قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں۔ خود یہی آیت شہادت دے رہی ہے کہ کلام الٰہی اختلاف سے مبرا اور منزہ ہے: ”افلا يتدبرون القرآن ؕ ولو كان من عند غير الله لو جدوا فيه اختلافا كثيرا (نساء:٨٢)“ ﴿پھر کیا قرآن میں تدبر نہیں کرتے اور اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔﴾
پس اگر کسی کو کہیں اختلاف معلوم ہو تو یہ اس کی سمجھ کا قصور ہے۔ ہاں مرزا قادیانی کے کلام میں بہت سے اختلافات ہیں جو اسی معیار کے مطابق ان کے تمام دعاوی کو باطل ٹھہراتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کے اختلاف دیکھنے ہوں تو ہمارا رسالہ ”تناقضات مرزا“ ملاحظہ فرمائیں۔ ناسخ منسوخ کے مسئلہ کا یہ منشاء نہیں جو آپ نے سمجھ رکھا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب کچھ اور ہے کسی عالم سے سمجھنے کی کوشش کریں۔
سوال سوم...... قرآن مجید کی وہ کونسی آیت ہے جس سے بطور صراحت النص کے باب نبوت غیر تشریعی تابع شریعت محمدیہ مسدود ثابت ہوتا ہے؟
جواب ...... وہ آیت یہ ہے جس سے باب نبوت ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شیء عليما (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں اور لیکن خدا کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا جاننے والا ہے۔﴾
- ......١ خاتم النبیین کی تفسیر خود حضور سراپا نور ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے: ”لا نبی بعدی “
یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(مشکوٰۃ مترجم ج ٤ ص ٨١ ، مطبوعہ نور الاسلام، امرتسر)
- ......٢ مرزا قادیانی نے بھی اس آیت کا ترجمہ وتفسیر یہی کی ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”مـــاكـــان
مـحـمـد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ محمد تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
- ......٣ مرزا قادیانی اپنے ایک مرید کو خط میں لکھتے ہیں: ”اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ
نبوت آنحضرت پر ختم ہو گئی ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ولــكــن رســول الله وخاتم الـنـبـيـيـن “ اس آیت کا انکار کرنا یا استخفاف کی نظر سے دیکھنا در حقیقت اسلام سے علیحدہ ہونا ہے۔“
(مسیح موعود اور ختم نبوت ص ٤، بحوالہ اخبار الحکم نمبر ٢٩، ج ٣ مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء)
٤٠....... مرزا قادیانی کے ایک مخلص مرید مولوی محمد علی صاحب لاہوری مفسر قرآن اپنی تفسیر میں اس آیت کا ترجمہ یہی لکھتے ہیں کہ: ”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔“
(بیان القرآن ج ٣ ص ١٥١٥)
رہا یہ امر کہ کیا نبوت غیر تشریعی (ظلی، بروزی وغیرہ) بھی بند ہے سو اس کے لئے بھی مرزا قادیانی کا یہی شعر کافی ہے:
ہر نبوت را برو شد اختتام
(سراج منیر ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
اہل السنت والجماعت کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا یا کسی کو سچا نبی کہنے والا کافر ہے چنانچہ علامہ اسمعیل حقیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”قال اهل السنة والجماعة لا نبي بعد نبينا لقوله تعالى: ﴿ولكن رسول الله وخاتم النبيين﴾ وقوله ﷺ لا نبي بعدي ومن قال بعد نبينا نبي۔ يكفر لانه انكر النص۔ كذلك لو شك فيه لان الحجة تبين الحق من الباطل ومن ادعى النبوة بعد موت محمد ﷺ لا يكون دعواه الا باطلا“ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”ولكن رسول الله وخاتم النبیین“ اور حضور ﷺ نے فرما دیا ہے: ”لا نبی بعدي“ اور جس نے ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبی مانا وہ کافر ہے۔ اس لئے کہ اس نے نص کا انکار کیا۔ ایسے ہی اگر کسی نے اس میں شک کیا تو وہ بھی کافر ہے۔ اس لئے کہ دلیل نے حق کو باطل سے واضح کر دیا اور جس نے حضور اقدس ﷺ کے وصال ظاہری کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کا دعویٰ باطل ہوگا۔
(تفسیر روح البیان ج ٧ ص ١٨٨)
مرزا قادیانی کے نزدیک بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی کافر ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ختم المرسلین ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ محمد مصطفیٰ پر ختم ہوگئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
سائل کا جواب تو ہو ہی چکا مگر یہ جواب ادھورا رہ جائے گا اگر اس کے متعلق دوسرے شبہات کا جواب بھی نہ دیا جائے۔ چنانچہ......
پہلا شبہ..... یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آنحضرت کے بعد دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نبوت
جواب ..... اس کا جواب ہم اپنی طرف سے کچھ دیتے ہیں جو ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور مرزا ق ﴿خاتم النبیین﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”یا ابناه“ یعنی آیت ﴿خاتم النبیین﴾ میں ال گرامی سے نبیوں کو ختم نہ کرتا تو آپ کو بیٹا عطا کرتا ( حكم ان لا نبي بعده لم يعطه ولدا يصي کہ آپ کے بعد کوئی نبی تو آپ کو ایسا بیٹا ہی نہیں دیا عليما “ أى كان فى علمه انه لا نبي بعد آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ وان قلت قد م آخر الزمان بعده وهو نبي قلت ان عيس ينزل فى آخر الزمان ينزل عاملاً بشري بعض امته. یعنی اگر تو کہے (اعتراض کرے) ک اور وہ نبی ہیں تو میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ ان میں سے ہیں اور جب آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو شریع (خانہ کعبہ) کی طرف ہی (منہ کرکے) نماز پڑھیں گے۔
حضرت ابن عباسؓ نے اس تفسیر میں مندر
- ١...... آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ
- ٢...... آپ کی اولاد نرینہ کے زندہ نہ رہنے میں
بعد نبوت جاری نہیں۔
ابن ماجہ کی یہ حدیث ”لو عاش ابراہ ہوتے تو ضرور سچے نبی ہوتے جو اکثر مرزائی پیش کیا ہونے کے سبب ضعیف ہے تاہم اس کا جواب بھی م زندہ نہ رہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد باب نبوت م
پہلا شبہ ...... یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آنحضرت کے بعد نبوت بند ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نبوت سے معزول کر دیئے جائیں گے؟ جواب ...... اس کا جواب ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں دیتے بلکہ حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر سے دیتے ہیں جو ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور مرزا قادیانی کے نزدیک مسلمہ اور معتمد ہیں وہ آیت ﴿خاتم النبیین﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”يريد لو لم اختم به النبيين لجعلت له ابنا“ یعنی آیت ﴿خاتم النبیین﴾ میں اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ اگر حضور ﷺ کے وجود گرامی سے نبیوں کو ختم نہ کرتا تو آپ کو بیٹا عطا کرتا (جو آپ کے بعد نبی ہوتا۔ ) ”ان الله لما حكم ان لا نبى بعده لم يعطه ولدا يصير رجلا“ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو آپ کو ایسا بیٹا ہی نہیں دیا جو جوانی کو پہنچتا۔ ”وكان الله بكل شىء عليما“ اى كان فى علمه انه لا نبى بعدہ۔ یعنی یہ بات پہلے ہی اس کے علم میں ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ وان قلت قد صح ان عيسى عليه السلام ينزل فى آخر الزمان بعده وهو نبى قلت ان عيسى عليه السلام ممن نبى قبله وحين ينزل فى آخر الزمان ينزل عاملاً بشريعة محمد ﷺ ومصلياً الى قبلته كانه بعض امته۔ یعنی اگر تو کہے (اعتراض کرے) کہ حضرت عیسیٰ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور وہ نبی ہیں تو میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ ان میں سے ہیں جو آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں اور جب آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو شریعت محمدی ﷺ پر عمل کریں گے اور آپ کے قبلہ (خانہ کعبہ) کی طرف ہی (منہ کرکے) نماز پڑھیں گے گویا وہ آپ کی امت کے ایک فرد ہوں گے۔
(تفسیر خازن، جلد سوم ص ٤٨٠)
حضرت ابن عباسؓ نے اس تفسیر میں مندرجہ ذیل امور کا فیصلہ کر دیا ہے۔
- ١...... آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
- ٢...... آپ کی اولاد نرینہ کے زندہ نہ رہنے میں بھی خدا تعالیٰ کی یہی مصلحت تھی کہ آپ کے
بعد نبوت جاری نہیں۔
ابن ماجہ کی یہ حدیث ”لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبياً“ یعنی ابراہیم زندہ ہوتے تو ضرور سچے نبی ہوتے جو اکثر مرزائی پیش کیا کرتے ہیں اگرچہ یہ حدیث راوی کے مجروح ہونے کے سبب ضعیف ہے تاہم اس کا جواب بھی ہو گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی لئے زندہ نہ رہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد باب نبوت مسدود ہے۔
- ٣....... اور مندرجہ بالا شبہ کا جواب بھی دے دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف
لانا ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ وہ حضور سے پہلے کے نبی ہیں بعد کے نہیں۔ واضح ہو......کہ مرزا قادیانی کا شبہ کوئی نیا شبہ نہیں ہے اور نہ اس میں مرزا قادیانی کی کوئی جدت ہے بلکہ یہ شبہ مرزا قادیانی سے بہت عرصہ پہلے معتزلی اور جہمی فرقوں کے بعض لوگ پیش کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا انکار کر چکے ہیں اور نزول مسیح کی احادیث کو مردود قرار دے چکے ہیں۔ چنانچہ علامہ نوویؒ نے شرح مسلم میں قول مع استدلال نقل کر کے نہایت دندان شکن جواب دیا ہے جو یہ ہے: ”وانکر بعض المعتزلة والجهمية ومن وافقهم وزعموا ان هذه الاحاديث مردودة بقوله تعالى ﴿وخاتم النبيين﴾ وبقوله ﷺ لا نبى بعدى، وبإجماع المسلمين انه لا نبى بعد نبينا ﷺ وان شريعته مؤبدة الى يوم القيمة لا تنسخ، وهذا استدلال فاسد لانه ليس المراد نزول عيسى انه ينزل نبياً بشرع ينسخ شرعنا ولا فى هذه الاحاديث ولا فى غيرها شىء من هذا. بل صحت هذه الاحاديث هنا وما سبق فى كتاب الايمان وغيرها انه ينزل حكما مقسطا يحكم بشرعنا ويحيي من امور شرعنا ما هجره الناس“
”اور معتزلی، جہمی اور ان کے موافق کے بعض لوگوں نے انکار کیا ہے اور انہوں نے گمان کیا ہے کہ یہ حدیثیں بوجوہات ذیل مردود ہیں:
- ١....... خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ”نبیوں کے ختم کرنے والے“ ہیں اور
- ٢....... آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ اور
- ٣....... تمام مسلمانوں کا اجماع اس بات پر ہے کہ ”ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
اور آپ کی شریعت دائمی ہے قیامت تک منسوخ نہ ہوگی۔
اور یہ استدلال فاسد ہے اس لئے کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ مراد نہیں کہ وہ تشریعی نبی ہو کر آئیں گے۔ جس سے ہماری شریعت منسوخ ہو جائے گی اور نہ ہی ان حدیثوں اور دوسری حدیثوں میں اس بات کا کوئی ذکر ہے بلکہ ان حدیثوں اور ”کتاب الایمان“ کی حدیثوں سے گزر چکی ہیں، ثابت ہوتا ہے کہ وہ حاکم عادل ہو کر نازل ہوں گے اور ہماری شریعت کے مطابق حکم کریں گے اور ہماری شریعت کے ان امور کو زندہ کریں گے جو لوگوں نے چھوڑ دیئے ہیں۔“
(نووی شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٣،مطبوعہ ١٣٠١ھ مطبع انصاری دہلی)
١٠
پس مندرجہ بالا بیان سے دو باتیں ثابت ہوئیں:
- اول....... یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا ختم
قسم کا شبہ کرتا ہے وہ غلطی پر ہے۔
- دوم....... یہ کہ مرزا قادیانی کا مقصد احیائے سنت نہیں بلکہ ا
نے معتزلیوں اور جہمیوں کا مندرجہ بالا بھولا بسرا عقیدہ دوبارہ زنـ متوجہ کر سکیں۔ بقول شخصے
- دوسرا شبہ....... یہ کہا جاتا ہے کہ اگر امت مسلمہ میں باب نبوت مـ
آنحضرت ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے اور اس امت کے خیر الا
- جواب....... یہ سوال نہایت لغو، بیہودہ اور بنائے فاسد علی الفاسـ
وہ مرزا قادیانی کا ارشاد بے بنیاد ہے جو یہ ہے: ”ہمارا مذہب نبوت نہ ہو، وہ مردہ ہے۔“
تعجب ہے کہ یہی مرزا قادیانی جوازِ اجرائے نبوت ثبوت قرآن مجید سے ثابت کر چکے ہیں اور مدعی نبوت پر کفر کا جا چکا ہے۔ پس اب ان کا یہ اعتقاد بے بنیاد و محض دروغ بے فر بلا قال و قیل ہے اور یہ تحریر ان کی تناقض بیانی پر دال ہے۔ جواب فاعتبروا يا اولى الابصار۔ ہاں جناب! امت مسلمہ میں باب نبوت مسدود للعالمین پر زد نہیں پڑتی بلکہ باب نبوت کھلا رہنے پر زد پڑتی ہے تک رہتا ہے جب تک کوئی دوسرا نبی نہ آجائے۔ جب دوسرا ہو جاتا ہے پس اگر حضور ﷺ کے بعد باب نبوت مسدود نہ ہو تو مسدود ہو جائے مگر آپ نبی آخر الزماں ہیں اور سرور دو جہاں تک ممتد ہے جو مرزا قادیانی کے عقیدہ فاسدہ کے رد کرنے کے
سيد الكونين ختم المر آخر آمد بود فخر ا
١١
پس مندرجہ بالا بیان سے دو باتیں ثابت ہوئیں:
- اول....... یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا ختم نبوت کے منافی نہیں جو شخص اس
قسم کا شبہ کرتا ہے وہ غلطی پر ہے۔
- دوم....... یہ کہ مرزا قادیانی کا مقصد احیائے سنت نہیں بلکہ احیائے بدعت ہے جیسا کہ انہوں
نے معتزلیوں اور جہمیوں کا مندرجہ بالا بھولا بسرا عقیدہ دوبارہ زندہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔ بقول شخصے
- دوسرا شبہ....... یہ کہا جاتا ہے کہ اگر امت مسلمہ میں باب نبوت مسدود ہو جانا تسلیم کر لیا جائے تو کیا
آنحضرت ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے اور اس امت کے خیرالامم ہونے پر زد نہیں پڑتی؟
- جواب....... یہ سوال نہایت لغو، بیہودہ اور بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ جس بناء پر یہ شبہ کیا گیا ہے
وہ مرزا قادیانی کا ارشاد بے بنیاد ہے جو یہ ہے: ”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس مذہب میں سلسلہ نبوت نہ ہو، وہ مردہ ہے۔“
(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
تعجب ہے کہ یہی مرزا قادیانی جو اب اجرائے نبوت کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ قبل ازیں ختم نبوت قرآن مجید سے ثابت کر چکے ہیں اور مدعی نبوت پر کفر کا فتویٰ لگا چکے ہیں جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے۔ بس اب ان کا یہ اعتقاد بے بنیاد و محض دروغ بے فروغ اور دعویٰ بلا دلیل ہے جو باطل بلا طائل و قیل ہے اور یہ تحریر ان کی تناقض بیانی پر دال ہے۔ جو ان کی ناراستی کی ایک بین مثال ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
ہاں جناب! امت مسلمہ میں باب نبوت مسدود ہو جانے سے حضور ﷺ کے رحمتہ للعالمین پر زد نہیں پڑتی بلکہ باب نبوت کھلا رہنے پر زد پڑتی ہے۔ کیونکہ ایک نبی کا زمانہ اسی وقت تک رہتا ہے جب تک کوئی دوسرا نبی نہ آجائے۔ جب دوسرا نبی آجاتا ہے تو پہلے نبی کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے پس اگر حضور ﷺ کے بعد باب نبوت مسدود نہ ہو تو آپ کا زمانہ بھی (نعوذ بالله) مسدود ہو جائے مگر آپ نبی آخر الزماں ہیں اور سرور دوجہاں ہیں۔ آپ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے جو مرزا قادیانی کے عقیدہ فاسدہ کے رد کرنے کے لئے ایک سد ہے۔
آخر آمد بود فخر الاولین
١١
پس باب نبوت مسدود ہونا آپ کی رحمت کے منافی نہیں بلکہ آپ کی رحمت اللعالمین کے لئے اسی طرح وسیع ہے جس طرح اپنی ربوبیت کے ساتھ ”عالمین“ کا لفظ استعمال کیا ہے: الحمدللہ رب العالمین۔ اسی طرح اپنے محبوب کی رحمت کے ساتھ ”عالمین“ کو وابستہ کیا ہے: وما ارسلنك الا رحمة للعالمین پس جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔
حضورﷺ کا ”رحمۃ للعالمین“ ہونا اجرائے نبوت کا متقاضی نہیں بلکہ ختم نبوت کا متقاضی ہے۔ کیونکہ پہلے نبی اپنی اپنی قوم کے لئے آتے تھے مگر حضورﷺ تمام قوموں کے لئے مبعوث ہوئے جیسا کہ قرآن مجید شاہد ہے: ”قل یایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا الذی لہ ملك السموت والارض (اعراف:١٥٨)“ ﴿اے پیغمبر کہو، اے لوگو میں تم سب کی طرف (اس) اللہ کا رسول ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔﴾ دوسری آیت میں یہ ارشاد ہے: ”وما ارسلنك الا كافة للناس بشیراً ونذیرا ولکن اکثر الناس لا یعلمون (سبا:٢٨)“ ﴿اور ہم نے تجھے تمام ہی لوگوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔﴾
اس آیت کے متعلق مولوی محمد علی مرزائی، امیر لاہوری پارٹی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”یہاں اس لفظ ”كافة“ کو اختیار کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ آپ کی رسالت عامہ سے اب کوئی شخص باہر نہیں نکل سکتا گویا اس سے خروج سے روکا گیا ہے کیونکہ کف کے معنی روکنا ہیں۔ یہ آیت بھی ختم نبوت پر دلیل ہے کیونکہ جب کوئی شخص اس رسالت سے باہر نہیں نکل سکتا تو اور رسول کی بھی ضرورت نہیں۔“
(بیان القرآن، ج ٣ ص ٥٤٩) (فهو المراد...... مؤلف)
نبی کے مبعوث ہونے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دین کی تکمیل ہو سو حضورﷺ کی بعثت سے یہ غرض بھی بدرجہ غایت پوری ہو گئی۔ خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دین کو کامل اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:٣)“ ﴿آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارا دین اسلام ہونے پر میں راضی ہوا۔﴾ اس آیت کی تفسیر میں مولوی محمد علی صاحب مذکور لکھتے ہیں۔ ”پس ”اکملت لکم دینکم“ سے مراد یہ ہوئی کہ جو غرض دین سے حاصل ہو سکتی ہے وہ بدرجہ کمال تمہارے اس دین سے حاصل ہو گئی۔ اب اس کے
١٢
بعد کسی اور نبی کی ضرورت نہیں کہ وہ دین کو کامل کرنے کے (بقا
جادو وہ جو سر پہ
پس حضورﷺ کی رحمۃ للعالمینی یہ ہے کہ:
- .......١ آپ تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تاکہ سا
اور قیامت تک کوئی آدمی اس فیض سے محروم نہ رہے۔
- .......٢ آپ کی رحمۃ للعالمینی یہ ہے کہ آپ کے ساتھ
نعمت پوری کر دی۔ اب کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہی جو اس د
- .......٣ آپ کی رحمۃ للعالمینی یہ ہے کہ گنہگار سے گنہگا
کا محبوب بن سکتا ہے اور مغفرت پاسکتا ہے۔ جیسا کہ ارشا فاتبعونی یحببکم الله ویغفرلکم ذنوبکم واللہ ﴿اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم کرے گا اور گناہ معاف کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہرب
- ختم.......٤ آپ کی رحمۃ للعالمینی یہ ہے کہ آپ شفیع المذن
لکل هول من الاحـو
وہ خدا تعالیٰ کے حبیب ہیں، آپ کی شفاعت سختی کے ساتھ آنے والا ہے۔
- .......٥ آپ کی رحمۃ للعالمینی یہ ہے کہ آپ کے مبـ
چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ”وما کان الله لیعذبهم ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے درآنحالیکہ تم ان میں ہو۔ علامہ اسمعیل حقیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے للعالمین۔ والرحمة والعذاب ضدان، والعـ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور رحمتہ اور عذاب ا
١٣
بعد کسی اور نبی کی ضرورت نہیں کہ وہ دین کو کامل کرنے کے لئے آئے جیسے پہلے آتے تھے۔
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٩٥) (فهو المراد)
جادو وہ جو سر پہ چڑھ بولے
پس حضورﷺ کی رحمتہ للعالمینی یہ ہے کہ:
- ١...... آپ تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تا کہ سارا جہان آپ کی رحمت سے فیض پائے
اور قیامت تک کوئی آدمی اس فیض سے محروم نہ رہے۔
- ٢...... آپ کی رحمتہ للعالمینی یہ ہے کہ آپ کے ساتھ دین کامل ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی
نعمت پوری کردی۔ اب کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہی جو اس دین میں نہ ہو۔
- ٣...... آپ کی رحمتہ للعالمینی یہ ہے کہ گنہگار سے گنہگار انسان آپ کی تابعداری سے خدا تعالیٰ
کا محبوب بن سکتا ہے اور مغفرت پاسکتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ویغفر لکم ذنوبکم والله غفور الرحیم (آل عمران: ٣١)“ ﴿اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے لئے بخشش کرے گا اور گناہ معاف کردے گا۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔﴾
- ٤...... آپ کی رحمتہ للعالمینی یہ ہے کہ آپ شفیع المذنبین ہیں:
لكل هول من الاحوال مقتحم
وہ خدا تعالیٰ کے حبیب ہیں، آپ کی شفاعت کی امید رکھی ہوئی ہے۔ ہر خوف میں جو سختی کے ساتھ آنے والا ہے۔
- ٥...... آپ کی رحمتہ للعالمینی یہ ہے کہ آپ کے مبعوث ہونے کے ساتھ عذاب الہی رک گیا
چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ”وما کان الله لیعذبهم وانت فیهم (انفال: ٣٣)“ ﴿اور اللہ ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے درآنحالیکہ تم ان میں ہو۔﴾
علامہ اسمعیل حقیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”قد ارسله الله تعالى رحمة للعالمين ۔ والرحمة والعذاب ضدان، والضدان لا يجتمعان“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور رحمتہ اور عذاب ایک دوسرے کی ضد ہیں اور دو ضدیں آپس
١٣
میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ (اس لئے آپ کے ) ہوتے ہوئے عذاب کیونکر آسکتا ہے۔
(تفسیر روح البیان ج ١ ص ٨٤٠)
پس مندرجہ بالا امور سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ رحمۃ للعالمینی پر باب نبوت کے مسدود ہونے سے کوئی زد نہیں پڑتی۔
کہنے کو مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی ہے کہ ”رحمۃ للعالمین“ ہوں جیسا کہ اسی رسالہ میں اوپر گزر چکا ہے۔ مگر
حضور ﷺ کی رحمۃ للعالمینی سے تو تمام دوست دشمن مستفید ہوئے اور عذاب الہی سے بچے۔ مگر مرزا قادیانی کی رحمۃ للعالمینی ملاحظہ ہوں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
- ١...... ”الامراض تشاع والنفوس تضاع یعنی ملک میں بیماریاں پھیلیں گی اور
جانیں ضائع ہوں گی۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٤، طبع اول، مئی ١٩٠٧ء ، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
- ٢...... ”یادرہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے پس یقینا سمجھو جیسا کہ پیش
گوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے۔ ایسے ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض ان میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہوگی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٨ سطر ٦ تا ٩)
- ٣...... ”اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہوجاتی ، پر میرے آنے کے ساتھ خدا
کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو بڑی مدت سے مخفی تھے، ظاہر ہوگئے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٨)
ایسا ہی اور بھی بہت سے نشان جناب مرزا قادیانی نے اپنی رحمۃ للعالمینی کے لکھے ہیں۔
رہا امت کا ”خیر الامم ہونا“ سو یہ شرف بھی امت کو حضور ﷺ کے طفیل حاصل ہوا ہے۔ صاحب قصیدہ بردہ فرماتے ہیں:
من العناية ركنا غير منهدم
﴿اے گروہ اسلام ہمارے لئے خوشخبری ہو کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی عنایت سے ایسا رکن ہے (یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ) جو خراب وشکستہ ہونے والا نہیں۔﴾
١٤
باكرم الرسل كنا اكـر
جب خدا تعالیٰ نے آنحضرت کو جو ہمیں خدا کی اطاعـ تمام پیغمبروں سے افضل کہہ کر پکارا تو ہم بھی تمام امتوں سے افضل کسی شاعر نے فارسی میں یہی مضمون اسی طرح ادا کیا
افضل پیغمبران او گشتہ ما
- ٭ تفسیر درمنثور میں ہے: ”واخرج ابن مردو
النبی ﷺ قال اعطیت مالم یعط احد من انبیاء ا قال نصرت بالرعب واعطيت مفاتيح الارض وسـ الارض طهورا وجعلت امتی خیر الامم“ ابن مر نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے وہ کچھ دیـ ہم نے کہا: یا رسول اللہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میری نصرت کنجیاں دی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور میرے لئے مٹی پا امت بنائی گئی۔﴾
یہ حدیث مولوی محمد علی صاحب نے بھی اپنی تفسیر کی ہے اور اس کے نیچے امت کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔ چنا فضیلت کا دوسری امتوں پر ظاہر کرنا مقصود ہے اور اگر اس امـ دنیا کے تمام روحانی معلموں اور مزکیوں سے افضل ہیں تو کو تمام الانبیاء کے شاگردوں سے افضل نہ ہوں۔“
پس اس بہترین خطاب (خیر الامم) میں وہی خو پروانہ ہو، نہ وہ بد نصیب جو کسی جھوٹے مدعی نبوت کا دیوانہ ہو۔
شبہہ در شبہ نمبر ١
اگر کوئی شخص یہاں یہ شبہ پیش کرے کہ امر بالمعـ اگر اس امت میں کوئی نبی نہیں ہوگا تو یہ کام کون کرے گا؟ تو
١٥
باكرم الرسل كنا اكرم الامم
جب خدا تعالیٰ نے آنحضرت کو جو ہمیں خدا کی اطاعت کے لئے بلانے والے ہیں، تمام پیغمبروں سے افضل کہہ کر پکارا تو ہم بھی تمام امتوں سے افضل ہوگئے۔
کسی شاعر نے فارسی میں یہی مضمون اسی طرح ادا کیا ہے۔
افضل پیغمبراں او گشته ما خیر الامم
- تفسیر درمنثور میں ہے: "واخرج ابن مردوية عن ابي بن كعب ان
النبي ﷺ قال اعطيت مالم يعط احد من انبياء الله قلنا يا رسول الله ما هو قال نصرت بالرعب واعطيت مفاتيح الارض وسميت احمد وجعل لی تراب الارض طهورا وجعلت امتی خیر الامم“ ﴿ابن مردویہ نے ابی بن کعب سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے وہ کچھ دیا گیا جو اور کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میری نصرت رعب سے کی گئی اور مجھے زمین کی کنجیاں دی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور میرے لئے مٹی پاک بنائی گئی اور میری امت بہترین امت بنائی گئی ۔﴾
(در منثور ج ٦ ص ٢١٤ سطر ٨ تا ١٠)
یہ حدیث مولوی محمد علی صاحب نے بھی اپنی تفسیر بیان القرآن ج ١ ص ٣٧١ میں درج کی ہے اور اس کے نیچے امت کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”یہاں ساری امت کی فضیلت کا دوسری امتوں پر ظاہر کرنا مقصود ہے اور اگر اس امت کے معلم مزکی محمد رسول اللہ ﷺ دنیا کے تمام روحانی معلموں اور مزکیوں سے افضل ہیں تو کوئی اور وجہ نہیں کہ آنجناب کے شاگرد تمام الانبیاء کے شاگردوں سے افضل نہ ہوں۔“
پس اس بہترین خطاب (خیر الامم) میں وہی خوش قسمت ہو سکتا ہے جو شمع رسالت کا پروانہ ہو، نہ وہ بد نصیب جو کسی جھوٹے مدعی نبوت کا دیوانہ ہو۔
شبہ در شبہ نمبر ١
اگر کوئی شخص یہاں یہ شبہ پیش کرے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء کا کام ہے اگر اس امت میں کوئی نبی نہیں ہوگا تو یہ کام کون کرے گا؟ تو
١٥
جواب ...... یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین بنایا اور آپ کے طفیل اس امت کو ”خیر الامم“ کا عالی مرتبت خطاب عطا فرمایا تو ساتھ ہی علمائے امت کو تبلیغ اسلام کا کام سپرد فرمایا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : ” ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنکر (آل عمران : ١٠٤) “ ”اور چاہئے کہ تم میں سے ایک گروہ ہو جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں۔“
چونکہ یہ منصب جلیلہ بڑا ممتاز ہے اس لئے حضور ﷺ نے علماء امت کو انبیاء کے وارث فرمایا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے : ”ان العلماء ورثة الانبیاء“ اور دوسری جگہ علماء کو بنی اسرائیل کے نبیوں کا مثیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ : ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔
پس جہاں یہ ثابت ہوا کہ ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کا کام علماء امت کے سپرد ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد اب کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مفوضہ کام علمائے امت بتوفیق ایزدی بخوبی انجام دیتے رہے، دے رہے ہیں اور دیتے جائیں گے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے : ”ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله “ ”اور ہمیشہ ایک جماعت میری امت میں سے ثابت رہے گی حق پر اور غالب۔ نہیں ضرر پہنچا سکے گا ان کو وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کی ، یہاں تک کہ آئے حکم خدا۔“
(مشکوٰة مترجم ج ٣ ص ٨١)
پس دوسری حدیث شریف میں یہ ہے کہ : ”ولاتزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة “ اور ہمیشہ رہے گی ایک جماعت میری امت میں سے لڑے گی حق پر دراں حالیکہ غالب ہوگی قیامت تک۔
(مشکوٰة مترجم ج ٣ ص ١٤٨)
پس حسب فرمان مصطفوی علمائے اہل سنت والجماعت کا گروہ حق پر ہے جو باطل کے مقابلہ پر ہمیشہ غالب رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک غالب رہے گا۔
شبہ در شبہ نمبر ٢
ممکن ہے مندرجہ بالا جواب کو پڑھ کر یہ شبہ پیش کر دے کہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام علمائے اسلام کے سپرد ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا کس غرض سے ہے؟
١٦
جواب ...... یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا ا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ”اے رب بخش کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرمـ
خدا تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا منظور فرمائی اور نـ بلکہ آپ کو طویل عمر عطا فرما کر نشان قیامت مقرر فرمایا۔ حـ کہ : ”اللہ نے مجھے ہبہ فرمایا ہے کہ میں دنیا کے خاتمہ کے سا
دوسری جگہ ہے : ”میں ہرگز مرا نہیں ہوں، اس قریب تک محفوظ رکھا ہے۔“
دوسری وجہ : یہ ہے کہ خداوند کریم نے انبیاء عـ امتیں آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں۔ اگر آپ ان کـ صفات بیان کر کے اپنی امتوں کو آپ کی تابعداری اور مد زمانے میں یہ عہد پورا کرتے رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ ا اپنے حواریوں کو آپ کی تشریف آوری کی بشارت دی تـ پاؤں تو آپ کی تابعداری اور مددگاری کا شرف حاصل کـ ”وہ کیا مبارک زمانہ ہے جس میں کہ یہ (رسول) دنیا میں نے اس کو دیکھا اور اس کے ساتھ عزت و حرمت کو پیش کـ نے دیکھا ہے کیونکہ ان (نبیوں) کو اس (رسول) کی رو کہ میں نے اس کو دیکھا میں تسلی سے بھر کر کہنے لگا۔ ایـ قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر ا قدوس ہو جاؤں گا۔“
(برنا
پس آپ کے دوبارہ تشریف لانے کی یہ غـ ہو جائے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں کی خواہشات کو ضرو
تیسری وجہ ...... یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلا
١٧
جواب...... یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا کئی وجہ سے ہے۔ چنانچہ پہلی وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ”اے رب بخشش والے! اور رحمت میں غنی، تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“
(انجیل برنباس فصل ٢١٢ آیت ١٥، ١٦ص٢٩٤)
خدا تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا منظور فرمائی اور نہ صرف امت میں شامل ہونا مقرر فرمایا بلکہ آپ کو طویل عمر عطا فرما کر نشان قیامت مقرر فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خود اپنا بیان ہے کہ: ”اللہ نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ میں دنیا کے خاتمہ کے کچھ پہلے تک زندہ رہوں۔“
(برنباس، فصل ٢٢١، آیت ١٦ص٣٠٧)
دوسری جگہ ہے: ”میں ہرگز مرا نہیں ہوں، اس لئے کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کے خاتمہ کے قریب تک محفوظ رکھا ہے۔“
(برنباس، فصل ٢٢٠، آیت ٢١ص٣٠٥)
دوسری وجہ: یہ ہے کہ خداوند کریم نے انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا تھا کہ وہ اور ان کی امتیں آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں۔، اگر آپ ان کے زمانہ میں تشریف نہ لائیں تو آپ کی صفات بیان کر کے اپنی امتوں کو آپ کی تابعداری اور مددگاری کا حکم دیں۔ پس تمام نبی اپنے اپنے زمانے میں یہ عہد پورا کرتے رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ عہد پورا کرتے ہوئے جب اپنے حواریوں کو آپ کی تشریف آوری کی بشارت دی تو خواہش ظاہر کی کہ اگر میں آپ کا زمانہ پاؤں تو آپ کی تابعداری اور مددگاری کا شرف حاصل کروں۔ چنانچہ ”انجیل برنباس“ میں ہے۔ ”وہ کیا مبارک زمانہ ہے جس میں کہ یہ (رسول) دنیا میں آئے گا تو مجھے سچا مانو۔ ہر آئینہ میں میں نے اس کو دیکھا اور اس کے ساتھ عزت وحرمت کو پیش کیا (اسکی تعظیم کی) ہے جیسا کہ اس کو ہر نبی نے دیکھا ہے کیونکہ ان (نبیوں) کو اس (رسول) کی روح بطور پیش گوئی کے عطا کرتا ہے اور جب کہ میں نے اس کو دیکھا میں تسلی سے بھر کر کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ اللہ تیرے ساتھ ہو اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر میں یہ شرف حاصل کرلوں تو بڑا نبی اور اللہ کا قدوس ہو جاؤں گا۔“
(بلفظہ انجیل برنباس فصل ٤٢، آیت ٢٧ تا ٣١ ص ٧٠)
پس آپ کے دوبارہ تشریف لانے کی یہ غرض بھی ہے کہ آپ کی خواہش مذکور پوری ہو جائے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں کی خواہشات کو ضرور پورا کرتا ہے۔
تیسری وجہ...... یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بعض خاص کام بھی مقرر ہیں جو
١٧
احادیث سے ثابت ہیں جیسے کسر صلیب، قتل دجال وغیرہ جس کے لئے آپ کا تشریف لانا ضروری ہے۔
سوال چہارم ...... آیۂ شریفہ "ولو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه بالیمین. ثم لقطعنا منه الوتين (حاقة: ٤٤) " جو بطور دلیل آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کاہن کہنے والوں کے سامنے پیش کی گئی ہے یہ بطور قاعدہ کلیہ کے ہے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو پھر یہ دلیل مخالفین کے لئے کس طرح وجہ تسکین ہو سکتی ہے؟
جواب ...... مرزائیوں کے سوا کوئی مفسر اس بات کا قائل نہیں ہے کہ یہ آیات بطور قاعدہ کلیہ کے ہیں اور قائل بھی کس طرح ہوتے جبکہ قرآن شریف میں صاف طور پر بیان ہو چکا ہے کہ اب دین مکمل ہو چکا اور آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی جو کھلی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا، تو پھر ان آیات کو "قاعدہ کلیہ" ٹھہرانے کی کیا ضرورت ہے؟
بہ لیلیٰ ہر کہ کردو آشنا محمل نمی داند
بلکہ ان آیات سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہی مخصوص ہیں اور آپ کی صداقت کے اظہار کے لئے نازل ہوئی ہیں کیونکہ "تقول" میں جو ضمیر ہے وہ اس آیت کو آپ ﷺ کے ساتھ ہی مخصوص کرتی ہے۔ اور لو جو محال کے لئے آتا ہے۔ جیسے لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا (انبياء: ٢٢) آپ کی صداقت کا اظہار کر رہا ہے۔ یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کہ خدائے قدوس کے سوا زمین و آسمان میں کوئی اور بھی خدا ہو اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ خدا کا محبوب (نعوذ بالله) جھوٹ بولے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "ولو تقول علينا بعض الاقاويل. لا خذنا منه باليمين. ثم لقطعنا منه الوتين. فما منكم من احد عنه حاجزین (حاقة: ٤٤) " ﴿اور اگر وہ ہم پر بعض باتیں افتراء کے طور پر بنا لیتا تو ہم ضرور اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے پھر اس کی رگ جان کاٹ دیتے پھر تم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔﴾
"تفسیر یعقوب چرخی" میں اس آیت کے نیچے لکھا ہے: "بدان کہ حضرت ذوالجلال اول سوگند یاد کرد که قرآن کلام من است وسخن کاهن وشاعر نیست. باز دلیل قدرت خود را بیان کرد که سخن دروغ نیست
١٨
وسید عالم ﷺ افتراء نه کرده است برما. اگر هلاك کردی وهیچ کس او را از عذاب ما نجات زیاده نشدلے۔ ودشمنان او هلاک نه شدندے برکفر بود. نور دین مشرق وغرب عالم را بگرفت
﴿جان کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے قسم یاد فرمائی کہ قرآن کلام نہیں ہے۔ پھر اپنی قدرت کی دلیل بیان کی کہ قرآن شریف نے ہم پر افتراء نہیں کیا ہے۔ اگر ( بالفرض محال ...... ناشر ) وہ ہلاک کرتے اور کوئی آدمی اس کو ہمارے عذاب سے نجات نہ د پر نہ ہوتا اور اس کے دشمن ہلاک نہ ہوتے۔ آپ ایسے وقت میں بھرا ہوا تھا۔ آپ کے دین کے نور نے مشرق سے مغرب تک س ہوا کہ یہ آیات آپ کے لئے مخصوص ہیں۔
رہا یہ امر کہ مخالفین کی اس جواب سے تسلی ہوئی یا ن ذکر نہیں۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن سعید روحوں کے حصـ سے بہرہ یاب ہو گئے اور جو بد بخت ازلی تھے۔ انہوں نے نہ تفسیر میں ان آیات کے نیچے لکھا ہے کہ "ان چار آیات میں اللـ کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے اور کہے کہ اسے یہ وحی ہـ ایسے شخص کو وہ زیادہ مہلت نہیں دیتا بلکہ جلد اس کا کام آنحضرت ﷺ کی صداقت پر یہاں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ پر کھ رکھی ہے۔ اگر وہ مفتری پر گرفت نہ کرتا تو نبوت کے معاملـ
مولوی محمد علی صاحب کی یہ تحقیق تو قابل داد ہے کـ ہونے کے ایک ایسا نکتہ معلوم کیا ہے جو تیرہ سو سال سے تمام مگر اس تحریر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خدا کا یہ قانون ازلی ہے یا انبیاء کی نسبت کیوں جاری نہیں کیا گیا اور ان میں سے بعض آپ کے مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب "عسل مصـ
١٩
وسید عالم ﷺ افتراء نه کرده است برما۔ اگر افتراء کردے ما اورا بعذاب هلاك کردے وهیچ کس اورا از عذاب ما نجات ندادے وروز بروز کارے زیاده نشدے۔ ودشمنان او هلاك نه شدندے۔ يك كس پیدا شد همه عالم برکفر بود۔ نور دین مشرق وغرب عالم را بگرفت“
﴿جان کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے قسم یاد فرمائی کہ قرآن میرا کلام ہے۔ کاہن اور شاعر کا کلام نہیں ہے۔ پھر اپنی قدرت کی دلیل بیان کی کہ قرآن شریف جھوٹ نہیں ہے اور سید عالم ﷺ نے ہم پر افتراء نہیں کیا ہے۔ اگر (بالفرض محال...... ناشر) وہ افتراء کرتا تو ہم اس کو عذاب سے ہلاک کرتے اور کوئی آدمی اس کو ہمارے عذاب سے نجات نہ دلاسکتا اور اس کا کام روز بروز ترقی پر نہ ہوتا اور اس کے دشمن ہلاک نہ ہوتے۔ آپ ایسے وقت میں پیدا ہوئے جبکہ سارا جہاں کفر سے بھرا ہوا تھا۔ آپ کے دین کے نور نے مشرق سے مغرب تک ساری دنیا کو روشن کیا۔﴾ پس ثابت ہوا کہ یہ آیات آپ کے لئے مخصوص ہیں۔
رہا یہ امر کہ مخالفین کی اس جواب سے تسلی ہوئی یا نہ۔ سو اس کا قرآن شریف میں تو کوئی ذکر نہیں۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن سعید روحوں کے حصہ میں ایمان کی نعمت مقدر تھی۔ وہ اس سے بہرہ یاب ہو گئے اور جو بدبخت ازلی تھے۔ انہوں نے نہ مانا۔ مولوی محمد علی صاحب نے اپنی تفسیر میں ان آیات کے نیچے لکھا ہے کہ ”ان چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون بیان فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے اور کہے کہ اسے یہ وحی ہوئی ہے حالانکہ اسے وحی نہیں ہوئی تو ایسے شخص کو وہ زیادہ مہلت نہیں دیتا بلکہ جلد اس کا کام تمام کردیتا ہے اور اس قانون کو آنحضرت ﷺ کی صداقت پر یہاں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ نے صادق کے لئے پرکھ رکھی ہے۔ اگر وہ مفتری پر گرفت نہ کرتا تو نبوت کے معاملہ میں امن اٹھ جاتا۔“
(تفسیر بیان القرآن جلد سوم، ص ١٨٨٤)
مولوی محمد علی صاحب کی یہ تحقیق تو قابل داد ہے کہ انہوں نے باوجود ختم نبوت کے قائل ہونے کے ایک ایسا نکتہ معلوم کیا ہے جو تیرہ سو سال سے تمام مفسرین کرام کی نظروں سے اوجھل رہا مگر اس تحریر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خدا کا یہ قانون ازلی ہے یا بعد میں وضع ہوا؟ اگر ازلی ہے تو پہلے انبیاء کی نسبت کیوں جاری نہیں کیا گیا اور ان میں سے بعض کو کیوں قتل ہونے سے نہیں بچایا گیا۔ آپ کے مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب ”عسل مصفی ج ١ ص ٣٤٩ میں تسلیم کیا ہے کہ
١٩
”بہت سے نبی قتل ہوئے تھے۔“ اور اگر یہ قانون بعد میں وضع ہوا ہے تو کب سے وضع ہوا؟ اور پھر نبوت کے ختم ہو جانے کے بعد اس کے وضع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر وہ ”قاعدہ کلیہ“ کس طرح ہوا؟
علاوہ ازیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مفتری کو کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کتنی مدت کے بعد گرفت ہوتی ہے اور وہ مدت کونسی نص سے ثابت ہے اور اگر کوئی مفتری خدانخواستہ مقررہ میعاد سے زیادہ عمر پا جائے تو کیا اسے سچا تسلیم کر لیا جائے گا؟ امید ہے کہ مولوی صاحب خود یا ان کا کوئی حواری اس گتھی کو سلجھا کر اس کمی کو پورا کر دیں گے۔
تاریخی کتابوں سے ظاہر ہے کہ بہت سے جھوٹے مدعی اپنے دعوٰی نبوت عرصہ تک پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے رہے اور اپنے پیروؤں کی ایک خاصی تعداد چھوڑ کر مرے۔ چنانچہ:
- ......١ ابومنصور بانی فرقہ منصوریہ نے (٢٧) ستائیس برس تک نبوت کا دعویٰ کیا اور ہزاروں
لاکھوں مرید بنائے۔
(عشرہ کاملہ ص ١٨)
- ......٢ ”محمد بن تومرت نے ٢٤ چوبیس سال تک مہدویت کا دعویٰ کیا اور لاکھوں آدمی اس
کے مرید ہوئے۔“
(عشرہ کاملہ ص ١٩، ٢٠)
- ......٣ ”عبدالمومن (٣٣) تینتیس سال مہدی کا خلیفہ اور امین المومنین کہلا کر اور بادشاہت
کر کے مرا۔“
(عشرہ کاملہ ص ٢١، ٢٢)
- ......٤ ”صالح بن طریف نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ نیا قرآن اپنے اوپر نازل ہونے کا مدعی
تھا۔ (٤٧) سینتالیس سال تک نہایت استقلال اور کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت اور بادشاہت کرتا رہا۔“
(عشرہ کاملہ ص ٢٢)
- ......٥ ”عبیداللہ مہدی افریقی نے ستائیس سال تک مہدویت کا دعویٰ کیا اور افریقہ کا فرمانروا
رہا۔“ (عشرہ کاملہ ص ٢٣) علیہ القیاس۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث، طلیحہ بنت خویلد، مختار ثقفی، صافی بن صیاد واحمد بن حسین کوفی، بہبود زنگی وغیرہ کئی جھوٹے مدعی کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے مذہب کی اشاعت کرتے رہے۔ آخر کار آنحضرت ﷺ کی اس پیش گوئی پر مہر تصدیق ثبت کر کے دنیا سے چل بسے۔ ”سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى“ یعنی عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے (آدمی) ہوں گے جو سب کے سب گمان کریں گے کہ وہ نبی اللہ ہیں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(مشکوٰۃ کتاب الفتن، فصل ثانی)
٢٠
الغرض آیات مندرجہ بالا میں آنحضرت ﷺ شامل نہیں ہو سکتا اور نہ ان کو کسی کے لئے ”قاعدہ کلیہ“ تسلیم منٹ کے لئے مان ہی لیں تو پھر مرزائیوں کے لئے کچھ صداقت ثابت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ جھوٹے ہی ثابت ہوتے قادیانی نے ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور مئی ١٩٠٨ء ہوگئے۔ گویا سات ہی سال میں گرفت الٰہی سے ان کا کام تما
الابصار
سوال پنجم ...... آپ عیسیٰ علیہ السلام کو بہ ایں جسدِ عنصری آ کی طرح فوت شدہ؟ اور ان کی آمد ثانی کے قائل ہیں یا نہیں
جواب ...... اس سوال کے اگرچہ بظاہر دو حصے ہیں۔ ایک نزول مسیح۔ لیکن جواب کے لحاظ سے دونوں میں ایک قسم ثابت کر دیا جائے تو ”رفع مسیح“ خود بخود ثابت ہو جائے گ اسی طرح اگر ”رفع“ ثابت ہو جائے تو نزول کا ثابت ہ دونوں حصوں کے متعلق سوال کیا ہے اسلئے دونوں حصوں
(بمنه وكرمه)
جواب حصہ اوّل
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پ
بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس جسم عنص تا حال زندہ آسمان پر موجود ہیں۔
آسمانوں پر ہے اسا
ہے ثبوت اس کا ہمی
جو نہ مانے خالی ہے
قرآن مجید سے ثبو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا ج
٢١
الغرض آیات مندرجہ بالا میں آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی دوسرا شخص ایرا غیرا، نتھو خیرا شامل نہیں ہوسکتا اور نہ ان کو کسی کے لئے ”قاعدہ کلیہ“ تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم بفرض محال چند منٹ کے لئے مان ہی لیں تو پھر مرزائیوں کے لئے کچھ مفید نہیں۔ اس سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ جھوٹے ہی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ بقول مرزا محمود قادیانی مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور مئی ١٩٠٨ء بعارضہ ہیضہ لاہور میں اچانک فوت ہو گئے۔ گویا سات ہی سال میں گرفت الہی سے ان کا کام تمام ہو گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
سوال پنجم ...... آپ عیسیٰ علیہ السلام کو بہ ایں جسد عنصری آسمان پر تا ایں دم مانتے ہیں یا دیگر انبیاء کی طرح فوت شدہ؟ اور ان کی آمد ثانی کے قائل ہیں یا نہیں؟ جواب ....... اس سوال کے اگرچہ بظاہر دو حصے ہیں۔ ایک رفع مسیح بجسد عنصری بر آسمان اور دوسرا نزول مسیح۔ لیکن جواب کے لحاظ سے دونوں میں ایک قسم کا اشتراک ہے۔ مثلاً اگر ”نزول مسیح“ ثابت کر دیا جائے تو ”رفع مسیح“ خود بخود ثابت ہو جائے گا کیونکہ نزول سے پہلے رفع لازمی ہے۔ اسی طرح اگر ”رفع“ ثابت ہو جائے تو نزول کا ثابت ہونا کوئی مشکل نہیں مگر چونکہ سائل نے دونوں حصوں کے متعلق سوال کیا ہے اسلئے دونوں حصوں کا علیحدہ علیحدہ جواب لکھا جاتا ہے۔
(بمنه وكرمه)
جواب حصہ اوّل
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ اٹھایا جانا
بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور تا حال زندہ آسمان پر موجود ہیں۔
آسمانوں پر ہے اب وہ محترم
ہے ثبوت اس کا ہمیں قرآن سے
جو نہ مانے خالی ہے ایمان سے
قرآن مجید سے ثبوت
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا کئی آیات سے ثابت ہے۔ چنانچہ پہلی
آیت یہ ہے۔ ”ومکروا ومکر اللہ ط واللہ خیر الماکرین (آل عمران:٥٤)“ یعنی ”یہود نے تدبیر کی (کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیں) اور اللہ تعالیٰ نے تدبیر کی (کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا) اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے اچھا ہے۔“ اس آیت کے متعلق تفسیر قادری میں لکھا ہے: ومکروا۔ اور مکر کیا ان لوگوں نے جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کفر دریافت کر لیا تھا۔ اس طرح پر کہ لوگوں کو انہوں نے ابھارا کہ جہاں کہیں عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھو دفعۃً قتل کر ڈالو اور صحیح یہ ہے کہ انواع واقسام کے حیلوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا اور گھر میں قید کر کے رات بھر پہرہ رکھا اور صبح تڑکے اکٹھا ہو کر اپنے سردار کو کہ اس کا نام یہودا تھا، گھر میں بھیجا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو باہر لائے۔ اس شب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسے ہی یہودا اس گھر میں آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ پایا۔ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ اس پر ڈال دی جب باہر نکلا اور یہ کہنا چاہا کہ عیسیٰ یہاں نہیں ہے۔ وہ لوگ اس سے لپٹ گئے ہر چند وہ کہتا ہی رہا کہ میں فلاں شخص ہوں اور نالہ وفریاد کیا۔ کچھ نہ ہوا سولی پر چڑھا کر لوگوں نے تیر برسائے۔
حق تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ انہوں نے مکر کیا۔ ومکر اللہ اور خدا نے مکر کی جزا انہیں دی کہ انہوں نے اپنے ہی یار سردار کو بڑی ذلت اور رسوائی کے ساتھ قتل کر ڈالا اور اللہ خوب بدلہ دینے والا ہے مکاروں کو۔ واللہ خیر الماکرین۔
(تفسیر قادری، جلد اول ص ١٠٩، مطبوعہ نولکشور لکھنؤ)
”تفسیر حقانی“ میں ہے: ”آخر کار یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکام سے شکایتیں کر کے پلاطوس حاکم کو ان کے قتل پر آمادہ کیا اور جاسوس دوڑ گئے۔ حضرت کو ایک جگہ سے گرفتار کر کے لائے اور طرح طرح کی اذیتیں دینی شروع کیں اور بہت کچھ مکر داؤ ان کے قتل کے لئے کیا مگر خدا کا داؤ سب پر غالب ہے۔ اس نے یہ کیا کہ انہیں یہودیوں میں سے ایک کو حضرت مسیح کی صورت میں کر دیا اور مسیح علیہ السلام کو ملائکہ آسمان پر لے گئے۔ یہود نے مسیح سمجھ کر اس شخص کو سولی دی اور بڑی اذیت سے مارا “
(تفسیر حقانی ج ٢ ص ١١٢، سطر ١٦ تا ٢٠)
”تفسیر مواہب“ میں ہے: شیخ الحافظ عماد بن کثیر نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا کہ بنی اسرائیل نے اس زمانہ کے بادشاہ کے یہاں لگائی بجھائی کی اور وہ کافر تھا کہ یہاں ایک مرد پیدا ہوا ہے وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بادشاہ کی فرمانبرداری سے بہکاتا ہے اور رعایا کو فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اور باپ بیٹے کے درمیان نفاق ڈالتا ہے اور وہ زنا سے پیدا ہوا ہے اور ایسی ہی جھوٹی تہمتیں و بہتان خبیثوں نے باندھے۔ یہاں تک کہ وہ بادشاہ برافروختہ ہوا اور آدمی بھیجا کہ اس کو پکڑ کر
٢٢
توہین وعذاب کے ساتھ سولی دے دے پھر جب ان لوگوں نے چکے کہ ہم نے پکڑ لیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کو اور اس کی شباہت ایک شخص پر ڈال دی جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے اندھیری رات میں اس کو عیسیٰ تصور سولی دے دی اور یہی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر تھی کہ اپنے کافروں کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیا۔
”تفسیر معالم التنزیل“ میں ہے: ”قال الکلبی عباس فاجتمعت کلمة الیهود علی قتل عیسیٰ لیقتلوه فبعث اللہ جبریل فادخله فی خوخة فی السماء من تلک الروزنة “ کلبی نے ابی صالح سے اور ا ہے۔ یہود کی ایک جماعت نے عیسیٰ کے قتل پر اتفاق کیا اور اس کو گئے پس اللہ تعالیٰ نے جبریل کو بھیجا پس اس نے اس کو مکان میں سوراخ تھا۔ اس سوراخ کی راہ اس کو آسمان پر اٹھا لیا۔
مولوی محمد علی صاحب کو مفسرین کی اس تفسیر پر تین اعتراض
- اول...... یہ کہ ایک شخص کو یوں دشمنوں کے تصرف سے نکال لی
یہ کوئی باریک مخفی تدبیر نہ ہوئی۔
- دوسرا...... یہ کہ مکر تو اس مخفی تدبیر کو کہا جاتا ہے جو جہالت نقص و
مارا گیا اور اسی صلیب کی موت سے مارا گیا تو یہ تدبیر تو سخت ناقص لیکن ان کی جگہ حواری جو انصار اللہ میں سے تھا۔ اسی لعنتی موت میں
- تیسرا...... اور سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہودیوں کی غرض
اور تبلیغ کا خاتمہ ہو گیا اور بنی اسرائیل اس کی ہدایت سے محروم رہ
مولوی صاحب کے یہ اعتراض یا تو اختراع بغیر المیع بہر کیف تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ اگرچہ یہ سوال جواب نمبر وار لکھے جا رہے ہیں۔
- پہلے...... اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ایک شخص کو یوں دشمنوں
٢٣
الله و الله خير الماكرين (آل عمران:٥٤) ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیں) اور اللہ تعالیٰ نے تدبیر کی (کہ اٹھالیا) اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے اچھا ہے۔“ اس ہا ہے: ومکروا۔ اور مکر کیا ان لوگوں نے جن سے حضرت عیسیٰ ا۔ اس طرح پر کہ لوگوں کو انہوں نے ابھارا کہ جہاں کہیں عیسیٰ اور صحیح یہ ہے کہ انواع واقسام کے حیلوں سے حضرت عیسیٰ علیہ کے رات بھر پہرہ رکھا اور صبح تڑکے اکٹھا ہوکر اپنے سردار کو کہ یٰ علیہ السلام کو باہر لائے۔ اس شب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہی یہودا اس گھر میں آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ پایا۔ حق شبیہ اس پر ڈال دی جب باہر نکلا اور یہ کہنا چاہا کہ عیسیٰ یہاں گئے ہر چند وہ کہتا ہی رہا کہ میں فلاں شخص ہوں اور نالہ وفریاد ا۔ نے تیر برسائے۔ کہ انہوں نے مکر کیا۔ ومکر اللہ اور خدا نے مکر کی جزا انہیں دی یا ذلت اور رسوائی کے ساتھ قتل کر ڈالا اور اللہ خوب بدلہ دینے مکرین۔
(تفسیر قادری، جلد اول ص ١٠٩، مطبوعہ نولکشور، لکھنؤ)
”آخر کار یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکام سے قتل پر آمادہ کیا اور جاسوس دوڑ گئے۔ حضرت کو ایک جگہ سے اذیتیں دینی شروع کیں اور بہت کچھ مکر داؤ ان کے قتل کے ۔ اس نے یہ کیا کہ انہیں یہودیوں میں سے ایک کو حضرت لام کو ملائکہ آسمان پر لے گئے۔ یہود نے مسیح سمجھ کر اس شخص
(تفسیر حقانی ج ٣ ص ١١٢، سطر ١٦ تا ٢٠)
شیخ الحافظ عماد بن کثیر نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا کہ بنی ہاں لگائی بجھائی کی اور وہ کافر تھا کہ یہاں ایک مرد پیدا ہوا کی فرمانبرداری سے بہکاتا ہے اور رعایا کو فساد پر آمادہ کرتا ق ہے اور وہ زنا سے پیدا ہوا ہے اور ایسی ہی جھوٹی تہمتیں کہ وہ بادشاہ برافروختہ ہوا اور آدمی بھیجا کہ اس کو پکڑ کر
٢٢
تو ہین وعذاب کے ساتھ سولی دے دے پھر جب اُن لوگوں نے گھر گھیرا اور اپنے گمان میں سمجھ چکے کہ ہم نے پکڑ لیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس گھر کے موکھلے سے آسمان کو اٹھا لیا اور اس کی شباہت ایک شخص پر ڈال دی جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس مکان میں تھا پھر جب یہ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے اندھیری رات میں اس کو عیسیٰ تصور کیا اور پکڑ کر اہانت کے ساتھ سولی دے دی اور یہی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر تھی کہ اپنے نبی کو نجات دے دی اور ان کافروں کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیا۔
(تفسیر مواہب الرحمن ج ٣ ص ٢٠١)
”تفسیر معالم التنزیل“ میں ہے: ”قال الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس فاجتمعت كلمة اليهود على قتل عيسى عليه السلام وسارو اليه ليقتلوه فبعث الله جبريل فادخله فى خوخة فى سقفها روزنة فرفعه الى السماء من تلك الروزنة “ کلبی نے ابی صالح سے اور اس نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے۔ یہود کی ایک جماعت نے عیسیٰ کے قتل پر اتفاق کیا اور اس کو قتل کرنے کے لئے اس کی طرف گئے پس اللہ تعالیٰ نے جبریل کو بھیجا پس اس نے اس کو مکان میں داخل کیا، اس کی چھت میں سوراخ تھا۔ اس سوراخ کی راہ اس کو آسمان پر اٹھا لیا۔
(معالم ص ١٦٢، سطر ٥)
مولوی محمد علی صاحب کو مفسرین کی اس تفسیر پر تین اعتراض ہیں:
- اول ...... یہ کہ ایک شخص کو یوں دشمنوں کے تصرف سے نکال لینا کہ اسے آسمان پر اٹھایا جائے۔
یہ کوئی باریک مخفی تدبیر نہ ہوئی۔
- دوسرا ...... یہ کہ مکر تو اس مخفی تدبیر کو کہا جاتا ہے جو جہالت نقص وفتور سے خالی ہو جب ایک حواری
مارا گیا اور اسی صلیب کی موت سے مارا گیا تو یہ تدبیر تو سخت ناقص ہے۔ مسیح تو لعنتی موت سے بچے لیکن ان کی جگہ حواری جو انصار اللہ میں سے تھا۔ اسی لعنتی موت میں گرفتار ہوا۔
- تیسرا ...... اور سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہودیوں کی غرض تو پوری ہوگئی کہ مسیح کے کاروبار
اور تبلیغ کا خاتمہ ہو گیا اور بنی اسرائیل اس کی ہدایت سے محروم رہ گئے۔ پھر یہ کیسی ناقص تدبیر ہوئی۔
(تفسیر بیان القرآن ج ١ ص ٣٣٠)
مولوی صاحب کے یہ اعتراض یا تو اتباع بغیر البصیرت پر مبنی ہیں یا عدم تدبر کا نتیجہ۔ بہر کیف تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ اگر چہ یہ سوال قابل التفات نہیں۔ تاہم ان کے جواب نمبر وار لکھے جارہے ہیں۔
- پہلے ...... اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ایک شخص کو یوں دشمنوں کے تصرف سے نکال لینا یہ کہ اسے
٢٣
آسمان پر اٹھایا جائے اور کسی انسان کے وہم گمان میں بھی یہ بات نہ آئے۔ ”باریک مخفی تدبیر“ نہیں تو اور کیا ہے؟
دوسرے...... اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے جب ایک غدار حواری مارا گیا اور اسی صلیب کی موت سے مارا گیا جس سے اپنے آقا کو مروانا چاہتا تھا اور اسی لعنتی موت میں گرفتار ہوا۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مطعون ہونا تھا تو اس سے کامل تدبیر اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور اس تدبیر کو ”سخت ناقص“ کہنا ”خیر الماکرین“ کی توہین نہیں تو اور کیا ہے؟
بے شک وہ حواری انہیں بارہ حواریوں میں سے تھا۔ جنہوں نے من انصاری الی اللہ کے جواب میں نحن انصار اللہ کہا تھا۔ مگر جب اس نے اپنے نبی سے غداری کی اور اسے چند روپوں کے عوض دشمنوں سے پکڑوانا چاہا تو پھر وہ اعداء اللہ میں شامل ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اپنے کئے کی سزا دی اور وہ کیفر کردار کو پہنچا تو اس میں نقص اور فتور کیا ہوا؟
نوٹ...... یہود کی اس بے ایمانی کا ذکر ”اناجیل ثلاثہ“ (متی ٢٦: ١٤-١٦ مرقس ١٤: ١٠-١١ لوقا ٢٢: ٤٧-٤٨) میں موجود ہے جو مشہور معروف ہے۔ اس کے علاوہ ”انجیل برنباس“ میں بھی مذکور ہے جو اس طرح پر ہے۔ ”اور یسوع گھر سے نکل کر باغ کی طرف مڑا تا کہ نماز ادا کرے۔ تب وہ اپنے دونوں گھٹنوں پر بیٹھا ایک سو مرتبہ اپنے منہ کو نماز کے لئے اپنی عادت کے موافق خاک آلود کرتا ہوا اور چونکہ یہودا اس جگہ کو جانتا تھا جس میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا وہ کاہنوں کے سردار کے پاس گیا اور کہا اگر تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا تو میں آج کی رات یسوع کو تیرے ہاتھ میں سپرد کر دوں گا۔ جس کو تم ڈھونڈ رہے ہو اس لئے کہ وہ گیارہ رفیقوں کے ساتھ اکیلا ہے۔ کاہنوں کے سردار نے جواب دیا تو کسی قدر طلب کرتا ہے۔ یہودا نے کہا تیس ٹکڑے سونے کے۔ پس اس وقت کاہنوں کے سردار نے فوراً اسے روپے مہیا کر دیئے اور ایک فریسی کو حاکم اور ہیرودوس کے پاس بھیجا۔ تاکہ وہ کچھ سپاہی بلالائے۔ تب ان دونوں نے اسے ایک دستہ سپاہ کا دیا۔ اس واسطے کہ وہ دونوں قوم بے ڈرے۔ تب وہیں ان لوگوں نے اپنے ہتھیار لئے اور یروشلم سے لاٹھیوں پر مشعلیں اور چراغ جلائے ہوئے نکلے۔“
(انجیل برنباس فصل ٢١٤ ص ٤٩٦)
تیسرے...... اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہود کی عداوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ محض تبلیغ دین کی وجہ سے ہی نہ تھی بلکہ آپ کی پیدائش کی وجہ سے تھی۔ حضرت مریم صدیقہ پر انہوں نے (نعوذ باللہ من ذلک) زنا کا بہتان باندھا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ”و بکفرہم
٤٤
٤٥
وقولهم على مريم بهتاناً عظيما (نساء:١٥٦) ”اس آیہ لکھا ہے۔ ”یہ نالائق فعل ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کہ حضرت مسیح علیہ السلام چونکہ بغیر باپ کے صرف اس کی قدرت اس سے منکر ہو گئے۔ وبكفرهم سے اس طرف اشارہ ہے۔ انکار کیا اور حضرت مریم پاک دامن پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس اس لئے یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو بنظر حقارت دیکھتے رہے۔“
اس کے سوا عیسائیوں کی اپنی شہادت موجود ہے کہ یہو ہی قتل کرانے کے درپے تھا چنانچہ پادری بارتھ صاحب اپنی کتاب دوم ص ٨ پر لکھتے ہیں۔ ”اس سبب سے ہیردوس کا غضب بھڑکا۔ (یعنی مسیح علیہ السلام) کو جان سے مارے۔ لیکن چونکہ نہ جانتا تھا کہ اس لئے اس نے بیت لحم اور اس کی سرحدوں کے سب چھوٹے لڑک ساتھ وہ بھی ہلاک ہو جائے مگر اپنی مراد کو نہ پہنچا۔“
پس یہود نامسعود کی غرض یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السل دے کر صلیب پر چڑھا کر اپنے عقیدہ کے مطابق (نعوذ باللہ) لع نکالیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ جو لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔
مگر اپنے مقاصد میں نہایت ناکام اور نامراد رہے۔ خد ہونے دیا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وما قتلوه وما صلبوه یعنی ”نہ انہوں ن
پس ”خیر الماکرین“ کی تدبیر کو ”ناقص“ کہنا نہایت مولوی صاحب معذور ہیں۔ اس قسم کی بے ادبی اور گستاخی مرزا جی مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں:
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥
نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات ا دوسری آیت یہ ہے: جس سے رفع مسیح صراحتاً ثابت ہ
٢٥
کے وہم گمان میں بھی یہ بات نہ آئے۔ ”باریک تھی تدبیر“
یہ کہ وہ حواریوں میں سے تھا۔ جنہوں نے من انصاری الی اللہ کہا تھا۔ مگر جب اس نے اپنے نبی سے غداری کی اور اسے مارنا چاہا تو پھر وہ اعداء اللہ میں شامل ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو پکڑا تو اس میں نقص اور فتور کیا ہوا؟
اس کا ذکر ”اناجیل ثلاثہ“ (متی ٢٦: ١٤-١٦، مرقس ١٤: ١٠-١١، لوقا ٢٢: ٣-٦) میں معروف ہے۔ اس کے علاوہ ”انجیل برنباس“ میں بھی مذکور ہے کہ ”یہودا کمرے سے نکل کر باغ کی طرف مڑا تا کہ نماز ادا کرے۔ تب وہ اپنے منہ کو نماز کے لئے اپنی عادت کے موافق خاک آلود کر رہا تھا۔ تب یہودا غدار جبکہ یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا وہ قریب آیا اور کہا تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا تو میں آج ہی رات یسوع کو تیرے حوالے کر دوں گا۔ جس کو تم ڈھونڈ رہے ہو اس لئے کہ وہ گیارہ سے اکیلا ہے۔ کاہنوں کے سردار نے جواب دیا تو کسی قدر طلب کرتا ہے۔ یہودا نے کہا تیس روپے تب کاہنوں کے سردار نے فوراً اسے روپے مہیا کر دیئے اور اس کے ساتھ ایک فریسی بھیجا۔ تاکہ وہ کچھ سپاہی بلا لائے۔ تب ان دونوں نے سپاہیوں کا دستہ لیا جو رومی قوم سے تھے۔ تب وہیں ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں ہتھیار اور لاٹھیاں اور چراغ جلائے ہوئے نکلے۔“
(انجیل برنباس فصل ٢١٢ ص ٢٩٦)
یہود کی عداوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ محض تبلیغ حق کی وجہ سے تھی۔ حضرت مریم صدیقہ پر انہوں نے بہتان باندھا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ”وبكفرهم
وقولهم على مريم بهتاناً عظيما (نساء:١٥٦) اس آیت کے متعلق ”تفسیر حقانی“ میں لکھا ہے۔ ”یہ نالائق فعل ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت صادر ہوا تھا۔ وہ یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام چونکہ بغیر باپ کے صرف اس کی قدرت کاملہ سے پیدا ہوئے تھے۔ وہ اس سے منکر ہو گئے۔ وبکفرهم سے اس طرف اشارہ ہے۔ سو انہوں نے اس قدرت کاملہ کا انکار کیا اور حضرت مریم پاک دامن پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے یہ حرامی بچہ جنا ہے اور اخیر تک اس لئے یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو بنظر حقارت دیکھتے رہے۔“
(تفسیر حقانی، ج ٣ طبع ہشتم ص ٢٣٤)
اس کے سوا عیسائیوں کی اپنی شہادت موجود ہے کہ ہیرودس مسیح علیہ السلام کو بچپن میں ہی قتل کرانے کے درپے تھا چنانچہ پادری بارتھ صاحب اپنی کتاب ”مقدس کتاب کا احوال“ حصہ دوم ص ٨ پر لکھتے ہیں۔ ”اس سبب سے ہیرودس کا غضب بھڑکا۔ کیونکہ اس نے چاہا کہ اس بچے (یعنی مسیح علیہ السلام) کو جان سے مارے۔ لیکن چونکہ نہ جانتا تھا کہ وہ کون اور کس گھر میں رہتا ہے اس لئے اس نے بیت لحم اور اس کی سرحدوں کے سب چھوٹے لڑکوں کو قتل کروا دیا تاکہ ان کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہو جائے مگر اپنی مراد کو نہ پہنچا۔“
(کتاب مذکور طبع ششم ١٨٩٥ء)
پس یہود نامسعود کی غرض یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بروئے تعصب مجرم قرار دے کر صلیب پر چڑھا کر اپنے عقیدہ کے مطابق (نعوذ باللہ ) لعنتی بنائیں اور اپنے دل کا بخار نکالیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ جو لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔
(گلتیوں ٣-١٣)
مگر اپنے مقاصد میں نہایت ناکام اور نامراد رہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کا بال بھی بیکا نہ ہونے دیا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وما قتلوه وما صلبوه یعنی ”نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی دیا۔“
پس ”خیر الماکرین“ کی تدبیر کو ”ناقص“ کہنا نہایت بے ادبی اور گستاخی ہے۔ مگر مولوی صاحب معذور ہیں۔ اس قسم کی بے ادبی اور گستاخی مرزائیت کی گھٹی میں داخل ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں:
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٢ حاشیہ در حاشیہ)
نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا
دوسری آیت یہ ہے: جس سے رفع مسیح صراحتاً ثابت ہے: ”وقولهم انا قتلنا المسيح
عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ ط وکان اللہ عزیزاً حکیما (نساء:١٥٨) ”یعنی یہودیوں کا قول ہے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے صلیب پر چڑھایا مگر ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا، وہ شک میں ہیں۔ ان کو اس کا کوئی علم نہیں۔ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں اور انہوں نے اس کو یقینی طور پر قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔“
اس آیت سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے یا فوت ہونے کے قائل ہیں یا اس میں اختلاف کرتے ہیں، اس کا علم یقینی نہیں۔ وہ اتباع الظن میں گرفتار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور وہ غالب ہے۔ آسمان پر اٹھا لینا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ واللہ غالب علیٰ امرہ اور وہ حکمت والا ہے۔ ان کے آسمان پر لے جانے میں بھی حکمت ہے۔
”تفسیر عباسی“ میں ہے: ”(وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم) القی شبہ عیسیٰ علی تطیانوس فقتلوہ بدل عیسیٰ (وان الذین اختلفوا فیہ) فی قتلہ (مالہم بہ) بقتلہ (من علم الا اتباع الظن) الا الظن (وما قتلوہ یقینا) ای یقینا ما قتلوہ (بل رفعہ اللہ الیہ) الی السماء (وکان اللہ عزیزاً) بالنقمۃ من اعدائہ (حکیما) بالنصرۃ لاولیائہ “ اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب پر چڑھایا لیکن ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ تطیانوس پر ڈالی گئی پس انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بدلے اس کو قتل کر دیا اور وہ لوگ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا یعنی اس کے قتل میں۔ ان کو اس کا کوئی علم نہیں یعنی اس کے قتل کا۔ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں یعنی ظن میں ہیں اور انہوں نے اسے یقیناً قتل نہیں کیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کو بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا یعنی آسمان کی طرف اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے میں اور حکمت والا ہے اپنے دوستوں کی مدد کرنے میں۔ ﴾
”تفسیر جلالین“ میں ہے: ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم المقتول والمصلوب وهو صاحبہم بعیسیٰ اى القی اللہ علیہ شبہ فظنوہ ایاہ “ اور نہ
انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اس کو سولی پر چڑھایا اور ان کے لئے اس و مصلوب ہوا اور وہ انہیں کا ساتھی تھا جو عیسیٰ جیسا بنایا گیا یعنی اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کی شباہت ڈال دی پس یہود نے گمان کیا کہ یہ وہی (عیسیٰ
”تفسیر ابن جریر“ میں ہے:
- .......١ حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا ابو عاصم قـ
ابی نجیح عن مجاهد فی قولہ (شبہ لہم) قال صلبـ یحسبونہ ایاہ (یعنی ابن ابی نجیح نے مجاہدؒ سے خدا تعالیٰ بیان کی ہے۔ اس نے کہا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ وہی (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی) ہے
- .......٢ حدثنا القاسم قال ثنا الحسین قال ثنی حجـ
مجاهد قال صلبوا رجلا شبہوہ بعیسیٰ یحسبونہ ایاہ علیہ السلام حیا. یعنی ابن جریج نے مجاہد سے روایت کی ہے۔ ا ایک ایسے ادنیٰ کو سولی دیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ تھا۔ ان ہے۔ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہے۔) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلـ طرف اٹھا لیا۔
”تفسیر درمنثور“ میں ہے: ”قولہ تعالیٰ: (و المسیح....... آیۃ) اخرج عبد بن حمید والنسائی وابن ابـ عن ابن عباس، قال لما اراد اللہ ان یرفع عیسیٰ اصحابہ وفى البیت اثنا عشر رجلا من الحواریین البیت وراسہ یقطر ماء فقال ان منکم من یکفر بی اثنی بی ثم قال ایکم یلقی علیہ شبہی فقتل مکانی ویکون شاب من احدثہم سنا فقال لہ اجلس ثم اعاد علیہم فقـ ثم اعاد علیہم فقام الشاب فقال انا انت ذاک فالقی عـ عیسیٰ من روزنۃ فى البیت الی السماء قال جاء الطلـ
ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين م به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل يزاً حكيماً (نساء:١٥٨) ”یعنی یہودیوں کا قول ہے کہ تل کر دیا ہے اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے صلیب گیا اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا، ہیں۔ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں اور انہوں نے اس کو اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔“ یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب س میں اختلاف کرتے ہیں، اس کا علم یقینی نہیں۔ وہ اتباع خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور وہ غالب ہے۔ نہیں۔ واللہ غالب علی امرہ اور وہ حکمت والا ہے۔ ان کے
وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم) القى لوه بدل عيسى (وان الذين اختلفوا فيه) في م الا اتباع الظن) الا الظن (وما قتلوه يقينا) له اليه) الى السماء (وكان الله عزيزاً) بالنقمة ة لاوليائه ”اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں لئے اس جیسا بنایا گیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ علیہ السلام کے بدلے اس کو قتل کر دیا اور وہ لوگ جنہوں ں ہیں۔ ان کو اس کا کوئی علم نہیں یعنی اس کے قتل کا۔ صرف ں اور انہوں نے اسے یقیناً قتل نہیں کیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کو اپنی آسمان کی طرف اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے دشمنوں ے دوستوں کی مدد کرنے میں۔“
وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم المقتول ق اى القى الله عليه شبه فظنوه اياه ”اور نہ
٢٦
٤٧
انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اس کو سولی پر چڑھایا اور ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا یعنی جو مقتول ومصلوب ہوا اور وہ انہیں کا ساتھی تھا جو عیسیٰ جیسا بنایا گیا یعنی اللہ تعالیٰ نے اس (کے چہرے) پر حضرت عیسیٰ کی شباہت ڈال دی پس یہود نے گمان کیا کہ یہ وہی (عیسیٰ ہی) ہے۔ ﴿
”تفسیر ابن جریر“ میں ہے:
- .......١ حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا ابو عاصم قال ثنا عيسى عن ابن
ابي نجيح عن مجاهد في قوله (شبه لهم) قال صلبوه رجلا غير عيسى يحسبونه اياه (یعنی ابن ابی نجیح نے مجاہد سے خدا تعالیٰ کے قول شبه لهم کی تفسیر بیان کی ہے۔ اس نے کہا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی دوسرے آدمی کو سولی دیا اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ وہی (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی) ہے)
(ابن جریر ج ٦ ص ١٠ سطر ٢٥ و ٢٦)
- .......٢ حدثنا القاسم قال ثنا الحسين قال ثنى حجاج عن ابن جريح عن
مجاهد قال صلبوا رجلا شبهوه بعيسى يحسبونه اياه ورفع الله اليه عيسى علیہ السلام حیا۔ یعنی ابن جریج نے مجاہد سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا کہ یہودیوں نے ایک ایسے آدمی کو سولی دیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ تھا۔ انہوں نے گمان کیا کہ یہ وہی ہے۔ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہے۔) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔
(ایضاً، ١٠ سطر ٢٨، ٢٩)
”تفسیر در منثور“ میں ہے: ”قوله تعالى: (وقولهم انا قتلنا المسيح ....... آية) اخرج عبد بن حميد والنسائى وابن ابي حاتم وابن مردويه عن ابن عباس، قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلا من الحواريين فخرج عليهم من عين البيت وراسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بي اثنى عشر مرة بعد ان آمن بي ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى ويكون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سنا فقال انا فقال له اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال جاء الطلب من اليهود فاخذوا
٢٧
الشبه فقتلوه وصلبوه...... الخ. ﴿ابن مردویہ نے حبر الامت افقہ الناس حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت کی ہے۔ فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھائے۔ اپنے اصحاب کی طرف نکلے اور ایک مکان میں ان کے حواریوں میں سے بارہ آدمی تھے۔ وہ باہر سے اس مکان میں ان کے لئے گئے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے تھے۔ پس آپ نے (ان سے ) کہا بعض تم میں سے وہ ہیں جس نے میرے ساتھ ایمان لانے کے بعد بارہ دفعہ بے ایمانی کی پھر کہا تم میں سے کون ہے کہ اس پر میری شبیہ ڈالی جائے پس وہ میرے بجائے قتل کیا جائے اور میرے ساتھ درجہ پائے پس ان میں سے ایک چھوٹی عمر کا نوجوان کھڑا ہوا۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ بیٹھ جا پھر ان پر (یہ بات) دہرائی پس نوجوان کھڑا ہوا۔ پس آپ نے کہا بیٹھ جا پھر ان پر (وہی بات دہرائی) پس نوجوان کھڑا ہوا۔ پس اس نے کہا ”میں“ پس آپ نے کہا تو ہی ایک آدمی ہے، پس اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈالی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام گھر کی کھڑکی سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے پس یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طالب آئے اور انہوں نے شبیہ کو پکڑ لیا پس اس کو قتل کیا پھر اس کو صلیب پر چڑھایا۔﴾
(تفسیر درمنثور ص ٢٣٨ سطر ٢٢ تا ٢٨)
”تفسیر نیشاپوری“ میں ہے: ”وقيل كان رجل يدعى انه اصحاب عيسى وكان منافقا فذهب الى اليهود ودلهم عليه فلما دخل مع اليهود لاخذه القى الله شبهه عليه فقتل وصلب“ ﴿کہا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک آدمی تھا جو منافق تھا پس وہ یہود کی طرف گیا اور ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ دیا پس وہ یہود سمیت داخل ہوا تا کہ آپ کو پکڑے، خدا تعالیٰ نے آپ کی شبیہ اس پر ڈال دی پس وہ قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا۔ ﴾ ”(وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه) قيل ان المختلفين هم اليهود لما قتلوا الشخص المشبه ونظروا الى بدنه قالوا ان كان هذا عيسى فاین صاحبنا وان كان صاحبنا فاين عيسى“ ﴿آیت مندرجہ بالا کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ یہودی ہیں۔ جب انہوں نے شخص مشتبہ کو قتل کیا اور اس کے بدن کی طرف دیکھا تو کہنے لگے کہ اگر یہ عیسیٰ ہے تو ہمارا دوست کہاں ہے اور اگر یہ ہمارا دوست ہے تو عیسیٰ کہاں ہے؟﴾
(تفسیر نیشاپوری برحاشیہ ابن جریر، ج ٦ ص ١٨)
”تفسیر بیضاوی“ میں ہے: ”(وان الذين اختلفوا فيه) في شان عيسى
٢٨
عليه السلام فانه لما وقعت تلك الواقعة اختلف وكان كاذبا فقتلناه حقا وتردد آخرون وقال فاين صاحبنا فقال بعضهم الوجه عيسى والبدن عیسیٰ علیہ السلام کے شان میں ہے جب یہ واقعہ ہوا تو لوگوں نے ا کہا کہ وہ جھوٹا تھا ہم نے اس کو یقیناً قتل کیا اور دوسروں کو تردد ہوا ا دوست کہاں ہے اور بعض نے کہا کہ منہ تو عیسیٰ کا ہے اور بدن ہمارے الله عليه رد وانكار لقتله واثبات لرفعة “ یعنی یہ آیـ اس کے اٹھائے جانے کو ثابت کرتی ہے۔“
”انجیل برنباس“ فصل ٢١٥ میں ہے: ”اور جب کہ یہ نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعـ لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا اور گیارہوں (شاگرد) سو رہے تھے خطرہ میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرئیل اور میخائیل اور رفائیل او سے لے لیں۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف پس اس کو اٹھا لے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔“
فصل ٢١٦ ...... اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں اٹھا لیا گیا اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے تب اللہ نے ایک چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لو ہے۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا لئے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا۔ اے سید تو ہی تو ہمارا معلم اس نے مسکراتے ہوئے کہا کیا تم احمق ہو؟ کہ یہودا اسخریوطی کو نـ کہہ رہا تھا، سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔
فصل ٢١٧: پس سپاہیوں نے یہودا کو پکڑا اور اس کو ا لیا اس لئے کہ یہودا نے ان سے اپنے یسوع ہونے کا انکار کیا بـ
٢٩
ابن مردویہ نے حبر الامت افقہ الناس حضرت عبداللہ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف لے گئے اور ایک مکان میں ان کے حواریوں میں سے بارہ شخص ان کے پاس گئے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے یا بعض تم میں سے وہ ہیں جس نے میرے ساتھ ایمان لانے کہا تم میں سے کون ہے کہ اس پر میری شبیہ ڈالی جائے پس وہ رے ساتھ درجہ پائے پس ان میں سے ایک چھوٹی عمر کا نوجوان ہا کہ بیٹھ جا پھر ان پر (یہ بات) دہرائی پس نوجوان کھڑا ہوا۔ ہی بات دہرائی) پس نوجوان کھڑا ہوا۔ پس اس نے کہا ”میں“ ہے۔ پس اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈالی گئی اور عیسیٰ کی طرف اٹھائے گئے پس یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیا پس اس کو قتل کیا پھر اس کو صلیب پر چڑھایا۔
(تفسیر درمنثور ص ٢٣٨ سطر ٢٢ تا ٢٨)
ہے: ”وقيل كان رجل يدعى انه اصحاب عيسى يهود ودلهم عليه فلما دخل مع اليهود لاخذه القى ”کہا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک طرف گیا اور ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ دیا پس وہ یہود صہ خدا تعالیٰ نے آپ کی شبیہ اس پر ڈال دی پس وہ قتل کیا گیا ن اختلفوا فيه لفی شک منه) قيل ان المختلفين خص المشبه ونظروا الى بدنه قالوا ان كان هذا ن صاحبنا فاين عيسى “ آیت مندرجہ بالا کی تفسیر اف کیا وہ یہودی ہیں۔ جب انہوں نے شخص مشتبہ کو قتل کیا اور نے لگے کہ اگر یہ عیسیٰ ہے تو ہمارا دوست کہا ہے اور اگر یہ ہمارا
(تفسیر نیشاپوری بر حاشیه ابن جریر، ج ٦ ص ١٨)
: (وان الذين اختلفوا فيه) في شان عيسى ٤٨
علیہ السلام فانه لما وقعت تلک الواقعة اختلف الناس فقال بعض الیهود وکان کاذبا فقتلناه حقا وتردد اخرون وقال بعضهم ان كان هذا عيسى فاین صاحبنا فقال بعضهم الوجه عیسی والبدن بدن صاحبنا “ یہ آیت عیسیٰ علیہ السلام کے شان میں ہے جب یہ واقعہ ہوا تو لوگوں نے اختلاف کیا۔ بعض یہودیوں نے کہا کہ وہ جھوٹا تھا ہم نے اس کو یقینا قتل کیا اور دوسروں کو تردد ہوا۔ بعض نے کہا اگر یہ عیسیٰ تھا تو ہمارا دوست کہاں ہے اور بعض نے کہا کہ منہ تو عیسیٰ کا ہے اور بدن ہمارے دوست کا۔ ”بل رفعہ الله علیه رد وانکار لقتله واثبات لرفعة “ یعنی یہ آیت اس کے قتل کا رد وانکار ہے اور اس کے اٹھائے جانے کو ثابت کرتی ہے۔“
(تفسیر بیضاوی قلمی)
”انجیل برنباس“ فصل ٢١٥ میں ہے: ”اور جب کہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعت کے نزدیک آنا سنا۔ تب اس لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا اور گیارہوں (شاگرد) سو رہے تھے پس جبکہ اللہ نے اپنے بندے کو خطرہ میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرئیل اور میکائیل اور رفائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیں۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لیا پس اس کو اٹھا لے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔“
فصل ٢١٦...... اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا جس میں سے یسوع اٹھا لیا گیا اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے تب اللہ نے ایک عجیب کام کیا، پس یہودا بولا اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا۔ تاکہ دیکھے معلم کہاں ہے۔ اس لئے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا۔ اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے پس تو اب ہم کو بھول گیا۔ مگر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کیا تم احمق ہو؟ کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے اور اسی اثناء میں کہ وہ کہہ رہا تھا، سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دیئے اس لئے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔
فصل ٢١٧: پس سپاہیوں نے یہودا کو پکڑا اور اس کو اس سے مذاق کرتے ہوئے باندھ لیا اس لئے کہ یہودا نے ان سے اپنے یسوع ہونے کا انکار کیا بحالیکہ وہ سچا تھا۔ تب سپاہیوں نے ٤٩
اسے چھیڑتے ہوئے کہا اے ہمارے سید تو ڈر نہیں۔ اس لئے کہ ہم تجھ کو اسرائیل پر بادشاہ بنانے آئے ہیں اور ہم نے تجھ کو محض اس واسطے باندھا ہے کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تو بادشاہت کو منظور نہیں کرتا۔ یہودا نے جواب میں کہا کہ شاید تم دیوانے ہو گئے ہو؟ تم ہتھیاروں اور چراغوں کو لیکر یسوع ناصری کو پکڑنے آئے ہو۔ گویا کہ وہ چور ہے تو کیا تم مجھی کو باندھ لو گے جس نے تمہیں راہ دکھائی ہے تا کہ مجھے بادشاہ بناؤ۔ اس وقت سپاہیوں کا صبر جاتا رہا تھا اور انہوں نے یہودا کو مکوں اور لاتوں سے مار کر ذلیل کرنا شروع کیا اور غصہ کے ساتھ اسے یروشلم کی طرف کھینچتے لے چلے۔
- ٧٩: تب وہ لوگ اسے جمجمہ پہاڑ پر لے گئے جہاں کہ مجرموں کو پھانسی دینے کی انہیں
عادت تھی اور وہاں اسے ( یہودا) کو ننگا کر کے صلیب پر لٹکایا۔ اس کی تحقیر میں مبالغہ کرنے کے لئے۔
- ٨٠: اور یہودا نے کچھ نہیں کیا سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اس
لئے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔
- ٨١: میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے
مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور اس پر ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔
نوٹ....... مندرجہ بالا اقتباسات میں عبارتوں کے ساتھ جو نمبر دیئے گئے ہیں۔ وہ آیات کے نمبر دیئے ہیں تاکہ اگر کوئی شخص اصل کتاب میں عبارت دیکھنا چاہے تو اسے دقت نہ ہو۔ (ناظم)
مندرجہ بالا آیت اور اس کی تفاسیر اور انجیل کے حوالہ سے روز روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو کسی نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ وہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کی جگہ ان کا شبیہ مصلوب ہوا مگر مرزائی صاحبان خواہ مخواہ اس آیت میں مفسرین کے خلاف ذیل کے الفاظ میں اڑ بیٹھے ہیں اور بے جا تاویلات میں پھنس کر انکار کی راہ ڈھونڈتے ہیں۔ چنانچہ:
”صلبوہ کی بحث: پہلا لفظ و مـا صـلـبـوہ اس کا صحیح معنی تو یہ ہے۔” و بـر دار نـکـرده انـد او را (شاہ ولی اللہ صاحب) ”یعنی ”اور نہ سولی پر چڑھایا انہوں نے اس کو۔“ مگر مرزائی صاحبان اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ”سولی پر تو چڑھایا مگر انہوں نے اس کی ہڈیاں نہ
٣٠
توڑیں۔“ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”مـا صـ بات کی ہے کہ اس پر موت بذریعہ صلیب وارد نہیں ہوئی۔ نہ اس با ہو....... الخ۔
اس کی تشریح مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب ”عـسـ لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح علیہ السلام ہی پکڑے گئے اور وہی مصلوب شرائط ان پر نافذ نہیں ہوئیں کیونکہ وہ تین روز تک صلیب پر نہیں لٹکـ ثبوت نہیں ملتا کہ وہ اس پر رہے ہوں اور نہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں بـ
قبل اس کے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ یہ دیکھنا ہے کـ ماخذ کیا ہے؟ سو اس کی تلاش کچھ مشکل نہیں۔ مولوی محمد علی صاحـ ”یہودی انسائیکلوپیڈیا“ کا نام لیتے ہیں اور مرزا خدا بخش صاحب کا اسـ جو باہم ایک دوسرے کے لئے مخالف ہیں کہ جن کی دشمنی اور کینہ وری روز اس بات پر یک زبان اور متفق ہیں کہ مسیح ناصری ہی پکڑا گیا اور اسی کو سـ زخم لگے اور وہی مجروح ہو کر اپنے حواریوں سے ملتا رہا اور تبلیغ کی غر دونوں باہم مخالف قوموں کے تواتر کو کون توڑ سکتا ہے اور تواتر یقینی ثبو تواتر قومی کا انکار کریں تو پھر دنیا بھر کے کل علوم سے امن اٹھ جا برداری کرنی پڑے گی اور پھر مسلمانوں کو سخت مشکل پیش آئے گی۔ کـ تو پھر اسلام کی ایک بات بھی قابل اعتماد نہیں رہ سکتی۔ یہی قومی تو شریف اور احادیث واقوال آئمہ مجتہدین مانے اور واجب العمل قرار پائے۔ اگـ تواتر کو نہ مانے جائے تو پھر ایک چیز ہمارے ہاتھ میں اس قابل نہیـ لہٰذا قومی تواتر ایک ایسا امر ہے جس کے ماننے میں کسی کو چارہ نہیں۔
عبارت مندرجہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزائیوں کا یہ عـ پر مبنی ہے اور مرزائیت یہودیت کے ساتھ اس عقیدہ میں متفق ہے۔ یہ بھی مرزائی جو بعض اوقات علمائے اسلام کو (نعوذ باللہ ) یہودی صفت کـ میں خود یہود کے مشابہت نام رکھتے ہیں۔
٣١
توڑیں۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”ما صلبوہ “ میں نفی صرف اس بات کی ہے کہ اس پر موت بذریعہ صلیب وارد نہیں ہوئی۔ نہ اس بات کی کہ وہ لکڑی پر لٹکایا گیا ہو..... الخ۔
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٧٥)
اس کی تشریح مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب ”عسل مصفیٰ“ میں کی ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح علیہ السلام ہی پکڑے گئے اور وہی مصلوب ہوئے مگر صلیب کی پوری شرائط ان پر نافذ نہیں ہوئیں کیونکہ وہ تین روز تک صلیب پر نہیں لٹکے رہے بلکہ تین گھنٹہ سے زیادہ ثبوت نہیں ملتا کہ وہ اس پر رہے ہوں اور نہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔“
(عسل مصفیٰ ج ١ فصل ١ ص ٤٦٩)
قبل اس کے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ یہ دیکھنا ہے کہ مرزائیوں کے اس عقیدہ کا ماخذ کیا ہے؟ سو اس کی تلاش کچھ مشکل نہیں ۔ مولوی محمد علی صاحب ”بائبل انسائیکلوپیڈیا“ اور ”یہودی انسائیکلوپیڈیا“ کا نام لیتے ہیں اور مرزا خدا بخش صاحب کا ارشاد یہ ہے : ” یہود اور نصاریٰ جو باہم ایک دوسرے کے لئے مخالف ہیں کہ جن کی دشمنی اور کینہ وری کی کوئی انتہا نہیں ۔ وہ دونوں اس بات پر یک زبان اور متفق ہیں کہ مسیح ناصری ہی پکڑا گیا اور اسی کو صلیب پر چڑھایا گیا اور اسی کو زخم لگے اور وہی مجروح ہو کر اپنے حواریوں سے ملتا رہا اور تبلیغ کی سخت تاکیدیں کرتا رہا ۔ اب ان دونوں باہم مخالف قوموں کے تواتر کو کون توڑ سکتا ہے اور تواریخی ثبوت کا کون انکار کر سکتا ہے؟ اگر تواتر قومی کا انکار کریں تو پھر دنیا بھر کے کل علوم سے امن اٹھ جاتا ہے اور ان سب سے دست برداری کرنی پڑے گی اور پھر مسلمانوں کو سخت مشکل پیش آئے گی۔ کیونکہ اگر قومی تواتر کوئی چیز نہیں تو پھر اسلام کی ایک بات بھی قابل اعتماد نہیں رہ سکتی ۔ یہی قومی تواتر ہی تو ہے جس سے قرآن شریف اور احادیث واقوال آئمہ مجتہدین مانے اور واجب العمل قرار دیئے جاتے ہیں اگر اس قومی تواتر کو نہ مانا جائے تو پھر ایک چیز ہمارے ہاتھ میں اس قابل نہیں ۔ جس کو محفوظ تسلیم کر سکیں۔ لہٰذا قومی تواتر ایک ایسا امر ہے جس کے ماننے میں کسی کو چارہ نہیں۔“
(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٤٦٩)
عبارت مندرجہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزائیوں کا یہ عقیدہ یہود اور نصاریٰ کے تواتر پر مبنی ہے اور مرزائیت یہودیت کے ساتھ اس عقیدہ میں متفق ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ یہی مرزائی جو بعض اوقات علمائے اسلام کو (نعوذ باللہ) یہودی صفت علماء کہا کرتے ہیں۔ اس مسئلہ میں خود یہود کے مشابہت تام رکھتے ہیں۔
٣١
میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
شکر ہے کہ آخر کچھ تو انہوں نے مانا نص نہ سہی۔ ”تواتر قومی“ ہی سہی۔ احادیث نہ سہی۔ ”تاریخی روایات“ ہی سہی۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ”تواتر قومی“ اور ”تاریخی ثبوت“ کی ان کے دلوں میں کس قدر وقعت ہے؟ کیا ان کے پورے بیانات پر ایمان رکھتے ہیں یا صرف اپنے مطلب کا فقرہ لیکر باقی عبارات کو چھوڑ دیتے ہیں۔
ہاں جناب! بے شک ”تواتر قومی“ سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے۔ لیکن یہ بھی ثابت ہے کہ انہوں نے صلیب پر جان دے دی چنانچہ
- ......١ انجیل متی میں ہے: ”یسوع پھر بڑی آواز سے چلایا اور جان دے دی“
(باب ٢٧ آیت ٥٠)
- ......٢ مرقس میں ہے: ”پھر یسوع بڑی آواز سے چلایا اور دم دے دیا“
(باب ١٥، آیت ٣٧)
- ......٣ لوقا میں ہے: ”پھر یسوع نے بڑی آواز سے پکار کے کہا کہ اے باپ میں اپنی روح
تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اور یہ کہہ کر دم دے دیا۔“
(باب ٢٣ آیت ٤٦)
- ......٤ یوحنا میں ہے: ”جب یسوع نے وہ سرکہ پیا تو کہا کہ تمام ہوا اور سر جھکا کر جان دے
دی“
(باب ١٩، آیت ٣٠)
پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وہ مرنے کے بعد جی اٹھے چنانچہ
- ......١ انجیل متی میں ہے: ”فرشتے نے عورتوں سے کہا تم نہ ڈرو۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم
یسوع کو ڈھونڈتی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔ وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مطابق جی اٹھا ہے۔ “
(باب ٢٨، آیت ٥، ٦)
- ......٢ مرقس میں ہے: ”اس نے ان سے کہا ایسی حیران نہ ہو۔ تم یسوع ناصری کو جو مصلوب
ہوا تھا ڈھونڈتی ہو، وہ جی اٹھا ہے۔“
(باب ١٦، آیت ٦)
- ......٣ لوقا میں ہے: ”وہ یہاں نہیں ہے بلکہ جی اٹھا ہے۔“
(باب ٢٤، آیت ٦)
پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے چنانچہ
- ......١ مرقس میں ہے: ”غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا۔“
(باب ١٦ آیت ١٩)
٣٢
- ......٢ لوقا میں ہے: ”جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا
کہ وہ ان سے جدا ہو کر آسمان پر اٹھایا گیا۔“
- ......٣ اعمال میں ہے: ”یہ کہہ کر وہ ان کے دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا
لیا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے گلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔“
اس کے سوا مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ ”تمام فرقے نصاریٰ کے اس بات پر متفق آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان پر اٹھائے گئے۔“
(ازالۃ الاوہام
مرزائیو کیا ان تمام باتوں پر جو قومی تواتر اور تاریخی روایات سے ثابت ہیں ایمان رکھتے ہو؟ اگر ان تمام باتوں پر تمہارا ایمان ہے تو تمہارا مذہب باطل ہے اور اگر کچھ مانتے ہو کچھ نہیں مانتے تو بھی تم جھوٹے ثابت ہوئے۔ ”افـتـؤمـنـون بـبـعـض الـکـتـاب وتـکـفـرون بـبـعـض...... الخ“ ﴿یعنی کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے کا انکار کرتے ہو﴾ اب تو دونوں طرف سے پھنسے۔ نہ پائے قرار نہ جائے فرار۔
بــلائــے صــحــبــت لیــلــیٰ وفــرقــت بــــــ
مرزائیوں کا یہ کہنا بھی محض دروغ بے فروغ ہے کہ ”مصلوب کا جسم تین دن تک صلیب پر لٹکایا جاتا ہے۔“ اور مسیح تین دن تک صلیب پر لٹکے نہیں رہے۔ یہ بات یہودیوں کی شریعت کے بالکل خلاف ہے۔ ”بائبل“ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ”اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس کی سزا موت واجب ہو اور تم اسے مار کر درخت سے ٹانگ دو تو اس کی لاش رات بھر درخت پر نہ ٹنگی رہے بلکہ تم اسی دن اسے دفن کر دینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے اس لئے تم اس زمین کو ناپاک نہ کرو۔ جسے خداوند تمہارا تم کو میراث کے طور پر دیتا ہے۔“
(استثناء باب ٢١ آیت ٢٢، ٢٣)
پس مصلوب کو صرف ایک ہی دن صلیب پر لٹکانے کا حکم ہے۔ تین دن تک لٹکائے رکھنے کا دعویٰ بالکل جھوٹ ہے۔
٣٣
الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
تو انہوں نے مانا نص نہ سہی۔ ”تواتر قومی“ ہی سہی۔ احادیث نہ ۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ”تواتر قومی“ اور ”تاریخی ثبوت“ حقیقت ہے؟ کیا ان کے پورے بیانات پر ایمان رکھتے ہیں یا صرف بات کو چھوڑ دیتے ہیں۔
اب ”تواتر قومی“ سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر ہے کہ انہوں نے صلیب پر جان دے دی چنانچہ۔
یسوع پھر بڑی آواز سے چلایا اور جان دے دی“
(باب ٢٧ آیت ٥٠)
یسوع بڑی آواز سے چلایا اور دم دے دیا“
(باب ١٥، آیت ٣٧)
یسوع نے بڑی آواز سے پکار کے کہا کہ اے باپ میں اپنی روح یہ کہہ کر دم دے دیا ۔ “
(باب ٢٣ آیت ٤٦)
یسوع نے وہ سرکہ پیا تو کہا کہ تمام ہوا اور سر جھکا کر جان دے
(باب ١٩، آیت ٣٠)
مرنے کے بعد جی اٹھے چنانچہ فرشتے نے عورتوں سے کہا تم نہ ڈرو۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم ہو۔ وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مطابق جی اٹھا ہے۔
(باب ٢٨، آیت ٥، ٦)
نے ان سے کہا ایسی حیران نہ ہو۔ تم یسوع ناصری کو جو مصلوب
(باب ١٦، آیت ٦)
نہیں ہے بلکہ جی اٹھا ہے۔“
(باب ٢٤، آیت ٢)
آسمان پر اٹھائے گئے چنانچہ خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا ۔“
(باب ١٦، آیت ١٩)
٣٢
٥٣
- ٢...... لوقا میں ہے: ”جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہو گیا اور
آسمان پر اٹھایا گیا۔“
(باب ٢٤، آیت ٥١)
- ٣...... اعمال میں ہے : ” یہ کہہ کر وہ ان کے دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے ان کی
نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھا دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آکھڑے ہوئے اور کہنے لگے۔ اے گلیلی مردو ! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔“
(باب اول آیت ٩ تا ١١)
اس کے سوا مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ ” تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٨، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
مرزائیو کیا ان تمام باتوں پر جو قومی تواتر اور تاریخی روایات سے ثابت ہیں۔ ایمان رکھتے ہو؟ اگر ان تمام باتوں پر تمہارا ایمان ہے تو تمہارا مذہب باطل ہے اور اگر ان سب کو نہیں مانتے تو بھی تم جھوٹے ثابت ہوئے۔ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ....... الخ ”یعنی کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو۔ “ اب تو دونوں طرف سے پھنسے۔ نہ پائے قرار نہ جائے فرار۔
بلائے صحبت لیلیٰ وفرقت لیلیٰ
مرزائیوں کا یہ کہنا بھی محض دروغ بے فروغ ہے کہ ” مصلوب کو تین دن تک صلیب پر لٹکایا جاتا ہے۔ “ اور مسیح تین دن تک صلیب پر لٹکتے نہیں رہے۔ یہ بات ” بائبل “ کی تعلیم کے قطعا خلاف ہے۔ ” بائبل “ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ”اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور تم اسے مار کر درخت سے ٹانگ دو تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی رہے بلکہ تم اس دن اسے دفن کر دینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے۔ تا نہ کہ تم اس ملک کو ناپاک کر دو۔ جسے خداوند تمہارا تم کو میراث کے طور پر دیتا ہے ۔ “ اس عبارت سے ثابت ہے کہ مصلوب کو صرف ایک ہی دن صلیب پر لٹکانے کا حکم ہے۔ تین دن تک نہیں پس مرزائیوں کا یہ لکھنا جھوٹ ہے۔
٣٣
اب صلب کا تحقیقی جواب لکھا جاتا ہے۔ صلب سے مراد محض ہڈیاں توڑنا ہی نہیں جیسا کہ مرزائیوں کا خیال ہے کیونکہ کئی آدمی لڑائی میں چوٹیں لگنے اور ہڈیاں ٹوٹنے سے مر جاتے ہیں کئی مکان یا درخت سے گر کر چوٹ آنے اور ہڈیاں ٹوٹنے سے مر جاتے ہیں۔ کئی گاڑیوں کے نیچے کچلے جاتے ہیں۔ اور ان کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں مگر ان میں سے کسی کو مصلوب نہیں کہا جاتا مصلوب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو صلیب پر لٹکایا جائے۔
پس صلب کا لفظ صلیب پر چڑھانے میخیں لگانے اور ہڈیاں توڑنے وغیرہ جملہ امور پر حاوی ہے یا بالفاظ دیگر یہ تمام امور اس کے مفہوم میں شامل ہیں اور ”وما صلبوہ“ میں ان تمام امور کی نفی کی گئی ہے کہ نہ حضرت مسیح علیہ السلام کو کسی نے صلیب پر چڑھایا، نہ میخیں لگائیں اور نہ ہڈیاں توڑیں۔ غرضیکہ اس کے ساتھ ان امور میں سے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ پس اس نص قطعی سے جہاں یہودیت اور نصرانیت کے ”تواتر قومی“ کا رد ہوا وہاں مرزائیت کے عقیدہ فاسدہ کا بھی قلع قمع ہو گیا۔ ”والحمد لله على ذالك“
﴿شبه لهم﴾ کی بحث: دوسرا لفظ ہے۔ شبه لهم اس کا معنی یہ ہے کہ مشتبہ شدہ پر ایشاں (شاہ ولی اللہ صاحب) یعنی ”شبہ ڈالا گیا واسطے ان کے۔“ (شاہ رفیع الدین صاحب) مگر مولوی محمد علی صاحب اس کا معنی یہ کرتے ہیں۔ ”وہ ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا۔“ (بیان القرآن، ص ٧٨٥) اس کی تشریح مرزا خدا بخش صاحب کے الفاظ میں یہ ہے: ”وہ مشابہ بالمصلوب ہوا۔“ (عسل مصفیٰ، ج ١ ص ٤٧٠) اور مرزا خدا بخش صاحب ، مفسرین پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”بعض مفسر اپنی قلت تدبر سے جملہ ولکن شبه لهم سے نکالتے ہیں کہ ایک اور آدمی مسیح کی شبیہ بن گیا تھا۔ حالانکہ یہ امر بالبداہت غلط ہے کیونکہ شبه لهم میں مفعول مالم یسم فاعلہ کی ضمیر واحد غائب مستتر ہے۔ جو مسیح کی طرف راجع ہے۔ جو آیت انا قتلنا المسيح عيسى ابن مریم میں ہے۔ (عسل مصفیٰ ج ١ ص ٤٧٠) مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔ ”اس کے معنی غلطی سے یوں کئے جاتے ہیں کہ کوئی شخص مسیح کا مشابہ بنایا گیا۔ یہ صریح غلطی ایک قصہ گو ذہن میں جگہ کر گئی ہے۔ ورنہ الفاظ قرآن اس کو ہرگز برداشت نہیں کرتے۔ ضمیر جو شبہ میں ہے۔ وہ صرف حضرت مسیح کی طرف جاسکتی ہے۔ جن کا ذکر چل رہا ہے اور کسی ایسے شخص کی طرف ہرگز نہیں جاسکتی جس کا ذکر قرآن شریف میں کہیں بھی نہیں۔“ (بیان القرآن ج ١ ص ٧٨٥، ٧٨٦) جواب ...... مرزائیوں کا دماغ تو اپنا چکرایا ہوا ہے اور قلت تدبر کا الزام مفسرین پر
٣٤
٥٥ لگاتے ہیں۔ چنانچہ شبہ میں ضمیر تو ایک ہے مگر مولوی محمد علی صاحب ترجمہ کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں: ”وہ ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا۔“ یہ نرا افتراء ہے یا قلت تدبر کا نتیجہ۔ خبر کچھ بھی ہو دونوں ضمیروں میں سے ایک قرآنی لفظ شبہ تو ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ پس جب مولوی صاحب نے ایک زائد ضمیر ”وہ“ کاٹ دی جائے تو باقی ترجمہ رہ گیا۔ ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا ہے۔ اور انہی کی قلم سے ان کا رد بھی ہے۔ کیونکہ وہ پہلے تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ ضمیر صرف حضرت مسیح کی طرف پھر سکتی ہے۔ پس بقول مولوی صاحب مطلب یہ ہوا کہ ”ان کے لئے (یہودیوں کیلئے) اس (یعنی حضرت مسیح) کو بنایا گیا، جو مصلوب ہوا۔ (فهو المراد)
کیا زلیخا نے خود پاک دامن ماہ کنعان کا
مرزائیو! مفسرین کرام نے تو یہی تفسیر بیان کی ہے کہ جو تمہارے اپنے مطلب سے ظاہر ہے پس مفسرین کرام کی نسبت قلت تدبر کا جو الزام تم لگاتے ہو وہ تم کو ہی مبارک ہو۔
﴿رفع﴾ کی بحث: تیسرا لفظ بل رفعه الله الیه ہے برداشت او را خدا تعالیٰ بسوئے خود۔“ (شاہ ولی اللہ صاحب) یعنی ”بلکہ اٹھا لیا اس کو طرف اپنی۔“ (شاہ رفیع الدین صاحب) مگر مولوی محمد علی صاحب اس کا ترجمہ یہ کر تے ہیں: ”اس کو اپنا قرب عطا فرمایا۔“ (بیان القرآن ج ١ ص ٧٨٧) اور اس کی تشریح میں یہ کرتے ہیں: ”اسے رفع عطا فرمایا یعنی بلندی درجات۔ (بیان القرآن ج ١ ص ٧٨٧) مزید تائید میں لکھتے ہیں۔ ”کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح سے اس آیت ﴿انی متوفیک ورافعک﴾ میں وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں تجھے مار کر اپنی طرف اٹھالوں گا۔ پس بل رفعه الله الیہ کو ایفاءِ وعدہ نہ سمجھنا کیسی نادانی ہے۔ جب پہلی آیت میں وعدہ تھا کہ تجھے طبعی موت سے ماروں گا اور تیری روح کو عزت کے ساتھ اٹھاؤں گا اور دوسری آیت میں فرمایا کہ خدا نے حضرت مسیح سے جو وعدہ کیا تھا اس کا ہم نے ایفاء بھی کر دیا کہ کفار نا کام رہے بلکہ ہم نے ہی اپنے ہاتھ سے مارا اور اپنے پاس یعنی یقینی قرب کے
٣٥
لگاتے ہیں۔ چنانچہ شبہ میں ضمیر تو ایک ہے مگر مولوی محمد علی صاحب ترجمہ میں دو ضمیریں لاتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں: ”وہ“ ان کے لئے ”اس“ جیسا بنایا گیا۔ مولوی صاحب کا یہ اختراع یا تو افتراء ہے یا قلت تدبر کا نتیجہ۔ خیر، جو بھی ہو دونوں ضمیروں میں سے ایک یقیناً زائد ہے جس کی قرآنی لفظ شبہ تو ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ پس جب مولوی صاحب کے ترجمہ کی عبارت سے ایک زائد ضمیر ”وہ“ کاٹ دی جائے تو باقی ترجمہ رہ گیا۔ ان کے لئے اس جیسا بنایا گیا۔ جو صحیح بھی ہے اور انہی کی قلم سے ان کا رد بھی ہے۔ کیونکہ وہ پہلے تسلیم کر چکے ہیں کہ اگر ضمیر جو شبہ میں ہے۔ وہ صرف حضرت مسیح کی طرف کی جاسکتی ہے۔ پس بقول مولوی صاحب ان کی عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ ”ان کے لئے (یہودیوں کیلئے) اس (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) جیسا بنایا گیا، جو مصلوب ہوا۔ (فهو المراد)
کیا زلیخا نے خود پاک دامن ماہ کنعان کا
مرزائیو! مفسرین کرام نے تو یہی تفسیر بیان کی ہے کہ جو تمہارے مولوی محمد علی صاحب کے مطلب سے ظاہر ہے پس مفسرین کرام کی نسبت قلت تدبر کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ کہنے والوں کو ہی مبارک ہو۔
﴿رفع﴾ کی بحث: تیسرا لفظ بل رفعه الله اليه ہے۔ اس کے معنی ہیں۔ ”بلکہ برداشت او را خدا تعالیٰ بسوئے خود۔“ (شاہ ولی اللہ صاحب) یعنی ”بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے طرف اپنی۔“ (شاہ رفیع الدین صاحب) مگر مولوی محمد علی صاحب اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں۔ ”بلکہ اللہ نے اس کو اپنا قرب عطا فرمایا۔“ (بیان القرآن ج١ ص ٨٧٨) اور اس کی تشریح یہ کرتے ہیں بلکہ اللہ نے اسے رفع عطا فرمایا یعنی بلندی درجات۔ (بیان القرآن ج١ ص ٨٧٨) مرزا خدا بخش صاحب اس کی تائید میں لکھتے ہیں۔ ”کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح سے اس آیت ﴿اني متوفيك ورافعک﴾ میں وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں تجھے مار کر اپنی طرف اٹھالوں گا تو پھر بل رفعه الله الیہ کو ایفائے وعدہ نہ سمجھنا کیسی نادانی ہے۔ جب پہلی آیت میں وعدہ تھا کہ میں تجھے طبعی موت سے ماروں گا اور تیری روح کو عزت کے ساتھ اٹھاؤں گا اور دوسری آیت میں ظاہر کر دیا ہے کہ ہم نے حضرت سے جو وعدہ کیا تھا اس کا ہم نے ایفاء بھی کر دیا کہ کفار ناہنجار کے ہاتھوں سے قتل نہ ہوئے بلکہ ہم نے ہی اپنے ہاتھ سے مارا اور اپنے پاس یعنی یقینی قرب کے مقام پر بلا لیا۔
(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٤٣٤)
٣٥
جواب ...... مرزائیوں کو خدا جانے کیا ہوگیا ہے کہ سیدھی بات بھی الٹی سمجھ لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی بیعت کر کے ایمان تو ان کے سپرد کر ہی چکے تھے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ عقل کو بھی ساتھ ہی دے دیا۔ بات تو یہ تھی کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ان کا شبیہ مقتول و مصلوب ہوا اور وہ یقیناً قتل نہیں ہوئے تو وہ گئے کہاں! اس کا جواب قرآن شریف میں یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف آسمان پر اٹھا لیا۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”عام طور پر مفسرین نے یہ تعلق قائم کیا ہے کہ حضرت مسیح مقتول و مصلوب نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔“ لیکن ساتھ ہی مرزا قادیانی کی مریدی کا حق ادا کرتے ہوئے یہ بھی لکھ مارا ہے۔ ”مگر یہ معنی رفع کے سراسر خلاف لغت ہیں اور ناقابل قبول۔“
مولوی صاحب کی یہ تحریر سراسر ضمیر فروشی پر مبنی ہے ورنہ مولوی جانتے ہیں کہ رفع کے یہ معنی لغت کے موافق جو قابل قبول ہیں۔ کیونکہ وہ خود اسی تفسیر کے نوٹ نمبر ٤٩٣ میں لکھ چکے ہیں کہ ”رفع“ کا استعمال امام راغب نے چار طرح پر بیان کیا ہے:
- ١...... اجسام کے متعلق جب ان کو اپنی جگہ سے اوپر اٹھایا جائے۔
- ٢...... عمارت کے متعلق جب اسے اونچا کیا جائے جیسے ”واذ يرفع ابراهيم القواعد“
- ٣...... ذکر کے متعلق جب اسے شہرت دی جائے۔
- ٤...... مرتبہ کے متعلق جب اسے شرف دیا جائے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں ان چار معنوں میں سے کونسا معنی مناسب ہے پس صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی قتل وصلب کے ساتھ رفع کا لفظ وارد ہے تو یہاں ان کے جسم کا اٹھایا جانا ہی مطلوب ہے نہ کہ کسی اور امر کا۔ پس مولوی صاحب کا یہی رفع کے معنی قرب اور بلندی درجات کرنا سراسر خلاف لغت اور ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ تفسیر بالرائے ہے جو جملہ مفسرین کے خلاف ہونے کے علاوہ قرآن کے منشاء کے بھی خلاف ہے۔
دور کیوں جائیں خود مولوی صاحب نے اپنی تفسیر میں جسم کے ساتھ رفع کا معنی ”اونچا بٹھانا“ کئے ہیں۔ ورفع ابويه على العرش کا ترجمہ یہ لکھا ہے: ”اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھایا ہے۔“
مولوی صاحب سے کوئی یہ پوچھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو مار کر ان کی روح کو تخت پر اونچا بٹھایا تھا یا زندہ؟ اگر زندہ تخت پر بٹھائے گئے تھے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مار کر اٹھانے کا گمان کیسے ہوسکتا ہے اور کس نص سے ثابت ہے؟
٣٦
مولوی صاحب اور مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی مصنّفہ بلندی درجات کی جو مثالیں تفاسیر اور احادیث سے پیش کی ہیں ان پر ہے کہ حسب تحریر مولوی صاحب ”رفع“ کے ساتھ جس قسم کا لفظ آئے جائیں گے۔ آیت زیر بحث میں چونکہ درجات وغیرہ کا کوئی لفظ موج مثالیں پیش کرنا فضول اور عبث ہے۔
سوال ...... مولوی صاحب کو اعتراض ہے کہ یہاں ”آسمان“ کا لفظ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ خداوند کریم کی ذات جب جہات سے خالی ہ کرنے کا کیا معنی؟
جواب ...... بے شک خدا تعالیٰ کی ذات با برکات جہات سے خالی ہ آسمان کی طرف بیان فرمائی ہے۔ قولہ تعالیٰ: ء امنتم من فی الارض فاذا هي تمور۔ ام امنتم من فى السماء ان يـ (ملک: ١٦، ١٧) (از مرزا قادیانی) کیا تم اس سے نڈر ہو جو آسمان میں اب آسمان سے عذاب بھیجنے والا سوائے خدا تعالیٰ کے اور کون ہو سکتا ہے
اس کے سوا مرزا صاحب کو بھی تسلیم ہے کہ خدا تعالیٰ آسمان بشارت میں لکھتے ہیں: ”انا نبشرک بغلام حليم مظهر الحق من السماء“ (از مرزا قادیانی) ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترا۔
(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ٦٢ ، حقیقت الوحی ص
پس جب دو زبردست شہادتوں سے ثابت ہو گیا کہ خدا تعا ہے تو مولوی صاحب کا اعتراض بھی جاتا رہا کیونکہ آیت زیر بحث مـ نے حضرت علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اس کی (یعنی اللہ کی ) ا آسمان کی طرف ثابت ہے پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا بھ جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے۔
سوال ...... مولوی صاحب کو ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ اگر یہ اناجیـ کے لئے کونسی سند قرآن شریف یا حدیث میں ہے کہ وہ غیر محرف ہے تا
جواب ...... اہل السنّت والجماعت کے نزدیک تو تمام اناجیل
٣٧
مولوی صاحب اور مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی مصنفات میں 'رفع' کے متعلق بلندی درجات کی جو مثالیں تفاسیر اور احادیث سے پیش کی ہیں ان کا جواب صرف اسی قدر کافی ہے کہ حسب تحریر مولوی صاحب 'رفع' کے ساتھ جس قسم کا لفظ آئے گا اسی طرح کے معنی کئے جائیں گے ۔ آیت زیر بحث میں چونکہ درجات وغیرہ کا کوئی لفظ موجود نہیں اس لئے یہاں وہ مثالیں پیش کرنا فضول اور عبث ہے۔
سوال ...... مولوی صاحب کو اعتراض ہے کہ یہاں 'آسمان' کا لفظ موجود نہیں اور عام طور پر یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ خداوند کریم کی ذات جب جہات سے خالی ہے تو اس کے آسمان پر تسلیم کرنے کا کیا معنی؟
جواب ...... بے شک خدا تعالیٰ کی ذات بابرکات جہات سے خالی ہے مگر اس نے خود اپنی نسبت آسمان کی طرف بیان فرمائی ہے ۔ قولہ تعالیٰ : ءامنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذا هی تمور ۔ ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصباء (ملک : ١٦، ١٧) (از مرزا قادیانی) کیا تم اس سے نڈر ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر عذاب بھیجے۔ اب آسمان سے عذاب بھیجنے والا سوائے خدا تعالیٰ کے اور کون ہو سکتا ہے؟
اس کے سوا مرزا صاحب کو بھی تسلیم ہے کہ خدا تعالیٰ آسمان پر ہے جیسا کہ اپنے بیٹے کی بشارت میں لکھتے ہیں: 'انا نبشرك بغلام حلیم مظهر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء' (از مرزا قادیانی) ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترا۔
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢، حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٨، ٩٩)
پس جب دو زبردست شہادتوں سے ثابت ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کی نسبت آسمان کی طرف ہے تو مولوی صاحب کا اعتراض بھی جاتا رہا کیونکہ آیت زیر بحث سے یہ تو ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اس کی (یعنی اللہ کی) اپنی نسبت حوالہ جات بالا سے آسمان کی طرف ثابت ہے پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا بھی آسمان کی طرف ثابت ہوا جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے۔
سوال ...... مولوی صاحب کو ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ اگر یہ اناجیل محرف ہے تو انجیل برنباس کے لئے کونسی سند قرآن شریف یا حدیث میں ہے کہ وہ غیر محرف ہے؟ (بیان القرآن ج ٢ ص ٥٧٦) جواب ...... اہل السنت والجماعت کے نزدیک تو تمام اناجیل بلا استثناء محرف اور مبدل ٣٧
٥٦ لیا ہو گیا ہے کہ سیدھی بات بھی الٹی سمجھ لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی دیکھ ہی چکے تھے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ عقل کو بھی ساتھ ہی دے ئی علیہ السلام کے بجائے ان کا شبیہ مقتول و مصلوب ہوا اور وہ اس کا جواب قرآن شریف میں یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چنانچہ مولوی محمد علی صاحب بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ تعلق قائم کیا ہے کہ حضرت مسیح مقتول و مصلوب نہیں ہوئے پر اٹھا لیا ۔' لیکن ساتھ ہی مرزا قادیانی کی مریدی کا حق ادا کہ یہ معنی رفع کے سراسر خلاف لغت ہیں اور نا قابل قبول۔' سراسر ضمیر فروشی پر مبنی ہے ورنہ مولوی جانتے ہیں کہ رفع کے یہ نا۔ کیونکہ وہ خود اسی تفسیر کے نوٹ نمبر ٩٣ ص ٧٤ میں لکھ چکے نئے چار طرح پر بیان کیا ہے:
تکلیف جگہ سے اوپر اٹھا یا جائے ۔ سے اونچا کیا جائے جیسے 'واذ یرفع ابراهیم القواعد' شہرت دی جائے۔ شرف دیا جائے۔
ان چار معنوں میں سے کونسا معنی مناسب ہے پس صاف جسمانی قتل وصلب کے ساتھ رفع کا لفظ وارد ہے تو یہاں ان کسی اور امر کا۔ پس مولوی صاحب کا یہی رفع کے معنی قرب ت اور نا قابل قبول ہے کیونکہ یہ تفسیر بالرائے ہے جو جملہ قین کے منشاء کے بھی خلاف ہے۔
صاحب نے اپنی تفسیر میں جسم کے ساتھ رفع کا معنی 'اونچا العرش کا ترجمہ یہ لکھا ہے : 'اور اس نے اپنے والدین کو
سکے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو مار پایا زندہ؟ اگر زندہ تخت پر بٹھائے گئے تھے تو حضرت عیسیٰ کیسے ہو سکتا ہے اور کس نص سے ثابت ہے؟ ٣٦
ہیں ۔ (سوائے ان حوالوں کے جو قرآن مجید کے مطابق ہیں) قابل سند نہیں ۔
ہاں مولوی صاحب میں یہ صفت دیکھی ہے کہ ایک طرف تو بائبل کی تحریف کے قائل ہیں۔ ملاحظہ ہو مولوی قادیانی کی تفسیر کا نوٹ ١٠٠ ج ١ ص ٨٠، ٨١ اور دوسری طرف اسی کے مضامین کو واقعات تاریخی کہہ کر قرآن مجید کے برخلاف سنداً پیش کرتے ہیں۔ فیا للعجب ملاحظہ ہو۔
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٧٦)
رہا برنباس کا حوالہ دینے اور اقتباس نقل کرنے کا معاملہ سو اس کی دو وجہ ہیں:
- اول ..... یہ کہ اس کے اکثر مضامین قرآن مجید کے مطابق ہیں ۔ جیسا کہ بعض گزشتہ صفحات میں
لکھے جاچکے ہیں۔
- دوسری ..... یہ کہ مرزا قادیانی نے خود اس کی تصدیق و توثیق کی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو
جائز لکھا ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں ”ان سب امور کے بعد ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے قابل ہے کہ برنباس کی انجیل میں جو غالباً لندن کے کتب خانہ میں بھی ہوگی یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں اور نہ صلیب پر جان دی۔ اب ہم اس جگہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ گو یہ کتاب انجیلوں میں داخل نہیں کی گئی اور بغیر کسی فیصلہ کے ردی کر دی گئی ہے۔ مگر اس میں کیا شک ہے کہ یہ ایک پرانی کتاب ہے اور اسی زمانہ کی ہے جبکہ دوسری انجیلیں لکھی گئیں۔ کیا ہمیں اختیار نہیں ہے کہ اس پرانی اور دیرینہ کتاب کو عہد قدیم کی ایک تاریخی کتاب سمجھ لیں اور تاریخی کتابوں کے مرتبہ پر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھائیں ۔“
(کتاب مسیح ہندوستان میں، ص ١٨، ١٩، خزائن ج ١٥ ص ٢١، ٢٠)
پس ثابت ہوا کہ انجیل برنباس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے اور مرزا قادیانی کی مصدقہ کتاب ہونے کی وجہ سے اس کے حوالہ جات اتمام حجت کے طور پر مرزائیوں کے سامنے پیش کئے جاسکتے ہیں۔
”تیسری آیت“ یہ ہے جس سے رفع مسیح ثابت ہے: ”اذ قال الله یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ ومطهرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة (آل عمران: ٥٥) ”جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو کافر ہیں اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی ان کو ان پر جنہوں نے انکار کیا، قیامت کے دن تک فوقیت دینے والا ہوں۔ ﴾
٣٨
اس آیت سے مرزائی صاحبان تو وفات مسیح ثابت کیا کرتے سے حیات مسیح اور رفع مسیح ثابت ہوتا ہے۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار
- ١....... وفات دینے کا وعدہ ۔
- ٢....... اپنی طرف اٹھانے کا وعدہ ۔
- ٣....... کافروں سے پاک کرنے کا وعدہ اور ۔
- ٤....... ان کے پیروؤں کو فوقیت دینے کا وعدہ ۔
یہ چاروں وعدہ مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ مولوی محمد علی کے (نوٹ ص ٤٤٧) میں تسلیم کئے ہیں ۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے ہے سو پچھلے دونوں وعدے (کافروں سے پاک کرنے کا اور پیروؤں کو پورے ہو چکنے کی نسبت فریقین کا اتفاق ہے مگر پہلے دونوں میں اختلا اصل بحث ہیں۔
مرزائیوں کا قول ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلا طرف اٹھا لیا اس طرح یہ دونوں وعدے پورے ہوگئے۔ ان کے لئے تو
لیکن دراصل یہ خیال کوئی وقعت نہیں رکھتا کیونکہ آیت میں وعدہ نہیں ۔“ بلکہ وفات کا وعدہ الگ ہے اور اپنی طرف اٹھانے کا مرزا یہاں آپ کی وفات ہو چکی ہے تو اٹھانے کا وعدہ پورا نہ ہوا اور خد ا (نعوذ باللہ ) بیوفائی کا الزام آیا حالانکہ خداوند کریم کی ذات والا صفات بے نیاز ”لا یخلف المیعاد “ اس کی شان میں ہے۔ نیز مرزائیوں کا یہ بھی ع بموجب نص قرآن اور حدیث صحیح کے ہر ایک مومن کی روح عزت ا اٹھائی جاتی ہے۔“ (ازالہ اوہام ، طبع پنجم ص ١٦١، سطر ١١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩) ت کی خصوصیت کیا ہوئی جبکہ ان کی روح بھی مرنے کے بعد ہی اٹھائی گئی کیا؟“
اصل بات تو یہ ہے کہ مرزائیوں کے سر پر خود غرضی کا بھو شریف میں تحریف کرتے ہیں اور حدیث شریف کو چوہوں کی طرح ک
٣٩
اس آیت سے مرزائی صاحبان تو وفات مسیح ثابت کیا کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اس سے حیات مسیح اور رفع مسیح ثابت ہوتا ہے۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے کئے ہیں:
- ١...... وفات دینے کا وعدہ۔
- ٢...... اپنی طرف اٹھانے کا وعدہ۔
- ٣...... کافروں سے پاک کرنے کا وعدہ اور۔
- ٤...... ان کے پیروؤں کو فوقیت دینے کا وعدہ۔
یہ چاروں وعدہ مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے بھی اپنی تفسیر کے (نوٹ ص ٤٣٧) میں تسلیم کئے ہیں۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون کونسا وعدہ پورا ہو چکا ہے سو پچھلے دونوں وعدے (کافروں سے پاک کرنے کا اور پیروؤں کو فوقیت دینے کا وعدہ) تو پورے ہو چکنے کی نسبت فریقین کا اتفاق ہے مگر پہلے دونوں میں اختلاف اور یہی دونوں وعدے اصل بحث ہیں۔
مرزائیوں کا قول ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو مار کر ان کی روح کو اپنی طرف اٹھا لیا اس طرح یہ دونوں وعدے پورے ہو گئے۔ ان کے لئے تو بقول مرزا غالب۔
لیکن دراصل یہ خیال کوئی وقعت نہیں رکھتا کیونکہ آیت میں ”مار کر روح کے اٹھانے کا وعدہ نہیں“ بلکہ وفات کا وعدہ الگ ہے اور اپنی طرف اٹھانے کا وعدہ الگ، پس اگر بقول مرزائیاں آپ کی وفات ہو چکی ہے تو اٹھانے کا وعدہ پورا نہ ہوا اور خدا تعالیٰ کی شان میں (نعوذ باللہ) بیوفائی کا الزام آیا حالانکہ خداوند کریم کی ذات والا صفات بے عیب ہے اور ”اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ“ اس کی شان میں ہے۔ نیز مرزائیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ”وفات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث صحیح کے ہر ایک مومن کی روح عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔“ (ازالہ اوہام طبع پنجم ص ١٦١، سطر ١١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩) تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت کیا ہوئی جبکہ ان کی روح بھی مرنے کے بعد ہی اٹھائی گئی اور ”رَافِعُکَ اِلَیَّ“ کا وعدہ کیا؟“
اصل بات تو یہ ہے کہ مرزائیوں کے سر پر خود غرضی کا بھوت سوار ہے اس لئے قرآن شریف میں تحریف کرتے ہیں اور حدیث شریف کو چوہوں کی طرح کتر رہے ہیں جیسا کہ مرزا
٣٩
قادیانی خود لکھتے ہیں۔ ”پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا پھر میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣ طبع پنجم ص ٢٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)
اگر مرزا قادیانی کی مسیحیت کا قضیہ درمیان میں نہ ہوتا تو ہرگز ایسی جرأت نہ کرتے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اٹھانے کا وعدہ تو یقینا پورا ہوچکا جیسا کہ بل رفعہ اللہ الیہ سے ثابت ہے۔ رہا وفات کا وعدہ سو۔
توفی کی بحث
توفی بمعنی نیند: اگر توفی کے معنی ”نیند“ کے کئے جائیں تو یہ وعدہ بھی پورا ہوگیا ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نیند کی حالت میں اٹھائے گئے جیسا کہ تفسیر ابن جریر میں ہے۔
١؎ اس وعدے کے متعلق بھی ممکن ہے کہ کوئی منچلا مرزائی یہ کہہ دے کہ وفات کا وعدہ بھی پورا ہوچکا ہے جو فلما توفیتنی سے ثابت ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب قیامت کے دن ہوگا جیسا کہ مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں: ”کہ قرآن شریف کی اپنی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہوگا۔“ (حقیقت الوحی ص ٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣) اسی کتاب کے ضمیمے میں دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ فان عیسیٰ يجيب بهذا الجواب يوم الحساب یعنی يقول فلما توفیتنی فی یوم یبعث الخلق ویحشرون ..... (استفتاء ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٥) رسالہ الوصیت میں لکھتے ہیں۔ ”خدا قیامت کو عیسیٰ سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی اپنی امت کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانو تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں ان میں تھا تو ان پر شاہد تھا اور ان کا نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر مجھے کیا علم تھا کہ میرے بعد وہ کس ضلالت میں مبتلا ہوئے۔“
(رسالہ الوصیت ص ١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٠)
اس عبارت میں اگرچہ معنوی تحریف ہے تاہم ان جملہ عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ فلما توفیتنی کا جواب قیامت کے دن دیا جائے گا۔ پس اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اس آیت کے نزول تک فوت ہوچکے ہیں بلکہ قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں جس سے صراحتاً آپ کی وفات ثابت ہو مگر ان کا اٹھایا جانا آیت بل رفعہ اللہ الیہ سے صاف طور پر ثابت ہے۔
٤٠
- ١...... ”حدثنی المثنی قال ثنا عبدالله بن ابی جعفر
فی قوله انی متوفیک قال معنی وفاة المنام رفعه جریر فرماتے ہیں کہ مجھ سے مثنیٰ نے بیان کیا اس نے کہا ہم سے عبداللہ سے اور اس نے ربیع سے خدا تعالیٰ کے قول انی متوفیک میں روایت کی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں اٹھایا۔
- ٢...... معالم میں ہے: ”قال ربیع بن انس المراد بالتوفی
قد نام فرفعه الله نائماً الی السماء معناه انی منیمک و تعالیٰ وهو الذی یتوفکم باللیل “ ”ای ینیمکم یعنی توفی نیند ہے اور عیسیٰ سوئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سونے کی حا اٹھالیا۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو سلانے والا ہوں اور تجھ کو اپنی ط کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”هو الذی یتوفکم باللیل “ یعنی سلانے
- ٣...... خازن میں ہے: ان المراد بالتوفی النوم۔ وہ
یتوفی الانفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها ف عیسیٰ قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلا یلحقه خ متوفیک ورافعک الی “ ”یعنی توفی سے مراد نیند ہے اور اسی س یتوفی الانفس ...... الخ پس بنایا نیند کو وفات اور عیسیٰ علیہ السلا تعالیٰ نے ان کو اٹھالیا درآنحالیکہ وہ نائم تھے تاکہ ان کو خوف لاحق نہ میں تجھ کو سلانے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“
توفی بمعنی پورا لینا: اگر توفی کے معنی پورا لینے کے کئے ج کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام پورے بجسد عنصری اٹھائے گئے جیسا کہ ”در منثور
- ١...... ”واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم من و
الایة قال رفعه الله فهو عنده فی السماء “ ”یعنی ابن دوسری وجہ سے اس آیت میں جن سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ن نزدیک آسمان میں ہے۔
- ٢...... خازن میں ہے: ”معناه انی قابضک ورافعک الی
٤١
- ١....... "حدثنى المثنى قال ثنا عبدالله بن ابى جعفر عن ابيه عن الربيع
فى قوله ﴿انى متوفيك﴾ قال معنى وفاة المنام رفعه الله فى منامه" یعنی ابن جریر فرماتے ہیں کہ مجھ سے مثنیٰ نے بیان کیا اس نے کہا ہم سے عبداللہ بن ابی جعفر نے اپنے باپ سے اور اس نے ربیع سے خدا تعالیٰ کے قول انی متوفیک میں روایت کی۔ کہا وفات کا معنی نیند ہے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں اٹھایا۔
(ابن جریر، ج ٣ ص ١٨٣ سطر ١٧)
- ٢....... معالم میں ہے: "قال ربيع بن انس المراد بالتوفى النوم وكان عيسى
قد نام فرفعه الله نائماً الى السماء معناه انى منيمك ورافعك الىّ كما قال الله تعالى ﴿وهو الذى يتوفكم بالليل﴾" ای ینیمکم یعنی ربیع بن انس نے کہا توفی سے مراد نیند ہے اور عیسیٰ سوئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سونے کی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو سلانے والا ہوں اور تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "هو الذى يتوفكم بالليل" یعنی سلاتا ہوں تم کو رات کو۔
(معالم ص ١٦٢)
- ٣....... خازن میں ہے: ان المراد بالتوفى النوم۔ ومنه قوله عزوجل ﴿الله
يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها﴾ فجعل النوم وفاة وكان عيسى قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلا يلحقه خوف فمعنى الآية ﴿انى متوفيك ورافعك الىّ﴾" یعنی توفی سے مراد نیند ہے اور اسی سے ہے قول خدا تعالیٰ کا ﴿الله يتوفى الانفس....... الخ﴾ پس بنایا نیند کو وفات اور عیسیٰ علیہ السلام سوئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا درآنحالیکہ وہ نائم تھے تاکہ ان کو خوف لاحق نہ ہو پس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو سلانے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔"
(تفسیر خازن جلد ١ ص ٢٣٠)
توفی بمعنی پورا لینا: اگر توفی کے معنی پورا لینے کے کئے جائیں تو بھی یہ وعدہ پورا ہو چکا کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام پورے بجسد عنصری اٹھائے گئے جیسا کہ "درمنثور" میں ہے۔
- ١....... "واخرج ابن جرير وابن ابى حاتم من وجه آخر عن الحسن فى
الآية قال ﴿رفعه الله﴾ فهو عنده فى السماء " یعنی ابن جریر نے اور ابن ابی حاتم نے دوسری وجہ سے اس آیت میں حسن سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اٹھا لیا اور وہ اس کے نزدیک آسمان میں ہے۔
(درمنثور ج ٢ ص ٢١ سطر ٢٠)
- ٢....... خازن میں ہے: "معناه انى قابضك ورافعك الىّ من غير موت" یعنی اس
٤١
کا معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو پورا لینے والا ہوں اور موت کے بغیر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔
(خازن ج ١ص ٢٣٠)
- .......٣ ابن جریر میں ہے:”حدثنا على بن سهل قال ثنا ضمره بن ربيعة عن
ابن شوذب عن مطر الوراق في قول الله ﴿انی متوفیک﴾ قال متوفیک من الدنيا وليس بوفاة موت “ یعنی بیان کیا ہم سے علی بن سہل نے۔اس نے کہا ہم سے ضمرہ بن ربیعہ نے ابن شوذب سے بیان کیا اس نے مطر الوراق سے خدا تعالیٰ کے قول ”انــــــــی متوفیک “ میں روایت کی۔ کہا میں پورا لینے والا ہوں تجھ کو دنیا سے، اور وفات سے مراد موت نہیں ہے۔
(ابن جریر ج ٣ص ١٨٣، سطر ٢٢، ٢٣)
توفی بمعنی موت: اور اگر ”توفی“ کے معنی موت کے کئے جائیں تو بقول نصاریٰ یہ وعدہ بھی پورا ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرکز زندہ کئے گئے اور پھر آسمان کی طرف اٹھائے گئے جیسا کہ ابن جریر میں ہے: ”حدثنا ابن حمید قال ثنا سلمة عن ابن اسحاق قال: النصارى يزعمون انه توفاه سبع ساعات من النهار ثم احياه الله “ یعنی بیان کیا کہ ہم سے ابن حمید نے اس نے کہا ہم سے سلمہ نے اسحاق سے روایت کی اس نے کہا۔ نصاریٰ گمان کرتے ہیں کہ تحقیق اس نے اس کو دن میں سے سات ساعتیں مارا پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا۔
(ابن جریر ج ٣ص ١٨٤، سطر ١٥)
اور مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ ”تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٠٤، ١٠٥، خزائن ج ٣ص ٢٢٥)
مگر مسلمانوں کے نزدیک ”توفی“ بمعنی موت کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ وہ حضرت عیسیٰ کی دوبارہ تشریف آوری پر پورا کیا جائے گا۔
- .......١ چنانچہ تفسیر ابن جریر میں ہے: ”قال ابو جعفر واولى هذه الاقوال بالصّحة
عندنا قال من قال معنى ذلك انی قابضك من الارض ورافعك الى لتواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ انه قال ينزل عيسىٰ ابن مريم فيقتل الدجال ثم يمكث في الارض مدة ذكرها اختلفت الرواية في مبلغها ثم يموت فيصلى عليه المسلمون ويدفنونه “ یعنی ابو جعفر نے کہا کہ ان اقوال میں سے بہتر اور صحیح ہمارے نزدیک وہ قول ہے جس نے یہ معنی کیا۔ میں تجھ کو زمین سے پورا لینے والا ہوں اور اپنی طرف
٤٢
اٹھانے والا ہوں۔ کیونکہ تواتر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ابن مریم نازل ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا پھر زمین میں ایک مدت باختلاف الروایت پہنچا ہے پھر مرے گا اور مسلمان اس پر جنازہ پڑھیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حضرت ابن عباسؓ
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے بھی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے
- .......٢ تفسیر درمنثور میں ہے: ”واخرج اسحق بن بشرو
جوهر عن الضحاك عن ابن عباس في قوله ﴿انی متوفیک رافعك ثم متوفيك في آخر الزمان “ اسحاق بن بشر۔ ضحاک سے روایت کی ہے کہ ابن عباسؓ نے ”انی متوفیک ورافعک کہ تجھ کو اٹھاؤں گا پھر آخر زمانہ میں ماروں گا۔ ﴾
- .......٣ طبقات ابن سعد میں حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ”
وانه حى الان وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها الناس “ ﴿اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کو (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) شک وہ اس وقت تک زندہ ہے اور عنقریب دنیا کی طرف رجوع بادشاہ ہو نگے پھر مریں گے جس طرح لوگ مرتے ہیں۔﴾
(تہذیب و دانی بحوالہ
نوٹ...... یہ وہی حضرت ابن عباسؓ ہیں۔ جن کی تعریف خود مرزا ہے۔ ”حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والے میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔“ (ازالۃ
حدیث میں ”رجوع“ کا لفظ
- .......٤ خود آنحضرت ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ حضرت عیسیٰ
وہ ارشاد یہ ہے:
١؎ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ وفات مسیح کے کے قول کو رد کرتی ہیں۔ (ناظم)
٤٣
اٹھانے والا ہوں۔ کیونکہ تواتر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا پھر زمین میں ایک مدت تک رہے گا۔ جس کا ذکر باختلاف الروایت پہنچا ہے پھر مرے گا اور مسلمان اس پر جنازہ پڑھیں گے اور اس کو دفن کریں گے۔
(ابن جریر ج ٣ ص ١٨٤)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے بھی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے:
- ٢...... تفسیر درمنثور میں ہے: ”واخرج اسحق بن بشر و ابن عساکر من طريق
جوهر عن الضحاك عن ابن عباس في قوله ﴿انى متوفيك ورافعك﴾ يعنى رافعك ثم متوفيك فى آخر الزمان“ اسحاق بن بشر نے اور ابن عساکر بطریق جوہر ضحاک سے روایت کی ہے کہ ابن عباسؓ نے ”انی متوفيك ورافعك“ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ تجھ کو اٹھاؤں گا پھر آخر زمانہ میں ماروں گا۔ ؎
(در منثور ج ٣ ص ٣٦ سطر ٣٦)
- ٣...... طبقات ابن سعد میں حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں : ”وان الله رفعه بجسده
وانه حى الان وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس “ اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کو (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو ) بجسد عنصری، اٹھا لیا ہے اور بے شک وہ اس وقت تک زندہ ہے اور عنقریب دنیا کی طرف رجوع فرمائیں گے پھر اس دنیا میں بادشاہ ہونگے پھر مریں گے جس طرح لوگ مرتے ہیں۔ ؎
(قہر یزدانی بحوالہ طبقات ابن سعد، جلد اول، ص٢٦)
نوٹ...... یہ وہی حضرت ابن عباسؓ ہیں۔ جن کی تعریف خود مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں کی ہے۔ ”حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ١٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
حدیث میں ”رجوع“ کا لفظ
- ٤...... خود آنحضرت ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے چنانچہ
وہ ارشاد یہ ہے:
؎ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ وفات مسیح کے قائل ہیں۔ یہ دونوں روایتیں ان کے قول کو رد کرتی ہیں۔ (ناظم)
٤٣
"قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع عليكم قبل يوم القيمة" ﴿ حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یہود سے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے اور بے شک وہ قیامت سے پہلے تمہاری (نسل کی) طرف رجوع کرنے والے ہیں۔﴾
(تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٨٩ سطر ٢٨ و در منثور، ج ٢ ص ٣٦)
اب اس سے زیادہ معتبر شہادت اور کیا ہو سکتی ہے؟ نیز اس حدیث میں ”رجوع“ کا لفظ قابل غور ہے۔ مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔
”رجوع لوٹ کر جانے کا نام ہے۔ اس کی طرف جس سے ابتداء ہو۔ یا بتقدیر ابتداء خواہ بلحاظ مکان کے ہے یا فعل کے یا قول کے۔“
(تفسیر بیان القرآن ج ١ ص ٥٩)
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رجوع مکانی ہے کیونکہ وہ زمین سے ہی آسمان پر اٹھائے گئے اور آسمان سے واپس لوٹ کر زمین پر ہی آئیں گے۔ فھو المراد!
- ٥...... امام بخاری کا عقیدہ: امام بخاری بھی اپنی تاریخ میں یہی لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام جب وفات پائیں گے تو مدینہ شریف میں حضور ﷺ کے روضہ مبارک میں دفن کئے جائیں گے۔ عبارت یہ ہے: ”واخرج البخاریؒ فی تاريخه والطبرانى عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا“ ﴿ بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا کہ عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں اصحابوں کے ساتھ (روضہ اطہر میں) دفن کئے جائیں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔﴾
(در منثور ج ٢ ص ٢٤٥ سطر آخر)
- ٦...... حضرت عبداللہ ابن عمرؓ نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی مضمون کی ایک حدیث بیان کی
ہے جو یہ ہے: ”عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابي بكر وعمر“ ﴿ عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہا، رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ عیسیٰ ابن مریم زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ پس نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور وہ پینتالیس برس زندہ رہیں
١؎ مرزائی کہتے ہیں کہ امام بخاری بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ یہ روایت ان کے قول کو رد کرتی ہے۔ (ناظم)
٤٣
گے۔ اور میرے ساتھ میرے مقبرے میں دفن کئے جائیں گے (قیامت کے دن) ابوبکر اور عمر کے درمیان ایک مقبرہ سے اٹھیں گے۔
(مشکوٰۃ)
نوٹ...... اس حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی نے مہر تصدیق ثبت فرمائی بیگم کے نکاح کے متعلق اس حدیث کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”ا لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ی مسیح موعود بیوی کرے گا نیز صاحب اولاد ہوگا گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پ
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣)
کیوں جناب! مرزا قادیانی نے کس زور سے اس حدیث ک کے سامنے پیش کیا ہے اگر اب بھی کوئی ”سیاہ دل“ نہ مانے اور شبہات ک مرضی۔
مرزا قادیانی کے نزدیک احادیث سے رفع مسیح ثابت ہے
صحیح العقل اور سلیم الفطرت کو سمجھانے کے لئے تو رفع مسیح ک جاچکا ہے مگر مرزائیوں کی تسلی اور اتمام حجت کے لئے ان کے پیر کی ش شهد شاهدا من اهلها کی مثال بھی ہو جائے اور شائد کوئی سعید ر آجائے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے و اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی و پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ا بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے ا اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے ی احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔“
(توضیح)
اس عبارت میں خط کشید الفاظ قابل غور ہیں مرزا قادیانی ا کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں سے مسیح کا آسمان پر ج المراد والحمد لله على ذلك!
٤٥
گے ۔ اور میرے ساتھ میرے مقبرے میں دفن کئے جائیں گے پس میں اور عیسیٰ ابن مریم (قیامت کے دن) ابوبکر اور عمر کے درمیان ایک مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ﴾
(مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ فصل تیسری)
نوٹ...... اس حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی نے مہر تصدیق ثبت فرمائی ہوئی ہے۔ چنانچہ محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق اس حدیث کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا نیز صاحب اولاد ہوگا گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
کیوں جناب! مرزا قادیانی نے کس زور سے اس حدیث کی صحت اور صداقت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اگر اب بھی کوئی ”سیاہ دل“ نہ مانے اور شبہات میں کود پڑے تو اس کی مرضی۔
مرزا قادیانی کے نزدیک احادیث سے رفع مسیح ثابت ہے
صحیح العقل اور سلیم الفطرت کو سمجھانے کے لئے تو رفع مسیح کے متعلق کافی سے زیادہ لکھا جا چکا ہے مگر مرزائیوں کی تسلی اور اتمام حجت کے لئے ان کے پیر کی شہادت بھی پیش کر دی تا کہ شہد شاہداً من اہلھا کی مثال بھی ہو جائے اور شائد کوئی سعید روح تسلیم پا کر راہ راست پر آجائے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ “
(توضیح مرام ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
اس عبارت میں خط کشیدہ الفاظ قابل غور ہیں مرزا قادیانی نے صاف طور پر تسلیم کیا ہے کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں سے مسیح کا آسمان پر جانا ثابت ہے۔ فھو المراد والحمدلله على ذالك!
٤٥
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مرزائیوں کو جب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے جواب ملتا ہے تو وہ ضد کی بناء پر فلسفہ کی آڑلیکر فرار کی راہ ڈھونڈتے ہیں اور عموماً یہ دو شبہے پیش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ:
پہلا شبہ: یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کا اسی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا فلسفہ کی رو سے محال ہے جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کرچکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوئی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔ پس اس جسم کا کرۂ ماہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٦)
جواب...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود بخود آسمان پر نہیں گئے کہ ان کو اس قسم کی تکالیف پیش آتیں بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ حکمت بالغہ سے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور خدائے تعالیٰ کے اٹھانے میں یہ رکاوٹیں پیش نہیں آسکتیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کو تسلیم ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٨)
پس مرزائیوں کا یہ شبہ نہایت لغو اور فضول ہے۔
دوسرا شبہ: یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا قانون قدرت کے برخلاف ہے۔
جواب...... مرزائیوں کا یہ شبہ بھی نہایت بودا ہے جو محض قلت تدبر کی وجہ سے کیا جاتا ہے کیونکہ اول تو کوئی آدمی دنیا میں ایسا نہیں۔ جس نے قانون قدرت کا احاطہ کیا ہو، یا کرسکے پس جب قانون قدرت کا احاطہ نہیں ہوسکتا تو اس کے خلاف ہونا کیا معنی؟ دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”خدا اپنے بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٩٤، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)
پس جب خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے اپنا قانون بدل لیتا ہے تو پھر اعتراض ہی کیسا؟
الحمد للہ ! کہ ہم اس کے احسان اور اس کی توفیق سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے اور مرزا قادیانی کی کتابوں سے ثابت کرچکے اب نزول مسیح کا ثبوت لکھتے ہیں۔
(بعون اللہ تعالیٰ)
٤٦
جواب حصہ دوم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے
پہلے لکھا جاچکا ہے کہ اگر رفع مسیح ثابت ہوجائے تو نزول مسیح میں اور مرزا قادیانی کا بھی یہی ارشاد ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”اس جگہ یہ جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا جو دنیا میں اسے حاصل تھا۔ اس دعو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا جبکہ یہ بات قرار پائی تو اول ف چاہئے۔ جو اصل قرار دیا گیا ہے کہ کہاں تک وہ قرآن اور حدیث سے کا کماحقہ تصفیہ ہوجائے گا تو پھر اس کی فرع ماننے میں تامل نہیں ہوگا اور قبول کرلیں گے کہ جب ایک شخص کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ اسی جسم کے ساتھ واپس آنا اس کا کیا مشکل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص
سو الحمد للہ ! کہ ہم نے صرف قرآن شریف سے، انجیل سے، صحابہ سے اور اقوال مفسرین سے حضرت مسیح کا آسمان پر اٹھایا جانا ب قادیانی سے اقبالی ڈگری بھی حاصل کرچکے ہیں پس جب حسب تحریر م تصفیہ ہوگیا تو پھر فرع کے ماننے میں مرزائیوں کو تامل نہیں ہونا چاہئے بہت سی سعید روحیں اپنے پیر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماننے میں تام
اس تحریر کے مطابق اگرچہ اب نزول مسیح کے متعلق شبہ ضرورت نہیں ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزائی جماعت میں اکثر ا ہیں بلکہ بہت سے ناخواندہ ہیں جو مذہبی واقفیت نہیں رکھتے ان کو اس کہ نزول مسیح سے مراد یہ نہیں کہ سچ مچ مسیح آسمان سے نازل ہوگا یا و حضور علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوا تھا بلکہ جیسا کوئی اور آدمی مسیح موعود ہوگا اور وہ مرزا قادیانی ہیں۔ (نعوذ باللہ سراسر غلط ہے جو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے برخلاف ہے۔ لہذا ضرو حدیث شریف کی روشنی میں صحیح تعلیم پیش کی جائے اور بتایا جائے کہ وہ آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔
٤٧
جواب حصہ دوم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے ثبوت میں
پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اگر رفع مسیح ثابت ہو جائے تو نزول مسیح کا ثابت ہونا کوئی مشکل نہیں اور مرزا قادیانی کا بھی یہی ارشاد ہے چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہذا یہ بحث بھی کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا جو دنیا میں اسے حاصل تھا۔ اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا جبکہ یہ بات قرار پائی تو اول ہمیں اس عقیدہ پر نظر ڈالنا چاہئے۔ جو اصل قرار دیا گیا ہے کہ کہاں تک وہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کیونکہ اگر اصل کا کما حقہ تصفیہ ہو جائے گا تو پھر اس کی فرع ماننے میں تامل نہیں ہوگا اور کم سے کم امکانی طور پر ہم قبول کر سکیں گے کہ جب ایک شخص کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو گیا ہے تو پھر اسی جسم کے ساتھ واپس آنا اس کا کیا مشکل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٣٦)
سو الحمد للہ! کہ ہم نے صرف قرآن شریف سے، انجیل سے، حدیث شریف سے، آثار صحابہ سے اور اقوال مفسرین سے حضرت مسیح کا آسمان پر اٹھایا جانا ثابت کر چکے ہیں بلکہ مرزا قادیانی سے اقبالی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں پس جب حسب تحریر مرزا قادیانی اصل کا کما حقہ، تصفیہ ہو گیا تو پھر فرع کے ماننے میں مرزائیوں کو تامل نہیں ہونا چاہئے اور ہم امید کرتے ہیں کہ بہت سی سعید روحیں اپنے پیر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماننے میں تامل نہیں کریں گی۔
اس تحریر کے مطابق اگر چہ اب نزول مسیح کے متعلق ثبوت بہم پہنچانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزائی جماعت میں اکثر لوگ جو معمولی حرف شناس ہیں بلکہ بہت سے ناخواندہ ہیں جو مذہبی واقفیت نہیں رکھتے ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا گیا ہے کہ نزول مسیح سے مراد یہ نہیں کہ سچ مچ مسیح آسمان سے نازل ہوگا یا وہی مسیح ابن مریم آئے گا جو حضور علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوا تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس جیسا کوئی اور آدمی مسیح موعود ہوگا اور وہ مرزا قادیانی ہیں۔ (نعوذ باللہ من ذلک) حالانکہ یہ بات سراسر غلط ہے جو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے برخلاف ہے۔ لہذا ضرورت ہے کہ قرآن مجید اور حدیث شریف کی روشنی میں صحیح تعلیم پیش کی جائے اور بتایا جائے کہ وہی مسیح ابن مریم نازل ہوگا جو آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔
٤٧
تاکہ سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باش
ہے یہ ثابت نص سے اخبار سے با تواتر یار سے اغیار سے
ہے قیامت کا نشاں اس کا نزول اعتراض فلسفی سب ہیں فضول
قرآن مجید سے ثبوت
نزول مسیح کے متعلق پہلی آیت یہ ہے: ”ویکلم الناس فی المہد وکھلاً ومن الصٰلحین (آل عمران:٤٦)“ ﴿از مولوی محمد علی صاحب﴾ اور وہ لوگوں سے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا۔ ﴾
اس آیت میں حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کو بشارت دی گئی تھی کہ مسیح لوگوں سے پنگوڑے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا سو پنگوڑے میں تو لوگوں نے آپ کی باتیں سنیں لیکن ادھیڑ عمر ہونے سے پہلے ہی آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ چونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے اپنے اپنے وقت پر ضرور پورے ہوتے ہیں اس لئے ادھیڑ عمر میں باتیں کا وعدہ اس وقت پورا ہوگا جب وہ آسمان سے نزول فرمائیں گے۔
- .......١ جیسا کہ تفسیر ابن جریر میں ہے: ”حدثنی یونس قال اخبرنا ابن وهب قال
سمعته یعنی ابن زید یقول فی قوله ﴿ویکلم الناس فی المهد وكهلاً﴾ قال قد كلمهم عيسىٰ فی المهد وسيكلمهم اذا قتل الدجال وهو يومئذ كهل “ مجھ سے یونس نے بیان کیا اس نے کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی اس نے کہا میں نے ابن زید سے سنا وہ اس آیت ویکلم الناس فی المہد وکھلاً میں کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے پنگوڑے میں ان سے کلام کیا اور عنقریب ان سے کلام کرے گا جس وقت دجال قتل کیا جائے گا اور وہ اس وقت ادھیڑ عمر میں ہوگا۔ ﴾
(ابن جریر ج ٣ ص ١٧٠ سطر ٢٦ و درمنثور، ج ٢ ص ٢٥ سطر ٢٩)
- .......٢ تفسیر خازن میں ہے: ”وقال الحسن ابن الفضل ﴿وكهلاً﴾ يعنى
﴿ويكلم الناس فی المهد وكهلاً﴾ بعد نزوله من السماء وفى هذه نص على انه سينزل من السماء إلى الارض ويقتل الدجال “ حسن بن فضل نے کَھْلاً کی تفسیر میں کہا ہے کہ لوگوں سے ادھیڑ عمر میں آسمان سے نازل ہونے کے بعد باتیں کرے گا اور یہ اس بات پر نص قطعی ہے کہ وہ عنقریب آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا۔ ﴾
(خازن ج ١ ص ٢٣٥ سطر ١٣)
٤٨
- .......٣ تفسیر معالم التنزیل میں ہے: ”وقيل للحسین بن الفضل هل
تجد نزول عيسىٰ فی القرآن قال نعم وقوله ﴿وكهلاً﴾ وهو لم يبلغ الكهولة فى الدنيا فمعناه وكهلاً بعد نزوله من السماء “ حسین بن فضل سے کہا گیا کیا تو عیسیٰ کا نزول ہونا قرآن مجید میں پاتا ہے؟ اس نے کہا ہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرے گا) اور وہ دنیا میں ادھیڑ عمر کا نہیں ہوا لہٰذا اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد ادھیڑ عمر کا ہوگا۔ ﴾
اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہے کہ وہی عیسیٰ بن مریم جو دنیا میں تھے وہی آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ ان کے بجائے کوئی اور شخص نہیں آئے گا۔ اور اگر کوئی شخص مسیحیت کا دعویٰ کرے تو وہ ناقابل قبول ہے کیونکہ وہ کذاب ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام نے پہلے ہی انجیل میں خبر دے دی ہے کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ میں ہی ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے پس اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا دیکھو وہاں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور نشان اور عجیب کام دکھائیں گے۔ تاکہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر دیں لیکن تم خبردار ہو دیکھو میں نے تم سے سب کچھ پہلے ہی کہہ دیا ہے۔
(مرقس باب ١٣ آیت ٢١ تا ٢٣)
دوسری آیت یہ ہے جس سے نزول مسیح ثابت ہے: ”وإن لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا “ اور اہل کتاب میں کوئی نہیں جو اس کے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے) ساتھ اس کی موت سے پہلے ایمان نہ لائے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔ ﴾
یہ آیت بھی صاف طور پر ثابت کر رہی ہے کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جو آسمان پر بجسدِ عنصری اٹھائے گئے تھے کیونکہ اس آیت سے پہلے ”بل رفعہ اللّٰہ الیہ“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور یہی معنی صحیح ہیں اور اسی آیت سے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابو ہریرہؓ نے حضرت عیسیٰ کے نزول پر استدلال کیا ہے اور اسی استدلال کے جرم میں مرزا قادیانی نے ان کو ”غبی“ اور ”ناقص الفہم“ قرار دیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت یہ ہے: ”عن ابی هريرة رضی اللّٰه عنه
٤٩
- ٣...... تفسیر معالم التنزیل میں ہے: ”وقيل للحسين بن الفضل هل تجد نزول
عيسى فى القرآن قال نعم وقوله ﴿وكهلاً﴾ وهو لم يكتهل فى الدنيا وانما معناه وكهلاً بعد نزوله من السماء“ ”حسین بن فضل سے پوچھا گیا کہ کیا تو عیسیٰ کا نازل ہونا قرآن مجید میں پاتا ہے؟ اس نے کہا ہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وكهلاً﴾ (یعنی وہ ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرے گا) اور وہ دنیا میں ادھیڑ عمر کا نہیں ہوا اور اس کا یہی معنی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد ادھیڑ عمر کا ہوگا۔“
(معالم ، ص٦٣، سطر٤)
اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہے کہ وہی عیسیٰ بن مریم نزول فرمائیں گے۔ جو آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ ان کے بجائے کوئی اور شخص نہیں آئے گا اگر کوئی ایرا غیرا، نتھو خیرا مسیحیت کا دعویٰ کرے تو وہ ناقابل قبول ہے کیونکہ وہ کذاب ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام نے پہلے ہی انجیل میں خبر دے دی تھی کہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ میں ہی ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا دیکھو وہاں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور نشان اور عجیب کام دکھائیں گے۔ تاکہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر دیں لیکن تم خبردار ہو دیکھو میں نے تم سے سب کچھ پہلے ہی کہہ دیا ہے۔
(مرقس باب١٣آیت٦ وآیت٢١ تا ٢٣)
دوسری آیت یہ ہے جس سے نزول مسیح ثابت ہے: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (نساء:١٥٩)“ ”اور اہل کتاب میں کوئی نہیں جو اس پر (یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر) اس کے مرنے سے پہلے ایمان نہ لائے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔“
یہ آیت بھی صاف طور پر ثابت کر رہی ہے کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے جو آسمان پر بجسد عنصری اٹھائے گئے تھے کیونکہ اس آیت سے پہلے آیت بل رفعه الله اليه میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور اس آیت میں ان کے نزول کا اور اسی آیت سے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہؓ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر استدلال کیا ہے اور اسی استدلال کے جرم میں مرزا قادیانی نے ان کی توہین کرتے ہوئے انہیں ”ناقص الفہم“ قرار دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت یہ ہے: ”عن ابى هريرة قال قال رسول
٤٩
الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقرءوا ان شئتم ﴿وان اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته﴾ ”ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے“
(بخاری ج ١ص٤٩٠، مسلم ج ١ص ٨٧)
اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور بالضرور تم میں ابن مریم حکم اور عدل ہو کر نزول فرمائیں گے اور وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ہٹا دیں گے اور مال بہت ہوگا یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ اگر تم (اس کا ثبوت) چاہو تو پڑھو: ”وان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ (الآیۃ)“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
(مشکوۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
اس حدیث کی صحت میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ متفق علیہ ہونے کے علاوہ اس قدر مشہور و مقبول ہے کہ شاید ہی کوئی حدیث یا تفسیر کی کتاب ہوگی جس میں یہ درج نہ ہو اور لطف یہ ہوا کہ مرزا خدا بخش مرزائی نے بھی اپنی کتاب عسل مصفیٰ میں نزول مسیح کے ثبوت میں اسی حدیث کو بخاری کے حوالے سے نقل کر کے لکھا ہے کہ ”اس حدیث سے حضرت مسیح کے نازل ہونے کا صریح ذکر ہے۔“
(ملاحظہ ہو عسل مصفیٰ ، ج ١ ص٢٠٢)
باوجود اس بات کے کہ مرزا خدا بخش نے نقل حدیث میں تھوڑی لفظی تحریف کی ہے کہ ”یضع الجزیۃ“ کی بجائے یضع الحرب لکھا ہے۔
(دیکھو بخاری مطبوعہ حسینیہ مصر ج٢ ص١٧١ باب نزول عیسیٰ)
تاہم ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کی صحت میں تو انکار نہیں کیا۔ مگر مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف اس حدیث سے انکار کیا ہے بلکہ حضرت ابو ہریرہؓ کے ذمہ یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کے قائل نہیں۔ چنانچہ ”بیان القرآن“ جلد اول صفحہ ٧٥٨، ٧٥٩ کے نوٹ ٧٦٥ میں لکھتے ہیں۔ ”حضرت ابوہریرہؓ کی طرف ایک روایت منسوب ہے جس میں نزول ابن مریم کا ذکر کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا ۔ فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب ...... جو شخص یہ روایت بیان کرتا ہے کہ ١؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں قسم بتاتی ہے کہ خبر ظاہری معنی پر محمول ہے نہ اس میں کوئی تاویل ہے نہ اس میں کوئی تخصیص ہے نہ استثناء۔“
(حمامتہ البشریٰ ١٤، خزائن ج ٧ ص١٩٢)
٥٠
٧١ نازل ہونے والا ابن مریم تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ وہ یہ علیہ السلام خود دوبارہ آئیں گے۔
جواب ...... ہم حیران ہیں کہ مولوی صاحب نے دیدہ دانستہ اس جرأت اور دلیری سے انکار کیا اور۔
کی مثال کو سچ کر دکھایا ہے:
- اوّل...... تو ہم مولوی صاحب سے الزامی طور پر پوچھتے ہیں ک
نہیں تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود دوبارہ آئیں گے ۔ تو مرزا کہ وہ ان کو کم تدبر کم درایت اور غلط فہم جیسے نامناسب اور توہین چنانچہ لکھتے ہیں: ”غرض اس مرتبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کی درایت اچھی نہیں تھی۔ (جیسے ابو ہریرہؓ) وہ اپنی غلط فہمی سے عیسیٰ م ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ہی آئیں گے جیسا کہ ا لگا ہوا تھا اور اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑنے کی پیش گوئی میں بھی ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ ۔ سننے والے کو ہنسی آتی تھی کیونکہ وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہ موت سے پہلے سب اس پر ایمان لے آئیں گے۔“
(حقیقۃ
- دوم ...... یہ کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ یہی تھا
گے۔ جیسا کہ عبارت مندرجہ بالا سے ظاہر ہے اور آپ کہتے بتائیں کہ آپ سچے ہیں یا مرزا صاحب؟
- سوم...... یہ کہ جس حدیث کی بناء پر آپ نے ان کے عقیدہ
حدیث بھی جب انہی ابو ہریرہؓ سے مروی ہے جو بقول مرزا قادی تھے تو اس حدیث کا کیا اعتبار؟ اور اس سے استدلال کرنا کیسا؟
- چہارم...... یہ کہ مرزا قادیانی کی تحریر بالا سے حضرت ابو ہریرہؓ کی
جو شخص توہین اصحاب کا مرتکب ہو وہ مجرم ہے یا نہیں؟ جناب حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے: ”لا تس ٥١
نازل ہونے والا ابن مریم تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ وہ یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود دوبارہ آئیں گے۔
جواب...... ہم حیران ہیں کہ مولوی صاحب نے دیدہ دانستہ ایسی مشہور معروف حدیث کا کس جرأت اور دلیری سے انکار کیا اور۔
کی مثال کو صحیح کر دکھایا ہے:
- اوّل...... تو ہم مولوی صاحب سے الزامی طور پر پوچھتے ہیں کہ اگر حضرت ابو ہریرہؓ کا یہ عقیدہ
نہیں تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود دوبارہ آئیں گے۔ تو مرزا قادیانی کا انہوں نے کیا بگاڑا تھا کہ وہ ان کو کم تدبر کم درایت اور غلط فہم جیسے نامناسب اور توہین آمیز الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”غرض اس مرثیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی۔ (جیسے ابو ہریرہؓ) وہ اپنی غلط فہمی سے عیسیٰ موعود کے آنے کی پیش گوئی پر نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ہی آئیں گے جیسا کہ ابتداء میں ابو ہریرہ کو بھی یہی دھوکا لگا ہوا تھا اور اکثر باتوں میں ابو ہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑنے کی پیش گوئی میں بھی اس کو یہی دھوکہ لگا تھا اور آیت ”وان من اهل الکتاب الا لیومنن به قبل موتہ“ کے ایسے الٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے کو ہنسی آتی تھی کیونکہ وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے سب اس پر ایمان لے آئیں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ٤٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦)
- دوم...... یہ کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ خود دوبارہ آئیں
گے۔ جیسا کہ عبارت مندرجہ بالا سے ظاہر ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ نہیں تھا اب بتائیں کہ آپ سچے ہیں یا مرزا صاحب؟
- سوم...... یہ کہ جس حدیث کی بناء پر آپ نے ان کے عقیدہ سے انکار کا استدلال کیا ہے۔ وہ
حدیث بھی جب انہی ابو ہریرہؓ سے مروی ہے جو بقول مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) کم فہم اور بے عقل تھے تو اس حدیث کا کیا اعتبار؟ اور اس سے استدلال کرنا کیسا؟
- چہارم...... یہ کہ مرزا قادیانی کی تحریر بالا سے حضرت ابو ہریرہؓ کی توہین ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور
جو شخص توہین اصحاب کا مرتکب ہو وہ مجرم ہے یا نہیں؟
جناب حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے: ”لا تسبوا اصحابی فلو ان
٥١
احدكم انفق مثل احد ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه " یعنی میرے اصحاب کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی آدمی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد کے ثواب کو نہیں پہنچتا اور نہ اس کے آدھے کے برابر بھی۔
(مشکوٰۃ مترجم، ج ٣ ص ٣٦٠)
دوسری جگہ ارشاد ہے: ”اکرموا اصحابی فانهم خیارکم“ یعنی میرے اصحاب کی تعظیم کرو اس لئے کہ وہ تمہارے بہترین ہیں۔
(مشکوٰۃ مترجم ج ٣ ص ٣٦٣)
پس مرزا قادیانی نے حضور علیہ السلام کے اس فرمان واجب الاذعان کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟ اور جو شخص حضور علیہ السلام کے حکم کی خلاف ورزی کرے۔ اس کی نسبت آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں؟
دوسری حدیث....... جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے۔ جس سے ان کے عقیدہ پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ یہ ہے: ”حدثنا ابن حميد قال ثنا سلمة عن ابن اسحاق عن محمد بن سلم الزهرى عن حنظلة بن على الاسلمى عن ابى هريرة قال سمعت رسول الله يقول ليهبطن الله عيسى بن مريم حكما عدلا واماما مقسطاً يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يجد من ياخذه وليسلکن الروحاء حاجاً او معتمر او يدين بهما جميعا“
٭ ابن جریر فرماتے ہیں ہم سے ابن حمید نے بیان کیا اس نے کہا ہم سے سلمہ نے ابن اسحاق سے اس نے محمد بن سلم زہری سے اس نے حنظلہ بن علی الاسلمی سے اس نے ابی ہریرہ سے روایت کی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو ضرور نازل کرے گا جو حکم، عدل اور بادشاہ ہو کر آئیں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ہٹا دیں گے اور مال بہت ہوگا یہاں تک کہ کوئی آدمی ایسا نہ پایا جائے گا جو اس کو لے اور وہ روحاء سے حج اور عمرہ یا دونوں کو اکٹھا بجالانے کے لئے ضرور چلیں گے۔ ٭
(تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٨٢ سطر ٢٠، ٢٣)
اس حدیث میں ”هبوط“ کا لفظ آیا ہے جو قابل غور ہے۔ ہبوط کے معنی ہیں اوپر سے نیچے آنا۔ (منتہی الارب) پس یہ لفظ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوپر سے (آسمان سے) نیچے (زمین پر) اتریں گے اور یہی عقیدہ حضرت ابو ہریرہؓ کا ہے۔
نوٹ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کی کیفیت حضرت نواس بن ٥٢
سمعان کی روایت میں درج ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”ا دمشق عند المنارة البيضاء بين مهرودتين وا یعنی جب عیسیٰ ابن مریم دمشق کے مشرق کی طرف سفید منا دو زرد کپڑے پہنے دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے
مسیح کا آسمان سے اترنا مرزا قادیانی کو تسلیم
مرزا قادیانی نے اس حدیث پر بھی مہر تصدیق ثب متعلق اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ ن وقوع میں آئی آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اتر ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر مراق اور کثرت بول۔“ (رسالہ تشحیذ ماہ جون ١٩٠٦ء ص ١٥ اخبا
مرزائی کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے آسما ہے۔ مگر یہاں مرزا قادیانی نے خود تسلیم کر کے ”سیاہ دل“
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ
تیسری حدیث: جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال ليهل بالحج او بالعمرة او ليثنينهما جميعا “ (احم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم فج روحاء سے لئے احرام باندھیں گے۔
اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی لکھتے ہیں عليه السلام من السماء فى آخر الزمان “ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے بعد آخر زمانے می
(نووی شرح مسلم
١ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ لہٰذا ان کا دعویٰ ٥٣
سمعان کی روایت میں درج ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”اذ هبط عيسىٰ بن مريم بشرقى دمشق عند المنارۃ البیضاء بین مہرودتین واضعا یدہ علی اجنحۃ ملکین “ یعنی جب عیسیٰ ابن مریم دمشق کے مشرق کی طرف سفید منارہ کے نزدیک آسمان سے اتریں گے تو دو زرد کپڑے پہنے دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔
(ترمذی مترجم ج ٢ ص ١١٩ باب فتنہ دجال)
مسیح کا آسمان سے اترنا مرزا قادیانی کو تسلیم ہے
مرزا قادیانی نے اس حدیث پر بھی مہر تصدیق لگائی ہوئی ہے چنانچہ اپنی بیماری کے متعلق اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا۔ تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (رسالہ تشحیذ ماہ جون ١٩٠٦ء ص ١٥ اخبار بدر ١٧ جون ١٩٠٦ء وملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
مرزائی کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے آسمان سے اترنے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں ہے۔ مگر یہاں مرزا قادیانی نے خود تسلیم کر کے ”سیاہ دل“ منکروں کے قول کو رد کر دیا ہے۔
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
تیسری حدیث: جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، یہ ہے۔ ”اخرج احمد ومسلم عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال لیہلن عیسیٰ ابن مریم بفج الروحاء بالحج او بالعمرۃ او لیثنینھما جمیعا “ (احمد اور مسلم نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم فج روحاء سے حج یا عمرہ کے لئے یا دونوں کو ادا کرنے کے لئے احرام باندھیں گے۔)
(درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢ سطر ١١)
اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی لکھتے ہیں: ”وهذا يكون بعد نزول عيسىٰ علیہ السلام من السماء فی آخر الزمان “ ترجمہ یہ کام حج وغیرہ کا ادا کرنا (عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے بعد آخر زمانے میں ہوگا۔
(نووی شرح مسلم ج ١ ص ٤٠٨، باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)
١؎ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ لہٰذا ان کا دعویٰ مسیحیت باطل ہے۔ (ناظم)
٥٣
اب اس حدیث سے بھی صاف ثابت ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود دوبارہ تشریف لائیں گے۔ ان سے اس قسم کی اور بھی بہت سی حدیثیں مروی ہیں۔ جن کے لکھنے کی اس مختصر سے رسالے میں گنجائش نہیں۔ شہادت کے لئے صرف اسی قدر کافی ہیں۔
حدیث ”امامكم منكم“ کا مطلب: یہ حدیث بھی حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے جو بخاری اور مسلم کے علاوہ مسند امام احمد، بیہقی کی کتاب اسماء والصفات، مشکوٰۃ اور درمنثور میں بھی درج ہے۔ پوری حدیث اس طرح پر ہے: ”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (بیہقی)“ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“
اس حدیث کا مطلب نہایت صاف اور واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں ابن مریم کے نزول اور امام مہدی کے ظہور کی خبر دی ہے۔ مگر مرزائی اس میں تحریف کرکے الٹے معنی کرتے ہیں کہ: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نزول فرما ہوگا اور وہ تمہیں میں سے ایک امام ہوگا۔“
(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٢٠٢)
خود مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ: ”بخاری صاحب اپنی صحیح میں صِرْف امامكم منكم کہہ کر چپ ہوگئے۔ یعنی صحیح بخاری میں صرف یہی مسیح کی تعریف لکھی ہے کہ وہ ایک شخص تم میں سے ہوگا اور تمہارا امام ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
پس اس غلط ترجمہ اور غلط فہمی کی بناء پر مولوی محمد علی صاحب حضرت ابو ہریرہؓ کو اپنا ہم خیال سمجھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص یہ روایت بیان کرتا ہے کہ نازل ہونے والا ابن مریم تمہارا امام تمہیں سے ہوگا۔ وہ یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود دوبارہ آئیں گے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٧٩)
ہم کہتے ہیں کہ جو شخص مندرجہ بالا حدیثوں کی رو سے یہ روایت کرتا ہے کہ نازل ہونے والا ابن مریم آسمان سے اترے گا۔ بادشاہ ہوگا، صلیب کو توڑے گا، خنزیر کو قتل کرے گا، جزیہ کو منسوخ کرے گا اور فج روحاء سے احرام باندھ کر حج کرے گا۔ وہ یہ عقیدہ ہرگز نہیں رکھ سکتا کہ نازل ہونے والا ابن مریم تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ لکھنے کو تو مولوی صاحب نے یہ عبارت
٥٤
٧٥ لکھ ہی ماری لیکن ثبوت کوئی پیش نہیں کیا اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ دعویٰ بلا مولوی صاحب کی یہ تحریر کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
ہم نے اوپر لکھا ہے کہ مرزائیوں کا ترجمہ غلط ہے۔ اس کا ثبوت میں لفظ ”و“ زائد ہے جو حدیث کے کسی لفظ کا ترجمہ نہیں اور اسی بناء پر مع پس اگر ”و“ نکال دیا جائے تو ترجمہ بھی صحیح ہوجاتا ہے اور مطلب بھی صاف میں واؤ عاطفہ نہیں ہے بلکہ جمع کی ہے۔ دلیل اس کی حضرت جابرؓ کی روایت جابر قال قال رسول الله فينزل عيسى ابن مريم فيقول لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء اكرم الله هذه روایت ہے اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس عیسیٰ ابن مريم نازل (امام مہدی) ان سے کہے گا۔ آؤ ہمیں نماز پڑھاؤ پس وہ کہیں گے۔ نہیں بے شک تم میں بعض امیر امام ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی عطا
(مشکوٰۃ، مترجم ج
یہ حدیث مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”حد آنے والا ہے۔ وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔“
(
پس اس حدیث مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ جب عیسیٰ نازل گے بلکہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص امام ہوگا جو اس امت میں سے ہوگا اور ذکر دوسری احادیث میں بھی موجود ہے۔ گویا یہ حدیث زیر بحث حدی دعویٰ کی ایک زبردست دلیل ہے۔ اس سے زیر بحث حدیث کا مطلب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو علیحدہ علیحدہ ہستیاں ہیں، جن حدیث میں دی ہے۔ فهو المقصود!
اب ہم آیت مذکورہ الصدر کی تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ کے سوا د اقوال سے بیان کرتے ہیں۔
- ١۔ دیکھو مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ فصل ثانی۔ خود مرزا
”آنحضرت پیش گوئی میں فرماتے ہیں کہ وہ مہدی خلق اور خلق میں میر ابیہ اسم ابی یعنی میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نا نام۔“
(ازالہ اوہام طبع اول ص ١٤٧، ١٤٨ طبع پنجم
٥٥
لکھ ہی ماری لیکن ثبوت کوئی پیش نہیں کیا اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ دعویٰ بلا دلیل باطل ہوتا ہے لہٰذا مولوی صاحب کی یہ تحریر کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
ہم نے اوپر لکھا ہے کہ مرزائیوں کا ترجمہ غلط ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے ترجمہ میں لفظ ”وۂ“ زائد ہے جو حدیث کے کسی لفظ کا ترجمہ نہیں اور اسی بناء پر مطلب بھی غلط لیا گیا ہے پس اگر ”وۂ نکال دیا جائے تو ترجمہ بھی صحیح ہو جاتا ہے اور مطلب بھی صاف نکل آتا ہے اور حدیث میں واؤ عاطفہ نہیں ہے بلکہ جمع کی ہے۔ دلیل اس کی حضرت جابرؓ کی روایت ہے جو یہ ہے: ”وعن جابر قال قال رسول الله فينزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرهم تعالیٰ صل لنا فیقول لا ان بعضكم علیٰ بعض امراء اکرم الله هٰذه الامة “ ١؎ اور جابرؓ سے روایت ہے اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اور امیر امت (امام مہدی) ان سے کہے گا۔ آؤ ہمیں نماز پڑھاؤ پس وہ کہیں گے۔ نہیں (میں امامت نہیں کرتا) بے شک تم میں بعض امیر امام ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی عطا فرمائی ہے۔ ٢؎
(مشکوٰۃ، مترجم ج ٤ ص ١٢٨، باب نزول عیسیٰ)
یہ حدیث مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے۔ وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔“
(فتاویٰ احمدیہ، جلد اول ص ٨٢)
پس اس حدیث مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ جب عیسیٰ نازل ہوں گے تو وہ امام نہ ہوں گے بلکہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص امام ہوگا جو اس امت میں سے ہوگا اور وہ امام مہدی ہیں۔ جن کا ذکر دوسری احادیث میں بھی موجود ہے ١؎۔ گویا یہ حدیث زیر بحث حدیث کی تفسیر ہے جو ہمارے دعویٰ کی ایک زبردست دلیل ہے۔ اس سے زیر بحث حدیث کا مطلب بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو علیحدہ علیحدہ ہستیاں ہیں جن کی خبر حضور ﷺ نے اس حدیث میں دی ہے۔ فهو المقصود!
اب ہم آیت مذکورہ الصدر کی تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ کے سوا دوسرے صحابہ و تابعینؓ کے اقوال سے بیان کرتے ہیں۔
١؎ دیکھو مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ فصل ثانی۔ خود مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت پیش گوئی میں فرماتے ہیں کہ وہ مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا یواطی اسمہ واسم ابیہ اسم ابی یعنی میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام۔“
(ازالۃ اوہام طبع اول ص ١٤٧، ١٤٨ طبع پنجم ص ٦٥ ، خزائن ج ٣ ص ١٧٥)
٥٥
- ......١ " واخرج ابن جرير وابن ابي حاتم من طريق عن ابن عباس في
قوله وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى " ﴿ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے کئی طریقوں سے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت میں قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب ان کے ساتھ ایمان لے آئیں گے۔﴾
(درمنثور ج٢ ص٢٣١ سطر٥)
- ......٢ " واخرج عبد بن حميد وابن المنذر عن شهر بن حوشب في قوله:
وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته عن محمد بن على بن ابى طالب هو ابن الحنفية قال: ليس من اهل الكتاب احد الا اتته الملائكة يضربون وجهه ودبره ثم يقال ياعدو والله ان عيسى روح الله وكذبت على الله وزعمت انه الله، ان عيسى لم يمت وانه رفع الى السماء وهو نازل قبل ان تقوم الساعة فلا يبقى يهودى ولا نصرانى الا امن به " ﴿ عبد بن حمید نے اور ابن منذر نے شہر بن حوشب اس آیت میں وان من اھل الکتاب...... الخ حضرت محمد بن علیؒ بن ابی طالب سے جو ابن حنفیہؒ ہے۔ روایت کی ہے اس نے کہا اہل کتاب میں سے کوئی نہیں کہ اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ اس کے منہ اور دبر پر مارتے ہیں پھر کہتے ہیں۔ اے خدا کے دشمن! بے شک عیسیٰ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے تو نے خدا پر جھوٹ بولا اور گمان کیا کہ وہ (عیسیٰ) اللہ ہے۔ بے شک عیسیٰ نہیں مرے اور بے شک وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور وہ قیامت سے پہلے نازل ہونے والے ہیں پس کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہ رہے گا جو ان کے ساتھ ایمان نہ لائے۔﴾
(درمنثور ج٢ ص٢٣١ سطر ١٨ تا ٢١)
- ......٣ " واخرج عبدالرزاق وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر عن
قتادة في قوله وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال اذا نزل امنت به الاديان كلها ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا " ﴿ عبد الرزاق اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر نے حضرت قتادہؓ سے اس آیت وان من اھل الکتاب...... الخ میں روایت کی ہے کہ اس نے کہا۔ جس وقت (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نازل ہوں گے۔ ان کے ساتھ کل فرقوں کے لوگ ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔﴾
(درمنثور ج٢ ص ٢٣١ سطر ٢٩، ٣٠)
- ......٤ " واخرج ابن جرير عن ابن زيد في قوله وان من اهل الكتاب الا
٥٦
ليؤمنن به قبل موته قال اذا انزل عيسى عليه السلام يهودى فى الارض الا امن به " ﴿ اور ابن جریر نے ابن زید اهل الكتاب...... الخ ) میں روایت کی ہے۔ اس نے کہا جس وقت حـ ہوں گے۔ پس دجال کو قتل کریں گے اور کوئی یہودی زمین میں باقی نہ ر لائے۔ ﴾
- ......٥ " واخرج ابن جرير عن ابي مالك وان من ا
به قبل موته قال ذلك عند نزول عيسى ابن مريم الكتاب الا امن به " ﴿ ابن جریر نے ابی مالک سے ا الکتاب...... الخ میں روایت کی ہے۔ اس نے کہا یہ عیسیٰ ابن مریم کے کتاب میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو ان کے ساتھ ایمان نہ لائے۔ ﴾
- ......٦ " واخرج ابن جرير عن الحسن وان من ا
به قبل موته قال قبل موت عيسى والله انه الان حـ نزل آمنو به اجمعون " ﴿ ابن جریر نے حضرت حسن سے الکتاب...... الخ ) میں روایت کی ہے اس نے کہا قبل موتہ سے مرا قسم بے شک وہ اس وقت خدا کے نزدیک زندہ ہے اور لیکن جس وقت کے ساتھ ایمان لائیں گے۔ ﴾
اس قسم کی بیسیوں روایتیں ہیں جو صحابہ کرام اور تابعین سب کے درج کرنے کی اس چھوٹے سے رسالے میں گنجائش نہیں خواہش ہے تو وہ ابن جریر، درمنثور وغیرہ تفاسیر کا مطالعہ کرے۔
یہود کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے پر اعتر
اعتراض...... مولوی صاحب کو اس تفسیر پر بھی اعتراض ہے۔ چنا کہ حضرت عیسیٰ پر دوبارہ نزول کے وقت ایمان لانا بے معنی ہے ا جائے تو ایمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر وہ لائیں گے، نہ حضرت عی علیہ السلام پر ایمان لانے کے یہ معنی ہوئے کہ اس وقت کے نبی حـ
٥٧
ليومنن به قبل موته﴾ قال اذا انزل عیسیٰ عليه السلام فقتل الدجال لم يبق يهودى فى الارض الا امن به “ اور ابن جریر نے ابن زید سے اس آیت (وان من اهل الكتاب ...... الخ ) میں روایت کی ہے۔ اس نے کہا جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ پس دجال کو قتل کریں گے اور کوئی یہودی زمین میں باقی نہ ہوگا جو ان کے ساتھ ایمان نہ لائے۔
(درمنثور، ج ٢ ص مذکور )
٥ ...... "واخرج ابن جرير عن ابى مالك ﴿وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته﴾ قال ذلك عند نزول عیسیٰ ابن مريم لا يبقى احد من اهل الكتاب الا امن به “ ابن جریر نے ابی مالک سے اس آیت (وان من اهل الكتاب ...... الخ ) میں روایت کی ہے۔ اس نے کہا یہ عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے وقت ہوگا۔ اہل کتاب میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو ان کے ساتھ ایمان نہ لائے۔
(درمنثور، ج ٢ ص مذکور، سطر ٣٣، ٣٤)
٦ ...... "واخرج ابن جرير عن الحسن ﴿وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته﴾ قال قبل موت عيسى والله انه الان حى عند الله ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون “ ابن جریر نے حضرت حسن سے اس آیت (وان من اهل الكتاب ...... الخ ) میں روایت کی ہے اس نے کہا قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ ہے اور خدا کی قسم بے شک وہ اس وقت خدا کے نزدیک زندہ ہے اور لیکن جس وقت وہ نازل ہوگا تمام لوگ اس کے ساتھ ایمان لائیں گے۔
(درمنثور، ج ٢ ص ٢٤)
اس قسم کی بیسیوں روایتیں ہیں جو صحابہ کرام اور تابعین عظام سے مروی ہیں اور ان سب کے درج کرنے کی اس چھوٹے سے رسالے میں گنجائش نہیں۔ اگر کسی کو زیادہ دیکھنے کی خواہش ہے تو وہ ابن جریر، درمنثور وغیرہ تفاسیر کا مطالعہ کرے۔
یہود کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے پر اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض :.... مولوی صاحب کو اس تفسیر پر بھی اعتراض ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ” اور پھر یہودیوں کا حضرت عیسیٰ پر دوبارہ نزول کے وقت ایمان لانا بے معنی ہے اگر دوبارہ نزول فرض بھی کر لیا جائے تو ایمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر وہ لائیں گے، نہ حضرت عیسیٰ پر۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے یہ معنی ہوئے کہ اس وقت کے نبی حضرت عیسیٰ ہوں گے۔ حالانکہ
٥٧
مخاطب کیا گیا ہے پس آپ کی یہ کمال خوش فہمی ہے کہ یہاں رسول اللہ ؐ امید ہے کہ آپ کی تسلی ہوگئی ہوگی اگر کچھ کسر رہ گئی تو احقر پھر خدمت
تیسری آیت ...... یہ ہے جس سے نزول مسیح ثابت ہے: ”وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ ، وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْن (زخرف: ٦١، ٦٢) “ ”اور بے شک وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے پس اس میں شبہ نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہ راہ سیدھی ہے اور شیطان تم کو نہ روک دے وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔“
اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب تشریف لائیں گے اور ان کا تشریف لانا قیامت کی نشانی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کسی زمانہ میں شیطان بعض لوگوں کو اس عقیدہ سے ورغلا کر گمراہ کرے گا۔ اس لئے سید الا نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہلے ہی متنبہ کردیا کہ خبردار شیطان کے دھوکہ میں آکر اس عقیدہ کا انکار نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: ”جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔“ (متی، باب ٢٤، آیت ٢٤، ٢٥)
اور آپ نے دوبارہ آنے کی خبر اس طرح دی تھی: ”ان دنوں کی مصیبت کے فوراً بعد سورج تاریک ہوجائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور اس ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب کچھ نہ ہولے یہ نسل گزر نہ ہوگی۔ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے۔ لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی۔ اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“
(متی، باب ٢٤، آیت ٢٩، ٣٠، ٣٤ تا ٣٦)
اس کے بعد اب قرآن مجید نے دوبارہ صراحت کردی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا حق ہے۔ شیطان کا دھوکہ نہ کھانا پس اگر کوئی اور دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے۔
اس آیت کی تفسیر آثار صحابہ سے بھی اس طرح مروی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ
٥٩
مخاطب کیا گیا ہے پس آپ کی یہ کمال خوش فہمی ہے کہ یہاں رسول خدا ﷺ کو مراد لے رہے ہیں۔ امید ہے کہ آپ کی تسلی ہو گئی ہو گی اگر کچھ کسر رہ گئی تو احقر پھر خدمت کو تیار ہے۔ تیسری آیت ...... یہ ہے جس سے نزول مسیح ثابت ہے: ” وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا واتبعون. هذا صراط مستقيم، ولا يصدنكم الشيطن انه لكم عدو مبین (زخرف: ٦١، ٦٢)“ ﴿اور بے شک وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے لئے نشان ہے پس اس میں شبہ نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہ راہ سیدھی ہے اور تم کو شیطان نہ روکے بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔﴾
اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے اور ان کا تشریف لانا قیامت کی نشانی ہے۔ خدائے علیم وخبیر کے علم میں تھا کہ کسی زمانہ میں شیطان بعض لوگوں کو اس عقیدہ سے ورغلا کر گمراہ کرے گا اس لئے اس نے اپنے نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہلے ہی متنبہ کر دیا کہ خبر دار شیطان کے بہکانے پر اس عقیدہ سے انکار نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: ”جھوٹے اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔“
(متی، باب ٢٤، آیت ٢٤، ٢٥، مرقس، باب ١٣، آیت ٢٢، ٢٣)
اور آپ نے دوبارہ آنے کی خبر اس طرح دی تھی: ”اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب یہ باتیں نہ ہولیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی۔ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے۔ لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی۔ لیکن اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“
(متی، باب ٢٤، آیت ٢٩، ٣٠، ٣٦، مرقس، باب ١٣، آیت ٢٤ تا ٢٦، ٣٠ تا ٣٢)
اس کے بعد اب قرآن مجید نے دوبارہ صراحت کر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا حق ہے۔ شیطان کا دھوکہ نہ کھانا پس اگر کوئی اب بھی نہ سمجھے تو اس کی مرضی۔ اس آیت کی تفسیر آثار صحابہ سے بھی اس طرح مروی ہے۔ چنانچہ درمنثور میں ہے:
٥٩
- ا....... ”اخرج الفریابی وسعید بن منصور ومسدود وعبد بن حمید
وابن ابی حاتم والطبرانی من طرق عن ابن عباس فی قوله ﴿وانه لعلم للساعة﴾ قال خروج عیسی قبل یوم القیامة “ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے ۔ آپ نے کہا: (وانه لعلم للساعة ) کا مطلب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے خروج ہے۔ ﴾
(درمنثور ج٦ ص ٢١)
- ٢....... ”واخرج عبد بن حمید وابن جریر عن مجاهد ﴿وانه لعلم
للساعة﴾ قال ایۃ للساعة خروج عیسی بن مریم قبل یوم القیامة “ مجاہدؒ نے (وانه لعلم للساعة ) کی یہ تفسیر کی ہے۔ کہا قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا خروج قیامت کی نشانی ہے۔﴾
(درمنثور ج٦ ص ٢٠ سطر ٢٢)
- ٣....... ”عبد بن حمید وابن جریر عن الحسن (وانه لعلم للساعة) قال
نزول عیسیٰ “ حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ اس آیت سے مراد نزول عیسیٰ ہے۔ ﴾
(درمنثور حوالہ مذکور سطر ٢٣)
- ٤....... ”واخرج عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر عن قتاده ﴿وانه
لعلم للساعة﴾ قال نزول عیسی علم الساعة “ حضرت قتادہؓ سے روایت ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے لئے نشانی ہے۔﴾
(درمنثور ج٦ ص ٢١ سطر ٢٣)
اس قسم کی اور بھی بہت روایات ہیں مگر ”مشت از خروارے“ اس قدر کافی ہیں۔ شکر ہے کہ مولوی محمد علی صاحب اس آیت پر کوئی خاص اعتراض نہیں کر سکے۔ بلکہ تسلیم کرتے ہیں کہ ”انه“ میں ضمیر حضرت ابن عباسؓ اور بعض مفسرین کے نزدیک ابن مریم کی طرف جاتی ہے۔ ”اور“ حضرت عیسیٰ کو ساعت کے لئے نشان تو کہا جاسکتا ہے خواہ نزول عیسیٰ ہی مراد ہو ۔“ مگر آخر کار اپنی عادت سے مجبور ہو کر جوش تحریر میں نوک قلم کا ایک کچوکا لگا ہی گئے کہ ”قیامت کے نشانوں میں اگر ہے تو نزول عیسیٰ ہے نہ خود عیسیٰ ۔ مگر یہاں ذکر نزول عیسیٰ کا نہیں بلکہ عیسیٰ کا ہے۔ ہم قرآن شریف میں اپنی طرف سے یہ نہیں بڑھا سکتے ۔ کہ عیسیٰ سے مراد نزول عیسیٰ سے لیں۔
(بیان القرآن، ج ٣ ص ١٦٨)
کسی نے سچ کہا ہے ۔
مقتضائے طبیعتش ایں است
٦٠
مولوی صاحب کو جب تسلیم ہے کہ حضرت عیسیٰ اور یہ بھی آپ مانتے ہیں کہ نزول عیسیٰ قیامت کے نشانوں یہ امر کہ ساعت کا معنی قیامت ہے یا نہیں؟ سو یہ بھی آپ تسلیم ہے اور خاص اسی نوٹ کے اخیر میں انہوں نے یہ لکھا، نیز اس میں بھی ساعۃ کا معنی قیامت ہی تسلیم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کے نشانوں میں ہے۔ والحمدلله علىٰ ذلك!
- چوتھی آیت :....... یہ ہے جس سے حضرت عیسیٰ کا دوبارہ تشریـ
رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره عـ (صف:٩) ”وہی ہے وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہـ تاکہ اسکو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرک ناخوش ہوں اس آیت سے بھی مفسرین کرام نے حضـ استدلال کیا ہے مگر مرزائیوں پر اتمام حجت کے لئے مـ سے تفسیر پیش کرتے ہیں۔ ”یہ آیت جسمانی اور سیاسـ گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہـ گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لا آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ (براہین احمدیہ ج٤
- پانچویں آیت: یہ ہے جو مرزا قادیانی نـ
متعلق پیش کی ہے: عسى ربكم ان يرحم عـ للكافرين حصيرا ۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا او جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیـ (نازل) ہونے کا ظاہر اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریقـ گے۔ اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بینہ سے بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت
١١
مولوی صاحب کو جب تسلیم ہے کہ حضرت عیسیٰ کو ساعت کے لئے نشان کہا جاسکتا ہے اور یہ بھی آپ مانتے ہیں کہ نزول عیسیٰ قیامت کے نشانوں میں سے ہے تو پھر انکار کس بات کا؟ رہا یہ امر کہ ساعت کا معنی قیامت ہے یا نہیں؟ سو یہ بھی آپ کو نوٹ ٩٣١ میں تسلیم ہے کہ ساعۃ کا معنی قیامت ہے اور خاص اسی نوٹ کے اخیر میں انہوں نے یہ حدیث لکھی ہے۔ انـــــــــا والســــــــاعة كهــــــــاتين اس میں بھی ساعۃ کا معنی قیامت ہی تسلیم کیا ہے تو پھر آپ کی زبانی فیصلہ ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کے نشانوں میں سے ہے اور یہی مفسرین کرام نے بھی لکھا ہے۔ والحمدلله على ذلك!
چوتھی آیت ...... یہ ہے جس سے حضرت عیسیٰ کا دوبارہ تشریف لانا ثابت ہے: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون (صف:٩) ”وہ ہے وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرک ناخوش ہوں۔“
اس آیت سے بھی مفسرین کرام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر استدلال کیا ہے مگر مرزائیوں پر اتمام حجت کے لئے مرزا قادیانی کی مایہ ناز کتاب ”براہین احمدیہ“ سے تفسیر پیش کرتے ہیں۔ ” یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ (براہین احمدیہ ج ٤ ص ٤٩٨، ٤٩٩ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
پانچویں آیت: یہ ہے جو مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کے دوبارہ تشریف لانے کے متعلق پیش کی ہے: عسى ربكم ان يرحم عليكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر (نازل) ہونے کا ظاہر اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے۔ اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔ اور تمام راہوں اور
٦١
سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا۔ اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا۔
(براہین احمدیہ ج ٣ ص ٥٠٥ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٠٦ حاشیہ)
اب ان حوالوں کے بعد دوسرا کوئی ثبوت بہم پہنچانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی جبکہ مرزا قادیانی خود تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے۔ مگر ممکن ہے کہ کوئی منچلا مرزائی یہ کہہ دے کہ مرزا قادیانی نے اس عقیدہ سے رجوع کرلیا تھا۔ جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں: ”میں نے براہین میں جو کچھ مسیح ابن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٨٣، خزائن ج ٣ ص ١٩٦)
سو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہی بیان ان کے اسلامی عقیدہ کو چھوڑنے اور نئے مذہب کی بنیاد رکھنے پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ وہ خود اس کی تصریح مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں۔ ”یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے۔ صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔ کیونکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کوئی دلیری نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے ہمارے نبی ﷺ پر جب تک خدا تعالیٰ کی طرف بعض عبادات کے ادا کرنے کے بارے میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی، تب تک اہل کتاب کی سنن دینیہ پر قدم مارنا بہتر جانتے تھے اور بوقت نزول وحی اور دریافت اصل حقیقت کے اس کو چھوڑ دیتے تھے۔ سو اسی لحاظ سے حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت اپنی طرف سے کوئی بحث نہیں کی گئی تھی۔ اب جو خدا تعالیٰ نے حقیقت امر کو اس عاجز پر ظاہر فرمایا تو عام طور پر اس کا اعلان از بس ضروری تھا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٨٣، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
اس عبارت سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:
- ١...... حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ آنے کا عقیدہ جو براہین میں مرزا قادیانی نے لکھا تھا وہ
اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے تھا۔
- ٢...... حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا آثار نبویہ سے ثابت ہے۔
- ٣...... جس طرح حضور ﷺ نے اپنے مولا کریم سے وحی پا کر اپنے پہلے انبیاء کی سنت کو چھوڑ
٦٢
دیتے تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنے رب ”عاجز ١؎“ سے الہام ہوئے عقائد کو چھوڑ دیا۔ بس جھگڑا ہی ختم۔ حیرانگی کی بات ہے کہ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ اگلی شریعت میں انہوں نے
دوسرا جواب ....... یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ براہین میں وہ قرآن شریف کی آیات سے استدلال کر کے لکھا ہے اور ازالہ میں جو جمع خرچ ہے۔ اب قرآن مجید کی آیت کو ”مشہور عقیدہ“ کہہ کر ترک کر کرنا مرزا قادیانی کی ہی شان ہے۔ مسلمان تو کوئی اسے تسلیم نہیں کر سکتا
تیسرا جواب ....... یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا براہین کے مضامین سے انحراف ہے۔ جس سے ناواقفوں کی نظر میں خاک جھونکنا مطلوب ہے۔ یا ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ کا معاملہ ہے کیونکہ ”براہین احمدیہ“ ایک ایسی کتاب ہے جس کے متعلق مرزا قادیانی کو بڑا ناز تھا اور اس کی نسبت وہ بہت کچھ لکھ چکے ہیں:
- ١....... سب سے اول انہوں نے اشتہار انعامی دس ہزار شائع کیا
جس میں یوں ہے۔ ”انعامی دس ہزار روپیہ ان سب لوگوں کے لئے جو منکرین قرآن مجید سے ان دلائل اور براہین حقانیہ میں جو فرقان مجید سے ہم نے لکھی ہیں الہامی کی ان دلائل کے پیش کرنے سے قطعاً عاجز ہونے کا اپنی کتاب دلائل کو نمبر وار توڑ دیں۔“
(براہین
- ٢....... لکھتے ہیں: ”کہ اس کتاب میں وہ تمام صداقتیں مرقوم
ہیں جو اصول دین پر مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے اس میں مرقوم ہیں۔“
(براہین
- ٣....... لکھتے ہیں ”کہ یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقا
ئق اور اس کے علم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی شان تفسیر ہے۔“
(براہین
- ٤....... لکھتے ہیں: ”جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دی
کھا آپ کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی
١ ؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ربنا عاج اور اس کا ترجمہ ”ہما را عاجز“ کیا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦)
٦٣
دیتے تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنے رب ”عاج“ سے الہام پا کر حضور ﷺ کے فرمائے ہوئے عقائد کو چھوڑ دیا۔ بس جھگڑا ہی ختم۔ حیرانگی کی بات ہے کہ مرزائی کس منہ سے کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ اگلی شریعت میں انہوں نے کوئی کمی بیشی نہیں کی۔
دوسرا جواب ...... یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ براہین میں جو کچھ آنجناب نے لکھا ہے وہ قرآن شریف کی آیات سے استدلال کر کے لکھا ہے اور ازالہ میں جو کچھ لکھا ہے۔ وہ صرف زبانی جمع خرچ ہے۔ اب قرآن مجید کی آیت کو ”مشہور عقیدہ“ کہہ کر ترک کرنا اور اپنے اوہام باطلہ پر عمل کرنا مرزا قادیانی کی ہی شان ہے۔ مسلمان تو کوئی اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔
تیسرا جواب ...... یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا براہین کے مضامین کو سرسری کہنا بھی محض دھوکا ہے۔ جس سے ناواقفوں کی نظر میں خاک جھونکنا مطلوب ہے۔ یا ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ کا معاملہ ہے کیونکہ ”براہین احمدیہ“ ایک ایسی کتاب ہے جس کی صحت اور صداقت کے متعلق مرزا قادیانی کو بڑا ناز تھا اور اس کی نسبت وہ بہت کچھ لکھ چکے ہیں چنانچہ:
- ١....... سب سے اول انہوں نے اشتہار انعامی دس ہزار شائع کیا۔ جس کا ملخص ابتدائی سطور
میں یوں ہے۔ ”انعامی دس ہزار روپیہ ان سب لوگوں کے لئے جو مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان دلائل اور براہین حقانیہ میں جو فرقان مجید سے ہم نے لکھی ثابت کر دکھائیں یا اگر کتاب الہامی کی ان دلائل کے پیش کرنے سے قطعاً عاجز ہونے کا اپنی کتاب میں اقرار کر کے ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار توڑ دیں۔“
(براہین احمدیہ ص ١٧، خزائن ج ١ ص ٤٤)
- ٢....... لکھتے ہیں۔ ”کہ اس کتاب میں وہ تمام صداقتیں مرقوم ہیں۔ جن پر اصول علم دین
کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے۔ وہ سب اس میں مرقوم ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ١٣٦، خزائن ج ١ ص ١٢٩)
- ٣....... لکھتے ہیں ”کہ یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور
اس کے علم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی بیان تفسیر ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ١٣٧، خزائن ج ١ ص ١٣٠)
- ٤....... لکھتے ہیں: ”جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے
ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس
١؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ربنا عاج اور اس کا ترجمہ ”ہمارا رب عاجی ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)
٦٣
کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٣٨ حاشیہ در حاشیہ ، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)
٥....... لکھتے ہیں: ”اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کسی اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کئے ہیں۔ یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔“
(براہین احمدیہ ، ٹائٹل پیج صفحہ اخیر ، خزائن ج ١ ص ٦٧٣)
عبارت مندرجہ بالا سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ:
- ١....... براہین الہامی کتاب ہے جو قرآن شریف کی عالی بیان تفسیر ہے اور غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔
- ٢....... اس کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً اللہ ہے اور
- ٣....... اس کے مضامین اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔
پس حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا جو اس کتاب میں درج ہے۔ وہ الہامی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اتمام حجت کے لئے کافی ہے۔ بس فیصلہ شد:
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
سوال ششم....... امت مسلمہ میں باب نبوت مسدود ہو جانا تسلیم کر لیا جائے تو کیا آنحضرت کے رحمۃ للعالمین ہونے اور اس امت کے خیر الامم ہونے پر زد نہیں پڑتی؟
جواب....... اس کا جواب شبہ نمبر ٢ میں پہلے گزر چکا ہے۔
سوال ہفتم....... کیا مجدد وقت یا امام زمان کا ماننا اور پہچاننا رکن ایمان ہے اور اس کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی؟
جواب....... امام زمان مجدد وقت کا ماننا رکن ایمان نہیں ہے۔ کیونکہ امام نبی نہیں ہوتا۔ (عسل مصفیٰ دوم ص ١٩) کہ اس کا انکار کفر ہوا اور مجدد بھی نبی نہیں ہوتا کہ اس کا منکر کافر ہو اور نہ کسی امام اور مجدد نے اپنے انکار کی وجہ سے کسی کو کافر کہا ہے۔
جن حدیثوں کی بناء پر یہ سوال کیا گیا ہے۔ ان کا مطلب بیان کرنے سے پہلے یہ بتانا
٦٤
٨٥
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امام اور مجدد کسے کہتے ہیں؟ پس جاننا چاہئے
امام کی تعریف....... امام کی تعریف یہ ہے: ”الامام الموتم بقوله او فعله او كتابا“
(از مولوی محمد علی صاحب) امام وہ ہے جس کی پیروی کے قول یا فعل کی پیروی ہو، یا کتاب۔ (بیان القرآن ج ١ ص ١٤ نوٹ ٥)
اس تعریف سے معلوم ہوا کہ امام کی دو صورتیں ہیں
بصورت کتاب۔ امام بصورت انسان کی دو قسمیں ہیں۔ امام حق ا نیکی کی ہدایت کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ”وجعلن واوحينا اليهم فعل الخيرات واقام الصلاة وايتاء ال (انبیاء:٧٣) ”اور ہم نے انہیں امام بنایا وہ ہمارے حکم سے ہدای طرف نیک کام کرنے کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی والے تھے۔“
امام باطل وہ ہیں جو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں فرمایا: ”وجعلناهم ائمة يدعون الى النار و (قصص :٤١) ”اور ہم نے انہیں امام بنایا جو آگ کی طرف انہیں مدد نہیں دی جائے گی۔“
امامت کی پھر دو قسمیں ہیں۔
- ١....... امامت خاص اور
- ٢....... امامت عام
اوّل....... امامت خاص جسے امامت کبریٰ بھی کہتے ہیں۔ انبیا خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا تھا: ”انی ج (بقرۃ:١٢٤) ”یعنی ”میں ضرور تجھے لوگوں کے لئے امام بنانے اس امامت کے لئے دعویٰ کی بھی ضرورت ہے اور امامت دراصل نبوت ہی ہے اور نبوت پر ایمان لانا فرض اور جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے ساتھ ہر قسم کی اس لئے اب نہ امامت کبریٰ کا وجود باقی ہے اور نہ اس کے دع
٦٥
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امام اور مجدد کسے کہتے ہیں؟ پس جاننا چاہئے کہ: امام کی تعریف...... امام کی تعریف یہ ہے: ”الامام الموتم به انساناً كان يقتدى بقوله او فعله او كتابا“
(مفردات امام راغب مطبوعہ مصر ٢٢)
﴿ (از مولوی محمد علی صاحب) امام وہ ہے جس کی پیروی کی جائے خواہ انسان ہو۔ جس کے قول یا فعل کی پیروی ہو، یا کتاب۔ (بیان القرآن ج ١ ص ١١٤ نوٹ ١٥٥) امام کی جمع آئمہ ہے۔ ﴾ اس تعریف سے معلوم ہوا کہ امام کی دو صورتیں ہیں۔ امام بصورت انسان اور امام بصورت کتاب۔ امام بصورت انسان کی دو قسمیں ہیں۔ امام حق اور امام باطل امام حق وہ ہیں جو نیکی کی ہدایت کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ”وجعلناهم ائمة يهدون بامرنا واوحينا اليهم فعل الخيرات واقام الصلاة وايتاء الزكاة وكانوا لنا عابدين (انبياء:٧٣)“ اور ہم نے انہیں امام بنایا وہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی کی اور وہ ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“
امام باطل وہ ہیں جو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا: ”وجعلناهم ائمة يدعون الى النار ويوم القيامة لا ينصرون (قصص:٤١)“ اور ہم نے انہیں امام بنایا جو آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن انہیں مدد نہیں دی جائے گی۔
امامت کی پھر دو قسمیں ہیں۔
- ١...... امامت خاص اور
- ٢...... امامت عام
اول...... امامت خاص جسے امامت کبریٰ بھی کہتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کو عطاء کی گئی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا تھا: ”اني جاعلك للناس اماماً (بقرہ:١٢٤)“ یعنی ”میں ضرور تجھے لوگوں کے لئے امام بنانے والا ہوں۔“
اس امامت کے لئے دعویٰ کی بھی ضرورت ہے اور اس کا ماننا بھی فرض ہے۔ کیونکہ یہ امامت دراصل نبوت ہی ہے اور نبوت پر ایمان لانا فرض اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔ مگر چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے ساتھ ہر قسم کی نبوت اور رسالت ختم ہو چکی ہے۔ اس لئے اب نہ امامت کبریٰ کا وجود باقی ہے اور نہ اس کے دعویٰ کی گنجائش ہے بلکہ اب اگر کوئی
٦٥
شخص اس امامت (نبوت) کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے۔
دوم ...... امامت عام جس کو امامت صغریٰ بھی کہتے ہیں۔ یہ اس امت مرحومہ میں جاری ہے جو خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو عطا ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ہے: ”وَالَّذِيْنَ يَقُولُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَاماً (فرقان:٧٤)“ ﴿اور وہ جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں سے اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔﴾
اس امامت میں نہ کسی دعویٰ کی ضرورت ہے اور نہ کچھ بننے کی حاجت نہ یہ رکن ایمان ہے اور نہ اس کا انکار کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت میں اگرچہ بہت سے امام ہو گزرے ہیں مگر نہ کسی نے امامت کا دعویٰ کیا ہے اور نہ اپنے انکار کی وجہ سے کسی کو کافر کہا ہے۔ لوگوں نے خود بخود ان کی اسلامی کارگزاری اور دینی خدمات سے متاثر ہو کر اور ان میں امامت کے آثار پا کر ان کو امام تسلیم کیا ہے اور ان کی پیروی اور تابعداری کو اپنا فرض سمجھا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ حضرت امام مہدی بھی خود بخود اپنی امامت و مہدویت کا دعویٰ نہیں کریں گے بلکہ لوگ خود انہیں تلاش کر کے ان کی جبراً و قہراً بیعت کریں گے۔ چنانچہ کتابوں میں قیامت کی علامتوں کے عنوان سے یہ بھی لکھا ہے کہ ”بقیۃ السلف مسلمان مدینہ منورہ چلے آئیں گے۔ عیسائیوں کی حکومت خیبر تک جو مدینہ منورہ سے قریب ہے۔ پہنچ جائے گی اس وقت مسلمان اس تجسس میں ہوں گے کہ حضرت امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے تاکہ ان کے مصائب کے دفعیہ کا موجب ہوں اور دشمن کے پنجہ سے نجات دلائیں۔ حضرت امام مہدی اس وقت مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوں گے۔ مگر اس بات کے ڈر سے کہ مبادا لوگ مجھ جیسے ضعیف کو اس عظیم الشان کام کی انجام دہی کی تکلیف دیں مکہ معظمہ چلے آئیں گے۔ اس زمانہ کے اولیاء کرام وابدال عظام آپ کو تلاش کریں گے۔ بعض آدمی مہدویت کے جھوٹے دعوے کریں گے۔ اور اس اثناء میں کہ مہدی رکن و مقام ابراہیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے۔ آدمیوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور جبراً و قہراً آپ سے بیعت کر لے گی ۔“ (علامات قیامت ص ١٥)
اصل حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ”عن ام سلمة عن النبی ﷺ قال اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هارباً الى مكة فياتيه ناس من اهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام ...... الخ“ (مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ، فصل دوم)
٦٦
﴿حضرت ام سلمہؓ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روا (بادشاہ وقت) کے مرنے سے اختلاف واقع ہوگا پس اہل مدین گا جو مکہ کی طرف بھاگنے والا ہوگا پس اہل مکہ سے لوگ اس کے وخلافت کیلئے مقرر کریں گے اور وہ مجبور ہوگا پس لوگ حجر اسو کی بیعت کریں گے۔﴾
پس معلوم ہوا کہ اس امامت کے لئے کسی دعویٰ کی ہے وہ لالچ میں مبتلا ہے اور غلطی کرتا ہے۔ اکثر علمائے کرام وف اور مقتدائے امام ہیں اور موجب ہدایت عوام ہر صبح وشام ہیں المرام ہیں جو دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (فالحمدلله ع رہا بصورت کتاب امام ہونا ۔ سو پہلے تو تورات اما فرمایا ہے: ”وَمِنْ قَبْلِهِ كِتٰبُ مُوْسٰى اِمَاماً وَّرَحْمَةً (هو ترجمہ: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام ورحمت لیکن اب قرآن شریف امام ہے: ”وَنُنَزِّلُ مِنَ لِلْمُؤْمِنِينَ (بنی اسرائیل: ٨٢)“
جس طرح امامت کبریٰ میں انبیاء علیہم السلام شا ہیں اور جس طرح انبیاء پر ایمان لانا فرض اور ان کا انکار کفر ہ فرض اور ان کا نہ ماننا کفر ہے۔ مگر جس طرح آنحضرت ﷺ خا خاتم الکتاب السماوی ہے۔
اب حدیث کا مطلب سنو حضور نے ارشاد فرمایا ہے فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ “ یعنی جس شخص نے اپ جاہلیت کی موت مرا۔ یہ ارشاد نہایت بجا اور درست ہے۔
اس کی پہلی صورت یہ ہے کہ امامت کبریٰ کے بصورت انسان آنحضرت ﷺ ہیں اور بصورت کتاب قرآن ان کی امامت کا زمانہ قیامت تک وسیع ہے پس جس شخص نے اور مر گیا تو بے شک وہ جہالت کی موت مرا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ امامت صغریٰ کے لحا
٦٧
﴿حضرت ام سلمہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا: خلیفہ (بادشاہ وقت) کے مرنے سے اختلاف واقع ہوگا پس اہل مدینہ سے ایک آدمی (امام مہدی) نکلے گا جو مکہ کی طرف بھاگنے والا ہوگا پس اہل مکہ سے لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو (امامت وخلافت کیلئے ) مقرر کریں گے اور وہ مجبور ہوگا پس لوگ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کریں گے۔﴾
پس معلوم ہوا کہ اس امامت کے لئے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں ہے اور جو دعویٰ کرتا ہے وہ لالچ میں مبتلا ہے اور غلطی کرتا ہے۔ اکثر علمائے کرام وفضلائے عظام جو مسجدوں میں امام اور مقتدائے انام ہیں اور موجب ہدایت عوام ہر صبح وشام ہیں۔ امامت کے اس شعبہ سے فائز المرام ہیں جو دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (فالحمدللّٰه علی ذلك)
رہا بصورت کتاب امام ہونا۔ سو پہلے تو تورات امام تھی۔ جیسا کہ خداوند کریم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ومن قبله کتاب موسیٰ اماما ورحمة (هود: ١٨، احقاف: ١٢)“
ترجمہ: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام و رحمت تھی۔
لیکن اب قرآن شریف امام ہے: ”وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين (بنی اسرائیل: ٨٢)“
جس طرح امامت کبریٰ میں انبیاء علیہم السلام شامل ہیں اسی طرح یہ کتابیں بھی شامل ہیں اور جس طرح انبیاء پر ایمان لانا فرض اور ان کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کتابوں پر ایمان لانا فرض اور ان کا نہ ماننا کفر ہے۔ مگر جس طرح آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اس طرح قرآن مجید خاتم الکتاب السماوی ہے۔
اب حدیث کا مطلب سنو حضور نے ارشاد فرمایا ہے: ”من لم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية“ یعنی جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانا اور مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ یہ ارشاد نہایت بجا اور درست ہے۔
اس کی پہلی صورت یہ ہے کہ امامت کبریٰ کے لحاظ سے ہمارے لئے امام زمانہ بصورت انسان آنحضرت ﷺ ہیں اور بصورت کتاب قرآن مجید جیسا کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے اور ان کی امامت کا زمانہ قیامت تک وسیع ہے پس جس شخص نے ان کو نہ پہچانا اور ان کی پیروی نہ کی اور مر گیا تو بے شک وہ جہالت کی موت مرا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ امامت صغریٰ کے لحاظ سے امامان حق پہلے بھی بہت سے
٦٧
ہو گزرے ہیں جو نہایت کوشش اور سرگرمی سے دینی خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے جو احیائے سنت کا کام کرتے رہیں گے اور امامانِ باطل بھی ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے جو لوگوں کو پھنسانے اور گمراہ کرنے کے لئے کئی طرح کے خوش نما جال بچھاتے رہے اور بچھاتے رہیں گے۔ پس جس شخص نے امام حق اور امام باطل میں تمیز نہ کی اور بلا تمیز باطل کے پنجے میں گرفتار ہوا اور مر گیا تو بے شک وہ جہالت کی موت مرا۔ مولانا رومؒ نے اس حدیث کے مطابق ارشاد فرمایا ہے۔
پس بہر دستے نباید داد دست
یعنی اے مخاطب! بہت سے ابلیس انسان کی صورت ہیں۔ اس لئے ہر کسی کے ہاتھ میں (بلا سوچے سمجھے) ہاتھ نہیں دینا چاہئے۔ سو الحمد اللہ کہ اہل سنت والجماعت آنحضرت ﷺ کو امام زمان اور امام الانبیاء مانتے ہیں۔
امین خدا مہبط جبرائیل
اور امت کے تمام امامان حق کی دینی خدمات اور اسلامی کارگزاری کا صدق دل سے اعتراف کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائے مغفرت اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے خواستگار ہیں۔
رحمت حق بر مرداں جملہ باد
اور امامان باطل کی تمیز کر کے ان کی عیاریوں اور مکاریوں سے خود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی متنبہ کر کے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
مجدد کی بحث
اب مجدد کی بابت سنو: جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”ان الله عزوجل يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها “ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ عزوجل اس امت میں ہر صدی کے سر پر ایسا شخص بھیجے گا جو اس کے لئے اس کے دین کو تازہ کرے۔ ﴿
(مشکوٰۃ باب العلم، فصل ثانی)
٦٨
اس حدیث سے یہ تو ثابت ہے کہ اس امت میں ہوتا کہ ان کے لئے دعویٰ کرنا بھی ضروری ہے۔ اور ان کا اٹھ کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہئے۔ یہاں تک کہ لوگ خود بخود اس ”حجج الکرامہ“ میں ہے: ”ومعلوم نمی شود از این م از اہل علم وبقرائن واحوال وانتفاع بعلم او کے زمانہ کے علماء اور قرائن اور احوال اور اس کے علم سے ن گمان کریں۔
نیز حدیث میں من کا لفظ عام ہے۔ جس کا کرے گا۔ وہ ہی مجدد ہے۔ اس میں کسی زید بکر کی تخصیص مزید ہے۔ ”پس ہر عالم دیندار خدا پرست احیائے سنن و اماتت بدع فرماید و مردم را بـ مطہرہ کشد از تمسك محدثات وتعامل منکرات بر دست او دلہائے مردہ را زندہ کند و گو کور را بینا سازد وطریقۂ مرضیہ سلف ص بخشد وے مجدد دیں نبوی ومحی سنت مـ دار خدا پرست عالم اور ہر ایک عادل حق دوست امیر جو سـ لوگوں کو کتاب اللہ وسنت رسول اللہ پر عمل کرنے کی طرف پر عمل کرنے سے منع کرے اور خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ پر مـ کو سننے والے اور اندھی آنکھوں کو دیکھنے والی بنائے اور ا رواج اور رونق بخشے وہ دین نبوی کا مجدد اور سنت مصطفیٰ ﷺ
نیز من کا لفظ واحد کے لئے بھی آتا ہے اور جمع کہ مجدد صرف ایک ہی ہو بلکہ ایک وقت میں اور ایک ہی مرزائیوں کو بھی تسلیم ہے۔
حاصل کلام: امام کی طرح مجدد کے لئے بھی ضرورت بلکہ اس کے علوم ظاہری و باطنی میں کامل و مکمل ہـ کی ضرورت ہے۔ چنانچہ نواب صاحب موصوف لکھتے ہیں
٦٩
اس حدیث سے یہ تو ثابت ہے کہ اس امت میں مجدد پیدا ہوں گے۔ مگر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے لئے دعویٰ کرنا بھی ضروری ہے۔ اور ان کا انکار کفر ہے۔ بلکہ مجدد کو بلا دعویٰ خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہئے۔ یہاں تک کہ لوگ خود بخود اس کے مجدد ہونے کا انکار نہ کریں چنانچہ:
”حجج الکرامہ“ میں ہے: ”ومعلوم نمی شود این مجدد بغلبه ظن معاصرین وے از اهل علم وبقرائن واحوال وانتفاع بعلم او “ یعنی معلوم نہ ہو کہ یہ مجدد ہے۔ مگر اس کے زمانہ کے علماء اور قرائن اور احوال اور اس کے علم سے نفع پہنچنے سے (اس کے مجدد ہونے کا) گمان کریں۔
(حجج الکرامہ ص ١٣٣)
نیز حدیث میں من کا لفظ عام ہے۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص بھی دین کو تازہ کرے گا۔ وہ ہی مجدد ہے۔ اس میں کسی زید بکر کی تخصیص نہیں۔ چنانچہ حجج الکرامہ، ص ١٣٤ میں مزید ہے: ”پس هر عالم دیندار خدا پرست وهر امیر عادل حق دوست که احیائے سنن واماتت بدع فرماید ومردم را بسوئے عمل کتاب عزیز وسنت مطهره کشد از تمسك محدثات وتعامل منکرات وبدعات باز دارد خدا تعالیٰ بردست او دلهائے مرده را زنده کند وگوشہائے کورا شنوا وچشمہائے کور را بینا سازد وطریقهٔ مرضیه سلف صلحاء آئمه هدی را رواج رونق بخشد وے مجدد دیں نبوی ومحی سنت مصطفوی است “ یعنی ہر ایک دین دار خدا پرست عالم اور ہر ایک عادل حق دوست امیر جو سنت کو زندہ اور بدعت کو مردہ کرے اور لوگوں کو کتاب اللہ وسنت رسول اللہ پر عمل کرنے کی طرف کھینچے اور نئی باتوں کو پکڑنے اور نئی باتوں پر عمل کرنے سے منع کرے اور خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ پر مردہ دلوں کو زندہ کرے اور بہرے کانوں کو سننے والے اور اندھی آنکھوں کو دیکھنے والی بنائے اور اگلے بزرگوں اور اماموں کے طریقوں کو رواج اور رونق بخشے وہ دین نبوی کا مجدد اور سنت مصطفوی کا زندہ کرنے والا ہے۔
نیز من کا لفظ واحد کے لئے بھی آتا ہے اور جمع کے لئے بھی اس لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ مجدد صرف ایک ہی ہو بلکہ ایک وقت میں اور ایک ہی ملک میں بہت سے مجدد ہو سکتے ہیں اور یہ مرزائیوں کو بھی تسلیم ہے۔
(ملاحظہ ہو عسل مصفیٰ جلد اول ص ١٥٦)
حاصل کلام: امام کی طرح مجدد کے لئے بھی نہ کسی دعویٰ کی ضرورت ہے اور نہ اظہار کی ضرورت بلکہ اس کے علوم ظاہری و باطنی میں کامل و مکمل ہونے اور محی سنت وقامع بدعت ہونے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ نواب صاحب موصوف لکھتے ہیں: ”ولا بد است که عالم باشد
٦٩
بعلوم دينيه ظاهره وباطنه وناصر سنت وقامع بدعت بود“ ”یعنی مجدد کے لئے ضروری ہے کہ وہ علوم دینیہ ظاہرہ و باطنہ کا عالم اور سنت کا مددگار اور بدعت کو دور کرنے والا ہو۔“
(حج الکرامہ ص ١٣٣)
کہنے کو تو مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ ”میں مجدد ہوں ۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٩) مگر صرف زبانی دعویٰ کوئی وقعت نہیں رکھتا تا وقتیکہ کوئی کام کر کے نہ دکھایا جائے ۔ ہم نے جہاں تک مرزا قادیانی کی تعلیمات اور تصنیفات کو دیکھا ان میں احیائے سنت اور اماتت بدعت کا نام ونشان نہیں پایا۔ ہاں اپنی امامت، مجددیت ، مہدویت ، عیسویت ، نبوت ، اور الوہیت کا جابجا راگ گایا ہے جو مرزائیوں کے سوا اہل علم اور طالبان حق کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اس سے دین کو کوئی تقویت نہیں پہنچی بلکہ رخنہ اندازی اور تفرقہ بازی پیدا ہوئی ہے۔
اگر مرزائی صاحبان ضد اور تعصب سے علیحدہ ہو کر منصفانہ طور پر غور کریں تو یقینا وہ اسی نتیجہ پر نکلیں گے۔ لیکن اگر کسی مرزائی کو مرزا قادیانی کی حسن عقیدت کی بناء پر ہماری تحریر غلط معلوم ہو تو وہ مرزا قادیانی کی کوئی ایسی کتاب پیش کرے جو ان کے دعاوی کے بغیر محض دینی علوم پر مشتمل ہو ۔ جس سے سنت کی تائید اور بدعت کی تردید کی گئی ہو تو ہم اپنی تحریر واپس لے لیں گے اور اس شخص کو انعام دیں گے۔
یا دوسری صورت میں گزشتہ تیرہ سو سال کے مجددین میں سے چند مجددوں کی ایسی تصانیف پیش کرے یا ان کا نام بتا دے جس میں انہوں نے مرزا قادیانی کی طرح اپنی ہی بڑائی کا اظہار کیا ہو اور انبیاء کی توہین کرنے کے علاوہ اپنے منکرین کو کافر ، دجال ، حرام زادے، ذریۃ البغایا وغیرہ ناجائز اور نامناسب الفاظ سے مخاطب کیا ہو تو بھی ہم انعام دینے کو تیار ہیں۔
اور اگر مرزائی یہ دونوں کام نہ کرسکیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ہرگز نہ کر سکیں گے۔ ”ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا “ تو خدا تعالیٰ کے خوف اور عاقبت کے فکر سے مرزائیت کو ترک کر کے جناب سرور کائنات و فخر موجودات ﷺ کا دامن پکڑیں۔ تا کہ انجام بخیر ہو۔
تو خواہ ازاں پند گیر خواہ ملال
- سوال ہشتم ..... حضرت مسیح موعود کو مجدد ماننے سے آپ کے خیال میں ایمان پر کیا زد پڑتی ہے؟
٧٠
جواب ...... حضرت مسیح موعود کو مجدد ماننے سے ایمان پر کوئی زد بشرطیکہ وہی مسیح موعود ہوں جن کے نزول کی خبر آنحضرت ﷺ مسیح موعود سے مرزا قادیانی ہوں تو اول تو وہ مسیح موعود ہی نہیں کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔
مجدد کی تعریف ملا علی قاریؒ نے یہ لکھی ہے: ”يبيّن العلم ويعز اهله ويقمع البدعة ويكسر اهلها“ ظاہر کرے اور علم کو زیادہ کرے اور اہل علم کی عزت کرے اور توڑے۔
مگر مرزا قادیانی نے نہ تو سنت کو زندہ کیا ہے اور اہل علم کی توہین وتحقیر کرنے کے علاوہ ایسی ایسی بدعات بلکہ
مثلاً
- ١...... کسی مسلمان نے آج تک خدائی کا دعویٰ نہیں کیا
کے درجہ میں پہنچ کر محویت اور بیہوشی کے عالم میں بے اختیار اور اصرار نہیں کیا۔ بلکہ ہوش میں آکر لاعلمی کا اظہار اور تناقض ہے۔ چنانچہ مثنوی شریف میں بایزید بسطامی کا واقعہ یوں لکھ
بایزید آمد که نك یز
مریدوں کے ساتھ وہ حشمت والا فقیر بایزید آیا
لا اله الا انا فا
اس صاحب فنون نے مستی کی حالت میں ای سب میری عبادت کرو۔
تو چنیں گفتی واین
٧١
جواب ..... حضرت مسیح موعود کو مجدد ماننے سے ایمان پر کوئی زد نہیں پڑتی بلکہ ایمان تازہ ہوتا ہے۔ بشرطیکہ وہی مسیح موعود ہوں جن کے نزول کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی ہوئی ہے اور اگر آپ کی مراد مسیح موعود سے مرزا قادیانی ہوں تو اول تو وہ مسیح موعود ہی نہیں اور پھر وہ مجدد بھی نہیں ہو سکتے جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔
مجدد کی تعریف ملا علی قاریؒ نے یہ لکھی ہے: ”یبین السنة عن البدعة ویکثر العلم ویعز اهله ویقمع البدعة ویکسر اهلها“ یعنی مجدد وہ ہے جو سنت کو بدعت سے ظاہر کرے اور علم کو زیادہ کرے اور اہل علم کی عزت کرے اور بدعت کا قمع کرے اور اہل بدعت کو توڑے۔
(حجج الکرامہ ص ١٤١)
مگر مرزا قادیانی نے نہ تو سنت کو زندہ کیا ہے اور اہل علم کی عزت و توقیر کی ہے بلکہ الٹا اہل علم کی توہین و تحقیر کرنے کے علاوہ ایسی ایسی بدعات بلکہ کفریات جاری کی ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔
مثلاً
- ١...... کسی مسلمان نے آج تک خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر کسی ولی اللہ کے منہ سے فنا فی اللہ
کے درجہ میں پہنچ کر محویت اور بیہوشی کے عالم میں بے اختیار کوئی ایسا کلمہ نکل بھی گیا ہے تو اس پر فخر اور اصرار نہیں کیا۔ بلکہ ہوش میں آکر لاعلمی کا اظہار اور قائل کے واجب القتل ہونے کا اقرار کیا ہے۔ چنانچہ مثنوی شریف میں بایزید بسطامی کا واقعہ یوں لکھا ہے۔
بایزید آمد کہ نک یزدان منم
مریدوں کے ساتھ وہ حشمت والا فقیر بایزید آیا کہ دیکھو میں خدا ہوں۔
لا الہ الا انا فاعبدون
اس صاحب فنون نے مستی کی حالت میں اعلانیہ کہا میرے سوا کوئی خدا نہیں پس تم سب میری عبادت کرو۔
تو چنیں گفتی وایں نبود صلاح
٧١
جب وہ حال گزر چکا تو لوگوں نے اس مجمع کے وقت کہا تو نے ایسا کہا اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔
کاردہا در من زنید آں دم ہلہ
اس نے کہا اگر میں پھر یہ کام کروں تو چھریوں سے اسی وقت مجھے مار دینا۔
چوں چنیں گویم ببائد کشتنم
خدا تعالیٰ جسم سے پاک ہے اور میں جسم دار ہوں جب ایسا کہوں تو مجھے قتل کر دینا۔
مگر مرزا قادیانی علی الاعلان کہتے ہیں: ”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“ اور پھر بجائے اس کو کہ اس کلمہ کفر سے توبہ کرتے اس کو اپنی کتابوں میں شائع کر کے فخریہ طور پر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤ و کتاب البریہ ص ٧٨، ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٢....... کسی مسلمان نے آج تک فرشتوں کا انکار نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ:
”فرشتے نفوس فلکیہ وارواح کواکب کا نام ہے اور عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے کواکب اور سیارات کی تاثیر سے ہو رہا ہے۔“
(شمس توضیح المرام ص ٤٢، ٤٧، خزائن ج ٣ ص ٦٨، ٦٧)
- ٣....... کسی مسلمان نے آج تک قرآن مجید کی کسی آیت سے انکار نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی
نے بہت سی آیات میں تاویل اور تفسیر بالرائے سے کام لے کر انکار کی راہ پیدا کی ہے۔ چنانچہ:
- الف....... آنحضرت ﷺ کے معراج جسمی سے منکر ہو کر آیت ”سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی
بِعَبْدِہٖ لَیْلًا “ کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ ”ازالہ“ میں لکھتے ہیں کہ ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ)
- ب....... اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے آیت ”خاتم النبیین“ کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”ہمارا
دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)
- ج....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے سے انکار کر کے آیت ”بَلْ
رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ“ کا انکار کیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ٣ ص ١٢٦، ١٢٥)
- د....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے انکار کر کے آیت ”اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ
مِّنْ رَّبِّکُمْ.......اِلٰخ“ کا انکار کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات
لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ .....
- ہ....... جہاد کو حرام قرار دے کر آیات جہاد سے انکار کیا
ج ٧ ص ٧٧) پر لکھتے ہیں:
دین کے لئے حرام ہے اب جن.....
- و....... علامات قیامت کا جو بنص صریح ثابت ہیں
- ٤....... کسی مسلمان نے آج تک توہین انبیاء کا خود ارتا.....
دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی اسے اپنی کتابوں میں شائع کیا چنانچہ لکھتے ہیں۔ نقل کفر ک..... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے اور کیسی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذ..... ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو ا..... پر اپنا ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس م..... پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آ.....
(ضمیمہ .....
اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”ہم..... راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے.....
(ایضاً ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ) (نعوذ.....
اندریں حالات و بنابریں خیالات ایک ایماندار..... درکنار مسلمان جاننا بھی دشوار ہے اور اس کے مجدد ماننے ۔..... ایمان رہتا ہی نہیں۔
- سوال نہم....... احادیث صحیحہ کی رو سے آپ کے نزدیک.....
الزمان دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ کے متعلق مسلمان کو کیا ع.....
٧٣
لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ہ...... جہاد کو حرام قرار دے کر آیات جہاد سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ ( تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن
ج ١٧ ص ٧٧) پر لکھتے ہیں۔
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
- و...... علامات قیامت کا جو بنص صریح ثابت ہیں انکار کیا ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔
- ز...... کسی مسلمان نے آج تک توہین انبیاء کا خود ارتکاب کرنا تو درکنار کسی کو مرتکب ہوتے
دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی اعلانیہ توہین کی اور پھر بڑے فخر سے اسے اپنی کتابوں میں شائع کیا چنانچہ لکھتے ہیں۔ نقل کفر کفر نباشد!
”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں ان کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنا ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ )
اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(ایضاً ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ ) (نعوذ بالله من هذه الهفوات والخرافات)
اندریں حالات و بنابریں خیالات ایک ایماندار آدمی کے لئے ایسے شخص کو مجدد ماننا تو درکنار مسلمان جاننا بھی دشوار ہے اور اس کے مجدد ماننے سے نہ صرف ایمان پر زد پڑتی ہے بلکہ ایمان رہتا ہی نہیں۔
- سوال نہم ...... احادیث صحیحہ کی رو سے آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی آخر
الزمان دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ کے متعلق مسلمان کو کیا عقائد رکھنے چاہئیں؟
٧٣
جواب....... نص صریحہ و احادیث صحیحہ کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لانا دجال، یاجوج اور ماجوج کا نکلنا، مغرب سے سورج کا چڑھنا، امام مہدی کا ظہور اور دیگر علامات قیامت حق ہیں۔ ”چنانچہ ’فقہ اکبر‘ میں جو عقائد کی ایک نہایت معتبر اور مسلمہ کتاب ہے لکھا ہے: وخروج الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الاخبار الصحيحة حق كائن “ دجال اور یاجوج ماجوج کا نکلنا اور سورج کا مغرب کی طرف سے چڑھنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور قیامت کی تمام نشانیاں جو صحیح حدیثوں میں وارد ہیں، حق ہیں۔ (ان کے ساتھ ایمان رکھنا ضروری ہے)
اس کی شرح میں حضرت ملا علی قاری (جن کو مرزائیوں نے دسویں صدی کا مجدد تسلیم کیا ہے۔ دیکھو عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٥) لکھتے ہیں: ”وخروج الدجال وياجوج وماجوج كما قال الله تعالى ﴿حتى اذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون﴾ اى يسرعون وطلوع الشمس من مغربها كما قال الله تعالى ﴿يوم ياتي بعض ايت ربك لا ينفع نفساً ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت في ايمانها خيرا﴾ اى لا ينفع الكافر ايمانه فى ذلك الحين اى طلوع الشمس من المغرب ولا الفاسق الذى ما كسبت خيراً فى ايمانه توبته يعنى لا ينفع نفساً ايمانها ولا كسبها فى الايمان ان لم تكن آمنت من قبل او كسبت فيه خيراً ونزول عيسى عليه السلام من السماء كما قال الله تعالى ﴿وانه﴾ اى عيسى ﴿لعلم للساعة﴾ اى علامة القيمة وقال الله تعالى ﴿وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته﴾ اى قبل موت عيسى بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير الملل واحدة وهى ملة الاسلام الحنيفية و فى نسخة قدم طلوع الشمس على البقية وعلى كل تقدير فالواو لمطلق الجمعية والا بترتيب القضية ان المهدى يظهر اولا فى الحرمين الشريفين ثم ياتى بيت المقدس فياتى الدجال ويحصروه فى ذلك الحال فينزل عيسى من المنارة الشرقية فى دمشق الشام ويجى الى قتال الدجال فيقتله بضربه فى الحال فانه يذوب كالملح فى الماء عند نزول عيسى عليه السلام من السماء فيجتمع ٧٤
عيسى فى المهدى وقد اقيمت الصلوة فيشير الـ معللا بان هذه الصلوة اقيمت لك فانت اولى بـ ويقتدى به ليظهر متابعته لنبيناﷺ كما اشار كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعى...... الخ “
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: یہاں تک کہ سب یاجوج او ہر بلندی سے تیزی سے نکل پڑیں گے یعنی دوڑیں گے اور سـ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جس دن تیرے رب کے بعض نشان آ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی وقت میں نفع نہ دے گا یعنی سورج کے مغرب سے چڑھنے دے گی۔ جس نے اپنے ایمان میں نیکی نہیں کی یعنی کسی مـ ایمان میں اس کا کام اگر وہ اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھـ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نـ ساعت کے لئے علم ہے۔ یعنی قیامت کا نشان ہے اور اللـ پہلے قیامت کے قریب جبکہ وہ نازل ہوں گے۔ آپ کے اور وہ ملت اسلام حنیف ہوگی۔ ایک نسخہ میں سورج کا چڑھـ ہر تقدیر پر ’واؤ‘ صرف جمع کے لئے ہے۔ ورنہ ترتیب قضـ السلام حرمین شریفین میں ظاہر ہوں گے پھر وہ بیت المقدس وہ اس حال میں ان (امام) کو گھیر لے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السـ ہوں گے اور دجال سے جنگ کی طرف آئیں گے۔ اور ا گے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اتر نـ جیسے پانی میں نمک۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کے سـ مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے ہونے ( اشارہ کریں گے۔ وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ اس ہے کہ اس جگہ امام ہو اور وہ ان (امام مہدی) کے ساتھ متابعت ظاہر ہو۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی حدیـ ٧٥
عیسیٰ فی المهدی وقد اقیمت الصلوة فیشیر المهدی بعیسیٰ بالتقدم فیمتنع معللا بان هذه الصلوة اقیمت لك فانت اولی بان تکون الامام فی هذه المقام ویقتدی به لیظهر متابعته لنبیناﷺ كما اشارﷺ الی هذا المعنی بقوله لو كان موسى حیا لما وسعه الا اتباعی......الخ ”اور دجال اور یاجوج اور ماجوج کا نکلنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: یہاں تک کہ سب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے نکل پڑیں گے یعنی دوڑیں گے اور سورج کا مغرب سے چڑھنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جس دن تیرے رب کے بعض نشان آئیں گے کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی یعنی کافر کو اس کا ایمان اس وقت میں نفع نہ دے گا یعنی سورج کے مغرب سے چڑھنے کے وقت اور نہ فاسق کو اس کی توبہ نفع دے گی۔ جس نے اپنے ایمان میں نیکی نہیں کی یعنی کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا اور نہ ایمان میں اس کا کام اگر وہ اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان میں نیکی نہیں کمائی تھی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ ساعت کے لئے علم ہے۔ یعنی قیامت کا نشان ہے اور اللہ تعالیٰ نے پہلے یعنی عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے قریب جبکہ وہ نازل ہوں گے۔ آپ کے وقت میں تمام قومیں ایک ہو جائیں گی۔ اور وہ ملت اسلام حنیف ہوگی۔ ایک نسخہ میں سورج کا چڑھنا باقی (علامات) پر مقدم کیا گیا ہے اور ہر تقدیر پر ”واؤ“ صرف جمع کے لئے ہے۔ ورنہ ترتیب قضیہ اس طرح پر ہے کہ اول امام مہدی علیہ السلام حرمین شریفین میں ظاہر ہوں گے پھر وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ پھر دجال آئے گا پھر وہ اس حال میں ان (امام) کو گھیر لے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام دمشق شام میں منارہ شرقیہ سے نازل ہوں گے اور دجال کے جنگ کی طرف آئیں گے۔ اور اس کو ایک ضرب سے اس وقت قتل کریں گے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کے وقت (اس طرح) پگھل جائے گا جیسے پانی میں نمک۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کے ساتھ نماز کے لئے اکٹھے ہوں گے۔ امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے ہونے (یعنی امام بن کر جماعت کرانے) کے لئے اشارہ کریں گے۔ وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ اس نماز کی امامت تیرے حصے ہے اور تو بہتر ہے کہ اس جگہ امام ہو اور وہ ان (امام مہدی) کے ساتھ اقتداء کریں گے تاکہ ہمارے نبیﷺ کی متابعت ظاہر ہو۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ نے اپنی حدیث میں اس بات کی طرح اشارہ کیا ہے۔
٧٥
اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا ۔﴾
(شرح فقہ اکبر، ملاعلی قاری، ص ١٣٦ مطبوعہ مجتبائی، دہلی ١٣٣٠ھ)
اس کے سوا خود آنحضرت ﷺ نے علامات قیامت کے متعلق حدیث شریف میں پیش گوئی فرمائی ہے جو یہ ہے: ”عن حذيفة بن اسيد الغفاري قال اطلع النبي ﷺ علينا ونحن نتذاكر فقال ما تذاكرون قال نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى ترو قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى ابن مريم وياجوج وماجوج وثلثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس الى محشرهم“ حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہم پر جھانکا اور ہم آپس میں ذکر کرتے تھے۔ پس آپ نے فرمایا کیا ذکر کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بے شک وہ اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھو گے۔ پھر ذکر کیا دخان دھواں کا اور دجال کا اور دابۃ الارض کا اور سورج کے مغرب سے چڑھنے کا اور عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا اور یاجوج ماجوج کا اور تین خسوف کا ایک خسف مشرق کی زمین میں، ایک خسف مغرب کی زمین میں اور ایک خسف جزیرۃ العرب میں اور سب سے آخری نشان ایک آگ ہوگی جو یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو زمین محشر کی طرف ہانکے گی۔﴾
(مشکوٰۃ باب العلامات ، فصل اوّل)
علامہ ابی المنتہیٰ نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب مذکور ص ٣٦، مطبوعہ مجتبائی دہلی نومبر ١٩١٠ء) اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی بھی اس حدیث کو مانتے ہیں یا نہیں؟ سو وہ لکھتے ہیں کہ: ”دخان“ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے کچھ آخر زمانہ سے ہی خاص نہیں ہے۔“
(ازالہ اوہام طبع اول ص ٥١٦ طبع پنجم ٢١٢)
اس جگہ دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے جو سات برس تک آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں پڑا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے مردے اور ہڈیاں کھائی تھیں۔ لیکن آخری زمانہ کے لئے بھی جو ہمارا زمانہ ہے۔ اس دخان مبین کا وعدہ تھا اس طرح پر کہ قبل از ظہور مسیح نہایت درجہ کی شدت سے اس کا ظہور ہوگا۔ اب سمجھنا چاہئے کہ یہ آخری زمانہ کا قحط جسمانی اور روحانی دونوں طور سے وقوع میں آیا۔ جسمانی طور سے اس طرح کہ اگر اب سے پچاس برس گزشتہ پر نظر ڈالی جائے تو ٧٦
معلوم ہوگا جیسے اب غلہ اور ہر ایک چیز کا نرخ عام طور پر ہمیشہ کم رہتا میں کہیں نہیں پائی جاتی اور کیوں جناب؟ اب بھی لوگ مردے او روحانی طور پر صداقت اور امانت اور دیانت کا قحط ہو گیا ہے اور مکر و فر
(ازالہ ص ٥١٣، ٥١٤
- ٢...... ”دجال“ جس کے آنے کا انتظار تھا۔ یہی پادریوں کا
میں پھیل گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥
”دجال کا گدھا ریل گاڑی ہے۔“
(ازالہ اوہ
- ٣...... ”دابۃ الارض علماء اور واعظین ہیں۔“
(ازالہ اوہ
- ٤...... ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا۔ یہ معنی رکھتا ہے
ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے
(ازالہ اوہام ص١
- ٥...... ”اس جگہ درحقیقت مسیح ابن مریم کا ہی دوبارہ دنیا میں
تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہوں۔“
(ازال
- ٦...... یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ جو دنیا
سے ایک انگریز اور دوسرے روس ہیں۔ یہ دونوں قومیں بلندی سے
(ازالہ
”یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے یہ دونوں پرانی قو
(ازالہ
مراد انگریز اور روس ہیں۔“
معزز ناظرین! آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی نے سے کام لیکر کیسی صفائی سے انکار کی راہ اختیار کی ہے۔ آخر کیوں انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکان سہو و خطا ہے۔
(ازالہ اوہام ص
یعنی رسول اللہ ﷺ نے امت کے سمجھانے کے لئے بعض پیش گوئیاں بھی ظاہر فرمایا۔“
پس اسی بناء پر وہ کہتے ہیں کہ ”اگر آنحضرت ﷺ پر ٧٧
معلوم ہوگا جیسے اب غلہ اور ہر ایک چیز کا نرخ عام طور پر ہمیشہ کم رہتا ہے۔ اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کہیں نہیں پائی جاتی اور کیوں جناب؟ اب بھی لوگ مردے اور ہڈیاں کھاتے ہیں؟ (ناظم) روحانی طور پر صداقت اور امانت اور دیانت کا قحط ہو گیا ہے اور مکر وفریب اور علوم وفنون عقلیہ دخان کی طرح دنیا میں پھیل گئی ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥١٣، ٥١٤، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
- ......٢ ”دجال“ جس کے آنے کا انتظار تھا۔ یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی کی طرح دنیا
میں پھیل گیا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٩٥، ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
- ......٣ ”دجال کا گدھا ریل گاڑی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
”دابۃ الارض علماء اور واعظین ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
- ......٤ ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا۔ یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے
ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦، ٣٧٧)
- ......٥ ”اس جگہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا ہی دوبارہ دنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں ہے بلکہ خدا
تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہوں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٦١، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)
- ......٦ یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ جو دنیا کی بلند اقبال قومیں ہیں جن میں
سے ایک انگریز اور دوسرے روس ہیں۔ یہ دونوں قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کر رہی ہیں۔
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)
”یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے یہ دونوں پرانی قومیں ہیں ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)
معزز ناظرین ! آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی نے حدیث کے معنوں میں تاویل سے کام لیکر کیسی صفائی سے انکار کی راہ اختیار کی ہے۔ آخر کیوں؟ اس لئے کہ ان کا ایمان ہے کہ انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکان سہو و خطا ہے۔ (ازالۃ اوہام ص ٢٨٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) اور آپ یعنی رسول اللہ ﷺ نے امت کے سمجھانے کے لئے بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں خود اپنا غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔
(ازالۃ اوہام ص ١٧٩، خزائن ج ٣ ص ٢٠٥)
پس اسی بناء پر وہ کہتے ہیں کہ ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ
٧٧
۔ بوجہ ناموجود ہونے کسی نمونہ کے ہو بہو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما حقہ ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبیہ اور صور متشابہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قوائے کے ممکن ہے۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔"
(ازالۃ الاوہام ص ٤٨٢ وخزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
حضرات جس شخص کا یہ ایمان ہو اس کا امام اور مہدی ہونا تو درکنار مسلمان ہونا بھی دشوار ہے۔ اب خداوند کریم بحرمت رسول کریم ایسے عقائد فاسدہ و خیالات کاسدہ سے ہر مسلمان کو بچائے اور ایسے خیالات کے لوگوں سے ہٹائے۔
پس ہمارا دوستانہ مشورہ یہ ہے:
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم
خاتمہ از مؤلف
مرا بر دین احمد دار دائم شوم بر سنّتش مشغول وقائم
الٰہی ساز از لطف وکرامت شفیعم مصطفیٰ روز قیامت
زلطف تو نوشتم ایں کتابے پئے گم کشتگاں چوں آفتابے
خداوند کنش مقبول و منظور برائے خلق سازش چشمۂ نور
ازیں نفع رساں مارا بدنیا بگر دانش شفیعم روز عقبیٰ
غرض نقشے ست کزمن یاد ماند دعائے ہم کند ہر کہ بخواند
نمودم ختم ایں را اے مکرم بروز پنجشنبہ
سنش بد سیز دہ صد چار و پنجا ١٣٥٤ھ ماہ محرم
شدم فارغ ازیں الحمد اللہ
٧٨
خاتم النبیین
مرزائی حقیقت
کا اظہار
حضرت مولانا عبدالعلیم
بسم الله الرحمن الرحيم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مرزائی حقیقت
کا اظہار
حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی ؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مبسملاً وحامداً وممجداً جل وعلا ومصلياً ومسلماً محمداً سلم الله عليه وصلّى الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده ، اما بعد !
وجہ تحریر
ایک اشتہار بعنوان ”حقیقت کا اظہار“ نظر سے گزرا اگرچہ ایسی بے سروپا عامیانہ تحریر کے جواب کی نہ مجھے فرصت نہ حقیقتاً اس کی کوئی اشد ضرورت۔ مگر محض بدیں نیت کہ مبادا کوئی سادہ لوح اس تحریر کے سبب غلط فہمی کا شکار ہوجائے۔ امر واقعہ کے اظہار کی ضرورت ہوئی۔ مشتہر صاحب وہی بزرگ ہیں جنہوں نے ”روز بل سینما“ کے مرزائی جلسے میں یہ بیان فرمایا تھا کہ انہوں نے میرے نام کوئی خط لکھا ہے جس میں مجھ کو مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔ میں بعض ثقہ حضرات کی اس روایت کی بناء پر منتظر تھا کہ وہ خط میرے پاس آئے تو چیلنج دینے والے صاحب پر ان کی خواہش کے مطابق بذریعہ مناظرہ بھی اتمام حجت کردوں۔ مگر آج تک ان کے اس خط کے انتظار ہی انتظار میں رہا۔ اب اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ بھی لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنی بڑائی جتانے کے لئے ایک لغو حرکت تھی۔ جب ان کے مقتدئی جناب مرزا قادیانی ، حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مناظرہ دینے اور ان کو مباہلہ پر مجبور کرنے کے باوجود لاہور نہ پہنچے اور بہانہ بازیاں کیں۔ مولوی ثناء اللہ کو پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان بلایا اور منہ نہ دکھایا تو چیلے کے لئے اتنا جھوٹ بولنا کیا دشوار تھا۔ میں نے ”مارشس“ میں آتے ہی اعلان کردیا تھا کہ جو شخص جس دینی مسئلہ کو سمجھنا چاہے میرے پاس ”جامع مسجد پورٹ لوئس“ میں دس (١٠) بجے صبح سے چار (٤) بجے سہ پہر تک کسی وقت آئے اور سمجھ جائے چنانچہ بمنہ تعالیٰ اس عرصے میں روزانہ آنے والوں اور مسائل سمجھنے والوں کا اس قدر ہجوم رہا کہ مجھ کو خواب و خور کی بھی فرصت بدقت ملتی تھی۔ اسی سلسلے میں بہت سے مرزائی بھی آئے اور الحمدللہ کہ جو آئے میرے پاس سے نہ صرف لاجواب ہوکر بلکہ اطمینان پاکر ہی گئے ان میں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی وہ الحمدللہ تائب ہوکر جماعت مسلمین میں شامل ہوئے۔
روشن بھنو نامی ایک شخص نے یہ پیام بھیجا کہ وہ مع اپنے قریبی رشتہ دار اور چھ سات آدمیوں کے مجھ سے مل کر بعض مسائل کو سمجھنا چاہتا ہے اور اگر اس کا اطمینان خاطر ہوجائے تو مرزائیت سے تائب ہونے کے لئے تیار ہے اپنی بعض مصالح کے سبب جامع مسجد میں آنا نہیں ٢
چاہتا بلکہ ترودودوس میں جناب حاجی وزیر علی صاحب کے مکان مشاغل کثیرہ یہ زحمت بھی گوارہ کی اور تقریباً تیس ٣٠ میل کا سفر کرکے بجائے چھ سات کے پچاس ساٹھ آدمیوں کے ساتھ موجود تھا۔ میں جو دریافت کرنا ہے۔ پوچھو۔ اس نے کہا میں خود کچھ نہیں دریافت ہمارے حافظ صاحب (انہی مشتہر صاحب) سے مناظرہ کریں اور ہم میں نے جواب دیا کہ یہ آپ کی خواہش ہے مگر وہ آپ کیلئے تیار ہیں یا نہیں؟ اس لئے کہ میں تو عرصہ سے ان کے خط کے نے جلسہ ”روز بل سینما“ میں اعلان فرمایا تھا۔ میں آپ کی خواہش لئے بھی تیار ہوں بشرطیکہ وہ اپنا دستخطی اقراری خط میرے پاس بھیجیں پر کن شرائط کے ساتھ کس وقت اور کہاں مناظرہ فرمانا چاہتے ہیں؟ شرائط پر غور کروں گا اور جب میری اور ان کی باہم رضامندی سے طے ہو جائیں گے تو ان شرطوں کے مطابق مناظرہ کرلوں گا تاکہ ا سامنے آجائے۔ اس کے جواب میں بھنو نے کہا کہ بہت اچھا آپ میں انہی کی دستخطی اقراری چٹھی جس میں سب شرطیں وغیرہ لکھی ہوں بھنو نے اس بات پر قسم بھی کھائی اور اس وقت رخصت ہوا۔ لیکن کئی آئی تھی نہ آئی۔ اس دوران میں کسی شخص عبدالرحیم اور بھنو نے مجھے ک ہمارے حافظ صاحب سے مناظرہ کے لئے آئیے۔ میں نے اس ب خط کو ردی سمجھ کر پھینک دیا تھا مگر میرے بعض احباب نے مناسب س شاید کے وہ بھول گیا ہو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ بذریعہ رجسٹری الفاظ یاد دلائے اور یہ بھی جتا دیا کہ اگر تم اپنے حافظ صاحب کی تحر (مدعی سست گواہ چست) تمہارے حافظ صاحب مناظرہ سے گر ان تحریروں کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔
بالآخر برادر دینی اور رفیقی شیخ عبدالرحیم صاحب کے مک بڑے قبیلے کے مرزائیت سے تائب ہوئے ہیں۔) میں نے اپنے رقعہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اب میں عنقریب اس جزی مزید اتمام حجت کے لئے تمام مرزائیوں کو یہ سنا دینا چاہتا ہوں کہ ٣
چاہتا بلکہ تردد کروں وہیں جناب حاجی وزیر علی صاحب کے مکان پر آسکتا ہوں میں نے باوجود مشاغل کثیرہ یہ زحمت بھی گوارہ کی اور تقریباً تیس ٣٠ میل کا سفر کر کے وہاں بھی پہنچا روشن بھنو وہاں بجائے چھ سات کے پچاس ساٹھ آدمیوں کے ساتھ موجود تھا۔ میں نے اس سے کہا بسم اللہ تمہیں جو دریافت کرنا ہے پوچھو۔ اس نے کہا میں خود کچھ نہیں دریافت کرتا بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے حافظ صاحب (انہی مشتہر صاحب) سے مناظرہ کریں اور ہم سنیں اور فیصلہ کریں۔
میں نے جواب دیا کہ یہ آپ کی خواہش ہے مگر وہ آپ کے حافظ صاحب بھی مناظرہ کیلئے تیار ہیں یا نہیں؟ اس لئے کہ میں تو عرصہ سے ان کے خط کے انتظار میں ہوں جس کا انہوں نے جلسہ ”روزمل سینما“ میں اعلان فرمایا تھا۔ میں آپ کی خواہش کے مطابق ان سے مناظرہ کے لئے بھی تیار ہوں بشرطیکہ وہ اپنا دستخطی اقراری خط میرے پاس بھیجیں جس میں یہ لکھیں کہ کن مسائل پر کن شرائط کے ساتھ کس وقت اور کہاں مناظرہ فرمانا چاہتے ہیں؟ ان کا خط آنے کے بعد میں ان شرائط پر غور کروں گا اور جب میری اور ان کی باہم رضا مندی سے شرائط مناظرہ تحریری طور سے طے ہو جائیں گے تو ان شرطوں کے مطابق مناظرہ کرلوں گا تا کہ ایک فیصل کن صورت آپ کے سامنے آجائے۔ اس کے جواب میں بھنو نے کہا کہ بہت اچھا آپ اپنی اس بات پر پکے رہیں کہ میں انہی کی دستخطی اقراری چٹھی جس میں سب شرطیں وغیرہ لکھی ہوں گی آپ کو خود پہنچاؤں گا۔ غالباً بھنو نے اس بات پر قسم بھی کھائی اور اس وقت رخصت ہوا۔ لیکن کئی ماہ گزر گئے آج تک وہ تحریر نہ آنی تھی نہ آئی۔ اس دوران میں کسی شخص عبدالرحیم اور بھنو نے مجھے لکھا کہ آپ فلاں جگہ فلاں وقت ہمارے حافظ صاحب سے مناظرہ کے لئے آئیے۔ میں نے اس کے اس وعدے کے بعد ایسے لغو خط کو ردی سمجھ کر پھینک دیا تھا مگر میرے بعض احباب نے مناسب سمجھ کر اس کو اس کا وعدہ یاد دلائیں شاید کہ وہ بھول گیا ہو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ بذریعہ رجسٹر ڈ خطوط اس کو اس کے وعدے کے الفاظ یاد دلائے اور یہ بھی بتا دیا کہ اگر تم اپنے حافظ صاحب کی تحریر نہ بھیجو گے تو یہ سمجھا جائے گا کہ (مدعی سست گواہ چست) تمہارے حافظ صاحب مناظرہ سے گریز کرتے ہیں۔ مگر ان احباب کی ان تحریروں کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔
بالآخر برادر دینی اور یقینی شیخ عبدالرحیم صاحب کے مکان پر (جو اس سلسلے میں مع اپنے بڑے قبیلے کے مرزائیت سے تائب ہوئے ہیں۔) میں نے اپنے دوران وعظ میں اس کل مضمون اور رقعہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اب میں عنقریب اس جزیرے سے روانہ ہونے والا ہوں۔ مزید اتمام حجت کے لئے تمام مرزائیوں کو یہ سنا دینا چاہتا ہوں کہ اگر ان کے حافظ صاحب اپنے
٣
اعلان کے مطابق مجھ سے مناظرہ کرنا چاہتے ہیں تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر وہ موجودہ خط میرے پاس بھیجیں اور مناظرہ کر لیں ورنہ ان کے اس جھوٹ کا سب پر اظہار اور ان کا مناظرہ سے فرار عالم آشکار ہو جائے گا۔ میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ مرزائی احاطے کی دیوار کے پیچھے سے کسی پردہ نشین نے یہ بانگ بے ہنگام بلند کی کہ آپ جو کہہ رہے ہیں لکھ کر ہمارے پاس بھیج دیجئے تب ہم شرائط مناظرہ وغیرہ سب لکھ کر بھیجیں گے۔ میں نے اس کے جواب میں فوراً للکار کر کہا کہ یہ پردے کے پیچھے کون بولتا ہے؟ جس کو بولنا ہو سامنے آئے اور تمیز کے ساتھ جو بات کہنی ہو کہے۔ میری اس للکار کے بعد وہ آواز بند ہوگئی۔ بعض تجربہ کار احباب نے بعد جلسے بتایا کہ وہ آواز حافظ صاحب موصوف کی ہی تھی پھر میں نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں حجت کے ساتھ دین حق کی تبلیغ کر رہا ہوں مجھے ضرورت نہیں کہ کسی کو مناظرہ کا چیلنج دوں۔ ہاں اگر کوئی مجھ سے مناظرہ کرنا چاہے تو میں بسر و چشم اس کے لئے تیار ہوں۔ اگر مرزائیوں کو تحریری چیلنج دو تو مجھے چاہئے کہ عیسائی، بدھسٹ، سناتنی، آریہ سب کو ایسی ہی تحریر بھیجوں ورنہ ان کو باتیں بنانے کا موقع ملے گا اس کے بعد میں چوبیس گھنٹے تک مرزائی حافظ صاحب کی تحریر کا منتظر رہا لیکن چوبیس گھنٹے کجا آج تک نہ وہ خط ہے نہ اس کی کوئی خبر۔
مناظرے سے مرزائی حافظ صاحب کا فرار اظہر من الشمس ہو گیا اور شاید خود ان کے فرقے کے لوگوں نے ان کو ان کے جھوٹے وعدے اور جھوٹے اعلان پر پھر میری تقریر کے دوران میں بولنے اور میرے بلانے کے باوجود سامنے نہ آنے پر شرمندہ کیا ہوگا اور ان کو یہ فکر دامن گیر ہوئی ہوگی کہ کہیں لگی لگائی روزی ہاتھ سے نہ جاتی رہے اس لئے اب قادیانی فنڈ کی آمدنی بھی برادرم شیخ عبدالرحیم کے تائب ہونے کے بعد کم ہوگئی تو مجبور ہو کر جناب حافظ صاحب نے اشک شوئی کے لئے وہی اشتہار بازی کا طریقہ اختیار کیا جو ہمیشہ مرزا قادیانی اور ان کے پیروؤں کا شعار رہا ہے تاکہ ادھر اشتہار کی سرخی میں میرا نام ہونے کے سبب ان کا اشتہار فروخت ہو آمدنی کی صورت نکلے اور ادھر مرزائیوں کو تسلی دینے کا بھی موقع ملے کہ ہم نے اور کچھ نہیں تو بے سروپا اشتہار ہی دے دیا۔ ان کو یہ تو یقین ہے کہ مسلمان ”مارشس“ کے پاس کوئی اردو کا پریس نہیں۔ کاتب نہیں، پتھر نہیں، پھر جواب چھاپیں گے تو کیونکر؟ پھر میرے متعلق بھی یہ یقین ہو گیا کہ پابہ رکاب ہوں اور عدیم الفرصت۔ لہذا اس موقع کو غنیمت جان کر اشتہار چھاپا کہ اس بہانے سے مرزائیوں پر رعب جم جائے اور یہ کہنے کا موقع ملے کہ دیکھو ہمارے اشتہار کا کسی نے جواب نہ دیا۔ مگر انہیں معلوم ہو جانا چاہئے کہ الحمد اللہ خدام دین خاتم النبیین ﷺ ہر خدمت دین کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے ہیں چنانچہ ان کی تحریر کا جواب بھی حاضر ہے۔ وهو هذا
٤
١...... مرزائی حقیقت کا اظہار
میں یقیناً اسی اصول حکمت سے کام لے کر جس کی بد محبت کے ساتھ بے دینوں کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں اور بصد تعا کرتا ہوں نہ کسی کا دل دکھاتا ہوں جس کا عملی ثبوت اسی سے مل پبلک جلسے میں جہاں میں نے تقریر کی ہمیشہ کثرت کے ساتھ غیر م اور ہر فرقے کے افراد میرے طرز کلام کی داد دیتے ہوئے رخصت جلسے میں تو ایک پادری صاحب نے بے ساختہ ایسی بینظیر مختصراً قریب تر ہونے پر دلالت کر رہی تھی۔ دوسرے ایک انگریز رئیس تقریر کی داد دیتے ہوئے اس کی تائید کی۔ نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ وقت تک تقریباً پچاس آدمی مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ ہاں جا والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی حافظ صاحب پر شاق۔ تو اس کام نے تو ہرگز ہرگز کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ ہاں جب مرزائیوں کی ط خبر گرما گرمی کے ساتھ مشہور کی گئی تو مجبور ہوا کہ کھلے طور پر لوگو کر دوں۔ اس سلسلے میں بھی جو الفاظ حافظ صاحب کو گراں گزر قادیانی کے ہی کلمات ہیں۔ میں صرف ان کا دہرانے والا ہوں
- ١...... محمدی بیگم سے نکاح اور اس کے شوہر کے انتقال
قادیانی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
- الف...... ”اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہو
گا۔“
(ضمیمہ
- ب...... ”یہ تمام امور جو انسانی طاقت سے بالاتر ہ
کے لئے کافی ہیں۔“
(شہادت
- ج...... ”اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں
)
- د...... ”برائے صدق خود یا کذب خود
یہ ظاہر ہے، دنیا کو معلوم ہے کہ یہ پیش گوئی پوری
٥
١...... مرزائی حقیقت کا اظہار
میں یقیناً اسی اصول حکمت سے کام لے کر جس کی ہدایت قرآن حکیم نے فرمائی بہت محبت کے ساتھ بے دینوں کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں اور بحمدہ تعالیٰ کامیاب ہوتا ہوں نہ کسی پر حملہ کرتا ہوں نہ کسی کا دل دکھاتا ہوں جس کا عملی ثبوت اسی سے مل سکتا ہے کہ جزیرہ بھر کے ہر اس پبلک جلسے میں جہاں میں نے تقریر کی ہمیشہ کثرت کے ساتھ غیر مسلم حضرات شرکت فرماتے رہے اور ہر فرقے کے افراد میرے طرز کلام کی داد دیتے ہوئے رخصت ہوئے حتیٰ کہ ڈاگواٹے کے ایک جلسے میں تو ایک پادری صاحب نے بے ساختہ ایسی بینظیر مختصر تقریر فرمائی جو ان کے اسلام سے قریب تر ہونے پر دلالت کر رہی تھی۔ دوسرے ایک انگریز رئیس نے بہت مناسب الفاظ میں طرز تقریر کی داد دیتے ہوئے اس کی تائید کی۔ نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ انہی تقریروں سے متاثر ہو کر اس وقت تک تقریباً پچاس آدمی مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ ہاں چونکہ کفر مرزائیت سے تائب ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی حافظ صاحب پر شاق۔ تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں۔ میں نے تو ہرگز ہرگز کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ ہاں جب مرزائیوں کی طرف سے مناظرہ کی چٹھی کی جھوٹی خبر گرما گرمی کے ساتھ مشہور کی گئی تو مجبور ہوا کہ کھلے طور پر لوگوں کو مرزائیت کی حقیقت سے آگاہ کر دوں۔ اس سلسلے میں بھی جو الفاظ حافظ صاحب کو گراں گزر سکتے ہیں وہ میرے نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی کے ہی کلمات ہیں۔ میں صرف ان کا دہرانے والا ہوں۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے۔
- ١...... محمدی بیگم سے نکاح اور اس کے شوہر کے انتقال کی پیش گوئی کے متعلق جناب مرزا
قادیانی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
- الف...... ”اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں
گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
- ب...... ”یہ تمام امور جو انسانی طاقت سے بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت
کے لئے کافی ہیں۔“
(شہادت القرآن ص ٧٥، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
- ج...... ”اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہو گی اور میری موت آجائے گی۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
- د...... ”برائے صدق خود یا کذب خود معیاری گردانم“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
یہ ظاہر ہے، دنیا کو معلوم ہے کہ یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اس نکاح کی حسرت اور اپنی
٥
مطلوبہ کا داغ مفارقت مرزا قادیانی دل ہی میں لے کر مر گئے۔ پس اب مرزائی صاحبان ہی فیصلہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق بد سے بدتر کاذب اور جھوٹے بنے یا نہیں؟
- ٢...... پھر ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے جب مرزائیت سے توبہ کرنے کے بعد یہ پیش گوئی
فرمائی کہ: ”صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا یعنی تین سال کے اندر میرے سامنے مرزا قادیانی مرجائیں گے۔“
(اعلان الحق ١٢/ جولائی ١٩٠٦ء)
اس کے جواب میں جناب مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مجریہ ١٦/ اگست ١٩٠٦ء میں تحریر فرمایا کہ خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھائے گا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ شریر اور مفتری کے سامنے صادق اور مصلح فنا ہو جائے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں کہ عبدالحکیم خان کی پیش گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩)
دنیا کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی اس پیش گوئی کی میعاد یعنی ٢٦/ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ کی اس وبائی بیماری میں جو بقول مرزا قادیانی ان کے مخالفوں کے لئے بصورت عذاب آئی تھی خود مبتلا ہوئے۔ (لاہور میں مرے اور قادیان میں دفن کئے گئے)
اب فیصلہ حافظ صاحب اور ان کے رفقاء ہی فرمائیں کہ مرزا قادیانی بقول خود میعاد پیش گوئی کے اندر ذلت اور لعنت کی موت سے مرے اور ان کے مرنے سے صادق اور کاذب کا فرق ظاہر ہوا یا نہیں؟ میں نے اپنی طرف سے کبھی ان کی شان میں کبھی کوئی سخت کلمہ نہ استعمال کیا اور نہ یہ میری عادت ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے ان جملوں میں ان پر سخت سے سخت حملے ہیں تو ان کے ذمے دار خود مرزا قادیانی ہیں نہ کہ میں۔ اگر کوئی مرزائی ان سے کسی طرح جواب طلب کر سکتا ہے تو ضرور کرلے، میرے حقیقی اعتراض یا بقول حافظ صاحب سخت سے سخت حملے اگر تھے تو یہی۔ مگر میں نے حافظ صاحب کی (نمبر اول) یک رخی دو ورقی اور (نمبر دو) دو رخی دو ورقی کو اول سے آخر تک پڑھا۔ ان اعتراضوں کا جواب کہیں بھی نظر نہیں آیا ہاں میری تقریر کے بعض حصص پر اپنی کج فہمی کے سبب قطع و برید کرتے ہوئے اپنے خیال ناقص کا اظہار فرمایا ہے اور جو سوالات اس میں کئے اور جو توجیہیں بیان کیں ان میں صرف اپنے مرزائی سرغناؤں کی نقالی کی ہے جس کے جواب علمائے اسلام کی طرف سے بارہا دیئے جاچکے ہیں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکے۔ تاہم شاید مارکیٹ کے لوگوں کی نظر سے کمتر گزرے ہوں۔ لہٰذا یہ دیکھتے ہوئے کہ حافظ صاحب کی تحریر طویل میں بار بار ایک ہی بات کا تکرار ہے۔ مختلف عنوانوں کے ماتحت مختصراً عرض کئے دیتا ہوں شاید کہ اس سے بھی کوئی ہدایت پاجاوے۔
٦
وما توفيقي الا بالله عليه توكلت وا
میں نے ابتدائے کلام ہی میں یہ کہہ دیا تھا کہ جماعت حق انا عليه واصحابی ایک ہی راہ ہے۔ حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی پر چلنے والے ہیں اور یہی وہ سواد اعظم ہے جس کے لئے ارشاد گر فانه من شذ شذ في النار (رواہ ابوداؤد) تم سواد اعظم کی پیرو ہوا، جہنم میں گیا۔ اسی سواد اعظم کو حضور ﷺ نے جماعت فرمایا اور ار قال) امتى على ضلالة ويد الله على الجماعة ومن ش اللہ میری امت کو (یا یوں فرمایا) کہ امت محمد ﷺ کو گمراہی پر جمع نہ کر ہے اور جو علیحدہ ہوا جہنم میں گیا۔
اب اگر مرزائی اجماع امت کے خلاف نئے نئے عق و جماعت مسلمین سے الگ ہوں تو وہ اپنا مقام دیکھ لیں۔ حدیث ک والا انسان بھی اتنی سی بات کو سمجھ سکتا ہے۔ کہ جماعت کا لفظ تیس کر آسکتا ہے یا گنے چنے چند مرزائی افراد پر؟
حديث العلماء ورثة الانبياء میں بھی اس سوادِ یہاں وہ بے علم مدعیان علم ہیں۔ جو اس سواد اعظم سے الگ ہوئے اور پھیلاتے ہوئے اپنی اپنی ٹکڑیاں بناتے ہیں۔ شر من تحت حدیث کے مصداق صحیح حافظ صاحب کو تلاش کرنے کی ضرورت نہی ان سے ملاقات فرماسکتے ہیں۔ میں نہ کوئی نئی راہ بتاتا ہوں نہ نیا دی بتاتا ہوں ، صرف اُسی ما انا عليه واصحابی والی راہ کی طر کہ قرآن کریم وحدیث شریف کے معانی میں مدعیان الہام کے بجائے بلکہ ان کے وہی معنی سمجھے جائیں جو حضور خاتم النبیین ﷺ ن اور انہوں نے تسلسل ہم تک پہنچائے۔
حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ”انبیاء کے وارث علماء کوئی تشریح فرماتے ہیں کہ ملہم آدمی خدا سے علم پا کر بولتا ہے اور اس کی مجددین ملہمین ہیں نہ کہ عام مولوی۔ یہ حافظ صاحب کی خود رائی ہ ذکر نہ حدیث شریف میں اس کا بیان۔ الف لام کے متعلق یہ تو تحری
٧
وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب
میں نے ابتدائے کلام ہی میں یہ کہہ دیا تھا کہ جماعت حقہ اسلام میں کوئی تفرقہ نہیں ما انا عليه واصحابی ایک ہی راہ ہے۔ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی فرقے نہیں، سب اسی ایک راہ پر چلنے والے ہیں اور یہی وہ سواد اعظم ہے جس کے لئے ارشاد کہ اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار (رواہ ابوداؤد) تم سواد اعظم کی پیروی کرو کیونکہ جو اس سے علیحدہ ہوا، جہنم میں گیا۔ اسی سواد اعظم کو حضور ﷺ نے جماعت فرمایا اور ان الله لا يجمع امتى (او قال) امتى على ضلالة ويد الله على الجماعة ومن شذ شذ فی النار۔ فرمایا یقیناً اللہ میری امت کو (یا یوں فرمایا) کہ امت محمد ﷺ کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو علیحدہ ہوا جہنم میں گیا۔
اب اگر مرزائی اجماع امت کے خلاف نئے نئے عقیدے تراش کر اس سواد اعظم و جماعت مسلمین سے الگ ہوں تو وہ اپنا مقام دیکھ لیں۔ حدیث میں بتا دیا گیا ہے۔ معمولی عقل والا انسان بھی اتنی سی بات کو سمجھ سکتا ہے۔ کہ جماعت کا لفظ تیس کروڑ انسانوں کے گروہ پر صادق آسکتا ہے یا گنے چنے چند مرزائی افراد پر؟
حديث العلماء ورثة الانبیاء میں بھی اس سواد اعظم کے علماء کی شان کا اظہار۔ ہاں وہ بے علم مدعیان علم ہیں۔ جو اس سواد اعظم سے الگ ہوئے اور ذاتی اغراض کے لئے شرارتیں پھیلاتے ہوئے اپنی اپنی ٹکڑیاں بناتے ہیں۔ شر من تحت اديم السماء کہلائے۔ اس حدیث کے مصداق صحیح حافظ صاحب کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، مرزائی فرقہ میں بآسانی وہ ان سے ملاقات فرما سکتے ہیں۔ میں نہ کوئی نئی راہ بتاتا ہوں نہ نیا دین سکھاتا ہوں نہ اپنا کوئی نیا فرقہ بناتا ہوں، صرف اسی ما انا عليه واصحابی والی راہ کی طرف بلاتا ہوں اور یہی سکھاتا ہوں کہ قرآن کریم وحدیث شریف کے معانی میں مدعیان الہام کے خود تراشیدہ الہام کو دخل نہ دیا جائے بلکہ ان کے وہی معنی سمجھے جائیں جو حضور خاتم النبیین ﷺ نے سمجھے اور اپنے صحابہ کو سمجھائے اور انہوں نے بتسلسل ہم تک پہنچائے۔
حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ”انبیاء کے وارث علماء کوئی خاص لوگ ہیں ۔“ اور پھر اس کی تشریح فرماتے ہیں کہ ملہم آدمی خدا سے علم پا کر بولتا ہے اور اس کی مزید توضیح کہ العلماء سے مراد مجددین ملہمین ہیں نہ کہ عام مولوی۔ یہ حافظ صاحب کی خود رائی ہے، نہ کہیں قرآن کریم میں اس کا ذکر نہ حدیث شریف میں اس کا بیان۔ الف لام کے متعلق یہ تو تحریر فرمایا کہ اسی بات کو ظاہر کرتا ہے
٧
مگر یہ نہ لکھا کہ کیوں؟ اگر صرف نحو پڑھی ہوتی۔ اقسام الف لام کا علم ہوتا تو لکھتے کہ الف لام کیسا ہے؟ اگر عربی تک نہیں پڑھی تو اب تو اردو زبان میں بھی عربی صرف نحو کی کتابیں چھپ گئی ہیں۔ انہی میں دیکھ لیا ہوتا۔ پھر کہیں کتاب وسنت کا یہ حوالہ بھی دیا ہوتا کہ بعد خاتم النبیین ﷺ کسی مدعی الہام کا الہام حجت شرعی بھی بنے۔
مجددین اور الہام
مجدد کی حدیث حافظ صاحب نے تحریر تو فرمائی۔ اس کے الفاظ کی ترتیب میں ایسا بیہودہ تصرف بھی کیا اور لکھا کہ رأس مائۃ کل سنۃ جس کی غلطی ایک ادنیٰ متعلم عربی بھی بتا دے۔ مگر معنی میں کچھ تصرف کر کے بھی یہ نہ دکھایا کہ وہ مجدد ملہم ہوں گے اور ان کا علم شرعی حجت بھی ہوگا۔
پھر تعجب کہ اس دو ورقی کی چند سطروں ہی میں اتنا اتنا تناقض
- اول ...... لکھتے ہیں کہ العلماء سے وہ لوگ مراد ہیں جو معرفت الہیٰ کا کامل علم رکھتے ہیں۔
- دوم ...... کامل معرفت صرف الہام سے ہوتی ہے۔ ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ العلماء سے وہ لوگ مراد ہیں
جن کو الہام ہوتا ہے یعنی جنہیں الہام نہیں ہوتا وہ العلماء میں داخل نہیں اور انبیاء کے صحیح وارث نہیں۔
- سوم ...... پھر آگے چل کر فرماتے ہیں کہ جو مولوی ان الہام پانے والے مجددین کے ساتھ شامل
ہوں گے وہ بھی ان مجددین کے طفیل صحیح علم کے وارث ہوں گے۔ یعنی بغیر الہام کے صرف مجددوں کے طفیل میں بھی صحیح علم کے وارث ہو جائیں گے۔
ذرا اپنے جملوں پر نظر ڈالیے کہ ایک دوسرے کا الٹا ہے یا نہیں؟
پھر تعجب اور سخت تعجب ہے کہ مجددین کے ساتھ شامل ہونے اور مجددین کے طفیل سے تو
١؎ آپ الف لام عہد ذہنی کا مراد لے سکتے ہیں تو ظاہر ہے اس کا معہود علماء دین مصطفیٰ ﷺ ہیں کیونکہ وہ بین المتکلم والسامع متعین ومعروف ہیں اور وہی وارث ہو بھی سکتے ہیں۔ کیونکہ وارث اس کو کہتے ہیں جو اپنے مورث کا ترکہ پائے اور حضور ﷺ کا ترکہ علم دین ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے تو یقیناً وارث کے مصداق علماء دین ہوئے اس کا انکار حدیث زیر بحث کی تحریف اور حدیث لا نورث دينارا ولا درهما کا انکار ہے اور ملہمین تو کسی طرح مراد ہو ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ وہ مسبوق الذکر نہیں جو معہود خارجی قرار دیئے جاسکیں۔ نہ سامع ومتکلم کے درمیان معروف ومعہود کہ بطریق عہد ذہنی مراد ہو سکتے۔ یہ کہاں کی صدائے بے ہنگام اور تحریف باطل اور ملہمین وارث کا مصداق بھی نہیں ہو سکتے کہ نئے الہامات نبوت کا ترکہ کب ہیں؟ حضور ﷺ کا ترکہ تو کتاب وسنت ہے جیسا کہ خود حدیث شریف میں وارد ہوا۔
٨
صحیح علم کے وارث ہو جائیں اور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ شامل ہونے اور ان صاحب وحی و کتاب کے طفیل ان کے بعد بھی صحیح علم کے وارث نہ بنیں اور العلماء میں داخل نہ ہوسکیں!
آیت قل هذه سبيلي ادعوا الى الله على بصيرة
پیش کرتے ہوئے اس کا من گھڑت ترجمہ کرنا اور من اتبع ہوئے بارہ سو برس کے لئے تبلیغ کے دروازہ کو بند سمجھنا۔ اس لئے کہ یہ دعویٰ نہ کیا کہ میرا الہام حجت شرعی ہے اس کو مانو اور جو اس کو نہ صاحب اس لئے کوئی عالم بھی صحیح علم کا وارث نہ بنا اور حق پر نہ رہا مسلمان ہوئے بقول حافظ صاحب وہ بھی حق پر نہ ہوئے۔ غرض کے حق پر ثابت کرنے کے لئے حافظ صاحب کا بارہ سو برس کے نہ ہونے کا حکم لگا دینا اور صرف مرزائی مبلغین کو اس کا مصداق لئے سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہورہا ہے کہ جس نے قرآن کی تف کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ مرزائی صاحبان آریوں اور عیسا مرزا قادیانی کے زمانہ اور اس کے بعد کے مسلمانوں پر خود مرزا صاحبزادہ نے کفر کا حکم لگایا تھا۔ صاحبزادے کے شاگرد حافظ اور انہوں نے پہلوں پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ حافظ صاحب نے جہالت کا یہ عالم ہے کہ مذکر ومؤنث کی تمیز نہیں، طائفۃ کے لئے شریف میں خیانت اور بددیانتی اس درجہ دجل وفریب کا یہ حال مطلب کو خواہ مخواہ ثابت کرنے کے لئے نقل کر دیا۔ بعض کو ما یہی طریقہ ہے کہ اول وآخر کو لکھا ہی نہیں۔ اس لئے کہ ان جملوں جاتا اور مدعیت نبوت کا کذاب ہونا حدیث نبوی ﷺ سے ظاہر ہیں۔ ”سیکون فى امتی کذابون ثلاثون کلهم النّبیین لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على من خالفهم حتی یاتی امر الله
(مسلم، ترمذی، ابوداؤد)
ہونے والے ہیں ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی
٩
صحیح علم کے وارث ہو جائیں اور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی صراط مستقیم پر چلنے میں ان کے ساتھ شامل ہونے اور ان صاحب وحی و کتاب کے طفیل ان سے صحیح علم بہ تسلسل روایت لینے کے بعد بھی صحیح علم کے وارث نہ بنیں اور العلماء میں داخل نہ ہو سکیں اور خطرے میں رہیں۔
آیت قل هذه سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرہ انا ومن اتبعنی کو پیش کرتے ہوئے اس کا من گھڑت ترجمہ کرنا اور من اتبعنی کو صرف صحابہ تک محدود کرتے ہوئے بارہ سو برس کے لئے تبلیغ کے دروازہ کو بند سمجھنا۔ اس لئے کہ اس عرصہ دراز میں کسی مجدد نے یہ دعویٰ نہ کیا کہ میرا الہام حجت شرعی ہے اس کو مانو اور جو اس کو نہ مانے گا وہ کافر ہوگا۔ بقول حافظ صاحب اس لئے کوئی عالم بھی صحیح علم کا وارث نہ بنا اور حق پر نہ رہا تو ان کے تبلیغ دین کرنے سے جو مسلمان ہوئے بقول حافظ صاحب وہ بھی حق پر نہ ہوئے۔ غرض اس طرح صرف مرزائی جماعت کے حق پر ثابت کرنے کے لئے حافظ صاحب کا بارہ سو برس کے تمام مسلمانوں کو (معاذ اللہ) حق پر نہ ہونے کا حکم لگا دینا اور صرف مرزائی مبلغین کو اس کا مصداق بنانا ویسی ہی خودرائی ہے جس کے لئے سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ مرزائی صاحبان آریوں اور عیسائیوں کو تو کیا مسلمان بنائیں گے۔ مرزا قادیانی کے زمانہ اور اس کے بعد کے مسلمانوں پر خود مرزا قادیانی اور ان کے بلند اقبال صاحبزادہ نے کفر کا حکم لگایا تھا۔ صاحبزادے کے شاگرد حافظ صاحب استاد سے بھی آگے بڑھے اور انہوں نے پہلوں پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ حافظ صاحب نے اشتہار بازی کی جرأت تو کی مگر جہالت کا یہ عالم ہے کہ مذکر و مؤنث کی تمیز نہیں، طائفۃ کے لئے لا یزال لکھ رہے ہیں۔ پھر حدیث شریف میں خیانت اور بددیانتی اس درجہ دجل و فریب کا یہ عالم کہ صرف ایک جملہ اپنے مزعومہ مطلب کو خواہ مخواہ ثابت کرنے کے لئے نقل کر دیا۔ بعض کو ماننے اور بعض کے ساتھ کفر کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اول و آخر کو لکھا ہی نہیں۔ اس لئے کہ ان جملوں کو لکھتے تو مرزائیت کا سارا پول کھل جاتا اور مدعی نبوت کا کذاب ہونا حدیث نبوی ﷺ سے ظاہر ہو جاتا کیونکہ حضرت ﷺ فرماتے ہیں ۔ ”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی ولا تزال طائفة من امتی علی الحق ظاهرین لا یضرهم من خالفهم حتی یاتی امر الله (مسلم، ترمذی، ابوداؤد) “میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین
٩
ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا اور غالب رہے گا اس کے مخالف اسے ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ خدا کا حکم یعنی قیامت آ جائے۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون اس حدیث نے صاف بتا دیا اور پہلے جملے کے معنی نے بالکل کھول دیا کہ یہی گروہ علماء ومجددین، وہی عقیدہ خاتم النبیین پر قائم رہیں گے۔ اپنے الہام کو شرعی حجت نہ بنائیں گے۔ مرزا قادیانی کی طرح نبوت کا دعویٰ کرنا اور اپنے مفروضہ الہام کو وہی درجہ دینا جو قرآن کریم کا ہے، جھوٹوں کا شیوہ ہے۔
اب مرزا قادیانی کو آپ اسی کسوٹی پر پرکھ لیجئے کہ:
- الف ...... انہوں نے نبوت و رسالت کا کھلا ہوا دعویٰ کیا کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی
ہیں ۔“
(ملفوظات ج ٥ ص ٤٤٧)
- ب ...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں نبی بھیجا۔“
( دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
آپ انہیں غیر تشریعی اور ناقص نبی سمجھتے ہیں تو ان کے نزدیک بھی بے ایمان ہیں۔ اس لئے کہ وہ تو صاف لکھتے ہیں:
- ١...... ”جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک
قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پھر اپنی وحی میں امر اور نہی کی مثال دے کر آگے لکھا کہ:
- ٢...... ”اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
کہئے اب بھی تشریعی نبوت کے دعویٰ میں کیا کچھ کسر رہ گئی؟ پھر ابھی اور آگے بڑھیئے۔ اپنی وحی کو قرآن کریم کے جیسا بتایا۔
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمین است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
پھر اپنے آپ کو سب تشریعی و غیر تشریعی نبیوں کے برابر ٹھہرایا۔
١٠
من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
کم نیم زان ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ است ولعیں
(نزول المسیح ص ١٠٠،خزائن ج١٨ص٤٧٨)
بلکہ اپنے آپ کو صاحب شریعت اولو العزم رسول حضرت عیسیٰ بن مریم سے تو صاف طور پر بہتر بتایا۔ ان کا مشہور شعر ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠،خزائن ج١٨ص٢٣٠)
کیا اس تیرہ سو برس کے کسی مجدد نے، کسی سچے عالم نے ایسا دعویٰ کیا؟ اپنے الہام کو ایسی حجت بتایا؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس مرزا قادیانی کے تو دعوے ہی ان کی تکذیب کی بڑی دلیل ہیں۔ آپ کہیں ان کی مجددیت کا راگ الاپتے ہیں۔ کہیں امامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آگے چل کر نبوت ورسالت غیر تشریعی کا حکم لگاتے ہیں، پھر ان کو فی الجملہ تشریعی بھی مانتے ہیں اس لئے کہ ان کے نہ ماننے والوں کو کافر اور باطل پر ٹھہراتے ہیں۔
ایک عالم فیصلہ کر چکا اور مارشس کے مرزائی بھی عنقریب کر لیں گے۔ مرزا قادیانی تو اپنے قول سے خود کفر کے دام میں پھنس چکے ہیں اب وہ کہاں نکل کر جاتے ہیں۔ مجددیت، وامامت ونبوت کا ذکر تو بعد میں کیا جائے پہلے ان کے ہوا خواہ ان کو کفر کے گڑھے سے تو نکالیں، اگر نکال سکتے ہیں۔ باقی آئندہ۔
(عبدالعلیم الصدیقی القادری)
نوٹ...... قادیانی مبلغ حافظ صاحب نے اپنے فرقے کو حق پر ثابت کرنے کے لئے یہ آیت لکھی ہے:”قل هذه سبيلي ادعوا الى الله على بصيرة انا ومن اتبعنى“ اور اس آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے۔ اے محمد ﷺ! تو اعلان کر دے کہ میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہم سب علیٰ بصیرت تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ قادیانی نے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے آیت کے معنی میں تحریف کی اور من اتبعنی کا ترجمہ (میرے صحابہ) کیا باوجود یہ کہ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ جس نے میرا اتباع کیا اس میں صحابہ کرام بھی داخل تھے۔ تابعین بھی تبع تابعین بھی، قیامت تک آنے والے تمام مسلمان فرمانبرداران رسول ﷺ بھی۔ مگر قادیانی مبلغ نے دیکھا کہ صحیح
١١
ترجمہ کیا جائے تو آیت سے صاف طور پر ثابت ہوگا کہ حق پر صرف اہلسنت و جماعت ہیں۔ جن کا دین اتباع رسول ﷺ ہے اور وہ قرآن و حدیث چھوڑ کر کسی مدعی الہام کے امتی بننا گوارا نہیں کرتے۔ لیکن تماشہ یہ ہے کہ اس تحریف سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ یہ نتیجہ نکلا کہ مرزا قادیانی بھی گروہ حق سے خارج ہیں۔ کیونکہ وہ صحابی نہیں اور قادیانی صاحب کے نزدیک آیت میں من اتبعنی سے صرف صحابہ مراد ہیں تو جب مرزا اہل حق سے خارج تو اس کے متبعین کس طرح اہل حق بن گئے۔ آیت کے معنی میں تحریف کر کے بھی مرزائی گروہ باطل ہی میں ہے۔ علاوہ بریں مرزائی مبلغ نے اہل حق صرف ملہمین کو مانا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ خیال تراشیدہ طبع اور زائیدہ فکر مرزائیت ہے اور قرآن و حدیث میں اس کا کہیں ثبوت نہیں۔ بلکہ کثیر آیات و احادیث کے خلاف ہے۔ یہ تعجب خیز ہے کہ مرزائیوں کے حق پر ہونے کی دلیل مرزا ہی کا دعوٰی الہام قرار دیا جائے اور یہ دلیل ان کے سامنے پیش کی جائے۔ جو مرزا کو مومن اور مسلم بھی نہیں مانتے تو وہ ملہم من اللہ کیسے تسلیم کریں گے۔ یہ کہاں کی منطق ہے کہ مخالف کے سامنے اپنے اعتقادات کو دلیل بنا کر پیش کر دیا جائے۔ زیادہ تعجب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہام نسبت محمدی بیگم وغیرہ کے دیکھنے کے بعد بھی مرزائیوں کی غیرت مرزا کے الہام کا نام لینا گوارہ کرتی ہے۔ شرم۔ شرم۔ شرم...... اگر محض دعویٰ الہام کسی کو حق پر ثابت کر سکتا ہو تو بابی، بہائی وغیرہ صدہا گمراہ فرقے الہام کے مدعی ہیں۔ مرزائی ان سب کو حق پر مانیں۔
ومصلیاً ومسلماً محمداً سلم الله عليه وصلّى
٢....... مرزائی حقیقت کا اظہار
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے کفر کا فتویٰ خود دے چکے
علمائے اسلام مرزا قادیانی سے ان کے اسلام کا ثبوت کیوں نہ طلب کریں جبکہ مرزا قادیانی اپنے کافر و کاذب و لعنتی ہونے کا فتویٰ خود اپنے قلم سے دے رہے ہیں۔ اس سے قبل ناظرین نے مرزا قادیانی کے نبوت تشریعی بلکہ دوسرے انبیاء سے برابری بلکہ ان سے بہتری کے دعوے تو ملاحظہ کئے۔ اب ایسے دعویٰ کرنے والے کے متعلق علمائے اسلام کے سامنے لاجواب ہو کر مرزا قادیانی نے جو فتوے دیئے۔ وہ بھی دیکھئے اور فیصلہ کیجئے کہ ان دعوؤں کے بعد اپنے ان فتوؤں کے مطابق وہ کیا بنے؟
- ا....... بجواب حضرت مولانا غلام دستگیر صاحب قصوریؒ جناب مرزا قادیانی علیہ ما علیہ اپنے
١٢
اشتہار مورخہ ٢٠؍ شعبان ١٣١٤ھ میں شائع کرتے ہیں: ”ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
- ٢....... اشتہار مجریہ ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء میں علمائے دہلی کو مخاطب
”(میں) سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ خاتم المرسلین کے دعویٰ نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
ایک طرف مرزا قادیانی خود اپنے ہی ان فتوؤں کی اس لئے کہ نبوت کا دعویٰ اظہر من الشمس۔ دوسری طرف انہوں قادیانی کو نبی و مسیح و مہدی و مجدد وغیرہ نہ مانیں، کفر کا فتویٰ دیا اور میں کہیں بھی مرزا قادیانی پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ مسلمان تو کافر نہ ہوا، ہاں بحکم حدیث وہ کفر بھی کروڑوں نہیں سے خود مرزا قادیانی ہی پر لوٹا۔ تو اب مرزا قادیانی جس جماعت ہی ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کی جماعت سواد اعظم سے تو وہ پہلے ہ اس کفر کا اظہار مختلف صورتوں میں مرزا قادیانی کے چیلوں کی طر
خاتم النبیین ﷺ
پرستاران مرزا قادیانی نے حدیث لا نبی بع معنی میں تحریف کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے نکالے ہ تھی کہ لا الہ الا اللہ کے معنی کو بھی بدلے اور مندروں اور گر مگر چونکہ ماریشس کے مرزائی حافظ جی کو علم سے کوئی علاقہ ن اشتہار میں اپنی طرف سے اگر کوئی بات نکالی تو وہ بھی ایسی نرال مرزا قادیانی کو بھی کبھی نہ سوجھی تھی۔ جناب حافظ صاحب مرز اس درجہ حد سے گزرے کہ لا الہ الا اللہ میں بھی لا کو صرف کمال
١؎ مرزائی مبلغ نے اپنے فرقہ کے حق پر ہونے کی د ملہم مانتے ہیں۔ یہ کس قدر قابل مضحکہ بات ہے کسی قوم کی ہونے کی دلیل ہو سکتے ہیں تو دنیا میں کوئی فرقہ باطل پر نہ ہو۔ مجوس کون اپنا پیشوا ملہم نہیں مانتا تو مرزائیوں کے نزدیک یہ انہیں کے زمرے میں ہوں گے۔
١٣
اشتہار مورخہ ٢٠/شعبان ١٣١٤ھ میں شائع کرتے ہیں: ”ان پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ص٢٩٧)
- ٢...... اشتہار مجریہ ٢/اکتوبر ١٨٩١ء میں علمائے دہلی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”(میں) سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ص٢٣٠)
ایک طرف مرزا قادیانی خود اپنے ہی ان فتوؤں کی رو سے کافر، کاذب اور ملعون بنے اس لئے کہ نبوت کا دعویٰ اظہر من الشمس۔ دوسری طرف انہوں نے تمام ان مسلمانوں پر جو مرزا قادیانی کو نبی و مسیح و مہدی و مجدد وغیرہ نہ مانیں، کفر کا فتویٰ دیا اور انہیں کافر کہا۔ چونکہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی مرزا قادیانی پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس لئے اس فتوے کی رو سے کوئی مسلمان تو کافر نہ ہوا، ہاں بحکم حدیث وہ کفر یعنی کروڑوں نہیں بلکہ ان گنت مسلمانوں کی طرف سے خود مرزا قادیانی ہی پر لوٹا۔ تو اب مرزا قادیانی جس جماعت کے بھی امام ہیں اس کا شمار کفار میں ہی ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کی جماعت سواد اعظم سے تو وہ پہلے ہی اپنے آپ کو الگ کر چکے۔ چنانچہ اس کفر کا اظہار مختلف صورتوں میں مرزا قادیانی کے چیلوں کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔
خاتم النبیین ﷺ
پرستارانِ مرزا قادیانی نے حدیث لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کے معنی میں تحریف کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے نکالے مگر یہ جرات آج تک کسی کو نہیں ہوئی تھی کہ لا الہ الا اللہ کے معنی کو بھی بدلے اور مندروں اور گرجاؤں کے بتوں کو بھی معبود قرار دے مگر چونکہ ماریشس کے مرزائی حافظ جی کو علم سے کوئی علاقہ ہی نہیں اس لئے لے دے کر پورے اشتہار میں اپنی طرف سے اگر کوئی بات نکالی تو وہ بھی ایسی نرالی جو مرزا قادیانی کے حمایتی تو کجا خود مرزا قادیانی کو بھی کبھی نہ سوجھی تھی۔ جناب حافظ صاحب مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنے میں اس درجہ حد سے گزرے کہ لا الہ الا اللہ میں بھی لا کو صرف کمال کی نفی کرنے والا قرار دے کر یہ مان
١ مرزائی مبلغ نے اپنے فرقہ کے حق پر ہونے کی دلیل بیان کی کہ وہ ایک شخص کو امام اور ملہم مانتے ہیں۔ یہ کس قدر قابل مضحکہ بات ہے کہ کسی قوم کی واہیات یا اعتقادات اس کے حق پر ہونے کی دلیل ہو سکتے ہیں تو دنیا میں کوئی فرقہ باطل پر نہ ہو۔ رافضی، خارجی، بہائی، بابی بلکہ ہنود، مجوس کون اپنا پیشوا ملہم نہیں مانتا تو مرزائیوں کے نزدیک یہ سب حق پر ہوئے۔ پس مرزائی بھی انہیں کے زمرے میں ہوں گے۔
١٣
بیٹھے کہ اللہ کے سوا بت خانوں اور گرجاوں میں دوسرے (معبود بھی) موجود ہیں۔ اگر چہ وہ ایسے کامل نہ سہی جیسا کہ اللہ ،مگر بقول حافظ صاحب معبود تو ضرور ہیں۔ (معاذ اللہ من ذالك) مشرکین مکہ بھی تو اپنے بتوں کو اللہ کے برابر یا اللہ کے جیسا کامل معبود نہ مانتے تھے۔ بلکہ اللہ سے کم درجے کا ہی معبود گردانتے تھے اور اسی جرم کے سبب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کو مشرک کہا۔ موجودہ زمانہ کے بت پرست بھی تو یہی کہتے ہیں کہ معبود حقیقی تو وہی خدا ہے۔ اس سے کم درجہ کے معبود یہ بت بھی ہیں۔
پس اب سوچئے کہ جناب مرزائی حافظ صاحب اور دوسرے بت پرست مشرکین میں کیا فرق رہا؟ حد سے گزرنے کی یہی سزا ہے کہ اول کافر بنے پھر مشرکین کے گروہ میں شامل ہوئے۔ جب کسی کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے تو اس کا یہی حال ہوتا ہے۔ اسلام نے جو کلمہ سکھایا اس میں سب سے پہلے ہر مسلم کو یہی بتایا کہ حقیقی ، مجازی، کامل، ناقص کسی صورت کسی قسم کا کوئی وجود ”الہ (معبود)“ کہے جانے کا مستحق سوائے اللہ کے ہے ہی نہیں۔ لا الہ الا اللہ میں لا جنس الہ غیر اللہ کی نفی کرتا ہے اور اس کلمہ کا ترجمہ یوں ہوتا ہے ۔ ”اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں ۔“
سچے مسلمانوں کا تو یہی عقیدہ ہے کہ جس طرح خدا کے سوا وہ تمام بت یا دوسری چیزیں جن کی پوجا کی جاتی ہے جھوٹے اور کسی طرح معبود کہے جانے کے مستحق نہیں، اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت بھی۔ حدیث لا نبی بعدی کی رو سے حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت و رسالت پانے اور نبی بننے کا دعویٰ کرے وہ ایسا ہی جھوٹا نبی اور جھوٹا رسول ہے جیسے وہ بت جھوٹے ہیں۔
آنے والے عیسیٰ مسیح بن مریم علیہما السلام
جن کی خبر قرآن عظیم واحادیث میں دی گئی
وہ مسیح بن مریم علیہ السلام جن کے تشریف لانے کی خبر قرآن عظیم و احادیث شریفہ میں دی گئی ہے، نہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبی بنیں گے۔ نہ یہ دعویٰ فرمائیں گے کہ مجھے اب نبوت و رسالت ملی۔ بلکہ یہ وہی مسیح بن مریم علیہ السلام ہوں گے جو حضور اکرم ﷺ سے پہلے نبی بن چکے اور نبوت و رسالت پاچکے وہی بذات خود دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی خدمت خلافت بجالائیں گے ۔ چنانچہ ملاحظہ ہو حدیث نبوی ﷺ :”عن ابی هريرة ان النبى ﷺ قال الانبياء اخوان العلات امهاتهم شتى ودينهم واحد وانى اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن بينى وبينه نبى وانه خليفتى على امتى وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة
١٤
والبياض عليه ثوبان ممصران كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعوا الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام (الى ان قال) فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه (اخرجه احمد وابو داؤد و ابن جرير وابن حبان عن ابي هريرة )“ مرزائی دلائل کے خرمن پر یہ حدیث بجلی کا حکم رکھتی ہے۔ جس میں حضور اکرم ﷺ نے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ تشریف لانے والے وہی مسیح بن مریم علیہ السلام وہی نبی ہیں جو مجھ سے پہلے نبی بن کر آچکے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوا، وہی میری امت پر میرے خلیفہ بن کر تشریف لائیں گے ۔ اور ان کا حلیہ بھی سنا دیا۔
صحیح مسلم کی وہ حدیث جس کا حوالہ حافظ جی نے دیا ہے اس کا بھی کسی نئے نبی سے تعلق ہے نہ غلام احمد بن گھسیٹی کی بابت، ان پرانے نبی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے لئے لا نبی بعدی کی حدیث میں تاویل کی ضرورت، نہ کسی دوسری حدیث کے اس حوالہ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بہ شان خلافت خاتم نبوت ہو گا نہ کہ شان نبوت و رسالت۔ کتمان حق مرزائیوں کی عادت، اہل سنت کو اس ترجمہ پر کوئی اعتراض نہیں کہ آیت میں رب نے ہرگز ہرگز یہ خبر دی ہی نہیں کہ کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ اور یہ کہ یہ حافظ جی کا قرآن عظیم پر کھلا افتراء ہے۔ جس کی سزا ان شاء اللہ وہ ضرور بھگتیں گے۔
حافظ جی کا لا فتى الا على کے قول اور انما قیصر ولا قیصر بعدہ..... الخ کی حدیث میں جو لا ہے۔ اس کو لا الہ الا اللہ کے لا کے مشابہ بتانا کھلی ہوئی جہالت ہے جس کو کوئی اہل علم تو کجا ایک معمولی طالب علم بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اس کو خبر ہوگی کہ لا کتنی قسم کا ہوتا ہے، لا نفی جنس کے کیا قواعد ہیں؟ پھر یہ تو ایک معمولی اردو زبان میں تاریخ پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ کسریٰ اور لا قیصر کے کلمات میں بھی لا کے معنی وہی لئے جائیں گے جو لا الہ الا اللہ کے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ یقیناً مخبر صادق کے ارشاد کے مطابق کسی کو قیصر نہیں کہا گیا۔ قیصر بھی ملک شام سے بھاگا اور اقلیم شام اس کے نام سے پاک ہوگئی اور اس کے بعد قیصریت ۔ بادشاہ ہونا دوسری چیز ہے اور کسریٰ و قیصر کے لقب سے پکارا جانا دوسری، عربی زبان سمجھنے کا سلیقہ تو کہاں سے ہوگا۔ کسی جاننے والے سے دریافت کر لیں تو یہ تفصیل کا ترجمہ سن لیں تو ان کو کسریٰ و قیصر کے خاتمہ کا حال معلوم ہو جائے۔
١٥
والبياض عليه ثوبان ممصران كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعوا الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام (الى ان قال) فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه (اخرجه ابن ابي شيبة واحمد وابو داؤد وابن جرير وابن حبان عن ابي هريرة )" مرزائی دلائل کے خرمن پر یہ حدیث بجلی کا کام کر رہی ہے اس لئے کہ اس میں حضور اکرم ﷺ نے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ تشریف لانے والے، نازل ہونے والے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام وہی نبی ہیں جو مجھ سے پہلے نبی بن کر آچکے اور میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہوا، وہی میری امت پر میرے خلیفہ بن کر تشریف لائیں گے۔ ان کا حلیہ بھی بتا دیا اور کام بھی سنا دیا۔
صحیح مسلم کی وہ حدیث جس کا حوالہ حافظ جی نے دیا وہ انہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے متعلق ہے نہ غلام احمد بن گھسیٹی کی بابت، ان پرانے نبی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے آنے سے لا نبی بعدی کی حدیث میں تاویل کی ضرورت، نہ کسی دوسری حدیث سے تطبیق کی حاجت۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بہ شان خلافت خاتم نبوت ہوگا، نہ برائے اعلائے اظہار نبوت ورسالت۔ کتمان حق مرزائیوں کی عادت، اہل سنت کو اس حرکت سے سخت نفرت، قرآن کریم کی کسی آیت میں رب نے ہرگز ہرگز یہ خبر دی ہی نہیں کہ کسی نبی کی غلامی سے نعمت نبوت ودیعت کی جاتی ہے۔ حافظ جی کا قرآن عظیم پر کھلا افتراء ہے۔ جس کی سزا ان شاء ربی روز جزا مل جائے گا۔
حافظ جی کا لا فتی الا علی کے قول اور اذا هلك كسرى فلا كسرى بعدہ .... الخ کی حدیث میں جو لا ہے۔ اس کو لا الہ الا اللہ اور لا نبی بعدی کے لا پر قیاس کرنا ایسی کھلی ہوئی جہالت ہے جس کو کوئی اہل علم تو کجا ایک معمولی صرف و نحو جاننے والا بچہ سننے کا بھی روا دار نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اس کو خبر ہوگی کہ لا کتنی قسم کا ہوتا ہے؟ اور ہر قسم کی پہچان کے لئے کیا کیا قواعد ہیں؟ پھر یہ تو ایک معمولی اردو زبان میں تاریخ پڑھنے والا بھی جانتا ہوگا ۔ کہ اگر لا كسرى اور لا قیصر کے کلمات میں بھی لا کے معنی وہی لئے جائیں تو بھی واقعات کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ یقیناً مخبر صادق کے ارشاد کے مطابق کسریٰ کی کسرویت کا خاتمہ ہو ہی گیا۔ قیصر بھی ملک شام سے بھاگا اور اقلیم شام اس کے نام سے پاک ہوئی، اب نہ وہ کسرویت رہی نہ قیصریت۔ بادشاہ ہونا دوسری چیز ہے اور کسریٰ و قیصر کے القاب مخصوص دوسری چیز ۔ حافظ جی کو عربی زبان سمجھنے کا سلیقہ تو کہاں سے ہوگا۔ کسی جاننے والے سے فتح الباری شرح بخاری میں اس کی تفصیل کا ترجمہ سن لیں تو ان کو کسریٰ و قیصر کے خاتمہ کا حال معلوم ہو جائے گا۔
١٥
حضور خاتم النبیین ﷺ کے اخبار بالغیب کے مطابق اس امت میں جھوٹے مدعیانِ نبوت ہمیشہ آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ چونکہ حدیث لا نبی بعدی ان سب مدعیوں کے دعوؤں کا رد کرنے کے لئے سدِ سکندری کا کام دیتی ہے۔ اس لئے اس حدیث کے معنی میں تحریف پر ہر مدعیِ نبوت نے توجہ کی۔ ایک شخص نے اپنا نام ہی لا رکھ لیا جس کسی نے اس حدیث سے اس کا روکیا تو کہنے لگا کہ یہ حدیث سچی ہے مگر تمہیں پڑھنی نہیں آتی۔ اس کو اس طرح پڑھو۔ لا نبی بعدی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لا نام کا ایک شخص میرے بعد نبی ہوگا۔ اس طرح ایک عورت کو بھی جنون ہوا۔ اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا جب اس حدیث کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ تو کہنے لگی کہ ہاں! یہ سچ ہے مگر اس میں تو مرد نبی کی نفی کی گئی ہے۔ عورت کے نبی ہونے کی نفی کہاں ہے؟ لا نبیۃ بعدی ہوتا تو تمہارا دعویٰ صحیح تھا۔ اگر غور کیا جائے تو ان کی یہ تحریف مرزائی تحریف سے بڑھیا معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس زمانے میں سمجھدار لوگ بکثرت موجود تھے ان کے جھوٹے دعوے نہ چل سکے۔ آج بدقسمتی سے ہمارے زمانے کا جھوٹا مدعی نبوت بھی ہوا تو ایسا کہ جس کو تحریف کرنی بھی نہ آئی۔ اس کے ہوا خواہ بھی ہوئے تو ایسے جن کو اتنا سلیقہ بھی نہیں کہ نبوت منوانے چلے اور شرک تسلیم کر بیٹھے اور اس طرح ان کے جال میں پھنس جانے والے بھی ایسے سیدھے سادے کہ دین اسلام کے احکام کو تو کیا پہنچانتے اتنی تمیز بھی نہیں رکھتے کہ خود غرض، مکار، فریبی، جھوٹے دجال اور بے غرض راست باز، سچے خدا پرست کے درمیان ہی فرق کر سکیں۔
وہ حافظ جی جن کو اتنی لیاقت بھی نہیں کہ مبتدا و خبر، فاعل و مفعول، مضارع و اسم ظرف بلکہ مذکر و مونث کو بھی پہچان سکے۔ قرآن کریم پر ہاتھ صاف کرنے کی جرات فرماتے ہیں اور مارشس کے بھولے بھالے لوگوں کو جس طرح چاہتے ہیں بہکاتے ہیں۔ حالانکہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”من تكلم فى القرآن برايه فاصاب فاخطا (ترمذی)“ جس نے قرآن کریم کی تفسیر اپنی رائے سے کی اور اتفاقاً صحیح تفسیر بھی کر دی تب بھی اس نے غلطی کی۔ پھر فرماتے ہیں: ”من قال فى القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده فى النار (ابوداؤد)“ جس شخص نے بغیر علم کے (اپنی رائے سے) قرآن کی تفسیر کی اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں سمجھ لے۔ آیت کریمہ: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي“ کی تلاوت کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اس آیت کریمہ میں خاتم النبیین کی تفسیر بھی موجود ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ انبیاء دین الٰہی کی تبلیغ کے لئے آتے ہیں۔ اب چونکہ دین الٰہی کامل ہو چکا۔ پھر آیت انا لہ لحٰفظون میں رب العالمین نے اس مکمل قانون دین الٰہی کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا۔ لہٰذا اب کسی نبی کی
١٦
ضرورت بھی نہیں رہی۔ مگر اس شخص کی عقل میں یہ معنیٰ کیونکر مرزا قادیانی کی محبت میں نابینا اور کانوں کو بہرہ بنا دیا گیا ہو۔ نعمت کا حصر نبوت کے لئے کرنا اور پھر اس کو جاری ماننا حافظ کوئی اس کی دلیل، نہ حدیث میں کہیں اشارہ۔
ويتم نعمته عليك وعلى آل يعقوب (الایۃ) ولا تم نعمتی (الآیۃ) وغیرہ آیات کے مرزائیوں کی ایجاد ہے۔ نہ ان کے یہ معانی حضور ﷺ نے برس کے کسی مسلمان کی سمجھ میں آئے۔ کلمہ صریح خاتم النبیین کام میں لائے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ رب العالمین نے میں فرما دیا کہ: ”ماكان محمد ابا احد من رجـ النبیین“ سرکار دو عالم ﷺ نے بار بار بتکرار مختلف طریـ میرے بعد کوئی نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں۔ خاتم النبیین صاف بتا دیئے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ کہیں فرمایا کہ لا ہوا: انا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى۔ ہوں اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہیں فرمایا تا کہ تشریعی، غیر تشریعی، بروزی، ظلی وغیرہ وغیرہ سب ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعـ قسم کی بھی نبوت کیوں نہ تراش لے، اس تیغ براں سے وہ میں تو گویا اس امر پر اس قدر تاکید کی وجہ سے بھی خود ہی رُ نبی آنے والے ہیں۔ فرمایا: ”سيكون فى امتى كذا وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مسلم)“ میری ا میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ نبی نہیں۔ کذابون کے صیغہ مبالغہ نے یہ بھی بتا دیا کہ جھو بڑے جھوٹے تم میں ہوں گے۔
- ٣...... دو ورقی میں حافظ جی نے علامہ قاضی عیاض کا
ثبوت بہم پہنچا دیا اس لئے کہ تیس کی تعداد کی متعلق الـ
١٧
ضرورت بھی نہیں رہی۔ مگر اس شخص کی عقل میں یہ معنی کیونکر آئیں۔ جس کی آنکھوں کو پہلے ہی سے مرزا قادیانی کی محبت میں نابینا اور کانوں کو بہرہ بنا دیا گیا ہو ۔ حبك الشیء یعمی ویصم ۔ نعمت کا حصر نبوت کے لئے کرنا اور پھر اس کو جاری ماننا حافظ جی کی خودرائی ہے۔ نہ قرآن کریم میں کوئی اس کی دلیل، نہ حدیث میں کہیں اشارہ ۔ ویتم نعمته عليك وعلى ال يعقوب (الاية) اتممت عليكم نعمتی (الاية) ولاتم نعمتی (الاية) وغیرہ آیات کے معانی میں جس قدر تحریف بھی کی گئی وہ مرزائیوں کی ایجاد ہے۔ نہ ان کے یہ معانی حضورﷺ نے سمجھے، نہ کسی صحابی نے جانے، نہ تیرہ سو برس کے کسی مسلمان کی سمجھ میں آئے۔ کلمہ صریح خاتم النبیین کے ہوتے ہوئے جو ایسی خودرائی کو کام میں لائے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔ رب العالمین نے تو قرآن کریم میں کھلے کھلے لفظوں میں فرمادیا کہ : ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ سرکار دوعالم ﷺ نے بار بار بتکرار مختلف طریقوں پر مختلف کلمات میں یہی فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں ۔ خاتم النبیین کے معنی خود حضورﷺ نے صاف صاف بتا دیئے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ کہیں فرمایا کہ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ کبھی ارشاد ہوا: انا العاقب والعاقب الذي ليس بعده نبي ۔ میں عاقب (سب سے پیچھے آنے والا) ہوں اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ بلکہ اس سے بھی زائد وضاحت سے فرمایا تا کہ تشریعی، غیر تشریعی، بروزی ،ظلی وغیرہ وغیرہ سب قسم کے دعوؤں کی تکذیب ہو سکے کہ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ۔ پس کوئی شخص بھی کسی قسم کی بھی نبوت کیوں نہ تراش لے، اس تیغ براں سے وہ پاش پاش ہو ہی جائے گی ۔ ایک حدیث میں تو گویا اس امر پر اس قدر تاکید کی وجہ سے بھی خود ہی زبان مبارک سے بیان فرمادی کہ جھوٹے نبی آنے والے ہیں ۔ فرمایا: ”سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبيين لا نبی بعدی (مسلم) ”میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے ۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ کذابون کے صیغہ مبالغہ نے یہ بھی بتا دیا کہ چھوٹے چھوٹے جھوٹوں کا ذکر نہیں، بڑے بڑے جھوٹے تیس ہوں گے۔
- ٣....... دوورقی میں حافظ جی نے علامہ قاضی عیاض کا قول نقل کر کے اپنی ایک تازہ جہالت کا
ثبوت بہم پہنچا دیا اس لئے کہ تیس کی تعداد کی منطق ان کی عبارت بتا رہی ہے کہ اگر چہ ایسے ١٧
جھوٹے مدعی نبوت تو بہت گزرے مگر ان تیس میں خاص طور سے وہی داخل جن کا دعویٰ نبوت خوب مشہور ہوا پس جس کے دعوے نے زیادہ شہرت پائی وہی تیس نمبری متنبوں میں داخل ہوا۔ اگر مرزا قادیانی کی تشہیر دنیا میں بنسبت ان سے پہلے جھوٹے مدعیان نبوت کے زیادہ ہوئی اور ہو رہی ہے۔ (جیسا کہ مرزائیوں کا دعویٰ ہے۔) تو یقیناً نہ صرف یہ کہ وہ ان تیس میں داخل ہوں گے۔ بلکہ ان سے اس مقابلے میں نمبر لے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ممکن ہے کہ جہنم کی طرف کی اس دوڑ میں چودھویں صدی میں ہونے کے باوجود پہلی صدی کے مسیلمہ سے بھی آگے بڑھ جائیں اور سب جھوٹے مدعیان نبوت میں نمبر اول مرزا قادیانی ہی کا رہے۔ بہر صورت حضورﷺ کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ قرآن مجید میں حضورﷺ کے بعد نہ کسی احمد کے آنے کا اشارہ نہ کسی حدیث میں کسی نئے نبی کا استثنا۔ صحابہ نے یہ سمجھا، تیرہ سو برس کے مسلمانوں نے یہی مانا۔ آج اگر حافظ جی اور ان کے مقتدیٰ خدا اور رسول و صحابہ و امت مسلمہ سب سے جدا ہو کر آیات قرآنی کے معنی بگاڑتے اور اپنی مطلب برآری کیلئے خدا اور رسول سے مقابلے کی ٹھانتے ہیں تو اس کے عذاب کے لئے تیار رہیں۔ دنیا میں تو اکثر کافروں کی رسی ڈھیلی چھوڑی جاتی ہے۔ فمهل الكافرين امهلهم رويدا۔ لیکن رب قہار کی پکڑ بہت سخت ہے۔ ان بطش ربك لشديد ۔ حق کا جویا آنکھوں والا دیکھے کہ کہاں قرآن کریم کا کھلا ارشاد۔ جس کا لفظی ترجمہ مسلمانوں کے ہر مترجم قرآن میں لکھا ہوا اور کہاں مرزائی لچھے دار فقرہ اور پیچ دار دعوے۔ عقل والا تو فوراً فیصلہ کر لیتا ہے کہ ان آیات واحادیث کے ہوتے ہوئے حضورﷺ کے بعد نبوت کا ثبوت قرآن کریم سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی عقل کے اندھے بے دین نے آمنت باللہ کے جملے میں کسی بڑھیا کے بلے کا ذکر کیا اور دین کی توہین کر کے اپنا پیٹ انگاروں سے بھرا۔
مرزا قادیانی کا دعویٰ ابنیت خدا، بلکہ اس سے بھی سوا
مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ (معاذ اللہ) انہیں خدا کی طرف سے الہام ہوا۔
- ١....... انت من بمنزلة اولادى (تو مجھ سے ہے بطور میری اولاد کے)
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
- ٢....... انت منی وانا منك (تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے)
(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
- ٣....... انت منی بمنزلة ولدى (تو مجھ سے بطور میرے بیٹے کے۔)
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
١٨
- ٤....... اسمع ولدى! (اے میرے بیٹے سن)
- ٥....... انت من مائنا وهم من فشل (تو ہمارے
سے)
میں نے اپنی تقریر میں مرزا قادیانی کی انہی کفر قدوس کی شان کا آیت لم یلد ولم یولد میں بیان، اس کا مرزا قادیانی نے کھلے لفظوں میں ابنیت خدا کا دعویٰ کیا، مرزا اور ان میں اس کے متعلق جو مزخرفات تحریر فرماتے ہیں، و یہودیوں کی طرف سے حضرت مسیح و حضرت عزیر کی ابنیت خ پیش کئے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ بھی کہہ دیں گے کہ ہم انسان کا بیٹا دوسرا انسان ہوتا ہے۔ بلکہ ایسا ہی بیٹا کہتے ہیں اور اسی جرم میں قرآن کریم نے ان کے حق میں یہ حکم نافذ فر یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا۔ پس جو جواب اس موقع پر نصا مرزائیوں کے لئے ہے۔ اسلامی علم مناظرہ کی کتابیں اٹھا چاہے دیکھ لے۔ آیت ”فاذكروا الله كذكركم ابائ کرنا اور اپنے مقتدا کی اس دریدہ دہنی پر پردہ ڈالنا ظلما مطلب نہایت سیدھا سادہ صاف کہ خدا کو اسی طرح ہر وقت باپ کو ہر وقت دل و زبان سے یاد کرتے رہتے ہو اور اشد ہے اور حقیقت میں مرزائیوں کا یہ عذر یہود و نصاریٰ نا تحمل نہیں رکھتے ، کیونکہ اگر ابن اور ولد کے معنی مطیع، مخلص ، مشفق، و کلام انت ولدی کیوں ناکافی یا مطلب ہے کہ تو مطیع اور مخلص ما جیسے کسی سے کہئے کہ تو بمنزلہ شریف کے ہے تو یہ اس کی توہین ہو گا حقیقتاً داخل نہ ہوں تو پھر امام و مجدد اور صاحب الہام کیسے ہو سکتا پڑے گا کہ مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی صلبی بیٹا تو نہیں مگر (معاذ کا مطیع ہے، تو اگرچہ مرزا نہ سہی خدا کے لئے صلبی بیٹا تو مانا، کوئی کے بمنزلہ ہونے مرزا کو دعویٰ ہے، مرزائیوں نے جو معانی ترا یہودیوں کے قول عزیر ابن اللہ میں حیلے تو چلتے ، مگر مرزا کی عبار ١٩
- ٤...... اسمع ولدی! (اے میرے بیٹے سن)
(البشری ج ١ ص ٤٩، خزائن ج ١ ص ٦٩)
- ٥...... انت من مائنا وهم من فشل (تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور وہ لوگ خشکی
سے)
(اربعین ٣، صفحہ ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤)
میں نے اپنی تقریر میں مرزا قادیانی کی انہی کلمات کا حوالہ دیا اور یہ بتایا کہ خدائے قدوس کی شان کا آیت لم یلد ولم یولد میں بیان، اس کا فرمان کہ لم یتخذ ولدا۔ مگر جناب مرزا قادیانی نے کھلے لفظوں میں ابنیت خدا کا دعویٰ کیا، مرزا قادیانی کے حمایتی جناب حافظ جی اپنی دو رخی میں اس کے متعلق جو مزخرفات تحریر فرماتے ہیں، وہ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے مسیحیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت مسیح و حضرت عزیر کی ابنیت خدا (معاذ اللہ) ثابت کرنے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ بھی کہہ دیں گے کہ ہم ان کو ایسا حقیقی بیٹا تو نہیں کہتے جیسے کسی انسان کا بیٹا دوسرا انسان ہوتا ہے۔ بلکہ ایسا ہی بیٹا کہتے ہیں جیسا مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو بنایا اور اسی جرم میں قرآن کریم نے ان کے حق میں یہ حکم نافذ فرمایا کہ: ”لقد کفر الذین (الایۃ)“ یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا۔ پس جو جواب اس موقع پر نصاریٰ اور یہود کے لئے ہے وہی جواب مرزائیوں کے لئے ہے۔ اسلامی علم مناظرہ کی کتابیں ایسے جوابوں سے بھری ہیں، جس کا دل چاہے دیکھ لے۔ ١ ؎ آیت ”فاذکروا اللہ کذکر کم ابائکم (الایۃ)“ سے حافظ جی کا استدلال کرنا اور اپنے مقتدا کی اس دریدہ دہنی پر پردہ ڈالنا ظلمات بعضها فوق بعض کا مصداق، آیت کا مطلب نہایت سیدھا سادہ صاف کہ خدا کو اسی طرح ہر وقت یاد کرتے رہو، جس طرح تم اپنے محسن باپ کو ہر وقت دل و زبان سے یاد کرتے رہتے ہو اور اشد ذکرا سے اس پر مزید تاکید۔
١ ؎ اور حقیقت میں مرزائیوں کا یہ عذر یہود ونصاریٰ سے بہت کمزور ہے کیونکہ مرزا کے لفظ اس معنی کا تحمل نہیں رکھتے، کیونکہ اگر ابن اور ولد کے معنی مطیع و مخلص، مستحق، رحمت و شفقت فرض کئے جائیں تو پھر بمنزلہ کا کیا کام انت ولدی کیوں ناکافی یا مطلب ہے کہ تو مطیع اور مخلص تو نہیں عفو و کرم سے بمنزلہ مطیع کے قرار دیا جاتا ہے جیسے کسی سے کہئے کہ تو بمنزلہ شریف کے ہے تو یہ اس کی توہین ہوگی۔ اگر یہ معنی ہوں اور مرزا مطیعین و مخلصین میں حقیقتاً داخل نہ ہوں تو پھر امام و مجدد اور صاحب الہام کیسے ہوسکتا ہے۔ تو لامحالہ بہت ہیر پھیر کرنے کے بعد بھی یہ کہنا پڑے گا کہ مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی وصلبی بیٹا تو نہیں مگر (معاذ اللہ) خدا کے صلبی بیٹے کے برابر اس کو پیارا یا اس کا مطیع ہے، تو اگر چہ مرزا نہ سہی خدا کے لئے صلبی بیٹا تو مانا، کوئی ہو اب مرزائی یہ بتائیں وہ صلبی بیٹا کونسا ہے جس کے بمنزلہ ہونے مرزا کو دعویٰ ہے، مرزائیوں نے جو معانی تراشے ہیں وہ نصرانیوں کے مقولے المسیح ابن اللہ، یا یہودیوں کے قول عزیر ابن اللہ میں چلے تو چلے، مگر مرزا کی عبارت میں کسی طرح چل ہی نہیں سکتے۔
١٩
اگر (معاذ اللہ معاذ اللہ) اس آیت سے حافظ جی خدا کا باپ ہونا ثابت کر رہے ہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ یعرفونه کما یعرفون ابنائهم (وہ لوگ حضور نبی اکرمﷺ کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو) کی آیت سے (توبہ توبہ عیاذ باللہ) سرکار دو عالم کو ............. کا ابناء کہہ بیٹھیں گے۔ حدیث کا پڑھنا اور سمجھنا اہل علم کا کام۔ کہاں حافظ جی اور کہاں اس اہم کام کا سرانجام! انہیں جب عیال اور اولاد کے الفاظ کا لغوی فرق بھی نہیں معلوم۔ مثنوی مولانا روم کے شعر سے استدلال تو کیا کرتے اسے موزوں لکھ بھی نہ سکے۔ اس جہالت کے باوجود خدا ہی جانے کہ جواب کی جرات کس صورت سے ہوئی۔ سچ ہے۔ اذا فاتك الحياء فافعل ما شئت! بے حیا باش وهرچه خواهی کن۔ اس دھوکے میں جاہل نہیں شاید کوئی اجہل آجائے تو آجائے، معمولی عقل والا بھی جان لے گا کہ اگر مرزا قادیانی کی مراد وہی معمولی رشتہ تھا جو خالق و مخلوق میں ہوتا ہے۔ تو ان کی ذات کی تخصیص کیا معنی رکھتی ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے تو پردہ ہی اٹھا دیا۔ (اس کتاب میں موجود ہیڈنگ ”رزاقادیانی کا دعویٰ الوہیت خدا، بلکہ اس سے بھی سوا“ کے ضمن میں لکھی گئی مرزا کی عبارت کے) ٥....... میں تو من مائنا (ہمارے پانی یعنی نطفہ سے) تک کہہ ڈالا بلکہ اس سے بھی اور آگے بڑھے اور انا منك (میں تجھ سے ہوں) کہہ کر (معاذ اللہ) اس مطلب کو بھی بڑھا دیا جس کے مضمون سے بھی ایک ایماندار لرزہ میں آجائے۔
فہم قرآن
محولہ آیت ”ولقد يسرنا القرآن“ یہ بالکل صحیح ہے کہ قرآن کریم کے مضامین اس درجہ آسان ہیں کہ حضورﷺ کے بتانے اور اس ارشاد کے مطابق ان کے صحابہؓ، تابعین و علمائے امت کے سمجھانے سے بہت جلد سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن اس کے معنی یہ لینا کہ ہر بے علم جس کو عربی پڑھنی بھی نہ آتی ہو۔ اپنی رائے اور اپنی سمجھ کے مطابق جو معنی چاہے کرلے، جو مطلب چاہے نکال لے، وہی جہل مرکب ہے جس کی خبر مخبر صادق حضور اکرمﷺ نے پہلے ہی دی ہے کہ يفتون بغير علم فضلوا واضلوا بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے۔ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ حافظ جی نے اس بیان میں کوئی نیا کمال نہیں دکھایا وہی کہا جو ہمیشہ جہلاء کا شیوہ رہا۔ اس بات کو ایک عامی بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب تک کوئی شخص ایک زبان ہی کو نہ جانے تو اس زبان کی آسان سے آسان کتاب کو بھی کیسے سمجھ سکتا ہے؟ کسی زبان کے جاننے کے لئے اس زبان کے قواعد کا جاننا ضروری ہے۔ ورنہ فاعل ومفعول ومبتداء وخبر، ماضی و مستقبل وحال وامر میں کیسے تمیز کرے گا؟ اسی کو صرف و نحو کہتے ہیں۔
٢٠
اردو یا فرینچ کے بے جا ترجموں کو پڑھ لینے کے یہ معنی قرآن کریم کو پالیا۔ شان نزول آیات و تفسیر نبوی کے مطالعہ کے بغیر مطالب قرآن پر عبور ہو گیا۔ ایک جاہلانہ وہم نہیں تو کیا ہے؟ شان نزول آیات ہی سے یہ پتہ چلے گا کہ کونسا حکم منسوخ ابھی نسخ اور اختلاف کے لغوی فرق کی بھی خبر نہیں تو وہ میرے فہم چاہتے ہیں تو میں تیار ہوں۔ شاگردوں کی صورت میں آئیں میرے ہوجائیں۔ طالب علموں کی طرح پہلے صرف و نحو پڑھیں۔ اور وقت آئے گا تو میں ان کو بتا دوں گا کہ ناسخ کسے کہتے ہیں اور منسوخ کسے منسوخ ؟ نیز یہ بھی سمجھا دوں گا کہ نسخ حکم دوسری چیز ہے اور اختلاف الہی قرآن کریم یقیناً اختلاف سے قطعا پاک، نہ اس کے الفاظ میں نسخ احکام حکمت ربانی پر دلیل، نسخ کو اختلاف کہنا کسی جاہل نہیں بلکہ خدا کے کلام میں نہ تو اختلاف ہے نہ ہو سکتا ہے۔ ہے کہ اس میں اختلاف ہوگا۔ چنانچہ اگر حافظ صاحب کو عجلت سے
اختلاف واقعات گزشتہ
مرزا قادیانی اپنی کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج١ ص٥٩٣) میں (جس کے متعلق یہ دعویٰ ہے کہ بالہام الہی لکھی گئی ہے) فرماتے ہیں: ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
نوٹ ....... ادھر انہی مسیح علیہ السلام کا دوبارہ آنا معتبر اور ان کی حیات کی خبر
مرزا جی اپنی ج٣ ص٤٠ اپنے خاص فوت ہو چکے کے مطابق
نوٹ ....... کی حیات
فاعتبروا یا اولی الابصار
اختلاف واقعات آئندہ
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ انہیں الہام ہوا کہ
مرزا قادیانی
٢١
اردو یا فرنج کے بے جا ترجموں کو پڑھ لینے کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ اس نے معانی قرآن کریم کو پالیا۔ شان نزول آیات و تفسیر نبوی کے مطالعہ کے بغیر یہ نتیجہ نکال لینا کہ صحیح طور سے مطالب قرآن پر عبور ہوگیا۔ ایک جاہلانہ وہم نہیں تو کیا ہے؟ شان نزول آیات ہی سے یہ پتہ چلے گا کہ کونسا حکم مقدم ہے اور کونسا موخر حافظ جی کو ابھی نسخ اور اختلاف کے لغوی فرق کی بھی خبر نہیں تو وہ میرے جملوں کا مطلب کیا سمجھتے۔ اگر سمجھنا چاہتے ہیں تو میں تیار ہوں۔ شاگردوں کی صورت میں آئیں میرے تلامذہ کے زمرہ میں شریک ہو جائیں۔ طالب علموں کی طرح پہلے صرف و نحو پڑھیں۔ ادب سیکھیں، جب تفسیر پڑھانے کا وقت آئے گا تو میں ان کو بتا دوں گا کہ ناسخ کسے کہتے ہیں اور منسوخ کسے؟ کتنے احکام ناسخ ہیں اور کتنے منسوخ؟ نیز یہ بھی سمجھا دوں گا کہ نسخ حکم دوسری چیز ہے اور اختلاف واقعات دوسری چیز۔ وحی الہی قرآن کریم یقیناً اختلاف سے قطعاً پاک، نہ اس کے الفاظ میں اختلاف، نہ معانی میں تخالف، نسخ احکام حکمت ربانی پر دلیل، نسخ کو اختلاف کہنا کسی جاہل نہیں، اجہل ہی کا کام ہو سکتا ہے۔ خدا کے کلام میں نہ تو اختلاف ہے نہ ہو سکتا ہے۔ ہاں! جھوٹے الہام کی یہی پہچان ہے کہ اس میں اختلاف ہوگا۔ چنانچہ اگر حافظ صاحب کو عجلت ہے تو ذیل کی مثال سے دیکھ لیں۔
اختلاف واقعات گزشتہ
مرزا قادیانی اپنی کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) میں (جس کے متعلق یہ دعویٰ ہے کہ بالہام الہی لکھی گئی ہے) فرماتے ہیں: ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“
مرزا جی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢) میں فرماتے ہیں: ”اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح بن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے مطابق تو آیا ہے۔“
نوٹ....... ادھر انہی مسیح علیہ السلام کا دوبارہ آنا معتبر اور ان کی حیات کی خبر
نوٹ....... ادھر اپنے مسیح ہونے پر اصرار اور ان کی حیات سے انکار
فاعتبروا یا اولی الابصار
اختلاف واقعات آئندہ
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ انہیں الہام ہوا کہ
مرزا قادیانی کو فی الجملہ تسلیم ہے کہ پیشین گوئی
٢١
محمدی بیگم انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔...... آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں یا ...... بیوہ کر کے ...... یہ بات میرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ تو کیوں شک کرتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) تزویج سے مراد خاص تزویج ہے جو بطور نشان ہوگا ...... اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی۔
(کتب مختلفہ مرزا)
پوری نہیں ہوئی، ملاحظہ ہو۔
پیشین گوئیاں کچھ ایک دو نہیں بلکہ اس قسم کی سو سے زائد پیشین گوئیاں ہیں ...... پھر ان سب کا ذکر نہ کرنا اور بار بار احمد بیگ کے داماد اور اعظم کا ذکر کرنا کس قدر مخلوق کو دھوکا دینا ہے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
نوٹ ...... ادھر اصرار پر اصرار ہے بلکہ قسم کے ساتھ اقرار بلکہ اس پورا ہونا ان کے صدق کا معیار۔
نوٹ ...... ادھر فی الجملہ تسلیم ہے کہ ہاں خیر محمدی بیگم سے نکاح اور اعظم کی موت کی پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوئیں پھر ان پر مجھے کھسیانہ کیوں بناتے ہو جو پوری ہوگئیں انہیں کیوں نہیں ذکر کرتے؟ (اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ہی نے لکھا تھا کہ یہ میرے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی ہیں)
واقعات حال با اعتبار مرزا قادیانی
مرزا قادیانی آسمانی فیصلہ میں فرماتے ہیں: ”میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(فیصلہ آسمانی ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)
مرزا قادیانی اخبار بدر ١٩٠٠ء میں فرماتے ہیں: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
یہاں نبوت سے انکار
یہاں نبوت کا اقرار
”اے لوگو! دشمن قرآن مت بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥)
”میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں ...... اس نے مجھے بھی اپنا مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
یہاں بعد خاتم النبیین دروازہ وحی نبوت کو بند مانا۔
یہاں اپنے الہام کو قرآن کے جیسا الہام مانا۔
٢٢
ہمیں امید ہے کہ ان مثالوں کو دیکھ کر شاید حافظ جی اسے کہتے ہیں۔
خدا کے کلام، خدا کے الہام میں اس اختلاف کی مثا اگر سمجھنا چاہیں تو اس عجالہ میں ہم اشارۃً انہیں انہی کی تحریر یاد د اپنے ماقبل کے لئے۔ باقی جس میں عقل ہو وہ سمجھ لے۔
بیٹے کی پیش گوئی
حافظ جی ہمیں الزام دیتے ہیں کہ ہم نے مرزا قادی کام لیا اور عبارت کے پہلے فقرے کو چھوڑ دیا۔ یعنی انا لنبشر کان اللہ نزل من السماء کہ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت ذات اور اس کی عظمت کا ایسے رنگ میں اظہار ہوگا کہ گویا خدا آ
ہم اس عبارت پر تنقید نہیں کرتے اس لئے کہ غلطیاں بتاتے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ حافظ جی کو اتنی بھی خبر ن نہیں جتاتے کہ عربی عبارت کے ترجمے میں حافظ جی نے کس اور ”ایسے رنگ میں“ ان دونوں کلموں کے لئے عربی عبارت کی رو سے عربی عبارت کی ترکیب کرتے ہیں یہ بھی نہیں ظا وجہ شبہ کیا؟ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ صفت کیا ہے اور موصوف سامنے نہیں لاتے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر خد سبب تو مرزائی لوگ مسلمانوں پر شرک کا الزام لگاتے اور یہ یہاں اللہ کے آسمان سے اترنے کا خود اظہار کیا (معاذ اللہ بتانا ہے کہ ہم نے جو اعتراض کیا وہ صحیح تھا یعنی مرزا قادیانی اور اس بیٹے کی صفت بیان فرمائی کہ گویا خدا آسمان سے اتر ”مظہر الحق والعلا“ اور کان اللہ نزل من ا دونوں فقرے اس غلام (لڑکے) کی صفت کا اظہار کر رہے جانی ظاہر اور اعتراض ثابت۔
دوسرے یہ امر کہ اس پیش گوئی کے مصداق مر
٢٣
ہمیں امید ہے کہ ان مثالوں کو دیکھ کر شاید حافظ جی کی سمجھ میں یہ تو آجائے کہ اختلاف اسے کہتے ہیں۔
خدا کے کلام، خدا کے الہام میں اس اختلاف کی مثال مل ہی نہیں سکتی ، ہاں نسخ کی مثال اگر سمجھنا چاہیں تو اس عجلہ میں ہم اشارۃً انہیں انہی کی تحریر یاد دلا دیں گے تحویل قبلہ کا حکم ناسخ ہے اپنے ماقبل کے لئے۔ باقی جس میں عقل ہو وہ سمجھ لے۔
بیٹے کی پیش گوئی
حافظ جی ہمیں الزام دیتے ہیں کہ ہم نے مرزا قادیانی کے مزعومہ الہام میں تحریف سے کام لیا اور عبارت کے پہلے فقرے کو چھوڑ دیا۔ یعنی انا لنبشرک بغلام مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء کہ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کے ذریعے خدا کی ذات اور اس کی عظمت کا ایسے رنگ میں اظہار ہوگا کہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔
(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
ہم اس عبارت پر تنقید نہیں کرتے اس لئے کہ اگر کوئی اہل علم مخاطب ہوتا تو علمی غلطیاں بتاتے ۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ حافظ جی کو اتنی بھی خبر نہیں کہ مظہر اسم ہے یا فعل ۔ ہم یہ بھی نہیں جتاتے کہ عربی عبارت کے ترجمے میں حافظ جی نے کس قدر تحریف کی۔ ”جس کے ذریعے“ اور ”ایسے رنگ میں“ ان دونوں کلموں کے لئے عربی عبارت میں کوئی لفظ نہیں۔ ہم اصطلاحات نحو کی رو سے عربی عبارت کی ترکیب کرتے ہیں یہ بھی نہیں ظاہر کرتے کہ مشبہ کون مشبہ بہ کون اور وجہ شبہ کیا ؟ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ صفت کیا ہے اور موصوف کون؟ ہم اس مضمون کو بھی اس وقت سامنے نہیں لاتے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر خدا کے پاس جانے کا عقیدہ رکھنے کے سبب تو مرزائی لوگ مسلمانوں پر شرک کا الزام لگاتے اور یہ کہتے ہیں کہ خدا کو آسمان پر مان لیا مگر یہاں اللہ کے آسمان سے اترنے کا خود اظہار کیا (معاذ اللہ )۔ ہمیں تو اس وقت صرف اس قدر بتانا ہے کہ ہم نے جو اعتراض کیا وہ صحیح تھا یعنی مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ ان کا ایک بیٹا ہوگا اور اس بیٹے کی صفت بیان فرمائی کہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔ ادنیٰ عقل والا بھی سمجھ جائے گا کہ ”مظہر الحق والعلا “ اور کان اللہ نزل من السماء (مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص ١٠١) دونوں فقرے اس غلام (لڑکے) کی صفت کا اظہار کر رہے ہیں، پس اس غلام کو اللہ سے تشبیہ دی جانی ظاہر اور اعتراض ثابت۔
دوسرے یہ امر کہ اس پیش گوئی کے مصداق مرزا بشیر محمود صاحب ہیں یا کون؟ اس کا
٢٣ ٢؟ اس کا
٢٣
فیصلہ خود مرزا قادیانی کی تحریروں سے بآسانی ہوسکتا ہے۔ اس پیش گوئی کی خبر ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کو دی گئی، مگر قدرت خدا! اس جھوٹ کا اظہار اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس وقت کے حمل سے لڑکی پیدا ہوئی نہ کہ لڑکا۔ جب اہل حق نے مرزا جی کو شرمایا اور پیش گوئی کا غلط ہونا بتایا تو جھٹ سے اشتہار دے ڈالا کہ اس حمل کی شرط نہ تھی۔ وہ موعود بیٹا اس کے قریب دوسرے حمل سے ہوگا۔ آخر ١٧ اگست ١٨٨٧ء (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١) کو ایک اشتہار دیا کہ جس میں اعلان کر دیا کہ ١٦ ذیقعدہ ١٣٠٤ھ مطابق ٧ اگست ١٨٨٧ء میں ١٢ بجے رات کے بعد وہ موعود لڑکا پیدا ہوگا۔ تب قدرت خدا نے یہ تماشا دکھایا کہ چند ہی روز بعد وہ لڑکا مر گیا۔
اب ناظرین فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی نے تو وہ ساری خوبیاں ٧ اگست ١٨٨٧ء کو پیدا ہونے والے لڑکے میں بتائی تھیں۔ حافظ جی کہتے ہیں کہ نہیں ان کے مصداق جناب بشیر محمود صاحب ہیں۔ مرزا قادیانی کے الہام کا اختلاف تو ظاہر ہی تھا یہاں گرو اور چیلے میں بھی اختلاف ہوگیا۔ وہ مرنے والے کو سب کچھ ٹھہرائیں۔ یہ جینے والے کو چنیں و چناں بتائیں۔ پھر اور آگے بڑھیئے۔ حافظ جی کے ممدوح جناب بشیر محمود صاحب کے اوصاف خود مرزا قادیانی کے ان زبردست ممتاز حواری کی تحریر میں دیکھئے جن کو مرزا قادیانی نے (معاذ اللہ ) ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کی جگہ دی، جن کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام اترنے والے ہیں۔ یعنی جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہوی، وہ تحریر فرماتے ہیں۔ ”صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک اس بات کے اہل نہیں کہ وہ مرزا قادیانی کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں۔ اس لئے میں اس خلافت سے جو شرعی ہے سیاسی نہیں، ان کا عزل کر کے عنداللہ وعندالناس اس ذمہ داری سے بری ہوتا ہوں...... میں یہ بھی اطلاع دیتا ہوں کہ ان عقائد کے باطل ہونے پر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مقرر کردہ معتمدین کی بھی کثرت رائے ہے۔ اب جو ١٢ ممبر حضرت کے مقرر کردہ زندہ ہیں۔ ان میں سے ٧ ممبر علی الاعلان ان عقائد سے بے زاری کا اظہار کر چکے اور باقی ٥ میں بھی اغلب ہے کہ ایک صاحب بھی ان عقائد میں صاحبزادہ صاحب کے شامل نہیں ۔“
مرزا قادیانی خود حافظ جی کے محبوب جناب صاحبزادہ بشیر محمود صاحب کو موعود نہ بتائیں، ان کے معتمد دست راست ان کے بعد ان کو عاصی و بدعقیدہ ٹھہرائیں اور امامت سے معزول بنائیں۔ مگر حافظ جی ہیں کہ اپنے پیٹ کی خاطر ان کی تعریف کے ترانے گائیں اور ماریشس کے سادہ لوحوں کو بہکائیں۔ ان هذا لشئ عجاب!
٢٤
خدائی سرخی کی چھینٹیں
حافظ جی میں جب اتنا بھی علم نہیں کہ معمولی لفظوں کے اس مسئلہ کو کیا سمجھ سکتے ہیں کہ جسم سے پاک رب العالمین کے لئے احتیاج تجویز کرنے سے جس کی چھینٹیں کپڑوں پر نمودار ہوں، کیو جواب میں ہم سردست یہی کہیں گے کہ:
اے افسوس! حافظ صاحب کو مرزا قادیانی کے اس قابل مضحکہ لغو پر انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ خدا نے دستخط کے لئے قلم ہاتھ میں لیا اور سرخی کا ڈبہ سے چھینٹیں مرزا قادیانی کے کپڑوں پر آگئیں۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائ عقل کیا ہوئی اور مرزا کی محبت نے اس درجہ ان کے دماغ کو خراب کیا کہ انہیں ی ہو گئی جس کو زبان پر لانے کی کوئی کافر بھی جرأت نہ کرے گا۔ یہ خدا کی شان ن نہیں کرتا کہ قلم کو اس بے تمیزی سے چھڑکے کہ دوسرے کے کپڑوں پر چھینٹ جس خدا کی یہ شان ہے اذا اراد شيئاً ان يقول له كن فيكون ۔ ج فرماوے وہ ایک دستخط کے لئے قلم سیاہی کاغذ کا محتاج ہو۔ احتیاج تو الوہیت عن العلمین اس کے لئے ایسا امر ثابت کرنا جس سے احتیاج لازم آئے اس ہاتھ میں لینے کے لئے ایک ہاتھ اور جسمانیت بھی ماننا پڑے گی کہ مادیات منافی ہے یہ دوسرا کفر ہوا۔ تیسرا کفر علم قدرت کا انکار ہے کہ اس کو خبر نہیں ایک اختیار نہیں کہ جتنی درکار ہے۔ قلم میں اتنی ہی آئے بے اختیاری و بے علمی سے بھر لی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ یہ تو زیادہ ہے تو یہ قدرت نہ تھی، یہ علم میں کمی رہ گئی مجبوری و بے اختیاری کی وجہ سے زیادہ سیاہی قلم سے نکالنا پڑی، مگر نکالنے ک کر دی جاتی، نہ یہ سلیقہ تھا کہ دوات میں جھٹکا دیا جاتا یا کسی اور طرف ۔ جھٹکا ت کپڑوں پر گریں۔ یہ شان الٰہی کے ساتھ تمسخر ہے اور کفریات سے لبریز ہی کدر ہو گئی کہ وہ ایسے بے ہودہ کفریات کو تسلیم کرتے ہیں اور حافظ صاحب خدا نے اتنا بڑا جہان مادی پیدا کر دیا اور زیادہ افسوس ناک جہالت ہے استعمال بھی اس کے لئے ثابت کرنا جائز، جو یہ اعتقاد ہے تو خُدا کھانا، پینا بھ کے لئے ثابت کر دوگے۔ ”تعالی الله عما يتصور الظالمون ع کہاں ان کا استعمال کرنے لگنا۔ اس عقل پر ہزار تف!
٢٥
خدائی سرخی کی چھینٹیں
حافظ جی میں جب اتنا بھی علم نہیں کہ معمولی لفظوں کے معنی ہی سمجھ لیں تو الہیات کے اس مسئلہ کو کیا سمجھ سکتے ہیں کہ جسم سے پاک رب العالمین کے لئے دستخط کے واسطے ایسی سرخی کی احتیاج تجویز کرنے سے جس کی چھینٹیں کپڑوں پر نمودار ہوں، کیسا شرک لازم آتا ہے۔ اس کے جواب میں ہم سر دست یہی کہیں گے کہ:
١؎ افسوس ! حافظ صاحب کو مرزا قادیانی کے اس قابل مضحکہ لغویت پر شرم نہ آئی اور باطل کی محبت میں انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ خدا نے دستخط کے لئے قلم ہاتھ میں لیا اور سرخی کا ڈوبا لیا سرخی زیادہ آگئی تو اس کو چھڑکا اس سے چھینٹیں مرزا قادیانی کے کپڑوں پر آئیں۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) حافظ صاحب کی عقل کیا ہوئی اور مرزا کی محبت نے اس درجہ ان کے دماغ کو خراب کیا کہ انہیں شان الٰہی میں ایسی باطل بات بھی گوارہ ہو گئی جس کو زبان پر لانے کی کوئی کافر بھی جرات نہ کرے گا۔ یہ خدا کی شان تو کیا ہو سکتی ہے۔ تمیز دار انسان بھی ایسا نہیں کرتا کہ قلم کو اس بے تمیزی سے چھڑکے کہ دوسرے کے کپڑوں پر چھینٹ آئیں۔ یہ خدا کے ساتھ تمسخر ہے۔ جس خدا کی یہ شان ہے اذا اراد شيئاً ان یقول له كن فيكون ۔ جو سارے جہان کو کن کے امر سے موجود فرماوے وہ ایک دستخط کے لئے قلم سیاہی کاغذ کا محتاج ہو۔ احتیاج تو الوہیت اور شان واجب کے منافی ہے واللہ غنی عن العلمین اس کے لئے ایسا امر ثابت کرنا جس سے احتیاج لازم آئے اس کی خدائی کا انکار اور کفر ہے۔ پھر قلم کے ہاتھ میں لینے کے لئے ایک ہاتھ اور جسمانیت بھی ماننا پڑے گی کہ مادیات کے ساتھ اقتران و تلمس تجرد بحت کے منافی ہے یہ دوسرا کفر ہوا۔ تیسرا کفر علم قدرت کا انکار ہے کہ اس کو خبر نہیں ایک دستخط کے لئے کتنی سیاہی درکار ہے اور یہ اختیار نہیں کہ جتنی درکار ہے۔ قلم میں اتنی ہی آئے۔ بے اختیاری و بے علمی سے قلم دوات میں ڈالا اور اندھا دھند سیاہی بھر لی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ یہ تو زیادہ ہے تو یہ قدرت نہ تھی، یہ قلم میں رکی رہتی اور حسب ضرورت کاغذ پر لگتی، اپنی اس مجبوری و بے اختیاری کی وجہ سے زیادہ سیاہی قلم سے نکالنا پڑی، مگر نکالنے کے لئے اتنی تمیز نہ تھی کہ دوات میں واپس کر دی جاتی، نہ یہ سلیقہ تھا کہ دوات میں جھٹکا دیا جاتا یا کسی اور طرف۔ جھٹکا بھی دیا تو ایسا کہ چھینٹیں مرزا قادیانی کے کپڑوں پر گریں۔ یہ شان الٰہی کے ساتھ تمسخر ہے اور کفریات سے لبریز ۔ افسوس! مرزائیوں کی لوح قلب اس قدر مکدر ہو گئی کہ وہ ایسے بے ہودہ کفریات کو تسلیم کرتے ہیں اور حافظ صاحب کا یہ قول کہ مادی سیاہی پر کیا اعتراض ہے خدا نے اتنا بڑا جہان مادی پیدا کر دیا اور زیادہ افسوس ناک جہالت ہے۔ کیا خدا نے جو کچھ پیدا کیا اس سب کا استعمال بھی اس کے لئے ثابت کرنا جائز، جو یہ اعتقاد ہے تو خدا کھانا، پینا، بیاہ کرنا، شادی بی بی، بچے والا ہونا سب اس کے لئے ثابت کرو گے ۔ ’’تعالیٰ الله عما يتصور الظالمون علواً كبيرا‘‘ مادیات کا پیدا کرنا کہاں اور کہاں ان کا استعمال کرنے لگنا۔ اس عقل پر ہزار تف!
٢٥
مقابلہ و مناظرہ ومباہلہ اور آخری فیصلہ
مرزا قادیانی مناظرے میں کسی عالم ربانی کے مقابلے کی کبھی تاب ہی نہ لائے۔ مباہلے کے لئے ہماری تقریر میں مرزا قادیانی کے دعوے کے ذیل میں جب ان کے مذکر سے مؤنث بننے کا دعویٰ سامنے آیا تو حافظ جی کو بہت ناگوار ہوا۔ ان کی جھنجھلاہٹ اشتہار کی اس عبارت سے ظاہر۔ کاش اس وقت جب ہم نے بلایا تھا۔ سامنے آتے تو ہم مرزا قادیانی کا سارا کچا چٹھا انہی کی کتابوں میں دکھاتے ۔
شرم کے مارے اس وقت تو پردہ ہی میں رہے۔ اب کی طرح ہمیں بددعائیں دیتے ہیں تو دیا کریں ، ہم الحمد للہ اعلائے کلمہ حق کر چکے اور کرتے رہیں گے ۔
نوٹ ....... اس عجالہ میں اس قدر کافی ۔ (مرزائی حقیقت کا اظہار ) نمبر ٣ ، دو ورقی کا جواب ان شاء اللہ جہاز میں بیٹھ کر لکھیں گے۔ اب وقت بالکل نہیں ۔ امید ہے کہ اس عجلت کے سبب اگر کچھ سہو ہو ناظرین اسے معاف فرمائیں ۔
محمد عبدالحلیم الصدیقی القادری
ومصلياً ومسلماً محمداً سلم الله عليه وصلّی
٣...... مرزائی حقیقت کا اظہار
جناب مرزا قادیانی کا ایمان باللہ اور اس کی حقیقت
کسی مدعی مہدویت ومسیحیت میں علامات مہدی ومسیح دیکھنے کی ضرورت اس وقت ہو جبکہ پہلے اس کا راست باز اور مسلمان ہونا ثابت ہوجائے ۔ زبان سے آمنت بالله ..... الخ ! پڑھنا، لوگوں کے دکھانے کے لئے نمازیں پڑھنا، روزہ رکھنا یا فرائض حج ادا کرنا یا زکوٰۃ دینا اسلامی عدالت میں کیونکر قبول ہوسکتا ہے ۔ جبکہ ان کے کلمات سے صراحۃً کفر والحاد کا اظہار ہورہا ہے :”لیس البر ان تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر (بقرۃ:١٧٧)‘ مرزا قادیانی کا لاکھ بار آمنت باللہ کہنا بھی انہیں مومن نہیں بناسکتا ۔ جبکہ اس خدائے حی و قیوم ملک وقدوس کی شان میں ان کے حسب ذیل کلمات موجود ہیں ۔
ایمان باللہ: یہ مجموعہ عالم خدائے تعالیٰ کے لئے بطور ایک اندام واقع ہے۔ ”قیوم العالمین (یعنی
٢٦
خدا) ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر او ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض وطول رکھتا ہے اور تیندوے تاریں بھی ہیں ۔“ (معاذ الله من ذلك)
(توضیح
یہ ہے ایمان باللہ یہ خدا کی صفات ہیں اس پر مرزا کو مؤ اَخَس (سب سے زیادہ منحوس) کفر بھی شرما جائے ۔ شرم ۔
ایمان بالرسل : اللہ کے رسولوں پر ایمان کیسے ظاہر ہو جبکہ انبیاء کی کرتے اور خود اپنے آپ کو اولوالعزم صاحب شریعت پیغمبروں سے مشہور شعر ہے۔
اينك منم که حسب بشارت
(ازال
اور بعض نمونہ پہلے بیان ہوئے بعض آئندہ آتے ہیں بتاتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی سند نہیں ۔
ایمان بالملائکہ: ملائکہ پر ایمان کا حال ان اقوال سے ظاہر ہ ستاروں کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں ۔ لہٰذا وہ کبھی ستاروں سے سورج سے تعلق ہے ۔...... الخ !“
(توضیح المرام
ایمان بالکتب: کتاب الہی قرآن کریم کے متعلق ان کا یہ خیال ہ ”قرآن دنیا سے اٹھ گیا تھا میں اس کو دوبارہ آسمان
(ازالہ اوہام ص ٤٣٠ تا ٤٣١
پھر جو قرآن لائے اور جس طرح اس کو پیش کیا اس آئے گی کہ الفاظ کا بدلنا تو محال تھا معنی پر ہاتھ صاف کرنے میں نفس نے بتائے وہ کئے ۔ نہ ان معنی سے غرض رکھی جو صاحب تفسیر سے مطلب جو صحابہ نے فرمائی ۔
ایمان بالیوم الآخر: یوم الآخر کا ڈر اور خوف، قیامت پر ایما زندگی ان کی دلیری پر دلالت کرنے والی جس کی طرف سرور ...... الخ ! کے ایک ایک شعبہ میں ان کا یہ حال ہے تو اب نماز ، رو
٢٧
خدا) ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض وطول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں ۔“ (معاذ اللہ من ذلك)
(توضیح المرام ص٤٣، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
یہ ہے ایمان باللہ یہ خدا کی صفات ہیں اس پر مرزا کو مومن باللہ بتایا جاتا ہے جس سے اخس (سب سے زیادہ منحوس ) کفر بھی شرما جائے ۔ شرم ۔
ایمان بالرسل: اللہ کے رسولوں پر ایمان کیسے ظاہر ہو جبکہ انبیاء کی شان میں کھلم کھلا گستاخیاں کرتے اور خود اپنے آپ کو اولو العزم صاحب شریعت پیغمبروں سے بھی افضل بتاتے ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔
اینک منم کہ حسب بشارت آمدم
(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
اور بعض نمونہ پہلے بیان ہوئے بعض آئندہ آتے ہیں پھر غیر انبیاء کو نبی مانتے اور پیغمبر بتاتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی سند نہیں۔
ایمان بالملائکہ: ملائکہ پر ایمان کا حال ان اقوال سے ظاہر۔ ”ملائکہ ستاروں کی ارواح ہیں وہ ستاروں کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ کبھی ستاروں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جبرائیل جس کا سورج سے تعلق ہے۔ ...... الخ !“
(توضیح المرام ص٧٠، ٨٢، خزائن ج ٣ ص ٧٠، ٩٥)
ایمان بالکتب: کتاب الٰہی قرآن کریم کے متعلق ان کا یہ خیال۔ ”قرآن دنیا سے اٹھ گیا تھا میں اس کو دوبارہ آسمان سے لایا ہوں ۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٣٠ تا ٧٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣، ٤٩٤ حاشیہ ملخص )
پھر جو قرآن لائے اور جس طرح اس کو پیش کیا اس کی کیفیت کچھ ذکر ہوئی کچھ آئندہ آئے گی کہ الفاظ کا بدلنا تو محال تھا معنی پر ہاتھ صاف کرنے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ جو معنی ان کے نفس نے بتائے وہ کئے۔ نہ ان معنی سے غرض رکھی جو صاحب وحی و کتاب ﷺ نے بتائے نہ اس تفسیر سے مطلب جو صحابہؓ نے فرمائی۔
ایمان بالیوم الآخر: یوم الآخر کا ڈر اور خوف، قیامت پر ایمان کی دلیل بنتا مگر ان کی پرائیویٹ زندگی ان کی دلیری پر دلالت کرنے والی جس کی طرف سردست اشارہ ہی کافی جب آمنت باللہ ...... الخ! کے ایک ایک شعبہ میں ان کا یہ حال ہے تو اب نماز ، روزہ، زکوٰۃ وحج کو دیکھنا فضول خیال۔
٢٧
اگر بالفرض و التقدیر جناب مرزا قادیانی خود ہی حج فرما لیتے تو بھی ان کلمات کفریہ کے ہوتے ہوئے وہ مسلمان ہی کیسے کہلاتے، مسیح یا مہدی ہونا تو دوسری چیز مسیح بن مریم علیہ السلام جو ہیں وہ ہیں۔ ان کے حج کی شان کا حدیث شریف میں اس طرح بیان، نہ اس میں خواب کا تذکرہ، نہ تعبیر کی ضرورت ۔ ”عن ابی هریرة قال قال رسول الله ﷺ لیهلن عیسٰی بن مریم بفج الروحاء بالحج والعمرة او بينهما جميعا (مسند امام احمد)“
مرزا قادیانی نے تو اپنے مزعومہ الہام سے پیشین گوئی بھی فرمائی کہ ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ (میگزین ١٤ جنوری ١٩٠٦ء، تذکرہ ص ٥٩١) مگر مرنا تو کجا جانا بھی نصیب نہ ہوا۔
احمد نبی اللہ ﷺ
حضرت سرکار محمد رسول اللہ ﷺ ہی کا نام نامی و اسم گرامی احمد ہے اسلئے کہ قرآن کریم نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ : ”وإذ قال عیسٰی بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد فلما جائهم بالبينات قالوا هذا سحر مبین (صف:٦) ”جب عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں، تو رات جو میرے آگے ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک (بڑے عظیم الشان) رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد ہی تشریف لائیں گے جن کا نام نامی احمد (ﷺ) ہے پس جب وہ احمد نامی (رسول) دلیلوں کے ساتھ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
- ١...... قرآن کریم نے فلما جائهم (پس جب وہ ان کے پاس تشریف لائے) کہہ کر یہ جتا
دیا کہ قرآن کریم اترنے کے وقت وہ احمد ﷺ آچکے تھے۔
- ٢....... مبشراً برسول (ایک بڑے عظیم الشان رسول کی بشارت دینے والا ہوں ۔) کی
تفسیر خود نبی اکرم ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے فرمائی (الشرح السنہ )عن عرباض بن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انی عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينته وساخبركم باول امرى دعوة ابراهيم وبشارة عیسٰی (الحدیث مشکوٰۃ) عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں اس وقت سے اللہ کے نزدیک نبیوں کا ختم کرنے والا لکھا ہوا ہوں، جبکہ یقیناً آدم علیہ السلام اپنی گندھی ہوئی مٹی ہی کی حالت میں تھے تو میں تمہیں اپنا پہلا امر بتاؤں کہ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعاہوں اور عیسٰی علیہ السلام کی بشارت ۔
٢٨
بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی جو وہی ختم الرسل بعد ان کے
- ٣...... من بعدی (میرے بعد ہی) کی تفسیر بھی حضور
حدیث شریف جو آپ سے پہلے بھی پڑھ چکے اب پھر ملاحظہ فـ بعیسٰی بن مریم ...... الخ ! ”میں عیسیٰ علیہ السلام ابن مر لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور یقیناً وہی نـ والے ہیں۔ پس دعائے ابراہیم علیہ السلام بشارت عیسیٰ علیہ انا احمد کہہ کر اپنا نام نامی بتارہے ہیں ان کے سوا نہ قرآ دی، نہ یہ بتایا کہ انہیں لوگ اسلام کی طرف بلائیں گے۔ ہے۔”فنجعل لعنة الله على الكاذبين“
حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت مہدی آخر تشریف آوری کی کھلی کھلی علامتیں احادیث طیبہ میں بیان ہوں گے۔ نہ کوئی سچا عالم ان سے اسلام کا ثبوت مانگے گا۔ ان هذا الا بهتان عظیم۔
ہمارے ناظرین جن کو مرزائی حقیقت کی بھی پـ کہ یہ کیا قصہ ہے پہلے پرچے میں تو حافظ صاحب جناب مـ فرما رہے تھے پھر مسیحیت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اب نمبر ٣ پھر مہدی بھی بتایا جا رہا ہے آگے چل کر انہیں کرشن بھی تسلیـ ہیں یا ایک معجون مرکب؟ حافظ جی کوئی خواب دیکھ رہے ہـ سبب خیالات پریشان پیش کر رہے ہیں؟
ہم انہیں بتائے دیتے ہیں کہ اس میں بے چارے
انچہ استاد بگفت است
(طوطی کو جیسا سبق پڑھا دیا جاتا ہے وہ اسی کو حافظ جی تو ہمارے سامنے آتے ، تب ہی ا انہیں بتائے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا حال بھی یہ ہے
٢٩
وہی ختم الرسل بعد ان کے احمد مجتبیٰ آئے
- ٣...... من بعدی (میرے بعد ہی) کی تفسیر بھی حضور انورﷺ کی زبانی معلوم کیجئے وہی
حدیث شریف جو آپ سے پہلے بھی پڑھ چکے اب پھر ملاحظہ فرما لیجئے۔ ”انی اولی الناس بعیسی بن مریم ...... الخ!“ میں عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے لئے سب سے اولیٰ ہوں۔ اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور یقیناً وہی قیامت سے پہلے تمہاری طرف اترنے والے ہیں۔ پس دعائے ابراہیم علیہ السلام بشارت عیسیٰ علیہ السلام احمد مجتبیٰ وہی محمد مصطفیٰﷺ جو انا احمد کہہ کر اپنا نام نامی بتا رہے ہیں ان کے سوا نہ قرآن کریم نے کسی اور احمد کے آنے کی خبر دی، نہ یہ بتایا کہ انہیں لوگ اسلام کی طرف بلائیں گے۔ یہ قرآن کریم پر افتراء اور کھلا جھوٹ ہے۔ ”فنجعل لعنة الله علی الکاذبین“
حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت مہدی آخر الزمان علیہ السلام دونوں حضرات کی تشریف آوری کی کھلی کھلی علامتیں احادیث طیبہ میں بیان فرما دی گئیں نہ وہ سچے اسلام سے دور ہوں گے۔ نہ کوئی سچا عالم ان سے اسلام کا ثبوت مانگے گا۔ نہ اُن پر کوئی سچا عالم کفر کا فتویٰ دے گا۔ ان هذا الا بہتان عظیم۔
ہمارے ناظرین جن کو مرزائی حقیقت کی بھی پوری طرح خبر نہیں شاید حیران ہوں گے کہ یہ کیا قصہ ہے پہلے پرچے میں تو حافظ صاحب جناب مرزا قادیانی کی مجددیت وامامت کی تبلیغ فرما رہے تھے پھر مسیحیت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اب نمبر ٣ میں اول انہیں احمد نبی کہا جا رہا ہے اور پھر مہدی بھی بتایا جا رہا ہے آگے چل کر انہیں کرشن بھی تسلیم کیا گیا آخر یہ معمہ کیا ہے۔ مرزا قادیانی ہیں یا ایک معجون مرکب؟ حافظ جی کوئی خواب دیکھ رہے ہیں یا ان کے قوائے دماغی کسی علت کے سبب خیالات پریشان پیش کر رہے ہیں؟
ہم انہیں بتائے دیتے ہیں کہ اس میں بے چارہ حافظ جی کا قصور نہیں۔
انچه استاد بگفت است همان می گوید
(طوطی کو جیسا سبق پڑھا دیا جاتا ہے وہ اسی کو دہرایا کرتا ہے)
حافظ جی تو ہمارے سامنے آتے، تب ہی انہیں دکھاتے مگر اب ناظرین دیکھیں ہم انہیں بتائے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا حال ہی یہ ہے وہ اپنے مزعومہ الہاموں میں کبھی خدا بنتے
٢٩
ہیں ۔ (کتاب البریہ ص ٧٨ ، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ ، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤) کبھی خدا کے بیٹے ۔ (دافع البلاء ص ٦ ، ٧ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) کبھی تثلیث کے ایک رکن۔ (توضیح المرام ص ٦٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢) کبھی رسول صاحب شریعت ۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) صاحب کبھی نبی غیر شریعت (حقیقت النبوۃ صفحات مختلفہ) کبھی مسیح ( حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) کبھی مہدی، کبھی مجدد کبھی کرشن بلکہ اسی پر بس نہیں ۔ کبھی مرد کبھی عورت ۔ اگرچہ ہماری تہذیب ہمیں یہ طرفہ تماشہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتی مگر حافظ جی ہمیں جھوٹ کا الزام دے رہے ہیں لہٰذا ہم حوالہ نقل کرنے کے لئے مجبور۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ انہیں الہام ہوا۔
- ١....... ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے مگر وہ حیض بچہ بن گیا اور ایسا بچہ جو بمنزلہ
اطفال اللہ ہے ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
(ناظرین سوچ لیں کہ حیض کس کو آیا کرتا ہے)
- ٢....... ”خدا نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین
احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردے میں پرورش پاتا رہا، پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کچھ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ (پھر اس صفحے کے آخر میں فرماتے ہیں) پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ تا کھجور کی طرف لے آئی ......الخ!“
(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
عبارات بالا میں ناظرین کو ایک الجھن رہ گئی ہوگی کہ (مرزا قادیانی کو) حاملہ ٹھہرایا گیا۔ حمل ٹھہرانے کی تفصیلی صورت ذکر نہیں فرمائی گئی اس لئے بقول کسے۔
اس کی تفصیل مرزا قادیانی کے ایک فرزند روحانی نے فرمادی، ملاحظہ کیجئے۔
ٹریکٹ اسلامی قربانی ٣٤ مؤلفہ یار محمد مرزائی مطبوعہ ریاض ہند پریس
”کشف کی حالت آپ (مرزا قادیانی) پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت (مردانگی) کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“ (اسلامی قربانی نمبر ٣٤ ص ١٢) (معاذ اللہ اب بھی اشارہ ہی رہا۔ لا حول ولا قوة الا بالله ) یہ عبارتیں اگر کسی ایسے شخص کے مقابلے میں پیش کی جاتیں جس میں غیرت اور شرم کا
٣٠
١٢٩
خفیف سا نقطہ بھی باقی ہوتا تو غالباً وہ اس کے بعد پبلک کو عمر بھر منہ
جناب حافظ جی صاحب شاید ہی غور فرمائیں کہ نبوت لعنت کس پر پڑی، اور ابدالاباد تک کس پر پڑتی رہے گی؟
ناظرین نے مرزا قادیانی کے مریم وعیسیٰ بننے کا حال تو ملاحظہ بننے کو قیاس کیا جاسکتا ہے، ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ حافظ جی یہ نہ آیا کہ ان کی تحریر کسی اہل علم کے سامنے بھی جائے گی۔
آئینہ کی مثال دے کر بروز وظہور کے مسئلہ کی تشریح کہ ہم نے سادہ لوح افراد کی دھوکہ دہی کے لئے کافی سامان کر ہیں کہ وہ جو حسب فرمان مخبر صادق ﷺ شان انبیاء کے آئینہ میں میں فرمایا گیا کہ: ”من اراد ان ينظر الى آدم عليه السلام عليه السلام وحسنه والى موسى عليه السلام السلام وزهده و الى محمدﷺ وخلقه فلينظر الاقطاب ص ٥)“ جو کوئی یہ چاہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کا اور ان کا حسن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی صلابت حضرت حضرت محمدﷺ اور ان کا خلق معائنہ کرے پس اسے چاہئے کہ باوجود اس شان مظہر کے سننے کہ کس صفائی کے ساتھ وہی شیر خدا لست نبياً ولا يوحى الى ”خبردار رہنا میں نبی نہیں ہوں نہ
تعجب اس پر ہے جس کا مظہر ہونا تو کجا مسلمان ہو ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ ”میں نبی ہوں، میں رسول ہوں، (العياذ بالله ) پھر اجتماع ضدین سونے پر سہاگہ کہ ایک طرف طرف کرشن جی کا اوتار لینے کا ادعا۔
سری کرشن جی اور ان کے روپ
اہل نظر پر مخفی نہیں کہ سری کرشن جی صاحب ہندو جاتے ہیں کسی قدیم تاریخی آدم کے حالات معلوم کرنے کے اصلی نسخوں کی تلاش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ سری کرشن جی کے
٣١
خفیف سا نقطہ بھی باقی ہوتا تو غالباً وہ اس کے بعد پبلک کو عمر بھر منہ نہ دکھاتا۔
جناب حافظ جی صاحب شاید ہی غور فرمائیں کہ نمبر ٢ دو ورقی کے ص٤ کالم ٢ سطر ١٩ کی لعنت کس پر پڑی، اور ابدالآباد تک کس پر پڑتی رہے گی؟
ناظرین نے مرزا قادیانی کے مریم و عیسیٰ بننے کا حال تو معائنہ فرمایا اسی پر ان کے آدم و نوح وغیرہ بننے کو قیاس کیا جاسکتا ہے، ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ حافظ جی یہ کہتے ہوئے اس امر کا ذرا بھی خیال نہ آیا کہ ان کی تحریر کسی اہل علم کے سامنے بھی جائے گی۔
آئینہ کی مثال دے کر بروز و ظہور کے مسئلہ کی تشریح کرتے ہوئے بڑے خوش ہوں گے کہ ہم نے سادہ لوح افراد کی دھوکہ دہی کے لئے کافی سامان بہم پہنچا دیا لیکن آنکھوں والے دیکھتے ہیں کہ وہ جو حسب فرمان مخبر صادقﷺ شان انبیاء کے آئینہ صفت مظہر بنے جن کے لئے حدیث میں فرمایا گیا کہ: ”من اراد ان ینظر الی آدم علیہ السلام وصفوتہ والی یوسف علیہ السلام وحسنہ والی موسیٰ علیہ السلام وصلابتہ والی عیسیٰ علیہ السلام وزہدہ والی محمدﷺ وخلقہ فلینظر الی علی بن ابی طالب (سیر الاقطاب ص ٥)“ جو کوئی یہ چاہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی صفوت حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کا حسن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی صلابت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کا زہد حضرت محمدﷺ اور ان کا خلق معائنہ کرے پس اسے چاہئے کہ علی بن ابی طالب کی طرف دیکھے باوجود اس شان مظہر کے سنئے کہ کس صفائی کے ساتھ وہی شیر خدا علی مرتضیٰ فرما رہے ہیں: ”الا وانی لست نبیاً ولا یوحیٰ الی“ خبردار رہنا میں نبی نہیں ہوں نہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔
تعجب اس پر ہے جس کا مظہر ہونا تو کجا مسلمان ہونے پر بھی کوئی دلیل شرعی نہ قائم ہوتی ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ ”میں نبی ہوں، میں رسول ہوں، میں سب نبیوں سے افضل ہوں۔“ (العیاذ باللہ) پھر اجتماع ضدین سونے پر سہاگہ کہ ایک طرف نبی و رسول ہونے کا دعویٰ دوسری طرف کرشن جی کا اوتار لینے کا ادعا۔
سری کرشن جی اور ان کے روپ
اہل نظر پر مخفی نہیں کہ سری کرشن جی صاحب ہندو جاتی کے ایک بہت بڑے رہبر مانے جاتے ہیں کسی قدیم تاریخی آدمی کے حالات معلوم کرنے کے لئے سمجھدار محققین عالم ہمیشہ پرانے اصلی نسخوں کی تلاش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ سری کرشن جی کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھی
٣١
بجائے زمان حال کے مصنفین کی کتابوں کے ہم اس کتاب کے مقالات کی طرف توجہ کرتے ہیں جو خود کرشن جی کی ذاتی کتاب کہی جاتی ہے یعنی بھگوت گیتا۔ اس میں کرشن جی نے اپنے آپ کو جس روپ میں پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ ان چند حوالوں کا ملاحظہ سامنے آجائے گا۔
سری کرشن جی کا ایک روپ یا تصویر کا ایک رخ
بھگوت گیتا میں کرشن جی فرماتے ہیں:
- ١....... اس دنیا کا ماں باپ سہارا اور بابا میں ہوں...... سب کا پالنے والا، مالک، گواہ، جائے
قرار، جائے پناہ، دوست، باعث پیدائش، باعث خاتمہ، باعث قیام، خزانہ اور پیدائش کا لازوال بیج میں ہی ہوں۔ اے ارجن! میں گرمی دیتا ہوں، میں پانی کو روکتا ہوں، میں برساتا ہوں، میں امرت ہوں۔
(گیتا ٩، ١٧ تا ١٩)
- ٢....... سب دیوتاؤں اور مہارشیوں کی ابتداء بہرحال مجھ ہی سے ہے جو شخص یہ جانتا ہے کہ
میں پر تھوی وغیرہ سب لوگوں کا بڑا ایشور ہوں اور میرا جنم یعنی آغاز نہیں ہے وہی انسان میں موہ سے آزاد ہو کر سب پاپوں سے چھوٹ جاتا ہے۔
(گیتا ١٠، ٢، ٣)
- ٣....... میں سب جانداروں کا مالک ہوں اور پیدائش سے بالاتر ہوں اگر چہ میرے آتھم
سروپ میں کبھی تغیر نہیں ہوتا مگر میں اپنی پر کرتی (خاصیت) میں قائم رہ کر اپنے مایا سے جنم لیا کرتا ہوں۔
(گیتا ٤، ٦ تا ٨)
ناظرین نے اس پہلے روپ یا تصویر کے ایک رخ میں دیکھ لیا کہ سری کرشن جی خدائی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ روپ لینے کی حقیقت پر بھی آپ نے غور کر لیا کہ خدا کے اس جسم محدود میں آجانے کا نام روپ لینا یا اوتار بننا بتارہے ہیں۔
ہم تہہ دل سے جناب مرزا قادیانی کی اس بات کی تصدیق کے لئے تیار ہیں کہ یقیناً ان کے اور کرشن جی کے دعوے یکساں ہیں اور ان دعوؤں کے اعتبار سے وہ یقیناً کرشن جی کہے جاسکتے ہیں۔ بطور تمثیل مرزا قادیانی کا دعویٰ ملاحظہ ہو اور پھر دونوں کے دعوؤں کا مقابلہ کر لیا جائے۔ مرزا قادیانی (کتاب البریہ ص ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) پر فرماتے ہیں۔ ”کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اسی حالت میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں سو میں نے آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا ...... پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زينا السماء الدنيا بمصابيح پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں ۔" وغیرہ ذالك من الخرافات ملخص!
٣٢
سری کرشن جی کا دوسرا روپ یا تصویر کا دوسرا رخ
بھگوت پران میں بھی کرشن جی کی دوسری تصویر ی دریا میں کرشن جی اشنان فرمارہے ہیں اور گوپیا ہیں۔ کرشن جی گوپیوں کے کپڑے چھپا دیتے ہیں سب ک کپڑوں کی تلاش کرتی ہیں۔ سری کرشن جی گوپیوں سے لذ سے جسم پیدا کر لیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ (ملخصاً)
سوک رشی سے راجہ پرکشت پوچھتا ہے کہ خدا تو کرتا ہے کہ سچا دھرم پھیلائے۔ یہ کیسا خدا ہے کہ دھرم کے عورتوں سے ......؟
رشی جی کرشن جی کے عمل کی تاویل اس طرح اوقات نیکی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں مگر ان کے گناہ ان کی طرح آگ تمام چیزوں کو جلانے کے باوجود مورد الزام نہیں
ان دونوں تصویروں کو دیکھتے ہوئے زیادہ جری کہہ دیں کہ یہ دونوں غلط ہیں اور وہ محض ایک انسان تھے ہوں گے۔ مگر یہاں تو غور طلب یہ امر ہے کہ تاریخی نقطہ نظ ہیں پس جو حکم بھی دیا جائے گا وہ اسی معلومات کی بناء پر ہوئے کون صاحب عقل ان کو نبی بتا سکتا ہے؟ اور اس خد درآنحالیکہ خدائی کتاب میں اس کا اعلان ان کی شخصیت پر کرشن کے دوسرے روپ کے پہلے حصہ کا تعلق مرزا قادیا سردست مناسب نہیں معلوم ہوتی لیکن دوسرے روپ کے اسے دیکھتے ہوئے ہم اس کی تصدیق کرنے میں ذرا تامل کے حیلے بھی ان کی بات کو بنانے اور تاویل فرمانے میں ای مرزا قادیانی اگر کرشن جی کے اوتار ہیں تو وہ سوک رشی دی جس کے لئے مرزا قادیانی نے اپنا یہ مزعومہ الہام بیان فرم
- ١....... " اعمل ماشئت قد غفرت لك " جو م
٣٣
سری کرشن جی کا دوسرا روپ یا تصویر کا دوسرا رخ
بھاگوت پران میں بھی کرشن جی کی دوسری تصویر اس طرح نظر آتی ہے کہ: دریا میں کرشن جی اشنان فرما رہے ہیں اور گوپھیاں (خوبصورت عورتیں) بھی نہا رہی ہیں۔ کرشن جی گوپھیوں کے کپڑے چھپا دیتے ہیں سب کی سب دریا سے برہنہ نکلتی ہیں اپنے کپڑوں کی تلاش کرتی ہیں۔ سری کرشن جی گوپھیوں سے لذت اندوز ہونے کے لئے اپنے بہت سے جسم پیدا کر لیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ (ملخصاً)
سوک رشی سے راجہ پرکشت پوچھتا ہے کہ خدا تو اوتار کے روپ میں اس لئے ظاہر ہوا کرتا ہے کہ سچا دھرم پھیلائے۔ یہ کیسا خدا ہے کہ دھرم کے تمام اصولوں کے خلاف دوسروں کی عورتوں سے......؟
رشی جی کرشن جی کے عمل کی تاویل اس طرح فرماتے ہیں کہ ”خود دیوتا بھی بعض اوقات نیکی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں مگر ان کے گناہ ان کی ذات پر اسی طرح اثر نہیں کرتے جس طرح آگ تمام چیزوں کو جلانے کے باوجود مورد الزام نہیں ہو سکتی۔“
ان دونوں تصویروں کو دیکھتے ہوئے زیادہ بریں نیست کہ حسن خیال کی بناء پر ہم یہ کہہ دیں کہ یہ دونوں غلط ہیں اور وہ محض ایک انسان تھے اور ایسی شرمناک باتیں ہرگز نہ کرتے ہوں گے۔ مگر یہاں تو غور طلب یہ امر ہے کہ تاریخی نقطہ نظر سے بھی دو تصویریں ہمارے سامنے ہیں پس جو حکم بھی دیا جائے گا وہ اسی معلومات کی بناء پر اور اس کے بلکہ صرف اس کے ہوتے ہوئے کون صاحب عقل ان کو نبی بتا سکتا ہے؟ اور اس خدائی خطاب کو ان پر چسپاں کر سکتا ہے؟ درآنحالیکہ خدائی کتاب میں اس کا اعلان ان کی شخصیت پر نہ کیا گیا ہو۔ تصویر کے دوسرے رخ یا کرشن کے دوسرے روپ کے پہلے حصہ کا تعلق مرزا قادیانی سے کیا ہے اس کے متعلق لب کشائی سردست مناسب نہیں معلوم ہوتی لیکن دوسرے روپ کے باب میں سوک رشی جی نے جو کچھ فرمایا اسے دیکھتے ہوئے ہم اس کی تصدیق کرنے میں ذرا تامل نہ کریں گے کہ بے شک کرشن قادیانی جی کے چیلے بھی ان کی بات کو بنانے اور تاویل فرمانے میں ایسے ہی مشتاق ہیں جیسے رشی جی تھے۔ گویا مرزا قادیانی اگر کرشن جی کے اوتار ہیں تو وہ سوک رشی جی کے۔ اس لئے کہ کوئی ضرورت تو ہو گی جس کے لئے مرزا قادیانی نے اپنا یہ مزعومہ الہام بیان فرمایا کہ:
...... اعمل ماشئت قد غفرت لك ”جو چاہے تو کئے جا ہم نے تجھے بخش دیا۔“
٣٣
- ٢...... اور حافظ جی جیسے چیلے آسمانی نکاح والوں کے متعلق واقعات میں ایسی ہی عجیب
وغریب تاویل فرماتے اور پھر حوالہ لکھتے ہیں کہ ”لڑکی ٩،٨ برس کی تھی اس پر نفسانی افتراء......حماقت ہے۔“
شاید انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دنیا میں کوئی سمجھدار باقی ہی نہیں رہا جو یہ جانتا ہو کہ اگر بالفرض ٨، ٩ برس ہی کی عمر مان لی جائے تو ہندوستان اور بالخصوص پنجاب میں اتنی عمر کی اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کی بچیاں کیسی ہوتی ہیں۔
بہرنوع ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ اوتار کہئے، بروز کہئے یا ظہور سے تعبیر کیجئے یا آئینہ کی تصویر کو تمثیل بتائیے مرزا جی اپنے دعاوی کے اعتبار سے جو کچھ بھی ہیں کرشن جی کے ہیں۔ اس لئے کہ:
- ١...... کرشن جی نے اوتار یا حلول کا مسئلہ سکھایا۔ مرزا قادیانی نے بھی ”انت منی وانا
منك“ (تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں ۔) (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) کا مفروضہ الہام سنایا۔ پھر خدا کو (معاذ اللہ ) تیندوے سے تشبیہ دی اور ہاتھ پیر والا بھی بتایا۔
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
- ٢...... کرشن جی نے تناسخ آوا گون کا مسئلہ سکھایا مرزا قادیانی نے بھی سب کا بروز مثیل ظہور
ہونے کا دعویٰ ایسی ہی شکل میں پیش فرمایا جس کا ترجمہ آسانی کے ساتھ آوا گون ہی سے کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ان کا کرشن ہونا تو درست مگر کرشن ہوتے ہوئے مجدد و مہدی و عیسیٰ بن مریم بلکہ بقول حافظ جی احمد نبی بننا دشوار اور ان موحدین کی نورانی قبا کا اس صورت پر جو کرشن نما (یعنی بقول حافظ جی کالی) ہو پھبنا خود اس قباء کے لئے عار۔
ہمیں افسوس ہے کہ کرشن جی کی کوئی تیسری تصویر ہمیں کہیں سے دستیاب نہیں ہوتی، نہ کہیں قرآن کریم میں ان کا ذکر، نہ کسی اور آسمانی کتاب میں ان کا بیان، نہ کسی حدیث میں خبر، نہ کسی مستند تاریخ میں کوئی اثر ، یہ مانا کہ ہندوستان میں بھی ہادی اور رہبر بلکہ انبیاء ورسل آئے ہوں مگر اس کی کیا دلیل کہ فلاں شخص نبی تھا؟
حافظ جی کو جب قرآن، حدیث، تفسیر، تاریخ کہیں بھی پتہ نہ ملا تو عجب بے تکی اڑائی کہ فلاں فلاں نے لکھا۔ کہ ”ہندوستان میں ایک کالے رنگ والا نبی تھا جس کا نام کاہن تھا، چونکہ اس کا رنگ کالا بتایا گیا اور کرشن کے معنی بھی کالا، لہٰذا کرشن نبی تھا۔“
اس بیان پر غالباً ایک معمولی سمجھ رکھنے والا بچہ بھی ہنس پڑے گا اور حافظ جی کی فہمیں نہیں ٣٤
مرزا قادیانی کی قابلیت کی داد دے گا۔ ہمیں افسوس ہے کہ محض سادہ لوح اس افسوس میں نہ آجائیں۔ ایسی تحریر پر تنقید کی ضرورت تو یہ ہے کہ ایسی لغو تحریر پر تبصرہ کرنا بھی شانِ علمی کے خلاف۔ اس قابل لحاظ کے اس خبر ہی کا کیا اعتبار پھر اگر بالفرض کسی تاریخ سے ثبوت کہ یہ کرشن جی ہی کے متعلق ہے اس لئے کہ نام تو کاہن بت جائے بلکہ اسم صفت ہی مانیں تو حافظ جی کرشن جی کو کالا بتائیں ایسا ملیح و خوبصورت مانتی چلی آرہی ہے کہ گوپیاں ان پر فدا کنارے بہت سی خدا کی بندیاں اسی امید پر کہ کسی موہنی روپ کچھ بچے کے لئے تیار رہتی ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ کاہن وہی یوز آسف ہو جو ہند دست کے گھر پیدا ہوا شاہزادہ نبی کہلایا، کشمیر گیا وہیں مرا وہیں دفن کیا قبر کہلاتی اور اسی نام سے پہچانی جاتی ہے۔ بعض روایتیں اس جو اس کی کہانت پر دلالت کر سکتی ہیں۔ (تفصیل حال کے لئے کتا عبدالحق مطبوعہ مطبع ہاشمی دہلی ص ٣٥٨ کو دیکھا جاسکتا ہے ) مرزا قادیان کی قبر تصنیف کر ڈالا۔
پھر اور آگے بڑھئے مرزا قادیانی تو نہ کرشن کی نم ظہور، وہ تو صاف فرماتے ہیں کہ: ”میں راجہ کرشن کے رنگ م اوتاروں میں بڑا اوتار تھا۔ پھر آگے چل کر گیتا کو بھی الجملہ الہامی ان (مرزا قادیانی ) پر الہام ہوا ہے۔“
یاللعجب ہم وید میں توحید کا جلوہ دکھائیں تو ہم بھی کچھ نہیں۔
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا
”کرشن رودھر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ۔
مرزا قادیانی نے گیتا کا حوالہ دے کر خود واضح ک ٣٥
مرزا قادیانی کی قابلیت کی داد دے گا۔ ہمیں افسوس ہے کہ محض بدیں خیال کہ کہیں مارشس کے سادہ لوح اس افسوں میں نہ آ جائیں۔ ایسی تحریر پر تنقید کی ضرورت لاحق ہو رہی ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی لغو تحریر پر تبصرہ کرنا بھی شان علمی کے خلاف۔ اس لئے کہ سب سے پہلے تو یہی بات قابل لحاظ کہ اس خبر ہی کا کیا اعتبار پھر اگر بالفرض کسی تاریخ سے اس کا پتہ بھی مل جائے تو اس کا کیا ثبوت کہ یہ کرشن جی ہی کے متعلق ہے اس لئے کہ نام تو کاہن بتایا گیا نہ کرشن ، پھر اگر اس کو علم نہ مانا جائے بلکہ اسم صفت ہی مانیں تو حافظ جی کرشن جی کو کالا بتا ئیں ساری ہندو جاتی تو آج تک ان کو ایسا ملیح وخوبصورت مانتی چلی آ رہی ہے کہ گوپیاں ان پر فداتھیں بلکہ آج بھی متھرا میں گنگا کے کنارے بہت سی خدا کی بندیاں اسی امید پر کہ کسی موہنی روپ میں ان کے درشن ہو جائیں سب کچھ تجنے کے لئے تیار رہتی ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ کاہن وہی یوز آسف ہو جو ہندوستان کے صوبہ سولاہت میں راجہ جنمسر کے گھر پیدا ہوا شاہزادہ نبی کہلایا، کشمیر گیا وہیں مرا وہیں دفن کیا گیا۔ آج تک اس کی قبر شہزادہ نبی کی قبر کہلاتی اور اسی نام سے پہچانی جاتی ہے۔ بعض روایتیں اس کے متعلق ایسی بیان بھی کی جاتی ہیں جو اس کی کہانت پر دلالت کر سکتی ہیں۔ (تفصیل حال کے لئے کتاب یوز آسف اور بلوہر مترجمہ مولوی سید عبدالغنی مطبوعہ مطبع ہاشمی دہلی ص ٤٥٨ کو دیکھا جاسکتا ہے ) مرزا قادیانی نے اس قبر کو حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر تصنیف کر ڈالا۔
پھر اور آگے بڑھئے مرزا قادیانی تو نہ کرشن کی نبوت بتاتے ہیں، نہ اس کی نبوت کا ظہور، وہ تو صاف فرماتے ہیں کہ : ”میں راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں بڑا اوتار تھا۔ پھر آگے چل کر گیتا کو فی الجملہ الہامی کتاب مانتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان (مرزا قادیانی) پر الہام ہوا ہے۔“
یاللعجب ہم وید میں توحید کا جلوہ دکھائیں تو ہم پر اعتراض ، یہ گیتا کو الہامی مانیں تو بھی کچھ نہیں۔
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں کرتے
”کرشن رودھر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔“
(سیالکوٹ ص ٣٤ ، خزائن ج ٢٠ ص ٢٣٩)
مرزا قادیانی نے گیتا کا حوالہ دے کر خود واضح کر دیا کہ ان کی مراد کیا ہے؟ گیتا میں
٣٥
اوتار یا روپ کے معنی آپ نے ابھی ابھی کرشن جی کے بتائے ہوئے دیکھے کہ خدا کے انسانی جسم میں حلول کرنے کو اوتار لینا یا روپ لینا کہا گیا۔ پس مجرد ان کلمات کے استعمال ہی نے انہیں دائرہ توحید سے جدا شرک کے مرض میں مبتلا کر دیا اب ان کا اسلام سے کیا علاقہ رہا۔
توہین انبیاء
جناب حافظ جی صاحب کو اس تحریر کے وقت شاید یہ خیال نہ رہا ہو گا کہ جس کے جواب میں وہ اپنی دو ورقی پیش کر رہے ہیں وہ اگر چہ مارشس سے جا رہا ہے مگر اس کا قلم الحمد للہ! ہزاروں کوس کی مسافت سے بھی ان کی پردہ دری کرنے کے لئے تیار رہے گا اسی لئے بے خوف و خطر فرماتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی نے نبیوں کو گالیاں دی ہیں یہ بھی صریح جھوٹ ہے۔“ ناظرین ! ذرا سطور ذیل کو بغور پڑھیں اور خود ہی فیصلہ کرلیں کہ مرزا قادیانی نے اگر اپنے ان کلمات میں گالیاں نہیں دیں تو کیا کیا ؟
- ١....... ”مسیح کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کوئی عجوبہ بات نہیں اب برسات قریب آئی
ہے باہر جا کر دیکھئے کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں ۔“ (معاذ اللہ )
(جنگ مقدس ص ٧ ، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠)
- ٢....... اخبار بدر مورخہ ٩ مئی ١٩٠٧ء میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں (نہ کہ
عیسائیوں کو) ” ایک دفعہ حضرت مسیح زمین پر آئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے دوبارہ آکر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ (مسلمان) ان کے آنے کے خواہش مند ہیں ۔“ معاذ اللہ
- ٣....... ”حق بات یہ ہے کہ آپ (حضرت مسیح علیہ السلام) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ۔“ (معاذ
اللہ یہاں حق بات کہہ کر قرآن میں ذکر کئے ہوئے معجزات کا بھی انکار ہے ۔)
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٤....... ”آپ (حضرت مسیح علیہ السلام) کے ہاتھ میں مکر وفریب کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔“
(معاذ اللہ )
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٥....... ”آپ (حضرت مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں
آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ۔“ (معاذ اللہ )
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
علماء اسلام نے جب مرزا قادیانی کے ان کلمات پر گرفت کی تو خود مرزا قادیانی ہی کی زبان سے سنئے کہ ان علماء کو ( حافظ جی نے تو ہمیں جھوٹا کہا مرزا قادیانی) مفسد و مفتری بتا کر کس انداز سے اپنی بریت کا اظہار فرماتے ہوئے حضرت مسیح کے بھائی بہن بتا کر مکرر گستاخی کر رہے ہیں ۔
٣٦
”مفسد و مفتری وہ شخص ہے جو مجھے کہتا ہے کہ میں توہین مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں بیٹے ہیں ، یسوع کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے سب یوسف اور مریم کی اولاد تھے ۔“
ہم نہیں جانتے کہ مرزا قادیانی کا اعتقاد وہ ہے جو السلام بغیر باپ پیدا ہوئے یا یہ جس میں ان کی دادیاں ، نانیاں ا پہلا ہے تو اس کا مرقعہ حوالہ نمبر ١ سے ظاہر کہ حضرت مسیح کو برسات دوسرا ہے تو اس کی شان ناظرین نے دیکھ ہی لی کہ دادیاں اور نا بھی دی گئیں۔
حافظ جی کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ بدلتا رہتا تھا پہلا مسیح کا عقیدہ تصنیف کیا۔ ممکن ہے کہ اس عقیدہ میں بھی ایسا گالیاں دیں گستاخیاں کیں پھر ان سے توبہ بھی نہ کی لہٰذا جرم ثاب یہ داؤ پیچ عقلاء کے سامنے نہ چل سکا ہے نہ چل سکے جواب میں تھیں ، اس لئے کہ اخبار بدر اور کشتی نوح ص ١٦ ۔ مسلمانوں کے مقابلہ میں بھی یہی کہا گیا ۔ فاعتبروا یا اولی
نکاح آسمانی
محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کے مفروضہ نکاح کے اس طرح نقل کیا ہے کہ ” نکاح والی پیش گوئی پوری نہ ہوئی ”پوری ہوگئی“ مگر چونکہ یہ جواب امر واقعہ کے خلاف تھا لہٰذا کے بروز کی حیثیت سے عجیب و غریب تاویل فرمائی جس کا خو
- ١....... نکاح کی پیش گوئی صرف اس غرض سے تھی کہ م
دین تھے ان کو نکاح کا نشان دکھا کر دیندار بنائیں ۔
- ٢....... احمد بیگ ( پدر محمدی بیگم ) نے توبہ نہ کی وہ ہلاک
- ٣....... پیش گوئی میں توبہ کی شرط تھی توبہ تو بہ .... الخ ا تو
خاندان مرزائی بن گیا۔ لہٰذا تو بہ سے نکاح ٹل گیا۔
٣٧
”مفسد و مفتری وہ شخص ہے جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا...... مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں، یسوع کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھے۔“
(کشتی نوح ص١٦، خزائن ج١٩ ص١٨)
ہم نہیں جانتے کہ مرزا قادیانی کا اعتقاد وہ ہے جو حافظ جی لکھتے ہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ پیدا ہوئے یا یہ جس میں ان کی دادیاں، نانیاں اور حقیقی بھائی بہن بتائے گئے۔ اگر پہلا ہے تو اس کا مدعا حوالہ نمبر ١ سے ظاہر کہ حضرت مسیح کو برساتی کیڑوں سے تشبیہ دی گئی اور اگر دوسرا ہے تو اس کی شان ناظرین نے دیکھ ہی لی کہ دادیاں اور نانیاں بھی بنیں اور انہیں شنیع گالیاں بھی دی گئیں۔
حافظ جی کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ بدلتا رہتا تھا پہلے حیات مسیح کے قائل تھے پھر وفات مسیح کا عقیدہ تصنیف کیا۔ ممکن ہے کہ اس عقیدہ میں بھی ایسا ہی پیچ ہو۔ بہر صورت دونوں طرح گالیاں دیں گستاخیاں کیں پھر ان سے توبہ بھی نہ کی لہٰذا جرم ثابت۔
یہ داؤ پیچ عقلاء کے سامنے نہ چل سکا ہے نہ چل سکے گا کہ مسیحیوں کو ملزم بنانے کے لئے جواب میں کہیں، اس لئے کہ اخبار بدر اور کشتی نوح ص١٦ کے حوالہ نے تو صاف ظاہر کر دیا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں بھی یہی کہا گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
نکاح آسمانی
محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کے مفروضہ نکاح کے باب میں حافظ جی نے ہمارا اعتراض اس طرح نقل کیا ہے کہ ”نکاح والی پیش گوئی پوری نہ ہوئی ۔“ اس کا جواب سیدھا سا تو یہ تھا کہ ”پوری ہوگئی“ مگر چونکہ یہ جواب امر واقعہ کے خلاف تھا لہٰذا حافظ جی صاحب نے نیوگ رشی جی کے بروز کی حیثیت سے عجیب و غریب تاویل فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔
- ١...... نکاح کی پیش گوئی صرف اس غرض سے تھی کہ محمدی بیگم کے خاندان کے لوگ جو بے
دین تھے ان کو نکاح کا نشان دکھا کر دیندار بنائیں۔
- ٢...... احمد بیگ (پدر محمدی بیگم) نے توبہ نہ کی وہ ہلاک ہو گیا۔
- ٣...... پیش گوئی میں توبہ کی شرط تھی توبہ توبہ...... الخ! توبہ سے یہ سب باتیں ٹل گئیں تقریباً سارا
خاندان مرزائی بن گیا۔ لہٰذا توبہ سے نکاح ٹل گیا۔
٣٧
تحریر اگرچہ طویل ہو جائے مگر ہم مجبور ہیں چونکہ مرزائی پورا حوالہ دیکھ لینے کے بعد بھی باتیں بنانے کی عادت رکھتے ہیں اور کسی وجہ سے اگر مختصر حوالہ کا ذکر کر دو تو فوراً جھوٹ کا الزام دیتے ہیں۔ لہٰذا اس باب میں بھی ہم تفصیل کے ساتھ حوالہ پیش کر کے فیصلہ اہل نظر پر چھوڑتے ہیں۔
جواب اور اس کا ثبوت
محمدی بیگم کے خاندان کے لوگ بے دین نہ تھے اس کا ولی یعنی باپ ایسا دیندار کہ اس کے ساتھ مرزا قادیانی محبت کا اظہار کرتے اور اس کے اسلام کو تسلیم کرتے ہیں، یہ وہی ہیں جن کو حافظ جی کہتے ہیں کہ ”توبہ نہ کی ہلاک ہو گیا۔“
نامہ مرزا قادیانی بنام مرزا احمد بیگ صاحب پدر محمدی بیگم مورخہ ١٧ جولائی ١٨٩٢ء
مشفق مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے دل میں اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل آپ کی طرف سے بالکل صاف ہے۔ قادر مطلق سے آپ کے لئے دعائے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں کہ تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ ہمیں خدائے قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ آپ کو خدا کی رحمتیں وارد ہوں گی اور آخر اس جگہ ہوگا۔ ہزاروں پادری شرارت نہیں حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے لیکن خدائے تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدائے تعالیٰ آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔
غلام احمد
نامہ مرزا بنام مرزا علی شیر بیگ (محمدی بیگم کے پھوپھا مرزا کے لڑکے فضل احمد کے خسر) مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء
مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں آپ کو غریب طبع نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں، آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری تاریخ اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ کہ اس کو خوار کیا جائے ذلیل کیا
٣٨
جائے۔ روسیاہ کیا جائے، اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ (اب مجھے کوئی اور شخص نہیں بچا سکتا اگر سچے؟) اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور بچا لے گا۔ (اس نے نہ بچایا لہٰذا یہ خدا کا نہ تھا)
(آگے چل کر ایک طویل عبارت لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ احمد بیگ اور اس کے اپنے بھائی کو مجبور کریں، ان کو چھوڑ دینے کی دھمکی دیں تا کہ وہ اس کا نکاح (محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے کردیں اور اگر آپ کی بیوی ایسا نہ کرے تو اسے طلاق دے دیں، اگر وہ ایسا نہ کرے تو سے کہوں گا کہ اپنی بیوی (یعنی) آپ کی لڑکی کو طلاق دے، اگر آپ کا بیٹا (فضل احمد) ایسا نہ کرے تو میں اسے عاق کردوں گا اور وراثت سے محروم کردوں گا۔
(ناظرین انصاف کریں کیا مجدد و مسیح و نبی کی یہی تعلیم ہوتی ہے) مندرجہ بالا اقتباس نے اگرچہ بہت سی باتوں کو واضح کر دیا مگر ہم سردست ان میں سے صرف تین باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
- .......١ مرزا احمد بیگ مسلمان تھے اچھے آدمی تھے، مرزا قادیانی کے دل میں ان کے لئے محبت اور خلوص
تھا بلکہ ان سے بے حد محبت تھی۔ لہٰذا ان کی موت کسی جرم کے باعث نہ تھی کیونکہ وہ اسلام پر مرے ہاں جرم صرف اس قدر تھا کہ جوان بیٹی بوڑھے مرزے کو نہ دی۔
- .......٢ نکاح کی تحریک صرف الہام کے سبب کی گئی تھی۔ یہ الہام چونکہ عیسائیوں
پادریوں اور ہندوؤں کے لئے نشان ہے اگر دوسری جگہ ہوگا تو اسلام کی بڑی سبکی اور ہتک ہوگی اور ان کی ہی سے ہوگا۔
- .......٣ اگر نکاح نہ ہوگا تو مرزا قادیانی خوار و ذلیل روسیاہ ہوگا۔
بقول مرزا قادیانی نکاح نشان مسیح آخر الزمان
اور آگے چلئے اور دیکھئے کہ مرزا قادیانی اس نکاح کو بیگم کے خاندان والوں کی اصلاح سے اس کا کوئی تعلق نہیں حضور نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا ذکر کرتے گے شادی کریں گے ...... الخ!۔ جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
”تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان پ گوئی موجود ہے گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکر رہے اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ
٣٩
جائے۔ روسیاہ کیا جائے، اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ (اللہ نے نہ بچایا لہٰذا آپ کیا بنے؟) اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور بچا لے گا۔ (اس نے نہ بچایا ثابت ہوا کہ اس کے نہ تھے) (آگے چل کر ایک طویل عبارت لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ) آپ اپنی بیوی سے کہئے کہ وہ اپنے بھائی کو مجبور کریں، ان کو چھوڑ دینے کی تنبیہ کریں تاکہ وہ بہن کے دباؤ سے مجبور ہو کر محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے کر دیں اور اگر آپ کی بیوی ایسا نہ کرے گی تو میں اپنے بیٹے فضل احمد سے کہوں گا کہ اپنی بیوی (یعنی) آپ کی لڑکی کو طلاق دے اگر اس نے میرا کہنا نہ مانا تو میں اسے عاق کردوں گا اور وراثت سے محروم کردوں گا۔
(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢١)
(ناظرین انصاف کریں کیا مجدد و مسیح و نبی کی یہی شان ہوتی ہے؟) ان ہر دو خطوط کے اقتباس نے اگرچہ بہت سی باتوں کو واضح کر دیا مگر ہم سردست ان امور ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
- ١....... مرزا احمد بیگ مسلمان تھے اچھے آدمی تھے، مرزا قادیانی کا دل ان کی طرف سے صاف
تھا بلکہ ان سے بے حد محبت تھی۔ لہٰذا ان کی موت کسی جرم کے سبب سے نہیں ہوئی۔ وہ مسلمان تھے اسلام پر مرے ہاں جرم صرف اس قدر تھا کہ جوان بیٹی بوڑھے بے دین مرزا قادیانی کو کیوں نہ دی۔
- ٢....... نکاح کی تحریک صرف الہام کے سبب کی گئی ہے۔ نکاح ضرور ہوگا۔ اس لئے کہ
پادریوں اور ہندوؤں کے لئے نشان ہے اگر دوسری جگہ ہوگا تو تشکیکیں ہوں گی اور آخر مرزا قادیانی ہی سے ہوگا۔
- ٣....... اگر نکاح نہ ہوگا تو مرزا قادیانی خوار و ذلیل روسیاہ ہو جائیں گے۔
بقول مرزا قادیانی نکاح نشان مسیح آخر الزمان ہے اور وہ ظاہر نہ ہوا
اور آگے چلئے اور دیکھئے کہ مرزا قادیانی اس نکاح کو مسیح موعود کا نشان بتاتے ہیں۔ محمدی بیگم کے خاندان والوں کی اصلاح سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
حضور نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہ مسیح بن مریم دنیا میں اتریں گے شادی کریں گے۔...... الخ!۔ جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
”تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا، جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
٣٩
پھر صفحہ ٥٤ پر فرماتے ہیں کہ ”براہین احمدیہ میں بھی اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ تیسری زوجہ جس کا انتظار ہے، یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت کھولا گیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
اب بھی کیا اس کے ثبوت میں کوئی کسر رہ گئی کہ اس نکاح کو مرزا قادیانی مسیح موعود کا نشان بتا رہے ہیں۔ پس بقول مرزا قادیانی اگر یہ نشان ظاہر نہ ہو نکاح نہ ہو تو وہ مسیح موعود نہیں۔ بقول مرزا قادیانی نکاح تقدیر الہی ہے جو ٹل نہیں سکتی وہ ٹل گئی لہٰذا تقدیر نہ تھی۔ جناب مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر اس مضمون کو ظاہر فرمایا کہ یہ نکاح ہونا خدا کا ایسا وعدہ ہے جو ٹل نہیں سکتا۔ ان خطوط میں بھی اس کا ذکر۔ یہاں مزید ایک اور حوالہ دیکھ لیجئے۔ اشتہار نصرت دین مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء میں فرماتے ہیں۔ ”خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار پا چکا ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدائے تعالیٰ اس کو بیوہ کر کے میری طرف لائے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)
توبی توبی کی شرط اور اس کا پورا نہ ہونا
اب جناب حافظ جی صاحب کی ان دونوں رکیک تاویلوں پر نظر ڈالئے کہ توبہ سے نکاح ٹل گیا احمد بیگ نے توبہ نہ کی وہ ہلاک ہو گیا۔
حافظ جی کو یا تو خبر ہی نہیں یا دیدہ دلیری ہے یا طوطی کی صدا۔ جہاں کہیں بھی اس نکاح کو قسم کے ساتھ مؤکد کرتے ہوئے وعدہ ربانی بتایا گیا اس کا آسمان پر منعقد ہونا ظاہر کیا گیا وہاں کہیں توبہ کا ذکر تک نہیں آیا اور اگر بالفرض توبہ کو شرط بھی قرار دیا جائے تو عذاب اور بلا کے لئے نہ کہ نکاح کے لئے۔ پھر توبی توبی کے صیغوں پر نظر ڈالئے کہ یہ مؤنث کے صیغے ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی ان کا ترجمہ اور مطلب بیان فرماتے ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٤)
”اے عورت! توبہ کر توبہ کر کیونکہ تیری لڑکی اور تیری لڑکی کی نانی پر ایک بلا آنے والی ہے۔“
- ١...... مرزا قادیانی نے خود واضح کر دیا کہ اس کی مخاطبہ محمدی بیگم کی والدہ ہیں ان کے توبہ
کرنے سے ان کی والدہ اور محمدی بیگم کی بلائیں ٹلیں گی۔ محمدی بیگم کی نانی پر کیا بلا آنے والی تھی جو ٹلی؟ خبر نہیں محمدی بیگم پر جو بلا آنے والی تھی وہ بقول حافظ جی ٹل گئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ محمدی بیگم کی والدہ نے توبہ کی۔
٤٠
اب سوال فقط اسی قدر باقی رہ گیا کہ جب مرزائی ہیں تو کیا محمدی بیگم کی والدہ نے مرزائیت کو قبول کیا؟ ہر گز نہیں کیوں ٹلی؟ پھر یہ کہنا کہ ”قریباً سارا خاندان مرزائی بن گیا“ کی مرزا احمد بیگ کا اسلام پر مرنا ظاہر۔ حافظ جی کو تسلیم بیگم کا شوہر مرزائی نہیں ہوا۔ محمدی بیگم الحمدللہ مسلمہ ہے بلکہ اس اس کے قریبی اعزاء واقرباء سب کے سب بفضلہ تعالیٰ اسلام پر علمائے حقانی کے اعوان وانصار جو مرزائیوں سے برسر پیکار۔ پھر
- ٢...... نکاح بلا ہے؟ عذاب ہے؟ یا کیا؟
مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”یہ نکاح تمہارے لئے ہوگا۔ ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہا ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسل
توبی توبی کے کلمات کو اگر شرط مان بھی لیا جائے تو و برکت۔ پس یا تو یوں کہا جائے کہ نکاح نہ تھا بلا تھا۔ (محمدی ب سہی) یا یہ کہئے کہ توبہ کا علاقہ نکاح سے نہ تھا۔ دونوں شکلوں صرف نفس نکاح کے متعلق تھا کہ:
- ١...... اس کو مقدر بتایا گیا۔
- ٢...... خدا کا نہ ٹلنے والا وعدہ کہا گیا، وہ ٹل گیا۔ لہٰذا خ
قادیانی کا یہ دعویٰ جھوٹا، الہام جھوٹا۔
- ٣...... مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر یہ نکاح نہ ہوا تو ۔
- الف...... مرزا قادیانی ہر بد سے بدتر ٹھہریں گے، مفتری ہو
- ب...... ان کے تمام دعوے جھوٹے ہوں گے۔
- ج...... مرزا قادیانی ذلیل ہوں گے، روسیاہ ہوں گے، ن
کسی نے توبہ کی یا نہ کی، عذاب ٹلا یا نہ ٹلا۔ ہم مرزا جی کے دعوے اور یہ امر واقعہ سامنے ہے کہ نکاح نہ ہو جو ہونا تھا ہو گیا۔ مرزا قادیانی کو جو بننا تھا بن گئے۔ اگر س کھلیں تو وہ جانیں۔
٤١
اب سوال فقط اسی قدر باقی رہ گیا کہ جب مرزائی توبہ سے مراد مرزائی بننا لے رہے ہیں تو کیا محمدی بیگم کی والدہ نے مرزائیت کو قبول کیا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ جب نہیں تو وہ بلا بھی کیوں ٹلی؟ پھر یہ کہنا کہ ”قریباً سارا خاندان مرزائی بن گیا“ کھلا جھوٹ۔
مرزا احمد بیگ کا اسلام پر مرنا ظاہر۔ حافظ جی کو تسلیم کہ مرزائی نہیں ہوا ان کا داماد محمدی بیگم کا شوہر مرزائی نہیں ہوا۔ محمدی بیگم الحمد للہ مسلمہ ہے بلکہ اس کی اولاد بھی ماشاء اللہ مسلمان وہ اور اس کے قریبی اعزاء واقرباء سب کے سب بمنہ تعالیٰ اسلام پر قائم اور مرزائیت سے بیزار بلکہ ان علمائے حقانی کے اعوان وانصار جو مرزائیوں سے برسر پیکار۔ پھر بلا ٹلی تو کیوں ٹلی؟
- ٢....... نکاح بلا ہے؟ عذاب ہے؟ یا کیا؟
مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور رحمت کا نشان ہوگا۔ ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٨ء میں مندرج ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨١، ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)
توبہ توبہ کے کلمات کو اگر شرط مان بھی لیا جائے تو اس سے بلا ٹلنی چاہئے، نہ کہ رحمت وبرکت۔ پس یا تو یوں کہا جائے کہ نکاح نہ تھا بلا تھا۔ (محمدی بیگم کے لئے نہ سہی مرزا جی کے لئے سہی) یا یہ کہئے کہ توبہ کا علاقہ نکاح سے نہ تھا۔ دونوں شکلوں میں ہمارا دعویٰ ثابت۔ ہمارا بیان صرف نفس نکاح کے متعلق تھا کہ:
- ١....... اس کو مقدر بتایا گیا۔
- ٢....... خدا کا نہ ٹلنے والا وعدہ کہا گیا، وہ ٹل گیا۔ لہٰذا خدا کا وعدہ نہ تھا۔ مقدر نہ تھا اور مرزا
قادیانی کا یہ دعویٰ جھوٹا، الہام جھوٹا۔
- ٣....... مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر یہ نکاح نہ ہوا تو۔
- الف....... مرزا قادیانی ہر بد سے بدتر ٹھہریں گے، مفتری ہوں گے، کذاب ہوں گے۔
- ب....... ان کے تمام دعوے جھوٹے ہوں گے۔
- ج....... مرزا قادیانی ذلیل ہوں گے، روسیاہ ہوں گے، ناک کٹ جائے گی۔
کسی نے توبہ کی یا نہ کی، عذاب ٹلایا نہ ٹلا۔ ہمیں سر دست اس سے کچھ غرض نہیں۔ مرزا جی کے دعوے اور یہ امر واقعہ سامنے ہے کہ نکاح نہ ہوا۔ فیصلہ ہم نہیں کرتے خدا نے کیا اور جو ہونا تھا ہو گیا۔ مرزا قادیانی کو جو بننا تھا بن گئے۔ اگر سادہ لوح افراد کی آنکھیں اب بھی نہ کھلیں تو وہ جانیں۔
٤١
طاعون اور قادیان
جناب حافظ صاحب کی دیدہ دلیری ملاحظہ کیجئے کہ کس جرأت کے ساتھ ہم پر غلط بیانی کا الزام لگاتے اور دنیا کی آنکھوں میں کس طرح خاک ڈالنا چاہتے ہیں۔
حافظ جی لکھتے ہیں کہ ”مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون نہ آئے گی یہ مولوی صاحب کی بالکل غلط بیانی ہے۔“
ناظرین فیصلہ کریں کہ ہم نے جو کچھ کہا تھا اس کی تفصیل یہ ہے یا نہیں؟
.......١
مرزا قادیانی نے مواہب الرحمٰن میں فرمایا:لنا من الطاعون امان (مواہب الرحمٰن ص ٢٤، خزائن ج ١٩ص ٢٤٢) ہم لوگوں کے لئے طاعون سے امان ہے۔ ”لَنَا“ کے مصداق چونکہ دنیا بھر کے مرزائی تھے جب مختلف مقامات سے مرزائیوں کے مرنے کی خبریں آنے لگیں اور معترضین نے اعتراض کیا ہو گا تو فرمایا۔ ”خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے کہ قادیان کو اس (طاعون) کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ص ٢٣٠)
قادیان چھوٹا سا قصبہ اس کی مختصر سی آبادی مگر جب اس میں بھی یہ حالت ہوئی کہ پیسہ اخبار لاہور مورخہ ٢٠ اپریل ١٩٠٤ء رقمطراز ہے۔ ”قادیان آج کل پنجاب میں اول نمبر پر طاعون میں مبتلا ہے۔ بیس (٢٠) موتوں کا اوسط ہے۔ قصبہ میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔“ (ناظرین مرزا قادیانی کی مزعومہ الہامی الفاظ خوفناک تباہی کا اس عبارت پیسہ اخبار میں خاص لحاظ رکھیں نیز حافظ جی کے الفاظ بھی یاد رکھیں کہ ”جو لوگوں کو بدحواس کردے۔“ اس لئے کہ اس کی تفصیل ہلچل کے لفظ میں موجود ہے) پھر جب قادیان میں اس قدر طاعون پھیلا کہ ٣١٣۔ اموات کی رپورٹ عام اخباروں میں شائع ہوئی تو مرزا جی کو خود تسلیم کرنا پڑا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: الحکم قادیان ١٠ اپریل ١٩٠٧ء۔ ”آج کل طاعون بہت بڑھتا جاتا ہے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ (اس آگ لگنے پر خاص توجہ رہے بدحواسی شاید کسی اور چیز کا نام ہوگا۔) میں اپنی جماعت کے لئے خدا سے بہت دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کو بچائے رکھے۔“ مگر دعا قبول نہیں ہوئی۔
آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
مگر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں۔
٤٢
سامعین کو یاد ہوگا کہ اس کے بعد ہم نے تذکرہ میں اپنے گھر کو وسیع کرنے اور بڑا بنانے کے لئے چندہ مانگنے کا حوالہ گھر طاعون سے محفوظ رہے گا لہٰذا اس میں بہت سے آدمیوں ک بنانے کی ضرورت اور اس لئے روپیہ کی حاجت۔ پس لاؤ چندہ لا گھر تو اس بہانے سے بن گیا چندہ بھی خاطر خواہ مل تک اس گھر کا چوہا بھی طاعون سے نہ مرا۔ مگر مرزا قادیانی ( ص ٤٣٢) پر اعتراف فرماتے ہیں کہ ”جب دوسرے دن کی صبح تیز تپ ہوا اور سخت گھبراہٹ شروع ہوگئی اور دونوں طرف ران حافظ جی شاید اس کی بھی تاویل فرما دیں کہ گھر سے قادیانی سوتے تھے بلکہ کمرہ سے مراد بھی وہ چارپائی جس پر م بھی ان کا جسم یعنی مرزا قادیانی کے جسم میں حلول کر گیا وہ طاع یہ سوک رشی کی تاویلات کا نمونہ ہے وہ فرمای روحیں اب دنیا میں آکر نہ بتائیں گی کہ وہ خود مرزا قادیانی کے محمد افضل و برہان الدین ومحمد شریف ونوراحمد وغیرہ خاص خاص کس درجہ کے فدائی تھے اور قادیان ہی میں مرزا قادیانی کی ہوئے۔
مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مرزا قادیا
ہم حیران ہیں کہ حافظ جی کے جھوٹ کہاں تک میں مباہلہ کا ذکر ہی نہیں کیا بلکہ اس آخری فیصلہ اور دعا کو پا نے اس عالم کو چھوڑا۔
مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ب دے گا کہ یہ فیصلہ تھا نہ کہ مباہلہ۔ عنوان یہ ہے: ”مولوی ثنا سارا اشتہار پڑھ جائیے لیکن ایک جگہ بھی اگر نظر آئے کہ اس دعا کے مقابلے میں مولوی صاحب موصو دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں مرزا قادیانی نے لکھا تو ہم مرزا قادیانی کے حکم سے ان کے رشتہ دار نے جو حکم نام
٤٣
سامعین کو یاد ہوگا کہ اس کے بعد ہم نے تذکرہ میں یہ بھی بتایا تھا کہ مرزا قادیانی نے اپنے گھر کو وسیع کرنے اور بڑھانے کے لئے چندہ مانگنے کا حیلہ بناتے ہوئے بھی لکھا تھا کہ ہمارا گھر طاعون سے محفوظ رہے گا لہٰذا اس میں بہت سے آدمیوں کے رہنے کی جگہ کرنے کے لئے بڑا بنانے کی ضرورت اور اس لئے روپیہ کی حاجت۔ پس لاؤ چندہ !!!
گھر تو اس بہانے سے بن گیا چندہ بھی خاطر خواہ مل گیا اب حافظ جی تو لکھتے ہیں کہ آج تک اس گھر کا چوہا بھی طاعون سے نہ مرا۔ مگر مرزا قادیانی (حقیقت الوحی کے ص ٤٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٢) پر اعتراف فرماتے ہیں کہ ”جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ ہوا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف ران میں گلٹیاں نکل آئیں۔“
حافظ جی شاید اس کی بھی تاویل فرما دیں کہ گھر سے مراد ہے وہ خاص کمرہ جس میں مرزا قادیانی سوتے تھے بلکہ کمرہ سے مراد بھی وہ چارپائی جس پر وہ آرام فرماتے تھے بلکہ چارپائی سے بھی ان کا جسم یعنی مرزا قادیانی کے جسم میں حلول کر گیا وہ طاعون سے نہ مرا۔
یہ سوک رشی کی تاویلات کا نمونہ ہے وہ فرمائے جائیں۔ پیراں دتہ و عبدالکریم کی روحیں اب دنیا میں آکر نہ بتائیں گی کہ وہ خود مرزا قادیانی کے گھر ہی میں طاعون سے مرے تھے۔ محمد افضل و برہان الدین ومحمد شریف ونور احمد وغیرہ خاص خاص مرزائی اب بول ہی نہیں سکتے کہ وہ کس درجہ کے فدائی تھے اور قادیان ہی میں مرزا قادیانی کی دیکھتی آنکھوں طاعون ہی سے ہلاک ہوئے۔
(دیکھو ذکر الحکیم ص ٩١)
مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ
ہم حیران ہیں کہ حافظ جی کے جھوٹ کہاں تک بتائے جائیں ہم نے ہرگز اپنی تقریر میں مباہلہ کا ذکر ہی نہیں کیا بلکہ اس آخری فیصلہ اور دعا کو یاد دلایا جس کی تصدیق میں مرزا قادیانی نے اس عالم کو چھوڑا۔
مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے باب میں اشتہار دیا جس کا عنوان ہی یہ بتا دے گا کہ یہ فیصلہ تھا نہ کہ مباہلہ۔ عنوان یہ ہے: ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“
سارا اشتہار پڑھ جائیے لیکن ایک جگہ بھی اگر مباہلہ کا لفظ مل جائے یا کہیں یہ بھی لکھا ہوا نظر آئے کہ اس دعا کے مقابلے میں مولوی صاحب موصوف بھی یہی دعا فرمائیں جیسا کہ ڈوئی اور دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں مرزا قادیانی نے لکھا تو ہم ذمہ دار۔ پھر مزید ثبوت کے لئے جناب مرزا قادیانی کے حکم سے ان کے رشتہ دار نے جو حکم نامہ جناب مولوی صاحب موصوف کے نام
٤٤
جاری کیا اس کی عبارت ملاحظہ فرمائیے جو اس مضمون کو بالکل ہی واضح کر دیتی ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے ”حقیقت الوحی“ کی اس دعوت عام کو دیکھ کر جو تمام علمائے اسلام کو مرزا قادیانی کی طرف سے دی گئی تھی مرزا قادیانی کو لکھا کہ ”کتاب حقیقت الوحی بھیجئے تاکہ میں مباہلہ کی تیاری کروں۔“ اس کے جواب میں انہیں بحکم مرزا قادیانی لکھا جاتا ہے کہ ”آپ کا خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا جس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقت الوحی بھیجنے کا ارادہ اس وقت ظاہر کیا گیا تھا جس وقت مباہلہ کے واسطے لکھا گیا تھا کہ مباہلہ سے پہلے پڑھ لیتے مگر چونکہ آپ نے اپنے واسطے تعین عذاب کی خواہش ظاہر کی اور بغیر اس کے مباہلہ سے انکار کرے اپنے لئے فرار کی راہ نکالی اس واسطے مشیت ایزدی نے آپ کو اور راہ سے پکڑا اور حضرت حجۃ اللہ مرزا قادیانی کے قلب میں آپ کے واسطے ایک دعا کی تحریک کی اور دوسرا طریق اختیار کیا۔“ اس عبارت سے ناظرین نے بخوبی اندازہ لگا لیا ہوگا کہ یہ دوسرا طریق مباہلہ نہیں بلکہ تعین عذاب بصورت دعا ہے اور مشیت ایزدی کے مطابق یہی آخری فیصلہ ہے۔ اس دعا کا اثر فیصلہ کر دے گا کہ اس باب میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔
مرزا قادیانی کی دعا
”اے میرے آقا! اے میرے بھیجنے والے! ...... میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھالے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)
ہم نے اس دعا کے اثر کا ذکر کیا جو دنیا نے دیکھ لیا مگر اس سے زیادہ شرمناک جھوٹ اور کیا ہوگا کہ حافظ جی اب تک اس کو مباہلہ کہے جاتے ہیں حالانکہ مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد جب تمام ہندوستان میں اس دعا کی صداقت کا تذکرہ ہوا اور تمام اہل بصیرت نے حقیقت کو جان لیا تو تمام مرزائی ٹولی نے پورا زور لگایا۔ آخر تین سو روپیہ کا انعام مقرر کیا اور یہی چیلنج دیا کہ ”یہ فیصلہ نہ تھا مباہلہ تھا۔“ مرزائی خلیفہ نمبرا کے وکیل منشی قاسم علی صاحب میدان مقابلہ میں آئے۔ سردار بچن سنگھ بی۔اے پلیڈر فریقین کی طرف سے مسلمہ حکم مقرر کئے گئے۔ منشی قاسم علی صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب میں مباحثہ ومناظرہ ہوا، آخر انجام مبلغ تین سو روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بحکم حکم مرزائیوں سے وصول کیا اور غیر جانب دار حکم نے یہ فیصلہ دیا۔ (تحریر میں گو قدرے طوالت ہو جائے مگر ہم اس کے بعض کلمات بعینہ لکھ دیتے ہیں۔)
٤٤
”میں صاف اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مرزا قادیانی سچا مولوی ثناء اللہ صاحب رحلت فرمانے سے مرزا قادیانی کی دعا م قبول فرمائی اور اس قبولیت کا اظہار خود مرزا قادیانی نے اپنی زبان م ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا قادی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعا قبول کر لی۔“
(بلفظہ دستخط سردار بچن
سردار بچن سنگھ کے فیصلہ کے مطابق ہی نہیں ایسے خدا عالم نے دیکھ لیا ہم بھی اس کی بڑے زور سے تائید کرتے ہیں مرزا نہ ہوئیں مگر یقیناً خدا نے مرزا قادیانی کی یہ دعا ضرور قبول کی اور حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی ہا گئے، قادیان میں دفن ہوئے اور مولوی ثناء اللہ قلعہ مرزائیت پر گو
ڈاکٹر عبدالحکیم اور مرزا قادیانی
حافظ جی ہماری شکایت کرتے ہیں کہ: ”ڈاکٹر عبدالح اور حقیقت کو بے نقاب نہیں کیا۔“ ہمیں افسوس ہے کہ وہ ہمار پیچھے ہی رہے اگر سامنے آجاتے تو ہم ”بے نقاب“ بھی کر دیتے ناظرین نے حافظ جی کی نمبر ٣ دو ورقی میں دیکھا کہ ثبوت کسی ایک کا بھی نہیں دیا۔
- .......١ کیا مرزا قادیانی کے وہ الفاظ وصیت نامہ لکھے جن
فلاں تاریخ سے تین برس کے اندر مر جائیں گے۔
- .......٢ یہ حوالہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب نے کب اور کن الفا
کی؟ اب حافظ جی کی یہ تمنا ہے کہ ہم ہی ان کا نقاب اٹھائیں نقاب کے اندر کیا ہے؟
پہلے یہ معلوم کیجئے کہ مرزا قادیانی اپنی عمر کے ”میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی (ج ٥ ص ٢٨٣)“ (یعنی ١٣٠٠ھ میں مرزا قادیانی کی عمر چالیس
(تریاق القلوب ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢ حاشیہ)
٤٥
”میں صاف اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزا قادیانی کے اس جہان فانی سے بحیات مولوی ثناء اللہ صاحب رحلت فرمانے سے مرزا قادیانی کی دعا مندرجہ اشتہار خدائے تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اس قبولیت کا اظہار خود مرزا قادیانی نے اپنی زبان مبارک سے کیا۔ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا قادیانی نے دیا تھا۔ خدا نے الہامی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعا قبول کرلی۔“
(بلفظہ دستخط سردار بچن سنگھ بی۔اے پلیڈر ٢١؍اپریل ١٩١٢ء)
سردار بچن سنگھ کے فیصلہ کے مطابق ہی نہیں ایسے خدائی فیصلہ کی رو سے جس کو سارے عالم نے دیکھ لیا ہم بھی اس کی بڑے زور سے تائید کرتے ہیں مرزا جی کی اور دعائیں قبول ہوئیں یا نہ ہوئیں مگر یقیناً خدا نے مرزا قادیانی کی یہ دعا ضرور قبول کی اور دنیا کو دکھا دیا کہ اس مقابلے میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی ہیضہ میں مبتلا ہوئے، لاہور میں مر گئے، قادیان میں دفن ہوئے اور مولوی ثناء اللہ قلعہ مرزائیت پر گولہ باری کے لئے اب تک موجود۔
ڈاکٹر عبدالحکیم اور مرزا قادیانی
حافظ جی ہماری شکایت کرتے ہیں کہ: ”ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کی طرف اشارہ کیا اور حقیقت کو بے نقاب نہیں کیا ۔“ ہمیں افسوس ہے کہ وہ ہمارے بلانے کے باوجود بھی دیوار کے پیچھے ہی رہے اگر سامنے آجاتے تو ہم ”بے نقاب“ بھی کر دیتے۔
ناظرین نے حافظ جی کی نمبر ٣ دو ورقی میں دیکھا کہ جتنے دعوے بھی انہوں نے کئے ثبوت کسی ایک کا بھی نہیں دیا۔
- ١...... کیا مرزا قادیانی کے وہ الفاظ وصیت نامہ لکھے جن میں انہوں نے یہ تحریر فرمایا کہ وہ
فلاں تاریخ سے تین برس کے اندر مرجائیں گے۔
- ٢...... یہ حوالہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب نے کب اور کن الفاظ میں اپنی سابقہ پیش گوئی میں ترمیم
کی؟ اب حافظ جی کی یہ تمنا ہے کہ ہم ہی ان کا نقاب اٹھائیں تو یہ لیجئے ناظرین ملاحظہ کریں کہ نقاب کے اندر کیا ہے؟
پہلے یہ معلوم کیجئے کہ مرزا قادیانی اپنی عمر کے متعلق خود ہی کیا ارشاد فرماتے ہیں:
”میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ (تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)“ (یعنی ١٣٠٠ھ میں مرزا قادیانی کی عمر چالیس برس کی ہوئی)
(تریاق القلوب ص ١١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢ حاشیہ) پر فرماتے ہیں کہ خدا نے ان پر الہام
٤٥
کیا ”میں (خدا) تجھے (مرزا کو) اسی برس یا چند سال زیادہ اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“ (اب یہ مزعومہ الہام بھی ایک لطیفہ ہے مرزا قادیانی کا الہام کرنے والا ایسی ہی تخمینی اٹکل کی باتیں کہا کرتا ہے۔) اس جگہ تخمینہ تھا تصریح کے ساتھ اور ملاحظہ کیجئے۔
”آخری زمانہ اس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا دانیال نبی نے ١٣٣٥ھ برس لکھا ہے جو خدائے تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)
پس ان دونوں مزعومہ الہاموں کی رو سے مرزا قادیانی کو ١٣٣٥ھ میں بعمر (٣٥+٤٠)=٧٥ سال مرنا چاہئے تھا۔ یہی ان کا اعلان یہی بقول ان کے خدا کا الہام اور دانیال نبی کی دی ہوئی خبر۔ ان اقوال کے دیکھنے کے بعد اب فیصلہ بہت آسان ہو گیا اس لئے کہ اس میں تو غالباً کسی کو مجال انکار ہی نہیں کہ مرزا قادیانی ١٣٢٦ھ میں مرے یعنی اپنی میعاد مقررہ سے (١٣٣٥-١٣٢٦=٩) پورے ٩ برس پہلے، اس کا سبب مرزا قادیانی بتائیں یا نہ بتائیں ہم بتائے دیتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے اعلان الحق ص ٣٩ پر جولائی ١٩٠٦ء کو یہ اعلان کیا کہ ”صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا یعنی (٣) سال کے اندر میرے سامنے مرزا قادیانی مر جائیں گے۔“
اس کے جواب میں مرزا قادیانی اپنے اشتہار مجریہ ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء میں فرماتے ہیں: ”میں سلامتی کا شہزادہ ہوں کوئی مجھ پر غالب نہیں آ سکتا، بلکہ خود عبدالحکیم خاں میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوگا۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٠) (بقیہ عبارت مرزائی حقیقت کا اظہار نمبر ١ میں ملاحظہ کیجئے)
اس میں مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے مرنے کی پیش گوئی کس صفائی کے ساتھ کی اس لئے ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے غضب میں آ کر اس وقت سے ١٤ مہینے کی میعاد بتائی۔ جس کے جواب میں مرزا قادیانی فیصلہ فرماتے ہیں اور اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ دعویٰ یہ ہے کہ الہام ہوا کہ اشتہار تبصرہ ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء درمیان میں عبارت محذوف (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١) ”اپنے دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا میں تیری عمر بڑھا دوں گا یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے ١٤ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشین گوئی کرتے ہیں۔ سب کو جھوٹا کر دوں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا جو تیری موت چاہتا ہے وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا تجھ سے لڑنے والے اور تیرے پر حملہ کرنے والے سلامت نہیں رہیں گے۔ تیرے مخالفوں کا ابتر رہنا تیرے ہی
٤٦
ہاتھ سے مقدر تھا۔“ اور آگے بڑھئے اور ٢٣؍ مئی ١٩٠٨ء کا بدر دیکھئے
جناب مرزا قادیانی اسی مزعومہ الہام کو اپنی صداقت کا معیار بتاتے الہام میں دو خاص وعدہ ہیں اور ان کا خدا کی طرف سے ہونا تاکیدا
- ١...... (مرزا قادیانی) کی عمر بڑھا دوں گا۔
- ٢...... (مرزا قادیانی کا دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم) اصحاب فیل کی
(مرزا قادیانی کے) ہاتھ میں مقدر تھا۔
پس کیا مرزا قادیانی کی عمر بڑھی؟ نہیں بلکہ ٩ برس پہلے کیا ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرزا قادیانی کے سامنے مرے مرزا قادیانی کے ہاتھ سے مقدر تھا۔ نہیں بلکہ وہ اب تک زندہ مصروف۔ لہٰذا یہ الہام جھوٹا ہوا اور سچے جھوٹے کا فرق ظاہر۔
تھوڑی دیر کے لئے اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ ڈاکٹر کی مزید توسیع کی ہو نیز اگر برائے چندے یہ مان بھی لیا جائے کہ مزعومہ الہاموں کے خلاف اپنے مرنے کی میعاد بھی تین سال جھوٹے، ان کی عمر نہ بڑھی۔ ڈاکٹر عبدالحکیم ان کے سامنے نہ مر چھوڑ کر چل دیئے۔
پس وہ مفتری، کاذب اور شریر ثابت ہوئے، حافظ
ہم سے پوچھتے ہیں (آخری صفحہ کے حاشیہ کی سطر کہاں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ڈاکٹر مرے گا؟“ دے لیں گے ہمیں ضرورت نہیں کہ ہاں ہاں اسی میں لکھا ہ عذاب سے ہلاک ہوگا۔“ اسی میں لکھا ہے کہ ”وہ خود تیری آنکھو نابود اور تباہ ہوگا۔“ ہمیں یقین ہے کہ اب ہمارے ناظرین ہوں تو دیکھو دندان شکن جواب اس کو کہتے ہیں۔
حافظ جی کے متعلق تو ہمیں امید نہیں ہاں ہمارے بہکاوے میں آ کر مرزائیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان شاء اللہ بحول الله وقوته ہدایت پا جائیں تو اچھا ہو۔ وما علین
٤٧
ہاتھ سے مقدر تھا۔” اور آگے بڑھئے اور ٢٣؍مئی ١٩٠٨ء کا بدر دیکھئے کہ انتقال سے دو دن پہلے بھی جناب مرزا قادیانی اسی مزعومہ الہام کو اپنی صداقت کا معیار بتا رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس الہام میں دو خاص وعدہ ہیں اور ان کا خدا کی طرف سے ہونا بتاکید بیان کیا جا رہا ہے۔
- ١...... (مرزا قادیانی) کی عمر بڑھادوں گا۔
- ٢...... (مرزا قادیانی کا دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم) اصحاب فیل کی طرح نابود ہوگا، ان کا اخزا وافنا
(مرزا قادیانی کے) ہاتھ میں مقدر تھا۔
پس کیا مرزا قادیانی کی عمر بڑھی؟ نہیں بلکہ ٩ برس پہلے مرے۔
کیا ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرزا قادیانی کے سامنے مرے؟ اس لئے کہ ان کا مرنا اور فنا ہونا مرزا قادیانی کے ہاتھ سے مقدر تھا۔ نہیں بلکہ وہ اب تک زندہ ہیں اور مرزائیت کے انہدام میں مصروف۔ لہذا یہ الہام جھوٹا ہوا اور سچے جھوٹے کا فرق ظاہر۔
تھوڑی دیر کے لئے اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی پیش گوئی میں کو ئی مزید ترمیم کی ہو نیز اگر برائے چندے یہ مان بھی لیا جائے کہ مرزا قادیانی نے اپنے تمام سابقہ مزعومہ الہاموں کے خلاف اپنے مرنے کی میعاد بھی تین سال بیان کردی ہو تب بھی یہ الہام جھوٹے ، ان کی عمر نہ بڑھی۔ ڈاکٹر عبدالحکیم ان کے سامنے نہ مرے بلکہ مرزا قادیانی ان کو اچھا بھلا چھوڑ کر چل دیئے۔
پس وہ مفتری، کاذب اور شریر ثابت ہوئے ، حافظ جی کی اور دلیری دیکھئے۔
ہم سے پوچھتے ہیں ( آخری صفحہ کے حاشیہ کی سطر کو ذرا غور سے پڑھئے ) ”اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ڈاکٹر مرے گا؟“ ہم جواب دیں یا ناظرین خود جواب دے لیں گے ہمیں ضرورت نہیں کہ ہاں ہاں اسی میں لکھا ہے کہ ”عبدالحکیم میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوگا۔“ اسی میں لکھا ہے کہ ”وہ خود تیری آنکھوں کے سامنے اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔“ ہمیں یقین ہے کہ اب ہمارے ناظرین ہی ان سے کہہ دیں گے کہ آنکھیں ہوں تو دیکھو دندان شکن جواب اس کو کہتے ہیں۔
حافظ جی کے متعلق تو ہمیں امید نہیں ہاں ہمارے وہ بھولے بھالے افراد جو ان کے بہکاوے میں آکر مرزائیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس ہدایت نامہ ہی کے ذریعے بحول اللہ وقوتہ ہدایت پا جائیں تو اچھا ہو ۔ وما علینا الا البلاغ۔
٤٧
التحقيق الصحيح في حيات المسيح
امام بخاری پر اعتراض کی تہمت
حافظ جی کو ان کے مزعومہ مجدد کی وراثت میں اور کچھ ملا یا نہ ملا مگر اس کا ہم نے ضرور اندازہ لگا لیا کہ جھوٹ کا ورثہ ان کو کافی مقدار میں نصیب ہوا اسی لئے وہ ایسے بیان کے متعلق بھی جھوٹ بولتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے جس کے سننے والے ان کے پڑوس ہی میں بہت سے موجود ہیں۔
ہم نے ”متوفیک“ کے معنوں (حافظ جی نے اسی طرح لکھا ہے) کے متعلق بخاری پر اعتراض ہرگز نہیں کیا۔ بلکہ حضرت امام بخاریؒ کی ذمہ داری کے متعلق یہ بیان کیا کہ وہ اپنی صحیح میں جہاں سند صحیح کے ساتھ احادیث کو ذکر فرماتے ہیں وہاں تعلیقات کو بھی ذکر کرتے ہیں۔ (حافظ جی تو شاید تعلیق کی اصطلاح کو بھی نہ جانتے ہوں گے۔) حضرت ابن عباسؓ کا وہ قول جو امام بخاریؒ نے نقل کیا اور مرزائی اس کو بڑی شدومد سے دلیل میں لاتے ہیں اس کو امام صاحب نے مستند احادیث میں داخل نہیں فرمایا بلکہ تعلیقات ہی کے ضمن میں ذکر کیا اور امام بخاریؒ کی تعلیقات وآثار موقوفہ علی الصحابہ کے متعلق علامہ سخاویؒ ”فتح المغیث“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری کی روایات میں صحت کی ذمہ داری لے کر امام بخاریؒ جس چیز کو نقل فرماتے ہیں وہ صرف وہی احادیث ہیں جن کی سند انہوں نے بیان فرمائی : ”دون التعليق والاثار الموقوفة على الصحابه“ نہ کہ تعلیقات اور وہ آثار جو کہ صحابہ پر موقوف ہیں۔ بقول سخاوی، امام بخاری ان کی ذمہ داری ہی نہیں لیتے۔
ہمارے اس کہنے کو ”امام بخاری پر اعتراض“ سے تعبیر کرنا ایک کھلا افتراء ہے۔ امام بخاری روایت میں بے حد محتاط تھے۔ یہ جانتے تھے کہ اس اثر ابن عباس کے راوی ایسے مستند نہیں ہیں جیسے دیگر احادیث کے جو انہوں نے ذکر فرمائیں اس لئے انہوں نے ان کو بسند ذکر ہی نہیں فرمایا کہ ان پر ذمہ داری رہے۔
اب وہ جرح ملاحظہ کیجئے جو اس اثر کے راوی پر علماء رجال نے فرمائی ہم نے اپنی طرف سے بے ثبوت نہ کچھ کہا، ہمیشہ احادیث وآثار کی جانچ پڑتال کتب اسمائے رجال سے ہوتی ہے اور اس کا یہ طریق۔
قسطلانی نے اس اثر کے اسناد کو اس طرح ذکر فرمایا : ”وقال ابن عباس فما رواه ابن ابي حاتم من طريق علي بن طلحة عنه في قوله تعالى يا عيسى اني
٤٨
متوفيك معناه مميتك“، یعنی اس اثر کو حضرت ابن لہٰذا قواعد فن رجال کے مطابق علی بن طلحہ کو دیکھا جائے گا
- ١....... میزان میں موجود ہے کہ امام احمد بن حنبل فرماتے
علی ابن طلحہ نے ابن عباس سے تفسیر سنی ہی نہیں۔
- ٢...... خلاصہ میں کہا گیا۔ فسویؒ فرماتے ہیں کہ علی بن
- ٣...... تقریب میں ہے علی بن طلحہ سالم مولیٰ بنی عبا
من السادسة پس جو چھوٹی عمر میں ابن عباس سے جدا ہو کے راوی اور پھر ضعیف، ایسے راوی کی روایت سے استـ کریم اور امام بخاری ہی کی روایت کردہ اصح احادیث سے کیا ہے۔ پھر اگر ابن عباس ہی کے قول سے استناد ہے صرف ایک لفظ کو لینا لا تقربوا الصلوٰۃ (نماز کے قریـ (درآنحالیکہ تم نشے میں ہو) کو چھوڑنا تؤمنون ببعـ ابن عباس ہی کی بات مانتے ہیں تو دل شاد۔ آنکھیں کھـ کے معنی مميتك کس مطلب سے کہے اور وہ اس وعدہ ہیں۔ (درمنثور ص نمبر ٣٦ ج ٢) عن ابن عباس قال ورافعك الىّ قال اني رافعك ثم متوفيك فـ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان اني متوفيك ورافـ ہوں اور پھر آخر زمانہ میں تمہاری توفّی کرنے والا ہوں لہٰذا ابن عباس اس امر کے قائل ہیں کہ پہلے رفع ہو گیا دیکھئے طبقات کبریٰ مطبوعہ یورپ ج ١ ص ٢٦ پر موجود ہـ عن ابيه عن ابي الصالح عن ابن عباس جس میں حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کا مفصل حال رفعه (اى عيسى بن مريم عليهما السلام) بـ الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يمـ ہیں کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم کو ان کے جسـ عنقریب دنیا کی طرف لوٹیں گے اس میں بادشاہ بنیں
٤٩
متوفيك معناه مميتك ”یعنی اس اثر کو حضرت ابن عباسؓ سے علی ابن طلحہؒ روایت کرتے ہیں لہٰذا قواعد فن رجال کے مطابق علی بن طلحہ کو دیکھا جائے گا کہ ان کی کیفیت کیا ہے؟
- .......١ میزان میں موجود کہ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں ”لہ اشیاء منکرات“ دحیم کہتے ہیں کہ
علی ابن طلحہؒ نے ابن عباسؓ سے تفسیر سنی ہی نہیں۔
- .......٢ خلاصہ میں کہا گیا ۔ قسویؒ فرماتے ہیں کہ علی بن طلحہؒ ضعیف ہے۔
- .......٣ تقریب میں ہے علی بن طلحہ سالم مولیٰ بنی عباس سکن حمص ارسل عن ابن عباس ولم یرہ
من السادسة پس جو چھوٹی عمر میں ابن عباس سے جدا ہوئے ان سے تفسیر کو سنا ہی نہیں۔ منکرات کے راوی اور پھر ضعیف ، ایسے راوی کی روایت سے استناد اور صاف صاف صریح آیات قرآن کریم اور امام بخاری ہی کی روایت کردہ اصح احادیث کے معنی کو بدلنا مرزائی فریب اور دھوکہ نہیں تو کیا ہے۔ پھر اگر ابن عباس ہی کے قول سے استناد ہے تو ان کے بتائے ہوئے پورے معنی کو ماننا صرف ایک لفظ کو لینا لا تقربو الصلوٰۃ (نماز کے قریب ہی نہ جاؤ) کو ماننا اور وانتم سکارٰی (درآنحالیکہ تم نشے میں ہو) کو چھوڑنا تؤمنون ببعض وتكفرون ببعض نہیں تو کیا ہے؟ ابن عباس ہی کی بات مانتے ہیں تو دل ماشاء ۔ آنکھیں کھولیں اور دیکھیں کہ انہوں نے متوفيك کے معنی ممیتک کس مطلب سے کہے اور وہ اس وعدہ ممیتک کے پورا ہونے کا وقت کب بتا رہے ہیں۔ (در منثور ص نمبر ٢/٣٦) عن ابن عباس قال قوله عزوجل يعيسى انى متوفيك ورافعك الى قال انى رافعك ثم متوفيك فى آخر الزمان۔ ابن عباسؓ سے مروی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان انى متوفيك ورافعك کے متعلق فرمایا ”میں تمہیں اٹھانے والا ہوں اور پھر آخر زمانہ میں تمہاری توفی کرنے والا ہوں ۔“ یعنی چونکہ واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہوتا لہٰذا ابن عباس اس امر کے قائل ہیں کہ پہلے رفع ہو گیا اور توفی آخر زمانہ میں ہوگی اور زیادہ تفصیل دیکھئے طبقات کبریٰ مطبوعہ یورپ ج ١ ص ٢٦ پر موجود ہے۔ ”أخبرنا هشام ابن السائب عن ابيه عن ابى الصالح عن ابن عباس“ (اس سند کے بعد ایک طویل اثر کو ذکر فرمایا جس میں حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کا مفصل حال ہے اس کا آخری جملہ یہ ہے ) ” ان الله رفعه (اى عيسى بن مريم عليهما السلام) بجسده وانه حى الان وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس“ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یقینا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم کو ان کے جسم کے ساتھ اٹھا لیا یقیناً وہ اب زندہ ہیں اور عنقریب دنیا کی طرف لوٹیں گے اس میں بادشاہ بنیں گے پھر جس طرح اور آدمی مرتے ہیں اسی
٤٩
طرح مریں گے۔" ناظرین نے دیکھ لیا کہ ابن عباس کس صراحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔
حافظ جی کا پانچ سو روپیہ انعام
تین مہینے خواب غفلت میں پڑے رہنے کے بعد لوگوں کے جھنجھوڑنے سے ذرا آنکھ کھلی تو نیند کی اونگھ میں حافظ جی کو وہی گرو جی کی پرانی چال یاد آئی جس میں سادہ لوح بہت جلد پھنس جاتے ہیں، حافظ جی میں اگر ہمت اور جرأت تھی تو ہمارے بلانے ہی پر سہی سامنے آتے۔ ہم کیا ہیں کہ ہماری علمیت وہ دیکھتے۔ ہاں! اللہ جل وعلا رسول اللہ ﷺ وصحابہؓ نے جو کہا ہے وہ انہیں سناتے اور دکھاتے ۔ اس وقت ان کی انعام بازی کی ساری قلعی کھل جاتی ، روپیہ کے لالچی تو حافظ جی ہی ہوں گے کہ ماہانہ سو روپے کے لئے بلاوصف بے علمی اشتہار بازی پر مجبور ہوئے۔ ہم یقینا پہلے روز بل کے مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے (جو مرزائیوں کے ہاتھوں برباد ہی ہورہی ہے۔) ان سے کہتے کہ پانچ سو روپیہ کسی معتمد کے پاس جمع کیجئے اور نقد جواب لیجئے، اب کہ ہم اپنے بھولے بھائیوں کو سمجھانے کے لئے یہ سطور لکھ رہے ہیں کہ جب حسبۃ لله انہیں مرزائی چال کا پول کھول کر دکھائے دیتے ہیں۔
حافظ جی لکھتے ہیں اور اپنی طرف سے نہیں اپنے گرو جی کی عمر بھر کی علمی پونجی کا خلاصہ سامنے لاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
"ایک بھی ایسی مثال قرآن سے، حدیث سے، لغت عرب سے پیش کر دیں کہ فعل توفّی باب تفعل سے ہو اور اس کا فاعل اللہ ہو اور مفعول کوئی انسان ہو اور پھر اس کے معنی قبض روح کے سوا قبض جسم وغیرہ کے ہوں۔" یہ تو ایک علیحدہ بات ہے کہ چونکہ شاید اونگھ کی حالت میں حافظ جی لکھ رہے ہیں لہذا مرزا قادیانی کی پوری تحریر یا تو سمجھ ہی میں نہ آئی یا لکھتے وقت پھر جھونکا آ گیا، لہذا ان کے دعوے کو پوری طرح نہ لکھ سکے بہر نوع ہمیں تنقیح دعویٰ کے لئے اوّل یہ دکھانا ہے کہ قبض روح سے مرزا قادیانی کی کیا مراد ہے؟ اور ان کے نزدیک اس کے کیا معنی؟
الف....... "تمام مقامات میں توفی کے معنی موت اور قبض روح کئے گئے ہیں۔"
(ازالہ اوہام ص ٨٨٦، خزائن ج ٣ ص ٥٨٣)
ب....... "صرف ایک ہی معنی قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا۔"
(ازالہ اوہام ص ٨٨٦، خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
٥٠
ج....... اوّل سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت کرتا ہے کہ ہر موت ہی مراد ہے۔
(ازالہ او
ان تینوں حوالوں نے بتا دیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ایک ہی چیز ہیں۔ قبض روح کے معنی موت اور موت کے معنی قبض ر اب اسی آیت کو لیجئے جو حافظ جی نے خود لکھی فقط ہم ا اور ان کی ذریت بھی یہی کہنے پر مجبور ہوگی۔ ہر ترجمہ قرآن کریم د جان جائے گا کہ اس آیت میں توفّی کے معنی موت کے نہیں۔ ھو ا ویعلم ما جرحتم بالنھار (وہی ہے جو تم کو رات کے وقت دن میں کیا کیا)
کیا بقول مرزا قادیانی کوئی عقل والا یہاں یہ معنی کر کے وقت مار ڈالتا ہے اور کیا ہر آدمی رات کے وقت مر جاتا ہے۔ غور سے دیکھ لیجئے کہ توفّی باب تفعل سے ہے فاعل ا کے نہیں بلکہ نیند کے ہیں۔
اگر مرزائی یہ کہیں کہ نیند بھی تو مجازی موت ہے جو ہ جگہ توفّی سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند
(ا
تو اس مجازی کا جواب مرزا قادیانی کے خود لکھے ہ کہتے کہ نیند در حقیقت موت ہے اور یا یوں کہئے کہ توفی کے م موت تو کوئی احمق ہی بتائے گا۔ لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ توفّی ک لیجئے جب توفّی کے معنی موت کے کرتے ہوئے بھ مجازی موت یعنی نیند مراد لی جاسکتی ہے تو انہیں سوائے اپنے د کے کونسی دشواری حائل ہے کہ وہ انی متوفیک میں بھی اسی ط جبکہ ائمہ امام حسن بصریؒ بھی اس کی تائید میں موجود اور بعض لغا فرمایا پس یہ تو اچھی طرح واضح ہو گیا کہ توفّی کے معنی در حقیقت ک اس کے کیا معنی ہیں؟
٥١
ج...... اوّل سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت کرتا ہے کہ ہر جگہ درحقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٣٣٢، خزائن ج ٣ ص ٢٧٠)
ان تینوں حوالوں نے بتا دیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک قبض روح اور موت دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ قبض روح کے معنی موت اور موت کے معنی قبض روح۔
اب اسی آیت کو لیجئے جو حافظ جی نے خود لکھی فقط ہم ہی نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی اور ان کی ذریت بھی یہی کہنے پر مجبور ہوگی۔ ہر ترجمہ قرآن کریم یہی بتائے گا اور معمولی علم والا بھی جان جائے گا کہ اس آیت میں توفی کے معنی موت کے نہیں۔ ھو الذی یتوفکم باللیل ویعلم ما جرحتم بالنھار (وہی ہے جو تم کو رات کے وقت لے لیتا ہے اور جانتا ہے کہ تم نے دن میں کیا کیا)
کیا بقول مرزا قادیانی کوئی عقل والا یہاں یہ معنی کر سکتا ہے کہ وہی ہے جو تم کو رات کے وقت مار ڈالتا ہے اور کیا ہر آدمی رات کے وقت مر جاتا ہے۔
غور سے دیکھ لیجئے کہ توفی باب تفعل سے ہے فاعل اللہ ہے مفعول انسان اور معنی موت کے نہیں بلکہ نیند کے ہیں۔
اگر مرزائی یہ کہیں کہ نیند بھی تو مجازی موت ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے فرمایا ”اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢٦٩)
تو اس مجازی کا جواب مرزا قادیانی کے خود کلمات میں کلمہ درحقیقت سے لیجئے یا تو یہ کہئے کہ نیند درحقیقت موت ہے اور یا یوں کہئے کہ توفی کے معنی درحقیقت موت نہیں، نیند کو حقیقی موت تو کوئی احمق ہی بتائے گا۔ لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ توفی کے معنی درحقیقت موت نہیں۔
پس جب توفی کے معنی موت کے کرتے ہوئے بھی مرزا قادیانی کے نزدیک اس سے مجازی موت یعنی نیند مراد لی جاسکتی ہے تو انہیں سوائے اپنے دعویٰ مسیحیت کے بطلان کے خوف کے کونسی دشواری حائل ہے کہ وہ انی متوفیک میں بھی ایسی ہی مجازی موت یعنی نیند مراد لے لیں جبکہ ائمہ امام حسن بصریؒ بھی اس کی تائید میں موجود اور بعض مفسرین اہل حق نے اس مراد کا ذکر بھی فرمایا پس یہ تو اچھی طرح واضح ہو گیا کہ توفی کے معنی درحقیقت موت نہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ درحقیقت اس کے کیا معنی ہیں؟
٥١
کتب لغت میں تصریح کے ساتھ موجود کہ: التوفی اخذ الشیء وافیا۔ توفی کے (حقیقی) معنی ہیں کسی چیز کا پورا پورا لے لینا، موت کے معنی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ اس کو علامہ زمحشری جن کی امامت لغت عرب کو مرزا جی بھی تسلیم کرتے ہیں صاف بتارہے ہیں کہ من المجاز توفی وتوفاہ اللہ ادرکتہ الوفاۃ ۔ یعنی توفی موت کے مجازی ہیں حقیقی نہیں، مجازی معنی موت یا نیند وغیرہ میں اسی وقت لیا جائے گا جبکہ کوئی قرینہ موجود ہو ورنہ اپنے اصلی وحقیقی ظاہری معنی میں رہے گا۔ قرآن وحدیث سمجھنے کے لئے اصول کا متفق علیہ مسئلہ کہ۔
- ١....... النصوص تحمل علی ظواھرھا وصرف النصوص عن ظواھرھا
الحاد نصوص کو ان کے ظاہری معنی پر حمل کیا جائے گا۔ نصوص کو ظاہری معنی سے پھیرنا الحاد ہے۔
- ٢....... اللفظ تحمل علی الحقیقۃ مالم یصرف عنھا صارف لفظ اپنے حقیقی معنی
پر حمل کیا جائے گا۔ جب تک کہ اس کو پھیرنے والا (قرینہ) ظاہری معنی سے نہ پھیر لے۔ ان لغت واصول کی باتوں کو سیدھے لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ توفی کے اصلی معنی ہیں پورا پورا لینا۔ پس جہاں کہیں بھی یہ لفظ استعمال کیا جائے گا۔ اس کے اول یا بعد کے الفاظ قرینہ بن کر بتا دیں گے کہ کس چیز کا پورا پورا لینا مراد ہے اگر آگے پیچھے کا کوئی لفظ یا جملہ یہ ظاہر کرے گا کہ موت مراد ہے تو مجازی معنی موت کے ہو جائیں گے۔ نیند کا قرینہ ہوگا تو نیند کے۔ جزا وسزا کا ذکر ہوگا تو اس کے۔ حق لینے کا بیان تو اس کے۔ غرض جیسا قرینہ ہوگا ویسے معنی۔ مثلا دوسری آیت لیجئے ۔ واللہ خلقکم ثم یتوفکم ومنکم من یرد الی ارذل العمر اس میں یرد الی الارذل العمر کا قرینہ معنی موت پر دلالت کرنے والا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے موت کے معنی ظاہر کرنے کے لئے (ازالہ الاوہام ص ٣٣٠، ٣٣٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٨، ٢٦٩) پر بہت سی آیتیں لکھیں مگر ان سب میں آگے پیچھے کے لفظ موت کا قرینہ ہیں، اس لئے موت کے معنی اور دیکھئے اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمیٰ یہاں ایک ہی آیت میں توفی کی دو شاخیں موجود ایک موت کی کیفیت، دوسری نیند کی حالت۔ دیکھنا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں کونسی صورت ذکر کی گئی، جیسا کہ ہم نے ابھی بتایا کہ قرینہ توفی کی مراد کو واضح کرے گا وہاں بھی ہمیں قرینہ ہی دیکھنا ہوگا۔
حافظ جی نے تو غالبا اونگھ کے سبب عجب بے تکا سوال کیا ہے کہ ”توفی کے معنی قبض روح
٥٢
کے سوا قبض جسم وغیرہ کے ہوں۔“ پہلے تو انہیں یہ غور کرنا چاہئے کہاں کیا؟ کلمہ توفی ہی کے حقیقی معنی صرف قبض جسم ہیں۔“
مسلمانوں کا دعویٰ تو لغت کی رو سے صرف اس قدر لینے کے ہیں۔ اگر کسی میں حوصلہ ہو تو یہ دکھائے کہ توفی کے معنی ہی کے ہیں، ہمارا دعویٰ ہے کہ ”لینے“ کے ساتھ جو قرینہ ہوگا مطلب ہوگا۔
اب دیکھئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق وہاں کیا قرینہ ذکر میں آیا۔ آیت کریمہ ہے: ”یا عیسی (اس آیت کا ترجمہ ہم مزید اتمام حجت کے لئے وہی کئے د اول صاحب نے کیا ہے) اے عیسیٰ علیہ السلام میں لینے وال اپنی طرف۔
قرائن
- ١...... حق تعالیٰ خطاب کرتا ہے عیسیٰ علیہ السلام سے یہ ایک
کے مجموعہ کا۔
- ٢...... توفی (پورا لینے) کا اطلاق کس پر ہوگا؟ عیسیٰ علیہ السل
- ٣...... رفع (اٹھانا) کس چیز کا ہوگا؟ روح اور جسم دونوں
- ٤...... توفی (پورا پورا لینا) رفع (روح وجسم کا اٹھانا) کس
پس ان قرائن نے صاف کر دیا کہ یہ توفی ایک کیفیت، نہ موت کی صورت بلکہ شکل ہی سب سے جدا، یعنی السلام کے ساتھ اس طرح خاص جیسے بغیر باپ کے پیدا ہ نمونہ کس آیت یا حدیث میں کسی دوسرے شخص کے لئے دھوکہ دہی، اس شان کی توفی کا وعدہ کسی کے ساتھ کیا ہی نہ بلکہ جس طرح ان کے پیدا ہونے کے انداز میں اعجاز اس ہمیں خیال آتا ہے کہ ہندوستان میں ایک صاحب نے حیا کرتے ہوئے۔ مرزائی چیلنج کا جواب دیتے ہوئے تمام
٥٣
کے سوا قبض جسم وغیرہ کے ہوں۔'' پہلے تو انہیں یہ غور کرنا چاہئے کہ یہ دعویٰ کس نے کیا، کب کیا، کہاں کیا؟ کلمہ توفی ہی کے حقیقی معنی صرف قبض جسم ہیں۔''
مسلمانوں کا دعویٰ تو لغت کی رو سے صرف اس قدر ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ اگر کسی میں حوصلہ ہو تو یہ دکھائے کہ توفی کے معنی پورا لینے کے نہیں بلکہ صرف موت ہی کے ہیں، ہمارا دعویٰ ہے کہ ''لینے'' کے ساتھ جو قرینہ ہوگا اس قرینے کے مطابق ''لینے'' کا مطلب ہوگا۔
اب دیکھئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جہاں وعدہ متوفیک فرمایا گیا ہے وہاں کیا قرینہ ذکر میں آیا۔ آیت کریمہ ہے: ''یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ'' (اس آیت کا ترجمہ ہم مزید اتمام حجت کے لئے وہی کئے دیتے ہیں جو مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل صاحب نے کیا ہے) اے عیسیٰ علیہ السلام میں لینے والا تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں تجھ کو اپنی طرف۔
قرائن
- ١...... حق تعالیٰ خطاب کرتا ہے عیسیٰ علیہ السلام سے یہ ایک نام ہے کس کا؟ روح اور جسم دونوں
کے مجموعہ کا۔
- ٢...... توفی (پورا لینے) کا اطلاق کس پر ہوگا؟ عیسیٰ علیہ السلام کے وجود یعنی روح و جسم دونوں پر۔
- ٣...... رفع (اٹھانا) کس چیز کا ہوگا؟ روح اور جسم دونوں کا۔
- ٤...... توفی (پورا پورا لینا) رفع (روح و جسم کا اٹھانا) کس کی طرف ہوگا؟ اللہ کی طرف۔
پس ان قرائن نے صاف کر دیا کہ یہ توفی ایک علیحدہ قسم کی توفی ہے جس میں نہ نیند کی کیفیت، نہ موت کی صورت بلکہ شکل ہی سب سے جدا، یعنی توفی مع الرفع اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس طرح خاص جیسے بغیر باپ کے پیدا ہونا، انہی کے لئے مخصوص۔ اس توفی کا نمونہ کسی آیت یا حدیث میں کسی دوسرے شخص کے لئے طلب کرنا سراسر بیہودگی بلکہ فریب اور دھوکہ دہی، اس شان کی توفی کا وعدہ کسی کے ساتھ کیا ہی نہیں گیا اور نہ کسی کی توفی اس طرح ہوئی بلکہ جس طرح ان کے پیدا ہونے کے انداز میں اعجاز اس طرح ان کی توفی بھی اعجازی۔ نظر بریں
ہمیں خیال آتا ہے کہ ہندوستان میں ایک صاحب نے حیات مسیح علیہ السلام کو بدلائل ساطعہ ثابت کرتے ہوئے۔ مرزائی چیلنج کا جواب دیتے ہوئے تمام مرزائی پارٹی کو ''ایک ہزار روپیہ انعام کا
٥٣
چیلنج ” دیا کہ ”اگر فعل توفی، رفع کے ساتھ مستعمل ہے اور فاعل دونوں کا اللہ ہو اور مفعول ذی روح ذات واحد ہو تو وہاں توفی کے معنی اخذ مع الرفع ہی کے ہوں گے، نہ کوئی اور معنی ۔ اگر کوئی مرزائی سارے قرآن کریم میں ایک مقام پر بھی اس کے خلاف دکھا دے تو اسے مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام ملے گا۔“
اس چیلنج کو دیئے ہوئے بھی برسوں گزر گئے مگر آج تک کسی مرزائی کو جواب کی جرات نہ ہوئی ، اس امر پر تمام مسلمانوں کا یقین و ایمان کہ یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی انسان، اللہ کے بندے اور رسول عظیم الشان ، بے شک حسب فرمان و اخبار عالم ما يكون وكان سید انس و جان علیہ السلام اس دنیا میں مکرر تشریف لائیں گے۔ نکاح کریں گے۔ دجال کو قتل فرمائیں گے۔ پھر مدینہ منورہ ہی میں انتقال فرمائیں گے اور وہیں مقبرہ مبارکہ میں دفن کئے جائیں گے۔ حافظ جی نے آیت کل نفس ذائقۃ الموت لکھی مرزا قادیانی نے ساری اس قسم کی آیتوں کو جمع کر کے اپنی انتہائی قوت صرف کر دی ، مگر سب بے کار گئی ، اس لئے کہ ان کو تو اس وقت پیش کیا جائے ۔ جبکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کبھی موت ہی نہ آئیگی۔ بے شک بے شک وہ رجوع الی اللہ جس کے بعد پھر دنیا کی طرف نہ لوٹنا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ ابھی رفع الی اللہ ہوا ہے۔
یہ کہنا کہ ”اگر کسی نبی کو آئندہ کے لئے زندہ رکھنا خدا کی سنت ہوتی تو حضرت رحمۃ للعالمین (فداہ ابی وامی ) کو رکھتا ۔“ کتاب وسنت سے جہالت پر مبنی ۔ ممکن ہے کل کو کوئی یہ بھی کہے کہ اگر کسی نبی کو بغیر باپ کے پیدا کرنا خدا کی سنت ہوتی تو حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کو اس طرح بے باپ کے پیدا کرتا۔ اسی طرح دیگر معجزات انبیاء علیہم السلام کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ نرالی توفی اور دوبارہ تشریف آوری کمالات محمدی ﷺ ہی کے اظہار کے لئے ہوئی کہ بنی اسرائیل کے نبی اولوالعزم بھی دنیا میں تشریف لائیں اور حضور انور ﷺ کے نائب وخلیفہ بن کر خدمات اسلام بجالائیں تاکہ بنی اسرائیل کے وہ لوگ جو مرض امتیاز نسلی میں مبتلا ہو کر یہ کہتے ہیں کہ ہم بنی اسمعیل میں پیدا ہونے والے نبی کو نہیں مانتے، ان کی گردنیں ٹوٹ جائیں اور وہ اسرائیلی نبی حضرت مسیح ناصری کو رحمۃ للعالمین سید المرسلین ﷺ کی اطاعت و خلافت کرتے ہوئے دیکھ کر سب کے سب اسلام لائیں اور سمجھ جائیں کہ یہ نبی سارے عالم کے نبی ۔ ان کی امت میں نہ گورے کالے کا فرق ، نہ حسب ونسب کا امتیاز ۔ سب مساوات کے ساتھ ان کے دین میں داخل اور ساری دنیا ان کی امت میں شامل ۔
٥٤
حضور ﷺ نے فرمایا کہ بعثت الی الاسود لیے مبعوث کیا گیا۔ رنگ و نسل کے امتیاز کو حضور ﷺ نے مٹا ناصری کے مقابلے میں نقلی اور جعلی مسیح بننے کی غرض سے اٹھ اور ان کے چیلے اگر اسی عداوت کا اظہار بدیں الفاظ کرے حاجت نہیں۔“ تو کیا کریں سارے عالم کے نبی (فداہ ابی فرمائیں گے کہ انا اولی الناس بعیسی بن مریم ...... الخ ! حضرت ع لئے رب العزت نے یہ حکمت رکھی کہ ظہور حضرت امام ناصری علیہ السلام نزول فرمائیں تاکہ دنیا پر ظاہر ہو جائے السلام امامت کر رہے ہیں اور بنی اسرائیل کے نبی ان کے نبی آپ کے بعد آتے تو۔
- .......١ وعدہ ختم نبوت کیخلاف ہوتا۔
- .......٢ ان کی شریعت کی ضرورت وعدہ تکمیل دین کے
اگر غیر صاحب شریعت جدید نبی آتے تو
- .......١ وعدہ خاتم النبیین کے خلاف ہوتا۔
- .......٢ ایسے نبی تو اور انبیاء کے بعد بھی آئے اس میں
سید المرسلین نبی الانبیاء ﷺ جن کی نبوت کا گیا۔ ان کی خاص شان کا اسی طرح اظہار کہ نبی اولوالعز ہوئی مگر شرع مصطفوی سے منسوخ ہو چکی ) تشریف لائیں يكون خليفتى على امتى ہو کر ۔ اس لئے اس ط حضور انور ﷺ اس طرح پیش فرماتے ہیں۔ بیہقی صفحہ ٤١ الله عليه وسلم كيف انتم اذا نزل عيسى بن مريم اس وقت کیسے (خوش) ہو گے جب عیسیٰ بن مریم آس امام تم ہی میں سے ہوگا۔
اللهم آمنا وصدقنا بما اخبر
٥٥
حضور ﷺ نے فرمایا کہ بعثت الی الاسود والاحمر میں تو کالے اور سرخ کے لیے مبعوث کیا گیا۔ رنگ ونسل کے امتیاز کو حضور ﷺ نے مٹایا آج اگر مرزائی حبشی کو اصلی وحقیقی مسیح ناصری کے مقابلے میں نقلی اور جعلی مسیح بننے کی غرض سے ان کے ساتھ عناد ودشمنی ہے تو ہوا کرے اور ان کے چیلے اگر اسی عداوت کا اظہار بدیں الفاظ کرتے ہیں کہ ”ہمیں بنی اسرائیل کے نبی کی حاجت نہیں۔“ تو کیا کریں سارے عالم کے نبی (فداہ ابی وامی) اس ہرزہ سرائی کا جواب پہلے ہی فرما گئے کہ انا اولی الناس بعیسیٰ بن مریم .....الخ ! حضرت سید المرسلین ﷺ کے اظہار شان ہی کے لئے رب العزت نے یہ حکمت رکھی کہ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وقت حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نزول فرمائیں تاکہ دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ فاطمی النسل محمد بن عبداللہ مہدی علیہ السلام امامت کر رہے ہیں اور بنی اسرائیل کے نبی ان کے مقتدی۔ اگر کوئی جدید صاحب شریعت نبی آپ کے بعد آتے تو۔
- ١...... وعدہ ختم نبوت بخلاف ہوتا۔
- ٢...... ان کی شریعت کی ضرورت وعدہ تکمیل دین کے خلاف ہوتی۔
اگر غیر صاحب شریعت جدید نبی آتے تو
- ١...... وعدہ خاتم النبیین کے خلاف ہوتا۔
- ٢...... ایسے نبی تو اور انبیاء کے بعد بھی آئے اس میں شان تخصیص نہ رہتی۔
سید المرسلین نبی الانبیاء ﷺ جن کی نبوت کا میثاق سب رسل وانبیاء علیہم السلام سے لیا گیا۔ ان کی خاص شان کا اسی طرح اظہار کہ نبی اولوالعزم صاحب شریعت (جن کی شریعت نافذ ہوئی مگر شرع مصطفوی سے منسوخ ہو چکی) تشریف لائیں مگر تابع شرع مصطفوی بن کر اور مصداق یکون خلیفتی علی امتی ہو کر۔ اس لئے اس دلفریب منظر کو اس شادمانی وخوشی کے وقت کو حضور انور ﷺ اس طرح پیش فرماتے ہیں۔ بیہقی صفحہ ٣١ عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل عیسیٰ بن مریم فيكم وامامكم منكم۔ اس وقت کیسے (خوش) ہو گے جب عیسیٰ بن مریم آسمان سے تم میں نزول فرما ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔
اللهم امنا وصدقنا بما اخبرنا نبينا ﷺ
٥٥
طرف قیامت کے دن سے پہلے لوٹ کر آنے والے ہیں۔
- ٢...... وفد نصاریٰ بنی نجران کی دربار رسالت میں حاضری اور مباہلہ کا واقعہ اس
قدر شہرت کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ تاریخ اسلام سے ادنیٰ مناسبت رکھنے والا بھی اس سے ناواقف نہ ہوگا۔ ابن ہشام نے تفصیل لکھی جس کا دل چاہے دیکھ لے۔ ہم نے یہاں اس طویل واقعہ کا صرف وہ حصہ نقل کیا جس کا ہمارے مضمون سے تعلق تھا۔ اب اس کی سند ملاحظہ ہو۔
ابن جریر ابن ابی حاتم عن الربيع قال ان النصارى اتوا رسول الله ﷺ فخاصموا فی عیسیٰ بن مریم عليه السلام وقالوا له من ابوه فكذبوا على الله الكذب البهتان فقال لهم النبي ﷺ الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا وهو ليشبه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسىٰ يأتي عليه الفنا قالو بلى ”نصاریٰ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے باب میں مخاصمہ کرنے لگے اور کہا کہ (نعوذ باللہ) اس کا باپ کون ہے؟ پس خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگے۔ (یعنی ان کو خدا کا بیٹا قرار دینے لگے) پس آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نہیں جانتے بیٹا ہمیشہ باپ سے مشابہ ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب تو ایسا زندہ ہے کہ کبھی نہیں مرے گا اور یقیناً عیسیٰ پر فناء (موت) آئے گی۔ وہ بولے بے شک، یا للعجب کہ اصلی مسیحی تو حضور کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کی فناء مانیں اور پیرو ’لا‘ ہی کہے جائیں۔
حضور اکرم ﷺ فرمائیں کہ وہ ابھی نہیں مرے بلکہ ان پر موت آئے گی اور حافظ جی فرمائیں وہ مر گئے۔ حافظ جی کا یہ کہنا کہ ”قرآن ان کو رد کر رہا ہے۔ تمام صحیح حدیثیں ان کو رد کر رہی ہیں۔“ صرف کہنا ہی کہنا ہے۔ اگر حوصلہ تھا تو کسی ایک آیت ہی میں دکھا دیتے کہ ”عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔“ قرآن کریم میں تو کسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے کا ذکر صراحتاً نہیں کیا گیا مگر وہی جہاں ان کے دوبارہ آنے کے بعد تمام اہل کتاب کے ایمان لانے کا ذکر ہے۔ يعنى وان من اهل الكتب الا ليومنن به قبل موته اور اس آیت کے متعلق مرزا قادیانی کے خلیفہ نمبر ١ نے لکھا شاید مرزائی اس کو دیکھ کر اپنے عقیدہ پر نظر ثانی کریں: ”نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے (عیسیٰ کے) پہلے موت اس کی کے (عیسیٰ علیہ السلام) کے۔“ (فصل الخطاب ج ٢ ص ٨٠) رہی توجہ اس آیت کے مضمون کی تو ہم پہلے
٥٧
طرف قیامت کے دن سے پہلے لوٹ کر آنے والے ہیں۔
- ٢....... وفد نصاریٰ بنی نجران کی دربار رسالت میں حاضری کا واقعہ سیرت کی کتابوں میں اس
قدر شہرت کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ تاریخ اسلام سے ادنیٰ مناسبت رکھنے والے کو بھی اس کی خبر ہوگی۔ ابن ہشام نے تفصیل لکھی جس کا دل چاہے دیکھ لے۔ ہم نے اس واقعہ کے صرف اس قدر حصہ کو نقل کیا جس کا ہمارے مضمون سے تعلق تھا۔ اب اس کی سند بیان کئے دیتے ہیں: ”اخرج ابن جریر ابن ابی حاتم عن الربيع قال ان النصارى اتو رسول الله ﷺ فخاصموا فى عيسى بن مريم عليه السلام وقالوا له من ابوه وقالوا على الله الكذب البهتان فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لا يكون ولداً الا وهو ليشبه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسى يأتى عليه الفنا قالو بلى“ نصاریٰ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے باب میں مخاصمہ کرنے لگے اور کہا کہ (اچھا بتاؤ) ان کا باپ کون ہے؟ پھر خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگے۔ (یعنی ان کو خدا کا بیٹا بتایا۔) حضور ﷺ نے فرمایا تم نہیں جانتے بیٹا ہمیشہ باپ سے مشابہ ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! حضور نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب تو ایسا زندہ ہے کہ کبھی نہیں مرے گا اور یقیناً عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔ وہ بولے بے شک، یاللعجب کہ اصلی مسیح تو حضور کے سامنے ”بلی“ کہیں مگر جعلی و نقلی مسیح کے پیرو ”لا“ ہی کہے جائیں۔
حضور اکرم ﷺ فرمائیں کہ وہ ابھی نہیں مرے بلکہ مریں گے۔ یہ کہے جائیں کہ نہیں وہ مر گئے۔ حافظ جی کا یہ کہنا کہ ”قرآن ان کو رد کر رہا ہے۔ صحیح حدیثیں ان کو رد کر رہی ہیں۔“ یہ صرف کہنا ہی کہنا ہے۔ اگر حوصلہ تھا تو کسی ایک آیت ہی میں دکھایا ہوتا کہ ”ان عیسیٰ مات“ عیسیٰ مر گئے۔ ”قرآن کریم میں تو کسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ”موت“ کا لفظ استعمال ہی نہ کیا گیا مگر وہی جہاں ان کے دوبارہ آنے کے بعد تمام اہل کتب کے ایمان لانے کا واقعہ بیان ہوا۔ یعنی ان من اهل الكتب الا ليومنن به قبل موتہ (اس کا ترجمہ بھی ہم وہی لکھ دیں جو مرزا قادیانی کے خلیفہ نمبر ١ نے لکھا شاید مرزائی اس کو دیکھ کر ہی ہدایت پا جائیں) ترجمہ ”نہیں کوئی اہل کتب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے (عیسیٰ علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (عیسیٰ علیہ السلام) کے۔“ (فصل الخطاب ج ٢ ص ٨٠) رہی توفی اس کی کیفیت ہم ظاہر کر چکے۔
٥٧
حافظ جی نے صحیح احادیث کا نام تو لیا مگر کوئی ایک حدیث ہی نقل کی ہوتی جس میں یہ موجود ہوتا کہ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام مر گئے‘‘۔ علمائے اسلام برسوں سے مرزائیوں کو للکار رہے ہیں کہ کوئی ایک حدیث ایسی ہی سہی جیسی ہم پیش کر رہے ہیں دکھاؤ جس میں موجود ہو کہ ”عیسیٰ بن مریم مر گئے“ مگر آج تک نہ کوئی دکھا سکا نہ دکھا سکے۔ ہاں اپنی خودرائی سے قرآن کریم کے معنی بدلے۔ احادیث کے معنی بدلے، اصح احادیث میں بیان کیا گیا کہ: ”عیسیٰ بن مریم آسمان سے منارہ شرقی دمشق پر دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ باب لد پر دجال کو قتل کریں گے۔ ٤٠، ٤٥ برس زندہ رہیں گے۔ سرکار دو عالم کی قبر انور پر حاضر ہو کر سلام عرض کریں گے۔ پھر مدینہ منورہ ہی میں انتقال فرمائیں گے۔ وہیں حضور انور ﷺ کے مقبرہ میں اس طرح دفن ہوں گے کہ ان کی قبر چوتھی ہو“ (ملخصاً)
اس سے زیادہ دجل وفریب اور کیا ہوگا کہ مرزاجی لغت کو بدلیں۔ صرف دعویٰ کو بدلیں، ناموں کو بدلیں، اپنی ڈکشنری نئی بنائیں۔ تعجب ان پر ہی جو ایسے کھلے کھلے امور کو دیکھتے ہوئے بھی ان کے فریب میں آئیں اور سمجھانے پر بھی راہ راست نہ پائیں۔
مرزائی ڈکشنری کا نمونہ ملاحظہ ہو۔
مرزائی ڈکشنری الفاظ مرزائی ڈکشنری الفاظ نور الدین ومحمد احسن دو فرشتے غلام احمد بن گھسیٹی عیسیٰ بن مریم شہر لدھیانہ باب لد قادیان کعبہ ظہور مسیح دمشق نور کی جگہ (اور وہ مینار منارہ جو مرزا قادیانی نے چندے سے بنایا) جنت یا دوزخ کا ٹکڑا قبر خاندان مغل شریف وہ جس کو مرزا حدیث وہ جو مرزا قادیانی قرآن قادیانی ردی کر کے آسمان سے لائے۔ نہ پھینکیں (معاذ اللہ)
وغیرہ ذلك من الخرافات لاحول ولاقوة الا بالله العلى العظيم
٥٨
خطبہ امام حسنؓ
حافظ جی نے کسی جگہ حضرت امام حسن علیہ السلام دیکھ لئے لہذا بے سوچے سمجھے لکھ ڈالا تا کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ حوالہ تو دیا۔ اگر ذرا عقل ہوتی، عربی زبان کا کچھ علم ہوتا تو سوچتے کہ ذکر فرماتے ہوئے صرف تاریخ کی اہمیت دکھاتے ہوئے ح وہاں بھی اسی مسلمانوں کے عام اعتقاد کے مطابق حضرت عیسیٰ سے ظاہر کیا مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے وہ لفظ نہ استعما کیفیت یکساں ہوتی تو ایک لفظ استعمال ہوتا۔ عیسیٰ علیہ السلا وتابعین سے لے کر آج تک ایسا مشہور چلا آ رہا ہے کہ جو عنوان سے ذکر کرتا ہے اس مخصوص کیفیت عروج کی طرف دیتا ہے۔ وہی شان اس خطبہ کے کلمات میں بھی موجود ہے نام لیا ہم نے ان کا عقیدہ پیش کیا اب امام حسن کا ذکر کیا۔ ملاحظہ کیجئے۔ امام حسن مجتبیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اولها والمهدی وسطها والمسیح اخرها“ وہ ام میں ہوں وسط امام مہدی ہیں اور آخر مسیح علیہ السلام۔ (مشکوا مہدی اور ہیں اور مسیح دوسرے یعنی وہی مسیح بن مریم، یہ مرز ایک ہی ہیں۔
عمر مسیح علیہ السلام
ثبوت موت مسیح میں جناب حافظ صاحب بحوالہ (غالباً ان کے نزدیک یہ کتاب صحاح ستہ میں داخل ہوگی فقط صحاح ستہ ہی میں ہیں) علمائے محققین نے اس قسم کی ر مسیح کی عمر کا ذکر آیا اور جو فیصلہ مختلف احادیث میں تطبیق د ہے کہ ١٢٠ سال ان کی عمر شریف کی وہ پوری مدت ہے ج گزاریں گے۔ مرزائیوں کی عام عادت ہے وہی مرض ہو
٥٩
خطبہ امام حسنؓ
حافظ جی نے کسی جگہ حضرت امام حسن علیہ السلام وعلیٰ آبائہ السلام کے خطبہ کے کلمات دیکھ لئے لہٰذا بے سوچے سمجھے لکھ ڈالا تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ حیات مسیح کے ثبوت میں ایک حوالہ دے تو دیا۔ اگر ذرا عقل ہوتی، عربی زبان کا کچھ علم ہوتا تو سوچتے کہ امام حسنؓ نے حضرت علیؓ کی رحلت کا ذکر فرماتے ہوئے صرف تاریخ کی اہمیت دکھاتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور وہاں بھی اسی مسلمانوں کے عام اعتقاد کے مطابق حضرت علیؓ کے انتقال کی کیفیت کو قبض کے لفظ سے ظاہر کیا مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے وہ لفظ نہ استعمال کیا بلکہ عرج کہا۔ اگر دونوں کی کیفیت یکساں ہوتی تو ایک لفظ استعمال ہوتا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و عروج کا مسئلہ صحابہ و تابعین سے لے کر آج تک ایسا مشہور چلا آ رہا ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی بھی اس واقعہ کا کسی عنوان سے ذکر کرتا ہے اس مخصوص کیفیت عروج کی طرف کسی نہ کسی انداز سے اشارہ کر ہی دیتا ہے۔ وہی شان اس خطبہ کے کلمات میں بھی موجود ہے۔ حافظ جی نے حضرت ابن عباسؓ کا نام لیا ہم نے ان کا عقیدہ پیش کیا اب امام حسنؓ کا ذکر کیا۔ لیجئے اب حضرت امام حسنؓ کا عقیدہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ امام حسنؓ مجتبیٰ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیف تهلك امة انا اولها والمهدی وسطها والمسیح اخرها“ وہ امت کیونکر ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں وسط امام مہدی ہیں اور آخر مسیح علیہ السلام۔ (مشکوۃ ص ٥٨٣) یہاں یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ مہدی اور ہیں اور مسیح دوسرے یعنی وہی مسیح بن مریم، یہ مرزائیوں کا فریب ہے کہ مسیح و مہدی دونوں ایک ہی ہیں۔
عمر مسیح علیہ السلام
ثبوت موت مسیح میں جناب حافظ صاحب حج الکرامہ کی ایک روایت پیش کرتے ہیں۔ (غالباً ان کے نزدیک یہ کتاب صحاح ستہ میں داخل ہوگی اس لئے کہ بقول ان کے صحیح حدیثیں تو فقط صحاح ستہ ہی میں ہیں) علمائے محققین نے اس قسم کی تمام حدیثوں کو جمع فرمایا جس میں حضرت مسیح کی عمر کا ذکر آیا اور جو فیصلہ مختلف احادیث میں تطبیق دینے سے کیا جا سکا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ١٢٠ سال ان کی عمر شریف کی وہ پوری مدت ہے جو اس زمین پر انہوں نے گزاری اور گزاریں گے۔ مرزائیوں کی عام عادت ہے وہی مرض حافظ جی میں بھی کہ کہیں سے آدھا پونا جملہ
٥٩
لے لیا۔ حدیث کا کوئی جزو ذکر کر دیا تحقیق کرنا پورے جملوں پر نظر ڈالنا یہ علماء کا کام۔ حافظ جی کو اس سے کیا نسبت۔ تحریر طویل ہوتی جاتی ہے۔ ورنہ ہم اس کی تفصیل بھی لکھ دیتے۔
قبر مسیح علیہ السلام
سامعین جلسہ وعظ کو یاد ہوگا ہم نے ترجمہ حدیث کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور رسول اکرم ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ قبر اور مقبرہ کا فرق معمولی اردو پڑھے ہوئے بھی جانتے ہیں۔ حافظ جی کی دھوکہ دہی کے لئے کہ اول ہمارے لفظ کو بدلا پھر یہ بیہودہ بات تراشی کہ ”آنحضرت ﷺ کی قبر کو شہید کرنے کی کون مسلمان جرأت کرے گا۔“ پھر قبر کی وہ نئی اصطلاح بتائی جو مرزائی ڈکشنری میں انہیں آنکھ بند کر کے نظر آئی، اور اس تحریف نے بھی ان کی کچھ حاجت روائی نہ کی بلکہ موجب رسوائی ہوئی جیسا کہ عنقریب ظاہر ہوگا۔
ان تمام لغو باتوں کے جواب میں ہم اپنے ناظرین کو مختصراً وہ فیصلہ سنا دیں جو احادیث و آثار صحابہ میں موجود۔ ظاہری معنی کو بدلنا اور من گھڑت معنی لینا آپ نے دیکھ ہی لیا۔ اصول کا مسئلہ ہے کہ یہ الحاد ہے۔ حدیث میں جو لفظ آئے ان کا کھلا مطلب آثار صحابہ میں دیکھئے۔ وہ امام بخاری جن کی تعلیق و روایت کردہ اثر پر بھی حافظ جی اور تمام مرزائی پورا اعتماد رکھتے ہیں۔ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں۔ صاحب درمنثور اس کو ج ٢، ص ٢٤٥ پر بدیں الفاظ درج کرتے ہیں: ”اخرج البخارى فى تاريخه عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى عليه السلام مع رسول الله ﷺ وابي بكر وعمر فيكون قبره رابعاً“ عبداللہ بن سلام جو یہود کے سب سے بڑے عالم تورات وانجیل کے زبردست فاضل مانے جاتے تھے اور اجل اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ ﷺ وابو بکر وعمرؓ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے پس ان کی قبر اس مقبرہ میں چوتھی قبر ہوگی۔
اس مضمون کی ایک مرفوع حدیث علامہ ابن جوزی محدث نے ”کتاب الوفاء“ میں نقل کی ہے جس میں حضور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں: ”ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر (مشكوة ص ٤٨٠)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے پھر شادی کریں گے۔ پھر ان
٦٠
کی اولاد ہوگی اور ٤٥ برس کے بعد رحلت فرمائیں گے پھر میر جائیں گے پھر حشر کو میں اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک درمیان۔ حافظ جی کہاں تک حدیثوں کا انکار کریں گے اور ہیں۔ قبر سے آپ نے باغ جنت مراد لیا تو قطع نظر اس کے اس معنی میں مستعمل نہ کسی لغت میں قبر کے یہ معنی آئے نہ زبا دفن کو کیا کہئے گا۔ باغ میں آرام کرنے کو دفن ہونا کس ملک محاورہ ہو تو عجب نہیں کہ وہاں کی ہر بات بے ڈھنگی۔ دنیا میں پھر قبر کے معنی باغ جنت لینے پر رابعاً کی صفت کیسے چسپاں کیا طریقہ ہوگا۔ تحریف کرتے شرم تو نہ آئی ہوگی اور تحریف اجہل بھی نہ کرے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ گے پھر اولاد ہوگی۔ ٤٥ برس دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں جائیں گے۔ ایسے موقع پر کوئی کودن بھی نہ کہے گا کہ قبر کے م تو ان حضرات کے غلاموں کے لئے بھی ہے اور ان کی قبر ب کا انکار تو کسی طرح بنتا ہی نہیں۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ م مقبرے سے اٹھیں گے۔ ابوبکر وعمرؓ کے درمیان۔ اب اگر ی یہاں کس طرح مراد ہو سکتا ہے؟ حدیث شریف کا ایک ای ہے۔ مرزائیوں کی غیرت پر حیرت ہے کہ انہیں ایسی صریح کس طرح ہوتی ہے۔
حافظ جی نے ہماری نقل کردہ ایک حدیث جا کی۔ مگر بے چاروں نے حدیث پڑھی ہوتی تو یہ تمیز آت ہیں۔ انہوں نے ناحق براہ عناد یہ لکھا کہ فلاں حدیث معتب تھی جو مرزا قادیانی نے کہا کہ ”جو حدیث ان کی مرضی کے اللہ وہ ناحق صاحب کنز العمال کو بدنام کرتے ہیں اور اپن بتاتے ہیں۔ انہیں اتنی تمیز کہاں کہ کسی کتاب کو نامعتبر کہن
٦١
کی اولاد ہوگی اور ٤٥ برس کے بعد رحلت فرمائیں گے پھر میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے پھر حشر کو میں اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک مقبرہ سے اٹھیں گے ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان۔ حافظ جی کہاں تک حدیثوں کا انکار کریں گے اور ان کی تحریف کو حدیثیں چھپنے کب دیتی ہیں۔ قبر سے آپ نے باغ جنت مراد لیا تو قطع نظر اس کے قبر کا لفظ اس معنی کے لئے نہ بنایا گیا نہ اس معنی میں مستعمل نہ کسی لغت میں قبر کے یہ معنی آئے نہ زبان عرب کا کوئی محاورہ اس کا شاہد۔ لفظ دفن کو کیا کیجئے گا۔ باغ میں آرام کرنے کو دفن ہونا کس ملک میں بولتے ہیں؟ قادیان کا مخصوص محاورہ ہو تو عجب نہیں کہ وہاں کی ہر بات بے ڈھنگی۔ دنیا میں تو سیر و تفریح آرام کو دفن نہیں بولتے۔ پھر قبر کے معنی باغ جنت لینے پر رابعہ کی صفت کیسے چسپاں ہوگی ، اور باغ جنت میں قبروں کی شمار کا کیا طریقہ ہوگا۔ تحریف کرتے شرم تو نہ آئی ہوگی اور تحریف بھی ایسی کھلی اور باطل تحریف کہ کوئی اجہل بھی نہ کرے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے پھر شادی کریں گے پھر اولاد ہوگی۔ ٤٥ برس دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں گے۔ پس میرے مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے۔ ایسے موقع پر کوئی کودن بھی نہ کہے گا کہ قبر کے معنی مزار نہیں باغ جنت ہے۔ باغ جنت تو ان حضرات کے غلاموں کے لئے بھی ہے اور ان کی قبریں قطعہ جنت بنی ہوئی ہیں مگر قبر کے معنی کا انکار تو کسی طرح بنتا ہی نہیں۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ پھر (حشر کو) میں اور عیسیٰ علیہ السلام ایک مقبرے سے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان۔ اب اگر قبر کے معنی واقعی مراد نہ لو، تو باغ جنت یہاں کس طرح مراد ہو سکتا ہے؟ حدیث شریف کا ایک ایک کلمہ حافظ کی اس تحریف کو باطل کر رہا ہے۔ مرزائیوں کی غیرت پر حیرت ہے کہ انہیں ایسی صریح باطل بات زبان سے نکالنے کی جرأت کس طرح ہوتی ہے۔
حافظ جی نے ہماری نقل کردہ ایک حدیث پر اور ہاتھ صاف کرنے کی کوشش بے جا کی۔ مگر بے چاروں نے حدیث پڑھی ہوتی تو یہ تمیز آتی کہ حدیث پر تنقید کس طرح کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے ناحق براہ عناد یہ لکھا کہ فلاں حدیث معتبر نہیں۔ ان کے لئے سیدھی سی بات وہی تھی جو مرزا قادیانی نے کہا کہ ”جو حدیث ان کی مرضی کے خلاف ہو وہ ردی کی ٹوکری میں ۔“ معاذ اللہ وہ ناحق صاحب کنز العمال کو بدنام کرتے ہیں اور ابن عساکر کی تمام روایتوں کو ناقابل اعتبار بتاتے ہیں۔ انہیں اتنی تمیز کہاں کہ کسی کتاب کو نامعتبر کہنا تو کیا حدیث کو ضعیف کرے گا۔ اگر خاص
٦١
کسی حدیث پر جرح مبہم کی جائے وہ بھی پایہ اعتبار سے ساقط نہیں ہوتی اور جرح مبہم کسی حدیث کو ناقابل استدلال نہیں کر سکتی ورنہ ہر حدیث کو جو چاہے نامعتبر بتا دیا کرے۔ کبھی اصول حدیث کو خواب میں بھی دیکھا ہے۔ کچھ بودگی تھی تو وجہ ضعف لکھی ہوتی اور اگر ایک حدیث ضعیف بھی ہوتی تو جب اس مضمون کی بکثرت صحیح حدیثیں وارد ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے تو انکار کا کیا محل؟ بلکہ فرض کرو کوئی اور حدیث اس مضمون کی نہ ہوتی صرف ایک حدیث ہی ہوتی اور وہ بھی ضعیف ہوتی تو کیا قابل انکار تھی؟ بقول مرزا قادیانی حجت تو حدیث ہی، کس مدعی مہدویت و مسیحیت کے الہام کی ڈینگ تو نہ تھی کیوں نہ مانی جاتی۔ ضعیف حدیث اس وقت چھوڑی جاتی ہے جبکہ وہ قوی وصحیح کے معارض ہو، اس کا معارض ہی کہاں ہے؟ افسوس بے علمی اور مدارک علمیہ میں دخل دے کر اپنا ایمان برباد کرنا۔ اللہ ہدایت کرے۔
موطا امام مالک کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے یہ معنی نکالنا کہ حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں تین مقبروں ہی کا ہونا مقدر تھا۔ حافظ جی کی مزید جہالت کا ثبوت ہے۔ حدیث میں اس کی رمق بھی نہیں یہ خالص افتراء اور محض بہتان ہے۔ غیرت ہو تو حدیث میں وہ لفظ بتائیں جس کا ترجمہ یہ ہو کہ حجرہ صدیقہ میں تین قبروں ہی کا ہونا مقدر تھا۔ آپ کے دین کا مدار ایسی افتراء پردازیوں پر ہی ہے؟ ثبوت شے نفی ماعدا کی دلیل کس نے مانا ہے؟ یہ تو ایک علمی اصول ہے آپ اس کو نہ سمجھ سکے تو اتنا سمجھنا بھی آپ کی عقل سے بالاتر تھا کہ خواب میں کسی کو ایک شے کے پیدا ہونے کی خبر ملنا اس کے اور اولاد ہونے کا انکار نہیں۔ خواب کے ذریعہ سے حضرت امام حسنؓ کی ولادت کی خبر دی گئی تو کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت خاتون جنت کے اور اولاد ہی نہ ہوگی۔ اگر حضرت صدیقہؓ کے اس خواب میں ان کے حجرہ مبارکہ میں حضور سید عالم ﷺ اور شیخین جلیلین کے مدفون ہونے کی خبر ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت صدیقہؓ کے زمانہ میں یہ تین حضرات آرام فرمائیں گے۔ نہ یہ معنی کہ پھر اور قبر ہی نہ ہوگی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا دفن ان کے زمانہ میں نہیں اس لئے ان کی خواب میں اس کا بیان بھی نہیں اور بیان کی حاجت بھی کیا جبکہ صحیح حدیثوں میں صراحت کے ساتھ اس کا بیان موجود ہے تو کیا خواب میں اس کا بیان نہ ہونے سے ان تمام صحیح احادیث کا انکار جائز ہو جائے گا؟
نفس امر یہ ہے کہ مرزائی اور حدیث سمجھیں؟ وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے، دین میں
٦٢
سمجھنے کے لئے ایمان شرط، جب شرط نہیں تو مشروط کہاں سے آئے حدیث کو مرزا قادیانی اور ان کے حواریین کیا سمجھ سکے جبکہ قرآن کریم کے لفظوں کو بھی مرزا قادیانی نہ سمجھ سکے بلکہ ان کے کو نہ سمجھایا برسوں ایسے عقیدہ میں مبتلا رہنے دیا جو ان کے خلیفہ نمبر حافظ جی کا دعویٰ ہے کہ ”جب تک صریح طور پر مرزا قادیانی کو خدا مسلمانوں کے رسمی عقیدہ کو تسلیم کرتے رہے۔“ کیا حافظ جی نے والا رہا ہی نہیں جو اتنی موٹی بات کو بھی مان جائے کہ کسی معاملہ میں نہیں دوسری چیز ہے اور ایک تاریخی واقعہ بلکہ ایک لفظ کے لغوی دعویٰ کرتے ہیں کہ ”توفی کے معنی درحقیقت موت ہیں۔“ تمام آ بقول ان کے سب کے سب اس کی تائید کرتے ہیں پس اس سے
- ١...... مدتوں برسوں مرزا قادیانی تمام آیتوں، تمام حدیثوں
خود) غلط سمجھتے رہے اس وقت تک ان کے نزدیک بھی تمام آیہ میں توفی کے معنی درحقیقت موت کے نہ تھے اب اس کے بعد قرآن کے ذریعے نہ سمجھے حدیث کے ذریعہ نہ سمجھے بلکہ (بزعم چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظا ہے۔“ اس الہام سے مرزا قادیانی یہ سمجھے کہ ”توفی کے معنی درح ) پس اب نہ (مرزائیوں کو) قرآن سے مطلب، سے بحث، صرف یہ دیکھ لینا ہے کہ مرزا قادیانی کا الہام سچا یا جھو کی طرف سے؟ اس کی پہچان خدائے قدوس نے قرآن کریم م عند غیر اللہ لو جدوا فیہ اختلافاً کثیراً ”اگر یہ اس میں بہت اختلاف پاتے یعنی جن الہاموں میں اختلا انصاف پسند حضرات بغور دیکھیں کہ اس مزعومہ الہام کی رو سے ”میں تجھے مارنے والا ہوں۔“ چنانچہ بقول مرزا قادیانی دوسرا مزعومہ الہام دیکھئے جناب مرزا قادیانی (براہین احمدیہ فرماتے ہیں کہ: بعد اس کے الہام ہوا یٰعیسیٰ انی متوفی
٦٣
سمجھ کے لئے ایمان شرط، جب شرط نہیں تو مشروط کہاں سے آئے؟ حدیث کو مرزا قادیانی اور ان کے حواریین کیا سمجھ سکتے ہیں جبکہ بقول حافظ جی مدتوں تک قرآن کریم کے لفظوں کو بھی مرزا قادیانی نہ سمجھ سکے بلکہ ان کے الہام کرنے والے نے بھی ان کو نہ سمجھایا برسوں ایسے عقیدہ میں مبتلا رہنے دیا جو ان کے خلیفہ نمبر ٢ کے نزدیک مشرکانہ عقیدہ ہے۔ حافظ جی کا دعویٰ ہے کہ ”جب تک صریح طور پر مرزا قادیانی کو خدائے تعالیٰ نے خبر نہیں دی وہ بھی مسلمانوں کے رسمی عقیدہ کو تسلیم کرتے رہے۔“ کیا حافظ جی نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیا میں کوئی عقل والا رہا ہی نہیں جو اتنی موٹی بات کو بھی مان جائے کہ کسی معاملہ میں حرام و حلال جائز و ناجائز کا امر یا نہی دوسری چیز ہے اور ایک تاریخی واقعہ بلکہ ایک لفظ کے لغوی معنی دوسری چیز، مرزا قادیانی تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ”توفی کے معنی در حقیقت موت ہیں۔“ تمام آیتیں تمام حدیثیں تمام لغت عرب بقول ان کے سب کے سب اس کی تائید کرتے ہیں پس اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ۔
- ......١۔ مدتوں برسوں مرزا قادیانی تمام آیتوں، تمام حدیثوں، تمام لغت عرب کے معنی (بقول
خود) غلط سمجھتے رہے اس وقت تک ان کے نزدیک بھی تمام آیتوں تمام حدیثوں تمام لغت عرب میں توفی کے معنی درحقیقت موت کے نہ تھے اب اس کے بعد سمجھے تو لغت عرب کے ذریعہ نہ سمجھے قرآن کے ذریعے نہ سمجھے حدیث کے ذریعہ نہ سمجھے بلکہ (بزعم خود) صرف اپنے الہام سے سمجھے، چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح بن مریم فوت ہوچکا ہے۔“ اس الہام سے مرزا قادیانی یہ سمجھے کہ ”توفی کے معنی در حقیقت موت ہی کے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)
پس اب نہ (مرزائیوں کو) قرآن سے مطلب، نہ حدیث سے غرض، نہ لغت عرب سے بحث، صرف یہ دیکھ لینا ہے کہ مرزا قادیانی کا الہام سچا یا جھوٹا خدا کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے؟ اس کی پہچان خدائے قدوس نے قرآن کریم میں بتادی ہے کہ: ”لو كان من عند غير الله لو جدوا فيه اختلافاً كثيراً“ اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے یعنی جن الہاموں میں اختلاف ہو وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ انصاف پسند حضرات بغور دیکھیں کہ اس مزعومہ الہام کی رو سے انی متوفیک کے معنی ہوئے ”میں تجھے مارنے والا ہوں۔“ چنانچہ بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگئے۔ اب دوسرا مزعومہ الہام دیکھئے جناب مرزا قادیانی (براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٦٤ حاشیہ) میں فرماتے ہیں کہ: بعد اس کے الہام ہوا یعیسی انی متوفيك ورافعك الى. اے عیسیٰ (یہاں
٦٣
عیسیٰ سے مراد جناب مرزا قادیانی ہیں اس لئے کہ یہ الہام ان پر ہو رہا ہے ان کے متعلق ہے۔ (معاذ اللہ) ”میں تجھے کامل اجر بخشوں گا نیز فرمایا اے عیسیٰ (مرزا قادیانی) میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“
خدارا انصاف شرط ہے اللہ ! کوئی غور کرے کہ اس مزعومہ الہام میں جبکہ لفظ متوفیک مرزا قادیانی کے لئے استعمال کیا گیا تو الہام ہی میں اس کے معنی ”کامل اجر بخشوں گا۔“ فرمائے گئے ”پوری نعمت دوں گا۔“ بتائے گئے اور جب یہی وحی ربانی حضرت عیسیٰ بن مریم کے متعلق قرآن حکیم میں ذکر ہوئی تو مرزا قادیانی ہی کے مزعومہ الہام میں یہ معنی بتائے گئے کہ ”وہ فوت ہو چکا ہے۔“ وہی لفظ جب مرزا قادیانی کے لئے الہام میں بولا گیا تو الہام کرنے والے نے اور معنی بتائے وہی لفظ بالکل اسی شان سے اسی عبارت میں جب عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آیا تو الہام کرنے والا دوسرے معنی بتائے۔ یا تو یہ مرزا قادیانی پر الہام کرنے والا دروغ گو را حافظہ نباشد کا مصداق ہے۔ یا الہام کا مدعی ہی مفتری و کذاب۔
سچے خدا کا الہام ہمیشہ سچا
اس شکل کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ مرزائی صاحبان اپنی آئندہ تحریروں میں ”توفی“ کے معنی کے متعلق جہاں اور شرطیں لکھتے رہے اب اس شرط کا اضافہ کر دیں گے اور یہ لکھیں گے کہ ”توفی باب تفعل سے ہونا فاعل اللہ ہو مفعول بہ خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم مسیح ناصری علیہ السلام ہوں تو اس کے معنی موت ہی کے ہوں گے۔“ ورنہ اگر وہ یہ شرط نہ لگائیں گے تو ان کے چیلنج کے جواب میں مرزا قادیانی کے مزعومہ الہام (براہین احمدیہ ص ٥١٩، ٥٥٧، خزائن ج١ ص ٦١٩، ٦٦٤) کو پیش کر دیا جائے گا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کو بھی تو اعجازی کلام کا دعویٰ ہے ہی اور اس کے معنی چونکہ وہیں (بہ زعم مرزا قادیانی) الہام ہی میں بیان کر دیئے گئے ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کو ان کے ماننے میں انکار بھی نہ ہوگا۔
- ٢...... حافظ جی نے اپنی اس عبارت میں یہ بھی مان لیا کہ ”حیات مسیح مسلمانوں کا رسمی عقیدہ
تھا۔ اسی لئے مرزا قادیانی اسے تسلیم کرتے رہے۔“
پس جب حافظ جی کو یہ تسلیم ہے کہ حیات مسیح تمام مسلمانوں کا عقیدہ تھا تو اس میں بھی انہیں تامل نہ ہوگا کہ اس کے بعد (مزعومہ الہام ہی کے ذریعہ سہی) جو عقیدہ ممات مسیح کا سکھایا وہ اس عقیدہ کیخلاف ایک نیا طریقہ تھا۔ اب ہم حدیث شریف میں دیکھتے ہیں کہ پرانے طریقے کیخلاف نیا طریقہ بتانے والے کون ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے۔
٦٤
حضور نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”ان بین ید اکثر قال ما ایتهم قال أن یاتوک بسنۃ لم تکو ودینکم فاذا رأیتموهم فاجتنبوهم وعادوهم پہلے تیس یا زیادہ کذاب ہوں گے۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ فرمایا کہ وہ تمہارے پاس وہ طریقہ لے کر آئیں گے جس پر تم تمہارے طریقہ اور دین کو بدل ڈالیں گے جب تم انہیں دیکھ رکھنا۔
ناظرین ! آپ نے دیکھ لیا، سن لیا، حضور ﷺ نے پہلے ہی سے دے دیں ہر قسم کی پہچانیں بتا دیں فھل انتم م اب بھی اسی دجالی فتنہ سے نہیں بچو گے؟
حافظ جی کی دروغ گوئی کا جواب مختلف عنوانوں میں آخری جھوٹ کہ (حافظ جی کی) ”ان تحریروں نے ہمیشہ مارشس والوں پر روشن کہ پریشان ہم تھے یا م دلائل سے ظاہر۔ بہر صورت ہمیں ان فضولیات سے کچھ سرو وشتم کر لیں لیکن خدارا اللہ جل وعلا و رسول اللہ ﷺ پر حملہ سے باوصف مشاغل کثیرہ چلتے چلتے قلم برداشتہ نومبر جہاز میں سفر کر رہا ہوں، چاروں طرف نصاریٰ کا ہجوم ہے میرے قریب کے کیبن میں پادریوں کا انسپکٹر پروٹسٹنٹ افراد میں بھی بہت سے منچلے ...... میرا وہی حال ہے جو مارش مسائل پوچھنے والے، ہجوم کئے ہوئے اور میں تن تنہا جواب کی مہلت عنقا، پھر اس پر یہ عجیب ماجرا کہ ایک طرف د تکلیف درد۔ بفضلہ تعالیٰ اسی حالت میں جو کچھ لکھا گیا وہ مالک عالم کلام میں اثر دے جو ناظرین کے ق اسے دیکھ کر ایک مرزائی بھی راہ راست پر آگیا تو یہ بہترین مجھے مسودے کو صاف کرنا تو کجا بغور نظر ثانی سے التجا ہے کہ اگر کہیں سہو و نسیان پائیں معاف فرمائیں
٦٥
حضور نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”ان بین یدی الدجال کذابون ثلثون او اکثر قال ما ایتہم قال ان یاتوک بسنۃ لم تکونوا علیھا یغیرون بھا سنتکم ودینکم فاذا رأیتموھم فاجتنبوھم وعادوھم (رواہ الطبرانی عن ابن عمرؓ)“ دجال سے پہلے تیس یا زیادہ کذاب ہوں گے۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ ان کی نشانی کیا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے پاس وہ طریقہ لے کر آئیں گے جس پر تم پہلے نہ ہوگے وہ اپنے اس طریقہ سے تمہارے طریقہ اور دین کو بدل ڈالیں گے جب تم انہیں دیکھو تو ان سے بچنا اور ان سے عداوت رکھنا۔
(کنز العمال ج٧،ص١٧١)
ناظرین! آپ نے دیکھ لیا، سن لیا، حضور ﷺ نے ہمیں ذرا ذرا سی باتوں کی بھی خبریں پہلے ہی سے دے دیں، ہر قسم کی پہچانیں بتادیں، فھل انتم منتھون! اب بھی اسی دجالی فتنہ سے نہیں بچو گے؟
حافظ جی کی دورخیوں کا جواب مختلف عنوانوں کے ماتحت ختم ہوا۔ ان کا اس دورخی میں آخری جھوٹ کہ (حافظ جی کی) ”ان تحریروں نے ہمیشہ پریشان کیا ہے ۔“
مارشس والوں پر روشن کہ پریشان ہم تھے یا حافظ جی، جواب کا ”دندان شکن“ ہونا دلائل سے ظاہر۔ بہرصورت ہمیں ان فضولیات سے کچھ سروکار نہیں۔ وہ ہمیں اس سے زیادہ سب وشتم کر لیں لیکن خدارا اللہ جل وعلا اور رسول اللہ ﷺ پر حملہ سے باز آئیں۔
باوصف مشاغل کثیرہ چلتے چلتے قلم برداشتہ دو نمبروں کے جواب دے ہی چکا تھا اب کہ جہاز میں سفر کر رہا ہوں، چاروں طرف نصاریٰ کا ہجوم ہے خود میری کیبن میں چار کیتھولک پادری میرے قریب کے کیبن میں پادریوں کا انسپکٹر پروٹسٹنٹ پادری وغیرہ بھی بہت سے آزاد خیال افراد میں بھی بہت سے منچلے...... میرا وہی حال ہے جو مارشس میں تھا چاروں طرف مختلف قسم کے مسائل پوچھنے والے، ہجوم کئے ہوئے اور میں تن تنہا جواب دینے کے لئے۔ یکسوئی کے ساتھ تحریر کی مہلت عنقا، پھر اس پر یہ عجیب ماجرا کہ ایک طرف دائیں آنکھ میں سخت درد، دوسری طرف تکلیف درد۔ بعونہ تعالٰی اسی حالت میں جو کچھ لکھا گیا وہ حاضر۔
مالک عالم کلام میں اثر دے جو ناظرین کے قلوب کو انوار ہدایت سے بھر دے۔ اگر اسے دیکھ کر ایک مرزائی بھی راہ راست پر آگیا تو یہ بہترین ثمرہ ہوگا۔ مجھے مسودے کو صاف کرنا تو کجا بغور نظر ثانی کی بھی فرصت نہیں۔ اس لئے ناظرین سے التجا ہے کہ اگر کہیں سہو دستی پائیں معاف فرمائیں اور بالفرض ناقل و کاتب صاحب سے
٦٥
کتابت میں غلطی ہو تو مجھے ذمہ دار نہ بنائیں بلکہ خود اصلاح فرمالیں، دعائے خیر میں ہمیشہ یاد کرتے رہیں کہ مالک عالم اعدائے دین کی سرکوبی اور دین متین کی صحیح خدمت کے لئے مزید قوت و ہمت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ طہ ویسین ﷺ وعلی اصحابہ اجمعین و آخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین! محمد عبد العلیم الصدیقی القادری کیبن ٢١٩، ایس ایس جنرل وارڈ ...... یکم مئی ١٩٤٩ء
تقریظ جلیل
صدر الافاضل بدر الاماثل خلیفہ اعلیٰ حضرت
علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین قادری اشرفی حنفی مراد آبادی
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلى على حبيبه الكريم!
عزیز و محبی حامی دین ناصر شرع متین مولانا الحاج شاہ محمد عبد العلیم صاحب صدیقی سلمہ العلی الولی وحفظہ من شر کل غوی وایدہ بالاید القوی نے مرزائی کا قلم برداشتہ جواب سفر کی رواروی اور جہاز پر ملاقاتوں کے ہجوم میں ایسا لکھا کہ باید و شاید۔ حقیقت واضح ہوگئی اور مرزائیت کے بطلان کا پردہ فاش ہو گیا۔
مرزائی مبلغ کا رد بحمد اللہ ابلغ وجہ پر ہوا اور مرزائی دین کی بنیادیں متزلزل ہو گئیں سلاست بیان، روانی مضمون، قوت دلیل، حسن ادا ایک ایک بات قابل تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ جناب مولانا کی اس تحریر کو گم گشتگان راہ کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔ درحقیقت مولانا موصوف اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے دور دراز ممالک اور جزائر میں پہنچ کر بروبحر کے سفروں کی صعوبتیں برداشت کرکے اعلاء کلمة الله کے لئے اپنی خدمتیں وقف کر دی ہیں۔ جزاہ اللہ تعالیٰ خیر الجزاء!
کتبه العبد المعتصم بحبله المتين محمد نعیم الدین المراد آبادی غفر لہ الہادی!
٦٦
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
ختم نبوت
حضرت مولانا مفتی غلام
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
صلی اللہ علیہ وسلم
ختم نبوت
حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانوی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اعلم ان ختم النبوة على سيدنا محمدﷺ تدل عليه دلائل:
منها...... الاوّل:
قوله تعالى: ﴿ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)﴾ لان قوله تعالى: "خاتم النبيين" حجة قاطعة على ختم النبوة على محمدﷺ ولهذا كان اشفق وارحم على امة لان النبى الذى بعده نبى يجوز ان يترك شيئاً من النصيحة والبيان لانها يستدركها من بعده واما من لا نبى بعده فيكون اشفق وارحم على امته واهدى بهم من كل الوجوه.
منها...... الثانى:
قوله تعالى: ﴿كان الناس امة واحدة يبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتب بالحق ليحكم بين الناس (بقره:٢١٣)﴾ لان هذه الآية تفيد ان كل نبى لا يكون نبياً فى اصطلاح الشرع الا من يجمع الصفات الاربعة:
الاولى: ان يكون مبشراً
والثانية: ان يكون منذراً
والثالثة: ان ينزل معه الكتاب بالحق
والرابعة: ان يكون سفيرا بين الخالق والمخلوق فى الهداية والافاضة كما يدل عليه قوله تعالى: ﴿ليحكم بين الناس (بقره:٢١٣)﴾
فلولا ختمت النبوة على سيدنا محمدﷺ وجاز ان يكون بعده نبى يلزم ان ينزل معه الكتاب كما توجبه الصفة الثالثة فيقدح فى كمال القرآن فى التعليم فلا يصدق قوله تعالى: ﴿اليوم اكملت لكم دينكم (مائده:٣)﴾ ثم اعلم ان الآية المصدرة كما تدل على ختم النبوة على سيدنا محمدﷺ كذلك تدل على أمرين آخرين.
٢
الاول: ان النبوة فى اصطلاح الشرع لا ظليا وبروزيا كما اخترعه اهل زماننا فان يسـ كان نبيناً ولم يكن صاحب امة ولاكتاب يجاب با صاحب امة وصاحب كتاب.
اما الاول فلانه تعالى قال فى البقرة فذكر ال موسى اولاً وآل هارون عليهما السلـ واحد منهما صاحب امة فال موسى عليه السـ بركاته وآل هارون هم الذين استفاضوا فى فيوضـ
واما الثانى فلانه تعالى قال فى المستبين﴾ اى اتينا كل واحد منهما الكتاب المـ ﴿وانزل معهم الكتب (بقره:٢١٣)﴾ فان المراد انز اذ ارادة انزالا لكتاب الواحد مع جميعهم ظاهر الـ
والثالث ان النبى فى اصطلاح الشرع الله بالهديات والوحى وجعله سفيرا بين واشاعتها بين الناس كما تقتضيه الصفة الوحى والمكالمة والا يلزم ان يكون الحواريـ المائدة ﴿اوحيت الى الحواريين﴾ ويدل عـ يكن بينى وبينه (اى عيسى عليه السلام) نبيـ الوحى ومكالمة الملك فقد حاد عن الصوا القصص ﴿واوحينا الى ام موسى﴾ مع انهـ بالمعنى اللغوى اى المخبر عن الله سواء كـ ذاتياً لا يجوز ان يستعمل بعد سيدنا محمدﷺ
ولذا لم يجتراء ابو بكر ولا عمر ولا عثمان ولا النبى بالمعنى اللغوى مع انهم فنوا فـ
٣
الاول: ان النبوة فى اصطلاح الشرع لا تكون الا نبوة تشريعية لا ظليا وبروزيا كما اخترعه اهل زماننا فان يسئل ان هارون عليه السلام كان نبياً ولم يكن صاحب امة ولا كتاب يجاب بان هارون عليه السلام كان صاحب امة وصاحب كتاب.
اما الاول فلانه تعالى قال فى البقرة ﴿آل موسى وآل هارون﴾ فذكر آل موسى اوّلاً وآل هارون عليهما السلام ثانيا استقلالا فكان كل واحد منهما صاحب امة فآل موسى عليه السلام هم الذين استفادوا فى بركاته وآل هارون هم الذين استفاضوا فى فيوضاته.
واما الثانى فلانه تعالى قال فى الصّفّت ﴿واتينهما الكتاب المستبين﴾ اى اتينا كل واحد منهما الكتاب المستبين ونظيره قوله تعالى ﴿وانزل معهم الكتب (بقره:٢١٣)﴾ فان المراد انزل مع كل واحد منهم الكتاب اذ ارادة انزال الكتاب الواحد مع جميعهم ظاهر البطلان.
والثالث ان النبى فى اصطلاح الشرع لا يكون نبياً الا من بعثه الله بالهديات والوحى وجعل سفيرا بين الخالق والمخلوق فى تبليغها واشاعتها بين الناس كما تقتضيه الصفة الرابعة ولايكون نبياً بمجرد الوحى والمكالمة والا يلزم ان يكون الحواريون انبياء حيث قال تعالى فى المائدة ﴿اوحيت الى الحواريين﴾ ويدل على نفيه وبطلانه قوله ﷺ لم يكن بينى وبينه (اى عيسى عليه السلام) نبى فمن توهم ان النبوة مجرد الوحى ومكالمة الملك فقد حاد عن الصواب الا ترى الى قوله تعالى فى القصص ﴿واوحينا الى ام موسى﴾ مع انها لم تكن نبية ثم اعلم ان النبى بالمعنى اللغوى اى المخبر عن الله سواء كان لافاضة الناس ديناً او امراً ذاتياً لا يجوز ان يستعمل بعد سيدنا محمد ﷺ فيمن بعده لتجانس اللفظى ولذا لم يجتراء ابو بكر ولا عمر ولا عثمان ولا علىّ على ان يستعمل فيهم لفظ النبى بالمعنى اللغوى مع انهم فنوا فى نبينا ﷺ وكانو اخيار قرن
٣
النبى ﷺ قال ﷺ "خير القرون قرنى" ولذا لم يجوز سيدا اهل الجنة الحسن والحسين استعماله فهما مع انهما كانا معاً جمال النبى ﷺ ظاهراً وباطناً ولذا لم يجز قطب الاقطاب الشيخ عبدالقادر الجيلاني قدس سره استعماله فيه مع انه قال خضنا بحراً لم يقف على ساحله الانبياء اى فنينا فى النبى الامى الذى هو كالبحر فى السخاء فمن ادعى النبوة بعد نبينا ﷺ لم يكن مجدداً ولا مهديا ايضا، لان الافتراء ليس من شان المجددية والمهدوية.
منها...... الثالث
قوله تعالى: ﴿تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيرا (فرقان:١)﴾ اعلم ان هذه الاية تفيد ان نبينا ﷺ افضل العالمين بل افضل النبيين۔
اما الاوّل: فلانه يفهم منها ان نبينا ﷺ كان بالكتاب الالهى للعالمين نذيراً ومن كان بالكتاب الالهى للعالمين نذيراً فهو نبى العالمين والعالمون امته والنبى افضل من امته.
اما الثانى: فلانه يتجلى منها ومن قوله تعالى ﴿اليوم اكملت لكم دينكم (مائده:٣)﴾ ان نبينا ﷺ بعث بالكتاب الالهى الجامع الكامل لتبليغ العالمين كلهم اجمعين والتبليغ الذى قسم من قبل بين الف نبى او الفين فوض والزم ادائه الى نبينا الواحد ﷺ فنبينا ﷺ اجمع واكمل القوى فى الحقيقة وفي علم الله سبحانه فهو الانسان الاجمع الاكمل فى سائر النبيين فهو افضل النبيين فلو جاز ان يكون بعد نبينا ﷺ نبى يلزم ان يكون النبى المتاخر افضل من نبينا ﷺ وهو ظاهر البطلان لما مر. اما اللزوم فلانه كما يتحرك كل متحرك لتحصيل المطلوب واذا وجد مطلوبه سكن ووقف كذلك تحركت النبوة فى نبى الى نبى ثم الى نبى لانه كان مطلوبها الانسان الاجمع الاكمل فلم تقف على آدم عليه السلام ولا على نوح عليه ٤
السلام ولا على ابراهيم عليه السلام وغيرهم و الذات المحمدية ووجدتها سكنت ووقفت لانه الـ مطلوبها وقد حصل فلوا جاز ان يكون بعد نبينا عليه يلزم ان لا يكون الانسان الاجمع الاكمـ الانسان الاجمع الاكمل فهو افضل منه ويقـ الذي......الخ (ملك:١)﴾ كما مر فى التفصيل ولما كان تختم النبوة على الواحدة كما ابتدات فى آدم على وتصير بنو آدم قوماً واحداً كما انهم تحت لواء الجامع الكامل الانسان الجامع الكامل الى العالم فصارت بنو آدم قوماً واحداً اختتاماً كما كانوا مـ
دلیل اول
قوله تعالى: "ما كان محمداً ابا احد مـ وخاتم النبيين ط وكان الله بكل شيء عليمـ
تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔﴾
آنحضرت ﷺ کی ابوت روحانی کا سلسلۂ تا قیام
اس آیت کا یہاں کیا تعلق ہے؟ اصل مضمون تو آ یہ کہ مومنوں کا تعلق آپ سے روحانی تعلق ہے اور آپ مومنـ اسی مضمون کو یہاں ادا کیا ہے اور بتایا ہے کہ محمد ﷺ تمہارـ لیکن چونکہ اس سے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی ”ابوـ حرف استدراک لیکن سے فی الفور اس کا ازالہ کیا اور فرمایا: ”نـ یعنی روحانی طور پر تمہارے باپ ہیں، کیونکہ ہر ایک رسول باپ کا حکم رکھتا ہے، جس طرح جسم کی ابتداء باپ سے ہوتـ ہوتی ہے۔ پس ”رسول الله “ کا لفظ لا کر آپ ﷺ کی ا ٥
السلام ولا على ابراهيم عليه السلام وغيرهم فى الانبياء فاذا وصلت الى الذات المحمدية ووجدتها سكنت ووقفت لانه الانسان الاجمع الاكمل وهو مطلوبها وقد حصل فلوا جاز ان يكون بعد نبينا ﷺ نبى ولم تختم النبوة عليه يلزم ان لا يكون الانسان الاجمع الاكمل بل يكون النبى المتاخر الانسان الاجمع الاكمل فهو افضل منه ويبطل قوله تعالى: ﴿تبارك الذي......الخ! (ملك:١)﴾ كما مر فى التفصيل ولما كان فى ارادة الله الازلية ان تختم النبوة على الواحدة كما ابتدات فى آدم على الواحدة وتذهب الاجنبية وتصير بنو آدم قوماً واحداً كما انهم تحت نوع واحد بعث تعالى بالكتاب الجامع الكامل الانسان الجامع الكامل الى العالمين كلهم نبياً مشتركاً واحداً فصارت بنو آدم قوماً واحداً اختتاماً كما كانو ابتداء۔
دلیل اول
قوله تعالى: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین ط وكان الله بكل شیء عليما (الاحزاب:٤٠)“ ﴿یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔﴾
آنحضرت ﷺ کی ابوت روحانی کا سلسلہ تا قیامت غیر منقطع ہے
اس آیت کا یہاں کیا تعلق ہے؟ اصل مضمون تو آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ ہونا تھا اور یہ کہ مومنوں کا تعلق آپ سے روحانی تعلق ہے اور آپ مومنوں کے لئے روحانی طور پر باپ ہیں، اسی مضمون کو یہاں ادا کیا ہے اور بتایا ہے کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن چونکہ اس سے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی ”ابوت“ کی نفی کا اشتباہ پیدا ہوتا تھا اس لئے حرف استدراک لکن سے فی الفور اس کا ازالہ کیا اور فرمایا: ”رسول اللہ“ وہ اللہ کے رسول ہیں، یعنی روحانی طور پر تمہارے باپ ہیں، کیونکہ ہر ایک رسول اپنی امت کے حق میں روحانی طور پر باپ کا حکم رکھتا ہے، جس طرح جسم کی ابتداء باپ سے ہوتی ہے، روحانیت کی ابتداء رسول سے ہوتی ہے۔ پس ”رسول اللہ“ کا لفظ لاکر آپ ﷺ کی ابوت روحانی کو قائم کیا۔ لیکن یہاں پھر
٥
ایک وہم پیدا ہوتا تھا کہ جس طرح پہلے رسولوں کے بعد دوسرے رسول آجاتے رہے تو پہلے رسولوں کی ابوت روحانی منقطع ہو جاتی رہی۔ کیا اسی طرح رسول اللہ کے ساتھ ہوگا؟ تو فرمایا ایسا نہیں ہوگا بلکہ آپ ”خاتم النبیین“ بھی ہیں، یعنی آخری نبی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اس لئے آپ کی ابوت روحانی کا سلسلہ بھی تاقیامت منقطع نہ ہوگا۔ بلکہ جو فیض ملے گا وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ سے ہی ملے گا اور اسی فیض کے پانے سے ہی آپ کی امت کے لوگ مثیل انبیاء ہوں گے۔ ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ وہ نبی نہ ہوں گے۔ پر نبیوں کی طرح ہوں گے وہ نبی نہ ہوں گے۔ پر اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوگا۔ ”رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء“ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام معطل نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کی دلیل ہے کہ تمام دنیا کی ضروریات مذہبی کے متعلق مکمل ہدایات رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمادیں۔ اسی لئے آیت کا ختم ”بکل شیء علیما“ پر کیا ہے۔
تفسیر خاتم النبیین باللغۃ
خاتم کے معنی ”مہر“ بھی ہیں اور ”آخر“ بھی، لیکن کسی قوم کے ”خاتم“ اور ”خاتم“ سے مراد ان میں سے ”آخری“ ہوتا ہے: ”ختام القوم وخاتمهم وخاتمهم آخرهم“ (لسان العرب) اور ”خاتم“ اور ”خاتم“ ہمارے نبی ﷺ کے اسماء میں سے ہیں اور ”خاتم النبیین اور ”خاتم النبیین“ کے معنی ہیں آخری نبی (لسان العرب) اور آپ ﷺ کو ”خاتم النبیین“ کہا۔ اس لئے کہ نبوت کو آپ کے ساتھ ختم کردیا (مفردات امام راغب) ”خاتم النبیین“ کے معنی لغت سے اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا ”خاتم“ یا ”خاتم“ ہونا صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ یعنی ان میں آخری ہونا، پس نبیوں کے ”خاتم“ کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں۔
تفسیر خاتم النبیین بالاحادیث النبویۃ
یہاں ان سب احادیث کے نقل کرنے کی گنجائش نہیں جن میں ”خاتم النبیین“ کی تشریح کی گئی ہے یا جن میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا نہ آنا بیان کیا گیا ہے اور یہ احادیث متواترہ ہیں جو صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں۔
٦
حدیث اوّل: جس میں لفظ ”خاتم النبیین“ کی ت متفق علیہ ہے۔ ”مثلى ومثل الانبياء كمثل رجـ الاموضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفو هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خـ نبیوں کی مثال ایک شخص کی مثال ہے۔ جس نے ایک گھر بنا کونے کی اینٹ کے تو لوگ اس کے گرد گھومتے اور تعجب کر میں وہ اینٹ ہوں اور میں ”خاتم النبیین“ ہوں۔
دوسری حدیث: ابوداؤد اور ترمذی میں لفظ ”خاتـ سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه بعدی“ یعنی میری امت میں ”تیس کذاب“ ہوں گے کہ وہ نبی ہے اور میں ”خاتم النبیین“ ہوں میرے بعد کوئی نبـ
اور تیسری حدیث: جو مسلم، ترمذی و نسائی کی دوسرے انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے۔ جن میں چھـ یعنی میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے ہیں، وہاں بجائے ”خاتـ ”خاتم النبیین“ سے یہی مراد ہے نہ کچھ اور۔
وہ احادیث جن میں آپ ﷺ کے آخری نبی ”خاتم النبیین“ کی تفسیر ہی ہیں۔ بہت سی ہیں مثلاً ایک کے بعد نبی آنا تھا۔ لیکن میرے بعد نبی نہ آئے گا۔ بلکہ خلفـ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا اور ایک میں ہے کہ علیؓ کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ”انا العاقبـ اور ایک میں ہے کہ نبوت میں کچھ باقی نہیں رہـ اور ایک میں ہے کہ نبوت اور رسالت منقطع ہـ اور دس حدیثوں میں ہے کہ ”لانبی بعدی
٧
حدیث اول: جس میں لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر زبان نبوی ﷺ سے مروی ہے۔ متفق علیہ ہے۔ ”مثلی ومثل الانبیاء كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين“ یعنی میری مثال اور نبیوں کی مثال ایک شخص کی مثال ہے۔ جس نے ایک گھر بنایا اور اسے اچھا خوبصورت بنایا سوائے کونے کی اینٹ کے تو لوگ اس کے گرد گھومتے اور تعجب کرتے اور کہتے اینٹ کیوں نہیں لگائی سو میں وہ اینٹ ہوں اور میں ”خاتم النبیین“ ہوں۔
دوسری حدیث: ابو داؤد اور ترمذی میں لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر یوں کی ہے: ”انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدی“ یعنی میری امت میں ”تیس کذاب“ ہوں گے ہر ایک ان میں سے جھوٹا دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں ”خاتم النبیین“ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اور تیسری حدیث: جو مسلم، ترمذی و نسائی کی ہے یہ ذکر ہے کہ مجھے چھ چیزوں میں دوسرے انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے۔ جن میں چھٹی یہ ہے کہ ”ختم بی النبیون“ یعنی میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے ہیں، وہاں بجائے ”خاتم النبیین“ کے یہ لفظ رکھ کر بتا دیا کہ ”خاتم النبیین“ سے یہی مراد ہے نہ کچھ اور۔
وہ احادیث جن میں آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی درحقیقت ”خاتم النبیین“ کی تفسیر ہی ہیں۔ بہت سی ہیں مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں نبی کے بعد نبی آتا تھا۔ لیکن میرے بعد نبی نہ آئے گا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا اور ایک میں ہے کہ علیؓ کی نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ایک میں ہے کہ میرا نام عاقب ہے اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ”انا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى“
اور ایک میں ہے کہ نبوت میں کچھ باقی نہیں رہا مگر مبشرات۔
اور ایک میں ہے کہ نبوت اور رسالت منقطع ہوگئی۔
اور دس حدیثوں میں ہے کہ ”لانبی بعدى“ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
٧
اور ایسی حدیثیں جن میں آپ ﷺ کو آخری نبی کہا گیا ہے چھ ہیں۔ اس قدر زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرنا بینات اور اصول دینی سے انکار ہے۔
لو عاش ابراهيم لكان نبيا پر بحث
اور ”ختم نبوت“ کے خلاف جو کچھ احادیث میں سمجھا گیا ہے وہ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے۔ ”لو عاش ابراهيم لكان نبيا“ مگر اول اس سے امکان نبوت نہیں نکلتا، بلکہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا“ جس طرح یہاں دو خداؤں کا ہونا اور فساد دونوں ممتنع امر ہیں، اسی طرح وہاں ابراہیم کا زندہ رہنا اور اس کا نبی ہونا دونوں ممتنع ہیں۔ دوسرے اس حدیث کی سند میں ضعف ہے، کیونکہ اس میں ابو شیبہ ابراہیم ہے۔ جسے ضعیف کہا گیا ہے۔ تیسرے اس کی تشریح دوسرے اقوال سے ہوتی ہے۔ مثلاً بخاری میں عبداللہ بن ابی اوفیٰ کا قول: ”لو قضى بعد محمد ﷺ نبي عاش ابراهيم ولكن لا نبي بعده “ یعنی اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی مقدر ہوتا تو آپ ﷺ کا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ یا انس کا قول: ”ولو بقى لكان نبيا لكن لم يبق لان نبيكم آخر الانبياء“ یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ لیکن وہ باقی نہیں رہا کیونکہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں۔
حضرت عائشہؓ کا قول
”قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعده“ اور ”ختم نبوت“ کے خلاف ایک قول حضرت عائشہؓ کا پیش کیا جاتا ہے: ”قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ یعنی خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک ”ختم النبیین“ کے معنی کچھ اور تھے۔ کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے، حضرت عائشہؓ کے اپنے قول میں ہوتے۔ کسی صحابی کے قول میں ہوتے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے۔ مگر وہ تو بظن قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں ”خاتم النبیین“ کے معنی ”لا نبی بعدی“ کئے گئے ہیں۔ ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہے۔ یہ غرض پرستی ہے۔ خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے
٨
سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جا ئیں کہ حضرت عائشہؓ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی النبیین“ کافی ہے۔ جیسا کہ مغیرہ بن شعبہ کا قول ہے کہ ایک الانبياء ولا نبی بعدہ“ تو آپ نے کہا ”خاتم الانبياء“ کہنا تجھے مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ ”خاتم النبیین“ واضح ہیں اور ان وہی استعمال کرو۔ یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دی حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک ہوتی چہ جائیکہ صحابی کا قول ہو جو حدیث کے مقابل شرعاً حجت
صراط الذین انعمت علیهم!
”انعمت عليهم“ سے کون مراد ہیں؟ قرآن انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشہداء انبیاء اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں۔ یہاں نبی کا لفظ آ جانے خود ”مقام نبوت“ بھی اس دعا کے ذریعہ سے مل سکتا ہے اور ا کوئی اس دعا کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی ہے اور نبوت میں انسان کی جدوجہد اور اس کی سعی کو کوئی د ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت کہ ”الرحمٰن علم القرآن“ سے بھی ظاہر ہے۔ پ رحمت کرنے والا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص کوشش کر کے التجائیں کر کے نہ پہلے نبی بنا، نہ آئندہ بنے گا بلکہ خود اللہ تعا رسالته (الانعام)“ کے ماتحت جب چاہتا کسی کو نبو یہاں تک کہ اپنی کامل ہدایت کی راہیں آنحضرت ﷺ پر نبوت ورسالت کو ایک برگزیدہ انسان کے نام کے ساتھ کے نام سے پکار کر بتا دیا کہ اب دوسرا نبی اور دوسرا رسول ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا
٩
سند قول کے سامنے ردی جاتی ہے۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں۔ ”خاتم النبیین“ کافی ہے۔ جیسا کہ مغیرہ بن شعبہ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا ”خاتم الانبیاء ولا نبی بعدہ“ تو آپ نے کہا ”خاتم الانبیاء“ کہنا تجھے بس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ ”خاتم النبیین“ واضح ہیں اور احادیث نبویہ سے واضح ہو چکے ہیں تو وہی استعمال کرو۔ یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی چہ جائیکہ صحابی کا قول ہو جو حدیث کے مقابل شرعاً حجت نہیں۔
صراط الذین انعمت عليهم !
”انعمت عليهم“ سے کون مراد ہیں؟ قرآن کریم خود تشریح فرماتا ہے کہ ”الذین انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصلحين (النساء)“ یعنی وہ انبیاء اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں۔ یہاں نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود ”مقام نبوت“ بھی اس دعا کے ذریعہ سے مل سکتا ہے اور گویا ہر مسلمان ہر روز بار بار ”مقام نبوت“ کو ہی اس دعا کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے۔ اس لئے کہ نبوت محض موہبہ ہے اور نبوت میں انسان کی جدوجہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبہ سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت ”اوّل“ یعنی پہلی قسم میں سے ہے جیسا کہ ”الرحمن علم القرآن“ سے بھی ظاہر ہے۔ کیونکہ الرحمن کے معنی بلا بدل اور بلا جدوجہد رحمت کرنے والا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص کوشش کر کے اور دعائیں مانگ مانگ کر، اور خدا سے التجائیں کر کے نہ پہلے نبی بنا، نہ آئندہ بنے گا بلکہ خود اللہ تعالیٰ ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام)“ کے ماتحت جب چاہتا کسی کو نبوت و رسالت کے منصب پر کھڑا کر دیتا تھا، یہاں تک کہ اپنی کامل ہدایت کی راہیں آنحضرتﷺ پر کھول کر تمام آنے والی نسلوں کے لئے مقام نبوت و رسالت کو ایک برگزیدہ انسان کے نام کے ساتھ مخصوص کر دیا اور اس کو ”النبی“ اور ”الرسول“ کے نام سے پکار کر بتا دیا کہ اب دوسرا نبی اور دوسرا رسول نہیں ہوگا۔ پس مقام نبوت کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے ناواقف ہے۔
٩
اگر یہ دعا نبوت کے حاصل کرنے کے لئے ہوتی تو کم از کم آنحضرت ﷺ کو ہی مقام نبوت پر کھڑا ہونے سے پہلے سکھائی جاتی مگر قرآن کریم میں اس کا موجود ہونا بتاتا ہے کہ مقام نبوت ملنے کے بعد سکھائی گئی۔ نبوت عطا فرما کر اس دعا کا سکھانا صاف بتاتا ہے کہ حصول نبوت کے لئے یہ دعا نہیں اور اگر حصول نبوت کی دعا مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کی دعا قبول نہ ہوئی۔ حالانکہ مقربین اور محبوبین ہزاروں کی تعداد میں ہو گزرے، خدا خود دعا سکھائے اس کی حکمت یہ ہو کہ دعا مانگنے والے کو نبوت ملے۔ دعا کرنے والی امت کو ”خیر امۃ“ کہا جائے اور پھر تیرہ سو سال سب کے سب محروم رہیں۔ حتیٰ کہ وہ بھی جن کے متعلق صریح سند ہے۔ ”رضی اللہ عنہم ورضوعنہ“ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔
”یبنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون والذین کذبوا بآیاتنا واستکبروا عنہا اولئک اصحب النار ہم فیہا خالدون (الاعراف)“ یعنی اے بنی آدم ! اگر کبھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں، میری آیات تم پر پڑھتے ہوں، تو جو کوئی تقویٰ کرے اور اصلاح کرے ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ پچھتائیں گے اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں، وہ آگ والے ہیں، اسی میں رہیں گے۔ پہلی آیت سے پیشتر چند باتیں عام طور پر ساری نسل انسانی کو مخاطب کرکے کہی ہیں۔ ”یبنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا“ ”یبنی آدم لا یفتننکم الشیطن“ ”یبنی آدم خذو زینتکم“ اور یہاں نیز سیاق کے مطابق ساری نسل انسانی کو مخاطب کر کے کہا ”یبنی آدم اما یاتینکم رسل“ جس کا مطلب یہ ہے کہ لباس سارے بنی آدم کے لئے ہے۔ شیطان کے فتنہ سے سب بنی آدم کو متنبہ کیا ہے۔ سب بنی آدم خدا کی عبادت کرتے وقت زینت اختیار کرنے کو کہا اور بالآخر سب بنی آدم کو بتایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی اپنا رسول بھیجے تو اس کو قبول کرنا چاہئے۔ کیونکہ رسولوں کو قبول کرنے سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کا رد کرنا موجب خسران ہے۔ بعض ختم نبوت کے منکر اس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ اس کے ماتحت آنحضرت ﷺ کے بعد بھی رسول آتے رہنے چاہئیں۔ اس آیت سے رسولوں کے آنحضرت ﷺ کے بعد آنے کا نتیجہ اول بہاء اللہ نے اور بعد میں ان کی ١٠
نقل کر کے مرزا محمود احمد قادیانی کے مریدوں نے نکالا ہے۔ قادیانی نے خود اور ان کی زندگی میں ان کے مریدوں نے کبھی نکالنا کمال نادانی ہے۔ مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ اگر خدا اس کو قبول کرنے میں ان کی بہتری ہے۔ سو وہ رسول اللہ یعنی کے متعلق یہ اعلان ہے کہ اگر اس کو قبول کرلو گے تو تمہاری تمہارے نقصان کا موجب ہے اور اگر کہا جائے کہ ”رسل“ جواب یہ ہے کہ اس لئے کہ خطاب کل بنی آدم کو ہے اور بجا ہے۔ تو بلاشبہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بنی آدم کے پاس حضرت محمد ﷺ کو بھیجا گیا کہ دنیا کی کل قوموں کو ایک سلسلہ کی شہادت کہ آپ کے بعد رسول نہ آئیں گے۔ دوسری جگہ اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣) ”آج کے دن کر دیا۔ رسول تو دین سکھانے کے لئے آتے تھے۔ جب دیا تو پھر رسولوں کے آنے کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ آنے کے لئے مانع ہو گیا تو ”کمال نبوت“ بھی اور نبی کے وہ پوری ہوگئی۔ آفتاب رسالت شمس نصف النہار کی طرح ”رسول“ کی ضرورت دنیا کو نہیں اور وہ لوگ جو ”رسول“ بن آنا نہیں مانتے ان کے لئے خود یہاں لفظ موجود ہیں: ”یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام بھی لائیں گے۔ وہی پیغام پہلے ”رسول“ کی آیات ہیں تو پھر تکذیب تو ان آیات ”رسول“ کی تکذیب کوئی شے نہ ہوئی۔
دوسری آیت سے صاف شہادت ملتی ہے کہ آنا ہے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام بھی ہوتا ہے یاتینکم منی ہدی (البقرۃ)“ اور اس کے متعلق دو ایک: ”فمن تبع ہدای“ اس ہدایت کی ١١
نقل کر کے مرزا محمود احمد قادیانی کے مریدوں نے نکالا ہے۔ حالانکہ اس آیت کو نہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اور ان کی زندگی میں ان کے مریدوں نے کبھی پیش کیا۔ ایک شرطیہ جملہ سے یہ نتیجہ نکالنا کمال نادانی ہے۔ مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ اگر بنی آدم کے پاس خدا کا رسول آئے۔ تو اس کو قبول کرنے میں ان کی بہتری ہے۔ سو وہ رسول اللہ یعنی محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی ذات بابرکات کے متعلق یہ اعلان ہے کہ اگر اس کو قبول کرلو گے تو تمہاری بہتری کا موجب ہے اگر رد کرو گے تو تمہارے نقصان کا موجب ہے اور اگر کہا جائے کہ ”رسل“ کا لفظ جمع کیوں استعمال کیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس لئے کہ خطاب کل بنی آدم کو ہے اور بنی آدم کی طرف رسول بھیجنے کا عام ذکر ہے۔ تو بلاشبہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بنی آدم کے پاس رسول آتے رہے اور سب سے آخر حضرت محمد ﷺ کو بھیجا گیا کہ دنیا کی کل قوموں کو ایک سلسلۂ اخوت میں منسلک کریں اور اس بات کی شہادت کہ آپ کے بعد رسول نہ آئیں گے۔ دوسری جگہ سے ملتی ہے جہاں فرمایا: ”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (مائدہ:٣)“ ﴿آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔﴾ رسول تو دین سکھانے کے لئے آتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل کر کے پہنچا دیا تو پھر رسولوں کے آنے کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ جب ”کمال شریعت“ اور شریعت کے آنے کے لئے مانع ہو گیا تو ”کمال نبوت“ بھی اور نبی کے آنے کے لئے مانع ہو گیا جو ضرورت تھی وہ پوری ہوگئی۔ آفتاب رسالت شمس نصف النہار کی طرح چمک رہا ہے۔ اس لئے اب کسی ”رسول“ کی ضرورت دنیا کو نہیں اور وہ لوگ جو ”رسول“ کے آنے کا جواز نکالتے ہیں۔ مگر شریعت کا آنا نہیں مانتے ان کے لئے خود یہاں لفظ موجود ہیں: ”یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ“ یعنی ”رسول“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام بھی لائیں گے۔ وہی پیغام شریعت ہے اور اگر کہا جائے کہ یہ کسی پہلے ”رسول“ کی آیات ہیں تو پھر تکذیب تو ان آیات کی ہے۔ دیکھو اگلی دوسری آیت ایسے ”رسول“ کی تکذیب کوئی شے نہ ہوئی۔
دوسری آیت سے صاف شہادت ملتی ہے کہ رسولوں کے آنے سے مراد ایسے رسولوں کا آنا ہے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ جس طرح پہلے فرمایا تھا: ”اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی (البقرة)“ اور اس کے متعلق دو گروہوں کا ذکر کیا: ایک: ”فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ“ اس ہدایت کی پیروی کرنے والے اور
١١
تعالیٰ کی رضا کی راہوں کا ظاہر کرنا تھا اور تکمیل دین کے بعد اب نبوت نہیں، مگر مقامات عالیہ تک پہنچنے کی سب راہیں آنحضرت احمد اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبادا ليسوا بانبياء ولاشهداء يغبطهم النبيون وقربهم من الله “ (روح المعانی) یعنی اللہ تعالیٰ کے کچھ نبی اور شہید کے مرتبہ اور ان کے اللہ تعالیٰ کے قرب پر رشک کر روایت ہے: ”ان من عباد الله يغبطهم الانبياء و کہ وہ کون ہیں تو آپ نے ان کے متعلق کچھ باتیں بیان کر کے الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون
(تفسیر ابن جریر)
اور ایسی ہی روایت ابوداؤد میں ہے
(ابن کثیر)
بسبب کمال اتباع نبوی قرب الٰہی کے مراتب اسی طرح لوگوں مقامات عالیہ سے محروم نہ کئے جائیں گے۔ بلکہ اگر آنحضرت ہی انسان کامل ہیں اور اپنے کمالات میں نظیر نہیں رکھتے۔ نبوت کی اتباع لازم کی جاتی تو وہ مقامات عالیہ جو بسبب کمال اتباع محروم رہ جاتی۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر ختم نبوت تمام
اور یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے سے دعا کی کہ اے اللہ اتباع محمدی سے مستفیض فرما اور ”مستج
سوال ....... عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مستقل انبیاء اولوالع محمدی ﷺ کے متبع ہوں گے تو نبوت سے معزول کئے جائیں گے اگر ”نزول مع النبوة“ ہوگا تو ”خاتم النبيين“ کی
جواب....... نبوت اور رسالت کے لئے دورخ ہیں، ایک و مخاطبہ اور فیضان کے حاصل کرنے کو بطون کہا جاتا ہے جو اور غیر منفک ہے اور مخلوق کی طرف توجہ اور تبلیغ شریعت کا ظہور میں انقلاب آسکتا ہے اور چونکہ نبی سابق کی شریعت
١٣
تعالیٰ کی رضا کی راہوں کا ظاہر کرنا تھا اور تکمیل دین کے بعد اس کی ضرورت نہ رہی اس لئے اب نبوت نہیں، مگر مقامات عالیہ تک پہنچنے کی سب راہیں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ موجود ہیں، چنانچہ احمد اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”ان اللہ تعالیٰ عبادا ليسوا بانبياء ولا شهداء يغبطهم النبييون والشهداء على مجالستهم وقربهم من الله “ (روح المعانی) یعنی اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جو نبی اور شہید نہیں، لیکن نبی اور شہید کے مرتبہ اور ان کے اللہ تعالیٰ کے قرب پر رشک کریں گے اور ابو ہریرہؓ سے اسی کی مثل روایت ہے: ”ان من عباد الله يغبطهم الانبياء والشهداء “ اور جب لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو آپ نے ان کے متعلق کچھ باتیں بیان کر کے یہی آیت پڑھی: ”الا ان اولیاء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون (تفسیر ابن جریر)“
اور ایسی ہی روایت ابوداؤد میں ہے (ابن کثیر) اور ان روایات کا حاصل یہی ہے کہ بسبب کمال اتباع نبوی قرب الٰہی کے مراتب اسی طرح لوگوں کو ملتے رہیں گے اور انقطاع نبوت سے مقامات عالیہ سے محروم نہ کئے جائیں گے۔ بلکہ اگر آنحضرت رحمت عالم ﷺ پر جو تمام عالم میں ایک ہی انسان کامل ہیں اور اپنے کمالات میں نظیر نہیں رکھتے۔ نبوت ختم نہ ہوتی اور دوسرے نبی آنے والے کی اتباع لازم کی جاتی تو وہ مقامات عالیہ جو بسبب کمال اتباع محمدی حاصل ہوتے ہیں، ان سے مخلوق محروم رہ جاتی۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر ختم نبوت تمام مخلوق کے لئے رحمت ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے کئی راتوں میں نہایت نیاز اور راز داری سے دعا کی کہ اے اللہ اتباع محمدی سے مستفیض فرما اور ”مستجاب الدعاء“ ہوا۔
سوال...... عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مستقل انبیاء اولو العزم سے ہیں تو بر تقدیر نزول اگر شرع محمدی ﷺ کے متبع ہوں گے تو نبوت سے معزول کئے جائیں گے جو سراسر خلاف عقل ونقل ہے اور اگر ”نزول مع النبوة“ ہوگا تو ”خاتم النبیین“ کی مہر ٹوٹ جائے گی؟
جواب...... نبوت اور رسالت کے لئے دو رخ ہیں، یعنی ظہور اور بطون، اللہ تعالیٰ سے مکالمہ ومخاطبہ اور فیضان کے حاصل کرنے کو بطون کہا جاتا ہے اور صاحب بطون کو مقرب الٰہی ہونا لازم اور غیر منفک ہے اور مخلوق کی طرف توجہ اور تبلیغ شریعت ظہور ہے اور بسبب تبدل و تغیر شرائع کے ظہور میں انقلاب آسکتا ہے اور چونکہ نبی سابق کی شریعت کیلئے نبی لاحق کی شریعت ناسخ ہوتی ہے
١٣
تو نبی لاحق کے زمانہ میں نبی سابق کو اپنی شریعت کو ترک کر کے نبی لاحق کی شریعت پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتا تو اس کو بغیر میری شریعت کے عمل درآمد کرنا جائز نہ ہوتا اور اس ظہور کے انقلاب سے نبوت کے بطون میں جس کو قرب الٰہی اور عنداللہ معزز ہونا لازم ہے، ہرگز تغیر نہیں آتا بلکہ ترقی ہوتی ہے۔ بشرطیکہ نبی متبوع نبی تابع سے اکمل ہو۔ کیا یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آنحضرت ﷺ کو بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت دی اور بعد میں جب بیت اللہ کی طرف سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ کی نبوت ورسالت میں فرق آ گیا یا آپ ﷺ اس قدر و منزلت سے جو آپ ﷺ کو پہلے بارگاہ خداوندی میں حاصل تھی معزول کئے گئے۔ ہرگز نہیں۔ لیکن حصول نبوت اور نبی ہونے کے لئے یہ لازم اور ضروری ہے کہ ایک بار مستقل طور پر صاحب بطون وصاحب ظہور ہوا۔ اگر کلکتہ کے علاقے کا لیفٹیننٹ گورنر لاہور کے لفٹنٹ کے علاقہ میں بغرض اصلاح آئے تو اس کو لیفٹیننٹ گورنر کہا جائے گا لیکن وہ اس عہدہ پر نہیں آیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر بالفرض آنحضرت ﷺ کے بعد دنیا کے سارے پیغمبر آ جائیں تو ”خاتم النبیین“ کی مہر نہیں توڑ سکتے۔
مرزا قادیانی کا نبوت تشریعیہ کا مدعی ہونا
مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نبوت تشریعیہ کا مدعی ہے اور اس کے ثابت کرنے کے لئے ہم ان کا ایک مکالمہ و وحی بطور نمونہ پیش کرتے ہیں۔ مکالمات الٰہیہ جو ”براہین احمدیہ“ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی ہے: ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہر علی الدین کلہ“ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ص ٥٩٣)
یہ آیت ”سورہ فتح“ کے اخیر رکوع میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے۔“ اس آیت میں نبی تشریعی کا بیان ہے جیسا کہ ”بالھدی ودین الحق“ سے ظاہر ہے اور مرزا قادیانی کا یہ فقرہ کہ (اس میں صاف طور اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے) اس امر پر کھلی شہادت ہے کہ مرزا قادیانی نبوت تشریعیہ کے مدعی ہیں۔
١ کما يدل عليه قوله تعالى ﴿كان الناس امة واحدة......الخ﴾
١٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
تذکرۃ العباد
(لکیلا یغتروا باقوال اہل الحاد)
حضرت مولانا عبدالحیّ امرتسریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين . وانزلنا على الذين ظلموا رجزاً من السماء بما كانوا يفسقون .
تعارف ...... تذكرة العباد لكيلا يغترو باقوال اهل الالحاد
جس میں اسباب عذاب پر مفصل بحث کی گئی اور بتلایا گیا ہے کہ طاعون زمانہ حال میں کثرت معاصی وشامت اعمال کا نتیجہ ہے اور یہ کہ طاعون گزشتہ سنین میں کئی بار واقع ہو چکی ہے حالانکہ مدعی نبوت جدید کوئی بھی موجود نہ تھا اور یہ کہ طاعون آنحضرت ﷺ کی دعا کا نتیجہ ہے: اللهم أجعل فناء امتى قتلا في سبيلك بالطعن والطاعون ۔ نبی کے انکار پر اس کی بناء نہیں اور آیت ومـا كـنـا معذبين حتى نبعث رسولا کا ایسا مقدر قرار نہیں دیا جائے گا جو آیت خاتم النبیین کی معارض واقع ہو کیونکہ قرآن تعارض حقیقی سے منزہ ہے اور ختم نبوت پر قرآن وسنت اجماع امت اور قیاس عقلی اور بائبل سے جو اس وقت عیسائیوں کی ہاتھ میں موجود ہے مکمل ثبوت اور یہ کہ مماثلت انبیاء کو ممکن ہے لیکن یہ محض اخلاقی مماثلت اور روحانی مشابہت ہے جس کے پیرایہ میں نبوت نہیں حاصل ہو سکتی جو فیض وہبی ہے بلکہ بعض کمالات جزئیہ غیر نبیوں میں پائی جاتی ہے جن کی انبیاء بروز قیامت تمنا کریں گے۔ لیکن پھر بھی غیر نبیوں کو درجہ نبوت تک رسائی نہیں ۔ الغرض قرآن سے اس بات کا ثبوت دیا گیا ہے کہ ہر دفعہ مماثلت کے پیرایہ میں نبوت نہیں حاصل ہوتی اور اس مسئلہ کو واضح اور مدلل طور پر کئی ایک مثالوں سے حل کیا گیا ہے۔
مرزا قادیانی کی قلم سے اس بات کا ثبوت کہ طاعون ان کی مکذب ہے
- ١....... عام طور پر یہ بات جماعت مرزائیہ کے زبان زد ہے کہ ظہور طاعون مرزا قادیانی کی
نبوت کا مصدق ہے لیکن جہاں تک مرزا قادیانی کی تصانیف کو دیکھا گیا تو حالت برعکس نظر آئی اور نتیجہ خلاف پیدا ہوا یعنی طاعون کا وقوع ملک میں خود بدولت کے دعویٰ کا ہلکی استحصال کرتا ہے کیونکہ دافع البلاء میں آپ نے یہ پیش گوئی قلم بند کی ہے : ”قادیان میں طاعون نہیں آئے گا کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ (دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) اني لا يخاف لدى المرسلون (دافع البلاء ص ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) جو پوری نہیں ہوئی۔ قادیان میں طاعون زور وشور پر رہا اور اس کثرت سے موتیں وارد ہوئیں کہ خود بدولت گھبرا کر قادیان سے باہر ایک کنارے خیمہ زن ہوئے اور اپنے اخباروں میں وقتاً فوقتاً وقوع طاعون کا اقرار بھی کرتے رہے۔ خدا تعالیٰ کا ٢
مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو جامہ وجود پہنانے سے انکار کر اخباروں میں ان کی قلم سے اس اقرار کو قلم بند کرانا دوسری ب میں اور نووی نے شرح مسلم میں بحوالہ قول قاضی عیاض یہ پیش گوئیاں جو باعتبار نجوم یا رمل یا جفر بیان کرتا ہے۔ القـ مدعی نبوت ہو جائے اس کی پیش گوئیاں قطعاً خدا کی طرف تلبیس واقع نہ ہو اور وہ غیر نبی کو نبی نہ خیال کرنے لگیں الـ مدعی کی یہ شناخت لکھی ہے کہ : ”اگر کوئی نبی خدا کا نام لے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے تو اس سے مت ڈر۔“ پیش گوئیوں اور الہامات میں تخلف واقع ہوا جو آپ کی کے متعلق مشتہرہ پیش گوئی اور عبداللہ آتھم کی موت ، لیکھرام الہام اپنی عبارت میں پورا نہیں ہوا۔
لیکھرام کے متعلق آپ نے یہ الفاظ لکھے تھے حالانکہ اس کی موت کسی آسمانی خارق عادت طریق سے طور پر سرحد میں روزانہ ایسے واقعات عمل میں آتے ہیں الہام مندرج ہے : بشرني ربي بموته في سنـ ہے جو ملہم کی لاعلمی پر دلالت کرتی ہے اور ظاہر ہے کہ شـ ہے۔ اس کی صفت تو قرآن میں لکھی ہے:”قد احاط الذي يعلم السر في السموت والارض “ اور ایـ بــعــلـم الله “ قاعدہ مقتضی تھا کہ اعداد کی تمیز مذکـ برخلاف ضابطہ ست کی تمیز مفرد لکھی ہے یعنی ست سنـ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ساختہ الہام ہے ورنہ عبارت مذ غلط عبارت میں نازل ہو چنانچہ مرزا قادیانی نے رسالہ کیا ہے کہ جس الہام کی عبارت برخلاف قاعدہ اور غلط
- ٢...... اور ایک طرح سے بھی طاعون مرزا قادیانی
ص ١٠ خزائن ج ١٩ ص ١٠) میں آپ لکھتے ہیں کہ: ”مجھے كل من في الدار “ ( کشتی نوح ص ١٠ خزائن ج ١٩ص ٣
مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو جامۂ وجود پہنانے سے انکار کرنا اسلام کی پہلی تائید ہے اور پھر ان کے اخباروں میں ان کی قلم سے اس اقرار کو قلم بند کرانا دوسری تائید ہے۔ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور نووی نے شرح مسلم میں بحوالہ قول قاضی عیاض یہ مسئلہ اعتقادیہ تحریر کیا ہے کہ انسان کی کئی پیش گوئیاں جو باعتبار نجوم یا رمل یا جفر بیان کرتا ہے۔ اتفاقیہ طور پر صحیح نکل آتی ہے۔ مگر جب وہ مدعی نبوت ہو جائے اس کی پیش گوئیاں قطعا خدا کی طرف سے جھوٹی کی جاتی ہیں تاکہ خلق خدا پر تلبیس واقع نہ ہو اور وہ غیر نبی کو نبی نہ خیال کرنے لگیں اور توراۃ کتاب استثناء باب ١٨ میں جھوٹے مدعی کی یہ شناخت لکھی ہے کہ : ”اگر کوئی نبی خدا کا نام لے کر کوئی ایسی بات کہے جو پوری نہ ہو تو سمجھ کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے تو اس سے مت ڈر۔“ اس رول کے ماتحت مرزا قادیانی کی کل پیش گوئیوں اور الہامات میں تخلف واقع ہوا جو آپ کی افتراء پردازی کی دلیل ہے۔ محمدی بیگم کے متعلق مشتہرہ پیش گوئی اور عبداللہ آتھم کی موت، لیکھرام کی موت، وغیرہ وغیرہ ان میں سے کوئی الہام اپنی عبارت میں پورا نہیں ہوا۔
لیکھرام کے متعلق آپ نے یہ الفاظ لکھے تھے کہ وہ خارق عادت موت سے مرے گا۔ حالانکہ اس کی موت کسی آسمانی خارق عادت طریق سے عمل میں نہیں آئی بلکہ وہ مقتول ہوا جو عام طور پر سرحد میں روزانہ ایسے واقعات عمل میں آتے ہیں اور نیز حمامۃ البشریٰ میں ان الفاظ میں وہ الہام مندرج ہے: بشرنی ربی بموتہ فی ست سنۃ جو قاعدہ کے لحاظ سے یہ عبارت غلط ہے جو ملہم کی لاعلمی پر دلالت کرتی ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان لاعلم ہے خدا کی ذات لاعلمی سے مبرا ہے۔ اس کی صفت تو قرآن میں لکھی ہے:”قد احاط بکل شیء علما “ اور لکھا ہے ”انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض “ اور الہام الٰہی کے متعلق ارشاد ہے:”انما انزل بعلم الله “ قاعدہ مقتضی تھا کہ اعداد کی تمیز ثلث سے عشر تک مجرور اور مجموع ہو اور مرزا قادیانی برخلاف ضابطہ ست کی تمیز مفرد لکھی ہے یعنی ست سنۃ اور چاہئے تھا ست سنین یا ست سنوات۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ساختہ الہام ہے ورنہ عبارت میں غلطی نہ ہوتی اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کا الہام غلط عبارت میں نازل ہو چنانچہ مرزا قادیانی نے رسالہ ضرورت الامام میں اس بات کا خود اعتراف کیا ہے کہ جس الہام کی عبارت برخلاف قاعدہ اور غلط ہے وہ منجانب اللہ نہیں۔
٢...... اور ایک طرح سے بھی طاعون مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تکذیب کرتی ہے کہ (کشتی نوح ص١٠، خزائن ج١٩ ص١٠) میں آپ لکھتے ہیں کہ: ”مجھے خدا کا الہام ان لفظوں میں ہوا۔ انی حافظ کل من فی الدار “(کشتی نوح ص١٠، خزائن ج١٩ص١٠) اور فی الدار کی وسعت کو ایسا عام و تام بیان
٣
کیا کہ جو فرد بشر میری مریدی میں داخل ہوگا کہ وہ گویا میری چار دیواری میں داخل ہے وہ طاعون کی زد سے محفوظ رہے گا گویا گھر کی چار دیواری نہیں بلکہ بیعت کی چار دیواری مراد ہے۔ اور اس بناء پر اپنے مریدوں کو طاعون کا ٹیکا لگانے سے منع کر دیا کہ خدا نے طوفانِ طاعون میں ان کی حفاظت کو اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس لئے وہ ٹیکا کی ضرورت سے سبکدوش ہیں مگر مرزا قادیانی کے مریدوں کا طاعون نے وہ ستیاناس کیا کہ الامان الامان معلوم ہوتا تھا کہ دراصل قبیح طاعون یہی قوم ہے اور نیک بختوں پر انہیں کی شامت سے طاعون واقع ہو رہی ہے۔ دراصل طاعون کا مریدوں پر حملہ نہ تھا بلکہ مرزا قادیانی کے الہام پر حملہ کر کے ان کی تکذیب منظور تھی حتیٰ کہ دھرم کوٹ رندھاوا میں ایک واقعہ اس نوعیت سے گزرا کہ مرزا قادیانی کے مریدوں نے اپنی ہم جماعت مطعون کی لاش کو بغیر دفن چھوڑ دیا اور نزدیک تک نہ گئے آخر کار مسلمانوں کی جماعت نے بحکم لاچاری اسے تہ زمین میں ڈال دیا۔ کہتے ہیں کہ اس کا جنازہ ادا نہیں ہوا تھا۔
- ٣...... اتفاق سے مرزا غلام حیدر مرحوم کا انتقال ہو گیا۔ جن کا رہائشی مکان مرزا قادیانی کے
مکان سے ملحق تھا جو ان کے ورثاء کی تحویل میں آگیا۔ وہ اپنا حصہ فروخت کرنے پر رضا مند ہو گئے۔ تب مرزا قادیانی نے اپنے الہام کا رخ دوسری طرف پھیر دیا اور کہا کہ: ”اس طوفان میں بحکم انی احافظ کل من فی الدار میرا مکان بمنزلہ کشتی نوح ہے جو اس میں داخل رہے گا وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور جو اس سے باہر ہوا وہ تباہ ہوگا۔ لیکن میرا مکان بالکل تنگ ہے جس میں بہت تھوڑے آدمیوں کی گنجائش ہو سکتی ہے اور مرزا غلام حیدر متوفی کے ورثاء اپنا وہ حصہ جو میرے مکان سے ملحق ہے۔ بیع کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ اس لئے چندہ کی ضرورت ہے تاکہ میں اپنے مکان کو جو بمنزلہ کشتی نوح ہے وسیع کر دوں تاکہ زیادہ آدمیوں کی حفاظت ہو سکے۔“
(کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ٨٦) کوئی مرید غور نہیں کرتا کہ پہلے خود بدولت نے الہام کے معنے یہ قرار دیئے تھے کہ جو میری بیعت کی چار دیواری میں داخل ہوگا طاعون کے حملہ سے محفوظ رہے گا۔
اور اب مرزا غلام حیدر کا متروکہ مکان فروخت ہوتا دیکھ کر الہام کا رخ دوسری طرف کر دیا۔ کہاں لکھا ہے کہ مرزا غلام حیدر متوفی کے مکان کا فروخت ہونا الہام کے معنے تبدیل کرنے کے لئے قرینہ صارفہ ہے۔ دوئم اگر آپ کا مکان بمنزلہ کشتی نوح تھا جیسا کہ آپ نے الہام کا منشا ظاہر کیا ہے تو پھر نبی کو اپنے الہام پر ایسا اعتماد ہونا چاہئے کہ اس میں ذرہ بھر پس و پیش نہ کرے۔ اور سمجھے کہ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر خدا کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ بمعہذا آپ کا کشتی نوح کو چھوڑ کر باہر صحراء میں خیمہ زن ہونا کیا معنے رکھتا ہے؟ اینچه بوالعجبی است؟ سوم اگر آپ کا مکان بمنزلہ کشتی
٤
نوح تھا تو مرزا نظام الدین طاعون کے حملہ سے کیوں محفوظ طاعون کی زد سے کیوں نہ بچایا۔ حقیقت الوحی میں خود ان کا اِ اس الہام کی وہ حالت ہوئی جو خدا کرے کسی خانہ بدوش مسافر ک
بسم الله الرحمن الرحيم ، الحمدلله ر والصلوة والسلام على رسوله محمد سيد الدین ۔ اگر چہ اس سوال کا جواب تقریباً تحریراً کئی دفعہ د ہوئے کہ شاید خدا تعالیٰ اس جماعت میں سے کسی کو نور بصیر کر لے اور میں اپنی تھوڑی کوشش سے ثواب مزید کا مستحق زبانوں پر چرچا ہے جواب لکھتا ہوں۔ حدیث میں ہے۔
لان يهدي الله بك رجلا خير لك من حمر
یعنی اگر خدا تمہارے ذریعے کسی ایک انسان کو ہ سرخ سے یہی تیرے لئے زیادہ مفید ہے۔“ سو اب غور سے س کو تعصب سے پاک کر دیں۔ کیونکہ وہ آنکھوں پر ایک پٹی ب کریں وہ فیوض و برکات کا دروازہ دلوں پر کھول دے گا۔ او فضل سے عطا فرمائے گا کیونکہ تقویٰ اور راست شعاری سے دل پر نور کی کھڑکیاں مفتوح کرتا اور اندھیری سڑک میں خداوندی ہے۔
”ان تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً (انف راہ اختیار کرو گے تو خدا تمہیں ایک نور مرحمت فرمائے گا ج گے۔“ اور دوسری آیت میں فرمایا ہے:
”آمنوا بالله ورسوله يؤتكم كفل تمشون به (الحديد: ٢٨) ”خدا اور اس کے پیغمبر پر ایما کرے گا اور تمہارے لئے ایسا نور بخشے گا کہ جس کی روش لیکن یادر ہے کہ اس نعمت کے حاصل کرنے کے لئے رجو ہے تاکہ واردات الہیہ کے میل میں کوئی مانع اور عائق باق
”ويهدى اليه من ينيب (الشورى: ١٣)“ جو خد
٥
نوح تھا تو مرزا نظام الدین طاعون کے حملہ سے کیوں محفوظ نہ رہے اور مرزا قادیانی نے ان کو طاعون کی زد سے کیوں نہ بچایا۔ حقیقت الوحی میں خود ان کا اس بیماری میں مبتلا ہونا مانتے ہیں۔ اس الہام کی وہ حالت ہوئی جو خدا کرے کسی خانہ بدوش مسافر کی بھی نہ ہو۔ جو مارا مارا پھرتا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم ۔ الحمدلله رب العلمين والعاقبة للمتقين والصلوٰۃ والسلام علٰی رسولہ محمد سید الانبیاء والمرسلین الٰی یوم الدین ۔ اگرچہ اس سوال کا جواب تقریباً تحریراً کئی دفعہ دیا گیا ہے۔ لیکن اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ شاید خدا تعالیٰ اس جماعت میں سے کسی کو نور بصیرت بخش کر اپنی راہ کی طرف جذب کرلے اور میں اپنی تھوڑی کوشش سے ثواب مزید کا مستحق ہو جاؤں۔ اس سوال کا جس کا عام زبانوں پر چرچا ہے جواب لکھتا ہوں۔ حدیث میں ہے۔
لان يهدي الله بك رجلا خير لك من حمر النعم
(مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٨)
یعنی اگر خدا تمہارے ذریعے کسی ایک انسان کو بھی راہ راست پر لے آئے تو شتران سرخ سے یہی تیرے لئے زیادہ مفید ہے۔ ”سو اب غور سے کام لیں اور تحریر کو پڑھنے کے وقت دل کو تعصب سے پاک کردیں۔ کیونکہ وہ آنکھوں پر ایک پٹی ہے اور خدائے عزشانہ سے توفیق طلب کریں وہ فیوض و برکات کا دروازہ دلوں پر کھول دے گا۔ اور حق و باطل میں تمیز کرنے کا مادہ اپنے فضل سے عطا فرمائے گا کیونکہ تقویٰ اور راست شعاری سے خدائے تعالیٰ اپنے مخلص بندے کے دل پر نور کی کھڑکیاں مفتوح کرتا اور اندھیری سڑک میں خود رہنمائی کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔
”ان تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً (انفال:٢٩)“ اگر تم تقویٰ اور خوف الٰہی کی راہ اختیار کرو گے تو خدا تمہیں ایک نور مرحمت فرمائے گا جس سے حق و باطل کی تمیز بخوبی کرسکو گے۔“ اور دوسری آیت میں فرمایا ہے:
”آمنوا بالله ورسوله يوتكم كفلين من رحمته ويجعل لكم نوراً تمشون به (الحديد: ٢٨)“ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ تم کو دو حصے اپنی رحمت سے عنایت کرے گا اور تمہارے لئے ایسا نور بخشے گا کہ جس کی روشنی میں جنت کی سڑک کو طے کرلو گے۔“ لیکن یاد رہے کہ اس نعمت کے حاصل کرنے کے لئے رجوع اور تعصب سے دل کو خالی کردینا شرط ہے تاکہ واردات الہیہ کے سبیل میں کوئی مانع اور عائق باقی نہ رہے۔
”ويهدي اليه من ينيب (الشوری: ١٣)“ جو خدا کی جانب رجوع اور توجہ کرے خدا اس کی
٥
نظر میں ہدایت کے راستے صاف کر دیتا ہے۔“ اور فرمایا:
”والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (العنکبوت: ٦٩)“ ”جو قوم میرے مذہب میں سعی اور توجہ سے کام لیتی ہے اس کے سامنے ہم اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔“
اس باب ہدایت کا مہیا کرنا انسان کے ذمہ ہے اور ہدایت منجانب اللہ نازل ہوتی ہے۔ غرضیکہ جو نفوس تردد اور شک میں پڑے ہوئے ہوں ان کو کوشش اور دعا سے کام لینا چاہئے اور یہ دعا جو خود اس پر برکت وجود سے جو سرچشمہ رحمت ہے ثابت ہے اختلاف خیالات کے وقت بہت مفید ہے۔
”اللھم رب جبریل ومیکائیل واسرافیل فاطر السموت والارض عالم الغیب والشھادة انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم“
یہ دعا آنحضرت کی زبان مبارک سے بالا سناد صحیح مسلم میں مروی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم · نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
سوال...... نبی کی تکذیب سے خلق اللہ پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کی تکذیب سے بھی مخلوقات میں طاعون رونما ہوئی اس لئے مرزا قادیانی نبی ہیں۔
نزول عذاب کے دو موجب ہیں، انکار نبوت اور کثرت معاصی
موجب اول پر شہادتیں
ضمن اول...... دنیا میں عذاب کا نازل ہونا انکار نبی سے مخصوص نہیں۔ اکثر اوقات حکم عدولی، معصیت الہی خدا کے غضب وقہر کا موجب ہوتی ہے اور گناہوں کی شامت عذاب کی شکل اختیار کر کے دنیا کو تازیانہ عبرت سے متنبہ کرتی ہے گویا نزول عذاب کے دو اسباب ہیں۔ انکار نبوت اور کثرت معاصی، موجب اول پر چنداں شہادت درکار نہیں۔ سارا قرآن ان اقوام کے قصوں سے مملو ہے جو راست باز جماعت انبیاء کی مخالفت کر کے مستوجب لعنت ہوئے اور ان پر ایسا عذاب آیا کہ وہی صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گئے البتہ اجمالی ثبوت کے طور پر چند شہادتیں قرآن سے ذکر کرتے ہیں جن سے اصل مسئلہ کی حقیقت پر بقدر ضرورت روشنی پڑے گی۔
اول...... ”اولا یرون انھم یفتنون فی کل عام مرة او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون(التوبہ: ١٢٦)“
کیا وہ نہیں سوچتے کہ ہر سال ایک دفعہ یا دو دفعہ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے۔
٦
با ایں ہمہ نہ وہ توبہ کرتے ہیں اور نہ انہیں کچھ عبرت ہوتی ہے
دوئم...... ”وضرب اللہ مثلا قریة کانت امنة کل فکفرت بانعم اللہ فاذا قھا اللہ لباس الجوع ولقد جائھم رسول منھم فکذبوہ فاخذھم العذا
خدا نے ان کے سمجھانے کو ایک شہر کی مثال بیان کی جو امن و جہت سے اس کو رزق اور معیشت کا سامان چلا آتا تھا۔ اس پ قدری کی اس لئے دفعۃً فاقہ اور خوف کی سنگین سزا میں مب نعمت کی بڑی بے قدری یہ تھی کہ ان کی قوم میں سے ان کے اس کی صداقت پر یقین نہ لائے۔ آخر کار جو ظالموں کا ا عذاب نے ان کو تہ و بالا کر دیا۔
سوئم...... ”ولایزال الذین کفروا تصیبھم بما ص دارھم حتی یأتی وعد اللہ ان اللہ لا یخلف ا قبلک فاملیت للذین کفروا ثم اخذتھم فکیف ک
کفار پر عملی شامت کی وجہ سے کوئی نہ کوئی ذلت کم عبرتناک واقعات ان کے شہر سے نزدیک رونما ہوتے ر ہوگا خدا کے وعدہ میں خلاف نہیں یاد رکھو انبیاء سابقین ک اڑانے والوں کو جو کفر کی چال چل رہے تھے میں نے مہلت د تاریخ پڑھو تو تمہیں معلوم ہو کہ میرا عذاب شدت میں کس ق
چہارم...... ”ولقد اھلکنا القرون من قبلک ل کانوا لیومنوا کذلک نجزی القوم المجرمین (
جب نبیوں کے مقابلہ میں آنے والی قوم مغل معجزات اور نشان دیکھنے کے بعد بھی ان کے قلوب ح ہدایت کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے تو ہم نے ا یونہی پاداش ملا کرتی ہے۔
پنجم...... ومن اھل المدینة مردوا علی النفاق ل مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم (التوبہ: ١٠
٧
باایں ہمہ نہ وہ توبہ کرتے ہیں اور نہ انہیں کچھ عبرت ہوتی ہے۔
- دوم ...... "وضرب الله مثلا قرية كانت امنة مطمئنة ياتيها رزقها رغدا من
كل فكفرت بانعم الله فاذاقها الله لباس الجوع والخوف بما كانوا يصنعون ولقد جائهم رسول منهم فكذبوه فاخذهم العذاب وهم ظالمون (النحل: ١١٢)“
خدا نے ان کے سمجھانے کو ایک شہر کی مثال بیان کی جو امن واطمینان کی زندگی بسر کرتا تھا۔ اور ہر جہت سے اس کو رزق اور معیشت کا سامان چلا آتا تھا۔ اس بستی آبادی نے خدا کے انعامات کی بے قدری کی اس لئے دفعتاً فاقہ اور خوف کی سنگین سزا میں مبتلا ہو گئے۔ جو یہ عملی نحوست کا نتیجہ تھا۔ نعمت کی بڑی بے قدری یہ تھی کہ ان کی قوم میں سے ان کے پاس پیغمبر آیا لیکن اس کا انکار کر دیا اور اس کی صداقت پر یقین نہ لائے۔ آخر کار جو ظالموں کا انجام ہوتا ہے۔ وہی ان کا حشر ہوا اور عذاب نے ان کو تہ و بالا کر دیا۔
- سوئم ...... "ولا يزال الذين كفروا تصيبهم بما صنعوا قارعة او تحل قريباً من
دارهم حتى يأتى وعد الله ان الله لا يخلف الميعاد ولقد استهزئ برسل من قبلك فامليت للذين كفروا ثم اخذتهم فكيف كان عقاب (الرعد: ٣١)“
کفار پر عملی شامت کی وجہ سے کوئی نہ کوئی دل ہلا دینے والی آفت آتی رہے گی یا کم سے کم عبرتناک واقعات ان کے شہر سے نزدیک رونما ہوتے رہیں گے۔ تا آنکہ خدا کا حتمی وعدہ نازل ہوگا خدا کے وعدہ میں خلاف نہیں یاد رکھو انبیاء سابقین کے ساتھ استہزاء کیا گیا یا استہزاء مضحکہ اڑانے والوں کو جو کفر کی چال چل رہے تھے میں نے مہلت دی پھر دفعتاً ان کو گرفتار عذاب کر دیا۔ تاریخ پڑھو تو تمہیں معلوم ہو کہ میرا عذاب شدت میں کس درجہ کا تھا۔
- چہارم ...... "ولقد اهلكنا القرون من قبلكم لما ظلموا وجأتهم البينات وما
كانوا ليومنوا كذلك نجزى القوم المجرمين (يونس: ١٣)“
جب نبیوں کے مقابلہ میں آنے والی قوم ظلم اور بے انصافی کی راہ اختیار کر چکی اور معجزات اور نشان دیکھنے کے بعد بھی ان کے نقطہ قسمت میں تبدیلی واقع نہ ہوئی اور وہ ایمان کی لائن کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے تو ہم نے ایسے قرون سابقہ کو تباہ کر دیا۔ مجرموں کو یونہی پاداش ملا کرتی ہے۔
- پنجم ....... ومن اهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم
مرتين ثم يردون الى عذاب عظيم (التوبة: ١٠١)
٧
مدینہ کی آبادی میں بعض دو دلے بھی ہیں۔ جو نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں تو ان کی ساری حقیقت معلوم ہے مگر آپ ان کے اندرونی حالات سے ناواقف ہیں ان کو دنیا و قبر میں سخت سزا دے کر بڑے جیل خانہ میں ڈال دیں گے جہاں ہیبت ناک عذاب تیار ہے۔
- ششم ..... ”وما ارسلنا فى قرية من نبى الا اخذنا اهلها بالباساء والضراء
لعلهم يضرعون ثم بدلنا مكان السيئة الحسنة حتى عفوا وقالوا قد مس آبائنا الضراء والسراء فاخذناهم بغتة وهم لا يشعرون ولو ان اهل القرى آمنوا واتقوا لفتحنا عليهم بركات من السماء والارض و لكن كذبوا فاخذناهم بما كانوا يكسبون (الاعراف: ٩٤)“
ہم نے جس شہر میں کوئی پیغمبر مبعوث کیا اور اس کی رسالت کی تکذیب اس سے ظہور میں آئی تو اس کے باشندوں کو قحط و گرسنگی و بیماری اور دکھ درد کی مار میں گرفتار کر کے یہ توقع رکھی کہ شائد وہ تضرع زاری کی طرف رجوع کریں پھر ایک عرصہ کے بعد تکلیف کو الٹ کر ان کی حالت کو خوش گوار کر دیا اور ان کی تعداد اور جمعیت بڑی پھولی اور ترقی اور بہبودی نے انہیں اپنے سایہ میں لے لیا۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادوں کے وقت سے ایسا ہی دستور چلا آتا ہے کہ کبھی رنج اور کبھی راحت دونوں ہی ہمارے آباؤ اجداد کے لازم حال رہے ہیں اور خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور نہ تازیانہ عبرت کا مطلب سمجھے تو ہم نے دفعۃً انہیں ماخوذ کرلیا۔ اگر شہروں اور بستیوں کے باشندے انبیاء پر ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ ہاتھ سے نہ دیتے تو ہم ان کی خاطر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے مفتوح کردیتے لیکن انہیں راستی کا اعتبار نہ آیا اس وجہ سے ہم نے انہیں عذاب میں ڈال دیا۔
علاوہ ازیں سوانح قوم نوح اور ہود اور صالح اور شعیب اور لوط اور ابراہیم اور تاریخ قوم موسیٰ وغیرہم قرآن میں مفصلاً مذکور ہے جس کے پڑھنے سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ منکرین انبیاء کو دنیا میں تہ و بالا کردیا جاتا ہے۔ یا طرح طرح کے عبرتناک عذاب نازل ہو کر ان کی قوت فاہمہ کو بیدار کرتے ہیں۔
موجب دوم پر شہادتیں
رہا دوسرا موجب تو اس پر بھی بکثرت شہادتیں کتاب اللہ اور سنت میں موجود ہیں۔
پہلی شہادت
”فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا عليهم ابواب كل شىء حتى اذا ٨
فرحوا بما اوتوا اخذناهم بغتة فاذا هم مبلسون“ کے ذرائع اور احکام الٰہی کو فراموش کر کے غفلت کے خطرناک وا ایک کامیابی کا دروازہ ان پر کھول دیا۔ جب وہ اپنے عطا شدہ ا دفعۃً ان کو ہماری گرفت نے آلیا کہ وہ مایوس اور بے امید ہوگئے صورت نہیں۔
دوسری شہادت
”فلما نسوا ما ذكروا به انجينا الذي واخذنا الذين ظلموا بعذاب بئيس بما كانوا يف عنه قلنا لهم كونوا قردة خاسئين (انعام: ١٦٥)“ فراموش کردیا تو شرارت سے منع کرنے والوں کو ہم نے نجات ب تباہ کر دیا۔ جب اس قوم نے ممنوعات کے ارتکاب کی طرف اپن نے ذلیل بندروں کی شکل میں انہیں اتاردیا۔
تیسری شہادت
”واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم الى يو العذاب ان ربك لسريع العقاب وانه لغفور الرحي نے ان کی سرکشی کو مدنظر رکھ کر دائمی حکم چڑھادیا کہ یہود پر تا قیا جو ان کو طرح طرح کی اذیتوں میں ڈالتے رہیں گے تیرا خدا ن تائبین کو معافی بھی دے دیتا ہے۔
چوتھی شہادت
”فانزلنا على الذين ظلموا رجزاً م (بقرہ: ٥٩) ”ظالموں پر ان کی بداعتدالی اور ان کی فسق کی وجہ
پانچویں شہادت
”واذا اردنا ان نهلك قرية امرنا متر القول فدمرناها تدميرا (الاسراء: ١٦)“ جب ہما اس کے رہائشی ناز پروردہ عیاشی اور فسق فجور کے مرتکب ہوج ٩
فرحوا بما اوتوا اخذنا هم بغتة فاذا هم مبلسون (انعام: ٤٤) ”یعنی جب عبرت کے ذرائع اور احکام الٰہی کو فراموش کر کے غفلت کے خطرناک دائرے میں جا پڑے۔ ہم نے ہر ایک کامیابی کا دروازہ ان پر کھول دیا۔ جب وہ اپنے عطا شدہ انعامات کی خماری میں اتر گئے۔ دفعتاً ان کو ہماری گرفت نے آلیا کہ وہ مایوس اور بے امید ہوگئے۔ اور سمجھے کہ اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔
دوسری شہادت
”فلما نسوا ما ذكروا به انجينا الذين كانوا ينهون عن السوء واخذنا الذين ظلموا بعذاب بئيس بما كانوا يفسقون فلما عتوا عما نهوا عنه قلنالهم كونوا قردة خاسئين (اعراف: ١٦٥) ”جب تذکیر و وعظ کو اسرائیلیوں نے فراموش کر دیا تو شرارت سے منع کرنے والوں کو ہم نے نجات بخشی ظالموں کو بداعمالی کی وجہ سے تباہ کر دیا۔ جب اس قوم نے ممنوعات کے ارتکاب کی طرف اپنا قدم تیز کیا اور سرکش ہوگئے تو ہم نے ذلیل بندروں کی شکل میں انہیں اتار دیا۔
تیسری شہادت
”واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم الى يوم القيامة من يسومهم سوء العذاب ان ربك لسريع العقاب وانه لغفور رحيم (اعراف: ١٦٧) ”تیرے رب نے ان کی سرکشی کو مدنظر رکھ کر دائمی حکم چڑھا دیا کہ یہود پر تا قیامت دوسری قومیں حکمران رہیں گی جو ان کو طرح طرح کی اذیتوں میں ڈالتے رہیں گے تیرا خدا گناہ پر سزا کا حکم بھی جلد سناتا ہے اور تائبین کو معافی بھی دے دیتا ہے۔
چوتھی شہادت
”فانزلنا على الذين ظلموا رجزاً من السماء بما كانوا يفسقون (بقره: ٥٩) ”ظالموں پر ان کی بداعتدالی اور ان کی فسق کی وجہ سے ہم نے عذاب نازل کیا۔
پانچویں شہادت
”واذا اردنا ان نهلك قرية امرنا مترفيها ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمرناها تدميرا (الاسراء: ١٦) ”جب ہمارا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی شہر کو تباہ کریں تو اس کے رہائشی ناز پروردہ عیاشی اور فسق فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور حکم تقدیری ان پر ثابت
٩
نہیں ہوتا۔ آخر کار عذاب کا حکم نازل ہوکر ان کی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے۔ اور علی ہذا القیاس اور آیات بھی اس مضمون کی تائید میں بکثرت موجود ہیں۔ جن کا استقصاء مشکل ہے اور احادیث شارحہ نے مسئلہ ہذا کی ہستی کو نہایت ہی روشن کردیا ہے۔
حدیث اول
جو بروایت عبادہ بن صامت صحیحین میں مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”ومن اصاب من ذالك شيئاً فعوقب به في الدنيا فهو كفارة له ومن اصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله فهو الى الله ان شاء عفا عنه وان شاء عاقبه فبايعناه على ذلك (بخاری شریف ج ١، کتاب الایمان ص ١٧) یعنی جو کفر و شرک، زنا، سرقہ اور قتل اولاد اور بہتان اور معصیت کا مرتکب ہوا اور اسے دنیا میں سزامل جائے تو بس گناہ کا کفارہ ہو گیا اور خدا نے پردہ پوشی سے کام لیا تو سمجھو کہ التواء واقع ہو گیا اور معاملہ خدا کے سپرد رہا خواہ معاف کرے یا سزا کا حکم صادر کرے۔
حدیث دوئم
اور حضرت معاذ بن جبلؓ نے آنحضرتﷺ سے روایت کیا ہے: ”اياك والمعصية فان بالمعصية حل سخط الله (مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٨) معصیت الٰہی سے برکنار رہو کیونکہ حکم عدولی سے خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔ یہ روایت مسند امام احمد میں موجود ہے۔
حدیث سوم
جو ترمذی نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے اپنے مضمون کے لحاظ سے بالکل سابقہ روایتوں کے ہم آواز ہے: ”اذا اراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا واذا اراد الله بعبده الشر امسك عنه بذنبه حتى يوافيه به يوم القيامة (ترمذی ج ٢ ص ٦٢) ”جب خدا اپنے کسی بندے سے بھلا ارادہ رکھتا ہے تو دنیا میں گناہ کی سزا اسے دے دیتا ہے اور جس کے متعلق ایسا ارادہ نہ ہو اس کی سزا قیامت پر ملتوی کردیتا ہے۔
ترک رہنمائی کبیرہ گناہ ہے
بڑی معصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کرنا ہے جس سے دنیا میں ضلالت پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ بہت روایات اس مضمون کی شاہد ہیں کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے انحراف موجب نزول غضب ہے۔
١٠
روایت اوّل
”اخرج الاصبهانى عن انس بن مالك لا تزال لا اله الا الله تنفع من قالها وترد عنهم الـ عذاب والنقمة ما لم يستخفوا بحقها قالوا يا رسول الله وما الاستخفاف بحـ قها قال يظهر العمل بالمعاصي فلا ينكرون ولا يغيرون“ یعنی اصبہانی نے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ اپنے پڑھنے والوں کو ضرور نفع دیتا رہے گا۔ اور اپنی برکت سے عذاب الٰہی کو روکتا رہے گا بشرطیکہ اس کے حقوق کی تحقیر نہ کریں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کے حقوق کی تحقیر کیا ہے؟ فرمایا کہ دنیا میں معصیت کا چرچا ہو گا اور کوئی اس میں تبدل وتغیر کی کوشش نہ کرے۔
روایت دوم
”روى الاصبهانى عن ابن عمر عـ ن النبى صلى الله عليه وسلم قال يايها الناس مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل ان تدعوا فلا يستجاب لكم وقبل ان تسالوا فلا يعطوا لكم وقبل ان تستغفروه فلا يغفر لكـ م ان الاحبار من اليهود والرهبان من النصارى لما تركوا الامر بالمعروف والنهي عـ ن المنكر لعنهم الله على لسان انبيائهم ثم عموا بالبلاء “ ” عبداللہ بن عمرؓ سے اصبہانی نے روایت کیا کہ حضورﷺ نے فرمایا اے لوگو! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو قبل اس کے کہ تم دعائیں مانگو اور وہ قبول نہ ہوں۔ اور خدا سے سوال کرو اور وہ پورے نہ کئے جائیں۔ اور خدا سے مغفرت چاہو اور تمہاری بخشش نہ ہو۔ یقین مانو کہ یہود کے علماء اور نصاریٰ کے زاہدوں نے جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے انبیاء کی زبان پر انہیں لعنت کی اور پھر ان پر عام عذاب نازل فرمایا۔“
روایت سوم
”اخرج ابن حبان في صحيحه عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عائشه ان الله اذا انزل سطوته باهل الارض وفيهم الصـ الحون اهلكوا معهم ثم يبعثون على نياتهم“ ابن حبان نے صحیح
١١
روایت اوّل
”اخرج الاصبهانى عن انس بن مالك عنه ان رسول الله ﷺ قال لا تزال لا اله الا الله تنفع من قالها وترد عنهم العذاب والنقمة مالم يستخفوا بحقها قالوا يا رسول الله وما الاستخفاف بحقها قال ان يظهر العمل بمعاصی الله فلا ينكروا ولا يغيروا “
یعنی اصبہانی نے حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ کلمہ خوانوں کو لا الہ الا اللہ ضرور نفع دیتا رہے گا۔ اور اپنی برکت سے عذاب ٹالے گا جب تک حقوق کلمہ کی تحقیر نہ کریں گے۔ مطلب یہ کہ دنیا میں معصیت کا چرچا ہو جائے اور کوئی بدی پر انکار نہ کرے گا اور نہ اس میں تبدل وتغیر کی کوشش کرے گا۔
روایت دوم
”روى الاصبهانى عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله ﷺ يايها الناس مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل ان تدعوا الله فلا يستجيب لكم وقبل ان تستغفروه فلا يغفر لكم الامر بالمعروف والنهى عن المنكر لا يدفع رزقا ولا يقرب اجلا ان الاحبار من اليهود والرهبان من النصارى لما تركوا الامر بالمعروف والنهى عن المنكر لعنهم الله على لسان انبيائهم ثم عموا بالبلاء“
”عبداللہ بن عمرؓ سے اصبہانی نے روایت کیا کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! اچھے کاموں کا حکم دو۔ اور برے افعال سے منع کرو۔ اس سے پیشتر کہ تم دعائیں کرو اور وہ مقبول نہ ہوں اور خدا سے مغفرت چاہو اور وہ تمہاری مغفرت نہ کرے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر رزق سے محروم نہیں کرتے اور نہ اجل کو جلدی لاتے ہیں۔ یہود کے علماء اور نصاریٰ کے زاہدوں نے جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیا تو اللہ نے ان کے انبیاء کی زبان پر ان پر لعنت کی اور پھر ان کو عام عذاب میں مبتلا کیا ۔
روایت سوم
”اخرج ابن حبان في صحيحه عن عائشة قالت قلت يا رسول الله اذا نزل سطوته باهل الارض وفيهم الصالحون فيهلكون بهلاكهم فقال يا عائشه ان الله اذا انزل سطوته باهل نقمة وفيهم الصالحون فيصيبهم معهم ثم يبعثون على نياتهم “ ابن حبان نے صحیح میں حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ میں
١١
نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ جب اہل ارض پر خدا کی نقمت نازل ہوتی ہے تو صلحاء بھی اس تباہی میں ہلاک ہو جاتے۔ حضور ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ نیکوکاروں کی موجودگی میں جو عذاب بدکاروں پر نازل ہوتا ہے۔ اس میں صلحاء بھی مارے جاتے ہیں۔ پھر اپنی اپنی نیت کے مطابق ان کا حشر ہوگا۔
روایت چہارم
”اخرج البیہقی عن عمر بن الخطاب قال قال رسول اللہ ﷺ اوحی اللہ الی جبریل ان اقلب مدینۃ کذا وکذا با ھلھا فقال یا رب ان فیھم عبدک فلا نالم یعصک طرفۃ عین قال فقال اقلبھا علیہ وعلیھم فان وجھہ لم یتمعر فی ساعۃ قط“ بیہقی نے عمر بن خطاب سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ خدا نے بذریعہ وحی جبریل کو حکم دیا کہ فلاں شہر کو زیروزبر کردو۔ جبریل نے عرض سنائی کہ اس میں ایک تیرا مخلص بندہ ایسا بھی ہے جس نے ساری عمر میں ایک لمحہ بھر تیری نافرمانی نہیں کی۔ خدا نے کہا۔ کچھ پرواہ نہیں ۔ شہر کو الٹ دو۔ کیونکہ وہ بدی کو دیکھتا ہے اور اس کے چہرے پر آثار ناراضگی کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔ (یعنی رنج سے چہرے پر سرخی نمودار نہیں ہوئی)
روایت پنجم
”عن عبداللہ بن مسعود مرفوعاً لما وقعت بنو اسرائیل فی المعاصی نھتھم علماؤھم فلم ینتھوا فجالسوھم فی مجالسھم واکلوھم وشاربوھم فضرب اللہ قلوب بعضھم ببعض فلعنھم علی لسان داؤد وعیسیٰ بن مریم ذلک بما عصوا وکانو یعتدون فجلس رسول اللہ ﷺ وکان متکئاً فقال لا والذی نفسی بیدہ حتی تاطروھم اطرا (مسند احمد ج ١ ص ٣٩١)“ ابوداؤد اور ترمذی نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے کہ سرور کائنات علیہ السلام نے فرمایا جب بنو اسرائیل معاصی میں مصروف ہوگئے تو علماء نے ہر چند انھیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئی۔ آخر کار ہار کر نصیحت چھوڑ بیٹھے اور ان سے شریک مجلس اور ہم پیالہ ہم نوالہ ہوگئے تو خدا نے سب دلوں کو گویا ایک ٹکسال سے نکال دیا اور حضرت عیسیٰ اور داؤد نے اپنے کلام میں ان پر لعنت کی اور وہ خدا کی لعنت تھی کیونکہ وہ عاصی اور متجاوز حدود تھی۔ حضرت تکیے کا سہارا چھوڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم جس کے پنجہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم نجات نہیں پاسکتے۔ جب تک قوم کو سرکشی سے منع نہ کرو۔ ١٢
روایت ششم
”اخرج البغوی من روایتہ عدی بن لنا انہ سمع جدی یقول سمعت رسول اللہ ﷺ الخاصۃ حتی یروا المنکر بین ظھرانیھم وھم ینکروا فاذ فعلوا ذلک عذب اللہ العامۃ والخاصۃ“ بغوی نے شرح السنۃ میں عدی بن عدی کندی کا بیان نقل کـ غلام آزاد نے بگوش خود یہ روایت سن کر بیان کیا کہ آپ ﷺ ہوئے کہ خدا عام لوگوں پر خاص کی شامت عملی سے عذاب رسمیات اور اعمال دیکھ کر باوجود قدرت انکار کے خاموشی اخـ تو ہر خاص و عام پر خدا عذاب نازل کرتا ہے۔
روایت ہفتم
”وعن ابی البختری عن رجل الناس حتی یعذروا من انفسھم (مسند احمد ج روایت کیا ہے کہ ایک صحابی کا بیان حضرت ﷺ سے اس کثرت ذنوب سے اپنے عذر توڑ دیں۔ مجد الدین فیروز آبـ کہ ہمزہ اس میں سلب کے لئے مستعمل ہوا یعنی کثرت عذر و حجت نہ رہے تو عذاب نازل ہوتا ہے کیونکہ خدا کی طر ہیں اور لوگوں کو منع و زجر کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ (مظاہر حق
روایت ہشتم
”اخرج ابوداؤد ابن ماجۃ عن جریر اللہ ﷺ ما من رجل یکون فی قوم یعمل یغیروا علیہ ولا یغیرون الا صابھم اللہ بـ ج ٢ ص ١٣٧)“ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے جریر بن عبداللہ کہ جو شخص کسی قوم میں عمل معاصی کا مرتکب ہو اور وہ ١٣
روایت ششم
”اخرج البغوى من روايته عدى بن عدى العمری قال حدثنا مولى لنا انه سمع جدى يقول سمعت رسول الله ﷺ ان الله لا يعذب العامة بعمل الخاصة حتى يروا المنكر بين ظهرانيهم وهم قادرون على ان ينكروه فلا ينكروا فاذا فعلوا ذلك عذب الله العامة والخاصة (شرح السنة ج ٧ ص ٣٥٨) امام بغوی نے شرح السنۃ میں عدی بن عدی کندی کا بیان نقل کیا ہے کہ ہمارے دادا جان سے ہمارے غلام آزاد نے بگوش خود یہ روایت سن کر بیان کیا کہ آپ کو حضرت کی زبان سے یہ الفاظ مسموع ہوئے کہ خدا عام لوگوں پر خاص کی شامت عملی سے عذاب نہیں بھیجتا۔ جب تک وہ خلاف شرع رسمیات اور اعمال دیکھ کر باوجود قدرت انکار کے خاموشی اختیار نہ کریں۔ جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ہر خاص و عام پر خدا عذاب نازل کرتا ہے۔
روایت ہفتم
”وعن ابی البختری عن رجل من اصحاب النبی ﷺ لن يهلك الناس حتى يعذروا من انفسهم (مسند احمد ج ٤ ص ٢٦٠) ابوداؤد نے ابوالبختری سے روایت کیا ہے کہ ایک صحابی کا بیان حضرت ﷺ سے اس طرح آیا ہے کہ کوئی قوم تباہ نہ ہوگی تا آنکہ کثرت ذنوب سے اپنے عذر توڑ دیں۔ مجدالدین فیروز آبادی نے اس حدیث پر یہ حاشیہ دیا ہے کہ ہمزہ اس میں سلب کے لئے مستعمل ہوا یعنی کثرت ذنوب سے جب قوم کے پاس کوئی عذر و حجت نہ رہے تو عذاب نازل ہوتا ہے کیونکہ خدا کی طرف سے وہ عذاب کے مستوجب ہوتے ہیں اور لوگوں کو منع و زجر کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ (مختصر لمعات)
روایت ہشتم
”اخرج ابوداؤد ابن ماجة عن جرير بن عبدالله قال سمعت رسول الله ﷺ ما من رجل يكون فى قوم يعمل فيهم بالمعاصی يقدرون على ان يغيروا عليه ولا يغيرون الا اصابهم الله منه بعقاب قبل ان يموتوا (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٧) ابوداؤد اور ابن ماجہ نے جریر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضور کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی قوم میں عمل معاصی کا مرتکب ہو اور وہ اس میں ردو بدل کی قدرت رکھتے ہوئے
١٣
چپ چاپ رہیں اور اس کو نہ بدلیں تو موت سے قبل دنیا میں ان پر عذاب نازل ہوگا۔ نہ ان کی عملی کمزوری سے بلکہ اس بدکرداری کی شامت اعمال سے۔
روایت ہشتم
”وصححه من روايت ابى بكر الصديق قال ياايها الناس انكم تقرؤن هذه الاية يايهاالذين آمنو عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتهم فانى سمعت رسول الله ﷺ يقول ان الناس اذا راؤا المنكر فلم يغيروه يوشك ان يعمهم الله بعقابة وفى اخرى له ما من قوم يعمل فيهم المعاصى ثم يقدورن على ان يغيروا ثم لا يغيرون الا يوشك الله ان يعمهم بعقاب وفى اخرى له ما من قوم يعمل فيهم بالمعاصى هم اكثر ممن يعلمه“
(مسند احمد ج ١ ص ٥ ، ابن ماجہ، ترمذی) نے بسند صحیح حضرت ابوبکر صدیق سے روایت کیا ہے کہ تم قرآن میں روزانہ یہ آیت تلاوت کرتے ہو جس کا مضمون یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو سنبھالو تمہیں دوسروں سے کیا سروکار، گمراہ کی گمراہی کا وبال تمہاری ذات پر واقع نہیں ہوسکتا۔ یاد رکھو میں نے حضرت ﷺ سے یوں سنا ہے۔ جب قوم کا یہ شیوہ ہوجائے گا، کہ خلاف شرع کام دیکھ کر اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں گے۔ تو عنقریب خدا عذاب عام نازل کرے گا۔ جس میں مرد وعورت چھوٹا بڑا نیک اور بد شریک ہوں گے۔ اور دوسری روایت میں آیا ہے کہ جس قوم میں عمل معصیت جاری ہے اور متقی باوجود کثرت تعداد ان کو روکتے نہیں تو خدا کی طرف سے عذاب عام اترتا ہے۔ خدائے تعالیٰ کا قول بھی اس کا مؤید ہے۔ واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة کہ ایسے فتنہ سے ڈرو جس کا اثر محض ظالمو کی ذات تک محدود نہ رہے گا۔ بلکہ ہر عام وخاص پر اس کی مصیبت کا احاطہ ہوگا بہت روایات اس مضمون کی کتب روایت میں مروی ہیں۔
ظلم موجب نزول عذاب ہے۔
اور ظلم بھی ان موجبات سے ہے جو مصائب وشدائد کا دریا مخلوق پر توڑ بہاتا ہے اور ان کی آسائش وراحت کو قطع کردیتا ہے اور طرح طرح کے عذاب ظلم العباد سے بندگان خدا پر نازل ہوتے ہیں۔
١٤
شاہد اول
بیہقی میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک نے ک یعنی ظالم محض اپنی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے تو ابو ہریرہؓ نے کہا في وكرها هزلا لظلم الظالم کیوں نہیں ظالم کو ظلم کا اثر سرخاب ظلم ظالم کی وجہ سے اپنے گھونسلے میں دبلا ہو کر مر جاتا ہ
شاہد دوئم
بخاری ومسلم نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے رو الظالم حتى اذا اخذه لم يقتله ثم قره كذلك اخ ظالمة (بخاری شریف ج٢ ص ٨٧٨) خدا تعالیٰ ظالم کو مہلت اسے نہیں چھوڑتا۔ پھر یہ آیت بطور شہادت پڑھی کہ تیرے ر ہوئی کہ ناگہاں عذاب نے انہیں آلیا۔
شاہد سوئم
شیخین نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوعاً نقل ک الذين ظلموا انفسهم الا ان تكونوا باكين راسه واسرع السير حتى اجتاز الوادى ” ظا ہوئے داخل ہو مبادا تمہیں بھی ایسا عذاب نہ آ لے جیسے ان سے اس میدان کو طے کیا۔
عقوق الوالدین بھی موجب نقمت الٰہی ہے
ماں باپ کو ستانا اور ان سے بے سلوکی کرنا اور پہلو تہی کرنا ایسے عذاب آور امور ہیں اور جو عذاب کا دروازہ کھو بیہقی نے حضرت ابوبکرؓ سے روایت کیا ہے کہ آ الذنوب يغفر الله منها ماشاء الا عقوق الو الحياة قبل الممات ” جس قسم کا گناہ ہو خدا چاہے تو مع کہ یہ ایسا بڑا جرم ہے جس کی سزا موت سے پہلے دنیا کی زند ناطقہ شکنی بھی عقوق کے ہم دوش ہے اس کی سزا جو عقبیٰ میں مق
١٥
شاہد اول
بیہقی میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک نے کہا ان الظالم لا يضر الا نفسه یعنی ظالم محض اپنی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے تو ابو ہریرہؓ نے کہا بلى والله حتى الحبار لتموت فى وكرها هزلا لظلم الظالم کیوں نہیں ظالم کے ظلم کا اثر دوسری خلق اللہ پر بھی پڑتا ہے حتیٰ کہ سرخاب ظلم ظالم کی وجہ سے اپنے گھونسے میں دبلا ہو کر مر جاتا ہے۔
شاہد دوم
بخاری ومسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت کیا ہے: ’’ان الله ليملى الظالم حتى اذا اخذه لم يفلته ثم قرء کذلک اخذ ربک اذا اخذ القرى وهى ظالمة (بخاری شریف ج ٢ ص ٧٧٨) خدا تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے جب اسے گرفت کرتا ہے تو اسے نہیں چھوڑتا۔ پھر یہ آیت بطور شہادت پڑھی کہ تیرے رب کی گرفت ظالم شہروں پر اسی طرح ہوئی کہ ناگہاں عذاب نے انہیں آلیا۔
شاہد سوئم
شیخین نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے: ’’لا تدخلوا مساکن الذين ظلموا انفسهم الا ان تكونوا باكين ان يصيبكم ما اصابهم ثم قنع راسه واسرع السير حتى اجتاز الوادى‘‘ ظالموں کے شہروں اور مسکنوں میں روتے ہوئے داخل ہو مبادا تمہیں بھی ایسا عذاب نہ آلے جیسے ان پر آیا پھر سر پر چادر اوڑھ کر تیز رفتاری سے اس میدان کو طے کیا۔
عقوق الوالدین بھی موجب نقمت الٰہی ہے
ماں باپ کو ستانا اور ان سے بے سلوکی کرنا اور ان کا حکم نہ ماننا اور خدمات واجبہ سے پہلو تہی کرنا ایسے عظیم امور ہیں جو عذاب کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔
بیہقی نے حضرت ابوبکرؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’کـــــل الذنوب يغفر الله منها ماشاء الا عقوق الوالدين فانه يعجله لصاحبه فى الحياة قبل الممات‘‘ جس قسم کا گناہ ہو خدا چاہے تو معاف کر دے سوائے عقوق والدین کے کہ یہ ایسا بڑا جرم ہے جس کی سزا موت سے پہلے دنیا کی زندگی میں خدا دے دیتا ہے اور قطع رحمی اور ناطہ شکنی بھی عقوق کے ہم دوش ہے اس کی سزا جو عقبیٰ میں مقرر ہے وہ تو مل کر رہے گی مگر دنیا میں ہی
١٥
قاطع رحم شکنجه عذاب میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ترمذی اور ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً بیان کیا ہے: "ما من ذنب اجدر ان يجعل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخرله فی الآخرة من البغى وقطيعة الرحم" کوئی گناہ اس قابل نہیں کہ جس کی سزا مرتکب کو خدا دنیا میں دے دے اور مع ہذا عاقبت میں بھی سزا سے سبکدوشی نہ ہو۔ سوائے ظلم اور قطع رحمی کے ان کی سزا دارین میں ملتی ہے۔
نزول عذاب کے پندرہ اسباب ایک حدیث میں
حضور علیہ السلام نے ایک روایت میں عذاب کے پندرہ اسباب ذکر کئے ہیں۔ اس روایت کو ترمذی نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "اذا اتخذ الفئ دولاً والامانة مغنماً والزكوة مغرماً وتعلم لغير الدين واطاع الرجل امرته وعق امه وادنی صدیقه واقصى اباه وظهرت الاصوات في المساجد وساد القبيلة فاسقهم وكان زعيم القوم ارذلهم واكرم الرجل مخافة شره وظهرت القينات والمعازف وشربت الخمور ولعن آخر هذه الامة اولها فارتقبوا عند ذلك ريحاً حمراء وزلزلة خسفاً ومسخاً وقذفاً وآيات تتابع كنظام قطع سلكه فتتابع ورواه ايضاً عن علیؓ بلفظ اذا فعلت امتی خمس عشر خصلة حل بها البلاء وعد هذه الخصال ولم يذكر تعلم لغير الدين قال وبر صديقه وجفا اباه قال وشرب الخمر ولبس الحرير"
(ترمذی شریف کتاب الفتن ج ٢ ص ٤٤)
جب مال غنیمت امیروں میں تقسیم ہوگا اور امانت کو لوٹ کا مال تصور کیا جائے گا اور زکوۃ کو مسلم تاوان سمجھے گا اور دینی اغراض کو چھوڑ کر محض دنیاوی مفاد کے لئے تعلیم و تعلم کا چرچا ہوگا۔ مرد اپنی جورو کا مطیع اور ماں کا عاصی ہوگا۔ دوست کو اپنے نزدیک بٹھائے گا اور باپ کو دور ڈال دے گا اور مسجدوں میں شور و غل اور نعرے سنائی دیں گے اور فاسق فاجر قوم کی سرداری سے ممتاز ہوگا اور کمینہ قبیلہ کا رئیس قرار پائے گا اور شرارت کے خوف سے ہر ایک کی عزت کی جائے گی۔ سرودوں اور راگوں کی شہرت ہوگی۔ شراب کھلے طور پر نوش کی جائے گی اور متاخرین امت متقدمین کو لعنت کرے گی۔ اس وقت سرخ آندھیوں اور بھونچال اور خسف اور مسخ اور پتھروں کی بارش کی توقع رکھو۔ اور ایسے ہیبت ناک کئی نشان یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گے۔ جیسے ایک لڑی موتیوں کی منقطع ہو جائے تو اس کے موتی پے در پے گرتے ہیں اور حضرت علیؓ نے اس کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے میری امت جب پندرہ خصال میں مبتلا ہوگی تو ان پر آفت اور بلا نازل ہوگی۔
١٦
خصال مذکور کو شمار کرتے ہوئے یہ کلمات ذکر کئے ہیں بے وفائی کرے گا اور شراب نوشی اور ریشم پوشی کا چرچا ہ
شراب نوشی، راگ، سماع مزامیر اسباب نزو
ابن ماجہ نے ابو مالک اشعریؓ سے روایت ک "لیشربن ناس من امتی الخ رؤسهم بالمعازف والمغینات يخسف ا والخنازير" میری امت کے بہت لوگ شراب نوش ان کی مجلس میں باجے بجیں گے راگ ہوگا۔ خدا زمین کو ان میں سے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں اتار
ترمذی نے عمران بن حصینؓ سے روایت ک فرمایا: "فی هذه الامة خسف ومسخ وقذف الله متى ذالك قال اذا ظهرت القينات والمع
(ترمذی ج ٢ ص ٤٥) اس امت پر ایک ز اور شکلیں تبدیل ہو جائیں گی آسمان سے سنگباری ہ واقعات کب رونما ہوں گے کہا کہ جب سرود بجنے ہوگا۔ شراب نوشی کا عام دور ہوگا۔
محرمات کو حلال خیال کرنا اور راگ گانے
خوری، ریشم پوشی نزول عذ
عبادہ بن صامتؓ نے آنحضرت ﷺ سے رو لیبیتن اناس من امتی علی اشر و بطر و باستحلالهم المحارم والتخاذهم ا ولبسهم الحرير " میری امت کے بہت افراد خر کہ صبح ہوتے دفعتاً بوزنوں اور خنزیروں کی شکل میں اٹھیں گے۔ اور سرود گو عورتیں ان کے ہاں ملیں حریر پوشی انکا رویہ ہوگا۔
١٧
خصال مذکور کو شمار کرتے ہوئے یہ کلمات ذکر کئے ہیں کہ آدمی دوست کا وفادار ہوگا اور باپ سے بے وفائی کرے گا اور شراب نوشی اور ریشم پوشی کا چرچا ہوگا۔
شراب نوشی، راگ، سماع مزامیر اسباب نزول عذاب ہیں
ابن ماجہ نے ابو مالک اشعریؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "ليشربن ناس من امتى الخمر يسمونها بغير اسمها يعزف على رؤسهم بالمعازف والمغنيات يخسف الله بهم الارض ويجعل منهم القردة والخنازير" میری امت کے بہت لوگ شراب نوشی کریں گے اس کا نام اور ہی تجویز کرلیں گے ان کی مجلس میں باجے بجیں گے راگ ہوگا۔ خدا زمین کو بمع ان کے دھنسا دے گا اور ایک جماعت کو ان میں سے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں اتار دے گا۔
ترمذی نے عمران بن حصینؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت سرور کائنات فداہ روحی نے فرمایا: "فی هذه الامة خسف ومسخ وقذف قال رجل من المسلمين يا رسول الله متى ذالك قال اذا ظهرت القينات والمعازف وشربت الخمور" (ترمذی ج ٢ ص ٤٥) اس امت پر ایک زمانہ آئے گا جب کہ زمین دھنسائی جائے گی اور شکلیں تبدیل ہو جائیں گی آسمان سے سنگباری ہوگی کسی نے پیغمبر خدا سے دریافت کیا کہ یہ واقعات کب رونما ہوں گے کہا کہ جب سرود بولنے والیاں کثرت سے ہوں گی اور باجوں کا چرچا ہوگا۔ شراب نوشی کا عام دور ہوگا۔
محرمات کو حلال خیال کرنا اور راگ کہنے والی عورتوں کو بلانا، شراب نوشی، سود
خوری، ریشم پوشی نزول عذاب کا موجب ہے
عبادہ بن صامتؓ نے آنحضرت سے روایت کیا ہے: "والذي نفسي بيده ليبيتن اناس من امتى على اشر و بطر ولعب ولهو فيصبحوا قردة وخنازير باستحلالهم المحارم واتخاذهم القينات وشربهم الخمر وباكلهم الربا ولبسهم الحرير" میری امت کے بہت افراد غرور اور تکبر اور لہو ولعب میں شب باشی کریں گے کہ صبح ہوتے دفعۃً بوزنوں اور خنزیروں کی شکل میں ڈھل جائیں گے۔ کیونکہ وہ محرمات کو حلال سمجھیں گے۔ اور سرودن عورتیں ان کے ہاں ملازم ہوں گی۔ شراب نوشی کریں گے۔ سود خوری حریر پوشی انکا رویہ ہوگا۔
(مسند احمد ج ٥ ص ٣٢٩)
١٧
قطع رحمی موجب نزول عذاب ہے
اور بیہقی اور احمدؒ نے حضرت ابو امامہؓ سے روایت کیا ہے : ”بشربهم الخمر ولبسهم الحرير واتخاذهم القينات واكلهم الربا وقطيعتهم الرحم وخصلة نسيها“
حضرت ابو امامہؓ نے آنحضرتﷺ سے نزول عذاب کے حسب ذیل اسباب نقل کئے ہیں کہ خلق خدا شراب نوشی کرے گی۔ ریشم پہنے گی۔ سرود سنے گی۔ سود خوری اور قطع رحمی ان کا وتیرہ ہوگا۔
زنا کاری، سود خوری اور رشوت نزول عذاب کا موجب ہے۔
ابو یعلیٰ نے آنحضرتﷺ کی حسب ذیل حدیث کو ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے: ”نھى رسول اللهﷺ ان تشترى الثمرة حتى تطعم وقال اذا ظهر الزنا والربا فى قرية فقد احلوا بانفسهم عذاب الله رواه الحاكم عن ابن عباس وصححه وفى رواية ابى يعلى عن ابن مسعود ما ظهر فى قوم الزنا والربا الا احلوا بانفسهم عذاب الله ولاحمد عن عمرو بن العاص مرفوعا ما من قوم يظهر فيهم الربا الا اخذوا بالسنة وما من قوم يظهر فيهم الرشا الا اخذوا بالرعب“ آں حضرتﷺ نے میوہ جات کی خرید سے منع کیا ہے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں اور نیز فرمایا کہ جب بدکاری اور سود خوری کسی شہر میں عام ہو جائے تو آبادی نے عذاب الٰہی کو اپنی ذات پر لازم کر لیا۔ حاکم نے اس روایت کو ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے اور ابو یعلیٰ کی روایت ابن مسعودؓ سے بھی اس کے لگ بھگ ہے اور امام احمد نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت کیا ہے جس قوم میں سود خوری کا چرچا ہوا۔ ان پر قحط کا عذاب آتا ہے اور جس قوم میں رشوت خوری عام ہو ان پر دشمن کا رعب ڈالا جاتا ہے۔
ظلم اور جھوٹی قسم موجب نزول عذاب ہے
”اخرج البيهقى عن ابى هريرة مرفوعاً ليس مما عصى الله به هو اعجل عقابا من البغى وما من شىء اطيع الله فيه اسرع ثوابا من الصلة واليمين الفاجرة تدع الديار بلاقع۔“ خدا کے معاصی میں کوئی جلد عذاب لانے والی خصلت ظلم سے بڑھ کر نہیں۔ اور جس کی ادائیگی میں انسان جلد سے جلد ثواب کا مستحق ہو۔ صلہ رحمی سے بڑھ کر نہیں۔ اور جھوٹی قسم کا وبال یہاں تک پہنچتا ہے کہ آبادی ویران ہو کر جھوٹی قسم کی شامت
١٨
سے چٹیل میدان رہ جاتی ہے۔
زنا کاری، خیانت، نقص کیل و وزن اور حکم جور اور نقض عہد سے عذاب نازل ہوتا ہے
زنا کاری، خیانت، نقص کیل، وزن اور حکم جور اور نقض عہد بھی عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہیں۔ امام مالکؒ نے حضرت ابن عباس سے مرفوعاً نقل کیا ہے: ’’ما ظهر الغلول فی قوم الا القى الله في قلوبهم الرعب ولا فشا الزنا في قوم الا كثر فيهم الموت ولا نقص قوم المكيال والميزان الا قطع عنهم الرزق ولا حكم قوم بغير الحق الا فشا فيهم الدم ولا ختر قوم بالعهد الا سلط الله عليهم العدو رواہ الطبرانی ايضا واخرج ابن ماجة واللفظ له والبزار و البيهقی عن ابن عمرو رواہ الحاكم من حديث هريرة وصححه قال اقبل علينا رسول الله ﷺ فقال يا معشر المهاجرين خمس خصال اذا بتليتم بهن واعوذ بالله ان تدركوهن لم تظهر الفاحشة فی قوم قط حتى يعلنوا بها الا فشا فيهم الطاعون والا وجاع التی لم تكن مضت فی اسلافهم الذين مضوا ولم ينقصوا المكيال والميزان الا اخذوا بالسنين وشدة المونة وجور السلطان عليهم ولم يمنعوا زكوة اموالهم قط الا منعوا القطر من السماء ولولا البهائم لم يمطروا ولم ينقضوا عهد الله وعهد رسوله الا سلط الله عليهم عدوا من غيرهم فاخذوا بعض ما فی ايديهم وما لم تحكم ائمتهم بكتاب الله ويتخيروا فيما انزل الله الا جعل الله باسهم بينهم“ جس قوم میں خیانت کا رواج جاری ہو۔ خدا ان کے دل میں دشمن کا رعب ڈال دیتا ہے اور جس قوم میں زنا کاری بکثرت ہو جاتی ہے ان میں مری عام پڑتی ہے اور جو قوم ترازو اور پیمانہ کو کم تولتی اور ماپتی ہے ان کے رزق کو قطع کر دیا جاتا ہے جو قوم فیصلے میں بے انصافی روا رکھتی ہے ان میں خونریزی بکثرت ہوتی ہے جو جماعت عہد شکنی کی مرتکب ہوتی ہے خدا اسے دشمن کے پنجہ میں دے دیتا ہے۔ طبرانی نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے اور حاکم نے بریدہ کی حدیث کی صحت کی تصریح کی ہے کہ نبی ﷺ نے ہماری جانب توجہ کر کے فرمایا۔ مہاجرین کی جماعت ! سنو کہ جب پانچ قبیح خصلتوں میں تم مبتلا ہو گئے (اور پناہ بخدا کہ تم ان میں مبتلا ہو) بدکاری کا ظہور جس قوم میں ہوا ہے ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں رونما ہوتی ہیں جو گزشتہ آباؤ اجداد میں ان کا نام سنا نہ جاتا تھا اور جو قوم ترازو اور پیمانہ میں خیانت کرتی ہے ان پر قحط کا عذاب آتا ہے اور سخت مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور بادشاہ کے ظلم کا تختہ مشق بن جاتے ہیں۔ جو قوم باوجود قدرت ١٩
کے زکوٰۃ ادا نہ کرے ان پر آسمان کی کھڑکیاں بند ہو جاتی ہیں اور وہ بارانِ رحمت سے محروم کئے جاتے ہیں۔ اگر چار پائے نہ ہوں تو بارش کی بوند نہ گرے اور جو قوم خدا اور رسول کے عہد کو توڑ ڈالے خدا تعالیٰ غیر دشمن کو اس پر مسلط کر دیتا ہے جو ان کی دولت اور مقبوضات پر قبضہ جمالیتا ہے اور جو قوم خدا کی کتاب پر فیصلہ ترک کر دیتی ہے۔ ان میں خانہ جنگی جاری ہو جاتی ہے۔
خباثت موجب نزول عذاب ہے۔
"اخرج الشيخان عن زينب بنت جحش ان رسول الله ﷺ دخل عليها يوما فزعا يقول لا اله الا الله ويل للعرب من شر قداقترب فتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج مثل هذه وحلق باصبعيه الابهام والتي تليها قالت زينب فقلت يارسول الله افنهلك وفينا الصالحون قال نعم اذا اكثر الخبث “ یعنی بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت زینب بنت جحش کے ہاں رسول کریم ﷺ تشریف لائے۔ لا الہ الا اللہ آپ کی ورد زبان تھا اور یہ بھی کہتے تھے کہ عرب کی تباہی ان پر عنقریب بلا لانے والی ہے۔ دیوارِ یاجوج وماجوج میں بقدر حلقہ سبابہ و نرانگشت کے سوراخ ہو گیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ نیکو کاروں کی موجودگی میں ہم تباہ ہو سکتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب خباثت اور معاصی یا اولاد زنا کا غلبہ ہو جائے گا تو بدکار اور نیکو کار دونوں تباہی میں پڑ جائیں گے۔
ظہور ولد الزنا موجب نزول عذاب ہے
ابو یعلیٰ اور احمد نے باسناد حسن حضرت میمونہ سے روایت کیا ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا "لا تزال امتى بخير متماسك امرها ما لم يظهر فيهم ولد الزنا “ میری امت تا دوام بالخیر رہے گی جب تک ان میں اولاد زنا پیدا نہ ہو گی۔ جب ایسے بچے پیدا ہوں گے تو عنقریب خدا تعالیٰ ایک عام عذاب ان پر نازل کرے گا ۔ “ امام احمد کے لگ بھگ ابو یعلیٰ کے الفاظ ہیں۔
ظہور طاعون کی نبوی پیشگوئی
عوف بن مالک کا بیان ہے کہ میں جنگ تبوک میں بخدمت حضور ﷺ کے حاضر ہوا اور آپ چمڑے کے خیمہ میں مقیم تھے۔ جناب نے فرمایا: "اعدد ستاًبين يدى الساعة موتى ثم فتح بيت المقدس ثم موتان ياخذفيكم كقعاص الغنم ثم استفاضة المال حتى يعطى الرجل مائة دينار فيظل ساخطا ثم فتنة لا يبقى بيت من ٢٠
العرب الا دخلته ثم هدنة تكون بينكم و فياتونكم تحت ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا یعنی قیامت سے پیشتر چھ علامات شمار کر اولا میری وفات دوئم گے۔ ثالثاً طاعون کا پھوڑا نمودار ہو گا جیسے بکریوں کو رسانڈ لگ لوگوں کے قبضہ میں ہو گا یہاں تک کہ ایک بندہ خدا کو سو (آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے دینار کے حساب سے ) دیئے لیکن پھر بھی وہ ناراض اور خفا رہے گا۔ پنجم ایک فتنہ ملک عرب کے گھر خالی نہ رہے گا۔ پھر تمہارے اور عیسائیوں کے درمیان ص توڑ ڈالیں گے اور اسی جھنڈوں کے ماتحت کثیر فوج لے کر حم کے ماتحت بارہ بارہ ہزار فوج ہوگی۔ اس طرح ساری فوج کی ت حدیث کو غور سے پڑھو اور دیکھو آنحضرت نے اپنی امت میں ط بلکہ طاعون کی ماہیت پر سچی روشنی ڈالی ہے پھر کیونکر سمجھا جا ملک میں رونما ہوئی ہے۔ فقط
طاعون کا عذاب سابقہ قوموں پر بھی نازل ہوا ہ
پہلی قوموں اور سالفہ جماعتوں پر فاحشہ کبریٰ س وہ ایک گھنٹہ یا دن میں ستر ہزار کی تعداد میں مارے گئے۔ ہے۔ حدیث میں ہے:
"الطاعون رجز ارسل على طائف كان قبلكم فاذا سمعتم به بارض فلا تقدموا ع فلا تخرجوا فرارا منه متفق عليه من حديث عائشه قالت سالت رسول الله ﷺ عن الطاع الله على من يشاء وان الله جعله رحمة للمؤمن فيمكث فى بلده صابرا محتسبا يعلم انه لا ي له مثل اجر شهيد “ طاعون ایک عذاب تھا جو بنی اس جب اس کی خبر تمہیں پہنچے کہ کسی سر زمین پر طاعون اپنا کام ک میں تمہاری رہائش ہے اگر وہاں طاعون نمودار ہو تو بھاگ ٢١
العرب الا دخلته ثم هدنة تكون بينكم وبين بني الاصفر فيغدرون فياتونكم تحت ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر الفا رواه البخاری۔“
یعنی قیامت سے پیشتر چھ علامات شمار کر اولاً میری وفات دوئم بیت المقدس کو اہل اسلام فتح کریں گے۔ ثالثاً طاعون کا پھوڑا نمودار ہوگا جیسے بکریوں کو رسولیاں نکلتی ہیں۔ چہارم مال کثرت سے لوگوں کے قبضہ میں ہوگا یہاں تک کہ ایک بندہ خدا کو تین سو روپیہ ماہوار تنخواہ ملے گی۔ (آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے دینار کے حساب سے) اور نو صد روپیہ زمانہ حال کے حساب سے لیکن پھر بھی وہ ناراض اور خفا رہے گا۔ پنجم ایک فتنہ ملک عرب میں برپا ہوگا جس سے عرب کا کوئی گھر خالی نہ رہے گا۔ پھر تمہارے اور عیسائیوں کے درمیان ایک صلحنامہ قرار پائے گا جسے عیسائی توڑ ڈالیں گے اور اسّی جھنڈوں کے ماتحت کثیر فوج لے کر حملہ کے لئے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ بارہ ہزار فوج ہوگی۔ اس طرح ساری فوج کی تعداد نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔ اس حدیث کو غور سے پڑھو اور دیکھو آنحضرت نے اپنی امت میں ظہور طاعون کی پیش گوئی بیان کی ہے بلکہ طاعون کی ماہیت پر بھی روشنی ڈالی ہے پھر کیونکر سمجھا جائے کہ مرزا قادیانی کی خاطر طاعون ملک میں رونما ہوئی ہے۔ فقط
طاعون کا عذاب سابقہ قوموں پر بھی نازل ہوا
پہلی قوموں اور سالفہ جماعتوں پر فاحشہ کبریٰ کے ظہور سے عذاب طاعون بھیجا گیا اور وہ ایک گھنٹہ یا دن میں ستر ہزار کی تعداد میں مارے گئے۔ اتنی سرعت ہلاکت قابل حیرت و تعجب ہے۔ حدیث میں ہے:
”الطاعون رجز ارسل على طائفة من بنى اسرائيل او على من كان قبلكم فاذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه وان وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا فراراً منه متفق عليه من حديث اسامة بن زيد وللبخارى عن عائشة قالت سألت رسول الله ﷺ عن الطاعون فاخبرنی انه عذاب يبعثه الله على من يشاء وان الله جعله رحمة للمومنين ليس من عبد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابراً محتسباً يعلم انه لا يصيبه الا ما كتب الله له الا كان له مثل اجر شهيد “ طاعون ایک عذاب تھا جو بنی اسرائیل یا کسی سابقہ جماعت پر بھیجا گیا۔ جب اس کی خبر تمہیں پہنچے کہ کسی سرزمین پر طاعون اپنا کام کر رہی ہے۔ تو وہاں نہ جاؤ اور جس شہر میں تمہاری رہائش ہے اگر وہاں طاعون نمودار ہو تو بھاگو نہیں بلکہ قضاء و قدر کو سچے دل سے قبول
٢١
کرو۔ یہ حدیث بخاری ومسلم میں روایت کی ہے اور بخاری نے حضرت عائشہؓ سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت سے طاعون کا حال دریافت کیا تو آپ نے بتلایا کہ یہ عذاب ہے جس پر اللہ چاہتا ہے بھیجتا ہے۔ لیکن مؤمنین کے حق میں اسے رحمت قرار دیتا ہے۔ جس شہر میں طاعون واقع ہو جو کوئی وہاں جمعیت قلبی اور صبر سے بغرض حصول اجر مقیم رہے اور سمجھے کہ میرا کچھ نہ بگڑے گا جو کچھ اللہ نے تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوگا۔ اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
بلعم بن باعورا کا تاریخی واقعہ
اس کی تفصیل طبریؒ نے بروایت سلیمان حضرت یسارؓ سے یوں نقل کی ہے: ”ان رجلا كان يقال له بلعم كان مستجاب الدعوة. وان موسى اقبل فى بنى اسرائيل يريد الارض التى فيها بلعم فاتاه قومه فقالوا ادع الله عليهم فقال حتى اوامر ربى فمنع فاتوه بهدية فقبلها وسالوه ثانيا فقال حتى او امر ربى فلم يرجع اليه بشىء فقالوا لو كره لنهاك فدعا عليهم فصار يجرى على لسانه ما يدعوا به على بنى اسرائيل فينقلب على قومه فلاموه على ذلك فقال سادلكم على مافيه هلاكهم ارسلوا النساء فى عسكرهم ومروهن لا يمتنعن من احد فعسى ان يزنوا فيهلكوا فكان فيمن خرج بنت الملك فارادها بعض الاسباط فاخبرها بمكانه فمكنته من نفسها فوقع فى بنى اسرائيل الطاعون فمات منهم سبعون الفا فى يوم وجاء رجل من بنى هارون ومعه الرمح فطعنهما فايده الله فانتظمهما جميعا وهذا مرسل جيد وذكر ابن اسحاق ان بنى اسرائيل لما كثر عصيانهم اوحى الله الى داؤد فيخرهم بين ثلث اما ان ابتليهم بالقحط اوالعدد وشهرين او الطاعون ثلاثة ايام فاخبرهم فقالوا اختر لنا فاختار الطاعون فمات منهم الى ان ذالت الشمس سبعون الفا وقيل مائة الفتضرع داؤد الى الله فرفعه وورد وقوع الطاعون فى غير بنى اسرائيل فيحتمل ان يكون هو المراد بقوله او من كان قبلكم واخرج عبدالرزاق فى تفسيره و ابن جرير عن الحسن فى قوله تعالى الم تر الى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت قال افروا من الطاعون فقال لهم الله موتوا ثم احياهم ليكملوا بقية اجالهم فاقدم من وقفنا عليه ما المنقول ممن وقع الطاعون به فى بنى اسرائيل فى قصة بلعام ومن غيرهم ٢٢
فى قصة فرعون وتكرر بعد ذلك لغيرهم“
طبریؒ نے سلیمان کے واسطے سے یسار کا بیان تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر اس سرزم نے درخواست کی کہ آپ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم ک درخواست کو استخارہ پر موقوف کیا۔ استخارہ کیا تو خدا نے اِ کیا کہ طرح طرح کے تحائف اس کی خدمت میں پیش ک پھر اس نے دوبارہ استخارہ کیا جس میں اسے کچھ معلوم نہ ہ یہ فعل مکروہ ہوتا تو تجھے منع کر دیتا جیسے پہلی بار کیا تھا۔ گوی حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کے حق میں کہتا۔ وہ زبان کی گردش وہ اسے ملامت کرنے لگے کہ تو کیا کرتا ہے۔ تب اس ن کے ذہن نشین کر دی کہ میری عاقبت سیاہ ہوگئی اور زبان آراستہ پیراستہ کر کے بنی اسرائیل کی چھاؤنی میں بھیج دو ا روکیں اور بلعم کے ایماء کے مطابق خود شہزادی بھی اس ج اور اسباط بنی اسرائیل کا ایک سردار اس سے جرم کا مرتکب طاعون واقع ہوا کہ ایک دن میں ستر ہزار آدمی مر گیا۔ بنی اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ اس نے فاعل اور مفعولہ دون نیزہ رو بآسمان نصب کر دیا وہ نیزہ پر لٹکے رہے خدا نے ع
ابن اسحاق نے اس قصہ کو اس طرح بیان زور ہوا تو حضرت داؤد کی طرف وحی آئی کہ تین عذاب پسند کریں ان پر بھیجا جائے یا قحط منظور کریں یا اجنبی شہر کا رکھے گا یا تین روز طاعون آئے گی انہوں نے ف تو آپ نے طاعون کو منظور کر لیا۔ سورج کے ڈھلنے ت داؤد نے گریہ زاری سے دعا کی خدا نے عذاب کو ر ہوئی۔ حضرت حزقیل کے عہد میں جبکہ ہزاروں آد ہوئی تھی۔ خدا نے انہیں موت کے بعد پھر زندہ کیا۔۔ طاعون زور و شور پر رہی اور قبطیوں پر بھی طاعون۔۔ ٢٣
”فى قصة فرعون وتكرر بعد ذلك لغيرهم“
(زرقانی جلد چہارم ص٧٦)
طبریؒ نے سلیمان کے واسطے سے یہ ایک بیان نقل کیا ہے کہ بلعم مستجاب الدعوات بزرگ تھا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر اس سرزمین پر حملہ کیا جہاں بلعم رہتا تھا۔ اس کی قوم نے درخواست کی کہ آپ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے خلاف بددعا کریں۔ بلعم نے قبولیت درخواست کو استخارہ پر موقوف کیا۔ استخارہ کیا تو خدا نے اس حرکت سے اسے منع کیا۔ قوم نے یہ حیلہ کیا کہ طرح طرح کے تحائف اس کی خدمت میں پیش کئے اور اپنی درخواست کی طرف توجہ دلائی۔ پھر اس نے دوبارہ استخارہ کیا جس میں اسے کچھ معلوم نہ ہوا۔ قوم نے اسے کہا کہ اگر خدا کے نزدیک یہ فعل مکروہ ہوتا تو تجھے منع کر دیتا جیسے پہلی بار کیا تھا۔ کوہِ لبنان پر جا کر بددعا کی جو کلمات بددعائیہ حضرت موسیٰ کی قوم کے حق میں کہتا۔ وہ زبان کی گردش سے اپنے قوم کے حق میں صادر ہو جاتے۔ وہ اسے ملامت کرنے لگے کہ تو کیا کرتا ہے۔ تب اس نے یہ صورت بنی اسرائیل کی تباہی کی ان کے ذہن نشین کر دی کہ میری عاقبت سیاہ ہوگئی اور زبان سینہ پر لٹک آئی۔ تم ایسا کرو کہ مستورات کو آراستہ پیراستہ کر کے بنی اسرائیل کی چھاؤنی میں بھیج دو اور ان کو یہ فہمائش کرو کہ وہ کسی کی خواہش کو نہ روکیں اور بلعم کے ایماء کے مطابق خود شہزادی بھی ان حیلہ گر عورتوں میں بنی اسرائیل کے لشکر میں گئی اور اسباط بنی اسرائیل کا ایک سردار اس سے جرم کا مرتکب ہوا۔ بنی اسرائیل میں اس زور وشور سے طاعون واقع ہوا کہ ایک دن میں ستر ہزار آدمی مر گیا۔ بنی ہارون سے ایک مرد خدا نیک سیرت نکلا اور اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ اس نے فاعل اور مفعولہ دونوں کو سنگین کی نوک میں منکے کی طرح پرو کر نیزہ رو بآسمان نصب کر دیا وہ نیزہ پر لٹکے رہے خدا نے عذاب کو اٹھا لیا۔
ابن اسحاق نے اس قصہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں جب معصیت کا زور ہوا تو حضرت داؤد کی طرف وحی آئی کہ تین عذاب اس قوم کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں جو پسند کریں ان پر بھیجا جائے یا قحط منظور کریں یا اجنبی دشمن کا حملہ اختیار کریں جو دو ماہ تک محاصرہ شہر کا رکھے گا یا تین روز طاعون آئے گی انہوں نے اس معاملہ کو حضرت داؤد کی رائے پر چھوڑ دیا تو آپ نے طاعون کو منظور کر لیا۔ سورج کے ڈھلنے تک ستر ہزار مرد یا ایک لاکھ مارا گیا۔ حضرت داؤد نے گریہ وزاری سے دعا کی خدا نے عذاب کو رفع کر دیا۔ طاعون بنی اسرائیل میں کئی بار واقع ہوئی۔ حضرت حزقیل کے عہد میں جبکہ ہزاروں آدمی بخوفِ طاعون اپنے شہر چھوڑ نکلے۔ واقع ہوئی تھی۔ خدا نے انہیں موت کے بعد پھر زندہ کیا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت داؤد کے عہد میں بھی طاعون زور وشور پر رہی اور قبطیوں پر بھی طاعون نے اپنا پنجہ ڈالا اور بعد ازاں کئی بار مختلف ازمنہ
٢٣
میں اس کا ظہور ہوا۔ ان واقعات سے حسب ذیل نتیجہ مستنبط ہوا:
- ......١ جب نزول عذاب طاعون وغیرہ انکار نبی سے مخصوص نہ رہا بلکہ زنا کاری، معصیت ،
الہی ،حکم عدولی، ارتکاب فواحش بھی اس کے اسباب ہیں تو ظہور طاعون سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تصدیق پر استدلال کرنا بالکل بے معنی ہے کیونکہ شرائع الہیہ میں تغافل کا روا رکھنا بھی غضب خدا کو نازل کرتا ہے اور اس سے طرح طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں جب تک احتمال ثانی کو بالکل دلائل شافیہ سے قطع نہ کیا جائے تب تک استدلال تام نہیں۔ قاعدہ یہ ہے:”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ کیا ضرورت ہے کہ ایک متنبئ کاذب جس کی ثبوت آثار اور شواہد سے ثابت نہیں خواہ مخواہ اس کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے بالتکلف طاعون کو اس کی رسالت کا شاہد قرار دیا جائے جو شامت اعمال بنی آدم کا نتیجہ ہے۔
حدیث قدسی میں ہے: ”انما هی اعمالكم احصياها عليكم فمن وجد خيرا فليحمدالله ومن وجدشراً فلا يلومن الا نفسه“ مولوی جلال الدین رومی کا قول ہے:
وز زنا خیزد وبا اندر جهات
طاعون کا نزول جب ان کا نبی سے مخصوص نہ رہا بلکہ بسا اوقات گناہ اور معصیت بھی اس کا موجب ہے تو کبریٰ کلیہ نہ رہا۔ شکل اول کا کبریٰ جب کلیہ نہ ہو تو نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔
طاعون حضرت کی دعا ہے۔ طاعون بشارت ہے
- ......٢ طاعون کا ظہور امت میں آنحضرت ﷺ کی دعا سے ہوا ہے۔ آپ نے یہ دعا فرمائی
تھی؟”اللهم اجعل فناء امتى قتلا فى سبيلك بالطعن والطاعون رواه احمد باسناد حسن والطبرانى فى الكبير ورواه الحاكم من حديث ابي موسى وقال صحيح الاسناد (زواجر ج ٢ ص١٩٦)“ اور استجابت دعا پر آنحضرت ﷺ نے تخصیص بھی فرمائی ہے: ”صح عن ابي موسى الاشعرى انه ﷺ قال فناء امتى بالطعن والطاعون فقيل يارسول الله هذا الطعن عرفناه فما الطاعون قال وخز اعدائكم من الجن و فى كل شهادة رواه احمد باسانيد احدها صحيح وابو يعلى والبزار و الطبراني“ یعنی آں حضرت ﷺ نے فرمایا جو دعائیں میں نے امت کے حق میں کی تھی وہ منظور ہوچکی۔ اس لئے میری امت یا نیزہ سے فنا ہوگی یا طاعون سے مرے گی۔ صحابہ نے حضرت سے دریافت کیا کہ طعن کی حقیقت تو ہمیں معلوم ہے لیکن طاعون کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا جو جنوں میں سے تمہارے دشمن ہے ان کے نیزے کی مار ہے یعنی تم ان کے
٢٤
بہکانے سے گناہ کرتے ہو اور اس کے باعث طاعون پھیلتی جنوں نے گناہ کے نیزے سے تمہارا شکار کیا۔ اور دوسری ہے:”لا تفنى امتى الا بالطعن والطاعون قلت يـ فناء فما الطاعون قال غدة كغدة البعير الـ كالفار من الزحف رواه احمد وابو يعلى و حسان“ گویا طاعون ان روایات مذکورہ کے اقتضاء رحمت اور شہادت کی بشارت ہے۔ اسی بناء پر حضرت معا طاعون کا تذکرہ کیا اور کہا: ”انها رحمة ربكم ودعوة نبيكم و اجعل على آل معاذ نصيبهم من هذه الرحمـ على عبدالرحمان بن معاذ فقال عبدالرحمـ الممترين فقال معاذ ستجدنی ان شاء الله من جيد عن ابي منيب الأحدب ولاحمد فى روايـ سمعت رسول الله ﷺ يقول ستهاجرون ا داء كالدمل او كالجرة ياخذ بمراق الرجل يمـ اعمالهم اللهم ان كنت تعلم ان معاذا سمع واهل بيته الحظ الاوفر منه فااصابهم الطاعـ اصبعه السبابة فكان يقول مايسرني ان لـ تمہارے نبی کی دعا اور تمہارے رب کی رحمت ہے۔ نیکوکـ
١؎ طاعون بدکاروں کے لئے عذاب ہے جو معصیـ وجود اس کا موجب نہیں۔ چنانچہ بہت روایات اس مضمون کی موئـ اور شہادت ہے اور آں حضرت ﷺ کی دعا اس کا موجب ہے۔ ” بالطعن والطاعون “ بہرحال طاعون مرزا قادیانی کی تصـ تصدیق کرتی ہے کہ ان کی پیش گوئیاں برآئیں اور دعا مستجاب ہـ اتنا تعلق ہے کہ دعویٰ نبوت سے بنی آدم کے گناہوں میں کثرا کبـ تھی جس نے عذاب کو روکا ہوا تھا پوری ہوگئی اور فوراً عذاب نازل
٢٥
بہکانے سے گناہ کرتے ہو اور اس کے باعث طاعون پھیلتی ہے۔ گویا استعارۃً یہ کہہ سکتے ہیں کہ جنوں نے گناہ کے نیزے سے تمہارا شکار کیا۔ اور دوسری روایت میں حضرت عائشہؓ سے ثابت ہے: ”لاتفنى امتى الا بالطعن والطاعون قلت یا رسول الله هذا الطعن قد عر فناه فما الطاعون قال غدة كغدة البعير المقيم بها كالشهيد والفارمنه كالفارمن الزحف رواه احمد وابو يعلى والطبراني والبزار واسانيدهم حسان “ گویا طاعون ان روایات مذکورہ کے اقتضاء سے آنحضرت کی دعا اور امت کے لئے رحمت اور شہادت کی بشارت ہے۔ اسی بناء پر حضرت معاذؓ نے ملک شام میں خطبہ کے ضمن میں طاعون کا تذکرہ کیا اور کہا:
”انها رحمة ربكم ودعوة نبيكم وقبض الصالحين قبلكم اللهم اجعل على آل معاذ نصيبهم من هذه الرحمة ثم نزل عن مقامه ذلك فدخل على عبدالرحمان بن معاذ فقال عبدالرحمن الحق من ربك فلا تكونن من الممترين فقال معاذ ستجدنی ان شاء الله من الصابرين رواه احمد باسناد جيد عن ابي منيب الاحدب ولاحمد في رواية اخرى عن معاذ بن جبلؓ قال سمعت رسول الله ﷺ يقول ستهاجرون الى الشام فتفتح لكم ويكون فيه داء كالدمل او كالغدة ياخذ بمراق الرجل يستشهد الله به انفسهم ويزکی به اعمالهم اللهم ان كنت تعلم ان معاذا سمعه من رسول الله ﷺ فاعطه هو واهل بيته الحظ الاوفر منه فاصابهم الطاعون فلم يبق منهم احد فطعن فی اصبعه السبابة فكان يقول ما يسرنی ان لی بها بحمر النعم “ یعنی طاعون تمہارے نبی کی دعا اور تمہارے رب کی رحمت ہے۔ نیکوکار جو تم سے پہلے تھے اس بیماری سے
١؎ طاعون بدکاروں کے لئے عذاب ہے جو معصیت اور حکم عدولی سے نازل ہوتی ہے۔ کسی نبی کا وجود اس کا موجب نہیں۔ چنانچہ بہت روایات اس مضمون کی مؤید زیر قلم ہو چکی ہیں اور نیکو کاروں کے لئے رحمت اور شہادت ہے اور آں حضرت ﷺ کی دعا اس کا موجب ہے ۔ ”اللهم اجعل فنا امتی قتلا في سبيلك بالطعن والطاعون “ بہر حال طاعون مرزا قادیانی کی تصدیق نہیں کرتی۔ بلکہ جناب سرور کائنات ﷺ کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کی پیش گوئیاں بر آئیں اور دعا مستجاب ہوئی۔ مرزا قادیانی کے وجود سے طاعون کا صرف اتنا تعلق ہے کہ دعوئی نبوت سے بنی آدم کے گناہوں میں کفر اکبر کا جو اشد گناہ ہے اضافہ ہو گیا اور جو فہرست میں کمی تھی جس نے عذاب کو روکا ہوا تھا پوری ہو گئی اور فوراً عذاب نازل ہو گیا اور زیادہ نہیں۔
٢٥
کہ اے خداوند تو آل معاذ کو اس رحمت سے حصہ عنایت کر۔ پھر منبر سے اترے اور اپنے بیٹے عبدالرحمن کے پاس آئے بیٹے نے کہا۔ موت تیرے رب کا قطعی حکم ہے اسمیں شک نہ رکھو تو حضرت معاذ نے فرمایا بیٹا! مجھے انشاء اللہ صابرین میں سے پاؤ گے۔ امام احمد کی دوسری روایت میں حضرت معاذ کا سلسلہ کلام اس طرح منقول ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے یہ حدیث سنی کہ ایک زمانہ عنقریب آنے والا ہے کہ تم ہجرت کر کے شام میں پہنچو گے۔ وہاں ایک بیماری ہوگی جس کی شکل ایک بڑی پھنسی کے مشابہ ہوگی۔ خدائے تعالیٰ وہاں کے رہنے والوں کو طاعون کے ذریعہ درجہ شہادت عنایت کرے گا۔ اور ان کے اعمال کا تزکیہ کرے گا۔ اے خداوند! اگر یہ الفاظ رسول ﷺ سے سنے ہیں تو مجھ کو اور میرے اہل بیت کو طاعون سے کامل حصہ عطا فرما۔ پس ان کے سب متعلقین طاعون سے شہید ہو گئے۔ حضرت معاذ فرماتے تھے کہ مجھے اس نعمت کے عوض اگر شتران سرخ دیئے جائیں تو یہ تبادلہ مجھے خوش معلوم نہ ہو۔﴿
چونکہ طاعون رحمت ہے اور آنحضرت کی دعا کا ثمر اس لئے حضرت معاذ نے یہ درخواست کر کے اس رحمت کو خدا سے حاصل کیا۔ اس بناء پر علماء میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہے کہ جہاں طاعون واقع ہو وہاں کے باشندے اس کے دفعیہ کے لئے دعا کریں یا نہ کریں۔ شارح اشباہ والنظائر نے رفع طاعون کے لئے دعا کرنے کو ممنوع لکھا ہے۔
”ولا شك ان الطاعون من اشد النوازل اقول هو وان كان من اشد النوازل الا انه رحمة وشهادة فلا يطلب رفعہما“
﴾یعنی طاعون گو اشد درجہ کی مصیبت ہے لیکن آخر کار وہ رحمت اور شہادت ہے اس لئے ان کے رفع کی دعا نہ کرنی چاہئے۔﴿
اور مؤلف اشباہ کا جواب شارح کی رائے کے مخالف ہے۔
”قال سئلت عنه فى طاعون سنة تسع وستين وتسعمائة بالقاهرة فاجبت بانه لم اره صريحا ولكن صرح فى الغاية وعزا الشمنى اليها بانه اذا نزل بالمسلمين نازلة قنت الامام فى صلوة الفجر وهو قول الثورى واحمد وقال جمهور اهل الحديث القنوت عند النوازل مشروع فى الصلوة كلها وفى فتح القدير ان مشروعية القنوت للنازلة مستمرة لم ينسخ وبه قال جماعة من اهل الحديث وحملوا عليه حديث ابى جعفر عن انس انه مازال......الخ!“
﴾یعنی مؤلف علامہ کا قول ہے کہ اس طاعون کے متعلق جو ٩٦٩ھ میں قاہرہ میں واقع ٢٦
ہوئے مجھے سوال کیا گیا کہ اس کے رفع کے لئے بدرگاہ رب نہیں میں نے جواب میں لکھا کہ صریحاً میری نظر سے ص نے کتاب غائت کی طرف منسوب کر کے یہ مسئلہ لکھا ہے ک امام نماز فجر میں دعا قنوت پڑھی۔ امام سفیان ثوری اور ا اہلحدیث کا قول ہے کہ تمام نمازوں میں دعا قنوت کا پڑھن علامہ ابن الہمام نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ عندالنازلہ ہے جو منسوخ نہیں اور اہل حدیث نے حدیث انس کا جو حادثہ کے وقت دعا قنوت پڑھا کرتے تھے۔﴿
اسی عموم کے ماتحت طاعون کے دفع کے ل نہیں کہ اگر دفعیہ طاعون کے لئے دعا وتضرع کی جا مندرج ہے۔
آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہ اس امت
لیکن عذاب بیخ کن نائ
ضمن دوم ..... آنحضرت ﷺ نے اپنی ام لیکن یہ بھی ساتھ فرمایا ہے کہ سابقہ امتوں کی طرح کلیت حضرت ثوبانؓ نے حضور سرور کائنات ﷺ سے نقل کیا
”ان الله زوى لى الارض فرايت سيبلغ ملكها ما زوى لى منها واعطيت الكن ربى لامتى ان لا يهلكها بسنة عامة و انفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع ع محمد انى اذا قضيت قضاء فانه لاير بسنة عامه وان لا اسلط عليهم عدوا م ولو اجتمع عليهم من باقطارها حتى بعضهم بعضا رواه مسلم“
﴾خدائے تعالیٰ نے روئے زمین کو م مغرب تک نظر دوڑائی میری امت کی سلطنت انہیں ٢٧
ہوئے مجھ سے سوال کیا گیا کہ اس کے رفع کے لئے بدرگاہ رب العزت دعا و ابتہال سے کام لیا جائے یا نہیں میں نے جواب میں لکھا کہ صریحاً میری نظر سے صورت مستفسرہ کا حل نہیں گزرا۔ لیکن محشی نے کتاب غایت کی طرف منسوب کرکے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ مسلمانوں پر جب کوئی حادثہ نازل ہو تو امام نماز فجر میں دعا قنوت پڑھے۔ امام سفیان ثوری اور امام احمد اس قول کے قائل ہیں اور جمہور اہلحدیث کا قول ہے کہ تمام نمازوں میں دعا قنوت کا پڑھنا مشروع ہے جبکہ کوئی آفت نازل ہو اور علامہ ابن الہمام نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ عند النازلہ دعا قنوت کا پڑھنا ایک عمل مستمر اور جاری ہے جو منسوخ نہیں اور اہل حدیث نے حدیث انس کا بھی مطلب بیان کیا ہے کہ آں حضرت ہر حادثہ کے وقت دعا قنوت پڑھا کرتے تھے۔﴾
اسی عموم کے ماتحت طاعون کے رفع کے لئے دعا کرنا مندرج ہے لہٰذا کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر دفعیہ طاعون کے لئے دعا و تضرع کی جائے و مجالس الابرار میں یہ مسئلہ مکمل طور پر مندرج ہے۔
آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہ اس امت پر عذاب نازل ہوں گے
لیکن عذاب مسخ کن نازل نہیں ہوگا
ضمن دوم ...... آنحضرت ﷺ نے اپنی امت میں عذاب نازل ہونے کی خبر سنائی ہے لیکن یہ بھی ساتھ فرمایا ہے کہ سابقہ امتوں کی طرح کلیۃً استیصال کر دینے والا عذاب نہیں آئے گا۔ حضرت ثوبانؓ نے حضور سرور کائنات ﷺ سے نقل کیا ہے۔
"ان الله زوى لى الارض فرايت مشارقها ومغاربها وان امتى سيبلغ ملكها ما زوى لى منها واعطيت الكنزين الاحمر والابيض وانى سألت ربى لامتى ان لا يهلكها بسنة عامة وان لا يسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع عليهم من باقطارها وان ربى قال يا محمد انى اذا قضيت قضاء فانه لا يرد وانى اعطيتك لامتك ان لا اهلكهم بسنة عامه وان لا اسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع عليهم من باقطارها حتى يكون بعضهم يهلك بعضا وليسبى بعضهم بعضا رواه مسلم"
﴿خدائے تعالیٰ نے روئے زمین کو میرے لئے سمیٹ دیا۔ میں نے مشرق سے مغرب تک نظر دوڑائی میری امت کی سلطنت انہیں حدود تک پہنچے گی جہاں تک کہ وہ میرے لئے
٢٧
سمیٹی گئی اور مجھے زمین کے دو خزانے خداوند تعالیٰ نے عطا کئے۔ یہ دیکھ کر میں نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ دعائیں پیش کیں۔ میری امت کو قحط عام سے تباہ نہ کرے۔ اور دوسری قوم کا اجنبی دشمن ان پر اقتدار نہ جمائے کہ ان کی جڑ بیخ اڑا دے اگرچہ اطراف عالم کے کل باشندے قوت مجتمعہ سے حملہ کریں سو میرے خداوند خدا نے فرمایا کہ میری تقدیر مسترد نہیں ہوتیں۔ میں تیری امت کو فاقہ کشی اور قحط عام سے تباہ کروں گا۔ اور کسی غیر قوم کا دشمن ان پر مسلط نہ کروں گا جو ان کا صفایا کردے اگرچہ ہر چہار کنارہ عالم ان کی مخالفت پر جمع ہو جائے وہ اندرونی اختلاف کے باعث ایک دوسرے کو ہلاک کردیں گے۔ اور ایک دوسرے کو قید کریں گے۔
اور مسلم نے حضرت سعد کا بیان صحیح میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ جناب سید الکونین نے ارشاد فرمایا: "سالت ربى ثلاثا فاعطانى ثنتين ومنعنى واحدة سالت ربى ان لا يهلك امتى بالسنة فاعطانيها وسالت ان لا يهلك امتى بالغرق فاعطانيها وسالته ان لا يجعل باسهم بينهم فمنعنيها"
﴿میں نے اپنے خداوند خدا سے تین درخواستیں کیں جن میں سے دو مجھے عنایت کر دیں اور ایک مجھے نہ دی۔ میں نے کہا میری امت کو عام قحط سے تباہ نہ کرے اور میری امت طوفان سے غرق نہ ہو۔ یہ دونوں معروضات منظور ہو گئے اور تیسری عرضداشت یہ پیش کی کہ ان میں خانہ جنگی نہ ہو یہ درخواست بوجہ مخالفت قدر بار آور نہ ہوسکی۔﴾
اور خباب بن ارت کا بیان ہے: "صلى بنا رسول الله صلوة فاطالها قالوا يا رسول الله صليت صلوة لم تكن تصليها قال اجل انها صلوة رغبت ورهبة وانى سالت الله فيها ثلاثاً فاعطانى اثنتين ومنعنى واحدة سالته الا يهلك امتى بالسنة فاعطانيها وسالته ان لا يسلط عليهم عدواً من غيرهم فاعطانيها وسألته ان لا يذيق بعضهم باس بعض فمنعنيها رواه الترمذى والنسائى“ ترمذی اور نسائی نے نقل کیا ہے کہ خباب بن ارت نے یہ تذکرہ سنایا کہ آنحضرت نے ہمیں طویل نماز پڑھائی صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے عام معمول سے الگ یہ نماز ہمیں پڑھائی ہے آپ نے فرمایا کہ اس نماز سے رغبت اور شوق اور خوف الٰہی کا اظہار مقصود ہے میں نے تین درخواستیں اپنے مالک کے سامنے پیش کیں۔ میری امت کو عام قحط سے تباہ نہ کیا جائے اور غیر دشمن ان پر مسلط نہ ہو۔ اور ان میں خانہ جنگی نہ ہونے پائے۔ پہلی دو درخواستیں منظور ہو گئیں اور تیسری اپنے حال پر رہی۔﴾
٢٨
اور ابو داؤد نے ابو مالک اشعری سے روایت کیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ” ان الله عزوجل اجاركم من ثلث خلال ان لا يدعوا عليك نبيكم يتحل كموا جميعا وان لا يظهر اهل الباطل على اهل الحق وان لا تجتمعوا على ضلالة“
﴿خدا نے تم کو تین مصیبتوں سے امن میں رکھا ہے تمہارے خلاف تمہارا پیغمبر بددعا نہ کرے گا کہ تم سب فنا ہو جاؤ اور اہل باطل حق پرستوں پر غلبہ نہ پائیں گے۔ اور گمراہی پر تم متفق نہ ہوگے۔﴾
یعنی آنحضرت کی امت پر ایسا عذاب نہ آئے گا کہ تمام دنیا سے نابود ہو جائیں۔ البتہ بسا اوقات بطور تازیانہ عبرت انواع و اقسام کے عذاب آتے رہیں گے۔ خود آنحضرت ﷺ نے امت میں ظہور عذاب کی خبریں سنائی ہیں جس قدر مصائب و آلام امت پر آتے ہیں وہ پہلے دن سے پیغمبر خدا کی خبر کی تصدیق ہے۔ نہ کہ مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ سے یہ عذاب نازل ہو رہے ہیں۔ اگر طاعون کو امت کے لئے عذاب مانا جائے تو یہ حضرت کی پیش گوئی کا نتیجہ ہے۔ مرزا قادیانی کے انکار سے اس کا تعلق نہیں۔
ضمن سوم...... طاعون کا ظہور زمانہ ہذا سے قبل بارہا ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں مدائن میں طاعون واقع ہوئی اور بعہد خلیفہ ثانی عمر فاروق شام میں طاعون عمواس رونما ہوئی۔ آپ سفر شام کا عزم کر کے جارہے تھے کہ راستہ میں ابو عبیدہ نے ملک میں وبائے طاعون کی خبر سنائی آپ نے تمام صحابہ کو مدعو کر کے مجلس شوریٰ منعقد کی کہ شام کی طرف قدم بڑھائیں یا واپس مدینہ جائیں چنانچہ مؤطا مالک میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔
حضرت عمر کے عہد میں طاعون کا ظہور
”ان عمر بن الخطاب خرج الى الشام حتى اذا كان بسرغ لقيه امراء الاجناد ابو عبيدة بن الجراح واصحابه فاخبروه ان الوباء قد وقع بالشام قال ابن عباس فقال عمر بن الخطاب ادع لى المهاجرين الاولين فدعاهم فاستشارهم واخبرهم ان الوباء قد وقعت بالشام فاختلفوا فقال بعضهم قد خرجت لامر ولا نرى ان ترجع وقال بعضهم معك بقية الناس واصحاب رسول الله ﷺ ولا نرى ان تقدمهم على هذه الوباء فقال عمر ارتفعوا عنى ثم قال ادع لى الانصار فدعوتهم فاستشارهم فسلكوا سبيل المهاجرين واختلفوا كاختلافهم فقال لهم ارتفعوا عنى ثم قال ادع من كان
٢٩
ههنا من مشيخة قريش من مهاجرة الفتح فدعو تهم فلم يختلف عليهم منهم اثنان فقالوا نرى ان نرجع بالناس ولا نقدمهم على هذا الوباء فنادى عمر بن الخطاب فى الناس انى مصبح على ظهر فاصبحوا عليه فقال ابو عبيدة افرارا من قدر الله قال عمر لو غيرك قالها يا اباعبيدة نعم نفر من قدر الله الى قدر الله ارايت لو كان لك ابل فهبطت وادياله عدوتان احدهما مخصبة والاخرى جدبة اليس ان رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله وان رعيت الجدبة رعيتها بقدر الله فجاء عبدالرحمن بن عوف وكان غائبا فى بعض حاجة فقال ان عندى من هذا علما سمعت رسول الله ﷺ يقول اذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه وان وقع بارض فانتم بها فلا تخرجوا فرارا منه قال ابن عباس فحمد الله عمر ثم انصرف رواه مالك عن عبدالله بن عامر نحوه وعن سالم بن عبدالله مثل ذلك“
حضرت عمر بن خطابؓ نے سفر شام کا عزم کیا۔ سرغ پر جو ایک مقام کا نام ہے پہنچتے ہی جرنیلان لشکر ابوعبیدہ وغیرہم کی زبانی ملک شام میں طاعون کی زور کی خبر سنی حضرت ابن عباسؓ کے بیان کی رو سے حضرت فاروقؓ نے مہاجرین اولین کو بلا کر ان سے مشورہ کیا کہ وباء کا شام میں زور وشور ہے اب کس تجویز پر عمل کرنا چاہئے۔ پیش قدمی کریں یا مدینہ کو رخ بدلیں۔ مہاجرین نے کوئی قطعی رائے جس پر ان کا اتفاق ہو نہ بتلائی اور مختلف رائے ظاہر کرنے لگے۔ کوئی کہتا تھا واپسی مناسب ہے کیونکہ سرور کائنات کے بہترین اصحاب اور چیدہ بزرگ آپ کے ہمراہ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالیں اور وہاں وباء میں ان کی عزیز جانیں دے دیں۔ اور دوسرے بولے واپس جانا ٹھیک نہیں۔ پھر انصار کو بلایا وہ بھی مہاجرین کے رویہ پر چلے اور ان میں بھی ویسے ہی اختلاف ہوا جیسے مہاجرین میں تھا۔ پھر ان کی مجلس کو برخاست کر دیا۔ اور مشائخ، قریش کو بلایا۔ ان میں کوئی اختلاف نہ ہوا اور بالاتفاق یہ رائے دی کہ واپس مدینہ ہونا چاہئے اور وباء میں اپنا قدم نہ رکھنا چاہئے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے نداء عام کر دی کہ کل صبح ہم کوچ کریں گے۔ ابوعبیدہؓ نے اعتراض کیا کہ آپ تقدیر الٰہی سے بھاگتے ہیں عمر فاروقؓ نے جواب دیا کہ اگر آپ کے سوا کوئی دوسرا ایسے کلمات کہتا تو چنداں قابل اعتراض نہ تھا لیکن تمہارے لئے یہ زیبا نہیں میں مسئلہ تقدیر کو مثال دے کر سمجھا دیتا ہوں۔ جس روش کو ہم باختیار خود پسند کریں گے۔ وہی ہمارے حق میں تقدیر ہو جائے گی۔ اس طرح ہم تقدیر کی ایک رخ سے دوسری رخ کی طرف
٣٠
٢٠٩ جارہے ہیں بتلاؤ تو سہی کہ اگر تم کسی میدان میں فرو دوسرا خشک جس کنارے تم اپنے شتر چرنے چھوڑ د ترک کر کے سبز خطہ اختیار کرے تو یہ تقدیر کی مخالفت ہے۔) اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ جو ک آ پہنچے اور یہ حدیث سنائی کہ جہاں طاعون واقع ہو و جائے تو بھاگو نہیں۔ حضرت عمرؓ حمد خدا بجا لائے ا سرگزشت حضرت ابن عباس عبداللہ بن عامر اور عمواس سیف بن عمرو کی تحریر کی رو سے ١٨ھ میں چونکہ اس طاعون نے لوگوں کو بدحال کر دیا تھا اس اور کوفہ میں باثناء ٤٩ء طاعون ظاہر ہ نمودار ہوئے اور حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ٦٦ بصرہ میں دوسری بار طاعون پھیلی جو طاعون فتیات واسط میں رونما ہوئی ان پانچ طاعونوں کی تصریح ہر زمانہ میں بہت دفعہ طاعون اپنا رنگ دکھلا چکی۔
طاعونات کا وقتاً فوقتاً ظہور
شام میں طاعون عمواس کے بعد دوس ارطاة حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں ٠٠ ١٠٧ھ و ١١٥ھ طاعون نے لوگوں کی حالت خستہ بیان کیا گیا ہے کہ ١٦ھ میں بعلاقہ عراق وشام طاعون غرابہا اور مسلم بن قتیبہ وارد ہوئی اور سال میں تین ماہ متواتر طاعون نے سخت حملہ کیا۔ بنو ا ٢٤٩ھ میں عراق کے علاقہ میں طاعون نے غل اور بروصہ میں اس بیماری نے اپنے دانت تیز بغداد اور ٣٤٤ھ میں بلدہ و اصفہان اور ٣٤٦ء میں ببلاد ہندوستان و عجم و علاقہ جبل و ماورا بغداد تک پہنچی اور ٤٣٩ھ میں موصل و جزیرہ
جا رہے ہیں بتلاؤ تو سہی کہ اگر تم کسی میدان میں فروکش ہو جس کے دو کنارے ہیں ایک سرسبز اور دوسرا خشک جس کنارے تم اپنے شتر چرنے چھوڑو گے وہ بحکم تقدیر ہوگا۔ (اگر کوئی خشک کنارہ ترک کر کے سبز خطہ اختیار کرے تو یہ تقدیر کی مخالفت نہیں بلکہ حزم واحتیاط اور تقدیر کی موافقت ہے۔) اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف جو کسی ضروری کام کے لئے مجلس سے غائب تھے آ پہنچے اور یہ حدیث سنائی کہ جہاں طاعون واقع ہو وہاں جاؤ نہیں اور اگر تمہارے شہر میں طاعون پڑ جائے تو بھاگو نہیں۔ حضرت عمرؓ حمد خدا بجا لائے اور مدینہ کو کوچ کیا۔ امام مالک نے یہ ساری سرگزشت حضرت ابن عباس عبداللہ بن عامر اور سالم بن عبداللہ سے روایت کی ہے۔ طاعون عمواس سیف بن عمرو کی تحریر کی رو سے ١٨ھ میں اس کا ظہور ہوا اور عمواس عم واسار کا مخفف ہے چونکہ اس طاعون نے لوگوں کو بدحال کر دیا تھا اس لئے اس نام سے نامزد ہوئے۔ ﴾
اور کوفہ میں باثناء ٣٩ھ طاعون ظاہر ہوئی اور طاعون جارف ٦٥ھ لغایت ٨٠ھ میں نمودار ہوئے اور حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ٦٦ھ میں مصر میں عام طاعون اپنا کام کر رہی تھی اور بصرہ میں دوسری بار طاعون پھیلی جو طاعون فتیات کے نام سے نامزد ہے ازاں بعد طاعون اشراف واسط میں رونما ہوئی ان پانچ طاعونوں کی تصریح مدائنی نے تاریخ میں ذکر کی ہے علاوہ ان کے ہر زمانہ میں بہت دفعہ طاعون اپنا رنگ دکھلا چکی ہے۔
طاعونات کا وقتاً فوقتاً ظہور
شام میں طاعون عمواس کے بعد دوسری بار طاعون نے کھلبلی مچادی۔ پھر طاعون عدی بن ارطاۃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں ١٠٠ھ میں واقع ہوئی اور پھر تیسری بار شام میں باثناء ١٠٧ھ و ١١٥ھ طاعون نے لوگوں کی حالت خستہ کر دی کذا ذکر ابن کثیر فی تاریخہ اور مراۃ الزمان میں بیان کیا گیا ہے کہ ١١٦ھ میں بعلاقہ عراق وشام طاعون کا زور شور تھا اور بصرہ میں تیسری چوتھی بار طاعون غراباً اور مسلم بن قتیبہ وارد ہوئی اور سال ١٣١ھ کا دور دورہ تھا کہ ماہ رجب وشعبان ورمضان میں تین ماہ متواتر طاعون نے سخت حملہ کیا۔ بنو امیہ کا دور تھا۔ طاعون کا سمندر اس عہد میں موجزن رہا ٢٣٩ھ میں عراق کے علاقہ میں طاعون نے خلق اللہ کو ستایا اور ٢٠٨ھ کا دوران تھا جبکہ اذربے جان اور بردعہ میں اس بیماری نے اپنے دانت تیز کئے اور ٢٠٩ھ میں بلاد فارس اور ٢٣١ھ میں بعلاقہ بغداد اور ٣٤٣ھ میں ببلدہ اصفہان اور ٣٤٦ھ میں بنواحی عراق اور ٤٠٦ھ میں بشہر بصرہ اور ٤٢٣ھ میں ببلاد ہندوستان و عجم وعلاقہ جبل وباء نے خلق اللہ کی تباہی کی اور ٤٢٥ھ میں شیراز سے بصرہ اور بغداد تک پہنچی اور ٤٣٩ھ میں موصل وجزیرہ اور بغداد پر اس نے اپنا تسلط جمایا اور پھر ٤٤٨ھ میں
٣١
مصر و شام و بغداد پر اس کا تصرف رہا اور ٤٤٩ھ میں بلاد عجم میں اس کا شیوع تھا اور ٤٥٥ھ میں مصر پر تباہی ڈالی اور ٤٦٩ھ میں شہر اور دمشق پر اس شدومد سے حملہ آور ہوئی کہ پانچ لاکھ آبادی میں سے صرف ساڑھے تین ہزار باقی رہ گئے اور بعدہ ٤٧٨ھ میں عراق اور ٥٠٢ھ میں علاقہ حجاز اور یمن اس کے پنجہ میں گرفتار تھا اور ٤٤٩ھ کی طاعون اس قوت سے ظاہر ہوئی کہ شرق و غرب سے کوئی ملک کوئی صوبہ کوئی ضلع کوئی شہر اس کے حملہ سے خالی نہ رہا ابن ابی حجلہ کا بیان ہے کہ قریباً نصف عالم یا زیادہ اس طاعون میں عالم بقاء کو سدھارا۔ اور ٧٧٤ھ میں دمشق اور قاہرہ پر اور پھر ٧٧١ھ میں خاص دمشق پر اور ٧٨١ھ میں خاص قاہرہ پر طاعون نے تاخت کی۔ ٧٩٦ھ اور ٨١٣ھ اور ٨١٩ھ اور ٨٢١ھ اور ٨٢٢ھ اور ٨٣٣ھ میں طاعون نے قاہرہ پر چڑھائی کی اور آخری طاعون وسعت کے لحاظ سے بے نظیر تھی بعدہ ٨٤١ھ میں مصر میں اس مہلک مصیبت نے اپنا اثر دکھلایا اور ٨٤٩ھ میں ماہ ربیع الاول میں لغائت ماہ ذالحجہ طاعون نے وہ یورش ڈالی کہ الامان الامان اور ٨٥٣ھ میں طاعون اس زور و شور سے ظاہر ہوئی کہ روزانہ پانچ ہزار آدمی نذر موت ہوتا تھا اور ٨٦٣ھ میں مصر و شام کے اندر طاعون نے وہ جارحانہ حملہ کیا کہ جس کی برداشت مشکل تھی اور مکرر ٨٧٤ھ میں بنواحی مصر و شام طاعون نے خلق خدا کو پریشان کر دیا اور پھر ٨٨١ھ میں شام و مصر میں اس کا دور ثانیہ ہوا اور ٨٩٩ھ میں روم کے اندر اس نے اپنا جوش دکھلایا اور ٨٩٧ھ میں بشہر حلب اس بیماری نے اپنے اثر سے خلق اللہ کو عالم جاودانی کا راستہ بتایا اور عملداری نصاریٰ میں بہت دفعہ طاعون واقعہ ہو چکی ہے۔ ١٣٤٨ء میں طاعون نے انگلستان پر چارلس دوم کے عہد میں تاخت و تاراج ڈالی شاہ جہاں کے عہد میں ببلاد ہندوستان طاعون بڑی سختی سے واقع ہوئی۔ ١٣٤٨ء میں ایک مہلک وبا مشرق سے حرکت میں آئی اور فرانس کی ثلث آبادی کو نیست و نابود کر گئی۔
طاعون کا ظہور علامت بعثت نبی نہیں
اب جماعت مرزائیہ سے سوال ہے کہ طاعونات مذکورہ میں جو انبیاء مدعی ہوئے ہیں ان کا بحوالہ تاریخ پتہ بتلائیں اور اگر اس بات سے عاجز رہیں تو پھر تسلیم کرنا ہو گا کہ طاعون نبی کے انکار سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں گناہ اور بدکاری کا مادہ جب زیادہ ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ حسنات سیئات کے مقابلہ بالکل کم نظر آنے لگتی ہے۔ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے گوناگوں عذاب نازل ہوتے ہیں۔ انما هی اعمالكم احصيها عليكم فمن وجد خيرا فليحمد الله ومن وجد شرا فلا يلومن الا نفسه یہ جنرل رول ہے کہ جب تک حسنات سیئات دنیا میں مساوی الوزن رہیں کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا۔ لیکن سیئات جب غالب الوزن ہوں تو ہر سال خدائے ٣٢ ٢١١ تعالیٰ اپنے قہر اور شدت کا رنگ بدلتا اور مخلوقات کو عبرتناک واپس آئیں۔
مانا کہ انکار نبی کو نزول عذاب لازم ہے۔ مگر انکار پر استدلال نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ لازم عام کے تحقق پـ اس بناء پر منطقیوں نے یہ قاعدہ تجویز کیا ہے کہ موجبہ کلیہ کا کہ کل انسان حیوان کا عکس بعض الحیوان انسان صحیح اور کـ دوسری مثال کل مسجد يخلع النعل خارجه کا عکس مسجد ثابت نہیں اس لئے کہ بسا اوقات گرجا گھر ۔ بـ جاتے ہیں پھر قضیہ معکوس کس طرح صحیح ہوگا۔ البتہ بعض ”مـ مسجد “ منطبق ہے صرفیوں نے یہ قاعدہ لکھا ہے کہ ”کـ عين كلمته اولامها حرف من حروف الحلق ‘ ہے یعنی ”باب یفتح فی عین کلمته اولا مها مـ ابواب منع “ بالکل خلاف واقع ہے اس لئے کہ وعـ حلق سے ہے۔ باب ضرب سے مستعمل ہے۔ اسی قیاس پـ واقعا كان العذاب نازلاً “ صحیح ہے لیکن اس ا بموجب قاعدہ منطق جزئیہ شرطیہ آتا ہے ”قد يكون ا النبي واقعاً “ اور یہ بعینہ اس قضیہ کے مطابق ہے کہ کل کا عکس ”قد يكون اذا كان هذا حيوانا كان انسـ مستلزم تحقق ملزوم نہیں۔ اہل میزان اور اصولیوں نے لکھا ہـ ثبوت الخاص “ ( اتقان جلال الدین سیوطی وکـ ”العام لا يدل الخاص “ بناء علیہ عذاب جو گاہے ہوتا ہے علی الخصوص وجود اور تکذیب نبی پر دلالت نہیں کر وقوع طاعون کو مرزا قادیانی کی تصدیق کے یہ ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کو جماعت مرزا گزشتہ نبیوں کے بشارات اور آئندہ پیش گوئیاں اور اعجـ لئے کافی ثبوت ہیں۔ مرزا قادیانی کی رسالت کی تائیـ ٣٣
تعالیٰ اپنے قہر اور شدت کا رنگ بدلتا اور مخلوقات کو عبرتناک واقعات دکھاتا ہے تاکہ وہ سمجھیں اور واپس آئیں۔
مانا کہ انکار نبی کو نزول عذاب لازم ہے۔ مگر نزول عذاب سے وجود نبی اور اس کے انکار پر استدلال نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ لازم عام کے تحقق سے ملزوم خاص کا تحقق ثابت نہیں ہوتا۔ اس بناء پر منطقیوں نے یہ قاعدہ تجویز کیا ہے کہ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہوا کرتا ہے اور لکھا ہے کہ کل انسان حیوان کا عکس بعض الحیوان انسان صحیح اور کل حیوان انسان خطا ہے۔ اسی طرح کی دوسری مثال کل مسجد يخلع النعل خارجه کا عکس کل ما يخلع النعل خارجه فهو مسجد ثابت نہیں اس لئے کہ بسا اوقات گرجا گھر ۔ دھرم سالہ اور شوالہ میں بھی پاپوش اتار کر جاتے ہیں پھر قضیہ معکوس کس طرح صحیح ہوگا۔ البتہ بعض ”ما يخلع النعل خارجه فهو مسجد“ منطبق ہے صرفیوں نے یہ قاعدہ لکھا ہے کہ ”كل باب من ابواب منع يجئ فى عین کلمته اولامها حرف من حروف الحلق“ لیکن قضیہ معکوسہ بصورت کلیہ بالکل غلط ہے یعنی ”باب یجئ فی عین کلمته او لامها حرف من حروف الحلق فهو من ابواب منع“ بالکل خلاف واقع ہے اس لئے کہ وعلا یعلا باوجودیکہ عین کلمہ اس کا حروف حلق سے ہے۔ باب ضرب سے مستعمل ہے۔ اسی قیاس پر قضیہ شرطیہ کلما ”کان تکذیب النبی واقعا کان العذاب نازلاً“ صحیح ہے لیکن اس کا عکس بصورت کلیہ صحیح نہیں بلکہ عکس اس کا بموجب قاعدہ منطق جزئیہ شرطیہ آتا ہے ”قد يكون اذا كان العذاب نازلا كان تكذيب النبی واقعاً“ اور یہ بعینہ اس قضیہ کے مطابق ہے کہ کلما ”کان هذا انسانا كان حيوانا “ کا عکس ”قد يكون اذا كان هذا حيوانا كان انسانا“ مستعمل ہے کیونکہ لازم عام کا وجود مستلزم تحقق ملزوم نہیں۔ اہل میزان اور اصولیوں نے لکھا ہے۔ ”ثبوت العام لا يستلزم ثبوت الخاص“ (اتقان جلال الدین سیوطی و کتب منطق) اور اعلام الموقعین میں لکھا ہے ”العام لا يدل الخاص“ بناء علیہ عذاب جو گاہے انکار نبی اور گاہے معصیت الٰہی سے نازل ہوتا ہے علی الخصوص وجود اور تکذیب نبی پر دلالت نہیں کرتا۔ اس لئے دلیل ناتمام ہے۔
وقوع طاعون کو مرزا قادیانی کی تصدیق کے لئے بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے لیکن اوّل یہ ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کو جماعت مرزائیہ ثابت کرے یعنی معجزات و خوارق اور گزشتہ نبیوں کے بشارات اور آئندہ پیش گوئیاں اور اخلاق فاضلہ اور دیگر شواہد آثار جو نبوت کے لئے کافی ثبوت ہیں۔ مرزا قادیانی کی رسالت کی تائید پیش کرے۔ پھر نزول عذاب کو ان کی
٣٣
عمر ”یہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کا بکلی استیصال کر رہا ہے۔ ہمیں مرزا قادیانی کی تحریرات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسے دعاویٰ پیش کرنے کے عادی ہیں جو آنحضرتﷺ کے بالکل معارض اور قرآن وسنت کے مد مقابل ہوں۔
محدث کی وحی دخل شیطانی سے منزہ نہیں ہوتی
٢...... آپ فرماتے ہیں کہ محدث کی وحی دخل شیطانی سے منزہ کی جاتی ہے جو یہ دعویٰ نہ صرف اہلسنت کے عقائد کیخلاف ہے بلکہ جملہ اہل اسلام کے معارض ہے۔ کتاب وسنت میں کوئی اشارہ بھی موجود نہیں جو عصمت وحی محدثین کا کفیل ہو۔ صحابہ کرام جو حضرت عمرؓ کی محدثیت کے معترف تھے مگر بہت سے مسائل میں ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ آپ جنب کے لئے بحالت سفر، مرض میں تیمم کو روا نہیں رکھتے تھے اور دیگر صحابہ تیمم کے قائل تھے۔ آپ متعہ الحج کے معترف نہ تھے دوسرے صحابہ متعہ الحج کے قائل تھے۔ اگر آپ کی وحی معصوم تھی تو صحابہ پر ان کا اتباع لازم ہوتا اور مخالفت ہر طرح ممنوع اور حرام ہوتی۔ حضرت عمر فاروقؓ نکاح میں گرانمایہ مہر مقرر کرنے کی ممانعت کرتے ہیں اور ایک عورت گوشہ سے کھڑی ہو کر بحوالہ قرآن آپ کے خیال کی مخالفت کرتی ہے اور کہتی ہے کہ خدا نے تو ہمیں مہر گراں مایہ کی اجازت دی ہے اور ارشاد کیا ہے: ’’وان اردتم استبدال زوج مکان زوج وآتيتم احداهن قنطارا فلاتاخذوا منه شيئاً اتاخذونه بهتانا واثما مبينا (نساء:٢٠)‘‘ تو حضرت عمرؓ لاجواب ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’كل الناس افقه منك يا عمر‘‘ اور بالآخر اس عورت کے استنباط کو بنظر استحسان دیکھتے اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اب بھی کوئی شبہ باقی ہے کہ محدث معصوم الرائے نہیں ہوتا؟
محدث کا لفظ منسوخ ہو گیا ہے
یہی وجہ ہے کہ محدث کا ذکر ایک قراءۃ میں رسول اور نبی سے مقرون بیان کیا گیا ہے لیکن بعد ازاں اسے منسوخ کر کے ساقط کر دیا گیا چنانچہ اب یہ لفظ آیۃ ’’وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القی الشیطان فی امنیته (حج:٥٢)‘‘ میں موجود نہیں تاکہ یہ سقوط اس امر پر دلیل ہو کہ محدث کا حکم نبی اور رسول سے متفاوت ہے اور جو قوم محدث کو نبی اور رسول کے مساوی سمجھتی ہے ان کا شبہ دور ہو: ’’وقرء ابن مسعود ولا نبی ولا محدث وعن سعد بن ابراهيم بن عبدالرحمن بن عوف مثله وزاد فنسخت محدث حاشیہ جامع البیان‘‘ یعنی ابن مسعودؓ نے نبی کے ساتھ محدث کا لفظ بھی پڑھا ہے
٣٥
لیکن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کا قول ہے کہ یہ لفظ منسوخ ہو کر ساقط ہو گیا ہے۔ گویا لفظ ساقط کا حکم الفاظ مذکورہ سے جدا اور متفاوت ہو گیا ہے اور محدث کی وحی تلبیس شیطانی سے رسول و نبی کی طرح منزہ نہیں ہوتی۔
جب کوئی لفظ قرآن سے بصیغہ نسخ ساقط ہو جائے تو اس کا حکم تبدیل ہو جاتا ہے جیسے آیت ”فمن كان منكم مريضاً او على سفر فعدة من ايام اخر“ میں تتابع کا لفظ بھی نازل ہوا تھا جس کا یہ اثر تھا کہ ہر ایک قضاء کنندہ صیام علی الترتیب اور متواتر روزہ رکھتا تھا۔ لیکن جب یہ لفظ ساقط ہو گیا تو قضاء کے حکم میں تبدیلی واقع ہوئی اور کہا گیا: ”ان شاء فرق وان شاء تابع على هذا القياس“ جب محدث کا لفظ ساقط ہو گیا تو اس کی وحی اور الہام کا حکم انبیاء کی وحی سے بالکل مختلف ہو گیا۔ انبیاء کی وحی تلبیس شیطانی سے منزہ کر دی گئی۔ برخلاف محدث کے کہ اس کی وحی دخل شیطانی سے پاک نہیں۔
ضمن چہارم ....... جماعت مرزائیہ اس موقع پر آیت ”وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا“ سے بھی استدلال کیا کرتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ نزول عذاب بعثت نبی کی علامت ہے اور یہ عادت اللہ جاری ہے کہ جس وقت دنیا میں کوئی نذیر ظاہر ہو اور اس کی اتباع سے قوم منحرف ہو تو خدا اس کی تصدیق اور قوم کی تنبیہ کے لئے عذاب نازل کرتا ہے مگر یہ دعوائے بروئے آیت بالکل محاورات عرب اور قواعد صرفیہ اور لغویہ کے خلاف ہے کنا ماضی معلوم کا صیغہ ہے جو خدائے تعالیٰ کی گذشتہ عادت کو ظاہر کرتا ہے کہ زمانہ ماضی میں وہ ایسا کرتا رہا ہے کہ جب قوم نے نبی کا انکار کیا تو خدا نے تازیانہ عذاب سے انہیں بیدار کیا یا بالکل ان کا استحصال کر دیا۔ آئندہ زمانہ پر آیت ہذا کا کوئی اثر نہیں بلکہ سورہ احزاب کی حسب ذیل آیت: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب: ٤٠)“ آئندہ زمانہ پر حاوی ہے۔
وما كنا معذبين کے معنے
لہٰذا حضور علیہ السلام کی بعثت سے بعد کا زمانہ ”وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا“ کے ماتحت داخل نہیں کیونکہ آیت ختم نبوۃ نے آئندہ زمانہ کے لئے انبیاء کی بعثت کو مسدود کر دیا ہے لہٰذا قرآن کی دوسری آیت خود پہلی آیت کے یہی معنے بتلا رہی ہے کہ اس کا اثر زمانہ قبل بعثت رسول کریم سے وابستہ ہے جماعت مرزائیہ جن معنے کی شیداء ہے وہ آیت ختم نبوۃ سے معارض ہیں اور آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”انما نزل القرآن يصدق بعضه بعضا فلا تضربوا كتاب الله بعضه ببعض“ یعنی قرآن ایک دوسرے حصہ کا مصدق نازل ہوا ہے تم
٣٦
خدا کی کتاب کو آپس میں نہ ٹکراؤ یعنی کتاب اللہ کے ایسے واقع ہو مگر مرزا قادیانی کو آنحضرت کی پندو نصیحت سے کیا سر
خاتم النبیین کے معنے
چونکہ آیت احزاب مرزا قادیانی کے محل مقصود اس لئے وہ اس کی تاویل کی فکر میں ہوئے اور خاتم کو بمعنے آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ مگر وہی جس کی تصدیق و دستخط کریں اور مہر ثبت کریں۔ مگر یہ قرارداد نہ صرف کلمات طیبات حضور علیہ السلام کے منافی ہے اور مفسرین ہے۔ مدارک التنزیل میں لکھا ہے: ”ای آخرهم لا ي قبله وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة آنحضرت آخر الانبیاء ہیں کسی کو آپ کے بعد نبوت جد قرأت کے مطابق ہیں جو خاتم کو بفتح تا پڑھتے ہیں اور جلال التاء كالآلة الختم اى به ختموا“ اگر خاتم کو بکسر ہیں ما يختم به الشئ یعنی جو سب سے آخر میں مستعمل ہے اس کی دوسری مثال لفظ خاتم ہے: ”ختم ا عاصم خاتم بفتح التاء على الاسم اى آخرهم الفاعل لانه ختم به النبيين فهو خاتمهم“ اور علامہ نجم الدین نسفی نے بھی خاتم میں ہرد ہے ”وغيره بكسر التاء بمعنى الطابع وفاع وتكن نبيا ختم النبيين“ اگر خاتم بمعنے مہر ہے تو جاتی ہے کہ تکمیل کی دلیل ہو۔ تھیلی کا منہ بند کر کے اس پر خارج نہیں ہو سکتی تو اندریں حالت بھی یہ لفظ اختتام نبوت جو معنے ذکر کئے ہیں وہ پنجابی محاورات کو ملحوظ رکھتے ہوئے لیتے تو اس غلطی میں گرفتار نہ ہوتے۔ اور خاتم النبیین مخالف اور قرأۃ کسر کی دوسری شق کے معارض ہیں۔ لکن کلام عرب میں اس وہم کے رفع کے
٣٧
خدا کی کتاب کو آپس میں نہ ٹکراؤ یعنی کتاب اللہ کے ایسے معنے بیان کرو کہ دو آیتوں میں تعارض نہ واقع ہو مگر مرزا قادیانی کو آنحضرت کی پند و نصیحت سے کیا سروکار وہ تو اپنی غرض کے تابع ہیں۔
خاتم النبیین کے معنے
چونکہ آیت احزاب مرزا قادیانی کے خلل مقصود اور ان کی ساختہ عمارت کو مسمار کرتی تھی اس لئے وہ اس کی تاویل کی فکر میں ہوئے اور خاتم کو بمعنے مہر قرار دے کر آیت کا یہ مطلب سنایا کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ مگر وہی جس کی نبوت پر بوجہ اتباع آنحضرت ﷺ خود تصدیقی دستخط کریں اور مہر ثبت کریں۔ مگر یہ قرارداد نہ صرف اجماع امت کے خلاف ہے بلکہ جملہ کلمات طیبات حضور علیہ السلام کے منافی ہے اور مفسروں کا کلمہ مرزا قادیانی کی تجویز کی نفی کرتا ہے۔ مدارک التنزیل میں لکھا ہے: ”ای آخرهم لا ينبأ احد بعد وعيسى ممن نبي قبله وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة محمدﷺ كانه بعض امته“ یعنی آنحضرت آخر الانبیاء ہیں کسی کو آپ کے بعد نبوت جدیدہ مرحمت نہیں ہو سکتی۔ یہ معنی عاصم کی قرأت کے مطابق ہیں جو خاتم کو بفتح تا پڑھتے ہیں اور جلالین میں لکھا ہے: ”وفی قرائه بفتح التاء كآلة الختم اى بم ختموا “ اگر خاتم کو بالفتح پڑھا جائے تو اسم آلہ ہے۔ جس کے معنی ہیں ما يختم به الشئ یعنی جو سب سے آخر میں ظاہر ہو اور اسم آلہ فاعل کے وزن پر یہی مستعمل ہے اس کی دوسری مثال لفظ عالم ہے: ”ختم الله به النبوة وقرء ابن عامر و عاصم خاتم بفتح التاء على الاسم اى آخرهم وقرء الآخرون بكسر التاء على الفاعل لانه ختم به النبيين فهو خاتمهم“
اور علامہ نجم الدین نسفی نے بھی خاتم میں ہر دو قرأت یعنی فتح و کسر کو نقل کیا ہے۔ اور لکھا ہے ”وغیره بكسر التاء بمعنى الطابع وفاعل الختم وتقويه قرأة ابن مسعود ولكن نبيا ختم النبيين “ اگر خاتم بمعنے مہر ہے تو صحیفہ مکمل ہونے کے بعد آخر میں مہر ثبت کی جاتی ہے کہ تکمیل کی دلیل ہو۔ تھیلی کا منہ بند کر کے اس پر مہر ثبت کی بات ہے کہ اب کوئی چیز داخل خارج نہیں ہو سکتی تو اندریں حالت بھی یہ لفظ اختتام نبوت کی صریح دلیل ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے جو معنے ذکر کئے ہیں وہ پنجابی محاورات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریر کر دیئے ہیں۔ اگر لغت عربیہ کی امداد لیتے تو اس غلطی میں گرفتار نہ ہوتے۔ اور خاتم النبیین کے ایسے معنے بیان نہ کرتے جو قرأۃ فتح کی مخالف اور قرأۃ کسر کی دوسری شق کے معارض ہیں۔
لکن کلام عرب میں اس وہم کے رفع کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کلام سابق سے ناشئ
٣٧
خدا کی کتاب کو آپس میں نہ ٹکراؤ یعنی کتاب اللہ کے ایسے معنے بیان کرو کہ دو آیتوں میں تعارض نہ واقع ہو مگر مرزا قادیانی کو آنحضرت کی پند و نصیحت سے کیا سروکار وہ تو اپنی غرض کے تابع ہیں۔
خاتم النبیین کے معنے
چونکہ آیت احزاب مرزا قادیانی کے محل مقصود اور ان کی ساختہ عمارت کو مسمار کرتی تھی اس لئے وہ اس کی تاویل کی فکر میں ہوئے اور خاتم کو بمعنے مہر قرار دے کر آیت کا یہ مطلب سنایا کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ مگر وہی جس کی نبوت پر بوجہ اتباع آنحضرت ﷺ خود تصدیقی دستخط کریں اور مہر ثبت کریں۔ مگر یہ قرار داد نہ صرف اجماع امت کے خلاف ہے بلکہ جملہ کلمات طیبات حضور علیہ السلام کے منافی ہے اور مفسروں کا کلمہ مرزا قادیانی کی تجویز کی نفی کرتا ہے۔ مدارک التنزیل میں لکھا ہے:”ای آخرهم لا ینبأ احد بعده وعیسیٰ ممن نبی قبله وحین ینزل ینزل عاملا علی شریعة محمدﷺ کأنه بعض امته“ یعنی آنحضرت آخر الانبیاء ہیں کسی کو آپ کے بعد نبوت جدیدہ مرحمت نہیں ہو سکتی۔ یہ معنی عاصم کی قرأت کے مطابق ہیں جو خاتم کو بفتح تا پڑھتے ہیں اور جلالین میں لکھا ہے: ”وفی قرائہ بفتح التاء کآلة الختم ای ما یختم به“ اگر خاتم کو بالفتح پڑھا جائے تو اسم آلہ ہے۔ جس کے معنی ہیں ما یختم به الشئ یعنی جو سب سے آخر میں ظاہر ہو اور اسم آلہ فاعل کے وزن پر یہی مستعمل ہے اس کی دوسری مثال لفظ عالم ہے:”ختم الله به النبوة وقرء ابن عامر و عاصم خاتم بفتح التاء علی الاسم ای آخرهم وقرء الآخرون بکسر التاء علی الفاعل لانه ختم به النبیین فهو خاتمهم“
اور علامہ نجم الدین نسفی نے بھی خاتم میں ہر دو قرأت یعنی فتح و کسر کو نقل کیا ہے۔ اور لکھا ہے ”وغیره بکسر التاء بمعنے الطابع وفاعل الختم وتقویہ قرأۃ ابن مسعود ولکن نبیا ختم النبیین“ اگر خاتم بمعنے مہر ہے تو صحیفہ مکمل ہونے کے بعد آخر میں مہر ثبت کی جاتی ہے کہ تکمیل کی دلیل ہو۔ تکمیل کا منہ بند کر کے اس پر مہر ثبت کی بات ہے کہ اب کوئی چیز داخل خارج نہیں ہو سکتی تو اندریں حالت بھی یہ لفظ اختتام نبوت کی صریح دلیل ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے جو معنے ذکر کئے ہیں وہ پنجابی محاورات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریر کر دیئے ہیں۔ اگر لغت عربیہ کی امداد لیتے تو اس غلطی میں گرفتار نہ ہوتے۔ اور خاتم النبیین کے ایسے معنے بیان نہ کرتے جو قرأۃ فتح کی مخالف اور قرأۃ کسر کی دوسری شق کے معارض ہیں۔
لیکن کلام عرب میں اس وہم کے رفع کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کلام سابق سے ناشئ
٣٧
ہو یعنی محمد ﷺ کی نسبت قوم کو یہ وہم تھا کہ زید ان کا بیٹا ہے تو خدا نے پہلے اس کی نفی کی اس نفی کے ضمن میں ایک دوسرا وہم پیدا ہوتا تھا کہ محمد ﷺ کو خدائے تعالیٰ نے نعمت اولاد نرینہ سے محروم کر دیا تو خدا نے اس وہم کو اس طرح رفع کیا کہ نعمت سے محروم نہیں کیا۔ بلکہ آپ کی ذات پر انعام کو مکمل کیا ہے کہ آئندہ کے لئے باب نبوت مسدود کر دیا جائے۔ اب آنحضرت کی حکومت روحانی تا ابد قائم رہے گی اور یہ بڑا افضل ہے ارشاد ہے: ”ان فضله كان عليك كبيرا“ اگر اولاد نرینہ آپ کی موجود ہوتی تو ختم نبوت کا کمال آپ کو حاصل نہ ہوتا۔ علامہ خازن نے لباب التاویل میں لکھا ہے: ”ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا معه قال ابن عباس يريد لو لم اختم به النبيين لجعلت له ابنا يكون بعده نبيا وعنه قال ان الله لما حكم ان لا نبى بعده لم يعطه ولداً ذكراً يصير رجلا وكان الله بكل شيء عليما ای دخل في علمه انه لا نبي بعده “ یعنی خدا نے حضرت کی ذات پر نبوت کو ختم کر دیا ہے۔ آپ ﷺ کے زمانہ میں اور نیز آپ کے زمانہ کے بعد کوئی پیغمبر نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ اگر میں نبوت کو ختم نہ کرتا تو آنحضرت ﷺ کے لئے اولاد نرینہ دیتا جو آپ کے پیچھے پیغمبر ہوتی اور ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ خدا جب یہ قطعی فیصلہ کر چکا کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت ختم ہے تو آپ ﷺ کو ایسی اولاد نرینہ نہ بخشی جو بالغ ہو کر منصب نبوت پر ممتاز ہونے کے قابل ہو اور یہ بات خدا کے علم میں پہلے سے شامل تھی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ علامہ سلیمان نے جمل میں تحریر فرمایا ہے: ”لانه لوبقى له ابن بالغ بعده لكان اللائق به ان يكون نبيا بعده فلا يكون هو خاتم النبيين (زاده) وأورد فى الكشف منع الملازمة اذ كثير من اولاد الانبياء لم يكونوا انبياء فانه اعلم حيث يجعل رسالته واجاب الشهاب عن ذلك بقوله الملازمة ليست على اللزوم العقلى والقياس المنطقى بل على مقتضى الحكمة الالهية وهى ان الله اكرم بعض الرسل يجعل اولادهم انبياء كالخليل ونبينا اكرمهم وافضلهم فلو عاش اولاده اقتضى تشريف الله له جعلهم انبياء “ یعنی اگر کوئی آپ کا بالغ لڑکا زندہ رہتا تو لائق تھا کہ وہ آپ کے بعد منصب نبوت پر ممتاز ہوتا لیکن علامہ نے کشف میں کہا ہے کہ یہ ملازمت ممنوع ہے بہت انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کی اولاد پیغمبر نہیں اگر حضرت کی اولاد نبی نہ ہوتی تو کوئی محذور لازم نہ آتا تھا۔ علامہ شہاب نے جواب دیا کہ ملازمت لزوم عقلی اور قیاس منطقی کے لحاظ سے مراد نہیں بلکہ حکمت الہیہ کا تقاضا یہ تھا کہ خدا نے بعض انبیاء کو یہ شرف بخشا ہے کہ ان کی
٣٨
اولاد کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم سے بزرگتر ہیں۔ یہ تشریف مقتضی تھی کہ آپ کی اولاد فضیلت میں بھی آپ کا دست بالا تر ہے۔ لیکن چونکہ غ نرینہ آپ کی زندہ نہ رہی اور اسی مضمون کو دوسری حدیث عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا اگر ابراہیم زن نبوت حضرت کے بعد مسدود ہو چکا ہے۔ اس لئے وہ زن اور امام نووی نے اس روایت کے متعلق یہ ہے اور ابن عبدالبر نے تنقید حدیث میں حسب ذیل الف فقد ولد نوح غير نبي “ یعنی میں نہیں جانتا ب باطل ہے حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا نبی نہ تھا۔ لیکن قول پر اعتراض کیا ہے: ”هو عجيب من النووى وكانه لم يظهر له تاويله فان الشرطيه لا تس الهجوم على مثله “ یعنی نووی کا مسلک عجیب ہیں امام نووی پر اصل تاویل حدیث کی مخفی رہی اس ل مطلب بالکل ظاہر ہے۔ شرطیت اور وقوع میں تلازم ن زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ لیکن نبوت حضور کے بعد مسدود ہ ممکن نہیں کہ صحابی از خود کوئی روایت تراش لے۔ (ت مقام پر ناظرین کو خیال ہوگا کہ بعض روایات میں ختم نب موجود ہے۔ جو سلسلہ فیض الہی کو تا دوام جاری رکھنے ک کر کے کہا ہے کہ استثناء کا مورد حضرت عیسیٰ علیہ السلا تذکرہ میں لکھا ہے: ”وطعن فيه المحققون فا مصلوب على الزندقة وان صحت التاوی على انه خاتم الانبياء واية الاحزاب وه ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان ذكر القاضي من تجويز الاحتمال فى الاقتصاد فالحاد ذو تطرق خبيث ف
٣٩
اولاد کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی اولاد نبی تھی اور ہمارے سید الرسل سب سے بزرگتر ہیں۔ یہ تشریف مقتضی تھی کہ آپ کی اولاد کو نبوت سے عہدہ پر فائز کیا جاوے اور اس فضیلت میں بھی آپ کا دست بالا رہے۔ لیکن چونکہ نبوت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس لئے کوئی اولاد نرینہ آپ کی زندہ نہ رہی اور اسی مضمون کو دوسری حدیث جو متقدمین نے نقل کی ہے ادا کرتی ہے لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی صدیق ہوتا۔ لیکن چونکہ باب نبوت حضرت کے بعد مسدود ہو چکا ہے۔ اس لئے وہ زندہ نہ رہا۔
اور امام نووی نے اس روایت کے متعلق یہ رائے ظاہر کی ہے باطل وجسارة علی الغیب ہے اور ابن عبدالبر نے تنقید حدیث میں حسب ذیل الفاظ استعمال کئے ہیں "لا ادرى ما هذا فقد ولد نوح غير نبی" یعنی میں نہیں جانتا یہ حدیث کس نوعیت کی ہے۔ کیونکہ ملازمت باطل ہے حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا نبی نہ تھا۔ لیکن حضرت حافظ ابن حجر نے دونوں مشائخ کے قول پر اعتراض کیا ہے : ”هو عجيب من النووى مع ورده عن ثلاثه من الصحابة وكانه لم يظهر له تاويله فان الشرطيه لا تستلزم الوقوع ولا يظن بالصحابى الهجوم على مثله “ یعنی نووی کا مسلک عجیب ہے۔ یہ روایت تین صحابہ سے ثابت ہے۔ یہاں امام نووی پر اصل تاویل حدیث کی مخفی رہی اس لئے وہ حدیث کو مطعون کرنے پر مجبور ہوئے مطلب بالکل ظاہر ہے۔ شرطیت اور وقوع میں تلازم نہیں۔ اس لئے معنے یہ ہوں گے۔ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ لیکن نبوت حضور کے بعد مسدود ہے اس لئے صاحبزادہ مذکور زندہ نہ رہا اور یہ ممکن نہیں کہ صحابی از خود کوئی روایت تراش لے۔ (تذکرہ محمد طاہر) اور (فوائد مجموعہ شوکانی) اس مقام پر ناظرین کو خیال ہوگا کہ بعض روایات میں ختم نبوت کے ساتھ الا ان يشاء الله کی قید موجود ہے۔ جو سلسلہ فیض الہی کو تا قیام جاری رکھنے کی موئید ہے جیسے طبری نے اس استثناء کو ذکر کر کے کہا ہے کہ استثناء کا مورد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات ہے اور بس لیکن علامہ محمد طاہر نے تذکرہ میں لکھا ہے: ”وطعن فيه المحققون قيل هو من محمد بن سعيد الشامي مصلوب على الزندقة وان صحت التاويل لعيسى عليه السلام اذا الاجماع على انه خاتم الانبياء واية الاحزاب وهو ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين و كان الله بكل شيء عليما نص فيه وما ذكر القاضى من تجويز الاحتمال فى الفاظ السلف وما ذكر الغزالى في الاقتصاد فالالحاد فيه تطرق خبيث في عقيدة المسلمين فالحذر الحذر ان ٣٩
تراه وليس كلام الغزالى يوهمه وانما رماه حسّاده ولذا فجاء عليه ابن عطية وفى جامع الصحاح روى محمد بن سعيد الشامى المصلوب عن انس رفعه انا خاتم النبيين ولا نبى بعدى الا ان يشاء الله فزاد الاستثناء لما كان يدعوا اليه من الالحاد والزندقه"
یعنی محققین نے استثناء یہ فقرہ پر طعن کیا ہے کہ یہ محمد بن سعید شامی کی ساخت ہے جو زندیقی کے باعث نذر صلیب ہوا۔ اگر چہ اس کی صحیح تاویل بھی ہو سکتی ہے۔ کہ استثناء کا مصداق مسیح بن مریم علیہ السلام کی ذات اطہر ہے اور کوئی نبی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جدیدہ سے ممتاز نہیں ہو سکتا کیونکہ رسالت مآب ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر امت کا اجماع ہے اور آیت الاحزاب ختم نبوت پر صریح نص ہے اور جو قاضی نے اجراء نبوت کا احتمال کمزور الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یا غزالی نے اقتصاد میں ذکر کیا ہے وہ الحاد ہے اور اسلامیہ عقائد میں ایک خبیث راہ نکالی گئی ہے۔ اس کے مطالعہ سے بھی پر ہیز کرنا لازم ہے۔ قاضی پر تو اعتراض بالکل درست ہے لیکن امام غزالی کے کلام سے یہ شائبہ پیدا نہیں ہوتا اسے محض حاسدین نے الزام دیا ہے اور ابن عطیہ نے اس پر دل کھول کر کلام کی ہے اور جامع الصحاح میں مذکور ہے کہ محمد بن سعید شامی نے حضرت انسؓ سے یہ روایت ذکر کی ہے: ”انا خاتم النبيين ولا نبي بعدى الا ان يشاء الله“ اور استثناء یہ فقرہ خود کلام میں بڑھا دیا ہے کیونکہ وہ الحاد اور زندیقی کی دعوت دیتا تھا۔ مدعی کا دعویٰ ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔
حدیث اوّل
بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا: ”كانت بنوا اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وأنه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قال فما تامرنا قال فوا ببيعة الاول فالاول فاعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم“
(بخاری شریف ج ١ ص ٤٩١، مسلم شریف ج ٢ ص ١٢٦)
﴿یعنی بنو اسرائیل پر انبیاء حکمرانی کرتے تھے ایک نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین بنتا میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہوگا۔ خلفاء بکثرت ہوں گے راوی نے دریافت کیا کہ ہمیں خلفاء کے متعلق کیا حکم ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو خلیفہ اولاً بیعت لے چکا ہے۔ اس کے عہد بیعت کو پورا کرو اسی طرح نمبر وار سلسلہ ہذا پر کار بند رہو اور ان کے حقوق برابر ادا کرو۔ خدا تعالیٰ خلفاء کو ٤٠
رعیت کے حقوق کی نسبت خود باز پرس کرے گا۔ اپنے حقوق کی کمی کی
حدیث دوم
مسلم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ الانبياء بست۔ اعطيت جوامع الكلم ونصرت بـ وجعلت لى الارض مسجدا وطهورا وارسلت
النبييون (مسلم شریف ج ١ ص ١٩٩)
دوسرے انبیاء پر مجھے چھ وجوہ سے فضیلت حاصل ہـ کئے ہیں کہ مختصر عبارت بے شمار مقاصد پر حاوی ہوتی ہے اور ایـ رعب سے لرزتے ہیں۔ یہ خدا کی میری ساتھ امداد ہے اور غنیمـ حلال نہ تھا کیونکہ ان کی دعوت ایک قوم یا علاقہ پر محصور ہوتی تھی ا کے لئے عام تھی اور ساری دنیا پر اس قوم کا اقتدار ہونا لازم تھا او کارکن اماکن بعیدہ اور بلاد شاسعہ سے نان وخورش اور ضروریـ عرب میں واپس جائیں۔ اس لئے آسانی کی خاطر خدا نے ایـ حال تھا اور مال غنیمت کو ان کے واسطے حلال کیا گیا۔ پہلی امـ معبد کے کسی دوسری جگہ نماز ادا نہ کریں اور وضوء ان کے لئے بہـ نے روئے زمین کو مسجد بنا دیا اور عذر کے وقت تیمم کا حکم صادر کیا دیکر بھیجا گیا۔ عالم ملائکہ اور جن اور انسان میری دعوت میں ذات پر ختم ہو گیا ہے۔
حدیث سوم
مسلم نے روایت کیا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ اس طرح نقل کیا ہے : ”كان النبي ﷺ يسمى لنا نفسـ احمد وانا المقفى وانا الماحى ونبى التوبة ونبى ا ﴿یعنی آنحضرت ﷺ ہمارے سامنے اپنے چند اسـ اور میرا دوسرا نام احمد بھی ہے اور تیسرا نام مقفی اور چوتھا نام ما کرنے والا ہوں اور میں نبی رحمت اور نبی توبہ بھی ہوں۔﴾ ٤١
رعیت کے حقوق کی نسبت خود باز پرس کرے گا۔ اپنے حقوق کی کمی و بیشی کا چنداں خیال نہ کرو۔ ﴾
حدیث دوم
مسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”فضلت علی الانبیاء بست۔ اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا و طهورا وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبییون (مسلم شریف ج ١ ص ١٩٩)“
دوسرے انبیاء پر مجھے چھ وجوہ سے فضیلت حاصل ہے مجھے خدا نے جامع کلمات عطا کئے ہیں کہ مختصر عبارت بے شمار مقاصد پر حاوی ہوتی ہے اور ایک ماہ کی مسیرہ تک دشمن میرے رعب سے لرزتے ہیں۔ یہ خدا کی میرے ساتھ امداد ہے اور غنیمت کا مال سابقہ امتوں کے لئے حلال نہ تھا کیونکہ ان کی دعوت ایک قوم یا علاقہ پر محصور ہوتی تھی۔ لیکن آنحضرت کی دعوت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور ساری دنیا پر اس قوم کا اقتدار ہونا لازم تھا اور یہ کسی طرح واجب نہ تھا کہ فوجی کارکن اماکن بعیدہ اور بلاد شاسعہ سے نان وخورش اور ضروری نفقہ حاصل کرنے کے لئے ملک عرب میں واپس جائیں۔ اس لئے آسانی کی خاطر خدا نے ایسا حکم دیا جو اس امت کے مناسب حال تھا اور مال غنیمت کو ان کے واسطے حلال کیا گیا۔ پہلی امتوں پر لازم تھا کہ وہ سوائے اپنی معبد کے کسی دوسری جگہ نماز ادا نہ کریں اور وضوء ان کے لئے بہر حال شرط تھا لیکن میرے لئے خدا نے روئے زمین کو مسجد بنادیا اور عذر کے وقت تیمم کا حکم صادر کیا اور مجھے کل خلقت کی جانب پیغمبری دیکر بھیجا گیا۔ عالم ملائکہ اور جن اور انسان میری دعوت میں شامل ہیں اور نبیوں کا سلسلہ میری ذات پر ختم ہو گیا ہے۔
حدیث سوم
مسلم نے روایت کیا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری نے جناب سرور کائنات ﷺ کا بیان اس طرح نقل کیا ہے: ”کان النبی ﷺ یسمی لنا نفسه اسماء فقال انا محمد وانا احمد وانا المقفى وانا الماحى ونبی التوبة ونبی الرحمة “
(مسلم شریف ج ٢ ص ٢٦١)
﴿یعنی آنحضرت ﷺ ہمارے سامنے اپنے چند اسماء بیان فرماتے تھے یعنی میں محمد ہوں اور میرا دوسرا نام احمد بھی ہے اور تیسرا نام مقفی اور چوتھا نام ماحی یعنی کفر و شرک اور ضلالت کا نابود کرنے والا ہوں اور میں نبی رحمت اور نبی توبہ بھی ہوں۔﴾ یہ چھ نام مجھے عطا ہوئے ہیں۔ علامہ
٤١
خازن نے بیان کیا ہے: ”المقفی هو المولى الذاهب يعنى آخر الانبياء المتبع لهم فاذا قفى فلا نبی بعدہ“ یعنی مقفی سے مراد آخر الانبیاء ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو اس تاویل سے پاک ہے جو مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کے لفظ میں اسکے اصلی مفہوم کو مشتبہ کرنے کی خاطر بیان کی ہے۔ خدا اپنے کلمات کو حد اشتباہ سے منزہ کر دیتا ہے تا کہ خلق اللہ تلبیس میں واقع نہ ہو۔
حدیث چہارم
ترمذی اور مسلم نے جبیر بن مطعم سے مرفوعاً روایت کیا ہے: ”ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحي الذي يمحوا الله بی الكفر وانا الحاشر الذی يحشر الناس على قدمى وانا العاقب والعاقب الذي ليس بعده نبي (ترمذی شریف ج ٢ ص ١١١، مسلم شریف ج ٢ ص ٢٦١)“ یعنی میرے کئی نام ہیں میں محمد بھی ہوں اور احمد بھی اور ماحی میرا نام ہے خدا روئے زمین سے میرے ذریعہ کفر کو نابود کرے گا۔ سب سے پہلے میرا حشر ہوگا لوگ میرے بعد قبروں سے نکلیں گے۔ اس لئے میرا نام حاشر ہوا اور عاقب بھی میرا نام ہے کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ مقفی کی طرح یہ لفظ بھی بے جا حاشیہ اور تاویل سے منزہ ہے۔
حدیث پنجم
ترمذی نے حضرت علی سے روایت کیا ہے: ”واذ التفت التفت معاً بین كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين“ یعنی آنحضرت کا مڑ کر دیکھنا بڑی سرعت سے عمل میں آتا تھا۔ آپ کے شانہ مبارک پر مہر نبوت کا نشان موجود تھا اور آپ خاتم النبیین تھے۔
حدیث ششم
بغوی نے عرباض بن ساریہ سے اور احمد نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ”انى عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينة (الحدیث)“ یعنی میں خدا کے ہاں اس وقت بھی خاتم النبیین لکھا ہوا تھا کہ جبکہ آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں لیٹے ہوئے تھے۔
حدیث ہفتم
حضرت جابرؓ نے آنحضرت سے نقل کیا ہے: ”انا قائد المرسلين ولا فخر وانا اول شافع ومشفع ولا فخر رواه الدارمی“ یعنی میں مرسلوں کا پیشرو ہوں۔ اور مجھے اس پر کوئی ناز نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں اور مجھے کچھ غرور نہیں اور میں شفیع اول مستجاب
٤٢
الشفاعت ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں۔
حدیث ہشتم
اور بخاری اور مسلم نے حضرت ثوبانؓ سے ہے: ”سيكون في امتي كذابون ثلاثون كلهم لا نبی بعدی“ یعنی میری امت میں تیس جھوٹے مد پیغمبر ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد سلسلہ
حدیث نہم
اور بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے نے فرمایا: ”مثلی ومثل الانبياء قبلي كمثل ر لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن انا سددت موضع اللبنة وختم بي الانبيا اللبنة وانا خاتم النبيين“ یعنی میرا اور نبیو عمارت خوب اچھی طرح پر تیار کی گئی تھی مگر ایک اینٹ لوگ اسکی خوب وضع عمارت دیکھ کر متعجب ہوتے تھے مگر پس میرے وجود سے یہ رخنہ بند ہو گیا اور عمارت مکمل چونکہ یہاں ایک شائبہ پیدا ہوتا تھا کہ رسول صاحب شریعت ہے کہ تشریعی رسالت ختم ہو چکی لیکن سلسلۂ نبوت الفاظ وارد ہیں جو اس شبہ سے مبرا ہیں۔ ”انا اللبن کی اینٹ ہوں اور نبوت مجھ پر ختم ہو چکی ہے میرے مسدود ہے۔
انجیل متی کی بشارت
در حقیقت یہ روایت صرف ایک دعوٰی پر آنحضرت ﷺ پر چسپاں ہوتی ہے۔ ”جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کو ہوا اور ہماری نظروں میں عجیب ہے اس لئے میں تم
٤٣
الشفاعت ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں۔
حدیث ہشتم
اور بخاری اور مسلم نے حضرت ثوبانؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ یعنی میری امت میں تیس جھوٹے مدعی ظاہر ہوں گے ہر ایک کا یہ زعم ہوگا کہ میں پیغمبر ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد سلسلہ نبوت ختم ہے۔
حدیث نہم
اور بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب سرور کائنات ﷺ نے فرمایا: ”مثلی ومثل الانبیاء قبلی کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی روایۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین“ یعنی میرا اور نبیوں کا حال ایک محل سے نسبت رکھتا ہے جس کی عمارت خوب اچھی طرح پر تیار کی گئی تھی مگر ایک اینٹ کا رخنہ باقی تھا۔ تماشائی جو دیکھنے آتے تھے وہ اسکی خوب وضع عمارت دیکھ کر متعجب ہوتے تھے مگر ایک اینٹ کا فرق محل کی خوبی پر دھبہ دے رہا تھا میرے وجود سے یہ رخنہ بند ہو گیا اور عمارت مکمل ہو گئی۔ رسولوں کا اختتام میری ذات پر ہو چکا چونکہ یہاں ایک شائبہ پیدا ہوتا تھا کہ رسول صاحب کتاب نبی کو کہتے ہیں اس لئے روایت ہذا کا منشا ہے کہ تشریعی رسالت ختم ہو چکی لیکن سلسلۂ نبوت جاری ہے۔ اس لئے دوسری روایت میں یہ الفاظ وارد ہیں جو اس شبہ سے مبرا ہیں۔ ”انا اللبنۃ وانا خاتم النبیین“ یعنی میں وہ کونے کی اینٹ ہوں اور نبوت مجھ پر ختم ہو چکی ہے میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یعنی غیر تشریعی نبوت بھی مسدود ہے۔
انجیل متی کی بشارت
در حقیقت یہ روایت صدر ایک دعوٰی پر متضمن ہے کہ انجیل متی باب ٢١ کی پیش گوئی آنحضرت ﷺ پر چسپاں ہوتی ہے۔ ”جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سر کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظروں میں عجیب ہے اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی
٤٣
جائے گی اور اس کو جو اس کے پہلے لائی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔“ انجیل کی عبارت حسب ذیل اقتباسات پر مشتمل ہے۔ باب ٢١ آیت ٤٢ لغایت ٤٤
اقتباس اوّل
- ١....... پتھر سے مراد حضور سرور کائنات کی ذات اطہر ہے کیونکہ آپ مضبوط اور پائیدار ہونے
میں اس کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ متنبیٰ کا قول ہے۔
واذا نطقت فاننی الجوزاء
پتھر کا قاعدہ ہے کہ دوسری چیز کو توڑ ڈالتا ہے اور خود شکستہ نہیں ہوتا اسی طرح حضور دوسری سلطنتوں کو پامال کر دیں گے۔ مگر آپ کی سلطنت کو تا ابد زوال نہ ہوگا۔
دانیال باب ٢ میں اس کی تشریح موجود ہے۔ ”اور دیکھ ایک بڑی مورت تھی وہ بڑی مورت جس کی رونق بے نہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہوئی اور اس کی صورت ہیبت ناک تھی۔ اس مورت کا سر خالص سونے کا تھا۔ اس کا سینہ اور اس کے بازو چاندی کے اور اس کا شکم اور رانیں تانبے کی تھیں اس کی ٹانگیں لوہے کی اور اس کے پاؤں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے اور تو اسے دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے۔ آپ سے نکلا جو اس شکل کے پاؤں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کی مانند ہوئے اور ہوا انہیں اڑا لے گئی یہاں تک کہ ان کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا۔ وہ خواب یہ ہے اور اس کی تعبیر بادشاہ کے حضور بیان کرتا ہوں تو اے بادشاہ بادشاہوں کا بادشاہ۔ اس لئے کہ آسمان کے خدا نے تجھے ایک بادشاہت اور قوت اور توانائی اور شوکت بخشی ہے اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتے ہیں اس نے میدان کے چوپائے اور ہوا کے پرندے تیرے قابو میں کر دیئے اور تجھے ان سبھوں کا حاکم کیا تو ہی وہ سونے کا سر ہے اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہے اور اس کے بعد ایک اور سلطنت تانبے کی جو تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضبوط ہوگی اور جس طرح کہ لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب ہوتا ہے۔ ہاں لوہے کی طرح سے جو سب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اسی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی
٤٤
اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تو نے دیکھا کہ اس کے پا کی تھیں سو اس سلطنت میں تفرقہ ہوگا۔ مگر جیسا کہ تو تھا سو لوہے کی توانائی اس میں ہوگی اور جیسا کہ پاؤں وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہوگی۔ اور جیسا تو نے کو انسان کی نسل سے ملائیں گے لیکن جیسے لوہے م کھائیں گے اور ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان ک نہ ہوگی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضہ میں نہ پڑ نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی۔ جیسا کہ تو اس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا اور ا سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ خدائے تعالیٰ نے بادشاہ ک خواب یقینی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔“ اور باب ٢ آیت نضر بادشاہ کو وہ بات بتاتا ہے جو آخری ایام میں ہوگی محمد ﷺ نے ڈالی فارس کی سلطنتوں کو نیست و نابود کرد خود وسیع ہو کر تمام دنیا پر پھیل گئی۔“
اقتباس دوئم
- ٢....... آنحضرت کی رسالت پر یہود ونصاریٰ ب
کیا۔ مگر خدا نے یہ شرف علی رغم انوفہم آنحض کے سرے پر اسے نصب کیا۔ اس پتھر کے لگنے سے کسی دوسرے پتھر کے لگنے کی امید ہو۔ گویا آخری ن تشبیہ ظاہر کرتی ہے کہ آنحضرت آخر الانبیاء ہیں آپ
اقتباس سوئم
- ٣....... یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر
رسالت بنی اسرائیل کے گھرانہ سے چھین لی گئی اور پیدا نہ ہوا تھا۔ پس ایسے خاندان کا جسمیں صدیوں س ہونا اور ایک اجنبی خاندان کا مشرف بہ نبوت ہوجان طرف سے ہوا۔ الله اعلم حيث يجعل رس
٤٥
اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تو نے دیکھا کہ اس کے پاؤں اور انگلیاں کچھ تو کمہار کی مٹی اور کچھ لوہے کی تھیں سو اس سلطنت میں تفرقہ ہوگا۔ مگر جیسا کہ تو نے دیکھا کہ اس میں لوہا گارے سے ملا ہوا تھا سو لوہے کی توانائی اس میں ہوگی اور جیسا کہ پاؤں کی انگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ مٹی کی تھیں سو وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہوگی۔ اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہے گلاوے سے ملا ہوا ہے وہ اپنے کو انسان کی نسل سے ملائیں گے لیکن جیسے لوہے مٹی سے میل نہیں کھاتا تیسا وے باہم میل نہ کھائیں گے اور ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہوگی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضہ میں نہ پڑے گی وہ ان سب مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی۔ جیسا کہ تو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر اس کے کوئی ہاتھ سے اس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا اور اس نے لوہے اور تانبے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ خدائے تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے ”اور یہ خواب یقینی ہے اور اس کی تعبیر یقینی ۔“ اور باب ٢ آیت ٢٨ میں اتنا اضافہ اور موجود ہے اور وہ بنو کد نضر بادشاہ کو وہ بات بتاتا ہے جو آخری ایام میں ہوگی۔ اسی اسلامی سلطنت نے جس کی بنیاد حضرت محمد ﷺ نے ڈالی فارس کی سلطنتوں کو نیست و نابود کر دیا اور مضبوط پتھر کی طرح انہیں چکنا چور کیا اور خود وسیع ہو کر تمام دنیا پر پھیل گئی۔“
اقتباس دوئم
- ٢...... آنحضرت کی رسالت پر یہود و نصاریٰ ناخوش ہوئے۔ ۔ گویا اس پتھر کو ناپسند کیا اور رد
کیا۔ مگر خدا نے یہ شرف علیٰ رغم انوفھم آنحضرت کو بخشا اور آخر کار محل کی عمارت میں کونے کے سرے پر اسے نصب کیا۔ اس پتھر کے لگنے سے عمارت مکمل ہوگئی اور کوئی رخنہ باقی نہ رہا جہاں کسی دوسرے پتھر کے لگنے کی امید ہو۔ گویا آخری پتھر یہی تھا جو عمارت میں مرکوز ہو چکا۔ یہ لطیف تشبیہ ظاہر کرتی ہے کہ آنحضرت آخر الانبیاء ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
اقتباس سوئم
- ٣...... یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظروں میں عجیب تعجب کی بات یہ تھی کہ نبوت اور
رسالت بنی اسرائیل کے گھرانہ سے چھین لی گئی اور خاندان اسماعیل کو دی گئی جن میں کبھی کوئی نبی پیدا نہ ہوا تھا۔ پس ایسے خاندان کا جسمیں صدیوں سے سلسلہ نبوت جاری تھا۔ اس امتیاز سے محروم ہونا اور ایک اجنبی خاندان کا مشرف بہ نبوت ہو جانا ایک انوکھی اور عجیب بات ہے مگر یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ چنانچہ آئندہ فقرہ اس مطلب پر روشنی ڈالتا
٤٥
ہے کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ یہود کو اپنے خاندان سے نبوت کا سلب ہونا اور اسماعیل کے خاندان میں منتقل ہونا برا معلوم ہوا اور وہ غیرت اور حسد کی نگاہیں بھر بھر کر دیکھتے تھے ارشاد خداوندی ہے۔ ”ام یحسدون الناس على ما اتاهم الله من فضله فقد اتينا ال ابراهيم الكتاب والحكمة واتيناهم ملكا عظيما“
اور آج کا دن وہ دن ہے جو کتاب استثناء باب ٣٢ کی بشارت ظہور میں آئی اس لئے کہ اس کے بیٹوں اور اس کی بیٹیوں نے اسے غصہ دلایا اور اس نے فرمایا کہ میں ان سے اپنا منہ چھپاؤں گا۔ تاکہ میں دیکھوں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ اس لئے کہ وہ کج نسل ہیں ایسے لڑکے جن میں امانت نہیں۔ انہوں نے اس کے سبب سے جو خدا نے مجھے غیرت دلائی اور اپنی واہیات باتوں سے مجھے غصہ دلایا سو میں بھی انہیں اس سے جو گروہ نہیں غیرت میں ڈالوں گا اور ایک بے عقل قوم سے انہیں خفا کروں گا۔
بے عقل قوم سے عرب کی امی قوم مراد ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے: ”هو الذي بعث في الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين“
عیسائیوں کا دعویٰ اور اس کا ابطال
یہ بشارت جس کا حوالہ انجیل متی میں دیا گیا ہے۔ کتاب یسعیاہ باب ٢٨ سے ماخوذ ہے اور حضور کو آخر الانبیاء ثابت کرتی ہے۔ عیسائی مدعی ہیں کہ یہ پیش گوئی حضرت مسیح کی ذات پر منطبق ہے۔ لیکن بشارت کے الفاظ اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت مسیح خاندان بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کو نبوت کا عطا ہونا کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ اس خاندان میں سلسلہ نبوت جاری تھا اور پیش گوئی میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ بادشاہت تم سے لے لی جائے گی۔ اور دوسری قوم کو دی جائے گی حضرت مسیح کسی غیر قوم میں سے نہ تھے بلکہ آپ کا سلسلہ نسب بنی اسرائیل سے منسلک ہے اور نیز بشارت کے آخری الفاظ کا مفہوم حضرت مسیح کی ذات میں پایا نہیں جاتا کہ جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا کیونکہ حضرت مسیح نے میدان جنگ میں قدم نہیں رکھا اور نہ کسی مخالف قوم پر حملہ کیا ہے اور بخیال عیسائیوں کے یہود نے انہیں گرفتار کر کے صلیب پر لٹکا کر قتل کر دیا جو بالکل الفاظ مندرجہ کے متضاد ہے۔ اس لئے نہ تو پہلی جزو کا ظہور آپ کی ذات میں ہے کہ جو اس پتھر پر گرے گا۔ چکنا چور ٢٦
ہو جائے گا اور نہ دوسری جزو کا شمہ آپ کی ذات میں ہے بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ جس قوم پر آپ نے حملہ کیا وہ چکنا چور ہوئی۔
حدیث دہم
سید علامہ نے ترجمان القرآن میں ایک ر ہے یعنی آنحضرت نے فرمایا: ”انا خاتم النبی بھی زیادہ تعداد کا خاتم ہوں۔
حدیث یازدہم
حضرت عائشہ صدیقہ کا قول ہے: ”قولو بعدہ“ یعنی تم کو یہ کہنا لازم ہے کہ آنحضرت کی ذات مرحمت نہیں ہو سکتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی سابقہ قبل عطا ہو چکی ہے۔ بحالت نبوت نازل ہوں گے۔ لہ
خاتم کے معنی پر مختصر بحث
مرزا قادیانی کا قول ہے کہ خاتم النبیین کا سے آپ کے بعد انبیاء ہو سکتے ہیں اور اس طرح سلسلہ جو آنحضرت ﷺ کے بیان کے بالکل مخالف ہیں۔ آنحضرت سے خاتم النبیین کی تفسیر اسی طرح مروی ہے خاتم النبیین کے مقصد اصلی پر کافی روشنی ڈال دی ہے نہیں۔ یہ جملہ پہلے مجمل جملہ کی تشریح کا ذمہ دار ہے اس کے کلام میں ان جملہ مفاسد کی تردید کا مادہ موجود ہوتا ہے۔ اس لئے حضور نے بطور مزید تشریح ایسا جملہ کلا فاسدہ کی نفی کر دی ہے اور فصحاء عرب کے کلام میں بلک میں جملہ مؤخر جملہ مقدم کی تشریح واقع ہوا ہے۔ چنا سے ہے: ”ان الانسان خلق هلوعا اذا م منوعا“ مؤخر جملات ہلوعا کے لئے بطور تفسیر واقع ٢٧
ہو جائے گا اور نہ دوسری جزو کا شمہ آپکی ذات میں ہے مگر حضرت کی ذات میں اس صفت کا ظہور بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ جس قوم پر آپ نے حملہ کیا وہ تباہ ہوئی اور جس قوم نے آپ پر حملہ کیا وہ چکنا چور ہوئی۔
حدیث دہم
سید علامہ نے ترجمان القرآن میں ایک روایت کو ذکر کیا ہے جو پہلی روایتوں کی مؤید ہے یعنی آنحضرت نے فرمایا: ”انا خاتم الف نبی او اکثر “ یعنی میں ہزار نبی بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد کا خاتم ہوں۔
حدیث یازدہم
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول ہے: ”قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ “ یعنی تم کو یہ کہنا لازم ہے کہ آنحضرت کی ذات پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور جدید نبوت کسی کو مرحمت نہیں ہو سکتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی سابقہ نبوت پر جو ان کو آنحضرت سے چھ صد سال قبل عطا ہو چکی ہے۔ بحالت نبوت نازل ہوں گے۔ لہٰذا یہ مت کہو کہ لا نبی بعدہ۔
خاتم کے معنی پر مختصر بحث
مرزا قادیانی کا قول ہے کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت کی مہر اور تصدیق سے آپ کے بعد انبیاء ہو سکتے ہیں اور اس طرح سلسلہ نبوت جاری ہے لیکن یہ ایک ایسے معنی ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بیان کے بالکل مخالف ہیں۔ چنانچہ حدیث ثوبان میں جو صدر میں گزری آنحضرت سے خاتم النبیین کی تفسیر اسی طرح مروی ہے۔ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی خاتم النبیین کے مقصد اصلی پر کافی روشنی ڈال دی ہے جس کے بعد کسی شرح یا حاشیہ کی حاجت نہیں۔ یہ جملہ پہلے مجمل جملہ کی تشریح کا ذمہ دار ہے اذا جاء نهر الله بطل نهر معقل نبی کے کلام میں ان جملہ مفاسد کی تردید کا مادہ موجود ہوتا ہے۔ جو آئندہ زمانہ میں پیدا ہونے والے ہوں۔ اس لئے حضور نے بطور مزید تشریح ایسا جملہ کلام میں بڑھا دیا ہے جس نے سب احتمالات فاسدہ کی نفی کر دی ہے اور فصحاء عرب کے کلام میں بلکہ خود قرآن میں ایسے نظائر موجود ہیں کہ جن میں جملہ مؤخر جملہ مقدم کی تفسیر واقع ہوا ہے۔ چنانچہ جزو ٢٩ میں سورہ معارج کی آیت اسی قسم سے ہے: ”ان الانسان خلق هلوعا اذا مسه الشر جزوعا واذا مسه الخير منوعا “ مؤخر جملات هلوعا کے لئے بطور تفسیر واقع ہیں۔ علامہ سیوطیؒ نے جلالین میں اس بیان
٧٤
کی تائید کی ہے اور تفسیر معالم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے: ”یفسره ما بعده وهو قوله اذا مسه الشر جزوعا واذا مسه الخير منوعا“ یعنی ہلوعا کے معنے مابعد کی جملات بیان کرتے ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں: ”اذا مسه الشر جزوعا“ جب اس کو تکلیف پہنچی جزع وفزع کرتا ہے۔ ”واذامسه الخير منوعا“ جب خدا اس پر فضل کرے تو اداء حقوق میں بخل سے کام لیتا ہے۔
ہلوع کی تفسیر
اور علامہ نجم الدین نسفی نے مدارک میں محمد بن عبداللہ بن طاہر کا قول نقل کیا ہے کہ آپ نے حضرت ثعلب سے ہلوعا کی تفسیر دریافت کی تو ثعلبؒ نے جواب دیا۔ کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلمات میں اس لفظ کے معنے بیان کر دیئے ہیں اور خدا کی تفسیر سے واضح تر کوئی تفسیر نہیں: ”هو الذي اذا ناله شر اظهر شدة الجزع واذا ناله خير بخل به ومنعه الناس وهذا طبعه وهو مامور بمخالفة طبعه وموافقة شرعه انتهیٰ“ ہلوعا کے معنے مابعد میں مذکور ہیں یعنی جس کو صدمہ پہنچے تو سخت جزع وفزع کا اظہار کرے اور جسے کوئی انعام ملے تو بخل سے کام لے اور لوگوں کے ساتھ احسان کرنا چھوڑ دے یہ اس کی ذاتی طبیعت ہے جس کی مخالفت اور شرع کی موافقت کا اسے خدا نے حکم دیا ہے۔
خلود کی تفسیر
خلود سے مراد ایسا دوام ہے جس کے بعد موت نہ ہو بخاری کی روایت میں جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً مروی ہے خلود کی تفسیر مابعد کے جملہ میں آنحضرت نے بیان کی ہے اور کہا ہے: ”یا اهل الجنة خلود فلا موت ویا اهل النار خلود فلا موت اخرجه الشیخان عن ابی سعید مرفوعا“ مختصر المعانی میں بھی اس طرز کی مثال موجود ہے: ”واما وضعه فلكونه مبیناً له كاشفا عن معناه كقولك الجسم الطويل العريض العميق يحتاج الى فراغ ما يشغله فان هذه الاوصاف مما يوضح الجسم ويقع تعريفا له ونحوه في الكشف قوله“
المعی کے معنے
”الا لمعی الذی یظن بك الظن كان قدراى وقد سمعا فالا لمعی
٤٨
معناه الذكي المتوقد والوصف بعده مما يكش یعنی صفت کا مابعد موصوف کی وضاحت کرتی ہے اور اس کے م الطويل العريض العميق میں اوصاف ثلاثہ جسم کے م جسم کے معنی کی توضیح کرتے ہیں اور اس طرح کا یہ شعر ہے ”كان قدرای وقد سمعا“ بیان کرتا ہے۔ اس نہج پر ق ذریعہ عمل میں آئی ہے سو مرزا قادیانی کا پیدا کردہ احتمال بالکل
حدیث دوازدہم
”ذكر الرشاطى فى اقتباس الانوار في كلام بكى به النبى ﷺ فقال بابى انت و فضيلتك عند الله ان بعثك اخر الانبياء وذكر ل النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح الآية (شفاء قا سے مروی ہے کہ آپ نے ایسی کلام کی جس سے آں حضرت نے کہا کہ اے پیغمبر خدا! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں خ پہنچ گئی ہے کہ آپ کو سب انبیاء کے بعد مبعوث کیا اور سب احزاب پڑھ کر سنائی۔
حدیث سیزدہم
”قال قتاده ان النبى ﷺ قال كنت ا فی البعث (شفا ص ٢٣)“ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ج میں بلحاظ خلقت سب نبیوں سے مقدم ہوں اور بلحاظ بعثت ہم خیال بتلائیں کہ آخر کا لفظ تو غیر محتمل ہے جس میں کسی تاو کی کوئی صورت ہے؟
اجماع امت بتا رہا ہے کہ نبوت مدعی نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد خارج ا قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفاء میں تحریر فرما احد مع نبينا ﷺ وبعده كالعيسوية من اليهو
٤٩
معناه الذكى المتوقد والوصف بعده مما يكشف معناه ويوضحه (ص٤٨)“ یعنی صفت کا کلمہ موصوف کی وضاحت کرتی ہے اور اس کے معنے بیان کرتی ہے جیسے فقرہ الجسم الطويل العريض العميق میں اوصاف ثلاثہ جسم کے لئے بمنزلہ تعریف واقع ہوئے ہیں اور جسم کے معنی کی توضیح کرتے ہیں اور اس طرح کا یہ شعر ہے جس میں اعمی کی تشریح مابعد کا جملہ: ”كان قدراى وقد سمعا“ بیان کرتا ہے۔ اس نہج پر خاتم النبیین کی توضیح مابعد کے جملہ کے ذریعہ عمل میں آئی ہے سو مرزا قادیانی کا پیدا کردہ احتمال بالکل بلا دلیل ہے۔
حدیث دوازدہم
”ذكر الرشاطى فى اقتباس الانوار عن عمر بن الخطاب انه قال فى كلام بكى به النبى ﷺ فقال بابى انت وامى يا رسول الله لقد بلغ من فضيلتك عند الله ان بعثك اخر الانبياء وذكرك فى اولهم فقال واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح الآية (شفاء قاضی عیاض ص٢٢)“ حضرت عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ایسی کلام کی جس سے آں حضرت کے آنسو جاری ہوگئے چنانچہ انہوں نے کہا کہ اے پیغمبر خدا! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں خدا کے ہاں آپ کی فضیلت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ آپ کو سب انبیاء کے بعد مبعوث کیا اور سب سے اول آپ کا تذکرہ کیا۔ پھر آیت احزاب پڑھ کر سنائی۔
حدیث سیزدہم
”قال قتاده ان النبى ﷺ قال كنت اول الانبياء فى الخلق وأخرهم فى البعث (شفاء ص٢٣)“ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ جناب سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں بلحاظ خلقت سب نبیوں سے مقدم ہوں اور بلحاظ بعثت سب سے آخر ہوں۔ مرزا قادیانی کے ہم خیال بتلائیں کہ آخر کا لفظ تو غیر محتمل ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں کیا اس لفظ کی تحریف کی کوئی صورت ہے؟
اجماع امت بتا رہا ہے کہ نبوت ختم ہوچکی ہے۔
مدعی نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد خارج از اسلام ہے نبوت کسبی نہیں
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفاء میں تحریر فرمایا ہے:”وكذالك من ادعى نبوة احد مع نبينا ﷺ وبعده كالعيسوية من اليهود القائلين بتخصيص رسالته
٤٩
الى العرب وكالخرمية القائلين بتواتر الرسل وككفر الرافضة القائلين بمشاركت على فى الرسالة للنبى ﷺ وبعده وكذالك كل امام عند هؤلاء يقوم مقامه فى النبوة والحجة وكالبزينية والبيانية منهم القائلين نبوة بزيغ وبيان واشباه هؤلاء ومن ادعى النبوة لنفسه وجوّز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة اوانه يصعد الى السماء ويدخل الجنة و يأكل من ثمارها ويعانق الحور العين فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي ﷺ لانه اخبرانه ﷺ خاتم النبيين ولا نبي بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهرة وان مفهومة المرادبه دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعاً وسمعاً (ص٣٦٢)“
”جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ کسی کو آپ کے عہد میں یا بعد ازاں شریک نبوت قرار دے جیسے عیسویہ گروہ کہتا ہے کہ آنحضرت رسول صادق ہیں لیکن آپ کی رسالت خطہ عرب سے مخصوص ہے اور خرمیہ جماعت کا مذہب ہے کہ رسول متواتر آتے رہیں گے اور اکثر رافضہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ آنحضرت کے ساتھ شریک رسالت ہیں اور ایسے ہی ہر ایک امام بخیال شیعہ نبوت اور تحدی میں قائم مقام نبی ہے اور بزینیہ کا خیال ہے کہ بزیغ نبی تھا اور بیانیہ کا زعم ہے کہ بیان پیغمبر تھا اور ایسے ہی دیگر جماعتیں یا جو خود نبوت کا مدعی ہو اور یہ کہے کہ نبوت محنت ریاضت اتباع اور صفاء قلبی سے حاصل ہو سکتی ہے جیسے فلاسفہ اور غلاۃ صوفیہ کا دعویٰ ہے اور ان میں سے یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی الٰہی نازل ہوتی ہے گو نبوت کا مدعی بھی نہ ہو یا کہے کہ وہ آسمان پر جاکر داخل جنت ہوتا اور میوہ خوری کرتا اور حوروں سے معانقہ کرتا ہے اس قسم کے تمام مدعی کافر اور آنحضرت کے مکذب ہیں۔ کیونکہ سرور کائنات ﷺ نے بتلایا ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور خدائے تعالیٰ کا قول بھی نقل کیا ہے کہ حضرت محمدﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپﷺ کی رسالت جملہ خلق اللہ کے لئے عام ہے اور امت نے بالاتفاق لفظ خاتم النبیین کو بغیر کسی تاویل اور تخصیص کے ظاہر معنے پر محمول کیا ہے۔ پس ایسی جماعتوں کے کفر میں کوئی شک نہیں یقیناً اجماعاً اخباراً دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
چونکہ یہ مسئلہ اجماعی ہے اس لئے اہل عقائد نے اسے بالاتفاق کتب عقائد میں درج
٥٠
کیا ہے۔ علامہ نجم الدین نسفی نے عقائد میں تحریر کیا ہے: محمدﷺ“ یعنی پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور ا رحمۃ اللہ علیہ نے شرح فقہ اکبر میں تحریر کیا ہے: ”دعوی بالاجماع“ جو آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت ہو و
قیاس عقلی مقتضی ہے کہ باب نبوت مسدود ہ
چونکہ زمانہ ارتقاء کی طرف مائل رہا ہے اس ل کافی نہ ہو سکتی تھی۔ جب تک اس میں کچھ ردو بدل اور ز کا اضافہ نہ کیا جائے اور جابجا مناسب ترمیم سے اس جائے لہٰذا یکے بعد دیگرے کتابیں نازل ہوتی رہیں۔
مذہب اسلام کی تکمیل ہو چکی ہے
حتیٰ کہ وہ زمانہ سر پر آپہنچا جس کا آخری حص پر ایک جامع اور مکمل کتاب نازل کی گئی جس میں تمام ا کے بعد قرآن نے کھلے لفظوں میں یہ دعویٰ کیا کہ ”فیها نازل شدہ سچی کتابوں کا مضمون یکجا لکھ دیا گیا ہے اور ا الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں شتر سوار کھڑے ہ سبکدوش ہو چکے تھے تو جبرئیل علیہ السلام نے الیوم ا نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا کی بشارت س نسلوں کے لئے ایسا مبارک دن تھا کہ اس پر جتنی خوشی م
ایک یہودی کا خیال الیوم اکملت کے م
حتیٰ کہ ایک یہودی اس آیت کے مضمون میں نازل ہوتی تو ہم یوم نزول کو عید کا روز قرار دیتے۔ ج بروز عرفہ یہ آیت نازل ہوئی جو ہم مسلمانوں کے لئے ع کا قول ہے کہ اس روز پانچ عیدیں جمع ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد نہ اس سے پہلے کبھی ایسا اتفاق ہوا ہے۔
٥١
کیا ہے۔ علامہ نجم الدین نسفی نے عقائد میں تحریر کیا ہے: ”اول الانبياء آدم وآخرهم محمدﷺ“ یعنی پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری نبی حضرت محمدﷺ ہیں۔ ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح فقہ اکبر میں تحریر کیا ہے: ”دعوة النبوه بعد نبيناﷺ کفر بالاجماع“ جو آنحضرتﷺ کے بعد مدعی نبوت ہو وہ با تفاق اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
قیاس عقلی مقتضی ہے کہ باب نبوت مسدود ہے
چونکہ زمانہ ارتقاء کی طرف مائل رہا ہے اس لئے سابقہ شریعت مابعد کے زمانہ کے لئے کافی نہ ہو سکتی تھی۔ جب تک اس میں کچھ ردو بدل اور زمانہ کے حالات کے مطابق کچھ زائد احکام کا اضافہ نہ کیا جائے اور جابجا مناسب ترمیم سے اس کی تعلیم کو ضروریات زمانہ کا کفیل نہ بنا دیا جائے لہذا یکے بعد دیگرے کتابیں نازل ہوتی رہیں۔
مذہب اسلام کی تکمیل ہو چکی ہے
حتیٰ کہ وہ زمانہ سر پر آپہنچا جس کا آخری حصہ قیامت سے ملا ہوا ہے اور حضرت محمدﷺ پر ایک جامع اور مکمل کتاب نازل کی گئی جس میں تمام تعلیم سابقہ کتابوں کی جمع کر دی گئی ہے اس کے بعد قرآن نے کھلے لفظوں میں یہ دعویٰ کیا کہ ”فیها کتب قیمة“ یعنی صحیفہ رحمانی میں تمام نازل شدہ سچی کتابوں کا مضمون یکجا لکھ دیا گیا ہے اور حضورﷺ جب کہ اپنے آخری ایام میں حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں شتر سوار کھڑے تھے اور تبلیغ کا فرض بوجہ اتم سرانجام دے کر سبکدوش ہو چکے تھے تو جبرئیل علیہ السلام نے الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا کی بشارت سنائی وہ دن حاضرین اور مابعد کی آنے والی نسلوں کے لئے ایسا مبارک دن تھا کہ اس پر جتنی خوشی منائیں تھوڑی ہے۔
ایک یہودی کا خیال الیوم اکملت کے متعلق
حتیٰ کہ ایک یہودی اس آیت کے مضمون کو سن کر کہتا ہے کہ ایسی آیت اگر ہماری کتاب میں نازل ہوتی تو ہم یوم نزول کو عید کا روز قرار دیتے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ جمعہ کے دن بروز عرفہ یہ آیت نازل ہوئی جو ہم مسلمانوں کے لئے دونوں خوشی کے دن ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ اس روز پانچ عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔ جمعہ، عرفہ، عید یہود، عید نصاریٰ، عید مجوس، نہ اس کے بعد نہ اس سے پہلے کبھی ایسا اتفاق ہوا ہے۔
٥١
انجیل سے تکمیل اسلام کی شہادت
یہ دن اور طرح سے بھی خوشی منانے کے لائق تھا۔ کہ آج سے چھ صد سال قبل حضرت مسیح علیہ السلام کے گفتہ کلمات پورے ہوئے اور اس تکمیل کی جس کا وعدہ آپ اپنی امت کو سنا گئے تھے خوشخبری دی گئی۔ انجیل یوحنا باب ١٦ آیت ٧، لغایت ١٥ میں لکھا ہے: ”لیکن میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا تمہارے پاس نہ آئے گا۔ پر اگر میں جاؤں تو میں اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا گناہ سے اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے اور راستی سے اس لئے کہ میں اپنے باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اس لئے کہ اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے تو وہ تمہیں ساری سچائی کے راہ بتائے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور آئندہ کی خبریں دے گی وہ میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پائے گی اور تمہیں دکھائے گی ۔“
عبارت ہذا میں حسب ذیل امور قابل توجہ ہیں
امر اوّل
- ١....... اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا تمہارے پاس نہ آئے گا۔ کیونکہ دو صاحب کتاب
رسول ایک وقت ایک مکان میں جمع نہیں ہو سکتے جب تک پہلا رسول موجود ہے۔ دوسرا ظاہر نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح کے جانے کے بعد جب آثار شریعت مسیحی محو ہو گئے اور تحریف سے اس کی کایا پلٹ گئی تو حضرت محمد ﷺ مدعی رسالت ہوئے۔ تسلی دینے والا فارقلیط کا ترجمہ ہے۔ فارقلیط عربی لفظ ہے جو یونانی سے معرب کیا گیا ہے۔ اگر پیر کلوطوس سے معرب مانا جائے تو اس کے معنی بعینہ احمد ہیں قرآن اسی صورت کا موئید ہے چنانچہ سورہ صف میں ارشاد ہے ومبشراً برسول یأتی من بعدى اسمه احمد
كتاب الجائز والصلات میں لکھا ہے: ” والحاصل ان الباء قليط وفي لفظ الفاء قليطاً عبارة عن محمد ﷺ واسمه له فى العجمة اليونانية وهو الصحيح“ یعنی فارقلیط یونانی زبان میں حضرت محمد ﷺ کا نام ہے اور بارقلیط اور فارقلیطا را ایک ہی طرح کے الفاظ ہیں اور اگر پارہ کلی طوف سے معرب مانا جائے تو اس کے معنے شفیع اور واسطہ اور مسلی اور مجد اور معین وغیرہ ہیں اور یہ صفات بھی آنحضرت کی ذات میں موجود ہیں۔ جواد بن
٥٢
ابراہیم ساباط حسنی نے کتاب براہین ساباطیہ فیما تستقم بہ دعو یونانی لفظ ہے: ”معناه الشافع والواسطة و المس على ممدوح بعضها بالمطابقة وبعضها بالتذ للحمد والآخر مما يوجب الحمد فهذا هو معنى بعدی اسمه احمد والدليل على ذلك مكثه الى عيسى عليه السلام احد يتصف بهذه الصف ان هذا الفار قليطارا الذى هو الآن معكم اى الد الذى ياتى بعده ابدى“
٭ جس کے معنے شافع اور وسیلہ اور تسلی دینے وال معانی حضور علیہ السلام کی ذات کا پتہ بتلاتے ہیں کیونکہ محا خود محمد کا مترادف ہے۔ اور یہ بعینہ آیت: ”ومبشرا بر احمد“ کی تصدیق ہے اور دلیل اس مدعا پر یہ ہے کہ آم روح حق جو تمہارے پاس آئے گی تا ابد تمہارے ساتھ ر دوامی نہیں لیکن اس دوسری فارقلیط کی رسالت ابدی ہو گی ا کوئی نبی پیدا نہ ہو گا اور یہ حالت حضرت محمد ﷺ پر حذو النعل
امر دوم
- ٢...... میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہو
کیونکہ تمہاری استعداد ناقص احکام کاملہ کی برداشت تمہارے
امر سوم
لیکن جب وہ روح حق آوے تو وہ تمہیں سا سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات اطہر ہے۔ بائبل کی اصط اطلاق پاتا ہے۔ نامہ اول یوحنا باب ٤ میں ہے اے عزیزو آزماؤ کہ وہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں کیونکہ بہت سے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ساری سچائی کے راہ کھول دیئے نے دعویٰ کیا وتمت كلمة ربك صدقا وعدلا اور الاولین والآخرین“ اور حدیث ابن مسعودؓ میں آنحض
٥٣
ابراہیم ساباط حسنی نے کتاب براہین ساباطیہ فیما تستقیم بہ دعائم الملۃ المحمدیہ میں لکھا ہے کہ فارقلیطا یونانی لفظ ہے: "معناه الشافع والواسطة و المسلی والمحمد وهذا المعانی تدل علی ممدوح بعضها بالمطابقة وبعضها بالتضمن فان التمجید مرادف ادق للحمد والآخر مما یوجب الحمد فهذا هو معنی قوله مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد والدلیل علی ذلک مکثه الی الابد والدوام فانه لم یات بعد عیسی علیه السلام احد یتصف بهذه الصفة غیره وفی التنکیر دلالة علی ان هذا الفارقلیطا والذی هو الان معکم ای المسیح زمنی لا یبقی الی الابد و الذی یاتی بعده ابدی"
٭ جس کے معنے شافع اور وسیلہ اور تسلی دینے والا اور تعریف کردہ شدہ یعنی محمد ہیں اور یہ معانی حضور علیہ السلام کی ذات کا پتہ بتاتے ہیں کیونکہ پہلے تینوں صفات موجب حمد ہیں اور چوتھا خود محمد کا مترادف ہے۔ اور یہ بعینہ آیت: ’’ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “ کی تصدیق ہے اور دلیل اس مدعا پر یہ ہے کہ آیات انجیل میں یہ تصریح موجود ہے کہ وہ روح حق جو تمہارے پاس آئے گی تا ابد تمہارے ساتھ رہے گی یعنی میری رسالت زمنی ہے جو دوامی نہیں لیکن اس دوسری فارقلیط کی رسالت ابدی ہو گی اور ان کے بعد کوئی رسول ناسخ شریعت یا کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اور یہ حالت حضرت محمد ﷺ پر حذو النعل بالنعل منطبق ہیں۔ ٭
امر دوم
- ٢....... میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے
کیونکہ تمہاری استعداد ناقص احکام کاملہ کی برداشت تمہارے لئے مشکل ہے۔
امر سوم
لیکن جب وہ روح حق آوے تو وہ تمہیں سارے سچائی کے راہ بتائے گی۔ روح حق سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات اطہر ہے۔ بائبل کی اصطلاح میں روح کا لفظ نبی اور واعظ پر بھی اطلاق پاتا ہے۔ نامہ اول یوحنا باب ٤ میں ہے اے عزیزو! ہر ایک روح کا یقین نہ کرو بلکہ روحوں کو آزماؤ کہ وہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ساری سچائی کے راہ کھول دیئے اور کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا حتی کہ قرآن نے دعویٰ کیا وتمت کلمة ربک صدقا وعدلا اور رسول خدا ﷺ نے فرمایا: ”اوتیت علم الاولین والآخرین “ اور حدیث ابن مسعودؓ میں آنحضرت کا ارشاد مروی ہے: ” ایها الناس
٥٣
ليس من شئى يقربكم الى الجنة ويباعدكم من النار الا قد امرتكم به وليس من شئى يقربكم الى النار ويباعدكم من الجنة الا قد نهيتكم عنه “یعنی جو ذریعہ تمہیں بہشت اور ابدی خوشی سے ملانے والا اور جہنم کی تیز آگ سے دور ہٹانے والا ہے۔ میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے۔ اور باقی کچھ نہیں چھوڑا۔ اور جو عمل دوزخ کے قریب اور جنت سے بعید لے جائے اس سے تمہیں منع کر دیا ہے اور کسر نہیں رکھی۔ یہ روایت بغوی نے شرح السنۃ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کی ہے۔
امر چہارم
- ٤....... اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ سنے گی سو کہے گی۔ قرآن بھی اس دعویٰ کا
مصدق ہے: ”قال ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى “اور سورہ یونس میں ارشاد ہے: ”ما يكون لى ان ابدله من تلقاء نفسى ان اتبع الا ما يوحى الى “اور سورہ الحاقہ میں فرمایا ہے: ”ولو تقول علينا بعض الاقاويل لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين “
امر پنجم
- ٥....... آئندہ کی خبریں دے گی آنحضرت ﷺ نے بے شمار پیش گوئیاں آئندہ زمانہ اور قبر اور
حشر نشر میزان وصراط، نشر صحف، حساب اعمال، اور جنت ودوزخ کے متعلق بیان کی ہیں جن میں سے اکثر پوری ہوچکی ہیں باقی بھی پوری ہوں گی۔
امر ششم
- ٦....... وہ میری بزرگی کرے گی آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت کی
تصدیق کی اور یہود کے الزامات سے انہیں منزہ کیا۔ یہود آپ کی پیدائش ناجائز قرار دیتے تھے قرآن نے عقلی دلائل سے بن باپ ان کی پیدائش کو جائز قرار دیا اور کہا: ”ان مثل عيسى عند الله كمثل ادم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون“
انکار نبوت مسیح کی پہلی بنیاد
اور یہود نے اسی بناء فاسد پر انکار نبوت مسیح علیہ السلام کی بنیاد قائم کی تھی۔ کیونکہ تورات میں لکھا تھا، حرامی بچہ دس پشت تک خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت نے ان کی بناء کے ستون متزلزل کر دیئے اور قائم شدہ عمارت کو ایک آن میں گرا دیا۔
٥٤
دوسری بنیاد
اس معاند قوم نے یہ پیدا کی تھی کہ حضرت مسیح ؑ آپ بلحاظ بشارت کتاب استثناء باب ١٨ نبی نہیں ہو سکتے گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے آنحضرتﷺ واقعہ صلیب مسیح علیہ السلام کو ایک غلط فسانہ قرار دیا اور خدا کا فر ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفي شك الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان ا
١ عیسائیوں نے برخلاف حقیقت الامر ان ہر استثناء اور باب ٩ کتاب یسعیاہ میں مذکور ہیں حضرت مسیح پر ایسا پہلو اختیار کیا جو طعن پر مشتمل تھا اور حضرت مسیح کے احتر نے اس طعن کو رفع کیا اور احترام مسیح علیہ السلام کو قائم کیا مگر کہ یہ پیش گوئیاں واقعی حضرت مسیح کے ظہور کی خبر دیتی ہیں صاف بتلا رہے ہیں کہ ہر دو بشارتیں رسول خدا کی ذات پر مفصل طور پر اس حقیقت کو واضح کر چکا ہے۔ اور یہ ضمیمہ عنق کتاب کی قدر کریں گے۔
٢ دوسری بے حرمتی حضرت مسیح کے اعتقاد صلیب عقیدہ کی بناء پر کہتے تھے کہ معاذ اللہ مسیح ملعون ہوئے کیونکہ لغایت ٢٣ ۔ اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا جس سے اس کا قت دے رات بھر درخت سے لٹکا نہ رہے۔ بلکہ تو اسی دن اس ہے۔ خدا کا ملعون ہے اور عیسائیوں نے با اتباع یہود واق مستوجب لعنت قرار دیا لیکن امتی اور عقیدہ میں ترمیم کی کہ کا پولوس مقدس نامہ گلتیوں باب ٣ آیت ١٣ میں لکھتا ہے مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا کہ جو کو نے واقعہ صلیب کے متعلق حقیقت کو کھول دیا کہ یہود اصلیہ پر اٹھائے گئے اور کہا کہ صلیب پر لٹکایا جانا جو آپ کی بے ح پہنچتا۔ گویا آپ نے حضرت کی بزرگی بیان کی۔
٥٥
دوسری بنیاد
اس معاند قوم نے یہ پیدا کی تھی کہ حضرت مسیح مصلوب ہو کر لعنت کی موت مرے لہٰذا آپ بلحاظ بشارت کتاب استثناء باب ١٨ نبی نہیں ہو سکتے جس میں لکھا ہے لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے آنحضرت ﷺ نے اس بنیاد کی طرف توجہ کی اور واقعہ صلیب مسیح علیہ السلام کو ایک غلط فسانہ قرار دیا اور خدا کا قول سنایا: ”ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما.“
- ١ عیسائیوں نے برخلاف حقیقت الامر ان ہر دو پیشن گوئیوں کو جو باب ١٨ کتاب
استثناء اور باب ٩ کتاب یسعیاہ میں مذکورہ ہیں حضرت مسیح پر چسپاں کیا۔ یہود نے ان کے بالمقابل ایسا پہلو اختیار کیا جو طعن پر مشتمل تھا اور حضرت مسیح کے احترام میں اس سے فرق آتا تھا۔ حضرت نے اس طعن کو رفع کیا اور احترام مسیح علیہ السلام کو قائم کیا مگر عیسائیوں کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کی کہ یہ پیش گوئیاں واقعی حضرت مسیح کے ظہور کی خبر دیتی ہیں کیونکہ پیش گوئیوں کی عبارت اور الفاظ صاف بتلا رہے ہیں کہ ہر دو بشارتیں رسول خدا کی ذات پر صادق آتی ہیں جیسے خاکسار ضمیمہ میں مفصل طور پر اس حقیقت کو واضح کر چکا ہے۔ اور یہ ضمیمہ عنقریب شائع ہو جائیگا۔ اگر ناظرین اس کتاب کی قدر کریں گے۔
- ٢ دوسری بے حرمتی حضرت مسیح کے اعتقاد صلیب سے اس طرح لازم آتی تھی کہ وہ اس
عقیدہ کی بناء پر کہتے تھے کہ معاذ اللہ مسیح ملعون ہوئے کیونکہ تورات کتاب استثناء باب ٢١ آیت ٢٣ لغایت ٢٤۔ اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے تو اسے لٹکا دے رات بھر درخت سے لٹکا نہ رہے۔ بلکہ تو اسی دن اسے گاڑ دے کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے۔ خدا کا ملعون ہے اور عیسائیوں نے بااتباع یہود واقعہ صلیب کو تسلیم کر کے انہیں معاذ اللہ مستوجب لعنت قرار دیا لیکن اپنے عقیدہ میں ترمیم کی کہ وہ ہماری ہی خاطر ملعون ہوا۔ عیسائیوں کا پولوس مقدس نامہ گلتیوں باب ٣ آیت ١٣ میں لکھتا ہے مسیح نے ہمارے لئے لعنتی بن کر اور ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ حضرت نے واقعہ صلیب کے متعلق حقیقت کو کھول دیا کہ یہودا صلیب پر لٹکایا گیا اور حضرت مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور کہا کہ صلیب پر لٹکایا جانا جو آپ کی بے حرمتی کا سنگ بنیاد ہے۔ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔ گویا آپ نے حضرت کی بزرگی بیان کی۔
٥٥
تیسری بنیاد
تیسری بنیاد انکار نبوت کی یہ تھی کہ یواقیم کی نسل سے داؤد کی کرسی پر بیٹھنے والا پیدا نہ ہوگا
چنانچہ یرمیاہ باب ٣٦ میں لکھا ہے اس لئے یہوداہ کے بادشاہ یہو یقیم کی بابت خداوند یوں کہتا کہ اس کی نسل میں سے کوئی نہ رہے گا جو داؤد کے تخت پر بیٹھے ۔ حضرت مسیح کا تعلق چونکہ خاندان یہو یقیم سے ہے اس لئے وہ نبی نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس خیال کو محض فرضی قرار دیا اور عوام الناس کو یہود کی بدذاتیوں پر متنبہ کیا کہ وہ روزانہ تحریف کتاب الہیٰ میں مصروف ہیں اور اپنے مدعا پورا کرنے کے لئے کتاب میں کمی وبیشی کر دیتے ہیں۔ ان کی نبوت کو مضبوط کرنے کے بعد ان کے حق میں ثنائیہ کلمات جو ظاہر فرمائے وہ قرآن کی سورتوں میں سلسلہ الذہب کی طرح ممزوج و مخلوط ہیں سورہ آل عمران میں ہے: ”وجيها في الدنيا والآخرة و من المقربين ويكلم الناس في المهد وكهلا ومن الصالحين“ اور سورہ انبیاء میں کہا ”ان الذين سبقت لهم منا الحسنى اولئك عنها مبعدون لا يسمعون حسيسها وهم في ما اشتهت انفسهم خالدون لا يحزنهم الفزع الاكبر وتتلقهم الملائكة“ اور سورہ زخرف میں فرمایا: ”ان هوالا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلا لبنى اسرائيل“
امر ہفتم
- ٧...... اس لئے کہ وہ میری چیز سے پائے گی۔ حضرت نے تعلیم کا وہ حصہ جو مسیح علیہ السلام نے
بیان کیا تھا اسے از سر نو زندگی بخشی اور غبار تحریف سے پاک کر کے اسے اصل حقیقت پر واپس کیا گویا انہیں چیزوں سے پایا جو حضرت مسیح کو دی گئی تھیں۔ سورہ شوریٰ میں ہے: ”شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذى اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان اقيمو الدين ولا تتفرقوا فيه“
الغرض جب یہ کتاب مکمل ہو چکی اور تکمیل شریعت کا اعلان ہو چکا تو کسی نبی کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ بعد میں آنے والا نبی رسوم شریعت سابقہ کو ردو بدل کرنا اور زمانہ کی ضرورت کے مطابق فرائض و آداب وسنن کا اضافہ کر کے جو کسر اس میں ہے اسے پورا کرتا ہے۔
کامل شریعت کو انتظار نہیں رہتی کہ بعد میں کوئی دوسرا اس کی تکمیل کرے۔
عہد عتیق اور عہد جدید محرف ہیں
یہود کی معاندانہ اور حاسدانہ کارروائیوں نے کتاب اللہ پر ادبار کی گھنگھور گھٹا طاری
٥٦
کر دی اور اندرونی اختلاف کے باعث اپنے اپنے عقیدے میں کمی وبیشی اور ردو بدل شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ اصلی تعلیم و باطل کی تمیز مشکل ہو گئی اور جو مقصد کتاب اللہ کے نزول اور کتاب اس قابل نہ رہی کہ وہ خلق اللہ کی رہنمائی کر سکے کسی دوسرے نبی کو مبعوث کر کے اصلی تعلیم کا مظہر بیرونی کے باہم اختلاف کا خاتمہ ہوتا۔ ارشاد خداوندی ہے: ”کان النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم اختلفوا فيه وما اختلف فيه الذين أو بغيا بينهم فهدى الله الذين آمنوا لما اختلفو من يشاء الى صراط مستقيم“ یعنی قوم پہلے ایک رونما ہو گیا خدا نے انبیاء کو بشارت اور نذارت پر مامور کر ایسی کتاب نازل کی جو مخلوقات کے اختلاف میں فیصلہ کر میں ظاہر ہوا جبکہ ان کے پاس واضح آیتیں خدا کی طرف کر کے اختلاف میں پڑ گئے خدا نے اہل ایمان کو اختلاف جو بعد میں آیا دکھلا دیا اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھ مضمون کی مؤید ہے: ”الله الذى انزل الكتاب و لاحق کو سچی تعلیم پر حاوی کر کے اتارا اور اسے حق و باطل کتاب کے لئے لاحق کتاب بمنزلہ معیار ہے۔
قرآن تحریف سے محفوظ ہے اس لئے اس ک
مگر قرآن کریم چونکہ انسانی دستبرد سے منزہ و م یہاں تک کہ اس کی حفاظت کا اہتمام خدا نے اپنے ذمہ لیا الذكر وانا له لحافظون“ یعنی کتاب اللہ کو ہم تحریف لفظی اور معنوی سے حافظ ہیں چنانچہ اس وعدہ س ذرائع مہیا کر دیئے کہ اس میں تحریف کا دخل نہ ہو سکے۔
سبب اوّل
- ١...... قرآن کو رفتہ رفتہ بالتدریج نازل کیا تاکہ
٥٧
کردی اور اندرونی اختلاف کے باعث اپنے اپنے عقیدہ کی نصرت کے لئے کتاب کے مضمون میں کمی و بیشی اور ردو بدل شروع کردیا۔ حتیٰ کہ اصلی تعلیم کا عنصر جعلی تعلیم میں غائب ہو گیا اور حق و باطل کی تمیز مشکل ہو گئی اور جو مقصد کتاب اللہ کے نزول سے خدا پورا کرنا چاہتا تھا وہ مفقود ہو گیا اور کتاب اس قابل نہ رہی کہ وہ خلق اللہ کی رہنمائی کر سکے۔ تب خدا کی غیوریت جوش میں آئی اور کسی دوسرے نبی کو مبعوث کر کے اصلی تعلیم کا چہرہ بیرونی سیاہی سے پاک کیا جاتا اور اس طرح قوم کے باہم اختلاف کا خاتمہ ہوتا۔ ارشاد خداوندی ہے: ”کان الناس امة واحدة فبعث اللہ النبیین مبشرین ومنذرین وانزل معہم الکتاب لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جاء تہم البینات بغیا بینہم فہدی اللہ الذین آمنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ واللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم“ یعنی قوم پہلے ایک حال پر تھی پھر عناد سے ان میں اختلاف رونما ہو گیا خدا نے انبیاء کو بشارت اور نذارت پر مامور کر کے دنیا میں بھیجا اور ان کے ساتھ ایک ایسی کتاب نازل کی جو مخلوقات کے اختلاف میں فیصلہ کرے اور اختلاف محض حسد کی وجہ سے ان میں ظاہر ہوا جبکہ ان کے پاس واضح آیتیں خدا کی طرف سے نازل ہو چکی تھیں مگر انہیں محرف کر کے اختلاف میں پڑ گئے خدا نے اہل ایمان کو اختلاف کے بعد حق کی راہ دوسرے نبی کی معرفت جو بعد میں آیا دکھلا دیا اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اسی طرح دوسری آیت بھی اس مضمون کی مؤید ہے: ”اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان“ یعنی خدا نے کتاب لاحق کو سچی تعلیم پر حاوی کر کے اتارا اور اسے حق و باطل کی تمیز کے لئے میزان مقرر کیا پس سابقہ کتاب کے لئے لاحق کتاب بمنزلہ معیار ہے۔
قرآن تحریف سے محفوظ ہے اس لئے اس کے بعد نبی کی ضرورت نہیں
مگر قرآن کریم چونکہ انسانی دستبرد سے منزہ اور ابدالآباد کے لئے تحریف سے محفوظ ہے یہاں تک کہ اس کی حفاظت کا اہتمام خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے اور ارشاد کیا: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ یعنی کتاب اللہ کو ہم نے اتارا ہے اور ہم اس کے تغیر و تبدل اور تحریف لفظی اور معنوی سے حافظ ہیں چنانچہ اس وعدہ کے ایفاء کے لئے خدا نے ایسے اسباب اور ذرائع مہیا کر دیئے کہ اس میں تحریف کا دخل نہ ہو سکے۔
سبب اوّل
- ١...... قرآن کو رفتہ رفتہ بتدریج نازل کیا تا کہ وہ سبق سبق ہو کر سینہ میں محفوظ ہو جائے
٥٧
برخلاف اور کتابوں سابقہ کے کہ وہ دفعۃً نازل ہو جایا کرتی تھیں۔ اس لئے ان کا حافظہ عنقاء کا حکم رکھتا تھا: ”وقرآنا فرقناه لتقرؤه على الناس على مكث ونزلناه تنزيلا“ یعنی ہم نے قرآن کو رفتہ رفتہ نازل کیا ہے تا کہ تو تھوڑے تھوڑے وقفہ سے لوگوں میں پڑھ کر سنائے اور وہ اس پر بلا تکلف عمل کر سکیں اور بغیر اشکال حفظ کر لیں اور سورہ فرقان میں فرمایا: ”وقالوا لولا نزل هذا القرآن جملة واحدة كذالك لنثبت به فؤادك ورتلنا ترتيلا“ یعنی قرآن کو رفتہ رفتہ منجم طور پر نازل کرنے کی دو وجوہات ہیں ایک تو مخالفین کے اعتراضات کا دندان شکن جواب دے کر آنحضرت ﷺ کے دل کو مطمئن کرنا مقصود ہے۔ دوئم ترتیل قرآت پیش نظر ہے۔ کہ امی قوم اسے ضبط رکھ سکے۔
قرآن کی پیش گوئی یسعیاہ کی کتاب میں
چنانچہ یسعیاہ باب ٢٨ آیت ٩ لغایت ١٣ میں اس کتاب کی طرف ان لفظوں میں ارشاد کیا گیا ہے۔ ”وہ کس کو دانش سکھاوے گا وہ کس کو وعظ کر کے سمجھائے گا۔ ان کو جن کا دودھ چھڑایا گیا جو چھاتیوں سے جدا کئے گئے کیونکہ حکم پر حکم حکم پر حکم۔ قانون پر قانون قانون پر قانون ہوتا جاتا تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہاں وہ وحشی کے سے ہونٹوں اور اجنبی زبان سے اس گروہ کے ساتھ باتیں کرے گا کہ اس نے ان سے کہا کہ وہ آرام گاہ ہے تم ان کو جو تھکے ہوئے ہیں آرام دیجئو اور یہ چین کی حالت ہے۔ پر وے شنوا نہ ہوئے سو خداوند کا کلام ان سے یہ ہوگا حکم پر حکم حکم پر حکم۔ قانون پر قانون قانون پر قانون تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں تا کہ وے چلے جائیں اور پچھاڑی گریں اور شکست کھائیں اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوویں۔“
پیشگوئی مذکور کی تشریح
یعنی نبی ﷺ امیوں کو دانش سکھاویں گے اور ان کو وعظ کر کے سمجھا دیں گے۔ گویا چھاتیوں سے الگ ہونا علم کے دودھ سے محروم رہنے کے لئے ایک لطیف استعارہ ہے اور قرآن ان کی ان پڑھ ہونے کے باعث منجم طور پر باقساط متعددہ نازل ہوگا کچھ مکہ میں کچھ مدینہ میں کچھ سفر میں کچھ حضر میں اور آنحضرت ﷺ کی قوم حضور ﷺ کے مقابلہ میں شکست کھائے گی۔ چنانچہ اہل عرب کے علاوہ دوسری قوموں نے آنحضرت کی صداقت کا یہ معیار قائم کر رکھا تھا کہ اگر آپ اپنی قوم پر غالب آئے تو صادق ہیں۔ مشکوٰۃ میں حدیث مروی ہے: ”وكانوا يتلومون بإسلامهم الفتح ويقولون اتركوه وقومه فان ظهر عليهم فانه نبي“ یعنی اسلام لانے کے لئے لوگوں نے فتح مکہ کا دن مقرر کر رکھا تھا اور کہتے تھے کہ اس نبی کو اپنے حال پر چھوڑ دو
٥٨
٧
اگر وہ اپنی قوم پر غالب آگئے تو سچے نبی ہیں۔
- ٢........ پہلے خدا عبری زبان میں ایک عرصہ د
نازل ہوا۔ چونکہ عرب کا ملک دشت اور بادیہ تھا قرار دیا گیا اور حضرت اسماعیل کو جو صحرائے عرب ہے اور دام میں پھنسنے سے مراد وہ قید ہے جو جنگ
یرمیاہ کی کتاب میں کتاب اللہ کی بشار
قرآن کا تدریجی نزول مسلمانوں کے بڑی برکت یہ تھی کہ اہل اسلام میں اس کے حف تغیرات خارجہ سے پاک ہو گیا۔ یرمیاہ نبی کی کتا دنوں کے بعد خداوند فرماتا ہے: ”میں اپنی شریع اسے لکھوں گا اور میں ان کا خدا ہوں گا اور وہ میر اپنے بھائی کو یہ کہہ کے نہ سکھائیں گے۔ کہ خدا مجھے جانیں گے خداوند کہتا ہے کہ میں ان کی بدکا جملہ خط کشیدہ قابل غور ہے۔ صفت امت محمدیہ بـ گی اور ہزار ہا ہزار حفاظ پیدا ہوں گے۔ باوجود ماتحت نہیں بلکہ ایک غریب قوم کے ہاتھ میں بـ میں مصروف ہے۔ پہلے قرآن آنحضرت کے سـ علينا جمعه وقرآنه فاذا قرئناه فاتـ حضرت کی اقتداء سے اسے محفوظ کیا تا کہ سابـ طرف آیت: ”بل هو آيات بينات في ہے۔ علامہ بغوی اور خازن نے تفسیر میں عـ ”قربانهم دمائهم واناجيلهم في صد نبی کی آمد اصلاح تحریف کے لئے ہو لہٰذا اس کتاب پر کوئی تبدیلی و اثـ آگ جلا سکتی ہے۔ حدیث مسلم میں حضرت مـ نے کہا: ”انزلت عليك كتابا لا يغسله
اگر وہ اپنی قوم پر غالب آگئے تو سچے نبی ہیں۔
٢...... پہلے خدا عبری زبان میں ایک عرصہ دراز کلام کرتا رہا لیکن قرآن ایک اجنبی زبان میں نازل ہوا۔ چونکہ عرب کا ملک دشت اور بادیہ تھا اس لئے ان لوگوں کی زبان کو وحشیوں کی زبان قرار دیا گیا اور حضرت اسماعیل کو جو صحرائے عرب میں سکونت پذیر تھے توراۃ میں انسان وحشی کہا ہے اور دام میں پھنسنے سے مراد وہ قید ہے جو جنگ بدر میں معرض ظہور میں آئی۔
یرمیاہ کی کتاب میں کتاب اللہ کی بشارت
قرآن کا تدریجی نزول مسلمانوں کے لئے ہزارہا برکات کا موجب ہوا۔ جن میں سے بڑی برکت یہ تھی کہ اہل اسلام میں اس کے حفظ کی سنت جاری ہو گئی اور اس طرح قرآن کریم تغیرات خارجہ سے پاک ہو گیا۔ یرمیاہ نبی کی کتاب میں اس کا نقشہ مکمل طور پر کھینچا گیا ہے۔ ان دنوں کے بعد خداوند فرماتا ہے: ”میں اپنی شریعت کو ان کے اندر رکھوں گا اور ان کے دل پر اسے لکھوں گا اور میں ان کا خدا ہوں گا اور وہ میرے لوگ ہوں گے اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے بھائی کو یہ کہہ کے نہ سکھائیں گے۔ کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانیں گے خداوند کہتا ہے کہ میں ان کی بدکاری کو بخش دوں اور ان کے گناہ کو یاد نہ کروں گا۔“
جملہ خط کشیدہ قابل غور ہے۔ صفت امت محمدیہ میں فرمایا ہے کہ ان کی کتاب دلوں پر نقش کی جائے گی اور ہزارہا ہزار حفاظ پیدا ہوں گے۔ باوجودیکہ قرآن کا اہتمام کسی شاہی انتظام و اہتمام کے ماتحت نہیں بلکہ ایک غریب قوم کے ہاتھ میں ہے۔ مگر باایں ہمہ بڑے شوق سے قوم اس کے حفظ میں مصروف ہے۔ پہلے قرآن آنحضرت کے سینہ مبارک میں جمع ہوا جیسے قرآنی ارشاد ہے: ”ان علینا جمعه وقرآنه فاذا قرئناه فاتبع قرآنه ثم ان علینا بیانه “ پھر امت نے حضرت کی اقتداء سے اسے محفوظ کیا تاکہ سابقہ پیش گوئیاں بر آئیں اور ان کے پورا ہونے کی طرف آیت: ”بل هو آيات بينات في صدور الذين اوتوا العلم “ میں اشارہ موجود ہے۔ علامہ بغوی اور خازن نے تفسیر میں عربی توراۃ سے پیش گوئی کو بدیں الفاظ نقل کیا ہے:
”قربانهم دمائهم واناجيلهم في صدورهم رهبان بالليل و ليوث بالنهار“
نبی کی آمد اصلاح تحریف کے لئے ہوا کرتی ہے جس کی قرآن کو ضرورت نہیں لہٰذا اس کتاب پر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی نہ اس کے آثار کو زمانہ محو کر سکتا ہے نہ آگ جلا سکتی ہے۔ حدیث مسلم میں حضرت عیاض سے مروی ہے کہ حضور کو بذریعہ حدیث قدسی نے کہا: ”انزلت عليك كتابا لا يغسله الماء تقرءه نائما ويقظان “ یعنی میں نے تجھ پر
٥٩
ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی محو نہیں کر سکتا جب کتاب ہذا تغیر سے محفوظ ہے تو نبی جو اصلاح تحریفات کے لئے دنیا میں آیا کرتا تھا اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔
سبب دوم
- ٢...... قرآن کے عہد میں مطبع جاری ہو گیا اور اس کی ہزار در ہزار نقلیں دنیا میں شائع
ہو گئیں۔ حتیٰ کہ کسی کو ایک لفظ بڑھانے یا گھٹانے کی مجال نہ رہی۔
سبب سوئم
- ٣...... علماء نے قرآن کی سورتوں اور آیات اور حروف والفاظ کی تعداد لگا دی ہے جو عامہ
تفاسیر میں مشتہر ہو چکی ہے۔ ہر ایک امی غیر امی اس کی تلاوت کرتا ہے۔ نماز پنجگانہ اور قیام رمضان وصلوٰۃ اللیل میں اس کی تلاوت جاری ہے۔ یہ ایسے اسباب ہیں جن کے ہوتے ہوئے تحریف ناممکن ہے۔ اس لئے مابعد کے زمانہ میں نبی پیدا ہونے کی حاجت نہ رہی اس لئے آئندہ کا سلسلہ نبوت مسدود ہے۔
آنحضرت ﷺ کی رسالت ہر مکان وزمان کے لئے عام ہے
آنحضرت ﷺ سے قبل انبیاء کی نبوت کسی خاص قوم یا شہر یا علاقہ کے لئے محدود ہوتی تھی۔ اس لئے تعدد مبلغین کی ضرورت تھی حضور ﷺ کی رسالت جملہ خلق اللہ کے لئے عام ہے جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہے لہذا حضور کے بعد کسی دوسرے نبی کی حاجت نہیں۔ جناب علیہ السلام نے بآواز بلند فرمایا : ”يايها الناس اني رسول الله اليكم جميعا الذى له ملك السمٰوت والارض (اعراف:١٥٨)“
- ٢...... ”تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذيرا (فرقان:١)“
- ٣...... ”واوحى الى هذا القرآن لانذركم به ومن بلغ (الانعام:١٩)“
- ٤...... ”لتنذر ام القرى ومن حولها (شوری:٧)“ اور حضور نے ارشاد فرمایا:
”ارسلت الي الخلق كافة“ مجھے جملہ خلق اللہ کی رہنمائی کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
کتاب پیدائش کی بشارت
اور توراۃ کتاب پیدائش میں بھی اس امر کی تصریح موجود ہے کہ آنجناب کی دعوت تمام قوموں پر حاوی ہے اور دنیا کا کوئی خطہ آپ کی دعوت سے باہر نہیں۔ ”لا يزول الحكم من يهود او الراسم من بنى اسرائيل حتى يحيى الذى له الكل واياه تنتظر الامم
٦٠
واليه تجتمع الشعوب“ یعنی نبی ہمیشہ بنی اسرا وہ نبی پیدا ہو جس کی اتباع پر تمام قومیں مامور ہیں۔ تـ کے لئے عام ہے۔ اس وقت نبوت بنی اسرائیل سے خار میں ہیں کیونکہ ہر نبی نے اپنی اپنی امت سے ان کا عہـ کی بشارتوں سے پر ہیں دنیا کی جملہ اقوام ان کے لـ جس کی طرف فقرہ اليه تجتمع الشعوب میں ا اور کسی زمانہ کی رسالت کو اس کے ساتھ وابستہ سمجھا بعض ازمنہ سے مخصوص ہو جاتی ہے جو خلاف قرآن و
بائبل پکار پکار کہتی ہے کہ حضـ
کتاب یسعیاہ سے ختمـ
یسعیاہ باب ٤٩ میں ہے۔ اے بحری جز سنو خداوند نے مجھے رحم سے بلایا میں جب سے اپنی میرے نام کو مذکور کیا اور اس نے میرے منہ کو تیز تلوا چھپایا اور اس نے مجھے تیر آبدار کیا اور اپنے ترکش میں میرا بندہ ہے۔
تشریح
بحری جزیرہ کی تخصیص اس لئے ہے کہ جزیرہ عرب سے اول حق کی دعوت دی اور پھر اس سے متجاوز ہو کر دنیا کے تمام بلاد و ممالک میں جو دور دراز ہیں صدائے دعوت پہنچائی اور کہا کہ اے لوگو میرا نام مذکور کیا حضرت کا ذکر احبار و رہبان کی زبان پر جار
آنحضرت ﷺ ابھی تولد نہ ہوئے تھے کہ ان کی زبان پر آپ کا تذکرہ اشاعت پذیر تھا اور شاعروں محفلوں کی زینت بخشی۔ یہود میں سے عبداللہ بن سلام اور پسـ
٦١
واليه تجتمع الشعوب “ یعنی نبی ہمیشہ بنی اسرائیل میں سے ہوتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ نبی پیدا ہو جس کی اتباع پر تمام قومیں مامور ہیں۔ یعنی حضرت محمد ﷺ جن کی دعوت سب دنیا کے لئے عام ہے۔ اس وقت نبوت بنی اسرائیل سے خارج ہو جائے گی اور تمام امتیں اس نبی کی انتظار میں ہیں کیونکہ ہر نبی نے اپنی اپنی امت سے ان کا تذکرہ کر دیا ہے۔ اور آسمانی صحائف بتمامہا ان کی بشارتوں سے پر ہیں دنیا کی جملہ اقوام ان کے مذہب میں داخل ہوں گی یہ ان کا اجتماع ہے جس کی طرف فقرہ الیه تجتمع الشعوب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر آپکے بعد کوئی نبی پیدا ہو اور کسی زمانہ کی رسالت کو اس کے ساتھ وابستہ سمجھا جائے تو حضرت کی دعوت عام نہیں رہتی بلکہ بعض ازمنہ سے مخصوص ہو جاتی ہے جو خلاف قرآن وسنت واجماع ہے۔
بائبل پکار پکار کہتی ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء ہیں
کتاب یسعیاہ سے ختم نبوت کا ثبوت
یسعیاہ باب ٤٩ میں ہے۔ اے بحری سر زمینو! میری سنو! اے لوگو! جو تم دور ہو کان دھرو خداوند نے مجھے رحم سے بلایا میں جب سے اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا تب ہی سے اس نے میرے نام کو مذکور کیا اور اس نے میرے منہ کو تیز تلوار کی مانند کیا اور مجھ کو اپنے ہاتھ کے سایہ تلے چھپایا اور اس نے مجھے تیر آبدار کیا اور اپنے ترکش میں مجھے چھپا رکھا اور اس نے مجھ سے کہا کہ تو میرا بندہ ہے۔
تشریح
بحری زمین کی تخصیص اس لئے ہے کہ حضور جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے اور اہل جزیرہ کو سب سے اول حق کی دعوت دی اور کہا اے بحری سر زمینو میری سنو! پھر عرب کے جزیرہ سے متجاوز ہو کر دنیا کے تمام بلاد ممالک میں جو دور دراز واقع ہیں۔
صدائے دعوت پہنچائی اور کہا کہ اے لوگو جو تم دور ہو کان دھرو اس نے میرا نام مذکور کیا حضرت کا ذکر احبار رہبان وشعراء کاہنوں وجنوں واصنام کی زبان پر جاری تھا
آنحضرت ﷺ ابھی تولد نہ ہوئے تھے کہ احبار اور رہبان اور کاہنوں اور نجومیوں کی زبان پر آپ کا تذکرہ اشاعت پذیر تھا اور شاعروں نے اپنے قصائد کو حضور کے ذکر سے زیب وزینت بخشی۔ یہود میں سے عبداللہ بن سلام اور پسران سعید اور ابن یامین اور مخیریق اور کعب
٦١
الاحبار اور شاموک عبداللہ بن صوریا۔ حی بن اخطب اور برادر اخطب اور کعب بن اسد و زبیر بن باطیاء نے آپ کی صداقت کی شہادت دی اور علماء نصاریٰ میں سے بحیرا ء اور نسطورا اور صاحب بصریٰ اور صفاطر اور اسقف شام اور جارود اور سلمان اور نجاشی اور سمسین حبشہ اور راہب بصری اور اساقف نجران اور ہرقل ملک روم اور صاحب رومہ وغیرہم نے حضرت کی نبوت کی تصدیق کی اور مقوقس والی مصر اور اس کے وزیر نے حضور علیہ السلام کے حق میں تصدیقیہ الفاظ بیان کئے اور شعراء میں سے تبع اور اوس بن حارثہ اور کعب بن لوئی اور سفیان بن مجاشع اور قس بن ساعدہ اور سیف بن ذی یزن وغیرہم کے اشعار حضور کی صفات کو مشتہر کرتے ہیں اور زید بن عمرو بن نفیل حنیف اور ورقہ بن نوفل عیسائی اور عسکلان حمیری نے بھی آپ کی نبوت کا اعلان کر دیا تھا اور کاہنوں کی جماعت میں سے شافع بن کلیب اور شق اور سطیح اور سواد بن قارب اور خنافر اور افعی نجران اور جذل بن جذل کندی اور ابن خاصہ دوسی اور سعید بن بنت کریرا اور فاطمہ بنت نعمان نے آپ کی خبر پہلے سے مشتہر کی اور جنوں کی زبان اور بتوں کے شکم اور ذبیحوں سے حضرت کے وقت رسالت کی اطلاع ملتی تھی اور قبروں اور پتھروں اور دیواروں پر آپ کا تذکرہ خط قدیم سے لکھا ہوا پایا گیا۔ بلکہ آپ کا نام نامی و اسم گرامی ہر زبان پر دائر تھا۔ اس لئے بہت نفوس نے اپنی اولاد کا نام محمد رکھا تا کہ نبوت و رسالت ان کے حصہ میں آئے لیکن الله اعلم حيث يجعل رسالة آنحضرت کے عہد میں آپ کے ہم نام ہفت کس موجود تھے محمد بن احیجہ، محمد بن جلاج اومی، محمد بن مسلمہ انصاری محمد بن برا بکری ، محمد بن سفیان بن مجاشع ، محمد بن عمرو بن عتقی ، محمد بن خزاعی اسلمی، پہلا شخص جو اس نام سے موسوم ہوا محمد بن سفیان ہے اور یعقوبیوں کا دعویٰ ہے کہ محمد بن محمّد اس نام سے مشرف ہوا جو قبیلہ ازد سے ہے۔
باقی تشریح
اور حضرت کا منہ تیز تلوار کی مانند تھا یعنی فصاحت میں تلوار کی طرح کام کرتے تھے۔ یا آپ کے احکام لسانیہ تیز تلوار کا نمونہ تھے یا آپ کی دعائیں وہ کام کرتی تھیں جو شمشیر برآں کرتی ہے۔ یا چہرہ کی درخشانی اور رخسار کی صفائی بشرہ کی چمک و دمک تلوار سے ملتی جلتی تھی: ”قال رجل وجهه مثل السيف قال لا بل كان مثل الشمس والقمر وكان مستديرا “ شراح نے لکھا ہے: ”مثل السيف فى البريق واللمعان لكن لما كان يوهم الطول ايضاً قال جابر لا بل كان وجهه مثل الشمس والقمر “ یعنی حضرت کا چہرہ صباحت اور چمک میں تلوار سے نسبت رکھتا تھا۔ مگر حضرت جابر کا بیان ہے کہ چہرہ ٦٢
کی استدارت کا خیال رکھتے ہوئے آفتاب یا مہتاب اور رسول خدا ﷺ کو خدا تعالیٰ نے اپنے زور آور حملوں سے انہیں بچایا اور پیغام و الله یعص الله اور انا كفينك المستهزئين کا مژدہ سنایا اور تیر آبدار بنایا کہ جیسے تیر دشمن پر غلبہ پانے کا ایک آلہ وسیلہ ہے صحابہ کہتے ہیں: ”كنا اذا حمى الوطيس حشمت وشوکت کو حضور کے وجود نے زائل کر دیا اور ظاہر کیا جائے اور نبی ﷺ کو خدا نے سب سے اوّل میں دنیا میں بھیجا۔ قاضی عیاضؒ نے شفا میں تحریر فرمایا محمدﷺ بالفاتح فى حديث الاسراء ال ابى العالية وغيره عن ابى هريرة و فاتحا وخاتما وفيه من قوله عليه الصلو مراتبه ورفع لى ذكرى وجعلنى فاتحا المبدء المقدم فى الانبياء والخاتم لهم کم فى الخلق وآخرهم فى البعث “ یعنی خدا حضرت ابو ہریرہؓ سے بسلسلہ اسناد ربیع بن انس پہنچی کا قول جناب نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے مجھے سب سے پیچھے مجھے دنیا میں مبعوث کیا اور بعد ازاں خدا شہرہ بلند کیا اور مجھے تمام سے پہلے بنایا اور سب سے آ فى الخلق وآخرهم فى البعث“ اس مضمون کی
انجیل متی کی بشارت
اور انجیل متی باب ١٩ میں ہے کہ: ”آس جو سویرے نکلا تا کہ اپنے انگوری باغ میں مزدور لگا ٹھہرا کر انہیں اپنے باغ میں بھیج دیا۔ پھر دن چڑھے بے کار کھڑے دیکھا اور ان سے کہا تم بھی باغ میں گئے۔ پھر اس نے دوپہر اور تیسری پہر کے قریب
کی استدارت کا خیال رکھتے ہوئے آفتاب یا مہتاب سے مماثلت درست بیٹھتی ہے۔ اور رسول خدا ﷺ کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں کے سایہ تلے چھپایا اور دشمنوں کے زور آور حملوں سے انہیں بچایا اور پیغام والله یعصمک من الناس سنایا وسیکفیکھم اللہ اور انا کفینک المستھزئین کا مژدہ بتلایا اور اس نے آنحضرت کی ذات ستودہ صفات کو تیر آبدار بنایا کہ جیسے تیر دشمن پر غلبہ پانے کا ایک آلہ ہے۔ اسی طرح حضور کی ذات غلبہ بر اعداء کا وسیلہ ہے صحابہ کہتے ہیں: ”كنا اذا حمى الوطيس اتقينا برسول الله ﷺ“ دشمنوں کی حشمت و شوکت کو حضور کے وجود نے زائل کر دیا اور اپنی ترکش میں مجھے چھپا رکھا تا کہ آخر پر مجھے ظاہر کیا جائے اور نبی ﷺ کو خدا نے سب سے اوّل پیدا کیا اور آخری وقت تک محفوظ رکھا اور آخر میں دنیا میں بھیجا۔ قاضی عیاضؒ نے شفا میں تحریر فرمایا ہے: ”وسمى الله تعالى نبيه محمد ﷺ بالفاتح فى حديث الاسراء الطويل من رواية الربيع بن انس عن ابى العالية وغيره عن ابى هريرة وفيه من قول الله تعالى وجعلتك فاتحا وخاتما وفيه من قوله عليه الصلوة والسلام فى ثناء على ربه وتعديد مراتبه ورفع لى ذكرى وجعلنى فاتحا وخاتما ثم قال فى معناه اقوالا اخر المبدء المقدم فى الانبياء والخاتم لهم كما قال عليه السلام كنت اوّل الانبياء فى الخلق وآخرهم فى البعث“ یعنی خدا نے اپنے نبی کا نام فاتح قرار دیا۔ ابوالعالیہؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے بسلسلہ اسناد ربیع بن انس یونہی نقل کیا ہے اور اس سیاق متن میں خدائے تعالیٰ کا قول جناب نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے مجھے سب سے اول پیدا کیا اور تا آخر چھپا رکھا اور سب سے پیچھے مجھے دنیا میں مبعوث کیا اور بعد ازاں خدا کی ثناء کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرا شہرہ بلند کیا اور مجھے تمام سے پہلے بنایا اور سب سے آخر ظاہر کیا اور حدیث: ”كنت اول الانبياء فى الخلق وآخرهم فى البعث“ اس مضمون کی موئید ہے۔
انجیل متی کی بشارت
اور انجیل متی باب ٢٠ میں ہے کہ: ” آسمان کی بادشاہت اس گھر کے مالک کی مانند ہے جو سویرے نکلا تا کہ اپنے انگوری باغ میں مزدور لگائے اور اس نے مزدوروں سے ایک دینار روز ٹھہرا کر انہیں اپنے باغ میں بھیج دیا۔ پھر دن چڑھے کے قریب نکل کر اس نے اوروں کو بازار میں بے کار کھڑے دیکھا اور ان سے کہا تم بھی باغ میں چلے جاؤ جو واجب ہے تمہیں دوں گا پس وہ چلے گئے۔ پھر اس نے دوپہر اور تیسرے پہر کے قریب نکل کر ویسا ہی کہا اور کوئی ایک گھنٹہ دن رہے پھر
٦٣
نکل کر اوروں کو کھڑے پایا اور ان سے کہا کہ تم کیوں یہاں تمام دن بیکار کھڑے رہے انہوں نے اس سے کہا اس لئے کہ کسی نے ہم کو مزدوری پر نہیں لگایا۔ اس نے ان سے کہا کہ تم بھی باغ میں چلے جاؤ۔ جب شام ہوئی تو باغ کے مالک نے اپنے کارندے سے کہا کہ مزدوروں کو بلا اور پچھلوں سے لے کر پہلوں تک انہیں مزدوری دے دے جب وہ آئے جو گھنٹہ دن رہے تو انہیں ایک ایک دینار ملا جب پہلے مزدور آئے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ ہمیں زیادہ ملے گا اور ان کو بھی ایک ایک دینار ملا۔ جب ملا تو گھر کے مالک سے یہ کہہ کر شکایت کرنے لگے ان پچھلوں نے ایک ہی گھنٹہ کام کیا اور تو نے انہیں ہمارے برابر کر دیا۔ جنہوں نے دن بھر کا بوجھ اٹھایا اور سخت دھوپ سہی اس نے جواب دے کر ان میں سے ایک سے کہا۔ میاں میں تیرے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا۔ کیا تیرا مجھ سے ایک دینار نہیں ٹھہرا تھا جو تیرا ہے اٹھا لے اور چلا جا۔ میری مرضی یہ ہے کہ جتنا تجھے دیتا ہوں اس پچھلے کو بھی اتنا ہی دوں۔ کیا مجھے روا نہیں کہ اپنے مال کو جو چاہوں سو کروں۔ یا تو اس لئے کہ میں نیک ہوں تو بری نگاہ سے دیکھتا ہے اس طرح آخر اول ہو جائیں گے۔“
حدیث مطابق مضمون انجیل
آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی مندرجہ صدر کا مصداق اپنی امت کو قرار دیا ہے چنانچہ بشارت ہٰذا کا خلاصہ مضمون اپنے کلمات میں اخذ کر لیا ہے۔ بخاری نے صحیح میں اور محمد نے موطا میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے: ”انما اجلكم في اجل من خلا من الامم ما بين صلوة العصر الى مغرب الشمس وانما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا فقال من يعمل لى الى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود والى نصف النهار على قيراط قيراط ثم قال من يعمل لى الى صلوة العصر على قيراط قيراط ثم قال ومن يعمل من صلوة العصر الى المغرب الشمس على قيراطين قيراطين الافانتم الذين يعملون من صلوة العصر الى مغرب الشمس الالكم الاجر مرتين فغضبت اليهود والنصارى فقالوا نحن اكثر عملا واقل عطاء قال الله تعالى فهل ظلمتكم من حقكم شيئاً قالو لا قال الله تعالى فانه فضلى اعطيه من شئت“ ”یعنی تمہاری میعاد سابقہ امتوں کے مقابلہ میں اتنی ہے جیسا عصر سے مغرب تک وقت کی ہے اور تمہارا اور یہود کا حال بالکل ایسے شخص سے ملتا ہے جس نے باغ میں مزدور لگائے اور آواز دیا کہ کون صبح سے دن ڈھلنے تک ایک ایک قیراط کے مقابلہ میں کام کرے گا۔ یہود نے اس کا کام دوپہر تک ایک ایک قیراط لے کر
٦٤
کیا۔ پھر نکلا اور نداء کی کہ کون دوپہر سے عصر تک میر گا۔ تو عیسائیوں نے عصر تک کام کیا مگر ایک ایک قیراط عصر سے مغرب تک کرے اور اجر دو دو قیراط پاوے ک سے مغرب تک ہے مگر تمہیں دو دو قیراط ملیں گے یہود و نصاریٰ رنج میں آئے اور مالک سے کہا کہ ہم ہمیں کم ملی تو مالک نے کہا کہ جو محنتانہ تم سے ٹھہرایا تھا اپنے مال سے زیادہ دیا تو یہ میری مرضی میں اپنے مال عطا کروں ﴾
دوسری حدیث مطابق مضمون انجیل
اس طرح پچھلے پہلے ہو جائیں گے۔ چنا نے امت محمدی کی شان میں نقل کیا ہے: ”نحن الا بيد انهم اوتوا الكتاب من قبلنا واوتيناه پہلے ہوں گے دن قیامت کے۔ ہاں یہ بات اور ہے بعد میں عنایت ہوئی اور مسلم کی دوسری روایت میں ۔ القيامة ونحن اوّل من يدخل الجنة“ گے۔ سب سے اوّل ہم ہی بہشت میں جائیں گے طرح ثابت ہے: ”نحن الآخرون من اهل الـ لهم قبل الخلائق“ ہم اہل دنیا میں سب سے ا ہمارا فیصلہ سب خلق اللہ سے اول ہوگا اور دارمی نے حدیث کا منشاء بالکل انجیل کے بیان کے مطابق ۔ کی تحریف کا اثر ہے۔
مرزا قادیانی کا خود ازالہ میں یہ قول ہے
”اور نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول جبرئیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں یہ امر بھی ختم نبو
٦٥
کیا۔ پھر نکلا اور ندا کی کہ کون دوپہر سے عصر تک میرا کام ایک ایک قیراط کے معاوضہ میں کرے گا۔ تو عیسائیوں نے عصر تک کام کیا مگر ایک ایک قیراط لے کر پھر نکلا اور صدا اٹھائی کہ کون میرا کام عصر سے مغرب تک کرے اور اجر دو دو قیراط پاوے سن رکھو تم وہ امت ہو جن کا وقت مزدوری عصر سے مغرب تک ہے مگر تمہیں دو دو قیراط ملیں گے یعنی دوہرے اجر کے تم مستحق ہو۔ تب یہود و نصاریٰ رنج میں آئے اور مالک سے کہا کہ ہم نے محنت پر زیادہ عرصہ صرف کیا اور اجرت ہمیں کم ملی تو مالک نے کہا کہ جو محنتانہ تم سے ٹھہرایا تھا اس سے کم تمہیں نہیں دیا۔ ایک کو اگر میں نے اپنے مال سے زیادہ دیا تو یہ میری مرضی میں اپنے مال کا مختار ہوں میرا فضل ہے جس کو چاہوں میں عطا کروں“
دوسری حدیث مطابق مضمون انجیل
اس طرح پچھلے پہلے ہو جائیں گے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً بخاری اور مسلم نے امت محمدی کی شان میں نقل کیا ہے: ”نحن الآخرون السابقون یوم القیامۃ بیدانہم اوتوا الکتاب من قبلنا واوتیناہ من بعدہم“ یعنی ہم پچھلے ہیں دنیا میں اور پہلے ہوں گے دن قیامت کے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب عطاء ہوئی اور ہم کو بعد میں عنایت ہوئی اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے: ”نحن الآخرون الاولون یوم القیامۃ ونحن اوّل من یدخل الجنۃ“ یعنی ہم دنیا میں آخر اور روز قیامت اول ہوں گے۔ سب سے اوّل ہم ہی بہشت میں جائیں گے اور تیسری روایت میں حضرت حذیفہؓ سے اس طرح ثابت ہے: ”نحن الآخرون من اہل الدنیا والاولون یوم القیامۃ المقضی لہم قبل الخلائق“ ہم اہل دنیا میں سب سے اخیر میں اور عقبیٰ میں سب سے مقدم ہوں گے۔ ہمارا فیصلہ سب خلق اللہ سے اول ہوگا اور دارمی نے اس روایت کو عمرو بن قیس سے بیان کیا ہے۔ حدیث کا منشاء بالکل انجیل کے بیان کے مطابق ہے جہاں کچھ معمولی اختلاف ہے وہ ان کتابوں کی تحریف کا اثر ہے۔
مرزا قادیانی کا خود ازالہ میں یہ قول ہے کہ نبوت کا اختتام ہو چکا ہے
”اور نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے کیونکہ جب ختمیت کی مہر ٹوٹ گئی
٦٥
اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر نعوذ باللہ نبوت نازل ہونا برابر ہے ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبریل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد نہیں آ سکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠، ٤١١)
مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے
ختم نبوت کو توڑنے کے لئے آنحضرت ﷺ کے بعد ایک قطرہ کا نزول بھی مرزا قادیانی نے کافی سمجھا ہے۔ اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت آیت ختم نبوت کی تحقیر کا متضمن ہے آپ نے صرف اسی دعویٰ پر قناعت نہیں کی بلکہ لکھا ہے کہ: ”خدا کی وحی بارش کی طرح مجھ پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر مجھے نبی کا خطاب دیا گیا۔ مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدائے تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں۔ ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدائے تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔ میں خدائے تعالیٰ کی دس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
اور نیز اپنی کتاب نزول المسیح کے ضمیمہ میں لکھتے ہیں: ”اگر خدا کی پاک وحی سے حدیثوں کا کوئی مضمون مخالف پاوے اور اپنی وحی کو قرآن کے مطابق پاوے اور بعض حدیثوں کو بھی اس کی موئید دیکھے تو ایسی حدیثوں کو چھوڑ دے اور ان حدیثوں کو قبول کرے جو قرآن کے مطابق ہیں اور اس کی وحی کے مخالف نہیں۔“
(ضمیمہ ص ٤٠ ملحقہ اعجاز احمدی، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)
مرزا قادیانی اپنی وحی کو قرآن کے برابر خیال کرتے ہیں
اور (حقیقت الوحی کے ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) پر بھی ایسا بیان مندرج ہے جو مرزا قادیانی کی وحی کو کتب الہیہ منزلہ کے مساوی بتلا رہا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے: ”میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“ اور اربعین نمبر ٤ ص ١٩ کے ذیل میں لکھا ہے:
٦٦
”جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توراۃ اور انجیل اور قرآن پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) اور حقیقت الوحی میں لکھا ہے: ”اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ ان میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
ناظرین! بحوالہ ازالہ مرزا قادیانی کا بیان آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک فقرہ کا نزول بھی آنحضرت کے بعد منافی ختم نبوت ہے۔ اس کے ساتھ ان کے دوسرے بیانات کو ملاحظہ فرمائیں جن میں اپنی وحی کو کتب منزلہ کے مساوی بتلایا ہے۔ اور بیان کیا ہے کہ بارش کی طرح مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے تو ایک طرح گویا مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ میرا دعوائے آیت خاتم النبیین کے مخالف ہے اور میں اس آیت کا منکر ہوں اور دیدہ دانستہ میں نے خاتم النبیین کے مضمون کو توڑ دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ حقیقی نبوت کے مدعی ہیں ورنہ آپ کی وحی قرآن اور انجیل اور توراۃ کے ہم پلہ کیونکر ہو سکتی تھی۔
تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کے دونوں اقسام منقطع ہوچکی ہیں
آنحضرت ﷺ بغزوہ تبوک پا بہ رکاب تھے اور حضرت علیؓ کو بچوں اور بوڑھوں اور مستورات کی حفاظت کے لئے مدینہ میں اپنا جانشین بنایا حضرت علیؓ نے عذر کیا اتخلفنی فی النساء والصبیان یعنی یہ بات میرے لئے موجب عار ہے کہ آپ مجھے جرگہ نسواں وصبیان میں چھوڑتے ہیں۔ حضور ﷺ نے ان کے اطمینان کے لئے یہ الفاظ فرمائے: ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی“ یعنی اخوت اور عارضی جانشینی کے لحاظ سے آپ کو میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ سے تھی لیکن ہارون علیہ السلام نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ گویا ان الفاظ نے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ غیر تشریعی نبوت بھی ختم ہوچکی ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ صاحب شریعت پیغمبر تھے اور حضرت ہارون غیر تشریعی نبی بطور مددگار لگے ہوئے جیسے ان کی دعاء سے یہ بات بالکل واضح ہے: ”واجعل لی وزیرا من اهلی هارون اخی اشدد به ازری“ اور اس بات کی اجابت کو بھی خدا نے سورہ فرقان میں ظاہر کیا ہے: ”ولقد آتینا موسیٰ الکتاب وجعلنا معه اخاه
٧٦
ہارون وزیرا“ مرزا قادیانی نے نبوت کے دو اقسام قرار دئے ہیں تشریعی کو مسدود بتلایا ہے یعنی صاحب شریعت جدیدہ آنحضرت کے بعد نہیں آسکتا اور غیر تشریعی نبوت کے متعلق آپ کی یہ رائے ہے کہ وہ تا قیامت جاری رہے گی کیونکہ خدا کا فیض کسی خاص زمانہ تک محدود نہیں ہو سکتا اور اس عقیدہ کو اہل سنت نے کفر بتلایا ہے اس لئے کہ آنحضرتﷺ نے اپنے کلمات طیبات میں غیر تشریعی نبوت کے انسداد کی بھی تصریح کی ہے۔ بخاری نے روایت کیا ہے: ”كانت بنوا اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانا خاتم النبيين لا نبي بعدی“ بنواسرائیل پر انبیاء حکمرانی کرتے تھے۔ جب ایک نبی انتقال کرتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہو جاتا۔ یہ سلسلہ حضرت موسیٰ کے بعد متواتر جاری رہا۔ یہ خلفاء موسیٰ علیہم السلام کہلاتے تھے جن کے پاس جدید شریعت نہ تھی۔ وہ تورات پر حکم صادر کرتے تھے اور حضرت موسیٰ کی نبوت کے مصدق تھے۔ لیکن حضرت فرماتے ہیں کہ میرے بعد ایسے انبیاء غیر تشریعی بھی نہ ہوں گے جیسے حضرت موسیٰ کے بعد ہوئے ہیں۔ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور خلفاء بغیر نبوت میرے پیچھے کثرت سے ہوں گے۔
اگر غیر تشریعی نبوت جاری تھی تو حضرت نے مسیلمہ پر کیوں کفر کا فتویٰ دیا۔ جس نے محض یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں غیر تشریعی نبی ہوں اور شریک نبوۃ محمدیہ جس طرح حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ساتھ شریک تھے۔ حضرت موسیٰ تشریعی نبی تھے اور حضرت ہارون غیر تشریعی۔ پھر مسیلمہ کے دو معتقدوں کو جو مسیلمہ کی چٹھی لے کر حاضر خدمت ہوئے تھے۔ یہ کیوں کہا کہ تم بھی مسیلمہ کی نبوت کے قائل ہو۔ تمہارا قتل کر دینا واجب تھا مگر معذوری یہ ہے کہ قاصدوں اور سفیروں کے قتل کا نہ حکم ہے نہ رواج اور حضرت ابوبکر صدیق نے مسیلمہ اور اس کے معتقدین کیخلاف کیوں شمشیر اٹھائی اور خالد کے سپہ سالاری میں ایک ہزار فوج دے کر کیوں یمامہ پر حملہ کا حکم دیا حتیٰ کہ خالد نے اکثر رفقاء مسیلمہ کو تہہ تیغ کر کے فتح یابی حاصل کی۔ کیا وہ نہ سمجھتے تھے: ”امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدو ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله“ یعنی قتال اس وقت ممنوع ہے جبکہ فریق مقابل کلمہ گو ہو۔ مسیلمہ اور اس کے رفقاء ’لا اله الا الله محمد رسول الله‘ پڑھتے تھے اور حضرت کی نبوت کے قائل تھے اور ان کے دین کو دین حق خیال کرتے تھے۔ معہٰذا صحابہ نے انہیں کافر سمجھا۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ آیت خاتم النبیین کا انکار کر کے دائرہ کفر میں داخل ہوگئے۔ اور انہیں کلمہ کا مفہوم جو اعتراف توحید و رسالت ہے نافع نہ ہوا۔ ٦٨
کیونکہ ایک آیت قرآنی کا انکار جملہ قرآن کے انکار کے مساوی ہے اور قرآن کا انکار انکار رسالت کے ہم دوش ہے اور ان کا رسالت میں خدا کا انکار لازم ہے۔ اسلئے لا اله الا الله محمد رسول الله! کا اعتراف باطل ہو گیا۔
حضرت علیؓ مثیل ہارون علیہ السلام ہیں لیکن نبوت کے مدعی نہیں
اور آنحضور علیہ السلام نے حضرت علی کو حضرت ہارون سے جو غیر تشریعی نبی تھے نسبت اور مماثلت دے کر آخر میں یہ جملہ فرمایا: الا انه لا نبی بعدی یعنی غیر تشریعی نبوت جیسی حضرت ہارون کو ملی تھی۔ میرے بعد ختم ہے اور حضرت علیؓ باوجودیکہ بروزی اور ظلی طور پر حضرت ہارون کے مثیل تھے۔ لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر طرح کی نبوت کا سلسلہ مسدود ہے اس لئے آپ نے فرمایا: ”الا انی لست بنبی ولا یوحی الی ولکنی اعمل بکتاب الله وسنة نبیه ما استطعت (شفاء ص١٩٤)“ یعنی حضرت علیؓ کا قول ہے کہ میں پیغمبر نہیں اور نہ مجھے وحی آتی ہے لیکن میں حتی الامکان کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عامل ہوں۔
باب وحی آنحضرت کے بعد قطعاً مسدود ہو چکا ہے ابوبکر صدیقؓ آنحضرت
کے بعد نزول وحی کی نفی کرتے ہیں
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبۂ خلافت میں بتصریح فرمایا ہے کہ مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی اور آنحضرت ﷺ مورد وحی تھے اس لئے مجھ سے غلطی کا صادر ہونا ممکن ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ خطا سے محفوظ اور شیطان سے معصوم تھے: ”اخرج احمد عن قیس بن ابی حازم قال قال ابو بکر الصدیقؓ لئن اخذتمونی بسنة نبیکم ما اطیقها ان کان لمعصوما من الشیطان وان کان لینزل علیه الوحی من السماء“ یعنی اگر تم مجھ کو اپنے نبی کی سنت سے گرفت کرو گے تو مجھے اس کی کماحقہ بجا آوری کی طاقت نہیں۔ آنحضرت ﷺ شیطان سے معصوم تھے اور آپ پر آسمان سے وحی نازل ہوتی تھی مگر مجھے یہ کمالات حاصل نہیں: ”اخرج ابن سعد عن الحسن البصری انکم ان کلفتمونی ان اعمل فیکم بمثل عمل رسول الله ﷺ لم اقم به کان رسول الله ﷺ عبداً اکرمه الله بالوحی وعصمه الا وانما انا بشر ولست بخیر من احدکم “ ابن سعد نے حضرت حسن بصری سے ابوبکر صدیقؓ کا بیان اس طرح نقل کیا ہے کہ اگر مجھ کو یہ تکلیف دو گے کہ میں تمہارے درمیان ایسی چال چلوں جیسے رسول اللہ چلتے تھے میں اس کی کماحقہ پابندی نہ کرسکوں گا۔ حضرت خدا کے مکرم بندہ
٦٩
تھے۔ خدا نے آپ ﷺ کو وحی سے سرفراز فرمایا تھا اور شیطانی زد سے محفوظ رکھا تھا۔ میں ایک تمہاری طرح بشر ہوں اور تم میں سے کسی کی نسبت فضیلت نہیں رکھتا باوجودیکہ آپ صدیق ہیں اور صدیق کا پایہ محدث سے اعلیٰ ہے پھر بھی آپ وحی نبوت کے نزول سے انکار کرتے ہیں۔
ام ایمن کا قول کہ وحی منقطع ہو چکی ہے
اور ام ایمن کا قول مسلم نے بروایت انس یوں روایت کیا ہے: ”ولكن ابكى ان الوحي قد انقطع من السماء “ یعنی میں حضرت ﷺ کی وفات پر اس لئے روتی ہوں کہ وحی کا نزول آسمان سے منقطع ہو گیا ہے۔
(مشکوۃ)
رویا صادقہ جزو نبوت ہے بذاتہا نبوت نہیں مبشرات کے پیرایہ میں نبوت
حاصل نہیں ہو سکتی
حدیث بخاری میں ہے: ”لم یبق من النبوة الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة وزاد مالك برواية عطاء بن يسار يراها الرجل المسلم او ترى له “ یعنی نبوت جاتی رہی اور اب اس کا ایک حصہ یعنی مبشرات دنیا میں باقی ہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا سچی خواب مبشرات میں داخل ہے اور مالک نے بروایت عطاء بن یسار کہا کہ سچے خواب جو مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں دیکھی جائے مبشرات کا جزو ہے۔ اور بخاری ومسلم نے حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: ”اذا اقترب الزمان لم يکد يکذب رؤيا المؤمن ورؤيا المؤمن جزء من ستة واربعين جزء من النبوة وما كان من النبوة فانه لا يكذب وروى الترمذى الفصل الاخير من رواية ابي رزين العقيلي “ جب زمانہ قرب قیامت یا موسم بہار آوے تو مومن کا خواب غلط نہ ہوگا۔ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور جو نبوت کے تعلق سے خواب دیکھی جائے وہ جھوٹ نہیں ہوتی۔ ترمذی نے صرف روایت کا آخر حصہ بیان کیا ہے۔ چند اقتباسات یہاں قابل ذکر ہیں۔
رویاء کافر کی جزو نبوت نہیں
- ١....... رویاء مومن کی اجزاء نبوت میں سے ہے نہ کافر کی۔ مرزا قادیانی باجماع علماء مذہب
کے نزدیک غیر مسلم ہے چنانچہ فتویٰ مشتہرہ اس کے لئے کامل دلیل ہے۔ لہذا مرزا قادیانی کے رویاء جزو نبوت نہیں۔
٧٠
- ٢....... تحقق جزو کا مستلزم تحقق کل نہیں۔ ورنہ ا
نبی قرار دیئے جائیں۔ اور لازم باطل ہے۔ فکذا انبیاء اور مومنین کی رویا میں بون بعید ہے اور نیز یہ نتیجہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء فرق ہے۔ انبیاء کی رویا قطعی بمنزلہ وحی ہوتی ہے السلام نے اپنی رویاء کو وحی کا ردیف سمجھا لیکن عام
تحقق جزو موجب تحقق کل نہیں
خود حضور علیہ السلام کی دوسری حدیث تحقق نبوت نہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”ذهبت الـ الصالحة جزء من ستة اربعین جزء من اور رویاء صالحہ جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے با ہو سکتا اس لئے کہ اذہبت النبوۃ اس قضیہ کو سمجھنے کے
نماز کے ایک رکن کے ادا کرنے کو نماز نہ
نماز ارکان متعددہ اور واجبات اور شرائ کوئی صرف سجدہ یا رکوع کو بجالائے تو اسے مصلی نہ
اذان کا ایک کلمہ کہنا اذان نہیں
اور ایسے ہی اذان کہ سترہ کلمات پر حاو اكبر یا لا اله الا الله یا اشهد ان لا اله الا ال کلمات ادا نہ کرے اسی طرح نبوت کا ایک جزو پای نبوت سے متصف ہو کر نبی پیدا ہو سکتے ہیں۔
علامہ خازن
علامہ خازن نے تفسیر میں لکھا ہے: ”فـ بغيب يكون هذا القدر جزءا من النبـ یکون صدقا “ جب کسی رائی پر خواب میں ا وہ نبی ہو جاتا ہے۔ غایت مافی الباب ایسی خواب
٧١
- ٢...... تحقق جزو کا مستلزم تحقق کل نہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ جملہ اہل ایمان جو رؤیا دیکھتے ہیں
نبی قرار دیئے جائیں۔ اور لازم باطل ہے۔ فکذا الملزوم
انبیاء اور مومنین کی رؤیا میں بون بعید ہے
اور نیز یہ نتیجہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء اور مومنین کی رویاء باہم مساوی ہو حالانکہ ان میں فرق ہے۔ انبیاء کی رویا قطعی بمنزلہ وحی ہوتی ہے۔ برخلاف عامہ مومنین کے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی رویاء کو وحی کا ردیف سمجھا لیکن عام اہل ایمان کی رویاء کی شان نہیں۔
تحقق جزو موجب تحقق کل نہیں
خود حضور علیہ السلام کی دوسری حدیث اس کی تائید کر رہی ہے کہ جزو کا تحقق موجب تحقق نبوت نہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”ذهبت النبوة وبقيت المبشرات والرؤيا الصالحة جزء من ستة اربعين جزء من النبوة (مدارک)“ یعنی نبوت مرتفع ہو گئی ہے اور رویاء صالحہ جو نبوت کا چھیا لیسواں حصہ ہے باقی ہے۔ ایک جزو سے نبوت کا مفہوم مکمل نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اذہبت النبوۃ اس قضیہ کو سمجھنے کے لئے حسب ذیل امثلہ پر غور کرو۔
نماز کے ایک رکن کے ادا کرنے کو نماز نہیں کہتے
نماز ارکان متعددہ اور واجبات اور شرائط وسنن اور مستحبات اور آداب پر مشتمل ہے اگر کوئی صرف سجدہ یا رکوع کو بجالائے تو اسے مصلی نہیں کہا جاتا۔
اذان کا ایک کلمہ کہنا اذان نہیں
اور ایسے ہی اذان کہ سترہ کلمات پر حاوی ہے اگر کوئی ذاکر اس کا صرف ایک کلمہ اللہ اکبر یا لا اله الا الله یا اشهد ان لا اله الا الله پڑھے تو مؤذن نہیں کہلاتا جب تک سارے کلمات ادا نہ کرے اسی طرح نبوت کا ایک جزو باقی رہنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دنیا میں اس حصہ نبوت سے متصف ہو کر نبی پیدا ہو سکتے ہیں۔
علامہ خازن
علامہ خازن نے تفسیر میں لکھا ہے: ”فاذا وقع لاحد فى المنام الاخبار بغيب يكون هذا القدر جزءا من النبوة لا انه نبى واذا وقع لاحد فى المنام يكون صدقا“ جب کسی رائی پر خواب میں اخبار غیبی ظاہر ہوں تو یہ نبوت کا حصہ ہے یہ نہیں کہ وہ نبی ہو جاتا ہے۔ غایت مافی الباب ایسی خواب سچی نکلتی ہے۔
٧١
سید علامہ
سید علامہ نے شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے: ”كون الرؤياء الصالحة جزء من النبوة حقيقة لا باس به ولا ينافى ذلك انقراض النبوة وذهابها فان جزء لايكون ذلك الشيء“ یعنی یہ قول کہ رویاء صالحہ نبوت کا جزو ہے۔ اگر حقیقت پر محمول کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اور نہ یہ کسی طرح ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی چیز کا جزو بعینہ وہ شے نہیں ہوتی۔
علامہ محمد طاہر
علامہ محمد طاہر نے مجمع البحار میں حدیث کی شرح اس طرح کی ہے: ”الروياء جزو من النبوة اى فى حق الانبياء فانهم يوحون فى المنام وقيل الروياء تاتى على وفق النبوة لانها جزء وباق منها وقيل هى من الانبياء اى انباء وصدق من الله لا كذب فيه ولا حرج فى الاخذ بظاهره فان اجزاء النبوة لا يكون نبوة فلا ينافى حديث ذهبت النبوة“ یعنی رویاء جزو نبوت ہے یہ فقرہ انبیاء کے حق میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ان کی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے کیونکہ انہیں خواب میں بھی وحی ہوتی ہے اور بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یہ رویا کا حال نبوت سے ملتا جلتا ہے کیونکہ وہ اس کی جزو ہے اور مشبہ اور مشبہ بہ میں تغائر من وجہ اور اتحاد من وجہ پایا جاتا ہے۔ لہٰذا عینیت ثابت نہ ہوئی یا وہ خدا کی طرف سے سچی خبر دیا جانے کا نام ہے۔ جس میں کذب کو دخل نہیں اور اگر اس کلام کو ظاہری معنے پر محمول کیا جائے تو کچھ حرج نہیں کیونکہ اجزاء نبوت بعینہ نبوت نہیں۔ لہٰذا جملہ ’ذهبت النبوة‘ بالکل راست اور درست ہے اور الرؤیاء جزء من النبوۃ اس کے منافی بھی نہیں۔ کیونکہ وجود جزو اور کل میں تلازم نہیں پایا جاتا۔
اگر رویاء صادقہ نبوت ہے تو فاسق کو بھی نبی ماننا ہوگا
علامہ محی الدین نووی نے شرح مسلم میں تحریر فرمایا ہے کہ روایات اس بارے میں مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں جن میں رویاء کو نبوت کا بیالیسواں اور چھیالیسواں اور سترواں اور چالیسواں اور انچاسواں اور پچاسواں اور چوالیسواں اور چھبیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے ان روایات کی تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے: ”فالمؤمن الصالح تكون روياه جزء من ستة واربعين والفاسق جزء من سبعين جزءً“ یعنی مومن کی رویاء صالحہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور ٧٢
فاسق کی رویا نبوت کا سترواں حصہ ہے اگر کسی کی ذات نبوت ثابت ہوتی ہے تو فاسق کو بھی نبی ماننا پڑے گا۔ کیو
بروزی نبوت کوئی
مرزا قادیانی نے جو نبوت کی دو اقسام بیان شریعت مطہرہ کے اصول یعنی کتاب وسن نہیں ملتا بلکہ کسی ایک امام کا قول بھی
بروز کی حقیقت ۔ مباح
- ١...... جب کوئی انسان انبیاء کے اخلاق حمیدہ ور
اور یہ تمام اوصاف اس کی روحانیت میں منعکس ہو اخلاق نبوت سے بعید ہو جائے اسے کمون کہتے ہیں داخل نہیں اور نہ اس پر متقدمین نے کوئی بحث لکھی ہے زوال آنا شروع ہوا تو اس وقت علماء کے ردو قدح ۔ ڈالی اور اصحاب تصوف نے مسئلہ بروز و کمون پر بہ اعتقادات دینیہ کے قبیل سے شمار کیا جائے تو اس ۔ مسئلہ پر بحث و تنقیح کرنا بجز اس کے اسے عقائد دینی ہے جسے دوسرے لفظوں میں بدعت حسنہ کہتے ہیں۔
شاہ اسماعیل محدث دہلوی کی رائے
شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب ال مسئلہ اولیٰ کے عنوان سے یہ عبارت لکھی ہے: ”باب وشهود ومبحث تنزلات خمسه وصادر او آن از مباحث تصوف وهم چنین مب بحسب ذهن یعنی تنزیهه او تعالی از ا عقلى ومبحث عينيه وزياده صفات جهت ومحاذاة واثبات جوهر فرد و ابطال بالعكس وكلام در مسئله تقدیر وکم ٧٣
فاسق کی رویا نبوت کا سترواں حصہ ہے اگر کسی کی ذات میں نبوت کا حصہ موجود ہونے سے اس کی نبوت ثابت ہوتی ہے تو فاسق کو بھی نبی ماننا پڑے گا۔ کیونکہ اس میں بھی یہ حصہ موجود ہے۔
بروزی نبوت کوئی چیز نہیں
مرزا قادیانی نے جو نبوت کی دو اقسام بیان کئے ہیں حقیقی و بروزی اس تقسیم پر شریعت مطہرہ کے اصول یعنی کتاب وسنت و اجماع امت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ کسی ایک امام کا قول بھی اس دعویٰ کی رہنمائی نہیں کرتا
بروز کی حقیقت۔ مباحث بروز کا حکم
- ١....... جب کوئی انسان انبیاء کے اخلاق حمیدہ وصفات حسنہ و خصال پسندیدہ کا مظہر ہو جائے
اور یہ تمام اوصاف اس کی روحانیت میں منعکس ہو جائیں تو اسے بروز کہتے ہیں اور جتنا انسان اخلاق نبوت سے بعید ہو جائے اسے کمون کہتے ہیں۔ یہ مسئلہ ایسا ہے جو اسلام کے موضوع میں داخل نہیں اور نہ اس پر متقدمین نے کوئی بحث لکھی ہے۔ البتہ فلاسفہ کے زمانہ میں جب عقائد حقہ پر زوال آنا شروع ہوا تو اس وقت علماء کے رد وقدح نے علم العقائد اور علم الکلام اور علم تصوف کی بناء ڈالی اور اصحاب تصوف نے مسئلہ بروز و کمون پر بہت مباحث درج تحریرات کئے لیکن اگر اس کو اعتقادات دینیہ کے قبیل سے شمار کیا جائے تو اس کے بدعت ہونے میں کچھ شبہ نہیں اور محض اس مسئلہ پر بحث وتنقیح کرنا بجز اس کے اسے عقائد دینیہ میں معدود سمجھے البتہ بدعات حکمیہ میں داخل ہے جسے دوسرے لفظوں میں بدعت حسنہ کہتے ہیں۔
شاہ اسماعیل محدث دہلوی کی رائے
شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب ایضاح الحق الصریح میں فائدہ اولی کے ماتحت مسئلہ اولیٰ کے عنوان سے یہ عبارت لکھی ہے: ”باید دانست کہ مسئلہ وحدت وجود وشہود ومبحث تنزلات خمسہ وصادر اول وتجدد امثال وکمون وبروز امثال آن از مباحث تصوف وہم چنیں مسئلہ تجرد واجب وبساطت او تعالیٰ بحسب ذہن یعنی تنزیہہ او تعالیٰ از زمان ومکان وجہت وماہیت وترکیب عقلی ومبحث عینیہ وزیادہ صفات وتاویل متشابہات واثبات رویت بلا جہت ومحاذاۃ واثبات جوہر فرد و ابطال ہیولیٰ وصورت ونفوس وعقول یا بالعکس وکلام در مسئلہ تقدیر وکلام قوم لصدور عالم برسبیل ایجاب
٧٣
واثبات قدم عالم وامثال آن از مباحث فن کلام والهيات فلاسفه از قبیل بدعات حقیقت است اگر صاحب آن اعتقادات مذکوره را از جنس عقائد دینیه میشمارد والا درین جزو زمان در بدعات حکمیه البته مندرج است چه سعی در ادراك حقيقت آن واهتمام تنقیح آن و معدود شدن صاحب آن در زمره علماء دین وحکماء ربانین وتمدح بآن در مقام ذکر کمالات دينيه درعرف عوام بلکه در کلام خواص هم دائر است وسائرات“
حافظ ابن حزم کا اتحاد وصفی آنحضرت ﷺ سے
- ٢....... بروز وصفی جس کی حقیقت مذکور ہو چکی مسلم ہے کہ انسان کی روحانیت پر اتباع انبیاء
سے اوصاف واخلاق انبیاء کا انعکاس پڑ جاتا ہے اور اس کی روح بالکل ان کے صفات حسنہ سے رنگین ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ روحانیوں کے نزدیک دونوں میں امتیاز مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اس شعر کا مصداق ہو جاتا ہے۔
من جان شدم تو تن شدی
تا کس نگوید بعد ازاں
من دیگرم تو دیگری
اور اسی کو اہل تصوف اتحاد و بروز کہتے ہیں۔ شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٢٢٣ میں حافظ ابن حزم کے متعلق ایک ایسا واقعہ لکھا ہے جس سے ان کا اتحاد وصفی آں حضرت ﷺ سے بدرجہ کمال سمجھا جاتا ہے۔”غاية الوصلة ان يكون الشيء عين ما ظهرو لا يعرف انه كما رايت النبي ﷺ في المنام وقد عانق محمد بن حزم المحدث فغاب الواحد فى الآخر فلم نرالا واحدا وهو رسول الله ﷺ فهذا غاية الوصله وهو المعبر عنه بالاتحاد بلفظه ولنعم ما قيل“
١؎ اخلاق انبیاء سے گو مشابہت حاصل ہو جاتی ہے لیکن جو کمال مشبہ بہ میں ہے مشبہ کو حاصل نہیں ہوتا اور نہ وہ اخلاق فاضلہ جو نبی کی ذات میں مجموعی طور پر موجود ہیں اس کی ذات میں ظاہر ہو سکتے ہیں کیونکہ تمام اخلاق کاملہ کا نبی کی ذات میں ایسے طور پر جمع ہونا۔ جو دوسرے کی ذات میں اس کمال اور حصر کے ساتھ جمع ہونا محال ہو۔ نبی کا معجزہ ہے اور معجزہ وہی ہے جو دوسرا انسان اس کے مقابلہ سے عاجز ہو۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ نے اعتقاد صحیح میں اس مسئلہ کی روشن تقریر درج کی ہے۔
٧٤
فهم ليسع بيننـ
فعانقته حق اتحد
فلما اتانا مارامـ
”ويقرب من ذلك ما قيل بالفارسية“
کہ رقیب آمد و شناخت نشان من و تو
(اتحاد
یعنی عاشق ومعشوق کے درمیان کمال درجہ کا مظہر ہو جائے اور اسے دیکھ کر کوئی شناخت نہ کر سکے کہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو دیکھا کہ محدث ابن حزم روپوش ہو گئے اور وہاں ہم سوائے رسول خدا ﷺ کے اور ہے جسے متصوفین اتحاد کہتے ہیں۔
ہمارے چغل کو یہ گمان ہوا کہ محب و محبوب کی ہمارے درمیان تفریق کی بے حد کوشش کا ارادہ کیا۔ حالت میں ہم دونوں واحد ہو گئے۔ جب رقیب آیا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ یہ عربی اشعار کا مطلب ہے۔ اور فارسی ہے کہ میرے اور تیرے درمیان اتحاد کا جذبہ اس حد تک نظر نہ آیا۔ اس لئے میرا اور تیرا جدا جدا نشان شناخت نہ
مگر یاد رکھو کہ یہ اتحاد حقیقی نہیں بلکہ وصفی ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی محبت اسے فناء کے درجہ تک پہنچا پاتا ہے اور محبوب کی ہستی کا اپنے پر غلبہ دیکھتا ہے اور پا اس کے اوصاف کا انعکاس اپنی روحانیت میں منقوش دی
٧٥
فهمّ ليسعى بيننا بتباعد
فعانقته حتی اتحدنا تعانقا
فلما اتانا ما رأی غير واحد
”ويقرب من ذلك ما قيل بالفارسية“
یعنی عاشق ومعشوق کے درمیان کمال درجہ کا اتحاد یہ ہے کہ ایک انسان بعینہ دوسرے کا مظہر ہو جائے اور اسے دیکھ کر کوئی شناخت نہ کر سکے کہ حقیقتاً یہ فلاں انسان ہے جیسے رویاء میں میں نے سرور کائنات ﷺ کو دیکھا کہ محدث ابن حزم سے معانقہ کیا اور وہ ایک دوسرے میں روپوش ہوگئے اور وہاں ہم سوائے رسول خدا ﷺ کے اور کسی کو نہ دیکھتے تھے یہ اعلیٰ درجے کا اتصال ہے جسے متصوفین اتحاد کہتے ہیں۔
ہمارے چغل کو یہ گمان ہوا کہ محبّ ومحبوب کی رات کو ملاقات ہونے والی ہے تو اس نے ہمارے درمیان تفریق کی بے حد کوشش کا ارادہ کیا۔ جب میرا اس سے معانقہ ہوا تو معانقہ کی حالت میں ہم دونوں واحد ہوگئے۔ جب رقیب آیا تو اس نے صرف ایک ہی منظر دیکھا۔ دوسرا وہاں کوئی نہ تھا۔ یہ عربی اشعار کا مطلب ہے۔ اور فارسی شعر کا مطلب بھی اس کے قریب قریب ہے کہ میرے اور تیرے درمیان اتحاد کا جذبہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ رقیب جب آیا تو وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ اس لئے میرا اور تیرا جدا جدا نشان شناخت نہ کر سکا۔
مگر یاد رکھو کہ یہ اتحاد حقیقی نہیں بلکہ وصفی ہے جو غلبہ محبت صادقہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی محبت اسے فناء کے درجہ تک پہنچا دیتی ہے اور وہ اپنے شئون وارکان مضمحل پاتا ہے اور محبوب کی ہستی کا اپنے پر غلبہ دیکھتا ہے اور پاتا ہے کہ میں اسی مظہر میں ظاہر ہوا ہوں اور اس کے اوصاف کا انعکاس اپنی روحانیت میں منقوش دیکھ کر شک و شبہ میں واقع ہو جاتا ہے اور
٧٥
اسے وہم ہو جاتا ہے کہ میں مقامات انبیاء میں پہنچ چکا ہوں اور بعض حالات میں وہ اپنے تئیں ان سے بھی برتر سمجھنے لگتا ہے لیکن حقیقت وعکس میں فرق نہیں کر سکتا اور اوہام ہر چہار طرف سے اس کی طبیعت کو روک لیتی ہے۔
بروز سے نبوت حاصل نہیں البتہ بعض دفعہ مساوات انبیاء کا وہم ہو جاتا ہے
یہ مقام مقام لغزش اور آزمائش کا ہے اگر خدا نے اس منزل میں دستگیری کی تو فریب ابلیس وکید شیطانی سے محفوظ رہا وگرنہ اگر ٹھوکر لگی تو گمراہی میں مبتلا ہو کر نبوت ورسالت کا مدعی ہو جاتا ہے اور اپنی سابقہ بضاعت کھو بیٹھتا ہے ایسے وقت میں ایک ہی نسخہ مجرب ہے کہ خالص توجہ
١؎ مرزا قادیانی کا کفر یقینی اور قطعی ہے اور اس بات میں ذرہ بھی شبہ نہیں کہ وہ اسلام سے ایسے بے تعلق ہیں جیسے بال خمیر سے لیکن چونکہ وہ اکابر اولیاء کی نقل اتارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی غلط اور جعلی طور پر اپنی ذات کو بزمرہ اصفیاء ومجددین شمار کر کے اہل تصوف اور علماء اسرار وحکماء باطنین کی عبارتوں کو بے جا حاشیوں سے آلودہ کر کے بے محل اور ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں اس لئے خاکسار کا ارادہ ہے کہ مؤلفوں کی اصل عبارت سے حجاب کو اٹھا دیا جائے تا کہ چہرہ حقیقت بخوبی نظر آنے لگے اور ناظرین کو علماء اسرار کی تحریرات کا اصلی مقصد معلوم ہو جائے کہ بروز سے ان کی کیا غرض ہے اور یہ کہ بہ پیرایہ بروز نبوت حاصل نہیں ہو سکتی اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مشابہت اخلاقی کے ضمن میں نبوت کا حصول بھی متضمن ہے۔ حالانکہ علماء تصوف اولیاء سے جن کو وہ اخلافا مثیل انبیاء کہتے ہیں نبوت کی نفی کرتے ہیں جیسے آئندہ بیان سے ظاہر ہوگا۔ لیکن یہ سارا بیان حقیقت سے چشم پوشی پر مبنی ہے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ولایت اور تجدید تو رہی در کنار آپ کا اسلام بھی ثابت نہیں اور آپ کے جملہ عقائد جماعت مبتدعہ کے موافق اور ان کو دائرہ کفر میں داخل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ پھر ولایت یا مجددیت یا نبوت و رسالت اور مسیحیت مہدویت کا منصب تو اعلیٰ ہے وہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے۔ خاکسار نے بطور مماشات خصم وارخاء عنان موجودہ طرز پر کلام شروع کی ہے اور بیان کی ہے کہ آپ اکابر کی نقل بھی غلط اتار رہے ہیں کیونکہ وہ محض اخلاقی مشابہت کے قائل تھے اور بروز کے ماتحت نبوت کو ممکن الحصول نہ سمجھتے تھے اس لئے اکابر دین میں سے باوجود اخلاقی مشابہت کے کسی کو نہ پاؤ گے کہ وہ نبوت کا مدعی ہوا ہو اور مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ اور ہفوات تو صاف بتلا رہے ہیں کہ آپ کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔
٢؎ مگر مرزا قادیانی کی یہ حالت نہ تھی بلکہ آپ کے عقائد اور احوال پہلے سے جماعت مبتدعہ کے موافق تھے اور آپ نے ساری زندگی ترویج بدعت میں گزاری اور اگر مرزائیہ جماعت ان کی ولایت ہی کی قائل ہو تو اب ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ بعد دعویٰ نبوت وہ اپنی سابقہ بضاعت کھو چکی ہیں اور اسلام کی بجائے کفر کو خرید لیا ہے۔ ابلیس نے ایک عرصہ دراز صلاحیت کی راہ اختیار کی۔ لیکن آخر کار اس کا کیا حشر ہوا مگر ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو درجہ ولایت کا راہ بھی معلوم نہ تھا چہ جائیکہ ان کو کسی وقت میں ولی تسلیم کیا جائے۔
٧٦
سے تضرع وابہتال کے ساتھ اپنے خدا سے جو بے کسوں کرتا ہے۔ دعا کیجئے اور وہ اپنی پناہ میں لے کر اس دشوار گز
مبتدی اور متوسط اس وہم میں پڑتے ہیں
کیونکہ یہ شائبہ عموماً مبتدیوں اور متوسطوں رہتے ہیں۔ حضرت مخدوم زادہ محمد صادق نے ایک سوا کہ سالک بسا اوقات اپنی تئیں انبیاء کے مساوی پاتا ہے بڑھ گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔
حضرت مجدد مرحوم نے مکتوب ٢٠٨ میں اس مبتدیوں اور منتہیوں کے حال کے مطابق جدا جدا جوا اس جواب کی طرف ہے جو مبتدیوں کے مناسب حا موجب طوالت ہے وہ ناظرین اصل مکتوب میں ملاحظہ
”اما در ابتداء اگر ایں توہم پید بدوجهش آنست که هر مقام را در ابتداء ومتوسط چوں بظلال آنها میرسند خیا رسیدند فرق درمیان حقائق وظلال نمید اکابر را چوں درظلال مقامات ایشان بلکابر در مقامات پیدا کرده اند نه چنین است بنفس شئی ”اللهم ارنا حقائق الا شیاء کما ہی“ یعنی سالک کو ابتداء اگر یہ وہم دامنگیر ہے یا ان سے بھی اس کا پایہ عالی تر ہو گیا ہے تو اس کی و سالک کی ذات میں ایک انعکاسی نقشہ منعکس ہوتا ہے ج متوسط جب ظلی مدارج میں جو حالات انبیاء کی عکسی تصو کہ وہ فی الحقیقت انہیں مقامات پر فائز ہو گئے ہیں جوا میں فرق نہیں کر سکتے اور ایسے ہی اکابر کی حالت کا نقشہ ہیں جیسے آئینہ میں انسان کی تصویر ظاہر ہوتی ہے تو ان ت ان کو اکابر انبیاء سے شرکت مقامی حاصل ہوگئی ہے۔ ب
٧٧
سے تضرع وابتہال کے ساتھ اپنے خدا سے جو بے کسوں کو روشنی عطا کرتا اور تاریک راہ میں رہنمائی کرتا ہے۔ دعا کیجئے اور وہ اپنی پناہ میں لے کر اس دشوار گزار گھاٹی سے پار اتارے۔
مبتدی اور متوسط اس وہم میں پڑتے ہیں
کیونکہ یہ شائبہ عموماً مبتدیوں اور متوسطوں کو واقع ہوا کرتا ہے اور منتہی اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ حضرت مخدوم زادہ محمد صادق نے ایک سوال خدمت عالی مجدد الف ثانیؒ میں پیش کیا کہ سالک بسا اوقات اپنی تئیں انبیاء کے مساوی پاتا ہے اور گاہے دیکھتا ہے کہ میرا رتبہ ان سے بھی بڑھ گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔
حضرت مجدد مرحوم نے مکتوب ٢٠٨ میں اس کی حقیقت پر بحسن کمال روشنی ڈالی ہے اور مبتدیوں اور منتہیوں کے حال کے مطابق جدا جدا جواب لکھے ہیں۔ خاکسار کا رخ اس وقت محض اس جواب کی طرف ہے جو مبتدیوں کے مناسب حال ہے کیونکہ ان کی مکمل تحریر کو درج کرنا موجب طوالت ہے وہ ناظرین اصل مکتوب میں ملاحظہ فرمائیں۔
”اما درا بتداء اگر ایں توہم پیدا شود وخودرا در مقامات اکابر یا بند وجہش آنست کہ ہر مقام را در ابتداء وتوسط ظل ومثال است ومبتدی ومتوسط چوں بظلال آنہا میر سند خیال می کنند کہ بحقیقت آں مقامات رسید ند فرق درمیاں حقائق وظلال نمیتوا نند کرد وہم چنیں شبہ ومثال اکابر را چوں در ظلال مقامات ایشاں می یابند خیال میکنند کہ شرکتے باکابر در مقامات پیدا کردہ اند نہ چنیں است بلکہ اینجا اشتباہ ظل شئی است بنفس شئی "اللهم ارنا حقائق الاشياء كما هى وجنبنا عن الاشتغال بالملاهی“ یعنی سالک کو ابتداء اگر یہ وہم دامنگیر ہو کہ وہ اکابر یا انبیاء کے درجہ میں واصل ہو گیا ہے یا ان سے بھی اس کا پایہ عالی تر ہو گیا ہے تو اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ ہر مقام ابتداء اور متوسط کا سالک کی ذات میں ایک انعکاسی نقشہ منعکس ہوتا ہے جو مقامات انبیاء کا ظل و بروز ہے اور مبتدی اور متوسط جب ظلی مدارج میں جو حالات انبیاء کی عکسی تصویر ہیں پہنچتے ہیں غلطی سے ایسا سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ فی الحقیقت انہیں مقامات پر فائز ہوگئے ہیں جو انبیاء کی شان کے لائق ہیں اور حقیقت اور عکس میں فرق نہیں کر سکتے اور ایسے ہی اکابر کی حالت کا نقشہ جب اپنے مقامات عالیہ میں منعکس پاتے ہیں جیسے آئینہ میں انسان کی تصویر ظاہر ہوتی ہے تو ان کے دل میں ایک غلط گمان موجزن ہوتا ہے کہ ان کو اکابر انبیاء سے شرکت مقامی حاصل ہو گئی ہے۔
٧٧
في الحقیقت ایسا نہیں ہوتا بلکہ عکس کو اصل شے سے چونکہ مشابہت تامہ اور مماثلت کاملہ ہوتی ہے اس لئے امتیاز میں خطا واقع ہو جاتی ہے اے خدا تو ہمیں شبہ سے محفوظ بنا اور اشیاء کی حقیقت کا اصلی رخ ہمارے سامنے ظاہر ہو کر اور جو امور دل کو حقیقت سے غفلت میں ڈالنے والے ہیں ان سے ہمیں برکنار کردے یہ مقام مقام مزلت ہے جو اس شک وشبہ کی منزل میں اصل حقیقت پر مطلع ہو گیا وہ محفوظ رہا اور جو شیطان کے دام تزویر میں واقع ہو گیا ابلیس اس سے انواع وا قسام کے دعاوی کرا دیتا ہے۔ یہ مشکل اور دشوار گزار گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے۔
اس وہم کا علاج تضرع والتجا ہے
چنانچہ مجدد صاحب کا بیان ہے۔ ”دریں وقت التجاء وتضرع وعجز ونیاز بحضرت حق سبحانه درکار است تا آنچه حقیقت کار است ظاهر گردد وایں مقام از مزلة اقدام سالکان است “ یعنی ایسے وقت میں خدائے تعالٰی کی درگاہ میں التجا وتضرع بصد عجز و نیاز لازم ہے۔ تا کہ اصل حال ظاہر ہو جائے اور اس مقام میں سالکوں کے قدم پھسل جاتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بروزی نبوت کوئی چیز نہیں اور نہ اتحاد و فنافی سے دعویٰ نبوت کا حق پیدا ہوتا ہے بلکہ بعضے دل کے کچے عقل کے اندھے انعکاسی حالات کو حقیقت پر محمول کر کے لغزش کھا جاتے ہیں اور دعویٰ نبوت اور رسالت کر دیتے ہیں۔
نبوت وہبی ہے کسبی نہیں
اور یہ بالکل سچ ہے کہ بروز کے سایہ میں اگر چہ اوصاف کسبیہ انبیاء کے کسی بزرگ کو حاصل ہو جائیں تو روا ہے لیکن نبوت ایک امر وہبی ہے وہ بہ ذریعہ اتباع و سنن دستیاب نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ نبوت کسبی نہیں جو محنت و ریاضت و پابندی اخلاق انبیاء سے مکتسب ہوسکے۔ بلکہ خدا کا فضل ہے۔ جہاں چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد اس نے باب نبوت کو مسدود کر دیا۔ کیونکہ وہ اسباب کے مہیا ہونے پر موقوف نہ تھی بلکہ فیض الٰہی پر اس کا انحصار تھا۔ قرآن کا دعویٰ ہے: ”والله يختص برحمته من يشاء والله ذوالفضل العظیم (بقرہ) “ یعنی خدا اپنی نبوت سے (جس کا انحصار محض اس کی رحمت پر ہے) جسے چاہتا ہے مخصوص کرتا ہے کیونکہ نبوت اس کا فضل ہے اور خدا اپنے بندوں پر بڑا فضل کرتا ہے: ”یلقی الروح من امره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق (سورہ مومن) “ خدا اپنے امر سے جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے وحی کا القا کرتا ہے تا کہ وہ روز قیامت کا خلق اللہ کو ڈر سنائے: ”ينزل الملائكة بالروح من امره على من يشاء من
٧٨
عباده “ یعنی فرشتوں کو وحی دے کر اپنے بندوں میں فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل مشیت کے مطابق جسے چاہتا ہے۔ دیتا ہے خدا بڑے فضل يشاء من عباده “ خدا جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں یہ آیات بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ نبوت اک اس کا مکتسب کرنا بھی ناممکن ہے۔
فلاسفہ کے نزدیک نبوت کسبی ہے
اور فلاسفہ اور غلاۃ متصوفہ کا دعویٰ قرآن نبوت ایک کسبی فضیلت ہے جیسے پیشتر ازیں۔ حوالہ شفاء مرزا قادیانی قرآن کی آواز کے تابع نہیں ہوتے بلکہ فلا
ابن تیمیہ
امام ابن تیمیہ نے فرقان میں بھی اس قول هؤلاء المتاخرون ومنهم كابن سينا ان يا زعموا ان النبوة لها خصائص ثلاثة من علمية يسمونها القوة القدسية ينال تخييلية تخيل ما يعقله في نفسه بحيث نفسه صوتا كما يراه النائم ويسمعه ولا يك تلك الصور هي ملائكة الله وتلك الاص فعالة يوثر بها في هيولى العالم وجعل وخوارق السحرة من قوى النفس فاقرو العصا حية ودون انشقاق القمر ونحو ذلك - نبوت کے وہبی ہونے کا یہ مطلب ہ قادیانی کا قول ہے کہ فنافی الرسالۃ سے نبوت حاص حقیقت نہیں بلکہ اس کا فضل ہے جب وہ باب نبو کہ اسے کیوں روکا گیا آنحضرت ﷺ کے بعد اس
٩
عبادہ“ یعنی فرشتوں کو وحی دے کر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے۔ بھیجتا ہے: ”ذلك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم “ نبوت اللہ کی رحمت ہے جو اپنی مشیت کے مطابق جسے چاہتا ہے۔ دیتا ہے خدا بڑے فضل والا ہے: ”ولکن الله یمنّ علیٰ من يشاء من عبادہ“ خدا جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے فضل کرتا ہے۔ یہ آیات بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ نبوت ایک فیض وہبی ہے جو اسباب پر منحصر نہیں اور اس کا مکتسب کرنا بھی ناممکن ہے۔
فلاسفہ کے نزدیک نبوت کسبی ہے
اور فلاسفہ اور غلاۃ متصوفہ کا دعویٰ قرآن کی آواز کے بالکل مخالف ہے وہ کہتے ہیں نبوت ایک کسبی فضیلت ہے جیسے پیشتر ازیں بحوالہ شفاء مؤلفہ قاضی عیاضؒ خاکسار تحریر کر چکا ہے۔ مرزا قادیانی قرآن کی آواز کے تابع نہیں ہوتے بلکہ فلاسفہ کا سرود انہیں بھاتا ہے۔
ابن تیمیہ
امام ابن تیمیہؒ نے فرقان میں بھی اس قول کو فلاسفہ کا مذہب بتلایا ہے: ”فلما ارادوا هؤلاء المتاخرون ومنهم كابن سينا ان يثبتوا امر النبوة على اصولهم الفاسدة زعموا ان النبوة لها خصائص ثلاثة من اتصف بها فهو نبي ان يكون له قوة علمية يسمونها القوة القدسية ينال بها العلم بلا تعلم وان يكون له قوة تخييلية يخيل ما يعقله في نفسه بحيث يرى في نفسه صورا او يسمع في نفسه صوتا كما يراه النائم ويسمعه ولا يكون لها وجود في الخارج وزعموا ان تلك الصور هى ملائكة الله وتلك الاصوات هي كلام الله و ان يكون له قوة فعالة يوثر بها فى هيولى العالم وجعلوا كرامات الاولياء ومعجزات الانبياء وخوارق السحرة من قوى النفس فاقروا من ذلك بما يوافق اصولهم دون قلب العصا حية ودون انشقاق القمر ونحو ذلك فانهم ينكرون وجود هذا“
١۔ نبوت کے وہبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کا حصول اسباب پر منحصر نہیں جیسے مرزا قادیانی کا قول ہے کہ فنا فی الرسالۃ سے نبوت حاصل ہو جاتی ہے اور ثانیاً یہ کہ اس کا فیضان بطور حقیقت نہیں بلکہ اس کا فضل ہے جب وہ باب نبوت کو مسدود کر دے تو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اسے کیوں روکا گیا آنحضرت ﷺ کے بعد اس نے قطعاً باب نبوت کو مسدود کر دیا۔
٧٩
جب متاخرین ابن سینا وغیرہ نے نبوت کی تقریر اپنے فاسدہ اصول کے مطابق کی تو یہ تجویز باطل ٹھہرائی کہ نبوت کے تین خصائص ہیں جو ان کو اپنی ذات میں پیدا کرلے وہی نبی ہو جاتا ہے ۔ اول یہ کہ اسے قوت علمیہ حاصل ہو جسے باصطلاح خود وہ قوت قدسیہ کہتے ہیں اس کا خاصہ یہ ہے کہ بلا تعلم انسان کو علوم میں مہارت ہو جاتی ہے۔ دوئم اس کی قوت تخیلیہ ایسی تیز ہو کہ معقولات کے نقشے اور تصویریں اسے نظر آنے لگیں اور اپنے دل میں اسے آواز سنائی دے جیسے نائم کا حال ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ بعض اشکال دیکھتا اور آوازیں سنتا ہے۔ جن کا وجود خارجی نہیں ہوتا اور ان کا زعم فاسد یہ بھی ہے کہ یہ ذہنی تصویریں خدا کے ملائکہ ہیں اور یہ غیبی آوازیں جو قوت متخیلہ کے اثر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ کلام الہی ہیں سوئم اس کی قوت فعالہ ایسی ہو کہ ہیولیٰ عالم پر اپنا اثر ڈال سکے ۔ انبیاء کے معجزات اور اولیاء کے کرامات اور ساحروں کے خوارق کو انہوں نے قوی نفس کا اثر بتلایا ہے اور وہ صرف ایسے معجزات کے مقر ہیں جو انکے ان اصول پر پورے اترتے ہیں قلب عصا اور انشقاق قمر جن کو نفسانی قوی کا اثر نہیں کہا جاسکتا ہے وہ انکے بالکل منکر ہیں۔“
گویا یہ صفات جو کوئی محنت سے حاصل کرے بزعم فلاسفہ وہ نبی ہو جاتا ہے مگر فلسفہ قرآنیہ منجانب اللہ نازل شدہ ہے اس لئے وہ انسانی تجویزات کا مبطل ہے وہ قرار دیتا ہے کہ نبوت فیض وہبی ہے جو اسباب ثلاثہ پر منحصر نہیں یہی کل اہل سنت و صحابہ و تابعین کی لائن ہے۔
حافظ ابن حبان کا واقعہ
حافظ ابن حبان جن کا علم قابل رشک اور پایہ محدثین میں اعظم تر ہے (وہ ایک کتاب علوم الصحیحہ جو صحیح ابن حبان کے نام سے موسوم ہے اپنی یادگار میں چھوڑ گئے ہیں۔) ایک قابل قدر بزرگ تھے مگر اہل زمانہ نے آپ سے یہ سوال کیا کہ نبوۃ کیا ہے تو آپ نے ایک ایسا جواب دیا جس میں حاسدین ایک دوسرا احتمال بھی پیدا کر سکتے تھے یعنی النبوة العلم والعمل نبوت کے لئے علم اور عمل لازم ہے یعنی نبی اپنے علم کے مطابق عامل ہوتا ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام کا قول ہے : ”وما اريد ان اخالفكم الى ما انهكم عنه ان اريد الا الاصلاح ما استطعت“ میں یہ نہیں چاہتا کہ جو کہوں اس کے خلاف عمل کروں میرا ارادہ حسب استطاعت اصلاح کرنے کا ہے اور رسول خدا کے سوانح میں قاضی عیاض نے ایک وفد کا قول اس طرح نقل کیا ہے:”لا يامر بخير الا كان اول عامل بہ“ یعنی جب کسی معروف کام کا ارشاد فرماتے ہیں تو پہلے آپ اس پر عامل ہو جایا کرتے ہیں لیکن حاسدین کا ستیاناس انہوں نے اس عبارت میں ایسا احتمال پیدا کیا جو سراسر اجماع امت اور طریق اہل سنت اور سلف صالحین کے خلاف تھا یعنی
٨٠
نبوت علم و عمل کا ثمرہ ہے۔ جب کسی کو علم و عمل میں کما علماء زمانہ نے شاہ وقت کی مجلس میں پیش کیا۔ چونکہ ناہنجار نے انہیں قتل کرادیا کہ ابن حبان نبوت کو اوصا صدیق مثیل نبی ہو کر بھی نبوت سے متص ....... یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام باوجود یکہ ا تھے۔ لیکن انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا کیونکہ مسدود کر چکا ہے۔
- ١۔ نبی ﷺ اور بعض اہلبیت کے درمیا
حضور علیہ السلام کا مظہر تھے۔ چنانچہ حضرت علیؓ کی ف ”ان عليا منى وانا منه وهو ولى ك حصين مرفوعا“ یعنی علیؓ میرے ساتھ ایسا میری ذات میں شریک ہیں اور میں ان کی ذات لفظوں میں ادا کیا گیا ہے۔ ایک وصف محبوبیت ج میں بھی اس وصف کا ظہور پایا جاتا ہے اس لئے حض ہر مومن کے محبوب ہیں اور حبشی بن جنادہ سے مرو میں فرمایا : ”على منى وانا من على ولا ي واحمد عن ابي جنادة “ یعنی علیؓ کی ذات دو ذاتیں ایک جوہر سے ہیں اس لئے بلحاظ محاورہ میں سے اس کو ترمذی اور احمد نے روایت کیا ۔ میرے اور علیؓ کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ”من نے علیؓ کو برا کہا اس نے مجھے برا کہا۔ اگر یہ اتحاد آپ فرماتے ہیں ۔ لست بنبی ولا يوح عباسؓ کے حق میں بھی فرماتے ہیں: ”من اہن منی وانا منه “ میری حالت اور عباسؓ کی حا مفہوم حضرت عباسؓ بھی آنحضرت ﷺ کے بع سامنے ایسی تقریر کرتے ہیں جس سے ان کا تزلز
نبوت علم و عمل کا ثمرہ ہے۔ جب کسی کو علم و عمل میں کمال ہو جائے تو وہ نبی ہو جاتا ہے۔ اس احتمال کو علماء زمانہ نے شاہ وقت کی مجلس میں پیش کیا۔ چونکہ یہ اجماع کے خلاف تھا کہ نبوۃ کسبی ہے۔ شاہ ناہنجار نے انہیں قتل کرا دیا کہ ابن حبان نبوت کو اوصاف کسبیہ میں شمار کرتے ہیں۔ (اتحاف النبلاء)
صدیق مثیل نبی ہو کر بھی نبوت سے متصف نہیں
١...... یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام باوجود یکہ اخلاق نبوت، اوصاف حمیدہ رسل سے متصف تھے۔ لیکن انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا کیونکہ ایک فیض وہی ہے جسے آنحضرت کے بعد خدا مسدود کر چکا ہے۔
١؎ نبی ﷺ اور بعض اہلبیت کے درمیان اتحاد وصفی قائم تھا وہ بلحاظ اوصاف واخلاق حضور علیہ السلام کا مظہر تھے۔ چنانچہ حضرت علیؓ کی نسبت آنجناب رسالت مآب ﷺ کا ارشاد ہے: ”ان علیا منی وانا منہ وهو ولی کل مومن رواہ الترمذی عن عمران بن حصین مرفوعاً “ یعنی علیؓ میرے ساتھ ایسا اتحاد وصفی رکھتے ہیں کہ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وہ میری ذات میں شریک ہیں اور میں ان کی ذات میں شریک ہوں گویا اتحاد اوصاف کو مبالغۃ ان لفظوں میں ادا کیا گیا ہے۔ ایک وصف محبوبیت بھی حضور ﷺ کی ذات میں موجود تھی حضرت علیؓ میں بھی اس وصف کا ظہور پایا جاتا ہے اس لئے حضور ﷺ نے فرمایا: ”وهو ولی کل مؤمن “ وہ ہر مؤمن کے محبوب ہیں اور حبشی بن جنادہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت علیؓ کی شان میں فرمایا: ”علی منی وانا من علی ولا یؤدی عنی الا انا او علی رواہ الترمذی واحمد عن ابی جنادة “ یعنی علیؓ کی ذات میں اوصاف نبی علیہ السلام کا نمونہ جلوہ گر ہے گویا دو ذاتیں ایک جوہر سے ہیں اس لئے بلحاظ محاورہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ علیؓ مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے اس کو ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے اور علیؓ کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ”من سب علیا فقد سبنی رواہ احمد “ جس نے علیؓ کو برا کہا اس نے مجھے برا کہا۔ اگر یہ اتحاد مورث نبوت ہوتا تو حضرت علیؓ دعویٰ کرتے لیکن آپ فرماتے ہیں۔ لست بنبی ولا یوحی الی ! اور ایسے الفاظ حضور علیہ السلام نے حضرت عباسؓ کے حق میں بھی فرمائے ہیں: ”عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ العباس منی وانا منہ “ میری حالت اور عباسؓ کی حالت باہم موافق اور مماثل ہے گویا وہ میرا مظہر ہے۔ معہذا حضرت عباسؓ بھی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں سمجھتے اور حاضرین کے سامنے ایسی تقریر کرتے ہیں جس سے ان کا تزلزل رفع ہو جاتا ہے۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر
٨١
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے (جن پر صدہا مرتبہ وحی کی کثرت سے غیبی امور کا کشف ہوتا تھا اور اس وحی کا پرتو جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوتی آپ کے دل پر پڑ جاتا اور انہیں بھی وحی منزل پر ایسا اطمینان ہو جاتا جیسے خود رسول کریم ﷺ کو) دعویٰ نبوت نہیں کیا۔
بقیہ حاشیہ: اور ان کے لئے موجب استقامت بنتی ہے۔ "والله ما مات حتى ترك السبيل نهجا واضحا فاحل الحلال وحرم الحرام رواه الترمذي" یعنی آنحضرت ﷺ کی وفات کے موقع پر حضرت عباسؓ نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ کا انتقال نہیں ہوا تاوقتیکہ آپ نے اس اسلام کی سڑک کو بالکل واضح اور روشن کر دیا اور حلال و حرام کا بخوبی امتیاز کر دیا۔ اگر دین میں کوئی کمی ہوتی تو حضور ﷺ زندہ رہتے۔ جب دین مکمل ہو گیا تو خدا نے اپنے نبی کو بلا لیا۔ اس میں آئندہ نبوت کے انسداد کی طرف اشارہ ہے اور امام حسین علیہ السلام کو بھی رسول خدا ﷺ نے اپنے ساتھ متحد الصفات بتلایا اور کہا کہ وہ میرا مظہر ہیں: "عن يعلى بن مرة ان رسول الله ﷺ قال حسين منى وانا من حسين احب الله من احب حسينا حسين سبط من الاسباط رواه الترمذي" بایں ہمہ رسول خدا ﷺ نے ان کو شان نبوت سے سرفراز نہیں فرمایا اور کہا: "الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة الا ابنى الخالة عيسى بن مريم ويحيى بن زكريا" یعنی دونوں صاحبزادے جوانان اہل جنت کے سردار ہیں مگر عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا سے ان کا شان نہیں ملتا۔ حضور علیہ السلام تو ان کا درجہ انبیاء سے نیچے بیان کرتے ہیں گویا اولیاء میں سے فرد کامل ہیں لیکن مرزا قادیانی خدا سے لڑائی کرتے ہیں اور بحکم: "من عادى لى وليا فقد بارز الله بالمحاربة وفى رواية فقد اذنته بالحرب" ان کے حق میں بے جا الفاظ استعمال کر کے خدا کے دشمن بنتے ہیں:
فخيبكم رب غيور متبره
والله ليست فيه منى زيادة
وعندى شهادات من الله فانظروا
وانى قتيل الحب لكن حسينكم
قتيل العدى فالفرق اجلى واظهره
وشتان ما بينى وبين حسينكم
فانى اويد كل ان وانصره
بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر
٨٢
میدان حدیبیہ میں فاروقی تنقیح
شاہ عبدالقادر صاحبؒ لکھتے ہیں کہ مد پر گواہی دے۔ اس امر کی تصدیق کے لئے وہ واق نے حضرت ﷺ کو داخلہ مکہ کی اجازت نہ دی ا کر چکے تھے تو عمرؓ بن خطاب کہتے ہیں کہ بشری ہوئے۔ شروع اسلام سے مجھے ایسا تردد کبھی حضرت ﷺ کی خدمت میں اپنا شبہ ان لفظوں میں پ
- ١...... کیا آپ خدا کے نبی نہیں۔ جواب دی
- ٢...... کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارے اعداء
تب میں بولا کہ دین کے معاوضہ میں دنیا دے ک معاملہ ایک طرف ہو جائے۔ آنحضرت ﷺ ن معاون ہے۔ اور میں اس کے اشارے پر چلتا ہو کہ آپ ﷺ نے ہمیں یہ رویا سنائی تھی کہ ہم خا
بقیہ حاشیہ
الى هذه الايام تبك
وانى بفضل الله ص
ادبى واعصم من ك
یہ قصیدہ اعجازیہ کے اشعار ہیں جن امیدی سے مر گیا۔ پس تم کو خدا نے جو غیور ہے۔ بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھ پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم رو عاطفت میں ہوں پرورش پا رہا ہوں اور ہمیشہ
میدان حدیبیہ میں فاروقی تنقیح
شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ صدیق جو کچھ وحی میں آئے گا ان کا دل آپ ہی اس پر گواہی دے۔ اس امر کی تصدیق کے لئے وہ واقعہ کافی ہے کہ میدان حدیبیہ میں جب مشرکین مکہ نے حضرت ﷺ کو داخلہ مکہ کی اجازت نہ دی اور حضرت ﷺ داخلہ کے متعلق اپنی رویاء مشتہر کر چکے تھے تو عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ بشریت کے تقاضا سے میرے دل میں شکوک موجزن ہوئے۔ شروع اسلام سے مجھے ایسا تردد کبھی پیدا نہیں ہوا جیسا اس روز پیش آیا۔ میں نے حضرت ﷺ کی خدمت میں اپنا شبہ ان لفظوں میں پیش کیا۔
- ١...... کیا آپ خدا کے نبی نہیں۔ جواب دیا کہ ہاں میں رسول صادق ہوں۔
- ٢...... کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارے اعداء دین باطل کے پابند نہیں۔ جواب ملا کیوں نہیں!!
تب میں بولا کہ دین کے معاوضہ میں دنیا دے کر ہم خالی واپس کیوں جائیں ہم چاہتے ہیں کہ معاملہ ایک طرف ہو جائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں خدا کا سچا رسول ہوں اور وہ میرا معاون ہے۔ اور میں اس کے اشارے پر چلتا ہوں اس کی حکم عدولی ہرگز نہیں کرتا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ ﷺ نے ہمیں یہ رویا سنائی تھی کہ ہم خانہ کعبہ میں جاکر اس کا طواف کریں گے۔
بقیہ حاشیہ
الى هذه الايام تبكون فانظروا
واني بفضل الله في حجر خالقي
اديبي واعصم من لئام تنمروا
(اعجاز احمدی ص ٦٩ تا ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨١ تا ١٩٣)
یہ قصیدہ اعجازیہ کے اشعار ہیں جن کا مطلب یہ ہے تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی جونو میدی سے مرگیا۔ پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے۔ بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو اور میں خدا کے فضل سے اس کے کنار عاطفت میں ہوں پرورش پا رہا ہوں اور ہمیشہ لئیموں سے جو پلنگ صورت ہیں بچایا جاتا ہوں۔
٨٣
اس میں تخلف کیوں واقع ہوا؟ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ واقعہ امسال ہوگا؟ کہا نہیں۔ فرمایا کہ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر خدا کی باتیں نہ ٹلیں گی یہ ضرور ہوکر رہے گا۔ مسلمان خانہ کعبہ میں داخل ہوں گے۔ اور اس کا طواف کریں گے۔ خواہ کسی سال میں ہو کیونکہ خدا نے رؤیا کے پورا ہونے کی کوئی میعاد مقرر نہیں کی میں نے یہ شبہ حضرت ابوبکرؓ کے سامنے بھی ذکر کیا۔ آپ نے ترکی بترکی وہی جواب دیا جو رسول خدا نے دیا تھا بلکہ اتنا اور کہا: ”فاستمسك بغرزه حتى تموت فوالله انه لعلى الحق“ یعنی پیغمبر کے رکاب یا پلو کو خوب مضبوطی سے پکڑ اور مرتے دم تک نہ چھوڑ۔ خدا کی قسم وہ سچے ہیں اور ہر طرح حق پر ہیں۔ حضرت عمرؓ کے شبہات کافور ہو گئے اور سینہ نور ایمانی سے معمور ہو گیا۔ عمرؓ کہتے ہیں اور اس برکت سے میں نے ایسے کارنامے دکھلائے ہیں جو میری فوقیت ایمانی کے گواہ ہیں۔ اس واقعہ نے اس بیان کی تصدیق کر دی ہے جو شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے حجۃ اللہ میں تحریر فرمایا ہے۔
حجۃ اللہ کی عبارت
”ومنها الصديقية والمحدثية وحقيقتهما ان من الامة من يكون فى اصل فطرته شبيها بالانبياء بمنزلة التلميذ الفطن للشيخ المحقق فتشبه ان كان بحسب القوى العقلية فهو الصديق او المحدث وان كان تشبه بحسب القوى العملية فهو الشهيد والحوارى والى هاتين القبيلتين وقعت الاشارة فى قوله تعالى والذين آمنو بالله ورسوله اولئك هم الصديقون والشهداء والفرق بين الصديق والمحدث ان الصديق نفسه قريبة الماخذ من نفس النبی کالکبریت بالنسبة الى النار فكلما سمع من النبى ﷺ خبرا وقع فى نفسه بموقع عظيم ويتلقاه بشهادة نفسه حتى صار كانه علم هاج فى نفسه من غير تقليد والى هذا المعنى الاشارة فيما ورد ان ابا بكر الصديق كان يسمع دوى صوت جبريل حين كان ينزل بالوحى على النبى ﷺ والصديق تنبعث من نفسه لا محالة محبة الرسول ﷺ اشد ما يمكن من الحب فيندفع الى المواساة معه بنفسه وماله والموافقة له فى كل حال حتى يخبر النبى ﷺ من حاله انه امن الناس عليه فى ماله وصحبته وحتى يشهد له
٨٤
النبي ﷺ بانه لو امكن ان يتخذ خليلا من وذلك لتعاقب ورد انوار الوحى من نفس النبى ﷺ
﴾یقین کامل کی شاخوں میں سے صدیقیت اور مح کہ امت کے بعض افراد انبیاء کے ساتھ ایسی مناسبت رکھتے ہوتی ہے۔ اگر بلحاظ قویٰ عقلیہ کے یہ تناسب پایا جائے تو اس قویٰ عملیہ کے لحاظ سے مماثلت ہو تو شہید اور حواری اس کا ن آیتہ ہذا میں ارشاد موجود ہے کہ جو قوم خدا اور اس کے رسول شہید کہلائے گی اور صدیق اور محدث میں یہ فرق ہے کہ صدی ذات سے ایسی قریب ہوتی ہے جیسے گندھک اور آگ میں من واقعہ سنتا ہے فوراً اس کے دل میں خوب طرح راسخ ہو جاتا ہے گواہی دیتا ہے اس لئے نبی کی زبان سے سن کر اسے اخذ کر ل تقلید کے اس کے دل میں موجزن ہوا ہے۔ اسی مضمون کی طر بکر صدیقؓ وحی کے نزول کے وقت جبریل کی آواز سنتے تھے تھا اور صدیق کے دل میں اعلیٰ پیمانے پر نبی کی محبت جوش مار اور ہر طرح موافقت سے نبی کی ہمدردی کرتا ہے اور نبی اس ک ابوبکرؓ کی ذات اور مال سے مجھے فائدہ پہنچا ہے اتنا کسی کے ما کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ نبی کے دل سے انوار وحی منعکس ہوتے ہیں۔﴿
اور پھر لکھا: ”والصديق اولى الناس نصيرا وكذا عناية الله بالنبى ونصرته وتاي النبى ﷺ ينطق بلسان الصديق وهو قول الصديق فان يك محمد ﷺ قد مات فان تهدون به هدى الله محمد ﷺ (حجۃ اللہ ص ٢٨٣)“
صدیق خلافت کے لائق تر ہوتا ہے کیونکہ اس
٨٥
النبیﷺ بانه لو امكن ان يتخذ خليلا من الناس لكان هو ذلك الخليل وذلك لتعاقب ورد انوار الوحى من نفس النبىﷺ الى نفس الصديق“
﴿یقین کامل کی شاخوں میں سے صدیقیت اور محدثیت ہے جن کی اصل حقیقت یہ ہے کہ امت کے بعض افراد انبیاء کے ساتھ ایسی مناسبت رکھتے ہیں جیسے شاگرد دانا کو شیخ محقق سے ہوتی ہے۔ اگر بلحاظ قوی عقلیہ کے یہ تناسب پایا جائے تو اسے صدیق یا محدث کہیں گے اور اگر قوی عملیہ کے لحاظ سے مماثلت ہو تو شہید اور حواری اس کا نام ہوگا اور ان دو جماعتوں کی طرف آیۃ ھذا میں ارشاد موجود ہے کہ جو قوم خدا اور اس کے رسول پر کما حقہ ایمان لائے وہ صدیق اور شہید کہلائے گی اور صدیق اور محدث میں یہ فرق ہے کہ صدیق کی ذات بلحاظ اخذ علوم کے نبی کی ذات سے ایسی قریب ہوتی ہے جیسے گندھک اور آگ میں مقاربت ہے جب صدیق نبی سے کوئی واقعہ سنتا ہے فوراً اس کے دل میں خوب طرح راسخ ہو جاتا ہے اور چونکہ اس کا دل پہلے سے اس پر گواہی دیتا ہے اس لئے نبی کی زبان سے سن کر اسے اخذ کر لیتا ہے گویا وہ ایک ایسا علم ہے جو بغیر تقلید کے اس کے دل میں موجزن ہوا ہے۔ اسی مضمون کی طرف حدیث میں اشارہ واقع ہے کہ ابو بکر صدیقؓ وحی کے نزول کے وقت جبریل کی آواز سنتے تھے۔ جب وہ آنحضرتﷺ کو وحی سناتا تھا اور صدیق کے دل میں اعلیٰ پیمانے پر نبی کی محبت جوش مارتی ہے۔ اس لئے وہ جان تن من دھن اور ہر طرح موافقت سے نبی کی ہمدردی کرتا ہے اور نبی اس کے حال کی خبر اس طرح دیتا ہے کہ جتنا ابوبکرؓ کی ذات اور مال سے مجھے فائدہ پہنچا ہے اتنا کسی کے مال سے میں نے نفع نہیں پایا اور نبی اس کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر صدیقؓ کو اپنا خلیل بناتا اس کے دل پر نبی کے دل سے انوار وحی منعکس ہوتے ہیں۔﴾
اور پھر لکھا: ”والصديق اولى الناس بالخلافة لان نفس الصديق تصير وكرا لعناية الله بالنبى ونصرته وتاييده اياه حتى يصير كان روح النبىﷺ ينطق بلسان الصديق وهو قول عمر حين دعا الناس الى بيعة الصديق فان يك محمدﷺ قد مات فان الله قد جعل بين اظهركم نورا تهدون به هدى الله محمدﷺ (حجۃ اللہ ص ٢٨٣)“
صدیق خلافت کے لائق تر ہوتا ہے کیونکہ اس کے دل میں نبی کی حمایت اور نصرت اور
٨٥
تائید جو مقصود خداوندی ہے اس طرح جانشین ہوتی ہے جس طرح پرندہ اپنے گھونسلے میں اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے گویا روح نبی کا صدیق کی زبان پر بولتا ہے حضرت عمرؓ نے بیعت کی تقریب پر یہ الفاظ فرمائے تھے کہ اگر محمد ﷺ فوت ہو چکے ہیں تو خدا نے تمہارے درمیان ایسا ہی نور باقی چھوڑا ہے کہ جس کے ذریعہ حضرت محمد ﷺ کو رہنمائی کی تھی اور وہ نور صدیق اکبر کی ذات میں ہے اس سے بڑھ کر بروز روحانی کیا ہوگا کہ صدیق کی ذات میں گویا نبی کی روح بولتی ہے۔ اور پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ”ومن مقامات القلب مقامان يختصان بالنفوس المتشبهة بالانبياء عليهم الصلوت والتسليمات ينعكسان عليهما كما ينعكس ضوء القمر على مرآة موضوعة بإزأ كوة مفتوحة ثم ينعكس ضؤها على الجدران والسقف والارض (حجة اللہ ص ٢٧٨)“ مقامات قلبیہ میں سے دو مقام ایسے نفوس سے مخصوص ہیں جن کو انبیاء سے مماثلت حاصل ہوتی ہے۔ وہ مقام نبی کے دل سے صدیق کے دل پر ایسے منعکس ہوتے ہیں جیسے چاند کی روشنی کا پرتو پہلے اس آئینہ پر پڑتا ہے جو ایک روشندان کے سامنے پڑا ہو۔ پھر اس کی روشنی کا عکس دیواروں اور چھت اور زمین پر واقع ہوتا ہے۔
١؎ صلوٰۃ مسعودی میں جو فقہ کی معتبر کتاب ہے لکھا ہے کہ نابینا کی اقتداء میں نماز جائز ہے کیونکہ نبی کے ساتھ روحانی مناسبت امامت کے لئے درکار ہے نہ جسمانی۔ سو جس کو نبی سے روحانی مناسبت زیادہ ہے وہ حقدار امامت ہے۔ فقدان بصر کا اس کے جواز یا عدم جواز میں کوئی اثر نہیں معلوم ہوا کہ ہر متبع سنت کو رسول کریم سے روحانی مناسبت ہوتی ہے لیکن صدیق اکبر کو سب سے زیادہ مماثلت روحانی آنحضرت ﷺ سے حاصل تھی اس لئے وہ تمام صحابہ کی موجودگی میں امامت کے لئے منتخب کئے گئے اور حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لا ينبغى لقوم فيهم ابوبكر ان يؤمهم غيره “اب نتیجہ بالکل صاف ہے کہ صدیق اکبرؓ کو سب صحابہ سے زیادہ مناسبت روحانی آنحضرت سے حاصل تھی اور آپ نے وہ کارنامے دکھلائے کہ طبقہ ثانیہ نے ان کے متعلق یہ رائے ظاہر کی۔ ”لقد قام مقام نبي من الانبياء “مگر باایں ہمہ وہ نبی نہیں اور آنحضرت ﷺ نے ان کا شان انبیاء سے کم تر بیان کیا ہے جو ان کی نبوت کی نفی پر صریحاً مشتمل ہے۔ ٨٦
صدیق کا شان انبیاء کے برابر نہیں
باایں ہمہ صدیق اکبر کو شان نبوت حاصل ”اخرج عبدالرحمن بن حميد طرق من ابى الدرداء ان رسول الله ﷺ على احد افضل من ابى بكر الا ان المسلمين بعد النبيين والمرسلين أ حديث جابر ولفظه ما طلعت الشم الطبراني وغيره وله شواهد من وجوه وقد اشار ابن كثير الى الحكم بصحته “ عبدالرحمن بن حمید نے مسند میں اور ابو الدرداءؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ف ہوا۔ جو ابوبکرؓ سے افضل اور برتر ہو۔ سوائے نبی کی کہ آفتاب کا مسلمانوں میں سے کسی پر طلوع و غرو ابوبکرؓ سے فائق تر ہو اور حضرت جابرؓ سے مروی جس کی شان ابوبکرؓ سے زیادہ ہو۔ طبرانی وغیرہ نے کے شواہد موجود ہیں جو یا تو صحیح ہیں یا حسن اور ابن ک
خلاصہ مطلب یہ کہ جہاں سے آفتاب سارے حلقہ میں ابوبکرؓ کے سوائے انبیاء کے کوئی ب
سلمة بن الاكوع قال قال رسول الله ﷺ يكون نبى “ طبرانی نے سلمہ بن اکوع سے م تمام خلقت سے افضل ہیں۔ ”اخرج الترم قال رسول الله ﷺ لابی بکر و عمر ه والآخرين الا النبيين والمرسلين و سعيد الخدرى وجابر بن عبدالله “
صدیق کا شان انبیاء کے برابر نہیں
بایں ہمہ صدیق اکبر کو شان نبوت حاصل نہیں۔
”اخرج عبدالرحمن بن حميد في مسنده و ابو نعيم وغيرهما من طرق من ابی الدرداء ان رسول الله ﷺ قال ما طلعت الشمس ولا غربت على احد افضل من ابى بكر الا ان يكون نبي وفى لفظ على احد من المسلمين بعد النبيين والمرسلين افضل من ابى بكر وقد ورد ايضاً من حديث جابر ولفظه ما طلعت الشمس على احد منكم افضل منه اخرجه الطبراني وغيره وله شواهد من وجوه واخر تقضى له بالصحة او الحسن وقد اشار ابن كثير الى الحكم بصحته“
عبدالرحمن بن حمید نے مسند میں اور ابو نعیم وغیرہما نے متعدد اسنادوں کے ذیل میں ابو الدرداء سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آفتاب کا طلوع وغروب کسی نفس پر نہیں ہوا۔ جو ابوبکر سے افضل اور برتر ہو۔ سوائے نبی کی نبوت کی شان اعلیٰ ہے اور ایک لفظ میں یوں آیا کہ آفتاب کا مسلمانوں میں سے کسی پر طلوع وغروب نہیں ہوا۔ جو انبیاء اور مرسلین کے بعد حضرت ابوبکر سے فائق تر ہو اور حضرت جابر سے مروی ہے کہ تم میں سے کسی پر آفتاب کا طلوع نہیں ہوا جس کی شان ابوبکر سے زیادہ ہو۔ طبرانی وغیرہ نے اس روایت کو ذکر کیا ہے اور متعدد طرق سے اس کے شواہد موجود ہیں جو یا تو صحیح ہیں یا حسن اور ابن کثیر نے ان کی صحت کا اشارہ کیا ہے۔
خلاصہ مطلب یہ کہ جہاں سے آفتاب طلوع ہوتا ہے اور جہاں غروب ہوتا ہے اس سارے حلقہ میں ابوبکر کے سوائے انبیاء کے کوئی فاضل تر نہیں۔ ”واخرج الطبراني عن سلمة بن الاكوع قال قال رسول الله ﷺ ابو بكر الصديق خير الناس الا ان يكون نبي“ طبرانی نے سلمہ بن اکوع سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ ابوبکر صدیق سوائے انبیاء کے تمام خلقت سے افضل ہیں۔ ”اخرج الترمذى عن انس وابن ماجة عن على قالا قال رسول الله ﷺ لابی بکر وعمر هذان سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين الا النبيين والمرسلين وفي الباب عن ابن عباس وابن عمر وابی سعيد الخدرى وجابر بن عبدالله“ ترمذی نے حضرت انس سے اور ابن ماجہ نے حضرت
٨٧
علیؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ابوبکر وعمر جنت کے میانہ عمروں کے سردار ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ متقدمین میں سے تھے یا متاخرین میں سے ہوں۔ لیکن نبی اور رسول مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہ ان دونوں صاحبوں سے فائق ہیں اور روایتیں بھی اس کے ہم مضمون حضرت ابن عباسؓ اور ابن عمرؓ اور ابی سعید خدریؓ اور جابر بن عبداللہؓ سے منقول ہیں۔
ابوبکر صدیقؓ مثیل ابراہیم وعیسیٰؑ حضرت عمرؓ مثیل نوح وموسیٰ ہیں (علیہم السلام)
مگر نبوت کا دعویٰ نہیں
- ٢....... رسول خداﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو حضرت ابراہیم اور عیسیٰ علیہما السلام سے تشبیہ دی اور
حضرت عمرؓ کو حضرت نوح علیہ السلام سے اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے باوجودیکہ ان کا بروز روحانی آنحضرتﷺ کے قول سے مصدق تھا۔ مگر کسی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ اگر بروز سے نبوت بھی باقی اخلاق اور اوصاف کی طرح حاصل ہو جاتی تو یہ اصحاب نبوت کے مدعی ہوتے۔
علامہ سلیمان نے تفسیر جمل میں لکھا ہے: ”روی عن عبداللہ بن مسعودؓ قال لما كان يوم بدر وجئ بالا سارىٰ فقال رسول اللہﷺ ما تقولون فى هؤلاء فقال ابو بکرؓ یارسول اللہ قومك واهلك استبقهم وتان بهم لعل اللہ ان يتوب عليهم وخذ منهم فدية تكون لنا قوة على الكفار وقال عمرؓ يا رسول اللہ كذبوك واخرجوک قدمهم نضرب اعناقهم يمكن عليا من عقيل فيضرب عنقه ومكننى من فلان نسيب لعمر فاضرب عنقه ومکن حمزة من العباس يضرب عنقه فان هؤلاء ائمة الكفر وقال ابن رواحة انظرو اديا كثير الحطب فادخلهم فيه ثم عليهم نارا فقال له العباس قطعت رحمك فسكت رسول اللہﷺ ولم يجيبهم ثم دخل فقال ناس ياخذبقول ابى بكر وقال ناس ياخذ بقول ابن رواحة وقال ناس ياخذ بقول عمر ثم خرج رسول اللہ ﷺ فقال ان اللہ ليلين قلوب رجال حتى تكون الين من اللبن ويشد قلوب رجال حتى تكون اشد من الحجارة وان مثلك يا ابابكر مثل ابراهيم قال فمن
٨٨
تبعنى فانه منى ومن عصانى فانك غ تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك ا مثل نوح قال رب لا تذر على الارض من ا قال ربنا اطمس على اموالهم واشد ع العذاب الاليم ثم قال رسول اللہﷺ اليوم بفداء وبضرب عنقه ثم ساق البغوى فى المع
بدر کے قیدیوں کے متعلق آنحضرتﷺ ک
آپ کی قوم اور اہل میں سے ہیں انہیں زندہ چھوڑنا چا کہ وہ توبہ کریں۔ شاید خدا ان کی توبہ منظور کرے اور ان ہمارا فنڈ بمقابلہ کفار مضبوط ہو جائے اور حضرت عمرؓ نے مکذب ہیں انہوں نے آپ کو وطن مالوف سے نکال دی تہ تیغ کردیں۔ عقیل کو حضرت علی کے سپرد کریں اور میر حضرت حمزہ کے حوالے کر دیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں عبداللہ بن رواحہ کی رائے سب سے زیادہ تشدد آمیز تھ تلاش کریں اور اسارئی بدر کو اس میدان میں داخل کر رہا نہ گیا وہ بول اٹھے کہ تو قاطع رحم ہے تب مسلمان ح رائے زنیاں کرنے لگے۔ کوئی کہتا تھا کہ حضرت ابوبکر عمر کی رائے پر عمل ہوگا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ عبداللہ سے تشریف لاکر فرمانے لگے کہ بعض دلوں کو خدا ا ہو جاتے ہیں اور بعض کو پتھروں سے زیادہ سنگین بنا دی ملتا جلتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو میرا متبع ہو وہ میری نہیں تو میں نہیں کہتا کہ تو اسے سزا دے تو بخشنے والا مہ بھی لگاؤ کھاتا ہے کہ آپ نے فرمایا اے خداوند! اگر بندے ہیں اور اگر تو انہیں معافی دے دے تو تجھ ہ
٨٩
تبعنى فانه منى ومن عصانى فانك غفور رحيم ومثل عيسى قال ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم ومثلك يا عمر مثل نوح قال رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا ومثلك مثل موسى قال ربنا اطمس على اموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يرو العذاب العليم ثم قال رسول الله ﷺ اليوم انتم عالة فلا يفلتن احد منهم الا بفداء او بضرب عنقه ثم ساق البغوى فى المعالم “
بدر کے قیدیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ نے مشورہ طلب کیا تو ابوبکر نے کہا کہ یہ لوگ آپ کی قوم اور اہل میں سے ہیں انہیں زندہ چھوڑنا چاہئے اور مہلت دے کر اس قابل کرنا چاہئے کہ وہ توبہ کریں۔ شاید خدا ان کی توبہ منظور کرے اور ان سے معاوضہ فدیہ وصول کرلیا جائے تاکہ ہمارا جتھہ بمقابلہ کفار مضبوط ہو جائے اور حضرت عمر نے یہ تجویز پیش کی کہ یہ لوگ آپ کے دشمن اور مکذب ہیں انہوں نے آپ کو وطن مالوف سے نکال دیا انہیں ہمارے حوالے کیا جائے کہ ہم ان کو تہ تیغ کردیں۔ عقیل کو حضرت علی کے سپرد کریں اور میرا رشتہ دار میری تحویل میں کر دیں اور عباس کو حضرت حمزہ کے حوالے کر دیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی گردنیں اڑا دیں کیونکہ یہ کفر کے پیشوا ہیں عبداللہ بن رواحہ کی رائے سب سے زیادہ تشدد آمیز تھی کہ کوئی میدان جس میں ہیزم کثیر فراہم ہو تلاش کریں اور اسارائے بدر کو اس میدان میں داخل کر کے آتش مشتعل کر دیں۔ حضرت عباس سے رہا نہ گیا وہ بول اٹھے کہ تو قاطع رحم ہے تب مسلمان حضرت ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد رائے زنیاں کرنے لگے۔ کوئی کہتا تھا کہ حضرت ابوبکر کی رائے قبول ہوگی کسی کا خیال تھا کہ حضرت عمر کی رائے پر عمل ہوگا۔ کسی کو معلوم ہوتا تھا کہ عبداللہ بن رواحہ کی تجویز پاس ہو گی حضور ﷺ گھر سے تشریف لا کر فرمانے لگے کہ بعض دلوں کو خدا اتنا نرم کر دیتا ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض کو پتھروں سے زیادہ سنگین بنا دیتا ہے ابوبکر! تمہارا حال حضرت ابراہیم سے ملتا جلتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو میرا متبع ہو وہ میری جماعت میں داخل ہے اور جو میرا حکم بردار نہیں تو میں نہیں کہتا کہ تو اسے سزا دے تو بخشنے والا مہربان ہے ابوبکر! تمہارا حال حضرت عیسیٰ سے بھی لگاؤ کھاتا ہے کہ آپ نے فرمایا اے خداوند! اگر تو انہیں عذاب کرے تو بجا ہے کیونکہ یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معافی دے دے تو تجھ سے کوئی دوسرا زبردست اور حکیم نہیں جو تجھے
٨٩
روکے اور سمجھائے تیرا ڈر سب سے بڑھ کر اور تیری دانائی سب سے غالب تر ہے۔ عمر تمہارا حال نوح علیہ السلام سے مناسبت رکھتا ہے جنہوں نے کہا کہ اے خداوند عالم زمین کی آبادی پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑیو اور تمہارا حال بعینہ ویسا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کا جنہوں نے دعا کی تھی کہ اے خداوند تو ان کے مال اور جاگیریں نابود کر دے اور ان کے دل شدت سے بھر دے کہ وہ بن عذاب دیکھے ایمان نہ قبول کریں۔ پھر آنحضرت ﷺ نے تمام مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم سارے محتاج ہو۔ اس لئے جماعت کفار سے کوئی رہا نہ ہوگا۔ جب تک وہ فدیہ ادا نہ کرے ورنہ ان کی گردنیں نذر شمشیر ہوں گی۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے حضرت صدیق اکبرؓ اور فاروقؓ کی نبوت کی بالتصریح نفی کی ہے۔
حضرت علیؓ مثیل عیسیٰ علیہ السلام ہیں
- ٣ ...... حضرت علیؓ کو آنحضرت نے مثیل عیسیٰ علیہ السلام قرار دیا چنانچہ امام احمد مسند میں اور
بزار اور ابو یعلیٰ اور حاکم نے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان فيك مثلا من عيسى أبغضه اليهود حتى بهتو امه واحبته النصارى حق انزلوه بالمنزلة التى ليست له ثم قال يهلك فى رجلان محب مفرط يقرظني بماليس فى ومبغض يحمله شنآنى على ان يبهتنى“ یعنی حضرت علیؓ سے مخاطب ہو کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت حاصل ہے۔ یہود نے ان کو اس حد تک دشمن خیال کیا کہ ان کی ماں پر الزام دیئے اور نصاریٰ نے اس حد تک ان کو محبوب خیال کیا کہ ان میں ایسے رتبہ پر اتارا جو ان کے شایان شان نہیں یعنی خدا کا ابن حقیقی و الہ کامل اور اقنوم ثالث کہا اس طرح دو گروہ تمہاری ذات کے متعلق پیدا ہو جائیں گے ایک گروہ جو تمہارا حد سے زیادہ محب ہوگا وہ نصاریٰ کا ہم پلہ ہے اور دوسرا تمہارا دشمن وہ یہود کا نمونہ ہے اور ان کے درمیان ایک گروہ حق پر ہوگا اور پھر یہ فرمایا کہ میری ذات کی نسبت بدعقیدت کی وجہ سے دو قسم کے انسان تباہ ہوں گے ایک محب مفرط جو میری ایسی مدح سرائی کرتا ہے جو میری ذات میں نہیں اور دوسرا دشمن جو مجھے الزامات دیتا ہے۔
دیکھو آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کو صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے نسبت دی ہے لیکن باب نبوت کو مسدود سمجھ کر اور یہ خیال کر کے کہ بروز سے نبوت حاصل نہیں ہوتی ٩٠
آپ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ کہا لست بنبی ولا يوحى طرف وحی ہوتی ہے۔
حضرت ابوذرؓ مثیل مسیح بن مریم علیہ السلام ہیں
- ٤ ...... حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا: ”
اقلت الغبراء من ذي لهجة اصدق ولا اوفى من ابی فى الزهد رواه الترمذی“ یعنی زیر آسمان اور زمین کے حضرت ابوذرؓ سے زیادہ نہیں ہے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا حضور ﷺ نے ابوذرؓ کو مثیل مسیح کہا ہے لیکن آپ مدعی نبوت نہیں
- ٥ ...... حدیث میں ہے: ”من شرب بيده وهو يع
كتب الله له بعددا صابعه حسنات وهوانه عيس رواه ابن ماجه عن عاصم عن ابيه عن جده“ یعنی انسان ہاتھ سے پانی نوش کرے۔ جس قدر اس کے ہاتھ کی انگلی میں آئیں گی کیونکہ یہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا۔ دیکھو بن مریم ہے کیا وہ نبی بھی ہے؟
امام حسنؓ و حسینؓ مثیل محمدﷺ
وجوہات مماثلت، امامین کا درجہ انبیاء
- ٦ ...... حضور ﷺ کے صاحبزادے ظلی و بروزی طور پر رتب
ظاہری اور باطنی مناسبت حضور ﷺ کے ساتھ مکمل تھی۔ لیکن با مشرف نہیں۔
حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے سرالشہادتین میں لملاحظته ﷺ فمن وجهين الأول من جها النسائي والروياني والضياء عن حذيفة وابو يعل عن ابن عمر وا بن عدى عن ابن مسعود وابو الكبيرة عن عمر وجابر والبراء واسامة و ٩١
آپ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ کہا لست بنبی ولا يوحى الیٰ کہ میں نبی نہیں اور نہ میری طرف وحی ہوتی ہے۔
حضرت ابوذرؓ مثیل مسیح بن مریم علیہ السلام ہیں
- ٤....... حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا: "ما اظلت الخضراء ولا
اقلت الغبراء من ذی لهجة اصدق ولا اوفى من ابی ذر شبه عيسى بن مریم فى الزهد رواه الترمذی" یعنی زیر آسمان اور زمین سے اوپر کوئی زبان کا سچا اور وعدہ وفا حضرت ابوذرؓ سے زیادہ نہیں ہے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا زہد میں نمونہ ہیں۔ باوجود یکہ حضورﷺ نے ابوذرؓ کو مثیل مسیح کہا ہے لیکن آپ مدعی نبوت نہیں ہوئے کیونکہ نبوت کسبی نہیں۔
- ٥....... حدیث میں ہے: "من شرب بيده وهو يقدر على انا يريد التواضع
كتب الله له بعدد اصابعه حسنات وهو اناء عيسى بن مريم عليهما السلام رواه ابن ماجه عن عاصم عن ابيه عن جده" یعنی باوجود برتن دستیاب ہونے کے جو انسان ہاتھ سے پانی نوش کرے۔ جس قدر اس کے ہاتھ کی انگلیاں ہیں اتنی نیکیاں اس کے حصہ میں آئیں گی کیونکہ یہ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کا برتن تھا۔ دیکھو ہاتھ سے پانی پینے والا مثیل عیسیٰ بن مریم ہے کیا وہ نبی بھی ہے؟
امام حسنؓ و حسینؓ مثیل محمدﷺ ہیں
وجوہات مماثلت، امامین کا درجہ انبیاء سے کم ہے
- ٦....... حضورﷺ کے صاحبزادے ظلی و بروزی طور پر رسول خداﷺ کا نمونہ تھے اور ان کی
ظاہری اور باطنی مناسبت حضورﷺ کے ساتھ مکمل تھی۔ لیکن باایں ہمہ وہ عہدہ نبوت یا رسالت سے مشرف نہیں۔
حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے سر الشہادتین میں لکھا ہے: ”واما كونهما مرائين لملاحظته ﷺ فمن وجهين الاول من جهة السيادة المطلقة فقد اخرج النسائي والروياني والضياء عن حذيفة وابو يعلى عن ابى سعيد وابن ماجه عن ابن عمروا بن عدى عن ابن مسعود وابو نعيم عن على الطبراني في الكبير و عن عمر وجابر والبراء واسامة بن زيد ومالك بن الحويرث
٩١
والديلمي عن انس وابن عساكر من عائشة وابن عمرو ابن عباس وابي رمثة ان رسول الله ﷺ قال الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة ورواه ابن ماجة وغيره وابوهما خير منهما وعند الطبراني وابوهما افضل منهما وزاد الحاكم وابن حبان وغيرهما الا ابن الخالة عيسى بن مريم و يحيى ابن زكريا ومن متفرعات هذا المراتبه كون محبتهما محبته وبغضهما بغضه ﷺ كما وقع في رواية ابن عساكر وغيره عن ابن عباس من احبهما فقد احبنى ومن ابغضهما فقد ابغضنى والثانى فى جهة مشابهة الصورة فانهما كان كالتصويرين له ﷺ في الظاهر ايضاً فهذا اخرج البخاري عن انس قال لم يكن احد اشبه بالنبى ﷺ من الحسن بن على وقال في الحسين أيضاً كان اشبهم برسول الله ﷺ وروى هذا الحديث مفصلا الترمذى عن على كرم الله وجهه وصححه قال الحسن اشبه برسول الله ﷺ مابين الصدر الى الراس والحسين اشبه بالنبى ﷺ فيما كان اسفل من ذلك“
یعنی امام حسن وحسین حضور کے ظاہری وباطنی کمالات کا آئینہ تھے جس نے ان کو دیکھ لیا گویا رسول اللہ ﷺ کو ملاحظہ کرلیا۔ اس مشابہت کو ہم دو طرز سے ثابت کرسکتے ہیں۔
- ١....... آنحضرت ﷺ بنی آدم کے علی الاطلاق سردار تھے جیسے حدیث میں ہے:”أنا سيد
ولد آدم يوم القيمة “ چونکہ دونوں صاحبزادے حضور کا بروزی عکس تھے اس لئے سیادۃ کا پرتو بھی امامین کی روحانیت پر پڑ گیا اور حضور نے ارشاد فرمایا کہ امام حسن وحسین جوانان اہل جنت کے سردار ہیں۔ اس روایت کو نسائی اور رویانی اور ضیاء نے حضرت حذیفہ سے اور ابو یعلیٰ نے ابو سعید سے اور ابن ماجہ نے ابن عمر سے اور ابن عدی نے ابن مسعود سے اور ابو نعیم نے علی سے اور طبرانی نے کبیر میں عمر، جابر، براء، اسامہ بن زید، مالک بن حویرث سے اور دیلمی نے حضرت انس سے اور ابن عساکر نے عائشہ ابن عمر ابی رمثہ سے مرفوعاً بیان کیا ہے اور ساتھ ہی ایک لفظ رافع وہم بھی ذکر کیا ہے کہ امامین آنحضرت ﷺ کا بروزی نقشہ تھے تو اس لہجہ میں آپ کو نبوت بھی حاصل ہوگئی ہوگی تو رسول خدا نے فرمایا الا ابن خالة عيسى بن مريم ويحيى بن زکريا یعنی دو خالہ زاد بھائی یحییٰ وعیسیٰ علیہما السلام پر دونوں صاحبزادوں کو فوقیت نہیں ہے کیونکہ وہ نبی تھے اور صاحبزادے نبی نہ تھے۔ گویا بروزی رنگ میں حصول نبوت کی نفی ہے۔
٩٢
چونکہ صاحبزادے آنحضرت کے ذاتی کمالات ان کی ذات اور میری ذات واحد ہے جو ان سے محبت رکھ خیال کرے وہ مجھے بھی دشمن سمجھتا ہے۔ ابن عساکر نے ابن
- ٢....... صاحبزادوں کی شکل رسول اللہ ﷺ سے ملتی
بخاری کی حدیث سے یہ بات واضح ہے اور ترمذی نے ح ہے کہ امام حسن سر سے دھڑ تک آنحضرت سے مشابہت حسین کا نقشہ حضرت سے ملتا جلتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ام شہادت سمجھی جاتی ہے اور آپ کے کمالات میں معدود ہوتی
امام مہدی مثیل محمد ہیں
- ٧....... امام مہدی علیہ السلام رسول خدا ﷺ کا ظل
حاصل ہوسکتی ہے تو امام مہدی کو نبی سمجھنا چاہئے حالانکہ اس حضرت ابوبکر کو ان سے برتر سمجھتے ہیں۔
ابو اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے اپ فرمایا: ”ان ابنى هذا سيد كما سماه رسول الله يسمى باسم نبيكم يشبهه فى الخلق ولا يشب ہے آنحضرت نے اسے سردار ٹھہرایا ہے اس کی صلبی نسل م ہوگا۔ وہ اخلاق میں حضرت کا نمونہ ہوگا اور صورت میں ان اس روایت کو بیان کیا ہے باایں ہمہ امام مہدی کی شان اعل حالانکہ وہ ظلی طور پر مثیل محمد ہیں۔ علامہ محمد طاہر نے مجمع الب ”فان خيرهم ابو بكر ثم عمر وهم قا عقيدة اهل السنة قاطبة ولم يخالف فيم يفضل على الصديق الذى وزن به جميع الامة بلادليل وشبهة بل وقد نسمع من بعض الانبياء “ یعنی سب سے افضل حضرت ابوبکرؓ ہیں پھر عم
٩٣
چونکہ صاحبزادے آنحضرت کے ذاتی کمالات کا آئینہ تھے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ ان کی ذات اور میری ذات واحد ہے جو ان سے محبت رکھتا ہے وہ مجھے بھی چاہتا ہے جو ان کو دشمن خیال کرے وہ مجھے بھی دشمن سمجھتا ہے۔ ابن عساکر نے ابن عباس سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
- ٢...... صاحبزادوں کی شکل رسول اللہ ﷺ سے ملتی جلتی تھی بظاہر وہ ان کی تصویر تھے جیسا
کہ بخاری کی حدیث سے یہ بات واضح ہے اور ترمذی نے حضرت علی سے اس واقعہ کو مفصلاً بیان کیا ہے کہ امام حسن سر سے دھڑ تک آنحضرت سے مشابہت رکھتے تھے اور دھڑ سے پاؤں تک امام حسین کا نقشہ حضرت سے ملتا جلتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسن و حسین کی شہادت آنحضرت کی شہادت سمجھی جاتی ہے اور آپ کے کمالات میں معدود ہوتی ہے۔
امام مہدی مثیل محمد ہیں
- ٧...... امام مہدی علیہ السلام رسول خدا ﷺ کا ظل ہوں گے اگر ظلیات کے ماتحت نبوت
حاصل ہو سکتی ہے تو امام مہدی کو نبی سمجھنا چاہئے حالانکہ اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں بلکہ اہل سنت حضرت ابوبکر کو ان سے برتر سمجھتے ہیں۔
ابو اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت علی نے اپنے بڑے صاحبزادے امام حسن کو دیکھ کر فرمایا: ”ان ابني هذا سيد كما سماه رسول الله ﷺ وسيخرج من صلبه رجل يسمى باسم نبيكم يشبهه فى الخلق ولا يشبهه فى الخلق “ یہ میرا صاحبزادہ سید ہے آنحضرت نے اسے سردار ٹھہرایا ہے اس کی صلبی نسل سے ایک ایسا امام پیدا ہوگا جس کا نام محمد ہوگا۔ وہ اخلاق میں حضرت کا نمونہ ہوگا اور صورت میں ان کے ساتھ مماثلت نہ ہوگی۔ ابو داؤد نے اس روایت کو بیان کیا ہے باایں ہمہ امام مہدی کی شان انبیاء کے بلکہ حضرت ابوبکر کی مساوی نہیں حالانکہ وہ ظلی طور پر مثیل محمد ہیں۔ علامہ محمد طاہر نے مجمع البحار میں لکھا ہے:
”فان خيرهم ابو بكر ثم عمر وهم قريبا فى فضل الصحابة هذا هو عقيدة اهل السنة قاطبة ولم يخالف فيه احد فانظر هل احد اجهل ممن يفضل على الصديق الذى وزن به جميع الامة فرجح شخصا اعتقد مهدويته بلا دليل وشبهة بل وقد نسمع من بعض الثقات انهم يفضلونه على سيد الانبياء“ یعنی سب سے افضل حضرت ابوبکر ہیں پھر عمر، یہ تمام اہل سنت کا عقیدہ ہے جس میں
٩٣
کسی کو خلاف نہیں غور کی نظر سے دیکھو اس سے بڑھ کر بھی کوئی جاہل ہے جو صدیق پر جو تمام امت کے موازنہ میں بھاری رہا کسی دوسرے کو فضیلت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جس میں مہدی جانتا ہوں وہ ابو بکر سے افضل ہے۔ بلکہ بعض محترمین سے سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنے معتقد فیہ مہدی کو سید الانبیاء سے بھی برتر جانتے ہیں۔
حضرت ابو بکرؓ افضل یا امام الزمان مہدی علیہ السلام؟
رہی وہ حدیث جسے باسناد صحیح ابن ابی شیبہ نے محمد بن سیرین سے نقل کیا ہے: ”یکون فی آخر الزمان خلیفة لا یفضل علیہ ابو بکر وعمر“ سو علامہ موصوف الصدر نے اپنی کتاب العرف الوردی فی اخبار المہدی میں اس کی حسب ذیل تاویل بیان کی ہے اور کہا ہے: ”والاوجہ عندی تاویل اللفظین علی ما اول علیہ حدیث بل اجر خمسین منکم لشدة الفتن فی زمان المہدی وتماثل الروم باسرہا علیہ ومحاصرة الدجال لہ ولیس المراد بہذا التفضیل الراجع الی زیادة الثواب والرفعة عند الله تعالیٰ فالاحادیث الصحاح والاجماع علی ان ابابکر وعمر افضل الخلق بعد النبیین والمرسلین“ میرے نزدیک ہر دو لفظ کی تاویل بہت مناسب ہے اور لائق ہے کہ اس حدیث کے مطلب کو اس حدیث کے مفہوم پر اتارا جائے جس میں متاخرین کے اجر کو پچاس صحابہ کے برابر ٹھہرایا گیا ہے حالانکہ صحابہ بالاجماع افضل ہیں کیونکہ مہدی علیہ السلام کے عہد میں فتن زور وشور پر ہوں گے اور روم حملہ کے لئے ان پر ٹوٹ پڑے گی اور دجال ان کا محاصرہ کر لے گا۔ اور اس لحاظ سے انہیں جزوی فضیلت حاصل ہو جائے گی ورنہ ثواب اور رفعت کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت شیخین کا درجہ افضل ہے اور صحیح احادیث اور اجماع بتلا رہی ہیں کہ نبیوں اور مرسلوں کے بعد حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ افضل ہیں اور علامہ موصوف تذکرہ میں اس حدیث کی دوسری اسناد کے متعلق یہ رائے ظاہر کی ہے۔ موضوع فیہ ضعیف وکذاب
اضافی فضیلت
اور سید علامہ نے حج الکرامہ میں بعد تحقیق لکھا ہے کہ جہات فضیلت مختلف ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کو بعض وجوہ سے شیخین پر مزیت حاصل ہے۔ لیکن اکثر وجوہ سے شیخین کو تفوق ہے کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چشم خود دیکھا۔ برکت صحبت سے فیض یاب ہوئے وحی کے
٩٤
نزول کا مشاہدہ کیا۔ آنحضرت ﷺ کی رفاقت میں مال وجـ متاخرین کے اعمال کی نسبت زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ امام مـ زمانہ میں پیدا ہوں گے اور انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا ہو ہوں گے۔ آثار نبی ﷺ کی اتباع کریں گے۔ اور آپ سے کہ فضائل جزویہ اس قابل نہیں کہ حقیقتۃً امام موصوف کے لئے
حدیث کاد یفضل علیٰ بعض الانبیاء
البتہ ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں امام موصوف يُفضل علیٰ بعض الانبیاء جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امام مہـ ہے۔ حتیٰ کہ بعض مبالغہ سے کام لینے والوں نے یہ رائے قا اور اپنے معتقد فیہ مہدی کی نسبت یہ خیال کیا کہ اس کا مـ روایت مذکور کی رو سے ایسا حکم لگانا صحیح نہیں کیونکہ یہ مجہو معلوم نہ ہو جائے کہ یہ کلام مشکوٰة نبوت سے صادر ہوئی ہے اسناد پایہ صحت کو نہیں پہنچتی کہ مقام استدلال میں مفید ہو سـ قاعدہ ہے کہ نفی اثبات کے معنے دیتی ہیں اور مثبت نفی کے مـ بعض الانبیاء کا یہ مطلب ہوگا ولکن لم یفضل عـ فعلوا، پس نتیجہ بالکل صاف ہے کہ امام مہدی کو وہ شان حـ بروزی طور پر مثیل محمد ہیں۔ اگر یہ پیرایہ بروز نبوت میسر ہـ نہیں تو معلوم ہو گیا کہ بروزی نبوت کوئی چیز نہیں۔
ان شواہد کے علاوہ کتب روایت میں ایسی ر ہوتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ اخلاقی مماثلت و وصفی مشابہـ ہے وہ مشبہ میں نہیں پایا جاتا اور واقعات نے اس کی تصدیـ کہ پہنچ چکا ہے البتہ مماثلت کے ماتحت نبوت حاصل نہیں
١؎ مطلقاً یا تضمناً مراد نہیں بلکہ التزاماً یعنی قـ اتقان اور شرح مأۃ عامل میں اس مسئلہ پر ضروری بحـ
٩٥
نزول کا مشاہدہ کیا۔ آنحضرت ﷺ کی رفاقت میں مال و جان کو نثار کیا۔ ان کے اعمال کا ثمرہ متاخرین کے اعمال کی نسبت زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ امام مہدی علیہ السلام چونکہ ایک جان گداز زمانہ میں پیدا ہوں گے اور انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس لئے وہ بیش بہا اجر کے مستحق ہوں گے۔ آثار نبی ﷺ کی اتباع کریں گے۔ اور آپ سے خطا صادر نہ ہوگا۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ فضائل جزئیہ اس قابل نہیں کہ ہیئۃً امام موصوف کے لئے شیخین پر تفضل کا حق پیدا کردیں۔
حدیث کاد یفضل علی بعض الانبیاء پر بحث
البتہ ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں امام موصوف کے متعلق یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کاد یفضل علی بعض الانبیاء جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا رتبہ انبیاء سے قریب ہے۔ حتی کہ بعض مبالغہ سے کام لینے والوں نے یہ رائے لگائی کہ آپ بعض انبیاء سے افضل ہیں اور اپنے معتقد فیہ مہدی کی نسبت یہ خیال کیا کہ اس کا درجہ انبیاء کے مساوی یا زیادہ ہے لیکن روایت مذکور کی رو سے ایسا حکم لگانا صحیح نہیں کیونکہ یہ محمد بن سیرین کا قول ہے۔ جب تک قطعاً معلوم نہ ہو جائے کہ یہ کلام مشکوٰۃ نبوت سے صادر ہوئی ہے تب تک حجت ناتمام ہے اور نیز اس کی اسناد پایہ صحت کو نہیں پہنچتی کہ مقام استدلال میں مفید ہو سکے اور ثانیاً کاد کے مشتقات کی نسبت یہ قاعدہ ہے کہ نفی مثبت کے معنے دیتی ہیں اور مثبت منفی کے معنے۔ ١؎ بناء علیہ کاد یفضل علی بعض الانبیاء کا یہ مطلب ہوگا ولکن لم یفضل جیسے وما کادوا یفعلون کا مدعا یہ ہے ولکن فعلوا۔ پس نتیجہ بالکل صاف ہے کہ امام مہدی کو وہ شان حاصل نہیں جو انبیاء کو دیا گیا ہے حالانکہ وہ بروزی طور پر مثیل محمد ہیں۔ اگر بہ پیرایہ بروز نبوت میسر ہو سکتی تھی تو امام الزمان کو ہوتی جب وہ نبی نہیں تو معلوم ہو گیا کہ بروزی نبوت کوئی چیز نہیں۔
ان شواہد کے علاوہ کتب روایت میں ایسی بے شمار شہادتیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ اخلاقی مماثلت بمعنی مشابہت ممکن ہے۔ لیکن جو مشبہ بہ میں کمال ہوتا ہے وہ مشبہ میں نہیں پایا جاتا اور واقعات نے اس کی تصدیق یہاں تک کی ہے کہ یہ مسئلہ عین الیقین کو پہنچ چکا ہے البتہ مماثلت کے ماتحت نبوت حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ فیض وہبی ہے۔ حدیث
١؎ مطلقاً یا تضمناً مراد نہیں بلکہ التزاماً یعنی قرائن اور آثار سے ایسا نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔ اتقان اور شرح مقاصد عامہ میں اس مسئلہ پر ضروری بحث کی گئی ہے۔
٩٥
میں بروایت سعدؓ مروی ہے: ”سئل النبىﷺ اى الناس اشد بلاءً قال الانبياء ثم الامثل فالامثل يبتلى الرجل على حسب دينه فان كان فى دينه صلبا اشتد بلائه وان كان فى دينه رقة هون عليه فمازال كذالك حتى يمشى على الارض ماله ذنب رواه الترمذى وصححه وابن ماجة والدارمى“
شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے شرح مشکوٰۃ میں امثل کی تشریح کے متعلق تحقیق لغوی کو بیان کیا ہے۔ جو درج ذیل ہے: ”وما وقع فى عبارة بعض الشارحين ان الامثل يعبربه عن الاشبه بالفضل والاقرب الى الخير وامائل القوم كناية عن خيارهم يشعر بان الافضل من الامثل من جهة اعتبار المماثلت“ یعنی جو کسی بزرگ کا فضیلت میں مماثل ہو اور اس جہت سے اسے خدا نے عزت بخشی ہو یا جس طریق اور مذہب کو حق کے ساتھ مماثلت ہو اسے امثل کہتے ہیں۔ قرآن اور حدیث اور لغت اور دیوان عرب اس بات کے مصدق ہیں: ”قال الله تعالى اذ يقول امثلهم طريقة ان لبثتم الا يوم وقال ان هذا لساحران يريدان ان يخرجاكم من ارضكم بسحرهما ويذهبا بطريقتكم المثلىٰ عبدالرحمن بن قارى کا قول ہے خرجت ليلة مع عمر بن الخطاب انى المسجد فاذا الناس اوزاع متفرقون يصلى الرجل لنفسه ويصلى الرجل فيصلى بصلوته الرجل ويصلى الرجل فيصلى بصلوته الرهط فقال عمر لو جمعت هؤلاء علىٰ قارى واحد لكان امثل (مشكوة)“ اور امرء القیس سید الشعراء نے کہا ہے۔
بصبح وما الاصباح منك بامثل
اس لحاظ سے حدیث کے معنی اس طرح ہوں گے کہ نبیوں پر تمام خلق اللہ سے زیادہ آزمائش ڈالی جاتی ہے۔ پھر جو بلحاظ مماثلت انبیاء ایک دوسرے سے فضیلت رکھتے ہیں۔ علی حسب الدرجات ابتلاء میں واقع ہوتے ہیں جتنا کوئی دین میں مضبوط ہوتا ہے۔ اسی قدر آزمائش اس کی زیادہ ہوتی ہے اور جتنا دین میں کمزور ہوا اتنا ہی ابتلاء میں کم رہتا ہے۔ اسی حالت میں ہر دم رہتا ہوا گناہ سے پاک صاف ہو کر زمین پر چلتا ہے۔ ترمذی ابن ماجہ دارمی نے اس روایت کو بیان
٩٦
کیا ہے اور ترمذی نے صحیح بھی کہا ہے اور یہ بھی یاد رکھئے وہی صورت اختیار کرتا ہے جو کسی خاص نبی کی مماثلت خولانی حضرت ابراہیم کی طرح افروختہ آتش میں ڈالے منکر پا کر یہ سزا ان کے لئے تجویز کی۔
فرقان میں اولیاء الرحمان واولیاء الشیطان ہے: ”وطلبه الاسود العنسى لما دعى النبو ما اسمع قال له اتشهد ان محمد رسو فوجدوه قائما يصلى فيها وقد صارت عليـ موت النبىﷺ فاجلسه عمر بينه وبيـ يمتنى حتى ارانى من امة محمدﷺ من ا (فرقان ص ١١٦، ١١٧)“ یعنی ابو مسلم خولانیؒ کو اسود عنسی کـ ابو مسلمؒ نے ایسا جواب دیا جو اس کے اشتعال طبع کا باعـ سنتا۔ جب اس نے محمدﷺ کی تصدیق کے متعلق سوا مانتا ہوں۔ تب وہ غیظ و غضب میں آیا اور حکم دیا کہ ابو مریدوں نے ایسا ہی کیا۔ جب آتش فرو ہوئی تو دیکھـ ہیں۔ اور آتش ان کی خاطر سرد اور باسلامت بن گئی حضرت عمرؓ نے ان کو اپنے اور حضرت ابو بکرؓ کے درمیا اس نے مجھے امت محمدیہ میں سے روحانی نقشہ ابراہیـ گزری جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر گزری تھی او مرحمت فرمایا۔“ مگر باوجود اس کے ابو مسلم مدعی نبو مماثلت سے حق نبوت پیدا نہیں ہوتا۔ بخلاف مرزا ا کسی نبی کی مماثلت مترشح نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی ا
”جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے سب فرقوں میں سے وہ فرقہ نجات پائے گا۔ کہ اس
کیا ہے اور ترمذی نے صحیح بھی کہا ہے اور یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ابتلاء کا رنگ بزرگوں پر وہی صورت اختیار کرتا ہے جو کسی خاص نبی کی مماثلت سے اس کے مناسب حال ہے۔ مثلاً ابومسلم خولانی حضرت ابراہیم کی طرح افروختہ آتش میں ڈالے گئے جبکہ اسود عنسی نے انہیں اپنی نبوت کا منکر پا کر یہ سزا ان کے لئے تجویز کی۔
فرقان میں اولیاء الرحمان واولیاء الشیطان میں ابن تیمیہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: ”وطلبہ الاسود العنسی لما ادعی النبوۃ فقال اتشهدانی رسول الله فقال ما اسمع قال لہ اتشهد ان محمد رسول الله قال نعم فامر بنار فالقی فیھا فوجدوہ قائما یصلی فیھا وقد صارت علیہ بردا او سلاما وقدم المدینۃ بعد موت النبی ﷺ فاجلسہ عمر بینہ وبین ابی بکر فقال الحمد لله الذی لم یمتنی حتی ارانی من امۃ محمد ﷺ من فعل بہ کما فعل بابراھیم خلیل الله (فرقان ص ١١٦، ١١٧)“ یعنی ابو مسلم خولانی کو اسود عنسی نے بلا کر اپنی نبوت پر شہادت لینے کا ارادہ کیا تو ابومسلم نے ایسا جواب دیا جو اس کے اشتعال طبع کا باعث ہوا۔ یعنی کہاما اسمع یعنی میں نہیں سنتا۔ جب اس نے محمد ﷺ کی تصدیق کے متعلق سوال عائد کیا تو فوراً بول اٹھا کہ ان کو میں سچا نبی مانتا ہوں۔ تب وہ غیظ وغضب میں آیا اور حکم دیا کہ ابومسلم کو چتہ میں ڈال کر جلا دیا جائے۔ چنانچہ مریدوں نے ایسا ہی کیا۔ جب آتش فرو ہوئی تو دیکھا وہ صحیح سالم استادہ نماز آگ میں ادا کر رہے ہیں۔ اور آتش ان کی خاطر سرد اور باسلامت بن گئی۔ ابومسلم بعد وفات نبی ﷺ مدینہ میں آیا۔ حضرت عمرؓ نے ان کو اپنے اور حضرت ابوبکرؓ کے درمیان مجلس مرحمت فرمائی اور کہا خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے امت محمدیہ میں سے روحانی نقشہ ابراہیم علیہ السلام کا دکھایا جس پر بعینہ وہ واردات گزری جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر گزری تھی اور پیشتر مرگ مجھے اسی نعمت کے دیکھنے کا موقع مرحمت فرمایا۔“ مگر باوجود اس کے ابو مسلم مدعی نبوت نہیں ہوا کیونکہ باب نبوت مسدود ہے اور مماثلت سے حق نبوت پیدا نہیں ہوتا۔ بخلاف مرزا قادیانی کے کہ ان کے اخلاق اور اوصاف سے کسی نبی کی مماثلت مترشح نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی آپ ابراہیم ہونے کے مدعی ہیں اور لکھتے ہیں:
”جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں سے وہ فرقہ نجات پائے گا۔ کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)
٩٧
مرزا قادیانی نے اس موقع پر جعلی حدیثوں سے کام نکالنے کی بہت کوشش کی ہے اور اپنے دعویٰ نبوت کی پناہ میں ان روایتوں کو جو افتراء پردازوں کی کذب بیانی کا نتیجہ ہیں کھڑا کیا ہے۔ مشہور ہے الغریق یتشبث بالحشیش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ پہلی حدیث الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ سے اپنی مطلب براری چاہی ہے۔ امام شوکانی نے فوائد المجموعہ میں اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے: ”جزم ابن حجر وغیرہ بانه موضوع“ اور دوسری حدیث ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ پر پنجہ ڈالا ہے۔ جس پر امام مذکورہ نے فوائد میں بحوالہ علامہ ناقدین یہ تبصرہ بیان کیا ہے: ”قال ابن حجر والزرکشی لا اصل له“ کیا کریں کاذبین کا کام صدق سے پورا نہیں ہوتا وہ مدعا براری کے لئے مفتریات کا ذخیرہ ہر گوشہ سے جمع کرلیتے ہیں۔
ہاں! ایک روایت ضعیف سند کے ساتھ ان الفاظ میں مروی ہے: ”اقترب للناس من درجة النبوة اهل العلم والجهاد“ لیکن یہ مرزا قادیانی کے مفید مدعا نہیں کیونکہ قرب سے دائرہ نبوت میں داخل ہونا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اتصاف نبوت کی نفی مترشح ہوتی ہے۔ قرب اور شے ہے اور نبوت اور اس کی تائید کے لئے راقم خاکسار حدیث ابن عباس کو پیش کرتا ہے: ”عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ من جاء اجله وهو يطلب العلم لقى الله لم يكن بينه وبين النبيين الا درجة النبوة رواه الطبراني في الاوسط والدارمى عن الحسن مرسلا ولفظه من جاء الموت وهو يطلب العلم ليحيى به الاسلام فبينه وبين النبيين درجة واحدة فى الجنة“ یعنی حضرت ابن عباسؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو علم کی جستجو کرتا ہوا وفات پائے تو اس کے اور نبیوں کے درمیان صرف درجہ نبوت کا فرق باقی رہے گا یعنی باقی خصائل میں اور نبیوں کے ہم رنگ ہوگا لیکن نبوت اسے حاصل نہ ہوگی۔ طبرانی نے اوسط میں اس روایت کو بیان کیا ہے اور دارمی نے حسن سے مرسلاً یوں نقل کیا ہے کہ جو علم کا جویاں ہوا اور محض اسلام کو زندہ کرنے کی خاطر تعلیم دین کو حاصل کرے۔ اس کے اور نبیوں کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق رہ جائے گا۔ یعنی درجہ نبوت کا استحقاق کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ نبوت کسبی نہیں اور دارمی نے عتبہ بن عبدالسلمی سے روایت کیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”القتلی ثلاثة مومن جاهد بنفسه وماله فى سبيل الله فاذا لقى العدوا قاتل حتى يقتل قال النبي ﷺ فذالك الشهيد الممتحن فى خيمة الله تحت عرشه لا يفضله النبيون الا بدرجة النبوة“ ٩٨
یعنی آنحضرت نے فرمایا کہ شہداء تین قسم ہیں ایک ایسا مومن جہاد کیا۔ سینہ سپر ہوکر راہ خدا میں مارا گیا یہ شہید خالص ہے نبیوں کو اس پر درجہ نبوت کی فضیلت ہوگی۔ اسلام کے لئے پر نہ پہنچاسکی پھر کس عمل اور کوشش پر سہارا کیا جاسکتا ہے کہ ا حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے آں حضرت سے رو استدرج النبوة بين جنبيه غير انه لا يوحى ا نبوت گشت لگاتی ہے مگر اندر داخل نہیں اور اسے وحی کی شر نہیں ہوتی۔
حضرت یحییٰ نے چھوٹی عمر میں توراۃ کو حفظ کر انہیں عطا کی گئی۔ جو صغیر السن بچہ طفولیت میں قرآن از اسے مرحمت کرے تو وہ حضرت یحییٰ کا مثیل ہے جن کی ن الحكم صبيا“ رسول خدا نے فرمایا: ”من قرا القر الحكم صبيا رواه البيهقى عن ابن عباس علیه“ یعنی جو قرآن قبل بلوغ پڑھ لے وہ چھوٹی عمر میں حاتم) کون کہہ سکتا ہے کہ طفل حافظ قرآن مماثلت یحییٰ علی باب نبوت مسدود ہے۔ مماثلت اور قرب اور چیز ہے او دروازہ مفتوح ہے لیکن باب نبوت مسدود ہے۔ دیکھو م بھی انبیاء سے مناسبت حاصل ہے: ”اخرج الترمذی عن ابی سعيد وابن ماجة عن ابن عمر قالا قال رسول ا مع النبيين والصديقين والشهداء يوم القيا سعید سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا سچا انبیاء اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہم رنگ ہو بھی نبیوں سے یکرنگی حاصل ہے: ”اخرج الديلم رسول الله ﷺ حملة القرآن فى ظل ا واصفيائه“ یعنی دیلمی نے حضرت علیؓ کی معرفت م اٹھانے والا سایہ عرش خدا میں ہوگا اور نبیوں اور اصفیاء ک ٩٩
یعنی آنحضرت نے فرمایا کہ شہداء تین قسم ہیں ایک ایسا مومن جس نے تن ومن سے خدا کی راہ میں جہاد کیا۔ سینہ سپر ہو کر راہ خدا میں مارا گیا یہ شہید خالص ہے جو زیر سایہ عرش خیمہ الٰہی میں ہوگا۔ نبیوں کو اس پر درجہ نبوت کی فضیلت ہوگی۔ اسلام کے لئے عرق ریزی اور جانفشانی بھی درجہ نبوت پر نہ پہنچا سکی پھر کس عمل اور کوشش پر سہارا کیا جاسکتا ہے کہ اس سے نبوت حاصل ہو جائے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے آں حضرت سے روایت کیا ہے: "من قرء القرآن فقد استدرج النبوة بين جنبيه غيرانه لا يوحى اليه" یعنی قاری قرآن کے ہر دو پہلو پر نبوت گشت لگاتی ہے مگر اندر داخل نہیں اور اسے وحی کی شرفیابی اور الہام معصوم کی سرفرازی حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت یحییٰ نے چھوٹی عمر میں توراۃ کو حفظ کر لیا تھا اور دین کی سمجھ اور فقاہت بچپن میں انہیں عطا کی گئی۔ جو صغیر السن بچہ طفولیت میں قرآن ازبر کر لے اور خدا تعالیٰ دین کی سمجھ کا مادہ اسے مرحمت کرے تو وہ حضرت یحییٰ کا مثیل ہے جن کی نسبت قرآن نے ارشاد کیا ہے: "واتيناه الحكم صبيا" رسول خدا نے فرمایا: "من قرء القرآن قبل ان يحتلم فهو ممن اوتى الحكم صبيا رواه البيهقي عن ابن عباس واخرجه ابن ابي حاتم موقوفا عليه" یعنی جو قرآن قبل بلوغ پڑھ لے وہ چھوٹی عمر میں یحییٰ کی طرح حکم دیا گیا۔ (بیہقی ابن ابی حاتم) کون کہہ سکتا ہے کہ طفل حافظ قرآن مماثلت یحییٰ علیہ السلام سے نبی ہو گیا؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ باب نبوت مسدود ہے۔ مماثلت اور قرب اور چیز ہے اور نبوت کا مفہوم جدا ہے۔ مماثلت انبیاء کا دروازہ مفتوح ہے لیکن باب نبوت مسدود ہے۔ دیکھو حدیث میں وارد ہے کہ تاجر صدوق امین کو بھی انبیاء سے مناسبت حاصل ہے: "اخرج الترمذى والدارمى والدار قطنى عن ابى سعيد وابن ماجة ابن عمر قالا قال رسول الله ﷺ التاجر الامين الصدوق مع النبيين والصديقين والشهداء يوم القيامة" یعنی ترمذی دارمی اور دارقطنی نے ابو سعید سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تاجر امانتدار سچا انبیاء اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہم رنگ ہونے سے ان کے ہمراہ ہوگا۔ حامل قرآن کو بھی نبیوں سے ہمرنگی حاصل ہے: "اخرج الديلمى فى مسندة عن علىّ قال قال رسول الله ﷺ حمله القرآن فى ظل الله يوم لا ظل الا ظله مع النبيين واصفيائه" یعنی دیلمی نے حضرت علیؓ کی معرفت نبی ﷺ سے نقل کیا ہے کہ قرآن کا سینے میں اٹھانے والا سایہ عرش خدا میں ہوگا اور نبیوں اور اصفیاء کی رفاقت اسے نصیب ہوگی۔
٩٩
عشق اور محبت رسول بھی انسان پر وہی رنگ چڑھا دیتے ہیں جو نبیوں پر ہے لیکن نبوت کی انتہائی منزل جو فیض وہبی ہے۔ حاصل نہیں ہوتی ۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے: ” ان رجلا قال يا رسول الله متى الساعة قال ويلك ما عددت لها قال ما اعدت لها الا انى احب الله ورسوله قال انت مع من احببت قال انس فما رأيت المسلمين فرحوا بشيء بعد الاسلام فرحهم بها متفق عليه“ ایک بندہ خدا حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر متمنی ہوا کہ قیامت کب آنے والی ہے؟ آپ نے کہا کہ تو نے قیامت کے لئے کیا سرمایہ تیار کیا ہے اس نے کہا صرف یہی کہ میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت جاگزیں ہے۔ حضور نے کہا کہ تو اپنے محبوب کے ساتھ بروز قیامت ہوگا۔ مسلمانوں کو یہ بشارت سن کر اتنی خوشی حاصل ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ حضرت ثوبان رسول خدا کے عاشق صادق تھے اور اگر کبھی ملاقات حضرت نبوت میں توقف واقع ہو جائے تو اس صدمہ کو برداشت نہ کر سکتے تھے۔
ایک روز کا ذکر ہے کہ وہ حضرت ﷺ کے مکان شریف پر زیارت سے مشرف ہونے کے لئے گئے۔ لیکن آپ پس و پیش تھے۔ زیارت نہ ہوسکی۔ غم سے رنگ اڑ گیا۔ دوبارہ جو آئے تو چہرے کے عنوان بدلے ہوئے تھے اور دریا حیرت میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ آنجناب ﷺ نے کیفیت کا استفسار کیا۔ ثوبانؓ نے بتایا نہ میں بیمار ہوں نہ کوئی درد دامن گیر ہے۔ صرف آپ ﷺ کی ایک لمحہ مفارقت بھی میری طبیعت برداشت نہیں کر سکتی۔ آپ ﷺ کے مکان پر تشریف فرما نہ ہونے کی وجہ سے میرا زیارت سے محروم جانا میرے دل کے قلق واضطراب کا موجب ہوا اور میری یہ حالت ہوگئی جو آپ دیکھ رہے ہیں اور اس خیال نے کہ آپ بروز قیامت عالی درجہ ہوں گے اور بندہ خاکسار جنت کے ادنیٰ منزلوں میں مقیم ہوگا اور میری ہمیشہ کے لئے آپ سے مفارقت ہو جائے گی مجھے بے بس اور غمزدہ کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کی ذرہ بھر مفارقت نے مجھ پر ایسا اثر کیا ہے۔ جس کا میں متحمل نہیں ہو سکتا تو عاقبت میں کیونکر گزرے گی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ”من يطع الله ورسوله فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقا (نساء:٦٩)“ یعنی جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور ان کے احکام بجالائے تو وہ انبیاء اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین کے ہمراہ ہوگا یعنی اتباع سیرت نبوی سے انسان ان کے مشابہ اور ہم رنگ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اُسے انبیاء کی رفاقت مرحمت ہوگی۔
حضرت ربیعہ بن کعب نے آنحضرت کو وضو کے لئے پانی دیا۔ آپ نے عالم خوشی میں
١٠٠
فرمایا جو چاہو مانگو ربیعہ نے کہا: ”أسألك مرافقة رفاقت میں رکھا جائے یہ میری دلی خواہش ہے۔) تمہارے لئے دعا کروں گا لیکن تم پر لازم ہے : ”أعن نوافل زیادہ پڑھا کرو (مشکوۃ) معلوم ہوا کہ کث مناسبت انبیاء کا موجب ہے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ لفظ ہی کبھی زبان پر لائے ہوں۔ تاریخ ہمارے سام کتب روایت کا خاکہ مخفی نہیں۔ آخر اس دعواے نبوت سے برکنار رہے اس کی یہی وجہ ہے ایسے ہیں جو انبیاء کی روحانیت کا رنگ انسان پر چ نمایاں ہو جاتا ہے: ”عن عمرو بن مرة الجه يا رسول الله شهدت ان لا اله الا الله وأديت زكاة مالي وصمت رمضان فقال النبيين والصديقين والشهداء يوم القي رواه احمد والطبرانی باسنادين ام خزيمة في صحيحهما“ عمرو بن مرہ جہنی کا ب حاضر ہو کر عرض پرداز ہوا کہ میں توحید ورسالت ہوں۔ صیام رمضان کا پابند ہوں۔ مجھے کیا ملے گا؟ سے رحلت کر جائے وہ نبیوں اور صدیقوں اور شہید کو اٹھا کر یہ قید بیان کی کہ جب تک اپنے والدین روایت کو دوسندوں سے روایت کیا ہے۔ جن میں نے اپنی اپنی صحیح میں بھی اس کو لکھا ہے۔
پس مماثلت کا دروازہ تو کھلا ہے کوئی مذکور مماثلت پیدا کرلے۔ چنانچہ صحابہ نے حضرت اخلاق نے ان پر اپنا جلوہ ڈالا حتیٰ کہ وہ اسی رنگ م طرح انہیں روپوش کرلیا۔ تو خدا نے اس اتصال نو الناس بابراهيم للذين اتبعوه وهذا الن
ا
فرمایا جو چاہو مانگو ربیعہ نے کہا:”اسالك مرافقتك فى الجنة“ (مجھے بروز قیامت آپ کی رفاقت میں رکھا جائے یہ میری دلی خواہش ہے۔) آپ نے اس سے وعدہ کر لیا کہ میں خدا سے تمہارے لئے دعا کروں گا لیکن تم پر لازم ہے:”اعنى على نفسك بكثرة السجود“ کہ نوافل زیادہ پڑھا کرو (مشکوۃ) معلوم ہوا کہ کثرت نوافل اور آنحضرت ﷺ کی اتباع بھی مناسبت انبیاء کا موجب ہے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ اصحاب جان نثار نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو یا ایسا لفظ ہی کبھی زبان پر لائے ہوں۔ تاریخ ہمارے سامنے ہے حدیث ہمارے روبرو۔
کتب روائیت کا خاکہ مخفی نہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ باوجود مماثلت انبیاء کے دعوائے نبوت سے برکنار رہے اس کی یہی وجہ ہے کہ مماثلت سے نبوت نہیں ملتی۔ دیگر اعمال بھی ایسے ہیں جو انبیاء کی روحانیت کا رنگ انسان پر چڑھا دیتے ہیں اور ہم رنگی کا جلوہ فریقین میں نمایاں ہو جاتا ہے:”عن عمرو بن مرة الجهنى قال جاء رجل الى النبى ﷺ فقال يا رسول الله شهدت ان لا اله الا الله وانك رسول الله وصليت الخمس واديت زكاة مالى وصمت رمضان فقال النبى ﷺ من مات على هذا كان مع النبيين والصديقين والشهداء يوم القيمة ونصب اصبعيه مالم يعق والديه رواه احمد والطبرانى باسنادين احدهما صحيح ورواه ابن حبان وابن خزيمة فى صحيحهما “عمرو بن مرہ جہنی کا بیان ہے کہ ایک مرد خدا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوا کہ میں توحید ورسالت کا قائل پنجگانہ نماز گزار ہوں۔ زکوٰۃ ادا کرتا ہوں۔ صیام رمضان کا پابند ہوں۔ مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے ارشاد کیا کہ جو اس بہتر حالت پر جان سے رحلت کر جائے وہ نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے ہمراہ بروز قیامت ہوگا۔ دونوں انگلیوں کو اٹھا کر یہ قید بیان کی کہ جب تک اپنے والدین کیخلاف حکمی نہ کرے۔ احمد اور طبرانی نے اس روایت کو دوسندوں سے روایت کیا ہے۔ جن میں سے ایک سند صحیح ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں بھی اس کو لکھا ہے۔
پس مماثلت کا دروازہ تو کھلا ہے کوئی انبیاء اور صلحاء اور شہداء اور صدیقوں سے بطرز مذکور مماثلت پیدا کرلے۔ چنانچہ صحابہ نے حضرت ابراہیم کی روحانیت کو اخذ کیا اور اسی سیرت اور اخلاق نے ان پر اپنا جلوہ ڈالا حتیٰ کہ وہ اسی رنگ میں رنگے گئے اور چادر روحانیت ابراہیمی نے ہر طرح انہیں روپوش کر لیا۔ تو خدا نے اس اتصال روحانی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا:”ان اولى الناس بابراهيم للذين اتبعوه وهذا النبى والذين آمنوا “یعنی حضرت ابراہیم کے
١٠١
ساتھ مریدان ابراہیم اور نبی ﷺ اور اہل ایمان کو اتصال روحانی حاصل ہے۔
جب اہل مکہ نے غریب مسلمانوں پر جور و ستم کا پہاڑ توڑ دیا اور انہیں طرح طرح کی مصیبتوں کا نشانہ بنایا اور موسم گرما میں برہنہ تن گرم بالو میں لٹائے گئے۔ گرسنہ اور تشنہ اس ابتلاء پر راضی تھے۔ جوں جوں ابتلاء کی شدت بڑھتی جاتی تھی ویسا ہی ان کا ایمان مضبوط ہوتا تھا۔ سمیہ عمار کی والدہ ابو جہل کے پنجہ ظلم کا شکار ہوئی اور اسے طرح طرح کی اذیتیں دے کر ایک قابل شرم طریق سے قتل کر دیا گیا اور یاسر بھی کفار مکہ کے جور و ستم سے اپنی جان چھوڑ گیا۔ مگر قوت ایمانی کی یہ حالت ہے کہ عقیدہ راسخہ میں ذرا تزلزل واقع نہیں ہوا انہوں نے صبر و تحمل سے جملہ مصائب و شدائد کو برداشت کیا تو ایسی حالت میں ان کو مریم بتول اور آسیہ کا مثیل قرار دیا گیا اور دونوں پاک باز بیبیوں کی مثال سنائی گئی جنہوں نے قوم کے ہاتھوں بہت تکالیف برداشت کیں اور کہا: "وضرب الله مثلا للذين امنوا امرأة فرعون اذ قالت رب ابن لي عندك بيتا فى الجنة ونجني من فرعون وعمله ونجني من القوم الظالمين ومريم ابنة عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمات ربها وكتبه وكانت من القانتين (تحريم: ١١، ١٢)" آسیہ جس طریق سے جنت میں پہنچی اسی طرح غریب مسلمان بلا فرق مرد و زن مارے گئے ۔ جس طرح حضرت مریم کو طرح طرح کے الزامات سے متہم کر کے تکلیف دی گئی اس طرح غرباء اسلام پر زبان طعن و لعن کھولی گئی اور جب قریباً بیاسی نفوس اپنے وطن مالوف کو الوداع کہہ کر جدہ کی بندرگاہ سے سوار ہو کر ابی سینیا میں پہنچے اور ان کی کوئی غرض نہ تھی۔ سوائے اس کے کہ توحید کی حفاظت کریں اور اپنے ایمان کو بچائیں تو خدا نے ان کی تمثیل اصحاب نوح سے بیان کی جنہوں نے حضرت نوح پر ایمان لا کر اپنے تئیں عذاب الٰہی سے محفوظ رکھا اور بیڑہ نوح علیہ السلام میں قریباً بیاسی نفوس سوار ہوئے رکوب سفینہ اور تعداد کی نسبت باہم ملتی تھی اس لئے خدا نے مظلومین اہل اسلام کی درد ناک داستان اور ان کے اطمینان کے لئے چند کلمات بیان کرنے کے بعد ان کو اصحاب سفینہ اور حضرت نوح کا قصہ سنایا اور فرمایا: "فانجيناه واصحاب السفينة وجعلنها اية للعالمين (عنکبوت: ١٥)" اور ہجرت میں انہیں حضرت ابراہیم کا مثیل ٹھہرایا اور کہا: "فامن له لوط وقال اني مهاجر الى ربى سيهدين (عنکبوت: ٢٦)" اور جو چاہے بدی کا نمونہ اپنی ذات کو بنائے اور یزید اور قارون اور فرعون اور ہامان اور ابی بن خلف اور نمرود کے سانچے میں ڈھل جائے۔ حدیث میں ہے کہ جس روز ابو جہل مرا تو حضرت نے فرمایا: "مات فرعون هذه الامت اور تارك الصلوة " کے ١٠٢
٢٨١ حق میں یہ کہا: "من لم يحافظ عليها لم تكن له نور ولا برهان ولا نجاة يوم القيامة وكان يوم القيامة مع قارون وفـ شیخ الاسلام حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے کتاب الصلوٰۃ میں لکھا ہے کہ جو نماز کو ترک کرے تو وہ فرعون کا نمونہ ہے اور اگر مال کی محبت میں زکوٰۃ کو جواب دے بیٹھا تو قارون کے ہم رنگ ہو گیا اور اگـ حکومت کے نشہ نے اسے عادی بنایا تو وہ مثیل ہامان ہوا اور اگر تجارت کی مصروفیت کی وجہ سے فریضہ الٰہی میں رخنہ انداز ہوا تو ابی بن خلف کا شبیـ ہوا۔ مگر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تشبیہات حقیقـ محض مناسبات کا ذکر ہے اور مشبہ بہ کے ساتھ ہر وصف مـ کو ملحوظ رکھ کر نبوت کا خیال دل میں بٹھانا ایک زندیقی خیال ہـ
رکھا جائے بلکہ بعض روایات میں ثابت ہے کہ بعض انبیاء رشک کھائیں گے کہ یہ امتیازات گو بہت چھوٹے ہـ مگر ان امتیازات علیا و خصائص فاضلہ کے ساتھ یہ بھی جمع ہـ ہوتے جو ہمیں حاصل ہیں اور مفضول کے بعض کمالات جزئیـ کہ کاش ہمیں کمالات جزئیہ مفضولین بھی حاصل ہو جاتے تـ کوئی کسر نہیں ہوتی اور ان کی نفس ناطقہ کا شوق کس حد پر منتہی ہوتا۔ قال رسول الله ﷺ ان من عباد الله لاناسا ماهم الانبياء والشهداء يوم القيامة بمالهم من الله قالوا يارسول الله من هم قال هم قوم تحابوا بروح الله على غير ارحام بـ ينهم ولا اموال يتعاطونها فوالله ان وجوههم لنور وانهم لعلى نور لا يخافـ اذا خاف الناس ولا يحزنون اذا حزن الناس وقرء هذه الاية الا ان اوليا ء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون رواه ابو داؤد والبغوى فى شرح السـ نة كذا فى المشكوة وفى رواية من زوائد البيهقى فى شعب الايمان " حضر ت نے فرمایا کہ یقین جانو بندگان خدا ایسے بھی ہیں جو نہ تو نبی ہیں اور نہ شہید مـ گر انبیاء و شہداء بھی رشک ظاہر کریں گے کہ کاش یہ منزلت جو انہیں حاصل ہـ ١٠٣
حق میں یہ کہا: ”من لم یحافظ علیہا لم تکن لہ نورا ولا برہانا ولا نجاة یوم القیامة وکان یوم القیامة مع قارون وفرعون وہامان وابی بن خلف“ شیخ الاسلام حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے کتاب الصلوٰۃ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی سرکش سلطنت کے خمار میں نماز کو ترک کرے تو وہ فرعون کا نمونہ ہے اور اگر مال و دولت نے اسے سرکشی میں ڈالا اور وہ نماز کو جواب دے بیٹھا تو قارون کے ہم رنگ ہو گیا اور اگر وزارت یا عہدہ داری نے اسے ترک نماز کا عادی بنایا تو وہ مثیل ہامان ہوا اور اگر تجارت کی مصروفیت نے اسے نماز سے غافل کر دیا اور اس وجہ سے فریضہ الہی میں رخنہ انداز ہوا تو ابی بن خلف کا شبیہ بن گیا۔ مگر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تشبیہات حقیقت پر محمول ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ مجازی مناسبات کا ذکر ہے اور مشبہ بہ کے ساتھ ہر وصف میں شراکت مقصود نہیں۔ ایسی مناسبتوں کو ملحوظ رکھ کر نبوت کا خیال دل میں بٹھانا ایک زندیقی خیال ہے۔
بلکہ بعض روایات میں ثابت ہے کہ بعض امتیوں کے امتیازات اور خصائص دیکھ کر نبی رشک کھائیں گے کہ یہ امتیازات گو بہت چھوٹے درجے کے ہیں لیکن کیا اچھا ہوتا کہ اگر ہماری امتیازات علیا و خصائص فاضلہ کے ساتھ یہ بھی جمع کئے جاتے۔ اور جو کمالات ان گنت تعداد میں ہمیں حاصل ہیں اور مفضول کے بعض کمالات جزئیہ سے بدرجہا زیادہ اور افضل ہیں ان کے ساتھ ہمیں کمالات جزئیہ مفضولین بھی حاصل ہو جاتے کیونکہ نیک گروہ کی طبیعت کبھی کمالات سے پر نہیں ہوتی اور ان کی نفس ناطقہ کا شوق کسی حد پر منتہی نہیں ہوتا۔ ”عن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ ان من عباد اللہ لاناسا ما ہم بانبیاء ولا شہداء یغبطہم الانبیاء والشہداء یوم القیامة بمالہم من اللہ قالوا یا رسول اللہ تخبرنا من ہم قال ہم قوم تحابوا بروح اللہ علی غیر ارحام بینہم ولا اموال یتعاطونہا فواللہ ان وجوہہم لنور وانہم لعلی نور لا یخافون اذا خاف الناس ولا یحزنون اذا حزن الناس وقرء ہذہ الایة الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون رواہ ابو داؤد والبغوی فی شرح السنة عن ابی مالک بلفظ المصابیح مع زوائد البیہقی فی شعب الایمان “ حضرت عمرؓ نے رسول خدا ﷺ سے نقل کیا ہے کہ کچھ بندگان خدا ایسے بھی ہیں جو نہ تو نبی ہیں اور نہ شہید۔ مگر ان کا قرب و منزلت دیکھ کر نبی اور شہید شوق ظاہر کریں گے کہ کاش یہ منزلت جو انہیں حاصل ہے ہمیں بھی حاصل ہوتی۔ صحابہ نے دریافت کیا
١٠٣
وہ کون لوگ ہیں آپ نے ارشاد کیا کہ وہ ایسی قوم ہے جو برحمت الٰہی بغیر تعلقات قرابت اور بغیر لین دین نقد اموال کے آپس میں للہ محبت رکھتے ہیں۔ بخدا ان کے چہرے نور سے لبریز ہوں گے اور وہ روشن سڑک پر دنیا میں ہیں یا انکی سواریاں بھی سراسر نور ہوں گی جب لوگ تھراتے ہوئے وہ بے خوف ہوں گے جب لوگ مغموم ہوں گے وہ بے غم ہوں گے اور شہادت کے لئے یہ آیت سنائی کہ اولیاء اللہ پر بروز قیامت نہ بیم و ترس ہوگا اور نہ غم خوردہ ہوں گے۔ ابوداؤد اور بغوی اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے مگر رسول خدا نے باوجود کمالات جزئیہ حاصل ہونے کے انہیں نبی نہیں کہا بلکہ صاف فتویٰ دیا: ”ما هم بانبياء ولا شهداء“
اور ترمذی اور ابن حبان اور احمد نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت کیا کہ میں نے حضور علیہ السلام سے سنا: ”المتحابون فى جلالى لهم منابر من نور يغبطهم النبييون والشهداء“ کہ آپس میں محبت رکھنے والے جو میرے جلال میں شریک ہیں۔ ان کے لئے بروز قیامت نور کی کرسیاں بچھائی جائیں گی ان کی یہ ممتاز حالت دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی رشک کھائیں گے۔
”واخرج احمد والطبراني عن ابي مالك الاشعرى قال قال رسول الله ﷺ ان لله عباد اليسوا بانبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء على منازلهم وقربهم من الله قيل من هم يارسول الله قال ناس من بلدان شتى لم تصل بينهم ارحام متقاربة تحابوا وتصافوا يضع الله لهم يوم القيامة منابر من نور قدام الرحمن فيجلسهم عليها يفزع الناس ولا يفزعون“ احمد اور طبرانی نے ابو مالک اشعری سے روایت کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جو نہ پیغمبر ہیں نہ شہید لیکن نبی ان کے مراتب اور قرب الٰہی کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی یہ درجہ دیا جاتا تو کیا خوب تھا۔ استفسار کیا گیا کہ پیغمبر خدا! وہ کون لوگ ہیں جو ایسے قابل رشک حال پر فائز ہوں گے۔ آپ نے ارشاد کیا کہ مختلف شہروں کے باشندے جن کے درمیان کوئی قرابت نہیں لیکن ان کی خالص محبت آپس میں ہوگی۔ ان کے لئے خدا اپنے سامنے نوری کرسیاں بچھا کر انہیں ان پر بٹھائے گا۔ لوگ بے قرار ہوں گے اور ان پر بے قراری کا اثر نہ ہوگا۔
”واخرج الطبراني بسند جيد عن عمرو بن عتبة سمعت رسول الله ﷺ يقول عن يمين الرحمان وكلتا يديه يمين رجال ليسوا بانبياء ولا شهداء يغشى بياض وجوههم نظر الناظرين يغبطهم النبيون والشهداء
١٠٤
بمقعدهم وقربهم من الله قيل يا رسول الله القبائل يجتمعون على ذكر الله فينتقون طائبہ“ طبرانی نے باسناد جید عمرو بن عتبہ کا بیان دائیں پہلو (اور رحمان کے دونوں ہاتھ دائیں اور مبارک ہیں اور نہ شہید۔ ان کے سفید نورانی چہروں کو ناظرین اور منزلت دیکھ کر ان پر رشک کھائیں گے پیغمبر خدا سے قرب حاصل ہوگا۔ آپ نے کہا کہ جدا جدا قبائل کے مخ فراہم ہوتے ہیں اس عزت پر ممتاز ہوگا۔ جن کی یہ عاد کا نام لیتے تھے جیسے کھانے والا عمدہ کھجوریں انتخاب کر
”واخرج الطوسي في عيون الا قال ليوتين يوم القيامة برجال ليسو والشهداء لمنازلهم من الله يكونون على م الله قال هم الذين يحبون الله الى الناس فى الارض نصحا قيل يا رسول الله يحببون الناس الى الله قال يامرونهم ب اطاعوهم احبهم الله “ طوسی نے عیون الاخبار یوں نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز ایسے آدمی میدان شہید۔ انبیاء اور شہید بھی ان کے مراتب اعلیٰ کو دیکھ مدارج ملتے۔ نور کی کرسیوں پر جلوہ فروز ہوں گے ب فرمایا کہ جو خدا کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں اور اور روئے زمین پر چلتے پھرتے خلق اللہ کی خیر خواہی م الله الى الناس“ کا مطلب تو ہم سمجھتے ہیں: یح کیا ہے؟ کہا کہ وہ لوگوں کو نیک راہ بتائیں گے او ان کی اطاعت کریں گے۔ خدا ان سے محبت کرنے ل اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ جب ب کمالات جزئیہ پائے جاتے ہیں جو فاضلین کی ذات
١٠٥
بمقعدهم وقربهم من الله قيل يا رسول اللهﷺ من هم قال هم جماع من نزاع القبائل يجتمعون على ذكر الله فينتقون اطائب الكلام كما ينتقى اكل التمر طائبه ‘‘ طبرانی نے باسناد جید عمرو بن عبسہ کا بیان رسول خداﷺ سے نقل کیا ہے کہ رحمان کے دائیں پہلو (اور رحمان کے دونوں ہاتھ دائیں اور مبارک ہیں) ایسے باعزت نفوس ہوں گے جو نبی ہیں اور نہ شہید۔ ان کے سفید نورانی چہروں کو ناظرین دیکھتے ہوں گے انبیاء اور شہداء ان کی مجلس اور منزلت دیکھ کر ان پر رشک کھائیں گے پیغمبر خدا سے دریافت کیا گیا۔ وہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ قرب حاصل ہوگا۔ آپؐ نے کہا کہ جدا جدا قبائل کے مختلف نفوس کا مجموعہ جو محض ذکر الٰہی کے لئے فراہم ہوتے ہیں اس عزت پر ممتاز ہوگا۔ جن کی یہ عادت تھی کہ اعلیٰ سے اعلیٰ ذکر انتخاب کرکے خدا کا نام لیتے تھے جیسے کھانے والا عمدہ کھجوریں انتخاب کرکے کھاتا ہے۔
’’واخرج الطوسی فی عیون الاخبار عن انس عن رسول اللهﷺ قال ليوتين يوم القيامة برجال ليسوا بانبياء ولا شهداء يغبطهم الانبياء والشهداء لمنازلهم من الله يكونون على منابر من نور قيل ومن هم يارسول الله قال هم الذين يحبون الله الى الناس ويحببون الناس الى الله ويمشون فى الارض نصحا قيل يا رسول الله هذا يحببون الله الى الناس فكيف يحببون الناس الى الله قال يامرونهم بالمعروف وينهونهم عن المنكر فاذا اطاعوهم احبهم الله ‘‘ طوسی نے عیون الاخبار میں حضرت انس کا بیان رسول خداﷺ سے یوں نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز ایسے آدمی میدان حشر میں لائے جائیں گے جو نہ نبی تھے اور نہ شہید۔ انبیاء اور شہید بھی ان کے مراتب اعلیٰ کو دیکھ کر شوق ظاہر کریں گے کہ کاش ہمیں بھی ایسے مدارج ملتے۔ نوری کرسیوں پر جلوہ فروز ہوں گے۔ دریافت کیا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ جو خدا کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں اور لوگوں کی محبت کا بیج خدا کے دل میں بوتے ہیں اور روئے زمین پر چلتے پھرتے خلق اللہ کی خیر خواہی میں مصروف ہیں عرض کیا گیا ’’يحببون الله الى الناس‘‘ کا مطلب تو ہم سمجھتے ہیں یحببون الناس الى الله کا مطلب سمجھائیں کیا ہے؟ کہا کہ وہ لوگوں کو نیک راہ بتائیں گے اور برے کاموں سے منع کریں گے۔ جب لوگ ان کی اطاعت کریں گے۔ خدا ان سے محبت کرے گا۔
اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ جب بڑے بڑے عالی پایہ نفوس (جن کی ذات میں کمالات جزئیہ پائے جاتے ہیں جو فاضلین کی ذات میں نہیں) مرتبہ نبوت سے معرّیٰ رہے اور
١٠٥
جملہ لَيْسُوْا بانبياء ولا شهداء نے ان کی ذات سے نبوت کی نفی کر دی تو محض اتحاد بعض اوصاف یا مماثلت روحانی سے کب نبوت محقق ہو سکتی ہے۔
جملہ یغبطهم النّبيیون والانبياء کا مطلب
شیخ نے لمعات میں لکھا ہے: ”قالوا فی توجیهه انه قد یوجد فی المفضول صفة ولا توجد فی الفاضل مع اتصاف الفاضل بصفات وکمالات یمحوا فی جنبه اضعاف مافی المفضول فیتمنی الفاضل ما فی المفضول ایضاً لیضمه الیٰ ماله لشدة حرصه علی الاتصاف بالکمالات اوان المراد بالغبطة الاستحسان والثناء علیهم لا معناه الحقیقی وهو تمنی ما للغیراوان الکلام علی الفرض والتقدیر ای لو کان للفریقین غبطة علی احد فکان علی هؤلاء وان هذا فی المحشر قبل ان یدخلوا الجنة وقد وقع فی صفة هؤلاء انهم لا یخافون ولا یحزنون واما غیرهم فالنبیون مهتمون باممهم والامم مشتغلون بانفسهم“
یعنی حدیث کی توجیہ میں جو علماء نے تقریر کی ہے اس سے مضمون روایت کی پیچیدگیاں حل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ گاہے مفضول میں کوئی ایسی صفت موجود ہوتی ہے جو فاضل میں مفقود ہوتی ہے اور یہ نہیں کہ فاضل صفات کمال میں کسی طرح کم ہے بلکہ اس کی ذات میں کئی حصہ بڑھ کر اوصاف کمال کا ظہور ہوتا ہے جن کے سامنے مفضول کے چند در چند اوصاف ہیچ ہو جاتے ہیں لیکن مفضول کی ادنیٰ صفت کا بھی فاضل خواہش مند ہوگا۔ کاش دیگر کمالات عالیہ کے ساتھ میری ذات میں یہ صفت ادنیٰ بھی جمع ہو جائے کیونکہ ان کے شوق کا دائرہ محدود نہیں اور ان کی طبیعت کمالات سے پر نہیں ہوتی۔ ان کے نفوس کا مطمح بہت بلند ہے اور ان کی نظر آگے آگے قدم بڑھاتی ہے اور وہ کسی حد کو انتہا نہیں سمجھتے جہاں اور جس مقام پر کھڑے ہوتے ہیں ان کی نگاہ دوسری خصوصیت کی طرف بڑھتی ہے۔ ان کے نفوس ناطقہ ایسے اعلیٰ واقع ہوتے ہیں کہ جن کا تقاضا ختم نہیں ہوتا اور پیاس نہیں بجھتی یا غبطہ سے مراد یہ ہے کہ ان کی قرب و منزلت کو بنظر استحسان دیکھیں گے اور ان کی ثناء بولیں گے حقیقی معنی مراد نہیں کہ وہ ان کی کمالات کی خواہش کریں گے۔ یا یہ کلام تقدیر و فرض پر مبنی ہے کہ کسی فریق کے لئے عاقبت میں غبطہ ممکن ہو تو انبیاء کے گروہ مذکورہ بالا جماعتوں پر غبطہ کریں اور یہ میدان حشر میں قبل دخول جنت فرض کیا جاسکتا ہے۔ اور ان کی صفت میں یہ آیا ہے کہ وہ بے خوف اور بے غم ہوں گے۔ تو اس کی یہ وجہ ہے کہ اس گروہ کے ماسواء نبی اپنی
١٠٦
اپنی امتوں کے فکر میں ہوں گے اور دوسرے لوگ اپنے اپنے حال
علامہ محمد طاہر فتنی نے مجمع البحار میں تحریر فرمایا ہے: ”الـ منابر يغبطهم النبييون كل ما يتحلى به احد من علـ لا يشاركه فيها غيره وان كان له من نوع اخر ما هـ يكون له مثله مضموما الى ماله فالانبياء قد استغـ دعوة الخلق وارشادهم واشتغلوا به عن العكوف والقيام بحقوقها فاذا راوهم فى منازلهم يوم القـ خصالهم الى خصالهم ويمكن حمل الغبطة على الا حديث احسنتنم يغبطهم ان صلّوا لوقتها ويقبطـ على التقدير اى لو كان للفريقين غبطة لكانت علـ
یعنی ہر ایک آدمی جس عمل و علم سے آراستہ پیراستہ ایک ایسی مخصوص منزلت مقدر ہے جس میں دوسرے کو مشارکت فضائل کے اس کی ذات میں اعلیٰ اور ارفع خصائص پائے جا اوصاف و خصائص کا خواہشمند ہوتا ہے کہ میری ذاتی کمالات کـ حاصل ہیں جمع ہو جائیں۔ دیکھا جاتا ہے کہ انبیاء اعلیٰ فرائض دعوت دیتے ہیں ان کے رہنمائی کرتے ہیں ان اعلیٰ فرائض کی کرنے سے انہیں مانع ہوتا ہے۔ جب ادنیٰ جزئیات کے مالکـ تمنا کریں گے کہ کاش یہ مناقب بھی ہمارے کمالات عالیہ خصائل ہمارے خصائل پسندیدہ کے ساتھ جمع ہوتے۔ (باقی مـ
١.......ضمیمہ
مرزائیہ جماعت استمرار نبوت پر آیت اعراف کو بطـ اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم اياتي فمن ولاهم يحزنون “یعنی زمانہ قرآن میں تمہاری جنس میں سے میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں گے۔ جو لوگ خدا سے ڈریـ اپنے حال کی اصلاح کریں گے۔ ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور
١٠٧
اپنی امتوں کے فکر میں ہوں گے اور دوسرے لوگ اپنے اپنے حال میں مبتلا ہوں گے۔
علامہ محمد طاہر فتنی نے مجمع البحار میں تحریر فرمایا ہے: ”المتحابون فی جلالی لہم منابر یغبطہم النبیون کل ما یتحلی بہ احد من علم وعمل فلہ عند اللہ منزلة لا یشارکہ فیہا غیرہ وان کان لہ من نوع أخر ما ہو ارفع قد را فیغبطہ بان یکون لہ مثلہ مضموما الی مالہ فالانبیاء قد استغرقوا فیما ہوا علی منہ من دعوة الخلق وارشادہم واشتغلوا بہ عن العکوف علی مثل ہذہ الجزئیات والقیام بحقوقہا فاذا راوہم فی منازلہم یوم القیمة ودوا لو کانوا ضامین خصالہم الی خصالہم ویمکن حمل الغبطة علی الاستحسان المرضی کما فی حدیث احسنتم یغبطہم ان صلوا لوقتہا ویغبط تفسیر لا حسنتم وقیل انہ علی التقدیر ای لو کان للفریقین غبطة لکانت علی ہئولاء“
(مجمع البحار جلد دوم ص٤)
یعنی ہر ایک آدمی جس عمل وعلم سے آراستہ پیراستہ ہے اس کے لئے خدا کے نزدیک ایک ایسی مخصوص منزلت مقدر ہے جس میں دوسرے کو مشارکت نہیں اگر چہ باعتبار دوسرے انواع فضائل کے اس کی ذات میں اعلیٰ اور ارفع خصائص پائے جاتے ہوں۔ لہٰذا فاضل مفضول کے اوصاف و خصائص کا خواہشمند ہوتا ہے کہ میری ذاتی کمالات میں ادنیٰ خصوصیتیں بھی جو مفضول کو حاصل ہیں جمع ہو جائیں۔ دیکھا جاتا ہے کہ انبیاء اعلیٰ فرائض اور خصائص میں ممتاز ہیں خلق کو دعوت دیتے ہیں ان کے رہنمائی کرتے ہیں ان اعلیٰ فرائض کا بجالانا ادنیٰ جزئیات کی طرف توجہ کرنے سے انہیں مانع ہوتا ہے۔ جب ادنیٰ جزئیات کے مالکوں کو اپنے منازل میں دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش یہ مناقب بھی ہمارے کمالات عالیہ کے ساتھ مضموم ہوتے اور ان کے خصائل ہمارے خصائل پسندیدہ کے ساتھ جمع ہوتے۔ (باقی عبارت کا مطلب لکھا جا چکا ہے)
١...... ضمیمہ
مرزائیہ جماعت استمرار نبوت پر آیت اعراف کو بطور ثبوت پیش کرتی ہے:”یأ بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون“ یعنی زمانہ قرآن میں تمہاری جنس میں سے تمہارے پاس رسول آئیں گے۔ جو میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں گے۔ جو لوگ خدا سے ڈریں گے۔ اور ان کے فرمودہ کے مطابق اپنے حال کی اصلاح کریں گے۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے۔
١٠٧
در حقیقت یہ آیت سلسلہ نبوت کے جاری رکھنے کی حامی نہیں بلکہ گزشتہ حال کی حکایت ہے کہ حضرت آدم کی پشت میں جو بنی آدم تھے بوقت نزول ابوالبشر ان کو خطاب کر کے یہ فرمایا گیا کہ اب سلسلہ نبوت جاری ہوگا اور متواتر رسول میری آیات سنانے والے مبعوث ہوں گے جو ان کی سنے گا وہ خوف و غم سے محفوظ رہے گا۔ اس وعدہ کے مطابق حضرت آدم سے سلسلہ رسالت شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہا جب کہ آیت : ”ماكان محمداً ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب : ٤٠)“ نازل ہوئے اور سلسلہ نبوت ورسالت مسدود کر دیا گیا۔ یہ مراد نہیں کہ بعد نزول قرآن یہ سلسلہ جاری ہوگا جسے جماعت مرزائیہ نے سمجھا ہے۔
رہا یہ سوال کہ جو ارواح اصلاب ابوالبشر میں تھے وہ خطاب خداوندی کو کس طرح سمجھ سکے تھے؟ سو اس کے متعلق یہ اظہار کرنا کافی ہے کہ مالک کے خطاب کو ہر چیز سمجھتے ہیں عرض امانت کا واقعہ جس کی تصویر آیت : ”انا عرضنا الامانة على السموت والارض والجبال فابين ان يحملنها واشفقن منها وحملها الانسان انه كان ظلوما جهولا (احزاب:٧٢)“ میں کھینچی گئی ہے اس مدعا کی پوری تشریح کرتا ہے اور آیت حشر ”لو انزلنا هذا القرآن على جبل لرايته خاشعاً متصدعاً من خشية الله (حشر:٢١)“ تو بالکل حجاب کو مرتفع کر دیتی ہے۔ اور افسانہ داؤد علیہ السلام میں آیت : ”يا جبال اوبی معه والطير (سبا:١٠)“ اور واقعہ طوفان نوح میں آیت : ”ياأرض ابلعى مائك وياسماء اقلعى (هود:٤٤)“ اس بحث پر کافی روشنی ڈالتی ہیں۔
اور حضرت ابراہیم کا ماجریٰ اس کی وضاحت کرتا ہے کہ جب آپ تعمیر کعبہ مکرمہ سے فارغ ہوئے تو آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ مقام ابراہیم پر یا جبل ابی قبیس کھڑے ہو کر منادی کرو کہ لوگو حج کے لئے آؤ۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا میری آواز کوتاہ ہے کیونکر ممکن ہے کہ دنیا کے باشندے اسے سن سکیں تب خدا نے الہام کیا : ”عليك الاذان وعلينا البلاغ“ پس آپ نے حکم کی تعمیل کی اور مقام پر کھڑے ہو کر دائیں بائیں اور شرقاً غرباً چاروں طرف متوجہ ہو کر یہ ندا سنائی کہ ان ربكم قد بنى لكم بيتا وكتب عليكم الحج الى البيت فاجيبوا ربكم ۔آباء اجداد کی پشتوں اور ارحام امہات سے حج کرنے والوں نے قبولیت کا جواب دیا: ”لبيك اللهم لبيك“ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یمن کے باشندوں نے سب سے اول جواب دیا اور یہی قوم زیادہ تر حج کے لئے آتی ہے حضرت ابراہیم کی نداء اصلاب آباء میں سنی گئی۔ خدا کی آواز بنی آدم اصلاب آدم میں بطریق اولیٰ سن سکتے ہیں۔
١٠٨
٢٨٧
٢...... ضمیمہ
مرزائیہ جماعت کا قول ہے کہ نبوت اور رسالت ایک نعمت جلیلہ ہے جو امم گزشتہ میں متواتر طور پر جاری مستفیض ہوئے چنانچہ قرآن مقدس میں لکھا ہے : ”واذ نعمة الله عليكم اذ جعل فيكم انبياء وجعلكم العالمین “ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ جو تمہاری جماعت میں انبیاء مبعوث کئے اور شاہان با اقتدار جہان کے ہر چہار اطراف میں کسی کو نہیں دیئے۔
گویا نبوت اور ملک ایسی قابل رشک دو نعمتیں ہیں کہ ان سے محروم کیا جانا اور خدا کا اپنے فیض سے روک لینا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کرنا اس سوال کا جواب تھوڑے سے تغیر کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی ذات کے لئے ایک نعمت کبریٰ ہے۔ چنانچہ معرکہ آراء آیت ہے : ”ما كان محمدا ابا احد من رجالكم (احزاب : ٤٠)“ آخر آمد بود فخر الاولین۔
اگر حضور ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو ختم نبوت کی جو نعمت آپ کو عطا ہوئی ہے وہ مسلوب ہو جاتی۔ اس سے یہ نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ بجائے حضرت ﷺ کے آثار روحانیہ اور فیوض تعلیمیہ ہمارے درمیان موجود ہونے کے وہ خود شخصاً موجود ہیں۔ چنانچہ قرآن نے امت کو خطاب کر کے فرمایا تتلى عليكم آيات الله وفيكم رسوله (آل عمران) ہو گے حالانکہ تمہارے سامنے شب و روز خدا کی آیتیں رسول موجود ہے یعنی اس کے آثار تعلیم تا ابد زندہ ہیں جو
١٠٩
٢...... ضمیمہ
مرزائیہ جماعت کا قول ہے کہ نبوت اور مکالمہ الہیہ خدا کی طرف سے امتوں کے لئے ایک نعمت جلیلہ ہے جو امم گزشتہ میں متواتر طور پر جاری رہی اور بنی اسرائیل بکثرت اس فیض سے مستفیض ہوئے چنانچہ قرآن مقدس میں لکھا ہے: ”واذقال موسى لقومه ياقوم اذكرو نعمة الله عليكم اذ جعل فيكم انبياء وجعلكم ملوکاً واتکم مالم یوت احد من العالمین “ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ جو تم پر خدا کے احسانات ہیں یاد کرو کہ اس نے تمہاری جماعت میں انبیاء مبعوث کئے اور شاہان بااقتدار پیدا کئے اور تمہیں وہ انعامات عطا کئے جو جہان کے ہر چہار اطراف میں کسی کو نہیں دیئے۔
گویا نبوت اور ملک ایک قابل قدر نعمتیں ہیں لہذا اس امت کا سلسلہ نبوت سے جو عالی شان نعمت ہے محروم کیا جانا اور خدا کا اپنے فیض کو امت محمدیہ سے مسلوب کر لینا اور ان کی جماعت میں آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کرنا بہترین امت کی کسر شان ہے سو اس سوال کا جواب تھوڑے سے تغیر کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر اختتام نبوت حضور ﷺ کی ذات کے لئے ایک نعمت کبریٰ ہے۔ چنانچہ معرض امتنان میں خدائے عزشانہ نے بیان کیا ہے: ”ماکان محمدا ابا احد من رجالكم ولکن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠) “ آخر آمد بود فخر الاولین۔
اگر حضور ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہو تو اس میں حضرت ﷺ کی کسر شان ہے اور اختتام نبوت کی جو نعمت آپ کو عطا ہوئی ہے وہ مسلوب ہو جاتی ہے اور قرآن کے الفاظ سے دوسرا جواب اور بھی برآمد ہوتا ہے کہ خدا نے حضرت ﷺ کے وجود کو ہی نعمت قرار دیا ہے۔ اس نعمت کے آثار روحانیہ اور فیوض تعلیمیہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ گویا وہ رسول ہی تا ابد ہمارے درمیان موجود ہے۔ چنانچہ قرآن نے امت کو خطاب کر کے فرمایا: ”كيف تکفرون بالله وانتم تتلى عليكم آيات الله وفيكم رسوله (آل عمران:١٠١) “ یعنی تم خدا کے کسی طرح منکر ہو گے حالانکہ تمہارے سامنے شب و روز خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اُسکا رسول موجود ہے یعنی اس کے آثار تعلیم تا ابد زندہ ہیں حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا تھا: ”وانا
١٠٩
الطلب من الاب فيعطيكم فارقليطا آخر ليثبت معكم الى الابد (باب ١٤ آیہ ١٦)
ترجمہ عربیہ مطبوعہ لندن اور یہی وجہ ہے کہ رسول ہم میں تا ابد موجود ہے۔ خدا نے ارشاد فرمایا : ” ان تنازعتم فى شىء فردوه الى الله والرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر (النساء: ٥٩) “ یعنی قرآن وسنت پر جو نبی کے آثار تعلیم میں اپنے منازعات کا فیصلہ کرو۔ گویا رسول خدا کا وجود ابدی نعمت ہے۔ جو تاقیامت باقی رہے گی۔ اس نعمت کاملہ کی موجودگی میں تا دوام کسی دوسری نعمت کی ضرورت نہیں اور نہ امت ایسے نبی کی موجودگی میں مسلوب النعمت کہی جاتی ہے: ”الم تر الى الذين بدلوا نعمة الله كفرا واحلوا قومهم دار البوار ای غير نعمة الله عليهم في محمد ﷺ حين انبعثه الله منهم كفرا كفروا به (ابراهيم:٢٨)“ یعنی نعمت سے مراد رسول خدا ﷺ کی ذات اطہر ہے جس کی بے قدری کر کے اہل مکہ نے اپنی قوم کو ابدی تباہی ڈال دیا۔
نبوت کی نعمت سابقہ قرون میں مکمل نہ تھی آج حضرت کی ذات نے اس کی تکمیل کر دی اور اتمام کے بعد اس نعمت میں کوئی کسر باقی نہیں رہی اس لئے آئندہ زمانہ میں کسی اور نبی کی ورود کی ضرورت نہ رہی ۔ ” قال الله تعالى فلا تخشوهم واخشونى ولاتم نعمتي ولعلكم تهتدون كما ارسلنا فيكم رسولا منكم يتلوا عليكم آياتنا ويزكيكم ويعلمكم الكتاب والحكمة ويعلمكم مالم تكونوا لتعلمون (بقره: ١٥٠،١٥١)“ یعنی تمہارا قبلہ سب قبلوں سے بہتر مقرر کیا اور سب خلق اللہ کا خلاصہ انتخاب کر کے ایک بہتر رسول تمہاری طرف بھیجا تا کہ اپنی نعمت کو تم پر مکمل کردوں ۔ (پارہ دوئم ) سورہ مائدہ میں ارشاد فرمایا: ”واكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده: ٣) “ یعنی تمہارے لئے میں نے اپنے دین کو مکمل کر دیا۔ اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور مذہب اسلام کو تمہارے لئے پسند کیا۔ آپ کے فیض روحانیت سے صحابہ بکثرت مستفیض ہوئے اور ایسے ایسے کمالات اور فیوضات جناب کی ذات سے صحابہ نے حاصل کئے جن کی نظیر سابقہ امتوں میں نہیں ملتی اور تابعین اسی خوش نما رنگ میں رنگے گئے۔ جس میں صحابہ مصبوغ تھے۔ اور فیض روحانی زمانہ بعد زمانہ امت کے سینوں میں بطور توارث منتقل ہوتا گیا جیسے توارث ایک چراغ سے
١١٠
دوسرا چراغ روشن کیا جاتا ہے۔ اور دوسرے سے تیسرا وہ لیکن ولایت کا سلسلہ اس کثرت سے جاری ہوا کہ اس معجزات تو مقطوع ہو گئے لیکن ان کا عکس یعنی کرامات ط آپ کا علم منزل تا دوام زندہ ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے: ” اعطى من الايت ما مثله آمن عليه البشر و ان الله الى فارجو ان اكون اكثرهم تابعا يوم ا ہوئے جن پر نظر کرتے ہوئے خلق اللہ ان پر ایمان لائے رہے گا اور حاضر و غائب یکساں اس سے مستفید ہو سکیں تعداد میں بڑھ جائیں گے یہ بھی نعمت کا کمال ہے۔
اس کلام سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ نبوت تو م تا حال امت میں باقی ہیں تو کون کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فیض جب کمزور ہو جاتا تھا اور اس کے آثار محو ہو جاتے ت حضرت کا فیض کچھ ایسا کامل ہے کہ تا ابد زندہ ہے۔ اس ل امت میں تا دوام جاری ہیں۔ خاکسار اس مسئلے کو مثال س میں محفوظ اور بند ہے۔ لیکن اس کی خوشبو کے خوشگوار اثر باوجود بند ہونے کے خلق خدا کو اثر سے مستفید کر رہی ہے خوشبو سے حاضرین کو محظوظ کرتے ہیں۔ نفس شیء کو محفوظ وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو نفس شیء اور اس کے اثر میں اور اس کا شعاع اور چیز ہے۔ کستوری اور خوشبودار چیزیں اور چیز ہے اور فیض نبوت شیء دیگر ۔ نبوت مسدود ہے لیکن جو دوامی نعمت ہے نہ یہ فیض قطع ہونے والا ہے نہ یہ اثر خ زندہ ہے۔ اس لئے بعد کمال نعمت کسی دوسرے حصہ کا انتظ
٣...... ضمیمہ
جو استدلال آیت : ” هو الذي بعث في
١١١
دوسرا چراغ روشن کیا جاتا ہے۔ اور دوسرے سے تیسرا وهكذا هلم جرا اور نبوت تو مسدود ہو گئی لیکن ولایت کا سلسلہ اس کثرت سے جاری ہوا کہ امت میں اولیاء کا ایک دریا رواں ہو گیا اور معجزات تو مقطوع ہو گئے لیکن ان کا عکس یعنی کرامات طبقہ مقربین میں بطور میراث باقی رہیں اور آپ کا علم منزل تا دوام زندہ ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے: ”ما من الانبياء من نبى الا قد اعطى من الايت ما مثله أمن عليه البشر وانما كان الذي اوتيت وحيا اوحى الله الى فارجوان اكون اكثرهم تابعا يوم القيامة “ یعنی ہر نبی کو اتنے معجزات عطاء ہوئے جن پر نظر کرتے ہوئے خلق اللہ ان پر ایمان لائے میرا معجزہ یعنی قرآن ہر زمانہ میں موجود رہے گا اور حاضر وغائب یکساں اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ اس لئے میرے اتباع بروز قیامت تعداد میں بڑھ جائیں گے یہ بھی نعمت کا کمال ہے۔
اس کلام سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ نبوت تو مرتفع ہو گئی لیکن آثار نبوت اور فیوض رسالت تا حال امت میں باقی ہیں تو کون کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود نہیں سابقہ نبیوں کا فیض جب کمزور ہو جاتا تھا اور اس کے آثار محو ہو جاتے تھے تو دوسرے نبی کی ضرورت پڑتی تھی۔ مگر حضرت کا فیض کچھ ایسا کامل ہے کہ تا ابد زندہ ہے۔ اس لئے فیض جدید کی حاجت نہیں کیونکہ آثار فیض امت میں تا دوام جاری ہیں۔ خاکسار اس مسئلہ کو مثال سے روشن کر دیتا ہے۔ کستوری ایک صندوقچی میں محفوظ اور بند ہے۔ لیکن اس کی خوشبو کے خوشگوار اثر سے خلق اللہ برابر مستفید ہے۔ گویا کستوری باوجود بند ہونے کے خلق خدا کو اثر سے مستفید کر رہی ہے۔ گلاب کے پھول باوجود ملفوف ہونے کے خوشبو سے حاضرین کو محظوظ کرتے ہیں۔ نفس شیء گو محفوظ اور مسدود ہے لیکن آثار اس کے موجود ہیں وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو نفس شیء اور اس کے اثر میں فرق نہیں کرتے۔ چراغ کی لاٹ اور چیز اور اس کا شعاع اور چیز ہے۔ کستوری اور خوشبو دار چیزیں اور ہیں اور ان کی خوشبو اور ، اسی طرح نبوت اور چیز ہے اور فیض نبوت شیء دیگر۔ نبوت مسدود ہے لیکن اس کے آثار علمیہ اور روحانیہ تا ابد زندہ ہیں جو دوامی نعمت ہے نہ یہ فیض قطع ہونے والا ہے نہ یہ اثر منطمس ہوگا۔ گویا رسول ہمارے درمیان تا ابد زندہ ہے۔ اس لئے بعد کمال نعمت کسی دوسرے حصہ کا انتظار نہیں۔
٣....... ضمیمہ
محل استدلال آیت: ”هو الذي بعث في الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم
١١١
اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين وآخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحکیم (جمعه: ٢، ٣) ” سے مرزا قادیانی کی نبوت پر کیا گیا ہے۔ بالکل بے محل اور خلاف تفسیر رسول خداﷺ اور خلاف تفسیر سلف اور محاورات و قواعد عرب ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ایک مسلم تابع اقوال پیغمبر علیہ السلام، مرزا قادیانی کے طرز استدلال کی داد دے اور اسے قبول کر سکے۔ کیونکہ حدیث میں ہے: ” من فسر القرآن برأيه فليتبو مقعده من النار وفي رواية من فسر القرآن برايه فقد اخطا وان اصاب “ جناب رسول کریم ﷺ نے آخرین کے لفظ سے اہل فارس یعنی قوم سلمان فارسی کو مراد رکھا ہے۔ حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے: ” قـال كـنـا جـلـوسـا عـنـدا النبی ﷺ نزلت عليه سورة الجمعة فلما قره واخرين منهم لما يلحقوا بهم قال رجل من هؤلاء يارسول الله فلم يراجعه النبي ﷺ حتى سأله مرتين او ثلاثا قال وفينا سلمان الفارسي قال فوضع النبي ﷺ يده على سلمان ثم قال لو كان الايمان عند الثريا لناله رجال من هؤلاء اخرجه البخاري ومسلم والترمذي والبغوي “ یعنی ہم رسول خدا کے در دولت پر بیٹھے تھے کہ سورہ جمعہ نازل ہوئی جب آپ نے آیۃ ” وآخرين منهم لما يلحقوابهم “ کو پڑھا تو اہل مجلس میں سے کسی نے استفسار پیش کیا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں۔ آنحضرت نے باوجود اعادہ سوال کے دو یا تین بار سائل کو کوئی جواب نہ دیا۔ محفل میں سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ آپ نے سلمان پر دست مبارک رکھتے ہوئے کہا کہ آخرین منہم سے اس کی قوم مراد ہے۔ اگر ایمان ثریا کے ساتھ معلق ہو تو اس کی قوم کے آدمی وہاں سے بھی حاصل کرلیں: ” وفي رواية اخرى للبغوى لو كان الدين عند الثريا لذهب اليه رجل او قال رجال من ابناء فارس حتى يتنا ولوه “ بغوی کی دوسری روایت میں یوں وارد ہے کہ اگر دین ثریا کے پاس ہو تو اہل فارس کے برگزیدہ نفوس وہاں سے بھی اسے لے لیتے۔ اس بناء پر حضرت مجاہد نے کہا ہے: ” هـم الـعـجـم وهو قول ابن عمر سعید ابن جبیر “ قوم یعنی آخرین سے عجم کی قوم مراد ہے۔ ابن عمر اور سعید بن جبیر اور ایک قوم کا یہی مسلک ہے۔
١١٢
قول دوم
حضرت مقاتل کا قول ہے کہ آخرین سے مراد تا بهم في الفضل والسابقة لان المتابعين تابعین فضیلت میں صحابہ کے برابر نہیں کیونکہ یہ کسی ط پیش دستی میں مل جائیں ۔
قول سوم
ابن زید کا قول ہے کہ مراد آخرین سے آنحضرت ﷺ کے دائرہ مذہب میں داخل ہوتی رہے فى الاسلام بعد النبي ﷺ الى يوم ا مجاهد “ یعنی آنحضرت کی تعلیم اور نبوت صرف آن زمانہ کے لئے بھی آپ کی نبوت عام ہے کیونکہ آپ گی۔ یہ آیت حضرت کا خاتم النبیین ہونا ثابت کرتی استدلال کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ یہ تو ان کے مدعا کے نے جو تفسیر بیان کی ہے وہ عام تام ہے اور رسول خدا کیونکہ عام و خاص میں اسی قسم کا تعارض نہیں ہوا کرتا ہوتی ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے افراد عامہ میں سے اصول کی کتابوں میں یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے: ” الق يوجب التخصيص “ یعنی عام کے فرداً محکو مصارف زکوٰۃ میں فی سبیل اللہ کی تفسیر حضرت نے ی ( طلب علم ) لیکن کوئی وجہ نہیں کہ عام کے بعض افراد کو وابستہ ہو جائے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت الشرکاء اور اجراء نہر اور مساجد لفقہ سب اس کے مفہوم استطعتم من قوة کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ”الا لیکن یہ تفسیر بالاض ہے ۔ نفقہ ہر طرح کا سامان ج
١١٣
قول دوم
حضرت مقاتلؒ کا ہے کہ آخرین سے مراد تابعین کی جماعت ہے: ”قال لما يلحقوا بهم فى الفضل والسابقة لان المتابعين لا يدركون فضيلة الصحابة“ یعنی تابعین فضیلت میں صحابہ کے برابر نہیں کیونکہ یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ جماعت تابعین صحابہ سے پیش دستی میں مل جائیں۔
قول سوم
ابن زیدؒ کا قول ہے کہ مراد آخرین سے تمام مسلم قوم ہے جو تاقیامت پیدا ہوگی اور آنحضرت ﷺ کے دائرہ مذہب میں داخل ہوتی رہے گی: ”قال ابن زيد جميع من دخل فى الاسلام بعد النبى ﷺ الى يوم القيامة وهى روايه ابن نجيح عن مجاهد“ یعنی آنحضرت کی تعلیم اور نبوت صرف آپ کے اہل زمانہ تک محدود نہیں بلکہ مابعد کے زمانہ کے لئے بھی آپ کی نبوت عام ہے کیونکہ آپ کے بعد کسی فرد بشر کو نبوت جدیدہ نہیں ملے گی۔ یہ آیت حضرت کا خاتم النبیین ہونا ثابت کرتی ہے تو پھر مرزا قادیانی کے حق میں اس سے استدلال کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ یہ تو ان کے مدعا کے بالکل برعکس ہے۔ میرا خیال ہے کہ ابن زید نے جو تفسیر بیان کی ہے وہ عام تام ہے اور رسول خدا ﷺ کی تفسیر کے معارض نہیں جو خاص ہے کیونکہ عام و خاص میں اسی قسم کا تعارض نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ خاص میں تنصیص علیٰ بعض افراد العام ہوتی ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے افراد عامہ میں سے افضل فرد کو بیان کیا ہے جو قوم فارس ہے اور اصول کی کتابوں میں یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے: ”التنصيص علیٰ بعض افراد العام لا يوجب التخصيص“ یعنی عام کے فرد اخص کو بیان کرنا موجب تخصیص نہیں ہوتا۔ آیۂ مصارف زکوٰۃ میں فی سبیل اللہ کی تفسیر حضرت نے بیان کی ہے۔ (منقطع الغزاة) اور (حج) اور (طلب علم) لیکن کوئی وجہ نہیں کہ عام کے بعض افراد کو بیان کرنے سے لفظ صرف انہیں مفاہیم سے وابستہ ہو جائے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نے افراد کاملہ کو بیان کیا ہے۔ فقراء اور بیت الغرباء اور اجراء نہر اور مساجد وغیرہ سب اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ آنحضرت نے اعدوا لهم ما استطعتم من قوة کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ”الا ان القوة الرمى الا ان القوة الرمى“ لیکن یہ تفسیر بالاخص ہے۔ یقیناً ہر طرح کا سامان جنگ مثل توپ وتفنگ وغیرہ وشمشیر ومشین گن
١١٣
وغیرہ ان میں داخل ہے اس لئے مفسرین نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے: ”كل ما يتقوى به في الحرب“ آنحضرت نے موجودہ زمانہ کے سامان مروج سے فرد اکمل کو بیان کیا ہے اہل بیت کا لفظ آنحضرت کے ازواج مطہرات اور جملہ متعلقین کو شامل ہے۔ مگر حضور کا نفوس خمسہ کو مشار الیہم قرار دے کر فرمانا: ”اللهم هؤلاء اهل بیتی “ بعض افراد کاملہ پر تخصیص ہے جس سے تخصیص مفہوم نہیں ہوتی۔ کوثر کا لفظ لغۃ عام ہے جس کے معنے اہل لغہ نے خیر کثیر بیان کئے ہیں۔ مقام محمود۔ شفاعت کبریٰ وصغریٰ۔ امت کثیرۃ۔ حوض کوثر۔ نہر کوثر۔ کتاب وغیرہ سب خصائص اس میں داخل ہیں اور ابن عباسؓ نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔ لیکن حضرت نے اس کا مفہوم نہر کوثر کو قرار دیا ہے جو فرد کامل پر تخصیص ہے حصر مراد نہیں۔
اسی طرح آخرین منہم سے تمام امت مراد ہے جو تاقیامت آنے والی ہے اور رسول خدا ان سارے اقوام عالم کی طرح نبی ہیں۔ حضرت نے جو قوم سلمان کا علی الخصوص ذکر کیا ہے۔ وہ اکمل واعظم فرد کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔
جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ حضرت تمام عجم وعرب کی طرف عموماً اور قوم فارس کی طرف خصوصاً مبعوث ہیں۔ لہٰذا قول ثالث کی بناء پر جو بنیادی قول ہے۔ بعض علماء نے ضمیر ہم پر آخرین کو معطوف سمجھا ہے: ”اى يعلمهم وآخرين منهم اى من المؤمنين الذين يدينون بدينهم لانهم اذا اسلموا صاروا منهم فان المسلمين كلهم امة واحدة “ یعنی وہ نبی عرب کو بھی تعلیم دیتا ہے اور ماسوائے ان کے تاقیامت جو غیر مذاہب سے اسلام میں داخل ہوں گے۔ انہیں بھی اصول مذہب سکھاتا ہے۔ کیونکہ جملہ مسلمین بمنزلہ ایک امت کے ہیں اور بعض علماء کا خیال ہے کہ آخرین کا لفظ امیین پر معطوف ہے: ”عطف على الاميين وهم من جاءوا بعد قرنه الى يوم الدين وكل من اسلم صارمنهم فان المسلمين كلهم امة واحدة“ بناء علیہ جو مرزا قادیانی نے تفسیر بیان کی ہے وہ جملہ اسلاف امت کے برخلاف ہے
سلف کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا جملہ عرب اور دیگر اقوام کے لئے جو آپ کے ہم زمانہ ہیں یا آپ کے زمانہ کے بعد ہوں گے تاقیامت نبی ہیں بخلاف اس کے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا نے امیین کے لئے حضرت کو رسول بنا کر بھیجا اور آخر زمانہ میں ایک دوسرا رسول بھیجے گا۔ لیکن چونکہ یہ مقصد سلف کی تفسیر کے خلاف ہے۔ اس لئے مردود ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”خیرکم ١١٤
قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يل کے مطابق دو شخصوں کا عہدہ نبوت پر ممتاز ہونا ثابت ہو (حضرت محمد ﷺ) کو بھیجا اور متاخرین میں دوسرا رسول ہے فی الامیین سے متعلق ہونے پر بمعنی ماضی ہوگا جس ک کا تعلق آخرین سے ہوا تو معنے مضارع کے دے گا ت الحقيقة والمجاز لا يجتمعان ثانياً مجازی معنے م
علماء بیان نے لکھا ہے: ”لا بد للمجاز م ہونا تو درکنار آیۂ خاتم النبیین اور احادیث ختم نبوت ج آیت میں ایک بار مذکور ہوا ہے جو اس امر پر دلالت کرت کے لئے بھیجا گیا ہے اور اگر دو رسولوں کا مبعوث ہونا مر اور یوں کہا جاتا: ”هو الذي بعث في الاميين رس اور بقاعدہ النكرة اذا اعيدت كانت غير الاولی لفظ رسول ایک بار بیان ہوا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دو رسو دوسرا آخرین میں ۔ لہٰذا تفسیر مرزا قادیانی بالکل اپنی خلاف ہے اور تفسیر خلاف سلف وقواعد عرب لائق قبـ احزاب میں ہے: ”واورثناکم ارضهم ودیا علی كل شيء قديرا (احزاب: ٢٧) اور (مر الذي بعث في الاميين کی نظیر ہے لیکن یادر زمانہ حاضرہ میں حاصل ہو چکے تھے تو اس نے ماضی اس کا علاقہ ہوا جو آئندہ زمانہ میں حاصل ہونے والا مضارع قرار دیا گیا۔ جو یہ دو معنی باختلاف زمانہ متعلقات بعث اور ورث کے جدا جدا مذکور ہیں لیکن بعث جس کی بعثت عمل میں آچکی ہے اور کوئی دوسرا متعلق نـ میں موجود نہیں کہ اس کی اقتضاء سے ماضی کو بمعنی مضـ ١١٥
قرنى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يظهر الكذب “ دوم مرزا قادیانی کی تفسیر کے مطابق دو شخصوں کا عہدہ نبوت پر ممتاز ہونا ثابت ہوتا ہے یعنی خدا نے عرب میں ایک رسول (حضرت محمدﷺ) کو بھیجا اور متاخرین میں دوسرا رسول بھیجے گا۔ (مرزا غلام احمد ) تو بعث لفظ ماضی ہے فی الامیین سے متعلق ہونے پر بمعنی ماضی ہوگا جس کا وقوع زمانہ گزشتہ میں ہو چکا اور جب اس کا تعلق آخرین سے ہوا تو معنے مضارع کے دے گا جو اس کے مجازی معنے ہیں اور قاعدہ ہے الحقيقت والمجاز لا يجتمعان ثانیاً مجازی معنے مراد لینے کے لئے قرینہ کی ضرورت ہے۔
علماء بیان نے لکھا ہے : "لا بد للمجاز من قرينة“ قرینہ داخلی یا خارجی کا موجود ہونا تو درکنار آیۃ خاتم النبیین اور احادیث ختم نبوت مجازی معنے کے خلاف ہیں۔ سوئم لفظ رسولا آیت میں ایک بار مذکور ہوا ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ایک ہے رسول سابقین اور آخرین کے لئے بھیجا گیا ہے اور اگر دو رسولوں کا مبعوث ہونا مراد الہی ہوتا تو لفظ رسولا کو بصیغہ تنکیر دہرایا جاتا اور یوں کہا جاتا : " هو الذي بعث فى الاميين رسولا منهم ورسولا في الآخرين “ اور بقاعدہ النكرة اذا اعيدت كانت غير الاولى دو رسولوں کی بعثت مراد ہو سکتی تھی اور جب لفظ رسول ایک بار بیان ہوا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دو رسول مراد لئے جائیں۔ ایک سابقین میں اور دوسرا آخرین میں۔ لہذا تفسیر مرزا قادیانی بالکل اپنی نبوت کی طرح غلط ہے اور قواعد عرب کے خلاف ہے اور تفسیر خلاف سلف وقواعد عرب لائق قبولیت نہیں۔ ایک حوالہ مجھے یاد آیا کہ سورہ احزاب میں ہے: "واورثناكم ارضهم وديارهم وارضا لم تطئوها وكان الله على كل شيء قديرا (احزاب:٢٧)“ اور (مرزا قادیانی کی تقریر کے مطابق ) یہ بعینہ ھو الذى بعث فى الاميين کی نظیر ہے لیکن یاد رہے کہ جب اورث کا تعلق ایسی چیز سے ہو جو زمانہ حاضرہ میں حاصل ہو چکے تھے تو اس نے ماضی کے معنے دیئے اور جب دوسرے متعلق سے اس کا علاقہ ہوا جو آئندہ زمانہ میں حاصل ہونے والا ہے۔ (ارضا لم تطئوها) تو اسے بمعنے مضارع قرار دیا گیا۔ جو یہ دو معنی باختلاف زمانہ ہر دو متعلقات حاصل ہوئے اور وہ دونوں متعلقات بعد اورث کے جدا جدا مذکور ہیں لیکن بعث کے بعد صرف ایک متعلق رسولا منہم مذکور ہے جس کی بعثت عمل میں آچکی ہے اور کوئی دوسرا متعلق جو آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونے والا ہو عبارت میں موجود نہیں کہ اس کی اقتضاء سے ماضی کو بمعنی مضارع لیا جائے تو آیۃ ہذا میں ماضی کو بدو معنے
١١٥
لینا بالکل باطل ہے۔ علامہ سلیمان الجمل کی رائے آیۂ احزاب کے متعلق یہ ہے المعنی لتحقق وقوعہ یعنی تملیک ارض غیر موطؤہ چونکہ قطعی التحقق ہے اس لئے ہر دو متعلقات کے لحاظ سے صیغہ ماضی (اورث) بیان کیا گیا اور اختلاف متعلقات نے اس کے اصل معنے میں کوئی تغیر پیدا نہیں کیا۔ بحث کا متعلق صرف واحد لفظ رسولا منھم مذکور ہے۔ اس لئے وہ حقیقت پر محمول ہے اور آئندہ زمانہ کے دوسرے رسول سے اسے کوئی تعلق نہیں اس لئے یہاں ارتکاب تاویل مذکور کی بالکل ضرورت نہیں۔
- .......٢ آنحضرت ﷺ کی تفسیر پر اگر لفظ کو مقتصر سمجھا جائے تو مرزا قادیانی کسی طرح فارسی
نسل میں داخل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ مرزا قادیانی مغل ہیں اور مغل بلحاظ قوم تاتاری النسل ہیں یعنی ہلاکو خاں بن تولے خاں بن چنگیز خان سے آپ کا شجرہ نسب ملتا ہے ایسی حالت میں آپ فارسی النسل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ تاتاری اقوام کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ مغل قوم تو مغول کی اولاد سے ہیں جو اس خاندان کا جد اعلیٰ ہے پھر تعجب کی بات ہے کہ سلمان فارسی کی نسل سے آپ کو کس طرح تعلق ہے یہ تو جمع بین المتضادین اور غرض پرستی ہے گویا حدیث من رغب عن ابيه فقد کفر کو مرزا قادیانی نے دیدہ دانستہ فراموش کر دیا۔
- .......٣ قرآن شریف میں جابجا وحی کو زمانہ قبل آنحضرت سے وابستہ کیا گیا ہے اور زمانہ مابعد
میں بھی اگر وحی کا نزول ہوتا تو قرآن میں اس کو بھی ذکر کیا جاتا۔ پارہ اوّل میں ہے ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (بقرہ: ٤)“ اور ”من قبلك“ پر ہی عبارت قرآن میں اکتفا کیا گیا ہے۔ من بعدک اس کے ساتھ نہیں کہا گیا اور نیز سورۂ شوریٰ میں بھی اسی نہج کو اختیار کیا گیا ہے: ”كذلك يوحى اليك والى الذين من قبلك الله العزيز الحكيم (شوریٰ: ٣)“ یہ دلیل ہے کہ زمانہ مابعد میں وحی کا نزول نہ ہوگا۔
- .......٤ حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت ہے: ”انی آخر الأنبياء وان مسجدى
اخر المساجد“ یعنی میں سب نبیوں سے آخر ظاہر ہوا اور میری مسجد مساجد انبیاء کی خاتم ہے اس روایت کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے۔ ابو ہریرہؓ گاہے اس روایت کو بشکل موقوف بیان کرتے ہیں اور کہتے تھے: ”ان رسول الله آخر الانبياء وان مسجده آخر المساجد“ ابو سلمہ اور ابو عبداللہ ہر دو راویوں کا بیان ہے کہ ہمیں بجائے خود یہ یقین تھا کہ ابو ہریرہ یہ حدیث
١١٦
رسول خدا سے نقل کرتے ہیں لیکن ابو ہریرہ کی ز پا چکے تھے ان کی وفات کے بعد اس حدیث کے دوسرے کو ملامت شروع کی کہ کیوں ہم نے ابو کیا۔ اگر آپ نے اس کو حضرت ﷺ سے سنا تھا بیان کر دیتے لیکن تصریح کے متعلق مطالبہ کے ش عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجلس میں بیٹھے تھے خدمت میں بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول الله ﷺ فانی آخر الانبياء نبوت کے ثبوت کے لئے قاطعہ حجت ہے جس مسجده اخر المساجد کی تشریح امام عائشہؓ آنحضرت ﷺ سے مروی ہے: ”انا خا الانبياء احق المساجد ان يزار وتشد وصلاة في مسجدي افضل من الف ص الحرام“ یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں میری مسج نہیں ہوگا۔ جو مسجد بنائے۔ اس لئے دنیا میں قادیانی جو اپنی عبادت گاہ کو مسجد اقصیٰ کے براب اس اعتقاد اور قول کو سخت صدمہ پہنچا۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے حدیث کا لفظ نے انى خاتم الانبیاء کہا ہے تو ظاہر ب مجالس بیان کئے ہیں اور یا ان میں سے ایک ل حدیث بالمعنی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ دونو مترادف کے دوسرا لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔ نخبہ میں لکھا ہے: ”ولا يجوز تعمد تغیی المرادف له الا لعالم بما يحيل ا
رسول خدا سے نقل کرتے ہیں لیکن ابو ہریرہ کی زبانی اس بات کو معلوم نہ کیا تھا اور ابو ہریرہ وفات پا چکے تھے ان کی وفات کے بعد اس حدیث کے متعلق ہمارے درمیان تذکرہ آیا تو ہم نے ایک دوسرے کو ملامت شروع کی کہ کیوں ہم نے ابو ہریرہؓ سے اس بارے میں تصریحی بیان طلب نہ کیا۔ اگر آپ نے اس کو حضرت ﷺ سے سنا تھا تو وہ ضرور رسول اللہ کی طرف سے اس کی نسبت بیان کردیتے لیکن تصریح کے متعلق مطالبہ کے نہ ہونے نے ہمیں اندھیرے میں رکھا۔ ایک روز ہم عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجلس میں بیٹھے تھے تو ہم نے وہ سارا ذکر جو آپس میں کیا تھا ان کی خدمت میں بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سنا کہ فرماتے تھے: ”قال رسول اللہ ﷺ فانی آخر الانبیاء وان مسجدى آخر المساجد“ یہ حدیث ختم نبوت کے ثبوت کے لئے قاطعہ حجت ہے جس میں شبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں۔ فقرہ وان مسجده آخر المساجد کی تشریح امام بزار کی روایت میں منقول ہے جو بروایت حضرت عائشہؓ آنحضرت ﷺ سے مروی ہے: ”انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبياء احق المساجد ان يزار وتشد اليه الرواحل المسجد الحرام ومسجدي وصلاة في مسجدى افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام“ یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں میری مسجد انبیاء کی مسجدوں کی خاتم ہے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جو مسجد بنائے۔ اس لئے دنیا میں میری مسجد کے بعد کوئی نبوی مسجد نہ ہوگی۔ مرزا قادیانی جو اپنی عبادت گاہ کو مسجد اقصیٰ کے برابر سمجھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں شائع کرتے ہیں۔ اس اعتقاد اور قول کو سخت صدمہ پہنچا۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے حدیث کا لفظ انی آخر الانبیاء بیان کیا ہے اور حضرت عائشہؓ نے انی خاتم الانبیاء کہا ہے تو ظاہر ہے کہ یا تو رسول خدا ﷺ نے یہ دونوں الفاظ بہ تعدد مجالس بیان کئے ہیں اور یا ان میں سے ایک لفظ رسول خدا ﷺ کی زبان سے صادر ہوا اور دوسرا حدیث بالمعنی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ دونوں اہل زبان سے ہیں تبادلہ الفاظ میں سوائے لفظ مترادف کے دوسرا لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ ردو بدل کے طریق کے پورے عالم ہیں۔ نخبہ میں لکھا ہے: ”ولا يجوز تعمد تغيير المتن ولا ابدال اللفظ المرادف باللفظ المرادف له الا لعالم بما يحيل المعانی (ص ٢٥)“ لہٰذا معلوم ہوا کہ اہل زبان کے
١١٧
نزدیک خاتم الانبیاء اور آخر الانبیاء دونوں الفاظ ہم معنی ہیں اور مرزا قادیانی کے پیش کردہ معنے اہل زبان کے نزدیک غلط ہیں۔
رہا فقرہ مسجدی خاتم مساجد الانبیاء تو روایت بزار میں انبیاء کا لفظ بہ نسبت روایت صحیح مسلم زیادہ موجود ہے جس کے متعلق فیصلہ اصولی ہے۔ ”زيادة الثقة مقبولة “ اور اختلاف طرق اور متون سے حدیث کی نوعیت اور معنی میں جو ابہام ہوتا ہے وہ رفع ہوجاتا ہے۔ علامہ زرقانی نے شرح موطا مالک میں لکھا ہے: ”قال بعض المحدثين لولم نكتب الحديث من ستين وجها ما عقلناه لاختلاف الرواة فى الفاظه ونحوها (زرقانی ج١ ص١٢٤) “ یعنی بعض محدثین کا قول ہے کہ اگر ہم حدیث کو کثیر التعداد طریق سے نہ لکھیں۔ تو اس کے مضمون کو نہ سمجھ سکیں بعض دفعہ حدیث کے مضمون کی توضیح حدیث کے الفاظ کے اختلاف سے ہو جاتی ہے۔ راقم کہتا ہے کہ بعض المحدثین سے مراد امام سیوطی ہے۔ انہوں نے رسالہ تنبیہ الا ذکیاء میں یہ عبارت لکھی ہے اور حدیث ما من احد يسلم على الا رد الله روحی حتی ارد علیه السلام کے مطلب میں جو پیچیدگیاں تھی اسے اختلاف الفاظ حدیث سے حل کیا ہے اور کہا ہے کہ دوسرے لفظ میں یوں آیا: ”وقد رد الله على روحی“ یعنی جو مجھے سلام کہتا ہے وہ اس حال میں کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر میری روح کو واپس کر دیا ہوا ہے اور میں زندہ ہوں۔ پہلی روایت سے جو یہ شبہ پڑتا تھا کہ حضرت ﷺ کا روح بدن سے مفارق ہے اور وہ اموات میں داخل ہیں اس دوسرے لفظ نے اس شبہ کو زائل کر دیا۔
اسی حدیث ابو ہریرہؓ کا مطلب حدیث حضرت عائشہؓ نے صاف کر دیا کہ رسول خدا کی مسجد آخر المساجد نہیں بلکہ اخر مساجد الانبیاء ہے۔ حضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا جو مسجد نبوی کی عمارت کرے جیسے مسجدیں اور بہت بنتی رہیں گی لیکن مسجد النبی نہ بنے گی اس طرح اور بزرگ بہت سے ہوتے رہیں گے۔ لیکن نبی کوئی نہ ہوگا۔
٤...... ضمیمہ
حاشیہ حدیث نحن الاخرون السابقون! کنز العمال جلد سوئم میں یہ حدیث مندرج ہے لا نبی بعدی ولا امة بعدكم فاعبدوا ربكم میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور
١١٨
SHORT
تمہارے پیچھے کوئی دوسری امت نہ ہوگی۔ لہٰذا کسی دوسرے ضرورت ہے۔ تم اپنے رب کی عبادت کرو۔
اس حدیث کے مدعا کی دوسری حدیث بھی تصدیق امة انتم خيرها واكرمها على الله (مشکوٰۃ) ”تم کرتے ہو۔ تمہارے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔ سب امتوں م زیادہ محترم ہو۔
پہلی حدیث آنحضرت ﷺ نے مجمع حجۃ الودا فرمائی۔ جسے سب صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ کے بعد قبول ک پر اتفاق ظاہر کیا اور یہی وجہ ہے کہ تمام مدعی کاذب جنہوں قلم کفر کے فتویٰ صادر کرتے رہے اور حضرت نے مسیلمہ آپ کے ہم زمانہ تھے۔ اس طرز عمل نے حدیث لا نبی بع کے معنے ہیں لا نبی بعد رسالتی۔ لا نبی بع شارحین نے لا نبی بعدی کے ساتھ بطور تشریح یہ فقرہ
٥...... ضمیمہ
قاری قرآن کے متعلق حدیث سے ثابت ہے ہوجاتی ہے۔ لیکن وہ نبی نہیں ہوتا اور نہ وحی سے اسے سرفر گا کہ تمام قراء قرآن نبی ہو جائیں اور لازم باطل ہے فکا من قرء ثلث القران اعطى ثلث النبوة ومن قـ قرء القرآن فكانما اعطى النبوة كلها۔ (یعنی جـ مل گیا اور دو تہائی حصہ قرآن کا جس نے پڑھا اسے سارا قرآن پڑھا اسے گویا ساری نبوت حاصل ہوگئی)
مجموعہ میں لکھا ہے: ”في اسناده بشر بن نمیر ( اس کی اسناد میں بشر بن نمیر ہے جس کی نسبت یحییٰ بن معیـ بنایا کرتا تھا امام سیوطی نے لآلی میں اس کا تعقب کیا ہے جـ
١١٩
تمہارے پیچھے کوئی دوسری امت نہ ہوگی۔ لہٰذا کسی دوسرے رسول کی ضرورت نہیں۔ البتہ توحید کی ضرورت ہے۔ تم اپنے رب کی عبادت کرو۔
اس حدیث کے مدعا کی دوسری حدیث بھی تصدیق کرتی ہے۔ ”توفون سبعین امة انتم خيرها واكرمها علی الله (مشکوٰۃ)“ تم کثیر التعداد امتوں کی میزان آخری کو پورا کرتے ہو۔ تمہارے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔ سب امتوں سے تم بہترین امت اور خدا کے نزدیک زیادہ محترم ہو۔
پہلی حدیث آنحضرت ﷺ نے مجمع حجۃ الوداع میں تمام حاضرین کے روبرو ارشاد فرمائی۔ جسے سب صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ کے بعد قبول رکھا اور صحابہ کے بعد جملہ امت نے اس پر اتفاق ظاہر کیا اور یہی وجہ ہے کہ تمام مدعی کاذب جنہوں نے افتراء سے کام لیا۔ ان پر علماء بیک قلم کفر کے فتوٰی صادر کرتے رہے اور حضرت ابوبکرؓ نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی پر کفر کا فتوٰی دیا جو آپ کے ہم زمانہ تھے۔ اس طرز عمل نے حدیث لا نبی بعدی کے معنے کو روشن کر دیا کہ حدیث ہٰذا کے معنے ہیں لا نبی بعد رسالتی ۔ لا نبی بعد وفاتی اس کے معنے نہیں۔ اسی لئے شارحین نے لا نبی بعدی کے ساتھ بطور تشریح یہ فقرہ بڑھایا ہے۔ ولا معہ ۔
٥....... ضمیمہ
قاری قرآن کے متعلق حدیث سے ثابت ہے کہ نبوت اس کے پہلوؤں کے نزدیک ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ نبی نہیں ہوتا اور نہ وحی سے اسے سرفرازی حاصل ہوتی ہے۔ وگرنہ لازم آئے گا کہ تمام قراء قرآن نبی ہو جائیں اور لازم باطل ہے فکذالملزوم اس سے معلوم ہو گیا کہ حدیث من قرء ثلث القرآن اعطی ثلث النبوة ومن قرء ثلثيه اعطی ثلثی النبوة ومن قرء القرآن فكانما اعطی النبوة کلها. (یعنی جو قرآن کا ثلث پڑھ لے اسے نبوۃ کا ثلث مل گیا اور دو بٹے تین حصہ قرآن کا جس نے پڑھا اسے دو تہائی نبوت حاصل ہو گئی اور جس نے سارا قرآن پڑھا اسے گویا ساری نبوت حاصل ہوگئی) بالکل باطل ہے۔ علامہ شوکانیؒ نے فوائد مجموعہ میں لکھا ہے: ”فی اسنادہ بشر بن نمیر قال یحییٰ بن سعید کذاب یضع“ اس کی اسناد میں بشر بن نمیر ہے جس کی نسبت یحییٰ بن سعید کی رائے ہے کہ وہ جھوٹا ہے جعلی حدیثیں بنایا کرتا تھا امام سیوطیؒ نے لآلی میں اس کا تعقب کیا ہے: ”ان بشرا من رجال ابن ماجة
١١٩
وبانه قد اخرجه ابن الانباری والبیھقی “ کہ بشر ابن ماجہ کے راویوں میں سے ہے اور ابن الانباری اور بیہقی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ علامہ شوکانی نے لکھا ہے کہ امام سیوطی کا تعقب باطل ہے جو چنداں مفید نہیں۔ کیونکہ جب یحییٰ بن سعید کی تنقید صحیح ہے تو ابن ماجہ کے رجال کی فہرست میں داخل ہونا مفید نہیں۔ اور ابن الانباری اور بیہقی کا روایت کرنا بھی نافع نہیں۔ جبکہ اسناد میں بشر بن نمیر موجود ہے۔ پھر امام سیوطی نے حدیث کے چند شواہد ذکر کئے ہیں۔ اول خطیب نے حضرت ابن عمرؓ سے مرفوعاً اس روایت کو بیان کیا ہے جس کی اسناد میں قاسم بن ابراہیم مطلی ہے جو وضعی اور باطل روایتیں بیان کرتا تھا۔ حتیٰ کہ خود خطیب کی رائے ہے کہ اس نے امام مالک سے بہت نادر روایتیں جعلی بیان کی ہیں اور سعید بن منصور نے سنن میں حضرت حسنؓ سے مرسلاً اس کو روایت کیا ہے اور طبرانی نے باسناد دیگر عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے مگر کوئی طریق بھی صحت کو نہیں پہنچتا۔
اگر خدانخواستہ یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو حقیقت پر محمول نہ کی جاتی بلکہ مجاز اور تشبیہ سے اس کا مطلب صاف تھا یعنی قرآن کے پڑھنے والوں کو نبیوں سے مناسبت ہے۔ جیسے ”فکانما اعطے النبوة کلھا “ میں حرف تشبیہ کے موجود ہونے سے ظاہر ہے کہ نبوت کا حصول قرآن خوانی پر موقوف نہیں۔ بلکہ اس حالت کو نبوت سے مشابہت ہے۔
٢...... ضمیمہ
آیت من یطع الله کا حاشیہ
٢...... انجیل متی باب ١٠ آیت ٤١ میں ہے: ”جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے جو نبی کے نام پر نبی کو قبول کرتا ہے وہ نبی کا اجر پائے گا اور جو راست باز کے نام پر راستباز کو قبول کرتا ہے وہ راستباز کا اجر پائے گا۔“
حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ نبی کا قبول کرنے والا نبی ہو جائے گا بلکہ یہ کہا کہ نبی کا اجر پائے گا۔ جو آیت من یطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين (النساء:٦٩) کا مطلب ہے۔
ابو نعیم اور حافظ ابو موسیٰ مدینی نے باسنادہ خود سوید بن حارث کا بیان نقل کیا ہے کہ میں اپنی قوم کے چھ آدمیوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم آپ ﷺ سے
١٢٠
ہم کلام ہوئے تو ہمارا خلق اور وضع جناب ﷺ کو بھ سوال یہ تھا کہ تم کون ہو؟ خادموں نے جواب دیا کہ ہ مسکرائے اور یہ کہا کہ ہر بات حقیقت اور مغز رکھتی ہے۔ اور تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے۔ حضور ﷺ ہمارے جسم و روح میں ساری ہیں پانچ تو ہمیں آپ ایمان لانا ہمارا فرض ہے اور پانچ پر عمل بجالانے کے ہمارے خلق میں داخل تھیں جو اب تک ہم ان کے پا کو بنظر کراہت دیکھتے ہیں۔ حضور نے سوال کیا کہ ج کو معلوم ہوئے بتلاؤ کیا ہیں؟ ہم نے جواب دیا: ان والبعث بعد الموت پھر پانچ عملیات کے تقول لا اله وتقيم الصلوة وتؤتى الـ الحرام من استطاع اليه سبيلاً“ پھر ہم نے یہ دریافت کیا کہ وہ پانچ خ تھے؟ ہم نے کہا:
خوشحالی میں خدا کا شکر بجالاتے تھے اور پر سچے دل سے راضی رہتے تھے اور معرکوں میں ہما کسی دشمن کی حالت زار پر خوشی نہ منایا کرتے تھے۔
”حكماء علماء كادوا أن يكونوا ہے اور عالم بھی اور ان کی دانش اس حد تک پہنچ چک نبیوں کے رتبہ پر نہیں پہنچے معلوم ہوا کہ حکماء اور علماء نہیں اور فقاہت وحی نبوت کا جزو ہے جس کے حص نبوت چونکہ وہی ہے وہ ایسے خصائل کے دستیاب ہو
علامہ سیوطی نے اتقان میں لکھا ہے: ”و اثبات واثباتها نفى كقولك كاد زيد يفعل
١٢١
ہم کلام ہوئے تو ہمارا نطق اور وضع جناب ﷺ کو بہت پسند خاطر معلوم ہوئے جناب ﷺ کا پہلا سوال یہ تھا کہ تم کون ہو؟ خادموں نے جواب دیا کہ ہم مؤمن ہیں۔ آنحضرت ﷺ ہمارا قول سن کر مسکرائے اور یہ کہا کہ ہر بات حقیقت اور مغز رکھتی ہے۔ تمہارا قول کس قدر سچائی اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے۔ حضور ﷺ کے خدام نے جواب دیا کہ پندرہ خصال ہمارے جسم و روح میں ساری ہیں پانچ تو ہمیں آپ کے مشنریوں کی معرفت معلوم ہوئی ہیں جن پر ایمان لانا ہمارا فرض ہے اور پانچ پر عمل بجالانے کے ہم مامور ہیں اور پانچ باتیں زمانہ جاہلیت میں ہمارے خلق میں داخل تھیں جو اب تک ہم ان کے پابند ہیں کیا آپ ﷺ ان میں سے کسی خصلت کو بنظر کراہت دیکھتے ہیں۔ حضور نے سوال کیا کہ جو اصول ایمان میرے ایلچیوں کی معرفت آپ کو معلوم ہوئے بتلاؤ کیا ہیں؟ ہم نے جواب دیا: ان تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت پھر پانچ عملیات کے متعلق جناب نے استفسار کیا۔ ہم نے کہا: ”ان تقول لا اله وتقيم الصلوٰة وتؤتی الزکوٰة وتصوم رمضان وتحج البيت الحرام من استطاع اليه سبيلا“
پھر ہم سے یہ دریافت کیا کہ وہ پانچ خصائل بتلاؤ جس کے زمانہ جاہلیت میں پابند تھے؟ ہم نے کہا:
خوشحالی میں خدا کا شکر بجالاتے تھے اور مصیبت میں ثابت قدم اور صابر تھے اور قضاء پر سچے دل سے راضی رہتے تھے اور معرکوں میں ہمارے کارنامے ہماری سچائی کی داد دیتے تھے اور کسی دشمن کی حالت زار پر خوشی نہ منایا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے کہا:
”حکماء علماء كادوا أن يكونوا من فقههم انبياء“ یعنی یہ قوم حکیم دین بھی ہے اور عالم بھی اور ان کی دانش اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ قریب ہے کہ وہ نبی ہو جائیں۔ لیکن نبیوں کے رتبہ پر نہیں پہنچے معلوم ہوا کہ حکماء اور علماء کا مدارج انبیاء کے قریب ہے لیکن معہذا وہ نبی نہیں اور فقاہت دینی نبوت کا جزو ہے جس کے حصول سے انسان قریب نبوت ہو جاتا ہے۔ لیکن نبوت چونکہ وہبی ہے وہ ایسے خصائل کے دستیاب ہونے سے حاصل نہیں ہوتی۔
علامہ سیوطی نے اتقان میں لکھا ہے: ”واشتهر على الالسنة كثيرا ان نفيها اثبات واثباتها نفى كقولك كاد زيد يفعل بدليل وأن كادوا ليفتنونك وما كاد
١٢١
يفعله معناه فعل بدليل وما كادوا يفعلون اخرج ابن ابى حاتم من طريق الضحاك عن ابن عباس قال كل شيء فى القرآن كادوا كاد ويكاد فانه لايكون ابدا ا ثم قال والصحيح الاول انها كغيرها نفيها نفى واثباتها اثبات فمعنى كاد يفعل قارب الفعل ولم يفعل وما كاد يفعل ما قارب الفعل فضلاء ان يفعل فنفى الفعل لازم من نفى المقاربة عقلا“
پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ پانچ باتیں میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ جو چیز تمہارے کھانے میں نہ آئے اسے مت جمع کرو۔ جس مکان میں رہائش نہ ہو بلکہ زائد ہو اسے مت بناؤ۔ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل جاتی رہے گی اس کی رغبت مت کرو۔ اور خدا کا ڈر اپنے دل میں رکھو جس کے پاس تم جاؤ گے اور اس کے دربار میں پیش کئے جاؤ گے اور عاقبت کی رغبت کرو جہاں تم پہنچو گے اور وہاں دوامی طور پر رہو گے۔ قوم حضرت ﷺ کی وصیت کو سینوں میں محفوظ لے کر واپس ہوئے اور اس پر عمل کیا۔ یہ سارا ماجرا ء وفد بنی ازد کا ہے۔ جسے علامہ ابن القیمؒ نے زاد المعاد ج ١ کے ص ١٥٠ پر لکھا ہے۔
٧...... ضمیمہ نمبر
”عن انس بن مالك قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى قال فشق ذلك على الناس فقال لكن المبشرات فقالوا يا رسول الله وما المبشرات قال روياء المسلم وهى جزء من اجزاء النبوة رواه الترمذى واحمد فى مسنده والحاكم فى المستدرك وصححه السيوطى فى الجامع الصغير“ رسول اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس پر کتاب نازل ہو اور نبی وہ پیغمبر ہے جو صاحب کتاب نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ نے ہر دو قسم کی پیغمبری کو (خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی) مسدود فرمایا ہے اور کہا کہ میرے بعد رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے۔ میرے بعد کوئی رسول ہو گا نہ نبی۔ لیکن مبشرات جو نبوت کا جزو ہیں۔ باقی رہ گئے ہیں۔ مبشرات منامات صالحہ کو کہتے ہیں جو مسلمان دیکھے۔
☆......................☆
١٢٢
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
محکمات ربانی
لنسخ القائے قادیانی
حضرت مولانا حکیم ولی الدین بھاگلپوریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تعارف رسالہ
طبیب عالی استعداد اور راسخ الایمان صاحب طبع سلیم جناب مولوی حکیم ولی الدین صاحب پورنیوی بھاگلپوری جن کی پختہ ایمانی و مستقل مزاجی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مولوی عبدالماجد قادیانی بھاگلپوری کے ساتھ نسبت قرابت، شب و روز کی صحبت اور ان پر اثر ڈالنے کے مختلف تدابیر کے باوجود ان کے بھی معتقدات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بلکہ اور زیادہ پختہ ہوگئی۔ اس رسالہ میں مؤلف القائے ربانی کے ان فریبوں اور کذب بیانیوں کا پردہ کھولا ہے جس کے ذریعہ انہوں نے ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ میں ڈال کر فیصلہ آسمانی کی ہدایتوں سے روکا ہے۔ رسالے کا یہ مضمون نہایت قابل قدر ہے کہ مؤلف القا نے حضرت مجددؒ کے جن مکاتیب کو اپنے دعوے کا مؤید خیال کیا تھا۔ انہیں مکاتیب سے ان کے دعوے کی غلطی دکھا کر مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے۔
ضروری اطلاع
اس رسالہ (محکمات ربانی) کے بروقت شائع ہونے میں جو اس قدر تعویق ہوئی اور شائقین کو شدید انتظار کی تکلیف اٹھانی پڑی۔ وہ ایک امر اتفاقی ہے جو رسالے کی کاپی و پروف کی تصحیح کے زمانہ میں اصل مسودہ کا بعض حصہ ڈاک میں ضائع ہونے اور مؤلف رسالہ جناب حکیم صاحب کی طویل علالت کی وجہ سے ظہور میں آیا۔ ورنہ رسالہ کب کا شائع ہوا ہوتا۔
ناظرین! اس رسالہ کو ملاحظہ فرما کر نہایت مسرور ہوں گے کہ مؤلف رسالہ نے کس خوبی سے قادیانی خدمات کا پردہ فاش کر کے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ قادیانی جماعت کے مخصوص اہل علم کی یہ حالت ہے اور ان کی لیاقت علمی کی یہ کیفیت ہے۔
فاعتبروا یا اولی الالباب
عرض حال
اک فسانہ ہے حال دل میرا
میں کیا اور میری تحریر کیا کہنے کو اشرف المخلوقات ہوں پھر بھی مخلوق ہوں میری ہستی ٢
خود بھی فنا کی چادر اوڑھنے کیلئے ہر وقت تیار ہے ب ہونے کی نشانی ہے۔
زندگی موت کے آنے ک
ایک دن خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ب قیامت کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ی مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین کی شفاعت سے بخشش اور مغ خدا کرے مسلمان رہوں، اور مسلمان اٹھوں، چودہ صد ہے۔ تاریکی اور جہالت ہر طرف پھیل رہی ہے عام ان
جب میں دہلی میں علم طب حاصل کر رہا تھا کسی ضرورت موعود ومسیح ہونے کا دعویٰ تھا۔ لوگوں میں چرچا ہونے کہ چلو زیارت سے مشرف ہو جاؤ خوشی خوشی گیا اور ا تھی جواب ملا کہ آج باریابی نہیں ہو سکتی ناچار محروم واپ
مشکلوں سے فرصت ملی چل کھڑا ہوا۔ جذبہ شوق کشاں میری رہبری منظور تھی یک بیک دل میں یہ بات پی رقت کی حالت مجھ پر طاری ہو گئی قدم رک گیا میں ٹ میرے رازق میرے پروردگار میرے پالنہار تو ہی صراط مستقیم نصیب ہو۔ میں تیری رضا مندی کا جوی ہوں اگر جناب مرزا غلام احمد صاحب واقعی مسیح موعو امراض کی دوا اپنے مسیح موعود سے دلوا، اپنی چمکار دکھ ان کے شر سے محفوظ رکھ، دام تزویر سے دور رکھ۔ ی مرزا قادیانی باہر کھلے پچھم رخ کے پختہ صحن میں مو لباس اور مختلف ہیئت میں بے باکانہ بیٹھے تھے اور م اوپر بالا خانہ لوہے کے سیخچے سے گھرا تھا چارپائی پر ا ٣
خود مجھی کو فنا کی چادر اوڑھنے کیلئے ہر وقت تیار ہے دنیا میں آنا جانے کی دلیل اور پیدائش ناپید ہونے کی نشانی ہے۔
زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
ایک دن خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور جو کچھ کیا دھرا ہے نیک و بد سب دیکھنا ہے۔ قیامت کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اللہ کی رحمانیت اور حضرت رسول مقبول محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین کی شفاعت سے بخشش اور مغفرت کی بہت کچھ امید ہے۔ مسلمان ہوں، خدا کرے مسلمان رہوں، اور مسلمان اٹھوں، چودہ صدی کا زمانہ ہے ضلالت اور گمراہی کا دور دورہ ہے۔ تاریکی اور جہالت ہر طرف پھیل رہی ہے عام انسان کو نبی بنانے کی ناجائز کوشش ہو رہی ہے جب میں دہلی میں علم طب حاصل کر رہا تھا کسی ضرورت سے مرزا غلام احمد دہلی آئے۔ آپ کو مہدی موعود ومسیح ہونے کا دعویٰ تھا۔ لوگوں میں چرچا ہونے لگا کہ وہ آئے ہیں دل نے کہا کہ یہی موقع ہے چلو زیارت سے مشرف ہو جاؤ خوشی خوشی گیا اور اپنی حاضری کی خبر کرائی آپ کی طبیعت ناساز تھی جواب ملا کہ آج باریابی نہیں ہو سکتی ناچار محروم واپس آیا۔
قطع امید سے امید اور بڑھی اشتیاق دو چند ہوا اگلے دن پھر عرضی دی مطب کا وقت تھا مشکلوں سے فرصت ملی چل کھڑا ہوا۔ جذبہ شوق کشاں کشاں جارہا تھا کہ سر راہ ایک مسجد ملی خدا کو میری رہبری منظور تھی یک بیک دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کر لو ایک رقت کی حالت مجھ پر طاری ہوگئی قدم رک گیا میں ٹھہر گیا اور یوں گویا ہوا اے میرے خالق اے میرے رازق میرے پروردگار میرے پالنہار تو ہی ہادی برحق ہے تیری ہی توفیق خیر رفیق ہو تو صراط مستقیم نصیب ہو۔ میں تیری رضا مندی کا جوئیاں ہوں اور تیرے مسیح موعود سے ملنے جارہا ہوں اگر جناب مرزا غلام احمد صاحب واقعی مسیح موعود ہیں تو امر حق مجھ پر ظاہر کر دے، میرے قلبی امراض کی دوا اپنے مسیح موعود سے دلوا، اپنی چمکار دکھلا ان کی نورانیت سے مجھے منور کر دے۔ نہیں تو ان کے شر سے محفوظ رکھ، دام تزویر سے دور رکھ۔ یہ دعا کر کے چل نکلا اور در دولت پر حاضر ہوا۔ مرزا قادیانی باہر کھلے پچھم رخ کے پختہ صحن میں موجود تھے۔ بہت سے لوگ ارد گرد فرش پر مختلف لباس اور مختلف ہیئت میں بے باکانہ بیٹھے تھے اور کچھ لوگ اتر رخ کے لمبے سائبان میں جس کے اوپر بالا خانہ لوہے کے کٹہرے سے گھرا تھا چارپائی پر ننگے سر بیٹھے تھے اور بے تکلف آپس میں ہنس
٣
بول رہے تھے۔ متانت کا لحاظ بالکل نہیں تھا آزادانہ روش تھی، میں سمجھا کہ یہ عام جلسہ ہے اندر مرزا قادیانی تشریف فرما ہونگے فوراً میں وہاں سے اٹھ کر کمرے کے اندر چلا گیا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص سادی وضع میں گردن جھکائے بالکل ہی خاموش بیٹھے ہیں وہاں چہل پہل دیکھی تو یہاں سکوت اور محویت کا عالم پایا کچھ بولنا خلاف تہذیب سمجھا ناکام پھرا اور پھر اسی جلسہ میں آبیٹھا۔
بیٹھتے ہی ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ آپ مسیح موعود ہو نیکا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس دعوے کے زمانہ کی جو شناخت لکھی ہے اور جس تاریکی اور جہالت کا ذکر ہے وہ اس زمانہ میں موجود ہے سائل نے فوراً ہی کہا کہ میں نے مانا یہ زمانہ تو ہم آپ اور کل انسان کیلئے مشترک ہے۔ آپ اپنی خصوصیت کی کیا دلیل رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بار دگر جواباً فرمایا کہ تم چالیس روز میرے ساتھ رہو تو اس کی تصدیق ہو جائے گی اور یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی یہ کہا اور ایک قسم کا اشارہ کیا معا کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کچھ بیٹھے بیٹھے ہم زبان ہو کر کہنے لگے کہ میں ساتھ رہ کر اس کی تصدیق کر چکا ہوں، یہ جملہ پورا ہوتے ہی سب ہنسنے بولنے اٹھنے بیٹھنے لگے۔ چھڑی ہوئی گفتگو یونہی رہ گئی۔ میں بھی چپکا کھڑا ہوا کسی قسم کی تبدیلی مجھ میں پیدا نہیں ہوئی مگر دل بول اٹھا کہ یہاں صداقت نہیں اتنے بڑے اولوالعزم مسیح موعود کی مجلس یوں پھیکی نہیں ہوتی ۔ طالب حق پر ضرور کچھ نہ کچھ اپنا اثر ڈالتی ہے۔ اور اسے الٰہی رنگ میں بغیر رنگے نہیں چھوڑتی جس کی تڑپ تھی دل میں وہ صورت نہیں ملی،
دل مطمئن ہو گیا اور اطمینان پر دنوں سے مہینے مہینے سے برس اور برس سے برسوں گزر گئے، ہاں کبھی درثمین نیز مرزا قادیانی کے دیگر قصائد نعتیہ کے دیکھنے کا اتفاقاً اتفاق پڑتا رہا۔ رسول اللہ ﷺ کی تعریف اور توصیف سے دل کو مسرت ہوتی رہی لیکن مرزا قادیانی کے خاص دعوے کے متعلق میرا وہی خیال رہا کہ یہ دعویٰ صداقت پر مبنی نہیں اور بس۔ پھر مرزا قادیانی اپنی تحریر کس رنگ میں لکھتے رہے اور کیا لکھتے رہے جماعت احمدیہ کیا کرتی رہی اس سے بالکل ہی بے خبر رہا۔ آخر ان لوگوں کی بلند پروازی ”اے روشنی طبع تو برمن بلا شدی“ کے مصداق بھی خدا کو انکشاف حقیقت منظور ہوا علماء اہل حق اور اس جدید گروہ کے مابین مونگیر میں مناظرہ کی ٹھہری۔ میں اس وقت سپول میں تھا طبیب جیسا آزاد ہوتا ہے۔ اتنی ہی اسے پابندی بھی ہوتی ہے۔
کیسی آزادی کہ یاں یہ حال ہے آزاد کا
ان دنوں دو ایک ایسے لب فرش مریض زیر علاج تھے کہ وقت پر مونگیر پہنچنے کی بہت
٤
کوشش کی مگر بے کار، پہنچا بھی مگر اس وقت جب قادیان کر رہی تھی۔ بے وقت پہنچنے کا بہت ہی افسوس ہوا دوسر
کچھ دنوں بعد مرزا قادیانی کی چند متضاد تحریریں اتفاقاً میر بچپن سے اخی محترم مولانا عبد الماجد صاحب کو ایک ربط و وقعت جو میرے دل میں ہے کہ اوروں کے خیال میں آ اور واقعی جو ہمدردی آپ میں ہے وہ پورا جاتی ہے خیر سے وہ بھی مرزا قادیانی کی بیعت حاصل کر گیا اور میں نے اپنے محترم بھائی کی خدمت میں نہا تحریروں کے انکشاف حقیقت پر استفسار ارسال کیا مگ کا ماجد بھائی کے یہاں سے جواب آیا اور وہ بھی سر احقاق حق پر مبنی ہیں۔ عنقریب آپ انہیں ملاحظہ کری ہی کے رنگ میں مرزا قادیانی کی کتاب توضیح المرام میرے محترم بھائی (عبد الماجد قادیانی) کے نام س اسے میں نے پڑھا پر افسوس۔
جو چیرا تو ایک قطر
میرا دل ہرگز اسے قبول نہیں کرتا اور مجھے تحریر ہے۔ العلم عند اللہ اتنی بات تو ضرور ہے ہیں اور ظلمات تک پہنچاتی ہیں ہر مسلمان کا فرض ہ باتوں کی طرف رغبت دلائے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارش ہی آدمی گھاٹے میں ہیں:
"والعصر . ان الانسان لفی خ وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر"
ایک دوسرے کو دین حق کی پیروی کی ہدایت کرتے
غور کیجئے یہاں خدائے تعالیٰ نے صر
کوشش کی مگر بے کار، پہنچا بھی مگر اس وقت جب قادیانی جماعت کرسی اٹھائے صورت فرار اختیار کررہی تھی۔ بے وقت پہنچنے کا بہت ہی افسوس ہوا دوسرے ہی دن میں واپس آیا اس مناظرہ کے کچھ دنوں بعد مرزا قادیانی کی چند متضاد تحریریں اتفاقاً میری نظر سے گزریں طبیعت کو پریشانی ہوئی بچپن سے میں محترم مولانا عبد الماجد صاحب کو ایک ریفارمر اور ذی علم تصور کرتا رہا۔ ان کی عظمت و وقعت جو میرے دل میں ہے کہ اوروں کے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔
اور واقعی جو ہمدردی آپ میں ہے وہ پورینی کے اور حضرات میں مشکلوں سے پائی جاتی ہے خیر سے وہ بھی مرزا قادیانی کی بیعت حاصل کرچکے تھے۔ میرا خیال فطرتاً آپ کی طرف گیا اور میں نے اپنے محترم بھائی کی خدمت میں نہایت ہی اخلاص سے ایک خط انہیں متضاد تحریروں کے انکشاف حقیقت پر استفساراً ارسال کیا پھر پے در پے کئی خطوط بھیجے۔ صرف ایک خط کا ماجد بھائی کے یہاں سے جواب آیا اور وہ بھی سوال دیگر جواب دیگر رنگ میں یہ خطوط محض احقاق حق پر مبنی ہیں۔ عنقریب آپ انہیں ملاحظہ کریں گے۔ ان خطوط مرسلہ کے بعد مراسلات ہی کے رنگ میں مرزا قادیانی کی کتاب توضیح المرام پر کچھ لکھ رہا تھا کہ اتنے میں ”القاء ربانی“ میرے محترم بھائی (عبدالماجد قادیانی) کے نام سے شائع ہوئی اور مجھے ملی نہایت غور سے مکرر اسے میں نے پڑھا پر افسوس۔
جو چیرا تو ایک قطرہ خون نہ نکلا
میرا دل ہرگز اسے قبول نہیں کرتا اور مجھے یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ تحریر واقعی ماجد بھائی کی تحریر ہے۔ العلم عند اللہ اتنی بات تو ضرور ہے کہ ایسی تحریریں نورانیت اور حقانیت سے الگ ہیں اور ظلمات تک پہنچاتی ہیں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ انسان کو بری باتوں سے روکے اور اچھی باتوں کی طرف رغبت دلائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ عصر کے وقت کی قسم کہ سارے ہی آدمی گھاٹے میں ہیں:
”والعصر ، ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملوا الصلحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر“ ﴿مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے اور ایک دوسرے کو دین حق کی پیروی کی ہدایت کرتے رہے وہ البتہ گھاٹے میں نہیں ہیں۔﴾
غور کیجئے یہاں خدائے تعالیٰ نے صرف معرفت اور اس پر صبر کرنے کو بس نہیں فرمایا
٥
بلکہ باہم ایک دوسرے کی نصیحت اور حق کی طرف ہدایت کرنے کو بھی ضروری شرط قرار دیا اور صاف فرما دیا کہ ان کے علاوہ جتنے لوگ ہیں سب گھاٹے میں ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد خداوندی یوں ہے۔
”ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر اولئك هم المفلحون (آل عمران: ١٠٤) “ تم میں سے ایسی ایک جماعت ہونی چاہئے جو لوگوں کو بھلائی اور نیکی کی رغبت دلاتی رہے اور برائی سے روکتی رہے جو لوگ ایسا کرتے ہیں درحقیقت وہ فلاح پاگئے۔
اس آیت شریف کی تفسیر خود حضرت رسول مقبول ﷺ نے بیان فرمائی ہے جس کے حذیفہؓ راوی ہیں۔
”قال والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف وتنهون عن المنكر اوليوشكن الله ان يبعث عليكم عذابا عنده ثم لتدعنہ ولا يستجاب لكم رواه الترمذى “ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات برتر کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم لوگ لوگوں کو اچھی باتوں کی رغبت دلاتے رہو حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو اگر تم اپنے تئیں اس اہم اور ضروری کام سے معزول کر دو گے تو خوب سمجھ لو کہ اگر اس وقت تم مجھ سے دعا مانگو گے تو میں تمہاری دعا ہرگز قبول نہیں کروں گا۔
ایک اور حدیث مسلم شریف کی ہے اسے ملاحظہ کیجئے کس قدر قابل عمل اور ضروری ہے جو ابی سعید خدریؓ نے روایت کی ہے۔
”قال من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذالك اضعف الايمان “ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو تم میں سے کوئی خلاف شرع بات دیکھے تو چاہئے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر اپنی ہاتھ سے روک نہ سکے اور اس پر بھی قادر نہ ہو تو زبان سے برا کہے اور اتنا بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ دل سے برا سمجھنا ضعف ایمان کی نشانی ہے۔
اور یہ بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے اور مذہب اسلام بلکہ ساری دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ سب سے پہلے انسان کو اپنی اور اپنے گھروں اور اپنے اقرباء اور اپنے ہم وطن کی ہدایت مدنظر رکھنی چاہئے پھر عام مخلوق خدا کی۔ بنا بریں میں نے القاء ربانی پر توجہ کرنا اپنا فرض تصور کیا۔ اخی محتشم مولانا
٦
عبد الماجد صاحب اور محترمی مولوی علی احمد صاحب ایم اے سے اور سلسلہ حقہ سے الگ ہو جانے سے مجھے جیسی ر احترام سمجھتا ہوں وہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا۔
ہمیشہ روح کھنچتی
یہ دنیاوی مراتب اور ہیں، دینی اعتبارات اصلوں کے تفاوت کے اعتبار سے خدا کے نزدیک انسان کہ جسم کی توانائی پر محمول کرنا اپنی عزیز جان کو اپنے ہاتھوں بھی سارا جسم پھول جاتا ہے اور آدمی فربہ معلوم ہونے اس مختصر رسالہ میں اس کی علامت اور علاج کو نہایت طریقہ پر بتا دیا ہے اور بیان کر دیا ہے یہ مجھ پر فرض تھا خدا اس کو مقبول عالم بنائے سعید روحیں ا لئے شمع ہدایت بنے اور میرے لئے بموجب نجات و حق کو فتح ونصرت نصیب ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ بھی مت نے اس تمہید کو شروع کیا ہے اور اسی کی خوشخبری بھرے والآخر هو الله۔ الظاهر والباطن هو الله کریں۔ وہ یہ ہے:
” يا ايها الذين امنوا هل ادلكم تؤمنون بالله ورسوله تجاهدون فی خيرلكم ان كنتم تعلمون يغفرلكم ذنوب الانهار ومسكن طيبة في جنت عدن نصر من الله وفتح قريب وبشر المؤمنين
بتاؤں جو تم کو آخرت کے دردناک عذاب سے بچا لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنا مال اور اپنی جانیں لڑا دو یہ سمجھو ( ان باتوں پر عمل کرنے سے ) خدا تمہارے
٧
عبدالماجد صاحب اور محترمی مولوی علی احمد صاحب ایم اے کے اس راہ (قادیانی ہونے) پر جانے سے اور سلسلہ حقہ سے الگ ہو جانے سے مجھے جیسی کچھ پریشانی ہے اور جیسا میں انہیں واجب احترام سمجھتا ہوں وہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا۔
ہمیشہ روح کھنچتی ہے دوا کی
یہ دنیاوی مراتب اور ہیں، دینی اعتبارات جدا۔ انسان کے کمال کا دارومدار انہیں دو اصلوں کے تفاوت کے اعتبار سے خدا کے نزدیک انسان کا رتبہ اور درجہ بلند ہوتا ہے۔ ورنہ ہر فربہی کو جسم کی توانائی پر محمول کرنا اپنی عزیز جان کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ کیونکہ کبھی ورم سے بھی سارا جسم پھول جاتا ہے اور آدمی فربہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس لئے میں نے اپنے مقدور بھر اس مختصر رسالہ میں اس کی علامت اور علاج کو نہایت ہی کھول کر سہل الوصول اور ممکن الحصول طریقہ پر بتا دیا ہے اور بیان کر دیا ہے یہ مجھ پر فرض تھا جسے میں نے محض اللہ ہی کے واسطے ادا کیا۔
خدا اس کو مقبول عالم بنائے سعید روحیں اس کے طرف متوجہ ہوں تاریک دلوں کے لئے شمع ہدایت بنے اور میرے لئے بموجب نجات، خدا نے چاہا تو ضرور ایسا ہو کر رہے گا اور اہل حق کو فتح و نصرت نصیب ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ بھی مظفر و منصور ہوں گے اللہ ہی کے نام سے میں نے اس تمہید کو شروع کیا ہے اور اسی کی خوشخبری بھرے ارشاد پر اس تمہید کو ختم کرتا ہوں۔ ”الاول والاخر هو الله۔ الظاهر والباطن هو الله“ نہایت ہی توجہ سے اس آیت شریف پر غور کریں۔ وہ یہ ہے:
”يا ايها الذين امنوا هل ادلكم على تجارة تنجيكم من عذاب اليم تؤمنون بالله ورسوله تجاهدون فى سبيل الله باموالكم وانفسكم ذلكم خير لكم ان كنتم تعلمون يغفرلكم ذنوبكم ويدخلكم جنت تجرى من تحتها الانهار ومسكن طيبةً فى جنت عدن ذالك الفوز العظيم واخرى تحبونها نصر من الله وفتح قريب وبشر المؤمنين“ ﴿مسلمانو! کہو تو میں تمہیں ایسے تجارت بتاؤں جو تم کو آخرت کے دردناک عذاب سے بچائے (سنو یہ ہے) خدا اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنا مال اور اپنی جانیں لڑا دو یہ تمہارے بھلائی کی باتیں ہیں بشرطیکہ تم اسے سمجھو (ان باتوں پر عمل کرنے سے) خدا تمہارے گناہ معاف کرے گا اور تمہیں بہشت کے لئے
٧
(ایسے فرحت افزاء) باغ میں داخل کرے گا جس کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ (اور اسی پر بس نہیں بلکہ) عمدہ عمدہ مکانات بہشت کے باغ میں (رہنے کو) تمہیں ملیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (ان سب سے ایک اور بڑی نعمت جس کو تم بھی بڑی نعمت سمجھتے اور دوست رکھتے ہو ملے گی۔ یعنی خدا کی طرف سے تم کو مدد ملے گی اور تم عنقریب فتح یاب اور مظفر و منصور ہوگے۔ (اے محمد ﷺ ) یہ خوشخبری مسلمانوں سے بیان کر دے اور انہیں بشارت دے دے۔ ﴾
والسلام مع التواضع والاكرام
يك نظر از صدق كن معمور شو
بقولم ابو سعید محمد ولی الدین اشک بھاگلپوری پورنوی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الهی از تو حب مصطفی را
الحمد لاهله والصلوة لاهلها
وہ باتیں ہیں لکھیں اس میں پتہ جن کا نہیں چلتا عیاں ہے غلط بحث سے مؤلف کی پریشانی
کہہ دیتی ہے خود تحریر کہ حق سے مڑے ہیں دبائے سے کہیں دبتا ہے حضرت جوش نفسانی
عبارت اپنے مطلب کی جہاں پائی رقم کردی چھپا رکھا مگر حق کو بنا کر راز پنہانی
طریقہ یہ نہیں دین دار کا سچے مسلمان کا طریقہ یہ مسیلمی ہے عقیدہ ہے یہ نصرانی
غلط تحریر پر ایسی تعلی واہ رے جرات نہیں ہے نور دین کچھ بھی نہیں ہے آنکھ میں پانی
بھرم تھا قوم میں جو کچھ وہ اس تحریر نے کھو دیا ہوا کوؤں سے مل کر آہ تیرہ لعل رمانی
الٰہی درگزر فرما کہ تو غفار ورحمن ہے تیرے بندے ہیں بندے سے بہت ہوتی ہے نادانی
یہ حالت زار اپنے بھائی کی دیکھی نہیں جاتی تجھی پر خوب روشن ہے میرے دل کی پریشانی
تو ہی ہادی برحق ہے دکھا دے راہ حق ان کو کجی دل سے نکال ان کے بنا دے ان کو نورانی
طبیعت مضطرب ہے اشک کی تجھ سے دعا یہ ہے بہت بگڑے ہیں اعمال ان کو دکھا اپنی درخشانی
٨
معزز ناظرین! فیصلہ آسمانی کے مؤلف اور حقانی پریس کی جان توڑ کوشش اور مرزائی جماعت کے ایک جانی دو کے ساتھ ابھی ابھی ایک کتاب بنام ”القاء ربانی“ شائع ہو حضرات کی نظر میں کیا وقعت رکھتی ہے اور اس میں کس قدر دا لیا گیا ہے۔ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی کس رنگ میں کے پرمغز اور پرمعنی محقق اور مدلل تقریروں سے کس درجہ علیحد انشاء اللہ تعالیٰ ان کل باتوں پر عقلاً اور نقلاً ایک تفصیلی کافی ا پائیں گے۔ نیز مؤلف القاء ربانی کے مفروضہ نثار کردہ غل (دھوکہ دہی) ملاحظہ کریں گے مگر پہلے میں اس بات کو ثابت ک قادیانی جماعت کی نظر میں کیا وقعت رکھتی ہے۔ کیونکہ جناب اکثر کشف والہام میں ظہرا و بطنا رہا کرتا ہے اگر حسن اتفاق س کام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ استعارہ تھا، وہ کنایہ تھا۔ حقیق سچ ہوتا ہے کہ معاذ اللہ معاذ اللہ بالکل معرض اختلاق اس کے سامنے پھر جاتا ہے۔ کیا عجب کہ اس مشن کے کوئی مق ایک معمولی شخص کے قلم سے نکلی ہے جماعت احمدیہ ان باتوں اس لئے میں آفتاب سے بھی زیادہ اس بات پ القاء ربانی قادیانی جماعت کے ایک بڑے ریفارمر اور دماغ سوزی کا نتیجہ ہے۔ وہ بھی بطیب خاطر نہیں بلکہ چار ناچا صاحب کے تعمیل ارشاد نے مؤلف کو اس جان جوکھم میں بات کا جواب تو ہوتا ہی نہیں محض اپنی جماعت کی تشفی کے ل ڈالا اور ظاہر ہے کہ جب خلیفہ المسیح نے جواب لکھنے کے ل پسند کیا اور ان کو جواب لکھنے پر مامور فرمایا تو پھر ایسے شخ چاہئے اور وہ شخص کیسا متبحر اور قابل ہوگا۔ اب ممکن تھا کہ ہوتا اور خلیفہ المسیح کے دربار میں جو کچھ مؤلف القاء ربانی القاء ربانی کا وزن جاتا رہتا اس لئے یہ دکھلانا بھی نہایت القاء ربانی کو اشاعت کے بعد کس نظر سے دیکھا البدر قاد
٩
معزز ناظرین! فیصلہ آسمانی کے مبارک اور حقانی فیصلہ کے جواب میں تقریباً ڈیڑھ برس کی جان توڑ کوشش اور مرزائی جماعت کی اپنی جانی اور مالی قوتوں سے بڑے غور وتدبر کے ساتھ ابھی ابھی ایک کتاب بنام ”القاء ربانی“ شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب اہل حق اور اہل علم حضرات کی نظر میں کیا وقعت رکھتی ہے اور اس میں کس قدر دانستہ فریب دہی اور دروغگوئی سے کام لیا گیا ہے۔ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی کس رنگ میں تفسیر کی گئی ہے۔ صحابہ کرام و ائمہ عظام کے پرمغز اور پرمعنی متفق اور مدلل تقریروں سے کس درجہ علیحدگی اور خلاف ورزی اختیار کی گئی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان کل باتوں پر عقلاً اور نقلاً ایک تفصیلی کافی اور تسلی بخش بحث آپ اس رسالہ میں پائیں گے۔ نیز مؤلف القاء ربانی کے مفروضہ شمار کردہ غلط نامہ میں بے شمار غلطیاں اور خدعات (دھوکہ دہی) ملاحظہ کریں گے مگر پہلے میں اس بات کو ثابت کرنا اور دکھلانا چاہتا ہوں کہ القاء ربانی قادیانی جماعت کی نظر میں کیا وقعت رکھتی ہے۔ کیونکہ جناب مرزا قادیانی کے دعوے اور ان کے اکثر کشف والہام میں ظہر البطن رہا کرتا ہے اگر حسن اتفاق سے پورا ہوگیا تو فبہا ورنہ پھر بطن سے کام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ استعارہ تھا، وہ کنایہ تھا۔ حقیقت اس کی کچھ اور ہی ہے غرض ایسا پیچ پڑتا ہے کہ معاذ اللہ معاذ اللہ بالکل مریض انطلاق البطن کی التوائی کیفیت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ کیا عجب کہ اس مشن کے کوئی مقتدر صاحب یوں کہہ دیں کہ القاء ربانی ایک معمولی شخص کے قلم سے نکلی ہے جماعت احمدیہ ان باتوں کی ذمہ دار نہیں۔
اس لئے میں آفتاب سے بھی زیادہ اس بات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب یعنی القاء ربانی قادیانی جماعت کے ایک بڑے ریفارمر اور فاضل مصنف کے زور قلم اور برسوں کی دماغ سوزی کا نتیجہ ہے۔ وہ بھی بطیب خاطر نہیں بلکہ چار ناچار اپنے خلیفہ المسیح جناب حکیم نور الدین صاحب کی تعمیل ارشاد نے مؤلف کو اس جان جوکھم میں ڈالا ہے۔ سنگ آمد وسخت آمد لاجواب بات کا جواب تو ہوتا ہی نہیں محض اپنی جماعت کی تشفی کے لئے چند سادہ اور سفید اوراق کو سیاہ کر ڈالا اور ظاہر ہے کہ جب خلیفہ المسیح نے جواب لکھنے کے لئے مولوی صاحب کو خصوصیت کے ساتھ پسند کیا اور ان کو جواب لکھنے پر مامور فرمایا تو پھر ایسے شخص کا وزن جماعت احمدیہ میں کس قدر ہونا چاہئے اور وہ شخص کیسا متبحر اور قابل ہوگا۔ اب ممکن تھا کہ یہ انتخاب جواب نکلنے کے بعد غلط ثابت ہوتا اور خلیفہ المسیح کے دربار میں جو کچھ مؤلف القاء ربانی نے جواباً لکھا ہے وہ مقبول نہ ہوتا تو بھی القاء ربانی کا وزن جاتا رہتا اس لئے یہ دکھلانا بھی نہایت ہی ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ نے القاء ربانی کو اشاعت کے بعد کس نظر سے دیکھا البدر قادیان کا ایک مشہور اور مستند اخبار ہے جو ہر
٩
ہفتہ مسیحی دار السلطنت قادیان سے شائع ہوتا ہے اور ریویو آف ریلیجنز دنیا کے مذاہب پر نظر کرنے والا قادیانیوں کا مخصوص رسالہ ہے دونوں کے اہم اور مخصوص مضامین اکثر جناب حکیم نور الدین صاحب کی نظر سے گزر کر نکلتے ہیں اور ان کے محررہ احکامات کی تعمیل ہر قادیانی پر فرض ہوتی ہے غرض دونوں کی آواز جماعت قادیانیہ کی متفقہ آواز ہے۔ ایسے باوقعت اخبار اور پرشوکت رسالے کے مقتدر ایڈیٹر مفتی محمد صادق اور مولوی محمد علی نے القاء ربانی پر اس الفاظ سے ریویو کیا ہے۔
القاء رحمانی بہ تردید فیصلہ ابو احمد رحمانی
”ابو احمد رحمانی کوئی صاحب بنگال میں ہیں۔ جو کہ سلسلہ حقہ (قادیانیت) کی مخالف میں بڑے جوشیلے ہیں اور کئی ایک رسالے چھاپ کر شائع کر چکے ہیں ان کی تحریروں میں پراگندہ اقوال غلط استدلال اور کذب اور افترا کو پبلک پر ظاہر کرنے کے واسطے ہمارے مکرم حضرت مولانا مولوی ابوالجد محمد عبد الماجد صاحب پروفیسر عربی و فارسی ۔ ٹی این جوبلی کالج بھاگلپور نے ایک کتاب تصنیف کی ہے جو مولوی صاحب موصوف سے اور دفتر تحفۃ الاذہان سے بقیمت چھ آنہ فی نسخہ مل سکتی ہے۔ احباب منگوا کر شائع کریں اور بالخصوص اس علاقہ کے لوگوں میں مفت تقسیم کر دیں۔“
(منقول از اخبار البدر قادیان ١٦، ٢٠ نومبر ١٩١٣ء)
ریویو کتاب القادیانی١
”علامہ محمد عبد الماجد صاحب پروفیسر ٹی ۔ این جوبلی کالج کی محنت شاقہ کی تصنیف ہے
١؎ حکیم خلیل احمد صاحب برق آسمانی کے ص ٢١ میں جھنجھلا کر لکھتے ہیں: ”سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مخالفین سن لیں کہ میں مسلمان ہوں سنت والجماعت ہوں سارے آئمہ اور سارے اولیا و صلحا کو مانتا ہوں اور اپنے کو تمیز کے لئے احمدی کہتا ہوں۔ اگر آئندہ سے مجھ کو سوائے احمدی یا ہماری جماعت کے لوگوں کو سوائے جماعت احمدیہ کے مرزائی۔ قادیانی۔ قادیانی۔ کرشن۔ پنتھی وغیرہ جیسے الفاظ سے مخاطب کیا تو میں بھی ہمیشہ وہابی۔ نجدی۔ کوفی۔ دیوبندی۔ کی کورانہ تقلید کی وجہ سے دیوسماجی۔ خر دجالی۔ گنگا دینی۔ سورحدیابی وغیرہ جیسے الفاظ سے مخاطب کروں گا۔“
حکیم خلیل احمد صاحب! اگر آپ سچے ہیں اور آپ کی زبان ایک مسلمان کی زبان ہے کو رانہ تقلید۔ تقلید آپ کا شیوہ نہیں۔ دروغ گوئی آپ کا شعار نہیں۔ جی سے نفرت صاف گوئی سے آپ کو الفت ہے۔ آپ کا دل عورتوں کی طرح کمزور نہیں آپ صورتاً مرد نہیں بلکہ سیرتاً بھی آپ مرد ہیں تو بسم اللہ جو کہا ہے کر کے دکھائیے۔ غضب خدا کا آپ کے گھر کا بھیدی بر ملا آپ کے ایک محترم بزرگ کی توہین کر رہا ہے۔
(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٠
علامہ موصوف کا نام نامی کتاب کی خوبیوں کی کافی شہادت دیتا ہے۔ گویا احمدی احباب خصوصاً علاقہ بھاگلپور کے۔ ہے۔ مخالف کے لئے اس میں تسکین ہے خوبی یہ ہے کہ متا جس کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ حوالجات کو بہ کمال وضاحت کے لئے باعث رہنمائی ہو۔ مصنف ماجور عنداللہ ہے خوب لکھائی۔ چھپائی۔ ضخامت کے مقابل قیمت ٦ آنے بہت ہ الاذہان قادیان۔ (منقو
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) اور اس پیارے نام القاء ربانی کو خرا جوش سے القاء ربانی کو کتاب القادیانی لکھ رہا ہے۔ بس ہر کہ رکھنا مسلمان کا کام نہیں۔ اپنے اندرونی طیش سے ایڈیٹر موصو معلوم ہو جائے کہ احمدی کو قادیانی لکھنے والے کی کیسی درگت ناپاک نام سے سخت نفرت ہے۔ جماعت احمدیہ پر ایسی گہری تھی۔ میں خود ایڈیٹر موصوف سے پوچھتا ہوں کہ حضرت آ ”کتاب القادیانی“ کیوں لکھ مارا اور ہاں جناب حکیم خلیل احم لکھیں چھاپ کر بھیجوا دیں جزاء سیئة مثلھا پوری کوشا و آپ ایسا نہ کرسکیں تو کم سے کم اس زجر و توبیخ کی ایک کاپی م تشفی ہو اور آپ بھی بات کے دھنی ثابت ہوں۔ نہیں تو آ نئے خطابات سے یاد کرتے رہیں گے۔ پھر کچھ کرتے دھر باید کشت۔ ہاں ایک بات اور اپنے مذاق کے مناسب مجبور ہے۔ ان چار میں سے دو لفظ مرزا غلام۔ جس سے مرزا سے آپ بھاگتے ہیں اور اتنا اسے برا جانتے ہیں کہ اس کی نسب لفظ قادیانی جو سکونت کی خبر دیتا ہو کہ اس سے بھی آپ بیزار مسلمانوں کے اکثر نام میں رہا کرتا ہے اور جو با اعتبار سو صاحب کے ساتھ اس مبارک اور پرنور لفظ کو ملاتے۔ سرسید احم ہیں۔ ایسے متبرک نام سے اپنی جماعت کو منسوب کرنے و قادیانی اگر واقعی آپ کے نزدیک نہایت ہی برے الفاظ ہیں ت
١١
علامہ موصوف کا نام نامی کتاب کی خوبیوں کی کافی شہادت ہے۔ علامہ موصوف کا نام نامی تھا ویسا ہی کام کیا ہے۔ احمدی احباب خصوصاً علاقہ بھاگلپور کے لئے بوقت ضرورت کام آنے والی رہنما ہے۔ مخالف کے لئے اس میں تسکین ہے خوبی یہ ہے کہ متانت اور تہذیب کا کما حقہ لحاظ رکھا ہے جس کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ حوالجات کو بہ کمال وضاحت دکھا دیا ہے۔ خدا کرے سلیم دلوں کے لئے باعث رہنمائی ہو۔ مصنف ماجور عنداللہ ہے خوب ہی مدلل لکھا ہے۔ محنت ۔ کاغذ۔ لکھائی ۔ چھپائی ۔ ضخامت کے مقابل قیمت ٦ آنے بہت حد تک واجبی ہے۔ ملنے کا پتہ منیجر تشحیذ الاذہان قادیان۔
(منقول از ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر ١٩١٣ء)
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) اور اس پیارے نام القاء ربانی کو خراب سمجھ کر اس کی مٹی پلید کر کے بڑے جوش سے القاء ربانی کو کتاب القادیانی لکھ رہا ہے۔ بس برس پڑیئے۔ یہی وقت ہے۔ دل میں غبار رکھنا مسلمان کا کام نہیں۔ اپنے اندرونی طیش سے ایڈیٹر موصوف کا باطنی تصفیہ کر دیجئے ذرا انہیں بھی معلوم ہو جائے کہ احمدی کو قادیانی لکھنے والے کی کیسی درگت ہوتی ہے۔ آپ تو آپ مجھے بھی ایسے ناپاک نام سے سخت نفرت ہے۔ جماعت احمدیہ پر ایسی گہری پھبتی اب تک کسی نے تصنیف نہیں کی تھی۔ میں خود ایڈیٹر موصوف سے پوچھتا ہوں کہ حضرت آپ نے ایک بہاری احمدی کی کتاب کو ”کتاب القادیانی“ کیوں لکھ مارا اور ہاں جناب حکیم خلیل احمد صاحب آپ جو کچھ تادیباً انہیں برا بھلا لکھیں چھاپ کر بھیجوا دیں جزاء سیئة مثلھا پوری گوشمالی جب ہی ہوگی۔ شاید ناداری کی وجہ سے آپ ایسا نہ کرسکیں تو کم سے کم اس زجر و توبیخ کی ایک کاپی میرے پاس ضرور بھیج دیں تاکہ میری بھی تشفی ہو اور آپ بھی بات کے دھنی ثابت ہوں۔ نہیں تو آئے دن آپ کی جماعت کو نیز آپ کو نئے نئے خطابات سے وہ یاد کرتے رہیں گے۔ پھر کچھ کرتے دھرتے بن پڑے گی۔ گربہ را برو زاول باید کشت۔ ہاں ایک بات اور اپنے مذاق کے مناسب سمجھئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی چار لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ان چار میں سے دو لفظ مرزا غلام ۔ جس سے مرزا صاحب کا نام متعین اور مشخص ہوا ہے ان سے آپ بھاگتے ہیں اور اتنا اسے برا جانتے ہیں کہ اس کی نسبت سے بھی آپ کو شرم آتی ہے اور آخر کا لفظ قادیانی جو سکونت کی خبر دیتا ہے اس سے بھی آپ بیزار ہیں نفرت کرتے ہیں۔ رہا لفظ احمد کا جو مسلمانوں کے اکثر نام میں رہا کرتا ہے اور جو با اعتبار اسمیت مشترک لفظ ہو کوئی خصوصیت مرزا صاحب کے ساتھ اس مبارک اور پرنور لفظ کی نہیں۔ سرسید احمد کی جماعت کو بھی جماعت احمدیہ کہہ سکتے ہیں۔ ایسے متبرک نام سے اپنی جماعت کو منسوب کرنے کی آپ تاکید کر رہے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اگر واقعی آپ کے نزدیک نہایت ہی برے الفاظ ہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١١
غور کیجئے کس قدر عمدہ اور مہتم بالشان ایک نہیں دو دو ریویو ہے اور القاء ربانی کا وزن جماعت قادیانیہ کی نظر میں کس قدر باوقعت اور پرشوکت ہے ساری جماعت قادیانی اس کتاب پر ناز کرتی اور تالی بجاتی ہے اب اس کتاب کے خذعات اور شطحیات ملاحظہ کیجئے اور قدرت حق کا تماشہ دیکھئے۔
١...... فریب
مؤلف القاء ربانی نے ناظرین سے انٹروڈیوس کرنے کے بعد فیصلہ آسمانی کے جواب میں تمہیداً کے جواب میں تمہیداً جو تحریر شروع کی ہے۔ خدا کی قدرت کہ اس کی پہلے ہی سطر میں دروغ بیانی سے کام لے کر تحریر کرتے ہیں۔ ”ایک اشتہار بھی مصنف (فیصلہ آسمانی) کا جو کسی در بھنگی مرید کے نام سے شائع ہوا ہے دیکھا“ مؤلف القاء ربانی ذرا سوچ کر جواب مرحمت فرمائیں کہ اس اشتہار کو جسے جناب ابراہیم حسین خان صاحب دربھنگوی نے شائع کیا ہے کیونکر اسے علامہ مصنف فیصلہ آسمانی کا اشتہار قرار دیتے ہیں۔ اشتہار کے اندر کوئی سطر کوئی جملہ کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ گمان بھی ہو سکتا ہو کہ یہ اشتہار علامہ مصنف فیصلہ آسمانی کا اشتہار ہے ہاں المرء یقیس علی نفسہ کے رو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ القاء ربانی کا مسودہ غالباً خلیفہ المسیح کے قلم سے تیار ہوا ہے اور شاید کیا یقینی اسے مؤلف القاء ربانی نے اپنے نام سے شائع کر دیا جب ہی تو اس اردو تحریر کے اندر تذکیر اور تانیث اور اردو محاورہ کے تفہیم میں غلطی واقع ہوئی ہے بے چارے پنجابی کو اردو محاورہ کی کیا خبر حقیقت حال یہ ہے اس لئے اپنے ہی طرح مؤلف نے اوروں کو بھی تصور کر لیا سچ ہے۔
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) اور بیچ میں آپکو اس سے نفرت ہے تو غلامی سے الگ ہو جائے۔ سید ابواحمد رحمانی سے تو آپکو مرچیں لگیں اور غلام احمد سے ٹھنڈک پڑے۔ آسمانی فیصلہ پر آپ برق ڈالیں اور شیطانی فیصلہ کو موجب نجات تصور کریں عجیب افتاد طبیعت اور نرالی فہم ہے۔ ورنہ صداقت کو مدنظر رکھتے تو قادیانی یا مرزائی یہی دو خطاب آپکی جماعت کیلئے موزوں ہیں۔ جب تو ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز قادیان نے ”کتاب القادیانی“ لکھا۔ ان کی بات آپ کو بری نہیں لگی۔ کیوں جناب آپکی جماعت میں سے کوئی شخص آپ کے ساتھ نازیبا حرکت کرے تو وہ روا، اور آپ ہی کی جماعت سے سن کر میں وہ بات کروں تو چیخ پکار ہو۔
ان کی بات سے مرعوب ٹھہرے
جس کو تم چاہو چڑھا لو سر پر
ورنہ یوں دوش پہ کاکل ٹھہری
١٢
٢...... فریب
پھر مؤلف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں یہ کہ سلسلہ کے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو صریح خد عوام کو خوش کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔“ علامہ مصنف فیصلہ دلائل عقلیہ سے نہایت محققانہ طور پر منکوحہ آسمانی والی کیا ہے جو راستی اور حق طلبی کا شیوہ ہے۔ علامہ کی روش اجمعین کی سی ہے اور انہوں نے یہ تحریر عوام کے خوش کر جماعت قادیان کے خلیفہ المسیح حکیم الامت جناب حکیم فیصلہ آسمانی عام فہم ہونے کے خیال سے اردو زبان میں نکات بیان کئے گئے ہیں۔ جسے عوام الناس اچھی طرح کا اس فیصلہ سے اہل علم کی تفہیم ہے۔ جب تو خلیفۃ ال کے لئے اپنے گروہ کے ایک مقتدر عالم کو مامور کری تعجب ہے کہ وہ اپنے خلیفۃ المسیح کے ارشاد کو بھی عام لیتے تو اس ارشاد کی باریکی اور علامہ مصنف کی قابل ق ہو جاتی یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص جہل مرکب کو علم م پس پشت ڈال دیئے۔ مؤلف القاء ربانی (ضمیر ١١ فرمائیں جناب مرزا قادیانی خود تحریر کر گئے ہیں۔ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا) تو ی انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ن خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔“ پھر اسی (انجام آتھم کا ص یہاں یوں تحریر کرتے ہیں کہ: ”اصل وهیچکس باحیلہ خود اورا ردنتوا تقدیر مبرم است وعنقریب وقت آ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ما
٢...... فریب
پھر مؤلف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں یہ کہ مصنف (فیصلہ آسمانی) نے مثل اور مکذبین سلسلہ کے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو صریح خدا اور رسول پر افتراء کرنے والا قرار دے کر عوام کو خوش کرنے کا ارادہ کیا ہے۔“ علامہ مصنف فیصلہ آسمانی نے آیات قرآنیہ احادیث نبویہ اور دلائل عقلیہ سے نہایت محققانہ طور پر منکوحہ آسمانی والی پیشگوئی پر روشنی ڈالی ہے اور وہی شیوہ اختیار کیا ہے جو راستی اور حق طلبی کا شیوہ ہے۔ علامہ کی روش بالکل ہی سلف صالحین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سی ہے اور انہوں نے یہ تحریر عوام کے خوش کرنے کو نہیں لکھی ہے بلکہ اس کے اول مخاطب جماعت قادیان کے خلیفۃ المسیح حکیم الامت جناب حکیم مولوی نور الدین قادیانی ہیں اگر چہ کتاب فیصلہ آسمانی عام فہم ہونے کے خیال سے اردو زبان میں شائع کی گئی۔ مگر اس میں وہ وہ معارف اور نکات بیان کئے گئے ہیں۔ جسے عوام الناس اچھی طرح سمجھ بھی نہیں سکتے، اصل مقصود علامہ مصنف کا اس فیصلہ سے اہل علم کی تفہیم ہے۔ جب تو خلیفۃ المسیح زچ ہو کر اور اپنا پہلو بچا کر جواب لکھنے کے لئے اپنے گروہ کے ایک مقتدر عالم کو مامور کرتے ہیں مولف القاء ربانی کے جوش نفسانی پر تعجب ہے کہ وہ اپنے خلیفۃ المسیح کے ارشاد کو بھی عامیانہ ارشاد سمجھتے ہیں اگر ذرا بھی تدبر سے کام لیتے تو اس ارشاد کی باریکی اور علامہ مصنف کی قابل قدر علمی گفتگو کی راستی آپ پر اظہر من الشمس ہوجاتی یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص جہل مرکب کو علم سمجھ کر کج فہمی سے کام لے اور رسالے کی خوبی کو پس پشت ڈال دیئے۔ مؤلف القاء ربانی (ضمیمہ انجام آتھم کا ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) ملاحظہ فرمائیں جناب مرزا قادیانی خود تحریر کر گئے ہیں۔ ”یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری خبر پوری نہ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“ پھر اسی (انجام آتھم کا ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣) ملاحظہ ہو۔
یہاں یوں تحریر کرتے ہیں کہ: ”اصل امر برحال خود قائم است و ہیچکس باحیلۂ خود اورا رد نتوان کرد و این تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آن خواهد آمد پس قسم آن خدائیکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ را مبعوث فرمود اورا بهترین مخلوقات
١٣
گردانیدکه ایں حق است و عنقریب خواهی دیده ومن این را برائے صدق خود يا كذب خود معیار می گردانم ومن نگفتم الا بعد زانکه از رب خود خبر داده شد ”جناب مرزا قادیانی خود ہی اس زور و شور سے اس پیش گوئی کو اپنے صدق اور کذب کا معیار قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ: ”اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو مجھے کا ذب اور ہر بد سے بدتر سمجھو۔“ اب مرزا قادیانی ہی کے توجہ دلانے سے ایک راست گفتار اور پاکباز انسان جو علم وفضل اور زہد و تقویٰ میں بھی محتاج شناسائی نہ ہو، وہ اس الہام پر غور و تدبر سے نظر فرمائے اور اس پیش گوئی کے پوری نہ ہونے پر اور بالبداہت غلط ہو جانے پر یہ کہہ دے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب کاذب اور ہر بد سے بدتر ٹھہرے تو یہ اس کی خطا سمجھی جائے گی یا احقاق حق؟
علامہ مصنف نے خود کوئی فیصلہ اپنی جانب سے نہیں کیا بلکہ جناب مرزا قادیانی کے میعاد مقرر کردہ کو صفائی کے ساتھ قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ مثلاً یوں تصور کیجئے کہ ایک شخص مجمع عام میں یہ دعویٰ کرے کہ کل آفتاب غیر طبعی طریقہ سے مغرب سے طلوع ہوگا کہ اگر ایسا نہ ہوا اور کل آفتاب مغرب کی جانب سے طلوع نہ ہوا تو میں کاذب اور ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ لوگوں نے اس دعوے کو استعجاب سے سنا خدا خدا کر کے دن ختم ہوا۔ رات گزری صبح ہوتے ہی مغرب کی جانب لوگوں کی ٹکٹکی لگ گئی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر لوگ دیکھنے لگے۔ مگر آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہوا۔ بلکہ اپنے مقررہ مطلع یعنی جانب مشرق سے برآمد ہوا۔ لوگوں نے اس کا ذب مدعی کی دھر پکڑ کی اور ڈنکے کی چوٹ سے اسے یہ سنا دیا کہ تو اپنے اقرار کے بموجب کا ذب اور ہر بد سے بد ٹھہرا تو کیا آپ کے نزدیک ایسا فیصلہ منصفانہ فیصلہ نہ ہوگا اور کیا ایسے گروہ کو بھی آپ مکذب ہی کے نام سے یاد کریں گے۔ اور کیا منصفانہ فیصلہ آپ کے نزدیک یہ ہے کہ اگر آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو اور مشرق ہی سے نکلے تا ہم ایسے مدعی کو محض اس کے زبانی دعویٰ پر صادق ہونے کی ڈگری دے دینی چاہئے؟ فافہم وتد بر فانہ دقیق!
٣....... فریب
مؤلف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں کہ: ”ایسے شبہات کا ازالہ خود حضور مغفور (مرزا قادیانی آنجہانی) نے اپنے قلم سے اور دیگر خادمان سلسلہ نے بہت کچھ کیا ہے میں نے کتاب کو قابل التفات نہیں سمجھا مگر اشتہار کے متکبرانہ دعوے نے پھر مجھ کو متوجہ کیا کہ میں اس کو بغور دیکھوں۔“ اگر یہی غور و تدبر ہے تو خدا حافظ ۔ دیانت اور حق پسندی کو مد نظر فرما کر (انجام آتھم
١٤
ص ٢١٦، خزائن ج ١١ ص ٢١٦) میں مرزا قادیانی کا عربی سہولت کے لئے لفظ بلفظ اسے یہاں نقل کئے دیتا ہوں وكانو بها مستهزئين فسيكفيكهم الله وي ربك فعال لما يريد فاشار فے لفظ فسیکفی بعد اهلاك المانعين وكان اصل المقصود تزویجها اياك بعد اهلاك الها لكين وا المخلوقات“ ﴿گفت این مردم مکذب آیات من ایشان را نشانے خواهم نمود و برائے ت زن را که زن احمد بیگ دختر ست باز ب چونکه او از قبیله بباعث نکاح اجن بیرون شده باز بتقریب نکاح تو (م کرده خواهد شد در کلمات خدا وعده و خدائے تو هر چه خواهد آن امر بهر ح معرض التواء بماند پس خدائے تعالیٰ بل اشاره کرد که او دختر احمد بیگ را واپس خواهد کرد۔ واصل مقصود میرا امر میرانیدن ست وبس﴾ اس الہام میں ’یردها اليك لا تب بعد اهلاک المانعین“ کے وسیع مدت پر نظر فرما ہے کہ ہم اس لڑکی محمدی بیگم کو تیرے نکاح میں ضرور ہیں اور جن کی وجہ سے اب تک یہ الہام پورا نہیں ہو کردیں گے اور ان کو ہلاک کردیں گے یہ خدا کی با میرے نکاح میں آنا ضرور ہے اور ضرور ایسا ہو کر ر قادیانی اور محمدی بیگم کی حیات تک ہی باقی رہتی ہے
١٥
ص ٢١٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٦) میں مرزا قادیانی کا عربی الہام معہ ترجمہ فارسی درج ہے میں مزید سہولت کے لئے لفظ بلفظ اسے یہاں نقل کئے دیتا ہوں ملاحظہ فرمائیے:”قال كذبوا بآياتى وكانو بها مستهزئين فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد فاشارفے لفظ فسيكفيكهم الله الى انه يرد بنت احمد انى بعد اهلاك المانعين وكان اصل المقصود الاهلاك وتعلم انه هو الملاك واما تزويجها اياك بعد اهلاك الها لكين والهالكات فهؤلا عظام الاية فى عينى المخلوقات“
﴿گفت این مردم مکذب آیات من هستند وبدانها استهزامی کنند من ایشان را نشانی خواهم نمود وبرائے توایں همه راکفایت خواهم شد وآن زن راکه زن احمد بیگ دختر ست باز بسوئے تو واپس خواهم آورد یعنی چونکه او از قبیله بباعث نکاح اجنبی (مراد از شوهر محمدی بیگم) بیرون شده باز بتقریب نکاح تو (مراد مرزا قادیانی) بسوئے قبیله رد کرده خواهد شد درکلمات خدا وعدهائے اوهیچکس تبدیل نتواند کرد وخدائے تو هر چه خواهد آن امر بهر حالت شدنی ست ممکن نیست که در معرض التواء بماند پس خدائے تعالیٰ بلفظ فسیکفیکهم الله بسوئے ایں امر اشاره کرد که اودختر احمد بیگ را بعد میرا نیدن مانعان بسوئے من واپس خواهد کرد۔ واصل مقصود میرا نیدن بودوتو میدانی که ملاك ایں امر میرا نیدن ست وبس﴾
اس الہام میں ’یردها اليك لا تبديل لكلمات الله يرد بنت احمدانی بعد اهلاك المانعين“ کے وسیع مدت پر نظر فرمائیے یعنی اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی سے ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اس لڑکی محمدی بیگم کو تیرے نکاح میں ضرور لائیں گے اور جولوگ اس نکاح میں رخنہ انداز ہیں اور جن کی وجہ سے اب تک یہ الہام پورا نہیں ہوا اور تیری آرزو بر نہیں آئی ان سب موانع کو دور کردیں گے اور ان کو ہلاک کردیں گے یہ خدا کی بات ہے اور خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ محمدی بیگم کو میرے نکاح میں آنا ضرور ہے اور ضرور ایسا ہو کر رہے گا اس الہام کی صحیح مدت دلہا دلہن یعنی مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کی حیات تک ہی باقی رہتی ہے۔
مرزا قادیانی کی وفات سے ایک گھنٹہ پہلے کیا ایک منٹ پہلے بھی کوئی شخص دوست ہو یا دشمن، شقی ہو یا سعید اس کے دل میں یہ خدشہ نہیں گزر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ عظیم الشان الہام پورا نہ ہو کیونکہ مرزا قادیانی حیات تھے بلکہ اپنی طبعی عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے۔ محمدی بیگم بھی ماشاء اللہ اپنے حسن دل آویز کے ساتھ جیتی جاگتی، صحیح و سالم اپنے شوہر کے گھر بسے مرزا قادیانی مرد اجنبی سے تعبیر کرتے ہیں پھول پھل رہی تھی، پھر معلوم نہیں کہ مؤلف القاء ربانی کس نامعلوم معترض کو قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور کونسا جواب ایسے اعتراض کا خود حضور مغفور۔ (مرزا قادیانی) نے اپنے قلم سے اور دیگر خادمان سلسلہ نے دیا ہے۔ جب اعتراض ہی پیدا نہیں ہو سکتا تو جواب کیسا؟ یہ بالکل سفید جھوٹ اور دیدہ و دانستہ فریب دہی ہے۔ این کار از تو آید و مردان چنین کنند!
٤...... فریب
مؤلف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں کہ: ”بعض دوسرے دوست بھی جنہوں نے اس کتاب (فیصلہ آسمانی) کو پڑھا تھا مجھے باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کے مصنف مولوی سید محمد علی صاحب کانپوری ہیں یہ لوگ اگرچہ سلسلہ احمدیہ کے ممبر نہ تھے مگر ان لوگوں نے بوجہ علمی دستگاہ کے کتاب کے طرز استدلال کو محض لغو سمجھ کر مجھے اس کے جواب لکھنے کی بھی فرمائش کی ۔“
مؤلف القاء ربانی انظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال کے مسلم اور ستھرے دستور العمل کو نظر انداز فرما کر خواہ مخواہ کے الجھن میں گرفتار ہوئے، کام کی بات تو یہ تھی کہ فیصلہ آسمانی کے طرز استدلال اور نفس مضامین کی جانچ پڑتال کرتے خیر ہر شخص کی سمجھ جدا ہوتی ہے شاید ان کے نزدیک اس کے انکشاف میں کوئی مصلحت مضمر ہو مگر یہ تو مسلم مسئلہ ہے کہ ہر دعوٰی کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔ مؤلف القاء ربانی کا یہ تحریر کرنا کہ: ”بعض دوسرے دوست جو اس سلسلہ کے ممبر نہ تھے کتاب (فیصلہ آسمانی) کے طرز استدلال کو لغو سمجھا۔“
یہ محض دعوٰی ہی دعوٰی ہے۔ اگر اس کی اصلیت اور واقعیت تھی تو کیوں نہیں ایسے ایک بھی ذی علم حضرات کا نام وقعت تحریر کے لئے دلیلاً پیش فرمایا ہوتا کہ ہر طالب حق اس بات پر غور فرماتا اور اس سے بہت کچھ جماعت احمدیہ کو فائدہ پہنچتا۔ ایک دعوٰی قوم کے سامنے پیش کر کے دلیل سے گریز کرنی یہ کونسی عقلمندی اور حق پسندی ہے جن کو خدا نے محض اپنے فضل سے علمی دستگاہ مرحمت فرمائی ہے وہ خصوصیت کے ساتھ ہماری اس تحریر پر غور فرمائیں۔ غالباً یہ بھی منجملہ خدمات
١٦
کے ایک خدعہ ہے کیا خوب خود را فضیحت و دیگرے را پھر جناب خلیفہ المسیح نے کیوں اس لغو کام پر آپ کو مامور کھلی اور بین شہادت ہے۔
٥، ٦، ٧...... فریب
مؤلف القاء ربانی نے فیصلہ آسمانی کے ضمیم تمہید کی تمہید لکھی ہے۔ اس کی بڑی بڑی فاش غلطیاں ا پیش کر کے اصل تمہید پر تنقیدی نظر ڈالتا ہوں مبارک ب جن کا شعار راستی اور حق طلبی ہے۔ سچی باتوں کو ہر وقت ق بیزار ہیں ایسے پاک نفس حضرات نہایت غور سے خالی ا
اصل تمہید کو مؤلف القاء ربانی نے ذیل کی ہیں۔ ”ناظرین قبل اس کے کہ ہم ابو احمد صاحب کے ع کے کلام سے آپ کی توجہ ایک ایسے امر کی طرف دلا تک پہنچنے میں بڑی مدد ملے گی اور مصنف فیصلہ اور دوس مسیح موعود مہدی مسعود مرزا غلام احمد قادیانی کی س حیرت ہوگی اور حق کے ماننے میں یہ لوگ حجاب دار مرزا صاحب تو ان لوگوں کے خیال میں اپنے دعوے م جس مسیح اور مہدی کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ اس کو یہ ل میں رک کر غور فرمائیے۔
”نزدیک است که علمائے ظوا الصلوٰۃ والسلام از کمال دقت غموض م سبقت دانند (ص ٧، مکتوب پنجاہ و پنجم جلد ثانی)“ اجتہادی مسائل کو بوجہ باریک اور دقیق ماخذ ہو کہیں گے۔ “
”هم منقول است که حضر ترویج دین نماید و احیائے سنت فرم
٧
کے ایک خدع ہے کیا خوب خود را فضیحت و دیگرے را نصیحت اگر واقعی اس کا جواب لکھنا لغو تھا تو پھر جناب خلیفۃ المسیح نے کیوں اس لغو کام پر آپ کو مامور فرمایا۔ فیصلہ آسمانی کے قوی دلائل کی ایک کھلی اور بین شہادت ہے۔
٥، ٦، ٧...... فریب
مؤلف القاء ربانی نے فیصلہ آسمانی کے نفس اور اصل مضامین کے رد میں بزعم باطل جو تمہید کی تمہید لکھی ہے اس کی بڑی بڑی فاش غلطیاں اور دروغ بیانیوں کو میں ناظرین کے سامنے پیش کر کے اصل تمہید پر تنقیدی نظر ڈالتا ہوں مبارک ہیں وہ جنہیں خدا نے فہم سلیم عطا فرمایا ہے اور جن کا شعار راستی اور حق طلبی ہے۔ سچی باتوں کو ہر وقت مان لینے کے لئے تیار اور جھوٹی باتوں سے بیزار ہیں ایسے پاک نفس حضرات نہایت غور سے خالی الذہن ہو کر ذیل کی تحریر کو غور سے پڑھیں۔
اصل تمہید کو مؤلف القاء ربانی نے ذیل کی تحریر سے شروع کیا ہے اور یوں تحریر کرتے ہیں۔ ”ناظرین قبل اس کے کہ ہم ابو احمد صاحب کے فیصلہ کی تردید کریں حضرت مجدد الف ثانیؒ کے کلام سے آپ کی توجہ ایک ایسے امر کی طرف دلانا چاہتے ہیں جس سے آپ کو حقیقت کے تہ تک پہنچنے میں بڑی مدد ملے گی اور مصنف فیصلہ اور دوسرے ان سے بڑے عالم اس وقت حضرت مسیح موعود مہدی مسعود مرزا غلام احمد قادیانی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس سے آپ کو زیادہ حیرت ہوگی اور حق کے ماننے میں یہ لوگ حائل و مانع نہ ہوں گے۔ ہاں وہ امر یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب تو ان لوگوں کے خیال میں اپنے دعوے میں غلطی پر ہیں۔ مگر اس پر کیا وثوق ہے کہ جس مسیح اور مہدی کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ اس کو یہ لوگ مان لیں گے۔ سنئے اور خوف خدا کو دل میں رکھ کر غور فرمائیے۔
”نزدیک است کہ علمائے ظواہر مجتہدات او را علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام از کمال دقت غموض ماخذ انکار نمایند ومخالف کتاب سنت دانند (ص ٢٧ مکتوب پنجاہ و پنجم جلد ثانی)“ ﴿نزدیک ہے کہ علمائے ظواہر حضرت عیسیٰ کے اجتہادی مسائل کو بوجہ باریک اور دقیق ماخذ ہونے کے انکار کریں گے اور مخالف کتاب وسنت کہیں گے۔﴾
”ہم منقول است کہ حضرت مہدی در زمان سلطنت خود چون ترویج دین نماید واحیائے سنت فرماید عالم مدینہ کہ عادت بعمل بدعت
١٧
گرفته بود آن را حسن پنداشته ملحق بدین ساخته از تعجب گوید کہ این مرد رفع دین ما نموده واماتت ملت ما فرموده ص١٢٨ (مکتوب دو صد و پنجاہ جلد اوّل) ”یہ بھی منقول ہے کہ حضرت مہدی اپنے زمانہ سلطنت میں جب دین کی ترویج کریں گے اور احیائے سنت فرمائیں گے۔ مدینہ طیبہ کا ایک عالم کہ بدعت کا عامل ہوگا اور اس کو حسن سمجھ کر دین میں ملحق کئے ہوگا۔ تعجب سے کہے گا کہ یہ شخص یعنی امام مہدی ہمارے دین اسلام کو خراب کرتا ہے اور ہمارے مذہب کو برباد کرتا ہے۔“ یہ ہیں تمہیدی مضامین جن سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں سب سے پہلی اور سب میں قوی اس تحریر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مؤلف القاء ربانی کے نزدیک حضرت مجدد الف ثانیؒ ایک عالی شان مجدد اور بڑے صاحب فضل اور صاحب کشف تھے اور آپکے مراسلات جو بنام مکتوبات امام ربانی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں وہ نہایت ہی محقق اور مدلل ہیں علی الخصوص وہ تحریریں جو مہدی مسعود و مسیح موعود کے نشانات اور آیات کے متعلق ہیں اور یہی ایک ایسی قابل قدر کتاب ہے جس کے مطالعہ سے انسان کو مسیح موعود اور مہدی مسعود کی حقیقت کے تہ کی باریکی تک پہنچنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ دوسری بات اس تحریر سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی موعود دونوں جدا جدا دو نہیں بلکہ دونوں خطاب ایک ہی محترم بزرگ کا ہے اور یہ بات خود مؤلف القاء ربانی کی مانی ہوئی بات ہے۔ میں کسی قیاس سے اس نتیجہ پر نہیں پہنچا ہوں۔ نہایت صاف اور کھلی ہوئی تحریر مؤلف القاء ربانی کی ہے لکھتے ہیں ”مصنف فیصلہ اور دوسرے ان سے بڑے عالم اس وقت حضرت مسیح موعود ومہدی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مخالفت کر رہے ہیں۔“ غرض مہدی مسعود و مسیح موعود دونوں ہی خطاب صرف ایک ہی شخص جناب مرزا غلام احمد صاحب کو مؤلف نے دیے ہیں تیسری بات یہ نکلتی ہے کہ مکتوبات امام ربانی کے ذیل کی تحریر سے مؤلف کے نزدیک یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناب مرزا صاحب مہدی مسعود و مسیح موعود تھے اور مسیح موعود کے پیشتر ایک عالم مدینہ جو محض بدعتی ہوگا۔ مہدی مسعود و مسیح موعود اپنی سلطنت کے زمانہ میں جب دین کی ترویج فرمائیں گے تو یہ شخص کہے گا کہ یہ ہم لوگ کے دین و ملت کو تباہ و برباد کرتا ہے۔ علمائے ظواہر اس کا انکار کریں گے۔ اب میں نہایت ہی وضاحت سے اس بات کو دکھلانا چاہتا ہوں کہ واقعی حضرت مجدد الف ثانیؒ نے جو نشانات مہدی مسعود مسیح موعود کے بیان فرمائے ہیں وہ جناب مرزا غلام احمد صاحب میں پائے جاتے تھے یا نہیں؟ اور کیا یہ صحیح ہے کہ مہدی مسعود اور مسیح موعود دونوں ایک
١٨
ہی شخص ہوں گے اور کیا کہیں گے؟ اور ان فرمان کیا ہوگا؟ مکتوب پنجاہ و پنجم جلد ثانی م نبوتیہ سے جو احکام شریعت مستنبط ہوتے ہیں متعلق فرماتے ہیں کہ نبی کے اجتہاد میں غلطی ہ محق از خطائے مخطی متمیز میگ و تثبیت مبنی بر خطا مجوز نی برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس بحث کی تشریح فرم فرماتے ہیں۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ الس خواهد نمود اتباع سنت آن سرور نسخ این شریعت مجوز نیست نز اور علیٰ نبینا وعلیہ الصلٰوۃ وال نمایند ومخالف کتاب وسنت دانند حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الص لائیں گے تو آپ بھی (حالانکہ آپ خود نبی ہو نے حضرت مجدد الف ثانیؒ تحریر فرما السلام کے اجتہادی مسائل میں بوجہ کمال دقت برعکس ہے جتنے جاہل اور دین کے علم سے ب علمائے ظواہر کہا جاتا ہے وہ مرزا قادیانی کو عا مجدد وقت گزرے ہیں اور موجود ہیں سب مرز ہند حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب قدس جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہ اور کاملین علمائے حرمین شریفین علمائے ظواہر ہیں مؤلف القاء ربانی علمائے ظواہر پر باطلہ سے رجوع فرمائیں۔
ہی شخص ہوں گے اور کیا کہیں گے؟ اور ان نافہموں کے جواب میں جناب مہدی علیہ السلام کا فرمان کیا ہوگا؟ مکتوب پنجاہ و پنجم جلد ثانی میں حضرت مجدد الف ثانیؒ نے قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے جو احکام شریعت مستنبط ہوتے ہیں ان کی اقسام کو بیان فرمایا ہے اور ان کے مراتب کے متعلق فرماتے ہیں کہ نبی کے اجتہاد میں غلطی واقع نہیں ہوسکتی بلکہ بوحی قطعی صواب محقق از خطائے مخطی متمیز میگشت این بباطل ممتزج نمی ماند که تقریر و تثبیت مبنی بر خطا مجوز نیست. یعنی نبی مسائل اجتہادیہ میں خطا پر ہرگز قائم و برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس بحث کی تشریح فرماتے ہوئے منجملہ اور امثلہ کے ایک مثال یوں بیان فرماتے ہیں۔
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول که متابعت این شریعت خواهد نمود اتباع سنت آن سرور عالم عليه الصلوة والسلام خواهد کرد و نسخ این شریعت مجوز نیست نزديك ست که علمائے ظواهر در مجتهدات او را على نبينا وعليه الصلوة والسلام از کمال دقت وغموض ماخذ انکار نمایند ومخالف کتاب وسنت دانند“
﴿ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب آپ (دوبارہ) دنیا میں تشریف لائیں گے تو آپ بھی (حالانکہ آپ خود نبی ہوں گے) شریعت محمدیہ کی پیروی کریں گے اور (کوئی
آگے حضرت مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ علمائے ظواہر ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادی مسائل میں بوجہ کمال دقت وغموض ماخذ انکار کریں مگر یہاں معاملہ بالکل ہی برعکس ہے جتنے جہال اور دین کے علم سے بے بہرہ حضرات ہیں اور جنہیں دوسرے الفاظ میں علمائے ظواہر کہا جاتا ہے وہ مرزا قادیانی کو ناسمجھی سے مسیح موعود مان رہے ہیں اور جتنے اکابر علماء اور مجدد وقت گزرے ہیں اور موجود ہیں سب مرزا قادیانی کے دعوے کو غلط بتارہے ہیں۔ مثلاً قطب ہند حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب قدس سرہ، جناب مولانا رشید احمد صاحب (گنگوہی)، جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلی، جناب مولانا محمد لطف اللہ (علی گڑھی) صاحب اور کاملین علمائے حرمین شریفین علمائے ظواہر میں داخل ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مؤلف القاء ربانی علمائے ظواہر پر مکرر دیانت کو مدنظر رکھ کر غور فرمائیں اور ان عقائد باطلہ سے رجوع فرمائیں۔
٢٩
بھی اجتہاد آپ کا ایسا نہ ہوگا) جس سے نسخ شریعت محمدیہ لازم آئے ممکن ہے کہ علمائے ظواہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادی مسائل پر بوجہ باریک اور دقیق ماخذ کے انکار کریں اور مخالف کتاب و سنت جائیں۔﴾
مسلمانو! ذرا انصاف سے کہنا خدا لگتی کہ مؤلف القاء ربانی نے کس طرح سے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے قول کو پیش کیا ہے۔ اصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آخر میں جہاں ان کے اجتہاد کا وزن حضرت مجدد الف ثانی نے مثال دیگر بیان فرمایا ہے کہ مثل روح اللہ و مثل امام اعظم کو اس مثال کو بھی تحریر نہیں فرمایا اور مزید برآں جہال کو خوش کرنے کے لئے عربی اور فارسی کے پروفیسر ہوتے ہوئے اس فارسی عبارت کا ترجمہ بھی غلط لکھ دیا اور اس ایک مختصر سے حوالہ میں تین دانستہ فریب دہی اور دروغ گوئی سے کام لیا ہے جس کے دل میں ذرا سا بھی نور ایمان اور کچھ بھی خشیت خداوندی ہو وہ ہرگز ایسا فریب جائز نہیں رکھ سکتا۔ چہ جائے کہ مسیح موعود سے بیعت حاصل کر کے تاریکی کے زمانہ سے نکل کر نورانی زمانہ میں اپنے کو داخل سمجھتا ہو۔ اس دانستہ فریب دہی کی وجہ اظہر من الشمس ہے اگر راست گفتاری سے کام لیا جاتا تو اسی ایک تحریر سے ساری حقیقت منکشف ہو جاتی اور یہ بات ہر انسان سمجھ جاتا کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے انہی کے سر مسیح موعود کا مبارک تاج رکھا جائے گا اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو پھر بحث ہی کا خاتمہ ہو گیا۔ مرزا غلام احمد صاحب ایک عام انسان کی ہستی میں نظر آنے لگے پھر الہام کجا اور اس کے صدق و کذب پر بحث کیسی؟ الغرض حضرت مجدد الف ثانیؒ تو یہ فرما رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کا اجتہاد امام اعظمؒ جیسا ہوگا۔ چنانچہ آگے چل کر آپ یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جب دوبارہ)
"حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام بعد از نزول مذہب امام ابی حنیفہ عمل خواہد کرد یعنی اجتہاد حضرت روح اللہ علیہ السلام موافق اجتہاد امام اعظم خواہد بود نہ آنکہ تقلید ایں مذہب خواہد کرد علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ شان او علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام از اں بلند تر ھست"
﴿تشریف لائیں گے تو امام ابو حنیفہؒ کے مذہب پر آپ کا عمل ہوگا یعنی آپ کا اجتہاد امام ابو حنیفہؒ کے اجتہاد کے موافق ہوگا اگرچہ آپ ان کے مقلد نہ ہوں گے کیونکہ آپ کی شان (بوجہ نبی ہونے کے) اس سے بلند تر ہے۔﴾
٢٠
اس تحریر میں ایک جگہ مجدد صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تحریر فرمایا ہے اور اسی تحریر میں دوسری جگہ آپ نے روح اللہ کہہ کر یاد فرمایا تو کہیں بھی مسیح موعود کا لفظ ارقام نہیں فرمایا حالانکہ اس نام سے بھی وہی بات پیدا ہوتی یہ بھی ایک نہایت ہی لطیف اور باریک نکتہ ہے اور اس سے بھی صاف طور سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے نہ کہ جناب مرزا غلام احمد صاحب الحاصل مجدد صاحب کے کلام سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادی مسائل امام ابو حنیفہؒ کے موافق ہوں گے اب ناظرین فیصلہ (کریں کہ آیا مرزا صاحب کے مسائل بھی ایسے ہیں یا مرزا قادیانی نے امام صاحب سے مسائل میں اختلاف کیا ہے غرض کہ مجدد صاحب نے مسیح موعود کی جو علامت بیان فرمائی تھی ان کا امام صاحب سے اجتہاد میں متفق ہونا یہ علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے مجدد صاحبؒ کی بھی تحریر کے موافق مرزا صاحب مسیح موعود ہرگز نہ تھے) اب ناظرین مکرر میرے ترجمہ کو غور سے پڑھیں ان پر ایک عجیب حقانیت اور محویت کا عالم طاری ہوگا اور یہ معلوم ہوجائے گا کہ نزدیک کا ترجمہ نزدیک ہی لکھ دینا اور انکار نمایند کا ترجمہ (انکار کریں گے) قرینہ کے خلاف تحریر کر کے مؤلف القاء ربانی نے جو کچھ عارضی تشفی اپنی جماعت کو دی تھی اس کی کیسی قطع و برید ہوئی۔ خلیفہ جی ملاحظہ فرمائیں۔
٨...... فریب
پہلے حوالہ کی جو حقیقت تھی وہ معلوم کرنے کے بعد دوسرے حوالہ پر نظر دوڑائیے خدا کی شان یہاں بھی وہی دانستہ فریب دہی اور مکر و خدع ہے پوری عبارت یہاں بھی مؤلف القاء ربانی نے تحریر نہیں کی حوالہ بھی غلط دیا۔ مکتوب دوصد و پنجاہ و پنجم جلد اول ص ٢٧٨ ملاحظہ فرمائیے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نصحتاً یوں ارقام فرماتے ہیں:
"منقول است کہ حضرت مہدی در زمان سلطنت خود چون ترویج دین نماید واحیاء سنت فرماید عالم مدینہ کہ عادت بعمل بدعت گرفتہ بود و آنرا حسن پنداشتہ ملحق بدین ساختہ از تعجب گوید کہ ایں مرد رفع دین مانمود و امانت ملت مافرمود، حضرت مہدی امر بکشتن آن عالم فرماید و برآن انکار وذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم"
منقول ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام اپنے زمانہ سلطنت میں جب دین کی ترویج اور احیائے سنت فرمائیں گے۔ ایک (نافہم) عالم مدینہ جو بدعت کو حسن سمجھ کر اپنے دین میں ملحق کر کے اس پر عمل کرتا ہوگا۔ تعجب سے کہے گا کہ یہ شخص میرے دین اور ملت کو برباد کرتا ہے۔ (جب
٢١
حضرت مہدی علیہ السلام کو اس کی حالت کی خبر ہوگی ) آپ اس نافہم عالم کے قتل کرنے کا فرمان جاری فرمائیں گے اور جس برے عمل کو (اپنی نافہمی سے ) اس نے اچھا سمجھ رکھا تھا۔ اس کی برائی لوگوں پر ظاہر کر دیں گے۔ ایسا مہتمم بالشان فضل اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ اپنے فضل کو جسے چاہے عطاء فرمائے۔ حقیقت میں وہ بڑا ہی صاحب فضل ہے۔
اس مکتوب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام بادشاہ وقت ہوں گے اور ان کی ایک مستقل سلطنت ہوگی اور آپ ہی کے شاہی فرمان سے عالم کا نظم و نسق ہوگا۔ آپ غایت درجہ کے متبع سنت ہوں گے اور احیائے سنت فرمائیں گے۔ مدینہ طیبہ کا ایک بدعتی کج فہم عالم ان کے در پے تخریب ہوگا اور لوگوں کو بہکائے گا اور کہے گا کہ یہ شخص اچھا نہیں معلوم ہوتا ہے میرے دین کو خراب و برباد کرنا چاہتا ہے مگر اس نافہم عالم کا اقتدار حضرت مہدی علیہ السلام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اس کے فتنہ و شر سے مخلوق خدا کو محفوظ رکھنے کے لئے حضرت مہدی علیہ السلام یہ فرمان جاری فرمائیں گے کہ اس بیہودہ نافہم عالم کو قتل کر ڈالو۔
یہ مہتمم بالشان واقعہ حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا۔ مؤلف القاء ربانی مجدد صاحب کی اس تحریر سے مرزا غلام احمد صاحب کو جو ایک معمولی انسان تھے بادشاہ وقت اور مہدی قرار دینا چاہتے ہیں اور بزعم باطل خود پہلے حوالہ سے مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود ثابت کر چکے ہیں اور یوں دونوں خطاب مسیح موعود اور مہدی مسعود کا مرزا غلام احمد صاحب کو عطا فرماتے ہیں جنہیں میں اچھی طرح دکھا چکا ہوں کہ یہ بالکل فریب دہی اور نری جہالت ہے شاید کوئی جاہل اس دام تزویر میں آجائے تو آجائے ورنہ ایک معمولی فہم کا آدمی بھی بھولے سے کبھی اس تحریر سے یہ خیال نہیں کر سکتا کہ اس تحریر سے مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود ٹھہریں بلکہ ہر ایک شخص ایک ادنیٰ غور و فکر سے اس حقیقت کی تہ تک نہایت آسانی سے پہنچ جائے گا کہ اسی ایک مکتوب سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود و مہدی مسعود کی غلطی ظاہر ہو گئی کیونکہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے صرف اسی مکتوب سے یہ تین باتیں صاف طریقہ سے ظاہر ہوتی ہیں (١) مہدی علیہ السلام کی ایک مستقل سلطنت ہوگی وہ بادشاہ وقت ہوں گے (٢) مدینہ طیبہ کا ایک بدعتی عالم ان کی ترویج دین کو برا سمجھے گا۔ (٣) حضرت مہدی اس کے قتل کا فرمان جاری فرمائیں گے۔ ان تین باتوں میں سے ایک بات بھی مرزا غلام احمد قادیانی میں پائی نہیں جاتی سلطنت تو ایک بڑی چیز ہے ایک خود مختاری نہیں بلکہ ایک غیر اختیاری ریاست کی باگ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں رہی پھر ٢٢
جب سلطنت ہی حاصل نہیں تھی تو یہ اپنے سلطنت کے اور کون سے مدینہ طیبہ کے عالم کے قتل کا فرمان جاری ک ان کے حکم سے قتل کیا گیا اللہ اللہ یہ کس قدر فریب دہی ا انہوں نے دانستہ ناحق کوشی اور حق پوشی کا شیوہ اختیار کیا جتنی عبارت پر میں نے خط دیدیا ہے اسے چھپا رکھا ہ نہیں ہوتی ولا تكتمو االشهادة ومن يكتمها فانه اس الہی فرمان کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ انا للہ وا
زیادتی وضاحت نیز مزید بصارت کے لئے ثانیؒ کے اقوال نقل کرتا ہوں۔ راستی کے شیدائی اسے ب
”علامت قیامت که مخبر ص والتسلیمات از من خبر داده است حق اس آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت وظ ونزول حضرت روح الله علیٰ نبینا وعلیٰ وظهور ياجوج وماجوج وخروج دابة ا شود وتمام مردم را فرو گیرد وعذاب در اے پروردگار۔ ایں عذاب را از ما دور کن آتش ھست که از عدن خیزد وجماعت ا دعویٰ مهدویت نموده بود از اهل هند م اینها مهدی گذشته است وفوت شد فراہمست در و احادیث صحاح که بحد تو اند تکذیب این طائفه است چه آن س مهدی را علامات فرموده است در احاد ایشان است آن علامات مفقود اند در م علیہ الصلوٰۃ والسلام که مهدی موعود بیر دران ابر فرشته باشد که ندا کند که ای ٢٣
جب سلطنت ہی حاصل نہیں تھی تو یہ اپنے سلطنت کے زمانہ میں ترویج دین کیا خاک کریں گے؟ اور کون سے مدینہ طیبہ کے عالم کے قتل کا فرمان جاری کریں گے؟ کہاں وہ مدینہ طیبہ کا بدعتی عالم ان کے حکم سے قتل کیا گیا اللہ اللہ یہ کس قدر فریب دہی اور سفیہانہ دلیری مؤلف القاء ربانی کی ہے انہوں نے دانستہ ناحق کوشی اور حق پوشی کا شیوہ اختیار کیا ہے اور مجدد الف ثانیؒ کے مکتوب میں سے جتنی عبارت پر میں نے خط دیدیا ہے اسے چھپا رکھا ہے عالم ہو کر خدائی زجر سے بھی خشیت پیدا نہیں ہوتی ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فانه آثم قلبه ارشاد خداوندی ہے اور جناب اس الٰہی فرمان کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ انا لله وانا اليه راجعون! زیادتی وضاحت نیز مزید بصارت کے لئے میں ایک اور مکتوب سے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے اقوال نقل کرتا ہوں۔ راستی کے شیدائی اسے پڑھ کر مسرت حاصل کریں۔
”علامت قیامت که مخبر صادق عليه وعلى آله الصلوة والتسليمات از آن خبر داده است حق است احتمال تخلف ندارد که طلوع آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت وظهور حضرت مهدی عليه الرضوان ونزول حضرت روح الله على نبينا وعليه الصلوة والسلام وخروج دجال وظهور ياجوج وماجوج وخروج دابة الارض ودخانی که از آسمان پیدا شود و تمام مردم را فروگیرد وعذاب دردناك کند مردم از اضطراب گویند اے پروردگار۔ ایں عذاب را از ما دور کن که ما ایمان می آریم و آخر علامات آتش هست که از عدن خیزد وجماعتی از نادانی گمان کنند شخصی را که دعوی مهدویت نموده بود از اهل هند مهدی موعود بوده است پس بزعم اینها مهدی گذشته است و فوت شده و ایشان سید هند که قبرش در فراه است در احادیث صحاح که بحد شهرت بلکه بحد تواتر معنی رسیده اند تکذیب این طائفه است چه آن سرور عليه وعلى آله الصلوة والسلام مهدی را علامات فرموده است در احادیث که در حق آن شخص که معتقد ایشان است آن علامات مفقود اند در حدیث نبوی آمده است عليه وعلى آله الصلوة والسلام که مهدی موعود بیرون آید و بر سر وی پاره ابرے بود دران ابر فرشته باشد که ندا کند که این شخص مهدی است او را متابعت
٢٣
کنید و فرموده علیه وآله الصلوۃ والسلام که تمام زمین را مالک شدند چارکس دوکس از مومنان ودوکس از کافران ذوالقرنین وسلیمان از مومنان ونمرود وبخت نصر از کافران مالک خواهد شد آن زمین را شخص پنجم از اهل بیت من یعنی مهدی وفرموده عليه وعلى آله الصلوۃ والسلام دنیا نرود تا آنکه بعث کند خدائے تعالیٰ مرد را از اهل بیت من که نام او موافق نام من بود ونام پدر او موافق نام پدر من باشد پس پر سازد وزمین را بداد وعدل چنانچه پرشده بود بجور و ظلم و درحدیث آمده است که اصحاب کهف اعوان مهدی خواهند بود وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیه الصلوۃ والسلام درزمان وے نزول خواهد کرد و او موافقت خواهد کرد با حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیه الصلوۃ والسلام درقتال دجال و درزمان ظهور سلطنت او درچهاردهم شهر رمضان کسوف شمس خواهد شد و دراوّل آن ماه خسوف قمر برخلاف حساب منجمان وبرخلاف عادت زمان بنظر انصاف بایددید که این علامات درآن شخص مثبت بوده است یا نه وعلامات دیگر بسیار است که مخبر صادق فرموده است عليه وعلى آله الصلوۃ والسلام“
(ج ٢ مکتوب شصت و هفتم ص ١٩٠)
رسول مقبول علیہ وآلہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے جو علامات قیامت کی بیان فرمائی ہے اور آپ ﷺ سے جو کچھ خبر ملی ہے ہرگز اس میں غلطی اور تخلف کا احتمال نہیں۔ یعنی آفتاب کا پچھم سے طلوع ہونا، حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، حضرت روح اللہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کا نزول فرمانا، یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کا پایا جانا اور ایک ایسے دھواں کا آسمان سے پیدا ہونا جس سے لوگوں کا دم گھٹنے لگے اور لوگ عذاب دردناک میں مبتلا ہو جائیں اور بڑی بے چینی سے خدا کے درگاہ میں زاری کریں کہ اے پروردگار یہ عذاب دردناک ہم لوگ سے دور فرما۔ ہم لوگ تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ پچھلی علامت آگ ہوگی جو عدن سے پیدا ہوگی۔ ایک نادان جماعت گمان کرتی ہے کہ ہند میں مہدی علیہ الرضوان گزر چکے ہیں اور اس مہدی کی قبر فرامیں ہے۔ مگر صحاح کی وہ حدیثیں جو حد شہرت بلکہ حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں اس فرقہ باطلہ (حامیان مہدی کاذب) کی تکذیب کر رہے ہیں۔ کیونکہ جو علامت مہدی موعود کی رسول
٢٤
اللہ ﷺ نے بیان فرمائی وہ اس جھوٹے مہدی میں نہیں پائی کہتے ہیں کہ مہدی ہند میں پیدا ہو کر ناپید ہو گئے۔ حدیث ہوں گے اور ان کے سر پر ابر کا ایک ٹکڑا ہوگا اور اس ابر میں کہ (اے دنیا کے لوگو ) یہ شخص مہدی ہے۔ اس کی پیروی ہے کہ دنیا میں اب تک صرف چار ہی شخص ایسے ہوئے ہ ہوئے۔ دو بادشاہ مسلمان گزرے ہیں۔ سلیمان اور ذوالق نصر یہ چاروں جلیل القدر بادشاہ ہوئے۔ تمام روئے زمی کے علاوہ میرے اہل بیت سے ایک ایسا پانچواں شخص مہدی ہوگا۔ نیز فرمایا رسول مقبول ﷺ نے کہ دنیا ختم نہیں تک کہ ظاہر کرے خدا تعالیٰ ایک مرد کو میرے اہل بیت س اس کے ماں باپ کا نام میرے ماں باپ کے نام کے موا سے پہلے شر و فساد سے بھری تھی۔ آشتی صلح اور انصاف س مذکور ہے کہ اس کے مددگار اصحاب کہف ہوں گے۔ ا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے مہدی ظا گے۔ مہدی کے ظہور سلطنت کے زمانہ میں برخلاف عا رمضان شریف کو کسوف شمس ہوگا اور اوّل ماہ رمضان ک سے دیکھنا چاہیے کہ اس فوت شدہ مہدی میں یہ علام نہیں) ہاں اور بھی بہتر علامتیں مخبر صادق کی تعلیمات م
حضرت مجدد صاحبؒ اس مکتوب میں علام ہوئے مدعیان مہدی کاذب پر استعجاب کرتے ہیں اور فرم کے لئے صحاح کی احادیث کافی ہیں حدیث نبوی میں م پر ابر کا ایک ٹکڑا ہوگا ابر میں فرشتہ ہوگا اور فرشتہ پکار پکار ک کرو (٢) چار شخص تمام دنیا کے مالک اور بادشاہ ہوئ دنیا کا مالک ہوگا اور دنیا کا کوئی حصہ بھی اس کی بادشا کو عدل اور انصاف سے بھر دے گا۔ ساری دنیا میں سک
٢٥
اللہ ﷺ نے بیان فرمائی وہ اس جھوٹے مہدی میں نہیں پائی جاتی۔ جس کے یہ لوگ معتقد ہیں اور کہتے ہیں کہ مہدی ہند میں پیدا ہو کر ناپید ہو گئے۔ حدیث نبوی میں مذکور ہے کہ مہدی موعود ظاہر ہوں گے اور ان کے سر پر ابر کا ایک ٹکڑا ہو گا اور اس ابر میں فرشتہ ہو گا اور یہ فرشتہ پکار پکار کر کہے گا کہ (اے دنیا کے لوگو) یہ شخص مہدی ہے۔ اس کی پیروی کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ دنیا میں اب تک صرف چار ہی شخص ایسے ہوئے ہیں جو تمام زمین کے مالک اور بادشاہ ہوئے۔ دو بادشاہ مسلمان گزرے ہیں۔ سلیمان اور ذوالقرنین اور دو کفار سے نمرود اور بخت نصر یہ چار بڑے جلیل القدر بادشاہ ہوئے۔ تمام روئے زمین پر ان کی سلطنت تھی۔ ان چاروں کے علاوہ میرے اہل بیت سے ایک ایسا پانچواں شخص ہوگا جو تمام زمین کا مالک ہوگا اور وہی مہدی ہوگا۔ نیز فرمایا رسول مقبول ﷺ نے کہ دنیا ختم نہیں ہوگی اور قیامت نہیں آسکتی۔ یہاں تک کہ ظاہر کرے خدا تعالیٰ ایک مرد کو میرے اہل بیت سے اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے ماں باپ کا نام میرے ماں باپ کے نام کے موافق ہوگا۔ یہ شخص زمین کو جو اس کے ظہور سے پہلے شر و فساد سے بھری تھی۔ اُسے صلح اور انصاف سے بھر دے گا۔ حدیث نبوی میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس کے مددگار اصحاب کہف ہوں گے۔ اس مہدی علیہ الرضوان کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے مہدی قتال دجال میں آپ کی موافقت کریں گے۔ مہدی کے ظہور سلطنت کے زمانہ میں برخلاف عادت زمان و بخلاف حساب منجمان چودہ رمضان شریف کو کسوف شمس ہوگا اور اول ماہ رمضان شریف میں خسوف قمر ہوگا انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اس فوت شدہ مہدی میں یہ علامت پائی جاتی ہے یا نہیں (نہیں اور ہرگز نہیں) ہاں اور بھی بہتر علامتیں مخبر صادق کی تعلیمات نے بیان فرمائی ہیں۔
حضرت مجدد صاحبؒ اس مکتوب میں علامت قیامت حدیث نبوی سے بیان فرماتے ہوئے مدعیان مسیح کاذب پر استعجاب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس جھوٹے مہدی کی تکذیب کے لئے صحاح کی احادیث کافی ہیں حدیث نبوی میں مہدی کی علامتیں یہ ہیں۔ (١) مہدی کے سر پر ابر کا ایک ٹکڑا ہو گا ابر میں فرشتہ ہو گا اور فرشتہ پکار پکار کر کہے گا کہ یہ شخص مہدی ہے اس کی اتباع کرو (٢) چار شخص تمام دنیا کے مالک اور بادشاہ ہوئے ہیں مہدی وہ پانچواں شخص ہوگا جو ساری دنیا کا مالک ہوگا اور دنیا کا کوئی حصہ بھی اس کی بادشاہت سے خالی نہیں ہوگا۔ (٣) مہدی دنیا کو عدل اور انصاف سے بھر دے گا۔ ساری دنیا میں سکھ اور امن پیدا ہو جائے گا (٤) نسبی علامت
٢٥
ان کی یہ ہوگی کہ مہدی آل رسول اور فاطمہ کی اولاد سے ہوگا (٥) اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا (٦) اصحاب کہف اس کے مددگار ہوں گے (٧) حضرت عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے زمانہ میں تشریف لادیں گے ۔ (٨) دجال کے قتل کرنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موافقت کریں گے (٩) مہدی کے ظہور سلطنت کے زمانہ میں برخلاف عادت زمان و برخلاف حساب منجمان چودہ رمضان المبارک کو سورج گرہن اور اوّل ماہ میں چاند گرہن ہوگا۔
یہ نو اجلی اور روشن علامتیں حدیث نبوی سے بیان فرما کر حضرت مجدد صاحبؒ دریافت فرماتے ہیں کہ تمہارے فوت شدہ مہدی میں یہ علامتیں پائی جاتی ہیں یا نہیں آپ کے مکتوب میں یہ عبارت بنظر انصاف بایددید کہ این علامت دران شخص میت بودہ است یانہ! کس قدر پاکیزہ ہے اور کیسا حرف بحرف جماعت قادیانی پر صادق آتی ہے ۔ میں بھی مجدد صاحبؒ کے سوال کو مؤلف القاء ربانی کے سامنے پیش کر کے دریافت کرتا ہوں کہ یہ علامتیں اور یہ نشانات باہرہ جو مجدد صاحبؒ کے مکتوب میں حدیث نبوی مذکور ہیں اور جن کے مکتوب کو آپ مسلم الثبوت مان کر حقیقت مہدی میں جواباً پیش کرتے ہیں آپ کے جناب مرزا غلام احمد صاحب متوفیٰ میں پائے جاتے تھے یا نہیں (نہیں ایک بھی نہیں ہرگز نہیں) جواب اس کا نفی میں دیجئے یا اثبات میں یا حکیم خلیفہ المسیح سے دریافت فرما کر ہاں کہئے یا نہیں جو فرمائیے صاف فرمائیے۔ اب انچ پچ کا وقت باقی نہیں رہا اب وہ وقت آ گیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر کے دکھا دیا جائے اما الزبد فيذهب جفاء واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض۔ آفتاب کی گردش کی طرح قیامت تک اگر آپ اس کے جواب دینے کی کوشش کرتے رہیں اور اسی ہیر پھیر میں لگے رہیں پھر بھی اسے ثابت نہیں کر سکتے کہ یہ علامات مرزا غلام احمد قادیانی میں پائے جاتے تھے اگر دنیا کے اندر راستی کوئی چیز ہے اور:
کس ندیدم که گم شده از ره راست
پر عمل کرنا مسلمان کا سب سے پہلا شعار ہے تو آپ بے تردد یہ کہہ سکتے ہیں کہ واقعی یہ علامات مرزا غلام احمد قادیانی میں نہیں پائے جاتے تھے۔ خدا کے فضل اور اس کی ہدایت سے تو مجھے ایسی ہی امید رکھنی چاہیے مگر القاء ربانی کا غلط طرز استدلال زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ مؤلف ٢٦
القاء ربانی اس تحریر کے بعد گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل کے مسلم الثبوت مکتوب سے یہ بات صاف طور سے ثابت کہا مہدی موعود بھی نہ تھے۔ آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی وہ شخص تصور کرتا ہوں اور آپ کے خیال میں یہ دونوں ص٣ سطر ٤ میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود قادیانی غرض مہدی مسعود و مسیح موعود دونوں آپ کے آپ کی نری جہالت ہے دیانت انصاف اور حق پسندی چون و چرا فرمائیں۔ خود مجدد صاحبؒ کے مکتوب سے عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام در زمان وی نزول خواہد السلام کے زمانہ میں تشریف لائیں گے دیکھئے کیسی ہے۔ اب مجال دم زدن نہیں یارائے گفتگو باقی نہیں تھا اور وہ بھی مرزا غلام احمد صاحب کا استغفراللہ صاحب کے کلام سے جناب مہدی علیہ السلام و حقیقت کے تہ تک پہنچنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور اس سے یہ بات آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو جاتی مہدی مسعود، مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں پائے نہیں جاتے جن کو مجدد صاحبؒ نے بیان فرمایا فرمان سے عالم مدینہ قتل کیا گیا۔ نہ ان کے سر پر ابر نے آواز دی کہ یہ مہدی ہیں ان کی اتباع کرو نہ مرزا قادیانی اولاد سے تھے۔ مرزا کا لفظ خود بنی فاطمہ ہونے کے برخلاف عادت زمان اور برخلاف حساب منجمان اوّل ماہ میں خسوف قمر ہوا۔ مرزا قادیانی کی گھٹی میں تھی کہ جہاں کہیں قرآن مجید کی آیتیں اور صحاح معارض نکلیں۔ سرے سے اسے رد کر دیا یا موضوع ٹھہرائے جسے لفظ مہدی سے مطلق تعلق اور مناسبت نہیں
القاء ربانی اس تحریر کے بعد گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل کی صورت اختیار کریں گے۔ الحاصل آپ کے مسلم الثبوت مکتوب سے یہ بات صاف طور سے معلوم ہوگئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود تو کجا مہدی موعود بھی نہ تھے۔ آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ میں مسیح موعود کو اور مہدی موعود کو جدا جدا دو شخص تصور کرتا ہوں اور آپ کے خیال میں یہ دونوں ایک ہی شخص ہیں آپ القاء ربانی کے ص ٣ سطر ٤ میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی غرض مہدی مسعود و مسیح موعود دونوں آپ کے نزدیک ایک ہی بزرگ کا خطاب ہے۔ لیکن یہ آپ کی نری جہالت ہے دیانت انصاف اور حق پسندی مفقود اور نیز یہ تفریق ایجاد بندہ نہیں کہ آپ چون و چرا فرمائیں۔ خود مجدد صاحب کے مکتوب سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام در زمان وے نزول خواہد کرد۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں تشریف لائیں گے دیکھئے کیسی کھلی کھلی شہادت ہے اور کس قدر صاف تحریر ہے۔ اب مجال دم زدن نہیں یارائے گفتگو باقی نہیں کون کہہ سکتا ہے کہ دونوں ایک ہی شخص کا خطاب تھا اور وہ بھی مرزا غلام احمد صاحب کا استغفر الله من الفہم السقیم بیشک حضرت مجدد صاحب کے کلام سے جناب مہدی علیہ السلام و حضرت مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت کے تہ تک پہنچنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور واقعی اس بیش بہا اور آپ کے مسلم الثبوت مکتوب سے یہ بات آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ مسیح موعود تھے نہ مہدی مسعود، مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے اور مہدی یوں نہ تھے کہ ان میں وہ علامات پائے نہیں جاتے جن کو مجدد صاحب نے بیان فرمایا ہو نہ بیچارے کو سلطنت نصیب ہوئی نہ ان کے فرمان سے عالم مدینہ قتل کیا گیا۔ نہ ان کے سر ابر کا ایک ٹکڑا بطور نشان ظاہر ہوا نہ ابر سے فرشتہ نے آواز دی کہ یہ مہدی ہیں ان کی اتباع کرو نہ مرزا غلام احمد قادیانی آل رسول اور حضرت فاطمہ کے اولاد سے تھے۔ مرزا کا لفظ خود ہی شہادت کے لئے کافی ہے۔ نہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں برخلاف عادت زمان اور برخلاف حساب منجمان ٢٨ رمضان شریف کو کسوف شمس اور اس کے اول ماہ میں خسوف قمر ہوا۔ مرزا قادیانی کی گھٹی میں یہ بات پڑی تھی اور ان کی طبیعت ثانیہ ہوگئی تھی کہ جہاں کہیں قرآن مجید کی آیتیں اور صحاح کی حدیثیں آپ کے مفروضہ اور خیالی باتوں کے معارض نکلیں۔ سرے سے اسے رد کر دیا یا موضوع کہہ دیا یا اس کے معنی کچھ ایسے ہیر پھیر سے بیان فرمائے جس کے لفظ سے مطلق تعلق اور مناسبت نہیں اور اس کی پردہ پوشی کے لئے کہیں تو یہ فرما دیا کہ
٢٧
ان میں ظاہرا و باطن ہوا کرتے ہیں یہ تفسیر باطنی ہے یا الہام خداوندی ہے، کون ہے جو خدا کی باتوں کو رد کر سکے اور اگر خیر سے کوئی ضعیف حدیث یا عامیانہ باتیں کسی پہلو سے (اگرچہ وہ پہلو غلط ہی کیوں نہ ہو) اپنے خیال کے کس قدر مناسب نکل آئیں تو مالا یدرک کلہ لا یترک کلہ کے رو سے بڑی طول طویل مگر پیچیدہ اور بے سروپا جملوں سے ربط دیتے ہوئے لکھ دیا کہ فلان شخص نے جو یہ پیشگوئی کی ہے اس کا مصداق میں ہوں اور یہ حدیث جو میں پیش کر رہا ہوں۔ خاص میری ہی شہادت کے لئے اس زمانہ میں کس قدر جہالت اور تاریکی پیدا ہو گئی ہے کہ لوگ حدیث کو بھی وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے یہ اندھیرا ہے اور یہ غضب ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ اس مکتوب میں حضرت مجدد صاحبؒ ٩ علامتیں حدیث نبوی سے بیان فرماتے ہیں آٹھ سے مرزا قادیانی کی تحریریں بالکل دم بخود ہیں اور نویں علامت یعنی رمضان شریف کے اول ماہ میں چاند گہن اور اس کی ١٣ تاریخ کو سورج گرہن کا ہونا۔ جو زمانہ کے عادت اور منجم کے حساب کے بالکل خلاف بطور خرق عادت اور معجزہ کے ہوگا۔ اس طرح پر تو واقع نہیں ہوا۔ مگر اتفاق سے زمانہ کے عادت کے موافق اور نجوم کے مقررہ قاعدہ پر رمضان شریف میں چاند گہن اور سورج گہن ہوا۔ بس لگے کہنے کہ دیکھو زمین آسمان دونوں نے میری شہادت دی خدا کی پناہ یہ افتراء اور یہ غلط ادعا۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات نہایت ہی حیرت خیز ہے۔
قبل اس کے کہ میں اس پر کافی روشنی ڈالوں مرزا صاحب کی کتاب سے تھوڑی عبارت نقل کئے دیتا ہوں اسے ملحوظ خاطر فرما کر ذیل کی بحث کو ملاحظہ فرمائیں۔ جناب مرزا قادیانی (کتاب البریہ ص٢٧ خزائن ج ١٣ ص٩٢، ٩١) میں تحریر فرماتے ہیں: ’’اور ہم یقینی طور پر ہر ایک طالب حق کو ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہمارے سید ومولانا آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے آج تک ہر ایک صدی میں ایسے باخدا ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیر قوموں کو آسمانی نشان دکھلا کر ان کو ہدایت دیتا رہا ہو۔ جیسا کہ سید عبدالقادر جیلانی اور ابوالحسن خرقانی اور ابو یزید بسطامی اور جنید بغدادی اور محی الدین ابن عربی اور ذوالنون مصری اور معین الدین چشتی اجمیری اور قطب الدین بختیار کاکی اور فرید الدین پاک پتنی اور نظام الدین دہلوی اور شاہ ولی اللہ دہلوی اور شیخ احمد سرہندیؒ اسلام میں گزرے ہیں اور ان لوگوں کا ہزار تک عدد پہنچا ہے اور اس قدر ان لوگوں کے خوارق علماء اور فضلاء کی کتابوں میں منقول ہیں کہ ایک متعصب کو باوجود سخت تعصب کے آخر ماننا پڑتا ہے کہ یہ لوگ صاحب خوارق و کرامات تھے۔‘‘
٢٨
پھر (سرمہ چشم آریہ حاشیہ ص١٣،١٤ خزائن ج ہیں: ’’اگر ہم خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مش اور غیر متناہی کیونکر رہیں اور اس صورت میں نہ صر تجربہ خدائے ازلی اور ابدی کی تمام قدرتوں کا حد ب ہے کہ اس کی قدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود بھ کچھ خدا تعالیٰ کی حقیقت اور کنہ ہے ہم نے سب معلو اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی ب ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا سلسلہ قدرت کو ختم کر دینا اور آئندہ کے لئے اسرار ہے۔ جنہوں نے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہیے شناخت ن
مرزا صاحب کی پہلی تحریر سے یہ بات مامور من اللہ ہوتے رہتے ہیں جن سے بیشمار ن برگزیدگان اور خاصان خدا سے اصلاح خلق اللہ ہوت کا باغ سرسبز اور شاداب ہرا بھرا دکھلا دیتا ہے انہیں محی الدین عربی وغیرہ وغیرہ تھے۔
دوسری تحریر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کے تجارب محدود اپنے فہم سے قانون قدرت کو مح نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ فطرت اور قانون قدرت کی ن ایمانی میں داخل ہے۔ اور ایسے شخص نے خدائے دو باتوں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین فرما کر م مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٨،٤٦، خزائن ج مہدی کی اصل الفاظ جو امام محمد باقر سے دارقطنی میں مر تکونا منذ خلق السموات والارض وتنکسف الشمس فی النصف منہ الخ
٢٩
پھر (سرمہ چشم آریہ کے ص١٤،١٧،خزائن ج٢ص٤٥،٤٦) میں مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”اگر ہم خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہو سکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خدائے ازلی اور ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہوگا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ ہے کہ اس کی قدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہو جائے گا۔ اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کی حقیقت اور کنہ ہے ہم نے سب معلوم کر لی اور اسکے گہراؤ اور تہ تک پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں سو ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانون قدرت خیال کر لینا اور اس پر غیر متناہی سلسلہ قدرت کو ختم کر دینا اور آیندہ کے لئے اسرار کھلنے سے ناامید ہو جانا ان پست نظروں کا نتیجہ ہے۔ جنہوں نے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہیے شناخت نہیں کیا۔“
مرزا صاحب کی پہلی تحریر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر صدی میں ایک مجدد مصلح مامور من اللہ ہوتے رہتے ہیں جن سے بیشمار نشانات خوارق و کرامات ظاہر ہوتے ہیں ان برگزیدگان اور خاصان خدا سے اصلاح خلق اللہ ہوا کرتی ہے اور انہیں کے مبارک فیض سے اسلام کا باغ سرسبز اور شاداب ہرا بھرا دکھلائی دیتا ہے انہیں میں مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندیؒ اور محی الدین عربی وغیرہ وغیرہ تھے۔
دوسری تحریر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت غیر محدود ہے اور انسان کے تجارب محدود اپنے فہم سے قانون قدرت کو محدود مان لینا اور کسی خارق عادت اور معجزہ کے نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ فطرت اور قانون قدرت کی خلاف ہے اس لئے غلط ہے کفر بے ادبی اور بے ایمانی میں داخل ہے۔ اور ایسے شخص نے خدائے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہئے نہیں پہچانا۔ ان دو باتوں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین فرما کر مرزا قادیانی کے ذیل کی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص٤٦ تا ٤٨،خزائن ج١١ ص٣٣٠ تا ٣٣٢) میں تحریر فرماتے ہیں: ”پیش گوئی کے اصل الفاظ جو امام محمد باقر سے دارقطنی میں مروی ہیں یہ ہیں۔ ان لمهدینا ایتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ الخ یعنی ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے
٢٩
دونشان مقرر ہیں۔ اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے وہ دونشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے اور وہ یہ ہیں کہ مہدی کے ادعا کے وقت میں چاند اس پہلی رات میں گرہن ہوگا جو اس کے خسوف کے تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرہویں رات اور سورج اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس دن گرہن ہوگا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیس ٢٨ تاریخ کو اور جب سے دنیا پیدا ہوئی جو کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اس کے دعویٰ کے وقت میں خسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو۔ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ خسوف و کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہوگا کہ اس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں کسوف خسوف ہوا ہو۔“ پھر علمائے اہل سنت والجماعۃ کو برا بھلا کہتے ہوئے آگے چل کر یوں لکھتے ہیں۔ ” یہودیوں کے لئے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی جس پر کتابیں لدی ہوں مگر یہ خالی گدھے ہیں اور اس شرف سے بھی محروم ہیں جو ان پر کوئی کتاب ہو۔ ہر ایک عقلمند جس کو ذرا انسانی عقل میں سے حصہ ہو سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ لم تکونا کا لفظ آیتوں سے متعلق ہے جس کے معنی ہیں کہ یہ دونوں نشان بجز مہدی کے اور کسی کو عطا نہیں کیے گئے۔ پس اس جگہ یہ کہاں سے سمجھا گیا کہ یہ کسوف خسوف خارق عادت ہوگا۔ بھلا اس میں وہ کونسا لفظ ہے جس سے خارق عادت سمجھا جائے اور جبکہ مطلوب صرف یہ بات تھی کہ ان تاریخوں میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا کسی کے لئے اتفاق نہیں ہوا صرف مہدی موعود کے لئے اتفاق ہوگا تو پھر کیا حاجت تھی کہ خدا تعالیٰ اپنے قدیم نظام کے برخلاف چاند گرہن پہلی رات میں جبکہ خود چاند ہی کالعدم ہوتا ہے۔ خدا نے قدیم سے چاند گرہن کے لئے ١٣، ١٤، ١٥ اور سورج گرہن کے لئے ٢٧، ٢٨، ٢٩ مقرر کر رکھے ہیں سو پیش گوئی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ نظام اس روز ٹوٹ جائے گا جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے نہ انسان۔“ پھر اسی کتاب میں فرماتے ہیں: ”اے اسلام کے عالمو ! ذرا آنکھیں کھولو اور دیکھو کس قدر تم نے غلطی کی ہے۔ جہالت کی زندگی سے تو موت بہتر ہے صاف ظاہر ہے کہ اس حدیث میں کسوف خسوف کو بے نظیر نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ اس نسبت کو بے نظیر ٹھہرایا گیا ہے۔ جو مہدی کیساتھ اس جگہ واقع ہے۔“ پھر مرزا غلام احمد قادیانی (حقیقت الوحی ص١٩٦، خزائن ج٢٢ ص٢٠٤، ٢٠٣) میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ چاند کی پہلی رات کو قمر نہیں کہتے ہلال کہتے ہیں قمر کا اطلاق محاورہ عرب میں
٣٠
تیسری رات کے چاند سے شروع ہوتا ہے اور بعض ہے۔ چاند کی پہلی رات سے مراد تیرہویں رات ہے او دن ہے تحریر فرماتے ہیں۔ ”اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے خاص کر یہ امر کس کو معلوم نہیں کہ اسلامی سن یعنی تیرہ سو مہدی موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا بلکہ لڑائیاں بھی کیں چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں دونو نہ کیا جائے تب تک بلا شبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے۔ کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔ اور صرف حدیث ہی ن اشارہ کیا ہے دیکھو آیت وخسف القمر و جمع ا
پھر اسی کتاب کے (ص١٩٧ خزائن ج٢٢ حدیث سے بڑھ کر اور کون سی حدیث صحیح ہوگی۔ جس بلکہ اس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ
پھر جناب مرزا غلام احمد (رسالہ جاء الحق فرماتے ہیں اٹھارہویں پیش گوئی۔ یہ پیش گوئی وہ ہے میں مندرج ہے قل عندی شهادة من الله من الله فهل انتم مسلمون ۔ یعنی کہہ میرے پا لاؤ گے کہہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم گوئی کے ہیں اور اسی آسمانی نشانوں کی طرف اشارہ خدا کی گواہی نشان کو ملاتی ہو چنانچہ بعد اس کے یہ گو آثار میں مہدی موعود کے نشانیوں میں آچکا تھا۔“
یہ ہیں مرزا قادیانی کے غلط اور پیچیدہ حدیث سے کیا ہے۔ دار قطنی کی وہ حدیث یہ ہے:
محمد بن علی قال ان لمهد والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رم
٣١ مہدی
تیسری رات کے چاند سے شروع ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک ساتویں رات سے قمر بولا جاتا ہے۔ چاند کی پہلی رات سے مراد تیرہویں رات ہے اور سورج کے بیچ کے دن سے مراد اٹھائیسواں دن ہے تحریر فرماتے ہیں۔ ”اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے خاص کر یہ امر کس کو معلوم نہیں کہ اسلامی سن یعنی تیرہ سو برس میں کئی لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مہدی موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا بلکہ لڑائیاں بھی کیں مگر کون ثابت کر سکتا ہے کہ ان کے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں دونوں جمع ہوئے تھے اور جب تک یہ ثبوت پیش نہ کیا جائے تب تک بلاشبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے۔ کیونکہ خارق عادت اسی کو تو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔ اور صرف حدیث ہی نہیں بلکہ قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھو آیت وخسف القمر و جمع الشمس والقمر !“
پھر اسی کتاب کے (ص ١٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٥) میں تحریر فرماتے ہیں: ”اور اس حدیث سے بڑھ کر اور کون سی حدیث صحیح ہوگی۔ جس کے سر پر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں بلکہ اس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔“
پھر جناب مرزا غلام احمد (رسالہ ضمیمہ سراج منیر ص ٥٨، خزائن ج ١٢ ص ٦٧) میں تحریر فرماتے ہیں اٹھارہویں پیش گوئی۔ یہ پیش گوئی وہ ہے جو (براہین احمدیہ حصہ ٤، خزائن ج ١ ص ٢٦٦) میں مندرج ہے قل عندی شهادة من الله فهل انتم مومنون۔ قل عندی شهادة من الله فهل انتم مسلمون۔ یعنی کہہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے پس کیا تم اس پر ایمان لاؤ گے کہہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو قبول کرو گے یہ دونوں فقرے بطور پیش گوئی کے ہیں اور انہی آسمانی نشانوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو بطور پیش گوئی کے ہوں کیونکہ خدا کی گواہی نشان کہلاتی ہے چنانچہ بعد اس کے یہ گواہی کہ خسوف کسوف رمضان میں ہوا۔ جیسا کہ آثار میں مہدی موعود کے نشانیوں میں آچکا تھا۔“
یہ ہیں مرزا قادیانی کے غلط اور پیچیدہ استدلال جو آپ نے دارقطنی کی ایک ضعیف حدیث سے کیا ہے۔ دارقطنی کی وہ حدیث یہ ہے:
محمد بن علی قال ان لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموت والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان و تنکسف الشمس فی النصف
٣١
منه و لم تکونا منذ خلق الله السموات والارض! یعنی محمد بن علی کہتے ہیں کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور وہ نشان ایسے ہیں کہ زمین آسمان کی جب سے پیدائش ہوئی ہے کبھی ان نشان کا ظہور نہیں ہوا۔ وہ دو نشان یہ ہیں کہ رمضان شریف میں قمر کی پہلی رات کو چاند گہن اور سورج گہن ایسے ہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کیا ان نشانوں کو ظاہر نہیں فرمایا اور ان کا ظہور نہیں ہوا۔
دارقطنی نے عمرو بن شمر سے اس حدیث کو روایت کیا ہے جو محدثین کے نزدیک کذاب ہے اور اس کذاب نے جابر کے واسطے سے محمد بن علی سے اس روایت کو نقل کیا ہے اب جابر اور محمد علی کئی ہیں خدا جانے مرزا قادیانی ہر جگہ کیونکر جناب امام باقر کو راوی بتاتے ہیں۔ بہرکیف مجھے دیکھنا یہ ہے کہ یہ حدیث کی پیش گوئی پوری ہوئی یا نہیں۔ حدیث کا لفظ لفظ اس بات کا شاہد حال ہے۔ کہ یہ گہن نہایت ہی عظیم الشان اور بطور خرق عادت ہوگا نہ کہ معمولی طور پر جو حسب معمول ہوا کرتا ہے۔ معمولی گہنوں کو اس پیش گوئی کا مصداق کہنا آفتاب صداقت پر خاک ڈالنا ہے اور بخیال مرزا قادیانی در پردہ حضرت روحی فداہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم و جناب امام باقر علیہ السلام کی توہین اور تکذیب کرنی ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرانے کے لئے چند در چند افتراؤں سے کام لیا ہے اور ان سے بڑی بڑی فاش غلطیاں اس حدیث کی تفہیم میں سرزد ہوئی ہیں پہلی غلطی ینکسف القمر لاول ليلة من رمضان و تنکسف الشمس في النصف منه کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ چاند اس پہلی رات میں گہن ہوگا جو اس کے خسوف کے تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرہویں رات اور سورج اس کے گہن کے دنوں میں سے اس دن گہن ہوگا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیس تاریخ کو۔ اگر قابلیت اسی کا نام ہے اور عربی زباندانی کا ماہر وہی شخص کہلا سکتا ہے جو رجل کا ترجمہ مردوں کے حمری بیگم لکھ دے اور امراۃ کا ترجمہ عورت نہ کر کے مرزا قادیانی کی عربی دانی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اس پر یہ دلیری کہ علمائے اہل حق کو الزام دیتے ہیں برا کہتے ہیں جاہل بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو محاورہ عرب کی خبر نہیں مرزا قادیانی تو فوت ہو گئے مگر میں حکیم نورالدین قادیانی سے دریافت کرتا ہوں کہ ینکسف القمر لاول لیلۃ محاورہ عرب میں کہاں تیرہویں رات کے چاند کے گہن پر بولا جاتا ہے اور کہاں محاورہ عرب میں کسی درمیانی رات یا دن کو نصف بولتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے قصائد نیز لغات عربیہ میں کثرت سے یہ
٣٢
محاورہ پایا جاتا ہے کہ قمر کا اطلاق مہینہ بھر کے کل راتوں بولتے ہیں اور بیچ کو وسط بولا کرتے ہیں اگرچہ یہ قصائد بھی فانی مخلوق کی زبان اور ان کی تصنیف بالآخر فنا کا ثبوت میں زندہ محاورہ اور زندہ شاہد یعنی قرآن مجید جناب حکیم نورالدین صاحب ہیں اور وہ علمی فضائل میں قرآن مجید سے ثابت کر دیں۔ قمر کا اطلاق محاورہ عرب اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ والقمر قدرناه مناز نے قمر کے منازل کو انداز کر رکھا ہے یہاں تک کہ وہ جگہ محاورہ عرب میں وسط بولتے ہیں وكذالك جع وسطاً میں نے تم کو درمیانی امت گردانی۔ نصف محاو جاتا بلکہ آدھے کی جگہ بولتے ہیں۔ ملاحظہ ہو یاایہ او نقص منه قليلا او زد عليه.
اے کملی اوڑھنے والے (مراد محبوب خدا ہوا کر مگر تھوڑا (یعنی اعتدال کو مدنظر رکھ کر) آدھی را
تحریر مرزا صاحب اگر قمر کا اطلاق محاورہ عرب میں خداوندی یوں ہونا چاہیے تھا۔ والهلال و القمر حالانکہ آیت مذکورہ میں صرف مطلق قمر ہے اور ایک بولتے تو ارشاد خداوندی یہاں ہوتا وكذالك جع بتا رہا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ وسط کی جگہ نصف ہے۔ اور پھر اگر نصف کے معنی وسط کے صحیح ہوتے تو طرز بیان قرآن مجید یوں ہوتا۔
ياايها المزمل قم الليل الا علیہ۔ اس محاورہ سے بھی قرآن ساکت ہے اور بالکل ہی خلاف ہے۔ برتقدیر اول مرزا صاحب و کہ تقدیر منازل محض قمر سے نہیں ہوتا بلکہ ہلال
٣
محاورہ پایا جاتا ہے کہ قمر کا اطلاق مہینہ بھر کے کل راتوں کے چاند پر ہوتا ہے اور آدھے کی جگہ نصف بولتے ہیں اور بیچ کو وسط بولا کرتے ہیں اگرچہ یہ قصائد وغیرہ عربی علم ادب کی مسلم کتابیں ہیں پھر بھی فانی مخلوق کی زبان اور ان کی تصنیف بالآخر فنا کا مرتبہ رکھتی ہے اس لئے میں اس محاورہ کے ثبوت میں زندہ محاورہ اور زندہ شاہد یعنی قرآن مجید پیش کرتا ہوں۔ قادیانی جماعت میں علامہ جناب حکیم نور الدین صاحب ہیں اور وہ علمی فضائل میں مشہور ہیں وہ بھی مرزا قادیانی کے محاورہ کو قرآن مجید سے ثابت کردیں۔ قمر کا اطلاق محاورہ عرب میں اس کے پورے دورہ پر بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ والقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم ۔ میں نے قمر کے منازل کو انداز کر رکھا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اپنی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ بیچ کی جگہ محاورہ عرب میں وسط بولتے ہیں وکذالک جعلنا کم امۃ وسطاً۔ اے امت محمدیہ ﷺ میں نے تم کو درمیانی امت گردانی۔ نصف محاورہ عرب میں ہرگز وسط اور درمیان پر نہیں بولا جاتا بلکہ آدھے کی جگہ بولتے ہیں۔ ملاحظہ ہو یا ایہا المزمل قم الیل الا قلیلا نصفہ او نقص منہ قلیلا او زد علیہ.
اے کملی اوڑھنے والے (مراد محبوب خدا حضرت رسول مقبول ﷺ) تو رات میں کھڑا ہوا کر مگر تھوڑا (یعنی اعتدال کو مدنظر رکھ کر) آدھی رات یا کم کر اس سے یا کچھ زیادہ۔ بنا بر تحقیق و تحریر مرزا صاحب اگر قمر کا اطلاق محاورہ عرب میں پورے ماہ کے دورہ پر نہیں ہوتا تو ارشاد خداوندی یوں ہونا چاہیے تھا۔ والہلال و القمر والبدر والحاق قدر ناہ منازل الخ حالانکہ آیت مذکورہ میں صرف مطلق قمر ہے اور ایسی ہی اگر درمیان کی جگہ محاورہ عرب نصف بولتے تو ارشاد خداوندی یہاں ہوتا وکذالک جعلنا کم امۃ نصفاً۔ مگر قرآن وسطاً بتا رہا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ وسط کی جگہ نصف بولنا محاورہ عرب میں ناجائز کیا بالکل ہی غلط ہے۔ اور پھر اگر نصف کے معنی وسط کے صحیح ہوتے اور آدھے کی جگہ محاورہ عرب میں وسط بولا جاتا تو طرز بیان قرآن مجید یوں ہوتا۔
یا ایہا المزمل قم الليل الا قلیلا وسطہ او نقص منہ قلیلا او زد علیہ۔ اس محاورہ سے بھی قرآن ساکت ہے اور نصف کی جگہ وسط بولنا قرآن کے زندہ محاورہ کے بالکل ہی خلاف ہے۔ بر تقدیر اول مرزا صاحب کی تحریر سے قرآن مجید پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر منازل محض قمر سے نہیں ہوتا بلکہ ہلال بدر محاق ان تینوں کے ساتھ قرآن نے ایسا جملہ
٣٤
بیان کیا جس سے مقصود اصلی فوت ہوتا ہے اور نعوذ باللہ قرآن شریف فصیح و بلیغ نہیں۔ و بر تقدیر ثانی آیت موخرالذکر کا ترجمہ یہ ہوگا کہ اے کملی اوڑھنے والے تو رات کو کھڑا ہو کر مگر تھوڑا۔ ٹھیک دو پہر رات یا اس سے کچھ کم کر یا زیادہ یعنی ساڑھے گیارہ بجے رات سے ساڑھے بارہ بجے تک تو رات کو قیام کر سکتا ہے۔ اور یہ ہرگز مقصود خداوندی اور عنوان بیان قرآن نہیں ۔ حضرت رسول مقبول ﷺ رات رات بھر جاگتے تھے اور اتنا قیام فرماتے تھے کہ آپ کا قدم مبارک ورم کر جاتا تھا حتی ورمت قدماہ۔ حدیث نبوی میں مذکور ہے خدا نے آپ ﷺ کی اس قدر ریاضت دیکھ کر اپنے محبوب سے فرمایا کہ تو رات کو اس قدر مت قیام فرما رات نیند اور سکھ اور دن بھر کی تھکان رفع کرنے کے لئے بنائی گئی۔ اس میں اس قدر شاقہ محنت نہ کرنی چاہئے۔ جس سے جسمانی صحت جاتی رہے اور ترک فرائض بھی لازم آئے پس آدھی رات یا کچھ کم و بیش تک قیام کرنا کافی وافی ہے اور چونکہ آپ اولوالعزم نبی اور مفتخر ومقتدیٰ بنی آدم تھے صحابہ آپ کے شیدائی تھے قدم بقدم آپ کی اتباع کو فرض تصور کرتے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین کا لقب عطا فرمایا ہے اور یہ لقب بالکل ہی حقیقت اور صداقت پر مبنی ہے اس لئے اپنے حبیب کے طرزعمل سے یہ بات ظاہر کر دی کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے عبادت نافلہ کو ایک انداز سے ادا کرنا چاہئے۔
معزز ناظرین! اب آپ ہی انصاف فرمائیں کہ محاورہ عرب سے نابلد مرزا غلام احمد قادیانی تھے یا علماء اہل حق ہیں؟ مرزا قادیانی اپنی کج فہمی سے کج بحثی میں کچھ اس قدر الجھتے ہیں اور وہ باتیں تحریر کر جاتے ہیں جو خدا کے مقدس اور پاک ارشاد کے خلاف ہوتا ہے مگر بندہ خدا کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ ینکسف القمر لاوّل لیلۃ کا ترجمہ تیرہویں رات بالکل ہی غلط ہے حدیث کے لفظ سے یہ ترجمہ مطابقت نہیں رکھتا۔ بلکہ سراسر اس کے خلاف ہے مراتب قمر پر بھی اگر لحاظ کیا جائے تو بھی یہ ترجمہ غلط ہے کیونکہ محاورہ عرب میں مطلقاً قمر کا اطلاق اس کے پورے دورہ اور پورے ماہ پر ہوتا ہے ہاں عرفاً ابتدائی دو راتوں کے قمر کو ہلال چودھویں کے قمر کو بدر اور ٢٧۔٢٨۔٢٩ کے قمر کو محاق بولتے ہیں۔ اس مراتب پر خیال کر کے زیادہ سے زیادہ تیسری رات ترجمہ کر سکتے ہیں۔ تیرہویں رات تو درمیانی رات ہے۔ اگر حدیث میں مدنظر تیرہویں رات کا اظہار ہوتا تو لاول لیلۃ کی جگہ لیلۃ الوسطیٰ ہوتا۔ یہ کیسی فاش غلطی ہے۔
دوسری غلطی
وتخسف الشمس فی النصف منہ سے کسوف شمس کا نصف مراد لینا
محاورہ عرب کے بالکل ہی خلاف ہے میں نے قرآن معلوم ہوتا ہے کہ محاورہ عرب میں درمیان کی جگہ وسط یہ لکھنا کہ سورج اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس کس قدر کھلی غلطی ہے۔
مرزا قادیانی اسلام کے آفتاب میں گرہن خداوندی ہے۔ سرمو اس کے خلاف ہو نہیں سکتا اور نہ تنکسف الشمس فی النصف منّہ میں منّہ کی اس ضمیر کو مرزا صاحب شمس کی طرف یا من ایام کسوفہا فرماتے ہیں حدیث شریف میں سوائے رمضان کے اور کہ مرزا صاحب محاورہ عرب پر گفتگو کر رہے ہیں مگر درمیان درست نہیں بلکہ یہ تو وسط کا ترجمہ ہے۔ عربی اور ظاہر کہ اول کا مقابل نصف ہے نہ کہ وسط۔
تیسری غلطی
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ لم تکونا کا لفظ آیتیں ا ص ٣٣١) مرزا قادیانی کے نزدیک ہر معمولی عقل و فہم سمجھ سکتا ہے اور وہ بھی اس درجہ پر سمجھ سکتا ہے کہ عربی جائے نیز اوروں کو سمجھا دے میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک رکھتا ہو مگر عربی زبان دانی سے اس کے کان آشنا نہ ہو ہے اور اس کی صحت و عدم صحت کو پرکھ سکتا ہے۔ عربی زبان معمولی عقل کی۔ یہ تو بالکل ہی طفلانہ تسلی ہے۔ جب اور جاہل ہیں الا ماشاء اللہ جسے خدا نے علم عطا فرمایا سمجھ سکتا ہے کہ صرف لم تکونا آیتیں سے متعلق نہیں بلکہ والارض یہ پورا جملہ آیتیں سے تعلق رکھتا ہے اور اس السموات والارض کی پھر کیا ضرورت تھی۔
٢٥
محاورہ عرب کے بالکل ہی خلاف ہے میں نے قرآن مجید کا زندہ محاورہ پیش کر دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محاورہ عرب میں درمیان کی جگہ وسط بولتے ہیں نہ کہ نصف ۔ تو پھر مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ سورج اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس دن گرہن ہوگا جو گرہن کا درمیانی دن ہے۔ کس قدر کھلی غلطی ہے۔
مرزا قادیانی اسلام کے آفتاب میں گرہن لگانا چاہتے ہیں مگر واللہ متم نورہ ارشاد خداوندی ہے۔ سر مو اس کے خلاف ہو نہیں سکتا اور اس سے بھی زیادہ جہالت کی بات یہ ہے کہ تنكسف الشمس في النصف منہ میں منہ کی ضمیر مذکر صاف رمضان کی طرف پھرتی ہے اس ضمیر کو مرزا صاحب شمس کی طرف یا من ایام کسوف الشمس کی طرف یا خدا جانے کس طرف راجع فرماتے ہیں حدیث شریف میں سوائے رمضان کے اس ضمیر کا کوئی مرجع مذکور نہیں اور لطف تو یہ ہے کہ مرزا صاحب محاورہ عرب پر گفتگو کر رہے ہیں مگر اتنا بھی خیال نہیں رکھتے کہ نصف کا ترجمہ درمیان درست نہیں بلکہ یہ تو وسط کا ترجمہ ہے۔ عربی علم ادب میں مقابلے کا بہت کچھ خیال رہتا ہے اور ظاہر کہ اول کا مقابل نصف ہے نہ کہ وسط۔
تیسری غلطی
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ہر ایک عقلمند جس کو ذرہ انسانی عقل میں سے حصہ ہو سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ لم تکونا کا لفظ آیتیں سے متعلق ہے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١) مرزا قادیانی کے نزدیک ہر معمولی عقل و فہم والا انسان قرآن اور احادیث کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے اور وہ بھی اس درجہ پر سمجھ سکتا ہے کہ عربی عبارت کی ترکیب بھی بتلا دے یعنی خود سمجھ جائے نیز اوروں کو سمجھا دے میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک بڑے سے بڑا فلاسفر بھی جو تمامی زبان پر عبور رکھتا ہو مگر عربی زبان دانی سے اس کے کان آشنا نہ ہوں۔ وہ کیوں کر عربی عبارت کی تشریح کر سکتا ہے اور اس کی صحت و عدم صحت کو پرکھ سکتا ہے۔ عربی عبارت سمجھنے کے لئے علم کی ضرورت ہے نہ کہ معمولی عقل کی۔ یہ تو بالکل ہی طفلانہ تسلی ہے۔ جب تو مرزا قادیانی کے ماننے والے اکثر نا قابل اور جاہل ہیں الا ماشاء اللہ جسے خدا نے علم عطا فرمایا ہے اور عربی زبان دانی سے واقف ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ صرف لم تکونا آیتیں سے متعلق نہیں بلکہ لم تکونا منذ خلق السموات والارض یہ پورا جملہ آیتیں سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی تشریح کرتا ہے ورنہ منذ خلق السموات والارض کی پھر بیکار ضرورت ہی کیا تھی۔ تمام دنیا اس بات کو جانتی ہے اور خود
٣٥
مرزا قادیانی اس بات کو مان رہے ہیں کہ تیرہ چودہ پندرہ۔ تین راتوں میں چاند گہن اور ٢٧۔٢٨۔ ٢٩۔ ان تین دنوں میں سورج گرہن مقررہ نظام عالم ہے اور ان تاریخوں میں برابر چاند گہن اور سورج گہن طبعی نظام پر ہوتا رہتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ ان تاریخوں میں گرہن نہیں ہوا نعوذ باللہ غلط اور واقعات کے خلاف ہے۔ کوئی ذی علم قادیانی منذ خلق السمٰوات والارض کو محذوف مان کر اس حدیث کی ترکیب بیان کرے اور اس جملہ کے مرزا قادیانی کے خیال کے اعتبار سے ذکر کرنے کی وجہ ظاہر کرے۔
چوتھی غلطی
لم تكونا منذ خلق السمٰوات والارض کا لفظی ترجمہ یہ ہے وہ دو نشانیاں جب سے دنیا پیدا ہوئی نہیں ہوئیں اور مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں کسوف خسوف کو بے نظیر نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ اس نسبت کو بے نظیر ٹھہرایا گیا۔ کیا خوب اگر اس بے نظیر نسبت اظہار مطلوب تھا تو صرف لم تکن کافی تھا تکونا تثنیہ کی کیا ضرورت تھی مزید برآں جو شے کہ عامۃ الورود ہو اور جس کا دورہ برابر بقاعدہ علم نجوم ہوتا رہے وہ ہرگز بے نظیر نہیں اور جو خود بے نظیر نہیں اس کی نسبت بے نظیر کیونکر ہو سکتی ہے؟ زیادہ تعجب تو اس پر ہے کہ مرزا قادیانی لم تکونا کو آیتوں کے متعلق بتا رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ نسبت ہی بے نظیر ہے اور پھر فرما رہے ہیں کہ یہ کسوف خسوف بے نظیر نہیں ٹھہرایا گیا آپ ہی اقرار بھی کرتے ہیں کہ یہ نشانی بے نظیر ہے اور آپ ہی انکار بھی کرتے ہیں کہ یہ قدیم نظام عالم اور معمولی گہن ہے جو ہمیشہ اپنے مقرر وقت پر ہوتا رہتا ہے۔ گہن کے آثارات سے یہی انسانی قویٰ میں مختلف اثر باعتبار استعداد بدنی ہوا کرتا ہے چونکہ چاند اور سورج دونوں کے گرہن پر مرزا قادیانی نے نظر دوڑائی اس لئے طبیعت میں مختلف اثر پیدا ہو گیا۔
پانچویں غلطی
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ کسوف خسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا اور حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہ ہوا ہو گا کہ اس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں کسوف خسوف ہوا ہوتا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) بیشک آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا اس
٣٦
٧ غرض سے تھا کہ وہ کسوف خسوف قانون قدرت اول اور آخر لم تکونا منذخلق السمٰو ذہن نشین کرایا گیا ہے۔ میں مؤلف القاء ربانی س لفظ ہے جس سے یہ مطلب سمجھا جائے جو مرزا قا یہ فرمانا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق ی اہل فہم مرزا قادیانی کے اس مطلب پر غور کری نے جو مطلب اس حدیث کا بیان کیا ہے۔ آیا ا کسی طرح سے بھی اس مطلب کا احتمال اور گ اختراعی مطلب ہے۔ اس حدیث کے مطلب فریب دیا ہے ان میں محض ایک امر کی طرف م میں تو یہ ہے کہ ہمارے مہدی یعنی مہدی صاد یعنی مہدی صادق کے ایسے دو نشان ہیں جو اس نئے اور جدید ہوں گے یعنی مہدی صادق کے ظ ہر گز نہیں ہو گا بلکہ یہ محض اس مہدی صادق کے صادق کے وقت میں بھی نہیں ہوا ہوگا عجیب صادق کی علامت ٹھہرایا گیا ہے اب بھلا اس ع ایسی صورت میں یہ نشان کیونکر ہو گا اور اس نش جماعت مرزا قادیانی کے ان ابلہ فریبوں پر غور ک نہیں چاہتی۔ نیز مرزا قادیانی اسی تحریر سے بچ دعویٰ کیا ہو اور اس کے وقت میں ان تاریخوں م ابھی تو مرزا قادیانی یہ فرما رہے ہ اور ابھی اس نشانی کو عام بنا کر اسے رسول نے بدحواس انسان پر طاری ہوتی ہے۔ اہل اسلا مقبول ﷺ کو خاتم الرسل مانتے ہیں یعنی آپ مہدی نہیں ہو سکتا جو رسالت کا مدعی ہو اور ج
غرض سے تھا کہ وہ کسوف خسوف قانون قدرت کے برخلاف ہوگا۔ اور یہاں تو ایک نہیں دو مرتبہ اول اور آخر لم تكونا منذ خلق السموات والارض سے اس کی تاکید کی گئی ہے اور اسے ذہن نشین کرایا گیا ہے۔ میں مؤلف القاء ربانی سے دریافت کرتا ہوں کہ حدیث میں وہ کون سا ایسا لفظ ہے جس سے یہ مطلب سمجھا جائے جو مرزا قادیانی نے بیان فرمایا ہے۔ خصوصاً مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہوگا۔ اہل انصاف اور اہل فہم مرزا قادیانی کے اس مطلب پر غور کریں اور حدیث کے الفاظ کو بھی دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے جو مطلب اس حدیث کا بیان کیا ہے۔ آیا الفاظ حدیث کا بھی یہی مطلب ہے اور حدیث میں کسی طرح سے بھی اس مطلب کا احتمال اور گنجائش ہے یا یہ محض مرزا قادیانی کا من گھڑت اور اختراعی مطلب ہے۔ اس حدیث کے مطلب میں مرزا قادیانی نے جو غلطیاں کی ہیں یا قصداً فریب دیا ہے ان میں محض ایک امر کی طرف میں یہاں توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس حدیث میں تو یہ ہے کہ ہمارے مہدی یعنی مہدی صادق کے ایسے دو نشان بالکل نئے اور جدید ہوں گے یعنی مہدی صادق کے ایسے دو نشان ہیں جو اس مہدی کے قبل نہیں ہوئے بلکہ وہ دونوں نشان بالکل نئے اور جدید ہوں گے یعنی مہدی صادق کے وقت میں ایسا خسوف اور کسوف ہوگا جو اس سے پہلے ہرگز نہیں ہوا بلکہ یہ محض اس مہدی صادق کے وقت میں ہوگا اب مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ کسی مدعی صادق کے وقت میں بھی نہیں ہوا ہوگا عجیب تماشے کی بات ہے اس خسوف و کسوف کو تو مہدی صادق کی علامت ٹھہرایا گیا ہے اب بھلا اس علامت کے ہوتے کوئی مدعی صادق کس طرح ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں یہ نشان کیونکر ہوگا اور اس نشان کے بیان کا کیا نفع ہوگا افسوس ہے کہ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کے ان ابلہ فریبوں پر غور نہیں کرتی اور کورانہ تقلید سے ایک دم کے لئے جدا ہونا نہیں چاہتی۔ نیز مرزا قادیانی اسی تحریر سے پیوستہ فرماتے ہیں کہ: ”اس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں کسوف و خسوف ہوا ہو۔“
ابھی تو مرزا قادیانی یہ فرما رہے تھے کہ یہ نشانیاں ہمارے مہدی کے لئے مخصوص ہیں اور ابھی اس نشانی کو عام بنا کر اسے رسول سے بھی متعلق کرتے ہیں اعراض عن الحق سے ایسی ہی بدحواسی انسان پر طاری ہوتی ہے۔ اہل اسلام تو آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ سے حضرت رسول مقبول ﷺ کو خاتم الرسل مانتے ہیں یعنی آپ کے بعد کوئی دوسرا رسول نہیں ہو سکتا اس لئے کوئی ایسا مہدی نہیں ہو سکتا جو رسالت کا مدعی ہو اور جب قرآن وحدیث نے فیصلہ کر دیا کہ کوئی ایسا مہدی
٣٧
نہیں آسکتا پھر اس کی نشانیاں کیسی؟ اب یہ کہنا ضرور ہے کہ یا تو یہ روایت صحیح نہیں ہے یا مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہیں کیونکہ انہیں رسالت کا دعویٰ ہے۔
چھٹی غلطی
پھر مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”بھلا اس میں وہ کونسا لفظ ہے جس سے خارق عادت سمجھا جائے اور جب کہ مطلوب صرف یہ بات تھی کہ ان تاریخوں میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا کسی کے لئے اتفاق نہیں ہوا صرف مہدی موعود کے لئے اتفاق ہوگا تو پھر کیا حاجت تھی کہ خدا تعالیٰ اپنے قدیم نظام کے برخلاف چاند گرہن پہلی رات میں جبکہ خود چاند کالعدم ہوتا ہے کرے خدا نے قدیم سے چاند گرہن کے لئے ١٣، ١٤، ١٥ اور سورج گرہن کے لئے ٢٧، ٢٨، ٢٩ مقرر کررکھے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)
سو پیش گوئی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ نظام اس روز ٹوٹ جائے گا جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے نہ انسان پہلے میں اسے اچھی طرح ثابت کرچکا ہوں کہ حدیث کے الفاظ نہایت تاکید سے یہ بتا رہے ہیں کہ یہ نشانی بطور خارق عادت ہوگی اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ قرآن مجید کا زندہ محاورہ پیش کر کے بتا چکا ہوں کہ قمر کا اطلاق پورے ماہ کے چاند پر ہوتا ہے۔ ہاں مرزا تیسری کے چاند کو قمر بولتے ہیں اگر مرزا قادیانی غایت درجہ کے منصف اور محتاط بننا چاہتے تھے تو اول لیلۃ سے تیسری کا چاند مراد لیتے پہلی رات کے چاند کو پیش کرکے کیوں قوم کو جل دینا چاہتے ہیں اور جب پہلی کا چاند صفائی سے نظر آتا ہے اور برابر دنیا اسے دیکھتی رہی ہے تو یہ گرہن کا نظر آجانا خدا کی خدائی میں کیوں ممکن نہیں کیا اس حدیث میں یہ بھی شرط ہے کہ دنیا کا ہر فرد واحد اس کو دیکھے بھالے سب سے زیادہ مضحکہ خیز تو یہ جملہ ہے کہ ”خدا کو کیا حاجت تھی کہ قدیم نظام کے خلاف کرتا“ میں پوچھتا ہوں کہ خدا کو اس بات کی کیا حاجت تھی کہ ان معمولی گہن کو جو ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور جنہیں ماہران علم نجوم نیز دنیا کے بڑے بڑے فلاسفر زمین کی حسابی گردش پر محمول کرتے ہیں کوئی خدائی بات نہیں جانتے ایسے معمولی بے وزن اور غیر مفید گرہن کو اپنی مہدی کے لئے مخصوص نشانی گردانتا۔ نشانی تو اسی کو کہتے ہیں جس کے دیکھتے ہی پوشیدہ چیز کے ظہور کی خبر ہوجائے۔ ایسے مجہول الصفت نشان سے تو کبھی رہبری نہیں ہوسکتی۔ علمائے اہل حق تو یہ فرما رہے ہیں اور حدیث کا لفظ لفظ یہ بول رہا ہے کہ مہدی موعود ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور یہ نشانیاں ابھی پوری نہیں ہوئیں۔ ایک اور امر نہایت ہی قابل غور یہ ہے کہ مصلح مامور من اللہ مہدی مسیح موعود رسول نبی
وغیرہ عام اصلاح خلق اللہ کے لئے آتے ہیں اور ا سے کہ وہ یہود ہو نصاریٰ ہو آریہ ہو دہریہ ہو کوئی بھی بااسلام ہوتا ہے اور یہ کیوں محض اس وجہ سے کہ اس انسان میں پائی نہیں جاتیں۔ تائید ایزدی اور خوارق اس کا دعویٰ عام دعویٰ ہوتا ہے اور اس کی نشانیاں عام میں محدود نہیں ہوتیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ مرکب سب ہی کچھ کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں کروڑہا ان تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں جو زمین پر رہتے خواہ امریکہ کے یہ دعویٰ عام دعویٰ ہے۔ مگر اپنی خاص میں وہ ایک ضعیف حدیث پیش کرتے ہیں جو سلیم نزدیک خود مسلم نہیں پھر وہ کیونکر اسے مہدی کی مخصوص عام گہن سے خس برابر بھی اثر نہیں ہو سکتا اگر فرقہ باطنیہ کرے کہ آپ خدا کو ایک اور واحد مان رہے ہیں تو پھر ہے عجیب یوں کہے کہ بھائی قرآن مجید میں لکھا ہے ہے۔ تو کیا اس جواب سے سائل کی تشفی ہو جائے پیدا ہوگا کہ اسلام کے اندر عقلی دلائل خدا کی وحدانیت قبول نہیں۔ ایسے ہی مرزا قادیانی سے اگر یہ سوال ادعاء نجوم کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ اپنے دعوے کی دعوے پر آپ کیا دلیل رکھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب میں ایسا لکھا ہے۔ (اگر کوئی دوسرا جواب ہو سکتا ہے مہدی کی خاص نشانی ہوگی۔ اس لئے یہ نشانی خارق قابل تحسین و آفرین ہے وہ ظاہر ہے کیونکہ اس سے ٹھہرتا ہے۔ نیز تحصیل حاصل لازم آتا ہے مسلمانوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین جاننے دعویٰ پورا ہوکر رہے گا اور جب ہی مرزا قادیانی کی
وغیرہ عام اصلاح خلق اللہ کے لئے آتے ہیں اور ان کی نورانیت سے ہر تاریک دلوں کو عام اس سے کہ وہ یہود ہو نصاریٰ ہو آریہ ہو دہریہ ہو کوئی بھی ہو فائدہ پہنچتا ہے اور اس کے ہاتھوں مشرف باسلام ہوتا ہے اور یہ کیوں محض اس وجہ سے کہ اس کے اندر وہ کھلی کھلی نشانیاں ہوتی ہیں جو عام انسان میں پائی نہیں جاتیں۔ تائید ایزدی اور خوارق اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ہوتے ہیں اس کا دعویٰ عام دعویٰ ہوتا ہے اور اس کی نشانیاں عام نشانیاں ہوتی ہیں کسی خاص فرقہ اور خاص ٹولی میں محدود نہیں ہوتیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ مرکب دعویٰ ہے وہ اپنے کو مجدد مہدی مسیح رسول نبی سب ہی کچھ کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں کسر صلیب کے لئے آیا ہوں اور وہ خود لکھتے ہیں کہ میں ان تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں جو زمین پر رہتے ہیں۔ خواہ وہ یورپ کے ہوں خواہ ایشیا کے خواہ امریکہ کے یہ دعویٰ عام دعویٰ ہے۔ مگر اپنی خاص نشانی جو دنیا پر پیش کرتے ہیں اس کے ثبوت میں وہ ایک ضعیف حدیث پیش کرتے ہیں جو صلیب پرستوں یعنی عیسائی اور آریہ وغیرہ اقوام کے نزدیک خود مسلم نہیں پھر وہ کیونکر اسے مہدی کی مخصوص نشانی تصور کریں گے۔ ان منکرین اسلام کو تو عام گہن سے خس برابر بھی اثر نہیں ہوسکتا اگر فرقہ باطلہ کا کوئی فرد واحد کسی مسلمان سے یہ دریافت کرے کہ آپ خدا کو ایک اور واحد مان رہے ہیں۔ اس کے وحدانیت پر آپ کے پاس کیا دلیل ہے مجیب یوں کہے کہ بھائی قرآن مجید میں لکھا ہے کہ ”قل ھو اللہ احد“ یعنی کہہ اللہ ایک ہے۔ تو کیا اس جواب سے سائل کی تشفی ہو جائے گی۔ نہیں بلکہ برعکس سائل کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ اسلام کے اندر عقلی دلائل خدا کی وحدانیت پر ایک بھی نہیں ہیں اور یہ مذہب ہرگز قابل قبول نہیں۔ ایسے ہی مرزا قادیانی سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ ایک معمولی گرہن کو جو برابر قو اعد نجوم کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ اپنے دعوے مہدویت کی خاص نشانی قرار دیتے ہیں۔ اس دعوے پر آپ کیا دلیل رکھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بجز اس کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ حدیث میں ایسا لکھا ہے۔ (اگر کوئی دوسرا جواب ہو سکتا ہے تو کوئی ذی علم قادیانی بیان کرے) کہ یہ گہن مہدی کی خاص نشانی ہوگی۔ اس لئے یہ نشانی خاص میرے ہی لئے ٹھہری۔ ایسا جواب جس قدر قابل تحسین و آفرین ہے وہ ظاہر ہے کیونکہ اس سے مقصود خداوندی فوت ہوتا ہے اور ارشاد نبوی غلط ٹھہرتا ہے۔ نیز تحصیل حاصل لازم آتا ہے مسلمان تو پہلے ہی سے خدا کو واحد مانتے ہیں اور حضور پر نور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین جانتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کا ارشاد لفظاً ومعنی پورا ہو کر رہے گا اور جب ہی مرزا قادیانی کے ہر قول کو ارشاد نبوی سے جانچتے ہیں اور اس
٣٩
جانچ کے بعد یقین رکھتے ہیں کہ یہ گہن حدیث نبوی کے مطابق نہیں ہوا۔ مگر اقوام غیر اس سے کیا مستفید ہوں گے اور کسر صلیب کیونکر ہوگا۔ خود ایک غلط دعویٰ کر رہے ہیں اور اس لئے اہل حق سے حاجت دریافت کرتے ہیں۔ خدائی حاجت دریافت کرنے والے مرزا قادیانی کون تھے۔ اس کی مشیت جو چاہے کرے اور جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ انسان ضعیف البنیان کی کیا ہستی کہ مخلوق بن کر خالق کے راز کی لم اور حاجت دریافت کرے سوائے شیطانی وسوسہ کے اور کیا ہو سکتا ہے۔
نہ در کنہ بیچوں سبحان رسید
خدا کو کیا حاجت تھی مرزا قادیانی کا یہ جملہ سراسر بے ادبی سے بھرا ہوا ہے۔ خدا جب حاجت مند ٹھہرا تو وہ خدا کیونکر رہا۔ میرے خدا کی تو صفت یہ ہے: ”قل هو الله احد، الله الصمد“ مرزا قادیانی کے نزدیک کوئی دوسرا محتاج خدا بھی ہے۔ ”الله الله ربی لا اشرک به شیئاً“
تیرا ظہور بھی جب اشتباہ میں رکھے
سنة ضروریہ کا ص٤ ملاحظہ ہو: حضرت خواجہ عبید اللہ الاحرار جو حضرت جامیؒ کے پیرو مرشد تھے اور جن کے فیضان انوار کا ایک زمانہ قائل ہے وہ خدائے بے نیاز کی درگاہ میں نہایت ہی خشوع و خضوع سے یوں عرض کرتے ہیں:
یا الٰہ العالمین بار گناہ آوردہ ام
بردرت زین بار خود پشت دو تا آوردہ ام
عجز و زاری بردر عالم پناہ آوردہ ام
من نمی گویم کہ بودم سالہا در راہ تو
ہستم آن گمرہ کہ اکنون روبراہ آوردہ ام
چار چیز آوردہ ام حقاً کہ در راہ تو نیست
نیستی و حاجت و عذر و گناہ آوردہ ام
درد درویشی و دلریشی و بیخویشی بہم
ایں ہمہ بر دعویٰ عشقت گواہ آوردہ ام
٤٠
زانکه از شرمندگی روی سیاه آورده ام
اللہ اکبر کیا مناجات ہے اور کیسی خاکساری ہویدا ہے۔ جس وقت آپ کی زبان سے یہ درد بھری دعا نکلی ہوگی۔ کیسی کیفیت آپ پر طاری ہوگی۔ آپ کی صداقت اور خلوص کا یہ اثر ہے کہ اس کے لکھتے میرا دل بے اختیار ہو گیا۔ روح تازہ ہوگئی جی چاہتا ہے کہ مکرر اس مناجات کو پڑھے جاؤں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین پر یہاں خود ایک کیفیت طاری ہوگی اور وہ معلوم ہو جائے گا کہ خدا کے کلام میں کیا اثر ہوتا ہے۔ کتنا صاف ارشاد ہے کہ فنا حاجت عذر گناہ یہ چار چیز خدا کی شایان شان نہیں۔ یہ لوازم بشریہ ہیں اور مرزا قادیانی ان باتوں کو خدا میں تلاش کر رہے ہیں۔ مہدویت کا دعویٰ اور اتنی بھی خبر نہیں کہ خوارق کا ظہور کیوں ہوتا ہے۔ ایک زمانہ جانتا ہے کہ خوارق کا ظہور اس وجہ سے ہوا کرتا ہے کہ مامور من اللہ کی تصدیق کرے اور منکرین اسلام کو مذاہب حقہ کی طرف بلائے۔ یہی غرض اور حاجت ہے جو عام فہم میں مفقود ہے۔ ورنہ یوں تو آفتاب ماہتاب چاند گہن سورج گہن سب ہی خدا کی نشانیاں ہیں مگر یہ کسی کی نبوت اور کسی مجدد کے ظہور پر دلالت نہیں کرتیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں دیکھو جہاں لکھا ہے۔ ان الشمس والقمر آيتان لا ينخسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات الله.
(مسلم ج ١
ص ٢٩٥) یعنی دنیا کے عام اور معمولی نظارے آفتاب ماہتاب چاند گہن سورج گرہن خدا کی ہستی پر دلالت کرتے ہیں اور بس۔ مجدد اور مامور من اللہ کی شناخت کے لئے تو خوارق کی سخت ضرورت اور حاجت ہے۔ نعوذ باللہ!
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”سو پیش گوئی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ نظام اس روز ٹوٹ جائے گا جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے نہ انسان“
(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)
اللہ اللہ کیا شائستہ اور تہذیب سے بھرا ہوا جملہ ہے الہام اور پیش گوئی سے تو مرزا قادیانی مہدی ثابت نہیں ہوتے۔ ہاں ان مبارک جملوں سے البتہ مرزا قادیانی کی مہدویت کی شان معلوم ہوتی ہے۔ کس قدر مرزا قادیانی کے دل میں اصلاح خلق اللہ کی تڑپ تھی۔ بے چارے کس کس طرح گالیاں دے کر مخلوق خدا کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ جزاک اللہ!
(سرمہ چشم آریہ
میں مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے میں اسے نقل کر چکا ہوں
ص ١٧، ١٦، خزائن ج ٢ ص ٦٣، ٦٥)
ناظرین نے ملاحظہ کر لیا ہوگا۔ ذرا پھر بھی ملاحظہ فرمائیے۔ دیکھئے کیسی لطیف باتیں پیدا ہوتی ہیں
٤١
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اس کی قدرتوں کے محدود ہو جانے سے وہ خود بھی محدود ہو جائے گا اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اور کُنہ ہے۔ ہم نے سب معلوم کرلی ہے۔ اور اس کے گہراؤ تک ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے۔ وہ ظاہر ہے۔ حاجت بیان نہیں۔ سو ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانون قدرت خیال کر لینا اور اس پر غیر متناہی سلسلہ قدرت کو ختم کر دینا اور آئندہ کے نئے اسرار کھلنے سے ناامید ہو جانا۔“ ان پست نظروں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خدائے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہے شناخت نہیں کیا۔“ میں دنیا کے ہر فرد واحد سے جس کے ہاتھ میں یہ کتاب ہو دریافت کرتا ہوں کہ کیا مرزا قادیانی نے مضمون زیر بحث میں قانون قدرت کو محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب پر محمول نہیں کیا اور ١٣، ١٤، ١٥ کو چاند گہن اور ٢٧، ٢٨، ٢٩ کو سورج گہن کے لئے مخصوص اور محدود نہیں کیا اور کیا وہ اس کے گہرائی تک نہیں پہنچے کہ ان ایام مقررہ کے خلاف چاند گہن اور سورج گرہن ہو نہیں سکتا اور اگر ہو تو وہ قانون قدرت کے برخلاف ہے اور حدیث کا یہ منشاء ہرگز نہیں کہ وہ قانون قدرت کے برخلاف ہوگا اور اس گہن سے نظام عالم ٹوٹ جائے گا۔ اس جملہ سے کیا جناب مرزا قادیانی نے سلسلہ قانون قدرت کو ختم کر کے آئندہ اسرار کے دروازہ کھلنے کو اپنے اوپر بند نہیں کیا؟
ضرور انہوں نے خدا کی معرفت کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا اور گہن کے ان ایام کو ذکر کے ان تاریخوں میں قانون قدرت کو محدود سمجھا اور محدود سمجھانے کی مختلف رسالے میں مختلف طرز سے تحریریں لکھیں جب یہ ثابت ہو گیا تو ساتھ ہی ساتھ مرزا قادیانی ہی کے تحریر سے یہ بھی روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا تحریر کفر بے ادبی بے ایمانی بھری ہوئی ہے۔ مرزا قادیانی نے خالق ذوالجلال کو جیسا کہ چاہئے نہیں پہچانا اور واقعی مرزا قادیانی نے بہت ہی سچ فرمایا کہ ”جہالت کی زندگی سے موت بہتر ہے۔“
عیب و هنرش نهفته باشد
فارسی کا مشہور قول ہے اور آواز سے بھی حیوان اور انسان اور پھر حیوان کی جنسیت کا پتہ چلتا ہے۔ گدھے کی آواز تو اور بھی جانوروں کی آواز میں سے بری آواز ہے۔ ان انکر الاصوات لصوت الحمیر۔ ارشاد خداوندی ہے۔ ناظرین خود فیصلہ کرلیں کہ گدھا کون تھا انسان کون ہے؟
٤٢
مہربان آپ مگر طرز رقم
مرزا قادیانی (سرمہ چشم آریہ ص ١٦، ١٧، خزائن ج ٢ ص ”خدائے تعالیٰ کی قدرت کو زمانہ کے محدود در محدود تجارب پر معلوم ہوں۔ اس کی نسبت یوں مت کہو کہ یہ بات خلاف فطر طرح خدا غیر محدود ہے۔ اس طرح اس کے اسرارات غیر مح میں خدا کی قدرتوں کو ١٣، ١٤، ١٥، ٢٧، ٢٨، ٢٩ میں زمانہ کے ہیں اور ان تاریخوں کے علاوہ وقوع گرہن کو خلاف قدرت اور تحریر ہے۔ جہاں جیسا موقع دیکھا کہہ دیا لکھ دیا ایسے شخص کی
ایک وعید ملاحظہ ہو:
”وعن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّ القیامۃ ذا الوجھین الذی یاتی ھؤلاء بوجہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے روز بدترین لوگوں میں کے پاس اور طریق سے آتا ہے اور دوسری جماعت کے پاس الالباب۔
ساتویں غلطی
پھر مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ١٩٦، خزائن ج ٢ کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت م زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت ہے اور پیش کرتے ہیں رسول کو یہ حیرانی اور سراسیمگی ملا ح ناظرین تحریر اور حقانیت کے شیدائی اس سچ کو ملاحظہ فرما کر یہ امر کس کو معلوم نہیں کہ اسلامی سن یعنی تیرہ سو برس میں آ موجود ہونے دعویٰ بھی کیا۔ بلکہ لڑائیاں بھی کیں مگر کون ا گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں دونوں جمع ہ جائے تب تک بلاشبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے۔ بے شک
٤٣
مہربان آپ مگر طرز رقم بھول گئے
مرزا قادیانی (سرمہ چشم آریہ ص ١٦، ١٧، خزائن ج ٢ ص ٦٤، ٦٥ ملخص) میں فرماتے ہیں کہ:
”خدائے تعالیٰ کی قدرت کو زمانہ کے محدود در محدود تجارب پر محدود نہ کرو اور جو باتیں خلاف تجربہ معلوم ہوں۔ اس کی نسبت یوں مت کہو کہ یہ بات خلاف فطرت ہے اور یہ خدائی بات نہیں۔ جس طرح خدا غیر محدود ہے۔ اس طرح اس کے اسرارات غیر محدود ہیں۔“ اور یہاں گرہن کی بحث میں خدا کی قدرتوں کو ١٣، ١٤، ١٥، ٢٧، ٢٨، ٢٩ میں زمانہ کے محدود تجربہ کی وجہ سے محدود بتا رہے ہیں اور ان تاریخوں کے علاوہ وقوع گرہن کو خلاف قدرت اور خلاف فطرت سمجھ رہے ہیں۔ دو رویہ تحریر ہے۔ جہاں جیسا موقع دیکھا کہہ دیا لکھ دیا ایسے شخص کی نسبت حدیث میں وعیدیں آئی ہیں۔ ایک وعید ملاحظہ ہو:
"وعن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ تجدون شر الناس یوم القیمۃ ذا الوجھین الذی یاتی ھؤلاء بوجہ وھؤلاء بوجہ متفق علیہ “
فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے روز بدترین لوگوں میں وہ شخص ہوگا جو دو رویہ ایک جماعت کے پاس اور طریق سے آتا ہے اور دوسری جماعت کے پاس اور طریق سے: فاتقواللہ یا اولی الالباب۔
ساتویں غلطی
پھر مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ١٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٣) میں تحریر کرتے ہیں کہ: ”اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔“ گفتگو مہدی کی مخصوص نشانی پر ہے اور پیش کرتے ہیں رسول کو یہ حیرانی اور سراسیمگی ملاحظہ کے قابل اور بحث سے خارج ہے۔ ناظرین تحریر اور حقانیت کے شیدائی اس پیچ کو ملاحظہ فرمائیں۔ زان بعد تحریر فرماتے ہیں: خاص کر یہ امر کس کو معلوم نہیں کہ اسلامی سن یعنی تیرہ سو برس میں کئی لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مہدی موعود ہونے دعویٰ بھی کیا۔ بلکہ لڑائیاں بھی کیں مگر کون ثابت کرتا ہے کہ ان کے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں دونوں جمع ہوئے تھے اور جب تک یہ ثبوت پیش نہ کیا جائے تب تک بلاشبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے۔ بے شک یہ امر ہر اہل علم کو معلوم ہوا کہ تیرہ سو برس
٤٣
کے اندر کئی جھوٹے مہدی گزرے مگر جہاں یہ معلوم ہے وہاں یہ بھی معلوم ہے کہ ان لوگوں کے دعوٰی کے زمانہ میں رمضان شریف میں چندر گہن اور سورج گہن ہوا۔ صالح بن طریف، ابو صبیح، عبداللہ مہدی صاحب افریقہ سید محمد جونپوری ان کا حال ابن خلدون تاریخ کامل رسالہ ہدیہ مہدویہ میں ملاحظہ فرمائیے اور حدائق النجوم کو بھی اٹھا کر دیکھئے جہاں اس گہن کے وقوع کا قاعدہ بیان کیا جاتا ہے اور مرزا قادیانی جس گہن کو اپنی نشانی شمار کرتے ہیں اسے بھی سو سال پہلے لکھ دیا ہے۔ جماعت قادیانی ان کتابوں کو دیکھ کر رجوع الی الحق کرے۔
کہیں دن ایسا ہی وہ ایجاد کریں گے
اور لطف دیکھئے کہ ابھی تو مرزا قادیانی اسے خارق عادت کہنا رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے خلاف بتلاتے تھے۔ (حالانکہ آپ کے ارشاد کے مطابق حدیث کی پیش گوئی کے مصداق جب گہن ہوگا وہ ضرور خارق عادت ہوگا اور یہ گہن محض معمولی گہن ٹھہرا جو برابر اپنے مقررہ قاعدہ پر ہوتا رہتا ہے اور ابھی اس معمولی گہن کو خارق عادت بتارہے ہیں۔ شاید مرزا قادیانی کے نزدیک خارق عادت اسے بھی کہتے ہیں جو طبعی اور فطرتی طور پر برابر ہوتا رہے۔ آفتاب کا طلوع و غروب ہونا ہی جماعت قادیانی کو خارق عادت تصور کرنا چاہئے کسی جملہ کا ایسا ترجمہ کرنا جسے ساری دنیا جھٹلا دے یہ بھی خارق عادت ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کو یدطولیٰ تھا۔
زمین کوئے جاناں رنج دے گی آسمان ہو کر
آٹھویں غلطی
مرزا قادیانی اس حدیث کو معمولی گہن کا مصداق بنا کر مہدی کے لئے مخصوص کرتے ہیں پھر بالآخر اس خصوصیت کو اپنے ساتھ متعلق کر کے چند در چند کتابوں میں اس معمولی نشانی کو خواہ مخواہ اپنی من گھڑت معنی پر منطبق کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مقدور بھر ایڑی چوٹی سے زور لگاتے ہیں مگر اتنی جانکاہ اور درد سری کے بعد مرزا قادیانی کا دل خود ہی ان سے یہ کہتا ہے کہ یہ طرز استدلال غلط ہے۔ اہل علم کا قلب سلیم اس رکیک تحریر پر ہرگز مائل نہیں ہو سکتا۔ یہ تحریریں دل کو نہیں بھاتیں۔ بالکل ہی بے سروپا ہیں۔ کوئی ایسا ثبوت پیش کیجئے۔ جو راستی پر مبنی ہو دل کے اس ادھیڑ بن سے مرزا قادیانی کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ وہ گھبرا اٹھتے ہیں۔ اس آپا دھاپی میں اور کچھ تو بن نہیں پڑتا۔ جہاں کو خوش کرنے کے لئے قرآن مجید کو سینہ سپر بنانا چاہتے ہیں۔ صد افسوس
٤٤
صد افسوس کہ یہاں بھی سائل مرزا قادیا
دست غیب آمد
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ قرآ آیت ”خسف القمر وجمع الشم شریف ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے مرزا اس معمولی گہن کی طرف جو ١٣١٢ھ میں واقع ثابت ہے کہ مہدی کے وقت میں رمضان شری اور وہی کسوف وخسوف میرے قرآنیہ جنہیں مرزا قادیانی کے فہم رکیک نے اور منشاء خداوندی سے بالکل ہی الگ ہے۔ آیات اوپر ملاحظہ فرمائیے: ”یسئل ایان ی وجمع الشمس والقمر یقول الا یومئذن المستقر۔ ینبؤا الانس قیامت کا دن؟ پس جس وقت کے پتھرا جا جائیں گے سورج اور چاند۔ کہے گا انسان اس نہیں۔ تیرے پروردگار ہی کی طرف اس روز نے آگے بھیجا اور جو کچھ اس نے پیچھے چھوڑ بالا سے پہلے خدا نے اپنی قدرت کاملہ کا اظ ہڈیاں جمع نہیں کی جائیں گی۔ یہ ان کی غلطی ان کو پھر سے درست کر ڈالوں انسان نافرم کے طور پر یہ سوال کرتا ہے کہ اے محمد ﷺ قیا تیرہ ہو جائیں گی۔ چاند گہہ جائے گا اور سور گھبرا کر بھاگنا چاہے گا۔ مگر اس کو فرار کی جگ کھڑا ہونا پڑے گا اور ہر شخص کو اپنے نامہ ا
صد افسوس کہ یہاں بھی ساحل مراد مرزا قادیانی کو نظر نہیں آتا اور ان کا تھل بیڑہ نہیں لگتا۔
دست غیب آمد و برسینه نامحرم زد
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھو آیت ”خسف القمر و جمع الشمس والقمر‘‘ یہ پارہ ٢٩، سورہ قیامت کی نویں آیت شریف ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے مرزا قادیانی ہدایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی اس معمولی گہن کی طرف جو ١٣١٢ھ میں واقع ہوا اشارہ کرتی ہے بالفاظ دیگر قرآن مجید سے بھی یہ ثابت ہے کہ مہدی کے وقت میں رمضان شریف میں کسوف وخسوف ہوگا۔ اور وہی کسوف وخسوف میرے دعویٰ کے زمانہ میں ہوا۔ یہ ہیں وہ معارف وحقائق قرآنیہ جنہیں مرزا قادیانی کے فہم رکیک نے استخراج کیا ہے۔ مگر یہ استخراج حقیقت سے عاری اور منشاء خداوندی سے بالکل ہی الگ ہے۔ قرآن مجید ہرگز اس کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ چند آیات اوپر ملاحظہ فرمائیے : ”یسئل ایّان یوم القيامة فاذا برق البصر وخسف القمر وجمع الشمس والقمر یقول الانسان يومئذ اين المفر کلا لا وزر الى ربك يومئذ ن المستقر۔ ينبؤا الانسان يومئذ بما قدم واخر “ پوچھتا ہے کب ہوگا قیامت کا دن؟ پس جس وقت کہ پتھرا جائیں گی آنکھیں اور گہہ جائے گا چاند اور اکٹھے کئے جائیں گے سورج اور چاند۔ کہے گا انسان اس دن کہ اب کہاں بھاگ کر جاؤں آج ہرگز کہیں پناہ نہیں۔ تیرے پروردگار ہی کی طرف اس روز ٹھہرنا ہے۔ ان کو جتا دیا جائے گا۔ اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور جو کچھ اس نے پیچھے چھوڑا۔ اس سورۃ کا نام ہی سورہ قیامت ہے۔ آیات محررہ بالا سے پہلے خدا نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمایا ہے کہ منکرین جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری ہڈیاں جمع نہیں کی جائیں گی۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ ضرور ایسا ہوگا۔ اور میں اس بات پر قادر ہوں کہ ان کو پھر سے درست کر ڈالوں انسان نافرمانی پر تلا رہتا ہے۔ اور ایسا نافرمان اور مکذب استہزاء کے طور پر یہ سوال کرتا ہے کہ اے محمدﷺ قیامت کب ہے۔ جواباً اسے کہہ دے کہ جب آنکھیں تیرہ ہو جائیں گی۔ چاند گہہ جائے گا اور سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے۔ انسان اس دن گھبرا کر بھاگنا چاہے گا۔ مگر اس کو فرار کی جگہ نہیں ملے گی۔ خدا ہی کی درگاہ میں چارہ ناچار اسے کھڑا ہونا پڑے گا اور ہر شخص کو اپنے نامہ اعمال کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ جو کچھ اس نے کیا
ہے وہ پیش نظر کر دیا جائے گا۔ ” یسئل ایان یوم القیامة “ یعنی قیامت کب ہوگی یہ ایک سوال ہے۔ جس کے جواب میں خدا نے آٹھ باتیں ارشاد فرمائی ہیں کہ قیامت ایسا ہولناک نظارہ ہے اور اس میں یہ باتیں پیدا ہوں گی اور ظاہر ہے کہ یہ علامتیں اب تک وجود میں نہیں آئیں اور کیونکر آتیں یہ علامتیں قیامت پر موقوف ہیں۔ مرزا قادیانی شاید قیامت کے منکر ہیں اور اسے ایک فرضی بات تصور کرتے ہیں۔ نیز قرآن مجید میں صریح تحریف کرتے ہیں اور ایک کامل انسان اور اعلیٰ درجہ کا مسلمان جو یہ دعویٰ کرے کہ میں مہدی مسعود اور مسیح موعود ہوں۔ وہ یہودیوں کی روش اختیار کرے۔ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”و من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ“ یہودی کلام کو اپنی جگہ سے پھیرتے رہتے ہیں اس سے بڑھ کر ”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ اور کیا ہو سکتا ہے کہ قیامت میں جو واقعات پیدا ہوں گے اسے معمولی گہن پر محمول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی کی طرف قرآن مجید اشارہ کرتا ہے یہ محض ان کا افتراء ہے اور ”من اظلم ممن افتری علی الله کذبا او کذب بایاته“ میں داخل ہے۔
نویں غلطی
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کون سی حدیث صحیح ہو گی جس کے سر پر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں ہے۔ بلکہ اس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٥) حدیث کی تنقید کا یہ نیا طریقہ مرزا قادیانی نے بتایا اور وہ ابھی تک پردہ خفا میں ہے۔ علاوہ ازیں (ضمیمہ انجام آتھم کا ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١) ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو پورا نقل نہیں کیا اور جتنا نقل کیا ہے اس میں یہ جدت ہے کہ منخسف الشمس فی النصف تک تو قلم نہایت ہی جلی ہوا اور منہ کا لفظ جو نہایت ضرور اور مہتم بالشان لفظ انکشاف حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کو نہایت باریک لکھ دیا ہے۔ تاکہ اس طرف کسی کا ذہن منتقل نہ ہو ورنہ ضمیر مذکر جو رمضان کی طرف پھرتی ہے۔ میرے مدعا کے خلاف پھرے گی۔ اور جو میں چاہتا ہوں وہ نہ ہو گا مگر الحمد للہ کہ یہ جدت بھی مرزا قادیانی کی مفید نہیں پڑی۔ اچھی طرح اس حقیقت کا انکشاف ہو گیا اس کی پوری تفصیل رسالہ شہادت آسمانی میں دیکھی جائے۔
دسویں غلطی
(رسالہ جاء الحق وزہق الباطل وسراج منیر ص ٥٨، خزائن ج ١٢ ص ٦٧) میں مرزا قادیانی لکھتے
ہیں کہ (براہین احمدیہ کے ص ٢٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٦) فهل انتم مومنون قل عندى شهادة من کسوف وخسوف کی گواہی کے متعلق ہے۔ جسے بالآخر مہدی موعود کی نشانیوں میں آچکا تھا۔
میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان الہامی جملہ میں کون مہدی کے زمانہ میں کسوف وخسوف ہوگا۔ شاید مرزا مومنوں کے نون سے زمین سمجھا اور جب زمین وآ ضروری ہے اور پھر بقاعدہ نجوم ان دونوں کے لئے کس انکی باتوں کو بیان کر کے دریافت کرتے ہیں کہ اس ہے۔ آیا کوئی عقلی دلیل ہے یا نقلی بیان کیا جائے۔ ہم قادیانی کسی دلیل سے ثابت نہیں کر سکتا نہ قرآن مجید نہ حدیث میں اس کا پتہ ہے۔ جس حدیث کو مرزا قا ہیں۔ جو مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں۔ اس حدیث نشانی نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کو اپنی شہادت میں پیش فریب دہی ہے۔
ناظرین! میں کہاں تک غلطیاں شمار کروں لہذا سردست میں اسی نمبر پر بس کرتا ہوں اور آخر امر د ایک شاہد مولوی عبدالمجید صاحب بی۔ اے مخلص مرید ہیں اور جنہوں نے آیت مجید لکھ مرزا قادیانی کے ماننے والے جن قادیانی حضرات مخلصانہ حالت اور فدایانہ کیفیت جناب مولوی عبد نمبر مولوی عبدالمجید صاحب کا ہے۔ ایسے مقتدر شہادت آسمانی دیکھ کر مخدومی مولانا محمد عصمت اللہ ایک خط آفس کلکتہ سے روانہ کیا ہے۔ اس میں لکھے شک جہاں تک میری سمجھ ہے قواعد حضرت مرزا عادل جو بطور خود مرتبہ میں ہزارہا شاہد کا حکم رکھتے ہ
٧
ہیں کہ (براہین احمدیہ کے ص ٢٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٦) میں جو الہام قل عندی شہادۃ من اللہ فہل انتم مومنون قل عندی شہادۃ من اللہ فہل انتم مسلمون درج ہے وہ اسی کسوف وخسوف کی گواہی کے متعلق ہے۔ جسے بالآخر خدا نے پورا کر کے دکھلا دیا جیسا کہ آثار میں مہدی موعود کی نشانیوں میں آچکا تھا۔“
میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس الہامی جملہ میں کون سا ایسا لفظ ہے جس سے یہ بات معلوم ہو کہ مہدی کے زمانہ میں کسوف و خسوف ہوگا۔ شاید مرزا قادیانی نے مسلمون کے سین سے آسمان اور مومنوں کے نون سے زمین سمجھا اور جب زمین و آسمان کا وجود ٹھہرا تو آفتاب و ماہتاب کا ہونا ضروری ہے اور پھر بقاعدہ نجوم ان دونوں کے لئے کسوف وخسوف بھی لازم ہے۔ اب ہم ان بے تکی باتوں کو بیان کر کے دریافت کرتے ہیں کہ اس معمولی گہن کو من اللہ کی شہادت کیونکر کہا جاتا ہے۔ آیا کوئی عقلی دلیل ہے یا نقلی بیان کیا جائے۔ مگر ہم نہایت زور سے کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی قادیانی کسی دلیل سے ثابت نہیں کر سکتا نہ قرآن مجید نے اس معمولی گہن کو آسمانی شہادت کہا ہے۔ نہ حدیث میں اس کا پتہ ہے۔ جس حدیث کو مرزا قادیانی پیش کر رہے ہیں۔ اس کے معنی وہ نہیں ہیں۔ جو مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں۔ اس حدیث کے رو سے ١٣١٢ ہجری کا گہن ہرگز مہدی کی نشانی نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کو اپنی شہادت میں پیش کرنا مرزا قادیانی کی سخت غلطی یا نہایت نازیبا فریب دہی ہے۔
ناظرین! میں کہاں تک غلطیاں شمار کروں ۔ ”تلک عشرۃ کاملۃ“ ارشاد باری ہے: لہٰذا سر دست میں اسی نمبر پر بس کرتا ہوں اور آخر مرزا قادیانی کی غلط فہمی پر دو شاہد پیش کرتا ہوں۔
ایک شاہد مولوی عبدالمجید صاحب بی۔ اے ٹرانسلیٹر ہیں جو مرزا قادیانی کے نہایت ہی مخلص مرید ہیں اور جنہوں نے آئینہ حمید مجید لکھ کر قوم کو شائع کیا ہے۔ مونگیر اور بھاگلپور گیا مرزا قادیانی کے ماننے والے جن قادیانی حضرات سے میں ملا ہوں ان میں سے اول درجہ کی اخلاصانہ حالت اور فدایانہ کیفیت جناب مولوی علی احمد صاحب ایم اے میں موجود ہے اور دوسرا نمبر مولوی عبدالمجید صاحب کا ہے۔ ایسے مقتدر شخص نے علامہ مصنف فیصلہ آسمانی کی کتاب شہادت آسمانی دیکھ کر مخدومی مولانا محمد عصمت اللہ صاحب مرحوم کی خدمت میں ٤؍نومبر ١٩١٢ء کو ایک خط آفس کلکتہ سے روانہ کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں: ”شہادت آسمانی میں میں نے دیکھا ہے شک جہاں تک میری سمجھ ہے قواعد حضرت مرزا قادیانی کے معنی کو غلط بتا رہا ہے۔ دوسرے شاہد عادل جو بطور خود مرتبہ میں ہزار ہا شاہد کا حکم رکھتے ہیں اور جنہیں خود مرزا قادیانی مامور من اللہ لکھتے
٤٧
ہیں ۔یعنی حضرت مجدد الف ثانیؒ وہ فرماتے ہیں: ورنه ان ظهور سلطنت اور درچهاردهم شهر رمضان كسوف الشمس خواهد بودر اوّل آن ماه خسوف برخلاف عادت زمان وبرخلاف حساب منجمان به نظر انصاف بايد ديد كه اين علامت دران شخص ميت بوده است يانه ''اب اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے! احادیث نبویہ آیات قرآنیہ حالات موجودہ واقعات گزشتہ شہادت مجدّد واظہار قادیانی۔ ان سب نے مل کر فیصلہ کردیا کہ مرزا قادیانی ہرگز مہدی نہ تھے۔ اور ان میں ایک بھی وہ علامت پائی نہیں جاتی ہے۔ جو حدیث نبویہ میں مسیح موعود اور مہدی کے لئے مذکور ہیں۔ اگر اس قدر وضاحت کے بعد بھی کوئی نافہم نہ سمجھے تو خود اس کی فہم واستعداد باطل کا اثر سمجھنا چاہئے۔
چشمه آفتاب راچه گناه
وہ کسوف شمس تو ہوا نہیں۔ خدا قلب کو بھی گہن سے بچائے۔ مؤلف القاء ربانی کے دل میں اگر رمقِ حق کی تڑپ باقی ہے اور وہ واقعی اس مکتوب سے جس کو مجدد صاحبؒ نے بیان فرمایا ہے مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے پر استدلال لاتے ہیں تو آج سے مرزا قادیانی کو ضرور مسیح کا ذب کہیں گے۔ کیونکہ نہ بے چارے کو سلطنت نصیب ہوئی۔ نہ ان کے فرمان سے عالم مدینہ قتل کیا گیا۔ نہ ان کے سر پر ابر کا ٹکڑا بطور نشان ظاہر ہوا۔ اور نہ اس سے فرشتہ نے یہ آواز دی کہ مہدی یہی ہیں تم لوگ ان کی پیروی کرو۔ جناب مرزا غلام قادیانی سلیمان علیہ السلام اور ذوالقرنین کے مانند ساری دنیا کے تو کیا بادشاہ ہوتے۔ چار دن کے لئے بے چارے پنجاب کے بھی حاکم نہ ہوئے ایسے ہی مرزا قادیانی اہل بیت میں سے بھی نہ تھے۔ مرزا قادیانی کا لفظ خود شہادت کے لئے کافی ہے۔ غرض کیا کن کن باتوں کو لکھوں اور کہاں تک لکھوں۔ ایک بھی بات جناب مرزا قادیانی میں ایسی نہ تھی کہ ان کو مہدی کہا جائے۔ اور جس طرح مہدی نہ تھے۔ ویسی ہی مسیح موعود نہ تھے۔ کیونکہ حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام درزمان وے نزول خواہد کرد۔ پھر فرماتے ہیں: ونزول حضرت روح اللہ الخ! یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خطاب ہے۔ پھر مرزا قادیانی کو آپ حضرات یعنی جماعت قادیانی کیونکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بناتی ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریر سے تو خود ہی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تھے اور جناب مرزا قادیانی اپنے کو اور بتاتے ہیں۔ اور پھر حضرت مجدّدؒ کے مکتوب کے خلاف ہے اگر مؤلف القاء ربانی کو حق کی تڑپ دل میں باقی ہے ۔ اور واقعی وہ اس مکتوب سے جناب مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی
حقیقت کی تہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو میں نے اس حقیقۃ الثبوت مکتوبات سے پیش کر دیا وہ سر تسلیم خم کر کے اس فی الحقیقت نہ مہدی مسعود تھے نہ مسیح موعود مؤلف القائے سیدھے سادھے ناظرین کو ابلہانہ فریب دینا چاہتے ہیں ہے کہ جس مسیح اور مہدی کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ اس کو معزز ناظرین! آپ نے دیکھا یہ کس قدر چالباز مکار اوچھا کچہری جا کر اپنے کو کلکٹر ظاہر کرے اور کلکٹر بہادر سے یوں کہے کہ اب مجھے چارج دے دیا ہے۔ مگر کلکٹر یہ سمجھ کر کہ یہ شخص محض دیوانہ ہے۔ اگر واقعی میری تبدیلی یہاں سے ہوتی تو ضرور پہلے سے سرکاری لیٹر یا ٹیلیگرام میرے پاس آگیا ہوتا۔ غرض اس کو کورٹ سے نکلوا دے تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا ہوگئی۔ وہ ہر چارج لینے والے آفیسر کے ساتھ ایسا ہی مؤلف القائے ربانی ایسا سمجھیں تو سمجھیں، پر دنیا کے کے ادنیٰ ادنیٰ بادشاہوں نے ایسے ایسے قوانین مقرر کئے احکم الحاکمین ہے اور جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے کوئی قواعد وضوابط اس کے جانچ پڑتال کے لئے نہیں رکھیں کہ جب مہدی موعود ظاہر ہوں گے۔ اور حضرت اہلِ سنت ان ہی نشانات سے جو حدیث شریف میں وضاحت سے بیان کیا ہے اور جس کو ہم خدا کے نشانات سے جانچ پڑتال کریں گے۔ اگر اس میں ان کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے اور جو نہیں پائے جائیں قادیانی کے بے اصل دعویٰ کو رد کر دیا ہے، اور جن ضرورت محسوس ہوتی ہے ایسے کام کی انجام دہی کے قادیانی اور مؤلف القائے ربانی فرمائیں کہ انہوں نے اور مہدی مسعود مان لیا؟ کہ مؤلف القائے ربانی جو
حقیقت کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو میں نے اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے انہیں کے مسلم الثبوت مکتوبات سے پیش کر دیا وہ سر تسلیم خم کر کے اس حقیقت کی تہہ تک پہنچ جائیں کہ مرزا قادیانی فی الحقیقت نہ مہدی مسعود تھے نہ مسیح موعود مؤلف القائے ربانی بڑے بھولے بن کر بے چارے سیدھے سادھے ناظرین کو ابلہانہ فریب دینا چاہتے ہیں اور یوں تحریر کرتے ہیں مگر اس پر کیا وثوق ہے کہ جس مسیح اور مہدی کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ اس کو یہ لوگ مان لیں گے۔
معزز ناظرین! آپ نے دیکھا یہ کس قدر جہالت کی بات ہے اگر کوئی غایت درجہ کا چالباز مکار لچا کچہری جا کر اپنے کو کلکٹر ظاہر کرے اور مجسٹریٹ کورٹ میں حاضر ہو کر خود صاحب کلکٹر بہادر سے یوں کہے کہ آپ مجھے چارج دے کر فلاں ضلع چلے جائیں۔ آپ کی تبدیلی ہوگئی ہے۔ مگر کلکٹر یہ سمجھ کر کہ یہ شخص محض دیوانہ ہے۔ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ اگر واقعی یہ کلکٹر ہوتا اور واقعی میری تبدیلی یہاں سے ہوتی تو ضرور پہلے سے اس کی مجھے خبر ہوتی۔ گزٹ ہو گیا ہوتا یا کوئی سرکاری لیٹر یا ٹیلیگرام میرے پاس آگیا ہوتا۔ غرض اسے جھوٹا اور دیوانہ سمجھ کر کانسٹیبل سے دھکے دلا کر کورٹ سے نکلوا دے تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ اب جب کبھی سرکاری طور پر اس کی تبدیلی ہوگی وہ ہر چارج لینے والے آفیسر کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے گا اور اپنی جگہ کو نہیں چھوڑے گا۔ مؤلف القائے ربانی ایسا سمجھیں تو سمجھیں، پر دنیا کا کوئی دانشمند ایسا نہیں سمجھ سکتا۔ پھر جب اس دنیا کے ادنیٰ ادنیٰ بادشاہوں نے ایسے ایسے قوانین مقرر کر رکھے ہیں تو وہ قادر مطلق خدا جس کا خطاب احکم الحاکمین ہے اور جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ اصلاح خلق اللہ کے لئے اپنا رسول بھیجے اور کوئی قواعد وضوابط اس کے جانچ پڑتال کے لئے مقرر نہ کرے۔ کس قدر تعجب خیز ہے۔ یقین رکھیں کہ جب مہدی موعود ظاہر ہوں گے۔ اور حضرت روح اللہ تشریف لائیں گے۔ تو ان کو علمائے اہل سنت ان ہی نشانات سے جو حدیث شریف میں مذکور ہیں اور جنہیں مجدد صاحبؒ نے نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے اور جس کو میں خدا کے فضل سے اچھی طرح لکھ چکا ہوں۔ ان ہی نشانات سے جانچ پڑتال کریں گے۔ اگر اس میں یہ سب نشانات پائے گئے تو آمنا و صدقنا کہہ کر ان کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے اور جو نہیں پائے گئے تو انہیں ایسے ہی مردود کر دیں گے جیسے مرزا قادیانی کے بے اصل دعویٰ کو رد کر دیا ہے، اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے اور جب جب اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ایسے کام کی انجام دہی میں علمائے وقت مشغول رہتے ہیں۔ خلیفہ المسیح قادیانی اور مؤلف القائے ربانی فرمائیں کہ انہوں نے کن نشانات سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مہدی مسعود مان لیا؟ کہ مؤلف القائے ربانی کے نزدیک تو کوئی نشانات ہرگز بندگان خدا میں
٤٩
ایسے ہوتے ہی نہیں ہیں۔ جس سے انسان اصل حقیقت پر پہنچ سکے۔ پھر اس تودۂ طومار اور غلط حوالہ ، غلط عبارت، غلط منشاء سے حقیقت مسیح پر رسالہ لکھنے کی جرأت کی کہ خواہ مخواہ اپنے افتخار کو کھو بیٹھے وہی جہال مرزائی کی طرح یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی اور الہام اگر غلط ہوں تو ہوں میں نے جناب مرزا قادیانی کو بے دلیل مسیح موعود مان لیا۔
الحاصل کہ حضرت مجدد صاحبؒ کے مذکورہ بالا مکتوب سے نیز اس کی وضاحت اور تشریح سے یہ بات اچھی طرح روشن ہوگئی کہ مرزا قادیانی نہ مہدی تھے نہ موعود اگر چہ اتنی ہی تحریر سے بحث کا خاتمہ ہوگیا۔ مگر مزید تشفی کے لئے میں اس کی اور وضاحت کرنا چاہتا ہوں اور حضرت مجدد صاحبؒ کے مکتوب سے چند جملے اور نقل کرنا چاہتا ہوں جس سے ناظرین کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے کہ جو روش جناب مرزا قادیانی کی تھی وہ کیسی تھی اور مجدد صاحبؒ ایسے شخص کی نسبت (جو خلاف عقائد اہل سنت والجماعت اپنا کشف شائع کرتا ہو) کیا حکم صادر فرماتے ہیں۔
”بسم الله الرحمن الرحیم۔ بدان ارشدك الله تعالىٰ والهمك سواء الصراط که از جمله ضروریات طریق سالك اعتقاد وصحیح است که علمائے اهل سنت آنرا از کتاب وسنت و آثار سلف استنباط فرموده اند وكتاب سنت را محمول داشتن برمعانی که جمهور علمائے اهل حق یعنی علمائے اهل سنت وجماعت آن معنی را از کتاب وسنت فهمیده اند نیز ضروری است واگر بالفرض خلاف آن معنی مفهومه بکشف والهام امرے ظاهر شود آن را اعتبار نباید کردو ازان استعاذ باید نمود مثلاً آیات واحادیث که از ظواهر آنها وجود توحید مفهوم می شود وهمچنین احاطه وسریان وقرب ومعیت ذاتیه معلوم می گردد وچون علمائے اهل حق ازان آیات واحادیث این معنی نه فهمیده اند اگر در اثنائے راه پر سالك اینمعانی منکشف شود وموجود جزیکی نیابد یا اور ابالذات محیط داند وقریب ذاتاً بیابد هرچند از درینوقت بواسطه غلبه حال سکر معذورست اما باید که همیشه بحق سبحانه تعالیٰ ملتجی ومتضرع باشد که اور ازیں ورطه برآورده اموریکه مطابق آرائے صائبه علمائے اهل حق است بروی منکشف گرداند وسرموی۔ خلاف معتقدات حقه ایشان ظاهر نسازد بالجمله معانی مفهوم علمائے اهل حق را مصداق کشف خود باید ساخت ومحك الهام
٥٠
خود را جز آن نباید داشت۔ چہ معانی که خلاف مفهومه ایشان است از حیز اعتبار ساقط است زیراکه هر مبتدع وضال معتقدات مقتدائے خود کتاب وسنت میداند وباندازه افهام رکیکہ خود ازان معانی غیر مطابقہ می فهمد يضل به كثيرا و يهدى به كثيرا۔ و آنکہ گفتم که معانی مفهومہ علمائے اهل حق معتبر است وخلاف آن معتبر نیست بنا بر آنست که آن معانی را از تتبع آثار صحابہ وسلف صالحین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اخذ کرده اند واز انوار نجوم هدایت شان اقتباس فرموده اند لہذا نجات ابدی مخصوص بایشان گشت وفلاح سرمدی نصیب شان آمد اولئك حزب الله هم المفلحون نہ اگر بعضے از علماء باوجود حقیقت اعتقاد در فرعیات مداهنت نمایند و مرتکب تقصیرات باشند در عملیات انکار مطلق علماء نمودن و همه را مطعون ساختن بے انصافی محض است و مکابره صرف بلکه انکار است او را اکثر ضروریات دین چہ ناقلان آن ضروریات ایشانند و ناقدان جیده آنرا از ردیئہ ایشانند لولا نور هدايتهم لما اهتدينا لولا تميزهم الصواب من الخطاء لغوينا هم الذين بذلوا جهدهم في اعلاء كلمة الدين القويم واسلكو طوايف كثيرة من الناس على صراط مستقيم فمن تابعهم نجي وافلح ومن خالفهم ضل واضل“
(مکتوب دو صد و ہشتاد و ہشتم ج ١ ص ٣٧٣)
جان اے عزیز خدا تمہیں سمجھ عطا فرمائے اور اچھے راستے پر چلائے کہ طریق سلوک میں سب سے اصل اور ملاک امر وہ اعتقاد صحیح ہے جسے علمائے اہل سنت نے قرآن مجید اور احادیث نبویہ اور آثار سلف سے استنباط کیا ہے۔ قرآن اور احادیث کو ان معانی پر محمول کر نا جن جمہور علمائے اہل حق نے یعنی علمائے اہل سنت و جماعت نے اس معنی کو کتاب اور سنت سے سمجھا اور بیان فرمایا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے۔ اگر بالفرض خلاف اس معنی کے جس کو علمائے اہل حق نے سمجھا ہے۔ کشف یا الہام سے کوئی امر ظاہر ہو تو اس پر اعتبار نہ کرنا چاہئے۔ بلکہ اس سے پناہ مانگنا چاہئے۔ یعنی الگ ہو جانا چاہئے مثلاً ان آیات اور احادیث سے کہ جس کے ظاہر معنی سے وحدت وجود کی صورت نکلتی ہے۔ اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ باری تعالیٰ ہر جگہ حاوی وساری ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی قربت و معیت ذاتیہ معلوم ہوتی ہے مگر علماء اہل حق نے ان آیات اور
٥١
احادیث سے یہ معنی نہیں سمجھا ہے اگر راہ سلوک میں کسی عارف کو اس کے خلاف صورت معلوم ہو تو ہر چند کہ سالک اللہ کی محبت میں سرشار ہونے کی وجہ سے مجبور اور معذور ہے۔ لیکن چاہئے کہ ہمیشہ حق سبحانہ تعالیٰ سے التجا کرتا اور اس کی درگاہ میں گڑگڑاتا رہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ اس بھنور سے نکال کر اس پر وہ امور منکشف کر دے جو علمائے اہل حق کی صائب رائے نے مستنبط کئے ہیں۔ اور سرمو ان کی رائے کے خلاف نہ کرے اور ایسے امر کو ظاہر نہ کرے جو علمائے اہل حق کے معتقدات کے خلاف ہو۔ غرض ان معانی مفہومہ اور کشف کو علمائے اہل حق کے اقوال سے امتحان کرنا اور جانچنا چاہئے کیونکہ ہر شخص کے فرادی فرادی معانی مفہومہ نیز اعتبار سے ساقط ہیں اور مبتدع و ضال اپنے معتقدات کی سند میں نافہمی یا کج فہمی کی وجہ سے قرآن اور حدیث نبوی پیش کر دیا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ معانی قرآن اور احادیث سے مستنبط ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کا فہم رکیک ہے جو اس معانی مفہومہ کو جو خلاف رائے صائب علمائے اہل حق کتاب وسنت کے موافق سمجھتا ہے۔ سچ ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت کرے اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ علمائے اہل حق نے جو معنی قرآن اور احادیث کو سمجھا ہے وہی حق اور معتبر ہے اور جو معنی اس کے خلاف کسی فہم رکیک نے استخراج کیا ہو وہ معتبر نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علمائے اہل سنت والجماعت کے اجتہاد کا چشمہ صحابہ اور سلف صالحین کے آثارات سے ہے اور ان ہی کی ہدایت بھری روشنی سے ان علماء نے اقتباس نور کیا ہے۔ اس لئے نجات ابدی ان ہی لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے اور فلاح سرمدی انہیں کا حصہ ہے وہی لوگ اللہ والے تھے اور خبردار ہو جا کہ ایسے ہی ممتاز گروہ فلاح پانے والے ہیں۔ ؎
اگر بعض علماء اعتقاد کی اہمیت کو سمجھ کر فروعی امور میں سستی اختیار کریں اور تقصیر کے مرتکب ہو جائیں تو ان کو پیش نظر رکھ کر مطلقا علمائے اہل حق سے منکر ہو جانا اور سارے علمائے اہل سنت کو مطعون کرنا اور برا سمجھنا غایت درجہ کی بے انصافی اور محض مکابرہ میں داخل ہے بلکہ ان علماء اہل سنت والجماعت کے مطلقا انکار سے ضروریات دین کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ ان ہی علمائے اہل حق نے ضروریات دین کو نقل کیا ہے اور بتایا ہے پھر جب خود ان کی نسبت گمان فاسد ہو جائے گا تو ان کے اقوال اور بھی بدرجہ اولیٰ نامقبول ہوں گے۔ اور یہ نہایت بری بات ہے۔ اگر یہ علمائے اہل حق نہ ہوتے اور ان کی ہدایت کی نورانی روشنی ہم لوگوں پر ضو فگن نہ ہوتی تو ہم لوگ ہرگز صراط مستقیم پر پہنچ نہیں سکتے۔ اور اگر ان لوگوں نے خدا کے احکام کے سنانے اور تبلیغ شریعت میں بڑی جان توڑ کوشش کی ہے۔ الحاصل جو ان علمائے اہل حق کے راستہ پر چلا اور اپنے فہم کو ان کے فہم عالی ٥٢
سے تصدیق کرتا رہا وہ نجات پا گیا اور اسے فلاح نصیب یعنی اپنی معانی مفہومہ کو جو ان علماء کے تحقیق کے پھیلا دیا وہ خود گمراہ اور لوگوں کو بھی گمراہ بنایا۔
اسی مکتوب میں مجدد صاحبؒ فرماتے ہیں مستقیم پر نہایت ہی استحکام سے چلنا چاہتا ہو اس کے اور اعتقاد صحیح اس کا نام ہے کہ عقائد کے متعلق والجماعت نے لکھا ہے نہ دل سے اس کو مانے اور نہ کے اسے معلوم ہوں وہ ان ہی علمائے اہل حق کے موافق رائے صائب علماء معلوم ہو قبول کرے۔ و ہی عاجزی سے گڑ گڑا کر دعا کرے کہ اے خدا! ا ہیں تو میرے قلب کی اصلاح فرما اور مجھ پر وہ امور کے موافق ہوں کیونکہ ان علمائے اہل حق کا ماخذ او مقبول اور مبارک جماعت ہے جو کبھی غلطی پر قائم ن کو اپنی نافہمی سے کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اور نفسا اور احادیث سے مستنبط ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ احتیاط سے کام لے اور ہرگز ان امور کو ظاہر نہ فر
اگر شخص مذکور نے اس احتیاط کو برتا اور اس پر عمل لوگوں کو گمراہ کیا۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں ک انہوں نے اپنے کشف یا الہام کو کبھی اس طریقہ نے خود گمراہ ہو کر لوگوں کو گمراہ کیا اور اس جانچ پ ہے۔ جن سے مرزا قادیانی کے عقیدہ کا اندازہ عقائد سے جناب مرزا قادیانی کے عقیدہ کو کیا ن توکلت واليه انيب “
یوں تو جناب مرزا قادیانی کی بہت جو عقیدۃً علمائے اہل سنت والجماعت کے خلاف مرزا قادیانی کے صرف چار الہام اور ایک کشف
نے تصدیق کرتا رہا وہ نجات پا گیا اور اسے فلاح نصیب ہوئی اور جن لوگوں نے ان کے خلاف کیا یعنی ایسے معانی مفہومہ کو جو ان علماء کے تحقیق کے خلاف ہو بے جانچے ۔ پڑتالے لوگوں میں پھیلا دیا وہ خود گمراہ اور لوگوں کو بھی گمراہ بنایا۔
اسی مکتوب میں مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ جو معرفت خداوندی کا شیدائی ہو اور صراط مستقیم پر نہایت ہی استحکام سے چلنا چاہتا ہو اس کے لئے سب سے پہلے صحیح اعتقاد کی ضرورت ہے اور اعتقاد صحیح اس کا نام ہے کہ عقائد کے متعلق جو کچھ علمائے اہل حق یعنی علمائے اہل سنت والجماعت نے لکھا ہے تہ دل سے اس کو مانے اور راہ سلوک میں جو کچھ امور بذریعہ کشف یا الہام کے اسے معلوم ہوں وہ ان ہی علمائے اہل حق کے اقوال سے اس کی جانچ پڑتال کرتا رہے۔ اگر موافق رائے صائب علماء معلوم ہو قبول کرے۔ ورنہ مردود سمجھ کر باری تعالیٰ کے حضور میں نہایت ہی عاجزی سے گڑگڑا کر دعا کرے کہ اے خدا اے میرے مالک ہم تیری رضامندی کے شیدائی ہیں تو میرے قلب کی اصلاح فرما اور مجھ پر وہ امور ظاہر اور منکشف فرما۔ جو علمائے اہل حق کی تحقیق کے موافق ہوں کیونکہ ان علمائے اہل حق کا ماخذ اور سر چشمہ آثار صحابہ وسلف صالحین ہے اور یہ ایسی مقبول اور مبارک جماعت ہے جو کبھی غلطی پر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر نا فہم مسائل دینیہ کو اپنی نافہمی سے کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اور نفسانیت کی وجہ سے یہ سمجھتا رہتا ہے کہ یہی معنی قرآن اور احادیث سے مستنبط ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ اس کی صریح غلطی ہے۔ الغرض نہایت درجہ کے احتیاط سے کام لے اور ہرگز ان امور کو ظاہر نہ فرمائے جو علمائے اہل حق کی تحقیق کے خلاف ہوں۔ اگر شخص مذکور نے اس احتیاط کو برتا اور اس پر عمل کیا تو ضرور وہ فلاح پا گیا ورنہ وہ خود گمراہ ہوا اور لوگوں کو گمراہ کیا۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جناب مرزا قادیانی اس جانچ میں کیسے نکلے اور انہوں نے اپنے کشف یا الہام کو کبھی اس طریقہ سے جانچا اور کیا وہ درحقیقت فلاح پاگئے؟ یا انہوں نے خود گمراہ ہو کر لوگوں کو گمراہ کیا اور اس جانچ پڑتال میں مجھے ان ہی باتوں کو معزز ناظرین کو دکھانا ہے۔ جن سے مرزا قادیانی کے عقیدہ کا اندازہ ہو سکے اور یہ معلوم ہو جائے کہ علمائے اہل حق کے عقائد سے جناب مرزا قادیانی کے عقیدہ کو کیا نسبت ہے؟ "وما توفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب"
یوں تو جناب مرزا قادیانی کی بہت سی تحریریں اور ایسے سینکڑوں کشف والہامات ہیں جو عقیدتاً علمائے اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔ مگر طوالت تحریر کے خیال سے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے صرف چار الہام اور ایک کشف ان ہی کی کتاب سے مع حوالہ پیش کرتا ہوں۔
٥٣
- .....١ "انت منى وانا منك" تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ ﴿یعنی وجود خدا
وندی باعث وجود مرزا قادیانی اور وجود مرزا قادیانی باعث وجود باری تعالٰی ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
- .....٢ "ظهورك ظهوری" ﴿ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔ (یعنی مرزا قادیانی بذات خود خدا
تھے۔﴾
(تذکرہ ص ٧٠٤ طبع سوم)
- .....٣ "انت منی بمنزلة توحيدی و تفریدی" ﴿ تو مجھ سے ہے اور تو مرتبہ میں
میری وحدانیت اور یگانگت کے ہے۔ ﴾ یعنی جس طرح میری وحدانیت کا کوئی مقابل نہیں ویسے ہی تیرا مرتبہ عظیم الشان ہے کوئی تجھ سا ذی مرتبہ نہیں اور کوئی شخص تیرے برابری کا دعوٰی نہیں کرسکتا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- .....٤ "انت منی بمنزلة ولدی" ﴿ تو مجھ سے ہے اور میری اولاد کا مرتبہ رکھتا ہے۔﴾
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
ان چاروں الہاموں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نعوذ باللہ خدا تھے۔ خدا کے بیٹے تھے۔ چنانچہ وہ خود اپنا کشف یوں بیان کرتے ہیں کہ: ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“ (کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) نعوذ بالله من هذا الكشف والالهام۔ تثلیث کے شیدائی یعنی عام عیسائی کو مرزا قادیانی دجال بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ان ہی کے قتل کے لئے زبان تیغ سے نہیں بلکہ زبان قلم سے مامور کیا گیا ہوں اور خود انہوں نے جو کچھ دجل اختیار کیا ہے اور جس قدر گہری تثلیث پرستی دنیا میں قائم کی ہے وہ عیسائی تثلیث سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ اس پر جماعت قادیانی غور وخوض نہیں کرتی۔
عیسائیوں کے کفارہ کا مسلم الثبوت جملہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے خدا اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑا۔ جو عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق عیسٰی علیہ السلام کی زبان سے مصلوب ہوتے وقت نکلا تھا۔ اس سے خود مترشح ہے کہ روح القدس اور عیسٰی علیہ السلام کے سوا بھی کوئی بڑی ہستی ہے اور اسی کا نام خدا ہے۔ مگر مرزا قادیانی خود ہی خدا بن بیٹھے اور پھر ان پر یہ الہام ہونے لگا۔ "انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون اريد ما تريد"
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
٥٤
٣٥٥
یعنی تو جس بات کا ارادہ کرے کن فیکون ہے۔ وہی میں بھی ارادہ کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی کے ا الہام کو عقائد اہل سنت والجماعت اور ارشاد خداوندی پیارے حبیب حضرت رسول مقبول ﷺ سے ارشاد فر لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً احد “ یعنی کہہ دے جو مخلوق پرستی میں مبتلا ہیں۔ آفتاب کو بت سمجھتے ہیں وہ نہایت غلطی پر ہیں اور پرلے درجہ کے توحید اور تفرید میں برابری نہیں کرسکتا۔ اللہ بے نیاز کے ارادہ کے ماتحت نہیں ) وہ کسی سے جنا اور نہ اس کوئی بیٹا ہے۔ اور جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ وا ہے تو پھر ان لوگوں سے کہہ دے۔ جو بے جان چیزا کے قوی ارادہ میں دوسروں کو شریک سمجھتے ہیں وہ تو ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے: "وما ينبغى للرحـ ہستی ہے کہ اس کا بیٹا ہونا تو بڑی بات ہے۔ جو خدا بنالے۔ قرآن شریف کا یہ بھی ایک زندہ معجزہ ہے کـ رد کر دے۔ "انت بمنزلة توحيدی وتفريد هو الله احد ہے۔ اور اريد ما تريد کا کیا دعـ صفت ازلی وابدی ہے اور پھر انت منی وانا من نیز انت منی بمنزلة ولدی کا کس خوبی سے ور ہورہا ہے۔ اللہ کی اولاد کے مقابل اور ہم مرتبہ کوئی کی کوئی اولاد ہو۔ پھر جب خدا کا کوئی ولد نہیں اور منی بمنزلة ولدی کیونکر خدائی الہام ہو سکتا قطع و برید ہو گئی تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ایسا الہام ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
غرض خدا کی نسبت مرزا قادیانی کے کی بابت جو کچھ ان کے خیالات ہیں قوم کے سام
یعنی تو جس بات کا ارادہ کرے کن فیکون کہہ دیا کر ہو جائے گا۔ جو کچھ تو ارادہ کرتا ہے۔ وہی میں بھی ارادہ کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی کے اس بے تکی اور اس بلندی پروازی اور مجذوبانہ الہام کو عقائد اہل سنت والجماعت اور ارشاد خداوندی یعنی قرآن مجید سے پرکھیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب حضرت رسول مقبول ﷺ سے ارشاد فرماتا ہے: ”قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد“ یعنی اے میرے پیارے نبی ﷺ ان لوگوں سے کہہ دے جو مخلوق پرستی میں مبتلا ہیں۔ آفتاب کو بت اور ہر ایسی چیز کو جو فانی ہے۔ اللہ یا اس کا بیٹا سمجھتے ہیں وہ نہایت غلطی پر ہیں اور پرلے درجہ کے بے وقوف ہیں۔ اللہ ایک ہی ہے۔ کوئی اس کی توحید اور تفرید میں برابری نہیں کرسکتا۔ اللہ بے نیاز (کسی کی خواہش کا وہ تابع نہیں اس کا ارادہ کسی کے ارادہ کے ماتحت نہیں) وہ کسی سے جنا اور نہ اس سے کوئی جنا۔ نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔ اور جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ واحد ہے بے نیاز ہے نہ کسی کا باپ نہ کسی کا بیٹا ہے تو پھر ان لوگوں سے کہہ دے۔ جو بے جان چیز اور فانی مخلوق کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اور اس کے قوی ارادہ میں دوسروں کو شریک سمجھتے ہیں وہ تو بے نیاز ہے۔ غرض کہ کوئی اس کے مثل نہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے: ”وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا“ یعنی اللہ کی ایسی قوی ہستی ہے کہ اس کا بیٹا ہونا تو بڑی بات ہے۔ جو خدا کے شان شایان نہیں۔ کہ مثلاً کبھی کسی کو اپنا بیٹا بنا لے۔ قرآن شریف کا یہ بھی ایک زندہ معجزہ ہے کہ ہر زمانہ میں ہر فرقہ باطلہ کی غلط دعویٰ کا کما حقہ رد کر دے۔ ”انت بمنزلة توحيدى وتفريدى وظهورك ظهوری“ کا کیا اچھا رد قل هو الله احد ہے۔ اور اريد ما تريد کا کیا دندان شکن جواب الله الصمد ہے۔ جو اس کی صفت ازلی وابدی ہے اور پھر انت منی وانا منك کا کیا خوب جواب لم يلد ولم يولد ہے۔ نیز انت منى بمنزلة ولدى کا کس خوبی سے وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا سے رد ہورہا ہے۔ اللہ کی اولاد کے مقابل اور ہم مرتبہ کوئی دوسرا مولود جب ہی ہوسکتا ہے۔ جب حقیقتاً خدا کی کوئی اولاد ہو۔ پھر جب خدا کا کوئی ولد نہیں اور اتخاذ ولد خدا کے شایان شان نہیں۔ تو انت منی بمنزلة ولدی کیونکر خدائی الہام ہوسکتا ہے اور جب ان چاروں الہام کی قرآن مجید سے قطع وبرید ہوگئی تو یہ بات ظاہر ہوگئی کہ ایسا الہام ہرگز الہام رحمانی نہیں ہوسکتا اور کوئی خدا کے ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
غرض خدا کی نسبت مرزا قادیانی کے جو کچھ خیالات تھے وہ ظاہر ہوگئے۔ اب رسالت کی بابت جو کچھ ان کے خیالات ہیں قوم کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
٥٥
رسالت کے دعوے میں مرزا قادیانی کے اقوال
- ١...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٢...... ”لولاك لما خلقت الافلاك“
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
یہ الہام تو صاف طور سے یہ بتا رہا ہے کہ تمام انبیاء اور اولیاء کے وجود اور ان کے کمالات کے باعث مرزا قادیانی ہیں تمام انبیاء مرزا قادیانی کے ظل ہیں۔ اصل مرزا قادیانی ہی ہیں اس الہام کے بعد مرزا قادیانی کو ظلی نبی کہنا صرف عوام کو دھوکا دینا ہے۔
- ٣...... ”ياتى قمر الانبياء (حقیقت الوحی ص ١٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩)“ الہام صاف طور
سے مرزا قادیانی کو تمام انبیاء کا چاند بتا رہا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی افضل الانبیاء ہیں۔ جس طرح تاروں میں چاند بہت زیادہ روشن ہے۔
- ٤...... يا نبي الله كنت لا اعرفك
(انجام آتھم ص ٨٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٣)
- ٥...... انى معك ومع اهلك اريد ما تريدون
(انجام آتھم ص ٨٧، خزائن ج ١١ ص ٣١٥)
- ٦...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت
بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
ان اقوال اور الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی رسول تھے نبی تھے۔ مرزا قادیانی کی شان ایسی بلند تھی کہ اگر مرزا قادیانی پیدا نہ ہوتے تو یہ دنیا پیدا نہ ہوتی۔ مرزا قادیانی سب نبیوں کے سرتاج اور چاند تھے اور انتہا یہ ہوئی کہ ایسے بلند مرتبہ تھے کہ خود خدا آپ کی شان کو پہچاننے کی آرزو رکھتا تھا جیسا کہ الہام کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے اور خدا جانے مرزائی خدا نے ایسا ذہول کیوں اختیار کیا۔ خدا اور یہ بے خبری۔
غرض جب مرزا قادیانی نے اپنا یہ مرتبہ ثابت کیا اور قوم کو الہام کے ذریعہ سے یہ ذہن نشین کرایا کہ ہمارا وجود نہایت ہی مہتم بالشان اور میں ہی افضل البشر اور فخر الانبیاء ہوں۔ اور نا فہموں نے اسے مان لیا تو مرزا قادیانی کی جرات اور بڑھی اور پھر یوں ہانکنے لگے کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ : ”یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں۔ تحریف معنوی اور لفظی سے آلودہ ہیں یہ سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو خدا سے علم پا کر چاہے رد کر دے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١)
پھر (اعجاز احمدی کے ص ٢٩، خزائن ج ١٩ ص ١٣٩) میں تحریر کرتے ہیں کہ : ”ہم اب تک سمجھتے
٥٦
ہیں کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلافات رفع کرنے کے فیصلہ کو وہ ہزار حدیث کو موضوع قرار دے ناطق سمجھا ج کی زبان بند کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر ان کے قول کے سامنے پیش کی جائے تو اسے ردی میں پھینکنے کو کہہ دیں کے معنی ایسے گڑھ دیں گے کہ تیرہ سو برس تک کسی ذی کہ ہم حکم ہیں جو ہم کہیں اسے تسلیم کرو۔ غرض کہ مسلم ظاہر میں ہے اور باطن میں اسلام وہ ہے جو مرزا قا خلاف ہو۔ جب سادہ لوحوں نے یہ بات مان لی تو لگے۔ جو قرآن و احادیث کے بالکل خلاف ہیں۔ مثا ”اگر فضل احمد اپنی بیوی کو طلاق نہ دے تو عاق کیا ج چنانچہ جب محمدی بیگم (یعنی منکوحہ آسمانی کا نکاح سل اپنے لڑکے پر زور ڈالنا شروع کیا کہ جب احمد بیگ شادی دوسری جگہ کر کے مجھے ذلیل و رسوا کیا تو بھی بدلہ ان سے لے لے۔ مگر مرزا قادیانی کا لڑکا مرز تھا۔ اس کو یہ بات ناگوار ہوئی اور اس نے ایک نا سے جدا نہیں کیا۔ طلاق نہ دی۔ مرزا قادیانی اس کر کے اپنی جائیداد کے ترکہ سے محروم رکھا۔ نیز کے مطابق جب چاہا نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لیا الغرض مرزا قادیانی نے نبوت کا دعو نے مجملا ظاہر کر دیا اب میں اس دعوے کی غلطی بہ دکھانا چاہتا ہوں۔ جسے ہمارے برادر مکرم مانتے ثبوت میں پیش کیا ہے اور اپنے کو نبی سمجھ لیا لیکن ہے وہ میں مجدد صاحب ہی کے مکتوب سے لکھتا ہ
حضرت مجدد الف ثانی مکتوب بس در شان حضرت عمر فاروق فرمود لو كان بعدى نبي لكان عمر يعنى لول
ہیں کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلافات رفع کرنے کے لئے اس حکم کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“ مرزا قادیانی یہ کہہ کر تمام مسلمانوں کی زبان بند کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر ان کے قول کے یا فعل کے کوئی حدیث مخالف ہو اور ان کے سامنے پیش کی جائے تو اسے ردی میں پھینکنے کو کہہ دیں گے اور اگر کوئی آیت پیش کی جائے تو اس کے معنے ایسے گڑھ دیں گے کہ تیرہ سو برس تک کسی ذی علم اور کسی مفسر نے نہیں کئے اور کہہ دیں گے کہ ہم حکم ہیں جو ہم کہیں اسے تسلیم کرو۔ غرض کہ مسلمانوں کے متوجہ کرنے کے لئے تو اسلام کا نام ظاہر میں ہے اور باطن میں اسلام وہ ہے جو مرزا قادیانی کہیں اگرچہ کیسا ہی وہ قول اسلام کے خلاف ہو۔ جب سادہ لوحوں نے یہ بات مان لی تو اس کے مناسب احکامات بھی جاری ہونے لگے۔ جو قرآن واحادیث کے بالکل خلاف ہیں۔ مثلاً آپ نے بیٹے کی نسبت یہ حکم جاری کر دیا کہ ”اگر فضل احمد اپنی بیوی کو طلاق نہ دے تو عاق کیا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔“ چنانچہ جب محمدی بیگم (یعنی منکوحہ آسمانی کا نکاح سلطان احمد بیگ سے ہو گیا) تو مرزا قادیانی نے اپنے لڑکے پر زور ڈالنا شروع کیا کہ جب احمد بیگ نے میری بات نہ مانی اور اپنی لڑکی محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ کر کے مجھے ذلیل و رسوا کیا تو بھی اس کی بھانجی یعنی اپنی بیوی کو طلاق دے کر میرا بدلہ ان سے لے لے۔ مگر مرزا قادیانی کا لڑکا مرزا قادیانی سے زیادہ خدا ترس اور انصاف پسند تھا۔ اس کو یہ بات ناگوار ہوئی اور اس نے ایک ناکردہ گناہ اور اپنے دل کے آرام و خوشی کو اپنے سے جدا نہیں کیا۔ طلاق نہ دی۔ مرزا قادیانی اس کی حرکت سے آگ بگولا ہو گیا اور اسے عاق کر کے اپنی جائیداد کے ترکہ سے محروم رکھا۔ نیز مرزا قادیانی بلا شرعی اجازت کے اپنے خواہش کے مطابق جب چاہا نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لیا وغیرہ وغیرہ۔
الغرض مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس دعوے سے جو مقصد تھا وہ بھی میں نے مجملا ظاہر کر دیا اب میں اس دعوے کی غلطی بموجب عقیدہ اہل سنت والجماعت اسی کتاب سے دکھانا چاہتا ہوں۔ جسے ہمارے برادر مکرم مانتے ہیں اور سب سے پہلے اس کو اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کیا ہے اور اپنے کو نبی سمجھ لیا لیکن نبوت کے متعلق جو اعتقاد اہل سنت والجماعت کا ہے وہ میں مجدد صاحب ہی کے مکتوب سے لکھتا ہوں۔
حضرت مجدد الف ثانی مکتوب بست و چہارم جلد ثالث میں تحریر فرماتے ہیں۔ چون در شان حضرت عمر فاروقؓ فرموده است علیہ وعلیٰ الہ الصلوٰۃ والسلام لو كان بعدى نبى لكان عمر يعنى لوازم کمالاتی که در نبوة در کار ست همه
٥٧
را عمر دارد اما چون منصب نبوت بخاتم الرسل ختم شدہ است علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام بدولت منصب نبوت مشرف نگشت۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔ جو کچھ لازمہ نبوت ہے وہ عمرؓ میں موجود ہے مگر منصب نبوت چونکہ ختم ہو چکا اس لئے عمرؓ نبوت کے منصب سے مشرف نہ ہوا۔ ہمارے برادر نے ایک یہ بھی دھوکا کھایا ہے کہ نبی کے معنی نائب رسول کے سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس نبوت کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ اس کے معنی نائب رسول کے ہیں مگر انہیں چاہئے کہ اس حدیث پر غور کریں اس سے بخوبی روشن ہے کہ نبی کے معنی نائب رسول کے نہیں ہوتے کیونکہ اس میں شبہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت عمرؓ نائب رسول تھے اور ایسے عظیم الشان نائب تھے کہ اپنی نیابت کے زمانہ میں اسلام کا وہ کام کیا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی جیسے دس ہزار پیدا ہوں تو نہیں کر سکتے۔ اگر نبی کے معنی کسی وقت نائب رسول کے ہوتے تو حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام یہ نہ فرماتے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
اب دوسرا قول حضرت امام ربانی کا ملاحظہ ہو۔ اسی مکتوب میں آگے چل کر ارقام فرماتے ہیں کہ مقرر است کہ ہیچ ولی امتی بمرتبہ صحابی آن امت نرسد فکیف بہ نبی آن امت۔ یعنی عقیدۂ علماء اہلسنت والجماعت نے اس بات کو مان لیا ہے اور یہ قاعدہ مقرر ہو چکا ہے کہ اس امت کا کوئی ولی صحابی کے درجہ کے ہمسری نہیں کر سکتا۔ تو پھر کیونکر وہ نبی ہو سکتا ہے۔ جس کا درجہ صحابی سے کہیں زیادہ افضل ہے۔ پھر اسی مکتوبات کے جلد اوّل مکتوب سہ صد و یکم ص ٤٣٢ میں حضرت مجدد صاحبؒ ارقام فرماتے ہیں کہ نبوت عبارت از قرب الٰہی است کہ شائبہ ظلیت ندارد یعنی نبوت قرب الٰہی کو کہتے ہیں۔ اس میں ظلیت تو کجا شائبہ ظلیت بھی نہیں ہو سکتا۔ اس قول سے مرزا قادیانی کی نبوت ظلیہ اڑ گئی۔ جماعت قادیانی کے زبان زد ہے کہ مرزا قادیانی ظلی نبی ہیں جب نبوت میں ظلیت کا شائبہ نہیں ہے تو ظلی نبی چہ معنی غرض مجدد صاحبؒ کے محررہ بالا دونوں مکتوبوں سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین تھے آپ کے بعد منصب نبوت باقی نہیں رہا اور اب کوئی دوسرا نبی نہیں ہو سکتا اور نبی تو بڑی چیز ہے ظلی نبی بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبوت ایک ایسے قرب الٰہی کا نام ہے جس میں شائبہ ظلیت ممکن نہیں ہے۔ پھر ظلی نبی چہ معنی دارد۔ جماعت قادیانی عموماً اور جناب حکیم نور الدین مؤلف القاء ربانی خصوصاً مجدد صاحبؒ کے اس مکتوب کو دیانتداری و ایمانداری سے ملاحظہ کر کے بتائیں کہ وہ اپنی مسلم الثبوت اور پیش کردہ کتاب سے کیوں الگ ہو کر مرزا قادیانی کو بعض مستقل انبیاء
٥٨
٩ سے افضل اور پھر کہیں ظلی نبی مان رہے ہیں اور تشریعی نبی تھے۔ یعنی مرزائی حضرات کے نزد غیر تشریعی۔ غرض نبوت ایک ہی ہے جو دو چیز دونوں کی نفی ہو گئی اور ثابت ہوا کہ جناب رسول اور مجھے زیادہ حیرت تو اس بات سامنے غیر تشریعی نبی بنا کر پیش کرتی ہے اور مر کر رہے ہیں۔ کیا جناب خلیفہ المسیح حکیم نور سکتے ہیں کہ موانع ارث میں عاق بھی ہے اور نے تو کہیں نہیں دیکھا اور جناب خلیفہ المسیح موانع ارث میں سے ارتداد ہے۔ اگر مرزا الارث ہو سکتا ہے۔ والا فلا!
ایسے میں مؤلف القاء ربانی عقا شرعی عذر کے نماز جمع کر کے پڑھنا جائز ہے سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہ بغیر آپ کسی کی پیروی کے انسان مدار مرزا قادیانی اور مؤلف القاء ربانی پر کہ وہ اس امنو اذا تنازعتم فی شی فردوہ “ لطف یہ ہے کہ حدیث وقرآن سے الگ ہو کر علم پا کر جو چاہے فیصلہ کر دے۔ چاہے اس قادیانیوں کی حالت دیوانہ راہ کا اگر ایک نقطہ افتراء بھی کسی پہلو سے ان کی اور زبان اور قلم سیکڑوں جگہ پر اسے مشتہر کر القاء ربانی یہ کہہ دیں کہ حدیث شریف میں قادیانی مسیح موعود تھے۔ پھر انہوں نے آ وضاحت سے تحریر کرتا ہوں۔ گوش دل سے ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہ
سے افضل اور پھر کہیں ظلی نبی مان رہے ہیں اور بعض ان کے مخلصین یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تھے۔ یعنی مرزائی حضرات کے نزدیک نبوت کی دو اقسام ہیں۔ ایک تشریعی اور دوسری غیر تشریعی۔ غرض نبوت ایک ہی ہے جو دو چیز پر مشتمل ہے مگر جب مطلق نبوت کی نفی کردی گئی تو دونوں کی نفی ہو گئی اور ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نہ کوئی تشریعی نبی ہو نہ غیر تشریعی۔
اور مجھے زیادہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مرزائی جماعت مرزا قادیانی کو قوم کے سامنے غیر تشریعی نبی بنا کر پیش کرتی ہے اور مرزا قادیانی ہیں کہ تشریعی نبی کی طرح احکامات جاری کر رہے ہیں۔ کیا جناب خلیفہ المسیح حکیم نورالدین صاحب کتب فرائض سے یہ بات مجھے دکھلا سکتے ہیں کہ موانع ارث میں عاق بھی ہے اور لڑکا عاق ہونے سے محروم الارث ہو جاتا ہے۔ میں نے تو کہیں نہیں دیکھا اور جناب خلیفہ المسیح یا مؤلف القاء ربانی ہرگز اسے دکھا نہیں سکتے۔ ہاں موانع ارث میں سے ارتداد ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا فرزند دلبند مرتد ہو جاتا تو وہ البتہ محروم الارث ہو سکتا ہے۔ والا فلا!
ایسے میں مؤلف القاء ربانی عقائد اہل سنت الجماعت سے یہ دکھا سکتے ہیں کہ بغیر کسی شرعی عذر کے نماز جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی تو اربعین میں صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پھر یہ عذر بدتر از گناہ پیش ہو رہا ہے اور یہاں سے پتہ چل گیا کہ بغیر آپ ﷺ کی پیروی کے انسان مدارج علیا پر ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ مگر افسوس ہے جناب مرزا قادیانی اور مؤلف القاء ربانی پر کہ وہ اس راہ سے الگ ہیں اور مرزا قادیانی: ”يایھا الذین امنو اذا تنازعتم فی شئی فردوہ“ اللہ اور رسول کے خلاف اپنے کو حکم قرار دیتے ہیں اور پھر لطف یہ ہے کہ حدیث و قرآن سے الگ ہو کر یوں فرماتے ہیں کہ: ”حکم کے معنی یہی ہیں کہ اللہ سے علم پا کر جو چاہے فیصلہ کر دے۔ چاہے اس سے ہزار حدیث کیوں نہ ردی کے برابر سمجھی جائیں۔“
قادیانیوں کی حالت دیوانہ را بوئے بس است کی سی ہے۔ ضعیف سے ضعیف روایت کا اگر ایک نقطہ افتراء بھی کسی پہلو سے ان کی مدعا کے موافق نکل آیا۔ بس تالیاں بجانے لگتے ہیں اور زبان اور قلم سیکڑوں جگہ پر اسے مشتہر کرتے ہیں۔ اس تحریر میں حکم کا لفظ آگیا ہے شاید مؤلف القاء ربانی یہ کہہ دیں کہ حدیث شریف میں حکماً عدلاً مسیح موعود کے شان میں آیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود تھے۔ پھر انہوں نے اگر اپنے کو حکم کہا تو استعجاب کیا ہوا۔ لہٰذا میں اسے ذرا وضاحت سے تحریر کرتا ہوں۔ گوش دل سے سنئے۔ محررہ بالا تحریر سے اولاً یہ بھی اچھی طرح ثابت کر چکا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہ تھے۔ ثانیاً حدیث شریف میں یہی ایک لفظ حکماً عدلاً نہیں
٥٩
ہے۔ بلکہ پوری حدیث یہ ہے: ”ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً ، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير ، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله احد ، حتى تكون السجدة الواحدة خير امن الدنيا والاخره“ یعنی مسیح ابن مریم تم میں حاکم عادل ہوکر نازل ہوں گے۔ صلیب (پرستی کی بنیاد) کو توڑ ڈالیں گے۔ (سور) کو قتل کریں گے۔ یعنی بے غیرتی جاری رہے گی۔ بے حیا لوگ تباہ و برباد ہوں گے۔ (جزیہ) یعنی ٹیکس جو اسلام میں مقرر تھا۔ وہ اٹھا دیا جائے گا۔ (مال) کی ایسی کثرت ہوگی کہ اس کا لینے والا کوئی نہ ہوگا (عبادت الہی کا شوق اس درجہ غالب ہوگا کہ) ایک سجدہ میں دولت کونین سے زیادہ لطف آئے گا۔
اب فرمائیے کہ کہاں صلیب پرستی دنیا سے اٹھی۔ کہاں مسلمانوں میں : ”استغناء نفس“ حاصل ہوا۔ بے حیائی اور بے غیرتی کب مفقود ہوئی۔ عبادت الہی کا شوق اس درجہ پر کہاں موج زن ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ بلکہ برعکس ادیان باطلہ اور خصوصاً صلیب پرستی کا زور و شور ہے۔ عموماً لوگوں میں استغناء نفس نہیں۔ الا ماشاء اللہ! خصوصاً مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ ہر روز نئے نئے طریقہ سے قوم سے روپیہ لیتے ہیں۔ بے غیرتی کا یہ عالم ہے کہ قرآن اور حدیث اگر مرزا قادیانی کے مدعا کے خلاف نکلے تو اسے ردی میں پھینکنے کا کہا جاتا ہے۔ اس حدیث شریف کا ایک حرف بھی مرزا قادیانی کے شایان شان نہیں۔ یوں مذاق کی تو اور بات ہے کہ کوئی شخص اپنے کو بادشاہ وقت اور حکم سمجھنے لگے۔ مرزا قادیانی صرف اپنے کو حکم ہی تصور کرنے پر بس نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ میں فخر الانبیاء ہوں۔ یعنی سب نبیوں کا چاند یعنی سرتاج ہوں۔ حالانکہ حضرت مجدد صاحبؒ کے مکتوب سے جسے مولف القاء ربانی نے مسلم الثبوت مانا ہے۔ میں دکھا چکا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین تھے اور آپ ﷺ کے بعد اب منصب نبوت باقی نہیں بلکہ آپ کی امت کا کوئی ولی صحابہ کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پھر اپنے کو نبی کہنا سوائے ہفوات اور بے تکے خیال اور نیز مجددانہ بڑ کے اور کیا ہو سکتا ہے۔
معزز ناظرین! آپ کو معلوم ہوگا کہ کلام خدا اور کلام رسول کے متعلق کیا عندیہ ہے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت سے تو نص قرآنی کا صاف انکار ہے۔ لیکن مسلمانوں کے خوف سے صاف طور پر نہیں کہتے۔ مگر اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ اس کا حاصل کلام یہی ہے۔ ملائکہ اور حشر اجساد کے متعلق بھی مرزا قادیانی کا عقیدہ بالکل ہی اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ فرشتہ کو مرزا قادیانی ایک جدا مخلوق نہیں سمجھتے بلکہ اسے دہریہ کی طرح کہیں آفتاب، کہیں ستاروں کی روح اور الٰہی کی گرمی سے تعبیر کرتے ہیں۔ میں نے اس پر توضیح مرام کے جواب میں کافی روشنی ڈالی
٦٠
ہے۔ انشاء اللہ عقب میں وہ آپ کے پیش نظر ہو مرزا قادیانی کی روش بالکل فرقہ ناجیہ علماء اہل سنت و عقائد اہل سنت والجماعت سے کوئی مناسبت نہیں اور بھولے سے بھی اپنے الہام کو مجدد صاحب کے اور نیز قرآن مجید اور احادیث شریف سے نہیں جانـ اور انہیں معلوم ہو جاتا کہ ایسے امور کشفیہ جو انہیں باری تعالیٰ کی درگاہ میں نہایت عاجزی سے گڑ گڑا کر فرما۔ مجھ پر وہ امور ظاہر فرما جو معتقدات اہل سنت و افسوس کہ انہوں نے اس طرح سے کبھی بھولے سے پر دلیر ہو گئے اور اپنی رفعت شان سمجھنے لگے۔ ایسے خلاف مولف القاء ربانی نے حکم مان لیا ہے۔
یہ ہی وہ ناطق فیصلہ جو مجدد صاحب رضی اسے اچھی طرح سمجھ لیں کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے ربانی سے لکھا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی انہی اب تو کافی وشافی ہو گیا اور اس مکتوب سے یہ بات مسیح موعود اور ہیں اور مہدی مسعود جدا۔ مسیح موعـ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہوں گـ کہ وہ علامتیں مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتیں بـ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بعد بعثت ختم المرسلین منصـ نہ تشریعی نہ غیر تشریعی نہ ظلی۔ پھر ان سب سے اپـ معتقدات اہل اسلام اپنے کشف اور الہام کو پیش کـ ناطق فیصلہ کے بعد اب ایک سطر ایک جملہ کیا ایک القاء ربانی کی مزید بصارت اور معزز ناظرین کی کے مطابق فتوحات مکیہ سے اس بحث کو اور صاف فرماتے ہیں کہ اس امر کو اور صاف ہو جانے کے بـ بھی دیکھنا چاہئے جس میں مہدی کو کافر اور دجال
ہے ۔ انشاء اللہ عقب میں وہ آپ کے پیش نظر ہوگا۔ سردست مجھے اتنا ہی ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کی روش بالکل فرقہ ناجیہ علماء اہل سنت کے خلاف ہے اور مرزا قادیانی کے معتقدات کو عقائد اہل سنت والجماعت سے کوئی مناسبت نہیں ۔ کبھی انہوں نے احتیاط سے کام نہیں لیا اور بھولے سے بھی اپنے الہام کو مجدد صاحب کے ارشاد کے مطابق عقائد اہل سنت والجماعت اور نیز قرآن مجید اور احادیث شریف سے نہیں جانچا۔ اگر وہ خدا ترس ہوتے تو ضرور ایسا کرتے اور انہیں معلوم ہو جاتا کہ ایسے امور کشفیہ جو انہیں منکشف ہوئے ۔ سراسر موجب ہلاکت ہیں۔ باری تعالیٰ کی درگاہ میں نہایت عاجزی سے گڑ گڑا کر دعا کرتے کہ اے خدا میرے گناہ سے درگزر فرما۔ مجھ پر وہ امور ظاہر فرما جو معتقدات اہل سنت والجماعت کے خلاف نہ ہوں ۔ مگر افسوس اور صد افسوس کہ انہوں نے اس طرح سے کبھی بھولے سے بھی اپنے الہام کو نہیں جانچا ۔ بلکہ وہ اور بھی اس پر دلیر ہو گئے اور اپنی رفعت شان سمجھنے لگے۔ ایسے نافہم کی نسبت مجدد صاحب رضی اللہ تعالیٰ کے خلاف مولف القاء ربانی نے حکم مان لیا ہے۔
یہی وہ ناطق فیصلہ جو مجدد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما رہے ہیں۔ مولف القاء ربانی اسے اچھی طرح سمجھ لیں کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ انہیں کی مسلم الثبوت کتاب مکتوبات امام ربانی سے لکھا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی انہیں کی مسلم الثبوت کتاب سے بحث کروں گا۔ جو اب تو کافی وشافی ہو گیا اور اس مکتوب سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مجدد صاحب کی تحریر کے مطابق مسیح موعود اور ہیں اور مہدی مسعود جدا۔ مسیح موعود حضرت روح اللہ ہوں گے اور مہدی موعود حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہوں گے جن کی علامتیں بیان کی گئیں اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ وہ علامتیں مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتیں۔ مزید براں حضرت مجدد صاحب کے مکتوب ہی سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بعد بعثت خاتم المرسلین منصب نبوت باقی نہیں اور اب کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ نہ تشریعی نہ غیر تشریعی نہ ظلی ۔ پھر ان سب سے ایک اور بات یہ معلوم ہوئی کہ ایسا شخص جو خلاف معتقدات اہل اسلام اپنے کشف اور الہام کو پیش کرے۔ وہ خود گمراہ ہوا اور لوگوں کو گمراہ کیا۔ ایسے ناطق فیصلہ کے بعد اب ایک سطر ایک جملہ کیا ایک لفظ لکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ پھر بھی مؤلف القاء ربانی کی مزید بصارت اور معزز ناظرین کی مزید واقفیت کے لئے مؤلف القاء ربانی کی تحریر کے مطابق فتوحات مکیہ سے اس بحث کو اور صاف کرنا چاہتا ہوں۔ مؤلف القاء ربانی یوں تحریر فرماتے ہیں کہ اس امر کو اور صاف ہو جانے کے لئے حجج الکرامۃ اور دراسات اللبیب فتوحات مکیہ کو بھی دیکھنا چاہئے جس میں مہدی کو کافر اور دجال طبع ٹھیرانے کا ذکر ہے۔... الخ۔
٦١
شاید حج الکرامۃ۔ دراسات اللبیب اور فتوحات مکیہ کو خود اپنی آنکھوں سے مولف القاء ربانی نے ملاحظہ نہیں کیا۔ خلیفۃ المسیح یا کسی اور اپنے ہم خیال سے سن کر بلا دیکھے بھالے جس طرح مرزا قادیانی کو اپنے دعوے میں صادق سمجھا ایسے ہی باور کر لیا ورنہ اگر اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو ایسا نہ کرتے۔
ان تین پیش کردہ کتابوں میں سے پہلی کتاب حج الکرامۃ ۔ نواب صدیق حسن خان مرحوم کی ہے اور دوسری کتاب دراسات اللبیب بھی کسی مستند اور مسلم الثبوت تبحر فاضل کی نہیں ہے۔ عام تصنیفات میں اس کا شمار ہو۔ اس لئے میں ان کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا (اگرچہ مولف نے عوام پر اثر ڈالنے کے لئے متعدد نام لکھ دیئے ہیں) ہاں! تیسری کتاب فتوحات مکیہ محی الدین ابن عربیؒ کی مبارک اور قابل قدر تصنیف ہے۔ میں بھی ناظرین کو اسی پر اسرار کتاب کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ فتوحات مکیہ ایک بڑی مبسوط کتاب ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ اول سے آخر تک اس کتاب کو محض پڑھ جانے کے لئے ایک عمر چاہئے اور شاید ایسا ہی سمجھ کر مولف نے لکھ دیا کہ کون ایسی مبسوط کتاب کو دیکھ سکتا ہے۔ سردست تو محض اس کے نام ہی سے میری تحریر کی وقعت ہو جائے گی۔ شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ طالب حق کی جستجو نہایت ہی گہری ہوتی اور راستی کے لئے تائید ایزدی ہوتی ہے۔ ہر مشکل کام اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔ نظر بران میں نے بسم اللہ کر کے فتوحات مکیہ سے اس بحث کو نکالنا چاہا اور اللہ کا ہزار شکر ہے کہ نہایت ہی آسانی سے یہ بحث نکل آئی جسے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں:
”اعلم أیدنا الله وایاک ان لله خلیفة یخرج وقد امتلأت الارض جورا وظلما فیملؤها قسطا وعدلا لولم یبق من الدنیا الا یوم واحد طول الله ذلک الیوم حتی یلی هذا الخلیفة من عترة رسول الله ﷺ من ولد فاطمة جده الحسین ابن علی ابن ابی طالب یواطئ اسمه اسم رسول الله ﷺ یبایع الناس بین الرکن والمقام یشبه رسول الله ﷺ فی الخلق بفتح الخاء وینزل عنه فی الخلق بضم الخاء لانه لا یکون احد مثل رسول الله ﷺ فی اخلاقه والله یقوم فیه وانک لعلی خلق عظیم۔ وهو اجلی الجبهة اقنی الانف اسعد الناس به اهل الکوفة یقسم المال بالسویة ویعدل فی الرعیة ویفصل فی القضیة یاتیه الرجل فیقول له یامهدی اعطنی وبین یدیه المال فیحثی له فی ثوبه ما استطاع ان یحمله یخرج علی فترة من الدین یدع الله
٦٢
٣٦٣
به مالا یدع بالقران یمسی الرجل جاهلا اشجع الناس اکرم الناس یصلحه الله فی خمسا اوسبعا اوتسعا یقف اثر رسول الل حیث لا یراه یحمل الکل ویقوی الضع علی نوائب الحق یفعل مایقول ویقول م الرومیة بالتکبیر فی سبعین الفا من المس العظمی مادبة الله بمجع عکا یبید الظلم و الاسلام ما یعز الاسلام به بعد ذله وحیی الله بالسیف ماکان فمن ابی قتل و ماهو الدین علیه فی نفسا مالوکان المذاهب من الارض فلایبقی الا الدین الاجتهاد لما یرونه من الحکم بخا کرهاتحت حکمه خوفاً من سیفه وم المسلمین اکثر من خاصتهم یبائعه العارف وکشف وتعریف الهی لارجال الهیون یقی یحملون اثقال المملکة ویعینو علی ماق بنالمنارة البیضاء شرقی دمشق بین مه یمینه وملک عن یساره یقطر راسه ماء ویماس والناس فی الصلوة العصر فتند بالناس یوم الناس بسنت رسول الله ویقبض الله المهدی الیه طاهراً مطهرا۔ لف
﴿سمجھو خدا ہماری تمہاری مدد کرے بے جبکہ زمین ظلم سے بھر جائے گی اور وہ زمین کو انصاف ایک دن بھی باقی رہے گا تو خدا اس دن کو اس قدر د آنا ضرور ہے) یہ خلیفہ رسول اللہ ﷺ کے اولاد میں ابن علی ابن ابی طالب آپ کے اجداد میں ہوں گے
٦٣
. به مالايدع بالقرآن يمسى الرجل جاهلا بخيلا جبانا فيصبح اعلم الناس اشجع الناس اكرم الناس يصلحه الله فى ليلة يمشى النصر بين يديه يعيش خمسا اوسبعا اوتسعا يقف اثر رسول الله ﷺ لا يخطئى له ملك يسدده من حيث لايراه يحمل الكل ويقوى الضعف فى الحق ويقرى الضيف ويعين على نوائب الحق يفعل مايقول ويقول مايعلم ويعلم مايشهد ويفتح المدينه الرومية بالتكبير فى سبعين الفا من المسلمين من ولد اسحق يشهد الملحمة العظمى مادبة الله بمجع عكايبيد الظلم واهله يقيم الدين وينفخ الروح فى الاسلام ما يعزالاسلام به بعد ذله وحيى بعد موته يضع الجزية ويد عواالى الله بالسيف ماكان فمن ابى قتل ومن نازعة خذل يظهرمن الدين . ماهوالدين عليه فى نفسه مالوكان رسول الله ﷺ حيالحكم به يرفع المذاهب من الارض فلا يبقى الاالدين الخالص اعداؤه مقلدة العلماء اهل الاجتهاد لمايرونه من الحكم بخلاف ماذهبت اليه ائتمهم فيد خلون كرهاتحت حكمه خوفاً من سيفه وصلته ورغبة فيمالديه يفرح به عامة المسلمين اكثرمن خاصتهم يبائعه العارفون بالله من اهل الحقائق عن شهود وكشف وتعريف الهى لارجال الهيون يقيمون دعوته وينصرونه هم الوزراء يحملون اثقال المملكة ويعبنو على ماقلده الله ينزل عليه عيسى بن مريم بالمنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهر وذتين متكئا على ملكين ملك عن يمينه وملك عن يساره يقطرراسه ماء مثل الجمان يتحدر كانما خرج من ديماس والناس فى الصلوة العصر فتنحى له الامام من مقام فيتقدم فيصلى بالناس يوم الناس بسنت رسول الله ﷺ يكسرالصليب ويقتل الخنزير ويقبض الله المهدى اليه طاهرا مطهرا . انتهى “
سمجھو خدا ہماری تمہاری مدد کرے بے شک اللہ کا ایک خلیفہ ایسے وقت میں ظاہر ہوگا جبکہ زمین ظلم سے بھر جائے گی اور وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا۔ اگر قیامت کے آنے میں ایک دن بھی باقی رہے گا تو خدا اس دن کو اس قدر دراز کرے گا کہ یہ خلیفہ ظاہر ہو (یعنی اس خلیفہ کا آنا ضرور ہے) یہ خلیفہ رسول اللہ ﷺ کے اولاد میں حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے اور حسین ابن علی ابن ابی طالب آپ کے اجداد میں ہوں گے۔ آپ کا نام رسول خدا کے نام کی طرح محمد
٦٣
ہوگا۔ مقام اور رکن کے درمیان میں آدمی ان کی بیعت کریں گے۔ صورت میں رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہوں گے اور سیرت آپ سے گھٹے ہوں گے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق میں مثل ہونا ناممکن ہے۔ آپ کا اسمیں اعلیٰ مرتبہ ہے جس کا قرآن شاہد ہے۔ پیشانی روشن اور ناک بلند ہوگی۔ لوگوں میں اہل کوفہ آپ کے زیادہ معاون ہوں گے۔ مال کے دینے میں مساوات اور رعایا میں عدالت کا لحاظ رکھیں گے۔ جھگڑوں کو مٹائیں گے۔ جب آپ سے کوئی مال کا سوال کرے گا تو اس کا دامن مال سے بھر دیں گے۔ اگر ان کے پاس مال ہوگا اور اس قدر دیں گے کہ جتنا وہ اٹھا سکے اور یہ خلیفہ ایسے وقت میں ظاہر ہوگا جب کہ دین دنیا سے اٹھ جائے گا۔ مستعد کرے گا ان کی وجہ سے خدا امور خیر پر اس قدر کہ قرآن سے بھی اس قدر آمادہ نہ ہوئے تھے۔ لوگوں کے انقلاب کی یہ حالت ہوگی کہ جو شام کو بخیل، جاہل، بزدل تھا وہ آپ کی صحبت سے صبح ہی کو عالم، سخی، بہادر ہو جائے گا اور ایک ہی رات میں اس کی اصلاح ہو جائے گی۔ مدد آپ کی ہم رکاب ہوگی۔ پانچ یا سات یا نو سال تک زندہ رہیں گے۔ سنت کا ایسا اتباع کریں گے کہ سرمو اس سے تجاوز نہ کریں گے۔ خدا کی طرف سے آپ کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا جو ہدایت کرے گا محتاج و ضعیفوں کی مدد کریں گے اور مہمان نواز ہوں گے اور حق کے طرفدار۔ آپ کا قول و فعل دونوں موافق ہوگا اور بلا جانے بوجھے کچھ نہ کہیں گے اور ان کا علم شہودی ہوگا اور روم شہر کو ٧٠ ہزار مسلمان بنی اسرائیل کے ساتھ فتح کریں گے۔ شہر عکا کے میدان میں سخت لڑائی ہوگی۔ اس میں وہ خلیفۃ اللہ موجود ہوں گے۔ ظلم کو اور ظالموں کو مٹائیں گے اور دین کو قائم کریں گے اور اسلام میں ازسرنو روح پھونکیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام پھر غالب اور زندہ ہوگا۔ جزیہ کو اٹھائیں گے اور خدا کے لئے تلوار چلائیں گے۔ اپنے منکر کو قتل کریں گے اور آپ کے مخالف ذلیل و رسوا ہوں گے۔ اس وقت خالص دین ظاہر ہوگا جیسا کہ رسول خدا کے وقت میں تھا۔ دین خالص کے سوا دنیا سے سب مذاہب اٹھ جائیں گے۔ مجتہدین کے مقلدین اس لئے آپ کے دشمن ہوں گے کہ ان کے اماموں کے خلاف آپ فتویٰ دیں گے۔ مگر وہ بھی آپ کی صولت اور قہر کے خوف سے اور آپ کے انعامات کی امید پر سر تسلیم خم کریں گے۔ تمام مسلمان آپ کے ظہور پر خوش ہوں گے۔ اہل اللہ اپنے کشف سے اور خدا کے الہام سے آپ کی بیعت کریں گے۔ نیک اور ابرار لوگ آپ کی دعوت کو قائم کریں گے اور مدد کریں گے۔ جو کہ آپ کے وزیر ہوں گے۔ تمام سلطنت کے بار کو اٹھائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔
انہیں کے وقت میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اس منارۂ بیضاء سے نازل ہوں گے جو ٦٤
دمشق کے مشرق کی جانب واقع ہے اور اس وقت فرشتوں کے سہاروں سے نازل ہوں گے۔ موتی آپ ابھی حمام سے برآمد ہوئے ہیں اور اس وقت دیکھ کر جگہ چھوڑ دے گا اور (اس نماز کے علاوہ امامت کریں گے۔ صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو کو دنیا سے پاک وصاف اٹھائے گا۔
اب جماعت قادیانی دیکھے کہ مولف جھوٹا کر دیا۔ حضرت امام مہدی کی وہ علامات ایک علامت بیان فرمائے۔ متعدد علامتیں بیان نہ تھا۔ عبارت مع ترجمہ موجود ہے۔ مکرر ملاحظہ کر دیا کہ امام مہدی اور ہوں گے اور حضرت مسیح کے صفات بیان کئے ہیں اور ان کی علامتیں لکھی گمراہ، دجال، ملحد ٹھہرائیں گے۔ البتہ یہ لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے سب سے اول اور بڑے مخا پٹالوی اور مولوی عبدالحق غزنوی۔ مولوی ثناء اللہ لکھا ہے وہ مولف القاء اور ان کے مرشد کے پا وہی ارشاد فرماتے ہیں جو حضرت مجددؒ کے مکتوب ہیں کہ مہدی علیہ الرضوان اہل بیت سے ہوں آپ کا نام وہی ہوگا جو رسول اللہ گے۔ دنیا کو شروفساد جور و ظلم سے پاک کرکے ع مخالف ہوں گے۔ مگر تلوار کے خوف سے اور دنی کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف ل تحریر سے بھی یہ بات آفتاب کی سے زیادہ روشن
١؎ قادیانی حضرات امام مہدی مرزا قادیانی میں پائی گئی۔ مجنوں کو روایت بنا نشانات بیان کئے ہیں ان کا خیال بھی نہیں مگر
دمشق کے مشرق کی جانب واقع ہے اور اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو زرد چادروں میں دو فرشتوں کے سہاروں سے نازل ہوں گے۔ موتی کی طرح آپ کے سر سے پانی ٹپکتا ہو گا جیسے کہ آپ ابھی حمام سے برآمد ہوئے ہیں اور اس وقت لوگ عصر کی نماز میں ہوں گے اور امام آپ کو دیکھ کر جگہ چھوڑ دے گا اور (اس نماز کے علاوہ) آپ رسول اللہ کی سنت کے مطابق آگے ہو کر امامت کریں گے۔ صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ اس وقت میں اللہ تعالیٰ امام مہدی کو دنیا سے پاک و صاف اٹھائے گا۔
اب جماعت قادیانی دیکھے کہ مولف القاء کی مستند کتاب نے ان کے مرشد کو کیسا صریح جھوٹا کر دیا۔ حضرت امام مہدی کی وہ علامات بیان فرمائیں جن کا پتہ مرزا قادیانی میں نہ تھا۔ کجا ایک علامت بیان فرماتے ۔ متعدد علامتیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک کا نشان مرزا قادیانی میں نہ تھا۔ عبارت مع ترجمہ موجود ہے۔ مکرر ملاحظہ کیا جائے۔ حضرت محی الدین عربی نے یہ بھی روشن کر دیا کہ امام مہدی اور ہوں گے اور حضرت مسیح اور ہوں گے۔ اس عبارت میں حضرت امام مہدی کے صفات بیان کئے ہیں اور ان کی علامتیں لکھی ہیں۔ یہ اس نے نہیں لکھا کہ مہدی کو لوگ کافر، گمراہ، دجال، ملحد ٹھہرائیں گے۔ البتہ یہ لکھا ہے کہ بعض مقلدین ان کے مخالف ہوں گے۔ الحمد للہ کہ مرزا قادیانی کے سب سے اول اور بڑے مخالف علماء اہل حدیث ہوئے مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الحق غزنوی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری غرضیکہ فتوحات مکیہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ مولف القاء اور ان کے مرشد کے بالکل خلاف ہے۔ حضرت محی الدین ابن عربی بھی وہی ارشاد فرماتے ہیں جو حضرت مجددؒ کے مکتوب سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی آپ بھی یہی فرما رہے ہیں کہ مہدی علیہ الرضوان اہل بیت سے ہوں گے۔
آپ کا نام وہی ہو گا جو رسول اللہ ﷺ کا نام ہے یعنی محمد۔ آپ بادشاہ وقت ہوں گے۔ دنیا کو شر و فساد جور و ظلم سے پاک کر کے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ نا فہم علماء ان کے مخالف ہوں گے مگر تلوار کے خوف سے اور دنیاوی طمع سے آپ کے مطیع ہو جائیں گے۔ آپ ہی کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ غرض حضرت محی الدین عربیؒ کی نورانی تحریر سے بھی یہ بات آفتاب ہی سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ جناب مہدی علیہ الرضوان اور ہوں
اے قادیانی حضرات امام مہدی کے نشانات کو دیکھیں ان میں سے ایک نشانی بھی مرزا قادیانی میں نہ پائی گئی۔ گہنوں کو روایت بنا کر تو چھوٹے نشان کو غل کر دیا۔ بزرگوں نے جو سچے نشانات بیان کئے ہیں ان کا خیال بھی نہیں مگر گمراہی پھیلانے کو چھوٹے نشانات کا غل ہے۔ ٦٥
گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام (یعنی مسیح موعود) اور ہوں گے۔ ہاں فتوحات مکیہ سے ایک اور نئی بات یہ معلوم ہوئی کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں سارے مذاہب باطلہ نیست و نابود (یعنی تمام مذاہب باطلہ کی قوت نیست و نابود ہو جائے گی) ہو کر صرف دین خالص یعنی مذہب اسلام باقی رہ جائے گا۔
مرزا غلام احمد کے زمانہ میں تو اور بھی مذاہب باطلہ کو فروغ ہوا۔ اور دیانند سرستی کے آریہ دھرم کی روز افزوں ترقی رہی۔ اور ہنود ایک سیلاب عظیم آئے دن مذہب اسلام پر امڈتا ہے۔ مولف القاء ربانی اپنے مسلم الثبوت شاہد حضرت مجددؒ حضرت محی الدین عربیؒ کے کلام کو خوف خدا دل میں رکھ کر ملاحظہ کریں اور بتائیں کہ کیا واقعی ان حوالہ کو جو میں نے مکتوب امام ربانی اور فتوحات مکیہ سے نہایت ہی دیانت اور احتیاط کے ساتھ لفظ بہ لفظ مع بامحاورہ ترجمہ کے نقل کر دیا ہے۔ اس سے پیشتر ان کی نظر سے گزرا ہے یا نہیں۔ اگر انہوں نے پہلے ہی سے ان حوالوں کو دیکھا ہے تو پھر کیوں تعصب اور ضد سے محض مقلدانہ اپنے علم و فضل کو الگ رکھ کر اسلام کے سرسبز و شاداب باغ سے کیوں دور جا پڑے ہیں۔ اگر انہوں نے واقعی ان حوالہ جات کو اس سے پیشتر ملاحظہ نہیں کیا تو پھر کیوں یہ عامیانہ فریب دیتے ہیں کہ مکتوب امام ربانی اور فتوحات مکیہ سے مرزا قادیانی کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
افسوس صد ہزار افسوس میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکلا کے مصداق ان دو معتبر اور محترم بزرگ نے جو کچھ گواہی دی اس سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی نہ مسیح موعود تھے نہ مہدی مسعود۔ حقیقت کا انکشاف تو بفضلہ بہت ہی خوبی سے ہو گیا۔ مگر اس انکشاف کے ساتھ ہی مرزا قادیانی اپنے دعوے میں کاذب ٹھہرے۔
جب اس تمہید کے تمہیدی مضامین کا یہ حال ہے اور اس میں اس قدر افتراء ہے تو اس کے آگے اصل مضامین کی بحث میں تو کیا کچھ نہ ہوگا۔ جی تو نہیں چاہتا ہے کہ اب اس سے آگے ایک سطر بھی تنقیدانہ نظر دیکھوں مگر مختلف الخیال انسان کا مختلف فہم مجھے اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ میں پوری کتاب پر ایک مختصر مفید ریمارک لکھ دوں۔ شاید کوئی بندہ خدا ایمان داری سے کام لے اور اس تحریر سے اسے صراط مستقیم نصیب ہو۔ آمین یا ارحم الراحمین!
مولف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں۔ ابو احمد صاحب نے اپنے فیصلہ کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے۔ پہلا حصہ اگرچہ شائع نہیں ہوا۔ پھر آگے چل کر تحریر کرتے ہیں کہ یہ میرا رسالہ ان کے دوسرے حصہ کا جواب ہے۔ یہ دونوں باتیں واقعات کے اعتبار سے بالکل ہی غلط ہیں۔ فیصلہ آسمانی کا پہلا حصہ برسوں ہوئے شائع ہو چکا اور القاء ربانی کی بعض پوشیدہ تحریریں یہ کہہ رہی ہیں
٢٦
کہ مولف کی نظر سے پہلا حصہ گزر چکا ہے۔ بہر کیف جو متعلق کچھ نہیں لکھتے تو میں بھی ایفاء وعدہ کا منتظر ہوں۔ جب بھی انشاء اللہ دیانت اور انصاف سے اسے دیکھوں گا۔
مولف القاء ربانی نے علامہ مصنف فیصلہ آسما پیش کیا ہے۔ کہ معجزہ اور خوارق کو نافہم وقعت کی نگاہ سے نہیں کرتے ہیں۔ مگر اس تحریر اور حوالہ سے فائدہ اس مضمون کی ہیں۔ منشاء ایسی تحریر کا تو صرف اس قدر ہے کہ نافہموں کی نـ سکتا۔ یہ استدلال بے شک اس وقت صحیح ہوتا جب مولف القا دلائل عقلیہ حالات موجودہ اور اجتہاد آئمہ سے یہ ثابت موعود مسعود تھے اور جب اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں لا سکے
مولف القاء ربانی اس مضمون کو ذرا زور دار مجدد صاحبؒ کے مکتوب سے چند جملہ پیش کرتے ہیں۔
معزز ناظرین! حضرت مجدد صاحبؒ اس مکتو آداب ہیں۔ اس کو نصیحتاً بیان فرماتے ہوئے اور پیر کی اطا دکھلاتے ہوئے اور پیر کے سامنے جس آداب و لحاظ سے حکایت بیان فرماتے ہیں کہ اور بادشاہی میں بادشاہ اپنے کھڑا تھا۔ ناگاہ وزیر کی نگاہ اپنے کپڑوں پر جا پڑی۔ اس وزیر اس کی بندش اور درستگی میں مشغول ہو گیا۔ وزیر کی اس غضب ناک ہو کر وزیر سے کہا کہ تو میرا وزیر اور میرے سامن جامہ کے بند کی طرف ملتفت ہوتا ہے۔ یہ حرکت نہایت بـ مجدد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب دنیائے دنیہ کے وسائل پـ وصولی الی اللہ کے لئے کیا کچھ رعایت ملحوظ رکھنی چاہئے۔
تحریر فرماتے ہیں: ”بدانکه گفته اندالشیخ یحی شیخی است مراد از احیاء احیاء روحی اس از اماتت روحی است نه جسمی و مراد ازا بمقام ولایت وکمال میرساند وشیخ مقتدای
٢٧
کہ مولف کی نظر سے پہلا حصہ گزر چکا ہے۔ بہرکیف جب وہ خود ہی ابھی اس کے جواب کے متعلق کچھ نہیں لکھتے تو میں بھی ایفاء وعدہ کا منتظر ہوں۔ جب پہلے حصہ کا جواب شائع ہوگا تو میں بھی انشاء اللہ دیانت اور انصاف سے اسے دیکھوں گا۔
مؤلف القاء ربانی نے علامہ مصنف فیصلہ آسمانی کی دیگر تصانیف کی طرح اس بات کو قوم میں پیش کیا ہے۔ کہ معجزہ اور خوارق کو نافہم وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور عوام خواہ مخواہ اعتراض کیا کرتے ہیں۔ مگر اس تحریر اور حوالہ سے فائدہ اس مضمون کی تو بہت سی آیتیں خود قرآن مجید میں مذکورہ ہیں۔ منشاء ایسی تحریر کا تو صرف اس قدر ہے کہ نافہموں کی بدگمانیوں سے حق مذہب باطل نہیں ٹھہر سکتا۔ یہ استدلال بے شک اس وقت صحیح ہوتا جب مولف القاء ربانی آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ دلائل عقلیہ حالات موجودہ اور اجتہاد آئمہ سے یہ ثابت کردیتے کہ مرزا قادیانی درحقیقت مسیح موعود مسعود تھے اور جب اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں لاسکے۔ پھر فضول تحریر سے کیا فائدہ۔
مؤلف القاء ربانی اس مضمون کو ذرا زور دار اور باوقعت بنانے کے لئے یہاں مجدد صاحبؒ کے مکتوب سے چند جملہ پیش کرتے ہیں۔
معزز ناظرین ! حضرت مجدد صاحبؒ اس مکتوب میں مریدوں کے لئے جو ضروری آداب ہیں۔ اس کو ضمناً بیان فرماتے ہوئے اور پیر کی اتباع کس درجہ مرید کو کرنی چاہئے اسے دکھلاتے ہوئے اور پیر کے سامنے جس آداب ولحاظ سے مرید کو بیٹھنا چاہئے اس کے لئے ایک حکایت بیان فرماتے ہیں کہ دربار بادشاہی میں بادشاہ اپنے تخت پر متمکن تھا اور وزیر سامنے مودب کھڑا تھا۔ ناگاہ وزیر کی نگاہ اپنے کپڑوں پر جاپڑی۔ اس نے دیکھا کہ اچکن کا بند کھل گیا ہے۔ وزیر اس کی بندش اور درستگی میں مشغول ہوگیا۔ وزیر کی اس حرکت پر بادشاہ کی نظر جاپڑی۔ نہایت غضب ناک ہوکر وزیر سے کہا کہ تو میرا وزیر اور میرے سامنے اپنی توجہ کو مجھ سے الگ کرکے اپنے جامہ کے بند کی طرف ملتفت ہوتا ہے۔ یہ حرکت نہایت نازیبا ہے۔ اس حکایت کو بیان فرما کر مجدد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب دنیائے دنیہ کے وسائل کے لئے ایسی باریکیاں ہیں تو پھر وسائل وصول الی اللہ کے لئے کیا کچھ رعایت ملحوظ رکھنی چاہئے۔ یوں سونا چاہئے یوں کھانا چاہئے۔ آخر تحریر فرماتے ہیں: ”بدانکه گفته اند الشیخ یحییٰ ویمیت احیاء و اماتت مقام شیخی است مراد از احیاء احیاء روحی است نه جسمی وهمچنین مراد از اماتت روحی است نه جسمی ومراد از حیات وموت فنا وبقا است که بمقام ولایت وکمال میرساند وشیخ مقتدا باذن الله سبحانہ متکفل این هر
٦٧
دو امر است پیش شیخ را ازین احیا و اماتت چاره نباشد و معنی یحییٰ ویمیت یبقی ویفنی احیاء اماتت جسمی بمنصب شیخ کاری نیست شیخ مقتدا حکم کاہ ربا دارد هرکس را باو مناسبت است در رنگ خس و خاشاك در عقب او میدود و نصیب خود را از وی استیفا می نماید . خوارق و کرامات از برائے جذب مریدان نیست مریدان بمناسبت معنویه منجذب میگردند وانکه باین بزرگواران مناسبت ندارد از دولت کمالات ایشان محروم ست اگر چه هزار معجزه و خوارق و کرامات بیند ابوجهل و ابولهب را شاهد این معنی باید گرفت!
(مکتوب دو صد نود و دو جلد اوّل ص ٣٧٢، ٣٧١)
اور یہ جو بزرگانِ دین نے فرمایا ہے کہ الشیخ یحییٰ ویمیت ، اس سے مراد روح کی تر و تازگی اور پژمردگی ہے۔ کسی جسم مردہ میں نہ شیخ جان ڈال سکتا ہے نہ اسے مار سکتا ہے۔ یہ تو خدا کا کام ہے۔ احیاء اور اماتت کے معنی بقاء اور فناء کے ہیں اور یہ ولایت میں ایک اعلیٰ درجہ کا مقام ہے۔ شیخ کی توجہ سے انسان فناء اور بقاء کی ہستی معلوم کر کے اسے حاصل کر سکتا ہے۔ شیخ باذن خدا وندی اس فناء اور بقاء کا کفیل ہوتا ہے۔ مگر شیخ مقتدا ایک کاہ (کاہ ربا وہی ہے جسے کہہ ربا کہتے ہیں۔ ایک قسم کا پتھر ہے۔ جس طرح مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اسی طرح کہہ ربا خس و خاشاک کو کھینچتا ہے) پیچھے مرید خود بخود دوڑتا ہے اور اپنے حصہ کو پالیتا ہے اور جس میں یہ قابلیت نہیں ہوتی وہ شیخ کے فیض سے محروم رہتا ہے اور ہزار معجزے اور خوارق کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ مثلاً ابو جہل وابولہب کو دیکھو کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کی تبلیغِ اسلام فرماتے رہے اور وہ مشرف با اسلام نہ ہوا۔
- ١۔ حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے اس جملہ کو دیکھو جو انصاف پسند مرزا قادیانی کے حالات
سے واقف ہوگا وہ بے تامل کہہ دے گا کہ یہ حوالہ پیش کرنا بے کار ہے۔ کیونکہ وہاں تو کمالات باطنی کا کہیں پتہ نہیں ہے۔ ان کے صحبت یافتہ جس قدر دیکھے اور سنے گئے وہ سب ایمانی خصائل سے محروم ہیں اور کمالات باطنی تو بہت بڑی بات ہے۔ البتہ جھوٹ اور فریب اور اشاعت کذب میں بڑے مستعد ہیں۔ نہ نماز و روزہ کی پابندی ہے نہ معاملات کی صفائی ہے۔ دیکھئے خواجہ کمال الدین جو مرزا قادیانی کے نہایت خاص مرید اور صحبت یافتہ ہیں۔ ان کے حالات اخباروں میں چھپ رہے ہیں۔ کیسی کیسی بے ایمانیت انہی کے بھائی ظاہر کر رہے ہیں۔ اخبار وطن اور رسالہ الحق وغیرہ دیکھا جائے۔ اب وہ خلیفہ ہوئے ہیں ان کے حالات بھی پیام صلح وغیرہ میں چھپے ہیں۔ پیسہ اخبار دیکھا جائے۔ یہ نہایت مخصوص صحبت یافتوں کی مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی ڈالتے ہیں۔
٦٨
جو جیسا رہتا ہے اس پر ویسا ہی فیضان ہوتا ہے۔ شعر
در باغ لالہ رویدہ در شور بوم
الہامی تحقیق
ناظرین! اس کی شرح ملاحظہ کریں۔ حضرت مجددؒ نے کہ وہ کامل اور مکمل ہوتا ہے۔ یعنی مرتبہ فنا اور بقاء اسے حاصل ہو بندہ اللہ کی محبت میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی خبر نہیں خواہشیں اور لذتیں ہوتی ہیں وہ سب فنا ہو جاتی ہیں اور اس کی ج اللہ اور اس کے مرضیات ہیں۔ اب یہ بندہ اپنی خواہشات سے زندگی حاصل کرتا ہے۔ اسی کا نام بقا ہے۔ شیخ وقت اور مرشد کا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی ہمت اور توجہ سے اپنے مرید میں ا خداوندی۔ یہ صفت تو مرشد کامل کی حضرت مجددؒ نے بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی جبلت میں ایسی استعداد ا بلا تکلف قبول کرتا ہے اور مرشد کامل اور مکمل کا گویا بے اختیار روحانیت کے اثر کو قبول کرتا ہے۔ جس طرح خس و خاشاک مرید کی سرشت میں یہ خوبی نہیں رکھی گئی ہے۔ بلکہ اس کے خ خلاف کے مراتب ہیں۔ ادنیٰ یہ ہے کہ ظاہری افعال میں اگر ن وہ نہیں ہے اور اس کا اعلیٰ مرتبہ شیطانیت ہے۔ ایسے مرید کا روحانیت سے محروم رہتے ہیں۔ یہاں سے دیکھنا چاہئے کہ حالت بیان کی۔ اسے مولف القاء چھوڑ گئے کیونکہ اس سے حالتیں بیان کی گئیں۔ اسی طرح مرشد کی دو حالتیں ہوتی ہیں ا نے بیان فرمائی۔ دوسری وہ ہیں جن میں روحانیت کی جگہ شی ہو اور یہاں تک ان کا دماغ پہنچے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے ل اور گزر رہے ہیں۔ اب سچے کامل ومکمل اور جھوٹے مدعیوں م
٦٩
جو جیسا رہتا ہے اس پر ویسا ہی فیضان ہوتا ہے۔ شعر
در باغ لالہ روید در شور بوم خس
الہامی تحقیق
ناظرین! اس کی شرح ملاحظہ کریں۔ حضرت مجددؒ پہلے مرشد کی حالت بیان کرتے ہیں کہ وہ کامل اور مکمل ہوتا ہے۔ یعنی مرتبہ فنا اور بقاء اسے حاصل ہوتا ہے۔ فنا فی اللہ کا حاصل یہ ہے کہ بندہ اللہ کی محبت میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی خبر نہیں رہتی اور جس قدر اس بندے کی خواہشیں اور لذتیں ہوتی ہیں وہ سب فنا ہو جاتی ہیں اور اس کی خواہشیں وہی ہوتی ہیں جو پسندیدہ اللہ اور اس کے مرضیات ہیں۔ اب یہ بندہ اپنی خواہشات سے علیحدہ ہو کر دوسرے قسم کی روحانی زندگی حاصل کرتا ہے۔ اسی کا نام بقا ہے۔ شیخ وقت اور مرشد کامل میں یہ صفت ایسی پختہ اور راسخ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی ہمت اور توجہ سے اپنے مرید میں یہ حالت پیدا کرتا ہے۔ مگر باذن خداوندی۔ یہ صفت تو مرشد کامل کی حضرت مجددؒ نے بیان فرمائی۔ اب مرید کی دو حالت بیان کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی جبلت میں ایسی استعداد اور قوت رکھی ہے کہ فیض روحانیت کو بلا تکلف قبول کرتا ہے اور مرشد کامل اور مکمل کا گویا بے اختیار مطیع و فرمانبردار ہوتا ہے اور اس کی روحانیت کے اثر کو قبول کرتا ہے۔ جس طرح خس و خاشاک کہربا کے اثر کو قبول کرتا ہے اور جس مرید کی سرشت میں یہ خوبی نہیں رکھی گئی ہے۔ بلکہ اس کے خلاف باتیں اس میں ہیں۔ اب اس خلاف کے مراتب ہیں۔ ادنیٰ یہ ہے کہ ظاہری افعال میں اگرچہ نیک ہو مگر روحانیت جس کا نام ہے وہ نہیں ہے اور اس کا اعلیٰ مرتبہ شیطانیت ہے۔ ایسے مرید کامل ومکمل کے فیض سے یعنی اس کی روحانیت سے محروم رہتے ہیں۔ یہاں سے دیکھنا چاہئے کہ حضرت مجددؒ نے پہلے مرشد کامل کی حالت بیان کی۔ اسے مولف القاء چھوڑ گئے کیونکہ اس سے قلعی کھلتی تھی کیونکہ جس طرح مرید کی حالتیں بیان کی گئیں۔ اسی طرح مرشد کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ ہے جن کی صفت حضرت مجددؒ نے بیان فرمائی۔ دوسری وہ ہیں جن میں روحانیت کی جگہ شیطانیت ہے۔ گو ظاہر میں تقدس کا دعویٰ ہو اور یہاں تک ان کا دماغ پہنچے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے لگیں۔ دونوں اقسام کے مرشد گزرے اور گزر رہے ہیں۔ اب سچے کامل ومکمل اور جھوٹے مدعیوں میں تمیز کرنا نہایت مشکل ہے۔ حضرت
٦٩
مجددؒ اسی مکتوب میں (جس میں مؤلف القاء نے عبارت نقل کی ہے) تحریر فرماتے ہیں: ”برکشوف خود زنهار اعتماد ننهندی که حق یا باطل درین دار (دنیا) ممتزج است وصواب باخطا مختلط“ کہ طالب خدا کو چاہئے کہ اپنے کشفوں پر اعتماد نہ کرے کیونکہ اس دار فانی دنیا میں حق و باطل اور سچ و جھوٹ مل گئے ہیں۔
عام مخلوق اس میں فرق نہیں کر سکتی اور اپنے خیال اور طبیعت کے مناسب اس پر حکم لگا دیتی ہے اور اس کی پیرو ہو جاتی ہے۔ یہاں علم بھی کام نہیں دیتا۔ گزشتہ اور موجودہ زمانے کے واقعات اس پر کامل شہادت دیتے ہیں۔
خیال کرنا چاہئے کہ حضرت سرور انبیاء ﷺ نے دعویٰ نبوت کیا اور آپ کو اس وقت کے اہل عرب نے مانا آپ کے دعوے کے کچھ دنوں بعد ہی مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس طرح دعویٰ کیا کہ حضرت سرور انبیاء ﷺ کو تسلیم کر کے جس طرح مرزا قادیانی نے کیا۔ اس کے ماننے والے بھی عرب تھے اور ان کی مقدار بھی اس وقت اسی کے قریب تھی جس قدر حضرت سرور انبیاء ﷺ کے ماننے والے تھے۔ حضور سرور عالم ﷺ نے اور سب مسلمانوں نے اسے جھوٹا کہا اب اس کے ماننے والے مسلمانوں کے مقابل میں یہی تقریر کر سکتے تھے جو مولف القاء نے یہاں پیش کی ہے۔ پھر کیا اس سے اس کذاب کی صداقت ثابت ہو سکتی تھی؟ اور اس کی منکر یعنی مسلمان نعوذ باللہ ویسے ہی ہو سکتے تھے۔ جیسے منکر حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ذرا مولف القاء ہوش کر کے اس جواب دیں۔
اسی طرح دوسری صدی میں صالح نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بہت لوگوں نے اسے مانا اور ٢٤٧ برس تک اس نے دعویٰ نبوت کے ساتھ بادشاہت کی۔ پھر کیا یہی تقریر اس کے مریدین مسلمانوں کے مقابل میں نہیں کر سکتے تھے اور کی نہ ہوگی۔ پھر کیا اس سے اس کی سچائی ثابت ہو گئی؟ ذی فہم حضرات غور فرمائیں۔ حضرت مجددؒ کے وقت میں ایک مدعی مہدویت گزرا ہے جسے حضرت ممدوح جھوٹا کہتے ہیں۔ اس کے ماننے والے خود حضرت مجددؒ کے اس قول کو پیش کر کے اسی طرح الزام دے سکتے ہیں۔ سید محمد جونپوری کے ماننے والے اس وقت تک موجود ہیں جس کو دعویٰ مہدویت کے علاوہ افضل الانبیاء ماننے کا دعویٰ تھا اور عبدالبہا خود مدعی اس وقت موجود ہے۔ ان دونوں کے مریدین مجدد صاحب کی یہ عبارت اپنی صداقت میں پیش کر کے مؤلف القاء ٧٠
کو ابولہب کی مثال دے سکتے ہیں۔ مولف القاء نے طرف سے سمجھ لیں۔ مولف القاء ہیں اور ان میں کوئی نشانات کے مدعی ہیں۔ اسی طرح بلکہ اس سے بہت زیا کے منکر کو مولف القاء کیا کہیں گے۔
الغرض مدعیان تقدس کی واقعی حالت معلوم معلوم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے کی ہے۔ جس سے وہ انسان کی قلبی حالت اور اس کی با سکتے ہیں جس طرح ہم آفتاب کی روشنی میں چیزوں کو حضرات ہیں جو علم وفضل اور تقویٰ کے ساتھ اپنی جبلت ہیں اور کسی شیخ کامل اور مکمل کی صحبت میں رہ کر فیض با مثال میں ہم حضرت مولانا فضل رحمان صاحب (گنج فیصلہ آسمانی (مولانا سید محمد علی مونگیریؒ) کو پیش کر سکتے اور اس مثال کو صحیح کہہ سکتا ہے۔ ان دقیق باتوں کے عا مجید سے، صحیح حدیثوں سے، اجماع امت سے ظاہر ہو طلب تامل نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی کا کذب اسی طر کیا تامل ہو سکتا ہے۔ یہاں کاملین کی حالت کو پیش کر کو دھوکہ دینا ہے۔ مگر مؤلف القاء کے بہکانے سے و ہے: ”اللهم احفظنا من شره“
منجملہ اور دلائل کے ایک دلیل تازہ یہ بھی نے اپنی نا فہمی سے اپنے مدعا کے ثبوت میں پیش کیا ہ بطلان ثابت ہوتا ہے اور وہ مکتوب مؤلف کے احوال
حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب قدس عالم میں شہرہ ہے اور جو اپنے زمانہ میں آپ اپنی نظ بیعت سے سرفراز ہوئے۔ مگر افسوس بیعت حاصل کر ٧١
کو ابولہب کی مثال دے سکتے ہیں۔ مولف القاء نے جو جواب ان کیلئے تجویز کیا ہو وہی ہماری طرف سے سمجھ لیں۔ مولف القا میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی نشانات کے مدعی ہیں۔ اسی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ سید محمد نشانات کا مدعی تھا۔ پھر اب اس کے منکر کو مولف القاء کیا کہیں گے۔
الغرض مدعیان تقدس کی واقعی حالت معلوم کرنا بہت دشوار ہے۔ دو قسم کے حضرات معلوم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے اور انہیں نور قلب اور سچی فراست عنایت کی ہے۔ جس سے وہ انسان کی قلبی حالت اور اس کی روحانیت اور شیطانیت اسی طرح معلوم کر سکتے ہیں جس طرح ہم آفتاب کی روشنی میں چیزوں کو معلوم کرتے ہیں۔ دوسرے قسم کے وہ حضرات ہیں جو علم وفضل اور تقویٰ کے ساتھ اپنی جبلت و سرشت میں صداقت اور روحانیت رکھتے ہیں اور کسی شیخ کامل اور مکمل کی صحبت میں رہ کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کی مثال میں ہم حضرت مولانا فضل رحمان صاحب (گنج مراد آبادی) قدس سرہ کو اور علامہ مؤلف فیصلہ آسمانی (مولانا سید محمد علی مونگیری) کو پیش کر سکتے ہیں اور ایک عالم اس کی تصدیق کر سکتا ہے اور اس مثال کو صحیح کہہ سکتا ہے۔ ان دقیق باتوں کے علاوہ میں یہ کہتا ہوں کہ جس کا کذب قرآن مجید سے، صحیح حدیثوں سے، اجماع امت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے کاذب ہونے میں کوئی حق طلب تامل نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی کا کذب اسی طرح ثابت ہے۔ پھر کسی مسلمان کو اس میں کیا تامل ہو سکتا ہے۔ یہاں کاملین کی حالت کو پیش کرنا اور حضرت مجددؒ کے کلام کو سند میں لانا عوام کو دھوکہ دینا ہے۔ مگر مؤلف القاء کے بہکانے سے وہی بہکے گا جس کے سرشت میں کم و بیش خرابی ہے۔ ’’اللهم احفظنا من شره‘‘
منجملہ اور دلائل کے ایک دلیل تازہ یہ بھی ہے کہ جس جس مکتوب کو مؤلف القاء ربانی نے اپنی نافہمی سے اپنے مدعا کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ اسی مکتوب سے مؤلف کے غلط دعوے کا بطلان ثابت ہوتا ہے اور وہ مکتوب مؤلف کے احوال کے ساتھ ایک خاص مناسبت رکھتا ہے۔
حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب قدس سرہ جن کی ولایت اور عرفانیت کا چار دانگ عالم میں شہرہ ہے اور جو اپنے زمانہ میں آپ اپنی نظیر تھے۔ مؤلف القاء ربانی ابتدا آپ ہی کے بیعت سے سرفراز ہوئے۔ مگر افسوس بیعت حاصل کر کے آپ کے طریقہ سے الگ ہو گئے اور اعلیٰ
٧١
حضرت نے مرزا قادیانی کی نسبت جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس سے چشم پوشی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی جو مرید کے لئے غایت درجہ کی بے ادبی ہے۔ چنانچہ اسی مکتوب میں حضرت مجدد فرماتے ہیں: ”مثل مشہور ست ہیچ بے ادب بخدا نرسد۔“ نتیجہ اس اس سوء ادبی کا یہ ہوا کہ مولف صراط مستقیم سے دور جا پڑے۔ اس سوء ادبی کی وجہ محض مولف کی شقاوت ہوئی ورنہ اعلیٰ حضرت کے فیضان انوار سے ایک زمانہ روشن ہو گیا اور روشن ہے۔ پھر جب انسان صراط مستقیم سے الگ ہو گیا اور ایسے شخص کا پیرو ہوا جس نے قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی توہین کی اس سے جو کچھ خرافات ظاہر ہوں وہ تھوڑی ہیں۔
پھر مؤلف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں کہ: ”پہلی ہی تصنیف میں ابواحمد صاحب نے نہایت سخت زبان اختیار کی اور احمدیوں کے دل ہلا دینے والے فقرات استعمال کئے۔“ یہ بھی ایک مغالطہ اور ناظرین کو فیصلہ کے مفید مضامین سے دور رکھنے کا ایک انوکھا ڈھنگ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ کیونکر تصدیق ہو سکتی ہے۔ اگر واقعی علامہ مصنف نے قادیانیوں کے دل ہلا دینے والے فقرات استعمال کئے ہیں تو زیادہ نہیں صرف ایک ہی جگہ مجھے دکھا دیجئے۔ فیصلہ آسمانی کی اشاعت بہت کثرت سے ہوئی ہے۔ ہر منصف مزاج ہر جگہ نہایت آسانی سے اسے دیکھ سکتا ہے۔ ہاں اتنی بات تو علامہ مصنف نے ضرور کی ہے کہ پیشین گوئی کے نہ پورے ہونے پر جو کچھ گندے اور دل ہلا دینے والے فقرات مرزا قادیانی نے بطیب خاطر اپنے نفس قبول کر لئے ہیں اور اپنے قلم سے لکھے ہیں۔ انہیں الفاظ کو انہیں کی کتاب کے حوالے سے نقل کیا ہے اور وہ بھی اس غرض سے کہ دعوے کو ثابت کر کے نادانوں کو دکھائیں کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ غرضیکہ ان کے الفاظ کی نقل بھی بغرض خیر خواہی عوام کے کی گئی ہے جس کا کرنا ضروری تھا۔ اس سے مؤلف کا کبیدہ ہونا اور ملال کرنا فضول اور بالکل فضول ہے۔ اس کے سوائے اور کوئی بات ہو تو دکھایئے اور مرزا قادیانی کے اس سخت اور نہایت درشت الفاظ کو بھی پیش نظر رکھئے جو اس وقت کے تمام ہادیان امت محمدیہ کی نسبت لکھے ہیں۔ مؤلف کی قابلیت اور اعلیٰ درجہ کی تقریر
١؎ حضرت ممدوح سے ایک مرتبہ مرزا قادیانی کی بنسبت دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ سلف کے خلاف جو کہے یا کرے وہ شیطان ہے۔ دوسری مرتبہ دریافت کیا گیا تو فرمایا جھوٹا ہے۔ صحابہ کے مخالف ہے۔ وقت پر جب کوئی اس کا ثبوت چاہے گا دیا جائے گا۔
٧٢
٣
سے مجھے ذاتی واقفیت ہے۔ اسے ملحوظ رکھ کر جب سخت حیرت ہوتی ہے اور بار بار خیال آتا ہے کہ ایسے رکیک شبہات سے اور کبھی اس کی تائید ہو ج تضیع اوقات کے سوا اور کچھ حاصل نہیں۔ اس کر کے نفس مضمون پر توجہ کرتا ہوں۔ مؤلف القا ختم ہی نہیں ہوتا۔ لکھتے ہیں کہ: ”ابواحمد صاحب کوئی نیا علمی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہی سولہ سو خود مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور آپ کے خدام
مؤلف القاء یہ بتائیں کہ کون جھوٹا باتیں نہیں بتائیں اور اس کے پیروؤں نے پا ہے اور نہ پانی پر دیوار اٹھ سکتی ہے۔ ایسا ہی آسا چکا ہے اور بتا چکا ہوں کہ علامہ مصنف نے جو خوبی سے اس پر گفتگو کی ہے اس کا موقع اور سکتا۔ پھر جب اعتراض پیدا نہیں ہوتا تو جواب ہیں۔ ان جوابوں کی ہڈی پسلیاں بھی چور کر دی کے مریدین کے جوابوں کی ایسی دھجیاں اڑائی اور خصوصاً اس کا حصہ ٣ ص ٨٩ سے اور با صداقت کا حوالہ دیتا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے پھر جائے گا کہ ایسے مستحکم اعتراض تھے کہ اتنی مد مریدین زور لگا کر تھک گئے۔ مگر اعتراضوں قادیانی زور لگاتے لگاتے عاجز ہو گئی۔ مگر اس مذکورہ رسالوں میں جو قادیانیوں کے جواب
١؎ ناظرین اس بدحواسی کو ملاحظہ کئے اور لکھ دیا کہ جو اعتراضات اپنے فیص اعتراضات کہتے ہیں۔
سے مجھے ذاتی واقفیت ہے۔ اسے ملحوظ رکھ کر جب القاء ربانی کی خدمات صمیمانہ پر نظر پڑتی ہے تو سخت حیرت ہوتی ہے اور بار بار خیال آتا ہے کہ شاید یہ کسی اور کے قلم سے نکلی ہے۔ نیز مؤلف کے ایسے رکیک شبہات سے اور بھی اس کی تائید ہو جاتی ہے لیکن اس جانچ پڑتال سے کوئی فائدہ نہیں۔ تضیع اوقات کے سوا اور کچھ حاصل نہیں۔ اس لئے اس سے مجھے کوئی بحث نہیں۔ اسے نظر انداز کر کے نفس مضمون پر توجہ کرتا ہوں۔ مؤلف القاء ربانی شوق سے لکھے جاتے ہیں۔ الجھاؤ کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ لکھتے ہیں کہ: ”ابو احمد صاحب نے جو اعتراضات اپنے فیصلہ میں کئے ہیں۔ یہ کوئی نیا علمی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہی سولہ، سترہ برسوں کا بوسیدہ اعتراض ہے جس کے جوابات خود مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور آپ کے خدام زبان قلم سے بارہا دے چکے ہیں۔“ ١؎
مؤلف القاء یہ بتائیں کہ کون جھوٹا اپنے جھوٹ کو چھپانے سے خاموش رہا ہے اور کچھ باتیں نہیں بتائیں اور اس کے پیروؤں نے پانی پر دیوار اٹھانا نہیں چاہی۔ مگر نہ جھوٹ چھپ سکتا ہے اور نہ پانی پر دیوار اٹھ سکتی ہے۔ ایسا ہی آپ کا دعویٰ ہے۔ اس کا کافی جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ علامہ مصنف نے جو اعتراضات منکوحہ آسمانی پر پیش کئے ہیں اور جس خوبی سے اس پر گفتگو کی ہے اس کا موقع اور ایسا اعتراض مرزا قادیانی کی زندگی میں ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر جب اعتراض پیدا نہیں ہوتا تو جواب کیسا۔ اور جن اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ ان جوابوں کی ہڈی پسلیاں بھی چور کر دی گئیں۔ جواب دینے والوں میں مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کے جوابوں کی ایسی دھجیاں اڑائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ میں آپ کو صرف فیصلہ آسمانی اور خصوصاً اس کا حصہ ٣ ص ٨٩ سے اور بالخصوص ص ١١٤ سے آخر تک اور تنزیہ ربانی اور معیار صداقت کا حوالہ دیتا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے پھر سب جوابوں کی حقیقت کھل جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ ایسے مستحکم اعتراض تھے کہ اتنی مدت تک خود مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ جی اور تمام مریدین زور لگا کر تھک گئے۔ مگر اعتراضوں کی بنیاد ایسی مستحکم تھی کہ اسے جنبش نہ ہوئی اور جماعت قادیانی زور لگاتے لگاتے عاجز ہو گئی۔ مگر اس بنیاد کی اینٹ بھی نہ اکھڑی۔ مؤلف القاء بتائیں کہ مذکورہ رسالوں میں جو قادیانیوں کے جوابوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ کسی قادیانی نے ان
١؎ ناظرین اس بدحواسی کو ملاحظہ کریں کہ ابھی ایک سطر پہلے تو متعدد اعتراض بیان کئے اور لکھ دیا کہ جو اعتراضات اپنے فیصلہ میں کئے ہیں اور ایک سطر کے بعد اسی کو بوسیدہ اعتراضات کہتے ہیں۔
٧٣
کا جواب دیا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ نہیں دیا اور نہ کوئی دے سکتا ہے۔ مولف القاء کچھ ہمت کریں پھر دیکھیں کہ ان کی قابلیت کا پردہ کیسا فاش ہوتا ہے۔ مگر اس کی ہمت ہی نہیں ہو سکتی۔ ازاں بعد مولف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں کہ : ”مولوی سید محمد علی صاحب کو بارہ برس سکوت کے بعد مونگیر میں سلسلہ احمدیہ کی مخالفت پر کھڑے ہونا اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی توہین پر کمر بستہ ہو جانا کسی مصلحت اور دور اندیشی پر مبنی ہے۔ اس کو ہم آپ کے فیصلہ کے پہلے حصہ کے جواب میں ظاہر کریں گے ۔“ بہتر ضرور اس کا اظہار کیجئے گا۔ سردست اس کی وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے مجھ سے سنئے اس سے پیشتر صوبہ بہار میں لوگ اس طرح عالمگیر فریب میں مبتلا نہیں تھے۔ جن جن مقامات میں قادیانی جماعت مرزا قادیانی کے خیالات ظاہر کرتی تھی۔ وہاں کے علماء وقت وقتاً فوقتاً بقدر ضرورت لکھ دیتے تھے۔ اب جب یہ سیلاب نے بہار کا رخ کیا تو آپ کو مسلمانوں کی گمراہی بے چین کرنے لگی۔ اور اپنے بھائیوں کی اصلاح کے لئے ان پر حق بات کا اظہار کر دیا۔ اس کو آپ مصلحت تصور فرمائیں یا کسی اور نام سے یاد کریں۔ مرزا قادیانی امام وقت اور مسیح موعود ہو کر خدا کی وحی کے خلاف کیوں بارہ برس دم بخود رہے۔
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣، ١١٤)
ملاحظہ فرمائیے حضرت مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ: ”میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارے میں الہامات شروع ہو گئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے ۔“ پھر اسی کتاب میں آگے چل کر مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ : ”میں نے باوجود یکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیونکر کیا اور کیوں براہین خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔“ یہ امر قابل غور نہیں جو ظہور میں آیا۔ بے شک قابل غور ہے اور مؤلف القاء ربانی بتائیں کہ بارہ برس تک کیوں مرزا قادیانی وحی الٰہی کی مخالفت پر اڑے رہے اور مرزا قادیانی کا وہ کیسا خدا تھا جس کی وحی بارہ برس تک معرض التواء میں پڑی رہی۔ مرزا ایسے کند ذہن اور نافہم تھے کہ اس مدت دراز تک الہام الٰہی کو نہیں سمجھا اور خدا نے بھی ان کو نہ سمجھایا۔ پھر ایسے ملہم اور صاحب الہام کے اور الہاموں پر کیونکر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ اگر عقل ہے تو غور کیجئے۔ سید محمد جونپوری مہدی کاذب کا بھی یہی مقولہ ہے کہ اٹھارہ برس تک برابر مہدی ہونے کے الہامات مجھے ہوتے رہے ۔ مگر میں ٧٤
خاموش رہا۔ جب وعید آئی اس وقت میں نے اعلان کیا۔ یہ بات مسلم ہے کہ نبی نہ خدا کے حکم بجاآوری میں تامل کر سک سکتی ہے اور جن امور میں غلطی ہو سکتی ہے اس میں نبی اپنی سے اجتہاد میں کوئی غلطی ہوئی تو وہ فوراً مطلع کیا جاتا ہے ” تقریر و تثبیت نبی بر خطا مجوز نیست“ پھر ایک دن دو دن نہیں۔ پورے بارہ سال مرزا قادیانی کیوں خطاء پر ق مخالفت کرتے رہے۔ گویا بارہ برس تک خدا انہیں مسیح م رہے اور وہ رسمی عقیدہ کی اشاعت کرتے رہے۔ خدا مرزا قادیانی باوجود دعویٰ نبوت کے بارہ برس خلاف مش رہے تو کسی دوسرے بزرگ کے سکوت پر کیا اعتراض ہ ہوں۔ فرمائیے ورنہ فیصلہ کے پہلے حصہ کے جواب میں گے تو میں بھی مرزا قادیانی کے سکوت کی مصلحت قوم کو بتا طرف جائے تو عجب نہیں۔ کیونکہ دنیا میں ایسا اندھیر ادو
تالیف قلوب کے لئے مولف القاء ربانی اعتراض قرار دیا ہے اس کے جواب سے پیشتر ناظرین وغیرہ کو دیکھیں۔ کیا بار بار اس قسم کی یاد دہانی اور ان اعتر ناظرین ہرگز ایسے شخص کی کتاب نہیں دیکھ سکتے جس پر قرآن واحادیث سے وارد ہوتے ہیں۔ میں پہلے لکھ قرآن مجید اور حدیث نبویہ سے مرزا قادیانی کی نبوت او دیجئے۔ ثبوت دیجئے اور مرزا قادیانی کو اس لائق بنائیے سردست تو مجدد صاحب نے مرزا قادیانی پر : ”ہوسل فہم ان کی کتاب کو مقبولیت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ مج ربانی تحریر کرتے ہیں : ”یہ بالکل ابواحمد صاحب کا دع اکثر پیش گوئیوں کو عظیم الشان اور اپنے دعوے کے سچ کہ صرف یہی پیش گوئی بڑی عظیم الشان ہے اور صرف آئندہ ہم کتابوں کے حوالہ سے تصریح بھی کریں گے ۔ ٧٥
خاموش رہا۔ جب وعید آئی اس وقت میں نے اعلان کیا۔ علماء اہل سنت والجماعت کے نزدیک تو یہ بات مسلم ہے کہ نبی نہ خدا کے حکم بجا آوری میں تامل کر سکتا ہے نہ ایسے امور میں اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے اور جن امور میں غلطی ہو سکتی ہے اس میں نبی اپنی خطاء پر قائم نہیں رہ سکتا۔ یعنی اگر اس سے اجتہاد میں کوئی غلطی ہوئی تو وہ فوراً مطلع کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مجدد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ”تقریر و حیثیت نبی بر خطا مجوز نیست“ پھر ایک دن دو دن نہیں۔ مہینہ دو مہینہ نہیں۔ سال دو سال نہیں۔ پورے بارہ سال مرزا قادیانی کیوں خطاء پر قائم رہے؟ اور قائم ہی نہیں بلکہ اس کی مخالفت کرتے رہے۔ گویا بارہ برس تک خدا انہیں مسیح موعود بناتا رہا اور وہ اسے ہفوات سمجھتے رہے اور وہ رسمی عقیدہ کی اشاعت کرتے رہے۔ خدا جو چاہتا تھا نعوذ باللہ وہ نہ ہوا۔ جب مرزا قادیانی باوجود دعویٰ نبوت کے بارہ برس خلاف مشیت الٰہی اور ارشاد باری تعالیٰ خاموش رہے تو کسی دوسرے بزرگ کے سکوت پر کیا اعتراض ہے۔ میں اس کے لئے ایک کافی وقت دیتا ہوں۔ فرمائیے ورنہ فیصلہ کے پہلے حصہ کے جواب میں جب آپ مصلحت کا انکشاف فرمائیں گے تو میں بھی مرزا قادیانی کے سکوت کی مصلحت قوم کو بتا دوں گا شاید ذی فہم ناظر کا بھی خیال اس طرف جائے تو عجب نہیں۔ کیونکہ دنیا میں ایسا اندھیر اور اس قسم کا افترا ہوتا رہتا ہے۔
تالیف قلوب کے لئے مولف القاء ربانی نے اپنی نافہمی سے جس اعتراض کو ضمنی اعتراض قرار دیا ہے اس کے جواب سے پیشتر ناظرین سے التجا کرتے ہیں کہ آپ نزول المسیح وغیرہ کو دیکھیں۔ کیا بار بار اس قسم کی یاددہانی اور اس اضطرار سے کوئی مفید بات پیدا ہو سکتی ہے۔ ناظرین ہرگز ایسے شخص کی کتاب نہیں دیکھ سکتے جس پر ایک نہیں دو نہیں ، سینکڑوں اعتراضات قرآن و احادیث سے وارد ہوتے ہیں۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں اور پھر بھی مکرر لکھتا ہوں کہ پہلے قرآن مجید اور حدیث نبویہ سے مرزا قادیانی کی نبوت اور دعوائے مسیح موعود کی صداقت آپ ظاہر کر دیجئے۔ ثبوت دیجئے اور مرزا قادیانی کو اس لائق بنائیے کہ اہل علم ان کے طرف ملتفت ہوسکیں۔ سردست تو مجدد صاحب نے مرزا قادیانی پر ”ھو ضل واضل“ کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ کوئی ذی فہم ان کی کتاب کو مقبولیت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ پھر ضمنی اعتراض کے جواب میں مولف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں :۔ ”یہ بالکل ابو احمد صاحب کا دعویٰ غلط اور دھوکہ دہی ہے بلکہ آپ نے اپنی اکثر پیش گوئیوں کو عظیم الشان اور اپنے دعوے کے سب دلائل کو یکساں قرار دیا ہے۔ کہیں نہیں لکھا کہ صرف یہی پیش گوئی بڑی عظیم الشان ہے اور صرف یہی دلیل بہت بڑی دلیل ہے۔ جیسا کہ آئندہ ہم کتابوں کے حوالہ سے تصریح بھی کریں گے۔“
(ص ١٨ القاء ربانی)
٧٥
خدا جانے یہ آئندہ کا زمانہ کب آئے گا قیامت میں۔ بات تو جب تھی کہ آپ اسی تحریر میں اس بات کو دکھا دیتے کہ واقعی ابو احمد نے غلط دعوے اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔ ہمت کر کے جس اعتراض کے جواب میں ایسے شدومد سے کام لیتے ہیں۔ اصل جواب کے موقع پر کیوں گریز کرتے ہیں اور آئندہ پر کیوں اٹھا رکھتے ہیں۔ شعر
بوقت گفتن و گفتن بوقت خاموشی
معزز ناظرین! مولف القاء یہاں ایک مسلمانوں کے سچے بہی خواہ، علامہ وقت پر دو الزام لگاتے ہیں۔ ایک یہ کہ غلط دعوے کیا۔ دوسرا الزام یہ کہ دھوکہ دیا۔ اب میں فیصلہ آسمانی کی پوری عبارت نقل کرتا ہوں۔ حق پسند حضرات غور سے ملاحظہ فرما کر یہ دیکھیں کہ حضرت مولف فیصلہ نے غلطی کی ہے اور دھوکہ دیا ہے۔ یا مولف القاء ایک حقانی بزرگ کا مقابلہ کر کے کیسی کیسی غلطیاں کرتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں؟ جس عبارت میں مولف القاء غلط دعوے اور دھوکہ دہی کا الزام بتاتے ہیں۔ وہ ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے ص ٨ میں لکھا ہے۔
”منکوحہ آسمانی کی پیش گوئی کو مرزا قادیانی نے بہت عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا۔ اس کی وجہ سے شہادۃ القرآن میں اس طرح بیان کی ہے کہ پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشین گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیش گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کے تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہے۔
- ١...... کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ٣...... اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے تک اور نکاح ثانی تک فوت نہ ہو۔
- ٥...... اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦...... اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار
میں نہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٠، ٨١ ، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
٧٦
اس عبارت سے یہ اظہر من الشمس ہے عظیم الشان نشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں عظمت کی شے کو عظیم الشان نہیں کہتے بلکہ اس کے لیے بڑی عظمت میں بھی تین درجے ہو سکتے ہیں۔ اس کے درجے کو بہت عظیم الشان کہیں گے اور سب سے اوپر مرزا قادیانی نے اس نشان کے لئے یہی لفظ لکھا ہے جس سے بڑھ کر عظمت نہیں ہو سکتی۔“
فیصلہ کی یہ اردو عبارت ہے اور سلیس وب سکتا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے کتاب کی عبار عبارت سے دو باتیں نکال کر بیان کی ہیں۔
- ١...... یہ کہ مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی والی پیشین گ
- ٢...... مرزا قادیانی کی عبارت سے یہ نتیجہ نکالا کہ من
عظیم الشان نشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہی اس لکھنے کے بعد محاورہ سے اس دعوے اس پیشین گوئی کو بہت ہی عظیم الشان بتایا ہے اور م گوئی یعنی اس نشان کی ایسی عظمت کو ظاہر کرتا ہے سکتا۔ اس کا نہایت صاف نتیجہ یہ ہے کہ یہ پیشین گو نشان نہیں ہو سکتا۔ علامہ مولف فیصلہ آسمانی یہی فرم بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ علامہ ممدوح یہ کہتے ہیں کہ دو مثل نہ ہونا اور اس سے بڑھ کر نہ ہونا دونوں دعوے دوسرے دعوے کو فرما رہے ہیں۔ پہلے دعوے کا مح کیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے کسی دوسرے نشان بتایا۔ غرضیکہ علامہ ممدوح کے کسی جملے سے یہ ظاہ الشان نہیں کہا۔ صرف اسی کو کہا ہے۔
اب میں ناظرین سے بانلجتا کہتا ہوں علامہ مولف فیصلہ نے کیا غلطی کی اور کس بات کو
اس عبارت سے یہ اظہر من الشمس ہے کہ منکوحہ کا نکاح میں آنا مرزا قادیانی کا ایسا عظیم الشان نشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اردو کے محاورے میں معمولی عظمت کی شے کو عظیم الشان نہیں کہتے بلکہ اس کے لئے بڑی عظمت کا ہونا ضروری ہے۔ اب اس بڑی عظمت میں بھی تین درجے ہو سکتے ہیں۔ اس کے ادنیٰ درجے کو عظیم الشان کہیں گے اور متوسط درجے کو بہت عظیم الشان کہیں گے اور سب سے اوّل درجے کو بہت ہی عظیم الشان کہیں گے۔ مرزا قادیانی نے اس نشان کے لئے یہی لفظ لکھا ہے جو نہایت کمال مرتبہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس سے بڑھ کر عظمت نہیں ہو سکتی۔“
فیصلہ کی یہ اردو عبارت ہے اور سلیس و صاف ہے جسے ہر ایک اردو دان بے تامل سمجھ سکتا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی کتاب کی عبارت ہے اور مولف فیصلہ نے اس کتاب کی عبارت سے دو باتیں نکال کر بیان کی ہیں۔
- ١...... یہ کہ مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کو بہت عظیم الشان نشان ٹھہرایا ہے۔
- ٢...... مرزا قادیانی کی عبارت سے یہ نتیجہ نکالا کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا مرزا قادیانی کا ایسا
عظیم الشان نشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہو سکتا۔
اس لکھنے کے بعد محاورہ سے اس دعوے کو اس طرح ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کو بہت ہی عظیم الشان بتایا ہے اور اردو کے محاورہ کے لحاظ سے یہ جملہ اس پیشین گوئی یعنی اس نشان کی ایسی عظمت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس سے بڑھ کر عظمت کا کوئی مرتبہ نہیں ہو سکتا۔ اس کا نہایت صاف نتیجہ یہ ہے کہ یہ پیشین گوئی ایسی عظیم الشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہو سکتا۔ علامہ مولف فیصلہ آسمانی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس بیان سے کوئی فہمیدہ اردو دان بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ علامہ ممدوح یہ کہتے ہیں کہ دوسرا نشان اس کے مثل بھی نہیں ہو سکتا۔ اس کے مثل نہ ہونا اور اس سے بڑھ کر نہ ہونا دونوں دعوؤں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ علامہ ممدوح دوسرے دعوے کو فرما رہے ہیں۔ پہلے دعوے کا مطلق ذکر نہیں کیا۔ یعنی یہ اس کا ذکر کسی طرح نہیں کیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے کسی دوسرے نشان کو اس نشان کے مثل نہیں کہا اور عظیم الشان نہیں بتایا۔ غرضیکہ علامہ ممدوح کے کسی جملہ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مرزا قادیانی نے اپنے کسی نشان عظیم الشان نہیں کہا۔ صرف اسی کو کہا ہے۔
اب میں ناظرین سے التجا کرتا ہوں کہ فیصلہ کی عبارت کو مکرر ملاحظہ کر کے فرمائیں کہ علامہ مؤلف فیصلہ نے کیا غلطی کی اور کس بات کا دھوکہ دیا؟ آفتاب کی طرح روشن ہے کہ حضرت
٧٧
مولف فیصلہ نے نہ یہاں کوئی غلطی کی ہے نہ کوئی دھوکہ دیا ہے۔ اس لئے اس کہنے پر ہم مجبور ہیں کہ مولف القاء نے یا تو اپنے علم و فضل کو مرزا قادیانی پر نثار کر کے پھینک دیا۔ یا یہاں تک کہ اردو عبارت بھی نہیں سمجھے۔ یا حضرت ابواحمد صاحب کی کرامت ہے کہ جب ان کے حقانی رسالہ کا جواب لکھنے بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عقل اور علم کو سلب کر دیا۔ اسی وجہ سے ایسی غلط باتیں انہوں نے لکھی ہیں اور اگر یہ نہیں ہے تو انہوں نے قصداً سمجھ کر جھوٹا الزام مولف پر لگایا اور اپنے نفسانی خیال سے عوام کو حضرت مولف کی طرف سے بدگمان کرنا چاہا۔ فیصلہ کی عبارت سے اس کا کافی ثبوت ہو گیا۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ مولف القاء کی حالت کو صرف اسی مقام سے متعدد طریقوں سے ظاہر کروں تا کہ انہیں غیرت آئے۔ دوسرا طریقہ ملاحظہ ہو:
شہادۃ القرآن کی جو عبارت نقل کی گئی ہے اس کے ابتداء میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ کے اختیار میں ہیں۔“ دیکھا جائے کہ یہ قول کیسا صریح غلط بلکہ دروغ محض ہے۔ کیونکہ سینکڑوں پیش گوئیاں نجومی کیا کرتے ہیں۔ اخباروں میں مشتہر ہوتی رہتی ہیں اور ان میں سے اکثر صحیح بھی ہوتی ہیں۔ ساری دنیا اس کا تجربہ کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نبی نے اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی پیشین گوئیوں کو پیش نہیں کیا۔
مرزا قادیانی غلط دعوے کر کے اپنی پیشین گوئیوں کی عظمت بیان کر کے عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ غرضیکہ غلط دعوے اور دھوکہ یہ ہے کہ جو مرزا قادیانی دے رہے ہیں۔ اب صریح غلطی اور نہایت روشن دھوکا مولف کو یا تو سوجھتا نہیں ہے۔ عقل سلب ہو گئی ہے۔ یا قصداً مرزا قادیانی کی اس صریح غلطی پر پردہ ڈال کر ایک راست باز علامہ پر محض غلط دعوے اور افتراء کرتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے۔
اب تیسرے طریقے سے مولف القاء کی حالت کا ثبوت دیکھا جائے وہ یہ ہے۔ لکھتے ہیں: ”آپ نے (مرزا قادیانی) اپنے اکثر پیش گوئیوں کو عظیم الشان اور اپنے دعوے کو سب دلائل کو یکساں کہا ہے۔ کہیں نہیں لکھا کہ صرف یہی پیش گوئی بڑی عظیم الشان ہے۔“ اس قول میں تین غلطیاں ہیں۔ اول یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنی پیشین گوئیوں کو عظیم الشان کہا ہے غلط ہے۔ انہوں نے سینکڑوں ایسی پیشین گوئیاں اپنی بتائی ہیں۔ اب مولف القاء بتائیں کہ ان میں سے کتنے کو عظیم الشان بتایا ہے۔ مگر وہ ثابت نہیں کر سکتے۔ خوب خیال رہے کہ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اس قدر پیشین گوئیاں کیں۔ ان میں سے فلاں فلاں پیشین گوئی کو عظیم الشان کہا ہے یا یہی
٧٨
دکھا دیں کہ بہت سی پیشین گوئیوں کو ذکر کر کے یہ کہا ہو کہ یہ نہ کریں تو کہنا بلاشبہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے اکثر پیشین گ دوم....... یہ کہنا غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے شہادۃ القرآن کی جو عبارت منقول ہوئی اس میں تین پیش میں وہ پیشین گوئی جو مسلمانوں کے متعلق ہے، نہایت ع گوئیاں جو ہندوؤں اور عیسائیوں سے متعلق ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کے دعوے کی ایک دلیل ہے۔ یہاں تین دلی الشان بتاتے ہیں۔ اب اردو کے جاننے والے یہ سمجھ سکتے یکساں نہیں کہتے۔ جب ان تین دلیلوں میں ایک کو بہت اور دلیلوں کو اسی پر قیاس نہ کیا جائے اور سب کو یکساں سمجھا الغرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اپ مؤلف القاء کو ایسی بات بھی نہیں سوجھتی اور غلط دعوے کر ک سوم....... ”یہ کہنا کہ کہیں نہیں لکھا کہ (مرزا قادیانی ۔ الشان ہے اور صرف یہی دلیل بہت بڑی دلیل ہے۔“
مؤلف القاء کچھ ایسے بدحواس ہو گئے ہیں میں نہیں آتی اور جو خود لکھتے ہیں۔ اسے بھی بخوبی نہیں س جناب مؤلف فیصلہ نے یہ کہاں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی عظیم الشان ہے؟ میں نے فیصلہ کی پوری عبارت اس ملاحظہ کر کے مؤلف القاء کی بدحواسی یا بددیانتی کو دیکھیں صرف یہی پیشین گوئی بڑی عظیم الشان ہے۔ بلکہ مرزا بہت ہی عظیم الشان ہے۔
ان دونوں عبارتوں میں بہت بڑا فرق ہے ہے کہ صرف یہ ایک پیشین گوئی عظیم الشان ہے۔ دوس نہیں ہے۔ اردو دان بھی خوب سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا م عظمت کے لحاظ سے اتنی بڑی ہے کہ اس سے زیادہ عظم حصہ نہیں ہے کہ یہی بڑی عظمت والی ہے۔ دوسری پیش
٧٩
دکھاویں کہ بہت سی پیشین گوئیوں کو ذکر کر کے یہ کہا ہو کہ یہ سب عظیم الشان ہیں جب تک یہ ثابت نہ کریں تو کہنا بلاشبہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے اکثر پیشین گوئیوں کو عظیم الشان کہا ہے۔
دوم ...... یہ کہنا غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے کے سب دلائل کو یکساں قرار دیا ہے۔ شہادۃ القرآن کی جو عبارت منقول ہوئی اس میں تین پیش گوئیاں بیان کر کے لکھتے ہیں کہ: ”ان میں وہ پیشین گوئی جو مسلمانوں کے متعلق ہے، نہایت ہی عظیم الشان ہے۔“ یعنی وہ دو پیشین گوئیاں جو ہندوؤں اور عیسائیوں سے متعلق ہیں۔ وہ ایسی نہیں ہیں۔ ہر ایک پیشین گوئی مرزا قادیانی کے دعوے کی ایک دلیل ہے۔ یہاں تین دلیلوں کا ذکر کر کے ایک کو نہایت ہی عظیم الشان بتاتے ہیں۔ اب اردو کے جاننے والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے سب دلائل کو یکساں نہیں کہتے۔ جب ان تین دلیلوں میں ایک کو بہت فوقیت دے رہے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اور دلیلوں کو اسی پر قیاس نہ کیا جائے اور سب کو یکساں سمجھا جائے؟
الغرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اپنی سب دلیلوں کو یکساں قرار نہیں دیتے۔ مؤلف القاء کو ایسی بات بھی نہیں سوجھتی اور غلط دعوے کرتے ہیں۔
سوم ...... ”یہ کہنا کہ کہیں نہیں لکھا کہ (مرزا قادیانی نے) کہ صرف یہی پیشین گوئی بڑی عظیم الشان ہے اور صرف یہی دلیل بہت بڑی دلیل ہے۔“
مؤلف القاء کچھ ایسے بدحواس ہو گئے ہیں کہ فیصلہ آسمانی کی اردو عبارت ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور جو خود لکھتے ہیں۔ اسے بھی بخوبی نہیں سمجھ سکتے۔ ذرا ہوش کر کے یہ تو فرمائیے کہ جناب مؤلف فیصلہ نے یہ کہاں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی بطور حصر کہتے ہیں کہ یہی پیشین گوئی بڑی عظیم الشان ہے؟ میں نے فیصلہ کی پوری عبارت اس کے متعلق نقل کر دی ہے۔ ناظرین اسے ملاحظہ کر کے مؤلف القاء کی بدحواسی یا بد دیانتی کو دیکھیں۔ غرضیکہ مولف فیصلہ نے ہرگز نہیں لکھا کہ صرف یہی پیشین گوئی بڑی عظیم الشان ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کا یہ قول نقل کیا ہے یہ پیشین گوئی بہت ہی عظیم الشان ہے۔
ان دونوں عبارتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ پہلی عبارت میں حصر ہے۔ یعنی یہ مطلب ہے کہ صرف یہ ایک پیشین گوئی عظیم الشان ہے۔ دوسری نہیں۔ دوسری عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ اردو دان بھی خوب سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ یہ پیشین گوئی عظمت کے لحاظ سے اتنی بڑی ہے کہ اس سے زیادہ عظمت والی نہیں ہو سکتی۔ مگر اس عبارت میں یہ حصر نہیں ہے کہ یہی بڑی عظمت والی ہے۔ دوسری نہیں۔ عبارت میں حصر بیان کر کے مولف فیصلہ
٧٩
کی طرف منسوب کرنا صریح افتراء ہے یا سخت جہالت ہے۔ خدا جانے القاء ربانی کس نافہم کے قلم سے نکلی ہے جسے اردو کے محاورہ سے بھی خبر نہیں۔ غالباً حکیم خلیفہ المسیح کی یہ خاص جدت ہے وہ پنجابی ہیں اور پنجابی کو اردو محاورہ کی کیا خبر۔ اور جو یہ نہیں تو مولف القاء ربانی بتائیں کہ یہ ابواحمد کا غلط دعویٰ اور دھوکہ دہی ہے۔ یا آپ کی نافہمی اور ہٹ دھرمی ہے۔ آپ کا علم وفضل کیا ہوا۔ صراط مستقیم سے دور جاپڑنے کا یہ لازمہ ہے اور : ”قد طبع علیٰ قلوبھم فھم لا یفقھون“ کا یہ نتیجہ ہے۔ اپنے حال زار پر رحم فرما کر توبہ استغفار سے کام لیجئے۔ خدا آپ کی عظمت اور وقار کو قائم کر سکتا ہے:
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
ناظرین! یہ بھی معلوم کریں کہ مؤلف القاء کو اس غلط الزام دینے کی اندرونی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کو یہ خیال ہوا کہ مؤلف فیصلہ کی اس تقریر سے عوام یہ سمجھیں گے کہ مرزا قادیانی کا نہایت عظیم الشان معجزہ غلط ہو گیا اور کوئی دوسرا معجزہ اس کے مثل نہیں ہے۔ تو مرزا قادیانی کا دعویٰ گویا بلا دلیل رہ گیا۔ اس لئے عوام کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اور بھی معجزے اس کے مثل ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بلا دلیل نہیں ہے۔ مگر حق پسند دور بیں حضرات اس پر نظر کریں کہ مثلاً چاول کے پختہ ہونے کی شناخت دیگ کے ایک چاول سے کی جاتی ہے۔ جب چاول نکال کر دیکھا اور اس میں خامی پائی گئی تو معلوم ہوا کہ دیگ کے کل چاول کچے ہیں۔ اسی طرح جب مرزا قادیانی کی نہایت عظیم الشان دلیل غلط ہو گئی تو تمام دلائل بیکار اور مخدوش ہو گئے۔ کیونکہ اس دلیل کے غلط ہو جانے سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نصوص قرآنی سے غلط ہو گیا۔ اور نہایت ظاہر ہے کہ جس کے دعوے کو نصوص قرآنی غلط بتائیں اور وہ شخص صریح قرآن مجید سے جھوٹا ثابت ہو۔ اسے کوئی دلیل سچا نہیں کر سکتی۔ اس کی تفصیل حصہ سوم فیصلہ آسمانی سے معلوم ہو سکتی ہے اور اگر اس کے دیکھنے کے بعد بھی کسی کو تامل رہے گا تو بشرط اطلاع میں تشریح کرنے کو حاضر ہوں۔
اب میں جواب کے پہلے حصے کو ختم کرتا ہوں اور بھائی صاحب (عبدالماجد قادیانی) کے لئے دعا گو ہوں کہ اے میرے کریم میرے بھائی کو صراط مستقیم دکھلا اور صریح کذب کی پیروی سے بچا۔
٨٠
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
فیصلہ
معروف بہ تکذیب
حضرت مولانا محمد
وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
فیصلہ قرآنی
معروف بہ تکذیب قادیانی
حضرت مولانا محمد الدینؒ کاہنہ کاچھہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خلاصہ تکذیب قادیانی
مرزا قادیانی کی علمی لیاقت آپ کی ہی ایک تحریر دوسری تحریر کی
تکذیب کر رہی ہے
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے رسالہ دافع البلاء پر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی نسبت لکھتے ہیں: ”ہم مسیح ابن مریم علیہ السلام کو بے شک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانے کے لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واللہ اعلم!“ (دافع البلاء ورق دوم، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩) پھر اپنے قول کی آپ ہی تردید کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے: ”یاد رہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانے کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر راست باز اپنی راست بازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے’ وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين“
(ایضاً حاشیہ)
پھر اپنے قول اور خدا کے قول کی خود ہی تکذیب کرتے ہیں وہ یہ ہے ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں راست بازوں بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ علیہ السلام نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا نام یہ نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام سے مانع تھے۔ آخر میں لکھتے ہیں: ”اور مسلمانوں میں یہ مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں مسِ شیطان سے پاک ہیں۔ اس کے معنی نادان لوگ نہیں سمجھتے۔“
(دافع البلاء ورق دوم، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)
رسالہ ازالۃ الاوہام میں لکھتے ہیں کہ: ”میں مشابہت تامہ اور مماثلت شدیدہ کی وجہ سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا مثیل بھی ہوں۔“ (یعنی مانند) (ازالۃ الاوہام ص ١٩١، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے اعتقادات مذکورہ بالا میں دس غلطیاں کی ہیں۔
٢
- غلطی اوّل ...... عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو راست با
حق میں رسول بنی اسرائیل (آل عمران ٤٩) فرم
- غلطی دوم ...... پھر راست بازی کی تردید خود ہی فرمائی
- غلطی سوم ...... وجيها في الدنيا والآخرة وم
تعالیٰ تصدیق راست بازی مسیح میں پیش کی۔ مرزا قاد باز ظنی طور پر مانتے ہیں پھر اپنے قول کی تردید کے لی
- غلطی چہارم ...... مسیح علیہ السلام پر شراب کا بہتان ل
- غلطی پنجم ...... مسیح کو فاحشہ عورت کا مال کھانے کی تہ
- غلطی ششم ...... مسیح علیہ السلام کو زانی بتاتے ہیں۔
- غلطی ہفتم ...... معاذ اللہ مسیح کو ولد الزنا بتاتے ہیں ب
- غلطی ہشتم ...... مریم علیہا السلام کو زانیہ بتاتے ہیں
مفصل ذیل سے ناظرین دیکھ سکتے ہیں۔ اگر چہ شکوک کے لئے لکھی جاتی ہے وہ یہ ہے۔
اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عی پاک ہے۔ اس کے معنی شیطان لوگ نہیں سمجھتے۔
اے ارباب بصیرت جب مریم علیہا الس عیسیٰ علیہ السلام ولد الزنا ٹھہرے (نعوذ باللہ منہا) السلام تحریر کئے ہیں وہ سب کے سب قرآن م ہیں۔ بلکہ قرآن شریف میں پروردگار نے مریم برگزیدگی یعنی پاک دامنی۔ دوم برگزیدگی تمام عال حاصل نہیں ۔ ”ان الله اصطفك وطهرك (آل عمران:٤٢)“
ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ یہودی بھی تھے۔ چنانچہ آیت ہٰذا سے ثابت ہے ”قالوا یام
غلطی اول ...... عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو راست باز آدمی بنایا نہ پیغمبر حالانکہ خدا تعالیٰ ان کے حق میں رسول بنی اسرائیل (آل عمران:٤٩) فرماتا ہے۔ غلطی دوم ...... پھر راست بازی کی تردید خود ہی فرمائی۔ غلطی سوم ...... وجیهاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین (آل عمران:٤٥) شہادت باری تعالیٰ تصدیق راست بازی مسیح میں پیش کی۔ مرزا قادیانی کا عجیب علم ہے۔ بخیال خود مسیح کو راست باز ظنی طور پر مانتے ہیں پھر اپنے قول کی تردید کے لئے مقرب قرآن سے ثابت کرتے ہیں۔ غلطی چہارم ...... مسیح علیہ السلام پر شراب کا بہتان لگاتے ہیں۔ غلطی پنجم ...... مسیح کو فاحشہ عورت کا مال کھانے کی تہمت لگاتے ہیں۔ غلطی ششم ...... مسیح علیہ السلام کو زانی بتاتے ہیں۔ غلطی ہفتم ...... معاذ اللہ مسیح کو ولد الزنا بتاتے ہیں۔ غلطی ہشتم ...... مریم علیہا السلام کو زانیہ بتاتے ہیں۔ یہ دو نمبر مذکورہ بالا مرزا قادیانی کی عبارت مفصل ذیل سے ناظرین دیکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ عبارت پہلے بھی لکھی گئی ہے مگر دوبارہ رفع شکوک کے لئے لکھی جاتی ہے وہ یہ ہے۔
اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہے۔ اس کے معنے شیطان لوگ نہیں سمجھتے۔
(دافع البلاء ص ...... خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)
اے ارباب بصیرت جب مریم علیہا السلام معاذ اللہ مس شیطان سے پاک نہ ہوئی تو عیسیٰ علیہ السلام ولد الزنا ٹھہرے (نعوذ باللہ منہا) مرزا قادیانی نے جس قدر بہتان نسبت مسیح علیہ السلام تحریر کئے ہیں وہ سب کے سب قرآن شریف کے برخلاف ،موافق اعتقاد یہود لکھے ہیں۔ بلکہ قرآن شریف میں پروردگار نے مریم علیہا السلام کی دو فضیلتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک برگزیدگی یعنی پاک دامنی۔ دوم برگزیدگی تمام عالمین کی عورتوں سے یہ دونو خطاب کسی عورت کو حاصل نہیں۔ "ان الله اصطفك وطهرك واصطفك على نساء العلمين (آل عمران:٤٢)“
ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ یہودی بھی مریم علیہا السلام کو مس شیطان سے پاک نہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ آیت ہٰذا سے ثابت ہے ”قالوا يامريم لقد جئت شيئا فريا O (مريم:٢٧)“
٣
مگر یہ بریت مریم علیہا السلام کی بہت مقامات پر قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ مثلاً "وامه صديقه (المائده: ٧٥) التي احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا وجعلنها وابنها آية للعلمين (الانبياء: ٩١)‘‘ آیۃ ہذا سے تین امر ثابت ہوتے ہیں۔ مریم زانیہ نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام بن باپ ہے۔ مریم علیہا السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی قدرت کا نشان ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت گیارہ اوصاف سورت آل عمران میں خدا تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔ منجملہ ان میں مقرب اور رسول بھی ہے۔ ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کیا بخیال آپ کے جیسا کہ آپ عیسیٰ علیہ السلام کو بہتان لگاتے ہیں۔ زانی، شرابی حتیٰ کہ ناجائز فطرتی۔ ایسے شخص کو خدا عالم الغیب مقرب اور رسول بنا سکتا ہے؟ معاذ اللہ یہ بہتان تو پلید یہود لگایا کرتے تھے۔ جن کی بریت کے لئے قصہ مسیح علیہ السلام کا قرآن شریف میں بیان ہوا۔
غلطی وہم ...... افسوس ہے پھر افسوس مرزا قادیانی باوجود بہتان مذکورہ بالا کے پھر لکھتے ہیں کہ میں مشابہت تام اور مماثلت شدید کی وجہ سے مسیح علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام کا مثیل بھی ہوں (یعنی مانند ) ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ ایک طرف تو مسیح ابن مریم علیہ السلام کو شرابی، زانی حرام کا مال کہنے والا حتیٰ کہ ناجائز فطرتی اپنی قلم سے لکھتے ہو اور دوسری طرف آپ لکھتے ہو کہ سخت مشابہت کی وجہ سے مسیح علیہ السلام کی وجہ سے مسیح علیہ السلام ابن مریم کا مثیل بھی ہوں۔ فرماویں آپ کی مشابہت بہتان مذکورہ بالا میں ہے یا کسی اور بات میں کیونکہ امی، پیدائشی ، قولی، فعلی ، قومی، ملکی آپ کی مشابہت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہرگز ہرگز نہیں۔ اس فیصلہ کے لئے ہم قرآن شریف کو منصف اختیار کرتے ہیں۔
مشابہت امی ...... عیسیٰ علیہ السلام کے قبل از تولد خدا تعالیٰ کی طرف سے تین اسم مقرر ہیں۔ مسیح علیہ السلام خطاب ہے۔ معنی اس کے جس کے ہاتھ لگانے سے سخت بیمار اچھے ہوں یا مردہ زندہ ہوں اور یہی وصف مسیح کے قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام اسم علم عرفی ہے۔ ابن مریم کنیت ہے۔ آپ کا علم عرفی غلام احمد مگر والدین کا دیا ہوا لقب مرزا۔ خطاب خدا کی طرف سے تو کیا بلکہ بادشاہ وقت کی طرف سے بھی نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ امی کوئی مشابہت نہیں۔ بلکہ سفید جھوٹ ہے۔
مشابہت پیدائشی ...... عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم بے شک بن باپ ہے۔ مرزا قادیانی کا باپ بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ جن کو سب عورتیں قادیان کی بھی جانتی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی
٤
کی عیسیٰ علیہ السلام سے پیدائشی بھی کوئی مشابہت نہیں بلکہ سرتاسر
مشابہت قولی ...... عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا خدا تعالیٰ قول عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کو کہا کہ تحقیق میں رسول ہوں۔ بطرف آگے میرے ہے تورات سے ۔ سورۃ صف آپ کا قول تو میں کہیں نہیں آیا۔ پس ثابت ہوا کہ قولی بھی کوئی مشابہت نہیں
مشابہت فعلی ...... خدا تعالیٰ قرآن شریف میں عیسیٰ علیہ السلام مہد میں باتیں کرتا تھا۔ بیماروں کو اچھا کرتا تھا۔ بلکہ مردوں کو زندہ کیا۔ نام قبل از تولد خدا تعالیٰ نے مسیح رکھا۔ مرزا نے نہ تو اچھا کیا۔ اگر کرتے تو مولوی عبدالکریم صاحب کو کرتے ۔ جو مردوں کو کس طرح زندہ کر سکتے ہیں؟ پس ثابت ہوا کہ فعلی بھی
مشابہت قومی ...... عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی ہیں اور آپ مشابہت بھی نہیں بلکہ نرا جھوٹ۔ مشابہت ملکی ، جیسے ابن مریم ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ملکی مشابہت بھی نہیں بلکہ جھوٹ صریح قادیانی اور دعوے مسیح موعود آپ کی تحریروں سے ہی غلط ہیں
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ سخت مشابہت مثیل ہوں پھر اس کی بھی تردید کر دیتے ہیں اور اپنا درجہ زیادہ لکھتے ہیں۔ بلکہ ان کو اپنے غلاموں سے بھی کم درجہ دیتے ہیں
(رسالہ دافع البلاء ص ١٣، ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣، ٢٣٤)
لکھا ہے خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح علیہ السلام کا نام غلام احمد رکھا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔“
(رسالہ دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اس سے بہتر
٥
کی عیسیٰ علیہ السلام سے پیدائشی بھی کوئی مشابہت نہیں بلکہ سرخ جھوٹ۔
مشابہت قولی...... عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا خدا تعالیٰ قول قرآن شریف میں بیان فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کو کہا کہ تحقیق میں رسول ہوں۔ طرف تمہاری ماننے والا واسطے اس چیز کے آگے میرے ہے تورات سے ۔ سورۃ صف آپ کا قول تو کیا بلکہ اسم بھی غلام احمد قرآن شریف میں کہیں نہیں آیا۔ پس ثابت ہوا کہ قولی بھی کوئی مشابہت نہیں بلکہ سفید جھوٹ۔
مشابہت فعلی ...... خدا تعالیٰ قرآن شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کا فعل بیان فرماتا ہے کہ تولد کے روز ہی باتیں کرتا تھا۔ بیماروں کو اچھا کرتا تھا۔ بلکہ مردوں کو زندہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نام قبل از تولد خدا تعالیٰ نے مسیح رکھا۔ مرزا نے نہ تولد کے روز باتیں ہی کیں اور نہ کوئی بیمار اچھا کیا۔ اگر کرتے تو مولوی عبدالکریم صاحب کو کرتے ۔ جناب جب بیماری کو اچھا نہیں کر سکتے تو مردوں کو کس طرح زندہ کر سکتے ہیں؟ پس ثابت ہوا کہ فعلی بھی کوئی مشابہت نہیں بلکہ جھوٹ۔
مشابہت قومی ...... عیسیٰ علیہ السلام اسرائیل ہیں اور آپ مغل ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ قومی مشابہت بھی نہیں بلکہ زرد جھوٹ۔ مشابہت ملکی، جیسے ابن مریم علیہ السلام شامی ہیں اور آپ ہندی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ملکی مشابہت بھی نہیں بلکہ جھوٹ بیداغ۔ پس ثابت ہوا کہ تمام تحریرات مرزا قادیانی اور دعوے مسیح موعود آپ کی تحریروں سے ہی غلط ہیں۔
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ سخت مشابہت کی وجہ سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا مثیل ہوں پھر اس کی بھی تردید کر دیتے ہیں اور اپنا درجہ بخیال خود مسیح ابن مریم علیہا السلام سے زیادہ لکھتے ہیں۔ بلکہ ان کو اپنے غلاموں سے بھی کم درجہ سمجھتے ہیں۔
(رسالہ دافع البلاء ص ١٣،١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣،٢٣٤) اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح علیہ السلام کا نام غلام احمد کہا تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یعنی وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔“ (رسالہ دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
(رسالہ دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) میں لکھتے ہیں:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
٥
ارباب بصیرت پر لازم ہے کہ مرزا قادیانی کے اعتقاد پر غور کریں۔ ایک طرف لکھتے ہیں کہ سخت مشابہت کی وجہ سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا مانند ہوں۔ پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ میری شان مسیح ابن مریم سے زیادہ ہے۔ ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کا نام خدا کی طرف سے خطاب قبل از تولد ہے۔ عیسیٰ علم ہے قبل از تولد۔ آپ کا نام غلام احمد ہے اور مسیح موعود آپ ہی اپنا نام رکھنے والے ہو۔ وہ بھی کب جبکہ یہ دکان نئے مذہب کا شروع کیا۔ حضرت آپ اپنی تحریروں ہی سے اپنے دعوے کو جھوٹا کر رہے ہیں۔ ہمارا تو کوئی قصور نہیں۔
اعتقاد مرزا قادیانی اپنے ایک الہام میں اپنی نسبت ولدیت خدا کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ دیکھو (رسالہ دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) وہ دعویٰ یہ ہے ” انت منی بمنزلة اولادی انت منی وانا منک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا “ ہم مرزا قادیانی سے بڑے ادب سے پوچھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ خدا کے بیٹے مقرر کرتے تھے کہا ”وقالت الیہود عزیر ن ابن اللہ وقالت النصاریٰ المسیح ابن اللہ“ مگر اس اعتقاد کی تردید میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ” ذالك بافواہہم یضاہئون قول الذین کفروا من قبل قاتلہم اللہ انی یؤفکون (التوبہ: ٣٠)“ آیت ہذا سے صاف ثابت ہے یہود ونصاریٰ خدا کے بیٹے مقرر کرتے تھے۔ اس کی تردید میں پروردگار نے تین امر بیان فرمائے ہیں۔ اوّل! یہود ونصاریٰ اپنے منہ سے کہتے ہیں کوئی ثبوت نہیں۔ دوم! یہود ونصاریٰ اور بت پرستوں میں کوئی فرق نہیں یعنی کافروں میں۔ تیسرا! لعنت ہو اللہ کی یہود اور نصاریٰ پر کیسا برا اعتقاد کہتے ہیں۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ یہود ونصاریٰ کو اس اعتقاد کے بدلے مشابہت کافروں کی دیتا ہے اور آپ باوجود دعویٰ واقفیت قرآن پھر خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ منہا۔ ناظرین مرزا قادیانی کے دعووں پر غور کرو پھر غور کرو۔
مرزا قادیانی بخیال خود رسول بھی ہیں۔
(دافع البلا ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
” براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا تاکہ میں ان خبیثوں اور شریروں کا منہ بند کروں جو میرے رسول کو گالیاں دیتے ہیں۔“
(دافع البلا ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
” قادیان کو اس کے خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے لئے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلا ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
٦
دعویٰ رسالت مرزا قادیانی کا چار وجہ سے صحیح نہیں۔
- وجہ اوّل ..... رسول اصطلاح اسلام میں اس شخص کو کہتے ہیں
پر نازل ہو اور کتاب الہامی بھی رکھتا ہو۔ مرزا قادیانی تو رسالت صحیح نہیں۔
- وجہ دوم ..... مرزا قادیانی مثیل مسیح ابن مریم علیہ السلام
کیونکر ہو سکتے ہیں۔
- وجہ سوم ..... مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں میں غلام احمد ہوں
بخیال خود مرزا قادیانی کرتے ہیں تاہم ان کی رسالت کی کے غلام بنتے ہیں۔ پھر دعویٰ رسالت کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں یہ ہے۔ ”کیونکہ عیسائی مشنریوں ہمارے سید ومولا حقیقی شفیع ﷺ کو گالیاں دیں اور بد زبانی لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا خدا نے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس تا کہ یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح علیہ السلام کیسا خدا ہے کر سکتا۔“
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ مرزا قادیانی ہے۔ مثلاً اپنا درجہ بڑھانے سے مثیل ابن مریم علیہ السلام دعوے رسالت باطل ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی اور ابطال دعویٰ دو بڑے جھوٹ لکھے ہیں۔
- جھوٹ اوّل ...... فقرہ عبارت مذکورہ مرزا قادیانی۔
رکھا گیا۔ اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔ معاذ اللہ بخیال خود مرزا قادیانی یہ لکھتے ہیں نام نہیں آیا لہٰذا مرزا قادیانی کا لکھنا جھوٹ ثابت ہوا۔
- جھوٹ دوم ..... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میرا نام خد
کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے۔ عبارت مرزا قادیان
٧
دعویٰ رسالت مرزا قادیانی کا چار وجہ سے صحیح نہیں۔
وجہ اول...... رسول اصطلاح اسلام میں اس شخص کو کہتے ہیں جو نئی شریعت لاوے۔ یعنی وحی اس پر نازل ہو اور کتاب الہامی بھی رکھتا ہو۔ میرزا قادیانی تو محمدی شریعت کے پیرو ہیں۔ لہٰذا دعویٰ رسالت صحیح نہیں۔
وجہ دوم...... مرزا قادیانی مثیل مسیح ابن مریم علیہ السلام کے، اپنے آپ کو لکھتے ہیں۔ پھر رسول کیونکر ہو سکتے ہیں۔
وجہ سوم...... مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں میں غلام احمد ہوں۔ یعنی غلام محمد۔ اگر چہ دعویٰ غلامی بھی بخیال خود مرزا قادیانی کرتے ہیں تاہم ان کی رسالت کی نفی کرتا ہے کیونکہ ایک طرف تو محمد ﷺ کے غلام بنتے ہیں۔ پھر دعویٰ رسالت کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ دعویٰ غلامی احمد ﷺ کی عبارت جو مرزا قادیانی لکھتے ہیں یہ ہے۔ ”کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنایا اور ہمارے سید ومولا حقیقی شفیع ﷺ کو گالیاں دیں اور بدزبانی کی۔ کتابوں سے زمین کو نجس کیا۔ اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا تا کہ یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح علیہ السلام کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔“
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠ ملخص)
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ مرزا قادیانی اپنی عبارت میں دو دعوؤں کی خود ہی نفی کی ہے۔ مثلاً اپنا درجہ بڑھانے سے مثیل ابن مریم علیہ السلام کے نہوئے اور غلام احمد ﷺ بننے سے دعوے رسالت باطل ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی عبارت مذکور میں علاوہ جمع کرنے نقیض اور ابطال دعویٰ دو بڑے جھوٹ لکھے ہیں۔
جھوٹ اوّل...... فقرہ عبارت مذکورہ مرزا قادیانی۔ اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔
معاذ اللہ بخیال خود مرزا قادیانی یہ لکھتے ہیں۔ قرآن شریف میں کہیں مرزا غلام احمد کا نام نہیں آیا لہٰذا مرزا قادیانی کا لکھنا جھوٹ ثابت ہوا۔
جھوٹ دوم...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میرا نام خدا نے غلام احمد اس لئے رکھا تا کہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے۔ عبارت مرزا قادیانی کی یہ ہے ”اور اس نے اس دوسرے مسیح کا
٧
نام غلام احمد رکھا تا کہ یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے کہ احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔“ ہم مرزا قادیانی سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ آپ نے کیوں لکھا۔ آپ کا نام غلام احمد آپ کے والدین رکھنے والے ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ۔ جناب اپنے دعوؤں کو خود ہی باطل کر رہے ہیں اور ایسی تعلیمیں لکھنے سے ناظرین کو اپنی علمی لیاقت سے مستفیض کر رہے ہیں۔
وجہ چہارم ...... اگر مرزا قادیانی کے لکھنے پر ہی مرزا قادیانی کو رسول جانیں تو مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوگا کیونکہ آپ تو خود محمدی شریعت کی پابندی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور مسلمان شریعت محمدی کو پہلے بھی مانتے ہیں۔ اسی واسطے اپنا نام مسلمان بھی رکھاتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوؤں سے ہوس نفس کو پورا کر رہے ہیں۔ دعاوی تو ٹرینوں کے ٹرین ہی ہیں۔ لیکن بفضل خدا ثبوت ایک کا بھی نہیں۔ ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی بوالہوس اپنا نام وائیسرا رکھ لیوے تو کیا اختیار اصل وائیسرا کے حاصل کر سکتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ علیٰ ہذا جناب بھی تمام القاب اور خطابات بخیال خود اپنے آپ کو دے رہے ہیں مگر اپنے آپ رسول بننے سے اصل کب بن سکتا ہے۔
ایضاً مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ مجھے الہام ہوتے ہیں اس دعویٰ میں مرزا قادیانی نے دو غلطیاں کی ہیں۔
غلطی اوّل ...... اصطلاح اسلام میں الہام وہ حکم ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے پیغمبروں پر بذریعہ وحی جبرائیل پہنچایا جاتا ہے۔ جب مرزا قادیانی پیغمبر ہی نہیں تو وحی کیونکر نازل ہو سکتی ہے؟ پس جب وحی نازل نہیں ہوتا تو مرزا قادیانی الہام کے دعویدار کیونکر ہو سکتے ہیں۔
غلطی دوم ...... اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی کے تمام الہامات جھوٹے ہیں۔ اس امر کی تصدیق کے لئے شہادت ان کے چچا زاد بھائی مرزا امام الدین سلطان العارفین المشہور لال بیگ چوہڑوں کے پیر جو کہ اپنی کتاب گل شگفت ص ١٨ بابت الہام مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں ہم پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ”میں مرزا امام الدین حقیقی چچا زاد بھائی ملہم کاذب قادیانی کا ہوں اور اس کے چال چلن سے ابتداء سے آج تک بخوبی واقف ہوں۔ غیر کو کیا خبر ہے۔ اس خدا کو
١؎ مرزا قادیانی عام الہام کے مدعی نہیں۔ بلکہ خاص الہام جو پیغمبروں کو ہوا کرتے تھے، اس کے مدعی ہیں۔ یہ دعویٰ براہین احمدیہ ہیں۔
٨
حاضر و ناظر جان کر سچ کہتا ہوں جو عالمین ہے کہ جس قدر اور لچر پوچ ہیں۔ اگر یہ سچا اور حق پرست ہوتا تو میں اس ہیں تو چار مکار متفق ہو کر پورا کرتے ہیں۔“ اتنی ہم طوالت صرف تین الہام جو مرزا امام الدین سلطان العارفین ناظرین کو دکھاتے ہیں وہ یہ ہے۔ سنو الہام کہ میرے ہوگا اور وہ ایسا ہوگا اور ایسا ہوگا۔ تمام جہاں کو فیضان اس لڑکا لڑکی ہو گئی۔ پھر مجدد صاحب نے پہلوئے مکر بدلا ۔ دوسرے حمل سے لڑکا تو پیدا ہوا اور پھر دو چند۔ اس لڑ بھی لڑکا تین سال زندہ رہ کر مر گیا اور ملہم صاحب کو شرم صاحب فلانے مہینے اور فلانے روز مرے گا۔ اگر اس روز پر سوار کر کر پھانسی دلایا جاوے وہ بھی بفضل خدا اس لعنت الله على الكاذبين “ کی بارش ہونے لگی پھر الہام ہوا مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی میر نکاح کریں گے تو وہ خاوند اس کا تین سال میں مرے آدمی عقلمند تھا۔ اس نے اس کو جھوٹا سمجھ کر موقعہ پر پاس لڑکی اب صاحب اولاد ہے اور اپنے خاوند کے گھر ہے) پھر ایک لڑکے ہندو ساکن قادیان کو کہا گیا کہ میں اگر تو مسلمان ہو گیا تو بہتر ورنہ مر جائے گا۔ وہ ایسے جھوٹے اور لغو پوچ ہیں۔ اگر ان کو تفصیل وار لکھ ہم مرزا قادیانی سے بڑے ادب سے امام الدین صاحب جو کہ وہ ہانکی اور لال بیگ ناظرین اصل میں پنجاب خراب ہے۔ اگر کوئی امر کام کو شروع کر دیتے ہیں۔ گمان کو فائدہ ہونا ہو مگ نہ جائیے پہلے مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت کیا ہ صاحب نے لال بیگ بن کر چوہڑوں کے پ
حاضر و ناظر جان کر سچ کہتا ہوں جو عالمین ہے کہ جس قدر اس کے دعاوی الہامات ہیں۔ سب غلط اور لچر پوچ ہیں۔ اگر یہ سچا اور حق پرست ہوتا تو میں اس کا پیرو ہوتا۔ جس مکر کو مکار پورا کرنا چاہتے ہیں تو چار مکار متفق ہو کر پورا کرتے ہیں ۔“ باقی ہم طوالت کے لئے سب عبارت نہیں لکھ سکتے۔
صرف تین الہام جو مرزا امام الدین سلطان العارفین رسالہ گل شگفت میں لکھتے ہیں ۔ ”ہم ناظرین کو دکھاتے ہیں وہ یہ ہے۔ سنو الہام کہ میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا اور نام اس کا امسوائیل ہوگا اور وہ ایسا ہوگا اور ایسا ہوگا۔ تمام جہاں کو فیضان اس کا پہنچے گا۔ بفضل خدا بجائے امسوائیل کے امسوائیلی ہوگئی۔ پھر مجدد صاحب نے پہلوئے مکر بدل کر جواب دیا کہ اس حمل سے نہیں کہا تھا ۔ دوسرے حمل سے لڑکا تو پیدا ہوا اور پھر دو چند۔ اس لڑکے کی تعریف لکھی۔ یہ ایسا ہوگا ویسا ہوگا۔ وہ بھی لڑکا تین سال زندہ رہ کر مر گیا اور ملہم صاحب کو شرمندہ کر دیا۔ پھر الہام ہوا کہ عبداللہ آتھم صاحب فلانے مہینے اور فلانے روز مرے گا۔ اگر اس روز نہ مرے گا تو میرا منہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے پھانسی دلایا جاوے وہ بھی بفضل خدا اس تاریخ پر نہ فوت ہوا اور چاروں طرف سے” لعنت اللہ علی الکاذبین “ کی بارش ہونے لگی تو آٹھ روز تک شرمندہ ہو کر گھر سے نہ نکلا۔ پھر الہام ہوا مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی میری زوجہ بنے گی۔ اگر وارثان لڑکی دوسری جگہ نکاح کریں گے تو وہ خاوند اس کا تین سال میں مرے گا اور وہ پھر میری زوجہ بنے گی۔ وارث لڑکی آدمی عقلمند تھا۔ اس نے اس کو جھوٹا سمجھ کر موضع پٹی مغلوں میں اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا۔ بفضل خدا وہ لڑکی اب صاحب اولاد ہے اور اپنے خاوند کے گھر آباد ہے (جس کو قریباً ١٤ سال کا عرصہ گزر چکا ہے) پھر ایک لڑکے ہندو ساکن قادیان کو کہا گیا کہ تیری نسبت الہام نازل ہوا کہ دہ برس کے عرصہ میں اگر تو مسلمان ہو گیا تو بہتر ورنہ مرجائے گا۔ یہ بھی الہام بفضل خدا جھوٹا نکلا اور صد ہا الہام ایسے جھوٹے اور لغو پوچ ہیں۔ اگر ان کو تفصیل وار لکھا جاوے تو گویا ایک دفتر چاہئے۔“
ہم مرزا قادیانی سے بڑے ادب سے پوچھتے ہیں کہ کیا جناب سچے مدعی ہیں یا مرزا امام الدین صاحب جو کہ وہ پالنکی اور لال بیگی اور سلطان العارفین اپنے آپ کو لکھتے ہیں۔
ناظرین اصل میں پنجاب خراب ہے۔ اگر کوئی شخص ایک کام کرنے لگتا ہے تو بیسیوں اور بھی اسی کام کو شروع کر دیتے ہیں۔ گو ان کو فائدہ ہو نہ ہو مگر دوسرے کے کام میں حرج ہو ہی جاتا ہے۔ دور نہ جائیے پہلے مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت کیا۔ پھر آپ کے حقیقی چچازاد بھائی مرزا امام الدین صاحب نے لال بیگ بن کر چوہڑوں کے پیر بن بیٹھے۔ پھر مرزا غلام احمد نے دوسرا دعویٰ
٩
مہدویت کر لیا۔ حالانکہ پہلے بھی دعویٰ مہدویت ایک شخص سوڈانی نے کیا ہوا تھا۔ اب کوئٹہ اور کابل میں مدعی مہدویت سنے جاتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کیا وہ سچے مدعی ہیں یا آپ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے بڑی محنت کی چنانچہ (تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦) میں جناب نے لکھا ہے کہ: ”ہم نے چالیس کتابیں اور ساٹھ ہزار اشتہار اپنے دعوؤں کے ثبوت میں دیئے ہیں۔“ ہم بھی صد آفرین کہتے ہیں کہ جناب نے اپنی قلم کے زور سے خالص پیتل کو سونے کے نرخ پر فروخت کیا۔ مگر واضح رہے کہ چالیس کتابیں اور ساٹھ ہزار اشتہار جو اپنے دعوؤں کے ثبوت میں جناب نے دیئے ہیں یہ سب کے سب محض فضول ہیں۔ ہم اس میں آپ کی کوئی لیاقت نہیں سمجھتے بلکہ یہ لیاقت ڈاکٹر سرسید احمد خان صاحب مرحوم کی ہے۔ کیونکہ جناب کے بعینہ وہی ثبوت ہیں جن کو سرسید مرحوم نے تردید اعتراضات مخالفین اسلام کے لئے اپنی تفسیر میں آپ کے دعوے سے پیشتر ہی لکھ چکے پھر جناب کی کیا لیاقت ہے؟
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ سرسید احمد خان صاحب مرحوم نے چند ایک سیپاروں کی تفسیر بنائی ہے۔ ہم خلاصہ مضمون اس تفسیر کا ناظرین کو دکھلاتے ہیں۔ وہ یہ ہے۔ انکار وجود فرشتگان و جنات، انکار بہشت و دوزخ، انکار ابلیس، انکار وجود آسمان، انکار تعلیم کعبۃ اللہ، انکار معجزات پیغمبران۔ پھر سید مرحوم نے ثبوت کے لئے نیز ١٤ وجوہات سے اپنا مدعا ثابت کیا۔
اوّل...... قرآن شریف کے حقیقی معنوں کو مجازی معنے ثابت کیا یا برعکس اس کے مجازی معنوں کو حقیقی بنایا۔ دوّم...... اختلاف مفسرین۔ سوّم...... حدیث۔ چہارم...... لغت۔ پنجم...... رواج ملک۔ ششم...... جغرافیہ۔ ہفتم...... تاریخ۔ ہشتم...... اقوال انجیل۔ نہم...... اقوال تورات۔ دہم...... اقوال سیاحین عرب۔ یازدہم...... اقوال سیاحین یورپ۔ دوازدہم...... اقوال فلاسفہ۔ سیزدہم...... نحو۔
اب ہم تفسیر سید مرحوم کی غرض بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ زمانہ حال میں بسبب نئی تحقیقات کے کئی ایک امور ایسے بھی دریافت ہوئے ہیں جو بظاہر قرآن شریف کے برخلاف ہیں۔ مثلاً سات آسمان قرآن شریف نے بیان فرمائے اور نئی تحقیقات کے مطابق آسمان کا کوئی وجود نہیں۔ مخالفین اسلام اس پر طعن کرنے لگے کہ قرآن شریف غلط کلام ہے۔ سید مرحوم مخالفین کی تردید کے لئے کوئی دلیل کافی پیش نہ کر سکے لہٰذا قرآن شریف کے معانی عقل کے موافق اور فلاسفہ حال کے مطابق بیان کر کے مخالفوں کی تردید کی۔ چونکہ یہ تردید علماء کے نزدیک ناجائز تھی
١٠
اسی واسطے سید مرحوم کو علماء نے کفر کے فتوے بھی دیئے۔ تاہم س کہ مخالفوں کی تردید انہوں نے فرمائی۔ الغرض اعتراضات مخال کو سید مرحوم نے حقیقی معنے چھوڑ کر مجازی معنے اختیار کر کے تاب منجملہ معجزات سے معجزے عیسیٰ ابن مریم کے بھی تھے۔ چونکہ س لہٰذا ان کو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی بھی نفی کرنا پڑی۔
ایضاً دو امر نسبت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے زن تولد عیسیٰ علیہ السلام، دوم موت۔ ان دونوں امروں میں سید م نہیں تاہم مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے نئی ہے۔ ہم اس عیسیٰ علیہ السلام پر زمانہ قدیم سے ہی اختلاف چلا آتا تھا کہ ب یعقوب کا بیٹا جانتے تھے اور بعض ناجائز فطرتی سمجھتے تھے۔ نبی ہی قرار دیا۔ اس لئے کہ بعض نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم علیہا تھے چونکہ سید مرحوم نے معجزوں کی نفی کا دعویٰ کیا تھا لہٰذا بغ ثابت کیا۔
امر دوم ....... موت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ۔ اس میں اعتقاد رکھتے تھے کہ پہلے عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام کو سنگسار بعض کہتے تھے کہ پہلے سولی دیا گیا پھر قتل کیا گیا۔ نصاریٰ جو تھے مگر پھر زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ جانا معجزہ ابن مریم علیہا مرحوم نے ابطال معجزے کے لئے عیسیٰ ابن مریم علیہا السلا موت سے مرنا ثابت کیا۔ گو یہ ثبوت بھی سید مرحوم کا پایہ دے سکے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر فلاں جگہ ہے۔ تاہم اس ثابت کیا۔
پس ناظرین کو ثابت ہو گیا ہوگا کہ سید مرحوم ہے اور جہاں تک سنا جاتا ہے اور ان کی تحریروں سے بھی نے تفسیر نیک نیتی اور مخالفوں کی تردید پر تیار کی۔ مگر سید السلام پر بہتان لگائے نہ اور کسی پیغمبر اور بزرگ پر۔ اس
١١
اسی واسطے سید مرحوم کو علماء نے کفر کے فتوے بھی دیئے۔ تاہم سید احمد مرحوم کی ہمت پر آفرین ہے کہ مخالفوں کی تردید انہوں نے فرمائی۔ الغرض اعتراضات مخالفین میں سے ایک معجزہ بھی تھا جس کو سید مرحوم نے حقیقی معنے چھوڑ کر مجازی معنے اختیار کر کے ثابت کیا کہ معجزہ نبوت کی کوئی دلیل نہیں منجملہ معجزات سے معجزے عیسیٰ ابن مریم کے بھی تھے۔ چونکہ کل معجزوں کی سید مرحوم نے نفی کی تھی لہٰذا ان کو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی بھی نفی کرنا پڑی۔
ایضاً دو امر نسبت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے زمانہ قدیم سے ہی مختلف فیہ تھے۔ ایک تولد عیسیٰ علیہ السلام، دوم موت۔ ان دونوں امروں میں سید مرحوم نے بحث کی۔ گو وہ بحث کوئی نئی نہیں تاہم مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے نئی ہے۔ ہم اس بحث کو تفصیلاً سمجھاتے ہیں۔ مثلاً تولد عیسیٰ علیہ السلام پر زمانہ قدیم سے ہی اختلاف چلا آتا تھا کہ بعض یہود عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف بن یعقوب کا بیٹا جانتے تھے اور بعض ناجائز فطرتی سمجھتے تھے۔ سید مرحوم نے اس بحث میں یوسف کا بیٹا ہی قرار دیا۔ اس لئے کہ بعض نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بن باپ پیدا ہونا معجزہ جانتے تھے چونکہ سید مرحوم نے معجزوں کی نفی کا دعویٰ کیا تھا لہٰذا بعض یہود کے اعتقاد کو لیکر یوسف کا بیٹا ثابت کیا۔
امر دوم ....... موت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ۔ ان میں بھی بہت اختلافات تھے۔ بعض یہود اعتقاد رکھتے تھے کہ پہلے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو سنگسار کرا کر پھر سولی دیا گیا پھر قتل کیا گیا اور بعض کہتے تھے کہ پہلے سولی دیا گیا پھر قتل کیا گیا۔ نصاریٰ برخلاف ان کے سولی دیا جانا اقرار کرتے تھے مگر پھر زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ جانا معجزہ ابن مریم علیہ السلام کا سمجھتے تھے۔ اس مقام پر بھی سید مرحوم نے ابطال معجزے کے لئے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا بعد سولی دیئے جانے کے اپنی طبعی موت سے مرنا ثابت کیا۔ گو یہ ثبوت بھی سید مرحوم کا پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا کیونکہ کوئی ثبوت نہیں دے سکے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر فلاں جگہ ہے۔ تاہم اس اختلاف کو اختیار کر کے اپنے دعوے کو ثابت کیا۔
پس ناظرین کو ثابت ہو گیا ہو گا کہ سید مرحوم نے اپنے وہم میں تفسیر کا بنانا ثواب سمجھا ہے اور جہاں تک سنا جاتا ہے اور ان کی تحریروں سے بھی پایا جاتا ہے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے تفسیر نیک نیتی اور مخالفوں کی تردید پر تیار کی۔ مگر سید مرحوم نے نہ عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہما السلام پر بہتان لگائے نہ اور کسی پیغمبر اور بزرگ پر۔ افسوس مرزا قادیانی پر ہے اول تو دعویٰ مثیل
١١
المسیح کا قائم کیا۔ پھر مسیح اور اس کی والدہ پر یہودیوں کی طرح بہتان لگائے اور کشمیر میں قبر عیسیٰ علیہ السلام کی بنائی۔ حالانکہ یہ خیال سید مرحوم نے بھی نہ فرمایا بلکہ یہ اعتقاد کسی یہودی کا بھی نہیں۔ مرزا قادیانی ہم بڑے ادب سے آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ آپ نے قرآن مجید کی تکذیب کی ہے۔ دیکھو صرف سورۃ بقرہ میں ہی چار دفعہ پروردگار فرماتا ہے کہ کسی پیغمبر کی شان میں فرق نہ کیا جاوے ہم ایک آیت کا اخیر آپ کے لئے لکھتے ہیں: ”وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون (البقره : ١٣٦)“ اب رہا فیصلہ قرآنی چونکہ آپ کے دعاوی قرآن شریف کے برخلاف ہیں۔ لہٰذا آپ اس آیت کے حکم کے مصداق ہیں: ”ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون (سورہ مائده : ٤٤)“
سر سید احمد خان صاحب مرحوم کے اعتقاد پر سرسری بحث
ناظرین ! یہ واضح رہے کہ مذہب مرزا قادیانی بعینہ وہی ہے جس کو سید مرحوم نے اپنی تفسیر میں بخیال نیک نیتی لکھا تھا۔ چونکہ سید مرحوم کے لکھنے سے یہ فساد ہوا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیح موعود کیا۔ لہٰذا ہم کو تکذیب قادیانی میں یہ دکھلانا پڑا کہ سید مرحوم نے اپنے تفسیر میں عیسیٰ بن مریم کی نسبت اور علاوہ اس کے کیا لکھا ہے۔ اگرچہ تمام رسالہ میں اعتقاد سید مرحوم کی تردید کی گئی ہے تاہم مختصر طور پر قرآن شریف سے ان کی تردید ناظرین کو دکھلاتے ہیں۔
یادرہے کہ تین امروں میں سید مرحوم نے عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنی تفسیر میں بحث کی ہے۔ (١) عیسیٰ ابن مریم بن باپ نہیں۔ (٢) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ سولی پر چڑھائے گئے لیکن اپنی طبعی موت سے مرے۔ (٣) معجزات عیسیٰ علیہ السلام کے بلکہ تمام پیغمبروں کے صحیح نہیں۔
- ١ ...... عیسیٰ علیہ السلام بن باپ نہیں یہ اعتقاد سید مرحوم کا ہر وجہ سے صحیح نہیں۔
- وجہ اوّل ...... زمانہ نزول قرآن شریف میں نسبت عیسیٰ علیہ السلام یہود کے دو اعتقاد تھے۔ بعض
عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف کا بیٹا جانتے تھے اور بعض ناجائز فطرتی برخلاف جن کے نصاریٰ بعض عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور بعض خود خدا اور بعض تثلیث پر یقین رکھتے تھے اور قرآن شریف نے ان سب کی تردید فرمائی۔ الغرض اگر عیسیٰ علیہ السلام یوسف کا بیٹا ہوتا تو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ کو ابن مریم علیہ السلام نہ فرماتا حالانکہ ہر قوم اور ہر مذہب میں ولد، والد کے نام سے نامزد ہوتا ہے۔ ١٢
جس کو علم کنیت بھی کہتے ہیں۔ پس جب والد عیسیٰ علیہ السلام کا ثابت ہی نہیں تو بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے۔
- وجہ دوم ...... قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مریم علیہا السلام کو بشارت دی گئی تھی
کہ تم کو لڑکا پیدا ہوگا۔ میرے حکم سے خطاب اس کا مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ دیکھو یہی مضمون آیت ہذا سے نکلتا ہے: ”ان الله يبشرك بكلمة منه اسم المسيح عيسى ابن مريم“ اس آیت سے تین امر ثابت ہوئے۔
- امر اول ...... مریم علیہا السلام کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی کہ لڑکا پیدا ہوگا
- امر دوم ...... عیسیٰ علیہ السلام خدا کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں بن باپ
- امر سوم ...... عیسیٰ علیہ السلام کا خطاب مسیح اور علم عیسیٰ اور کنیت ابن مریم
یہ سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پس یوسف کا بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ
- وجہ سوم ...... آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہود کا یہ اعتراض تھا کہ
عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اس کے جواب میں ارشاد ہوا ”اگر یہ اعتراض کیا جاوے کہ آدم علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے تو ہم کہتے ہیں کہ عیسیٰ کی نسبت بحث والد کی طرف سے تھی پس ”ان مثل عيسى كمثل آدم“ مخالفین کے لئے کافی جواب ہے۔ سید مرحوم نے آدم کا معنی انسان طبعی پیدائش کا لیا ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ جب بنی آدم یا انسان کے لفظ سے پکارتا ہے تو مٹی سے پیدا ہونا بیان نہیں کیا ہے۔
- وجہ چہارم ...... سید مرحوم نے اپنے دعوے کے ثبوت میں جو نسب نامہ عیسیٰ
علیہ السلام کا یوسف ابن یعقوب کے ساتھ ملایا ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ نسب نامہ صحیح ہوتا تو زمانہ حضرت ﷺ میں مخالفین کو تسلیم کر لینا چاہئے تھا اور پھر یہ اختلاف جو کہ بعض یہود عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرتے تھے بھی کیوں نہ مانا جاوے۔ الغرض یہ اعتقاد قرآن شریف سے باطل ہے۔
- وجہ پنجم ...... سید مرحوم نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ مریم کے خاوند کا نام
١٣
جس کو علم کنیت بھی کہتے ہیں۔ پس جب واقعہ عیسیٰ علیہ السلام میں کہیں بھی یوسف کے نام پر عیسیٰ علیہ السلام نہیں پکارا گیا تو بیٹا کیونکر ہوسکتا ہے۔
وجہ دوم...... قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مریم علیہا السلام کو پروردگار نے بذریعہ فرشتہ خبر دی کہ تم کو لڑکا پیدا ہوگا۔ یعنی خطاب اس کا مسیح ہے۔ علم اس کا عیسیٰ علیہ السلام، کنیت اس کی ابن مریم ہوگی۔ دیکھو یہی مضمون آیت ہذا سے نکلتا ہے: ”اذ قالت الملئكة یامریم ان الله یبشرک بکلمة منه اسمه المسیح عیسیٰ ابن مریم (آل عمران:٤٥)“ پس آیت ہذا سے تین امر ثابت ہوئے۔
امر اول...... مریم علیہا السلام کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی۔
امر دوم...... عیسیٰ علیہ السلام خدا کے حکم پر پیدا ہوئے ہیں یعنی بن باپ۔
امر سوم...... عیسیٰ علیہ السلام کا خطاب مسیح اور علم عیسیٰ اور کنیت ابن مریم ہے۔ یہ تینوں اسماء قبل از تولد خدا کی طرف سے ہیں۔ پس یوسف کا بیٹا کیونکر ہوسکتا ہے؟
وجہ سوم...... آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں یہودیوں نے سوال کیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں خدا نے ان کے اعتراض کو رد کیا: ”ب“ اگر یہ اعتراض کیا جاوے کہ آدم علیہ السلام بغیر والد پیدا ہوا ہے تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ عیسیٰ کی نسبت بحث والد کی طرف سے تھی نہ والدہ کی طرف سے۔ اس اعتبار سے ”ان مثل عیسٰی کمثل ادم“ مخالفین کے لئے کافی جواب ہے۔ نیز سید مرحوم نے آدم علیہ السلام کا معنی انسان بطریق پیدائش کا لیا ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ جہاں پروردگار عالم انسان کو ندا کرتا ہے وہاں بنی آدم یا انسان کے لفظ سے پکارتا ہے دیکھو ثبوت اس کا غرض بحث مکر یہود میں مفصل بیان ہم نے کیا ہے۔
وجہ چہارم...... سید مرحوم نے اپنے دعوے کے ثبوت میں لکھا ہے کہ انجیل متی ولوقا نسب نامہ عیسیٰ علیہ السلام کا یوسف ابن یعقوب کے ساتھ ملایا ہے۔ مگر اس میں حضرت سید مرحوم نے بڑی غلطی کی اگر یہ نسب نامہ صحیح ہوتا تو زمانہ حضرت ﷺ میں جھگڑا کیوں پڑتا۔ غلطی دیگر اگر یہ نسب نامہ بالفرض مانا بھی جاوے تو وہ اختلاف جو کہ بعض یہود عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز نطفے سمجھتے ہیں۔ معاذ اللہ کیوں نہ مانا جاوے۔ الغرض یہ اعتقاد قرآن شریف کے رو سے صحیح نہیں۔
وجہ پنجم...... سید مرحوم نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ عیسیٰ کے بن باپ پیدا ہونے میں کیا حکمت
١٣
اور کیا غرض ہے؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ تمام نباتات و اشجار میں سے بذریعہ تخم یا شاخ لگانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ برخلاف ان کے افیون بغیر بیج نمو کیوں کرتا ہے اور خدا نے اس کو برخلاف نباتات کے کیوں پیدا کیا۔ الغرض ایسے بیہودہ اعتراض کئی ہو سکتے ہیں جن کا علم سوائے خالق حقیقی کے دوسرے کو نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ یہ اعتراض سرسید احمد کا قانون قدرت پر ہے نہ علماء مفسرین پر۔
- وجہ ششم ...... عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ تولد ہونا آیت مفصلہ ذیل سے بدیہی امر ہے: ”قالت
انی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا (مریم:٢٠)“ آیت ہذا سے تین امر ثابت ہوتے ہیں۔
- امر اوّل ...... زمانہ نزول قرآن شریف میں یہ اختلاف موجود تھا کہ بعض کہتے تھے کہ عیسیٰ علیہ
السلام یوسف کا بیٹا ہے اور بعض ناجائز فطرتی سمجھتے تھے۔ لہٰذا پروردگار نے قول مریم علیہ السلام بیان فرمایا: ”لم یمسسنی بشر “ سے صاف نہ ہونے نکاح سے مراد ہے اور ”لم اک بغیاً “ سے بدکاری سے پاک ہونا مراد ہے۔
- امر دوم ...... پروردگار نے قول مریم علیہ السلام مذکورہ کی تصدیق فرمائی: ”قال کذالک “ پھر اس
کے بعد بن باپ ہونا عیسیٰ کی بابت کہا میرے اوپر پیدا کرنا آسان ہے ”قال ربک هو علی ھین “
- امر سوم ...... مریم کو اپنی پہلی آیت کے جواب میں پروردگار نے پیدا ہونے عیسیٰ علیہ السلام کی
علت بیان فرمائی: ”ولنجعله آیة للناس ورحمة منا وكان امراً مقضيا “ ۔ ناظرین کو واضح رہے کہ بن باپ ہونے عیسیٰ علیہ السلام کی بابت تین وجہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں۔
- وجہ اوّل ...... عیسیٰ علیہ السلام نشان قدرت پروردگار کا ہے۔
- وجہ دوم ...... احسان مریم علیہ السلام پر جیسا کہ ”رحمة منا“ سے ظاہر ہے۔
- وجہ سوم ...... خدا کے علم میں یوں ہی ہونا تھا: ”وکان امرا مقضیا“ پس ناظرین کو آیات
مذکورہ بالا سے ثابت ہو گیا ہو گا کہ مریم علیہ السلام شیطان سے پاک ہے اور عیسیٰ علیہ السلام بن باپ اور مریم علیہا السلام پروردگار کی طرف سے احسان ہے اور تقدیر میں یوں ہی ہونا تھا۔ حقیقت میں تمام اعتراضات یہود و نصاریٰ بلکہ سرسید احمد خان کی آیات مذکورہ بالا سے ہی تردید ہوتے ہیں۔ افسوس ! اگر ہم ان آیات سورت مریم کو پورا بیان کرتے۔ قبل اور مابعد کے ساتھ تو بہت بڑا ناظرین کو فائدہ پہنچتا مگر طوالت کے خوف سے یہاں نہیں بیان کرتے۔ کتاب میں حسب موقعہ ہر ایک واقعہ کو بیان کیا جائے گا۔
١٤
سرسید احمد خان نے عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف آیت: ”لم یمسسنی بشر ولم اک بغیا“ کے ہو گیا۔ اس آیت پر آپ یہ لکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ غور لائق لفظ ”لم یمسسنی“ یہ دونوں کلمات نہایت صحیح ہیں اور جس زمانہ میں بشارت علیہ السلام کو کسی مرد نے نہیں چھوا تھا۔ بلکہ غالباً خطبہ بھی نہیں لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد بھی امر واقعہ نہیں ہوا۔ ناظرین کے مذکورہ بالا عبارت پر بحث کرتے ہیں۔ سید مرحوم کا یہ آئی ہے تو اس کے بعد خطبہ ہوا۔ یہ بات مریم کا یوسف ہے۔
- دلیل اوّل ...... ابتداء نزول قرآن شریف میں یوسف
تھا۔ قرآن شریف نے اس اعتقاد کی تردید فرمائی ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اکثر یہودیوں ہے: ”ان ھذا القرآن ان یقص علی بنی اسرائیل “ چونکہ مریم و یوسف کے خطبہ کا اختلاف نزول قرآن میں بیان ان کی تردید کے لئے نازل ہوا ہے لہٰذا سرسید
- دلیل دوم ...... کسی عورت کو جس طرح کہ مریم کو پیشتر
دی گئی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بن باپ ہی بیٹا پیدا ہوا تھا۔
- دلیل سوم ...... پروردگار فرماتا ہے کہ میرے پر بن باپ
- دلیل چہارم ...... عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ پیدا ہونا
- دلیل پنجم ...... خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام
السلام پر مہربانی ہے جیسا کہ ”ورحمة منا“ سے ظاہر
- دلیل ششم ...... پروردگار خود فرماتا ہے کہ ازل میں یہ
مقضیا“ سے ظاہر ہے۔
- دلیل ہفتم ...... مریم علیہ السلام کے ذکر کے قبل یحییٰ
١٥
سرسید احمد خان نے عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف کا بیٹا بنانے کے واسطے تاویلیں کیں مگر آیت : ” لم یمسسنی بشر ولم اک بغیا “ کے بیان کرنے پر قافیہ تاویلات آپ کا تنگ ہو گیا۔ اس آیت پر آپ یہ لکھتے ہیں۔
سب سے زیادہ غور لائق لفظ ”لم یمسسنی بشر ولم اک بغیا“ ہے۔ بلاشبہ یہ دونوں کلمات نہایت صحیح ہیں اور جس زمانہ میں بشارت ہوئی اس زمانہ میں بلاشبہ حضرت مریم علیہ السلام کو کسی مرد نے نہیں چھوا تھا۔ بلکہ غالباً خطبہ بھی یوسف کے ساتھ نہ ہوا تھا۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد بھی امر واقعہ نہیں ہوا۔ ناظرین کو واضح رہے کہ سرسید احمد خان مرحوم کی مذکورہ بالا عبارت پر بحث کرتے ہیں۔ سید مرحوم کا یہ اعتقاد کہ جب یہ آیت ”لم یمسسنی“ الخ آئی ہے تو اس کے بعد خطبہ ہوا۔ یہ بات کہ مریم کا یوسف سے خطبہ ہوا آٹھ دلیلوں سے بالکل غلط ہے۔
دلیل اوّل ...... ابتداء نزول قرآن شریف میں یوسف کے خطبہ کا یہودیوں میں اختلاف موجود تھا۔ قرآن شریف نے اس اعتقاد کی تردید فرمائی ہے۔ اس واسطے قرآن شریف کا نام فرقان ہے بلکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اکثر یہودیوں کے اختلاف کو قرآن شریف بیان فرماتا ہے : ” ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون “ چونکہ مریم ویوسف کے خطبہ کا اختلاف نزول قرآن شریف سے پہلے ہی تھا اور قرآن شریف میں یہ ان کی تردید کے لئے نازل ہوا ہے لہٰذا سرسید احمد مرحوم کا قول مذکورہ بالا غلط ثابت ہوا۔
دلیل دوم ...... کسی عورت کو جس طرح کہ مریم کو بیٹا پیدا ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ پہلے نہیں دی گئی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بن باپ ہی بیٹا پیدا ہوا تھا۔
دلیل سوم ...... پروردگار فرماتا ہے کہ میرے پر بن باپ بیٹا پیدا کرنا آسان ہے۔
دلیل چہارم ...... عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ پیدا ہونا خدا کی قادریت کا نشان ہے۔
دلیل پنجم ...... خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہونا میری طرف سے مریم علیہا السلام پر مہربانی ہے جیسا کہ ”ورحمۃ منا“ سے ظاہر ہے۔
دلیل ششم ...... پروردگار خود فرماتا ہے کہ ازل میں یوں ہی ہوتا تھا جیسا کہ ”وکـــــان امـــــرا مقضیا“ سے ظاہر ہے۔
دلیل ہفتم ...... مریم علیہ السلام کے ذکر کے قبل یحییٰ کے تولد کا ذکر ہے جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی
١٥
پیدائش بن باپ سے اس کی پیدائش کم نہیں کیونکہ یحییٰ کے والد اور والدہ دونوں ناقابل اولاد تھے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ تو قابل تولید تھی پھر اس میں ہماری اعلانیہ غلطی ہے کہ یحییٰ کی پیدائش کو ہم قدرت سے مانیں اور عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ ہونے میں کیا مشکل ہے۔
دلیل ہشتم ....... سرسید صاحب مرحوم نے جو بحث عیسیٰ علیہ السلام پر یوسف کے بیٹا ہونے پر کی ہے محض فضول اور لغو ہے کیونکہ مریم علیہا السلام آزاد شدہ تھیں۔ جس کو ہمارے ملک میں آج کل تارک بولا جاتا ہے ۔ جو زمانہ حال میں بعض خاندانوں ہندو اور مسلمانوں میں لڑکیوں کا تارک بٹھانا رواج موجود ہے ۔ گویا یہ رواج اس کے قریب قریب ہے اور یہودیوں میں اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ پس جب مریم علیہا السلام کو والدین نے آزاد کر دیا تو پھر وہ والدین مریم علیہا السلام یوسف کے ساتھ کیونکر خطبہ کر سکتے تھے حالانکہ یہودیوں میں رواج تھا کہ جو آزاد کیا جاتا تھا۔ پھر وہ تمام عمر بیت المقدس میں ہی اپنی عمر عبادت میں بسر کرتا تھا۔ نا یہ کہ وہ شادی کر کے صاحب اولاد ہو ۔ اسی واسطے تو مریم علیہا السلام کو بہتان لگائے گئے تھے کہ باوجود آزاد ہونے کے اس نے بیٹا جنا۔ برخلاف ان کے جو معتقد مریم علیہا السلام ہوئے ۔ انہوں نے یہ غضب کیا کہ بعض عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنا بیٹھے کیونکہ ان کا کوئی باپ نہ تھا اور بعض عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنا بیٹھے کیونکہ جب خدا کا بیٹا ہوا معاذ اللہ تو خدا کے ملک کا وارث ہوا۔ پس اس اعتبار سے وہ خدا کہنے لگے اور بعض نصاریٰ تین خدا بنا بیٹھے کیونکہ جب خدا معاذ اللہ مریم علیہا السلام کا خاوند ہوا اور عیسیٰ علیہ السلام بیٹا ہوا تو ہر ایک خدائی کا حصہ دار ہوا۔ نعوذ باللہ منہا! انہیں مذکورہ بالا اعتقاد کے لئے پروردگار نے تمام واقعہ مریم علیہا السلام بیان کیا تھا۔
نمبر ٢....... عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ سولی پر چڑھائے گئے ۔ لیکن اپنی طبعی موت سے مرے ۔ یہ اعتقاد سید مرحوم کا بالکل غلط ہے ۔ ناظرین اس بحث کی غرض و عمل بنی یہود میں ملاحظہ فرمائیں۔ ہم نے اعتقاد مذکورہ کی اپنے مقام پر پوری تردید کر دی ہے۔ اس مقام پر اتنا ہم ناظرین کے ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام سولی دیئے جاتے تو پھر طبعی موت سے مرتے تو پروردگار ”وما صلبوه وما قتلوه“ نہ فرماتا ۔ سید مرحوم نے ”وما صلبوه“ پر یہ تاویل فرمائی ہے کہ بعض یہود اعتقاد رکھتے تھے کہ پہلے عیسیٰ علیہ السلام سنگسار کر کے پھر سولی دیئے گئے پھر قتل کئے گئے ۔ لہٰذا ان دونوں اعتقادوں کی تردید کے لئے خدا تعالیٰ نے ”وما صلبوه ما قتلوه“ فرمایا ۔ لیکن تعجب ہے سید مرحوم کی تاویل پر کہ نفی از شے من کل الوجوہ ہوتی ہے نہ نفی
١٦
بعض شے ۔ خدا کے کلام سے تو یہ مفہوم ہے کہ نہ سولی دیئے گے علیہ السلام سولی دیئے جاتے بزعم سید مرحوم صاحب تو کیا خ سولی دیا گیا لیکن سولی پر فوت نہیں ہوا اور اپنی طبعی موت م حالانکہ یہ اعتقاد کسی یہود اور نصاریٰ کا بھی نہیں اور نہ کسی انجی عیسیٰ کی قبر کا کہیں پتا لگایا۔ لہٰذا یہ اعتقاد سید مرحوم کا گویا بہان معجزات ....... عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بلکہ تمام پیغمبرو میں زیادہ تر آیت مفصلہ ذیل پر بحث کی ہے۔ آیت ”آت آیت ہذا پر بحث کرتے کرتے آخر سید مرحوم نے یہ نتیجہ ن ہی معنے ہیں۔ کیونکہ آیت موصوف ہے اور بینات صفت موصوف اس کا مقدر ہے۔ لفظ آیت کا معنے لغوی نشان مذکورہ بالا میں ہم کو بھی کوئی انکار نہیں مگر انکار اس بات پ معنے صرف احکام ہی لئے ہیں۔ حالانکہ لفظ آیت کا معن اول حکم ، دوم نشان ، سوم معجزہ۔ لیکن سید مرحوم نے چونکہ معنے لفظ آیت کے طرف توجہ ہی نہیں فرمائی ہے۔ نہ تو ب معنے معجزہ ثابت کیا۔ پس ہم پہلے بیان کر کے اپنے ثبو لئے لکھتے ہیں۔
عبارت سرسید صاحب۔ پس جہاں قرآن یا بینات یا آیات بینات کا استعمال خدا کی جانب س اور مواقع مراد ہیں جو خدا تعالیٰ نے بذریعہ اپنے کلا آخر سید مرحوم لکھتے ہیں کہ ہم آیات بینات سے جہ مراد نہیں لیتے جس کو لوگ معجزہ یا معجزات کہتے ہیں ۔ ی
ہم اس بحث کو دو قسم پر بیان کرتے ہیں ۔
قسم اول....... تحقیق معنے لفظ آیت، قسم دوم ثبوت م
قسم اوّل....... ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ لفظ آی ہیں کہ اول حکم ، دوم نشان، سوم معجزہ۔ لفظ آیت حکم
محض اسی خدا کے کلام سے تو یہ مفہوم ہے کہ نہ سولی دیئے گئے اور نہ قتل کئے گئے۔ معاذ اللہ اگر عیسیٰ علیہ السلام سولی دیئے جاتے بزعم سید مرحوم صاحب تو کیا خدا تعالیٰ یہ عبارت نہ بنا سکتے تھے کہ عیسیٰ سولی دیا گیا لیکن سولی پر فوت نہیں ہوا اور اپنی طبعی موت سے مر گیا اور فلاں جگہ اس کی قبر ہے۔ حالانکہ یہ اعتقاد کسی یہود اور نصاریٰ کا بھی نہیں اور نہ کسی انجیل میں لکھا ہے اور نہ قرآن شریف میں عیسیٰ کی قبر کا کہیں پتا لگایا۔ لہٰذا یہ اعتقاد سید مرحوم کا گویا بہار دانش ہے۔
معجزات ........ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بلکہ تمام پیغمبروں کے صحیح نہیں۔ سید مرحوم نے اپنی تفسیر میں زیادہ تر آیت مفصلہ ذیل پر بحث کی ہے۔ آیت ”آتینا عیسی ابن مریم البینات“ آیت ہذا پر بحث کرتے کرتے آخر سید مرحوم نے یہ نتیجہ نکالا کہ لفظ آیات یا بینات دونوں کے ایک ہی معنے ہیں۔ کیونکہ آیات موصوف ہے اور بینات صفت پر جہاں لفظ صفت بینات کا ہے وہاں موصوف اس کا مقدر ہے۔ لفظ آیت کا معنے لغوی نشان آپ نے ثابت کیا ہے۔ ان دونوں امر مذکورہ بالا میں ہم کو بھی کوئی انکار نہیں مگر انکار اس بات میں ہے کہ سید مرحوم نے آیت یا بینات کا معنے صرف احکام ہی لئے ہیں۔ حالانکہ لفظ آیت کا معنے قرآن مجید میں تین ثابت ہوتے ہیں۔ اوّل حکم، دوم نشان، سوم معجزہ۔ لیکن سید مرحوم نے چونکہ کل معجزات کی نفی کی ہے لہٰذا انہوں نے دو معنے لفظ آیت کے طرف توجہ ہی نہیں فرمائی ہے۔ نہ تو لغوی معنے لفظ آیت کا لیا اور نہ لفظ آیت کا معنے معجزہ ثابت کیا۔ پس ہم پہلے بیان کرنے اپنے ثبوت کے سرسید مرحوم کی عبارت کو ناظرین کے لئے لکھتے ہیں۔
عبارت سرسید صاحب۔ پس جہاں قرآن شریف میں اس لفظ کے معنے آیت یا آیات یا بینات یا آیات بینات کا استعمال خدا کی جانب سے ہوا ہے۔ اس سے ہمیشہ وہ احکام یا نصائح اور مواعظ مراد ہیں جو خدا تعالیٰ نے بذریعہ اپنے کلام یا وحی کے اپنے انبیاء پر نازل فرمائی ہیں۔ آخر سید مرحوم لکھتے ہیں کہ ہم آیات بینات سے جہاں کہ وہ خدا کی طرف سے بولا گیا ہے وہ چیز مراد نہیں لیتے جس کو لوگ معجزہ یا معجزات کہتے ہیں۔
ہم اس بحث کو دو قسم پر بیان کرتے ہیں۔
قسم اوّل ....... تحقیق معنے لفظ آیت، قسم دوم ثبوت وجود معجزات۔
قسم اوّل ....... ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ لفظ آیت کا معنے قرآن شریف سے تین ثابت ہوتے ہیں کہ اوّل حکم، دوم نشان، سوم معجزہ۔ لفظ آیت بمعنی حکم دیکھو: ”یااہل الکتاب لم تکفرون بآیات
١٧
الله وانتم تشهدون (آل عمران:٧٠) "اے اہل کتاب کیوں کفر کرتے ہو ساتھ حکماں اللہ کے اور حالانکہ تم گواہ ہو ۔" یہ آیت جس کا ہم نے ترجمہ کیا ہے سورت آل عمران رکوع ٧ کی ہے۔ اس ماقبل عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اور ابراہیم علیہ السلام کی نسبت جھگڑا ہو چکا تھا اور یہودی اور نصاریٰ کہتے تھے کہ ہم ابراہیمی مذہب ہیں حالانکہ یہودی عزیر کو خدا کا بیٹا اور نصاریٰ عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور بعض خدا بعض تثلیث کو مانتے تھے۔ لہذا پروردگار نے اہل کتاب کو مخاطب کر کے فرمایا ”أهل الكتاب لم تكفرون بآيات الله وانتم تشهدون“ یعنی دونوں فریق اہل کتاب یہودی اور نصاریٰ توریت اور انجیل میں پڑھتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ پھر خدا کے ساتھ شریک لاتے ہیں اور قرآن شریف کو منزل من اللہ اور محمد ﷺ کو رسول نہیں سمجھتے۔ پس ناظرین اس میں سوائے حکم کے دوسرا نہیں بن سکتا۔ دیکھو۔ ايضاً سورت بلد: ”ثم كان من الذين امنوا وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمه واولئك اصحاب الميمنة والذين كفروا بايتنا هم اصحاب المشئمة (البلد: ١٧، ١٨، ١٩) "آیت ہذا سے بھی صاف ثابت ہے کہ لفظ آیت بمعنیٰ حکم ہے۔ کیونکہ ایمان لانا اور ایک دوسرے کو نصیحت کرنا اور ایک دوسرے پر رحم کرنا جو کہ پہلی آیت میں گزرا ہے بلاشبہ یہ احکام ہیں۔ پھر مابعد کی آیت میں جو کہ ”والذين كفروا بايتنا هم اصحاب المشئمه “ آیت ہذا میں جو لفظ آیت کا ہے ذرا بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ لفظ آیت بمعنیٰ حکم نہ ہو۔
ايضاً ”هو الذى بعث فى الاميّن رسولا منهم يتلوا عليهم آياته (الجمعه:٢) “ آیت ہذا میں جو لفظ آیت کا معنیٰ حکم ہیں کیونکہ ”يتلوا عليهم “ سے صاف ظاہر ہے کہ لفظ آیت کا معنیٰ حکم ہے نہ نشان اور نہ معجزہ ۔
دوم ...... لفظ آیت بمعنیٰ نشان دیکھو: ”وتصريف الرياح والسحاب المسخر بين السماء الارض لايت لقوم يعقلون(البقره:١٦٤) “ آیت ہذا میں پروردگار نے اپنے دلائل الوہیت کے وہ بیان کئے ہیں جو کہ طاقت البشریت سے باہر ہیں۔ یعنی ہوا کا چلانا اور بادلوں کا زمین اور آسمان کے درمیان بغیر واسطہ کے ہائل کرنا بلاشبہ عقلمندوں کے واسطے الوہیت کے نشان ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ آیت مذکورہ میں لفظ آیت بمعنیٰ نشان نہیں۔ :”ايضاً دیکھو ان اوّل بيت وضع للناس للذى ببكة مباركا وهدى للعالمين.فيه آيت بينات مقام ابراهيم (آل عمران:٩٦،٩٧) “
١٨
٩
ناظرین غور کریں کہ آیت ہذا میں ذرا بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ دو الفاظ سے خانہ ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ میں خانہ کعبہ کا بیان نے عبادت کے لئے خدا کے حکم سے تیار کیا تھا سے حکم کا معنیٰ نہیں بن سکتا۔ بلکہ نشان سے حجر اس اس کو حجر بوسہ بھی لیا کرتے ہیں، مراد ہے۔ س کعبۃ اللہ میں لکھا ہے۔ مقام ابراہیم علیہ السلا ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر کعبہ کی د میری تحقیق کو ثابت کرتی ہے کہ لفظ آیت مذکو
ايضاً ”الم تلك آيات الكتاب مبين (سورة الحجر:١) “ یہ بمعنیٰ نشانیاں ہیں ثابت ہوا کہ پروردگار نے انکو نشان فرمایا۔ ک بمعنیٰ نشان نہیں فرمایا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس
سوم ...... لفظ آیت بمعنیٰ معجزہ دیکھو پروردگار جئت بايت فات بها ان كنت من ال علیہ السلام کو اگر ہیں تو آیا ساتھ نشانی یعنی معج موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سوال معجزہ پر نکالا پھر وہ سفید تعجب خیز ہو گیا واسطے دیکھنے و مبين۔ ونزع يده فاذا هي بيضاء لل پہلی آیت سے صاف ثابت ہو دوسری آیت سے صاف ثابت ہے کہ جو فر کیا۔ پھر بعد اس واقعہ کے پروردگار نے ”قال الملاء من قوم فرعون ارضكم فما ذا تامرون (الاعراف:١١٠ یعنی موسیٰ علیہ السلام جادو گر ہے بڑا دانا س
ناظرین غور کریں کہ آیت ہذا میں دولفظ یعنے بیت اور مقام ایسے صریح ہیں جس سے ذرا بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ دو الفاظ سے خانہ کعبہ کی عمارت و دیواریں مراد ہیں۔ پس جب یہ ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ میں خانہ کعبہ کا بیان ہے جس کو ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے عبادت کے لئے خدا کے حکم سے تیار کیا تھا۔ پھر بلاشبہ لفظ آیات بینات کا معنے نشان ہوا کسی وجہ سے حکم کا معنے نہیں بن سکتا۔ بلکہ نشان سے حجر اسود جو کہ کعبہ شرقی و شمالی کونہ میں لگا ہے اور حاجی لوگ اس کو تبرکاً بوسہ بھی لیا کرتے ہیں ،مراد ہے۔ سید مرحوم صاحب نے بھی اس نشان کو اپنی تفسیر نقشہ کعبۃ اللہ میں لکھا ہے۔ مقام ابراہیم علیہ السلام عام لوگوں کے نزدیک وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر کعبہ کی دیوار چنی تھی۔ پس سرسید مرحوم کی مذکورہ بالا عبارت میری تحقیق کو ثابت کرتی ہے کہ لفظ آیت مذکورہ موقعہ پر بمعنے نشان ہے نہ حکم۔
ایضاً ”الم تلك ايات الكتاب الحكيم ايضاً۔الر تلك ايت الكتب وقران مبین (سورۃ الحجر:١)“ ﴿یہ بمعنے نشانیاں ہیں۔ کتاب کی یعنی قرآن بیان کرنے والے کی ۔﴾ پس ثابت ہوا کہ پروردگار نے الر کو نشان فرمایا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ عبارت مذکورہ قرآن میں لفظ آیت بمعنے نشان نہیں فرمایا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس مقام لفظ آیت کا معنے حکم نکلتا ہے۔
سوم...... لفظ آیت بمعنے معجزہ دیکھو پروردگار ۔ قول فرعون کا بیان کرتا ہے۔ ”قال ان کنت جئت بايت فات بها ان كنت من الصادقين (الاعراف:١٠٦)“ ﴿کہا فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو اگر ہیں تو آیا ساتھ نشانی یعنی معجزہ کے پس لے آؤ اس کو اگر ہیں تو سچوں سے۔﴾ پس موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سوال معجزہ پر اپنا عصا ڈال دیا پھر وہ عصا اژدھا بن گیا۔ پھر ہاتھ اپنا نکالا پھر وہ سفید تعجب خیز ہو گیا واسطے دیکھنے والوں کے دیکھو: ”فالقی عصاه فاذا هي ثعبان مبين۔ونزع يده فاذا هى بيضاء للناظرين (الاعراف:١٠٧،١٠٨)“
پہلی آیت سے صاف ثابت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے فرعون نے معجزہ طلب کیا اور دوسری آیت سے صاف ثابت ہے کہ جو فرعون نے معجزہ طلب کیا تھا اس کو موسیٰ علیہ السلام نے پورا کیا۔ پھر بعد اس واقعہ کے پروردگار نے وہ بیان شروع فرمایا ہے جو فرعون نے معجزہ دیکھ کر کہا: ”قال الملاء من قوم فرعون ان هذا لساحر عليم۔يريد ان يخرجكم من ارضكم فما ذا تامرون (الاعراف:١٠٩،١١٠)“ ﴿کہا فرعون نے قوم کے سرداروں سے تحقیق یہ یعنی موسیٰ علیہ السلام جادو گر ہے بڑا دانا چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو زمین تمہاری سے۔ پس کیا حکم
١٩
کرتے ہوئے مجھ کو۔ پھر فرعون کے سرداروں کا خدا تعالیٰ جواب بیان کرتا ہے جو کہ انہوں فرعون کے مشورہ پر دیا تھا: ”قالوا ارجه واخاه وارسل فی المدائن حاشرین ۔ یاتوک بكل ساحر عليم
(الاعراف: ١١١،١١٢)“
کہا فرعون کے سرداروں نے اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور بھیج شہروں میں اکٹھا کرنے والے تاکہ ہرکارے لائیں تیرے پاس ہر جادوگر دانا کو، آخر جادوگر بلالئے گئے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرح لاٹھی اور رسیوں کے سانپ بنائے مگر موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر ان کو کھا گیا۔ تب ساحروں نے کہا کہ ہم ایمان لائے۔ ساتھ رب العالمین کے جو رب موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا ہے۔ بلاشبہ اس معجزہ مذکورہ بالا میں جو لفظ آیت آیا ہے ۔ اس کے معنے اس مقام پر حکم نہیں ہو سکتا۔ صرف نشان بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اعلانیہ طرز مباحثہ سے معجزہ ہی ثابت ہوتا ہے۔
ایضاً: ”وما تلک بیمینک یاموسیٰ۔ قال هی عصای اتوکؤا علیها و اهش بھا علی غنمی ولی فیها مارب اخرىٰ۔ قال القھا یاموسٰی فاذا هی حیة تسعیٰ۔ قال خذھا ولا تخف سنعیدھا سیرتھا الاولیٰ۔ واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضاء من غیر سوء اية اخرىٰ
(طه: ١٧ تا ٢٢)“
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ آیات مذکورہ بالا سورۃ طہ میں پہلی آیت جو کہ سورۃ اعراف کی جس میں معجزہ لفظ آیت کا معنے نکالا تھا۔ اس کی مصدقہ ہیں کہ لفظ آیت بمعنے معجزہ ہے اور آیات ہٰذا سے آٹھ امر ثابت ہوتے ہیں۔ اوّل ! عصا موسیٰ علیہ السلام کا لکڑی ثابت ہونا۔ دوم ! اس کا اژدھا بننا۔ سوم ! پھر اصلی حالت پر عود کرنا۔ چہارم ! اس سے موسیٰ علیہ السلام کا ڈرنا۔ پنجم ! پروردگار کا موسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینا۔ ششم ! دست مبارک موسیٰ علیہ السلام کا سفید تعجب خیز ہونا۔ ہفتم ! دو معجزہ کا موسیٰ علیہ السلام کو دیا جانا۔ ہشتم ! لفظ آیات کا معجزہ پر اطلاق ہونا خدا کی طرف سے ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ لفظ آیت اس مقام پر معجزہ پر خدا کی طرف سے اطلاق نہیں ہوتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ لفظ آیت سے حکم یا نشان کا معنے نکلتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ سید مرحوم کو دھوکہ ہوا جو انہوں نے لفظ آیت کا معنی صرف حکم پر ہی حمل کیا ہے۔ یعنی معجزات پیغمبروں کے قرآن شریف سے ثابت ہیں۔ چنانچہ یہی ثبوت مذکورہ جو کہ خدا نے موسیٰ علیہ السلام کو سکھایا ہے پھر ہم اس سے ثبوت وجود معجزہ کا قرآن شریف سے کرتے ہیں۔ انشاء اللہ !
٢٠
قسم دوم ثبوت معجزہ
قرآن شریف سے معجزات کا وجود بلاشبہ ثابت ہے۔ اگرچہ ہم مذکورہ بالا آیت سے وجود معجزہ ثابت کر چکے ہیں۔ تاہم اسی آیت میں پھر بحث کرتے ہیں۔ دیکھو: ”ومــــــا تــــلك بيمينك ياموسىٰ“ ”اور کیا ہے یہ بیچ ہاتھ تیرے کے اے موسیٰ علیہ السلام؟“ یہ پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو کیا کہا کہ وہ تو عالم الغیب ہے۔ اس لئے کہ پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کے عصا کو اژدھا بنانا تھا اور انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ سانپ یا اژدھے سے ڈرتا ہے۔ سو اس لئے عالم الغیب کو موسیٰ علیہ السلام کے ذہن نشین کرنا منظور تھا کہ یہ لکڑی تمہاری ہے۔ پھر ہم اسی بحث کو لکھتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کو جواب دیا کہ یہ عصا ہے۔ جیسا کہ پروردگار موسیٰ علیہ السلام کا قول بیان فرماتا ہے۔ دیکھو:”قال هی عصائی“ ”آخر پروردگار نے فرمایا کہ ڈال اس کو:”قال القها ياموسىٰ۔“ پھر پروردگار خود فرماتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عصا ڈال دیا۔ پھر ناگہاں عصاء موسیٰ علیہ السلام اژدھا دوڑنے والا دیکھو آیت ہذا:”فــــالــقهـــا فــــاذا هی حية تسعٰی“ ناظرین اب کون کہہ سکتا ہے کہ عصا لکڑی نہیں ہوتی اور کون کہہ سکتا ہے کہ حیہ کے معنے سانپ نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ تسعٰی سے مراد حرکت کرنا یا دوڑنا امر نہیں۔ پھر معجزات سے انکار کرنا تو علانیہ قرآن شریف کا انکار کرنا ہوا۔ اب ہم ید بیضا کی تعریف نہیں کرتے جو کہ مابعد مضمون مذکورہ بالا کے ہے۔ ناظرین خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اب ہم ایک اور نظیر ثبوت معجزات پیش کرتے ہیں:”واتل عليهم نبا ابنی ادم بالحق۔ اذ قربا قربانا فتقبل من احد هما ولم يتقبل من الاخر (المائدہ:٢٧)“
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ آیت ہذا سے چار امر ثابت ہوئے ہیں۔
- امر اوّل....... آنحضرت ﷺ کو حکم ہوا کہ قصہ دونوں بیٹوں آدم کا مخالفین کو سنا۔
- امر دوم...... یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قصہ دونوں بیٹوں کا تھا۔
- امر سوم...... یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے قربانی دی۔
- امر چہارم...... یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک کی قربانی جناب الٰہی میں قبول ہوئی اور دوسرے کی
قبول نہ ہوئی۔ نتیجہ بحث ہذا کا یہ ہے کہ جس کی قربانی قبول ہوئی۔ اس کا وہ قبول ہونا ہی معجزہ ہے۔ اوّل یہ قول منجانب اللہ ہے۔ پس اس آیت ہذا سے یہ بھی ثابت ہوا کہ معجزہ کا رواج آدم علیہ السلام سے ہی شروع ہے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ کو مخالفین اہل کتاب اور کفار اسی قدیمہ رواج
٢١
مشورہ کی وجہ سے معجزہ طلب کرتے تھے۔ چنانچہ پروردگار ان کا قول بیان فرماتا ہے: ”قالوا لو اوتی مثل ما اوتی موسی (القصص: ٤٨) ﴿کہا انہوں نے یعنی مخالفوں کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر یعنی رسول اللہ ﷺ مثل اس کے جو دیا گیا موسیٰ یعنی معجزہ﴾ اب قابل غور یہ بات ہے کہ انہوں نے معجزہ رسول اللہ ﷺ سے طلب کیا۔ اگر معجزہ پیغمبروں کا قدیمی فعل نہ ہوتا تو وہ آنحضرت ﷺ کیوں طلب کرتے۔ نہیں ضرور رواج قدیم تھا۔ دیکھو ماقبل کی آیت کا جواب: ”اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (ایضاً)“ ﴿کیا نہ کفر کرتے تھے ساتھ اس چیز کے کہ دیا گیا تھا موسیٰ علیہ السلام یعنی معجزہ پہلے اس سے﴾ مابعد اس کے پروردگار پہلی آیت کی تفسیر کرتا ہے۔ ان کا قول بیان کر کے: ”قالو اسحران تظاھر (ایضاً)“ ﴿کہتے تھے یہ دونوں جادو ہیں ایک دوسرے کا مددگار﴾ یعنی عصاء موسیٰ وید موسیٰ اس کے بعد پروردگار ان کا قول بیان فرماتا ہے جو انہوں نے موسیٰ کے دو معجزے دیکھ کر کہا تھا: ”وقالوا انا بکل کفرون (ایضاً)“ ﴿اور کہتے تھے ہم ساتھ ہر ایک کے یعنی معجزہ موسیٰ کے کافر ہیں یعنی انکار کرنے والے۔﴾
ناظرین! یہاں تک آیات مذکورہ بالا میں بیان ہے جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ دیکھ کر انکار کر دیا تھا۔ اگر معجزہ کا وجود قدیم سے نہ ہوتا تو نہ وہ رسول اللہ ﷺ سے معجزہ طلب کرتے اور نہ یہ واقعہ موسیٰ علیہ السلام کا جو کہ تمثیلاً بیان ہوا ہے، پروردگار بیان فرماتا۔ اب یہ امر بحث طلب ہے کہ پہلی آیت میں مخالفوں کا آنحضرت ﷺ پر معجزہ دکھلانے کا سوال تھا اور معجزہ قدیم سے پیغمبروں کا شیوہ تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے سوال کو پورا کیا۔ بلاشبہ آنحضرت نے بموجب حکم باری تعالیٰ ان کے سوال کو یعنی معجزہ کا دکھلانا دکھلایا۔ وہ معجزہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بلاشبہ امی یعنی ان پڑھ تھے۔ اس زمانہ میں شاعروں کا زور تھا۔ چونکہ ہر زمانہ میں جو پیغمبر ہوتا رہا۔ موافق رواج قوم یا یوں کہو کہ جو اس زمانہ میں لوگ کسی ایک امر کے مدعی ہوتے تھے اور اپنے دعوے میں خدا کے ساتھ شرک کرتے تھے۔ ان کی تردید کے لئے پیغمبر کو پروردگار ان سے بڑھ کر فضیلت بخشتا ہے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کے وقت ساحروں کا زور تھا۔ پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو دو معجزے عطاء کئے۔ یعنی عصاء وید بیضا۔ جن سے انہوں نے ساحروں کو مغلوب کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے یہ خواص بخشا کہ سخت بیماروں کو اچھا کرتے تھے۔ بے علاج ادویہ بلکہ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ علی ہذا زمانہ آنحضرت ﷺ میں شاعروں کا زور تھا۔ ٢٢
ان کے عاجز کرنے کے لئے ایسے پیغمبر کی ضرورت تھی کہ بغیر پڑھے شاعر عاجز ہوں اور شرک وکفر سے نجات پائیں۔ اگرچہ دوسرے آنحضرت ﷺ کو بخشے تھے۔ جیسا کہ شق القمر سے ظاہر ہے۔ تاہم شائع تھا۔ ناظرین بھول نہ جاویں مخالفوں کے معجزہ طلب کرنے پر آنحضر ت کا معجزہ مخالفین کو بحکم باری تعالیٰ پیش کیا۔ دیکھو: ”قل فاتوا بکتاب اتبعہ ان کنتم صادقین (القصص: ٤٩)“ ﴿کہہ دے اے محمّد یہود ونصاریٰ سے ایک کتاب اللہ کی طرف سے جو کہ وہ کتاب بہت ہدایت ہے ان دونوں سے یعنی توریت وانجیل سے﴾ یہ کیوں کہا کہ قرآن شریف توریت وانجیل سے اھدیٰ ہے اور یہود ونصاریٰ کی کتابیں نہ رہی تھیں۔ پیروی کروں میں اس کی یعنی مقولہ نبی اپنے دعوے شاعری میں۔ داؤد کو پروردگار نے تین معجزے دیئے۔ اوّل پہاڑوں کا ان کے کہنے پر تسبیح کرنا۔ دوم جانوروں کا ان کے کہنے پر تسبیح پڑھنا۔ سوم لوہ ا نرم ہونا۔ اور پھر داؤد علیہ السلام کا زرہ بنانا۔ دیکھو: ”ولقد ایتنا دا اوبی معہ والطیر والنالہ الحدید۔ ان اعمل سابغات صالحا (سبا: ١٠، ١١)“ ﴿اور البتہ تحقیق دی ہم نے داؤد کو فضل فرمایا اے پہاڑو اور جانورو تسبیح کرو ساتھ اس کے یعنی داؤد کے۔ اور نرم کیا ہم نے اس کے یعنی داؤد کے ہر طرح کا لوہا۔ اس لئے کہ بنائیں زرہیں اندازہ رکھ کر ایک دوسری کنڈی کے پرونے میں اور عمل کر اچھے کام۔﴾ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تین معجزے دیئے گئے۔ اوّل ہوا جو بموجب حکم سلیمان علیہ السلام کے ان کے تابع تھی۔ دوم تانبے کا پانی ہو جانا بحکم سلیمان علیہ السلام کے۔ دیکھو: ”ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحهـ ا شھر ومن الجن من يعمل بين يديه باذن ربہ ومن يز غ منھم عن امرنا نذقہ من عذاب السعير (سبا: ١٢)“ ﴿اور واسطے سلیمان کے تابع کـ یا ہم نے ہوا کو۔ صبح کی سیر اس کی ایک مہینہ کی اور شام کی سیر اس کی ایک مہینہ کی اور بہایا ہم نے واسطے اسکے ٢٣
ان کے عاجز کرنے کے لئے ایسے پیغمبر کی ضرورت تھی کہ بغیر پڑھے ایسا کلام سنا دے جس سے شاعر عاجز ہوں اور شرک و کفر سے نجات پائیں۔ اگرچہ دوسرے معجزے بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بخشے تھے۔ جیسا کہ شق القمر سے ظاہر ہے۔ تاہم شاعروں کا عاجز کرنا اہم معجزہ تھا۔ ناظرین بھول نہ جاویں مخالفوں کے معجزہ طلب کرنے پر آنحضرت ﷺ نے قرآن بنانے کا معجزہ مخالفین کو بحکم باری تعالیٰ پیش کیا۔ دیکھو: ”قل فاتوا بكتاب من عند الله هو اهدى اتبعہ ان كنتم صادقين (القصص: ٤٩)“ ﴿کہہ دے اے محمد مخالفوں کو پس لاؤ تم یعنے یہود ونصاریٰ سے ایک کتاب اللہ کی طرف سے جو کہ وہ کتاب بہت ہدایت کرنے والی ہو یعنے راہ مستقیم کی ان دونوں سے یعنی توریت وانجیل سے﴾
یہ کیوں کہا کہ قرآن شریف وانجیل سے اھدٰی ہے اور وہ دونوں کتابیں بوجہ تحریف یہود ونصاریٰ اھدٰی نہ رہی تھیں۔ پیروی کروں میں اس کی یعنے مقولہ آنحضرت ﷺ اگر ہو تم سچے نبی اپنے دعوے شاعری میں۔ داؤد کو پروردگار نے تین معجزے دیئے۔ ایک پہاڑوں کا داؤد کے کہنے پر تسبیح کرنا۔ دوم جانوروں کا ان کے کہنے پر تسبیح پڑھنا۔ سوم لوہا کا داؤد کے ہاتھ میں مثل موم ہونا۔ اور پھر داؤد علیہ السلام کا زرہ بنانا۔ دیکھو: ”ولقد اتينا داود منا فضلا ياجبال اوبی معہ والطير والنا له الحديد ان اعمل سابغات وقدر في السرد واعملوا صالحا (سبا: ١٠، ١١)“ ﴿اور البتہ تحقیق دی ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بزرگی یعنے کہا اللہ تعالیٰ نے اے پہاڑو اور جانوروں کو تسبیح کرو ساتھ اس کے یعنے داؤد کے۔ اور نرم کیا ہم نے واسطے اس کے یعنے داؤد کے ہر طرح کا لوہا۔ اس لئے کہ بنائیں زرہیں پوری۔ اور امر کیا ہم نے داؤد کو اندازہ رکھ کر ایک دوسری کنڈی کے پرونے میں اور عمل کر اچھے﴾ ایضاً۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تین معجزے دیئے گئے۔
اوّل! ہوا جو بموجب حکم سلیمان علیہ السلام کے ان کے تخت کو جہاں چاہیں لے جاتی تھی۔ دوم! تانبے کا پانی ہو جانا بحکم سلیمان علیہ السلام سے ۔سوم! جنوں کا مطیع ہونا۔ دیکھو: ”ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها شهر واسلنا له عين القطر ومن الجن من يعمل بين يديه باذن ربہ ومن يزغ منهم من امرنا نذقه من عذاب السعير (سبا: ١٢)“ ﴿اور واسطے سلیمان کے تابع کیا ہوا کو صبح کی سیر اس کی ایک مہینہ تھا اور شام کی سیر اس کی ایک مہینہ تھا اور بہایا ہم نے واسطے اسکے یعنے سلیمان کے چشمہ گلے ہوئے
٢٣
سے بھی زیادہ۔ حدیثوں میں جبرائیل کے چھ سو پر بیان ہوئے ہیں بھی لوگ فرشتوں کے انکاری تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جو ”ان الله عل یہ ”جوامع الکلم“ اسی مقام پر آیا کرتا ہے۔ جہاں یہ گمان اور کس طرح ہو سکتا ہے۔ الغرض اختلافات قدیمہ سے فرشتوں کا نزول قرآن شریف کا ساتھ مسئلہ اختلافی ثبوت کرنا تھا۔ مسئلہ اوّل جیسا کہ کافر بت پرست تھے۔ یہودی عزیر کو خدا کا بیٹا جانتے تھے او خدا کا بیٹا اور بعض تثلیث کو مانتے تھے۔
مسئلہ دوم ....... مختلف فیہ بعض فرشتوں سے سید مرحوم کی طرح انکا کو خدا کی بیٹیاں جانتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا جنوں کے ساتھ اپنا رشتہ چنانچہ یہی اعتقاد سورت الصافات رکوع ٤ میں اسی باطل خیا فرماتا ہے۔ دیکھو: ”فاستفتہم الربک البنات ولہم البن ثا وہم شاہد ون (الصافات:١٥٠، ١٤٩) الخ ۔ ایضا وج نسبا (الصافات: ١٥٨)“
مسئلہ سوم ....... مختلف فیہ آسمانی کتابوں پر اکثر لوگ یقین نہیں ر قرآن کے منکر ہیں۔
مسئلہ چہارم ....... مختلف فیہ پیغمبروں کی رسالت سے بھی اکثر ا السلام و محمدﷺ سے یہودی ونصاریٰ اور مشرک انکاری ہیں۔
مسئلہ پنجم ....... مختلف فیہ بعض لوگ دہریہ زمانہ قدیم میں بھی تقدیر کے منکر ہیں۔ چنانچہ آج کل بھی اسی اعتقاد کے دہریہ کہ اعتقاد تھا: ”فما بال القرون الا ولی (طه: ٥١) قـ (طه:٤٩)“
مسئلہ ششم ...... مختلف فیہ قیامت تھا بعض یہود اعتقاد رکھتے دیکھو اللہ تعالیٰ ان کا قول بیان فرماتا ہے: ”وقالوا لن تم (البقره: ٨٠)“ اور بعض یہود اعتقاد رکھتے تھے کہ قیامت ن لا تتولوا قوما غضب الله عليهم قد يئسوا م اصحاب القبور (سوره ممتحنه: ١٣)“
٢٥
سے بھی زیادہ۔ حدیثوں میں جبرائیل کے چھ سو پر بیان ہوئے ہیں۔ پنجم !سید مرحوم کی طرح پہلے بھی لوگ فرشتوں کے انکاری تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جو ”ان الله علیٰ کل شی قدیر“ فرمایا یہ ”جوامع الکلم“ اسی مقام پر آیا کرتا ہے۔ جہاں یہ گمان مخالف کر سکتا ہے کہ یہ کام کیوں اور کس طرح ہو سکتا ہے۔ الغرض اختلافات قدیمہ سے فرشتوں کا اختلاف بھی تھا۔ بلکہ اہم امر نزول قرآن شریف کا ساتھ مسئلہ اختلافاً ثبوت کرنا تھا۔ مسئلہ اوّل لوگ توحید پر قائم نہ رہے تھے۔ جیسا کہ کافر بت پرست تھے۔ یہودی عزیر کو خدا کا بیٹا جانتے تھے اور نصاریٰ بعض عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور بعض تثلیث کو مانتے تھے۔
مسئلہ دوم ....... مختلف فیہ بعض فرشتوں سے سید مرحوم کی طرح انکار کرتے تھے۔ اور بعض فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جانتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا جنوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کے ناطہ کرتا ہے۔ معاذ اللہ چنانچہ یہی اعتقاد سورت الصافات رکوع ٤ میں اسی باطل خیال پر خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے۔ دیکھو: ”فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون ۔ام خلقنا الملئکۃ انا ثا وهم شاهد ون (الصافات:١٥٠،١٤٩)الخ۔ ایضاً وجعلو ابینہ وبین الجنۃ نسباً(الصافات:١٥٨)“
مسئلہ سوم ....... مختلف فیہ آسمانی کتابوں پر اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے تھے۔ جیسا کہ یہود انجیل اور قرآن کے منکر ہیں۔
مسئلہ چہارم ....... مختلف فیہ پیغمبروں کی رسالت سے بھی اکثر انکار کرتے تھے۔ جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام ومحمدﷺ سے یہودی ونصاریٰ اور مشرک انکاری ہیں۔
مسئلہ پنجم ....... مختلف فیہ بعض لوگ دہریہ زمانہ قدیم میں بھی موجود تھے جو کہ مدبر کے قائل اور تقدیر کے منکر ہیں۔ چنانچہ آج کل یہی اسی اعتقاد کے دہریہ کم وبیش موجود ہیں۔ فرعون کا بھی یہی اعتقاد تھا: ”فما بال القرون الاولٰی (طہ:٥١) قال فمن ربکما یاموسیٰ (طہ:٤٩)“
مسئلہ ششم ....... مختلف فیہ قیامت تھا بعض یہود اعتقاد رکھتے تھے کہ عذاب قیامت چند روز ہوگا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ان کا قول بیان فرماتا ہے: ”وقالوا لن تمسنا النار الا ایاماً معدودة (البقره:٨٠) “ اور بعض یہود اعتقاد رکھتے تھے کہ قیامت نہ ہوگی: ”یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب الله علیھم قد یئسوا من الاخرة کما یئس الکفار من اصحاب القبور (سورہ ممتحنہ:١٣)“
٢٥
مسئلہ ہفتم ...... مختلف فیہ کفار بعض تو بعث من القبور کے منکر تھے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے ثابت ہے اور بعض کفار حضور ﷺ کو استہزاء یا تعجباً کہا کرتے تھے کہ جب ہو جاویں گے ہم ہڈیاں گلی ہوئی کیا ہم پھر جاویں گے پہلی حالت میں۔ دیکھو یہی قول ان کا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: "یقولون ء انالمردودون فی الحافره اذاکنا عظاما نخرة (النازعات: ١١، ١٠) “ اور فرعون کا قصہ بھی تمثیلاً انہیں کو سناتا ہے کہ فرعون ہی تمہاری طرح اعتقاد رکھتا تھا۔ آخر اس اعتقاد کے بدلے غرق ہوا۔ ناظرین دیکھو سورت نازعات میں۔ پس یہی وجہ کامل ہے کہ ان سات مسئلہ مختلف فیہ کے یقین کرنے کو ایمان مفصل کہتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں میں ان کا جاننا اور یقین کرنا فرض ہے اور جو کوئی نہ جانے یا یقین نہ کرے اس کو بھی پہلے یہی پڑھاتے ہیں۔ اگر وہ پڑھ لے اور دل سے یقین بھی کر لے تو اسی کا نام مسلمان ہے اور وہ ایمان مفصل عربی عبارت میں یہ ہے: ” امنت باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخروالقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ والبعث بعد الموت“ پس نتیجہ بحث ہذا کا یہ ہوا کہ وجود ملائکہ کا قرآن شریف سے ثابت ہے۔ گوسید مرحوم نے مخالفوں کی تردید کی ہوگی تاہم مرحوم سید کا یہ اعتقاد صحیح نہیں۔
اعتقاد نمبر ٥...... سید مرحوم نے اپنی تفسیر میں ابلیس اور جنوں سے بھی انکار ظاہر کیا ہے۔ مگر یہ اعتقاد بھی قرآن شریف کی رو سے صحیح نہیں۔ بلکہ قرآن شریف میں جنوں کا وجود ثابت ہے اور جن قرآن پڑھتے ہوئے حضرت ﷺ سے سنتے رہے۔ دیکھو: ”واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القران فلما حضروه قالوا انصتوا فلما قضی ولوا الی قومهم منذرین (احقاف: ٢٩) “ ﴿اور جس وقت کہ پھیرے ہم طرف تیری جماعت جنوں میں سے سنتے تھے قرآن پس جب حاضر ہوئے اس کو یعنی حضرت کہنے لگے ، آپس میں چپ رہو۔ جب تمام ہوا پڑھنا پھر گئے طرف قوم اپنی کی ڈراتے ہوئے﴾ ایضاً پروردگار نے سورت النمل میں ایک جن کا نام بھی فرمایا ہے جو کہ سلیمان علیہ السلام کے مصاحبوں میں تھا۔ دیکھو: ”قال عفریت من الجن انا اتيك به قبل ان تقوم من مقامك وانى عليه لقوى امين (النمل: ٣٩) “ ﴿ کہا ایک دیو نے جنوں میں سے میں لے آؤں گا تمہارے پاس اس کو یعنی تخت بلقیس کو پہلے اس سے کہ کھڑے ہو تم جگہ اپنی سے اور بے شک اوپر اس کے یعنی تخت لانے کے البتہ قوی امین ہوں یعنی کوئی خیانت نہ کروں گا۔﴾ ٢٦
پس ثابت ہوا کہ وجود جنوں کا قرآن اعتراض کرے کہ وجود فرشتوں اور جنوں کا ہمیں نظر کہتے ہیں کہ عالم دنیا میں ایسی بہت سی اشیاء ہیں جن جب تیز ہوتی ہے تو درخت توڑ دیتی ہے۔ مکان گرا لمبا ہے یا اتنا چوڑا یا سرخ یا سیاہ رنگ ہوتا ہے۔ نہیں فعل تو محسوس ہوتا ہے۔ تو ہم اس کے جواب میں کہ پیغمبروں کا ہی خاصہ ہے۔ وہ ان کے وجود کو دیکھتے کتابوں میں فرشتوں اور جنوں کا جسم اور فعل بلکہ نام ثابت کر چکے ہیں۔ اصل میں ایسے سوالات کرنے والا اس کا سلسلہ تمام قانون قدرت کو کیونکر سمجھ سکتا ہے کیفیت معلوم نہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میرے ان ہے کہ یہ روح جو بول رہی ہے۔ اس کی کیا صور کیفیت ہی معلوم نہ ہوئی تو فرشتوں اور جنوں کی کیا تعالیٰ ان کے سمجھنے کا علم دے دے وہ بے شک سمجھ عقل بعض باتوں میں حیوان سے بھی بیوقوف ہے۔ اس کے نزدیک نہیں کرتا۔ مگر انسان کو یہ سمجھ اللہ تعا اور جنوں کا دیکھنا پیغمبروں کا خاصہ ہے۔ چونکہ اعتر ثبوت کے لئے علیحدہ دلیل پیش کرنی بے فائدہ ہے اعتقاد نمبر ٦...... سرسید مرحوم بہشت اور دوزخ سے کرتے ہوئے اخیر میں یہ لکھتے ہیں۔ ”پس یہ مسئلہ ہیں۔ قرآن سے ثابت نہیں ۔“
یہ اعتقاد سید مرحوم کا قرآن کی رو سے تعالیٰ ثابت کرتا ہے۔ دیکھو: "ولمن خاف مقام ذواتا افنان فيهما عينان تجرين في فرش بطائنها من استبرق۔ وجنا الجنت
پس ثابت ہوا کہ وجود جنوں کا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اگر کوئی معترض یہ اعتراض کرے کہ وجود فرشتوں اور جنوں کا ہمیں نظر کیوں نہیں آتا۔ تو ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ عالم دنیا میں ایسی بہت سی اشیاء ہیں جن کا وجود بھی محسوس یا نظر نہیں ہوتا۔ مثلاً ہوا جب تیز ہوتی ہے تو درخت توڑ دیتی ہے۔ مکان گرا دیتی ہے۔ مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ جسم ہوا کا اتنا لمبا ہے یا اتنا چوڑا یا سرخ یا سیاہ رنگ ہوتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ہوا کا فعل تو محسوس ہوتا ہے۔ تو ہم اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ فرشتوں کا فعل یا وجود کا مس کرنا پیغمبروں کا ہی خاصہ ہے۔ وہ ان کے وجود کو دیکھتے ہیں اور ان کی آواز سنتے ہیں۔ لہٰذا منزلہ کتابوں میں فرشتوں اور جنوں کا جسم اور فعل بلکہ نام موجود ہے۔ جیسا کہ ہم قرآن شریف سے ثابت کر چکے ہیں۔ اصل میں ایسے سوالات کرنے محض فضول ہیں۔ انسانی عقل محدود ہے۔ تعقل اس کا سلسلہ تمام قانون قدرت کو کیونکر سمجھ سکتا ہے۔ حالانکہ انسان کو اپنے بدن کی بھی پوری کیفیت معلوم نہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میرے اتنے لڑکے یا لڑکیاں ہوں گی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ روح جو بول رہی ہے۔ اس کی کیا صورت یا کیا رنگ ہے۔ پس جب اپنے بدن کی کیفیت ہی معلوم نہ ہوئی تو فرشتوں اور جنوں کی کیفیت کیونکر حاصل کر سکتا ہے۔ البتہ جن کو اللہ تعالیٰ ان کے سمجھنے کا علم دے دے وہ بے شک سمجھ سکتے ہیں۔ دور نہ جائیے انسان باوجود دعویٰ عقل بعض باتوں میں حیوان سے بھی بیوقوف ہے۔ دیکھو حیوان اپنے مادہ حاملہ کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر اس کے نزدیکی نہیں کرتا۔ مگر انسان کو یہ سمجھ اللہ تعالیٰ نے نہیں دی۔ پس ثابت ہوا کہ فرشتوں اور جنوں کا دیکھنا پیغمبروں کا خاصہ ہے۔ چونکہ ابلیس بھی فرقہ جنوں میں سے ہے لہٰذا اس کے ثبوت کے لئے علیحدہ دلیل پیش کرنی بے فائدہ ہے۔
اعتقاد نمبر ٦...... سرسید مرحوم بہشت اور دوزخ سے بھی انکاری ہیں۔ وہ اپنی تفسیر میں بحث کرتے کرتے ہوئے اخیر میں یہ لکھتے ہیں۔ ”پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق و موجود ہیں۔ قرآن سے ثابت نہیں۔“
یہ اعتقاد سید مرحوم کا قرآن کی رو سے محض غلط ہے۔ کیونکہ قرآن میں دونوں کا وجود خدا تعالیٰ ثابت کرتا ہے۔ دیکھو: ”ولمن خاف مقام ربه جنتان ۔ فبای الاء ربكما تكذبن۔ ذواتا افنان فيهما عينان تجرين فيهما من كل فاكهة زوجان۔متكئين على فرش بطائنها من استبرق۔ وجنا الجنتين دان (الرحمن:٤٦ تا٥٤) “ ﴿اور واسطے
٢٧
اس شخص کے ڈرتا ہے آگے پروردگار کے کھڑا ہونے سے دو بہشت ہیں۔ پس ساتھ کون سی نعمت پروردگار اپنے کے جھٹلاتے ہو۔ وہ تو بہشت شاخوں والے ہیں۔ بیچ ان دونوں کے چشمے چلتے ہیں۔ بیچ ان دونوں کے ہر میوہ سے دو قسمیں ہیں۔ تکیہ کئے ہوئے اوپر فرشتوں کے کہ استر ان کے تافتے کے ہیں۔ اور میوے دونوں بہشت کے نزدیک ہیں۔ یہ ایسا ثبوت وجود دوزخ ناظرین کو یاد رہے۔ پہلے لوگوں میں سے بھی ایسے تھے جو کہ سرسید مرحوم کی طرح دوزخ بہشت سے انکاری تھے۔ لہٰذا پروردگار نے ”فبای الاء ربکما تکذبن“ بہشت کے منکروں کے لئے فرمایا اور دیکھیں دوزخ کے منکروں میں سے بڑا منکر اس زمانہ میں ولید بن مغیرہ تھا۔ کافروں نے مشورہ کر کے کہا کہ یہ محمد کہتا ہے کہ یہ قرآن خدا کی کلام ہے۔ تو سن اس کو پھر انصاف کر۔ کیا یہ خدا کی کلام ہے یا نہ پس جب حضرت نے سنایا تب ولید بن مغیرہ کہنے لگا۔ یہ جادو ہے نقل کیا جاتا ہے نہیں، یہ قرآن مگر قول آدمی کا یعنی خدا کا کلام نہیں۔ دیکھو خدا تعالیٰ بھی مذکورہ بالا قول بیان فرماتا ہے: ”فقال ان ھذا الا سحر یوثر ان ھذالا قول البشر (المدثر:٢٤،٢٥)“ اس قول ولید بن مغیرہ کے جواب پر پروردگار نے یہ فرمایا ”ساسلیہ سقر“ پھر ولید بن مغیرہ نے سقر پر بھی استہزا کیا۔ لہٰذا پروردگار نے فرمایا: ”وما ادراک ماسقر لاتبقی ولاتذر لواحة للبشر۔علیها تسعة عشر (المدثر:٢٧،٢٩)“ ٭ پس کہا ولید ابن مغیرہ نے نہیں یہ قرآن مگر جادو قدیم نہیں۔ یہ قرآن مگر قول آدمی کا، جواب باری تعالیٰ شتابی داخل کروں گا اس کو بھنے ولید بن مغیرہ کو دوزخ میں ”پھر کہا اللہ تعالیٰ نے اور کیا جانے تو کیا دوزخ“ پھر اللہ تعالیٰ نے خود دوزخ کی تعریف بیان فرمائی نہیں باقی رکھتی اور نہیں چھوڑتی۔ ساڑ دینے والی ہے چہرے کو۔ اوپر اس کے یعنی دوزخ کے انیس فرشتے ہیں۔ پھر ولید ابن مغیرہ نے انیس فرشتہ پر بھی استہزاء کی کہ ہم تو بہت آدمی ہیں۔ انیس فرشتے ہماری طاقت کے آگے کیا کر سکتے ہیں۔ الغرض دور تک یہی جھگڑا دوزخ کا چلا جاتا ہے۔ مگر ہماری گفتگو اس میں تھی کہ سرسید مرحوم نے جو یہ کہا کہ وجود دوزخ اور بہشت کا قرآن شریف سے ثابت نہیں۔ یہ قول ان کا ہم نے قرآن شریف کے رو سے غلط ثابت کیا۔ یہ نہیں معلوم ہو سکتا کہ سرسید مرحوم نے منزل آخر کو نہیں دیکھا کیونکہ انہوں نے یہ تمام بحث پہلی ہی سپارہ میں ہی کی ہے۔ یا کہ دانستہ دیدہ انہوں نے انکار کیا ہے۔ بہر حال ہم ان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو بخشے کیونکہ اکثر تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ تفسیر سید مرحوم نے اپنے وہم میں مخالفین کی تردید کے لئے بنائی ہے۔ ٢٨
اعتقاد نمبر٧: ...... سید مرحوم کے نزدیک قرآن شریف ہیں اور نہ رسول نے بلکہ علماء نے خود بنالئے ہیں۔ مگر دعوے کو آخر میں بیان کریں گے۔ پہلے ہم سید مرحوم کی میں تحریر کیا ہے۔ وہ عبارت سید مرحوم کی یہ ہے: ”الم الخ ہے جن کو خدا نے ان کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ حر لکھتے ہیں علماء اسلام نے رفع التباس کے لئے ان سورتو یا جن میں حروف مقطعات زیادہ تھے۔ یا کسی سورت کرنے کی غرض سے اور نیز ان سورتوں کے لئے جو کی کے مطابق اسی سورت میں سے کوئی لفظ اس سورت رفتہ رفتہ بطور ان سورتوں کے نام کے مقصد ہونے لا سورتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار کر لئے نام ہے (یعنی بقر کا) اس سورت کا نام مبتداء ہے اور اور یہ مبتداء و خبر مل کر خبر ہیں۔ یعنی ”الم“ گائے
ناظرین! کو سرسید مرحوم کی عبارت سے کے نام علماء نے یہودیوں کی طرح اپنی طرف سے سورتیں ہیں جن پر حروف مقطعات ”الم“ آیا ہیں کہ یہ حروف مقطعات ”الم“ ان سورتوں غلطیاں کی ہیں۔
غلطی اوّل ...... حروف مقطعات کو سورت کا نام کہ ہے کہ سورت کے ساتھ ان کو ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ پس جب ”الم“ مقطعات ہوئے تو سورہ
غلطی دوم ...... ”الم“ تین حروف ہیں۔ ہر الف ایک اسم ہے۔ لام ایک اسم ہے۔ میم ایک ایک سمجھنا علانیہ غلط ہے۔
اعتقاد نمبر ٧....... سید مرحوم کے نزدیک قرآن شریف کی سورتوں کے نام نہ تو خدا تعالیٰ نے رکھے ہیں اور نہ رسول نے بلکہ علماء نے خود بنا لئے ہیں۔ مگر یہ اعتقاد سید مرحوم کا بھی صحیح نہیں۔ ہم اپنے دعوے کو آخر میں بیان کریں گے۔ پہلے ہم سید مرحوم کا اعتقاد لکھتے ہیں جو کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں تحریر کیا ہے۔ وہ عبارت سید مرحوم کی یہ ہے: ”الم یعنی سورت بقر یہ سورت ان سورتوں میں سے ہے جن کو خدا نے ان کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ حروف مقطعات ان سورتوں کے نام ہیں۔ پھر لکھتے ہیں علماء اسلام نے رفع التباس کے لئے ان سورتوں کے نام کے ساتھ جن کے متحد نام تھے۔ یا جن میں حروف مقطعات زیادہ تھے۔ یا کسی سورت کے اہم مضمون پر زیادہ وضاحت سے اشارہ کرنے کی غرض سے اور نیز ان سورتوں کے لئے جو کسی نام سے موسوم نہ تھیں۔ اسے یہودی قاعدہ کے مطابق اسی سورت میں سے کوئی لفظ اس سورت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے منتخب کیا۔ جو رفتہ رفتہ بطور ان سورتوں کے نام کے مقرر ہونے لگے۔ مگر درحقیقت وہ الفاظ ہیں جو علماء نے ان سورتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار کر لئے ہیں۔“ پھر لکھتے ہیں ”الم“ جو اس سورت کا نام ہے (یعنی بقر کا) اس سورت کا نام مبتداء ہے اور ذلک مبتداء ثانی ہے اور الکتاب اس کی خبر ہے اور یہ مبتداء و خبر مل کر خبر ہیں۔ یعنی ”الم“ کا مسمیٰ ذلک الکتاب پر محمول ہے۔“
ناظرین! گو یہ سید مرحوم کی عبارت سے ثابت ہو گیا ہو گا کہ ان کے نزدیک سورتوں کے نام علماء نے یہودیوں کی طرح اپنی طرف سے اختیار کئے ہیں اور سید مرحوم کے نزدیک انتیس سورتیں ہیں جن پر حروف مقطعات ”الم“ آیا ہے۔ وہی ”الم“ ان کا نام ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ حروف مقطعات ”الم“ ان سورتوں کے نام نہیں۔ اس بحث میں سید مرحوم نے سات غلطیاں کی ہیں۔
غلطی اوّل....... حروف مقطعات کو سورت کا نام لکھا۔ حالانکہ مقطعات کا لفظی معنے خود دلالت کرتا ہے کہ سورت کے ساتھ ان کو ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ اسی وجہ سے ان کو حروف مقطعات بھی کہا جاتا ہے۔ پس جب ”الم“ مقطعات ہوئے تو سورت کا اسم کیوں کر بن سکتے ہیں۔
غلطی دوم....... ”الم“ تین حروف ہیں۔ ہر ایک جدا حرف ہے اور ہر ایک علیحدہ اسم ہے۔ مثلاً الف ایک اسم ہے۔ لام ایک اسم ہے۔ میم ایک اسم ہے۔ پھر یہ تین اسم ہوئے۔ پھر تین اسموں کا ایک سمجھنا علانیہ غلط ہے۔
٢٩
غلطی سوم...... تمام قرآن شریف میں انتیس سورتیں ہیں۔ جن پر حروف مقطعات ”الـــم“ آئے ہیں۔ اگر ہم سید مرحوم کے لکھنے پر ہی یقین کریں کہ یہ سورتوں کے نام ہیں۔ تو یہ مشکل ہے کہ مخالفین کہیں گے کہ قرآن اچھی خدا کی کلام ہے کہ انتیس سورتوں کے نام ایک ہی رکھ دیا۔ کیا خدا تعالیٰ کو کوئی دوسرا نام رکھنا بھی نہیں آتا۔ معاذ اللہ
غلطی چہارم...... لفظ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر غائب ہے۔ مشار الیہ اس کا ماقبل ہوتا ہے۔ اپنے مابعد الکتاب کو بتاتا ہے۔
غلطی پنجم...... سورتوں کے نام حضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی رکھے گئے تھے۔ یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ حضرت ﷺ نے خود رکھے یا وحی جبرائیل علیہ السلام نے بتلائے۔ بہر حال حضرت کے زمانہ میں بھی نام سورتوں کے جو کہ آج کل مشہور ہیں، لئے جاتے تھے۔ اور منزلیں بھی حضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی بنی ہیں۔ دیکھو بخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف عن عمر ابن الخطاب سے حدیث مروی ہے کہ ہشام ابن حکیم نے صبح کی نماز میں سورۃ فرقان پڑھی۔ اختلاف قرأت کے ساتھ پھر اصحابوں میں جھگڑا پڑ گیا۔ آخر حضرت ﷺ کے پاس جھگڑا پیش کیا گیا۔ حضرت ﷺ نے ہشام ابن حکیم کو فرمایا کہ سورۃ فرقان پڑھ نتیجہ بحث ہذا کا یہ ہوا کہ اگر اس وقت سورتوں کے نام مقرر نہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ ہشام ابن حکیم کو کیوں فرماتے کہ سورۃ فرقان پڑھ۔ پس ثابت ہوا کہ سورتوں کے نام زمانہ حضرت ﷺ میں مقرر ہو چکے تھے۔
غلطی ششم...... سید مرحوم نے حروف مقطعات ”الـــم“ کو مبتدا بنایا اور ذلک مبتدا ثانی اور الکتاب اس کی خبر جب حروف ”الم“ مقطعات ہوئے۔ یعنی ان کو عبارت سے کوئی تعلق ہی نہ ہوا تو ”الم“ مبتدا کیونکر بن سکتا ہے اور ذلک مبتدا ثانی کیونکر ہو سکتا ہے۔ پھر الکتاب اس کی خبر کسی صورت میں نہیں بن سکتی۔ سید مرحوم نے یہ سوچا کہ مبتداء اور خبر میں اسناد ہوتا ہے۔ حالانکہ کوئی اسناد نہیں ہے۔
غلطی ہفتم...... حروف مقطعات ”الم“ حالانکہ انتیس سورتوں پر آئے ہیں مگر ”ذلک الکتاب لاریب فیہ“ ماسوا بقرہ کے کسی اور سورت پر انتیس سورتوں میں نہیں لکھے گئے۔ پس اگر یہ تمام سورتیں متحد المضمون ہوتیں جیسا کہ سید مرحوم نے وہم کیا ہے تو ”ذلک الکتاب لاریب فیہ“ کا لانا بھی ضروری ہوتا۔ چونکہ ”الم“ حروف مقطعات ہی ہیں نہ اسم سورتوں کے۔ لہٰذا پروردگار نے باقی سورتوں ”الم“ والی میں ”ذلک الکتاب لاریب فیہ“ نہ فرمایا۔
٣٠
اعتقاد نمبر ٧...... سید مرحوم نے حروف مقطعات ”الم“ کی غرض بیان فرمائی ہے۔ ہم طوالت کے لئے بعینہ عبارت نہیں لکھتے۔ صرف خلاصہ ان کی عبارت کا ناظرین کو دکھلاتے ہیں۔ وہ یہ ہے ۔ ”آپ نے (الف) سے مراد امر بالمعروف لیا ہے۔ (لام) سے مراد لیل و نہار لیا ہے۔ (م) سے مراد موت و حیات لیا ہے۔ مگر یہ استنباط سید مرحوم کا صحیح نہیں۔ کیوں کہ سورت روم، سورت لقمان، سورت عنکبوت، سورت سجدہ پر حالانکہ یہی حروف مقطعات موجود ہیں۔ مگر ان میں کوئی احکام امر بالمعروف نہیں بلکہ صرف توحید کا بیان ہے۔ لہٰذا سید مرحوم کا یہ استنباط بھی صحیح نہیں۔ اب یہاں سورت بقر پر پانچ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سوال اوّل ...... سورت بقر پر حروف مقطعات ”الم“ کس غرض کے لئے آئے۔ سوال دوم ...... لفظ اسم اشارہ کا مشار الیہ کون ہے۔ سوال سوم ...... ”ذلک الکتاب لاریب فیہ“ کس سے مراد ہے۔ سوال چہارم ...... ”ھدی للمتقین“ کس کی صفت ہے۔ سوال پنجم ...... سورت بقر بعد فاتحہ کے کس غرض سے لائی گئی۔ یعنے ان میں کیا ارتباط ہے۔
جواب سوال اوّل ...... ”الم“ یاد رہے کہ جن سورتوں میں یہ حروف آئے ہیں۔ سب میں تین غرضیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمانہ نزول قرآن شریف میں تین گروہ تھے۔ بت پرست، موسائی، عیسائی۔ پھر موسائی عزیر کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ اور احکام اسلام میں کئی طرح کے اختلاف کرتے تھے۔ رشوت کی وجہ سے جھوٹے فتوے دیا کرتے تھے۔ اور نصاریٰ بعض عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور بعض خود خدا اور بعض تثلیث پر یقین رکھتے تھے۔ چونکہ یہ تینوں فریق توحید پر قائم نہ تھے۔ لہٰذا محمد رسول اللہ اور قرآن شریف کی ضرورت ہوئی۔ چنانچہ یہی علت پروردگار نے: ”لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتی ھم البینۃ (البینۃ:١)“ میں نزول قرآن شریف کی بیان فرمائی۔ پس آنحضرت ﷺ تینوں فریق مشرک موسائی، عیسائی کو ہدایت توحید فرمانے لگے۔ تو ہر سہ فریق نے حضور ﷺ کی تکذیب کی۔ یہودی کہتے تھے کہ یہ قرآن پہلی کہانیاں ہیں۔ بت پرست کہتے تھے کہ یہ ساحر ہے۔ الغرض بت پرست ہو۔ موسائی ہو۔ عیسائی اپنے اپنے اعتقاد سے باز نہ آئے۔ گو آہستہ آہستہ تینوں فریقوں میں سے بہت سے ایمان بھی لے آئے تاہم آج تک وہی فریق موجود ہیں۔ ناظرین! کو یہ ثابت ہو گیا ہو گا کہ تین امروں کا مخالفین مذکورہ بالا کو منانا پروردگار کا اصل مقصد تھا۔ وہ تین امر یہ ہیں۔
٣١
امر اول....... اللہ ایک ہے۔ امر دوم....... قرآن شریف منزل من اللہ ہے۔ امر سوم....... یہ پیغمبر رسول اللہ ﷺ ہے۔ پس جن سورتوں میں انہی تینوں امور مذکورہ بالا کی مخالفوں کی منانے کی ضرورت تھی۔ ان سب سورتوں میں حروف مقطعات ”الم“ آئے ہیں۔ جو کہ الف سے مراد: ”والھکم الہ واحد“ ہے۔ جن میں وہ تینوں فریق اختلاف کرتے تھے اور لام سے مراد ہٰذا کتاب ”من لدن“ ہے۔ جس کی نسبت وہ تینوں فریق اختلاف کرتے تھے۔ اور میم سے مراد ”محمد رسول اللہ“ ہیں۔
خلاصہ مضمون مذکورہ بالا کا یہ ہوا۔ اللہ ایک ہے۔ قرآن شریف سچ ہے۔ محمد برحق ہے۔ جو مراد حروف مقطعات ”الم“ کی ہم نے بیان کی۔ وہ بعینہ سورت بقر کی آیات مفصلہ ذیل سے ناظرین دیکھ سکتے ہیں۔ دیکھو الف کا مصداق آیت ”والھکم الہ واحد“ (بقر:١٦٣) لام، کا مصداقہ آیت: ”الکتاب لا ریب فیہ ایضاً ولقد انزلنا الیک آیات بینات“ میم، کا مصداقہ آیت: ”انا ارسلنک بالحق بشیرا ونذیرا ایضاً وانک لمن المرسلین (بقر: رکوع ٢٢)“
سوال دوم....... ذٰلک اسم اشارہ کا مشار الیہ کون ہے۔ جواب....... یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ ہر ایک سورت ایک کتاب ہے۔ اور یہ بھی بلاشبہ تسلیم ہے کہ سورت فاتحہ اجمالی قرآن شریف ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سورت فاتحہ کا طرز کلام ایسا ہے کہ گویا بندہ کی کلام ہے مثلاً: ”ایاک نعبد وایاک نستعین“ سے بلاشبہ یہ شک ضرور پڑتا ہے کہ یہ کلام خدا کا نہیں بلکہ بندہ کا ہے۔ گو صاحب علم سمجھتے ہیں کہ پروردگار نے طریقہ یاد کرنے اپنے کا سکھایا ہے۔ اور قل اس میں مقدر ہے لیکن نادانوں اور مخالفوں کو کہ جس طرح کہ زمانہ حال میں فاتحہ کی نسبت شک پڑتے ہیں۔ اُسی طرح زمانہ نزول قرآن شریف میں بھی مخالف کہا کرتے تھے۔ لہٰذا شروع سورت بقر میں پروردگار نے اسم اشارہ بیان فرمایا ہے جس کا مشار الیہ وہی کتاب سورت فاتحہ ہے۔ جس میں مخالفوں کو کلام الٰہی ہونے میں شک تھا۔ اس کی تصدیق کے لئے اسم اشارہ لانا ضروری تھا تا کہ سورت فاتحہ اور سورت بقر میں ارتباط پیدا ہو لہٰذا باقی سورتوں میں حروف مقطعات ”الم“ والی پر یہ طرز اختیار نہیں کی گئی۔
سوال سوم....... ”الکتاب لا ریب فیہ“ کس سے معاد ہے۔
٣٢
جواب ...... وہی کتاب جس میں مخالفین یہود ونصاریٰ شک کرتے تھے اور اب مخالفین کلام بندہ سمجھتے ہیں۔ الغرض خدا تعالیٰ اس کو قرآن فرماتا ہے۔ دیکھو: ”ولقد اتینا سبع من المثانی والقرآن العظیم“
سوال چہارم ...... ”هدی للمتقین“ کس کی صفت ہے۔
جواب ...... وہی کتاب سورت فاتحہ کی صفت ہے جس میں مخالفین کا اعتراض تھا۔
سوال پنجم ...... سورت فاتحہ اور بقر میں کیا ارتباط ہے۔
جواب ...... سورت فاتحہ میں تین گروہ کے علاوہ دلائل توحید کے بیان ہے۔ مثلاً ”انعمت“ جو پیغمبروں اور نیک لوگوں سے مراد ہے اور ”مغضوب“ جو یہودیوں یا وہ لوگ جن پر واقعی عذاب وارد ہوا تھا۔ مثل قوم تبع ۔ اس ثمودی قوم سے لوط مراد ہیں۔ سوم ”ضال“ جو کہ نصاریٰ یا فاسق فاجر عاصی و معتد سے مراد ہیں۔ پس مضمون سورت فاتحہ سے چار امر ثابت ہوئے۔ ایک توحید اور تین گروہ انہیں چار امور اجمالی کی سورت بقر میں تفسیر ہے۔ دیکھو پروردگار نے اوّل رکوع میں ”مؤمنون“ کی تعریف فرمائی۔ اس کے بعد کافروں کی اور رکوع دوم میں منافقوں کا حال بیان کیا۔ رکوع سوّم میں اپنی الوہیت اور وحدانیت کے دلائل بیان فرمائے۔ پس اسی ارتباط کی وجہ سے سورت بقر بعد فاتحہ کے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی اور اسی وجہ سے ”ذلک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین“ سورت بقر پر فرمایا اور باقی تین جن حروف پر مقطعات ”الم“ آئے تھے۔ ”ذلک الکتاب لاریب فیہ“ نہ فرمایا۔ مرزا قادیانی! ہم نے یہ جتنے ورق سیاہ کر دیئے ہیں۔ یہ سب آپ کی خاطر ہی کئے ہیں کیونکہ آپ نے سید مرحوم کے اصولوں کو پکڑ کر اپنا دعویٰ افترائی بنا بیٹھے۔ پس ہم اصل کتاب شروع کرتے ہیں۔
فیصلہ قرآنی تکذیب قادیانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمدلله الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء والصلوۃ السلام علیٰ رسوله المجتبیٰ ۔ اما بعد!
احقر العباد حکیم حافظ محمد الدین صانہ اللہ تعالیٰ عن المکروہات الدنیا والدین۔ ناظرین کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ حقیقت قصہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کا موقوف ہے۔ علم نزول قرآن پر، لہٰذا ہم پہلی وجہ نزول قرآن شریف بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ زمانہ آنحضرت ﷺ
٤٣٣
میں تین فریق تھے۔ اول کافر ، دوم نصاریٰ ، سوم یہود۔ پھر کافر بھی مختلف اعتقاد کے تھے۔ بت پرست، کوکب پرست، حیوان پرست۔ چنانچہ یہی فریق آج کل بھی کم وبیش موجود ہیں۔ فریق دوم ، نصاریٰ اس کے تین فریق تھے۔ ایک وہ جو عیسیٰ علیہ السلام کو خدا سمجھتے تھے۔ دوم وہ جو عیسیٰ علیہ السلام کو فقط خدا کا بیٹا سمجھتے تھے۔ سوم وہ جو تثلیث کو مانتے تھے۔ فرقہ سوم یہود تھے۔ یہ نہایت ہی مختلف اعتقاد کے تھے۔ بعض عزیر کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ بعض عالموں اور درویشوں کو خدا بنا بیٹھے تھے۔ بعض قیامت عذاب کو چند روز یقین کرتے تھے۔ نماز، روزہ، حج وغیرہ احکام اسلام میں کئی طرح کے افتراء کرتے تھے۔ ایک رحم کے دو بچوں کو بعض کے لئے حرام اور بعض کے لئے حلال جانتے تھے۔ شوہر حرام کو بدل دیتے تھے اور رشوت لے کر جھوٹے فتوے دیتے تھے۔ حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ولد الزنا اور مریم علیہا السلام کو زانیہ یقین کرتے تھے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام تردید اختلاف مذکورہ بالا کے واسطے خدا کی طرف سے رسول تھے : ”ورسولا الی بنی اسرائیل“ لیکن یہود نے بجائے رسالت ماننے کے قتل کرانے اور پھانسی چڑھانے کی تدبیریں کیں۔ مگر ان کی تدبیریں کارگر نہ ہوئیں۔ نہ پھانسی دیئے گئے۔ نہ قتل کئے گئے۔ چنانچہ ہم عنقریب اس بحث کو غرض مکر یہود میں بیان کریں گے۔
وجہ نزول قرآن
الغرض ناظرین کو مذکورہ بالا مضمون سے ثابت ہو گیا ہو گا کہ ہر سہ فریق میں سے یعنی کافر۔ نصاریٰ اور یہود کوئی بھی توحید پر ثابت قدم نہ تھا۔ یہی وجہ نزول قرآن شریف کی ہوئی : ”لم يكن الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين منفكين حتى تاتى هم البينة رسول من الله يتلوا صحفا مطهره فيها كتب قيم (البينه:١تا٣) “
پس جب آنحضرت ﷺ دعوت اسلام صراط المستقیم ہر سہ فریق مذکورہ بالا کو کرنے لگے تب حضرت علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی طرح طرح کے الزام دینے لگے۔ مثلاً مفتری۔ شاعر۔ مجنون۔ کذاب۔ اور آنحضرت ﷺ کو یہود اور نصاریٰ طرح طرح کے سوالات بھی کرنے لگے۔ مثلاً یہود عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز فطرتی اور بعض مقتول بیان کرتے تھے۔ اور برخلاف ان کے نصاریٰ بعض عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا اور بعض تثلیث کا اعتقاد کا اظہار کرتے تھے۔ چونکہ یہ دونوں فریق افراط وتفریط میں غرق تھے۔ کیونکہ نہ تو عیسیٰ علیہ السلام ناجائز فطرتی اور نہ مصلوب اور نہ مقتول ہوئے تھے اور نہ عیسیٰ علیہ السلام خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا اور نہ تین خدا تھے۔ جیسا کہ بعض نصاریٰ کا اعتقاد تھا۔ معاذ اللہ منہا۔ پس یہی اختلاف مذکورہ بالا کی وجہ سے قصہ عیسیٰ علیہ السلام
٣٤
قرآن شریف میں مختلف مقامات پر مختلف اغراض کی فہرست ہم ناظرین کو دکھلا چکے ہیں۔
اختلاف عقائد
الغرض چونکہ سب اعتقادات یہود جگہ اعتقاد یہود اور کسی جگہ نصاریٰ کی تردید فرمائی شکوک باطلہ یہودیہ یا نصاریہ پیدا ہوتے ہیں۔ ناشائستہ بہتانیہ تاویلیہ افترائیہ خود غرضیہ خیالیہ کرتے ہیں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی، فطرتی بھی اپنے قلم سے لکھتے ہیں۔ نعوذ باللہ منہم
حصہ اوّل ! اغراض قرآنی متعلقہ حضرت
غرض اوّل ...... حقیقت پیدائش مریم علیہا السلام سوال ...... بجناب باری تعالیٰ والدہ مریم علیہا السلام نذرت لك مافى بطنى محررا فت وضعتها قالت رب اني وضعتها انثى اس نے اے رب میرے تحقیق میں نے نذر کیا قبول کر مجھ سے بے شک تو سننے والا جاننے والا نے جنا اس کو لڑکی۔ جواب ...... باری تعالیٰ آیت: ”والله اعلم کچھ جنا اظہار والدہ مریم علیہا السلام آیت مریم ” اور نہیں مرد مانند عورت کے امر السلام وقت آزادی مریم علیہا السلام: ”وانی الرجیم ” اور بے شک میں نے پناہ دی ہوئے سے جواب ...... باری تعالیٰ آیت: ”فتقبل حسنا “ پس قبول کیا اس کو رب اس کے غرض دوم ...... حقیقت پرورش مریم علیہا السلا
قرآن شریف میں مختلف مقامات پر مختلف اغراض کے لئے خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ جن اغراض کی فہرست ہم ناظرین کو دکھلا چکے ہیں۔
اختلاف عقائد
الغرض چونکہ سب اعتقادات یہود اور نصاریٰ محض بہتان تھے۔ لہٰذا پروردگار نے کسی جگہ اعتقاد یہود اور کسی جگہ نصاریٰ کی تردید فرمائی۔ جو لوگ مذکورہ بالا اغراض کا علم نہیں رکھتے ان کو شکوک باطلہ یہودیہ یا نصاریہ پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اسی یہودی اعتقاد کو پکڑ کر کلمات ناشائستہ بہتانیہ تاویلیہ افترائیہ خود غرضیہ خیالیہ وہمیہ نسبت عیسیٰ علیہ السلام اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی، زانی، فاحشہ عورتوں کا مال کھانے والا حتیٰ کہ ناجائز فطرتی بھی اپنے قلم سے لکھتے ہیں۔ نعوذ باللہ منہا۔
حصہ اوّل! اغراض قرآنی متعلقہ حضرت مریم علیہا السلام کے بیان میں فصل اوّل
غرض اوّل ....... حقیقت پیدائش مریم علیہا السلام میں۔
سوال ....... بجناب باری تعالیٰ والدہ مریم علیہا السلام: ”اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَآ اُنْثٰی (آل عمران:٣٥،٣٦) ﴿جس وقت کہا بیوی عمران کی نے اے رب میرے تحقیق میں نے نذر کیا واسطے تیرے جو کچھ بیچ پیٹ میرے کے ہے۔ پس قبول کر مجھ سے بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے۔ پس جب جنا اس کو کہ اے میرے تحقیق میں نے جنا اس کو لڑکی۔﴾
جواب ....... باری تعالیٰ آیت: ”وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ “ ﴿اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ جنا﴾ اظہار والدہ مریم علیہا السلام آیت: ”وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی وَاِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ “ ﴿اور نہیں مرد مانند عورت کے اور تحقیق میں نے نام رکھا اس کا مریم﴾ دعا والدہ مریم علیہا السلام وقت آزادی مریم علیہا السلام: ”وَاِنِّیْ اُعِیْذُهَا بِکَ وَذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ “ ﴿اور بے شک میں نے پناہ دی اس کو ساتھ تیرے اور اولاد اس کی کو شیطان راندے ہوئے سے﴾
جواب ....... باری تعالیٰ آیت: ”فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا“ ﴿پس قبول کیا اس کو رب اس کے ساتھ قبول اچھے کے اور اگایا اس کو اگانا خوب اچھا۔﴾
غرض دوم ....... حقیقت پرورش مریم علیہا السلام کے بیان میں: ”وَکَفَّلَهَا زَکَرِیَّا“ ﴿اور سونپ
٣٥
دی وہ زکریا علیہ السلام کو ﴿ بیان حال...... احسانات باری تعالیٰ ”وجد عندها رزقا “ ﴿ پایا نزدیک اس کے رزق ﴾ خبر سوال تجاہلانہ زکریا علیہ السلام : ”قال يامريم انى لك هذا “ ﴿اے مریم کہاں سے آیا واسطے تیرے یہ رزق ۔ ﴾
جواب...... مریم علیہا السلام: ”قالت هو من عند الله ان الله يرزق من يشاء بغير حساب (ایضاً) ﴿کہا مریم علیہا السلام نے وہ نزدیک اللہ سے تحقیق اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے شمار﴾ یہی سبب ہے واسطے اولاد کے دعا مانگنا زکریا علیہ السلام کا : ”هنا لك دعا زكريا ربه (آل عمران:٣٨)“ ﴿اس جگہ پکارا زکریا علیہ السلام نے پروردگار کو اپنے ۔ ﴾ اے ارباب بصیرت آج کل جو لوگ مثلاً مرزا قادیانی بن باپ تولد ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا محال جانتے ہیں۔ حقیقت میں یہ قول یہود کا تھا۔ جس کو پروردگار نے زکریا علیہ السلام کی نظیر دے کر تردید فرمائی۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ تندرست جوان تھی۔ لیکن یحییٰ کے والدین دونوں قابل اولاد نہ تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قول زکریا علیہ السلام کا بیان فرمایا : ”قال رب انى يكون لي غلام وقد بلغنى الكبر وامراتی عاقر (آل عمران:٤٠)“ ﴿کہا اے رب میرے کیونکر ہوگا واسطے میرے لڑکا اور تحقیق پہنچا ہے مجھ پر بڑھاپا اور بیوی میری بانجھ ہے۔﴾
جواب...... ”قال كذالك قال ربك هو على هين وقد خلقتك من قبل ولم تك شيئا (مریم:٩)“ ﴿کہا اسی طرح رب تیرے نے وہ اوپر میرے آسان ہے اور تحقیق پیدا کیا میں نے پہلے اس سے بے شک نہ تھا تو کچھ ۔﴾
افسوس یحییٰ علیہ السلام بغیر قابلیت والدین خدا تعالیٰ کی قادریت سے پیدا ہوا اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جس کے والدہ تو صحیح المزاج تھی۔ بن باپ ہونا نہیں مانتے بلکہ حکم باری تعالیٰ: ”يفعل ما يشاء “ جو کہ دعویٰ قادریت ایزدی ہے۔ چھوڑ دیتے ہیں۔ افسوس پھر افسوس آپ نے سمجھا بھی نہیں۔ یہ سب آیات مذکورہ بالا سورت آل عمران اور سورت مریم کی ہیں۔
غرض سوم تہمت یہود کے بیان میں
مرزا قادیانی کی طرح یہود بھی مریم علیہا السلام کو بدکار جانتے تھے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ یہود کا قول بیان کرتا ہے: ”قالوا يامريم لقد جئت شيئا فريا، يا اخت هرون ماكان ابوك امراء سوء وما كانت امك بغيا (مریم :٢٧،٢٨)“ ﴿کہا انہوں نے اے مریم البتہ ٤١٦
تحقیق لائی تو ایک چیز عجیب ۔ اے بہن ہارون کی نہ تھا باپ بریت مریم علیہا السلام دوسرے موقع پر دکھا دیں گے۔ یہا دکھانا مقصود ہے۔
غرض چہارم...... بریت مریم علیہا السلام کے بیان میں۔
یہاں مریم علیہا السلام کا قول اللہ تعالیٰ بیان فرم يمسسنى بشر ولم اك بغيا (مریم :٢٠)“ ﴿ کیو مجھ کو کسی آدمی نے اور نہیں میں بدکار﴾ آیت ہذا سے صا سے نکاح ہوا اور نہ کسی کے ساتھ بدکاری کی۔ معاذ اللہ لگاتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ مذکورہ مریم علیہا السلام کی تصدیق م على هين، ولنجعله اية للناس ورح (مریم:٢١) “ ﴿کہا اسی طرح ، کہا پروردگار تیرے نے ہم اس کو نشان واسطے لوگوں کے اور مہربانی اپنی طرف سے بالا سے چار امر ثابت ہوئے۔ اوّل! کسی آدمی نے مریم ہے۔ دوم! اللہ تعالیٰ پر بغیر باپ بیٹا پیدا کرنا آسان ہے نشان ہے۔ چہارم! علم ازل میں یوں ہی ہونا تھا۔ اے نا سے کم نہیں۔ مذکورہ بالا آیت سورت مریم کی ہیں۔
غرض پنجم اوصاف مریم علیہا السلام کے بیان
”واذ قالت الملئكة يامريم ان الله نساء العلمين (آل عمران : ٤٢) “ ﴿ جس وقت برگزیدہ کیا تجھ کو اور پاک کیا تجھ کو اور برگزیدہ کیا تجھ کو بصیرت آیت ہذا میں مریم علیہا السلام کو خدا تعالیٰ نے د پاک دامنی، دوم! برگزیدگی تمام عورات عالمین سے۔ ا طرف سے اور انعام اور خوش خبری نہیں ملی۔ ہائے افسو دے اور مرزا قادیانی اس پر تہمت لگا دیں۔ سوائے خلل د
غرض ششم بشارت تولد عیسیٰ علیہ السلام کے
”واذكر فى الكتاب مريم اذ ٤١٧
تحقیق لائی تو ایک چیز عجیب اے بہن ہارون کی نہ تھا باپ تیرا برا اور نہ تھی ماں تیری بدکار﴾ ہم بریت مریم علیہا السلام دوسرے موقع پر دکھا دیں گے۔ یہاں صرف بہتان یہود اور مرزا قادیانی کا دکھانا مقصود ہے۔
غرض چہارم ...... بریت مریم علیہا السلام کے بیان میں۔
یہاں مریم علیہا السلام کا قول اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: ”انّى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا (مريم : ٢٠) ﴿کیونکر ہوگا واسطے میرے لڑکا اور نہیں ہاتھ لگایا مجھ کو کسی آدمی نے اور نہیں میں بدکار﴾ آیت ہذا سے صاف دو امر ثابت ہوتے ہیں کہ نہ یوسف سے نکاح ہوا اور نہ کسی کے ساتھ بدکاری کی۔ معاذ اللہ ! مرزا قادیانی یہود کی طرح دونوں عیب لگاتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ مذکورہ مریم علیہا السلام کی تصدیق کرتا ہے : ”كذلك قال ربك هو على هين ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا (مريم : ٢١) ﴿کہا اسی طرح، کہا پروردگار تیرے نے وہ اوپر میرے آسان ہے اور تا کہ کریں ہم اس کو نشان واسطے لوگوں کے اور مہربانی اپنی طرف سے اور ہے کام مقرر کیا ہوا ۔﴾ آیت مذکورہ بالا سے چار امر ثابت ہوئے ۔ اوّل ! کسی آدمی نے مریم کو مس نہیں کیا اور نہ مریم علیہا السلام بدکار ہے۔ دوم ! اللہ تعالیٰ پر بغیر باپ بیٹا پیدا کرنا آسان ہے۔ سوم ! عیسیٰ علیہ السلام اس کی قادریت کا نشان ہے۔ چہارم ! علم ازل میں یوں ہی ہونا تھا۔ اے ناظرین مرزا قادیانی اعتقاد میں یہودیوں سے کم نہیں۔ مذکورہ بالا آیت سورت مریم کی ہیں۔
غرض پنجم اوصاف مریم علیہا السلام کے بیان میں
”واذ قالت الملئكة يامريم ان الله اصطفك وطهرك واصطفك على نساء العلمين (آل عمران : ٤٢) ﴿جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم تحقیق اللہ نے برگزیدہ کیا تجھ کو اور پاک کیا تجھ کو اور برگزیدہ کیا تجھ کو اوپر عورتوں عالمین کے﴾ اے ارباب بصیرت آیت ہذا میں مریم علیہا السلام کو خدا تعالیٰ نے دو فضیلتیں بخشی ہیں ۔ ایک! پاکیزگی یعنی پاک دامنی، دوم ! برگزیدگی تمام عورات عالمین سے ۔ یہ دونوں خطاب کسی عورت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اور انعام اور خوش خبری نہیں ملی۔ ہائے افسوس خدا تعالیٰ جس کی یہ فضیلت بیان فرما دے اور مرزا قادیانی اس پر تہمت لگا دیں۔ سوائے خلل دماغ یا بے علمی کے اور کچھ نہیں۔
غرض ششم بشارت تولد عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
”واذكر فى الكتاب مريم اذ انتبذت من اهلها مكانا شر ٣٧
قيا،فاتخذت من دونهم حجابا فارسلنا اليها روحا فتمثل لها بشرا سويا ،قالت انى اعوذ بالرحمن منك ان كنت تقيا، قال انما انا رسول ربك لاهب لك غلاما زكيا (مريم: ١٦ تا ١٩) ”اور یاد کر بیچ کتاب کے مریم علیہا السلام کو جب جا پڑی لوگوں اپنے سے مکان شرقی میں پس پکڑا پردہ ان سے اور پس پہنچایا ہم نے طرف اس کے روح اپنے کو یعنی فرشتہ پس صورت پکڑی واسطے آدی تندرست کے کہنے لگی تحقیق میں پناہ مانگتی ہوں تجھ سے اگر چہ تو پرہیز گار ۔ کہنے لگا سوائے اس کے نہیں میں بھیجا ہوا ہوں رب تیرے کا تا کہ بخش جاؤں تجھ کو لڑکا پاکیزہ“ اے ناظرین! یہاں بھی بہتان مرزائیہ سے مریم علیہا السلام پاک ہیں۔
فصل دوم...... اغراض قرآنی متعلقہ عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
غرض اوّل کیفیت تولد عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
”فحملته فانتبذت به مكانا قصيا ٭ فاجاء ها المخاض الى جذع النخلة قالت ياليتنى مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا ٭ فناداها من تحتها الا تحزنى قد جعل ربك تحتك سريا ، وهزى اليك بجذع النخلة تساقط عليك رطبا جنيا (مريم: ٢٢ تا ٢٥) ”پس حاملہ ہوئی ساتھ اس کے پس جا پڑی ساتھ اس کے مکان دور میں پس لے آیا اس کو درد زہ کی طرف تنے درخت خرما کے کہا اے کاش کہ میں مرگئی ہوتی پہلے اس سے اور ہوتی بھولی بھلائی پس پکارا اس کو نیچے اس کے سے یہ کہ مت غم کھا تحقیق کر دیا رب تیرے نے نیچے تیرے چشمہ اور ہلا تنے کھجور کے کو طرف اپنی ڈالے گی اوپر تیرے کھجور تازی۔“
اے ارباب بصیرت ماقبل کی دو آیتوں سے آپ کو ثابت ہو گیا ہو گا کہ دو احسان یعنی تازہ خرما اور چشمہ آب بھی طاقت بشری اور مرزا قادیانی کے علم سے بعید ہیں۔ اگر خرما تازہ اور چشمہ احسان الٰہی مانا جاوے تو تولد عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ ماننے میں کیا مشکل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ اور رفع الی السماء بجسد عنصری نہ مانا جاوے تو دو مشکل پیش آتی ہیں۔ ایک تو تمام معجزوں کا انکار کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ کھجور اور چشمہ کا یہاں خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ یا اور مقامات میں معجزے پیغمبروں کے بیان فرمائے ہیں۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کا دریائے نیل سے عبور کرنا اور فرعون کا غرق ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کے عصاء کا اژدھا بننا ہاتھ مبارک کا سفید ہونا پتھر سے بارہ چشموں کا نکلنا ابراہیم علیہ السلام کے وجود کا آتش نمرودی کو سرد کرنا سلیمان علیہ السلام کے مصاحبوں سے ایک شخص کا بلقیس کو طرفۃ العین میں لانا۔ صالح کی ٣٨
اونٹنی کا معہ بچہ پیدا ہونا۔ کشف سے حضرت خضر علیہ کر ڈالنا۔ سلیمان علیہ السلام کا غیر جنس جانوروں س اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کا شق القمر کرنا۔ معراج بجسد انکار کرنا پڑے گا تو پھر قرآن کا کیسا حصہ رہا۔
مشکل دوم...... اگر عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ اور رفع بے عیب پاک دامن نہ سمجھاوے تو یہودیوں اور مسلمانو آل عمران کا کوئی فائدہ۔
غرض دوم اوصاف عیسیٰ علیہ السلام کے بیان
”اذقالت الملئكة يامريم ان اللّٰه ابن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومو وكهلا ومن الصالحين ويعلم الكتب وال الى بنى اسرائيل (آل عمران: ٤٥ تا ٤٩ علیہا السلام اللہ بشارت دیتا ہے تجھ کو ساتھ ایک بیٹے السلام بیٹا مریم کا آبرو والا بیچ دنیا اور آخرت کے اور م سے بیچ جھولے کے یعنے طفولیت میں اور صالحین سے خواص الانبیاء اور تورات اور انجیل و رسول طرف بنی اسرا
اے ارباب بصیرت یہ اوصاف حضرت عی کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ آیات قرآنی نہیں کیا کوئی کہہ مرزا قادیانی ان اوصاف حمیدہ کو چھوڑ کر بہتان شرع گھڑنے والا ، یہودیوں کی طرح لگاتے ہیں۔ تو آپ شریف کے معانی سے کہاں تک واقفیت ہے۔ کیا ایسے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔
غرض سوم ! دعوت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان
جب عیسیٰ علیہ السلام مامور بدعوت اسلا کرنے لگے: ”انی قد جئتكم باية من ر الطير فانفخ فيه فيكون طيرا باذن اللّٰه ٣٩
اونٹنی کا معہ بچہ پیدا ہونا۔ کشف سے حضرت خضر علیہ السلام کا کشتی کو سوراخ کرنا اور لڑکے کو قتل کر ڈالنا۔ سلیمان علیہ السلام کا غیر جنس جانوروں سے کلام کرنا۔ لشکر جن طیور کا بھرتی کرنا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا شق القمر کرنا۔ معراج بجسد عنصری کرنا۔ ان تمام مذکورہ معجزوں سے انکار کرنا پڑے گا تو پھر قرآن کا کیسا حصہ رہا۔ مشکل دوم....... اگر عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ اور رفع الیٰ السماء بجسد عنصری اور مریم علیہا السلام کو بے عیب پاک دامن نہ سمجھا جاوے تو یہودیوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا اور نہ مباہلہ سورۃ آل عمران کا کوئی فائدہ۔
غرض دوم اوصاف عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
”اذ قالت الملئکة یامریم ان اللہ یبشرک بکلمة منہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیھا فی الدنیا والاخرة ومن المقربین ویکلم الناس فی المھد وکھلا ومن الصالحین ویعلمہ الکتب والحکمة والتوراة والانجیل ورسولا الیٰ بنی اسرائیل (آل عمران:٤٥ تا٤٩)“ ﴿جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم علیہا السلام اللہ بشارت دیتا ہے تجھ کو ساتھ ایک بیٹے کے اپنی طرف سے نام اس کا مسیح عیسیٰ علیہ السلام بیٹا مریم کا آبرو والا بیچ دنیا اور آخرت کے اور مقربوں میں سے ہے اور کلام کرے گا لوگوں سے بیچ جھولے کے بمعنی طفولیت میں اور صالحین سے ہے اور سکھاوے گا اس کو لکھنا اور حکمت بمعنی خواص الاشیاء اور تورات اور انجیل ورسول طرف بنی اسرائیل کے۔﴾
اے ارباب بصیرت یہ اوصاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہما السلام کے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ آیات قرآنی نہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اوصاف جمیلہ نہیں؟ پس جب مرزا قادیانی ان اوصاف حمیدہ کو چھوڑ کر بہتان شراب ، ناجائز فطرتی ، فاحشہ عورتوں کے مال کھانے والا ، یہودیوں کی طرح لگاتے ہیں۔ تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو قرآن شریف کے معانی سے کہاں تک واقفیت ہے۔ کیا ایسے کلمات کہنے والا دعوے اسلام میں صادق ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔
غرض سوم ! دعوت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
جب عیسیٰ علیہ السلام مامور بدعوت اسلام ہوئے۔ تب بنی اسرائیل کو دعوت اسلام کرنے لگے: ”انی قد جئتکم بایة من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئة الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص احی الموتی
٣٩
آیت ہذا سے ما بعد کی آیت میں اللہ تعالٰی مرزا قادیانی کو خلل دماغ اور بے علمی کی وجہ سے منشاء قرآن اس بحث کو ہم دوسری جگہ مکر یہود میں دکھلاتے ہیں۔
غرض پنجم ۔ مکر یہود کے بیان میں
غرض ہذا میں تین امور بحث طلب ہیں جن کا مطلب حل نہیں ہو سکتا۔ وہ امر یہ ہیں۔
- امر اوّل ...... زمانہ نزول قرآن میں لوگوں کے اعتقادات
- امر دوم ...... قرآن شریف میں قصہ عیسٰی علیہ السلام کیوں
- امر سوم ...... ذکر مکر یہود سورۃ آل عمران میں کیوں آیا ہے
امر اوّل ...... زمانہ نزول قرآن شریف میں لوگوں کے عیسائی۔ پھر بت پرست مختلف اعتقاد کے تھے۔ جیسا یہود عیسٰی علیہ السلام کی نسبت کچھ بحث نہ کرتے تھے بعض عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ بعض یہود خدا کے دوست یا بیٹے سمجھتے تھے۔ الغرض یہود کے بے آیا ہے : ”ان ھذا القرآن یقص علٰی بنی اسرائیل (النمل : ٧٦) ”بے شک یہ قرآن بیان فرماتا ہے بنی اس کے اختلاف کرتے ہیں۔“ اور عیسٰی علیہ السلام کی تھے۔ جس کو ہم غرض سوم تہمت یہود میں بیان کرچکے بھی یقین کرتے تھے۔ سوم عیسائی ان کے بھی بہت فرقے بیٹا جانتے تھے۔ دوسرے وہ جو عیسٰی علیہ السلام کو خدا تھ تھے۔ چوتھے وہ جو عیسٰی علیہ السلام کو یوسف بن یعقوب السلام کا باپ ہیلی سمجھتے تھے۔ چھٹے وہ جو مریم علیہا السلام عمران ہی کو ثابت کرتا ہے۔ پس ناظرین کو دو امر ثابت مشرک، یہود، نصارٰی توحید پر کوئی بھی ثابت قدم نہ طرح کے اختلافات کئے ہوئے تھے۔ جن کی تردید
٤١
آیت ہذا سے ما بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ مکر یہود بیان فرماتا ہے جس کے معنے مرزا قادیانی کو خلل دماغ اور بے علمی کی وجہ سے منشاء قرآن شریف کے مطابق سمجھ میں نہیں آئے۔ اس بحث کو ہم دوسری جگہ مکر یہود میں دکھلاتے ہیں۔
غرض پنجم۔ مکر یہود کے بیان میں
غرض ہذا میں تین امور بحث طلب ہیں۔ جب تک ان کا علم نہ ہو قرآن شریف کا مطلب حل نہیں ہو سکتا۔ وہ امر یہ ہیں۔
- امر اوّل...... زمانہ نزول قرآن میں لوگوں کے اعتقاد عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کیا تھے۔
- امر دوم...... قرآن شریف میں قصہ عیسیٰ علیہ السلام کیوں آیا۔
- امر سوم...... ذکر مکر یہود سورۃ آل عمران میں کیوں آیا۔
امر اوّل...... زمانہ نزول قرآن شریف میں لوگوں کے تین فریق تھے۔ بت پرست، یہود، عیسائی۔ پھر بت پرست مختلف اعتقاد کے تھے۔ جیسا کہ ہم مقدمہ میں ذکر کر چکے ہیں کہ بت پرست عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ بحث نہ کرتے تھے۔ دوم موسائی ان کے بھی مختلف فریق تھے۔ بعض عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ بعض درویشوں کو خدا بنا بیٹھے تھے۔ بعض اپنے آپ کو خدا کے دوست یا بیٹے سمجھتے تھے۔ الغرض یہود کے بے تعداد فریق تھے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے: ”ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون (النمل:٧٦) “بے شک یہ قرآن بیان فرماتا ہے اوپر بنی اسرائیل کے اکثر اس چیز کا کہ وہ بیچ اس کے اختلاف کرتے ہیں۔﴿ اور عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تہمت نطفہ ناجائز و بدکاری لگاتے تھے۔ جس کو ہم غرض سوم تہمت یہود میں بیان کر چکے ہیں۔ اور بعض مقتول اور بعض مصلوب ہوا بھی یقین کرتے تھے۔ سوم عیسائی ان کے بھی بہت فریق تھے۔ ایک وہ جو عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ دوسرے وہ جو عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ہی مانتے تھے۔ تیسرے وہ جو تثلیث کے قائل تھے۔ چوتھے وہ جو عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا سمجھتے تھے۔ پانچویں وہ جو مریم علیہا السلام کا باپ ہیلی سمجھتے تھے۔ چھٹے وہ جو مریم علیہا السلام کا باپ عمران سمجھتے تھے۔ لیکن قرآن مجید عمران ہی کو ثابت کرتا ہے۔ پس ناظرین کو دو امر ثابت ہو گئے ہوں گے۔ اول یہ کہ ہر سہ فریق مشرک، یہود، نصاریٰ توحید پر کوئی بھی ثابت قدم نہ تھا۔ دوم اصل واقعہ عیسیٰ علیہ السلام میں کئی طرح کے اختلافات کئے ہوئے تھے۔ جن کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کی
اصلیت بیان فرمادے۔ یہی وجہ نزول قرآن شریف ہے:۔ ”لم یکن الذین کفروا من اهل الکتاب والمشرکین، منفکین حتی تاتیهم البینه، رسول من الله یتلوا صحفا مطهرة فيها کتب قيمه (البینہ: ١ تا ٣)“ ﴿نہ تھے وہ لوگ جو کافر ہوئے اہل کتاب سے اور مشرک باز رہنے والے یہاں تک کہ آوے اس کے پاس دلیل روشن پیغمبر خدا کی طرف سے پڑھتا ہو صحیفہ پاکیزہ بیچ ان کے کتابیں قائم کرنے والی ہیں۔﴾
اب رہا امر دوم۔ قصہ عیسیٰ علیہ السلام قرآن مجید میں کیوں آیا۔ اس کی وجہ اختلاف مذکورہ بالا ہے۔ امر سوم ذکر مکر یہود سورۂ آل عمران میں کیوں آیا ہے۔ اس کی وجہ یہی کہ تمام اعتقادات باطلہ یہود ونصاریٰ جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کی نسبت رکھتے تھے۔ سورۂ آل عمران میں صفت حی القیوم اپنی بیان کی جو یہ صفت نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ ہی مریم علیہا السلام کو حاصل تھی۔ پس ثابت ہوگیا کہ ہر سہ اشخاص بندگان خدا میں سے تھے۔ اس کے بعد قرآن شریف کی تعریف فرمائی کہ یہ مصدق ہے تورات اور انجیل کا اور ساتھ ہی فرمایا کہ یہ فرقان ہے۔ یعنی فرق کرنے والا تحریفوں کا جو یہود ونصاریٰ نے تورات اور انجیل میں کی ہوئی تھی۔ اس کے بعد فرمایا بے شک جو لوگ منکر ہوئے ساتھ آیات اللہ کے ان کے لئے عذاب سخت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی بات آسمان زمین میں مخفی نہیں۔ اس کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو تمہاری صورتیں بناتا ہے بیچ رحم کے۔ جس طرح چاہتا ہے۔ یہ اشارہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف۔ یہ دونوں قومیں یہود و نصاریٰ افراط اور تفریط کرتی تھیں۔ یعنے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز فطرتی اور مریم علیہا السلام کو بدکار سمجھتے تھے اور بعض نصاریٰ بہ خلاف ان کے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور کوئی خدا کا بیٹا۔ کوئی تثلیث کو مانتا تھا۔ نتیجہ بحث ہذا کا یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے رحم میں صورت دے دیتا ہے بن باپ یا باپ ہر طرح سے قادر ہے نہ عیسیٰ علیہ السلام ناجائز فطرتی ہے اور نہ اس کا باپ یوسف ہے۔ علیٰ ہٰذا تین رکوع آل عمران تک مختلف طرح پر تردید یہود اور نصاریٰ بیان فرمائی ہے اور رکوع چہارم میں پروردگار نے اصل واقعہ عیسیٰ علیہ السلام و مریم شروع فرمایا۔ اس پر جس طرح تاریخ بیان کی جاتی۔ فرمایا کہ بے شک اللہ نے آدم علیہ السلام اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام لوگوں پر برگزیدہ کیا۔
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ اول آدم علیہ السلام جد پیغمبران تھے۔ اس کے بعد نوح علیہ السلام اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام بعدہ جتنے پیغمبر ہوئے آل ابراہیم سے ہوئے اور اس ٤٢
کے بعد آل عمران کو بیان فرمایا۔ عمران نام ہے والد مریم کا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آل ہیلی بھی سمجھتے ہیں جو آج کل بھی مریم علیہا السلام کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نام والد مریم عمران کے نام سے یاد کیا ہے۔ اب اس کے بعد منت ماننا بیان فرمایا اور اس میں تمام کیفیت نذر ماننے والدہ مریم کی بیان فرمائی کہ اس نے کس طرح نذر مانی تھی۔ معہ قبول نذر بیان فرمائی۔ اس کے بعد مریم کی پیدائش سے لے کر جب حضرت زکریا علیہ السلام کفیل ہوا تھا۔ بیان فرمایا۔ نیز تولد یحییٰ کی بھی پوری کیفیت بیان فرمائی جو حضرت مریم کی پیدائش سے کم نہیں۔ اس کے بعد رکوع پنجم میں مریم علیہا السلام کا برگزیدہ ہونا بیان فرمایا۔ اس کے بعد اپنے مامور آنحضرت ﷺ کی تصدیق بیان فرمائی:۔ ”ذلك من انباء الغیب نوحيه الیک“ (آل عمران: ٤٤)“
اس کے بعد وہ زمانہ بیان فرمایا جس وقت مریم کو فرشتوں نے تولد عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دی تھی۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کا تمام واقعہ بیان فرمایا کہ کس طرح دعوت بنی اسرائیل کی تکذیب دیکھ کر انصار سے مدد چاہی۔ علیٰ ہٰذا تمام قصہ عیسیٰ علیہ السلام کا آخر اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے کیا مکر کیا اور اللہ نے بھی مکر کیا اور اللہ بہتر تدبیریں کرنے والا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تم کو پورا لینے والا ہوں۔ یہ فرما کر پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دی۔ پس اس بیان سے رفع جسمانی ثابت ہوتا ہے۔ جو عنقریب ہم انشاء اللہ ناظرین پر ظاہر کریں گے۔ اس کے بعد اپنے آنحضرت ﷺ کی تصدیق فرمائی: ”ذلك نتلوه علیک من الایت والذکر الحکیم“ (آل عمران: ٥٨)“ اس کے بعد بیان فرمایا کہ پیدائش عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ مانند آدم علیہ السلام کے ہے۔
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ بعض نصاریٰ جو یہ دلیل اپنے لئے لاتے ہیں۔ مگر وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ جہاں آدم کا ذکر آیا ہے وہاں صرف عام انسان سے پروردگار مراد فرماتا ہے۔ یہ لفظ آدم علیہ السلام کے لئے نہیں آتا۔ ”یاایهاالانسان“ (الانشقاق: ٦) یاایهاالانسان ماغرك (انفطار: ٦) هل اتی علی الانسان حین من الدهر انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (الدهر: ١، ٢) ان الانسان لفی خسر (عصر: ٢) ان الانسان لربه لکنود (عادیات: ٦) لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (التین: ٤) ٤٣
کے بعد آل عمران کو بیان فرمایا۔ عمران نام ہے والد مریم علیہ السلام کا جس کو بعض یہودی و نصاریٰ ہیلی بھی سمجھتے ہیں جو آج کل بھی مریم علیہا السلام کے باپ کا نام ہیلی مشہور ہے۔ ایک اختلاف تو اللہ تعالیٰ نے نام والد مریم عمران کے نام سے رد کیا۔ اس کے بعد والدہ مریم علیہا السلام کا قول فرمایا اور اس میں تمام کیفیت نذر ماننے والدہ مریم کی جو کچھ کہ جواب وسوال اس وقت ہوئے تھے۔ معہ قبول نذر بیان فرمائی۔ اس کے بعد مریم علیہا السلام کی پرورش کا حال جو کہ زکریا علیہ السلام کفیل ہوا تھا۔ بیان فرمایا۔ نیز تولد یحییٰ کی بھی پوری کیفیت بیان فرمائی جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے کم نہیں۔ اس کے بعد رکوع پنجم میں مریم علیہا السلام کی تعریف شروع فرمائی اس کے بعد اپنے مامور آنحضرت ﷺ کی تصدیق بیان فرمائی: ”ذلك من انباء الغيب نوحيه اليك (آل عمران:٤٤)“
اس کے بعد وہ زمانہ بیان فرمایا جس وقت مریم علیہا السلام کو بذریعہ وحی تولد عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دی گئی تھی۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد دعوت بنی اسرائیل کی تکذیب دیکھی تو انصار سے مدد طلب کی۔ نیز انصار کی مدد کا حال بیان کیا۔ آخر اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرانے کی تدبیریں کیں مگر میں بہتر تدبیریں کرنے والا ہوں۔ اس کے بعد رکوع ششم آل عمران میں وہ خبر دی جو کہ مکر یہود کے وقت پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کو فرمائی تھی جس سے رفع الی السماء بجسد عنصری ثابت ہوتا ہے۔ جو عنقریب ہم انشاء اللہ ناظرین کو دکھائیں گے۔ اس کے بعد پھر مامور آنحضرت ﷺ کی تصدیق فرمائی:”ذلك نتلوه عليك من الايات والذكر الحکیم (آل عمران:٥٨)“ اس کے بعد بیان فرمایا کہ پیدائش عیسیٰ علیہ السلام میرے نزدیک مثل بابا آدم علیہ السلام کے ہے۔
ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ بعض لوگوں نے آدم علیہ السلام کے معنے عام انسان کے لئے ہیں۔ مگر وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ جہاں ذکر انسان کا قرآن میں آتا ہے۔ وہاں لفظ انسان سے پروردگار یاد فرماتا ہے۔ نہ لفظ آدم علیہ السلام سے:”فاما الانسان اذا ما ابتلاه (الفجر:١٥) يايها الانسان ماغرك (انفطار:٦) هل اتى على الانسان حين من الدهر انا خلقنا الانسان من نطفة (الدهر:١،٢) ان الانسان لفى خسر (عصر:٢) ان الانسان لربه لکنود (عادیات:٦)“
٤٣
الغرض تمام قرآن میں پروردگار نے انسان کا لفظ عام آدمی کے واسطے بیان فرمایا اور لفظ آدم تمام قرآن میں بابا آدم کے واسطے استعمال کیا۔ اب ہم اس دعوے کو قرآن شریف سے ثابت کر کے دکھاتے ہیں کہ لفظ آدم علیہ السلام مخصوص ہی ساتھ بابا آدم علیہ السلام کے ہے۔ دیکھو قول اللہ تعالیٰ کا: ”ان اللہ اصطفیٰ آدم“ اسی صورت اسی قصہ عیسیٰ علیہ السلام میں بیان فرماتا ہے۔ سورۃ آل عمران: ”وعلم ادم الاسماء ایضاً قال یادم ایضاً واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا، ایضاً وقلنا یادم اسکن ایضاً فتلقٰی ادم من ربہ ایضاً یابنی ادم قد انزلنا علیکم ایضاً یابنی ادم لا یفتننکم الشیطان ایضاً یابنی ادم خذوا زینتکم ایضاً یابنی ادم اما یاتینکم ایضاً ولقد عھد نا الی ادم ایضاً یادم ان ھذا“
یہ تمام مثالیں اسم آدم علیہ السلام کی جو قرآن شریف میں اللہ نے بیان کی ہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خدا نے لفظ آدم کے لئے مذکورہ بالا مقامات میں بیان نہیں فرمایا۔ پس ثابت ہوا کہ جن لوگوں نے: ”ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل ادم“ سے عام آدمی یا انسان نطقی خلقت سے مراد لیا ہے انہوں نے علانیہ غلطی ہی نہیں کی بلکہ تکفیر کی۔ کیونکہ ان کو اس غلطی پر یہ بھی کہنا پڑا کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ نہیں بلکہ یوسف کا بیٹا ہے۔ معاذ اللہ۔ اب ہم پھر بحث وہی پہلی ناظرین کو دکھاتے ہیں: ”ان مثل عیسیٰ“ کے بعد پروردگار نے فرمایا: ”الحق من ربک فلا تکونن من الممترین (آل عمران: ٦٠)“
ناظرین! الحق کا الف لام جنس کا ہے جس سے مراد تمام قصہ عیسیٰ علیہ السلام جو بیان ہوا ہے حق اور سچ ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر بن باپ پیغمبروں کے دکھانے والا نہ مقتول ہوا نہ مصلوب ہوا۔ لیکن یہود نے بھی مرزا قادیانی کی طرح انکار کیا۔ لہذا اس آیت کے بعد حکم مباہلہ ہوا۔ لیکن انہوں نے مباہلہ نہ مانا۔ پھر اس کے بعد پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو حکم فرمایا کہ کہہ دے مخالفوں کو کہ اگر اصل واقعہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مانتے اور اپنے اختلاف کو نہیں چھوڑتے اور مباہلہ کی طرف نہ آئے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں جھگڑنے لگے۔ کیونکہ یہود اپنے آپ کو ابراہیمی مذہب پر سمجھتے تھے۔ علیٰ ہذا عیسائی۔ اس کے جواب میں پروردگار نے فرمایا کہ ابراہیم نہ مذہب یہودی پر ہے نہ نصاریٰ پر۔ اس کے بعد جھگڑا کئی طرح ہوتا ہوتا۔ دس رکوع آل عمران تک چلا جاتا ہے۔ اس کے پروردگار مسلمانوں کو مخاطب کر کے احکام بیان فرماتا ٤٤
ہے۔ الغرض مجملہ اختلافات یہود و نصاریٰ میں مقتول کہ فی الحقیقت خلاف اصل بلکہ جھوٹ تھا۔ خدا تعالیٰ اختلاف جھوٹ یہود نصاریٰ کی قرآن شریف کا خلاصہ کرتے ہیں پروردگار قرآن شریف میں عیسیٰ علیہ السلام طرح بیان فرماتی ہے۔ بے شک میں لایا ہوں تمہارے وہ نشان ہے۔ بے شک میں پیدا کرتا ہوں واسطے تمہارے ہوں میں بیچ اس کے یعنی روح پس جب ہو جائے اور اچھا کرتا ہوں۔ مادر زاد اندھوں کو اور سخت برص کو سے اور خبر دیتا ہوں تم کو تمہاری اور جو کچھ کہ ذخیرہ کر فرمایا بے شک بیچ مذکورہ معجزوں کے ضرور نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے یعنی میری پیغمبری پر۔ اس تصدیق کرنے والا ہوں۔ تورات کا اور میں پیغمبر تمہارے بعض اس چیز کا جو حرام کی گئی ہیں اوپر تمہارے ان کی کے خدا تعالیٰ نے احکام سخت کئے ہوئے تھے
جیسا کہ سورۃ الانعام میں خدا فرماتا ہے قون (الانعام: ١٤٦)“ اسی طرح سورۃ نساء میں: ” نقضھم میثاقھم وکفرھم بآیات اللہ (النساء
اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نے کہا میں پس ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو۔ اس واسطے بے شک کی کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں نہ کہا کہ بعض تھے۔ اس کے بعد کہا یہی صراط مستقیم ہے۔ ناظر عیسیٰ علیہ السلام بیان فرمایا۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ ”فلما احس عیسٰی منھم الکفر (آل عمران
یعنی انکار پیغمبری عیسیٰ علیہ السلام اس دینے والا ہے مجھ کو طرف اللہ کی۔ الغرض انصار
ہے۔ الغرض منجملہ اختلافات یہود ونصاریٰ میں مقتول ومصلوب ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو کہ فی الحقیقت خلاف اصل بلکہ جھوٹ تھا۔ خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ اب ہم پہلے ثبوت دینے اختلاف جھوٹ یہود ونصاریٰ کی قرآن شریف کا خلاصہ مضمون جو کہ ماقبل مکر یہود کے ہے۔ بیان کرتے ہیں پروردگار قرآن شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت جو کہ وہ یہود کو کرتے تھے۔ اسی طرح بیان فرمائی ہے۔ بے شک میں لایا ہوں تمہارے پاس نشان پیغمبری کی رب تمہارے سے۔ وہ نشان ہے۔ بے شک میں پیدا کرتا ہوں واسطے تمہارے مٹی سے مثل صورت جانور کی پس پھونکتا ہوں میں بیچ اس کے یعنی روح پس جب ہو جائے گا جانور خدا کے حکم سے (نشانی یعنی معجزہ) اور اچھا کرتا ہوں۔ مادر زاد اندھوں کو اور سخت برص کو۔ بے شک زندہ کرتا ہوں مردوں کو خدا کے حکم سے اور خبر دیتا ہوں تم کو تمہاری اور جو کچھ کہ ذخیرہ کرتے ہو تم گھروں میں۔ آخر عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بے شک بیچ مذکورہ معجزوں کے ضرور نشانی ہے واسطے تمہارے (یعنی نشانی پیغمبری میری کی) اگر تم ایمان لانے والے یعنی میری پیغمبری پر۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نے کہا بے شک میں تصدیق کرنے والا ہوں۔ تورات کا اور میں پیغمبر اس لئے ہوا ہوں تاکہ حلال کروں واسطے تمہارے بعض اس چیز کا جو حرام کی گئی ہیں اور پر تمہارے یعنی یہودی شریعت میں بوجہ بے فرمانی۔ ان کی کے خدا تعالیٰ نے احکام سخت کئے ہوئے تھے۔
جیسا کہ سورۃ الانعام میں خدا فرماتا ہے: ”ذلك جزينا هم ببغیہم وانا لصاد قون (الانعام:١٤٦)“ اسی طرح سورۃ نساء میں: ”واخذ نامنهم ميثاقا غليظا فبما نقضهم ميثاقهم وكفرهم بايات الله (النساء:١٥٤،١٥٥)“
اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نے کہا میں لایا ہوں تمہارے پاس حکم رب تمہارے کے پس ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو۔ اس واسطے بے شک اللہ میرا اور رب تمہارا ہے۔ یعنی عبادت اس کی کرو عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں نہ کہا کہ بعض یہود عزیر کو خدا کا بیٹا بعض درویشوں کو خدا بناتے تھے۔ اس کے بعد کہا یہی صراط مستقیم ہے۔ ناظرین یہ جو مذکور ہوا ہے پروردگار نے حال دعوت عیسیٰ علیہ السلام بیان فرمایا۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ وہ خبر بیان فرماتا ہے جو یہود کے انکار کی تھی:
”فلما احس عيسى منهم الكفر (آل عمران:٥٢)“
یعنی انکار پیغمبری عیسیٰ علیہ السلام اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نے کہا انصار کو کون مدد دینے والا ہے مجھ کو طرف اللہ کی۔ الغرض انصار نے اقرار کیا کہ ہم مددگار ہیں اور ایمان لانے
٤٥
والے ہیں خدا پر اور تیری پیغمبری پر۔ اس کے بعد پروردگار وہ خبر بیان فرماتا ہے کہ جو یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرانے کے لئے تجویز کی تھی۔ اب ہم تجویز یہود بیان کرتے ہیں۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہدایت راہ مستقیم سے یہود نے انکار کیا۔ تب علماء یہود نے اس وقت کے بادشاہ کو کہا عیسیٰ علیہ السلام ناجائز فطرتی ، کذاب دعویٰ پیغمبری کرتا ہے اور احکام تورات کو چھوڑتا ہے۔ پس بادشاہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینے کا حکم دیا۔ لیکن پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور عیسیٰ علیہ السلام کے شبہ میں ایک اور شخص پکڑا گیا اور وہ سولی بھی دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بعض نصاریٰ بھی عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دیئے جانے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کی انجیلوں میں لکھا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اختلاف بھی لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر فوت نہیں ہوئے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر بے ہوش ہوگئے اور میعاد مقررہ پر سولی سے اتار لئے گئے۔ تب ان کو دفن کیا گیا حسب حکم بادشاہ کے پھر حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو رات کے وقت قبر سے نکال لیا۔ پھر وہ اپنی طبعی موت سے مرے۔ مگر اس اعتقاد نصاریٰ پر تین اعتراض ہیں۔ اول اگر فی الواقع عیسیٰ علیہ السلام سولی دیئے گئے ہوتے تو خدا تعالیٰ :"وما صلبوہ" کیوں فرماتا۔ دوم ذکر مکر یہود میں کیوں فرمایا اور مر جانے اور دفن کا کیوں نہ فرمایا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی و مرشد (سرسید احمد علی گڑھی ) مرزا قادیانی جس کی کتابوں سے مرزا قادیانی نے اپنا مذہب خود تراش کیا ہے۔ غرض قصہ عیسیٰ علیہ السلام سے بلکہ قرآن شریف سے یقیناً ناواقف ہیں۔ اب ہم دلائل نہ مرنے والے عیسیٰ علیہ السلام کے اور بجسد عنصری آسمان پر چڑھائے جانے کے ناظرین کو دکھلاتے ہیں۔ وہ دلائل یہ ہیں۔
دلیل اول ...... رکوع چہارم آل عمران جس میں قصہ عیسیٰ علیہ السلام شروع ہوتا ہے رکوع چھ تک جہاں قصہ عیسیٰ علیہ السلام کا ختم ہوتا ہے تمام وقف کافی ہیں۔ کافی وہ وقف ہوتا ہے جس کے ماقبل اور مابعد کا مضمون ملتا ہو۔ علیٰ ہذا وقف:"ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين (آل عمران:٥٤)" پر وقف کافی ہے۔
دلیل دوم ..... مکر یہود کے بعد اللہ تعالیٰ دعویٰ خیر الماکرین کا فرماتا ہے:"والله خیر الماکرین" اگر عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دیئے جانے یا مرجانے کا یقین کیا جائے تو دعویٰ ایزدی واللہ خیر الماکرین کا کوئی معنی نہیں۔ (کیونکہ دشمنوں کی مراد تو خدا کے مارنے سے برآئی۔ دشمنوں نے نہ مارا تو۔ نعوذ باللہ! )
٤٦
دلیل سوم ..... جہاں آیت:"والله خير الماكرين" ختم ہو شروع ہوتی ہے۔ کوئی عطف نہیں بلکہ اذ ( کیونکہ دشمنوں کی مرا دشمنوں نے نہ مارا تو ۔ نعوذ باللہ! ظرفیہ ہے۔ جس کا ظرف وہ وق السلام کو مکر یہود سے بچالیا۔
دلیل چہارم ..... آیت:"اذقال الله يا عيسى" میں ہے۔ یعنی ہذا: "والله خير الماكرين" کی تفسیر ہے۔
دلیل پنجم ..... :"انی متوفیک" جو ایک جملہ خبریہ ہے۔ اس م اٹھانے کے ہیں۔ کیونکہ خدا نے آگے کسی پیغمبر کے مرنے کی اطلا
دلیل ششم..... : " ورافعك " میں واو عطف تفسیری ہے۔ جس تجھ کو۔
دلیل ہفتم ..... " ورافعك " میں کاف خطاب کا ہے۔ خطاب روح کو دیکھو مثال قرآنی والدہ عیسیٰ علیہ السلام:"يـــامـــريـــم واصطفك (آل عمران : ٤٢) اسی طرح:"اذ اوحينا الى امك
دلیل ہشتم ..... کلمہ الی سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام لئے ورنہ الی کی ضرورت نہ تھی۔
دلیل نہم ..... و مطہرک اس میں دو دلیلیں ہیں۔ اٹھا لینے کی اور کے ہیں۔ نہ پلیدی سے پاک کرنے کے۔ دوم کاف خطاب کا ہے۔
دلیل دہم ..... :" من الذين كفرو ا " میں من تبعیضہ ہے ی مراد ہیں جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مکر یعنی تدب " وجاعل الذين اتبعوك ، فوق الذين كفروا الى يوم آیت ہذا سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ الس آئیں گے۔ کیونکہ آیت ہذا میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو فر والے لوگ تیرے مخالفوں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ ب تو آیت ہذا سے خوشخبری دینے کا کوئی معنی نہیں ضرور
٤٧
دلیل سوم...... جہاں آیت: ”والله خیر المکرین“ ختم ہوتی ہے اور آیت: ”اذقال الله“ شروع ہوتی ہے۔ کوئی عطف نہیں بلکہ اذ (کیونکہ دشمنوں کی مراد تو خدا کے مارنے سے برآئی۔ دشمنوں نے نہ مارا تو نعوذ باللہ! ظرفیہ ہے۔ جس کا ظرف وہ وقت ہے جب اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مکر یہود سے بچالیا۔
دلیل چہارم...... آیت: ”اذقال الله یاعیسٰی“ میں آنحضرت ﷺ کو مکر یہود کی خبر دی ہے۔ یعنی ہٰذا: ”والله خیر الماکرین“ کی تفسیر ہے۔
دلیل پنجم...... ”انی متوفیک“ جو ایک جملہ خبریہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معنے اس کے اٹھانے کے ہیں۔ کیونکہ خدا نے آگے کسی پیغمبر کے مرنے کی اطلاع نہیں دی۔
دلیل ششم...... ”ورافعك“ میں واو عطف تفسیری ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں۔ یعنی اٹھا لینے والا تجھ کو۔
دلیل ہفتم...... ”ورافعك“ میں کاف خطاب کا ہے۔ خطاب جسم مع الروح کو ہوتا ہے نہ صرف روح کو دیکھو مثال قرآنی والدہ عیسیٰ علیہ السلام: ”یامریم ان الله اصطفك وطهرك واصطفك (آل عمران:٤٢) اسی طرح: ”اذاوحينا الی امك مایوحی“
دلیل ہشتم...... کلمہ الی سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لئے ورنہ الی کی ضرورت نہ تھی۔
دلیل نہم...... ومطہرک اس میں دو دلیلیں ہیں۔ اٹھا لینے کی اول مطہرک کے اس مقام پر بچا لینے کے ہیں۔ نہ پلیدی سے پاک کرنے کے۔ دوم کاف خطاب کا ہے۔ جسم مع الروح کے واسطے ہوتا ہے۔
دلیل دہم...... ”من الذین کفروا“ میں من مبینہ ہے الذی موصولہ ہے کفروا سے۔ وہ یہود مراد ہیں جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مکر یعنی تدبیر پھانسی کی کرائی تھی۔ ایضاً دیکھو: ”وجاعل الذین اتبعوك،فوق الذین کفروا الی یوم القیمة (آل عمران:٥٥)“
آیت ہٰذا سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہی آسمانوں پر ہیں اور پھر آئیں گے۔ کیونکہ آیت ہٰذا میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو خوشخبری دیتا ہے کہ تیری پیروی کرنے والے لوگ تیرے مخالفوں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ اگر زندہ آسمان پر نہ چڑھائے جاتے تو آیت ہٰذا سے خوشخبری دینے کا کوئی معنے نہیں رہتے۔ ضرور ہی آویں گے۔ تصدیق آیت ہٰذا
دیکھو: ”وانہ لعلم للساعة، فلاتمترن بھاو اتبعون (الزخرف ٦١)“ لہٰذا پروردگار نے پہلی آیت میں قیامت کا لفظ فرمایا۔
دلیل یازدهم...... عطف ثم۔ یہ عطف تراخی کا ہے جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پروردگار نے خبر مکر یہود اور دعویٰ: ”اللہ خیر الماکرین“ سے ختم فرمایا اور وہ یہود جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ دربارہ مقتول ومصلوب عیسیٰ علیہ السلام کے جھگڑا کرتے تھے۔ ان کو مخاطب کر کے فرمایا ہے: ”ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیه تختلفون (آل عمران: ٥٥)“ آیت ہذا میں سب ضمیر مخاطب کے ہیں۔ اس سے ذرہ بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ آیت جس میں ہم بحث کر رہے ہیں۔ وہ یہودی مخاطب ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مقتول یا مصلوب ہونے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے۔
دلیل دوازدهم...... : ”فیما کنتم فیه تختلفون“ آیت ھذا میں فیہ جو ضمیر ہے مرجع اس کا مکر یہود ہے اور تختلفون سے صاف ثابت ہے کہ یہود نے اپنا اختلاف جو کہ وہ بعض مقتول ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا اور بعض مصلوب ہونا یقینی امر جانتے تھے۔ اس اعتقاد سے باز نہ آئے۔
دلیل سیزدهم...... ”فاما الذین کفروا “ سے صاف ثابت ہے کہ جولوگ بعد سمجھانے آنحضرت ﷺ کے اپنے اعتقاد سے باز نہ آئے۔ ان کے لئے وعدہ عذاب کا پروردگار نے فرمایا۔ جیسے کہ آیت ہذا ”فاعذبهم عذابا شدید“
دلیل چهاردهم...... ”واما الذین امنوا“ سے مراد ایمان لانا اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ مقتول ہوئے نہ مصلوب۔
دلیل پانزدهم...... : ”فمن حاجك فيه الخ“ آیت ہذا میں کوئی فرق نہیں اور نہ کوئی آیت ہذا کا فائدہ ہے۔ (معاذ اللہ)
دلیل شانزدهم...... : ”فمن حاجك فیه“ آیت ہذا مباہلہ کی آیت ہے اور فیہ کا ضمیر کا مرجع وہی اختلاف مکر یہود وغیرہ ہے۔ اگر یہود اپنے اعتقاد مقتول اور مصلوب سے باز آتے اور عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ سمجھتے تو مباہلہ کی ضرورت نہ تھی۔
دلیل هفدهم...... : ”ان هذا لهو القصص الحق“ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ وہ سچے قصے ہیں ؏ آیت ہذا مابعد تمام واقعات تردید اختلاف یہود و نصاریٰ جو کہ نسبت عیسیٰ علیہ السلام
٤٨
اور مریم علیہا السلام کرتے تھے۔ بطور فیصلہ کل مقولہ منجانب السلام بن باپ اور مریم علیہا السلام مس شیطان سے پاک اور نہ مصلوب۔ بلکہ بجسد عنصری آسمان پر چڑھائے گے جانا یا یوسف بن یعقوب کا بیٹا قرار دینا صحیح ہوتا تو آیت ہوتا۔ کیونکہ ہذا کا مشار الیہ اور ھو کا مرجع وہی بیان جو رکوع ششم تک جتنے آیت ہذا جس میں ہم بحث کر رہے
دلیل هیجدهم...... : ”وما قتلوه وما صلبوه الخ
دلیل نوزدهم...... ”بل رفعه الله“ اگر عیسیٰ علیہ السلام سمجھا جاوے تو آیت ہذا کا کوئی معنے نہیں۔
دلیل بستم...... : ”وان من اهل الكتاب الا لیو عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر نہ سمجھا جاوے تو آیت
دلیل بست ویکم...... : ”واذ کففت بنی اس دلیلیں ہیں۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام مکر یہود سے بچ جا ہے۔ کاف خطاب۔ جسم مع الروح کے واسطے استعمال
دلیل بست ودوم...... : ”وانه لعلم للساعة آیت ہذا سے تین امر ثابت ہوتے ہیں۔ اول عیسیٰ قیامت کی نشانی ہے۔ سوم زمانہ آنحضرت ﷺ ۔ پر مرزا قادیانی کی طرح انکار کرتے تھے۔ لہٰذا پرورد علامت ہے نہ نفس عیسیٰ علیہ السلام۔
دلیل بست سوم...... : ”وجعلنها وابنها ایت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہوا۔ اور زندہ آ
توفی کی بحث
اب ہم لفظ ”متوفی“ پر بحث کرتے السلام کا سمجھتے ہیں۔ لفظ ”متوفی“ کے بہت معنے الذی الخ والذین یتوفون منکم ویذر
اور مریم علیہا السلام کرتے تھے۔ بطور فیصلہ کُل مقولہ منجانب باری تعالیٰ بیان ہوا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بن باپ اور مریم علیہا السلام مس شیطان سے پاک ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب۔ بلکہ بجسد عنصری آسمان پر چڑھائے گئے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دیا جانا یا قتل کیا جانا یا یوسف بن یعقوب کا بیٹا قرار دینا صحیح ہوتا تو آیت: ”ان ھٰذا القصص الحق“ کا کوئی معنے نہ ہوتا۔ کیونکہ ہذا کا مشار الیہ اور ھو کا مرجع وہی بیان جو رکوع سوم سورہ آل عمران سے شروع ہو کر رکوع ششم تک بمعہ آیت ہذا جس میں ہم بحث کر رہے ہیں۔ ختم ہوا ہے۔ حق اور سچ ہے۔
- دلیل ہجدہم......: ”وما قتلوہ وما صلبوہ الخ“ پروردگار فرماتا۔
- دلیل نوزدہم......: ”بل رفعہ اللہ“ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو بجسد عنصری ”رفع الی السماء“ نہ
سمجھا جاوے تو آیت ہذا کا کوئی معنے نہیں۔
- دلیل بستم......: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ من قبل موتہ (النساء: ١٥٩)“ اگر
عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر نہ سمجھا جاوے تو آیت ہذا کا کوئی معنے نہیں۔
- دلیل بست و یکم......: ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک (المائدہ: ١١٠)“ آیت ہذا میں دو
دلیلیں ہیں۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام مکر یہود سے بچ گئے۔ دوم زندہ ہیں۔ کیونکہ خدا ”عنک“ فرماتا ہے۔ کاف خطاب بجسم مع الروح کے واسطے استعمال ہوتا ہے۔ نہ صرف روح کے۔
- دلیل بست و دوم......: ”وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترون بھا واتبعون (الزخرف: ٦١)“
آیت ہذا سے تین امر ثابت ہوتے ہیں۔ اول عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر ہیں۔ دوم ان کا پھر آنا قیامت کی نشانی ہے۔ سوم زمانہ آنحضرت ﷺ کے یہود عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اور پھر آنے پر مرزا قادیانی کی طرح انکار کرتے تھے۔ لہٰذا پروردگار نے ”فلا تمترون بھا“ فرمایا۔ ضمیر بھا کا مرجع علامت ہے نہ نفس عیسیٰ علیہ السلام۔
- دلیل بست سوم......: ”وجعلنھا وابنھا ایت للعالمین (الانبیاء: ٩١)“ سے صاف ثابت ہوتا
ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہوا۔ اور زندہ آسمانوں پر ہے ورنہ آیت ہذا کا کوئی معنی نہیں۔
توفی کی بحث
اب ہم لفظ ”متوفی“ پر بحث کرتے ہیں جس کے معنے مرزا قادیانی فوت ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا سمجھتے ہیں۔ لفظ ”متوفی“ کے بہت معنے ہیں۔ جیسا کہ: ”قل یتوفکم ملک الموت الذی الخ والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا (البقرہ: ٢٣٤)“ ان دونوں مقامات پر
٤٩
صاف موت کا معنے ہے۔ ایضاً: ”وهو الذی یتوفکم باللیل ويعلم ماجرحتم بالنهار (الانعام:٦٠)“ آیت ہذا سے ثابت ہے کہ لفظ توفی نیند کے معنے پر آیا ہے۔ ایضاً: ”فان شهدوا فامسكوهن فی البیوت حتی یتوفھن الموت (النساء:١٥)“ آیت ہذا میں صاف ثابت ہوتا ہے کہ لفظ ”توفی“ پورا لینے پر بولا گیا ہے جو حقیقی معنے ہیں۔ اگر موت کا معنی لیا جاوے تو لفظ موت لفظاً موجود ہے اور اگر ایک ہی معنی دونوں کا سمجھا جاوے تو بلاغت کے برخلاف ہے کیونکہ تکرار آتا ہے۔ الغرض توفی کے تین معنی ثابت ہوئے۔ پورا لینا حقیقتاً، موت مجازاً، نیند مجازاً۔ اب ہم آیت مکر یہود بیان کرتے ہیں۔ ”ومکروا“ معنیٰ اس کے یہ ہیں اور تدبیر کی انہوں نے یعنی یہود نے قتل کرانے یا سولی چڑھانے عیسیٰ علیہ السلام کی۔ ”ومکر اللہ“ اس کا معنے یہ ہے اور تدبیر کی اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بچاؤ کی۔ ”والله خیر الماکرین “ اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے بعد آیت یہ ہے۔ ”اذ قال الله یاعیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطهرک ...... الخ“
چونکہ متوفی کا معنے مارنے والا بھی ہے۔ لہٰذا پروردگار نے اس ابہام کو واو عطف تفسیری سے رفع کیا۔ جس کے یہ معنے ہیں یعنی اٹھانے والا ہوں تجھ کو۔ اور ”ومطهرک“ کے معنے اس مقام پر پہنچانے کے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”واذ كففت بنی اسرائیل عنک من الذین کفروا (المائدہ:١١٠)“ اس سے ثابت ہوا کہ حقیقت میں آیت: ”اذ قال الله یاعیسیٰ“ تفسیر ہے آیت قبل: ”ومکروا ومکر اللہ، والله خیر الماکرین“ کی۔ یادرہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں لفظ ”توفی“ پر بحث کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ صحیح بخاری میں ابن عباس کا مذہب متوفی بمعنے ممیتک ہے۔ بے شک یہ ٹھیک ہے۔ مگر گفتگو اس میں ہے کہ اپنی تفسیر میں انہوں نے لکھا ہے کہ: ”متوفیک ورافعک“ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ کیونکہ حرف واؤ مطلق جمع کے لئے آتا ہے۔ ترتیب کے لئے نہیں۔ چنانچہ مختصر معانی ومطول وغیرہ کتب میں لکھا گیا ہے۔ پس ابن عباس کا مذہب متوفیک بمعنی ممیتک درست ہوا کیونکہ خدا مسیح کو آسمان پر سے نازل کر کے وفات دے گا۔ ابن عباس کا مذہب دربارہ نزول مسیح از آسمان مرزا قادیانی کی تمام قلعی کو کھول دیتا ہے جس سے ان کی تمام شیخی کرکری ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی جاہل یوں بکنے لگے کہ خدا کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ تقدیم و تاخیر سے دھوکہ دیا جاتا ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ دھوکہ صرف انہیں ہوتا ہے جو اصول عربیت سے ناواقف ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں ہیں۔ دیکھو مریم
٥٠
علیہا السلام کو حکم ہوتا ہے: ”واسجدی وارکعی“ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے: ”نموت ونحییٰ“ حالانکہ قیاس ہر دو مثالوں میں بر خلاف تھا۔ واضح رہے کہ اس قسم کا تقدم و تاخر بھی کئی فوائد پر مشتمل ہوتا ہے۔ علم بلاغت والے جانیں۔ مرزا قادیانی کو کیا خبر لیکن مرزا قادیانی بوجہ بے علمی اپنی کے لفظ ”متوفی“ کا معنے مارنے والا عیسیٰ علیہ السلام کا لے کر دعویٰ مسیح موعود کا بنا بیٹھے۔ تب اس میں مرزا قادیانی کو یہ مشکل درپیش ہوئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی کہیں تلاش کی جاوے تو بہتر ہے۔ عرصہ دراز تک آپ کو یہ تلاش دامن گیر رہی آخر آپ کو کہیں سے سراغ ملا کہ کشمیر میں ایک قبر بنام یوز آصف یعنی بکمان مرزا قادیانی یسوع مشہور ہے۔ اس پر آپ کو موقع مل گیا کہ اسی قبر کو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مشتہر کیا جائے۔ چنانچہ اس بہتان کو شائع بھی کر دیا۔ افسوس جب کوئی انسان جھوٹا دعویٰ عدالت میں دائر کرتا ہے تب اس کو کئی جھوٹی شہادتیں اور مواقع بنانے ہی پڑتے ہیں۔ مرزا قادیانی آپ کی تحریک ایک میری نظر سے گزری ہے۔ جس میں ایک شخص مخاطب تھا۔ اس تحریر میں آپ نے اس کو لکھا ہے کہ اگر تم عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ قرآن شریف سے ثابت کر دو تو میرے سب دعوے باطل ہو جائیں گے۔ لہٰذا خاکسار عرض کرتا ہے کہ اب آپ مشتہر کر دیں کہ میرے سب دعوے باطل ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی: ”ویل لکل افاک اثیم یسمع ایات اللہ تتلی علیہم ثم یصر مستکبرا کان لم یسمعھا فبشرہ بعذاب الیم (الجاثیہ:٧، ٨)
ہم اب حواریوں کو مخاطب کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے حواریوں میں حکیم مولوی نور الدین صاحب ہیں۔ انہوں نے دعوائے حواریت مرزا قادیانی میں دو غلطیاں کی ہیں۔ اوّل لفظ ”حواری“ عبرانی ہے۔ معنی اس کا دھوبی ہے۔ بے شک دھوبی نہیں۔ لہٰذا حکیم صاحب کا یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ دوم مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نہیں جو حکیم صاحب ان کے حواری بن سکیں۔ صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ ثبوت نہیں۔ کیا کوئی آج کل عیسائی مذہب اختیار کرے تو حواری بن سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ جو لوگ زمانہ موجودگی عیسیٰ علیہ السلام میں ان پر ایمان لائے تھے۔ ان کو بھی حواری نہیں کہا جاتا تھا۔ بلکہ حواری وہی دھوبی تھے جو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اسلام میں مدد دی ان کا خطاب ہے۔ ہم اس خطاب کو قرآن شریف سے ثابت کرتے ہیں۔ دو حواری عیسیٰ علیہ السلام نے شہر انطاکیہ میں توحید پھیلانے کے لئے بھیجے: ”اذا رسلنا الیہم اثنین فکذبوھما (یسین:١٤)“ لیکن شہر والوں نے اس کی تکذیب کی۔ پھر تیسرا حواری بھیجا گیا: ”فعززنا بثالث“ خلاصہ بحث ہٰذا کا یہ ہے کہ ایک آدمی اس شہر
٥١
میں اول اول حواریوں کی تلقین سے خدا پر ایمان لایا جس کی خبر اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں بیان فرماتی ہے۔ دیکھو آیت ہذا: ”وجاء من اقصا المدينة رجل يسعیٰ قال يقوم اتبعوا المرسلین الخ (یسین:٢٠)“ مگر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو ایمان لانے والے پر بھی لفظ حواری استعمال نہیں کیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حواری وہی دھوبی تھے نہ پچھلے جو اول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور توحید پھیلانے میں مدد دی۔ پس ثابت ہوا کہ نہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام ہیں نہ حکیم صاحب حواریت کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں۔ بلکہ بخیال خود وہ مسیح ہیں اور حکیم صاحب حواری نیز حکیم صاحب بخیال خود گروپ انصار مرزا قادیانی اور مہاجرین بھی ہیں لیکن مرزا قادیانی اور انصار کی برکت سے اسلام کو یہ فائدہ تو بے شک ہوا کہ پنڈتوں اور عیسائیوں نے اسلام اور بزرگان اسلام کی اپنی تصانیف میں سخت ہجو لکھیں اور گالیاں دیں۔ میرے محسن حکیم صاحب دیکھو خدا تعالیٰ کیا فرماتا ہے: ”ومن اظلم ممن افتریٰ علیٰ الله كذبا۔ اوقال اوحیٰ الیٰ ولم یوح الیه شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل الله (الانعام:٩٣) میرے محسن حکیم صاحب دعویٰ حواریت تو آپ کسی طرح کر ہی نہیں سکتے ۔ رہا دعوے انصاریت لیکن وہ بھی صحیح نہیں اس لئے کہ لفظ انصار جہاں قرآن شریف میں آتا ہے وہاں مراد ان لوگوں سے ہوتی ہے جو کہ وہ پہلے کافر تھے پھر وہ ایمان لائے۔ خدا اور رسول پر پھر انہوں نے پیغمبر صاحب کو مدد دی توحید پھیلانے میں۔ کس طرح کی مدد یا تو تلوار سے مخالفوں کو مارا یا مالی مدد دی۔ پھر کب جبکہ حضرت ﷺ پر نہایت تنگی کا وقت تھا۔ دیکھئے آیت: ”لقد تاب الله علیٰ النبي والمهاجرين والانصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم ثم تاب عليهم (التوبہ:١١٧) چونکہ آپ مسلمان ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ کیونکہ آپ کے والدین مسلمان خاندانی تھے۔ پھر آپ نے کوئی مدد فی سبیل اللہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ کو مالی یا بدنی نہیں دی۔ پس ثابت ہوا کہ آپ کا دعوے انصاریت بھی غلط ہے۔ حکیم صاحب نے دعویٰ مہاجریت میں بھی دو غلطیاں کی ہیں۔ اوّل مہاجر اصطلاح اسلام یا یوں کہو کہ قرآن شریف میں ان شخصوں پر بولا جاتا ہے جنہوں نے پیغمبر صاحب ﷺ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کی تھی۔ غلطی دوم جنہوں نے ہجرت آنحضرت ﷺ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ کی طرف کی ان کو اصحاب بھی بولا جاتا ہے۔ نہ تو حکیم صاحب نے حضرت کے ساتھ ہجرت کی۔ نہ اصحابی کا خطاب پایا نہ پہلے سے مکہ معظمہ کے رہنے والوں کی طرح کافر تھے۔ بلکہ قدیمی مسلمان خاندان ٥٢
شہر بھیرہ کے باشندے نہ مکہ کے پردیسی کیا مشابہت رکھتا ہے۔ دیکھو تعریف مہاجروں کی بعد ہاجروا وجاہدوا معكم فاولئک یا محمد مشہور کرے تو وہ پیغمبر ہو سکتا ہے۔ کیا حکیم رکھنے سے علم پڑھا سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ نہ حکیم صاحب م مرشد اور دیکھئے شروع قرآن میں پروردگار فرماتا وہ صاحب ”ایاک نعبد وایاک نستعين“ اور نہ حکیم دعوے حواریت انصاریت ، مہاجریت آیات ہذا حکیم صاحب و مرزا قادیانی کے حسب انفسكم وانتم تتلون الكتاب افلا تعقل بالباطل وتكتموا الحق انتم تعلمون(ا نوٹ: یادرہے کہ ہم نے اس غرض کل بیان نہیں کئے۔ صرف بطور نمونہ دکھائے پوری کی جائے بموجب منشاء قرآن شریف کے
غرض ششم اختلافات یہودی القتل
ناظرین! گو غرض پنجم مکر یہودی کر چکے ہیں۔ مگر یہ نہیں دکھلایا کہ دوسری جگہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ “ آنحضرت ﷺ یہود مختلف اعتقاد رکھتے تھے مقتول ہوئے اور اور بعض یقین رکھتے تھے آنحضرت ﷺ کو مشتبہ کرتا ہے کہ یہود مجھ کو س تحقیق سوال کیا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام تیرے دکھاؤ ہم کو اللہ روبرو:”یسئلون اہل سالوا موسىٰ اكبر من ذلك ...... الخ
شہر بھیرہ کے باشندے کا نام مکہ کے مہاجروں پر رکھ کر قادیاں میں آنا بھلا ہجرت اصحاب کے ساتھ کیا مشابہت رکھتا ہے۔ دیکھو تعریف مہاجروں کی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’والذین امنوا من بعد ھاجروا وجاهدوا معكم فاولئك منكم (الانفال: ٧٥)‘‘ کیا کوئی بوالہوس اپنا نام احمد یا محمد مشہور کرے تو وہ پیغمبر ہوسکتا ہے۔ کیا حکیم نام رکھنے سے حکمت آسکتی ہے۔ کیا مولوی نام رکھنے سے علم آسکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔
پس ثابت ہوا کہ نہ حکیم صاحب معانی قرآن شریف سمجھتے ہیں اور نہ آپ کے پیر مرشد اور دیکھئے شروع قرآن میں پروردگار فرماتا ہے: ’’اياك نعبد واياك نستعين‘‘ اگر ہر دو صاحب ’’اياك نعبد واياك نستعين‘‘ کے معانی سمجھتے تو مرزا قادیانی دعویٰ الوہیت نہ کرتے اور نہ حکیم دعوے حواریت انصاریت، مہاجریت۔ ’’تعالیٰ عما يقولون‘‘ کوئی شک نہیں کہ آیات ہذا حکیم صاحب و مرزا قادیانی کے حسب حال ہیں: ’’اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسكم وانتم تتلون الكتاب افلا تعقلون (البقره: ٤٤)‘‘ ایضاً: ’’ولا تلبسوا الحق بالباطل وتكتموا الحق وانتم تعلمون (البقره: ٤٢)‘‘
نوٹ: یاد رہے کہ ہم نے اس غرض کے متعلق آیات بلکہ تمام اغراض کے متعلق آیات کل بیان نہیں کئے۔ صرف بطور نمونہ دکھائے ہیں۔ اگر ایک غرض کی تمام آیات اور تفصیل بھی پوری کی جائے بموجب منشاء قرآن شریف کے تو ایک غرض سے ہی کتاب بنتی ہے۔
غرض ششم اختلافات یہودی القتل والصلب کے بیان میں
ناظرین! گو غرض پنجم مکر یہود میں عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء بجسد عنصری ثابت کر چکے ہیں۔ مگر یہ نہیں دکھلایا کہ دوسری جگہ قرآن شریف میں پارہ ٦ سورہ نساء رکوع ٢١ میں: ’’وما قتلوه وما صلبوه‘‘ خدا تعالیٰ نے کیوں فرمایا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ زمانہ آنحضرت ﷺ یہود مختلف اعتقاد رکھتے تھے۔ بعض یقین رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول ہوئے اور بعض یقین رکھتے تھے کہ مصلوب ہوئے ہیں۔ شروع رکوع میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو متنبہ کرتا ہے کہ یہود تجھ کو سوال کرتے ہیں یہ کہ اتارے تو ان پر کتاب آسمان سے پس تحقیق سوال کیا موسیٰ علیہ السلام سے تیرے سوال سے زیادہ ۔ یعنی یہود یوں سوال کرتے تھے کہ دکھاؤ ہم کو اللہ روبرو: ’’يسئلك اهل الكتاب ان تنزل عليهم كتابا من السماء فقد سالوا موسى اكبر من ذلك...... الخ (النساء: ١٥٣)‘‘
٥٣
اب ناظرین کو خلاصہ مضمون رکوع ہٰذا دکھاتے ہیں تاکہ :”وماقتلوہ وماصلبوہ“ کا مطلب حل ہو جاوے۔ وہ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سوال کرتے تھے کہ تو خدا ہم کو ظاہر دکھا دے تو پھر ہم ایمان لائیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سوال کو قبول کیا اور چند آدمی یہودیوں کے منتخب کر لئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدا کے دیکھنے کے لئے کوہ طور پر گئے۔ یہ مفصل قصہ سورۃ اعراف میں ہے۔ پھر وہ تجلی باری تعالیٰ سے بے ہوش ہو گئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ہوش میں آئے۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پھر بھی ایمان نہ لائے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان پر پہاڑ طور کو اٹھا کر گرانے لگا۔ تب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے التجا کی کہ اگر یہ پہاڑ رک جاوے تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔ علی ہٰذا کئی ایک عہد شکنیاں اسی قسم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہودیوں نے کی تھیں۔ پس اسی واسطے اس رکوع میں پروردگار نے علت بیان فرمائی ہے کہ یہودی بیوفا قوم ہے۔ اس واسطے ان پر احکام شرعی سخت کئے گئے۔ پھر ان کی بے وفائیاں اور عیوب متعدد میں سے وہ عیب عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں بیان فرمائے۔
عیب اوّل...... :”وبکفرہم وقولہم علی مریم بہتانا عظیما (النساء:١٥٦)“ اے ناظرین آپ کو یاد رہے کہ یہودیوں کے عیبوں میں اسے اللہ تعالیٰ نے ایک عیب بیان فرمایا ہے جس کو مرزا قادیانی نے یہودیوں کی طرح قائم رکھا ہوا ہے۔
عیب دوم...... یہود کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے قتل کرایا۔ چنانچہ یہی اعتقاد ان کا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے :”وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ (النساء:١٥٧)“ یہ اعتقاد یہود کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں تھا۔ چونکہ یہ اعتقاد صحیح نہ تھا لہٰذا پروردگار نے رد اعتقاد مذکورہ بالا پر یہ آیت فرمادی :”وماقتلوہ وماصلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وماقتلوہ یقینا بل رفعہ الیہ وکان اللہ عزیزا حکیما (النساء:١٥٨)“
آیت ہٰذا سے یہ امور ثابت ہوتے ہیں۔ اوّل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارا نہیں گیا۔ دوم مصلوب بھی نہیں ہوا۔ سوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شک میں کوئی اور شخص پکڑا گیا۔ چہارم جو لوگ مارے جانے یا قتل ہو جانے کا یقین کرتے ہیں۔ وہ تابع ظن کے ہیں بمعنے ان کے پاس کوئی سند نہیں اگر ہے تو وہ غلط ہے۔ پنجم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ ششم :”وکان اللہ عزیزا حکیما“ یہ آیت جوامع الکلم اس مقام پر آیا کرتی ہے ٥٤
جہاں انسان یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہے۔ یہی اعتراض بل رفعہ اللہ میں ہو سکتا ہے کہ خ زندہ کیوں اٹھا لیا تو اس کے جواب میں یہ جوامع ا چڑھانے یا اٹھانے کی وہی حکمت جانتا ہے۔ اے اعتقاد مرزا قادیانی اور یہود میں کوئی فرق نہیں :”وت
غرض ہفتم مباہلہ مخالفین کے بیان میں
ایک امر بحث طلب ہے جب تک اس نہیں ہو سکتی۔ وہ یہ ہے مباہلہ کیوں ہوا۔ اس لئے ک مصلوب اور بعض کہتے تھے مقتول ہوئے اور حضرت یقین تھا۔ برخلاف یہود کے نصاریٰ بعض حضرات ع تثلیث کو مانتے تھے۔ علیٰ ہٰذا یہود بعض عزیر علیہ ال ارباب بنا بیٹھے تھے۔ چونکہ غایۃ الغایۃ کتاب ال کفر پر ثابت قدم نہیں لہٰذا پروردگار نے حضرت مح کے لئے مبعوث کیا۔ لیکن انہوں نے اپنے اپنے ا مجنوں کا خطاب دیا۔ چونکہ آنحضرت ﷺ اسی مذکورہ بالا اظہار کیا۔ چونکہ یہ سب اعتقادات آنحضرت ﷺ نے ان کے اعتقاد کو رد کیا۔ تب ب قصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کی۔ جو سوالا بارہ میں کئے۔ ان کے جواب میں پروردگار نے بی بھی انہوں نے حق کو اختیار نہ کیا، بلکہ یہود بہتا نہ آئے۔ ہر دو فریق اپنے اعتقاد افراط اور تفر کا آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا :”فمن حاج تعالوا ندع ابناء نا و ابناء کم ونس فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین (آل اور ساتھ ہی پروردگار نے قصہ حضرت عیسیٰ علیہ الس چنانچہ میرے مضمون مذکورہ بالا کی آئ
جہاں انسان یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا حکم کس واسطے بھیجا ہے۔ یا ایسا کیوں کیا ہے۔ یہی اعتراض بل رفعہ اللہ میں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ کیوں اٹھا لیا تو اس کے جواب میں یہ جوامع الکلم آیا ہے کہ خدا تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ چڑھانے یا اٹھانے کی وہی حکمت جانتا ہے۔ اے ناظرین! اب آپ کو ثابت ہو گیا ہوگا کہ واقعی اعتقاد مرزا قادیانی اور یہود میں کوئی فرق نہیں: ”ویل یومئذ للمکذبین“
غرض ہشتم مباہلہ مخالفین کے بیان میں
ایک امر بحث طلب ہے جب تک اس امر کا بیان نہ کیا جاوے تب تک غرض مباہلہ معلوم نہیں ہو سکتی۔ وہ یہ ہے مباہلہ کیوں ہوا۔ اس لئے کہ یہود بعض کہتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب اور بعض کہتے تھے مقتول ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ناجائز فطرتی ہونے پر کامل یقین تھا۔ برخلاف یہود کے نصاریٰ بعض حضرات عیسیٰ علیہ السلام کو خود خدا اور بعض خدا کا بیٹا اور بعض تثلیث کو مانتے تھے۔ علیٰ ہٰذا یہود بعض عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے اور بعض درویشوں کو ارباب بنا بیٹھے تھے۔ چونکہ غایۃ الغایات کتاب الٰہی کا توحید کو ثابت کرنا تھا اور یہ دونوں قومیں کفر پر ثابت قدم تھیں لہٰذا پروردگار نے حضرت محمد ﷺ کو مامور کر کے دونوں قوموں کی تردید اعتقاد کے لئے مبعوث کیا۔ لیکن انہوں نے اپنے اپنے اعتقادات باطلہ کو نہ چھوڑا بلکہ کذاب مفتری شاعر مجنوں کا خطاب دیا۔ چونکہ آنحضرت ﷺ امی تھے۔ لہٰذا علماء یہود اور نصاریٰ نے اپنا اپنا اعتقاد مذکورہ بالا اظہار کیا۔ چونکہ یہ سب اعتقادات برخلاف اصلیت اور برخلاف توحید تھے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے ان کے اعتقاد کو رد کیا۔ تب یہود اور نصاریٰ عالموں نے مشورہ کر کے اصلیت قصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کی۔ جو سوالات دونوں قوموں نے آنحضرت ﷺ پر جس جس بارہ میں کئے۔ ان کے جواب میں پروردگار نے بذریعہ وحی جبرائیل علیہ السلام نازل فرمائے۔ مگر پھر بھی انہوں نے حق کو اختیار نہ کیا۔ جتنے یہود بہتان سے باز نہ آئے اور نصاریٰ اپنے اعتقاد سے باز نہ آئے۔ ہر دو فریق اپنے اعتقاد افراط اور تفریط میں قائم رہے۔ لہٰذا پروردگار نے حکم مباہلہ کا آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا: ”فمن حاجک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابناء ناو ابناء کم ونساءنا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین (آل عمران:٦١)“ لیکن مخالفین نے مباہلہ کو بھی اختیار نہ کیا اور ساتھ ہی پروردگار نے قصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق فرمائی اور معبود واحد کی تصدیق کی۔
چنانچہ میرے مضمون مذکورہ بالا کی آیت ہٰذا مصدق ہے: ”ان ہذا لھو القصص
٥٥
الحق ومامن اله الاالله ،وان الله لهو العزيز الحكيم، فان تولوا فان الله عليم بـالـمـفـسدين (آل عمران:٦٢،٦٣) ”جب دونوں قوموں نے مباہلہ کو اختیار نہ کیا اور اپنے اعتقادات باطلہ سے بھی باز نہ آئے۔ تب اللہ نے یہ فرمایا:” قل يـااهـل الـكـتـاب تـعـالـوالى كلمة سواء بيننا وبينكم الانعبد الا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله، فان تولوا فقولوا اشهد وابانا مسلمون (آل عمران:٦٤)“ یہی جھگڑا مختلف صورتوں میں دور تک چلا جاتا ہے۔ پس نتیجہ بحث ہذا کا یہ ہوا کہ دونوں قومیں یہود اور نصاریٰ نے اپنے اپنے اعتقادات باطلہ کو نہ چھوڑا۔ جس طرح مرزا قادیانی اب یہودیوں کی طرح اعتقاد نہیں چھوڑتے۔
غرض ہشتم اختلافات اعتقادات نصاریٰ بحق عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
اے ناظرین! یہاں آیت میں اعتقاد نصاریٰ ورد اعتقاد بیان کئے جاتے ہیں۔
- اول....... وہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے:”وقـالـت الـنـصـارى الـمسيح
ابن الله (التوبہ:٣٠)“ جواب:”ذلك قولهم بافواههم“
- دوم....... جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا جانتے ہیں:”لـقـد كـفـر الـذيـن قـالـوان الله هو
المسيح ابن مريم (المائدہ:٧٢)“ جواب:”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبل الرسل (المائدہ:٧٥)“
- سوم....... اعتقاد تثلیث:”لقد كفر الذين قالوا ان الله ثالث ثلثة(المائدہ:٧٣)“
جواب:”لاتقولوا ثلثة“
غرض نہم احسان باری تعالیٰ کے بیان میں
”اذقـال الله يـاعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذا ايدتك بروح القدس ،يكلم الناس فى المهد وكهلا واذعلمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذتخلق من الطين كهيّة الطير باذني فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى وتبرى الاكمه والابرص باذني، واذتخرج الموتى باذنى واذكففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ما هذا الا سحر مبين (المائدہ:١١٠)“
اے ارباب بصیرت مذکورہ بالا آیات سے آپ کو ثابت ہو گیا ہوگا کہ تمام معجزے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح ہیں۔ کیونکہ اس موقع پر بطور احسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
٥٦
مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ نیز ایک ان اختلافوں کا بیان فرمایا جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہوئے:”واذكففت بنى اسرائيل عنك اذ جئـ منهم ان هذا الا سحر مبین“ آیت ہذا سے تین با علیہ السلام کو خدا نے بچایا۔ دوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کو سحر کہا۔ سمجھا جاتا ہے۔ پھر ناظرین غور فرما سکتے ہیں کیا اعتقاد مرزا قادیان مرزا قادیانی کو اگر علم ہوتا تو یہ دعوے ہرگز نہ کرتے۔
غرض دہم......سوال باری تعالیٰ بروز قیامت
”واذا قـال الله يـاعيسى ابن مريم الهين “ ﴿اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے میری کو دو معبود﴾ ”من دون الله ، قال سبحنـ بـحـق ، ان كنت قلته “﴿سوا اللہ کے کہے گا پاکی تجھ کہ نہیں واسطے میرے لائق﴾ ”فقـد علمته ، تعلم انك انـت عـلـام الغيوب “﴿اگر میں نے کہا ہو گا یہ بـ جو کچھ بیچ خیال میرے کے اور﴾ ”مادمت فيهم فـ عليهم وانـت عـلـى كـل شـي شهيد (المائدہ:١١ پروردگار میرے کو اور پروردگار اپنے کو اور میں اوپر ان کـ اٹھا لیا تو نے مجھ کو تو ہے نگہبان اوپر ان کے۔﴾
ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ مذکورہ بالا آیات بـ تعالیٰ اور جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مذکور ہوئے ہیں
- امر اوّل....... اسی رکوع سورۃ مائدہ میں یہ سوال جواب
- امر دوم....... پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کو شروع میں
اور والدہ میری کو دو معبود سوا اللہ کے۔
- امر سوم....... مضمون سوال جواب باری تعالیٰ کی غرض کیا
ایک کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف لفظ ”توفیتنی“ کامع
٥٧
مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ نیز ایک ان احسانوں میں سے احسان بند رکھنے بنی اسرائیل کا بیان فرمایا جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ مصلوب ہوئے اور نہ مقتول ہوئے: ”واذاکففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین“ آیت ہذا سے تین امر ثابت ہوئے اوّل مکر یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے بچایا۔ دوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو معجزے دکھائے۔ سوم یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کو سحر کہا۔ یہی عقیدہ تمام تصنیفات مرزا قادیانی میں پایا جاتا ہے۔ پھر ناظرین غور فرما سکتے ہیں کیا اعتقاد مرزا قادیانی اور یہود میں کچھ فرق ہے؟ بے شک مرزا قادیانی کو اگر علم ہوتا تو یہ دعوے ہرگز نہ کرتے۔
غرض دہم...... سوال باری تعالیٰ بروز قیامت
”واذقال اللہ یاعیسی ابن مریم أنت قلت للناس اتخذونی وأمی الہین“ ﴿اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے کیا تو نے کہا تھا لوگوں کو پکڑو مجھ کو اور ماں میری کو دو معبود﴾: ”من دون اللہ ،قال سبحانک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق ،ان کنت قلتہ“ ﴿سوا اللہ کے کہے گا پاکی تجھ کو نہیں واسطے میرے یہ کہ کہوں میں وہ چیز کہ نہیں واسطے میرے لائق﴾: ”فقد علمتہ ،تعلم مافی نفسی ولااعلم مافی نفسک انک انت علام الغیوب“ ﴿اگر میں نے کہا ہوگا یہ تو بس تحقیق جانتا ہوگا تو اس کو جانتا ہے تو جو کچھ بیچ خیال میرے کے اور﴾: ”مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علی کل شیء شہید (المائدہ: ١١٧،١١٦)“ ﴿اس کے یہ کہ عبادت کرو اللہ کو پروردگار میرے کو اور پروردگار اپنے کو اور میں اوپر ان کے شاہد جب تک رہا میں بیچ ان کے جب اٹھا لیا تو نے مجھ کو تو ہے نگہبان اوپر ان کے۔﴾
ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ مذکورہ بالا آیات جو کہ بطرز سوال و جواب یعنی سوال باری تعالیٰ اور جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مذکور ہوئے ہیں۔ ان میں تین امر بحث طلب ہیں۔
- امر اوّل...... اسی رکوع سورۂ مائدہ میں یہ سوال جواب کیوں ہوئے۔
- امر دوم...... پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کو شروع میں یہ کیوں فرمایا تو نے کہا تھا لوگوں کو پکڑو مجھ کو
اور والدہ میری کو دو معبود سوا اللہ کے۔
- امر سوم...... مضمون سوال جواب باری تعالیٰ کی غرض کیا ہے۔ اگر ہم ان کو مفصلاً بیان کریں تو یہ بھی
ایک کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف لفظ ”توفیتنی“ کا مطلب ناظرین کو دکھلاتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ
٥٧
معنے ”توفیتنی“ کا اگر اس جگہ میں اٹھالینا عیسیٰ علیہ السلام کا بجسد عنصری نہ ہوتا تو ضرور لفظ موت کا بیان استعمال ہوتا۔ اس لئے کہ یہ لفظ مشتبہ المعنے تھا۔ جیسا کہ ہم اسی لفظ کو بہت معنوں کے لئے قرآن شریف میں غرض پنجم مکر یہود میں مفصلاً دکھا چکے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ”توفیتنی“ کا معنے قصہ عیسیٰ علیہ السلام میں فوت ہونے کا نہیں۔ معاذ اللہ فوت ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا یہودیوں کا اعتقاد تھا۔ نہ اہل اسلام کا۔ دوم رکوع ١٦ جس میں ہم بحث کر رہے ہیں اور رکوع ١٥ جو ماقبل ١٦ کے ہے۔ اس میں پروردگار نے اپنے تمام احسانات جو عیسیٰ علیہ السلام پر کئے ہوئے تھے۔ بیان فرمائے۔ منجملہ احسانات میں سے ایک احسان عیسیٰ علیہ السلام کا مکر یہود سے بچنا ہے: ”اذ کففت بنی اسرائیل عنک“ پس آیت ہذا سے بھی ثابت ہوا کہ توفیتنی کا معنے اٹھا لینے کے ہیں۔ کیونکہ رکوع ١٥ جہاں ختم ہوتا ہے اور رکوع ١٦ شروع ہوتا ہے۔ وہاں وقف کافی ہے۔ یعنی مضمون ماقبل اور مابعد کا ملتا ہے۔
حصہ دوم تکذیب قادیانی
فصل اوّل ...... مسیح موعود بننے کی خودغرضیوں میں
خودغرضی اوّل دعوائے مسیحیت میں۔ مرزا قادیانی نے دعوائے مسیحیت میں چار غلطیاں کی ہیں۔ غلطی اوّل ...... مسیح کا لفظ عبرانی ہے۔ معنے اس کا جس کے ہاتھ لگانے سے لاعلاج مریض اچھے ہوں یا مردے زندہ ہوں۔ یہ اوصاف عیسیٰ علیہ السلام کے قرآن شریف سے ثابت ہوتے ہیں: ”وابرئ الاکمہ والابرص واحیی الموتیٰ باذن اللہ (آل عمران: ٤٩)“ پس قرآن شریف سے مسیح کا صحیح معنے یہی ثابت ہوا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ نہ سیاحت جو کہ مرزا قادیانی نے سمجھے ہیں۔ قرآن شریف سے ثابت نہیں اور نہ ہی سیاحت موصوف کے لئے صفت ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی میں مسیحیت کے اوصاف نہیں تو دعوے کیونکر کر سکتے ہیں۔ اب ہم اسم مسیح کی غرض بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے زمانہ مسیح میں طبیبوں کا بڑا زور تھا۔ اور اپنے علم و تجربات کا ان کو نہایت گھمنڈ تھا۔ حتیٰ کہ صفات الوہیت کو دعوے طب سے چھوڑتے جاتے تھے۔ چونکہ پروردگار کو اپنی قدرت کاملہ کا اظہار اور طبیبوں کو عاجز کرنا منظور تھا لہٰذا خدا تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو دو خواص برخلاف فطرت انسانی کے بخشے۔ اوّل بن باپ پیدا ہونا۔ دوم شفا بے علاج ادویہ ہونا۔ یہ دونوں خواص طبیبوں کے نزدیک غیرممکن تھے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فطرت میں ممکن کیا اور فرمایا کہ یہ میری قادریت کا نشان ہے۔ جیسا کہ: ”وجعلنها وابنها اية للعالمين (الانبیاء: ٩١)“ سے ثابت ہے۔
٥٨
علیٰ ہذا موافق ضرورت زمانہ کے ہر پیغمبر کو موسیٰ میں ساحروں کا زور تھا۔ ان کے عاجز کرنے کے خدا تعالیٰ نے عطا فرمایا اور ساحران کو عاجز کیا۔ دیکھو: ” والقى السحرة ساجدين قالوا امنا بر (الاعراف: ١١٩، ١٢٠)“ اور زمانہ آنحضرت ﷺ میں شاعر لئے حضرت رسول اللہ ﷺ امی خدا نے پیدا کئے جو ایک شک کرنے لگے۔ جیسا کہ آیت ہذا سے ثابت ہوتا ہے: الا افک نِ افتراہ واعانه علیہ قوم اخرون تعالیٰ نے کفار کا بیان فرمایا ہے۔ یہودی برخلاف کفار کی۔ جیسا کہ پروردگار یہود کا قول بیان فرماتا ہے: ”واذ سمعنا لو نشاء لقلنا مثل هذا ان هذا الا اساطی رد میں پروردگار نے قرآن شریف میں بہت جگہ فرمایا سورتیں لاؤ مثل اس کے۔ آخر یہ فرمایا کہ کہہ دے اے اور تمام جن اس غرض سے کہ بناویں مثل اس قرآن کی شک اگرچہ ہوویں بعض ان کے واسطے بعض کے پرور آنحضرت ﷺ کو دینے لگے۔ اس کے جواب میں پرورد کو شعر نہیں سکھایا اور نہ لائق ہے واسطے اس کے شعر ”وما علمنه الشعر و ماینبغی له ان هو الا بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ معجزہ اور خواص میں صرف لفظی عادت پیغمبر سے صادر ہو تو اس کا نام معجزہ ہے۔ اور اگر کرامت ہے۔ اگر یہی فعل حکیم سے صادر ہو تو اس کا نا صادر ہو تو اس کا نام دانائی ہے۔ اگر یہی فعل کسی مخالف سے یا سحر۔ پس جو لوگ معجزوں کے منکر ہیں۔ حقیقت میں الہی فطرت ہم مشاہدہ سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر معجزہ سے ان فطرتی بالمشاہدہ بیان کرتے ہیں مثلاً سنگ مقناطیس کا لو
٥٩
علیٰ ہذا موافق ضرورت زمانہ کے ہر پیغمبر کو خواص جدا جدا دیئے گئے۔ جیسا کہ زمانہ موسیٰ میں ساحروں کا زور تھا۔ ان کے عاجز کرنے کے لئے خواص ید بیضا اور عصا حضرت موسیٰ کو خدا تعالیٰ نے عطاء فرمایا اور ساحران کو عاجز کیا۔ دیکھو: ” فغلبوا هنالك وانقلبوا صاغرين والقي السحرة ساجدين قالوامنا برب العالمين رب موسیٰ وهارون (الاعراف:١١٩، ١٢٢) “ اور زمانہ آنحضرت ﷺ میں شاعروں کا زور تھا اور ان کے عاجز کرنے کے لئے حضرت رسول اللہ ﷺ امی خدا نے پیدا کئے جو ایک بڑے تعجب کی بات تھی۔ اس پر بھی مخالف شک کرنے لگے۔ جیسا کہ آیت ہذا سے ثابت ہوتا ہے: ” وقال الذين كفروا ان هذا الا افك ن افتراه واعانه عليه قوم اخرون (الفرقان: ٤) “ فرمان واضح ہو کہ یہ قول اللہ تعالیٰ نے کفار کا بیان فرمایا ہے۔ یہودی برخلاف کفار کے کہتے تھے کہ یہ قرآن کہانیاں ہیں پہلوں کی۔ جیسا کہ پروردگار یہود کا قول بیان فرماتا ہے: ” واذا تتلى عليهم اياتنا قالوا قد سمعنا لو نشاء لقلنا مثل هذا ان هذا الا اساطير الاولين (الانفال: ٣١) “ لیکن یہود کے رد میں پروردگار نے قرآن شریف میں بہت جگہ فرمایا ہے کہ ایک سورت لاؤ مثل اس کی۔ دس سورتیں لاؤ مثل اس کے۔ آخر یہ فرمایا کہ کہہ دے اے محمد ﷺ یہود کو کہ اگر اکٹھے ہوئیں تمام آدمی اور تمام جن اس غرض سے کہ بناویں مثل اس قرآن کی۔ نہ بنا سکیں گے مثل اس قرآن کے۔ بے شک اگر چہ ہوویں بعض ان کے واسطے بعض کے مددگار۔ پھر کفار اور یہود تہمت شاعری کی آنحضرت ﷺ کو دینے لگے۔ اس کے جواب میں پروردگار نے تردید فرمائی کہ ہم نے اس محمد ﷺ کو شعر نہیں سکھایا اور نہ لائق ہے واسطے اس کے شعر کرے۔ نہیں وہ قرآن مگر نصیحت ظاہر: ” وماعلمناه الشعر و ماينبغی له ان هو الاذكر وقرآن مبین (يس: ٦٩) “ ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ معجزہ اور خواص میں صرف لفظی فرق ہے۔ مثلاً اگر امر غیر ممکن یعنی خارق عادت پیغمبر سے صادر ہو تو اس کا نام معجزہ ہے۔ اور اگر وہی کسی ولی اللہ سے ظاہر ہو تو اس کا نام کرامت ہے۔ اگر یہی فعل حکیم سے صادر ہو تو اس کا نام حکمت ہے۔ اگر یہی فعل عام آدمی سے صادر ہو تو اس کا نام دانائی ہے۔ اگر یہی فعل کسی مخالف شرع سے صادر ہو تو اس کا نام استدراج ہے یا سحر۔ پس جو لوگ معجزوں کے منکر ہیں۔ حقیقت میں ان کو علم خواص الاشیاء کا نہیں۔ جب اختلاف فطرت ہم مشاہدہ سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر معجزہ سے انکار کرنا علانیہ غلطی ہے۔ اب ہم اختلاف فطریٰ بالمشاہدہ بیان کرتے ہیں مثلاً سنگ مقناطیس کا حدید کو جذب کرنا بوٹی لاجونتی کا سایہ مرد سے
٥٩
مرجانا۔ مچھلی کا خشکی میں مرنا۔ سم الفار کا حیوانات کے لئے قاتل ہونا۔ تریاق کا رافع سم کے لئے مفید ہونا۔ تمباکو ہمیشہ کا معطس ہونا۔ حب الملوک کا مسہل ہونا۔ افیون کا قابض ہونا۔ پانی کا مبرد و آتش کا محرق ہونا۔ کھمبیوں کا بغیر بیج کے نمو کرنا۔ طوطا مینا کا کلام کرنا۔ عورت کا بے ریش مرد کا ریش دار ہونا۔ حیوان مذکور کا اپنے مادہ حاملہ کا تمیز کرنا۔ انسان کا تمیز نہ کرنا یہ سب بدیہی دلائل تفاوت فطرتی ہیں۔ اسی کا نام ہے۔ ”خاصية الشئ توجد فيه ولا يوجد في غيره“ پس ثابت ہوا کہ مردوں کا زندہ کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاصہ تھا اور اژدھا عصا کا بنانا ید بیضا کرنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خاصہ تھا۔ اور شق القمر ومعراج بجسد عنصری کرنا حضرت محمدﷺ کا خاصہ تھا۔ بے شک اللہ قادر ہے: ”ان الله على كل شئ قدير۔“
غلطی دوم ....... مرزا قادیانی مسیح اسم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قبل از تولد خدا تعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوا ہے۔ دیکھو آیت ہذا: ”یامریم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم
(آل عمران: ٤٥)“
اور ساتھ ہی یہ صفات بھی خدا تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں بیان فرمائے ہیں۔ عزت والا دنیا و آخرت میں ۔ مقرب تولد کے روز ہی باتیں کرنے والا۔ نیکو کار واقف خواص الاشیاء ۔ تورات اور انجیل کو بغیر پڑھے پڑھنے والا پیغمبر بنی اسرائیل کا ۔ خدا کے اذن سے جانور پیدا کرنے والا ۔ مادر زاد اندھوں کو اچھا کرنے والا ۔ سخت برص کو اچھا کرنے والا ۔ بفضل اللہ مردوں کو زندہ کرنے والا ۔ بفضلہ کھائی گئی چیزوں کا بتانے والا ۔ بفضلہ پوشیدہ چیزوں کو بتانے والا ۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے یہ صفات عطاء فرمائی ہیں۔ اسی واسطے نام مسیح رکھا ہے۔ جو اسم بامسمے ہونے کی دلیل ہے۔ آپ کا نام غلام احمد ہے۔ کیا آپ کے نام کوئی سورۃ ہے۔ کیا آپ کی والدہ کے نام کوئی سورۃ ہے۔ کیا آپ کی والدہ ماجدہ کی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے۔ ہم اس لئے پوچھتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کی خدا تعالیٰ نے تعریف کی ہے۔ تعریف بھی ایسی کی کہ کسی اور پیغمبر کی والدہ یا بیوی کی نہیں کی۔ دیکھئے آیت ہذا: ”واذا قالت الملئكة يامريم ان الله اصطفك وطهرك على نساء العالمين (آل عمران: ٤٢)“ پس ثابت ہوا کہ آپ ہی اپنا نام رکھنے والے ہو۔ لیکن اپنے آپ نام رکھنے سے صفات نام کا مدعی نہیں ہو سکتا ۔ ہم اس مسئلہ کو تمثیلاً سمجھتے ہیں۔ مثلاً ایک بوالہوس اپنا نام وائسرائے مشہور کرتا ہے۔ مگر نام وائسرائے سے اختیار اصل وائسرائے کے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔ علی
٦٠
ہٰذا ! مرزا قادیانی دعوے مسیح بے صفات کے مدعی مسیح نہیں ہو سکتے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”ورسولا الی بنی اسرائیل (آل عمران:٤٩) بلکہ مسلمانوں کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور جو کچھ اتاری گئی طرف ہمارے اور جو کچھ اتاری گئی طرف ابراہیم علیہ السلام کے اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور اولاد اس کی کے اور جو کچھ دے گئے موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور جو کچھ دی گئی پیغمبروں کو پروردگار اپنے سے اور ہم نہیں جدائی ڈالتے درمیان کسی کے ان میں سے اور ہم واسطے ان کے فرمانبردار ہیں۔ دیکھو آیت ہٰذا: ”قولوا امنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسمعيل واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما أوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون (البقرہ:١٣٦)“
خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ ایمان اللہ کے ساتھ لایا جاوے پھر قرآن شریف کے ساتھ۔ پھر جو کچھ دے گئے تمام پیغمبر علیہم الصلوٰۃ والسلام اور کسی پیغمبر میں فرق بھی نہ کیا جاوے۔ سب کی اطاعت یکساں کی جاوے۔ مرزا قادیانی کیا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہا السلام پر بہتان لگانے کا حکم ہے جو آپ لگاتے ہیں؟
غلطی سوم ...... مرزا قادیانی کو کوئی مشابہت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ نہیں یعنے نہ تو آپ قوم یہود میں سے ہیں۔ نہ آپ کا نام خدا کی طرف سے مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہے۔ بلکہ نام غلام احمد ہے۔ غرض آپ کا دعویٰ قرآن شریف سے ہرگز سچا نہیں لہٰذا آیت ہٰذا کے آپ مصداق نہیں۔ ”ويل يومئذ للمكذبين“
غلطی چہارم ...... مرزا قادیانی! عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں خدا تعالیٰ فرمایا ہے۔ دیکھو آیت ہٰذا: ”ان هو الا عبد انعمنا وجعلناه مثلا لبنی اسرائیل . ولو نشاء لجعلنا منكم ملائكة فى الارض يخلقون . وانه لعلم للساعة فلا تمترون بها واتبعون هذا صراط مستقيم (الزخرف: ٥٩ ، ٦١)“ آیت ہٰذا سے پانچ امور ثابت ہوتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان۔ یادگار بنی اسرائیل۔ صفات ملائکہ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پھر آنا نشان قیامت ہے۔ اس زمانہ کے یہود پیغمبری کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھر آنے کی نسبت مرزا قادیانی کی طرح منکر تھے۔ لہٰذا پروردگار نے ”وانه لعلم للساعة“ کے ساتھ ”فلا تمترون بہا“ بھی فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے
٦١
پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پھر آنا ضمیر بہا سے ثابت ہوتا ہے۔ ناظرین کو مطلع رہے کہ ضمیر بہا کا مرجع علامت ہے نہ نفس عیسیٰ ۔ یہی دلیل قوی ہے۔ پھر آنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لہٰذا پروردگار نے بعد اس کے: ”هذا صراط مستقیم“ فرمایا۔ ناظرین غور کرو پھر غور کرو۔ مرزا قادیانی کے حق میں نہ تو خدا تعالیٰ نے انعام کا وعدہ کیا۔ نہ نمونہ واسطے بنی اسرائیل کے ہوئے اور نہ فرشتوں کی سی صفات دیئے گئے۔ نہ آپ کا آنا قیامت کا نشان ہوا اور نہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کی طرح خطاب کلمۃ اللہ و روح اللہ و مسیح عطاء ہوئے۔ تو پھر آپ کا دعویٰ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ ایضاً عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے نہیں کوئی اہل کتاب مگر ضرور ایمان لاوے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے قبل مرنے اس کے کے: ”وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته (النساء:١٥٩)“
مرزا قادیانی اپنے گریبان میں منہ ڈالو۔ آپ کے دعویٰ مسیحیت پر ابھی تک کوئی اہل کتاب بلکہ مسلمان بھی ایمان نہیں لائے۔ تقریباً آپ کی عمر ٦٠ یا ٧٠ سال کی ہوگی۔ نہ تو قیامت آئی نہ آپ پر کوئی ایمان لایا۔ بلکہ جب سے جناب کا دعویٰ مسیح موعود ہوا ہے تب سے طاعون آپ کی برکت کا نشان ہے۔ اور جو آپ کے الہاموں نے مسلمانوں کو فائدہ دیا ہے۔ خصوصاً الہام عبداللہ آتھم لیکھرام وہ تو اظہر من الشمس ہے۔ ناظرین کو مفصلاً سمجھایا جاتا ہے کہ جس روز عبداللہ آتھم تاریخ الہامی مرزا قادیانی فوت نہ ہوا۔ ہر شہر میں پادریوں اور پنڈتوں نے اسلام پر سخت ناجائز الفاظ استعمال کئے۔ خصوصاً گوجرانوالہ میں تو ایک ممثل مرزا قادیانی بنا کر منہ سیاہ کیا اور اس کی پیشانی پر سفید حروف میں مرزا قادیانی تحریر کیا۔ پھر اس کو گدھے پر الٹے منہ چڑھا کر تمام بازاروں میں باجوں کے ساتھ پھرایا۔ دوسرا الہام مرزا قادیانی لیکھرام کی بابت اس الہام کا مسلمانوں کو یہ فائدہ ہوا کہ ہزاروں مسلمان بعوض لیکھرام ناحق شہید ہوگئے اور مسلمان اور پیغمبر صاحب واہل پیغمبر صاحب پر سخت ناجائز ہجو کی گئی اور ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں میں سخت تفرقہ پڑ گیا جس کی بناء روز بروز ترقی پر ہے۔ دیکھو تصنیف امہات المومنین اور تکذیب احمدیہ مؤلفہ لیکھرام ۔ ارباب بصیرت پر مخفی نہ رہے کہ بطفیل مرزا قادیانی اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر ضعف پہنچا ہے جس کو قلم تحریر نہیں کر سکتا۔ لیکن پادریوں اور پنڈتوں کو واضح رہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا یہ ہرگز منشاء نہیں جو مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اگر قصور ہے تو مرزا قادیانی کا نہ مسلمانوں اور اسلام کا۔ کیونکہ مسلمان مولویوں نے تو مرزا قادیانی پر کفر کے فتوے دیئے ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی جی! اپنے گریبان میں منہ ڈالو۔ آپ کو کیا استحقاق ہے مسیحیت سے؟ آپ کے ٦٢
دوست اور امان پر مرید حتیٰ کہ رشتہ دار جو کئی سال سے ہیں۔ ایک تو ان کا پاؤں نہیں چلتا۔ دوسرا ایک آنکھ کی بی ایک مرض بھی رفع نہ ہوئی۔ پھر افسوس ہے آپ کے دع نفس امارہ کے برخلاف چلیں اور اپنی غلطیوں کا اقرار ک دوزخ کے بچاؤ کے لئے کہتا ہوں۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ اپ لكل افاك اثيم . يسمع آيات الله تتلى عليه فبشره بعذاب الیم (الجاثیہ:٧، ٨)“ ”ویل یومئذ حصہ دوم ...... دعویٰ مہدویت مرزا قادیانی میں تی تین مدعی مہدی اور بھی سنے جاتے ہیں۔ مہدی سوڈان جناب کا ہے۔ نہ معلوم آپ سچے ہیں یا وہ۔ دوم۔ مرزا مہدویت ۔ امامت ۔ مجددیت۔ لیکن اس سے پہلے قادیانی کا بروزی طور پر رسولی دعوے بھی ہے اور سا دیکھو: ”ومبشرا برسول یاتی من بعد اسم مبارک نکالتے ہیں۔ لیکن اس میں مرزا قادیانی نے تیں نام غلام احمد ہے نہ کہ احمد۔ دوم مرزا قادیانی نے ماقبل میں نقص آتا تھا۔ ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ یہ بحث جو ہ میں مذکور ہے۔ شروع سورۃ ہٰذا میں پروردگار مسلمانو دعویٰ نہ کرو۔ دعویٰ کرنا بہت بری بات ہے نزدیک ا موسیٰ علیہ السلام کا حال تمثیلاً بیان فرمایا کہ قوم موسیٰ ع شروع کی تھی۔ بعوض اس ایذاء کے پروردگار نے قوم ومائدہ وبقرہ میں ہے۔ پھر اس کے بعد پروردگار اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی رہے تھے کہ میں رسول اللہ کا ہوں۔ طرف تمہارے میرے ہے تو رات سے اور خوشخبری دینے والا ہوں ب نام اس کا احمد ہے۔ پس جب آیا ان کے پاس پیغم ظاہر ہے۔ دیکھو آیت ہٰذا: ”واذ قال عیسی اب ٦٣
دوست اور اس پر مرید حتیٰ کہ رشتہ دار جو کئی سال سے آپ کے جان فدا اور مرضوں میں مبتلا ہیں ۔ ایک تو ان کا پاؤں نہیں چلتا۔ دوسرا ایک آنکھ کی بصارت نہیں۔ جناب سے اتنے عرصہ میں ایک مرض بھی رفع نہ ہوئی۔ پھر افسوس ہے آپ کے دعویٰ مسیحیت پر اب آپ کو مناسب ہے کہ نفس امارہ کے برخلاف چلیں اور اپنی غلطیوں کا اقرار کر کے مشتہر کریں۔ میں صرف آپ کے دوزخ کے بچاؤ کے لئے کہتا ہوں۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے حق میں کیا فرماتا ہے۔ ”ویل لکل افاك اثيم ٠ يسمع ايات الله تتلى عليه ثم يصر مستكبرا كأن لم يسمعها فبشره بعذاب الیم (الجاثیہ: ٧، ٨)“ ”ویل یومئذ للمکذبین“
خود غرضی دوم ...... دعویٰ مہدویت مرزا قادیانی میں تین سوال پیدا ہوئے ہیں۔ اوّل اس وقت تین مدعی مہدی اور بھی سنے جاتے ہیں۔ مہدی سوڈان ۔ مہدی کابل۔ مہدی کوئٹہ۔ چوتھا دعویٰ جناب کا ہے۔ نہ معلوم آپ سچے ہیں یا وہ۔ دوم ۔ مرزا قادیانی کے معاً چار دعوے ہیں۔ مسیحیت۔ مہدویت ۔ امامت ۔ مجددیت ۔ لیکن اس سے پہلے کسی نبی اور رسول نے نہیں کئے۔ سوم مرزا قادیانی کا بروزی طور پر رسولی دعوے بھی ہے اور ساتھ ہی قرآن شریف کا حوالہ دیتے ہیں ۔ دیکھو: ”ومبشرا برسول یاتی من بعد اسمه احمد “ اسم احمد سے مرزا قادیانی اپنا اسم مبارک نکالتے ہیں۔ لیکن اس میں مرزا قادیانی نے تین غلطیاں کی ہیں۔ اوّل یہ کہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ہے نہ کہ احمد ۔ دوم مرزا قادیانی نے ماقبل اور مابعد آیت کا چھوڑ دیا اس لئے کہ دعویٰ میں نقص آتا تھا۔ ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ یہ بحث جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ سورۃ الصّف پارہ۔٢٨ میں مذکور ہے۔ شروع سورۃ ہٰذا میں پروردگار مسلمانوں کو فرماتا ہے کہ جو بات تم نہیں جانتے اس کا دعویٰ نہ کرو۔ دعویٰ کرنا بہت بری بات ہے نزدیک اللہ کے۔ اور بعد اس کے پروردگار نے قوم موسیٰ علیہ السلام کا حال تمثیلاً بیان فرمایا کہ قوم موسیٰ علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذاء دینی شروع کی تھی۔ بعوض اس ایذاء کے پروردگار نے قوم موسیٰ کو ایذاء دی۔ یہ مفصل قصہ سورۃ اعراف و مائدہ و بقرہ میں ہے۔ پھر اس کے بعد پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کی تمثیل بیان فرمائی کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھا رہے تھے کہ میں رسول اللہ کا ہوں۔ طرف تمہارے، ماننے والا ہوں واسطے اس چیز کے جو آگے میرے ہے تورات سے اور خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ اس پیغمبر کے جو آوے گا پیچھے میرے جو نام اس کا احمد ہے۔ پس جب آیا ان کے پاس پیغمبر ساتھ ظاہر دلیلوں کے کہا انہوں نے یہ جادو ظاہر ہے۔ دیکھو آیت ہٰذا: ”واذ قال عيسى ابن مريم يابني اسرائيل انی رسول
٦٣
الله اليكم مصدقاً لما بين يدى من التوراة ومبشراً برسول ياتى من بعدى اسمه احمد (الصف:٦)“
ناظرین! یہ آیت خدا تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کا قول بیان کر رہا ہے کہ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا۔ لیکن انکار عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کا سورۃ مائدہ میں بیان ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کو تہذیب سکھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے پیغمبر کا انکار اور دعویٰ بے جا جس کا علم نہ ہو نہ کیا کریں۔ مابعد کی آیت میں پروردگار یہودیوں کو جو عیسائی مذہب رکھتے تھے۔ ضمیر غائب کے ساتھ سمجھا یا دلاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ میرے بعد پیغمبر احمد آئے گا جو کہ وہ محمد رسول ﷺ سے مراد ہے اور مابعد کی آیت کے حصہ میں اللہ تعالیٰ نصاریوں کو فرماتا ہے کہ جب پیغمبر احمد صلعم ان کے پاس احکام قرآن شریف لایا تو انہوں نے کہا کہ یہ سحر ظاہر ہے۔ یہ کیوں کہا۔ اس لئے کہ محمد ﷺ اُمّی تھے۔ باوجود اُمی ہونے کے احکام قرآن شریف سناتے تھے۔ تو بوجہ انکار پیغمبری آنحضرت ﷺ کو تہمت سحر کی دیتے تھے۔ دیکھو آیت ہٰذا: ”فلما جاء هم بالبينات قالوا هذا سحر مبين“ آیت ہٰذا کی مابعد کی آیات پروردگار نے اس تہمت سحر کی تردید فرمائی اور اپنے مامور محمد ﷺ کی تصدیق فرمائی کئی ایک مثالوں میں۔ پس ثابت ہوا کہ اسم احمد سے مراد غلام احمد قادیانی نہیں ہے۔ ”ويل يومئذ للمكذبين“
غلطی سوم ...... مرزا قادیانی اسم احمد، یٰس، طہ، مزمل، مدثر حضرت ﷺ کے خدا کی طرف سے اسم خطابی ہیں۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کہے ہیں۔ روح اللہ۔ کلمۃ اللہ۔ روح القدس۔ مسیح۔ فرماویں آپ غلام احمد کو اُڑا کر احمد کے مدعی بن بیٹھے۔ ایسے جھوٹے دعوے یہودی عالم کرتے تھے۔ دیکھو آیت ہٰذا: ”ويقولون ومن عند الله وما هو من عند الله، ويقولون على الله الكذب وهم يعلمون (آل عمران:٧٨)“
خود غرضی سوم دعوے امامت میں مرزا قادیانی نے دعویٰ امامت تو کیا مگر غلط، کیونکہ امام کا معنے قرآن بھی ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”فی امام مبین“ پھر مرزا قادیانی قرآن کس طرح بن سکتے ہیں۔ دوم امام بمعنے پیغمبر بھی آیا ہے جیسا کہ: ”يوم ندعو كل اناس بامامهم“ سے پیغمبر مراد ہے۔ بے شک مرزا قادیانی نے پیغمبری کا دعویٰ کیا مگر کوئی کتاب الہامی یعنی اسلامی کتاب نہیں لائے۔ لہٰذا دعویٰ صحیح نہیں۔ سوم بے شک نماز پڑھانے والے کو بھی امام کہا جاتا ہے۔ اگر ان معنوں سے مرزا قادیانی امام ہیں تو بھی صحیح نہیں کیونکہ مرزا قادیانی تو کبھی جماعت کراتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ
٦٤
مرزا قادیانی کا امام مولوی عبد الکریم ہے لہذا بہت مناسب ہے کہ دعوے امامت کو مولوی عبد الکریم کے حوالے کریں۔ چہارم ایک امام اور بھی ہوتا ہے جس کو مجتہد بھی کہتے ہیں۔ جیسا کہ امام اعظمؒ۔ امام ابو حنیفہؒ۔ امام شافعیؒ۔ امام مالکؒ۔ امام احمد بن حنبلؒ۔ چونکہ مرزا قادیانی نے بجز فساد کے شریعت محمدی میں کوئی اجتہاد نہیں کیا صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام دعوے مرزا قادیانی کے جھوٹے ہیں۔ دعویٰ سچا وہ ہوتا ہے جس کو خدا سچا فرماوے۔ آؤ سچا مدعی دکھائیں: ”یٰسین ۔ والقرآن الحکیم ۔ انک لمن المرسلین (یٰسین: ١ تا ٣)“
خود غرضی چہارم الہام دعائے بد میں
اے ناظرین! دشمن کی بددعا سے اگر خدا تعالیٰ اپنا قانون قدرت بدلنے لگتا تو جہاں فنا ہوجاتا۔ یہ مرزا قادیانی کے خلل دماغی کا نتیجہ ہے جو کہ وہ اپنے ناصح کو بددعائیں دیتے ہیں۔ افسوس کہ مرزا قادیانی خود غرضی کی وجہ سے حکم قرآن شریف کو بھول جاتے ہیں: ”والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین (آل عمران: ١٣٤)“ مرزا قادیانی کا فریب باطل لغو الہاموں سے اپنا اعمال نامہ کیوں خراب کر رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنا قانون قدرت نہیں بدلتا: ”ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر وکان الانسان عجولا (بنی اسرائیل: ١١)“
خود غرضی پنجم طاعون میں
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ طاعون اس لئے ہندوستان پنجاب میں پڑا کہ لوگ مجھے مسیح موعود نہیں مانتے۔ اس دعویٰ میں مرزا قادیانی نے تین، چار غلطیاں کی ہیں۔ غلطی اول ...... مرزا قادیانی کا دعویٰ قرآن شریف سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ وحی خود حکم: ”واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ کے برخلاف کر رہے ہیں۔ غلطی دوم ...... ہر بیماری کے لئے اسباب قدرتی ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ دیہات ہندوستان پنجاب میں ایسے ہیں جہاں طاعون کا نام و نشان بھی ابھی تک نہیں ہوا اور انشاء اللہ بعض گاؤں ایسے محفوظ رہیں گے جو وہاں طاعون نہ ہوگا۔ غلطی سوم ...... مرزا قادیانی ہندوستان اور پنجاب میں ہزاروں گاؤں ایسے بھی موجود ہیں جو مرزا قادیانی کے نام و نشان سے بھی واقف نہیں لیکن طاعون سے تباہ اور ویران ہو گئے ہیں۔ مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ ان کی کیا خطا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں اپنے مریدوں کے محفوظ رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ حالانکہ ہر ایک شہر میں جہاں طاعون پڑا ہے۔ مرزائی لوگ بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ غالباً مرزا قادیانی اس کی وجہ بتلاویں گے کہ وہ لوگ خالص الایمان نہیں
٦٥
تھے۔ جیسا کہ وہ خود اس پیش گوئی میں بطور حفظ ما تقدم لکھ چکے ہیں۔ افسوس الغرض بیماری طاعون کے اصل اسباب سماوی اور ارضی ہیں گو بعد اس کے کرم پیدا ہو جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی بددعا کا کوئی اثر نہیں۔ افسوس مرزا قادیانی خود غرضی کی وجہ سے دعوے قادریت خدا تعالیٰ کو بھی بھول گئے : ”ان الله يفعل مايريد۔ انه فعال لما يريد“
خود غرضی ششم وجہ تسمیہ دارالامان قادیان کے بیان میں
افسوس مرزا قادیانی نے یہ نہ سوچا کہ دارالامان کن معنوں میں بن سکتا ہے۔ موت حیات اور تکلیفات کا سلسلہ بدستور ہے۔ الغرض دارالامان اسم بامسمی نہیں۔ اے مرزا قادیانی اور دارالمحرم ہے۔ وہ جس کو پروردگار نے دارالامان کے لفظ سے یاد فرمایا ہے۔ دیکھو: ”و اذ جعلنا البيت مثابه للناس وامنا (البقرہ: ١٢٥) ایضاً: ”ولا امین البیت الحرام“
خود غرضی ہفتم اشاعت اشتہارات کے بیان میں
ہم اس کی تفصیل نہیں کرتے ناظرین خود غور فرما سکتے ہیں کہ اشاعت اشتہارات سوائے شہرت مرزا قادیانی کے مخلوق کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟
خود غرضی ہشتم چندہ مینار کے بیان میں
اے ارباب بصیرت مرزا قادیانی نے مسیح موعود کی تصدیق من گھڑت میں صرف اپنے آپ کو مصداق دوزخ کا نہیں بنایا۔ بلکہ مینار دینے والوں کو بھی ساتھ ہی زمرہ مبذرین سے بنایا : ”وات ذا القربى حقه والمسكين وابن السبيل ولا تبذر تبذيرا ان المبذرين۔ کانوا اخوان الشياطين وكان الشيطان لربه کفورا (بنی اسرائیل: ٢٦،٢٧) اے مرزا قادیانی خدا کا حکم اوّل قرابتوں بعد مسکینوں بعد مسافروں کو خرچ کرنا فرماتا ہے۔ جناب کے قرابتیوں کی زمین بلکہ مکان بھی ان کے ڈپٹی مرزا عظیم بیگ مرحوم کے پاس رہن وبیع ہیں۔ اگر آپ خود غرض نہ ہوتے تو پہلے آپ قرابتیوں پر احسان اور مروت فرماتے۔ یعنی آپ کے کذب و دعویٰ پر دلیل کافی ہے۔
خود غرضی نہم تصانیف کے بیان میں
اے ارباب بصیرت جائے غور ہے کہ احکام شرعی کے لئے مسلمانوں کو قرآن شریف حدیث فقہ کافی نہیں؟ پھر مرزا قادیانی کی تصنیف کی غرض وجہ معاش نہیں تو کیا ہے؟ بلکہ مرزا قادیانی بوجہ تصنیف خود حکم آیت کے مصداق ہیں: ”ومن لم يحكم ما انزل الله فالئك هم الکافرون (المائدہ: ٤٤)“
٦٦
خود غرضی دہم تجارت تصاویر کے بیان میں
اے مسلمانو! پروردگار نے قرآن مجید کو ر قرآن شریف رفع شرک پر زور دیتا ہے۔ بلکہ سب گنا قادیانی بت۔ سواع یغوث۔ نسر سے آپ لوگ کم ن پرستوں سے پوچھتا ہوں کہ سوائے مشرک بنانے کے ق اگر مرزا قادیانی کو علم قرآن شریف ہوتا تو بذریعہ تصوی تعالیٰ کیا فرماتا ہے: ”یایها الناس ضرب مثل دون الله لن يخلقوا ذبابا ولو اجتم لا يستنقذوه منه ضعف الطالب والمطلوب دل سے ایک جانو۔ خود مرزا قادیانی یا تصویر مرزا قاد خدا کی پیدا کی ہوئی کوئی ان کی چیز لے جاوے تو چھڑا
خود غرضی یازدہم کالج قادیانی کے بیان میں
صاحب بصیرت پر کیفیت کالج قادیا افترائیہ۔ مرزائیہ کی تخم ریزی کی بناء ہے۔ اے المس کہوں؟ کیونکہ یہ دونوں لوگوں کا مال کئی باطل طریق شریف میں فرماتا ہے: ”یایها الذین امنوا ان کت اموال الناس بالباطل ويصدون عن سبي
خود غرضی دوازدہم اتہام مریم علیہا السلام
مرزا قادیانی مریم علیہا السلام کو اپنی قلم شیطان سے پاک نہیں۔“ دیکھو مقدر خلاصہ تکذیب فرمایا ہے برگزیدہ کیا تم کو اور پاک کیا تم کو جہان کی ع الملائكة يامريم ان الله اصطفك وطهرك عمران: ٤٢)“ ناظرین! کیا مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہ
خود غرضی سیزدہم الہام حضرت عیسیٰ علیہ ا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرزا قادیانی
٦٧
خودغرضی دہم تجارت تصاویر کے بیان میں
اے مسلمانو! پروردگار نے قرآن مجید کو رفع شرک کے واسطے نزول فرمایا ہے۔ جابجا قرآن شریف رفع شرک پر زور دیتا ہے۔ بلکہ سب گناہوں سے بڑا گناہ شرک ہے۔ کیا تصویر مرزا قادیانی بت ۔ سواع یغوث ۔ نسر سے آپ لوگ کم سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزا کے تصاویر پرستوں سے پوچھتا ہوں کہ سوائے مشرک بنانے کے تصویر مرزا قادیانی کیا فائدہ دیتی ہے؟ افسوس اگر مرزا قادیانی کو علم قرآن شریف ہوتا تو بذریعہ تصویر اپنی کے لوگوں کو مشرک نہ کرتے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے: ”یایھا الناس ضرب مثل فاستمعو اله ان الذین تدعون من دون الله لن يخلقو اذبابا ولو اجتمعوله، وان يسلبهم الذباب شيئا لايستنقذوه منه ضعف الطالب والمطلوب (الحج:٧٣)“ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کو خلوص دل سے ایک جانو۔ خود مرزا قادیانی یا تصویر مرزا قادیانی نہ ایک مکھی پیدا کر سکتے ہیں اور نہ وہ مکھی خدا کی پیدا کی ہوئی کوئی ان کی چیز لے جاوے تو چھڑا سکتے ہیں۔
خودغرضی یازدہم کالج قادیانی کے بیان میں
صاحب بصیرت پر کیفیت کالج قادیانی مخفی نہیں۔ علاوہ تشہیر مذہب اختراعیہ ۔ افترائیہ ۔ مرزائیہ کی تخم ریزی کی بناء ہے۔ اے اہل اسلام خود غرض عالم اور درویش خدا کیوں کہوں؟ کیونکہ یہ دونوں لوگوں کا مال کئی باطل طریقوں سے کھاتے ہیں۔ دیکھو خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: ”یایھا الذین امنو ان كثيرا من الاحبار والرهبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ويصدون عن سبيل الله (التوبہ:٣٤)“
خودغرضی دوازدہم اتہام مریم علیہا السلام کے بیان میں
مرزا قادیانی مریم علیہا السلام کو اپنی قلم سے یہودیوں کی طرح لکھتے ہیں کہ: ”مس شیطان سے پاک نہیں ۔“ دیکھو ضمیمہ خلاصہ تکذیب میں ۔ اور خدا تعالیٰ مریم علیہا السلام کے حق میں فرمایا ہے برگزیدہ کیا تم کو اور پاک کیا تم کو جہان کی عورتوں پر۔ دیکھو آیت ہذا ”واذ قالت الملائکة یامریم ان الله اصطفك وطهرك واصطفاك على نساء العالمين (آل عمران:٤٢)“ ناظرین! کیا مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہے جس طرح مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں؟
خودغرضی سیزدہم الہام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرزا قادیانی پیغمبر نہیں مانتے۔ ایک راست باز آدمی لکھتے ٦٧
ہیں وہ بھی نیک باطنی کے لفظ سے نہ دلی اعتقاد سے، اپنے رسالہ میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی والدہ مسّ شیطان سے پاک نہیں۔ اور رفع الی سماء نہیں مانتے۔ بلکہ فوت ہو کر کشمیر میں مدفون قرار دیتے ہیں۔ یہی تمام اعتقادات یہود کے تھے۔ ان کی تردید ہم عرض پنجم، ششم حصہ اول میں بیان کر چکے ہیں۔ یہ اعتقاد تو مرزا قادیانی کا ہے اور خدا تعالیٰ: ”وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل عمران: ٤٥)“ ایضاً ”ورسولا الی بنی اسرائیل (آل عمران: ٤٩)“ فرماتا ہے۔
فصل دوم ...... مسیح موعود کی بے علمی کے بیان میں
مرزا قادیانی رسالہ دافع البلا ورق اخیر جس پر کوئی نمبر نہیں دیا۔ متضاد کلمات اوصاف نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان فرماتے ہیں۔ جس کے پڑھنے سے ناظرین خود سمجھ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو علاوہ بے علمی کے خلل دماغ بھی ہے۔ وہ متضاد کلمات بہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں راست باز آدمی ہے۔ مگر راست بازی بھی ظنی طور پر نہ یقینی۔ شرابی۔ فاحشہ عورتوں کا مال کھانے والا ۔ بے تعلق عورتوں سے تعلق رکھتا تھا۔ الغرض مسّ شیطان سے خالی نہیں۔ یہ کلمات تمام مرزا قادیانی کی عبارت رسالہ دافع البلا کا خلاصہ ہے اور ساتھ ان بہتانوں کے یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تحریر فرماتے ہیں: ”وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل عمران: ٤٥)“ ارباب بصیرت غور فرماویں افراط اور تفریط عبارت مرزا قادیانی سے خلل دماغ اور بے علمی آپ کو ثابت ہوگی۔ ایک طرف تو بہتانات مرزا قادیانی ہیں اور دوسری طرف شہادت باری تعالیٰ کی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ وہ: ”وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن مقربین “ فرماتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو وجیہا اور مقرب کے معنے آتے ہیں تو بہتان مذکورہ بالا نہ لگاتے۔ اے مرزا قادیانی مقرب کے معنے رسول کے ہیں۔ جیسا کہ شروع سورۃ واقعہ میں: ”اصحاب المیمنۃ واصحاب المشئمۃ (الواقعہ: ٨، ٩) “ اور مقربوں کی تقسیم سے صاف پیغمبری کے معنے ثابت ہوتے ہیں۔ ایضاً : ”ورسولا الی بنی اسرائیل“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ مضمون بندے کی غلطی سے دوسرے نمبر میں دکھاتے ہیں۔
بے علمی دوم مسیح موعود از مضمون بندی قرآن شریف
ناظرین! کو ہم مرزا قادیانی کے متضاد تحریری بے علمی اول اور خلاصہ ترکیب میں دکھا ٦٨
چکے ہیں۔ جس آیت کے حوالہ سے مرزا قادیانی کے ساتھ آیت سے پھر ہم مضمون بندی میں غلطی پکڑتے ہیں۔ وہ آی والاخرۃ ومن المقربین “ ختم آیت ہذا پر آیہ ک ہے۔ یہ ”لا“ کا نشان دلالت کرتا ہے نہ ختم ہونے معنو صفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمای الناس فی المہد وکہلا ومن الصالحین (آل والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ورسو عمران: ٤٨، ٤٩)“ یہاں تمام صفات ختم ہوتے ہیں۔
بے علمی سوم مسیح موعود از قواعد قرأت
جس آیت میں ہم پہلے دو قسم کی بحث کر چکے بے علمی قرأت میں دکھاتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: ”وج المقربین “ ختم آیت پر جو نشان گول ”ہ“ دائرے کا ہ کہتے ہیں۔ یہ وقف اور اس کے مابعد کے وقف کافی دو ہے جہاں معنی ختم نہیں ہوتے۔ اگر مرزا قادیانی کو علم صفات جو کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی تھیں۔ تحریر کرتے پہلے دعویٰ مسیحیت کے علم قرآن سیکھیں۔ بعد اس کے ورنہ حیف ہے ایسے کذب دعوے پر کیونکہ خدا تعالیٰ فرما الکاذبین (آل عمران: ٦١)“
فائدہ: رفع شکوک عوام الناس کے بیان میں
عام لوگوں کا خیال ہے کہ مرزا قادیانی مرزا قادیانی مسیح موعود نہ ہوتا تو مولوی مرید کیوں ہوت جواب ...... مولویوں کے مرید ہونے سے دعوے مسیح ناظرین! دیکھ رہے ہیں کہ آج کل بعض ہیں اور بعض ہندو عیسائی ہو رہے ہیں۔ علیٰ ہذا کئی ایک وجہ سے مرید مرزا قادیانی ہو رہے ہیں۔ لیکن جائے غور ٦٩
چکے ہیں۔ جس آیت کے حوالہ سے مرزا قادیانی کے تلفظ میں بے علمی ثابت کر چکے ہیں۔ اسی آیت سے پھر ہم مضمون بندی میں غلطی پکڑتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: ”وجيها في الدنيا والاخرة ومن المقربين “ ختم آیت ہذا پر آیہ گول (ہ) دائرہ کا نشان اور اس پر لا کا نشان ہے۔ یہ ”لا“ کا نشان دلالت کرتا ہے نہ ختم ہونے معنوں پر۔ اگر مرزا قادیانی کو علم ہوتا تو باقی صفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے تھے اور باقی صفات یہ ہے:”يکلم الناس في المهد وكهلا ومن الصالحين (آل عمران:٤٦)“ايضاً”ويعلمه الکتب والحكمة والتورات والانجيل ورسولا الى بنى اسرائيل (آل عمران:٤٨، ٤٩)“ یہاں تمام صفات ختم ہوتے ہیں۔
بے علمی سوم مسیح موعود از قواعد قرأت
جس آیت میں ہم پہلے دو قسم کی بحث کر چکے ہیں۔ اسی آیت میں پھر مرزا قادیانی کی بے علمی قرأت میں دکھاتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے:”وجيها في الدنيا والاخرة ومن المقربین “ ختم آیت پر جو نشان گول ”ہ“ دائرے کا ہے۔ جس نشان کو نشان آیت اور وقف بھی کہتے ہیں۔ یہ وقف اور اس کے مابعد کے وقف کافی دور تک چلے جاتے ہیں۔ کافی وہ وقف ہوتا ہے جہاں معنی ختم نہیں ہوتے۔ اگر مرزا قادیانی کو علم قرأت ہوتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفات جو کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی تھیں۔ تحریر کرتے۔ حضرت مرزا قادیانی کو مناسب ہے کہ پہلے دعوئی مسیحیت کے علم قرآن سیکھیں۔ بعد اس کے استحقاق مسیحیت قرآن سے بیان کریں۔ ورنہ حیف ہے ایسے کذب دعوے پر کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:”فنجعل لعنة الله على الكاذبين (آل عمران:٦١)“
فائدہ: برفع شکوک عوام الناس کے بیان میں
عام لوگوں کا خیال ہے کہ مرزا قادیانی کے کئی عالم مرید ہیں۔ اگر فی الواقع مرزا قادیانی مسیح موعود نہ ہوتا تو مولوی مرید کیوں ہوتے۔ جواب ...... مولویوں کے مرید ہونے سے دعوے مسیح موعود کوئی قرآنی ثبوت نہیں۔ ناظرین ! دیکھ رہے ہیں کہ آج کل بعض مسلمان خود غرض عیسائی و آریہ ہو جاتے ہیں اور بعض ہندو عیسائی ہورہے ہیں۔ علیٰ ہذا کئی ایک مولوی خود غرض اور کئی بے علم اپنی بے علمی کی وجہ سے مرید مرزا قادیانی ہو رہے ہیں۔ لیکن جائے غور یہ ہے کہ دعوئی مذکورہ بالا کی ہم قرآن شریف
٦٩
سے تردید کر چکے ہیں اور ایسے عالموں کے حق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”یایھا الذین امنوا ان کثیرا من الاحبار والرہبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللہ (التوبہ: ٣٤)“ پس خود غرض مولویوں اور بے علم لوگوں کا مرید ہونا دعویٰ مسیحیت کا کوئی ثبوت نہیں۔ دیکھو حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی جو کہ بڑے حواری مرزا قادیانی کے ہیں۔ خاکسار نے ان کو سوال کیا کہ آپ مرزا قادیانی کو کس ثبوت سے مسیح موعود سمجھتے ہیں۔
جواب حکیم صاحب ...... مرزا قادیانی کو الہام ہوتے ہیں۔
خاکسار ...... الہام مسیحیت کی کوئی دلیل نہیں؟ اکثر لوگوں کی خوابیں بعض سچی اور بعض جھوٹی ہوتی ہیں۔ کئی الہام مرزا قادیانی کا ہم سنتے ہیں۔ کوئی اور دلیل جناب مسیحیت کی فرماویں۔ حکیم صاحب مجھ کو قرآن شریف نہ آتا تھا۔ خصوصاً سورۂ نجم۔ اگر ہم اب سورت نجم کو ١٠٠ عالم میں بیان کریں تو دنگ ہو جاویں۔
خاکسار ...... حضرت یہ تو کوئی مسیحیت نہیں۔ واقف قرآن ہندو ہو یا عیسائی سمجھا سکتا ہے جناب کوئی اور دلیل فرماویں۔ حکیم صاحب کسوف اور خسوف رمضان شریف میں مہدویت مرزا قادیانی کا نشان ہے۔
خاکسار ...... ممکن ہے کہ خدا کی زمین پر کوئی اور مہدی پیدا ہو گیا ہو۔ جناب کوئی اور دلیل فرماویں۔
حکیم صاحب ...... میں مرزا قادیانی کا عاشق ہوں۔
خاکسار ...... حضرت میں نے اپنا اور آپ کا وقت ضائع کیا۔ عشق تو مرض ہے۔ میں دلیل مسیحیت پوچھتا ہوں۔
پس خاکسار یہ عرض کر کے رخصت ہوا۔ پس ناظرین کو ثابت ہو گیا ہوگا کہ مولوی مرید مرزا قادیانی کے بھی دعوے مسیحیت اور مہدویت کا کوئی ثبوت نہیں رکھتے۔
اعلان
چونکہ ہم دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب قرآن شریف سے ثابت کر چکے ہیں لہٰذا مرزا قادیانی کو مناسب ہے کہ دلائل استحقاق دعاوی قرآن شریف سے بیان کریں ورنہ عقیدہ یہودیہ، خیالیہ، وہمیہ، افترائیہ، اختراعیہ، خود غرضیہ، بہتانیہ سے توبہ کریں: ”وما ھو فی القرآن حق ، وما علینا الا البلاغ “ فقط!
٧٠
خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حقیقت مرزا
حضرت مولانا محمد یعقوب رحمانیؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
برادران اسلام! صدمہ اور افسوس کی جگہ ہے کہ دشمنان اسلام آج اسلام کی بیخ کنی کے لئے کس طرح اور کیسی کیسی ان تھک اور بلیغ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کے خلاف ہمارے بھائی مسلمان ہیں کہ خواب غفلت کی گہری نیند سو رہے ہیں۔ نہ ان کو اس کا خیال ہے کہ کتنے یتیم بچے ہمارے عیسائیوں کے شکار ہوئے اور کتنے جاہل مسلمان آریہ کے دام تزویر میں پھنسے۔ کتنے بے خبر مسلمان قادیانیوں کے پرفریب جال میں آکر محمدﷺ کی غلامی کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کے غلام بنے۔
مسلمانو! خواب غفلت سے بیدار ہو اور یکجا ہوکر اسلام کی خدمت کرو، متعدد انجمن دارالتبلیغ قائم کرو۔ اور مبلغین ایسے علماء ربانی رکھے جائیں جو مذاہب باطلہ کا تقریراً و تحریراً رد کریں اور مختلف زبانوں میں اس کی اشاعت کریں اور اسلام کی سچی تعلیم پیش کریں۔
ان دشمنانان اسلام کی سعی کو ملاحظہ فرمائیے۔ عیسائیوں کو دیکھئے کہ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے صرف کر کے طمع اور لالچ دے کر جاہل اور مفلس مسلمان اور ان بچوں کے اور عورتوں کو عیسائی بنا رہے ہیں۔ حالانکہ جن کے مذہب کا اصل اصول تثلیث (یعنی تین خدا) اور کفارہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود معصوم اور نبی ہونے کے اپنی گناہ گار امت کے عوض صلیب دیئے جائیں۔ جس سے ان کی امت ہمیشہ کے لئے جہنم سے آزاد ہو کر جو چاہے کرے۔ نہ قیامت کا بازپرس، نہ جہنم کا ڈر) ہو ایسے عقیدے کے لوگ اسلام اور مسلمانوں اور خالص توحید پرستوں پر حملہ کریں۔ یہ ہمارے اسلام کی سچی تعلیم سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح ہمارے پڑوسی آریہ ہیں جن کی بے انتہاء شرانگیزی پر نظر کیجئے۔ کہیں اپنا کالج بنا کر فن مناظرہ کی تعلیم دیتے ہیں اور اس کے ساتھ قرآن مجید پر اعتراض کرنا سکھاتے ہیں۔ اور روپے صرف کر کے تبلیغ کے ذریعہ سے جاہل مسلمانوں کو شُدھی کرتے ہیں۔ خدا کی شان نظر آتی ہے کہ جن کے مذہب کا بانی دیانند سرستی اپنی معتمد کتاب ستیارتھ پرکاش میں یہ لکھا ہے "سوال ایشور اپنے بھگتوں کے پاپ معاف کرتا ہے یا نہیں؟ جواب نہیں۔ کیونکہ اگر وہ پاپ معاف کرے تو اس کا انصاف جاتا رہے اور تمام انسان سخت پاپی ہوجائیں۔"
(ستیارتھ پرکاش باب ساتواں ص ٢٤٩ مطبوعہ پنجاب شری آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب)
اس مذہب کے پیرو دوسروں کو شُدھی کریں۔ نہایت افسوس جن کا ایشور اپنے بھگتوں
٢
یعنی بزرگوں کے پاپ کو معاف نہیں کر سکتا اور معاف کر پاپی ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو شُدھی کر کے اس کے پی ایشور ہی کو پاپی ٹھہراتا ہے۔
پھر تھوڑی دیر کے لئے مرزائیوں پر نظر ڈال دیکھئے۔ اپنا کالج قائم کر کے انگریزی تعلیم کے ساتھ اس مجید کا اپنے خیال خام کے موافق انگریزی ترجمہ کر کے کر کے یورپ وغیرہ میں اپنے جال پھیلاتے ہیں اور لو سے روپے وصول کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے جدید نبی ہیں۔ جو ہرگز کسی مسلمان کے نہیں ہو سکتے۔ اس جگہ میں کے حوالہ سے لکھتا ہوں۔
- ١...... مرزا قادیانی خدا بھی ہیں اور اس کے بیٹے بھی اور ا
اسمع ولدی (اے میرے بیٹے سُن)
"میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ ال ہوں۔ اسی حال میں (جبکہ میں بعینہ خدا تھا) میں نے چاہتا ہوں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بنادیں۔ پس میں بنائی۔ جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں درست تھی۔ اس کے موافق ان کو مرتب کر دیا اور اس و کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے ورلا (یعنی اُدھر والا) السماء الدنيا بمصابیح " پھر میں نے کہا ہم انسا
(آئینہ کمالات
- ٢...... "مرزا قادیانی نے اہل دنیا کی نیکی و بدی لکھی
بھی کراہی لیا۔"
"ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری تھ اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اول سے احکام قضاء وقدر کے اہل دنیا کی نیکی و بدی کے م
٣
یعنی بزرگوں کے پاپ کو معاف نہیں کر سکتا اور معاف کرنے سے بے انصاف ہو جاتا ہے۔ یعنی پاپی ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو سدھی کر کے اس کے پہلے پاپ یعنی گناہ کو ایشور سے معاف کرا کر ایشور ہی کو پاپی ٹھہراتا ہے۔
پھر تھوڑی دیر کے لئے مرزائیوں پر نظر ڈالئے اور ان کے جوش اور سرگرم کوششوں کو دیکھئے۔ اپنا کالج قائم کر کے انگریزی تعلیم کے ساتھ اپنے جدید مذہب کی تعلیم دیتے ہیں۔ قرآن مجید کا اپنے خیال خام کے موافق انگریزی ترجمہ کر کے اس کی اشاعت کرتے ہیں اور صرف کثیر کر کے یورپ وغیرہ میں اپنے جال پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دے کر تبلیغ اسلام کے بہانے سے روپے وصول کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے جدید نبی مرزا قادیانی کے ایسے عقیدے اور اقوال ہیں۔ جو ہرگز کسی مسلمان کے نہیں ہو سکتے۔ اس جگہ میں مختصرًا مرزا قادیانی کے اقوال ان کی کتابوں کے حوالہ سے لکھتا ہوں۔
- ١...... مرزا قادیانی خدا بھی ہیں اور اس کے بیٹے بھی اور انہوں نے نیا آسمان اور نئی زمین بنائی۔
”خدا قادیان میں نازل ہو گا۔“
(تذکرہ ص ٤٤٢ طبع سوم)
اسمع ولدی (اے میرے بیٹے سن)
(البشریٰ حصہ اول ص ٤٩)
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔ اسی حال میں (جبکہ میں بعینہ خدا تھا) میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم کوئی نیا نظام دنیا کا بنائیں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور جو ترتیب درست تھی۔ اس کے موافق ان کو مرتب کر دیا اور اس وقت اپنے آپ کو ایسا پایا تھا۔ گویا میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے ورلا (یعنی ادھر والا) آسمان بنایا اور میں نے کہا ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی سے بنا دیں گے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ و ٥٦٥ خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
- ٢...... ”مرزا قادیانی نے اہل دنیا کی نیکی و بدی لکھی اور خدا سے اس پر سرخ روشنائی سے دستخط
بھی کرا لئے۔“
”ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری خوش گڑھ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اول مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضاء و قدر کے اہل دنیا کی نیکی و بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے
٣
لئے لکھے ہیں۔ اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدائے تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے۔ ہو جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے اور قلم کے نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا۔ اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لئے مجھے جبکہ ان قطروں سے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے۔ اطلاع ہوئی۔ ساتھ ہی میں نے بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تر بتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی ایسی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور یہ وہی سرخی تھی جو خدائے تعالیٰ نے اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی اور میاں عبداللہ زندہ موجود ہیں۔ وہ اس کیفیت کو حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ کیونکر خارق عادت اور اعجازی طور پر امر تھا۔
(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧)
ناظرین! یہ ہے مرزائیوں کے جدید نبی کا معجزہ اور ان کے خدا کے مضحکہ خیز کرشمہ۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی بارگاہ بھی کسی کلکٹر وغیرہ کا اجلاس تھا جس میں پیشکار بن کر مرزا قادیانی درخواست ساتھ لیکر منظوری کے دستخط کرانے کو تشریف لے گئے اور حاکم بھی معاذ اللہ! ایسے تمیز دار کہ قلم جھاڑ کر سرخی سے اس کے کپڑے تر بتر کر دیئے پھر پیش کار پر جلدی سے دستخط کرانے کا رنج ہوا مگر عبداللہ بے چارے کا کیا قصور تھا۔ ”تعالیٰ اللہ عن ذالك علوا كبيرا“ خدا تعالیٰ ایسے خرافات سے بہت برتر ہے۔
اس پر بھی مولوی ثناء اللہ نے جب عبداللہ سے حلفاً پوچھا تو اس نے حلف سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں ۔”٢٧ نومبر ١٩١٦ء کو اس میاں عبداللہ گواہ نے ہمارے سامنے اس کشف پر قسم کھانے سے انکار کر دیا۔“
(حاشیہ عقائد مرزا ص ٥)
- ٣...... مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و رسالت
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ اور مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشین گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کے گواہی دے چکے ہیں۔ اس
٤
لئے ہم نبی ہیں۔“
- ٤....... جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا وہ خدا اور رس
اس لئے وہ مومن نہیں ہے : ”جو مجھے نہیں مان میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی زمانہ میں میری امت میں بھی مسیح موعود آئے گا اور خدائے سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے۔ اب جو شخص خدا اور ر تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو رد کرتا ہے
(ح
مرزائیو ٹھنڈے دل سے سوچو اور بتاؤ کہ وہ کو میں ہے کہ جس کی تکذیب سے مسلمان کافر ہو جائے اور کر اپنے اوپر منطبق کیا ہو تو ان کے من گھڑت معنی کے دکھاؤ کہ کون سی صحیح حدیث آنحضرت ﷺ کی ہے جس السلام موعود اپنی امت میں آئے گا اور پھر وہ حدیث بھی میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تم اسے ہرگز نہیں دکھا سکتے و بروزی وامتی نبی کیسی بے معنی ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی ہیں۔ مسلمانوں متوجہ ہو کر سنو ۔ معجزات انبیاء علیہم ال آنحضرت ﷺ کے معجزات جو لوگوں نے جمع کئے ہیں۔ ا اپنی زبان سے اپنے نشان یعنی معجزات کا تین لاکھ سے زیا کر صرف تین لاکھ کو لو تو مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے نبی کہو گے؟ ہرگز نہیں۔
مرزا قادیانی اور قرآن
مرزا قادیانی اور قرآن کے معنی صحابہ اور تمام مجید میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پیش گوئی کی بعدی اسمہ احمد ” ﴿میں بشارت دینے والا ہوں ہے نام اس کا احمد ہوگا۔﴾ صحابہ کرامؓ کے زمانہ سے آج چودہ سو برس
٥
لئے ہم نبی ہیں۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥ مارچ ١٩٠٨ء ص ٢ کالم)
- ٤....... جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا
اس لئے وہ مومن نہیں ہے: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی رسول کریم ﷺ نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں بھی مسیح موعود آئے گا اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو رد کرتا ہے۔ تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٢،١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
مرزائیو ٹھنڈے دل سے سوچو اور بتاؤ کہ وہ کون سی آیت کلام مجید کی مسیح موعود کے بارہ میں ہے کہ جس کی تکذیب سے مسلمان کافر ہو جائے اور جو مرزا قادیانی نے کسی آیت کو کھینچ تان کر اپنے اوپر منطبق کیا ہو تو ان کے من گھڑت معنی کے انکار سے کوئی کیونکر کافر ہو سکتا ہے۔ اور دکھاؤ کہ کون سی صحیح حدیث آنحضرت ﷺ کی ہے جس میں یہ پیش گوئی ہے کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام موعود اپنی امت میں آئے گا اور پھر وہ حدیث بھی متواتر ہونی چاہئے۔ جس کا منکر کافر ہو۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تم اسے ہرگز نہیں دکھا سکتے اور اسے بھی دیکھو کہ تمہاری تاویل ظلی و بروزی وامتی نبی کیسی بے معنی ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی مستقل نبوۃ اور رسالت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں متوجہ ہو کر سنو۔ معجزات انبیاء علیہم السلام کے دعویٰ کے گواہ ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے معجزات جو لوگوں نے جمع کئے ہیں۔ وہ بمشکل تین ہزار ہوتے ہیں اور جدید نبی اپنی زبان سے اپنے نشان یعنی معجزات کا تین لاکھ سے زیادہ ہونا بیان کرتے ہیں۔ زیادتی کو چھوڑ کر صرف تین لاکھ کو لو تو مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے سو گنا بڑھ گئے۔ مرزائیو کیا اب بھی امتی نبی کہو گے؟ ہرگز نہیں۔
مرزا قادیانی اور قرآن
مرزا قادیانی نے قرآن کے معنی صحابہ اور تمام امت محمدیہ کے خلاف بیان کئے۔ قرآن مجید میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پیش گوئی کی تھی: ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “ (میں بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی کہ جو میرے بعد آنے والا ہے نام اس کا احمد ہوگا۔)
صحابہ کرام کے زمانہ سے آج چودہ سو برس تک تمام مسلمان یہ سمجھتے آئے اور لکھتے
٥
آئے ہیں کہ یہ پیش گوئی آنحضرت ﷺ پر پوری ہوئی اور آپ کا نام احمد ہے لیکن مرزا قادیانی غلام احمد ہو کر یہ لکھتے ہیں کہ: ”وہ احمد میں ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میرے حق میں بشارت دی تھی۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
ناظرین انصاف سے دیکھیں کہ کس قدر گستاخی مرزا قادیانی نے کی کہ غلامی کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے آقا کی جگہ پر غاصبانہ قبضہ کرنا چاہا۔ ”ان ھذا لشئی عجیب۔“ اس جگہ میں نے صرف پانچ عقیدے مرزا قادیانی کے ان کی کتابوں سے دکھائے اور ایسے سینکڑوں عقیدے ان کے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ انبیاء کی تنقیص اور توہین ان کا شیوہ ہے۔ دافع البلا میں عیسائیوں سے مخاطب ہو کر مرزا قادیانی یوں کہتے ہیں: ”اے عیسائی مشنریو! اب یسوع یسوع مت پکارو۔ دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلا ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلا ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اور مرزا قادیانی نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ سید المرسلین خاتم النبیین کی شان میں گستاخی کی اور ان کے عظیم الشان معجزہ قرآن مجید کی تقدیس (بے مثل اور بے نظیر ہونے) کو توڑنا چاہا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام اعجاز احمدی رکھا ہے اور اس میں ایک قصیدہ پیش کیا ہے۔ جس کا نام قصیدہ اعجازیہ ہے اس میں یہ شعر معہ مرزا قادیانی کے ترجمہ کے یہ ہے:
غسا القمران المشرقان اتنکر
اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
ناظرین ! انصاف سے دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے لئے چاند گرہن کا معجزہ لکھا اور اپنے لئے چاند گرہن اور سورج گرہن کا معجزہ تجویز کرتے ہوئے اپنے مخاطب یعنی مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اب بھی تو انکار کرے گا۔ اب میں یہاں یہ دکھانا نہیں چاہتا کہ حقیقت میں خسوف آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا یا نہیں۔ صرف یہ دکھاتا ہوں کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کی
شان میں کیسی بے ادبی اور گستاخی کرتے ہیں۔ ترجمہ میں آپ کے لئے ”ان کے لئے“ نہیں لکھتے بلکہ ”اس کے لئے“ لکھتے ہیں اور آپ کی شان پر اپنی شان کو بڑھا کر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ جس کا ایک نشان ظاہر ہوا اس پر تو ایمان لاتے ہو اور اس کے دو نشان یکے بعد دیگرے ظاہر ہوئے ہوں اس سے انکار کرتے ہو۔
اب اس کو بھی دیکھئے کہ مرزا قادیانی قرآن مجید کی تحدی کو کس طرح نعوذ باللہ باطل کرتے ہیں۔ ذیل میں بیان کے ترجمہ میں لکھتا ہے۔
كذلك لى قول على الكل يبهر
اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج١٩ ص ١٨٣)
ناظرین! مرزا قادیانی کی گستاخی کو دیکھئے۔ پھر حضور کی شان میں ”اس کے“ لکھا اور کہتے ہیں کہ جس طرح حضور ﷺ کے معجزات کا قرآن مجید تھا اسی طرح میرے لئے یہ قصیدہ اعجازیہ ہے۔ قرآن کیا بلکہ تمام انبیاء کے معجزانہ کلام ہوں تو مرزا قادیانی کا معجزانہ کلام سب پر غالب ہے۔ نعوذ باللہ من ذلك الهفوات ۔ ہمارے محترم جناب مولانا شبیر حسین صاحب مخدوم پوری موتیہاری (جو علاوہ فضل علمی کے بڑے ادیب ہیں۔ جن کی ادبی قابلیت تمام صوبہ بہار میں مسلم ہے۔ عربی کے مستند شاعر ہیں) آپ کا کلام بلاغت نظام فصحائے عرب کی یاد دلاتا ہے۔ چنانچہ مولانا ممدوح نے مرزا قادیانی کے اس مصنوعی اعجاز کو دو طرح پر باطل کیا ہے اور دونوں کو دو حصوں میں لکھا ہے۔ پہلے حصہ کا نام ابطال اعجاز مرزا حصہ اول ہے۔ اس میں تھوڑی تمہید ہے جس میں قرآن مجید کا سچا اور دائمی معجزہ دکھاتے ہوئے مرزا قادیانی کا عجز ظاہر کر کے پھر اس کے قصیدہ اعجازیہ کی تنقید کی ہے اور اچھی طرح پر ان کے اعجاز کی قلعی کھول دی اور اس کی صرفی نحوی، ادبی، عروضی اور قوافی کی غلطیاں دکھائی ہیں اور سرقات مزید برآں ہیں۔
چنانچہ مرزا قادیانی کے قصیدے کے پانچ سو بتیس (٥٣٢) اشعار ہیں اور غلطیوں کی تعداد بھی پانچ سو بتیس (٥٣٢) ہی ہے۔ تقریباً کوئی شعر ان کا غلطی سے خالی نہیں ہے۔ قصیدہ کیا ہے چوپٹ کھرا کباب ہے اور یہ حصہ اول ابطال اعجاز مرزا سنہ ١٣٣٢ھ میں شائع ہوا ہے۔ اسے رجسٹری کر کے خلیفہ قادیان مرزا محمود کی خدمت میں بھیجا گیا۔ اب ١٣٤٢ھ ہے کسی نے مرزا قادیانی کے اشعار سے ایک غلطی کو بھی نہ اٹھایا۔ دوسرے حصہ ابطال اعجاز کی تمہید میں
مرزا قادیانی کے تینتیس (٣٣) جھوٹ گنائے ہیں اور یہ دکھایا گیا ہے کہ کن وجوہ سے مولانا کا قصیدہ مرزا قادیانی کے مصنوعی معجزہ پر فائق ہے۔ اس کے بعد چھ سو سترہ (٦١٧) اشعار کا قصیدہ عربیہ مع ترجمہ کے پیش کیا گیا ہے۔ جو ١٣٣٧ھ میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔ اسے بھی مرزا محمود خلیفہ قادیان کے پاس بھیجا گیا۔ اب تقریباً چھ سال ہوئے۔ اس پر بھی کسی نے کچھ نہ لکھا۔ چونکہ یہ دونوں حصے ضخیم ہو گئے اور لوگ پورا دیکھنے سے گھبراتے ہیں اور ان لوگوں کی ہمتیں بھی قاصر ہیں۔ اس لئے میں یہاں پہلے چند موٹی موٹی غلطیاں مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کی دکھاتا ہوں۔ پھر چند اشعار مرزا قادیانی کے اور اپنے معہ ترجمہ مقابلہ میں لکھتا ہوں۔ حضرات علماء کرام اور ناظرین عظام انصاف سے اسے دیکھیں اور مرزا قادیانی کے اعجاز کی داد دیں مرزائی بھائیوں سے گزارش ہے کہ میری دردمندی اور بہی خواہی پر نظر فرما کر ٹھنڈے دل سے اسے دیکھیں اور غور کریں:
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ میں نحوی ادبی غلطی
- ١....... مرزا قادیانی پیر مہر علی شاہ صاحب سکنہ گولڑہ علاقہ پنجاب پر اپنے قصیدہ میں اظہار رنج
وعتاب کرتے ہوئے گولڑہ کی زمین پر لعنت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا شعر معہ ان کے ترجمہ کے یہ ہے: ” فقلت لك الويلات ياارض جولر پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو ۔“ ”لعنت بملعون فانت تدمر (اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج١٩ ص ١٨٨) تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی ۔“
عربی زبان میں ارض کا لفظ مونث ہے دیکھو ۔ سورۂ ق (والارض مددنها والقينا فيها رواسي وانبتنا فيها من كل زوج بهیج ) اور مرزا قادیانی ارض کے لئے صیغہ مذکر لائے ہیں۔ تو اس کی مثال یہ ہوئی اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی ۔
ناظرین ! یہ ہے نئے نبی کا انوکھا معجزہ
- ٢....... ”هناك دعوا ربا كريما مؤيدا وقالوا احللنا ارض رجز فنصبر“
(اعجاز احمدی ص ٤٢، خزائن ج ١٩ ص ١٥٢)
ارض رجز اضافت موصوف کی صفت کی طرف ہے اور یہ فصیح کلام میں نہیں آتا اور ممنوع ہے۔ البتہ کوفیوں نے اسے جائز کہا ہے۔ جیسے صلوٰۃ الاولیٰ مگر اس جگہ یہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ صفت موصوف میں مطابقت چاہئے۔ ارض مونث ہے اور رجز مذکر! اس لئے کوفیوں کے
٨
موافق بھی ارض رجز غلط ہے۔ گویا ”یوں ہوا ناشپاتی کی درخت ۔“
- ٢٨.......٣ ”فصار وابمد للرماح دريه ، ويعلمها احمد على المدبر“
(اعجاز احمدی ص ٤١، خزائن ج ١٩ ص ١٥٣)
یعلمہا میں ضمیر مونث مفعول ہے۔ اس کا مرجع کیا ہے اور جو پہلے مضمون کی طرف پھرتی ہو تو مذکر چاہئے۔ فائدہ یہی ہے اس لئے یہ غلط ہے۔
- ٤.......٥٠ وقيل لاملاء الكتاب كمثله
(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٥)
قول کا صلہ لام کے ساتھ آتا ہے۔ لیکن لام مقولہ پر نہیں لاتے بلکہ جس کو کہتے ہیں۔ اس پر لاتے ہیں۔ دیکھو قرآن مجید : ”واذقلنا للملئکۃ اسجدوا وقلنا لهم كونوا قردة خاسئین“ اس لئے غلط ہوا مرزا قادیانی یوں ہی کہہ دیتے: ”وقيل له امل الکتاب كمثله“ ایسی غلطیاں مرزا قادیانی کے قصیدے میں سینکڑوں ہیں۔ نمونہ کے طور پر میں نے صرف چار دکھائے ۔ جسے دیکھنا ہو وہ ابطال اعجاز حصہ اول دیکھے۔
مرزا قادیانی کے قصیدے میں قافیے کی غلطیاں
عیب اجاره
- ١٦٩...... ولا تحسب الدنيا كناطف ناطفى اتدرى بليل مسيرة كيف تصبح
(اعجاز احمدی ص ٥٤، خزائن ج ١٩ ص ١٦٦)
مرزا قادیانی کے قصیدے کا قافیہ حمر مدثر وغیرہ ہے۔ اور آخر حرف ”را“ ہے۔ اس شعر میں ”را“ کو حرف بعید المخرج سے بدل کر حا کر دیا۔ اس غلطی اور عیب کو علم القوافی میں عیب اجاره کہتے ہیں۔ اس سے تجنب اور پرہیز کرنا شعراء کے لئے ضروری اور فرض ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے حالی کی مشہور مناجات ہے۔ جس کا پہلا شعر یہ ہے ۔
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے
اس کا قافیہ دعا، پڑا، سدا، گدا، ہے۔ اب اگر شاعر کسی شعر میں آتے ہیں، جاتے ہیں، کہہ دے تو کس قدر برا معلوم ہوگا۔
عیب اصراف
یعنی شعر کے آخر حرف کو جو پیش ہے وہ زبر سے بدل دیا۔ جیسے حمر مذکر ہے۔ اسے مجرا
٩
تحراند کر کہہ دیا۔ شعراء اس عیب کو بھی ضروری اور فرض کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے قصیدہ میں یہ عیوب بھی متعدد اور بہت ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٦١)
حالانکہ یہاں جولر ا چاہئے۔
(اعجاز احمدی ص ٥٣، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
قاعدے سے تحقر ا چاہئے۔ اس شعر کے پہلے مصرعہ کا وزن فاسد یعنی بے وزن ہے اور دوسرے مصرعہ میں عیب اصراف ہے۔ کہاں تک گناؤں قصیدے کے اشعار کا۔ چند نمبر شماری لکھ دیتا ہوں۔ نمبر ١٨٣، نمبر ٣٩٢، نمبر ٤٩٧، نمبر ٥١٣ وغیرہ وغیرہ۔
عیب سناد التاسیس
(اعجاز احمدی ص ٤٠، خزائن ج ١٩ ص ١٥١)
اگر دوسرے مصرعہ میں معاشر پڑھیں تو وزن صحیح۔ مگر عیب سناد التاسیس ہے اور معشر پڑھیں تو وزن فاسد ہے۔ ملاحظہ ہو۔ نمبر ٧٥، نمبر ٧٦ وغیرہ وغیرہ۔
قصیدے میں اشعار بے وزن ہونا یعنی وزن فاسد
نمبر ٨، نمبر ٢٤، نمبر ٤٧، نمبر ١٢١، نمبر ١٣٦، نمبر ١٤٧، نمبر ٢٠٩ وغیرہ وغیرہ کہاں تک لکھوں۔
اکثر اشعار بے وزن ہیں۔ مثلا نمبر ٨: وارضى الليلم اذا مضامن ارضهم (اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٥١) تقطیع وارضى فعولن ليلم أفاستفعلتن مضامن فعولن ارضهم فاعلن ایک مصرعہ میں دو جگہ کسر اوزان ہے۔
سرقات: مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ میں چند مشہور اور متقدمین شعراء کے اشعار کو کہیں پورا شعر کہیں پہلا مصرعہ چرا کر اپنا کر لیا۔
(اعجاز احمدی ص ٤٢، خزائن ج ١٩ ص ١٥٣)
یہ حماسہ (ادب کی مشہور کتاب ہے) میں طرفہ ابن العبد (صاحب معلقہ ثانیہ) کا ہے اور یوں ہے۔ وان لسان المرء مالم يكن له . حصاة على عوراته لدليل ! ١٠
مرزا قادیانی نے صرف وھو مشعر کہہ کر اپنا آتا۔ بلکہ ہا کے ساتھ آتا ہے۔ شعراء یہ کہتے ہیں کہ
افسوس مرزا قادیانی نے کہاں کہاں اپنا مشہور کتاب ہے) میں مستکنه کی لغت میں عبدہ بن
مرزا قادیانی نے مصرعہ اولی پورا چرا لیا۔ شاباش ! مرزا
امراء القیس صاحب معلقہ والے کا شعر
مرزا قادیانی نے ”و“ کی جگہ ”با“ لکھ کردی۔ اس پر بھی با لگانے سے کلام مہمل ہو گیا۔ ب جاہ کے متعلق ہے۔ تو معنی یہ ہوئے کہ قرآن مجید ا اور اسی بحر پر دعویٰ ہے کہ قرآن کے اعجاز پر ان کا قیامت میں مرزا قادیانی کا دامن ہو گا اور ان شعر کہاں تک لکھوں۔
مرزا قادیانی کا جھوٹ
ترجمہ مرزا قادیانی: ”اور اگر میں جھوٹا سے مرا ہوتا اور قبر میں داخل ہوتا۔“
ناظرین! انصاف سے بتائیے کہ آ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے تو جھوٹ اور پھر بھی دنیا میں چین کرتے ہیں اور قرآن مجید كيدي میتن ”کافروں کو مہلت دیجئے۔ میں
مرزا قادیانی نے صرف وھو مشعر کہہ کر اپنا بنالیا۔ اور یہ بھی عربی میں شعر کا صلہ علی نہیں آتا۔ بلکہ با کے ساتھ آتا ہے۔ شعراء یہ کہتے ہیں۔ سچ ہے عیب را ہنر باید !
افسوس مرزا قادیانی نے کہاں کہاں اپنا دست دراز کیا۔ ”لسان العرب“ ( یہ لغت کی مشہور کتاب ہے ) میں مستکنہ کی لغت میں عبدہ بن الطیب کا شعر اس طرح نقل کیا ہے۔
مرزا قادیانی نے مصرعہ اولیٰ پورا چرا لیا۔ شاباش ! مرزا ! تفنّن کند۔
(اعجاز احمدی ص ٥٦ ، خزائن ج ١٩ ص ١٦٧)
امراء القیس صاحب معلقہ والے کا شعر اس طرح ہے:
مرزا قادیانی نے ”و“ کی جگہ ”با“ لکھ کر ایک حرف بدل کر رأس المال کی صورت مسخ کر دی۔ اس پر بھی بالگانے سے کلام مہمل ہو گیا۔ بلیل اگر مصرعہ سابقہ (فجاء خیل الوری لبغرز) کے جاء کے متعلق ہے ۔ تو معنی یہ ہوئے کہ قرآن مجید نعوذ باللہ تاریکی کو لایا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا معجزہ اور اسی عجز پر دعویٰ ہے کہ قرآن کے اعجاز پر ان کا معجزہ غالب ہے۔ شرم، شرم، شرم۔ ناظرین کل قیامت میں مرزا قادیانی کا دامن ہوگا اور ان شعراء کا ہاتھ اور بھی سرقے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں کہاں تک لکھوں۔
مرزا قادیانی کا جھوٹ
(اعجاز احمدی ص ٦٥ ، خزائن ج ١٩ ص ١٧٧)
ترجمہ مرزا قادیانی: ”اور اگر میں جھوٹا ہوتا۔ جیسا کہ ان کا گمان ہے۔ تو میں ایک مدت سے مرا ہوتا اور قبر میں داخل ہوتا۔“ ناظرین! انصاف سے بتائیے کہ آج دنیا میں جھوٹوں کو عیش و آرام ہے۔ یا فوراً ہی تباہ و ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے تو نبوت کا دعویٰ کیا۔ ملاحدہ یورپ خدا کا انکار کرتے ہیں اور پھر بھی دنیا میں چین کرتے ہیں اور قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو حکم ہوتا ہے : ” أمهلهم ان کیدی متین“ کافروں کو مہلت دیجئے ۔ میں جلد باز نہیں۔ میرا داؤ گہرا ہے۔
11
ناظرین! غور فرمائیں کہ جب کافروں کو مہلت ملی تو جھوٹے اگر جھوٹ بول کر کچھ دن زندہ رہیں تو کیا تعجب ہے۔
- ١........ ٦٩٢ فان اك كذابا فكذبى يبيدنى وان اك من ربى فمالك تهجر
(اعجاز احمدی ص ٦٦ ،خزائن ج١٩ص١٧٨)
ترجمہ مرزا قادیانی: ”اور اگر میں جھوٹا ہوں تو میرا جھوٹ مجھے ہلاک کرے گا اور اگر میں خدا کی طرف سے ہوں پس کیوں تو بےہودہ گوئی کرتا ہے۔“
کس کو جھوٹ ہلاک کرتا ہے۔ یہ مرزا قادیانی نے لوگوں کی چشم بصیرت پر خاک ڈالنا چاہا ہے۔ اگر جھوٹے ہلاک ہوا کرتے تو آج دنیا میں جھوٹ کا وجود نہ ہوتا۔ یہ مرزا قادیانی تو طبعی عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے۔ جو بڑے بڑے جھوٹے دنیا میں موجود ہیں اور ہوئے جو اپنی پوری عمر گزار کر یہاں سے رخصت ہوئے۔ ناظرین یہ ہے جدید نبی کا سیاہ جھوٹ۔
- ٢........ ٢٩٨ تهاب قتالي واجتنب ماصنعته وانا اذا احللنا فانك مدبر
(اعجاز احمدی ص ٦٦ ،خزائن ج١٩ص١٧٨)
ترجمہ مرزا قادیانی: ”میری جنگ سے تو پرہیز کر اور اپنے بدکاموں سے الگ ہوجا اور جب ہم میدان میں آئے تو بھاگ جائے گا۔“
ناظرین! مرزا قادیانی مناظرہ میں ہمیشہ بھاگتے رہے۔ لاہور میں جب پیر مہر علی شاہ (جن کا ذکر اوپر ہوا ہے) نے مرزا قادیانی کو دعوت مناظرہ دیا اور فریقین نے تاریخ وغیرہ مقرر کی۔ جب تاریخ مقررہ پر شاہ صاحب لاہور پہنچے تو مرزا قادیانی ندارد، تار دیا گیا۔ مرزا قادیانی کے مریدین نے منت سماجت کی لیکن مرزا قادیانی نے ایسی چپکی لگائی کہ ”باید و شاید“ ملاحظہ ہو اخبار النجم مورخہ ٢١؍ رمضان ١٣١٣ھ اور ایسا ایک ہی مرتبہ نہیں ہوا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب بھی حسب وعدہ بمقابلہ مرزا قادیانی قادیان تشریف لے گئے۔ مرزا قادیانی کو بلایا گیا مگر یہ کب آنے والے تھے۔ حیلہ و حوالہ کر کے نکل گئے اور اپنی چار دیواری سے باہر تشریف نہ لائے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے۔
(الہامات مرزا ص ١٢٣ تا ١٢٩)
یہ ہیں مرزا قادیانی کے فرار اور بد بودار جھوٹ تعجب تو اس جرأت پر ہوتا ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی ہی میں مرزائی جھوٹ کی اشاعت کر کے چلتے ہوئے۔ سچ ہے ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ اور مرزا قادیانی نے بقول خود اپنی موت سے ثابت کر دیا کہ جھوٹے سچے کی زندگی میں اس طرح مرتے ہیں۔
١٢
٤.......٤٠٠ وقد قيل منكم ياتين امامكم وذلك في القرآن نبأ مكرر
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
ترجمہ مرزا قادیانی: ”اور تم سن چکے کہ تمہارا امام تم میں سے ہی آئے گا اور یہ خبر تو قرآن میں کئی مرتبہ آچکی ہے۔ مرزائی صاحبان بتائیں کہ یہ آیت قرآن میں کہاں ہے: ”یاتین امامکم منکم“ اور دعویٰ بھی کر رہے اور اگر نہیں ہے اور ضرور نہیں ہے تو میں آپ کو از روئے خیر خواہی کہتا ہوں کہ ایسے مفتری علی اللہ پر ایمان لانے سے توبہ کیجئے: ”اللهم اهد قومی فانهم لا یعلمون“ ناظرین! یہ ہیں چودھویں صدی کے مسیح موعود کے سیاہ اور بدبودار جھوٹ اور خدا پر افتراء نعوذ باللہ من ہذا الخرافات! صرف قصیدے میں مرزا قادیانی کے اور بہت جھوٹ ہیں۔ لیکن اس مختصر میں کہاں تک گنواؤں اور آپ کے قیمتی وقت کو برباد کروں۔ ”ابطال اعجاز مرزا حصہ دوم“
”ناظرین کرام! میں نے اس کی تمہید میں سولہ وجوہات لکھے ہیں۔ جن کی بناء پر ہمارا قصیدہ مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ پر فائق ہے۔ اس سے پہلے مرزا قادیانی کا وہ شعر لکھ چکا ہوں کہ جس میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزانہ کلام یعنی قصیدہ کو تمام کلام معجز نظام پر غالب کہا ہے اور اسی پر بس نہیں کیا۔ (ضمیمہ نزول المسیح ص ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٦) میں لکھتے ہیں: ”سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہو گئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت کی مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی میں نے ختم کر لیا۔“
ناظرین مرزا قادیانی کے اقوال سے یہاں چند باتیں معلوم ہوئیں۔
- ١....... مرزا قادیانی کا قصیدہ تمام معجزانہ کلام پر غالب ہے۔
- ٢....... مرزا قادیانی نے خدا سے دعا کی اور دعا ان کی مقبول ہوئی اور روح القدس سے خارق
عادت کی تائید بھی ملی۔
- ٣....... ان کے دعویٰ نبوت کی صداقت کے لئے یہ قصیدہ عظیم الشان ہے۔
ناظرین اب آپ کو تعجب ہوگا کہ: ”بدان شورا شوری ایں بے نمکی۔“ پھر اس قصیدے میں سینکڑوں غلطیاں اس کے سوا سرقات اور جھوٹ کیوں لکھے گئے۔ مگر مجھے کچھ تعجب نہیں کیونکہ یہ انوکھا اعجاز ہے۔ چودھویں صدی کے مسیح موعود اور مہدی مسعود (معجون مرکب کا) جیسی ان کے کرایہ کی نبوت ویسا عاریت کا خدا اور بھاڑے روح القدس تھے۔ ویسا ہی معجزہ بھی: ”ما قدروا الله حق قدرہ۔“
مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ میں حسن مطلع کا کوئی لحاظ نہیں کیا۔ حالانکہ عرب کی
١٣
عادت قدیم اور جدید یہی تھی اور ہے کہ وہ ابتداء سے قصیدہ کو مرغوب اور خوش کن اور میٹھے الفاظ اور مضامین دلربا سے مزین کرتے ہیں اور علم بیان میں اُس کو حسن مطلع کہا جاتا ہے۔ جس میں تغزل ہوتا ہے اور عشق و فراق کی دل فریب باتیں ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مخاطب کو اس کی طرف رغبت ہوتی ہے اور ہمہ تن گوش بن کر اس کے سننے کا بغایت مشتاق ہوتا ہے۔ عربی کے تمام مشہور قصیدے اسی طرز پر لکھے گئے ہیں۔ اہل عرب اس کو کمال عظیم شمار کرتے ہیں۔ عرب عربا سے لے کر مولدین کی قصاید ملاحظہ فرمائیں جس قدر اعلیٰ درجہ کے قصیدے ہیں۔ کوئی اس سے خالی نہیں۔ مرزا قادیانی نے اس کا خیال ہی نہ کیا اور صدر قصیدے میں مخالف کو الفاظ شنیعہ سے لکھ مارا۔ جس سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہے۔ مثلاً مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ کو ان الفاظ سے شروع کیا:
”دفا مدمروار داك خليل واغراكموغر“
(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج١٩ ص ١٥٠)
جس کے معنے ہوئے دھکے مارا۔ ہلاک شدہ ہلاک کیا۔ برانگیختہ کیا۔ غصہ دلانے والا۔ ناظرین دیکھئے اور غور فرمائیے کہ جب قصیدے کے اول شعر میں چھ الفاظ شنیعہ موجود ہیں تو حسن مطلع کا کیا ذکر اور اسی پر مرزا قادیانی کی بدزبانی کو تمام قصیدہ میں قیاس کیجئے:
قیاس کن ز گلستان او بہار او را۔ اور صدر قصیدہ میں اس قسم کے الفاظ معیوب شمار کئے جاتے ہیں۔ کما بین فی موضعه
بخلاف اس کے بحمد اللہ ہمارا قصیدہ نہایت دلچسپ اور تغزل پر مبنی ہے۔ جن حضرات کو ادب کا مذاق اور اشعار عربیہ کا ذوق سلیم ہے۔ وہ اس کے دلفریب مضامین کی داد دیتے ہوئے ہمارے قصیدہ کو مرزا قادیانی کے مصنوعی معجزہ پر فوقیت دیں گے۔ ناظرین ترجمہ کی طرف بھی توجہ مبذول رکھیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ کا ترجمہ لفظی کیا ہے اور ہمارے قصیدہ کا مطلب سلیس اردو میں ہے۔ اب میں دونوں قصیدوں کو معہ ترجمہ کے پیش کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی کے اشعار مولوی صاحب کے اشعار (١) ایالارض مدقددفك مدمر الاهل رسول من سعاد يبشر وارداك ضليل واغراك موغر بانجاز وعدکا دبالياس ينذر زمین ایک ہلاک شدہ نے تیری خستگی کی حالت کیا محبوبہ کا کوئی ایسا قاصد ہے جو اس کی وعدہ میں تجھے ہلاک کیا اور سخت گمراہ کرنے والے نے کی مسرت بخش خبر دے ۔ جس کی ناکامی کا تجھے مارا اور ایک غصہ دلانے والے نے تجھے خوف ڈراتا ہے برانگیختہ کیا۔
(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج١٩ ص ١٥٠)
١٤
(٢) دعوت كذوبا مسدونا صبي الذى الا كحوت غدير اخذا لا يعذر تفـ تونے ایک جھوٹے مفسد میرے شکار کو بلا لیا جس کا کیو پکڑنا ڈھاب کی مچھلی کی طرح بڑا کام نہیں۔ (ایضاً) کیو (٣) وجاءك وصجى ناصحين كا امـ خوة يقولون لا تبغوا هوے وتصبروا ومـ اور میرے دوست تیرے پاس آئے جو بھائیوں کیو کی طرح نصیحت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہوا عائـ وہوس کی طرف میل مت کرو اور صبر کرو۔ (ایضاً) (٤) افظل اسراكم اساری تعصب فـ يريدون يعوى كذئب ويختر مـا فجافا بذئب بعد جهذاذ ابهم نـا ولغنى ثناء الله منه تظهر لا یعنی تم میں سے وہ لوگ جو تعصب کے قیدی ہے مجمـ ۔ انہوں نے چاہا کہ ایسا شخص تلاش کریں جو اور بھیڑیے کی طرح چیخے اور فریب کرے پھر بہت قا کوشش کے بعد ایک بھیڑیے کو لائے اور مراد حا ہماری اس سے ثناء اللہ ہے اور ہم ظاہر کرتے مجھـ ہیں۔
(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج١٩ ص ١٥٠، ١٥١)
ناظرین میں نے مشتے نمونہ از خروارے نقل کر کے آپ کو دکھائے ہیں۔ اب آپ خود غور کر قدر مرزا قادیانی کے مصنوعی اعجاز سے بلند اور بالاتر تشبیب (صدر قصیدے کو میٹھے الفاظ سے فراق و
١٥
الاهل لبانات المتيم تنقضى وهل تنجلى عنه الخطوب وتدحر کیا بندہ عشق کی حاجتیں کبھی پوری ہوں گی اور کیا اس کی مصیبتیں کبھی دور ہوں گی۔
(٢) دعوت كذوبا مستدبا صيدى الذى كحوت غدير اخذا لا يعذر تو نے ایک جھوٹے مفسد میرے شکار کو بلالیا جس کا پکڑنا ڈھاب کی مچھلی کی طرح بڑا کام نہیں۔ (ایضاً)
امالتباريح الغرام نهايت ومالدياجى الصب صبح فتسفر کیا محبت کی مصیبتوں کی کوئی انتہا ہے اور کیا عاشق کی تیرہ شبی کے لئے صبح ہے۔
(٣) وجاءك وصحبى ناصحين كا خوة يقولون لا تبغوا هوى وتصبروا اور میرے دوست تیرے پاس آئے جو بھائیوں کی طرح نصیحت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہوا و ہوس کی طرف میل مت کرو اور صبر کرو۔ (ایضاً)
فوادت مالها نعم اليه بالها معنى وقلبى لم يزل يتفطر اعلل نفسى بالرسول واننى لاعلم حقا انه تعذر محبوبہ کے فراق سے سخت مصیبت میں ہوں اور ہمیشہ شکستہ خاطر رہتا ہوں۔ معشوقہ کے قاصد کی آمد سے میں اپنے جی کو بہلاتا ہوں۔ حالانکہ مجھے یقین ہے کہ یہ امر دشوار ہے یعنی کہ محبوبہ قاصد بھیجے۔
(٤) افظل اسراكم اسارى تعصب يريدون يعوى كذئب ويختر فجاءا بذئب بعد جهد اذابهم ولغنى ثناء الله منه تظهر یعنی تم میں سے وہ لوگ جو تعصب کے قیدی ہے ۔ انہوں نے چاہا کہ ایسا شخص تلاش کریں جو بھیڑیے کی طرح چیخے اور فریب کرے پھر بہت کوشش کے بعد ایک بھیڑیے کو لائے اور مراد ہماری اس سے ثناء اللہ ہے اور ہم ظاہر کرتے ہیں۔ (اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٥٠، ١٥١)
ناظرین میں نے مشتے نمونہ از خروارے دونوں قصیدے کے پانچ پانچ شعر مقابلہ سے نقل کرکے آپ کو دکھائے ہیں۔ اب آپ خود غور کریں اور انصاف سے دیکھیں کہ ہمارا قصیدہ کس قدر مرزا قادیانی کے مصنوعی اعجاز سے بلند اور بالاتر ہے۔ اور چونکہ مرزا قادیانی کے قصیدے میں تشبیب (صدر قصیدے کو میٹھے الفاظ سے فراق و وصال کے مضامین سے مزین کرنا) نہیں ہے تو
١٥
محض محاسن تشبیب سے مطلب کی طرف گریز کرنا کہاں سے آیا ہے اور محاسن شعریہ میں سے ہے۔ اس کے خلاف ہمارے قصیدے میں حسن تخلص اس خوبی سے آیا ہے جسے ماہرین فن ادب سمجھ کر داد دیں گے۔ ناظرین کرام چلتے چلاتے چار شعر اور سن لیجئے۔
- ١....... عجبت لها تدرى بحالى وباللقا . معشوقہ سے تعجب ہے کہ وہ میرے حال
سے واقف ہے اور وصل ۔ تواعد نى تترى وفى الحال تعذر ۔ کے وعدے بار بار کرتی ہے اور فوراً مکر جاتی ہے۔
- ٢....... وتزعم ان الوصل عيب يشينها اور کہتی ہے کہ وصل اسے بدنام کر دے گا
وتوصل غیرى خفية ثم تنکر اور اغیار سے پوشیدہ ملتی ہے۔ پھر انکار کر جاتی ہے۔
- ٣....... واعجب من هذا نبوة شاعر اور اس سے بھی عجیب تر اس شاعر کی نبوت ہے
یری الشعر اعجازا وبالنظم يفخر جس کو شعر اور نظم پر فخر ہے اور اس کو معجزہ سمجھتا ہے۔
- ٤....... الم يدر ان الله نزه رسله کیا اس احمق کو اس کی بھی خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے
رسولوں کو۔ عن الشعر فى التنزيل جاء يکرر شعر گوئی کی آلودگی سے پاک اور صاف رکھا ہے۔ یہ حکم تو قرآن میں کئی جگہ ہے۔
اب آخر میں التماس ہے کہ ہلکا عیب بھی قصیدہ کو اعلیٰ پایہ سے گرا دیتا ہے۔ چہ جائیکہ معجزہ اس کی تو بڑی شان ہے اور کسی عیب کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ الخ!
(نوٹ) مولانا سید محمد علی مونگیری کے مرزا قادیانی کے جواب میں قصیدہ کے دونوں حصے (ابطال اعجاز مرزا، حصہ اول، حصہ دوم) انشاء اللہ العزیز! عنقریب احتساب قادیانیت کی کسی آنے والی جلد میں یکجا شائع ہوں گے۔ ثم انشاءاللہ! (مرتب)
☆..................................☆
١٦
خاتم النبیین لا نبي بعدي
سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ
الکلام الفصیح
فی تحقیق حیات المسیح
(الملقب بہ اسم تاریخی)
ابواب تردید غلام احمد قادیانی ١٩٣٠ء
حضرت مولانا سید محمد عرب مکیؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على اشرف خلائقه خاتم النبيين سيدنا محمدﷺ وعلى اله واصحابه اجمعين ، اما بعد!
اہل اسلام پر مخفی نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو اس فرقہ قادیانیہ سے جس قدر مضرتیں پہنچیں ہیں وہ عرصہ تیرہ سو سال میں کسی فرقہ سے نہیں پہنچیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے بھیس میں غلامان محمدﷺ کو کفر و گمراہی کی تبلیغ کرتے ہیں اور صراط المستقیم سے بہکا کے قعر مذلت میں لے جانے کی سعی کرتے ہیں۔ اس لئے ہر ذی علم فرقہ اہل سنت والجماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر پہلو سے اور ہر کوشش سے اپنے سیدھے سادھے مسلمان بھائیوں کو اس فرقہ احمدیہ، مرزائیہ، قادیانیہ کے پھندے سے بچائے اور ان کے تزویر سے رہائی دینے کی سعی و کوشش کرے اور اس فرقے کے پوست کندہ حالات مسلمانوں کے سامنے رکھ کر بتلا دے کہ اہل اسلام کے عقائد و خیالات ایسے نہیں ہو سکتے اور اسلامی دلائل کے تحت جو شبہات انہوں نے پیدا کئے ہیں۔ ان کے منصفانہ جوابات سے بھولے بھالے اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو مطلع کر دے۔ اسی فرض کو محسوس کرتے ہوئے یہ تصنیف عمل میں آئی ہے۔ امید ہے کہ اہل انصاف اس رسالہ کو نظر غور سے ملاحظہ کریں گے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب !
العاجز محمد المکی غفر عنہ مقیم دارجلنگ مورخہ یکم جمادی الاخریٰ ١٣٣٩ھ
مرزا غلام احمد کے الہامات کاذبہ و مذہب قادیان کے مختصر حالات
رہبر قادیان مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ مولوی گل علی شاہ سے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ حاصل کیا اور اپنے والد مرزا غلام مرتضیٰ کے ساتھ انگریزی عدالتوں میں اپنے اجداد کے بعض دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے مقدمات میں مشغول رہے اور زمینداری کی نگرانی میں لگے رہے اور ان چند سال انگریزی ملازمت میں بھی بسر ہوئے۔ ان کے والد کے مرنے سے قبل ان کو تھوڑی سی غنودگی ہوکر یہ الہام ہوا: ”والسماء والطارق“ یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضاء قدر کا مبدأ ہے اور قسم ہے اس حادثے کی جو غروب کے بعد نازل ہوگا۔
(حقیقت الوحی ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٨)
٢
اور ان کو سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پر ہی تمہارے والد غروب آفتاب کے بعد فوت ہو جا نسبت یہ الہام ہوا اور دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہیں۔ پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلاء پیش آئے۔ اس وقت الوحی ص ٢١٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٠) ”الیس الله بک نہیں ہے۔ پھر جب چودھویں صدی کا ظہور ہونے کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے لتنذر قوما ما انذر اباء ہم، لتستبين سبی المومنين“ (حقیق ”یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھایا اور اس کہ تو ان لوگوں کو برے انجام سے ڈرائے۔ جو بہا جانے کی غلطیوں میں پڑ گئے ۔ اور تا کہ ان مجرموں کی راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ۔ ان کو کہہ دے کہ م آپ سب سے پہلے مومن ہیں۔“
مگر الہامات میں جناب مرزا قادیانی نہیں پایا جاتا ہے لہٰذا معلوم نہیں وہ کیا تھے۔ جب ک قبل اور کوئی مومن نہ تھا؟ اس کے بعد مرزا قادیانی میں اس کا نام عیسیٰ اور مسیح موعود رکھا جیسا کہ عب ج ٣ ص ٣٤٢) عبارت الہام یہ ہے: ”جعلناك ال بنایا اور پھر یہ الہام ہوا: ”الحمد لله الذي جعل خزائن ج ٢٢ ص ٩١) ”انت شيخ المسيح الذي ل
”یعنی خدا کی سب حمد ہے جس نے تجھ وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی معتقدین ان کے نام کے ساتھ علیہ الصلوٰۃ والسلام
اور ان کو سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا کی طرف وحی ہوا اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارے والد غروب آفتاب کے بعد فوت ہو جائیں گے جب ان کو اپنے والد کی وفات کے نسبت یہ الہام ہوا اور دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ بعض وجوہ آمدنی والد کی زندگی سے وابستہ ہیں۔ پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلاء پیش آئے۔ اس وقت یہ دوسرا الہام مرزا قادیانی کو ہوا۔ (حقیقت الوحی ص ٢١٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٠) ”اليس الله بكاف عبده“ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔ پھر جب چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا نے ان کو الہام کے ذریعہ سے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا: ”الرحمن علم القران لتنذر قوما ما انذر اباء ہم، لتستبين سبيل المجرمين قل اني امرت وانا اول المومنين“
(حقیقت الوحی ص ٣٤٤، ٣٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٧، ٣٥٨)
”یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھایا اور اس کے صحیح معنی تجھ پر کھول دیئے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تو ان لوگوں کو برے انجام سے ڈرائے۔ جو باعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متوجہ کئے جانے کی غلطیوں میں پڑ گئے۔ اور تاکہ ان مجرموں کی راہ کھل جائے جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہئے۔ ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اوّل المومنین ہوں۔ گویا آپ سب سے پہلے مومن ہیں۔“
مگر الہامات میں جناب مرزا قادیانی کے والد و دادا کے مومن ہونے کا کہیں ثبوت نہیں پایا جاتا ہے لہٰذا معلوم نہیں وہ کیا تھے۔ جب کہ مرزا قادیانی اول المومنین بنے تو کیا ان سے قبل اور کوئی مومن نہ تھا؟ اس کے بعد مرزا قادیانی نے مسیحیت کا دعویٰ کیا اور اللہ پاک نے الہام میں اس کا نام عیسیٰ اور مسیح موعود رکھا جیسا کہ عبارت (حقیقت الوحی، ازالہ اوہام ص ٦٤٤، خزائن ج ٣ ص ٤٤٦) عبارت الہام یہ ہے: ”جعلناك المسيح ابن مريم“ ہم نے تجھے مسیح بن مریم بنایا اور پھر یہ الہام ہوا: ”الحمد لله الذی جعلك مسيح بن مريم“ (حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) ”انت شيخ المسيح الذى لا يضاع وقته كمثلك در لا يضاع“
(حقیقت الوحی ص ٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٩٣)
”یعنی خدا کی سب حمد ہے جس نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا۔ تو وہ شیخ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں جاتا۔“ (اقول) مرزا قادیانی کے معتقدین ان کے نام کے ساتھ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لفظ بھی کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ
٣
میرے دل میں اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں۔ بلکہ قرآن اور وحی ہے جو مجھ پر نازل ہوئی۔ اقول کیا نبی آخرالزمان خاتم النبیین محمدﷺ کا یہ مسلمہ اہل اسلام کے نزدیک معجزہ نہیں کہ قرآن کریم عربی زبان میں ان پر اترا اور ملک عرب میں اور وہ بھی عرب تھے۔ اگر یہ امر معلوم ہے تو پھر یہی قرآن مجید عربی اور عجمی النسل پر کیونکر اتر سکتا ہے؟ جن کی تعلیم بھی ہر طرح سے محدود ہو اور دوسرے حضرات اہل علم کو ہر طرح محتاج ہوں۔ قرآن مجید تو اس اُمی نبی کا معجزہ ہے جس نے بشر سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:”ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میرے وحی کی معارض نہیں۔“
(اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠)
اقول لازم تو یہ تھا کہ ان پر وحی ان کی زبان میں ہوتی جس کو وہ جانتے تھے۔ یعنی پنجابی زبان میں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی کتاب (حقیقت الوحی ص٣٠٣، خزائن ج٢٢ ص٣١٦) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو انگریزی میں بھی وحی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے:
I love you. I am with you. yes, i an, happy life of pain. I shall help you. I can, what i will do. We can, what we will do. God is coming by His army. He is with you to kill enemy. The days shall come when God shall help you. Glory be to the Lord. God maker of earth and heaven.
ترجمہ: وحی انگریزی (حقیقت الوحی ص٣٠٤، خزائن ج٢٢ ص٣١٧)”میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ہاں میں خوش ہوں۔ زندگی دکھ کی (یعنی موجودہ زندگی تمہاری تکالیف کی زندگی ہے) میں تمہاری مدد کروں گا۔ میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے۔ خدا تمہاری طرف ایک لشکر کے ساتھ چلا آتا ہے۔ وہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔ وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے ذوالجلال آفریدندۂ زمین و آسمان ہے۔“ حضرات ناظرین مقام غور ہے کہ مرزا قادیانی کس قدر لغو و افتراء باری تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہے ہیں”اللهم احفظنا من شرور انفسنا“
(اقول) جتنے نبی و رسول تشریف لائے ہر ایک پر خدائے تعالیٰ نے ان کی زبان میں
٤
کتاب یا صحیفے اتارے تاکہ وہ کسی بشر کے محتاج نہ ہوں نبوت اس کے برعکس ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ پر اٹھا لئے گئے اور وہ زندہ ہیں۔ وہ اپنے قول کی تائید میں قرآن مجید میں ان کو متوفیوں کی جماعت میں داخل کر چکا بھی ان کی خارق عادت زندگی اور ان کے دوبارہ آنے کا کہہ کر چپ ہو گیا۔ لہٰذا ان کا زندہ بجسدہ العنصری ہونا اور اپنے ہی الہام کی رو سے خلافِ واقعہ سمجھتا ہوں بلکہ اس مجید کی رو سے لغو اور باطل جانتا ہوں اور نہ کوئی حدیث صحیح کے لفظ کی کوئی مخالفانہ تفسیر کر کے مسیح کی حیاتِ جسمانی پر آ باتوں کے:”امامکم منکم“ لکھا ہے اور حضرت مسیح کی وفا باری تعالیٰ نے چودھویں صدی کے سرے پر مجھے مبعوث کھول دیا اور ظاہر ہے جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آ میں جو نزول مسیح کے معنی کرتا ہوں۔ وہ نئے معنی نہیں ہیں کی زبان سے پہلے نکل چکے ہیں۔ کیونکہ نزول مسیح ابن مریم مقدمے سے بالکل ہم شکل ہے۔ پس جس حالت میں آم کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے اور اسی وجہ سے وہ حضرت مسیح اسلام کی تمنا کیونکر پوری ہو سکتی ہے۔ ہمارے مخالف اپنی حقیقی طور پر انتظار کرتے ہیں اور ہم بروزی طور پر۔ یحییٰ ہوگئی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جب تک مجھے خدا نے اِلہام مسیح موعود ہے اور عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گیا ہے۔ تب تک کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حیات نسبت براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ جب خدا نے مجھ پر اصل باز آیا۔ میں نے بجز کمالِ یقین کے جو میرے دل میں عقیدہ کو نہ چھوڑا۔ حالانکہ اسی براہین احمدیہ میں میرا نام گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے
٥
کتاب یا صحیفے اتارے تاکہ وہ کسی بشر کے محتاج نہ ہوں۔ مگر مرزا قادیانی کی وحی باوجود ادعائے نبوت اس کے برعکس ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہ بات صحیح نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھالئے گئے اور وہ زندہ ہیں۔ وہ اپنے قول کی تائید میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عزیز اور قرآن مجید میں ان کو متوفیوں کی جماعت میں داخل کر چکا ہے اور سارے قرآن مجید میں ایک دفعہ بھی ان کی خارق عادت زندگی اور ان کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ ان کو صرف فوت شدہ کہہ کر چپ ہو گیا۔ لہٰذا ان کا زندہ بجسدہ العنصری ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں آنا نہ صرف اپنے ہی الہام کی رو سے خلاف واقع سمجھتا ہوں بلکہ اس خیال حیات مسیح کو نصوص بینہ قطعیہ قرآن مجید کی رو سے لغو اور باطل جانتا ہوں اور نہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل موجود ہے جس نے متوفی کے لفظ کی کوئی مخالفانہ تفسیر کر کے مسیح کی حیات جسمانی پر گواہی دی ہو۔ بلکہ بخاری میں بجائے ان باتوں کے: ”امامکم منکم“ لکھا ہے اور حضرت مسیح کی وفات کی شہادت دی ہے۔ اس زمانہ میں باری تعالیٰ نے چودھویں صدی کے سرے پر مجھے مبعوث فرما کر اس پیشین گوئی کی معقولیت کو بھی کھول دیا اور ظاہر ہے جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا گیا تھا۔ پس میں جو نزول مسیح کے معنی کرتا ہوں۔ وہ نئے معنی نہیں ہیں بلکہ وہی معنی ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے پہلے نکل چکے ہیں۔ کیونکہ نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کا مقدمہ نزول ایلیا نبی کے مقدمے سے بالکل ہم شکل ہے۔ پس جس حالت میں آج تک یہودیوں کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے اور اسی وجہ سے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منکر رہے۔ تو مولویان اسلام کی تمنا کیونکر پوری ہو سکتی ہے۔ ہمارے مخالف اپنی جہالت سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو حقیقی طور پر انتظار کرتے ہیں اور ہم بروزی طور پر۔ ہم مانتے ہیں کہ نزول مسیح کی پیشین گوئی ہوگئی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گیا ہے۔ تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آیا۔ میں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دل میں محیط ہو گیا اور مجھے نور سے بھر دیا۔ اسی رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا۔ حالانکہ اسی براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا اور مجھ سے بتلایا تھا کہ تیری خبر قرآن
٥
اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کے مصداق ہے: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله“ تاہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے طرز پر درج تھا۔ خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی کتاب میں عیسیٰ علیہ السلام کے آمد ثانی کا عقیدہ لکھ دیا اور قریباً بارہ برس تک اس رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب وہ وقت آگیا کہ مجھ پر اصل حقیقت کھول دی جائے ۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے اور مجھے حکم ہوا: ”فاصدع بما تؤمر“ یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے اور یہ بھی کہ مہدی آخرالزمان میں ہی ہوں۔
نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کارزار
انتہی مقتطفاً من تصانیف القادیانی
(اقول) مرزا قادیانی نے اپنے مقابلہ کے لئے دجال کی بھی ایجاد کی۔ ان کا بیان ہے کہ حدیثوں میں دو قسم کے صفات دجال معہود کے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا اور دوسرا یہ کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ ان دونوں باتوں میں اگر حقیقت پر عمل کیا جائے تو کسی طرح تطبیق ممکن نہیں۔ کیونکہ نبوت کا دعویٰ اس بات کو مستلزم ہے کہ شخص مدعی آپ ہی خدا کا قائل ہو اور خدائی کا دعویٰ اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص مدعی آپ ہی خدا بن بیٹھے اور کسی دوسرے خدا کا قائل نہ ہو۔ پس یہ دونوں دعوے ایک شخص سے کیونکر ہو سکتے ہیں؟ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ دجال ایک شخص کا نام نہیں۔ بلکہ وہ دجال کے معنی دجل سے اس طرح لیتے ہیں کہ لغت عرب کی رو سے دجال اس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے تئیں امین اور متدین ظاہر کرے اور دراصل نہ امین ہو نہ متدین۔ بلکہ اس کی ہر ایک بات میں دھوکہ اور فریب ہی ہو۔ سو یہ صفت عیسائیوں کی اس گروہ میں ہے جو پادری کہلاتے ہیں۔ یہ گروہ چونکہ اصل آسمانی انجیل کو گم کر کے محرف اور مغشوش مضمون بنام نیا ترجمہ انجیل کے دنیا میں پھیلاتا ہے۔ یہ فعل امر دوسرے لفظوں میں گویا نبوت کا دعویٰ ہے۔ کیونکہ انہوں نے جعل سازی سے نبوت کے منصب کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ جو چاہتے ہیں ترجمہ کے بہانے سے لکھ دیتے ہیں اور پھر اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ طریق ان کا نبوت کے دعویٰ کے مشابہہ ہے اور اس دام میں عیسائی گرفتار ہیں اور دجال کا دوسرا گروہ جن کے افعال خدائی کا دعویٰ سے مشابہہ ہیں۔ یورپ کے فلاسفروں اور کلوں
٦
کے ایجاد کرنے والوں کا گروہ ہے جنہوں کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے اور بہت سی کائنات خدا کی قدرت اور اس پر ایمان رکھنا کچھ ہیں کہ خود ہی کسی طرح اس راز کے مالک کسی کے گھر میں اولاد پیدا کر دیں اور جو طریق دوسرے لفظوں میں خدائی کا دعویٰ ہیں۔ غرضیکہ دراصل یہی لوگ دجال ہیں با
(اقول) مرزا قادیانی نے جو علیہ السلام قرار دیا تو اس کی ضرورت محسو ہے۔ لہٰذا دجال کے لئے بھی تاویلیں ٹھہرائے۔ وہ خود کہیں مصنوعی عیسیٰ علیہ الس انبیاء عظام کا اپنے آپ کو مظہر اتم قرار دی ج ٢٢ ص ٧٦ حاشیہ ) سے معلوم ہوتا ہے۔
گاہ عیسیٰ گاہ گاہ ابن اللہ نسبت فخر میرزا ایک
افسوس کہ دنیائے علم واہل لانے والوں میں کوئی ایسا نہیں کہ کم سے دجال کی آمد اور اس کے کوائف
ہم مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ اور آنا حق ہے۔ سنی و شیعہ کی تمام کتب عجیب الخلقت ہے۔ ایک آنکھ سے کانا گے۔ جیسا کہ بخاری و مسلم وابو داؤد و ابن صامتؓ سے جو دجال کا پست قد
کے ایجاد کرنے والوں کا گروہ ہے جنہوں نے اسباب وعلل کے پیدا کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے اور بہت سی کامیابیوں کی وجہ سے آخر اس ردی اعتقاد تک پہنچ گئے ہیں کہ خدا کی قدرت اور اس پر ایمان رکھنا کچھ چیز نہیں ہے اور وہ رات دن اس تلاش میں لگے ہوئے ہیں کہ خود ہی کسی طرح اس راز کے مالک ہو جائیں کہ جب چاہیں پانی برسائیں اور جب چاہیں کسی کے گھر میں اولاد پیدا کردیں اور جب چاہیں کسی کو عقیمہ بنادیں۔ پس کچھ شک نہیں کہ یہ طریق دوسرے لفظوں میں خدائی کا دعویٰ ہے اور اس گروہ کے تابع اکثر یورپ کے خواص عیسائی ہیں۔ غرضیکہ دراصل یہی لوگ دجال ہیں۔
(اقول) مرزا قادیانی نے جب نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قرار دیا تو اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اپنے مقابلہ میں دجال کا آنا بھی ضروری ہے۔ لہٰذا دجال کے لئے بھی تاویلیں بنالیں اور پھر ایک دجال نہیں بلکہ کئی ایک دجال ٹھہرائے۔ وہ خود کہیں مصنوعی عیسیٰ علیہ السلام بن رہے ہیں اور کہیں موسیٰ علیہ السلام اور کہیں تمام انبیاء عظام کا اپنے آپ کو مظہر اتم قرار دے رہے ہیں۔ جیسا کہ کتاب (حقیقت الوحی ص ٧٣، خزائن ج٢٢ ص٧٦ حاشیہ) سے معلوم ہوتا ہے۔
گاہ ابن اللہ گاہے خود خدا خواہد شدن
نسبت فخر غلامی مرنیابد مرزا
میرزا ایک غلام بیوفا خواہد شدگان
افسوس کہ دنیا سے علم واہل انصاف اٹھ گئے ان کے متبعین معتقدین اور ان پر ایمان لانے والوں میں کوئی ایسا نہیں کہ کم سے کم ان کے اقوال پر غور کرتا۔
دجال کی آمد اور اس کے کوائف
ہم مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قیامت کے قریب دجال خروج کرے گا۔ اس کا نکلنا اور آنا حق ہے۔ سنی وشیعہ کی تمام کتب عقائد میں دجال کا آنا تسلیم کیا گیا ہے۔ دجال ایک آدمی عجیب الخلقت ہے۔ ایک آنکھ سے کانا۔ سرخ چشم۔ اس کے بال کثرت سے اور گھونگھروالے ہوں گے۔ جیسا کہ بخاری ومسلم وابوداؤد وغیرہ نے مختلف صحابہ سے روایتیں کی ہیں اور ابوداؤد نے عبادہ بن صامتؓ سے جو دجال کا پست قد ہونا روایت کیا ہے۔ یہ عظیم الخلقت ہونے کے منافی نہیں ہو
٧
میں کوئی منافات نہیں۔ اس لئے کہ بیت المقدس دمشق کے وہیں ہو گا اور اردن نواح بیت المقدس کا نام ہے۔ کیا عجب داخل ہے اور بیت المقدس میں اگرچہ منارہ نہیں ہے لیکن ان کے اترنے سے پہلے بنے گا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ وہ بعد ٹھہریں گے اور ابن جوزیؒ نے عبداللہ بن عمرؓ سے کتاب علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور ٤٥ برس تک زندہ رہیں رسول اللہ ﷺ میں دفن ہوں گے۔
علماء نے دونوں روایتوں کی تطبیق میں گفتگو کی کہ اس قول میں : ”الانہ لانبی بعدی“ کی دلیل علیہ السلام جب اتریں گے تو امت محمدیہ میں سے ایک حاکم ہو کی طرف بلائیں گے۔ نبی صاحب شریعت ہو کر نہیں اتر میں منافات نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہو کر اتریں اور کرنے میں ان کے تابع ہوں۔ گویا احکام ان کی وحی کے بعدی“ کے معنی یوں کئے جائیں گے کہ نیا کوئی آنحضرت ﷺ خاتم پیغمبران ہیں۔ حضرت مولانا اشرف الخطاب الملیح میں بہت اچھی تقریر فرمائی ہے۔ حضرت تشریف لانا یقینی ہے۔ اس میں نہ ختم نبوت میں قدح نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت ہمارے حضور ﷺ کے بھی ہوں گے۔ جس طرح حضرت اور شریعت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھے نہیں آیا۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت صاحب وقت نبوت عطاء ہوتی۔ پہلے زمانہ میں نبوت نہ مل چکی لازم آتا۔ مگر جب ایسا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے نبی جن چکی ہے۔ حضور ﷺ کے تابع شرع ہو کر آئیں گے شریعت میں کوئی خلل ہوا اور نہ ختم نبوت میں کوئی قدح ٩
میں کوئی منافات نہیں۔ اس لئے کہ بیت المقدس دمشق کی شرقی جانب ہے اور مسلمانوں کا کیمپ وہیں ہوگا اور اردن نواح بیت المقدس کا نام ہے۔ کمافی الصحاح وغیرہ اور بیت المقدس اس میں داخل ہے اور بیت المقدس میں اگر چہ منارہ نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے سے پہلے بنے گا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ وہ بعد اترنے ان کے زمین پر سات برس ٹھہریں گے اور ابن جوزیؒ نے عبداللہ بن عمرؓ سے کتاب الوفا میں روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور ٤٥ برس تک زندہ رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور قبر مبارک رسول اللہ ﷺ میں دفن ہوں گے۔
علماء نے دونوں روایتوں کی تطبیق میں گفتگو کی ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کے اس قول میں : ” الا انہ لا نبی بعدی “ کی دلیل ہے۔ اس مطلب پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو امت محمدیہ میں سے ایک حاکم ہو کر اتریں گے۔ لوگوں کو شریعت محمدی کی طرف بلائیں گے۔ نبی صاحب شریعت ہو کر نہیں اتریں گے۔ میرے نزدیک اس میں کوئی منافات نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہو کر اتریں اور محمد رسول ﷺ کی شرع کے احکام بیان کرنے میں ان کے تابع ہوں۔ گویا احکام ان کی وحی کے ذریعہ سے پہنچیں اور : ” الا انہ لا نبی بعدی “ کے معنی یوں کئے جائیں گے کہ نیا کوئی نبی ﷺ کے بعد پیدا نہ ہوگا۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ خاتم پیغمبران ہیں۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس موقع پر اپنے رسالہ الخطاب الملیح میں بہت اچھی تقریر فرمائی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تابع شرع محمدی ہو کر تشریف لانا یقینی ہے۔ اس میں نہ ختم نبوت میں قدح لازم آتا ہے نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت نبی بھی ہوں گے اور تابع دوسرے نبی یعنی ہمارے حضور ﷺ کے بھی ہوں گے۔ جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام خود بھی نبی تھے اور شریعت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھے۔ پھر بھی تابع ہونے سے معزول ہونا لازم نہیں آیا۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت صاحب شریعت مستقلہ ہوتے تو حضور ﷺ کو اسی وقت نبوت عطاء ہوتی۔ پہلے زمانہ میں نبوت نہ مل چکی ہوتی تو حضور ﷺ پر نبوت کا ختم نہ ہونا بے شک لازم آتا۔ مگر جب ایسا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے نبی جن کو حضور ﷺ کے زمانے سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ حضور ﷺ کے تابع شرع ہو کر آئیں گے تو اس صورت میں نہ حضور ﷺ کی ابدیت شریعت میں کوئی خلل ہوا اور نہ ختم نبوت میں کوئی قدح ہوا۔ اگر صرف اتباع کا نام معزولی ہے تو
٩
حدیث صاف تصریح ہے: ”لوکان موسی حیا لما وسعه الا اتباعی“ اس بناء پر معنی حدیث کے یہ ہونا چاہئے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام میرے وقت میں زندہ ہوتے تو نبوت سے معزول ہو جاتے۔ پس یہی سوال ہم کرتے ہیں کہ اس صورت میں موسیٰ علیہ السلام کی کیا خطا تھی جو وہ نبوت سے معزول کر دیئے جاتے۔ انتہیٰ۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”میں مسیح ابن مریم ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٨، ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩١، ٩٢)
اصل عبارت یہ ہے: ”الحمد لله الذی جعلك المسیح ابن مریم لا یسئل عما یفعل و ھم یسئلون یعنی اس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا اور لوگ پوچھے جاتے ہیں۔“
اہل اسلام پر مخفی نہ رہے کہ یہاں مرزا قادیانی مسیح ابن مریم ہونے کا صریح دعویٰ کر رہے ہیں اور یہ بھی معلوم ہو کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے: ”من امر ربی“ جو دلیل قطعی سے ثابت ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی علیہ ما علیہ ابن غلام مرتضیٰ کسی نامعلوم نطفے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ باپ غلام مرتضیٰ سے صریح انکار کرتے ہوئے دعویٰ مسیح ابن مریم ہونے کا رکھتے ہیں۔ چونکہ شاید مرزا قادیانی بن غلام مرتضیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ عرب کا یہ مقولہ ہے کہ: ”من ادعی الی اب غیرہ فھو ابن حرام“ یعنی جو اپنے باپ سے انکار کرے وہ ابن حرام ہے۔ یعنی حرام زادہ ہے: ”او من انکر نسب ابیه فھو بن لقطة“ یہ دونوں مقولے عرب میں حرامی النسل کے لئے ضرب المثل ہیں۔ اس بارے میں چند احادیث بھی کتب احادیث میں وارد ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اپنے کو غیر باپ کی طرف منسوب کرے وہ ملعون جہنمی ہے۔
الغرض مرزا غلام احمد قادیانی کتاب حقیقت الوحی وغیرہ میں کہتے ہیں کہ یہ بات صحیح نہیں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے اور وہ زندہ ہیں اور پھر لوٹ کر دنیا میں آئیں گے۔ کیونکہ اس زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرما کر اس پیشین گوئی کی معقولیت کو کھول دیا اور ظاہر فرمایا کہ مسیح ابن مریم یعنی مسیح موعود تو ہی ہے۔
پھر مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ ہرگز رفع جسمانی مسیح ابن مریم کا نہیں ہوا۔ ہاں ایک سو بیس برس کے بعد رفع روحانی ہوئی اور نہ صلیب کے دنوں میں رفع روحانی ہوئی۔ کیونکہ پیلاطس گورنر قیصر کے ہاتھ میں عیسیٰ علیہ السلام کے مار ڈالنے کی کارروائی تھی۔ اس کی بیوی نے
١٠
خواب دیکھا کہ اگر یہ شخص مرگیا تو پھر اس میں تمھا کوشش کر کے مسیح کو صلیبی موت سے بچا لیا اور ا صلیب سے ملا کر ہاتھوں میں لوہے کی میخیں ٹھو رہنے دیتے تھے۔ اس عرصہ بھوک اور پیاس سے السلام کو صلیب کی سزا دی گئی۔ اس کے دوسرے کے اشارے پر مریدوں نے مسیح کو مرنے کے خو جانے سے انہوں نے صلیب کے زخموں سے ش پوشیدہ طور پر نکل کر ملکوں کی سیر کرتے ہوئے نیپ کے بعد پنجاب میں آئے اور وہاں سے کشمیر پچیس برس کی عمر میں وہیں فوت ہوئے۔ محلہ آصف نبی کی قبر اور شہزادہ نبی کی قبر اور عیسیٰ نبی ک
فرقہ مرزائیہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلا
کفروا ........ الخ “
یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ نے کہا ہوں۔ تجھ کو اپنی طرف اور تجھ کو ان لوگوں سے اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ موت کے ب رفع ، دوسرا واقعہ وفات۔ اللہ تعالیٰ کے بیان میں ۔ اس صورت عام محاورہ قرآن کے لحا قرآن کے محاورہ میں جب اس طرح مستعم کا فائدہ بخشا ہے اور باستقراء قرآن ٢٣ دوسرے معنی مراد لینا قرآن کے خلاف ” متوفيك “ کے معنی ممیتک کے ظاہر وغیرہ سے اس کی تائید ہوتی ہے اور بعض م میں تقدیم و تاخیر مانی ہے۔ یہ ان کی مرضی
خواب دیکھا کہ اگر یہ شخص مر گیا تو پھر اس میں تمہاری تباہی ہے۔ اس لئے اس نے اندرونی طور پر کوشش کر کے مسیح کو صلیبی موت سے بچا لیا اور اس زمانہ میں صلیب پر چڑھانے کا یہ دستور تھا کہ صلیب سے ملا کر ہاتھوں میں لوہے کی میخیں ٹھونک دیتے تھے اور تین دن تک اسی طرح لٹکا ہوا رہنے دیتے تھے۔ اس عرصہ بھوک اور پیاس کے صدمہ سے وہ شخص مر جاتا تھا۔ جس دن مسیح علیہ السلام کو صلیب کی سزا دی گئی۔ اس کے دوسرے دن یہودیوں کی عید تھی۔ تین گھڑی کے بعد گورنر کے اشارے پر مریدوں نے مسیح کو مرنے کے قبل صلیب سے اتار لیا اور چالیس دن تک علاج کئے جانے سے انہوں نے صلیب کے زخموں سے شفاء پائی اور ٨٧ برس زندہ رہے اور اپنے وطن سے پوشیدہ طور پر نکل کر ملکوں کی سیر کرتے ہوئے نصیبین میں آئے اور وہاں سے افغانستان پہنچے۔ اس کے بعد پنجاب میں آئے اور وہاں سے کشمیر چلے گئے اور بقیہ عمر سری نگر میں گزاری اور ایک سو پچیس برس کی عمر میں وہیں فوت ہوئے۔ محلہ خان یار کے قریب دفن کئے گئے اور اب تک قبر یوز آسف نبی کی قبر اور شہزادہ نبی کی قبر اور عیسیٰ نبی کی قبر مشہور ہے۔
فرقہ مرزائیہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پہلی دلیل یہ آیت کریمہ ہے
”اذ قال اللہ یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا.......... الخ“
یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو لینے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں۔ تجھ کو اپنی طرف اور تجھ کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے۔ یہ آیت صریح اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ موت کے بعد ان کا رفع ہوگا۔ پس دو امر قابل تصریح ہیں۔ اول رفع، دوسرا واقعہ وفات۔ اللہ تعالیٰ کے بیان سے بخوبی ثابت ہے کہ موت اول ہے اور رفع بعد میں۔ اس صورت عام محاورہ قرآن کے لحاظ سے رفع روحانی مراد ہے نہ کہ جسمانی اور لفظ توفی قرآن کے محاورہ میں جب اس طرح مستعمل ہو کہ اس کا فاعل خدا یا ملائکہ ہوں تو صرف قبض روح کا فائدہ بخشتا ہے اور باستقراء قرآن ٢٣ مواقعوں سے ثابت ہے۔ اس لئے سوائے موت کے دوسرے معنی مراد لینا قرآن کے خلاف ہے اور موافق روایت بخاری کے جو ابن عباسؓ سے ”متوفیک“ کے معنی ممیتک کے ثابت ہیں اور دوسرے مفسرین مثلاً صاحب کشاف ومدارک وغیرہ سے اسی کی تائید ہوتی ہے اور بعض علماء نے متوفیک کے معنی ممیتک کے لے کر عبارت قرآن میں تقدیم و تاخیر مانی ہے۔ یہ ان کی سخت غلطی ہے۔ تقدیم و تاخیر ماننے کی صورت میں حکم خداوندی
١١
کے خلاف لازم آتا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: ”اتبعوا ما انزل الیکم“ یعنی جو کچھ تمہاری طرف اترا ہے اس کی اتباع کرو اور تقدیم و تاخیر کی حالت میں جو کچھ اللہ نے بھیجا ہے اس کی اتباع نہ ہو گی۔ بلکہ قرآن کو اپنی رائے کا تابع بنانا ٹھہرے گا اور موت کا حصر ذات باری تعالیٰ کے ساتھ لفظ انی سے ثابت ہے اور یہ لفظ اس پر گواہی دیتا ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مار سکتے ۔ اس جگہ موت کو اپنی ذات کی طرف نسبت کرنے سے مراد موت طبعی ہے۔ جس کی اسناد غیر کی طرف نہیں ہو سکتی۔ انتهیٰ کلام المرزا غلام احمد عليه ماعليه!
الجواب ...... مرزائیوں کی پہلی دلیل کا جواب قاطع
اقول ..... فرقہ مرزائیہ نے اس بحث میں دو باتیں پیش کی ہیں۔ اول لفظ رفع دوسرے توفی ۔ پچھلے لفظ کے معنی حقیقی پورا لینے کے ہیں اور مجازاً موت اور نیند کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جو لوگ اس کو موت کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”توفی“ اگرچہ باعتبار ترتیب ذکر کے رفع سے مقدم ہے۔ لیکن ترتیب وقوعی کے لحاظ سے مؤخر ہے اور واو عطف کے لئے ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ ترتیب وقوعی کو بیان کرے۔ جیسے اس جگہ : ”یامریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی“ سجدہ کو رکوع سے پہلے بیان کیا۔ مگر وقوع کے لحاظ سے مقدم نہیں ہے اور جو نیند کے معنی میں لیتے ہیں ۔ وہ متوفیک کے معنی یوں بیان کرتے ہیں کہ میں تجھ کو سوتے میں اٹھانے والا ہوں تاکہ تجھ کو خوف پیدا نہ ہو اور تو ایسی حالت میں بیدار ہو کہ آسمان پر امن وتقرب کے ساتھ موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اکثر ایسے بندوں کو جن کو زمانہ آئندہ میں آنے کے لئے محفوظ رکھتا ہے۔ نیند کے ذریعہ سے ان کی حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں یہ ثابت ہے کہ اصحاب کہف تین سو نو برس تک غار میں نیند کی وجہ سے محفوظ رہے: ”ولبثوا فی کهفهم ثلث مائة سنین وازدادوا تسعا“ اور حقیقی معنے کی تقدیر پر متوفیک سے یہ مراد ہوگی کہ تجھ کو روح اور جسد کے ساتھ آسمان پر اٹھالوں گا۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ مرزائیوں کا استدلال آیت سے درست ہو سکتا ہے یا نہیں۔ یعنی موت اور قبض روح کے معنی اس آیت سے ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ معانی نصوص کے لگانے میں دو باتوں کا لحاظ ضرور ہوتا ہے اور موارد نصوص کا لحاظ کرنا پھر معانی کے ساتھ الفاظ کی مناسبت کا لحاظ کرنا ضرور ہے۔
پس ”انی متوفیک“ سے موت کے معنی بغیر تقدیم و تاخیر کے لیں گے تو مناسب نہ ہوگا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو اس آیت کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دیتا ہے اور ظاہر
١٢
ہے کہ موت کی خبر دینے سے کسی کو تسلی حاصل نہیں ہو سکتی کو اپنے دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک کا خوف ہو اور وہ میں تم کو مار کر تمہاری روح کو اپنے پاس بلند کر لوں گا ہے۔ بلکہ پریشانی اور بھی بڑھ جائے گی۔ خلاصہ کلام یہ روحانی قرار دینا بالکل سیاق کے مخالف ہے۔ کیونکہ آی ہے۔ اس لئے مقتضائے مقام یہ ہے کہ اس رفع سے ای عموماً نہ پایا جاتا ہو اور رفع روحانی تو تمام انبیاء علیہم الص ہے۔ اس بناء پر ضرور ہے کہ توفی کے معنی موت کے س جسمانی قرار دیا جائے تاکہ امتنان خداوندی کے لئے ترکیب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رفع سے رفع ر ہے کہ یا عیسیٰ اس قول میں خطاب عیسیٰ علیہ السلام س صرف روح کا۔ نہ صرف جسد کا۔ بعد اس کے فرمایا ہے خطاب سے روح مع الجسد مراد ہے۔ بعد اس کے فرما ہے۔ ورنہ یوں فرماتا۔ رافع روحک الی اور ن الجسد ہی سمجھا جاتا ہے اور جہاں رفع سے رفع روحان :”یرفع الله الذين امنوا منكم والذين اوت کے درجے کو جو تم میں ایمان رکھتے ہیں اور جن ک اور وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف خطاب ہے
اسی طرح اکابر علماء کرام جیسے امام فخر الد نہایت تحقیق سے لفظ ”توفی“ کے معنی صاف س اور بعض مفسرین جیسے ابو السعود اور خازن وغیرہ نے ر کیا ہے اور ابو السعود نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ ا اور یہی قول حسن اور زید کا ہے اور طبرانی نے بھی اس کو پہنچا ہے اور کاف خطاب وغیرہ ہمیں مجبور کرتے ہ یہ معنی لغوی کے مناسب ہیں۔ جو پورا لینے کے ہی
ہے کہ موت کی خبر دینے سے کسی کو تسلی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر کسی کے دوست کو اپنے دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک کا خوف ہو اور وہ شخص اپنے دوست سے کہے کہ تم مت گھبراؤ میں تم کو مار کر تمہاری روح کو اپنے پاس بلند کر لوں گا۔ تو ایسی بات کہنے سے اس کو کیسے تسلی ہو سکتی ہے۔ بلکہ پریشانی اور بھی بڑھ جائے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ توفی کے معنی موت کے لے کر رفع کو روحانی قرار دینا بالکل سیاق کے مخالف ہے۔ کیونکہ آیت مذکور تسلی واطمینان کے لئے نازل ہوئی ہے۔ اس لئے مقتضائے مقام یہ ہے کہ اس رفع سے ایسا رفع مراد لیا جائے جو باقی ابنائے جنس میں عموماً نہ پایا جاتا ہو اور رفع روحانی تو تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور شہداء اولیاء اللہ میں پایا جاتا ہے۔ اس بناء پر ضرور ہے کہ توفی کے معنی موت کے سوا کوئی دوسرے لئے جائیں اور رفع کو رفع جسمانی قرار دیا جائے تاکہ امتنان خداوندی کے لئے وجہ معقول پیدا ہو جائے۔ الفاظ قرآن کی ترکیب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رفع سے رفع روحانی مراد نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یا عیسیٰ اس قول میں خطاب عیسیٰ علیہ السلام سے ہے اور عیسیٰ روح مع الجسد کا نام ہے نہ صرف روح کا۔ نہ صرف جسد کا۔ بعد اس کے فرمایا ہے: ”انی متوفیک“ یہاں بھی کاف خطاب سے روح مع الجسد مراد ہے۔ بعد اس کے فرمایا: ”رافعك الیٰ.....“ روح مع الجسد مراد ہے۔ ورنہ یوں فرماتا۔ رافع روحك الیٰ اور ک کے ساتھ مقید کیا ہے۔ اس سے بھی رفع مع الجسد ہی سمجھا جاتا ہے اور جہاں رفع سے رفع روحانی مراد ہے۔ وہاں قرینہ پایا جاتا ہے۔ جیسے ”یرفع الله الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات۔“ اللہ اونچا کرتا ہے ان کے درجے کو جو تم میں ایمان رکھتے ہیں اور جان کہ وہاں قرائن رفع روحانی کے خلاف موجود ہیں اور وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف خطاب ہے نہ روح کی طرف۔
اسی طرح اکابر علماء کرام جیسے امام فخر الدین رازیؒ اور جلال الدین سیوطیؒ وغیرہ نے نہایت تحقیق سے لفظ ”توفی“ کے معنی صاف کئے ہیں اور اس سے رفع جسمانی ثابت کیا ہے اور بعض مفسرین جیسے ابو السعود اور خازن وغیرہ نے رفع روحانی کو نصاریٰ کے مزعومات سے بیان کیا ہے اور ابوالسعود نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بغیر موت اور نیند کے ثابت ہے اور یہی قول حسن اور زید کا ہے اور طبرانی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے اور یہی ابن عباسؓ سے صحت کو پہنچا ہے اور کاف خطاب وغیرہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ یہی معنی مراد لئے جائیں اور یہی توفی کے معنی لغوی کے مناسب ہیں۔ جو پورا لینے کے معنی میں آیا ہے اور پورا لینا ضرور اسی میں ہے کہ
١٣٠
رفع جسمانی قرار دیا جائے اور اگر فرض کر لیا جائے کہ : ”انی متوفیک“ سے مراد موت ہی ہے تو یہ بھی رفع جسمانی کے مخالف نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں ہم یہ کہیں گے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور بے شمار قرآن کی آیتیں ہیں جن میں معنی کی تقدیم و تاخیر الفاظ کے برخلاف ہے اور مخالفین کا کہنا کہ تقدیم و تاخیر کے ماننے میں قرآن کو غلط کرنا ہے۔ اس لئے کہ خدا موافق واقعہ کے بیان کرتا ہے۔ درست نہیں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی“ اس میں سجدہ کا ذکر پہلے ہے۔ حالانکہ پہلے رکوع مقصود ہے۔ تو معلوم ہوا کہ الفاظ کی تقدیم و تاخیر میں فصاحت و بلاغت کے خلاف نہیں۔ پس یہاں بھی رفع مقدمۃ المعنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اکثر جگہ الفاظ کی تقدیم و تاخیر کی ہے اور موافق واقعہ کے الفاظ کو بیان نہیں کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ میں ہے : ”وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة نغفر لکم“ یعنی دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو گناہ اترے اور سورہ اعراف میں ہے: ”وقولوا حطة وادخلوا الباب سجدا“ پچھلی آیت کی ترتیب کے خلاف ہے اور واقعہ ایک ہی ہے۔
پس جب کہ ”متوفیک“ کے معنی ”ممیتک“ کے لیں گے تو اسی کی یہی توجیہ ہو سکتی ہے کہ الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے اور اب رفع کے بعد موت قرار دی جائے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب سے قبل جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔ پھر قرب قیامت میں ان کو زمین پر نازل کر کے مارے گا اور ابن عباسؓ نے ”متوفیک“ کے معنی ممیتک لئے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ تصریح نہیں کی کہ اول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے مارا پھر رفع روحانی کی۔ حالانکہ ابو نعیم کی روایت کتاب الفتن میں اور اسحاق ابن بشیر کی روایت در منثور میں ہمارے مدعا کے موافق ہے اور فتح الباری اور قسطلانی شرح صحیح بخاری میں آیت: ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ میں سند صحیح سے ابن عباسؓ سے ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے اور اس کے خلاف پھیرنے کی تضعیف کی ہے۔ یعنی اہل کتاب حضرت مسیح علیہ السلام کے مرنے سے قبل ان پر ایمان لائیں گے اور یہ ذکر اس وقت کے ایمان کا ہے جب کہ زمانہ آخر میں مسیح علیہ السلام دنیا میں نزول فرمائیں گے اور مرزائی یہ جو کہتے ہیں کہ ”توفی“ قرآن میں استقرا کے ساتھ قبض روح کے معنی میں ٢٣ مواقع سے ثابت ہوتا ہے۔
پس بموجب اس استقرا کے موت کے معنی میں لینا چاہئے اور دوسرے معنی میں لینا
١٤
قرآن کے خلاف ہے۔ (اقول) جواب اس کا یہ ہے کہ ہوتا۔ ”توفی“ اس معنی میں قرآن میں کہیں نہیں آ قرینے کی مجبوری ہے اور اس آیت میں چونکہ قرینہ نہیں ہ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔
مرزائیوں کی دوسری دلیل قرآن پاک کی ر
اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتا ہے: ”وقو رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبہ شك منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن و وكان الله عزيزا حكيما“
یعنی یہودیوں کا قول ہے کہ ہم نے حضر اور نہ اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا ہے۔ لیکن مش اختلاف کیا۔ اس معاملہ میں وہ اس جگہ شک میں پڑ کرتے ہیں اور ان کو بے شک قتل نہیں بلکہ اللہ نے اپنی
مرزائی کہتے ہیں کہ جب کہ تمام عوارض ب امر ان کو موت طبعی سے روک کر رفع روحانی سے رفع ج علیہ السلام کے مخالف ہو گئے تھے۔ خود تو ان کو قتل نہیں میں نہ تھی۔ اس لئے ان پر یہ الزام لگایا کہ بغاوت ثبوت دیا تا کہ ان کو صلیب کے ذریعہ سزادی جائے توریت مدعی کاذب اور ملعون کے لئے مقرر تھا اور درجات شہادت کا باعث ہے۔ اس لئے خدا ن کی۔ تاکہ یہودیوں کا زعم باطل ہو جائے اور یہ مرا ہوگی۔ صرف لعنت کی موت سے مسیح علیہ السلام کو ب صرف یہ جتانے کیلئے ہے کہ حضرت مسیح مقتول اور اور مقتول نہیں ہوئے اور اس کلام سے خدا کی دو باطل کرنا۔ دوسرے یہودیوں کا یہ فاسد عقیدہٹی عقیدہ فاسد عقیدہ باط با عقیدہ باط
قرآن کے خلاف ہے۔ (اقول) جواب اس کا یہ ہے کہ معنی مجازی ہے جو بغیر قرینہ کے مستعمل نہیں ہوتا۔ ”توفی“ اس معنی میں قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ اس لئے اسے استقراء نہیں کہہ سکتے۔ قرینے کی مجبوری ہے اور اس آیت میں چونکہ قرینہ نہیں ہے۔ اس لئے حقیقی معنی میں لیا جائے گا اور یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔
مرزائیوں کی دوسری دلیل قرآن پاک کی یہ آیت ہے
اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتا ہے: ”وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول الله وماقتلوه وماصلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما“
یعنی یہودیوں کا قول ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو پیغمبر اللہ کا تھا مار ڈالا اور نہ اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا ہے۔ لیکن مشتبہ کر دیا گیا۔ اس کے لئے جن لوگوں نے اختلاف کیا۔ اس معاملہ میں وہ اس جگہ شک میں پڑ گئے ان کو اس کی کچھ بھی خبر نہیں صرف گمان کرتے ہیں اور ان کو بے شک قتل نہیں بلکہ اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔
مرزائی کہتے ہیں کہ جب کہ تمام عوارض بشری مسیح میں پائے جاتے ہیں۔ تو پھر کون سا امر ان کو موت طبعی سے روک کر رفع روحانی سے رفع جسمی کی طرف منتقل کرتا ہے۔ یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے مخالف ہو گئے تھے۔ خود تو ان کو قتل نہیں کر سکتے تھے اور روم کی سلطنت ان کے اختیار میں نہ تھی۔ اس لئے ان پر یہ الزام لگایا کہ بغاوت اور بادشاہی کا دعویٰ کرتا ہے اور اس الزام کا ثبوت دیا تا کہ ان کو صلیب کے ذریعہ سزا دی جائے۔ مارا جانا یہودیوں کے خیال میں بروے توریت مدعی کاذب اور ملعون کے لئے مقرر تھا ورنہ قتل انبیاء اور اولیاء کے لئے علو مدارج اور درجات شہادت کا باعث ہے۔ اس لئے خدا نے مسیح علیہ السلام کی تنزیہ صلیب کی موت سے کی۔ تا کہ یہودیوں کا زعم باطل ہو جائے اور یہ مراد نہ تھی کہ مسیح علیہ السلام کو کسی قسم کی موت واقع نہ ہوگی۔ صرف لعنت کی موت سے مسیح علیہ السلام کو بری کرنا مقصود تھا اور لفظ ”شبه لهم“ یہاں صرف یہ جتانے کیلئے ہے کہ حضرت مسیح مقتول اور مصلوب کی طرح ہو گئے اور اصلی طور پر مصلوب اور مقتول نہیں ہوئے اور اس کلام سے خدا کی دو اغراض تھیں۔ ایک تو نصاریٰ کے کفارہ کا خیال باطل کرنا۔ دوسرے یہودیوں کا یہ فاسد عقیدہ باطل کرنا کہ جو مصلوب ہوتا ہے وہ ملعون ہوتا ہے۔
١٥
پس ”شبه لهم“ کہہ کر دونوں گروہ کے خیالات کی تردید کر دی: ”وما قتلوه وما صلبوه“ میں یہ بات جتلانا ہے کہ صلیب پر چڑھانے کا تو واقعہ ظہور میں آیا قتل واقع نہیں ہوا۔ پچھلا ”ما قتلوه“ تاکید کرتا ہے کہ وہ صلیب پر چڑھائے گئے مگر مرنے سے بچ گئے۔ لیکن اس واقعہ صلیب کی نفی ثابت نہیں ہوتی غرض اس سے یہودیوں کے خیال کا باطل کرنا تھا کہ نبی کاذب مقتول ہوتا ہے اور: ”رفعه الله الیه“ اس لئے بیان کیا کہ یہود کہا کرتے تھے کہ اس قسم کے مقتول کی روح شیطان کے پاس چلی جاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ واقعہ صلیب کے بعد مسیح علیہ السلام کی روح میرے پاس چلی آئی تو اس سے رفع روحانی ثابت ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک علو درجہ کا موجب ہے۔ چونکہ قرآن کو اہل کتاب کے خیالات فاسد کی تردید منظور تھی۔ اس لئے لفظ لفظ سے ان کے خیالات کو باطل کیا: ”الی ههنا تم کلام المرزائیة نقلاً من کتاب حقیقت الوحی وغیرہ!
الجواب ...... مرزائیوں کی دوسری دلیل کا جواب
اقول: جواب اس کا یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم کے اٹھا لئے گئے۔ اس آیت میں مرزائیوں کی تاویل کا میدان بالکل کوتاہ ہے۔ اس آیت سے اتنے امور ثابت ہوتے ہیں: (اولاً)...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقتول ومصلوب نہ ہونا۔ (ثانیاً)...... یہودیوں کو اس واقعہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل وشناخت کی بابت شبہ پیدا ہو جانا اور ان کا شک میں پڑ جانا۔ (ثالثاً)...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسد کے آسمان پر اٹھا لیا جانا۔
مرزائیوں کو پہلے امر سے انکار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سولی چڑھائے گئے اور تین ساعت تک وہ اس پر آویزاں رہے۔ چونکہ سولی پر مرے تو نہیں بلکہ غش آ گیا تھا۔ معالجہ کے بعد صحت پا کر یہودیوں سے چھپ کر رہنے لگے اور پھر ہندوستان کی طرف چلے آئے۔ مگر قرآن مجید سے یہ مطلب کسی طرح سے ثابت نہیں ہو سکتا جو قرآن پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کو مسیح کا صلیب پر چڑھنا مقبول نہ ہوگا اور نہ ایسا کسی مسلمان کو عقیدہ ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے۔ ان کا یہ کہنا کہ صلیب دیا جانا یہودیوں کے نزدیک طعن کا موجب تھا۔ بالکل غلط اور لغو ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ انبیاء کا مقتول ہونا عار کا باعث نہیں ہے۔ کیونکہ توریت کے زمانہ میں بھی اکثر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام مقتول ہوئے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بدتر طور پر انبیاء کو بنی اسرائیل نے قتل کیا ہے اور یوں تو یہودیوں کے طعن سے اب تک حضرت مسیح علیہ السلام سبکدوش
١٦
نہیں ہوئے۔ حالانکہ آیت: ”انی متوفیک“ ان کی ت سوائے رفع جسمانی کے ممکن نہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب موت سے بچ کر اور صلیب کے زخموں سے شفاء پا کر پوشیدہ طور پر نکل کر ملکوں کی سیر کرتے ہوئے نصیبین اور ایک مدت تک اس جگہ جو کوہ نعمان کہلاتا ہے اس کے پنجاب میں آئے اور ہندوستان کا بھی سفر کیا اور غالباً بعارضہ طرف لوٹ کر کشمیر کا قصد کیا اور کوہ سلیمان پر ایک مدت تک
اقول: یہ باتیں کسی طرح نقل صریح اور شرعاً حضرت مسیح علیہ السلام کے معاملے میں عزیز وحکیم فرمایا ہے۔ مصیبت اور تکلیف جھیلنی پڑی کہ بے چارے دار پر چڑھے پڑا۔ اس سے موت ہزار درجہ بہتر واولیٰ ہے اور چالیس سے سخت تر ہے۔ کیونکہ جان تھوڑی سی دیر میں نکل جاتی ہے
پیروی نہ تو قرآن کی کرتے ہیں نہ اناجیل کی اور نہ احادیث قرآن سے اور کچھ احادیث سے لے کر اپنی رائے ومرضی لیتے ہیں۔ جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے نہ وہ تمام وکمال انا سے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کچھ ادھر سے لیتے ہیں۔ کچھ پھیلاتے ہیں۔ قرآن نے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے م واقعہ صلیب کا قرآن سے ثبوت کب پہنچتا ہے۔ خداوند ک ہے۔ ایک حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل ہونے کی۔ دوسر ہے جو ہر طرح کی موت کو شامل ہے۔
پس قتل نے ہر طرح کی موت کی نفی کی۔ چونکہ ہوں۔ مصلوب ہوئے ہوں اور ان کو صلیب پر چڑھانے ان کی بریت ثابت کی: ”ما صلبوه“ صاف پکار کر کہتا امن میں رہے۔ سولی دینے کے لئے مرنا شرط نہیں۔ پس پر چڑھنے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ مرنے کی نفی ہوتی ہے۔ یہ کیو کہ دار پر چڑھا کر مرنے سے قبل اتار لئے جاتے اور ”ماص
١٧
نہیں ہوئے۔ حالانکہ آیت: ”انی متوفیک“ ان کی تطہیر کے باب میں نازل ہوئی ہے اور تطہیر سوائے رفع جسمانی کے ممکن نہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں یہ جو تحریر کرتے ہیں کہ مسیح صلیبی موت سے بچ کر اور صلیب کے زخموں سے شفاء پا کر ٨٧ برس زندہ رہے اور اپنے وطن سے پوشیدہ طور پر نکل کر ملکوں کی سیر کرتے ہوئے نصیبین میں آئے اور وہاں سے افغانستان پہنچے اور ایک مدت تک اس جگہ جو کوہ نعمان کہلاتا ہے اس کے قریب سکونت پذیر رہے۔ اس کے بعد پنجاب میں آئے اور ہندوستان کا بھی سفر کیا اور غالباً بنارس اور نیپال میں بھی پہنچے۔ پھر پنجاب کی طرف لوٹ کر کشمیر کا قصد کیا اور کوہ سلیمان پر ایک مدت تک عبادت کرتے رہے اور وہیں رہے۔
اقول: یہ باتیں کسی طرح نقل صریح اور شرع سے ثابت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام کے معاملے میں عزیز و حکیم فرمایا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح کو اتنی مصیبت اور تکلیف جھیلنی پڑی کہ بے چارے دار پر چڑھے۔ زخموں کی تکلیف اٹھائی اور وطن چھوڑنا پڑا۔ اس سے موت ہزار درجہ بہتر واولیٰ ہے اور چالیس دن تک جراحات کی تکلیف اٹھانا موت سے سخت تر ہے۔ کیونکہ جان تھوڑی سی دیر میں نکل جاتی ہے اور یہ عجیب ہے کہ مرزا قادیانی پوری پیروی نہ تو قرآن کی کرتے ہیں نہ اناجیل کی اور نہ احادیث کی۔ کچھ واقعات اناجیل سے، کچھ قرآن سے اور کچھ احادیث سے لے کر اپنی رائے و مرضی کے موافق ایک فرضی سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے نہ وہ تمام و کمال اناجیل سے ملتا ہے۔ نہ قرآن واحادیث سے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کچھ ادھر سے لیتے ہیں۔ کچھ ادھر سے اس طرح اپنی تاویلات کو پھیلاتے ہیں۔ قرآن نے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے مقتول اور مصلوب ہونے کی نفی کی ہے۔ واقعہ صلیب کا قرآن سے ثبوت کب پہنچتا ہے۔ خداوند کریم اس آیت سے دو چیزوں کی نفی کرتا ہے۔ ایک حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل ہونے کی۔ دوسرے ان کو مصلوب ہونے کی۔ قتل عام ہے جو ہر طرح کی موت کو شامل ہے۔
پس قتل نے ہر طرح کی موت کی نفی کی۔ چونکہ پھر بھی شک باقی تھا کہ مقتول نہ ہوئے ہوں۔ مصلوب ہوئے ہوں اور ان کو صلیب پر چڑھانے کی سزا ملی ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی ان کی بریت ثابت کی: ”ماصلبوہ“ صاف پکار کر کہتا ہے کہ وہ صلیب کے صدمے سے ہر طرح امن میں رہے۔ سولی دینے کے لئے مرنا شرط نہیں۔ پس مرزا کا یہ کہنا کہ ”ما صلبوہ“ سے سولی پر چڑھنے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ مرنے کی نفی ہوتی ہے۔ یہ کہنا بالکل لغت کے خلاف ہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ دار چڑھا کر مرنے سے قبل اتار لئے جاتے اور ”ماصلبوہ“ سے صرف اس بات کی نفی مقصود
١٧
ہوتی کہ وہ دار پر مرنے نہیں پائے تو ”ما قتلو“ کا لفظ بے جا ہوتا۔ کیونکہ دوسری قسم پر حضرت مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے کا شبہ اہل کتاب کے عقائد میں ہرگز نہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت : ”وجیھا فی الدنیا والاخرۃ“ فرمایا ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات پر کہ ان کو دار پر نہیں چڑھایا گیا۔ اگر صرف دار پر چڑھائے جاتے تب بھی ان کی وجاہت جاتی رہتی اور جھوٹے الزام سے وجاہت میں فرق نہیں آسکتا۔
ہاں! الزام صحیح البتہ ذلت کا سبب ہے اور یہ کتنے بڑے گناہ کی بات ہے کہ نبی کو غیر وجیہ جانا جائے یا غلط طور پر خدا اس کو مجرم فرمائے۔ اور فرمایا: ”مطهرك من الذين کفروا“ یعنی تجھ کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے یہ بھی اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ کفار کے نجس ہاتھ ان تک نہ پہنچے ورنہ تطہیر نہیں ہو سکتی اور تطہیر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو کفار کے الزام سے پاک کیا۔ کیونکہ الزامات کفار سے ان کو جھوٹے میں بولنے اور مردوں کو زندہ کرنے سے پاک کر دیا ہے۔ بلکہ یہاں تطہیر سے مراد یہودیوں کے مکر و کید سے حفاظت جان کے موقع پر بچایا جاتا ہے اور یہ مراد نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے خیالات فاسدانہ سے قرآن پاک نے تطہیر کی۔ کیونکہ قرآن شریف کی تطہیر کو یہود نہیں مانتے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طہارت قرآن سے کیسے ثابت ہو سکتی ہے۔ بلکہ ماننا پڑے گا کہ تطہیر سے مراد قتل اور صلیب کے حادثے سے بچانے کا دوسرا امر یعنی یہود کے شبہ میں پڑ جانے کی نسبت جو تفصیل مرزائیوں نے لکھی ہے۔ اس پر دلائل اسلام سے کوئی دلیل نہیں۔ بلکہ انجیل اور اس کی تفاسیر کی باتیں درج کر دی ہیں اور ”شبہ لهم“ سے یہ مراد نہیں ہے کہ یہودیوں کے سامنے کوئی دوسرا آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت پر ہو گیا تھا اور انہوں نے اس کو سولی پر چڑھایا۔ کیونکہ اگر یہ جائز ٹھہرے کہ اللہ تعالیٰ ایک انسان کو دوسرے انسان کی صورت پر کر دیتا ہے تو اس سے سفسطے کا دروازہ کھل جائے گا۔ اس لئے کہ ہم نے زید کو دیکھا۔
پس یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید زید نہ ہو کوئی اور شخص ہو کہ اس کی صورت زید کی سی ہو۔ اس صورت میں نہ طلاق کا نہ نکاح کا نہ ملکیت کا اعتبار رہے گا۔ دوسری خرابی یہ ہے کہ اس سے تواتر میں نقصان لازم آتا ہے۔ اس لئے کہ خبر متواتر سے علم کا فائدہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ وہ محسوس پر منتہی ہو اور جب کہ محسوسات میں یہ شبہ پڑ گیا تو متواترات پر بھی اعتبار نہ رہے گا اور اس سے تمام شرائع میں خرابی واقع ہو جائے گی اور اس سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوت پر طعن لازم آتا ہے۔
١٨
خلاصہ یہ ہے کہ صورت کے بدلنے سے اصول طریق بعض متکلمین کا مختار ہے یہ ہے کہ یہودیوں نے ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ پس دھوکا ہوا۔ اس لئے ایک آدمی کو پکڑ کر قتل کیا اور سولی دے دی علیہ السلام کو سولی دے دی ہے۔ لوگ چونکہ حضرت عیسیٰ نام ان کا سنتے تھے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں ان کو یقین آگیا اور نصاریٰ کی طرف سے اگر اس بات تواتر کے ساتھ معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہو اس لئے نامعتبر ہے کہ اس کا تواتر تھوڑے سے آدمیوں ہیں کہ عجب نہیں۔ انہوں نے کذب پر اتفاق کر لیا ہو کہ کسی اور شخص کی صورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سی کے لئے۔ وہ شبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان دانستہ طور سے ایک غیر آدمی کو عوام کے دھوکا دہی کی غرض رفع جسمانی کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر یہ مراد نہیں کیا ہے تو غور کرنا چاہئے کہ نہ صرف روح قتل ہو ہیں اور اس کے بعد فرمایا کہ نہ ان کو صلیب دی ہے اور نہ دونوں میں سے ایک ایک کو۔ بعد اس کے فرمایا: ” بل الیہ“ یہاں بھی قتل کا محتاج روح وجسم کا مجموعہ ہے ان بل رفعہ اللہ کا مرجع ایک ہے۔ پس از روئے علم واقعہ کے قتل کرنے اور صلیب دینے سے بچا کر آسمان پر اٹھا بات کے تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیونکہ کلمہ بل میں میں کبھی جمع نہیں ہو سکتا۔
مرزائیوں کی تیسری دلیل جو حضرت عیسیٰ
پیش کرتے
”اذقال اللہ یعیسیٰ انی متوفی
١٩
خلاصہ یہ ہے کہ صورت کے بدلنے سے اصل بگڑتی ہے۔ تو یہ صحیح نہیں۔ اس امر میں جو طریق جمہور متکلمین کا مختار ہے یہ ہے کہ یہودیوں نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ سرداران یہود کو عوام میں فتنہ پیدا ہونے کا خوف ہوا۔ اس لئے ایک آدمی کو پکڑ کر قتل کیا اور سولی دے دی اور لوگوں پر ظاہر کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی ہے۔ لوگ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چہرہ شناس نہ تھے۔ صرف نام ان کا سنتے تھے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں سے میل جول کم رکھتے تھے۔ اس لئے ان کو یقین آ گیا اور نصاریٰ کی طرف سے اگر اس بات کا دعویٰ پیش ہو کہ ہم کو اپنے بزرگوں سے تواتر کے ساتھ معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالضرور مصلوب ہوئے تو یہ خبر متواتر ان کی اس لئے نامعتبر ہے کہ اس کا تواتر تھوڑے سے آدمیوں پر منتہی ہوتا ہے۔ جن کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ عجب نہیں۔ انہوں نے کذب پر اتفاق کر لیا ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ”شبہ لہم“ سے یہ مراد نہیں کہ کسی اور شخص کی صورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہوگئی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ شبہ ڈالا گیا ان کے لئے۔ وہ شبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چڑھا لئے گئے تو سرداران یہود نے دانستہ طور سے ایک غیر آدمی کو عوام کے دھوکا دہی کی غرض سے سولی دے دی۔ تیسری بات یعنی رفع جسمانی کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر یہ مراد نہ لی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا ہے تو غور کرنا چاہئے کہ نہ صرف روح قتل ہوتی ہے نہ محض جسم بلکہ دونوں مقتول ہوتے ہیں اور اس کے بعد فرمایا کہ نہ ان کو صلیب دی ہے اور صلیب بھی روح مع الجسم کو دی جاتی ہے۔ نہ دونوں میں سے ایک ایک کو۔ بعد اس کے فرمایا: ” وما قتلوہ یقینا بل رفعہ الله الیہ “ یہاں بھی قتل کا مورد روح و جسم کا مجموعہ ہے ان میں سے ہر ایک تنہا نہیں۔ اور ضمائر ما قتلوہ وما صلبوہ وبل رفعہ اللہ کا مرجع ایک ہے۔ پس از روئے علم وانصاف ماننا پڑے گا کہ مسیح علیہ السلام کو یہودیوں کے قتل کرنے اور صلیب دینے سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔ فصاحت و بلاغت اور قواعد عربی اس بات کے تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیونکہ کلمہ بل کے دونوں طرف جو کلام متضاد ہوتا ہے۔ وہ خارج میں کبھی جمع نہیں ہو سکتا۔
مرزائیوں کی تیسری دلیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے ثبوت میں
پیش کرتے ہیں
”اذقال اللہ یعیسیٰ ابن مریم اأنت قلت للناس اتخذونی وامی
١٩
الهين من دون الله۔ قال سبحانك مايكون لى ان اقول ماليس لى بحق۔ان كنت قلته فقد علمته تعلم مافى نفسى ولا اعلم مافى نفسك۔ انك انت علام الغيوب۔ماقلت لهم الا ما امرتنی به ان اعبدواالله ربی وربكم وكنت عليهم شهیدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شى شهيد“ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ کیا تو آدمیوں سے کہتا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دو خدا، سوائے خدا کے سمجھو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا:۔ تیری ذات پاک ہے مجھ کو یہ لائق نہیں کہ وہ بات کہوں جو میرے لائق نہیں ہے۔ اگر میں نے کہا کہ تو۔ تو وہ چیز جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے۔ اور میں وہ نہیں جانتا ہوں جو تیرے نفس میں ہے۔ تحقیق تو غیب کا جاننے والا ہے۔ ان سے میں نے وہی کہا ہے جس کا تو نے مجھ کو حکم دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ جو میرا اور تمہارا دونوں کا پروردگار ہے اور ان پر میں گواہ تھا جب تک ان میں تھا اور جب کہ تو نے مجھ کو موت دی تو تو ان پر نگہبان ہے اور تو ہی سب پر گواہ ہے۔
اقول:”آیت کریمہ میں لفظ ”توفیتنی“ واقع ہے مرزائی اس کے معنی موت کے لیتے ہیں اور تائید اس کی بخاری شریف کی حدیث جو ابن عباسؓ سے حشر کے بارے میں مروی ہے۔ کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ”فـاقـول كـمـاقـال الـعـبـد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم “ یعنی میں کہوں گا جیسا کہ بندہ صالح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میں تھا۔ ان کے حال سے واقف تھا اور جب تو نے مجھ کو ان میں سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگہبان اور ان کے حال سے واقف ہے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ یہ سوال و جواب عالم برزخ میں واقع ہوئے۔ اگر حشر میں ان کا واقع ہونا مانا جائے گا تو درست نہ ہوگا۔ کیونکہ ہمارے حضرت محمد ﷺ نے تو اپنا جواب لفظ مضارع کے ساتھ دیا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ ماضی کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے اوّل حساب لے کر اس کے بعد سرورکائنات بلائے جائیں گے تاکہ مسیح علیہ السلام کے مطابق جواب دیں اور ایسا کسی عالم نے نہیں کہا ہے اور نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ (انتہی کلام المرزائیۃ)
الجواب مرزائیوں کی تیسری دلیل کا جواب
اقول: مرزائیوں نے اس آیت سے استدلال غلط طور پر اخذ کیا ہے اور اس کے معنی موت کے لئے ہیں۔ جو نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ اور آئمہ سلف وخلف کے خلاف ہے۔ یہاں
٢٠
بھی ”توفیتنی“ کے لغوی معنی مراد ہے۔ پورا لینا اور کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کی حدیث سے: ”قال الم ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ”قال“ کے ماضی ہونے تو اس لئے کہ ماضی بمعنی مضارع بکثرت قرآن پاک میں واشرقت الارض۔وضع الكتاب۔ وجیء بالنبيين پس قال بمعنی یقول یعنی مضارع کے معنی میں بھی موجود ہیں۔ رہا یہ امر کہ ماضی سے کیوں تعبیر فرمایا۔ ا نے جو اپنی حکایت بیان فرمائی کہ میں قیامت میں اس طر آیت سن چکے تھے:”ان تعذبهم فانهم عبادك “ پس ہونے کا، بمنزلہ محکی عنہ کے ماضی ہونے کے ٹھہرا کر صیغہ م قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول پہلے ہو صادر ہوگا تو حضورؐ کے قول کے وقت چونکہ وہ قول ماضی ہو ۔ اگر آیت مذکور میں:”توفیتنی“ کے معنی موت کے جائے گی۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب ہونے کے بعد پیدا ہوا ہے۔ اور یہ عقیدہ یہود مطابق حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب سے ٨٧ سال میں ان کو نبوت اور کارتبلیغ رسالت عنایت ہوا۔ تین برس آیا۔ تو مرزائیوں کے عقیدہ کے موافق ”توفیتنی“ کے صلیب سے مار ڈالا تو تو ان پر نگہبان تھا۔ گویا حضرت عی ہیں۔ ٨٧ برس کے بعد نہیں مرے ہیں۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا عقیدہ ی صلیب کے مسیح سے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اگر یہ مان ل نکل کر افغانستان اور پنجاب اور ہندوستان اور شہر بنارس م تو یہاں کے رہنے والوں میں تو ذرا بھی نصرانیت کے آث نصرانیت کے آثار کچھ زیادہ ہیں۔ بلکہ ہندو مذہب کا غلبہ بلکہ بعد میں ہوئے تاکہ یہ سمجھ لیا جائے کہ مسیح کی موت س
٢١
بھی ”توفیتنی“ کے لغوی معنی مراد ہے۔ پورا لینا اور غرض اس سے آسمان پر اٹھا لینا ہے اور جو کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کی حدیث سے: ”قال العبد الصالح“ صیغہ ماضی کے ساتھ آیا ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ”قال“ کے ماضی ہونے سے استدلال کرنا محض ضعیف ہے۔ اول تو اس لئے کہ ماضی بمعنی مضارع بکثرت قرآن پاک میں وارد ہے۔: ”ونفخ فی الصور۔ واشرقت الارض۔ وضع الکتاب۔ جی بالنبیین ۔قضى بينهم وغيرذلك“ پس قال بمعنی یقول یعنی مضارع کے معنی میں ہے۔ چنانچہ شواہد اس کے صحیح بخاری میں بھی موجود ہیں۔ رہا یہ امر کہ ماضی سے کیوں تعبیر فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے جو اپنی حکایت بیان فرمائی کہ میں قیامت میں اس طرح کہوں گا۔ اس بیان سے پہلے صحابہؓ آیت سن چکے تھے: ”ان تعذبهم فانهم عبادک“ پس مقتضیٰ بلاغت کا ہوا کہ حکایت کے ماضی ہونے کا بمنزلہ محکی عنہ کے ماضی ہونے کے ٹھہرا کر صیغہ ماضی استعمال فرمایا۔ یا یوں کہا جائے کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول پہلے ہوچکے گا۔ پھر ہمارے حضور ﷺ کا یہ قول صادر ہوگا تو حضور کے قول کے وقت چونکہ وہ قول ماضی ہو چکا ہے اس لئے صیغہ ماضی سے تعبیر فرمایا ۔ اگر آیت مذکور میں: ”توفیتنی“ کے معنی موت کے لئے جائیں گے۔ تو بڑی غلطی و خرابی پڑ جائے گی۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کا عقیدہ نصاریٰ میں مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد پیدا ہوا ہے۔ اور یہ عقیدہ یہود سے نکلا ہے اور مرزا قادیانی کے زعم کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب سے ٨٧ سال کے بعد مرے ہیں۔ کیونکہ ٣٣ برس کی عمر میں ان کو نبوت اور کار تبلیغ رسالت عنایت ہوا۔ تین برس تک تبلیغ فرمائی تھی کہ واقعہ صلیب پیش آیا۔ تو مرزائیوں کے عقیدہ کے موافق ”توفیتنی“ کے معنی ہوں گے کہ جب کہ تو نے مجھے واقعہ صلیب سے مار ڈالا تو تو ان پر نگہبان تھا۔ گویا حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے واقعہ سے مرے ہیں۔ ٨٧ برس کے بعد نہیں مرے ہیں۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا عقیدہ ان آدمیوں میں پیدا ہوا تھا۔ جو قبل واقعہ صلیب کے مسیح سے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ مسیح علیہ السلام ملک شام سے نکل کر افغانستان اور پنجاب اور ہندوستان اور شہر بنارس اور نیپال اور کشمیر میں آکر تبلیغ کرنے لگے تو یہاں کے رہنے والوں میں تو ذرا بھی نصرانیت کے آثار زمانہ قدیم میں نہیں تھے اور نہ اب تک نصرانیت کے آثار کچھ زیادہ ہیں۔ بلکہ ہندو مذہب کا غلبہ ہے اور نہ الوہیت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ بلکہ بعد میں ہوئے تا کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ مسیح کی موت کے بعد یہ لوگ الوہیت مسیح علیہ السلام کے
٢١
معتقد ہو گئے۔ یہ عقیدہ تو بلادشام کے آدمیوں میں تھا: ”ما دمت فیھم“ اور ”فلما توفیتنی“ بالکل باہم متصل ہیں۔ پس جب حضرت مسیح علیہ السلام ان میں تھے۔ وہ زمانہ صلیب کے واقعہ کا تھا۔ اس کے بعد مسیح علیہ السلام ان میں سے چلے آئے۔ پس یا تو موت کو صلیب کے ساتھ ہی ماننا پڑے گا یا: ”توفیتنی“ کے معنی موت کے نہ لئے جائیں گے۔
فرقہ مرزائیہ کی چوتھی دلیل کہ توفی موت کے معنی میں ہے
مرزائی اپنے زعم باطل کے لئے احادیث ولغات سے استدلال کرتے ہیں۔ چنانچہ ابن سعدؒ سے مروی ہے: ”ماتوفی اللّٰہ نبیا الا دفن حیث یقبض روحہ“ یعنی انبیاء جس مقام پر مرتے ہیں، وہیں دفن ہوتے ہیں۔ اور ابن عباسؓ سے مروی ہے: ”ان النبی ﷺ بکی وبکی اصحابہ حین توفی سعد بن معاذ“ یعنی سعد بن معاذؓ جب مرے تو حضرت اور آپ کے اصحاب روئے۔
الجواب ...... مرزائیوں کی چوتھی دلیل کا جواب
جواب اس کا یہ ہے کہ ”توفی“ جب موت کے معنی میں آتا ہے۔ تو اس کے ساتھ قرینہ معنی موت کے لئے موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ احادیث مستدلہ مرزائیہ میں بعد لفظ ”توفی“ کے لفظ ”دفن“ اور لفظ ”بکی“ کا قرینہ موجود ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں جہاں جہاں یہ لفظ آیا ہے۔ وہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے۔ اس لئے حقیقی معنی لینا ضرور ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح مع الجسد کے اٹھائے گئے اور وفات نہیں پائی۔ اگر ”توفی“ بمعنی اخذ الشیء بالتمام کے ہو۔ جیسا کہ بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں اور اس بناء پر ”توفی“ عین مفہوم رفع عیسیٰ مع الجسد والروح ہوگا۔ تب تو ظاہر ہے کہ کوئی اشکال نہیں اور اگر بمعنی وفات ہی لیا جائے تو ممکن ہے کہ قبل رفع تھوڑی دیر کے لئے آپ کو وفات دی گئی ہو اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھالئے گئے ہوں۔ جیسا کہ بعض سلف اس کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ چنانچہ: ”الثانی متوفیک ای ممیتک وهو مروی عن ابن عباس ومحمد بن اسحق قالوا والمقصود ان لایصل اعداء ہ من الیهود الی قتله ثم انه بعد ذلك اكرمه بان رفعه الى السماء ثم اختلفوا على ثلاثة اوجه احدها قال وهب توفى ثلث ساعات ثم رفع ، ثانیها قال محمد بن اسحاق توفى سبع ساعات ثم احیاہ اللہ تعالیٰ ورفعہ ، الثالث قال الربیع بن انس انه تعالیٰ توفاه حین رفعه الی السماء“ بہرحال ممیتک کے ساتھ تفسیر کرنا بھی کسی طرح منکر رفع کو مفید نہیں اور نہ رفع جسمانی کے منافی ہے۔
٢٢
قبر یوز آسف
اور مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کہتے ہیں۔ یہ ان کی غلط شہزادہ نہ تھے۔ پھر کس طرح شہزادہ مشہور ہو سکتے ہیں ایک ہو سکتے ہیں۔ اس لئے کہ یوز آسف تیمورس بن بن آدم اور بقولے ہوشنگ بن قرداہ بن سیامک بن درجہ کے حکماء ایران سے ہوا ہے۔ اسی نے کواکب پر کی عبادت سمجھتا تھا۔ جیسا کہ آثار الباقیہ اور دوسری کتا السلام اسرائیلی تھے نہ ایرانی اور اس سے زمانہ دراز کے من یطالع کتب التواریخ “ دوسری بات یہ ہے متغیر تلفظ کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ عجب نہیں کہ کوئی ص آسف بھی کہنے لگے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد والہا
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدے سے نبوت کا ابطال اور ضروریات دین کا انکار ہوتا ہے واسطے خاص کرتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے نام کے س عنہم لکھے جاتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی (ازالہ اوہ کہ:”جو حقائق قرآن وحدیث (یا جوج ماجوج، لفظ علم مجھے دیا گیا ہے وہ رسول خدا ﷺ کو نہیں تھا۔“ ا امام حسینؓ سے بہتر ہوں۔“ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتر ہو ان کی جماعت والوں کی تو یہاں تک السلام کے واسطے باورچی خانہ اور پاخانہ بھی بنا ہوتا کہ نجاری کا کام کرتے۔
قبر یوز آسف کی تحقیق
اور مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں ایک قبر ہے جسے یوز آسف نبی اور شہزادہ نبی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کہتے ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شہزادہ نہ تھے۔ پھر کس طرح شہزادہ مشہور ہو سکتے ہیں اور نہ یوز آسف اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہو سکتے ہیں۔ اس لئے کہ یوز آسف تہمورس بن دیو جہاں بن ہوشنگ پسر سیامک بن کیومرز بن آدم اور بقولے ہوشنگ بن قرداء بن سیامک بن میش بن کیومرث بن آدم کا ہم عصر تھا اور اعلیٰ درجہ کے حکماء ایران سے ہوا ہے۔ اسی نے کواکب پرستی کا رواج دیا تھا اور کواکب پرستی کو معبود حقیقی کی عبادت سمجھتا تھا۔ جیسا کہ آثار الباقیہ اور دوسری کتب تواریخ میں مذکور ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی تھے نہ ایرانی اور اس سے زمانہ دراز کے بعد گزرے ہیں: "كما لا يخفى على من يطالع كتب التواريخ" دوسری بات یہ ہے، یوز آسف یوسف کا تغیر بلفظ عیسیٰ یا یسوع کا تغیر تلفظ کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ عجب نہیں کہ کوئی صاحب یوسف ہوں ان کی قبر ہو۔ جس کو یوز آسف بھی کہنے لگے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد والہامات و پیشین گوئیوں پر نظر غور
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدے سے انبیاء کی شان میں تنقیص لازم آتی ہے۔ ختم نبوت کا ابطال اور ضروریات دین کا انکار ہوتا ہے۔ جو درود سلام قرآن مجید حضور انور ﷺ کے واسطے خاص کرتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور آپ کے دوست رضی اللہ عنہم لکھے جاتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٦٩١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤) میں لکھ بیٹھے ہیں کہ: ”جو حقائق قرآن وحدیث (یاجوج ماجوج ابن مریم ، دابۃ الارض ، دجال، خروجال وغیرہ) کا علم مجھے دیا گیا ہے وہ رسول خدا ﷺ کو نہیں تھا۔“ اور مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ: ”میں حضرت امام حسینؓ سے بہتر ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتر ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
ان کی جماعت والوں کی تو یہاں تک تحریر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے باورچی خانہ اور پاخانہ بھی بنانا پڑا ہوگا۔ اس سے ان کو بہشت ہی میں بھیج دیا ہوتا کہ نجاری کا کام کرتے۔
٢٣
حضرات ناظرین! یہ سوء ادبیاں مرزائیہ جماعت کی اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول کی شان میں ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے تئیں کسر صلیب کی پیشین گوئی کا مورد اس استدلال کی بناء پر قرار دیتے تھے کہ انہوں نے وفات مسیح کے مسئلہ پر روشنی ڈال کر عیسائیوں کے خدا کو مردہ ثابت کر دیا ہے۔
اقول :.... اگر یہی وجہ مرزا کے مامور من اللہ ہونے کی ہے تو پھر سرسید احمد خان کو اس پیشین گوئی کا مصداق کیوں نہ سمجھا جائے جو مرزا قادیانی سے بہت پہلے اس مسئلہ پر اپنی فطری قابلیت سے روشنی ڈال چکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے خیال میں یورپ کی صلیب بھی توڑی ہے اور اسلام کا پورا غلبہ کر دیا ہے اور قرآنی احکام یورپ کی عدالتوں میں نافذ کر دیئے ہیں۔ حالانکہ غور کیا جائے تو اس کے برعکس رہا سہا اقتدار بھی مسلمانوں کا یورپ ہضم کر کے اپنا مشن عیسائیت پھیلانے کا قائم کر چکا ہے اور صرف یورپ ہی نہیں بلکہ شاید ہی دنیا میں کوئی علاقہ ایسا ہو گا جس میں عیسائی مشینری نہ پہنچی ہو۔ برخلاف اس کے اسلام کا یورپ بھر میں باقاعدہ ایک مشن اب تک نہیں۔ پھر غلبہ کیسا۔ یورپ میں اس وقت جو کچھ اسلام پھیلا ہے۔ اول تو وہاں قبل ہی سے تبلیغی آثار اسلامی باقی تھے۔ اس کے علاوہ مسٹر امیر علی صاحب مرحوم کی چند معرکۃ الآراء کتب تواریخ نے زیادہ توحید اسلام کو روشن کیا۔ جس کے باعث کچھ اور مسلمان ہوئے۔ مرزائیوں کا یہ دعویٰ کہ ان کے مشن نے یورپ میں تبلیغ اسلام کیا۔ اول تو حقیقی معنی میں ان کی یہ تبلیغ تبلیغ اسلام نہیں ہے۔ بلکہ یہ فرقہ بندی، نفاق و گمراہی کی شاخ ہے۔ کیونکہ اوّل اصول اسلام نبوت کا ماننا ہے۔ مگر مرزائی سرے سے نبوت وخاتم پیغمبران حضرت محمد ﷺ کے منکر ہیں۔
لہٰذا ان کی تبلیغ دیگر اقوام دہر سے زیادہ وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھی جاسکتی اور نہ ہی اس کو تبلیغ اسلام کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان کا مشن مرزا قادیانی کو نبی ماننا ہے۔ خاتم النبیین محمدﷺ کے بعد کسی نبی کا مبعوث ماننا یہ اعتقاد کافہ اہل اسلام کے نزدیک باعث انکار ختم نبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ کمال الدین وغیرہ نے مرزائیت کو چھپا کر خالص اہل سنت والجماعت کے مسلک ومشرب کی تبلیغ یورپ میں شروع کر دی ہے۔ لندن وغیرہ میں مرزائیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ جو باخبر حضرات پر مخفی نہیں۔ اقول مرزا قادیانی اور ان کے متبعین نے صرف ایک مسئلہ وفات مسیح اور آمد مسیح پر زور خرچ کر دیا ہے اور اس ایک مسئلے کے متعلق کتابوں پر کتابیں، رسالوں پر رسالے
٢٤
لکھے چلے جاتے ہیں اور باقی اجزاء اسلام کو نظر کیا جائے تو سرسید قانون فطرت و نیچر کی حما اس لئے ان کی ہلاکت کے درپے تھے کہ اسا گھن لگ گئے ہوئے تھے کہ اسلام کی حیات کا سال کے بعد پیدا ہوئے اور بقول مرزا قادیا ہے اسی طرف میرا منہ ہے اور تو میری مراد ہے یہ نہایت گستاخانہ کلمات ہیں جو حقیقت الوحی و
اللہ تبارک وتعالیٰ تو قرآن مجید تعلیمات اور بے اثر کلام قرار دیتے ہیں۔ اس مسئلہ کہ مرزا قادیانی کے ماننے پر نجات منحصر ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ ربوبیت باری تعالیٰ کے ضرورت ہے۔ اسی قدر رب العالمین نے وہ ایک مرزا ہی کے تابع ہوئے۔ خداوند عالم اور قرآن اور اسلام کی ہدایت کے مطابق عمل صا ہے۔ تاوقتیکہ مرزا کو ساتھ ساتھ نبی نہ مانا جا بڑھ کر ظلم یہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مریدوں تمام مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان السلام علیکم کہیں۔
جیسا کہ حقیقت الوحی اور ان کے قادیانی کا الہام یہ ہے کہ: ”خدا مجھ سے ہے ج ٢٢ ص ٧٧) ”اور اگر خدا مجھے پیدا نہ کرتا تو آ
حالانکہ خاتم النبیین سرور کائنا اور یہ جو مشہور ہے: ”لولاك لما خلقت الـ
لکھے چلے جاتے ہیں اور باقی اجزاء اسلام کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اگر انصاف پذیر دل لے کر غور کیا جائے تو سرسید قانون فطرت و نیچر کی حمایت میں مسیح علیہ السلام کو مارتے ہیں۔ مرزا قادیانی اس لئے ان کی ہلاکت کے درپے تھے کہ اسامی خالی ہو اور ہمیں ملے۔ مرزا قادیانی کو معلوم نہیں کیا لعل لگ گئے ہوئے تھے کہ اسلام کی حیات کا دارو مدار صرف ان کی ذات پر منحصر تھا جو آج تیرہ سو سال کے بعد پیدا ہوئے اور بقول مرزا قادیانی کے اللہ نے ان سے فرمایا کہ جس طرف تیرا منہ ہے اسی طرف میرا منہ ہے اور تو میری مراد ہے۔ (کتاب البریہ ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠١، ١٠٢) یہ نہایت گستاخانہ کلمات ہیں جو حقیقت الوحی وغیرہ میں موجود ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ تو قرآن مجید کو نور اور حیات بخش فرماتا ہے اور مرزائی اس کو مردہ تعلیمات اور بے اثر کلام قرار دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر قرآن مجید کی اور توہین نہیں ہو سکتی۔ یہ مسئلہ کہ مرزا قادیانی کے ماننے پر نجات منحصر ہے۔ ایسا خبیث ہے کہ اس سے ساری خدائی باطل ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ ربوبیت باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ جس قدر کسی شے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی قدر رب العالمین نے وہ چیز زیادہ عام کی ہے۔ تمام قوانین رحمت و مغفرت ایک مرزا ہی کے تابع ہوئے۔ خداوند عالم اور اسلام کی توہین اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے قرآن اور اسلام کی ہدایت کے مطابق عمل صالح کرنا اور بدی سے بچنا موجب نجات نہیں ہو سکتی ہے ۔ تا وقتیکہ مرزا کو ساتھ ساتھ نبی نہ مانا جائے۔ مرزا قادیانی نے اہل اسلام پر سب سے زیادہ بڑھ کر ظلم یہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مریدوں کو حکم عام دے دیا ہے اور تحریر کر گئے ہیں کہ وہ باقی تمام مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے جنازے اور نماز وغیرہ میں شامل ہوں اور نہ انہیں السلام علیکم کہیں۔
جیسا کہ حقیقت الوحی اور ان کے خلیفہ کی کتاب انوار خلافت ص ٩٢ میں ہے۔ مرزا قادیانی کا الہام یہ ہے کہ: ”خدا مجھ سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) ”اور اگر خدا مجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان و زمین کو نہ پیدا کرتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
حالانکہ خاتم النبیین سرور کائنات محمدﷺ کے حق میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں فرمایا اور یہ جو مشہور ہے: ”لولاک لما خلقت الافلاک“ یہ حدیث موضوع ہے۔ اسے حدیث قدسی
٢٥
قرار دینا اور آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔ گو معنا صحیح ہے۔ جیسا کہ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے تحفہ اثناء عشریہ وغیرہ میں تصریح کی ہے۔ پادریوں کی پہیلی ایک میں تین اور تین میں ایک کے حل کرنے میں اتنی دقت نہیں جتنی مشکل مرزا قادیانی کے معما دار الہام ”أنت مني وأنامنك“ کے سلجھانے میں پیش آتی ہے۔ ماموران الہی مبعوث ہو کر ایک ہی مرکز پر ٹھہرتے ہیں اور لوگوں کو دائرہ ہدایت میں لاتے ہیں۔ کوئی ان میں سے اپنے نصب العین کو چھوڑتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔
مرزا قادیانی کہیں عیسیٰ ہیں اور کہیں مثیل مسیح۔ کہیں مہدی ہیں کہیں کرشن، مرزائی اسلام نے لوگوں کے دلوں سے رہے سہے ایمان کی جڑ کھوکھلی کرنی شروع کر دی لا حول ولا قوة الا بالله اس لئے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں اور الہامات پڑھ پڑھ کر غور پسند دل میں کیا یہ نہیں گزرتا ہو گا کہ جب اس ہوشیاری اور روشنی کے زمانہ میں اچھے اچھے نوجوانوں کی عقل مار کر معتقد بنانے والے اور کلمہ پڑھانے والے چالاک آدمی ہو گئے تو حضرت محمد ﷺ کے زمانے کے سیدھے سادے لوگوں کا پھندے میں لے آنا کیا ہی مشکل ہو گا۔ ان کے معجزات و پیشین گوئیاں بھی ایسے وزن اور حقیقت کی ہوں گی۔
مرزا قادیانی نے بڑے شدومد سے دعویٰ کیا تھا کہ میرا ایک عورت (محمدی بیگم) سے نکاح ہونا ضرور ہے۔ جو آسمان پر ان سے بندھا جا چکا ہے۔ مگر وہ بی بی باوجود ہزار کوششوں کے ان کے نکاح میں نہ آئیں۔ بلکہ اسی زمانہ میں ایک دوسرے شریف انسان کی بی بی ہوئیں۔ مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ اب آسمانی منکوحہ کے ملنے کی کوئی امید نہیں تب انہوں نے حقیقت الوحی میں لکھ دیا کہ خدا جس خبر اور وعدے کو چاہے پورا کرے اور جس کو چاہے باطل کر دے۔ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے سے قبل مرزا قادیانی نے ٢٦ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو لاہور میں عارضہ ہیضہ یا درد گردہ سے انتقال کیا۔
(ازالہ اوہام واربعین نمبر ٣ ص ٣٤ بخزائن ج ١٧ ص ٤٢٢) میں مرزا قادیانی کا الہام یہ ہے کہ میری عمر ٨٠ سال کی ہے۔ مرزا قادیانی کی سوانح عمری جو ان کے خاص مرید نے (عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٦٣٦) میں لکھی ہے۔ اس میں سال پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء لکھا ہے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٦٨ یا ٦٩ سال ہوتی ہے اور قاضی فضل احمد نے اپنی کتاب کلمہ فضل رحمانی میں
٢٦
قرآن کی آیت: ”الا فى الفتنة سقطوا“ کے اعداد جمل سے ١٢٥٩ھ سال پیدائش نکالا ہے ۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر صرف ٦٧ سال کے قریب ہوتی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی کو بھی اعتبار ہے۔ (برکات الدعاء ٹائٹل پیج ، خزائن ج ٦ ص ٣) پر بھی مرزا قادیانی نے اپنی عمر ٥٢ سال تحریر کی ہے۔ جو کہ ١٨٩٣ء میں چھپی تھی۔ اس طرح سے بھی ان کی عمر ٦٧ سال کی بنتی ہے اور مرزا قادیانی کے الہام سے جو رجسٹری جائیداد مندرجہ کتاب فضل رحمانی میں مندرج ہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر ٦٥ سال کی بڑی جدوجہد و تکرار واصرار سے ہاتھ پائی کر کے ایک صاحب قبر کی دعا سے منظور کرائی تھی۔ مگر یہ سب باتیں لغو ثابت ہوئیں اور بہت سی پیشین گوئیاں مرزا قادیانی کی موت سے باطل ہوگئیں۔ مثلاً:
- ......١ ”مولوی ثناء اللہ میری زندگی میں فوت نہ ہوا تو میں دجال اور کذاب ہوں۔“
(اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
- ......٢ ”ڈاکٹر عبدالحکیم میری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نیست و نابود ہو جائے
گا ۔“
(تبصرہ مورخہ ٥ نومبر ١٩٠٦ء مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
- ......٣ ”عالم کباب کی پیدائش جس کے پیدا ہوتے ہی تمام عالم کے لئے تباہ ہو جانا تھا اور
پھر مرزائیوں کی فتح اور خوشی ہونی تھی۔“
(الحکم ١٠ جون ١٩٠٨)
- ......٤ ”دوخواتین مبارکہ تیری نکاح میں آئیں گی۔ جن کو تو نصرت جہاں بیگم کے بعد پائے
گا اور ان سے تیری نسل بکثرت ہوگی۔“
(اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)
ان پیشین گوئیوں کے وقوع میں آنے سے پیشتر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو چل دیئے۔ مرزا قادیانی کے ادلہ والہامات و پیشین گوئیاں بقدر ضرورت ان کے مصنفہ کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔
نظر غور فرمائیں کہ مرزا نے علمائے اہل سنت والجماعت کو جن الفاظ میں اپنی زبان و تصانیف میں یاد کیا ہے۔ اس سے زیادہ گندے الفاظ کسی انسان کو میسر نہیں آسکتے ۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے ۔ اعجاز احمدی وغیرہ میں (١) خبیث (٢) شیطان (٣) مضل (٤) کذاب (٥) ناری (٦) غوی (٧) اجہل (٨) احمق (٩) شقی (١٠) ذیب (١١) ملاعین (١٢) اشرار لئام (١٣) فتان (١٤) دجال مفتری (١٦) اوباش بے ایمان (١٧) بے حیا (١٨) کلب وغیرہ وغیرہ جس کی انتہاء نہیں۔
٢٧
مرزا قادیانی کے کشفی حالات از کتاب حقیقت الوحی وغیرہ
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ایک رات کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ اس نے مجھ کو ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالیں اور صاف کیں اور میل وکدورت ان میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کوتہ بینی کا مادہ نکال دیا اور مصفا نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا۔ مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا۔ اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح بنا دیا ہے اور یہ عمل کر کے پھر فرشتہ غائب ہو گیا۔“
(تریاق القلوب ص ٩٥، خزائن ج ١٥ص٣٥٢)
اور مرزا قادیانی اس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہو گئے اور کہتے ہیں کہ ایک بار مجھ پر کشفی طور پر دکھایا گیا کہ: ”میں نے بہت سے احکام قضاء وقدر کے اہل دنیا کی نیکی وبدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدا کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری تعالیٰ کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کردے۔ سو خدا نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی۔ اس کو جھاڑ دیا۔ اس کے قطرے میرے کپڑوں پر پڑے جن کو میں نے بہ چشم خود دیکھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
دیگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ میں نے بشمیر داس کھتری کے نوشتہ قضا وقدر کی نصف قید کو اپنے قلم سے کاٹ دیا۔ مگر بری نہیں کیا۔“
(سراج منیر ص ٣٢، ٣١، خزائن ج ١٢ص ٣٧)
”ایک بار کشف میں دیکھا کہ تو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔“ (تذکرہ ص ٢٦ طبع سوم ) ایک نبی کی شان اور یہ گندی نسبت ”لاحول ولا قوة الا باللہ“
دیگر قول مرزا کشفی الہام ”ایک بار حالت کشف میں اللہ کی روح ان پر غالب ہو گئی اور اس نے اپنے وجود میں مرزا قادیانی کو پنہاں کر لیا اور انہوں نے اس حالت میں دیکھا کہ وہ نئے نظام اور نئے آسمان اور نئی زمین کے پیدا کرنے پر قادر ہیں پھر انہوں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا۔ الیٰ آخرہ“
(تذکرہ ص ١٩٠، ١٨٩ طبع سوم)
٢٨
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ایک بار مجھ کو خدا نے مخاطب کر کے فرمایا: ”یلاش“ خدا کا نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی نام ہے اور لفظ ہے کہ اب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن وحدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔ اس کے معنی مجھ پر یہ کھولے گئے کہ ”یا لاشریک“ (تذکرہ ص ٤٧٩ طبع سوم) ”الہام میں بار بار میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔“ جیسا کہ (براہین احمدیہ کے ص٥٦١، خزائن ج١ ص ٦٧٠ حاشیہ در حاشیہ) میں الہام ہے: ”سلام علی ابراہیم صافیناہ ...... الخ“
مرزا قادیانی کے لغو خیالات و بے معنی دعویٰ
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”قرآن کریم میں مسیح کے جو معجزات ہیں وہ مسمریزم ہیں۔“ (ازالہ ص ٧٥٠، خزائن ج٣ ص ٥٠٤ ملخص) مرزا قادیانی اپنی دعا کے ضمن میں خدا سے خطاب کرتے ہیں۔ ”تو نے ہی اس چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث کیا اور فرمایا کہ اٹھ کہ میں نے تجھے اس زمانہ میں اسلام کی صداقت پوری کرنے کے لئے اور اسلامی سچائیوں کو دنیا میں پھیلانے کے لئے اسلام کو زندہ اور قوی کرنے کے لئے چنا ہے اور تو نے ہی مجھ سے کہا کہ تو میری نظر میں منظور ہے۔ میں اپنے عرش پر تیری تعریف کرتا ہوں تو نے ہی مجھے فرمایا کہ تو وہ مسیح موعود ہے جس کے وقت کو ضائع نہیں کیا جائے گا اور تو نے ہی مجھے مخاطب کر کے کہا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید اور تو نے ہی مجھ سے فرمایا کہ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج٢٢ص٨٦) میں نے اپنے لئے تجھے اختیار کر لیا۔ (حقیقت الوحی ص٨٢، خزائن ٢٢ ص٨٩)
اقول خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اول اول دعویٰ مجددیت کا کیا۔ پھر ظلی طور پر مسیح موعود ہوئے۔ پھر بروزی مسیح موعود بن گئے۔ جب ترقی ہوئی تو حضور اقدس ﷺ کے ظل ہو گئے۔ اسی اثناء میں مہدی، حکم ، کاسر الصلیب، امام الزمان وغیرہ وغیرہ بنتے رہے۔ حتیٰ کہ کرشن ہونے سے بھی نہ چکے۔ شدہ شدہ ان کی نوبت یہاں تک بڑھی کہ اصلی مسیح موعود ہو گئے۔ جب یہ دعویٰ بھی فیاضی کے ساتھ ان کی جماعت نے تسلیم کر لیا تو پھر حضرت مسیح سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
مرزا قادیانی کا شعر ملاحظہ ہو:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٤٠)
جب خوش اعتقادوں نے اس پر بھی اف نہ کی تو مرزا قادیانی تھے آدمی ہوشیار۔ انہوں نے خیال کیا کہ جب مصدقین اس بری طرح اپنی عقلوں کو ہم اور ہمارے کلام پر نثار کر رہے ہیں تو اب کوئی کسر اٹھا رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ چنانچہ انہوں ان کی ضرورت کے مطابق ان کو فوراً الہام ہوا:
”انت منی بمنزلۃ ولدی“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
لڑکے بننے کے بعد اب خدائے تعالیٰ کے ہاں بے تکلف دوستی ہوتی ہے۔ چنانچہ اپنے رسالہ (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٤) میں لکھ دیا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ اس عاجز سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے روشن چہرہ سے اتار دیتا ہے اور میں اپنے تئیں ایسا پاتا ہوں کہ گویا مجھ سے ٹھٹھا کر رہا ہے۔“
اقول ...... جب ٹھٹھے بازی کی نوبت پہنچ گئی تو اب برابر کی دوستی میں کیا شبہ رہا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی عین خدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ الحکم مورخہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء میں مرزا قادیانی کا الہام لکھا ہے: ”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون“ اور (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں بھی ہے۔
اقول: مرتبہ : ”کن فیکون“ حاصل ہونے کے بعد ان میں اور خدائے تعالیٰ میں کیا فرق رہا؟ نعوذ باللہ!
دیکھئے پیارے ناظرین سلسلہ کہاں سے شروع ہوا اور اس کا خاتمہ کہاں ہوا۔ پھر لطف یہ ہے کہ اس کے بعد مجددیت کے پردے کی آڑ لیتے رہے اور مثیل مسیح موعود اور مثیل مصطفیٰ ﷺ اپنے کو لکھتے رہے۔ غرض کہ مرزا قادیانی اپنی تحریرات کے بموجب خدا بھی تھے۔ خدا کی اولاد بھی تھے اور خدا کے دوست بھی تھے۔ کرشن بھی تھے۔ مہدی بھی تھے۔ مجدد بھی تھے۔ مسیح بھی تھے اور ظلی نبی بھی تھے اور نامعلوم کیا کیا تھے۔ ان پر ایمان لانا بھی فرض تھا۔ کیونکہ نبی تھے اور بالکل فرض نہ تھا۔ کیونکہ صرف مجدد تھے۔ غرض کہ مرزا قادیانی سب کچھ تھے اور کچھ نہ تھے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ !
خاتم پیغمبران صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
خاتم پیغمبران علیہ الصلوٰۃ والسلام باعتقاد اہل ملت اسلام ایک سے زیادہ نہیں اور نہ
٣٠
ہو سکتا ہے اور وہ صرف ذات پاک حضرت احمد مجتبیٰ محمد ﷺ نبی یا رسول بحیثیت نبی یا رسالت نہ آیا اور نہ قیامت تک
ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میر ہے کہ تمام مکان تیار ہوا۔ صرف اس میں ایک اینٹ کی پھرنے لگے اور وہ اس دیوار کی خوبی سے تعجب کرتے تھے نے اس اینٹ کی جگہ جو خالی تھی بند کردی۔ میرے ساتھ کئے گئے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اینٹ میں ہوں ہوں اور بہت سی حدیثیں اس باب میں آئی ہیں۔
علامہ محدث قاضی عیاض (شفا شریف میں حوالہ پر اکتفا کیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو نازل ہو ہوں گے۔ بلکہ دین محمدی ﷺ کے تابع ہوں گے اور اسی وہ نبی ہیں اور اپنی نبوت پر باقی ہیں اور اس سے کچھ نقص ﷺ کا نبوت و رسالت میں ان کے زمانہ میں تھا اور آ بات قرآن سے ثابت ہے۔ چنانچہ سورۃ احزاب میں ہے
رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“
”اقول والخاتم اسم آلة لما يخت خاتم النبيين الذى ختم النبيون به ومل فعل مابني على فاعل وهو في معنى ختم الن مفعول به وليس بذاك وقرأه الجمهور وخ اي الذي ختم النبيين والمراد به اخرهم۔ ایضاً نبياً ختم النبيين والمراد بالنبي ما هو أعم الله عليه وآله وسلم ختم النبيين والمراد بـ انقطاع حدوث وصف النبوة في احد من والسلام بها في هذه النشأة ولا يقد
٣١
ہوسکتا ہے اور وہ صرف ذات پاک حضرت احمد مجتبیٰ محمد ﷺ کی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول بحیثیت نبی یا رسالت نہ آیا اور نہ قیامت تک آئے گا۔ چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور پہلے انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی ہے کہ تمام مکان تیار ہوا۔ صرف اس میں ایک اینٹ کی کمی تھی۔ پھر اس محل کے گرد دیکھنے والے پھرنے لگے اور وہ اس دیوار کی خوبی سے تعجب کرتے تھے۔ مگر اس اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ سو میں نے اس اینٹ کی جگہ جو خالی تھی بند کردی۔ میرے ساتھ دیوار ختم ہوگئی اور میرے ساتھ رسول ختم کئے گئے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والا ہوں اور بہت سی حدیثیں اس باب میں آئی ہیں۔
علامہ محدث قاضی عیاض (شفا شریف میں) انہیں نقل کیا ہے بوجہ خوف تطویل صرف حوالہ پر اکتفا کیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو نازل ہوں گے۔ وہ بھی بعنوان رسالت نازل نہ ہوں گے۔ بلکہ دین محمدی ﷺ کے تابع ہوں گے اور اسی دین محمدی کو رواج دیں گے۔ باوجودیکہ وہ نبی ہیں اور اپنی نبوت پر باقی ہیں اور اس سے کچھ نقصان نہیں ہوا اور نہ کوئی شریک آنحضرت ﷺ کا نبوت ورسالت میں ان کے زمانہ میں تھا اور آئندہ کوئی نیا نبی مبعوث ہوسکتا ہے اور یہ بات قرآن سے ثابت ہے۔ چنانچہ سورۂ احزاب میں ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“
”اقول والخاتم اسم آلة لما يختم به كالطابع لمايطبع به فمعنى خاتم النبيين الذى ختم النبيون به ومآله اخرالنبيين وقال المبرد خاتم فعل ماض على فاعل وهوفى معنى ختم النبيين فالنبيين منصوب على انه مفعول به وليس بذاك وقرأه الجمهور وخاتم بكسرالتاء على انه اسم فاعل اى الذى ختم النبيين والمرادبه اخرهم۔ ايضاً و في حرف ابن مسعود ولكن نبيا ختم النبيين والمرادبالنبي ماهوأعم من الرسول فيلزم من كونه صلی الله عليه واله وسلم ختم النبيين والمراد بكونه عليه الصلوٰة والسلام ختمهم انقطاع حدوث وصف النبوة في احد من الثقلين بعد تحليه عليه الصلوٰة والسلام بها فى هذه النشأة ولايقدح فى ذلك ما اجتمعت الامة عليه
٣١
٤٩٨
واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منكر كالفلاسفة من نزول عيسى عليه السلام أخر الزمان لانه كان نبيا قبل تحلى نبينا ﷺ بالنبوة في هذا النشأة ومثل هذا يقال في بقاء الخضر عليه السلام على القول بنبوته وبقائه ثم أنه عليه السلام حين ينزل باق على نبوته السابقة لم يعزل عنها بحال لكنه لا يتعبد بها لنسخها في حقه وحق غيره وتكليفه بأحكام هذه الشريعة اصلا وفرعا فلا يكون اليه عليه السلام وحى ولا نصب احكام بل يكون خليفة لرسول الله ﷺ وحاكما من حكام ملته بين امته بما علمه في السماء قبل نزوله من شريعة عليه الصلوه والسلام كما في بعض الاثار او ينظر في الكتاب والسنة وهو عليه السلام لا يقصر عن رتبة الاجتهاد المؤدى الى استنباط ما يحتاج اليه ايام مكثه في الارض من الاحكام وكسره الصليب وقتله الخنزير ووضعه الجزية وعدم قبولها مما علم من شريعتنا صوابيته في قوله ﷺ ان عيسى ينزل حكما عدلا يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية، كما في الصحاح فنزوله عليه السلام غاية لاقرار الكفار ببذل الجزية على تلك الاحوال ثم لا يقبل الا الاسلام لانسخ الها قاله شيخ الاسلام ابراهيم اللقانى في هداية المريد لجوهرة التوحيد وقوله انه عليه السلام حين ينزل باق على نبوة السابقة لم يعزل عنها بحال لكنه لا يتعبد بها الخ احسن من قول الخفاجى الظاهر ان المراد من كونه على دين نبينا عليه الصلوة والسلام وكذا لم يتقدم لامام الصلوة مع المهدى ولا اظنه غنى بالانسلاخ عن وصف النبوة والرسالة عزله عن ذلك بحيث لا يصح اطلاق الرسول والنبى عليه السلام فمعاذ الله ان يعزل رسول او نبى عن الرسالة او النبوة بما كاد لا يتعقل ذلك لعله اراد انه لا يبقى له وصفا تبليغ الاحكام عن وحى كما كان له قبل الرفع فهو عليه السلام نبى رسول قبل الرفع وفى السماء وبعد النزول وبعد الموت ايضا وبقاء النبوة والرسالة بعد الموت في
٣٢
٤٩٩
حقه وحق غيره من الانبياء والمرسلين عليهم غير واحد فان المتصف بهما وكذا بالايمان بموت البدن نعم ذهب الاشعرى كما قال النسفي حكما وما افاده كلام اللقانى من أنه عليه السلا نزوله من الشريعة قد افاده السفاريني في البحـ واما انه يجتهد ناظرا فى الكتاب والسنة فبعيد و فوق ما اوتى مجتهدو الامم مما يتوقف عليه الا اهل العلم الى انه حين ينزل يصلى وراء المـ بضيق عن استنباط ما تضمنته تلك المـ الكتاب والسنة على الوجه المعروف نعم قـ علم في السماء بصفا ووكل الى الاجتها بعض اخر و قيل انه عليه السلام ينـ شفاها بعد نزوله وهو في قبره الشريف عليـ ابي يعلى والذي نفسي بيده لينزلن عيسى ا وقال يا محمد لاجيبنه وجوز ان يكون تـ والسلام روحانية ولا بدع في ذلك فقد بغير واحد من الكاملين من هذه الامة و الدين بن الملقن في طبقات الاولياء قال ا سره رايت رسول الله ﷺ قبل الظهر فقا ل طويلة“
یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیـ نبیوں کی مہر ہیں کہ ان پر پیغمبری ختم ہوئی۔ ان کے بعـ بھی اس پر شاہد ہیں۔ مرزا قادیانی نے لاہور کے دوستـ کے ثبوت میں کہا تھا کہ کیا خدا بوڑھا ہو گیا ہے؟ مر گیا ہـ
٤٢٣
حقه وحق غيره من الانبياء والمرسلين عليهم السلام حقيقة مما ذهب اليه غير واحد فان المتصف بهما وكذا بالايمان هو الروح وهى باقية لا تتغير بموت البدن نعم ذهب الاشعرى كما قال النسفى الى انهما بعد الموت باقيان حكما وما افاده كلام اللقانى من انه عليه السلام يحكم بما علم فى السماء قبل نزوله من الشريعة قد افاده السفارينى فى البحور الزاخرة وهو الذى اميل له واما انه يجتهد ناظرا فى الكتاب والسنة فبعيد وان كان عليه السلام قد اوتى فوق ما اوتى مجتهدو الامم مما يتوقف عليه الاجتهاد بكثير ان قد ذهب معظم اهل العلم الى انه حين ينزل يصلى وراء المهدىّ صلاة الفجر وذلك الوقت يضيق عن استنباط ما تضمنته تلك الصلوة من الاقوال والافعال من الكتاب والسنة على الوجه المعروف نعم لا يبعد ان يكون عليه السلام قد علم فى السماء مسبقا ووكل الى الاجتهاد والاخذ من الكتاب والسنة فى بعض اخر وقيل انه عليه السلام ياخذ الاحكام من نبينا ﷺ شفاها بعد نزوله وهو فى قبره الشريف عليه الصلوة والسلام وايد بحديث ابى يعلى والذى نفسى بيده لينزلن عيسىٰ ابن مريم ثم لئن قام على قبرى وقال يا محمد لاجيبنه وجوز ان يكون ذلك بالاجتماع معه عليه الصلوة والسلام روحانية ولا بدع فى ذلك فقد وقعت رؤيته ﷺ بعد وفاته بغير واحد من الكاملين من هذه الامة والاخذ منه يقظة قال الشيخ سراج الدين بن الملقن فى طبقات الاولياء قال الشيخ عبد القادر الكيلانى قدس سره رايت رسول الله ﷺ قبل الظهر فقال لى يا بنى لم لا تتكلم الخ والرواية طويلة"
یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ لیکن وہ خداوند تعالیٰ کے رسول اور سب نبیوں کی مہر ہیں کہ ان پر پیغمبری ختم ہوئی۔ ان کے بعد اور کوئی پیغمبر نہ ہوگا اور بہت سے احادیث بھی اس پر شاہد ہیں۔ مرزا قادیانی نے لاہور کے وعظ میں اپنے انتقال کے دن سے قبل اپنی نبوت کے ثبوت میں کہا تھا کہ کیا خدا بوڑھا ہو گیا ہے؟ مر گیا ہے؟ یا اس کے قوٰى معطل ہو گئے ہیں کہ وہ
٣٣
اب حسب عادت سابق نبی پیدا نہیں کر سکتا؟ اقول بالفرض والتقدیر جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت کا سلسلہ بند نہیں ہوا یا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ہر صدی میں ایک مجدد ہوگا۔ تو ان کے پہلے کتنے مجدد آئے اور ان کے نام کیا ہیں؟ یا نبی آئے تو مرزا قادیانی کے پہلے کتنے نبی آئے اگر نہیں آئے اور یقیناً نہیں آئے تو آج تیرہ سو برس کے بعد مرزا قادیانی قادیان میں کہاں سے نبی پیدا ہوئے۔ اگر مرزا قادیانی کا استدلال برائے چندے صحیح مان لیا جائے تو آخر اس عرصہ طویل میں کیوں کوئی نبی پیدا نہیں ہوا؟ ”ہا برہانکم ان کنتم صادقین والانما الوبال علیکم من الملک المتعال واللہ علی مااقول وکیل“ مرزا قادیانی کی یہ گستاخانہ تقریر وکفریہ کلمات ہیں۔ خداوند تعالیٰ بقول ان کے نہ مرا ہے نہ اس کے قویٰ معطل ہوئے ہیں۔ مگر وہ وعدہ کر چکا ہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ بھیجے گا۔ اس لئے اب اگر نبی پیدا کرے تو اللہ کے کلام میں کذب لازم آئے گا اور یہ محال ہے: ”وماعلینا الاالبلاغ۔“
مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما یستحقہ کے عقائد و اباطیل
ہم یہاں مرزا قادیانی کی کتابوں سے ان کے اقوال، اباطیل اور عقائد مشتے نمونہ از خروارے نقل کرتے ہیں۔ جو وہ عوام الناس میں چھوڑ گئے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کا گمراہ ہونا روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا۔ نیز اس امر کی بھی توضیح و تشریح ہو جائے گی کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ صرف نبوت کا ہی نہیں بلکہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تمام انبیاء ورسل سے افضل ہوں۔ یہ اقوال ایسے بدیہی الابطال ہیں۔ جس پر رد و قدح کی ضرورت نہیں۔ اس لئے صرف ان کے الفاظ نقل کر دینے پر اکتفا کیا گیا۔
- ......١ مرزا قادیانی کا اپنی وحی پر قرآن شریف کی طرح ایمان لانا: ”جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا
ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور قرآن کریم پر، تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرے کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں، جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)
- ......٢ مرزا قادیانی کا اپنے الہامات پر قرآن شریف کی طرح ایمان لانا: ”میں خدا کی قسم کھا
کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن کریم کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
- ......٣ دعویٰ نبوت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان رکھا۔“ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) ”خدا نے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو اور وہ نشان جو مجھ پر ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا
- ......٤ کھلے کھلے الفاظ میں نبوت کا دعویٰ: ”میں
لئے مخصوص ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص میں اپنا رسول بھیجا۔
- ......٥ دیگر انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ: ”کہ اس
معجزات دکھائے ہیں کہ بہت کم نبی ایسے آئے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا بہا باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت
- ......٦ مرزا قادیانی کا خدائی دعویٰ: ”میں نے
اور میں نے یقین کر لیا کہ میں اللہ ہی ہوں۔ پھر میں
- ......٧ مرزا قادیانی کا حیض آنا: ”(اپنی
بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے، اور ایسا بچہ جو بمنزلہ انسان
- ......٨ مرزا قادیانی کا اہل بیت ہونے
ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے
کرشمہ یہ نیز
- ٣...... دعویٰ نبوت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ: ”خدا نے اس امت
میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور ان کا نام غلام احمد رکھا۔“ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہیں کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ پر ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
- ٤...... کھلے کھلے الفاظ میں نبوت کا دعویٰ: ”میں نبی ہوں اور اس امت میں نبی کا نام میرے
لئے مخصوص ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٥...... دیگر انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ: ”کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر
معجزات دکھائے ہیں کہ بہت کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثنا ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
- ٦...... مرزا قادیانی کا خدائی دعویٰ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہو گیا ہوں،
اور میں نے یقین کر لیا کہ میں اللہ ہی ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان پیدا کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥)
- ٧...... مرزا قادیانی کا حیض آنا: ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے، مجھ میں حیض نہیں
بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے، اور ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- ٨...... مرزا قادیانی کا اہل بیت پر حملہ: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو۔
ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(اخبار الحکم نمبر ٤١ جلد ٤ مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠٠ء ملفوظات ج ١ ص ٤٠٠ طبع جدید)
(الحکم جون ١٩٠٦ء نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
٣٥
- ٩....... توہین انبیائے کرام:” بلکہ اکثر پیشین گوئیوں میں ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ خود
انبیاء کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آسکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٣٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
- ١٠....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ناپاک حملہ اور آپ کے اجداد وجدات کی سخت توہین:”
آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا، آپ کا کنجریوں سے میلان شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ ان کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧،٥، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ١١....... حضور سرور عالم ﷺ کے معراج جسمانی سے انکار:” نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس
بات کو ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس جسم خاکی کے ساتھ کرہ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ پس اس جسم کا کرہ ماہتاب و آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
- ١٢....... قرآن شریف میں سخت زبانی: ”قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے
طریقے استعمال کر رہا ہے، ایک نہایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥ حاشیہ)
- ١٣....... قرآن شریف کا نزول قادیان میں: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان۔“
(حاشیہ ازالۃ اوہام ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
- ١٤....... قرآن شریف کے معجزات مسمریزم ہیں: ”قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض
مردے زندہ ہو گئے تھے۔ جیسے وہ مردے زندہ ہو گئے تھے۔ جیسے وہ مردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھا۔ جس کا ذکر ”واذ اقلتم“ کی آیت میں ہے کہ اس گائے کے گوشت کی بوٹیوں سے جس کے ہاتھ سے مقتول کے جسم پر لگنے سے زیادہ ہو گیا تھا یا ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس قصہ سے واقعی طور پر زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف دھمکی تھی تا کہ چور بے دل ہو کر اپنے تئیں ظاہر کردے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٨، ٤٧٠ تا ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٥٠٢،٥٠٤)
- ١٥....... حضرت مہدی علیہ السلام نہیں آئیں گے: ” محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی
امر نہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٣)
- ١٦....... دجال سے مراد پادری ہیں: ”مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی۔ یہی پادریوں کا
گروہ ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٥)
٣٦
- ١٧....... ریل گاڑی دجال کی سواری یا گدھا ہے
وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔“
- ١٨....... یاجوج ماجوج درحقیقت کوئی چیز نہیں
ہیں اور کچھ نہیں۔“
- ١٩....... آفتاب قرب قیامت میں مغرب سے
چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتابِ سا ملے گا۔“
- ٢٠....... مرزا قادیانی کا فتویٰ ، مرزائیوں کی نما
لئے کہ وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت سے کوئی پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا تعا ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی منکر اور مکذب اور تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(تحفہ گولڑویہ ص
- ٢١....... غیر مرزائیوں سے مناکحت حرام ہے
کریں۔“
- ٢٢....... مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے: ”میرا م
خاتمہ مفیدہ درمہما
جو شخص خالی الذہن ہو کر ان احادیث اللہ عنہ کی شان میں وارد ہیں۔ یا اگر اصل احادی میں ان ابواب کو فہرست میں صفحہ دیکھ کر نکال کر پڑ اس کے نزدیک کا معائنہ متعین ہو جائے گا کہ اِ اور کھینچ تان کر کسی کا مصداق بن جانا یا بنا دینا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے احتمالات تو نصوص صلوٰت بھی ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعمال میں تو ان
- ١٧...... ریل گاڑی دجال کی سواری یا گدھا ہے: ”وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا، پھر اگر
وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔“
(ازالہ صفحہ ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
- ١٨...... یاجوج ماجوج درحقیقت کوئی چیز نہیں: ”یاجوج و ماجوج سے دو قوتیں انگریز و روس مراد
ہیں اور کچھ نہیں۔“
(ازالہ ص ٥٠٢، ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
- ١٩...... آفتاب قرب قیامت میں مغرب سے نہیں نکلے گا: ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا
چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“
(ازالہ ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٧، ٣٧٦)
- ٢٠...... مرزا قادیانی کا فتویٰ، مرزائیوں کی نماز دوسرے مسلمانوں کے پیچھے صحیح نہیں: ”اس
لئے کہ وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ وہی تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٨١، اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ٢١...... غیر مرزائیوں سے مناکحت حرام ہے: ”میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا
کریں۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٧)
- ٢٢...... مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے: ”میرا منکر کافر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
خاتمہ مفیدہ در مہدی و مسیح علیہما السلام
جو شخص خالی الذہن ہو کر ان احادیث کو جو حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی شان میں وارد ہیں۔ یا اگر اصل احادیث نہ سمجھ سکے تو ترجمہ فارسی یا اردو مشکوٰۃ شریف میں ان ابواب کو فہرست میں صفحہ دیکھ کر نکال کر ترجمہ ان کا دیکھے گا۔ وہ یقین کے ساتھ سمجھ لے گا اور اس کے نزدیک کالمعاینہ متعین ہو جائے گا کہ ابھی تک ان صفات وعلامات کا مصداق ظاہر نہیں ہوا اور کھینچ تان کر کسی کا مصداق بن جانا یا بنا دینا تو تمام شریعت مطہرہ سے امن واطمینان اٹھا دیتا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے احتمالات تو نصوص صلوٰۃ وزکوٰۃ میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور ملاحدہ نے نکالے بھی ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعمال میں تو ان احتمالات کو فاسد و باطل قرار دیا جائے اور عقاید میں
٣٧
ان کو صحیح و حقاً سمجھا جائے۔ مقتضی تدین و تقویٰ کا تو یہ ہے کہ غرض نفسانی و ہوا پرستی کو چھوڑ کر نظر حق طلبی سے کتاب و سنت کو دیکھ کر عقاید و اعمال میں ان کا اتباع کیا جائے۔ ورنہ غلبہ ہوائے نفسانی سے حق ہرگز واضح نہیں ہوتا۔
باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اگر کاذب ہوتا تو میں اب تک ہلاک کر دیا جاتا اور اس باب میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: ”ولو تقول علينا بعض الاقاويل لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين ، فما منكم من احد عنه حاجزين (المعارج: ٤٤ تا ٤٧)“ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں اگر مراد مطلق ”تقول“ ہے تو تمام کفار اپنے کفر و شرک میں متقول علی اللہ ہیں۔
چنانچہ ظاہر ہے اور قرآن مجید میں بھی ان کو متقول علی اللہ کہا گیا ہے: ”واذا فعلو افاحشة قالوا وجدنا عليها آباءنا ، والله امرنا بها قل ان الله لا يامر بالفحشأ اتقولون على الله مالا تعلمون (الاعراف: ٢٨)“ (وغیر ذلک) حالانکہ بہتیرے ان کے ہلاک نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کی شان میں جابجا اس قسم کی آیتیں فرمائی گئی ہیں: ”سنستدرجهم من حيث لا يعلمون ، واملى لهم ان كيدی متين (الاعراف: ١٨٢،١٨٣) قل من كان فى الضلالة فليمددله الرحمن (مريم: ٧٥)“
پس یہ تو یقیناً ثابت ہو گیا کہ مطلق تقول مراد نہیں۔ کوئی خاص تقول ہے۔ پھر یہ کہ وہ خاص کیا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ جس دعویٰ کے باب میں یہ آیت آئی ہے۔ یعنی نبوت کے دعویٰ جو حضورﷺ نے کیا اور جس حالت میں یہ نازل ہوئی ہے۔ یعنی اس وقت شریعت کی تکمیل نہ ہوئی تھی اور اس لئے دلائل شرعیہ سے ایسے امور میں اتمام حجت نہ ہو سکتی تھی۔ ویسا ہی دعویٰ اور اسی حالت کی مراد ہے۔ پس حاصل آیت کا یہ ہوا کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ اور حجج شرعیہ سے لوگوں کا التباس رفع نہ ہو سکے۔ نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ بمقتضائے حکمت و رحمت خداوندی کہ خلق گمراہ نہ ہو ضرور ہلاک کیا جائے گا۔ سو اگر اب کوئی شخص تقول کرے اول تو وہ نبوت کا دعویٰ اگر بالفرض کوئی ایسا بھی کرے جیسا کہ مرزا قادیانی نے تو بوجہ تکمیل اصول و فروع شرعیہ کے اس پر بھی احتجاج ہو سکتا ہے اور لوگوں کو بھی بوجہ وضوح دلائل شرعیہ کے التباس و اشتباہ واقع نہیں ہو سکتا۔ پس ایسا ”تقول“ مستلزم ہلاک نہیں ہے۔ جب ہلاک لازم ہی نہیں تو اس کی نفی میں ”تقول“ کی نفی پر استدلال کرنا باطل ہے۔ پس یہ دلیل بھی گاؤ خورد و باطل ہے۔ والله يهدی من يشاء الى صراط مستقيم!
٣٨